اسلام دشمنوں کی چشم کشا تفصیلات
توہینِ رسالت
کا
علمی و تاریخی جائزہ *
از
علامہ محمد تصدق حسین جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
زیر اہتمام
تحریک مطالعہ قرآن
المرکز الاسلامی والٹن روڈ لاہور 0322-4280455
توہین رسالت : علمی و تاریخی جائزہ
بسم الله الرحمن الرحيم
جملہ حقوق بحق تحریک مطالعہ قرآن محفوظ ہیں
نام کتاب : توہین رسالت : علمی و تاریخی جائزہ مصنف : محمد تصدق حسین نظرثانی : حافظ نصیر احمد نورانی ، مولانا عمران الحسن فاروقی پروف ریڈنگ : مولانا محمد فرمان علی مطبع : تعداد : 1000 قیمت :
ملنے کے پتے
- ☆ جامعہ المرکز الاسلامی مین والٹن روڈ لاہور کینٹ
- ☆ ضیاء القرآن پبلی کیشنز گنج بخش روڈ لاہور ☆ شبیر برادرز 40 اردو بازار لاہور
- ☆ مکتبہ اہل سنت جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری گیٹ لاہور
- ☆ مکتبہ اعلیٰ حضرت دربار مارکیٹ لاہور ☆ ادارہ المعارف گنج بخش روڈ لاہور
- ☆ مکتبہ قادریہ دربار مارکیٹ لاہور ☆ نظامیہ کتاب گھر اردو بازار لاہور
- ☆ مکتبہ حریت 22 اُردو بازار لاہور ☆ ادارہ مسعودیہ 5,6/2۔ای ناظم آباد کراچی
توہین رسالت : علمی و تاریخی جائزہ
عنوانات
انتساب اہداء تقریظ مقدمہ باب نمبر 1 انبیاء کرام اور قرآن حکیم حضرت ابراہیم علیہ السلام اور قرآن حکیم حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قرآن حکیم حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور قرآن حکیم وحدت نوع انسانی باب نمبر 2 اقوام عالم اور مرکزیت الہٰیہ قوم نوح قوم عاد قوم ثمود قوم لوط اہل مدین حاصل کلام
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
﴿حسن ترتیب﴾
عنوانات عنوانات انتساب 7 باب نمبر 3 مرکزیت سید کائنات ﷺ 45 اہداء 8 تورات میں سرور عالم کے متعلق بشارتیں 46 تقریظ 9 انجیل میں سید عالم کے متعلق بشارتیں 49 مقدمہ 11 ہندوؤں کی کتب مقدسہ اور رحمت عالم 53 باب نمبر 1 انبیاء کرام اور قرآن حکیم 17 باب نمبر 4 تاجدار انبیاء اور غیر مسلم 59 حضرت ابراہیم ؑ اور قرآن حکیم 21 تھامس کارلائل 60 حضرت موسیٰ ؑ اور قرآن حکیم 23 مائیکل ہارٹ 62 حضرت عیسیٰ ؑ اور قرآن حکیم 26 ہمفرے 62 وحدت نوع انسانی 30 نپولین بونا پارٹ 63 باب نمبر 2 اقوام عالم اور مرکزیت انبیاء 33 ڈاکٹر ڈی رائٹ 63 قوم نوح 35 مسز اینی بیسنٹ 63 قوم عاد 37 کونٹ ٹالسٹائی 64 قوم ثمود 38 ڈاکٹر ای۔اے فریمین 64 قوم لوط 39 مسٹر مار مستشرق 64 اہل مدین 41 ڈاکٹر لین پول 65 حاصل کلام 43 ڈاکٹر بدھ پر سنگھ 65
تحفظ ناموس رسالت AN ISO 9001 : 2008 AGA CERTIFIED COMPANY
توہین رسالت :علمی و تاریخی جائزہ سوامی برج نارائن 65 رویندر جین رویندر 75 کملا دیوی بی۔اے 65 جان رابرٹ جان 75 بابو جگل کشور کھنہ 66 پنڈت جگن ناتھ 76 پی ایس رندھاوا ہوشیار پوری 66 کالکا پرشاد 76 سوامی کرشن رائے 67 پنڈٹ رگھوندر راؤ 76 وشوا نراین 68 لالہ امر چند جالندھری 77 لالہ سرداری لال 69 اودھے ناتھ لکھنوی 78 گاندھی جی 69 چودھری دلو رام کوثری 79 میجر آرتھر گلن لیونارڈ 69 باب نمبر 5 آداب بارگاہ نبوت 81 حکم چند کمار بی۔اے 70 پہلی آیت کریمہ 81 راجا رادھا پرشاد سنھا 70 دوسری آیت کریمہ 82 ڈاکٹر شیلے 70 تیسری آیت کریمہ 87 سر فلیکڈ 70 چوتھی آیت کریمہ 92 جان ڈیون پورٹ 71 صحابہ کرام اور صلحائے اُمت 96 یوکمبا وما ئنٹ 71 حضرت عبداللہ بن مسعود 97 پیشوا بدھ مذہب مانگ تونگ 71 حضرت براء بن عازب 98 پنڈت بال مکند عرش ملسیانی 72 حضرت علی المرتضیٰ 98 چرن سرن ناز مانکپوری 73 صحابہ کرام کا عمل 99 مہاراجہ سرکشن پرشاد 74 صحابہ کرام کا مثالی ادب 99
توہین رسالت :علمی و تاریخی جائزہ حضرت امام مالک 01 امام بوصیری 01 امام قاضی عیاض 2 امام فخر الدین رازی 3 حضرت ملا علی قاری 4 امام قسطلانی 4 علامہ عبدالوہاب شعرانی 5 علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی 5 باب نمبر 6 مسئلہ توہین رسالت پہلی آیت کریمہ دوسری آیت کریمہ تیسری آیت کریمہ چوتھی آیت کریمہ پانچویں آیت کریمہ بارگاہ نبوت کے فیصلے ابو رافع کا قتل گستاخ رسول کا قتل ابن خطل کا قتل گستاخ رسول ام ولد کا قتل
توہین رسالت : علمی و تاریخی جائزہ
حضرت امام مالک 101 یہودیہ عورت کا قتل 128 امام بوصیری 101 حویرث بن نقید کا قتل 128 امام قاضی عیاض 102 مشرک گستاخ رسول کا قتل 129 امام فخر الدین رازی 103 ابو جہل کا عبرت ناک انجام 129 حضرت ملا علی قاری 104 کعب بن اشرف کا قتل 131 امام قسطلانی 104 گستاخ رسول پر حملہ آور کی شہادت 134 علامہ عبد الوہاب شعرانی 105 گستاخ رسول کو زمین نے قبول نہ کیا 135 علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی 105 گستاخ عصماء کا قتل 136 باب نمبر 6 مسئلہ توہین رسالت 107 ابو عکف یہودی کا قتل 138 پہلی آیت کریمہ 107 عتیبہ کا انجام 139 دوسری آیت کریمہ 111 عبداللہ بن ابی سرح 139 تیسری آیت کریمہ 114 جان عالم ﷺ کا حسن اخلاق 141 چوتھی آیت کریمہ 117 باب نمبر 7 اقوام عالم اور توہین مذہب 143 پانچویں آیت کریمہ 119 قدیم عراق 144 بارگاہ نبوت کے فیصلے 122 قدیم مصر 146 ابو رافع کا قتل 122 قوم شعیب 147 گستاخ رسول کا قتل 125 قدیم ایران 147 ابن خطل کا قتل 125 قدیم ہندوستان 148 گستاخ رسول ام ولد کا قتل 126 مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین کی سزا 150
تحفظ ناموس رسالت ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے AN ISO 9001:2008 CERTIFIED COMPANY
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
یہودیت میں توہین مذہب کی سزا 150 توہین رسالت کی سزا 151 توہین ہیکل کی سزا 151 یوم سبت کی توہین کی سزا 152 یہودیوں کا حضرت عیسیٰ پر الزام 153 رومن قوانین 155 رشین لاء 156 برطانیہ کا قانون 156 امریکن قانون 156 قانون پاکستان 157 باب نمبر 8 سازشوں کا تسلسل 159 اسود عنسی 160
اسود کا قتل 162 مسیلمہ کذاب 163 ایک ناکام کوشش 165 مرزا کذاب قادیانی 167 دوسرا پہلو 182 مرتد اعظم شیطان رشدی 184 گستاخ ملعونہ تسلیمہ نسرین 193 اس پردہ زنگاری کے پیچھے ہے کون؟ 199 گستاخانہ خاکوں کی اشاعت 211 توہین قرآن پر مبنی فلم 219 حقیقت آزادی اظہار رائے 224 اُمتِ مسلمہ کی ذمہ داریاں 231
اطلاع
اس ایڈیشن کی جملہ آمدن مستقلاً تحریک مطالعہ قرآن کے لیے وقف ہے۔ قرآنی تعلیمات عام کرنے کا ذوق و احساس رکھنے والے احباب اپنے پیاروں کو ایصال ثواب کرنے کے لیے مفت تقسیم کرنا چاہیں تو خاص رعایت کے لیے رابطہ کریں۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائـ سرور عالم ﷺ کے حضرت سیدنا عبداللہ، حضر فخر موجودات، شاہ لولاک، رحمت لـ رب العالمین، شافع روز
حضرت
کی بارگاہِ اقدس وانور میں، جن
مجھ سے سو لاکھ کو کافی
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
انتساب
سرور عالمﷺ کے والدین کریمین طیبین طاہرین حضرت سیدنا عبداللہ، حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہما کے توسل سے فخر موجودات، شاہ لولاک، رحمت عالم، نور مجسم، سید المرسلین، خاتم النبیین، حبیب رب العالمین، شافع روز جزا ، اُمت کے ملجا و ماویٰ
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
کی بارگاہ اقدس و انور میں جن کے دامن کرم سے نظام کائنات وابستہ ہے
مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا
تیرے ہی در پہ گرے بیکس و تنہا تیرا
ذرہ خاک مدینہ
محمد تصدق حسین غفرلہ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
اہداء
فخرالمحدثین، استاذ الاساتذہ، مفتی اعظم پاکستان
مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ
اور
امام انقلاب، قائد ملت اسلامیہ
امام شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ
کے نام جنہوں نے کروڑوں قلوب واذہان کو جذبۂ تحفظ ناموس رسالت عطا کیا
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
ذرۂ خاک مدینہ محمد تصدق حسین غفرلہ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
تقریظ جمیل
جامع المعقول والمنقول استاذ العلماء حضرت علامہ حافظ عبدالستار سعیدی صاحب
ناظم تعلیمات وشیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ
انسانیت اس وقت تاریخ کے نازک دور سے گزر رہی ہے عالمی سطح پر مذاہب اور تہذیبوں کے ٹکراؤ کے لیے سازشیں شروع ہو چکی ہیں افغانستان، عراق، کشمیر اور دیگر کئی خطوں میں خون مسلم کی ارزانی ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک مسلمانوں کے ساتھ انتہائی متعصبانہ رویہ روا رکھے ہوئے ہیں۔ حضور ﷺ پوری دنیا کے لیے رحمت ہیں آپ کی بعثت و برکت سے دنیا کو شعور زندگی ملا، انسانیت کو عزت ملی ، ہر انسان کو تحفظ ملا عورت کی عزت ماں، بہن، بیٹی کے روپ میں اجاگر ہوئی مگر آج یہود و ہنود سازش کے ذریعے مقصود کائنات ، تاجدار انبیاء، رحمت عالم ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس پر رکیک حملے کر رہے ہیں۔ تحفظ ناموس رسالت کا جذبہ مسلمانان عالم کے تحفظ و بقا کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ پوری عالم انسانیت کے امن اور بقا کی ضمانت ہے اگر دنیا کو تہذیبی، مذہبی، گروہی ، اور نسلی تصادم سے محفوظ رکھنا ہے تو حرمت و ناموس رسول ﷺ کا تحفظ ضروری ہے اور ایک دوسرے کی مسلمہ مذہبی اقدار اور اشخاص کا احترام لازم ہے ورنہ دنیا میں مزید افراتفری، انتشار اور اضطراب بڑھے گا چنانچہ اس سلسلہ میں حضرت مولانا محمد تصدق حسین سلمہ ربہ العالی نے انتہائی پر مغز، جامع اور دلکش انداز میں راہنمائی فرماتے ہوئے پیش نظر کتاب ’’توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ‘‘ تحریر فرمائی جو آٹھ ابواب پر مشتمل ہے اس میں نہ صرف سازشوں اور فتنوں کی نشاندہی فرمائی گئی بلکہ مولانا موصوف نے اس کے ازالہ و اصلاح کی طرف بھی راہنمائی فرمائی ہے اللہ تعالیٰ مولانا کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین وآلہ واصحابہ اجمعین
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عَلٰى حَبِيْبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
مُحَمَّدٌ سَيِّدُ الْكَوْنَيْنِ وَالثَّقَلَيْنِ
وَالْفَرِيْقَيْنِ مِنْ عُرْبٍ وَّمِنْ عَجَمِ
فَإِنَّ مِنْ جُوْدِكَ الدُّنْيَا وَضَرَّتَهَا
وَمِنْ عُلُوْمِكَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ
فَاقَ النَّبِيِّيْنَ فِيْ خَلْقٍ وَّفِيْ خُلُقٍ
وَّلَمْ يُدَانُوْهُ فِيْ عِلْمٍ وَّلا كَرَمِ
وَكُلُّهُمْ مِّنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ مُلْتَمِسٌ
غَرْفًا مِّنَ الْبَحْرِ أَوْ رَشْفًا مِّنَ الدِّيَمِ
مُنَزَّهٌ عَنْ شَرِيْكٍ فِيْ مَحَاسِنِهِ
فَجَوْهَرُ الْحُسْنِ فِيْهِ غَيْرُ مُنْقَسِمِ
يَا أَكْرَمَ الْخَلْقِ مَالِيْ مَنْ أَلُوْذُ بِهِ
سِوَاكَ عِنْدَ حُلُوْلِ الْحَادِثِ الْعَمَمِ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
﷽
الحمد لله الذی خلق السمٰوات والارضین والصلوۃ والسلام علی من کان نبیا وآدم بین الماء والطین وعلی آلہ الطیبین الطاھرین وعلی اصحابہ الهادین المہدیین
اللہ تعالیٰ نے زمین کا فرش بچھا کر اس میں مختلف قسم کے بیل بوٹے پیدا فرمائے۔ بلند و بالا پہاڑوں کو زمین پر رکھا تاکہ وہ ساکن ہو جائے، مختلف انواع کے درخت اور جانور پیدا کئے کہ دنیا کی رنگینیوں میں اضافہ ہو جائے۔ آسمان کو چھت بنا کر اسے تاروں سے منور کیا پھر سورج کی شعاعوں سے دنیا کو روشن کیا اور چاند کی کرنیں بھی زمین کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے لگیں۔ دریاؤں کی روانی کے ذریعے انسانی زندگی کو تروتازگی عنایت فرمائی اور آسمان سے پانی برسا کر زمین کو سیراب کیا کہ اس سے انسان نفع حاصل کرے۔ انسان کو جن اسباب کی ضرورت تھی یعنی مٹی، پانی، ہوا، آگ ان سب کو تخلیق فرمایا۔ آگ کو تپش عطا فرمائی، پانی کو ٹھنڈک بخشی اور ہواؤں کو مختلف خاصیتیں عطا کیں، بزم کائنات کو نعمت ہائے رنگارنگ سے مزین کرنے کے بعد اس ارض خاکی پر حضرت آدم ؑ کو مبعوث فرمایا۔ آپ کے اس دنیا پر تشریف لانے کے بعد نسل انسانی کا ارتقاء شروع ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور کی آگہی عطا فرما کر اسے دنیا میں بھیجا اور اسے علم و حکمت بھی عطا کی تاکہ وہ عقل و دماغ کے ذریعے دنیاوی زندگی سے فائدہ حاصل کرے اور اسے فیصلے کرنے میں آسانی رہے۔ نسلِ آدم بڑھتی رہی یہاں تک وہ خاندانوں، قبیلوں اور قوموں میں تقسیم ہوتے چلے گئے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی فہم کے ساتھ فیصلے کرنے کی قوت عطا کی۔ نسل انسانی کے
ISO 9001:2015 CERTIFIED COMPANY تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ مرکز صراط مستقیم تحفظ ناموس رسالت
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ارتقاء کے ساتھ ساتھ انسان کی ضروریات بڑھتی چلی گئیں اور زندگی میں مختلف مسائل پیش آنے لگے تو انسان مختلف النوع طریقوں سے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے لگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رہن سہن اور تہذیب و تمدن میں تبدیلیاں آتی گئیں لیکن بعض معاملات وہ ہیں جو انسانی فطرت میں شامل ہیں اور انسان کو ان کی جتنی ضرورت کل تھی اتنی ہی آج بھی ہے، اگر ان کو نظر انداز کر دیا جائے تو نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔ ان معاملات میں سب سے اہم قانون یہ ہے کہ خاندانوں، قبیلوں اور ممالک نے اپنے معاشرے کی بہتری کیلئے جو دائرہ کار وضع کیا ہے، ہر انسان اس دائرہ کار کے اندر رہ کر اپنے منصب اور عہدے کا خیال رکھتے ہوئے زندگی گزارے ورنہ اس کے بغیر امن و چین ہی نہیں زندگی کا حسن بھی تباہ ہو جاتا ہے۔ مسلم اور غیر مسلم سے صرف نظر کرتے ہوئے چند مثالیں آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی مملکت کی صدارت کے عہدے پر فائز ہو وہ ظالم ہو یا عادل، منصف مزاج ہو یا بد کردار، آئینی ہو یا غیر آئینی، جائز طور پر اس عہدے کا اہل ہو یا ناجائز قبضہ کیا ہو، اس سے قطع نظر کوئی دوسرا شخص، جو اس ملک کا شہری ہو، وہ بادشاہِ وقت کو گالی دے یا تھپڑ مارے تو وہ مجرم گردانا جائے گا۔ اب کوئی بھی مہذب معاشرہ اس شخص کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا۔ گالی دینے والا شخص کتنے ہی دلائل کیوں نہ دے لے، وہ مجرم ہی کہلائے گا۔ اس لیے کہ اگر ہر شہری کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ حاکم وقت سے اس طرز عمل کا بدلہ لے سکتا ہے تو نظام حکومت مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔ حکومت کا انتظامی امور پر دباؤ ختم ہو جائے گا اور اس مملکت کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ صدر مملکت تو ایک طرف، ایک شہری بھی کسی دوسرے شہری سے از خود انتقام نہیں لے سکتا۔ اگر وہ ظلم و زیادتی کا شکار ہے تو عدالت کے دروازے پر دستک دے، تاکہ اس کی داد رسی ہو اور معاشرے کو بدامنی سے بچایا جاسکے۔ اب کھیل کے میدان کی طرف توجہ کیجیے۔ کھلاڑی کھیل رہے ہیں، ان کے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
لیے ایک امپائر یا ریفری موجود ہے۔ اب وہ منصف دے رہا ہے اگر کوئی فیصلہ دے، تو کسی بھی کھلاڑی کو اس کے خلاف احتجاج کرے، حالانکہ ہو سکتا ہے کہ کھلاڑی کو وہ فیصلہ قبول کرنا پڑتا ہے، اس لیے کہ اگر ہو، حتمی نہ مانا جائے تو پھر ہر کھلاڑی اپنے مخالف کے کرے گا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ صرف کھیل کا نظام ناپید ہو جائے گا۔ کھیل کی حفاظت کے لیے ریفری ہے۔ اگر آپ کمرۂ عدالت کو دیکھیں تو وہاں ایک جج بحث اس کے سامنے رکھتا ہے، اس کے بعد جج فیصلہ وکیل یا ملزم کو یہ حق نہیں، کہ وہ کمرۂ عدالت میں جج کے خلاف کوئی بات کرے گا تو اسے توہین عدالت کسی ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم دار نہیں کر سکتا، البتہ اسی جج کے پاس نظر ثانی کی یہ دلیل دے کہ وہ جج یا قاضی بھی تو انسان ہے نہیں ہو سکتی؟ تو یقیناً کہا جائے گا کہ قاضی یا احتجاج کا کوئی حق نہیں، اس لیے کہ اگر طرفین جائے تو شاید ہی دنیا کی کسی عدالت کا کوئی فیصلہ پوزیشن میں ہو۔ لہٰذا سپریم کورٹ کے کسی دستوری اور آئینی اداروں میں کرپشن اور بے بدعنوانی کے ثابت ہو جانے پر بھی ان آفیسرز
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
لیے ایک امپائر یا ریفری موجود ہے۔ اب وہ شخص جو ریفری یا امپائر کے فرائض سرانجام دے رہا ہے اگر کوئی فیصلہ دے، تو کسی بھی کھلاڑی کو یہ حق حاصل نہیں، کہ وہ میدان کے اندر اس کے خلاف احتجاج کرے، حالانکہ ہو سکتا ہے ریفری کا فیصلہ غلط ہو اس کے باوجود کھلاڑی کو وہ فیصلہ قبول کرنا پڑتا ہے، اس لیے کہ ریفری کے فیصلے کو اگرچہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، حتمی نہ مانا جائے تو پھر ہر کھلاڑی اپنے مخالف کیے ہوئے ہر فیصلے کو غلط قرار دے کر احتجاج کرے گا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ صرف کھیل کا حسن تباہ نہیں ہوگا بلکہ وہ کھیل ہی سرے سے ناپید ہو جائے گا۔ کھیل کی حفاظت کے لیے ریفری کے فیصلے کو حتمی اور آخری تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ کمرۂ عدالت کو دیکھیں تو وہاں ایک جج کرسی پر براجمان ہے، وکیل ہر طرح کی بحث اس کے سامنے رکھتا ہے، اس کے بعد جج کسی نتیجے پر پہنچ کر کوئی فیصلہ سناتا ہے اب کسی وکیل یا ملزم کو یہ حق نہیں، کہ وہ کمرۂ عدالت میں اس جج کے خلاف کوئی بات کرے، اگر جج کے خلاف کوئی بات کرے گا تو اسے توہین عدالت کہا جائے گا، اور اگر فیصلہ کرنے والا جج کسی ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ کا ہو تو اب ملزم کسی اور جگہ رٹ بھی دائر نہیں کر سکتا، البتہ اسی جج کے پاس نظر ثانی کی اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص یہ دلیل دے کہ وہ جج یا قاضی بھی تو انسان ہے اس نے غلط فیصلہ کیا ہے۔ کیا اس سے غلطی نہیں ہو سکتی؟ تو یقیناً کہا جائے گا کہ قاضی سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود ملزم کو احتجاج کا کوئی حق نہیں، اس لیے کہ اگر ملزم کو ہی قاضی کی غلطی پر نشاندہی کا حق دے دیا جائے تو شاید ہی دنیا کی کسی عدالت کا کوئی جسٹس کسی نتیجے پر پہنچ کر کوئی فیصلہ سنانے کی پوزیشن میں ہو۔ لہٰذا سپریم کورٹ کے کئے گئے فیصلے کو ماننا لازم قرار پایا۔ کسی بھی مملکت کے دستوری اور آئینی اداروں میں کرپشن اور بدعنوانی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ کرپشن اور بدعنوانی کے ثابت ہو جانے پر بھی ان آفیسرز کے خلاف قانونی کاروائی کا حق صرف حکومت
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
اور عدالت کو ہی حاصل ہے، تا کہ ان آفیسرز کے انسانی حقوق مجروح نہ ہوں اور انہیں اپنی صفائی کا بھر پور موقع حاصل رہے۔ اسی طرح والدین کا اپنا مقام ہے اور اولاد کی اپنی حیثیت ہے۔ میاں بیوی کی حیثیت سے ہر فرد کیلئے ایک دائرہ کار متعین ہے، استاذ اور شاگرد الگ الگ حیثیت کے مالک ہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں آج تک کسی طالب علم نے یہ احتجاج نہیں کیا کہ میرا اُستاذ بھی ایک انسان ہے اور مجھے اس کی عزت کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور یہ میرے ساتھ ظلم ہے اس لیے کہ ماں باپ اور اُستاذ کی عزت و تعظیم معاشرتی وقار ہے۔ اگر کوئی روشن خیالی اور جدت پسندی کا راگ الاپتے ہوئے مذہب اور دھرم سے بیزاری کے ہزار اعلان کرے، پھر بھی اسے اپنے اور دوسروں کے کچھ تو حقوق متعین کرنے ہوں گے اور یہی دستور اور قانون کہلائے گا۔ ان تمام باتوں کو اگر آپ اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو حضور سید عالم ﷺ نے ایک ہی جملے میں ان ساری باتوں کی وضاحت فرما دی گویا کوزے میں دریا بند کر دیا، بلکہ یہ اس سے بھی کہیں اعلیٰ درجے کا کمال ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑوں کی عزت کرو اور چھوٹوں پر رحم کرو“ یعنی عمر ، مقام، مرتبے، عہدے اور حیثیت کے لحاظ سے اگر کوئی بڑا ہے تو اس کی عزت ہونی چاہیے، اور دوسری طرف جو چھوٹا ہے وہ بھی انسان ہے، اس پر بھی شفقت کا ہاتھ رکھا جانا چاہیے۔ یہ حکم کائنات کے ہر شخص کیلئے ہر حال میں ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا مقام اور مرتبہ چاہتا ہے تو جو اس سے بڑا ہے اس کی عزت کرے اور جو اس سے چھوٹا ہے اس پر رحم کرے۔ محض ایک جملے میں اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر رسول ﷺ نے کتنی بڑی حقیقت کو بیان فرما دیا۔ اس ایک حدیث شریف پر عمل کرنے سے ہی کئی معاشرتی برائیوں کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔ جب دنیا کا ہر شخص اپنی عزت نفس مجروح ہونے پر احتجاج کا حق رکھتا ہے۔ والدین اپنا مقام رکھتے ہیں۔ اُستاذ کی ایک الگ حیثیت ہے، صدر مملکت کا اپنا ایک عہدہ ہے۔ قاضی اپنے پاس اختیارات کا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ مجموعہ رکھتا ہے، اور تو اور کھیل کے میدان میں کھڑے ہونے والے شخص کی بھی عزت و توقیر ہے۔ پھر کیسے کوئی یہ تصور کرے گا کہ انبیاء کرام علیہم السلام، جنہوں نے دنیا سے کفر کے اندھیرے ختم کیے، ہدایت کی کرنوں سے اس کائنات میں اجالا کیا، گمراہی کی تاریک وادیوں میں بھٹکتے انسانوں کو صراط مستقیم پر گامزن کیا، انہوں نے جہالت کے تپتے صحراؤں میں علم ونور کے گلستان آباد کیے، دنیا کو اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ مورتیوں اور بتوں کی پوجا کی بجائے خالق کائنات کی وحدانیت اور اُس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونے کا سلیقہ دیا اور ان کی اُخروی نجات کا سبب بنے، ان کی توہین کی جائے اور اس پر احتجاج نہ ہو۔ دنیا کے گوشے گوشے میں جتنے بھی انسان رہتے ہیں وہ کسی نہ کسی مذہب سے تعلق ضرور رکھتے ہیں اور ان میں سے کوئی یہ نہیں چاہتا، کہ ان کے مذہبی پیشوا کو کوئی دوسرا شخص برا بھلا کہے۔ کوئی ہندو اپنے دیوتا اور مندر کی توہین برداشت نہیں کرتا، کوئی سکھ اپنے گرو اور گوردوارہ کے بارے میں نازیبا کلمات نہیں سن سکتا، کوئی عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اپنے گرجا کے متعلق غلط بات کا روادار نہیں، اور کوئی یہودی حضرت موسیٰ اور حضرت عزیر علیہما السلام کی توہین کو برداشت نہیں کرے گا۔ تو پھر امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جو مقصود کائنات ہیں، جن کے توسل سے یہ عالم رنگ وبو معرض وجود میں آیا، جن کی تابانی اور ضوفشانی سے کائنات کی ہر چیز معطر و منور ہے، جو تجلیات ذات باری تعالیٰ کا عکس جمیل ہیں، اس کائنات کی بقاء کیلئے جن کا وجود ناگزیر ہے۔ کروڑوں مسلمانوں کے دل جن کی محبت میں دھڑکتے ہیں۔ جو اتنا عظیم عادل ہے کہ اس کے دشمن بھی اس کے پاس فیصلہ کرانے آتے ہیں۔ جو ذات اتنی امین ہے کہ ہزار مخالفتوں کے باوجود کفار مکہ ان کے پاس اپنی امانتیں رکھتے ہیں اپنے سینے میں دل رکھنے والا شخص، جس میں انسانیت کی تھوڑی سی بھی رمق باقی ہے، وہ یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ ان کی توہین ہو اور اس کو آزادی اظہار رائے کا نام دے کر جان چھڑالی جائے۔ چشم فلک نے یہ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
منظر بھی دیکھا کہ جن لوگوں نے اس ذات گرامی کے راستے میں کانٹے بچھائے، انہیں برا بھلا کہا، ان سے تعلقات ختم کر لیے، ان کے ماننے والوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے، انہیں مکہ سے نکالنے کے منصوبے تیار کیے، مدینہ طیبہ میں جن کے خلاف لوگوں کو اکسایا، لیکن جب انہوں نے مکہ فتح کیا تو اعلان فرمایا: لا تثريب عليكم اليوم لوگو آج تم سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا بلکہ میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔ تو جس ذات کریم نے بیگانوں پر بھی رحم ہی کیا ہو انسان تو ایک طرف حیوانات و نباتات بھی اس کی رحمت کے طلب گار ہوں، وہ ہستی کتنی عزتوں اور عظمتوں کی مالک ہوگی۔ جن کی بارگاہ کے آداب خالق کائنات نے قرآن حکیم میں بیان فرمائے، جنہیں اس دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا، اللہ تعالیٰ جس کی تعظیم و توقیر کا حکم دے رہا ہے۔ حضور سید عالم ﷺ نے تو ہرنی کی عزت کا حکم دیا اور ہر نبی پر ایمان لانے کا ارشاد فرمایا تو اس ذات گرامی کے متعلق توہین آمیز کلمات کہنے والا یا لکھنے والا شخص اس کائنات کا بدترین فرد ہی ہو سکتا ہے، جو اتنی عظیم ہستی کے بارے میں اس قسم کی جسارت کرے اور اپنے انسان ہونے کا بھی دعویٰ کرے، اور یہ مطالبہ کرے کہ میرے بھی کچھ حقوق ہیں، ان کا خیال رکھا جائے۔ ایسے شخص کی عقل و فہم پر ماتم کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ قرآن حکیم انبیاء کرام علیہم السلام کی عزت و توقیر کو دین کا لازمی جزو قرار دیتا ہے اور قرآنی تعلیمات کی روشنی میں انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان لانا ایک اہم ترین فریضہ ہے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
باب .... 1
انبیاء کرام علیہم السلام اور قرآن حکیم
انبیاء کرام علیہم السلام وہ مقدس ہستیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا میں بسنے والے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کیلئے منتخب ہوئے۔ انہوں نے اس کائنات کے کونے کونے میں پیغام توحید پہنچایا اور دنیا پر یہ واضح کیا کہ خالق کائنات وہ واحد ذات ہے جس کی عبادت کی جائے اس ذات کے علاوہ کوئی دوسرا مستحق عبادت نہیں۔ قرآن کریم ایک الہامی کتاب ہے اور یہ منزل من اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں متعدد بار ان ذوات قدسیہ کا تذکرہ فرما کر ان کی تبلیغ و کاوش کی تحسین فرمائی پہلی امتوں کا یہ بھی اختلاف چلا آ رہا ہے کہ یہودی حضرت موسیٰ و حضرت عزیر علیہم السلام کی نبوت کو تو تسلیم کرتے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے انکاری ہیں عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو نبی مانتے ہیں لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بحیثیت نبی نفی کرتے ہیں حالانکہ مقصد اگر معرفت الہی حاصل کرنا ہے تو پھر تمام انبیاء کرام علیہم السلام جنہوں نے اس مقصد کیلئے قربانیاں دیں ان کی حیثیت کو تسلیم کیا جانا چاہیے اور اقوام عالم کے اذہان و قلوب میں ان تمام شخصیات کیلئے عزت و احترام موجود ہونا چاہیے کہ جس امن و سکون اور چین و راحت کے یہ متلاشی ہیں اس کیلئے ان ہستیوں کا بنیادی کردار ہے۔ چونکہ یہود و نصاریٰ کو بنیادی طور پر مذہب کی طرف سے یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنے اپنے نبی پر ایمان لائیں اور اس کے علاوہ جو انبیاء کرام علیہم السلام کی مقدس جماعت ہے اس کو جھٹلائیں لیکن انہوں نے اپنی من مانی تحریفات میں ایک بات یہ بھی شامل کر لی کہ اپنے نبی
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
کے علاوہ کسی دوسرے نبی کی عزت و تکریم ضروری نہیں اور نہ ہی ان پر ایمان لانا لازمی امر ہے۔ قرآن حکیم امت مسلمہ کو یہ درس دیتا ہے کہ حضور سرور عالم ﷺ پر ایمان لانا ضروری ہے آپ کی اتباع کے بغیر اخروی نجات ممکن نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو آپ کے پیش رو انبیاء کرام علیہم السلام ہیں ان پر بھی ایمان ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں اور منصب نبوت کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہے تھے قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ...... ﴿4﴾ ﴿البقره﴾
”اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا“
جو لوگ فلاح ونجات کے مستحق ہیں تقویٰ و پرہیز گاری ان کا شیوہ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی بیان فرمائی۔ وما أنزل من قبلك کی تفسیر فرماتے ہوئے امام صاوی فرماتے ہیں۔
فلم يفرقوا بين الانبياء بحيث يومنون ببعض ويكفرون ببعض
﴿تفسیر صاوی جلد 1 صفحہ 43﴾
پس وہ انبیاء کے درمیان تفریق نہیں کرتے اس طرح کہ بعض پر ایمان لے آئیں اور بعض کا انکار کردیں۔
امام عبداللہ نسفی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں۔
وما انزل من قبلك يعنى سائر الكتب المنزلة على النبيين عليهم الصلوة والسلام
﴿تفسیر نسفی جلد اول صفحہ 43﴾
”وما انزل من قبلك سے مراد وہ تمام کتب ہیں جو انبیاء کرام علیہم السلام پر اتریں“ یعنی متقی اور پرہیز گار قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کتابیں ماقبل نازل ہوئیں
توہین رسالت :علمی وتاریخی جائزہ
ان کو بھی منزل من اللہ تسلیم کرتے ہیں۔
امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں۔
فالمراد به ما انزل على الانبياء الذين كانوا قبل محمد والايمان به واجب على الجملة۔
﴿تفسیر کبیر جلد 01 صفحہ 277﴾
”اس سے مراد یہ ہے کہ جو نازل کیا گیا ان انبیاء پر جو رسول اللہ ﷺ سے ماقبل تھے اور اس پر اجمالی طور پر ایمان لانا واجب ہے“
کیونکہ قرآن حکیم پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اس کی تفصیل جاننا بھی ضروری ہے یعنی فرض کفایہ ہے۔ اُمت مسلمہ نے اس کے احکام پر عمل کرنا ہے اور ماقبل پر ایمان لانے کا مطلب و محصل یہ ہے کہ جو ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام علیہم السلام کو جو کتب اور صحائف عطا فرمائے وہ اصل کتابیں اور صحیفے برحق ہیں۔
ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
قُولُوْا آمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرٰهِمَ وَإِسْمٰعِيْلَ وَإِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوْتِيَ مُوْسَى وَعِيْسَى وَمَا أُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَO
﴿البقره:136﴾
”یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم واسمعیل واسحق ویعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطاء کیے گئے موسیٰ وعیسیٰ اور جو عطاء کیے گئے باقی انبیاء کو اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں“
تھوڑے سے الفاظ کے فرق کے ساتھ اس طرح کا حکم سورہ آل عمران کی آیت
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
کریمہ میں بھی ہے۔ اس آیت کا مخاطب کوئی بھی ہو مسلمان ہوں یا یہود و نصاریٰ آیت کریمہ میں واضح طور پر انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کی کتب پر ایمان لانے کا حکم ہو رہا ہے۔ وما اوتی النبیون کی تفسیر فرماتے ہوئے امام صاوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
اشارة الى انه يجب علينا الايمان بجميع انبياء الله وما انزل اليهم
﴿تفسیر صاوی جلد 01 صفحہ 114﴾
اس میں اشارہ یہ ہے کہ ہم پر ضروری ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں پر اور جو کچھ ان پر نازل کیا گیا اس پر ایمان لائیں۔
لانفرق بین احد منھم کے تحت تفسیر جلالین میں ہے۔
فنؤمن ببعض ونكفر ببعض كاليهود والنصارى
﴿تفسیر جلالین پارہ 1 آیت 136﴾
”یعنی یہ نہ ہو کہ یہود و نصاریٰ کی طرح بعض پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں“
جیسا کہ یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور باقی انبیاء کا انکار کر دیا اور عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور باقی انبیاء کی نبوت کے منکر ہو گئے اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ وغیرہ کا ذکر ہے تو ان پر اور ان کی شریعت پر کیسے ایمان لایا جائے تو اس وہم کا ازالہ کرتے ہوئے امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں۔
فان قیل کیف یجوز الایمان بابراهیم و موسیٰ وعیسٰی مع القول بان شرائعهم منسوخة قلنا نحن نؤمن بان کل واحد من تلك الشرائع كان حقا فی زمانه
﴿تفسیر کبیر جلد 02 صفحہ 71﴾
”پس اگر یہ کہا جائے کہ ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام پر کیسے ایمان لانا جائز
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ہوگا اس قول کے ساتھ کہ ان کی شرائع منسوخ ہیں ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر اس طرح ایمان لائیں گے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے زمانے میں اپنی شریعت کے ساتھ حق پر تھا‘‘
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر نبی کو حق پر تسلیم کرنا ضروری ہے اور کسی بھی نبی کے بارے میں علم ہو جانے کے بعد کہ وہ نبی ہے اس کا انکار کفر کے زمرے میں آتا ہے اور اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو تمام انبیاء کی تکریم سکھاتا ہے وگرنہ یہود و نصاریٰ تو اپنے اپنے انبیاء کے علاوہ باقی انبیاء کرام علیہم السلام کا انکار کرتے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور قرآن حکیم:
حضرت ابراہیم علیہ السلام حلیم اور بردبار شخصیت کے مالک تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخلوق کی ہدایت کیلئے مبعوث فرمایا اور آپ نے حکمت اور عقلی دلائل کے ساتھ اپنی قوم کو پیغام توحید پہنچایا جبکہ قوم چاند اور سورج کی پرستش میں مصروف تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس احسن انداز میں اپنی قوم کو تبلیغ فرمائی اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اس کا تذکرہ یوں فرمایا:
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَاٰ كَوْكَبًا ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّيْ ۚ فَلَمَّا اَفَلَ قَالَ لَا اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ O فَلَمَّا رَاٰ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّيْ ۚ فَلَمَّا اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ يَهْدِنِيْ رَبِّيْ لَاَ كُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّيْنَ O فَلَمَّا رَاٰ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّيْ هٰذَا اَكْبَرُ ۚ فَلَمَّا اَفَلَتْ قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّيْ بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ O
﴿الانعام: 76 تا 78﴾
’’پھر جب ان پر رات کا اندھیرا آیا ایک تارا دیکھا بولے اسے میرا رب ٹھہراتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا بولے مجھے خوش نہیں آتے ڈوبنے والے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
پھر جب چاند چمکتا دیکھا بولے اسے میرا رب بتاتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں بھی انہیں گمراہوں میں ہوتا پھر جب سورج جگمگاتا دیکھا بولے اسے میرا رب کہتے ہو یہ تو ان سب سے بڑا ہے پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اے قوم میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو‘
حضرت ابراہیم ؑ کا یہ کلام قوم کے سامنے چاند ستارے اور سورج کی ربوبیت کے انکار کی دلیل تھی اور ان کے خلاف حجت کو قائم کرنا تھا پہلے وہ سمجھے کہ یہ قول ہمارے موافق ہے مگر حضرت ابراہیم ؑ نے عقل اور مشاہدہ کے ذریعے اس کا ردّ فرمایا: یہ چاند سورج اور ستارے رب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ رب وہ ہے جو تمام کائنات پر غالب ہے اور ہر چیز اس کے دائرہ قدرت میں ہے اور وہ کسی چیز سے غافل نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ غائب ہوتا ہے حضرت ابراہیم ؑ کے زمانے میں نمرود کی بادشاہت پوری دنیا پر قائم تھی نمرود ایک ظالم جابر اور بدگوہر شخص تھا جس نے اپنی رعایا کو انتہائی مجبوری اور بے بسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور کر رکھا تھا نمرود کا تذکرہ کرتے ہوئے امام صاوی لکھتے ہیں۔
وهو نمرود ابن كنعان حملت به امه من زنا خوفاً على ملك ابيه من الضياع حيث كان ابوه عقيماً وكان ملك اقوات الارض كلها۔
﴿تفسیر صاوی جلد 01 صفحہ 192﴾
’’اور وہ نمرود بن کنعان تھا اس کے باپ کے ملک کے ضائع ہونے کے خوف سے اس کی ماں زنا سے حاملہ ہوئی اس لئے کہ اس کا باپ عقیم تھا اور نمرود زمین کی تمام غذائی اجناس کا مالک تھا‘‘
لوگ جب نمرود کے پاس کھانے پینے کی اشیاء لینے کیلئے آتے تو وہ ان سے اپنے خدا
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
ہونے کا اقرار لینے کے بعد انہیں وہ اشیاء مہیا کرتا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسے جابر شخص کو بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام بڑے احسن طریقے سے پہنچایا اللہ تعالیٰ اس واقعہ کا تذکرہ قرآن حکیم میں اس طرح فرماتا ہے۔
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاجَّ اِبْرهٰمَ فِىْ رَبِّهٖٓ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ ۘ اِذْ قَالَ اِبْرهٰمُ رَبِّيَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَيُمِيْتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحْيٖ وَاُمِيْتُ ؕ قَالَ اِبْرهٰمُ فَاِنَّ اللّٰهَ يَاْتِيْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ O
﴿البقرہ:258﴾
”اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا اسے جو ابراہیم سے جھگڑا اس کے رب کے بارے میں اس پر کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی جب کہ ابراہیم نے کہا میرا رب وہ ہے کہ جلاتا اور مارتا ہے بولا میں جلاتا اور مارتا ہوں ابراہیم نے فرمایا تو اللہ سورج کو پورب (مشرق) سے لاتا ہے تو اس کو پچھم (مغرب) سے لے آ تو ہوش اڑ گئے کافر کے اور اللہ راہ نہیں دکھاتا ظالموں کو“
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب قوم کو دعوت توحید پیش کی تو قوم نے آپ کے راستے میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کیں یہاں تک کہ آپ کو آگ میں بھی ڈالا گیا اور نمرود کے ساتھ اس کلام کے بعد آپ کو وہاں سے نکال دیا گیا مگر آپ نے بڑی ہمت واستقامت کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھا اور ہدایت کی روشنی مخلوق تک پہنچاتے رہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قرآن حکیم:
علماء سیرت نے بیان کیا ہے کہ کاہنوں نے فرعون سے کہا بنو اسرائیل میں ایک ایسا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
بچہ پیدا ہوگا جس کے ذریعے تمہاری ہلاکت واقع ہوگی۔
فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے نومولود بیٹے قتل کر دیئے جائیں پھر قبطیوں نے شکایت کی کہ اگر اسی طرح بنی اسرائیل کے بیٹے قتل کرتے رہے تو ہماری خدمت کیلئے بنو اسرائیل میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچے گا تب فرعون ایک سال پیدا ہونے والے لڑکے قتل کروا دیتا اور ایک سال پیدا ہونے والے چھوڑ دیتا حضرت ہارون علیہ السلام اس سال پیدا ہوئے جس سال لڑکوں کو قتل نہیں کیا گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِی الْيَمِّ وَ لَا تَخَافِيْ وَ لَا تَحْزَنِیْ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ O
(القصص: 07)
’’اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو الہام فرمایا کہ اسے دودھ پلا پھر جب تجھے اس سے اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر اور نہ غم کر بیشک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں گے اور اسے رسول بنائیں گے‘‘
حکم ربی کے مطابق آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کو دریا میں ڈال دیا اور آپ فرعون کے باغ میں پہنچ گئے پھر فرعون نے ہی آپ کی پرورش کی اور آپ نوجوان ہو گئے پھر ایک واقعہ کے بعد آپ مدین تشریف لے گئے اور وہاں حضرت شعیب علیہ السلام سے آپ کی ملاقات ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نکاح حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی سے ہو گیا مدین سے واپسی پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور یہ حکم ارشاد فرمایا: فرعون کو دعوت توحید پیش کریں۔ فرعون نے اپنی قوم کے سامنے خدا ہونے کا دعویٰ کر رکھا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پاس پہنچے اور اسے دعوت توحید پیش کی قرآن حکیم اس کا نقشہ یوں بیان کرتا ہے۔
قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى O قَالَ رَبُّنَا الَّذِيٓ اَعْطٰی كُلَّ شَيْءٍ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى O
﴿طٰہٰ:49-50﴾
”بولا تم دونوں کا خدا کون ہے اے موسیٰ کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر راہ دکھائی“
اسی طرح کی بات قرآن حکیم میں دوسری جگہ یوں مذکور ہے:
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِينَO قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ط إِنْ كُنتُمْ مُّوْقِنِينَO
﴿الشعراء:23-24﴾
”فرعون بولا اور سارے جہان کا رب کیا ہے موسیٰ نے فرمایا رب آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اگر تمہیں یقین ہو“
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو سن کر وہ بوکھلا گیا اور بڑی حیرانگی اور رعونت سے اس نے سوال کیا کہ اللہ کون ہے مطلب اس کا یہ تھا کہ مخلوق مجھے خدا تسلیم کرتی ہے۔ تم کس رب العالمین کی بات کرتے ہو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور بالآخر دریا میں غرق ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو معجزات سے نوازا۔ اپنی ہم کلامی کا شرف عطاء فرمایا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب بھی عطا فرمائی قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے۔
قَالَ يٰمُوسَى إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِي وَ بِكَلَامِي صلے فَخُذْ مَا اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِينَO
﴿اعراف:144﴾
”فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے تو لے جو میں نے تجھے عطاء فرمایا اور شکر والوں میں ہو“
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عزت و عظمت سے نوازا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعاؤں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کو من و سلویٰ عطاء فرمایا اور ان کیلئے پانی کے چشمے جاری فرمائے مگر اس قوم کی حرماں نصیبی کہ وہ پھر بھی اطاعت نبوی میں نہ آسکے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور قرآن حکیم:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر رسول ہیں اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اس کائنات میں بسنے والے انسانوں کی ایک جماعت بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت کیلئے مبعوث ہوئے عیسائی اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیرو کار کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں مختلف مقامات پر آپ کی تحسین فرمائی اور آپ کے متعلق کچھ اوہام کا ازالہ فرمایا قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ آپ کے معجزات کا تذکرہ یوں فرماتا ہے۔
وَرَسُوْلًا اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَ ۙ اَنِّيْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ اَنِّيْٓ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ وَاُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْيِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ وَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَاتَدَّ خِرُوْنَ فِيْ بُيُوْتِكُمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ O
﴿آل عمران: 49﴾
”کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہو جاتی ہے اللہ کے حکم سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اور میں مردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے اور میں تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو بے شک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو“
یعنی یہ پانچ چیزیں جو اوپر بیان ہوئیں زبردست اور قوی معجزات ہیں اور یہ معجزات میرے دعوئی نبوت کی صداقت پر دلیل ہیں اور جو شخص بھی دلائل و براہین سے کسی بات کو
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
مانتا ہو اس پر یہ حجت ہیں اس سے قبل اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں حضرت عیسیٰ ؑ کی دنیا میں آمد کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ
...... وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ O
﴿آل عمران : 45﴾
”وجیہہ ہوگا دنیا و آخرت میں اور قرب والا“
حضرت امام رازیؒ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔
انه وجيه فی الدنيا بسبب انه كان مبرأ من العيوب التی وصفه اليهود بها ووجيه فی الاخرة بسبب كثرة ثوابه وعلو درجته عندالله تعالیٰ۔
﴿تفسیر کبیر جلد 03 صفحہ 222﴾
”دنیا میں وجاہت کا یہ سبب ہے کہ وہ ان الزامات سے مبرا ہیں جو یہودی ان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور آخرت میں وجیہہ اس لحاظ سے کہ کثیر ثواب اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعلیٰ مقام پر فائز ہوں گے“
یہود کے الزام میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے آپ کی والدہ محترمہ پر بہتان تراشی کی کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش کا سبب کیا ہے قرآن حکیم حضرت مریم ؑ کی پاکدامنی اور ان کے عفت مآب ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے اس بات کے ذکر میں لَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ اور وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا کے الفاظ قرآن حکیم میں موجود ہیں جو حضرت مریم ؑ کی پاکبازی کی دلیل ہیں۔
عیسائیوں نے جب حضرت عیسیٰ ؑ کی یہ شان دیکھی کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور وہ مردے زندہ کرتے ہیں اور مریض ان سے شفایاب ہوتے ہیں تو حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے بعد وہ مختلف طرح کے اوہام کا شکار ہو گئے اور آہستہ آہستہ آپ کو الہ اور اللہ کا بیٹا قرار دینے لگے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اس
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
بات کا بھی ذکر فرمایا چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ط ...... O
﴿آل عمران: ۵۹﴾
”عیسیٰ کی کہاوت اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے“
جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی پیدا فرمایا اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام باپ نہ ہونے کی وجہ سے الوہیت کے مستحق ٹھہرے تو حضرت آدم علیہ السلام کی تو ماں بھی نہیں پھر عیسائی انہیں بدرجہ اولیٰ خدا کا مقام و مرتبہ دیں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ بھی مشہور کیا گیا کہ ان کو سولی دے دی گئی اور انہیں شہید کر دیا گیا قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ازالہ فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ط مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِّ ج وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا O بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ط وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا O
﴿النساء: ۱۵۷-۱۵۸﴾
”اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول کو شہید کیا اور ہے یہ کہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کیلئے ان کی شبیہ کا ایک بنا دیا گیا اور وہ جو اس کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں انہیں اس کی کچھ بھی خبر نہیں مگر یہی گمان کی پیروی اور بے شک انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے“
کتنے واضح الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے اس وہم کا ازالہ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انہوں نے نہ تو سولی دی اور نہ قتل کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
طرف اٹھا لیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ناموس کا جانے والے حملوں کا جواب دیا حضرت عیسیٰ قرآن حکیم میں اس کا تذکرہ یوں ہے ۔
إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ط
”بے شک میرا تمہارا سب کا رب اللہ
اور دوسری جگہ یوں ارشاد ہوتا ہے۔
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ الْمَسِيحُ يٰبَنِیْ إِسْرَاءِيلَ اعْبُدُ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْصَارٍ O
”اور مسیح نے تو یہ کہا تھا اے بنی اسر تمہارا رب بے شک جو اللہ کا شریک کر دی اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بڑے واضح کے دعویٰ الوہیت یا ابن اللہ کی تردید ہوتی ہے اعمال صالحہ کی دعوت دی اور ایک اللہ کی عباد
اسی طرح دیگر انبیائے کرام حضرت ہود، حضرت زکریا علیہ السلام نے بھی اپنی اپن دعوت دی اور یہی دین ہے ۔ تمام انبیائے حالات کی وجہ سے عبادات اور معاملات کا طر
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
طرف اٹھا لیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ناموس کا قرآن حکیم نے تحفظ کیا اور آپ کی ذات پر کیے جانے والے حملوں کا جواب دیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے قوم کو جو دعوت توحید ارشاد فرمائی قرآن حکیم میں اس کا تذکرہ یوں ہے۔
إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ط هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌO
﴿آل عمران:51﴾
”بے شک میرا تمہارا سب کا رب اللہ ہے تو اسی کو پوجو یہ ہے سیدھا راستہ“
اور دوسری جگہ یوں ارشاد ہوتا ہے۔
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ط وَقَالَ الْمَسِيحُ يٰبَنِي إِسْرَآءِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ط إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ط وَمَا لِلظّٰلِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍO
﴿المآئدہ:72﴾
”اور مسیح نے تو یہ کہا تھا اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب اور تمہارا رب ہے بے شک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بڑے واضح لفظوں میں پیغام توحید دیا جس سے عیسائیوں کے دعویٰ الوہیت یا ابن اللہ کی تردید ہوتی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انہیں عقائد حقہ اور اعمال صالحہ کی دعوت دی اور ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔
اسی طرح دیگر انبیائے کرام حضرت شعیب ، حضرت نوح ، حضرت صالح ، حضرت ہود ، حضرت زکریا علیہم السلام نے بھی اپنی اپنی قوم کو پیغام توحید پہنچایا اور قوم کو اعمال صالحہ کی دعوت دی اور یہی دین ہے۔ تمام انبیائے کرام کا دین ایک ہی ہے مگر زمانہ کے مخصوص حالات کی وجہ سے عبادات اور معاملات کا طریقہ کار مختلف رہا ہے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
وحدت نوع انسانی:
پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کسی ایک علاقے ایک خطے یا ایک قوم کی طرف مبعوث ہوئے اور ان کی طرف احکام بھی ان کے حالات کے مطابق لائے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی اُمتوں اور دیگر اقوام عالم کی بنیاد اور وسعت ایسی عالمگیر اور آفاقی نہیں جس طرح قرآن حکیم کی تعلیمات آفاقی اور عالمگیر ہیں قرآن حکیم وحدت نوع انسانی کا درس دیتا ہے۔ جب انسان کا آپس میں تعلق اور رابطہ قائم ہوتا ہے تو وہ وحدت کی لڑی میں پرویا جاتا ہے اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس تعلق کی مختلف نوعیت آپ کے سامنے آئے گی۔
- 1- جغرافیائی تعلق:
جب انسان ایک مخصوص علاقے میں رہتے ہوں تو ان کا آپس میں ایک تعلق اور رابطہ قائم ہوتا ہے اور اس تعلق کی بنیاد پر وہ ایک جداگانہ حیثیت کے آرزومند ہوتے ہیں۔
- 2- نسلی و لسانی تعلق:
جب افراد ایک نسل اور قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں یا ان کی زبان ایک ہو تو وہ اپنے آپ کو ایک وحدت تصور کرتے ہیں اور خود کو دوسروں سے الگ تشخص دینے لگتے ہیں۔
- 3- معاشی تعلق:
جب افراد کے معاشی حالات ایک جیسے ہوں اور ان کی وجہ سے باہم ربط و تعلق قائم ہو تو وہ افراد بھی ایک الگ تشخص قائم کر کے اپنے آپ کو دوسروں سے اس وحدت کے حوالے ممتاز کرنے لگتے ہیں۔
اس تعلق کے علاوہ مغرب کے افکار و نظریات کو پرکھا جائے تو انہوں نے ایک قوم ہونے کیلئے جو عوامل اور اسباب تلاش کیے ہیں ان میں رنگ، نسل، زبان، ملک اور ثقافت
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
وغیرہ شامل ہیں لیکن اس طرز پر قائم ہونے والے معاشرے کا عمل دوسروں سے بغض، حسد اور عناد ہوتا ہے جس کی وجہ سے معاشرے کی آفاقیت مفقود ہو جاتی ہے اور معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے مگر قرآن حکیم افراد کی زندگی کو وحدت کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور معاشرے کو انتشار کی اذیت سے بچانے کیلئے وحدت نوع انسانی کا تصور پیش کرتا ہے تاکہ معاشرہ لامحدود اور ہمہ گیریت کا جامع ہو چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاءً..... 1
﴿النساء﴾
”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت پھیلا دیئے“
اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّفْقَهُونَ O
﴿الانعام: 98﴾
”اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا ہے اور کہیں امانت رہنا بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کر دیں سمجھ والوں کے لیے“
قرآن حکیم نے متعدد بار اس تصور کو واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ہی نسل سے پیدا فرمایا قرآن حکیم مختلف قبیلوں اور خاندانوں کو وحدت کے منافی قرار نہیں دیتا بلکہ ان کے ذریعے باہم ایک رشتہ کو قائم کرتا ہے لیکن بنیادی طور پر وحدت نوع انسانی کے تصور کو اجاگر کرتا ہے۔ جس طرح قرآن حکیم کی تعلیمات آفاقی ہیں اسی طرح حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت و رسالت بھی تمام کائنات کیلئے ہے مخلوقات عالم کا ہر فرد جو شرعاً مکلف ہے خواہ وہ مسلم ہو یا کافر وہ حضور سرور دو عالم ﷺ کی اُمت دعوت میں شامل ہے قرآن حکیم نے حضور
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
سید کائنات ﷺ کی رسالت کی ہمہ گیریت کو یوں بیان کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
قُلْ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا O
(الاعراف:158)
”تم فرماؤ اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں“
اس قرآنی نقطہ نظر سے آپ ﷺ کی ذات گرامی ہدایت و ضلالت اور حق و باطل کے درمیان باعث امتیاز ہے اسی طرح جو دین، شریعت اور نظام آپ سے منسوب ہوگا وہ بھی ادیان عالم میں معیار ہدایت اور باعث امتیاز ہو گا آج کل یورپ، غیر مسلم طاقتیں اور میڈیا جو دنیا کو گلوبل ولیج بنانے کی بات کرتے ہیں اور اقوام متحدہ کے ارباب اختیار پوری دنیا کو یکجا کرنے کی پالیسی مرتب کرنا چاہتے ہیں وہ صرف اور صرف قرآن اور صاحب قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ممکن ہو سکتا ہے کیونکہ صاحب قرآن کی ذات ہی اس ہمہ گیریت کی جامع ہے اور ان کی تعلیمات میں وہ فکر موجود ہے۔ انہوں نے وہ آئین اور نصب العین دیا ہے جس کے ذریعے انسان کے اندر وحدت کا شعور پیدا ہوتا ہے محض اجتماع کو ایک قوم نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ افراد کی سوچ فکر اور نظریہ ایک نہ ہو اور اسلام کا اجتماعی اور قومی نصب العین افراد کو وحدت نوع انسانی کی فکر اور سوچ عطاء کرتا ہے اور وہ ایک ایسے صالح مثالی اور انقلابی معاشرے کا قیام ہے جو غلبہ دین کی خاطر عالمگیر انقلاب کا ضامن ہو اور اس کے نتیجے میں کائنات میں بسنے والے انسانوں کو امن، راحت، سکون اور چین کی زندگی میسر ہو اور دنیا پر خوف، دہشت اور جنگ کے جو سائے ہر وقت منڈلا رہے ہیں وہ چھٹ جائیں اور انسانوں کے اذہان و قلوب سے تفریق کا تصور معدوم ہو جائے اور وحدت نوع انسانی کی فکر پروان چڑھے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
باب......2
اقوام عالم اور مرکزیتِ انبیاء علیہم السلام
انسان کل کائنات کے حقائق لطیفہ کا مجموعہ ہے اور سب مخلوقات سے اعلیٰ و افضل گویا کہ انسان مخدوم ہے اور سب مخلوقات خادم ہیں اسی طرح انسان کی ضروریات بھی کل کائنات کی ضروریات سے مقدم ہیں اور دنیائے انسانیت کا یہ عظیم نظام دامنِ نبوت سے متعلق ہے یہی وجہ ہے کہ جو افراد بارگاہ نبوت سے وابستہ ہیں وہ بارگاہ الٰہی میں مقرب ہیں اور جن افراد کا تعلق بارگاہ نبوی سے پیوستہ نہ ہو وہ کفر و شرک کی ظلمتوں میں بھٹکتے رہے ۔ جسمانی اور روحانی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نبی کا مقام تمام مخلوق سے بلند ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کو مخلوق تک پہنچانے کیلئے نبی اور رسول واسطہ ہوتا ہے اس لئے نبی کو اپنی قوم میں مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا رسول خلقی اور خلقی ہر اعتبار سے عیوب سے منزہ و معصوم ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث پاک میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ مذکور ہے۔
عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال کانت بنوا اسرائیل یغتسلون عراة ینظر بعضھم الی بعض و کان موسیٰ علیہ السلام یغتسل وحدہ فقالوا واللہ ما یمنع موسیٰ ان یغتسل معنا الا انہ ادر فذھب مرة یغتسل وضع ثوبہ علی حجر ففر الحجر بثوبہ فجمح موسیٰ فی اثرہ یقول ثوبی یا حجر ثوبی یا حجر حتٰی نظرت بنوا اسرائیل الی موسیٰ و قالوا واللہ ما بموسیٰ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
من بأس واخذ ثوبه وطفق بالحجر ضرباً قال ابوهريرة ؓ والله انه لندب بالحجر ستة او سبعة ضرباً بالحجر۔
﴿بخاری جلد 1 صفحہ 42﴾
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل ننگے نہاتے ایک دوسرے کو دیکھتے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا غسل فرماتے اس پر بنی اسرائیل نے کہا کہ بخدا موسیٰ کو ہمارے ساتھ نہانے سے صرف یہ بات روکتی ہے کہ ان کے خصئے بڑے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک مرتبہ غسل کرنے گئے پتھر ان کا کپڑا لے کر بھاگا حضرت موسیٰ علیہ السلام پتھر کے پیچھے تیزی سے یہ کہتے ہوئے دوڑے اے پتھر میرا کپڑا دے اے پتھر میرا کپڑا دے یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا اور کہا بخدا موسیٰ کو کوئی عارضہ نہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا کپڑا لے لیا اور پتھر کو مارنے لگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا بخدا اسی پتھر پر چھ یا سات پتھر کے نشانات ہیں“
علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
وفيه دليل على انّ الله تعالى كمل انبياءه خلقاً وخُلقاً ونزههم عن المعايب والنقائص۔
﴿عمدۃ القاری جلد 03 صفحہ 342﴾
”اور اس میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو خلق اور خُلق کے اعتبار سے مکمل فرمایا اور انہیں عیوب اور نقائص سے پاک رکھا“
مولانا شریف الحق امجدی صاحب نزھۃ القاری میں اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حضرات انبیائے کرام ہر قسم کے عیوب سے پاک ہوتے ہیں خواہ وہ خلقی ہوں خواہ خُلقی نیز ایسی بیماریوں اور عوارض سے بھی منزہ ہوتے ہیں جو تنفر کا سبب بن سکیں۔
﴿نزھۃ القاری جلد اول صفحہ 762﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
اس حدیث پاک سے یہ بات مترشح ہو گئی کہ اگر قوم کو نبی کی ذات کے بارے میں کوئی شبہ بھی ہو تو اللہ تعالیٰ نبی کو اس سے بری فرما دیتا ہے کیونکہ نبی نے اپنی قوم کیلئے فریضہ تبلیغ انجام دینا ہوتا ہے لہٰذا عقلاً بھی یہ بات واضح ہے کہ علم ، عقل اور حسب نسب کے اعتبار سے نبی اپنی قوم میں ممتاز اور اعلیٰ ہوتا ہے اور اسے اپنی قوم میں مرکزیت حاصل ہوتی ہے۔
قوم نوح:
حضرت آدم علیہ السلام کے بعد جب نسل در نسل انسانوں کا سلسلہ چلا تو بعض نیک لوگوں کے اس دنیا سے جانے کے بعد آنے والی نسلوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر ان کی پوجا شروع کر دی۔ یوں زمین میں بت پرستی شروع ہو گئی لوگوں نے بتوں کی عبادت اور شیاطین کی اطاعت شروع کر دی لوگ کفر اور گمراہی میں مبتلا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے منتخب بندے اور برگزیدہ رسول حضرت نوح علیہ السلام کو اس دنیا میں مبعوث فرمایا وہ لوگوں کو اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور ان کو بتوں کی پوجا سے منع فرماتے حضرت نوح علیہ السلام زمین پر اللہ تعالیٰ کے سب سے پہلے رسول ہیں آپ نے نو سو پچاس سال اپنی قوم میں رہ کر تبلیغ جاری رکھی اور قوم کو دعوت توحید و نبوت پیش فرماتے رہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی تبلیغ کا عرصہ بیان فرمایا۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا ط...... O
﴿العنکبوت: 14﴾
”اور بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ہزار برس رہا“
پہلے تو قوم آپ کی تبلیغ سے انکار کرتی رہی لیکن بعد میں قوم نے آپ کی ذات پر کیچڑ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
اچھالنا شروع کر دیا اور آپ کو ہدف تنقید بنایا گیا قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی گفتگو کو اس طرح بیان فرمایا۔
فَقَالَ الْمَلَؤُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهِ مَا هٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ O
(المؤمنون:24)
”تو اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کیا بولے یہ تو نہیں مگر تم جیسا آدمی چاہتا ہے کہ تمہارا بڑا بنے“
قَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرٰكَ فِي ضَلٰلٍ مُّبِينٍ O
(الاعراف:60)
”اس کی قوم کے سردار بولے بے شک ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں“
قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَ O
(الشعراء:114)
”بولے اے نوح اگر تم باز نہ آئے تو ضرور سنگسار کیے جاؤ گے“
جب یہ توہین آمیز گفتگو بڑھتی چلی گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب مسلط کر دیا اور ان پر پانی کا طوفان آگیا اور وہ سب غرق ہو گئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَيْنٰهُ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ط إِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِيْنَ O
(الاعراف:64)
”تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور اپنی آیتیں جھٹلانے والوں کو ڈبو دیا بے شک وہ اندھا گروہ تھا“
حضرت نوح ؑ کی قوم نے آپ کی توہین کی انہوں نے آپ کی مرکزیت کو ایک لحاظ سے جھٹلایا اور آپ کی مسلمہ حیثیت کو ماننے سے انکار کر دیا۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نشانی اور اسکے خلیفہ کی قدر نہ کی تو وہ مستحق عذاب ٹھہرے۔ چونکہ وہ نبی کی معرفت سے محروم رہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک اندھی قوم سے مخاطب کیا۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
قوم عاد:
یہ قوم صحرائے عرب کے جنوب مغر حصہ ہے وہاں آباد تھی انہوں نے بھی قوم نوح بنا رکھے تھے اور ان کی عبادت کیا کرتے ت مبعوث فرمایا اور انہوں نے اپنی قوم کو اللہ ت پر ظلم نہ کریں مگر انہوں نے حضرت ہود ؑ توہین آمیز رویہ اختیار کیا جس کا ذکر قرآن
قَالَ الْمَلَؤُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِ لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ O
”اس کی قوم کے سردار بولے ہم ت تمہیں جھوٹوں میں گمان کرتے ہ
انہوں نے نہ صرف حضرت ہو کرتے ہوئے یہ کہنے لگے۔
قَالُوْا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَ يَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِ
”بولے کیا تم ہمارے پاس اس ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ا رہے ہو اگر سچے ہو“
ان کے اذہان وقلوب
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
قوم عاد:
یہ قوم صحرائے عرب کے جنوب مغربی کنارے جو عمان اور حضرموت کے درمیان کا حصہ ہے وہاں آباد تھی انہوں نے بھی قوم نوح کی طرح اپنے لیے صداء اور صمود نام کے بت بنا رکھے تھے اور ان کی عبادت کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث فرمایا اور انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی کہ ایک اللہ کو مانیں اور لوگوں پر ظلم نہ کریں مگر انہوں نے حضرت ہود علیہ السلام کی دعوت کو نہ صرف جھٹلایا بلکہ آپ کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا جس کا ذکر قرآن مجید یوں کرتا ہے۔
قَالَ الْمَلَأُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖٓ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِىْ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ O
﴿الاعراف: 66﴾
”اس کی قوم کے سردار بولے ہم تمہیں بے وقوف سمجھتے ہیں اور بے شک ہم تمہیں جھوٹوں میں گمان کرتے ہیں“
انہوں نے نہ صرف حضرت ہود علیہ السلام کی توہین کی بلکہ بڑی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہنے لگے۔
قَالُوْا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللهَ وَحْدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَO
﴿الاعراف: 70﴾
”بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے انہیں چھوڑ دیں تو لاؤ جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو“
ان کے اذہان و قلوب نبی کی مرکزیت و حیثیت سے نا آشنا تھے اور وہ نبی کو
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
محض ایک بے بس انسان تصور کرتے رہے اور حضرت ہود ؑ کی تکذیب و توہین کرتے رہے ان کا انجام یہ ہوا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
...... وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ O
﴿الاعراف:72﴾
”اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے تھے ہم نے انکی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان والے نہ تھے“
قوم ثمود:
قوم عاد کی ہلاکت کے وقت جو ایمان والے حضرت ہود ؑ کے ساتھ بچ گئے تھے یہ قوم ان کی نسل سے تھی اس لیے اس قوم کو عاد ثانیہ بھی کہتے ہیں اور یہ قوم ثمود نام کے ایک شخص کی طرف منسوب تھی حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ تک ایک میدان تھا اسے الحجر کہتے تھے اور آج کل یہ مقام فج الناقہ کے نام سے معروف ہے یہ جگہ قوم ثمود کا مسکن تھی انہوں نے یہاں عالی شان محلات اور پہاڑوں کو کاٹ کر مضبوط مکانات بنا رکھے تھے۔ یہ قوم بھی پہلے بت پرستوں کی طرح بت پرستی کرتی تھی اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح ؑ کو ان میں مبعوث فرمایا حضرت صالح ؑ نے قوم ثمود کو بت پرستی سے منع فرمایا اور اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرنے کا حکم دیا لیکن قوم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا وہ حضرت صالح ؑ کا مذاق اڑاتے اور کہتے یہ مال و زر، سرسبز باغات، مضبوط و مستحکم اور شاندار محلات جو ہمیں حاصل ہیں اگر آپ حق پر ہوتے تو آپ کے پیروکاروں کو یہ سب کچھ حاصل ہوتا آپ اور وہ یوں مفلسی اور تنگ دستی کی زندگی نہ گزار رہے ہوتے اور انہوں نے حضرت صالح ؑ کی نبوت کا انکار کیا اور بطور معجزہ اللہ تعالیٰ نے جو اونٹنی پتھر سے ظاہر فرمائی اسے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
حضرت صالح علیہ السلام کی دشمنی میں ہلاک کر دیا قرآن حکیم میں ان کی رعونت اور خودسری کا یوں تذکرہ ہے۔
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ O قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا بِالَّذِيْٓ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ O
﴿الاعراف: 75 تا 76﴾
”اس کی قوم کے تکبر والے کمزور مسلمانوں سے بولے کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کے رسول ہیں بولے وہ جو کچھ لے کر بھیجے گئے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں متکبر بولے جس پر تم ایمان لائے ہمیں اس سے انکار ہے“
قوم نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام کی نبوت و تعلیمات کا انکار کیا اور پھر اس انکار کو بڑے فخر کے ساتھ بیان کیا وہ خود کو حضرت صالح علیہ السلام سے زیادہ اہم اور موقر جانتے تھے انجام کار یہ ہوا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ O
﴿الاعراف: 78﴾
”انہیں زلزلہ نے آلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے“
انہیں اپنے محلات اور باغات پر ناز تھا وہ انہیں اپنی حقانیت کی دلیل گردانتے تھے جب انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کی مرکزیت کو ماننے سے انکار کیا اور آپ کی تعلیمات سے انکاری ہوئے تو وہ آن واحد میں مال و اسباب سمیت صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔
قوم لوط:
حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے اللہ تعالیٰ نے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
آپ کو سدوم، عمورہ، عامورا، صبویرام ان شہروں میں بسنے والے لوگوں کی طرف بھیجا یہ جگہ عراق اور فلسطین کے درمیان واقع ہے اور آج کل مشرقی اردن کے نام سے مشہور ہے یہ جگہ بحر مردار کے قریب واقع تھی اور عذاب الہی کے بعد اسی سمندر میں چلی گئی۔ ان لوگوں میں حیا اور غیرت نام کی کوئی چیز نہیں تھی اور یہ عورتوں کے بجائے مردوں سے اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرتے اس عمل بد کی ابتداء سب سے پہلے اسی قوم نے کی اس قوم سے پہلے کائنات میں اس عمل بد کا کوئی تصور نہیں تھا حضرت لوط ؑ اپنی قوم کو اس برے فعل سے روکتے مگر قوم آپ کی تبلیغ کا اثر لئے بغیر اس فعل پر مصر رہی جب حضرت لوط ؑ نے کثرت کے ساتھ تبلیغ فرمائی اور اس برے فعل کو روکنے کی کوشش کی تو قوم نے آپ کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ اختیار کیا اور آپ کو تمسخر کا نشانہ بنایا قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوْا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ ۚ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ O
(الاعراف: 82)
”اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں“
قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ يَا لُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِيْنَ O
(الشعراء: 167)
”بولے اے لوط اگر تم باز نہ آئے تو ضرور نکال دیئے جاؤ گے“
حضرت لوط ؑ اپنی قوم کو اس فعل کی برائی اور گندگی سے آگاہ کرتے کہ یہ نقصان دہ عمل ہے اور اس میں اللہ تعالی کی ناراضگی ہے تو اس قوم کے لوگ بطور تمسخر اور توہین آپ کے متعلق یہ کہتے کہ یہ پاکیزہ لوگ ہیں ان کو اس جگہ سے نکال دو یا پھر وہ آپ کو دھمکی دیتے کہ اگر آپ تبلیغ سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو نکال دیں گے جب انہوں نے حضرت لوط ؑ کی ذات گرامی پر حملے شروع کر دیئے تو اللہ تعالی نے حضرت لوط ؑ کو وہاں سے ہجرت کا حکم
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
دیا اور اس قوم پر عذاب مسلط کر کے اس کو نشان عبرت بنا دیا ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَ اَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ O
﴿الاعراف: 82﴾
”اور ہم نے ان پر ایک مینہ برسایا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا“
اس قوم نے جب اپنی عیاشیوں اور برائیوں کو چھوڑنے کے بجائے حضرت لوط علیہ السلام کی تحقیر شروع کر دی اور آپ کا وجود ان کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر پتھروں کی بارش کر کے انہیں نیست و نابود کر دیا۔
اہل مدین:
جو شاہراہ حجاز کو شام فلسطین اور یمن کے ساتھ ملاتی تھی اور بحر قلزم کے مشرقی کنارے سے ہو کر گزرتی تھی مدین بحر قلزم کے مغربی کنارے شام کے متصل اس شاہراہ پر واقع ہے زمانہ قدیم میں یہ ایک بہت بڑی تجارتی شاہراہ تھی اور قوم مدین کی بستیاں اس شاہراہ پر واقع تھیں تو تجارت کرنے والے لوگوں کو ان سے واسطہ پڑتا تھا اور یہ قوم ناپ تول میں کمی کے حوالے سے شہرت یافتہ تھی حضرت شعیب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس قوم میں مبعوث فرمایا اور آپ نے لوگوں کو ایک اللہ کی طرف بلایا اور ناپ تول میں کمی کرنے سے منع فرمایا لیکن پہلی اقوام کی طرح انہوں نے بھی حضرت شعیب علیہ السلام کی تبلیغ کو ماننے سے انکار کر دیا اور حضرت شعیب علیہ السلام کو اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھ کر آپ کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور آپ کی توہین و تذلیل کر کے وہ اپنے لئے سامان تباہی تیار کرتے رہے قرآن حکیم میں آپ کی قوم کے سرداروں کا غرور اور ان کی نافرمانی یوں مذکور ہے۔
قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاؤُنَا اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
فِيْ اَمْوَالِنَا مَا نَشَؤُا اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ O
(ہود:87)
”بولے اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں جو چاہیں نہ کریں ہاں جی تمہیں بڑے عقلمند اور نیک چلن ہو“
قَالُوْا اِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ O وَمَا اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ O فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ O
(الشعراء:185تا187)
”بولے تم پر جادو ہوا ہے تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی اور بے شک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو“
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا ط قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِيْنَ O
(اعراف:88)
”اس کی قوم کے متکبر سردار بولے اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ“
قوم اور اس کے سرداروں نے حضرت شعیب علیہ السلام کی تعلیمات سے انکار کر دیا بلکہ آپ کی ذات گرامی پر رکیک حملے شروع کر دیئے اور بطور تمسخر یہ کہنے لگے کہ ہم آپ کے کہنے پر اپنے اموال کو چھوڑ دیں۔ وہ آپ کی حیثیت و مرکزیت کو سمجھنے سے قاصر رہے اور آپ کو اپنے جیسا بشر ہی سمجھتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی توہین و نافرمانی کی پاداش میں اس قوم پر عذاب مسلط فرما دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ O
﴿اعراف:91﴾
”تو انہیں زلزلہ نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے“
فَکَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ط اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ O
﴿الشعراء:189﴾
”تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں شامیانے والے دن کے عذاب نے آلیا بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا“
حضرت شعیب علیہ السلام کی تبلیغ کا اثر اس قوم پر نہ ہوا بلکہ اس قوم کے اندر مزید بگاڑ پیدا ہو گیا اور انہوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کو طعن و تشنیع شروع کر دی۔ وہ آپ کو اپنے راستے میں ایک رکاوٹ سمجھنے لگے وہ اپنی ہٹ دھرمی اور ضد میں اس قدر آگے چلے گئے تھے کہ وہ برملا عذاب کا مطالبہ کرنے لگے بالآخر اپنے اسی رویے کی بنیاد پر کہ انہوں نے حضرت شعیب علیہ السلام سے دشمنی مول لی وہ مستحق عذاب ٹھہرے۔
حاصلِ کلام:
ماقبل سطور میں چند قوموں کا ذکر ہوا جو مختلف قسم کے برے افعال کا ارتکاب کیا کرتی تھیں اور اپنے ان افعال کو درست تسلیم کرانے پر بھی مصر تھیں لیکن تمام اقوام میں جو قدر مشتر ک تھی اور ان پر عذاب الٰہی کا باعث بنی وہ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین و تنقیص تھی اور ان انبیاء کرام علیہم السلام کی مرکزی حیثیت کو تسلیم نہ کرنا بھی شامل تھا وہ لوگ نبوت کے بلند مقام کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے ساری گفتگو سے تقریباً تین باتیں سامنے آتی ہیں۔
- 1- انبیاء کرام ہم جیسے بشر ہیں۔
- 2- اگر انبیاء اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو عذاب آجائے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
- 3- ہم انہیں اپنے علاقوں سے نکال دیں گے۔
یہ وہ باتیں ہیں جو انہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کی ذوات قدسیہ کے متعلق کہیں اور انہیں ہدف تنقید بنایا اپنے تئیں ان قوموں نے یہ اقدام اپنے افعال کے تحفظ کی خاطر کیا اور ان کا کہنا بھی یہی تھا کہ ہر آدمی کو زندگی گزارنے کی آزادی ہے جس طرح سے وہ رہنا چاہے اسے اسی طرح زندگی گزارنے کا حق حاصل ہونا چاہیے مگر ان کی سیاہ بختی میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ان اقوام نے مقدس و محترم اور منتخب گروہ انبیاء کرام علیہم السلام کی ذوات قدسیہ پر تنقید و توہین کے زہر میں بجھے ہوئے نشتر پھینکے اور ان کی مسلمہ حیثیت کو چیلنج کر کے اپنی حرماں نصیبی میں اضافے کا سبب بنے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں آنے والی نسلوں کیلئے نشان عبرت بنادیا اگر آج بھی کوئی شخص نبی مکرم ﷺ کی توہین کرے اور پھر اسے آزادی اظہار رائے کا نام دے تو اس کی جگہ بھی بالآخر جہنم کے اس گڑھے میں ہے جہاں اسکے پیش رو جاچکے ہیں اللہ تعالیٰ جب کسی ظالم و گستاخ کی رسی دراز کرتا ہے تو وہ اپنے سیاہ اعمال پر ناز کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ گستاخان انبیاء کو نشان عبرت ضرور بناتا ہے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
باب....... 3
اقوام عالم اور مرکزیتِ سیّد کائنات ﷺ
آسمان کو ابھی تاروں سے مزین نہیں کیا گیا تھا سورج کو ابھی روشنی نہیں ملی تھی چاند ابھی کرنوں کا متلاشی تھا ہواؤں اور فضاؤں کو ابھی خنکی چاہیے تھی دریاؤں اور سمندروں کو ابھی موجوں اور لہروں کی ضرورت تھی زمین اپنی آرائش کی منتظر تھی جنت کو حور وغلماں سے سجانا باقی تھا انسان کو ابھی جسم ودیعت نہیں کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مقدس و محتشم جماعت انبیاء کرام علیہم السلام سے عالم ارواح میں مقصود کائنات، مرکزِ جاں، جانِ عالمین، حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے لختِ جگر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے نورِ نظر اپنے پیارے حبیب ﷺ کی مدد و نصرت کے عہد و پیمان لیے اور اس پر انبیاء کرام علیہم السلام کو ایک دوسرے پر گواہ بنایا۔
اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے۔
وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ ؕ قَالَ ءَاَ اَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ
﴿آل عمران: 81﴾
”اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہو جاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں“
اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے یہ میثاق اور پختہ عہد لیا کہ ہر نبی حضور سرور عالم ﷺ پر ایمان لائے گا آپ کی رسالت کی تصدیق کرے گا اور آپ کی نصرت و مدد کرے گا اور پھر مزید تاکید کیلئے یہ اقرار لیا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کے گواہ ہو جاؤ مفسرین نے زیر آیت مختلف توجیہات بیان کی ہیں کہ یہ میثاق اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام سے لیا کہ ہر نبی بعد میں آنے والے نبی کی تصدیق کرے یا تمام نبیوں سے سید کائنات ﷺ پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا یا اللہ تعالیٰ کے اس میثاق کو انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی قوموں سے لیا کہ جب ان کی قوم کے پاس سرور عالم ﷺ تشریف لے آئیں تو وہ آپ کی تصدیق کریں اور آپ کی نبوت کا اقرار کر کے آپ کی مدد و اعانت کریں توجیہ کوئی بھی ہو اس آیت کریمہ سے حضرت سرور عالم ﷺ کی مرکزیت روز روشن کی طرح عیاں ہے انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قوموں کو حضور سرور عالم ﷺ کے خصائل و فضائل بتاتے رہے اور آپ کی جلوہ گری کا تذکرہ کرتے رہے کہ جب آپ تشریف لے آئیں تو آپ پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اور اسی طرح انبیاء کرام علیہم السلام کو جو کتب اور صحائف عطاء ہوئے ان میں حضور سرور عالم ﷺ کے اوصاف و کمالات اور آپ کی تشریف آوری کا تذکرہ موجود ہے۔
تورات میں سرور عالم ﷺ کے متعلق بشارتیں :
اگرچہ یہودیوں نے تورات میں اپنی من مانی تحریفات کر کے اس میں تغیر و تبدل کر دیا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
لیکن موجودہ تورات میں بھی حضور سید کائنات ﷺ کی بعثت کے متعلق بشارتیں موجود ہیں۔ اور اس نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے دہنے ہاتھ ایک آتشیں شریعت ان کے لئے تھی۔
﴿استثناء باب 33 فقرہ 02 صفحہ 192﴾
حضور نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں دس ہزار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور یوں یہ آیت نبی اکرم ﷺ پر پوری طرح منطبق ہوتی تھی تو نیا عہد نامہ میں اس کو تبدیل کر کے دس ہزار کی جگہ لاکھوں قدسیوں میں سے آیا لکھ دیا گیا۔
دیکھو میرا خادم جس کو میں سنبھالتا ہوں میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے میں نے اپنی روح اس پر ڈالی وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا وہ نہ چلائے گا نہ شور کرے گا اور نہ بازاروں میں اس کی آواز سنائی دے گی وہ مسلے ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑے گا اور ٹمٹماتی بتی کو نہ بجھائے گا وہ راستی سے عدالت کرے گا وہ ماندہ نہ ہو گا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمین پر قائم نہ کرے جزیرے اس کی شریعت کا انتظار کریں گے جس نے آسمان کو پیدا کیا اور تان دیا جس نے زمین کو اور ان کو جو اس میں سے نکلتے ہیں پھیلایا جو اس کے باشندوں کو سانس اور اس پر چلنے والوں کو روح عنایت کرتا ہے یعنی خداوند یوں فرماتا ہے میں خداوند نے تجھے صداقت سے بلایا میں ہی تیرا ہاتھ پکڑوں گا اور تیری حفاظت کروں گا اور لوگوں کے عہد اور قوموں کے نور کیلئے تجھے دوں گا تو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسیروں کو قید سے نکالے اور ان کو جو اندھیرے میں بیٹھے ہیں قید خانہ سے چھڑائے یہووا میں ہوں یہی میرا نام ہے میں اپنا جلال کسی دوسرے کے لئے اور اپنی حمد کھودی ہوئی مورتیوں کے لئے روا نہ رکھوں گا دیکھو پرانی باتیں پوری ہو گئیں اور نئی باتیں بتاتا ہوں اس سے پیشتر کہ واقع ہوں میں تم سے بیان کرتا ہوں۔
﴿تورات یسعیاہ باب 42 فقرات 1-9 صفحہ 694﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ نے حضرت عطاء بن یسار کو حضور ﷺ کی تورات میں لکھی ہوئی جو صفات بیان کیں حضرت امام بخاری اسے یوں بیان کرتے ہیں۔
عن عطاء بن يسار لقيت عبدالله بن عمرو بن عاص قلت اخبرنی عن صفة رسول الله ﷺ فی التوراة قال اجل والله انه لموصوف فی التوراة ببعض صفته فی القران يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيرًا وحرزا للاميين انت عبدی ورسولی سميتك المتوكل ليس بفظ ولا غليظ ولا صخاب فی الاسواق ولا يدفع بالسيئة السيئة ولكن يعفو ويغفر ولن يقبضه الله حتى يقيم به الملة العوجاء بان يقولوا لا اله الا الله وتفتح بها اعين عمى وآذان صم و قلوب غلف۔
﴿بخاری باب كراهية الصخب فی السوق جلد 1 ص 285﴾
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے:
”حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے میری ملاقات ہوئی میں نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ کی اس صفت کے متعلق بتائیے جو تورات میں ہے انہوں نے کہا اچھا اللہ کی قسم تورات میں آپ کی ان بعض صفات کا ذکر ہے جو قرآن پاک میں مذکور ہیں وہ یہ ہیں اے نبی بے شک ہم نے بھیجا آپ کو حاضر ناظر اور خوشخبری سناتا اور ڈر سناتا اور آپ امیّین کی پناہ ہیں آپ میرے بندے اور رسول ہیں میں نے آپ کا نام متوکل رکھا آپ سخت مزاج اور درشت خو نہیں اور نہ بازار میں شور کرنے والے ہیں اور نہ برائی کا جواب برائی سے دیتے ہیں لیکن معاف کرتے ہیں اور بخش دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک
توہین رسالت: علمی و تاریخی جا آپ کی روح قبض نہیں کرے کر دے گا یہ کہ وہ لا اله الا بہرے کانوں اور پردہ پڑے حدیث شریف سے بالکل واض ﷺ کی صفات اس میں واضح طو مماثلت بھی نظر آئے گی جس سے حضور سید عالم ﷺ کی تشریف آو خداوند تیرا خدا تیرے لیے مانند ایک نبی برپا کرے گا تم اس کی اپنے خدا سے مجمع کے دن خواب میں اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ ہو کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں میں ان برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے م سے کہے گا جو کوئی میری ان باتوں اس سے لوں گا۔
انجیل میں سید عالم ﷺ
یہودیوں کی طرح عیسائی طرح موجودہ انجیل کے متن میں موجود ہے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
آپ کی روح قبض نہیں کرے گا یہاں تک کہ آپ کے سبب ٹیڑھی قوم کو سیدھا کر دے گا یہ کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں گے اور آپ کے سبب اندھی آنکھوں بہرے کانوں اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو کھول دے گا"
حدیث شریف سے ماقبل تورات کے اقتباس کو اگر غور سے پڑھیں تو حضور سید عالم ﷺ کی صفات اس میں واضح طور پر نظر آئیں گی اور حدیث پاک سے اس اقتباس کی مماثلت بھی نظر آئے گی جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تورات کے اس اقتباس میں حضور سید عالم ﷺ کی تشریف آوری کا ذکر ہے۔
خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا تم اس کی سننا یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہوگا جو تو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن حورب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سننی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ ہو تا کہ میں مر نہ جاؤں اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں میں ان کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔
﴾تورات استثناء باب 18 فقرات 15-19 صفحہ 184﴿
انجیل میں سید عالم ﷺ کے متعلق بشارتیں:
یہودیوں کی طرح عیسائیوں نے بھی انجیل میں تحریف و تبدیلی کی لیکن تورات کی طرح موجودہ انجیل کے متن میں بھی حضور سید عالم ﷺ کی تشریف آوری اور بعثت کا تذکرہ موجود ہے۔
توہین رسالت علمی و تاریخی جائزہ
میں تم کو توبہ کے لیے پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن جو میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے زور آور ہے میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں۔
﴿متی کی انجیل باب 03 فقرہ 12 صفحہ 04﴾
انجیل کے اس اقتباس میں عزت و توقیر مصطفیٰ ﷺ بیان کی گئی اور حضور سید عالم ﷺ کے بلند اور اعلیٰ منصب کی طرف اشارہ ہے۔
دیکھو یہ میرا خادم ہے جسے میں نے چُنا میرا پیارا جس سے میرا دل خوش ہے میں اپنا روح اس پر ڈالوں گا اور یہ غیر قوموں کو انصاف کی خبر دے گا یہ نہ جھگڑا کرے گا نہ شور اور نہ بازاروں میں کوئی اس کی آواز سنے گا یہ کچلے ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑے گا اور دھواں اٹھتے ہوئے سن کو نہ بجھائے گا جب تک کہ انصاف کی فتح نہ کرائے اور اُس کے نام سے غیر قومیں امید رکھیں گی۔
﴿متی کی انجیل باب 12 فقرات 18-21 صفحہ 22﴾
انجیل کے اس اقتباس پر نظر ڈالیں تو حضور ﷺ کی صفات یہ ہیں نہ جھگڑا کرے گا نہ شور ڈالے گا اور نہ بازاروں میں کوئی اس کی آواز سنے گا تو یہی صفات ماقبل تورات کے اقتباس میں بھی نظر آتی ہیں جس سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اپنی قوموں کو حضور سید عالم ﷺ کی صفات بیان کر کے آپ پر ایمان لانے کی ترغیب دیتے رہے جو حضور سرور عالم ﷺ کی اکملیت اور مرکزیت کی واضح دلیل ہے۔
یسوع نے ان سے کہا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی۔
﴿متی کی انجیل باب 21 فقرات 42-43 صفحہ 42﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
انجیل کی اس عبارت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے حضور سید عالم ﷺ بنو اسماعیل سے ہوں گے اور نبوت بنی اسرائیل سے منتقل ہو کر بنو اسماعیل کے پاس چلی جائے گی۔
میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو میں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا بلکہ ان سے بھی بڑے کام کرے گا کیونکہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں اور جو کچھ تم میرے نام سے چاہو گے میں وہی کروں گا تاکہ باپ بیٹے میں جلال پائے اگر میرے نام سے مجھ سے کچھ چاہو گے تو میں وہی کروں گا اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔
﴿یوحنا کی انجیل باب 14 فقرات 12-17 صفحہ 188﴾
اس اقتباس میں یہ بات کہ ”وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا“ حضور ﷺ کی بعثت و جلوہ گری کے ساتھ ساتھ آپ کی ختم نبوت پر بھی دلیل ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا جب پیشن گوئی کے مطابق ابد تک حضور ﷺ اقوام عالم کے مددگار ہیں تو پھر کسی دوسرے نبی کی ضرورت ہی نہیں اور خود رسول مکرم ﷺ نے بھی لا نبی بعدی فرما کر جھوٹے مدعیان نبوت کا قلع قمع فرما دیا۔ اور دوسری بات کہ جو تبلیغ و تعلیم توحید و نبوت کی میں تمہیں دے رہا ہوں وہ نبی بھی معرفت الٰہی کے نور سے مخلوق کے قلوب واذہان کو روشن فرمائے گا۔
اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔
﴿یوحنا کی انجیل باب 14 فقرہ 30 صفحہ 189﴾
لیکن میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راست بازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا گناہ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
کے بارے میں اس لیے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے راست بازی کے بارے میں اس لیے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے عدالت کے بارے میں اس لیے کہ دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا گیا مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم تمام کو سچائی کی راہ دکھائے گا اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔
﴿یوحنا کی انجیل باب 16 فقرات 08-14 صفحہ 191﴾
عہد نامہ قدیم میں اس طرح تھا کہ جب وہ فارقلیط آئے گا فارقلیط یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا عربی میں ترجمہ احمد بنتا ہے تو اب نیا عہد نامہ میں فارقلیط کو تبدیل کر کے اس کی جگہ سچائی کا روح لکھ دیا گیا ہے اس اقتباس کی تائید قرآن حکیم کی اس آیت کریمہ سے بھی ہوتی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَ اِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْ اِسْرَآءِ يْلَ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللَّهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ اَحْمَدُ ط 6
﴿الصف﴾
”اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے“
ہر دور، ہر زمانے میں حضور سید عالم ﷺ کی تعریف و توصیف کے نغمات گونجتے رہے اور آپ کی مرکزیت کا تذکرہ زبان زد عام رہا، لوگ آپ کی تشریف آوری کا انتظار کرتے رہے تورات و انجیل میں نعت مصطفیٰ ﷺ کے حوالے سے کسی شاعر نے بہت خوب کہا۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
کتاب عیسیٰ میں ان کے فسانے آئے ہیں
انہیں کی نعت کے نغمے زبور سے سن لو
زبان قرآن پہ ان کے ترانے آئے ہیں
ہندوؤں کی کتب میں رسول اللہ ﷺ کی بشارت:
جس طرح تورات وانجیل میں حضور سید عالم ﷺ کی جلوہ گری کا تذکرہ ہے اسی طرح ہندوؤں کے وید اور پران میں ان میں بھی رسول اللہ ﷺ کے اوصاف حمیدہ کا ذکر موجود ہے۔
سام وید:
پربھاٹک 03 رشی 06 منتر 08
”احمد نے اپنے رب سے پرحکمت شریعت کو حاصل کیا میں سورج کی طرح روشن ہورہا ہوں یعنی میں (رشی دتہ کنو) اس بشارت کو دیکھتے وقت آفتاب رسالت کے نور سے منور ہورہا ہوں“
قرآن شریف اس منتر کے راز کو اس طرح کھولتا ہے
يٰأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيرًا O وَّدَاعِيًا إِلَى اللّٰهِ بِإِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا O
﴿الاحزاب: 45 تا 46﴾
”اے نبی ہم نے تجھے شاہد مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے اور تو اللہ کی طرف سے اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن کرنے والا سورج ہے“
تشریح : روشنی دو طرح کی ہوتی ہے اجرام فلکی کی ایک وہ اجرام جو بذات خود روشن
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ہیں جیسے سورج دوسرے وہ اجرام جو اس سے روشن ہوتے ہیں جیسے رات کے وقت چاند ستارے سورج کی روشنی کی گواہی دیتے ہیں اس لیے رشی دتہ کا کہنا کہ میں سورج کی مانند روشن ہوں درحقیقت سِراجاً مُّنِیرًا کے لیے ایک گواہی ہے اور وہ سِراجاً مُّنِیرًا احمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔
﴿نقوش رسول نمبر جلد 04 صفحہ 555﴾
کنتپاپ سوکت کا پہلا منتر:
”اے لوگو یہ بشارت احترام سے سنو محمد ﷺ تعریف کیا جائے گا ساٹھ ہزار اور نوے دشمنوں میں اس ہجرت کرنے والے (امن پھیلانے والے) کو ہم (حفاظت میں) لیتے ہیں“
تشریح : نَراشَنسَہ یعنی لوگوں میں تعریف کیا گیا کَورَم یعنی امن پھیلانے والا یا مہاجر شیسٹی سہم مکہ کی آبادی اس وقت ساٹھ ستر ہزار تھی جیسا کہ ابن اثیر کامل وغیرہ نے لکھا
﴿حوالہ مذکور﴾
اتھروید:
کانڈ 20 سوکت 21 منتر 06
”اے صادقوں کے رب تجھے ان سرور دینے والوں نے اپنے بہادرانہ کارناموں اور مستانہ ترانوں سے دشمن کی جنگ میں مسرور کیا کہ جب حمد کرنے والے نیز عبادات کرنے والے کے لیے تو نے دس ہزار دشمنوں کو بغیر مقابلہ شکست خوردہ کردیا“
تشریح : مِدترتجے شوچے بمعنی صادقوں کے رب اُمدن بمعنی سرور کیا ویر سنسفر یاتے ان بہادرانہ کارناموں سے سوماسہ یعنی مستانہ ترانوں نے وِدتر بمعنی دشمن گارو
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ہے بمعنی حملہ کرنے والے کے لیے وَرَهَشَمْتَ بمعنی بغیر مُڈ بھیڑ فِیْ دُرْمَسْعِیَةٍ یعنی تو نے شکست خوردہ کر دیا مِہْتَجُوْ یعنی جنگ میں۔
﴿حوالہ مذکور﴾
اس منتر میں جنگ احزاب کی فتح کا تذکرہ ہے کہ جب کفار کو بغیر جنگ کیے ہی سخت ہزیمت اُٹھا کر ناکام و نامراد واپس لوٹنا پڑا اور ان کے اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے ارادے خاک میں مل گئے اور ان کے دل مایوس ہو گئے۔ منتر میں ہے ان سرور دینے والوں نے اپنے بہادرانہ کارناموں مستانہ ترانوں سے دشمن کی جنگ میں مسرور کیا۔
یہ صحابہ کرام ؓ کا تذکرہ ہے جس میں صحابہ کرام کی جرأت و بہادری اور ان کے کارنامے بیان ہوئے کہ انہوں نے کس جوانمردی کے ساتھ کفار کا مقابلہ کیا اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے کتنی قربانیاں پیش کیں۔
قرآن حکیم میں غزوہ احزاب کے ذکر میں صحابہ کرام ؓ کی جرأت و بہادری کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے۔
وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۖ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ ۚ.......
﴿الاحزاب:22 تا 23﴾
”اور جب مسلمانوں نے کافروں کے لشکر دیکھے بولے یہ ہے وہ جو ہمیں وعدہ دیا تھا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچ فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے اور اس سے نہیں بڑھا مگر ایمان اور فرمانبرداری۔ مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کر دیا جو عہد اللہ سے کیا تھا“
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
کلکی پران:
ہندوؤں کے عقائد کے مطابق اس دنیا میں دُنیا اور دُنیا والوں کی مدد اور ہدایت کے لیے چوبیس (24) اوتاروں کا تشریف لانا یقینی اور قطعی ہے جو نمونہ خداوندی یا حامل بعض اوصاف خداوندی ہوں گے جن کا ذکر شری مد بھاگوت میں موجود ہے ان میں سے تئیس (23) اوتار تو اس کتاب کلکی پران کے زمانہ تصنیف تک تشریف لاچکے۔ اب صرف ایک چوبیسویں آخری اوتار کا انتظار ہے جن کا ذکر کئی کتابوں میں ہے اور ان کا نام کلکی اوتار یعنی سیاہی دور کرنے والا اوتار بتایا گیا ہے انہیں اوتار کے تذکرے میں ایک وید کو چار وید اور اٹھارہ پران بنانے والے اکیسویں اوتار وید ویاس جی نے ایک کتاب لکھی جس کا نام کلکی پران رکھا اس کتاب کے صفحہ (09) پر ہے کہ کلکی پران کے پتا کا نام وشنویس اور ماتا کا نام سوم وتی ہوگا۔
تشریح: نبی آخرالزماں ﷺ کے باپ کا نام عبداللہ اور ماں کا نام آمنہ ہوگا اس لیے کہ وشنو اللہ کے ناموں میں ایک نام بمعنی حاضر ناظر ہے یعنی اللہ اور ”یس“ بمعنی عبد یعنی عبداللہ اور سوم وتی بمعنی امن و امان والی یعنی آمنہ اور صفحہ (12) پر ہے کہ کلکی اوتار کے تین بھائی ہوں گے۔ (01) کوی (02) سمت (03) پراک
تشریح: کوی بمعنی بہت بڑی عقل والے یعنی عقیل اور ”سمت“ بمعنی بہت بڑے علم والے یعنی جعفر اور ”پراک“ بمعنی بہت بڑے مرتبے والے یعنی علی مطلب یہ ہوا کہ نبی آخرالزماں ﷺ کے تین بھائی بنام عقیل و جعفر طیار اور علی مرتضیٰ ہوں گے صفحہ (15) پر ہے کہ پرس رام کلکی اوتار کو گپھا میں لے جا کر تعلیم دیں گے۔
تشریح: ”پرس“ بمعنی روح اور ”رام“ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائز
بمعنی اللہ یعنی روح الحق، روح القدس حض حرا میں جبریل ؑ نبی آخرالزماں ﷺ اوتار کو ایک گھوڑا دیں گے جو عجیب وغری فرمائیں گے۔
نوٹ: شری مد بھاگوت میں او کے سامنے اس کی خاص چیز کی تصویر دی کے سامنے تیر کمان کی تصویر اور شری کرش کی تصویر اور کلکی اوتار کی تصویر کے سات بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض پنڈت وہ جیب میں سینے کے برابر رکھتے ہیں۔
اور صفحہ (24) پر ہے کہ کلکی اوتار تشریح: نبی آخرالزماں ﷺ فرمائیں گے اور صفحہ 26 پر ہے کہ کلکی تشریح: مال دار با عزت و ثروت دیں گی۔
بشارتوں کی وضاحت:
نبی آخرالزماں ﷺ کے باپ ان کے تین بھائی بنام عقیل، جع جبریل غار حرا میں وحی الٰہی لے
تحفظ ناموس
AN ISO 9001 : 2000 CERTIFIED COMPANY AQA
توہین رسالت : علمی و تاریخی جائزہ
بمعنی الامین، روح الحق، روح القدس حضرت جبریل علیہ السلام ”گپھا“ بمعنی غار یعنی غار حرا میں جبریل علیہ السلام نبی آخر الزمان ﷺ کو وحی الٰہی سنائیں گے اور صفحہ 18 پر ہے کہ شیو کلکی اوتار کو ایک گھوڑا دیں گے جو عجیب و غریب ہوگا بمعنی براق یعنی حضور براق پر سفر معراج فرمائیں گے۔
نوٹ: شری مد بھاگوت میں اوتاروں کی تصویریں دی گئی ہیں اور ہر اوتار کی تصویر کے سامنے اس کی خاص چیز کی تصویر دی گئی ہے یعنی اسپیشل مارک شری رام چندر جی کی تصویر کے سامنے تیر کمان کی تصویر اور شری کرشن جی کی تصویر کے سامنے سدرشن چکر اور کنس کے سر کی تصویر اور کلکی اوتار کی تصویر کے سامنے دو پروں والے گھوڑے کی تصویر دی گئی ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض پنڈت دو پروں والے گھوڑے کی ایک چھوٹی سی تصویر اندر کی جیب میں سینے کے برابر رکھتے ہیں۔
اور صفحہ (24) پر ہے کہ کلکی اوتار اپنے پہلے آنے والے بزرگوں کی تعریف کریں گے۔
تشریح: نبی آخر الزمان ﷺ اپنے پہلے تشریف لانے والے پیغمبروں کی تصدیق فرمائیں گے اور صفحہ 26 پر ہے کہ سنگل دیپ کے راجہ کی بیٹی کلکی اوتار کو بیاہ کا پیغام دے گی
تشریح: مال دار باعزت و شہرت عورت خدیجۃ الکبریٰ اپنی طرف سے شادی کا پیغام دیں گی۔
بشارتوں کی وضاحت:
نبی آخر الزمان ﷺ کے باپ کا نام عبداللہ اور ماں کا نام آمنہ ہوگا۔
ان کے تین بھائی بنام عقیل، جعفر طیار وعلی ہوں گے
جبریل غار حرا میں وحی الٰہی سنائیں گے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
براق پر سفر معراج فرمائیں گے خدیجۃ الکبریٰ شادی کا پیغام اپنی طرف سے دیں گی سیاہی دور کرنے والے نُور مجسم ہوں گے۔ خاتم النبیین ہوں گے آپ کے بعد کوئی نبی تشریف نہیں لائیں گے۔
﴿بحوالہ ایمانی آیات﴾
کھلی آنکھوں نے دیکھ لیا اور بے تعصب ایمان دار دلوں نے اور دماغوں نے مان لیا کہ مذکورہ بالا تمام پیش گوئیوں اور بشارتوں کے حامل صرف محمد رسول ﷺ ہیں اور دوسرا کوئی نہیں ایک ایک علامت دیکھتے جاؤ کہ یہی نبی آخر الزماں ﷺ ہیں جو مقصود کائنات ہیں اپنے نور ہدایت سے کائنات میں روشنی پھیلانے والے ہیں کائنات کو امن اور یک جہتی کا پیغام دینے والے ہیں۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
باب ...... 4
تاجدار انبیاء ﷺ اور غیر مسلم
یہود و نصاریٰ کا اسلام اور پیغمبر اسلام کے ساتھ بغض و عناد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں انہوں نے حضور سید عالم ﷺ اور اسلام کے خلاف جو زہر اگلا تاریخ کے صفحات ان سازشوں اور حربوں سے بھرے ہوئے ہیں مغربی علماء، دانشور اور مصنفین نے پیغمبر اسلام اور اسلام کے خلاف گمراہ کن اور جھوٹے مفروضے پھیلائے کہیں اسلامی معاشرت اور قوانین کے متعلق غلط تصورات رواج پا گئے تو کہیں مسلمانوں کو دہشت گرد اور جنگجو دکھایا گیا جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ اور کہیں براہ راست حضور سرور کائنات ﷺ کی ذات اقدس پر حملے کئے گئے لیکن اس حقیقت کے ادراک پر قلب و جان فرط مسرت سے جھوم اُٹھتے ہیں اور اس افتخار سے ہر صاحب ایمان کا سر بلند ہونے لگتا ہے کہ ہر صدی ہر عہد اور ہر دور کے اصحاب ادب و فن نے اپنا بہترین اثاثہ فکر بارگاہ نبوی کی نذر کیا ہے اور ہر قرن میں چشم فلک نے تمام مذاہب کے اہل قلم کے قافلوں کو ارض طیبہ کی جانب بڑھتے دیکھا مسلم ہی نہیں غیر مسلم بھی، اپنے ہی نہیں بیگانے بھی، سرور کونین ﷺ کی بارگاہ میں نذر عقیدت پیش کرتے نظر آتے ہیں اور رویندر جین کا شعر اس بات کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔
صرف شامل ہوں مسلمان رسول اکرم
حضور سید عالم ﷺ کی ذات اقدس کو اپنی جان، مال اور اولاد سے عزیز تر جاننا ایک
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
مسلمان کے ایمان کی دلیل تو ہے مگر ایک غیر مسلم کا بارگاہ نبوت کے ساتھ اظہار عقیدت ثبوت اس امر کا ہے کہ اس کا ذوق پاکیزہ اور بصیرت بے عیب ہے آفتاب کو اگر کوئی آفتاب کہہ کر پکارے تو آفتاب پر کوئی احسان نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دیکھنے والے کی بصیرت صحیح وسالم ہے پیغمبر کے جوہر پیغمبری کو پہچان کر اگر کوئی وارفتگی کا اظہار کرے تو صرف یہ ثبوت ہے کہ اس شخص کی بصیرت بے عیب اور اس کا حاسہ باطنی زندہ و بیدار ہے۔
تھامس کارلائل :
اس شخص نے Hero And Hero Worship کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جو 1841ء میں شائع ہوئی اس کتاب میں دوسرے مشہور لوگوں کے علاوہ کارلائل نے حضور سرور عالم ﷺ کے انقلابی کردار پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہ اپنے مقالہ میں لکھتا ہے۔
آپ کہتے ہیں کہ اس مذہب (اسلام) کی عمارت جھوٹ پر کھڑی کی گئی ہے میں کہتا ہوں کہ جھوٹا آدمی اینٹوں کی معمولی سی عمارت بھی تیار نہیں کر سکتا چہ جائیکہ وہ ایک مذہب کا بانی ہو اور جس نے ایک تہذیب کی بنیاد رکھی ہو معمولی عقل کا آدمی بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ اینٹ اور چونے کا مکان اس وقت تک نہیں بن سکتا جب تک تعمیر کرنے والے شخص کو مٹی چونے اور اس کام میں استعمال ہونے والی اشیاء کے خواص کا علم نہ ہو ایسے شخص کا بنایا ہوا مکان، مکان نہیں بلکہ مٹی کا ڈھیر ہو گا جو دھڑام سے نیچے آگرے گا ایسا مکان بارہ صدیوں تک قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اٹھارہ کروڑ انسان اس میں سما سکتے ہیں مگر یہ مکان (یعنی اسلام کی عمارت) تو اتنے طویل عرصے سے قائم ہے حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ان کے اقوال و ہدایات کی صداقت پر یقین رکھنے والے انسان ہماری طرح ہی ذی شعور اور صاحب
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
فراست ہیں اور ہماری طرح دست قدرت کی صناعی کا نمونہ ہیں ان بندگان خدا کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے جو کسی بھی اور شخص کی بہ نسبت اپنے اس قائد کے اقوال پر زیادہ اعتماد رکھتی ہے۔
ایک دوسرے مقام پر حضور ﷺ پر لگنے والے الزامات کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے۔
اگر ہم حضرت محمد ﷺ کو سازشی اور حریص قرار دیں اور ان کی تعلیمات کو بے بصیرتی اور نادانی قرار دیں تو یہ ہماری سخت حماقت اور جہالت ہو گی انہوں نے سادہ اور غیر مرصع جو پیغام دیا وہ برحق تھا وہ پردۂ غیب سے اُبھرنے والی حیران کن آواز تھی ان کا نہ کوئی قول جھوٹ نکلا اور نہ کوئی فعل غلط ثابت ہوا ان کی کوئی گفتگو نہ بے معنی تھی اور نہ ان جیسی کوئی مثال پہلے موجود تھی وہ زندگی کا ایک روشن جلوہ تھا جو سینہ فطرت سے اس لیے ظہور پذیر ہوا کہ دنیا کو منور کر ڈالے کیونکہ اس کائنات کا خالق اس کے ذریعہ دنیا کو اندھیروں سے نجات دلانا چاہتا تھا وہ جو پیغام سرمدی لے کر آئے تھے اس کی اہمیت و عظمت اپنی جگہ قائم ہے حضرت محمد ﷺ پر ایسا کوئی الزام ثابت نہیں کیا جاسکا۔ نبی کے منہ سے جو بات نکلتی ہے ہمارا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ وہ غیر معمولی بات ہے اس جیسے الفاظ کسی عام انسان کی زبان سے نکل ہی نہیں سکتے اس کی زندگی کا مقصد و مدعا اس کے ہر لفظ اور حرکت سے عیاں ہوتا ہے سنی سنائی باتوں سے وہ قطعاً بیگانہ ہوتا ہے اس کا دل سچائیوں کا امین اور حقائق کی روشنیوں سے منور ہوتا ہے اس کی باتیں الہامی ہوتی ہیں یا الفاظ دیگر وہ کائنات کے حقیقی اسرار سے آگاہی رکھتا ہے اس کی ہر بات ترجمان حقیقت ہوتی ہے اس سے پہلے بھی انبیائے کرام علیہم السلام پر وحی آتی رہی ہے لیکن اب کی بار وحی آخری اور تازہ ترین ہے کیا یہ نبی اس خدا کا بندہ نہیں؟ ہم اس کی باتوں کو کیسے سنی ان سنی کر سکتے ہیں۔
﴿بحوالہ پیغمبر اسلام غیر مسلموں کی نظر میں صفحہ 32-34﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
مائیکل ہارٹ :
مائیکل ہارٹ ایک امریکی ادیب اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والا شخص تھا اس نے "THE 100" کے نام سے عہد ساز شخصیات کے کارناموں پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس میں اس نے حضرت محمد ﷺ کو سر فہرست رکھا اس کی وجہ مائیکل ہارٹ یوں لکھتے ہیں۔
اگر مارکونی ریڈیو ایجاد نہ کرتا تو آئندہ چند سالوں میں کوئی دوسرا شخص یہ کارنامہ انجام دے سکتا تھا سپین کا برنانڈو کروسٹر اگر منظر پر نہ ابھرتا تب بھی سپین میکسیکو پر قبضہ کر لیتا ماہر حیاتیات چارلس ڈارون سائنسی تحقیق و جستجو نہ کرتا تب بھی نظریہ ارتقاء چند سالوں میں دنیا کے علم میں آجاتا لیکن حضرت محمد ﷺ وہ شخصیت ہیں کہ جو کارنامے انہوں نے انجام دیئے وہ کسی اور کے ہاتھ سے انجام نہ پا سکتے تھے۔
﴿بحوالہ پیغمبر اسلام غیر مسلموں کی نظر میں صفحہ 71﴾
ہمفرے :
یہ ایک برطانوی جاسوس تھا اور سلطنت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر کرنے کے لیے اس نے بھی کوششیں کیں اور ایک مسلمان کا روپ دھار کر ملت اسلامیہ کے اندر زہر گھولنے کی کوشش میں مصروف رہا اس کے باوجود حضور سید عالم ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار یوں کرتا ہے۔
بہر حال میں حضرت محمد ﷺ کی قدر و منزلت اور بزرگی کا قائل ہوں بے شک آپ کا شمار ان بافضیلت افراد میں ہوتا ہے جن کی کوششیں تربیت بشر کے لیے ناقابل انکار ہیں اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے۔
﴿ہمفرے کے اعترافات صفحہ 22﴾
توہین رسالت۔ علمی و تاریخی جائزہ
نپولین بونا پارٹ:
یہ 1799ء میں فرانس کا صدر منتخب ہوا اور 1804ء میں شہنشاہ بن گیا تاریخ اسے فاتح اعظم کے طور پر یاد کرتی ہے حضور سید عالم ﷺ کو ان الفاظ کے ساتھ خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی ایک مرکز ثقل تھی جس کی طرف لوگ کھنچے چلے آتے تھے ان کی تعلیمات نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور ایک گروہ پیدا ہو گیا جس نے چند ہی سالوں میں اسلام کا غلغلہ نصف دنیا میں بلند کر دیا اسلام کے ان پیروکاروں نے دنیا کو جھوٹے خداؤں سے چھڑا لیا انہوں نے بت سرنگوں کر دیئے۔ حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام کے پیروؤں نے پندرہ سو سال میں کفر کی نشانیاں اتنی منہدم نہ کی تھیں جتنی ان متبعین اسلام نے صرف پندرہ سال میں کر دیں حقیقت یہ کہ حضرت محمد ﷺ کی ہستی بہت ہی بڑی تھی۔
﴿بحوالہ پیغمبر اسلام غیر مسلموں کی نظر میں صفحہ 80﴾
ڈاکٹر ڈی رائٹ:
محمد ﷺ اپنی ذات اور قوم کے لیے نہیں بلکہ دنیائے ارضی کے لیے ابر رحمت تھے تاریخ میں کسی ایسے شخص کی مثال موجود نہیں جس نے احکام خداوندی کو اس مستحسن طریقہ سے انجام دیا ہو۔
﴿اسلامک ریویو اینڈ مسلم انڈیا فروری 1920ء﴾
مسز اینی بیسنٹ:
مسز اینی اپنے لیکچر میں رسول اللہ ﷺ کو زمانے میں درپیش حالات کا موازنہ کرتے ہوئے کہتی ہیں۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
جو شخص ایسے ملک میں پیدا ہوا ہو جس کا میں نے تذکرہ کیا جس کو ایسے لوگوں سے پالا پڑا ہو جس کے نا گفتہ بہ حالات کا نقشہ کھینچا ہے اور جس نے ان کو مہذب ترین اور متقی بنا دیا ہو، ہو نہیں سکتا کہ وہ خدا کا رسول نہ۔
﴿مدینہ جولائی 1933ء﴾
کونٹ ٹالسٹائی:
اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کہ محمدﷺ ایک عظیم المرتبت مصلح تھے جنہوں نے انسانوں کی خدمت کی آپ کے لیے یہ فخر کیا کم ہے کہ آپ اُمت کو نور حق کی طرف لے گئے اور اسے اس قابل بنا دیا کہ وہ امن و سلامتی کی دلدادہ ہو جائے زہد و تقوی کی زندگی کو ترجیح دینے لگے آپ نے اسے انسانی خون ریزی سے منع فرمایا اس کے لیے حقیقی ترقی و تمدن کی راہیں کھول دیں اور یہ ایک ایسا عظیم الشان کام ہے جو اس شخص سے انجام پاسکتا ہے جس کے ساتھ کوئی مخفی قوت ہو اور ایسا شخص یقیناً عام اکرام و احترام کا مستحق ہے۔
﴿حمایت اسلام لاہور 1935ء﴾
ڈاکٹر ای۔اے فریمن:
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمدﷺ بڑے پکے اور سچے راست باز ریفارمر تھے
﴿معجزات اسلام صفحہ 67﴾
مسٹر سار مستشرق:
قرونِ وسطیٰ میں جب کہ تمام یورپ میں جہل کی موجیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں عربستان کے ایک شہر سے نیر تاباں کا ظہور ہوا جس نے اپنی ضیاباریوں سے علم و ہنر اور ہدایت کے چھلکتے ہوئے نوری دریا بہا دیئے اسی کا طفیل ہے کہ یورپ کو عربوں کے توسط
توہین رسالت: علمی و تاریخی
سے یونانیوں کے علوم اور فلسفے نصیب ہ
ڈاکٹر لین پول:
اگر محمدﷺ سچے نبی نہ تھے تو ا
ڈاکٹر بدھ دیو سنگھ دہلوی:
محمد صاحبﷺ ایک امی چھوڑ کر جن کے عقیدہ کے لحاظ س محمد صاحبﷺ کی سوانح عمری ایک ہے۔
سوامی برج نارائن جی سن
حقیقت بہر حال حقیقت ر پیغمبر اسلام کا نورانی چہرہ ان تمام ول ہیں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ خدا بھیجا ہے اور اس کائنات میں عالم ی شامل ہیں۔
کملا دیوی بی۔اے بمبئی:
اے عرب کے مہا پرش آپ بھگتی کا دھیان پیدا ہوا۔ بے شک آ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
سے یونانیوں کے علوم اور فلسفے نصیب ہو سکے۔
﴿صوت الحجاز ذی قعدہ 1353ء﴾
ڈاکٹر لین پول:
اگر محمد ﷺ سچے نبی نہ تھے تو کوئی نبی دنیا میں برحق آیا ہی نہیں۔
﴿ہسٹری آف دی مورث ایمپائر یورپ﴾
ڈاکٹر بدھ ویر سنگھ دہلوی:
محمد صاحب ﷺ ایک ایسی ہستی تھے اس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر جن کے عقیدہ کے لحاظ سے حضرت ایک پیغمبر تھے دوسرے لوگوں کے لیے محمد صاحب ﷺ کی سوانح عمری ایک نہایت ہی دل بڑھانے والی اور سبق آموز ثابت ہوئی ہے۔
﴿رسالہ مولوی ربیع الاول 1351ء﴾
سوامی برج نارائن جی سنیاسی بی۔اے:
حقیقت بہرحال حقیقت ہے اگر بغض و عناد کی پٹی آنکھوں پر سے اتار دی جائے تو پیغمبر اسلام کا نورانی چہرہ ان تمام داغ دھبوں سے پاک و صاف نظر آئے گا جو بتلائے جاتے ہیں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ خدا نے پیغمبر اسلام کو تمام کائنات کے لیے سراپا رحمت بنا کر بھیجا ہے اور اس کائنات میں عالم انسان۔ عالم حیوان۔ عالم نباتات اور عالم جمادات سب شامل ہیں۔
﴿نقوش رسول نمبر صفحہ 487﴾
کملا دیوی بی۔اے بمبئی:
اے عرب کے مہاپرش آپ وہ ہیں جن کی شکشا سے مورتی پوجا مٹ گئی اور ایشور کی بھگتی کا دھیان پیدا ہوا۔ بے شک آپ نے دھرم سیوکوں میں وہ بات پیدا کردی کہ ایک ہی
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
سینے کے اندر وہ جرنیل کمانڈر اور چیف جسٹس بھی تھے اور آتما کے سدھار کا کام بھی کرتے تھے آپ نے عورت کی مٹی ہوئی عزت کو بچایا اور اس کے حقوق مقرر کیے آپ نے اس دکھ بھری دنیا میں شانتی اور امن کا پرچار کیا اور امیر وغریب سب کو ایک سبھا میں جمع کیا۔
﴿الامان دہلی 17 جولائی 1932ء﴾
بابو جگل کشور کھنہ:
حضرت محمد ﷺ کی لائف اور آپ کی تعلیم کی بنیادی چیزوں کو دیکھ کر ہر شخص آسانی سے اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے دنیا پر بہت کچھ احسانات کیے ہیں اور دنیا نے بہت کچھ آپ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھایا صرف ملک عرب پر ہی حضرت محمد صاحب ﷺ کے احسانات نہیں بلکہ آپ کا فیض تعلیم و ہدایت دنیا کے ہر گوشے میں پہنچا غلامی کے خلاف سب سے پہلی آواز حضرت محمد ﷺ نے بلند کی اور غلاموں کے بارے میں ایسے احکام جاری کیے کہ ان کے حقوق بھائیوں کے برابر کر دیئے آپ نے عورتوں اور استریوں کے درجہ کو بلند کر دیا سود کو قطعاً حرام کر کے سرمایہ داری کی جڑ پر ایسا کلہاڑا مارا کہ اس کے بعد پھر یہ درخت اچھی طرح پھل پھول نہ سکا سود خوری ہمیشہ کے لیے ایک لعنت رہی ہے مساوات کی طرف ایسا عملی اقدام کیا کہ اس سے قبل دنیا اس سے بالکل نا آشنا اور ناواقف تھی حضرت محمد ﷺ نے نہایت پر زور طریقے سے توہمات کے خلاف جہاد کیا اور نہ صرف اپنے پیروں کے اندر سے اس کی بیخ و بنیاد اکھاڑ کر پھینک دی بلکہ دنیا کو ایک ایسی روشنی عطا کی کہ توہمات کے بھیانک چہرے اور اس کی ہیبت کے خدوخال سب کو نظر آگئے
﴿رسالہ مولوی ربیع الاول 1351ء﴾
بی۔ایس رندھاوا ہوشیار پوری:
حضرت محمد ﷺ کو جتنا ستایا گیا اتنا کسی ہادی اور پیغمبر کو نہیں ستایا گیا ایسی حالت میں
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
کیوں نہ محمد صاحب ﷺ کی رحم دلی اور شفقت و مروت علی المخلوقات کی داد دوں جنہوں نے خود تو ظلم و ستم کے پہاڑ اپنے سر پر اٹھا لیے مگر اپنے ستانے والے اور دُکھ دینے والوں کو اُف تک نہ کہا بلکہ ان کے حق میں دعائیں مانگیں اور طاقت و اقتدار حاصل ہو جانے پر بھی ان سے کوئی انتقام نہیں لیا بانیان مذاہب میں سے سب سے زیادہ ناانصافی اور ظلم کسی پر کیا گیا ہے تو بانی اسلام پر اور کوشش کی گئی ہے کہ پیغمبر اسلام کو ایک خونخوار اور بے رحم انسان دکھایا جائے اور خواہ مخواہ دوسروں کو ان سے نفرت دلائی جائے اس کا بڑا سبب یہ ہوا ہے کہ محمد ﷺ کی لائف پر تنقید کرنے والوں نے اسلامی تاریخ اور بانی اسلام کی سیرت کا صحیح طور پر مطالعہ کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کی بلکہ سنی سُنائی اور بے بنیاد باتوں کو سرمایہ بنا کر اعتراضات کی بوچھاڑ شروع کر دی اگر وہ اسلامی روایات کو سمجھ لیتے اور سچائی کے اظہار کے لیے اپنے اندر کوئی جرأت و ہمت پاتے۔ تو وہ یقیناً اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے۔
﴿حوالہ مذکور﴾
سوامی لکشمن رائے:
مفسر راز حیات سرور عالم ﷺ کے سوا تاریخ عالم کے تمام صفحات زندگی اس قدر صحیح تفسیر کرنے والی دوسری شخصیت عظمیٰ کے بیان سے خالی ہیں وہ کون سی اذیتیں تھیں جو کفرستان عرب کے کافروں نے اپنے عقائد باطلہ کی حفاظت کے لیے اس بت شکن پیغمبر کو نہیں دیں وہ کون سے انسانیت سوز مظالم تھے جو عرب کے درندوں نے اس رحم و ہمدردی کے مجسمہ پر نہیں توڑے وہ کون سے زہرہ گداز ستم تھے جو جہالت کے گہوارے میں پلنے والی قوم نے اپنے سچے ہادی پر روا نہیں رکھے مگر انسانیت کے اس محسن اعظم کی زبان فیض ترجمان سے بجائے بددعا کے دعا ہی نکلی غیر مسلم مصنفوں کا برا ہو جنہوں نے قسم کھالی ہے کہ
تحفظ ختم نبوت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت AN ISO 9001: 2008 CERTIFIED COMPANY
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
قلم ہاتھ میں لیتے وقت عقل کو چھٹی دے دیا کریں گے اور آنکھوں پر تعصب کی ٹھیکری رکھ کر ہر واقعہ کو اپنی کج فہمی اور کج نگاہی کے رنگ میں رنگ کر دنیا کے سامنے پیش کریں گے آنکھیں چکا چوند ہو جاتی ہیں اور ان کے گستاخ اور کج رقم قلموں کو اعترافات کرتے ہی بنتی ہے کہ واقعی اس نفس کش پیغمبر نے جس شان استغنا سے دولت ، عزت ، شہرت اور حسن کی طلسمی طاقتوں کو اپنے اصول پر قربان کیا وہ ہر کس و ناکس کا کام نہیں عرب کے سر برآوردہ بزرگوں نے اپنے عقائد باطلہ کی حفاظت کے لیے اس آفتاب حقانیت کے سامنے جس کی ہر کرن کفر سوز تھی ایک دوسرے سے بالکل متضاد اور مخالف راستے رکھ دیئے اور ان کو اختیار دے دیا گیا کہ ان میں سے اپنی حسب مرضی جو راستہ چاہیں منتخب کر لیں ایک طرف ریگستان عرب کی حسین سے حسین عورتیں دولت کے انبار عزت وشہرت کی دستار قدموں پر نثار کرنے کو تیار تھیں اور دوسری طرف ذرہ ذرہ مخالفت کے طوفان اُٹھا رہا تھا قتل کی دھمکیاں دی جاتی تھیں آوازے کسے جاتے تھے۔ نجاستیں پھینکی جاتی تھیں راستے میں کانٹے بچھائے جاتے تھے تاریخ عالم اس حقیقت غیر مشتبہ پر شاہد عادل ہے کہ اس کے اوراق کو تزکیہ نفس کے ایسے فقید المثال مظاہرہ کا بیان کبھی میسر نہیں ہوا اس حق کوش پیغمبر کو جس کا مدعا نفس پروری سے کوسوں دور تھا دولت کی جھنکار اپنی طرف متوجہ نہ کرسکی شہرت کی طلسمی طاقت اس کے دل کو فریب نہ دے سکی۔ حسن اپنی تمام دل آویزیوں کے ساتھ نظر التفات سے محروم رہا۔ انہوں نے بلا تامل فیصلہ کن لہجہ میں کہہ دیا کہ اگر آپ لوگ چاند اور سورج کو میری گود میں لا کر ڈال دیں تو بھی میں تبلیغ حق سے باز نہ آؤں گا۔
﴿بحوالہ نقوش رسول نمبر صفحہ 453﴾
وشوانرائن:
دولت وعزت ، جاہ وحشمت کی خواہش سے آنحضرت ﷺ نے اسلام کی بنیاد نہیں
توہین رسالت: علمی و تاری
ڈالی شاہی تاج ان کے نزدیک ا دنیاوی وجاہت کے بھوکے نہ تھے زاویوں کا پرچار تھا۔
لالہ سرداری لال:
زمانہ جاہلیت کی زہریلی آ جوان ہوتا ہے اور اس کی یہ حالت کی پاک نگاہ کبھی نسوانی حسن وجمال میں شریک نہیں ہوا۔ کسی کو برا نہیں اور لوگ جن گناہوں میں مبتلا تھے
گاندھی جی:
وہ (رسول کریم ﷺ) ہوں کسی روحانی پیشوا نے خدا کی اسلام نے۔
میجر آرتھر گلن لیونارڈ:
حضرت محمد ﷺ نہایت انہوں نے اپنے زمانہ کے حالات کے لیے نہیں کی بلکہ رہتی دنیا تک
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
ڈالی شاہی تاج ان کے نزدیک ایک ذلیل وحقیر شے تھی تخت شاہی کو آپ ٹھکراتے تھے دنیاوی وجاہت کے بھوکے نہ تھے ان کی زندگی کا مقصد تو موت اور حیات کے متعلق اہم زاویوں کا پرچار تھا۔
﴿مدینہ جولائی 1932ء﴾
لالہ سرداری لال:
زمانہ جاہلیت کی زہریلی آب و ہوا اور ایسے ہلاکت خیز ماحول میں ایک شخص پرورش پا کر جوان ہوتا ہے اور اس کی یہ حالت ہے کہ اس کے مقدس ہاتھوں نے کبھی شراب کو نہیں چھوا اس کی پاک نگاہ کبھی نسوانی حسن و جمال کی دلفریبیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوئی وہ کبھی قتل و غارت میں شریک نہیں ہوا۔ کسی کو برا نہیں کہا کسی کی دل آزاری نہیں کی کبھی قمار بازی میں حصہ نہیں لیا اور لوگ جن گناہوں میں مبتلا تھے ان میں سے ایک بھی اس نے اختیار نہیں کیا۔
﴿حوالہ مذکور﴾
گاندھی جی:
وہ (رسول کریم ﷺ) روحانی پیشوا تھے بلکہ ان کی تعلیمات کو سب سے بہتر سمجھتا ہوں کسی روحانی پیشوا نے خدا کی بادشاہت کا پیغام ایسا جامع اور مانع نہیں سنایا جیسا کہ پیغمبر اسلام نے۔
﴿الامان پٹی ضلع لاہور اگست 1936ء﴾
میجر آرتھر گلن لیونارڈ:
حضرت محمد ﷺ نہایت عظیم المرتبت انسان تھے حضرت محمد ﷺ ایک مفکر اور معمار تھے انہوں نے اپنے زمانہ کے حالات کے مقابلہ کی فکر نہیں کی اور جو تعمیر کی وہ صرف اپنے ہی زمانہ کے لیے نہیں کی بلکہ رہتی دنیا تک کے مسائل کو سوچا اور جو تعمیر کی وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کی۔
﴿نقوش رسول نمبر صفحہ 447﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
حکم چند کمار بی۔اے:
عالم شباب میں آپ کی یہ حالت تھی کہ آپ تازہ شادی کے بعد کئی روز تک گھر سے غیر حاضر رہ کر تزکیۂ نفس اور ریاضت کشی میں مشغول رہتے تھے بی بی عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے سوا جتنی عورتیں آپ کے عقد میں آئیں سب کی سب بیوہ تھیں ان حالات پر فرداً غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شادیاں نکاح کی خاطر نہ تھیں بلکہ کسی اخلاقی ذمہ داری کی ادائیگی کی خاطر تھیں۔
﴿مدینہ جولائی 1932ء﴾
راجا رادھا پرشاد سنھا:
آپ کا (رسول کریم ﷺ) ہر قول وفعل ۔ استقامت اور راستی کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا اور آپ کا کوئی قدم بھی اخلاق کے جادہ مستقیم سے منحرف نہ تھا۔
﴿رسالہ ایمان پٹی ضلع لاہور 1935ء﴾
ڈاکٹر شیلے:
محمد ﷺ گزشتہ اور موجودہ لوگوں میں سب سے اکمل اور افضل تھے اور آئندہ ان کی مثال پیدا ہونا محال اور قطعا غیر ممکن ہے۔
﴿نقوش رسول نمبر صفحہ 491﴾
سر فلیکڈ:
محمد ﷺ کی عقل ان عظیم ترین عقلوں سے تھی جن کا وجود دنیا میں عنقاء کا حکم رکھتا ہے وہ معاملہ کی تہہ تک پہلی ہی نظر میں پہنچ جایا کرتے تھے اپنے خاص معاملات میں نہایت ہی ایثار اور انصاف سے کام لیتے دوست و دشمن، امیر و غریب، قوی وضعیف ہر ایک کے ساتھ عدل و مساوات کا سلوک کرتے۔
﴿حوالہ مذکور﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
جان ڈیون پورٹ:
حضور سرور عالم ﷺ کے حسن و جمال کے بارے میں رقم طراز ہیں آپ کی شکل شاہانہ تھی خط و خال باقاعدہ اور دل پسند تھے آنکھیں سیاہ اور منور تھیں بینی ذرا اُٹھی ہوئی، دہن خوب صورت تھا دانت موتی کی طرح چمکتے تھے رخسار سُرخ تھے آپ کی صحت نہایت اچھی تھی آپ کا تبسم دل آویز اور آواز شیریں و دلکش تھی۔
﴿نقوش رسول نمبر صفحہ 530﴾
یوکمباؤ ماؤنٹ (بدھ لیڈر):
میں حضرت پیغمبر اسلام ﷺ کو خراج عقیدت ادا کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ کوئی شخص جو حضرت پیغمبر اسلام کے حالات زندگی پڑھے۔ وہ آپ کے شاندار کارناموں پر جوش تحسین کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا حضرت محمد ﷺ کی زندگی از حد مصروف زندگی تھی اور قابل تحسین کارناموں سے لبریز۔
﴿پشاور ربیع الاوّل 1356ھ﴾
پیشوا بدھ مذہب مانگ تونگ:
حضرت محمد ﷺ کا ظہور بنی نوع انسان پر خدا کی ایک رحمت تھا لوگ کتنا انکار کریں۔ مگر آپ کی اصلاحات عظیمہ سے چشم پوشی ممکن نہیں ہم بدھی لوگ حضرت محمد ﷺ سے محبت کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔
﴿معجزات اسلام صفحہ 66﴾
نوٹ: ڈاکٹر ڈی رائٹ کے اظہار خیال سے یہاں تک تمام عبارات نقوش رسول نمبر سے اخذ کی گئی ہیں۔
نثر کے ساتھ ساتھ غیر مسلم شعراء نے بھی بارگاہ نبوی میں منظوم خراج عقیدت پیش کیا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ان اشعار میں حضور سرور عالمﷺ کے ساتھ عقیدت و وارفتگی کا اقرار بھی ہے اور حضورﷺ کی آفاقی اور دائمی نبوت کا دلکش اظہار بھی ہے اور اسلام کی عظمتوں کا اعتراف بھی
پنڈت بال مکند عرش ملسیانی:
یہ جوش ملسیانی کے بیٹے تھے اور ضلع جالندھر کے قصبے ملسیان میں پیدا ہوئے۔ علامہ اقبال اور حفیظ جالندھری کے ہم عصر تھے۔ عرش کے تخلص سے مشہور تھے انہوں نے اپنا دیوان آہنگ حجاز کے نام سے لکھا جس میں گیارہ نعتیں بھی شامل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
جو نقش قلب جہاں ہے وہ بر تری ہے تری
ترا گدا ہوں غرض کیا ہے بادشاہوں سے
مجھے شہی سے بھی افضل گداگری ہے تری
جسے دوام میسر وہ تیری دارائی
نہیں زوال جسے وہ سکندری ہے تری
بسیط فرش سے تا عرش تیری شان بلند
زمانے بھر میں مسلم پیمبری ہے تری
ایک اور نعت میں یوں رقم طراز ہیں
لطف خدائے پاک شفاعت کے بھیس میں فیض عمیم کا وہ اشارا تمہی تو ہو
جاتی ہے عرش پر یہ تمہارے ہی فیض سے
میری دعائے دل کا سہارا تمہی تو ہو
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
چرن سرن ناز مانک پوری:
یہ ہندوستان کے رہنے والے تھے اور حفیظ جالندھری کی شاہنامہ اسلام اور منظور حسین منظور کی جنگ نامہ اسلام کی طرز پر ایک ایمان افروز نعتیہ دیوان رہبر اعظم کے نام سے تصنیف کیا جس میں حضور سید عالم ﷺ کی سیرت طیبہ کو بصورت نظم مرتب کیا گیا ہے وہ حضور رسالت مآب کی بارگاہ اقدس میں اس طرح عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔
بربط شوق کی ہے ایک ہی ہر سو آواز چاہیے عشق حقیقی کے لیے عشق مجاز
بے وسیلہ کہیں بندے کو خدا ملتا ہے
آج ناکام محبت ہوں تو شکوہ کیسا کشتہ رنج و مصیبت ہوں تو شکوہ کیسا
وقت کی تلخ حقیقت ہوں تو شکوہ کیسا ناز محروم عنایت ہوں تو شکوہ کیسا
حاصل عشق نبی روز جزا ملتا ہے
حضور سرور عالم ﷺ کے حسن و جمال کے حوالے سے ناز مانک پوری اپنے قلم کو یوں حرکت دیتے ہیں۔
اُترا زمین پر سوئے کعبہ کاروان قدسیاں
پھر اس کے جسم پاک سے ایسی چمک پیدا ہوئی
لگتی تھی نور افشاں زمیں لگتا تھا روشن آسماں
اس طرح محبوب خدا محبوب دُنیا ہو گیا
ہر اک نظر اخلاص تھی ہر اک ادا رحمت نشاں
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
حضور سید عالم ﷺ آخری نبی ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبوت کو ختم فرما دیا ناز مانک پوری اس کا تذکرہ بھی نہ بھولے لکھتے ہیں۔
اس پر سیاست ختم اس پر شریعت ختم ہے
﴿رہبر اعظم ناز مانکپوری﴾
مہاراجہ سرکشن پرشاد:
یہ حیدرآباد کے رہنے والے تھے اور شادؔ تخلص لکھتے تھے حضور ﷺ کی مدحت سرائی کرتے ہوئے نعتیہ کلام جمع کیا اور اسے ہدیہ شاد کے نام سے موسوم کیا۔ بارگاہ نبوی میں یوں نذر عقیدت پیش کرتے ہیں۔
کیا مجھ کو نہیں جانتے سلطان مدینہ
پر بندہ ہوں ان کا جو ہیں سلطان مدینہ
اس رمز سے آگاہ ہیں سلطان مدینہ
جاتے ہی میں ہو جاؤں گا قربان مدینہ
﴿ہدیہ شاد سرکشن پرشاد﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جا
رویندر جین رویندر:
اور محشر کے ہیں سلطا
صرف شامل ہوں م
پختہ ہو جاتا ہے ایما
جان رابٹ جان:
عیسیٰ سے ہے بڑھ کر لب گویا
والشمس تھے رخسار تو واللیل تھیں ز
اندھیرا ہوا کفر کا سب دور جہاں
عصیاں سے بری ہو کے قیامت میں
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
رویندر جین رویندر:
اور محشر کے ہیں سلطان رسول اکرم
آپ تکمیل مساوات امین و صادق
آپ ہیں افضل الانسان رسول اکرم
آپ کے ماننے والوں میں ضروری تو نہیں
صرف شامل ہوں مسلمان رسول اکرم
آپ اکرام ہی اکرام عطائے اول
آپ احسان ہی احسان رسول اکرم
آپ کا ذکر ہے وہ ذکر کہ جس کو سن کر
پختہ ہو جاتا ہے ایمان رسول اکرم
(غیر مسلم نعت خوان صفحہ 36)
جان رابرٹ جان:
عیسیٰ سے ہے بڑھ کر لب گویائے محمد یوسف سے بڑھ کر رُخ زیبائے محمد ﷺ
والشمس تھے رخسار تو واللیل تھیں زلفیں اک نور کا سورہ تھا سراپائے محمد ﷺ
اندھیرا ہوا کفر کا سب دور جہاں سے روشن ہوا عالم جو یہاں آئے محمد ﷺ
عصیاں سے بری ہو کے قیامت میں اُٹھے گا بے شک ہے بہشتی جو ہے شیدائے محمد ﷺ
(غیر مسلم نعت خواں صفحہ 19)
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
پنڈت جگن ناتھ پرشاد آنند:
ایک قطرہ مل سکا اس کو نہ جام عشق تشنہ لب جو تا در پیر مغاں پہنچا نہیں
دل سلگتا ہی رہا فرقت میں ان کی عمر بھر
گنبد خضراء تلک لیکن دھواں پہنچا نہیں
مدح حسن مصطفیٰ ہے ایک بحر بیکراں اس کے ساحل تک کوئی شیریں بیاں پہنچا نہیں
نیک و بد کی ہے خبر تو واقف کونین ہے ہے پہنچ تیری جہاں وہم و گماں پہنچا نہیں
کیا خطا ایسی ہوئی آنند جو محروم ہے
اب تک ان کے گوش تک شور فغاں پہنچا نہیں
﴿ہندو شعراء کا نعتیہ کلام﴾
کالکا پرشاد:
کونین کی دولت میرے دامن میں چھپادے
پھر کالکا پرشاد سے پوچھے کہ تو کیا لے
نعلین محمد ﷺ کو وہ آنکھوں سے لگالے
﴿نور سخن، نور احمد میرٹھی﴾
پنڈت رگھوندر راؤ تخلص جذب:
ہے روکش خورشید فلک روئے محمد ﷺ
توہین رسالت: علمی و تاریخ
اوصاف
دیکھا جو نہال قد و
اس جذب دل افگار کو رو
یارب تو دکھا دے رخ نیکوئے محمد ﷺ
لالہ امر چند جالندھری آ
وہ رنگ و نور کے دریا بہا د
بس اک ن
کہ شرک
فسوں بتوں کے فسانہ بنا د
وہ جام بادہ وحدت پلا د
جہاں کے
حضور رفی
دلوں سے مٹ کے رہے سب نقوش
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
ہے غیرت خورشید فلک روئے محمدﷺ
مکہ سے مدینہ سے ہے پہنچی سر افلاک
بوئے گل و رخسار گیسوئے محمدﷺ
معراج میں سب چیزیں انہیں دیکھ رہی تھیں
پر حق کے سوا تھا نہ وہاں روئے محمدﷺ
حوران جناں سب ہوئیں قربان شب معراج
دیکھا جو نہال قد دل جوئے محمدﷺ
اس جذب دل افگار کو رویا میں کسی شب
یارب تو دکھا دے رخ نیکوئے محمدﷺ
﴿ماہنامہ آئینہ صفحہ 111 اکتوبر 1960ء﴾
لالہ امر چند جالندھری تخلص قیس:
جہاں تھے خار وہاں گل کھلا دیے تو نے
وہ رنگ و نور کے دریا بہا دیے تو نے
عرب کے دشت بھی جنت بنا دیے تو نے
بس اک جھلک میں وہ جلوے دکھا دیے تو نے
کہ شرک و کفر کے قصے چکا دیے تو نے
فسوں بتوں کے فسانہ بنا دیے تو نے
دلوں پہ سکے خدا کے جما دیے تو نے
وہ جام بادہ وحدت پلا دیے تو نے
نشاں دوئی کے جہاں سے اُڑا دیے تو نے
جہاں کے خود سر و سرکش جہاں کے ہر جائی
حضور رب دو عالم جھکا دیے تو نے
دلوں سے مٹ کے رہے سب نقوش تیرہ کفر
ضیائے دیں کے دیے وہ جلا دیے تو نے
تحفظ ختم نبوت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک مرکز ایک امیر AN ISO 9001 : 2000 CERTIFIED COMPANY
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
﴿ماہنامہ مسلمہ صفحہ 05 جولائی 1940ء﴾
اودھے ناتھ لکھنوی تخلص نشتر:
ادب کے ساتھ ختم الانبیاء کی بات کرتے ہیں
خوشی میں جب حبیب کبریا کی بات کرتے ہیں
کہ ہم دل سے محمد مصطفیٰ کی بات کرتے ہیں
ہم اس نور خدا اس رہنما کی بات کرتے ہیں
زبان کوثر سے دھو کر مصطفیٰ کی بات کرتے ہیں
ہیں عاصی شافع روز جزا کی بات کرتے ہیں
پڑھو صل علیٰ ہم مصطفیٰ کی بات کرتے ہیں
فرشتے بھی در خیرالوریٰ کی بات کرتے ہیں
﴿غیر مسلم نعت خواں﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی
چودھری دلو رام کوثری:
حضرت ﷺ
رحمت باری
دیکھا بنا کے جبکہ محمد ﷺ کا
ہے نام
دیر و حرم
نوٹ: غیر مسلم کے لیے حرم مشرف ہوئے تو حرم پاک میں حاضر
امرناتھ ساحر:
دل و دیدہ محو نظارہ
تیرے جلوہ
کہ صفات
جو فدا ہوا تیرے نام
اسے تو نے اپنا بنا لیا
تیرا نور ش
تیرا جلوہ ہر سو
جو نہ حرف و صوت میں
رگ جان ساحر خستہ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
چودھری دلورام کوثری:
حضرت ﷺ نے آکے مجھ کو سبکدوش کر دیا
رحمت بڑی کی شافع روز شمار نے
دیکھا بنا کے جبکہ محمد ﷺ کا حسن ونور محبوب اپنا کر لیا پروردگار نے
ہے نام دلورام تخلص ہے کوثری
دیر وحرم کی سیر کی اس خاکسار نے
نوٹ: غیر مسلم کے لیے حرم میں جانا ممنوع ہے دلورام بعد میں دولت اسلام سے مشرف ہوئے تو حرم پاک میں حاضری کا شرف حاصل کیا۔
امرناتھ ساحر:
دل و دید محو نظارہ ہیں کہ نہ گرد ہے نہ غبار ہے
تیرے جلوؤں کا تیری رحمتوں کا حساب ہے نہ شمار ہے
کہ صفات کون و مکان کی تیری ذات دار و مدار ہے
جو فدا ہوا تیرے نام پر جو فنا ہوا تیرے عشق میں
اسے تو نے اپنا بنا لیا کہ تیرا یہی قول و قرار ہے
تیرا نور شاہ نظام دیں تیرا حسن خسرو دلبراں
تیرا جلوہ بزم خسروی کہ تیرے چمن کی بہار ہے
جو نہ حرف و صوت میں آسکے جو دو کون میں نہ سما سکے
رگ جان ساحر خستہ میں وہ مکین لیل و نہار ہے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
اس کے علاوہ دنیا کی عظیم غیر مسلم شخصیات میں جارج برنارڈ شاہ، رابندر ناتھ ٹیگور، ایس مارگولیتھ، مسٹر سکاٹ، جارج سیل، کونسٹن ورجیل جارجیو، کرنل سائکس، شیو پرشاد، وہبی لکھنوی، رگھوناتھ خطیب سرحدی، جوش ملسیانی، تلوک چند محروم، نریش کمار شاد، دیاشنکر نسیم، عزت سنگھ پیش دہلوی، پنڈت ہری چند اختر، نردیوسنگھ اشک دہلوی، بی ڈی اہلیہ بوڈسنگھ، رام پیار لکھنوی، اروڑہ رائے، سالک رام سالک، شنکر لال ساقی، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر، سردار شیر سنگھ شمیم، بابا افضل کاشی، لالہ شنکر داس جی، فراق گورکھپوری اور دیگر سینکڑوں اشخاص شامل ہیں جنہوں نے بارگاہ نبوی میں دلی عقیدت کے اظہار کے ساتھ اقوام عالم کو یہی سبق دیا کہ حضور سید عالم ﷺ صرف مسلمانوں کے ہی رہبر و راہنما نہیں بلکہ آپ عالم انسانیت کے تاجدار اور ہر دور کے پیشوا ہیں اور ان اشخاص کی عقیدت سے حضور سرور کائنات ﷺ کی آفاقیت اور مرکزیت بھی ثابت ہوتی ہے کہ آپ پوری کائنات کے مرکز نگاہ ہیں اور ہر شخص آپ کی داد رسی کا منتظر رہتا ہے۔ ان لوگوں نے جس ہستی والا صفات کو خراج عقیدت پیش کیا اس کی عزت وعظمت کا سورج ابد تک روشن رہے گا بلکہ آنے والے ہر دور میں جو شخص بھی ہٹ دھرمی تعصب اور بغض سے ہٹ کر سیرت مصطفیٰ ﷺ کا مطالعہ کرے گا وہ عظمت رسول ﷺ کا پاسباں بن جائے گا اور سید کائنات ﷺ کی مرکزیت اور آفاقیت کا قائل نظر آئے گا۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
باب....... 5
آداب بارگاہ نبوت ﷺ
رسول اللہ ﷺ کی محبت و الفت ایک مومن کے لیے سرمایہ جان ہے اور حبیب کبریا ﷺ کی ذات اقدس سے نسبت و تعلق ایک مسلمان کے روحانی تشخص کو اجاگر کرتا ہے انسان کے روحانی تشخص کے لیے ایمان ایک اساس ہے اور ایمان کے لیے دامن مصطفیٰ ﷺ سے وابستگی شرط ہے حضور سید العالمین ﷺ سے محبت و عقیدت اس لیے بھی ضروری ہے کہ عقائد اسلامیہ میں عقیدہ رسالت مرکزی اہمیت کا حامل ہے اور پورا دین ذات رسول ﷺ پر انحصار کرتا ہے حضور خاتم النبیین ﷺ کی ذات بابرکات نہ صرف وجہ تخلیق کائنات ہے بلکہ نبوت کی لڑی کی تکمیل کا سہرا بھی آپ کے سر ہے جس کا آغاز حضرت آدم ؑ سے ہوا۔ خالق کائنات قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے۔
پہلی آیت کریمہ
يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ۙ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ O
(البقرة:104)
’’اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو راعنا کہنے سے منع فرمایا صحابہ کرام ؓ کو جب بات سمجھنے میں دقت پیش آتی تو وہ عرض کرتے راعنا یا رسول اللہ اے اللہ کے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
رسول ہماری رعایت فرمایئے یہودیوں کی لغت میں اس کے معانی غلط تھے۔
امام رازی فرماتے ہیں
وروى ان سعد بن معاذ سمعها منهم فقال يا اعداء الله عليكم لعنة الله والذى نفسى بيده لئن سمعتها من رجل منكم يقولها لرسول الله لاضربن عنقه فقالوا اولستم تقولونها فنزلت هذة الآية
﴿تفسیر کبیر جلد 1 صفحہ 634 تفسیر کشاف جلد 1 صفحہ 200﴾
”روایت ہے کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے ان (یہودیوں) سے یہ کلمہ سنا تو آپ نے کہا اے اللہ کے دشمنوں تم پر اللہ کی لعنت ہو قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر یہ کلمہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تمہارے کسی آدمی نے کہا تو میں اسے قتل کردوں گا تو وہ بولے کیا تم یہ جملہ نہیں کہتے تو یہ آیت نازل ہوئی“
اس آیت کریمہ کی تشریح سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بارگاہ نبوی کا ادب کتنا ضروری و اہم ہے کہ یہودی جس لفظ کا بطور توہین استعمال کرتے تھے۔ حالانکہ صحابہ کرام ؓ کے تصور میں بھی یہ بات نہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو بھی اس کلمہ کے استعمال سے منع فرما دیا۔
دوسری آیت کریمہ
إِنَّا أَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ ۙ وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّأَصِيْلًا ﴿الفتح 08-09﴾
”بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوش خبری اور ڈر سناتا تا کہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی پاکی بولو“
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
امام اہل سنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کریمہ کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔
مسلمانو دیکھو دین اسلام بھیجنے، قرآن مجید اُتارنے کے مقصود میں تمہارا مولیٰ تبارک وتعالیٰ تین (3) باتیں بتاتا ہے۔
- اول یہ کہ لوگ اللہ ورسول پر ایمان لائیں۔
- دوم یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کریں۔
- سوم یہ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت میں رہیں۔
مسلمانو! ان تینوں جلیل باتوں کی جمیل ترتیب تو دیکھو سب سے پہلے ایمان کو فرمایا اور سب سے پیچھے اپنی عبادت اور درمیان میں اپنے پیارے حبیب ﷺ کی تعظیم کو اس لیے کہ بغیر ایمان تعظیم کارآمد نہیں بہت سے نصاریٰ ہیں کہ نبی ﷺ کی تعظیم وتکریم اور حضور پر سے دفع اعتراضات کافران لئیم میں تصنیفیں کر چکے لیکچر دے چکے مگر جبکہ ایمان نہ لائے کچھ مفید نہیں کہ یہ ظاہری تعظیم ہوئی دل میں حضور ﷺ کی سچی عظمت ہوتی تو ضرور ایمان لاتے۔ پھر جب تک حضور ﷺ کی سچی تعظیم نہ ہو عمر بھر عبادت الہی میں گزارے سب بیکار و مردود۔ بہت سے جوگی اور راہب ترک دنیا کر کے اپنے طور پر ذکر و عبادت الہی میں عمر کاٹ دیتے ہیں بلکہ ان میں بہت وہ ہیں کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا ذکر سیکھتے اور ضربیں لگاتے ہیں مگر ازاں جا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعظیم نہیں۔ کیا فائدہ اصلاً قابل قبول بارگاہ الہی نہیں اللہ عزوجل ایسوں ہی کو فرماتا ہے۔
وَقَدِمْنَآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْراً
”جو کچھ اعمال انہوں نے کیے ہم نے سب برباد کر دیئے“
ایسوں کو ہی فرماتا ہے
عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلٰی نَاراً حَامِيَةً
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
"عمل کریں مشقتیں بھریں اور بدلہ کیا ہوگا یہ کہ بھڑکتی آگ میں جائیں گے" العیاذ باللہ مسلمانو! کہو محمد رسول ﷺ کی تعظیم مدار ایمان و مدار نجات و مدار قبول اعمال ہوئی یا نہیں؟ کہو ہوئی اور ضرور ہوئی۔
﴿تمہید ایمان صفحہ 11-12﴾
علامہ ابن تیمیہ:
الصارم المسلول میں رقم طراز ہیں:
اوجب الله من تعزيره ونصره بكل طريق و ايثاره بالنفس والمال في كل موطن وحفظه وحمايته من كل موذ
﴿الصارم المسلول ص 22﴾
"اللہ تعالیٰ نے ہر طریقہ سے حضور ﷺ کی تعظیم وتوقیر واجب کی ہے ہر جگہ پر جان و مال کی قربانی واجب کی ہے اور ہر موذی و گستاخ سے آپ کی حفاظت لازم و ضروری قرار دی"
امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ويعزروه اى يجلونه وقيل تنصرونه وقيل تبالغون في تعظيمه ويوقروه اى يعظمونه
﴿شفا شریف ۔ صفحہ 42﴾
"ويعزروه یعنی حضور ﷺ کی تعظیم کریں اور بعض نے کہا حضور ﷺ کی مدد کریں اور بعض نے کہا کہ حضور ﷺ کی تعظیم میں مبالغہ کریں ويوقروه یعنی حضور ﷺ کی توقیر کریں"
علامہ جلال الدین محلی یوں رقم فرماتے ہیں:
وتعزروه تنصروه قرئ بزائين مع الفوقانية ويوقروه تعظموه وضمير هما لله و رسوله
﴿تفسیر جلالین صفحہ 1669﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
”مدد کریں اللہ ورسول کی اور تعزروہ کی قرأت بھی ہے اور تعظیم کریں اللہ اور اس کے رسول کی اور دونوں ضمیریں اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹتی ہیں“
عارف باللہ الشیخ احمد صاوی:
ويؤخذ من هذه الآية ان من اقتصر على تعظيم الله وحده او على تعظيم الرسول وحده فليس بمومن بل المومن من جمع بين تعظيم الله تعالى وتعظيم رسوله ولكن التعظيم في كل بحسبه فتعظيم الله تنزيهه عن صفات الحوادث ووصفه بالكمالات وتعظيم رسوله اعتقاد انه رسول الله حقا وصدقا لكافة الخلق بشيرا ونذيرا الى غير ذلك من اوصافه السنية وشمائله المرضية
﴿صاوی علی الجلالین جلد 5 صفحہ 1969 مطبوعہ دار الفکر بیروت﴾
”اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ جو صرف تعظیم خدا کرے یا صرف تعظیم رسول کرے وہ مومن نہیں بلکہ مومن وہ ہے جو تعظیم خدا اور تعظیم رسول ﷺ دونوں کرے لیکن ہر ایک کی تعظیم اس کی شان کے مطابق ہوگی پس اللہ تعالیٰ کی تعظیم اسے صفات حوادث سے پاک اور وصف کمالات سے متصف ماننا ہے اور رسول ﷺ کی تعظیم یہ ہے کہ یہ اعتقاد رکھے حضور ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں تمام مخلوق کے لیے خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے اس کے علاوہ آپ کے بلند مرتبہ اوصاف اور پسندیدہ خصلتوں کا اعتقاد رکھے“
علامہ علاء الدین خازن:
اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
الكنايات في قوله وتعزروه وتوقروه راجعة الى رسول الله ﷺ وعـنـدها تـم الكـلام فـالـوقـف عـلـى ويوقروه وقـف تــامــ
”اللہ تعالیٰ کے قول و تعزروه و توقروہ میں ضمائر حضورﷺ کی طرف لوٹتی ہیں اور ویوقروہ پر کلام مکمل ہوا پس ویو قروہ پر وقف تام ہے“
علامہ خازن رحمۃ اللہ علیہ نے جو تفسیر بیان فرمائی تعزروه و توقروہ کی ضمیریں رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹتی ہیں یعنی مراد یہ کہ تم رسول اللہ ﷺ کی تعظیم وتوقیر کرو یہی تفسیر امام جلال الدین سیوطی، امام بغوی اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہم نے بھی کی اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ترجمہ میں اسی تفسیر کو ترجیح دی۔
علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ
وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ کے تحت فرماتے ہیں ۔
والحاصل انه يجب على الامة ان يعظموه عليه الصلوة والسلام و يوقروه في جميع الاحوال في حال حياته و بعد وفاته فانه ازدیاد تـعـظـيـمــه وتــوقـيــرة فــي القـلـوب يـــزداد نـــور الايـمـــان
”حاصل کلام یہ ہے کہ حضورﷺ کی حیات دنیاوی اور بعد از وفات ہر حال میں حضورﷺ کی تعظیم وتوقیر اُمت پر لازم ہے اس لیے کہ دلوں میں جتنی تعظیم وتوقیر بڑھے گی اتنا ہی نور ایمان زیادہ ہوگا“
علامہ حقی رحمۃ اللہ علیہ و تعزروه وتوقروه کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
وتعظموه باعتقاد انه متصف بجميع صفات الكمال منزه عن جميع وجوه النقصان
﴾روح البیان جلد 9 صفحہ 18﴿
”اور حضور ﷺ کی تعظیم کرو یہ یقین کرتے ہوئے کہ آپ تمام صفات کمال سے متصف ہیں اور تمام نقائص سے مبرا ہیں“
اس آیت کریمہ سے اہل ایمان پر حضور سید عالم ﷺ کی تعظیم و توقیر کا لازم ہونا ثابت ہوتا ہے اور یہ ایمان کی مضبوطی کی دلیل ہے کہ حضور سرور عالم ﷺ سے جتنی محبت زیادہ ہوگی اس شخص کا ایمان اتنا ہی کامل و مضبوط ہوگا۔
تیسری آیت کریمہ
يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ ط إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 1
﴾الحجرت﴿
”اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سنتا جانتا ہے“
علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی اس آیت کی تفسیر یوں کرتے ہیں۔ یعنی تمہیں لازم ہے کہ اصلاً تم سے تقدیم واقع نہ ہو نہ قول میں نہ فعل میں کہ تقدم کرنا رسول اللہ ﷺ کے ادب واحترام کے خلاف ہے بارگاہ رسالت میں نیاز مندی و آداب لازم ہیں۔
﴾خزائن العرفان﴿
قاضی ثناء اللہ پانی پتی:
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں المراد بین یدی رسول الله و ذكر الله تعالى تعظيما له واشعارا بان التقديم على رسول الله كان كالتقديم على الله تعالى فانه مبلغ عن الله
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
بمكان يوجب اجلاله اجلالا به و سوء الادب به سوء ادب الله
﴿تفسیر مظہری جلد 9 صفحہ 6﴾
”اصل مقصود یہاں یہ ہے کہ تم رسول اللہ سے تقدیم نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کا ذکر محض تعظیم کے لیے ہے اور اس بات کو سمجھانے کے لیے کہ رسول اللہ ﷺ سے تقدیم کرنا گویا اللہ تعالیٰ سے تقدیم کرنا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ مقام حاصل ہے کہ آپ کی تعظیم اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے اور آپ کی بے ادبی اللہ تعالیٰ کی بے ادبی شمار ہوگی“
ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی رحمۃ اللہ علیہ:
اس آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں
ومن قدّم قوله او فعله على الرسول فقد قدّمه على الله تعالى لان الرسول انما يامر عن امر الله عز وجل
﴿تفسیر قرطبی جلد 16 صفحہ 255﴾
”اور جس نے رسول کریم ﷺ کے قول یا فعل پر تقدیم کی تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ پر تقدیم کی اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرمان ارشاد کرتے ہیں“
ناصر الشریعہ علامہ خازن رحمۃ اللہ علیہ:
اس آیت کریمہ کے متعلق لکھتے ہیں
لا ينبغى لكم ان يصدر منكم تقديم اصلا و قيل لا تقدموا فعلا بين يدى الله ورسوله والمعنى لا تقدموا بين يدي امر الله ورسوله ولا نهيهما وقيل لا تجعلوا لأنفسكم تقديماً عند النبي
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
صلى الله عليه وفيه اشارة الى احترام رسول الله ﷺ والانقياد لاوامره ونواهيه۔
﴿تفسیر خازن جلد 04 صفحہ 176﴾
”تمہیں یہ لائق نہیں کہ تم سے کسی قسم کی پہل صادر ہو اور بعض نے کہا اللہ اور رسول کے سامنے کسی کام میں پہل نہ کرو اور معنی یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور حضور ﷺ کے امرونہی سے پہلے کوئی فعل نہ کرو اور بعض نے کہا کہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں اپنے نفوس کے لیے تقدم مقرر نہ کرو اور اس میں رسول اللہ ﷺ کے احترام اور آپ کے اوامر و نواہی کی تابعداری کی طرف اشارہ ہے“
فاضل اجل علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ:
اس آیت کریمہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں
فيكون التقدم بين يدى الله ورسوله منافيا للايمان (وقال) و الظاهر ان الآية عامة فى كل قول و فعل ولذا حذف مفعول لا تقدموا ليذهب ذهن السامع كل مذهب مما يمكن تقديمه من قول او فعل مثلا اذا جرت مسئلة فى مجلسه عليه الصلوة والسلام لا تسبقوه بالجواب واذا حضر الطعام لا تبتدوا بالاكل قبله واذا ذهبتم الى موضع لا تمشوا امامه الا لمصلحة دعت اليه ونحو ذلك مما يمكن فيه التقديم. (وقال) كما فى كشف الاسرار واكثر هذه الروايات يشعر بان المراد بين يدى رسول الله وذكر الله لتعظيمه والايذان بجلالة محله عنده حيث ذكر اسمه تعالى توطئة وتمهيدا لذكر اسمه ﷺ ليدل على قوة اختصاصه ﷺ برب
توہین رسالت : علمی و تاریخی جائزہ
العزة و قرب منزلته من حضرته تعالىٰ
﴿تفسیر روح البیان جلد 9 صفحہ 62﴾
”اللہ اور رسول سے تقدم کرنا ایمان کے منافی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت ہر قول اور فعل کے لیے عام ہے اور اسی عموم کے لیے لا تقدمو کے مفعول کو حذف کیا گیا تا کہ سامع کا ذہن ہر طرف جائے قول یا فعل جس جس چیز میں تقدیم ممکن ہے مثلاً جب حضور ﷺ کی مجلس میں کوئی مسئلہ جاری ہو تو جواب میں پہل نہ کرے جب کھانا آجائے تو کھانا کھانے میں پہل نہ کرے جب کسی طرف چلیں تو حضور کے آگے نہ چلے مگر کسی مصلحت کے تقاضے کے تحت (یہ جائز ہے) اور اسی طرح اور چیزیں جن میں تقدیم ممکن ہے جیسا کہ کشف الاسرار اور دوسری اکثر روایات اس طرف اشارہ کرتی ہیں یہاں مراد صرف حضور ﷺ کی ذات پر تقدم ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر تو حضور کی تعظیم کے لیے ہوا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں حضور ﷺ کی قدر و منزلت بتانے کے لیے وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کا نام حضور ﷺ کے نام کے لیے بطور توطیۃ اور تمہید ذکر کیا گیا تا کہ حضور ﷺ کی اپنے رب سے قوی خصوصیت اور اس کی بارگاہ میں قرب منزلت پر دلالت کرے“
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ:
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں
والاصح انه ارشاد عام يشمل الكل ومنع مطلق يدخل فيه كل اثبات و تقدم واستبداد بالأمر واقدام على فعل غير ضرورى من غير مشاورة
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
”صحیح یہ ہے کہ ارشاد عام ہے سب کو شامل ہے اور منع مطلق ہے اس میں ہر اثبات اور تقدم اور معاملے میں اپنے آپ کو آگے کرنا اور بغیر مشورہ کے غیر ضروری فعل میں اقدام کرنا یہ سب داخل ہیں“
اس کے بعد تفسیری نکات بیان کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں۔
ذكر الله اشارة الى وجوب احترام الرسول ﷺ والا نقیاد لا و ا مره وذلك لان احترام الرسول قد يترك على بعد المرسل وعدم اطلاعه على مايفعل برسوله فقال بين يدى الله اى انتم بحضرة من الله تعالى وهو ناظر اليكم وفى مثل هذه الحالة يجب احترام رسوله۔
﴿تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 91﴾
”اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر رسول ﷺ کے احترام اور آپ کے اوامر کی تابعداری کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ کبھی رسول (قاصد) کا احترام ترک کیا جاتا ہے مرسل (بھیجنے والے) کے دور ہونے کے سبب کہ جو کچھ رسول (قاصد) سے کیا جائے مرسل کو اس کی اطلاع نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا بين يدى الله یعنی تم اللہ کے سامنے ہو اور وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ایسی حالت میں تو احترام رسول واجب ہے“
قال سهل لا تقولو قبل ان يقول فاذا قال فأقبلوا منه منصتين له مستمعين اليه واتقواالله فى اهمال حقه وتضييع حرمته ان الله سميع لما تقولون عليم بما تعملون وقال بعضهم لا تطلبوا وراء منزلته منزلة فانه لا يوازيه احد بل لا يدانيه۔
﴿تفسیر روح البیان جلد 9 صفحہ 63﴾
”امام سہل تستری نے فرمایا حضور کے ارشاد سے قبل نہ بولو جب آپ کچھ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
فرمائیں خاموشی سے کان لگا کر سنو اور اسے قبول کرو حضور کے حق کو ترک کرنے اور آپ کی حرمت کے ضائع کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک اللہ سنتا ہے جو کہتے ہو جانتا ہے جو کرتے ہو بعض نے اس کی تفسیر میں کہا کہ حضور کے مقام سے اوپر کوئی مقام طلب نہ کرو اس لیے کہ حضور کے موازی کوئی درجہ نہیں بلکہ درجہ اور منزلت میں قریب بھی کوئی نہیں‘‘
چوتھی آیت کریمہ
يٰأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ۲ ﴿الحُجُرٰت﴾
”اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو“
حکیم الامت مولانا احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ:
آیت کریمہ کی تفسیر لکھتے ہیں
معلوم ہوا حضور ﷺ کی ادنیٰ بے ادبی کفر ہے کیونکہ کفر ہی سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں جب ان کی بارگاہ میں اونچی آواز سے بولنے پر نیکیاں برباد ہیں تو دوسری بے ادبی کا ذکر ہی کیا ہے آیت کا مطلب یہ ہے کہ نہ ان کے حضور چلا کر بولو نہ انہیں عام القاب سے پکارو جن سے ایک دوسرے کو پکارتے ہو چچا، ابا، بھائی، بشر نہ کہو۔ رسول اللہ۔ شفیع المذنبین کہو۔
﴿تفسیر نور العرفان﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
علامہ محمد بن احمد قرطبی رحمۃ اللہ علیہ:
ومعنى الاية الامر بتعظيم رسول اللہ ﷺ وتوقیره وخفض الصوت بحضرته وعند مخاطبتہ۔
﴿تفسیر قرطبی جلد 16 صفحہ 260﴾
اس آیت کے معنی میں رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر اور آپ کی مجلس میں اور آپ کو مخاطب کرتے وقت آواز پست رکھنے کا حکم ہے۔
مفسر قرآن قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ:
یعنى لاترفعوا اصواتکم عنده ولا تنادوه کما ینادی بعضکم بعضاً بان تخاطبوه باسمه او کنیته بل یجب علیکم بتبجیله وتعظيمه ومراعاة آدابه وخفض الصوت بحضرته وخطابه بالنبى والرسول ونحو ذلك۔
﴿تفسیر مظہری جلد 07 صفحہ 09﴾
”یعنی آپ کے پاس اپنی آوازوں کو بلند نہ کرو جس طرح تم آپس میں ندا کرتے ہو اس طرح حضور ﷺ کو آپ کے نام اور کنیت سے مخاطب نہ کرو بلکہ تم پر آپ کی تعظیم بجالانا آپ کے آداب کا خیال رکھنا اور آپ کی موجودگی میں آواز کو پست رکھنا واجب ہے اور جب آپ سے بات کرو تو یا نبی اللہ اور یا رسول اللہ جیسے باعث تکریم الفاظ سے خطاب کرو۔“
قدوۃ العلماء امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ:
حضور سید عالم ﷺ کی بارگاہ کے آداب اور آپ کی تعظیم وتوقیر کے ضروری ہونے کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے زیر آیت فرماتے ہیں۔
توہین رسالت : علمی و تاریخی جائزہ
ولو علم العبد ان بموتہ ینجو لسیدہ لا یلزمہ ان یلقی نفسہ فی التهلكة لا نجاء سیدہ ویجب لا نجاء النبی ﷺ وان الحكمة تقتضى ذلك کما ان العضو الرئيس اولی بالرعایة من غیرہ لان عند خلل القلب مثلا لا یبقی للیدین والرجلین استقامة فلو حفظ الانسان نفسہ وترك النبی ﷺ لهلك
﴿تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 93-94﴾
”اگر غلام کو یہ معلوم ہو کہ آقا کو بچاتے ہوئے اس کی موت واقع ہو جائے گی تو اس کے لیے ضروری نہیں کے آقا کو بچانے کے لیے اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈالے لیکن نبی پاک ﷺ (کی عزت و حرمت) کو بچانے کے لیے ضروری ہے (جان کی پرواہ نہ کرے) اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ جیسا کہ عضو رئیس (دل) کی حفاظت دوسرے اعضاء سے زیادہ ضروری ہے اس لیے کہ قلب کی بیماری کی وجہ سے ہاتھ پاؤں بھی مستقیم نہ رہیں گے پس اگر انسان نے نبی پاک ﷺ (کی عزت و حرمت) کو چھوڑ کر اپنے آپ کو بچایا تو ہلاک ہو گیا“
قاضی شوکانی:
اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
المراد من الآیة تعظیم النبی ﷺ توقیرہ وان لا ینادوہ کما ینادی بعضہم بعضا (وقال) المراد بقولہ لا تجہروا لہ بالقول لا تقولوا یا محمد ویا احمد ولکن یا نبی الله ویا رسول الله تو قیرا لہ ۔
﴿فتح القدیر جلد 05 صفحہ 59﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
"اس آیت سے مراد یہ ہے کہ حضور ﷺ کی تعظیم وتوقیر کی جائے اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو ندا کی جاتی ہے حضور ﷺ کو اس طرح نہ پکارا جائے لا تجھروا له بالقول سے یہ مراد ہے کہ تم یا محمد اور یا احمد نہ کہو (یعنی آپ کا نام لے کر نہ پکارو) بلکہ آپ کی تعظیم کرتے ہوئے یا نبی اللہ یا رسول اللہ کہو"
سید مودودی:
اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں ذات رسول ﷺ کی عظمت کا کیا مقام ہے رسول پاک ﷺ کے سوا کوئی شخص بجاے خود کتنا ہی قابل احترام ہو بہر حال یہ حیثیت نہیں رکھتا کہ اس کے ساتھ بے ادبی خدا کے ہاں اس سزا کی مستحق ہو جو حقیقت میں کفر کی سزا ہے وہ زیادہ سے زیادہ ایک بد تمیزی ہے خلاف تہذیب حرکت ہے مگر رسول اللہ ﷺ کے احترام میں ذراسی کمی بھی اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس سے آدمی کی عمر بھر کی کمائی غارت ہو سکتی ہے اس لیے کہ آپ کا احترام دراصل اس خدا کا احترام ہے جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے او ر آپ کے احترام میں کمی کے معنی خدا کے احترام میں کمی کے ہیں۔
﴿تفہیم القرآن جلد 05 صفحہ 72﴾
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ آواز پست رکھنے کا حکم دیا دونوں مرتبہ بلند آواز کے ساتھ کلام کرنے کی ممانعت کے الگ الگ محمل ہو سکتے ہیں لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی سے مراد یہ کہ جب تم نبی پاک ﷺ سے کلام کر رہے ہو تو اپنی آواز حضور سید عالم ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور لا تجھروا له بالقول سے مراد یہ ہے کہ جب نبی پاک ﷺ خاموش ہوں اور تم کوئی بات سنا رہے ہو تو ادب کا لحاظ رکھو عامیانہ انداز
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
میں اور اونچی آواز سے آپ کی بارگاہ میں گفتگو نہ کرو جیسا کہ تم ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہو بعض مفسرین کے نزدیک علماء کے سامنے بھی بلند آواز سے بولنا ناپسندیدہ ہے خصوصاً جب کوئی عالم، قرآن و حدیث کا درس دے رہا ہو۔
قال سلیمان بن حرب ضحک انسان عند حماد بن زید وہو یحدث بحدیث عن رسول اللہ ﷺ فغضب حماد و قال انی اری رفع الصوت عند حدیث رسول اللہ ﷺ وہو میت کرفع الصوت عندہ وہو حیّ وقام وامتنع من الحدیث ذلک الیوم ۔
﴿تفسیر روح البیان جلد 09 صفحہ 66﴾
”سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہ کوئی شخص حضرت حماد بن زید کے ہاں ہنسا جب کہ وہ حدیث پاک بیان کر رہے تھے تو حضرت حماد غضب ناک ہو گئے اور فرمایا کہ حضور ﷺ کی پردہ فرمانے کے بعد حضور کی حدیث پر بلند آواز سے ہنسنا ایسا ہے کہ حضور کے قرب میں بحالت حیات دنیاوی آواز بلند کی جائے پھر وہ کھڑے ہو گئے اور اس دن حدیث بیان نہیں کی“
صحابہ کرام ؓ اور صلحائے اُمت:
حضور سید عالم ﷺ کے فضائل و کمالات کا احاطہ طاقت بشری سے خارج ہے، حضور سرور کائنات ﷺ کے اخلاق حمیدہ فضائل شریفہ اور کمالات عدیدہ کا معاملہ بہت وسیع ہے حقیقت یہ ہے کہ کوئی فہم اور کوئی ادراک حضور ﷺ کے مقام کی حقیقت اور حضور ﷺ کے حال کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتا وہ تمام کمالات جو انبیائے سابقین کی ذوات قدسیہ کو عنایت کیے گئے وہ سب کے سب حضور سرور عالم ﷺ کی ذات اقدس میں موجود ہیں امت کے افراد
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
نے اپنی قوت و بساط کے مطابق حضور سید عالم ﷺ کی تعظیم وتوقیر کی آپ کا ادب و احترام بجا لائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں حضور سید عالم ﷺ کی تعظیم، ادب اور احترام کا حکم ارشاد فرمایا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ :
قال عبدالله ؓ صليت مع رسول الله ﷺ فاطال حتىٰ هممت بامر سوء قال قيل وما هممت به قال هممت ان اجلس وادعه۔
﴿مسلم شریف کتاب صلوۃ المسافرین جلد 01 صفحہ 264﴾
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ۔ ”میں نے ایک شب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ نے طویل قیام فرمایا یہاں تک کہ میں نے ایک بری بات کا ارادہ کر لیا راوی نے پوچھا آپ نے کس چیز کا ارادہ کیا تھا حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں حضور کو قیام میں چھوڑ کر خود بیٹھ جاؤں“
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے قیام کی طوالت کی وجہ سے بیٹھنا چاہا مگر یہ خیال کر کے کہ آپ کھڑے ہوں اور میں بیٹھ جاؤں یہ بری بات ہے باوجود اس کے کہ نفل نماز میں بیٹھنا جائز ہے کھڑے رہے یہ فعل حالت نماز میں حضور ﷺ کی تعظیم اور ادب کی وجہ سے تھا
عن ابن عباس قال استوى النبى ﷺ على المنبر يوم الجمعة فقال الناس اجلسوا فسمعه ابن مسعود ؓ وهو على باب المسجد فجلس فقال له النبى ﷺ تعال يا ابن مسعود ۔
﴿مستدرک کتاب الجمعہ جلد 01 صفحہ 393﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
”حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور لوگوں سے فرمایا بیٹھ جاؤ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے یہ الفاظ سنے تو وہ مسجد کے دروازہ پر ہی بیٹھ گئے حضور نے انہیں فرمایا اے عبداللہ بن مسعود ؓ آگے آجاؤ“
حضرت براء بن عازب ؓ:
صحابہ کرام ؓ حضور ﷺ کی تعظیم و توقیر اور ادب و احترام اس طرح بجا لاتے حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں۔
لقد كنت اريد ان اسأل رسول الله ﷺ عن الامر فاوخر سنين من هيبته
﴿شفاء شریف صفحہ 259﴾
”میں رسول اللہ ﷺ سے کسی معاملہ کے بارے میں سوال کرنا چاہتا تھا لیکن آپ کے وقار کی وجہ سے دو سال تک سوال نہ کر پایا“
حضرت علی المرتضیٰ ؓ:
حضرت علی المرتضیٰ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ مجھے مذی کثرت سے آتی تھی چونکہ حضور ﷺ کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھی۔
انا استحي ان اسأله قال المقداد فسالت رسول الله ﷺ عن ذلك
”اس لیے مجھے آپ ﷺ سے سوال کرنے میں شرم آتی تو میں نے مقداد بن اسود سے کہا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا وضو کافی ہے (غسل کی ضرورت نہیں)“
﴿ابوداؤد کتاب الطہارة جلد 01 صفحہ 31﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
صحابہ کرام ؓ کا عمل:
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ صحابہ کرام ؓ کا عمل بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوا کر پہنی تو صحابہ کرام ؓ نے بھی انگوٹھیاں پہن لیں آپ ﷺ نے پھر وہ انگوٹھی پھینک دی اور فرمایا۔
”میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا تو صحابہ کرام ؓ نے بھی اپنی انگوٹھیاں اُتار کر پھینک دیں“
﴿البدایہ والنہایہ جلد 05 صفحہ 516﴾
حضور سید عالم ﷺ جب اپنے گھر تشریف لے جاتے تو صحابہ کرام ؓ آپ کو کبھی باہر تشریف لانے کی تکلیف نہ دیتے بلکہ کبھی کوئی مجبوری پیش آتی تو پھر ناخن کے ساتھ دروازہ پر دستک دیتے۔
﴿شفا شریف صفحہ 259﴾
”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ آپ کے دروازہ پر ناخنوں کے ساتھ دستک دیتے (ادب واحترام کی وجہ سے)“
صحابہ کرام ؓ کا مثالی ادب:
حضرت عروہ بن مسعود ؓ صلح حدیبیہ کے موقع پر حالت کفر پر تھے اور کفار مکہ کی طرف سے حضور سید عالم ﷺ سے مذاکرات کرنے کے لیے آئے تو واپس جا کر اپنی قوم کو جو کچھ بتایا وہ امام بخاری ؒ کی زبان میں سُنیے۔
الملوك ووفدت على قيصر وكسرى والنجاشى والله ان رايت
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ملكا قط يعظمه اصحابه ما يعظم اصحاب محمد محمداً والله ان تنخم نخامة الا وقعت فى كف رجل منهم فدلك بها وجهه وجلده واذا امرهم ابتدروا امره واذا توضأ كادوا يقتتلون على وضوئه واذا تكلم خفضوا اصواتهم عنده وما يحدون اليه النظر تعظيماً له۔
﴿بخاری کتاب الشروط جلد 01 صفحہ 379﴾
”پس عروہ اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹا اور کہا اے قوم میں بادشاہوں کے پاس گیا ہوں اور میں قیصر و کسری اور نجاشی کے دربار میں گیا ہوں اللہ کی قسم میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے اصحاب اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی صحابہ کرام محمد ﷺ کی کرتے ہیں واللہ اگر وہ ناک صاف کرتے ہیں تو اس کی رطوبت ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ میں آتی ہے تو وہ اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا ہے اور وہ جب کسی کو کچھ کرنے کا حکم ارشاد فرماتے ہیں تو لوگ دوڑ پڑتے ہیں اور جب وہ وضو کرتے ہیں تو اس کے پانی کے لیے لڑ پڑتے ہیں اور جب وہ بولتے ہیں تو سب لوگ خاموش ہو جاتے ہیں اور عظمت کی بنا پر ان سے آنکھیں چار نہیں کر پاتے“
عروہ بن مسعود نے اپنی قوم کو پہلے قیصر و کسری کی بات اس لیے سنائی تاکہ قوم جان لے کہ عروہ سفارتی آداب سے بالکل واقف ہیں اور ہمیں مسلمانوں اور ان کے نبی ﷺ کے بارے میں جو کچھ بتائیں گے وہ بالکل مبنی بر حقیقت ہوگا اس میں نہ تو مبالغہ آرائی ہوگی اور نہ ہی مرعوبیت کی کوئی جھلک ہوگی اس کے بعد عروہ بن مسعود نے اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ کائنات میں سب سے زیادہ جانثاران مصطفیٰ ﷺ حضور سید کائنات کی تعظیم کرتے ہیں۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ:
قال عبد الله بن المبارك كنت عند مالك وهو يحدثنا فلدغته عقرب ست عشرة مرة وهو يتغير لونه ويصفر ولا يقطع حديث رسول الله صل الله فلما فرغ من المجلس و تفرق عنه الناس قلت له يا ابا عبد الله لقد رايت منك اليوم عجبا قال نعم انما صبرت اجلالا لحديث رسول الله صل الله
﴿شفا شریف صفحہ 260﴾
”حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تھا اور وہ ہمیں حدیث شریف پڑھا رہے تھے آپ کو بچھو نے سولہ مرتبہ کاٹا اور آپ کا رنگ متغیر وزرد ہوگیا لیکن حدیث رسول ﷺ کو قطع نہ کیا جب آپ مجلس سے فارغ ہوئے اور لوگ چلے گئے تو میں نے کہا اے ابوعبداللہ میں نے آج آپ سے ایک عجیب بات دیکھی فرمایا ہاں میں نے حدیث رسول اللہ ﷺ کی خاطر صبر کیا“
امام شرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ:
وَاحْكُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحاً فِيْهِ وَاحْتَكِمِ
وَانْسُبْ إِلى قَدْرِهِ مَا شِئْتَ مِنْ عِظَمِ
حَدٌّ فَيُعْرِبُ عَنْهُ نَاطِقٌ بِفَمِ
﴿قصیدہ بردہ شریف﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
جو شرف ہو ذات اقدس کی طرف منسوب کر جتنی عظمت چاہے کر شان والا میں رقم
حد نہیں ہے کوئی حضرت کے کمال و فضل کی
ہو بیاں کس منہ سے توصیف خیر الانام ﷺ
فخر العلماء امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ:
لا خفاء على من مارس شيئا من العلم او خص بادنى لمحة من الفهم بتعظيم الله قدر نبينا ﷺ وخصوصه اياه بفضائل و محاسن و مناقب لا تنضبط بزمام و تنويهه من عظيم قدره بما تكل عنه الالسنۃ والاقلام ۔
﴿شفا شریف صفحہ 19﴾
”یہ بات اس شخص پر جس کو ذرہ برابر علم سے لگاؤ ہے یا فہم کے ادنیٰ لمحہ سے مخصوص ہے بالکل مخفی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کے مرتبہ اور شرف کو بلند فرمایا اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اتنے فضائل محاسن اور مناقب سے مخصوص فرمایا کہ ضبط کی کوشش کرنے والا حصر نہیں کر سکتا اور آپ کی قدر عظیم کو اتنا بلند کیا کہ زبان وقلم اس کے بیان سے عاجز ہیں“
مزید فرماتے ہیں:
وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْماً حارت العقول فی تقدير فضله عليه وخرست الالسن دون وصف يحيط بذلك او ينتهى اليه
﴿شفا شریف صفحہ 76﴾
” (اے حبیب) اللہ کا آپ پر بڑا فضل ہے (اللہ تعالیٰ کا جو فضل حضور پر
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
ہے) اس کا اندازہ کرنے سے عقول حیران ہیں زبانیں گنگ ہیں اس وصف سے پہلے جو ان کا احاطہ کرے یا ان تک پہنچے۔“
کسی کے تصور میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید یہ ادب واحترام اور تعظیم وتوقیر حضور سید عالم ﷺ کی حیات دنیوی کے ساتھ لازم ہے قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ اس شبہ کا ازالہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔
واعلم ان حرمة النبي ﷺ بعد موته وتوقيره وتعظيمه لازم كما كان حال حياته وذلك عند ذكره وذكر حديثه وسنته وسماع اسمه وسيرته ومعاملة اله وعترته وتعظيم اهل بيته وصحابته
﴿شفا شریف صفحہ 259﴾
”جان کہ بے شک حضور ﷺ کی تعظیم وتوقیر پردہ پوشی کے بعد بھی لازم ہے جیسے حالت دنیوی میں لازم تھی (اس لیے کہ حضور اب بھی زندہ ہیں) اور اسی طرح آپ کے ذکر کے وقت ذکر حدیث وسنت، نام پاک سنتے وقت، ذکر سیرت، آل وعترت کے معاملہ میں اہل بیت اور آپ کے صحابہ کی تعظیم بھی ضروری ہے“
فاضل اجل امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ:
اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خیر کثیر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو علی سبیل الاستحقاق نہیں عطا فرمائی بلکہ اپنے فضل وکرم سے آپ کو خیر کثیر عطا کی۔
اما التفضل فانه نتيجة كرم الله وكرم الله غير متناه فيكون تفضله ايضاً غير متناه فلما دل قوله اعطيناك على انه تفضل لا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
استحقاق اشعر ذلك بالدوام والتزايد ابدا
﴿تفسير كبير جلد 11 صفحہ 312﴾
”بہر حال بطور فضل عطا کرنا کرم خداوندی کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا کرم غیر متناہی ہے تو اس کا فضل بھی غیر متناہی ہو گا پس جب اللہ تعالیٰ کے قول اَعْطَيْنَاكَ نے اس بات پر دلالت کی کہ یہ عطیہ محبوب کے لیے تفضیلاً ہے نہ کہ استحقاقاً تو اس میں اشارہ ہے دوام اور ہمیشہ زیادہ ہونے کی طرف“
مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی کوئی حد نہیں تو پھر اس نے اپنے محبوب کو جو عطیہ بطور فضل عطا فرمایا وہ ہمیشہ زیادہ ہو گا اور بڑھتا رہے گا تو ثابت یہ ہوا کہ حضور سید عالم ﷺ کے فضائل و مناقب اور خصائص و کمالات بھی اعداد و شمار سے باہر ہیں ان کا حصر نہیں کیا جا سکتا ہے۔
حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ:
فضائل سید المرسلین کے متعلق رقم طراز ہیں:
اعلم ان تفصيل فضائله وتحصيل شمائله ﷺ شرف وكرم ممالا يحد ولا يحصى بل ولا يمكن ان يعد ويستقصى
﴿مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد 10 صفحہ 419﴾
”یقین کر لو کہ حضور ﷺ کے فضائل کی تفصیل اور شمائل کی تحصیل ان چیزوں سے ہے جن کی حد اور شمار نہیں بلکہ یہ بھی ممکن نہیں کہ ان کا شمار ہو یا ان کی تہہ تک رسائی ہو سکے“
امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ:
اعلم ان من تمام الايمان به ﷺ الايمان بان الله تعالى جعل خلق
توہین رسالت، علمی و تاریخی جائزہ
بدنه الشريف على وجه لم يظهر قبله ولا بعده خلق ادمی مثله صلی اللہ علیہ وسلم
﴿وسائل الوصول صفحہ 59﴾
”جان لو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی تکمیل سے ہے کہ اس بات پر ایمان ہو اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک کی تخلیق اس طرح فرمائی کہ آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کسی آدمی کی خلقت اس طرح نہ ہوئی“
امام عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ:
اعلم ان كلما مال الى تعظيم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لا ينبغي لاحد البحث فيه ولا المطالبة بدليل خاص فيه فان ذلك ادب فقل ما شئت في رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سبيل المدح لاحرج
﴿کشف الغمہ کتاب النکاح جلد 02 صفحہ 56﴾
”یقین کر کہ ہر (قول وفعل) چیز جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی طرف مائل ہو کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس میں بحث کرے اور نہ ہی کسی خاص دلیل کا مطالبہ کرے کیونکہ یہ بے ادبی ہے پس تو جو چاہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بطریق مدح بیان کر اس میں کوئی حرج نہیں“
علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمۃ اللہ علیہ:
فحقيقة فضله لا يدركها انسان وحسبك انه صلی اللہ علیہ وسلم حبيب الرحمن ونتيجة جميع الاكوان فقل في حقه هو عبدالله ورسوله ثم لاحرج عليك مهما بالغت فلن تبلغ ما يجب له عليه الصلوة والسلام من الاوصاف الحسان۔
﴿جواہر البحار جلد 01 صفحہ 06﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
’’کوئی انسان حضور ﷺ کے فضل کی حقیقت کو نہیں پاسکتا تجھے اتنا ہی کافی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حبیب ہیں اور تمام مخلوق کا نتیجہ ہیں پس تو آپ ﷺ کو عبداللہ اور رسول اللہ کہنے کے بعد آپ کی تعریف میں جتنا بھی مبالغہ کرے تیرے لیے کوئی حرج نہیں کیونکہ تو ہرگز ان اوصاف حسنہ تک نہیں پہنچے گا جو حضور ﷺ کے لیے ثابت ہیں‘‘
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ:
حضور اکرم سید عالم ﷺ کی ذات بابرکات، عالی صفات، منبع برکات اپنے تمام اخلاق و خصائل، صفات جمال و جلال میں اس قدر اعلیٰ و اشرف، اتم و اکمل، احسن و اجمل اور خوب روشن واجلیٰ ہیں جو حد و عداد اور حیطۂ ضبط وحصر سے باہر ہیں اور کمالات میں جو کچھ خزانہ قدرت اور مرتبہ امکان میں متصور ہے وہ تمام آپ کو حاصل ہیں اور تمام انبیاء و مرسلین آپ کے آفتاب کمال کے تارے اور انوار جمال کے مظاہر ہیں۔
﴿مدارج النبوت اردو جلد 01 صفحہ 58﴾
حضور سرور عالم ﷺ قائد المرسلین ہیں آپ کے فضائل و خصائل شمار نہیں کیے جاسکتے آپ کے مناقب و محاسن کی انتہا نہیں ہاں حضور کے ذکر سے ایمان کو حلاوت میسر آتی ہے اور آپ کا ذکر قلوب واذہان کو نور عرفان سے منور کرتا ہے آپ قرب الہی کا وسیلہ ہیں اخروی نجات کے لیے دامن مصطفیٰ ﷺ کا سہارا ضروری ہے اور دنیا کا کوئی بھی نظام چشمہ نبوت سے اکتساب کیے بغیر نہیں رہ سکتا ہے اُسے اپنی تر و تازگی کے لیے دروازہ نبوت پر ضرور دستک دینا پڑتی ہے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
باب......6
مسئلہ توہین رسالت
حضور سید عالم ﷺ کے حق میں ہر مدح کم ہے اگرچہ تعریف کرنے والا مبالغہ کرے اللہ تعالیٰ نے حضور سرور عالم ﷺ کی تعریف فرمائی جس کے حضور ﷺ اہل تھے قیامت کے روز آپ کو لواء حمد عطا ہوگا اور شفاعت عظمیٰ بھی آپ کے لیے ہی ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں حضور سرور عالم ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات کہنے والوں یا ایسے کلمات جن سے اہانت اور تنقیص کا پہلو نکلتا ہو ان کے لیے عذاب مہین کی وعید شدید فرمائی ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
پہلی آیت کریمہ
إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O
﴿الاحزاب:57﴾
”بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے“
بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی ایذاء کو اپنی ایذا قرار دیا جیسے حضور ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا یہ بات حضور اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ اور آپ کے احترام پر دلالت کرتی ہے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ:
ان الذين يوذون رسول الله ﷺ وذكر الله لتعظيم الرسول كان من آذى الرسول فقد آذى الله ۔
(تفسیر مظہری جلد نمبر 07 صفحہ 381)
”بے شک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر فقط رسول اللہ ﷺ کی عظمت کے اظہار کے لیے ہے یعنی جس نے رسول اللہ ﷺ کو ایذا دی گویا اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا دی“
یہ آیت کریمہ حضور نبی اکرم ﷺ کو ایذا دینے والے کے کفر پر دلالت کرتی ہے۔
پھلی دلیل
آیت کریمہ میں حضور ﷺ کو ایذا دینے والے کے لیے فرمایا لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ دنیا و آخرت کی لعنت قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے بیان فرمائی۔
إِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِيْنَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيْرًا
(الاحزاب:64)
”بے شک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے“
حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے جب کفر کیا اور اپنے نبی کی نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کافر قوم کے متعلق فرمایا۔
وَأُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ط.....
(هود:60)
”اور ان کے پیچھے لگی اس دنیا میں لعنت اور قیامت کے دن“
قوم فرعون جب اپنی ضد اور عناد سے بعض نہ آئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مخالفت کی تو اللہ تعالیٰ ان کافروں کے لیے فرماتا ہے۔
وَأُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهِ لَعْنَةً وَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ط.....
(هود:99)
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
”اور ان کے پیچھے پڑی اس جہان میں لعنت اور قیامت کے دن“
جن لوگوں کے سینے نور ایمان سے خالی رہے بدبختی ان کا مقدر بنی اور وہ اس دنیا سے حالت کفر میں رخصت ہوئے ان کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَO
﴿البقره:161﴾
”بے شک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی“
دنیا و آخرت میں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے وہ کافر ہیں حضور سید عالم ﷺ کو ایذاء پہنچانے والے پر بھی دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے تو ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کو ایذا دینے والا بھی کافر ہے۔
دوسری دلیل
آیت کریمہ میں حضور ﷺ کو ایذا دینے والے کے لیے فرمایا واعدلہم عذابا مہینا
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے عذاب مبین کی وعید فرمائی
...... فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ ط وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌO
﴿البقره:90﴾
”تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے“
- 2- وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا ص
وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيْنٌO
﴿النساء:14﴾
”اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
کے لیے خواری کا عذاب ہے“
- 3- ....... وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا O
(النساء : 37)
”اور کافروں کے لیے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے“
وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اَنَّمَا نُمْلِيْ لَهُمْ خَيْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ ط اِنَّمَا نُمْلِيْ لَهُمْ لِيَزْدَادُوْٓا اِثْمًا ج وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ O
(ال عمران : 178)
”اور ہرگز کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ جو ڈھیل ہم انہیں دیتے ہیں کچھ ان کے لیے بھلا ہے ہم تو اسی لیے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ اور گناہ میں بڑھیں اور ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے“
حضور سید کائنات ﷺ کو ایذاء دینے والے کے لیے بھی عذاب مہین کی سزا ہے جو اسکے کفر کی بین دلیل ہے۔
امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ:
ان الذین یوذون تا وقتلو تقتیلا یہ آیات کریمہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں
فرق بین اذاهما واذى المومنین و فی اذى المومنین مادون القتل من الضرب والنکال فكان حكم موذى الله ونبيه اشد من ذلك وهو القتل ۔
(الشفا صفحہ 372)
”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اذیت اور مومنوں کی اذیت میں فرق کیا گیا مومنوں کو اذیت پہنچانے کی سزا قتل سے کم ہے جیسے درے مارنا اور جلاوطن کرنا پس اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی ﷺ کو اذیت دینے کی سزا اس سے شدید چاہیے اور وہ قتل ہے“
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ابن تیمیہ:
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی محبت، رضا اور اطاعت کو اپنی محبت، رضا اور اطاعت قرار دیا۔ حضور ﷺ کی مخالفت، اذیت اور نافرمانی کو اپنی مخالفت، اذیت اور نافرمانی قرار دیا پس وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ کو اذیت دے اس نے اللہ کو اذیت دی ایسا شخص مستحق لعنت ہے اور لعنت بعد رحمت پر دلالت کرتی ہے اور مومن اللہ کی رحمت سے دور نہیں ہوتا مگر کافر لہٰذا ایسا شخص قتل کیا جائے گا۔
﴿الصارم المسلول صفحہ 52﴾
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ:
مَلْعُوْنِيْنَ أَيْنَمَا ثُقِفُوْا کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ملعونين مطرودين من بَاب الله وبابك واذا خرجوا لا ينفكون عن المذلة ولا يجدون ملجا بل اينما يكونون يطلبون ويوخذون ويقتلون ۔
﴿تفسیر کبیر جلد 09 صفحہ 187﴾
”لعنت کیے گئے دھتکارے گئے اللہ تعالیٰ کے دروازے اور آپ ﷺ کے دروازے سے جب وہ نکلیں تو ذلت سے نہ بچ پائیں گے اور نہ کوئی ٹھکانہ پائیں گے وہ جہاں بھی ہوں طلب کیے جائیں اور پکڑ کر قتل کیے جائیں“
دوسری آیت کریمہ
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيٰتِهِ وَرَسُوْلِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ O لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ......
﴿التوبۃ: 65-66﴾
”اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو بہانے نہ بناؤ تم کافر ہو چکے مسلمان ہو کر‘‘
یہ آیت کریمہ غزوہ تبوک کے موقع پر نازل ہوئی جب منافقین نے ایسی گفتگو کی جو رسول اللہ ﷺ کی اذیت کا باعث تھی۔ امام سیوطیؒ تفسیر درمنثور میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ منافقین میں سے ایک آدمی نے کہا محمد ﷺ ہمیں بتاتے ہیں کہ فلاں کی ناقہ فلاں دن فلاں وادی میں تھی کیا وہ اس طرح غیب جانتے ہیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی امام رازی تفسیر کبیر میں حضرت قتادہ ؓ کا قول نقل کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے جارہے تھے تو منافقین نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق کہا کہ اس شخص کا گمان ہے یہ روم کے محل اور قلعے فتح کرلے گا جب ان سے اس بابت پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ہم تو مذاق کر رہے تھے تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اس کے علاوہ بھی منافقین کی گفتگو ہے جو انہوں نے شان رسالت کے متعلق کی تو ثابت یہ ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق توہین آمیز کلمات کہنا اگرچہ وہ بطور مذاق ہی ہوں یہ کفر ہے اہل تفسیر بیان کرتے ہیں کہ ان کا کفر یہ تھا کہ انہوں نے آپ ﷺ کے متعلق ایسے کلمات کہے جو آپ کے شایان شان نہ تھے۔
وجہ استدلال:
قد کفر تم بعد ایمانکم یہ الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ایذاء رسول ﷺ کفر ہے یعنی تمہارا کفر رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینے کی وجہ سے خوب ظاہر ہو گیا اور کفر تم سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی توہین کفر ہے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ آیت منافقین کے متعلق نازل ہوئی جبکہ وہ پہلے ہی مومن نہ تھے تو پھر قد کفر تم بعد ایمانکم کا کیا معنی ہوگا۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ:
اس کا جواب یوں بیان کرتے ہیں
قد کفر تم بعد ایمانکم يدل علی احکام ...... الحکم الثالث يدل علی ان قولهم الذی صدر منهم کفر فی الحقیقة وان کانوا منافقین من قبل وان الکفر یمکن ان یتجدد من الکافر حالا فحالا
﴿تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 95-96﴾
”یہ آیت کریمہ چند احکام پر دلالت کرتی ہے۔ تیسرا حکم یہ ہے کہ ان کا قول جس کا ان سے صدور ہوا وہ حقیقت میں کفر ہے اگر چہ وہ اس سے پہلے بھی منافق تھے مگر ممکن ہے کہ کافر سے کفر مختلف اوقات میں تازہ ہوتا رہے“
قال الحسن : المراد کفر تم بعد ایمانکم الذی اظهرتموه وقال آخرون ظهر کفر کم للمومنین بعد ان کنتم عندهم مسلمین
﴿تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 96﴾
”حسن نے کہا کہ کفر تم سے مراد یہ ہے کہ تم کافر ہو گئے اس ایمان کے بعد جس کا تم اظہار کرتے تھے اور بعض نے کہا کہ تم مومنین کے سامنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اس بات کے بعد تمہارا کفر مومنین پر بھی ظاہر ہو گیا“
خلاصہ یہ ہوا کہ منافقین جو زبانی اسلام کا اظہار و اقرار کرتے تھے قد کفر تم بعد ایمانکم میں وہی زبانی اقرار مراد ہے کہ جس ایمان کا زبان سے اقرار کرتے رہے وہ بھی ختم ہو گیا اور منافقین کا کفر ظاہر اور واضح ہو گیا۔
علامہ ابن تیمیہ:
اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
وهذا نص فى ان الاستهزاء بالله وبآياته وبرسوله كفر فالسب المقصود بطريق الاولى وقد دلت هذه الآية على ان كل من تنقص رسول الله ﷺ جادا و هازلا فقد كفر
﴿الصارم المسلول صفحہ 46﴾
”اس مسئلہ میں یہ آیت نص ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ سے استہزاء کفر ہے اور گالی دینا تو بطریق اولی کفر ہے اور یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی تنقیص کرے جان بوجھ کر یا بطور مذاق وہ کافر ہے“
صاحب تفسیر البحر المحیط اس آیت کی تشریح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قد كفرتم اظهرتم الكفر بعد ايمانكم اى بعد اظهار ايمانكم لانهم كانوا يسرون الكفر فاظهروه باستهزائهم
﴿تفسیر البحر المحيط جلد 05 صفحہ 67﴾
”قد کفر تم تم نے اظہار کفر کیا بعد ایمانکم یعنی ایمان کو ظاہر کرنے کے بعد اس لیے کے وہ اپنے کفر کو چھپاتے تھے پس اس استہزاء کے ذریعے انہوں نے کفر کو ظاہر کر دیا“
تیسری آیت کریمہ
وَ إِنْ نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ O
﴿التوبۃ: 12﴾
”اور اگر عہد کر کے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر طعنہ کریں تو کفر کے سرغنوں سے لڑو بے شک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں“
اس آیت کریمہ میں یہ حکم دیا گیا ہے اگر کفار عہد و پیمان کرنے کے بعد تمہارے دین
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
میں طعن کریں تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا اور ان سے قتال ضروری ہوگا جس سے قتال ضروری ہو وہ مباح الدم ہوتا ہے حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات بابرکات مرکز دین اور جان ایمان ہے اگر کوئی عہد کرنے کے بعد حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات کہے اور آپ کی ذات اقدس کے بارے میں طعن کرے تو یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ شخص واجب القتل ہے۔
امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ علیہ :
تفسیر احکام القرآن میں زیر آیت فرماتے ہیں:
وان أهل الذمة ممنوعون من اظهار الطعن فى دين المسلمين وهو يشهد لقول من يقول من الفقهاء ان من اظهر شتم النبى ﷺ من أهل الذمة فقد نقض عهده ووجب قتله
﴿احکام القرآن للجصاص جلد 03 صفحہ 126﴾
”بے شک ذمیوں کے لیے ممنوع ہے کہ وہ مسلمانوں کے دین میں طعن کریں اور یہی بات فقہاء کے اس قول کی بھی دلیل ہے کہ جس ذمی نے حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی اس کا عہد ختم ہو گیا اور وہ واجب القتل ہے مزید فرماتے ہیں“
ظاهر الآية يدلّ على ان من اظهر سبّ النبى ﷺ من اهل العهد فقد نقض عهده ۔
﴿احکام القرآن جلد 03 صفحہ 127﴾
”اس آیت سے بداہۃً یہ بات ثابت ہے کہ اگر کوئی ذمی حضور ﷺ کو سب وشتم کرے تو اس کا عہد ختم ہو جائے گا“
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
امام ابو عبداللہ قرطبی رحمة الله عليه:
استدل بعض العلماء بهذه الآية على وجوب قتل كل من طعن فى الدين اذ هو كافر وقال ابن المنذر اجمع عامة اهل العلم على ان من سب النبي ﷺ عليه القتل
﴿تفسیر قرطبی جلد 8 صفحہ 77﴾
”بعض علماء نے اس آیت سے ہر اس شخص کے قتل کے وجوب پر استدلال کیا جو دین (اسلام) میں طعن کرے اگر چہ وہ کافر ہو اور ابن منذر نے کہا (اس آیت کریمہ سے استدلال کرتے ہوئے) اکثر اہل علم کا گستاخ رسول ﷺ کو قتل کرنے پر اتفاق ہے“
امام فخر الدین رازی رحمة الله عليه:
وان نكثوا ايمانهم الخ کی تفسیر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
وهو قول الاكثرين ان المراد نكثهم لعهد رسول الله ﷺ قال الزجاج هذه الآية توجب قتل الذمى اذا اظهر الطعن فى الاسلام لان عهده مشروط بان لا يطعن فان طعن فقد نكث ونقض عهدهم
﴿تفسیر کبیر جلد 05 صفحہ 535﴾
”اکثر علماء کا قول ہے کہ نكثو سے مراد رسول اللہ ﷺ کے لیے عہد کو ختم کرنا ہے (یعنی اگر کوئی رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرے) زجاج کہتے ہیں اگر ذمی دین میں طعن کرے تو یہ آیت اس کے قتل کو واجب کرتی ہے اس لیے کہ اس کا عہد مشروط تھا کہ وہ طعن نہیں کرے گا پس جب اس نے طعن کیا تو اپنے عہد کو ختم کر دیا“
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
علامہ ابن کثیر:
وطعنوا فی دینکم ای عابوہ وانتقصوہ ومن ههنا اخذ قتل من سب الرسول صلوات الله وسلامه علیه او من طعن فی دین الاسلام او ذکره بنقص
﴿تفسیر ابن کثیر جلد 02 صفحہ 350﴾
”وطعنوا فی دینکم یعنی اگر وہ تمہارے دین میں عیب نکالیں یا اس میں نقص تلاش کریں (تو ان سے قتال ضروری ہے) اسی سے نبی کریمﷺ کو سب وشتم کرنے والے اور دین اسلام میں طعن کرنے والے کے قتل کا حکم اخذ کیا گیا“
کوئی شخص حضور سید عالمﷺ کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات کہے اور تنقیص رسالت کا مرتکب ہو تو ایسا شخص اگرچہ پہلے سے کافر ہی ہو اس کے بارے میں قتل کا حکم ہے کوئی مسلمان حضور سرور عالمﷺ کے بارے میں ایسے کلمات جو آپ کی شان کے خلاف ہیں ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن اگر کوئی بدبخت دل میں کفر و نفاق چھپائے زبان سے اسلام کا اقرار کرتے ہوئے حضور نبی کریمﷺ کے متعلق نازیبا لفظ کہے تو وہ بھی کافر ہے اور واجب القتل ہے۔
چوتھی آیت کریمه
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا O
﴿النساء:65﴾
”تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرماؤ اپنے دلوں
توہین رسالت : علمی و تاریخی جائزہ میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں‘ یہ آیت کریمہ اس امر کو واضح کرتی ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کے فیصلے کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم نہیں کرتا وہ مومن نہیں ایمان و کفر کے فرق کو واضح کرتے ہوئے یہ بتایا گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ کے ہر فیصلے کو دل و جان سے قبول کر لینے کو ایمان کہتے ہیں اور اس کے خلاف اپنے دل میں کسی قسم کا بغض رکھنا ہی کفر ہے اس آیت کریمہ کو شان نزول کے پس منظر میں دیکھنے سے مفہوم مزید واضح ہو جاتا ہے۔
ایک منافق اور ایک یہودی کا جھگڑا ہوا یہودی نے کہا میرے اور تمہارے درمیان ابوالقاسم ﷺ فیصلہ کریں گے منافق نے کہا: کعب بن اشرف فیصلہ کرے گا کیونکہ کعب بن اشرف بہت رشوت خور تھا یہودی اس مقدمہ میں حق پر تھا اور منافق باطل پر تھا اس لیے یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس اور منافق کعب بن اشرف کے پاس مقدمہ لے جانا چاہتا تھا یہودی نے اس بات پر اصرار کیا تو دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے رسول اللہ ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ کر دیا منافق اس فیصلہ سے راضی نہ ہوا اور کہا میرے اور تمہارے درمیان حضرت عمر ؓ فیصلہ کریں گے جب وہ حضرت عمر ؓ کے پاس آئے تو یہودی نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ اس کے حق میں فیصلہ کر چکے لیکن یہ شخص مانتا نہیں حضرت عمر ؓ نے اس منافق سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے اس نے کہا ہاں حضرت عمر ؓ نے فرمایا ٹھہرو انتظار کرو میں ابھی آتا ہوں گھر گئے تلوار لے کر آئے اور منافق کا سر قلم کر دیا پھر اس منافق کے گھر والوں نے نبی کریم ﷺ سے حضرت عمر ؓ کی شکایت کی رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے تفصیل معلوم کی حضرت عمر ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! اس نے آپ کے فیصلے کو مسترد کیا تھا اسی وقت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہا یہ فاروق ؓ ہیں انہوں نے حق اور باطل کے درمیان فرق کیا نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا تم فاروق ہو۔
﴿تفسیر کبیر، تفسیر ابن کثیر وغیرہ﴾
توہین رسالت : علمی و تاریخی حضرت عمر فاروق ؓ کے ﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا بھی اہانت ہے جو فاروق اعظم ؓ نے تجویز پر مہر تصدیق ثبت فرما کر اس کی توثیق
شیخ اکبر ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ
امام ابو عبداللہ قرطبی نے ا قال ابن العربی و هو الحكم فهو كافر ”ابن عربی فرماتے ہیں کہ کے بعد غمگین ہو (یعنی دل
پانچویں آیت کریمہ
إِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِ ”بے شک ان ہنسنے والوں اس آیت کریمہ میں اللہ ت کرتے ہیں آپ ان کی فکر مت قریش حضور سید عالم ﷺ کی دل عبرت ناک انجام سے دوچار فرما
علامہ ابن کثیر:
اس آیت کریمہ کی تفسیر کر
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
حضرت عمر فاروق ؓ کے اس فیصلے سے یہ بات مترشح اور واضح ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا بھی اہانت رسول ہے اور توہین رسول کے مرتکب شخص کی سزا وہی ہے جو فاروق اعظم ؓ نے تجویز فرمائی اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کے اس فیصلے پر مہر تصدیق ثبت فرما کر اس کی توثیق فرمادی۔
شیخ اکبر ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ:
امام ابو عبداللہ قرطبی نے اسی آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے شیخ اکبر کا قول نقل کیا
قال ابن العربي و هو الصحيح فكل من اتهم رسول الله ﷺ في الحكم فهو كافر
﴿تفسیر قرطبی جلد 05 صفحہ 256﴾
”ابن عربی فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے بعد غمگین ہو (یعنی دل میں بغض رکھے) وہ کافر ہے“
پانچویں آیت کریمہ
إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِءِينَ O
﴿الحجر : 95﴾
”بے شک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفایت کرتے ہیں“
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے فرمایا: آپ سے جو لوگ استہزاء کرتے ہیں آپ ان کی فکر مت کیجیے آپ کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہے جو رؤسائے قریش حضور سید عالم ﷺ کی دل آزاری کا اکثر سبب بنتے تھے خالق کائنات نے انہیں عبرت ناک انجام سے دوچار فرمایا اور وہ عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر واصل جہنم ہوئے۔
علامہ ابن کثیر:
اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
مرّ رسول الله ﷺ فغمزه بعضهم فجاء جبريل احسبه قال فغمزهم فوقع فى اجسادهم كهيئة الطعنة فماتوا
﴿تفسیر ابن کثیر جلد 2 صفحہ 559﴾
”چنانچہ ایک دن رسول اللہ ﷺ راستے سے جا رہے تھے تو بعض مشرکین نے آپ ﷺ کو چھیڑا حضرت جبریل علیہ السلام نے آکر کہا میں انہیں کافی ہوں اور انہیں چوکا مارا جس سے اُن کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مرگئے“
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ:
اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔
استہزاء کرنے والے یہ افراد تھے ولید بن مغیرہ ، اسود بن عبد یغوث ، اسود بن مطلب ، حارث بن عیطل السہمی ، عاص بن وائل جبریل امین آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں شکوہ فرمایا حضرت جبریل امین نے کہا مجھے وہ دکھائیے پس پہلے آپ نے جبریل کو ولید دکھایا تو انہوں نے اس کی رگ جاں کی طرف اشارہ کیا تو آپ نے فرمایا تو نے کیا کیا جبریل نے کہا میں نے اس کا کام تمام کر دیا پھر آپ نے جبریل امین علیہ السلام کو اسود بن مطلب دکھایا انہوں نے اس کی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا پوچھا تو نے کیا کیا حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا میں نے اس کا کام تمام کر دیا پھر جبریل کو اسود بن عبد یغوث دکھایا تو انہوں نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا آپ نے پوچھا تو نے کیا کیا انہوں نے کہا میں نے اس کا کام تمام کر دیا پھر اسے حارث دکھایا تو انہوں نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا پوچھا تو نے اس کو کیا کیا جبریل امین نے کہا میں نے اس کا کام تمام کر دیا پھر آپ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ نے حضرت جبریل ؑ کو عاص بن وائل دکھایا تو انہوں نے اس کے پاؤں کے تلوے کی طرف اشارہ کیا آپ نے پوچھا تو نے اس کا کیا کیا انہوں نے کہا میں آپ کی طرف سے اس کے لیے کافی ہوں پس ولید خزاعہ کے ایک شخص کے پاس سے گزرا جو اپنا تیر تیز کر رہا تھا پس وہ تیر ولید کو رگ جان میں لگ گیا اور اس نے اسے کاٹ دیا اسود بن مطلب ایک درخت کے نیچے اترا اور اولاد کو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کیا تم میرا دفاع نہیں کرو گے میں ہلاک ہو رہا ہوں اور میری آنکھوں میں کانٹے مارے جا رہے ہیں بیٹے کہتے ہمیں تو کچھ نظر نہیں آرہا اسی طرح چیختا چلاتا رہا حتی کہ اس کی آنکھیں ضائع ہو گئیں اسود بن عبد یغوث کے سر پر زخم آئے اور وہ ان کی وجہ سے مر گیا حارث کے پیٹ میں زرد پانی پڑ گیا تھا حتی کہ اس کا پیشاب پاخانہ اس کے منہ سے نکلتا تھا عاص بن وائل طائف کی طرف سوار ہو کر جا رہا تھا اس کو بھی پاؤں کے نیچے سے کسی تیز چیز کی نوک لگی تو اس نے اسے قتل کر دیا۔
﴿تفسیر الدر المنثور جلد 05 صفحہ 90﴾
ولید بن مغیرہ ان سب ایذاء دینے والوں کا سرغنہ تھا جس نے ان سب کو ایذاء رسانی کے لیے جمع کیا یہ اسلام کا مکی دور تھا مسلمان بے بسی اور کسمپرسی کے حالات سے دوچار تھے اور ظلم و تشدد کے پہاڑ مسلمانوں پر گرائے جا رہے تھے ابھی جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا جب یہ اشخاص تضحیک اور اہانت رسول ﷺ میں بڑھنے لگے تو عذاب خداوندی کے مستحق ٹھہرے اور ہلاکت ان کا مقدر بن گئی۔
ان آیات طیبات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کی ذات، دین، نسب یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر طعن کیا یا وجوہ عیب میں سے کسی کے سبب آپ پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کو اذیت پہنچائی آپ کے فیصلہ کرنے کے بعد اس نے اس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کیا چاہے اس کا یہ قول صراحۃ ہو یا کنایۃ تصریحاً ہو
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ فر شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
یا اشارۃً ایسا شخص اہانت رسول کا مرتکب ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ایسے آدمی پر اللہ تعالیٰ کی دنیا و آخرت میں لعنت ہے اور اس کے لیے آخرت میں عذاب مھین کی وعید شدید ہے اور یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ وہ شخص کوئی بھی ہو مباح الدم ہے اور واجب القتل ہے اس لیے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ ﷻ کے جلیل القدر رسول ﷺ کی ذات اقدس کو تنقید کا نشانہ بنائے اسے دوسرے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دینا ضروری ہے۔
بارگاہ نبوت کے فیصلے :
حضور سید عالم ﷺ نے جب مکہ میں اعلان نبوت فرمایا تو اس کے بعد ابتلاء و آزمائش کا سلسلہ شروع ہو گیا دین اسلام کی تبلیغ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا کفار مکہ نے ان کی زندگی کو بھی اجیرن بنا دیا نبوت کے تیرہویں (13) سال حضور سید کائنات ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ تشریف لے آئے وہاں کے سازگار ماحول میں آپ نے سلطنت اسلامیہ کی بنیاد رکھی اور آپ نے وہاں ایک سلطنت کے بانی ہونے کی حیثیت سے تاریخ ساز فیصلے فرمائے جو قیامت تک ہمارے لیے مینار نور کی حیثیت رکھتے ہیں جو لوگ اہانت رسول ﷺ کے مرتکب ہوئے کائنات کے والی نے ان شاتمان رسول ﷺ کے متعلق بھی قرآنی دستور کے مطابق فیصلے فرمائے اور وہ جس سزا کے مستحق تھے انہیں وہ سزا بھی ملی خود رسالت مآب ﷺ نے بھی شاتم رسول ﷺ کی سزا قتل مقرر فرمائی۔
ابو رافع کا قتل :
ابو رافع یہود کا سردار اور عرب کے مالدار لوگوں میں سے تھا غزوہ خندق کے لیے اس نے مشرکین مکہ کو اُبھارا اور ان کی مالی امداد بھی کی غطفان بھی اسی کے اکسانے پر آئے یہ حضور
توہین رسالت: علمی و تاریخ سید عالم ﷺ کی ہجو کر کے آپ کو تکل حضرت براء بن عازب فر بعث رسول اللہ ﷺ ا امر علیھم عبداللہ بن ع ویعین علیه رسول اللہ ﷺ نے ابو رافع ک پر عبداللہ بن عتیک کو امیر بنایا ابو رافع مدد کرتا تھا۔ وہ سرزمین حجاز میں اپنے ایک سورج ڈوب چکا تھا اور لوگ اپنے مو تم لوگ اپنی جگہ بیٹھو اور میں جا کر در جاؤں وہ آگے بڑھے یہاں تک کہ اس طرح چھپایا گویا کہ وہ رفع حاج نے آواز دی اے اللہ کے بندے اگ ہوں پس میں قلعہ کے اندر چلا گیا اور کر کے چابیاں ایک کیل پر لٹکا دیں م نے ان کنجیوں کو لے لیا اور دروازہ کھو ابو رافع اپنے بالا خانے میں تھا جب چڑھا اور جو دروازہ کھولتا اسے اند تک اس وقت تک نہ پہنچ پائیں جب ت
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
سید عالم ﷺ کی ہجو کر کے آپ کو تکلیف پہنچاتا تھا چنانچہ آپ نے اس کے قتل کا فیصلہ فرمایا۔
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں بعث رسول الله ﷺ الی ابی رافع اليهودی رجالاً من الانصار و امر عليهم عبدالله بن عتيك و كان ابو رافع یوذی رسول الله ﷺ ويعين عليه
رسول اللہ ﷺ نے ابو رافع یہودی کی جانب انصار کرام کے کچھ لوگوں کو بھیجا اور ان پر عبداللہ بن عتیک کو امیر بنایا ابو رافع رسول اللہ ﷺ کو ایذا دیتا تھا اور حضور کے مخالفین کی مدد کرتا تھا۔
وہ سر زمین حجاز میں اپنے ایک قلعہ میں رہتا تھا جب وہ لوگ اس کے قریب پہنچے تو سورج ڈوب چکا تھا اور لوگ اپنے مویشی لے کر آچکے تھے عبداللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم لوگ اپنی جگہ بیٹھو اور میں جا کر دربان سے کوئی حیلہ کرتا ہوں ہو سکتا ہے میں اندر داخل ہو جاؤں وہ آگے بڑھے یہاں تک کہ وہ دروازہ کے قریب پہنچ گئے اور اپنے آپ کو کپڑے میں ا س طرح چھپایا گویا کہ وہ رفع حاجت کر رہے ہیں سب لوگ اندر داخل ہو چکے تھے دربان نے آواز دی اے اللہ کے بندے اگر تو اندر آنا چاہتا ہے تو آجا میں دروازہ بند کرنے جا رہا ہوں پس میں قلعہ کے اندر چلا گیا اور چھپ گیا جب لوگ اندر آگئے تو دربان نے دروازہ بند کر کے چابیاں ایک کیل پر لٹکا دیں۔ (حضرت عبداللہ فرماتے ہیں) جب لوگ سو گئے میں نے ان کنجیوں کو لے لیا اور دروازہ کھولا ابو رافع کے یہاں رات میں بات چیت کی جاتی تھی ابو رافع اپنے بالا خانے میں تھا جب وہ بات چیت کرنے والے لوگ چلے گئے تو میں اوپر چڑھا اور جو دروازہ کھولتا اسے اندر سے بند کر لیتا تا کہ اگر لوگوں کو میرا علم ہو جائے تو بھی مجھ تک اس وقت تک نہ پہنچ پائیں جب تک میں اسے قتل نہ کر لوں میں ابو رافع تک پہنچا وہ ایک
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔
اندھے شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
124 توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
تاریک کمرے میں اپنے اہل وعیال کے پاس سو رہا تھا مجھے اندازہ نہ ہو سکا کہ وہ کہاں ہے میں نے بلند آواز سے کہا ابو رافع اس نے کہا یہ کون ہے؟ تو میں نے آواز کی طرف نشانہ درست کر کے تلوار سے ضرب لگائی میں گھبرایا ہوا تھا میں کچھ نہیں کر سکا اور وہ چیخا میں کمرے سے باہر نکل آیا تھوڑی دیر رکا رہا پھر اس کے پاس اندر گیا اور آواز بدل کر کہا یہ کیسی آواز ہے اے ابو رافع اس نے کہا تیری ماں کے لیے خرابی ہو کچھ دیر پہلے ایک شخص نے گھر کے اندر مجھ پر تلوار سے حملہ کیا عبداللہ نے کہا اب میں نے اس کو پھر مارا جس سے وہ زخمی ہو گیا لیکن وہ مرا نہیں پھر میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر دبائی جو اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی اب مجھے یقین ہوا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے اب میں ایک ایک دروازہ کھولتا جاتا یہاں تک کہ میں سیڑھی تک پہنچ گیا میں نے اپنا پاؤں رکھا میں سمجھا میں زمین تک پہنچ گیا ہوں میں گر پڑا چاندنی رات تھی میری پنڈلی ٹوٹ گئی جس کو میں نے عمامہ سے باندھا پھر چلا یہاں تک کہ دروازے پر آکر بیٹھ گیا اور اپنے دل میں سوچا آج رات اس وقت تک نہیں نکلوں گا جب تک یہ معلوم نہ کرلوں کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے جب مرغ بولا تو قلعہ کی دیوار پر ایک پکارنے والے نے اعلان کیا کہ میں اہل حجاز کے تاجر ابو رافع کی موت کا اعلان کرتا ہوں اب میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور میں نے کہا نجات حاصل ہوئی اللہ نے ابو رافع کو قتل کر دیا چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور قصہ بیان کیا آپ نے فرمایا اپنا پاؤں پھیلا میں نے پاؤں پھیلایا حضور ﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا تو وہ ایسے ہو گیا گویا اس میں کبھی کوئی تکلیف نہیں تھی۔
﴿ بخاری شریف کتاب المغازی جلد 02 صفحہ 577﴾
ابو رافع جب اہانت رسول اور اسلام دشمنی کا مرتکب ہوا تو رسول کائنات ﷺ نے اس کے قتل کا فیصلہ فرمایا اور صحابہ کرام کو اس کے قتل کے لیے بھیجا علامہ بدرالدین عینی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جا
جواز الاغتيال على من او رأى و كان ابو رافع يعا
’’جو شخص اپنی رائے مال اور (یہ حدیث) اس کے قتل کے دشمن تھا اور لوگوں کو بھی اس د
گستاخ رسول کا قتل:
ایک شخص رسول اللہ ﷺ کو س مَنْ يَكْفِينِي عَدُوِّي رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں تو نبی ک قتل کر دیا۔
ابن خطل کا قتل:
ابن خطل پہلے مسلمان ہو کر وصول کرنے کے لیے بھیجا اس کے م خطل نے خادم کو کہا بکرا ذبح کر کے اور دیکھا کہ خادم نے کھانا تیار نہیں ک چلا گیا وہاں اس نے لونڈیاں رکھیں تھیں ابن خطل کے تین جرم تھے۔
- 1- ناحق قتل 2-
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
جواز الاغتيال على من اعان على رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بید او مال او رأى و كان ابورافع يعادى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم و يؤلب الناس عليه
﴿عمدة القاری جلد 14 صفحہ 378﴾
”جو شخص اپنی رائے مال اور ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مدد کرے (یہ حدیث) اس کے قتل کے جواز پر دلیل ہے ابو رافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا اور لوگوں کو بھی اس دشمنی پر ابھارتا تھا“
گستاخ رسول کا قتل :
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کیا کرتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ يَكْفِينِي عَدُوِّي میرے دشمن کی خبر کون لے گا حضرت خالد نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا اور حضرت خالد نے اس شخص کو قتل کر دیا۔
﴿شفا شریف صفحہ 373﴾
ابن خطل کا قتل :
ابن خطل پہلے مسلمان ہو کر مدینہ طیبہ حاضر ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اس کے ساتھ ایک خادم بھی تھا ایک جگہ انہوں نے پڑاؤ کیا تو ابن خطل نے خادم کو کہا بکرا ذبح کر کے کھانا تیار کرو اور خود سو گیا وہ خادم بھی سو گیا ابن خطل جاگا اور دیکھا کہ خادم نے کھانا تیار نہیں کیا تو اسے قتل کر دیا اور خود مرتد ہو کر مشرکین مکہ کے پاس چلا گیا وہاں اس نے لونڈیاں رکھیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں وہ اشعار جو ابن خطل کہتا تھا گاتی تھیں ابن خطل کے تین جرم تھے۔
- 1- ناحق قتل 2- ارتداد 3- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت
نہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریمﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی
ایک نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: ان رسول اللهﷺ دخل عام الفتح وعلى رأسه المغفر فلما نزعه جاءه رجل فقال ان ابن خطل متعلق بأستار الكعبة فقال اقتلوه
(بخاری شریف ابواب العمرۃ جلد 01 صفحہ 249)
جب رسول اللہﷺ فتح مکہ کے سال (مکہ میں) داخل ہوئے اور حضورﷺ کے سر اقدس پر خود تھا جب اس کو اتارا تو ایک صاحب حاضر ہوئے اور عرض کیا ابن خطل کعبہ کے پر دوں میں چھپا ہوا ہے فرمایا اسے قتل کر دو
اس کے بعد اسے کعبے کے پردوں سے گھسیٹ کر زمزم اور مقام ابراہیم کے درمیان قتل کر دیا گیا اس کے قتل کی سعادت حاصل کرنے والوں میں حضرت زبیر بن عوام حضرت عمار بن یاسر، حضرت ابو برزہ اسلمی، حضرت سعید بن حریث کا نام آتا ہے۔
گستاخ رسول اُم ولد کا قتل:
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں: ان اعمى كانت له ام ولد تشتم النبيﷺ وتقع فيه فينهاها فلا تنتهی ویزجرها فلا تنزجر قال فلما كانت ذات ليلة جعلت تقع في النبيﷺ وتشتمه فاخذ المغول فوضعه في بطنها واتكأ عليها فقتلها فوقع بين رجليها طفل فلطخت ما هناك بالدم فلما اصبح ذكر ذلك للنبىﷺ فجمع الناس فقال انشد الله رجلا فعل ما فعل لى عليه حق الا قام قال فقام الاعمى يتخطى الناس وهو يتزلزل حتى قعد بين يدى النبيﷺ فقال يا رسول الله انا صاحبها
توہین رسالت: علمی وتاریخی جا كانت تشتمك وتقع فيك ولى منها ابنان مثل اللؤلؤ جعلت تشتمك وتقع فيك واتكأت عليها حتى قتلتها ’’ایک نابینا شخص کی ام ولد لو اسے منع کرتے مگر وہ باز نہ آتی کریمﷺ کی بدگوئی کرنے ل رکھ کر اس پر اپنا بوجھ ڈال دی پاؤں میں ایک چھوٹا بچہ آگ صبح اس کا ذکر رسول اللہﷺ نے فرمایا میں اس آدمی کو الل اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جا گردنیں پھلانگتا ہوا اضطرا سامنے بیٹھ گیا اور کہا یا رسول کہتی میں اس کو منع کرتا مگر کرتی اس کے بطن سے میر حیات تھی گزشتہ رات جب و میں نے چھرا لیا اس کے پی نبی کریمﷺ نے فرمایا تم
جنہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی
ایک نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
كَانَت تشتمك وتقع فيك فانهاها فلا تنتهى وازجرها فلا تنزجر ولى منها ابنان مثل اللؤلؤتين وكانت بى رفيقة فلما كان البارحة جعلت تشتمك وتقع فيك فاخذت المغول فوضعته فى بطنها واتكات عليها حتى قتلتها فقال النبيﷺ الا اشهدوا ان دمها هدر
﴿ابوداؤد شریف کتاب الحدود جلد 02 صفحہ 251﴾
”ایک نابینا شخص کی ام ولد لونڈی تھی وہ نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتی تھی وہ اسے منع کرتا مگر وہ باز نہ آتی وہ اسے ڈانٹتا مگر وہ نہ رکتی ایک رات وہ نبی کریم ﷺ کی بدگوئی کرنے لگی تو اس نے ایک برچھا لے کر اس کے پیٹ پر رکھ کر اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا اور اس طرح اسے قتل کر ڈالا اس لونڈی کے پاؤں میں ایک بچہ آ گیا اور اس نے اس جگہ کو خون سے لت پت کر دیا صبح اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے پاس کیا گیا اور لوگ اکٹھے ہو گئے تو آپ نے فرمایا میں اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے یہ کام کیا ہے اور میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے پس وہ نابینا شخص کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا اضطراب کی کیفیت میں آیا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میں اس کا قاتل ہوں یہ آپ کو برا بھلا کہتی میں اس کو منع کرتا مگر باز نہ آتی تھی میں اسے ڈانٹتا مگر وہ اس کی پرواہ نہ کرتی اس کے بطن سے میرے دو موتیوں جیسے بچے بھی ہیں وہ میری رفیقہ حیات تھی گزشتہ رات جب وہ آپ کو گالیاں دینے لگی اور بُرا بھلا کہنے لگی تو میں نے چھرا لیا اس کے پیٹ میں رکھ کر زور سے دبایا یہاں تک کہ وہ مرگئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا خبردار گواہ ہو جاؤ اس لونڈی کا خون ضائع ہے“
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
یہودی عورت کا قتل:
حضرت علی المرتضیٰ ؓ فرماتے ہیں:
ان يهودية كانت تشتم النبي ﷺ وتقع فيه فخنقها رجل حتى ماتت فابطل رسول الله دمها
﴿ابوداؤد شریف کتاب الحدود جلد 2 صفحہ 252﴾
”ایک یہودی عورت نبی پاک ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی اور آپ کے بارے نازیبا کلمات کہتی تھی تو ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا حتی کہ وہ مر گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا“
امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ اپنی سنن میں یہ دونوں حدیثیں باب الحکم فيمن سب النبى ﷺ کے تحت لائے جس سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ گستاخ رسول کی سزا قتل ہے۔
حویرث بن نقیذ کا قتل:
واما الحويرث بن نقيذ فانه كان يؤذى النبي ﷺ فاهدر دمه فبينا هو في منزله يوم الفتح قد اغلق عليه واقبل على ؓ يسأل عنه فقيل هو في البادية فأخبر الحويرث انه يطلب وتنحى على ؓ على بابه فخرج الحويرث يريد ان يهرب من بيت الى بيت آخر فتلقاه على ؓ فضرب عنقه
﴿الصارم المسلول صفحہ 128﴾
”حویرث بن نقیذ رسول اللہ ﷺ کو ایذا دیا کرتا تھا آپ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا یوم فتح کو اپنے گھر میں چھپ کر اس نے دروازہ بند کر لیا حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے آکر اس کے بارے میں پوچھا تو کہا گیا وہ گاؤں میں ہے پس حویرث کو بتایا گیا کہ تجھے تلاش کیا جا رہا ہے حضرت علی
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
المرتضیٰ ؓ دروازہ کے ساتھ ہو کر کھڑے ہو گئے حویرث ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف بھاگنے کے ارادے سے نکلا حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے اسے پکڑ کر اس کی گردن مار دی‘‘
مشرک گستاخ رسول کا قتل:
عن عبدالله بن عباس ان رجلا من المشركين شتم رسول الله ﷺ فقال رسول الله ﷺ من يكفينى عدوى؟ فقام الزبير بن العوام فقال انا فبارزه فاعطاه رسول الله ﷺ سلبه
﴿الصارم المسلول صفحہ 133﴾
’’حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کو سب وشتم کرتا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے دشمن کی خبر کون لے گا حضرت زبیر بن عوام ؓ نے کھڑے ہو کر عرض کی میں حاضر ہوں حضرت زبیر ؓ نے اسے قتل کر دیا تو رسول ﷺ نے اس کا سامان حضرت زبیر ؓ کو عطا فرما دیا‘‘
ابو جہل کا عبرت ناک انجام:
حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ فرماتے ہیں:
بينا انا واقف فى الصف يوم بدر نظرت عن يمينى وعن شمالى فاذا انا بغلامين من الانصار حديثة اسنانهما تمنيت ان اكون بين اضلع منهما فغمزنى احدهما فقال يا عم هل تعرف ابا جہل قلت نعم ما حاجتك اليه يا ابن اخى قال اخبرت انه يسب رسول الله ﷺ والذى نفسى بيده لئن رايته لا يفارق سوادى سواده حتى
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
يموت الاعجل منا فتعجبت لذلك فغمزنى الاخر فقال لى مثلها فلم انشب ان نظرت الى ابى جهل يجول فى الناس فقلت الا ان هذا صاحبكما الذى سالتمانى عنه فابتدراه بسيفيهما فضرباه حتى قتلاه ثم انصرفا الى رسول الله ﷺ فاخبراه فقال ايكما قتله قال كل واحد منهما انا قتلته فقال هل مسحتما سيفيكما قالا لا فنظر فى السيفين فقال كلاكما قتله
﴿بخاری شریف کتاب الجہاد جلد 01 صفحہ 444﴾
”بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا میرے دونوں جانب انصار کے دو کمسن بچے تھے مجھے آرزو ہوئی کہ کاش میں ان سے زیادہ طاقت ور کے درمیان ہوتا میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک نے مجھے دبایا اور پوچھا اے چچا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں میں نے کہا ہاں اب میں نے پوچھا تمہیں اس کی کیا حاجت ہے اے بھتیجے؟ اس نے کہا مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے نازیبا الفاظ کہتا ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں اسے دیکھ لوں گا تو اس سے اس وقت تک جدا نہ ہوں گا جب تک وہ مر نہ جائے جس کی موت ہم میں پہلے ہے میں نے اس پر تعجب کیا اب دوسرے نے مجھے دبایا اور وہی بات کہی تھوڑی دیر کے بعد میں نے ابو جہل کو دیکھا کہ لوگوں کے درمیان تیزی سے آ جا رہا ہے میں نے ان دونوں بچوں سے کہا دیکھو یہ وہ ہے جس کے بارے میں تم نے مجھ سے پوچھا تھا یہ سنتے ہی دونوں اپنی تلواروں کے ساتھ اس پر جھپٹے اور اسے مار کر قتل کر دیا پھر لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کی
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور کو بتایا دریافت فرمایا تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے ان دونوں نے کہا میں نے اسے قتل کیا ہے دریافت فرمایا کیا اپنی تلواریں صاف کرلیں دونوں نے عرض کیا نہیں اب حضور نے دونوں کی تلواریں ملاحظہ فرمائیں اور ارشاد فرمایا تم دونوں نے اسے قتل کیا‘‘ ابوجہل کا نام عمرو بن ہشام ہے یہ بنی مخزوم کا سردار تھا جنگ بدر میں کفار کا سپہ سالار تھا عہد جاہلیت میں اس کی کنیت ابوالحکم تھی حضور اقدس ﷺ نے ابوجہل رکھی وہ اسی سے جانا جاتا ہے اسے اس اُمت کا فرعون بھی کہا جاتا ہے اور دونوں نوجوانوں نے اسے قتل کرنے کی وجہ یہ بیان فرمائی انه يسب رسول الله ﷺ اس سے معلوم ہوا کہ سلطنت مدینہ میں یہ مسئلہ معروف و مشہور تھا کہ اہانت رسول ﷺ نا قابل معافی جرم ہے اور تنقیص رسول اللہ ﷺ کے مجرم کی سزا قتل ہے اور ابوجہل بھی اسی انجام سے دوچار ہوا طبرانی میں ہے کہ ابوجہل کے قتل سے آپ خوش ہوئے اور سجدہ شکر ادا فرمایا۔
کعب بن اشرف کا قتل:
کعب بن اشرف ایک جاگیر دار اور متعصب یہودی تھا اسلام سے سخت دشمنی رکھتا تھا رسول کریم ﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا فتح بدر کی خبر جب مدینہ طیبہ پہنچی تو اسے بڑا رنج ہوا سردار ان کفار کی ہلاکت کا پتہ چلنے پر کہنے لگا کہ آج کے دن زمین پر رہنے سے زمین کے اندر چلے جانا زیادہ بہتر ہے یعنی مرجانا زندہ رہنے سے اچھا ہے پھر وہ مکہ گیا تو اہل مکہ نے کعب سے پوچھا کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد ﷺ کا اس نے جواب دیا کہ تمہارا دین محمد ﷺ کے دین سے بہتر ہے (العیاذ باللہ) چونکہ اس نے ایذاء رسول ﷺ کے جرم کا ارتکاب کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم ارشاد فرمایا۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
قال رسول الله ﷺ من لكعب بن الاشرف فانه قد آذى الله ورسوله فقام محمد بن مسلمة فقال يا رسول الله اتحب ان اقتله قال نعم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دی اس پر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ کو پسند ہے کہ میں اسے قتل کردوں؟ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔
محمد بن مسلمہ نے عرض کی پھر آپ مجھے کچھ کہنے کی اجازت عطا فرمائیں (یعنی ایسے ذو معنی الفاظ جنہیں سن کر وہ خوش ہو) آپ نے فرمایا اجازت ہے حضرت محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس آئے اور اسے کہا کہ یہ شخص (یعنی رسول کریم ﷺ) ہم سے صدقہ مانگتا ہے اور اس نے ہمیں تھکا دیا ہے اس لیے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں کعب نے جواباً کہا اللہ کی قسم ابھی اور بھی اُکتا جاؤ گے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا چونکہ ہم نے اس کی اتباع کر لی ہے جب تک ہم انجام نہ دیکھ لیں انہیں چھوڑنا مناسب نہیں میں تم سے ایک دو وسق قرض لینے آیا ہوں کعب نے کہا کوئی چیز میرے پاس گروی رکھ دو محمد بن مسلمہ نے کہا تمھارا کیا چیز گروی رکھنے کا ارادہ ہے کعب نے کہا اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو تو انہوں نے کہا تم عرب کے خوب صورت نوجوان ہو ہم تمہارے پاس اپنی عورتیں کیسے گروی رکھ سکتے ہیں کعب نے کہا پھر اپنے بیٹے گروی رکھ دو محمد بن مسلمہ نے کہا ہم اپنے بیٹے کیسے گروی رکھ سکتے ہیں کل انہیں ہر کوئی گالی دے گا انہیں ایک یا دو وسق غلے کے عوض گروی رکھا گیا یہ ہمارے لیے عار کی بات ہوگی ہم آپ کے پاس اسلحہ گروی رکھ سکتے ہیں کعب راضی ہو گیا محمد بن مسلمہ دوبارہ آنے کا کہہ کر چلے گئے پس وہ رات کو ابو نائلہ کے ساتھ آئے جو کعب کا رضاعی بھائی تھا اور
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
قلعے کے پاس آ کر اسے بلایا وہ ان کی طرف آنے لگا تو اس کی بیوی نے پوچھا اس وقت کہاں جا رہے ہو تو اس نے کہا یہ محمد بن مسلمہ اور میرا بھائی نائلہ ہیں وہ کہنے لگی مجھے تو آواز ایسے لگی گویا اس سے خون ٹپک رہا ہے کعب نے کہا یہ محمد بن مسلمہ اور میرے بھائی ابو نائلہ ہیں اگر شریف آدمی کو رات کے وقت بھی نیزہ بازی کے لیے بلایا جائے تو وہ تیار ہو جاتا ہے محمد بن مسلمہ اور ابو نائلہ کے ہمراہ ابو عبس بن جبر، حارث بن اوس اور عباد بن بشر بھی تھے محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا جب کعب آئے تو میں اس کے بال ہاتھ میں لے کر سونگھنے لگوں گا جب تم دیکھو میں نے مضبوطی سے اسے پکڑ لیا ہے تو تم اسے قتل کر دینا اور پہلے ایک بار میں اس طرح کروں گا پھر تم اس خوشبو کو سونگھنا کعب ان کے پاس چادر اوڑھ کر آیا اور اس کا جسم خوشبو سے معطر تھا محمد بن مسلمہ نے کہا میں نے آج سے زیادہ عمدہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی کعب نے کہا میرے پاس وہ عورت ہے جو ہمہ وقت خوشبو سے معطر رہتی ہے اور عرب کی حسین و جمیل عورت ہے حضرت محمد بن مسلمہ نے کہا کیا میں آپ کے سر کی خوشبو سونگھ سکتا ہوں کعب نے کہا ہاں حضرت محمد بن مسلمہ نے اسے سونگھا پھر آپ کے ساتھیوں نے بھی اس خوشبو کو سونگھا حضرت محمد بن مسلمہ نے کہا دوبارہ اجازت ہے اس نے کہا ہاں پھر جب حضرت محمد بن مسلمہ نے اسے قابو کر لیا تو آپ کے دوسرے ساتھیوں نے کعب بن اشرف کو قتل کر دیا پھر انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس واقعہ کی خبر دی۔
(بخاری شریف کتاب المغازی جلد 02 صفحہ 576)
علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ:
اس حدیث پاک کے ضمن میں لکھتے ہیں:
كعب بن الاشرف اليهودى القرظى الشاعر كان يهجو النبى ﷺ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
والمسلمين ويظاهر عليهم الكفار ولما اصاب المشركين يوم بدر ما اصابهم اشتد عليهم وكان يبكى على قتلى بدر و ينشد الاشعار
﴿عمدة القاری جلد 17 صفحہ 176﴾
”کعب بن اشرف یہودی شاعر تھا نبی پاک ﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا اور مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرتا جب بدر کے دن کفار کو بہت بڑی شکست ہوئی تو یہ کفار مقتولین بدر پر رویا اور ان کے لیے مرثیہ لکھا“
گستاخ رسول پر حملہ آور کی شہادت:
عن حسان بن عطية قال بعث رسول الله ﷺ جيشا فيهم عبد الله بن رواحة وجابر ، فلما صافوا المشركين اقبل رجل منهم يسب رسول الله ﷺ فقام رجل من المسلمين فقال انا فلان ابن فلان ، وامى فلانة فسبنی وسب امى وكف عن سب رسول الله ﷺ فلم يرده الا اغراء فاعاد مثل ذلك وعاد الرجل مثل ذلك فقال في الثالثة لئن عدت لا رحلنك بسيفى فعاد فحمل عليه الرجل فولى مدبرا فاتبعه الرجل حتى خرق صف المشركين فضربه بسيفه واحاط به المشركون فقتلوه فقال رسول الله ﷺ اعجبتم من رجل نصر الله ورسوله
﴿الصارم المسلول صفحہ 133﴾
”حضرت حسان بن عطیہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا جس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت جابر ؓ بھی شامل تھے جب صف آرائی ہوئی تو مشرکین میں سے ایک آدمی نے آگے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا تو
نہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو خبر دی۔
ایک نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
134 المشركين يوم بدر يهجو وينشد الاشعار
﴿بخاری جلد 17 صفحہ 176﴾
کی ہجو کیا کرتا تھا اور ان کفار کو بہت بڑی کے لیے مرثیہ لکھا“
بشتمهم عبد الله رجل منهم يسب ا فلان ابن فلان، سول الله ﷺ فلم قبل ذلك فقال في عليه الرجل فولى فضربه بسیفه اعجبتهم من
﴿الصارم المسلول صفحہ 133﴾
اللہ نے ایک لشکر روانہ کیا تھے جب صف آرائی ہوئی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا تو
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
مسلمانوں میں سے ایک آدمی آگے بڑھا اور کہا میں فلاں بن فلاں ہوں اور میری ماں فلاں عورت ہے تو مجھے اور میری ماں کو گالی دے لے مگر رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہنے سے اپنی زبان روک لے اس سے وہ کافر مشتعل ہو گیا اور پھر زبان درازی کرنے لگا مسلمان نے اپنے پہلے کلمات دہرائے پھر تیسری مرتبہ اس کافر کو کہا اگر اب تو نے زبان درازی کی تو میں تجھ پر تلوار سے حملہ کر دوں گا اس نے پھر وہی بات کی تو وہ اس پر حملہ آور ہوا پس وہ مشرک پیچھے ہٹا مسلمان نے اس کا تعاقب کیا اور مشرکین کی صفوں کو چیرتے ہوئے اس پر تلوار سے وار کیا مشرکوں نے اس مسلمان کو گھیرے میں لے کر شہید کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں ایسے آدمی پر تعجب ہے جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کی“
گستاخ رسول کو زمین نے قبول نہیں کیا:
حضرت انس ؓ بیان فرماتے ہیں
كان رجل نصرانى فاسلم وقرأ البقرة وآل عمران فكان يكتب لنبى الله ﷺ فعاد نصرانيا فكان يقول ما يدرى محمد الا ما كتبت له فاماته الله فدفنوه فأصبح ولقد لفظته الارض فقالو هذا فعل محمد واصحابه لما هرب منهم نبشوا عن صاحبنا فالقوه فحفر واله فأعمقواله فى الارض ما استطاعوا فاصبح وقد لفظته الارض فقالوا هذا فعل محمد واصحابه نبشوا عن صاحبنا لما هرب منهم فالقوه فحفروا له فأعمقوا له فى الارض ما استطا عوا فأصبح وقد لفظته الارض فعلموا انه ليس من الناس فالقوه
﴿بخاری شریف کتاب المناقب جلد 01 صفحہ 511﴾
بچوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور اپ
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
’ایک نصرانی شخص مسلمان ہوا اس نے سورۃ بقرہ اور آل عمران کو پڑھا وہ حضور اکرم ﷺ کے لیے لکھتا تھا پھر وہ مرتد ہو کر نصرانی ہو گیا اور یہ کہتا تھا کہ محمد ﷺ وہی جانتے ہیں جو میں نے ان کے لیے لکھ دیا پھر وہ مر گیا اس کے آدمیوں نے اس کو دفن کیا صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ زمین نے اس کو پھینک دیا اس کے ساتھیوں نے کہا یہ محمد ﷺ اور اُن کے اصحاب کا کام ہے یہ جب ان سے بھاگ آیا تو انہوں نے ہمارے ساتھی کی قبر کو اکھاڑ دیا اور اسے پھینک دیا اب پھر اس کے ساتھیوں نے اس کے لیے گڑھا کھودا اور خوب گہرا کیا پھر صبح کو دیکھا تو زمین نے اس کو پھینک دیا تھا اب پھر انہوں نے کہا یہ محمد ﷺ اور ان کے اصحاب کا کام ہے انہوں نے ہمارے ساتھی کی قبر کو اکھاڑ کر اسے باہر پھینک دیا کیونکہ یہ ان سے بھاگ آیا تھا پھر اس کے لیے خوب گہرا گڑھا کھودا پھر صبح کو دیکھا کہ زمین نے اس کو پھینک دیا ہے اب وہ جان گئے کہ یہ انسانوں کا کام نہیں انہوں نے بھی اسے پھینک دیا‘
یہ حضور ﷺ کا معجزہ تھا چونکہ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو گیا اور حضور سید عالم ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں دریدہ دہنی سے کام لیتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے عبرت بنا دیا تا کہ مخالفین پر حجت قائم ہو اور دین اسلام کی صداقت کا اظہار ہو جائے۔
گستاخ عورت عصماء کا قتل:
مشہور سیرت نگار امام محمد بن سعد اس بدبخت عورت کے قتل کے بارے میں اپنی کتاب طبقات ابن سعد میں رقم طراز ہیں
كانت عصماء عند يزيد ابن زيد بن حصن الخطمى وكانت
توہین رسالت: علمی و تاریخی
تعيب الاسلام وتؤذی ال ها عمير بن عدى فب نفر من ولدها يغطون وكان ضرير البصر وب حتى انفذه من ظهرها فقال له رسول الله صل الله ذلك من شئ ؟ فقال لا يا ماسمعت من رسول الله ص
عصماء یزید بن زید بن ﷺ کی ہجو کرتی آپ کی مخالفت پر وقت آئے اور مکان میں داخل ہوکر ایک جماعت سو رہی تھی اس کے پا تھے ہاتھ سے ٹٹول کر بچے کو ماں سے گئی حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز ﷺ نے پوچھا کیا تم نے دختر مرو میں میرے ذمہ کچھ اور ہے؟ آپ لڑیں گی یہ کلمہ وہ تھا جو سب سے پہلے عمیر بصیر (بینا) رکھا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
تعيب الاسلام وتؤذى النبىﷺ وتحرض عليه وتقول الشعر فجاء ءها عمير بن عدى فى جوف الليل حتى دخل عليها بيتها وحولها نفر من ولدها ينام منهم من ترضعه فى صدرها فجسها بيده وكان ضرير البصر ونحى الصبى عنها ووضع سيفه على صدرها حتى انفذه من ظهرها ثم صلى الصبح مع النبىﷺ بالمدينة فقال له رسول اللهﷺ اقتلت ابنة مروان ؟ قال نعم فهل علىّ فى ذلك من شئ ؟ فقال لا ينتطح فيها عنزان فكانت هذه الكلمة اول ما سمعت من رسول اللهﷺ عمير البصير
﴿طبقات ابن سعد جلد 02 صفحہ 27﴾
”عصماء یزید بن زید بن حصن الخطمی کے پاس تھی اسلام میں عیب نکالتی نبی کریم ﷺ کی ہجو کرتی آپ کی مخالفت پر برانگیختہ کرتی اور شعر کہتی تھی عمیر بن عدی ؓ رات کے وقت آئے اور مکان میں داخل ہو کر اس کے پاس آئے عصماء کے اردگرد اس کے بچوں کی ایک جماعت سو رہی تھی اس کے پاس چھوٹا دودھ پینے والا بچہ سو رہا تھا حضرت عمیر ؓ نابینا تھے ہاتھ سے ٹٹول کر بچے کو ماں سے علیحدہ کیا تلوار اس کے سینے پر رکھ دی جو جسم کے پار ہو گئی حضرت عمیر ؓ نے صبح کی نماز مدینہ طیبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ پڑھی رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کیا تم نے دختر مروان کو قتل کر دیا؟ انہوں نے عرض کی ہاں کیا اس بارے میں میرے ذمہ کچھ اور ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں اس کے بارے میں دو (02) بھیڑیں لڑیں گی یہ کلمہ وہ تھا جو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے سنا گیا رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام عمیر بصیر (بینا) رکھا“
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
گستاخ رسول ابوعفک یہودی کا قتل:
ابوعفک یہودی کے قتل کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ابن سعد لکھتے ہیں:
كان ابو عفك من بني عمرو بن عوف شيخا كبيرا قد بلغ عشرين ومائة سنة وكان يهوديا وكان يحرض على رسول الله ﷺ فقال سالم بن عمير وهو احد البكائين وقد شهد بدرا على نذر ان اقتل اباعفك اواموت دونه فأمهل يطلب له غرة حتى كانت ليلة صائفة فنام ابو عفك بالفناء وعلم به سالم بن عمير فاقبل فوضع السيف على كبده ثم اعتمد عليه حتى خش في الفراش وصاح عدوالله فثاب اليه ناس ممن هو على قوله فادخلوه منزله وقبروه
﴾طبقات ابن سعد جلد 02 صفحہ 28﴿
”ابوعفک عمرو بن عوف سے ایک سو بیس (120) سال کا بوڑھا شخص تھا یہودی تھا لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی مخالفت پر برانگیختہ کرتا اور شعر کہا کرتا تھا حضرت سالم بن عمیر ؓ نے جو بکثرت رونے والوں میں سے تھے اور بدر میں حاضر ہوئے تھے کہا کہ مجھ پر یہ نذر ہے میں ابوعفک کو قتل کروں گا یا اس کے لیے مرجاؤں گا وہ ٹھہرے ہوئے اس کی غفلت کے انتظار میں تھے یہاں تک کہ گرمی کی ایک رات کو ابوعفک میدان میں سویا سالم بن عمیر ؓ کو اس کا علم ہو گیا وہ آئے اور تلوار اس کے جگر پر رکھ دی پھر اسے دبا کر کھڑے ہو گئے یہاں تک وہ بستر میں گھس گئی اللہ کا دشمن چیخا تو اس کے ماننے والے دوڑ کر آئے پس وہ اسے اٹھا کر اس کے گھر لے گئے اور اس کی لاش کو دفن کر دیا“
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
گستاخ رسول عتیبہ کا انجام:
ابولہب کے بیٹوں کا نام عتبہ اور عتیبہ تھا اعلان نبوت سے پہلے حضور ﷺ کی دو (02) صاحبزادیوں کا رشتہ ان سے طے ہوا مگر جب سورہ لہب نازل ہوئی تو ابولہب کے کہنے سے یہ رشتہ ختم ہو گیا عتیبہ اپنے باپ کی طرح بد زبان تھا اور شام کے سفر پر جانے سے پہلے اس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے دریدہ دہنی کی تو سرکار نے دعائے غضب فرمائی اور شام کے راستے میں ہی یہ اپنے انجام کو پہنچا امام ابو نعیم دلائل النبوۃ میں فرماتے ہیں۔
واما عتيبة فانه طلقها واتى رسول الله ﷺ و كان يريد الخروج الى الشام فقال اللهم سلط عليه كلبا من كلابك فنزلوا حوران فطرقهم الاسد فتخطى الى عتيبة من بين اصحابه فقتله
﴿دلائل النبوۃ جلد 02 صفحہ 613﴾
”اور عتیبہ پس اس نے حضور کی صاحبزادی سے رشتہ ختم کیا اور جب اس نے ملک شام کے لیے سفر کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا (اور بدکلامی کی) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس پر اپنے درندوں میں سے کوئی درندہ مسلط فرما وہ مقام حوران پر اترے (یہ شیروں کی آماجگاہ تھی) رات کے وقت ایک شیر ان کے پاس آیا اور عتیبہ کو اس کے ساتھیوں سے پھاڑ کر قتل کر دیا“
عبداللہ بن ابی سرح:
حضرت مصعب بن سعد حضرت سعد سے روایت بیان کرتے ہیں:
لما كان يوم فتح مكة اختبأ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح عند
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی
اندھے شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
عثمان ابن عفان فجاء به حتی اوقفه النبی ﷺ فقال يا رسول الله بايع عبد الله فرفع راسه فنظر اليه ثلاثا كل ذلك يأبى فبايعه بعد ثلاث ثم اقبل على اصحابه فقال اماكان فيكم رجل رشيد يقوم الى هذا حين رانى كففت يدى عن بيعته فيقتله فقالوا ما ندری يارسول الله مافی نفسك الا اومات الينا بعينك قال انه لاينبغى لنبى ان تكون له خائنة الاعين
(ابوداؤد شریف جلد 2 صفحہ 251)
"جب فتح مکہ کا دن آیا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسے لے آئے حتی کے نبی کریم ﷺ کے سامنے لا کھڑا کیا اور درخواست کی یا رسول اللہ ﷺ عبداللہ سے بیعت لے لیجیے آپ نے سر مبارک اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تین بار ایسے ہوا ہر مرتبہ آپ نے انکار فرمایا تیسری بار کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا تم میں کوئی سمجھ دار آدمی نہیں تھا کہ جب میں نے اس کی بیعت لینے سے اپنا ہاتھ روک رکھا تھا تو وہ اس کی طرف اٹھتا اور اسے قتل کر دیتا؟ صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہم نہیں جانتے تھے آپ کے جی میں کیا ہے آپ ہمیں اپنی آنکھ سے اشارہ فرما دیتے۔ آپ نے فرمایا کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت والی ہو"
- 1 اس حدیث شریف سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حضور نبی کریم ﷺ کی رضا اس بات
میں تھی کہ مرتد کے بارے میں قانون کے مطابق فیصلہ ہو یعنی اسے قتل کر دیا جائے۔
- 2 جب اس نے بار بار معافی کا تقاضہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے حسن اخلاق کا مظاہرہ
کرتے ہوئے اس کی معافی قبول کر لی اور شان نبوت کا اظہار کرتے ہوئے صحابہ کو فرمایا:
توہین رسالت: علمی و تاریخی جا...
نبی کی آنکھ خیانت والی نہیں ہوتی۔"
- 3 اہانت رسول کے جرم کا ارتکاب
کرنا چاہتا ہو تو چونکہ معافی اور توبہ کا اللہ ﷺ بخوبی جانتے ہیں جیسا کہ حضر فوالله ما يخفى عليّ خشوع یہاں خشوع سے مراد ذل اور تعالیٰ نے عطا فرمایا لہذا رسول اللہ سے بیعت لے لی۔
- 4 جب کوئی شخص کسی جرم کا ارتک
مال غصب کرنا تو جب تک وہ شخص جس تک مجرم کو معافی نہیں دی جا سکتی حقیق ﷺ کے ساتھ ہے تو اُمت کے کسی فر کر دیا ہے لہذا اب اہانت رسول اللہ
جان عالم ﷺ کا حسن اخ
حضور سید عالم ﷺ ساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاف فرمادی حضرت خبیب بن عدی کے قاتل عق چبانے کی کوشش کی آپ نے انہیں مع ارتکاب کرنے والوں کو سزا اس لیے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
نبی کی آنکھ خیانت والی نہیں ہوتی۔
- 3۔ اہانت رسول کے جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد اگر کوئی شخص معافی کا متمنی ہو اور توبہ
کرنا چاہتا ہو تو چونکہ معافی اور توبہ کا تعلق قلب و خیال کے ساتھ ہے تو دل کی حالت رسول اللہ ﷺ بخوبی جانتے ہیں جیسا کہ حدیث پاک میں ہے۔
فوالله ما يخفى علي خشوعكم ولا ركوعكم
یہاں خشوع سے مراد دل اور باطن کے حالات کا علم ہے جو رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا لہذا رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن سعد کی قلبی کیفیت کو معلوم کر کے اس سے بیعت لے لی۔
- 4۔ جب کوئی شخص کسی جرم کا ارتکاب کرے اس کا تعلق اگر حقوق العباد سے ہو جیسے کسی کا
مال غصب کرنا تو جب تک وہ شخص جس کی مال پر ملکیت ہے اسے معاف نہ کرے اس وقت تک مجرم کو معافی نہیں دی جاسکتی تنقیص رسول ﷺ ایک ایسا جرم ہے جس کا تعلق رسول کریم ﷺ کے ساتھ ہے تو اُمت کے کسی فرد کو یہ کیسے علم ہو گا کہ سرکار دو عالم ﷺ نے اسے معاف کر دیا ہے لہذا اب اہانت رسول اللہ ﷺ کے جرم کے مرتکب شخص کی سزا قتل مقرر ہے۔
جان عالم ﷺ کا حسن اخلاق:
حضور سید عالم ﷺ ساری کائنات سے زیادہ خلیق تھے اور آپ مجرمین کو فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاف فرما دیا کرتے تھے اپنے چچا حضرت حمزہ ؓ کے قاتل وحشی کو حضرت خبیب بن عدی کے قاتل عقبہ بن حارث کو اور ہندہ جس نے حضرت حمزہ ؓ کا کلیجہ چبانے کی کوشش کی آپ نے انہیں بھی معاف فرما دیا لیکن توہین رسول اللہ ﷺ کے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا اس لیے دی تاکہ گستاخ رسول کے متعلق قانونی حکم واضح ہو
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
جائے اور اُمت کو علم ہو کہ مقامِ رسالت ﷺ کا تحفظ کتنا ضروری اور اہم معاملہ ہے۔ ان فیصلوں پر مستشرقین اعتراضات کرتے ہیں اور خوب مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے اسے اسلام کی غیر منصفانہ کاروائی کا نام دیتے ہیں لیکن یہودیوں کی عہد شکنی، ان کی سازشیں اسلام کی روشنی کو ختم کرنے کے منصوبے ان کی نظروں سے اوجھل کیوں رہتے ہیں؟ کعب بن اشرف، ابو رافع اور اس جیسے دوسرے کافروں کی اسلام کے خلاف سازشیں تو مستشرقین کو نظر نہیں آتیں لیکن رسول کریم ﷺ کے معزز و معتبر فیصلے ان کی نظر میں ضرور کھٹکتے ہیں اہل دانش اسی کو انصاف کا خون کرنا کہتے ہیں۔
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
باب ...... 7
اقوام عالم اور توہینِ مذہب
حضور سرور کائنات ﷺ کی دنیا میں بعثت کے وقت لوگ آزادی نام کی چیز تک کو نہ جانتے تھے، آزادی منوں مٹی تلے دب چکی تھی، عقول پر پردے پڑے ہوئے تھے، جہالت اور تاریکی کے تالے عقل کے دروازوں تک پہنچنے میں حائل تھے، آج جس عقل وعلم پر دنیا نازاں ہے وہ سب انہی کے طفیل ہے جنہیں لوگ محمد ﷺ کے نام سے جانتے ہیں انہوں نے دنیا میں بسنے والے لوگوں کو یہ بتا دیا کہ سبقت کا میدان نیکی اور فضیلت ہے بلندی اور فوقیت کی بنیاد اچھائی اور بھلائی ہے باہمی تعاون کی بنیاد مقاصد ہیں نہ کہ قوم، قبیلے، جنسیت اور رنگ جس کے نتیجے میں مختلف ممالک، جنسوں، رنگوں اور نسلوں کے لوگ اکھٹے ہو کر چلے انہوں نے تقویٰ، اعلیٰ اخلاق، حسن سلوک کے ہزاروں منصوبوں کو پروان چڑھایا اور پھر اس دنیا میں حسین اقدار کی بہار کا آغاز ہوا جب رسول اللہ ﷺ کی ناموس اور حرمت کے حوالے سے کوئی بات ہوتی ہے تو یورپ کے بدمست ہاتھی تڑپ اٹھتے ہیں اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل ہونے لگتی ہے غیظ وغضب کی حالت میں وہ اپنی انگلیوں کے پورے چبانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں اور انہیں آزادی اظہار رائے پر زد پڑتی نظر آتی ہے اور وہ اسے انسانیت پر ظلم قرار دیتے ہیں حالانکہ مذہبی عقیدتیں بڑی حساس اور نازک ہوتی ہیں ہر وہ شخص جو مذہب سے کچھ تعلق رکھتا ہے وہ اپنے مذہب اور بانی مذہب کے خلاف کچھ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
سننے کا روادار نہیں۔ اپنی مذہبی اقدار کو تحفظ دینے کے لیے ہر دور کے لوگ اپنے مذہب کے خلاف بات کرنے والوں کیلئے سزائیں مقرر کرتے رہے اور اپنے مذاہب کی مقتدر شخصیات کی توہین کو قابل گردن زنی جرم قرار دیا مذہب کے ساتھ ربط و تعلق شعوری طور پر ہو تو بانیان مذہب کی توہین کی سزا ہر جگہ قتل ہی رہی ہے البتہ اگر ضمیر مُردہ ہو جائے، مال و زر کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرنے لگے، عیاشی و بدمستی ہی خیال و قلب میں جاگزیں ہو تو پھر سوچ کے دھارے تبدیل ہو جاتے ہیں مردہ قلوب آزادی اظہار رائے، روشن خیالی اور جدت کے نام پر ہر چیز کو قبول کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تاریخ کے اوراق میں سے مذاہب کے معروف ومقتدر اشخاص کی توہین کے حوالے سے سزا کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے۔
قدیم عراق:
نمرود اپنی سلطنت کی تمام وسعتوں کے ساتھ تخت نشین تھا لوگوں کی محنت کے بعد تمام اجناس اپنے خزانہ میں جمع کر لیتا اور بعد میں اپنے خدا ہونے کا اقرار لینے کے بعد رعایا کو وہ غلہ فراہم کیا کرتا یہ ظلم و تشدد اپنے عروج پر تھا لوگ نمرود کے علاوہ کئی بت بنا کر ان کی پرستش میں مصروف تھے حضرت ابراہیم ؑ نے جب ان حالات کو ملاحظہ فرمایا تو قوم کو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی اور بتوں کی پوجا سے منع فرمایا۔
اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِيْلُ الَّتِيْ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ ﴿الانبیاء: 52﴾
”جب اس نے اپنے باپ اور قوم سے کہا یہ مورتیں کیا ہیں جن کے آگے تم آسن مارے ہو“
اور بالخصوص جب آپ نے اپنے چچا کو مخاطب کر کے فرمایا:
اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يٰاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَيْئًا O ﴿مریم: 42﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
”اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ کچھ تیرے کام آئے“
چونکہ آپ کا چچا بتوں کی پوجا کرتا اور انہیں برگزیدہ سمجھتا تھا تو اس نے سخت سزا کا اعلان کرتے ہوئے جواب دیا
قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اِلٰهَتِیْ یٰٓاِبْرٰهِيْمُ ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِيْ مَلِيًّا O
﴿مریم:46﴾
”بولا کیا تو میرے خداؤں سے منہ پھیرتا ہے اے ابراہیم بے شک اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھراؤ (سنگسار) کروں گا اور مجھ سے زمانہ دراز تک بے علاقہ ہو جا“
صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چچا ہی نہیں بلکہ آپ نے جب قوم کے بت خانے میں جا کر بتوں کو توڑا اور بعد میں اپنی قوم کو اس معاملے میں لاجواب بھی کر دیا اس کے باوجود جب انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اب ابراہیم علیہ السلام کو کیا سزا دی جائے تو لوگوں نے کہا۔
قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَانْصُرُوْٓا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ O
﴿الانبياء:68﴾
”بولے ان کو جلا دو اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تمہیں کرنا ہے“
یہ بات انہوں نے نہ صرف کہی بلکہ عملی طور پر آگ جلا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینک بھی دیا رب قدیر کی قدرت سے وہ آگ ابراہیم علیہ السلام کیلئے سلامتی بن گئی اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ کون سا فعل تھا جس وجہ سے قوم نے آپ کو آگ میں پھینکنے کا فیصلہ کیا تو وہ سوائے اس کے کیا ہے کہ آپ نے ان کے بتوں کو توڑ کر انہیں خدائے وحدہ لاشَرِیک کی عبادت کی دعوت دی تو انہوں نے اسے اپنے بتوں کی توہین سمجھا اس سے ثابت ہوا کہ بت پرست اپنے بتوں کی گستاخی کرنے والے کیلئے قتل کی سزا کا تصور رکھتے ہیں۔
بھول نے اسے مار دیا۔ پھر وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ
ایک شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَ كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
قدیم مصر:
فرعون مصر اپنی جلوہ سامانیوں کے ساتھ تخت پر موجود تھا اور بنی اسرائیل سے قبطی خدمت کا کام لے رہے تھے اور فرعون لوگوں سے اپنے خدا ہونے کا اقرار لے رہا تھا لوگ کفر و شرک کی تاریک وادیوں میں گم ہو چکے تھے ان کی عقلیں جہالت ولاعلمی کے پردوں میں لپٹ کر رہ گئی تھیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ لایزال ولم یزل کی عبادت کی تبلیغ فرمائی فرعون کی دماغی گندگی آسمان کو چھو رہی تھی وہ ذہنی سطح پر مفلوج ہو چکا تھا شرک کی تاریکی اس کا مقدر بن چکی تھی وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں جادوگر لے آیا جب ان جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ کا مشاہدہ کیا تو وہ آپ پر ایمان لے آئے فرعون سٹپٹا کر رہ گیا اور اس نے جادوگروں کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔
قَالَ آمَنْتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَا قَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَلَا وَصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَO ﴿الشعراء: 49﴾
”فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا تو اب جان جاؤ گے مجھے قسم ہے بے شک میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا اور تم سب کو سولی دوں گا“
وہ جادوگر فرعون کے کہنے پر مقابلے کے لیے میدان عمل میں آئے تھے پھر فرعون نے انہیں یہ سخت سزا دینے کا فیصلہ کیوں کیا معلوم یہ ہوا کہ فرعون اور اس کی قوم یہ سمجھتی تھی کہ پیشوا اپنے مذہب کی توہین کی سزا قتل ہے جادوگر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت ورسالت پر ایمان لے آئے تو فرعون نے اسے اپنی اور بتوں کی توہین سمجھ کر ان کے قتل کا فیصلہ کیا۔
توہین رسالت: علمی و
قوم شعیب:
حضرت شعیب علیہ السلام تھا وہ ناپ تول کی کمی کو باعث محسوس نہ کرتے حضرت شعیب علیہ السلام ان برے کاموں سے روکا تو
قَالَ الْمَلَا الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا كَرِهِينَO
”اس کی قوم کے متکبر تمہارے ساتھ والے دین میں آجاؤ“
وہ سردار اور ان کی قوم ان باطلہ کی عبادت کو ان شعیب علیہ السلام کو اپنے علاقے علیہ السلام کو کیوں نکالا جا رہا ہے جھوٹے پیشواؤں کو بھی چھو کرنے یا علاقہ بدر کرنے
قدیم ایران:
قدیم ایران میں مزدک اور ساسانی لوگ اس
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
قوم شعیب:
حضرت شعیب ؑ جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے اس قوم میں بگاڑ پیدا ہو چکا تھا وہ ناپ تول کی کمی کو باعث فخر جانتے اور بعض لوگ مسافروں کو لوٹنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہ کرتے حضرت شعیب ؑ نے انہیں ایک خدا کی عبادت کی طرف بلایا اور انہیں ان برے کاموں سے روکا تو سرداران قوم نے حضرت شعیب ؑ کو جواب دیا۔
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا ط قَالَ اَوَلَوْ كُنَّا كٰرِهِيْنَ O
﴿الاعراف: 88﴾
”اس کی قوم کے متکبر سردار بولے اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ“
وہ سردار اور ان کی قوم کے افراد اپنے دین کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے اور معبود ان باطلہ کی عبادت کو انہوں نے حرز جاں بنا رکھا تھا جس کی بنیاد پر انہوں نے حضرت شعیب ؑ کو اپنے علاقے سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا لیکن سوچنا یہ ہے کہ حضرت شعیب ؑ کو کیوں نکالا جا رہا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اگر مذہبی عقیدتیں قائم ہوں تو لوگ اپنے جھوٹے پیشواؤں کو بھی چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے بلکہ جو ان کی مخالفت کرے اسے قتل کرنے یا علاقہ بدر کرنے کے بارے میں سوچنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
قدیم ایران:
قدیم ایران میں مختلف ادوار میں حکومتیں تبدیل ہوتی رہی ہیں آریہ قوم، زرتشت، مزدک اور ساسانی لوگ ایران میں حکومت کرتے رہے نوشیرواں بھی ایران کا حکمران رہا جو
مغول لے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی اکرمﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ اَعْمَی كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت، علمی و تاریخی جائزہ
عدل و انصاف کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتا تھا اور آج بھی مورخ اسے ایک عادل حکمران کے طور پر پیش کرتا ہے تو ان لوگوں کے ہاں عدل و انصاف کے کیا قوانین تھے اس کے متعلق مشہور مذہبی سکالر پیر محمد کرم شاہ صاحب رقم طراز ہیں
قانون میں تین قسم کے افعال کو جرم قرار دیا گیا تھا۔
- 1- وہ جرم جو خدا کے خلاف ہوں یعنی جب کہ ایک شخص مذہب سے برگشتہ ہو جائے یا
عقائد میں بدعت پیدا کرے۔
- 2- وہ جرم جو بادشاہ کے خلاف ہوں جب کہ ایک شخص بغاوت یا غداری کرے یا لڑائی
میں میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔
- 3- وہ جرم جو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہوں
پہلی اور دوسری قسم کے جرائم یعنی الحاد، بغاوت، غداری اور میدان جنگ سے فرار کی سزا فوری موت تھی اور تیسری قسم کے جرائم مثلاً چوری، راہزنی اور ہتک ناموس کی سزا بعض صورتوں میں عقوبت اور بعض میں موت ہوتی تھی۔
﴿ضیاء النبی جلد 01 صفحہ 96﴾
مذکورہ بالا سطور سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ قدیم ایران میں مذہب کی مقتدر شخصیات کی توہین قابل مواخذہ جرم تھا اور اس کی سزا فوری طور پر قتل مقرر تھی یعنی وہ لوگ جو مذہبی طور پر اس قدر پست خیال تھے کہ آگ کی پوجا کرتے اور مورتیوں کو دیوتا بنا رکھا تھا وہ بھی اپنے پیشوایان مذہب کی توہین کو ناقابل معافی جرم سمجھتے تھے۔
قدیم ہندوستان:
ہندوستان کی تاریخ 5000 سال پہلے سے تہذیب کی روشنی پر پھیلی ہوئی تھی ہندوستان کی زیادہ تر آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی اہل مغرب کی اصطلاح کے مطابق ہندوازم (Hinduism) کو مذہب نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ ہر قسم کے عقیدہ کو اپنانے
توہین رسالت، کے لیے تیار ہوتا ہے علامہ جستجو کر کے ہندوستان کے میں رقم طراز ہیں۔ ”بڑی رکاوٹ یا ساتھ مباحثہ، مناظرہ اور برخاست اور خورد و نوش کی کرنا چاہے تو اس کو بھی الا
مزید آگے جا کر سب سے گھٹیا ط اور ان کی ماں برہمن لوگ ہیں اور ان کو اجاز بھی پابندی تھی کہ نہ وہ شرکت کی اجازت تھی جو کے پردہ سے ٹکرائیں اگر وقت کے پاس پیش کر
جو لوگ مذہب اور ہر اعلیٰ چیز کا بت بنا کر وہ بھی اپنی مذہبی کتاب کو
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
کے لیے تیار ہوتا ہے علامہ البیرونی نے اپنی زندگی کا ایک حصہ ہندوستان میں گزار کر تحقیقی جستجو کر کے ہندوستان کے حالات اکٹھے کیے وہ ہندوؤں کے بارے میں اپنی تحقیق ما للهند میں رقم طراز ہیں۔
’’بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ سب کو ملیچھ (ناپاک) سمجھتے ہیں کسی غیر کے ساتھ مباحثہ، مناظرہ اور تبادلہ خیال تک ان کے نزدیک ناجائز ہے باہمی نکاح، نشست و برخاست اور خوردونوش کو بھی حرام قرار دے دیا گیا ہے حتی کہ اگر کوئی اجنبی ان کا مذہب قبول کرنا چاہے تو اس کو بھی اپنے مذہب میں داخل نہیں کرتے‘‘
﴿بحوالہ ضیاء النبی جلد 01 صفحہ 169﴾
مزید آگے جا کر علامہ فرماتے ہیں:
سب سے گھٹیا طبقہ شودروں کا تھا یہ مشہور ہے کہ ان کا باپ شودر (یعنی گھٹیا انسان تھا) اور ان کی ماں برہمن، دونوں نے باہمی زنا کیا اس سے یہ طبقہ پیدا ہوا اس لیے یہ حد درجہ گھٹیا لوگ ہیں اور ان کو اجازت نہیں کہ وہ شہروں میں عام بستیوں میں آباد ہوں ان کے لیے یہ بھی پابندی تھی کہ نہ وہ خود اپنی مذہبی کتب ویدوں کو پڑھ سکتے تھے اور نہ ان کو ایسی محفلوں میں شرکت کی اجازت تھی جن میں وید پڑھا جاتا ہے، مبادا کہ وید کے کلمات شودروں کے کانوں کے پردہ سے ٹکرائیں اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ ویش یا شودر نے وید سنا ہے تو برہمن اسے حاکم وقت کے پاس پیش کرتے جو سزا کے طور پر ان کی زبانیں کاٹ دیتا۔
﴿بحوالہ ضیاء النبی جلد 01 صفحہ 192﴾
جو لوگ مذہب کے بارے میں اتنے غیر سنجیدہ ہوں کہ چاند، سورج، پتھر کی مورتیاں اور ہر اعلیٰ چیز کا بت بنا کر ان کی پوجا میں مصروف ہو جائیں اور ان سے اُمیدیں وابستہ رکھیں وہ بھی اپنی مذہبی کتاب کو اتنا متبرک اور مقدس سمجھتے ہیں کہ اپنے ہی ہم مذہب کو کتاب سننے
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
کی اجازت نہیں دیتے اگرچہ یہ سراسر ظلم و ناانصافی ہے کہ کوئی شخص کسی مذہب پر یقین رکھے لیکن اسے اپنی مذہبی کتب کو پڑھنا تو درکنار چھونے اور سننے کی بھی اجازت نہ ہو اسے مذہبی گراوٹ کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا ہے لیکن اس سے یہ بات بھی واضح ہے کہ اگر کوئی شخص ہندوؤں کی مذہبی کتب یا ان کے مذہبی پیشواؤں کے خلاف ریمارکس دے تو ان کا فیصلہ یہی ہوگا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔
مہاتما بدھ کے مجسمہ کی توہین کی سزا:
چین کے فوجداری قوانین کے مطابق بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین کرنا جرم ہے۔ اس جرم کے مرتکب شخص کو موت کی سزا دی جاتی ہے ایسے ہی ایک شخص کو سزائے موت سنا کر اسکا سر قلم کر دیا گیا۔ وانگ ہونگ نامی شخص اور اس کا ساتھی صوبہ ہی چوان کے اک مندر میں چھپ گئے اور رات کے وقت آرمی کی مدد سے مہاتما بدھ کے بت کا سر کاٹ کر لے گئے۔ جس پر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور 29 مارچ کو عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مذکورہ شخص کو سزائے موت سنادی اور اس کا سر قلم کر دیا۔
﴿روزنامہ جنگ 06 اپریل 1990ء﴾
حیرت تو اس بات پر ہے کہ بتوں کاہنوں اور مجسموں کی توہین کی سزا قتل ہے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تو توہین رسالت کی سزا پر یہ واویلا اور تعجب کیوں۔
یہودیت میں توہین مذہب کی سزا:
یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے پیروکار ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں اور اپنی کتب کے الہامی ہونے کے قائل ہیں انہوں نے اپنی خواہشات کے تابع ہو کر آسمانی کتابوں میں تغیر و تبدل بھی کیا اور اپنی مرضی کے قانون بھی بنائے لیکن اس کے باوجود ان کی
توہین رسالت: علمی و
کتب میں مذہبی عقائد کی خلاف اور بنی اسرائیل سے اس کے سر پر ہوگا اور جو کوئی خ اسے ضرور سنگسار کرے خواہ و ضرور قتل کیا جائے گا۔
خواہ وہ پردیسی ہو یا دیسی کوئی بھی ہو اسے قتل کیا جائے گا تعلق نہ رکھتا ہو۔
توہین رسالت کی سزا:
عیسائیت کے ایک مبلغ لگایا اور پھر عدالت میں مقدمہ بھی اس پر انہوں نے بعض کو گوئی کرتے ہوئے سنا ہے پھر وہ اسے گرفتار کر کے عدالت عالیہ میں یہ شخص مقدس مقام اور شریعت کے
توہین ہیکل کی سزا:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت عقائد اور مذہبی مقامات کی توہین کا پولوس ان آدمیوں کو لے کر
توہین رسالت علمی و تاریخی جائزہ
کتب میں مذہبی عقائد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں متعین ہیں۔
اور بنی اسرائیل سے خطاب کر کے کہہ کہ جس انسان نے اپنے خدا پر لعنت کی گناہ اس کے سر پر ہوگا اور جو کوئی خداوند کے نام پر کفر بکے وہ ضرور قتل کیا جائے گا ساری جماعت اسے ضرور سنگسار کرے خواہ وہ پردیسی ہو یا دیسی جس کسی نے خداوند کے نام پر کفر بکا وہ ضرور قتل کیا جائے گا۔
﴿کلام مقدس احبار باب 24 فقرات 15-16﴾
خواہ وہ پردیسی ہو یا دیسی اس جملے سے وضاحت ہو رہی ہے کہ توہین کرنے والا شخص کوئی بھی ہو اسے قتل کیا جائے گا حالانکہ یہ ممکن ہے کہ پردیسی شخص یہودی مذہب سے کوئی تعلق نہ رکھتا ہو۔
توہین رسالت کی سزا:
عیسائیت کے ایک مبلغ استیفانس پر یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین کا الزام لگایا اور پھر عدالت میں مقدمہ بھی چلایا گیا اور اسی جرم کی سزا میں اس شخص کو قتل کر دیا گیا۔
اس پر انہوں نے بعض کو سکھایا جو یہ کہیں کہ ہم نے اس کو موسیٰ اور خدا کی نسبت کفر گوئی کرتے ہوئے سنا ہے پھر وہ عوام اور بزرگوں اور فقیہوں کو ابھار کر اس پر چڑھ گئے اور اسے گرفتار کر کے عدالت عالیہ میں لے گئے اور جھوٹے گواہوں کو کھڑا کیا جنہوں نے کہا کہ یہ شخص مقدس مقام اور شریعت کے خلاف باتیں کرنے سے باز نہیں آتا۔
﴿رسولوں کے اعمال باب 04 فقرات 11 تا 14﴾
توہین ہیکل کی سزا:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تبلیغ کرنے والے شخص پولوس پر یہودیوں نے مذہبی عقائد اور مذہبی مقامات کی توہین کا الزام لگا کر اس کے قتل کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
پولوس ان آدمیوں کو لے کر اور دوسرے دن ان کے ساتھ پاک ہو کر ہیکل میں داخل
شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ہوا اور خبر دی کہ تطہیر کے ایام پورے نہ ہوں گے جب تک ہم میں سے ہر ایک کی نذر نہ چڑھائی جائے لیکن جب وہ سات دن پورے ہونے کو تھے تو آسیہ (مقام کا نام) کے یہودیوں نے اسے ہیکل میں دیکھ کر سب لوگوں کو ابھارا اور اس پر ہاتھ ڈالے اور چلائے کہ اے اسرائیلی مردو۔ مدد کرو یہ وہی آدمی ہے جو ہر جگہ سب اُمت اور شریعت اور اس مقام کے خلاف تعلیم دیتا ہے اور اس کے علاوہ غیر قوموں کو بھی ہیکل میں لایا اور اس مقدس مقام کو ناپاک کیا ہے کیونکہ انہوں نے تروفمس افسی کو اس کے ساتھ شہر میں دیکھا تھا اور خیال کیا کہ پولوس اس کو ہیکل میں لایا تھا۔ اور تمام شہر میں ہنگامہ ہوا اور لوگ دوڑ کر جمع ہوئے اور پولوس کو پکڑ کر ہیکل کے باہر گھسیٹا اور فوراً دروازے بند کر لیے گئے اور جب وہ اس کے قتل کے درپے تھے تو سپاہ کے قائد کو خبر پہنچی کہ تمام یروشلم میں فساد بپا ہوا ہے وہ اسی دم سپاہیوں اور صوبیداروں کو لے کر ان پر دوڑ آیا اور وہ قائد اور سپاہیوں کو دیکھ کر پولوس کو پیٹنے سے باز آئے تب قائد نے نزدیک آکر اسے گرفتار کیا اور دو زنجیروں سے باندھنے کا حکم دیا اور پوچھا کہ یہ کون ہے اور اس نے کیا کیا ہے اور ہجوم میں سے بعض کچھ چلائے اور بعض کچھ۔ جب وہ شور کے سبب سے کچھ ٹھیک دریافت نہ کر سکا تو حکم دیا کہ اسے قلعہ میں لے جاؤ اور جب سیڑھیوں تک پہنچا تو ہجوم کی زبردستی کی وجہ سے سپاہیوں کو اسے اُٹھا کر لے جانا پڑا کیونکہ عوام کا ہجوم یہ چلاتا ہوا اس کے پیچھے پڑا کہ اس کا کام تمام کر۔
﴿رسولوں کے اعمال باب 21 فقرات 27 تا 36﴾
یوم سبت کی توہین کی سزا:
یوم سبت یعنی ہفتہ کا دن دین موسوی میں انتہائی مقدس دن ہے اور یہودیوں کے لیے ہفتہ کے دن کوئی کام وغیرہ کرنا ممنوع ہے وہ اس برکت والے دن عبادات کو اپنے معمولات میں شامل کرنا ضروری جانتے ہیں اور کسی کام کاج کو اس دن میں کرنا برا جانتے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائ
ہیں جو اس دن کوئی کام کرے تو قتل ہے۔ ’’پس تم سبت کو مانو کیونکہ ی قتل کیا جائے اور جو کوئی اس میں ک (06) دن تم اپنا کام کاج کرو اور سبت کے دن میں کام کرے وہ ضرو
اور خروج کے ہی دوسرے م تب موسیٰ نے بنی اسرائیل کی تمام ج کا خداوند نے حکم دیا ہے یہ ہیں چھ ہو گا خداوند کے لیے آرام کا سبت پ اپنے مکانوں میں سبت کے دن آگ
یہودیوں کا حضرت عیسیٰ
حضرت عیسیٰ ؑ خالق کا اسرائیل کی طرف مبعوث فرمایا لیکن خلاف سازشیں شروع کر دیں اور ان مخالفت کے مرتکب ہورہے ہیں انجیل کاہن اعظم نے اس سے کہا ہے خدا کا بیٹا تو ہم کو بتادے یسوع نے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ہیں جو اس دن کوئی کام کرے تو یہ یہودیوں کے نزدیک یوم سبت کی توہین ہے اور اس کی سزا قتل ہے۔
"پس تم سبت کو مانو کیونکہ وہ تمہارے لیے مقدس ہے اور جو کوئی اس کو توڑے ضرور قتل کیا جائے اور جو کوئی اس میں کچھ کام کرے تو وہ شخص اپنی قوم سے خارج کیا جائے۔ چھ (06) دن تم اپنا کام کاج کرو اور ساتواں دن آرام کا سبت خدا کے لیے مقدس ہے جو کوئی سبت کے دن میں کام کرے وہ ضرور قتل کیا جائے"
﴿کلام مقدس خروج باب 31 فقرات 14-15﴾
اور خروج کے ہی دوسرے مقام پر یہی سزا الفاظ کے فرق کے ساتھ یوں بیان کی گئی
تب موسیٰ نے بنی اسرائیل کی تمام جماعت کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا وہ باتیں جن کے کرنے کا خداوند نے حکم دیا ہے یہ ہیں چھ دن تو اپنا کام کاج کر۔ ساتواں دن تمہارے لیے مقدس ہوگا خداوند کے لیے آرام کا سبت جو کوئی اس میں کچھ کام کرے گا۔ قتل کیا جائے گا۔ تم سب اپنے مکانوں میں سبت کے دن آگ مت جلاؤ۔
﴿کلام مقدس خروج باب 35 فقرات 01 تا 03﴾
یہودیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر الزام:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام خالق کائنات کے برگزیدہ نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بنی اسرائیل کی طرف مبعوث فرمایا لیکن یہودیوں نے آپ پر ایمان لانے کے بجائے آپ کے خلاف سازشیں شروع کر دیں اور آپ پر یہ الزام تراشی شروع کی کہ آپ شریعت موسوی کی مخالفت کے مرتکب ہورہے ہیں انجیل میں اس الزام کو اپنے انداز میں بیان کیا گیا۔
کاہنِ اعظم نے اس سے کہا میں تجھے زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تو المسیح ہے خدا کا بیٹا تو ہم کو بتا دے یسوع نے اس سے کہا تو نے خود ہی کہہ دیا ہے بلکہ میں تم سے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
کہتا ہوں کہ اب سے تم ابن انسان کو القادر کے دائیں بیٹھا اور آسمان کے بادلوں پر آتا دیکھو گے اس پر کاہن اعظم نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اس نے کفر بکا ہے اب ہمیں گواہوں کی کیا ضرورت ہے؟ دیکھو تم نے ابھی یہ کفر سنا ہے اب تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے جواب میں کہا وہ قتل کے لائق ہے ﴿مقدس متی باب 26 فقرات 63-66﴾
مقدس یوحنا میں اس بات کو اس طرح نقل کیا گیا ہے۔
جب سردار کاہنوں اور پیادوں نے اسے دیکھا تو چلا کر کہا صلیب دے صلیب پیلاطس نے ان سے کہا کہ تم ہی اسے لے جاؤ اور صلیب دو۔ کیونکہ میں اس میں کچھ قصور نہیں پاتا۔ یہودیوں نے اسے جواب دیا کہ ہماری ایک شرع ہے اور اس شرع کے مطابق یہ قتل کے لائق ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا بنایا ہے۔
﴿مقدس یوحنا باب 19 فقرات 6-7﴾
ان اقتباسات سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ابن اللہ ہونے کا الزام لگایا اور یہ بات کہ ”اب سے تم ابن انسان کو الیٰ آخرہ“ اس لفظ ابن انسان سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے ابن الہ ہونے کا انکار فرمایا لیکن بعد میں عیسائیوں نے خود ہی تثلیث کا عقیدہ اختیار کر لیا توحید کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا ایک قول منقول ہے۔
کہ تو خداوند اپنے خدا کو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے پیار کر بڑا اور پہلا حکم یہی ہے دوسرا جو اس کی مانند ہے یہ ہے کہ تو اپنے ہمسائے کو اپنی مانند پیار کر ان ہی دو حکموں پر تمام تورات اور صحائف انبیاء کا مدار ہے۔
﴿مقدس متی باب 22 فقرات 37-40﴾
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس قول میں یہ بات بھی ہے کہ ان ہی دو حکموں پر تمام تورات
شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
اور صحائف انبیاء کا مدار ہے تو تورات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اس طرح بیان کیا گیا ۔ تم اپنے لیے بت یا گھڑی ہوئی مورتیں نہ بناؤ۔ نہ اپنے لیے ستون کھڑے کرو۔ اور نہ اپنی زمین میں کوئی نقش دار پتھر رکھو جس کے سامنے تم سجدہ کرو۔ کیونکہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
(احبار باب 26 فقرہ 01)
اس اقتباس سے بہت واضح ہورہا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی قوموں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیا یہ شرکیہ عقائد تو ان قوموں کے اپنے گھڑے ہوئے ہیں انبیاء کرام کی ذوات قدسیہ ان برے عقائد و اعمال سے پاک اور منزہ ہیں۔
رومن قوانین:
قانون موسوی کے مطابق قبل مسیح توہین انبیاء، مقدس ایام اور تورات کی بے حرمتی کی سزا قتل مقرر تھی رومن امپائر کے شہنشاہ جسٹینین Justinian کا اقتدار اسلام سے پہلے چھٹی صدی عیسوی کے زمانہ میں رہا یہ عادل مزاج شخص تھا اس نے رومن لاء کو نئے سرے سے مدون کیا اس نے جب دین مسیحی کو قبول کیا تو قانون موسوی کو منسوخ کر کے انبیاء بنی اسرائیل کی بجائے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا سزائے موت مقرر کی اس کے دور سے قانون توہین مسیح یورپ کی حکومتوں کے آئین میں داخل ہو گیا۔
(انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا)
رشین لاء:
روس میں بالشوک انقلاب کے بعد جب کمیونسٹ حکومت برسراقتدار آئی تو سب سے پہلے انہوں نے دین ومذہب کو سیاست اور ریاست سے بالکل خارج کر دیا اس کے بعد یہاں سزائے موت برقرار رہی لیکن اہانت مسیح کے جرم کی پاداش میں نہیں بلکہ مسیح کی جگہ
قتل یا دونوں شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
156 توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
اشتراکی امپیریلزم کے سربراہ نے لے لی اسٹالن جو رشین امپائر کا سربراہ بن بیٹھا تھا اس کی اہانت تو بڑی بات تھی اس سے اختلاف رائے رکھنا بھی ممالک محروسہ روس کا سنگین جرم بن گیا۔ ایسے سرپھرے لوگوں کے یا تو سر کچل دیئے جاتے تھے جس کی مثال لینن کے ساتھی ٹراٹسکی کی خونچکاں موت کی صورت میں موجود ہے، جو اپنی جان بچانے کی خاطر روس سے بھاگ کر امریکہ میں پناہ گزین تھا یا ایسے مجرموں کو سائبیریا کے بیگار کیمپوں میں موت کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ ایسی اذیت ناک سزاؤں اور موت کی گرم بازاری نے زار روس کے دور سیاہ کی عقوبتوں کو بھی بھلا دیا۔
﴿بحوالہ قانون توہین رسالت صفحہ 294﴾
برطانیہ کا قانون:
برطانیہ کے قوانین میں اگرچہ جسمانی سزائے موت موقوف کر دی گئی لیکن کامن لاء کے تحت توہین مسیح قابل تعزیر جرم ہے اگر حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین زبانی ہو تو دو گواہوں کی شہادت ضروری ہے اور اگر اہانت تحریری ہو تو ایسی تحریر ثبوت جرم کے لیے پیش کی جائے گی، جرم ثابت ہو جانے پر حکومت برطانیہ ایسے شخص کے سارے شہری حقوق سلب کر لے گی۔
امریکن قانون:
امریکہ اور اس کی اکثر سیکولر ریاستوں میں ہر شعبہ ہائے زندگی میں بسنے والے لوگ اگرچہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں مگر عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہے اور حکومتی نظم و نسق بھی تقریباً انہی کے ہاتھوں میں ہے تو امریکہ کی سپریم کورٹ نے سٹیٹ بنام موکس ایک فیصلہ کیا وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس فیصلے کا ایک اقتباس پڑھیے۔
اگرچہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں چرچ اور اسٹیٹ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور ان میں باہمی کوئی ربط اور تعلق نہیں لیکن اسلام، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے مقابلہ میں
توہین رسالت: علمی و تاریخی جا
پیروان مسیح کی تعداد زیادہ ہے حکومت سے ہر شعبہ زندگی میں ان کا اثر و رسوخ کا مذہب ہے اور یہ بھی ایک ناقابل ترد سے کسی ملک کے طرز حکومت کی تشکیل ملک کے استحکام اور بقاء کا انحصار بڑی ہے جو وہاں کی غالب اکثریت کے دینی
قانون پاکستان:
پاکستان ایک نظریاتی ریاست برصغیر کے بسنے والے مسلمانوں نے اپ کیا، ملک پاکستان کے حصول کے لیے لا میں اپنا لہو اس لیے نچھاور کیا کہ آئندہ نسلی برقرار رکھ سکیں اور نغماتِ محبوب کی خوشبو پہلے مختصر عرصے کو چھوڑ کر اگرچہ حکمران غیر پر خلوص کاوشوں اور عوام کی محنت کے بعد نا گیا جو C-295 کے نام سے مشہور ہے۔ پیغمبر اسلام کی شان میں تو
تفصیل: جو کوئی الفاظ کے ذ ذریعے یا کسی تہمت، کنایہ یا درپردہ تعریض حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی توہین کر
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
پیروان مسیح کی تعداد زیادہ ہے حکومت کی زمام کار بھی ان ہی کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں ان کا اثر و رسوخ ہے اور عیسائیت ریاست اور ملک کی غالب اکثریت کا مذہب ہے اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں تہذیب وتمدن کے آغاز ہی سے کسی ملک کے طرز حکومت کی تشکیل میں دین ومذہب کا نہایت اہم رول رہا ہے اور اس ملک کے استحکام اور بقاء کا انحصار بڑی حد تک اس مذہب کے احترام اور تکریم سے وابستہ ہے جو وہاں کی غالب اکثریت کے دینی شعائر سے علیحدہ نہ ہونے والا لازمی حصہ ہے۔
﴿بحوالہ قانون توہین رسالت صفحہ 297﴾
قانون پاکستان:
پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ کے سہارے قائم ہے۔ برصغیر کے بسنے والے مسلمانوں نے اپنے اسلامی تشخص کی بقا کے لیے یہ خطہ ارضی حاصل کیا، ملک پاکستان کے حصول کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں اور اس کی بنیادوں میں اپنا لہو اس لیے نچھاور کیا کہ آئندہ نسلیں دامن مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ عشق ومحبت کا رشتہ برقرار رکھ سکیں اور نغمات محبوب کی خوشبو سے یہ سارا چمن مہک اُٹھے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے مختصر عرصے کو چھوڑ کر اگر چہ حکمران غیروں کے ہاتھ کا کھلونا بنے رہے مگر علمائے دین کی پرخلوص کاوشوں اور عوام کی محنت کے بعد ناموس رسول ﷺ کے حوالے سے قانون مرتب کیا گیا جو 295-C کے نام سے مشہور ہے۔
پیغمبر اسلام کی شان میں توہین آمیز الفاظ وغیرہ استعمال کرنا
تفصیل: جو کوئی الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے یا کسی تہمت، کنایہ یا در پردہ تعریض کے ذریعے بلا واسطہ یا بالواسطہ رسول پاک حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی توہین کرے گا تو اسے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی اور
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ وہ جرمانے کی سزا کا مستوجب ہوگا۔
﴿میجر ایکٹ صفحہ 400 مرتبہ ایس اے حیدر﴾
دنیا کے تمام مذاہب اور ریاستوں میں ان کی مقدس و محترم شخصیات کی اہانت کے جرم کی پاداش میں سزائیں مقرر ہیں وہ لوگ جو سیکولرازم کے حامی ہیں دین اور مذہب کے ساتھ ان کا کوئی واسطہ اور تعلق نہیں وہ بھی اپنے راہنماؤں کی توہین کو ناقابل برداشت سمجھتے ہیں دنیا کے تمام خطوں میں جرم بغاوت کا قانون موجود ہے جس کی سزا موت مقرر ہے جو لوگ اس الزام کے تحت گرفتار ہوں انہیں گیس چیمبرز اور الیکٹرک چیئرز کے ذریعے اذیت ناک طریقے سے مار دیا جاتا ہے یا انتہائی خوف ناک عقوبت خانوں میں انہیں تڑپ تڑپ کر مرنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے نائن الیون کے بعد گوانتاناموبے جیسی بدنام زمانہ جیل میں بے گناہ لوگوں پر جو ظلم و تشدد کے پہاڑ ڈھائے گئے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن جب تاجدار انبیاء، محسن کائنات، رسول معظم، جان عالمین ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی حرمت و ناموس کے تحفظ کیلئے پاکستان میں قانون بنایا گیا تو اس کے بعد سے یورپ کے صاحبان حل وعقد اس قانون پر نشتر زنی کر رہے ہیں اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وہ ارباب اختیار اور لبرل ازم کے حامی سکالر جو انگریز کی غلامی کو ایک مقدس فریضہ جانتے ہیں، وہ بھی اس قانون سے خائف نظر آتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہر جگہ جرم بغاوت وغیرہ کی سزا موجود ہے تو پھر توہین رسالت کے خلاف قانون پر اتنا واویلا اور اعتراض کیوں؟
کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں کے آقا سرکار ختم الرسل ﷺ جن کے نام پر مسلمان اپنی جان، مال، اولاد اور ہر چیز قربان کرنے کو حاصل زندگی سمجھتے ہیں ان کی عزت و حرمت پر کیچڑ اُچھالنے والے لوگ قانون کی گرفت سے آزاد رہیں قانون توہین رسالت پر اعتراض مذہب وملت سے غداری بلکہ خود اپنی عقل وفہم سے انکار ہے۔
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
باب...... 8
سازشوں کا تسلسل
کفر و شرک کے طویل ریگستانوں میں انسانیت کے اُجڑے گلشن کے پھول مرجھا رہے تھے۔ قلوب واذہان کی نرم و نازک کلیاں توحید ورسالت کے شبنمی موتیوں کو ترس رہی تھیں۔ شعور و آگہی کے گلستان اپنے ہی مالی کے ہاتھوں ویران ہو رہے تھے۔ حقوق و مساوات ،قوم اور قبیلے کی طوفانی موجوں کے مقابلہ میں شکست خوردہ دکھائی دیتے تھے۔ عورت کے حقوق کی کشتی انانیت کی لہروں کی طغیانی میں ہچکولے کھا رہی تھی۔ علوم وفنون سے بہرہ مند ہواؤں کی خنکی قومی عصبیت کی تمازت سے ختم ہو چکی تھی۔ عدل و انصاف کے گھروندے اقتدار اور مال وزر کے سامنے ریت کی دیوار تھے۔ حق پر ہونے کے دعویدار اور الہامی کتب کے حاملین نے ہوس پرستی، عیش ونشاط اور سونے چاندی کی چمک کے سامنے اپنی آنکھیں موند لیں تھیں۔ عزت وشرف کے اعلیٰ اوصاف کا حامل انسان ،اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ بتوں کو سجدہ کرنے پر فخر محسوس کر رہا تھا۔ کائنات میں جہالت کی تاریکیاں اوجِ ثریا کو چھو رہی تھیں۔ انسانیت بے حسی اور بے بسی کے سیلاب کا شکار تھی کہ وادیِ بطحا میں حضرت عبداللہ ﷺ کے گھر سے چشمۂ نبوت جاری ہوا، جس نے کفر و شرک کے خزاں زدہ گلستان کو توحید ورسالت کے نور کی بہار سے چمنستان میں تبدیل کر دیا۔ قلوب واذہان کی پیاسی کلیاں رخِ جمالِ زیبا سے سیراب ہونے لگیں۔ حقوق ومساوات کی فصلیں سرسبز و شاداب ہو کر لہرانے لگیں۔ مضبوط پائیدار محلات پر عدل وانصاف کے جھنڈے گاڑ دیئے
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ گئے۔ اس چشمہ علم وحکمت نے انسان کو کفر و شرک کی دلدل سے نکال کر خالق ارض و سماء کی توحید سے آشنا فرمایا اور غلاموں کو عزت و وقار دیا۔ ناداروں، خستہ حالوں، بے کسوں، عصیاں شعاروں، خطا کاروں پر ان کا سحاب جود و کرم برسنے لگا۔ عورت کو ذلت کی پستی سے نکال کر ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کا مقام عطا فرمایا۔ علوم وفنون کی وسعتوں کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچایا اور بحر جود وسخا کی خنک اور شیریں موجوں سے تشنگان ہر دو عالم کو سیراب فرمایا۔ آپ کے فیضان نبوت سے، کائنات میں نور ہدایت کی کرنوں سے اجالا ہو گیا۔ ظلمتوں اور تاریکیوں کے بادل چھٹ گئے۔ بعد ازاں آپ کے جانثار اور وفادار غلاموں نے افریقہ کے صحراؤں، یورپ کے کلیساؤں، سپین و قرطبہ کے ساحلوں، جنوبی ایشیا اور ہندوستان کے ریگزاروں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ صدیق اکبر ؓ کی صداقت، فاروق اعظم ؓ کی عدالت، عثمان غنی ؓ کی سخاوت، حیدر کرار ؓ کی شجاعت، ابو عبیدہ ؓ کی امانت، سعد بن ابی وقاص ؓ کی جرات، خالد بن ولید ؓ کی تلواروں کی دھاک، بلال وصہیب اور عمار ؓ کے عشق کی پکار چار دانگ عالم میں پھیل گئی۔ کائنات اسلام کی روشن کرنوں سے منور ہونے لگی۔ شیطانی قوتیں جو ازل سے حق کی مخالف تھیں کبھی بدر و حنین میں حق کے مخالف برسر پیکار نظر آئیں، تو کبھی خندق و تبوک میں حق کے مد مقابل شکست خوردہ دکھائی دیں اور یوں اسلام کی عظمتیں وسیع تر ہوتی چلی گئیں۔ اگر چہ ان مہمات میں کفر کے بڑے نامی گرامی جنگجو واصل جہنم ہوئے اور فتح مکہ کے بعد کفار کا دور دورہ ختم ہوتا دکھائی دیا، لیکن شیطانی فکر نے شہرت، حرص ولالچ، دجل اور مکر وفریب کے نئے جال پھیلانا شروع کر دیئے اور اسلام کے مدمقابل ایک نئے فتنہ نے جنم لیا۔
اسود عنسی :
مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی حدیث پاک ہے :
توہین رسالت: علمی و تار قال رسول الله ﷺ: يدى أسوارين من ذهب فنفختهما فذهبا فاولتهما وصاحب اليمامة ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گئے، اور میرے ہاتھوں میں سونے ہوا، مجھے وحی کی گئی میں انہیں پھونک نے اس کی یہ تعبیر لی کہ میں دو کذا صاحب یمامہ“ یہ ملعون شخص یمن کے علاقے عبہلہ بن کعب تھا، یہ سیاہ رو تھا اس سے مشہور ہوا۔ جب حاکم یمن باذ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کا حا کے بیٹے شہر بن باذام کو یمن کا حا کیا۔ اسود عنسی سفلی علوم کا ماہر تھا او بھی ہو جاتے تھے۔ اس کے علاوہ کیا کرتا۔ ان دونوں باتوں کو اسود اس کے دام تزویر میں آتے گئے اور اسود عنسی نے طاقت حاصل کر اور بعد میں یمن پر چڑھائی کر دی
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
قال رسول الله ﷺ بینا انا نائم اتیت خزائن الارض فوضع فی یدی سوارین من ذهب فکبرا علیّ واهمانی فاوحی الی ان انفخهما فنفختهما فذهبا فاولتهما الكذابين الذين انا بينهما صاحب صنعاء وصاحب اليمامة
﴿مسلم شریف جلد 02 صفحہ 244﴾
”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں سویا ہوا تھا میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے ، اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن پہنائے گئے ، وہ مجھے بھاری لگے اور میں متفکر ہوا، مجھے وحی کی گئی میں انہیں پھونک ماروں ، میں نے انہیں پھونک ماری تو وہ اُڑ گئے ۔ میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ میں دو کذابوں کے درمیان ہوں ، ایک صاحب صنعاء ہے اور دوسرا صاحب یمامہ“
یہ ملعون شخص یمن کے علاقے کہف حنان کے قبیلہ عنس سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا نام عبہلہ بن کعب تھا ، یہ سیاہ رو تھا اس لیے لوگ اسے اسود کہتے تھے، بعد میں یہ اسود عنسی کے نام سے مشہور ہوا۔ جب حاکم یمن باذام نے کسریٰ کی عمل داری سے نکل کر اسلام قبول کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کا حاکم برقرار رکھا اور ان کے وصال کے بعد آپ ﷺ نے ان کے بیٹے شہر بن باذام کو یمن کا حاکم مقرر کیا۔ ان کے زمانے میں اسود عنسی نے دعویٰ نبوت کیا۔ اسود عنسی سفلی علوم کا ماہر تھا اور لوگوں کو ان کے دلوں کے راز بتاتا تھا، جو کبھی کبھار درست بھی ہو جاتے تھے۔ اس کے علاوہ اس نے ایک گدھا سکھا رکھا تھا جو اس کے کہنے پر اسے سجدہ کیا کرتا۔ ان دونوں باتوں کو اسود لوگوں کے سامنے بطور معجزہ پیش کرتا تھا۔ توہم پرست لوگ اس کے دام تزویر میں آتے گئے اور کچھ لوگ قبائلی عصبیت کی وجہ سے اس کے حامی ہو گئے۔ اسود عنسی نے طاقت حاصل کرنے کے بعد چھوٹے چھوٹے شہروں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا اور بعد میں یمن پر چڑھائی کر دی۔ وہاں خون ریز جنگ ہوئی اور حضرت شہر بن باذام شہید
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ہو گئے، اس طرح اسود عنسی نے یمن پر بھی قبضہ کر لیا۔ اسود عنسی نے یمن پر قبضہ کرنے کے بعد صنعاء کو اپنا دارالحکومت منتخب کیا اور وہاں شاہی محل میں رہنے لگا ، اس نے حضرت فیروز دیلمی کی چچازاد بہن اور حضرت شہر بن باذام کی بیوی کو لونڈی بنا کر اپنے محل میں رکھ لیا۔ ان کا نام آزاد تھا ، وہ نیک خاتون تھیں۔ اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان رکھتی تھیں۔ اسود عنسی کا ایک قابلِ اعتماد ساتھی قیس اس کی فوج کا سپہ سالار تھا، قیس کو جنگ و جدل کا وسیع تجربہ تھا اور ان فتوحات میں بھی اس کا کردار مثالی تھا۔ اسود عنسی چونکہ ایک مطلب پرست شخص تھا، اپنی شہرت اور ہوس اقتدار کے لیے نبوت کا ڈھونگ رچا کر لوگوں کا ایمان خراب کر رہا تھا اس لیے اس نے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کے بعد قیس کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ ایک تو وہ اپنے محل سے بہت کم باہر نکلتا اور دوسرا قیس کو اسود سے ملنے کے لیے کئی گھنٹے محل کے باہر انتظار کی زحمت اٹھانا پڑتی جس کی وجہ سے قیس اسود عنسی کا مخالف ہو گیا۔
اسود کا قتل:
حضرت فیروز دیلمی اور ان کے بھائی بھی موقع کی تلاش میں تھے۔ انہوں نے قیس کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا، اسود عنسی اگر چہ فیروز دیلمی اور ان کے بھائی کو سخت ناپسند کرتا لیکن آزاد کا دل جیتنے کے لیے انہیں محل میں آنے سے منع نہ کرتا تھا۔ اسود عنسی نے اپنے محل کے ارد گرد سخت پہرہ لگا رکھا تھا اس کے باوجود فیروز دیلمی ، ان کے بھائی اور قیس تینوں مل کر آزاد کے مشورے سے نقب لگا کر اسود عنسی کے محل میں پہنچ گئے۔ حضرت فیروز دیلمی اسود عنسی کے کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ ریشم کے بستر پر سو رہا تھا، حضرت فیروز دیلمی نے ایک خاص انداز سے اسود عنسی کی گردن کو پکڑ کر جھٹکا دیا تو اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور خرخراہٹ کی آواز آنے لگی ، جسے سن کر محافظ دوڑ کر آئے اور پوچھا: کیا ہوا؟ تو آزاد نے جواب دیا: کچھ نہیں، تمہارے نبی کو وحی آ رہی ہے تو وہ واپس چلے گئے۔ ان تینوں نے صبح کے وقت
توہین رسالت: علمی و قلعے پر چڑھ کر ندا دی اور جب دیتا ہوں حضرت محمد ﷺ ہوا۔ جس رات یہ ملعون واصل قتل کی اطلاع ہو گئی۔ آپ ﷺ کیا؟ فرمایا: اس شخص کا نام فیر حکومت حضرت معاذ بن جبل
مسیلمہ کذاب:
انسان جب لالچ ، طمع مطمح نظر بنالے تو شیطان ایسے کا تھا، یہ یمامہ کے ایک بہت حبیب تھا۔ مسیلمہ بدصورت ، پستہ کو متاثر کرنے میں بہت ماہر تھا حضرت عبداللہ بن عباس قدم مسيلمة الكذاب ان جعل لى محمد قومه فاقبل اليه النبى النبى قطعة جريد لعطنى هذه القطعة ولئن ادبرت ليعقر نبی کریم ﷺ کے
توہینِ رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
قلعے پر چڑھ کر ندا دی اور جب سب لوگ جمع ہو گئے تو قیس نے بلند آواز سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور عبہلہ کذاب تھا۔ یوں اس ملعون کا قصہ تمام ہوا۔ جس رات یہ ملعون واصلِ جہنم ہوا، اسی رات بذریعہ وحی رسول اللہ ﷺ کو اسود عنسی کے قتل کی اطلاع ہو گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسود عنسی قتل کر دیا گیا۔ پوچھا گیا: کس نے قتل کیا؟ فرمایا: اس شخص کا نام فیروز ہے۔ اس فتنہ کے خاتمہ کے بعد یمن اور ملحقہ آبادیوں کی حکومت حضرت معاذ بن جبل ؓ کے سپرد کر دی گئی۔
مسیلمہ کذاب:
انسان جب لالچ، شہرت، مفادات اور ہوسِ اقتدار ایسی نفسانی خواہشات کو اپنا مطمح نظر بنالے تو شیطان ایسے شخص کو بہت جلد اپنا تابع بنا لیتا ہے۔ یہی حال مسیلمہ کذاب کا تھا، یہ یمامہ کے ایک بہت بڑے قبیلے بنو حنیفہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے باپ کا نام حبیب تھا۔ مسیلمہ بدصورت، پست قد ، زرد رنگ اور مادہ رو تھا، من گھڑت باتوں سے لوگوں کو متاثر کرنے میں بہت ماہر تھا۔ مسیلمہ 10 ھ میں ایک وفد کے ساتھ مدینہ طیبہ بھی آیا۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں:
قدِمَ مسيلمة الكذاب على عهد النبى ﷺ المدينة فجعل يقول ان جعل لى محمد الامر من بعده تبعته فقدمها في بشر كثير من قومه فاقبل اليه النبى ﷺ معه ثابت بن قیس بن شماس و في يد النبى قطعة جريدة حتى وقف على مسيلمة في اصحابه قال لو سأ لتنى هذه القطعة ما اعطيتكها ولن اتعدى امر الله فيك ولئن ادبرت ليعقرنك الله
(مسلم شریف جلد 02 صفحہ 244)
”نبی کریم ﷺ کے عہدِ مبارک میں مسیلمہ کذاب مدینہ طیبہ آیا اور کہنے لگا:
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
اگر محمد ﷺ اپنے بعد خلافت مجھے دیں تو میں ان کی اتباع کروں گا۔ وہ اپنی قوم کے کثیر وفد کے ساتھ آیا تھا۔ نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے، آپ کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماس بھی تھے۔ نبی کریم ﷺ کے دستِ مبارک میں شاخ کا ایک ٹکڑا تھا، آپ آ کر اس کے ساتھیوں میں مسیلمہ کے پاس ٹھہر گئے اور فرمایا: اگر تو مجھ سے لکڑی کا یہ ٹکڑا بھی مانگے تو میں تجھے نہیں دوں گا اور میں تیرے متعلق اللہ تعالیٰ کے حکم سے تجاوز نہیں کروں گا اور اگر تو نے منہ موڑا (یعنی میری اطاعت نہ کی) تو اللہ تجھے قتل کر دے گا‘‘
مسیلمہ اپنے دل میں یہ خیال لے کر آیا تھا کہ میں اپنی چکنی چپڑی باتوں سے رسول اللہ ﷺ کی نیابت حاصل کر کے شہرت پاؤں گا لیکن وہ مدینہ طیبہ سے ناکام و نامراد لوٹا۔ وہ پہلے بھی اسلام کا حامی نہ تھا لیکن اس ناکامی سے اس کی اسلام سے نفرت مزید بڑھ گئی اور اس نے اپنے منصوبے پر خفیہ کام شروع کر دیا۔ مسیلمہ کذاب نے اپنے قبیلہ کو یہ کہہ کر کہ ”قریش نے ہمارا حق تلف کیا حالانکہ میں بھی نبی ہوں“ تبلیغ شروع کر دی۔ اس کے قبیلہ کے لوگ قبائلی عصبیت اور شہرت کی خاطر اس کے حامی بن گئے لیکن مسیلمہ کو خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔ قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک شخص رحال بن عنفوہ بن نہشل نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اسلام قبول کیا اور سورۃ بقرہ سیکھی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے رحال کو یمامہ بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو مسیلمہ کے جھوٹ سے آگاہ کرے۔
رحال چونکہ مسلمان تھا اور لوگوں کو اس پر اعتماد تھا کہ یہ ہمیں صحیح راستہ بتائے گا، لیکن رحال تو خود قبائلی عصبیت اور جاہ و حشمت کی خاطر اپنا ایمان گروی رکھنے والا تھا۔ اس سے خیر کی کیا توقع ہو سکتی تھی؟ رحال نے لوگوں سے جھوٹ بولا کہ واقعی مسیلمہ نبی ہے۔ رحال کا فتنہ مسیلمہ کے فتنہ سے بڑا تھا۔ بہت سے لوگ رحال کے ارتداد کی وجہ سے مسیلمہ کذاب کے بچھائے ہوئے جال میں آئے۔
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت:
ایک ناکام کوشش:
رحال کی حمایت کے تو خود مسیلمہ کو بھی اندازہ ن طاقت کے نشے سے چور رکھا تھا۔ اسے بھی شوق چر منہ کی کھانی پڑی۔ اسے پ اس کنویں کا پانی بہت بڑھ گ رسول اللہ ﷺ کے پاس و میں تھوکا تو اس کا پانی خشک مسیلمہ کے پاس ایک آدمی ہاتھ پھیرا تو وہ شخص اندھا ہو
عبرت ناک انجام:
حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت شرحبیل بن حسنہ شرحبیل ؓ کا انتظار کیے بغی مقابلہ میں مسلمان تھوڑی تع ولید ؓ لشکر لے کر مسیلمہ کے میں جنگ کی۔ اس جنگ میں اور رحال بھی اسی جنگ میں
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
164 کی اتباع کروں گا۔ وہ اپنی قوم کے کثیر وفد تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ حضرت کے دست مبارک میں شاخ کا ایک ٹکڑا تھا، باہر گئے اور فرمایا: اگر تو مجھ سے لکڑی کا یہ ٹکڑا میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے تجاوز نہیں کروں تو اللہ تجھے قتل کر دے گا“ تھا کہ میں اپنی چکنی چپڑی باتوں سے وں گا لیکن وہ مدینہ طیبہ سے ناکام و نامراد وجہ سے اس کی اسلام سے نفرت مزید بڑھ دیا۔ مسیلمہ کذاب نے اپنے قبیلہ کو یہ کہہ نبی ہوں“ تبلیغ شروع کر دی۔ اس کے کے حامی بن گئے لیکن مسیلمہ کو خاطر خواہ عنفوة بن نهشل نے رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر ؓ نے رحال کو یمامہ بھیجا
اور تھا کہ یہ ہمیں صحیح راستہ بتائے گا، لیکن اپنا ایمان گروی رکھنے والا تھا۔ اس سے صاف بولا کہ واقعی مسیلمہ نبی ہے۔ رحال کا اس کے ارتداد کی وجہ سے مسیلمہ کذاب
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ایک ناکام کوشش:
رحال کی حمایت کے بعد جس تیزی سے مسیلمہ کذاب کی طاقت میں اضافہ ہوا اس کا تو خود مسیلمہ کو بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ اس قدر آسانی سے اتنی معتبر حیثیت حاصل کر لے گا۔ طاقت کے نشے سے چور مسیلمہ کذاب نے نبی کریم ﷺ کے معجزات کے بارے میں سن رکھا تھا۔ اسے بھی شوق چرایا، کہ وہ لوگوں کو معجزات دکھا کر اپنی دھاک بٹھالے، لیکن اسے منہ کی کھانی پڑی۔ اسے پتہ چلا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک کنویں میں اپنا لعاب مبارک ڈالا تو اس کنویں کا پانی بہت بڑھ گیا۔ اسی طرح اسے بتایا گیا کہ مدینہ طیبہ میں جو بچہ پیدا ہوتا اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس دعائے برکت کے لیے لایا جاتا، چنانچہ اس نے بھی ایک کنویں میں تھوکا تو اس کا پانی خشک ہو گیا اور جن بچوں کے سر پر اس نے ہاتھ پھیرا، وہ گنجے ہو گئے۔ مسیلمہ کے پاس ایک آدمی آیا اس کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ اس نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ شخص اندھا ہو گیا۔
عبرت ناک انجام:
حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت عکرمہ ؓ کو مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں بھیجا اور حضرت شرحبیل بن حسنہ ؓ کو ان کی مدد کے لیے بھیجا۔ لیکن حضرت عکرمہ ؓ نے حضرت شرحبیل ؓ کا انتظار کیے بغیر جلدی میں جنگ شروع کر دی مسیلمہ کے چالیس ہزار کے لشکر کے مقابلہ میں مسلمان تھوڑی تعداد میں تھے، چنانچہ مسلمان پسپا ہو گئے۔ بعد میں حضرت خالد بن ولید ؓ لشکر لے کر مسیلمہ کے مقابلہ میں گئے۔ حضرت خالد ؓ کے ساتھ مسیلمہ نے مقام عقربا میں جنگ کی۔ اس جنگ میں بہت سے جلیل القدر صحابہ شہید ہوئے۔ لیکن مسیلمہ، محکم بن طفیل اور رحال بھی اسی جنگ میں واصل جہنم ہوئے اور یوں یہ مدعی نبوت اپنے انجام کو پہنچا۔
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ان دونوں کے علاوہ مختلف اوقات میں طلیحہ اسدی، سجاح بنت الحارث، اسحاق اخرس اور دیگر کئی شاطر اور چالباز لوگوں نے اپنے طور پر نبی اور مہدی بن کر عزت حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن عزت تو کیا ملتی، انہیں اپنی زندگی میں ہی ذلت کا طوق پہننا پڑا ۔ ان لوگوں کے پراگندہ خیالات سے سادہ لوح عوام ضرور بہکے مگر وقت کے ساتھ یہ فتنے اپنی موت آپ مر گئے اور ان کا نام و نشان ختم ہو گیا۔
سرزمین ہندوستان پر جب ایک ظالم وسفاک شخص راجہ داہر نے ایک مسلمان قافلے کو حسب معمول لوٹا اور انہیں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا تو محمد بن قاسم آیا اور ظلم و تشدد کی تیز آندھیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے یہاں کے باشندوں کو ایک اللہ کی بارگاہ میں سر بسجود ہونے کا سلیقہ دیا اور واپس چلا گیا سلطان محمود غزنوی نے سومنات کے جادوئی طلسم کو توڑا اور شہاب الدین غوری نے پرتھوی راج کی تمکنت اور غرور کو خاک میں ملا دیا۔ اس کے بعد ہندوستان کا حکومتی نظم و نسق تقریباً مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا۔ سلطان اورنگزیب عالمگیر کے بعد اقتدار نا اہل لوگوں کے ہاتھ آگیا اور رنگیلے شاہ جیسے عیاش فطرت لوگ بھی ہندوستان کے حکمران کے طور پر سامنے آئے۔ اقتدار کے ایوانوں میں طوائفوں کو معزز سمجھا جانے لگا۔ ڈوم اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے لگے اور ہندوستان مختلف ریاستوں میں تقسیم ہونے لگا۔ انگریز کاروبار کی غرض سے ہندوستان میں آئے۔ لیکن حکومتی ناکامیوں کو دیکھتے ہوئے سازشوں میں مصروف ہو گئے اور شومی قسمت کہ مسلمانوں کی جماعت میں ہی سے انہیں میر جعفر اور میر صادق جیسے غدار میسر آ گئے۔ جس کے نتیجے میں 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان میں انگریز نے اپنی حکومت قائم کر لی۔ انگریز اولاً تو مذہبی طور پر مسلمانوں کے سخت دشمن تھے اور ثانیاً چونکہ انہوں نے اقتدار مسلمان قوم سے چھینا تھا، اس لیے انہوں نے مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں اپنی پوری قوت صرف کی۔ مسلمان کے
توہین رسالت: علمی و...
ذہن و قلب سے محبت مصطفیٰ... نے اپنے دور حکومت میں مسل... شیرازہ بکھیرنے کے لیے ذات... کی بدبو سے ملت اسلامیہ کا...
مرزا غلام کذاب قاد...
پوری اُمت مسلمہ کا... حضرت آدم ؑ سے نبوت... ختم کر دیا گیا۔ اب حضور نبی کر... آپ کو آخری نبی بنا کر مبعوث... نے آپ کو ہر خوبی سے نوازا اور... یاب ہو سکے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ... نبوت کا بنیادی نکتہ وحدت ہے... جزو لازم ہے کہ رسول اللہ... بالفرض سلسلۂ نبوت کسی بھی صور... رکھیں، اسے تشریعی یا غیر تش... رب مانیں یا پیروِ رسول ۔ پھر... کیسے قائم رہی؟ ہر دعویدار کے مان... اسلامیہ کی وحدت پارہ پارہ ہو جا... کیسے تصور کیا جاسکتا ہے؟ لیکن...
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ذہن و قلب سے محبت مصطفیٰ ﷺ کی لطیف خوشبو کو ختم کرنا کفر کا ازل سے شیوہ رہا۔ انگریز نے اپنے دور حکومت میں مسلمانوں کی وحدت ملی کو ختم کرنے کے لیے اور ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھیرنے کے لیے ذات مصطفیٰ ﷺ پر حملے کرنے کا ایک ایسا بدبودار پودا لگایا جس کی بدبو سے ملت اسلامیہ کا چمن آج بھی متعفن ہے۔
مرزا غلام کذاب قادیانی:
پوری اُمت مسلمہ ہمیشہ اور ہر زمانے میں اس نظریہ پر متفق رہی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ سے نبوت ورسالت کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، وہ حضور سید کائنات ﷺ پر ختم کر دیا گیا۔ اب حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی ورسول نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو آخری نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔ نبی کریم ﷺ کی نبوت ورسالت عام ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر خوبی سے نوازا اور آپ کو رحمۃ للعالمین بنا دیا، تا کہ ہر عالم آپ سے فیض یاب ہو سکے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی رسالت کا دائرہ مکان وزمان سے وسیع بنایا۔ ختم نبوت کا بنیادی نکتہ وحدت ہے۔ صحابہ کرام ؓ سے لے کر اب تک مسلمانوں کے ایمان کا جزو لازم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی شخص وصف نبوت سے متصف نہیں ہو سکتا بالفرض سلسلۂ نبوت کسی بھی صورت میں جاری مان لیا جائے خواہ اس کا نام ظلی یا بروزی رکھیں، اسے تشریعی یا غیر تشریعی کا لقب دیں، اس نبوت کے حصول کا ذریعہ عطائے رب مانیں یا پیروی رسول۔ پھر ایسے مدعی نبوت پر ایمان لانا بھی ضروری ہوگا، تو وحدت کیسے قائم رہی؟ ہر دعویدار کے ماننے والے ایک نئی اُمت بنتے رہیں گے اور اس طرح ملت اسلامیہ کی وحدت پارہ پارہ ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں کسی نئی نبوت کے جاری رہنے کا کیسے تصور کیا جا سکتا ہے؟ لیکن انگریز کا مقصود ہی وحدت اسلامی کو انتشار کا شکار کرنا تھا، اسی
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
لیے انہوں نے مرزا کذاب جیسے زہریلے ناگ مسلمانوں میں پیدا کیے۔ شروع میں مرزا کذاب خود بھی عقیدۂ ختم نبوت کا حامی تھا، وہ لکھتا ہے۔
سیدنا مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔
﴿ تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ 44 ﴾
ایک اور مقام پر لکھا: قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبریل ملتا ہے اور باب نزول جبریل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے مگر سلسلۂ وحی رسالت نہ ہو۔
﴿ ازالہ اوہام صفحہ 310 ﴾
مرزا کذاب کا تعارف:
انگریز کی سیاست کا بنیادی اصول ہے ”پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو“ اس کے تحت جب فرنگی نے ہندوستان پر قبضہ کر لیا تو انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ کوئی ایسا شخص ہو جو حواری نبی ہونے کا دعویٰ کرے تو اس سے کئی مقاصد حاصل ہو جائیں گے، ملت اسلامیہ کی وحدت میں شگاف پڑ جائے گا، جس کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمان انتشار کا شکار ہو کر آپس میں دست و گریباں ہوں گے۔ دوسری طرف بیرون ہند کے مسلمانوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ختم ہو جائیں گی، جو اب تک انہیں حاصل ہیں، پھر وہ مدعی نبوت انگریز کا ایجنٹ ہونے کے ناطے حکومت سے جہاد کی مخالفت میں الہامی سند پیش کرے کہ فریضۂ جہاد منسوخ ہو چکا، اب دین کے لیے تلوار اٹھانا حرام ہے اور اس سے یہ کام بھی لیا جائے کہ وہ برطانوی حکومت کے گن گائے، اور اسکی اطاعت کو اطاعتِ خداوندی سے تعبیر کرے، تاکہ اس حکومت کی غلامی سے نجات تو کیا لوگ اس غلامی کو خدا کی نعمت اور رحمت جانیں۔ ان
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
خدمات کے لیے موزوں آدمی کی تلاش تھی کہ مرزا قادیانی نے اس لعنت کو قبول کر لیا اور وہ سب خدمات جو قادیانیت کی تخلیقی غایت تھیں بخوبی انجام دیں۔ مرزا قادیانی ایک منتشر الخیال شخص تھا اور مراق جیسی بیماری کا دائمی مریض تھا۔ انگریزوں سے وفاداری ورثے میں ملی اور اسے خوب نبھایا۔ ذہنی پستی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سستی شہرت کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔ مرزا پہلے ایک مصلح کے روپ میں سامنے آیا تو پھر مجددیت کا دعویٰ کیا، کبھی مسیح بنا تو کبھی مہدی کبھی کرشن ہونے کا دعویٰ تو کبھی اپنے آپ کو ایک اوتار کے روپ میں پیش کیا، کبھی ظلی و بروزی نبی کا دعویٰ تو کبھی مستقل نبوت کا ادعا۔ مرزا کے دعاوی، الہامات اور اس کی کتب میں اس قدر تضاد اور تفاوت ہے کہ خود لاہوری مرزائی اور قادیانی آج تک متفق نہ ہو سکے کہ مرزا کس امر کا مدعی تھا؟ لیکن ایک بات مسلم ہے کہ مرزا انگریز کا فرماں بردار اور اسلام کا سخت ترین دشمن تھا۔ خدا و رسول، قرآن حکیم اور مسلمہ اسلامی عقائد کے خلاف زبان درازی مرزا قادیانی کا معمول تھا۔ مرزا قادیانی کیا تھا؟ اشعار میں اپنا تعارف کراتے ہوئے خود لکھتا ہے۔
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
﴿در ثمین صفحہ 68﴾
پہلے شعر میں مرزا نے اپنے نسب کو مشتبہ قرار دیا اور دوسرے شعر میں اپنے ننگ انسانیت ہونے کا اعتراف کیا کہ میں انسانیت کے لیے عار اور شرمندگی ہوں۔ یہ تعارف جو مرزا نے خود پیش کیا ہے یہ ایسا درست ہے کہ اس کی سچائی میں کسی کو شبہ کا حق حاصل نہیں۔
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
تہذیب و اخلاق مرزا:
حضور نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو فحش گوئی، بدکلامی، دشنام طرازی اور برے کاموں سے اجتناب کی تلقین فرمائی اور تقویٰ، طہارت اور نیک اعمال کا حکم ارشاد فرمایا۔ لیکن سر زمین قادیان کی غلاظت سے اُٹھنے والا کذاب جو مدعی تو نبوت کا تھا، لیکن اخلاق سے اس قدر عاری تھا کہ اگر اس کے تمام رذائل اور گندی حرکات کو یکجا کیا جائے تو بدتہذیبی اور بدخلقی بھی شرم و ندامت سے سرنگوں ہو جائیں۔ کسی کے ذاتی کردار کو موضوع بحث بنانا اچھا تو نہیں لگتا لیکن چونکہ مرزا نبوت کا مدعی تھا اور نبی کا کردار اُمت کیلئے نمونہ ہوتا ہے لہٰذا ملت قادیانی کے لیے سیرت مرزا پیش خدمت ہے۔ مرزا کذاب شراب بھی پیتا تھا اور وہ بھی خالص ولایتی۔ چنانچہ ایک عقیدت مند کو خط لکھتے ہوئے کہتا ہے۔
محبی اخویم حکیم محمد حسین سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیائے خوردنی خرید دیں، اور ایک بوتل ٹانک وائن پلومر کی دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہیے اس کا لحاظ رہے باقی خیریت ہے۔ والسلام۔ غلام احمد عفی عنہ
﴿خطوط امام بنام غلام صفحہ ۵﴾
شراب کے نشے میں مدہوش ہونے کی وجہ سے انسان کے قویٰ ضعیف ہو جاتے ہیں، اعضاء کے ضعف کی وجہ سے انسان حواس باختہ ہو جاتا ہے۔ حواس باختگی کے عالم میں انسان کے لیے اچھائی اور برائی کی تمیز ختم ہو جاتی ہے، اسی کیفیت میں مرزا کذاب اپنے پلید دامن کو زنا کی آلودگی سے اور زیادہ گندا کرتا رہا۔ اس بات کو مرزا کے ایک عقیدت مند کی
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
زبانی ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) وا کرتے ہیں اگر انہوں نے کبھی کبھار زنا کرا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر اعتراض اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے کیونکہ وہ ہروقت مرید کی اندھی عقیدت پر بھی قربان جا کبھی کبھی زنا کرنے کو وہ سند جواز دے رہا ہے شراب کے نشے سے مدہوش رہتا ہو، غیر محرم لالچ میں کاروبار ایمان فروشی عروج پر ہو، وہاں
خدمتِ فرنگ کا اعتراف:
انسان کتنی بلندی پر جانے کی کوش بیان کروا دیتا ہے۔ مرزا قادیانی کا بھی ی دیا۔ مرزا کذاب قادیانی کے آباؤ اجداد میں شریک کار رہے اور انگریزوں کے باپ اور بھائی کی خدمت گزاری کا حال میں ایک ایسے خاندان سے ہوں غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں وفادار تھی۔ یعنی عین زمانہ غدر کے وقت مر
ایک نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
زبانی ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ولی اللہ تھے۔ اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں اگر انہوں نے کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں حرج کیا ہوا۔ پھر لکھا ہے۔ ہمیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر اعتراض نہیں کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔
﴿روزنامہ الفضل قادیان 31 اگست 1938ء﴾
مرید کی اندھی عقیدت پر بھی قربان جائیے کہ اسے ہر وقت زنا کرنے پر اعتراض ہے۔ کبھی کبھی زنا کرنے کو وہ سند جواز دے رہا ہے لیکن اس بے چارے کا بھی کیا قصور جو پیشوا خود شراب کے نشے سے مدہوش رہتا ہو، غیر عورتیں اس کے بستر کی زینت بنتی ہوں، دولت کے لالچ میں کاروبار ایمان فروشی عروج پر ہو، وہاں پر عقیدت مندوں کی تربیت ایسی ہی ہوتی ہے۔
خدمتِ فرنگ کا اعتراف:
انسان کتنی بلندی پر جانے کی کوشش کرے مگر خلاق عالم اس کے منہ سے حقیقت بیان کروا دیتا ہے۔ مرزا قادیانی کا بھی یہی حال ہے کہ اس نے اپنی حقیقت کو خود ہی بیان کر دیا۔ مرزا کذاب قادیانی کے آباء بھی ہندوستان میں انگریز کی آمد کے بعد ان کی سازشوں میں شریک کار رہے اور انگریزوں کے لیے مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرتے رہے۔ اپنے باپ اور بھائی کی خدمت گزاری کا حال بیان کرتے ہوئے مرزا لکھتا ہے۔ میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جس کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی۔ یعنی عین زمانہ غدر کے وقت پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر سرکار کو امداد میں دیئے
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
تھے۔ پھر میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات انگریزی میں مصروف رہا اور دستوں کی گزرگا ہ پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔
﴿البرية صفحہ 514﴾
جب مرزا نے گورنر پنجاب کی خدمت میں عریضہ بھیجا تو اس میں بھی اپنے خاندان کی گورنمنٹ انگریزی سے وفاداری کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا۔
میں سب سے پہلے یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ میں اس خاندان میں سے ہوں، جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اوّل درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسروں نے مان لیا کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیر خواہ سرکار انگریزی ہے۔
﴿تبلیغ رسالت جلد 7 صفحہ 11/08﴾
مرزا کی ڈیوٹی شروع ہوئی:
چونکہ خاندان پہلے ہی سے راہ و رسم کا عادی تھا اور چند ٹکوں کے عوض مسلمان قوم کی جاسوسی کرنا مرزا کے بھائی کے لیے معمولی کام تھا۔ ملت سے غداری مرزا کے خون و خمیر میں شامل تھی۔ بھائی کے مرنے کے بعد مرزا نے وہ نشست سنبھال کر انگریز کی خدمت گزاری شروع کر دی اور اس کا تذکرہ یوں کیا۔
جب بھائی فوت ہو گیا تو میں ان دونوں کے نقشِ قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی، لیکن میں صاحب مال و املاک نہ تھا۔ سو میں سرکار کی مدد کے لیے اپنے قلم اور ہاتھ سے اٹھا۔ اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اس زمانہ میں خدا تعالیٰ سے عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا۔ جو اس میں احساناتِ قیصرہ ہند کا ذکر نہ ہو۔
﴿تبلیغ رسالت جلد 07 صفحہ 28﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جا
جان حاضر ہے:
صرف احسانات کا تذکرہ کر اس سے بھی زیادہ انگریزی سرکار کی وف سے آگے نکل جانے کا خیال بھی دل می اس خاندان کی روایت رہی، لیکن مرزا مگر انگریزی سرکار کو اس کی ضرورت ن بے شک ہمارا فرض ہے کہ ہم ضرورت کے وقت جان بھی فدا کرنے مرزا قادیانی کی کتابیں اور تذکروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان ہی مقصود نظر ہو، وہاں ایمان و ضمیر کی کوئی عذاب کے خریدار نظر آتے ہیں۔ مرزا میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جس کی ہے اس کی نظیر نہیں ملے گی۔
دوسری جگہ پر اپنی ضمیر فروشی کا میں بذات خود سترہ سال سے در حقیقت وہ ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ سے زیادہ ہے۔
مرزا کے پاس انگریزی کیمپ می
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
جان حاضر ہے:
صرف احسانات کا تذکرہ کرنے سے جی خوش ہوا، نہ ہی من راضی ہوا اور دل میں اس سے بھی زیادہ انگریزی سرکار کی وفاداری کی تمنا نے انگڑائی لی اور اپنے باپ اور بھائی سے آگے نکل جانے کا خیال بھی دل میں سمایا۔ اپنوں سے بے وفائی اور غیروں سے یارانے اس خاندان کی روایت رہی، لیکن مرزا جی تو اپنی جان تک نچھاور کرنے کے لیے تیار ہوئے مگر انگریزی سرکار کو اس کی ضرورت پیش نہ آئی مرزا لکھتا ہے۔
بے شک ہمارا فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیر خواہ ہوں۔ ضرورت کے وقت جان بھی فدا کرنے کو تیار ہوں۔
﴿فریاد درد صفحہ 33﴾
مرزا قادیانی کی کتابیں اور اشتہارات وغیرہ انگریز کی وفاداری، چاپلوسی اور تذکروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جہاں دولت و تعیش ہی مقصود نظر ہو، وہاں ایمان و ضمیر کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ کم فہم لوگ چند ٹکوں کے عوض دائمی عذاب کے خریدار نظر آتے ہیں۔ مرزا قادیانی فخریہ انداز میں لکھتا ہے۔
میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جس قدر میں نے کاروائی گورنمنٹ کی خیر خواہی کے لیے کی ہے اس کی نظیر نہیں ملے گی۔
﴿تبلیغ رسالت جلد 03 صفحہ 196﴾
دوسری جگہ پر اپنی ضمیر فروشی کا تذکرہ یوں کیا۔
میں بذات خود سترہ سال سے سرکار انگریز کی ایسی خدمت میں مشغول ہوں کہ در حقیقت وہ ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے جو میرے بزرگوں سے زیادہ ہے۔
﴿تبلیغ رسالت جلد 06 صفحہ 06/05﴾
مرزا کے پاس انگریزی کیمپ میں آنے سے پہلے مال و دولت تو نہیں تھا جو وہ انگریز
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ کی خدمت پر نچھاور کرتا۔ جان دینے کی پیش کش کی مگر انگریز کو اس کی ضرورت ہی نہ پڑی تو ایسی کون سی خدمت تھی جس پر مرزا بغلیں بجا رہا ہے کیا یہ ایک حقیقت نہیں؟ کہ انگریز کی خیر خواہی میں مرزا نے اللہ تعالیٰ پر افترا باندھا، حضور خاتم النبیین ﷺ کی ذات اقدس پر رکیک حملے کیے، ملک وملت سے غداری کی، مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے۔ یہ انگریز کی ایسی خیر خواہی اور خدمت ہے جس کی نظیر نہیں ملتی، کاروبار ایمان فروشی میں مرزا صف اول کا بیوپاری دکھائی دیتا ہے کہ اس نے اپنے ایمان کو چند ٹکوں کے عوض انگریز کے ہاں گروی رکھ دیا۔
اسلام دشمنی کا اعتراف:
اسلام اور نبی پاک ﷺ سے کھلی بغاوت کفار کے دامن میں ہی پروان چڑھ سکتی ہے۔ اسلامی حکومت میں یہ کام ناممکن ہے کہ کوئی شخص ضمیر کی سودے بازی کر کے ذاتِ رسول ﷺ کے خلاف زبان درازی کا مرتکب ہو۔ انگریز کے سائے میں مرزا نے آیاتِ قرآن حکیم کی غلط تاویل کی، احادیث رسول ﷺ سے مذاق کیا، شعائر اسلام کی بے حرمتی کی۔ مرزا کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ انگریزی حکومت کے تعاون کے بغیر ان معمولات کو جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ مرزا اس حقیقت کا اعتراف اس طرح کرتا ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ اس نے ایسی گورنمنٹ کے سایہ رحمت کے نیچے جگہ دی جس کے زیر سایہ میں بڑی آزادی سے اپنا کام چلا رہا ہوں جو کسی اسلامی گورنمنٹ میں نہیں چلایا جا سکتا۔
﴿تحفہ قیصریہ صفحہ 27﴾
جو شخص خدا تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی رحمت سے محروم ہو جائے، پھر وہ غیروں کے سائے کو بھی رحمت کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ دوسرے مقام پر مرزا کذاب داستان ایمان فروشی کو یوں بیان کرتا ہے۔
توہین رسالت: علمی و میں اپنے کام کو نہ ک مگر اس گورنمنٹ میں جس ک
انگریز کا خود کاشتہ پودا
ان عبارات سے جہاں ضمیر فروشی بھی خوب کھل کر سا مسلمہ میں انتشار کا زہر گھولنے ک یہ زہریلا پودا لگایا۔ اس حقیقت کو میرا اس درخواست سے ہے کہ اگرچہ میں ان خدمات خا صدق دل اور اخلاص اور جوش و عنایت خاص کا مستحق ہوں۔ ی اور سرکار انگریزی کے خدمت گزار عنایت اور مہربانی کی نظر رکھیں۔ یہ عبارت چیخ چیخ کر مرزا میں غلام فرنگ ہوں، میں نے ا سودے بازی پر فخر ہے۔ اس کے اور لقب دے کر اپنے ایمان کا سو کہا سکتا ہے۔ دیدہ کور
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
میں اپنے کام کو نہ مکہ میں نہ مدینہ میں نہ روم و شام نہ ایران و کابل میں چلا سکتا ہوں مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کی میں دعا کرتا ہوں
﴿تبلیغ رسالت جلد 6 صفحہ 65﴾
انگریز کا خودکاشتہ پودا:
ان عبارات سے جہاں انگریز کے سازشی ذہن کا علم ہوتا ہے، وہاں مرزا کذاب کی ضمیر فروشی بھی خوب کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اس بد باطن شخص نے کس کے ایماء پر اُمتِ مسلمہ میں انتشار کا زہر گھولنے کی کوشش کی۔ انگریز نے ملت کی وحدت کو ختم کرنے کے لیے یہ زہریلا پودا لگایا۔ اس حقیقت کو مرزا نے گورنر کو درخواست لکھتے ہوئے اس طرح بیان کیا۔
میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں مدعا یہ ہے کہ اگرچہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش و وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لیے کی ہیں۔ عنایتِ خاص کا مستحق ہوں۔ لیکن صرف اتنی التماس ہے کہ وفادار اور جانثار، پکے خیر خواہ اور سرکار انگریزی کے خدمت گزار خود کاشتہ پودا کی نسبت خود حضور بھی اور ماتحت حکام بھی عنایت اور مہربانی کی نظر رکھیں۔
﴿تبلیغ رسالت جلد 07 صفحہ 19﴾
یہ عبارت چیخ چیخ کر مرزا کی حقیقت کو بیان کر رہی ہے اور مرزا اعتراف کر رہا ہے کہ میں غلامِ فرنگ ہوں، میں نے اپنا دین و ایمان فرنگیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے اور اس سودے بازی پر فخر ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی مرزا کو مامور من اللہ، مسیح موعود، مجدد یا کوئی اور لقب دے کر اپنے ایمان کا سودا کرنے پر بضد ہو تو اس کے بارے میں سوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
مخالفت جہاد:
کفار جب بھی تلوار لے کر مسلمانوں کے مد مقابل آئے، انہیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انگریز کے جملہ مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ کسی طرح سے مسلمان جہاد سے دور ہو جائیں تو انگریز کے اقتدار کو طوالت و تقویت میسر ہو گی اس سلسلے میں بھی مرزا کذاب نے گورنمنٹ انگلشیہ کی معاونت کی اور احادیث رسول ﷺ کی غلط تاویل کر کے جہاد کی مخالفت کی تا کہ سرکارِ انگلشیہ کی عنایات کا دائرہ وسیع ہو جائے۔ مرزا لکھتا ہے:
اب اس کے بعد جو دین کے لیے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور رسول کا نافرمان ہے صحیح بخاری کو کھولو اور اس حدیث کو پڑھو جو مسیح موعود کے حق میں ہے یعنی یضع الحرب جس کے معنی یہ ہیں کہ جب مسیح موعود آئے گا تو جہادی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔
﴿ضمیمہ خطبہ الہامیہ صفحہ 28﴾
جس طرح ایک مسخرے نے کہا تھا کہ قرآن پاک کا حکم ہے لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ: کسی نے کہا آگے وضاحت بھی تو ہے کہ کس حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ تو وہ کہنے لگا اتنے ہی حکم کی تعمیل ہو جائے تو بڑی بات ہے۔ اسی طرح انگریز کے مسخرے مرزا کذاب نے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب تمام امور کو نظر انداز کر کے صرف یہ الاپنا شروع کر دیا کہ دیکھو احادیث میں ہے کہ مسیح جنگ ختم کر دیں گے پس میں مسیح موعود آگیا ہوں۔ چنانچہ دین کیلئے جہاد حرام ہے مرزا نے ممانعت جہاد کے لیے کتنا کام کیا؟ اس کے بارے میں وہ خود لکھتا ہے۔
میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی حکومت کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اگر اکٹھی کی جائیں تو پچاس (50) الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔
﴿تریاق القلوب صفحہ 15﴾
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
اس بیان میں حقیقت کتنی ہے؟ اس سے قطع نظر انگریز کی وفاداری خوب نظر آتی ہے کہ مرزا کس طرح انگریز کی غلامی کا دم بھرتا ہے۔ اس کے علاوہ خدمت انگریز میں دلی جوش کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
بیس برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی، عربی، اُردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں جس میں بار بار لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جانثار ہو جائیں اور جہاد اور خونی مہدی کے انتظار وغیرہ جیسے بیہودہ خیالات سے جو قرآن مجید سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتے دستبردار ہو جائیں۔
﴿تریاق القلوب﴾
جہاد کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا۔ قرآن حکیم نے اس فریضہ کی ادائیگی پر زور دیا۔ رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس کفار کے مقابلہ کے لیے تشریف لے گئے۔ صحابہ کرام ؓ نے جانی اور مالی قربانیاں پیش کیں اور مرزا کذاب نے مصلح اُمت کا روپ دھار کر دشمنان اسلام کی محبت میں اور چند روزہ دنیاوی زندگی کی عیش وعشرت کے لیے جہاد کو غلط خیال قرار دیا یہ مہم اس وقت چلائی گئی جب چاروں طرف سے بلاد اسلامیہ پر یورپی اقوام یلغار کر رہی تھیں۔ اس وقت مرزا کذاب اسلامی ممالک میں جہاد کے خلاف شیطانی خیالات پھیلا رہا تھا۔ وہ لکھتا ہے:
میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اس امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لیے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزار ہا روپیہ خرچ ہوا اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام، روم اور مصر، بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔
﴿تبلیغ رسالت جلد 6 صفحہ 160﴾
جہاد کے خلاف یہ جدوجہد انگریزی حکومت کے ایما پر تھی اور مرزا کذاب کو انگریز
ہے؟ کعب نے کہا: تم سے زیادہ خوبصورت ہو
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
سے مال و زر کا لالچ تھا۔ یہی بات مرزا کو اسلام دشمنی پر ابھارتی تھی اور قرین مصلحت مرزا کے نزدیک یہی امر تھا کہ جتنی جہاد کی مخالفت کروں گا اتنی ہی وافر اعانت انگریز کی طرف سے ہوگی وہ خود اس حقیقت کا اعتراف یوں کرتا ہے۔
میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک دن یہ گورنمنٹ عالیہ ضرور میری ان خدمات کی قدر کرے گی۔
﴿تبلیغ رسالت جلد 10 صفحہ 28﴾
قادیانیوں کے ناپاک عزائم:
قادیانیت کی پیدائش انگریزی حکومت کے دور میں ہوئی تاکہ ہندوستان کی مسلمان قوم کے اذہان و قلوب کو عشق مصطفیٰ ﷺ سے محروم کر دیا جائے۔ مرزا کذاب نے ساری زندگی اسلام دشمنی میں گزاری اسلامی شعائر ، مقدس مقامات اور بزرگ شخصیات کے خلاف دریدہ دہنی سے کام لیا۔ حتی کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں اپنے آپ کو نبی کے طور پر پیش کیا اور خدا تعالیٰ ﷻ کی بارگاہ میں بھی غلیظ کلمات بولے اور لکھے (نعوذ باللہ ) اور اس سے مقصد صرف یہ تھا کہ انگریزی حکومت کو استحکام حاصل ہو جائے۔ یہ بات بھی پوشیدہ نہیں کہ قادیانی جس طرح انگریز کے کل وفادار تھے، آج بھی ان کی وفاداریاں یہود و ہنود کے ساتھ ہیں۔ اسرائیل ملت اسلامیہ کا سخت ترین دشمن ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر اس نے ظالمانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ حکومت پاکستان نے اب تک اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کر رکھے ہیں اور اسرائیل کو تسلیم بھی نہیں کیا گیا لیکن قادیانی سفارت خانہ اسرائیل میں موجود ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ مسلمانوں سے اپنے جذبہ عداوت کی تسکین کے لیے عالمِ اسلام کے خلاف منصوبوں اور سازشوں کو بروئے کار لانے کے لیے اسرائیل مرکز ہے جس طرح قادیانیوں کی ملتِ اسلامیہ اور مسلمانوں سے دشمنی کی وجہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین ماننا
توہین رسالت: اور مرزا کذاب کو لعنتی قرار وجہ سے مسلمانوں کے دشمن پاکستان کانٹے کی طرح چبھ کے ساتھی ہیں، ایک یہود پاکستانی فوج اپنے جس نے پاکستانیوں اور عرب یہودیت کیلئے شدید خطرہ کے اندر سے رسول اللہ ﷺ یہ ایک فوجی جرنیل کا تحفے میں دیا ہے۔
بن گوریان:
اسرائیل کے سابق سوربون یونیورسٹی میں تقریر اسرائیل نے اس تقریر کے ت طلسمی یہودی تحریک پاکستان ایک نظریاتی ریاست نشانہ بننا چاہیے۔ پوری پاکست محبت ہمارے لیے خود عربوں ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ اور مرزا کذاب کو لعنتی قرار دینا ہے، اسی طرح یہودی بھی نبی پاک ﷺ سے الفت و محبت کی وجہ سے مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ اور بالخصوص اسرائیل کے سرکردہ افراد کی آنکھوں میں پاکستان کانٹے کی طرح چبھتا ہے اور قادیانی بھی پاکستان دشمنی میں اسرائیل کے صف اوّل کے ساتھی ہیں، ایک یہودی فوجی ماہر پروفیسر ہرنو لکھتا ہے۔
پاکستانی فوج اپنے رسول محمد ﷺ سے غیر معمولی عشق رکھتی ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس نے پاکستانیوں اور عربوں کے باہمی رشتے مستحکم کر رکھے ہیں یہ صورت حال عالمی یہودیت کیلئے شدید خطرہ رکھتی ہے لہذا یہودیوں کو چاہیے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے پاکستانیوں کے اندر سے رسول اللہ ﷺ کی محبت کا خاتمہ کریں۔
﴿نوائے وقت 22 مئی 1972ء﴾
یہ ایک فوجی جرنیل کا زہر ہے، جو اس نے پاکستان اور اسلام کے خلاف اپنی قوم کو تحفے میں دیا ہے۔
بن گوریان:
اسرائیل کے سابق صدر بن گوریان نے عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیرس کی سوربون یونیورسٹی میں تقریر کی۔ 19 اگست 1967ء کو برطانیہ کے یہودی میگزین جیوش کرانیکل نے اس تقریر کے کچھ حصے نقل کیے اس کا اقتباس پڑھیے۔
طلسمی یہودی تحریک کو پاکستان سے جو خطرہ ہے اسے فراموش نہ کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور ہمارے وجود کے لیے چیلنج ہے۔ اسے اب ہمارا پہلا نشانہ بننا چاہیے۔ پوری پاکستانی قوم یہودیوں سے نفرت اور عربوں سے محبت کرتی ہے۔ یہ محبت ہمارے لیے خود عربوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے، لہٰذا عالمی یہودی تحریک کا یہ فرض ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف فوری اقدامات کرے۔
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
بن گوریان نے مزید کہا:
چونکہ براعظم ہند کے باشندے ہندو ہیں، پوری تاریخ میں ان کے دل مسلمانوں کی دشمنی سے لبریز رہے ہیں، اس لیے ہندوستان ہمارے لیے پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے نہایت اہم اڈہ بن سکتا ہے۔ اب ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم اس اڈے سے فائدہ اٹھائیں اور یہودیت اور صہیونیت کے دشمن پاکستانیوں کو کاری ضرب لگا کر کچل دیں۔ یہ کام نہایت رازداری کے ساتھ اور خفیہ منصوبوں کے تحت سرانجام دینا چاہیے۔
﴿نوائے وقت 22 مئی 1972ء﴾
تقریر کا ایک ایک لفظ زہر میں بجھا ہوا تیر ہے اور یہودیوں کے زہرناک پروگرام کی تفصیل سے آگاہ کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے وجود سے کس قدر نالاں ہیں۔ اسی لیے یہودی قادیانیوں کو اسرائیل میں پروان چڑھا رہے ہیں کہ اسرائیل کی طرح قادیانی بھی پاکستان کے اندر ایک علیحدہ حکومت قائم کریں۔ پاکستان میں دہشت گردی، غنڈہ گردی، تخریب کاری کی تمام کاروائیوں میں اسرائیل اور قادیانیوں کی سازش شامل ہوتی ہے تاکہ پاکستان کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو اور قادیانی سٹیٹ کے لیے راہ ہموار کی جاسکے۔ یہ محض جذبات نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے۔ قادیانیوں کے قلبی عزائم جو نوک قلم تک آگئے۔
مرزا بشیرالدین کا خطبہ پڑھیے۔
ہماری بھلائی کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں تاکہ ان پر غالب آنے کی کوشش میں مصروف رہیں کیونکہ جب تک مخالفت نہ بڑھے، ہمیں ترقی نہیں ہو سکتی۔
﴿الفضل 25 اپریل 1930ء﴾
اس کے بعد 1932ء میں خلیفہ نے تقریر کرتے ہوئے بڑے کھلے الفاظ میں اپنے ناپاک عزائم کو ظاہر کیا۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ابھی تک احمدیوں (قادیانیوں) کے پاس ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہیں جہاں احمدی ہی احمدی ہوں۔ کم از کم ایک علاقے کو مرکز بنالو اور جب تک ایسا مرکز نہ ہو، جس میں کوئی غیر آدمی نہ ہوں، اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں کر سکتے ۔ جب تک تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے یہ راستے کے کانٹے دور نہیں ہو سکتے ۔
﴿الفضل 12 مارچ 1932ء﴾
قادیانیت نے اسلام دشمن طاقتوں کی کوکھ سے جنم لیا اور مخالفت اسلام اسے گھٹی میں میں ملی ۔ جس مملکت میں بھی اسلام پھیلے قادیانیوں کو اس سے چڑ ہے ۔ جب ربوہ کے ڈاکوؤں نے مسلمان طلباء پر حملہ کیا اور اس کے بعد 1953ء میں تحریک ختم نبوت چلی تو اس وقت خواجہ ناظم الدین نے ظفر اللہ خان کو منع کیا کہ پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے جہانگیر پارک کراچی میں وہ قادیانیت کے پلیٹ فارم سے تقریر نہ کرے مگر ظفر اللہ خان قادیانی نے نہ صرف وہاں تقریر کی بلکہ اسلام اور پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی بھی پھیلائی۔ یہ بات بھی اب راز نہیں رہی کہ ایم ایم احمد قادیانی نے کس طرح مشرقی پاکستان کے لوگوں میں احساس محرومی بڑھایا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش معرض وجود میں آیا اور پاکستان کو ایک عظیم خطے سے محروم ہونا پڑا۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو پاکستان کی سائنسی ٹیکنالوجی اپاہج رکھنے کے صلے میں نوبل پرائز سے نوازا گیا۔ اس کے جانے کے بعد جب ڈاکٹر عبدالقدیر نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا کر اسے عالم اسلام میں منفرد مقام دلایا تو یہود وہنود کے اذہان و قلوب ماؤف ہو گئے اور سازشوں کے انبار لگا کر ڈاکٹر صاحب کو نظر بند کر دیا گیا۔ ان تمام امور سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ قادیانی یہود و ہنود کے ساتھ مل کر پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں اور حکومت کی خواہش جیسے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مرزا کذاب کے ورثاء بے تاب ہیں۔
☆ بینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ اَعْمٰی كَانَ عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ اُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
انہی خدشات کے پیش نظر قائد ملت اسلامیہ حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے 30 جون 1974ء کو حزب اختلاف کی طرف سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس قرارداد پر 37 ممبران نے دستخط کیے۔ البتہ جمعیت علمائے اسلام کے مولوی غلام غوث ہزاروی اور مولوی عبدالحکیم نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی قرارداد کے نتیجے میں 07 ستمبر 1974ء کو پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ قادیانیوں کی سازشیں سامنے آجانے کے بعد حکام اعلیٰ کو قادیانیت سے بہت محتاط رہنے کی ضرورت تھی، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ملکی حفاظت، سیاست، صنعت و تجارت، اقتصادی و معاشی معاملات وغیرہ تمام شعبوں میں آج قادیانی دخل انداز ہیں۔ ایسے کھلے دشمنوں پر اعتماد عقل و دانش پر ماتم کے مترادف ہے۔
دوسرا پہلو:
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے حضرت علی ؓ نے یمن سے مٹی میں ملا ہوا تھوڑا سا سونا حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اسے بنی مجاشع کے فرد اقرع بن حابس، عیینہ فزاری، بنی کلاب کے علقمہ بن علاثہ عامری اور بنی نبہان کے زید الخیل طائی کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ اس پر قریش اور انصار کو ناگواری ہوئی اور انہوں نے کہا: ہمیں چھوڑ کر سردارانِ نجد کو مال دیا جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا: میں تو ان کی تالیف قلب کے لیے کرتا ہوں۔ اسی دوران ایک شخص آیا جس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں، پیشانی ابھری ہوئی، داڑھی گھنی، گال پھولے ہوئے اور سر منڈا ہوا تھا، اس نے کہا: یا محمد ﷺ اتقِ اللہ فقال فمن یطع اللہ اذا عصیته ”اے محمد (ﷺ) اللہ سے ڈریے تو آپ نے فرمایا: اگر میں اللہ کی نافرمانی کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا کون ہے؟ حالانکہ اس نے مجھے اہلِ زمین پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں مانتے تو صحابہ میں سے ایک شخص
دے دو۔ کعب تو کیا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو ہم سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
اسلامیہ حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی ف سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے انے دستخط کیے۔ البتہ جمعیت علمائے اسلام م نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی جماعت نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار قواعد حکام اعلیٰ کو قادیانیت سے بہت محتاط کیونکہ ملکی حفاظت، سیاست، صنعت و تجارت، اور آج قادیانی دخل انداز ہیں۔ ایسے کھلے
حضرت علی ؓ نے یمن سے مٹی میں ملا بھیجا تو آپ نے اسے بنی مجاشع کے فرد بن علاقہ عامری اور بنی نبہان کے زید انصار کو ناگواری ہوئی اور انہوں نے کہا: نے فرمایا: میں تو ان کی تالیف قلب کے میں اندر کو دھنسی ہوئیں، پیشانی ابھری تھا، اس نے کہا: یا محمد ﷺ اتق اللہ (نعوذ باللہ) اللہ سے ڈریے تو آپ نے اطاعت کرنے والا کون ہے؟ حالانکہ شخص مانتے تو صحابہ میں سے ایک شخص
☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ نے اس کے قتل کی اجازت مانگی۔ یہ غالباً حضرت خالد بن ولید ؓ تھے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں منع فرما دیا۔ جب وہ چلا گیا تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ، وہ بت پرستوں کو چھوڑ کر اہلِ اسلام کو قتل کریں گے۔ اگر میں انہیں پاؤں تو قوم عاد کی طرح انہیں ضرور قتل کر دوں۔
(بخاری جلد 02 صفحہ 1105)
توہین رسالت کا یہ دوسرا انداز ہے کہ وہ شخص اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا تھا اور نبی کریم ﷺ کو بزعم خود نصیحت بھی کرتا تھا (العیاذ باللہ)۔ حضور نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق یہ اندازِ فکر خارجیت کی صورت میں نمودار ہوا۔ خارجیوں نے حضرت علی المرتضیٰ ؓ اور حضرت امیر معاویہ ؓ جیسے صحابہ پر شرک کا الزام دھرا۔ جب رائے اور نقطۂ نظر کا اختلاف حل کرنے اور خون ریزی روکنے کے لیے حضرت علی ؓ اور حضرت امیر معاویہ ؓ نے چند افراد کو حکم (ثالث) مقرر فرمایا تو خارجیوں نے علیحدگی اختیار کر لی۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ قرآن حکیم میں ہے۔
چونکہ حضرت علی ؓ اور حضرت امیر معاویہ ؓ نے غیر اللہ کو حکم بنایا ہے لہٰذا وہ دونوں مشرک ہو گئے (العیاذ باللہ)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی کوشش و تعلیم کے باوجود بھی وہ لوگ مخالفت سے باز نہ آئے۔ جب تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو حضرت علی ؓ نے ان پر لشکر کشی کر کے اس فتنہ کی کمر توڑ دی۔ مگر افسوس کہ خارجی جماعت کے افکار و نظریات کا تاریخی سفر جاری رہا۔ آج بھی توحید کی آڑ میں توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ کافروں کے متعلق نازل شدہ
...میں حوروں کو... لعب کیا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
آیات کو مسلمانوں پر چسپاں کر کے اہل اسلام کو شرک و بدعت کا الزام دیا جاتا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اس فتنہ کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا تھا: هم شرار خلق الله وقال انهم انطلقوا الى آيات نزلت في الكفار فجعلوها على المؤمنين
(بخاری جلد 02 صفحہ 1024)
”خوارج بدترین مخلوق ہیں۔ یہ لوگ ان آیات کو جو کفار کے بارے میں نازل ہوئیں مسلمانوں پر ڈھالنے لگے“
بعد میں یہود و ہنود نے اس اندازِ فکر کی بھر پور سر پرستی کی۔ اُمتِ مسلمہ کی وحدت ختم کرنے اور افتراق و انتشار پیدا کرنے کے لیے اس فتنہ کی خوب آبیاری کی اور نام نہاد مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ اور اسلام کے خلاف اپنی سازشوں میں آلہ کار بنا لیا۔ جس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
مرتد اعظم شیطان رشدی:
یہود و ہنود کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ نام نہاد مسلمان کے ذریعہ اسلام کے خلاف اُٹھنے والی آواز کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اس کی بھر پور سر پرستی کی جائے مغرب کے لوگ مذہب سے بہت دور ہیں، اسلام دین فطرت ہے اور یہود و ہنود کو خطرہ یہ ہے کہ جب لوگ دین اسلام کا مطالعہ کریں گے تو اسلام کی آفاقیت کو دیکھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ اسلام ایک علاقہ یا ایک ملک کا مذہب نہیں بلکہ آفاقی دین ہے۔ عیسائیت اور یہودیت اپنی حقیقت بدل چکی ہیں۔ ان کی تصویر مسخ ہو گئی ہے باقی تمام مذاہب بھی اپنی اصلی حالت پر قائم نہ رہ سکے اس دور میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو غیر محرف شدہ ہے۔ انگریز ہمیشہ اسلام دشمنی میں پیش پیش رہتا ہے اور اسلام دشمن اشخاص کی معاونت بھی
توہین رسالت: علمی و تار انگریزوں کی سرشت میں شامل رشدی کا نام بھی شامل ہے۔ یہ شیطان رشدی کے خاندا ہیں۔ ملعون سلمان رشدی کا تعلق ہے۔ ایک شریف انسان شاغل یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ معا سلمان رشدی کی ماں زہرہ بٹ پرنسپل ریٹائرڈ ہونے پر اپنا شفا قادیانی فرقہ سے تھا۔ علی گڑھ ہو گئی زہرہ بٹ اب بھی زندہ زہرہ بٹ کے سگے بھائی محمود ب ان کی ایک کوٹھی بٹ ہاؤس کے اس کو ایک لالہ (ہندو) کے ہا گڑھ کے انصاری گھرانے صاحب یونیورسٹی انجینئر کی روڈ پر ہے۔ شاغل صاحب کی اس کا معاشقہ ہو گیا اور علی گڑ ساتھ رنگ رلیاں منانے لگی کشمیری عاشق کے ساتھ زہرہ لی۔ شاغل صاحب اب بھی ہندی نژاد انیس رشدی کے
دے دو۔ کعب یہ کیا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
184 ف و بدعت کا الزام دیا جاتا ہے جیسا کہ ماتے ہوئے فرمایا تھا: ا إِلَى آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْكُفَّارِ
(بخاری جلد 02 صفحہ 1024)
آیات کو جو کفار کے بارے میں نازل
ر پرستی کی ۔ اُمتِ مسلمہ کی وحدت ختم میں فتنہ کی خوب آبیاری کی اور نام نہاد ا سازشوں میں آلہ کار بنا لیا۔ جس کی
نہاد مسلمان کے ذریعہ اسلام کے خلاف ر پور سر پرستی کی جائے مغرب کے لوگ اور یہود و ہنود کو خطرہ یہ ہے کہ جب لوگ دیکھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو جائیں ں بلکہ آفاقی دین ہے ۔ عیسائیت اور خ ہو گئی ہے باقی تمام مذاہب بھی اپنی ی ایک ایسا مذہب ہے جو غیر محرف شدہ ے اور اسلام دشمن اشخاص کی معاونت بھی
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
انگریزوں کی سرشت میں شامل ہے۔ اس فہرست میں گستاخ رسول ، دشمن اسلام شیطان رشدی کا نام بھی شامل ہے۔ یہ شخص دل آزاری مسلم میں اپنی مثال آپ ہے۔
شیطان رشدی کے خاندانی حوالے سے مولانا شہاب الدین آف انڈیا رقم طراز ہیں۔ ملعون سلمان رشدی کا تعلق علی گڑھ اور لکھنو سے رہا ہے۔ اس کی ماں کا نام زہرہ بٹ ہے۔ ایک شریف انسان شاغل نامی شخص سے اس کی شادی ہوئی۔ شاغل کا تعلق مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ معاشیات سے رہا ہے اور وہ آج بھی علی گڑھ میں مقیم ہیں۔ سلمان رشدی کی ماں زہرہ بٹ کے والد عبداللہ بٹ نے اجمل خان طبیہ کالج علی گڑھ کے پرنسپل ریٹائرڈ ہونے پر اپنا شفاخانہ بارہ دری علی گڑھ میں کھولا تھا۔ ڈاکٹر عبداللہ بٹ کا تعلق قادیانی فرقہ سے تھا۔ علی گڑھ چھوڑنے کے بعد وہ پاکستان مقیم ہو گیا اور اس کی وہیں موت ہو گئی زہرہ بٹ اب بھی زندہ ہے اور اپنا نام بدل کر کراچی میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہے زہرہ بٹ کے سگے بھائی محمود بٹ اب بھی لکھنؤ میں ہیں۔ یو۔ پی کے چیف سیکرٹری رہے۔ ان کی ایک کوٹھی بٹ ہاؤس کے نام سے اب بھی میرس روڈ لکھنو پر ہے، حالانکہ محمود بٹ نے اس کو ایک لالہ (ہندو) کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے۔ زہرہ بٹ کے شوہر شاغل صاحب اعظم گڑھ کے انصاری گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے حقیقی بھتیجے کی شادی ادریس صاحب یونیورسٹی انجینئر کی لڑکی سے ہوئی۔ ان کی کوٹھی چھتری کے نام سے میرس روڈ پر ہے۔ شاغل صاحب کی اہلیہ زہرہ بٹ جب کشمیر گھومنے گئی تھی تو وہاں ایک کشمیری سے اس کا معاشقہ ہو گیا اور علی گڑھ واپس آنے پر شاغل صاحب کو چھوڑ کر کشمیری عاشق کے ساتھ رنگ رلیاں منانے لگی۔ لہذا یہ شیطان رشدی اسی کی ناجائز اولاد میں سے ہے۔ کشمیری عاشق کے ساتھ زہرہ بٹ ممبئی چلی گئی اور وہاں سے انگلینڈ جا کر بود و باش اختیار کر لی۔ شاغل صاحب اب بھی علی گڑھ میں باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔ ملحد سلمان رشدی ہندی نژاد انیس رشدی کے یہاں زہرہ بٹ سے 1947ء میں پیدا ہوا۔ ممبئی میں رہ کر
کیا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ابتدائی تعلیم حاصل کی یہ انیس رشدی وہی شخص ہے جس سے زہرہ بٹ کا معاشقہ ہو گیا تھا۔ ملعون رشدی نے ابتدائی تعلیم عیسائی سکولوں میں حاصل کی اور اوائل عمر سے ہی اسلام سے نفرت، نبی پاک ﷺ سے بغض اور قرآن مجید کے بارے میں شک و شبہ اس کی رگ و پے میں سرایت کر گیا تھا۔ یہ فطری بات تھی کہ گمراہی والا چھپا ہوا کینہ اس کے دل پر غالب آجائے اور بچپن ہی سے اسے زنگ آلود بنادے کیونکہ جو کچھ اسلام کے بارے میں وہ اپنے باپ (جس کی ناجائز اولاد تھا) سے سنا کرتا تھا وہ اسے اسلام سے دور کرنے والا تھا۔ اور جو کچھ اسکول سے حاصل کر رہا تھا وہ اس دوری میں ممد و معاون بن رہا تھا چنانچہ اس طریقہ سے گھر اور مدرسہ اس کی شخصیت کافرہ کی تعلیم میں ایک دوسرے کے معاون ثابت ہوئے۔
انیس رشدی اور زہرہ بٹ جب لندن پہنچے تو سلمان رشدی کی عمر تقریباً تیرہ (13) سال تھی۔ اس کے نام نہاد باپ نے اسے لندن کے ایک سیکنڈری سکول رگبی نامی میں داخل کر ا دیا وہاں اس نے ثانوی تعلیم کی سند حاصل کی، پھر (Cambridge University) کیمبرج یونیورسٹی، کنگز کالج کے شعبہ تاریخ میں بھی تعلیم حاصل کرتا رہا۔
کالج کی تعلیم کے بعد کچھ عرصہ پاکستان ٹیلی ویژن میں ملعون رشدی کام کرتا رہا، لیکن اسلام مخالف جذبات اور اپنی ذہنی آوارگی کی بناء پر وہ ناکام رہا۔ اس کے بعد ملعون رشدی واپس لندن لوٹ گیا اور اسلام کے خلاف اس کا غصہ اور بھڑک اٹھا۔ لندن واپس پہنچ کر اس نے ملازمت کی تلاش شروع کر دی یہاں تک کہ نشریات کی ایک ایجنسی میں اس نے نوکری کر لی اور مستقل آمدنی طے ہو جانے کے بعد اس نے تحریر کا کام شروع کیا۔ رشدی کی پہلی کتاب گرائمس (Grimas) تھی اس وقت تک رشدی ایک گمنام شخص تھا۔ اس کا ناشرین و اخباری مراکز سے کوئی رابطہ نہ تھا۔ وہ آناً فاناً شہرت حاصل کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔ وہ نمود و نمائش کا قائل ہے۔ اگر لوگ اس سے اپنی ماں کو گالی دے کر خوش ہو سکتے ہیں تو
توہین رسالت: وہ اپنی ماں کو ہزار بار گالی د ہے۔ اس کی زندگی کا اہم تر ایک یہودی لڑکی سے کی ج اخباری میدان میں اہم پـ رشدی نے اسے اپنے وا ناشرین سے رابطہ کر کے ان کے نام سے تحریر کیا۔ سلمان ہے۔ اس کی تحریریں گالی گلو رگبی سکول نے رشدی کالا تصور کر کے غلامی کا طعنہ مڈنائیٹ چلڈرن میں سلیم شا بنتی ہے۔ اس ناول میں رشدی ماں، خالاؤں، بہن اور نانی نانی، ماں باپ کی شب زفاف ہو کر لکھے۔ ایسے رائٹر کے قلم جائے گی۔ ہالی وڈ کی بدنام زما رشدی اپنے خاندان کے جنسی ا ۔ اس ناول میں رشدی کی گھریلو برطانیہ نے رشدی کو بوکر ایوارڈ تیسری کتاب لکھی، اس ناول کا م
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
وہ اپنی ماں کو ہزار بار گالی دے سکتا ہے۔ مال و زر کے لیے اپنی عزت کو سر بازار تار تار کر سکتا ہے۔ اس کی زندگی کا اہم ترین پہلو نمائش اور سوداگری ہے۔ زہرہ بٹ نے رشدی کی شادی ایک یہودی لڑکی سے کی لیکن رشدی کو ایک سیڑھی کی ضرورت تھی۔ کلاریسا لارڈ نامی لڑکی جو اخباری میدان میں اہم مقام رکھتی تھی اور بہت سے ناشرین کے ساتھ اس کے روابط تھے۔ رشدی نے اسے اپنے دام تزویر میں لے کر اس سے شادی رچالی اور اس کے ذریعے ناشرین سے رابطہ کر کے اس نے ایک ناول "اطفال منتصف اللیل" مڈنائٹ چلڈرن کے نام سے تحریر کیا۔ سلمان رشدی کی تحریروں سے اس کے آوارہ مزاج کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اس کی تحریریں گالی گلوچ ، یاوہ گوئی اور فحش کلامی سے بھر پور ہیں۔
رگبی سکول نے رشدی کا لہجہ، دین اور اخلاق بگاڑ دیے تھے۔ جب انگریز بچے اسے کالا تصور کر کے غلامی کا طعنہ دیتے تھے اور رشدی کو انگریزی میں گالیاں دیا کرتے تھے۔ مڈنائٹ چلڈرن میں سلیم شائی کا مرکزی کردار ہے جو کہ حقیقت میں خود سلمان رشدی کی آپ بیتی ہے۔ اس ناول میں رشدی نے کھل کر اپنے خاندان پر کیچڑ اچھالا ہے، یہاں تک کہ اپنی ماں ، خالاؤں، بہن اور نانی کو بھی معاشرے کے سامنے ننگا کر کے دکھا دیا۔ جو شخص اپنے نانا نانی، ماں باپ کی شب زفاف اور خود اپنی ممانی کے ساتھ زنا کاری کی کہانیاں فخر سے اور محظوظ ہو کر لکھے۔ ایسے رائٹر کے قلم سے شرافت اور سنجیدگی کی توقع رکھنا ایک احمقانہ خواہش تصور کی جائے گی۔ ہالی وڈ کی بدنام زمانہ فنکارہ میڈونا نے بھی اپنے جنسی تعلقات کا تذکرہ کیا لیکن رشدی اپنے خاندان کے جنسی رجحانات کی تصویر کشی میں میڈونا سے بھی چار قدم آگے ہے ۔ اس ناول میں رشدی کی گھریلو زندگی کے کئی فحش پہلوؤں سے پردہ اٹھتا ہے۔ اس کتاب پر برطانیہ نے رشدی کو بوکر ایوارڈ بھی دیا۔ اس کے بعد رشدی نے "Shame" کے نام سے تیسری کتاب لکھی، اس ناول کا مرکزی کردار عمر خیام ہے۔ ناول شیم میں زنا، بدکاری اور ناجائز
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
اولاد وغیرہ کے عنوان کہانی کی شکل میں پیش کیے گئے۔ ناول شیم میں رشدی نے حرا ہسپتال کو ایک قحبہ خانے کے طور پر پیش کیا۔ ایسے غلیظ خیالات کے ساتھ رشدی کا مغربی اقدار کی طرف رجحان اور اس سے وابستگی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ رشدی کی ماں جب اپنے شوہر کو چھوڑ کر ڈاکٹر رشدی کی بانہوں میں چلی گئی اور اس کے عاشق نے بھی اسے قبول کر لیا تو ظاہر ہے اس کے بعد بھی وہ دونوں اپنی جنسی تسکین کے لیے کسی دوسری جگہ پر منہ مارتے ہوں گے۔ چونکہ رشدی کی تربیت ہی ایسے پراگندہ ماحول میں ہوئی ، جہاں شرم وحیا نام کی کوئی چیز نہ تھی تو ان باتوں نے اس کے ذہن کو کافی متاثر کیا جو اس کی تحریروں میں نمایاں ہے۔
مشرقی تہذیب میں شادی کے بندھن کو جتنی اہمیت حاصل ہے، مغربی تہذیب میں اس بندھن کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ جب جی چاہے ، میاں بیوی اس بندھن کو توڑ کر آزادانہ زندگی گزار سکتے ہیں اور رشدی جیسے بد باطن شخص کے لیے تو شادی بھی ایک سوداگری ہے۔ کلاریسا نے جب برطانوی پریس سے رشدی کا میل جول کرا دیا تو رشدی کلاریسا سے بیزار نظر آنے لگا اور امریکہ کی وسعتوں میں پہنچنے کے لیے اسے ایک امریکن لڑکی کی ضرورت پیش آئی۔ میرین وگنز نے اس کی اس ضرورت کو پورا کر دیا۔ یہ ایک امریکی کاتب تھی اور اس کا تعلق دیگر ذرائع ابلاغ سے تھا۔ چونکہ رشدی کلاریسا نامی عورت سے اس طرح کے فوائد حاصل کر چکا تھا تو میرین وگنز سے بھی اسی خواہش پر تعلق استوار کیا۔ میرین کا والد ایک عیسائی مبلغ تھا اور ماں ایک یونانی چرچ کی پیروکار تھی۔ ذہنی تضادات اور تفاوت کا ماحول بچوں کو ذہنی سکون سے محروم کر دیتا ہے۔ میرین وگنز بچپن ہی سے ذہنی خلفشار کا شکار تھی لیکن رشدی کا میرین کے ساتھ شادی کرنے کا مقصد اور تھا۔ رشدی اپنے تعلیمی ماحول ، گھریلو بے راہ روی کی وجہ سے بدقماش اور عیاش فطرت رکھتا تھا۔ پھر یورپ پہنچ کر جہاں اخلاق باختگی کو فیشن کا درجہ حاصل ہے، رشدی مذہب سے دور ہوتا چلا گیا اس کے بعد جب عیسائی عورتیں
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ اس کی زندگی میں آئیں تو رشدی نہ صرف مذہب سے بہت دور ہوا بلکہ اس کا جھکاؤ مذہب سے نفرت کی طرف ہو گیا۔ بنیادی طور پر مغربی ماحول کی آزادیوں اور اسلامی پابندیوں پر سمجھوتہ ممکن نہیں۔ جو شخص مغربی ماحول میں رچ جائے، اس کا اسلامی معاشرتی قیود پر معترض ہونا فطری بات ہے۔ شریک حیات کے بنیادی عقائد سے بظاہر کوئی تعلق نہ بھی ہو مگر ذاتی تصورات کو ماحول کی آمیزش سے بچائے رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ جس مادر پدر آزاد ماحول، لہوو لعب، جام و مے کی رنگینی نے رشدی کے ذہن کو متاثر کیا، وہی ماحول اسے مذہب اور معاشرتی اقدار سے بھی کوسوں دور لے گیا۔ کلاریسا سے اپنے انگلش گھریلو ماحول میں لے گئی، جہاں از خود اسلام دشمنی پروان چڑھتی رہی۔ کلاریسا لارڈ سے حسب توقع فوائد حاصل کرنے کے بعد رشدی نے میرین نامی جس لڑکی کا انتخاب کیا اس کی اسلام دشمنی ظاہر تھی۔ رشدی اور میرین کی شادی کو ایک سال ہونے کو تھا کہ رشدی کی ذہنی گندگی کی وجہ سے باہر کا ماحول بھی خراب ہونے لگا۔ اس کے ذہنی تعفن سے انتشار کی فضا پھیلنے لگی اور رشدی کے لگائے ہوئے پودے کڑوے پھل دینے لگے اور اس نے Satanic Verses نامی کتاب شائع کی اس غلاظت کے پلندے کو شائع کرنے میں یہودیت مائل پیٹر میٹر وائی کنگ پینگوئن کے سربراہ کا تعاون رشدی کے ساتھ رہا۔
پیٹر میٹر نے رشدی کی ہرزہ سرائی کی سر پرستی کیلئے پیسے کو پانی کی طرح بہایا۔ یوں تو رشدی نے ہر کتاب میں کفر و گمراہی کی کچھ نہ کچھ باتیں ضرور شامل کیں۔ مقدس مقامات و شخصیات کو تضحیک کا نشانہ بنایا اور مغربی ذرائع ابلاغ اس روایت کو خوش آمدید کہتے رہے۔ اُس وجہ سے نہیں کہ وہ کتابیں فنی اہمیت کی حامل تھیں، ان میں ادبی رنگ نمایاں تھا بلکہ اس لئے کہ یہ اسلام کے خلاف کینہ و بغض کی ترجمانی کر رہی تھیں، جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا تھا اور یہ طباعت کے ادارے ہر روایت کیلئے ایسا زہریلا مقدمہ پیش کر رہے تھے، جس میں یہ غلط بات
کیا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
٭ بینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ کی جارہی تھی کہ ان باتوں کا لکھنے والا مسلمان ہے۔ اس طرح رشدی اسلام دشمن طاقتوں کے قریب ہوتا چلا گیا ،وہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ۔لیکن شیطانی آیات Satanic-verses رشدی نے انسانی معیار سے گر کر تصنیف کی اور کائنات کی سب سے عظیم شخصیت ختم الرسل، تاجدار انبیاء، رحمۃ للعالمین، شافع محشر ﷺ کی ذات اقدس پر حملہ کیا اس کے علاوہ انبیائے کرام علیہم السلام امہات المومنین، ملائکہ مقربین، اولیاء کرام کی بارگاہ میں بیہودہ باتیں لکھیں۔ شیطانی آیات جس کو اسلام دشمن طاقتوں نے پذیرائی دی ،اس کتاب کو رشدی نے ایک ناول کی شکل دی اور اس کے دو مرکزی کرداروں میں سے ایک کا نام جبریل اور ایک کا نام صلاح الدین چمچہ رکھا۔ اس طرح اس نے شروع سے ہی سید الملائکہ حضرت جبریل علیہ السلام اور معرکہ صلیب و ہلال کے عظیم ہیرو اور درویش صفت سلطان صلاح الدین ایوبی کا مذاق اڑایا ،اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ بھی لکھا کہ جبریل کی والدہ بھی تھی وہ کبھی اسے فرشتہ اور کبھی شیطان (نعوذ باللہ) کہتی تھی۔ اس طرح ملعون رشدی نے دنیا کو یہ باور کرانا چاہا کہ حضرت جبریل امین کے ذریعہ لائی گئی وحی کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس بدنام زمانہ ناول کے یہ دو کردار خواب دیکھتے ہیں ان خوابوں کی آڑ میں درحقیقت اس ملعون مردود شیطان صفت شخص نے مقدس شخصیات کی توہین کی اور انتہائی بھونڈے انداز میں گالیاں بکی ہیں۔ قرون وسطی کے مستشرقین خصوصاً مذہبی راہنما ، راہب اور پادری جب آقائے نامدار قائد المرسلین ﷺ کا نام مبارک لیتے تو توہین کی نیت سے ”مہونڈ“ (نعوذ باللہ) لکھ کر ازلی بدبختی اور شقاوت کا ثبوت دیتے تھے۔ اس بدباطن ملعون رشدی نے بھی اس کتاب میں ایک خواب کا نام ”مہونڈ“ رکھ کر حضور سید عالم ﷺ کی مکی زندگی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اہل مغرب کی چمچہ گیری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بنالیا۔ اس لعنتی شخص نے ایک خواب کا نام ”عائشہ“ بھی رکھا اس میں سرکار دو عالم ﷺ کی مدنی زندگی اور ازواج مطہرات کی ذوات
توہین رسالت: علمی و قدسیہ پر طعن و تشنیع کے تیر بدبخت نے ایک خواب کا نام ” ﷺ کی زندگی مبارک کو بے بھارتی نژاد ملعون رشدی کفار اس کی سرپرستی کیلئے Satanic-verses اسلا منصوبہ ہے۔ رشدی اپنے ناپا ضمیر کا سودا گر ہے، اور جو پراگند منتقل کر دیتا ہے۔ رشدی نے جب شیطانی آیات کا نام دے کر شائ ہوئے لکھا۔ ves to be punished مسٹر رشدی اپنی خراب ا خشونت سنگھ نے اس کتاب tanic verses is not سیٹنک ورسز بطور ناول بھی ا برطانیہ و امریکہ کے صاحبا یقیناً کوئی کشش نہیں رکھتی نہ اس ک
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
قدسیہ پر طعن و تشنیع کے تیر برسائے اور گندی زبان استعمال کی۔ شیطانی آیات میں اس بدبخت نے ایک خواب کا نام ”جہالت کی طرف واپسی“ رکھا جس میں فتح مکہ اور رسول معظم ﷺ کی زندگی مبارک کو بے ہودہ طریقے سے پیش کیا۔
بھارتی نژاد ملعون رشدی نے جب یہ کتاب لکھ کر ابلیسی مشن میں پیش قدمی دکھائی تو کفار اس کی سرپرستی کیلئے میدان میں آگئے۔ سلمان رشدی کی کتاب Satanic-verses اسلام کی روز افزوں ترقی کے خلاف بند باندھنے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ رشدی اتنے پائے کا لکھاری نہیں کہ اسے ادیب قرار دیا جاسکے وہ تو محض اپنے ضمیر کا سوداگر ہے، اور جو پراگندہ خیالات اس کے ذہن و قلب میں ہوں، انہیں صفحات پر منتقل کر دیتا ہے۔ رشدی نے جب اپنی گالیوں، یاوہ گوئی، فحش کلامی اور بیہودہ خیالات کو شیطانی آیات کا نام دے کر شائع کیا تو ایک انگریز نقاد آبیرون وائے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔
Mr Salman Rushdie deserves to be punished for bad English
مسٹر رشدی اپنی خراب انگلش پر سزا کا مستحق ہے۔
خوشونت سنگھ نے اس کتاب کے بارے میں لکھا:
Even as a Novel the Satanic verses is not readable
سیٹنک ورسز بطور ناول بھی مطالعہ کے لائق نہیں۔
برطانیہ و امریکہ کے صاحبانِ اقتدار کیلئے سلمان رشدی کی تحریر اور اس کی لچر زبان یقیناً کوئی کشش نہیں رکھتی نہ اس کے باپ کی شراب نوشی یا ماں کی زنا کاری ان کی فرحت کا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
باعث ہو سکتی ہے اور نہ ہی سلمان رشدی کی ممانی کے ساتھ بدکاری اور بہن کے ساتھ مباشرت کے تذکرے ان کے لئے نئے ہیں بلکہ اس میں ان کے اسلام دشمنی کے جذبے کی تسکین ہے اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہمارے نزدیک رسول اکرم ﷺ کی اہانت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ سلمان رشدی کی اس دریدہ دہنی کے خلاف مسلمان سراپا احتجاج بن گئے ہر ملک اور ہر خطے میں احتجاج کیا گیا۔ رشدی کا کھلی فضا میں سانس لینا دشوار ہو گیا۔ رشدی نے 1999ء میں خود اقرار کیا کہ اب وہ نارمل زندگی نہیں گزار رہا کیونکہ گستاخ رسول کے مقدر میں ایسی ہی رسوائی ہوتی ہے علماء اسلام نے رشدی کے قتل کا فتویٰ دیا بعض لوگوں نے اس کے قتل پر انعام مقرر کیا۔ ایران کے رہنما امام خمینی نے بھی رشدی کے سر کی قیمت مقرر کی۔ مسلمانوں نے اسے قتل کرنے کے ارادے ظاہر کیے تو حکومت برطانیہ نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کو رشدی کی نگرانی سونپ دی۔ 1988ء سے لیکر 2007ء تک مسلمانوں نے کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ یہ ایک انتہائی نازک مسئلہ ہے اور مسلمان اپنے آقائے نامدار ﷺ کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے مگر پھر بھی حکومت اور ملکہ برطانیہ نے 16 جون 2007ء کو ملکہ الزبتھ کی 81ویں سالگرہ کی تقریب میں دنیا کے نجس ترین، نطفہ نا تحقیق، غلیظ و مکروہ، لعین و مرتد، انسانیت کے دشمن، شیطان کے نمائندے سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ یعنی سر کا خطاب دیا۔ ملکہ برطانیہ کے اس اقدام نے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ ملکہ برطانیہ کی اس شرمناک حرکت کا اصل محرک برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر ہے جسے مغربی پریس صدر بش کا کتا کہتا ہے اور یہ لفظ ٹونی بلیئر کیلئے اتنا عام ہوا کہ اسے باقاعدہ اس کی تردید کرنی پڑی۔ رشدی کو Knight کا خطاب دے کر دوبارہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی۔ وہ مردار شخص جو چوہے کی مانند کونوں کھدروں میں چھپ کر زندگی گزار رہا ہو، ایسے بیمار ذہن کے حامل شخص کو یہ خطاب
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
دینا سوچی سمجھی سازش ہے اور اس سے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ رشدی کی یہ تخلیقات محض اس کی انفرادی اور فکری آوارگی نہیں، بلکہ اسلام دشمن قوتیں بھی اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کیلئے اس کی سرپرستی میں مصروف ہیں۔
عالم اسلام کے مسلمانوں نے رشدی کو سر کا خطاب دینے پر حکومت برطانیہ کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اکثر ممالک میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے پاکستان اور ایران میں متعین برطانوی سفیروں کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، لیکن برطانوی ایوارڈ دینے والی کمیٹی نے یہ کہہ کر سلمان رشدی کی وکالت کی کہ یہ ایوارڈ مسلمانوں کی دل آزاری کیلئے نہیں دیا گیا بلکہ اس کی ادبی خدمات کو سراہنا ہے۔ لیکن یہ وضاحت محض دھوکہ بازی اور کذب بیانی ہے۔ رشدی کو خطاب دینے کا مقصد اسلام پر تنقید کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہے اور اس میں اہل مغرب کی منصوبہ بندی شامل ہے۔
گستاخ رسول بد بخت و شیطان صفت رشدی کی کتاب شیطانی آیات کی تشہیر اور بعد میں رشدی کو سر کا خطاب دینا جہاں مرتد رشدی کے خبیث باطن اور انتہائی شریر ذہن کی علامت ہے، وہاں اس کے پیچھے مشترکہ سازش اسلام دشمن قوتوں کی تحریک، اسلام کے بڑھتے ہوئے اثرات کو ختم کرنے کی کوشش اور کروسیڈی ذہن کا بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ کیسے باؤلے کتے کی طرح مسلمانوں کے ایمان اور جان و مال کے دشمن ہیں۔ مسلمانان عالم کو اب ان تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا تا کہ تمام باطل قوتیں رشدی جیسے تمام کیڑے مکوڑوں سمیت حرف غلط کی طرح مٹ جائیں۔
گستاخ ملعونہ تسلیمہ نسرین:
لبرل ازم (Liberalism)،سیکولرازم (Secularism)، ماڈرن
☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
کیا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
ازم (Modernism)، مادر پدر آزاد ماحول بے ہنگم و بے لگام آزادی جیسے شوشے سرزمین مغرب سے خاردار جھاڑیوں کی طرح افق پر ابھرے اور ان نعروں کی گونج سے مرعوب ہو کر انسان معاشرتی واخلاقی اقدار سے بے بہرہ ہوتا چلا گیا اور اس آواز نے مسلم ممالک اور مسلمانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا تو اس سازش کے اثر نے اسلامی اقدار کو بھی کافی متاثر کیا، جس کے نتیجے میں مسلم نما انگریزوں نے مغرب کے عیاش اور فحش ذہن کی پیروی کرتے ہوئے امن وراحت، شانتی وسکون اور انسانی حقوق کے علمبردار دین اسلام پر تنقید شروع کر دی۔
شیطانی آیات کے شیطان صفت مصنف سلمان رشدی کی اسلام دشمنی، اہانتِ رسول، فحش وعریاں تحریر مشہور ومعروف ہے اس بد باطن شخص کی تحریر کے بعد اہلِ مغرب نے اسے تحفظ دیکر مسلمانانِ عالم کے قلوب واذہان کو چھلنی کر دیا۔ عالمِ اسلام اس دل آزار تحریک سے کراہ ہی رہا تھا کہ بنگلہ دیش کے علاقے میمن سنگھ کے ایک گھرانے میں پیدا ہونے والی تسلیمہ نسرین نامی عورت منظر پر آئی، جس نے اسلام کے پاکیزہ و مہذب احکام پر رکیک حملے کر کے قلم کی حرمت و شرافت کو پامال کیا۔ تسلیمہ بنگلہ دیش کے میڈیکل کالج میں طالب علمی کے زمانہ میں شعر بھی کہتی رہی اور کالج میں ادبی تنظیم کی صدر بھی رہی اور تعلیم سے فراغت کے بعد وہ مختلف سرکاری ہسپتالوں میں ملازمت کرتی رہی۔ پہلے اس نے جرائد ورسائل میں کالم لکھنے شروع کیے، جس میں اس نے ماحول، سوسائٹی اور مختلف اسلامی اقدار کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے ساتھ اس نے اپنے باغیانہ خیالات کو قلم و کاغذ کے ذریعے زبان دے کر لجا (شرم) جیسی بدنام زمانہ اور پھوہڑ کتاب لکھ کر مسلمانان بنگلہ دیش کی غیرت و خودداری پر حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں احتجاج اور مظاہرے ہونے لگے۔ غیرت مند مسلمانوں کے جذباتِ ایمانی بھڑک اٹھے اور اس کو واصل فی النار کرنے والے کیلئے
توہین رسالت پچاس ہزار کے انعام کا مسلمانوں کا احتجاج روز دیکھتے ہوئے تسلیمہ نسرین حکم نامہ جاری کیا۔ گرفتا مخالف بیانات سے عالم ممالک کی انسانی حقوق کی خلاف درج مقدمات کو علمبردار اہل مغرب کی سرپ انسان کی ذہنی اور اثر ہوتا ہے اگر کسی شخص کے ہو تو ایسے شخص کی گمراہی سوسائٹی بری ہو تو تعف رشدی اور تسلیمہ نسرین کا ہے۔ تسلیمہ نسرین کے حما رائے اس طرح بیان کی: 31 سالہ تسلیمہ نسرین کر کے عورتوں کی نام نہا ہے۔ کالج میں پڑھنے کے د اپنے والدین سے نماز ،روزہ ان سے یہاں تک کہہ دی
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
پچاس ہزار کے انعام کا اعلان کیا گیا۔ اس کے باطل نظریات کی وجہ سے بنگلہ دیشی مسلمانوں کا احتجاج روز بروز بڑھتا گیا اور بنگلہ دیش کی حکومت نے شدید عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے تسلیمہ نسرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا اور اس کی ناقابل ضمانت گرفتاری کا حکم نامہ جاری کیا۔ گرفتاری کے خوف سے تسلیمہ روپوش ہوگئی۔ ایک طرف تسلیمہ کے اسلام مخالف بیانات سے عالم اسلام میں شدید غم وغصہ پایا جارہا تھا اور دوسری طرف یورپی ممالک کی انسانی حقوق کی تنظیمیں تسلیمہ کی حمایت میں آواز بلند کرنے لگیں اور تسلیمہ کے خلاف درج مقدمات کو آزادی رائے پر حملہ قرار دیا جانے لگا۔ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار اہل مغرب کی سرپرستی میں تسلیمہ کو موقع میسر آیا اور وہ بنگلہ دیش سے فرار ہوگئی۔
انسان کی ذہنی اور فکری تعمیر میں فطرت وجبلت کے ساتھ ساتھ ماحول اور تعلیم کا بھی اثر ہوتا ہے اگر کسی شخص کے گھر کا ماحول خوشگوار ہو اور تعلیم وتربیت صاف وشفاف انداز میں ہو تو ایسے شخص کی گمراہی اور بے راہ روی کا امکان تقریباً مفقود ہوتا ہے، لیکن ماحول اور سوسائٹی بری ہو تو نتیجتاً انسان اپنی عیاشی، عریانی اور فحاشی کو سند جواز دینے کیلئے سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کا روپ دھار کر اسلام مخالف نظریات کی حمایت میں سرگرم ہوجاتا ہے۔ تسلیمہ نسرین کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے انڈیا کے ایک اردو ہفت روزہ نے اپنی رائے اس طرح بیان کی۔
31 سالہ تسلیمہ نسرین ایک عام ڈاکٹر ہے۔ اگرچہ اب اس نے اس مشغلہ کو ترک کرکے عورتوں کی نام نہاد آزادی اور ان کے حقوق کے سلسلہ میں لکھنا شروع کردیا ہے۔ کالج میں پڑھنے کے زمانے ہی سے وہ اسلام دشمن طبیعت کی مالک رہی ہے۔ اکثر اپنے والدین سے نماز، روزہ اور تلاوتِ قرآن کریم کے بارے میں مباحثہ بھی کرتی رہتی اور ان سے یہاں تک کہہ دیتی امی جان! آخر ان عبادات سے فائدہ کیا ہے؟ میں تو نہ اللہ کو
کیا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو ں سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
مانتی ہوں نہ ہی اس جنت پر ایمان رکھتی ہوں، جس کی تم تمنا کرتی ہو۔ اس کی ماں جواب میں کہتی ہے : بیٹی ! تمہارا یہ موقف اسلام کے خلاف معاندانہ ہے۔ اس کے اس معاندانہ نظریہ کا اصل سبب اس کی آزادانہ تفریح اور اجنبی مردوں کے ساتھ مجلسوں اور محفلوں میں اسلام کے مطالعہ کے بغیر اس پر بحث و تنقید ہے۔ انہی نظریات کی مظہر اس کی تحریریں ہیں۔
تسلیمہ نسرین نے اپنے ناول لجا میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد بنگلہ دیش میں مقیم ایک ہندو خاندان کی پریشانیوں کا احوال لکھا اور اس ناول میں کھل کر اس نے مسلمانوں اور اسلام کو ہدف تنقید بنایا اور مسلمانوں کے ہندوؤں پر مظالم کا جھوٹا واویلا کیا۔ تسلیمہ نسرین نے اسلامی تعلیمات کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ”قرآن پر تفصیلی نظر ثانی کی ضرورت ہے“ اس نے یہ بکواس کلکتہ کے دورے میں ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کی تو کلکتہ کے مسلمانوں نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ اس کے بعد اس نے وضاحتی خط شائع کرایا کہ ”میں قرآن پر نظر ثانی نہیں چاہتی بلکہ یہ کہتی ہوں کہ اب قرآن کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اب یہ بے عمل اور بے موقع ہو چکا ہے“ یعنی عذر گناہ از بدتر گناہ کے مصداق جو وضاحتی بیان جاری کیا وہ پہلے بیان سے بھی زیادہ اشتعال انگیزی پر مبنی ہے۔ دراصل تسلیمہ ایک آزاد خیال مغربی طرز فکر کی حامی عورت ہے بچپن سے ہی وہ محسوس کرنے لگی کہ بھائیوں کے مقابلے میں اسے زیادہ پابندیوں کا سامنا ہے۔ اس طرح وہ احساس کمتری کا شکار ہوگئی اور اس کی فکر میں آزاد خیالی در آئی۔ اسی سوچ کی بناء پر اس کی ازدواجی زندگی بھی کثیر مسائل کا شکار رہی اور بالآخر نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلا۔ بعد میں تسلیمہ نے اپنی ساری کوتاہیوں کا الزام اسلام کو دے دیا اور اسلامی عقائد و تعلیمات کے خلاف معاندانہ رویہ اپنا لیا۔
جب تسلیمہ نے سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے بے بنیاد فسانوں اور اپنی فکری آوارگی
توہین رسالت کو سطحی اور فحش تحریر کے انعامات دینا شروع ک (بھارت) کا سب سے جسے یہ ایوارڈ دیا گیا اور کیے سویڈن نے اسے ا تسلیمہ نسرین کی حوصلہ لیکچر کی دعوت دے کر ا حکومت نے تسلیمہ نسرین ہندوستان میں رہتے ہو معاشرتی قدروں کو خو خبردار کرنا چاہا تو اس دیگر الزامات لگائے۔ اس نے کئی بار اس با مسلسل عذاب میں مب شکار ہو چکی ہے اور مسل نسرین کو اس بات کا بخ گستاخان رسول کا شکار رہتے ہیں۔ اس ل ہو کر مغرب کی آغوش م مذہب کے بجا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
کو سطحی اور فحش تحریر کے ذریعے اسلام کے خلاف استعمال کیا تو یہود و ہنود نے اس پر اسے انعامات دینا شروع کیے ۔ بھارت کی اسلام دشمن طاقتوں نے تسلیمہ نسرین کو مغربی بنگال (بھارت) کا سب سے بڑا ایوارڈ ”آنند“ دیا۔ تسلیمہ نسرین بنگلہ دیش کی واحد لکھاری ہے جسے یہ ایوارڈ دیا گیا اور بہت سے ادیبوں اور مصنفین نے اس نامزدگی پر کھلے اعتراضات بھی کیے سویڈن نے اسے اسلام دشمنی پر مبنی لٹریچر لکھنے پر شہریت بھی دی۔ اسلام دشمن لابی اب بھی تسلیمہ نسرین کی حوصلہ افزائی میں مصروف ہے۔ اسے مختلف کالجز اور دیگر اداروں میں باقاعدہ لیکچر کی دعوت دے کر اسلام کے خلاف مذموم ارادوں کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھارتی حکومت نے تسلیمہ نسرین کو ایک مہمان کا درجہ دے کر نئی دہلی میں نامعلوم مقام پر ٹھہرایا۔ ہندوستان میں رہتے ہوئے تسلیمہ نے بیہودہ بیانات کا سلسلہ جاری رکھا اور اخلاقی اور معاشرتی قدروں کو خوب پامال کیا۔ وزارت خارجہ نے جب تسلیمہ کو بڑھتی ہوئی کشیدگی سے خبردار کرنا چاہا تو اس نے سویڈن واپسی کی راہ لی اور بھارت پر حبس بے جا اور اس طرح کے دیگر الزامات لگائے۔ ہندوستان میں رہتے ہوئے اس نے بار بار گھٹن اور بے چینی کا اظہار کیا اس نے کئی بار اس بات کا اظہار بھی کیا کہ وہ سسک سسک کر مر رہی ہے۔ زندگی اس کیلئے مسلسل عذاب میں تبدیل ہو چکی ہے اور تنہائی کی زندگی بسر کرتے ہوئے وہ دل کے امراض کا شکار ہو چکی ہے اور مسلسل ذہنی پریشانی کی وجہ سے اسکی بصارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ تسلیمہ نسرین کو اس بات کا بخوبی علم ہو گا کہ کن اسباب کی بنیاد پر وہ ایسی زندگی گزار رہی ہے؟
گستاخان رسول اور اللہ تعالیٰ کے دین اسلام کے مخالفین عموماً ایسے امراض اور تنہائی کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ آج یہ نام نہاد ادیبہ مسلمانوں کے انتقامی جذبہ سے خوفزدہ ہو کر مغرب کی آغوش میں اسلام اور اپنے آقاؤں کی پناہ میں زندگی گزار رہی ہے۔ مذہب کے بجائے سیکولر (Secular) معاشرے کے قیام کو وسعت دینے کیلئے
سے ایک وسق یا دو وسق قرض دے دو۔ کعب چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔
☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَ كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَ كَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ یہود و ہنود ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کے علاوہ ایک یہودی تھیو وان گوگ نے صومالیہ نژاد ڈچ رکن پارلیمنٹ آیان ہرسی علی کو خریدا اور اس کے تعاون سے دس منٹ کی ایک فلم تیار کی، جو قرآن پاک کی توہین پر مبنی ہے۔ اس فلم میں چار برہنہ خواتین کو یہ کہہ کر پیش کیا گیا کہ یہ مسلمان عورتیں ہیں، جن پر اسلام نے جبر و ستم کے پہاڑ ڈھائے اور ان عورتوں کے برہنہ اجسام پر ان قرآنی آیات کو تحریر کیا گیا جو عزت سے گھروں میں رہنے اور کھلے عام بے حیائی کے کاموں سے منع کرتی ہیں۔ اس فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد ایک مسلمان لڑکے نے تھیو وان گوگ کو قتل کر دیا۔ شہلا شفیق اور مریم نمازی ایران سے ملک بدر ہونے والی دو لڑکیاں بھی دنیاوی لذت و سرور کے لیے اپنے ایمان و ایقان کو متزلزل کرچکی ہیں اور کینیڈا میں رہائش پذیر ایک نام نہاد محقق ارشاد مانجی بھی اہل مغرب کے آستانوں سے اپنے ضمیر کی قیمت وصول کرچکا ہے۔
وہ مغرب جو آج اپنی ہی تہذیب سے عاجز و پریشان ہے، ناجائز طریقے سے مرد وزن کے اختلاط کا حامی مغربی معاشرہ ایڈز جیسی تباہ کن اور مہلک بیماریوں کی آگ میں جل رہا ہے۔ آج بچوں کو اپنے باپ تک کا علم نہیں، لیکن اسلام دشمنی کے جذبہ نے انہیں اندھا اور بہرا بنارکھا ہے۔ وہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہر موقع پر زہر اگلتے رہتے ہیں۔ ضمیر فروش لوگ جو جنسی تلذذ اور سستی شہرت کیلئے سب کچھ کرگزرنے کیلئے ہر وقت تیار ہوں، اصول وقواعد نام کی کوئی چیز جن کی زندگی میں کوئی معنی نہ رکھتی ہو، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کی جن کی نظر میں کوئی حیثیت نہ ہو، شہوانیت، جنسی میلان، بداخلاقی، لالچ وحرص نے جن کے فکر و خیال پر غلبہ پالیا ہو، جن کے دل و دماغ پر ڈالرز اور پونڈز کی چربی چڑھ چکی ہو تنظیموں اور حکومتوں کے بے وقعت ایوارڈ حاصل کرنے کیلئے جو اپنا ضمیر تک فروخت کرنے کیلئے تیار ہوں، وہ بیچارے اسلامی تعلیمات کی رحمتوں اور حکمتوں کو کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ اور
توہین رسالت انہیں کیا خبر کہ اسلام نے اسلام کی برکتوں سے اس پردۂ زنگاری مرزا غلام کذاب مثال آپ ہیں۔ آخر انہوں جن سے شیدایان اسلام اسلام اس آگ میں جلنے صدائے احتجاج کے برعکس کیلئے مال خرچ کیا۔ حکمران سنی میں مصروف ہو گئے۔ مسلمہ کے دل و دماغ کو چھلنی والے باطل واقعات، اسلام پس منظر کیا ہے؟ آخر وہ کون شکل وصورت رکھتے ہیں البتہ بھی مسلمان گھرانوں سے انتشار کا ایسا بیج بودیتے ہیں کہ آتی ہیں۔ وہ اصلاح انسانیت ایسی باتیں لکھ دی جاتی ہیں کہ مسلمان آپس میں کٹتے مرتے اور حبیب خدا ﷺ کے متعلق ش
سے ایک وسق یا دو وسق قرض دے دو۔ کعب نا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
198 سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کے علاوہ ان پارلیمنٹ آیان ہرسی علی کو خریدا اور اس آن پاک کی توہین پر مبنی ہے۔ اس فلم میں ن عورتیں ہیں، جن پر اسلام نے جبر و ستم پر ان قرآنی آیات کو تحریر کیا گیا جو عزت ہوں سے منع کرتی ہیں۔ اس فلم کے منظر ان گوگ کو قتل کر دیا۔ شہلا شفیق اور مریم بھی دنیاوی لذت و سرور کے لیے اپنے ق پر ایک نام نہاد محقق ارشاد مانجی بھی ل کر چکا ہے۔ زو پریشان ہے، ناجائز طریقے سے مرد گن اور مہلک بیماریوں کی آگ میں جل ن اسلام دشمنی کے جذبہ نے انہیں اندھا ب ہر موقع پر زہر اگلتے رہتے ہیں۔ ضمیر کچھ کر گزرنے کیلئے ہر وقت تیار ہوں، ی نہ رکھتی ہو، اخلاقی اور معاشرتی اقدار شیطان، بداخلاقی، لالچ و حرص نے جن پر ڈالرز اور پونڈز کی چربی چڑھ چکی ہو رنے کیلئے جو اپنا ضمیر تک فروخت کرنے ں اور حکمتوں کو کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ اور
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم علیہ السلام کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔
☆ بینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ 199
انہیں کیا خبر کہ اسلام کے دائمی اصولوں میں انسانیت کے کتنے فوائد مضمر ہیں ایسے اشخاص اسلام کی برکتوں سے ہمیشہ محروم ہی رہتے ہیں۔
اس پردہ زنگاری کے پیچھے کون ہے؟
مرزا غلام کذاب ہو، سلمان رشدی ہو یا تسلیمہ نسرین سب دل آزاری مسلم میں اپنی مثال آپ ہیں۔ آخر انہیں کیا سوجھی کہ انہوں نے زہر آلود، بے ہودہ اور سطحی سی تحریریں لکھیں جن سے شیدایان اسلام اور جانثاران مصطفیٰﷺ کے قلوب پارہ پارہ ہو گئے۔ پورا عالم اسلام اس آگ میں جلنے لگا۔ ہر طرف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عالم اسلام کی تڑپ اور صدائے احتجاج کے برعکس اہل مغرب نے ان اشخاص کو اعزازات سے نوازا۔ ان کے تحفظ کیلئے مال خرچ کیا۔ حکمران میڈیا اور اعلیٰ عہدیدار سب اسلام دشمن فکر کو مزید فعال کرنے کی سعی میں مصروف ہو گئے۔ پچھلی صدی سے وقتاً فوقتاً اور گذشتہ چند سالوں سے مسلسل اُمتِ مسلمہ کے دل و دماغ کو جھنجوڑنے اور ان کے دینی و مذہبی جذبات میں بھونچال پیدا کرنے والے باطل واقعات، اسلام دشمن خیالات و نظریات کی صورت میں رونما ہو رہے ہیں۔ ان کا پس منظر کیا ہے؟ آخر وہ کون سی قوتیں ہیں جن کی ترغیب و نمائش پر ایسے اشخاص جو اسلامی شکل و صورت رکھتے ہیں ان کے نام بھی مسلمانوں سے ملتے جلتے ہیں۔ بظاہر ان کا تعلق و رشتہ بھی مسلمان گھرانوں سے ہے، نام نہاد علمیت کے بھی دعویدار ہیں۔ مسلمانوں میں افتراق و انتشار کا ایسا بیج بو دیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ جن کی کتابیں بظاہر مدلل اور مربوط نظر آتی ہیں۔ وہ اصلاح انسانیت کے دعویدار دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کتب میں نفرت کی کچھ ایسی باتیں لکھ دی جاتی ہیں کہ قومِ مسلم میں قتال و جدال اور نفاق و انشقاق شروع ہو جائے۔ مسلمان آپس میں کٹنے مرنے لگیں، حبل اللہ ان کے ہاتھوں سے چھوٹنے لگے اسلام، قرآن اور حبیبِ خداﷺ کے متعلق قلوب و اذہان تشکیک کا شکار ہو جائیں اپنی کوئی رائے دینے کے
سے ایک دینار یا دو وسق قرض دے دو۔ کعب چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
بجائے زیادہ مناسب یہ ہے کہ ناقابل تردید شواہد کی بنیاد پر یہ معلوم کیا جائے ایسے اشخاص کون ہیں؟ ان کی ذہنی و فکری تربیت کہاں ہوتی ہے؟ اور اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟
ہمفرے کا اعتراف:
ہمفرے ایک برطانوی جاسوس تھا اور حکومت برطانیہ کے مشن کی تکمیل کیلئے اسے ذمہ داری دی گئی۔ اس نے اپنی یادداشتیں لکھیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ مجموعہ جرمنی کے ہاتھ لگا تو انہوں نے ایک رسالے اشپیگل میں اسے قسط وار شائع کر کے برطانوی استعمار کو خوب رسوا کیا۔ بعد میں لبنانی سکالر نے عربی میں ترجمہ کر کے چھاپ دیا اور اب اردو میں بھی یہ مجموعہ موجود ہے۔ اس سے برطانوی سامراج کی ملت اسلامیہ کے خلاف سازشیں بے نقاب ہوتی ہیں۔ ہمفرے اپنے اس مجموعہ میں لکھتا ہے۔
نو آبادیاتی امور کے خصوصی کمیشن کی مرضی کے مطابق وزیر نے خود مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہیں دو اہم رموز سے آشنا کروں۔ ان رموز سے واقفیت آئندہ تمہارے لیے مفید ثابت ہوگی اور ان دو باتوں سے نو آبادیاتی علاقوں کی وزارت کے صرف چند ایک ممبران ہی باخبر ہیں یہ کہہ کر اس نے میرا ہاتھ تھاما اور اپنے ساتھ وزارت خانہ کے ایک کمرے میں لے گیا۔ جہاں کچھ لوگ ایک گول میز کے اطراف بیٹھے ہوئے تھے۔ انہیں دیکھ کر تعجب سے میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی کیونکہ اس اجلاس کے آدمیوں کی کیفیت ہی کچھ یوں تھی۔
- 1- ہو بہو سلطنت عثمانی کا جلالت افروز پیکر جو ترکی اور انگریزی زبانوں پر بڑی
مہارت سے مسلط تھا۔
- 2- قسطنطنیہ کے شیخ الاسلام کی دوسری حقیقت سے قریب تصویر
- 3- شہنشاہ ایران کا زندہ مجسمہ
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔
☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسال
- 4- دربار ایران کے
- 5- نجف میں شیعوں
یہ آخری تین اف نزدیک ان کے پرائیویٹ لیے اس کا ترجمہ پیش کرنا میں مذکورہ پانچ شخصیتوں پانچ ہم شبیہ افراد کو بمعہ افراد کی مکمل تصویر بنایا گیا تھا تھے۔ سیکرٹری نے آغاز سخن کر رکھا ہے اور یہ بتانا چاہتے ہیں کا کیا خیال ہے، ہم نے اچھ وہ اپنی ہیئت کذائی کو حقیقت معلومات سے ہمارے سوالو کے ستر فیصد جوابات حقیقت ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ سیکرٹ ان میں سے کسی کا امتحان لے پوچھ سکتے ہو میں نے کہا: بصد قبلہ و کعبہ کیا آپ اپنے مقلد حکومت کی مخالفت پر کمربستہ ہو نقلی یا سوانگی مرجع تقلید
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
- 4- دربار ایران کے شیعہ عالم کی مکمل شبیہ
- 5- نجف میں شیعوں کے مرجع تقلید کا بے مثل سراپا
یہ آخری تین افراد فارسی اور انگریزی زبانوں میں گفتگو کر رہے تھے۔ سب کے نزدیک ان کے پرائیویٹ سیکرٹری براجان تھے جو ان کی باتوں کا نوٹ بنا کر حاضرین کے لیے اس کا ترجمہ پیش کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان تمام پرائیویٹ سیکریٹریوں کا کسی زمانے میں مذکورہ پانچ شخصیتوں سے بہت قریب کا رابطہ رہ چکا تھا اور ان کی مکمل رپورٹ کے تحت ان پانچ ہم شبیہ افراد کو بعینہ تمام عادات و خصائل کے ساتھ ظاہری اور باطنی اعتبار سے اصلی افراد کی مکمل تصویر بنایا گیا تھا۔ یہ پانچوں سوانگی اپنے فرائض اور مقام و منصب سے بخوبی آشنا تھے۔ سیکرٹری نے آغاز سخن کرتے ہوئے کہا: ان پانچ افراد نے اصلی شخصیتوں کا بہروپ بھر رکھا ہے اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کس طرح کی سوچ رکھتے ہیں اور آئندہ کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے، ہم نے استنبول، تہران اور نجف کی مکمل اطلاعات انہیں فراہم کر دی ہیں اب وہ اپنی ہیئت کذائی کو حقیقت پر محمول کیے بیٹھے ہیں اور اس احساس کے ساتھ اپنی حاصل کردہ معلومات سے ہمارے سوالوں کا جواب فراہم کرتے ہیں ہماری جانچ پڑتال کے مطابق ان کے ستر فیصد جوابات حقیقت کے عین مطابق ہیں یا یوں کہیے کہ اصلی شخصیتوں کے افکار سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ سیکرٹری نے اپنی گفتگو کے دوران مجھے مخاطب کر کے کہا: اگر تم چاہو تو ان میں سے کسی کا امتحان لے سکتے ہو۔ مثال کے طور پر نجف کے شیعہ مرجع تقلید سے جو چاہو پوچھ سکتے ہو میں نے کہا: بہت اچھا اور فوراً ہی کچھ سوالات پوچھ ڈالے۔ میرا پہلا سوال یہ تھا قبلہ و کعبہ کیا آپ اپنے مقلدین کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ سنی اور متعصب عثمانی حکومت کی مخالفت پر کمر بستہ ہوں اور ان کے خلاف اعلان جنگ کریں؟
نقلی یا سوانگی مرجع تقلید نے کچھ دیر سوچا اور کہا: میں مطلق جنگ کی اجازت نہیں
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
دیتا۔ کیونکہ وہ سنی مسلمان ہیں اور قرآن کی آیت کہتی ہے کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ صرف اس صورت میں جنگ جائز ہے، جب عثمانی حکمران ظلم وستم پر اُتر آئیں، ایسی حالت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تحت ان سے جنگ لڑی جاسکتی ہے وہ بھی اس وقت تک جب آثارِ ظلم زائل نہ ہوجائیں اور ظالم ظلم سے باز نہ آجائے۔
میں نے پھر دوسرا سوال پوچھا: حضور والا یہودیوں اور عیسائیوں کی نجاست کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ لوگ واقعی ناپاک ہیں؟
اس نے کہا: یہ دونوں فرقے مسلّمہ نجس ہیں اور مسلمانوں کو ان سے دور رہنا چاہیے۔
میں نے پوچھا: اس کی وجہ کیا ہے؟
اس نے جواب دیا: یہ دراصل مساویانہ سلوک کا مسئلہ ہے، کیونکہ وہ لوگ بھی ہمیں کا فر گردانتے ہیں اور ہمارے پیغمبر کی تکذیب کرتے ہیں۔
اس کے بعد میں نے پوچھا: پیغمبر اکرم (ﷺ) کی صفائی سے متعلق اتنی تاکیدات کے بعد کہ صفائی ایمان کی علامت ہے پھر کیوں حضرت علی ؓ کے صحنِ مطہر اور تمام بازاروں میں اس قدر گندگی پھیلی رہتی ہے؟
مرجع تقلید نے جواب دیا: بے شک اسلام نے صفائی اور ستھرائی کو ایمان کی دلیل جانا ہے مگر اس کو کیا کیا جائے کہ عثمانی حکومت کے عمال کی بے توجہی اور پانی کی قلت نے یہ صورت پیدا کی ہے۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ اس بناوٹی مرجع تقلید کی آمادگی اور حاضر جوابی نجف کے حقیقی مرجع تقلید کے عین مطابق تھی۔ فقط عثمانی حکومت کے عمال کی بے توجہی کی بات اس نے اپنی طرف سے اس میں ملائی تھی، کیونکہ نجف کے عالم کی زبان سے یہ جملہ نہیں سنا گیا تھا بہر حال میں اس ہم آہنگی اور مشابہت پر سخت متحیر تھا کیونکہ تمام جوابات بعینہ اصل مرجع تقلید
توہینِ رسالت: علمی و تاریخی جائزہ کے بیانات تھے۔ جسے اس نے فارسی میں پیش کیا تھا اور یہ نقلی مرجع بھی فارسی ہی میں گفتگو کر رہا تھا۔ سیکرٹری نے مجھ سے کہا: دیگر چار افراد سے بھی چاہو تو سوال کر سکتے ہو یہ چاروں افراد بھی تمہیں اصل شخصیتوں کی طرح جواب دیں گے۔
میں نے کہا: کہ میں استنبول کے شیخ الاسلام احمد آفندی کے افکار اور بیانات سے بخوبی واقف ہوں اور اس کی باتیں میرے حافظہ میں محفوظ ہیں آپ کی اجازت سے میں اس کے ہم شکل سے گفتگو کروں گا اس کے بعد میں نے پوچھا آفندی صاحب کیا عثمانی خلیفہ کی اطاعت واجب ہے؟
اس نے کہا: ہاں میرے بیٹے ! اس کی اطاعت، خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کی طرح واجب ہے۔ میں نے پوچھا: کس دلیل کی بنیاد پر؟
اس نے جواب دیا: کیا تم نے یہ آیت کریمہ نہیں سنی ہے کہ خدا اس کے رسول (ﷺ) اور اولی الامر کی اطاعت کرو۔
میں نے کہا: اگر ہر خلیفہ اولی الامر ہے تو گویا خدا نے ہمیں یزید کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے کیونکہ وہ اس وقت کا خلیفہ تھا درآنحالیکہ اس نے مدینہ کی تاراجی کا حکم دیا تھا اور سبطِ رسول ﷺ حضرت امام حسین ﷺ کو قتل کیا تھا۔ خداوند علیم کس طرح ولید کی اطاعت کا حکم دے گا جب کہ وہ شراب خور تھا۔
نقلی شیخ الاسلام نے جواب دیا: میرے بچے یزید اللہ کی طرف سے مومنوں کا امیر تھا، لیکن قتل حسین میں اس سے خطا ہو گئی تھی، جس کے لیے بعد میں اس نے توبہ کر لی تھی۔ مدینہ میں قتل و غارت کا سبب وہاں کے لوگوں کی سرکشی اور یزید کی اطاعت سے انحراف تھا، جس میں یزید کا قصور نہیں تھا۔ اب رہ گیا ولید تو اس میں شک نہیں کہ وہ شراب پیتا تھا، لیکن شراب میں پانی ملا کر پیتا تھا تا کہ اس کی مستی ختم ہو جائے اور یہ اسلام میں جائز ہے۔
اسے ایک وسق یا دو وسق قرض دے دو۔ کعب لانا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔
- ٭ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
نوٹ: (یزید ظالم و فاجر تھا اس کا ظلم وستم ظاہر ہے ظالم کی اطاعت ضروری نہیں اور شراب خوری اسلام میں مطلقاً حرام ہے اور یہ حرمت کسی شرط سے نہیں ٹوٹتی)۔
میں نے کچھ عرصہ قبل استنبول میں حرمتِ شراب سے متعلق مسئلہ کو وہاں کے شیخ الاسلام شیخ احمد سے دریافت کر لیا تھا اس کا جواب تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ لندن کے اس نقلی شیخ الاسلام کے جواب سے ملتا جلتا تھا، میں نے اصل سے نقل کی ایسی شباہت تیار کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے سیکرٹری سے پوچھا آخر اس کام سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے؟
اس نے جواب دیا: اس طرح ہم بادشاہوں اور سنی شیعہ علماء کے افکار اور ان کے میلان طبع سے آشنائی حاصل کرتے ہیں، پھر ان مکالمات کو پرکھا جاتا ہے اور ان سے نتائج اخذ کیے جاتے ہیں اور پھر ہم علاقے کے دینی اور سیاسی مسائل میں دخل اندازی کرتے ہیں۔ مثلاً اگر ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں عالم یا فلاں بادشاہ علاقہ کی مشرقی سرحدوں میں ہم سے مخاصمت پر اتر آیا ہے تو ہم اس کے عمل کو ناکارہ بنانے کے لیے ہر طرف سے اپنی توانائیوں کو اس سمت میں مرکوز کر دیتے ہیں لیکن اگر ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ ہمارا حقیقی دشمن کس مقام پر سرگرم عمل ہے تو پھر ہمیں اپنی توانائیوں کو علاقہ کے چپے چپے میں پھیلانا پڑتا ہے مذکورہ عمل ہمیں اس بات میں بھی مدد دیتا ہے کہ ہم اسلام کے احکام و فرامین سے ایک فرد مسلم کے طرز استنباط کو سمجھیں اور اس کے ذہن میں شک اور تذبذب پیدا کرنے کے لیے زیادہ واضح اور زیادہ منطقی مطالب فراہم کریں اور اس کے عقائد کو باطل قرار دیں۔ اختلافات تفرقے گڑبڑ اور مسلمانوں کے عقائد میں تزلزل پیدا کرنے کے لیے اس طرح کے اقدامات بے انتہا موثر پائے جاتے ہیں۔
اس کے بعد آگے چل کر ہمفرے دوسرے راز سے پردہ اُٹھاتے ہوئے اپنی ڈائری میں لکھتا ہے۔
توہین رسالت: علمی و
میں نے دوسری کتاب تھی۔ اس میں اسلامی ممالک عقائد وافکار جو حکومت کی کمزوری اسباب و علل وغیرہ پر گفتگو تھی تھی اور مسلمانوں کے کمزور پہل حق میں فائدہ اُٹھانے کی تداب کی طرف اشارہ کیا گیا تھا وہ ی
- 1۔ الف: شیعہ سنی اختلاف
- ب: حکمرانوں کے ساتھ قوم
- ج: ایرانی اور عثمانی حکومتی
- د: قبائلی اختلافات
- ہ: علماء اور حکومت کے م
- 2۔ تقریباً تمام مسلمان ح
- 3۔ فکری جمود اور تعصب
- 4۔ مادی زندگی سے بے ا
بہتر زندگی کے راستوں کو بند ک
- 5۔ خود سر فرمانرواؤں سے
- 6۔ امن وامان کا فقدان ا
کی سہولتوں اور حفظان صحت ک بیماریوں سے ہر سال آبادی کا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
میں نے دوسری کتاب لے کر اس کا مطالعہ شروع کیا یہ کتاب پہلی کتاب کو مکمل کرتی تھی۔ اس میں اسلامی ممالک سے متعلق نئی اطلاعات زندگی کے مختلف مسائل میں شیعہ سنی عقائد و افکار جو حکومت کی کمزوری یا توانائی کو ظاہر کرتے تھے اور مسلمانوں کی پسماندگی کے اسباب و علل وغیرہ پر گفتگو تھی۔ اس کتاب میں ان موضوعات پر بڑی سیر حاصل بحث کی گئی تھی اور مسلمانوں کے کمزور پہلوؤں یا طاقت کے ذرائع کو نمایاں کیا گیا تھا اور ان سے اپنے حق میں فائدہ اٹھانے کی تدابیر سمجھائی گئی تھیں۔ اس کتاب میں مسلمانوں کی جن کمزوریوں کی طرف اشارہ کیا گیا تھا وہ یہ تھیں۔
- 1۔ الف: شیعہ سنی اختلاف
- ب: حکمرانوں کے ساتھ قوموں کے اختلافات
- ج: ایرانی اور عثمانی حکومتوں کے اختلافات
- د: قبائلی اختلافات
- ہ: علماء اور حکومت کے عہدہ داروں کے درمیان غلط فہمیاں
- 2۔ تقریباً تمام مسلمان ملکوں میں جہالت اور نادانی کی فراوانی
- 3۔ فکری جمود اور تعصب روزانہ کے حالات سے بے خبری کام و محنت کی کمی
- 4۔ مادی زندگی سے بے توجہی، جنت کی اُمید میں حد سے زیادہ عبادت جو اس دنیا میں
بہتر زندگی کے راستوں کو بند کر دیتی تھی
- 5۔ خود سر فرمانرواؤں کے ظلم و استبداد
- 6۔ امن و امان کا فقدان شہروں کے درمیان سڑکوں اور راستوں کا فقدان علاج معالجے
کی سہولتوں اور حفظان صحت کے اصولوں کا فقدان، جس کی بنا پر طاعون یا اس جیسی متعدی بیماریوں سے ہر سال آبادی کا ایک حصہ موت کی نذر ہو جاتا۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
- 7- شہروں کی ویرانی آبپاشی کے نظام کا فقدان زراعت اور کھیتی باڑی کی کمی
- 8- حکومتی دفتروں میں بدانتظامی اور قاعدے قوانین کا فقدان قرآن اور احکام شریعت
کے احترام کے باوجود عملی طور پر اس سے بے توجہی
- 10- پس ماندہ اور غیر صحت مندانہ اقتصاد پورے علاقے میں غربت اور بیماری کا دور دورہ
- 11- صحیح تربیت یافتہ فوجوں کا فقدان اسلحہ اور دفاعی سازوسامان کی کمی اور موجودہ اسلحوں
کی فرسودگی
- 12- عورتوں کی تحقیر اور ان کے حقوق کی پامالی
- 13- شہروں اور دیہاتوں کی گندگی ہر طرف کوڑے کرکٹ کے انبار سڑکوں شاہراہوں
اور بازاروں میں اشیائے فروخت کے بے ہنگم ڈھیر وغیرہ
یہ ہمفرے کی گواہی ہے جسے حکومت برطانیہ نے جاسوسی کا اعلیٰ ایوارڈ بھی دیا۔ ہمفرے انگریز کے گھر کا آدمی ہے اس نے ڈائری حکومت برطانیہ کے راز افشا کرنے کے لیے نہیں لکھی: بلکہ یہ تو اتفاقاً جرمنی کے ہاتھ لگی تو اسے شائع کر دیا گیا اور یوں سازشوں کا پردہ چاک ہو گیا۔
ایک ہولناک انکشاف:
ہندوستان میں جب انگریز کا تسلط قائم تھا ۔ نواب چھتاری کو انگریز نے یو۔ پی کا گورنر مقرر کیا اور ایک مرتبہ ہندوستان کے گورنروں کو مشورے کے لیے انگلینڈ بلایا گیا وہاں نواب چھتاری نے جو کچھ دیکھا اس حوالے سے ”عالم اسلام میں عیسائیت کی خفیہ سرنگ “ کے نام سے ہدیٰ ڈائجسٹ اپریل 93 میں محمد آصف دہلوی کا ایک مضمون شائع ہوا موصوف ایک شخص کی ملاقات کے حوالے سے لکھتے ہیں۔
وہ قصہ یوں ہے، میرے ایک دوست جو علی گڑھ میں نواب چھتاری کے یہاں کسی
ے ایک وسق یا دو وسق قرض دے دو۔ کعب نا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔
☆ بینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
راحت اور کھیتی باڑی کی کمی دین کا فقدان قرآن اور احکام شریعت
لانے میں غربت اور بیماری کا دور دورہ کی ساز و سامان کی کمی اور موجودہ اسلحوں
ے کرکٹ کے انبار، سڑکوں شاہراہوں
جاسوسی کا اعلیٰ ایوارڈ بھی دیا۔ ہمفرے کے راز افشا کرنے کے لیے نہیں لکھی: مل سازشوں کا پردہ چاک ہو گیا۔
واب چھتاری کو انگریز نے یو۔ پی کا مشورے کے لیے انگلینڈ بلایا گیا وہاں الم اسلام میں عیسائیت کی خفیہ سرنگ صف وعلوی کا ایک مضمون شائع ہوا
میں نواب چھتاری کے یہاں کسی
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ اونچی ملازمت پر تعینات تھے اور نواب صاحب ان سے کافی بے تکلف تھے ۔ انہوں نے یہ واقعہ سنایا کہ نواب صاحب ہندوستان کی تقسیم سے پہلے انگریزوں کے بڑے بہی خواہ تھے۔ وہ مسلم لیگ اور کانگریس پارٹی سے بالکل لاتعلق تھے اور سیاست میں انگریزوں کے ہر طرح مدد گار تھے، اس لیے انگریزی حکومت نے ان کو یو ۔ پی کا گورنر بنا دیا تھا۔ ایک بار برطانوی حکومت نے سب ہندوستانی صوبوں کے گورنروں کو مشورے کیلئے انگلستان بلایا تو نواب صاحب بھی بحیثیت گورنر انگلستان گئے ۔ یہاں علی گڑھ کا جو بھی کلکٹر نیا آتا تھا ان سے برابر ملتا رہتا تھا اور کبھی کبھی آگرہ کا کمشنر بھی ۔ ان سب افسروں کے نواب صاحب سے عمدہ تعلقات تھے ۔ جب نواب صاحب لندن پہنچے تو جو کلکٹر اور کمشنر ان کے پرانے ملاقاتی تھے اور ریٹائر ہو کر انگلستان چلے گئے تھے جب انہیں نواب صاحب کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ ملنے آئے ان میں سے ایک کلکٹر جو نواب صاحب سے بہت مانوس تھا ۔اس نے کہا: نواب صاحب! آپ یہاں تشریف لائے ہیں تو آئیے میں آپ کو یہاں کے عجائب خانے دکھادوں، جن میں ہزاروں برس پرانی ایسی ایسی چیزیں ہیں جو آپ نے کبھی دیکھی نہ سنی ہوں گی نواب صاحب نے کہا: عجائب خانے تو میں نے سب دیکھ لیے حکومت نے دکھا دیے اور یہاں جو بھی آتا ہے یہ دیکھ کر ہی جاتا ہے، البتہ اگر تم کچھ دکھانا چاہتے ہو تو ایسی چیز دکھاؤ جو یہاں سے اور کوئی دیکھ کر نہ گیا ہو انگریز کلکٹر نے کہا: نواب صاحب! ایسی کون سی چیز ہو سکتی ہے۔ جسے اور کوئی دیکھ کر نہ گیا ہو؟ اچھا میں سوچ کر پھر بتاؤں گا: دو روز بعد وہ آیا اور اس نے کہا: کہ نواب صاحب میں نے سوچ لیا اور معلومات بھی حاصل کر لی ہیں اب آپ کو ایسی چیز دکھاؤں گا جو اور کوئی یہاں سے دیکھ کر نہیں گیا۔ اس پر نواب صاحب خوش ہو گئے کہ بس ٹھیک ہے کلکٹر نے نواب صاحب سے پاسپورٹ مانگا اور کہا : وہ جگہ دیکھنے کے لیے حکومت سے تحریری اجازت لینی ہوتی ہے اس لیے پاسپورٹ کی بھی ضرورت ہوگی۔ ایک دو روز کے بعد
اسے ایک وسق یا دو وسق قرض دے دو۔ کعب انا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔
☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ وہ نواب صاحب کا اور اپنا تحریری اجازت نامہ لے کر آیا اور کہا: کہ کل صبح آپ میری موٹر میں چلیں گے سرکاری موٹر نہیں لے جائیں گے نواب صاحب اس پر راضی ہو گئے۔ اگلے روز نواب صاحب اس کے ساتھ روانہ ہوئے شہر سے نکل کر ایک طرف جنگل شروع ہو گیا اس میں ایک چھوٹی سی سڑک تھی جس پر جوں جوں چلتے گئے جنگل گھنا ہوتا چلا گیا راستے میں کوئی پیدل چلتا نظر آیا نہ کسی سواری پر نظر پڑی کسی طرح آمدورفت کا سلسلہ نہیں تھا۔ چلتے چلتے کوئی آدھ گھنٹہ گزرا تو نواب صاحب نے دریافت کیا، کیا دکھانے کے لیے جا رہے ہو؟ کوئی جنگلی جانور ہے یا تالاب جس میں خاص قسم کے جانور ہیں اس طرف آبادی ہے نہ آمدورفت ابھی کتنا اور چلنا ہے؟ اس نے کہا: بس تھوڑی دیر اور چلنا ہے۔ جنگلی جانور یا تالاب وغیرہ نہیں دکھانا ہے تھوڑی دیر بعد ایک بڑا دروازہ آیا جو ایک بڑی عمارت کے مین گیٹ کی صورت میں تھا۔ اس میں آگے اور پیچھے دروازے تھے۔ دونوں طرف فوج کا پہرہ تھا ۔ کلکٹر نے موٹر سے اتر کر پاسپورٹ اور تحریری اجازت نامہ دکھایا۔ اس نے دونوں رکھ لیے اور اندر آنے کی اجازت دے دی۔ مگر یہ کہا: کہ آپ اپنی موٹر یہیں چھوڑ دیجیے اور اندر جو موٹریں کھڑی ہیں ان میں سے کوئی لے لیجیے۔ نواب صاحب نے یہ دیکھا یہ دروازہ کسی عمارت کا نہیں تھا اور اس کے دونوں طرف دیواروں کے بجائے بہت گھنی جھاڑیاں اور کانٹے دار درخت تھے جن میں سے کسی کا گزرنا ممکن نہ تھا۔ موٹر چلتی رہی مگر گھنے جنگل اور جنگلی درختوں کی دیوار کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ نواب صاحب نے گھبرا کر پوچھا کب وہاں پہنچیں گے؟ اس نے کہا: بس پہنچ گئے دیکھیے وہ جو عمارت نظر آرہی ہے وہاں جانا ہے۔ پھر اس نے خاص طور سے یہ کہا: کہ اس عمارت میں جب داخل ہوں گے تو ہر چیز دیکھیے مگر آپ کسی قسم کا کوئی سوال کسی سے نہیں کریں گے۔ بالکل خاموش رہنا ہے۔ آپ کو جو کچھ دریافت کرنا ہو وہ مجھ سے پوچھ لیجیے گا، ویسے تو میں خود ہی بتاتا جاؤں گا۔ نواب صاحب نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ عمارت سے تھوڑے فاصلے پر بڑھے۔ یہ ایک بڑی سی عمارت تھی۔ شروع جب دالان میں داخل ہوئے تو ایک نوجو رومال ڈالے ایک کمرے سے نکلا۔ ایک لوگوں نے پہلے کمرے سے نکلنے والے لڑ دیا: وعليكم السلام کیا حال ہے؟ قریب سے گزرے تو نواب صاحب نے منع کر دیا۔ پھر کلکٹر نے انہیں ایک کمرے ہے اور اس پر عربی لباس میں متعدد طلب طرح بیٹھے سبق پڑھا رہے ہیں جیسے اسلا اور کبھی انگریزی میں سوال کرتے تھے کمرے میں جو تعلیم ہو رہی تھی وہ بھی با رہا ہے۔ کہیں قرأت سکھائی جا رہی ہے پڑھائی جا رہی ہیں۔ کسی جگہ بخاری شر مسائل سکھائے جا رہے ہیں اور کہیں ا سب دیکھ کر نواب صاحب بہت حیرا کمرے سے نکلتے وقت کوئی سوال کریں یہ سب کچھ دیکھ کر جب واپس ا ہے جس میں اسلام کے ہر پہلو کی اس قد ہیں۔ آخر ان مسلمان طلبہ کو اس طرح طر
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
عمارت سے تھوڑے فاصلے پر انہوں نے موٹر چھوڑ دی اور پیدل عمارت کی طرف بڑھے۔ یہ ایک بڑی سی عمارت تھی۔ شروع میں دالان تھا اس کے پیچھے متعدد کمرے تھے۔ جب دالان میں داخل ہوئے تو ایک نوجوان ڈاڑھی مونچھوں والا عربی کپڑے پہنے اور سر پر رومال ڈالے ایک کمرے سے نکلا۔ ایک دوسرے کمرے سے ایک دو نوجوان اور نکلے۔ ان لوگوں نے پہلے کمرے سے نکلنے والے لڑکے سے کہا: السلام علیکم دوسرے نے جواب دیا: و علیکم السلام کیا حال ہے؟ نواب صاحب حیران رہ گئے۔ جب لڑکے ان کے قریب سے گزرے تو نواب صاحب نے کچھ دریافت کرنا چاہا، مگر کلکٹر نے فوراً اشارے سے منع کر دیا۔ پھر کلکٹر نے انہیں ایک کمرے کے دروازے پر جا کھڑا کیا۔ دیکھا کہ اندر فرش بچھا ہے اور اس پر عربی لباس میں متعدد طلبہ بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے ان کے استاد بالکل اسی طرح بیٹھے سبق پڑھا رہے ہیں جیسے اسلامی مدرسوں میں استاذ پڑھاتے ہیں۔ طلبہ عربی میں اور کبھی انگریزی میں سوال کرتے تھے۔ کلکٹر نے نواب صاحب کو سب کمرے دکھائے اور ہر کمرے میں جو تعلیم ہو رہی تھی وہ بھی بتائی۔ نواب صاحب نے دیکھا کہیں کلام مجید پڑھایا جا رہا ہے۔ کہیں قرأت سکھائی جارہی ہے۔ کہیں معنی اور تفسیر کا درس ہو رہا ہے، کہیں احادیث پڑھائی جا رہی ہیں۔ کسی جگہ بخاری شریف کا سبق ہو رہا ہے اور کہیں مسلم شریف، کہیں مسئلے مسائل سکھائے جا رہے ہیں اور کہیں اصطلاحات کی وضاحت اور کہیں مناظرہ ہو رہا ہے یہ سب دیکھ کر نواب صاحب بہت حیران ہوئے۔ ان کا جی چاہتا تھا کہ کسی طالب علم سے کمرے سے نکلتے وقت کوئی سوال کریں گے، مگر کلکٹر ان کو اشارے سے روک دیتا تھا۔
یہ سب کچھ دیکھ کر جب واپس ہوئے تو نواب صاحب نے کہا: کہ اتنا بڑا دینی مدرسہ ہے جس میں اسلام کے ہر پہلو کی اس قدر عمدہ تعلیم اور باریک سے باریک باتیں سکھائی جا رہی ہیں۔ آخر ان مسلمان طلبہ کو اس طرح علیحدہ کیوں بند کر رکھا ہے اور کیوں چھپا رکھا ہے؟ کلکٹر
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
نے کہا: کہ ان میں کوئی مسلمان نہیں سب عیسائی ہیں۔ نواب صاحب کو مزید حیرت ہوئی اور انہوں نے اس کی وجہ دریافت کی تو کلکٹر نے کہا: کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں مسلمان ممالک میں خصوصاً شرقِ اوسط بھیج دیا جاتا ہے۔ وہاں یہ لوگ کسی بڑے شہر کی کسی بڑی مسجد میں جاکر نماز میں شریک ہوتے ہیں اور نمازیوں سے کہتے ہیں کہ وہ انگریز ہیں۔ انہوں نے مصر میں ازہر یونیورسٹی میں تعلیم پائی اور مکمل عالم ہیں۔ انگلستان میں اسلامی ادارے نہیں جہاں وہ تعلیم دے سکیں اور نہ مسجدیں ہیں اس لیے جلا وطنی اختیار کی ہے۔ وہ سَر دست تنخواہ نہیں چاہتے بلکہ انہیں صرف کھانا اور سر چھپانے کا ٹھکانا اور پہننے کے کپڑے درکار ہیں۔ وہ مسجد میں مؤذن یا پیش امام یا بچوں کو کلام مجید کے معلم کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کو تیار ہیں۔ اگر کوئی بڑا تعلیمی ادارہ ہو تو اس میں استاد کی حیثیت سے کام کر سکتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو مسجد یا مدرسے میں رکھ لیا جاتا ہے تو مقامی لوگ بطور امتحان ان سے مسئلہ مسائل بھی معلوم کر لیتے تو وہ کافی و شافی جواب دیتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد جب کوئی اختلافی مسئلہ آتا ہے تو لوگ ان کے معتقدین ہو جاتے ہیں اور وہ اس اختلافی مسئلے پر ان کی دو پارٹیاں بنا کر خوب اختلاف پیدا کر دیتے ہیں اور مسلمانوں کو اچھی طرح آپس میں لڑاتے ہیں۔ سو اس ادارے کا پہلا اصلی مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو باہم لڑاؤ، چنانچہ شرق اوسط میں گرجاؤں کے پادریوں کے ایک سالانہ جلسے میں ZAVYAR نامی پادری نے بحیثیت صدر اپنی تقریر میں کہا: کہ مسلمانوں سے ہم مناظرے میں نہیں جیت سکتے، اس لیے ہم نے اسے چھوڑ کر یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ انہیں آپس میں لڑاؤ، اس میں ہم کامیاب ہیں۔ لہٰذا ہمیں اس پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ اس مدرسے کا مقصد یہ ہے کہ حضور کا درجہ جس طرح بھی ہو سکے گھٹاؤ، تا کہ مسلمانوں کے دلوں میں جو ان کی عزت و محبت ہے وہ کم ہو جائے۔ اس کے بغیر مسلمانوں پر قابو نہیں پاسکتے کیونکہ مسلمانوں کے اختلافات سے اسلام ختم نہیں ہوسکتا۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ہیمفرے کی گواہی اور نواب چھتاری کے اس انکشاف کو پڑھنے کے بعد ہم گردو پیش پر نظر دوڑائیں تو حالات ان باتوں کی سچائی کی چغلی کھاتے ہیں مسلم حکمرانوں کی بے حسی۔ اسلامی ممالک کے نظام تعلیم پر غیر مسلم ماہرین کا قبضہ۔ بیوروکریٹس کی مغربی انداز فکر کے حامل اداروں میں تربیت۔ قبائلی تعصبات کی آگ۔ ذات مصطفیٰ ﷺ پر مختلف حوالوں سے اُمت مسلمہ کے قلوب واذہان میں شکوک وشبہات پیدا کرنا۔ مسلمانوں کے آپس میں اختلافات کو ہوا دے کر قتل وغارت کا سلسلہ۔ شیطانی آیات و لجا جیسے ناولوں کی اشاعت۔ عالمِ اسلام میں معاشی اقتصادی اور مہنگائی کے مصنوعی بحران کے اصل عوامل ومحرکات اور کفار کی شیطانیت اور خباثت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔
گستاخانہ خاکوں کی اشاعت:
مغرب کی تاریخ، کلیسا کی داستان اور وہ اصول وقواعد جو مذہب کے نام سے وہاں موجود ہیں اگر انہیں پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ مذہب سے بیزاری ایک قدرتی امر ہے۔ کیونکہ ان قواعد وضوابط میں انسان کی روحانی تسکین کا کوئی سامان موجود نہیں۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اہل مغرب مذہب سے بہت دور ہو گئے۔ وہ عقل پر تکیہ کر کے اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ علوم جدیدہ کے آفتاب نے اس عالم کو اس قدر روشن کر دیا ہے کہ اب مذہب کی شمع کی کوئی ضرورت نہیں۔ مذہبی و اخلاقی اقدار ان کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ اسرائیل کے قیام سے قبل عیسائی دنیا میں یہودیوں پر جب بھی برا وقت آیا، انہوں نے اسلامی ممالک میں پناہ لی۔ یہودی آج بھی اسلامی سپین میں اپنے سنہری دور کو یاد کرتے ہیں مگر اسرائیل کے قیام کے بعد عالمی حالات یکسر تبدیل ہو گئے۔ اب یہودیوں کو عیسائیت کی مسلسل امداد کی ضرورت ہے آج امریکہ و یورپ اگر اسرائیل سے
سے ایک وسق یا دو وسق قرض دے دو۔ کعب چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔
☆ بینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ اَعْمٰی كَانَ عَلٰی عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ وَ كَانَتْ لَهٗ اُمُّ وَلَدٍ ، وَ كَانَ لَهٗ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
اعلان لاتعلقی کر دیں تو اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے۔ اس لیے یہودیوں کی ہر ممکن کوشش ہے کہ عیسائی دنیا اور اسلامی دنیا ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہیں۔ تاکہ یہودی آسانی سے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ عیسائیوں اور یہودیوں کے اس گٹھ جوڑ نے اسلام دشمنی کو مزید پروان چڑھایا، جس کے نتیجے میں مستشرقین باؤلے کتے کی طرح مسلسل اسلامی اقدار پر حملے کرنے لگے۔ مسلم امہ کے حکمران طبقہ کی پراسرار خاموشی اور بے حسی کی وجہ سے ان کے حوصلے بڑھتے گئے اور انہوں نے براہ راست سید کائنات سرور عالم ﷺ کی ذات گرامی کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔
30 ستمبر 2005ء کو ڈنمارک کے ایک اخبار جیلانڈ پوسٹن نے باعث تخلیق کائنات، تاجدار کون ومکاں، قائد المرسلین، خاتم الرسل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرتے ہوئے آپ سے متعلق شیطانی خاکے شائع کر ڈالے۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی خبر جیسے جیسے عالم اسلام میں پھیلتی گئی مسلمانوں کا غصہ بڑھتا چلا گیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف گستاخی مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہے کیونکہ ہر مسلمان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی محبت ہر چیز پر فوقیت رکھتی ہے۔ مشرق وسطیٰ اور دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے مسلمانوں نے اس اخبار کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔ ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ شروع کر دیا گیا۔ اسلامی دنیا سے تعلق رکھنے والے ممالک کے ڈنمارک میں متعین سفیروں نے اپنی اپنی حکومتوں کی جانب سے مذہبی و احتجاجی خطوط ڈنمارک کی حکومت کے سپرد کیے۔ ان ممالک میں پاکستان، الجزائر، انڈونیشیا، سعودی عرب، لیبیا، ترکی، ایران، مراکش اور ڈنمارک میں متعین فلسطینی وفد شامل تھے۔ مذکورہ یاداشتوں میں ڈنمارک کے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اشتعال انگیز خاکوں کے مجرمین کے خلاف تادیبی کاروائی کریں۔ مسلمانوں کے شدید ردعمل اور سفیروں کے
توہین رسالت مطالبے کے جواب م انتظامیہ اور وہاں کے کو وضاحت دینا شروع ڈنمارک کے بد بخت صحافت اور اظہار رائے حکومت اخبارات کے میں ٹانگ اڑائے گی ا مذہبی جذبات مجروح دریدہ دہن ایڈیٹر فلیم صفحات کو سیاہ کرنا شروع کے لیے شائع کیے۔ جم مظاہرے کیے، گستاخا ڈنمارک کی انتظامیہ خطوط لکھے اور انہیں زبا ڈنمارک کے وزیر اعظم اس نے بڑی رعونت س اہانت میں اخبار کو حکوم اس سے قبل ج خاکے بنانے کی پیش ک ردعمل سامنے آنے کا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
مطالبے کے جواب میں معذرت کرنے کے بجائے اس اخبار کے ایڈیٹر، کالم نگار، کارکنان، انتظامیہ اور وہاں کے ارباب اقتدار نے اس گستاخی کو اپنا استحقاق سمجھتے ہوئے ملت اسلامیہ کو وضاحت دینا شروع کر دی کہ یہ آزادی صحافت ہے، اس بارے میں ہم آزاد ہیں ڈنمارک کے بدبخت وزیر اعظم نے اس اخبار کا دفاع کرتے ہوئے بیان دیا کہ آزادی صحافت اور اظہار رائے کی آزادی ڈنمارک سوسائٹی کا حصہ ہے ، اس لیے ڈنمارک کی حکومت اخبارات کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرے گی اور نہ ہی اخبارات کے معاملات میں ٹانگ اڑائے گی اور اگر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ مذکورہ خاکوں کی اشاعت سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے تو وہ عالمی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس اخبار کے دریدہ دہن ایڈیٹر فلیمنگ روز نے اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے اخبار کے صفحات کو سیاہ کرنا شروع کر دیا، جس میں بدبخت غنڈوں اور گستاخوں کے انٹرویوز اپنی تائید کے لیے شائع کیے۔ جب ڈنمارک کے مسلمانوں نے وہاں کے علماء کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے کیے، گستاخانہ خاکے چھاپنے والے اخبارات کو چوراہوں کے بیچ جلایا گیا تو ڈنمارک کی انتظامیہ نے اخبار کے یہودی ایڈیٹر کے ایما پر مسلمانوں کے نام دھمکی آمیز خطوط لکھے اور انہیں زبان بند رکھنے کے متعلق کہا گیا، جب اسلامی ممالک کے سفیروں نے ڈنمارک کے وزیر اعظم سے ملاقات کر کے اسے مسئلہ کی حساسیت کے متعلق آگاہ کرنا چاہا تو اس نے بڑی رعونت کے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا۔ جس سے یہ واضح ہو گیا کہ اس اہانت میں اخبار کو حکومت کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔
اس سے قبل جب ایک کارٹونسٹ نے اسی اخبار کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خاکے بنانے کی پیش کش کی تو اس اخبار کے ایڈیٹر نے کہا تھا کہ ایسی اشاعت کے بعد سخت ردعمل سامنے آنے کا خدشہ ہے۔ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت و حرمت کے بھی قائل
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ہیں وہ ان کے خاکوں سے خوش نہیں ہوں گے۔ لیکن جب سرور عالم ﷺ کے توہین آمیز خاکے تیار کرنے کا ارادہ کیا گیا تو اس وقت ایسے کسی خدشے کا اظہار کیوں نہ کیا گیا؟ بلکہ اخبارات کے صفحۂ اوّل پر وہ گستاخانہ خاکے شائع کر کے یہ بیان دیا گیا کہ مغرب میں مذہبی شخصیات کے بارے میں توہین آمیز مواد کی اشاعت کی اجازت ہے۔ مشہور کالم نگار اور صحافی رابرٹ فسک نے ایک برطانوی اخبار میں لکھا: ہم لوگ اپنے مذہبی جذبات کی توہین برداشت نہیں کر پاتے مگر مسلمانوں سے یہ توقع ہے کہ وہ ان گھٹیا خاکوں کی اشاعت پر تحمل سے کام لیں گے۔ عجیب منطق ہے کہ اپنی بات آئے تو پہلو بدل لیا جائے، جب اسلام اور مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں تو انہیں صبر و تحمل کی تلقین کی جائے، یعنی کافر حضور سید عالم ﷺ پر تنقید اپنا حق سمجھتے ہیں اور جب مسلمان پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین پر احتجاج کرتے ہیں تو یہی لوگ مسلمانوں کو دہشت گردی کا طعنہ دیتے ہیں۔ اگر اخلاقی و مذہبی اقدار کی پامالی کا نام ہی آزادی اظہار رائے ہے تو پھر جرمنی، آسٹریلیا اور دیگر یورپی ممالک میں یہودیوں کے ہولو کاسٹ کو چیلنج کرنا کیوں قانوناً جرم ہے؟ پھر یہ اخبار کسی یہودی ربی یا عیسائی پوپ کے سر پر بم کے ڈیزائن والی ٹوپی کے خاکے کیوں نہیں شائع کرتے۔
دراصل اسلام دین فطرت ہے اور جو کوئی تعصب سے ہٹ کر اسلام کا مطالعہ کرتا ہے، اسے اسلام کو بحیثیت مذہب قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی بلکہ اسلام قبول کرنے سے وہ روحانی لذت حاصل کرتا ہے اور مستشرقین باوجود کوشش کے حضور تاجدار کائنات، جان عالمین ﷺ کی ذات اقدس میں کوئی نقص تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ جب وہ ذات گرامی خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ كُلِّ عَیْبٍ کی شان رکھتی ہے تو اس میں کیسے کوئی عیب تلاش کیا جا سکتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ کی بے داغ سیرت اور دینِ فطرت ہونے کے ناطے اسلام یورپ میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی وجہ سے یہود و ہنود کی نیندیں حرام ہو
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
چکی ہیں اور وہ آئے دن اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں۔
ڈنمارک کے ایک مصنف نے بچوں کے لیے ایک کتاب لکھی اور وہ اس کتاب میں ایسی تصاویر شائع کرنا چاہتا تھا، جس سے یہ تاثر سامنے آسکے کہ (نعوذ باللہ) پیغمبر اسلام اور اسلام ظلم و جبر اور تشدد کا راستہ سکھاتا ہے۔ مگر وہ مسلمانوں کی طرف سے سخت ردعمل سے بھی خوفزدہ تھا۔ جس وجہ سے وہ کافی عرصہ اپنی ناپاک حرکت سے باز رہا جب جیلانڈ پوسٹن کے ایڈیٹر کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ کر لیا۔ اس نے اس سلسلے میں کئی مصوروں سے رابطہ کیا ، کچھ نے تو یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ خاکوں کی اشاعت کے بعد کوئی مسلمان انہیں قتل کر ڈالے گا لیکن ایک بدبخت مصور نے اپنا نام و پتہ صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر چند ٹکوں کے عوض یہ مذموم حرکت کی۔
ویسے تو مغرب میں تہذیب و تمدن اور شرم و حیا نام کی چیزیں ناپید ہیں۔ اہل مغرب مذہبی طور پر اپنے آپ کو عیسائیت اور یہودیت کی طرف منسوب کرتے ہیں، لیکن حقیقتاً وہ لادین اور سیکولر ذہنیت کے حامل ہیں۔ مغرب میں کئی فیصد آبادی اپنے باپ کے نام سے بھی ناواقف ہے ۔ انسان اور جانوروں کے درمیان بڑا اور واضح فرق ایک یہ بھی ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پالیتا ہے اور جانوروں میں یہ صلاحیت مفقود ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سورۃ اعراف میں خود سر، سرکش، نافرمان، ذلت کی گہرائیوں میں بھٹکے ہوئے کافروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ
وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ۔
ایسے لوگ انسانی فطرت کی حدود و قیود سے عاری ہوتے ہیں ان کے اذہان و قلوب مذہب کی لذت اور روحانی کیف و سرور سے خالی ہوتے ہیں اور ان کی زندگیاں عبادت و
سے ایک وسق یا دو وسق قرض دے دو۔ کعب چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔
☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ریاضت سے نا آشنا رہتی ہیں، دنیاوی سامانِ تعیش، جسمانی آرائش و آسائش اور جنسی میلان و شہوت پرستی ہی ان کے لیے حاصلِ زندگی ہوتی ہے۔ مغربی معاشرے میں اس طرزِ عمل پر زندگی گزارنے والے لوگ کثرت سے سامنے دکھائی دے رہے ہوتے ہیں، مگر ہالینڈ، سویڈن، ناروے اور ڈنمارک میں یہ بیہودگی اپنے عروج پر ہے۔ ڈنمارک کی عوام کے ساتھ ساتھ ان کے صاحبانِ اقتدار بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ شہزادہ چارلس کے کیملا پارکر کے ساتھ اور بل کلنٹن کے مونیکا لیونسکی کے ساتھ معاشقے کی داستانیں زبانِ زدِ عام ہیں۔ ڈنمارک کے ایک بادشاہ فریڈرک کو تو یہ بلند مقام حاصل ہے کہ اس کے ایلس ہینسن نامی عورت کے ساتھ نہ صرف ناجائز تعلقات تھے بلکہ ناجائز تعلقات کے سبب پانچ ناجائز بچے بھی پیدا ہوئے۔ جب بادشاہوں کا کردار ایسا ہو تو عوام کی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ڈنمارک میں ناجائز بچہ پیدا ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس بچے کی ماں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے حاملہ ہوئی۔ ڈنمارک کی سرکاری ویب سائٹس کے مطابق ہسپتالوں میں ایسی ماؤں سے ڈاکٹر کا زیادہ سوال و جواب بھی خلافِ قانون ہے۔ ایسے بچوں کی رجسٹریشن کراتے ہوئے جب بچے کی ماں ڈاکٹر کے اس سوال ”کہ اس بچے کا باپ کون ہے؟“ کے جواب میں یہ کہے: کہ مجھے معلوم نہیں: تو ڈاکٹر کو فوراً خاموش ہو جانا چاہیے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ بچہ کسی شاپنگ پلازے کے ڈائریکٹر، کسی محلہ دار، کسی ٹیکسی ڈرائیور یا ایسے ہی کسی دوسرے شخص کا ہو۔ جس ملک کی اخلاقی اقدار اس عروج پر ہوں تو ظاہر ہے وہاں بے نکاحی ماؤں کے بطن سے جیلانڈ پوسٹن اخبار کے ایڈیٹر فلیمنگ روز، گیرٹ والڈرز، تھیوان گوگ اور ویسٹر گارڈ جیسے ناجائز بچے ہی پیدا ہوں گے، جو بارگاہِ رسالت مآب ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کے مرتکب ہو کر اپنے مجہول النسب ہونے کا ثبوت پیش کرتے رہیں گے۔
توہین رسالہ ڈنمارک کے اخ کام ایک منصوبہ بندی کے گیا کہ اس اخبار کے خلا ر اس اخبار کی پشت پناہی ، برطانیہ کے وزیر اعظم ا پر حوصلہ افزائی کی۔ فن مناسب وقت سے قبل ہ سے نمٹنے کے لیے مشترک اور مذکورہ اخبار کی پشت سوئٹزرلینڈ، ناروے، سویڈ لینڈ، پولینڈ، اسرائیل، اخبار اور ڈنمارک کی حکوم خاکے شائع کیے اور اسے آمیز اور اخلاق باختہ اقدا کچھ بھی نہ بگڑا بس اتنا ہ روشن و منور چاند کی طرف گرا۔ اس حرکت سے نورا آب و تاب سے جگمگانے ہیں۔ نبوت کے مہتاب اخبار اور ڈنمارک کی حکو
توہین رسالت :علمی و تاریخی جائزہ ڈنمارک کے اخبار میں چھپنے والے گستاخانہ خاکے محض اتفاق یا نادانستگی نہیں بلکہ یہ کام ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ مسلمانوں کی طرف سے جب ڈنمارک پر دباؤ بڑھایا گیا کہ اس اخبار کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے تو یورپ کے عالمی غنڈے ڈنمارک او ر اس اخبار کی پشت پناہی کرنے لگے۔ فرانس کے صدر یاک شیراک، امریکہ کے صدر بش ، برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے آزادی اظہار خیال کا نام لے کر مذکورہ اخبار کی مکمل طور پر حوصلہ افزائی کی۔ فن لینڈ کی وزیر خارجہ نے بیان دیا کہ ڈنمارک کے اس اخبار نے مناسب وقت سے قبل یہ قدم اُٹھایا، یورپی یونین کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کی مذکورہ دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرے۔ ایک طرف مغربی ممالک کی حکومتیں ڈنمارک اور مذکورہ اخبار کی پشت پناہی میں مصروف تھیں تو دوسری طرف امریکہ، برطانیہ، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ناروے، سویڈن، اٹلی، ہنگری، نیدرلینڈ، ارجنٹائن، فرانس، کینیڈا، بیلجیم، نیوزی لینڈ، پولینڈ، اسرائیل، آسٹریلیا، بلغاریہ، برازیل، ہسپین کے سرکردہ اخبارات نے مذکورہ اخبار اور ڈنمارک کی حکومت کے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے یہ مذموم اور دل آزار خاکے شائع کیے اور اسے آزادی اظہار رائے کا نام دیا۔ اہل مغرب کے اس ناجائز، ذلت آمیز اور اخلاق باختہ اقدام سے حبیب خدا، تاجدار کائنات، سرور انبیاء، رحمت عالم ﷺ کا کچھ بھی نہ بگڑا بس اتنا ہوا کہ ذلیل اور کمینے لوگوں نے چودھویں کے چاند سے بھی زیادہ روشن و منور چاند کی طرف منہ کر کے تھوکنے کی کوشش کی۔ وہ تھوک واپس اُن کے منہ پر آ گرا۔ اس حرکت سے لوگ اہل مغرب سے متنفر ہوئے جب کہ مدینہ طیبہ کے تاجدار اسی آب و تاب سے جگمگا رہے ہیں۔ دنیا کے لوگ ان کی ضیاء پاشیوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ نبوت کے مہتاب کی تابانی اور ضوفشانی اور زیادہ ہوگئی۔ لیکن اہل مغرب کے مذکورہ اخبار اور ڈنمارک کی حکومت کی حوصلہ افزائی اور ان کا دفاع کرنے سے یورپ اور
چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔“
☆ بینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
اہل مغرب کا نبی کریم ﷺ اور اسلام کے ساتھ سازش اور خبث باطن کھل کر سامنے آ گیا۔ جیلانڈ پوسٹن کی حمایت اور دفاع کرتے ہوئے جرمنی کے اخبار ڈائی ویلٹ نے بھی یہ گستاخانہ خاکے اپنے اخبار میں شائع کیے۔ جرمنی میں حصول تعلیم کیلئے مقیم عامر عبدالرحمٰن چیمہ نے اس اخبار کے گستاخ رسول ایڈیٹر پر حملہ کیا بعد میں اخبار کے گارڈز نے عامر چیمہ کو حراست میں لے لیا۔ جرمنی کی انتظامیہ نے عامر چیمہ پر بے پناہ تشدد کیا، جس کے نتیجے میں غازی عامر عبدالرحمٰن چیمہ شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت رائیگاں نہیں گئی بلکہ ان کی شجاعت، جواں مردی سے خاکے چھاپنے والا طوفان بدتمیزی ختم ہو گیا۔ اس پر بھی مغرب نے دہشت گردی کا واویلا کیا۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ نے وقت پڑنے پر اپنی جانوں، عزیز واقارب، جان و مال کی پرواہ نہیں کی اور اپنے آقا کریم ﷺ کے خلاف زبان دراز کرنے والوں کا خاتمہ کر دیا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ غلامان مصطفیٰ ﷺ ارضِ خاکی کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتے ہوں، وہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر سکتے ہیں، انہیں تختہ دار پر جانا پڑے وہ یہ کام کر سکتے ہیں، لیکن توہین رسول ﷺ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر اہلِ مغرب کے نزدیک بے ہودگی، ہرزہ گوئی، گستاخانہ خاکے بنانے کا نام ہی آزادیٔ اظہار ہے تو جیلانڈ پوسٹن کے ایڈیٹر فلیمنگ روز اور اس کے دوسرے ساتھی یہ کیوں نہیں کرتے کہ آزادی اظہار کی جرأت کرتے ہوئے اپنی ماؤں سے پوچھ کر اخبارات میں کچھ خاکے شائع کریں شاید اس سے انہیں اپنے باپ کا کوئی علم ہو جائے اور وہ ان خاکوں کی بدولت اپنے باپ کو دیکھ سکیں۔ ہو سکتا ہے روشن خیال جماعتیں، جدید اذہان اور مغربی طرزِ فکر کے پروردہ اس جملے کو خلافِ تہذیب قرار دیں، لیکن جب دل کے پھپھولے جل رہے ہوں، اذہان و قلوب سے غصے کی وجہ سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی ہوں، سینوں کو قلم کے نشتر سے چھلنی کیا جا رہا ہو، مسلمانوں کے مرکز ایمان پر حملہ کر کے انہیں صبر و تحمل کی نصیحت کی جا رہی ہو اور ان حملوں کو
توہین رسالت آزادیٔ اظہار خیال کا کرے تو اسے حقیقت رسول کریم ﷺ اس کا لخت جگر، باعث تخلیق خاموشی اختیار کی جائے ایمان وعشق کی جھیل بپھر ہیں، دین ودنیا کی عزت حصے میں آتی ہے یہی لوگ بے حسی کا شکار ہو جائے،
توہین قرآن پر مبنی
”ذرا دائیں بائیں ہیں؟ ہادی اعظم میں آپ کو اندر ہی اندر ایک مسلسل جن گے کہ ایک جنگ جاری ہے آجائے کہ آپ بے خبر ہوں یہ الفاظ ہالینڈ کے ممبر کتاب کا مطالعہ کرے، کسی ناپسند ہوں، لیکن اس چیز انسان حواس باختہ ہو کر گالی گلو
توہینِ رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
آزادیٔ اظہارِ خیال کا نام دے کر اپنا حق سمجھا جا رہا ہو۔ ایسے حالات میں اگر کوئی حقائق بیان کرے تو اسے حقیقت جان کر قبول کرنا بھی جرأت کہلاتا ہے۔ رب محمد ﷺ کی قسم، ناموسِ رسولِ کریم ﷺ اس کائنات کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ حضرت آمنہ و حضرت عبداللہ ؓ کے لختِ جگر، باعثِ تخلیقِ کائنات، مصطفیٰ کریم ﷺ کی عزت و ناموس ایسی چیز نہیں کہ اس پر خاموشی اختیار کی جائے یا پہلو تہی کی جائے۔ حبِ رسول اور اطاعتِ رسول ﷺ کے بغیر ایمان و عشق کی تکمیل نامکمل ہے۔ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی حرمت و ناموس پر کٹ مرنا جانتے ہیں، دین و دُنیا کی عزت و آبرو انہیں حاصل ہوتی ہے۔ کامیابی اور کامرانی انہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے یہی لوگ اس دھرتی کے جھومر ہیں اور ناموسِ رسول ﷺ کے مسئلہ پر جو قوم بے حسی کا شکار ہو جائے، ہلاکت و بربادی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔
توہینِ قرآن پر مبنی ”فتنہ“ فلم:
”ذرا دائیں بائیں نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہو جائیگا کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ بادی النظر میں آپ کو یہ ہرگز معلوم نہیں ہوگا، جس ملک میں آپ رہ رہے ہیں اس میں اندر ہی اندر ایک مسلسل جنگ چل رہی ہے، لیکن تھوڑا سا غور کرنے سے آپ جان جائیں گے کہ ایک جنگ جاری ہے اور اس میں ہمیں اپنا دفاع کرنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے، ایسا وقت بھی آ جائے کہ آپ بے خبر ہوں اور مسجدوں کی تعداد گرجا گھروں سے بھی بڑھ جائے“
یہ الفاظ ہالینڈ کے ممبر پارلیمنٹ گیرٹ وائلڈر کے ہیں۔ انسان کسی چیز کو دیکھے، کسی کتاب کا مطالعہ کرے، کسی شخصیت کے کردار کو دیکھے، کسی بھی حوالے سے وہ چیزیں اسے ناپسند ہوں، لیکن اس چیز، اس کتاب اور اس شخصیت میں جب کوئی خرابی نظر نہ آئے تو انسان حواس باختہ ہو کر گالی گلوچ اور اہانت پر اُتر آتا ہے۔ یہی حال گیرٹ وائلڈر کا ہے۔ وہ
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
قرآن پاک کا مخالف ہے۔ اُمت مسلمہ سے اس کی دشمنی مسلم ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے۔
فَأْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهِ وَادْعُوْا شُهَدَاءَ كُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ
﴿البقرہ : 23﴾
"پس اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے سب حمایتی بلا لو اگر تم سچے ہو"
یہ اعلان یقیناً گیرٹ وائلڈر اور اس کے حواریوں نے بھی پڑھا ہوگا۔ اس اعلان کی جواب دہی کے لیے اپنی ساری فکری صلاحیتیں بھی استعمال کی ہونگی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جب عاجز ہو گئے تو وہ قرآن حکیم کو الہامی کتاب مان لیتے، قرآن حکیم کی حقانیت کے قائل ہو جاتے، لیکن ازلی بدبختی جن کا مقدر ہو، جن کے قلوب و اذہان حق بات قبول کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوں، وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتے ہیں۔
گیرٹ وائلڈر فریڈم پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ ہالینڈ کی 150 رکنی پارلیمنٹ میں اس پارٹی کی نو (09) نشستیں ہیں گیرٹ اسرائیل کا زبردست حامی ہے اور اسلام کو دہشت گرد مذہب قرار دیتا ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ، وقفے وقفے سے مظلوم فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و تشدد، معصوم بچوں اور بے گناہ عورتوں کے قتل کو گیرٹ آزادی اظہار کا نام دیتا ہے اور اگر مسلمان جوابی کاروائی کریں تو وہ گیرٹ کے نزدیک دہشت گردی ہے۔
گیرٹ وائلڈر اسلام دشمنی پر مبنی بیانات دینے کی وجہ سے کافی عرصہ سے اخبارات کی زینت بنا ہوا ہے۔ اس نے کہا: کہ قرآن (نعوذ باللہ) یہودیوں اور عیسائیوں کے قتل کی ترغیب دیتا ہے۔ کافروں سے فاصلہ رکھنے پر زور دیتا ہے اور خواتین کو بھی کھلی آزادی نہیں دیتا۔
قرآن حکیم کو ایک متنازعہ کتاب ثابت کرنے کے لیے اس بدبخت نے ایک فلم بنائی، اس کے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ بقول قرآن نظریہ آزادی کا دشمن ہے (نعوذ باللہ) اس لیے اس متنازعہ فلم کا نام فتنہ رکھا۔ 2008ء کے اوائل میں یہ فلم ہالینڈ میں ریلیز کی گئی مگر مسلمانوں کے شدید ردعمل اور بعض وجوہات کی بناء پر اس کی نمائش معطل کر دی گئی۔ اسرائیل کے حامی ارکان پارلیمنٹ ہالینڈ میں اسلام مخالف سرگرمیوں میں نمایاں ہیں۔ گستاخ گیرٹ وائلڈر بھی متعدد مرتبہ اسرائیل کا دورہ کر چکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ سے اس کے ذاتی تعلقات ہیں۔
گیرٹ وائلڈر نے جو فلم بنائی اس میں اس نے کھل کر اسلام دشمنی اور تنگ نظری کا ثبوت دیا۔ قرآنی آیات کی تلاوت، انگریزی میں ترجمہ اور اس کے بعد سیاق و سباق سے ہٹ کر کچھ باتیں اور مناظر دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ قرآن حکیم (نعوذ باللہ) فتنہ انگیزی، قتل و غارت، دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ اور اسی وجہ سے مسلمان تشدد کرتے ہیں اور وہ دہشت گرد ہیں۔ فلم میں ایسے مناظر دکھا کر کفار کو بھی ترغیب دلائی گئی کہ مسلمانوں کا جہاں تک ہو سکے ناطقہ بند کیا جائے۔ اسلام اور مسلمان مخالف سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا جائے تا کہ اسلام کی شناخت کو ختم کیا جا سکے۔ اس فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد حسب روایت اسلام مخالف قوتوں نے گیرٹ وائلڈر کا دفاع کیا۔ اس فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد اس پر تنقید شروع ہوئی اور اس فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تو سپین کے ایک قانون دان نے یہ بیان دیا اگر فلم کے خلاف پابندی لگے گی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یورپ میں اظہار رائے کی آزادی پر تلوار چلے گی؟ اسلام مخالف طاقتوں اور اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہونے کی وجہ سے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے گیرٹ نے یہ ہرزہ افشانی کی کہ وہ نامور مستشرقین، پروفیسرز، کالم نگاروں اور رائٹرز کے ساتھ مل کر ایک فلم پر کام کر رہا ہے۔ اس فلم کے ذریعے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ یورپ کے رنگ میں رنگے مسلمانوں میں بھی قرآن کی عظمت بہت حد تک زندہ ہے۔
چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔“
٭ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی وتاریخی جائزہ
”جس کی وجہ سے ہر وہ چیز اور نظریہ تیزی سے تباہی کی جانب گامزن ہے، جس پر مغربی تہذیب قائم ہے۔ یہ فلم مغربی دنیا کو ایک بہت بڑے خطرے سے آگاہ کرے گی اور وہ خطرہ ہے اسلامائزیشن کا یورپ کو اس وقت اسلامائزیشن کے سونامی کا سامنا ہے۔ ہمیں اس طوفان کو روکنے اور اس کے خلاف بند باندھنے کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔ ورنہ یہ مذہب پورے مغرب کو اپنے بہاؤ میں بہالے جائے گا“
اپنے ان خیالات کی وجہ سے کافی عرصے سے گیرٹ وائلڈرز سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا: کہ میں جن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں میں اپنے بدترین دشمن کے لیے بھی ایسا کبھی نہیں چاہوں گا اور اس صورتحال کی وجہ سے اسلام کے خلاف میرے نظریے میں مزید شدت آئی ہے۔
گیرٹ وائلڈرز کا اس طرح محصور ہو کر زندہ رہنا تو عذاب الٰہی کی ایک شکل ہے، جو شاتمان رسول ﷺ کے لیے عبرت انگیز ہے کہ نہ وہ زندہ ہیں اور نہ ہی مردہ۔ گیرٹ وائلڈرز کے الفاظ یوں تو زہر آلود تیر ہیں۔ ایک ایک لفظ اسلام دشمنی پر مبنی ہے، مگر غور سے انٹرویو کا جائزہ لیا جائے تو گیرٹ وائلڈرز کی بے بسی بہت واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔ اس کے یہ الفاظ ”ہمیں اس طوفان کو روکنے اور اس کے خلاف بند باندھنے کیلئے متحد ہونا پڑے گا ورنہ یہ مذہب پورے مغرب کو اپنے بہاؤ میں بہالے جائے گا“ چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ہم نے اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کیلئے بڑے بڑے جتن کیے کبھی کشمیر کی وادیوں کو خون سے رنگین کیا، کبھی فلسطین پر بم برسائے، کبھی عراق کے بے گناہ نوجوان ہمارے ظلم کا نشانہ بنے کبھی بوسنیا، چیچنیا کی عورتوں کو یتیم اور بیوہ بنایا گیا، مگر حیرانگی و پشیمانی کی بات یہ ہے کہ ان ممالک سے اسلام کو ختم کرنا تو دور کی بات اسلام تو اب ہمارے دروازوں پر دستک دے رہا ہے۔ دوسرے معنی میں گیرٹ وائلڈرز نے اعتراف شکست کیا کہ باوجود کوشش کے ہم اسلام
توہین رسالت: علمی وتار... کی آفاقی تعلیمات کے سامنے... درندوں کی طرح تسلسل کے ساتھ... سے پہلے بھی کئی مرتبہ اسلام اور قرآ...
- ٭ 2000ء میں انٹرنیٹ پر ق...
ہوتیں اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ دور... میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے قرآن...
- ٭ 2001ء میں ”دی رئیل...
کی حیات طیبہ پر ہتک آمیز مضام... تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مسل... العمل سمجھتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی...
- ٭ 2002ء میں نائیجیریا کے...
جس کے نتیجے میں احتجاجی مظاہرے...
- ٭ 2002ء میں ہی ایک عیسا...
ایس (CBS) کے ایک پروگرام... (نعوذ باللہ) جارح دہشت گرد اور... سمجھتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے... کیا۔ لیکن محمد ﷺ نے بالکل اس ک... مغربی اہل دانش اسلام کی... جب وہ سوچتے ہیں کہ مسلمان اپنے... چھوڑتے بلکہ اسلام تو بڑھ رہا ہے!...
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
کی آفاقی تعلیمات کے سامنے مجبور اور بے بس ہیں۔ اس شکست کے بعد بھی اہل مغرب درندوں کی طرح تسلسل کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اسلام اور قرآن حکیم کے متعلق اہل مغرب نے زہر افشانی کی۔
- ٭ 2000ء میں انٹرنیٹ پر قرآن کی دو جعلی سورتیں ”دی چیلنج“ کے عنوان سے شائع
ہوئیں اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ وہ مظلوم سورتیں ہیں جنہیں مسلمانوں نے اپنے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے قرآن سے نکال دیا (نعوذ باللہ )
- ٭ 2001ء میں ”دی رئیل فیس آف اسلام“ نامی ویب سائٹ پر حضور سرور عالم ﷺ
کی حیات طیبہ پر ہتک آمیز مضامین شائع کیے گئے، جن میں اسلامی تعلیمات کو مسخ کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مسلمان اپنے سوا دیگر لوگوں، بالخصوص یہود و نصاریٰ کو واجب القتل سمجھتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس پر حملے کیے گئے۔
- ٭ 2002ء میں ٹائمز بائسکے اخبار میں اہانت رسول ﷺ پر مبنی ایک مضمون شائع ہوا،
جس کے نتیجے میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور کئی افراد کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔
- ٭ 2002ء میں ہی ایک عیسائی رہنما جیری فال ویل نے امریکی ٹیلی ویژن سی بی
ایس (CBS) کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حضور سید عالم ﷺ کے متعلق (نعوذ باللہ ) جارح دہشت گرد اور جنگجو جیسے توہین آمیز الفاظ کہے۔ جیری فال نے کہا: وہ سمجھتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے محبت کی مثال قائم کی اور یہی کچھ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیا۔ لیکن محمد ﷺ نے بالکل اس کے اُلٹ مثال قائم کی۔
مغربی اہل دانش اسلام کی ترقی سے خائف ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ جب وہ سوچتے ہیں کہ مسلمان اپنے عقیدے میں کیوں اتنے پختہ ہیں؟ وہ اسلام کو کیوں نہیں چھوڑتے بلکہ اسلام تو بڑھ رہا ہے؟ جب وہ دیکھتے ہیں کہ محبت مصطفیٰ ﷺ مسلمانوں کے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
جسم و جاں کا حصہ ہے۔ حضور رسالت مآب ، جانِ عالم ﷺ کے ساتھ مسلمانوں کی جذباتی عقیدت وابستہ ہے تو وہ مسلمانوں کے قلوب واذہان سے محبت مصطفیٰ ﷺ کو ختم کرنے کے لیے اور انہیں غیر حساس بنانے کے لیے ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔ اور وہ توہین رسول ﷺ کو مسلمانوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ گذشتہ چند برس سے تسلسل کے ساتھ غیر مسلم طاقتیں اسلامی اقدار و شخصیات کی اہانت کی مرتکب ہورہی ہیں۔ غیر مسلم حکومتیں انہیں تحفظ عطا کرتی ہیں۔ اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے ان کی عنایات و نوازشات کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔ مغربی میڈیا اور حکومتوں کی اسلام سے یہ مضحکہ آرائی مسلم حکمرانوں کی بے حمیتی اور مفاد پرستی کا نوحہ بھی ہے۔ مسلم حکمران اگر آج بھی غیروں کی کاسہ لیسی چھوڑ کر اپنے مسلمان عوام کی رائے کا احترام کریں اور عوام کو اپنی مقبوضہ جاگیر سمجھنے کے بجائے ان کی نمائندگی کا راستہ اختیار کریں تو نہ صرف اس سانحہ سے بلکہ اُمت مسلمہ کو درپیش متعدد مسائل سے نجات کا باعزت راستہ مل سکتا ہے۔ بہر حال اس کے تدارک کے لیے اُمتِ مسلمہ کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور اس کی وجوہات تلاش کر کے اس کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات بروئے کار لانا ہوں گے۔
حقیقتِ آزادیٔ اظہار رائے اسباب وعوامل:
دنیا کے فطرتی اور جمالیاتی حسن کو دیکھنے سے ذہن کے گوشے اس تخیل کی طرف متوجہ ہوتے نظر آتے ہیں کہ آسمان نے بادلوں میں اپنے حسن کو چھپا کر رکھا ہے، زمین نے گرد اور مٹی کی حیا دار چادر اوڑھ رکھی ہے، درخت کو پتوں اور شاخوں نے ڈھانپ رکھا ہے، سونے چاندی کے ذخائر پتھروں کی اوٹ لیے ہوئے ہیں، ہیرے اور موتی سمندر کے گہرے پانی میں نظروں سے اوجھل ہیں، پھلوں نے چھلکوں کی مدد سے اپنی خوبصورتی کو
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ محفوظ بنایا ہوا ہے، سمندر کا حسن لہروں کی جھاگ کے پردے میں ہے، خوبصورت وادیاں سرسبز و شاداب گھاس کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں، اسی طرح انسان بہت سی فطری و فکری حدود و قیود میں اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھے، تو اس کا معاشرتی اور جمالیاتی حسن برقرار رہتا ہے۔ انسان کے بہت نازک، حساس اور قریبی رشتے ہوتے ہیں، ان کا باہمی احترام معاشرے کی بقا کا ذریعہ ہے، لیکن اہل مغرب فطری و قدرتی حدود و قیود سے آزاد ہو کر جینا چاہتے ہیں کہ انسان کا جیسے جی چاہے وہ اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنائے۔ رشتوں کے تقدس و احترام کو بھی وہ قدغن جانتے ہیں، ماں باپ ان کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے، ان کے خیال میں انسان کے ذہن میں جب زنا کی خواہش مچلتی ہے تو اسے جائز و ناجائز کا خیال کیے بغیر اپنی اس خواہش کو پورا کر لینا چاہیے، وہ جس طرح کے جنسی تعلقات کا خواہاں ہو اخلاقی حدود سے ماورا ہو کر ایسے تعلقات قائم کر لینے میں بھی کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے، اگر کوئی مذہبی عقیدتوں کو اہمیت نہیں دیتا تو اسے مذہب سے بیزاری کا اعلان کر دینا چاہیے، اگر کوئی اچھی تعلیم و تربیت کا خواہش مند نہیں تو والدین اور اساتذہ کو مناسب سزا کا اخلاقی حق بھی حاصل نہیں، اسے وہ آزادی اظہار رائے کا نام دیتے ہیں، لیکن کچھ عرصے سے اہانت رسول ﷺ اور اسلام دشمنی کا نام انہوں نے آزادی اظہار رکھ لیا، کہ کوئی شخص کیسی ہی بکواس کرے، لکھے، شائع کرے اسلام کے خلاف گھناؤنی سازش کرے، اسے آزادی اظہار کا نام دیکر اہل مغرب بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ اس شخص کی تحریر و تقریر کتنی ہی زہر آلود کیوں نہ ہو مسلم دنیا کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ مغربی معاشرے میں آزادی اظہار خیال کا ہر شخص کو حق حاصل ہے۔ مغربی معاشرہ کس ڈگر پر جارہا ہے؟ فکر و خیال کی آوارگی کہاں تک ہے؟ اہل مغرب اخلاقی و سماجی حدود کے کتنے پابند ہیں؟ مسلمانوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں اور نہ اس بات سے کوئی مطلب کہ وہ کس انداز میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟
چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔“
☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
مسلمانوں کا صرف یہی تقاضا ہے کہ اہانت رسول ﷺ اور اسلام کے خلاف سازشوں کو بند کیا جائے۔ لیکن مغربی معاشرہ جو ہمیں جمہوریت، قواعد وضوابط اور صبر و حوصلہ کی نصیحت کرتے نہیں تھکتا، اپنی اقدار کی خلاف ورزی پر اتنا آزردہ کیوں ہو جاتا ہے، ایک ہی شخص کے بارے میں آخر دوہرا رویہ کیوں؟ اگر کوئی شخص اسلامی اقدار پر حملہ کرے تو مغرب کی آنکھ کا تارا اور اگر اہل مغرب کے بارے میں کوئی بات کہے تو وہ مجسمہ برائی آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ شیطان رشدی نے جب ناول ”شیطانی آیات“ لکھ کر اسلام اور رسول کریم ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں ہرزہ سرائی کی تو اہل مغرب نے اسے سر آنکھوں پر بٹھایا، اسے تحفظ بھی فراہم کیا۔ میڈیا نے اسے کوریج دے کر اس کی حوصلہ افزائی کی۔ لیکن جب اہل مغرب کی محبوب اور رحم دل شہزادی ڈیانا اچانک حادثے کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلی گئی تو اسی سلمان رشدی نے ڈیانا کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ”ڈیانا کی بے لگام جنسی خواہشات نے اسے قبل از وقت مار ڈالا“ اس تبصرے پر مشتعل ہو کر برطانوی پریس نے سلمان رشدی کی خوب درگت بنائی۔ وہاں کے مشہور اخبار ٹائمز نے رشدی کو ”شیطان“ کا خطاب دیا اور اس کے بیان کو شیطانی خیالات قرار دے کر اس کی شدید مذمت کی ۔ آزادی اظہار کا گن گانے والوں سے مسلمان یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں؟ شیطانی آیات اور لجا مغرب میں فروخت ہونے والے مشہور ناولوں میں سے ہیں۔ مسلم اُمہ جب ان پر پابندی کا مطالبہ کرتی ہے تو جواب میں آزادی اظہار کا سہارا لیا جاتا ہے لیکن جب فرانس کے ناول نگار ڈی ایچ لارنس نے فحش جنسی ناول ”لیڈی چیٹر لیز لور“ لکھا؛ اس میں مغرب کی جنس پرستی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور شادی کی مشرقی روایات کی حمایت کی تو اسے انگریزی تہذیب کے خلاف قرار دے کر پابندی لگا دی گئی۔ یہودیوں کو تباہ کرنے کے لیے ہٹلر نے ہولوکاسٹ کیا۔ اس میں یہودیوں کے مطابق 60 لاکھ کے قریب یہودی ہلاک
توہین رسالت
ہوئے ذرائع ابلاغ کے کرنے کی اجازت نہیں قانونا جرم ہے۔ اس معاملے دیا، جو شخص بھی ہولوکاسٹ پڑتی ہے۔ اس معاملے میں حالات میں آزادی اظہار کا ہے تو مسلمانوں کو دہشت گرد کیوں بنایا جاتا ہے؟ آخر وہ امریکہ و یورپ کے خلاف نفرت ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو صرف اسلام دشمن اشخاص کو کوڈ 266-B کے مطابق ایسا لیے رنگ، نسل، قومیت، مذہب یہودیوں کے ”ہولوکاسٹ“ کی تک بھی ہو سکتی ہے۔ برطانوی سزائے موت کا قانون موجود فیصلے بھی کیے ہیں۔ ان ممالک یہود و ہنود کی دل شکنی ہو رہی ہو کیا جاتا ہے، لیکن اہل مغرب تضاد کی روشنی میں اہل مغرب
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔
٭ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
ہوئے ذرائع ابلاغ کے آزاد ہونے کے باوجود کسی کو یہودیوں کے ہولو کاسٹ پر بات کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ کہنا کہ دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کی نسل کشی نہیں کی گئی قانوناً جرم ہے۔ اس معاملے میں اہل مغرب نے اپنی آزادی اظہار کی قدر کو یکسر نظر انداز کر دیا، جو شخص بھی ہولو کاسٹ پر تنقیدی انداز سے گفتگو کرے، اسے گرفتاری کی مصیبت اُٹھانا پڑتی ہے۔ اس معاملے میں مغربی قوانین بھی اسے کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتے، جو عام حالات میں آزادی اظہار کے علمبردار کہلاتے ہیں۔ اگر آزادی اظہار کا ہر کسی کو حق حاصل ہے تو مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر کے گوانتاناموبے جیل میں مشق ستم کیوں بنایا جاتا ہے؟ آخر وہ بھی تو اپنا آزادی اظہار خیال کا حق استعمال کرتے ہوئے امریکہ و یورپ کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ واقعتاً مغربی ممالک میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو دریدہ دہن لوگوں کو لگام دے یا یہ پشت پناہی اور آزادی اظہار صرف اسلام دشمن اشخاص کو حاصل ہے۔ آزادی اظہار کے حوالے سے ڈنمارک کے پینل کوڈ 266-B کے مطابق ایسا کوئی بھی بیان یا سرگرمی جرم ہے جو کسی بھی گروہ کے افراد کے لیے رنگ، نسل، قومیت، مذہب یا جنس کے حوالے سے دل آزار ہو۔ یورپی ممالک میں یہودیوں کے ’ہولوکاسٹ‘ کی کہانی کے کسی حصے کا انکار بھی جرم ہے۔ جس کی سزا میں سال تک بھی ہو سکتی ہے۔ برطانیہ اور دیگر عیسائی ممالک میں حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین پر سزائے موت کا قانون موجود ہے، جس پر یورپی یونین کی ہیومن رائٹس کی اعلیٰ عدلیہ نے فیصلے بھی کیے ہیں۔ ان ممالک کے یہ قوانین مذہبی امتیاز پر واضح دلیل ہیں۔ جن باتوں سے یہود و ہنود کی دل شکنی ہو رہی ہو ان باتوں کے خلاف قوانین وضع کر کے انہیں پورا تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، لیکن اہل مغرب کے نزدیک شاید مسلم امہ کی دل آزاری کوئی جرم ہی نہیں۔ اس تضاد کی روشنی میں اہل مغرب کے لبرل ازم (Liberalism)
ملے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔
☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت، علمی و تاریخی جائزہ
سیکولرازم (Secularism) اور آزادی اظہار کا مکروہ چہرہ واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ آزادی اظہار کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کی جائے۔ جب کوئی شخص دوسروں کے مقدس مقامات اور محترم شخصیات کو آزادی اظہار کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنائے تو یہ آزادی اظہار نہیں بلکہ کھلی جارحیت کا ارتکاب ہے۔ مغرب میں تسلسل کے ساتھ اسلام دشمنی اور اہانت رسول ﷺ پر مشتمل واقعات کا رونما ہونا ایک تشویش ناک امر ہے۔ ان کے پادری، دانشور، قلم کار اور میڈیا مختلف مواقع پر اسلام کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں، آخر اس کے اسباب کیا ہیں؟
- ☆ ایک طرف تو ان واقعات میں اہل مغرب کا چھپا ہوا طنز ہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان
معاشی اور اقتصادی مجبوریوں کی وجہ سے اہل مغرب کے سامنے بے بس ہیں یورپی ممالک کے ساتھ مسلمانوں کے مالی مفادات وابستہ ہیں، جس بنا پر اہل مغرب سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی تہذیب و تمدن ، اخلاقیات اور اقدار پر جیسے بھی حملہ کریں وہ جواب دینے سے قاصر ہیں۔
- ☆ اسلامی ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے سیکولر حکومتی ڈھانچے مغرب کی
سرپرستی میں تشکیل دیئے گئے اسلام کو نظریہ حیات کے طور پر مسترد کر دیا گیا۔ مسلمانوں کی مرکزیت ختم ہونے لگی اور مسلمان بے قیمت ہو کر رہ گئے۔ مسلمان مغرب کے فکری، سماجی، ثقافتی سیاسی اور عسکری حملوں کا شکار ہو گئے۔ مسلم اُمہ کو لسانی، گروہی، قبائلی اور نسلی تعصبات میں منتشر کر کے منافقین، عیش وعشرت کے دلدادہ، غدار اور مفاد پرست لوگوں کو اقتدار دے کر اُمت مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا گیا۔ مسلمانوں کا جاہ و جلال ختم ہوتا چلا گیا۔ ایک وہ وقت بھی تھا جب والی کرک رینجی نالڈ نے مسلمان تاجروں کے قافلے کو لُوٹ کر اہل قافلہ کو گرفتار کر لیا۔ جب ان لوگوں نے اس سے رہائی کے لیے کہا تو اس نے یہ طعن آمیز جواب دیا ”تم محمد ﷺ پر ایمان رکھتے ہو اس سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ آ کر تمہیں چھڑا لے“؟ جس
وقت سلطان کر کہا: ”اس صلیبی شہزادے قید ہو تھا۔ سلطان کو نے رینجی نالڈ کا کر کہا ”اس وقت قلم کر دیا۔ اس رہیں۔ رینجی نالڈ پاداش میں قتل کیا گیا دیتے ہیں۔ مغربی روایت بن چکی ہے۔
- ☆ اگر یہودیوں
فرنگیوں کی حمایت مبارک پر اعتراض بھائی کے مقام پر فتنوں اور فرقہ واریت گئے کہ ان کی صفو سے جہاں اُمت ہوئے وہیں پر
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
وقت سلطان صلاح الدین ایوبی کو ریجی نالڈ کی اس گستاخانہ گفتگو کی خبر ملی تو انہوں نے قسم کھا کر کہا: ”اس صلح شکن کو خدا نے چاہا تو میں اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا“۔
صلیبی لڑائیوں کے سلسلے میں ایک موقع پر فرنگیوں کو شکست ہوگئی۔ فرنگی شہنشاہ اور شہزادے قید ہو کر سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے لائے گئے۔ ان میں ریجی نالڈ بھی تھا۔ سلطان کو دیکھ کر اسے اپنی بدکرداری یاد آگئی اور ساتھ ہی سلطان کی قسم بھی یاد آگئی۔ جس نے ریجی نالڈ کا خون خشک کر دیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس کو تمام بداعمالیاں گنوا کر کہا ”اس وقت میں محمد ﷺ سے مدد چاہتا ہوں“ یہ کہہ کر اپنے ہاتھوں سے اس موذی کا سر قلم کر دیا۔ اس کے بعد کہا: ہم مسلمانوں کا یہ دستور نہیں ہے کہ لوگوں کو خواہ مخواہ قتل کرتے رہیں۔ ریجی نالڈ تو صرف حد سے بڑھی ہوئی بداعمالیوں اور حضور نبی کریم ﷺ کی گستاخی کی پاداش میں قتل کیا گیا۔ افسوس کہ آج کے مسلم حکمران اہل مغرب کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ مغرب کے مفادات کی تکمیل، کاسہ لیسی اور مفاد پرستی آج کے حکمرانوں کی پختہ روایت بن چکی ہے۔
- ☆ انگریزوں نے کچھ ایسے لوگ خریدے جو علماء کے لبادے میں قوم کے سامنے آئے۔
فرنگیوں کی حمایت حاصل کر کے کچھ ایسی کتابیں تحریر کیں جن میں حضور سید عالم ﷺ کے علم مبارک پر اعتراض کیے گئے تو کہیں حضور سرور کائنات ﷺ کے مقام و مرتبہ کو گھٹا کر بڑے بھائی کے مقام پر لا کھڑا کیا گیا اور کہیں حضور خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت کو ہدف تنقید بنا کر فتنوں اور فرقہ واریت کے دروازے کھول دیے گئے۔ فرقہ واریت کے ایسے بیج بو کے لگائے گئے کہ ان کی وجہ سے آج بھی اُمت مسلمہ کے زخم خوردہ جسم سے لہو رس رہا ہے۔ اس فتنے سے جہاں اُمت مسلمہ کے قلوب واذہان مقام مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں تشکیک کا شکار ہوئے وہیں یہ فتنہ عوام کا علماء سے دوری کا باعث بھی بنا۔ علماء سے دوری کے سبب عوام دین
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
سے بھی دور ہوتے چلے گئے تو انگریز کو مقاصد کی تکمیل کا موقع میسر آگیا۔
- ٭ ثقافت کے نام پر مسلمان قوم کے دل و دماغ میں اسلام مخالف مواد اس طرح منتقل
کیا گیا کہ نوجوان نسل کے اسلامی اقدار سے فاصلے بڑھ گئے۔ میڈیا کے ذریعے مسلم اُمہ کے ذہنوں کو فیشن کے نام پر فحاشی و عریانی کا زہر بھی دیا گیا۔ اسلامی اقدار سے بیزاری کے سبب مسلم دنیا پر مصائب و آلام کی بارش برسنے لگی۔
- ٭ یہود و ہنود نے اُمت مسلمہ میں گروہی اختلافات پیدا کر کے سلطنت عثمانیہ کے حصے
بخرے کر دیئے اور اقتدار اپنے زرخرید گماشتوں کو سونپ دیا۔ مسلم ممالک کے معدنی ذخائر اور قدرتی وسائل کل پیداوار کا ستر فیصد ہیں، لیکن ان وسائل پر بھی درپردہ انگریزوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ مسلم اُمہ سے لوٹی ہوئی دولت ہی مسلمان ملکوں کو سود پر واپس کر کے دہرا فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ قرضے کی صورت میں حاصل شدہ رقوم صاحبان اقتدار اپنی عیاشیوں پر صرف کر دیتے ہیں۔ یوں اُمت مسلمہ کو اقتصادی اور معاشی طور پر اپاہج کر کے اسے ایک بے جان جسم میں منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
- ٭ اسلامی اقدار سے بیزاری اور دامن مصطفیٰ ﷺ سے دوری ایسے اسباب و عوامل ہیں
کہ ملت اسلامیہ ہزار سالہ اقتدار و حکمرانی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ انگریز سازشوں کے ذریعے ملت اسلامیہ کی بنیادیں کھوکھلی کرنے میں کامیاب ہونے لگے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، یو این او زہریلے ناگ کی طرح قوم مسلم کا خون نچوڑتی نظر آتی ہیں۔ مسلم حکومتیں غیروں کی دست نگر ہو کر مجبوری و بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ یہود و ہنود کبھی اقتدار کا لالچ دے کر، کبھی ڈرا دھمکا کر مسلم حکمرانوں سے اپنے مفادات کی تکمیل کروا رہے ہیں۔ مفاد پرستی کی گہری کھائی میں گری اُمت مسلمہ اگر آج بھی اپنا کھویا ہوا وقار اور مقام چاہتی ہے تو دامن مصطفیٰ ﷺ سے تعلق کو مضبوط بنانا ہوگا بقول اقبال:
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
اُمتِ مسلمہ کی ذمہ داریاں:
اُمتِ مسلمہ اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے۔ عالمی سطح پر مذہب اور تہذیبوں کے ٹکراؤ کے لیے اسلام دشمن قوتیں متحرک ہیں۔ غیر مسلم طاقتیں انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ طریقے سے مسلمانوں کی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کشمیر، چیچنیا، فلسطین، افغانستان اور عراق میں بے گناہ مسلمان عورتوں، معصوم بچوں اور نوجوانوں کو بے دردی سے شہید کیا جا رہا ہے مسلمان ملکوں کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی سازش ہو رہی ہے، ملت اسلامیہ کے وجود کو ختم کرنے کے لیے یہود و ہنود بے تاب دکھائی دیتے ہیں، وہ جلد از جلد اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ مسلمان بے بسی اور مظلومیت کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ مسلمان جن ممالک میں محکوم ہیں وہاں ان کے لیے جینا مشکل بنا دیا گیا ہے یورپ اور غیر مسلم طاقتوں کا مسلمانوں سے مخاصمانہ اور معاندانہ رویہ ظاہر ہو چکا ہے۔ مغربی دنیا اُمتِ مسلمہ کے خلاف کروسیڈی جنگ کا آغاز کر چکی ہے۔ اُمتِ مسلمہ کے مذہبی جذبات کو بری طرح مجروح کیا جا رہا ہے ایسے نازک حالات میں اُمتِ مسلمہ کو اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہو گی اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی کرنا ہوگا۔
- فخر کائنات، تاجدار انبیاء، محسن عالم، جانِ عالمین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ہمارے
لیے سب کچھ ہیں۔ ان کے دامن سے وابستگی ہماری عزت و آبرو اور بقا و سلامتی کی ضمانت ہے۔ ملت اسلامیہ متحد ہو کر یہ قانون وضع کرے کہ اہانت رسول ﷺ کے مرتکب شخص کو
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
سزائے موت دی جائے گی۔ یہ قانون تمام اسلامی ممالک کے آئین کا حصہ ہو اور مسلم امہ اقوام متحدہ پر دباؤ ڈال کر یہ قانون منظور کروائے کہ غیر اسلامی ملک میں بھی اگر کوئی شخص اہانت رسول کا مرتکب ہو تو اسے اسلامی قانون کے مطابق سزائے موت دی جائے۔ اگر غیر مسلم طاقتیں پس و پیش سے کام لیں تو مسلم امہ بھر پور طاقت اور قوت کے ذریعے اپنا یہ مطالبہ منوائے۔
- ☆ اگر کوئی غیر مسلم حکومت کسی گستاخ رسول ﷺ کو تحفظ دے اور اس کی پشت پناہی
کرے تو تمام اسلامی ممالک اس حکومت اور مملکت کے ساتھ تجارتی اور سوشل بائیکاٹ کریں اور اس ملک پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔ اور اس مملکت کی انتظامیہ پر اخلاقی طور پر اتنا دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ شاتم رسول ﷺ کو سزا دینے پر مجبور ہو جائے۔
- ☆ اس وقت پوری دنیا کی آبادی کا مسلمان چوتھا حصہ ہیں۔ اقوام متحدہ میں کافروں
کے پانچ ممالک نے ویٹو کا حق حاصل کر کے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ اسلامی ممالک اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالیں کہ حجاز مقدس تمام مسلمانوں کا مذہبی مقدس مقام ہے، پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے، لہٰذا سعودی عرب اور پاکستان کو بھی ویٹو کا حق دیا جائے، بلکہ بہت بہتر تو یہ ہے کہ ویٹو کی اس لعنت کو ختم کر کے تمام ممالک کو برابری کی سطح پر لایا جائے۔
- ☆ رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ سیرت پر سیمینار اور کانفرنسز پوری دنیا میں منعقد کی جائیں،
تاکہ اسلام کی صحیح اور واضح تصویر دنیا کے سامنے آئے۔ رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ پر مشتمل لٹریچر کی اشاعت بھی عام کی جائے تاکہ یورپ اور غیر مسلم ممالک میں بسنے والے لوگ محض سنی سنائی باتوں پر یقین کی بجائے حقیقی زندگی کے قریب ہو جائیں اور رسول کائنات ﷺ کے حسن و جمال اور آپ کے اخلاق و کردار سے انہیں آگاہی حاصل ہو،
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
مستشرقین اور اسلام دشمنوں کا جھوٹ ان پر واضح ہو جائے اور دنیا یہ جان لے کہ اسلام دہشت گردی نہیں بلکہ امن وسکون اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے اور نظام مصطفیٰ ﷺ کے ذریعہ سے ہی اس کائنات کو راحت، امن اور سکون کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔
- ☆ آج کے دور میں اقتصادی اور معاشی استحکام کے بغیر ترقی کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن
سا دکھائی دیتا ہے۔ معاشی استحکام کے لیے امریکہ مختلف ریاستوں کے ساتھ پورے براعظم کو ایک حکومت میں سمیٹے بیٹھا ہے اور یورپی ممالک نے یورپی یونین کے ذریعے آپس میں خود کو متحد کر رکھا ہے۔ آمدورفت کی پابندیوں اور تجارتی بندشوں سے آزاد یورپی ممالک فقط انتظامی لکیروں کی حد تک ہی علیحدہ ملک ہیں۔ اسلامی ممالک بھی (OIC) کو نئے سرے سے منظم کر کے نظام خلافت کی طرز پر مشترکہ کرنسی، تجارتی کمپنیاں، انصاف کے لیے مشترکہ اسلامی قوانین، معدنی ذخائر و قدرتی وسائل کا درست استعمال، زکوٰۃ و صدقات کی وصولی اور صحیح مصارف پر خرچ کرنا، سائنسی ٹیکنالوجی میں مہارت کا ایسا مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں کہ اسلامی دنیا خود کفیل ہو جائے۔
- ☆ انگریز نے سازش کے ذریعے مسلمان ملکوں میں انگریزی کلچر کے حامی ماہرین تعلیم
بٹھائے۔ جنہوں نے ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا کہ مسلمان نسلیں بانجھ ہو کر اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ ہونے لگیں۔ اسلامی ممالک میں نصاب تعلیم کو نئے سرے سے مرتب کیا جائے اسلامی دینی تعلیم کو لازمی مضمون کی حیثیت حاصل، مسلم رہنماؤں کی خدمات کا تذکرہ بھی شامل کیا جائے اور جذبہ حریت بھی داخل نصاب ہو سائنسی مضامین کی بھی نصاب تعلیم میں بھر پور نمائندگی ہو تاکہ مسلم امہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی کر سکے۔ اور دینی تعلیم کے ذریعے نوجوان نسل کے اذہان کو اسلامی اقدار و شخصیات کے تحفظ کا شعور بھی دیا جائے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
- ☆ مغرب کی طرف سے مسلط کردہ دشمنی، نفرت اور تعصب پر مبنی کروسیڈی عزائم کے
بارے میں علماء، اساتذہ، دانشور، قلم کار اور ماہرین اُمت مسلمہ کو آگاہ کریں اور اس کے خاتمے کے ٹھوس اقدامات کو بروئے کار لایا جائے، اس کے باوجود بھی اگر یہود و ہنود سازشوں سے باز نہ آئیں تو اُمتِ مسلمہ کو جوابی کاروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
- ☆ مسلم حکمرانوں کی کاسہ لیسی، مفاد پرستی، اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے کے لیے جائز و
ناجائز ذرائع استعمال کرنا، مغرب نوازی، اپنی رعایا سے دولت لوٹ کر غیر مسلم ممالک میں بینک بیلنس میں اضافہ کرنا ایک پختہ روایت بن چکی ہے۔ صاحب نظر اور درد دل رکھنے والے اشخاص پر اعتماد کرنا چاہیے۔ تاکہ وہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں اور اُمت مسلمہ کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔
- ☆ مسلمان کتب خانوں میں سے ایسی کتب کا مل جانا، جن کی وجہ سے مقام مصطفیٰ ﷺ
کے بارے میں اذہان شکوک و شبہات کا شکار ہوں بہت ہی تشویشناک معاملہ ہے۔ اسلام دشمن طاقتیں انہی کتب کو سامنے رکھ کر مسلم امہ میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکا رہی ہیں۔ مسلمان مذہبی سکالرز کو اس بات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تمام مکاتب فکر کے سکالرز کو مل کر اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ کیونکہ اُمت مسلمہ کی بقاء مقام مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ سے ہی وابستہ ہے۔
- ☆ رسول اللہ ﷺ کا فرمان عظمت نشان ہے: ”کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا“
لیکن اس وقت اُمت مسلمہ مجسم سستی و کاہلی بن کر جہاد سے کوسوں دور ہے۔ کئی اسلامی ممالک کے پاس اپنی فوج تک نہیں۔ جہاد سے دوری کے سبب غیر مسلم دشمن طاقتوں کے سامنے مسلمان بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ مسلمان متحد ہو کر جدید عسکری ٹیکنالوجی حاصل کریں اور نوجوان نسل کے اذہان میں جذبہ حریت اور جذبہ جہاد پیدا کریں تاکہ کوئی
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
دشمن امت مسلمہ کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔
- اُمت مسلمہ کے مابین وطنیت پرستی، برادری ازم، قبائلی سوچ اور لسانی تعصب کے
نام پر اختلافات کی جو لکیریں کھینچ دی گئی ہیں، ملت اسلامیہ کو اس سے بھی بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ اُمت مسلمہ کی وحدت ختم ہو کر گروہ بندیوں کی نذر ہو گئی۔ حالانکہ قرآن کریم میں واضح ارشاد موجود ہے کہ ”مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں“ ان تمام تعصبات کو چھوڑ کر اُمتِ مسلمہ کو اسلامی تشخص کی بنیاد پر اتحاد کر کے اسلامی اقدار کو پامالی سے بچانا چاہیے اور آپس کی تقسیم در تقسیم کی بجائے اس نازک صورتحال کے پیش نظر علمی، فکری، سیاسی اور عسکری حوالے سے دشمن کو بھر پور جواب دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔
- کسی بھی مملکت میں نظام عدل ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ مضبوط
نظام عدل کے بغیر پر امن معاشرے کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ جب تک جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار اور اعلیٰ انتظامی عہدیدار قانون کو گھر کی لونڈی بنائے رکھیں، اس وقت تک وہ ملک ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں ہوتا۔ اسلامی ممالک، اسلام کے نظام عدل کا نفاذ کر کے بلا تفریق حسب ونسب مجرموں کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کر کے سزائیں دیں تاکہ پائیدار امن قائم ہو۔
- اتحاد اُمت ایک اہم ترین فریضہ ہے۔ ملت اسلامیہ کے رہنماؤں کو ملت کے
بکھرے شیرازے کو مربوط کرنے کے لیے پرخلوص کوشش کرنی چاہیے۔ رنگ، نسل، قوم، قبیلے اور علاقائی عصبیت اتحاد اُمت کے لیے زہر قاتل ہیں۔ مُسلم رہنماؤں کو کوشش کر کے ملت اسلامیہ کو اس خول سے باہر نکالنا ہو گا۔ تاکہ مسلم ریاستیں متحد ہو کر مسلم ممالک کی تعمیر و ترقی کے لیے دل و جان سے کوشاں ہوں اور اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کریں۔ ملت اسلامیہ کی بقا اس کے اتحاد میں ہی مضمر ہے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
بقول ڈاکٹر اقبال
چھوڑ کر گل کو پریشاں کارواں تو ہوا
آبرو باقی تری ملت کی جمعیت سے تھی
جب یہ جمعیت گئی دنیا میں رسوا تو ہوا
- مقصود کائنات، سید المرسلین، ختم الرسل، امام الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی
ذات گرامی مرکز ایمان ہے۔ اُمت مسلمہ ذات رسول ﷺ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرے اور اپنی زندگیاں اُسوۂ رسول ﷺ کے سانچے میں ڈھال کر پوری دنیا میں نظام مصطفیٰ ﷺ کی حسین اقدار کو پھیلانے کی کوشش کرے۔ اُمت مسلمہ کی عزت وتوقیر، جاہ وجلال اور حیات وبقا ذات رسول کریم ﷺ سے ہی وابستہ ہے۔
بقول امام احمد رضا:
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
تعارف تحریک مطالعہ قرآن
مقصد ہ ماضی ہ حال ہ مستقبل
بدعقیدگی و بدعملی، ذہنی وفکری انتشار، فحاشی وعریانی، بے راہ روی اور دین بیزاری کا سیلاب ہر گھر کے ہر فرد کی طرف جس تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے، اس کے تباہ کن اثرات کسی بھی ہوش مند اور باشعور شخص سے پوشیدہ نہیں۔ ہر دردمند فکر مند ہے کہ اس سیلاب کا راستہ کیسے روکا جائے؟ ایمان کیسے بچایا جائے اور اخلاق کیسے سنوارے جائیں؟
بے سوچے سمجھے کوئی جو چاہے کہہ دے مگر بیماری کے صحیح علاج کیلئے بیماری کا سبب جاننا بہت ضروری ہے۔ آپ ایک بار نہیں ہزار بار غور کر لیجیے۔ ہو سکتا ہے فروعی اور ذیلی اسباب تو بہت ہوں مگر اس خرابی و بیماری کا بنیادی سبب ایک ہی ہے، کتاب انقلاب قرآن مجید اور معلمِ اعظم حضور محمد مصطفے ﷺ سے فکری و عملی دُوری۔ دُوری بھی ایسی ہے کہ ہمارا مسٹر ہو یا مولوی، سو (100) کیا ہر ہزار میں، فقط چند کے سوا باقی سب نہ قرآن سے راہنمائی لیں اور نہ صاحب قرآن ﷺ کو راہنما بنائیں۔ دعوے ہیں، نعرے ہیں اور پروپیگنڈے جن میں ایک سے بڑھ کر ایک۔ بھلا دعووں، نعروں یا پروپیگنڈے سے بھی کبھی خطرات ٹلتے اور حالات سنورتے ہیں۔ خطرات کی روک تھام اور حالات کی تبدیلی کیلئے تو ایسی پُر خلوص انفرادی واجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے جو وقتی اور عارضی نہیں بلکہ بھر پور اور مسلسل ہو۔
اس جدوجہد کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے 2003ء میں چند دردمند احباب نے اللہ تعالیٰ اور اُسکے محبوب ﷺ کی حمایت ونصرت کے بھروسے پر تحریک مطالعہ قرآن کی بنیاد رکھی اور المرکز الاسلامی والٹن روڈ لاہور کینٹ میں مرکزی دفتر قائم ہوا۔
چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔“
☆ بینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
جدید خطوط پر قرآنی تعلیمات عام کرنا اور صحیح معنوں میں قرآنی معاشرے کی تشکیل کے لیے جدوجہد کرنا تحریک کا بنیادی مقصد قرار پایا۔
کارکردگی:
- 1- لوگوں کی بڑھتی ہوئی مصروفیات کے پیش نظر فہم قرآن کا نہایت آسان اور دلچسپ
تعلیمی طریقہ متعارف کروایا گیا جس کے ذریعے ملک کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں افراد بہت کم وقت صرف کر کے گھر بیٹھے بغیر فیس قرآن مجید کا فہم حاصل کر رہے ہیں۔
- 2- تعلیمات قرآنی کے فروغ کے لیے مختلف مقامات پر اجتماعی مطالعہ قرآن پر مشتمل
دروس قرآن کا اہتمام کیا گیا جن میں فیصل آباد اور مرکز تحریک لاہور میں قرآن مجید کا مطالعہ مکمل ہوا اور لاہور ہی میں جامع مسجد درس بڑے میاں مغل پورہ، جامع مسجد قاسم خاں صدر کینٹ، جامع مسجد ابوبکر نقشبندیہ مین بازار قینچی اور جامع مسجد چوک دالگراں برانڈرتھ روڈ میں منتخب مطالعہ قرآن پر مشتمل درس قرآن جاری رہا۔
- 3- عوامی تربیت کیلئے دیگر پروگراموں کے علاوہ گزشتہ سالوں میں رمضان المبارک
میں اجتماعی اعتکاف کا اہتمام کیا گیا۔
- 4- افراد معاشرہ میں دینی کتب کے مطالعہ کا شوق پیدا کرنے اور دینی تعلیمات کے
فروغ کے لیے عوامی لائبریریوں کے نیٹ ورک کے قیام کے سلسلے میں ابتدائی قدم کے طور پر مین بازار قینچی لاہور میں مطالعہ قرآن عوامی لائبریری قائم کی گئی ہے۔
- 5- وقتاً فوقتاً اہم موضوعات پر مفید ومختصر کتابچے شائع کر کے مفت تقسیم کیے گئے۔
- 6- دور حاضر کی انسانی ضروریات ونفسیات اور ماحول سامنے رکھتے ہوئے قدیم وجدید
موضوعات پر تحقیقی لٹریچر کی تیاری کیلئے سینکڑوں کتب پر مشتمل ریسرچ سنٹر قائم کیا گیا ہے جہاں نومبر 2008ء سے اہل افراد کی خدمات حاصل کر کے تحقیقی کام شروع ہے۔
توہین رسالت
عنقریب آغاز
- ❶ علمی و تعلیمی مواد
- ❸ ریسرچ لائبریری
- ❺ تحریک کے اشاعتی
علاوہ ازیں
ہے اور دلچسپی رکھنے والے قارئین محترم! کی دستیابی اور مالی وسائل آپ جانتے ہیں کہ محراب و منبر اور درود و سلام جہاں اہل علم غیر نذرانوں، مزارات کی تزئین قرآن وحدیث، تعلیم و تعلم تحریک مطالعہ قرآن کی کتب میں اضافے، ریسرچ تکمیل کے لیے اسی مشکل آپ علماء ہوں یا مشائخ عسکری، امیر ہوں یا غریب
آگے بڑھیں !!! اور
کے لیے اپنے علم و تجربہ، اپنے وقت،ا
چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں
انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔"
☆ بینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا
238 ان محنتوں میں قرآنی معاشرے کی تشکیل
طرز فہم قرآن کا نہایت آسان اور دلچسپ کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں افراد فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔
مقامات پر اجتماعی مطالعہ قرآن پر مشتمل قرآن تحریک لاہور میں قرآن مجید کا مطالعہ مغل پورہ، جامع مسجد قاسم خاں صدر جامع مسجد چوک دالگراں برانڈرتھ روڈ
گزشتہ سالوں میں رمضان المبارک
شوق پیدا کرنے اور دینی تعلیمات کے عام کے سلسلے میں ابتدائی قدم کے طور قائم کی گئی ہے۔
تقسیم کیے گئے۔
اصول سامنے رکھتے ہوئے قدیم و جدید پر مشتمل ریسرچ سنٹر قائم کیا گیا ہے عمل کر کے تحقیقی کام شروع ہے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
عنقریب آغاز کے منتظر پروگرام:
- ❶ علمی و تعلیمی مواد پر مشتمل ویب سائیٹ کا اجراء ❷ آن لائن دینی رہنمائی کا اہتمام
- ❸ ریسرچ لائبریری کیلئے مزید کتب کا حصول ❹ ریسرچ سکالرز کی تعداد میں اضافہ
- ❺ تحریک کے اشاعتی ادارہ / مکتبہ کا قیام
علاوہ ازیں مکمل اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کا تفصیلی خاکہ بھی تحریراً تیار ہے اور دلچسپی رکھنے والے احباب کو برائے ملاحظہ و تبادلۂ خیال پیش کیا جا سکتا ہے۔
قارئین محترم! جذبہ، لگن، صلاحیت اور منصوبہ بندی کی اہمیت اپنی جگہ مگر اہل افراد کی دستیابی اور مالی وسائل کی فراہمی کے بغیر یہ سب کچھ زبانی جمع خرچ کے سوا کیا ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ ہماری مساجد میں تعلیم و تعلم پر کتنا وقت اور سرمایہ خرچ ہوتا ہے اور محراب و منبر اور در و دیوار کی شیشہ گری و مینا کاری پر کتنے سال لگتے اور کتنا مال خرچ ہوتا ہے۔ جہاں اہل علم غیر علمی مشاغل پر مطمئن ہوں اور اہل دولت کے کثیر وسائل مروجہ محافل، نذرانوں، مزارات کی تزئین و آرائش، عرسوں، سوئم و چہلم وغیرہ پر ترجیحاً خرچ ہوں وہاں دروسِ قرآن و حدیث، تعلیم و تعلم، لائبریری، کتاب وغیرہ کے سلسلے کیا فروغ پائیں گے۔
تحریک مطالعہ قرآن کو بھی اپنی علمی کتب کی طباعت و اشاعت، ریسرچ لائبریری کی کتب میں اضافے، ریسرچ سکالرز کی تعداد میں توسیع اور اپنے دیگر علمی منصوبہ جات کی تکمیل کے لیے اسی مشکل کا سامنا ہے۔
آپ علماء ہوں یا مشائخ، تاجر ہوں یا ملازم، افسر ہوں یا ماتحت، سیاست دان ہوں یا عسکری، امیر ہوں یا غریب ...... سب سے یہی درخواست ہے کہ ...... آگے بڑھیے !!! اور تحریک مطالعہ قرآن کا پاکیزہ پروگرام ہر سُو عام کرنے کے لیے اپنے علم و تجربہ، اپنے وقت، اپنے مال اور اپنی محنت کے ذریعے ہمارا ساتھ دیجیے۔
توہین رسالت: علمی و تاریخی جائزہ
معاونت کی عملی صورتیں:
- 1- اہل علم دروس قرآن وحدیث کے فروغ اور تحقیق و تحریر کیلئے اپنا وقت عنایت فرمائیں۔
- 2- اہل ثروت لائبریریوں کے نیٹ ورک اور کتابوں کی تعداد میں توسیع، ریسرچ
سکالرز کی تنخواہوں، کتابوں کی طباعت و اشاعت، تعلیم و تربیت کے پروگراموں کے انعقاد و اہتمام، اخباری اشتہارات اور ماہانہ اخراجات کے لیے دل کھول کر مالی معاونت کریں۔
- 3- تحریک مطالعۂ قرآن کی کتب کی اشاعت کے لیے عطیات دے کر بھی آپ علم
کے فروغ میں ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔
- 4- چوں کہ ان کتب کی آمدن شعبۂ تحقیق کی خود کفالت اور شعبۂ طباعت واشاعت کے
قیام و استحکام کا ایک ذریعہ ہے اس لیے احباب میں تقسیم کرنے کے لیے آپ زیادہ سے زیادہ تعداد میں کتب خرید کر ہماری ان کوششوں میں معاونت کر سکتے ہیں۔ یہ علم دین کی خدمت بھی ہے اور اپنے پیاروں کے ایصال ثواب کا بہترین دائمی ذریعہ بھی۔
کاش! اپنے سارے مالی وسائل غیر علمی کاموں پر خرچ کر دینے والے احباب بھی علمِ دین کی تبلیغ و اشاعت کی ضرورت و فضیلت جان لیں۔
------------------حدیث رسول مقبول ﷺ------------------ حضورﷺ نے فرمایا: إِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ....... جب ابن آدم فوت ہوتا ہے اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے، صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے نفع اُٹھایا جائے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔
﴿ مسلم کتاب الوصية باب ما يلحق الانسان من الثواب بعد وفاته ﴾
اسلام دشمنی کی چشم کشا تفصیل
توہین رسالت
کا
علمی و تاریخی جائزہ
علامہ محمد تصدق حسین
فاضل جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
تحریک مطالعۂ قرآن