19.
20.
(i)
(ii)
(iii)
(iv)
(v)
(vi)
(vii)
(viii)
21.
Name/Fat
1. NIL NI
2. NIL NI
3.
4.
5.
6.
7.
8.
22. Ad
1.
2.
SIRHAN
انٹرنیشنل
ت زدہ افراد اور طبقات کی خدمت میں مصروف
عطیات
آپ کی سرپرستی سے ہزاروں جگنو روشن ستارے بن سکتے
تعلیم، صحت اور اچھی خوراک ان ہزاروں یتیم بچوں کا بھی
ان ہزاروں یتیم بچوں کے لئے جن کا کوئی سہارا نہی
تعلیم اور صحت کی سہولیات ، اچھی خوراک اور نگہداشت، محبت ا
ایک مسجد کی تعمیر ایک گاؤں کی دینی اور سماجی خدمت کے ساتھ ساتھ اجز
معذور افراد باوقار شہری ہیں بوجھ نہیں ۔
پاکستان اور آزاد کشمیر میں ہزاروں بے کس اور مجبوروں کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے
ن کے زلزلہ زدگان کے لئے
آپ کی مستقل امداد کی اشد
بات اس پتے پر روانہ فرمائیں
uslim Hands
UNITED FOR
ad Office: 148-164 Greg
NG 7 5JE UK Ph:
Pakistan
House #149, Street #60
Ph: 051-4446363
c #: 0082-01002413. Bank Al
فقر غیور اور عشق خود آگاہ کا نقیب کثیرالاشاعت مجلہ
ماهنامه ضیائے حرم
اسلام آباد
لاهور
جلد 41
مسلسل اشاعت کا 41 واں سال
شمارہ 6-7
مارچ ، اپریل 2011ء ربیع الثانی / جمادی الاولی 1432ھ
مدیر اعلیٰ
پیر محمد امین الحسنات پیرزادہ
مدیر
پیر محمد فضل الرحمن شاہ مجددی
نائب مدیران
محمد یعقوب اعوان / محمد اعجاز الحسن
مدیر سرکولیشن
چوہدری محمد عنایت گوندل
محمد علی ولائتی
اپنے نام جاری کروانے اور سابقہ
چندہ ختم ہونے کی صورت میں
دیے گئے اکاؤنٹ میں رقم بھیج کر
درج ذیل نمبر پر مطلع کریں۔
0301-6940813
منیجر مارکیٹنگ و اشتہارات
طارق محمود میر
0312-5799902
کمپوزنگ و ڈیزائننگ: عقیل عباس
خطاط: ادریس احمد
قیمت خصوصی نمبر: 200 روپے
زر تعاون سالانه
قیمت عام شمارہ 30 روپے
- عام ڈاک 330 روپے
- رجسٹرڈ ڈاک 450 روپے
- بذریعہ وی پی 340 روپے
بیرون ممالک
امریکہ ، کینیڈا ، نیوزی لینڈ ، آسٹریلیا ، افریقہ وغیرہ 45 ڈالر سالانہ ۔ برطانیہ 25 پونڈز سالانہ
دیگر یورپی ممالک 30 یورو سالانہ ۔ مشرق وسطیٰ و دیگر ایشیائی ممالک 36 ڈالر سالانہ
شمارہ میں شائع ہونے والی نگارشات کے صحت مضمون کی ذمہ داری لکھنے والوں پر ہے۔
سوئے قطار می کشم ناقہ بے زمام را
موسس
ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری
مجلس مشاورت
ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی
ڈاکٹر ایس ایم زمان
ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمن
پیرزادہ امداد حسین
ڈاکٹر همایوں عباس شمس
ڈاکٹر حافظ سجاد احمد
پروفیسر حبیب اللہ چشتی
محمد اسلم سوری
رئیس مجلس ادارتی امور
دفاتر
دفتر ماہنامہ ضیائے حرم
A-228، شوال بلاک، اعوان ٹاؤن ملتان روڈ، لاہور
فون و فیکس : 37841576-42-92+ E-mail: ziaeharam@gmail.com
سرکولیشن آفس
دفتر ماہنامہ ضیائے حرم بھیرہ ضلع سرگودھا۔
اطلاع
کسی بھی جگہ سے رقم جمع کروانے کی فری سہولت
اکاؤنٹ نمبر 7-3710040 یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ
تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا برانچ کوڈ نمبر 0226 سوئفٹ کوڈ UNIL PKKA
انگلینڈ آفس
Haji M. Tameez
8 Miersfield Cressex Estate, High Wycombe,
BUCKS (U.K.) HP 11 1TX, 01494-527835
سرورق : فیضی گرافکس
یہ مجلہ ملٹی لائن پرنٹرز سے چھپوا کر
دفتر ماہنامہ ضیائے حرم خیابان کرم سیکٹر I-8/1 اسلام آباد سے شائع کیا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپر
دعوت فکر
تحفظ ناموس رسالت اور ہمارا فرض
اس وقت عالم کفر متحد ہو کر ہمارے پیارے آقا ومولیٰ سرور دو جہاں وجہ تخلیق کون ومکاں، حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت و ناموس پر حملہ آور ہے اور اس مقصد کے لیے تمام جدید ابلاغی وسائل (انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ٹی وی، اخبارات اور رسائل وجرائد وغیرہ) کو بروئے کار لا رہا ہے۔
ان حالات میں ملی غیرت اور دینی حمیت ہر مسلمان کلمہ گو سے سوال کرتی ہے: کیا آپ نے تحفظ ناموس رسالت میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے؟ تحفظ ناموس رسالت ہر مسلمان کا فرض ہے، کیا آپ اپنا یہ فرض پورا کر رہے ہیں؟ سوچیے! غور و فکر کیجیے اور اپنے آپ سے سوال کیجیے!
- اگر آپ ارباب اختیار واقتدار ہیں تو اپنے اندر یہ احساس پیدا کیجیے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی حرمت
کے تحفظ کے حوالہ سے پہلا سوال آپ سے ہی کرے گا۔ اس لیے اپنے آپ کو اس سوال کے جواب کے لیے تیار کیجیے۔
- اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم کا نور عطا کیا ہے تو اپنے مطالعہ کا رخ اپنے نبی کریم ﷺ کی ناموس کے تحفظ کی طرف موڑیے۔
- اگر خالق کائنات نے آپ کو لکھنے کی صلاحیت ودیعت فرمائی ہے تو اپنے افکار وحروف کی حرمت کو حرمت مصطفیٰ ﷺ
پر نثار کیجیے۔
- اگر آپ تعلیم وتعلم کے شعبہ سے وابستہ ہیں تو اپنے طلباء کے دلوں میں حب رسول کریم ﷺ کی قندیل فروزاں
کرنے کے لیے انہیں تحفظ ناموس رسالت کا درس دیجیے۔
- اگر آپ واعظ ہیں تو اپنے بیان و آہنگ کو تحفظ ناموس رسالت کے لیے وقف کیجیے۔
- اگر آپ میڈیا سے منسلک ہیں تو اپنی ابلاغی صلاحیتوں کو اپنے محبوب نبی ﷺ کی حرمت کے تحفظ کے لیے بروئے کار لائیے۔
- اگر آپ اہل ثروت ہیں تو اپنا مال تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے خرچ کیجیے۔ اللہ کے حبیب مکرم ﷺ کی ناموس
کے لیے خرچ کی ہوئی ایک ایک پائی آپ کے لیے قبر کا نور اور آخرت کا توشہ بنے گی۔
- اگر آپ ایک خاتون خانہ ہیں تو اپنی اولاد کی تربیت اس نہج پر کیجیے کہ وہ حرمت رسول کے تحفظ کے لیے اپنا سب کچھ
قربان کرنے کے جذبہ سے سرشار ہو کر پروان چڑھے۔
- آپ جس مرتبہ ومنصب کے بھی حامل ہیں اور جہاں کہیں بھی ہیں، اپنی صلاحیت اور اپنے وسائل کے مطابق تحفظ
ناموس رسالت کے کام میں اپنا حصہ ڈ کرنے کے لیے لٹریچر عام کریں اور ا میں اپنا کردار ادا کریں۔
ماہنامہ ضیائے حرم کا تحفظ ناموس ر ہے۔ جہاں تک ممکن ہو آپ بھی اس وقیع علمی اس نمبر کی کاپیاں خرید کر اپنے فوت شدگان کے سامان کریں۔ یہ خصوصی نمبر اس عظیم فریضہ کی ا
عصر حاضر ٹیکنالوجی کی یلغار کا دور ہے۔ اسی قوم کی تہذیب دنیا پر راج کرے گی۔ اس ہے۔ اس جنگ کا ایک اور اہم میدان الیکٹرانک ہتھیار ہے خصوصاً اس کی وہ سائیٹس جنہوں نے کہ وہ اسلام کے خلاف اس عالمی یلغار کے مقا کرے جس میں وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سک
اپنے آقا ومولیٰ حضور نبی رحمت ﷺ سے م ناموس پر ہونے والے پے در پے ہونے والے ح آمادہ ہوسکیں اور اگر خدانخواستہ ہم اپنے آپ کو ب شدت کی وجہ سے ہمارے دلوں پر مہر تو نہیں لگ گ پھر ہمیں انتظار کرنا چاہیے اس وقت کا جب
قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَا اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيْلِهِ فَتَر الْفَاسِقِيْنَ
(سورہ توبہ ۲۴)
”(اے حبیب مکرم صلی اللہ علیک وسلم بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ اور کے مندے کا اور وہ مکانات جن کو تم پ رسول مکرم سے اور اس کی راہ میں جہاد اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو ج
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء 3 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہمارا فرض
ون ومکاں حضور نبی رحمت حضرت محمد می وسائل (انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ٹی وی، ہے۔
ہے ہیں؟ ت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی حرمت پ کو اس سوال کے جواب کے لیے تیار کیجیے۔ م ﷺ کی ناموس کے تحفظ کی طرف موڑیے۔ افکار وحروف کی حرمت کو حرمت مصطفیٰ ﷺ حب رسول کریم ﷺ کی قندیل فروزاں کیجیے۔
ف کے تحفظ کے لیے بروئے کار لائیے۔ اللہ کے حبیب مکرم ﷺ کی ناموس ہوگی۔
ل کے تحفظ کے لیے اپنا سب کچھ اپنے وسائل کے مطابق تحفظ
ناموس رسالت کے کام میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اپنے احباب اور حلقہ تعارف میں تحفظ ناموس رسالت کا شعور اجاگر کرنے کے لیے لٹریچر عام کریں اور اس محاذ پر درپیش چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے ملت کی شیرازہ بندی میں اپنا کردار ادا کریں۔
ماہنامہ ضیائے حرم کا تحفظ ناموس رسالت نمبر اپنے نبی مکرم ﷺ کی حرمت کے تحفظ کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔ جہاں تک ممکن ہو آپ بھی اس وقیع علمی دستاویز کو پھیلا کر تحفظ ناموس رسالت کی تحریک میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس نمبر کی کاپیاں خرید کر اپنے فوت شدگان کے ایصال ثواب کے لیے تقسیم کریں اور اپنی اور اپنے مرحومین کی مغفرت کا سامان کریں۔ یہ خصوصی نمبر اس عظیم فریضہ کی ادائیگی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا محض ایک پہلو ہے۔
عصر حاضر ٹیکنالوجی کی یلغار کا دور ہے۔ اس دور میں افکار ونظریات کی جنگ عروج پر ہے۔ جو قوم یہ جنگ جیتے گی اسی قوم کی تہذیب دنیا پر راج کرے گی۔ اس لیے یہ جنگ حربی میدانوں کے بجائے فکری دانش گاہوں میں لڑی جارہی ہے۔ اس جنگ کا ایک اور اہم میدان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اس عالمی یلغار کا اہم ہتھیار ہے خصوصاً اس کی وہ سائیٹس جنہوں نے سوشل میڈیا کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ اس تناظر میں ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اسلام کے خلاف اس عالمی یلغار کے مقابلہ کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور اس کے لیے کم از کم ایک ایسے پہلو کو منتخب کرے جس میں وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہو۔
اپنے آقا ومولیٰ حضور نبی رحمت ﷺ سے محبت کی دعویدار امت پر اگر خدانخواستہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ آپ ﷺ کی ناموس پر ہونے والے پے در پے ہونے والے منظم حملوں کے باوجود اس کے دل تحفظ ناموس رسالت کے لیے کچھ کرنے پر آمادہ ہوسکیں اور اگر خدانخواستہ ہم اپنے آپ کو کچھ کر گزرنے کے جذبہ سے عاری پاتے ہیں تو پھر سوچیے کہ کہیں حب دنیا کی شدت کی وجہ سے ہمارے دلوں پر مہر تو نہیں لگ گئی؟
پھر ہمیں انتظار کرنا چاہیے اس وقت کا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَاَبْنَآؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ
(سورہ توبہ ۲۴)
’’(اے حبیب مکرم صلی اللہ علیک وسلم!) آپ فرمائیے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ کاروبار اندیشہ کرتے ہو تم جس کے مندے کا اور وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو زیادہ پیارے ہیں تم کو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول مکرم سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے تو انتظار کرو یہاں تک کہ لے آئے اللہ تعالیٰ اپنا حکم اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو جو نافرمان ہے۔‘‘
(مرتبین)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
كَشَفَ الدُّجٰے بِجَمَالِہٖ صَلُّوْا عَلَيْهِ وَآلِہٖ
فہرست مضامین
تحفظ ناموس رسالت ..... عالمی سطح پر امت مسلمہ کے متفقہ لائحہ عمل کی ضرورت پیر محمد امین الحسنات شاہ ۹ امتیازات و توقیر مصطفیٰ ..... قرآن کی نظر میں محمد سلیمان اسدی ۱۵ عظمت مصطفیٰ ..... قرآن اور مستشرقین کی نظر میں ڈاکٹر محمد جنید ندوی ۳۳ عقیدہ تحفظ ناموس رسالت ..... سورۃ الکوثر کی روشنی میں ڈاکٹر سلیمان بن سالم ۴۱ حافظ محمد نعیم الدین آداب بارگاہ رسالت قرآن کی روشنی میں ڈاکٹر پیرزادہ ابوالحسن محمد شاہ ۵۵ تعظیم و تکریم رسالت مآب اور صحابہ کرام کا طرز عمل محمد اعجاز حسن ۶۵ ناموس رسالت مآب اور افکار ضیاء الامت ڈاکٹر محمد ہمایوں عباس شمس ۷۴ نصرت رسول کریم ﷺ ..... مفاہیم اور عملی صورتیں پروفیسر حبیب اللہ چشتی ۷۹ ڈاکٹر محمد سجاد عصمت انبیاء کرام علیہم السلام کا تصور ..... اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پروفیسر کنور سلطان احمد ۹۳ رسول کریم ﷺ کا اپنے گستاخوں سے سلوک اور ان کا انجام ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں ۱۱۷ خلافت راشدہ میں گستاخان رسول کا انجام ڈاکٹر محمد طفیل ۱۵۵
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ ا
شاتم رسول کریم ﷺ کی سزا..... ائمہ فقہا برصغیر پاک و ہند کے گستاخان رسول کا عبـ توہین رسالت اور اسلام دشمن تحریکیں اور پاکستان میں قانون ناموس رسالت کا ارتقـ قانون ناموس رسالت اور اسلامی نظریاتی کـ قانون ناموس رسالت ﷺ ..... دفعہ 295 پاکستان میں توہین رسالت کے مقدمات کـ مسئلہ توہین رسالت ..... فکری توازن کی رو قانون ناموس رسالت کے ناقدین کے تحفـ قانون ناموس رسالت ..... ایک شبہ کا ازالـ جرم شتامت رسول کریم ﷺ کی سزا ..... بین
حقوق انسانی کے متعلق بین الاقوامی قانون دیگر مذاہب و قوانین کی توہین پر سزائیں اہانت خدا اور توہین رسالت بائبل کے تصور تو توہین رسالت کے خلاف ردعمل کو کیسے موثر
تحفظ ناموس رسالت پر کتابیات
تحفظ ناموس رسالت نمبر
صلوا علیہ و آلہ
مضامین
ضرورت پیر محمد امین الحسنات شاہ ۹ محمد سلیمان اسدی ۱۵ ڈاکٹر محمد جنید ندوی ۳۳ ڈاکٹر سلیمان بن سالم ۴۱ حافظ محمد نعیم الدین ڈاکٹر پیرزادہ ابوالحسن محمد شاہ ۵۵ محمد اعجاز احسن ۶۵ ڈاکٹر محمد ہمایوں عباس شمس ۷۳ پروفیسر حبیب اللہ چشتی ۷۹ ڈاکٹر محمد سجاد پروفیسر کنور سلطان احمد ۹۳ ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں ۱۱۷ ڈاکٹر محمد طفیل ۱۵۵
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
شاتم رسول کریم ﷺ کی سزا...... ائمہ فقہاء کی آراء کا جائزہ پروفیسر حبیب اللہ چشتی ۱۶۳ برصغیر پاک و ہند کے گستاخان رسول کا عبرت آموز انجام پروفیسر محمد الیاس اعظمی ۱۸۱ توہین رسالت اور اسلام دشمن تحریکیں اور سازشیں قاضی مصطفی کامل ۱۹۵ پاکستان میں قانون ناموس رسالت کا ارتقائی جائزہ ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں ۲۱۳ قانون ناموس رسالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات محبوب الرحمن ۲۵۳ قانون ناموس رسالت ﷺ...... دفعہ ۲۹۵سی کا مطالعاتی جائزہ قاضی عبدالقدیر قدائی ۲۶۳ پاکستان میں توہین رسالت کے مقدمات کا اجمالی جائزہ افتخار الحسن میاں ۲۷۳ مسئلہ توہین رسالت...... فکری توازن کی روشنی میں جسٹس نذیر احمد غازی ۲۸۹ قانون ناموس رسالت کے ناقدین کے تحفظات کا اجمالی جائزہ شہزاد افضل ۲۹۳ قانون ناموس رسالت...... ایک شبہ کا ازالہ محمد متین خالد ۳۰۳ جرم شتم رسول کریم ﷺ کی سزا...... بین الاقوامی قانون کے تناظر میں ڈاکٹر حسن سید حامد خطاب ۳۰۷ مولانا ظفر اقبال کلیار حقوق انسانی کے متعلق بین الاقوامی قانون اور قانون تحفظ ناموس رسالت سعدیہ تبسم ۳۱۹ دیگر مذاہب و قوانین کی توہین پر سزائیں ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں ۳۲۳ اہانت خدا اور توہین رسالت بائبل کے تصور توہین اور اس کی سزا کا ایک تجزیاتی مطالعہ خورشید احمد سعیدی ۳۳۳ توہین رسالت کے خلاف رد عمل کو کیسے مؤثر بنایا جائے ڈاکٹر حافظ شبیر احمد جامی ۳۵۷ جویریہ عثمان تحفظ ناموس رسالت پر کتابیات شیر نوروز خان ۳۶۳
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ
شرکاء کا تعارف
پیر محمد امین الحسنات شاہ مدیر اعلیٰ ماہنامہ ضیائے حرم
محمد سلیمان اسدی لیکچرر، گفٹ یونیورسٹی، گوجرانوالہ
ڈاکٹر محمد جنید ندوی پی ایچ ڈی سپروائزر، فیکلٹی آف اسلامک سٹڈیز، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
ڈاکٹر سلیمان بن سالم لیکچرر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ
حافظ محمد نعیم الدین ایم۔اے ریسرچ سکالر الازہر یونیورسٹی مصر
ڈاکٹر پیرزادہ ابوالحسن محمد شاہ وائس پرنسپل دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
محمد اعجاز احسن نائب مدیر ماہنامہ ضیائے حرم
ڈاکٹر محمد ہمایوں عباس شمس شعبہ اسلامیات جی سی یونیورسٹی، لاہور
پروفیسر حبیب اللہ چشتی اسسٹنٹ پروفیسر ایف جی پوسٹ گریجویٹ کالج، ایچ ایٹ، اسلام آباد
ڈاکٹر محمد سجاد اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد
پروفیسر کنور سلطان احمد شعبہ علوم اسلامیہ، گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج ملتان
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل
ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں
ڈاکٹر محمد طفیل
پروفیسر محمد الیاس اعظمی
قاضی مصطفیٰ کامل
محبوب الرحمٰن
قاضی عبدالقدیر قدوائی
افتخار الحسن میاں
جسٹس نذیر احمد غازی
شہزاد افضل
ڈاکٹر حسن سید حامد خطاب
مولانا ظفر اقبال کلیار
سعدیہ تبسم
خورشید احمد سعیدی
ڈاکٹر حافظ شبیر احمد جامعی
جویریہ عثمان
شیر نوروز خان
19.
20.
(i)
(ii)
(iii)
(iv)
(v)
(vi)
(vii)
(viii)
21. A
Name/Fa
1. NIL NI
2. NIL NI
3.
4.
5.
6.
7.
8.
22. A
تحفظ ناموس رسالت نمبر
رحمۃ للعالمین
رف
گوجرانوالہ
آف اسلامک سٹڈیز،
سٹی، اسلام آباد
مدینہ منورہ
الازہر یونیورسٹی مصر
شریف، بھیرہ شریف
یونیورسٹی، لاہور
پوسٹ گریجویٹ کالج، ایچ ایٹ، اسلام آباد
لامی فکر، تاریخ و ثقافت،
ٹی، اسلام آباد
نٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج ملتان
تحفظ ناموس رسالت نمبر
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء
ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں
ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ علوم اسلامیہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور
ڈاکٹر محمد طفیل
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
پروفیسر محمد الیاس اعظمی
شعبہ علوم اسلامیہ، منہاج یونیورسٹی، لاہور
قاضی مصطفیٰ کامل
صحافی و کالم نگار، روزنامہ نوائے وقت
محبوب الرحمٰن
نائب مدیر ماہنامہ ضیائے حرم
قاضی عبدالقدیر قذافی
ایڈیشنل ضلع قاضی بھمبر، راولاکوٹ، آزاد کشمیر
افتخار الحسن میاں
ریسرچ ایسوسی ایٹ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
جسٹس نذیر احمد غازی
سابق جج لاہور ہائیکورٹ
شہزاد افضل
ایم فل ریسرچ سکالر، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
ڈاکٹر حسن سید حامد خطاب
اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ ادب، جامعہ طیبہ مدینہ منورہ
مولانا ظفر اقبال کلیار
فاضل بھیرہ شریف و بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
سعدیہ تبسم
لیکچرر شعبہ قانون، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
خورشید احمد سعیدی
لیکچرر شعبہ تقابل ادیان، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
ڈاکٹر حافظ شبیر احمد جامی
لیکچرر شعبہ علوم اسلامیہ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
جویریہ عثمان
ریسرچ سکالر ایم۔اے علوم اسلامیہ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
شیر نوروز خان
چیف لائبریرین ڈاکٹر حمید اللہ لائبریری ادارہ تحقیقات اسلامی،
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
نعت رسول مقبول
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
وَعِنْدَ اللّٰهِ فِيْ ذَاكَ الْجَزَاءُ
هَجَوْتَ مُحَمَّدًا بَرًّا حَنِيْفًا
أَمِيْنَ اللّٰهِ شِيْمَتُهُ الْوَفَاءُ
فَإِنَّ أَبِيْ وَوَالِدَتِيْ وَعِرْضِيْ
لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِّنْكُمْ وِّقَاءُ
وَأَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِيْ
وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ كُلِّ عَيْبٍ
كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ
مداح رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 9 تحفظ ناموس رسالت نمبر
سر دلبراں
تحفظ ناموس رسالت
عالمی سطح پر اُمتِ محمد ﷺ کے متفقہ لائحہ عمل کی ضرورت
اللہ جل شانہ نے خریطۂ عالم پر اسلامی ممالک کو مثالی محل وقوع بخشنے کے ساتھ ساتھ انہیں موثر ذرائع توانائی اور بے شمار معدنی وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ ان ممالک کی قیادتیں اگر سر جوڑ کر بیٹھیں، باہمی اتحاد و اتفاق کے ذریعے اپنا باوقار مرکز قائم کرتیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ترقی کر کے تسخیر کائنات کا فریضہ سرانجام دیتیں، اپنے بازوؤں میں قوت پیدا کر کے اسلام مخالف قوتوں کو ان کی حدود میں رکھنے کی کوششیں کرتیں، اپنے عوام کے مسائل کا ادراک کر کے ان کے دکھ درد میں شریک ہوتیں اور بالخصوص اپنے دین کو بحیثیت نظریہ حیات اپنا کر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیاں اس کے ضوابط اور اقدار کے مطابق ڈھالنے کی سعادت حاصل کرتیں تو آج اس کربناک صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو ہر ذی شعور مسلمان کے لئے سراپا اضطراب ہے۔ آج ہمارے ہر حکمران کو شکوہ ہے کہ اسلام مخالف ایجنسیاں ہمارے ہی افراد کو استعمال کر کے پوری اسلامی دنیا میں شورش برپا کر رہی ہیں۔ ہمارے عوام غیر مسلح تھے لیکن حکومت مخالف افراد اور گروہوں کو عالمی قوتیں دھڑا دھڑ اسلحہ دے رہی ہیں۔ ہماری حکومتوں نے اپنے طلباء جدید تعلیم کے حصول کے لئے سرکاری اخراجات پر مغربی جامعات میں بھیجے تھے وہ تحصیل علم کے بعد اپنے ممالک کی تقدیر سنوارنے کی بجائے بغاوتوں کے مراکز بن گئے ہیں۔
ہمارے یہ سارے شکوے تو بالکل بجا ہیں لیکن ہمیں اس حقیقت کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ اسلامی ممالک میں جو بادشاہتیں ایک طویل عرصہ سے قائم ہیں، ان کے خاندانوں اور عوام کی طرز بود و باش میں کتنا فرق ہے؟ ہمیں اس سچ کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ شاہان وقت اور ان کے عوام کے درمیان موجود فاصلوں کو ختم کرنے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ اس وقت دنیا نے ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر لی ہے اور جدید ذرائع ابلاغ کی وجہ سے ہر آدمی کی تغیر پذیر تقاضوں اور حالات پر نظر ہے۔ ایسے ماحول میں ہر فرد کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ سوچے اور سمجھے کہ وہ جس حاکم وقت کے سامنے سر تسلیم خم کر رہا ہے وہ میرے لیے کیا کر رہا ہے یا مجھے کیا دے رہا ہے۔
ہمارے قارئین یقیناً تائید فرمائیں گے کہ مسلم ممالک تقابلی حوالوں سے ان سارے معاملات میں ان ممالک سے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 10 تحفظ ناموس رسالت نمبر
بہت پیچھے ہیں جو ہماری سلطنتوں میں مداخلت کر کے ہمیں پریشان کرتے رہتے ہیں۔ ایسے دوسرے اسلامی ممالک جہاں آج رعایا تبدیلیوں کے تقاضے کر رہی ہے ان کی داستان غم تو اپنی جگہ جبکہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی سارے جمہوری دعوؤں کے باوجود زندگی کی حقیقی قدروں سے بہت دور ہیں۔ اگر تیونس، مصر، اردن اور بحرین کے شاہوں کی تجوریاں سونے سے بھری ہوئی ہیں تو ہمارے ہاں حکمرانی کرنے والے خاندانوں کے پاس دولت و ثروت کی فراوانیاں بھی حیران کن ہیں۔ اگر وہاں کئی دہائیوں سے موروثی شہنشاہیت قابض ہے تو یہاں کی سیاست بھی موروثی اثر ورسوخ سے ہنوز آزاد نہیں ہے۔ اگر وہاں مقتدر طبقہ اور عام آدمی کی سوچوں کے رخ جدا جدا ہیں تو یہاں بھی عوام کا رخ جانب کعبہ قبلہ کی طرف ہے اور حکمرانوں کا قبلہ مغربی استعمار ہے۔ اگر وہاں امیر ترین ریاستوں کی دولت میں عام افراد حصہ دار نہیں تو دین کے نام پر وجود میں آنے والی اس جمہوریہ میں بھی ہوس مال و زر کے حوالوں سے بدعنوانی، لوٹ مار اور کمیشن خوری کے ایسے ایسے واقعات دیکھے اور سنے جارہے ہیں کہ بظاہر دل و دماغ انہیں دیومالائی داستانیں قرار دیتے ہیں لیکن وہ بہرحال مبنی بر صداقت ہوتے ہیں۔ اگر خلیجی ریاستوں کے بارے میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ امریکہ کویت اور عراق کی طرح ان کا سارا نظام درہم برہم کر کے ان کے تیل کے ذرائع پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس خدشہ کو بھی قطعاً نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی ساری اسلام مخالف قوتوں کے لئے آنکھوں کا کھٹکا ہے۔ ان کی انتہائی کوشش ہے کہ پاکستان کو ایک ناکام اور غیر ذمہ دار ریاست قرار دے کر اس کے جوہری ذخائر پر کنٹرول حاصل کیا جائے۔ مصدقہ اخباری رپورٹوں کے مطابق سی آئی اے کے ہزاروں جاسوس ہمارے ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گرد گروپوں کو جوہری اسلحہ سے لیس کیا جائے اور پھر مختلف ممالک میں انہیں ایسے ہدف دیئے جائیں جن تک رسائی کے بعد پراپیگنڈا کیا جاسکے کہ سب کچھ پاکستان کی طرف سے ہو رہا ہے اور پھر اس کو بہانہ بنا کر اس واحد اسلامی ایٹمی طاقت پر حملہ کر کے اس کا جوہری نظام تہس نہس کر دیا جائے۔ کتنے خونچکاں حادثات اور دلدوز واقعات ہیں جو ہر روز بیرونی جارحیت کے سبب ہمارے ہاں وقوع پذیر ہوتے ہیں اور ہماری بے حسی کا ماتم کر کے یہ پیغام چھوڑ جاتے ہیں کہ جہان تگ و دو میں غیرت بڑی چیز ہے۔ اگر غیرت کی یہ دولت ہاتھ لگ جائے تو تاریخ ٹیپو سلطان شہید ؒ جیسے کردار تخلیق کرتی ہے اور اگر یہ نعمت ہاتھ سے نکل جائے تو لوگ میر جعفر اور میر صادق کا روپ دھار کر نشان عبرت بن جاتے ہیں۔ پچھلے دور حکومت میں ایک مکار غدار اور دھوکے باز سربراہ نے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف کاروائیوں کے لئے اپنے ہوائی اڈے دیئے، سامان خورد و نوش اور جنگی اسلحہ کی نقل و حرکت کے لئے دشمن کو زمینی راستے مہیا کیے اور اپنے ملک اور عوام کو ہمیشہ کے لئے بدامنی اور خانہ جنگی کی آماجگاہ بنا دیا۔ موجودہ برسر اقتدار پارٹی کے دور میں مختلف مقامات پر ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور ہر آنے والے دن ان کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ حملے کرنے والے یہ کہتے نہیں تھکتے کہ سب کچھ حاکمان وقت کی اشیر باد سے ہو رہا ہے ہم یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہیں لیکن بے بسی کی زنجیریں ہیں کہ ٹوٹتی نظر نہیں آتیں اور بے کسی کا ماحول ہے کہ بدلتا دکھائی نہیں دیتا۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011
ڈھونڈ چکا میں موج
اللہ تعالیٰ نے جس امت کو ایک ارب سے زائد بخشے ہیں آخر وہ اس مردنی کیفیت سے دوچار کیوں ہے والے اپنے دین کے ساتھ اخلاص کی دولت سے محروم پیار ان کے نزدیک ثانوی حیثیت رکھتا ہے اور اس و اسلام وقفے وقفے سے اہل اسلام کو آزماتے رہتے ہیں دیتی ہیں لیکن اسلامی ممالک کی حکومتوں پر قابض سلاطین یہود و نصاریٰ مسلمانوں کو جن آزمائشوں سے محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں ان کی ہرزہ سرائی ہے مستشرقین آپ کی سیرت طیبہ اور کردار پر انگلیاں اٹھا دلازاری کی جاتی ہے اور کبھی عالمی سطح پر یہ پراپیگنڈہ ہے اور آزادی رائے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ ل رسالت جیسے خلاف عقل قوانین کا مطالبہ کرتے رہ ہوئے بغض، کینہ اور حسد کے وہ جذبات ہیں جن کا ا مسلمانوں کی شناخت صرف اور صرف ”نام محمد“ﷺ نام کرنا چاہتے ہیں۔ غیرت وحمیت نام تھا جس کا وہ میں ہیں بالخصوص مملکت خداداد پاکستان میں ہر سا وسیع النظری سکھاتے ہیں، خود پیغمبر اسلام ﷺ رحمۃ برداشت اور عفو و درگزر کا سبق ازبر کروایا۔ ساری م انسان کے پاس عقل موجود ہے ”مولویوں“ کے ایک لوگ عدم برداشت کی راہ پر چل کر اقلیتوں کا بھی جی ساری باتیں ہمارے میڈیا پر زیر بحث لائی جاتی ہیں عوام کے دلوں میں تشکیک اور تذبذب پیدا کرنے ک توہین رسالت کے ایک مقدمہ سے اس کا آغاز ہو اس قتل کے بعد ہمارے ٹی وی چینلز نے حالات کو ممالک اور ایجنسیاں جو ہمیں اس ڈگر پر چلانے ک
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 11 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف
اللہ تعالیٰ نے جس امت کو ایک ارب سے زائد افرادی قوت کی دولت ارزانی فرمائی ہے اور مادی وسائل بھی بے پناہ بخشے ہیں آخر وہ اس مردنی کیفیت سے دوچار کیوں ہے؟ لاکھ سرپٹخنے سے ایک ہی سبب سامنے آئے گا کہ اسلام کے ماننے والے اپنے دین کے ساتھ اخلاص کی دولت سے محروم ہیں۔ انہیں سب کچھ عزیز ہے لیکن دین کی قدروں کے ساتھ محبت و پیار ان کے نزدیک ثانوی حیثیت رکھتا ہے اور اس مداہنت میں عوام کی بجائے شاہان وقت زیادہ گرفتار ہیں۔ دشمنان اسلام وقفے وقفے سے اہل اسلام کو آزماتے رہتے ہیں۔ ایسے ہر موقع پر عوامی صفوں سے تو جذبوں کی چنگاریاں سلگتی دکھائی دیتی ہیں لیکن اسلامی ممالک کی حکومتوں پر قابض سلاطین پر مہیب خاموشی طاری ہوتی ہے۔
یہود و نصاریٰ مسلمانوں کو جن آزمائشوں سے دوچار کرتے رہتے ہیں ان میں سے سب سے کٹھن مرحلہ ذات پاک محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں ان کی ہرزہ سرائی ہے۔ کبھی تو وہ ہمارے نبی ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کرتے ہیں۔ کبھی مستشرقین آپ کی سیرت طیبہ اور کردار پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ کبھی رشدی ملعون جیسے افراد سے کتابیں لکھوا کر مسلمانوں کی دلازاری کی جاتی ہے اور کبھی عالمی سطح پر یہ پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ ہم جس شخصیت کو چاہیں زیر بحث لائیں، صحافت آزاد ہے اور آزادیٔ رائے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ اور یہ بھی کہ اسلامی ممالک کے باسی مذہبی جنونی ہیں وہ خواہ مخواہ توہین رسالت جیسے خلاف عقل قوانین کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسی ساری حرکات کے پس منظر میں ان کے دلوں میں چھپے ہوئے بغض، کینہ اور حسد کے وہ جذبات ہیں جن کا وہ کسی نہ کسی صورت میں اظہار کرتے ہیں۔ وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی شناخت صرف اور صرف ”نام محمد“ ﷺ سے ہے اور اسی نام کو وہ مسلمانوں کے سینوں سے کھرچ کر انہیں بے نام کرنا چاہتے ہیں۔ غیرت و حمیت نام تھا جس کا وہ حکمرانوں کے گھروں سے جاچکی ہے۔ اب عوامی طبقے سازشیوں کی زد میں ہیں بالخصوص مملکت خداداد پاکستان میں ہر سطح پر یہ بحثیں جاری ہیں کہ اسلام لوگوں کو آزادی دیتا ہے، اس کے اصول وسیع النظری سکھاتے ہیں، خود پیغمبر اسلام ﷺ رحمۃ للعالمین بن کر آئے، انہوں نے اپنے دشمنوں کو معاف کیا۔ انہوں نے برداشت اور عفو و درگزر کا سبق ازبر کروایا۔ ساری امت رسول اللہ ﷺ کی مشترکہ وارث ہے۔ دین کی تعبیر کے لئے ہر انسان کے پاس عقل موجود ہے ”مولویوں“ کے ایک گروہ کو یہ ٹھیکیداری دے کر ہم بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں، یہ لوگ عدم برداشت کی راہ پر چل کر اقلیتوں کا بھی جینا دو بھر کر دیں گے اور پاکستان دنیا کے سامنے بدنام ہو جائیگا۔ ایسی بہت ساری باتیں ہمارے میڈیا پر زیر بحث لائی جاتی ہیں اور پرویزوں کے نام نہاد مفکرین دین کی من مانی تعبیرات کے ذریعے عوام کے دلوں میں تشکیک اور تذبذب پیدا کرتے رہتے ہیں۔ بالخصوص گزشتہ چند ماہ سے یہ سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ توہین رسالت کے ایک مقدمہ سے اس کا آغاز ہوا۔ پنجاب کے گورنر کے قتل کے پس منظر میں ایسی ہی غیر محتاط گفتگو تھی اور اس قتل کے بعد ہمارے ٹی وی چینلز نے حالات کو مزید خراب کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ ممالک اور ایجنسیاں جو ہمیں اس ڈگر پر چلانے کے لئے اپنے سارے جتن کر رہی ہیں اور ہمیں باور کرا رہی ہیں کہ پیغمبر
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 12 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اسلام بھی نعوذ باللہ عام انسان تھے ان کی ذات پر تنقید کی جاسکتی ہے‘ خود ان کے اپنے ممالک میں ان کے مذہبی معاملات میڈیا پر زیر بحث کیوں نہیں لائے جاتے؟ وہ اپنی ایمانیات کو عوامی مسائل کا موضوع کیوں نہیں بناتے؟ ہمارے بارے میں ہی ان کے رویے ایسے کیوں ہیں؟ دشمنان اسلام کے ساتھ یہ معاملات ہم نے کیسے طے کرنے ہیں‘ اس کے بارے ہم بعد میں عرض کریں گے‘ پہلے میں پاکستان میں بسنے والے ان سارے مسلمانوں سے یہ عرض کرتا ہوں کہ پیغمبر اسلام ﷺ ہم سب کے نبی ہیں۔ ہم زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں‘ آپ ﷺ کی رہنمائی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے۔ آپ ﷺ کے بارے میں کمزور گفتگو کا جو سلسلہ چل نکلا ہے‘ وہ انتہائی غلط ہے۔ قانون توہین رسالت کسی جرنیل‘ کسی انسانی آمر‘ کسی عدالت‘ یا کسی پارلیمنٹ کی ذاتی رائے نہیں بلکہ یہ اللہ جل شانہٗ اور اس کے محبوب رسول حضرت محمد ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں بنایا گیا ہے اور پوری امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے۔ اس کے ثبوت کے لئے میں مزید یہ عرض کروں گا کہ پوری امت مسلمہ اس وقت نظریاتی طور پر تین حصوں میں منقسم ہے: اہل السنۃ والجماعت‘ سلفی مکتبہ فکر اور شیعہ مکتبہ فکر۔ اس مسئلہ پر ان تینوں مکاتب فکر کی آراء انتہائی اختصار کے ساتھ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔
اہل السنۃ والجماعت: اس مکتبہ فکر کی ترجمانی اندلس کے چیف جسٹس قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی ہے اور قانون توہین رسالت کے حوالے سے سارے اہل السنۃ والجماعت ان سے متفق ہیں۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں: ”جو شخص حضور ﷺ کو گالی دے (العیاذ باللہ) یا آپ پر عیب لگائے یا کسی نقص کی نسبت آپ ﷺ کی ذات یا نسب یا دین یا آپ کی عادات میں سے کسی عادت کی طرف کرے یا آپ کو بطریق گستاخی کسی چیز سے تشبیہ دے یا آپ کو ناقص کہے یا آپ کی شان کو کم کرے یا آپ پر یا آپ کی کسی بات پر عیب لگائے تو گویا وہ شاتم النبی ہے‘ اس کے بارے میں وہی حکم ہے جو صراحۃً آپ کو گالی دینے والے کا ہے کہ اسے قتل کیا جائے۔“
(کتاب الشفاء)
سلفی مکتبہ فکر: یہ مکتبہ فکر اپنی نسبت علامہ ابن تیمیہ کی طرف کرتا ہے ابن تیمیہ فرماتے ہیں۔ ”اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے جتنے انبیاء و رسل بھیجے‘ وہ ہر قسم کے عیب و نقص سے پاک ہیں اور تمام انبیاء میں حضور ختمی مرتبت جناب محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کا مقام و مرتبہ بلند تر ہے۔ آپ ﷺ انبیاء اور کائنات کے ذرے ذرے کے رسول ہیں کوئی شخص ان کی رسالت کا اقرار کرے نہ کرے‘ ان کی رسالت سے باہر نہیں۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں‘ مکرم ہیں‘ معظم ہیں اور تمام اوصاف حمیدہ اور شمائل طیبہ کے مجسم پیکر ہیں۔ آپ ﷺ کی شان اقدس میں کسی طرح کی معمولی سے معمولی بے ادبی سے انسان صرف دائرہ اسلام سے ہی خارج نہیں ہوتا بلکہ وہ دائرہ انسانیت سے بھی باہر ہو جاتا ہے اور خالق کائنات جل وعلیٰ کو زمین پر اس کا وجود بھی گوارا نہیں۔ اس نے ایسوں پر لعنت کی بوچھاڑ کی ہے اور عذاب الیم ان کا مقدر ہے۔“
آپ ایسے آدمی کا شرعی حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں زبان درازی کرنے والا اگر چہ مسلمان ہو یا کافر ہو بغیر کسی اختلاف کے قتل کیا جائے گا۔“
(الصارم المسلول علی شاتم الرسول)
شیعہ مکتبہ فکر: شیعہ مکتبہ فکر کے مولانا محمد حسین اکبر اجتہادی فرماتے ہیں: مذہب امامیہ کی رو سے شاتم رسول واجب
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ/اپریل 2011ء
پنے ممالک میں ان کے مذہبی معاملات طرح کیوں نہیں بناتے؟ ہمارے بارے صلے طے کرنے ہیں‘ اس کے بارے ہم یہ عرض کرتا ہوں کہ پیغمبر اسلام ﷺ ائی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ین رسالت کسی جرنیل‘ کسی انسانی وب رسول حضرت محمد ﷺ کے حفاظت کے لئے میں مزید یہ عرض واد الجماعت‘ سلفی مکتبہ فکر اور شیعہ سعادت حاصل کرتا ہوں۔ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی ہے اور قاضی عیاض فرماتے ہیں: ”جو شخص ذات یا نسب یا دین یا آپ کی دعا آپ کو ناقص کہے یا آپ کی اس کے بارے میں وہی حکم ہے جو ۔ کے عیب ونقص سے پاک الانبیاء اور کائنات نہیں ۔ آپ ﷺ آپ ﷺ کی شان نہیں ہوتا بلکہ وہ دائرہ اس نے ایسوں پر لعنت کی ان اقدس میں زبان درازی قاتل شاتم الرسول) عظمیہ کی رو سے شاتم رسول واجب
القتل ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارا بھی وہی عقیدہ ہے جو سارے ائمہ کا ہے۔ آپ مزید فرماتے ہیں: سب وشتم یعنی گالی گلوچ ایک معاشرتی برائی ہے۔ اسلام نے اس کا قلع قمع کرنے کے لئے اسے ہر حالت میں قابل تعزیر جرم قرار دیا ہے۔ تعزیری حکم ہر مسلمان کے لئے ہے جو شخص جناب خاتم الانبیاء ﷺ اور دیگر انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک کو بھی گالی دے گا وہ قتل کی سزا کا مستحق ہوگا۔
جناب رسالتمآب ﷺ کو گندہ دہنی کا نشانہ بنانے والوں کو قتل کر دینے کا حق ہر کلمہ گو کو حاصل ہے‘ اس کے لیے حاکم وقت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے اگر حالات کا تقاضا ہو اور حاکم وقت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے تو حاکم کا فرض ہے کہ آنحضرت کی شان میں گستاخی کرنے والے کا سر اڑا دے۔ (تلخیص از ”قانون توہین رسالت“ محمد اسماعیل قریشی)
اگرچہ ہم ماہنامہ ضیائے حرم کی گزشتہ دو مسلسل اشاعتوں کے سر دلبراں میں تحفظ ناموس رسالت کے بارے میں تفصیل سے اپنا موقف پیش کر چکے ہیں۔ دوبارہ انتہائی اختصار کے ساتھ فقہاء کی آراء کی تلخیص اس لئے پیش کی ہے کہ گزشتہ دنوں میں اس حوالہ سے جو گرد اڑائی گئی ہے‘ اس کا ازالہ ہو سکے۔ ضیائے حرم کی زیب نظر اشاعت تحفظ ناموس رسالت نمبر اسی سلسلہ کی حسین کڑی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ اندرون ملک اور بیرون ملک بسنے والے ہمارے سارے پاکستانی اس قیمتی دستاویز کا مطالعہ کریں اور وقتاً فوقتاً اس باب میں مختلف محاذوں سے جو نظری اور عملی خلفشار پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کے سدباب کے لئے فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ جہاں تک اسلام مخالف ممالک اور یہود و ہنود اور نصاریٰ کی لابیوں کا تعلق ہے‘ اس کے لئے تمام اسلامی ممالک کو انتہائی مضبوط مرکز کی ضرورت ہے۔ جب تک وہ ایسے مرکز کے پلیٹ فارم سے اپنے سیاسی‘ ریاستی اور بالخصوص دینی معاملات کو اجتماعی طور پر عالمی محاذوں پر پیش نہیں کریں گے‘ ان کے لئے باعزت زندگیاں گزارنا ممکن نہیں ہوگا۔ اگر مغربی اخبارات میں شائع کئے گئے گستاخانہ خاکوں اور پاکستان میں بننے والے تحفظ ناموس رسالت کے قوانین کے بارے میں مغربی پراپیگنڈا کو کسی ایسے مرکز کے پلیٹ فارم سے جواب دیا جاتا تو یقیناً اس کے وزن کو تولا جاتا اور مسلمانوں کے جذبات کا ایسے خون نہ کیا جاتا جیسے اب ہو رہا ہے۔ دینی معاملات کے ساتھ ساتھ آج ہم خلیجی ریاستوں کی صورت حال بھی ملاحظہ کر رہے ہیں۔ بے شک ان ریاستوں میں آمریتیں قائم ہیں۔ ان ریاستوں میں بسنے والے مسلمانوں کو جمہوری طریقوں سے حق حکمرانی حاصل نہیں ہے لیکن ایسے حقوق کی بازیابی کے لئے مغرب کی ٹھیکیداری کی بجائے انہیں اپنی کسی اسلامی تنظیم کے توسط سے یہ مسائل حل کرنے چاہئیں۔ اگرچہ او آئی سی‘ عرب لیگ اور رابطہ عالم اسلامی جیسے ادارے موجود ہیں لیکن ان میں حقیقی زندگی کا وجود مفقود ہے۔ ان کی قیادتوں کے اندر نہ تو جرأت رندانہ ہے اور نہ دینی غیرت کے وافر جذبات۔ اگر یہ قیادتیں چاہتیں تو ناموس رسالت کے حوالے سے بھی انہیں پوری اسلامی دنیا سے پرجوش حمایت مل سکتی تھی اور عرب ریاستوں کے عوام بھی ان پر اعتماد کر سکتے تھے لیکن یہ مردہ گھوڑے زندگی کی حرارت سے خالی دکھائی دیتے ہیں۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ ایک انتہائی اقلیت کے مسائل کا بہانہ بنا کر امریکہ نیٹو افواج کی صورت میں لیبیا کو ایسے ہی کھنڈرات میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جیسے اس نے عراق اور افغانستان میں
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
کیا۔ پھر وہ اس پر اکتفاء کرے گا یہاں تک کہ عوام کے حقوق کے تحفظ کی آڑ میں خلیجی تیل کے ذخائر پر قبضہ جما لے گا۔ کیا اس راکھ کے ڈھیر میں کوئی سلگتی چنگاری موجود ہے؟ کیا قافلہ حجاز میں کسی حسین کا کردار تخلیق ہو رہا ہے؟ کیا سر زمین عراق کسی نئے صلاح الدین کو جنم دے گی؟ کیا افغانستان کے کوہستانوں سے کوئی اور محمود اٹھے گا؟ کیا اسلام کی بیٹیوں کے تحفظ کے لئے کوئی محمد بن قاسم اور معتصم باللہ پھر آئے گا؟
یہ اور اس قسم کے سینکڑوں سوالات فضاؤں میں گردش کر رہے ہیں اور امت مسلمہ کی غیرت سے ان کے جوابات مانگ رہی ہے۔ اگر کسی نے ان سوالوں پر لبیک کہہ دی تو ہمارے لئے سطح زمین پر زندہ رہنا زیر زمین جانے سے بہتر ہوگا اور اگر کسی مرد مجاہد نے آگے بڑھ کر زمانے کے خلاف جنگ کر کے اسے اپنی مرضی کی ڈگر پر نہ چلایا تو سطح زمین کی بجائے زیر زمین آسودۂ خواب ہونا ہمارا مقدر بن جائے گا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں عزت کی زندگی اور باوقار موت کی دولت ارزانی فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
بجاہ حبیبہ الامین طہ و یٰسین ﷺ و صحبہ اجمعین۔
* * * * *
حافظ اللہ دتہ چشتی صاحب بھی اللہ سے جا ملے
”دیناں“ ہری پور ہزارہ کے حافظ اللہ دتہ چشتی صاحب ۱۸ فروری ۲۰۱۱ء کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ ناز میں جا پہنچے۔ حافظ صاحب موصوف دین کی خدمت کے جذبہ سے سرشار تھے اور پوری زندگی اس کام میں گزار دی۔ خود امامت و خطابت اور شعبہ حفظ میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے اور اپنی اولاد کو اس انداز میں دین کی راہ پر لگایا کہ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف کے تین فارغ التحصیل علماء کے باپ ہونے کا شرف حاصل کیا۔ ان کے بڑے صاحبزادے مولانا اللہ بخش چشتی فوج میں خطیب ہیں جبکہ منجھلے صاحبزادے جو اپنے دور کے خوش نویس طلباء میں شمار ہوتے تھے مدرس ہیں اور سب سے چھوٹے فرزند مشتاق احمد اس سال فارغ التحصیل ہو رہے ہیں۔ حافظ صاحب مرحوم و مغفور کو حضرت ضیاء الامت ؒ سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ اپنے بچوں کے علاوہ ایک بھتیجی کو بھی غوثیہ گرلز کالج بھیرہ شریف سے اکتساب فیض کا موقع مرحمت فرمایا۔
ادارہ ضیائے حرم حافظ صاحب ؒ کی بخشش کے لئے دعا گو ہے اور ان کے صاحبزادگان اور سوگوار خاندان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
تعزیت کے لئے حافظ صاحب مرحوم کے صاحبزادے اللہ بخش چشتی صاحب کا فون نمبر 3045346-0300 ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل محمد سلیمان اسدی *
امتیازات
قرآن
دین اسلام کا مرکز و محور سیدالمرسلین انسانیت کے لیے لازوال تحفہ اور عدیم النظیر ہے۔ جس کے گرد تمام عقائد و نظریات گھو نتیجہ ہے کہ ہم اپنے تمام عقائد و نظریات ک میں اگر کمی اور شک و شبہ لاحق ہو جائے تو گہری دراڑیں پڑ جائیں گی۔ اس اعتب رسالت کی یہی مرکزیت اس امر کی متق مرکز و محور قرار پائے۔ قرآن مجید نے نہ نے اپنے کلام مقدس میں بہت سے م امت محمدیہ کے ہر فرد پر لازم کر دیا ہے یہ ایمان کی بنیادی شرط ہے۔ بارگاہ نے اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے مکرم ﷺ کی رسالت کا اقرار کر لے ایسا امر سرزد نہ ہو جس سے بے ادبی ک وَمَنْ تَأَمَّلَ الْقُرْآنَ شَ ”جو شخص قرآن میں گہری نظر آئے گا۔“ اس پر مزید لکھتے ہیں کہ قرآ
* لیکچرر گفٹ یونیورسٹی، گوجرانوالہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ‘ اپریل 2011ء 15 تحفظ ناموس رسالت نمبر
محمد سلیمان اسدی *
امتیازات وتوقیر مصطفیٰ
قرآن کی نظر میں
دین اسلام کا مرکز ومحور سیدالثقلین حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ آپ کی ذات بابرکات انسانیت کے لیے لازوال تحفہ اور عدیم المثال مینارۂ رشد و ہدایت ہے۔ اسلام میں تصورِ نبوت کو ایک متبرک حیثیت حاصل ہے۔ جس کے گرد تمام عقائد ونظریات گھومتے ہیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے آپ ﷺ کی ذات پر ایمان وایقان کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم اپنے تمام عقائد ونظریات حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ومنشا تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ آپ ﷺ پر ایمان میں اگر کمی اور شک وشبہ لاحق ہو جائے تو نہ صرف قرآن کریم پر ایمان متزلزل ہو جائے گا بلکہ اسلام کے تمام نظریات میں گہری دراڑیں پڑ جائیں گی۔ اس اعتبار سے دین اسلام میں منصب رسالت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور منصب رسالت کی یہی مرکزیت اس امر کی متقاضی ہے کہ آپ ﷺ کی ذات گرامی ہر مسلمان کے لیے تمام محبتوں اور الفتوں کا مرکز ومحور قرار پائے۔ قرآن مجید نے متنوع اسالیب میں حرمتِ نبی کریم ﷺ کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مقدس میں بہت سے مقامات پر صراحتاً اور اشارۃً رسولِ خدا ﷺ کی حرمت اور منقبت کو بیان کیا ہے اور امت محمدیہ کے ہر فرد پر لازم کر دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پورے طریقے سے تعظیم وتوقیر بجا لائیں کیوں کہ یہ ایمان کی بنیادی شرط ہے۔ بارگاہِ رسالت میں طرزِ تکلم، طریقۂ سماعت، نشست وبرخاست کے آداب کیا ہیں؟ قرآن نے اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی پر ایمان لانے والوں اور اس کے رسول مکرم ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے والوں کو مکمل طور پر تعلیم دی گئی ہے کہ خدا کے فرستادہ محبوب کی شان میں ان سے کوئی ایسا امر سرزد نہ ہو جس سے بے ادبی کا شائبہ بھی پیدا ہو۔ علامہ نبہانی ؒ فرماتے ہیں:
"جو شخص قرآن میں گہری نظر سے غور وفکر کرے گا تو اسے قرآن مجید عظمتِ نبی ﷺ سے معمور ہوتا ہوا نظر آئے گا۔"
اس پر مزید لکھتے ہیں کہ قرآنی آیات کی رو سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ توقیر نبی ﷺ محض عام سی بات نہیں ہے
* لیکچرر، گفٹ یونیورسٹی، گوجرانوالہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 16 تحفظ ناموس رسالت نمبر
بلکہ یہ تو ایمانیات اور دین کی اساسیات میں داخل ہے۔ اَوْجَبَ عَلَيْنَا تَعْظِيْمَهُ وَتَوْقِيْرَهُ وَنُصْرَتَهُ وَمَحَبَّتَهُ وَالْاَدَبَ مَعَهُ (۲) ”ہم پر لازم ہے کہ آپ ﷺ کی تعظیم وتوقیر، مدد ونصرت اور آپ ﷺ سے محبت کریں۔“
ان امور کی وضاحت کے لیے زیرِ نظر سطور میں ہم نے قرآن حکیم کے مختلف اسالیب کا جائزہ پیش کیا ہے جس سے قارئین کے ذہنوں میں مذکورہ بیان راسخ اور پختہ ہو جائے گا۔
تعظیم وتوقیر کا صریح حکم
اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مقدس میں حضور ﷺ کی صفات مبارکہ بیان کرنے کے بعد آپ کی تعظیم وتکریم کا واضح اور صریح حکم ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی شخصیت بھیجی جو اعلیٰ صفات کی حامل ہے۔ لہٰذا تمہارے اوپر لازم ہے کہ تم اپنے خدا اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ ان کی تعظیم وتکریم اور مدد ونصرت کرو۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
اِنَّا اَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا (۳)
ترجمہ: ”بے شک ہم نے بھیجا آپ کو گواہ بنا کر (اپنی رحمت کی) خوشخبری سنانے والا (عذاب سے) ہر وقت ڈرانے والا تاکہ (اے لوگو!) تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور تاکہ تم ان کی مدد کرو اور دل سے ان کی تعظیم کرو اور پاکی بیان کرو اللہ کی صبح وشام۔“
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آپ ﷺ کی ذات گرامی کے لیے دو الفاظ استعمال کئے ہیں۔ چنانچہ ان الفاظ کی توضیح وتشریح کے بارے میں اہلِ لغت اور حضرات مفسرین نے مختلف معانی بیان کئے ہیں۔
علامہ راغب اصفہانی ؒ کلمہ ”تعزیر“ کی تحقیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”التعزير: النصرة مع التعظيم۔ قال تعالیٰ: تُعَزِّرُوْهُ، عزرتموهم“ تعزیر کا معنی ہے: کسی کی نصرت واعانت کرنا اس کی تعظیم وتکریم کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ (۴)
علامہ ابن منظور ؒ تعزیر کا معنی مدد ونصرت اور تعظیم بیان کرتے ہیں: التعزير : النصر باللسان والسيف ۔ زبان اور تلوار کے ساتھ کسی کی مدد کرنا۔ عزره : فخمه وعظمه، کسی کی تفخیم وتعظیم کرنا۔ (۵)
علامہ زمخشری ؒ تعزیر کا معنی مدد ونصرت کے ذریعے کسی کو تقویت دینا بیان کرتے ہیں۔
”وَتُعَزِّرُوْهُ“ ويقووه بالنصرة (٦)
اسی طرح علامہ آلوسی ؒ، صاحب تفسیر خازن ؒ، اور علامہ نسفی ؒ تعزیر کا معنی مدد ونصرت تحریر فرماتے ہیں۔ (۷)
بہر حال علامہ قرطبی ؒ نے توقیر کے معنی کو بڑی وسعت دی ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ توقیر سے مراد ہے کہ تعظیم وتکریم بجا لانا، کسی شخصیت کو اپنا راہنما ومقتداء بنانا اور طرزِ تخاطب میں احترام ملحوظ رکھنا (۸) اور ایسے ہی ابن جوزی ؒ اور مشہور ماہر لغت علامہ ابن منظور ؒ نے عظمت وشان کو بیان فرمایا ہے۔ (۹)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور
جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ پر سچے دل سے ایمان لے آؤ۔ اس مادی اور ادبی وسائل کو پیش کر دو اور اس کی خدمت تو کرو لیکن بارگاہ نبوت اہمیت کی حامل ہے۔ (۱۰)
غرضیکہ ان تمام اہل لسان اور مومن کے لیے جیسے اللہ اور اس کے مدد ونصرت میں مادی اور جسمانی وسائل
امہات المومنین سے ممانعت
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی آپ ﷺ کے عقد نکاح میں آنے والی نہیں ہو سکتا۔
وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ
”اور تمہیں یہ زیب نہیں نکاح کرو آپ ﷺ کی ہے۔“
اس لیے کہ آنحضرت ﷺ ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کی زوج ومکرم ہیں۔
شاہد ہونے کا اعزاز
اللہ تعالیٰ نے حضرت
اِنَّا اَرْسَلْنَاكَ شَاهِد وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَ
”بے شک ہم نے آپ وقت ڈرانے والا تاکہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ (م 1998ء) فرماتے ہیں کہ یہاں حکم دیا جارہا ہے کہ میرے پیارے نبی ﷺ پر سچے دل سے ایمان لے آؤ۔ اس کی نصرت واعانت میں سر دھڑ کی بازی لگا دو، اس کے دین کی سربلندی کے لیے جملہ مادی اور ادبی وسائل کو پیش کر دو اور اس کے ساتھ ساتھ میرے محبوب کے ادب واحترام کو ہمیشہ ملحوظ رکھو، ایسا نہ ہو کہ تم دین کی خدمت تو کرو لیکن بارگاہ نبوت کے آداب کو ملحوظ نہ رکھو، حضور ﷺ کی اعانت اور اسی طرح حضور ﷺ کی تعظیم وتکریم یکساں اہمیت کی حامل ہے۔ (۱۰)
غرضیکہ ان تمام اہل لسان اور مفسرین کرام کی جملہ آراء سے یہ بات قدر مشترک کے طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ ایک مومن کے لیے جیسے اللہ اور اس کے رسول کی ذات وصفات پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح ان کی تعظیم اور ان کی مدد ونصرت میں مادی اور جسمانی وسائل کو پوری طاقت وقوت کے ساتھ صرف کرنا اور بروئے کار لانا بھی لازمی ہے۔
امہات المومنین سے ممانعت نکاح
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ذات کے عزت واحترام کے لیے آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں حکم صادر فرمایا کہ آپ ﷺ کے عقد نکاح میں آنے والی مومنات کا آپ ﷺ کے اس ظاہری دنیا سے وصال پا جانے کے بعد کسی سے نکاح نہیں ہو سکتا۔
وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَلَا اَنْ تَنْكِحُوْا اَزْوَاجَهٗ مِنْ بَعْدِهٖٓ اَبَدًا اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمًا (۱۱)
”اور تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اذیت پہنچاؤ اللہ کے رسول کو اور تمہیں اس کی بھی اجازت نہیں کہ تم نکاح کرو آپ ﷺ کی ازواج (مطہرات) سے آپ کے بعد کبھی۔ بے شک ایسا کرنا گناہ عظیم ہے۔“
اس لیے کہ آنحضرت ﷺ اپنے روضۂ اطہر میں حیات جاوداں میں ہیں۔ یہ زندہ شخصیت کی حرمت کے منافی ہوتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کی زوجہ سے رشتہ ازدواج قائم کرے، چہ جائیکہ ایک پیغمبر ﷺ جو پوری کائنات کے لیے محترم ومکرم ہیں۔
شاہد ہونے کا اعزاز
اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول اکرم ﷺ کا ایک وصف شاہد بھی بیان کیا ہے۔
اِنَّآ اَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا O لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا (۱۲)
”بے شک ہم نے آپ کو گواہ بنا کر بھیجا ہے۔ (اپنی رحمت کی) خوشخبری سنانے والا (عذاب سے) ہر وقت ڈرانے والا تاکہ اے لوگو! تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور تاکہ تم ان کی مدد کرو اور دل
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
سے ان کی تعظیم کرو۔“
شاہد، شہادۃ سے مشتق ہے۔ اس کا معنی ہے حاضر اور موجود ہونا، مشاہدہ کرنا، جو کچھ دیکھا اسے ٹھیک ٹھیک بیان کرنا اور گواہی دینا۔
سورۃ الاحزاب میں بھی اس طرح کا بیان خداوندی آیا ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا (١٣)
”اے نبی (مکرم) ہم نے بھیجا آپ کو (سب سچائیوں کا) گواہ بنا کر اور خوشخبری سنانے والا اور بروقت ڈرانے والا اور دعوت دینے والا اللہ کی طرف اس کے اذن سے اور آفتاب روشن کر دینے والا۔“
شہادت دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جو آنکھوں سے مشاہدے کے بعد دی جاتی ہے۔ دوسری وہ جس کی بنیاد دلائل اور براہین پر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ یہ دونوں طرح کی شہادت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو بعض غیبی حقائق کا اس طرح مشاہدہ کراتا ہے کہ اس میں انہیں کوئی شک و شبہ لاحق نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اس یقین کا اظہار واعلان کرتے ہیں اور اس کے حق ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ اس طرح کا مشاہدہ رسول مکرم ﷺ کے سوا کسی دوسرے کو نہیں ہوتا۔
رسولوں کی شہادت کی دوسری قسم یہ ہے کہ وہ دلیل واستنباط کے ذریعے حق کا اثبات کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے عطا کردہ علم وبصیرت، دلائل و براہین، نصح وخیر خواہی اور سیرت واخلاق کے ذریعے شہادت علی الناس کا فرض اس طرح انجام دیتے ہیں کہ دین حق بالکل واضح ہو جاتا ہے اور مخاطب قوم پر حجت تمام ہو جاتی ہے۔ اس کی مخالفت کی کوئی معقول بنیاد باقی نہیں رہتی۔ اس کے باوجود قوم قبول حق سے انکار کر دے اور باطل پر جمی رہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ ہو جاتا ہے کہ اب اسے زمین پر زندہ رہنے کا حق نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون اور اس کی قوم پر شہادت کا فرض ادا کر دیا تو اس کی ہلاکت کا فیصلہ ہو گیا اور آخرت میں بھی وہ اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا فَعَصَى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخْذًا وَّبِيْلًا ۔ (١٤)
”ہم نے بھیجا ہے تمہاری طرف ایک (عظیم الشان) رسول تم پر گواہ بنا کر جیسے ہم نے فرعون کی طرف (موسیٰ علیہ السلام کو) رسول بنا کر بھیجا۔ پس نافرمانی کی فرعون نے رسول کی تو ہم نے اس کو بڑی سختی سے پکڑ لیا۔“
اس آیت کے اولین مخاطب قریش سے کہا جارہا ہے کہ فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ ؑ نے دین حق کی شہادت دی اور اب حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تمہارے درمیان شاہد بن کر آئے ہیں۔ خوب سمجھ لو اور اگر تم نے ان کی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ ا
مخالفت کی تو اسی انجام سے دوچار ہو گے جس کے درمیان زندگی بھر اس کے دین کے شاہد کرتے ہیں۔
یہ شہادت آخرت کے دن بھی ہو گی کا جواب اثبات میں ہوگا کہ انہوں نے کے دین کا انکار کرنے والوں کی باتیں ت نہیں رہے گا کہ وہ اپنے رویے کی اصلاح ک عمل آنکھوں کے سامنے ہوگی۔
سورۃ النحل میں چند آیات کے بعد جس طرح دوسرے رسول اپنی قوموں کے ب دیں گے کہ دین حق کے ساتھ ان کا کیا رویہ ر
وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أ هَؤُلَاءِ وَنَزَّلْنَا عَلَيْ لِلْمُسْلِمِينَ۔ (١٥)
”اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہ اور آپ کو ان (منکرین) کے م میں دین کی ہر بات کی وضاحت ک بشارت ہے۔“
سورۃ النساء میں یہ بات ان الفاظ میں ب
فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أ
”تو کیا حال ہوگا (ان نافرمان (اے حبیب) آپ کو گواہ ب
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی صحیح ب
قال لي النبی ﷺ اقرأ ع ان اسمعه من غيري ف مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَ تذرفان (١٧)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ 'اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
مخالفت کی تو اسی انجام سے دوچار ہو گئے جس سے فرعون اور اس کی قوم دوچار ہوئی تھی۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی قوم کے درمیان زندگی بھر اس کے دین کے شاہد بن کے رہتے ہیں اور اسے راہِ حق دکھانے اور ضلالت و گمراہی سے بچانے کی سعی کرتے ہیں۔
یہ شہادت آخرت کے دن بھی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ اپنے ایک ایک پیغمبر سے پوچھے گا کہ تم نے حق کی شہادت دی؟ ان کا جواب اثبات میں ہوگا کہ انہوں نے اللہ کے دین کو اپنی قوم تک ٹھیک ٹھیک پہنچایا اور حجت تمام کر دی۔ اسکے بعد خدا کے دین کا انکار کرنے والوں کی باتیں بند ہوجائیں گی۔ وہ کوئی عذر پیش نہیں کرسکیں گے۔ اس وقت یہ موقع بھی نہیں رہے گا کہ وہ اپنے رویے کی اصلاح کرلیں اور اللہ کو راضی کرسکیں۔ اس لیے کہ مہلتِ عمل ختم ہوچکی ہوگی اور جزائے عمل آنکھوں کے سامنے ہوگی۔
سورۃ النحل میں چند آیات کے بعد فرمایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ بھی قیامت کے دن شاہد کی حیثیت سے اٹھیں گے اور جس طرح دوسرے رسول اپنی قوموں کے متعلق شہادت دیں گے اسی طرح آپ ﷺ اپنی قوم کے بارے میں شہادت دیں گے کہ دین حق کے ساتھ ان کا کیا رویہ رہا؟ فرمایا
وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰی هٰؤُلَاءِ وَنَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتَابَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّهُدًی وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰی لِّلْمُسْلِمِیْنَ۔ (۱۵)
”اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہم ہر امت میں ان ہی میں سے ایک شہید ان کے خلاف کھڑا کریں گے اور آپ کو ان (منکرین) کے خلاف شہید بنا کر لائیں گے۔ ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جس میں دین کی ہر بات کی وضاحت ہے۔ یہ سراسر ہدایت اور رحمت ہے اور فرماں برداروں کے لیے بشارت ہے۔“
سورۃ النساء میں یہ بات ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔
فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِیْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰی هٰؤُلَاءِ شَهِیْدًا (۱۶)
”تو کیا حال ہوگا (ان نافرمانوں کا) جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر (اے حبیب) آپ کو گواہ لائیں گے۔“
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی صحیح بخاری میں روایت ہے:
قَالَ لِی النَّبِیُّ ﷺ اِقْرَأْ عَلَیَّ ،قُلْتُ: اَقْرَأُ عَلَیْكَ ، وَعَلَیْكَ اُنْزِلَ ، قَالَ : فَاِنِّی اُحِبُّ اَنْ اَسْمَعَهٗ مِنْ غَیْرِیْ فَقَرَأْتُ عَلَیْهِ، سورۃ النساء حَتّٰی بَلَغْتُ (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِیْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰی هٰؤُلَاءِ شَهِیْدًا) قَالَ : اَمْسِكْ فَاِذَا عَیْنَاهُ تَذْرِفَانِ (۱۷)
تحفظ ناموس رسالت نمبر 20 ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو تلاوت کا حکم دیا، انہوں نے سورۃ النساء کی تلاوت کی۔ جب وہ ان آیات پر پہنچے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور فرمایا بس کرو۔
یہ آنسو اس احساس کی وجہ سے تھے کہ شہادت حق کی کتنی عظیم ذمہ داری آپ ﷺ پر ڈالی گئی ہے اور اس بنیاد پر بھی تھے کہ شہادت کے بعد بھی آپ کی قوم دین حق کو قبول نہ کرے تو اس کا انجام کتنا بھیانک ہوگا۔
علامہ نسفی ؒ ”شاھداً“ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” شاهداً“ على من بعثت اليهم وعلى تكذيبهم وتصديقهم ، اى مقبولاً قولك عندالله لهم وعليهم كما يقبل قول الشاهد العدل في الحكم “(۱۸)
” آپ کو جن لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے، ان کے قبول ایمان اور جھٹلانے کی قیامت کے دن گواہی دیں گے۔ یعنی آپ ﷺ کا قول قیامت کے دن ان کی حق میں اور ان کے خلاف قبول کیا جائے گا جیسے کہ کسی فیصلہ میں کسی عادل گواہ کی بات کو قبول کیا جاتا ہے۔
علامہ قرطبی ؒ شاھد کی تحقیق فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں: ” شاهداً عليهم باعمال من طاعة ومعصية شاهداً عليهم يوم القيامة فهو شاهد افعالهم اليوم والشهيد عليهم يوم القيامة“(۱۹)
حضور ﷺ اس دنیا میں اپنی امت کے نیک و بد اعمال کا مشاہدہ فرما رہے ہیں اور قیامت کے دن اس پر گواہی دیں گے۔
علامہ جاراللہ زمحشری ؒ لکھتے ہیں: ” تشهد على امتك كقوله تعالى ويكون الرسول عليكم شهيداً “ (۲۰)
”حضور ﷺ اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے۔ اس بات کی وضاحت حق تعالیٰ کے اس فرمان سے بھی ہو جاتی ہے ” ويكون الرسول عليكم شهيداً “
علامہ خازن ؒ لکھتے ہیں:ای شاھدا علی اعمال امته۔اپنی امت کے اعمال کی گواہی دیں گے۔(۲۱)
علامہ آلوسی ؒ نے حضرت سعید بن جبیر اور ابن جریر ؒ کے واسطے سے حضرت قتادہ ؓ سے نقل کیا ہے:عن قتادة شاهداً على امتك وشاهداً على الانبياء عليهم السلام انهم قد بلغوا (۲۲)
حضور ﷺ اپنی امت پر اور سابقہ انبیاء کے بارے میں بھی گواہی دیں گے کہ انہوں نے تبلیغ دین کا حق ادا کیا۔
اس کی تائید ایک اور آیت کے بیان سے بھی ہوتی ہے۔
فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيداً (۲۳)
”تو کیا حال ہوگا (ان نافرمانوں کا) جب ہم لے آئیں گے ہر امت کا ایک گواہ اور (اے حبیب) ہم لے آئیں گے آپ کو ان سب پر گواہ۔“
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ
قیامت کے دن تمام انبیاء علیہم السلام
انبیاء کرام علیہم السلام کی شہادت کے درس دیا گیا ہے۔ یعنی آپ ﷺ اپنی امت کے اع
علامہ قرطبی ؒ نے اس قول کی تائید
ليس من يوم الا تعرض ف واعمالهم فلذالك يشهد ع
’’حضور ﷺ پر ہر صبح و شام آپ ک اعمال کو پہچانتے ہیں۔ اسی وجہ سے
علامہ ابن کثیر ؒ اس آیت کے ضمن میں ف فقوله تعالى : شاهداً على يوم القيامة ۔ (۲۵)
’’حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کی توحید لوگوں کے اعمال پر گواہی دیں گے
علامہ آلوسی ؒ اس آیت کی تفسیر کرتے ہو شاهداً على من بعثت ا الشهادة بما صدر عم والضلال وتوديها يوم ا
’’حضور ﷺ گواہی دیں گے ا اعمال صحیحہ اور فاسدہ سب کا مش دیں گے ۔‘‘
اس پر مزید لکھتے ہیں:
ان الله تعالى قد اطلعه ع
’’اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ ک اس لیے حضور ﷺ کو شاہد کہا گیا
اس قول کی تائید میں علامہ آلوسی ؒ
در
زاں
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ۔ لاہور مارچ ‘ اپریل 2011ء 21 تحفظ ناموس رسالت نمبر
قیامت کے دن تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کے احوال و اعمال پر شہادت دیں گے اور حضور پرنور ﷺ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی شہادت کے درست ہونے کی گواہی دیں گے۔ اور ھؤلاء کا مشارالیہ ”امت مصطفویہ“ کو بھی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی آپ ﷺ اپنی امت کے احوال و اعمال کے بارے میں شہادت دیں گے۔
علامہ قرطبیؒ نے اس قول کی تائید کے لیے حضرت سعید بن مسیب کا یہ قول نقل کیا ہے۔
ليس من يوم الا تعرض على النبى ﷺ امته غدوة وعشية فيعرفهم بسيماهم واعمالهم فلذالك يشهد عليهم
(٢٤)
”حضور ﷺ پر ہر صبح و شام آپ کی امت پیش کی جاتی ہے۔ حضور ﷺ اپنے ہر امتی کا چہرہ اور اس کے اعمال کو پہچانتے ہیں۔ اسی وجہ سے حضور ﷺ قیامت کے دن سب کے گواہ ہوں گے۔“
علامہ ابن کثیرؒ اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں:
فقوله تعالى : شاهدا على الله بالوحدانية وانه لا اله غيره وعلى الناس باعمالهم يوم القيامة ۔
(٢٥)
”حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کی توحید کے گواہ ہیں کہ اس کے بغیر کوئی معبود نہیں ہے اور قیامت کے روز لوگوں کے اعمال پر گواہی دیں گے۔“
علامہ آلوسیؒ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
شاهدا على من بعثت اليهم تراقب احوالهم وتشاهد اعمالهم وتتحمل عنهم الشهادة بما صدر عنهم التصديق والتكذيب وسائر ما هم عليه من الهدى والضلال و تؤديها يوم القيامة اداء مقبولا فى مالهم وماعليهم
(٢٦)
”حضور ﷺ گواہی دیں گے اپنی امت پر کیوں کہ حضور ﷺ ان کے احوال کو دیکھ رہے ہیں اور ان کے اعمال صحیحہ اور فاسدہ سب کا مشاہدہ فرما رہے ہیں اور روز قیامت ان کے حق میں یا ان کے خلاف گواہی دیں گے۔“
اس پر مزید لکھتے ہیں:
ان الله تعالى قد اطلعه ﷺ على اعمال العباد فنظر اليها لذالك اطلق عليه شاهدا
(٢٧)
”اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو بندوں کے اعمال پر آگاہ فرما دیا ہے اور حضور ﷺ نے انہیں دیکھا ہے اس لیے حضور ﷺ کو شاہد کہا گیا ہے۔“
اس قول کی تائید میں علامہ آلوسیؒ نے مولانا جلال الدین رومی قدس سرہ کا یہ شعر نقل کیا ہے:
زاں سبب نامش خدا شاہد نہاد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
بندوں کے مقامات حضور ﷺ کی نگاہ میں تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا نام شاہد رکھ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اس درجہ عزت افزائی فرمائی کہ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کی خود قسم اٹھائی ’’لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُوْنَ‘‘ (۲۸) ’’آپ کی عمر کی قسم ہے بے شک یہ لوگ اپنی گمراہی اور جہالت میں سرگرداں ہیں۔‘‘
اسم مبارک کے بجائے القاب سے مخاطب کرنا:
اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مقدس میں جہاں کہیں بھی انبیاء ورسل علیہم السلام سے خطاب فرمایا ہے تو دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام کو ان کے ذاتی ناموں سے مخاطب فرمایا مگر نبی کریم ﷺ سے جب خطاب ہوتا ہے تو آپ ﷺ کے ذاتی اسم مبارک کی جگہ آپ ﷺ کے وصفی اسمائے گرامی سے پکارا جاتا ہے۔ درحقیقت اس میں آپ ﷺ کی عزت و وقار اور افضلیت کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے کہ جس ہستی کی تعظیم وتوقیر میں خود رب کریم اتنا اہتمام کر رہا ہے، اس کی تعظیم وتکریم کے حوالہ سے بندوں کو کس قدر اہتمام واحتیاط کی ضرورت ہے۔
چنانچہ قرآن مجید کے کچھ مقامات پر آپ ﷺ کے علاوہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق چند خطابات ملاحظہ ہوں۔
- (۱) يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ (۲۹)
’’اے آدم! آپ اور آپ کی زوجہ محترمہ جنت میں قیام فرمائیں۔‘‘
- (۲) يَا نُوْحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ (۳۰)
’’اے نوح! بے شک یہ آپ کے گھر والوں میں سے نہیں ہے، کیوں کہ اس کے کام اچھے نہیں ہیں۔‘‘
- (۳) وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَّا إِبْرَاهِيْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا (۳۱)
’’ہم نے آواز دی اسے کہ اے ابراہیم ! آپ نے خواب سچ کر دکھایا۔‘‘
اسی طرح حضرت لوط، حضرت داود، حضرت موسیٰ، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام جیسے بزرگ انبیاء کرام کو حق تعالیٰ نے ان کے ذاتی اسمائے گرامی سے مخاطب فرمایا۔ جب کہ رسالت مآب ﷺ کو آپ کے وصفی نام سے مخاطب فرمایا۔ (۳۲)
اللہ عزوجل نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو منصب رسالت ونبوت کے ساتھ متصف کر کے پکارا ہے۔ مثلاً
- (۱) يَا أَيُّهَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ (۳۳)
’’اے رسول! غم نہ کریں ان کا جو دوڑ کر کفر میں گرتے ہیں۔‘‘
- (۲) يَا أَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ (٣٤)
’’اے رسول مکرم! پہنچا دیجئے جو آپ کی طرف نازل کیا گیا آپ کے رب کی طرف سے۔‘‘
- (۳) يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (٣٥)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 23 تحفظ ناموس رسالت نمبر
”اے نبی! آپ کو آپ کا اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو جو آپ کی پیروی کریں۔“
درحقیقت یہ آیات قرآنیہ اس بات کی غماز ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے رفع درجات اور علوشان کا واشگاف اعلان فرمارہا ہے کہ اگر کسی نے پیغمبر کریم ﷺ کو پکارنا ہے تو آپ کی عظمت و وقار کا خیال رکھتے ہوئے آپ کو صدا کی جائے۔ اس پر مزید حکم صادر فرمایا ”لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا“ (۳۶) علامہ جار اللہ زمخشری ؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ ”ولا تقولوا: يا محمد ولكن يا نبي الله، ويا رسول الله ، مع التوقير والتعظيم والصوت المخفوض والتواضع “ (۳۷) حضور رسالت مآب ﷺ کو ندا دیتے وقت آواز کو پست رکھتے ہوئے توقیر وتعظیم کے ساتھ یا محمد کی بجائے یا نبی اللہ یا رسول اللہ کے الفاظ کے ساتھ پکارنا چاہیے۔
رسول اکرم ﷺ کی بیعت اللہ کی بیعت
صلح حدیبیہ کے مقام پر جب آپ ﷺ نے اپنے صحابہ علیہم الرضوان سے حضرت عثمان ؓ کا انتقام لینے میں بیعت کی تھی تو اس بیعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بیعت سے تعبیر فرمایا کہ درحقیقت ان کی آپس کی بیعت، اللہ تعالیٰ کی بیعت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (۳۸)
”بے شک وہ لوگ جو آپ کی بیعت کرتے ہیں، یہ حقیقت میں اللہ کی بیعت کررہے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان سب کے ہاتھوں سے اوپر ہے۔“
آپ ﷺ کی بدولت احکام شرعیہ میں نرمی ہوئی:
آپ ﷺ کی بعثت سے قبل شرائع اور ملتوں میں حلت وحرمت کے کچھ احکامات ایسے تھے جنہیں بنی نوع انسان کی فطرت و طبیعت اپنے اوپر بوجھل اور گراں شمار کرتی تھی، ان تمام کو منسوخ کر دیا مثلاً قتل عمد اور خطا دونوں صورتوں میں توبہ کی قبولیت جان کے بدلے جان کے نذرانے کے ساتھ مشروط تھی۔ چمڑے یا کپڑے پر نجاست لگ جانے کی صورت میں موضع نجاست کو کاٹنے کا حکم تھا اور دوران جہاد حاصل ہونے والے مال غنیمت کو جلا دینے کا حکم تھا مگر آپ ﷺ کی وجہ سے بہت سے احکامات میں نرمی کا حکم نازل ہوا چنانچہ موضع نجاست میں محض پانی بہا دینا کافی سمجھا گیا اور مال غنیمت کو استعمال میں لانے کی اجازت دی گئی (۳۹)۔ جیسا کہ ابو وائل ؓ کی صحیح مسلم میں روایت ہے:
كان ابو موسى يشدد في البول، ويبول في قارورة، ويقول: ان بنى اسرائيل كان اذا اصاب جلد احدهم بول قرضه بالمقاريض (٤٠)
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوباً عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء 24 تحفظ ناموس رسالت نمبر
وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ (٤١)
”جو لوگ اس رسول کی پیروی کرتے ہیں جو نبی امی ہیں، جن کا ذکر اپنی کتابوں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتا ہے اور خباثت کو حرام کرتا ہے اور ان سے ان کا اتارتا ہے بوجھ اور وہ زنجیریں جو جکڑے تھیں انہیں۔“
اسی طرح آپ ﷺ کی آمد سے یہود کی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے پنجہ والے جانوروں کے کھانے کی حرمت نازل فرمائی تھی مگر آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد آپ ﷺ کے شرف واعزاز میں ایسے جانوروں کی حلت صادر فرمائی۔
وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا (٤٢)
”اور ان لوگوں پر جو یہودی بنے ہیں ہم نے حرام کر دیا ہر ناخن والا جانور اور گائے اور بکری سے ہم نے حرام کی ان پر دونوں (گائے بکری) کی چربی۔“
اطاعت رسول ہی اطاعت الٰہی ہے
اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام مقدس میں جہاں اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم فرمایا ہے وہاں اپنے پیارے نبی ﷺ کا بھی ذکر فرمایا ہے، چنانچہ قرآن مجید کے آٹھ مقامات ایسے ہیں جہاں کچھ ایسا ہی بیان ہوا ہے، ان میں سے چند یہ ہیں۔
- (۱) قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ (۴۳) ”فرما دیجئے اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔“
- (۲) وَمَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ (۴۴) ”جو شخص رسول کریم ﷺ کی اطاعت کرتا ہے تو وہ اللہ کی اطاعت
کرتا ہے۔“
- (۳) وَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ (۴۵) ”اللہ اور اس کے رسول مکرم ﷺ پر ایمان لاؤ۔“
ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کی عزت واکرام کی خاطر بنی نوع انسان پر یہ لازم کر دیا ہے کہ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا درکار ہے تو پھر میرے حبیب مکرم ﷺ کی اطاعت کرو۔
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (٤٦)
”آپ فرما دیجئے، اگر تم (واقعی) اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، تو (اس کے نتیجہ میں) اللہ تعالیٰ تم سے محبت فرمانے لگے گا۔“
اسی طرح مقام معصیت پر اس بات کی تنبیہ کی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی انسان کی گمراہی کا باعث بن سکتی ہے لہٰذا نافرمانی سے بچو۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور
وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ پر تنبیہ کر دی کہ اطاعت امر کے ساتھ اب اور رسول کی بات کو قبول کرو‘۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی جلالت شان ہے: وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ (۴۹)
حق تعالیٰ نے جہاں اپنے بندوں کو بھی اسی انداز سے بیان فرمایا۔ ان بارے میں فرمایا: حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ
آپ ﷺ کو حکم تسلیم کرنا ایمان اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی مر تنگی محسوس کرتے ہوئے اس پر انکا فرمان ہے: فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَرَجاً مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُ
”پس (اے حبیب مکرم) آپس کے جھگڑوں میں آپ محسوس نہ کریں اور پوری ط
درود و سلام کا حکم
اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام مجید م ایمان والوں پر لازم ہے کہ اس کے نہیں بلکہ خود آپ کا معبود اور اس کے إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَ تَسْلِيمًا (۵۳)
”بے شک اللہ اور اس کے کرو اور (بڑے ادب و محب
چنانچہ اسی وجہ سے اہل علم نے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
وَمَنْ يَّعْصِ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ (۴۷) ”اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کی نافرمانی کرے گا“ ساتھ اس پر تنبیہ کر دی کہ اطاعت امر کے ساتھ اجابت میں دونوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اِسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُوْلِ (۴۸) ”اللہ اور رسول کی بات کو قبول کرو“۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی جلالت شان اور علو مرتبت جہاں کہیں بیان فرمائی تو اپنے پیارے پیغمبر ﷺ کا ذکر بھی ساتھ کیا ہے۔ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهِ (۴۹)
حق تعالیٰ نے جہاں اپنے بندوں کے ساتھ اپنی شفقت و رافت کا اظہار فرمایا تو وہاں اپنے حبیب مکرم ﷺ کی صفت کو بھی اسی انداز سے بیان فرمایا۔ اِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُ وْفٌ رَّحِيْمٌ (۵۰) اور اسی طرح اپنے پیارے نبی ﷺ کے بارے میں فرمایا: حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُ وْفٌ رَّحِيْمٌ (۵۱)
آپ ﷺ کو حَکَم تسلیم کرنا ایمان کی شرط ہے
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر یہ حکم فرمایا ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کے کئے ہوئے فیصلہ پر تنگی محسوس کرتے ہوئے اس پر انکار کرے گا، درحقیقت ایسا شخص ایمان کی حالت سے خالی و عاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (۵۲)
”پس (اے حبیب مکرم) آپ کے رب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس کے جھگڑوں میں آپ کو اپنا حَکَم تسلیم نہ کر لیں اور پھر آپ کے کئے ہوئے فیصلوں پر تنگی اور گرانی محسوس نہ کریں اور پوری طرح فیصلہ کو مان لیں ۔“
درود و سلام کا حکم
اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام مجید میں حضور رسالت مآب سرورِ دو جہاں ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر یہ حکم فرمایا ہے کہ ایمان والوں پر لازم ہے کہ اپنے پیارے ﷺ پر درود و سلام کا تحفہ بھیجیں۔ یہ اعزاز واکرام صرف انسانوں کی طرف سے نہیں بلکہ خود ان کا معبود اور اس کے فرشتے بھی آپ ﷺ پر درود و سلام کا تحفہ بھیجتے ہیں۔
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (۵۳)
”بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی مکرم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپ ﷺ پر درود بھیجا کرو اور (بڑے ادب و محبت سے) سلام عرض کیا کرو۔“
چنانچہ اسی وجہ سے اہل علم نے کہا ہے کہ آپ ﷺ کی ذات اقدس پر درود و سلام کا تحفہ بھیجنا ضروری ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 26 تحفظ ناموس رسالت نمبر
شفاعت عظمیٰ کے ذریعے اعزاز واکرام
اللہ جل جلالہ اپنے پیارے نبی ﷺ کو قیامت کے دن مقام محمود عطا فرمائے گا جہاں پر آپ ﷺ پوری انسانیت کے لیے شفاعت کریں گے خصوصاً اپنی امت کے بارے میں۔ جس دن پوری انسانیت غم واندوہ میں مبتلا ہوگی، یہ سب لوگ حساب و کتاب کی التجا کر رہے ہوں گے کہ کسی طرح جلدی سے حساب و کتاب ہو اور نیک و بد کے درمیان فرق ہو لیکن اس وقت کوئی ایسی ہستی نہیں ہوگی جو اللہ جل جلالہ کے رعب اور جلال کے سامنے بات کرے۔ یہ سارے حضور ﷺ کی ذات گرامی کے پاس تشریف لائیں گے اور حضور ﷺ سے عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ سے عرض کریں کہ حساب و کتاب شروع فرمائیں۔ اس وقت اللہ جل جلالہ سے حضور ﷺ سجدہ ریز ہو کر دعا کریں گے۔ جس مقام پر یہ دعا اور شفاعت کریں گے وہ مقام محمود ہوگا۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے وعدہ کر رکھا ہے۔ عَسٰى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا (۵۴) ’’عنقریب آپ کو آپ کا رب مقام محمود عطا کرے گا۔‘‘ اور یہ مقام محمود ہی مقام شفاعت ہے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے: هو المقام الذى اشفع فيه لامتى۔ (۵۵) اور اسی نوعیت کی حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ سے صحیح مسلم میں وارد ہوئی ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ: اَنَا سَيِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَوَّلُ مَنْ يَّنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرِ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ (۵۶)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں قیامت کے دن آدم کی پوری اولاد کا سردار ہوں گا، سب سے پہلے میں اپنے روضۂ انور سے نکالا جاؤں گا اور سب سے پہلے شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔‘‘
اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے آپ کو یہ عزت بخشی ہے کہ قیامت کے دن کی سختی سے حفاظت فرمائے گا جس وقت نفسا نفسی کا عالم برپا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "يَوْمَ لَا يُخْزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ" (۵۷) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو رسوا نہیں کریں گے۔
انبیاء سابقین پر حضور ﷺ کی نبوت پر ایمان اور نصرت کا تقاضا
اللہ تعالیٰ نے حضور نبی رحمت ﷺ سے قبل جتنے بھی انبیاء ورسل کو عالم انسانیت کی سرخروئی اور کامیابی کے لیے مبعوث فرمایا، ان کے فرائض نبوت میں سرفہرست یہ امر بھی داخل تھا کہ وہ نبی آخرالزمان پر ایمان لانے کے ساتھ، موجودہ لوگوں کو آپ ﷺ کی بعثت کی خوشخبری سنائیں۔
"وَإِذْ أَخَذَ اللّٰهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ" (۵۸)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل ا...
’’اور یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغ... پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسو... ہیں، تم ضرور ایمان لانا اس پر اور ضرو... اٹھا لیا تم نے اس پر میرا بھاری ذمہ، سب... رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں ... لوگ فاسق ہیں۔‘‘
پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ آیات کی تفسیر میں فرمات... ’’ان دو آیات میں دو امور کی وضاحت کی... فرما سنایا گیا۔ دوسرا حضور ﷺ کی شان کا... جس پر ایمان لانا اور اسکے دین کی نصرت... ہے جو نبی تمام انبیاء اور رسل کا مقتدا، امام... جب تعمیر کعبہ تکمیل کے مراحل پر پہنچنے کو ہے... لیے اپنا ہاتھ کا دامن پھیلائے ہوئے ہیں اور ان کے... نسب سے ہی رحمت عالم ﷺ کی آمد ہو۔‘‘
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ... وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَ...
’’اے ہمارے رب! ان میں ایک رس... آیات اور سکھائے انہیں تیری کتاب... زبردست اور حکمت والا ہے۔‘‘
اس آیت نے رحمت للعالمین ﷺ کی شا... بات کے خواہاں ہیں کہ آپ ﷺ ان کی پشت م... علو مرتبت کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم... قرآن مجید کی آیات کریمہ سے صراحتاً... پراگندہ امت کو حضور ﷺ کی آمد کا مژدہ سنایا او...
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ... يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَ... بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُّب...
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 27 تحفظ ناموس رسالت نمبر
”اور یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء سے پختہ وعدہ لیا کہ جب میں تم کو کتاب و حکمت دوں‘ پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول جو تصدیق کرنے والا ہو ان کتابوں کی جو تمہارے پاس ہیں، تم ضرور ایمان لانا اس پر اور ضرور اس کی مدد کرنا، اس کے بعد فرمایا کیا تم نے اقرار کر لیا اور اٹھا لیا تم نے اس پر میرا بھاری ذمہ، سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں، پھر جو کوئی پھرے اس پختہ وعدہ کے بعد تو وہی لوگ فاسق ہیں۔“
پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
”ان دو آیات میں دو امور کی وضاحت کی گئی ہے کہ ایک تو سسکتی انسانیت کو سرکار ﷺ کی آمد کا مژدہ جاں فزا سنایا گیا۔ دوسرا حضور ﷺ کی شان کو اس طرح واضح کیا گیا کہ حضور ﷺ کی ذات وہ ذات ہے کہ جس پر ایمان لانا اور اسکے دین کی نصرت کے لیے سرگرم عمل رہنا انبیاء کرام علیہم السلام پر لازم کیا گیا ہے جو نبی تمام انبیاء اور رسل کا مقتداء اور رہنما ہے اس کی شان رفیع کا کون اندازہ لگا سکتا ہے۔ (۵۹)
جب تعمیر کعبہ تکمیل کے مراحل پر پہنچنے کو ہے اور رحمت ایزدی کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام دعا کے لیے اپنے ہاتھ کا دامن پھیلائے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ آپ ﷺ کے پسر حضرت اسماعیل علیہ السلام آمین کہہ رہے ہیں کہ ”ان کے نسب سے ہی رحمت عالم ﷺ کی آمد ہو۔“
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ (۶۰)
”اے ہمارے رب ! ان میں ایک برگزیدہ رسول بھیج جو انہیں میں سے ہو، تاکہ پڑھ کر سنائے تیری آیات اور سکھائے انہیں تیری کتاب و دانائی کی باتیں اور پاک صاف کر دے انہیں، بے شک تو ہی زبردست اور حکمت والا ہے۔“
اس آیت نے رحمت للعالمین ﷺ کی شان رفیع کو آشکارا کر دیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی اس بات کے خواہاں ہیں کہ آپ ﷺ ان کی پشت میں سے مبعوث ہوں۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی اس دعا سے آپ ﷺ کے علو مرتبت کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی دعا کے صدف کا گوہر آبدار ہیں۔
قرآن مجید کی آیات کریمہ سے صراحت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے شکستہ خاطر حواریوں اور پراگندہ امت کو حضور ﷺ کی آمد کا مژدہ سنایا اور انہیں ”احمد“ کے مبارک نام سے صراحت بھی کر دی:
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَ هُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ (۶۱)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
”اور یاد کرو اس وقت کو جب عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نے بنی اسرائیل سے کہا، اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں، میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے رسول جن کا نام ”احمد“ ہے، کی خوشخبری سنانے والا ہوں، پس جب وہ ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو واضح جادو ہے“
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس عظمت و شرافت سے بھی نوازا کہ پچھلے انبیا کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والی کتب میں آپ ﷺ کی ذات گرامی کا تذکرہ ہوا ہے۔ جس پر قرآنی آیات شاہد ہیں۔
اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهُ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيْلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ (٦٢)
”جولوگ اس رسول کی پیروی کرتے ہیں جن کا نام اپنی کتابوں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتا ہے اور خباثت کو حرام کرتا ہے اور اتارتا ہے ان سے ان کا بوجھ اور (کاٹتا ہے) وہ زنجیریں جنہوں نے جکڑا ہوا تھا انہیں ۔“
دشمنان اسلام سے حفاظت اور تائید غیبی سے نصرت:
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو یہ اعزاز بخشا کہ مخلوقات آپ ﷺ کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:
وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (٦٣)
”اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے رکھے گا۔“
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں واضح طور پر فرما دیا کہ کفار آپ تک پہنچ کر اپنے ملعون منصوبوں کو پورا نہیں کر سکیں گے۔
لَا يُمْكِنُهُم مِّمَّا يُرِيدُوْنَ إِنْزَالَهُ بِكَ مِنَ الْهَلَاكِ (٦٤)
غزوہ بدر کے موقع پر جب کافروں کی تعداد زیادہ تھی اور مسلمانوں کی تعداد کم تھی۔ آپ ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ﷺ مٹھی بھر مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینک دیں تو جس طرف بھی یہ مٹی جائے گی، ہم ان کے مقابلہ میں آپ ﷺ کی مدد کریں گے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا اور بہت سے کافر مارے گئے۔ جس کا اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں ذکر کیا ۔
وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاء حَسَنًا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (٦٥)
”اور (اے محبوب) نہیں پھینکی آپ نے (وہ مشتِ خاک) جب آپ نے پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تاکہ احسان فرمائے مومنوں پر اپنی جناب سے بہترین احسان بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔“
قرآنی آیات و مقدسات سے یہ بات اظہر من الشمس ہو کر ثابت ہوگئی کہ پیغمبر ﷺ کی اہانت اور تنقیص اللہ تعالیٰ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل
کے ہاں ناقابل معافی جرم ہے اور یہ کہ اگر کسی مسلمان جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت وتوقیر کے حوالے کوئی غیر مسلم بھی اس طرح کی غیر سنجیدہ حرکت کرے اٹھا نہ رکھیں۔ خود رسالت مآب ﷺ اور خلفائے راشدین واضح ہو جاتی ہے کہ جب سرکار دو عالم ﷺ نے ایک ہیں انہیں چھوٹ دینے والے؟ اہل اسلام کو یہ بات سے طعن و تشنیع اور تہمتیں لگائی جا رہی ہوں اور مغرب کرنے والے مسلمان کا ان سنگین حالات میں سکوت اور شرمندگی کو آج ہی محسوس کر کے اپنے قول و فعل چاہیے کہ جس کے نتیجے میں کسی پیغمبر انسانیت کی ﷺ کی خاطر اہل اسلام کو ایسے اقدامات اٹھانے حرکات بارے سوچ بھی نہ سکے۔
حواشی و حوالہ جات:
- ۱۔ یوسف بن اسماعیل النبہانی : جواہر البحار فی
- ۲۔ المرجع السابق، ۲۵۱/۳
- ۳۔ الفتح ۹:۴۸
- ۴۔ راغب اصفهانی : المفردات فی غرائب القرآ
- ۵۔ محمد بن مکرم بن منظور الافریقی الدمشقی : لـ
- ۶۔ جار اللہ محمود بن عمر زمخشری (م ۵۳۸ھ
- ۷۔ محمود آلوسی : روح المعانی فی تفسیر القرآ
علامہ الدین علی بن محمد بن ابراهیم البغد عبدالله بن احمد بن محمود نسفی (م ۱
- ۸۔ محمد بن احمد الانصاری القرطبی (م ٦٧١ه
- ۹۔ ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد
لبنان، ١٩٨٤ء)، ٤٢٧/٧ محمد بن مکرم ابن منظور الافریقی الدمـ
- ۱۰۔ پیر محمد کرم شاہ الازہری: ضیاء القرآ
- ۱۱۔ الاحزاب ۵۳:۳۳
- ۱۲۔ الفتح ۴۸: ۸-۹
- ۱۳۔ الاحزاب ۳۳: ۴۵-۴۶
- ۱۴۔ المزمل ۷۳: ۱۵-۱۶
- ۱۵۔ النحل ۱۶: ۸۹
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء 29 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کے ہاں نا قابل معافی جرم ہے اور یہ کہ اگر کسی مسلمان سے بھی ایسی غلطی سرزد ہو جاتی ہے تو وہ دائرہ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت وتوقیر کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ کے قوانین مسلم غیر مسلم سب پر لاگو ہوتے ہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم بھی اس طرح کی غیر سنجیدہ حرکت کرے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اسے کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ خود رسالت مآب ﷺ اور خلفائے راشدین علیہم الرضوان کا یہی معمول رہا ہے۔ اس اعتبار سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جب سرکار دو عالم ﷺ نے ایسے لوگوں کے بارے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی تو آج ہم کون ہوتے ہیں انہیں چھوٹ دینے والے؟ اہل اسلام کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اگر کسی جانب سے ذات نبی ﷺ پر کسی پہلو سے طعن وتشنیع اور تہمتیں لگائی جارہی ہوں اور حضور رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کو اپنی جان سے محبوب رکھنے کا دعویٰ کرنے والے مسلمان کا ان سنگین حالات میں سکون اور اطمینان سے بیٹھے رہنے کا تصور بھی خطرناک ہے۔ ہمیں مسئولیت اور شرمندگی کو آج ہی محسوس کر کے اپنے قول وفعل سے ایسے اقدامات اٹھانے کے لیے کمر بستہ ہو جانے کا عزم مصمم کرنا چاہیے کہ جس کے نتیجے میں کسی پیغمبر انسانیت کی ناموس پر حرف اٹھانے کی جرأت نہ رہے۔ تحفظ ناموس رسالت مآب ﷺ کی خاطر اہل اسلام کو ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے کہ آئندہ کوئی بھی دریدہ دہن گستاخ رسول جیسی غلط اور قبیح حرکات بارے سوچ بھی نہ سکے۔
حواشی و حوالہ جات:
۱۔ یوسف بن اسماعیل النبہانی : جواہر البحارفی فضائل المختار، (مکتبہ حامدیہ رضویہ ، لاہور، ۱۳۹۸) ، ۲۵۲/۳
۲۔ المرجع السابق، ۲۵۱/۳
۳۔ الفتح ٤٨:٩
٤۔ راغب اصفهانی : المفردات فی غرائب القرآن، (قدیمی کتب خانہ، کراچی ،س ، ن) ، ٣٣٦
۵۔ محمد بن مکرم بن منظور الافریقی الدمشقی: لسان العرب، (دارالفکر ، بيروت ، لبنان، س ،ن) ۵٦۲/۷
٦ ۔ جاراللہ محمود بن عمر زمخشری (م ۵۳۸ھ): الکشاف عن حقائق التنزیل وعيون الاقاويل فی وجوہ التاویل ، ٥٤٢/٣،
۷۔ محمود آلوسی : روح المعانی فی تفسير القرآن الكريم والسبع المثانی، ٩٦/٢٦
علاء الدین علی بن محمد بن ابراهیم ،البغدادی الخازن:تفسیر الخازن، ، ١٤٧/٤
عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی (م ۷۰۱ھ): مدارك التنزيل وحقائق التاويل ،۲۷۷/۳
۸۔ محمد بن احمد الانصاری القرطبی (م ٦٧١ھ):الجامع لاحکام القرآن ،٢٦٧/٨
۹۔ ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد ابن جوزی (م۵۹۷ھ):زاد المسير فی علم التفسير، (المكتب الاسلامی، بيروت،
لبنان، ١٩٨٤ء)، ٤٢٧/٧
محمد بن مکرم ابن منظور الافریقی الدمشقی : لسان العرب، ٢٩١/٥
۱۰۔ پیر محمد کرم شاہ الازهری: ضیاء القرآن، ٥٣٨/٤
۱۱۔ الاحزاب ۳۳:۵۳
۱۲۔ الفتح ٤٨:٨۔٩
۱۳۔ الاحزاب ٣٣:٤٥۔٤٦
۱۴۔ المزمل ٧٣:١٥۔١٦
۱۵۔ النحل ١٦:٨٩
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
١٦۔ النساء ٤:٤١ ١٧۔ ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل الجعفی البخاری : الجامع الصحیح، رقم ٢٤١٦ ١٨۔ عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی (م ٧٠١ھ): مدارک التنزیل وحقائق التاویل، ٧٠/٣ ١٩۔ محمد بن احمد الانصاری القرطبی (م ٦٧١ھ): الجامع لاحکام القرآن، ٢٦٦/٨ ٢٠۔ جاراللہ محمود بن عمر زمخشری (م ٥٣٨ھ): الکشاف عن حقائق التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التاویل، ٥٤٢/٣ ٢١۔ علی بن محمد بن ابراہیم ،البغدادی الخازن : تفسیر الخازن، ١٤٦/٤ ٢٢۔ محمود آلوسی : روح المعانی فی تفسیر القرآن الکریم والسبع المثانی، (دارالفکر، بیروت، لبنان، ١٩٨٤ء) ، ٩٥/٢٦ ٢٣۔ النساء ٤:٤١ ٢٤۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی (م١٢٢٥ھ): تفسیر مظہری، (دائرہ اشاعت العلوم، ندوۃ المصنفین، دھلی، س، ن) ، ٣٨٦/٧ ٢٥۔ ابوالفدا اسماعیل بن کثیر القرشی الدمشقی (م ٧٧٤ھ): تفسیر القرآن الکریم، (امجد اکیڈمی، لاہور، ١٩٨٢ء) ، ٥٣٠/١ ٢٦۔ محمود آلوسی : روح المعانی فی تفسیر القرآن الکریم والسبع المثانی ، ٤٥/٢٢ ٢٧۔ المرجع السابق، ٤٥/٢٢ ٢٨۔ الحجر ١٥:٧٢ ٢٩۔ الاعراف ٧:١٩ ٣٠۔ ھود ١١:٤٦ ٣١۔ الصافات ٣٧:١٠٤ ٣٢۔ ھود ١١:٨١، ص ٣٨:٢٦، قصص ٢٨:٢٠، مریم ١٩:٧ ، مریم ١٩:١٢ ،مائدہ ٥:١١٠ ٣٣۔ مائدہ ٥:٤١ ٣٤۔ مائدہ ٥:٦٧ ٣٥۔ الانفال، آیت: ٦٤ ٣٦۔ النور، آیت: ٦٣ ٣٧۔ جاراللہ محمود بن عمر زمخشری م ٥٣٨ھ : الکشاف عن حقائق التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التاویل ، ٧٩/٣ ٣٨۔ الفتح ٤٨:١٠ ٣٩۔ جاراللہ زمخشری (م ٥٣٨ھ) : الکشاف عن حقائق التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التاویل، ١٢٢/٢ ٤٠۔ مسلم بن حجاج القشیری : صحیح مسلم رقم: ٤٠٣ ٤١۔ الاعراف ٧:١٥٧ ٤٢۔ الانعام ٦:١٤٦ ٤٣۔ آل عمران ٣:٣٢ ٤٤۔ النساء ٤:٨٠ ٤٥۔ الحدید ٥٧:٧ ٤٦۔ آل عمران ٣:٣١ ٤٧۔ النساء ٤:١٤ ٤٨۔ الانفال:۔آیت ٢٤ ٤٩۔ المنافقون ٦٣:٨ ٥٠۔ الحدید ٥٧:٩ ٥١۔ التوبہ ٩:١٢٨ ٥٢۔ البقرۃ ٢:١٠٤
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ ٥٢_ النساء، ٤:٦٥ ٥٣_ الاحزاب ٣٣:٥٦ ٥٤_ الاسراء، ١٧:٧٩ ٥٥_ جاراللہ زمخشری (م ٥٣٨ھ): الکشاف ٥٦_ مسلم بن حجاج القشیری: الصحیح لمس ٥٧_ التحریم، ٦٦:٨ ٥٨_ آل عمران ٣:٨١ ٥٩_ پیر محمد کرم شاہ، الازہری: ضیاء النب ٦٠_ البقرۃ ٢:١٢٩ ٦١_ الصف ٦١:٧ ٦٢_ الاعراف ٧:١٥٧ ٦٣_ المائدہ ٥:٦٧ ٦٤_ جاراللہ زمخشری (م ٥٣٨ھ): الکشاف ٦٥_ الانفال ٨:١٧
آ آلوسی، شہاب الدین محمود: (١٩٨٤ء)
الف ابن تیمیہ، احمد بن تیمیہ: الصا المکرمہ،) ابن جوزی، ابوالفرج عبدالرحم الاسلامی، بیروت، لبنان، ١٩٨٤ ابن کثیر، ابوالفدا اسماعیل بن لاہور، ١٩٨٢ء) ابن عربی، محمد بن عبداللہ ابن الع ابن منظور، محمد بن مکرم بن منظ ابوالاعلی مودودی، سید: تفہیم ا اسماعیل حقی البروسوی (م ١١٣٧ اصفہانی، راغب: المفردات فی غری
ب البخاری، ابوعبداللہ محمد بن اسما
پ پانی پتی، ثناء اللہ قاضی (م ١٢٢٥
خ الخازن، علاء الدین علی بن محمد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 31 تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ٥٢۔ النساء، ٦٥:٤
- ٥٣۔ الاحزاب ٥٦:٣٣
- ٥٤۔ الاسراء، ٧٩:١٧
- ٥٥۔ جاراللہ زمخشری (م ٥٣٨ھ): الکشاف عن حقائق التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التاویل، ٤٦٢/٢
- ٥٦۔ مسلم بن حجاج القشیری: الصحیح لمسلم رقم/ ٤٢٢٣
- ٥٧۔ التحریم، ٨:٦٦
- ٥٨۔ آل عمران ٨١:٣
- ٥٩۔ پیر محمد کرم شاہ ، الازہری: ضیاء النبی، (ضیاء القرآن، پبلی کیشنز، لاھور، کراچی، ١٤٢٠ھ/ ٢٠٠١ء) ٤٩٠/١
- ٦٠۔ البقرۃ ١٢٩:٢
- ٦١۔ الصف ٧:٦١
- ٦٢۔ الاعراف ١٥٧:٧
- ٦٣۔ المائدۃ ٦٧:٥
- ٦٤۔ جاراللہ زمخشری (م ٥٣٨ھ): الکشاف عن حقائق التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التاویل، ٦٣١/١
- ٦٥۔ الانفال ١٧:٨
مصادر و مراجع
آ
آلوسی ، شہاب الدین محمود : روح المعانی فی تفسیر القرآن الکریم والسبع المثانی، (دارالفکر، بیروت، لبنان، ١٩٨٤ء)
الف
ابن تیمیہ، احمد بن تیمیہ: الصارم المسلول علی شاتم الرسول، (وزارۃ الشؤون الاسلامیہ والدعوۃ والارشاد، المکہ المکرمہ،)
ابن جوزی، ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد ابن جوزی (م٥٩٧ھ): زاد المسیر فی علم التفسیر، (المکتب الاسلامی، بیروت، لبنان، ١٩٨٤ء)
ابن کثیر، ابوالفدا اسماعیل بن کثیر القرشی الدمشقی (م٧٧٤ھ): تفسیر القرآن الکریم، (امجد اکیڈمی، اردو بازار، لاہور، ١٩٨٢ء)
ابن عربی، محمد بن عبدالله ابن العربی (م٥٤٣ھ): احکام القرآن، (دار الکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، ٢٠٠٣ء)
ابن منظور، محمد بن مکرم بن منظور الافریقی الدمشقی: لسان العرب، (دارالفکر، بیروت، لبنان، س،ن)
ابوالاعلی مودودی، سید: تفہیم القرآن ،(ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، ٢٠٠٤ء)
اسماعیل حقی البروسوی (م١١٣٧ھ): تفسیر روح البیان، (مکتبہ اسلامیہ، کوئٹہ، ١٩٨٥ء)
اصفہانی، راغب: المفردات فی غریب القرآن، (قدیمی کتب خانہ، کراچی، س،ن)
ب
البخاری، ابوعبدالله محمد بن اسماعیل الجعفی: صحیح بخاری، (دارالسلام، الریاض، ١٩٩٩ء)
پ
پانی پتی، ثناء اللہ ،قاضی (م١٢٢٥ھ): تفسیر مظہری، (دائرہ اشاعت العلوم، ندوۃ المصنفین، دھلی، س،ن)
خ
الخازن، علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم البغدادی: تفسیر الخازن، (دارالکتب العربیہ، پشاور، س،ن)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ر الرازی، فخرالدین محمد بن عمر بن الحسين بن الحسن بن علی التميمي البكرى الرازي الشافعی : (م٦٠٤ه) التفسیر الكبير، (دار الكتب العلمية، بیروت، لبنان، ٢٠٠٤ء) رشید رضا، سید (م ١٩٣٥ء): تفسير المنار، ( دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، ٢٠٠٥ء)
ز زمخشری، ابوالقاسم جارالله محمود بن عمر (م ٥٣٨ه): الكشاف عن حقائق التنزيل وعيون الاقاويل فى وجوه التاويل، (دار المعرفة، بيروت، لبنان، س،ن )
ش محمد شفیع، مفتی: معارف القرآن، (ادارة المعارف، کراچی، ١٩٨٤ء) الشوكانی، محمد بن علی بن محمود الشوكانی : فتح القدير، (دار المعرفة، بيروت، لبنان، س،ن)
ص الصنعانی، ابوبكر عبدالرزاق بن همام بن نافع الصنعانى (م ٢١١ه ):مصنف عبدالرزاق ، ( دارالکتب ، بیروت، لبنان، ١٤٢١ه )
ط طبری، ابو جعفر محمد بن جریر طبری : تفسیر طبری ،( دار الفکر، بيروت، لبنان، ۱۹۷۸ء)
ع عیاض، ابوالفضل عياض بن موسى، قاضی : الشفاء ، (اداره اسلامیات ،لاھور،س، ن)
ف الفيروز آبادى ،ابو طاهر محمد بن يعقوب (م٨١٧ه): تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس ،(المکتبہ الفاروقیہ، ملتان، پاکستان، س،ن)
ق القرطبی، ابو عبدالله محمد بن احمد الانصاری (م٦٧١ه): الجامع لاحكام القرآن ، (مكتبة الغزالی،دمشق، ١٩٦٥ء ) محمد قطب ، سید:فی ظلال القرآن،( اداره منشورات اسلامی ، لاهور، ۱۹۹۷ء)
م محمد کرم شاہ ، پیر، الازہری: ضیاء النبی، (ضیاء القرآن، پبلی کیشنز، لاہور، کراچی، ١٤٢٠ه) محمد کرم شاہ ، پیر، الازہری: ضیاء القرآن،(ضیاء القرآن، پبلی کیشنز، لاہور، کراچی، ١٤٢٠ه) مسلم بن حجاج القشيرى : صحيح مسلم ،( دارالسلام ، الرياض،۱۹۹۹ء)
ن النبهانی ، يوسف بن اسماعيل النبهانی : جواهر البحارفي فضائل المختار، ( مكتبه حامديه رضویه ، لاهور، ۱۳۹۸) النسفى ،ابوالبركات عبدالله بن احمد بن محمود (م ٧٠١ه): مدارك التنزيل وحقائق التاويل، (دارالکتاب العربی، بیروت، لبنان)
* * * * *
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل
عق
قرآن اور سن
موضوع کا تعارف
حمد و ثنا اُس پاک ، بلند و برتر اور طا پائے جانے والی مخلوقات کو اپنے ارادے س عظمت کو بیان کرنے کے لیے اگر کرۂ ارض عظمت کو بیان کرنے اور اللہ کی عظمت کا حق لا تعداد دُرود و سلام ہوں اللہ کے مح رحمتِ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر مخلوقات نے مختلف اسالیب میں جن کی رف ہر ذی شعور انسان کے لیے یہ بات اُس شے کی عظمت کی گواہی اور مثالیں پ سب سے عظیم مقام انبیاء علیہم السلام کو حا محمد مصطفیٰ ﷺ کو سب سے آخر میں مبعوث الٰہی میں قیامت تک کے لیے محفوظ کر دی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُمت ہیں لیکن یہ مقالہ اُن تمام گواہیوں اور مصاد پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے ل * پی ایچ ڈی سکالر، فیکلٹی آف اسلامک س
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ/اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر ڈاکٹر محمد جنید ندوی *
عظمت مصطفیٰ ﷺ
قرآن اور مستشرقین کی نظر میں
موضوع کا تعارف
حمد و ثنا اُس پاک، بلند و برتر اور طاقت ور ترین ذات اللہ جل جلالہٗ کے لیے ہے جس نے کائنات اور اس میں پائے جانے والی مخلوقات کو اپنے ارادے اور حکمت خاص کے تحت وجود اور حسن بخشا اور اس نظام کو چلا رہا ہے۔ جس کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے اگر کرۂ ارض کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام درخت قلم بن جائیں تب بھی اللہ کی عظمت کو بیان کرنے اور اللہ کی عظمت کا حق ادا کرنے سے قاصر رہیں گے۔
لا تعداد دُرود و سلام ہوں اللہ کے محبوب، سرکارِ دو عالم، فخرِ بنی آدم، رسول الثقلین، فخرِ موجودات، وجہِ تخلیقِ کونین، نبیِّ رحمت، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کی عظمت کا اعتراف خود خالقِ کائنات نے کیا ہے۔ جن و انس اور دیگر تمام مخلوقات نے مختلف اسالیب میں جن کی رفعتوں کے نغمے الاپے ہیں اور قیامت تک الاپتی رہیں گی۔
ہر ذی شعور انسان کے لیے یہ بات قابلِ فہم ہے کہ جو شے کسی کی نظر میں عظیم ہو اُس کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے اُس شے کی عظمت کی گواہی اور مثالیں بھی دی جاتی ہیں اور یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ اس کائنات کی مخلوقات میں سب سے عظیم مقام انبیاء علیہم السلام کو حاصل ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور محبتِ خاص سے نبیِّ آخر زمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو سب سے آخر میں مبعوث فرما کر تمام انبیاء علیہم السلام میں منفرد و ممتاز مقام عطا فرمایا، جس کی گواہی کلام الٰہی میں قیامت تک کے لیے محفوظ کر دی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُمتِ مسلمہ کے پاس عظمتِ رسول ﷺ کی گواہی پیش کرنے کے متعدد مصادر موجود ہیں لیکن یہ مقالہ اُن تمام گواہیوں اور مصادر کو پیش کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا، زیرِ نظر مقالہ میں عظمتِ محمد ﷺ کی گواہی پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے ہم نے صرف دو مصادر کا انتخاب کیا ہے۔ ایک کلامِ الٰہی، یعنی قرآن مجید، اور
* پی ایچ ڈی ریسرچ سکالر، فیکلٹی آف اسلامک سٹڈیز، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 34 تحفظ ناموس رسالت نمبر
دوسرا کلام انسانی یعنی مستشرقین یا مغربی مفکرین کے اقوال۔ مقالہ ہذا میں قرآن مجید میں عظمت محمد ﷺ کی گواہی کو پیش کرنے کے لیے ہم نے خالصتاً قرآن مجید کی آیات سے استفادہ کیا ہے اور اہل مغرب کے نقطۂ نظر سے عظمت محمد ﷺ کی گواہی کے لیے ہم نے مغربی مفکرین کے اقوال کا ترجمہ پیش کیا ہے۔ سب سے پہلے عظمت محمد ﷺ کا مطالعہ قرآن مجید کی روشنی میں پیش کیا جاتا ہے۔
قرآن مجید میں عظمت محمد ﷺ کی گواہی
- ۱۔ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ط (۱)
محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔
- ۲۔ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ط (۲)
آپ (ﷺ) اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں
- ۳۔ يٰسٓ وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ عَلٰى صِرَاطٍ
مُّسْتَقِيْمٍ ۔۔۔ (۳) یس، قسم ہے اس حکمت سے بھرپور قرآن کی۔ بے شک آپ (ﷺ) رسولوں میں سے ہیں۔ سیدھے راستے پر ہیں۔
- ۴۔ وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ (٤)
اور بے شک آپ (ﷺ) اخلاق حسنہ کے اعلیٰ ترین درجہ پر ہیں
- ۵۔ وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى (٥)
اور عنقریب اللہ تعالیٰ آپ (ﷺ) کو دے گا، پھر آپ (ﷺ) خوش ہو جائیں گے۔
- ۶۔ سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا
الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ط (٦) پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ خاص (محمد ﷺ) کو رات کے وقت مسجد حرام (کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) تک لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکتیں نازل کی ہیں تا کہ ہم اُن (محمد ﷺ) کو اپنے کچھ عجائبات قدرت دکھائیں۔
- ۷۔ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (۷)
اور ہم (اللہ) نے آپ (ﷺ) کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے
- ۸۔ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (۸)
اور ہم (اللہ) نے آپ (ﷺ) کے لیے آپ (ﷺ) کا ذکر بلند کیا۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپر
- ۹۔ اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ (۹)
ہم (اللہ) نے آپ (ﷺ) کو حو
- ۱۰۔ يٰٓاَيُّهَا النَّبِىُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَا
مُنِيْرًا۔۔ (۱۰) اے نبی (ﷺ) بے شک ہم ن ڈرانے والا (یعنی آگاہ کرنے وال
- ۱۱۔ قُلْ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُ
وَالْاَرْضِ ج لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْ اے نبی (ﷺ) آپ فرما دی ہوں، جس کی بادشاہی تمام آس ہے۔ وہ ہی زندگی دیتا ہے او اتباع کرو اُن (ﷺ) کی تا ک
- ۱۲۔ اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوْ
تَسْلِيْمًا۔۔ (۱۲) اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے و سلام بھیجو۔
- ۱۳۔ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ
وَالْحِكْمَةَ ج وَاِنْ كَانُوْ یقیناً اللہ (تعالیٰ) نے ایمان اللہ کی آیات پڑھ کر سناتے دیتے ہیں، اور اس سے پہل
- ۱۴۔ لَقَدْ جَآءَ كُمْ رَسُوْلٌ
رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ (١٤) تحقیق تشریف لایا تمہارے شاق ہے تمہاری فلاح کا
- ۱۵۔ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
۹۔ إِنَّا أَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ (۹) ہم (اللہ) نے آپ (ﷺ) کو خیر کثیر عطا فرمائی ہے۔
۱۰۔ يٰأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيرًا O وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا۔۔ (۱۰) اے نبی (ﷺ) بے شک ہم نے آپ (ﷺ) کو شہادت دینے والا اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا (یعنی آگاہ کرنے والا) اور سب کو اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
۱۱۔ قُلْ يٰأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا نِ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ ج لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِ وَيُمِيتُ ص فَاٰمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمٰتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ۔۔ (۱۱) اے نبی (ﷺ) آپ فرما دیجئے کہ اے دنیا جہان کے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اُس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ ہی زندگی دیتا ہے اور وہ ہی موت دیتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اُس کے نبی اُمی پر اور اتباع کرو اُن (ﷺ) کی تا کہ تم راہ راست پر آجاؤ
۱۲۔ إِنَّ اللَّهَ وَمَلٰئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ط يٰأَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔۔ (۱۲) اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، سو اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم اُن پر درود و سلام بھیجو۔
۱۳۔ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ اٰیٰتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ج وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلٰلٍ مُّبِينٍ (۱۳) یقیناً اللہ (تعالیٰ) نے ایمان والوں پر احسان کیا کہ اُن ہی میں سے رسول (ﷺ) مبعوث کیا جو اُنہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں، اُن کا تزکیہ کرتے ہیں اور (اُنہیں) کتاب (قرآن) و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، اور اس سے پہلے وہ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے
۱۴۔ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوْفٌ رَّحِيمٌ (۱۴) تحقیق تشریف لایا تمہارے پاس ایک رسول جو خود تم میں سے ہی ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اُس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔
۱۵۔ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی O إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحٰی (۱۵)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء 36 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اور یہ (رسول ﷺ) اپنے نفس کی خواہش سے نہیں بولتے، یہ تو بس وحی کہتے ہیں جو اُن پر وحی کے ذریعے سے پہنچایا جاتا ہے۔
- ١٦۔ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ
الْاٰخِرَ (١٦) تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول کی ذات ایک بہترین نمونہ تقلید ہے، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کا اُمیدوار ہے
- ١٧۔ وَمَا اٰتٰكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۖ وَمَا نَهٰكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ (١٧)
اور رسول (ﷺ) جو حکم دیں اُسے تم لے لو اور جس چیز سے وہ (ﷺ) منع کریں اُس سے رُک جاؤ۔
- ١٨۔ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ۚ (١٨)
جس نے رسول (ﷺ) کی اطاعت کی دراصل اُس نے اللہ کی اطاعت کی۔
- ١٩۔ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ (١٩)
اللہ اور اُس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو۔
- ٢٠۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِهِمْ
حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (٢٠) قسم ہے آپ (ﷺ) کے رب کی یہ لوگ اُس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے ، جب تک یہ اپنے جھگڑوں میں آپ (ﷺ) کو حَکَم (منصف) نہ بنالیں۔ پھر آپ (ﷺ) کے فیصلہ پر اپنے دلوں میں تنگی محسوس نہ کریں اور (فیصلے کو) خوشی سے قبول کر لیں۔
- ٢١۔ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ (٢١)
نبی (ﷺ) مومنوں پر اُن کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں
- ٢٢۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ؕ وَاللّٰهُ
غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (٢٢) آپ (ﷺ) فرما دیجئے کہ اگر تم اللہ اور رسول سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری اِتباع کرو، اللہ (تعالیٰ) تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہارے سب گناہ معاف کر دیں گے۔
- ٢٣۔ یٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ
كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ٥ (٢٣) اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو پیغمبر (ﷺ) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن سے ایسے کھل کر نہ بولا کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کھل کر بولتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ... جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔
- ٢٤۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَ...
مُّهِيْنًا (٢٤) بے شک جو لوگ اللہ اور اُس کے... لعنت کرتا ہے اور اُن کے لیے ذ...
- ٢٥۔ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ۙ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوْ...
اور جو لوگ اللہ کے رسول (ﷺ)... کلام الہی یعنی قرآن مجید کی متعدد... دیکھیں کہ کلام انسانی بالخصوص اقوال مفکر...
اَقوالِ مستشرقین میں عظمتِ محمد...
............... تاریخ انسانی میں محمد (ﷺ)... انسانوں کو یہ عقیدہ تسلیم کرنے پر راضی کر... ............... محمد (ﷺ) کا طرزِ عمل، اُخو... کی تعلیمات خالص سچائی پر مبنی تھیں (علا... ............... اور سب سے حیران کن حقیقت... تھا۔ اپنی ہر کامیابی کو خدا کی عظمت سے منس... ............... ڈمن وسطی ( e-Ages... بھیانک تصویر پیش کی۔ انہوں نے محمد... غلط کار تھے، کیوں کہ محمد (ﷺ) ایک ح... ............... ایسا کوئی ثبوت، شہادت اور... دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی فریب د... حربہ اختیار نہیں کیا۔ اس کے برعکس اُنہ... ............... عربوں میں ایک آدمی ہ... محمد (ﷺ) تھے۔ (۳۱) ............... عرب بنیادی طور پر انا پر... متحد کر دیا۔ بلا شک و شبہ دُنیا میں کوئی ایس...
19. 20. (i) (ii) (iii) (iv) (v) (vi) (vii) (viii) 21. Name/F... 1. NIL 2. NIL 3. 4. 5. 6. 7. 8. 22. Ac... 1. NIL 2. ...
ماہنامہ ضیائے حرم ، اسلام آباد۔ لاہور مارچ ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔
٢٤۔ إِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا (٢٤)
بے شک جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول (ﷺ) کو ایذا پہنچاتے ہیں ، اللہ اُن پر دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور اُن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
٢٥۔ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ط وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (٢٥)
اور جو لوگ اللہ کے رسول (ﷺ) کو تکلیف دیتے ہیں اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔
کلام الٰہی یعنی قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیات مبارکہ سے عظمت محمد ﷺ کی واضح گواہی مل رہی ہے۔ آئیے اب دیکھیں کہ کلام انسانی بالخصوص اقوالِ مفکرین و مستشرقین عظمت محمد ﷺ کی گواہی کس انداز میں دے رہے ہیں۔
اقوال مستشرقین میں عظمت محمد ﷺ کی گواہی
............ تاریخ انسانی میں محمد (ﷺ) کا مقام سب سے بلند اور منفرد ہے۔ اُن کی عظیم ترین فتح یہ ہے کہ اُنہوں نے انسانوں کو یہ عقیدہ تسلیم کرنے پر راضی کیا کہ خدا ایک ہے اور مسلمانوں کی ایک اُمت ہے (٢٦)۔
............ محمد (ﷺ) کا طرزِ عمل ، اخلاقِ انسانی کا حیرت انگیز کارنامہ تھا اور ہم یہ یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ محمد (ﷺ) کی تعلیمات خالص سچائی پر مبنی تھیں (٢٧)۔
............ اور سب سے حیران کن حقیقت یہ ہے کہ ایسا فقید المثال ذہن رکھنے والا انسان متکبر تھا نہ مغرور، بلکہ عجز و رضا کا پیکر تھا۔ اپنی ہر کامیابی کو خدا کی عظمت سے منسوب کرنے والا تھا۔ (٢٨)
............ قرونِ وسطیٰ (Middle-Ages) میں عیسائی راہبوں نے جہالت و تعصب کی وجہ سے اسلام کی نہایت بھیانک تصویر پیش کی۔ اُنہوں نے محمد (ﷺ) اور دینِ اسلام کے خلاف منظم تحریک چلائی۔ یہ سب راہب اور مصنف غلط کار تھے، کیوں کہ محمد (ﷺ) ایک عظیم ہستی اور صحیح معنوں میں انسانیت کے نجات دہندہ تھے۔ (٢٩)
............ ایسا کوئی ثبوت ، شہادت اور اشارہ تک نہیں ملتا جس سے یہ کہا جا سکے کہ محمد (ﷺ) نے کبھی کسی موقع پر اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی فریب یا نام نہاد معجزہ دکھایا ہو۔ اپنے دین اور مذہب کے نفاذ کے لیے اُنہوں نے کوئی غلط حربہ اختیار نہیں کیا۔ اس کے برعکس اُس علم پر پورا انحصار کیا جو اُنہیں خدا کی طرف سے ودیعت ہوا تھا۔ (٣٠)
............ عربوں میں ایک آدمی پیدا ہوا جس نے مشرق اور جنوب کی پوری معلوم دنیا متحد کر دی...... وہ انسان محمد (ﷺ) تھے۔ (٣١)
............ عرب بنیادی طور پر انارکسٹ اور انتشار پسند تھے۔ محمد (ﷺ) نے یہ زبردست معجزہ کر دکھایا کہ اُنہیں متحد کر دیا۔ بلاشک و شبہ دُنیا میں کوئی ایسا رہنما نہیں ہوا جسے محمد (ﷺ) جیسے سچے اور وفادار پیروکار ملے ہوں (٣٢)
19. 20. (i) (ii) (iii) (iv) (v) (vi) (vii) (viii) 21. Name/F 1. NIL 2. NIL 3. 4. 5. 6. 7. 8. 22. Ac 1. 2. SIGNAT
تحفظ ناموس رسالت نمبر 38 ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء
................... اپنی ذہانت اور جوش وخلوص سے محمد (ﷺ) نے ایک ایسے لاقانون علاقے کے لیے مؤثر قوانین وضع کیے سماجی اور مذہبی ادارے قائم کیے انہیں ایسی عبادت پر لگا دیا، جس میں رنگ، نسل، امارت، غربت اور ہر طرح کی اُونچ نیچ ختم ہو جاتی ہے۔ دُنیا کا کوئی پیغمبر محمد (ﷺ) کی طرح ایسے معاشرے اور سماج کی بنیاد نہ رکھ سکا جو مثالی ہو اور آنے والے ہر زمانے کے لیے تقلید کی ترغیب دیتا ہو۔ (۳۳)
................... رُوئے زمین پر محمد (ﷺ) جیسا دُور اندیش اور صاحب بصیرت انسان کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔ محمد (ﷺ ) جبر کے قائل ہی نہیں تھے۔ وہ انسان کی حدود، انسان کی صلاحیتوں اور اُس کی کوتاہیوں سے پوری طرح واقف تھے۔ (۳۴)
................... محمد (ﷺ) کے ساتھ ہی اُس مساوات اور جمہوریت نے جنم لیا جو اُس سے پہلے دُنیا میں موجود نہیں تھی۔ اب دولت اور حسب ونسب کے پیدائشی دعوؤں کی کوئی اہمیت نہ رہی ۔۔۔۔۔۔ محمد (ﷺ) نے دھتکارے ہوئے غلاموں کو آقا بنا دیا۔ (۳۵)
................... محمد (ﷺ) ایک ایسی شخصیت تھے جن کے سامنے ایک عظیم مقصد اور بلند ترین نصب العین تھا۔ وہ اپنے اس مقصد کی تکمیل اور نصب العین کے حصول کی راہ میں حائل ہر مشکل اور دشواری کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ یہ قوت اور صلاحیت اللہ کی عطا تھی۔ محمد (ﷺ) کے کارناموں سے دراصل خدائے واحد کے جلال وشوکت کا اظہار ہوتا ہے۔ خدا نے اُن کے ہاتھوں کو وہ تاثیر عطا کی تھی کہ وہ پوری دُنیا کو ہلا سکتے تھے۔ محمد (ﷺ) کی کامیابی، جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، دراصل عطیۂ خداوندی تھی۔ .................. محمد (ﷺ) نے دُنیا کو ایک عجیب فلسفہ دیا ۔۔۔۔۔ ایک ایسا فلسفہ اور طرزِ حیات جو اس سے پہلے رُوئے زمین پر موجود نہیں تھا۔ محمد (ﷺ) نے موت کا خوف دلوں سے نکال دیا اور ایک ایسے طرزِ حیات کی بنیاد ڈالی جس میں انسان ہر وقت خوفِ خدا میں ڈوبا رہتا ہے۔ (۳۶) مندرجہ بالا اقوال سے یہ معلوم ہوا کہ مغربی مفکرین و مستشرقین بھی عظمتِ محمد ﷺ کی گواہی دے رہے ہیں۔
خلاصہ کلام
خلاصہ کلام یہ ہے کہ عظمتِ محمد ﷺ کی گواہی قرآن مجید اور اقوامِ عالم کے مفکرین بانگِ دہل دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ اپنی ظاہری و باطنی وسعتوں اور پہنائیوں کے لحاظ سے کوئی شخصی سیرت نہیں بلکہ ایک عالمگیر اور بین الاقوامی ہستی ہے جو کسی شخص واحد کا دستورِ زندگی نہیں بلکہ جہانوں کے لیے ایک مکمل دستورِ حیات ہے۔ جوں جوں زمانہ ترقی کرتا چلا جائے گا اُسی حد تک انسانی زندگی کی استواری و ہمواری کے لیے اس عظیم شخصیت کی تعلیمات ضرورتِ شدید سے شدید تر ہوتی چلی جائے گی۔ حضور ﷺ کی زندگی ایک بین الاقوامی مشن کی داستان قرآن کے ابدی اصولوں کی تفسیر ہے جسے عمل کی زبان میں مرتب کیا گیا ہے۔ وہ اس مقدس پیغام کی تکمیل ہے جس کی مشعل آدم، ابراہیم، موسیٰ اور جملہ انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے دور میں روشن کرتے رہے ہیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہو
یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن ا کہ ان کے تمام معانی اور فوائد و برکات بس یہ ہے کہ جس حد تک ممکن ہو آدم اسلامی علوم وفنون میں آج شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ دنیا مصطفیٰ ﷺ سے متعلق ہے۔ اس اعتبار سے نہ ختم ہونے والا سلسلہ تک آباد ہے، سیرتِ نبویہ ایک زند آپ ﷺ ہمہ گیر و جامع اسوہ حسنہ خلق و
حوالہ جات و حواشی
- ١- القرآن : سورۃ الفتح : ٢٩
- ٢- القرآن : سورۃ الاحزاب :
- ٣- القرآن : سورۃ یٰس : ١
- ٤- القرآن : سورۃ القلم : ٤
- ٥- القرآن : سورۃ الضحیٰ : ٤
- ٦- القرآن : سورۃ بنی اسرائیل
- ٧- القرآن : سورۃ الانبیاء : ١٠٧
- ٨- القرآن : سورۃ الانشراح : ٤
- ٩- القرآن : سورۃ الکوثر : ١
- ١٠- القرآن : سورۃ الاحزاب : ٢١
- ١١- القرآن : سورۃ الاعراف : ١٥٨
- ١٢- القرآن : سورۃ الاحزاب : ٤٠
- ١٣- القرآن : سورۃ آل عمران
- ١٤- القرآن : سورۃ التوبہ : ١٢٨
- ١٥- القرآن : سورۃ النجم : ٤
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور سیرت محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام دونوں ہی بحر نا پیدا کنار ہیں، کوئی انسان یہ چاہے کہ ان کے تمام معانی اور فوائد و برکات کا احاطہ کر لے تو اس میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا، البتہ جس چیز کی کوشش کی جاسکتی ہے وہ بس یہ ہے کہ جس حد تک ممکن ہو آدمی ان کا زیادہ سے زیادہ فہم حاصل کرے اور ان کی مدد سے روح دین تک رسائی پائے۔
اسلامی علوم وفنون میں آج تک جو کچھ مدوّن ومرتب ہوا ہے اس میں غالب حصہ سیرت مصطفیٰ ﷺ پر مشتمل ہے اور شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ دنیائے علم میں مدونات، مصنفات اور کتب ورسائل میں سب سے زیادہ تعداد سیرت مصطفیٰ ﷺ سے متعلق ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سیرت مصطفیٰ ﷺ ایک فرد کی سیرت نہیں بلکہ یہ اپنے تنوعات کے اعتبار سے نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو چودہ سو سال سے جاری ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔ دُنیا جب تک آباد ہے، سیرت نبویہ ایک زندہ عامل کی حیثیت سے قائم رہے گی اور دنیا کے ترقی پذیر تمدن اور تبدل پذیر حالات میں آپ ﷺ ہمہ گیر و جامع اسوہ حسنہ کے کسی ایک پہلو کو کبھی اہمیت حاصل رہے گی تو کبھی کسی اور پہلو کو۔
حوالہ جات و حواشی
- ۱- القرآن: سورۃ الفتح: ۲۹۔
- ۲- القرآن: سورۃ الاحزاب: ۴۰۔
- ۳- القرآن: سورۃ یٰس: ۱۔
- ۴- القرآن: سورۃ القلم: ۴۔
- ۵- القرآن: سورۃ الضحیٰ: ۵۔
- ۶- القرآن: سورۃ بنی اسرائیل: ۱۔
- ۷- القرآن: سورۃ الانبیاء: ۱۰۷۔
- ۸- القرآن: سورۃ الانشراح: ۴۔
- ۹- القرآن: سورۃ الکوثر: ۱۰۸۔
- ۱۰- القرآن: سورۃ الاحزاب: ۴۵، ۴۶۔
- ۱۱- القرآن: سورۃ الاعراف: ۱۵۸۔
- ۱۲- القرآن: سورۃ الاحزاب: ۵۶۔
- ۱۳- القرآن: سورۃ آل عمران: ۱۶۳۔
- ۱۴- القرآن: سورۃ التوبہ: ۱۲۸ تا ۱۲۹۔
- ۱۵- القرآن: سورۃ النجم: ۴۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء 40 تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ١٦۔ القرآن :سورۃ الاحزاب:٢١۔
- ١٧۔ القرآن :سورۃ الحشر:٧۔
- ١٨۔ القرآن :سورۃ النساء:٨٠۔
- ١٩۔ القرآن :سورۃ الانفال:١۔
- ٢٠۔ القرآن :سورۃ النساء:٦٥۔
- ٢١۔ القرآن :سورۃ الاحزاب:٦۔
- ٢٢۔ القرآن :سورۃ آل عمران: ٣١ تا ٣٢۔
- ٢٣۔ القرآن :سورۃ الحجرات: ١ تا ٥۔
- ٢٤۔ القرآن :سورۃ الاحزاب: ٥٧۔
- ٢٥۔ القرآن :سورۃ التوبہ: ٦١۔
- ٢٦۔ اے۔ گی لیوم، کتاب: اسلام۔
- ٢٧۔ لیو۔ ٹالسٹائی۔
- ٢٨۔ ایس۔ پی۔ سکاٹ، کتاب: ھسٹری آف مورِش ایمپائر اِن یورپ، ص ١٢١۔
- ٢٩۔ ایچ۔ برنارڈ۔ شا۔
- ٣٠۔ جے۔ ڈیون پورٹ، کتاب: اَپولوجی فار محمد اینڈ اِسلام، ص ٧٩
- ٣١۔ جے ۔ایچ۔ڈینیسن، کتاب: ایموشنز ایز دی بیسز آف سیویلائزیشن، ص ١٣٢۔
- ٣٢۔ (ای ۔ڈرمِنگھم، کتاب: دا لائف آف محمد، ص ٩٧۔
- ٣٣۔ جی۔ ایم۔ڈی کارٹ، کتاب: محمد، ص ١٢١۔
- ٣٤۔ لین۔ پول، کتاب: سٹڈیز اِن موسک، ص ٨٨۔
- ٣٥۔ ای۔ بلائڈن، کتاب: کِرسچینٹی، اِسلام اینڈ دا نیگرو ریس، ص ٣٨۔
- ٣٦۔ اے ۔ جی۔لیونارڈ، کتاب: اِسلام، ص ١٤١۔
* * * * *
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل تحریر: ڈاکٹر سلیمان بن سالم
عقیدۂ تحفّظ
سُورَۃُ الک
اللہ رب العزت نے اپنے حبیب مبعوث فرمایا اور آپ کے ذکر کو چار دانگ خصوصیات عطا فرمائیں جو آپ ﷺ کے خدا سے افضل و اعلیٰ ہیں۔ اللہ کریم نے آ بجالائے بغیر ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔
عصر حاضر میں دشمنانِ اسلام آپ لیکن یہ عالم کفر کا پرانا وطیرہ ہے۔ حضو کیں اور آپ ﷺ کو انتہائی اذیتیں دی کرام علیہم السلام کے ساتھ بھی ایسا ہی ہ اور برگزیدہ بندوں کے ساتھ یہ معاملہ سبب بن جائیں۔
اللہ کریم نے قرآن کریم میں ارشاد فرما يٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ۚ ”صد افسوس ان بندوں پر ج
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: وَمَا يَأْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ ”اور نہیں آتا تھا ان کے پا
* لیکچرر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 41 تحفظ ناموس رسالت نمبر
تحریر: ڈاکٹر سلیمان بن سالم السحیمی * ترجمہ: حافظ محمد نعیم الدین الازہری **
عَقِيْدَةُ تَحَفُّظِ نَامُوسِ رِسَالَت ﷺ
سُوْرَةُ الْكَوْثَر كى رُوشنى مِیں
اللہ رب العزت نے اپنے حبیب پاک ﷺ کو ہدایت و راہنمائی کا سرچشمہ بنا کر مخلوق خدا کی راہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا اور آپ کے ذکر کو چار دانگ عالم میں عظمت و رفعت بخشی، آپ کو دنیا و آخرت میں ایسی امتیازی شانیں اور خصوصیات عطا فرمائیں جو آپ ﷺ کے عظیم مقام و مرتبہ کا پتہ دیتی ہیں۔ آپ ﷺ تمام اولادِ آدم کے سردار اور تمام مخلوق خدا سے افضل واعلیٰ ہیں۔ اللہ کریم نے آپ کی عزت و توقیر کو امت مسلمہ پر فرض کر دیا ہے۔ اس لئے آپ کی عزت و توقیر بجالائے بغیر ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔
عصر حاضر میں دشمنان اسلام آپ ﷺ کی شان میں پے در پے گستاخیوں اور ہرزہ سرائیوں کا ارتکاب کررہے ہیں۔ لیکن یہ عالم کفر کا پرانا وطیرہ ہے۔ حضور سید عالم ﷺ کی ظاہری حیات طیبہ میں بھی آپ کی شان میں کفار نے ہرزہ سرائیاں کیں اور آپ ﷺ کو انتہائی اذیتیں دیں۔ یہ صرف آپ ﷺ کے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ آپ سے پہلے تمام رسولوں اور انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا آیا۔ ان کا مذاق اڑایا گیا اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا۔ اللہ کریم کے ان پیارے اور برگزیدہ بندوں کے ساتھ یہ معاملات پیش آتے رہے تا کہ یہ پریشانیاں اور مشکلات ان کی بلندی درجات اور رفعت کا سبب بن جائیں۔
اللہ کریم نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: يٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ (يٰس: ٣٠) ”صد افسوس ان بندوں پر۔ نہیں آیا ان کے پاس کوئی رسول، مگر وہ اس کے ساتھ مذاق کرنے لگ گئے۔“ (۱)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: وَمَا يَأْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ (الحجر: ١١) ”اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی رسول، مگر وہ اس کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے۔“
* لیکچرر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ ** ایم۔ اے ریسرچ سکالر الازہر یونیورسٹی مصر
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
پس ظاہر ہوا کہ حضور ﷺ کی شان اقدس میں ہرزہ سرائی اور گستاخی درحقیقت اسی کافر اور بے دین ٹولے کا تسلسل ہے جو پہلے انبیاء کے زمانے میں موجود تھا۔
وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ أَوْ تَأْتِيْنَا اٰيَةٌ ۭ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۭ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ ۭ قَدْ بَيَّنَّا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ (البقرہ: ۱۱۸)
”اور کہتے ہیں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے کہ کیوں نہیں کلام کرتا ہمارے ساتھ (خود) اللہ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی۔ اسی طرح کہی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے (گزرے) تھے ان کی سی (بے سروپا) بات۔ ملتے جلتے ہیں ان سب کے دل، بے شک ہم نے صاف صاف بیان کر دی ہیں (اپنی) نشانیاں اس قوم کے لئے جو یقین رکھتے ہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے پیارے حبیب مکرم ﷺ کے گستاخوں سے انتقام لیتا ہے اور ہمیشہ اپنے نبی مکرم ﷺ کی مدد و نصرت فرماتا ہے، گستاخوں کی دست درازیاں خود انہی کو لے ڈوبتی ہیں۔ اللہ کریم نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے:
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِءُوْنَ (الانعام: ۱۰)
”اور بلاشبہ مذاق اڑایا گیا رسولوں کا آپ سے پہلے، پھر گھیر لیا انہیں جو مذاق اڑاتے تھے رسولوں کا اس چیز نے جس کے ساتھ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
دورِ حاضر میں گاہے بگاہے یورپی ممالک کے مختلف اخبارات و جرائد میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں اہانت و گستاخی میں جو کچھ لکھا اور شائع کیا گیا اس نے مسلمانوں کو حد درجہ اذیت پہنچائی۔ اس کھلی بے حیائی اور بے حمیتی کو تمام مسلمانوں نے یکساں طور پر نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضور ﷺ کی محبت سے تمام اہل اسلام کے دل آباد ہیں اور وہ آج بھی اپنی جان و مال اور اولاد سب کچھ آقا کریم ﷺ کی ناموسِ پاک پر قربان کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں: ”اس میں کوئی شک نہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں گستاخی اور ہرزہ سرائی مسلمانوں کے غیظ و غضب کو بھڑکا دیتی ہے اور وہ ناموسِ پاک کے تحفظ کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے اور مال و دولت لٹانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، کیونکہ حضور ﷺ کی ناموس کا تحفظ درحقیقت غیرت ایمانی کا تقاضا ہے۔ (۲)
حضور نبی کریم ﷺ کی ناموسِ پاک کے تحفظ کے لئے کاوش کرتے ہوئے تمام مسلمان بزبانِ حال حضرت حسان ؓ کے یہ اشعار وردِ زبان کئے ہوتے ہیں۔
وَعِنْدَ اللّٰهِ فِىْ ذَاكَ الْجَزَاءُ
ہَجَوْتَ مُحَمَّدًا بَرًّا حَنِيْفًا
أَمِيْنَ اللّٰهِ شِيْمَتُهُ الْوَفَاءُ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِّنْكُمْ وِقَاءُ
(۳)
”تم نے میرے پیارے نبی محمد ﷺ کی شان میں ہرزہ سرائی کی، پس میں نے آپ کے دفاع میں اس کا جواب دیا، اور اس عمل پر اللہ کریم مجھے اجر عطا فرمائے گا۔ تم نے اس پاک محمد ﷺ کی ہجو کی، جو نیک، اللہ کے مخلص بندے، اس کے امین ہیں اور وفا داری جن کی خصلت و خوبی ہے۔ حضور ﷺ کی ناموس پاک کے تحفظ کے لئے میرے ماں باپ، میری عزتیں سب کچھ سرکار کی عزت و ناموس پر قربان ہے“۔
موضوع کا تعارف
حضور ﷺ کی بارگاہ اقدس میں کی جانے والی ان گستاخیوں نے جہاں امت مسلمہ کے افراد کے دل و دماغ کو مجروح کیا، وہیں ان کی غیرت و حمیت کو بیدار کر کے ان کو متحد کر دیا۔ اس تناظر میں نبی پاک ﷺ کی عزت و توقیر اور محبت ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم آپ کے دین متین کی نصرت و مدد میں سرگرم رہیں اور آپ کی ذات اقدس پر ہونے والے بے سروپا اعتراضات کا دفاع کریں، یہ مضمون تحریک تحفظ ناموس رسالت میں حصہ ڈالنے کی ایک حقیر سی کاوش ہے۔ اس حوالہ سے میں نے سورۃ الکوثر کی آخری آیت ان شانئك هو الابتر کی روشنی میں حضور سید عالم ﷺ کی شان اقدس میں تنقیص کرنے والوں کو مسکت جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ علامہ سبکی فرماتے ہیں کہ ”میرے اندر اتنی قوت و استطاعت نہیں کہ میں اس گستاخ سے اپنے ہاتھوں سے انتقام لوں۔ اللہ کریم جانتا ہے کہ میں اس کے اس عمل کو سخت ناپسند کرتا ہوں، لیکن صرف دل سے ناپسند کرنا ہی کافی نہیں۔ اس لئے میں اپنی زبان اور قلم کے ذریعے سے اس کے خلاف جہاد کروں گا، اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ میری اس کاوش کو قبول فرمائے۔“ (۴)
اس مضمون میں درج ذیل چھے مباحث پر خامہ فرسائی کی گئی ہے:
- ۱۔ ”الشانئ“ اور ”ابتر“ کا معنی
- ۲۔ آیت کا معنی اور شان نزول
- ۳۔ آیت کریمہ کی گستاخ رسول کے واجب القتل ہونے پر دلالت
- ۴۔ آیت کریمہ کے ضمن میں حضور ﷺ کی محبت کا وجوب
- ۵۔ آیت کریمہ کے ضمن میں وجوب تعظیم رسالت
- ۶۔ اہم نتائج اور خلاصہ
الشانئ اور الابتر کا معنی
لسان العرب میں مذکور ہے: شَنَأَ، شَنْأً و شَنَآناً: بغض رکھنا، دشمنی کرنا، نفرت کرنا اور ”رَجُلٌ شَنَانَةٌ“ اس شخص کو
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 44 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کہتے ہیں جو بغض رکھنے والا اور بد اخلاق ہو۔ (۵)
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ : یعنی آپؐ سے بغض رکھنے والا اور آپؐ کا دشمن ہی ابتر ( بے نام و نشان) ہے (۶)
اسی طرح یہ لفظ شَنَاءَةٌ (بغض)‘ الطعن (طعن و تشنیع کرنا)، السبّ (گالی گلوچ دینا) اور الاستھزاء (مذاق اڑانا) کے معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
طعن : کہتے ہیں نیزہ مارنے کو، لیکن پھر اس کا استعمال ”عیب نکالنے“ کے معنی میں ہونے لگا۔ (۷)
السبّ : اس کا معنی ہے گالی دینا اور کسی کو ایسے لقب سے پکارنا جس میں حقارت کا پہلو نکلے۔ (۸)
الاستھزاء : مذاق اڑانا، امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہر گالی دینے والے اور مذاق اڑانے والے کا مقصد دوسرے کی توہین کرنا ہوتا ہے پس توہین کرنے اور مذاق اڑانے میں کوئی فرق نہیں ہے۔“ (۹)
حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں: ”گالی دینا، فحش گوئی اور بازاری زبان کا استعمال حد درجہ مذموم ہے اور شریعت میں ناجائز ہے۔ ان افعال کا مصدر و منبع خباثت اور کمینگی ہے اور ان گھٹیا کاموں کا مقصد کسی کو تکلیف پہنچانا ہوتا ہے، یہ عادات فاسق و فاجر، بد اخلاق اور کمینہ صفت لوگوں کی صحبت سے انسان میں منتقل ہوتی ہیں۔ (۱۰)
ان اقوال کی روشنی میں یہ واضح ہو گیا کہ آیت کریمہ میں ”شَانِئ“ سے مراد بغض رکھنے والا، گالی گلوچ کرنے والا، طعن و تشنیع اور مذاق اڑانے والا ہے۔ یہ سب افراد ”شَانِئ“ کے عموم میں داخل ہیں۔
الابتر کا معنی:
الْاَبْتَرُ : بَتْرٌ سے مشتق ہے اور اس کا معنی ہے کسی چیز کو کاٹ دینا۔ کہا جاتا ہے بَتَرْتُ الشَّيْءَ بَتْراً : یعنی میں نے کسی چیز کو مکمل ہونے سے پہلے ہی کاٹ دیا، ہر کٹی ہوئی چیز کو بھی بتر کہا جاتا ہے۔
اَبْتَرُ : ہر اس جانور کو کہتے ہیں جس کی دم کٹی ہوئی ہو۔ پھر اس معنی کا اطلاق ہر اس انسان پر ہونے لگا جس کی کوئی اولاد نہ ہو۔ (۱۱)
رجل ابتر : ہر اس شخص کو کہتے ہیں جس کی نسل ختم ہو جائے۔ یعنی نرینہ اولاد نہ ہو۔ (۱۲)
وہ خطبہ جس میں اللہ کا نام نہ لیا جائے اور حضور ﷺ پر درود نہ پڑھا جائے اس کو عربی میں ”خطبۃ بتراء“ کہتے ہیں۔
حدیث پاک میں ارشاد ہے: ”ہر وہ کام جو اللہ کے نام سے شروع نہ کیا جائے وہ ابتر ہے۔ (۱۳)
علامہ فیروز آبادیؒ کے نزدیک بھی الابتر دم کٹے جانور اور لاوارث انسان کو کہتے ہیں۔ (۱۴)
”اللباب“ میں ہے: لوگوں میں سے ابتر اسے کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ ہو اور چوپایوں میں سے اسے کہتے ہیں جس کی دم نہ ہو اور ہر وہ شخص جس کا تعلق خیر کے کاموں سے کٹ جائے وہ بھی ابتر کہلاتا ہے۔ (۱۵)
ان تمام اقوال کی روشنی میں ہم پر یہ واضح ہو گیا کہ بتر کہتے ہیں کاٹنے کو اور ”ابتر“ سے مراد وہ ہے جس کی اولاد (نسل) منقطع ہو جائے یا جس کی وراثت اور آثار میں خیر باقی نہ رہے، یا وہ شخص جس کے مرنے کے بعد کسی صورت میں
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مار
بھی اس کا ذکر باقی نہ رہے۔
آیت کا شانِ نزول اور معنی
”اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ“ : اس آ
پہلا قول: اس کے مطابق یہ آی ”عاص بن وائل مسجد حرام کے دروازے گیا‘ وہاں پر قریش کا ایک گروہ بیٹھا ہوا کہنے لگا، اس ”ابتر“ سے، (اس کا اشارہ صاحبزادے حضرت عبداللہ کا وصال ہو آیت کریمہ عاص بن وائل کے رد میں
سیرۃ ابن اسحاق میں یہی روایت
امام رازی یہی قول ذکر کرنے
دوسرا قول: یہ آیت ابوجہل کے متعل حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بُتِرَ فُلاَنٌ ”فلاں شخص بے نشان بدبخت ابوجہل اپنے قبیلے کے پاس گ اللہ کریم نے یہ آیت کریمہ نازل فرما اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ
تیسرا قول: یہ آیت ابولہب کے
چوتھا قول: یہ آیت کریمہ عقبہ ب
پانچواں قول: یہ آیت قریش کے ا یہ قول ابن جریر طبری نے ا اشرف مکہ آیا تو قریش کا ایک گروہ مدینہ کا سردار ہے۔ پس تو بتا کہ کیا یہ سن کر کعب بن اشرف کہنے لگا، تم
پھر کعب بن اشرف یہود
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ه
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
بھی اس کا ذکر باقی نہ رہے۔
آیت کا شان نزول اور معنی
"إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الاَبْتَرُ" : اس آیت کریمہ کے شان نزول کے متعلق پانچ اقوال کتب تفاسیر میں مذکور ہیں۔ (۱۶)
پہلا قول: اس کے مطابق یہ آیت عاص بن وائل سہمی کے متعلق نازل ہوئی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"عاص بن وائل مسجد حرام کے دروازے پر نبی کریم ﷺ سے ہم کلام ہوا۔ تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد مسجد حرام میں چلا گیا، وہاں پر قریش کا ایک گروہ بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے عاص بن وائل سے پوچھا تو کس سے باتیں کر رہا تھا، وہ بدبخت کہنے لگا، اس "ابتر" سے، (اس کا اشارہ نعوذ باللہ حضور ﷺ کی طرف تھا) اور اس واقعہ سے پہلے حضور نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ کا وصال ہو چکا تھا، (اور عرب اس کو ابتر کہتے تھے جس کی اولاد نہ ہو) پس اس واقعہ کے بعد یہ آیت کریمہ عاص بن وائل کے رد میں نازل ہوئی۔ (۱۷)
سیرۃ ابن اسحاق میں یہی روایت حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ، مجاہد، قتادہ وغیرہم سے منقول ہے (۱۸)
امام رازی یہی قول ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "یہ قول ابن عباس رضی اللہ عنہ، مقاتل، کلبی اور جمہور اہل تفسیر کا ہے (۱۹)
دوسرا قول: یہ آیت ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں جب کسی شخص کا بیٹا مر جاتا، لوگ کہتے بتر فلان ' فلاں شخص بے نشان ہو گیا، پس جب حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا وصال پر ملال ہوا، بدبخت ابوجہل اپنے قبیلے کے پاس گیا اور کہنے لگا (بتر محمد) آج محمد ﷺ (نعوذ باللہ) بے اولاد ہو گئے۔ اسی وقت اللہ کریم نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ (۲۰)
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الاَبْتَرُ "اے حبیب آپ کا جو دشمن ہے وہی بے نام (ونشان) ہوگا ۔"
تیسرا قول: یہ آیت ابولہب کے متعلق نازل ہوئی اور یہ عطا کا قول ہے (۲۱)
چوتھا قول: یہ آیت کریمہ عقبہ بن ابی معیط کی مذمت میں نازل ہوئی، یہ شمر بن عطیہ کا قول ہے (۲۲)
پانچواں قول: یہ آیت قریش کے ایک پورے گروہ کے متعلق نازل ہوئی۔
یہ قول ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں حضرت عکرمہ عن ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا ہے انہوں نے فرمایا: جب کعب بن اشرف مکہ آیا تو قریش کا ایک گروہ اس کے پاس آیا اور انہوں نے کعب سے کہا : "ہم حرم پاک کے محافظ اور خادم ہیں اور تو اہل مدینہ کا سردار ہے۔ پس تو بتا کہ کیا ہم بہتر ہیں یا یہ ابتر اور بے نام ونشان شخص (نعوذ باللہ) بہتر ہے جو برتری کا دعویدار ہے۔ یہ سن کر کعب بن اشرف کہنے لگا تم اس سے بہتر ہو، اس وقت آپ ﷺ پر یہ آیت ان کی مذمت میں نازل ہوئی۔ (۲۳)
پھر کعب بن اشرف یہودی کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَيَقُوْلُوْنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا هٰؤُلَاءِ أَهْدٰی مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَبِيْلًا o اُوْلٰئِكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ط
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 46 تحفظ ناموس رسالت نمبر
وَمَنْ يَّلْعَنِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ نَصِيرًا O (النساء:۵۱۔۵۲) ”کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کی طرف جنہیں دیا گیا حصہ کتاب سے وہ (اب) اعتقاد رکھنے لگے ہیں جبت اور طاغوت پر اور کہتے ہیں ان کے بارے میں جنہوں نے کفر کیا کہ یہ کافر زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ان سے جو ایمان لائے، یہی وہ (بدنصیب) ہیں جن پر لعنت کی ہے اللہ تعالیٰ نے اور جس پر لعنت بھیجے اللہ تعالیٰ تو ہرگز نہ پائے گا تو اس کا کوئی مددگار۔
یہ وہ تمام اقوال ہیں جو اس آیت کے شان نزول کے متعلق کتب تفسیر میں وارد ہوئے ہیں، ان تمام کفار سے اس قسم کی باتوں اور گستاخیوں کا ارتکاب بعید از قیاس نہیں تھا، کیونکہ وہ تو اس سے بھی زیادہ بڑھ کر ریشہ دوانیاں کیا کرتے تھے، شاید عاص بن وائل یہ بات کہنے میں ان سب سے بازی لے گیا تھا اس لیے یہ آیت اسی کے متعلق مشہور ہوگئی۔
لیکن یادرہے کہ اس آیت کریمہ کا حکم ان سب لوگوں کو شامل ہے جو حضور سید عالم کی ذات والا صفات سے بغض رکھتے ہیں۔ پس لفظ کے عموم کا اعتبار کیا جائے گا نہ کہ اس خاص سبب کا۔ اسی لئے حضرت امام ابن جریر طبری ؒ تمام اقوال ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”اللہ کریم نے اس آیت میں ہمیں خبر دار کیا ہے کہ حضور ﷺ سے بغض رکھنے والا ہی در حقیقت گھٹیا اور سب سے بڑھ کر ذلیل ہے۔ وہی بے نام ونشان ہوگا، اور یہ صفت ہر اس شخص پر صادق آتی ہے جو آپ سے بغض رکھتا ہو، اگرچہ یہ آیت ایک شخص کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ (۲۴)
امام فخر الدین رازی ؒ اس آیت کی تفسیر میں رقم طراز ہیں: ”اللہ رب العزت نے اپنے حبیب لبیب ﷺ کو عظیم نعمتوں کی خوشخبری عطا فرمائی اور رب کریم خوب جانتا ہے کہ نعمتوں کی خوشی اس وقت تک نصیب نہیں ہوتی جب تک انسان کے دشمن زیر عتاب نہ آئیں اور بطور خاص اللہ رب العزت نے تو اپنے محبوب سے دشمن پر غلبہ عطا فرمانے کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔ پس ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ
اس آیت کریمہ میں بڑے لطیف نکات پوشیدہ ہیں ملاحظہ فرمائیے:
- ۱۔ اس آیت کریمہ میں غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کریم گویا یوں فرما رہے ہیں: اے حبیب میں آپ کے دشمن کو
ہلاک نہیں کروں گا تا کہ وہ اپنی آنکھوں سے آپ کی عظمت و رفعت کے نظارے بھی کرے اور اپنی کسمپرسی بھی دیکھے، پھر اسی حسرت و یاس کی سختی اسے ختم کر ڈالے۔
- ۲۔ اس آیت کریمہ میں ترتیب کلام سے پتہ چلتا ہے کہ دشمن رسالت مآب ﷺ ”ابتر“ (بے نام) اس لئے ہوا کہ وہ
آپ ﷺ سے عداوت و بغض رکھتا تھا، پس حقیقت امر یہی ہے کہ جو اللہ کے حبیب مکرم ﷺ سے دشمنی کرتا ہے وہ اصل میں اللہ رب العزت سے اعلان جنگ کرتا ہے، پھر اس کی تباہی یقینی ہو جاتی ہے۔
- ۳۔ دشمن رسالت نے جب آپ ﷺ کی طرف (نعوذ باللہ ) قلت و ذلت کی نسبت کی اور اپنی طرف کثرت مال و جاہ کی
نسبت کی تو اللہ کریم نے سارا معاملہ اس پر الٹا کر دیا اور فرمایا: عزت والا وہ ہے جسے رب عزت عطا فرمائے اور ذلیل وہ ہے جسے رب ذلیل کرے۔ پس کثرت اور کوثر محمد عربی ﷺ کا حصہ ہے اور ابتری، بے نامی، کمینگی اور ذلت آپ ﷺ کے دشمن
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
کے لئے ہے۔ یوں اس سورۃ الکوثر کے پہلے اور آخری حصے میں بڑی خوبصورت مطابقت پیدا ہوگئی ہے۔ جس کسی نے بھی میرے آقا کریم علیہ التحیۃ والتسلیم سے بغض رکھا یا آپ کی تعلیمات اور دین حق کو ٹھکرایا، اسے اس ابتری اور ذلت سے حصہ ملے گا جو اللہ نے اعدائے رسالت مآب ﷺ کے لئے لکھ دی ہے۔ (۲۵)
علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں: ”اللہ رب العزت نے گستاخ بارگاہ رسالت کو ہر قسم کی خیر اور بھلائی سے محروم فرما دیا ہے۔ پس اس کا نام ونشان، اہل وعیال اور مال ودولت مٹ جاتا ہے۔ اس کی زندگی بے نفع ہو جاتی ہے اور وہ اس زندگی میں اپنی آخرت سنوارنے کے لئے کوئی نیک کام نہیں کر پاتا، اس کا دل بنجر ہو کر بھلائی اور معرفت قبول کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے اس کے سب اعمال رائیگاں جاتے ہیں، وہ اچھے دوست احباب اور عزیز واقارب سے محروم کر دیا جاتا ہے، اللہ رب العزت کا قرب بخشنے والے تمام اعمال اس کے حق میں بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اسے کسی عبادت میں اطمینان قلب نصیب نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ ظاہری طور پر بڑے اہتمام سے عبادت و ریاضت کر رہا ہو لیکن اس کا دل منتشر ہوتا ہے۔ یہ سزا ہے ہر اس شخص کی جس نے حضور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میں کسی قسم کی گستاخی کا ارتکاب کیا ہو۔ (۲۶)
گستاخ رسول ﷺ کافر اور واجب القتل ہے
آپ ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی اور سب وشتم کرنے سے آپ کو اذیت اور تکلیف پہنچتی ہے، اس لیے مندرجہ بالا آیۂ کریمہ میں واضح طور پر اللہ کریم نے آپ ﷺ سے بغض رکھنے والے گستاخ کو ابتر قرار دیا ہے اور اس کے لئے حصر اور تاکید کا صیغہ استعمال فرمایا ہے۔ پس لازم ہے کہ ”ابتر“ کے معنی ومفہوم کے مطابق اس کو کاٹ دیا جائے اور قتل کر دیا جائے، کیونکہ آیت کریمہ کے ظاہری مفہوم کے مطابق وہ اس سزا کا مستحق ہے۔ جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:
الْاَبْتَرُ يَقْتَضِی وُجُوْبَ قَتْلِهِ، بَلْ يَقْتَضِی انْقِطَاعَ الْعَيْنِ وَالْاَثَرِ
”آیۂ کریمہ میں مذکور لفظ ابتر (الابتر) اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ گستاخ رسول کو قتل کر دیا جائے بلکہ یہ اس کا نام ونشان مٹا دینے کا متقاضی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا (الاحزاب:۵۷)
”بے شک جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لئے رسوا کن عذاب۔
علامہ قاضی عیاضؒ نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں گستاخ رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے کی تصریح فرمائی ہے، لکھتے ہیں: ”قرآن کریم میں آپ ﷺ کو اذیت پہنچانے والے پر دنیا و آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور اللہ نے آپ ﷺ کی اذیت کو اپنی اذیت قرار دیا ہے اور اللہ کریم کی ذات کو گالی گلوچ کرنے والے کے وجوب القتل ہونے میں کوئی اختلاف نہیں اور لعنت کا مستوجب کافر ہی ہوتا ہے اور (ایسا) کافر (جو اللہ اور اس کے رسول کریم ﷺ کو اذیت
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 48 تحفظ ناموس رسالت نمبر
پہنچائے وہ) واجب القتل ہے۔
(۲۷)
اسی طرح شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: ”جب اللہ کریم نے اپنے رسول پاک ﷺ کی تعظیم کرنے کا حکم ارشاد فرمایا، آپ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرنے سے منع فرمایا اور اس پر سخت وعید فرمائی، فرمایا: اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ اور یہ اذیت قولی، عملی، بدنی، ہر قسم کی اذیت کو شامل ہے، پس اس آیت کریمہ کی روشنی میں گستاخ رسول کو قتل کرنا لازم ہے اور یہ اس کی گستاخی کی سزا ہے کیونکہ حضور ﷺ کو اذیت اور تکلیف پہنچانا کسی عام فرد کو تکلیف دینے کی طرح نہیں ہے کیونکہ آپ تو وہ ہستی ہیں جن پر ایمان لائے بغیر کسی کا ایمان ہی مکمل نہیں ہو سکتا۔ پس آپ کی یہ عزت و تکریم (جو کہ ایمان کے لوازمات میں سے ہے) اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ آپ کو اذیت دینے والے کی سزا بھی عام فرد کی سزا سے مختلف ہو۔ یہاں یہ یاد رہے کہ بغض اور سب وشتم صرف کینہ پرور اور دشمن ہی اپنے دل میں رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں منافقین کے برے ارادے ظاہر کرنے اور ان کی گستاخیوں اور ہرزہ سرائیوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا:
لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ ط اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةً بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ (التوبۃ: ٦٦)
”(اب) بہانے مت بناؤ، تم کافر ہو چکے (اظہار) ایمان کے بعد، اگر ہم معاف بھی کر دیں ایک گروہ کو تم میں سے تو عذاب دیں گے دوسرے گروہ کو، کیونکہ وہی (اصلی) مجرم تھے۔
یہ آیت کریمہ واضح دلیل ہے کہ اللہ کریم، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کا مذاق اڑانا کفر ہے، اور یہ آیت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ جس نے بھی سنجیدگی یا مذاق کے عالم میں حضور ﷺ کی تنقیص شان کی وہ کافر ہوگا۔
احادیث طیبہ سے دلائل
گستاخ رسول ﷺ کو قتل کرنے کے دلائل واضح انداز میں احادیث طیبہ میں مذکور ہیں ملاحظہ فرمائیں:
- ۱۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ایک نابینا صحابی کی لونڈی حضور سید عالم ﷺ کی شانِ اقدس میں
گستاخی اور بدزبانی کیا کرتی تھی، وہ اسے منع کرتے لیکن وہ باز نہ آتی، ایک رات وہ حسب معمول آپ کی شان میں نازیبا کلمات کہنے لگی اور گالی گلوچ تک جا پہنچی، حتیٰ کہ اس صحابی نے غصے میں بے قابو ہو کر ایک خنجر نما آلہ پکڑ کر زور سے اس کے پیٹ پر رکھ کر دبا اور اس کو قتل کر ڈالا، اس لمحے تکلیف کی شدت سے اس کے حمل کا بچہ اس کی ٹانگوں کے درمیان جا گرا، صبح کے وقت یہ معاملہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا، اس اعمیٰ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا سنایا، آپ نے سارا قصہ سن کر فرمایا، اے لوگو! گواہ بن جاؤ، اس عورت کا خون رائیگاں ہے۔ یعنی معاف ہے، ”اَلَا فَاشْهَدُوْا وَ اِنَّ دَمَهَا هَدَرٌ“
(۲۸)
علامہ سندھیؒ فرماتے ہیں ”کہ وہ عورت غیر مسلمہ لونڈی تھی اس لئے وہ یہ بکواس کرنے کی جرأت کیا کرتی تھی، اس حدیث طیبہ میں دلیل ہے کہ اگر ذمی بھی گستاخی کرے تو اس کی حفاظت کا ذمہ اٹھ جاتا ہے اور اس کا قتل حلال ہو جاتا ہے۔
(۲۹)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت حضور ﷺ کی شانِ اقدس میں نازیبا کلمات کہتی تھی، ایک شخص نے اس کا گلا دبا کر اسے قتل کر دیا، رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون معاف فرما دیا۔
(۳۰)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء 49 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس حدیث پاک میں اس امر پر واضح دلیل ہے کہ اگر ذمی غیر مسلم گستاخی کرے تو واجب القتل ہے۔ لہٰذا جب کوئی مسلمان مرد یا عورت گستاخی کا ارتکاب کرے گا تو وہ بدرجہ اولیٰ واجب القتل ٹھہرے گا۔
- ۲۔ کعب بن اشرف یہودی کا قتل بھی ایک مضبوط دلیل ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور
سید عالم ﷺ نے اعلان فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو قتل کرے کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچائی ہے۔ (۳۱)
اس واقعہ میں قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ کعب بن اشرف رسول اللہ ﷺ کی مذمت میں اشعار کہتا اور ان اشعار میں مسلمانوں کی خواتین کا ذکر بھی برے انداز میں کرتا جس سے ان کو سخت تکلیف پہنچتی تھی۔ حضور ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا تو عظیم صحابی حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا۔ کعب بن اشرف مسلمانوں کے خلاف بڑے حربے استعمال کرتا۔ وہ کافروں کو مسلمانوں سے جنگ کرنے پر ابھارتا اور جنگ میں مارے جانے والے کافروں کی شان میں مرثیے لکھتا تھا۔ اس نے مشرکین مکہ کو بڑے وثوق سے کہا تھا کہ ان مشرکوں کا دین، دین محمدی سے بہتر اور صحیح ہے، لیکن حضور ﷺ نے جب اس کو قتل کرنے کا سبب بیان فرمایا تو مندرجہ بالا اسباب میں کسی کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ فرمایا: فَاِنَّہ قَدْ آذَی اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ بے شک اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔ پس تمام علماء کرام اور مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دینا موجب القتل ہے۔
قاضی عیاض اس حدیث مبارک کی شرح میں رقمطراز ہیں: حضور ﷺ نے اس کو قتل کرنے کا سبب اس کی اذیت رسانی کو قرار دیا ہے، پس یہ دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے شرک کی وجہ سے اس کو قتل نہیں کروایا بلکہ اس کی گستاخی اس کے قتل کا سبب ہے۔ (۳۲)
علامہ سبکی کعب بن اشرف کے قتل کئے جانے والی روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں، اس حدیث سے گستاخ رسول ﷺ کی سزا کے استدلال کی چند وجوہات درج ذیل ہیں:
- ۱۔ صحیح بخاری اور مسلم شریف میں جو حدیث مذکور ہے اس میں صرف ان الفاظ پر اکتفا کیا گیا ہے: مَنْ لِّكَعْبِ بْنِ
الْاَشْرَفِ، فَاِنَّہ قَدْ آذَی اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ یہ الفاظ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ قتل کی علت اذیت رسانی کو قرار دیا جائے۔ پس جو بھی آپ ﷺ کو اذیت و تکلیف پہنچائے اُسے قتل کیا جائے گا۔ (۳۳)
- ۲۔ ابن منذر نے بھی یہ حدیث بیان کرنے کے بعد اس سے گستاخ رسول کے واجب القتل ہونے کا استدلال کیا
ہے۔ (۳۴)
- ۳۔ ان دلائل اور احادیث پر غور کرنے سے ہر شخص پر واضح ہو جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی بھی گستاخ کو صرف اس
کے کافر ہونے کی وجہ سے قتل نہیں کروایا بلکہ اس کو صرف اس کی ہرزہ سرائی اور گستاخی کے سبب واجب القتل قرار دیا ہے، چنانچہ یہ سبب جس میں بھی پایا جائے گا چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر اس پر قتل کا حکم لازم ہو جائے گا۔ (۳۵)
علامہ سبکی فرماتے ہیں: الْآيَاتُ وَالْاَحَادِيْثُ الدَّالَّةُ عَلَی قَتْلِ مَنْ يُؤْذِيْهِ مُطْلَقًا مِنَ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 50 تحفظ ناموس رسالت نمبر
غير تفصيل بين المسلم والكافر (۳۶)
”قرآن کریم کی آیات اور احادیث طیبہ جو گستاخ رسول کے قتل پر دلالت کرتی ہیں وہ مطلق ہیں ان میں کافر اور مسلمان میں تفریق نہیں کی گئی۔
اس طرح ائمہ حدیث اور تابعین و تبع تابعین سے متواتر روایات موجود ہیں جو گستاخ رسول کو قتل کرنے پر صریح دلالت کرتی ہیں۔
علامہ ابن منذر لکھتے ہیں: تمام علماء اہلسنت کا گستاخ رسول کے واجب القتل ہونے پر اجماع ہے اور یہ قول حضرت امام مالک، لیث بن سعد، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، اسحاق ؒ اور دیگر علماء و محدثین کا ہے۔ (۳۷)
علامہ محمد بن سحنون فرماتے ہیں: ”تمام علماء اُمت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی اور سبّ و شتم کرنے والا کافر ہے، اللہ کے عذاب کا مستحق ہے اور تمام ائمہ کے نزدیک اس کی سزا قتل ہے۔ مزید برآں جس نے اس کے عذاب اور کفر میں شک کیا وہ بھی کافر ہے۔“ (۳۸)
علامہ جصاص الحنفی رقمطراز ہیں: ہمارے ائمہ اور اصحاب کے نزدیک وہ شخص جس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی اگر وہ مسلمان تھا تو وہ مرتد ہو گیا، جو واجب القتل ہے۔ (۳۹)
اسی طرح حضرت ابن القاسم نے امام مالک سے اور عبداللہ اپنے والد احمد بن حنبل سے روایت کرتے ہیں کہ ہر وہ شخص جس نے حضور ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات استعمال کئے خواہ مسلمان ہو یا کافر وہ واجب القتل ہے (۴۰)
پس تمام مذاہب کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ گستاخ رسول کافر مرتد ہے اور اس کا خون حلال ہے۔ (۴۱)
اس جرم شنیع کا ارتکاب کرنے والا عبرت ناک عذاب کا مستحق ہے، اس کے فساد کو جڑ سے اکھیڑنا ازحد ضروری ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر طعنہ زنی درحقیقت پوری امت اور دین اسلام کی بے حرمتی اور بے توقیری ہے۔
آیت کریمہ کی محبت رسول ﷺ کے وجوب پر دلالت
آیت کریمہ میں مذکور لفظ ”شانئ“ کا معنی بغض و نفرت ہے اور اس کا متضاد محبت ہے، کیونکہ محبت، نفرت کو ختم کرتی ہے اور بغض و حسد کے منافی ہے، پس حضور ﷺ سے محبت ہی اصل ایمان ہے اور آپ سے بغض رکھنا کفر و ذلت ہے اور یہ مشہور فقہی قاعدہ ہے کہ اشیا اپنی اضداد سے ہی پہچانی جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضور سید عالم ﷺ کی محبت کو مسلمانوں پر واجب قرار دیا اور قرآن کریم میں محبت رسول ﷺ کو نفس، جان، مال، اہل وعیال سب کی محبت پر فوقیت دینے کا حکم فرمایا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتّٰى يَأْتِيَ اللّٰهُ بِأَمْرِهِ ط وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (التوبہ: ۲۴)
”(اے حبیب) آپ فرمائیے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
تمہارے کنبے اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ کاروبار اندیشہ کرتے ہو جس کے مندے کا اور وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو زیادہ پیارے ہیں تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے تو انتظار کرو یہاں تک کہ لے آئے اللہ تعالیٰ اپنا حکم اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو جو نافرمان ہے۔
یہ آیت کریمہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے وجوب میں نص قطعی ہے اور یہ بھی واجب ہے کہ یہ محبت ہر دنیاوی محبوب پر غالب ہو اور اس سلسلے میں پوری امت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔
علامہ قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں: ”اس آیت کریمہ میں حضور ﷺ کی محبت کے وجوب پر واضح اور بین دلالت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا ان لوگوں کو جو اپنے اہل و عیال، جان، مال، کاروبار کسی بھی شے کو حضور ﷺ سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں، ان کے لئے عذاب کی وعید ہے اور ان کے فسق و گمراہی پر یہ آیت کریمہ مہر تصدیق ثبت کر رہی ہے۔
اللہ کریم کا ارشاد ہے: النَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ (الاحزاب:۶)
”نبی (کریم) مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے قریب ہیں۔“
یہ آیت کریمہ اس حقیقت پر دلالت کر رہی ہے کہ حضور ﷺ جس کی جان سے زیادہ اس کے قریب نہیں، وہ اہل ایمان میں سے نہیں ہے اور یہ اولویت اور قرب اس بات کا متقاضی ہے کہ آپ ﷺ مسلمان کو اپنے جان سے زیادہ پیارے ہوں، کیونکہ اولویت کی اساس محبت ہے اور انسان کو سب سے زیادہ اپنی جان عزیز ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ واجب قرار دیا گیا کہ آقائے نامدار ﷺ کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز اور محبوب بناؤ، کیونکہ اسی محبت سے نعمت ایمان نصیب ہوتی ہے۔ اسی اولویت اور محبت کے سبب حضور سرور دو جہاں ﷺ کی کامل اطاعت اور آپ کے احکامات کے سامنے تسلیم و رضا کا پیکر بن کر زندگی گزارنا لازم قرار پاتا ہے۔
صحیح بخاری میں یہ حدیث پاک مذکور ہے کہ حضرت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما نے آقا کریم (علیہ التحیۃ والتسلیم) کی بارگاہ بے کس پناہ میں عرض کی ۔
يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ اِلَّا مِنْ نَّفْسِیْ
”یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم! آپ مجھے سوائے اپنی جان کے (دنیا و مافیہا) کی ہر شے سے زیادہ پیارے اور محبوب ہیں۔
یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا، ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہ ہوگا جب تک میں تمہاری جان سے بھی زیادہ تمہیں محبوب نہ ہو جاؤں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً عرض کی: یا رسول اللہ! آج سے اس لمحے سے مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ آپ سے پیار ہے۔
حضور ﷺ نے خوش ہو کر فرمایا: ”اَلْآنَ يَا عُمَرُ“ اے عمر (مبارک ہو) اب تمہارا ایمان کامل ہو گیا۔
علامات محبت
حضور سرور دو عالم سے محبت صرف دعوے کا نام نہیں بلکہ اس دعویٰ کے ثبوت کے لئے خاص علامات اور نشانیاں ہیں،
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
جو خود بخود سچے محب کی ذات اور اس کے قلب و جوارح پر ظاہر ہو جاتی ہیں۔ ان میں سے اہم علامات مندرجہ ذیل ہیں۔
- * آپ ﷺ کی پیروی اور اطاعت، آپ کی سنتوں پر عمل کرنا اور آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زندگی گزارنا۔
- * آپ کا ذکر کثرت سے کرنا اور درود و سلام پڑھنا۔ آپ کو یاد کرتے رہنا اور آپ کی زیارت کی تڑپ رکھتے ہوئے دیدار اور حاضری کی دعا کرنا۔
- * آپ ﷺ کے اہل بیت، ازواج مطہرات، صحابہ کرام سے محبت کرنا۔
- * آپ کی سنتوں سے پیار کرنا اور ان کی طرف بلانے والوں سے محبت رکھنا۔
- * قرآن کریم کی تلاوت و تعظیم اور ان کے معانی و مفاہیم میں غور و فکر کرنا۔
- * تمام اہل ایمان اور پوری انسانیت کے لئے خیر خواہی کے جذبات سے سرشار رہنا۔
- * اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے بغض رکھنا اور ان کی ہرزہ سرائیوں کا ڈٹ کر جواب دینا۔
خلاصہ کلام
اس پوری گفتگو اور آیت کریمہ کی تشریح سے درج ذیل اہم نتائج حاصل ہوتے ہیں:
- ۱۔ آیت کریمہ میں مذکور لفظ ”الشانئ“ کا معنی بغض اور دشمنی ہے اور طعن و تشنیع اور گالی گلوچ، نامناسب کلام سب اسی ضمن میں آتے ہیں۔
- ۲۔ الابتر: کا معنی ہے ”ہر خیر سے محروم“ بے نام و نشان
- ۳۔ اللہ کریم نے اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو آگاہ فرمایا کہ حضور ﷺ سے بغض رکھنے والا اور آپ کی شان میں نازیبا گفتگو کرنے والا شخص کمینہ، ذلیل اور ہر نیکی و خیر سے محروم ہے، اور یہ صفت ہر اس شخص پر صادق آتی ہے جس سے یہ فعل شنیع سرزد ہو، اگرچہ ابتدائی طور پر یہ آیت ایک خاص شخص کے متعلق نازل ہوئی لیکن لفظ کے عموم کا اعتبار کرتے ہوئے ابتری کا حکم تمام دشمنان بارگاہ رسالت کو شامل ہے۔
- ۴۔ اس آیت کریمہ کے مطابق گستاخ رسول کافر ہے۔ کیونکہ اس نے نبی پاک ﷺ کو اذیت پہنچانے کی کوشش کی اور اذیت پہنچانا کفر ہے۔
- ۵۔ اسی طرح یہ آیت کریمہ اس حقیقت پر بھی واضح دلالت کرتی ہے کہ گستاخ رسول واجب القتل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے گستاخ کو ابتر کہا اور یہ لفظ قتل کے وجوب کا تقاضا کرتا ہے بلکہ اس کا نام و نشان تک مٹا دینے کا تقاضا کرتا ہے اور آیت کریمہ کے اس مفہوم کی تائید صحیح احادیث پاک سے ہوتی ہے، نیز سلف صالحین کے اقوال بھی اس مفہوم کی تاکید کرتے ہیں۔
- ۶۔ اس آیت کریمہ سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کریم نے خود ہر موقع پر اپنے پیارے حبیب ﷺ کی عزت و شان کا دفاع فرمایا اور ہر موضوع پر آپ کی مدد و نصرت فرمائی۔ پس جب کفار و مشرکین نے آپ کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا تو اللہ رب العزت نے آپ کی طرف سے انہیں منہ توڑ جواب دیتے ہوئے فرمایا: إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ
”(اے حبیب) بے شک آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے۔“
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ان واقعات سے ہمیں حضور ﷺ کی عظمت وشان کا پتہ چلتا ہے۔
- ۷۔ اگر مسلمان کبھی گستاخان رسول سے انتقام لینے سے عاجز بھی آگئے یا انہوں نے کمزوری دکھائی تو اللہ کریم نے ان
گستاخوں کو کبھی معاف نہیں کیا بلکہ آج تک آپ کے سب گستاخوں کو عبرت ناک انتقام سے دو چار کیا اور انہیں سارے عالم میں ذلیل ورسوا کر دیا۔
- ۸۔ اس آیت کریمہ سے حضور ﷺ کی محبت کا وجوب اور آپ کی تعظیم وتکریم کا اہتمام بھی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ دین
اسلام محبت وتعظیم پر مبنی ہے جبکہ نفرت وبغض اسلام کی حقیقت اور فطرت کے منافی ہیں۔
اللہ کریم تمام اہل ایمان کو حضور سید عالم ﷺ کی محبت وتعظیم بجالانے کی توفیق مرحمت فرمائے اور آپ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے اور دین متین کی مدد ونصرت کرنے کی قوت بخشے۔ آمین۔
حواشی:
- ۱۔ اس مضمون میں شامل آیات کا ترجمہ جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ کے ترجمہ قرآن ”جمال القرآن“ سے لیا گیا ہے۔
- ۲۔ الصارم المسلول: ص ۲۰ ۳۔ دیوان حسان بن ثابت: ۱۸/۱
- ٤۔ السیف المسلول: (۹۱-۹۲) ٥۔ دیکھیے: لسان العرب، مادۃ شنا
- ٦۔ التوقیف علی مہمات التعاریف للمناوی (٤٨٣)
- ۷۔ دیکھیے: لسان العرب مادہ طعن ۸۔ دیکھیے: لسان العرب مادہ سبّ
- ۹۔ المحلی (٤١٢/١١) ١٠۔ احیاء علوم الدین: (١٣٠/٣-١٣١)
- ۱۱۔ لسان العرب مادہ بتر ۱۲۔ التوقیف للمناوی: (۱۱۳)
- ۱۳۔ مسند الامام احمد (٣٥٩/٢) ١٤۔ القاموس المحیط مادہ ”بتر“
- ۱٥۔ اللباب فی علوم الکتاب لابن عادل الحنبلی (٥٢٣/٢٠)
- ١٦۔ زاد المسیر لا بن جوزی (٣٢٢/٨)
- ١٧۔ اسباب النزول للواحدی (٣٩٩) و تفسیر الطبری (٧٢٤/١٢)
- ١٨۔ سیرۃ ابن ہشام، (٣٩٣/١)
- ۱۹۔ تفسیر الرازی: (١٣٢/٣٢)
- ٢٠۔ تفسیر (١٥١/٢٠)، تفسیر الرازی (١٣٣/٣٢)، زاد المسیر لا بن الجوزی (٣٣٣/٨)
- ۲۱۔ القرآن للقصاب (٥٥٦/٤)، زاد المسیر (١٣٣/٨) تفسیر الرازی (٣٢/٣٢)، فتح القدیر (٥٠٣/٥)
- ۲۲۔ تفسیر الطبری (٧٢٤/١٢-٧٢٥)
- ۲۳۔ تفسیر الطبری (٧٢٥/١٢)
- ٢٤۔ تفسیر الطبری: (٧٢٦/١٢)
- ۲٥۔ تفسیر رازی (١٣٤/٣٢)
- ٢٦۔ مجموع الفتاوی (٥٢٦/١٦-٥٢٧)، التفسیر الکبیر (٤٥/٧-٤٦)
- ٢٧۔ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی (٤٠٧) السیف المسلول للسبکی (١٠٥)
- ٢٨۔ سنن ابی داؤد، (٥٢٨/٤)، سنن النسائی (١٠٧/٧) الطبرانی فی معجم الکبیر (٣٥١/١١)
- ۲۹۔ حاشیہ سنن نسائی (١٠٨/٧)
- ٣٠۔ سنن ابی داؤد (٥٢٩/٤)، سنن الکبری للبیہقی (٢٠٠/٩)
- ۳۱۔ صحیح البخاری (١٨٤/٦)، صحیح مسلم مع النووی (٤٠٣/١٢-٤٠٥)
Original Image Width: 884, Original Image Height: 1800
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 54 تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ٣٢- الشفاء (٤٠٩)
- ٣٣- السيف المسلول (٢٤٥)
- ٣٤- الاشراف لا بن المنذر (١٦٠/٣)
- ٣٥- الصارم المسلول: (١٠٩)
- ٣٦- السيف المسلول: (٢٩١)
- ٣٧- الاقناع لا بن المنذر: (٥٨٤/٢) الشفاء (٤٠٤)، المحلی لا بن حزم (٤١٥/١١)
- ٣٨- الشفاء: (٤٠٥) الصارم المسلول: (٤) السيف المسلول: ٩٦-٩٧)
- ٣٩- الصارم (٥٢٧)
- ٤٠- الصارم المسلول (٥١٢)
- ٤١- الصارم المسلول (٥٢٧)
مصادر و مراجع
- ١- الاجماع۔ لابن المنذر، ط، ١، دار طیبہ، الریاض ١٤٠٢ه
- ٢- احیاء علوم الدین۔ للغزالی، دارالکتب العلمیہ، بیروت ١٤٠٦ه
- ٣- اسباب التنزیل، الواحدی، دارالکتاب العربی، بیروت ١٤١٠ه ١٩٩٠م
- ٤- الاستہزاء بالدین و احکامہ۔ القرشی احمد بن محمد۔ دارالجوزی، الدمام، ٢٠٠٥م
- ٥- الاقناع۔ لا بن منذر، مطابع الفرزدق۔ ریاض ١٤٠٩ه
- ٦- تفسیر الطبری۔ لا بن جریر الطبری۔ ط: ٣ دارالکتب العلمیہ، بیروت ١٩٩٩م
- ٧- تفسیر الفخر الرازی۔ دارالفکر العربی، بیروت ١٩٨١م
- ٨- تفسیر القرآن، لا بن کثیر، دارالمعرفۃ، بیروت، ١٤٠٢م
- ٩- التفسیر الکبیر، لا بن تیمیہ، دارالکتب العلمیہ، بیروت ١٩٨٨م
- ١٠- التوقیف علی مہمات التعریف، المناوی، دارالفکر، دمشق ١٩٩٠م
- ١١- دیوان حسان بن ثابت، دار صادر، بیروت، ١٩٧٤م،
- ١٢- الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، السیوطی، دارالمعرفۃ
- ١٣- الدرر الکامنۃ، لا بن حجر العسقلانی، دارالجیل، بیروت۔
- ١٤- الرسالۃ التبوکیۃ، لا بن قیم، المطبعۃ السلفیۃ، مکۃ المکرمۃ ١٣٤٧ه
- ١٥- زاد المسیر، لا بن الجوزی، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، ١٩٩٤م
- ١٦- السنن الکبری للبیہقی، دائرۃ المعارف العثمانیہ، حیدرآباد
- ١٧- السنن الکبری، للنسائی، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، ١٩٩١م
- ١٨- سنن ابی دائود، دارالکتب العلمیۃ، بیروت۔
- ١٩- السیرۃ النبویۃ، لا بن ہشام، دارالفکر، القاھرۃ
- ٢٠- السیف المسلول علی من سب الرسول، تقی الدین السبکی، دارابن حزم، بیروت ٢٠٠٥م
- ٢١- شرح صحیح مسلم۔ النووی، دارالقلم، بیروت، ١٩٨٧م
- ٢٢- الشفاء، قاضی عیاض، دار ابن حزم، بیروت، ٢٠٠٢م
- ٢٣- الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ابن تیمیہ، دارالکتب العلمیہ، بیروت
- ٢٤- فتح الباری، لا بن حجر العسقلانی، دارالمعرفۃ، بیروت
- ٢٥- فتح القدیر، الشوکانی، دارالمعرفۃ، بیروت
- ٢٦- القاموس المحیط فیروز آبادی، موسسۃ الرسالۃ، بیروت
- ٢٧- محبۃ الرسول بین الاتباع والابتداع، عبدالرئوف، ط، الرئاسۃ العامۃ
- ٢٨- معالم السنن، الخطابی، منشورات المکتبۃ العلمیۃ
- ٢٩- معالم التنزیل، البغوی، دارالمعرفۃ، بیروت، ١٩٨٧م
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور
آداب
قرآن کے
اس ذات کے علو مرتبت کا اندا مرتبہ بلند ہوتا ہے اتنا ہی اس کا احترام سے آگاہی بخشتا ہے تو اس کی قدر وم ترین شاگرد بھی ان کے پاپوش اٹھانے دنیا کے علوم ہی عطا نہیں فرماتی بلکہ ع شہود پر آنے والے امور سے بھی رو دنیا بھی بدل کر رکھ دیتا ہے۔ جس کے بنا دیتے ہیں کہ وہ دلوں کی دنیا فتح کر ل وجہ نجات، جن کی اطاعت نہ صرف دی ہے۔ ایسی ہستی کے ادب واحترام سے وہ سراپا حسن وستائش جن کی ہمہ بن کر اس عالم آب و گل میں جلوہ افرو مسعود صرف کرۂ ارضی کے باسیوں کے کا سحاب جود و کرم اپنوں، بیگانوں اور د عالم کی رضا، جن کے احکام اللہ سبحانہ وت کے لیے بے قرار اور بالخصوص اپنی امت خواستگار رہے اور اب بھی ہیں۔ ایسے بحر
* وائس پرنسپل دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شر
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ڈاکٹر پیر زادہ ابو الحسن محمد شاہ *
آداب بارگاہ رسالت
قرآن کی روشنی میں
اس ذات کے علو مرتبت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے جو خدائے بزرگ و برتر کے بعد بزرگ ترین ہستی ہے۔ جتنا کسی کا مرتبہ بلند ہوتا ہے اتنا ہی اس کا احترام زیادہ ہوتا ہے۔ جب عام دستور یہ مروج ہے کہ وہ استاد جو انسان کو علوم دین و دنیا سے آگاہی بخشتا ہے تو اس کی قدر و منزلت عزت و عظمت اور ادب و احترام والدین سے بھی فوقیت لے جاتا ہے اور ذہین ترین شاگرد بھی ان کے پاپوش اٹھانے کو باعثِ صد عزت و افتخار سمجھتے ہیں تو آپ خود غور فرمائیں کہ وہ ہستی جو صرف دین و دنیا کے علوم ہی عطا نہیں فرماتی بلکہ ماضی میں روپذیر ہونے والے واقعات سے بھی آگاہی بخشتی ہے اور مستقبل میں منصۂ شہود پر آنے والے امور سے بھی روشناس کراتی ہے۔ جس کا نورِ علم نہ صرف عقل کو جلا اور فکر کو وسعت بخشتا ہے بلکہ دل کی دنیا بھی بدل کر رکھ دیتا ہے۔ جس کے فرمودات صرف انسان کے جسدِ خاکی کو جاذبِ نظر نہیں بناتے بلکہ سیرت کو اتنا دلکش بنا دیتے ہیں کہ وہ دلوں کی دنیا فتح کر لیتا ہے۔ جن کے اسوۂ کامل کی پیروی دنیا میں باعثِ عزت و افتخار ہے تو آخرت میں وجہِ نجات، جن کی اطاعت نہ صرف دنیاوی امور میں فوز و فلاح کا زینہ ہے بلکہ خدائے وحدہ لاشریک کی رضا کا پروانہ بھی ہے۔ ایسی ہستی کے ادب و احترام سے محروم انسان بھی بھلا کوئی انسان ہے؟
وہ سراپا حسن و ستائش، جن کی بعثت کو ربِ قدوس نے مومنین کے لیے اپنا احسان فرمایا، جو تمام عالمین کے لیے رحمت بن کر اس عالمِ آب و گل میں جلوہ افروز ہوئے، جو ساری ذریتِ آدم کے لیے بشیر و نذیر بن کر تشریف لائے۔ جن کا وجود مسعود صرف کرۂ ارضی کے باسیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمِ بالا کے مکینوں کے لیے بھی رافت و رحمت کا باعث ہے۔ جن کا سحابِ جود و کرم اپنوں، بیگانوں اور دشمنوں سب کو سیراب کرتا ہے، جن کی اتباع ربِ لم یزل کی اتباع، جن کی رضا پروردگارِ عالم کی رضا، جن کے احکام اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکام، جن کے اقوال و فرمودات وحیِ الٰہی، جو تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے بے قرار اور بالخصوص اپنی امت کی ہدایت و سلامتی کے لیے اپنے رب حنان و منان کے حضور مہد سے لحد تک خواستگار رہے اور اب بھی ہیں۔ ایسے کرمِ مجسم روف و رحیم نبی کی عزت، ادب اور احترام سے ایک امتی بھلا کیسے غافل رہ
* وائس پرنسپل دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی بارگاہ بے کس پناہ کے آداب خود رب العالمین نے اپنے بندوں اور خصوصاً آپ ﷺ کے امتیوں کو سکھائے اور بارگاہ نبوت کے آداب کو شریعت اسلامیہ کا لازمی حصہ بنا دیا کہ ایمان واعمال صالحہ کی قبولیت اور بقا کا دار ومدار احترام نبوت پر موقوف ٹھہرا اور ہر وہ اسلوب جس میں بے ادبی کا شائبہ تک بھی ہو ایسے اسلوب سے سختی سے منع کیا۔ اسی کی ترجمانی عزت بخاری نے ان الفاظ میں کی ہے۔
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کا حکم
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
يٰأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا ط وَلِلْكٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ O
(۱)
’’اے ایمان والو! (میرے حبیب سے کلام کرتے وقت) مت کہا کرو ’’راعنا‘‘ بلکہ کہو ’’انظرنا‘‘ اور (ان کی بات پہلے ہی) غور سے سنا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب کی عزت وتعظیم کا یہاں تک پاس ہے کہ ایسے لفظ کا استعمال بھی ممنوع فرمادیا جس میں گستاخی کا شائبہ تک بھی ہو۔
(۲)
صحابہ کرام بارگاہ مصطفیٰ ﷺ میں حاضر ہوتے اور حضور نبی کریم ﷺ کے کسی ارشاد گرامی کو اچھی طرح سمجھ نہ سکتے اور تمنا کرتے کہ حضور رسالت مآب ﷺ اس بات کو دوبارہ ارشاد فرمائیں تو عرض کرتے ’’راعنا‘‘ اے کریم آقا ہم بات کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے‘ کرم فرماتے ہوئے دوبارہ سمجھا دیجئے۔ علامہ قرطبی اس حوالہ سے لکھتے ہیں:
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ صحابی کرام کو جب کوئی بات سمجھ نہ آتی تو نبی ﷺ سے عرض کرتے ’’راعنا‘‘ یعنی ہماری رعایت فرمائیے اور ہماری طرف التفات اور توجہ فرمائیے۔ یہود کی لغت میں یہی لفظ بددعا کے لیے استعمال ہوتا تھا اور اس کا مطلب تھا ’’اِسْمَعْ لَا سُمِعْتَ‘‘ یعنی سن خدا کرے تو نہ سنے۔ انہوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور کہنے لگے کہ پہلے ہم ان کو تنہائی میں بددعا دیتے تھے اور ان کو برسرعام لوگوں میں بددعا دینے کا موقع ہاتھ آیا۔ تو وہ نبی ﷺ کو مخاطب کر کے راعنا کہتے اور آپس میں ہنستے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ (جو قبیلہ اوس کے سردار تھے) کو یہود کی لغت کا علم تھا۔ انہوں نے جب یہود سے یہ لفظ نبی ﷺ کے حق میں بولتے ہوئے سنا تو انہوں نے کہا تم پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں نے تم کو آئندہ یہ لفظ نبی ﷺ کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے ہوئے سنا تو میں تمہاری گردن اڑا دوں گا یہود نے کہا کیا تم لوگ یہ لفظ نہیں کہتے؟ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں سے کہا گیا جب کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو تم ’’راعنا‘‘ نہ کہو بلکہ ’’انظرنا‘‘ کہو (ہماری طرف نگاہ لطف وکرم فرمائیے) تاکہ یہود کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ صحیح لفظ کو غلط معنی میں استعمال کریں
(۳)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مار
اہل یہود زبان کو موڑ کر ’’راعنا‘‘ ک یوں بیان کیا۔
مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خ إِلَّا قَلِيلًا
(النساء: ٤٦)
’’کچھ لوگ جو یہودی ہیں پھیر سنا اور ہم نے نافرمانی کی اور س ہوئے اپنی زبانوں کو اور طعنہ ارشاد) سنا اور (اے) مان لی ان کے لیے اور بہت درست نہیں ایمان لائیں گے مگر تھوڑے
حضور ضیاء الامت حضرت پیر محمد کر
فيها دليل على تجنب ال
یعنی اس آیت سے ثابت ہوا کہ احتمال تک ہو امام مالک نے ایسے شخص کو
اور علامہ آلوسی نے بیان کیا:
فنزلت هذه الاية و ن المشابهه
(۵)
پروردگار عالم نے یہ آیت مبارکہ دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے اور نبی ا کے ساتھ مشابہت سے دور رکھنے کے لیے
اور امام قرطبی اپنی تفسیر میں اس آی
فامر المؤمنين ان يتغيرو
اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم ف اعتبار سے زیادہ بہتر اور واضح ہوں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ ع
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اہل یہود زبان کو موڑ کر ”راعنا“ بولتے جس کا معنی ہے اے ہمارے چرواہے، قرآن نے ان کی اس عادت شنیعہ کو یوں بیان کیا۔
مِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَيًّا ۢ بِاَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّيْنِ ط وَلَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاَقْوَمَ لا وَلٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا (النساء: ٤٦)
”کچھ لوگ جو یہودی ہیں پھیر دیتے ہیں (اللہ کے کلام کو) اس کی اصلی جگہوں سے اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی اور (کہتے ہیں) سنو تم نہ سنائے جاؤ اور (کہتے ہیں) ”رَاعِنَا“ بَل دیتے ہوئے اپنی زبانوں کو اور طعنہ زنی کرتے ہوئے دین میں اور اگر وہ (یوں) کہتے ہم نے (آپ کا ارشاد) سنا اور (اسے) مان لیا اور (ہماری عرض) سنیئے اور نگاہ (کرم) فرمائیے ہم پر تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور بہت درست۔ لیکن (اپنی رحمت سے) دور کر دیا انہیں اللہ نے بوجہ ان کے کفر کے پس نہیں ایمان لائیں گے مگر تھوڑے سے۔“
حضور ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ اس آیت کی تفسیر میں امام قرطبی کے حوالہ سے لکھتے ہیں:
فِيْهَا دَلِيْلٌ عَلٰى تَجَنُّبِ الْأَلْفَاظِ الْمُحْتَمَلَةِ الَّتِي فِيْهَا التَّعْرِيْضُ لِلتَّنْقِيْصِ وَالْغَضِّ
یعنی اس آیت سے ثابت ہوا کہ ہر ایسے لفظ کا استعمال بارگاہ رسالت میں ممنوع ہے جس میں تنقیص اور بے ادبی کا احتمال تک ہو امام مالک نے ایسے شخص کو حد قذف لگانے کا حکم دیا ہے۔ (۴)
اور علامہ آلوسی نے بیان کیا:
فَنَزَلَتْ هٰذِهِ الْاٰيَةُ وَ نُهِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ سَدًّا لِّلْبَابِ وَ قَطْعًا لِّأَلْسِنَةٍ وَّاِبْعَادًا عَنِ الْمَشَابِهَةِ (۵)
پروردگار عالم نے یہ آیت مبارکہ یٰـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا ..... نازل کر کے گستاخی واہانت رسول کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے اور نبی رحمت ﷺ کی شان میں زبان طعن دراز کرنے، کلمات استہزاء کہنے اور غیر مسلموں کے ساتھ مشابہت سے دور رکھنے کے لیے ایمان والوں کو منع کر دیا۔
اور امام قرطبی اپنی تفسیر میں اس آیت کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں:
فَأَمَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ أَنْ يَّتَخَيَّرُوْا مِنَ الْأَلْفَاظِ أَحْسَنَهَا وَ مِنَ الْمَعَانِيْ أَرَقَّهَا (۶)
اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم دیا کہ بارگاہ رسالت ﷺ میں ایسے الفاظ کا انتخاب کریں جو اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور واضح ہوں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
قال المؤمنون بعد هذه الايه من سمعتموه يقولها فاضربوه عنقه (۷)
صحابہ کرام نے اس آیت کے نزول کے بعد یہ عہد کیا کہ جس کسی کو نبی اکرم ﷺ کی شانِ ذیشان میں یہ توہین آمیز کلمہ کہتے ہوئے سنو اس کی گردن اڑا دو۔
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ اس آیت کے نزول کے بعد صحابہ کرام کا یہ پختہ عقیدہ تھا کہ کوئی بھی حضور رسالت مآب ﷺ کی شان میں کوئی ایسا کلمہ کہے جو آپ کی شایانِ شان نہ ہو اسے قتل کر دیا جائے گا۔
اس آیت کی تفسیر حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں:
”راعنا کی جگہ انظرنا (یعنی ہماری طرف نگاہ لطف فرمائیے) کہا کرو۔ کیونکہ یہ لفظ ہر طرح کے احتمالات فاسدہ سے پاک ہے۔ واسمعوا کا حکم دے کر یہ تنبیہ فرمادی کہ جب میرا رسول ﷺ تمہیں کچھ سنا رہا ہو تو ہمہ تن گوش ہو کر سنو۔ تاکہ انظرنا کہنے کی نوبت ہی نہ آئے کیونکہ یہ بھی تو شانِ نبوت کے مناسب نہیں کہ ایک ایک بات تم بار بار پوچھتے رہو۔ یہ کمال ادب اور انتہائی تعظیم ہے جس کی تعلیم عرش و فرش کے مالک نے غلامانِ مصطفیٰ علیہ السلام کو دی۔
بے جا سوال کرنے سے ممانعت
قال الله تعالیٰ: اَمْ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَسْـَٔلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ط وَمَنْ يَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ (۸)
”کیا تم (یہ) چاہتے ہو کہ پوچھو اپنے رسول سے (ایسے سوال) جیسے پوچھے گئے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے پہلے، اور جو بدل لیتا ہے کفر کو ایمان سے وہ (قسمت کا مارا) تو بھٹک گیا سیدھا راستہ سے۔“
اس میں رب کریم اپنے محبوب کے امتیوں کو بارگاہ رسالت مآب ﷺ کے آداب کی تعلیم ارشاد فرما رہا ہے کہ میرے محبوب سے خواہ مخواہ سوال نہ کیا کرو، جو احکام تمہارے لیے ضروری ہوئے یا جن باتوں سے تمہیں آگاہ کرنا مقصود ہوا وہ تمہیں میرا محبوب خود ہی بتا اور سکھا دے گا۔ اسی لیے صحابہ بارگاہ نبوی میں خاموشی اور ادب سے بیٹھے رہتے اور ان کی خواہش ہوتی کہ کاش کوئی بدو (دیہاتی) حاضر خدمت ہو اور آپ سے سوالات کرے۔
آپ ﷺ سے آگے بڑھنے کی ممانعت
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ط اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ (۹)
”اے ایمان والو! آگے نہ بڑھا کرو اللہ اور اس کے رسول سے اور ڈرتے رہا کرو اللہ تعالیٰ سے بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔“
اس آیت کے ذیل میں امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ
”الثانی: هو ان الله تعالى لما بين محل النبي عليه الصلوة والسلام وعلو درجته
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل
بكونه رسوله الذى يطي قال لا تتركوا من احترام الى رفعة درجته۔“ (۱۰)
اس سے پہلی سورت میں اللہ تعالیٰ ن رسول ﷺ ہے جس کی رسالت کے ہم ک موصوف ہیں۔ جن کا ذکر خیر سابقہ آسمانی ک کا حکم دیا جا رہا ہے۔ ادب و احترام کے ا ہو گی تو اس کے ہر حکم کی تعمیل ہوگی اور جب محبوب خداوند ذوالجلال کے عشق کی شمع فرو
علامہ ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: لَا تُقَدِّ فِيْهِ وَرَسُوْلُهُ فَتَقْضُوْا بِخِلَافِ أَمْرِ بِمَعْنٰی يُعَجِّلُ بِالْأَمْرِ وَالنَّهْيِ دُوْنَ
یہاں پر اس بات کا حکم دیا جا ر رسول ﷺ تمہیں حکم صادر نہ کریں۔ جن کرے تو عرب والے کہتے ہیں کہ فلا
علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ا عن ابن عباس رضی خلاف الكتاب والسنة
”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ہے کہ کتاب وسنت کی خلاف و
بہر حال لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَ ہے۔ یہاں ایک امر غور طلب ہے جس وفی قوله تعالى لا تقدم كلما يقع في النفس م بالنهى الى نفس التقدمة (
اس آیت میں ”لا تقدموا“ میں حکمت یہ ہے کہ اگر کسی چیز کو ذکر کرو
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ/اپریل 2011ء 59 تحفظ ناموس رسالت نمبر
بكونه رسوله الذى يظهر دينه وذكره بانه رؤوف بالمومنين بقوله (رحيماً) قال لا تتركوا من احترامه شيئاً، لا بالفعل ولا بالقول، ولا تغتروا برافته ، وانظروا الى رفعة درجته “ (١٠)
اس سے پہلی سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرم نبی معظم ﷺ کا مقام عالی اور شانِ رفیع بیان فرمائی کہ یہ وہ رسول ﷺ ہے جس کی رسالت کے ہم گواہ ہیں۔ جس کے دین کو تمام ادیان پر غلبہ ہوگا، اس کے غلام ان صفات جلیلہ سے موصوف ہیں۔ جن کا ذکر خیر سابقہ آسمانی کتب میں بھی موجود ہے۔ اس سورۃ میں اس رسول ذی شان ﷺ کی عزت وتکریم کا حکم دیا جارہا ہے۔ ادب واحترام کے انداز سکھائے جارہے ہیں۔ چونکہ ادب ہوگا تو دل وجان تعظیم سے معمور ہوگا۔ تعظیم ہوگی تو اس کے ہر حکم کی تعمیل ہوگی اور جب تعمیل حکم کی خو پختہ ہوگی تو اس سے محبت کی نعمت مرحمت فرمائی جائے گی اور جب محبوب خداوند ذوالجلال کے عشق کی شمع فروزاں ہوگی تو حریم کبریائی تک جانے والا سارا راستہ منور ہو جائے گا۔ (۱۱)
علامہ ابن جریر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: لَا تَعْجَلُوْا بِقَضَاءِ أَمْرٍ فِيْ حُرُوْبِكُمْ أَوْ دِيْنِكُمْ قَبْلَ أَنْ يَّقْضِيَ اللّٰهُ لَكُمْ فِيْهِ وَرَسُوْلُهُ فَتَقْضُوْا بِخِلَافِ أَمْرِ اللّٰهِ وَأَمْرِ رَسُوْلِهٖ مُحْکٰی عَنِ الْعَرَبِ فُلَانٌ يُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْ اِمَامِهٖ بِمَعْنٰی يَعْجَلُ بِالْاَمْرِ وَالنَّهْيِ دُوْنَهُ (۱۲)
یہاں پر اس بات کا حکم دیا جارہا ہے کہ سفر وحضر میں احکامات میں جلدی نہیں کرنی جب تک خود اللہ اور اس کا رسول ﷺ تمہیں حکم صادر نہ کریں۔ جب کوئی شخص اپنے پیشوا یا امام کے ارشاد کے بغیر خود ہی امر ونہی کے نفاذ میں جلدی کرے تو عرب والے کہتے ہیں کہ فلان یقدم بین یدیه امامه، یعنی فلاں شخص اپنے امام کے آگے آگے چلتا ہے۔
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس جملہ کی تفسیر ان الفاظ میں نقل کی ہے۔ عن ابن عباس رضی اللہ عنهما (لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ) لا تقولوا خلاف الکتاب والسنة “ (۱۳) ”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کے آگے نہ بڑھنے سے مراد ہے کہ کتاب وسنت کی خلاف ورزی نہ کرو۔“
بہر حال لَاتُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ کے مختصر کلمات میں معانی ومطالب کا بحر بیکراں موجزن ہے۔ یہاں ایک امر غور طلب ہے جس طرف علامہ جار اللہ زمخشری رحمہ اللہ نے اشارہ فرمایا ہے کہ وفي قوله تعالیٰ لا تقدموا من غير ذكر مفعول وجهان: احدهما ان يحذف ليتناول كلما يقع في النفس مما يقدم والثاني ان لا يقصد قصد مفعول ولا حذفه ويتوجه بالنهي الى نفس التقدمة (١٤)
اس آیت میں ”لا تقدموا“ کا لفظ استعمال ہوا ہے حالانکہ یہ لفظ متعدی ہے، مگر مفعول کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ اگر کسی چیز کو ذکر کردیا جاتا تو صرف اس کے بارے میں حکم کی خلاف ورزی ممنوع ہوتی۔ مفعول کو ذکر نہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء 60 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کر کے بتا دیا کہ کوئی عمل ہو، کوئی قول ہو، زندگی کے کسی شعبہ سے اس کا تعلق ہو، اس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ارشاد سے انحراف ممنوع ہے۔ نیز اگر مفعول ذکر کیا جاتا تو سامع کی توجہ ادھر بھی مبذول ہو جاتی۔ اس کو ذکر نہ کر کے بتا دیا کہ تمہاری تمام تر توجہ ”لا تقدموا“ کے فرمان پر مرکوز ہونی چاہیے۔ (۱۵)
اسی طرح کی نوعیت کا اشارہ مفتی محمد شفیع نے اس آیت کے ضمن میں کیا ہے کہ ”لَاتُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَ يِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ“ بین الیدین کے اصل معنی دو ہاتھوں کے درمیان کے ہیں۔ مراد اس سے سامنے کی جہت ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کے سامنے تقدم اور پیش قدمی نہ کرو۔ کس چیز میں پیش قدمی کو منع فرمایا ہے؟ قرآن کریم نے اس کو ذکر نہیں کیا۔ جس میں اشارہ عموم کی طرف ہے کہ کسی قول یا فعل میں آنحضرت ﷺ سے پیش قدمی نہ کرو بلکہ انتظار کرو کہ رسول اللہ ﷺ کیا جواب دیتے ہیں، ہاں آپ ہی کسی کو جواب کے لیے مامور فرما دیں تو وہ جواب دے سکتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ چل رہے ہیں تو کوئی آپ سے آگے نہ بڑھے، کھانے کی مجلس ہے تو آپ سے پہلے کھانا شروع نہ کرے۔ سوائے اس کے کہ آپ کی تصریح یا قرائن قویہ سے یہ ثابت ہو جائے کہ آپ خود ہی کسی کو آگے بھیجنا چاہتے ہیں جیسے سفر اور جنگ میں کچھ لوگوں کو آگے چلنے پر مامور کیا جاتا تھا۔“ (۱۶)
اس آیت کے ضمن میں علامہ قرطبی ؒ لکھتے ہیں کہ "لا تقدموا بين يدى الله ورسوله" معناها ظاهر، اى لاتقدموا قولا ولا فعلا بين يدى الله وقول رسوله وفعله فيما سبيله ان تأخذوه عنه من امر الدين والدنيا، ومن قدم قوله او فعله على الرسول ﷺ فقد قدمه على الله تعالى، لان الرسول ﷺ انما يامر عن امر الله عزوجل“ (۱۷)
”اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ دینی اور دنیوی امور میں ان کے احکام کی پیروی کرو، ان کے مقابل کوئی رائے پیش نہ کرو۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی بات ہے وہ واضح ہے، باقی رہے حضور ﷺ کے اوامر تو درحقیقت وہ بھی اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہی حکم دیتے ہیں۔“
سید قطب شہید تحریر کرتے ہیں کہ درحقیقت اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کے معاملات میں فکری اور نظریاتی آداب و احترام کی طرف توجہ دلائی گئی کیوں کہ ان چیزوں سے عزت و وقار کی ایک جھلک نمایاں ہوتی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہی اصول دین اور شریعت کا بہترین رویہ ہے۔ کہتے ہیں کہ
"وهـو ادب نفسى مع الله ورسوله وهو منهج فى التلقى والتنفيذ وهو اصل من اصول التشريع والعمل فى الوقت ذاته، وهو منبثق من تقوى الله وراجع اليها ، هذه التقوى النابعة من الشعور بان الله تعالى سميع عليم“ (۱۸)
اس پر ضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ،
”حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ا کہ وہ اپنے رب کریم اور اس ر کرے۔ جب انسان اپنے مسلما آج کے بعد اس کی خواہش، اس ک کر دی جائے گی۔
یہ ارشاد فقط اہل ایمان کی شخصی او سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی گوشوں جو کتاب وسنت سے متصادم ہو فیصلہ کرے۔“ (۱۹)
امام رازی ؒ مذکورہ آیت کے ضمن م آواز کو پست رکھتے ہیں تو ہم ان کا تقویٰ کے معلوم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ دیکھتا ہ جب رسول مرسل ﷺ کی تعظیم کرتا ہے تو وہ کیوں کہ وہ عظمت اور خوف کے اعتبار سے شعائر کی تعظیم کرے گا پس یہ دلوں کا تقویٰ ہ اس کے رسول کی تعظیم کرنا بھی اس کے تقویٰ
رفع صوت کی ممانعت
يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُو كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ
”اے ایمان والو! نہ بلند کیا کرو ساتھ بات کیا کرو جس طرح زور ضائع نہ ہو جائیں تمہارے اعمال
”اس آیت طیبہ میں بارگاہ رسالت م عالم ﷺ سے سبقت نہ کرو۔ اب گفتگو کا طری سے بہرہ ور ہو تو خیال رہے کہ تمہاری آواز می کی تصویر بن کر حاضری دو۔ اگر اس سلسلہ م ہجرت، جہاد، عبادات، وغیرہ تمام کے تمام ا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 61 تحفظ ناموس رسالت نمبر
”حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کے بعد کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے رب کریم اور اس کے رسول مکرم ﷺ کے ارشاد کے علی الرغم کوئی بات کہے یا کوئی کام کرے۔ جب انسان اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہے تو وہ اس امر کا بھی اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ آج کے بعد اس کی خواہش، اس کی مرضی، اس کی مصلحت خدا اور اس کے رسول کے حکم پر بلا تامل قربان کردی جائے گی۔ یہ ارشاد فقط اہل ایمان کی شخصی اور انفرادی زندگی تک محدود ہی نہیں بلکہ قومی اور اجتماعی زندگی کے تمام سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی گوشوں کو بھی محیط ہے۔ نہ کسی فرد کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کوئی ایسا قانون بنائے جو کتاب وسنت سے متصادم ہو اور نہ کسی عدالت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ احکام شرعی کے برعکس کوئی فیصلہ کرے۔“ (۱۹)
امام رازیؒ مذکورہ آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں: کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ اپنے آواز کو پست رکھتے ہیں تو ہم ان کا تقویٰ کے ذریعے امتحان لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا امتحان لیتا ہے تاکہ ان کا تقویٰ معلوم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس سے متعلق چیزوں کے بارے میں اس کا کیا رویہ ہے؟ اس لیے کہ جب رسول مرسل ﷺ کی تعظیم کرتا ہے تو وہ خود بخود اس سے بڑھ کر ذات مرسل (بھیجنے والے کی) کی بھی تعظیم کرے گا کیوں کہ وہ عظمت اور خوف کے اعتبار سے بڑھ کر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے جس میں فرمایا ہے جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے گا پس یہ دلوں کا تقویٰ ہے (۲۰)۔ جس اللہ کے اوامر کی تعظیم کرنا اللہ کے تقویٰ میں سے ہے، اسی طرح اس کے رسول کی تعظیم کرنا بھی اس کے تقویٰ میں سے ہے۔ (۲۱)
رفع صوت کی ممانعت
يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ (۲۲)
”اے ایمان والو! نہ بلند کیا کرو اپنی آوازوں کو نبی کریم ﷺ کی آواز سے اور نہ زور سے آپ کے ساتھ بات کیا کرو جس طرح زور سے تم ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہو (اس بے ادبی سے) کہیں ضائع نہ ہو جائیں تمہارے اعمال اور تمہیں خبر تک نہ ہو۔“
”اس آیت طیبہ میں بارگاہِ رسالت کے آداب کی تعلیم دی جارہی ہے۔ سابقہ آیت میں بتایا کہ قول وعمل میں سرور عالم ﷺ سے سبقت نہ کرو۔ اب گفتگو کا طریقہ بتایا جارہا ہے کہ تمہیں وہاں شرفِ باریابی نصیب ہو اور ہم کلامی کی سعادت سے بہرہ ور ہو تو خیال رہے کہ تمہاری آواز میرے محبوب کی آواز سے بلند نہ ہونے پائے۔ جب حاضر ہوں تو ادب واحترام کی تصویر بن کر حاضری دو۔ اگر اس سلسلہ میں تم نے ذرا سی غفلت برتی اور بے پروائی سے کام لیا تو سارے اعمال حسنہ ہجرت، جہاد، عبادات، وغیرہ تمام کے تمام اکارت ہو جائیں گے۔ ...... جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر فاروقؓ نے
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء
آہستہ آہستہ کلام کرنے کو اپنا معمول بنایا۔ حضرت صدیق اکبر ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ! مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ پر یہ قرآن نازل فرمایا۔ میں تادم واپسیں حضور ﷺ سے آہستہ آہستہ بات کروں گا۔ جب کوئی وفد حضور ﷺ سے ملاقات کے لیے مدینہ طیبہ پہنچتا تو حضرت صدیق اکبر ؓ ان کی طرف ایک خاص آدمی بھیجتے جو انہیں حاضری کے آداب بتاتا اور ہر طرح ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تلقین کرتا۔
”وَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَبُوْ بَكْرٍ مَّنْ يُّعَلِّمُهُمْ كَيْفَ يُسَلِّمُوْنَ وَيَأْمُرُهُمْ بِالسَّكِيْنَةِ وَالْوَقَارِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ (۲۳)
اس آیت کے ضمن میں ابن کثیر فرماتے ہیں کہ: ”وَقَالَ الْعُلَمَاءُ يُكْرَهُ رَفْعُ الصَّوْتِ عِنْدَ قَبْرِهِ ﷺ كَمَا كَانَ يُكْرَهُ فِیْ حَيَاتِهِ ﷺ لِأَنَّهُ مُحْتَرَمٌ حَيًّا وَّفِیْ قَبْرِهِ ﷺ دَائِمًا“ (۲۴)
”اہل علم نے اس آیت کے اترنے کی وجہ سے یہ بات کہی ہے کہ آپ ﷺ کے روضہ انور کے پاس بھی بلند آواز سے اپنی طرف متوجہ کرنا منع ہے جیسا کہ آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں ممنوع تھا۔ اس لیے کہ جب آپ حیات ظاہری میں محترم ہیں تو اپنے روضہ انور میں بھی ہمیشہ کے لیے محترم ہیں“۔
اہل علم کا کہنا ہے کہ جب حضرت عمر فاروق ؓ نے دو آدمیوں کی مسجد میں بلند آواز سنی، تو اندر تشریف لائے اور فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کون سی محترم جگہ میں بیٹھے ہو؟ پھر کہا تم کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہم اہل طائف سے ہیں، فرمایا: ”لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِيْنَةِ لَأَوْجَعْتُكُمَا ضَرْبًا“ اگر تمہارا تعلق اہل مدینہ سے ہوتا تو میں تمہاری ضرور پٹائی کرتا۔ (۲۵)
صحابہ کرام علیہم الرضوان جو پہلے ہی سراپا ادب و احترام تھے۔ اس آیت کے نزول کے بعد مزید محتاط ہو گئے۔ حضرت ثابت بن قیس ؓ جو قدرتی طور پر بلند آواز تھے۔ اس آیت کے نزول سے ان پر تو گویا قیامت ٹوٹ پڑی۔ گھر میں بیٹھ گئے، دروازہ کو قفل لگا دیا اور دن رات زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ مرشد کریم ﷺ نے جب ایک دو روز ثابت ؓ کو نہ دیکھا تو ان کے بارے میں دریافت کیا، عرض کیا گیا کہ انہیں تو دن رات رونے سے کام ہے۔ دروازہ بند کر رکھا ہے۔ حضور ﷺ نے بلا بھیجا اور رونے کی وجہ پوچھی۔ غلام اطاعت شعار نے عرض کیا یا رسول اللہ! میری آواز اونچی ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ آیت میرے حق میں نازل ہوئی ہے۔ میری تو عمر بھر کی کمائی غارت ہوگئی۔ اس دل نواز آقا نے یہ مژدہ جانفزا سنایا۔
أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَعِيْشَ حَمِيْدًا وَتُقْتَلَ شَهِيْدًا وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ
کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو اور شہید قتل کئے جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ (۲۶)
عرض کیا:
رَضِيْتُ وَلَا أَرْفَعُ صَوْتِیْ أَبَدًا عَلٰی صَوْتِ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ
اپنے رب کریم کی اس نوازش بے پایاں پر یہ بندہ راضی ہے اور کبھی بھی آپ کی آواز سے میری آواز بلند نہیں ہوگی (۲۷)۔ اس پر مولانا مودودی صاحب رقم طراز ہیں کہ یہ وہ ادب ہے جو رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھنے والوں اور
تحفظ ناموس رسالت نمبر
ل اللہ! مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ جب کوئی وفد حضور ﷺ سے ملاقات کے انہیں حاضری کے آداب بتاتا اور ہر طرح مُرْهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ رَفْعُ الصَّوْتِ عِنْدَ قَبْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حکمہ“
(۲۴)
جانور کے پاس بھی بلند آواز سے اپنی کہ جب آپ حیاتِ ظاہری میں محترم
آواز سنی، تو اندر تشریف لائے اور فرمایا انہوں نے جواب دیا ہم اہلِ طائف یعنی اہلِ مدینہ سے ہوتا تو میں تمہاری
س کے بعد مزید محتاط ہو گئے۔ حضرت یا قیامت ٹوٹ پڑی۔ گھر میں بیٹھ جب ایک دو روز ثابت بن قیسؓ کو نہ دروازہ بند کر رکھا ہے۔ حضور ﷺ تی ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ آیت عفو فرما لیا۔
ور جنت میں داخل ہو جاؤ۔
(۲۶)
ن آواز سے میری آواز بلند نہیں ﷺ کی مجلس میں بیٹھنے والوں اور
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء 63 تحفظ ناموس رسالت نمبر
آپ کی خدمت میں حاضر ہونے والوں کو سکھایا گیا تھا۔ اس کا منشا یہ تھا کہ حضور ﷺ کے ساتھ ملاقات اور بات چیت میں اہلِ ایمان آپ کا انتہائی احترام ملحوظ رکھیں۔ کسی شخص کی آواز آپ کی آواز سے بلند تر نہ ہو۔ آپ سے خطاب کرتے ہوئے لوگ یہ بھول نہ جائیں کہ وہ کسی عام آدمی یا برابر والے سے نہیں بلکہ اس کے رسول ﷺ سے مخاطب ہیں۔ اس لیے عام آدمیوں کے ساتھ گفتگو اور آپ ﷺ کے ساتھ گفتگو میں نمایاں فرق ہونا چاہیے اور کسی کو آپ سے اونچی آواز میں کلام نہ کرنا چاہیے۔ اگر چہ اس آیت کے مصداق صحابہ کرامؓ تھے مگر بعد کے لوگوں کو بھی ایسے تمام مواقع پر یہی ادب ملحوظ رکھنا چاہیے جب آپ ﷺ کا ذکر ہو رہا ہو، آپ ﷺ کا کوئی حکم سنایا جائے یا آپ ﷺ کی کوئی حدیث بیان کی جائے۔
اس ارشادِ گرامی سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں ذاتِ رسول ﷺ کی عظمت کا کیا مقام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے احترام میں ذرا سی کمی بھی اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس سے آدمی کی عمر بھر کی کمائی اکارت ہو سکتی ہے۔ اس لیے آپ ﷺ کا احترام دراصل اس خدا کا احترام ہے جس نے آپ ﷺ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور آپ ﷺ کے احترام میں کمی کے معنی خدا کے احترام میں کمی کے ہیں۔
(۲۸)
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی موجودگی میں منافقین اپنی آوازیں اس لیے بلند کرتے تھے تاکہ کمزور مسلمان ان کی اقتداء کریں چنانچہ مسلمانوں کو اس حرکت سے روک دیا گیا۔
(۲۹)
علامہ محمود آلوسی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کو کسی قول یا فعل کے ذریعے تکلیف پہنچانا کفر ہے اس سے تمام اعمال اکارت ہو جاتے ہیں اس لیے ایسے افعال سے منع فرما دیا گیا جن سے آپ ﷺ کو اذیت پہنچنے کا احتمال ہو۔
(۳۰)
اسی آیت کے تحت امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ جاتا ہے کہ اس کے اپنے نزدیک اس کلمہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ کو وہ کلمہ اتنا پسند آتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ جنتی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح انسان اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ جاتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ اس کلمہ کی وجہ سے اسے جہنم کے اس قدر نیچے کے طبقہ میں پہنچا دیتا ہے کہ زمین و آسمان سے بھی زیادہ گہرا ہے۔
ان آیات سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور نبوی کریم ﷺ کا مقام و مرتبہ، عظمت و شان اور قدر و منزلت خدائے بزرگ و برتر کے نزدیک بہت زیادہ ہے بلکہ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسان کی فوز و فلاح اور نجات کا دار و مدار بھی محبوبِ رب العالمین ﷺ کی عزت و احترام کا لحاظ رکھنے میں ہے۔ جس کے دل میں یہ احترام ہے وہ خدا کی رحمت کا مستحق ہے اور جو ادنیٰ سی بے ادبی کا مرتکب ہوا‘ ابدی لعنت کا طوق اس کے گلے میں پہنا دیا گیا۔ وہ دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار اور خائب و خاسر ہے۔
ان کے قریب ہے جو خدا کے قریب ہے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
حواشی:
- ١- سورۃ البقرہ: آیت ١٠٤
- ٢- ضیاء القرآن ج اول ص ٨٣
- ٣- الجامع لاحکام القرآن، ج ٦، ص ٥٧
- ٤- ضیاء القرآن۔ جلد١، ص ٨٣
- ٥- روح المعانی ج ١، ص ٣٤٨
- ٦- التفسیر قرطبی، جلد ٢، ص ٥٧
- ٧- فتح القدیر، جلد١، ص ١٢٥
- ٦- سورۃ الاحزاب: آیت ٦٩
- ٧- سورۃ الفتح: آیت ٩
- ٨- سورۃ البقرہ: آیت ١٠٨
- ٩- سورۃ الحجرات: آیات ١
- ١٠- فخر الدین الرازی: (م ٦٠٤ھ) التفسیر الکبیر ، ٩٥/٢٨
- ١١- پیر محمد کرم شاہ الازھری: ضیاء القرآن ٥٧٧/٤
- ١٢- ابو جعفر محمد بن جریر طبری: تفسیر طبری ، (دارالفکر، بیروت، لبنان، ١٩٧٨ء) ٧٤/٢٦
- ١٣- ابن کثیر (م ٧٧٤ھ) : تفسیر القرآن الکریم ، ٢٠٥/٤
- ١٤- جار اللہ زمخشری (م ٥٣٨ھ) : الکشاف عن حقائق التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التاویل ، ٥٥٢/٣
- ١٥- پیر محمد کرم شاہ الازھری: ضیاء القرآن، ٥٧٧/٤
- ١٦- محمد شفیع، مفتی: معارف القرآن، (ادارة المعارف، کراچی، ١٩٨٤ء) ، ١٠٠/٨
- ١٧- محمد بن احمد الانصاری القرطبی (م ٦٧١ھ) : الجامع لاحکام القرآن، ٣٠٠/١٦
- ١٨- محمد قطب، سید: فی ظلال القرآن (ادارہ منشورات اسلامی، لاہور، ١٩٩٧ء)، ٣٣٨٨/٦
- ١٩- پیر محمد کرم شاہ: ضیاء القرآن، ٥٧٧/٤
- ٢٠- الحج: ٣٢
- ٢١- فخر الدین الرازی (م ٦٠٤ھ) : التفسیر الکبیر ، ٩٩/٢٨
- ٢٢- سورۃ الحجرات: آیات ٢
- ٢٣- پیر محمد کرم شاہ الازھری: ضیاء القرآن، ٥٧٨/٤-٥٧٩
- ٢٤- ابن کثیر (م ٧٧٤ھ) : تفسیر القرآن الکریم ، ٢٠٧/٤
- ٢٥- المرجع السابق، ٢٠٧/٤
- ٢٦- پیر محمد کرم شاہ الازھری: ضیاء القرآن، ٥٧٩/٤
- ٢٧- محمود آلوسی : روح المعانی ، ١٣٥/٢٦
- ٢٨- ابو الاعلیٰ مودودی: تفہیم القرآن ، (ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، ٢٠٠٤ء) ٧٢/٥
- ٢٩- الجامع الاحکام القرآن ٣٠٦/١٦
- ٣٠- روح المعانی، ١٣٦/٢٦۔ دار احیاء التراث العربی، بیروت، لبنان
* * * * *
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
تَعْظِيْمُ وَتَكْرِيْمِ رسالت مَآب
اور صحابۂ کرام کا طَرْزِ عَمَل
محمد اعجاز احسن *
حضور نبی رحمت‘ سرکار دو عالم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام کمالات ظاہری و باطنی سے نواز کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کو جو خصائص اور امتیازات عطا فرمائے تمام مخلوقات میں کوئی بھی ایسا نہیں جو ان خصائص میں آپ کی ہمسری کا دعویٰ کر سکے۔ آپ ﷺ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو بے لوث جاں نثاروں کی ایک عظیم جماعت عطا فرمائی جو تاریخ اسلام میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے عظیم لقب سے ملقب ہے۔ صحابہ کرام انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد کائنات کے معزز ترین اور مکرم ترین نفوس قدسیہ ہیں۔ صحابہ کرام کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام و مرتبہ عطا فرمایا‘
(٥) ٧٤/٢٦
قرآن پاک جا بجا اس کا اعلان کرتا نظر آتا ہے۔ صحابہ کرام کی اپنے پیارے آقا ﷺ سے وفا شعاری اور کمالِ اطاعت کی گواہی قرآن کریم نے کئی مقامات پر دی ہے۔ اسلام کے اولین دور میں دعوت حق قبول کرنے والے افراد کی اکثریت
سورہ الانفال، ٥٥٢/٣٠
ایسے لوگوں پر مشتمل تھی جو معاشرے کے صاحبِ ثروت طبقہ کی نمائندگی نہیں کرتے تھے لیکن وہ کون سی ایسی خصوصیت ہے جس نے ان بوریہ نشینوں کو تاریخ کے ماتھے کا جھومر بنا دیا کہ جو گلہ بانی کے سلیقہ سے نا آشنا تھے ان کے اسمائے گرامی اور ان کا روشن کردار قیامت تک کی انسانیت کے دلوں پر حکومت کرتا رہے گا۔ وہ خصوصیت اس قدسی صفات جماعت کا اپنے آقا و مولیٰ حضور نبی رحمت ﷺ کی بے پناہ تعظیم وتکریم کرنا اور آپ ﷺ کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ تھا جس کی شہادت صحابہ کرام نے اپنے خونِ ناب سے دی۔ صحابہ کرام نے حضور ﷺ کی قیادت عظمیٰ میں قصرِ اسلام کی خشتِ اول
٣٣٨٨/٢
رکھی، وہ اتباع و اطاعتِ رسول ﷺ کے پیکر جمیل تھے، یہ ایسی عظیم جماعت تھی کہ ایمان وایقان کے نور سے جن کے سینے منور تھے، جن کی چشمانِ تمنا ہر وقت دیدارِ مصطفیٰ ﷺ کے شرف سے مشرف ہونے کی منتظر رہتیں، وہ آپ ﷺ کے ایک اشارہ ابرو پر دنیا و مافیہا کی ساری نعمتیں قربان کرنے کے لیے منتظر رہتے تھے۔ ان کی نگاہوں میں آپ ﷺ کے دیدار کی قندیلیں ہمہ وقت فروزاں رہتیں اور ان کے دلوں کی دنیا اپنے حبیب مکرم کی محبت سے ضوفشاں رہتیں۔ صحابہ کرام حضور ﷺ کے حکم کو ہر چیز پر ترجیح دیتے، ان کے حریمِ دیدہ و دل میں عشق الٰہی اور محبت رسول ﷺ سے چراغاں ہوتا، قرآن کے اولین مخاطبین بھی اصحابِ رسول ﷺ کی یہی عظیم جماعت تھی، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اپنے محبوب نبی ﷺ کی محبت کے لیے منتخب فرما لیا تھا۔ حضرات صحابہ کرام تعظیم وتکریم رسالت کا ایسا پیکر جمیل تھے کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
* نائب مدیر ماہنامہ ضیائے حرم
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 66 تحفظ ناموس رسالت نمبر
صلح حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود ثقفی جو کہ اس وقت تک مشرف باسلام نہیں ہوئے تھے حضور نبی مکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اہل مکہ کی طرف سے آپ ﷺ کے ساتھ بات چیت کی۔ عروہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام کی عقیدت ومحبت اور جانثاری کے جو حیرت انگیز مناظر دیکھے انہوں نے عروہ کے دل پر بے پناہ اثر کیا اور انہیں یقین ہو گیا کہ اہل مکہ اپنی پوری کوشش کر لیں لیکن وہ دن دور نہیں جب آپ ﷺ کی دعوت شرق وغرب میں پھیل جائے گی اور کائنات کا کوئی کونہ آپ کے تصرف واختیار سے باہر نہیں ہوگا۔ انہوں نے دیکھا کہ جان عالم تشریف فرما ہیں اور صحابہ کرام سرور دو جہاں کے گرد سراپا ادب بن کر اس طرح بیٹھے ہیں جس طرح شمع کے گرد پروانے۔ واپس جا کر انہوں نے جو رپورٹ اہل مکہ کو پیش کی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کس طرح دل و جان سے اپنے پیارے آقا کے ساتھ محبت کرتے تھے۔
اس نے کہا: اے اہل مکہ! میں قیصر و کسریٰ اور کئی دوسرے بادشاہوں کے درباروں میں گیا لیکن یہ عقیدت اور جانثاری کہیں نہیں دیکھی جو غلامان محمد محمد ﷺ سے کرتے ہیں۔ اس طرح کا نظارہ میں نے کسی دربار میں نہیں دیکھا غلامان محمد کی عقیدت کا یہ عالم ہے کہ آپ ﷺ بات کرتے ہیں تو سناٹا چھا جاتا ہے کوئی شخص آپ کی طرف نظر بھر کر نہیں دیکھتا اگر وہ وضو کرتے ہیں تو صحابہ کرام وضو کے پانی کا ایک قطرہ بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے بلکہ اسے حاصل کرنے کے لیے یوں بے تابانہ لپکتے ہیں کہ لگتا ہے لڑ پڑیں گے اور اسے اپنے چہروں اور سینوں پر مل لیتے ہیں۔
اگر وہ تھوکتے ہیں تو عقیدت مند ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور اپنے چہرہ اور ہاتھوں پر مل لیتے ہیں۔ جب وہ انہیں کوئی حکم دیتے ہیں تو اس کی تعمیل میں سب ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے بے تاب ہو جاتے ہیں۔ اگر تم یہ خیال کرتے ہو کہ ایسی بے پناہ عقیدت رکھنے والے وفا کیش مشکل وقت میں اپنے نبی مکرم ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے تو یہ تمہاری خام خیالی ہے وہ کٹ مریں گے مگر محمد ﷺ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔
(بخاری، کتاب الشروط باب الشروط فی الجہاد والمصالحہ حدیث: ۲۷۳۱)
حضرت ضیاء الامت ”صحابہ کرام کا ادب رسول“ کے عنوان تحت اس واقعہ کو یوں بیان کرتے ہیں: صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار مکہ نے عروہ بن مسعود کو مسلمانوں کے حالات دریافت کرنے کے لئے حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ اس نے حضور ﷺ کے صحابہ کرام کے ادب واحترام کی کیفیت کو دیکھا تو سراپا حیرت بن گیا۔ اس نے دیکھا کہ حضور ﷺ وضو فرماتے ہیں تو صحابہ کرام جسم اطہر سے لگنے والا پانی کا کوئی قطرہ زمین پر نہیں گرنے دیتے بلکہ آگے بڑھ کر پانی کے ان قطروں کو اپنی ہتھیلی پر لے لیتے ہیں اور جسم اور چہروں پر تبرک مل لیا کرتے ہیں جب حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں تو ہر صحابی اس فرمان کو پورا کرنے کے لئے بیتاب ہو جاتا ہے۔ ہر ایک کی یہ آرزو ہوتی ہے کہ اس ارشاد عالی کو بجا لانے کی سعادت اسے نصیب ہو۔ جب حضور ﷺ گفتگو کرتے ہیں تو سب صحابہ سر جھکا لیتے ہیں اور ہمہ تن گوش ہو کر حضور ﷺ کے ارشادات کو سنتے ہیں۔
عروہ جب واپس آیا تو اپنی قوم سے کہا: اے گروہ قریش! میں بڑے بڑے شاہان عالم کے درباروں میں گیا ہوں۔ کسریٰ ایران، قیصر روم، حبشہ کے نجاشی اور کئی دوسرے بادشاہوں کو بھی دیکھا ہے لیکن اطاعت وانقیاد کا جو جذبہ میں نے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مار
غلامان مصطفیٰ ﷺ میں دیکھا ہے اس کا
حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ فتح مکہ کے موقع پر جب ابوسفیان گرفتار ساتھ صحابہ کرام کی محبت وجانثاری کا من ہیں سارے صحابہ حضور کے وضو کے پا کر چہروں پر مل رہے ہیں۔ وہ کہنے ل مظاہرہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نہ کس سے فارغ ہوئے تو میں ابوسفیان کو انگیز نہ تھا۔ امام الانبیاء علیہ التحیۃ والث میں چلے گئے۔ رکوع سے اٹھے تو سب سکوت نہ رہا۔ کہہ اٹھا کہ اطاعت وا بادشاہی بہت بلند ہو گئی ہے۔ حضرت
قاضی عیاض مالکی نے اپنی م ہے۔ ”اتیت النبی صلی ا اذا تکلم جلساءہ کانما نبی کریم ﷺ کے ارد گرد حلقہ باند حرکت بیٹھے ہوتے گویا ان کے سر حضور ﷺ اپنی محفل مبارک میں بیٹھے ہیں۔
صحابہ کرام آپ ﷺ کے ب نے جس چیز کو بھی ایک مرتبہ استعم مختلف مقامات پر اور مختلف خاند الرضوان کی آپ ﷺ سے محب محمدی ﷺ کے ایمان کی تازگی کے دینا کائنات کی عظیم ترین سعاد کے لیے انہوں نے کبھی اپنی جانو میں نبی کریم ﷺ کے چند موئے
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
غلامان مصطفیٰ ﷺ میں دیکھا ہے اس کا کہیں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ اپنی مایہ ناز تصنیف ضیاء النبی میں سبل الہدیٰ والرشاد کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر جب ابوسفیان گرفتار کر کے بحالت قید حضرت عباس کی امان میں لشکر اسلام میں لایا گیا اور اپنے آقا کے ساتھ صحابہ کرام کی محبت و جانثاری کا مشاہدہ کیا تو یہ دیکھ کر حیران و ششدر رہ گیا کہ ”محبوب رب العالمین وضو فرما رہے ہیں سارے صحابہ حضور کے وضو کے پانی کے قطرے جو جسم اطہر کو چھو کر نیچے گر رہے ہیں۔ لپک لپک کر اپنی ہتھیلیوں پر لے کر چہروں پر مل رہے ہیں۔ وہ کہنے لگا میں نے آج تک کسی بادشاہ کے خادموں کو اس کے ساتھ اس محبت اور ادب کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نہ کسی قیصر نہ کسی کسریٰ کو۔ حضرت عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور عالم ﷺ جب نماز صبح سے فارغ ہوئے تو میں ابوسفیان کو لے کر بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا۔ ادائے نماز کا منظر بھی ابوسفیان کے لیے کم حیرت انگیز نہ تھا۔ امام الانبیاء علیہ التحیۃ والثناء نے جب تکبیر تحریم کہی تو سب صحابہ نے اللہ اکبر کہا۔ جب رکوع فرمایا تو سب رکوع میں چلے گئے۔ رکوع سے اٹھے تو سب اٹھ کر کھڑے ہوئے پھر حضور سجدہ میں گئے تو سب سر بسجود ہو گئے۔ ابوسفیان کو یارائے سکوت نہ رہا۔ کہہ اٹھا کہ اطاعت وانقیاد کا ایسا حسین منظر میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ اے ابوالفضل! بخدا تیرے بھتیجے کی بادشاہی بہت بلند ہو گئی ہے۔ حضرت عباس نے فرمایا (نادان) یہ بادشاہی نہیں، یہ نبوت ہے۔ (ضیاء النبی، جلد۲ ص۴۳۱)
قاضی عیاض مالکی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”الشفا“ میں حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے ۔ ” اتیت النبی صلی الله عليه و آله وسلم و اصحابه حوله كانما على رؤوسهم الطير اذا تکلم جلساءہ کانما على رؤوسهم الطير“ میں ایک روز بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا۔ صحابہ کرام حضور نبی کریم ﷺ کے اردگرد حلقہ باندھے بیٹھے تھے۔ صحابہ کرام حضور ﷺ کی محفل میں اس طرح فرط ادب سے بے حس و حرکت بیٹھے ہوتے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، اگر انہوں نے ذرا سر ہلایا تو پرندے اڑ جائیں گے۔ جب حضور ﷺ اپنی محفل مبارک میں گفتگو فرماتے تو تمام حاضرین جامد و ساکت بیٹھے ہوتے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔
صحابہ کرام آپ ﷺ کے جسد انور سے مس کر جانے والی ہر چیز کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز سمجھتے تھے۔ آپ ﷺ نے جس چیز کو بھی ایک مرتبہ استعمال فرمایا وہ قیامت تک کے لیے اہل ایمان کے لیے سرمایہ ایمان بن گئی، آج بھی دنیا کے مختلف مقامات پر اور مختلف خاندانوں اور ریاستوں کے پاس آپ ﷺ کے جو تبرکات موجود ہیں وہ حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان کی آپ ﷺ سے محبت اور عقیدت کا مظہر ہیں کہ جنہوں نے ان تبرکات کو قیامت تک آنے والے غلامان محمدی ﷺ کے ایمان کی تازگی کے لیے محفوظ کیا۔ حضرات صحابہ کرام حضور نبی کریم ﷺ سے منسوب ہر چیز پر اپنی جان وار دینا کائنات کی عظیم ترین سعادت سمجھتے تھے اور منسوبات و تبرکات رسالت مآب ﷺ کے ادب واحترام کو ملحوظ خاطر رکھنے کے لیے انہوں نے کبھی اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر پر ٹوپی ہوتی تھی جس میں نبی کریم ﷺ کے چند موئے مبارک تھے۔ ایک دفعہ جنگ میں وہ ٹوپی آپ کے سر سے گر پڑی۔ آپ اپنی سواری
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ۔ لاہور مارچ/اپریل 2011ء 68 تحفظ ناموس رسالت نمبر سے نیچے اترے اور کفار کے ساتھ سخت جنگ کی یہاں تک کہ انہیں ادھر ادھر ہٹا دیا اور ٹوپی اٹھالی۔ بعض صحابہ نے آپ کی اس بات کو ناپسند کیا کہ ایک ٹوپی کے لئے انہوں نے صحابہ کی کثیر التعداد جانوں کو خطرے میں ڈالا۔ آپ نے فرمایا میں نے صرف ٹوپی کے لیے اتنی قربانی نہیں دی بلکہ اس میں میرے آقا و مولیٰ ﷺ کے چند موئے مبارک تھے جن کی برکت سے ہر میدان میں مجھے فتح حاصل ہوتی تھی۔ میں نے یہ خطرہ اس لئے مول لیا کہ مبادا یہ ٹوپی ضائع ہو جائے اور اس میں حضور ﷺ کے جو موئے مبارک ہیں ان کی برکت سے میں محروم ہو جاؤں اور وہ مشرکین کے قبضہ میں نہ آجائے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ سرور عالم ﷺ کو حجامت کراتے دیکھا۔ حجام حضور ﷺ کے گیسوؤں کو مونڈ رہا تھا۔ صحابہ کرام سرور عالم ﷺ کے اردگرد حلقہ باندھے کھڑے تھے ہر ایک کی یہ آرزو تھی کہ حضور ﷺ کے گیسو مبارک ان میں سے کسی کے ہاتھ میں پڑیں اور کوئی بال مبارک زمین پر گرنے نہ پائے۔
نبی کریم ﷺ کا ادب و احترام اور آپ کی تعظیم صحابہ کرام کو دنیا و مافیہا سے بڑھ کر عزیز تھی۔ اس کے لیے وہ اپنی جان سے بھی گزر جاتے اور اس کے مقابلہ میں دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت کو بھی ہیچ سمجھتے تھے۔ بیعت رضوان کے موقع پر جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے سفیر بن کر اہل مکہ کے پاس گئے تو قریش نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ ہم اور کسی مسلمان کو تو مکہ میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے البتہ آپ کو اجازت دیتے ہیں، آپ چاہیں تو کعبہ شریف کا طواف کر سکتے ہیں۔ اس عاشق صادق نے یہ کہہ کر مکہ کے قریش کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا: مَا كُنْتُ لِأَطُوفَ حَتّٰى يَطُوفَ بِهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ ۔ میں اس وقت تک ہرگز کعبہ کا طواف نہیں کروں گا جب تک میرے آقا و مولیٰ محمد رسول اللہ ﷺ پہلے طواف نہیں فرمائیں گے۔
انسان جب سیرت صحابہ کرام کا مطالعہ کرتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے کہ وہ کیا ہی عظیم المرتبت شخصیات تھیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم کے در کی گدائی کے لیے چن لیا تھا۔ جن کے دل اپنے کریم آقا ﷺ کی محبت سے سرشار تھے اور جو ادب و تعظیم کے بے مثل پیکر تھے۔ آج کے دور کے روشن خیال انسان کے بس کی بات نہیں کہ وہ ادراک کر سکے کہ صحابہ کرام اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کا کس درجہ تک احترام کرتے تھے اور کس والہانہ انداز میں آپ ﷺ کی تعظیم بجالاتے تھے۔ صحابہ کرام کے ادب کا یہ عالم تھا کہ جب در اقدس پر حاضر ہوتے اور دروازہ بند ہوتا تو ناخنوں سے اس کو کھٹکھٹاتے تاکہ حضور کے سمع مبارک پر یہ شور بوجھ نہ بنے۔
حضرات صحابہ کرام اطاعت و فرمانبرداری کا کمال نمونہ تھے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کوئی بات حضور ﷺ سے پوچھنا چاہتا لیکن میری جرأت نہ ہوتی تھی کہ میں پوچھ سکوں۔ حضور ﷺ کے رعب کی وجہ سے کئی سال گزر جاتے اور میں اس بات کے بارے میں استفسار کی جرأت نہ کر سکتا۔
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ جیسا بہادر اور شجاع جرنیل بھی جب بارگاہ رسالت میں حاضر ہوتا تو انہیں جرأت نہ ہوتی کہ حضور ﷺ کے رخ انور کی طرف آنکھ بھر کر دیکھ سکیں۔ آپ کہتے اگر مجھے کوئی یہ کہتا کہ میں اپنے آقا کا حلیہ بیان کروں تو میں ایسا نہ کر سکتا کیونکہ میں نے کبھی آنکھ بھر کے نہیں دیکھا۔ ہمیشہ سر جھکائے، آنکھیں نیچے کئے ہوئے بارگاہ مصطفوی میں
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ۔ لاہور مارچ/اپریل
حاضر رہا کرتا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے میں سے آنکھ اٹھا کر حضور ﷺ کی طرف دیکھ عنہما حضور کی نہایت شفقت و مہربانی کے باعث
سرکار دو عالم ﷺ کی عزت و تکریم ہر صحابی آپ ﷺ کی تکریم کا والہانہ جذبہ موجود نہ ہو ضروری تھی اسی طرح حضور ﷺ کے وصال آپ ﷺ کا حیات ظاہری میں احترام کرتے بھی تعظیم و توقیر کے تمام قرینے ملحوظ خاطر ر پوتے حضرت عبدالرحمٰن بن قاسم کے پاس نچوڑ لیا گیا ہے اور ان کی زبان خشک ہو جائ
حضرات صحابہ کرام کے دل آپ ﷺ جانے کے بعد صحابہ کرام کو کسی پل اپنے محبو آپ ﷺ کا ذکر خیر ہونا، صحابہ کرام کی نگاہو کے صحابہ کرام جب اپنے آقا ﷺ کا ذکر کر امام مالک سے مروی ہے کہ میں عبد ان کے سامنے نبی رحمت ﷺ کا ذکر پاک ہمیں یہ محسوس نہ ہوتا کہ ان کی آنکھوں کے تھے۔ جب ان کے سامنے نبی رؤف رحیم اور نہ آپ ان کو جانتے ہیں۔ میں صفوان بن ان کے سامنے حضور ﷺ کا ذکر پاک ہوتا تو وَإِذَا ذُكِرَ النَّبِيُّ ﷺ بَكٰى حضرت قتادہ جب نبی کریم ﷺ
حضرات صحابہ کرام آپ ﷺ کی تعظی درجہ احترام بجالاتے تھے۔ عقبہ بن حارث امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی گردن پر بٹھا بِأَبِيْ شَبِيْهٌ بِالنَّبِيِّ لَيْسَ شَبِي
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 69 تحفظ ناموس رسالت نمبر
حاضر رہا کرتا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب نبی رحمت ﷺ صحابہ کرام کے مجمع میں تشریف لاتے تو کوئی بھی ان میں سے آنکھ اٹھا کر حضور ﷺ کی طرف دیکھنے کی جسارت نہ کرتا۔ البتہ حضرت ابو بکر صدیق اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضور کی نہایت شفقت ومہربانی کے باعث آپ کو دیکھ لیا کرتے تھے۔
سرکار دو عالم ﷺ کی عزت وتکریم ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ایمان کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک دل میں آپ ﷺ کی تکریم کا والہانہ جذبہ موجود نہ ہو۔ یہ تکریم وتوقیر جس طرح حضور ﷺ کی ظاہری حیات طیبہ میں لازمی اور ضروری تھی اسی طرح حضور ﷺ کے وصال کے بعد بھی آپ کا ادب واحترام لازمی ہے۔ حضرات صحابہ کرام جس طرح آپ ﷺ کا حیات ظاہری میں احترام کرتے تھے اسی طرح آپ ﷺ کے اس ظاہری دنیا سے وصال فرما جانے کے بعد بھی تعظیم وتوقیر کے تمام قرینے ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔ کتب سیر میں ملتا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے حضرت عبدالرحمن بن قاسم کے پاس جب نبی کریم ﷺ کا ذکر خیر ہوتا تو یوں محسوس ہوتا کہ فرط ہیبت سے ان کا خون نچوڑ لیا گیا ہے اور ان کی زبان خشک ہو جاتی تھی۔
حضرات صحابہ کرام کے دل آپ ﷺ کی محبت واحترام سے اس قدر معمور تھے کہ آپ ﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد صحابہ کرام کو کسی پل اپنے محبوب مکرم ﷺ کے رخ انور کے دیدار کے بغیر چین نہیں آتا تھا۔ جب کبھی بھی آپ ﷺ کا ذکر خیر ہوتا، صحابہ کرام کی نگاہوں سے اشکوں کے سوتے پھوٹ پڑتے۔ اسحاق تجیبی کہتے ہیں نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام جب اپنے آقا ﷺ کا ذکر کرتے تھے تو ان پر ہچکی اور گریہ طاری ہو جاتا تھا اور وہ سراپا عجزونیاز بن جاتے تھے۔
امام مالک سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند حضرت عامر کی خدمت میں حاضر ہوتا ان کے سامنے نبی رحمت ﷺ کا ذکر پاک کیا جاتا تو آپ فوراً رونا شروع کر دیتے اور اس وقت تک روتے رہتے جب تک ہمیں یہ محسوس نہ ہوتا کہ ان کی آنکھوں کے سارے آنسو خشک ہو گئے ہیں۔ میں امام زہری کی زیارت کرتا وہ بڑے ہنس مکھ تھے۔ جب ان کے سامنے نبی رؤوف رحیم ﷺ کا ذکر مبارک ہوتا تو ان پر یہ کیفیت طاری ہوتی گویا وہ نہ آپ کو جانتے ہیں اور نہ آپ ان کو جانتے ہیں۔ میں صفوان بن سلیم کی خدمت میں حاضر ہوتا رہتا۔ وہ بڑے عبادت گزار اور مجتہد تھے۔ جب ان کے سامنے حضور ﷺ کا ذکر پاک ہوتا تو رونے لگتے یہاں تک کہ لوگ اٹھ جاتے۔
وَإِذَا ذُكِرَ النَّبِيُّ ﷺ بَكَى وَ لَا يَزَالُ يَبْكِيْ حَتَّى يَقُوْمَ النَّاسُ مِنْهُ وَيَتْرُكُوْهُ
حضرت قتادہ جب نبی کریم ﷺ کی حدیث پاک کو سنتے تو تڑپتے اور روتے۔
حضرات صحابہ کرام آپ ﷺ کی تعظیم وتکریم میں آپ ﷺ کے قرابت داروں اور آپ ﷺ کے اہل بیت کا بھی حد درجہ احترام بجالاتے تھے۔ عقبہ بن حارث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا، انہوں نے امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی گردن پر بٹھایا ہوا تھا آپ فرما رہے تھے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
”بخدا یہ شہزادہ اپنے باپ علی سے زیادہ نبی کریم ﷺ سے مشابہت رکھتا ہے۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ جملہ سنتے اور ہنستے۔
نبی کریم ﷺ کے قرابت داروں کی عزت واحترام بجالانے کا یہ جذبہ ہمیں حضرات صحابہ کرام کے بعد کے عشاق و غلامان رسالت مآب میں بھی کثرت سے نظر آتا ہے۔ چنانچہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے جن کے دور خلافت کو خلافت راشدہ کا تسلسل ہی شمار کیا جاتا ہے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن حسن بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ میں عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک کام کے لئے آیا۔ آپ نے مجھے فرمایا جب آپ کو میرے ساتھ کوئی کام ہو تو میری طرف آدمی بھیج دیا کریں یا خط لکھ دیا کریں۔ مجھے اس بات سے اللہ تعالیٰ سے شرم آتی ہے کہ وہ آپ کو میرے دروازے پر دیکھے۔
امام اوزاعی روایت کرتے ہیں کہ اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی، حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ ان کے ساتھ ایک غلام تھا جس نے ان کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب انہیں دیکھا تو از راہ ادب ان کے لئے کھڑے ہو گئے۔ چل کر ان کے پاس گئے اپنے دونوں ہاتھوں کو کپڑے میں لپیٹا پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ جہاں خود بیٹھا کرتے وہاں حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی کو بٹھایا اور خود ان کے سامنے با ادب بیٹھ گئے۔ وَمَا تَرَكَ لَهَا حَاجَةً إِلَّا قَضَاهَا۔ آپ نے جو حکم کیا اس کو بجالائے اور تعمیل کیا۔
ایک دفعہ حضور نبی کریم ﷺ کی رضاعی ماں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں۔ حضور ﷺ نے اپنی چادر بچھائی اور اس پر انہیں بٹھایا اور دریافت کیا کہ آپ کیوں تشریف لائی ہیں۔ انہوں نے اپنی ضرورت بیان کی۔ حضور ﷺ نے اسی وقت اس کو پورا کر دیا۔ حضور ﷺ کے وصال کے بعد آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتیں۔ یہ دونوں خلفاء آپ کے ساتھ بعینہ وہی برتاؤ کرتے جو سرکار عالم ﷺ ان کے ساتھ کیا کرتے یعنی اپنی چادر بچھاتے اور اس پر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بٹھاتے پھر آپ جو حکم کرتیں اس کو بجالاتے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دیکھا گیا کہ نبی کریم ﷺ کے منبر کی اس جگہ پر ہاتھ پھیرتے جہاں حضور ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوتے اور پھر اپنے ہاتھوں کو چہرہ پر مل لیتے۔ سیرت صحابہ کی کتب ایسے ان گنت اور ایمان افروز واقعات سے بھری پڑی ہیں جو صحابہ کرام علیہم الرضوان کی اپنے آقا ومولیٰ سے محبت اور آپ ﷺ کی تعظیم وتکریم بجالانے اور آپ ﷺ کی بارگاہ کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھنے کو واضح کرتے ہیں۔ انبیاء ورسل کے بعد صحابہ کرام کائنات کی معزز ترین جماعت تھی۔ نبی کریم ﷺ کی تعظیم وتوقیر کے بجالانے اور آپ ﷺ کے دین کی سربلندی کی خاطر اپنی زندگیوں کو وقف کرنے پر اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہ کرام کو بہت بلند مقام ومرتبہ عطا فرمایا ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جن میں سے بہت سوں کو اللہ تعالیٰ کے نبی مکرم ﷺ نے براہ راست جنتی ہونے کی بشارت دی اور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔ یہ مقام رضا آپ ﷺ کی تعظیم وتکریم ہی کا صدقہ ہے۔
تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہے۔“ یہ جملہ سنتے اور ہنستے۔ حضرات صحابہ کرام کے بعد کے عشاق و دالعزیز ؒ کہ جن کے دور خلافت کو بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کے لئے آیا۔ آپ نے مجھے فرمایا جب کہ مجھے اس بات سے اللہ تعالیٰ سے شرم
حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب دونوں ہاتھوں کو کپڑے میں لپیٹا پھر ان کا تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی کو بٹھایا اور خود کو بجالائے اور تعمیل کیا۔
مہا بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں۔ تشریف لائی ہیں۔ انہوں نے اپنی بعد آپ حضرت ابو بکر صدیق رضی میں حاضر ہوتیں۔ یہ دونوں خلفاء کی چادر بچھاتے اور اس پر حضرت
اس جگہ پر ہاتھ پھیرتے جہاں محب ایسے ان گنت اور ایمان افروز ﷺ کی تعظیم و تکریم بجالانے اور صحابہ کرام کائنات کی معزز ترین اس کی خاطر اپنی زندگیوں کو وقف سے ہے جن میں سے بہت سوں کو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے رضی اللہ ریم و کریم ہی کا صدقہ ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 71 تحفظ ناموس رسالت نمبر
آبروئے مصطفیٰ ﷺ
آبروئے مصطفیٰ سے آبروئے دین ہے اس گلِ تر کی بدولت سب چمن رنگین ہے
آبروئے مصطفیٰ قرآن کی تنویر ہے علم کی تفسیر ہے وجدان کی تطہیر ہے
آبروئے مصطفیٰ اللہ کو محبوب ہے کیوں نہ ہو آخر اسی محبوب سے منسوب ہے
آبروئے مصطفیٰ عشاق کی معراج ہے صوفیا کی قدر و قیمت اولیا کی لاج ہے
آبروئے مصطفیٰ سے زندگی میں جان ہے یہ تو وہ نعمت ہے جس سے موت بھی آسان ہے
آبروئے مصطفیٰ عکس جمال حسن ہے انتہائے نور و نکہت ہے کمال حسن ہے
آبروئے مصطفیٰ سے عشق و مستی کا وجود سوز پنہاں کا تلذذ، ساز ہستی کا سرور
آبروئے مصطفیٰ جس کی رہے مدِنظر اُس کے اشکوں میں اُجالے اس کی آہوں میں اثر
آبروئے مصطفیٰ ﷺ پر جو فدا ہو جائے گا وہ حقیقت میں حقیقت آشنا ہو جائے گا
آبروئے مصطفیٰ ﷺ فیضانؔ میری جان ہے!
یہ ہی میرا دین ہے یہ ہی میرا ایمان ہے
ناموس رسالت ﷺ
منزل اوج بقا ہو گی فقط اس کو نصیب جو بھی خوش قسمت فنا فی المصطفیٰ ہو جائے گا
کہہ رہی ہے آیت ”لا ترفعوا اصواتکم“ بے ادب کا ہر عمل حبط و فنا ہو جائے گا
سرور کونین کی حرمت پہ جو بھی مر مٹا اس کا ایک اک سانس حق کا آئینہ ہو جائے گا
وار دے فیضانؔ ہر اک چیز ان کے نام پر
اس طرح سے تجھ پہ راضی خود خدا ہو جائے گا
پروفیسر فیض رسول فیضان
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
وجہ وجود زیست، وجود حضورﷺ ہے
ان کی رضا، رضائے ربّ غفور ہے
حمد خدا کے ساتھ ہے لازم نبیﷺ کی نعت
ذکر خدا سے منسلک ذکر حضورﷺ ہے
گاتے ہیں گیت جن و بشر حضورﷺ کے
”کیا شانِ احمدی کا چمن میں ظہور ہے“
آباد ذکر سرورِ دیں سے ہیں دو جہاں
”ہر گل میں ہر شجر میں محمدﷺ کا نور ہے“
پایا انہی نے رحمۃ للعالمین خطاب
اعزاز جن کا شافع یوم النشور ہے
سرکار دو جہاں پہ ہوں قربان اب وجد
سرکار کی ثنا سے میسر سرور ہے
سرکار کی پناہ میں رکھے ہمیں خدا
سرکار کے غلام سے دوزخ بھی دور ہے
عشق جناب سید الکونینﷺ دل کا چین
جس کو ہوا نصیب وہی باشعور ہے
آقائے دو جہانﷺ کی ناموس کا دفاع
یہ کام ہم کو مومنو کرنا ضرور ہے
طوفان بدتمیزی کی لازم ہے روک تھام
رکھنا کچل کے فتنہ اہلِ شرور ہے
جس کو بھی اپنے آقا و مولاﷺ سے ہے پریت
توہین آنجنابﷺ کے وہ غم سے چور ہے
اس چار دن کی زندگی میں کیا خبر ملے
موقع یہ پھر تجھے، اے دل ناصبور ہے
اٹھ باندھ حفظ عزت و ناموس کا تو عہد
درکار گر جو تجھ کو رضائے حضورﷺ ہے
مہجور کا قلم ہے برائے بیان حق
صد فخر کہ عطا اسے ذکر حضورﷺ ہے
سید عارف محمود مہجور رضوی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور ما
تحفظ
اور افک
نبی کریم ﷺ کی سیرت کا پ تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ اس س جس کا قرآن ہے“ کہا ہے۔ مفتی احم محدث دہلوی نے ایک تفسیر کا ذکر کیا ج اس اسلوب سے ذکرِ مصطفیٰ کی وجہ تحریر ”اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ک جایا کرتے ہیں۔ وہ ہر حقیقت کو سمجھا ن کی بنائی ہوئی سیاہی سے لکھے ہوئے میں لکھی ہوئی روایات بوسیدہ اور کہنہ ہ نہیں کر سکتی کہ ذکر تو ہو اس کے ماہ تما لے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے خود ہی ا پاک زبان سے انہیں بیان کر کے ہمیش سلامت رہے، اس کائنات کے رب ن آیاتِ بینات کا مطالعہ کرے اس کے فی نور ہوتے جائیں اور اس تذکار جمیل کے انسان مقام نبوت کا کما حقہ ادراک عالم نے انسانیت کو سکھائے۔ قرآن کر ہے یا کرتا ہے۔ ہر مفسر اپنے ذوق و وجدان کا مظہر ہوتے ہیں کہ مفسر کا دل حب رسول
٭ شعبہ اسلامیات جی سی یونیورسٹی، لاہور
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
تحفظ ناموس رسالت ﷺ
اور افکار ضیاء الامت رحمۃ اللہ علیہ
ڈاکٹر محمد ہمایوں عباس شمس *
نبی کریم ﷺ کی سیرت کا پہلا ماخذ قرآن کریم ہے قرآن کریم نے آپ کے اوصاف و کمالات، فضائل و محامد کو تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ اس لیے کہنے والوں نے ”ہمہ قرآن در شان محمدؐ“ اور ”شاہ جس کی ہے قرآن میں ثنا خواں جس کا قرآن ہے“ کہا ہے۔ مفتی احمد یار خان نے اسی وجہ سے شان حبیب الرحمن من آیات القرآن تحریر کی۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے ایک تفسیر کا ذکر کیا جس میں ہر آیت کو نعت نبی کے رنگ میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قرآن کریم میں اس اسلوب سے ذکر مصطفیٰ کی وجہ تحریر کرتے ہوئے حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی مدح و ثناء کو صرف لوگوں کے سپرد نہیں فرمایا۔ لوگ بھول بھی جایا کرتے ہیں۔ وہ ہر حقیقت کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ بعض وجوہ کے باعث تحریف و تغییر کے بھی مرتکب ہو سکتے ہیں۔ انسان کی بنائی ہوئی سیاہی سے لکھے ہوئے دفاتر کو پانی کا ایک چھینٹا دھو ڈالتا ہے، دیمک انہیں چاٹ کر فنا کر دیتی ہے، کتابوں میں لکھی ہوئی روایات بوسیدہ اور کہنہ ہونے کے بعد ناقابل استعمال ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت اس امر کو برداشت نہیں کر سکتی کہ ذکر تو ہو اس کے ماہ تمام کا اور گردش لیل و نہار اس کے من موہنے نقش و نگار کو مدھم کر کے ان کی شوخی چھین لے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے خود ہی اپنے محبوب بندے کو کمال و جمال کی ہر شان سے متصف فرمایا اور پھر اپنی قدرت کی پاک زبان سے انہیں بیان کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہر قسم کے تصرفات سے محفوظ کر دیا تا کہ جب تک یہ جہان ہست و بود سلامت رہے، اس کائنات کے رب کے انوار و تجلیات نوع انسانی کو دعوت حق دیتے رہیں اور جو بھی صدق دل سے ان آیات بینات کا مطالعہ کرے اس کے نہاں خانہ دل میں یقین و ایمان کی شمعیں فروزاں ہوتی جائیں اور ظن و تخمین کے اندھیرے کا فور ہوتے جائیں اور اس تذکار جمیل کے بارے میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ (ضیاء النبی جلد۴، ص: ۲۴)
انسان مقام نبوت کا کما حقہ ادراک نہیں رکھتا، اس لیے بارگاہ رسالت مآب کے آداب و احترام بھی خود پروردگار عالم نے انسانیت کو سکھائے۔ قرآن کریم نے ایسے آداب کی تلقین بھی فرمائی جن کو عام حالات میں آدمی نظر انداز کر سکتا ہے یا کرتا ہے۔ ہر مفسر اپنے ذوق و وجدان کے مطابق ان آداب کو الفاظ کا جامہ پہنا کر پیش کرتا ہے۔ یہ الفاظ اس حقیقت کا مظہر ہوتے ہیں کہ مفسر کا دل حب رسول ﷺ کی محبت میں کتنا ڈوبا ہوا ہے۔ وہ الفاظ کی دنیا سے لفظ چن چن کر انتہائی
* شعبہ اسلامیات، جی سی یونیورسٹی، لاہور
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ/اپریل 2011ء
محبت وعقیدت سے اس طرح تحریر کرتا ہے کہ لفظ لفظ داستان محبت کا گواہ بن جاتا ہے۔ اگرچہ ہر مفسر نے یہ اہتمام کیا مگر بیسویں صدی میں اس ادب واحترام کا کمال تفسیر ضیاء القرآن میں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ضیاء القرآن ہے تو قرآن کریم کی تفسیر، مگر اس تفسیر کو قرآن ناطق کے جلووں میں گم ہو کر لکھا گیا ہے۔ تفسیر کے آغاز سے اختتام تک ہر لفظ بارگاہ رسالت کا ادب واحترام اور آپ کی اطاعت واتباع کا پیغام دے رہا ہے۔
ادب واحترام اور عزت وتوقیر پر زور اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ تحفظ ناموس رسالت کے مقدمات میں، ان احکامات کے ذریعے دراصل ناموس رسالت کے لیے ایک فضا و ماحول مہیا کیا گیا ہے۔ اور اس موضوع پر لکھنے والوں نے ایسی آیات سے استدلال بھی کیا ہے۔ جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ آپ کی ناموس وعزت کے لیے اس بات سے روک دیا کہ آپ کی بارگاہ اقدس میں ضرورت سے زیادہ کلام نہ کریں اور ایسے الفاظ کے استعمال سے بھی روک دیا جو ذومعنی ہوں، سورہ البقرہ کی آیت ۱۰۸ کی تفسیر میں صاحب ضیاء القرآن نے تحریر فرمایا: "یہود مسلمانوں کو طرح طرح کے سوالات کرنے پر اکساتے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسا کرنے سے منع فرمایا کہ میرے حبیب سے یہودیوں کی طرح قیل وقال نہ کرو ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔ جن امور کے کرنے کا حکم دیا جائے، ان کو کرو، جن سے منع کیا جائے، ان سے باز رہو اور جن امور کے متعلق اللہ اور اس کے رسول نے سکوت اختیار فرمایا ہے، انہیں مت چھیڑو اسی میں تمہاری سلامتی ہے۔
(ضیاء القرآن جلد اول، ص: ۸۴-۸۵)
انسان کی یہ فطرت رہی کہ جب وہ کھل کر بغض وعداوت کا اظہار نہ کر سکے تو الفاظ کو بگاڑ کر ایسا کرتا ہے۔ ہر زبان میں ایسے الفاظ موجود ہیں جن کو ادا کرتے وقت لہجہ کی تبدیلی، معانی کو بدل دیتی ہے۔ یہود بارگاہ رسالت میں یہ حرکت کرتے۔ مگر مسلمانوں کو اس ذومعنی کلمہ کے استعمال ہی سے روک دیا۔ سورہ البقرہ کی آیت ۱۰۴ کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت ضیاء الامتؒ نے تحریر فرمایا: "راعنا" ذومعنی لفظ ہے۔ اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ ہماری رعایت فرمائیے اور صحابہ کرام بارگاہ رسالت میں جب حاضر ہوتے اور حضور کریم ﷺ کے کسی ارشاد کو اچھی طرح سمجھ نہ سکتے تو عرض کرتے راعنا اے حبیب الہ! ہم پوری طرح سمجھ نہیں سکے ہماری رعایت فرماتے ہوئے دوبارہ سمجھا دیجئے لیکن یہود کی عبرانی زبان میں یہی لفظ ایسے معنی میں مستعمل ہوتا جس میں گستاخی اور بے ادبی پائی جاتی۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب کی عزت وتعظیم کا یہاں تک پاس ہے کہ ایسے لفظ کا استعمال بھی ممنوع فرما دیا جس میں گستاخی کا شائبہ بھی ہو۔ چنانچہ علماء نے تصریح کی ہے فیھا دلیل علی تجنب الالفاظ المحتملة التي فيها التعريض للتنقيص والغض (قرطبی) یعنی اس آیت سے ثابت ہوا کہ ایسے لفظ کا استعمال بارگاہ رسالت میں ممنوع ہے جس میں تنقیص اور بے ادبی کا احتمال ہو۔ امام مالک نے ایسے شخص کو حد قذف لگانے کا حکم دیا ہے۔
(ایضاً ص:۸۳)
اسی آیت کے ضمن میں یہ بھی تحریر فرمایا: "راعنا" کی جگہ "انظرنا" (یعنی ہماری طرف نگاہ لطف فرمائیے) کہا کرو۔ کیونکہ یہ لفظ ہر طرح کے احتمالات
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 75 تحفظ ناموس رسالت نمبر
فاسدہ سے پاک ہے۔ واسمعوا کا حکم دے کر یہ تنبیہ فرمادی کہ جب میرا رسول تمہیں کچھ سنا رہا ہو تو ہمہ تن گوش ہو کر سنو تاکہ انظرنا کہنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ کیونکہ یہ بھی شان نبوت کے مناسب نہیں کہ ایک بات تم بار بار پوچھتے رہو۔ یہ کمال ادب اور انتہائے تعظیم ہے جس کی تعلیم عرش و فرش کے مالک نے غلامان مصطفیٰ ﷺ کو دی اب جو لوگ حضور ﷺ کو صرف بڑے بھائی کی سی حیثیت دیتے ہیں یا اپنے جیسا بشر ثابت کرنے میں اپنی ساری قابلیتیں صرف کر دیتے ہیں وہ اپنے انجام پر خود ہی غور کرلیں۔
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
(ایضاً)
یہ اقتباس اس امر کی وضاحت کے لیے کافی ہے کہ ناموس رسالت کے مسئلہ پر حضور ضیاء الامت رحمۃ اللہ کے احساسات وجذبات کیا تھے۔ اس مرد حق آگاہ نے صرف الفاظ ہی میں نہیں اپنے کردار و عمل سے زندگی کا ہر لمحہ بارگاہ رسالت مآب میں قربان کیا۔ یہ اقتباس اس امر کی وضاحت بھی کرتا ہے کہ ایسی حرکت، الفاظ ، جن سے توہین رسالت کا احتمال ہو استعمال کرنا اور لکھنا قابل سزا جرم ہے کیونکہ آپ ﷺ کے ”دربار میں فرشتے بھی حاضر ہوتے تو تصویر ادب بن کر“۔ (ایضاً ص: ۴۵۰)
اس لیے تمہارا فرض ہے کہ ہر ایسے کام سے اجتناب کرو جو نبی کریم ﷺ کی گرانی طبع کا سبب بن سکتا ہو“ (ایضاً جلد ۴، ص: ۸۷)۔ اس گرانی طبع کی قدرے وضاحت ان الفاظ میں کی جاسکتی ہے: ”ہر وہ چیز جس سے نبی کریم کو تکلیف پہنچے وہ قطعاً ممنوع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اس کی صفات کمال کا انکار کرنا، حضور کی ذات اقدس واطہر پر بہتان باندھنا۔ اللہ تعالیٰ نے حضور کو جن کمالات سے سرفراز فرمایا ان کا انکار کرنا، حضور کے دین اور شریعت کے قوانین کو ناقابل عمل کہنا، حضور کی آل اطہار پر معترض ہونا، حضور کے صحابہ پر زبان طعن دراز کرنا، یہ سب ایسے امور ہیں جن سے حضور کے قلب مبارک کو تکلیف پہنچتی ہے ان تمام امور سے اجتناب ضروری ہے۔ (ایضاً ص: ۱۰۰)
بعض اوقات نادان انسان دین متین کی خدمت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ صرف یہی اس کا فریضہ تھا اور پھر شعائر اسلام کی توہین بھی کر بیٹھتا ہے اور بارگاہ رسالت میں شعوری اور لاشعوری طور پر نازیبا کلمات کہنے کا ارتکاب بھی کر بیٹھتا ہے۔ انسان کے اس رویہ کی اصلاح کے لیے صاحب ضیاء القرآن نے سورہ الفتح آیت۔ ۹ کی تفسیر میں یہ کلمات لکھے: ”یہاں حکم دیا جا رہا ہے کہ میرے پیارے رسول پر سچے دل سے ایمان بھی لاؤ اس کی نصرت واعانت میں سر دھڑ کی بازی لگا دو۔ اس کے دین کی سربلندی کے لیے اپنے جملہ مادی اور ادبی وسائل کو پیش کر دو اور اس کے ساتھ ساتھ میرے محبوب کے ادب و احترام کو ہمیشہ ملحوظ رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ تم دین کی خدمت تو کرو لیکن بارگاہ نبوت کے آداب کو ملحوظ نہ رکھو۔ حضور ﷺ کی اعانت اور اسی طرح حضور ﷺ کی تعظیم وتکریم یکساں اہمیت کے حامل ہیں“۔ (ایضاً ص: ۵۳۸)
سورہ الحجرات کا مرکزی مضمون ہی بارگاہ رسالت کے آداب سکھانا ہے اس کے تعارف میں ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ ؒ نے لکھا ہے کہ اس سورہ کے موضوعات پر ”اعتقاد، اخلاق، سیرت و کردار کا محل تعمیر کیا جاسکتا ہے“ (ص: ۵۷۵) اور اس میں سب سے پہلے بارگاہ رسالت کے ادب واحترام کے بارے میں حتمی احکام صادر فرمائے،
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 76 تحفظ ناموس رسالت نمبر
صاف صاف بتا دیا کہ کان کھول کر سن لو، کہ اگر تم نے گستاخانہ لہجے میں میرے پیارے حبیب ﷺ کی بارگاہ اقدس میں اپنی آواز بھی اونچی کی تو عمر بھر کے اعمال صالحہ نیست و نابود ہو جائیں گے۔ میرا پیارا رسول آرام فرما ہو تو باہر کھڑے ہو کر آواز مت دو، بلکہ خاموشی سے انتظار کرو جس وقت حضور تشریف لائیں، اس وقت اپنی معروضات پیش کرو۔ مختلف طریقوں سے بارگاہ نبوت کے ادب و احترام کا نقش لوح دل پر ثبت فرمایا تا کہ بھولے سے بھی کوئی مومن یہ گستاخی نہ کر بیٹھے۔ (ایضاً ۴، ص: ۵۷۵)
گویا اسلامی معاشرہ میں اصلاح کی ہموار راہیں اس وقت وا ہوں گی جب انسان بارگاہ رسالت مآب کا ادب و احترام کرے گا۔ اگر اس احترام کا جذبہ کمال درجہ تک حاصل کئے بغیر اصلاح کی کوشش کی جائے گی تو وہ ناکام ہوگی۔
آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں ہر طرف انسانی حقوق کی آواز بلند کی جارہی ہے۔ ہر مسئلہ کو اسی زاویہ نگاہ سے پرکھا اور جانچا جا رہا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ کہ اس دور میں انسانیت کے شرف و وقار اور انسانیت کے ماتھے کا جھومر انسان اکمل و کامل نبی رحمت ﷺ کی ذات اقدس پر اعتراضات کئے جارہے ہیں۔ جسارت اور گستاخی یہاں تک پہنچی کہ نعوذ باللہ خاکے بنائے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں سے یہ تو پوچھنا چاہیے کہ تم ایک عام انسان کے حق کے لیے دنیا تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہو، تمہیں انسان کامل کی عزت و حرمت کا خیال نہیں آتا؟ یہ خرمستی کیوں؟ اس دو رخے پن کی وجہ حضور ضیاء الامت کے ان الفاظ سے سمجھ میں آ سکتی ہے، یہ الفاظ ولید بن مغیرہ کے حوالے سے قرآن کی ایک آیت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھے گئے ہیں مگر ہر دور کے ولیدوں کے لیے سچ ہیں، آپ لکھتے ہیں: ”وہ کمینہ اور رذیل شخص بارگاہ رسالت میں اس لیے گستاخی کرتا ہے کہ اس کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے اور اس کے بہت سے بیٹے ہیں“ (جلد ۵، ص ۳۳۵) گویا ناموس رسالت پر حملہ آور قدیم ہو یا جدید انہیں اپنے مادی وسائل اور حلقہ احباب کی قوت کا نشہ ہوتا ہے جس میں ایسی نازیبا حرکتیں کر گزرتے ہیں۔ آج امت پر یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے فیصلے غیروں سے طے نہ کریں اور ان کی کاسہ لیسی چھوڑ دیں تو یہ دن دیکھنے نصیب نہ ہوتے۔
اس سبب کو جاننے کے بعد اس بات پر غور کی ضرورت ہے کہ ناموس رسالت کی حفاظت نہ کرنے کے نتیجے میں قدرت کے فیصلے کیا ہوتے ہیں۔ اس کا جائزہ بھی تفسیر ضیاء القرآن کی روشنی میں لیا جائے۔
سورۃ الزخرف کی آیت: ۴۰ کا یہ حاشیہ ملاحظہ فرمائیں: ”اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو فرما رہے ہیں کہ ان کفار کو سزا ضرور ملے گی لیکن ہر شخص کو سزا دینے کے لیے ایک وقت مقرر ہے بعض تو آپ کے سامنے کیفر کردار کو پہنچ جائیں گے اور جو بچ جائیں گے انہیں آپ کے وصال کے بعد عذاب کے شکنجے میں کس دیا جائے گا“ (جلد ۴، ص: ۴۱۷)
سورۃ اللھب کے تعارف میں لکھتے ہیں: ”اس سورت کے مطالعہ سے اس امر کا بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بارگاہ رسالت میں معمولی سی گستاخی سے جبین قدرت پر کس طرح شکن پڑ جاتے ہیں۔ غضب خداوندی کے شعلے کس طرح بھڑکنے لگتے ہیں، اس بد نصیب نے تو ایک انگلی اٹھا کر اشارہ کیا اور نازیبا الفاظ بکے۔ اس کے جواب میں رحمت عالم نے تو اسی حلم اور عفو و درگزر کا ثبوت دیا جو آپ کی شایان شان تھا لیکن غیرت خداوندی جوش میں آئی اور تبت یدا ابی لھب فرما
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 77 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کہ ہر بے ادب اور ہر گستاخ کو صاف صاف بتا دیا کہ اگر تم سے کوئی ایسا لفظ یا فعل صادر ہوا جس سے میرے حبیب کی شان میں بے ادبی کا کوئی پہلو نکلے تو یاد رکھو غضب الٰہی کی بجلی کوندے گی اور تمہیں جلا کر خاکستر کر دے گی‘‘ (جلد۵،ص:۷۰۳)
سورہ نساء کی آیت ۴۶ کی تشریح میں آپ نے لکھا: ”بارگاہ رسالت میں بے باکی کرنے والوں کی سزا ہی یہ ہے کہ وہ دررحمت سے دور کر دیئے جاتے ہیں ۔ اللہ کی توفیق ان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے حق شناسی کی قوت ان سے چھین لی جاتی ہے یہی سزا یہود کو دی گئی اور قیامت تک ایسے بے باکوں کو یہی سزا دی جائے گی‘‘۔ (جلد اول ،ص: ۳۵۰)
سورہ توبہ کی آیت ۶۱ کی وضاحت بایں الفاظ فرمائی: ”قیامت تک آنے والے لوگوں کو بتا دیا کہ کوئی ہو جس نے میرے حبیب کے دل رحیم کو ایذاء پہنچائی وہ درد ناک عذاب میں مبتلا کر دیا جائے گا اب وہ لوگ جو حضور کے کمالات علمی کا انکار کرتے ہیں اور اس برے ارادے سے قرآن وحدیث کا مطالعہ کرتے ہیں کہ انہیں کوئی ایسی چیز ہاتھ آجائے جس سے وہ اپنے ناقص اور غلط خیال کے مطابق اللہ کے پیغمبر کی جہالت (العیاذ باللہ) ثابت کرسکیں یا کمالات مصطفوی کا انکار کرسکیں اور اس رفعت و تقدس مآب کی جناب میں بازاری الفاظ بڑی بے حیائی اور بے باکی سے اپنی تقریروں اور تحریروں میں استعمال کرتے ہیں وہ سوچیں کہ ان کا حشر کیا ہوگا‘‘ (جلد ۲، ص:۲۲۶)
سورہ کوثر کے تعارف میں لکھا: ”فنا تو وہ ہوگا، نام ونشان تو اس کا مٹے گا۔ جڑ تو اس کی کٹے گی جس کے دل میں میرے نبی کریم ﷺ کی عداوت ہوگی ۔ اسلام کی چودہ صد سالہ تاریخ نے اس ارشادِ خداوندی کی تصدیق وتوثیق کر دی ہے‘‘
(جلد ۵، ص:۶۸۳)
ضیاء النبی میں حضور ضیاء الامت پیر ؒ نے ابو جہل کے غزوہ بدر میں قتل کا واقعہ لکھنے کے بعد اختتام ان سطور پر کیا: ”اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نرالے انداز ہیں ۔ اتنے جنگ آزماؤں نے اس پر تلواروں کے پے در پے وار کئے لیکن یہ مرا نہیں ۔ وہ عاجز و بے دست و پا ہو گیا، اٹھنے اور جنبش کرنے کی سکت باقی نہ رہی لیکن آخر دم تک اس کے ہوش و حواس سلامت رہے۔ اس میں حکمت یہ تھی کہ اس پیکر نخوت و رعونت کو اس شخص کے ہاتھوں واصل جہنم کیا جائے جو مالی لحاظ سے کنگال، جسمانی لحاظ سے ضعیف و نزار اور قبیلہ کے لحاظ سے بے یار و مددگار تھا۔ اسلام لانے کے جرم میں ابوجہل اس کے سر کے بال پکڑ کر اسے طمانچے رسید کیا کرتا تھا، گالیاں بکتا اور طرح طرح سے ستایا کرتا تھا اور اس مسکین کلمہ گو میں یہ طاقت نہ تھی کہ کوئی جوابی کاروائی کرسکتا۔ آج وہ نادار و نحیف و نزار عبداللہ بن مسعود اس کی چھاتی پر بیٹھ کر مونگ دل رہا ہے اس کے سر کو ٹھوکریں مار رہا ہے۔ اپنے پاؤں تلے روند رہا ہے اس کا خود اتار کر اس کے ہاتھ سے اس کی شمشیر آبدار چھین کر اس کی گردن کو کاٹ رہا ہے وہ بے ہوش نہیں ہوش میں ہے۔ اس تذلیل ورسوائی کا شعور رکھتا ہے۔ لیکن دم نہیں مار سکتا، حضرت ابن مسعود ؓ اپنے کمزور کلائی والے ہاتھوں سے اس کے سر غرور کو کاٹتے ہیں اسے اٹھا کر حضور پرنور کے نعلین پاک کے نیچے پھینک دیتے ہیں۔ اس فرمان الٰہی کا عملی اظہار ابو جہل کی عبرت ناک اور المناک موت سے بخوبی ہو رہا ہے۔
وللہ العزة ولرسولہ وللمومنین ولکن المنفقین لا یعلمون (المنافقون: ۸)
حالانکہ ساری عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اس کے رسول کریم ﷺ کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ہے مگر منافقوں کو اس بات کا علم نہیں۔ (ضیاء النبی جلد۳، ص:۳۵۸)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
میرے نبی سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
صبیح الدین صبیح
میرے نبی سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
کہ اپنا سب کچھ گنبد خضراء کل بھی تھا اور آج بھی ہے
دونوں جہاں میں ان کا چرچا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
موج میں وہ رحمت کا دریا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
ان آنکھوں میں ایک تقاضا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
اے بھارت، کشمیر ہمارا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
یہ کہ ایک تصویر تمنا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور ماہ
عصر حاضر میں
نقض
لفظ ’’نصرت‘‘ کا مادہ اصلیہ ن ص ر منظور الافریقی لکھتے ہیں: (نـصـر) الـنـصـر۔ اعا نـصـرا....... فـي الحـ الظلم و إن كان مظل ’’نصر‘ ینصر‘ نصرا کا معنی نصرت کرو وہ ظالم ہو یا مظل ہو تو ظالم کے خلاف اس کی علامہ مرتضی الزبیدی لکھتے ہیں: ”نـصـر۔ نـصـر الم عدوہ ۔“ (۲) ”نصر‘ ینصر‘ نصرا و نصو اس سے واضح ہوا کہ نصر کا لغ یہ لفظ قرآن مجید میں متعدد م إِذَا جَآءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَ یہاں نصرت سے مراد اللہ تعا ہوتا ہے جیسے بارشاد باری تعالیٰ ہے
* اسسٹنٹ پروفیسر، ایف۔جی پوس * * اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اسلامی فکر، ہا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
عصرِ حاضر میں نصرتِ رسولِ کریم ﷺ
تقاضے اور ممکنہ صورتیں
- ۱۔ حبیب اللہ چشتی *
- ۲۔ ڈاکٹر محمد سجاد * *
لفظ ”نصرت“ کا مادہ اصلیہ ن، ص، ر، ہے۔ جس میں کسی کی حمایت یا مدد کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ علامہ ابن منظور الافریقی لکھتے ہیں:
(نصر) النصر۔ اعانة المظلوم نصره على عدوه ينصره۔ ونصره ينصره نصرا...... فى الحديث انصر اخاك ظالما او مظلوما و تفسيره ان يمنعه من الظلم و إن كان مظلوما أعانه على ظالمه والاسم النصرة۔
(۱)
”نصر، ینصر، نصرا کا معنی ہے دشمن کے خلاف مظلوم کی مدد کرنا...... حدیث میں ہے اپنے بھائی کی نصرت کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ اس سے مراد یہ ہے۔ کہ اگر وہ ظالم ہو تو اسے ظلم سے روک اور اگر مظلوم ہو تو ظالم کے خلاف اس کی مدد کر اور ”نصرت“ اس سے اسم ہے۔“
علامہ مرتضیٰ الزبیدی لکھتے ہیں:
”نصر ۔ نصر المظلوم ينصره نصرا و نصورا...... والاسم النصرة أعانه على عدوه۔“
(۲)
”نصر، ینصر، نصرا و نصورا کا معنی ہے مظلوم کی اس کے دشمن کے خلاف مدد کرنا اور ”نصرت“ اس سے اسم ہے۔“
اس سے واضح ہوا کہ نصر کا لغوی معنی کسی کی مدد یا حمایت کرنا ہے اور ”نصرت“ اس سے اسم ہے۔
یہ لفظ قرآن مجید میں متعدد مفاہیم کیلئے استعمال ہوا ہے۔ اگر نصرت کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (۳) ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ پہنچے ۔“
یہاں نصرت سے مراد اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کرنا ہے اور کبھی نصرت کا فاعل بندہ ہوتا ہے جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
- * اسسٹنٹ پروفیسر، ایف۔جی پوسٹ گریجویٹ کالج ایچ ایٹ، اسلام آباد
- * * اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ / اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ (٤)
”اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔“
یہاں بندے سے جس نصرت کا مطالبہ ہے اس کا مفہوم اللہ کی نصرت سے مختلف ہے۔ یہاں نصرت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے امام الراغب الاصفہانی فرماتے ہیں:
”و نصرة الله للعبد ظاهرة ، و نصرة العبد لله هو نصرته لعباده و القيام بحفظ حدوده و رعاية عهوده واعتناق أحكامه واجتناب نهيه۔“(٥)
”اللہ تعالیٰ کا بندے کی نصرت کرنا تو واضح ہے لیکن جب بندہ اللہ کی نصرت کرے تو اس سے مراد ہے اس کے بندوں کی نصرت کرنا۔ اس کی حدود کی حفاظت کرنا، اس کے وعدوں کی پاسداری کرنا۔ اس کے احکامات کی پابندی کرنا اور اس کی نواہی سے بچنا۔“
جس طرح بندے سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کرے اور اس نصرت کا مفہوم اللہ کا بندوں کی نصرت کرنے سے مختلف ہوگا ایسے ہی اہل ایمان سے یہ بھی مطالبہ ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی نصرت کریں۔ قرآن کریم میں حضور اکرم ﷺ کے جو حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک حق آپ کی نصرت کرنا بھی ہے۔
ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْ اُنْزِلَ مَعَهُ اُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (٦)
”پس جو لوگ آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی تعظیم اور نصرت کی اور اس نور کی پیروی کی جو آپ کے ساتھ اتارا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“
اس آیہ کریمہ میں حضور ﷺ کا ایک حق آپ کی ”نصرت“ بھی بیان کیا گیا ہے۔ یہاں نصرت کی وضاحت کرتے ہوئے امام طبری لکھتے ہیں:
”قوله نصروه يقول و أعانوه على اعداء الله تعالى و أعدائه بجهادهم و نصب الحرب لهم۔“ (٧)
”اللہ تعالیٰ کے فرمان ”نصروہ“ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور حضور ﷺ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کر کے اور جنگ برپا کر کے حضور ﷺ کی مدد کرو۔“
علامہ الشوکانی لکھتے ہیں:
”(ونصروه) اى قاموا بنصره على من يعاديه۔“ (٨)
”نصروہ سے مراد یہ ہے کہ جو بھی حضور ﷺ سے عداوت رکھے اس کے خلاف حضور اکرم ﷺ کی مدد کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جائے۔“
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ‘ اپریل 2011ء 81 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے: لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ
(۹)
”تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ‘ اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم بجالاؤ۔“
یہاں نصرت کا مفہوم واضح کرتے ہوئے علامہ خازن لکھتے ہیں: ”و تعزروه یعنى ويقووه وينصروه و التعزير: نصر مع تعظیم۔
(۱۰)
”تعزروه“ سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کو تقویت دو اور آپ کی مدد کرو اور تعزیر سے مراد ایسی مدد ہے جو تعظیم کے ساتھ کی جائے۔“
اس مقام پر زمخشری لکھتے ہیں: ”و (تعزروه) و یقووه بالنصرة۔“
(۱۱)
یہاں تعزیر سے مراد آپ کی مدد کر کے آپ کو تقویت پہنچانا ہے۔
علامہ طبری لکھتے ہیں: ”ومعنى التعزير فى هذا الموضع: التقوية بالنصرة والمعونة۔“
(۱۲)
”یہاں تعزیر سے مراد حضور ﷺ کی نصرت اور معاونت کرکے آپ کی تقویت کا سامان کرنا ہے۔“
نصرت رسول ﷺ کی اہمیت وافادیت
حضور ﷺ کی نصرت کا مطالبہ صرف اہل ایمان سے ہی نہیں کیا گیا بلکہ گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کی وساطت سے ان کی امتوں سے بھی کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام سے جو میثاق لیا اس میں ایک بات یہ بھی تھی۔ ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهُ
(۱۳)
”پھر اگر تمہارے پاس وہ رسول آجائے جو اس کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم لازمی طور پر ان پر ایمان لاؤ گے اور ان کی نصرت کرو گے۔“ اور رسول اللہ ﷺ کی یہ نصرت دراصل اللہ تعالیٰ کی ہی نصرت ہے اور یہ انسان کو دارین میں کامیاب و کامران بنانے کا سبب ہے۔
امام طبری اس آیہ کریمہ اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ (۱۴) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرو اگر تم جہاد کر کے نبی کریم ﷺ کے دشمنوں اور اہل کفر کے خلاف حضور ﷺ کی نصرت کر کے اللہ تعالیٰ کی نصرت کرو گے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو جائے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں کامیاب و کامران فرمائے گا کیونکہ وہ اپنے دین اور دوستوں کا مددگار ہے۔“
(۱۵)
علامہ آلوسی فرماتے ہیں: ”ای دینه و رسوله ﷺ ...... فنصرته سبحانه نصرة رسوله و دینه اذ هو جل
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
شانه وعلا المعين والناصر وغيره سبحانه المعان المنصور۔“
(١٦)
”یہاں اللہ کی نصرت سے مراد اس کے دین اور اس کے رسول ﷺ کی نصرت کرنا ہے۔..... اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے رسول ﷺ اور دین کی نصرت ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اعانت کرنے والا اور نصرت کرنے والا ہے اور اس کے سوا سب اعانت کیے گئے اور نصرت کیے گئے ہیں۔“
اس سے واضح ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نصرت دراصل اللہ تعالیٰ کی نصرت ہے۔ اللہ تعالیٰ نصرت رسول کو ہی اپنی نصرت قرار دیتا ہے اور یہی نصرت انسان کو دنیا و عقبیٰ میں کامیابی اور کامرانی دلانے کا سبب ہے۔
نصرت رسول اللہ ﷺ کی عملی صورتیں
نبی کریم ﷺ کی نصرت سے مراد کوئی ایسی چیز قطعاً نہیں ہے جیسے دنیا میں کوئی طاقتور کسی کمزور کی نصرت کرتا ہے۔ اس معنی میں حضور اکرم ﷺ مخلوق میں سے کسی کی نصرت کے محتاج نہیں ہیں بلکہ یہاں نصرت رسول ﷺ سے مراد آپ کی خدمت کی سعادت حاصل کرنا ہے اور حضور اکرم ﷺ کے کام میں شریک ہو کر اپنے لئے سعادتیں سمیٹنا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے اس ظاہری دنیا سے وصال فرمانے سے پہلے تو نصرت رسول کے مفہوم میں بڑی وسعت تھی۔ جس نے جس طرح بھی حضور اکرم ﷺ کی کوئی بھی خدمت کی وہ آپ کی نصرت کے شرف سے مشرف ہوا۔ مثلاً کسی غزوہ میں آپ کے ساتھ شریک ہوا‘ آپ کا کوئی پیغام لے کر کہیں گیا اور کبھی آپ کے فرمان پر لبیک کہا۔ یہ سب کچھ آپ کی نصرت میں شامل تھا۔ جب حضور اکرم ﷺ ہجرت فرما کر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو جن لوگوں نے آپ کو اور آپ کے اصحاب کو خوش آمدید کہا اور ان کی خدمت کی انہیں تاریخ ”انصار“ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ یہ لفظ ”نصیر“ کی جمع ہے گویا یہ سب لوگ نصرت رسول کی سعادتیں سمیٹنے والے تھے۔
نصرت رسول ﷺ کا یہ حکم قیامت تک باقی ہے اور ہر اہل ایمان پر لازم ہے کہ وہ اس فریضہ کو سرانجام دے۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت کوئی انسان عملی طور پر نصرت رسول ﷺ کے فریضہ کو کیسے نباہ سکتا ہے اور اس سعادت کو کس طرح حاصل کر سکتا ہے تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ ہر ایسا کام جسے بجا لانے سے حضور اکرم ﷺ خوش ہو جائیں جو آپ کے مقصد بعثت کے حصول کا ذریعہ بنے‘ وہ نصرت رسول ہی ہوگا۔
اگرچہ عملی طور پر اس کی بہت سی صورتیں ہو سکتی ہیں لیکن کچھ جامع صورتیں درج ذیل ہیں:
- ۱- دعوت الی اللہ میں نصرت
نبی کریم ﷺ اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا مقصد وحید دعوت الی اللہ تھا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِىْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ
(١٧)
”اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا (جس نے لوگوں سے یہی کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔“
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء 83 تحفظ ناموس رسالت نمبر
نبی کریم ﷺ کو یہ چیز سب سے بڑھ کر محبوب تھی کہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں۔ جب غزوہ خیبر کے موقع پر آپ نے حضرت علی ؓ کو مرحب کا مقابلہ کرنے کیلئے بھیجا تو انہیں فرمایا: اے علی ؓ! پہلے انہیں اسلام کی دعوت دینا۔ کسی ایک شخص کا ہدایت پا جانا سرخ اونٹوں کے ملنے سے بہتر ہے۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا‘ یہ نصرت رسول ﷺ کا سب سے بڑا مظہر ہے اور رسول کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کا مقصد وحید دعوت الی اللہ ہی تھا اور کسی بھی مقصد کے حصول میں اس کے ساتھ شریک ہو جانا اس کی نصرت کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔ اگر چہ کسی بھی امتی کیلئے یہ بہت بڑی سعادت ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کے فریضہ کا شرف حاصل کرے اور یہ اس امت کا فرض منصبی بھی ہے لیکن رسول کریم ﷺ اسے اپنی نصرت سے ہی تعبیر فرماتے تھے۔ جس وقت یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی ۔
يٰاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ
(۱۸)
”اے پیغمبر (صلی اللہ علیک وسلم ) جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے‘ اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔“
تو نبی کریم ﷺ ایک گھاٹی کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا:
”يايها الناس من ينصرنى على ان ابلغ رسالات ربى ولكم الجنة۔“
(۱۹)
”اے لوگو! اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں کون میری نصرت کرے گا اور (ایسا کرنے پر اللہ کے ہاں) تمہارے لئے جنت ہوگی۔“
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ لوگوں کے گھر اور میلوں میں جا کر انہیں فرماتے تھے:
من يؤوينى‘ من ينصرنى حتى ابلغ رسالة ربى وله الجنة۔“
(۲۰)
”کون مجھے پناہ دیتا ہے‘ کون میری اس بات میں نصرت کرتا ہے کہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچاؤں اور اس کے لئے جنت ہوگی۔“
اس وقت دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہے یہاں اللہ تعالیٰ کا پیغام نہیں پہنچا۔ اگر ایمانی سماعتیں بہرہ نہ ہوئیں ہوں تو سرکار ﷺ کی صدا آج بھی سنائی دے سکتی ہے کہ کون ہے کہ جو اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانے میں میری نصرت کرے گا؟
اگر اہل علم و دانش دعوت الی اللہ کو اپنی اولین ترجیح سمجھنے لگیں‘ اصحاب مال وثروت خدا کے دیئے ہوئے رزق میں سے اس راہ میں خرچ کرنے کا وطیرہ اپنائیں۔ دیار غیر میں مقیم مسلمان علمی اور عملی حیثیت سے دین کے مبلغ بن جائیں۔ وارثان منبر ومحراب نئے زمانے میں پرانی کہانیاں چھوڑ کر اور اپنی فکر کو وسعتیں دے کر دعوت الی اللہ کا فریضہ سر انجام دینے لگیں تو ہم کہہ سکیں گے کہ امت نصرت رسول کی سعادتوں سے محروم نہیں ہے بصورت دیگر ہم بحیثیت امت اس فریضہ کو ادا نہ کرنے کے مجرم ہوں گے اور جو قوم حضور اکرم ﷺ کی نظر کرم سے محروم ہوجائے اسے برے انجام سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ نصرت رسول کی سب سے پہلی صورت مقصد رسالت کے حصول میں شریک ہونا ہے اور وہ صرف اور صرف
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
دعوت الی اللہ ہے۔
٢- مکارم اخلاق کی تکمیل میں نصرت
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
”انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق۔“
(٢١)
”مجھے صرف اس لئے مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اخلاقی اقدار کو مکمل کروں۔“
یہ حدیث مبارکہ ان الفاظ سے بھی مروی ہے:
”انما بعثت لاتمم صالح الأخلاق۔“
(٢٢)
”مجھے صرف اس لئے بھیجا گیا ہے کہ میں اچھے اخلاق کی تکمیل کروں۔“
ان احادیث مبارکہ سے واضح ہے کہ مکارم اخلاق کی تکمیل حضور اکرم ﷺ کی زندگی کا اہم مقصد تھا۔ عظیم لوگ اپنی ذات سے بڑھ کر اپنے مقاصد سے محبت کرتے ہیں اسی لیے بسا اوقات وہ اپنے مقصد کے حصول کیلئے اپنی جان بھی قربان کر دیتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنی تمام کوششیں اور مساعی جس مقصد کے حصول کیلئے صرف فرمائیں وہ مکارم اخلاق کی تکمیل تھی۔ مکارم اخلاق کی تکمیل ”دعوت الی اللہ“ سے کوئی متضاد چیز نہیں ہے بلکہ یہ اسی چیز کا عملی مظہر ہے بلکہ اس کا دائرہ پوری انسانیت تک وسیع ہے۔ اگر ایک شخص نے دعوت الی اللہ کو بالفرض قبول نہیں بھی کیا اخلاق حسنہ کی دعوت اسے بھی دی جائے گی تا کہ وہ دوسروں انسانوں کیلئے فائدہ مند اور نفع بخش ثابت ہو اور ظن غالب یہ ہے کہ جس کے اخلاق سنور جائیں گے وہ حقوق اللہ کی ادائیگی کی طرف بھی مائل ہو جائے گا۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ دعوت الی اللہ اور مکارم اخلاق کی تکمیل ایک حقیقت کے دو رخ اور ایک ہی منزل کے دو مرحلے ہیں۔
مکارم اخلاق کی تکمیل میں نصرتِ رسول ﷺ کی عملی صورت سے پہلے واضح ہو جانا چاہیے کہ اخلاق کا مفہوم کیا ہے۔ اخلاق کا لفظ خلق کی جمع ہے۔ امام فخر الدین رازی خلق کی اصطلاحی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں:
”الخلق ملكة نفسانية يسهل على المتصف بها الإتيان بالأفعال الجميلة۔“
(٢٣)
”خلق انسان کے اس ملکہ کو کہا جاتا ہے جس سے متصف انسان کیلئے اچھے کاموں کا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔“
یعنی جس طرح انسان کوئی آواز بلا تکلف سن لیتا ہے بلا تردد ایک بات کر دیتا ہے ایسے ہی جب اس کی شخصیت اس طرح سنور جائے کہ وہ بلا تکلف اپنے دشمنوں کو معاف کر دے ظلم کرنے والے سے بھی محبت و اخوت کا برتاؤ کرے اور تعلق توڑنے والے سے تعلق جوڑنے کی کوشش کرے تو کہا جائے گا کہ یہ انسان صاحب اخلاق ہے۔
اس تفصیل سے واضح ہوا کہ حضور اکرم ﷺ نے جس کام کا بیڑا اٹھایا تھا اور جس کے حصول کیلئے آپ نے اپنی پوری حیات مبارکہ وقف کر رکھی تھی وہ یہ تھا کہ لوگ اخلاق حسنہ کے انوار سے منور ہو جائیں۔ لوگوں کی شخصیت اتنی نکھر جائے کہ وہ دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی بجائے ان کے خیر خواہ اور مخلص بن جائیں۔ دوسروں کو ذلیل و رسوا کرنے کی بجائے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ' اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ان کی عزتوں کے محافظ اور رکھوالے بن جائیں' وہ خود غرضی کے خول سے نکل کر دوسروں کے لئے جینے کے ڈھنگ سیکھیں۔ وہ اپنے لئے ایک پاؤ گوشت کے حصول کیلئے دوسروں کی بھینس ذبح نہ کریں بلکہ ایثار کے جذبوں کے حامل بن جائیں۔ وہ مدح وذم سے بے نیاز ہوکر انسانیت کی فلاح اور بھلائی کیلئے کام کریں۔
جو بھی شخص اسی مقصد کو لے کے نکلتا ہے' وہ نصرت رسول اللہ ﷺ کا شرف حاصل کر رہا ہے۔ نصرت کا یہ شرف اس وقت تک نہیں مل سکے گا جب تک انسان پہلے خود اخلاق حسنہ سے مزین نہ ہو جائے کیونکہ اخلاق کی تعلیم کوئی رسمی کارروائی نہیں ہے بلکہ سوز دروں کے بغیر انسان اس فریضہ سے کبھی بھی سبکدوش نہیں ہوسکتا۔
اگر آج دنیا پر نظر دوڑائی جائے تو بڑا دلدوز منظر نظر آتا ہے۔ ہوس نے نوع انسان کو ٹکڑے ٹکڑے کر رکھا ہے۔ اپنے مفاد کے حصول کیلئے خون کی ندیاں بہانے کو کمال تصور کیا جارہا ہے۔ لوٹ مار' خود غرضی' مفاد پرستی اور ہوا و ہوس نے انسانیت کا سکون چھین لیا ہے۔ طاقتور کمزور کو کھا جانے پر تلا ہوا ہے۔ اپنے گھروں کو مزید روشن کرنے کیلئے دوسروں کے گھروں کے چراغ گل کیے جارہے ہیں۔
ان روح فرسا اور گھمبیر حالات میں گنبد خضریٰ سے صدائے دلنواز بلند ہورہی ہے کہ اے میرے امتیو! تکمیل مکارم اخلاق میرا مشن ہے۔ کون ہے جو اس میں میری نصرت کرے؟ جو بھی انسان مکارم اخلاق کو پھیلانے کا عزم لے کر نکلے گا وہ نصرت رسول ﷺ کا شرف حاصل کرنے والا ہوگا۔
ہر انسان مقدور بھر اس کا پابند ہے کہ جہاں تک اس کا اختیار ہے وہ اس مقصد میں نصرت رسول ﷺ کا فریضہ سرانجام دے۔
۳- محاسن اسلام کی تفہیم میں نصرت
اگرچہ ہر زمانہ میں بہت سے مذاہب دنیا میں موجود رہے اور لوگ ان کی پیروی میں ہی اپنی نجات تصور کرتے رہے لیکن نبی کریم ﷺ جو دین لے کر اس دنیا میں تشریف لائے اور لوگوں پر اس دین کے محاسن واضح کرنے میں آپ نے اپنی حیات مقدسہ کا لمحہ لمحہ بسر کیا' آپ نے لوگوں کو یہ حقیقت سمجھائی کہ اگر تم اس دین کو اختیار کرلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں آخرت کی عزتوں کے علاوہ دنیا کی سعادتیں اور برکتیں بھی عطا فرمائے گا۔ ایک موقع پر آپ نے قریش کو دعوت دیتے ہوئے فرمایا:
”كلمة واحدة تعطونيها تملكون بها العرب و تدين لكم بها العجم۔“
(۲٤)
”بس وہ ایک ایسا کلمہ ہے' اسے اگر مجھ سے قبول کرلو تو اس کے ذریعے تم سارے عرب کو زیر نگیں کرلو گے اور سارا عجم تمہارے پیچھے چلے گا۔“
آپ نے حجۃ الوداع کا خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”قد تركتكم على البيضاء ليلها كنهارها۔“
(۲۵)
اسی دین کے محاسن و فضائل لوگوں پر واضح کرنا تاکہ وہ اس دین کو قبول کرلیں حضور اکرم ﷺ کی تمام مساعی کا حاصل
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 86 تحفظ ناموس رسالت نمبر
تھا۔ دین کے محاسن لوگوں پر واضح کرنا اور اس کی ترویج واشاعت میں جدوجہد کرنا یہ بھی نصرتِ رسول ﷺ کا ایک پہلو ہے اور خود حضور اکرم ﷺ نے اس چیز کو اسی اُسلوب میں بیان فرمایا ہے۔
ابتدائے اسلام میں آپ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ ایک دعوت کا اہتمام کرو اور خاندانِ عبدالمطلب کو مدعو کرو۔ جب سب لوگ آگئے۔ کھانے کے بعد آپ نے کھڑے ہو کر فرمایا۔ میں وہ چیز لے کر آیا ہوں جو دنیا اور آخرت میں تمہاری فلاح کی کفیل ہے۔ اس بارِ گراں کو اٹھانے میں کون میرا ساتھ دے گا؟ سب لوگ خاموش رہے۔ حضرت علیؓ نے اٹھ کر کہا گو مجھے آشوبِ چشم ہے اگرچہ میری ٹانگیں پتلی ہیں اور گو میں سب سے چھوٹا ہوں تاہم میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا:
”قد امرنی الله تعالیٰ أن أدعوكم إليه فأيكم يوازرنی علی هذا الامر۔“ (٢٦)
”مجھے اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاؤں۔ اس معاملہ میں کون میری نصرت کرتا ہے؟“
آپ کا یہ فرمان اس چیز پر دلیل ہے کہ جو بھی دین کے محاسن لوگوں پر واضح کر کے انہیں اس کی طرف راغب کرتا ہے یا کسی بھی طریقے سے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیتا ہے وہ بھی نصرتِ رسول کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔
بحیثیت امت پوری امتِ اسلامیہ کا فریضہ ہے کہ وہ حتی المقدور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں، انہیں بتائیں کہ اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، یہی ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ آسان اور سادہ نظامِ زندگی ہے۔ اسلام ہی وہ دین ہے جو رنگ، نسل اور ذات پات کے تمام بتوں کو پاش پاش کر کے انہیں وحدتِ نسلِ انسانی کا درس دیتا ہے۔ جو امامت اور رہنمائی کو کسی مخصوص طبقہ کا حصہ نہیں سمجھتا بلکہ ہر کسی کیلئے عمل کا میدان کھلا چھوڑتا ہے جو شاہ و گدا اور آقا و غلام کو ایک صف میں کھڑا کرتا ہے اور قانون کی نظر میں سب کو برابر قرار دیتا ہے۔ جو کسی بھی گناہ کو انسان کا پیدائشی عیب نہیں کہتا بلکہ انسان کو اسی گناہ کا ذمہ داری ٹھہراتا ہے جو اس نے خود کیا ہے۔
امت کا ہر فرد جس بھی مالی یا علمی حیثیت میں ہو یہاں تک اس کے لئے ممکن ہو اسلام کی صداقتوں کو عملی طور پر ثابت کرنا اس پر ضروری ہے کیونکہ یہ بھی نصرتِ رسول کا ایک پہلو ہے اور نصرتِ رسول کا فریضہ ہر مسلمان پر لازم ہے۔ دنیا کے کتنے ہی خطے ہیں، جہاں اس میڈیا کے دور میں بھی اسلام کا پیغام نہیں پہنچا۔ لکھنے والے لکھ کر، بولنے والے بول کر، علم والے علم سے اور مال والے مال سے اسلام کے محاسن زمانے پر واضح کریں تا کہ سب کا شمار نصرتِ رسول ﷺ کا شرف حاصل کرنے والوں میں ہو کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ مجھے اللہ نے دین کی طرف بلانے کا حکم دیا ہے: ”فایکم یوازرنی علی ھذا الامر۔“ اس معاملہ میں کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ کون میری تقویت کا سامان کرتا ہے؟
۴۔ امت کی خیر خواہی کے ذریعہ سے نصرت
قرآنِ کریم میں رسولِ کریم ﷺ کا اپنی امت سے تعلق بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ۔ لاہور مار
رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ (۲۷)
”بے شک تمہارے پاس تمھی پڑ جانا ان پر بڑا گراں گزرت فرمانے والے اور رحمت فرم
اس آیتِ کریمہ سے واضح ہو شاق گزرتی ہے کیونکہ آپ پوری انسا ہیں۔ پس جو چیز امت کیلئے نقصان د جو بھی انسان امت کی خیر خواہی کیلئے ک پانے والا ہوگا۔ امت کی خیر خواہی ح
i- امر بالمعروف اور نہی عن ا
جو چیز کسی فرد یا قوم کو سب س میں بھی خائب و خاسر کرتی ہے اور آ بگڑنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر دوسرے کو معروف کا حکم دیتے رہی
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”من رأى منكم منك و ذلك اضعف الايم
”تم میں سے جو کسی برائی ک سے روکے اور اگر ایسا بھی ن
امت میں بہت سی برائیاں پ امت میں خیر کے فروغ اور شر کے لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے دوست دوستوں کو، افسر ماتحتوں او کریں گے نصرتِ رسول کے فریضہ
ii- مظلوموں کی مدد
امت میں بہت سے لوگ ای
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ ' اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ (۲۷)
”بے شک تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک عظیم رسول تشریف فرما ہوئے ہیں۔ تمہارا مشقت میں پڑجانا ان پر بڑا گراں گزرتا ہے۔ وہ تم میں سے ہر ایک کے خیرخواہ اور مومنوں پر تو نہایت مہربانیاں فرمانے والے اور رحمت فرمانے والے ہیں۔“
اس آیت کریمہ سے واضح ہو رہا ہے کہ ہر وہ چیز جو انسانیت کے لئے نقصان دہ ہو وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر شاق گزرتی ہے کیونکہ آپ پوری انسانیت کے خیر خواہ ہیں لیکن امت کے ساتھ آپ کی شفقتیں اور محبتیں تو بیان سے باہر ہیں۔ پس جو چیز امت کیلئے نقصان اور مشقت کا باعث ہوگی۔ وہ حضور اکرم ﷺ پر نہایت ہی شاق اور گراں گزرے گی اور جو بھی انسان امت کی خیر خواہی کیلئے کوشش کرے گا وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو خوش کرنے والا اور آپ کی نصرت کا شرف پانے والا ہوگا۔ امت کی خیر خواہی متعدد طریقوں سے ہو سکتی ہے جن میں سے مرکزی اور اساسی چیزیں یہ ہیں۔
i۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دینا
جو چیز کسی فرد یا قوم کو سب سے زیادہ تباہ و برباد کرتی ہے وہ گناہ اور سرکشی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے بغاوت انسان کو دنیا میں بھی خائب و خاسر کرتی ہے اور آخرت میں بھی۔ جس طرح بیٹے کا بگڑنا ماں کیلئے دکھ کا باعث ہوتا ہے اسی طرح امتی کا بگڑنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر گراں اور شاق گزرتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے اہل ایمان کو تاکید کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو معروف کا حکم دیتے رہیں اور منکر سے منع کرتے رہیں اور اسی چیز کو ایمان کی نشانی اور علامت قرار دیا۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ و ذلک اضعف الایمان۔“ (۲۸)
”تم میں سے جو کسی برائی کو دیکھے اسے چاہیے کہ اسے ہاتھ سے ختم کردے۔ اگر ایسا نہ کرسکے تو اسے زبان سے روکے اور اگر ایسا بھی نہ کرسکے تو اسے دل میں برا جانے۔ یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔“
امت میں بہت سی برائیاں فروغ پا رہی ہیں عموماً حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پاسداری نہیں کی جاتی۔ جو بھی بندہ امت میں خیر کے فروغ اور شر کے استیصال کے لئے کھڑا ہوگا۔ نصرت رسول ﷺ کی سعادت پانے والا ہوگا۔ ہر امتی پر لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اس فریضہ کو سرانجام دے جب تک والد اپنے بچوں کو استاد اپنے شاگردوں کو دوست دوستوں کو افسر ماتحتوں اور بادشاہ رعایا کو مکمل احساس اور بھرپور شدتوں سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں کریں گے نصرت رسول کے فریضہ سے سبکدوش نہیں ہو سکتے۔
ii۔ مظلوموں کی مدد
امت میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ جن پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 88 تحفظ ناموس رسالت نمبر
عالم کفر محض اپنی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے ان کا خون پانی کی طرح بہا رہا ہے اور ان کے اموال اور ان کی املاک کو تباہ برباد کر رہا ہے۔ اس صورت حال میں امت کو اس کربناک حالت سے نکالنا بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نصرت کا ایک پہلو ہے۔ کشمیر، فلسطین، بوسنیا، عراق اور چیچنیا میں امت مسلمہ پر وحشت و بربریت کی حد کر دی گئی ہے اور نہ جانے عالم کفر کتنے مکروہ اور خوفناک عزائم کے ساتھ عالم اسلام کی تباہی پر تلا ہوا ہے۔ امت کا ہر دکھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر شاق گزرتا ہے۔ امت کو اس دکھ سے نکالنے میں ان کی مدد کرنا بھی دراصل نصرت رسول ہی کہلائے گا۔ ایسے حالات میں یہ آیۂ کریمہ مشعل راہ کا کام دیتی ہے۔
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا
(۲۹)
”اور تمہیں کیا ہوگا کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرتے حالانکہ مردوں، عورتوں اور بچوں میں سے بے بس اور مظلوم تڑپ تڑپ کر دعا کر رہے ہیں اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے رہنے والے ستم گر ہو گئے ہوں اور خاص اپنی طرف سے ہمارا کوئی حمایتی پیدا فرما اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کسی کو مددگار کر دے۔“
اگر ملت اسلامیہ مظلوم افراد کی مدد کیلئے اور انہیں غیروں کے ظلم وستم سے نجات دلانے کے لئے ایک زندہ کردار ادا نہیں کرے گی تو وہ نصرت رسول کا فریضہ سرانجام دینے سے قاصر رہے گی۔
iii۔ اتحاد امت کیلئے جدوجہد کرنا
اگر اولاد آپس میں دست و گریباں ہو تو یہ چیز باپ کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور دکھ کا باعث ہوتی ہے اور امت کا اختلاف وانتشار حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی پر گراں اور شاق گزرتا ہے۔ آپ نے متعدد اسالیب سے اپنی امت کو متحد ومتفق رہنے کی تلقین فرمائی۔ ایک موقع پر آپ نے فرمایا:
فمن رأيتموه يريد تفرق امة محمد ﷺ وهم جميع فاقتلوه كائنا من كان من الناس۔
(۳۰)
”تم جس بندے کو دیکھو کہ وہ امت محمد ﷺ میں فتنہ و فساد پیدا کرنا چاہتا ہے اسے قتل کر دو وہ کوئی بھی ہو۔“
آپ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:
”استنصت الناس فقال لا ترجعوا بعدى كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض۔“
(۳۱)
”لوگوں کو خاموش کرواؤ‘ آپ نے فرمایا میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں اڑانے لگیں۔“
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 89 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ایک موقع پر آپ نے یہ بھی فرمایا: ”انی مکاثر بکم الامم فلا تقتلن بعدی“
(۳۲)
”میں دوسری امتوں پر تمہاری وجہ سے فخر کروں گا‘ پس تم میرے بعد قتل وغارت نہ کرنا۔“
حضور اکرم ﷺ کے ان فرامین گرامی سے واضح ہے کہ آپ کی یہ شدید خواہش تھی کہ میری امت اتحاد واتفاق کا دامن تھامے رہے۔
اگر امت میں اختلاف وانتشار پیدا ہو جائے تو اسے ختم کرنے کی کوشش کرنا بلاشبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی منشا کے عین مطابق ہوگا اور آپ کی رضا کو پانے کا ذریعہ ہوگا۔
اس وقت امت میں اختلاف وانتشار کی خلیج وسیع سے وسیع ہوتی جارہی ہے۔ فتنہ پرور عناصر اپنے مفادات اور خواہشات کی تکمیل کیلئے امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ جو بھی انسان ان حالات میں امت میں اتحاد واتفاق پیدا کرنے کیلئے میدان میں آئے گا وہ بھی نصرت رسول ﷺ کا شرف پانے والا ہوگا کیونکہ یہ عمل کارِ نبوت کی تکمیل میں شرکت کی سعادت کے مترادف ہوگا۔
جو بھی انسان نصرت کے اس شرف کو پانا چاہے اسے چاہیے کہ امت کو فروع کی دلدل سے نکال کر اصول کی طرف لائے۔ ظنیات کے جھگڑوں سے بچا کر قطعیات پر ان کی توجہ مبذول کروائے اور ان کے درمیان اختلافی امور کو دلیل کا اختلاف سمجھ کر نفرتیں کم کرنے کیلئے حتی المقدور کوشش کرے کیونکہ یہ بھی نصرت رسول ﷺ کا ایک پہلو ہے۔
iv- علم ودانش کو پھیلانا
حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ”انما بعثت معلما۔“
(۳۳)
”مجھے صرف معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔“
قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کے فرائض منصبی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا۔ ﴿وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ﴾
(۳۴)
”اور آپ انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔“
علم ہی ایک ایسی روشنی ہے جو انسان کو توہمات کے جہاں سے نکال کر دانش وبینش کی دنیا میں لاتی ہے۔ جس سے انسان کی شخصیت سنورتی ہے۔ یہی نور انسان کو عظمت انسانی کی حقیقی رفعتوں پر فائز کرتا ہے۔ علم ہی انسان کو فکری اور علمی وسعتیں عطا کرتا ہے۔
آج امت کے بگاڑ اور پسماندگی کا ایک اہم سبب علم سے دوری ہے۔ معلم کتاب وحکمت ﷺ کی امت علم کی رفعتوں سے محروم ہو، یہ بات سب کیلئے بڑے دکھ اور کرب کا سبب ہے۔ ان حالات میں جو بھی علم ودانش پھیلانے کے لئے میدان میں آئے گا، وہ ہی کارِ نبوت میں شراکت کا شرف پا کے نصرت رسول کی سعادت حاصل کرنے والا ہوگا۔ علم
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ' اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
پھیلانے کے نام پر کاروبار کرنا تو اور بات ہے۔ علم پھیلانے کیلئے اپنی مساعی کو صرف کرنا چیز دگر ہے اور یہی نصرت رسول ﷺ کا ایک اہم پہلو اور زاویہ ہے۔
علم سے مراد کوئی محدود سوچ کو پھیلانا نہیں بلکہ قرآن وسنت کے آفاقی علم کا پرچار کرنا ہے۔ انفس و آفاق میں پھیلے ہوئے قدرت کے نمونوں کو اثبات حق پر دلیل بنانا ہے۔ انسانیت کو درپیش موجودہ چیلنجز کا جواب دینا ہے۔ نئے زمانے میں پرانی کہانیاں دہرانا نہیں بلکہ زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر ان کے دکھ کا مداوا کرنا ہے۔ محدود سوچ کے دائرہ سے نکال کر فکری اور علمی وسعتیں عطا کرنا ہے۔ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق آگے آئے۔ اہلِ ثروت خدا داد دولت صرف کریں اہلِ علم و دانش اپنی صلاحیتیں اسی کارِ خیر میں لگائیں اور ہر کوئی اس فریضہ کا احساس کر کے حتی المقدور اپنی خدمات پیش کرے کیونکہ یہ نصرت رسول ﷺ کا ایک پہلو ہے۔
۵- تحفظ ناموس رسالت میں نصرت
دین کی ہر بات کا آخری اور حتمی حوالہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات گرامی ہوتی ہے۔ اگر ذاتِ پیغمبر کو ہی مشکوک کر دیا جائے تو سارے کا سارا دین مشکوک ہو جاتا ہے۔ اسی لئے اسلام میں کسی بھی پیغمبر کی توہین کرنے کی سزا قتل ہے۔ جو بھی بندہ حضور اکرم ﷺ یا انبیاء کرام میں کسی بھی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق وہ واجب القتل ہے۔ قاضی ابوالفضل عیاض مالکی فرماتے ہیں:
” ان جميع من سب النبی ﷺ او عابه او الحق به نقصا فى نفسه او نسبه او دينه او خصلة من خصاله....... فهو ساب له والحكم فيه حكم الساب يقتل...... وهذا کلمه اجماع من العلماء و ائمة الفتوى من لدن الصحابة رضوان اللہ علیہم الی ھلم جرا۔“ (٣٥)
”جو بھی نبی کریم ﷺ کو ہدف دشنام طرازی بنائے آپ کو عیب لگائے یا آپ کے دین‘ نسب اور کسی بھی خصلت کی طرف کوئی نقص منسوب کرے۔۔۔۔۔۔ وہ آپ کو سب و شتم کرنے والا ہوگا۔ اس کا حکم یہی ہوگا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ دور صحابہ سے آج تک سب علماء اور اہل فتویٰ کا اسی پر اجماع ہے۔“
ذات رسالت کی توہین کرنے والے کو اس کی سزا دلوانے کیلئے جدوجہد کرنا بھی نصرت رسول ﷺ کا ایک پہلو ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” ان رجلا من المشرکین شتم النبی ﷺ فقال النبی ﷺ من یکفینی عدوی؟ فقام الزبیر فقال انا فبارزه فقتله۔“ (٣٦)
”مشرکین میں سے ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کو سب و شتم کیا۔ آپ نے فرمایا۔ دشمن سے میری حفاظت کون کرے گا؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے عرض کی میں حاضر ہوں۔ پس انہوں نے اس شخص سے مقابلہ کیا اور اسے قتل کر دیا۔“
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور
ایسے ہی ایک عورت یہی جرم کر کیفر کردار تک پہنچایا۔ (٣٧)
اسی طرح جب کعب بن اشرف ” من لكعب بن الاشـ ”کعب بن اشرف کی خبر کون آج مختلف طریقوں سے حضو ہے‘ کہیں خاکے شائع کر کے اپنے خو اذیت پہنچائی جا رہی ہے۔ ان درد دلوانے میں اپنی پوری طاقت صرف سطح پر ایسے مجرموں کو ان کے کیفر کر کی توہین کرنے والا تو سزا سے کسی ط توہین کرنے والے کے معاملہ میں ع عہد حاضر میں نصرت رسول درکار ہیں اور دانش و بینش کی بصیرتیں دے غلط اور نامناسب ہوگا۔
جب ملت اسلامی میں نصرتِ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصر
حواشی حوالہ جات
- ١- لسان العرب‘ محمد بن مکرم
- ٢- تاج العروس‘ محمد بن عبدالـ
- ٣- القرآن الكريم: ١/١١٠
- ٤- القرآن الكريم: ٧/٤٧
- ٥- مفردات الفاظ القرآن‘ علامہ
- ٦- القرآن الكريم: ١٥٧/٧
- ٧- جامع البيان فى تأويل القرآن
- ٨- فتح القدير‘ علامہ محمد بن
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ایسے ہی ایک عورت یہی جرم کرتی تھی حضور اکرم ﷺ کے اسی طرح فرمانے پر حضرت خالد بن ولید ؓ نے اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔ (۳۷)
اسی طرح جب کعب بن اشرف نے نبی کریم ﷺ کو اذیت دی تو آپ نے فرمایا: ”من لكعب بن الاشرف فانه قد آذى الله ورسوله۔“ (۳۸) ”کعب بن اشرف کی خبر کون لے گا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے؟“ آج مختلف طریقوں سے حضور اکرم ﷺ کو اذیت پہنچائی جارہی ہے کہیں آپ کی ذات اقدس کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے کہیں خاکے شائع کر کے اپنے خبث باطن کا اظہار کیا جارہا ہے کہیں آپ کے لائے ہوئے دین کا تمسخر اڑا کے آپ کو اذیت پہنچائی جارہی ہے۔ ان درد ناک حالات میں ہر کلمہ گو کا فرض ہے کہ وہ حتی الوسع توہین رسالت کے مرتکب افراد کو سزا دلوانے میں اپنی پوری طاقت صرف کرے۔ اہل قلم، قلم کے ذریعہ اہل ثروت مال و زر قربان کر کے اور شاہان وقت حکومتی سطح پر ایسے مجرموں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچا کے نصرت رسول ﷺ کا شرف حاصل کریں۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی اپنی ذات کی توہین کرنے والا تو سزا سے کسی صورت نہ بچ سکے بلکہ اسے جرم سے بھی بڑھ کر سزا بھگتنی پڑے لیکن ذات رسول ﷺ کی توہین کرنے والے کے معاملہ میں صرف رسمی بیان دینے پر اکتفا کیا جائے۔
عہد حاضر میں نصرت رسول ﷺ کے اس پہلو پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ایمان کی حدتیں بھی درکار ہیں اور دانش و بینش کی بصیرتیں بھی ، اس پس منظر میں کوئی بھی ایسا طریقہ استعمال کرنا جو مقصد کے حصول کو مزید دور کر دے غلط اور نامناسب ہوگا۔
جب ملت اسلامی میں نصرت رسول ﷺ کا شعور اجاگر ہو جائے گا تو پھر انہیں بہت سے طریقے بھی خود بخود سمجھ آتے جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصرت رسول ﷺ کی سعادتیں سمیٹنے کا شرف نصیب فرمائے ۔ (آمین)
حواشی حوالہ جات
- ۱- لسان العرب، محمد بن مكرم ابن منظور الافریقی، حرف الراء، دار صادر، بیروت، الطبعة الاولی، (س۔ن)
- ۲- تاج العروس، محمد بن عبدالرزاق المرتضیٰ الزبیدی، باب الراء، دار الفكر للطباعة والنشر (س۔ن)
- ۳- القرآن الكريم: ۱/۱۱۰
- ٤- القرآن الكريم: ٧/٤٧
- ٥- مفردات الفاظ القرآن، علامه راغب الاصفهانی، ماده نصر۔ دار الكاتب العربی (۱۳۹۲ھ)
- ٦- القرآن الكريم: ١٥٧/٧
- ۷- جامع البیان فی تأویل القرآن، امام محمد بن جریر الطبری: ١٦١/١٣، مؤسسة الرسالة، ١٤٢٠ھ/ ٢٠٠٠ء
- ۸- فتح القدیر، علامه محمد بن الشوكانی، ١٠٢/٣، مصطفیٰ البابی الحلبی، مصر (١٤١٨ھ)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ٩- القرآن الكريم: ٩/٤٨
- ١٠- لباب التأويل فى معانى التنزيل، أبو الحسن علی بن محمد خازن: ٤٣٣/٥، دار الكتب العلمية، پشاور (س۔ن)
- ١١- الكشاف، علامہ محمود بن عمر الزمخشری: ٣٤٢/٦، دار احیاء التراث العربی، بیروت (١٤١٧ه)
- ١٢- جامع البيان: ٢٠٨/٢٢
- ١٣- القرآن الكريم: ٨١/٣
- ١٤- القرآن الكريم: ٧/٤٧
- ١٥- جامع البيان: ١٦٠/٢٢
- ١٦- روح المعانى، سید محمود آلوسی: ١٠٧/١٩، دار احیاء التراث العربی، بیروت۔ (س۔ن)
- ١٧- القرآن الكريم: ٣٧/١٦
- ١٨- القرآن الكريم: ٦٧/٥
- ١٩- روح المعانى، ابو الفضل السيد محمود آلوسی: ٧٥/٥، دار احیاء التراث العربی (س۔ن)
- ٢٠- السيرة النبوية، ابو الفداء اسماعیل بن كثير: ١٩٤/٢، دار المعرفة للطباعة والنشر، بیروت، لبنان (١٩٧١)
- ٢١- السنن الكبرى، امام ابوبکر حسین بن علی البيهقی: ١٩٢/١٠، دار الفکر، بیروت (س۔ن)
- ٢٢- مستدرك على الصحيحين، امام ابو عبدالله محمد بن عبدالله نیشاپوری، دار المعرفة، بیروت (١٤١٨ه)
- ٢٣- التفسير الكبير (مفاتيح الغيب): إمام فخر الدين رازى: ٨١/١٦، مكتب الأعلام الإسلامى (١٤١١ه)
- ٢٤- السيرة النبوية (لابن هشام): ١٢٤/٢، دار المعرفة للطباعة والنشر، بیروت، لبنان
- ٢٥- كنز العمال، علامہ علی المتقی بن حسام الدين الهندى: ٨٢/١، مؤسسة الرسالة، (س۔ن)
- ٢٦- الكامل في التاريخ، ابن اثیر: ٢٥٩/١ ٢٧- القرآن الكريم: ١٢٨/٩
- ٢٨- سنن ابن ماجہ، کتاب الصلوة، باب ما جاء فى صلاة العيدين، رقم الحديث: ١٢٦٥
- ٢٩- القرآن الكريم: ٧٥/٤
- ٣٠- سنن النسائی، امام احمد بن شعیب النسائی: ١٦٥/٢، (کتاب المحاربہ) قدیمی کتب خانہ، کراچی۔
- ٣١- سنن ابن ماجہ، امام ابو عبدالله محمد بن یزید ابن ماجہ، ص: ٢٨٢، قدیمی کتب خانہ کراچی (س۔ن)
- ٣٢- نفس مصدر، ص: ٢٨٣
- ٣٣- أحكام القرآن، ابو بکر الرازی الجصاص: ٢٩٤/٨
- ٣٤- القرآن الكريم: ١٦٤/٣
- ٣٥- الشفاء، القاضی ابو الفضل عیاض: ٢١٤/٢، دار الفکر، بیروت (١٤٠١ه / ١٩٨١ء)
- ٣٦- كنز العمال: ٢٠٦/١٣
- ٣٧- تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو ۔ مصنف عبدالرزاق، عبدالرزاق صنعانی: ٣٠٧/٥
- ٣٨- صحيح بخاری، باب قتل كعب بن اشرف، رقم الحديث: ٣٧٣١
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
عصمت انبیاء کرام علیہم السلام کا تصور
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
پروفیسر کنور سلطان احمد *
عصمتِ انبیاء کرام علیہم السلام کے سلسلے میں گفتگو کرنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ”عصمت“ کے لغوی و اصطلاحی معانی بیان کر دیئے جائیں تاکہ آئندہ مباحث کو سمجھنے میں آسانی رہے۔
لغوی معنی:
ابن منظور لکھتے ہیں:
العصمة في كلام العرب: المنع، و عصمة الله عبده: ان يعصمه مما يوبقه
(۱)
کلام عرب میں عصمت کا معنی روکنا اور محفوظ رکھنا ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی عصمت ہو تو پھر اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بندے کو ان چیزوں سے بچانا جو اسے ہلاک کرنے والی ہوں۔
امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں:
العصم: الامساك، والاعتصام: الاستمساك
(۲)
العصم کے معنی ہیں روکنا۔ قرآن پاک میں ہے:
لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللّٰهِ
(۳)
آج اللہ کے عذاب سے بچنے والا کوئی نہیں۔
الاعتصام: کسی چیز کو پکڑ کر مضبوطی سے تھام لینا۔ قرآن مجید میں ہے:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ط
(٤)
اور سب مل کر اللہ تعالیٰ کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور تفرقہ بازی نہ کرنا۔
سید مرتضیٰ زبیدی لکھتے ہیں:
قال الزجاج: العصمة الحبل ...... و كل ما امسك شيئا فقد عصمه
(٥)
زجاج نے کہا عصمت کا معنی ہے رسی ...... ہر وہ چیز جو کسی چیز کو روک لئے اسے عصمت کہتے ہیں۔
* شعبہ علوم اسلامیہ گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج ملتان
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
سید شریف جرجانی لکھتے ہیں : العِصْمَةُ: ملكة اجتناب المعاصى مع التمكن منها (٦) گناہوں پر قدرت کے باوجود ان سے بچنا عصمت کہلاتا ہے۔
مولانا وحید الزمان لکھتے ہیں : العصمة : ایک خداداد ملکہ جو انسان کو بدی پر قدرت کے باوجود اس سے باز رکھتا ہے‘ پاک دامنی‘ حفاظت۔ بے گناہی‘ معصومیت‘ گناہ سے باز رہنے کی صفتِ تامہ۔ (۷)
درج بالا تعریفات میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ علمائے لغت نے لفظ عصمت کے معانی کی مکمل وضاحت کر دی ہے۔ جس میں بچنا‘ محفوظ رہنا اور گناہ کی قدرت کے باوجود اس سے دور رہنا کا مفہوم مشترک نظر آتا ہے۔ گویا علمائے لغت کے نزدیک لفظ عصمت کے معانی کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو گناہ کرنے کی قدرت و طاقت حاصل ہے مگر وہ اس کے باوجود اس سے دور رہے‘ بچا رہے تو اسے عصمت حاصل ہو جاتی ہے۔
اصطلاحی معنی :
درج بالا سطور میں آپ نے عصمت کے لغوی معانی ملاحظہ کیے اب ذیل میں ہم اس کے اصطلاحی معنی بیان کرتے ہیں ۔
امام مناوی کہتے ہیں: العصمة ملكة اجتناب المعاصى مع التمكن منها (۸) گناہوں پر قدرت کے باوجود ان سے رکے رہنے کے ملکہ کو عصمت کہتے ہیں ۔
امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں: و عصمة الانبياء حفظه اياهم اولا بما خصّهم به من صفاء الجوهر‘ ثم بما اولا هم من الفضائل الجسميه والنفسيّة ثم بالنّصره و بتثبيت اقدامهم‘ ثم بانزال السكينة عليهم و بحفظ قلوبهم و بالتوفيق (۹) عصمت انبیاء کرام علیہم السلام کا مطلب ہے ان کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے انبیاء کرام علیہم السلام کی حفاظت کی ہے۔ اول یہ کہ ان کو صاف شفاف جوہر سے پیدا کیا ہے۔ دوم انہیں روحانی و جسمانی فضائل سے آراستہ فرمایا۔ سوم ان کی مدد کی‘ انہیں استقلال بخشا‘ ان پر اپنی طرف سے سکینت نازل کی‘ ان کے دلوں کی حفاظت کی‘ اور انہیں اپنی توفیق خاص سے نوازا۔
علامہ تفتازانی لکھتے ہیں: و حقيقة العصمة ان لا يخلق الله تعالى فى العبد الذنب مع بقاء قدرته و اختياره (۱۰) ”حقیقت عصمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ میں اس کی قدرت اور اختیار کے باوجود گناہ پیدا نہ کرے۔“
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
علامہ احمد خیالی تحریر کرتے ہیں:
هی ملكة اجتناب المعاصی مع التمکن فیها (۱۱) ”گناہوں پر اختیار کے باوجود ان سے بچنے کے ملکہ کو عصمت کہتے ہیں۔“
علامہ عصام الدین نے عصمت کی مندرجہ بالا تعریفات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے درج ذیل تعریف کی ہے:
بل ماهية العصمة عند اهل السنة ان لا يخلق الله الذنب فی العبد (۱۲) بلکہ اہلسنت کے نزدیک عصمت حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے میں گناہ (کا ملکہ) پیدا ہی نہ کرے۔
علامہ تفتازانی لکھتے ہیں کہ جب عصمت کی تعریف اجتناب معاصی کی قدرت سے ہوگی تو ضروری نہیں کہ غیر معصوم گناہگار ہو‘ کجاکہ وہ ظالم ہو۔ (۱۳)
علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں:
خلاصہ یہ ہے کہ جب معصوم کی تعریف یہ کی جائیگی کہ اللہ تعالیٰ اس میں گناہ پیدا نہ کرے۔ تو غیر معصوم شخص وہ ہوگا‘ جس میں اللہ تعالیٰ گناہ پیدا کرے‘ اور اس اعتبار سے ہر غیر معصوم شخص کا بالفعل گنہگار ہونا لازم آئے گا‘ لہٰذا علامہ خیالی نے اس تعریف کے بجائے یہ تعریف کی کہ عصمت ایک ایسا ملکہ ہے کہ جس کی وجہ سے انسان گناہوں پر قدرت کے باوجود ان سے بچا رہتا ہے‘ اور شرح مقاصد میں علامہ تفتازانی کا بھی اسی طرح میلان ہے۔ (۱۴)
وہ مزید لکھتے ہیں کہ اشاعرہ اور ماتریدیہ نے عصمت کی یہ تعریف کی ہے کہ ”بندہ میں اختیار کے باوجود اللہ تعالیٰ گناہ کو پیدا نہیں کرتا۔“ اور حکمائے اسلام نے عصمت کی یہ تعریف کی ہے: ”عصمت ایک ملکہ ہے جس کی وجہ سے بندہ گناہ پر قدرت کے باوجود گناہوں سے مجتنب رہتا ہے۔“ ان دونوں تعریفوں کا مآل ایک ہے۔ البتہ علماء شیعہ کے مابین عصمت کی تعریف میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا وہ گناہ پر قدرت کے باوجود گناہ سے بچے رہتے ہیں اور بعض نے کہا انہیں گناہ پر قدرت نہیں ہوتی اور ان کے لیے گناہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ (۱۵)
درج بالا سطور عصمت کی لغوی اور اصطلاحی تعریفات کو مختصراً درج کیا گیا ہے۔ اگرچہ متکلمین حضرات کی تصانیف اس موضوع پر بحث اور تفصیلات سے مملو ہیں اور ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں تاہم موضوع کے اعتبار سے چند تعارفی سطور سپرد قلم کر دی گئی ہیں‘ تاکہ موضوع زیر بحث کی تفہیم میں آسانی ہو۔ معصوم کے ساتھ ایک اور لفظ محفوظ بولا جاتا ہے‘ جس کا اطلاق صحابہ کرام ؓ پر کیا جاتا ہے‘ ان پر لفظ معصوم کا اطلاق نہیں کیا جاتا‘ اس مسئلے میں غلام رسول سعیدی رقمطراز ہیں۔
انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت چونکہ قرآن مجید کے قطعی دلائل سے ثابت ہے اس لئے وہ واجب الثبوت ہے اور خلفائے راشدین اور اکابر صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اولیاء عظام ؒ کی عصمت پر ظنی یا خطابی دلائل قائم ہیں۔ اس لیے وہ ظنی الثبوت یا جائز الثبوت ہے۔ اس لیے عرف عام میں انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت کو لفظ عصمت سے اور (صحابہ کرام و اولیاء عظام) و دیگر مومنین کاملین کی عصمت کو حفاظت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (۱۶)
ابتدائی تعارف کے بعد قرآن مجید کی روشنی میں عصمتِ انبیاء کرام علیہم السلام کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے‘ کیونکہ احکام
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
اسلام کا روشن مآخذ و منبع قرآن مجید ہے۔ لہٰذا کسی چیز کا حکم جاننے کے سلسلے میں سب سے پہلے قرآن کریم ہی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت و اخلاق اور کردار کو عظیم الشان انداز سے پیش کیا ہے۔ جس کا جائزہ لینے سے حقیقت حال کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ ذیل کی سطور میں موضوع زیر بحث سے متعلق چند آیات قرآنی ملاحظہ کیجئے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ط (۱۷)
”آپ (ﷺ) فرما دیجئے اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت رکھے گا‘ اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔“
انبیاء کرام علیہم السلام سے اگر گناہ سرزد ہو تو ان کی اتباع حرام ہوگی۔ جبکہ مندرجہ بالا آیت مبارکہ کی رو سے ان کی اتباع بالعموم اور سید الانبیاء ﷺ کی اتباع بالخصوص واجب ہے۔
اسوۂ نبوی امت کے لئے مثالی نمونہ ہے:
قرآن مجید میں ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (۱۸)
”بے شک تمہارے لیے رسول (ﷺ) کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“۔
حضور نبی اکرم ﷺ کو مندرجہ بالا آیت کریمہ میں مثالی نمونہ فرمایا گیا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں آپ ﷺ کی پیروی کی جائے اور نعوذ باللہ جس سے گناہ صادر ہو وہ کبھی Role Model نہیں بن سکتا۔ نمونہ وہی بن سکتا ہے‘ جو ہر وقت اطاعت الٰہی کرتا ہو۔
انبیاء کرام علیہم السلام من جانب اللہ مطاع ہیں:
مطاع حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے‘ اور اس نے اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کی بھی اطاعت کے لئے مثالی کردار بنا کر مبعوث فرمایا ہے اور ان کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔ ارشاد فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ ط (۱۹)
”اور ہم نے نہیں بھیجا کوئی رسول مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے“
انبیاء کرام علیہم السلام کی اطاعت اللہ تعالیٰ کے حکم سے واجب ہے اگر خدانخواستہ وہ بھی نعوذ باللہ معصوم نہ ہوں تو بھلا اللہ تعالیٰ کیسے ان کی اطاعت کا حکم دے سکتا ہے۔
انبیاء کرام علیہم السلام کی اطاعت دراصل اطاعت خدا ہے:
اللہ کریم نے ارشاد فرمایا:
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لا
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ
”اور جس نے رسول
درج بالا آیت کریمہ مح رہی ہوتی ہے‘ تو وہ مظہر ذات صفات الٰہیہ کے جلوے نظر آ۔
انبیاء کرام علیہم السلام کی ا ارشاد فرمایا:
وَمَنْ يَّعْصِ اللَّهَ وَ
”اور جس نے اللہ تعا
شریعت الٰہیہ کے مطابق
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا
نیز ارشاد فرمایا:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا
پھر ارشاد فرمایا:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا
مندرجہ بالا آیات مبارکہ فاسق، ظالم اور کافر کے القاب سـ انہیں وحی الٰہی کے ذریعے عطا ہوتـ اور لا تعلق ہیں۔ ان کی شخصیات مـ کے بارے میں ایسا وہم بھی ذہن
اللہ تعالیٰ اور رسولوں کی اطا
ارشاد فرمایا:
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيـ
”اور اللہ تعالیٰ اور اس ۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تـ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ
(۲۱)
”اور جس نے رسول کی اطاعت کی پس تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔“
درج بالا آیت کریمہ میں رسول کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت قرار دیا ہے گویا جب رسول کی اطاعت کی جا رہی ہوتی ہے تو وہ مظہر ذات باری تعالیٰ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ کا عکس جمیل ہوتا ہے اور اس کے کردار میں صفات الہیہ کے جلوے نظر آتے ہیں لہٰذا اس کی اطاعت دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہے۔
انبیاء کرام علیہم السلام کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے:
ارشاد فرمایا:
وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَآ اَبَدًا
(۲۱)
”اور جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی پس بے شک اس کے لئے جہنم کی آگ ہے۔“
شریعت الہیہ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے گنہگار ہیں:
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ
(۲۲)
نیز ارشاد فرمایا:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ
(۲۳)
پھر ارشاد فرمایا:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ
(٢٤)
مندرجہ بالا آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ وعمل نہ کرنے والے لوگوں کو اللہ جل مجدہ الکریم نے فاسق، ظالم اور کافر کے القاب سے یاد فرمایا ہے اور یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے وہی نظام نافذ کیا جو انہیں وحی الٰہی کے ذریعے عطا ہوا ہے۔ لہٰذا وہ سب محترم حضرات مندرجہ بالا تمام گروہوں اور طبقات سے بالکل الگ تھلگ اور لاتعلق ہیں۔ ان کی شخصیات اور ان کے کردار تمام انسانوں سے بلند و بالا اور اعلیٰ ہیں اور کوئی بھی صاحب ایمان شخص ان کے بارے میں ایسا وہم بھی ذہن میں نہیں لا سکتا۔
اللہ تعالیٰ اور رسولوں کی اطاعت فرض ہے:
ارشاد فرمایا:
وَاَطِیْعُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ...... الخ
(٢٥)
”اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔“
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ پھر رسولوں کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم مطلق
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 98 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اطاعت کا ہے۔ ہر وقت ہر جگہ ان کے حکم کو اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر سنا جائے اور مانا جائے۔ اگر نعوذ باللہ انبیاء کرام علیہم السلام کبھی عصیان کے مرتکب ہوتے تو ان کی اطاعت کا حکم دیتے ہوئے استثنائی صورتیں (Exceptions) ضرور ارشاد فرمائی جاتیں۔ لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ مطلق اتباع کا حکم ہے۔ جس سے ان حضرات کی بے گناہی اور ہمہ وقت معصومیت مترشح ہوتی ہے۔
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُوْلِ (٢٦)
”پس اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو پس اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو۔“
اس آیت مبارکہ میں اختلاف امت کی صورت میں ہر معاملہ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم و محتشم کی بارگاہ اقدس میں لے جانے کا حکم ہے۔ کیونکہ نبی و رسول کی بارگاہ سے جو بھی فیصلہ صادر ہوگا وہ وحی الٰہی کی روشنی میں احکامات الٰہیہ کی تنفیذ کا مظہر ہوگا۔ اگر انبیاء کرام علیہم السلام نعوذ باللہ معصوم نہ ہوتے، تو فیصلے کے لئے ان کے پاس معاملات کو بھیجنے کا کبھی حکم نہ دیا جاتا۔
انبیاء کرام علیہم السلام برگزیدہ ہستیاں ہیں:
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ (٢٧)
قرآن مجید میں نافرمان، منافق، فاسق اور کافر لوگوں کی مذمت فرمائی گئی ہے کہیں انہیں مستحق عذاب ٹھہرایا ہے کہیں اللہ تعالیٰ ان سے بیزاری کا اعلان فرماتا ہے اور کہیں عذاب دوزخ کی وعید سنائی گئی ہے۔ مگر مندرجہ بالا آیت مقدسہ میں اللہ کریم نے انبیاء کرام علیہم السلام کو من حیث المجموع اپنے چنے ہوئے بندے اور نیک ہستیاں قرار دیا ہے، جو ان کی معصومیت پر واضح اور روشن دلیل ہے۔
انبیاء کرام علیہم السلام فرشتوں سے افضل ہیں:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوْحًا وَآلَ إِبْرَاهِيْمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِيْنَ (٢٨)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم و نوح (علیہما السلام) آل ابراہیم و آل عمران کو تمام جہانوں پر بزرگی دی ہے۔“
درج بالا آیات کریمہ سے علامہ غلام رسول سعیدی استدلال کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
انبیاء کرام علیہم السلام فرشتوں سے افضل ہیں اور فرشتوں سے گناہ صادر نہیں ہوتے تو انبیاء کرام علیہم السلام سے بطریق اولیٰ گناہ صادر نہیں ہوں گے۔ فرشتوں سے ان کی افضلیت کی دلیل یہ ہے کہ فرشتے عالمین میں داخل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو تمام عالمین پر فضیلت عطا فرمائی ہے (۲۹)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ/اپریل 2011ء 99 تحفظ ناموس رسالت نمبر
عصمت خاصہ نبوت ہے:
اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو نبوت و رسالت کے لئے چنا ہے اور ان کا چناؤ علم الہی کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی نااہل کو کبھی نبی نہیں بنایا۔ اسی لیے ارشاد فرمایا ہے:
اللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسٰلَتَهٗ ط (۳۰)
”اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اسے رسالت کہاں عطا فرمانی ہے۔“
مندرجہ بالا آیت کریمہ سے پتہ چلا کہ نبی و رسول خود نہیں بنتے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور فضل و کرم سے عطا ہوتی ہے اور وہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسے اس منصب عالی کے لیے منتخب فرمانا ہے اور اس ہستی کی ولادت سے بعثت تک ایک ایک لمحے کی زندگی کی حفاظت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تاکہ وہ ہر لمحہ اس کی نبوت و رسالت کی تصدیق کا ثبوت بن سکے۔ ایک لمحے کے لئے بھی یہ حفاظت و نگرانی نہیں ہٹائی جاتی۔ اسی لیے ارشاد فرمایا ہے:
قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ (۳۱)
”اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔“
اس آیت مبارکہ سے پتہ چلا کہ ظلم کرنے والا کبھی بھی نبی و رسول نہیں بنا۔ انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں وہ کبھی بھی ظلم نہیں کرتے۔ نہ اپنے ساتھ، نہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور نہ ہی مخلوق کے ساتھ۔ وہ ہمیشہ جادۂ انصاف پر قائم و دائم رہتے ہیں۔
مندرجہ بالا آیات مقدسہ کے علاوہ بے شمار آیات قرآنیہ سے انبیاء کرام علیہم السلام کی معصومیت ثابت ہوتی ہے۔ بقدر ضرورت چند آیات مبارکہ ذکر کی گئی ہیں۔ تاکہ قرآن مجید کی روشنی میں عصمت انبیاء کرام علیہم السلام کی اہمیت و ضرورت کو اجاگر کیا جاسکے۔
عصمت انبیاء کرام علیہم السلام پر چند اعتراضات کے جوابات:
انبیاء کرام علیہم السلام کی معصومیت اور گناہوں سے پاک ہونا ایک اجماعی مسئلہ ہے۔ کیونکہ اسوۂ انبیاء کرام علیہم السلام کو انسانیت کے لئے مثال اور نمونۂ اطاعت قرار دیا گیا ہے اور مثال اسی چیز یا ہستی کی پیش کی جاتی ہے جو ہر عیب و گناہ سے پاک ہو۔ وہ خواہ کمالات کا عیب ہو یا ذات کا عیب ہو وہ اس سے بری اور منزہ و پاک ہو۔ ورنہ بطور نمونہ پیش کرنا غیر منطقی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے منزہ و مبرا ہے کہ وہ ان ذوات قدسیہ کو بطور مثال یا بطور نمونۂ عمل پیش فرماتے جن میں نعوذ باللہ کوئی کمی موجود ہو۔ ذیل میں انبیاء کرام علیہم السلام پر کئے گئے چند اعتراضات کا جواب دیا جارہا ہے۔ جس سے ان کی معصومیت ثابت ہورہی ہے اور ان کا دامن ہر عیب سے پاک ثابت ہوتا ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام پر اعتراض:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا:
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ (۳۲)
”پس آدم (علیہ السلام) سے اپنے رب کی حکم عدولی ہوگئی اور وہ بامراد نہ ہوا۔“
معترضین کہتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی معصیت کا ثبوت ہے۔ (۳۳)
جواب:
علماء محققین نے اس سلسلے میں درج ذیل جوابات دیئے ہیں:
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور ان کی زوجہ علیہما السلام کو ہر جنتی پھل کھانے کی اجازت دی تھی، لیکن جنت میں ایک معین درخت کے قریب تک جانے سے بھی ان دونوں کو منع کر دیا گیا تھا، ابلیس کے مسلسل وسوسہ اندازی کرنے اور پھسلانے کے باعث آخر کار اس درخت سے کھا بیٹھے، ابلیس نے انہیں فریب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس ہمیشگی کے درخت سے جو کھا لیتا ہے، اسے خلود مل جاتا ہے اور وہ ہمیشہ یہاں رہتا ہے۔ (۳۴)
قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ غویٰ کا معنی ہے: مطلوب و مقصود سے ہٹ جانا اور حق کی شاہراہ سے چوک جانا، اور بامراد نہ ہونا، کیونکہ انہوں نے درخت کا پھل ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے کھایا تھا۔ حالانکہ وہ اخراج جنت اور فنا کا سبب تھا۔ (۳۵)
مزید نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ابن قتیبہ کہتے ہیں کہ یہ کہنا تو جائز ہے کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی، لیکن آدم علیہ السلام کو عاصی (گنہگار) کہنا جائز نہیں، کیونکہ عاصی وہ ہوتا ہے، جو نافرمانی کے فعل کا عادی ہو۔ مثلاً جو شخص ایک دفعہ کپڑا سیئے اسے خائط (فلاں نے کپڑا سیا) کہتے ہیں۔ اسے خیاط نہیں کہتے، جب تک کہ کوئی شخص کپڑے سینے کا عادی نہ ہو۔ (۳۶)
پھر سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ کہا جائے کہ نسی سے مراد نسی العہد ہے، (یعنی آدم علیہ السلام عہد کو بھول گئے) تو پھر آپ علیہ السلام کے حق میں عَصٰی آدَمُ رَبَّہٗ کیوں فرمایا گیا؟ حالانکہ بھول کر کسی فعل کو کرنا معاف ہے اسے نافرمانی کیوں کہا گیا؟
اس کے جواب میں فرماتے ہیں: بھول پر مواخذہ و گرفت نہ ہونا امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ مختص ہے، جیسا کہ ارشاد ہے رفع عن امتی الخطا و النسیان و ما استکرھوا علیہ ۔ یہ امت کے بارے میں بطور خاص فرمایا ہے۔ ............ یہ آیت کریمہ خطا ونسیان پر مواخذے پر دلالت کرتی ہے اور یہ عقلاً ممتنع بھی نہیں ہے۔ کیونکہ گناہ زہر کی مانند ہیں، جس طرح جان بوجھ کر یا بھول کر زہر کھانا ہلاکت کا باعث بنتا ہے، اسی طرح گناہ بھی سزا کا موجب ہوتے ہیں، بشرطیکہ اللہ کریم معاف نہ فرمادے، اگرچہ وہ گناہ بغیر قصد اور ارادہ کے بھی ہو۔ (۳۷)
غویٰ کا معنی عمی عن المقصود ہے۔ یعنی جس مقصد کے لئے انہوں نے اس درخت کا پھل کھایا کہ ہمیشہ زندہ رہیں گے، وہ مطلوب حاصل نہ ہوا اور ابن الاعرابی نے کہا: غویٰ کا معنی ہے: فَسَدَ عَلَیْہِ عَیْشُہٗ ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا عیش و آرام خود خاک میں ملا دیا۔ راحت و آرام کی جگہ محنت و مشقت مقدر میں لکھ دی گئی۔ امام لغت اسماعیل بن حماد الجوہری لکھتے ہیں کہ غویٰ کا معنی صرف گمراہ ہونا نہیں، جس طرح ہم عام طور پر خیال کرتے ہیں، بلکہ اہل زبان اسے دو معنوں میں
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 101 تحفظ ناموس رسالت نمبر
استعمال کرتے ہیں۔ (۱) گمراہ ہونا (۲) حصولِ مقصد میں ناکام ہونا۔ الغی، الضلال و الخیبۃ ایضاً اس تحقیق کی روشنی میں ہم دوسرا معنی مراد لیں گے، کیونکہ یہاں یہی مناسب ہے۔
ضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ اس مقام پر ایک سوال اٹھاتے ہیں اور پھر جواب دیتے ہیں: آپؒ لکھتے ہیں کہ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آدمؑ نے بھول کر یہ کام کیا تھا، تو پھر ان کے متعلق عصیٰ اٰدَمُ کے الفاظ کیوں آئے۔ اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ حسنات الابرار سیئات المقربین نیک لوگوں کی نیکیاں بعض اوقات مقربین بارگاہ الٰہی کی سیئات شمار کی جاتی ہیں۔
مزید لکھتے ہیں کہ خطاء اور نسیان پر اگرچہ انسان سے مواخذہ نہیں ہوگا لیکن خواص کا معاملہ اور ہے۔ ان سے ترکِ اولیٰ پر بھی مواخذہ ہوتا ہے:
موئے در دیدہ بود کوہِ عظیم
(مولانا رومؒ)
حضرت آدمؑ نورِ قدیم کی آنکھ تھے اور آنکھ میں ایک بال بھی پڑ جائے تو وہ کوہِ عظیم ہوتا ہے۔ (۲۸)
مندرجہ بالا اعتراض نقل کرنے کے بعد علامہ غلام رسول سعیدی اس کا جواب یوں دیتے ہیں: اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت آدمؑ کی طرف ظاہراً اور صورۃً معصیت کا اسناد کیا گیا ہے کیونکہ حضرت آدمؑ نے بھول کر شجر ممنوعہ کھایا تھا اور گناہ تب ہوتا ہے جب قصد اور ارادہ سے عمداً معصیت کا ارتکاب کیا جائے۔ مثلاً اگر کوئی روزہ میں بھول کر کھا پی لے تو نہ گناہ ہے نہ اس سے روزہ ٹوٹتا ہے۔ ان کی بھول پر یہ آیت دلیل ہے:
وَلَقَدْ عَهِدْنَآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا (۳۹)
’’اور بے شک اس سے پہلے ہم نے آدم سے یہ عہد لیا تھا (کہ وہ اس درخت کے قریب نہ جائیں) تو وہ بھول گئے، اور ہم نے ان کا کوئی قصد نہیں پایا۔‘‘
مندرجہ بالا جواب دینے کے بعد علامہ سعیدی ایک اور اعتراض اٹھاتے ہیں، وہ لکھتے ہیں: قرآن پاک کی درج ذیل آیت دلالت کرتی ہے کہ آدمؑ نے بھول کر نہیں بلکہ قصد اور ارادہ سے شجر ممنوعہ کھایا تھا:
وَقَالَ مَا نَهٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ O وَقَاسَمَهُمَآ اِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَ O فَدَلّٰهُمَا بِغُرُوْرٍ ج فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا (٤١)
’’اور شیطان نے کہا (اے آدم و حوا) تمہارے رب نے اس درخت سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ کہیں تم فرشتہ نہ بن جاؤ یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہو جاؤ۔ اور ان سے قسم کھا کر کہا کہ بے شک میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ پھر شیطان نے انہیں (اپنی طرف) فریب سے جھکا لیا۔ تو جب انہوں نے اس
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء 102 تحفظ ناموس رسالت نمبر
درخت کو چکھا، تو ان کی شرم گاہیں ان کے لئے ظاہر ہوگئیں۔“
اعتراض کا جواب
علامہ غلام رسول سعیدی اس اعتراض کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں۔ اس آیت میں یہ مذکور نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے شیطان کے اس قول کی تصدیق کی اور اس کے بعد اس درخت سے کھایا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے اس قول کی تصدیق کیونکر متصور ہوسکتی ہے، اس کے بعد شجر ممنوعہ کھانا بڑا گناہ تھا، کیونکہ شیطان نے انہیں اللہ کی نافرمانی کا کہا تھا اور آدم علیہ السلام کو ابلیس کے بغض وحسد کا بھی علم تھا۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے یہ گمان کیا کہ یہ نہی تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے۔ سو اجتہاد سے شجر ممنوعہ کھا لیا۔ اجتہادی خطا گناہ نہیں بلکہ اس پر اجر ملتا ہے۔
(۴۲)
آدم کا توبہ واستغفار ان کی تواضع وانکسار ہے۔ زمین پر اتارنا سزا نہیں بلکہ مقصد تخلیق آدم کی تکمیل ہے یعنی خلافت ارضی، اس معرکہ میں شیطان کامیاب نہیں ہوا۔ کیونکہ آدم علیہ السلام اب دائمی قیام کے لئے جنت میں جائیں گے۔ پہلے اکیلے تھے اب بے شمار ذریت کے ساتھ جائیں گے اور شیطان جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جائے گا۔
(۴۳)
حضرت نوح علیہ السلام پر اعتراض
حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق یہ شبہ پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کہا تھا:
فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِى مِنْ اَهْلِى
(٤٤)
”پس نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب بیشک میرا بیٹا میرے اہل سے ہے۔“
تو اللہ جل مجدہ الکریم نے ارشاد فرمایا:
يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ج صلے اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ
(٤٥)
”اے نوح ! وہ آپ کے اہل سے نہیں، بے شک اس کے عمل برے ہیں۔“
جواب:
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں: اور یہ بیٹا ان میں شامل تھا، جن کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس فرمان اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تیرے اس اہل میں سے نہیں، جن کی نجات کا وعدہ میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے۔ اور یہی قول حق ہے۔ اس سے انحراف بہت بڑی غلطی ہے۔
(۴۶)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں کہ وہ آپ علیہ السلام کا بیٹا تھا، لیکن نیت اور اعمال میں آپ علیہ السلام کا مخالف تھا۔
(۴۷)
قاضی ثناء اللہ پانی پتی اس آیت کے تحت رقمطراز ہیں:
الشیخ ابو منصور ماتریدی فرماتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا منافق تھا، حضرت نوح علیہ السلام اس کے کفر کو پہچانتے نہ تھے، ورنہ حضرت نوح علیہ السلام کا قول اِنَّ ابْنِى مِنْ اَهْلِى درست نہ ہوگا اور آپ علیہ السلام کو پتہ ہوتا تو آپ سوال ہی نہ کرتے، کیونکہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مار
اس جیسے افراد کے متعلق سوال کرنے سے الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ “ آگاہ فرمایا کہ وہ آپ علیہ السلام کے اہل سے نـ نے کہا قَالَ سَآوِى اِلٰى جَبَلٍ یَّـ تھا۔
(۴۸)
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں نو ہونے سے پہلے کی تھی یا بعد؟ علماء سے مـ نہیں کیا کرتا تھا۔ دل میں نفاق تھا، آپ علیہ السلام تیرا بیٹا نہیں۔ اس کے دل میں کفر و نفاق تھا، لیکن غلبہ محبت کی وجہ سے خیال نہ ر کنعان کے ڈوب جانے کے بعد تھی، یـ ہوا ہے ) تو پھر اس کا مقصد یہ تھا کہ الٰہی جواب میں پہلے تو فرمایا کہ وہ تیرے اہل شخص کو نبوت کے پاک خاندان کا فرد
علامہ سعیدی اس اعتراض کے جواب مـ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تکذیب کے متعلق وعدہ کیا تھا، وہ اہل صالح کے
حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اعتراض
حضرت ابراہیم پر یہ اعتراض کـ سقیم۔
(۵۱)
اب ان اعتراض کے جوابات مجید میں ہے:
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَاٰ فَلَمَّا رَاَالْقَمَرَ بَازِغًا قَا الْقَوْمِ الضَّآلِّيْنَ O فَلـ قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّى بَرِىْءٌ مِّـ
ان آیات کے تحت علامہ ابن کثیر رحمہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 103 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس جیسے افراد کے متعلق سوال کرنے سے پہلے ہی منع کیا جا چکا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا إِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ “ بھی اسی بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ علیہ السلام کو اس کی حقیقت کا علم نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ آپ علیہ السلام کے اہل سے نہیں ہے۔ ابو منصورؒ کا یہ قول محل نظر ہے کیونکہ آپ علیہ السلام نے اسے بلایا تو اس نے کہا قَالَ سَآوِيْ إِلٰى جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَآءِ ۔ کا ارشاد الٰہی صراحۃً دلالت کر رہا ہے کہ وہ کفر کا اظہار کرتا تھا۔ (۴۸)
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ضیاء الامت پیرؒ تحریر فرماتے ہیں ”حضرت نوح علیہ السلام نے یہ التجا کنعان کے غرق ہونے سے پہلے کی تھی یا بعد؟ علماء سے دونوں قول مروی ہیں اگر پہلے ہو تو اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ کنعان کھلم کھلا کفر نہیں کیا کرتا تھا۔ دل میں نفاق تھا، آپ علیہ السلام نے اس کے ظاہری اسلام کے پیش نظر یہ گزارش کی۔۔۔۔۔۔ جواب دیا گیا کہ یہ تیرا بیٹا نہیں۔ اس کے دل میں کفر و نفاق ہے۔ اس کے اعمال برے ہیں۔ لہٰذا سفارش نہ کرو۔ بعض نے لکھا کہ وہ کھلا کافر تھا، لیکن غلبۂ محبت کی وجہ سے خیال نہ رہا اور یہ عرض کر بیٹھے۔ جس پر تنبیہ کی گئی اور اگر یہ کہا جائے کہ آپ علیہ السلام کی یہ ندا کنعان کے ڈوب جانے کے بعد تھی، (اور میرے نزدیک یہی راجح ہے۔ کیونکہ اس ندا کا ذکر وکان من المغرقین کے بعد ہوا ہے) تو پھر اس کا مقصد یہ تھا کہ الٰہی! کنعان کے غرق کیے جانے کی وجہ کیا ہے؟ حالانکہ وہ میرا بیٹا تھا؟ اس استفسار کے جواب میں پہلے تو فرمایا کہ وہ تیرے اہل سے ہے ہی نہیں۔ بعد میں اس کی وجہ بتائی۔ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۔ اور ایسے شخص کو نبوت کے پاک خاندان کا فرد شمار نہیں کیا جاسکتا۔ (۴۹)
علامہ سعیدی اس اعتراض کے جواب میں لکھتے ہیں:
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تکذیب نہیں ہے، بلکہ حضرت نوح علیہ السلام کو اس پر تنبیہہ کرنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان کے اہل کے متعلق وعدہ کیا تھا، وہ اہل صالح کے متعلق تھا۔ (۵۰)
حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اعتراض:
حضرت ابراہیمؑ پر یہ اعتراض ہے کہ انہوں نے تین بار خلاف حقیقت بات کی ۔ھذا ربی۔ بل فعلہ کبیرھم۔ انی سقیم۔ (۵۱)
اب ان اعتراضات کے جوابات مفسرین کرامؒ و محدثین کرامؒ کی آراء کی روشنی میں بیان کیے جاتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں ہے:
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَا كَوْكَبًا ج قَالَ هٰذَا رَبِّيْ ج فَلَمَّا اَفَلَ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ O فَلَمَّا رَا الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّيْ ج فَلَمَّا اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ يَهْدِنِيْ رَبِّيْ لَاَ كُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّيْنَ O فَلَمَّا رَا الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّيْ هٰذَآ اَكْبَرُ ج فَلَمَّا اَفَلَتْ قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّيْ بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ O
ان آیات کے تحت علامہ ابن کثیرؒ رقمطراز ہیں:
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قال اللہ تعالٰی انی خلقت عبادی حنفاء۔
پھر فرمایا: فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم ٣٠)
اور پھر فرمایا: وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْ آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ ج اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ط قَالُوْا بَلٰی (الاعراف: ۱۷۲)
جب تمام مخلوق کے بارے میں یہ ثابت ہے کہ ان کی فطرت میں خدا پرستی اور اعتراف عبودیت کی صفت رکھ دی گئی ہے۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ توحید باری تعالٰی اور خدا شناسی کے معاملہ میں متردد تھے، حالانکہ آپ علیہ السلام اللہ کے اطاعت گزار، مخلص، اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے، اور مشرک نہیں تھے، بلکہ آپ علیہ السلام تو رسول اللہ ﷺ کے بعد بغیر کسی شک وشبہ کے تمام لوگوں سے زیادہ فطرتِ سلیمہ کے مالک تھے، آپ علیہ السلام اپنی قوم کے مقابلے میں مناظر تھے نہ کہ ناظر۔ (۵۳) اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے:
قَالَ أَتُحَاجُّوْنِّيْ فِي اللّٰهِ وَقَدْ هَدَانِ (انعام: ۸۰)
حضرت ابراہیم علیہ السلام جب قوت نظریہ میں کمال درجے پر فائز تھے۔ تو ان سے ایک استدلال کی تکمیل کے بعد کسی اور استدلال کی ضرورت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ فَلَمَّا اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ يَهْدِنِيْ رَبِّيْ لَاَ كُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّيْنَ یہ بات آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی نعمت کا شکر بجالانے کے لئے کہی۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ کی عنایت نہ ہوتی تو نہ ہم ہدایت پاتے، نہ صدقہ کرتے اور نہ ہی نماز پڑھتے۔ اس میں آپ علیہ السلام کی قوم کے لئے راہنمائی ہے اور اس امر پر انہیں تنبیہہ ہے کہ جب چاند کی حالت بدلتی رہتی ہے، تو وہ اس قابل نہیں کہ وہ الٰہ بن سکے، جس نے چاند کو الٰہ بنالیا ہے وہ گمراہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے غروب ہونے سے استدلال کیا ہے، حالانکہ طلوع وغروب دونوں میں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف انتقال ہوتا ہے۔ کیونکہ غروب سے استدلال کرنا زیادہ ظاہر ہے، کیونکہ اس میں انتقال ادنیٰ حالت کی طرف ہوتا ہے۔ (۵۴)
مزید لکھتے ہیں:
سورج ستاروں سے بڑا ہے، آپ علیہ السلام نے استدلال اور مشرکوں کے شبہ کو ظاہر کرنے کے لئے اسے اکبر کہا، جب وہ بھی غروب ہوگیا، تو آپ علیہ السلام نے تمام باطل خداؤں سے براءت کا اظہار کردیا، کیونکہ جب یہ واضح ہوگیا کہ ستارے، چاند اور سورج اجرام علوی، عظیم اور روشن ہونے کے باوجود الٰہ نہیں بن سکتے، کیونکہ وہ نئے نئے تغیرات کا محل ہیں................اتمام حجت کے بعد اپنی براءت کا اظہار، واضح دلیل ہے کہ آپ علیہ السلام کی طرف سے یہ کلام محض مد مقابل کو چپ کرانے کے لئے تھا، اس تحقیق کی طلب کے لئے نہ تھا، جو آپ علیہ السلام کو پہلے حاصل نہ تھی۔ (۵۵)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور
ان آیات کی تفسیر میں ضیاء الامت پیر اصل میں اھذا ربی ا وقت عرفان توحید حاصل نہ تھا، اس بـ نبوت سے پہلے بھی کفر و شرک سے پا لئن لم یھدنی ربی اگر میرا ر بچ سکتا اس سے یہ وضاحت ہو جاتی اگر معترض کی بات تسلیم کی جائے تو نے حیرت کا اظہار نہیں کیا، بلکہ فوراً ا
حضرت ابراہیم علیہ السلام پر دوسرا ا
اللہ نے ارشاد فرمایا ہے: قَالُوْا ءَ اَنْتَ فَعَلْـ فَسْئَلُوْهُمْ إِنْ كَانُوْا ”(ابراہیم علیہ السلام کے ہم قوم ابراہیم علیہ السلام بولے کہ ان بـ
جواب:
علامہ ابن کثیر تحریر کرتے ہیں: آپ علیہ السلام کے اس فرمان ۔ یہ بت بولنے کی صلاحیت نہیں ر امکان ہی نہیں۔ (۵۸) قاضی ثناء اللہ پانی پتی لکھتے ہیں: یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام اس فعل کا سبب ان کا بڑا بت تھا خاموش کرنے اور بڑے بت کا ع ان کے اعتقاد کے لزوم کے مطا جائے (۵۹) حضرت ضیاء الامت پیر لکھتے ہیں
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 105 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ان آیات کی تفسیر میں ضیاء الامت ؒ رقمطراز ہیں: اصل میں اھذا ربی استفہام انکاری ہے۔ یعنی کیا یہ میرا رب ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ خیال کرنا کہ آپ ﷺ کو اس وقت عرفان توحید حاصل نہ تھا، اس لیے وہ ایک ٹمٹماتے ہوئے تارے کو اپنا رب سمجھنے لگے، سخت غلطی ہے۔ پیغمبر کا دامن نبوت سے پہلے بھی کفر و شرک سے پاک ہوتا ہے۔ چاند کے متعلق بھی آپ ﷺ نے یہی فرمایا تھا، جب وہ ڈوب گیا، تو فرمایا لئن لم یھدنی ربی اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ فرماتا تو جس گمراہی میں میری ساری قوم گرفتار تھی، میں بھی اس سے نہ بچ سکتا اس سے یہ وضاحت ہو جاتی ہے کہ آپ ﷺ کا دل ربی (میرا رب) کے یقین سے اور ایمان سے منور اور روشن تھا، اگر معترض کی بات تسلیم کی جائے تو چاند ستارہ اور سورج کے ڈوبنے پر آپ ﷺ کو حیرت ظاہر کرنی چاہیے تھی۔ مگر آپ ﷺ نے حیرت کا اظہار نہیں کیا، بلکہ فوراً فرمایا لَئِنْ لَّمْ يَهْدِنِيْ رَبِّي ۔ (۵۶)
حضرت ابراہیم علیہ السلام پر دوسرا اعتراض
اللہ نے ارشاد فرمایا ہے: قَالُوْا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا يٰٓاِبْرٰهِيْمُ O قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ صلے كَبِيْرُهُمْ هٰذَا فَسْـَٔلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ O (۵۷) ”(ابراہیم ؑ کے ہم قوم) لوگ بولے کہ (اے ابراہیم!) کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے؟ ابراہیم ؑ بولے کہ ان کے بڑے (بت) نے یہ کیا ہے۔ ان سے پوچھو اگر یہ بولتے ہیں۔“
جواب: علامہ ابن کثیر تحریر کرتے ہیں: آپ ؑ کے اس فرمان سے مقصود یہ تھا کہ وہ لوگ خواب غفلت سے بیدار ہو کر غور و فکر کریں اور اعتراف کر لیں کہ یہ بت بولنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس لیے بے جان ہونے کے ناطے اس بڑے بت سے یہ حرکت ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں۔ (۵۸)
قاضی ثناء اللہ پانی پتی لکھتے ہیں: یہاں حضرت ابراہیم ؑ نے فعل کی نسبت ان کے بڑے بت کی طرف کی ہے، تو اس کی تین وجوہ ہیں: ایک یہ کہ اس فعل کا سبب ان کا بڑا بت تھا، لہٰذا اس کی طرف نسبت کر دی، دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ ؑ نے تعریضی اسلوب پر انہیں خاموش کرنے اور بڑے بت کا مذاق اڑانے کے ساتھ اپنے فعل کا ثبوت دیا ہے۔۔۔۔۔ یا تیسری وجہ یہ ہے کہ آپ ؑ نے ان کے اعتقاد کے لزوم کے مطابق کہا ہے کہ بڑے بت کو غصہ آتا ہے کہ میرے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے (۵۹)
حضرت ضیاء الامت ؒ لکھتے ہیں:
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 106 تحفظ ناموس رسالت نمبر
آپ ﷺ نے فرمایا نادانو! مجھ سے کیا پوچھتے ہو اپنے خداؤں سے پوچھو، کس نے ان کا یہ حشر کیا اور یہ صنم اکبر جس کے سامنے مٹھائیوں کے انبار لگے ہوئے ہیں اور جس کے کندھے پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے، یہ تو صاف بتا رہا ہے کہ اس نے چھوٹے خداؤں سے ناراض ہو کر ان کا ستیاناس کر ڈالا۔ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو، ان سے پوچھو اگر یہ بولنے کی سکت رکھتے ہوں، بتوں کی اس توہین سے ہی وہ بڑے پریشان تھے۔ آپ ﷺ کے اس الزام نے ان کے ہوش اڑا دیئے، بھنا کر رہ گئے، بے حس وحرکت گویا جسم میں جان نہیں، کاٹو تو خون نہیں۔ (۶۰)
علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں: یہ بطور تعریض اور استہزاء فرمایا تا کہ کفار خود اعتراف کریں کہ یہ بذات تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتا۔ یہ ان بتوں کو کیسے توڑ سکتا ہے۔ (۶۱)
تیسرا اعتراض:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَنَظَرَ نَظْرَةً فِى النُّجُومِ o فَقَالَ إِنِّى سَقِيْمٌ (۶۲) ”پھر آپ نے ایک نگاہ ستاروں کو دیکھا، پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں۔“
جواب:
اس آیت کے حوالے سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ بیمار نہ تھے اور آپ ﷺ نے ظاہر یہ کیا کہ آپ ﷺ بیمار ہیں۔
اس کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں: آپ ﷺ نے اپنی قوم کو یہ اس لیے فرمایا تا کہ جب وہ اپنے میلے میں چلے جائیں تو آپ ﷺ شہر میں اکیلے رہ جائیں۔ میلے میں ان کے جانے کا وقت قریب آچکا تھا تو آپ ﷺ نے چاہا کہ علیحدگی میں ان کے بتوں کو توڑ دیں۔ آپ ﷺ نے ایسی گفتگو فرمائی جو فی الحقیقت سچ تھی، لیکن وہ اپنے عقیدہ کے مطابق سچ مچ آپ ﷺ کو بیمار سمجھ بیٹھے۔
مزید لکھتے ہیں: ”قتادہ ؒ کہتے ہیں کہ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے، اہل عرب اسے کہتے ہیں فَنَظَرَ نَظْرَةً فِى النُّجُومِ ۔ پھر انہیں ٹالنے کے لئے فرمایا اِنِّی سَقِیمٌ میں ضعیف ہوں...... دراصل یہ کذب حقیقی نہیں کہ اس کے قائل کو برا سمجھا جائے۔ بلکہ اسے مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے۔ شرعی مقصد کے حصول کے لئے یہ تعریض ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ تعریض سے جھوٹ سے بچنے کی گنجائش ہے۔ (۶۳)
علامہ ثناء اللہ رقمطراز ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کی قوم علم نجوم کا سہارا لیتی تھی، تو آپ ﷺ نے ان
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 107 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کے انداز میں یہ معاملہ اختیار فرمایا تا کہ وہ میری بات کا رد اور انکار نہ کرسکیں۔.....عید کے موقع پر انہوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ ہمارے ساتھ آئیں تو آپ ﷺ نے یہ جواب دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ بھی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں مطعون (طاعون کا مریض) ہوں اور وہ لوگ اس مرض سے دور بھاگتے تھے۔ (۶۴)
ان آیات کے بارے میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چاند سورج وغیرہ کو ھذا ربی کہنا بہ تقدیر فرض تھا، جیسے کسی چیز پر بطلان کا حکم لگانے کے لئے اس کو فرض کیا جاتا ہے۔ یا یہاں استفہام اھذا ربی؟ محذوف ہے۔ اور بڑے بت کے بارے میں فرمایا بل فعلہ کبیرھم خود بتوں کو توڑ کر فرمایا۔ یہ بطور تعریض اور استہزاء فرمایا تا کہ کفار خود اعتراف کریں کہ یہ بڑا بت تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتا۔ یہ انہیں کیسے توڑ سکتا ہے؟ اور اِنِّیْ سَقِیْمٌ سے مراد یہ تھی کہ میں قوم کی بت پرستی کی وجہ سے غم وغصہ میں مبتلا ہوں۔ (۶۵)
حضرت ابراہیم پر ایک اور اعتراض:
حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زوجہ محترمہ کو بہن کہا۔ نعوذ باللہ من ذالک حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے تین مرتبہ کذب کا صدور ہوا۔ دو مرتبہ ذات الہی کی خاطر جب فرمایا بل فعلہ کبیرھم اور فرمایا انی سقیم اور تیسری مرتبہ جب آپ ﷺ حضرت سارہ علیہا السلام کے ساتھ سفر میں تھے۔ ایک جگہ قیام کیا تو وہاں کے ظالم بادشاہ کو اطلاع دی گئی کہ تمہاری سلطنت میں ایک شخص ایک نہایت خوبصورت عورت کے ساتھ آیا ہے۔ بادشاہ نے آپ ﷺ کو بلا لیا۔ اور پوچھا کہ یہ عورت تمہاری کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا میری بہن ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ جاؤ اسے میرے پاس بھیج دو۔ آپ ﷺ نے آ کر حضرت سارہ علیہا السلام سے کہا کہ بادشاہ نے تمہارے بارے میں مجھ سے پوچھا تھا تو میں نے کہا تم میری بہن ہو، کیونکہ تم دینی لحاظ سے میری بہن ہو اور تمہارے اور میرے سوا روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں۔ لہٰذا تم بھی یہی کہنا۔ حضرت سارہ علیہا السلام کو بھیج کر خود نماز میں مشغول ہوگئے۔ آپ ﷺ جب بادشاہ کے پاس گئیں تو اس بدبخت نے دست درازی کی کوشش کی۔ لیکن اس کے ہاتھ پاؤں شل ہوگئے، اس پر اس نے کہا کہ آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں میں ٹھیک ہو جاؤں آئندہ ایسا نہ کروں گا۔ حضرت سارہ علیہا السلام نے دعا کی تو وہ ٹھیک ہوگیا، پھر بدتمیزی کرنے لگا اور وہی ہوا جو پہلے ہوا تھا ایسا تین دفعہ ہوا۔ جب تیسری دفعہ ٹھیک ہوا تو دربان کو بلا کر کہا کہ اس عورت کو یہاں سے نکال دو اور اسے ہاجر عطا کردو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب آپ کی آہٹ سنی تو نماز سے فراغت پاتے ہی پوچھا کیا معاملہ رہا۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فاجر کافر کے مکر کو نا کام بنا دیا ہے اور اس نے میری خدمت کے لئے ہاجر مجھے دی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہی تمہاری ماں ہیں اے خالص نسب والو۔ (ملخصا)
حدیث میں مجازاً ان باتوں کو جھوٹ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ ظاہر اور صورتاً یہ باتیں کذب کے مشابہہ تھیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ، اپریل 2011ء 108 تحفظ ناموس رسالت نمبر
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے برائی کی سزا کو مجازاً برائی سے تعبیر فرمایا ہے۔
فرمایا ہے جزاء سیئۃ مثلھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صراحتاً فرمایا کہ تو میری اسلامی بہن ہے گویا آپ علیہ السلام نے تعریض فرمائی جھوٹ کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام کی شان اس سے بہت بلند و بالا ہے۔ (۶۶)
درج بالا سطور میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر قرآن مجید کی آیات مبارکہ اور ایک حدیث مبارکہ کی رو سے جو اعتراضات کئے جاتے ہیں۔ دراصل وہ اعتراض بے بنیاد اور غیر منطقی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا نہ ہی خلاف حقیقت کوئی بات کی۔ یہ اور بات ہے کہ آپ علیہ السلام کا کلام سامعین کو سمجھ نہ آسکے۔ فاضل مفسرین کرام نے کس نفیس انداز میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مندرجہ بالا اقوال کی تشریح وتوضیح کر کے حقیقت حال واضح کر دی ہے اور ان اعتراضات کے بے مقصد اور مہمل ثابت کر دیا ہے۔ بلکہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تینوں کلمات کے بارے میں ارشاد فرمایا: ان میں سے ایک کلمہ بھی ایسا نہیں ہے کہ جس سے حکمت کے ساتھ اللہ کے دین کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ (۶۷)
مندرجہ بالا حدیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمیشہ اور ہر وقت اللہ کے دین کی بھلائی مدنظر رکھی۔ کبھی بھی ذاتی غرض کے لئے کوئی کلام نہ کیا۔ اس ارشاد پاک سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عصمت بالکل واضح طور پر ثابت ہو جاتی ہے اور مزید کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی نہ ہی کسی معترض کے اعتراض کی کوئی حیثیت رہ جاتی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اعتراض:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قبطی کو ایک گھونسہ مارا جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔
فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْهِ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ ط اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيْنٌ (۱۵) قَالَ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِىْ فَاغْفِرْ لِىْ فَغَفَرَ لَهٗ ط اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ (۶۸)
”موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے مکا مارا تو اس پر موت آگئی (اس کے بعد کہا) یہ کام شیطان کی طرف سے سرزد ہوا ہے۔ بے شک وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اے میرے رب بے شک میں نے اپنی جان پر زیادتی کی۔ تو مجھے معاف فرمادے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔“
علامہ ابن کثیر اس واقعہ کو مختصراً یوں ذکر کرتے ہیں:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام اس وقت شہر میں داخل ہوئے جب لوگ گہری نیند سو رہے تھے۔ یعنی مغرب وعشاء کے درمیان یا دوپہر کے وقت آپ علیہ السلام نے دو آدمیوں کو لڑتے جھگڑتے دیکھا۔ ایک اسرائیلی اور دوسرا قبطی تھا، اسرائیلی نے آپ علیہ السلام سے مدد مانگی، آپ علیہ السلام نے قبطی کو ایسا گھونسہ رسید کیا کہ اس کا کام تمام کر دیا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس پر پریشان ہو کر آپ علیہ السلام کہنے لگے هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ۔ پھر اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کی۔
(۶۹)
قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ لکھتے ہیں:
یہ آپ علیہ السلام نے اس وقت کیا‘ جب آپ علیہ السلام کو کفار کے قتل کا حکم نہیں دیا گیا تھا‘ یا اس لیے کہ آپ علیہ السلام ان میں محفوظ و مامون تھے اور آپ علیہ السلام کی طرف سے ایسا عمل درست نہیں تھا‘ لیکن اس کے باوجود آپ علیہ السلام کی عصمتِ نبوت کے منافی نہیں‘ کیونکہ یہ قتل خطا ہوا تھا‘ آپ علیہ السلام نے اسے شیطانی عمل قرار دیا‘ اور ظلم کہا اور اس سے استغفار بھی کیا‘ جیسا کہ مقربین کی عادت ہوتی ہے کہ اگر کوئی حقیر سی غلطی بھی ان سے سرزد ہو جائے تو اسے بڑا سمجھ کر استغفار کرتے ہیں۔
(۷۰)
صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس سلسلے میں رقمطراز ہیں:
آپ علیہ السلام کا ارادہ قبطی کو قتل کرنے کا نہ تھا‘ اور یہ کلام موسیٰ علیہ السلام سے بطور تواضع ہے‘ کیونکہ آپ علیہ السلام سے کوئی معصیت سرزد نہیں ہوئی اور انبیاء معصوم ہیں‘ ان سے گناہ نہیں ہوتے‘ قبطی کا مارنا آپ علیہ السلام کا دفعِ ظلم اور امدادِ مظلوم تھی‘ یہ کسی ملت میں بھی گناہ نہیں‘ پھر بھی اپنی طرف تقصیر کی نسبت کرنا اور استغفار چاہنا یہ مقربین کا دستور ہی ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس میں تاخیر اولیٰ تھی‘ اس لیے سیدنا موسیٰ ؑ نے ترکِ اولیٰ کو زیادتی فرمایا اور اس پر حق تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔
(۷۱)
ان آیات کے تحت ضیاء الامت لکھتے ہیں:
اچانک جب یہ حادثہ رونما ہوا تو یقیناً آپ علیہ السلام کو روحانی اذیت بھی ہوئی ہوگی کہ ناحق ایک جان تلف ہو گئی‘ پھر یہ خدشہ بھی پیدا ہو گیا کہ فرعون پہلے ہی درپے آزار ہے‘ اس واقعہ کے علم کے بعد وہ مجھے جیتا نہ چھوڑے گا‘ چنانچہ جذبات و افکار کی کشمکش میں یہ فقرہ (هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ) آپ علیہ السلام کی زبان سے نکلا ہوگا۔ اس قتل میں اگرچہ آپ علیہ السلام کے ارادہ و قصد کو کوئی دخل نہ تھا‘ بہرحال ایک جان تو تلف ہو گئی تھی‘ اس لیے بارگاہِ الہٰی میں بخشش و مغفرت کی التجا کرنے لگے۔ مغفرت کا معنیٰ ڈھانپنا ہے۔ ممکن ہے یہ بھی پیشِ نظر ہو کہ الہٰی پردہ پوشی فرما دے اور دشمنوں کو پتہ نہ چلے‘ چنانچہ اس غفور و رحیم نے قبول فرمایا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔
(۷۲)
قرآن مجید میں عصمتِ انبیاء کا تصور:
اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد پیر محمد کرم شاہ صاحب الازہریؒ عصمتِ انبیاء کرام علیہم السلام کے تصور کو قرآن مجید اور بائبل کی روشنی میں بیان کرتے ہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن مجید عصمتِ انبیاء کرام علیہم السلام کا صحیح علمبردار ہے‘ جبکہ موجودہ تورات اس سے یکسر عاری ہے۔ درج ذیل سطور میں پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق ملاحظہ کیجئے:
قرآن کریم نے اس واقعہ کو جس طرح بیان کیا ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ قتل بلا ارادہ ہوا۔ لیکن موسیٰ علیہ السلام کے امتیوں (یہودیوں) نے جس طرح بائبل میں اس واقعہ کو لکھا ہے وہ بھی سن لیجئے:
اتنے میں موسیٰ ؑ جب بڑا ہوا تو اپنے بھائیوں کے پاس گیا اور ان کی مشقتوں پر اس کی نظر پڑی‘ اور اس نے دیکھا کہ ایک مصری اس کے عبرانی بھائی کو مار رہا ہے۔ پھر اس نے ادھر ادھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اس مصری کو جان سے مار کر ریت میں چھپا دیا۔ (خروج: ۲: ۱۱‘۱۲)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
قرآن کریم کا یہ کتنا احسان ہے کہ اس نے انبیاء کرام کے دامن پر لگے ہوئے سارے داغوں کو دھو کر صاف کر دیا۔ خواہ وہ داغ ان کے دشمنوں نے دانستہ لگائے تھے خواہ ان کے نادان دوستوں نے کرم فرمائی کی تھی۔ (۷۳)
علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں: آپ ؑ نے قبطی کو ارادہ قتل سے گھونسا نہیں مارا تھا، بلکہ تادیباً مارا تھا اور وہ قضاء الہی سے ہلاک ہو گیا۔ یہ فعل آپ ؑ کا گناہ نہیں تھا اللہ سے معافی چاہنا اور اللہ سے استغفار کرنا ازراہ تواضع تھا۔ آپ ؑ نے جو تورات کی الواح گرا دی تھیں، تو وہ شدت غضب اور دہشت کی وجہ سے آپ ؑ کے ہاتھوں سے ساقط ہو گئیں اور حضرت ہارون ؑ کو سر پکڑ کر کھینچنا ان کو ایذاء پہنچانے کے قصد سے نہیں کیا تھا بلکہ وہ انہیں قریب کرنا چاہتے تھے۔ ان میں سے کوئی کام بھی گناہ نہیں تھا۔
(۷۴)
حضرت داؤد ؑ پر اعتراض:
حضرت سیدنا داؤد ؑ اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان پیغمبر ہیں۔ طاعنین نے بعض پہلوؤں سے آپ پر بھی اعتراض کیا ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
وَهَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ م اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ .................... وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَخَرَّ رَاكِعًا وَّاَنَابَ O فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ ط وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَحُسْنَ مَآبٍ O (۷۵)
’’کیا آپ کے پاس جھگڑنے والوں کی خبر آئی ........... اور اس وقت داؤد نے گمان کیا کہ ہم نے ان کی آزمائش کی ہے، تو انہوں نے فوراً اپنے ربّ سے استغفار کیا اور سجدہ میں گر گئے تو ہم نے انہیں معاف کر دیا اور ہماری بارگاہ میں ضرور ان کے لیے قربِ خاص اور بہترین ٹھکانا ہے۔‘‘
معترضین کہتے ہیں کہ حضرت داؤد ؑ نے کس آزمائش کا گمان کیا تھا اور کس چیز پر استغفار کیا؟ (۷۶)
جواب:
ان آیات مبارکہ کے ضمن میں علامہ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں:
مفسرین کرام ؒ نے یہاں ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے اس کا اکثر حصہ بنی اسرائیل کی روایتوں سے لیا گیا ہے۔ اس میں کوئی بات بھی نبی معصوم سے ثابت نہیں۔ جس کی اتباع کرنا لازمی ہو، لیکن ابن ابی حاتم ؒ نے یہاں ایک حدیث نقل کی ہے، جس کی سند صحیح نہیں، کیونکہ اس کے ایک راوی یزید رقاشی ہیں، جو اگرچہ صالحین میں سے ہیں، لیکن ائمہ کے نزدیک ضعیف الحدیث ہیں، لہٰذا اولیٰ یہ ہے کہ اس قصہ کی تلاوت پر اکتفاء کیا جائے اور اس کا علم صرف اللہ کی طرف لوٹایا جائے بلاشبہ قرآن حق ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی حق ہے۔ (۷۷)
حضور ضیاء الامت ؒ لکھتے ہیں کہ امام رازی ؒ نے اس قصہ کی خوب تحقیق کی ہے اور پھر لکھا ہے:
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
وَ الَّذِیْ أَدِیْنُ بِهِ وَ اَذْهَبَ اِلَیْهِ اِنَّ ذٰلِكَ بَاطِلٌ۔
میرا عقیدہ اور میری تحقیق یہ ہے کہ یہ واقعہ سراسر باطل اور لغو ہے۔ پھر اس کے بطلان کے متعلق کئی دلیلیں پیش کر کے آخر میں لکھتے ہیں:
آیات کا سیاق و سباق دونوں اس قصہ کی پرزور تردید کرتے ہیں اور اسے سراپا لغو اور بیہودہ قرار دیتے ہیں۔
(۷۸)
اس کے بعد علامہ ابو حیان سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
ہمارا پختہ یقین ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام گناہ اور خطا سے معصوم ہوتے ہیں۔ ان سے ایسے امور قطعاً سرزد نہیں ہو سکتے۔ اگر ایسا ہوتا تو شرعی احکام پر اعتماد نہ رہتا اور فرمودات انبیاء کرام سے اعتبار اٹھ جاتا‘ قصہ گو لوگوں نے منصب نبوت کے منافی جو کہانیاں گھڑی ہیں۔ ہم انہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا کرتے ہیں۔
(۷۹)
محقق دوران علامہ سعیدی لکھتے ہیں:
علامہ ابو الحیان اندلسی نے جو کچھ بیان کیا ہے وہی ان آیات کا صحیح محمل ہے۔
(۸۰)
حضرت سلیمان علیہ السلام پر اعتراض:
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُ o فَقَالَ إِنِّيْ أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّيْ ج حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ o رُدُّوْهَا عَلَيَّ ج فَطَفِقَ مَسْحًا م بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ
(۸۱)
پچھلے پہر سلیمان علیہ السلام کو نہایت اصیل تیز رفتار گھوڑے پیش کئے گئے تو انہوں نے کہا میں نے اس مال کی محبت محض اپنے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنیکی وجہ سے پسند کی (پھر ان گھوڑوں کو دوڑایا) حتیٰ کہ وہ گھوڑے پس پردہ چھپ گئے (اور پھر فرمایا) انہیں واپس لاؤ‘ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
اس آیت کے تحت یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام گھوڑوں کے معائنہ میں اس قدر مشغول رہے کہ آپ علیہ السلام کی عصر کی نماز جاتی رہی اور سورج غروب ہو گیا۔
(۸۲)
علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے تحریر کرتے ہیں۔ اس پر انہیں ملال ہوا اور گھوڑوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔
اسلاف اور مفسرین میں سے کثیر علماء کی رائے یہ ہے کہ آپ علیہ السلام گھوڑوں کو ملاحظہ فرمانے میں مشغول رہے۔ یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ختم ہو گیا‘ قطعی اور یقینی بات یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے دانستہ طور پر نمازِ عصر ترک نہیں کی تھی‘ بلکہ آپ علیہ السلام بھول گئے تھے۔
(۸۳)
علامہ سعیدی لکھتے ہیں کہ حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ روایت اوسط میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے‘ اس کی سند میں سعید بن بشیر ہے جسے ابن معین وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔
(۸۴)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 112 تحفظ ناموس رسالت نمبر
علامہ سعیدی مزید لکھتے ہیں:
یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ قرآن مجید میں سورج چھپنے کا ذکر ہے نہ گھوڑوں کو قتل کرنے کا، حتیٰ توارت بالحجاب کا معنی یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے گھوڑوں کو دوڑانے کا حکم دیا حتیٰ کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے، پھر انہیں واپس بلایا اور محبت سے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے فطفق مسحا کا معنی تلوار سے قتل کرنا نہیں ہے، ہرچند کہ آلات جہاد میں اشتغال کی وجہ بلا قصد نماز کا قضا ہو جانا گناہ نہیں ہے۔ لیکن یہ ثابت نہیں ہے اور گھوڑوں کو قتل کرنا ضیاع مال ہے جو مقام نبوت سے بعید ہے۔ آپ علیہ السلام کا پیار سے ان پر ہاتھ پھیرنا اس لئے تھا کہ وہ آلہ جہاد ہیں۔ ورنہ آپ علیہ السلام ان سے محبت نہ کرتے۔ (۸۵) حضرت سلیمان علیہ السلام پر دوسرا اعتراض اس آیت مبارکہ کے تحت کیا جاتا ہے۔
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَاَلْقَیْنَا عَلٰی کُرْسِیِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ (۸۶)
”اور بے شک ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ہم نے ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا پھر انہوں نے ہماری طرف رجوع کیا۔“
پھر ارشاد فرمایا:
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَہَبْ لِیْ مُلْکًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ ۢ بَعْدِیْ ۚ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ (۸۷)
یعنی جب آپ معصوم تھے تو استغفار کیا؟
اس کے جواب میں قاضی ثناء اللہ ؒ تحریر کرتے ہیں:
انبیاء کرام علیہم السلام اور صالحین کی سنت و عادت کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام نے بادشاہت کے سوال سے پہلے استغفار کیا۔ (۸۸)
مزید لکھتے ہیں:
اس آیت کے سیاق سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی ابتلاء و آزمائش دنیا و آخرت میں انہیں بلند درجات عطا کرنے کے لئے تھی، آپ علیہ السلام سے نہ کوئی لغزش اور نہ ہی گناہ سرزد ہوا تھا۔ اگر کوئی گناہ سرزد ہوا ہوتا، تو توبہ و استغفار اور شرمندگی کے اظہار میں وہ انتہائی مبالغہ کرتے اور توبہ و مغفرت کے سوا کسی چیز کا سوال نہ کرتے اور ارشاد الٰہی بھی یوں ہوتا: فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِکَ (۸۹)
حضور ضیاء الامت ؒ تحریر فرماتے ہیں۔ یہاں بھی علمائے یہود اور تاریخ بنی اسرائیل کی سند سے ایسی چیزیں نقل کردی گئیں جن کی تردید کرنیکی نیت سے بھی نقل کرنا طبع سلیم کو گوارا نہیں۔ جنہیں شان نبوت اور مقام سلیمانی کا ادنیٰ سا بھی علم ہے وہ ان خرافات کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ علامہ ابن حیان کہتے ہیں یہ روایت یہودیوں اور زندیقوں کی وضع کردہ ہے۔ ابن کثیر، رازی، آلوسی وغیرہم مفسرین نے ان کی تردید کی ہے۔ (۹۰)
علامہ سعیدی تحریر کرتے ہیں:
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور
شیطان کے لئے کسی نبی کی صو ہے اور اگر یہ ممکن ہو تو کسی نبی کی رسا مظہرات پر بھی اس کا معاملہ ملتبس ہو
حضرت یونس علیہ السلام پر ا
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ا وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُ
”اور ذوالنون (حضرت ی کہ ہم ان پر ہرگز تنگی نہ کر اس آیت کے مدنظر یہ اعتر تعالیٰ ان کو نہ پکڑ سکے گا۔ (۹۳) ع
علامہ ابن کثیر ؒ تحریر کرتے ہی
حضرت یونس بن متی ؑ ا کی طرف دعوت دیتے رہے جب دیا۔ آپ ان لوگوں سے ناراض گا۔ (۹۴)
تفسیر ابن کثیر کے مندرج سے ناراض ہو گئے تھے۔
صاحب تفسیر مظہری نے کہا بھی اللمعی کا فرماتے ہیں وہ ا
دوسرا قول یہ لاتے ہیں:
عروہ بن زبیر، سعید بن جب گئے تھے۔ (۹۵)
صدر الافاضل ؒ لکھتے ہیں:
اپنی قوم سے جس نے ان ہجرت آپ کے لئے جائز ہے ک ہے۔ (۹۶)
ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 113 تحفظ ناموس رسالت نمبر
شیطان کے لئے کسی نبی کی صورت میں متمثل ہونا حتیٰ کہ لوگوں پر اس کا معاملہ ملتبس ہو جائے یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے اور اگر یہ ممکن ہو تو کسی نبی کی رسالت پر اعتماد نہیں رہے گا اور اس روایت میں سب سے قبیح بات یہ ہے وہ نبی کی ازواج مطہرات پر بھی اس کا معاملہ ملتبس ہو گیا۔ (۹۱)
حضرت یونس علیہ السلام پر اعتراض
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ...... الخ (۹۲)
”اور ذوالنون (حضرت یونس ؑ) کو یاد کیجیے جب وہ (قوم پر) ناراض ہو کر نکلے انہوں نے گمان کیا کہ ہم ان پر ہرگز تنگی نہ کریں گے۔“
اس آیت کے مدنظر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت یونس ؑ اللہ تعالیٰ سے ناراض ہو کر چلے گئے اور گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو نہ پکڑ سکے گا۔ (۹۳) معاذ اللہ
علامہ ابن کثیر ؒ تحریر کرتے ہیں:
حضرت یونس بن متی ؑ کو اللہ تعالیٰ نے سرزمین موصل کی بستی نینوا کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ ؑ اہل نینوا کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے، لیکن ان پر آپ ؑ کی دعوت کا کوئی اثر نہ ہوا۔ انہوں نے آپ ؑ پر ایمان لانے سے صاف انکار کر دیا۔ آپ ؑ ان لوگوں سے ناراض ہو کر وہاں سے چل دیئے اور جاتے ہوئے انہیں کہہ گئے کہ تین دن بعد تم پر عذاب آئے گا۔ (۹۴)
تفسیر ابن کثیر کے مندرجہ بالا اقتباس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس ؑ اللہ تعالیٰ سے نہیں بلکہ کافر قوم سے ناراض ہو گئے تھے۔
صاحب تفسیر مظہری ؒ کا بھی یہی قول ہے وہ فرماتے ہیں:
بغوی ؒ فرماتے ہیں وہ اپنی قوم سے ناراض اور غضبناک تھے۔
دوسرا قول یہ لاتے ہیں:
عروہ بن زبیر ؒ، سعید بن جبیر ؒ اور چند دوسرے علماء کا خیال ہے کہ آپ ؑ اپنے رب کی خاطر قوم سے ناراض ہو کر بھاگ گئے تھے۔ (۹۵)
صدر الافاضل ؒ لکھتے ہیں:
اپنی قوم سے جس نے ان کی دعوت قبول نہ کی تھی، نصیحت نہ مانی تھی اور کفر پر قائم رہی تھی، آپ ؑ نے گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ ؑ کے لئے جائز ہے، کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور اہل کفر کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے۔ (۹۶)
ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ تحریر کرتے ہیں:
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ‘ اپریل 2011ء
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے ناراض ہو کر چل دیئے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لئے وہ اپنی قوم سے ناراض ہوئے کہ وہ کیوں ایمان نہیں لاتے اور اتباع حق سے کیوں دور بھاگتے ہیں۔ (۹۷)
درج بالا مفسرین کرام کی تصریحات آپ نے ملاحظہ کیں کہ وہ سارے اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ناراض نہیں ہوئے تھے بلکہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر وہ جگہ چھوڑ گئے تھے‘ کیونکہ ان لوگوں نے ان کی دعوت توحید نہ سنی اور نہ ہی ان کی اتباع کی۔ لہٰذا آپ ان سے علیحدہ ہو کر چلے گئے۔
خلاصہ کلام
درج بالا سطور میں ہم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کی شان عصمت کو کس عظیم الشان انداز سے جگہ جگہ قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ ان کی نبوت ورسالت کے مختلف پہلوؤں اور کمالات کو بھی بیان فرمایا ہے کہ کس طرح یہ حضرات صغیرہ گناہوں سے بھی اپنے دامن کو داغدار نہیں ہونے دیتے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ عصمت سے مراد گناہوں سے بچنے کا ملکہ ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت یہ ہوتی ہے کہ ان میں معصیت کا ملکہ پیدا ہی نہیں کیا جاتا اور وہ گناہوں پر قادر ہی نہیں ہوتے۔ بہر حال بات ایک ہی ہے۔ جس کے نتیجہ میں انبیاء کرام علیہم السلام قبل از اعلان نبوت اور بعد از بعثت معصوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے کردار کی حفاظت و نگرانی فرماتا ہے۔ کیونکہ اگر کسی نبی سے غلطی و گناہ سرزد ہونے کا احتمال تسلیم کر لیا جائے تو نبوت و رسالت پر اعتماد نہیں رہے گا نہ ہی ان کے خصائص و کمالات پر ایمان ممکن ہوگا۔ کیونکہ نہ جانے کس وقت کوئی نبی کیا کر رہا ہے؟ وہ بحیثیت نبی کے کر رہا ہے یا بحیثیت عام انسان کے۔ اس سے فکری و عملی انتشار پھیلے گا اور دین اسلام کی بنیاد ہی مشکوک ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ایمانیات میں عصمت انبیاء کرام علیہم السلام کا عقیدہ بنیادی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس پر ایمان لانا از بس ضروری ہے۔
حوالہ جات
- ۱۔ ابن منظور، محمد بن مکرم، جمال الدین: (م۔ ۷۱۱ھ): لسان العرب، بولاق، مصر، ۱۳۰۸۔ ج ۱۲، ص ۴۱۲
- ۲۔ اصفهانی، راغب، حسین بن محمد: (م۔ ۵۰۲ھ): المفردات فی غریب القرآن، قدیمی کتب خانہ، کراچی س، ن۔
ص ۳۴۰۔
- ۳۔ قرآن مجید: ھود: ۴۳ ۴۔ آل عمران: ۱۰۳
- ۵۔ زبیدی، محمد مرتضیٰ، سید: (۱۲۰۵ھ): تاج العروس شرح القاموس، مطبعة الدمیریة، مصر، ۱۳۰۶ھ، ج ۸، ص ۹۶
- ۶۔ الجرجانی، شریف علی، سید: (م۔ ۸۱۶ھ): التعریفات، دارالمنار للطباعة والنشر، س، ن: ص ۱۰۷
- ۷۔ قاسمی، وحید الزمان: (م۔ ۱۹۵۵ء): القاموس الوحید، ادارہ اسلامیات، لاہور۔ کراچی، ط اول، ۱۴۲۲ء
۲۰۰۱ء، ص ۱۰۹۰۔
- ۸۔ زبیدی: کتاب مذکور: ج ۸، ص ۹۶ ۹۔ راغب اصفهانی: کتاب مذکور: ص ۳۴۰
- ۱۰۔ تفتازانی، مسعود بن عمر، سعد الدین: (م ۔ ۷۹۱ھ): شرح العقائد النسفیہ، مکتبہ امدادیہ، ملتان س، ن۔ ص ۱۳۵۔
- ۱۱۔ خیالی، احمد بن موسیٰ، (م۔ ۸۷۰ھ): حاشیة الخیالی، مطبع نولکشور، لکھنؤ، س، ن ، ص ۱۴۸
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہو
- ۱۲۔ عصام الدین، مولانا: (م.
- ۱۳۔ تفتازانی: کتاب مذکور،
- ۱۴۔ سعیدی، غلام رسول،
ج ۷، ص ۲۷۹
- ۱۵۔ حوالہ سابق: ص ۲۸۲
- ۱۷۔ آل عمران: ۳۱
- ۱۹۔ النساء: ۶۴
- ۲۱۔ جن: ۲۳
- ۲۳۔ المائدہ: ۴۵
- ۲۵۔ المائدہ: ۹۲
- ۲۷۔ ص: ۴۷
- ۲۹۔ سعیدی: کتاب مذکو
- ۳۱۔ البقرہ: ۱۲۴
- ۳۳۔ سعیدی: کتاب مذکو
- ۳۴۔ ابن کثیر ؒ اسماعیل
دارالعلوم محمدیہ غو
- ۳۵۔ پانی پتی ؒ : ثناء اللہ
غوثیہ بھیرہ شریف،
- ۳۶۔ حوالہ سابق۔
- ۳۸۔ الازہری ؒ ‘ کرم شاہ
- ۳۹۔ طٰہٰ: ۱۱۵
- ۴۱۔ الاعراف: ۲۲۔ ۲۰
- ۴۳۔ حوالہ سابق
- ۴۵۔ ھود: ۴۶
- ۴۷۔ حوالہ سابق‘ ج ۶‘ ص
- ۴۹۔ الازہری: تفسیر مذکورہ
- ۵۰۔ سعیدی: کتاب مذکورہ
- ۵۱۔ حوالہ سابق
- ۵۳۔ ابن کثیر: تفسیر مذکورہ
- ۵۴۔ پانی پتی: تفسیر مذکورہ
- ۵۵۔ حوالہ سابق: ص ۲۸۸
- ۵۷۔ الانبیاء: ۶۳۔ ۶۲
تحفظ ناموس رسالت نمبر کے لئے وہ اپنی قوم سے ناراض ہوئے کہ ات پر متفق ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام اللہ کیونکہ ان لوگوں نے ان کی دعوت توحید
عصمت کو کس عظیم الشان انداز سے جہالتوں اور کمالات کو بھی بیان فرمایا بعض لوگوں نے کہا ہے کہ عصمت کی عصمت یہ ہوتی ہے کہ ان میں ایسی ایک ہی ہے۔ جس کے نتیجہ میں کہ ان کے کردار کی حفاظت و نگرانی اور رسالت پر اعتماد نہیں رہے گا نہ ہے؟ وہ بحیثیت نبی کے کر رہا ہے مشکوک ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ایمانیات ایمان لانا از بس ضروری ہے۔
ط: ۱۳۰۸ھ۔ ج ۱۲، ص ٤١٢ قدیمی کتب خانہ، کراچی س، ن۔
ط: مصر، ۱۳۰٦ھ، ج ٨، ص ٩٦ س، ن: ص ١٠٧ لاہور۔ کراچی، ط اول، ١٤٢٢ھ
فی: کتاب مذکور: ص ٣٤٠ مکتبہ امدادیہ، ملتان س، ن۔ ص ١٣٥۔ کوئٹہ، س، ن، ص ١٤٨
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 115 تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ١٢- عصام الدین، مولانا: (م ٩٤٣ھ): حاشیۃ العصام علی شرح العقائد، مکتبہ رشیدیہ، کوئٹہ، س، ن: ص ٣٣٠۔
- ١٣- تفتازانی: کتاب مذکور، ص ٣٣١
- ١٤- سعیدی، غلام رسول، علامہ: شرح صحیح مسلم، فرید بک سٹال، لاہور، ط الحادی عشر، ١٤٢٥ھ / ٢٠٠٤ء،
ج ٧، ص ٢٧٩
- ١٥- حوالہ سابق: ص ٢٨٢ ١٦- حوالہ سابق: ص ٢٩٠
- ١٧- آل عمران: ٣١ ١٨- الاحزاب: ٢١
- ١٩- النساء: ٦٤ ٢٠- النساء: ٨٠
- ٢١- جن: ٢٣ ٢٢- المآئدہ: ٤٧
- ٢٣- المآئدہ: ٤٥ ٢٤- المآئدہ: ٤٤
- ٢٥- المآئدہ: ٩٢ ٢٦- النساء: ٥٩
- ٢٧- ص: ٤٧ ٢٨- آل عمران: ٣٣
- ٢٩- سعیدی: کتاب مذکور، ج ٧ ص ٢٩٦۔ ٣٠- الانعام: ١٢٤
- ٣١- البقرہ: ١٢٤ ٣٢- طٰہٰ: ١٢١
- ٣٣- سعیدی: کتاب مذکور: ج ٧ ص ٢٠٧
- ٣٤- ابن کثیر ؒ، اسماعیل، عماد الدین، ابو الفداء: (م ۔ ٧٧٤ھ): تفسیر ابن کثیر، اردو ترجمہ: ادارہ ضیاء المصنفین،
دارالعلوم محمدیہ غوثیہ، بھیرہ شریف، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، ٢٠٠٤ء، ج سوم، ص ٢٩٣
- ٣٥- پانی پتی ؒ، ثناء اللہ، قاضی: (م ١٨١٠ء): تفسیر مظہری، اردو ترجمہ: ادارہ ضیاء المصنفین، دارالعلوم محمدیہ
غوثیہ بھیرہ شریف، ٢٠٠٢ء / ١٤٢٣ھ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور، ج ٦، ص ٢٢٤
- ٣٦- حوالہ سابق۔ ٣٧- حوالہ سابق
- ٣٨- الازہری ؒ، کرم شاہ، محمد، جسٹس: ضیاء القرآن، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، س ن ۔ ج ٣، ص ١٤٢
- ٣٩- طٰہٰ: ١١٥ ٤٠- سعیدی: کتاب مذکور: ج ٧، ص ٢٩٧
- ٤١- الاعراف: ٢٢۔ ٢٠ ٤٢- سعیدی: کتاب مذکور: ج ٧، ص ٢٩٨
- ٤٣- حوالہ سابق ٤٤- ہود: ٤٥
- ٤٥- ہود: ٤٦ ٤٦- ابن کثیر: تفسیر مذکور: ج ٢، ص ٧٧٠
- ٤٧- حوالہ سابق، ج ٢، ص ٧٧١ ٤٨- پانی پتی ؒ: تفسیر مذکور: ج ٥، ص ١٢١
- ٤٩- الازہری: تفسیر مذکور: ج ٢، ص ٣٦٥۔٣٦٤
- ٥٠- سعیدی: کتاب مذکور: ج ٧، ص ٢٩٩
- ٥١- حوالہ سابق ٥٢- انعام: ٧٨۔٧٦
- ٥٣- ابن کثیر: تفسیر مذکور: ج ٢، ص ٢٥٩
- ٥٤- پانی پتی: تفسیر مذکور: ج ٣، ص ٢٨٧
- ٥٥- حوالہ سابق: ص ٢٨٨ ٥٦- الازہری: تفسیر مذکور: ج ٢، ص ٥٧٧
- ٥٧- الانبیاء: ٦٣۔٦٢ ٥٨- ابن کثیر: تفسیر مذکور: ج ٣ ص ٣٢١
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء 116 تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ٥٩۔ پانی پتی: تفسیر مذکور: ج ٦ ص ٢٦٧
- ٦٠۔ الازھری: تفسیر مذکور: ج ٣ ص ١٧٤
- ٦١۔ سعیدی: کتاب مذکور: ج ٧ ص ٢٩٩
- ٦٢۔ الصّٰفّٰت: ٨٩۔٨٨
- ٦٣۔ ابن کثیر: تفسیر مذکور: ج ٤ ص ٣٢
- ٦٤۔ پانی پتی: تفسیر مذکور: ج ٨ ص ١٥٢
- ٦٥۔ سعیدی: کتاب مذکور: ج ٧ ص ٢٩٩
- ٦٦۔ پانی پتی تفسیر مذکور: ج ٦ ص ٢٦٨
- ٦٧۔ ابن کثیر: تفسیر مذکور: ج ٤ ص ٢٣
- ٦٨۔ القصص: ١٦۔١٥
- ٦٩۔ ابن کثیر: تفسیر مذکور: ص ٦٤٥
- ٧٠۔ پانی پتی: تفسیر مذکور: ج ٧ ص ٢٢٦
- ٧١۔ مراد آبادی، نعیم الدین، سید۔ خزائن العرفان، تفسیر القرآن، ضیاء القرآن پبلیکیشنز، لاھور، ص ٤٦٥
- ٧٢۔ الازھری: تفسیر مذکور: ج ٣ ص ٤٨١
- ٧٣۔ حوالہ سابق: ج ٣ ص ٤٨٢
- ٧٤۔ سعیدی: کتاب مذکور: ج ٧ ص ٣٠٠۔٢٩٩
- ٧٥۔ ص: ٢٥۔٢١
- ٧٦۔ سعیدی: کتاب مذکور: ج ٧ ص ٣٠٠
- ٧٧۔ ابن کثیر: تفسیر مذکور: ج ٣
- ٧٨۔ الازھری: تفسیر مذکور: ج ٣، ص ٢٣٦۔٢٣٥
- ٧٩۔ حوالہ سابق: ص ٢٣٧
- ٨٠۔ سعیدی: کتاب مذکور: ج ٧، ص ١٠٣
- ٨١۔ ص: ٣٣۔٣١
- ٨٣۔ سعیدی: کتاب مذکور: ج ٧، ص ٣٠٢
- ٨٣۔ ابن کثیر: تفسیر مذکور: ج ٤، ص ٧٠
- ٨٤۔ سعیدی: کتاب مذکور: ج ٧، ص ٣٠٢
- ٨٥۔ حوالہ سابق: ص ٣٠٣
- ٨٦۔ ص: ٣٤
- ٨٧۔ ص: ٣٥
- ٨٨۔ پانی پتی: تفسیر مذکور: ج ٨، ص ٢٢٠
- ٨٩۔ حوالہ سابق
- ٩٠۔ الازھری: تفسیر مذکور: ج ٤، ص ٢٤٢
- ٩١۔ سعیدی: کتاب مذکور: ج ٧ ص ٣٠٤
- ٩٢۔ الانبیاء: ٨٧
- ٩٣۔ سعیدی: کتاب مذکور: ج ٢، ص ٣٠٤
- ٩٤۔ ابن کثیر: تفسیر مذکور: ج سوم، ص ٣٣٧
- ٩٥۔ پانی پتی : تفسیر مذکور: ج ٦، ص ٢٩٨
- ٩٦۔مراد آبادی: تفسیر مذکور: ج ٣، ص ٣٩٥
- ٩٧۔ الازھری: تفسیر مذکور: ج ٣، ص ١٨٤
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد
سیرت رسول ﷺ مختلف ادوار میں مختلف رہا ہے زمانوں میں تقسیم ہے: م مدینہ آمد سے شروع ہو کر مسلمانوں کے حالات یکساں جور کا نشانہ بنے ہوئے تھے صبر سے برداشت کیا۔ مکہ میں نہیں ہوئے تھے۔ دوسری طرف کو سیاسی مقتدر اعلیٰ تسلیم کر باقاعدہ جنگیں لڑتے ہیں۔
مکی اور مدنی ز النبی ﷺ کے سلوک میں بھی ا دینے کے دونوں واقعات ملتے
رسول اللہ ﷺ نے ا سیرت مصطفیٰ ﷺ
گستاخی کرنے والوں سے درگز کے لیے انتقام نہیں لیا۔ امام ب مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِہٖ
- ایسوسی ایٹ پروفیسر
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ڈاکٹر خالد عرفان ڈھلوں ٭
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے
گستاخوں سے سلوک اور اُن کا انجام
سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مستند ماخذ بتاتے ہیں کہ آپ کا مجرمین توہین رسالت سے سلوک مختلف ادوار میں مختلف رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرماجانے سے پہلے کی مبارک زندگی دو زمانوں میں تقسیم ہے: مکی دور جو آپ کی ولادت باسعادت سے لے کر ہجرت تک ہے، اور مدنی عہد جو آپ کی مدینہ آمد سے شروع ہو کر آپ کے وصال تک محیط ہے۔ ان دونوں زمانوں میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کے حالات یکساں نہیں تھے۔ مکی دور اسلام کا زمانہ آغاز تھا۔ مسلمان اقلیت میں تھے۔ وہ قریشِ مکہ کے ظلم و جور کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ اس دور میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے پیروکاروں نے مخالفین کے تمام ظلم و ستم کو صبر سے برداشت کیا، مکہ میں مسلمانوں کو سیاسی قوت حاصل نہیں تھی۔ مکی زندگی میں معاشرتی قوانین بھی نازل نہیں ہوئے تھے۔ دوسری طرف مدنی دور کا آغاز اسلامی ریاست کی تشکیل سے ہوتا ہے۔ میثاق مدینہ میں پیغمبر اسلام کو سیاسی مقتدر اعلیٰ تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ یہاں کفار مکہ کے ظلم و ستم کا ڈر نہیں ہے، بلکہ اب مسلمان ان کے خلاف باقاعدہ جنگیں لڑتے ہیں۔ مدنی زندگی میں مسلمانوں کو معاشرتی قوانین بھی دیئے جاتے ہیں۔
مکی اور مدنی ادوار میں اس فرق کی جھلک ہمیں ناموس رسالت کے مجرموں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے سلوک میں بھی نظر آتی ہے۔ آپ کی طرف سے ان مجرمین سے عفو و درگزر کرنے اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کے دونوں واقعات ملتے ہیں۔ مکی زندگی میں بوجوہ ان کی بدسلوکی برداشت کی گئی۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا
سیرت مصطفیٰ ﷺ کا ایک خوبصورت گوشہ یہ بھی ہے آپ نے بہت سے مواقع پر اپنی شان اقدس میں گستاخی کرنے والوں سے درگزر فرمایا۔ جہاں تک آپ ﷺ کی محض ذات اقدس کا تعلق ہے، آپ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا۔ امام ابن حجر عسقلانیؒ (م 852ھ) نے حضرت عائشہ کا ایک قول نقل کیا ہے۔ آپ فرماتی ہیں:
مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ بِهَا (1)
- ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ علوم اسلامیہ، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا۔ لیکن اگر کسی نے اللہ کی حرمت و عزت کی توہین کی تو پھر اللہ کی خاطر اس سے انتقام لیا
لیکن یہ یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ کی حرمت و عزت اللہ تعالیٰ کی حرمت و عزت ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے امام ابن تیمیہؒ (م 728ھ) لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ دونوں کے حقوق باہم متلازم ہیں۔ اللہ کی حرمت و عزت اور رسول اللہ ﷺ کی حرمت و عزت دونوں کی جہت ایک ہی ہے۔ جس نے رسول کو تکلیف دی اس نے اللہ کو تکلیف دی اور جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ یہ سب اس لیے ہے کہ امت اور اللہ کے درمیان رسول ﷺ کے علاوہ کوئی اور واسطہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے امر و نہی اور اخبار و بیان میں رسول اللہ ﷺ کی ہستی کو اپنا قائم مقام قرار دیا ہے۔ ان تمام امور میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان کوئی فرق روا رکھنا جائز نہیں ہے (2)۔
اسی لیے مکہ میں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ آپ ﷺ نے یقیناً سراپا رحمت ہونے کے باوجود مجرمین توہین رسالت کے لیے بددعا فرمائی جس کے نتیجے میں وہ عذاب الٰہی کا شکار ہوئے۔ پھر مدینہ میں نبوی عدالت سے ان مجرموں کو سزائے موت کے فیصلے بھی سنائے گئے۔
اس مقالہ میں جو موضوعات زیر بحث آ رہے ہیں وہ یہ ہیں:
- 1- رسول اللہ ﷺ کا اپنے گستاخوں سے در گزر
- 2- فتح مکہ پر عفو عام اور اس سے مستثنیٰ مجرمین
- 3- مجرم کی درخواست در گزر اور قبول اسلام پر معافی
- 4- خون مباح کرنے کے بعد معافی کی وجوہ
- 5- نبوی عفو و در گزر کی مصلحتیں
- 6- رسول اللہ ﷺ کی مجرمین رسالت کو بددعا اور ان پر عذاب الٰہی
- 7- مجرمین توہین رسالت کا خون مباح کرنے کے نبوی احکامات
- 8- مجرمین توہین رسالت کو سزائے قتل دینے کے نبوی فیصلے
- 9- پیغمبر اسلام ﷺ کی عزت کرنے والا مسلم اور غیر مسلم محفوظ
ان موضوعات کے تحت عہد رسالت میں توہین رسالت کے مقدمات کا مطالعہ و تجزیہ کرنے سے اسلام کا قانون ناموس رسالت نکھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ یہ مقالہ اس نتیجے کو سامنے لاتا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی شان و حرمت اور اس شان و حرمت کی اہانت و توہین پر سزائے موت آپ ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں قانونی طور پر طے ہو چکی تھی۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مار
رسول اللہ ﷺ کا گستاخوں سے
رسول اکرم صلی اللہ علیہ کہا۔ ایسا مکہ میں بھی ہوا اور مدینہ میں
قریش مکہ کی توہین آمیز باتیں
وسلم کے ساتھ قریش مکہ توہین آمیز سلیمان کا اختیار پہاڑوں اور ہوا پر تھا، کر دیتے تھے۔ تم اللہ سے کہو کہ وہ ہمار ہم کھیتی باڑی کریں اور کھائیں۔ اگر ہم ان سے اور وہ ہم سے باتیں کریں دے تاکہ اسے کھود کر اس میں سے ہ قریش مکہ کے ان فضول سو وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَ تَدْخُلُوا مِنْ بَابِ الرَّحْمَ فَتَضِلُّوا عَنْ بَابِ الرَّحْمَ اس ذات کی قسم جس کے ق ہو۔ اگر میں چاہوں تو ای باب رحمت سے داخل ہو اپنے لیے چاہا ہے اس م اور تم میں سے جس نے تاکہ تم میں سے جو ایمان ل قریش مکہ کے ہاتھوں ستائے جاتے۔
پڑوسیوں ابو لہب اور عقبہ ب
(م 230ھ) نے حضرت عائشہ ابو لہب اور عقبہ بن ابی معیط کے شر تھے۔ بعض دفعہ ایسی ناپاک چیزیں رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لاتے کونسا حق ہمسائیگی ہے؟ (4)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 119 تحفظ ناموس رسالت نمبر
رسول اللہ ﷺ کا گستاخوں سے درگزر
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گستاخوں کی حرکتوں سے درگزر بھی فرماتے ہوئے انہیں کچھ نہ کہا۔ ایسا مکہ میں بھی ہوا اور مدینہ میں بھی کچھ عرصہ تک کے لیے یہی طرزِ عمل اختیار کیا گیا۔
قریش مکہ کی توہین آمیز باتیں قاضی ابو یعلیٰ (م 307ھ) نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قریش مکہ توہین آمیز گفتگو کرتے اور کہتے: تم خود کو نبی سمجھتے ہو کہ تم پر وحی نازل ہوتی ہے۔ حضرت سلیمان کا اختیار پہاڑوں اور ہوا پر تھا، حضرت موسیٰ کے لیے سمندر کو تابع کر دیا گیا تھا اور حضرت عیسیٰ مردوں کو زندہ کر دیتے تھے۔ تم اللہ سے کہو کہ وہ ہمارے لیے یہ پہاڑ ہم سے دور کر دے اور زمین سے نہریں نکال دے تاکہ ان سے ہم کھیتی باڑی کریں اور کھائیں۔ اگر یہ نہیں کر سکتے تو ہمارے لیے اللہ سے کہو کہ وہ ہمارے مُردوں کو زندہ کر دے تاکہ ہم ان سے اور وہ ہم سے باتیں کریں۔ اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو اللہ سے کہو کہ تم جس چٹان پر بیٹھے ہو اسے سونے کا کر دے تاکہ اسے کھود کر اس میں سے سونا نکالیں اور سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے نجات پالیں۔
قریش مکہ کے ان فضول سوالات اور توہین آمیز باتوں کے جواب میں رسول اللہ ﷺ فرماتے: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ أَعْطَانِي مَا سَأَلْتُمْ، وَلَوْ شِئْتُ لَكَانَ، وَلَكِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ تَدْخُلُوا مِنْ بَابِ الرَّحْمَةِ فَيُؤْمِنَ مُؤْمِنُكُمْ، وَ بَيْنَ أَنْ يَكِلَكُمْ إِلَى مَا اخْتَرْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ، فَتَضِلُّوا عَنْ بَابِ الرَّحْمَةِ وَلَا يُؤْمِنَ مُؤْمِنُكُمْ، فَاخْتَرْتُ بَابَ الرَّحْمَةِ، فَيُؤْمِنَ مُؤْمِنُكُمْ (3)
اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اللہ نے مجھے عطا کیا ہے جس کا تم مطالبہ کر رہے ہو۔ اگر میں چاہوں تو ایسا ہو بھی جائے۔ لیکن اللہ نے مجھے دو باتوں میں اختیار دیا ہے: یا تو تم باب رحمت سے داخل ہو جاؤ تاکہ تم میں سے جس نے ایمان لانا تھا وہ ایمان لے آئے، یا تم نے جو اپنے لیے چاہا ہے اس میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا جائے تاکہ تم باب رحمت سے دور ہو جاؤ اور تم میں سے جس نے ایمان لانا تھا وہ بھی ایمان نہ لا سکے۔ میں نے باب رحمت کو اختیار کیا ہے تاکہ تم میں سے جو ایمان لانے والے ہیں وہ ایمان لے آئیں۔
پڑوسیوں ابو لہب اور عقبہ بن ابی معیط کی کارستانی مکی دور میں جہاں عام مسلمان قریش مکہ کے ہاتھوں ستائے جاتے تھے وہیں اللہ کے رسول ﷺ بھی ان کی شرارتوں سے محفوظ نہیں تھے۔ ابن سعد (م 230ھ) نے حضرت عائشہؓ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں دو پڑوسیوں ابو لہب اور عقبہ بن ابی معیط کے شر کے درمیان میں تھا۔ یہ دونوں پاخانہ لاتے اور میرے دروازے پر ڈال دیا کرتے تھے۔ بعض دفعہ ایسی ناپاک چیزیں ہوتی تھیں جنہیں لوگ پھینک دیتے تھے، میرے دروازے پر ڈال جاتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لاتے اور فرماتے: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ! أَيُّ جِوَارٍ هَذَا؟ اے بنی عبد مناف! یہ کونسا حق ہمسائیگی ہے؟ (4)
سی نے اللہ کی حرمت و عزت کی حرمت و عزت ہے۔ اس کی وضاحت ہے۔ اللہ کی حرمت و عزت اور ا نے رسول کو تکلیف دی اس اطاعت کی۔ یہ سب اس لیے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے م قرار دیا ہے۔ ان تمام امور تی ہے (2)۔ سراپا رحمت ہونے کے باوجود مجرمین ۔ پھر مدینہ میں نبوی عدالت سے ان تے ہیں: مقدمات کا مطالعہ و تجزیہ کرنے سے اسلام کا لاتا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں قانونی طور
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
مشرکین مکہ کا آپ کو "مذمم" کہنا
رسول اکرم ﷺ کو جب مشرکین مکہ پکارتے تو آپ کے اسم مبارک "محمد" سے آپ کو نہ پکارتے۔ وہ آپ کو "محمد" کے بجائے "مذمم" کہہ کر گالی دیتے تھے۔ آپ ﷺ کفار مکہ کی اس حرکت پر ان سے درگزر فرماتے۔
صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ (5) تم اس پر تعجب کیوں نہیں کرتے کہ اللہ نے مجھے قریش کی گالیوں اور لعنتوں سے کیسے بچایا۔ وہ مذمم کو گالیاں دیتے اور مذمم پر لعنت کرتے ہیں اور میں تو محمد ہوں۔
یہود مدینہ کا آپ ﷺ کو "السام علیک" کہنا
کفار مکہ اگر آپ ﷺ کو مذمم کہہ کر گالی دیتے تھے تو مدینہ کے یہودیوں نے آپ کو "السلام علیک" کہنے کے بجائے "السام علیک" کا جملہ ادا کرنے کا وطیرہ اپنایا ہوا تھا۔ "السلام علیک" کا معنی ہے: تم پر سلامتی ہو۔ "السام علیک" کا مطلب ہے: تم پر موت ہو۔ یہودیوں کی طرف سے اس توہین آمیز رویے پر صحابہ کرامؓ کا مشتعل ہونا فطری امر تھا۔ کچھ صحابہ نے ایسے ہی ایک یہودی کو قتل کرنے کی اجازت چاہی لیکن آپ نے انہیں منع فرما دیا۔
صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک یہودی نے کہا: "السام علیک" (تم پر موت ہو)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "وعلیک" (تم پر بھی ہو)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جانتے ہو جو وہ کہتا ہے؟ اس نے "السام علیک" کہا ہے۔ صحابہؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ (6) جب اہل کتاب تمہیں السلام علیکم کہیں تو تم کہا کرو: وعلیکم۔
عبداللہ بن ابی سلول کی گستاخیاں
صحیح بخاری میں حضرت اسامہ بن زیدؓ غزوہ بدر سے قبل کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہو کر کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے۔ ان میں عبداللہ بن ابی سلول بھی بیٹھا ہوا تھا۔ اس وقت تک وہ ظاہرًا بھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ گدھے کے چلنے سے گرد اڑی اور ان لوگوں پر پڑی۔ عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک چادر میں چھپاتے ہوئے کہا: گرد مت اڑاؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے سلام کیا پھر سواری سے اترے، قرآن کی تلاوت فرمائی اور سب کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی۔ عبداللہ بن ابی نے کہا: "اگرچہ تم سچے ہو اور تمہاری بات بھی بہت عمدہ ہے مگر ہمارے کان مت کھاؤ، اپنے گھر جاؤ اور جو وہاں تمہارے پاس جائے اسے سناؤ"۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ ہمارے گھر تشریف
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
لایا کریں اور ہمیں سنایا کریں کیونکہ ہمیں آپ کی باتیں اچھی لگتی ہیں۔ اس کے بعد مسلمانوں، مشرکوں اور یہود کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی اور ہاتھا پائی تک نوبت آگئی۔ بالآخر معاملہ رفع دفع ہو گیا۔
وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر حضرت سعد بن عبادہ کے پاس پہنچے اور فرمایا: "اے سعد! ابو حباب یعنی عبداللہ بن ابی نے جو کہا کیا تم نے نہیں سنا؟ اس نے ایسی ایسی بات کہی"۔ حضرت سعد نے کہا: یا رسول اللہ ! اسے معاف کر دیں اور اس کی باتوں کا کوئی خیال نہ فرمائیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن اتارا، جو کچھ آپ پر نازل ہوا وہ برحق ہے۔ بات یہ ہے کہ آپ کے تشریف لانے سے پہلے اہل مدینہ نے یہ طے کر لیا تھا وہ ابن ابی کے سر پر تاج رکھ دیں گے اور سرداری کی پگڑی باندھ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ منصوبہ اس حق کے ذریعے رد کر دیا جو حق اس نے آپ کو دیا ہے۔ اس سبب سے یہ بھڑک اٹھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے یہ حرکت کی جو آپ نے ملاحظہ فرمائی ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی سلول کو معاف کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مشرکین اور اہل کتاب کی گستاخیوں کو معاف کر دیا کرتے اور ان سے پہنچنے والی ایذاء پر صبر کیا کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا (7)۔
صحیح بخاری ہی میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی سلول نے ایک مہاجر اور ایک انصاری کے درمیان لڑائی ہو جانے پر کہا تھا: ان مہاجروں سے (انتقام) لو، خدا کی قسم ! اگر ہم مدینہ دوبارہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو باہر نکال دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ملی تو حضرت عمر کھڑے ہو گئے اور کہا: یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ (8) اسے چھوڑ دو، کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ خود بیان کرتی ہیں کہ ان پر جب حضرت صفوان بن معطل کے ساتھ تہمت لگائی گئی تو اس تہمت کو پھیلانے میں عبداللہ بن ابی پیش پیش تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر ابن ابی کے متعلق فرمایا: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ! مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِي ۔اے مسلمانو! کون اس شخص سے بدلہ لیتا ہے جس نے میری گھر والی پر الزام لگا کر مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔
یہ سنتے ہی قبیلہ بنی اوس کے سردار سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ ! میں آپ کے حکم کی تعمیل کرتا ہوں، اگر یہ شخص میرے قبیلے کا ہے تو آپ جو حکم دیں گے اس پر عمل ہو گا۔ یہ سن کر قبیلہ خزرج کا شخص کھڑا ہوا اور بولنے لگا۔ اس گفتگو کے بعد اوس اور خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ کھڑے ہو گئے اور لڑنے پر تیار نظر آنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے دونوں کو خاموش کرا رہے تھے۔ بالآخر وہ خاموش ہو گئے (9)۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور، مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 122 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس واقعہ افک میں عبداللہ بن ابی تہمت کا بانی تھا، اس کے علاوہ حضرت مسطح بن اثاثہ، حضرت حسان بن ثابت اور حمنہ بنت جحش بھی شامل تھے۔ جب آیاتِ براءت [النور 24 : 11 - 26] نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں پر حد قذف جاری کی لیکن عبداللہ بن ابی کو چھوڑ دیا گیا۔ اس پر حد جاری نہیں کی گئی، اس لیے کہ حد پاک کرنے کے لیے ہے اور منافق پاک نہیں ہو سکتے۔ عبداللہ بن ابی منافق تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کے قتل کا حکم اس لیے نہیں دیا تھا کہ انہوں نے حضرت عائشہ پر تہمت کسی نفاق کی وجہ سے نہیں لگائی تھی، نہ وہ یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچے اور نہ ہی آپ کو تکلیف پہنچانے کی کوئی شہادت ان کے خلاف ثابت ہوئی۔ اس وقت تک یہ لوگ جانتے نہیں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات آخرت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجات ہوں گی اور اس قسم کی خطا کا ہونا عقلی طور پر ممکن تھا۔ لیکن جب زوجات مطہرات کو آخرت میں بھی آپ کی بیویاں اور مومنین کی مائیں قرار دے دیا گیا تو پھر ہر حال میں ازواج نبی پر بہتان تراشی نبی کے لیے اذیت کا سبب قرار پائی۔ اس کے ساتھ ہی ازواج مطہرات سے ایسی خطا کا احتمال بھی ختم ہو گیا کیونکہ اس احتمال کی موجودگی سے یہ لازم آتا تھا کہ نبی کسی خطاکار عورت سے رشتہ ازدواج برقرار رکھیں اور اسے مومنوں کی ماں بھی قرار دیا جائے، اور یہ باطل تھا (10)۔
دو افراد کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز گفتگو : حافظ ابن کثیر (م 774ھ) نے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا۔ آپ نے اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ بعد میں دو اشخاص آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ان کے پاس سے گزرے۔ ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا تھا: واللہ ! اس تقسیم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اللہ کی خوشی کا ارادہ کیا اور نہ آخرت کے گھر کا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے رُک کر دونوں کی باتیں سنیں اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ نے تو یہ فرمایا ہے: لَا يُبَلِّغْنِي أَحَدٌ عَنْ أَصْحَابِي شَيْئًا کہ میرے صحابہ کی کوئی بات میرے سامنے نہ لایا کرو، میں جا رہا تھا اور فلاں فلاں سے ایسی ایسی باتیں سنیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غصے سے سرخ ہو گیا اور آپ پر یہ بات بہت گراں گزری۔ پھر آپ نے فرمایا:
عبداللہ ! جانے دو، حضرت موسیٰ علیہ السلام اس سے بھی زیادہ ستائے گئے تھے لیکن انہوں نے صبر کیا۔
ذوالخویصرہ کی گستاخی صحیح بخاری میں ہے، حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے۔ بنی تمیم کے ایک شخص ذوالخویصرہ نے کہا: یا رسول اللہ ! عدل کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَيْلَكَ مَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ۔ تمہاری بربادی ہو، اگر میں عدل نہیں کروں گا تو پھر کون عدل کرے گا؟ حضرت عمر نے عرض کیا: مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہو
فرمایا: ”نہیں، اس لیے کہ اس نے کے مقابلے میں اپنی نماز اور روزہ تیر کمان سے نکل جاتا ہے، نہ اس مسلمانوں میں تفرقہ کے وقت ص کے لوتھڑے جیسا ہو گا جو حرکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور مقتولین میں تلاش کیا گیا تو اسی طر
مسند ابی یعلیٰ میں روای
ایک نو مسلم صحرابی کی گستا
نقل کی ہے کہ ایک نو مسلم صحرا عدل کا حکم دیا ہے تو آپ عدل کی
میرے بعد کون عادل اس کے بعد رسول ا
فَإِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُ
ان جیسوں سے بچو۔ میر حلق سے نیچے نہیں اتر جب نکلیں تو انہیں قتل کر
یہودیہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر
طبقات ابن سعد وغیرہ میں ہے کہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر ملا گوشت کھلا کر آپ کو بکری کا کون سا گوشت زیادہ زیادہ زہر بکری کے اسی عضو میں ملا فرمایا: اِرْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّهَا قَدْ بتایا ہے کہ وہ زہر آلود ہے۔ رسول اللہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
فرمایا: "نہیں، اس لیے کہ اس کے بعض ساتھی ایسے ہوں گے کہ تم سے ایک شخص ان کی نمازوں اور ان کے روزوں کے مقابلے میں اپنی نماز اور روزے کو حقیر سمجھے گا۔ حالانکہ وہ دین سے اس طرح نکلے ہوئے ہوں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، نہ اس تیر کے پیکان پر کچھ نشان ہو اور نہ اس کے پٹھے نہ اس کے پروں پر کچھ باقی ہو۔ یہ مسلمانوں میں تفرقہ کے وقت ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے ایک شخص ایسا ہو گا جس کا ہاتھ عورت کے پستان یا گوشت کے لوتھڑے جیسا ہو گا جو حرکت کرتا ہو"۔ حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں میں حضرت علیؓ کے ہمراہ اس جنگ کے وقت موجود تھا، وہ مقتولین میں تلاش کیا گیا تو اسی طرح ملا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا (12)۔
مسند ابی یعلیٰ میں درج ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: مَا أَنَا بِالَّذِي أَقْتُلُ أَصْحَابِي (13) "میں اپنے صحابہ کو قتل کرنے والا نہیں ہوں"
ایک نو مسلم صحرائی کی گستاخی
حافظ ابن کثیرؒ (م774ھ) نے اپنی تفسیر میں قتادہؒ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک نو مسلم صحرائی نے رسول اللہ ﷺ کو سونا چاندی بانٹتے ہوئے دیکھا تو کہا: اگر اللہ نے آپ کو عدل کا حکم دیا ہے تو آپ عدل کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا: وَيْلَكَ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَعْدِلُ عَلَيْكَ بَعْدِي، تمہاری خرابی ہو، اگر میں بھی عدل نہیں کرتا تو میرے بعد کون عادل ہو گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اِحْذَرُوا هٰذَا وَ أَشْبَاهَهُ فَإِنَّ فِي أُمَّتِي أَشْبَاهَ هٰذَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ فَإِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ (14) ان جیسوں سے بچو۔ میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن مجید پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ جب نکلیں انہیں قتل کر دو، پھر جب نکلیں تو انہیں قتل کر دو، پھر جب نکلیں تو انہیں قتل کر دو۔
یہودیہ کا آپ ﷺ کو زہر آلود گوشت کھلانا
صحیح بخاری، سنن ابوداؤد، تاریخ طبری اور طبقات ابن سعد وغیرہ میں ہے کہ فتح خیبر کے موقع پر ایک یہودیہ زینب بنت الحارث زوجہ سلام بن مشکم نے رسول اللہ ﷺ کو زہر ملا گوشت کھلا کر مار دینے کی گستاخی کی۔ کھانے کی دعوت سے قبل اس عورت نے دریافت کیا کہ آپ کو بکری کا کون سا گوشت زیادہ مرغوب ہے؟ اس سے کہا گیا کہ دست آپ کو زیادہ پسند ہے۔ اس نے سب سے زیادہ زہر بکری کے اسی عضو میں ملایا (15)۔ جب رسول اللہ ﷺ کو وہ گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا: اِرْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّهَا قَدْ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ (16) گوشت سے اپنے ہاتھ اٹھا لو، اس بکری نے مجھے بتایا ہے کہ وہ زہر آلود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ میرے سامنے ان تمام یہودیوں کو جمع کرو جو یہاں پر موجود
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہیں۔ آپ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے اس بکری کے گوشت میں زہر ملایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے پوچھا: کس چیز نے تمہیں اس بات پر آمادہ کیا؟ انہوں نے کہا: ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہونگے تو ہمیں نجات مل جائے گی اور اگر آپ نبی ہیں تو آپ کو نقصان نہیں پہنچے گا (17)۔ حضرت انس بن مالک سے مروی حدیث میں ہے کہ پوچھنے پر یہودیہ نے بتایا کہ وہ آپ کو قتل کرنا چاہتی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذٰلِكَ أَوْ قَالَ عَلَيَّ: اللہ تعالیٰ تجھے اس کام پر یا فرمایا میرے قتل پر مسلط نہیں کریں گے (18)۔
رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت کے دوران فرمایا تھا: يَا عَائِشَةُ مَا زِلْتُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ (19) اے عائشہ! میں نے خیبر میں جو کھانا کھایا تھا اس کا درد ابھی تک محسوس کرتا ہوں۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں: میں اس زہر کا اثر ہمیشہ آپ ﷺ کے مسوڑوں میں دیکھا کرتا تھا (20)۔ آپ ﷺ نے اس زہر کی وجہ سے کندھوں کے درمیان پچھنے لگوائے تھے تا کہ خون نکلوانے سے زہر کا اثر ختم ہو جائے (21)۔
حضرت بشر بن البراء بن معرور بکری کا زہر آلود گوشت کھاتے ہی شہید ہو گئے تھے۔ زینب نے زہر ملانے کا اعتراف کر لیا تھا اس لیے اسے حضرت بشر کے قتل میں قصاصاً قتل کر دیا گیا تھا (22)۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حوالے سے یہودیہ سے کوئی باز پرس نہیں کی تھی کیونکہ وہ قصاص میں قتل کر دی گئی تھی۔
ایک انصاری کی گستاخی
صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے حضرت زبیر جو کہ رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے، سے آپ ﷺ کے سامنے کھجور کے درختوں کو پانی دینے کے بارے میں جھگڑا کیا۔ انصاری کا مطالبہ تھا کہ درختوں کے لیے پانی چھوڑ دیا جائے تاکہ بہتا رہے۔ حضرت زبیر نہیں مانتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے زبیر! اپنے درختوں کو پانی پلا لے پھر پانی چھوڑ دے۔ یہ سن کر انصاری نے غصہ سے کہا: یارسول اللہ! زبیر آپ کے پھوپھی کے بیٹے تھے (اس لیے آپ نے ان سے رعایت کی)۔ یہ سن کر آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہو گیا۔ آپ نے فرمایا: اے زبیر! اپنے درختوں کو پانی پلا لو، پھر پانی روک لو یہاں تک کہ مینڈوں تک چڑھ جائے (23)۔
اس حدیث کی شرح میں امام نوویؒ (م 676ھ) نے لکھا ہے: علماء نے کہا ہے کہ اس انصاری نے جو کلمہ کہا اب کوئی ایسا کلمہ آپ ﷺ کی نسبت کہے تو کافر ہو جائے گا اور اس کا قتل واجب ہو گا۔ آپ ﷺ نے انصاری کو سزا نہ دی اس لیے کہ شروع کا زمانہ تھا اور آپ منافقوں کی ایذا رسانی پر صبر کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب کو قتل کر دیتے ہیں (24)۔
فتح مکہ پر عفو عام اور اس سے مستثنیٰ مجرمین
فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ہمراہ مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ وہی شہر جہاں آپ ﷺ کی ولادت مبارک ہوئی۔ جہاں کے لوگ آپ ﷺ کے بچپن، لڑکپن اور بے داغ جوانی سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ جس کے باسیوں نے آپ ﷺ کو صادق اور امین کہا تھا۔ جہاں کے لوگوں نے آپ کی مخالفت
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ہمراہ مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ وہی شہر جہاں آپ ﷺ کی ولادت مبارک ہوئی۔ جہاں کے لوگ آپ ﷺ کے بچپن، لڑکپن اور بے داغ جوانی سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ جس کے باسیوں نے آپ ﷺ کو صادق اور امین کہا تھا۔ جہاں کے لوگوں نے آپ کی مخالفت پر محض اس لیے کمر کس لی تھی کہ آپ نے انہیں ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا تھا۔ جہاں آپ پر سجدے کی حالت میں اونٹ کی اوجھڑی ڈالی گئی۔ جہاں آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر آپ کو کھینچا گیا۔ جہاں آپ کو قتل کرنے کے منصوبے بنائے گئے۔ جہاں آپ کا اور آپ کے خاندان کا معاشرتی مقاطعہ کیا گیا۔ جہاں آپ اور آپ کے ساتھیوں کو اتنا ستایا گیا اور زندگیاں اتنی تنگ کر دی گئی تھیں کہ انہیں مکہ چھوڑ دینے پر مجبور کر دیا گیا۔
اسی شہر میں آج آپ فاتح تھے اور سارے ظالم مفتوح ہو چکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم پر یہ سب لوگ حرم مکہ میں جمع تھے۔ ان سب کو اپنے اپنے جرائم یاد تھے۔ آج فاتح نے مفتوحین کے جرائم کا فیصلہ کرنا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ایسی فتح پر فاتحین اپنے مفتوحین کے ساتھ کیا سلوک کیا کرتے ہیں۔ ہر شخص خوفزدہ تھا۔
لیکن فاتح مکہ کوئی عام انسان نہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول تھے۔ آپ نے فاتحین کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ کفار مکہ سے خطاب عام سے قبل آپ ﷺ مکہ کے سردار ابو سفیان کو یہ اعزاز دے چکے تھے کہ جو شخص اس کے گھر میں داخل ہو جائے گا اسے امان حاصل ہو جائے گی۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا تھا:
مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَ مَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ، وَ مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ (25)
جو کوئی ابو سفیان کے گھر میں چلا جائے اسے امان حاصل ہے، اور جو ہتھیار ڈال دے اسے بھی امن ہے، اور جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر کے بیٹھا رہا اسے بھی امان مل جائے گی۔
آپ ﷺ نے مجرمین سے مخاطب ہو کر پوچھا: "تم کیا گمان کرتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟"۔ وہ بولے: ہم اچھا ہی گمان کرتے ہیں اور اچھا ہی کہتے ہیں۔ آپ شریف بھائی اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں، قدرت پا کر اچھا ہی سلوک کریں گے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
فَإِنِّي أَقُوْلُ كَمَا قَالَ أَخِي يُوسُفُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ، يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ وَ هُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَ [یوسف 12: 92] (26)
میں وہی کہتا ہوں جیسا کہ میرے بھائی یوسف نے کہا تھا: آج تم پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ اللہ تمہاری مغفرت کرے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور، مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 126 تحفظ ناموس رسالت نمبر
مکے کے لوگ جو خود کو رسول اللہ ﷺ کا مجرم سمجھتے ہوئے اپنے جرائم کی سزائیں سننے کے منتظر تھے، جب انہوں نے دہنِ نبوی سے عام معافی کے الفاظ سنے تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ ایک نامور سردار عتاب بن اسید جو تھوڑی دیر قبل خوفزدہ ہو کر کعبہ کی دیوار کے نیچے دبکا بیٹھا تھا، لاَ تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کے الفاظ سن کر خوشی سے اٹھا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔ آپ ﷺ نے مدینہ واپس جانے سے پہلے عتاب بن اسید کو مکہ کا گورنر مقرر کر دیا(28)۔
فاتحین کی تاریخ میں یہ ایک انوکھی مثال ہے کہ فاتح ﷺ نے مفتوح قوم کے ایک فرد کو مفتوحہ شہر کا حکمران بنایا اور وہاں اپنا کوئی سپاہی چھوڑے بغیر اپنے لشکر سمیت آپ مدینہ واپس تشریف لے آئے۔
فتح مکہ کے موقع پر اگرچہ عام معافی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن چند لوگ اس اعلان سے مستثنیٰ قرار دیئے گئے۔ ابن الاثیرؒ (م 630ھ) نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آٹھ مردوں اور چار عورتوں کے قتل کا حکم دیا تھا (29):
عکرمہ بن ابی جہل مردوں میں ایک عکرمہ تھا جو ابو جہل کا بیٹا تھا۔ وہ اپنے باپ کی طرح رسول اللہ ﷺ کو اذیتیں دیتا اور آپ سے دشمنی رکھتا تھا۔ وہ جہاز میں سوار ہو کر بھاگ گیا۔ جہاز طوفان میں پھنس گیا۔ بیوی کی زبانی عام معافی کی خبر سن کر مکہ واپس آگیا اور اسلام قبول کر لیا۔ عکرمہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر کہا: میں نے آپ سے بہت دشمنی کی، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری مغفرت کی دعا فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ كُلَّ عَدَاوَةٍ عَادَانِيْهَا: اے اللہ! اس نے جو دشمنی میرے ساتھ کی اس میں اسے بخش دے (30)۔
صفوان بن امیہ دوسرے شخص کا نام صفوان بن امیہ بن خلف تھا۔ یہ بھی مکی زندگی میں اللہ کے نبی سے شدید دشمنی رکھتا تھا۔ اس نے دو ماہ کی مہلت مانگی، آپ ﷺ نے اسے تین ماہ کی مہلت دے دی۔ اس نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا (31)۔
عبداللہ بن ابی سرح تیسرے کا نام عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھا جو کاتب وحی تھا پھر مرتد ہو گیا۔ وہ فتح مکہ کے موقع پر فرار ہو کر حضرت عثمانؓ کے پاس چلا گیا اور امان کی درخواست کی۔ حضرت عثمانؓ اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اس کی بیعت کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے تین بار اپنا سر مبارک اٹھا کر اس کی طرف دیکھا، گویا ہر دفعہ انکار کیا۔ آخر تین دفعہ کے بعد اس کی بیعت فرمائی۔ بعد میں آپ نے صحابہؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا: "کیا تم میں کوئی بھی ایسا سمجھدار آدمی نہ تھا جو اس کی طرف اٹھ کھڑا ہوتا اور جب میں نے اس کی بیعت سے ہاتھ روک لیا تھا تو وہ اسے قتل کر دیتا"۔ صحابہؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے دل کی بات کیسے معلوم ہوتی؟ آپ نے آنکھ سے اشارہ کر دیا ہوتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ أَعْيُنٍ (32)
نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ ظاہر میں چھپا رہے اور آنکھ سے اس کے خلاف اشارے کرے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہو
واقدیؒ (م 297ھ) ا وحی تھا۔ وہ ایسا بھی کیا کرتا تھا کہ ر کرتا تھا کہ محمد (ﷺ) کو پتہ نہیں
امام ابن تیمیہؒ (م 72 شخص رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ یہ گمان کرتا کہ وہ جو کچھ لکھتا ہے ﷺ پر وحی نازل ہوتی ہے اسی ا طعن تھا اور یہ ایسا جھوٹ وافتراء تھا کی طرح اور کفر و ارتداد سے بڑھ کر
عبداللہ بن خطل کے نام فرتنا اور ارنب تھے۔ وہ ہ تھیں (35)۔ رسول اللہ ﷺ بھی قتل کر دو۔ وہ غلاف کعبہ سے روایت ہے کہ اسے حضرت عمار بن
حویرث بن نقیذ کرتا اور آپ کی ہجو کہتا تھا۔ اس نے لیکن حضرت علیؓ نے اسے پکڑ کر
رسول اللہ ﷺ نے جبکہ آپ ﷺ نے مکہ کے ان ا ان سے بُرا سلوک کیا تھا (39)۔
مقیس بن صبابہ
عبداللہ بن الزبعری وہ نجران کی طرف بھاگ گیا۔ ب
وحشی بن حرب وحشی اور حویطب بن عبد العزیٰ ب
ہندہ چار عورتو نے حضرت حمزہؓ کا کلیجہ نکال کر چبایا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
واقدیؒ (م 297ھ) نے عبداللہ بن ابی سرح کے جرائم کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابن ابی سرح کاتب وحی تھا۔ وہ ایسا بھی کیا کرتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اسے لکھواتے : سمیع علیم تو وہ لکھتا : علیم حکیم۔ وہ یہ بھی کہا کرتا تھا کہ محمد ﷺ کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ میں اپنی مرضی سے کتابت وحی کرتا ہوں (33)۔
امام ابن تیمیہؒ (م 727ھ) فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی سرح کے واقعہ سے وجہ استدلال یہ ہے کہ یہ شخص رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھا کرتا تھا۔ وہ کتابت وحی کرتے ہوئے اس میں اپنی مرضی سے تبدیلی کرتا اور یہ گمان کرتا کہ وہ جو کچھ لکھتا ہے اسی کے مطابق وحی نازل ہو جائے گی۔ اسے یہ زعم تھا کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوتی ہے اسی طرح اس پر بھی وحی آتی ہے۔ اس کی یہ حرکت رسول اللہ ﷺ اور آیاتِ قرآن پر طعن تھا اور یہ ایسا جھوٹ وافتراء تھا جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت میں شک وریب پیدا کرتا تھا۔ اس کا یہ جرم سب وشتم کی طرح اور کفر وارتداد سے بڑھ کر تھا (34)۔
عبداللہ بن خطل چوتھے شخص کا نام عبداللہ بن خطل ہے۔ اس نے دو لونڈیاں رکھی ہوئی تھیں جن کے نام فرتنا اور ارنب تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں شعر کہتا تھا اور اس کی لونڈیاں ان ہجویہ اشعار کو گاتی تھیں (35)۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں بھی حکم دیا تھا کہ اگر اسے کعبہ کے غلاف میں چھپا ہوا پاؤ تو بھی قتل کر دو۔ وہ غلاف کعبہ میں چھپا پایا گیا تو اسے وہیں قتل کر دیا گیا (36)۔ اسے ارتداد میں قتل کیا گیا۔ ایک روایت ہے کہ اسے حضرت عمار بن یاسرؓ کے قصاص میں قتل کیا گیا (37)۔
حویرث بن نقیذ پانچواں شخص حویرث بن نقیذ بن وہب تھا جو مکہ میں رسول اللہ ﷺ کو اذیتیں دیا کرتا اور آپ کی ہجو کہتا تھا۔ اس نے اپنے گھر سے نکل کر مختلف گھروں میں چھپتے چھپاتے بھاگ جانے کی کوشش کی لیکن حضرت علیؓ نے اسے پکڑ کر قتل کر دیا (38)۔
رسول اللہ ﷺ نے حویرث کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ حویرث نے آپ کو اذیت پہنچائی تھی جبکہ آپ ﷺ نے مکہ کے ان تمام باشندوں کو امان عطا فرمائی تھی جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ سے لڑے اور ان سے برا سلوک کیا تھا (39)۔
مقیس بن صبابہ چھٹا شخص مقیس بن صبابہ تھا جو جرم ارتداد میں قتل کر دیا گیا تھا۔
عبداللہ بن الزبعری ساتواں عبداللہ بن الزبعری السہمی تھا جو مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہجو کہتا تھا۔ فتح مکہ پر وہ نجران کی طرف بھاگ گیا۔ پھر واپس آیا اور معافی کا خواستگار ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے معاف کر دیا (40)۔
وحشی بن حرب آٹھواں وحشی بن حرب تھا جس نے غزوہ بدر میں حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا۔ وحشی اور حویطب بن عبد العزی دونوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ معاف کر دیئے گئے تھے۔
ہندہ چار عورتوں میں سے ایک ہندہ تھی جو مکہ میں رسول اللہ ﷺ کو اذیتیں دیا کرتی تھی اور جس نے حضرت حمزہؓ کا کلیجہ نکال کر چبایا تھا۔ اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 128 تحفظ ناموس رسالت نمبر
سارہ دوسری عورت کا نام سارہ تھا جو عمرو بن عبدالمطلب بن ہاشم کی لونڈی تھی۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی ہجو گا کر سنایا کرتی تھی۔ اسے حضرت علیؓ نے فتح مکہ کے روز قتل کیا تھا۔
فرتنا اور ارنب دوسری دو عورتیں عبداللہ بن خطل کی لونڈیاں فرتنا اور ارنب تھیں۔ یہ دونوں مغنیہ تھیں اور سارہ کی طرح نبی پاکؐ کی ہجو گایا کرتی تھیں۔ ان دونوں میں سے ایک قتل کر دی گئی۔ واقدیؒ (م 297ھ) نے لکھا ہے کہ جسے امان ملی اور جو اسلام لے آئی تھی اور وہ فرتنا تھی۔ یہ عورت حضرت عثمانؓ کے عہد میں پسلیاں ٹوٹ جانے کی وجہ سے ہلاک ہوئی (41)۔
سارہ ابن ہشامؒ (م 213ھ یا 218ھ) نے سارہ نامی ایک لونڈی کا ذکر کیا ہے جسے امان طلب کرنے پر رسول اللہ ﷺ نے معاف کر دیا تھا۔ یہ عورت حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک گھوڑی کے پاؤں تلے روندے جانے کی وجہ سے مقام ابطح میں ہلاک ہوئی (42)۔
واقدیؒ (م 297ھ) نے لکھا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے قتال سے منع فرمایا تھا لیکن چھ مردوں اور چار عورتوں کے قتل کا حکم دیا تھا (42-1)۔ ابن سعد (م 230ھ) نے تابعی سعید بن مسیبؒ کی روایت سے کہا ہے کہ یوم فتح کو جن چار اشخاص کے قتل کا رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا تھا ان میں ابن ابی سرح، فرتنا، الزبعری اور ابن خطل شامل تھے (43)۔ امام ابو داؤد (م 275ھ) اور امام نسائی (م 303ھ) نے حضرت سعدؓ سے روایت نقل کی ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے تمام لوگوں کو امن دیا مگر چار مردوں اور دو عورتوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا (44)۔ حافظ ابن قیمؒ (م 751ھ) نے لکھا ہے کہ سب کو امان ملی سوائے نو افراد کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نو افراد کے قتل کا حکم دیا تھا خواہ یہ لوگ کعبہ کے پردوں کے پیچھے پائے جائیں۔ ان کے نام یہ تھے: عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، عکرمہ بن ابی جہل، عبدالعزی بن خطل، الحارث بن نفیل بن وہب، مقیس بن صبابہ، ہبار بن الاسود، ابن خطل کی دو مغنیات لونڈیاں اور ایک لونڈی سارہ (45)۔
قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوریؒ (م 1349ھ / 1930ء) نے لکھا ہے کہ مکہ داخل ہونے سے پہلے تمام فوج کو ہدایت کر دی گئی تھی کہ کسی شخص پر حملہ نہ کریں، لیکن چار مرد اور دو عورتیں جو اپنے سابقہ جرائم کی وجہ سے واجب القصاص تھے، اعلان کر دیا گیا کہ ان کو قتل کر دیا جائے (46)۔
کعب بن زہیر ایک اور شخص کعب بن زہیر کا ذکر ملتا ہے۔ حافظ ابن قیمؒ (م 751ھ) اور خطیب بغدادیؒ (م 463ھ) نے لکھا ہے کہ کعب اور بجیر ایک مرتبہ مدینہ کے قریب سے گزرے تو بجیر نے کعب سے کہا: تم ان بکریوں کے پاس ٹھہرو، میں محمد (ﷺ) کی باتیں سن کر آؤں۔ بجیر حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر دولت اسلام میں مالامال ہو گیا۔ پیچھے کعب نے اپنے بھائی کا زیادہ دیر انتظار نہ کیا اور واپس چلا گیا۔ کعب نے اپنے بھائی کو ایک خط میں شعر لکھ کر بھیجے جن میں اس کے اسلام قبول کرنے، رسول اللہ ﷺ اور مسلمان عورتوں پر طعن و تشنیع کی گئی تھی۔
تحفظ ناموس رسالت نمبر 129 ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء
بکریوں کے پاس ٹھہرو، میں محمد (ﷺ) کی باتیں سن کر آیا۔ بجیر حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر دولت اسلام میں مالامال ہو گیا۔ پیچھے کعب نے اپنے بھائی کا زیادہ دیر انتظار نہ کیا اور واپس چلا گیا۔ کعب نے اپنے بھائی کو ایک خط میں شعر لکھ کر بھیجے جن میں اس کے اسلام قبول کرنے، رسول اللہ ﷺ اور مسلمان عورتوں پر طعن و تشنیع کی گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعب کے ان اشعار کا علم ہوا تو آپ نے اس کا خون مباح کر دیا اور اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ حضرت بجیرؓ نے کعب کو خط لکھا اور اسے اطلاع دی کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں ایسے آدمیوں کو قتل کر دیا ہے جو آپ کی ہجو کہتے اور آپ کو ایذا دیتے تھے۔ شعراے قریش میں سے جو باقی ہیں یعنی ابن زبعری اور ہبیرہ بن ابی وہب تو وہ اس طرح فرار ہوئے کہ ان کا کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ اس لیے اگر تمہارے دل میں لگاؤ ہو تو نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ کیونکہ جو بھی آپ کے پاس تائب ہو کر مسلمان ہو کر حاضر ہوتا ہے تو آپ اسے قتل نہیں کرتے۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پھر اپنا انتظام کر لو۔ اس نے حاضر ہونے سے انکار کر دیا اور جواب میں چند اشعار لکھ کر بھیج دیئے۔ حضرت بجیرؓ نے کعب کو پھر خط لکھا اور اشعار میں اسے دین اسلام کی دعوت دی اور یقین دلایا کہ اگر اس نے اسلام قبول نہ کیا تو ایک دن ایسا آئے گا کہ تم نجات نہ پا سکو گے۔
کعب کو جب یہ خط ملا تو اس پر زمین تنگ ہو گئی۔ اسے اپنے متعلق خطرہ ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا۔ آخر اس نے رسول اللہ ﷺ کی مدح میں ایک قصیدہ لکھا جس میں اپنے خوف و ہراس اور اپنے دشمن کی طرف سے چغلی کا ذکر کیا۔ وہ مدینہ میں آیا اور اپنے ایک دوست کے گھر قیام پذیر ہو گیا۔ اگلے روز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کعب نے نماز ادا کی۔ وہ اٹھا اور نبی کی مجلس میں بیٹھ گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے ہاتھ پر رکھا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کعب بن زہیر آپ سے امان کی درخواست لے کر حاضر ہونا چاہتا ہے جو تائب اور مسلمان ہو کر آیا ہے۔ اگر میں اسے آپ کی خدمت میں لے آؤں تو آپ اس کی درخواست قبول فرما لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں کعب بن زہیر ہوں۔ انصار میں سے ایک صحابی اچھلے اور عرض کی: یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں میں اللہ کے دشمن کی گردن اڑا دوں۔ آپ نے فرمایا: اسے رہنے دو، وہ تائب ہو کر حاضر ہے۔
ایک اور روایت میں کعب کے قبول اسلام کا واقعہ یوں ہے کہ کعب حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پاس گیا اور اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ حضرت ابو بکرؓ اسے لے کر بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ایک شخص اسلام قبول کرنا چاہتا ہے۔ آپ ﷺ نے ہاتھ بڑھایا۔ اس نے کلمہ پڑھا۔ پھر چہرے سے رومال ہٹایا تو آپ ﷺ نے پوچھا: تم نے وہ شعر کہے تھے؟ کعب نے کہا: میں نے اس طرح سے کہے تھے۔ پھر وہ قصیدہ پڑھا جو قصیدہ بردہ کے نام سے مشہور ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر اتار کر اسے دے دی جو بعد میں کعب کے خاندان نے حضرت امیر معاویہؓ کو چالیس ہزار درہم اور ایک دوسری روایت کے مطابق بیس ہزار درہم میں بیچ دی۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 130 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کر آیا اور مسلمان ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے معاف کر دیا اور اس کے قصیدہ پر خوش ہو کر اپنی چادر اتار کر اسے عنایت کی۔
حارث بن ہشام اور زہیر بن ابی امیہ: حارث بن ہشام ابو جہل کا بھائی اور زہیر بن ابی امیہ حضرت ام سلمہؓ ام المومنین کا بھائی تھا۔ ابن ہشامؒ (م 213ھ یا 218ھ) نے لکھا ہے کہ یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے دشمن اور آپ کے لیے اپنے دلوں میں شدید بغض رکھتے تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر یہ دونوں بھاگ کر حضرت علیؓ کی ہمشیرہ حضرت ام ہانیؓ کے گھر پناہ کی درخواست کے ساتھ آئے۔ یہ دونوں حضرت ام ہانیؓ کے شوہر ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی کے رشتہ دار تھے۔ حضرت ام ہانیؓ نے دونوں کو کوٹھری میں چھپا دیا۔ ان کے پیچھے حضرت علیؓ تلوار لیے آئے اور کہا کہ میں ان دونوں کو قتل کرتا ہوں۔ حضرت ام ہانیؓ انہیں چھپا کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور ان دونوں کے بارے میں درخواست کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قَدْ اَجَرْنَا مَنْ اَجَرْتِ وَ اَمَّنَّا مَنْ اَمَّنْتِ فَلَا يَقْتُلُهُمَا: جس کو تم نے امن دیا اس کو ہم نے بھی امن دیا اور جس کو تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی، جاؤ علی ان دونوں کو قتل نہیں کریں گے (50)۔
ابوسفیان بن الحارث الصارم المسلول میں ابوسفیان بن الحارث بن عبدالمطلب کا واقعہ درج ہے۔ یہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ کا رضاعی بھائی تھا۔ آپ نے جب اعلان نبوت فرمایا تو اس نے آپ کی دشمنی کرنا شروع کر دی۔ جتنا زیادہ عناد اس شخص نے پیغمبر اسلام سے رکھا شاید ہی کسی اور نے رکھا ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں ایمان کی شمع روشن کر دی (51)۔
گستاخ عورتوں کو سزائے قتل
اوپر بیان ہوا ہے کہ کچھ عورتوں کو بھی عدالت نبوی سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ عبداللہ بن خطل کی دو لونڈیاں فرتنا اور ارنب تھیں۔ ابن خطل جو رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں شعر کہتا تھا یہ دونوں لونڈیاں ان ہجویہ اشعار کو گاتی تھیں۔ عمرو بن عبدالمطلب بن ہاشم کی لونڈی سارہ بھی رسول اللہ ﷺ کی ہجو گا کر سنایا کرتی تھی۔ اسے حضرت علیؓ نے فتح مکہ کے روز قتل کیا تھا۔ ایک اور عورت ہندہ تھی جو مکہ میں رسول اللہ ﷺ کو اذیتیں دیا کرتی تھی۔
امام ابن تیمیہؒ (م 727ھ) نے احادیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی عورت کو محض اس کے کفر کی وجہ سے قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ عورتوں کا قتل کبھی مباح نہیں کیا گیا سوائے اس کے کہ عورت مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شامل ہو۔ عورتوں کا خون ان کے محض عورت ہونے کی وجہ سے حرام تھا لیکن پھر بھی رسول اللہ ﷺ نے اوپر مذکور عورتوں کے قتل کا حکم دیا تھا کیونکہ وہ ہجو کر کے اور گالیاں دے کر شانِ رسالت میں گستاخی کی مرتکب ہوئی تھیں۔ ہجو کہنا اور گالی دینا زبانی قتال ہے اور ہاتھ سے قتال کے مترادف ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص بھی رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرے اور آپ کو گالی دے تو اس کا قتل ہر حال میں جائز ہے (52)۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
مجرم کی درخواست درگزر اور قبول اسلام پر معافی
سیرت طیبہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ توہین رسالت کے کسی مجرم کو سزائے قتل سنائے جانے کے بعد اس کے قبول اسلام اور عفو و درگزر کی درخواست پر آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا۔
انس بن زُنیم الدیلی: معاہد یہودی انس بن زنیم کا واقعہ اہل سیرت کے نزدیک بہت مشہور ہے۔ واقدی (م 297ھ) نے بیان کیا ہے کہ انس بن زنیم جو بنو کنانہ سے تعلق رکھتا تھا، اس نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ہجو کہی۔ بنو خزاعہ کے ایک غلام نے انس کو ہجو کہتے ہوئے سنا تو اس نے انس پر حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا۔ انس نے اپنے قبیلے والوں کو بتایا تو انہوں نے بنو خزاعہ سے خون بہا کا مطالبہ کیا۔ خزاعہ کے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو بتایا کہ انس بن زنیم نے ان کی ہجو کہی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے یہ سن کر انس کا خون مباح قرار دے دیا۔ جب رسول اللہ ﷺ کا یہ فیصلہ انس کو معلوم ہوا تو وہ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، معذرت چاہی اور آپ کی شان میں ایک قصیدہ پڑھا۔ ایک شخص نوفل بن معاویہ الدیلی نے انس کے معاملہ میں رسول اللہ ﷺ سے بات کی اور عرض کی کہ تمام انسانوں سے زیادہ درگزر کرنا آپ ہی کی شان ہے۔ نوفل نے یہ بھی کہا کہ ہم میں سے کون ہے جس نے آپ سے عداوت نہ کی ہو اور آپ کو تکلیف نہ دی ہو۔ ہم تو زمانہ جاہلیت میں یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ہمیں کیا لینا اور کیا چھوڑ دینا چاہیے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں ہمیں ہدایت سے بہرہ مند کیا اور ہلاک ہونے سے بچایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قَدْ عَفَوْت عَنْهُ: میں نے انس بن زنیم کو معاف کیا۔ نوفل نے کہا: آپ پر میرا باپ اور ماں قربان ہوں (53)۔
امام ابن تیمیہ (م 727ھ) اس واقعہ کے تحت لکھتے ہیں کہ معاہد یہودی انس بن زنیم نے رسول اللہ ﷺ کی ہجویہ اشعار کہے تو بنو خزاعہ کے ایک شخص نے اسے زخمی کر دیا تھا۔ جب بنو خزاعہ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر دی کہ انس بن زنیم نے آپ کی ہجو کہی ہے، یہ بات کہہ کر وہ آپ کو انس کے خلاف اکسانا چاہتے تھے تو آپ نے اس کا خون مباح کر دیا اور اس کے سوا کسی اور کا خون رائیگاں نہیں کیا۔ اگر بنو خزاعہ یہ جانتے ہوتے کہ کسی معاہد کی جانب سے نبی کریم ﷺ کی ہجو کوئی مستوجب انتقام نہیں ہے تو وہ اس کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو نہ دیتے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ جانتے ہوئے کہ ہجو گو ایک معاہد ہے اس کے باوجود آپ نے اس کا خون مباح قرار دیا۔ یہ اس بات پر دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ہجو کہنے والے معاہد کا خون مباح ہے۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ انس بن زنیم کے قبول اسلام، اس کے معذرت خواہ ہونے اور اطلاع دینے والے بنو خزاعہ کو جھوٹا قرار دینے کے باوجود انس نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے قتل کے حکم کے سلسلہ میں عفو و رحم کی درخواست کی۔ عفو و درگزر اسی گناہ میں ہوتا ہے جس پر سزا دینا جائز ہو۔ انس کے مسلمان ہو کر حاضر ہونے اور معذرت پیش کرنے کے باوجود اسے رسول اللہ ﷺ سزا دے سکتے تھے لیکن آپ نے اپنے حلم و کرم کی بنا پر انس کو معاف کر دیا تھا (54)۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس واقعہ میں ایک معاہد غیر مسلم انس بن زنیم نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور آپ کی ہجو کہی تو آپ نے اس کا خون مباح کر دیا یہاں تک کہ اس نے اسلام قبول کیا اور معافی کا خواستگار ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی ہجو جنگ کی طرح ہے بلکہ جنگ سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ لہٰذا جو معاہد رسول اللہ ﷺ کی ہجو کا مرتکب ہو تو اس کے لیے کوئی ذمہ نہیں ہے (55)۔
خون مباح کرنے کے بعد معافی کی وجوہ
اوپر درج بعض واقعات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجرمین توہین رسالت کو قتل کرنے کا حکم دیا لیکن پھر آپ نے انہیں معاف کر دیا۔ ان مجرمین کو یہ رعایت کیوں دی گئی، اس کی تین وجوہ بیان کی جاتی ہیں (55-1):
- 1- مجرم اپنی گرفتاری سے قبل ہی تائب ہو گیا۔ اگر کسی مسلمان پر حد واجب ہو جائے اور وہ گرفتاری سے قبل
توبہ کر لے تو اس سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ اگر غیر مسلم حربی گرفتاری سے قبل تائب ہو جائے تو وہ اس رعایت کا زیادہ حقدار ہے۔
- 2- رسول اللہ ﷺ کا یہ اخلاق تھا کہ آپ ایسے مجرموں سے درگزر فرمایا کرتے تھے۔
- 3- اگر ایک غیر مسلم حربی اسلام قبول کر لے تو زمانہ جاہلیت میں کیے گئے اس کے جرائم لائق مواخذہ نہیں
ہوتے، خواہ ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ [الانفال 7 : 38]
اے پیغمبر ﷺ! ان کافروں سے فرما دیں کہ اگر وہ باز آ جائیں تو ان کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
فَإِنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ (56) ”بیشک اسلام گزشتہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے“
اور فرمایا:
مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ (57)
جس نے زمانہ اسلام میں اچھا عمل کیا تو زمانہ جاہلیت میں اس کے کیے گئے عمل کا مواخذہ نہیں ہو گا
نبوی عفو و درگزر کی مصلحتیں
پوری مکی زندگی میں اور مدنی زندگی کے اوائل میں رسول اللہ ﷺ کا توہین رسالت کے مجرمین سے عفو و درگزر کرنے میں مندرجہ ذیل مصلحتیں کارفرما تھیں:
- 1- مسلمانوں کی سیاسی و افرادی کمزوری اور صبر کا حکم
مکی زندگی میں مشرکین کی جانب سے کی جانے والے ظلم و زیادتیوں اور گستاخیوں پر رسول اللہ ﷺ نے
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء
صبر اختیار کیا ہوا تھا۔ مکہ میں مسلمان سیاسی و افرادی قوت کے لحاظ سے کمزور تھے۔ وہاں انہیں غلبہ واقتدار حاصل نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے صبر اور انتظار کی پالیسی اختیار کی۔ یہ حکمت عملی اختیار کرنا حکم خداوندی کے عین مطابق تھا۔
صحیح بخاری میں روایت ہے، حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کی یہ عادت تھی کہ وہ مشرکین اور یہود کی گستاخیوں کو معاف کر دیا کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ [آل عمران 3: 186]
اور مسلمانو! تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے
اور فرمایا:
وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقره: 109)
اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم مسلمانوں کو ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے، مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے۔ اس کے جواب میں تم عفو و درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے
رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کے ساتھ درگزر سے کام لیتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جہاد کرنے کا حکم نازل فرما دیا (58)۔
2- پیغمبر اسلام سے غیر مسلم بدظن نہ ہوں
مدینہ میں اگرچہ مسلمان ایک قوت تھے۔ ریاست مدینہ کا سیاسی اقتدار ان کے پاس تھا۔ میثاق مدینہ کے تحت رسول اللہ ﷺ کی برتر حیثیت تمام یہود اور دیگر قبائل نے تسلیم کر لی تھی۔ لیکن مدنی زندگی کا ابتدائی حصہ دین اسلام کی نمود اور اس کے اوائل کا زمانہ تھا۔ لوگ نئے نئے مسلمان ہو رہے تھے۔ اس دوران توہین رسالت کے مرتکبین سے مصلحتاً چشم پوشی کی گئی تاکہ نو مسلم اور اسلام کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے غیر مسلم اشخاص اسلام اور پیغمبر اسلام سے بدظن نہ ہو جائیں کہ اس دین کے نبی اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ اس طرح لوگ اسلام اور پیغمبر اسلام کے قریب آنے کی بجائے ان سے دور بھاگ جاتے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس مصلحت کی رعایت سے منافقین نے فائدہ اٹھایا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی سلول کی حرکتوں پر جب حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑادوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّدًا يَّقْتُلُ اَصْحَابَهُ (59) اسے چھوڑ دو، کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔
مسند ابی یعلیٰ میں درج ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: مَا اَنَا بِالَّذِيْ اَقْتُلُ اَصْحَابِيْ (60) میں اپنے صحابہ کو قتل کرنے والا نہیں ہوں
حافظ ابن قیمؒ (م 751ھ) لکھتے ہیں کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک آپ پر سبّ و شتم کرنے والے اور آپ کو ایذا پہنچانے والے کو قتل کرنے کی مصلحت سے بڑھ کر اور زیادہ پسندیدہ یہ مصلحت تھی کہ لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب کو قتل کر دیتے ہیں۔ لیکن جب شاتم کو قتل کرنے میں مصلحت زیادہ نظر آئی تو پھر ایسے گستاخ قتل کیے گئے جیسے کعب بن الاشرف، ابن خطل، مقیس، دو لونڈیوں اور ایک نابینا کی ام الولد کو قتل کیا گیا۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے راجح مصلحت ہی کی بنا پر کبھی گستاخانِ رسول کو قتل نہیں کیا اور راجح مصلحت ہی کے تحت کبھی انہیں قتل کیا۔ لیکن جب یہ امر رسول اللہ ﷺ کے نائبین اور آپ کے خلفاء تک پہنچا تو اب انہیں یہ اختیار نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا حق ساقط کردیں (61)۔
رسول اللہ ﷺ کو منافقین کا علم تھا، اس کے باوجود گستاخ منافقین کو قتل نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے قاضی عیاضؒ (م 544ھ) کہتے ہیں کہ ان کو اس لیے قتل نہ کیا گیا کہ ان کا معاملہ پوشیدہ تھا اور ظاہر میں وہ ایمان اور اسلام کے دعویدار تھے۔ ان کے نفاق پر کوئی دلیل بھی نہیں تھی اسی لیے انہیں چھوڑ دیا گیا۔ اگر رسول اللہ ﷺ اپنے علم کی بنا پر جو آپ ان کے نفاق کے بارے میں رکھتے تھے، منافقین کو قتل کر دیتے تو نفرت کرنے والے جو ان کے دلوں میں ہوتا کہہ دیتے، دین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے، دشمنانِ اسلام جھوٹی باتیں پھیلاتے اور بہت سے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے اور دین اسلام میں داخل ہونے سے ڈرتے۔ گمان کرنے والا یہ گمان کرتا اور ظالم دشمن یہ خیال کرتا کہ آپ ﷺ نے ان منافقین کو دشمنی اور بدلہ لینے کے لیے قتل کیا ہے۔ اسی لیے آپ نے فرمایا تھا: لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّدًا يَّقْتُلُ اَصْحَابَهُ کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں اور یہ فرمایا تھا: اُولٰئِكَ الَّذِيْنَ نَهَانِيَ اللّٰهُ عَنْ قَتْلِهِمْ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
یہ وہ لوگ ہیں جن کو قتل کرنے سے اللہ نے مجھے منع فرمایا ہے یہ حکم ان ظاہری احکام کے خلاف ہے جو حدود میں سے ان پر نافذ ہیں جیسے زنا اور قتل وغیرہ کیونکہ یہ تو ظاہر ہیں اور ان احکام کے علم میں سب انسان برابر ہیں (62)۔
صحیح مسلم میں درج روایت کے مطابق جس انصاری نے حضرت زبیرؓ سے پانی پر جھگڑا کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ ! زبیر آپ کے پھوپھی کے بیٹے تھے (اس لیے آپ نے ان سے رعایت کی)، اس حدیث کی شرح میں امام نوویؒ (م 676ھ) نے لکھا ہے: آپ نے انصاری کو سزا نہ دی اس لیے کہ شروع کا زمانہ تھا اور آپ منافقوں کی ایذارسانی پر صبر کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب کو قتل کر دیتے ہیں (63)۔
جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچاتے تھے انہیں معاف کرنا آپ ﷺ کا اختیار تھا۔ آپ ان لوگوں سے اس لیے بھی درگزر سے کام لیتے تھے تاکہ وہ پیغمبر اسلام اور دین اسلام سے بدظن نہ ہو جائیں۔
- 3- نو مسلموں کی تالیف قلب اور غیر مسلموں کی رغبت اسلام
اسلام کے ابتدائی دور میں اس مصلحت پسندانہ پالیسی کا ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ نو مسلموں کی تالیف قلب اور غیر مسلموں کو دین اسلام کی طرف راغب کرنے کے لیے عفو و درگزر سے کام لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ [آل عمران 3 : 159]
اے پیغمبر! یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ آپ ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہیں۔ ورنہ اگر آپ تندخو اور سنگدل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد و پیش سے چھٹ جاتے۔ آپ ان کے قصور معاف فرما دیں اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کریں اور امور میں ان کو شریکِ مشورہ کریں۔ پھر جب آپ کا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو پھر اللہ پر بھروسہ کریں۔ اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔
ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَى خَائِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ [المائدۃ 5 : 13]
اور آئے دن آپ کو ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ لہٰذا انہیں معاف فرما دیں اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہیں۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
قاضی عیاضؒ (م 544ھ) اس مصلحت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کرتے، ان کے دلوں کو اپنی طرف پھیرتے، ایمان کو ان کے لیے پسندیدہ بناتے اور ان کی خاطر مدارت کرتے تھے۔ آپ اپنے صحابہ کرام کو فرماتے تھے: إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِيْنَ وَ لَمْ تُبْعَثُوْا مُنَفِّرِيْنَ تم آسانی پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، نہ کہ نفرت پھیلانے والے آپ یہ بھی فرماتے: يَسِّرُوْا وَ لَا تُعَسِّرُوْا وَ سَكِّنُوْا وَ لَا تُنَفِّرُوْا "آسانی پیدا کیا کرو اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالا کرو" رسول اللہ ﷺ کافروں اور منافقوں سے مدارت کرتے، ان سے اچھے انداز سے پیش آتے، ان کی غلط باتوں سے چشم پوشی کر لیا کرتے، ان کی طرف سے دی جانے والی تکالیف برداشت کرتے اور ان کے مظالم پر صبر کرتے تھے۔ لیکن آج اگر وہ ہمارے نبی ﷺ کو ایذا پہنچائیں تو ہمارے لیے جائز نہیں ہے کہ ہم ان کی ایسی حرکتوں پر صبر کریں (64)۔
حدیث عائشہ کا مفہوم
جہاں تک حضرت عائشہ کے اس قول کا تعلق ہے: مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ بِهَا (65) رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا۔ لیکن اگر کسی نے اللہ کی حرمت و عزت کی توہین کی تو پھر اللہ کی خاطر اس سے انتقام لیا۔
اس کی تشریح میں قاضی عیاضؒ (م 544ھ) کہتے ہیں: پس جان لو کہ اس سے یہ مطلب نہیں نکلتا کہ آپ ﷺ نے اس شخص سے انتقام نہیں لیا جس نے آپ کو گالی دی یا آپ کو تکلیف دی یا آپ کی تکذیب کی۔ یہ تو سب اللہ تعالیٰ کی حرمات میں سے ہیں اور اللہ کی حرمات کی توہین ہے، اس لیے آپ نے ان کا انتقام لیا۔ لیکن اگر کسی نے آپ سے سوئے ادب سلوک کیا یا قول اور فعل سے آپ کی جان اور مال کے ساتھ کوئی بد معاملہ کیا اور ایسا کرنے والے کا ارادہ آپ کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا بلکہ ایسا اس نے اپنی فطری جبلت کی بنا پر کیا جیسے بدوؤں نے آپ سے جہالت اور اجڑ پن کی وجہ سے آپ سے کوئی برا سلوک کیا یا بشری تقاضوں اور کمزوریوں کی بنا پر کوئی عمل ہو گیا تو آپ ﷺ نے اس کا انتقام نہیں لیا۔ جیسے ایک اعرابی نے آپ کی چادر کھینچ لی تھی حتی کہ آپ کی گردن مبارک پر اس کا نشان پڑ گیا تھا، یا کوئی بدو آپ کے ساتھ اونچی آواز میں بولتا تھا، یا جیسے ایک دیہاتی جس کا گھوڑا رسول اللہ ﷺ نے اس سے خریدا تھا، لیکن اس نے ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ آپ اس کا گھوڑا خرید چکے تھے اور پھر اس پر حضرت خزیمہؓ نے آپ کے حق میں گواہی دی تھی۔ ایسی صورتوں میں آپ ﷺ کا ان لوگوں سے درگزر فرمانا احسن تھا (66)۔
مثال کے طور پر اوپر بیان کیے گئے واقعات میں سے حضرت زبیرؓ کے ساتھ درختوں کو پانی دینے میں جھگڑنے والے انصاری کا رسول اللہ ﷺ کو یہ کہنا کہ آپ نے اپنے پھوپھی زاد بھائی کی طرفداری کی ہے، یا ایک
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہو موقع پر مال کی تقسیم پر دو اشخا نہ تو اللہ کی خوشی کا ارادہ کیا اور نہ کہنا کہ آپ نے مال تقسیم کر بانٹتے ہوئے دیکھا تو کہا: اگر اللہ کر رسول اللہ ﷺ کے گھر سے کہ ان لوگوں کا مقصد اللہ کے نبی مکتب نبوی سے مکمل طور پر تر اللہ ﷺ نے ان کی ایسی باتوں لیکن جن لوگوں نے ایسے لوگوں کو شریعت اسلامی حرمات میں شامل ہے۔ اللہ ت کرتا ہے وہ اللہ کی توہین اور اللہ کہ وہ اللہ کی حرمات کی توہین ہ
رسول اللہ ﷺ کی مجر
مستند ماخذ سیرت کے لیے بددعا فرمائی اور وہ اللہ مسلمان مغلوب اور کمزور ہ رسول ﷺ کو اذیت پہنچا قرآن مجید میں فرمایا ہے: فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَ
[95 - 94
اے پیغمبر صلی اللہ مشرکین کی ذرا پرو کریں گے۔
قریشی سرداروں کو بد دع
ہے کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ میں سے ایک نے دوسرے ن
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
موقع پر مال کی تقسیم پر دو اشخاص نے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واللہ ! اس تقسیم سے رسول اللہ ﷺ نے نہ تو اللہ کی خوشی کا ارادہ کیا اور نہ آخرت کے گھر کا، یا غزوہ حنین کے موقع پر ذوالخویصرہ یربوعی کا رسول اللہ ﷺ کو یہ کہنا کہ آپ نے مال تقسیم کرنے میں انصاف نہیں کیا، یا ایک نو مسلم صحرائی نے رسول اللہ ﷺ کو سونا چاندی بانٹتے ہوئے دیکھا تو کہا: اگر اللہ نے آپ کو عدل کا حکم دیا ہے تو آپ عدل کیوں نہیں کرتے، یا اعرابیوں اور بدوؤں کا آ کر رسول اللہ ﷺ کے گھر سے باہر اے محمد اے محمد کہہ کر بلانا (67)۔ یہ اور ان جیسے دیگر واقعات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کا مقصد اللہ کے نبی کو ایذا پہنچانا یا آپ کی توہین کرنا نہیں تھا۔ وہ لوگ ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے۔ مکتب نبوی سے مکمل طور پر تربیت یافتہ نہیں تھے اور نہ ہی ابھی مزاج نبوی سے صحیح طور پر آشنا ہوئے تھے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے ان کی ایسی باتوں اور طرز تخاطب سے در گزر فرمایا۔
لیکن جن لوگوں نے آپ ﷺ کو قصدًا ایذا پہنچائی، آپ کی اور آپ کے منصب رسالت کی توہین کی تو ایسے لوگوں کو شریعت اسلامی کے تحت کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی عزت و احترام کرنا اللہ تعالیٰ کی حرمات میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ بلند مقام و مرتبہ عطا کیا ہے۔ جو نبی کے مقام کو گراتا اور اس کی توہین کرتا ہے وہ اللہ کی توہین اور اللہ کی طے کردہ حرمات کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایک نبی کی شان منصب سے بعید ہے کہ وہ اللہ کی حرمات کی توہین ہوتے ہوئے دیکھے اور خاموش رہے۔
رسول اللہ ﷺ کی مجرمین رسالت کو بددعا اور ان پر عذاب الٰہی
مستند مآخذ سیرت میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے توہین رسالت کے مجرموں کے لیے بددعا فرمائی اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے دوچار ہو کر واصل جہنم ہوئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب مسلمان مغلوب اور کمزور ہوں اور ان کے لیے دنیاوی اسباب کی حد تک یہ ممکن نہ ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچانے والوں سے بدلہ لے سکیں تو اللہ تعالیٰ خود ایسے گستاخوں سے بدلہ لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَہْزِءِیْنَ [الحجر15: 95 - 94]
اے پیغمبر صلی اللہ علیک وسلم ! آپ کو جس چیز کا حکم دیا جاتا ہے اسے کھول کر بیان کریں اور مشرکین کی ذرا پروا نہ کریں۔ بے شک ہم ان مذاق اڑانے والوں کے مقابلہ میں آپ کی کفایت کریں گے۔
قریشی سرداروں کو بددعا
صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کے قریب نماز ادا فرما رہے تھے۔ ابو جہل اور اس کے چند ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تم میں سے کوئی شخص فلاں قبیلہ کی اونٹنی کی اوجھڑی لے آئے اور جب محمد ﷺ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ میں جائیں تو وہ اوجھری آپ کی پشت پر رکھ دے۔ سب سے زیادہ بدبخت عقبہ اٹھا اور اوجھری لے آیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں گئے تو اس نے فوراً اوجھری کو آپ کے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا مگر کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ کاش میرے ہمراہ کچھ لوگ ہوتے۔ پھر وہ لوگ ہنسنے لگے اور ہنستے ہنستے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں تھے اور اپنا سر مبارک نہ اٹھا سکتے تھے۔ اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور انہوں نے آپ کے سر سے اوجھری کو اٹھا کر پھینکا۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور پھر تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ
اے اللہ ! قریش کی ہلاکت یقینی فرما۔
ان پر یہ گراں گزرا کیونکہ آپ نے انہیں بددعا دی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اس شہر مکہ میں دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ہر ایک کے نام لیے اور فرمایا:
عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ وَ عَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَ شَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ وَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ
اے اللہ ! ابو جہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کی ہلاکت یقینی فرما۔
حضرت ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتوں کا نام بھی لیا مگر اس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میں نے ان لوگوں کی لاشوں کو جن کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیا تھا، کنویں میں یعنی بدر کے کنویں میں گرا ہوا دیکھا (69)۔ یہ سب بدر کے دن مارے گئے اور کنویں میں پھینک دیئے گئے تھے۔
کعبہ میں پانچ گستاخوں پر عذاب الٰہی
ابن ہشام (م 213ھ یا 218ھ) نے کہا ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ ستانے والوں میں پانچ افراد کے نام نمایاں ہیں: اسود بن عبد یغوث بن وہب، اسود بن مطلب بن اسد، ولید بن مغیرہ، عاصی بن وائل اور حارث بن طلاطہ خزاعی۔ یہ پانچوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں عذاب الٰہی میں مبتلا ہو کر واصل جہنم ہوئے۔
ابن ہشام مزید بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ایک روز حضرت جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ کعبہ کے دروازے کے قریب کھڑے ہو گئے۔ اللہ کے رسول کا مذاق اڑانے والے یہ پانچوں اشخاص اس وقت کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔ اسود بن عبد یغوث آپ کے قریب سے گزرا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ اس کا پیٹ سوج گیا اور وہ مر گیا۔ اسود بن مطلب آپ کے پاس سے گزرا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کے چہرہ پر ایک سبز پتہ پھینکا اور اس کی بینائی جاتی رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسود بن مطلب کی ایذا رسانی اور تمسخر کے سبب سے اس کے لیے بددعا فرمائی تھی:
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لا
اللَّهُمَّ أَعْمِ بَصَرَهُ وَ
ولید بن مغیرہ آپ کے نزدیک یہ زخم کچھ عرصہ قبل اسے لگ اس کی موت واقع ہوئی۔ عاص پاؤں کے تلوے کے درمیانی خاردار پودے پر بیٹھ گیا۔ عا حارث بن طلاطہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پیپ سے بھر گیا۔ سارا جسم اللہ تعالیٰ نے ان
إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْ
آپ کی طرف سے توہین رسالت کے مج ابولہب تھا۔ اس کا نام عبد تھا کہ ابولہب کے لقب دعوت دی تو ابولہب نے ہو، کیا تم نے اس لیے ہم کا ہمسایہ ہونے کے باوجو غزوہ بدر میں جب مکہ پہنچی تو ابولہب ج جو طاعون سے ملتی جلتی مرنے کے بعد بھی تین لوگوں نے اس کے بیٹے حبشیوں نے اسے دفن دھکیل کر اس میں پھینک
عامر بن طفیل کا انجا
شاعر حضرت لبیدؓ سے شہید کرنے کی سازش
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء
اللّٰهُمَّ أَعْمِ بَصَرَهُ وَأَثْکِلْهُ ”اے اللہ اسے اندھا کر دے اور اسے اس کے لڑکے کی موت پر رُلا۔“
ولید بن مغیرہ آپ کے نزدیک سے گزرا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کے پاؤں کے ٹخنے کی طرف اشارہ کیا۔ یہ زخم کچھ عرصہ قبل اسے لگا تھا۔ حضرت جبریل علیہ السلام کے اشارے سے وہ زخم دوبارہ خراب ہو گیا اور اسی سے اس کی موت واقع ہوئی۔ عاصی بن وائل آپ ﷺ کے پاس سے گزرا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کے پاؤں کے تلوے کے درمیانی حصہ کی طرف اشارہ کیا۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر طائف گیا۔ گدھا ایک زہریلے خاردار پودے پر بیٹھ گیا۔ عاصی کے پاؤں کے تلوے کے وسطی حصہ میں کانٹا چبھ گیا جو اس کی موت کا سبب بنا۔ پھر حارث بن طلاطلہ آپ ﷺ کے پاس سے گزرا۔ حضرت جبریل نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا، اس کا سر سوج گیا اور پیپ سے بھر گیا۔ سارا بھیجا گل کر پیپ بن گیا اور یہی عارضہ اس کی موت کا سبب بنا (70)۔
اللہ تعالیٰ نے ان مذاق اڑانے والوں کے متعلق فرمایا تھا: إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [الحجر 15: 95] آپ کی طرف سے ہم ان مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں۔
توہین رسالت کے پہلے مجرم ابو لہب کا انجام
توہین رسالت کا پہلا مجرم آپ ﷺ کا چچا ابولہب تھا۔ اس کا نام عبد العزیٰ بن عبد المطلب تھا۔ ابن سعدؒ (م 230ھ) نے لکھا ہے کہ اس کا چہرہ اتنا سرخ اور سفید تھا کہ ابو لہب کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب کوہ صفا پر کھڑے ہو کر مکہ والوں کو اسلام کی دعوت دی تو ابو لہب نے مجمع میں سے آگے بڑھ کر سب سے پہلے آپ کی مخالفت کی اور کہا: سارا دن تمہاری بربادی ہو، کیا تم نے اس لیے ہمیں جمع کیا تھا (71)۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بہت زیادہ جھوٹ بکتا۔ آپ ﷺ کا ہمسایہ ہونے کے باوجود حقوق ہمسائیگی کا ذرا بھی خیال نہ رکھتا اور آپ کے دروازے پر کوڑا کرکٹ پھینک دیتا تھا۔
غزوہ بدر میں کفار کو شکست ہوئی جس میں مکہ والوں کے بڑے بڑے سورما قتل ہوئے۔ اس شکست کی خبر جب مکہ پہنچی تو ابو لہب کو اتنا زیادہ دکھ ہوا کہ وہ سات دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکا۔ وہ ”عدسہ“ نامی بیماری میں مبتلا ہوا جو طاعون سے ملتی جلتی ہے۔ اس بیماری کے دوران اس کے اہل خانہ چھوت کے ڈر سے اس کے قریب نہ آتے تھے۔ مرنے کے بعد بھی تین دن تک کوئی اس کی لاش کے قریب نہ آیا۔ اس کی لاش سڑ گئی اور اس سے بدبو آنے لگی۔ جب لوگوں نے اس کے بیٹے کو طعنے دینے شروع کیے تو انہوں نے کچھ حبشیوں کو اجرت دے کر اس کی لاش اٹھوائی اور انہی حبشیوں نے اسے دفن کیا۔ ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ انہوں نے گڑھا کھودا اور لکڑیوں سے اس کی لاش کو دھکیل کر اس میں پھینک دیا اور اوپر سے مٹی اور پتھر ڈال کر اسے پُر کر دیا (72)۔
عامر بن طفیل کا انجام
ابن ہشامؒ (م 213ھ یا 218ھ) نے بیان کیا ہے کہ مشہور عرب شاعر حضرت لبیدؓ کے سوتیلے بھائی اربد بن قیس اور چچا زاد بھائی عامر بن طفیل نے رسول اللہ ﷺ کو دھوکے سے شہید کرنے کی سازش تیار کی۔ عامر نے اربد سے کہا: جب ہم اس شخص (رسول اللہ ﷺ) کے پاس پہنچیں گے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 140 تحفظ ناموس رسالت نمبر
تو میں ان کی توجہ تمہاری طرف سے ہٹا دوں گا اور تم اپنی تلوار سے انہیں قتل کر دینا۔ یہ دونوں بنی عامر کے وفد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ عامر نے بار بار کہا: محمد (ﷺ) مجھے تخلیے کا موقع دیں۔ لیکن آپ نے اسے تنہائی میں ملاقات کا موقع نہیں دیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لے آؤ۔ پھر جب عامر واپس جانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ ”یا اللہ! تو میرے لیے عامر بن طفیل کو کافی ہو جا۔“
عامر نے اربد کو سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جو کہا تھا اس پر عمل کیوں نہیں کیا۔ اربد نے جواب دیا: اللہ کی قسم ! میں اس روئے زمین پر تم سے زیادہ ہیبت ناک کسی آدمی کو نہیں خیال کرتا تھا، مگر آج کے بعد تم سے کبھی خوف نہیں کھاؤں گا۔ تم نے جو مجھے حکم دیا تھا میں اس کی تعمیل کا ارادہ کرتا تھا اور تم خود میرے اور اس (رسول اللہ ﷺ) کے درمیان حائل ہو جاتے تھے۔ مجھے تمہارے سوا کوئی نظر ہی نہیں آتا تھا تو کیا میں تلوار مار دیتا؟
اپنے وطن واپسی پر راستے میں عامر کی گردن میں اللہ تعالیٰ نے طاعون کی گلٹی پیدا کر دی اور اللہ نے اسے بنی سلول کی ایک عورت کے گھر میں اسے موت دی۔ یوں وہ بہادروں کی طرح میدانِ جنگ میں نہ مارا گیا (73)۔
اربد بن قیس کا انجام
عامر کو دفن کرنے کے بعد اس کے ساتھی اپنے وطن پہنچ گئے۔ قوم نے پوچھا: کیا کر کے آئے ہو؟ اربد نے کہا: کچھ بھی نہیں، اللہ کی قسم ! اس (رسول اللہ ﷺ) نے ایسی چیز کی عبادت کرنے کو کہا ہے کہ اگر وہ یہاں اس وقت میرے پاس ہوتا تو تیر مار مار کر اسے قتل کر دیتا۔ اپنی یہ بات کہنے کے ایک یا دو روز کے بعد اربد کہیں جا رہا تھا۔ اس کا اونٹ اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اونٹ پر بجلی گرا دی اور وہ اپنے اونٹ کے ساتھ جل کر مر گیا (74)۔
جھوٹے گستاخ کا انجام
امام بخاریؒ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک نصرانی مسلمان ہو گیا اور اس نے سورت البقرۃ اور سورت آل عمران پڑھی۔ وہ کاتب وحی بھی بنا۔ پھر وہ نصرانی ہو گیا۔ وہ دشمنوں سے جا ملا اور کہا کرتا تھا کہ محمد (ﷺ) صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا میں نے ان کے لیے لکھا ہے۔ اللہ نے اسے موت دی تو لوگوں نے اسے دفن کر دیا۔ اگلی صبح دیکھا گیا کہ زمین نے اس کی لاش باہر پھینک دی تھی۔ لوگوں نے کہا: یہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے کیونکہ یہ انہیں چھوڑ کر بھاگ آیا تھا اس لیے انہوں نے اس کی قبر کھود ڈالی۔ لوگوں نے اس مرتبہ اسے بہت گہرائی میں دفن کیا۔ اگلی صبح پھر زمین نے اس کی لاش باہر پھینک دی۔ پھر لوگوں نے کہا: یہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے کیونکہ یہ انہیں چھوڑ کر بھاگ آیا تھا اس لیے انہوں نے اس کی قبر کھود ڈالی۔ تیسری مرتبہ لوگوں نے جتنا گہرا کھود سکتے تھے اس کی قبر کا گڑھا کھودا اور اس کی لاش دفن کر دی۔ لیکن تیسری مرتبہ پھر زمین نے اس کی لاش باہر پھینک دی۔ تب لوگوں نے سمجھا کہ یہ کام انسانوں کا نہیں ہے، پس انہوں نے لاش کو یونہی پڑا رہنے دیا (75)۔
امام مسلمؒ نے بھی حضرت انسؓ سے یہ روایت نقل کی ہے (76)۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر صحیحین میں درج مندرجہ بالا واقعہ میں مذکور شخص پر یہ عذاب الٰہی اس وجہ سے نہیں تھا کہ وہ ترکِ اسلام کر کے ارتداد کا مرتکب ہوا تھا۔ اس کا یہ انجام اس وجہ سے ہوا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور آپ پر افتراء باندھا تھا۔
نبی سے گستاخی ارتداد سے بڑا جرم ہے
اوپر درج واقعہ کے بارے میں امام ابنِ تیمیہ (م 727ھ) کہتے ہیں کہ اس ملعون نے نبی ﷺ پر افتراء کیا تھا کہ محمد (ﷺ) صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا میں نے ان کے لیے لکھا ہے۔ اللہ نے اس کی کمر توڑ دی، اسے رسوا کیا اور کئی مرتبہ اسے دفن کے بعد قبر سے باہر پھنکوا دیا۔ یہ امرِ خارقِ عادت ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے یہ اس کی اس گستاخی کی سزا تھی جو وہ کہا کرتا تھا اور وہ جھوٹا تھا۔ عام فوت شدہ افراد کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ نبی کریم ﷺ پر جھوٹ ارتداد سے بڑا جرم ہے کیونکہ عام مرتدین بھی فوت ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ آپ مزید فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے اپنے رسول کا انتقام لیتا ہے جو آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی پر طعن کرے اور آپ پر سبّ و شتم کرے۔ اللہ دین کو غالب کرتا ہے کیونکہ ایسے واقعات میں لوگوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اس گستاخِ رسول پر حد جاری کریں (77)۔
گستاخ جن کا قتل
الصارم المسلول میں سعد بن یحییٰ اموی کی کتاب المغازی کے حوالے سے ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے اور الصارم المسلول کے محقق جناب خالد عبد اللطیف کے مطابق یہ واقعہ جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی کتاب لقط المرجان فی أحکام الجان میں بالاختصار درج کیا ہے کہ ہجرت سے پہلے اور کافر جنوں اور انسانوں کے خلاف اذنِ جہاد سے قبل مومن جن بھی رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والے کافر جن کو قتل کر دیا کرتے تھے۔
حضرت ابنِ عباسؓ کی روایت ہے کہ ایک جن نے کوہِ ابو قُبیس پر پکار کر کچھ اشعار کہے۔ اشعار کا مفہوم یہ ہے: اے آلِ فہر! اللہ تمہاری رائے رسوا کرے، تم کتنے بیوقوف اور کم عقل ہو کہ تم اپنے معزز آباء کے دین پر عیب جوئی کرنے والے کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہو۔ اس عیب جو نے تمہارے خلاف بُصریٰ کے جنوں اور نخلوں اور ٹیلوں کے لوگوں سے حلف لیا ہے۔ جلد ہی اس کا لشکر حرمِ تہامہ میں لوگوں کو قتل کرے گا۔ کیا تم میں کوئی نفسِ حُر ہے جو ایک کاری و عبرت ناک ضرب لگائے اور اس رنج و غم سے نجات دلائے؟ پکار لگانے والے جن کی یہ آواز وادی مکہ میں گونجی۔ مکہ کے لوگ یہ اشعار آپس میں ایک دوسرے کو پڑھ پڑھ کر سنانے لگے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: هٰذَا الشَّيْطَانُ يُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْأَوْثَانِ يُقَالُ لَهُ مِسْعَرٌ وَاللّٰهُ مُخْزِيهِ یہ مسعر نامی شیطان ہے جو لوگوں کے ساتھ بتوں کے بارے میں باتیں کرتا ہے، اللہ اسے جلد رسوا کرنے والا ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 142 تحفظ ناموس رسالت نمبر
نبی ﷺ کی اس بددعا کے تین دن بعد پہاڑ سے پکارنے والے کی آواز سنائی دی: ہم نے مسعر شیطان کو قتل کر دیا کیونکہ اس نے حق کا مذاق اڑایا اور بُری بات کی رسم جاری کی۔ اسے ہمارے پاک نبی ﷺ کی شانِ اقدس میں سبّ و شتم کرنے کے جرم میں کاٹ دینے والی تلوار سے قتل کر دیا گیا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: یہ عفریت جن ہے جس کا نام سمج ہے لیکن میں نے اس کا نام عبداللہ رکھا ہے۔ یہ مجھ پر ایمان لایا ہے۔ اس نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ وہ کئی دنوں سے مسعر جنّ کو تلاش کر رہا تھا۔ یہ سن کر حضرت علیؓ نے کہا: یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ اسے جزائے خیر دے (78)۔
مجرمین رسالت کا خون مباح کرنے کے نبوی احکامات
مدینہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شریعت ریاستی و سرکاری قانون کے طور پر نافذ تھی جسے تمام اداروں اور شہریوں پر بالادستی حاصل تھی۔ عدالتِ نبوی ریاست کی اعلیٰ ترین عدالت تھی۔ تمام جرائم کے مقدمات میں حتمی اور آخری فیصلہ اسی عدالت کا ہوتا تھا۔ توہین رسالت کا جرم بھی ان جرائم میں شامل تھا جو ریاستی قانون کی گرفت میں آتے اور مستوجب سزا تھے۔
شانِ نبی ﷺ اور شانِ رسالت کی توہین کرنے والے مجرمین کو عدالتِ نبوی سے سزائیں بھی دی گئیں۔ بعض مقدمات میں توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کو سزائے موت دینے کا حکم خود رسول اللہ ﷺ نے دیا اور حکم نبوی کی تعمیل میں ان مجرمین کو قتل کر دیا گیا۔ بعض واقعات میں ایسا بھی ہوا کہ ایسے مجرمین کا خون رسول اللہ ﷺ نے مباح قرار دے دیا اور انہیں قتل کرنے والوں کو ان کے قتل سے بری کر دیا گیا۔ ان مقدمات کا فیصلہ مدینہ میں سنایا اور ان پر عمل کیا گیا جہاں اسلامی ریاست قائم تھی۔
ایسے واقعات بھی ملتے ہیں کہ شانِ رسالت میں توہین کا ارتکاب کرنے والے کو کسی صحابی نے قتل کر دیا۔ جب رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے گستاخ مقتول کا خون مباح کر دیا، نہ اس کا کوئی خون بہا ادا کیا گیا اور نہ ہی آپ نے متعلقہ صحابی سے کوئی تعرض فرمایا۔
ایک شخص کا یہودیہ کو قتل کرنا سنن ابوداؤد میں حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک یہودیہ بُرا کہا کرتی تھی۔ وہ آپ کی ہجو بھی کہتی تھی۔ ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون ساقط کر دیا (79)۔
اس روایت کی صحتِ سند سے متعلق بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں لیکن امام ابن تیمیہؒ (م 727ھ) نے اس روایت سے متعلق کہا ہے کہ یہ حدیث جید ہے کیونکہ اس کے راوی امام شعبیؒ نے حضرت علیؓ کو دیکھا اور آپ سے شراحہ ہمدانی کی حدیث روایت کی ہے۔ اگرچہ حدیث مرسل بھی سمجھی جاتی ہو تب بھی بالاتفاق حجت ہے کیونکہ محدثین کے نزدیک امام شعبیؒ کی ہر حدیث صحیح ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ثقہ اصحاب کی احادیث کے سب سے بڑے عالم امام شعبیؒ ہیں۔ امام ابن تیمیہؒ مزید کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس یہودیہ کے قتل کے جواز پر نص ہے کیونکہ اس
تحفظ ناموس رسالت نمبر 143 ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء
نے رسول اللہ ﷺ کو بُرا کہا تھا۔ یہ حدیث ایک ذمی گستاخ کو قتل کرنے پر دلیل ہے تو ایک مسلمان مرد یا عورت اگر رسول اللہ ﷺ کو گالی دیں تو ان کا قتل بدرجہ اولیٰ جائز ہے (80)۔
نابینا صحابی کا اپنی لونڈی کو قتل کرنا سنن نسائی اور سنن ابوداؤد وغیرہ میں ہے: حضرت ابن عباسؓ سے مروی حدیث کے مطابق ایک نابینا صحابی کی ایک لونڈی تھی جس کے بطن سے ان کے دو بچے تھے۔ وہ لونڈی اکثر رسول اللہ ﷺ کو بُرا کہتی۔ نابینا صحابی اسے بار بار ڈانٹتے لیکن وہ باز نہ آتی۔ ایک رات اس نے پھر رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہا اور آپ کو برا کہنے لگی۔ نابینا صحابی سے ضبط نہ ہو سکا۔ انہوں نے تکلہ اٹھایا اور اس کے پیٹ پر رکھ کر دبا دیا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔
صبح جب وہ مردہ پائی گئی تو لوگوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ آپ نے سب کو جمع کیا اور فرمایا: میں اس شخص کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس پر میرا حق ہے کہ وہ شخص جس نے اس لونڈی کو قتل کیا ہے وہ کھڑا ہو جائے۔ یہ سن کر نابینا صحابی ڈر اور خوف سے گرتے پڑتے آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم! یہ خون میں نے کیا ہے، وہ میری لونڈی تھی اور مجھ پر انتہائی مہربان اور میری رفیقہ تھی۔ اس کے پیٹ سے میرے دو بچے بھی ہیں جو موتیوں کی طرح ہیں۔ لیکن وہ اکثر آپ کو بُرا کہا کرتی اور آپ کو گالیاں دیتی تھی۔ میں اسے ایسا کرنے سے منع کرتا تھا لیکن وہ باز نہیں آتی تھی۔ میں سختی کرتا تو بھی وہ نہیں مانتی تھی۔ آج رات اس نے آپ کا تذکرہ کیا اور آپ کو بُرا کہنے لگی۔ میں نے تکلہ اٹھایا اور اس کے پیٹ پر رکھ کر زور سے دبا دیا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ (81) "تم سب گواہ رہنا اس لونڈی کے خون کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔"
امام ابن تیمیہؒ اس روایت پر لکھتے ہیں کہ وہ عورت نابینا صحابی کی منکوحہ تھی یا مملوکہ لونڈی، ان دونوں صورتوں میں اگر اس عورت کا قتل ناجائز ہوتا تو رسول اللہ ﷺ فرمادیتے کہ اس کا قتل حرام اور وہ معصوم الدم تھی، پھر آپ معصوم الدم کو قتل کرنے پر کفارہ لازم کرتے۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ آپ نے فرمایا: أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ: تم سب گواہ رہنا اس لونڈی کے خون کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ معلوم ہوا کہ وہ ذمیہ ہونے کے باوجود مباح الدم تھی۔ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے کے سبب سے اس کا خون مباح ہو گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب سارا واقعہ سنا کہ گالی دینے کی وجہ سے اس عورت کو قتل کیا گیا تو آپ نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی موجبِ قتل ہے (82)۔
ایک بھائی کا اپنی بہن کو قتل کرنا الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی الله عليه وسلم اور مجمع الزوائد میں ہے: حضرت عمیر بن امیہ روایت کرتے ہیں کہ ان کی ایک بہن تھی۔ عمیرؓ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے کے لیے آتے تو وہ آپ کو گالیاں دیتی اور ایذا پہنچاتی۔ وہ مشرکہ تھی۔ حضرت عمیرؓ نے اسے تلوار سے قتل کر دیا۔ اس کے بیٹے چلا چلا کر کہنے لگے کہ ہم اس کے قاتل کو جانتے ہیں، تم لوگوں نے ہماری ماں کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ ان لوگوں کے باپ دادا اور ان کی مائیں سب مشرک تھے۔ جب حضرت عمیرؓ کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ وہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 144 تحفظ ناموس رسالت نمبر
لوگ اپنی ماں کے بدلے میں قاتل کے بجائے کسی اور کو قتل کر دیں گے تو انہوں نے اللہ کے نبی ﷺ کے پاس حاضر ہو کر سارا واقعہ بیان کر دیا۔
آپ ﷺ نے حضرت عمیرؓ سے پوچھا: کیا تم نے اپنی بہن کو قتل کر دیا؟ عمیرؓ نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کس لیے؟ عمیرؓ نے کہا: وہ آپ کو بُرا کہہ کر مجھے تکلیف پہنچاتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے مقتولہ کے بیٹوں کو بلا کر پوچھا۔ انہوں نے اصل قاتل کے بجائے کسی اور شخص کا نام لیا۔ آپ نے ان کو حقیقت سے آگاہ کیا اور ان کی ماں کو مباح الدم قرار دیا (83)۔
ایک شخص کا اپنے باپ کو قتل کرنا قاضی عیاضؒ (م 544ھ) نے ابن قانعؒ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میں نے اپنے باپ کو سنا کہ وہ آپ کی نسبت بُری بات کہتا ہے تو میں نے اسے قتل کر دیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ پر شاق نہ گزری (84)۔
ابو اسحاق فزاریؒ کے حوالے سے امام ابن تیمیہؒ نے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر کہا: یا رسول اللہ ! میں اپنے والد سے ملا جو مشرکین کے ساتھ تھا۔ میں نے سنا کہ میرا والد آپ کی شان اقدس میں بُری باتیں کر رہا تھا۔ میں برداشت نہ کر سکا اور اس کے گلے میں نیزے کی نوک بھونک کر اسے قتل کر دیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ پر گراں نہ گزری (85)۔
یہ واقعات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس دور میں جب رسول اللہ ﷺ حیاتِ ظاہری کے ساتھ تشریف فرما تھے، اگر کسی صحابی نے آپ ﷺ کی غیر موجودگی میں یا آپ کے حکم، اجازت یا اطلاع کے بغیر کسی گستاخِ رسول کو قتل کر دیا تو واقعہ کے پورے حقائق علم میں آ جانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس کا کوئی مواخذہ نہیں کیا اور مقتول کا خون مباح قرار دیا۔ رسول اللہ ﷺ قانونی طور پر بھی ان مقدمات کے حقائق کو دیکھتے تھے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان مقدمات کے حقائق واقعی طور پر جاننے کے لیے صرف آپ ہی کے پاس ایک ذریعہ علم تھا جسے وحی کہتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے حیات ظاہری سے پردہ فرما جانے کے بعد انسانوں میں خیر اور بھلائی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی روایت میں آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ (86)
سب سے اچھے انسان وہ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے۔ پھر ایسی قوم پیدا ہو گی جو قسم کھانے سے پہلے گواہی دے گی اور گواہی دینے سے پہلے قسم کھائے گی۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 145 تحفظ ناموس رسالت نمبر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قرن کے انسانوں یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خیر الناس قرار دیا تھا۔ نبوی قرن کے بعد اب بیسیوں قرن گزر چکے ہیں۔ آج کا انسان "خیر" میں نبوی قرن کے انسان یعنی صحابہ کرامؓ سے کوئی نسبت نہیں رکھتا۔ اسی لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد کار نبوت کی تمام ذمہ داری امت مسلمہ پر ہے۔ موضوع زیر بحث میں کوئی موقف اختیار کرنا امت کا کام ہے، کسی اکیلے فرد کا نہیں۔ مزید یہ کہ تعبیر اور ترجیح کے اصولوں کے تحت علمی اختلافات جب تک فقہاء اور علمائے امت ہی کے درمیان رہے، غنیمت رہی۔ لیکن جب یہ علمی اختلافات مجمع سے واہ واہ کروانے کے شوقین افراد کی وجہ سے علماء کرام سے نکل کر عوام میں عام کر دیئے گئے تو جہاں اور نقصانات ہوئے وہیں ہر مسلک کے لوگوں نے اپنے اپنے مسلک کے مطابق رسول دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے تقاضے بنا لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور توہین و گستاخی کو مسلکی معیارات پر جانچا جانے لگا۔ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی میں جتنی صلاحیتیں ضائع کرتے ہیں اگر اتنی صلاحیتیں غیر مسلموں کو دین کی تبلیغ میں صرف کریں تو یقیناً مثبت نتائج برآمد ہوں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوش ہوں۔ پاکستان میں 1986ء سے توہین رسالت پر موت کی سزا کا قانون موجود ہے جو ریاستی قانون پر عمل کرنے والے ہر پاکستانی شہری کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ امر اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں جرم، مجرم اور سزا کا تعین ریاست کی عدالت کرے گی۔ اس قانون کی موجودگی اور اس کا نفاذ کسی بھی غلط رویے کا سدّباب کرتا ہے۔
مجرمین توہین رسالت کو سزائے قتل دینے کے نبوی فیصلے
یہاں عدالت نبوی کے چند مقدمات درج کیے جاتے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی توہین کے مرتکبین کو مجرمین قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت سنائی۔ نبوی عدالت کے ان فیصلوں کی تعمیل میں مجرمین کو قتل کر دیا گیا۔
جھوٹی بات منسوب کرنے والا عبد الرزاق رحمہ اللہ (م 211ھ) نے المصنّف میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جھوٹی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ملی تو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ دونوں کو اس شخص کی طرف بھیجتے ہوئے فرمایا:
اِذْهَبَا فَإِنْ أَدْرَكْتُمَاهُ فَاقْتُلَاهُ
تم دونوں جاؤ اور اگر اسے پاؤ تو تم دونوں اسے قتل کر دو
انہوں نے جاکر وہ شخص قتل کر دیا (87)۔
گالی دینے والا المصنّف ہی میں تابعی عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی۔ آپ نے فرمایا:
مَنْ يَكْفِينِي عَدُوِّي ؟
"کون ہے جو میرے دشمن کے لیے کافی ہو جائے؟"
تحفظ ناموس رسالت نمبر 146 ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ چنانچہ حضرت زبیرؓ نے اسے للکارا اور قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کا سامان حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو دلوایا (88)۔
ایک شاتمہ عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی۔ آپ نے فرمایا: مَنْ يَكْفِينِي عَدُوِّي؟ کون ہے جو میرے دشمن کے لیے کافی ہو جائے؟ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جا کر اس شاتمہ کو قتل کر دیا (89)۔
عصماء بنت مروان ابن ہشامؒ (م 213ھ یا 218ھ)، ابن سعدؒ (م 230) اور واقدیؒ (م 297ھ) نے بیان کیا ہے کہ خطمی قبیلے کی ایک عورت جس کا نام عصماء بنت مروان تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچاتی تھی، وہ دین اسلام پر عیب جوئی کرتی اور لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکاتی اور شعر بھی کہتی تھی۔ یہ غزوہ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں فرمایا:
حضرت عمیر بن خرشہ بن امیہ خطمی نے عہد کیا کہ وہ اس گستاخہ رسول کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ حضرت عمیرؓ نے کہا: یا اللہ! تیرے لیے مجھ پر نذر ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائیں گے تو میں اس عورت کو قتل کر دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں بدر کے میدان میں تھے۔ جب آپ بدر سے واپس تشریف لائے تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ آدھی رات کو اس عورت کے گھر داخل ہوئے۔ اس کے گرد اس کے بچے سو رہے تھے۔ ایک دودھ پیتا بچہ اس کی چھاتی سے چمٹا ہوا تھا۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اس بچے کو الگ کیا اور تلوار عورت کے سینے میں گھونپ دی۔ عمیر رضی اللہ عنہ اس کا کام تمام کر کے مدینہ واپس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز فجر ادا کی۔ آپ نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد عمیر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: أَقَتَلْتَ بِنْتَ مَرْوَانَ؟ کیا تم نے بنت مروان کو قتل کر دیا؟ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی پوچھا: فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ؟ کیا اس کے قتل کرنے پر مجھ سے کوئی مواخذہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: لَا يَنْتَطِحُ فِيهَا عَنْزَانِ: اس معاملہ میں دو بکریوں کے سر بھی نہیں ٹکرائیں گے یعنی کچھ بھی نہیں ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پر موجود صحابہ علیہم الرضوان سے مخاطب ہو کر فرمایا:
عَدِيٍّ
اگر تم پسند کرو کہ ایسے شخص کو دیکھو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن
عدی کو دیکھ لو
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ کی مدح میں اشعار کہے (90)۔
عصماء کو صرف اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانے اور آپ کی ہجو کرنے کا جرم کیا تھا (91)۔ اس کی قوم نے ہجو کا ارتکاب نہیں کیا تھا لہٰذا انہیں کچھ نہیں کہا گیا۔ اگر وہ بھی اس جرم کے مرتکب
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہ
ہوتے تو ان کے ساتھ بھی کرنے والا حربی ہو یا مسلم ہو
ابن تیمیہ کا واقعہ ی پر تبصر
توہین رسالت (م 727ھ) کہتے ہیں کہ واقعہ دوسرے لوگوں سے زیادہ تھے۔ واقدیؒ کے ہاں ایسا شیوخ سے سنا ہے حالانکہ منفرد و اکیلا ہو تو اس روایت سکتی ہے، خاص طور پر جب
عقبہ بن ابی محیط
خلف الجمحی دونوں دوست نہیں ہوں گا جب تک تم سکا۔ جب غزوہ بدر کے مو کے قتل کا حکم دیا۔ اس نے ق
اللہ اور اس کے رسو حضرت علی رضی اللہ واقدیؒ نے لك
ابی بن خلف
دوست ابی بن خلف کے انجا کو فدیہ دیا اور کہا: میرے گھوڑے پر سوار ہو کر آپ کو
غزوہ احد میں ابی بن خ تھا۔ چند مسلمان سپاہیوں نے دو، اسے مہلت دے دو۔ آپ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 147 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہوتے تو ان کے ساتھ بھی عصماء جیسا سلوک کیا جاتا۔ ثابت ہوا کہ ہجو کہنا بذات خود موجب قتل ہے خواہ ہجو گوئی کرنے والا حربی ہو یا مسلم ہو یا معاہد ہو (92)۔
ابن تیمیہ کا واقدی پر تبصرہ
توہین رسالت کے ضمن میں کچھ روایات واقدیؒ (م 297ھ) سے بھی لی جاتی ہیں۔ امام ابن تیمیہ (م 727ھ) کہتے ہیں کہ واقدی ضعیف ہیں مگر اس بارے اختلاف نہیں کہ واقدی مغازی سے متعلق امور کی تفصیلات دوسرے لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں۔ امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ وغیرہ بھی مغازی میں واقدیؒ سے استفادہ کرتے تھے۔ واقدیؒ کے ہاں ایسا ہوتا ہے کہ روایات آپس میں خلط ملط ہو جاتی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ واقدی نے سارا واقعہ اپنے شیوخ سے سنا ہے حالانکہ واقدیؒ نے ہر شیخ سے بعض حصے سنے ہوتے ہیں۔ اس لیے جب واقدیؒ ایسی روایت میں منفرد و اکیلا ہو تو اس روایت سے حجت و دلیل نہیں لی جائے گی۔ البتہ ایسی روایت تائید اور استشہاد کے طور پر قبول کی جا سکتی ہے، خاص طور پر جب روایت میں قاتل، مقتول اور واقعہ کی پوری صورت حال مل رہی ہو (93)۔
عقبہ بن ابی معیط عبدالرزاقؒ (م 211ھ) نے روایت نقل کی ہے کہ عقبہ بن ابی معیط اور ابی بن خلف الجمحی دونوں دوست ایک مرتبہ آپس میں ملے۔ عقبہ نے ابی بن خلف سے کہا: میں تم سے اس وقت تک خوش نہیں ہوں گا جب تک تم محمد (ﷺ) کو گالی نہیں دو گے اور ان کی تکذیب نہیں کرو گے۔ اللہ کی قدرت وہ ایسا نہ کر سکا۔ جب غزوہ بدر کے موقع پر عقبہ بن ابی معیط کو قیدیوں کے ہمراہ لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو اس کے قتل کا حکم دیا۔ اس نے آپ سے پوچھا کہ اسے کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بِكُفْرِكَ وَ فُجُوْرِكَ وَ عُتُوِّكَ عَلَی اللہِ وَ رَسُوْلِہٖ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف تمہارے کفر و فجور اور تمہاری سرکشی کی وجہ سے حضرت علیؓ اٹھے اور اس کا سر قلم کر دیا (94)۔ واقدیؒ نے لکھا ہے کہ عقبہ بن ابی معیط کے علاوہ کسی کو باندھ کر قتل نہیں کیا گیا (95)۔
ابی بن خلف ابن سعدؒ (م 230ھ) اور عبدالرزاقؒ (م 211ھ) نے عقبہ بن ابی معیط کے دوست ابی بن خلف کے انجام کا واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ ابی بن خلف بدر کے دن گرفتار ہوا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کو فدیہ دیا اور کہا: میرے پاس ایک گھوڑا ہے جسے میں روزانہ ایک فرق (آٹھ یا نو کلو) جوار کھلاتا ہوں اور میں اسی گھوڑے پر سوار ہو کر آپ کو قتل کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بَلْ اَنَا اَقْتُلُكَ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ ”بلکہ میں تجھے قتل کروں گا ان شاء اللہ“ غزوہ احد میں ابی بن خلف مشرکین کے ہمراہ مسلمانوں کے مقابلے میں آیا۔ وہ اس روز اسی گھوڑے پر سوار تھا۔ چند مسلمان سپاہیوں نے اسے روک کر قتل کرنا چاہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اسے مہلت دے دو، اسے مہلت دے دو۔ آپ نے ایک نیزہ اٹھا کر اسے مارا جو اس کے پیٹ میں لگا۔ اس کی پسلیاں بھی ٹوٹ گئیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 148 تحفظ ناموس رسالت نمبر
وہ زمین پر گرا۔ اس کے جسم سے بہت زیادہ خون بہنے لگا۔ وہ بیل کی طرح زور زور سے آوازیں نکالنے لگا۔ اس کے ساتھی اسے اٹھا کر لے گئے اور اس سے پوچھنے لگے کہ تیرے ساتھ کیا ہوا ہے، تم کیوں خوفزدہ ہو؟ اس نے جواب دیا: محمد (ﷺ) نے مجھے نیزہ مارا ہے، اب میں مر جاؤں گا کیونکہ محمد (ﷺ) نے کہا تھا: "میں تمہیں قتل کروں گا، ان شاء اللہ"۔ تھوڑی دیر کے بعد ابی بن خلف مر گیا اور جہنم کی آگ کا ایندھن بنا (96)۔
اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: وَ يَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا يَا وَيْلَتَا لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ط وَ كَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنْسَانِ خَذُولًا [الفرقان 25: 27 - 29]
اور اس دن ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا: کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکاوے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی۔ شیطان تو انسان کے حق میں بڑا ہی بے وفا نکلا۔
نضر بن حارث
نضر بن حارث بھی بدر کے قیدیوں میں سے تھا۔ عقبہ بن ابی محیط جس کا ذکر اوپر ہوا جسے باندھ کر قتل کیا گیا تھا، اور نضر بن حارث صرف یہی دو قیدی تھے جنہیں نبوی حکم کے تحت قتل کیا گیا تھا۔ ان دونوں کے سوا کسی بدری قیدی کا قتل نہیں ہوا (97)۔
غزوہ بدر کے تمام قیدیوں میں سے صرف نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی محیط کو قتل کرنے کا سبب یہ تھا کہ وہ دونوں اپنی زبان یا فعل سے رسول اللہ ﷺ کو اذیتیں دیا کرتے تھے (98)۔
کعب بن الاشرف
امام بخاری (م 256ھ) اور امام مسلم (م 261ھ) کے علاوہ ابن اسحاق (م 151ھ)، ابن سعد (م 230ھ)، واقدی (297ھ) اور ابن الاثیر (م 630ھ) وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ بنی نضیر قبیلہ کا ایک یہودی کعب بن الاشرف تھا۔ وہ شاعر تھا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کے خلاف ہجویہ اشعار کہتا اور یہ اشعار لوگوں کو سنا کر انہیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف بھڑکاتا تھا۔ غزوہ بدر میں کفار مکہ کی شکست پر اسے بہت دکھ ہوا۔ وہ مدینہ سے مکہ گیا اور وہاں جا کر اس نے مقتولین قریش کے مرثیے کہے جن کی لاشوں کو کنویں میں ڈال دیا گیا تھا۔ پھر واپس آ کر کعب نے ایک مسلمان خاتون ام الفضل بنت حارث اور دیگر مسلم خواتین کے متعلق عشقیہ اشعار کہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
یا اللہ! ابن الاشرف کے اعلانِ شر اور شعر کہنے کو تو جس طرح چاہے مجھ سے روک دے
آپ نے یہ بھی فرمایا:
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ابن الاشرف کے خلاف کون میری مدد کرے گا؟ اس نے مجھے ایذا پہنچائی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے یہ فرمایا: مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَ رَسُولَهُ کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائی ہے۔
حضرت محمد بن مسلمہ ؓ انصاری نے کہا: اس کے لیے میں ہوں یا رسول اللہ ! میں اسے قتل کروں گا۔
آپ نے محمد بن مسلمہ کو کعب بن الاشرف کے قتل کی اجازت دے دی۔ حضرت محمد بن مسلمہ ؓ نے اس کام کی فکر میں کھانا پینا چھوڑ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلا کر پوچھا: اے محمد ! کیا تم نے کھانا پینا ترک کر دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ ! میں نے آپ کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اس کے قابل ہوں یا نہیں۔ آپ نے فرمایا: تم پر صرف کوشش کرنا فرض ہے۔ آپ نے حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کو اس سلسلہ میں حضرت سعد بن معاذ ؓ سے مشورہ کرنے کی نصیحت کی۔ ان کے ساتھ حضرت عباد بن بشر ؓ، حضرت ابو نائلہ سلکان بن سلامہ ؓ، حضرت حارث بن اوس ؓ اور حضرت ابو عبس بن جبر ؓ بھی رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے اس مہم میں شریک کار ہو گئے۔
جس رات کعب بن اشرف کو قتل کیا گیا، رسول اللہ ﷺ اس رات حالت قیام میں رہے اور نماز ادا فرماتے رہے۔ صبح جب آپ نے ان کے نعرہ ہائے تکبیر کی آوازیں سنیں تو آپ جان گئے کہ کعب کو قتل کر دیا گیا ہے۔ وہ لوگ واپس پہنچے تو انہوں نے آپ کو مسجد نبوی کے دروازے پر کھڑا پایا اور انہوں نے آپ کو کعب کے قتل میں کامیابی کی خوشخبری سنائی (99)۔
قاضی عیاضؒ (م 544ھ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کی یہ وجہ بیان فرمائی: فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَ رَسُولَهُ: اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائی ہے، یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ کعب کا قتل شرک نہیں بلکہ اللہ کے نبی کو ایذا پہنچانے کی وجہ سے تھا (100)۔
امام ابن تیمیہؒ (م 727ھ) کہتے ہیں کہ لفظ "اذیّت" اگر مطلق آئے تو اس سے مراد زبانی اذیت ہے۔ کعب معاہد اور امان یافتہ تھا لیکن اس کے نقض عہد کا سبب وہ ہجویہ اشعار تھے جو اس نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہے تھے جس پر آپ نے اس کے قتل کا حکم جاری فرمایا تھا (101)۔
ابو عفك ابو عفك سو برس کا بوڑھا یہودی تھا۔ وہ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی مخالفت پر برانگیختہ کرتا اور شعر کہتا تھا۔ غزوہ بدر کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ جہاد کے لیے روانہ ہوئے اور جب آپ فتح کے بعد واپس مدینہ تشریف لائے تو ابو عفك کا حسد کے مارے برا حال ہو گیا۔ اس مناسبت سے اس نے شعر بھی کہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے 26ویں مہینے ابو عفك کے قتل کے لیے حضرت سالم بن عمیر العمریؓ کو بھیجا۔ گرمی کے موسم میں ابو عفك ایک رات میدان میں سویا ہوا تھا کہ حضرت سالم بن عمیرؓ نے تلوار سے اسے قتل کر دیا (102)۔
اگرچہ یہ روایت اہل مغازی کی ہے لیکن یہ بطور تائید و تاکید پیش کرنے کی بلا تردد صلاحیت رکھتی ہے (103)۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 150 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ابو رافع ابن ہشام (م 213ھ یا 218ھ) کے مطابق قبیلہ اوس نے جب کعب بن الاشرف یہودی کو قتل کیا جو رسول اللہ ﷺ سے سخت عداوت رکھتا تھا تو خزرج والوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اوس سے پیچھے رہ جائیں اور وہ ہم سے سبقت لے جائیں۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کون ہے جو رسول اللہ ﷺ سے عداوت رکھتا ہو جیسے کعب بن الاشرف تھا۔ انہوں نے طے کیا کہ آپ ﷺ سے ایسی عداوت رکھنے والا ابو رافع سلام بن ابی الحقیق ہے جو خیبر میں رہتا ہے۔ قبیلہ خزرج والوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسے قتل کرنے کی اجازت چاہی۔ آپ نے اجازت دے دی۔
صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازب سے مروی ایک روایت کے مطابق ابو رافع اپنے قلعے واقع حجاز میں رہتا تھا۔ یہ دشمن رسول تھا اور آپ کے مخالفین کی مدد کرتا تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچاتا اور آپ کے خلاف شرارتیں کرتا رہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ابو رافع کو قتل کرنے کے لیے خزرج کے قبیلہ بنی سلمہ کے پانچ افراد کو مامور کیا جن کے نام یہ ہیں: حضرت عبداللہ بن عتیک، حضرت مسعود بن سنان، حضرت عبداللہ بن انیس، حضرت ابو قتادہ الحارث بن ربعی اور حضرت خزاعی بن مسعود۔ حضرت عبداللہ بن عتیک نے ابو رافع کو اس کے قلعہ میں داخل ہو کر قتل کر دیا اور رسول اللہ ﷺ کو اس کے قتل کی خوشخبری سنائی۔ ابو رافع کو 3ھ میں قتل کیا گیا (104)۔
اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے ابو رافع کو قتل کیا گیا تھا۔ آپ نے کچھ لوگوں کو ابو رافع کو قتل کرنے کی مہم پر روانہ کیا تھا۔ مقتول کا جرم یہی تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچاتا اور آپ کے خلاف شرارتیں کرتا رہتا تھا، جیسا کہ صحیح بخاری میں منقول ہے۔
پیغمبر اسلام کی عزت کرنے والا مسلم اور غیر مسلم محفوظ
مندرجہ بالا نصوص و آثار کی روشنی میں یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی ذات و رسالت میں توہین کی سزا قتل ہے۔ یہ مسئلہ رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں طے ہو چکا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج کے زمانہ تک امت مسلمہ کا یہی موقف رہا ہے کہ اہانت رسول ﷺ کا مجرم مستوجب قتل ہے۔ مستقبل میں بھی امت یہی موقف اپنائے گی کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی جانب سے طے شدہ مسئلہ ہے۔ ہر دوسرے مذہب اور قوم کی طرح اسلام اور مسلمانوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے قائدین اور شعائر کی حرمت کے لیے قوانین وضع کریں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے مقام و مرتبہ کو کسی اور حوالے سے دیکھنے کے بجائے اسلامی قانون کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ اسلام اور مسلمان اپنے پیغمبر کو جو حیثیت دیتے ہیں اس کا احترام کیا جانا چاہیے جس طرح اسلام اور مسلمان دوسرے مذاہب اور اقوام کے قوانین کا احترام کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مسلمانوں کو یہ حکم دے رکھا ہے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ :[الانعام6 : 108]
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہو
(اے ایمان لانے والو کہ یہ بے ادبی سے جہ اسلامی اور پاکستانی قانون کی میں توہین کرے اور آپ کو ت ہوتا تو اس کی جان محفوظ ہے رسول اکرم ﷺ 213ھ یا 218ھ) اور طبر سے مسلمانوں کے خلاف صف کافر تھا۔ آپ نے اپنے صحابہ کو يَوْمَئِذٍ إِنِّي قَدْ عَر حَاجَة لَهُمْ بِقِتَالِنَا البَخْتَرِي بِن هِشَام میں جانتا ہوں کہ آج جنگ کرنے کی حاجت ابو البختری بن ہشام بن ابو البختری بن ہشام ہے جو شعب ابی طالب میں محص خلاف قریش کا ظالمانہ معاہدہ ختم ہ
حوالہ جات
- 1- ابن حجر عسقلانی (م 852ھ)،
دار نشر الكتب الإسلامية، شيخو
- 2- ابن تيمية، تقی الدین احمد بن ع
دار الكتاب العربي بيروت 1420
- 3- أبو يعلى الموصلی (م 307ھ)، مسند
- 4- ابن سعد (م 230ھ)، الطبقات الـ
- 5- بخاری، محمد بن اسماعیل (م 256
وسلم، ج2، ص 339، مکتبہ تعلـ
- 6- صحیح بخاری، کتاب استتابة المرتد
- 7- صحیح بخاری، کتاب التفسير، با
ج2، ص 749 - 751
- 8- صحیح بخاری، کتاب التفسير، باب
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء
(اے ایمان لانے والو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بے ادبی سے جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔
اسلامی اور پاکستانی قانون کی رو سے قتل کی سزا صرف اسے ہے جو پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں توہین کرے اور آپ کو اذیت دے، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ لیکن اگر کوئی شخص اس جرم کا مرتکب نہیں ہوتا تو اس کی جان محفوظ ہے۔ ہر بیگناہ شہری کی جان کی حفاظت اسلامی ریاست کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔
رسول اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں ریاست مدینہ کا ایک واقعہ روشن مثال ہے۔ ابن ہشام (م 213ھ یا 218ھ) اور طبری (م 310ھ) نے بیان کیا ہے کہ ابوالبختری بن ہشام غزوہ بدر میں کفار مکہ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف صف آراء تھا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل سے منع فرمایا تھا، حالانکہ وہ غیر معاہد کافر تھا۔ آپ نے اپنے صحابہؓ کو حکم دیا تھا:
يَوْمَئِذٍ إِنِّي قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ رِجَالاً مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَ غَيْرَهُمْ قَد أُخْرِجُوا كَرْهًا لَا حَاجَةَ لَهُم بِقِتَالِنَا فَمَنْ لَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَلَا يَقْتُلُهُ وَ مَنْ لَقِيَ أَبَا البَخْتَرِي بن هِشَام بن الحَارِثِ بن أَسَد فَلَا يَقْتُلُهُ
میں جانتا ہوں کہ آج بنی ہاشم اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ مجبوراً نکلے ہیں۔ انہیں ہمارے ساتھ جنگ کرنے کی حاجت نہیں تھی۔ پس تم میں سے جو بنی ہاشم کو پائے تو اسے قتل نہ کرے اور جو ابوالبختری بن ہشام بن الحارث بن اسد کو پائے تو اسے بھی قتل نہ کرے۔
ابوالبختری بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں کبھی گستاخی نہیں کی تھی۔ یہ وہی ابوالبختری ہے جو شعب ابی طالب میں محصور مسلمانوں کو غذائی رسد میں تعاون کرتا تھا اور جس کی کوششوں سے مسلمانوں کے خلاف قریش کا ظالمانہ معاہدہ ختم ہوا تھا (105)۔
حوالہ جات
- 1- ابن حجر عسقلانی (م 852ھ)، فتح الباری، کتاب الأدب، باب لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ، ج 10، ص 531،
دار نشر الکتب الإسلامیة، شیش محل روڈ لاہور
- 2- ابن تیمية، تقی الدین احمد بن عبدالحلیم (م 728ھ)، الصارم المسلول على شاتم الرسول صلى الله عليه وسلم، ص72،
دار الکتاب العربی بیروت 1420ھ/1999م
- 3- أبو یعلی الموصلی (م 307ھ)، مسند أبی یعلی، ج1، ص 290 ـــ 291، دار الکتب العلمیة بیروت لبنان 1418ھ/1998م
- 4- ابن سعد (م 230ھ)، الطبقات الکبریٰ، ج1، ص 201، دار صادر بیروت 1388ھ/ 1968م
- 5- بخاری، محمد بن اسماعیل (م 256ھ)، صحیح بخاری، کتاب الأنبیاء، باب ما جاء فی أسماء رسول الله صلى الله عليه
وسلم، ج2، ص 339، مکتبہ تعمیر انسانیت اردو بازار لاہور 1979ء
- 6- صحیح بخاری، کتاب استتابة المرتدین، باب إِذَا عَرَّضَ الذمي و غيره بسبّ النبی صلی اللہ علیه وسلم، ج3، ص 675،
- 7- صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب قوله: وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا
ج2، ص 749 ـــ 751
- 8- صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب قَوْلُهُ: {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} ج2، ص 946
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
- 9- تفصیل ملاحظہ ہو: صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، ج2، ص 573 ـــ 581
- 10- ابن تیمیہ، الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ص 81 - 82
- 11- ابن کثیر، اسماعیل بن عمر (م 774ھ) تفسیر القرآن العظیم، سورۃ الاحزاب، تفسیر آیت 69، ج 3، ص 521،
دارالمعرفۃ بیروت لبنان
- 12- صحیح بخاری، کتاب الأدب، باب ما جاء فی قول الرجل ویلک، ج3، ص 414
- 13- مسند أبی یعلی 441/1
- 14- ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم ، سورۃ التوبۃ، آیت 59، ج 2، ص 363
- 15- الطبری، محمد بن جریر (م 310ھ ) تاریخ الأمم و الملوک، السنۃ السابعۃ، ج1، الجزء الثالث، ص 95، دارصادر بیروت
- 16- الطبقات الکبری، ج 2، ص 200
- 17- صحیح بخاری، کتاب الطب، باب ما یُذکر فی سم النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ج3، ص154
- 18- ابوداؤد، سلیمان بن اشعث (م 275ھ)، سنن ابوداؤد، کتاب الدیات، بَاب فِيمَنْ سَقَى رَجُلًا سُمًّا أَوْ أَطْعَمَهُ فَمَاتَ
أَيُقَادُ مِنْهُ، ج3، ص375، دارالاشاعت اردو بازار کراچی
- 19- ابن حجر العسقلانی، فتح الباری، ج 10، ص 245
- 20- سنن أبی داؤد، کتاب الدیات، باب فیمن سقی رجلا سُمّا أو اطعمہ فمات أیقاد منہ، ج3، ص375
- 21- سنن أبی داؤد، کتاب الدیات، باب فیمن سقی رجلا سُمّا أو اطعمہ فمات أیقاد منہ، ج3، ص376
- 22- ابن سعد، الطبقات الکبری، ج 2، ص 202
- 23- مسلم بن حجاج(م 261ھ) صحیح مسلم، کتاب الفصائل، باب وجوب إتباعہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج6، ص 53،
نعمانی کتب خانہ اردو بازار لاھور 1981ء
- 24- صحیح مسلم، کتاب الفصائل، باب وجوب إتباعہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج6، ص 54
- 25- صحیح مسلم، کتاب الجھاد و السیر، باب فتح مکۃ، ج 5، ص 59 ـــ 60
- 26- ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، ص142
- 27- ابن القیم الجوزیۃ، محمد بن ابی بکر (م 751ھ)، زاد المعاد فی ھدی خیر العباد، ج 3، ص 407-408، مؤسسۃ الرسالۃ
مکتبۃ الإسلامیۃ
- 28- ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، ص145
- 29- ابن الأثیر، محمد بن محمد بن عبدالکریم (م 630ھ )، الکامل فی التاریخ، ج2، ص 168، دارالکتاب العربی، بیروت
1403ھ / 1983م
- 30-واقدی، محمد بن عمرو بن واقد (م207ھ)، کتاب المغازی، ج 2، ص 852، مؤسسۃ الأعلى للمطبوعات، بیروت لبنان
- 31-ابن ھشام، عبدالملک بن ھشام (م 213ھ یا 218ھ) السیرۃ النبویۃ، ج4، ص 60، داراحیاء التراث العربی بیروت لبنان
- 32-نسائی، احمد بن شعیب(م 303ھ)، سنن نسائی، کتاب المحاربۃ، باب الحکم فی المرتد، ج3، ص 123 ـــ 124،
دارالاشاعت کراچی
- 33-واقدی، کتاب المغازی، ج 2، ص 855
- 34-ابن تیمیہ، الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ص 147 - 148
- 35-واقدی، کتاب المغازی، ج2، ص 860
- 36-سنن نسائی، کتاب المحاربۃ، باب الحکم فی المرتد، ج3، ص 123
- 37-المقریزی، تقی الدین احمد بن علی، امتاع الاسماع، ص 393، الشئون الدینیۃ بدولۃ قطر، لجنۃ التالیف و الترجمۃ و النشر،
الطبعۃ الثانیۃ
- 38-ابن الأثیر، الکامل فی التاریخ، ج2، ص 169
- 39-ابن تیمیہ، الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ص 172
- 40-ابن الأثیر، الکامل فی التاریخ، ج2، ص 169
- 41-واقدی، کتاب المغازی، ج 2، ص 86 42- ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ، ج 4، ص 53
- 42-واقدی، کتاب المغازی، ج 2، ص 825 43- ابن سعد، الطبقات الکبری، ج1، ص 481
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد
- 44-سنن أبوداؤد، کتاب الجہاد
باب الحکم فی المرتد ج2
- 45-ابن القیم، زاد المعاد فی هـ
- 46-قاضی محمد سلیمان سلمـ
سنز لاہور
- 47-ابن قیم الجوزیۃ، محمد بـ
ص 11 ـــ 12، القاھرۃ
- 48-سید امیر علی، روح اسلا
- 49-ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ،
- 50-ابن تیمیہ، الصارم المسلول
- 51-حوالہ بالا ص 161
- 52-الواقدی، کتاب المغازی،
- 53- ابن تیمیہ، الصارم المسلو
- 54-حوالہ بالا ص 142
- 55-مسند الامام احمد بن حنبل
- 56-صحیح بخاری، کتاب استـ
- 57-صحیح بخاری، کتاب الـ
ج2، ص 749 ـــ 751
- 58-صحیح بخاری، کتاب الـ
يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ } كِتَابِ
- 59-مسند أبی یعلی 441/1
- 60-ابن قیم، زاد المعاد فی ھدی
- 61-عیاض،عیاض بن موسی (م
العربی بیروت لبنان 1424
- 62-صحیح مسلم، کتاب الفضـ
- 63-عیاض، الشفا بتعریف حقو
- 64-ابن حجرعسقلانی، فتح البا
- 65-عیاض، الشفاء بتعریف حقو
- 66-ابن کثیر، تفسیر القرآن العـ
- 67-صحیح بخاری، کتاب الوضو
- 68-ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ، کـ
11، ص 289
- 69-ابن سعد، الطبقات الکبریٰ،
- 70-مودودی،سید ابوالاعلیٰ، سـ
- 71-ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ، ج
- 72-حوالہ بالا ج 4، ص 213
- 73-صحیح بخاری، کتاب الأنبیاء
- 74-صحیح مسلم، کتاب صفات
- 75-ابن تیمیہ، الصارم المسلول علـ
- 76-حوالہ بالا ص 179 - 180
- 77-سنن أبو داؤد، کتاب الحدود،
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء
- 44- سنن أبو داؤد، کتاب الجھاد، باب فی الأسیر یقتل و لا یُعرض علیہ الإسلام، ج 2، ص 316- سنن نسائی، کتاب المحاربۃ،
باب الحکم فی المرتد ج 3، ص 106
- 45- ابن القیم، زاد المعاد فی ھدی خیر العباد، ج 3، ص 411
- 46- قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری (م 1349ھ/1930ء)، رحمۃ للعالمین، ج اوّل، ص 122، شیخ غلام علی اینڈ
سنز لاہور
- 47- ابن قیم الجوزیۃ، محمد بن ابی بکر، زاد المعاد فی ھدی خیر العباد، ج 3، ص 520 ۔ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج 4،
ص 11 ۔ 12، القاھرۃ 1931ء
- 48- سید امیر علی، روح اسلام، ص 205، ادارہ ثقافت اسلامیہ 1980ء
- 49- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج 4، ص 53-54
- 50- ابن تیمیہ، الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ص 167
- 51- حوالہ بالا ص 161
- 52- الواقدی، کتاب المغازی، ج 2، ص 782 - 783، 789 - 791
- 53- ابن تیمیہ، الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ص 141
- 54- حوالہ بالا ص 142 1-55- الصارم المسلول، ص 183
- 55- مسند الامام احمد بن حنبل، مسند الشامیین، حدیث عمرو بن العاص عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم
- 56- صحیح بخاری، کتاب استتابۃ المرتدین، باب قال اللہ تعالی: إن الشرك لظلم عظیم، ج 3، ص 672
- 57- صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ: وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا،
ج 2، ص 749 - 751
- 58- صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب قَوْلُهُ: { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا
يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ } بَاب قَوْلُهُ: {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} ج 2، ص 946
- 59- مسند ابی یعلی 441/1
- 60- ابن قیم، زاد المعاد فی ھدی خیر العباد، ج 3، ص 441
- 61- عیاض، عیاض بن موسی (م 544ھ)، الشفا بتعریف حقوق المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، ص 376، دار احیاء التراث
العربی بیروت لبنان 1424ھ/2003ء
- 62- صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب وجوب إتباعہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج 6، ص 54
- 63- عیاض، الشفا بتعریف حقوق المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، ص 375
- 64- ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، کتاب الأدب، باب لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ، ج 10، ص 531
- 65- عیاض، الشفا بتعریف حقوق المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، ص 377
- 66- ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، سورۃ الحجرات ، آیت 4، ج 4، ص 208
- 67- صحیح بخاری، کتاب الوضوء، باب اذا أُلقي علی ظہر المصلی قذر...، ج 1، ص 173
- 68- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، كِفَايَةُ اللَّهِ أَمْرَ الْمُسْتَهْزِئِينَ، ج 2، ص 50 - 52۔ نقوش سیرت نمبر، سیرت ابن اسحاق، ج
11، ص 289
- 69- ابن سعد، الطبقات الکبری، ج 1، ص 200
- 70- مودودی، سید ابوالاعلیٰ، سیرت سرور عالم، ج 2، ص 504، ادارہ ترجمان القرآن لاہور 1979ء
- 71- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج 4، ص 213 - 215
- 72- حوالہ بالا ج 4، ص 213 - 215
- 73- صحیح بخاری، کتاب الأنبیاء، باب علامات النبوۃ فی الإسلام، ج 2، ص 366 - 367
- 74- صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقین و احکامھم، ج 6، ص 360
- 75- ابن تیمیہ، الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ص 148
- 76- حوالہ بالا ص 179 - 180
- 77- سنن أبو داؤد، کتاب الحدود، باب الحکم فیمن سبّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ج 3، ص 314
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
- 78- ابن تيمية، الصارم المسلول على شاتم الرسول صلى الله عليه وسلم، ص 95 - 96
- 79- سنن أبو داؤد، كتاب الحدود، باب الحكم فيمن سب النبى صلى الله عليه وسلم، ج3، ص 313 - 314۔ سنن
نسائى، كتاب المحاربة، باب الحكم فيمن سب النبى صلى الله عليه وسلم، ج3، ص 125
- 80- ابن تيمية، الصارم المسلول على شاتم الرسول صلى الله عليه وسلم، ص 103
- 81- الهيثمى، نور الدين على بن ابى بكر (م 807هـ)، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، كتاب الحدود والديات، باب فيمن سب
نبياً أو غيره، ج6، ص 263، مؤسسة المعارف للطباعة و النشر، بيروت 1406هـ / 1986م، رواه الطبرانى عن التابعين أحدهما ثقة و رجاله ثقات۔ ابن الطلاع، اقضية الرسول صلى الله عليه وسلم، تحقيق د. ضياء الرحمن اعظمى، ص 731، اداره معارف اسلامى لاهور
- 82- عياض، الشفا بتعريف حقوق المصطفى صلى الله عليه وسلم، ص 373
- 83- ابن تيمية، الصارم المسلول على شاتم الرسول صلى الله عليه وسلم، ص 178
- 84- صحيح بخارى، كتاب الشهادات، بَاب لاَ يَشْهَدُ عَلَى شَهَادَةِ جَوْرٍ إِذَا أُشْهِدَ، ج 1، ص 913
- 85- عبدالرزاق، المصنف، باب من سب النبى صلى الله عليه وسلم كيف يصنع به، ج 5، 308
- 86- حواله بالا، باب من سب النبى صلى الله عليه وسلم كيف يصنع به، ج5، 307
- 87- حواله بالا، باب من سب النبى صلى الله عليه وسلم كيف يصنع به، ج5، 307
- 88- ملاحظه هو: ابن هشام، السيرة النبوية، غزوه عمير بن عدى الخطمى لقتل عصماء بنت مروان، ج 4، ص 285 -
286۔ ابن سعد، الطبقات الكبرى، ج2، ص 27 - 28۔ واقدى، كتاب المغازى، ج1، ص 173 و ما بعد
- 89- ابن تيمية، الصارم المسلول على شاتم الرسول صلى الله عليه وسلم، ص 132
- 90- حواله بالا، ص 136 -91 حواله بالا، ص 132
- 92- عبدالرزاق، المصنف، كتاب المغازى، وقعة هذيل بالرجيع ج5، ص355
- 93- واقدى، كتاب المغازى، ج 1، ص 138
- 94- عبد الرزاق، المصنف، كتاب المغازى، وقعة هذيل بالرجيع ج5، ص355۔ ابن سعد، الطبقات الكبرى، ج2، ص46
- 95- ابن تيمية، الصارم المسلول على شاتم الرسول صلى الله عليه وسلم، ص 172
- 96- حواله بالا، ص 174
- 97- ابن سعد، الطبقات الكبرى، ج2، ص31۔ صحيح بخارى، كتاب المغازى، باب قتل كعب بن الأشرف، ج2، ص528 -
529۔ صحيح مسلم، كتاب الجهاد و السير، باب قتل كعب بن الاشرف طاغوت اليهود، ج5، ص 80۔ ابن الأثير، الكامل، ج2، ص143۔ واقدى، كتاب المغازى، ج1، ص 184 و ما بعد، نقوش سيرت نمبر، سيرت ابن اسحاق، ج11، ص336
- 98- عياض بن موسى (م 544هـ)، الشفاء بتعريف حقوق المصطفىٰ، ص 373
- 99- تفصيل ملاحظه هو: ابن تيمية، الصارم المسلول على شاتم الرسول صلى الله عليه وسلم، ص 108 - 109
- 100- واقدى، كتاب المغازى، ج1، ص 174 و ما بعد
- 101- ابن تيمية، الصارم المسلول على شاتم الرسول صلى الله عليه وسلم، ص 139
- 102- صحيح بخارى، كتاب المغازى، باب قتل أبى رافع عبدالله بن أبى الْحُقَيْقِ، ج2، ص 530۔ ابن هشام، السيرة النبوية، ج
3، ص 286۔ طبرى،تاريخ الامم و الملوك، ج 2، جزء 3، ص 6
- 103-ابن هشام، السيرة النبوية، ج 2، ص 46 و ما بعد، طبرى، تاريخ الامم و الملوك، ج 1، جزء 2، ص282، دارالقلم بيروت لبنان
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد
خلافت
اسلام میں صحابہ کرام ہیں جنہوں نے بحالت ایمان بخت ہستیاں ہیں جو آپ ایک اشارہ ابروئے رسالت والی ریشہ دوانیوں کے سامنے پہلے اور براہ راست مخاطب شرف کے ساتھ ساتھ صحابہ پیمانہ پر تعظیم وتوقیر کی۔ آپ جب کبھی وہ اپنے آقا ومولیٰ ہوں ) جیسی محبت بھرے الفاظ صحابہ کرام کو یہ عظمت اور حاصل کی۔ اسی طرح انہوں سوالات بھی کئے، جن کے جوابات ایک اہم مصدر ہے بلکہ دینی احکام میسر ہوا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب نے ان آیات کے احکام پر عملی
- * بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر تحریر: ڈاکٹر محمد طفیل *
خلافت راشدہ میں
گستاخانِ رسول کا انجام
اسلام میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو منفرد اور ممتاز مقام حاصل ہے۔ یہ وہ قدسی صفات شخصیات ہیں جنہوں نے بحالت ایمان حضور نبی رحمت ﷺ کی زیارت کی‘ آپ کی بارگاہ میں باریابی کا شرف پایا۔ یہ وہ بیدار بخت ہستیاں ہیں جو آپ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئیں‘ جو ابتدائے اسلام کے کٹھن دور میں اپنا سب کچھ ایک اشارہ ابروئے رسالت مآب ﷺ پر قربان کرنے کے لیے ہمیشہ بے تاب نظر آئیں اور اسلام کے خلاف ہونے والی ریشہ دوانیوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی رہیں۔ حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان وحی ربانی کے پہلے اور براہ راست مخاطبین ہیں۔ ان کے ذریعے سے انسانوں اور مسلمانوں کو اسلام کی تعلیمات حاصل ہوئیں۔ اس شرف کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ انہوں نے کائنات ہست و بود کی معزز ترین ہستی کی اعلیٰ پیمانہ پر تعظیم وتوقیر کی۔ آپ کی ہر بات پر لبیك و سعديك يا رسول الله! کے روح پرور الفاظ ادا کئے اور جب کبھی وہ اپنے آقا ومولیٰ ﷺ کا ذکر کرتے تو وہ آپ کو فداك امی و ابی ”(میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں) جیسی محبت بھرے الفاظ سے یاد کرتے۔
صحابہ کرام کو یہ عظمت بھی حاصل ہے کہ قرآنی احکام کی تعبیر وتشریح انہوں نے صاحب قرآن سے براہ راست سنی اور حاصل کی۔ اسی طرح انہوں نے صاحب قرآن کو قرآنی احکام پر عمل کرتے ہوئے دیکھا اور صاحب قرآن سے ایسے سوالات بھی کئے‘ جن کے نتیجہ میں قرآنی آیات نازل ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعامل صحابہ نہ صرف مصادر شریعت میں ایک اہم مصدر ہے بلکہ دینی احکام عموماً اور تحفظ ناموس کا موضوع خصوصاً انہیں برگزیدہ ہستیوں کے ذریعے امت مسلمہ کو میسر ہوا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب سورۃ الحجرات کی ابتدائی آیات اور سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۵۳ نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے ان آیات کے احکام پر عمل درآمد کا فقید المثال مظاہرہ کیا۔ چنانچہ احادیث مبارکہ میں مروی ہے کہ جب یہ قرآنی
* بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 156 تحفظ ناموس رسالت نمبر
آیات نازل ہوئیں تو نامور صحابی حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور کہا کہ میں جہنمی ہوں، کیونکہ میری آواز بھاری ہے اور جب میں بات کرتا ہوں تو میری آواز رسول اللہ ﷺ کی آواز سے بلند ہو جاتی ہے۔ اس لئے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دور دور رہا کروں گا۔ ایک دن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ثابت بن قیس کا حال معلوم کیا تو ان کے پڑوسی حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ میرے علم کے مطابق وہ بیمار تو نہیں ہیں اور گھر آ کر حضرت ثابت سے ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے بارے پوچھ رہے تھے۔ تو ثابت نے کہا کہ سورۃ الحجرات کی آیت نازل ہوئی تو تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں تو میں جہنمی ہو گیا۔ حضرت سعد نے یہ حال آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا وہ اہل جنت میں سے ہیں۔
سورۃ الحجرات کی دوسری آیت کے نزول کے بعد حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور دیگر صحابہ کرام انتہائی دھیمی اور پست آواز میں رسول اللہ ﷺ سے بات کیا کرتے، نیز آپ کی موجودگی میں وہ باہم انتہائی نیچی آواز میں بات کرتے۔ مبادا کہیں ان کی آواز بلند ہو جائے اور ان کے تمام اعمال اکارت ہو جائیں۔ سورۃ النور کی آیت نمبر ۶۳ بھی صحابہ کرام کو سرکار دو عالم ﷺ کے مؤدب اور پست آواز میں گفتگو کرنے کا حکم دیتی ہے۔ ان احکام پر صحابہ کرام نے من وعن عمل کر کے اطاعت، تعظیم و توقیر اور حب رسول کا سنہری باب رقم کیا۔
ناموس رسالت کے تحفظ، اطاعت رسول، اسلامی احکام کے نفاذ اور شریعت حقہ کا علم بلند رکھنے کے لئے مسلمانوں نے خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ کے اس ظاہری دنیا سے وصال کے بعد ایک بلند پایہ نظام قائم کیا جسے تاریخ ”خلافت راشدہ“ کے نام سے موسوم کرتی ہے۔ خلافت راشدہ تاریخ اسلام کا وہ سنہری باب ہے۔ جہاں ایک جانب تو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور ہدایات کا تسلسل ہے تو دوسری جانب یہ عہد عظمت رسول، توقیر و تعظیم رسول اور اطاعت رسول کا آئینہ دار ہے اور ناموس رسالت کے خلاف کھلنے والی ہر زبان کو بند کرنے اور اٹھنے والے ہر ہاتھ کے استیصال کا مظہر ہے۔
خلافت راشدہ کے بلند ترین منصب پر فائز ہونے والے تمام خلفاء برحق ہیں اور وہ تمام اپنے اپنے دور میں افراد کا قلع قمع کرتے دکھائی دیتے ہیں جو کسی بھی طرح سے، کسی بھی انداز میں، کسی بھی وقت اور اسلامی ریاست میں کہیں بھی گستاخی رسول کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حضرات خلفاء راشدین نہ صرف ناموس رسالت کا کماحقہ تحفظ کرتے ہیں اور ایسی ہر قبیح حرکت کا ریاستی سطح پر جائزہ لیتے ہیں بلکہ وہ اس مذموم فعل کا ارتکاب کرنے والوں کو قرار واقعی سزا بھی دیتے رہے ہیں، چنانچہ ہم سطور ذیل میں عہد خلافت راشدہ میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہیں:
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس امر پر اجماع ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا، آپ کو سب و شتم کرنے والا، آپ کو برا بھلا کہنے والا، آپ کو تکلیف پہنچانے والا، آپ کے سامنے آواز بلند کرنے والا، آپ کی عزت و شان میں کمی کرنے کی کوشش کرنے والا، آپ کی ختم نبوت و رسالت پر ایمان نہ رکھنے والا اور آپ کے عطا کردہ احکام کا انکار کرنے والا مرتد ہے، وہ دائرہ اسلام سے خارج اور گستاخ ہونے کی وجہ سے سزائے قتل کا مستحق
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 157 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہے۔ اس اجماع صحابہ میں چاروں خلفائے راشدین بھی شامل ہیں۔ کیونکہ اس بنیادی عقیدہ کے برعکس ان سے کوئی چیز مروی اور منقول نہیں ہے۔ مزید برآں خلفاء اربعہ سے ایسی روایات ملتی ہیں۔ جن میں وہ شاتمین رسول اور گستاخان رسول کو قتل کی سزا دیتے ہیں اور شاتم رسول پر حد کی سزا نافذ کرتے ہیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور انسان کو عزت و توقیر کے اس منصب پر فائز نہیں کرتے، جس اعلیٰ منصب پر وہ اس باب میں رسول اللہ ﷺ کو فائز کرتے ہیں۔
خلیفۃ الرسول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت (11۔13ھ) میں یمامہ میں دو گانے والیاں تھیں۔ ان میں سے ایک نے نبی اکرم ﷺ کو گالی گلوج کیا تو یمامہ کے حاکم مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور اس کے سامنے کے دو دانت نکلوا دیئے۔ اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حاکم یمامہ کو لکھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ آپ نے اس خاتون کو سزا دی ہے جس نے نبی کریم ﷺ کے خلاف گیت گایا اور انہیں گالی گلوج کیا۔ اگر آپ پہلے اسے یہ سزا نہ دے چکے ہوتے تو میں آپ کو اس کے قتل کا حکم دیتا۔ خلیفہ اول سے یہ الفاظ منقول ہیں:
فهو مرتد او معاهد فهو محارب غادر
اگر آپ میرا فیصلہ آنے سے پہلے اس خاتون کو سزا نہ دیتے، تو میں آپ کو اسے قتل کرنے کا حکم دیتا، ............ پس مسلمانوں میں سے جو اس برائی (سب وشتم رسول) کا مرتکب ہوتا ہے وہ مرتد یعنی دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اگر ایسا شخص کسی معاہدے کے تحت امان یافتہ ہے، تب ایسا شخص حربی ہے اور مسلمانوں سے غداری کرنے والا ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس خط سے درج ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں: (1) آپ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے والے کو واجب القتل قرار دیتے ہیں (2) خواہ کہ ایسا شخص مسلم ہو یا معاہد (3) خواہ ایسا فرد عورت ہو یا مرد (4) ایسے شخص کا قتل بطور حد ہوگا بطور تعزیر نہیں (5) ایسے شخص کی حد کی سزا توبہ کرنے سے پہلے نافذ کی جائے گی (6) کیونکہ انبیاء علیہم السلام کے حوالے سے حدود کا نفاذ عام انسانوں کے لئے حدود کے نفاذ سے مختلف ہوتا ہے۔ (7) جبکہ حاکم یمامہ مہاجر بن امیہ اس خاتون پر پہلے ہی اپنے اجتہاد سے حد کی سزا نافذ کر چکے تھے۔ اس لئے خلیفہ اول نے دو حدیں قائم نہیں کیں۔
ابو برزہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے خلیفہ اول کو برا بھلا کہا۔ تو انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میں اسے قتل کر دوں۔ خلیفہ وقت نے جواب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کرے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اسے گالی گلوج کرنے یا برا بھلا کہنے کی پاداش میں ایسے شخص کو موت کے گھاٹ اتار دے۔
سنن ابو داؤد میں مروی اس حدیث سے یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کو گالی دے یا برا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
بھلا کہے تو ایسا شخص واجب القتل ہے۔ کیونکہ اس علو مرتبت کی شان اقدس میں گستاخی کرنے سے مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے۔ تاہم کسی اور مسلمان، حتیٰ کہ مسلمانوں کے خلیفہ اول کو بھی کوئی شخص سب و شتم کرے یا برا بھلا کہے تو ایسے شخص کو تعزیری سزا دی جاسکتی ہے، اس پر حد کی سزا نافذ نہیں کی جاتی۔ نیز نبی اکرم ﷺ کو آپ کی ظاہری حیات مبارکہ میں سب و شتم کیا جائے یا آپ کے حیات ظاہری سے وصال کے بعد برا بھلا کہا جائے ایسے مسلم، معاہد، مامون اور ذمی کے لیے سزائے موت ہے۔
خلیفہ اول کی طرح خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب (۱۳۔۲۳ھ) رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے کہ اگر کوئی مسلمان یا معاہد نبی اکرم ﷺ کو گالی گلوچ کرے، انبیاء کرام میں سے کسی ایک پر سب و شتم کرے یا اللہ سبحان و تعالیٰ کو برا بھلا کہے، تو ایسا شخص کسی قسم رو رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ بلکہ اس کی ایک ہی سزا ہے اور وہ سزائے قتل یعنی موت ہے۔
حضرت مجاہد تابعی سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا، جس نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا اور فرمایا۔ ”من سب اللہ او سب احدا من الانبیاء فاقتلوہ“ کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو گالی دے یا انبیاء میں سے کسی ایک نبی کو گالی دے تو اسے قتل کر دو۔ حضرت مجاہد کی ایک اور روایت کے مطابق اگر کوئی مسلمان اللہ جل شانہ کو گالی دیتا ہے یا انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کو گالی دے تو وہ حضور نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتا ہے اور اس کا یہ عمل ”ردت“ کہلاتا ہے۔ اگر کوئی معاہد ایسے جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ اپنا معاہدہ توڑ دیتا ہے۔ اس لئے ایسے افراد کی سزا قتل ہے۔
ابو مجعہ بن ربیع بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے تو وہ راستے میں قسطنطنیہ (استنبول) میں رکے اور شام کے مسیحیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ معاہدہ تحریر کر چکے تو وہاں کے حاکم نے کہا کہ آپ اس معاہدے کا اعلان عام کر دیجئے تاکہ وہ لوگ مجھ پر ظلم و زیادتی کرنے سے باز رہیں۔ چنانچہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس معاہدہ کا اعلان کر رہے تھے تو اس دوران میں آپ نے پڑھا ”من یضلل فلا ھادی لہ“ کہ جس کو اللہ گمراہ کرتا ہے تو اس کے لئے کوئی ہدایت نہیں ہے۔ اس پر نبطی قوم کے ایک شخص نے کہا ”ان اللہ لا یضل احدا“ اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔ حضرت عمر ؓ نے دریافت کیا کہ تو نے کیا کہا؟ اس نے جواب دیا کچھ نہیں اور نبطی نے اپنی بات کو دہرایا۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کہ اس نے کیا کہا؟ انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
انا لم نعطك الذی اعطیناک لتدخل علینا فی الدین۔ والذی نفسی بیدہ لئن عدت لاضربن الذی فی عیناک“ ہم نے جو کچھ تجھے عطا کیا ہے وہ اس لئے نہیں دیا کہ تو ہمارے دین میں ہماری مخالفت کرے، مجھے قسم ہے اس ذات
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ۔ لاہور کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں می اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہنا، درحقی بالتاکید سزائے موت مقرر کی۔ کیون عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ و آپ نے اس مقدمہ کا فیصلہ جس م اللہ ﷺ کا فیصلہ تسلیم نہ کیا اور وہ ح عمر رضی اللہ عنہ انہیں اپنے مقام پ لے جانے والے شخص کو قتل کر دیا ا آتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم ﷺ کے فیصلہ صادر ک آپ ﷺ کے فیصلے کو جھٹلانا اور تسلی واجب القتل ہے اور قتل سے کمتر ا امام احمد بن حنبل نے ایک حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ا ہو۔ اس کی سزا قتل ہے اور یہ سزا نا جائے گا۔ اسی طرح اگر غیر مسلم بھی ا نرمی نہیں برتی جائے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی ا انہیں بتایا گیا کہ یہ شخص رسول اللہ ﷺ لو سمعتہ لقتلتہ، انا ل کہ اگر میں اسے گالی دیتا ہوا مکرم ﷺ کو گالی دیں اور ایک دوسر اگر وہ اقرار کرے تو اسے قتل کر دوں اور فرمایا کہ اگر میں اسے (رسول اللہ مصنف عبدالرزاق جلد پنجم ص دیا۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ ا میں نہیں ڈال سکتا۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ‘ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
کی کہ جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر تم نے یہ بات دہرائی تو میں ضرور تمہاری گردن اڑا دوں گا۔ اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہنا درحقیقت پیغام رسالت کو جھٹلانا ہے۔ اس لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے شخص کے لئے بالتاکید سزائے موت مقرر کی۔ کیونکہ قضاء و قدر کا انکار درحقیقت رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے کے مترادف ہے۔ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ دو افراد نے اپنا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے اس مقدمہ کا فیصلہ جس شخص کے حق میں فرمایا وہ تو راضی ہوا۔ لیکن جس کے خلاف فیصلہ ہوا‘ اس نے رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ تسلیم نہ کیا اور وہ مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا اور ان سے فیصلہ چاہا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں اپنے مقام پر ٹھہرا کر اپنے گھر کے اندر گئے اور تلوار لا کر مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے جانے والے شخص کو قتل کر دیا۔ اگرچہ یہ واقعہ عہدِ رسالت میں پیش آیا تھا۔ لیکن اس واقعہ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس امر پر پختہ عقیدہ رکھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے بالکل صحیح درست فیصلہ فرمایا اور نبی اکرم ﷺ کے فیصلہ صادر کرنے کے بعد کسی اور شخص کی طرف رجوع کرنا نہ صرف حکمِ رسول کی نفی ہے بلکہ آپ ﷺ کے فیصلے کو جھٹلانا اور تسلیم نہ کرنا درحقیقت آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کرنا ہے۔ اس لئے ایسا فرد واجب القتل ہے اور قتل سے کم تر اس کی کوئی اور سزا ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتی۔
امام احمد بن حنبل نے ایک روایت بیان کی ہے کہ ایک نامعلوم خاتون نے رسول اللہ ﷺ کو گالی گلوچ کیا تھا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو قتل کر دیا تھا۔ اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاتم رسول کوئی بھی فرد ہو۔ اس کی سزا قتل ہے اور یہ سزا نافذ کرتے وقت مرد و زن، کافر و مشرک‘ مسلم و معاہد اور منافق کے مابین کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر غیر مسلم بھی ناموس رسالت پر حملہ آور ہوں تو ان کی یہی سزا ہے اور ان سب کے ساتھ کسی طرح بھی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک واقعہ مروی ہے کہ ایک دفعہ ایک پادری کا ان کے سامنے سے گزر ہوا۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ شخص رسول اللہ ﷺ کو گالی دیتا ہے۔ اس پر حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: لو سمعته لقتلته‘ انا لم نعطهم الذمة على ان يسبوا نبينا“ کہ اگر میں اسے گالی دیتا ہوا سنتا تو میں اسے ضرور قتل کر دیتا۔ ہم نے انہیں ضمان اس لئے نہیں دی کہ وہ ہمارے نبی مکرم ﷺ کو گالی دیں اور ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اس پادری پر تلوار کھینچ لی کہ اگر وہ اقرار کرے تو اسے قتل کر دوں‘ جب راہب نے ایسا کہنے سے انکار کیا تو حضرت ابن عمر ؓ نے اس سے ہاتھ روک لیا اور فرمایا کہ اگر میں اسے (رسول اللہ ﷺ کو) گالی دیتے ہوئے سنتا تو میں ضرور اسے قتل کر دیتا۔
مصنف عبدالرزاق جلد پنجم میں ایک حدیث مروی ہے کہ حضرت خالد بن ولید ؓ نے کچھ مرتدوں کو آگ میں جلا دیا۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا‘ اے ابو بکر آپ نے خالد کو کھلا چھوڑ دیا۔ آپ نے جواباً ارشاد فرمایا‘ میں اللہ کی تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ‘ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہارون الرشید نے حضرت امام مالک سے مسئلہ پوچھا گستاخ رسول کی سزا کیا کوڑے سے مارنا کافی نہیں اس پر حضرت امام نے فرمایا:
اے امیر المومنین! گستاخ رسول گستاخی کے بعد بھی زندہ رہے تو پھر امت کو زندہ رہنے کا حق نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے گستاخ کو فی الفور گرفتار کر کے قتل کر دیا جائے۔
ردالمختار میں امام محمد بن سحنون کی روایت ہے۔
تمام علماء کا اس پر اجماع ہے حضور ﷺ کو گالی دینے والا آپ کی شان میں کمی کرنے والا کافر ہے اور تمام امت کے نزدیک وہ واجب القتل ہے۔
(ردالمختار جلد سوم ص۴۰۰)
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے صاحبزادے حضرت محمد کے دور میں ایک امام جس کا نام عبداللہ بن نواحہ تھا‘ نے قرآن کی آیات کا مذاق اڑایا اور مفاہیم کے رد و بدل سے یہ الفاظ کہے:
”قسم ہے آٹا پیسنے والی عورتوں کی جو اچھی طرح گوندھتی ہیں پھر روٹی پکاتی ہیں پھر ثرید بناتی ہیں پھر خوب لقمے لیتی ہیں۔“ اس پر حضرت نے اسے قتل کا حکم سنایا اور لمحہ بھر بھی تاخیر نہ فرمائی۔
(مصنف ابن ابی شیبہ باب ارتداد)
حضرت عمر بن عبدالعزیز کے تاریخی الفاظ ملاحظہ ہوں:
”جو شخص حضور ﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کرے اس کا خون حلال اور مباح ہے“۔
صحیح بخاری میں ہے حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے ایک موقع پر شاتمین رسول کو قتل کرنے کے بعد جلا دینے کا حکم صادر فرمایا۔
حضرت امام حسین ؓ نے ارشاد فرمایا: جو کسی نبی کو سب کرے اسے قتل کر دو اور جو کسی صحابی کو برا بھلا کہے اسے کوڑے مارو۔
الاشباہ والنظائر میں ہے:
”کافر اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے لیکن اس کافر کی توبہ قبول نہیں جو نبی کریم ﷺ کے حضور گستاخیاں کرتا ہے“۔
سورۃ عبس و تولٰی کا شان نزول مفسرین کرام نے بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ رؤساء قریش کو دعوت پہنچانے میں مشغول تھے‘ کاملاً ان ہی کی طرف متوجہ تھے اچانک نابینا صحابی حضرت عبداللہ ؓ بن ام مکتوم بارگاہ رسالتمآب ﷺ میں حاضر ہوئے۔ یہ اولین مہاجرین میں سے تھے۔ عموماً حاضر خدمت ہوتے رہتے‘ تعلیمات دین حاصل کرتے‘ مسائل دریافت کرتے‘ حسب معمول آج بھی آتے ہی سوالات کئے‘ آداب مجلس کا خیال نہ رکھ سکے‘ آگے بڑھ کر حضور نبی کریم ﷺ کو اپنی طرف متوجہ و راغب کرنا چاہا‘ آپ اس وقت چونکہ ایک اہم امر دینی میں مشغول و مصروف تھے سو متوجہ نہ ہوئے‘ سلسلہ کلام جاری رکھا‘ دوران گفتگو خلل اندازی پر چہرہ اقدس پر کچھ رنج و ملال کی کیفیت ظاہر ہوئی۔ اس پر باری تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں جن میں آنحضرت ﷺ کو اس امر کی تلقین کی گئی۔ وہ ناسمجھ تھا اس کی دلجوئی بھی تو مقصود تھی‘ ایسے آثار چہرہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء 161 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اقدس پر ظاہر نہیں ہونے چاہیں تاکہ ایسا مخلص صحابی آپ کی شفقت و دلجوئی سے محروم نہ ہو۔ اب ظاہراً اس آیہ کریمہ میں تنبیہ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
اس خصوصیت کی وجہ سے ایک منافق کا یہ معمول تھا وہ ہر نماز میں یہی سورت پڑھتا اور دل میں یہ کیفیت مراد لیتا کہ یہ وہ سورت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے یہاں تک کہ
روی ان عمر ابن الخطاب بلغہ ان بعض المنافقین یؤم قومہ فلا یقرأ فیہم الا سورۃ عبس قال فارسل الیہ فضرب عنقہ
(تفسیر روح البیان ۱۰: ۳۳۱)
”یہ بات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک پہنچی کہ منافقین میں سے ایک شخص اپنی قوم کی امامت کراتا ہے‘ وہ ہر باجماعت نماز میں سورۃ عبس وتولیٰ ہی پڑھتا ہے آپ نے اسے بلا بھیجا (بغیر مزید تحقیق کے) اس کا سر قلم کروا دیا۔
یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر اس شخص کے عمل سے یہ بات از خود متحقق ہوگئی اور آپ کو یقین کامل حاصل ہوگیا کہ اسی سورت کو مداومت و ہمیشگی سے پڑھنے کا سبب و علت در پردہ بے ادبی و گستاخی رسول ﷺ ہے۔ علاوہ ازیں کچھ اور علامات بھی گستاخان رسول کی آپ کی پیش نظر تھیں۔ اس کے ساتھ ہی حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس کے بغض و عناد‘ حسد و کینہ کی کیفیات بھی اس کے گستاخ رسول ہونے پر واضح دلالت کر رہی تھیں۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ اس شخص نے زبان سے قولاً یا فعلاً اشارۃً یا کنایۃً کسی بھی صورت میں شان رسالتمآب ﷺ میں تنقیص و تحقیر پر مشتمل کوئی کلمہ آپ کے سامنے نہیں کہا بلکہ محض اس کے عمل اور مستقل معمول سے امر واقعہ آپ پر متحقق ہوا کہ اس کے دل میں گستاخی رسول پنہاں ہے یا یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کا اشارہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ سو کسی مزید تحقیق و تفتیش اور صفائی کا موقع دیے بغیر کہ کس نیت سے تم پڑھتے ہو‘ کس لیے نہیں‘ نیت کے اعتبارات کو ترک کرتے ہوئے‘ تفصیلات میں جائے بغیر بے ادبی و گستاخی رسول کے جرم پر اس کا سر قلم کر دیا۔
(احکام اسلام اور تحفظ ناموس رسالت‘ ص ۲۶۳۔۲۶۴)
مندرجہ بالا سطور میں ہم نے عہد خلافت راشدہ کے چند اقوال اور واقعات بیان کئے۔ جو اپنی جگہ نہ صرف حجت ہیں کہ اس عہد میں سرکار دوعالم ﷺ کی ناموس کا کسی طرح بھی احترام نہ کرنے والے افراد کو بلا شبہ قتل کر دیا جاتا تھا۔ بلکہ ان روایات سے اور بھی بہت سے امور واضح ہوتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک کی سطور ذیل میں نشان دہی کی جاتی ہے۔
- ا۔ ناموس رسالت کا تحفظ اللہ تعالیٰ‘ رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کرام علیہم الرضوان نے کیا۔ نیز اس امر پر امت
مسلمہ کا بھی اجماع ہے۔ گستاخ رسول واجب القتل ہے اور اس جرم میں مرد و زن‘ کافر و مشرک‘ مسلم و معاہد نیز منافق و بد دین برابر ہیں۔ ان سے کوئی بھی گستاخی رسول کا مرتکب ہو تو بالاتفاق اسے قتل کیا جائے گا اور ایسے افراد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء 162 تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ۲۔ اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہنا‘ نبی کریم ﷺ کی تنقیص شان کرنا‘ ختم نبوت کا انکار کرنا‘ قرآن حکیم کی بے حرمتی کرنا نیز بیت
اللہ اور روضہ نبی مکرم ﷺ کی توہین کرنا اور اسلامی احکام کا انکار کرنا یہ سب امور گستاخی رسول میں شامل ہیں۔ مزید برآں جس طرح یہ امور حیات رسول میں گستاخی رسول میں داخل تھے‘ اسی طرح یہ امور آپ ﷺ کے وصال کے بعد بھی گستاخی رسول کا موجب ہیں۔
- ۳۔ رسول اللہ ﷺ کے جو تبرکات محفوظ ہیں اور صحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے کہ وہ تبرکات رسول ﷺ ہیں۔ جیسے
آپ ﷺ کے موئے مبارک‘ آپ کا لباس مبارک‘ آپ کی تلوار مبارک‘ آپ کے نعلین مبارک وغیرہ‘ ان کا بھی پورا پورا احترام ویسے ہی کیا جائے گا‘ جیسے آپ کی ذات مبارکہ اور آپ کی مبارک تعلیمات کا احترام کیا جاتا ہے اور ان کی اہانت کرنے والے کی بھی وہی سزا ہوگی جو ناموس رسالت کا احترام نہ کرنے والے کو دی جاتی ہے۔
- ۵۔ عہد رسالت اور عہد خلافت راشدہ میں گستاخان رسول کو اس کثرت سے سزائے موت دی گئی ہے کہ اب سزا
تواتر کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ کیونکہ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں اس سزا کو بیان کرنے والوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ان کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہے۔ اس لئے گستاخ رسول کی اسلام میں سزائے موت سے کم تر کوئی اور سزا نہیں ہے۔
- ۶۔ جب گستاخ کا جرم مضبوط دلائل سے ثابت ہو جائے تو سزائے موت ہر حال میں نافذ کی جائے گی‘ کسی حکومت‘
پارلیمنٹ‘ وزیر اعظم‘ صدر ریاست حتیٰ کہ پوری امت کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ یہ سزا معاف کر دے کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے جو نا قابل معافی جرم ہے۔
- ۷۔ مسلم ریاستوں‘ ریاستوں کے سربراہوں‘ مسلمانوں کے قائدین‘ علمائے کرام‘ محققین اور دانشوروں کی یہ اجتماعی اور
مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے وسائل بروئے کار لائیں جن کی موجودگی میں اہانت رسول‘ قرآن حکیم کی بے حرمتی اور اسلامی مقدسات و شعائر پر بڑھتے ہوئے منفی رجحانات کا استیصال کیا جاسکے۔ نیز عام مسلمانوں میں اسلامی امور کے احترام کا شعور پیدا کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ جس کے لئے محراب و منبر‘ خانقاہیں‘ میڈیا اور مسلم دانشور اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ‘ اپریل 2011ء 163 تحفظ ناموس رسالت نمبر
شاتم رسول کی سزا
ائمہ فقہاء کی آراء کا جائزہ
* پروفیسر حبیب اللہ چشتی *
حضور نبی رحمت ﷺ کی ذات گرامی وجہ تخلیق کائنات اور دین کی اساس ہے۔ آپ ﷺ سمیت تمام انبیاء کرام کی تعظیم وتوقیر بجا لانا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ تعظیم نبوت کے اہم ترین فرض ہونے، توہین رسالت کے قبیح ترین جرم ہونے اور اس کی سزا کے کڑی سے کڑی ترین ہونے پر تمام فقہاء کرام کا اتفاق ہے۔ اس جرم کی سزا کے نفاذ میں اگرچہ بعض جزئیات میں فقہاء کی آراء میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے لیکن تمام آراء وافکار کا گہرے شعور کے ساتھ مطالعہ کرنے اور دیگر قرائن و شواہد کے انطباق سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ تمام فقہاء کے نزدیک توہین رسالت کا جرم ناقابل معافی اور مستوجب قتل ہے۔
توہین رسالت کا مرتکب یا مسلمان ہوگا یا کافر۔ اگر وہ مسلمان تھا تو کیا اس نے یہ جرم شنیع کرنے کے بعد توبہ کی یا نہیں؟ اور اگر وہ کافر تھا تو وہ ذمی تھا یا حربی؟ اگر وہ ذمی تھا تو کیا اس جرم کے ارتکاب سے اس کا عہد ٹوٹ گیا یا باقی رہا؟ ان تمام سوالوں کے جواب کے لیے فقہاء کرام کی آراء کا ایک تجزیہ ملاحظہ کیجئے۔
توبہ نہ کرنے کی صورت میں توہین رسالت کی سزا:
اگر کوئی شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اور توہین رسالت کا جرم کرتا ہے‘ اس کا یہ جرم صراحتاً ہو یا اشارۃً اور یہ جرم کرنے کے بعد وہ اس پر ڈٹ جاتا ہے اور توبہ نہیں کرتا تو تمام فقہاء کرام کے نزدیک ایسا شخص واجب القتل ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔ قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں:
جميع من سب النبى ﷺ أو عابه أو ألحق به نقصا فى نفسه او نسبه او دينه او خصلة من خصاله او عرض به او شبهه بشئی على طريق السب له او الازراء عليه او التصغير لشانه او الغض منه و العيب له فهو ساب له و الحكم فيه حكم السباب يقتل...... وهذا كله اجماع من العلماء و ائمة الفتوى من لدن الصحابة رضوان الله عليهم الى هلم جرّا (١)
* اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایچ ایٹ اسلام آباد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 164 تحفظ ناموس رسالت نمبر
”ہر وہ شخص جو نبی کریم ﷺ کی توہین کرے یا آپ پر کوئی عیب لگائے۔ یا آپ کی ذات، آپ کے نسب، آپ کے دین یا آپ کی عادات مبارکہ میں سے کسی عادت کی طرف کوئی نقص منسوب کرے یا ان میں سے کسی عیب کا آپ کی طرف اشارہ کرے، یا توہین کرتے ہوئے کسی ایسی چیز سے آپ کو تشبیہ دے، یا آپ کی تحقیر کرے یا آپ کی شان کو کم کرے، آپ کا استخفاف کرے یا آپ کی طرف کسی عیب کی نسبت کرے تو وہ آپ کی توہین کرنے والا شمار ہوگا۔ اس کا حکم وہی ہوگا جو توہین کرنے والے کا ہوتا ہے اسے قتل کر دیا جائے گا...... دور صحابہ سے لے کر آج تک اسی پر تمام علماء اور اصحاب فتویٰ کا اجماع ہے۔“
علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
قال الخطابى: لا اعلم احدا من المسلمين اختلف فى وجوب قتله و قال محمد بن سحنون: اجمع العلماء على ان شاتم النبى صلى الله عليه وسلم و المتنقص له كافر والوعيد جاء عليه بعذاب الله له و حكمه عند الامة القتل و من شك فى كفره و عذابه كفر (۲)
”خطابی کہتے ہیں میں مسلمانوں میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس نے نبی کریم ﷺ کے گستاخ کے واجب القتل ہونے میں اختلاف کیا ہو۔ محمد بن سحنون کہتے ہیں کہ اس پر علماء کا اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کی توہین وتنقیص کرنے والا کافر ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید ہے اور پوری امت کے نزدیک اس کا حکم قتل ہے۔ جو اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے گا وہ خود کافر ہو جائے گا۔“
ائمہ اربعہ اور دیگر تمام فقہاء بھی ایسے شخص کے کفر پر متفق ہیں۔ قاضی عیاض لکھتے ہیں:
قال ابوبكر بن المنذر: اجمع عوام اهل العلم على ان من سب النبى صلى الله عليه وسلم يقتل و ممن قال ذلك مالك بن انس، الليث، و احمد، و اسحاق، وهو مذهب الشافعى، قال القاضى ابوالفضل و هو مقتضى قول ابي بكر الصديق رضى الله عنه ولا تقبل توبته عند هولاء المذكورين و بمثله قال ابو حنيفة، و اصحابه، و الثورى، و اهل الكوفة، والاوزاعى فى المسلم لكنهم قالوا هى ردة روى مثله الوليد بن مسلم عن مالك (۳)
”ابوبکر ابن منذر فرماتے ہیں اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے کہ جو بھی نبی کریم ﷺ کی توہین کرے اسے قتل کر دیا جائے گا یہی بات امام مالک بن انس، اللیث، احمد اور اسحاق نے کہی ہے اور یہی امام شافعی رضی اللہ عنہ کے فرمان (۳) کا تقاضا بھی ہے۔ ان ائمہ کے نزدیک ایسے شخص کی توبہ بھی قبول نہیں کی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
جائے گی۔ اس کی مثل امام ابوحنیفہ، ان کے اصحاب، ثوری اہل کوفہ اور امام اوزاعی نے مسلمان گستاخین کے بارے میں کہا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ قتل ارتداد کی بناء پر ہو گا۔‘‘
قبول توبہ پر بحث تو ان شاء اللہ آئندہ سطور میں ہو گی اس سے اتنی بات بہر حال واضح ہے کہ اگر اسلام کا مدعی توہین رسالت کا مرتکب ہو اور توبہ نہ کرے تو امام ابو حنیفہ اور جمیع ائمہ کے نزدیک وہ واجب القتل ہو گا۔ علامہ ابن تیمیہ کے اس قول سے بھی یہی مراد ہے۔
اجمع عوام اهل العلم على ان حد من سب النبى صلى الله عليه وسلم القتل و ممن قاله مالك و الليث و احمد و اسحاق و هو مذهب الشافعى قال و الى عن النعمان لا يقتل يعنى الذى هم عليه من الشرك اعظم (٥)
”اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ جو آدمی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے اس کی سزا یہ ہے کہ اسے از روئے حد قتل کر دیا جائے یہی قول امام مالک، لیث، احمد، اسحاق کا ہے اور یہی امام شافعی کا ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت امام ابو حنیفہ سے یہ قول منقول ہے کہ اسے قتل نہ کیا جائے کیونکہ وہ جس شرک پر پہلے قائم تھا وہ اس سے بھی بڑا گناہ تھا۔“
یہاں اہانت رسول ﷺ کے جس مرتکب کو قتل کی سزا نہ دینے کا تذکرہ ہے اس سے مراد کافر و مشرک ہے۔ کافر و مشرک کے متعلق احناف کا تفصیلی موقف بعد میں عرض کیا جائے گا تاہم اس عبارت سے یہ بات بخوبی معلوم ہوتی ہے کہ کوئی بھی شخص جو اہانت رسول کا مرتکب ہو اور وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کرتا ہو وہ توبہ بھی نہ کرے تو وہ سب کے نزدیک واجب القتل ہے تمام علماء و فقہاء اس بات پر متفق ہیں۔ امام ابوبکر جصاص فرماتے ہیں۔
ولا خلاف بين المسلمين ان من قصد النبى صلى الله عليه وسلم بذلك فهو ممن ينتحل الاسلام انه مرتد يستحق القتل (٦)
”اس بارے میں اہل اسلام میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو بھی نبی کریم ﷺ کی توہین کا ارادہ کرے وہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہلاتا ہو وہ مرتد اور مستحق قتل ہے“۔
یعنی جیسے مرتد بغیر توبہ کے بلا اختلاف واجب القتل ہے ایسے ہی وہ بھی بلا اختلاف واجب القتل ہو گا۔ قاضی ثناء اللہ مظہری ؒ فرماتے ہیں:
قال الخطابى لا اعلم احدا خالف فى وجوب قتله (٧)
”خطابی کہتے ہیں کہ میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا کہ جس نے اہانت رسول ﷺ کے مرتکب کے واجب القتل ہونے میں اختلاف کیا ہو۔“
علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں
و قد حكى ابوبكر الفارسى من اصحاب الشافعى اجماع المسلمين على ان
تحفظ ناموس رسالت نمبر 166 ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
حد من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم القتل کما ان حد من سب غیرہ الجلد ھذا الاجماع الذی حکاہ ھذا محمول علی اجماع الصدر الاول من الصحابۃ والتابعین او انہ اراد بہ اجماعھم علی ان ساب النبی صلی اللہ علیہ وسلم یجب قتلہ اذا کان مسلما
”اصحاب شافعی میں سے ابوبکر فارسی فرماتے ہیں کہ اس پر تمام اہل اسلام کا اجماع ہے کہ اہانت رسول ﷺ کے مرتکب شخص کی سزا حداً قتل ہے جیسے غیر انبیاء کی اہانت کی سزا کوڑے مارنا ہے۔ یہ اجماع صحابہ اور تابعین کے زمانے پر محمول ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اہانت رسول کا مرتکب شخص مسلمان ہو تو وہ واجب القتل ہے۔“
سطور بالا سے واضح ہے کہ اگر مسلمان کہلانے والا شخص اہانت رسول ﷺ کا مرتکب ہو اور توبہ نہ کرے تو اس کے واجب القتل ہونے پر پوری امت متفق ہے۔
تائب شاتم رسول ﷺ کا حکم:
اگر کوئی مسلمان ہونے کا مدعی توہین رسالت کا ارتکاب کرے اور اس پر ڈٹ جائے تو اس کے واجب القتل ہونے میں تو پوری امت کا اجماع ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی توہین رسالت کا مرتکب توبہ کرے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ کیا اس کی توبہ سے اس کا قتل معاف ہو جائے گا؟ یہاں چند امور کا ذہن نشیں رکھنا بہت ضروری ہے۔
توبہ کا پہلا قدم اقرار جرم اور احساس گناہ ہے مجرم پہلے اپنے جرم کا اقرار کرے اور پھر توبہ کرے۔ اگر اس نے جرم اعلانیہ کیا ہو تو وہ توبہ بھی اعلانیہ ہی کرے گا۔ اگر کوئی توہین رسالت کا ارتکاب کرتا ہے مگر نہ اقرار جرم کرتا ہے اور نہ ہی توبہ کرتا ہے لیکن وہ کوئی ایسا کام کرتا ہے جو مسلمان ہونے کی علامت ہے مثلاً وہ قرآن مجید کو آنکھوں سے لگاتا ہے یا نماز پڑھتا ہے۔ تو اس کا یہ عمل توبہ نہیں کہلائے گا۔ کیونکہ وہ گناہ تو اپنی جگہ پر باقی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ توبہ کی پھر دو صورتیں ہیں یا تو یونہی اس سے یہ گناہ سرزد ہوا اسے احساس گناہ ہو گیا اور اس نے اللہ تعالیٰ سے ڈر کر توبہ کی یا جب اس کیخلاف مقدمہ دائر ہوا تو اس نے گرفتار ہونے کے بعد یا حالات انتہائی خراب ہونے کے بعد توبہ کی۔ نیتوں کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن شواہد کی بنا پر فقہاء نے بعد الاخذ توبہ کو کالعدم ہی قرار دیا ہے البتہ قبل الاخذ یعنی گرفتاری یا مقدمہ سے پہلے کی توبہ میں کچھ اختلاف منقول ہے۔
قبول توبہ یا عدم قبول توبہ کی بحث آخرت کے اعتبار سے نہیں بلکہ دنیوی احکام کے اعتبار سے ہے کہ اگر وہ توبہ کرے گا تو مرنے کے بعد اس پر مسلمان میت کے احکام نافذ ہوں گے۔ اگر وہ توبہ کے بغیر قتل کیا گیا تو اس پر مسلمان میت کے احکام نافذ نہیں ہوں گے نہ اسے غسل دیا جائے گا، نہ اسے کفن پہنایا جائے گا اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔
اس تناظر میں منقول اختلاف دراصل ایک اصولی نکتہ پر مبنی ہے کہ شاتم رسول ﷺ کا فعل صرف مسلمان سے کافر
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہونے کی بنا پر ہوگا یا اسے بطور حد قتل کیا جائے گا یعنی اگر اسے اس لیے قتل کیا جائے گا کہ اس جرم سے وہ مسلمان سے مرتد ہو گیا اور مرتد کی سزا قتل ہے تو اس کی توبہ کی قبولیت کا امکان ہے کیونکہ اگر مرتد توبہ کر کے تین دن کے اندر دوبارہ مسلمان ہو جائے تو اس کی سزا معاف ہو جاتی ہے لیکن اگر یہ جرم کر کے وہ بطور حد قتل کی سزا کا مستحق ہوا ہے تو ظاہر ہے حدود توبہ سے معاف نہیں ہوتیں اگر وہ توبہ کرے گا تو اسے قتل کی سزا ضرور دی جائے گی لیکن اس کی توبہ کے سبب دنیا میں اس پر مسلمان میت کے احکام نافذ ہوں گے اور آخرت میں اس کی توبہ اس کے لیے فائدہ مند ہوگی۔
اس تناظر میں فقہاء کی آراء کا ایک جائزہ ملاحظہ ہو۔ جمہور کے نزدیک ایسے شخص کی توبہ اسے قتل کی سزا سے نہیں بچائے گی۔
قاضی عیاض لکھتے ہیں:
فاعلم ان مشهور مذهب مالك و اصحابه و قول السلف و جمهور العلماء قتله حدا لا كفرا ان اظهر التوبة منه و لهذا لا تقبل عنده توبته ...... و حكمه حكم الزنديق (۹)
”پس تو جان لے کہ امام مالک ، ان کے اصحاب ، اسلاف اور جمہور علماء کا موقف یہ ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کو بطور حد قتل کیا جائے گا صرف اسلام چھوڑ کر کافر ہونے کی وجہ سے نہیں۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو بھی ان کے نزدیک اس کی توبہ نہیں قبول کی جائے گی ...... اس کا حکم زندیق کا حکم ہوگا۔“
یعنی اس کی توبہ کا تعلق آخرت سے ہوگا اور دنیا میں اس پر سزا نافذ کی جائے گی۔ امام مالک اور امام احمد بن حنبل کی مشہور رائے کے مطابق ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:
فصار عن مالك روايتان في قبول التوبة و عدمه والمشهور عنه العدم ...... و اما الحنابله فكلامه قريب من كلام المالكية و المشهور عن احمد عدم قبول توبته، و عنه رواية بقبولها فمذهبه لمذهب مالك سواء (۱۰)
”اس مسئلے میں امام مالکؒ سے دو روایات منقول ہیں ایک کے مطابق اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور دوسرے کے مطابق نہیں کی جائے گی۔ ان کے مشہور قول کے مطابق اسکی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ...... اور اس تناظر میں حنابلہ کی رائے مالکیہ کے قریب قریب ہے اور امام احمدؒ کے مشہور قول کے مطابق اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ ان سے ایک روایت قبول توبہ کی بھی منقول ہے۔ پس ان کا مذہب امام مالک کے مذہب کی طرح ہے۔“
یعنی امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کا موقف یہ ہے کہ ایسا شخص واجب القتل ہوگا اس کی توبہ اس کے قتل کو معاف نہیں کرائے گی۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء 168 تحفظ ناموس رسالت نمبر
امام شافعی کا مشہور قول یہ ہے کہ ایسے شخص کی توبہ مان لی جائے گی لیکن شوافع حضرات کا معمول امام مالک اور امام احمد کے قول کے مطابق ہی ہے یعنی عملی طور پر وہ عدم قبول توبہ کے قائل ہیں یادرہے امام شافعی بھی ایسے شخص کی توبہ کی قبولیت کا کہتے ہیں جس کا قول قذف نہ ہو بصورت دیگر وہ بھی عدم قبول توبہ کے قائل ہیں۔ علامہ شوکانی لکھتے ہیں
و نقل ابوبكر الفارسی احد ائمة الشافعية في كتاب الاجماع ان من سب النبی صلی الله علیه وسلم بما هو قذف صریح کفر باتفاق العلماء فلو تاب لم يسقط عنه القتل (١١)
”ائمہ شافعیہ میں سے ایک امام ابوبکر الفارسی نے اپنی کتاب الاجماع میں نقل کیا ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کی قذف صریح سے توہین کرے تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ کافر ہو جائے گا اگر وہ توبہ بھی کرے گا تو اس کا قتل ساقط نہیں ہوگا۔“
ان کے قول کے مطابق توہین رسالت کے مرتکب شخص کو بطور حد قتل کرنے پر اجماع امت ہے۔ علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
و قد حكى ابوبکر الفارسی من اصحاب الشافعي اجماع المسلمين على ان حد من سب النبی صلی الله علیه وسلم القتل كما ان حد من سب غيره الجلد (١٢)
”اصحاب شافعیؒ میں سے ابوبکر الفارسیؒ نے بیان کیا ہے کہ اس چیز پر امت کا اجماع ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب شخص کو بطور حد قتل کیا جائے گا۔ جیسے غیر نبی کی توہین کی سزا کوڑے مارنا ہے۔“
یعنی حد توبہ سے معاف نہیں ہوتی تو ایسے شخص کی توبہ سے اس کا قتل ساقط نہیں ہوگا۔
سطور بالا سے واضح ہوا کہ امام مالک اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور اگر چہ امام شافعیؒ سے قبولیت توبہ کا ایک قول بھی منقول ہے لیکن امام شافعیؒ اور دیگر ائمہ شوافع بھی قذف والی توہین رسالت کی سزا میں توبہ کو قبول نہیں کرتے۔
احناف کا موقف یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ ایسے شخص کی توبہ کو قبول کرنے کے قائل ہیں۔ قاضی عیاض لکھتے ہیں:
قال ابوبكر بن المنذر اجمع عوام اهل العلم على ان من سب النبی صلی الله عليه وسلم يقتل و ممن قال ذلك مالك بن انس والليث، و احمد، واسحاق، وهو مذهب الشافعي ...... و بمثله قال ابوحنيفة و اصحابه و الثوری و اهل الكوفة والاوزاعی فى المسلم لكنهم قالوا هي ردة (١٣)
”ابوبکر بن منذر کہتے ہیں کہ سب اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو بھی نبی کریم ﷺ کی توہین کرے گا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ امام مالک، لیث، امام احمد، اسحاق کا یہی موقف اور امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے۔ ...... اسی کی مثل امام ابوحنیفہ، ان کے اصحاب، ثوری، اہل کوفہ اور اوزاعی نے مسلمان گستاخ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
کے متعلق کہا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ یہ ارتداد ہے۔“
اس عبارت سے دو باتیں بالکل واضح ہورہی ہیں ایک یہ کہ امام شافعی بھی ان ائمہ میں شامل ہیں جن کے نزدیک شاتم رسول کی سزا ہر حال میں قتل ہے کیونکہ قاضی عیاض نے ان کا ذکر ان لوگوں میں نہیں کیا جو اس جرم کو ارتداد کہتے ہیں کیونکہ مرتد کی سزا توبہ سے معاف ہوسکتی ہے۔ امام شافعی کے نزدیک ایسے شخص کی سزا صرف قتل ہوگی اور اس کی توبہ سے اس کا قتل معاف نہیں ہوگا۔
دوسری چیز یہ ثابت ہوئی کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ جرم ارتداد ہے۔ یعنی اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اگر توبہ کرلے تو اس کی سزا معاف ہو جائے گی۔ اس مسئلہ میں امام ابو یوسف کا قول بھی یہی ہے لیکن امام محمد کے نزدیک ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور وہ ہر حال میں واجب القتل ہوگا۔
علامہ شامی لکھتے ہیں
ذکر فی بعض الفتاوى نقلا عن كتاب الخراج للامام ابی یوسف رحمة الله تعالى ان من سب النبى صلى الله عليه وسلم يكفر فان تاب تقبل توبته ولا يقتل عنده و عند ابی حنيفة خلا لمحمد رحمة الله
(١٤)
”بعض فتاویٰ میں امام ابو یوسف کی تالیف کتاب الخراج سے نقل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جو شخص بھی نبی کریم ﷺ کی توہین کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اگر وہ توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ امام ابو یوسف اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ لیکن امام محمد کے نزدیک اسے قتل کیا جائے گا۔“
اب سوال یہ ہے کہ عملی طور پر احناف کس موقف کو اختیار کریں تو متعدد شواہد کی بنا پر فقہاء احناف کو وہی موقف اختیار کرنا چاہیے جو امام مالک، امام احمد، ایک قول کے مطابق امام شافعی، امام محمد اور جمہور کا موقف ہے کہ توہین رسالت کا مرتکب حدّاً قتل کیا جائے گا اس کی توبہ کا تعلق آخرت سے ہوگا۔ توبہ سے اس کی سزائے قتل معاف نہیں ہوگی۔ اس موقف کے اختیار کرنے پر چند شواہد ملاحظہ ہوں۔
- ۱۔ متاخرین فقہاء احناف نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔ صاحب البیت ادری بما فیہ کی حقیقت کو مانتے ہوئے
فقہاء احناف کا یہی موقف تسلیم کیا جانا چاہیے۔ چند اقوال ملاحظہ ہوں۔
علامہ ابن نجیم الحنفیؒ لکھتے ہیں
...... ويستثنى منه مسائل الأولى الردة بسبه قال في فتح القدير كل من ابغض رسول الله صلى الله عليه وسلم بقلبه كان مرتدا فالساب بطريق الاولى ثم يقتل حدا عندنا فلا تقبل توبته في اسقاطه القتل قالوا هذا مذهب اهل الكوفة و مالك قال الخطابى لا اعلم احدا خالف فى وجوب قتله
(١٥)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 170 تحفظ ناموس رسالت نمبر
”....... (مرتد کی توبہ قبول ہوگی لیکن) کچھ مسائل میں مرتد کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ ان میں سے پہلی چیز نبی کریم ﷺ کی توہین کر کے مرتد ہونا ہے۔ فتح القدیر میں ہے کہ جو بھی شخص رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل میں بغض رکھے گا وہ مرتد ہوگا تو حضور اکرم ﷺ کی توہین کرنے والا بطریق اولیٰ مرتد ہوگا۔ پھر اسے ہمارے نزدیک حداً قتل کیا جائے گا اور توبہ سے اس کا قتل معاف نہیں ہوگا۔ یہ اہل کوفہ اور امام مالک کا قول ہے۔ خطابی کہتے ہیں کہ میں کسی ایک بھی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس نے اس کے واجب القتل ہونے کی مخالفت کی ہو۔“
علامہ التمرتاشی الحنفی لکھتے ہیں
و كل مسلم ارتد فتوبته مقبولة الا الكافر بسبب نبي
(١٦)
”ہر مسلمان جو مرتد ہو جائے اس کی توبہ قبول ہوگی، مگر وہ شخص جو کسی نبی کی توہین کر کے کافر ہو اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی“
اس کی شرح میں علامہ الحصکفی لکھتے ہیں:
(والكافر بسبب نبى) من الانبياء فانه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا
(١٧)
”جو بھی شخص انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کی توہین کر کے کافر ہو اسے حداً قتل کیا جائے گا اور مطلقاً اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔“
علامہ عبدالرحمن بن محمد الحنفی لکھتے ہیں۔
واما اذ سبه عليه الصلوة والسلام او واحدا من الانبياء مسلم و لو سكران وأنه يقتل حدا ولا توبة له اصلا تنجيه من القتل سواء بعد القدرة عليه و الشهادة او جاء تائبا من قبل نفسه كالزنديق لانه حد وجب فلا يسقط بالتوبة ولا يتصور خلافه لانه حد
(١٨)
”جس شخص نے بھی حضور اکرم ﷺ یا انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کی توہین کی اگر چہ وہ حالت نشہ میں ہی ہو تو اسے حداً قتل کیا جائے گا۔ اس کی توبہ اس طرح قبول نہیں ہوگی جو اسے قتل سے نجات دے۔ برابر ہے کہ وہ گرفتاری یا اپنے خلاف شہادت دینے کے بعد آئے جو خود ہی توبہ کرتے ہوئے آ جائے جس طرح زندیق ہوتا ہے کیونکہ یہ حد ہے اور حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ اس میں کسی کا اختلاف متصور نہیں“
قاضی ثناء اللہ مظہری الحنفی لکھتے ہیں:
و فى الفتاوى من مذهب ابي حنيفة ان من سب النبى ﷺ يقتل ولا يقبل توبته سواء كان مؤمنا او كافرا
(١٩)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
”مذہب ابی حنیفہ کے فتاویٰ میں ہے کہ جو بھی نبی کریم ﷺ کی توہین کرے اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی برابر ہے کہ وہ مسلمان ہو یا کافر“۔
برصغیر پاک و ہند کے مشہور فقیہ اور محدث امام احمد رضا خان فاضل بریلوی لکھتے ہیں:
”سید عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ ہزار ہا ائمہ دین کے نزدیک اصلاً قبول نہیں اور اسی کو ہمارے علمائے حنفیہ سے امام بزازی، وامام محقق علی الاطلاق ابن الہمام، وعلامہ مولیٰ خسرو، وصاحب درر وغرر، و علامہ زین بن نجیم صاحب بحر الرائق، واشباہ والنظائر، وعلامہ عمر بن نجیم صاحب نہر الفائق، وعلامہ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ غزی صاحب تنویر الابصار، وعلامہ خیر الدین رملی صاحب فتاویٰ خیریہ، وعلامہ شیخی زادہ صاحب مجمع الانہر، وعلامہ مدقق محمد بن علی حصکفی صاحب درمختار وغیرہم عمائد کبار علیہم رحمۃ اللہ العزیز الغفار نے اختیار فرمایا: (۲۰)
اس سے واضح ہوا کہ احناف کا عمل اسی پر ہے کہ اس کی توبہ قتل معاف کروانے کا سبب نہیں بنے گی۔ توبہ قبول نہ کرنا جمہور کا موقف ہے جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ نے لکھا ہے:
ان المسلم يقتل من غير استتابة و ان اظهر التوبة بعد اخذه كما هو مذهب الجمهور (۳۱)
”مسلمان کو بغیر توبہ طلب کیے قتل کیا جائے اگرچہ وہ گرفتاری کے بعد توبہ بھی کرے جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے“
یاد رہے کہ فقہ حنفی میں ہر فتویٰ امام ابو حنیفہؒ کے قول پر ہی نہیں ہوتا بلکہ کبھی فتویٰ آپ کے قول پر ہوتا ہے کبھی صاحبین یا ان میں سے کسی ایک کے قول پر۔ تو ان سارے شواہد کی روشنی میں اگر عدم استتابت کے قول پر فتویٰ دیا جائے تو یہی انصاف کا تقاضا ہوگا۔
سید محمد متین ہاشمی لکھتے ہیں:
”ان سارے دلائل کا خلاصہ یہ ہے چونکہ سبّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں حق اللہ کے ساتھ ساتھ حق العبد بھی شامل ہے اس لیے یہ گناہ توبہ سے معاف نہیں ہو سکتا آیات قرآنی، احادیث رسول، اجماع صحابہ اور اجماع فقہاء کے مقابلہ میں استتابت کا ایک قول امام ابو حنیفہ سے ملتا ہے لیکن یہ اصول فقہ کا ایک قاعدہ ہے کہ اگر اجماع صحابہ اور اجماع ائمہ مع ایک قول ابی حنیفہ کے مل جائے تو امام صاحب کے اس قول کو ترک کیا جائے گا جو مذکورہ اجماعات کے خلاف ہو اور اس قول کو ترجیح دی جائے گی جو اجماعات کا مؤید ہو اس طرح ایک مسئلہ پر فقہاء امت کا اجماع منعقد ہوگا ۔“
- ۲۔ عدم قبولیت توبہ کے قول کو اختیار کرنے کا دوسرا بڑا سبب اصول سد ذرائع ہے کہ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ ہر اس
راستہ کو بند کر دیتا ہے جو برائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اگر قبولیت توبہ کے قول پر عمل کیا جانے لگے تو توہین رسالت کے مرتکب حضرات کو ایک راستہ مل جائے گا اور اتنا نازک اور حساس مسئلہ ایک مذاق بن جائے گا۔ یہ فکر توہین رسالت کا ایک ایسا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، مارچ اپریل 2011ء 172 تحفظ ناموس رسالت نمبر
دروازہ کھول دے گی جو کبھی بند نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر محمد یوسف موسیٰ کہتے ہیں:
”جب ہم توبہ کرنے والے کو ”حد“ معاف کرنا شروع کر دیں گویا ہم بہت سے ایسے لوگوں کو معاف کریں گے جو زبان سے وہ بات کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی تو اس وقت حدود اللہ ضائع ہو جائیں گی اور مجرم محارم اللہ کو توڑنے میں جرأت کریں گے اور ہمیشہ کہتے رہیں گے تبنا و انبنا الی اللہ ہم نے توبہ کر لی ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس بارے میں رجوع کر لیا ہے۔۔۔۔۔۔ لہٰذا شاتم رسول کے لئے قرآنی آیات، احادیث، اجماع صحابہ اور مصالح زمانہ کے تحت استتابت کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور وہ واجب القتل ہے۔“
(۲۳)
سد ذرائع یا مصلحت کے تحت یہ سزا دینا تقریباً وہی بات ہے جسے ”سیاسۃ“ قتل کہا جاتا ہے علامہ ابن تیمیہؒ ذمی شاتم کے متعلق احناف کا موقف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
و لهذا افتى اكثرهم بقتل من اكثر سب النبى صلى الله عليه وسلم من اهل الذمة و ان اسلم بعد اخذه و قالو يقتل سياسة و هى متوجه على اصولهم
(٢٤)
”اسی لیے احناف میں سے اکثر فقہاء نے اہل ذمہ میں سے اس شخص کے قتل کا فتویٰ دیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر توہین کرتا ہے۔ اگر چہ وہ گرفتاری کے بعد اسلام بھی قبول کر لے وہ اسے ”سیاسۃ“ قتل کہتے ہیں اور یہ ان کے ایک اصول پر مبنی ہے۔“
- ۳۔ ایسے شخص کے واجب القتل ہونے کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ احناف کے نزدیک مرتد سے توبہ کا مطالبہ کرنا
واجب نہیں ہے صرف بہتر ہے۔ اگر امام توبہ کا مطالبہ نہ کرنا بہتر سمجھے تو وہ ایسا بھی کر سکتا ہے۔ امام طحاویؒ لکھتے ہیں
و قد تكلم الناس فى المرتد عن الاسلام ايستتاب ام لا فقال قوم ان استتاب الامام المرتد فهو حسن و ان تاب والا قتل و ممن قال ذلك ابو حنيفة و ابو يوسف و محمد رحمة الله عليهم و قال آخرون لا يستتاب و جعلوا حكمه كحكم الحربيين
(٢٥)
”مرتد ہونے والے کے متعلق لوگوں میں اختلاف ہے کہ کیا اس سے توبہ طلب کی جائے گی یا نہیں۔ بعض کے نزدیک اگر امام مرتد سے توبہ کا مطالبہ کرے تو یہ احسن ہے اگر وہ توبہ کرے تو ٹھیک ورنہ قتل کر دیا جائے جنہوں نے یہ کہا ان میں امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم شامل ہیں۔ اور دیگر ائمہ نے کہا کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ انہوں نے مرتد کا حکم حربی کافروں کی طرح بنایا۔“
اور توہین رسالت کا مسئلہ تو عام ارتداد سے بھی بہت نازک اور حساس ہے۔ اس لیے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن نواحہ کو توبہ کے باوجود قتل کر دیا تھا کیونکہ وہ توہین رسالت کا مرتکب ہوا تھا۔
(۲۶)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آ
امام محمد فرماتے ہیں: ان شاء الام لم يطه فى ذل ’اگر امام چاہے تو امید نہ ہو اور اس اس سے واضح ہو دے تو جائز ہوگا۔
- ۴۔ حالات زمانہ کے
ابو حنیفہ تو جادوگر کی توبہ ک و يقتل السا الساحر ح ’امام ابو حنیفہ ہے کہ وہ مسلما شاتم رسول ﷺ جائے گی؟
- ۵۔ تائب شاتم کی
قبول کی جائے گی اور البزازیہ کے حوالہ سے اذا سبه يقتل حد نفسه لاحد هذا مذ واهل احد ام ’جب کوئی کیا جا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
امام محمد فرماتے ہیں:
ان شاء الامام اخر المرتد ثلاثا ان طمع في توبته اوسأله عن ذلك المرتد و ان لم يطه فى ذلك ولم يسئله المرتد فقتله فلا بأس بذلك (۲۷)
’’اگر امام چاہے تو مرتد کو تین دن کی مہلت دے دے اگر اسے اس کی توبہ کی امید ہو اور اگر اسے اس کی توبہ کی امید نہ ہو اور اس نے مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر اسے قتل کر دیا تو تب بھی کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘
اس سے واضح ہوا کہ فقہائے احناف کے نزدیک بھی اگر امام یا قاضی شاتم رسول ﷺ کو بغیر مطالبہ توبہ کے قتل کر دے تو جائز ہوگا۔
- ۴۔ حالات زمانہ کے مطابق شتم رسالت کے مرتکب کو سزا ہی دینا امام ابوحنیفہؒ کی سوچ کے عین مطابق ہے کیونکہ امام
ابوحنیفہؒ تو جادوگر کی توبہ کو قبول نہیں کرتے کیونکہ وہ زمین میں فساد پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ وھبہ زحیلی لکھتے ہیں:
و يقتل الساحر ولا تقبل توبته فى رأی ابی حنیفة سواء كان مسلما او ذميا لان الساحر جمع الى كفره السعى فى الارض بالفساد (۲۸)
’’امام ابوحنیفہ کی رائے کے مطابق جادوگر کو قتل کیا جائے گا۔ اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی برابر ہے کہ وہ مسلمان ہو یا ذمی کیونکہ جادوگر کفر کے ساتھ زمین میں فساد برپا کرنے کا بھی مرتکب ہوتا ہے۔‘‘
شاتم رسول ﷺ تو ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے تو اسے یہ سزا کیوں نہیں دی جائے گی؟
- ۵۔ تائب شاتم کی توبہ قبول کرنے یا نہ کرنے میں امام اعظم امام ابوحنیفہ کے دو قول ہیں ایک قول تو یہی ہے کہ اس کی توبہ
قبول کی جائے گی اور دوسرا قول یہ ہے کہ اسے حدًا قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ علامہ شامی فتاویٰ البزازیہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں:
اذا سبّ الرسول صلى الله عليه وسلم او واحدا من الانبياء عليهم السلام فانه يقتل حدا ولا توبة له اصلا سواء بعد القدرة عليه والشهادة او جاء تائبا من قبل نفسه كالزنديق لانه حد وجب فلايسقط بالتوبة ولا يتصور فيه خلاف لاحد............ قلنا اذا شتمه عليه السلام سكران فلا يعفى و يقتل حدا و هذا مذهب ابی بكر الصديق رضى الله تعالى عنه والامام الاعظم والبدری واهل الكوفة والمشهور من مذهب مالك و اصحابه قال الخطابى لا اعلم احدا من المسلمين اختلف فى وجوب قتله اذا كان مسلما (۲۹)
’’جب کوئی بھی نبی کریم ﷺ یا انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کی توہین کرے گا تو اسے حدًا قتل کیا جائے گا۔ وہ گرفتاری یا شہادت کے بعد توبہ کرے یا خود ہی توبہ کر کے آجائے اس کی توبہ بالکل
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
قبول نہیں کی جائے گی جیسے زندیق کی توبہ کسی حال میں قبول نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ حد ہے اور حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی اور اس میں کسی کے اختلاف کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا............. ہم کہتے ہیں جب کوئی نشہ میں مدہوش بھی حضور اکرم ﷺ کی توہین کرے گا تو اسے بھی معاف نہیں کیا جائے گا اور اسے حداً قتل کیا جائے گا یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، امام اعظم، الثوری (متن میں البدری کتابت کی غلطی محسوس ہوتی ہے، مولف) اور اہل کوفہ امام مالک اور ان کے اصحاب کا مشہور مذہب بھی یہی ہے۔ خطابی کہتے ہیں میں کسی ایسے مسلمان کو نہیں جانتا جو مسلمان شاتم رسول ﷺ کو واجب القتل نہ مانتا ہو ۔“
اس سے واضح ہوا کہ صاحب فتاویٰ بزازیہ کے مطابق امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اسے حداً قتل کیا جائے گا۔
واضح ہوا کہ تائب شاتم کے متعلق امام ابو حنیفہ کے بھی دو قول ہیں ایک قول کے مطابق توبہ قبول ہوگی اور دوسرے کے مطابق نہیں ہوگی اور متاخرین فقہاء احناف بڑی شدت سے عدم قبولیت توبہ کے قائل ہیں۔ اسی قول کو اختیار کرنے میں شتم رسالت کے دروازے کو بند کرنا ممکن ہے اور جمہور کا موقف بھی یہی ہے۔ اس سے یہ بات بالکل عیاں ہورہی ہے کہ فقہاء کا عمل اسی موقف پر ہے کہ توبہ سے شاتم رسول ﷺ کا قتل معاف نہیں ہوگا اور یہی موقف تحفظ ناموس رسالت کی نزاکتوں کا امین ہے۔ یہی وجہ ہے عصر حاضر کے فقہاء احناف بھی توبہ کو اس کا قتل معاف کروانے کا ذریعہ نہیں مانتے۔ ان کے نزدیک شاتم رسول ﷺ کو ہر حال میں قتل کی سزا دی جائے گی (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو۔ رقم الحروف کی کتاب۔ توہین رسالت کی سزا: ص ۱۳۶ تا ۱۵۹)
یہ بحث علامہ عبدالرحمن الجزیری کے اس قول پر ختم کی جاتی ہے۔
من قذف رسول الله صلى الله عليه وسلم او سبه او سب واحدا من الرسل الكرام الذين ورد ذكرهم فى القرآن الكريم او كذب رسول الله صلى الله عليه وسلم فى دعوته فانه يقتل حدا ولا يسقط عنه بالتوبة قيل ولا يقتل بعد التوبة بل يجلد ثمانين جلدة لان الردة ارتفعت باسلامه و بقى الجلد عليه الحنفية قالوا كل من ابغض رسول الله صلى الله عليه وسلم بقلبه كان مرتدا فالسب بطريق اولى فيقتل حدا ولا تقبل توبته فى اسقاط القتل عنه۔ (۳۰)
”جو بھی رسول اللہ ﷺ پر تہمت لگائے یا آپ کو سب وشتم کرے یا ان انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کرے جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے جو رسول اللہ کی دعوت میں آپ کی تکذیب کی نسبت کرے تو اسے حداً قتل کیا جائے گا۔ توبہ سے اس کا قتل معاف نہیں ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ توبہ کے بعد اسے قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے اسی کوڑے مارے جائیں گے۔ کیونکہ اسلام قبول کرنے سے اس کا ارتداد ختم ہو
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
جائے گا اور کوڑوں کی سزا باقی رہے گی۔ احناف کہتے ہیں کہ جو بھی رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل میں بغض رکھے وہ مرتد ہے۔ آپ کی توہین کرنے والا بطریق اولیٰ مرتد ہوگا اسے حدّاً قتل کیا جائے گا اور توبہ سے اس کا قتل معاف نہیں ہوگا۔“
اس سے واضح ہوا کہ احناف کا معمول بہ موقف وہی ہے جو جمہور کا ہے کہ توبہ کرنے سے شاتم کا قتل معاف نہیں ہوتا وہ ہر حال میں واجب القتل ہی رہتا ہے۔
ذمی شاتمِ رسول ﷺ اور فقہاء کا نقطۂ نظر
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ذمی نبی کریم ﷺ یا انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کی توہین کا ارتکاب کرے تو اس کا حکم کیا ہوگا؟ اس کا عہد ٹوٹ جائے گا یا باقی رہے گا؟ وہ واجب القتل ہوگا یا نہیں؟
اس تناظر میں فقہاء کرام کی آراء کا خلاصہ یہ ہے کہ امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک ایسے شخص کا عہد ٹوٹ جائے گا اور وہ واجب القتل ہوگا جبکہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ایسے شخص کا عہد تو نہیں ٹوٹے گا لیکن اسے تعزیری سزا دی جائے گی اور جمہور فقہاء احناف کے نزدیک ایسے شخص کی سزا قتل ہی ہوگی امام قرطبیؒ لکھتے ہیں:
قال ابن المنذر اجمع عامة اهل العلم على ان من سبّ النبى ﷺ يقتل و ممن قال ذلك مالك والليث و احمد و اسحاق و هو مذهب الشافعي وقد حكى عن النعمان انه قال لا يقتل من سب النبى ﷺ من اهل الذمة
(۳۱)
ابن منذر کہتے ہیں کہ تمام اہلِ علم کا موقف یہ ہے کہ جو شخص بھی نبی کریم ﷺ کی توہین کرے اسے قتل کر دیا جائے گا، یہ امام مالک، اللیث، احمد، اسحاق کا موقف ہے اور یہی امام شافعی ؒ کا مذہب ہے۔ امام ابو حنیفہ سے روایت کیا گیا ہے کہ اہلِ ذمہ میں سے اگر کوئی توہینِ رسالت کا مرتکب ہو تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔“
یہاں امام ابو حنیفہؒ سے ذمی کو قتل کرنے کی جو نہی ذکر کی گئی وہ بطورِ حد ہے۔ احناف ایسے شخص کو تعزیری طور پر قتل کی سزا دینے کے قائل ہیں۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ایسے شخص کو قتل کرنے میں کوئی اختلاف نہیں۔
علامہ ابن تیمیہ امام احمد بن حنبل کے متعلق لکھتے ہیں:
سئل احمد عمن شتم النبى صلى الله عليه وسلم قال: يقتل، قد نقض العهد و قال حرب: سالت احمد عن رجل من اهل الذمة شتم النبى صلى الله عليه وسلم قال يقتل اذا شتم النبى صلى الله عليه وسلم رواهما الخلال و قد نص على هذا فى غير هذه الجوابات
(۳۳)
”امام احمد بن حنبلؒ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے حضور اکرم ﷺ کی توہین کی۔ تو آپ نے فرمایا اسے قتل کر دیا جائے گا کیونکہ اس کا عہد ٹوٹ چکا ہے۔ حرب کہتے ہیں میں نے امام احمد سے ذمی شخص کے متعلق پوچھا جس نے حضور اکرم ﷺ کی توہین کی تو آپ نے فرمایا جب وہ نبی کریم ﷺ کی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
توہین کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ ان دونوں روایات کو خلال نے روایت کیا اور امام احمد نے ان جوابات کے علاوہ بھی اس موقف کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔“
ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں: ينتقض العهد به سواء شرط اولم يشرط ...... قيل لا بن عمر: ان راهبا يشتم رسول الله ﷺ فقال: لو سمعته لقتلته انا لم نعطه الامان على هذا (٣٣) ” (توہین رسالت سے) ذمی سے کیا ہوا عہد ٹوٹ جاتا ہے خواہ اس کی شرط ہو یا نہ ہو..... حضرت ابن عمر سے کہا گیا کہ ایک راہب نبی کریم ﷺ کی توہین کرتا ہے تو آپ نے فرمایا اگر میں اسے سنتا تو قتل کر دیتا ہم نے اسے اس پر امان نہیں دی تھی۔“
امام قرطبیؒ لکھتے ہیں فاما الذمى اذا طعن في الدين انتقض عهده في المشهور من مذهب مالك...... وهو مذهب الشافعى ...... (٣٤) ”ذمی جب دین میں طعن کرے گا تو امام مالک کے مشہور مذہب کے مطابق اس کا عہد ٹوٹ جائے گا...... اور یہی امام شافعیؒ کا مذہب ہے۔“
وہبہ الزحیلی لکھتے ہیں: و اكثر العلماء على ان من سبّ النبي صلى الله عليه وسلم من اهل الذمة او عرض او استخف بقدره او وصفه بغير الوجه الذى كفر به، فانه يقتل فانا لم نعطه الذمة او العهد على هذا (٣٥) ”اکثر علماء کا موقف یہ ہے کہ اہل ذمہ میں سے جو بھی حضور اکرم ﷺ کی توہین کرے یا آپ پر تعریض کرے یا آپ کی قدرومنزلت کو کم کرے یا اپنے کفریہ عقیدہ کے علاوہ کوئی اور بات کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا کیونکہ ہم نے اسے اس پر ذمہ یا عہد نہیں دیا۔“
علامہ ابن تیمیہ امام شافعیؒ کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اما الشافعى فالمنصوص عنه نفسه ان عهده ينتقض بسب النبى صلى الله عليه وسلم و انه يقتل هكذا حكاه ابن المنذر والخطابى وغيرهما والمنصوص عنه فى الام (٣٦) ”جہاں تک امام شافعیؒ کے موقف کا تعلق ہے تو ان سے جو چیز صراحت سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اگر کوئی ذمی نبی کریم ﷺ کی توہین کرتا ہے تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور اسے قتل کر دیا جائے گا۔ یہ ان سے ابن المنذر، الخطابی اور دیگر لوگوں نے روایت کیا ہے۔ امام شافعی نے اپنی کتاب الام میں یہی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد موقف واضح طور سطور بالا سے واض ٹوٹ جاتا ہے اور وہ واج لکھتے ہیں و اما ابو ح بذلك لكـ يحملون الحرائم افتی اکثـ و ان اسلم ”امام ابو حنیفہؒ اس وجہ سے تو دی جاتی ہے، وہ اسے مسلمین نے اس ذمی ک گرفتاری کے ب اصول پر مبنی ہی اس سے واضح ہو دیگر ائمہ کے موقف میں امام شامیؒ فرماتے ہیں: (والحاصـ مخالفا للحـ ”خلاصہ کلام یہ اس کا قتل مذہب کے خلاف ہے جمہور فقہائے احنا کو واجب القتل قرار دیتے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
موقف واضح طور پر بیان کیا۔“ سطور بالا سے واضح ہوا کہ امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک شتم رسالت سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور وہ واجب القتل ہو جاتا ہے۔ اس تناظر میں فقہائے احناف کا موقف بیان کرتے ہوئے علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں
و اما ابو حنيفة و اصحابه فقالوا لا ينتقض العهد بالسب ولا يقتل الذمی بذلك لكن يعزر على اظهار ذلك كما يعزر على اظهار المنكرات...... و يحملون ما جاء عن النبی صلی الله عليه وسلم و اصحابه القتل فی مثل هذه الجرائم على انه رأی المصلحة فی ذلك و يسمونه قتل سياسة ...... و لهذا افتی اكثرهم بقتل من اكثر من سب النبی صلی الله عليه وسلم من اهل الذمة و ان اسلم بعد اخذه و قالوا يقتل سياسة و هذا متوجه على اصولهم (۳۷)
”امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی توہین کے مرتکب کا عہد نہیں ٹوٹتا اور ذمی کو اس وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے تعزیری سزا دی جائے گی جیسے اسے دیگر منکرات پر تعزیری سزا دی جاتی ہے...... اور اس جرم کے مرتکب کو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی طرف سے جو قتل کی سزا دی گئی وہ اسے مصلحت پر محمول کرتے ہیں اور اسے ”قتل سیاسۃ“ کا نام دیتے ہیں...... لہذا احناف میں سے اکثر نے اس ذمی شخص کو قتل کرنے کا فتویٰ دیا جس نے توہینِ رسالت مآب ﷺ کا ارتکاب کیا۔ اگرچہ وہ گرفتاری کے بعد اسلام بھی قبول کرلے۔ وہ اس قتل کو ”قتل سیاسۃ“ سے تعبیر کرتے ہیں یہ ان کے ایک اصول پر مبنی ہے۔“
اس سے واضح ہوا کہ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب بھی ایسے شخص کے قتل کیے جانے کے ہی قائل ہیں۔ احناف اور دیگر ائمہ کے موقف میں ایک اصطلاحی فرق تو ضرور ہے لیکن نتیجتاً کوئی فرق نہیں ہے۔
امام شامی فرماتے ہیں:
(والحاصل) ان الذمی يجوز قتله عندنا لكن لا حدا بل تعزيرا فقتله ليس مخالفا للمذهب و اما انه ينتقض عهده فمخالف للمذهب (۳۸)
”خلاصہ کلام یہ ہے کہ (شتم رسالت کے مرتکب) ذمی کا قتل جائز ہے لیکن بطور حد نہیں بلکہ بطور تعزیر۔ اس کا قتل مذہب حنفیہ کے خلاف نہیں ہے لیکن اس کا یہ کہنا کہ اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے یہ ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔“
جمہور فقہائے احناف کے نزدیک تو اس مسئلہ میں کوئی دوسری رائے ہے ہی نہیں۔ وہ تو بلاشک و شبہ ذمی شاتم رسول کو واجب القتل قرار دیتے ہیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ، اپریل 2011ء 178 تحفظ ناموس رسالت نمبر
علامہ حصکفی لکھتے ہیں:
قال العيني: و اختياري فى السب ان يقتل و تبعه ابن همام قلت و به افتى شيخنا الخير الرملى وهو قول الشافعى ...... والحق انه يقتل عندنا اذا اعلن بشتمه عليه الصلوة والسلام، صرح به فى سيره الذخيره حيث قال: و استدل محمد لبيان قتل المراة اذا اعلنت بشتم الرسول بما روى ان عمر بن عدى لما سمع عصماء بنت مروان تؤذى الرسول فقتلها ليلا: مدحه صلى الله عليه و سلم على ذلك انتهى“ (۳۹)
”علامہ عینی کہتے ہیں کہ میرا اختیار کردہ قول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کو قتل کر دیا جائے گا اور علامہ ابن ہمام نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ میں کہتا ہوں ہمارے شیخ الخیر الرملی نے بھی اسی کے مطابق فتویٰ دیا ہے اور یہی امام شافعی ؒ کا قول ہے...... اور حق یہ ہے کہ ہمارے نزدیک اس شخص کو قتل کر دیا جائے گا جو اعلانیہ حضور اکرم ﷺ کی توہین کا مرتکب ہوگا۔ سیرالذخیرہ میں یہ تصریح ہے کہ امام محمد نے اعلانیہ نبی کریم ﷺ کی توہین کی مرتکب عورت کے قتل پر اس روایت سے استدلال کیا کہ عمر بن عدیؓ نے جب سنا کہ عصماء بنت مروان نبی کریم ﷺ کو ایذاء پہنچاتی ہے تو انہوں نے رات کو اسے قتل کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس فعل پر ان کی تعریف فرمائی“
علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں
والذى عندى ان سبه صلى الله عليه وسلم او نسبة مالا ينبغى الى الله تعالى ان كان ممالا يعتقدونه كنسبة الولد الى الله تعالى و تقدس عن ذلك اذا اظهره يقتل به و ينتقض عهده (٤٠)
”میرا موقف یہ ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا مرتکب ہو یا اپنے عقیدے کے خلاف اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی چیز کی نسبت کرے جو اس کے شایان شان نہ ہو۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت اور وہ اس سے پاک ہے۔ جب وہ ایسی چیز کا اظہار کرے گا تو اسے قتل کر دیا جائے گا اور اس کا عہد ٹوٹ جائے گا۔“
اس سے معلوم ہوا کہ فقہائے احناف کے نزدیک بھی ذمی شاتم رسول ﷺ کی سزا قتل ہی ہے۔
نتائج بحث:
اس بحث کا خلاصہ درج ذیل ہے:
- ۱۔ اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کا ارتکاب کرے اور اس پر ڈٹ جائے تو تمام فقہاء اور اجماع امت کے مطابق وہ
واجب القتل ہوگا اس میں کسی کا اختلاف نہیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ۲۔ اگر کوئی مسلمان نبی کریم ﷺ یا انبیاء کرام علیہم ؑ میں سے کسی کی توہین کا مرتکب ہو اور پھر توبہ کر لے تو اگر وہ توبہ
گرفتاری یا مقدمہ کے بعد کرے تو ایسی توبہ سزا کی معافی کے معاملہ میں کالعدم ہو گی اور اگر وہ گرفتاری سے پہلے خود ہی نادم ہو کر توبہ کرلے تو امام مالک ؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ کے نزدیک وہ پھر بھی واجب القتل ہوگا۔ امام شافعی ؒ اور امام ابو حنیفہ ؒ کے اس کے متعلق دو قول ہیں۔ ایک قول کے مطابق اس کی توبہ سے اس کا قتل معاف ہو جائے گا اور دوسرے قول کے مطابق توبہ سے اس کا قتل معاف نہیں ہوگا۔ اگر وہ سچے دل سے توبہ کر لے تو آخرت میں اسے اجر ملے گا اور توبہ سے دنیا میں اس پر مسلمان میت کے احکام جاری ہوں گے۔
- ۳۔ توبہ کے معاملہ میں جمہور فقہاء کا موقف یہ ہے کہ چونکہ یہ سزا بطور حد نافذ ہوتی ہے اس لیے توبہ سے اس کا قتل معاف
نہیں ہوگا۔ اگر کسی کے نزدیک یہ سزا بطور حد نہ بھی ہو بطور تعزیر ہو تب بھی عملی طور پر کوئی فرق نہیں ہے۔ اول تو جمہور کے مقابلہ میں کسی شاذ قول کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ اس کے واجب القتل ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔
- ۴۔ اگر کوئی ذمی شتم رسالت کا مرتکب ہو تو امام احمد ؒ، امام شافعی ؒ اور امام مالک ؒ کے نزدیک اس کا عہد
ٹوٹ جائے گا اور وہ واجب القتل ہوگا لیکن امام ابو حنیفہ ؒ اور ان کے اصحاب کے نزدیک اس کا عہد نہیں ٹوٹے گا اور اسے تعزیری سزا دی جائے گی۔ یادرہے احناف کے نزدیک تعزیر حد سے بھی بڑھ سکتی ہے جیسے لواطت کی سزا پہاڑ سے گرا کر پتھر مار مار کر مار دینا ہے۔ یہ زنا کی سزا جو حد ہے اس سے بھی زیادہ ہے اور فقہائے احناف کے نزدیک بھی ایسے ذمی کی سزا قتل ہی ہے۔ ایک اصولی اختلاف تو ضرور ہے کہ اس سے عہد ٹوٹا یا نہیں لیکن اس کے واجب القتل ہونے میں جمہور فقہائے احناف کا کوئی اختلاف نہیں۔ اس سے واضح ہو رہا ہے کہ ذمی شاتم رسول ﷺ کی سزا تمام فقہاء کے نزدیک قتل ہی ہے۔
هذا ما تيسر لهذا العبد الضعيف والله تعالیٰ اعلم بالصواب
حواشی
- ۱۔ الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ: ۲/ ۲۲۰، ابو الفضل عیاض بن موسیٰ بن عیاض، وحیدی کتب خانہ، قصہ خوانی
بازار، پشاور
- ۲۔ الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول: ص ٤، علامہ احمد بن عبدالحلیم الحرانی، ابن تیمیہ، المكتبة العصرية، بیروت
١٤١١ھ/١٩٩٠ء
- ۳۔ الشفاء: ۲۲۰/۲
- ۴۔ اس سے اشارہ آپ کے اس فرمان کی طرف ہے کہ حضرت ابو برزہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ کی شان
میں نازیبا کلمات کہے تو میں نے کہا آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس کا سر اڑا دوں تو آپ نے فرمایا فليس ذلك لا حد الا لرسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کہ کسی کی توہین کرنے والے کو قتل کرنا صرف توہین رسالت کے ساتھ خاص ہے۔ (الشفاء: ۲۲۷/۲)
- ۵۔ الصارم المسلول: ص ۳
- ۶۔ احکام القرآن: ٤/ ٢٧٦، احمد بن علی الرازی الجصاص، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٠٥ھ
- ۷۔ التفسیر المظہری: ۱/ ۳۱۵، علامہ ثناء اللہ المظہری، داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤٢٥ھ/٢٠٠٤ء
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
- ۸۔ الصارم المسلول: ص: ۳
- ۹۔ الشفا: ۲۵۳/۲
- ۱۰۔ ردالمحتار: ۳۷۲/۶، محمد امین الشہیر بابن عابدین، دارالکتب العلمیۃ، بیروت
- ۱۱۔ نیل الاوطار: ۲۰۹/۷، محمد بن علی بن محمد الشوکانی، ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ
- ۱۲۔ الصارم المسلول: ص ۳
- ۱۳۔ الشفا: ۲۲۰/۲
- ۱۴۔ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ: ۱۰۴/۱، الشیخ العلامۃ محمد امین الشہیر بابن عابدین۔ دارالمعرفۃ، بیروت، لبنان
- ۱۵۔ البحر الرائق: ۱۳۶/۵۔ زین الدین ابن نجیم الحنفی، دارالمعرفۃ، بیروت
- ۱۶۔ تنویر الابصار (متن رد المحتار) : ۳۷۰/۶، محمد بن عبداللہ بن احمد الحنفی، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت
- ۱۷۔ در مختار: ۳۷۰/۶، محمد بن علی بن محمد الحنفی، الحصکفی، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت
- ۱۸۔ مجمع الانھر فی شرح ملتقی البحر: ۴۸۲/۲، عبدالرحمٰن بن محمد بن سلیمان الحنفی، دارالکتب العلمیۃ، بیروت ۱۴۱۹ھ/ ۱۹۹۸ء
- ۱۹۔ التفسیر المظھری: ۱۶۱۱/۱، محمد ثناء اللہ العثمانی المظھری۔ داراحیاء التراث العربی، بیروت ۱۴۲۵ھ
- ۲۰۔ تمھید الایمان: ص ۴۱، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان، مکتبہ نوریہ رضویہ، سکھر
- ۲۱۔ الصارم المسلول: ص ۳۳۷
- ۲۲۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ھو: ناموس رسالت اور قانون توھین رسالت، ص ۲۰۴، محمد اسمعیل قریشی، الفیصل ناشران و تاجران کتب، لاھور
- ۲۳۔ نفس مصدر: ۲۰۲
- ۲۴۔ الصارم المسلول: ص ۱۱
- ۲۵۔ شرح معانی الآثار: ۱۳۵/۲۔ سعید ایچ ایم کمپنی، کراچی
- ۲۶۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ھو: نفس مصدر: ۱۳۶/۲
- ۲۷۔ موطا امام مالک: ۳۲۴/۳، امام مالک بن انس الاصبحی، دارالقلم، دمشق ۱۴۱۳ھ/ ۱۹۹۱ء
- ۲۸۔ التفسیر المنیر: ۲۵۲/۱، وھبہ بن مصطفی الزحیلی، دارالفکر المعاصر
- ۲۹۔ رسائل ابن عابدین ۳۲۷/۱، محمد امین آفندی الشہیر بابن عابدین، مکتبہ محمودیہ، سرکی روڈ کوئٹہ
- ۳۰۔ الفقہ علی المذاھب الاربعۃ: ۱۹۹/۵۔ علامہ عبدالرحمٰن الجزیری دارالمعرفۃ، بیروت
- ۳۱۔ الجامع الاحکام القرآن، ۸۲/۱۸، ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی، دار عالم الکتاب، الریاض، ۱۴۲۳ھ/ ۲۰۰۳ء
- ۳۲۔ الصارم المسلول: ص ۵
- ۳۳۔ الکافی فی فقہ ابن حنبل: ۱۸۴/۴، عبداللہ بن قدامہ المقدسی، دارالکتب العلمیۃ، بیروت
- ۳۴۔ الجامع الاحکام القرآن: ۸۳/۱۸
- ۳۵۔ التفسیر المنیر: ۱۲۵/۱۰، وھبہ بن مصطفی الزحیلی، دارالفکر المعاصر
- ۳۶۔ الصارم المسلول: ص ۸
- ۳۷۔ نفس مصدر: ص : ۱۰، ۱۱
- ۳۸۔ رسائل ابن عابدین: ۳۵۴/۱۰
- ۳۹۔ درمختار متن ردالمحتار: ۳۴۷،۳۴۶/۶
- ۴۰۔ فتح القدیر: ۵۹۰،۸۶/۶، علامہ ابن الہمام الحنفی، دارالفکر، بیروت ۱۴۱۵ھ
* * * * *
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
پروفیسر شبیر احمد الحسانی الاعظمی *
برصغیر پاک وہند کے
گستاخانِ رسول کا
عبرت آموز انجام
حضور سرور سروراں، سلطان دو عالم، فخر آدم و بنی آدم سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرامی حسن صورت اور جمال سیرت کا ایک ایسا حسین مرقع ہے کہ جس میں ازل تا ابد حسن و رعنائی کے تمام شخصی و تہذیبی محاسن جمع کر دیئے گئے ہیں۔ آپ ﷺ کی ہی وہ جامع الصفات شخصیت ہے جہاں حسن صوری، حسن معنوی ہر اعتبار سے رفعت و کمال کی بلند چوٹیوں کے منتہائے کمال سے بھی بڑھ کر بلند ہے۔ یوں کہئے کہ جہاں ہر بلندی اپنے کمال کو پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے، وہاں سے جمال جہاں آراء کے جلوؤں کا آغاز ہوتا ہے۔ سلطان اقالیم پست و بالا، حضور شاہ والا، نبی محتشم، شاہِ امم ﷺ حبیب الہ بھی ہیں اور محبوب خلائق بھی، آپ ﷺ جامع الکمالات بھی ہیں اور مجمع الصفات بھی، اس لیے حسن و رعنائی کی جو بھی تعریف کی جائے اس کا مصداق اتم خلائق عالم میں ذات مصطفویٰ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم کے علاوہ کوئی ذات نہیں۔
محبت کے حوالے سے یہ امر مسلمہ ہے کہ محبوب جس قدر بے نظیر و بے مثال ہو گا اس کے چاہنے والوں کے دلوں میں اپنے محبوب سے محبت اور اس کی چاہت کا جذبہ بھی اسی قدر شدت کے ساتھ پایا جائے گا اور اتنا ہی زیادہ سر بلند ہوگا۔ اس محبت کے باعث محبوب کی ذات اور اس کا احترام اور محب صادق کی محبتوں کے نقوش بھی قلب و جاں پر اسی قدر گہرے ہوں گے۔ محب اپنے محبوب سے محبت میں مقامات عشق طے کرتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ عشق و محبت کی انتہائی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے، جب یہ محبت محبوب خدا ﷺ سے ہو تو پھر اس عشق بلاخیز کے انداز ہی نرالے ہوتے ہیں۔ یہ اس ہستی کے ساتھ عشق ہے کہ خود خالق کائنات اس سے محبت کرتا ہے۔ اس لیے جب مومن صادق کو عشق سرمدی کا یہ مقام حاصل ہوتا ہے تو پھر وہ اس محبوب حق کی عزت و ناموس کی غیرت پر تصدق ہو جانے کو ہی معراج انسانیت اور حاصل زیست سمجھتا ہے۔ اس شبستان عالم میں ذات مصطفویٰ ایک ایسی شمع کی صورت ہیں کہ کائنات کا ہر پیر و جوان بے تاب پروانے کی مانند اس شمع جمال کے گرد فدائی بنے کھڑا نظر آتا ہے، جب سے انوار توحید کی شمع نے وجود محمدی ﷺ کی صورت میں اس عالم گیتی کو روشن و منور کرنا شروع کیا ہے اس وقت سے زلف رسالت کے اسیر جانثاروں کی فدا کاریوں کا ایک سلسلہ شروع ہے۔ اسیران محبت رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جانبازیوں کا آغاز دور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے شروع ہوا اور آج
* منہاج یونیورسٹی لاہور
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
تک جاری ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔ شمع رسالت کے پروانوں کے حسن عشق اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے سوختہ عشق رسول ﷺ امام احمد رضا بریلوی ؒ یوں عرض کرتے ہیں:
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں
آخر اس کا کیا سبب ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کا احساس ایک مسلمان کے دل کی خلوتوں میں ابھرتا ہے اور پھر آنکھوں سے عشق رسول ﷺ کی تڑپ میں بہہ نکلنے والے آنسو کے پانی سے غسل کرتا ہے اور اپنے ایمانی جذبات کو نسبت رسول کی طہارت کی چادر میں لپیٹ کر شوق شہادت کی ہمرکابی میں درگاہ محبوب کل کائنات ﷺ میں بہ ہزار تمنائے قبولیت اپنی جاں کا نذرانہ پیش کرتا ہے؟ اس سارے سفر میں عشق دلنواز اسے اپنے نبی ﷺ کی حرمت پر فداکاری کے انداز و آداب بھی سکھاتا رہتا ہے۔ عاشق صادق کے اس انداز فداکاری پر اہل عقل وخرد ”لیکن، مگر، چونکہ“ کی تاویلات میں سرگرداں رہتے ہیں جب کہ عاشق اپنی منزل مراد کو پا کر ثنا خوان رسول الحاج محمد علی ظہوری قصوری کی زبان میں یوں گویا ہوتا ہے
عقل منداں اینویں عمراں گالیاں
ہاں یہ پہلو ذہن نشین رہنا چاہیے کہ عشق و محبت کے اس کٹھن راہ پر وہی چل سکتا ہے جس کے قلب و باطن میں شمع ایمان اور نسبت ومحبت رسول ﷺ کا چراغ اپنی تمام تر ایمانی و روحانی تابانیوں کے ساتھ روشن ہو اس کے بغیر اس سخت اور مشکل راہ پر چلنا آسان نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کا ماضی اور حال گواہ ہے کہ اس گیتی آب وگل پر اگر کسی دریدہ دہن اور بدبخت نے اگر سرکار عالی وقار سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات مبارکہ کے حوالے سے اپنی بدبختی کا اظہار کیا تو ایسے کے لیے یہ زمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود تنگ ہوگئی اور اہل ایمان نے اپنی جانوں کے نقد نذرانے ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر فراش ارضی کو اس منحوس وجود سے ہمیشہ کے لیے پاک کر دیا ہے۔ اسلام کی سوا چودہ سو سال سے زائد عرصہ پر محیط تاریخ میں بیسیوں واقعات ملتے ہیں کہ جن کو پڑھ کر گستاخان رسول کا انجام بد آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ عشق و محبت کی یہ تاریخی اور سچی داستانیں اپنے اندر اہل ایمان کے لیے عشق فراواں کی بلند ترین منزلوں کو پانے اور بدبختوں کے لیے سامان عبرت کے بہت سے پہلو رکھتی ہیں۔
آئیے آئندہ صفحات میں بالخصوص برصغیر سے تعلق رکھنے والے چند گستاخوں سے متعلق جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ توہین رسالت کرنے والے سیاہ باطن کس طرح اپنے انجام بد کو پہنچے اور باقی لوگوں کے لیے سامان عبرت بن گئے۔ زیر نظر مضمون میں اگرچہ ہمارا مقصد برصغیر سے تعلق رکھنے والے گستاخاں رسول کا عبرتناک انجام ذکر کرنا ہے مگر ان کو بیان کرنے سے پہلے عہد رسالت مآب ﷺ اور تاریخ اسلام کے چند واقعات بطور استشہاد پیش کرنا ضروری ہیں تا کہ عشاق کے گستاخان رسول ﷺ کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عمل محبت کو استناد کی حیثیت حاصل ہو جائے اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی اہمیت اور اس کی حساسیت واضح اور روشن ہو جائے۔
ابولہب کا انجام
عبدالعزیٰ جس کی کنیت ابولہب تھی رشتہ میں نبی مکرم ﷺ کا حقیقی چچا تھا، اس کی بدبختی و بد نصیبی کا اندازہ اس سے لگایا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
جاسکتا ہے کہ دشمنان رسول اور کفار مکہ میں سے یہ واحد شخص ہے جس کے نام پر قرآن مجید کی پوری سورت اتاری گئی جس میں نہ صرف اس کا بلکہ اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب بن امیہ کے انجام بد کو بیان کیا گیا ہے۔
(تفصیلات جاننے کے شائقین تفسیر ضیاء القرآن جلد پنجم تفسیر سورۃ لہب ملاحظہ کریں)
نبی اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ابن ہشام نے لکھا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے اسے (ابولہب کو) مرض عدسہ (چیچک کی ایک قسم) میں مبتلا کر دیا، جس نے اس کے پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کا جسم بدبودار ناسور بنا دیا گیا۔ چنانچہ بدبو کی وجہ سے کوئی شخص اس کے قریب تک نہیں جاتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ ذلت ورسوائی کا شکار ہوا اور اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ مرنے کے بعد تین دن تک اس کی لاش یونہی پڑی رہی، جب (اس ازلی بدبخت) کی لاش سے اٹھنے والی بدبو اور عفونت میں اضافہ ہو گیا (اور ناقابل برداشت ہو گیا) تو اس کے خاندان والوں اور دوسرے لوگوں نے دور ہی سے پتھر پھینک پھینک کر اس کی لاش کو چھپا دیا۔
عتبہ بن ابی لہب
عتبہ بن ابی لہب جس کے ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ نے اعلان نبوت سے پہلے اپنی صاحبزادی حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا مگر ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ ابولہب نے آپ ﷺ سے دشمنی و مخالفت میں اخلاق ورواداری کی تمام حدود کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اپنے بیٹے کو بنت رسول ﷺ کو طلاق دینے کا حکم دیا۔ چنانچہ بدبخت باپ کے بدنصیب بیٹے نے بھی اپنے باپ کی راہ اختیار کرتے ہوئے نہ صرف بنت رسول ﷺ کو طلاق دے دی بلکہ طلاق دیتے وقت اس دریدہ دہن نے دامن مصطفیٰ ﷺ کو بڑی تحقیر کے ساتھ کھینچا اور اپنی گندی زبان سے سرکار دو عالم ﷺ کی شان اقدس میں نازیبا کلمات بھی کہے۔ اس پر آپ ﷺ کا قلب اطہر اس قدر حزیں ہوا کہ رحمت للعالمین ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی زبان مبارک سے اس گستاخ کے لیے یہ کلمات صادر ہوئے ۔
”اَللّٰهُمَّ سَلِّطْ عَلَيْهِ كَلْبًا مِّنْ كِلَابِكَ“ ”اے اللہ تعالیٰ! اس (گستاخ) پر اپنے کتوں میں سے ایک کتا مسلط فرما دے۔“
کلمات نبوی کی اثر پذیری اور عتبہ کا انجام
اہل سیر بیان کرتے ہیں کہ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد ابولہب اور اس کا یہ بدبخت بیٹا تجارت کی غرض سے ایک قافلہ کے ساتھ جا رہے تھے، راستہ میں رات کے وقت ایک جنگل میں ٹھہرے تو ابولہب نے قافلہ والوں سے کہا کہ آج رات ہماری مدد کرو کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ محمد (ﷺ) کی دعا کہیں آج رات میرے بیٹے کے حق میں اثر نہ کر جائے۔ اس پر سب قافلہ والوں نے اپنا سامان اوپر نیچے جوڑ کر ایک چبوترہ قسم کی اونچی جگہ بنائی اور اس پر عتبہ کے سونے کے لیے جگہ بنائی گئی۔ چنانچہ عتبہ کو اس اونچی جگہ پر سونے کو کہا گیا اور قافلے کے باقی ماندہ لوگ اس چبوترے کے اردگرد محو نیند ہو گئے۔ پھر
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
کیا ہوا۔ ابن ہشام کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔
”جب رات گہری ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب پر نیند کو مسلط کر دیا۔ پھر ایک شیر آیا اور اس نے ایک ایک کے منہ کو سونگھا اور کسی کو کچھ نہ کہا۔ پھر شیر نے جست لگائی اور سامان پر چڑھ گیا اور ملعون عتبہ کو چیر پھاڑ ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ شیر عتبہ کی گردن کو دبوچ کر لے گیا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔“
(ابن ہشام بحوالہ خاندان مصطفیٰ ﷺ وسید محمد سعید الحسن شاہ، طبع اول، ص:۱۶۴، س۔ن)
مذکورہ بالا ان دونوں واقعات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات ہرگز گوارہ نہیں ہے کہ اس کی پیدا کردہ اس زمین پر کسی گستاخ نبی کا ناپاک وجود چلتا پھرتا رہے۔ اس لیے اہانت رسول کے مجرم کو اہل دنیا کے سامنے سامان عبرت بنا دیتا ہے۔ دنیوی اعتبار سے وہ مجرم خواہ کسی بھی مقام ومنصب کا حامل ہو۔ صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ دیگر مخلوقات میں بھی تعلق بالرسول کی غیرت جاگ اٹھتی ہے۔
شاتمِ رسول ریجی نالڈ اور سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ
شام کے فرنگی فرمانرواؤں میں ریجی نالڈ (پرنس ارناط) والی کرک سب سے زیادہ فریب کار، فتنہ پرور اور مسلمانوں کا دشمن تھا، شروفساد اس کی فطرت میں شامل تھا۔ زیادہ تر وہی صلیبیوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتا رہتا تھا۔ اس کو اسلام اور مسلمانوں سے اتنی عداوت تھی کہ اس نے ۵۷۸ھ میں مکہ المکرمہ اور مدینہ المنورہ پر لشکرکشی کرتے ہوئے حملہ کرنے کا ناپاک ارادہ کیا مگر قدرتِ الٰہی کہ وہ اس کو پورا نہ کر سکا۔ ایک سال بعد ۵۷۹ھ میں اس نے دوبارہ اپنی مکروہ کوشش کی لیکن اب کی مرتبہ اس کو پھر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ لین پول لکھتا ہے:
”چھ نین کے ریجی نالڈ نے جزیرہ نمائے عرب پر فوج کشی کا قصد کیا تا کہ مدینہ طیبہ میں آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارک کو منہدم اور مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کو مسمار کر دے۔ اس کے لیے اس نے ایسے جہاز تیار کروائے تھے جن کے ٹکڑے ہو سکتے تھے۔ ان ٹکڑوں کو وہ کرک سے خلیج عقبہ کے ساحل پر لے گیا اور انہیں جوڑ کر جہازوں کا ایک بیڑہ تیار کیا اور عیذاب کو لوٹنے پر چلا۔ عیذاب بحر قلزم کے افریقی ساحل پر واقع تھا۔ اس نے دو جہازوں کو بیچ میں ڈال کر ایلہ کا بحری راستہ بند کر دیا۔ مسلمانوں کو اس کی خبر ہوئی تو ان کا جہازی بیڑا عیسائیوں کے بیڑے کے تعاقب میں چلا۔ اس کا امیر البحر لؤلؤ تھا۔ اس نے آتے ہی پہلے ایلہ کا بحری راستہ کھولا اور اپنی کل فوج کو الحورا تک جو بحر قلزم کی چھوٹی بندرگاہ تھی لے آیا، ریجی نالڈ نے اسی بندرگاہ سے مدینہ پر حملہ کا ارادہ کیا تھا۔ فرنگیوں نے جونہی اسلامی فوج کو آتے دیکھا تو وہ ایسے گھبرائے کہ جہازوں سے اتر کر پہاڑوں کی جانب بھاگ گئے۔ لؤلؤ نے بدوؤں سے گھوڑے لے لے کر سپاہیوں کو ان پر سوار کیا اور دوڑ کر دشمن کو غار اور باغ میں جا پکڑا اور ان کے ٹکڑے اڑا دیے۔ ریجی نالڈ خود بھاگ گیا مگر اس کے ساتھ والوں میں بہت سے لوگ قتل کئے گئے۔“
(لین پول، صلاح الدین، ص ۱۵۲، بحوالہ تاریخ اسلام شاہ معین الدین ندوی، ج۴، ص۶۲۹)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ریجی نالڈ کی یہ وہ پہلی گستاخی تھی کہ اس نے شہر نبی مدینۃ الرسول کو مسمار کرنے کا پروگرام بنایا تھا لیکن قدرت ایزدی سے وہ اس میں ناکام رہا۔ سلطان کو اس بات کا بڑا رنج تھا کہ ایک صلیبی ان کے پیارے رسول ﷺ کے مقدس شہر سے متعلق ایسے ناپاک عزائم رکھتا تھا۔ دوسری اہم ترین وجہ موصل کے حکمران عز الدین مسعود کے ساتھ سلطان کی صلح ہوگئی تھی جس کی وجہ سے سلطان نے فوری طور پر اس کو فتح کرنے کی طرف توجہ نہ دی۔ اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ بعض فرنگیوں سے سلطان کی وقتی طور پر صلح ہو گئی تھی چنانچہ اس صلح سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ریجی نالڈ نے مسلمان تاجروں اور قافلوں کو لوٹنا شروع کر دیا اور یہ اس کا روزانہ کا معمول بن گیا تھا۔ لین پول کے بیان کے مطابق ۱۱۸۶ء میں ایک مسلمان قافلہ کے مال و اسباب کو لوٹ کر اہل قافلہ کو گرفتار کر لیا۔
بارگاہ رسالت میں ریجی نالڈ کی گستاخی
مسلمانوں کے جس قافلہ کو ریجی نے لوٹا تھا جب انہوں نے ریجی سے رہائی کا مطالبہ کیا تو اس پر ریجی نالڈ نے بڑے تحقیر آمیز انداز میں جواب دیا: ”کہ تم محمد (ﷺ) پر ایمان رکھتے ہو، اس سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ آ کر تمہیں چھڑا لے۔“۔ جب سلطان صلاح الدین تک ریجی نالڈ کے اس تحقیر آمیز رویے اور گستاخانہ کلمات کی خبر پہنچی تو اس نے قسم کھا کر عہد کیا: ”اس صلح شکن کافر کو اللہ نے چاہا تو میں اپنے ہاتھ سے قتل کروں گا۔“
صلیبی جنگوں کے اختتام پر جب بہت سے فرنگی گرفتار کر لیے گئے تو ان قیدیوں میں گستاخ ریجی نالڈ بھی تھا اور یروشلم کا بادشاہ گائی بھی ایک قیدی کی حیثیت میں حاضر دربار تھا۔ سلطان نے گائی کو اپنے پہلو میں جگہ دی اور باقی امراء کو بھی ان کے رتبہ کے مطابق بیٹھایا گیا۔ اس موقع پر ریجی نالڈ اور گائی کو سلطان کی قسم یاد آئی تو اس نے ریجی نالڈ کو سلطان سے بچانے کی کوشش کی مگر سلطان کی نبی محترم ﷺ سے عقیدت و محبت کی غیرت نے اس بے ادب و گستاخ کو معاف کرنے کی اجازت نہ دی۔ سلطان نے تمام قیدیوں کو کھانے کے لیے روانہ کر دیا اور گائی اور ریجی نالڈ کو روک کر اس کے سامنے اس کی عہد شکنیوں، بداعمالیوں اور نبی اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخانہ رویوں کا ذکر کیا جن کو سن کر ریجی کا خون خشک ہو رہا تھا اور نبض ڈوب رہی تھی۔ سلطان نے اسلامی اصول کے مطابق اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی، ریجی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا تو سلطان نے جوشِ ایمان سے بلند آواز سے یہ الفاظ کہے: ”کہ میں محمد رسول ﷺ سے مدد چاہتا ہوں“۔ یہ کہتے ہوئے ریجی نالڈ کو اس کے انجام تک پہنچا دیا۔ شاہ یروشلم گائی، ریجی نالڈ کا یہ انجام دیکھ کر بہت خوفزدہ ہوا تو سلطان نے اس کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ”بادشاہوں کا یہ دستور نہیں ہے کہ وہ دوسرے بادشاہوں کو قتل کریں۔ ریجی نالڈ کو تو صرف حد سے بڑھی ہوئی بداعمالیوں اور حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گستاخی کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے۔“
یہ تھا سلطان صلاح الدین ایوبی کا وہ جذبہ عشقِ رسول ﷺ جس کی بدولت اس نے قبلہ اوّل بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے آزاد کرایا تھا۔ وہ اسلام کا ایک عظیم سپوت تھا جس پر تاریخِ اسلام ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ اے کاش کہ ہمارے آج کے مسلم حکمرانوں میں بھی یہی غیرت ایمانی پیدا ہو جائے تو پھر ابلیس کے کسی پیروکار کو بارگاہِ محمدی میں گستاخی کی جرأت نہ پیدا ہوگی۔ بقول فیض الرسول فیضان
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ/ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
برصغیر اور شاتمان رسول ﷺ
حجاز مقدس کی پاکیزہ سرزمین سے طلوع ہونے والے آفتاب حق نے عہد صحابہ میں ہی بت پرستی کے مرکز ہندوستان کو اپنے فیض سے نوازنا شروع کر دیا تھا۔ یوں 19 ویں صدی تک نہ صرف شبستان ہند کے ذرے ذرے کو اپنی روشن کرنوں سے منور کر دیا تھا بلکہ یہاں پر غلامان مصطفیٰ نے تقریباً ایک ہزار سال تک بلا شرکت غیرے اسلام کی حکومت بھی قائم کیے رکھی۔ ہندوستان میں اسلام کا یہ تفوق اور مسلمانوں کا غلبہ درحقیقت اس خطہ پر فیضان محمدی کی مجسم صورت تھی کہ عظمت اسلام کا پھریرا پورے ہندوستان پر لہرا رہا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اقتدار پر مسلمانوں کی گرفت کمزور ہوتی گئی یہاں تک کہ 1857ء میں مسلم دور اقتدار کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا اور یہاں پر سرحد پار سے تجارت کے نام پر آنے والے قزاق برطانوی سامراج حکمران بن بیٹھے تو انہوں نے ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے یہاں کی دو بڑی قوموں مسلمانوں اور ہندوؤں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ انہوں نے ہندوؤں کے اندر اس فکر اور تصور کو عام کیا کہ ہندوستان ہندوؤں کا ہے۔ مسلمان تو باہر سے آئے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے ہندوستان میں کچھ نہیں ہے۔ یوں انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان سے مسلمانوں کو ختم کرنے اور اسلام کو دیس سے نکالا دینے کے لیے شدھی، سنگٹھن، وحدت ادیان اور شاتم رسول ﷺ جیسی ناپاک تحریکیں شروع کیں تو دوسری طرف مسلمان معاشرے میں اہانت رسول ﷺ کی تحریک اور مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کی تحریک مرزائیت کی صورت میں انکار ختم نبوت اور اپنی خود ساختہ اور برطانوی عطا کردہ نبوت کی تبلیغ شروع کر دی جاتی ہے۔ مرزا غلام قادیانی نے بیک وقت دو طرح سے اہانت رسالت کا گھناؤنا جرم کیا ایک جھوٹی نبوت کا اعلان کر کے اور دوسرا ہندوؤں اور آریائوں کے مذہبی پیشواؤں اور ان کی تعلیمات کے حوالے سے گندی زبان استعمال کر کے انہیں حضور سید المرسلین ﷺ کی شان اقدس میں زبان درازی کا موقعہ فراہم کر کے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی دیگر مذاہب سے متعلق چرب زبانی کے ردعمل میں ہندوؤں اور عیسائیوں نے ہمارے آقائے ولی نعمت حضور پرنور ﷺ کی ذات مقدسہ اور سیرت مبارکہ پر انگشت نمائی شروع کر دی، جس پر انہیں نبی مکرم ﷺ کے غلاموں کی طرف سے جس ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اس کا نام غازی علم الدین شہید، غازی محمد اسحاق انصاری شہید، غازی محمد صدیق شہید وغیرہ تھا۔ وفا کے ان پیکروں نے ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ کرنے کا فریضہ سرانجام دیا۔
آئیے ایک نظر بیسویں صدی کے اس تاریخی معرکہ تحفظ ناموس رسالت کی اس تحریک کے چند پہلوؤں پر ڈالیں اور یہ دیکھیں کہ عاشقان رسول ﷺ نے اپنے آقا و مولا ﷺ کے دشمنوں کو کس طرح کیفر کردار تک پہنچا کر اپنے محبوب سے محبت اور وفا کی نئی تاریخ رقم کی ہے، تاریخ وفا کی چند جھلکیاں ملاحظہ ہوں۔
راجپال اور غازی علم الدین شہید
انیسویں صدی کے آخری عشرہ میں ہندوستان کے اندر مسلمانوں اور غیر مسلموں بالخصوص ہندوؤں اور
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہو عیسائیوں کے درمیان مذہبی منا اس ماحول میں جلتی پر تیل کا کا ﷺ کے خلاف اپنی رسوائے اسلام دشمنی کا دل کھول کر حق ا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے راجپال کے اس جنوں نے جوا ’رنگیلا رسول‘ کو شائع کرنے کی لہر دوڑ گئی۔ اس طرح پورے مسلمان اپنا ہر قسم کا خسارہ بردا برداشت نہیں کرسکتا۔ چنانچہ مجسمہ شقاوت ونفرت راجپال راجپال کو اس کے انجام تک 1927ء کو اسے کیفر کردار تک پ میں اترنے سے بچ گیا۔ مگر یہ چلتا پھرتا دکھائی دے اور مسلما دومرتبہ فدایان مصطفی سامنا کرنا پڑا اور اب تیسری م نے ابھی اپنے شباب کی دہلیز عشق محمدی کا چراغ روشن کئے بھابی کو یہ کہتے ہوئے ”آج م بوسے دے رہی ہیں، علم الدی ہوتا ہے تو دو ہندو جوان اس نے غیرت دینی اور جذبہ عشق کے ساتھ گستاخ رسول راجپال ہے۔ ہر طرف پکڑو مارا گیا، ما الدین جو اب غازی علم الدی پھیل جاتی ہے۔ غازی کو جیل
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 187 تحفظ ناموس رسالت نمبر
عیسائیوں کے درمیان مذہبی مناظروں کا بازار گرم تھا، شردھانند نامی متعصب ہندو نے مذہبی فضا کو انتہائی مکدر کر رکھا تھا۔ اس ماحول میں جلتی پر تیل کا کام ۱۸۹۹ء میں شریمتی آریہ پرتی ندھی سبھا نے اسلام اور بانی اسلام حضور سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کے خلاف اپنی رسوائے زمانہ کتاب ستیارتھ پرکاش لکھ کر ماحول میں مزید ارتعاش پیدا کر دیا۔ اس کتاب میں اسلام دشمنی کا دل کھول کر حق ادا کیا گیا تھا۔ کتاب کے پبلشر راجپال پر اسلام دشمنی کا بھوت کس قدر سوار تھا۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے ہر قسم کا مالی نقصان برداشت کرتے ہوئے اس بدنام زمانہ کتاب کو عام کیا۔ راجپال کے اس جنوں نے جو اسلام دشمنی کا اس کے دماغ میں چھایا ہوا تھا‘ اس کو پھر پروفیسر چماپتی کی رسوائے عالم کتاب ’رنگیلا رسول‘ کو شائع کرنے پر ابھارا۔ کتاب چھپ کر کیا منظر عام پر آئی، پورے ہندوستان میں مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ اس طرح پورے ہندوستان میں کتاب کے مصنف اور ناشر کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔ اس لیے کہ مسلمان اپنا ہر قسم کا خسارہ برداشت کر لیتا ہے۔ لیکن دولتِ ایمان اور حضور نبی مکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ہر مسلمان راجپال کو اس کی دریدہ دہنی کا سبق سکھانے کے لیے بے تاب نظر آتا تھا، جب کہ مجسمہ شقاوت ونفرت راجپال منہ چھپاتا پھرتا تھا۔ اسی دوران ۲۷ ستمبر ۱۹۲۷ء کو ایک خوش نصیب مسلمان خدا بخشؒ نے راجپال کو اس کے انجام تک پہنچانے کی کوشش کی مگر مردود بچ نکلا تو اس کے بعد ایک اور مسلمان نوجوان نے ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۷ء کو اسے کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کی مگر مردود اور موذی کے انجام بد میں ابھی دیر تھی اس لیے موت کی وادی میں اترنے سے بچ گیا۔ مگر یہ کیسے ممکن تھا کہ غلامانِ رسول ﷺ کی موجودگی میں کسی گستاخ کا ناپاک وجود اس دھرتی پر چلتا پھرتا دکھائی دے اور مسلمان اس کو برداشت کر لیں۔
دومرتبہ فدایانِ مصطفیٰ ﷺ کے ہاتھوں سے بچ جانے والا بد بخت راجپال کو ایک مرتبہ پھر غیرتِ عشق رسول ﷺ کا سامنا کرنا پڑا اور اب تیسری مرتبہ سرزمین لاہور سے تعلق رکھنے والے غیور اور غیرت مند مسلمان غازی علم الدین شہیدؒ جس نے ابھی اپنے شباب کی دہلیز پر قدم رکھا ہی تھا کہ اس کے مقدر کا ستارہ اوجِ ثریا پر چمکتا ہے اور وہ اپنے قلب و روح میں عشق محمدی کا چراغ روشن کئے ہوئے اور فدائیت کے تمام تر جذبات کی چادر اوڑھے اور شوق شہادت کا جام نوش کیے اپنے بھائی کو یہ کہتے ہوئے ”آج میری قسمت چمک جائے گی“ گھر سے نکلتا ہے تو بڑی مسحور کن کیفیات تسکین اس کے چہرے کو بوسے دے رہی ہیں، علم الدین انارکلی ہسپتال روڈ کے قریب واقع راجپال کے دفتر پہنچتا ہے، ملعون جونہی دفتر میں داخل ہوتا ہے تو دو ہندو جوان اس کے ارد گرد ہوتے ہیں۔ اس کی حفاظت پر معمور پولیس والے ابھی نہیں پہنچے تھے کہ علم الدین نے غیرت دینی اور جذبہ عشق رسول ﷺ سے سرشار ہو کر فضا میں دونوں ہاتھ لہراتے ہوئے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور چھری کے ساتھ گستاخ رسول راجپال پر ایسا وار کیا کہ وہ ایک ہی وار میں آتش جہنم کا ایندھن بن گیا۔ راجپال کا لاشہ تڑپ رہا ہے۔ ہر طرف پکڑو مارا گیا، مارا گیا‘ پکڑو مارا گیا کا شور اٹھا۔ ہندو بنیوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہوتا ہے۔ پولیس آتی ہے۔ علم الدین جو اب غازی علم الدین بن چکا ہے خود کو پولیس کے حوالے کرتا ہے۔ پورے شہر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ غازی کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا جاتا ہے۔ مقدمہ چلتا ہے۔ قائد اعظم جیسے ماہر قانون دان
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور تحفظ ناموس رسالت نمبر
مقدمے کی پیروی کرتے ہیں۔ غازی پورے جوش ایمان کے ساتھ اقبالِ قتل کرتے ہیں۔ انگریز کی عدالت اور ہندو وکلاء کے دلائل کی روشنی میں اس عاشق رسول ﷺ کو موت کی سزا سنائی گئی پھر میانوالی کی جیل میں ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو صبح سویرے منزل شہادت کا یہ راہی اپنی منزل شوق کو پانے میں کامیاب ہو گیا اور کتاب ہستی کے سرورق پر اپنا تعارف یوں لکھ گیا۔
مجھ سے گناہ گار پہ بھی ان کی ہے نظر بے کس نواز رحمت یزداں مرے حضور
دامن تہی ہے نامۂ اعمال بھی سیاہ لیکن مری نجات کا ساماں مرے حضور
(ضیاء نیر)
پالامل سنار اور غازی محمد صدیق شہید
ہندوستان کے سیاہ بخت اور ملعون فطرت شاتمان میں سے ایک قصور کا رہنے والا پالامل سنار بھی تھا۔ جو دربار حضرت بابا بلھے شاہ کے قریب ہی دوکان کرتا تھا۔ ہندو آریہ سماج تحریک کا باقاعدہ رکن ہونے کی وجہ سے اسلام اور حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ دشمنی اس کی گھٹی میں سمائی ہوئی تھی۔ ہندو ساہو کار اس کی پشت پر تھے۔ اللہ تعالیٰ، انبیاء کرام، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، اولیاء کرام اور بالخصوص حضور نبی رحمت ﷺ کی ذات اقدس کے حوالے سے نازیبا کلمات استعمال کرنا اور بات بات پر تحقیر آمیز انداز میں یاوہ گوئی کرنا اس کا روز کا معمول بن چکا تھا۔ علاوہ ازیں ہندؤوں کو اکٹھا کر کے نماز کی نقلیں اتار کر عبادات اسلام کا مذاق اڑانا بھی اس کا عام مشغلہ تھا۔ اس وقت کے اخبارات میں بھی پالامل سنار کے حوالے سے خبریں چھپتی رہیں لیکن حکومتی اداروں اور مقامی انتظامیہ نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا۔ جب اس کی ناپاک حرکات حد سے بڑھ گئیں تو ایک مسلمان نوجوان محمد کلیم نے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شاتم نبی کو نشان عبرت بنانا چاہا مگر موذی کو محمد کلیم کے ان جذبات کی خبر پہنچ چکی تھی چنانچہ یہ عاشق رسول محمد کلیم اپنے مشن پر نکلا اور پالامل کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اسلام کے اس شیر کو آتے دیکھ کر پالامل ہندو اپنی روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دم دبا کر بھاگ گیا۔ شہر میں پالامل کی ان حرکتوں کے خلاف غم وغصہ کی زبردست لہر تھی۔ ہندو شاتم رسول ﷺ کی ان گستاخیوں کے خلاف محمد کلیم پیر صاحب نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ انگریز مجسٹریٹ درجہ اوّل مسٹر ٹیل نے کئی ماہ تک مقدمہ کی سماعت کی۔ فریقین کے دلائل سن کر جب اس نے اپنا فیصلہ لکھا تو اس میں اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا:
”میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملزم نے واقعی توہین رسول کی ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوئے اور سخت فساد کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اس لیے پالامل سنار کو چھ ماہ قید اور دو سو روپے کی سزا دی جا رہی ہے۔“
مردود پالامل نے اس فیصلہ کے خلاف رٹ دائر کر دی۔ سیشن کورٹ نے مجرم کو تا فیصلہ ضمانت پر رہا کرنے کے احکام دیے۔ شاتم نبی جیل کی سلاخوں سے باہر آیا تو ہر مسلمان کی آنکھوں میں خون کے آنسو بہہ رہے تھے کہ فیروز پور کے مقیم ایک عاشق صادق حافظ محمد نقشبندی کے مقدر کا ستارہ چمک اٹھا۔ وہ رات کو سو رہے تھے اور نصف سے زائد رات بیت چکی تھی کہ خواب میں محبوب کائنات حضور پر نور حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے اس مخلص غلام کو اپنے دیدار فرحت آثار
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
سے شرف یاب فرمایا اور حکم دیا کہ ”قصور میں ایک بد نصیب ہندو پے در پے ہماری شان میں گستاخیاں کرتا چلا جا رہا ہے جاؤ اس کی ناپاک زبان کو لگام دو۔“
(غازی محمد صدیق شہید، رائے کمال، ص ۴۹، م ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)
خواب میں اس کریم آقا کی کرم نوازی پر محمد صدیق پھولے نہیں سماتا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک نورانی کیفیت اور آنکھوں میں مسحور کن چمک تھی۔ اس نے اپنا نام لیے بغیر اپنی والدہ سے اس خواب کا ذکر کیا گویا کہ وہ اپنی نیک صفت والدہ سے اجازت طلب کر رہا ہے۔ ماں سے اجازت اور دعائیں لے کر گھر سے نکلتا ہے اور اپنے شیخ طریقت حضرت شیخ محمد نقشبندی کی خدمت میں حاضر ہو کر فیوض و برکات حاصل کرتا ہے۔ اجازت طلب کی کہ قصور جانے کا ارادہ ہے۔ شیخ نے اپنے مرید صادق کو الوداع کہتے ہوئے پیشانی پر بوسہ دیا اور خصوصی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا، قصور آ کر محمد صدیق اپنے ماموں شیخ محمد شفیع کے ہاں قیام پذیر ہوا۔ آپ روزانہ باہر آتے بازار میں گھومتے اور پالامل سنار کی حرکتوں کو دیکھتے اور اس گستاخ کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اپنے ذہن میں منصوبہ بندی کرتے۔ پالامل نے عشاق مصطفیٰ ﷺ کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے اپنا حلیہ اور وضع قطع تبدیل کر لی تھی۔ ہر روز شام کو مزار حضرت بابا بلھے شاہ آ کر ملنگوں میں گھل مل کر بیٹھ جاتا اور اپنے چہرے پر نقاب رکھتا تا کہ کسی کو معلوم نہ ہو سکے۔
حضرت غازی جو اپنے مقدس مشن کی تکمیل کے لیے فیروز پور سے قصور پہنچے تھے انہیں اس موذی کے اس بہروپ کا علم ہوا تو اب انہوں نے بھی شام کو دربار پر حاضری کا معمول بنا لیا۔ ایک شام آپ نیم کے ایک درخت کے نیچے اس کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور ہر آنے جانے والے کو عقابی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ اتنے میں ایک شخص نقاب اوڑھے آیا۔ جونہی حضرت غازی کی نظر اس پر پڑی، اس غلام مجاہد نے جھپٹ کر اس کو دبوچ لیا۔ پھر اس سے پوچھا تو کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ موذی نہ منہ سے نقاب اتار رہا تھا اور نہ اپنا نام بتا رہا تھا۔ اس پر غازی شہید نے اس کے نقاب کو اتار پھینکا، وہ وہی بد بخت شاتم رسول پالامل ہی تھا۔ دونوں کی آپس میں تو تکار ہوئی، مردود الفطرت پھر کہنے لگا ”مسلمانوں نے پہلے میرا کیا بگاڑ لیا ہے اور اب کون سی قیامت آ جائے گی۔“
اس پر حضرت غازی نے اپنی تہبند سے رمبی (جس سے چمڑا کاٹا جاتا ہے) نکالی اور اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
”میں تاجدار مدینہ کا غلام ہوں جو کئی دنوں سے تیری تلاش میں تھا۔ اے ذلیل! آج تو کسی طرح اپنی ذلت ناک موت سے نہیں بچ سکتا۔“
عشق رسول ﷺ میں ڈوبے ہوئے یہ الفاظ کہتے ہوئے نعرہ تکبیر لگا کر اس پر حملہ کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ذلت و رسوائی کا نشان پالامل زمین پر گرا۔ غازی نے رمبی کے ساتھ پے در پے وار کر کے اس موذی شاتم رسول کے سینے اور پیٹ پر ایسی ضربیں لگائیں کہ چند ہی لمحوں میں وہ دوزخ کا ایندھن بن گیا۔ جب کہ حافظ غازی محمد صدیقؒ اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور ناموس مصطفیٰ ﷺ کی عظمت کے فلک بوس نعرے لگا رہا تھا۔ غازی کے کپڑے خون کے چھینٹوں سے بری طرح آلودہ ہو چکے تھے۔
مردود کے چہرے کا مسخ ہونا
حضرت غازی اس شاتم نبی کے سینے سے اس وقت اترے جب ان کو یقین ہو گیا کہ گستاخ رسول کو واصل جہنم
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
کرنے کا ان کا مشن پورا ہو گیا ہے۔ وہ بڑے مطمئن تھے اور ان کا چہرہ پرسکون تھا، لبوں پر اس سعادت کے حاصل ہونے کی خوشی مچل رہی تھی اور آنکھوں میں حب رسول ﷺ کی چمک مزید روشن ہو رہی تھی جب کہ دنیا والوں نے دیکھا کہ مردود پالا مل کا خنزیر نما چہرہ بری طرح مسخ ہو چکا تھا۔ شکل بگڑ چکی تھی اور کوئی ڈر کے مارے اس کے قریب بھی نہ پھٹک رہا تھا۔ حضرت غازی نے اپنی چھری کے ساتھ اس موذی کو چالیس سے زائد زخم لگائے تھے یوں ایک عاشق رسول حافظ غازی محمد صدیق شہید نے اپنے رسول ﷺ کے گستاخ دشمن کے ناپاک وجود سے سرزمین قصور کو پاک کر دیا۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
سردار ویدا سنگھ اور غازی احمد دین شہید
راجہ جنگ قصور سے تعلق رکھنے والے دشمن اسلام، گستاخ رسول سردار ویدا سنگھ جس نے علاقہ بھر کی مساجد میں اذان دینے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ اور مسلمانوں کا ناک میں دم کر رکھا تھا۔ بدبخت اسلام دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔ آخر قدرت الہی نے نصرت حق کا مظاہرہ یوں کیا کہ ایک غیرتمند اور باحمیت مسلمان اور عاشق رسول ﷺ احمد دین کی صورت میں میدان عمل میں اترتا ہے۔ حضرت شیر ربانی میاں شیر محمد شرقپوریؒ کے دامن سے وابستگی اختیار کر کے ”وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ“ کے حکم الٰہی کی عملی تفسیر بنتا ہے۔ جب احمد دین حضرت شیر ربانی کے پاس مرید ہونے کی غرض سے حاضر ہوا تو میاں صاحبؒ نے اپنے خدام سے فرمایا
”آج ایک خاص آدمی آیا ہے اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کرو“
احمد دین کے بیعت ہونے کے تھوڑے ہی عرصہ بعد حضرت میاں صاحبؒ واصل باللہ ہو چکے تھے۔ مگر جب مرید صادق اپنے شیخ کامل کے مزار پر حاضر ہوا تو اسے وہاں نیند آ گئی اور مرشد کامل کے فیضان سے خواب میں ویدا سنگھ گستاخ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ دکھائی دیا۔ بس اس کے بعد احمد دین اس دشمن اسلام کو ٹھکانے لگانے کے لیے اتنا بے تاب ہوا کہ دنیا کا سب کچھ چھوٹ گیا، اپنا گاؤں چھوڑ کر راجہ جنگ پہنچا۔ یہاں اس کی ملاقات ایک اور غیور مسلمان سے ہوئی جس کا نام امام دین تھا۔ احمد دین نے امام دین کو اپنے راجہ جنگ آنے کا مقصد بیان کر دیا، جس کو سن کر امام دین نے احمد دین کو اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ اس کی خوب مہمان نوازی کی اور اس کے پاکیزہ مقصد کی تکمیل کے لیے بڑھ چڑھ کر ہر طرح کا تعاون کیا۔ کئی دنوں کی کوشش کے بعد جب احمد دین اور دشمن اسلام، گستاخ رسول سردار ویدا سنگھ کی ملاقات ہوئی تو اس مرد مجاہد احمد دین نے جس جرأت کے ساتھ اس کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ خود اس غازی اسلام کے الفاظ میں ملاحظہ ہو۔
”پولیس اسٹیشن سے کچھ دور کپاس بیلنے کا کارخانہ تھا۔ اس کے دونوں باڈی گارڈ کارخانہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حصول مقصد کا موقع فراہم کر دیا۔ میں اس کے قریب چلا گیا اور پوچھا
”سردار جی! ویدا سنگھ تہاڈا ناں ای اے؟“
”آہو پُترا ویدا سنگھ مینوں ای کہندے نے“
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 191 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ویدا سنگھ نے انتہائی فرعونیت سے جواب دیا۔ میں نے پھر پوچھا ”مسجد وچ اذان تسیں نہیں ہون دیندے جے“ اس پر ویدا سنگھ نے گردن اکڑاتے ہوئے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا بمب، جس پر شام چڑھی ہوئی تھی۔ گردن کی پشت پر رکھ کے دونوں بازوؤں کو پیچھے سے کہنیوں تک رکھتے ہوئے کہا: ”ایہہ وی ساڈا ای کم اے چوہڑیا“۔ ”تے فیر تگڑا ہو جا اج اللہ دے دشمن دی اخیر اے“ میں نے یہ کہا اور پلک جھپکنے میں چھری کا پھل ویدا سنگھ کے پیٹ میں تھا۔ میرا پہلا وار ہی اتنا شدید اور ٹھکانے پر لگا تھا کہ ویدا سنگھ اوندھے منہ زمین پر جا گرا اور اس کی انتڑیاں پیٹ سے باہر آ گئیں۔ میں خون آلودہ چھری لے کر تھانے کی طرف دوڑ پڑا۔ اسد اللہ خاں تھانیدار کو جب میں نے بتایا کہ میں ویدا سنگھ کو قتل کر آیا ہوں تو اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔ میں تھانیدار کو لیے جائے وقوعہ پر پہنچا تو اس وقت ویدا سنگھ ٹھنڈا ہو چکا تھا اور اس کے محافظ قریب کھڑے تھے۔“
(شہیدان ناموس رسالت، محمد متین خالد، علم وعرفان پبلشرز، ۲۰۰۳ء طبع اول، ص: ۲۰۳،۲۰۴)
عمر عزیز بس اسی دھن میں گزار دو
چنچل سنگھ اور غازی محمد عبداللہ انصاریؒ
۱۹۴۸ء میں ضلع شیخوپورہ کے ایک گاؤں ۲۴ چکوکی کے ساکن نور محمد جٹ کاہلوں نے ایک شادی شدہ مسلمان عورت سے ناجائز تعلقات قائم کر لیے۔ اس پر ان دونوں کو اپنے رشتہ داروں اور علاقہ والوں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ انہوں نے آپس میں شادی کر لینے کا پروگرام بنایا مگر عورت کے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ اس بد بخت جوڑے نے پہلے عیسائیت اختیار کر کے اسلام سے ارتداد کا طوق اپنے گلے میں ڈالا مگر ان کا مسئلہ پھر حل نہ ہوا تو ان دونوں نے امرتسر بھاگ کر سکھ مت اپنا کر اپنا نام چنچل سنگھ رکھ لیا مگر اس کے باوجود وہ سکھوں کی نظر میں بھی ہمیشہ مشکوک رہے۔ کوئی سکھ ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہ تھا یہاں تک کہ انہوں نے سکھوں کو خوش کرنے کے لیے جھٹکے کا گوشت بھی کھایا۔ اس سے بھی بڑھ کر سکھوں کے کہنے پر انہوں نے خنزیر کا گوشت بھی کھایا۔ بعد ازاں جب مردود ازلی اس جوڑے کی بدبختی اخلاق کی تمام حدود عبور کر گئی تو پھر انہوں نے سکھوں کے بڑے اجتماع جس کو ”اکھنڈ پاٹھ“ کہا جاتا ہے میں شریک ہو کر حضور سید عالم ﷺ کی ذات اقدس واطہر فداہ ابی وامی ونفسی کے حوالے سے گستاخی و بے ادبی کے نازیبا کلمات بکے۔ جس سے مسلمانوں کو سخت دل آزاری ہوئی۔ یہ مسلمانوں کی غیرت ایمانی کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔ پورے علاقہ میں مذہبی فسادات پھیل گئے۔ مسلمانوں کا ہیجان بڑھتا ہی چلا گیا۔ بالآخر سکھوں نے مسلمانوں سے معافی مانگی مگر عشاق مصطفیٰ ﷺ کا مطالبہ یہ تھا کہ جس بد بخت جوڑے نے یہ جرم کیا ہے نہ وہ سامنے آیا ہے اور نہ اس نے معافی مانگی ہے۔ چنانچہ سکھوں کی طرف سے دوبارہ اکھنڈ پاٹھ (اجتماع) کیا گیا۔ اس مرتد اور سکھ جوڑے نے مسلمانوں سے معافی مانگی مگر عشق خود آگاہ کو کب یہ بات گوارا ہوتی ہے کہ کوئی کسی کے محبوب کی توہین کرے۔ اس لیے جب غازی صوفی محمد عبداللہ انصاریؒ نے اس مرتد اور مردود چنچل سنگھ سے متعلق یہ سنا کہ اس نے میرے محبوب سید المرسلین ﷺ کی ذات مبارکہ کے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
حوالے سے گستاخی کی ہے اور اب معافی مانگتا پھرتا ہے تو ان کی رگ حمیت پھڑک اٹھی اور انہوں نے گستاخ رسول کو کیفر کردار تک پہنچانے کا فیصلہ کر لیا۔ صوفی عبداللہ جو پٹی تحصیل قصور کا رہنے والا تھا اور اپنے شیخ طریقت (چک ۲۱ چھوٹی شریف) کی خانقاہ پر حاضر تھا، وہاں سے اجازت لے کر آیا اور اس نے چنچل سنگھ کو ٹھکانے لگانے کا پروگرام بنایا۔ اب اس کا دل دنیا کے کسی اور کام میں نہیں لگتا تھا۔ اس نے نماز کی پابندی اور روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کو اپنا معمول بنا لیا۔ وہ چنچل کو پہچانتا نہ تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے مقدس مشن کی تکمیل کے لیے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا اور چنچل کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے لگا۔ غازی محمد عبداللہ انصاریؒ کے لیے دنیا اب ایک بے معنی چیز بن کر رہ گئی تھی۔ جب چنچل کی شناخت حاصل کر لی تو اس کے بعد غازی محمد عبداللہ انصاری نے اس بات کی پوری تحقیق کی کہ وہ کس وقت اپنے کھیتوں میں جا کر کام کرتا ہے۔ چند دن کھیتوں میں چنچل سنگھ کی آمد و رفت پر اس نے کڑی نگاہ رکھی اور اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی۔
بارگاہ رسالت مآب سے حکم
صوفی محمد عبداللہ انصاریؒ مرحوم اس اعتبار سے بڑا خوش نصیب اور عظیم المرتبت ہے کہ اسے ایک روز خواب میں سرکار ابد قرار ﷺ کے دیدار فرحت آثار سے شرف یاب کیا گیا اور اسی خواب میں سرکار عالی وقار ﷺ نے اپنے اس غلام کو اپنی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے منتخب کرتے ہوئے حکم فرمایا: ”عبداللہ! یہ مرتد مجھے دکھ پہنچا رہا ہے اس کی زبان بند کر دو۔“ یوں اس عاشق مصطفیٰ ﷺ کی تقدیر کا ستارہ چمکا، زیارت حبیب ﷺ کا شرف پا کر اس کی روحانی کیفیت کا ایک عجب ہی منظر تھا، جن کا بیان لفظوں میں ممکن نہیں ہے۔
چنچل کا عبرتناک انجام
صوفی محمد عبداللہ انصاریؒ نے بازار سے ایک چھری خریدی۔ اسے اپنی تہبند میں چھپایا اور چنچل سنگھ کے کھیتوں کا رخ کیا۔ وہاں پہنچ کر حضرت صوفی صاحب نے دیکھا کہ وہ اکیلا ہل چلا رہا ہے اور دوسری طرف تھوڑے ہی فاصلے پر اس کی بیوی جو مرتد ہو چکی تھی وہ بھی مصروف عمل ہے۔ صوفی عبداللہ پورے عشق رسول ﷺ کی حرارت اور جذبہ ایمانی کے ساتھ اس گستاخ و مرتد چنچل سنگھ کی طرف بڑھا اور اس سے پوچھا کہ چنچل سنگھ تو ہے؟ تو اس نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر صوفی نے پوچھا کیا تو نے اسلام اور حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی ہے تو اس نے بڑے متکبرانہ انداز میں جواب دیا کہ ہاں میں نے گستاخی کی ہے۔ اس پر صوفی محمد عبداللہ نے گرج دار آواز میں اسے کہا کہ پھر تیار ہو جا غلام مصطفیٰ آ گیا ہے اور جہنم کا ایندھن بننے کے لیے تیار ہو جا۔ یہ کہا اور نعرہ تکبیر لگا کر چھری اس موذی کے سینہ میں گھونپ دی۔ یوں غازی کے پہلے ہی وار نے اس بدبخت گستاخ رسول کو واصل جہنم کر دیا۔ وہ نیچے گرا تو اس پر مزید چھری کے وار کئے۔ اب مردود کا ناپاک جسم زمین پر پڑا تھا اور اس سے خون بہہ رہا تھا۔
مردود کی مرتدہ بیوی نے یہ منظر دیکھا تو اس نے بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کی مگر مجاہد اسلام عاشق رسول صوفی محمد عبداللہ انصاریؒ نے دوڑ کر اس کو بھی پکڑ لیا اور اسے زمین پر گرا کر اس کا گلا کاٹ دیا۔ یوں وہ بھی رزق جہنم بن گئی۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ / اپریل 2011ء 193 تحفظ ناموس رسالت نمبر
غازی نے دونوں گستاخوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر قریب ہی بہتے ہوئے پانی کے نالے سے اپنے کپڑے دھوئے جو گستاخان رسول ﷺ کے ناپاک خون سے آلودہ ہو چکے تھے۔ وضو کیا اور اللہ کی بارگاہ میں شکرانہ کے نوافل ادا کئے اور بڑے اطمینان کے ساتھ مردود کے لاشے کے پاس بیٹھ گیا۔ سکھوں کا ازدحام تھا مگر کسی سکھ میں اتنی جرات نہ تھی کہ وہ صوفی عبداللہ انصاری کے قریب بھی پھٹکتا۔ تھوڑی دیر میں پولیس وہاں پہنچی تو غازی نے چھری سمیت خود کو پولیس کے حوالے کر دیا اور پوری جرات کے ساتھ اس نے گستاخ رسول سکھ کے قتل کا اعتراف کیا۔ مقدمہ چلا اور عدالت نے غازی عبداللہ کو سزائے موت کا حکم دیا۔ چنانچہ مقررہ تاریخ کو غازی عبداللہ نے پھانسی کے پھندہ کو بوسہ دے کر نعرہ تکبیر لگایا اور درود شریف پڑھتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور اس طرح ایک سچا عاشق رسول غازی صوفی محمد عبداللہ انصاری شہید بن کر خلد نشیں ہو کر حیات جاودانی پا گیا۔
نتھو رام اور غازی عبدالقیوم شہیدؒ
آریہ سماج حیدرآباد سندھ کے سیکرٹری نتھو رام نے ”تاریخ اسلام“ کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اس میں دل کھول کر اہانت رسول ﷺ کا ارتکاب کیا۔ جب اس کی یہ کتاب چھپ کر منظر عام پر آئی تو اس کے ساتھ ہی پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے اندر غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ نتھو رام کے خلاف سخت احتجاج ہوا، جلسے ہوئے اور گستاخانہ کتاب کے ہندو مصنف کے خلاف جلوس نکالے گئے۔ حکومت تماشائی بنی ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے نتھو رام کے خلاف عدالت میں استغاثہ دائر کیا گیا۔ مقدمہ چلا مگر دریدہ دہن مصنف کی کتاب کو ضبط کر کے معمولی جرمانہ اور ایک سال کی سزائے قید سنائی گئی۔ بعد ازاں جوڈیشل کمشنر کی عدالت نے اس مردود کو ضمانت پر رہا کر دیا۔ عدالت کے اس فیصلہ سے اہل اسلام کو شدید صدمہ ہوا۔ ہزارہ سے تعلق رکھنے والے ایک غیور مسلمان نوجوان نے جب نتھو رام کی گستاخی کے بارے سنا تو اس کے جوان اور پاکیزہ خون میں محبت رسول ﷺ کی حمیت بیدار ہوئی۔ اس نے کہا کہ اتنے مسلمانوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہ نکلا جو اس بدزبان اور موذی شاتم رسول کو اس کے انجام تک پہنچاتا۔ چنانچہ اس نے عہد کر لیا کہ وہ اپنے محبوب نبی ﷺ پر فدا ہوتے ہوئے اس بدبخت کو قتل کر کے ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کا فریضہ ادا کرے گا۔ عبدالقیوم نے یہ فیصلہ کیا اور بازار جا کر تیز دھار چاقو خرید کر اس موذی کو واصل جہنم کرنے کی تیاری شروع کر دی، جس روز وہ گھر سے نکلا اس نے اپنی رفیقہ حیات سے یوں کہا: ”دعا کرو اللہ تعالیٰ مجھے اس مردود سے عدالت ہی میں ملوائے اور میں اس کو بتا دوں کہ میرے رسول ﷺ کی عظمت و تقدیس میں یاوہ گوئی و گستاخی کا فیصلہ انگریز کی عدالت سے نہیں، کسی غیرت مند اور عاشق رسول ﷺ کے خنجر کی نوک ہی سے ممکن ہے۔“
عدالت میں نتھو رام کی اپیل کی سماعت جاری تھی۔ ہندو اور مسلمان بھاری تعداد میں کمرہ عدالت میں موجود تھے اور فریقین کے وکلاء بھی عدالت میں حاضر تھے۔ جب لوگ عدالت میں کرسیوں پر بیٹھنے لگے تو خوش قسمتی سے غازی عبدالقیوم کو نتھو رام کے قریب جگہ مل گئی۔ عدالت کی کارروائی جاری تھی کہ اچانک کشتہ عشق رسول عبدالقیوم اپنی کرسی سے اٹھا اور نعرہ تکبیر لگاتے ہوئے نتھو رام کے پیٹ میں خنجر گھونپ دیا۔ جس سے وہ تڑپ کر زمین پر گرا اور انتڑیاں باہر آ گئیں۔ پھر غازی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
نے اس لعین کی زبان کو کاٹا اور پورے اطمینان کے ساتھ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا اور عدالت کو مخاطب کر کے کہنے لگا۔ ”اس خنزیر نے میرے آقا و مولا ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی اور اس کو سزا مل گئی۔“
پولیس نے گرفتار کیا۔ غازی عبدالقیوم پر مقدمہ چلایا گیا۔ مسلمان وکلاء نے مفت مقدمے کی پیروی کی۔ وکلاء نے غازی سے انکار قتل کا کہا تو اس نے جواب دیا: ”مجھ سے جو چاہو کہلوا لو مگر نتھورام کے قتل کا انکار نہ کروائیں اس سے میرے جذبۂ جہاد کو ٹھیس پہنچے گی۔“
انگریز کی عدالت نے شمع مصطفویٰ ﷺ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے اس پروانے عبدالقیوم کو سزائے موت سنائی۔ سزا سن کر اس کا چہرہ گلاب کے پھول کی طرح کھل اٹھا۔ وہ انتہائی پرسکون تھا، سزا کے خلاف کوئی اپیل نہ کی گئی۔ جب غازی عبدالقیوم کی شہادت کا دن آیا تو وہ بڑے وقار اور سکون کے ساتھ چل کر پھانسی گھاٹ کی طرف گیا۔ پھانسی کے پھندے کو بوسہ دیا۔ درود شریف پڑھا اور نعرہ تکبیر لگاتے ہوئے وہ دیوانہ وار پھانسی کے تختے پر جھول گیا۔ پھانسی کے تختہ پر چڑھنے سے پہلے اس نے جو تاریخی جملے کہے ان کے ایک ایک حرف سے عشق رسول ﷺ کی خوشبو آ رہی ہے، غازی نے اس موقع پر موجود اپنے اہل خانہ، دوست احباب اور دیگر مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے یوں کہا:
”میری زندگی کا سب سے خوشگوار دن وہ تھا جب میں نے گستاخ رسول ﷺ نتھو رام کو موت کے گھاٹ اتارا اور میں اسی جذبۂ ایمانی سے سرشار ہو کر اپنی زندگی شہنشاہ مدینہ ﷺ کے قدموں پر نچھاور کر رہا ہوں“
بقول نامور صوفی شاعر محمد حسین آسی
کوئی بڑا اعزاز نہیں ہے اس اعزاز شہادت سے
شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال ؒ جنہوں نے امت مسلمہ کو یہ درس دیا تھا کہ
اگر باو نہ رسیدی تمام بولہبی ست
اسی اقبال نے لاہور میں غازی علم الدین شہید اور کراچی میں غازی عبدالقیوم شہید کی جرأت و جذبۂ ایمانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے مشہور مجموعہ کلام ضرب کلیم میں ”لاہور و کراچی“ کے عنوان سے ان دونوں شیدایان مصطفیٰ ﷺ کا تذکرہ یوں کیا ہے۔
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ قدر و قیمت میں ہے خون جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ، اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں حرف ”لا تدع مع اللّٰہ الها آخر“
* * * * *
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور گزشتہ چودہ صدیاں سازشوں اور واقعات کا ایک مہدویت اور مسیح موعود ہو رہنماؤں کا گندہ کردار بھی اور اپنی حقانیت کے زور پیغمبر اسلام حضر أرسلناك إلا رحم سابقہ انبیاء ورسل کی تصدی حکومتوں) سمیت جن دیگر گیا۔ کیونکہ یہ وہ دور تھا کہ بیٹھے تھے۔ روم کے شہنشاہ بھی قوموں کے پاس تھا وہ اسے فر پر جہالت اور تاریکی میں ڈوبی ہ تاریخ‘ معاشرت‘ تہذیب‘ طرز ز توحید کے بھولے ہوئے سبق کو تا کی رحمتوں اور برکتوں کے حقدار ہ مذاہب کے ماننے والوں کو تحفظ دیا مذہبی رہنماؤں میں ہرگز یہ برداشت رواداری کا مظاہرہ کریں۔
* صحافی و کالم نگار
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
* قاضی مصطفیٰ کامل *
توہین رسالت اور
اسلام دشمن تحریکیں اور سازشیں
گزشتہ چودہ صدیوں کے دوران مختلف ممالک میں توہین رسالت اور دین اسلام کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں، سازشوں اور واقعات کا اس مضمون میں نہایت اختصار سے جائزہ لیا گیا ہے۔ پھر بھی مضمون خاصا طویل ہو گیا ہے۔ نبوت، مہدویت اور مسیح موعود ہونے کے چھوٹے دعویداروں کے علاوہ صلیبی جنگوں کے دوران یورپ کے حکمرانوں اور مذہبی رہنماؤں کا گندہ کردار بھی واضح ہے۔ تاہم تمام سازشوں اور بدترین جنگوں کے باوجود اسلام آج بھی زندہ و سلامت ہے اور اپنی حقانیت کے زور پر لوگوں کے قلب واذہان مسخر کر رہا ہے۔
پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خالق کائنات نے پوری کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور ارشاد فرمایا: وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ ۔ آپ کا لایا ہوا دین اسلام دنیا بھر کے لئے امن کا پیغام ہے۔ آپ ﷺ نے تمام سابقہ انبیاء و رُسل کی تصدیق کی۔ ان کا نام ہمیشہ ادب اور احترام سے لیا۔ آپ ﷺ نے اپنے دور کی دو سپر پاورز (بڑی حکومتوں) سمیت جن ودیگر بادشاہوں اور حکمرانوں کو دعوتی خطوط لکھے ان میں ان کو عقیدہ توحید تسلیم کرنے کے لئے زور دیا گیا۔ کیونکہ یہ وہ دور تھا کہ لوگ معبود حقیقی کو بھول کر بت پرستی میں مبتلا ہو چکے تھے۔ جبکہ وادیٔ نیل کے فرعون خود خدا بن بیٹھے تھے۔ روم کے شہنشاہ بھی خدائی کے دعویدار تھے، آسمانی مذاہب اور سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات کا سرمایہ جن قوموں کے پاس تھا وہ اسے فراموش کر چکی تھیں یا انہوں نے ان تعلیمات کی حقیقی روح اور شکل کو مسخ کر دیا تھا۔ دنیا مکمل طور پر جہالت اور تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی تشریف آوری ایک ایسے حقیقی انقلاب کا باعث بنی جس نے تاریخ، معاشرت، تہذیب، طرز زندگی، طرز حکومت اور مذہبی اقدار سمیت سب کچھ تبدیل کر دیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے عقیدۂ توحید کے بھولے ہوئے سبق کو تازہ کرنے کے لیے بہت زور دیا تا کہ لوگ عقیدۂ توحید کو تسلیم کر کے خالق و مالک کائنات کی رحمتوں اور برکتوں کے حقدار بن جائیں۔ اور یہ آپ کی تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کے ہر دور اقتدار میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو تحفظ دیا گیا۔ کسی کی مذہبی دل آزاری نہیں کی گئی۔ لیکن افسوس کہ مغرب کے عیسائی حکمرانوں اور مذہبی رہنماؤں میں ہرگز یہ برداشت نہیں کہ وہ کھلے دل سے دیگر مذاہب بالخصوص اسلام اور مسلمانوں کا احترام کریں اور رواداری کا مظاہرہ کریں۔
* صحافی و کالم نگار
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء 196 تحفظ ناموس رسالت نمبر
یہ اسلام کی تعلیمات اور پیغمبر اسلام ﷺ کی کرشمہ ساز شخصیت کا اثر تھا کہ آپ کے اعلان نبوت سے ایک سو سال کے اندر اہل اسلام کی سلطنت جبرالٹر سے ہمالیہ کے پہاڑوں تک پھیل گئی۔ اس عدیم النظیر کامیابی کا راز بنیادی طور پر اس وژن پر تھا جو پیغمبر اسلام نے عربوں کو دیا۔ انہوں نے اسی وژن کو سمجھا اور دل سے تسلیم کیا اور پھر اس کے لئے جدوجہد کی۔ لیکن پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کے اصحاب علیہم الرضوان کو یہ کامیابی آسانی سے نہیں ملی۔ حضور نبی پاک ﷺ کو اول روز سے سخت مشکلات اور دشمنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مکہ کے کافروں نے عقیدہ توحید کا پرچم بلند کرنے پر ابوجہل اور ابولہب جیسے سرداروں کی سرپرستی میں حضور نبی پاک ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب علیہم الرضوان کو تشدد اور جبر کے اتنے برے حالات میں جکڑ دیا کہ ان کا جینا مشکل کر دیا گیا۔ کافروں کے تشدد سے آپ ﷺ کے ماننے والوں میں سے کئی ایک شہید ہو گئے۔ آپ کے قریبی اصحاب میں سے کئی ایک کو اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔ پہلے ایک گروہ حبشہ کی طرف ہجرت کر گیا۔ بعد میں پھر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ (جسے اس وقت یثرب کہتے تھے) کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ خود پیغمبر اسلام اور آپ ﷺ کے خاندان کے افراد کو پورے معاشرے کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا اور کم و بیش تین برس تک ایک پہاڑی گھاٹی (شعب ابی طالب) میں نظر بندی کی زندگی گزارنی پڑی۔ آپ ﷺ کو قریش مکہ کی طرف سے پھر یہ پیشکش کی گئی کہ آپ ﷺ بت پرستی کی مخالفت ترک کر دیں تو وہ آپ ﷺ کو اپنا سردار اور بادشاہ تسلیم کر لینگے دولت کے ڈھیر آپ ﷺ کے قدموں میں جمع کر دیں گے خوبصورت ترین عورت آپ کے نکاح میں دے دیں گے۔ لیکن پیغمبر اسلام ﷺ تو حق تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کا فریضہ ادا کر رہے تھے اس لئے کفار کا یہ حربہ بھی ناکام رہا۔ پھر مکہ کے تمام قبائل نے مل کر آپ کو رات کی تاریکی میں شہید کرنے کا منصوبہ بنایا مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آپ ﷺ کافروں کی طرف سے مقرر کردہ سازشی منصوبہ والی رات کو اپنے معتمد ترین ساتھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی دست برد سے بچا کر آپ ﷺ کو بحفاظت مدینہ منورہ پہنچا دیا۔ مکہ مکرمہ میں اعلان نبوت کے بعد گزرنے والے تیرہ برس حضور ﷺ اور ان کے اصحاب کے لئے ظلم کی سیاہ رات کی طرح تھے۔ لیکن جب اللہ کے پیارے نبی اور مسلمان کفار کے مظالم سے تنگ آ کر اپنا گھر بار، مال و اسباب اور عزیز و اقارب کو چھوڑ کر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ پہنچ گئے تو کفار نے انہیں یہاں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ یہ بھی تاریخ کا ایک باب ہے کہ کس طرح مکہ کے کافر تمام عرب کے قبائل کو مسلمانوں کی دشمنی پر اکٹھا کر کے بار بار ان پر حملہ آور ہوتے رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے چونکہ دین اسلام کو قیامت تک کے لئے ہدایت اور راہنمائی کے لئے محفوظ رکھنا تھا اس لئے باطل کے مقابلے میں دین کے ماننے والوں کو کامیابی نصیب ہوئی لیکن بے پناہ قربانیاں دینی پڑیں۔ بالآخر مکہ مکرمہ بھی پیغمبر اسلام ﷺ نے بغیر لڑائی اور خونریزی کے فتح کر لیا اور آپ ﷺ نے عدل و انصاف کے اصولوں پر مبنی ایک مثالی معاشرے اور طرز حکومت کی بنیاد رکھی جس میں کمزوروں، غریبوں، غلاموں اور خواتین کے حقوق کا بھی پورا تحفظ کیا گیا اور یہ ان اعلیٰ انسانی قدروں کی پاسداری کا نتیجہ تھا کہ اہل اسلام جہاں بھی گئے لوگوں کو ظلم سے نجات ملی اور انہوں نے سکھ کا سانس لیا۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
سازشیں اور توہین رسالت کی تحریکیں
پیغمبر اسلام کا پیغام شرف انسانیت کا عظیم چارٹر تھا۔ جس کا مقصد انسانوں کو بتوں کی پوجا اور بادشاہوں اور حکمرانوں کی خدائی سے نجات دلا کر ایک خدائے واحد کے حضور سجدہ ریز کرنا تھا۔ معاشرے کو ظلم، ناانصافی، بے حیائی اور گناہ کی آلودگی سے پاک کر کے امن اور انصاف کا بول بالا کرنا تھا لیکن اس پیغام رحمت اور نور نبوت کی روشنی کو کفر کے اندھیروں نے پہلے تو روکنے اور اس کے راستے میں روڑے اٹکانے کی سرتوڑ کوشش کیں۔ شروع میں مکہ کے کافروں نے زمانہ جاہلیت کے شاعروں اور ادیبوں کے ذریعے آپ ﷺ کے خلاف توہین آمیز مہم چلائی۔ اس مہم میں یہودیوں کی پس پردہ حمایت بھی شامل تھی۔ کیونکہ یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے یہ بات بہت بڑے صدمے کا باعث تھی کہ حضور نبی پاک پیغمبر اسلام عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے جبکہ عیسائی اور یہودی آخری عظیم نبی کی آمد کے تو منتظر تھے لیکن وہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے فرزند حضرت اسحق علیہ السلام کی اولاد میں سے اس نبی کی آمد کے خواہشمند تھے۔ چنانچہ بعد کے ادوار میں یہودی اور عیسائی قبیلوں کی طرف سے توہین رسالت کی تحریکوں کی حمایت کی جاتی رہی ہے۔ یہودیوں کی طرف سے تو اس ابتدائی دور میں ہی توہین رسالت کی مہم شروع کر دی گئی جب حضور نبی پاک ﷺ کی زیر قیادت مسلمان مدینہ منورہ میں اپنی حفاظت اور امن وامان کے لئے کوششوں میں مصروف تھے۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کی عظیم الشان کامیابی کے بعد بالخصوص یہودی مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور استحکام سے خوفزدہ تھے اور وہ مکہ کے کافروں کو حضور نبی پاک ﷺ کی مخالفت کے حوالے سے اپنا قدرتی حلیف سمجھتے تھے اور شعر و ادب کی زبان میں توہین آمیز مہم شروع کرنے کے علاوہ جنگی حوالے سے بھی مکہ کے کافروں سے تعاون کر کے اسلام کی شمع کو گل کرنے کے لئے سرگرم ہو گئے تھے جبکہ آٹھویں صدی عیسوی میں جب اسلام وسیع وعریض علاقوں میں کامیاب و کامران ہو رہا تھا تو عیسائیوں کی طرف سے حضور نبی پاک ﷺ کے خلاف جھوٹا اور خلاف حقیقت پراپیگنڈہ لٹریچر تیار کیا گیا۔ (جس کا ذکر آگے آئے گا)۔
یہودی شاعر
مدینہ منورہ کی زندگی کے دوران یہودی قبائل میں سے بنی نضیر قبیلے کے یہودی شاعر کعب ابن الاشرف کو جنگ بدر کے بعد مکہ بھیجا گیا، وہاں اس نے قریش کو جنگ بدر میں قتل ہونے والے اپنے عزیزوں اور سرداروں کا بدلہ لینے کیلئے اپنے شعروں سے ابھارا اور حضور نبی پاک ﷺ کی شان میں توہین آمیز شعر کہنے لگا۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس دور کے عرب معاشرے میں شاعری کی بہت اہمیت تھی۔ یہودی شاعر کعب نے مکہ میں چند ماہ گزارے اور قریش کے جذبہ انتقام کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا۔ پھر وہ دوبارہ مدینہ منورہ واپس آ گیا اور اس نے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخانہ اور شرانگیز شعر کہنے شروع کر دیئے۔ اس وقت یہودیوں کی کوشش تھی کہ مدینہ منورہ کے قرب و جوار میں جو بدو اور دیگر قبائل آباد تھے ان کو حضور نبی پاک ﷺ کے مخالف کر کے قریش کا اتحادی بنا دیا جائے۔ چنانچہ اس
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ / اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
گستاخ رسول کے مجرم کو نا قابل برداشت قرار دے کر قتل کر دیا گیا۔ اس کے قتل پر بنی نجار کے یہودی حضور نبی پاک ﷺ کے پاس احتجاج کے لئے آئے کہ انہوں نے ان کے ایک سرکردہ شخص کو قتل کرا دیا ہے۔ آپ ﷺ نے یہودی وفد کو دلیل کے ساتھ خاموش کرا دیا کہ معاشرے میں ایسی شر انگیزی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا جو فساد کا باعث بنے اور امن خراب کرنے کا موجب ہو۔ آپ ﷺ کے پیش نظر یہ بات تھی کہ مکہ کے کافروں کے ظلم وستم سے بچنے کے لئے مسلمان مدینہ منورہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے اور اگر مدینہ منورہ بھی ان کے لئے امن کی پناہ گاہ نہ رہے تو مسلمان کیسے زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس دور میں شکست اور کمزوری کا مطلب دشمن کے ہاتھوں ہلاکت کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ اس لئے آپ ﷺ نے مدینہ منورہ میں امن قائم رکھنے کے لئے مقامی یہودی قبائل اور قرب و جوار کے قبیلوں سے متعدد امن کے معاہدے بھی کئے تھے۔
فتح مکہ کے بعد
فتح مکہ کے بعد پیغمبر اسلام ﷺ نے اس دور کے عام دستور کے مطابق دشمنوں کے قتل عام کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ نبی رحمت ﷺ نے ان تمام دشمنوں کو معاف کر دیا جنہوں نے نہ صرف مکہ مکرمہ کی تیرہ سالہ زندگی کے دوران آپ ﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو بدترین مظالم کا نشانہ بنایا اور سب کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا اور وہ ایسے کمینے دشمن ثابت ہوئے تھے کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں بھی آپ ﷺ کو اور تمام مسلمانوں کو چین سے نہ بیٹھنے دیا بلکہ سارے قبائل کو اکٹھا کر کے بار بار حملہ آور ہوتے رہے کہ تمام مسلمانوں کو ختم کر دیں۔ لیکن آپ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر باب کعبہ پر اپنی سواری روک کر قریش مکہ کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا:
"میں تمہارے ساتھ وہی بات کرتا ہوں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں اپنے بھائیوں سے کی تھی۔ جاؤ آج تم لوگوں پر کوئی ملامت نہیں اور یہ کہ تم سب آزاد ہو۔"
(ابن قیم ۔ زاد المعاد)
حتی کہ نبی رحمت ﷺ نے کفر کے سب سے بڑے سردار ابو جہل کے بیٹے عکرمہ کو بھی معاف کر دیا۔ فتح مکہ کے بعد عکرمہ بھاگ کر یمن چلے گئے تھے۔ ان کی بیوی ام حکیم بنت حارث نے بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہو کر اپنے شوہر عکرمہ کی معافی کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے ام حکیم جو کہ مسلمان ہو چکی تھیں کی درخواست پر عکرمہ کو امان دے دی۔ اُم حکیم یمن گئیں، عکرمہ کو واپس لے آئیں اور اس نے سرکار دو جہاں ﷺ کے روبرو پیش ہو کر اسلام قبول کر لیا اور نائب رسول امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق کے دور خلافت میں عکرمہ ؓ اسلام کے دفاع میں مرتدین کے خلاف لڑائی کے دوران داد شجاعت دیتے ہوئے اجنادین کے مقام پر شہید ہوئے تھے۔
آپ ﷺ نے اپنے پیارے چچا حضرت حمزہ کے قاتل وحشی بن حرب کو بھی معاف فرما دیا۔ فتح مکہ کے بعد وہ بھاگ کر طائف چلے گئے تھے پھر بعد میں مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی کی درخواست کی اور مسلمان ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ آپ ﷺ نے اُسے معاف کر دیا اور اسلام میں داخل کر لیا۔ آئندہ سیدنا ابو بکر صدیق کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں شریک ہو کر اسے اسی حربہ سے قتل کر دیا جس حربہ سے اس نے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مار
حضرت حمزہ ؓ کو شہید کیا تھا۔
اسی طرح نبی رحمت ﷺ نے میں اسلام دشمنی کی حد کر دی تھی اور ان کا جگر چبایا تھا۔ آپ ﷺ نے حاضر ہو گئی، معافی مانگی اور اسلام قبول بتوں کو توڑ دیا۔
عکرمہ بن ابی جہل، وحشی بن رسول ﷺ اور مسلمانوں کو نقصان اسلام ﷺ کی شان رحمت کے یہودی شاعر فتح بدر کے بعد مدینہ ذیل ہے:
گستاخان کا انجام:
- ۱۔ کعب ابن الاشرف جس
میں توہین آمیز اشعار رسول ﷺ کے حکم سے
- ۲۔ عبداللہ بن خطل: یہ
وصول کرنے کے لئے ہوئی اور وہ وقت پر کھا مدینہ منورہ نہیں گیا اور مکہ توہین آمیز اشعار کہتا رہا۔ بدبخت کو وہیں پر قتل کر سامنے قتل کر دیا۔
- ۳۔ فرتنا: یہ اسی بد بخت عبداللہ بن
میں توہین آمیز اشعار پڑھا کر
- ۴۔ حویرث بن نقیذ بن وہب: یہ
ذات پر جھوٹی تنقیص کرتا تھا واصل کیا۔
19. Details of p 20. Places of v Place (i) SIRHAND SHARIF PUNJ (ii) (iii) (iv) (v) (vi) (vii) (viii) 21. Address of re Areas) (in the Name/Father's Name 1. NIL NIL 2. NIL NIL 3. 4. 5. 6. 7. 8. 22. Address at Pl Place 1. SIRHAND SHARIF 2. 3. 4. 5. 6.
تحفظ ناموس رسالت نمبر حجاز کے یہودی حضور نبی پاک ﷺ رہے ہے۔ آپ ﷺ نے یہودی وفد کو کیا جاسکتا جو فساد کا باعث بنے اور امن ظلم و ستم سے بچنے کے لئے مسلمان پناہ گاہ نہ رہے تو مسلمان کیسے زندہ کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ اس لئے وجوار کے قبیلوں سے متعدد امن
قتل عام کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ نبی زندگی کے دوران آپ ﷺ کو اور سے ایسے کمینے دشمن ثابت ہوئے نے سارے قبائل کو اکٹھا کر کے تھی، باب کعبہ پر اپنی سواری اپنے بھائیوں
(زاد المعاد)
معاف کر دیا۔ فتح مکہ کے بعد میں حاضر ہو کر اپنے شوہر عکرمہ عکرمہ کو امان دے دی۔ اُم حکیم اسلام قبول کر لیا اور تائب رسول مرتدین کے خلاف لڑائی کے دوران
بھاگ دیا۔ فتح مکہ کے بعد وہ بھاگ آکر معافی کی درخواست کی اور کرلیا۔ آئندہ سیدنا ابو بکر صدیق سے قتل کر دیا جس حربہ سے اس نے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 199 تحفظ ناموس رسالت نمبر حضرت حمزہ ؓ کو شہید کیا تھا۔
اسی طرح نبی رحمت ﷺ نے ہند بنت عتبہ زوجہ ابوسفیان جیسی عرب خاتون کو بھی معاف کر دیا جس نے کفر کی حالت میں اسلام دشمنی کی حد کر دی تھی اور غزوہ احد کے موقع پر مشہور روایت کے مطابق حضرت حمزہ ؓ کے شہید ہونے کے بعد ان کا جگر چبایا تھا۔ آپ ﷺ نے اس عورت کے قتل کی اجازت دے دی تھی مگر وہ خاتون رسول پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئی، معافی مانگی اور اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ جب واپس اپنے گھر گئی تو گھر میں رکھے ہوئے بتوں کو توڑ دیا۔
عکرمہ بن ابی جہل، وحشی بن حرب اور ہند بنت عتبہ زوجہ ابوسفیان جیسے لوگوں، جنہوں نے حالتِ کفر میں اللہ کے رسول ﷺ اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا معافی مانگنے پر معاف کر دیا گیا لیکن پیغمبر اسلام ﷺ کی شانِ رحمت کے باوصف آپ کے حکم سے توہین رسالت کے مرتکب بعض بدبختوں کو قتل کیا گیا۔ ان میں ایک یہودی شاعر فتح بدر کے بعد مدینہ منورہ میں قتل ہوا اور بعض گستاخان فتح مکہ کے بعد جہنم واصل گئے۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
گستاخان کا انجام:
- ۱۔ کعب ابن الاشرف جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے ایک یہودی تھا جس نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بارگاہ رسالت
میں توہین آمیز اشعار کہے اور قریش مکہ کو بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لئے اپنے شعروں سے ابھارتا رہا۔ اللہ کے رسول ﷺ کے حکم سے اس کو مدینہ منورہ میں قتل کر دیا گیا۔
- ۲۔ عبداللہ بن خطل: یہ شخص پہلے مسلمان ہو گیا تھا۔ رسول پاک ﷺ نے اس کو کسی علاقے میں صدقات (زکوٰۃ) وغیرہ
وصول کرنے کے لئے بھیجا۔ اس نے کسی منزل پر پہنچ کر غلام کو کھانا تیار کرنے کا حکم دیا اور خود سو گیا۔ غلام سے غفلت ہوئی اور وہ وقت پر کھانا تیار نہ کر سکا ابن خطل نے طیش میں آ کر غلام کو قتل کر دیا۔ بعد میں قصاص کے خوف سے مدینہ منورہ نہیں گیا اور مکہ بھاگ گیا۔ دوبارہ مرتد ہو گیا اور کافروں کی محفلوں میں رسول پاک ﷺ کی شان میں توہین آمیز اشعار کہتا رہا۔ فتح مکہ کے بعد یہ شخص خانہ کعبہ کے پردوں سے لپٹ گیا۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے اس بد بخت کو وہیں پر قتل کرنے کا حکم دے دیا چنانچہ سعید بن حریث ؓ اور ابو برزہ اسلمی ؓ نے اسے حجر اسود کے سامنے قتل کر دیا۔
- ۳۔ فرتنا: یہ اسی بد بخت عبداللہ بن خطل کی باندی تھی جو مکہ میں کافروں کی شراب کی محفلوں میں تاجدار انبیا ﷺ کی شان
میں توہین آمیز اشعار پڑھا کرتی تھی۔ اسے بھی قتل کر دیا گیا۔
- ۴۔ حویرث بن نقیذ بن وہب: یہ بد بخت شخص بھی نبی پاک ﷺ کی شان میں ہجویہ شاعری کرتا تھا اور آپ ﷺ کی
ذات پر جھوٹی تنقیص کرتا تھا۔ اس کے بھی قتل کا حکم دیا گیا۔ اسے شیر خدا حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے جہنم واصل کیا۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 200 تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ۵۔ حارث بن طلاطل : مکہ کے شعراء میں سے تھا۔ یہ سیاہ بخت بھی اپنے اشعار میں اللہ کے پاک پیغمبر ﷺ کا مذاق اڑایا
کرتا تھا۔ اس کے بھی قتل کا حکم دے دیا گیا سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی تلوار سے اس کا فیصلہ کر دیا۔
- ۶۔ ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی: یہ شخص بھی قریش مکہ کے حلقوں میں ایک معروف شاعر تھا اپنے اشعار میں پیغمبر اسلام
ﷺ کی توہین کا مرتکب ہوتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ اس کے بھی قتل کو جائز قرار دیا گیا مگر وہ بھاگ کر نجران گیا اور وہیں کفر کی حالت میں مر گیا۔
ان کے علاوہ بھی کچھ لوگ تھے جنہوں نے حالت کفر میں مسلمانوں کو اور رسول پاک ﷺ کے خاندان کو سخت تکلیفیں پہنچائیں اور توہین کے مرتکب ہوئے۔ لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی معافی کی درخواستوں کو قبول فرمایا اور وہ مسلمان ہو گئے۔ ان میں کعب بن زہیر عرب کے شاعر تھے۔ فتح مکہ کے بعد بھاگ کر دوسری جگہ چلے گئے مگر بعد میں مدینہ منورہ میں سرکار دوجہاں کے حضور پیش ہو کر اپنی سابقہ غلطیوں کی معافی مانگی اور مسلمان ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ آپ ﷺ نے اس کی معافی کی درخواست قبول فرما لی اور اسے دائرہ اسلام میں داخل کر لیا۔
مکہ کے ایک اور معروف شخص ہبار بن الاسود نے بھی مسلمانوں کو بہت دکھ دیئے۔ حضور نبی پاک ﷺ کی صاحبزادی زینبؓ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ جارہی تھیں کہ ہبار بن اسود نے ان کے اونٹ کو نیزہ مارا جس سے اونٹ بے چین ہو کر اچھلا حضرت زینبؓ اونٹ سے گر گئیں۔ وہ حاملہ تھیں اس حادثے کی وجہ سے ان کا حمل ساقط ہو گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ہبار کے قتل کا حکم دے دیا تھا لیکن وہ بعد میں آپ ﷺ کی بارگاہ رحمت میں پیش ہو گیا۔ معافی کی درخواست کرتے ہوئے عرض کی اے اللہ کے رسول دور جہالت میں میرے کردار کو معاف فرما دیں اور مجھے دائرہ اسلام میں داخل کر لیں۔ آپ نے اسے بھی معاف فرما دیا۔
عرب کے بڑے شاعروں میں شامل عبداللہ بن زبعری بھی حالت کفر میں ہجویہ شاعری کرتا رہا۔ اس کے قتل کا بھی حکم دیدیا گیا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر نجران چلا گیا بعد میں رسول پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر توبہ کی۔ معافی کی درخواست پیش کی آپ ﷺ نے اس کو بھی معاف کر دیا اور وہ اسلام قبول کر کے مسلمانوں کی صف میں شامل ہو گئے جن لوگوں کو اللہ کے پاک پیغمبر نے حکمتِ ربانی کے تحت معاف فرما دیا یہ آپ ﷺ کا خاص اختیار تھا۔ ان سب لوگوں کے جرائم حالت جنگ میں سرزد ہوئے تھے۔ جنگ ختم ہو جانے کے بعد کوئی شخص اگر اطاعت قبول کر کے معافی کا خواستگار ہو تو اس کے ذاتی پس منظر کے حوالے سے معاف کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ اختیار سرتاج دو جہاں ﷺ کا تھا کسی دوسرے شخص کو یہ اختیار حاصل نہیں ہو سکتا اور امن کے حالات میں دیدہ و دانستہ توہین رسالت کا مرتکب ہونے والے یا کوئی بھی جرم کرنے والے پر حد کی سزا لاگو ہو گی۔
توہین ختم نبوت اور اسلام دشمن تحریکوں کا دوسرا دور
اوپر بیان کئے گئے واقعات کا تعلق حضور نبی پاک ﷺ کی حیات ظاہری کے زمانہ سے تھا۔ جس میں مکہ کے کافروں اور یہودیوں کی ملی بھگت سے اسلام دشمن اور توہین رسالت کی تحریکیں چلتی رہیں لیکن حضور خاتم الانبیاء ﷺ کے وصال
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ مبارک کے فوراً بعد جھوٹے نبیوں کی ایک مآب ﷺ اور ختم نبوت ﷺ کے خلاف صدیقؓ نے پوری جرأت اور ثابت ق پرچم کو قیامت تک کے لئے سر بلند کر دی میں مختصراً درج کئے جاتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام نہایت برق رفتاری سے اضافہ ہوا بالخص طاقت کے مرکز مکہ مکرمہ پر اب مسلمانو اب ایک خدا کو ماننے والے پیغمبر اسلام کے لئے اسلام میں داخل ہوتے گئے جن اسلام قبول کرنا زیادہ تر ان کی سیاسی ضرو قبائل نے پیغمبر اسلام ﷺ کی قیادت کو پاک ﷺ کی حیات ظاہری سے وصال انہوں نے تو پیغمبر اسلام کی اطاعت قبو یہودی سازشوں کا بھی پتہ چلتا ہے انہو موقع پرستوں نے اپنی اپنی جھوٹی نبوت حضرت محمد ﷺ قبیلہ قریش کے نبی تھے میں مسیلمہ کذاب، اسود عنسی اور طلیحہ بن لیا۔ ایک سجاح نامی عورت نے بھی نبوت نعرہ لگایا کہ یمن صرف یمنیوں کا ہے پرکشش نعرے کے فریب میں بہت س آپس میں شادی کر لی۔
ختم نبوت کے انکار اور اسلام د منورہ مضافات میں یہودی قبائل بھی پ ایرانی اور رومی حکومتوں کا ہاتھ بھی کام کر ہی اندرونی اور بیرونی حوالوں سے اس صورتحال کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
مبارک کے فوراً بعد جھوٹے نبیوں کی ایک کھیپ میدان میں آگئی۔ یہودیوں اور اسلام دشمن عناصر کی طرف سے رسالت مآب ﷺ اور ختم نبوت ﷺ کے خلاف توہین کی یہ نئی تحریک تھی جس کو جانشین رسول ﷺ امیر المومنین سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے پوری جرأت اور ثابت قدمی سے کچل کر رکھ دیا اور تمام جھوٹے مدعیان نبوت کا قلع قمع کر کے اسلام کے پرچم کو قیامت تک کے لئے سربلند کر دیا۔ ان جھوٹے اور کذاب لوگوں کے احوال اس دور کے زمینی حقائق کے پس منظر میں مختصراً درج کئے جاتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی حیات ظاہری کے آخری چند ایک برسوں میں اسلام کی مقبولیت میں نہایت برق رفتاری سے اضافہ ہوا بالخصوص فتح مکہ کے بعد پورے عرب کے قبائل میں ایک نفسیاتی تاثر پیدا ہو گیا کہ طاقت کے مرکز مکہ مکرمہ پر اب مسلمانوں کا تسلط قائم ہو چکا ہے قریش کا مرکز خانہ کعبہ بتوں سے پاک کر دیا گیا ہے اور اب ایک خدا کو ماننے والے پیغمبر اسلام ﷺ کے پیروکاروں کا اقتدار ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ نئے نئے قبائل اپنے تحفظ کے لئے اسلام میں داخل ہوتے گئے۔ ان میں سے اکثر نے ابھی تک اسلام کی اصل تعلیمات کو سمجھا ہی نہیں تھا۔ ان کا اسلام قبول کرنا زیادہ تر ان کی سیاسی ضرورت بن چکا تھا۔ مکہ مکرمہ کے آس پاس اور دور دراز علاقوں میں آباد بیسیوں قبائل نے پیغمبر اسلام ﷺ کی قیادت کو تسلیم کر لیا۔ لیکن ان کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد رسول پاک ﷺ کا حیات ظاہری سے وصال ہو گیا تو ان میں سے کئی قبائل نے اس دلیل کے ساتھ بغاوت کا علم بلند کر دیا کہ انہوں نے تو پیغمبر اسلام کی اطاعت قبول کی تھی۔ اب وہ نہیں تو ہم اپنے علاقے میں آزاد اور خود مختار ہیں۔ اسی دوران یہودی سازشوں کا بھی پتہ چلتا ہے انہوں نے مسلمانوں کے خلاف مختلف قبائل کی در پردہ اعانت کی۔ چنانچہ چند ایک موقع پرستوں نے اپنی اپنی جھوٹی نبوت کا اعلان بھی کر دیا۔ انہوں نے اپنی نبوت کے حق میں یہ موقف اختیار کیا کہ حضرت محمد ﷺ قبیلہ قریش کے نبی تھے۔ ہم اپنے قبیلے کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ ان جھوٹے نبیوں میں مسیلمہ کذاب، اسود عنسی اور طلحہ بن خویلد زیادہ نمایاں ہوئے اور انہوں نے اپنے ارد گرد ہزاروں گمراہ لوگوں کو اکٹھا کر لیا۔ ایک سجاح نامی عورت نے بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا۔ اسود عنسی کا تعلق یمن سے تھا اس نے وہاں بغاوت کے لئے نعرہ لگایا کہ یمن صرف یمنیوں کا ہے۔ اسود عنسی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے اپنا لقب ”رحمٰن الیمن“ رکھ لیا۔ اس کے پرکشش نعرے کے فریب میں بہت سے لوگ پھنس گئے۔ نبوت کے دو جھوٹے دعویداروں مسیلمہ کذاب اور سجاح نے آپس میں شادی کر لی۔
ختم نبوت کے انکار اور اسلام دشمنی کی تحریکوں اور بغاوتوں کے پیچھے قبائلی تعصب تو کار فرما تھا مگر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مضافات میں یہودی قبائل بھی پس منظر میں ان کے مدد گار تھے۔ جب کہ صحرائے عرب کی سرحدوں سے جڑی ہوئی ایرانی اور رومی حکومتوں کا ہاتھ بھی کام کر رہا تھا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کے عہد خلافت کے آغاز سے ہی اندرونی اور بیرونی حوالوں سے اسلام اور مسلمانوں کے لئے یکدم حالات اتنے خوفناک ہو گئے کہ آج بھی اس صورتحال کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ نوزائیدہ مملکت کے اندر چہار سو بغاوتوں کی فصل اُگ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
آئی تھی اور سرحدوں پر اپنے وقت کی دو سپر طاقتوں کی افواج اسلام اور مسلمانوں کو ملیا میٹ کرنے کے لئے پر تول رہی تھیں۔ لیکن خلیفۃ الرسول نے اپنے آقا پیغمبر اسلام ﷺ کے مشن کی تکمیل کے لئے جس ایمانی جذبے سے سرشار ہو کر تمام طوفانوں کا مقابلہ کیا وہ تاریخ اسلام کا سنہرا باب ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ کے پاک رسول ﷺ کے حیات ظاہری سے وصال کے بعد اسلامی مملکت کی ازسرنو بنیاد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے رکھی تو درست ہوگا۔ آپ نے ایک طرف تو بیرونی دشمنوں کی جارحیت سے اسلامی مملکت کا دفاع کیا اور دوسری طرف اندرون ملک باغیوں، مرتدوں اور ختم نبوت کی توہین کرنے والے جھوٹے نبیوں کے لشکروں کی سرکوبی کر کے مملکت کو داخلی استحکام بخشا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے سب سے پہلے تو رومیوں کے خلاف لشکر اسامہ ؓ کو روانہ کیا۔ اس دوران باقی ماندہ مسلمانوں کو جمع کر کے ان کو باغیوں اور منکرین زکوٰۃ کے خلاف حملوں کے لئے مختلف دستوں میں تقسیم کیا اور سیدنا علی المرتضیٰ، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم جیسے سرکردہ اصحاب کو ان دستوں کی قیادت سونپی اور مدینہ منورہ کے مضافات کی طرف روانہ کر دیا کہ وہ مدینہ منورہ کی طرف آنے والے راستوں کی حفاظت کریں۔ اس کے بعد تمام اہل مدینہ کو مسجد نبوی میں جمع کیا اور اپنے جاسوسوں کی اطلاعات کے مطابق مدینہ منورہ کی طرف بڑھنے والے منکرین زکوٰۃ کے لشکر پر اچانک حملہ کر دیا۔ منکرین زکوٰۃ مدینہ منورہ پر شب خون مارنا چاہتے تھے لیکن نائب رسول نے نہایت خاموشی سے اچانک ان پر حملہ کر کے انہیں شکست دی اور پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ بہرحال حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لشکر اسامہ کی کامیاب واپسی تک تمام اندرونی دشمنوں سے مملکت کا دفاع کیا۔ کم و بیش دو ماہ بعد جب لشکر اسامہ ؓ شام سے ملحقہ سرحدوں پر مختلف جھڑپوں میں قبائل کی سرکوبی کر کے مسلمانوں کا رعب اور دبدبہ قائم کر کے واپس مدینہ منورہ پہنچا تو اندرون ملک بھی مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی۔ بہرحال لشکر اسامہ کے ۳۰ ہزار مجاہدین کو آرام کا مناسب وقفہ دینے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت گیارہ لشکر ترتیب دیئے اور ان لشکروں کو حضرت خالد بن ولید، حضرت عکرمہ بن ابوجہل، حضرت شرحبیل بن حسنہ، حضرت مہاجر بن امیہ مخزومی، حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہم اور دیگر بہادر مجاہدین کی سرکردگی میں مختلف مہموں کی طرف روانہ کیا۔
اسود عنسی
اس کا تعلق یمن کے ایک دیہی علاقے میں آباد قبیلہ عنس سے تھا۔ اس کا پیدائشی نام عبہلہ بن کعب بن عوف عنسی تھا۔ چونکہ اس کی رنگت سیاہ تھی اس لئے خلق خدا کی زبان پر اس کا نام اسود عنسی چڑھ گیا اور تاریخ نے اس بدبخت کو اسی نام سے یاد رکھا۔ اس شخص نے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔ مگر بڑا عیار اور شعبدہ باز تھا۔ جلد ہی مرتد ہو گیا۔ یہ بڑی میٹھی زبان میں گفتگو کرتا اور دوسروں کو متاثر کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتا تھا، اس کو اپنی کہانت اور شعبدہ بازی کی وجہ سے توقع تھی کہ وہ کوئی بڑا معرکہ مار سکتا ہے۔ اس نے کچھ سورتیں بھی گھڑ لیں اور اپنے قبیلے کے لوگوں کو متاثر کرنے لگا، بالآخر اس نے نبوت کا دعویٰ کر لیا۔ لیکن یہ دعویٰ کرنے سے قبل ایک نو عمر گدھے کی خاص انداز میں تربیت پر مسلسل ۶ ماہ لگا دیئے۔ چنانچہ قبیلے کے جاہلوں کے سامنے اس نے دعویٰ کیا کہ دیکھو یہ گدھا بھی میری نبوت کی تصدیق کرتا ہے۔ چنانچہ اس نے گدھے کو جب حکم دیا کہ اپنے نبی کو سجدہ کر، تو گدھے کو جو تربیت دی گئی تھی اس کے مطابق اس نے اپنا سر اس کے قدموں میں رکھ دیا۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، اس طرح کی شعبدہ بازیوں کا دور تھا اس لئے اس شروع کر دیئے۔ اس بدبخت سے دوسرے مقامات کی کے محل پر قبضہ کر لیا اور اس فروز دیلمی اور حفص دیلمی مسلمان جہاد کے لئے ا انتظار کرنے کو کہا اور رات اس کے محل میں گھ
طلیحہ بن خویلد الاسدی
خلیفۃ الرسو بھی بھیجا۔ طل بد بخت شخص تھا دعویٰ کرنے لگا قبیلے کے قریبی لئے حضرت ضرا طلیحہ فرار ہو گیا۔ کر دیا اور مدینہ کے ساتھ ایک تائب ہو گئے عرصہ بعد مدینہ م حضرت ابوبکر صدیق
مسیلمہ کذاب
مسیلمہ کذاب ا پاک ﷺ کی خدمت میں کیا بلکہ تنہائی میں رسول
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس طرح کی شعبدہ بازیوں سے اس نے اپنے قبیلے اور اہل یمن کے لاتعداد لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ یہ ابھی پرانی عصبیت کا دور تھا اس لئے اس نے اہل یمن کی عصبیت کو ابھارا۔ اس نے مسلمانوں کو زبردستی اپنا پیروکار بنانے کے لئے مظالم شروع کر دیئے۔ اس بدبخت نے اپنا لقب ”رحمٰن الیمن“ رکھ لیا۔ بہت سے مسلمان اس کے مظالم کی وجہ سے مرکزی علاقوں سے دوسرے مقامات کی طرف منتقل ہو گئے۔ اسود عنسی نے بڑی طاقت حاصل کرلی۔ اس نے حاکم یمن کو قتل کر کے اس کے محل پر قبضہ کر لیا اور اس کی بیوہ ”آزاد“ کو زبردستی اپنے حرم میں بغیر نکاح کے داخل کرلیا۔ ”آزاد“ کے دو چچازاد بھائی فروز دیلمی اور جشس دیلمی بھی محل میں رہتے تھے۔ یہ دونوں آزاد کے دودھ شریک بھائی بھی تھے۔ اسود عنسی کے خلاف مسلمان جہاد کے لئے اپنی طاقت مجتمع کر کے حملہ کرنے کے لئے تیار تھے کہ انہیں فروز دیلمی اور جشس دیلمی نے کچھ دن انتظار کرنے کو کہا اور بالآخر ان دونوں نے اپنی بہن آزاد کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ تیار کر لیا اور بدبخت اسود عنسی کو ایک رات اس کے محل میں گھس کر قتل کر دیا۔ اس طرح اس کی نبوت کا خاتمہ ہوا اور یمن دوبارہ اسلام کا گہوارہ بن گیا۔
طلیحہ بن خویلد الاسدی
خلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جھوٹے نبی طلیحہ بن خویلد کی سرکوبی کے لئے حضرت خالد بن ولید ؓ کو بھی بھیجا۔ طلیحہ کا تعلق قبیلہ بنو اسد سے تھا۔ یہ قبیلہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان میں واقع سمیرا گاؤں میں آباد تھا۔ طلیحہ وہ بدبخت شخص تھا کہ جس نے حضور نبی اکرم ﷺ کی حیات ظاہری میں ہی اپنی بناوٹی نبوت کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ جھوٹا شخص دعویٰ کرنے لگا کہ اس کے پاس جبرائیل امین تشریف لاتے ہیں اور وہ چھوٹے چھوٹے خوبصورت عربی جملے گھڑ کر اپنے قبیلے کے قریبی لوگوں کو سناتا تھا۔ حضور نبی پاک ﷺ کو اس بدبخت کی جسارت کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے اس کی سرکوبی کے لئے حضرت ضرار بن اسد کو ایک چھوٹے سے لشکر کے ساتھ بھیجا۔ اس اسلامی لشکر نے طلیحہ کے حامیوں کو شکست دے دی اور طلیحہ فرار ہو گیا۔ لیکن پیغمبر اسلام ﷺ کے حیات ظاہری سے پردہ فرما جانے کے بعد طلیحہ نے اپنی نبوت کا دوبارہ پرچار شروع کر دیا اور مدینہ کے حالات کا جائزہ لینے اور جاسوسی کرنے کے لئے طلیحہ نے اپنے بھائی حبال کو بھیجا۔ بعد میں مجاہدین اسلام کے ساتھ ایک جھڑپ میں حبال قتل ہو گیا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ کی قیادت میں اسلامی لشکر کی آمد کا سن کر کئی مرتد قبائل تائب ہو گئے۔ کئی قبائل سے لڑائیوں کے بعد خالد بن ولید ؓ کو فتح حاصل ہوتی گئی۔ بالآخر طلیحہ میدان سے بھاگ گیا لیکن کچھ عرصہ بعد مدینہ منورہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر دوبارہ اسلام قبول کر لیا اور معافی کا خواستگار ہوا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسے معاف کر دیا۔ اس کی نبوت اور اس کے حامی حرف غلط کی طرح مٹ گئے۔
مسیلمہ کذاب
مسیلمہ کذاب ایک معمر شخص تھا اس کا تعلق یمامہ کے ایک بڑے قبیلے بنو حنیفہ سے تھا۔ بنو حنیفہ کے لوگ حضور نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ ان لوگوں میں مسیلمہ بھی شامل تھا مگر اس نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ تنہائی میں رسول پاک ﷺ سے ملا اور کہا کہ میں یمامہ کے بڑے قبیلے کا سردار ہوں۔ آپ ﷺ مجھے بھی اپنی نبوت
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
میں اسی طرح شریک کر لیں جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام بھی نبی تھے۔ اللہ کے پاک نبی ﷺ نے اس جھوٹے اور مکار شخص کی بات مسترد کر دی۔ مگر اس مکار نے اپنے قبیلے والوں کو واپس جا کر بتایا کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے میری بات کو تسلیم کر لیا ہے جس طرح وہ مدینہ کے نبی ہیں میں یمامہ کا نبی ہوں کیونکہ میں ’رحمٰن یمامہ‘ ہوں۔ اہل یمامہ نے مسیلمہ کذاب کی بات پر یقین نہیں کیا اور تصدیق کے لیے رحال بن عنفوہ کو مدینہ بھیجا۔ یہ شخص تصدیق کے لئے جب حضرت محمد ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو حضور نبی پاک ﷺ نے فرمایا مسیلمہ کذاب ہے لیکن رحال بن عنفوہ جسے نہار کے نام سے اہل یمامہ جانتے تھے اس نے قبیلہ کی بڑائی کے لئے جھوٹ بولا اور قبیلہ والوں سے کہا کہ پیغمبر اسلام نے کہا ہے کہ مسیلمہ بھی نبی ہے۔ اس جھوٹی گواہی پر مسیلمہ کو بڑی مقبولیت حاصل ہو گئی۔ قریباً سارے اہل یمامہ نے کذاب کو نبی مان لیا۔ حضور نبی پاک ﷺ کے وصال کے بعد جب حضرت ابوبکر صدیق نے خلافت کا منصب سنبھالا تو انہوں نے مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت عکرمہ اور حضرت شرحبیل کی سربراہی میں لشکر بھیجا۔ ان دونوں نے الگ الگ مسیلمہ کے لشکر پر حملہ کیا لیکن ان کو کامیابی نہ ہوئی۔ اس دوران حضرت خالد بن ولید ؓ طلیحہ کی نبوت کا خاتمہ کر کے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ہدایت پر مسیلمہ کذاب کے محاذ پر پہنچ گئے۔ حضرت خالد ؓ نے شرحبیل ؓ اور عکرمہ ؓ کی ناکامی کو مدنظر رکھ کر احتیاط سے جنگ کے لئے حکمت عملی تیار کی۔ مسیلمہ کے لشکر میں ۴۰ ہزار سپاہی تھے۔ مسلمانوں کا لشکر تیرہ ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا بڑی گھمسان کی جنگ ہوئی لیکن بالآخر مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی۔ مسیلمہ کذاب میدانِ جنگ سے بھاگ رہا تھا کہ قتل کر دیا گیا۔ اس جنگ میں مسیلمہ کذاب کی فوج کے ۲۰ ہزار سے زائد لوگ مارے گئے جبکہ مسلمانوں کے ۶۵۰ کے لگ بھگ مجاہدین شہید ہوئے۔ اس طرح مسیلمہ کذاب کی جھوٹی نبوت بھی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔
سجاح بنت حارث
بنو ہوازن کے علاقے میں آباد بنو تمیم کے عیسائیوں سے اس کا تعلق تھا۔ یہ ایک خوبصورت کاہنہ عورت تھی۔ پیش گوئیاں کیا کرتی تھی۔ اس کو گفتگو کرنے کا فن آتا تھا۔ لہجے میں مٹھاس تھی۔ قرآن پاک کا بار بار مطالعہ کر کے اس کی نقل میں جملے بنا بنا کر قبیلے کو سناتی تو وہ سر دھنتے۔ وہ کہتی کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور مجھ پر نازل ہوا ہے۔ میں پہلی اور آخری عورت نبیہ ہوں۔ اس نے مختلف سرداروں کو خط لکھے اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ سجاح نے بہت بڑی فوجی قوت تیار کر لی اور حضور نبی پاک ﷺ کے وصال کے بعد کی صورتحال میں سجاح نے خیال کیا کہ اس وقت اگر مدینہ منورہ پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا جائے تو پورے عرب پر قبضہ آسان ہو جائیگا چنانچہ اس نے مدینہ کی طرف بڑھنے کا حکم دے دیا۔ لیکن راستے میں نباح کے مقام پر آباد مسلمان پہلے ہی سجاح کے لشکر کا انتظار کر رہے تھے۔ زبردست لڑائی کے بعد سجاح نے جنگ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ وہ مدینہ منورہ کی طرف نہ بڑھ سکی۔ اب اس چالاک عورت نے یمامہ کے جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے کا سوچا۔ ادھر مسیلمہ کذاب کو بھی تشویش تھی۔ اس نے ایک وفد سجاح کے پاس بھیجا اور کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو بھی نبی ہے مجھے تیری نبوت پر کوئی شبہ نہیں۔ ہمیں مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔ بالآخر دونوں کی ایک ملاقات ہو گئی۔ دونوں جھوٹوں نے ایک دوسرے کو تسلیم کر لیا۔ پھر دوسری ملاقات کے دوران مسیلمہ کذاب نے اپنی چرب زبانی سے سجاح کو شیشے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور ماہ میں اتار لیا اور اس کو اپنی بیوی بنا لیا۔ گزارے اور سجاح اپنے قبیلے میں وا خالد بن ولید ؓ اسلامی لشکر کے سا چھوڑ دیا۔ سجاح نے طویل عمر پائی بع
توہین آمیز کتاب
آٹھویں صدی کے اواخر میں پیغمبر اسلام کی زندگی پر ایک کتاب مسلمان ہونے سے روکنا تھا۔ اس ک اسلام کو بے بنیاد مذہب قرار دے کے زور سے پھیلا ہے۔ اسی کتاب دیا تھا۔ اس کتاب نے اہل مغرب صلیبی جنگ کے دوران عیسائیوں ک یہ کہا کہ مسلمان قتل وغارت گری پ
سپین میں توہین رسالت
سپین کے دارلحکومت قرطبہ طرح سے سامنے آئی ہے کہ ۸۵ بحث ہو گئی جس کے دوران اس م کر لیا گیا۔ قرطبہ میں اپنی نوعیت ماحول میں زندگی گزار رہے تھے فوری سزا دینے کی بجائے جیل م کی وجہ سے اس سے ایسی حرکت ورغلایا تو چند دن بعد اس نے پھ پاس اس کو سزائے موت دینے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھی اس نے بھی قاضی کے روبرو توہ کہ شاید یہ بدبخت نشہ میں ہے جس
تحفظ ناموس رسالت نمبر میں بھی نبی تھے۔ اللہ کے پاک نبی ﷺ نے اس قاصدوں کو واپس جا کر بتایا کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے میری کہ میں 'رحمٰن یمامہ' ہوں۔ اہل یمامہ نے مسیلمہ مدینہ بھیجا۔ یہ شخص تصدیق کے لئے جب حضرت محمد صاحب ہے لیکن رحال بن عنفوہ جسے نہار کے نام سے لوگوں سے کہا کہ پیغمبر اسلام نے کہا ہے کہ مسیلمہ بھی اسے اہل یمامہ نے کذاب کو نبی مان لیا۔ حضور نبی کا منصب سنبھالا تو انہوں نے مسیلمہ کذاب کے فریق دونوں نے الگ الگ مسیلمہ کے لشکر پر حملہ کیا نبوت کا خاتمہ کر کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اور عکرمہ رضی اللہ عنہ کی ناکامی کو مدنظر رکھ کر احتیاط کر رہے تھے۔ مسلمانوں کا لشکر تیرہ ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا مسیلمہ کذاب میدان جنگ سے بھاگ رہا تھا کہ قتل کر دیئے گئے جبکہ مسلمانوں کے ۶۵۰ کے لگ بھگ رقم پہنچ گئی۔
تھا۔ یہ ایک خوبصورت کاہنہ عورت تھی۔ پیش نے قرآن پاک کا بار بار مطالعہ کر کے اس کی نقل پر نازل ہوا ہے۔ میں پہلی اور آخری عورت سجاح نے بہت بڑی فوجی قوت تیار کر لی اور حضور اسی وقت اگر مدینہ منورہ پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا بڑھنے کا حکم دے دیا۔ لیکن راستے میں سجاح کے لڑائی کے بعد سجاح نے جنگ بند کرنے کا اعلان مسیلمہ کے جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب کے ساتھ کوئی وفد سجاح کے پاس بھیجا اور کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ ہے۔ بالآخر دونوں کی ایک ملاقات ہو گئی۔ دونوں مسیلمہ کذاب نے اپنی چرب زبانی سے سجاح کو شیشے
تحفظ ناموس رسالت نمبر 205 ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء میں اتار لیا اور اس کو اپنی بیوی بنا لیا۔ سجاح کی دوسری ملاقات مسیلمہ کذاب کے خیمے میں ہوئی جہاں دونوں نے تین دن گزارے اور سجاح اپنے قبیلے میں واپس چلی گئی۔ مگر مسیلمہ کذاب نے بعد میں اس کے ساتھ کوئی تعاون نہ کیا۔ ادھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کے ساتھ جب اس جانب بڑھے تو سجاح اور اس کے سردار گھبرا کر فرار ہو گئے اور علاقہ ہی چھوڑ دیا۔ سجاح نے طویل عمر پائی بعد میں وہ مسلمان ہو گئی اور پاکیزہ زندگی گزاری۔
توہین آمیز کتاب
آٹھویں صدی کے اواخر میں سپین کے قریبی علاقے پامپلونا کے پادری نے (جس کا نام نہیں بتایا گیا) جھوٹ پر مبنی پیغمبر اسلام کی زندگی پر ایک کتاب مرتب کی جس کا مقصد عیسائیوں کو اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ سے بدگمان کر کے انہیں مسلمان ہونے سے روکنا تھا۔ اس بدبخت پادری نے حضور نبی پاک ﷺ کی شان میں بہت سے جھوٹے الزامات گھڑے، اسلام کو بے بنیاد مذہب قرار دیتے ہوئے اسے عیسائیت کی ایک بگڑی ہوئی شکل قرار دیا اور یہ بھی الزام لگایا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ اس کتاب کے مندرجات پر مبنی موجودہ پوپ بینی ڈکٹ نے بھی کچھ عرصہ قبل دل آزار بیان جاری کر دیا تھا۔ اس کتاب نے اہل مغرب پر نہایت منفی اثرات چھوڑے ہیں۔ اسی کتاب کے منفی اور جھوٹے مواد کی وجہ سے پہلی صلیبی جنگ کے دوران عیسائیوں کی طرف سے ترتیب دیئے گئے جنگی گیتوں میں مسلمانوں کو بت پرستی میں مبتلا بتایا گیا اور یہ کہا کہ مسلمان قتل وغارت گری کو پسند کرتے ہیں۔ وغیرہ
سپین میں توہین رسالت کی تحریک
سپین کے دارالحکومت قرطبہ میں عیسائیوں نے توہین رسالت کی باقاعدہ تحریک شروع کر دی تھی۔ یہ روایت کچھ اس طرح سے سامنے آئی ہے کہ ۸۵۰ء میں ایک عیسائی راہب پرفیکٹس کی قرطبہ کے بازار میں عربوں کے ایک گروہ سے مذہبی بحث ہو گئی جس کے دوران اس عیسائی راہب نے حضور نبی پاک ﷺ کی شان میں نہایت گھٹیا الزامات لگائے۔ اسے گرفتار کر لیا گیا۔ قرطبہ میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد اور عجیب واقعہ تھا کیونکہ مسلم سپین میں عیسائی اور یہودی مسلمانوں کے ساتھ اچھے ماحول میں زندگی گزار رہے تھے۔ ان کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی مکمل آزادی تھی۔ لیکن قاضی شہر نے عیسائی راہب کو فوری سزا دینے کی بجائے جیل بھجوا دیا۔ کیونکہ قاضی کے مطابق اسے بحث کے دوران کچھ لوگوں نے اشتعال دلایا تھا جس کی وجہ سے اس سے ایسی حرکت سرزد ہو گئی۔ وہ جیل میں خوفزدہ تھا لیکن اس دوران غالباً کچھ دیگر لوگوں نے تسلی دی اور ورغلایا تو چند دن بعد اس نے قاضی کے سامنے جا کر توہین رسالت کا دوبارہ ارتکاب کیا۔ ایسی صورت میں اب قاضی کے پاس اس کو سزائے موت دینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ عیسائی کمیونٹی نے فوراً ہی اسے شہید کا درجہ دے دیا اور اس واقعہ کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کیا۔ کچھ ہی عرصہ بعد ایک اور عیسائی راہب اسحاق کو تیار کیا گیا۔ اس نے بھی قاضی کے روبرو پیش ہو کر اللہ کے پاک رسول ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات ادا کئے۔ قاضی نے خیال کیا کہ شاید یہ بدبخت نشہ میں ہے۔ اس کے منہ پر طمانچے مارے گئے کہ اس کا نشہ ہرن کیا جائے لیکن وہ توہین آمیز جملے ادا کرتا
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
رہا چنانچہ اسے بھی اسلامی قوانین کی خلاف ورزی پر سزائے موت دی گئی۔ اس دور کے سپین کی صورتحال یہ تھی کہ مسلمانوں کی حکومت میں سپین ترقی اور خوشحالی کی معراج پر تھا، علم و ادب اور سائنس میں بھی اس دور کے اندلس نے بڑی نامور شخصیات پیدا کیں۔ عیسائی اور یہودی بھی آرام اور سکون کی زندگی گزار رہے تھے۔ ملک میں امن و امان تھا۔ غیر مسلم (بالخصوص عیسائی) مسلمانوں کی فراخدلی اور اسلام کے پاکیزہ اصولوں اور تعلیمات سے متاثر ہو کر مسلمان ہو رہے تھے۔ اس لئے عیسائی راہبوں کو یورپ اور عیسائی حکمرانوں کی درپردہ انگیخت تھی کہ وہ گڑ بڑ کریں۔ حالانکہ عیسائیوں کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے اور اپنی مذہبی تقریبات کھلے عام کرنے کی اجازت تھی۔ مملکت ان کے مذہبی معاملات میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کرتی تھی۔ غیر مسلموں کے لئے صرف ایک پابندی تھی کہ وہ پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں کسی بھی انداز سے گستاخی نہیں کریں گے۔ اسلامی حکومت پر اعتماد اور طاقتور تھی۔ اس لئے سب کو آزادی دے رکھی تھی۔ حکومت کی ہر ممکن کوشش یہ تھی کہ وہ عیسائی مذہبی جنونیوں کو فوراً سزا نہ دے بلکہ ان کو سنبھلنے اور ہوش و حواس بحال کرنے کا موقع دیا جاتا تھا لیکن حالات و واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی تحریک تھی جس کا مقصد عیسائی شہریوں میں اشتعال پیدا کر کے مملکت کے خلاف بغاوت پر ابھارنا تھا۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ راہب اسحق کو سزائے موت دیئے جانے کے چند ماہ بعد اس کی خانقاہ سے پچاس مذہبی جنونیوں کا گروہ تیار کیا گیا جنہوں نے قاضی شہر کے سامنے خود پیش ہو کر توہین رسالت کا ارتکاب کیا چنانچہ مملکت کے قانون کے مطابق ان سب کو موت کی سزا دے دی گئی۔ عیسائیوں کے ایک مخصوص گروہ کے متذکرہ رویے کی قرطبہ کے بشپ اور عیسائیت سے مسلمان ہونے والوں نے مذمت کی۔ لیکن عیسائی برادری میں اپنی لیڈری چمکانے اور اسلامی مملکت کو کمزور کرنے کے لئے دو موثر پادری یولوجیو اور پاول الوارو میدان میں آ گئے۔ انہوں نے سزائے موت پانے والے عیسائیوں کو شہید قرار دے کر انہیں عیسائیت کے مجاہد اور ہیرو قرار دیا۔ لیکن امن و سکون اور آزادی سے زندگی گزارنے والے عیسائیوں نے اور مسلمان اور عیسائی مشترکہ خاندانوں کی اولادوں نے (جن کو موعرب کہا جاتا تھا) بھی مذہبی جنونی عیسائیوں کے رویے کی مخالفت کی۔ پادری یولوجیو ایک ہمسایہ عیسائی ریاست پامپلونا کے کلیسیا سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف اشتعال انگیز کتابیں لے آیا۔ اس نے مملکت اور اسلام کے خلاف باقاعدہ تحریک شروع کر دی بہر حال قاضی نے یولوجیو کو اس کے جرائم پر سزائے موت دے دی تو اس تحریک نے دم توڑ دیا۔
صلیبی جنگیں اور اسلام کے خلاف توہین آمیز پراپیگنڈہ
پیغمبر اسلام ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد جب حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے منصب خلافت سنبھالا تو ایرانیوں اور رومیوں کی فوجیں نوزائیدہ اسلامی مملکت کی سرحدوں پر جارحانہ عزائم کے ساتھ کھڑی تھیں۔ اس لئے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو سب سے پہلے ان بیرونی خطرات کی طرف توجہ دینی پڑی۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے دونوں محاذوں پر اسلامی لشکر بھیجے۔ ایرانیوں کے خلاف حضرت مثنیٰ ؓ اور قیصر روم کی فوجوں کے خلاف حضرت ابو عبیدہ ؓ کی سربراہی میں فوجی دستے روانہ کئے اور اس بات کا اہتمام کیا کہ دشمن اسلامی مملکت پر اچانک حملہ کرنے سے روک دیئے گئے۔ بہر حال اس دور کی دونوں بڑی طاقتوں کی جارحیت روکنے کے لئے اسلامی مجاہدین کا ٹکراؤ شروع ہو گیا لیکن خلیفہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 207 تحفظ ناموس رسالت نمبر اول اپنا سوا دو سال کا مختصر عرصہ گزار کر اس دار فانی سے رخصت ہو گئے تو اسلامی مملکت کی قیادت کی ذمہ داری خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ؓ کے کندھوں پر آ گئی۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق ؓ کو بھی بیرونی حملہ آوروں کے خلاف نبرد آزما ہونا پڑا۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے عہد میں ہی (636ء میں) بیت المقدس (یروشلم) کو رومیوں کے قبضہ سے مسلمانوں نے آزاد کرا لیا اور اس کے بعد ساڑھے چار سو برس تک بیت المقدس مسلمانوں کے انتظام میں رہا۔ اس دوران مسلمانوں سمیت عیسائیوں اور یہودیوں کو بھی عبادت کرنے اور حاضری کی آزادی تھی۔ لیکن پھر اچانک گیارہویں صدی کے آخری عشرے میں یورپ کے عیسائی حکمرانوں نے کسی اشتعال کے بغیر مسلمانوں کے خلاف بہت بڑے پیمانے پر جنگوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ان جنگوں کو تاریخ نے صلیبی جنگوں کا نام دیا۔ مسلمانوں کے خلاف جنگ کا جواز پیدا کرنے کے لئے عیسائی حکمرانوں نے پیغمبر اسلام ﷺ اور اسلامی عقائد کے خلاف جھوٹا اور من گھڑت پراپیگنڈہ شروع کر دیا۔ 1095ء میں گریگری ہفتم کی وفات کے بعد پوپ اربن دوم نے عیسائیوں کی مذہبی قیادت سنبھالی تو اس نے اپنے پیش رو کی مشق کو آگے بڑھاتے ہوئے اسلام کے خلاف عیسائی حکمرانوں کی مدد جاری رکھی اور اس نے فرانس اور جرمن وغیرہ کے دورے کر کے اہل اسلام کے خلاف پراپیگنڈہ مہم چلائی اور عیسائیوں کو جنگ کے لئے ابھارا۔ اس دور میں پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں نہایت توہین آمیز جھوٹا پراپیگنڈہ کیا گیا اور اسی دور کے زہریلے پراپیگنڈہ کے اثرات آج بھی مغربی ممالک میں چھائے ہوئے ہیں۔ بہر حال صلیبی جنگوں کا پہلا دور 1096ء تا 1144ء تک پھیلا ہوا ہے۔ اس دور میں مسلم حکومتیں اندرونی خلفشار کا شکار تھیں۔ بالخصوص شیعہ اور سنی اختلافات شام میں حکومت کی کمزوری کا باعث بن چکے تھے۔ جس کا عیسائی حکمرانوں نے فائدہ اٹھایا۔ اسی دوران بیت المقدس (یروشلم) پر عیسائی حکمرانوں نے قبضہ کر لیا۔ لیکن عیسائی حکمرانوں اور پوپ کی طرف سے پیغمبر اسلام ﷺ اور اسلامی عقائد کے خلاف توہین آمیز زہریلے پراپیگنڈے کے باوجود مسلمانوں کی طرف سے کسی بھی سطح پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا دیگر انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کا ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ مگر جب مسلمانوں کو نور الدین زنگی شہید اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ جیسے باصلاحیت اور بہادر حکمران اور جرنیل مل گئے تو صلیبی جنگوں کا دوسرا دور شروع ہوا اور مسلمانوں نے جوابی کارروائی کر کے یورپ کے حکمرانوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ اسی دور میں عیسائی یورپ کے مشہور جرنیل رچرڈ شیر دل کو سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے ہاتھوں بار بار شکست ہوئی اور بیت المقدس مسلمانوں نے واپس لے لیا۔ صلیبی جنگوں کا دوسرا اہم دور 1144ء سے 1192ء تک شمار کیا جاتا ہے جس میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کا عہد 1174ء تا 1193ء ہے۔ صلیبی جنگوں کا تیسرا چوتھا اور پانچواں دور بھی شمار کیا جاتا تاہم 1290ء تا 1293ء کے دوران مملوک خاندان کے حکمران الملک الاشرف نے شام کا سارا علاقہ عیسائیوں سے واپس لے لیا اور عکہ کا علاقہ بھی دوبارہ مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں میں غیر مسلموں کے خلاف ان کے مذہب، رنگ یا نسل کی وجہ سے کبھی معاندانہ رویہ اختیار نہیں کیا گیا۔ بلکہ انہیں اپنے مذہب پر عملدرآمد میں بھی پوری آزادی حاصل رہی ہے۔ مملکت کے دفاع اور تحفظ کی ذمہ داریوں سے ان کو استثنیٰ تھا اور اس کے بدلے ان پر جزیہ (ایک ٹیکس) واجب تھا جبکہ تمام مسلمانوں پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم رہی ہے۔ لیکن ہر دور میں عیسائی حکمرانوں اور ان کی مذہبی لیڈرشپ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
نے پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کی تعلیمات کے بارے میں جھوٹا اور توہین آمیز پراپیگنڈہ کی تحریک جاری رکھی اور غلط اور من گھڑت باتیں اسلام کے ساتھ منسوب کرتے رہے۔
پہلی صلیبی جنگ کے دوران اسلام کے خلاف جاری پراپیگنڈہ مہم کے اثرات اسلامی مملکت کے دارالخلافہ بغداد میں بھی محسوس کئے جارہے تھے چنانچہ جناب غوث اعظم سیدنا عبدالقادر جیلانی ؒ بھی اپنی وعظ کی مجلسوں میں جب قرآن و سنت اور حدیث مبارکہ کا درس دے رہے ہوتے تھے تو بعض اوقات علامتی انداز میں عیسائی رہنماؤں کو متوجہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ چنانچہ ایک مجلس وعظ میں آپ ؒ نے حاضرین و سامعین سے توجہ ہٹا کر اوپر ہوا میں بلند ہو کر فرمایا: ”یا اسرائیلی قف فاسمع کلام المحمدی“ ”اے اسرائیلی ٹھہر جاؤ اور محمدی کا کلام سنو“
حاضرین کے استفسار پر جناب غوث اعظم ؒ نے فرمایا کہ حضرت خضر ؑ گزر رہے تھے میں نے ان کو اپنا بیان سنانے کے لئے ٹھہرایا۔ (سرکار غوث اعظم کا زمانہ 1077ء تا 1168ء)۔ سرکار غوث پاک کے تذکرہ بیان سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ عیسائی اور یہودی پیغمبر اسلام اور دین اسلام کے خلاف بڑے پیمانے پر توہین آمیز مہم چلا رہے تھے۔
ایران اور ہندوستان کے جھوٹے نبی
انیسویں صدی کے وسط میں پرشیا (ایران) کے حکمران نصیر الدین شاہ کے عہد (1848ء تا 1896ء) میں سید علی محمد باب نے اسلام میں نقب لگانے کی ایک تحریک شروع کی جسے ”باب ازم“ کہتے ہیں۔ شروع میں اس نے خود کو روحانی شخصیت قرار دیا اور پھر امام مہدی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ وہ خاصا ذہین اور چالاک آدمی تھا۔ اس نے عقیدت مندوں کا ایک حلقہ پیدا کر لیا اور اپنے نمائندوں کو تبلیغ کے لئے مختلف شہروں میں روانہ کرنا شروع کر دیا۔ اس نے ایک نوجوان خوبصورت شاعرہ قرۃ العین کو بھی اپنے دام فریب میں گرفتار کر لیا۔ جس سے اس گمراہ کن تحریک کو بڑی مدد ملی۔ لیکن جب اس فتنہ کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر اشتعال اور بے چینی میں اضافہ ہوا تو حکومت نے اس جھوٹے علی محمد باب کو جیل میں ڈال دیا اور تبریز جیل میں ہی اسے اس کے ایک اپنے ہی پیروکار نے اس کے بعض کرتوتوں کی وجہ سے 1850ء میں قتل کر دیا۔ قرۃ العین کو بھی حکومت کی طرف سے سزائے موت دے دی گئی۔ تاہم علی باب کے پیروکاروں میں سے ایک گمراہ شخص بہاء اللہ نے اس تحریک کو نئے انداز سے آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ یہ ایک نہایت چالاک سازشی شخص تھا۔ اس نے مجدد اور نبی ہونے کا تاثر دے کر لوگوں کو گمراہ کرنا شروع کیا۔ اس کی تحریک کو ”بہائی ازم“ کے نام سے شہرت ملی۔ یہ عیار شخص اپنے پیش رو علی محمد باب کے انجام سے بچنے کے لئے ملک چھوڑ کر باہر چلا گیا اور اس کو یورپ کے اسلام دشمن عناصر نے درپردہ تعاون مہیا کیا۔ اس کے پیروکار آج بھی ایران سمیت مختلف ممالک میں موجود ہیں۔ پاکستان میں بھی کچھ عرصہ پہلے تک گڑھی شاہو میں ان کا ایک سنٹر موجود تھا جہاں ان کے اجلاس محفوظ الحق علمی کے زیر اہتمام ہوا کرتے تھے اگرچہ ان کی تعداد کچھ زیادہ نہیں تھی لیکن بہاء اللہ نے اپنی نبوت کے جواز کے لئے جو تحریری مواد تیار کیا تھا وہ ہندوستان میں انگریز کے لگائے
19. Details of 20. Places of Place (i) SIRHAND SHARIF PL (ii) (iii) (iv) (v) (vi) (vii) (viii) 21. Address of n Areas) (in th Name/Father's Name 1. NIL NIL 2. NIL NIL 3. 4. 5. 6. 7. 8. 22. Address at Pl Place 1. SIRHAND SHARIF 2. 3. 4. 5. 6.
تحفظ ناموس رسالت نمبر آمیز پراپیگنڈہ کی تحریک جاری رکھی اور غلط اور من گھڑت اثرات اسلامی مملکت کے دارالخلافہ بغداد میں پھیلائے وہ بھی اپنی وعظ کی مجلسوں میں جب قرآن و نماز میں عیسائی راہنماؤں کو متوجہ کرتے ہوئے کہتے تو جہ ہٹا کر اوپر ہوا میں بلند ہو کر فرمایا:
وقت خضر علیہم گزر رہے تھے میں نے ان کو اپنا لیا ۔ سرکار غوث پاکؒ کے متذکرہ بیان سے دین اسلام کے خلاف بڑے پیمانے پر توہین
کے عہد (۱۸۴۸ء تا ۱۸۹۶ء) میں سید علی محمد گئے ہیں۔ شروع میں اس نے خود کو روحانی ف آدمی تھا۔ اس نے عقیدت مندوں کا ایک گرویدہ بنا لیا۔ اس نے ایک نوجوان خوبصورت ت کو بڑی مدد لی۔ لیکن جب اس فتنہ کی وجہ ہوئی تو علی محمد باب کو جیل میں ڈال دیا اور گولی کی وجہ سے ۱۸۵۰ء میں قتل کر دیا۔ قرۃ کاروں میں سے ایک گمراہ شخص بہاء اللہ ی سازشی شخص تھا۔ اس نے مجدد اور نبی م سے شہرت ملی۔ یہ عیار شخص اپنے پیش ں اسلام دشمن عناصر نے درپردہ تعاون ستان میں بھی کچھ عرصہ پہلے تک کئی ام ہوا کرتے تھے اگرچہ ان کی تعداد کچھ یار کیا تھا وہ ہندوستان میں انگریز کے لگائے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 209 تحفظ ناموس رسالت نمبر ہوئے پودے جھوٹے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے بھی کام آیا۔
یورپ کے عیسائی حکمران جہاں بھی قوت واقتدار کے مالک بنے انہوں نے مسلم آبادی والے ممالک میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف اپنے خبیث باطن کا اظہار ضرور کیا۔ برصغیر میں تاجروں کے ادارے ایسٹ انڈیا کمپنی کے روپ میں شاہان مغلیہ کے عہد میں وارد ہندوستان ہوئے تو مکر وفریب اور سازشوں کے جال پھیلا کر بتدریج سارے ہندوستان پر قابض ہو گئے۔ ۱۸۵۷ء میں جب بعض چھاؤنیوں میں استعمار کے لئے مہیا کئے گئے چربی والے کارتوس سپاہیوں میں تقسیم کئے گئے تو یہ افواہ پھیل گئی کہ ان کارتوسوں پر گائے اور خنزیر کی چربی استعمال کی گئی ہے تو کچھ مسلمان اور چند ایک ہندو سپاہیوں نے وہ کارتوس استعمال کرنے سے انکار کر دیا۔ انگریز افسروں نے چند ایک مقامات پر انکار کرنے والے سپاہیوں کو سخت سزائیں دیں۔
چنانچہ میرٹھ اور بعض دیگر چھاؤنیوں میں بغاوت ہوگئی اور سپاہیوں نے انگریز افسر کو قتل کر کے اسلحہ لوٹ لیا۔ اس واقعہ کی خبر جنگل کی آگ کی طرح فوراً وسیع علاقوں میں پھیل گئی اور سپاہیوں کی اس بغاوت نے جلد ہی جنگ آزادی کا روپ دھار لیا۔ علماء ومشائخ اہلسنت میں سے بھی بعض شخصیات نے جنگ آزادی کی حمایت میں کردار ادا کیا۔ ان میں حضرت مولانا فضل حق خیر آبادی اور ان کے دیگر متعدد ساتھیوں نے انگریز حکومت کے خلاف فتویٰ جاری کر دیا مگر مغلیہ سلطنت کے بجھتے ہوئے چراغ کی لو تیز کرنے کے لئے وہ اولین جدوجہد کامیاب نہ ہوسکی۔ ہزاروں جی داروں نے انگریز حکومت کی اگرچہ بنیادیں ہلا دی تھیں مگر تنظیم اور رابطوں کے فقدان اور بعض غداروں کی غداری کی وجہ سے ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی بجائے براہ راست تاج برطانیہ کی حکومت قائم ہو گئی۔ (یہاں ان واقعات کی تفصیلات بیان کرنے کی گنجائش نہیں) انگریز حکمرانوں نے اپنی مسلمان دشمنی کا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ اسی دور میں مشہور انگریز سر ولیم میور نے پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت سے متعلق جھوٹ اور مکر و فریب سے کام لے کر ایک نہایت توہین آمیز کتاب شائع کر کے مسلمانوں کی دلآزاری کی اور عیسائی مشنریوں کو شہروں میں عیسائیت کی تبلیغ کے لئے لٹریچر مہیا کر کے سرگرم کر دیا۔ اس دور میں اگرچہ مسلمانوں بالخصوص مذہبی اور سرکردہ حیثیت والے مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے جا رہے تھے مگر پھر بھی علماء نے عیسائی پادریوں سے جہاں کہیں ممکن ہوا مناظرے کئے اور انہیں لاجواب کیا۔ سرسید احمد خان نے جو کہ اگرچہ سرکاری ملازم تھے سر ولیم میور کی توہین آمیز کتاب کا مدلل جواب کتابی شکل میں شائع کر دیا۔ اسی دوران انگریز حکمرانوں نے ہندوؤں کو بھی مسلمانوں کے خلاف ابھارا۔ چنانچہ ایک بدبخت راجپال نے سرکار دوعالم ﷺ کی شان میں نہایت توہین آمیز مواد پر مبنی ایک کتاب شائع کر دی جس پر مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا۔ چنانچہ ایک عام سے مسلمان نوجوان غازی علم دین نے اس ہندو ناشر اور مصنف کو انارکلی لاہور میں واقع اس کی دکان پر ہی چھری کے وار کر کے جہنم میں پہنچا دیا۔ اسی دوران مرزا غلام احمد قادیانی نے جو کہ نہایت چالاک اور ذہین تھا اپنی دکان چمکانے کے لئے عیسائیوں اور آریہ مذہب کے لوگوں سے مناظرے کر کے اپنی کامیابیوں کے اشتہارات شائع کرائے۔ مگر جب اسے کچھ حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوگئی تو انگریز حکمرانوں نے اسے استعمال کرنے کے لئے اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ دیا۔ چنانچہ ۱۹۰۰ء میں اس نے پہلے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
مجدد ہونے کا پھر اپنی جھوٹی نبوت کا اعلان کر کے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اس بدبخت جہنمی نے انگریز حکومت کی سر پرستی حاصل ہونے پر مسلمانوں کو نہایت دلیری سے چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ اس کے ایک اشتہاری چیلنج کی چند سطور درج ذیل ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ اور لاف زنی:
"اس وقت آسمان کے نیچے کسی کی مجال نہیں جو میری برابری کی لاف مار سکے۔ میں اعلانیہ اور بلا کسی خوف کے کہتا ہوں کہ اے مسلمانو! تم میں بعض لوگ مجددیت و محدثیت کے بلند بانگ دعویٰ کرتے ہیں اور بعض از راہ ناز زمین پر پاؤں بھی نہیں رکھتے اور کمال خدا شناسی کا دم مارتے ہیں اور چشتی اور قادری، نقشبندی اور سہروردی کیا کیا کہلاتے ہیں۔ ذرا ان سب کو میرے سامنے لاؤ۔"
مرازا غلام احمد قادیانی کے دعوؤں سے مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا۔ لیکن چونکہ برطانوی سامراج اس کا سرپرست تھا۔ اس لئے اسے کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ اس دور میں حضرت پیرسید مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات کا شہرہ تھا۔ آپ ایک بلند پایہ عالم اور محقق ہونے کے ساتھ ساتھ عارف کامل، باکمال صوفی اور ولی اللہ تھے۔ چنانچہ دیگر علمائے کرام ومشائخ عظام کے ساتھ حضرت پیر طریقت گولڑوی ؒ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے فتنہ کی سرکوبی کے لئے میدان میں نکلے اور مرزا کے ہر چیلنج کا نہ صرف تحریری جواب دیا بلکہ مناظرے اور مقابلے کی اس کی دعوت کو قبول کیا۔ حضرت گولڑوی پیر صاحب مرزا کی دعوت مقابلہ پر ۵۰ علماء کرام کے ساتھ لاہور پہنچ گئے۔ مرزا قادیانی کو بلایا۔ لیکن اس جھوٹے کو قادیان سے باہر نکلنے کی ہمت نہ ہوئی تاہم حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف اور دیگر علمائے کرام نے لاہور کی عالمگیری مسجد (بادشاہی مسجد) میں کئی روز تک اجلاس منعقد کئے اور مرزائیت کے رد میں مدلل تقریریں کر کے عوام الناس کو مطمئن کیا۔ مرزا قادیانی جھوٹا تھا اس لئے کچھ عرصہ خاموش رہنے پر مجبور ہو گیا لیکن اس کے انگریز آقا نے اسے متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ء کو اس نے پھر اپنے ایک اعلان اور اشتہار کے ذریعے ہندوستان کے سرکردہ ۸۶ علماء ومشائخ عظام کے نام لکھ کر انہیں لاہور آکر مقابلے اور مناظرے کی دعوت دی۔ اس نے ایک خط حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف کو بھی بھیج دیا جو ان کو ۲۵ جولائی ۱۹۰۰ء کو ملا۔ حضرت پیر صاحب ؒ نے مرزا کا چیلنج قبول کیا اور اسے واپس رجسٹرڈ ڈاک اطلاع دی۔ مرزا قادیانی نے ۲۵ اگست ۱۹۰۰ء کی تاریخ مقابلہ اور مناظرہ کے لئے مقرر کر دی۔ مباحثہ کی جگہ بادشاہی مسجد لاہور مقرر کی گئی تھی۔ حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف اور دیگر علماء کرام صبح ہی بادشاہی مسجد لاہور میں پہنچ گئے۔ مگر اس بار بھی اس جھوٹے بدبخت کو لاہور آنے کی جرأت نہ ہوئی۔ لیکن نہایت بے غیرتی اور بے شرمی سے پھر بھی اپنے دعوے کرتا رہا اور برطانوی حکومت کی زیر سرپرستی گمراہی کے مشن میں لگا رہا۔ آخر مبینہ طور پر ہیضہ اور پیچش کے مرض میں مبتلا ہو کر واش روم میں قضائے حاجت کے دوران عبرت ناک موت سے دوچار ہوا۔ اس کی بدبختی کے وارث برطانیہ میں حکومتی سرپرستی میں آباد ہیں۔
اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے کہ مغرب کا حکمران طبقہ بظاہر خود کو کتنا ہی سیکولر اور مذہبی تعصب سے بالا پیش کرتا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ہواس کے ذہن کے کچھ کے مذہبی پیشواؤں کی ن عیسائی مذہبی جنونیوں کا یورپ اور امریکہ کے تھن ہیں۔
ضیاء الحق کا دور
سابق صدر ضیاء کی اور صدر کو مسودہ پیرائے میں کتاب تنقیص پر مبنی ایک چنانچہ لوتھر کو فوراً یورپ ہاتھوں قتل ہو گیا۔ یہ کہ
اکیسویں صدی
مغرب کے عیسا میں بھی جاری ہے۔ اہ لاکھوں بے گناہ مسلمانو پاکستانیوں کو بھی موت لیکن الٹا مسلمانو ویسٹرگارڈ Westergaard مسلمانوں کے نہ صرف کارٹونسٹ کی مذمت کرنے میں کوئی بھی میڈیا یہودیوں کہ ہولوکاسٹ میں ۶۰ لاکھ پر مبنی کتاب لکھنا سنگین جرم ہے آج بھی یورپ اور ا معروف اخباری ٹائمز نے
19. Details of 20. Places of Place (i) SIRHAND SHARIF PL (ii) (iii) (iv) (v) (vi) (vii) (viii) 21. Address of n Areas) (in th Name/Father's Name 1. NIL NIL 2. NIL NIL 3. 4. 5. 6. 7. 8. 22. Address at Pl Place 1. SIRHAND SHARIF 2. 3. 4. 5. 6.
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہو اس کے ذہن کے گوشے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مذہبی تعصب کا زہر چھپا ہوتا ہے اور یہی کیفیت عیسائیت کے مذہبی پیشواؤں کی ہے جس کے اثرات عیسائی کمیونٹی کے مذہبی جنونیوں میں وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور چونکہ عیسائی مذہبی جنونیوں کو اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اپنی اسلام دشمنی اور توہین رسالت کے جرم میں پکڑے گئے تو انہیں یورپ اور امریکہ کے عیسائی حکمران اپنے ہاں پناہ دے دیں گے‘ اس لیے وہ بار بار اپنی ہرزہ سرائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ضیاء الحق کا دور
سابق صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ایک تعلیم یافتہ عیسائی لوتھر نے پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی پر ایک کتاب تالیف کی اور صدر کو مسودہ پیش کیا۔ صدر ضیاء الحق نے یہ خیال کر کے کہ ایک عیسائی نے حضور ﷺ نبی پاک کی زندگی پر مثبت پیرائے میں کتاب لکھی ہے‘ اسے انعام سے نوازا۔ لیکن اس بدبخت نے بعد میں رسول پاک ﷺ کی شان میں لکھا ہوا تنقیص پر مبنی ایک باب شامل کر کے کتاب شائع کر دی جب کتاب مارکیٹ میں آئی تو مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا۔ چنانچہ لوتھر کو فوراً یورپ میں پناہ مل گئی اور وہ خاموشی سے بھاگ گیا۔ لیکن غلط فہمی میں لوتھر نامی ایک دوسرا شخص کسی کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ یہ بھی ایک واضح ثبوت ہے کہ جدید دور میں بھی بعض بدبخت توہین رسالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
اکیسویں صدی
مغرب کے عیسائیوں اور یہودیوں کی اسلام دشمنی اور پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخیوں کا مکروہ کھیل اکیسویں صدی میں بھی جاری ہے۔ 2001ء میں 11/9 کے خود ساختہ امریکی سانحہ کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک عراق اور افغانستان میں لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا چکے ہیں اور پاکستان میں بھی ڈرون حملوں کے ذریعے اب تک ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کو بھی موت کے منہ میں دھکیل چکے ہیں۔
لیکن الٹا مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ ڈنمارک کے کارٹونسٹ بدبخت ذہنی مریض کرٹ ویسٹر گارڈ Kurt Westergaard نے 2005ء میں پیغمبر اسلام ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے نہ صرف جذبات مجروح کئے بلکہ دل زخمی کئے اور مسلمانوں کے احتجاج کو جائز تسلیم کر کے اس ملعون کارٹونسٹ کی مذمت کرنے کی بجائے مغرب کا میڈیا اسے اظہار رائے کی آزادی قرار دیتا رہا ہے حالانکہ مغرب اور امریکہ میں کوئی بھی میڈیا یہودیوں کے ہولو کاسٹ کے نام نہاد سانحہ پر کوئی تنقید نہیں کر سکتا اور کوئی یہ جملہ نہیں لکھ سکتا نہ بول سکتا ہے کہ ہولو کاسٹ میں 60 لاکھ یہودیوں کی ہلاکت کا اسرائیلی دعویٰ محض فراڈ ہے۔ ہولو کاسٹ کے خلاف مضمون لکھنا یا ریسرچ پر مبنی کتاب لکھنا سنگین جرم ہے۔ جبکہ برطانیہ میں ملکہ برطانیہ کے خلاف توہین آمیز بات کہنا اور لکھنا جرم ہے۔
آج بھی یورپ اور امریکہ میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز مہم جاری ہے۔ ابھی مارچ میں ہی معروف اخبار دی ٹائمز نے ایک سٹوری شائع کی ہے کہ ایک 46 سالہ لبنانی عیسائی عورت نے مسلمانوں کے خلاف
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ'اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
پورے امریکہ میں تحریک شروع کر رکھی ہے۔ یہ عورت جس کا نام برجٹ گبریل ہے، 1970ء میں لبنان سے اسرائیل چلی گئی‘ وہاں یہودیوں نے اس کی برین واشنگ کر کے اور فنڈز مہیا کر کے امریکہ بھجوا دیا۔ امریکہ میں اس نے اپنی ایک تنظیم ACT (ایکٹ) کے نام سے قائم کر رکھی ہے اور اس کے اپنے دعویٰ کے مطابق پورے امریکہ میں اس کے ۵۰۰ دفاتر قائم ہو چکے ہیں۔ اس کی تنظیم کے اب تک ۵۵۰۰۰ ارکان بن چکے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم چلانے کے دوران الزام لگاتی ہے کہ پیغمبر اسلام کا دین تباہی پھیلانے والا مذہب ہے اور اس کا مزید یہ الزام ہے کہ مسلمان امریکہ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ مسلمان سی آئی اے‘ ایف بی آئی اور پینٹا گون میں گھس چکے ہیں۔ اس قسم کے پراپیگنڈے سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ تحریک کے مقاصد سیاسی ہیں۔
جبکہ کسی بھی مذہبی راہنما اور دین کے خلاف ایسا بیان یا تحریر جس کی وجہ سے اس دین کے ماننے والوں کی دل آزاری ہو بین الاقوامی قوانین کے تحت بھی جرم ہے۔ اہل اسلام کا کتنا خوبصورت اور جامع مطالبہ ہے کہ مغربی ممالک اپنے ہاں ایک ایسے قانون کا نفاذ کریں جس کے مطابق تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کی توہین اور ان کی شان میں گستاخی کا عملاً ارتکاب کرنے والے کو موت‘ عمر قید کی سزا دی جائے اور کسی دوسرے ملک میں توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کو ہرگز ہرگز اپنے ملک میں داخل ہونے دیں نہ پناہ دیں۔ ۱۹۸۰ اور ۱۹۹۰ء کے عشرے کے دو بدنام زمانہ کردار سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کو یورپ نے اپنے سینے سے لگا رکھا ہے۔ سلمان رشدی بھارتی شہری تھا۔ جس نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ”شیطانی آیات“ ناول کی شکل میں شائع کی جس میں من گھڑت خرافات شامل کی گئیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش کی تسلیمہ نسرین نے بھی توہین آمیز مواد تحریر کیا۔ بدبخت سلمان رشدی کے خلاف ایران کے مذہبی اور روحانی رہنما آیت اللہ خامنائی کا قتل کا فتویٰ جاری ہونے پر برطانیہ نے اسے اپنی پناہ میں لے لیا۔ اسی طرح تسلیمہ نسرین بھی یورپ میں مقیم ہے۔ کیا یورپ اور امریکہ کے حکمران مذہبی تعصب اور اسلام دشمنی پر مبنی اپنے کردار سے انکار کر سکتے ہیں؟ لیکن ان سب سازشوں اور اسلام دشمن تحریکوں کے باوجود اسلام اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اپنی صداقت‘ انسان دوستی‘ انصاف‘ کمزوروں اور خواتین کے حقوق کا محافظ آج بھی لوگوں کے عقل و شعور پر دستک دے رہا ہے اور فروغ پا رہا ہے۔
* * * * *
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔
پاکستا
قاز
حضور نبی رحمت نے دلوں اور ملکوں دونوں حضرت ابو طفیل عامر بن و مسلمانوں کے پاس تھا۔ آپ فرانس تک کا علاقہ مسلمانوں (م 193ھ/809ء) کے اس دور میں مسلمانوں نے بات یہ ہے کہ مسلمانوں سے مسلمانوں کو یہ فخر حا میں موجود ہے۔ اس لیے جب پاکستان انگریزوں ہی کے قانون تعزیراتی قانون کا تسلسل پر انگریز راج مسلط تھا 1860 کے ذریعے نا میکاولے (Macauly اسٹیفن (Stephen)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 213 تحفظ ناموس رسالت نمبر
پاکستان میں
قانون ناموس رسالت
کا ارتقائی جائزہ
* ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں *
حضور نبی رحمت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی آفاقی تعلیمات، قرآن و سنت پر عمل کر کے مسلمانوں نے دلوں اور ملکوں دونوں کو تسخیر کیا۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سب سے آخر میں جس صحابی کا انتقال ہوا وہ حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ (م 100ھ) تھے۔ اس وقت معلوم دنیا کا بڑا اور متمدن دنیا کا سارا جغرافیائی حصہ مسلمانوں کے پاس تھا۔ آغاز اسلام کے بعد ایک صدی سے کم عرصہ میں ہندوستان سے لے کر سپین اور جنوبی فرانس تک کا علاقہ مسلمانوں کے زیر نگیں آگیا تھا۔ اپنے سیاسی عروج کے زمانہ بالخصوص عباسی خلیفہ ہارون الرشید (م 193ھ/809ء) کے دور میں قائم بیت الحکمت (House of wisdom) کے تحت تالیف و تراجم کا کام ہوا۔ اس دور میں مسلمانوں نے غیر اقوام کے بہت سے علوم و فنون کی اہم کتب کا ترجمہ اپنی زبان میں کیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے کسی قوم کے قانون کی کتاب کا ترجمہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے دور آغاز ہی سے مسلمانوں کو یہ فخر اور ناز رہا ہے کہ ان کے پاس اپنا ایک مکمل اور قابل عمل قانون قرآن و سنت کی صورت میں موجود ہے۔ اس لیے انہیں کسی غیر قوم سے قانون لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
جب پاکستان قائم ہوا تو ہم نے جغرافیائی آزادی تو حاصل کر لی لیکن ذہنی غلامی از خود برقرار رکھی اور انگریزوں ہی کے قانون کو اپنا لیا۔ پاکستان کا موجودہ نافذ العمل ضابطہ تعزیرات انگریزوں کے زمانے سے نافذ تعزیراتی قانون کا تسلسل ہے۔ قیام پاکستان سے قبل موجودہ پاکستان اور بھارت کے علاقے انڈیا کہلاتے تھے۔ انڈیا پر انگریز راج مسلط تھا۔ انڈین پینل کوڈ (Indian Penal Code) یعنی ضابطہ تعزیرات ہند کو Act XLV 1860 کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔ یہ ایکٹ پہلے انڈین لاء کمشن نے تیار کیا تھا۔ اس کمشن نے لارڈ میکالے (Lord Macaulay) کی سربراہی میں کام کیا۔ اس کے دیگر دو ممبران میکلوڈ اینڈرسن ( Mcleod Enderson) اور ملٹ (Millet) تھے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء، 214 تحفظ ناموس رسالت نمبر
انڈین پینل کوڈ 1860ء کا پاکستان میں نفاذ اور دفعہ 295
14/ اگست 1947ء کو پاکستان بننے کے بعد انڈین پینل کوڈ 1860ء ہی کو The Adaptation of Centeral Acts and Ordinances Order 1949 کے تحت ضابطۂ تعزیرات پاکستان (Pakistan Penal Code) کے طور پر اختیار کر لیا گیا تھا۔ 1860ء میں انگریزوں کے بنائے گئے اس ضابطۂ تعزیرات کا باب XV مذہب سے متعلق جرائم کے بارے میں ہے۔ اس باب کی دفعہ 295 کے تحت کسی عبادت گاہ یا مذہبی طور پر مقدس قرار دی گئی کسی چیز کی توہین کو قابل سزا قرار دیا گیا تھا۔ اس قانون کے مطابق ایسی اہانت کے مرتکب شخص کو زیادہ سے زیادہ دو سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی جو کسی عبادت گاہ یا افراد کے کسی گروہ کی طرف سے مقدس قرار دی گئی کسی چیز کو اس ارادے کے ساتھ تباہ کرتا ہے یا نقصان پہنچاتا ہے یا اس کی بے حرمتی کرتا ہے کہ اس سے افراد کے کسی گروہ کے مذہب کی توہین ہو یا وہ اس علم کے ساتھ ایسا کرتا ہے کہ افراد کا کوئی گروہ اسے اپنے مذہب کی توہین سمجھے گا۔
پاکستان ضابطہ تعزیرات (Pakistan Penal Code) کی دفعہ 295 کے الفاظ ہیں: Whoever destroys, damages or defiles any place of worship, or any object held sacred by any class of persons with the intention of thereby insulting the religion of any class of persons or with the knowledge that any class of persons is likely to consider such destruction, demage or defilement as an insult to their religion, shall be punished with imprisonment of eith scription for a term which may extend to two years, or with fine, or with both.
1927ء میں دفعہ 295-A کا اضافہ : توہین مذہب کی سزا دو سال قید یا جرمانہ
1927ء میں The Criminal Law Amendment Act XXV of 1927 کے تحت انڈین پینل کوڈ 1860ء میں ایک نئی دفعہ 295-A کا اضافہ کیا گیا۔ اس میں یہ کہا گیا کہ اگر کوئی شخص دیدہ دانستہ اور بغض پر مبنی ارادہ کے تحت تحریر، تقریر یا کسی کھلے فعل سے کسی طبقہ افراد کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے اس طبقہ افراد کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرے یا توہین کرنے کی کوشش کرے تو اسے دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔
پاکستان کے ضابطۂ تعزیرات (PPC) میں دفعہ 295-A کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں: Whoever, with deliberate and malicious intention of outraging the religious feelings of a class of the citizens of Pakistan, by words either spoken or written, or by visible represnetations insults or attempts to inslult the religion or the
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 215 تحفظ ناموس رسالت نمبر
religious beliefs of that class, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend two years, or with fine, or with both.
مقدمہ "رنگیلا رسول"
انڈین پینل کوڈ میں اس دفعہ کے شامل ہونے کا سبب ایک مشہور اور بدنام زمانہ مقدمہ کیس تھا جس کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں ہوا تھا۔ "رنگیلا رسول" نامی کتاب کو 1924ء میں لاہور کے ایک ہندو راجپال نے شائع کیا تھا۔ ہسپتال روڈ پر انار کلی بازار میں پان گلی کے قریب "راجپال اینڈ سنز" کے نام سے اس کی کتابوں کی دوکان تھی۔ اس کتاب کے شائع ہونے پر انڈیا کے مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔
مسلمانوں نے مجسٹریٹ درجہ اوّل کی عدالت میں راجپال کے خلاف فوجداری مقدمہ دائر کیا۔ انگریز مجسٹریٹ درجہ اوّل مسٹر سی ایچ ڈرنی نے 1924ء میں راجپال کو چھ ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔
راجپال نے اس فیصلہ کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل کی۔ کرنل ایف بی نکولس نے مجسٹریٹ درجہ اوّل کی طرف سے راجپال کو دی جانے والی سزا میں تخفیف کر دی۔ اس کے بعد راجپال نے سیشن کورٹ کے فیصلہ کے خلاف نگرانی کی درخواست دائر کی جہاں جج کنور دلیپ سنگھ نے راجپال کو بری کر دیا اور جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا:
......that section that 153-A was not meant to stop polemics against a deceased religious leader however scurrillious and in bad taste such attack may be.[PPC page 271, PLD 1960 Lahore 635].
دفعہ 153-A کا مقصد فوت شدہ مذہبی رہنما کے خلاف تنازعات کو روکنا نہیں ہے خواہ ایسے رہنما پر کتنا ہی فحش اور برا حملہ کیا گیا ہو۔
جسٹس دلیپ سنگھ نے یہ بھی لکھا کہ اس دفعہ کا مقصد مخصوص طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کا تحفظ کرنا نہیں ہے، کسی فوت شدہ لیڈر کو توہین سے تحفظ دلانے کے لیے یہ دفعہ نہیں بنائی گئی۔ لہٰذا دلیپ سنگھ نے یہ فیصلہ دے کر راجپال کو بری کر دیا کہ کتاب "رنگیلا رسول" کی عبارتیں کیسی ہی ناخوشگوار ہوں، بہر حال وہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتیں۔
انڈین پینل کوڈ آف 1860ء کی دفعہ 153-A میں مذہب، نسل، جائے پیدائش، زبان، ذات، جماعت یا کسی اور بنیاد پر مختلف مذاہب، نسل، زبان یا علاقہ کے گروہوں یا ذاتوں یا جماعت کے درمیان دشمنی، نفرت یا بدخواہی کو فروغ دینا یا فروغ دینے کا اقدام کرنا اور ایسے فعل کا ارتکاب کرنا یا دوسروں کو ایسے فعل کے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 216 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ارتکاب پر اکسانا جو مختلف مذاہب یا نسل کے لوگوں یا مختلف زبانیں بولنے والوں کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کے منافی ہو یا جو امن عامہ میں خلل ڈالے یا خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہو، کو جرم قرار دیا گیا تھا۔
قبل از تقسیم ہند دفعہ A-153 میں درج اقدامات کو مذہب پر حملہ تصور کیا جاتا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کے صدر جسٹس براڈوے تھے۔ اس بنچ نے کنور دلیپ سنگھ کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ دفعہ A-153 ایسے لٹریچر پر حاوی ہے جو فرقہ وارانہ فساد پھیلائے یا مذہبی دل آزاری کا باعث بنے۔ [ظفر اقبال نگینہ ، غازی علم دین شہید ص 42]
"رسالہ ورتمان" کیس
"رنگیلا رسول" کے بعد ایک اور مقدمہ "رسالہ ورتمان کیس" (Risala-i-virtman Case) مشہور ہوا۔ اس کا فیصلہ بھی 1927ء میں ہوا۔ اس مقدمہ Devi Sharn Sharma v. King Emperor میں عدالت نے "رنگیلا رسول" کیس میں جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلے کے برعکس دفعہ 153- A کے بارے میں قرار دیا:
....that a scurrillious, vituperative and foul attack on a religion or on its founder would come within the perview of section 153-A.
کسی مذہب یا اس کے بانی سے فحش کلامی، سب و شتم اور گھناؤنہ حملہ دفعہ A-153 کی زد میں آئے گا۔
کتاب "وچتر اجیون"
اسی زمانہ میں ایک اور کتاب لکھی گئی جس کا نام "وچتر اجیون" (Vichitra Jiwan) تھا۔ اس کتاب میں پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات اقدس میں ہندو مصنف نے سخت توہین آمیز انداز اختیار کیا تھا۔ یہ مقدمہ (kali Charan Sharma v. King Emperor) ہائی کورٹ میں پیش ہوا اور اس کتاب کے مندرجات کے بارے میں عدالت نے لکھا:
...that the book entitled Vichitra Jiwan depiciting the life of the prophet Mohammad promoted feelings of enmity between Hindu and Muhammadans.
"وچتراجیون" نامی کتاب میں پیغمبر محمد (ﷺ) کی جو تصویر کشی کی گئی ہے اس سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دشمنی کو ہوا ملی ہے۔
اس مقدمہ کالی چرن شرما کے فیصلہ میں جسٹس دلال (Dalal) نے لکھا کہ میں اس معاملہ کو ہائی کورٹ کے ایک فاضل جج کے طور پر نہیں بلکہ انڈیا کے کسی قصبہ میں رہنے والے عام آدمی کے طور پر لوں گا۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 217 تحفظ ناموس رسالت نمبر
میں خود کو اس مسلمان کے مقام پر رکھوں گا جو اپنے پیغمبر کی عزت کرتا ہے اور پھر دیکھوں گا کہ اس ہندو مصنف کے بارے میں میرے کیا جذبات ہیں جو پیغمبر کا تمسخر اڑاتا ہے۔ اس سطح پر ایک عام آدمی کی مانند میں مصنف سے نفرت کی بنا پر اس طبقے سے بھی نفرت کروں گا جس سے یہ مصنف تعلق رکھتا ہے۔ [ AIR 1927 All 654]
1927ء میں دفعہ 295-A سے متعلق سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ
1927ء میں قائم کی جانے والی ایک کمیٹی The Select Committee جس کی رپورٹ گزٹ آف انڈیا (Gazettee of India, dated 17th September 1927, part v, p.251) میں شائع ہوئی، نے اپنی رپورٹ میں نئی دفعہ 295-A کے متعلق لکھا کہ یہ ضروری نہیں کہ بانی مذہب کی توہین مذہب کی توہین ہو، اگرچہ بانی مذہب کی توہین سے اس مذہب کے پیروکاروں کے جذبات مجروح ہوئے ہوں۔ کمیٹی نے یہ رائے دی کہ نئی دفعہ کا اطلاق صرف ان معاملات میں ہو گا جہاں دانستہ طور پر مذہب کی توہین کی گئی ہو تاکہ اس کے پیروکاروں کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں۔ رپورٹ کے الفاظ ہیں:
It has in one instance been held that an insult to the founder of a religion is not necessarily an insult to the religion although it may outrage the religious feelings of the followers of that religion. We have therefore provided that the new section shall only apply to cases where a religion is insulted with the deliberate intention of outraging the religious feelings of its followers.[PPC page 271]
سلیکٹ کمیٹی کی مندرجہ بالا رپورٹ نے یہ واضح کر دیا کہ انڈین پینل کوڈ میں شامل کی جانے والی نئی دفعہ 295-A کا اطلاق صرف اس صورت میں ہو گا جب کسی مذہب کے پیروکاروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے دانستہ طور پر اس مذہب کی توہین کی جائے۔ یہ کسی مذہب کے بانی کو کوئی قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتی اور نہ ہی کسی مذہب کے بانی قائد کی توہین کو جرم قرار دیتی ہے۔
یہی وجہ تھی کہ "رنگیلا رسول" نامی کتاب جس میں پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات مطہر و مقدس کے بارے میں نہایت قابل اعتراض مواد تحریر تھا، اسے شائع کرنے پر راجپال کو توہین مذہب کا مجرم نہ گردانتے ہوئے بری کر دیا گیا تھا۔
راجپال کی بریت کا فیصلہ انگریزی عدالت کے ججوں کی طرف سے تو کر دیا گیا لیکن انجمن خدام الدین شیرانوالہ گیٹ لاہور نے راجپال کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ دے دیا۔ [ظفر اقبال نگینہ، غازی علم دین شہید ص 42]
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 218
24 اکتوبر 1927ء کو صبح کے وقت راجپال اپنی دکان پر تھا کہ لاہور کے ایک شخص خدا بخش اکوجہا نے تیز دھار چاقو سے اس پر حملہ کر دیا۔ اسے چار زخم آئے لیکن وہ بچ رہا۔
9 اکتوبر 1927ء کو عبدالعزیز نامی ایک شخص نے راجپال کی دکان پر بیٹھے ستیانند نامی شخص کو راجپال سمجھ کر اس پر حملہ کیا۔ ستیانند اسلام کے خلاف گفتگو کر رہا تھا۔ عبدالعزیز نے اسے توہین اسلام سے منع کیا۔ اس کے باز نہ آنے پر عبدالعزیز نے اس پر حملہ کر دیا جس سے ستیانند زخمی ہو گیا۔
6 اپریل 1929ء کو راجپال کار میں سوار ہو کر اپنے دفتر آیا۔ لاہور کے علم دین نے چھری سے اس پر حملہ کر کے قتل کر دیا۔ 22 مئی 1929ء کو علم دین کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ 17 جولائی 1929ء کو لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت کی توثیق کی اور 31 اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں علم دین کو پھانسی دے دی گئی۔ لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں غازی علم دین شہید کا مزار ہے۔
لہٰذا قبل از تقسیم ہند صرف مذہب کی توہین کو جرم قرار دیا گیا تھا اور وہ بھی اس صورت میں جب یہ اقدام دانستہ اور معاندانہ نیت سے کسی مذہب کے افراد کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے کیا گیا ہو۔
1941ء میں "شبشرما" مقدمہ کا فیصلہ
Shib Sharma v. Emperor [AIR 1941 Oudh 310]
1941ء میں (Shib Sharma v. Epleror) نامی مقدمہ کا فیصلہ سنایا گیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں ایک ہندو مصنف نے کتاب لکھی۔ اس کتاب میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں جو کچھ لکھا اس کے اقتباسات مسلمانوں کی مذہبی کتب سے لیے گئے تھے لیکن ان اقتباسات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اس انداز سے پیش کیا گیا جس سے رسول اللہ ﷺ کی توہین ہوتی تھی۔ اس مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے اودھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھامس (Thomas) نے لکھا:
Section 153-A applies where author collects a number of passages from Muslim books which may be perfectly right and harmless in their proper setting, but which, when disconnected or detached, seem scurrilous, indecent and highly objectionable.
دفعہ A-153 کا اطلاق وہاں ہوتا ہے جہاں مصنف مسلمانوں کی کتابوں سے ایسی بہت سی عبارتوں کے ٹکڑے لیتا ہے جو اپنی مناسب جگہوں میں مکمل طور پر درست اور بے ضرر ہوں۔ لیکن جب عبارتوں کے ان ٹکڑوں کو وہاں سے علیحدہ کیا جائے تو وہ گالی گلوچ، نامناسب اور انتہائی قابل اعتراض نظر آئیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، ا
قیام پاکستان
14/ (PPC) کے طور رہا یعنی مذہب کی توہین پر کوئی سز نامو
تفصیل سے جائ ناموس رسال ججوں کے فیصلوں جس کا پاکستان پادری کہا ہے: عدالتی نظام کی قانون کی تشر دفعہ A-295 1954ء میں in the n and Gazette
یہ مقد پیش ہوا۔ اس کا فیصل خواجہ نذ دی کہ حکومت پاکست ہے اور اسے ضبط کر لٹریری ٹرسٹ لاہور کا مواد پاکستان پینل مذہبی عقائد کی توہین
تحفظ ناموس رسالت نمبر
دکان پر تھا کہ لاہور کے ایک شخص خدا بخش نے اسے چھرا وہ بچ رہا۔ نے راجپال کی دکان پر بیٹھے ستیانند نامی شخص کو کہا تھا۔ عبدالعزیز نے اسے توہین اسلام سے منع پر ستیانند زخمی ہو گیا۔ لاہور کے علم دین نے چھری سے اس پر حملہ کر کے کیا گیا۔ 17 جولائی 1929ء کو لاہور ہائی کورٹ جیل میں علم دین کو پھانسی دے دی گئی۔ لاہور کر دیا گیا تھا اور وہ بھی اس صورت میں جب یہ جذبات کو مجروح کرنے کے لیے کیا گیا ہو۔
مقدمہ کا فیصلہ سنایا گیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں جو کچھ لکھا اس اقتباسات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اس انداز مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے اودھ ہائی کورٹ
Section 153-A appli passages from Muslim harmless in their prop or detached, seen objectionable.
توں کی کتابوں سے ایسی بہت سی طور پر درست اور بے ضرر ہوں۔ تو وہ گالی گلوچ، نامناسب اور انتہائی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 219 تحفظ ناموس رسالت نمبر
قیام پاکستان کے بعد قانون ناموس رسالت
14 اگست 1947 کو پاکستان بننے کے بعد انڈین پینل کوڈ 1860ء (IPC) ہی کو پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے طور پر اختیار کر لیا گیا۔ لہٰذا قیام پاکستان کے بعد بھی توہین مذہب کا قانون کافی عرصہ تک پہلے والا ہی رہا یعنی مذہب کی توہین پر دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں نافذ تھیں۔ فوت شدہ مذہبی بانی و لیڈر کی توہین پر کوئی سزا موجود نہیں تھی۔ مذہب اور پیغمبر کے خلاف لکھا جانے والا مواد ضبط کر لینے کا حکم تھا۔
ناموس رسالت سے متعلق پاکستان کے قانون میں کیا کیا ارتقائی مراحل طے ہوئے، ذیل میں اس کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی عدالتوں کے مشہور مقدموں کی روشنی میں قانون ناموس رسالت منشاء مزاج کی وضاحت کی جائے گی۔ عدالتی فیصلے کسی قانون کو سمجھنے کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ ججوں کے فیصلوں کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ عدالتی فیصلے قانون کی تشریح کرتے ہیں۔ اینگلو سیکسن قانون جس کا پاکستان میں تسلسل ہے، اس کے اصولیین (experts of jurisprudence) نے ججوں کو قانون کے پادری کہا ہے: The judiciary are the priests of the law اور عدالتی نظائر (precedents) کو عدالتی نظام کی زندگی کا خون (life blood of legal system) قرار دیا گیا ہے۔ عدالتوں کے جج نہ صرف قانون کی تشریح کرتے ہیں بلکہ بقول بینتھم (Bentham) وہ قانون بھی بناتے ہیں۔
دفعہ A-295 اور چند مشہور عدالتی فیصلے
1954ء میں کتاب "جیسس اِن ہیون آن ارتھ" پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
In the matter of the book (Jesus in Heaven on Earth) and in the matter of the petition of the working Muslim Mission and Literary Trust, Lahore and of the civil and Military Gazette Limited Lahore Versus the crown ... Respondent.
[PLD 1954 Lahore 724]
یہ مقدمہ چیف جسٹس ایم آر کیانی، جسٹس شبیر احمد اور جسٹس ایم اے صوفی پر مشتمل بینچ کے سامنے پیش ہوا۔ اس کا فیصلہ چیف جسٹس کیانی نے لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے:
خواجہ نذیر احمد ایڈووکیٹ جو احمدیہ لاہور شاخ سے تعلق رکھتا ہے اس نے ہائی کورٹ میں درخواست دی کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس کی کتاب "Jesus in Heaven on Earth" پر پابندی لگا دی گئی ہے اور اسے ضبط کر لیا گیا ہے۔ ضبطی کے اس حکم کو ختم کیا جائے۔ یہ کتاب 1952ء میں دی ورکنگ مسلم اینڈ لٹریری ٹرسٹ لاہور نے شائع کی جسے حکومت پاکستان نے اپریل 1953ء میں اس بنیاد پر ضبط کر لیا کہ اس کتاب کا مواد پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ A-295 کے تحت قابل سزا ہے اور یہ کتاب پاکستانی عوام کے ایک گروہ کے مذہبی عقائد کی توہین کرتی ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
جون 1953ء میں قانون ساز اسمبلی کے دو مسیحی ممبران مسٹر گبن (C.G.Gibben) اور مسز سنگھا (Mrs. S.P.Singha) نے اس مقدمہ میں فریق بننے کی درخواست دی۔ مسٹر گبن جو پاکستان جوائنٹ کرسچن بورڈ کے صدر ہیں، نے کہا کہ اس کتاب نے متذکرہ مسیحیوں کے جذبات کو مشتعل کیا ہے۔ ان کے مذہبی جذبات کی توہین کی ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد یہ فیصلہ دیا:
کسی فرقہ کی دیانتدارانہ تبلیغ انسانیت کی سالمیت کی طرف لے کر جاتی ہے۔ ہمیں کسی جگہ حد بندی ضرور کرنا ہو گی۔ جہاں بحث و تنازعہ ختم ہو کر بغض و عناد شروع ہو جائے وہیں حد ہو گی۔ اس عدالت کا کوئی جج اس بات کو برداشت نہیں کرے گا کہ ملکی قانون کی اس طرح سے تشریح کی جائے کہ ریاست کی غیر مسلم اور دوسری اقلیتوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے بلکہ انہیں ریاست کے قانون میں سکون و آرام ملنا چاہیے۔
مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ دفعہ A-295 اس کیس پر لاگو ہوتی ہے لیکن دفعہ A-295 کے بارے میں میں پُر یقین نہیں ہوں۔ اگرچہ اس کتاب میں مذہبی عقائد کی توہین کی گئی ہے لیکن یہ فرض کرنا آسان نہیں ہے کہ مصنف نے دانستہ اور معاندانہ نیت سے ایسا کیا ہے۔ جس طرح ایک ہندو کی طرف سے "رنگیلا رسول" لکھنے پر مسلمان تمام ہندوؤں کے خلاف ہو گئے تھے، اس طرح ہر مسیحی بھی ایک انسان ہوتے ہوئے تمام مسلمان آبادی سے بدظن ہو جائے گا۔ لہٰذا میں ضبطی کے حکم کو ختم کرنے کی یہ درخواست مسترد کرتا ہوں۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ اس وقت دیا گیا تھا جب ابھی پاکستان کی قانون ساز پارلیمنٹ نے قادیانیوں اور احمدیوں کی غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا تھا۔
بنائے فیصلہ (ratio decidendi):
- 1- غیر مسلموں اور اقلیتوں کو ریاست کے قانون میں سکون و آرام ملنا چاہیے۔
- 2- ہر مذہبی فرقہ کو تبلیغ کی اجازت ہے لیکن جہاں بحث و تنازعہ ختم ہو کر بغض و عناد شروع ہو
جائے وہیں تبلیغ کی حد بندی ہو گی۔
- 3- کسی کام میں دانستہ اور معاندانہ نیت نہ بھی پائی جائے تب بھی ایسا اقدام جائز نہیں اگر اس کی وجہ
سے ایک مذہبی طبقہ دوسرے مذہبی گروہ کے تمام افراد سے بدظن ہو جائے۔
1960ء میں کتاب "میزان الحق" پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
The Punjab Religious book Society Lahore ...Petitioner Versus the State ... Respondent
[PLD 1960 (W.P) Lahore 629]
19. Detail 20. Place Place (i) SIRHAND SHI (ii) (iii) (iv) (v) (vi) (vii) (viii) 21. Address Area(s) (if Name/Father's Name 1. NIL NIL 2. NIL NIL 3. 4. 5. 6. 7. 8. 22. Address at Place 1. SIRHAND SHARIF 2. 3. 4. 5.
تحفظ ناموس رسالت نمبر مسٹر گبن (C.G.Gibben) اور مسٹر سنگھا سخت دی۔ مسٹر گبن جو پاکستان جوائنٹ کے جذبات کو مشتعل کیا ہے۔ ان کے
طرف لے کر جاتی ہے۔ ہمیں بغض و عناد شروع ہو جائے کرے گا کہ ملکی قانون کی اس اقلیتوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے
اس پر لاگو ہوتی ہے لیکن دفعہ کتب میں مذہبی عقائد کی توہین اور معاندانہ نیت سے ایسا کیا مسلمان تمام ہندووں کے کہ تمام مسلمان آبادی سے مسترد کرتا ہوں۔ قانون ساز پارلیمنٹ نے قادیانیوں اور
علم ملنا چاہیے۔ ختم ہو کر بغض و عناد شروع ہو
ایسا اقدام جائز نہیں اگر اس کی وجہ من ہو جائے۔
The Punjab Reli Versus the State ... [PLD 1960 (W.P) Lahore 62
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 221 تحفظ ناموس رسالت نمبر
یہ مقدمہ چیف جسٹس ایم آر کیانی، جسٹس شبیر احمد اور جسٹس بدیع الزماں کیکاؤس پر مشتمل فل بینچ کے سامنے پیش ہوا۔ فیصلہ جسٹس شبیر احمد نے لکھا جس کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے: حکومت مغربی پاکستان کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم نامہ 127 اپریل 1959ء کو پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی انار کلی لاہور کے جنرل منیجر کو موصول ہوا۔ اس حکم نامہ کے مطابق سوسائٹی کی جانب سے شائع ہونے والی کتاب "میزان الحق" کی تمام کاپیوں بشمول اردو ترجمہ والی کاپیوں کو ضبط کر لیا گیا کیونکہ اس کتاب میں پاکستانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی توہین کی گئی تھی جو کہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-A کے تحت قابل سزا ہے۔
سوسائٹی کے جنرل منیجر کی جانب سے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے اس حکم کو ختم کرنے کی درخواست کی گئی۔ درخواست میں کہا گیا کہ متذکرہ بالا کتاب "میزان الحق" ایک جرمن مشنری Rev. C.G.Fander کی ایک سو سال قبل لکھی گئی کتاب کا ترجمہ ہے۔ یہ کتاب پہلے جرمن زبان میں شائع ہوئی۔ بعد میں انگریزی، ترکی، عربی، فارسی اور اردو زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے۔ سوسائٹی کی جانب سے اس کا اردو ترجمہ 1891ء میں شائع ہوا تھا اور عوام میں اس کی فروخت جاری رہی۔ چوتھا ایڈیشن 1946ء میں اور پانچواں ایڈیشن 1953ء میں سوسائٹی کی جانب سے شائع ہوا۔
یہ کتاب جس کی ضبطی کے احکام حکومت مغربی پاکستان نے جاری کیے، اس کا موضوع اسلام اور مسیحیت کے درمیان موازنہ کرنا ہے۔ مصنف جو کہ خود مسیحی ہے اور جیسا کہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ مسیحیت کا مذہب سچا ہے اور اسلام سچا مذہب نہیں ہے۔ مصنف اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ اس کا مقصد مسیحیت کو اسلام سے برتر ثابت کرنا ہے لیکن اس نے مذکورہ کتاب میں ایک سے زیادہ مواقع پر یہ کہا ہے کہ اس کا مقصد مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں ہے۔
ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کردہ ضبطی کا حکم یہ نہیں بتاتا کہ یہ کتاب دانستہ طور پر اور معاندانہ نیت سے لکھی گئی ہے تاکہ پاکستان کے مسلمانوں کے مذہبی عقائد اور اسلام کی توہین ہو۔ بلکہ اس حکم میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ متذکرہ کتاب ایسے مواد پر مشتمل ہے جو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-A کے تحت قابل سزا ہے۔
صوبائی حکومت کے فاضل وکیل کی جانب سے عدالت میں کتاب مذکورہ کے قابلِ اعتراض حصے پڑھے گئے۔ بینچ کی طرف سے یہ واضح کیا گیا کہ اگرچہ ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ مکمل طور پر بے ضرر ہیں لیکن ان میں سے اکثر عبارتیں دفعہ 295-A کی زد میں نہیں آتیں۔
درخواست گزار کے فاضل وکیل مسٹر جرمی (Jermy) نے یہ موقف اختیار کیا کہ کتاب "میزان الحق" گزشتہ ایک صدی سے بازار میں فروخت ہو رہی ہے لیکن ماضی میں اس کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتاب میں کوئی قابلِ اعتراض مواد نہیں ہے۔ لیکن مسٹر جرمی کی اس دلیل میں کوئی
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء 222
وزن نہیں ہے۔ 1947ء میں پاکستان بننے سے قبل اس طرح کے معاملات کو طے کرنے کے حقیقی اختیارات ان لوگوں کے ہاتھ میں تھے جن کی اکثریت غیر مسلم تھی۔
پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ A-295 میں مقننہ نے "ارادہ" (intention) کو "دانستہ" (delibrately) اور "معاندانہ" (maliciously) کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔ اگر نیت کا دانستہ اور معاندانہ ہونا ضروری نہ قرار دیا جائے تو تمام مذہبی بحثوں کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ ایک فعل کو سرانجام دیتے وقت کسی شخص کی کیا نیت تھی اسے صرف فاعل ہی جانتا ہے۔ قانون یہ فرض کرتا ہے کہ فاعل اپنے افعال کے عمومی اور قدرتی نتائج سے آگاہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص دوسرے کو گولی مار کر اسے قتل کر دیتا ہے تو قانون یہ فرض کرے گا کہ یہ ایک انسان کا ارادی قتل تھا۔ اگر گولی چلانے والا یہ ظاہر کرنا چاہے کہ اس کا ارادہ مقتول کو قتل کرنے کا نہیں تھا تو اس کا بارِ ثبوت (burden of proof) اس پر ہوگا۔ مذہبی بحثوں اور متنازعہ باتوں میں بھی اس اصول کا اطلاق ہوگا۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے مذہبی جذبات کے خلاف کوئی بات کہتا ہے تو قانون یہ فرض کرے گا کہ اس کا ارادہ دوسرے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا تھا۔ بہر حال دیگر مہذب ممالک کی طرح پاکستان کا قانون بھی مذہبی بحثوں اور تبلیغ کی ممانعت نہیں کرتا۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر قانون ان چیزوں پر زبان بندی کر دے تو ایسا کرنا ناممکن کو حاصل کرنا ہو گا۔ یہ واضح ہے کہ دو مذاہب کے موازنہ میں ایسی باتیں عموماً کہی اور لکھی جائیں گی جو دوسرے مذہب کے پیروکاروں کے مذہبی جذبات کی توہین کے زمرے میں آئیں گی۔ لیکن پھر بھی دفعہ A-295 میں درج شرائط پوری نہیں ہوں گی۔ یہ شرائط اس وقت پوری ہوں گی جب یہ ثابت ہو جائے کہ مذہبی عقائد کی توہین کا ارادہ دانستہ اور معاندانہ تھا۔
کتاب متذکرہ ایک بہت متنازعہ موضوع سے متعلق ہے جس سے مصنف کی تحقیق و تعلیم ظاہر ہوتی ہے۔ اس نے کتاب میں درج تمام دلائل مسلمان مصنفین کی کتب سے نقل کیے ہیں جن میں سے بعض کتب اکثر مسلمانوں کے نزدیک مستند ہیں۔ کتاب کے زیر غور حصے لہجے کے اعتبار سے بقیہ کتاب کے عام لہجے سے مختلف ہیں۔ بہر حال مسٹر جری پر واضح کیا گیا ہے کہ کتاب مکمل طور پر غیر جانبدارانہ نہیں ہے۔ کتاب کے وہ حصے جن کے جارحانہ ہونے کی بنچ نے نشاندہی کی ہے، کتاب کے آئندہ ایڈیشن میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ پنجاب ریلیجئس بک سوسائٹی لاہور جس کے بورڈ کے چیئرمین بشپ آف لاہور ہیں، کی جانب سے دی جانے والی ضمانتوں کا احترام کیا جائے گا۔ میں نے کتاب میں پائے جانے والے قابلِ اعتراض حصوں کو نقل نہیں کیا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میں بالواسطہ طور پر ان مسلمانوں کو ناراض کرنے کا سبب بنوں جنہوں نے ابھی یہ کتاب نہیں پڑھی لیکن شائد وہ یہ فیصلہ پڑھیں گے۔ معاملہ کو کسی قسم کی غلطی سے پاک کرنے کے لیے میں قابلِ اعتراض حصوں کے صفحات کا ذکر کر دیتا ہوں۔ صفحات: 103، 104، 129، 130، 147، 274، 341، 376، 379 اور صفحہ 475۔
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء 223
مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں میں درخواست منظور کرتا ہوں اور صوبائی حکومت کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ درخواست گزار کو مبلغ -/300 روپے اخراجات کے ادا کرے۔ (تلخیص)
اس طرح لاہور ہائی کورٹ نے کتاب "میزان الحق" میں بعض قابل اعتراض مواد ہونے کے باوجود کتاب کو تحقیق و تعلیم قرار دیتے ہوئے اس کی پابندی کے خلاف درخواست منظور کی۔
بنائے فیصلہ (ratio decidendi):
- 1۔ مقننہ نے "ارادہ" کو "دانستہ" اور "معاندانہ" کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔
- 2۔ مندرجہ بالا اصول کا اطلاق مذہبی بحثوں اور متنازعہ باتوں میں بھی ہوتا ہے۔
- 3۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے مذہبی جذبات کے خلاف کوئی بات کہتا ہے تو قانون یہ فرض
کرے گا کہ اس کا ارادہ دوسرے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا تھا۔ اس کے برعکس ثابت کرنے کا بار (burden of proof) اس شخص پر ہے۔
1962 میں کتاب "ڈویلپمنٹ آف مسلم تھیالوجی" پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
Muhammad Khalil ... Petitioner Versus The State ... Respondent
[PLD 1962 Lahore 850]
اس مقدمہ کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے ایک فل بنچ نے کی جو چیف جسٹس ایم آر کیانی، جسٹس شبیر احمد اور جسٹس عبدالعزیز خان پر مشتمل تھا۔ مقدمہ کا فیصلہ چیف جسٹس ایم آر کیانی نے لکھا۔
شیخ محمد خلیل پریمیئر بک ہاؤس کچہری روڈ لاہور نے حکومت مغربی پاکستان کے حکم مورخہ 4 جنوری 1960ء کو ختم کرنے کی درخواست دی تھی جس کے تحت درخواست گزار کی طرف سے شائع کردہ کتاب " Development of Muslim Theology, Jurisprudence and Constitutional Theory " کو ضبط کر لیا گیا تھا۔ اس کتاب کے مصنف کا نام Duncan B. Macdonald تھا۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1903ء میں امریکہ میں اور بعد میں 1960ء میں لاہور میں شائع ہوئی تھی۔ یہ ایک تحقیقی کتاب تھی جسے پنجاب یونیورسٹی نے ایم اے اسلامیات کے نصاب میں تجویز کیا تھا۔
حکومت نے یہ کتاب ضبط کرنے کی وجوہ میں لکھا کہ متذکرہ کتاب سے پاکستانی مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان دشمنی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ کتاب دانستہ طور پر معاندانہ نیت سے لکھی گئی ہے اور اس میں بالعموم تمام مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور ان کی توہین کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ A-153 اور A-295 کے تحت ایسا مواد شائع کرنا مستوجب سزا ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 224 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس کتاب میں نبی اسلام ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہونے کا واقعہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے مسئلہ پر خانہ جنگی، بعض قرآنی آیات کے احکام میں پایا جانے والا بظاہر تناقض، عرب قوم اور صوفیاء کرام سے متعلق بحثوں کے علاوہ مدینہ میں نبی اکرم ﷺ کے طرزِ حکمرانی کے متعلق مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آپ کو مطلق العنان بادشاہ (Absolute monarch) اور اس عہد کو موقع پرستی کا دور (The system was one of opportunism) کہا ہے۔
عدالت نے مذکورہ کتاب کے قابل اعتراض حصوں کی اصلاح اور درستی کرنے کو کہا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کتاب ایک تحقیقی کتاب ہے اور اس میں شائع شدہ مواد پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 153-A اور 295- A کی زد میں نہیں آتا۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے اس کتاب کی ضبطی کے حکم کو ختم کر دیا۔
(تلخیص)
1980ء میں دفعہ 298-A کا اضافہ : رسول اللہ ﷺ کی زوجات، اہل بیت اور صحابہ
علیہم الرضوان کی توہین پر سزا
قیام پاکستان کے تقریباً 33 برس بعد 1980ء میں ایک صدارتی آرڈی ننس Pakistan Penal Code (Second Ammendment) Ordinance XLIV of 1980 کے تحت پاکستان پینل کوڈ میں دفعہ 298-A شامل کی گئی جس کی رو سے پیغمبر اسلام ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ (ام المومنین)، اہل بیت یا خلفائے راشدین یا صحابہ کرام علیہم الرضوان پر زبانی یا تحریری یا ظاہری اشاروں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ اتہام، طعن زنی یا درپردہ تعریض سے توہین و بے حرمتی کرنے پر زیادہ سے زیادہ تین برس تک قید محض یا جرمانہ یا دونوں سزائیں بیک وقت دی جاسکیں گی۔
دفعہ 298-A کے الفاظ یہ ہیں:
"Whoever by words, either spoken or written or by visible respresentation, or by any imputation, innuendo or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of any wife (Ummul-Mumineen), or members of family (Ahle-Bait), of the Holy Prophet (peace be upon him), or any of the righteous Caliphs (Khulafa Raashideen) or Companions (Sahaaba) of the Holy Prophet (peace be upon him) shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to three years, or with fine, or with both."
تحفظ ناموس رسالت نمبر ، عائشہ صدیقہ ؓ کا ہار گم ہونے کا واقعہ، حضرت رت عثمان ؓ کے مسئلہ پر خانہ جنگی، بعض قرآنی و صحابہ کرام سے متعلق بحثوں کے علاوہ مدینہ میں ات کا اظہار کرتے ہوئے آپ کو مطلق العنان قی کا دور) The system was one of اصلاح اور درستی کرنے کو کہا۔ عدالت نے قرار ستان پینل کوڈ کی دفعہ A-153 اور -295 ی کی ضبطی کے حکم کو ختم کر دیا۔ (تلخیص) ﷺ کی زوجات، اہل بیت اور صحابہ صدارتی آرڈی ننس Pakistan Penal Code (Seco کے تحت پاکستان پینل کوڈ کسی زوجہ محترمہ (ام المومنین)، اہل بیت یا ہری اشاروں سے بالواسطہ یا بلا واسطہ اتہام، ے زیادہ تین برس تک قید محض یا جرمانہ یا
"Whoever by words, respresentation, or by directly or indirectly (Ummul-Mumineen), Holy Prophet (peace Caliphs (Khulafa Ra the Holy Prophet (p imprisonment of ei extend to three years,
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ ،اپریل 2011ء 225 تحفظ ناموس رسالت نمبر
1982ء میں دفعہ B-295 کا اضافہ : قرآن کی بے حرمتی پر عمر قید
1982ء میں ایک اور صدارتی آرڈی ننس Ordinance 1 of 1980, dated 18-3- 1982 کے تحت پاکستان پینل کوڈ میں B-295 کو شامل کیا گیا جس کے تحت قرآن مجید یا اس میں سے کسی اقتباس کی دانستہ طور پر بے حرمتی کرنے، نقصان پہنچانے یا اسے کسی معیوب یا کسی غیر قانونی مقصد کے لیے استعمال کرنے والے کو عمر قید کی سزا مقرر کی گئی۔
اس دفعہ کی عبارت یہ ہے:
"Whoever willfully defiles, damages or desecrates a copy of the Holy Quran or of an extract thereof or uses it in any derogatory manner or for any unlawful purpose shall be punished with imprisonment for life."
توہین کتابچہ "نماز مترجم" مقدمہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ
[1991 S.C.M.R 1734]
6/ اپریل 1982ء کو عبید اللہ پر الزام لگایا گیا کہ اس نے "نماز مترجم" کی ایک کتاب کو پاؤں تلے روندا ہے۔ عبید اللہ نے انکار کیا اور کہا کہ کچھ نامعلوم افراد نے اس کی جیب میں "نماز مترجم" ڈال کر اسے پیٹنا شروع کر دیا۔ بعد میں مجھ پر "نماز مترجم" نامی مقدس کتاب کی توہین کا الزام لگا دیا۔ عبید اللہ پر ایڈیشنل جج بہاولپور کی عدالت میں پینل کوڈ کی دفعہ B-295 کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ نے عبید اللہ خارج کر دی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے عبید اللہ کو بری کر دیا کہ وہ ایک ان پڑھ شخص ہے اور "نماز مترجم" اپنے پاس رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور جو بھی توہین ہوئی ہے اس میں عبید اللہ کا کوئی ارادہ بد نہیں پایا جاتا۔ (تلخیص)
بنائے فیصلہ (ratio decidendi):
- 1- توہین میں ارادہ بد کا نہ پایا جانا
- 2- کتابچہ "نماز مترجم" کی توہین میں ملزم کا ارادہ بد نہیں پایا جاتا۔
حرمتِ قرآن کے مقدمہ میں کراچی ہائی کورٹ کا فیصلہ
M.M.K.A.Zia Versus The Director General FIA
[PLD 1988 Karachi 305]
درخواست گزار ایم ایم کے اے ضیاء نے تاج کمپنی کے گودام میں موجود ایسے قرآن مجید کی تلاش میں ایف آئی اے کی مدد کی تھی جن کی جلدوں میں قابل اعتراض تصاویر پائی گئی تھیں۔ درخواست گزار کا خیال تھا کہ FIA کے ڈائریکٹر جنرل کو چاہیے تھا کہ وہ اس کیس کو مزید آگے بڑھاتا۔ کارروائی کے دوران یہ ظاہر ہوا کہ
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 226
1985ء میں تاج کمپنی نے اٹلی کی ایک فرم کو 12500 کی تعداد میں قرآن مجید کی چھپوائی کا آرڈر دیا۔ بہر حال قرآن کے ان نسخوں کی جلد بندی اٹلی میں ہوئی جہاں پرانے آرٹ رسالوں کے صفحات قرآن مجید کی جلدوں میں رکھ دیئے گئے۔ ان صفحات میں سے بعض پر عریاں تصاویر تھیں۔ تاج کمپنی نے اس فرم کے مزید آرڈر منسوخ کر دیئے اور سخت الفاظ میں ایک خط لکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ تاج کمپنی کی جانب سے کوئی دانستہ غلطی نہیں ہوئی لہٰذا کیس کو ڈسمس کر دیا گیا۔
(تلخیص)
1984ء میں B-298 کا اضافہ :
رسول اللہ ﷺ کی زوجات، اہل بیت اور صحابہ علیہم الرضوان اجمعین کے القاب استعمال کرنے کی ممانعت
1984ء میں کے صدارتی آرڈی ننس (XX) کے تحت پاکستان پینل کوڈ میں دفعہ B-298 شامل کی گئی۔ اس دفعہ کی رو سے قادیانیوں اور لاہوری احمدیوں کو رسول اللہ ﷺ کی زوجات مطہرات، اہل بیت اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام کے علاوہ کسی اور کو "امیر المومنین"، "خلیفۃ المومنین"، "خلیفۃ المسلمین"، "صحابی"، "رضی اللہ عنہ"، "ام المومنین"، "اہل بیت" کہنا اور اپنی عبادت گاہوں کو "مسجد" کے نام سے پکارنے کی ممانعت کر دی گئی۔ ایسا کرنے پر تین سال تک قید محض اور جرمانہ کی سزا نافذ کی گئی۔
پاکستان پینل کوڈ میں دفعہ B-298 کی عبارت اس طرح سے ہے:
... (1) Any person of the Qadiani Group or the Lahori Group (who call themselves "Ahmadis" or by other name) who by words, either spoken or written, or by visible representation,
- (a) refers to, or addresses, any person, other than a Caliph or
Companion of the Holy Prophet Muhammad (peace be upon him) as "Ameer-u-Mumineen", "Khalifa-tul-Mumineen", "Khalifa-tul-Muslimeen", "Sahaabi", or "Razi Allah Anho":
- (b) refers to, addresses, any person, other than a wife of the Holy
Prophet Muhammad (peace be upon him), as "Ummul- Mumineen";
- (c) refers to, or addresses, any person, other than a member of the
family (Ahle-bait) of the Holy Prophet Muhammad (peace be upon him), as "Ahle-bait"; or
- (d) refers to, or names, or calls, his place of worship as "Masjid":
shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to three years, and shall also be liable to fine.
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
1984ء میں پٹیشن: توہین رسالت کی سزا موت
1984ء میں جناب اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے فیڈرل شریعت کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی کہ توہین رسالت کی سزا موت مقرر کی جائے۔
1984ء میں بل: توہین رسالت کی سزا موت
شریعت کورٹ میں دائر کردہ اس پٹیشن کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ رکن قومی اسمبلی آپا نثار فاطمہ نے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کر دیا کہ توہین رسالت کے مجرم کے لیے سزائے موت کا قانون پاس کیا جائے۔
1986ء میں C-295 کا اضافہ : رسول اللہ ﷺ کی توہین پر موت یا عمر قید کی سزا
1986ء میں کریمنل لاء (ترمیمی) ایکٹ III مجریہ 1986ء کے تحت پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کرکے ایک نئی دفعہ C-295 کا اضافہ کیا گیا۔ پاکستان میں اب تک مذہب سے متعلق جن جرائم پر سزائیں نافذ تھیں ان میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی توہین و گستاخی کا جرم شامل نہیں تھا۔ اس نئی دفعہ C-295 کے تحت ایسے مجرم کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا اور جرمانہ کا مستوجب قرار دیا گیا جو زبانی، تحریری یا اعلانیہ یا اشارے سے یا کنایہ سے، براہِ راست یا بالواسطہ رسول اللہ ﷺ پر بہتان تراشی کرے اور آپ ﷺ کے نام مبارک کی بے حرمتی کا ارتکاب کرے۔ اس نئی دفعہ کے تحت عدالت کو صوابدیدی اختیار دیا گیا کہ وہ توہین رسالت کے مجرم کو موت یا عمر قید دونوں میں سے کوئی ایک سزا کا حکم سنا دے۔ اس دفعہ C-295 کے الفاظ یہ ہیں:
Use of derogatory remarks etc in respect of the Holy Prophet. Whoever by words, either spoken or written, or by visible representation, or by any imputation, innuendo, or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of the Holy Prophet Muhammad (peace be upon him) shall be punished with death, or imprisonment for life and shall also be liable to fine.
رسول اللہ ﷺ کی توہین کیس میں کراچی ہائی کورٹ کا فیصلہ
Mirza Mubarik Ahmad Nusrat Versus The State [PLF 1989 C.R.C. Karachi 314]
اس مقدمہ کا فیصلہ جسٹس امام علی جی قاضی نے لکھا۔ درخواست گزار مبارک احمد نصرت جو کہ احمدی ہے، کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ C-295 اور دفعہ C-298 کے تحت سیشن کورٹ سانگھڑ میں مقدمہ چل رہا ہے۔ صوبائی کنوینر مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ غلام احمد میاں ہمدانی نے کہا کہ اسے 9 نومبر 1988ء کو
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ایک رجسٹرڈ خط ملا جس میں ایک کتابچہ "مباہلہ" شامل تھا جس میں مرزا طاہر احمد نے چیلنج کیا تھا۔ خط کے آغاز میں لکھا تھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم و علی عبدہ المسیح الموعود۔
اس خط پر خاکسار مرزا مبارک احمد نصرت کے دستخط تھے۔ اس خط میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا گیا تھا لیکن اس میں جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد پر بھی درود بھیجا گیا ہے، جبکہ غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار پاکستان کے قانون کے تحت کافر ہیں۔ مرزا مبارک احمد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کر اور ایک کافر پر درود بھیج کر جرم کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کی ہے جو پینل کوڈ کی دفعہ C-295 کے تحت جرم ہے۔ اس نے بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم و علی عبدہ المسیح الموعود لکھ کر اور مرزا طاہر احمد کے چیلنج "مباہلہ" کو بھیجنے سے اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا ہے اور میرے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کو پاکستان پینل کوڈ میں پہلی مرتبہ 1986ء میں قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا۔ میں نے C-295 کو پڑھا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس دفعہ کے تحت جرم اسی صورت میں واقع ہو گا جب ایک شخص زبانی، تحریری یا ظاہری اشاروں سے براہ راست یا بالواسطہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس نام کی توہین، بے حرمتی اور طعن کرے۔ اس کیس میں الزام یہ ہے کہ درخواست گزار جو کہ عقیدہ کے اعتبار سے احمدی ہے، نے ایک مسلمان (شکایت کنندہ) کو مخاطب کرتے ہوئے خط میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے کے لیے عربی زبان کے بعض جملے استعمال کیے ہیں۔
ہمارے پینل لاء (تعزیراتی قانون) کا ایک واضح اصول mens rea یعنی مجرمانہ ارادہ، مجرمانہ توہین، بُرا ارادہ یا عمل کے غلط ہونے کا علم ہے۔ یہ کسی بھی جرم کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔ مندرجہ بالا عربی جملوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی توہین نہیں ہوئی۔ انصاف کے مقاصد کے حصول کے لیے یہ ضروری ہے کہ بھاری ضمانت طلب کی جائے۔ درخواست گزار کو 2 لاکھ روپے کی ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے۔ (تلخیص)
بنائے فیصلہ (ratio decidendi):
ہمارے پینل لاء (تعزیراتی قانون) کا ایک واضح اصول mens rea یعنی مجرمانہ ارادہ، مجرمانہ توہین، بُرا ارادہ یا عمل کے غلط ہونے کا علم ہے۔ یہ کسی بھی جرم کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔
شریعت کورٹ کا حکم: 30 / اپریل 1991ء سے C-295 کے الفاظ "یا عمر قید" حذف
1986ء میں پاکستان پینل کوڈ (PPC) میں شامل کی جانے والی نئی دفعہ C-295 کے تحت توہین
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
رسالت کے مجرم کی سزا عمر قید یا سزائے موت درج تھی۔ حکومتی محکمہ قانون و پارلیمانی امور کے ماہرین نے اس دفعہ کو جب ڈرافٹ کیا تو اہانت رسول ﷺ کی سزائے موت کے ساتھ ایک متبادل سزا "عمر قید" کا اضافہ کر دیا تھا کہ عدالت اہانت رسول ﷺ کے مجرم کو ان دونوں میں سے کوئی ایک سزا دے سکتی ہے۔
1987ء میں وفاقی شرعی عدالت (Federal Shariat Court of Pakistan) میں ایک شریعت پٹیشن دائر کی گئی جس میں توہین رسالت کی متبادل سزا عمر قید کو اسلامی احکام کے منافی قرار دے کر اسے ختم کرنے کی درخواست کی گئی۔
وفاقی شرعی عدالت پاکستان نے اس شریعت پٹیشن کا فیصلہ 30/اکتوبر 1990ء کو سنایا اور توہین رسالت کی متبادل سزا "عمر قید" کو غیر اسلامی اور قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان کو ہدایت جاری کی کہ "یا عمر قید" (or imprisonment for life) کے الفاظ کو پاکستان پینل کوڈ (تعزیرات پاکستان) کی دفعہ C-295 سے حذف کیا جائے۔ اس امر کے لیے وفاقی شرعی عدالت نے حکومت پاکستان کو 30/اپریل 1991ء تک مہلت دی۔
عدالت نے یہ فیصلہ بھی دیا کہ اگر 30/اپریل 1991ء تک ایسا نہ کیا گیا تو "یا عمر قید" کے الفاظ اس تاریخ سے غیر مؤثر ہوں گے۔ یوں وفاقی شرعی عدالت کے حکم کے تحت 30/اپریل 1991ء سے دفعہ C-295 میں درج "یا عمر قید" کے الفاظ حذف ہو کر غیر مؤثر ہو گئے اور توہین رسالت کے مرتکب کی سزا صرف موت مقرر ہو گئی۔
فیڈرل شریعت کورٹ کے اس تاریخی فیصلہ کا مطالعہ کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اہانت ناموس رسالت کی سزا موت کے قرآن و سنت سے دلائل مہیا کیے ہیں۔ ماہرین قانون اور علماء نے عدالت کی معاونت کرتے ہوئے کیسا کیسا طرز استدلال اختیار کیا اور عدالت کن دلائل پر کیسے انحصار کرتے ہوئے اپنے حتمی فیصلہ پر پہنچی۔
فیڈرل شریعت کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ
Mohammad Ismail Qureshi- Petitioner Versus Pakistan through Secretary Law and Parliamentary Affairs- Respondent [PLD 1991 Federal Shariat Court 10]
شریعت پٹیشن نمبر 6/L of 1987، فیصلہ مورخہ 30/اکتوبر 1990 اس شریعت پٹیشن میں درخواست گزار محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ C-295 کو چیلنج کیا تھا۔
یہ مقدمہ ایک فل بنچ نے سنا جو ان ججوں پر مشتمل تھا: چیف جسٹس گل محمد خان، جسٹس عبدالکریم خان کنڈی، جسٹس عبادت یار خان، جسٹس عبدالرزاق خان، جسٹس فدا محمد خان
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 230 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس مقدمہ میں وفاقی حکومت کی طرف سے میاں عبدالستار نجم ڈپٹی اٹارنی جنرل، حافظ ایس اے رحمان اور افتخار حسین چوہدری پیش ہوئے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے نذیر احمد غازی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ریاض الرحمان یزدانی اور جلال الدین خلد پیش ہوئے۔ این ڈبلیو ایف پی حکومت کی طرف سے میاں محمد اجمل ایڈیشنل اٹارنی جنرل، سندھ حکومت کی طرف سے حافظ ایس اے رحمان اور طارق رشید اور اللہ بخش گوندل دیگر کی جانب سے پیش ہوئے۔
عدالت نے بہت سے ماہرین قانون اور علماء کو اس کیس میں مدد کے لیے درخواست کی۔ کیس کی سماعت لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں ہوئی۔ مندرجہ ذیل ماہرین نے عدالت کی معاونت کی:
- 1- مولانا سبحان محمود
- 2- مولانا مفتی غلام سرور قادری
- 3- مولانا حافظ صلاح الدین یوسف
- 4- مولانا محمد عبدہ الفلاح
- 5- مولانا سید عبدالشکور
- 6- مولانا فضل ہادی صاحب
- 7- مولانا سعید الدین شیرکوٹی
- 8- مولانا گوہر امان اور
- 9- مولانا ریاض الحسن نوری
اس مقدمہ کا فیصلہ چیف جسٹس گل محمد خان نے لکھا جس کی تلخیص آئندہ سطور میں پیش کی جارہی ہے:
درخواست گزار محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ C-295 کو چیلنج کیا ہے۔ اس دفعہ کے الفاظ یہ ہیں:
Use of derogatory remarks etc in respect of the Holy Prophet. Whoever by words, either spoken or written, or by visible representation, or by any imputation, innuendo, or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of the Holy Prophet Muhammad (peace be upon him) shall be punished with death, or imprisonment for life and shall also be liable to fine.
نبی اکرم ﷺ کے بارے میں اہانت آمیز ریمارکس کا استعمال: جو کوئی تحریری یا زبانی الفاظ سے یا ظاہری نمونہ سے یا کسی تہمت یا طعن آمیز اشارے یا الزام سے خواہ یہ بلاواسطہ ہو یا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 231 تحفظ ناموس رسالت نمبر
بالواسطہ، حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرے گا تو اسے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔
اس دفعہ کے خلاف جو اعتراض اٹھایا گیا وہ یہ ہے کہ اس دفعہ میں توہین رسالت کے جرم کی متبادل سزا ”عمر قید“ قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ توہین رسالت کا جرم ”حد“ کے تحت آتا ہے اور قرآن وسنت میں دی گئی سزا ”موت“ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ فاضل وکیل نے اس ضمن میں سورت الانفال کی آیت 13 اور سورت النساء کی آیت 65 اور کچھ احادیث پر انحصار کرتے ہوئے یہ موقف بیان کیا ہے کہ اس جرم کی سزا صرف موت ہے اور کسی بھی عدالت کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ سزائے موت سے کم کوئی سزا دے۔
مولانا سبحان محمود نے ان آیات پر انحصار کیا: سورت التوبہ آیات: 65- 66، سورت الاحزاب آیت: 57، سورت الحجرات آیت: 2، سورت البقرۃ آیت: 217، سورت المائدۃ آیت: 75، سورت الزمر آیت: 1 اور 65 اور سورت محمد آیت: 28۔ انہوں نے دیگر احادیث کے علاوہ حضرت ابوقلابہؓ کی ایک روایت پر بھی انحصار کیا جس میں توہین رسالت کے مجرم کی سزا موت بیان کی گئی ہے۔ قاضی عیاضؒ کی روایت بھی پیش کی کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو نبی کو گالی دے اسے قتل کردو اور جو صحابہؓ کو گالی دے اسے کوڑے مارو۔ یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے توہین کے مرتکب کو موت کی سزا دی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اہانت کے مجرم کو موت کی سزا پر فقہاء کا اجماع (consensus) ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمر قید کی سزا توہین رسالت کی مجرم عورت یا غیر مسلم کو دی جاسکتی ہے۔
مفتی غلام سرور قادری نے ان قرآنی آیات پر انحصار کیا: سورت الحجرات آیت: 57، سورت التوبہ آیات: 61، 62، 65، 66، سورت الاحزاب آیت: 57، سورت النساء آیت: 65 اور سورت البقرۃ آیت: 104۔ انہوں نے بعض احادیث بھی پیش کیں جن کی رو سے توہین رسالت کے مجرم کی سزا صرف موت ہے۔ انہوں نے قرآن وحدیث کے دلائل سے کہا کہ ہر جرم میں توبہ قابل قبول ہے۔ انہوں نے قرآن واحادیث سے استدلال کرتے ہوئے اور حنفی فقیہ ابن عابدینؒ کے حوالے سے کہا کہ حنفی فقہاء کے نزدیک اس جرم میں توبہ کا قابل قبول ہونا راجح ہے۔
مولانا حافظ صلاح الدین یوسف نے حنفی فقہاء کے موقف پر انحصار کرتے ہوئے کہا کہ توہین رسالت کے مجرم کی توبہ قبول کی جائے گی اور اسے موت کی سزا نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے قرآنی آیت کے علاوہ حضرت ابن عباسؓ سے مروی حدیث نقل کی کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنا دین بدل ڈالے اسے قتل کر دو۔ ان کے نزدیک اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو وہ مرتد ہے لہٰذا اس کی سزا موت ہے۔ انہوں نے ابن تیمیہؒ کی رائے نقل کی کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کی ایسی ہی آراء پیش کیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء 232 تحفظ ناموس رسالت نمبر
مولانا محمد عبدہ الفلاح نے دوسری قرآنی آیات کے علاوہ سورت النساء کی آیت 46 کو پیش کیا اور احادیث بیان کیں جن کی رو سے گستاخ رسول کی سزا موت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے۔
مولانا سید عبدالشکور نے سورت التوبہ کی آیات 12، 24، سورت الاحزاب کی آیت 57 کو بطور دلیل پیش کیا۔ انہوں نے احادیث بھی بطور حوالہ پیش کیں کہ توہین کی سزا موت ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے گستاخوں کو سزائے موت دی تھی۔ انہوں نے عبدالرحمان الجزیری کی کتاب الفقه على المذاهب الأربعة جلد 5 صفحات 274- 275 اور ردالمحتار جلد 3 صفحات 290- 291 سے فقہاء کی آراء بیان کیں۔
مولانا فضل ہادی نے سورت التوبہ آیات 12، 65، 66، سورت المجادلہ آیت 22، سورت الاحزاب آیات 28، 57 اور سورت الحجرات کی آیت 2 کے علاوہ احادیث اور فقہاء کے اقوال پیش کیے کہ نبی کی اہانت کے مجرم کی سزا موت ہے۔
مولانا سعید الدین شرکوٹی نے مندرجہ ذیل آیات قرآنی بیان کیں: سورت النساء آیت 13، سورت الحجرات آیات 2، 3، سورت الفتح آیت 9، سورت الاحزاب آیت 57، سورت البقرۃ آیات 187، 229۔ انہوں نے گستاخ رسول کو سزائے موت دینے اور معاف کر دینے کے بارے میں احادیث نبوی پیش کیں۔ انہوں نے مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب "امداد الفتاویٰ" جلد 5 صفحات 166- 168 سے فقہاء کی آراء بیان کیں۔
تقریباً تمام فاضل علماء نے مندرجہ ذیل آیات قرآن پر انحصار کیا ہے: سورت الاحزاب آیت 57، سورت التوبہ آیات 61، 62، سورت المجادلہ آیات 18، 20، سورت الانفال آیات 12، 13، سورت الحشر آیت 4، سورت الاحزاب آیات 60، 61، سورت الحجرات آیت 2، سورت البقرۃ آیت 217، سورت المائدۃ آیت 5، سورت الانعام آیت 88، سورت الزمر آیت 65، سورت محمد آیت 9، سورت البقرۃ آیت 104، سورت النساء آیت 46۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک منافق جس کا نام بشر تھا اس کا ایک یہودی سے جھگڑا ہو گیا۔ یہودی نے اسے حضور ﷺ کے پاس فیصلہ کے لیے چلنے کو کہا۔ منافق نے اسے کعب بن اشرف کے پاس چلنے کو کہا۔ بہر حال وہ حضور ﷺ کے پاس گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ منافق اس فیصلہ پر رضامند نہیں تھا۔ لہٰذا وہ دونوں اپنے جھگڑے کو حضرت عمر ؓ کے پاس لے آئے۔ یہودی نے حضرت عمر ؓ کو بتایا کہ حضور ﷺ نے پہلے ہی اس کی حمایت میں فیصلہ کر دیا ہے۔ لیکن یہ آدمی اس پر رضامند نہیں ہے۔ حضرت عمر ؓ نے منافق سے کہا: کیا ایسا ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں۔ حضرت عمر ؓ اندر گئے، اپنی تلوار لی اور منافق کو قتل کر دیا اور کہا کہ میں نے اس شخص کے لیے فیصلہ کیا ہے جو نبی کے فیصلے کو نہیں مانتا۔
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 233
اس پر سورت النساء کی آیت 65 نازل ہوئی: "آپ رب کی قسم! یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں یہ آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں۔ پھر جو کچھ آپ فیصلہ کریں، (اس پر) اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر تسلیم خم کریں۔"
"روح المعانی" جلد 5 صفحہ 67 پر درج ہے کہ حضرت عمرؓ کا یہ اقدام جسے حضور ﷺ کی تائید حاصل ہے، گستاخ رسول کی سزا موت پر سند ہے۔
قرآن مجید نے واضح اعلان فرمایا کہ رسول کی توہین ارتداد ہے۔ قرآن مجید سورت التوبہ کی آیات 65 اور 66 میں کہتا ہے: "اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ ان سے کہو: کیا تمہاری دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہی تھی؟ لہٰذا اب عذرات نہ تراشو۔ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر بھی دیا تو دوسرے گروہ کو تو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہیں۔"
ابن تیمیہؒ نے الصارم المسلول صفحہ 31 پر مندرجہ بالا آیات کی تشریح میں کہا ہے کہ اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑانا کفر ہے۔ پس توہین رسول زیادہ سنگین جرم ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جو نبی کی توہین کرے وہ مرتد ہے۔
ابو بکر ابن العربیؒ نے احکام القرآن جلد 2 صفحہ 964 میں لکھا ہے کہ منافق لوگ دانستہ یا تمسخر کے لیے یہ لفظ بولتے تھے اور کیسی ہی صورت کیوں نہ ہو ایسا کرنا کفر ہے۔ کیونکہ کفریہ الفاظ میں مذاق اڑانا بھی کفر ہے۔
قرآن مجید نے نبی اکرم ﷺ کی خفیف سی ناراضی سے بھی منع کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے اس ظاہری دنیا سے وصال کے بعد آپ کی ازواج مطہرات سے نکاح کرنا حرام ہے۔ ازواج مطہرات کو مومنین کی مائیں قرار دے کر اس حوالہ سے نبی کریم ﷺ اور آپ کے اہل خانہ کی حرمت و ناموس کو ہمیشہ ہمیشہ محفوظ کر دیا۔ قرآن مجید میں ہے: "تمہارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف دو، اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات سے نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے (الاحزاب آیت 53)۔
رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ آپ کی توہین کا مجرم مستوجب سزائے موت ہے۔ فاضل جج نے یہاں سولہ احادیث درج کی ہیں:
- 1- حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جو نبی کو گالی دے اسے قتل کر دو اور
جو میرے صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے مارو۔
(الشفاء قاضی عیاض، جلد 2، صفحہ 194)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
- 2- حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عہد رسالت میں ایک نابینا شخص نے ایک لونڈی کو قتل کر
دیا جو رسول کو گالی دیتی تھی۔ اس نابینا شخص نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا لیکن وہ باز نہ آئی۔ ایک رات جب وہ حسب معمول رسول اللہ ﷺ کو گالی دے رہی تھی تو نابینا نے چھری لی اور اس کے پیٹ میں گھونپ کر اسے قتل کر دیا۔ اگلی صبح جب لونڈی کے قتل کا معاملہ رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں پیش ہوا تو آپ نے لوگوں کو جمع کر کے پوچھا: یہ کام کس نے کیا ہے؟ وہ کھڑا ہو اور اعتراف کرے کیونکہ جس نے یہ کام کیا ہے اس پر میرا یہ حق ہے۔ اس پر وہ نابینا شخص کھڑا ہوا اور لوگوں کو پھلانگتا ہوا آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: یارسول اللہ! میں نے اس لونڈی کو قتل کیا ہے کیونکہ وہ آپ کو گالیاں دیتی تھی۔ میں نے مسلسل اسے ایسا کرنے سے منع کیا لیکن وہ باز نہ آئی۔ میرے اس سے دو خوبصورت بچے بھی ہیں اور وہ میری بہت اچھی رفیقہ تھی۔ لیکن گزشتہ کل اس نے آپ کو برا کہنا شروع کر دیا۔ میں نے چھری لی اور اس کے پیٹ میں گھونپ کر قتل کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو گواہ رہنا، اس عورت کا خون باطل ہے۔
(ابو داؤد، جلد 2، صفحات 355 - 357)
- 3- حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک یہودی عورت نے گالی دی تو اسے ایک
شخص نے قتل کر دیا۔ آپ ﷺ نے اس عورت کا خون باطل قرار دیا۔
- 4- حضرت ابو برزہ ؓ نے روایت کیا: میں حضرت ابوبکر ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب وہ ایک شخص پر
اشتعال میں آگئے۔ میں نے کہا: یا خلیفۃ الرسول! مجھے حکم دیں میں اسے قتل کردوں۔ اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے غصہ دور کیا، کھڑے ہوئے، اندر گئے، مجھے بلایا اور پوچھا: تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: مجھے حکم دیں میں اسے قتل کردوں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے پوچھا: اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو کیا تم اسے قتل کر دیتے؟ میں نے جواب دیا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! صرف رسول اللہ ﷺ ہی یہ مقام رکھتے ہیں کہ آپ کی توہین کا مجرم قتل کر دیا جائے۔
(حوالہ بالا)
- 5- حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کعب بن اشرف کے خلاف
کون میری مدد کرے گا۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچائی ہے۔ اس پر محمد بن مسلمہ ؓ کھڑے ہوئے اور کہا: یارسول اللہ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کردوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ پھر محمد بن مسلمہ ؓ ، ابو عبس بن جبر ؓ اور عباد بن بشر ؓ کے ہمراہ گئے اور اسے قتل کر دیا۔
(بخاری، جلد 2، صفحہ 88)
- 6- حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عتیک ؓ کی
سرکردگی میں انصار کے کچھ لوگوں کو بھیجا کہ وہ ایک یہودی ابو رافع کو قتل کر دیں جو رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچایا کرتا تھا۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔
(الصارم المسلول از ابن تیمیہ، صفحہ 152)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد،
- 7- حضرت عمیر بن
النبی ﷺ کو طعنے دے دن حضرت عمیر ماں کے قاتلوں کہیں بچے بھوکے تو ہو کر اصل صور
- 8- روایت کیا جاتا ہے
اس کی لونڈیوں عیاض، جلد 2،
- 9- قاضی عیاض ؒ
سے فرمایا: اس قتل کروں گا
(حوالہ بالا)
- 10- روایت کیا جاتا ہے
میں برداشت فرمائی۔ (الشفاء
- 11- یہ بھی روایت ہے
اپنے صحابہ ؓ نے یہ ذمہ داری اس قبیلہ میں وہ
- 12- عکرمہ سے روایت
خلاف کون میر لڑائی میں قتل حدیث نمبر
- 13- عروہ بن محمد
النبی ﷺ نے فرمایا عورت کو قتل کر
تحفظ ناموس رسالت نمبر نابینا شخص نے ایک لونڈی کو قتل کر سے منع کیا لیکن وہ باز نہ آئی۔ ایک نابینا نے چھری لی اور اس کے پیٹ اور رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں ہے؟ وہ کھڑا ہو اور اعتراف کرے شخص کھڑا ہوا اور لوگوں کو پھلانگتا ڈی کو قتل کیا ہے کیونکہ وہ آپ کو اور باز نہ آئی۔ میرے اس سے دو اور کل اس نے آپ کو برا کہنا قتل کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے
(صفحات 355 - 357)
عورت نے گالی دی تو اسے ایک
بیٹھا ہوا تھا جب وہ ایک شخص پر اسے قتل کر دوں۔ اس پر حضرت کہا: تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے کر دو تو میں تمہیں حکم دے دیتا تو نہیں، اللہ کی قسم ! صرف رسول
(حوالہ بالا)
کعب بن اشرف کے خلاف ہے۔ اس پر محمد بن مسلمہ ؓ میں کر دوں؟ آپ ﷺ نے کے ہمراہ گئے اور اسے قتل
حضرت عبداللہ بن عتیک ؓ کی نہیں کر دیں جو رسول اللہ ﷺ
کتابچہ، صفحہ 152)
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء، 235
- 7- حضرت عمیر بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ کی ایک بہن مشرکہ تھی۔ آپ جب بھی رسول اللہ
ﷺ کو ملنے کے لیے جاتے تو وہ آپ کو ایذا پہنچاتی اور رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ ایک دن حضرت عمیر ؓ نے تلوار سے اپنی اس بہن کو قتل کر دیا۔ اس کے بچے چلائے اور کہا: ہم اپنی ماں کے قاتلوں کو جانتے ہیں۔ ان لوگوں کے والدین مشرک تھے۔ حضرت عمیر ؓ نے خیال کیا کہ کہیں بچے بیگناہ لوگوں کو قتل نہ کر دیں اس لیے حضرت عمیر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر اصل صورت حال بیان کر دی۔
- 8- روایت کیا جاتا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے عفو عام کا اعلان فرمایا لیکن ابن خطل اور
اس کی لونڈیوں کے قتل کا حکم دیا جو آپ ﷺ کے بارے میں ہجویہ اشعار گاتی تھیں۔ (الشفاء قاضی
عیاض، جلد 2، صفحہ 284، اردو ترجمہ)
- 9- قاضی عیاض ؒ نے الشفاء میں لکھا ہے رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص گالی دیتا تھا۔ آپ نے صحابہ ؓ
سے فرمایا: اس شخص کو کون قتل کرے گا؟ اس پر حضرت خالد بن ولید ؓ نے فرمایا: میں اسے قتل کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد ؓ کو حکم دیا اور انہوں نے اس شخص کو قتل کر دیا۔
(حوالہ بالا)
- 10- روایت کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: میرا والد آپ کو برا کہتا تھا جسے
میں برداشت نہیں کر سکتا تھا لہٰذا میں نے اسے قتل کر دیا۔ آپ ﷺ نے اس کے عمل کو توثیق فرمائی۔ (الشفاء صفحہ 285)
- 11- یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو قبیلہ بنی خطمہ کی ایک عورت برا کہا کرتی تھی۔ آپ نے
اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا: اس گستاخ عورت سے انتقام کون لے گا؟ عورت کے قبیلہ کے ایک آدمی نے یہ ذمہ داری لی اور اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: اس قبیلہ میں دو بکریاں نہیں لڑیں گی اور لوگ امن و امان سے رہیں گے۔ (الشفاء صفحہ 286)
- 12- عکرمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص گالی دیتا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس دشمن کے
خلاف کون میری مدد کرے گا؟ حضرت زبیر ؓ نے فرمایا: میں۔ حضرت زبیر ؓ نے اس شخص کو لڑائی میں قتل کر دیا۔ آپ ﷺ نے مقتول کا سامان حضرت زبیر ؓ کو دلوا دیا۔ (مصنف عبدالرزاق،
حدیث نمبر 9704)
- 13- عروہ بن محمد سے مروی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی۔ آپ
ﷺ نے فرمایا: اس دشمن کے خلاف کون میری مدد کرے گا؟ حضرت خالد بن ولید ؓ گئے اور اس عورت کو قتل کر دیا۔ (مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر 9705)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
- 14- عبدالرزاق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب ایوب بن یحییٰ عمان گئے تو آپ کو ایک شخص کے
بارے میں بتلایا گیا جو رسول اللہ ﷺ کو برا کہتا تھا۔ ایوب نے اس مسئلہ سے متعلق علماء سے مشورہ کیا۔ عبدالرحمن بن یزید صنعانی نے اسے قتل کرنے کا مشورہ دیا تو انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ عبدالرحمن نے انہیں ایک حدیث سنائی کہ وہ حضرت عمرؓ سے ملے تھے اور ان سے بہت علم حاصل کیا تھا۔ ایوب نے اس فعل کا ذکر عبدالملک (یا ولید بن عبدالملک) سے بھی کیا۔ انہوں نے اس کام کو سراہا۔ (مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر 9706)
- 15- حضرت سعید بن جبیرؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولا تھا۔ آپ
ﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو بھیجا اور انہیں فرمایا: جب تم اسے پاؤ تو اسے قتل کر دو۔ (مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر 9707)
- 16- ابن تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے حکم دیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو جو
شخص گالی دے تو وہ قتل کر دیا جائے۔ (مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر 9708)
مندرجہ بالا بحث شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی کہ قرآن مجید کے مطابق جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے تشریح فرمائی ہے اور امت مسلمہ کے مابین تعامل ہے کہ گستاخ رسول کی سزا موت کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ ہم نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد کسی نے بھی اس سزا کو نہ تو ختم کیا ہے اور نہ ہی معاف کیا ہے اور نہ ہی کسی اور کو ایسا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
اس کیس میں اگلا سوال یہ ہے کہ توہین رسالت کے جرم کی تعریف کی جائے۔
قرآن و حدیث میں شتم، سب اور اذیٰ کے الفاظ نبی کی توہین کے لیے استعمال ہوئے ہیں جس کے معنی ہیں: نقصان پہنچانا، توہین کرنا، اشتعال دلانا، غصہ دلانا، زخمی کرنا، مشکل سے دوچار کرنا، عزت میں کمی کرنا وغیرہ۔
لفظ "شتم" سے مراد ہے: توہین کرنا، گالی دینا وغیرہ۔
علامہ رشید رضاؒ نے لفظ "اذیٰ" کی تعریف میں لکھا ہے کہ اس سے مراد ایسی چیز ہے جس سے کسی زندہ انسان کے جسم یا ذہن کو تکلیف پہنچے اگرچہ یہ تکلیف بہت معمولی ہو (المنار جلد 10، صفحہ 445)
امام ابن تیمیہؒ توہین رسالت کے جرم کی بحث سمیٹتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بعض اوقات ایک لفظ کسی حالت میں توہین اور نقصان کا باعث ہوتا ہے جبکہ وہی لفظ کسی دوسری صورت حال میں نقصان اور توہین کا باعث نہیں بنتا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جن الفاظ کے مختلف معانی اور مفہوم ہوں، حالات اور مواقع کی تبدیلی سے ان کی تشریح بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلا
جب لفظ " تعین کے لیے عرف و شریعت میں بھی توہین کسی بھی والے غلط مقصد کے ح ٹھہرایا جاتا ہے اگر وہ ا پس ارادہ ا شخص بندوق خریدتا ہ ہے۔ اگر یہ ثابت ہو تھی تو یہ کہا جاسکتا ہے غیر ارادی سکتا ہے بشرطیکہ فاع بہر حال ارادہ نہ کیا ہو۔ وہ قت اگر ایک شخص کسی ک قتل ہو جائے تو فاعل شریعت جائے۔ اگر اس جر اور معاندانہ نیت و بھی ہوگا۔ قرآن م "نادا کا تم ارادہ کرو۔ اللہ "اگر اصلاح کرلے تو و
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 237 تحفظ ناموس رسالت نمبر
جب لفظ "سب" یعنی توہین کی تعریف نہ تو شریعت میں کی گئی ہو اور نہ ہی ڈکشنری میں تو اس لفظ کے تعین کے لیے عرف و عادت پر انحصار کیا جائے گا۔ لہٰذا عرف و عادت میں جس چیز کو توہین سمجھا جائے گا وہی چیز شریعت میں بھی توہین تصور ہو گی۔
کسی بھی فعل کے مجرمانہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ فعل غلط ہو اور ذہن میں پائے جانے والے غلط مقصد کے حصول کے لیے ارادی طور پر سرانجام دیا گیا ہو۔ بعض حالات میں آدمی کچھ جرائم کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اگر وہ غلط نتائج سے بچنے کے لیے اپنی طرف سے بہترین کوشش نہ کرے۔
پس ارادہ اور نیت وہ مقصد یا منصوبہ بندی ہے جس سے ایک فعل سرانجام پاتا ہے۔ فرض کریں کہ ایک شخص بندوق خریدتا ہے۔ اس کا ارادہ کھیلنے، ذاتی دفاع یا کسی کو جان سے مارنے کے لیے بندوق چلانے کا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس نے ذاتی دفاع کے لیے نہیں بلکہ کسی کو جان سے مارنے کے لیے بندوق چلائی تھی تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کا ارادہ قتل کرنے کا تھا۔
غیر ارادی فعل میں یہ مقصد اور منصوبہ بندی نہیں ہوتی۔ کسی کو قتل کرنے کا فعل بھی غیر ارادی ہو سکتا ہے بشرطیکہ فاعل ایسے نتائج پیدا کرے جن کا اس نے ارادہ نہیں کیا تھا۔
بہر حال قانون کا نظام ایسے آدمی کو ان نتائج کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے خواہ اس نے ان نتائج کے حصول کا ارادہ نہ کیا ہو۔ وہ نتائج جو در حقیقت کسی غفلت اور لاپرواہی سے پیدا ہوں قانون انہیں ارادی قرار دیتا ہے۔ پس اگر ایک شخص کسی کے جسم کو سخت جسمانی نقصان پہنچائے اگرچہ اس کا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ ہو لیکن اگر وہ قتل ہو جائے تو فاعل قتل کا مجرم تصور ہو گا۔
شریعت میں کسی جرم کی سزا صرف اسی صورت میں "حد" ہے جب وہ جرم واضح ارادہ کے ساتھ کیا جائے۔ اگر اس جرم میں کوئی شک پیدا ہو جائے تو شریعت حد کی سزا کو دور کر دیتی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی جرم مجرمانہ اور معاندانہ نیت و ارادہ سے کیا جائے تو اس پر حد نافذ ہو گی اور اس کا اطلاق نبی اکرم ﷺ کی اہانت کرنے والے پر بھی ہو گا۔
قرآن مجید میں ہے:
"نادانستہ بات جو تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے لیکن اس بات پر گرفت ضرور ہے جس کا تم ارادہ کرو۔ اللہ در گزر کرنے والا اور رحیم ہے"۔ (سورت الاحزاب، آیت 5)
"اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کر لے تو وہ معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے"۔ (سورت الانعام، آیت 54)
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء
"جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر)، مگر جس نے دل کی رضامندی سے کفر کو قبول کر لیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے"۔ (سورت النحل، آیت 106)
حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کا اس نے ارادہ کیا ہو۔ پس جس نے دنیا کے فوائد کے لیے یا کسی عورت سے شادی کے لیے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔
(بخاری، جلد 1، ص 1، حدیث 1)
حضرت ابی بن کعبؓ کی روایت ہے کہ انصار میں سے ایک شخص تھا جس کا گھر مدینہ شہر سے کافی دور تھا لیکن اس نے کبھی بھی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرنے کے موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیا تھا۔ ہم اس کے ساتھ ہمدردی کرتے اور کہتے کہ اے فلاں! تم نبی اکرم ﷺ کے گھر کے قریب گھر کیوں نہیں خرید لیتے تاکہ تم آنے جانے کے لیے لمبا سفر طے کرنے کے دوران گرمی کی شدت سے بچ سکو۔ اس نے کہا: سنو! اللہ کی قسم، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر نبی ﷺ کے گھر کے قریب ہو۔ میں نے اس کے یہ بُرے الفاظ نبی اکرم ﷺ کو بتائے۔ آپ نے اس شخص کو بلوایا۔ اس نے وہی الفاظ دہرائے لیکن یہ بھی کہا کہ اس کا ارادہ قدموں کا اجر حاصل کرنے کا تھا۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہیں اس چیز کا اجر ملے گا جس کا تم نے ارادہ کیا۔ (صحیح مسلم، جلد 1، انگریزی ترجمہ عبدالحمید صدیقی، صفحہ 323-324، حدیث نمبر 1404)
مندرجہ بالا روایت سے پتہ چلتا ہے کہ الفاظ بظاہر توہین آمیز تھے لیکن ان الفاظ کو بیان کرنے والے کا ارادہ ایسا نہ تھا اس لیے کوئی سزا نہ دی گئی۔
قرآن کہتا ہے: "اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ہی نبی کریم ﷺ کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اور تمہیں خبر بھی نہ ہو"۔ (سورت الحجرات، آیت 2)
علامہ قرطبیؒ نے اس آیت کی تشریح میں لکھا ہے: اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کی آواز سے زیادہ اونچی آواز سے بولنے اور چلانے کی ممانعت ہے جس سے درحقیقت نبی اکرم ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے لیکن جنگ اور دشمن کو ڈرانے وغیرہ کے لیے اونچی آواز میں بولنا جرم نہیں ہو گا۔
علامہ آلوسیؒ اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت بن قیسؓ جن کی آواز قدرتی طور پر اونچی تھی، انہوں نے خود کو اپنے گھر کے ایک کمرے میں بند کر لیا اور رونے لگے۔ وہ کافی عرصہ نبی اکرم ﷺ کے اجتماعات میں حاضر نہ ہوئے تو حضور ﷺ نے ان کے متعلق دریافت فرمایا۔ صحابہؓ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 239 تحفظ ناموس رسالت نمبر
نے عرض کیا کہ حضرت ثابتؓ نے خود کو گھر میں قید کر لیا ہے اور روتے رہتے ہیں۔ آپ نے حضرت ثابتؓ کو بلوایا اور پوچھا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں اپنی آواز بلند ہونے کی وجہ سے ڈر گیا کہ کہیں میں ان لوگوں میں سے تو نہیں جن کے اعمال ضائع ہو گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو۔ تمہارا جینا اور مرنا خوش بختی پر ہے۔ ان کی بلند آواز قدرتی تھی۔ ان کی بلند آواز کا مقصد نبی کریم ﷺ کی اہانت کرنا نہ تھا جیسا کہ منافقین کرتے تھے جن کے متعلق یہ آیت نازل
ہوئیا۔ (روح المعانی، ج 26، صفحات 124-125)
علامہ آلوسی ؒ مزید لکھتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے سامنے ان لوگوں کی بلند آواز کی دو اقسام ہیں:
- 1۔ جس سے اعمال ضائع نہیں ہوتے۔
- 2۔ جس سے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔
پہلی قسم کسی عناد یا توہین آمیز اقدام کی بنیاد پر نہیں ہوتی جیسے کہ جنگوں میں اور دشمنوں کے ساتھ جھگڑوں میں اونچی آواز میں بولنا مثلاً ایک جنگ میں نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباسؓ کو حکم دیا کہ لوگوں کو بلند آواز سے پکارو۔ انہوں نے اتنی اونچی آواز سے پکارا کہ حاملہ عورتوں کے حمل ضائع ہو گئے۔ آواز کی دوسری قسم عناد اور توہین آمیز اقدام کی بنیاد پر ہے۔
علامہ قرطبی ؒ لکھتے ہیں کہ اس آیت کا آخری حصہ اس شخص کے بارے میں نازل ہوا ہے جس نے کہا تھا کہ میں نبی کے وصال کے بعد حضرت عائشہ ؓ سے شادی کروں گا۔ جب نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ کو بہت صدمہ پہنچا۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات سے نکاح کی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ممانعت کر دی گئی اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس دنیا میں میری ازواج مطہرات آخرت میں بھی میری ازواج ہوں گی۔ لیکن اس آیت کے نازل ہونے سے قبل یہ واقعہ رونما ہو چکا تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ایک زوجہ محترمہ قتیلہ کو طلاق دے دی تھی اور قتیلہ نے عکرمہ بن ابو جہل سے شادی کر لی تھی۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ قتیلہ نے اشعث بن قیس کِندی سے شادی کی تھی۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس وقت ان لوگوں کے نزدیک یہ کہنا کہ نبی کی وفات کے بعد آپ کی زوجہ محترمہ سے شادی کروں گا، نبی کی توہین کا ذریعہ نہیں تھا کیونکہ اس کی ممانعت نہیں ہوئی تھی۔
نبی اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگانے والے واقعہ میں مسطح، حسان اور حمنہ کو کوئی سزا نہ دی جو اس تہمت میں شامل تھے اور نہ ہی نبی نے انہیں منافق قرار دیا۔ ابن تیمیہ ؒ اس صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ان کا ارادہ نبی کریم ﷺ کو اذیت پہنچانا نہیں تھا اور نہ ہی ان سے ایسی کوئی علامت ظاہر ہوئی تھی۔ جبکہ عبداللہ بن ابی کی نیت نبی کریم ﷺ کی ذات کو اذیت پہنچانا تھا۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ اس وقت تک انہیں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس دنیا میں نبی مکرم ﷺ کی ازواج مطہرات آخرت میں بھی آپ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 240 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کی ازواج مطہرات ہوں گی۔ یہی وجہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے ان تینوں کے معاملے میں توقف سے کام لیا تھا۔ آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا اور حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے تفتیش کروائی اور بالآخر ان لوگوں کو منافقین نہیں قرار دیا گیا جن کا ارادہ نبی مکرم ﷺ کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا۔ لیکن یہ حکم آ جانے کے بعد کہ وہ مومنین کی مائیں ہیں، ان پر کسی قسم کی تہمت ہر حالت میں نبی ﷺ کو اذیت پہنچانے کے مترادف ہوگی۔
(الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ص 49)
بعض فقہاء کی رائے ہے کہ نبی کی توہین واضح الفاظ میں کی جائے تو اہانت کے مرتکب سے اس کی نیت و ارادہ نہیں پوچھا جائے گا۔ لیکن اگر الفاظ ایک سے زیادہ معنی کے متحمل ہوں اور ان میں سے کوئی ایک معنی نبی کی توہین کے ضمن میں آتا ہو تو ان الفاظ کو ادا کرنے والے سے اس کا ارادہ پوچھا جائے گا۔
(الشفاء، قاضی عیاض، ج 2، ص 221)
ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ الفاظ کے معانی مختلف مواقع پر مختلف ہوتے ہیں۔ پھر سیاق و سباق سے بھی معانی مختلف ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ملزم کو وضاحت و صفائی کا موقع ملنا چاہیے تاکہ بے گناہ کو سزا نہ ہو جائے۔ نبی اکرم ﷺ کی حدیث روایت کی جاتی ہے کہ قاضی کی غلطی جس سے کوئی مجرم چھوٹ جائے قاضی کی اس غلطی سے بہتر ہے جس سے بے گناہ کو سزا مل جائے۔
(سنن البیہقی، ج 3، ص 184)
قرآن مجید بھی ہر ملزم کو صفائی کا موقع دیتا ہے۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کراماً کاتبین کی جانب سے کسی شخص کے اعمال کے بارے میں لکھی گئی ہر چیز درست ہے لیکن اگر وہ شخص قیامت کے دن فرشتوں کی تحریر پر اعتراض کرے گا تو اس کا یہ اعتراض سنا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کے ہاتھوں، پاؤں، آنکھوں اور کانوں سمیت گواہ بلوائے گا۔ ملاحظہ ہو آیات: سورت بنی اسرائیل آیات 13۔14، سورت یٰس آیت 65، سورت النمل آیات 20۔22 اور سورت الانبیاء آیت 23۔
عبداللہ بن رفیعہ کی سند سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، زبیر رضی اللہ عنہ اور مقداد رضی اللہ عنہ کو کہیں بھیجا اور فرمایا: تم لوگ جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ پہنچو۔ وہاں تم ایک عورت کو پاؤ گے جس کے پاس ایک خط ہوگا، اس عورت سے وہ خط لے آؤ۔ ہم روانہ ہوئے اور اپنے گھوڑوں کو تیز دوڑایا یہاں تک کہ ہم الروضہ پہنچ گئے جہاں ہم نے اس عورت کو پالیا۔ ہم نے اسے کہا: خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے۔ اس نے خط نکال دیا۔ ہم خط لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے۔ خط میں حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا پیغام مشرکین مکہ کے نام تھا جس میں آپ ﷺ کے کچھ ارادوں کی معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حاطب یہ کیا ہے؟ حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بارے میں فیصلہ کرنے میں جلدی نہ فرمائیں۔ میں قریش کا قریبی آدمی رہا ہوں۔ آپ کے اصحاب میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کے رشتہ دار مکہ میں نہ ہوں جو ان کے اہل و مال کی حفاظت کرتے ہوں۔ میں نے ایسا نہ تو عدم ایمان کی بنا پر کیا ہے اور نہ ہی منافقت یا کفر کی بنا پر۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حاطب تم نے سچ کہا۔
(بخاری، ج 4، ص: 154 - 155، حدیث: 251)
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء
حنفی فقیہ علامہ محی الدین نے لکھا ہے کہ فقہاء یہ رائے رکھتے ہیں کہ توہین رسالت کے معاملہ میں حکمران یا جج کو فیصلہ سے پہلے ملزم کے عام رویہ اور صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے۔ (احکام المرتد، نعمان عبدالرزاق سمرقندی، ص 109)
مشہور عالم مولانا احمد رضا خان بریلوی ؒ نے اس مسئلہ میں لکھا ہے کہ کفریہ الفاظ اور ان کفریہ الفاظ کو ادا کر کے کافر بن جانے والے شخص کی حیثیتوں کے درمیان فرق ہے۔ (تمہید ایمان، ص 59)۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ آج کل لفظ "راعنا" کا استعمال توہین کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ ان دنوں یہ نبی کی توہین کے حوالے سے نہیں بولا جاتا۔ (ختم نبوت، ص 71)
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں میں سے بعض پر اپنے انعامات زیادہ کیے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام پیغمبروں کے مرتبہ میں کوئی امتیاز یا عدم مساوات قائم نہیں کی۔ تفصیل کے لیے مندرجہ ذیل آیات قرآنی ملاحظہ کی جا سکتی ہیں: البقرۃ: 136، 253، 285۔ آل عمران: 84۔ النساء: 150 - 152۔ بنی اسرائیل: 55۔
تمام علماء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مندرجہ بالا آیات قرآنیہ کی رو سے تمام پیغمبروں کا مقام و مرتبہ یکساں ہے۔ لہٰذا کسی ایک پیغمبر کی توہین پر ایک جیسی سزا یعنی موت دی جائے گی۔
مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں ہماری یہ رائے ہے کہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ C-295 میں دی گئی "عمر قید" کی متبادل سزا قرآن وسنت میں دئے گئے احکام سے متصادم ہے لہٰذا "عمر قید" کے الفاظ اس دفعہ سے خارج کیے جائیں۔
اس دفعہ میں ایک ذیلی دفعہ کا اضافہ کیا جائے جس میں دوسرے پیغمبروں کے بارے میں کہے گئے یا کیے گئے افعال ویسے ہی جرم قرار پائیں اور انہیں وہی سزا دی جائے جیسا کہ اوپر تجویز کیا گیا ہے۔
اس حکم کی ایک کاپی دستور پاکستان کے آرٹیکل (3)D-203 کے تحت صدر پاکستان کو ارسال کی جائے گی تاکہ قانون میں ترمیم کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ اس قانون کو اسلام کی تعلیمات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اور اگر یہ ترمیم 30/اپریل 1991ء تک نہیں کی جاتی تو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ C-295 میں درج "یا عمر قید" کے الفاظ اس تاریخ سے غیر مؤثر ہو جائیں گے۔
بنائے فیصلہ (ratio decidendi):
- 1- قرآن مجید کے مطابق جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے تشریح فرمائی ہے اور امت مسلمہ کے مابین تعامل
ہے کہ گستاخ رسول کی سزا موت کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے ظاہری دنیا سے وصال کے بعد کسی نے بھی اس سزا کو نہ تو ختم کیا ہے اور نہ ہی معاف کیا ہے اور نہ ہی کسی اور کو ایسا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
- 2- جب لفظ "سب" یعنی توہین کی تعریف نہ تو شریعت میں کی گئی ہو اور نہ ہی ڈکشنری میں تو اس لفظ کے
تعین کے لیے عرف و عادت پر انحصار کیا جائے گا۔ لہٰذا عرف و عادت میں جس چیز کو توہین سمجھا جائے
- 19. Details of j
- 20. Places of
Place
- (i) SIRHIND SHARIF PU
- (ii)
- (iii)
- (iv)
- (v)
- (vi)
- (vii)
- (viii)
- 21. Address of re
Areas) (in the Name/Father's Name
- 1. NIL NIL
- 2. NIL NIL
- 3.
- 4.
- 5.
- 6.
- 7.
- 8.
- 22. Address at Pla
Place
- 1. SIRHIND SHARIF
- 2.
- 3.
- 4.
- 5.
- 6.
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 242 تحفظ ناموس رسالت نمبر
گا وہی چیز شریعت میں بھی توہین تصور ہوگی۔
- 3- کسی بھی فعل کے مجرمانہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ فعل غلط ہو اور ذہن میں پائے جانے
والے غلط مقصد کے حصول کے لیے ارادی طور پر سر انجام دیا گیا ہو۔
- 4- قرآن مجید بھی ہر ملزم کو صفائی کا موقع دیتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کراماً کاتبین کی جانب سے
کسی شخص کے اعمال کے بارے میں لکھی گئی ہر چیز درست ہے لیکن اگر وہ شخص قیامت کے دن فرشتوں کی تحریر پر اعتراض کرے گا تو اس کا یہ اعتراض سنا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کے ہاتھوں، پاؤں، آنکھوں اور کانوں سمیت گواہ بنوائے گا۔ ملاحظہ ہو (آیات: سورت بنی اسرائیل آیات 13۔ 14، سورت یٰسٓ آیت 65، سورت النمل آیات 20-22 اور سورت الانبیاء آیت 23)۔
وفاقی شرعی عدالت پاکستان کے مندرجہ بالا فیصلہ میں فاضل جج نے ان قرآنی آیات کے صرف نمبر ذکر کیے ہیں جن سے عدالت کے روبرو علماء نے استدلال کیا۔ ذیل میں وہ آیات مع ترجمہ درج کی جاتی ہیں تاکہ ناموسِ رسالت کے حوالے سے قرآنی احکام کا مطالعہ بھی ساتھ ساتھ ہو جائے۔ سورتوں کو قرآنی ترتیب کے اعتبار سے درج کیا جاتا ہے:
- 1- سورت البقرۃ 2، آیت 104
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ اے اہلِ ایمان! (گفتگو کے وقت رسول اللہ ﷺ سے) راعنا نہ کہا کرو، انظرنا کہا کرو۔ اور (پہلے ہی) خوب توجہ سے سنا کرو اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے۔
- 2- سورت البقرۃ 2، آیت 217
وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر (کر کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہو جائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے والے) ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
- 3- سورت النساء 4، آیت 13
وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے گا اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لا
- 4- سورت النساء 4، آیـ
مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُـ مَسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِـ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْـ یہودی ہیں ان میں کـ ہیں کہ ہم نے سن لـ دین میں طعن کرکے ہم نے سن لیا اور مانـ بہتر ہوتا اور یہ بات ہے پس نہیں ایمان
- 5- سورت النساء 4، آ
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ آپ کے پروردگار تنازعات میں آپ اور جو فیصلہ آپ بد
- 6- سورت المائدۃ 5،
وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَا اور جو شخص ایمان میں ہوگا۔
- 7- سورت المائدۃ 5،
مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَـ الطَّعَامَ انْظُرْ كَيْفَ مسیح ابن مریم تو صر اور ان کی والدہ (صد کھاتے تھے۔ دیکھو ہـ پھر (یہ) دیکھو کہ یـ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
4- سورت النساء 4، آیت 46
مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا اور یہ جو یہودی ہیں ان میں کچھ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو اُن کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا اور (کہتے ہیں) سنو تم نہ سنائے جاؤ اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کرکے (آپ ﷺ سے گفتگو کے وقت) راعنا کہتے ہیں اور اگر (یوں) کہتے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اِسمع اور (راعنا کی جگہ) اُنظرنا (کہتے) تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور یہ بات بھی درست ہوتی۔ لیکن اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے پس نہیں ایمان لائیں گے مگر تھوڑے سے۔
5- سورت النساء 4، آیت 65
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتّٰى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا آپ کے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے تنازعات میں آپ کو منصف نہ بنالیں پھر جو کچھ آپ فیصلہ فرما دیں، اس سے اپنے دلوں میں تنگی محسوس نہ کریں اور جو فیصلہ آپ کریں اس کو خوشی سے مان لیں۔
6- سورت المائدة 5، آیت 5
وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ اور جو شخص ایمان کا منکر ہوا اُس کے عمل ضائع ہو گئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔
7- سورت المائدة 5، آیت 75
مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ انْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ ثُمَّ انْظُرْ أَنّٰى يُؤْفَكُونَ مسیح ابن مریم تو صرف (اللہ کے) رسول تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے اور اُن کی والدہ (مریم اللہ کی) ولی (اور سچی فرمانبردار) تھیں۔ دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم ان لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ پھر (یہ) دیکھو کہ یہ کدھر اُلٹے جارہے ہیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
- 8- سورت الانعام 6، آیت 89
أُولٰئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ فَإِن يَّكْفُرْ بِهَا هَؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ یہ وہ لوگ تھے جنہیں ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے اُن پر (ایمان لانے کے لیے) ایسے لوگ مقرر کر دیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں۔
- 9- سورت الانفال 8، آیات 12 - 13
إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَن يُّشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں کی طرف وحی فرمائی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو ثابت قدم رکھو۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب و ہیبت ڈالے دیتا ہوں۔ تو اُن کے سر مار (کر) اُڑا دو اور اُن کا پور پور مار (کر توڑ) دو۔ یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ بھی سخت عذاب دینے والا ہے۔
- 10- سورت التوبہ 9، آیات 12
وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّنۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعن کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ بے ایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آ جائیں۔
- 11- سورت التوبہ 9، آیت 24
قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ آپ فرما دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے مندے کا تمہیں خوف لاحق ہے اور مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو،
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 245
اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
- 12- سورت التوبہ 9، آیت 61 - 62
وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَن يُرْضُوهُ إِن كَانُوا مُؤْمِنِينَ
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو (اپنی بدزبانی سے) نبی ﷺ کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کانوں کا کچا ہے (ان سے) فرمائیے وہ سنتا ہے تمہاری بھلائی کے لیے، وہ اللہ کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے۔ اور جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب (تیار) ہے۔
- 13- سورت التوبہ 9، آیات 65 - 66
وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ o لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِن نَّعْفُ عَن طَائِفَةٍ مِّنكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ
اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ آپ فرما دیں کہ کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ سے ہنسی کرتے تھے؟ بہانے مت بناؤ، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کر دیں تو بھی دوسری جماعت کو سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہیں۔
- 14- سورت الاحزاب 33، آیت 57
إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر اللہ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
- 15- سورت الفتح 48، آیت 8 - 9
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا o لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
(اے حبیب مکرم صلی اللہ علیک وسلم) بے شک ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر (اپنی رحمت کی) خوشخبری سنانے والا، (عذاب سے) بروقت ڈرانے والا۔ تاکہ (مسلمانو) تم لوگ اللہ پر اور
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور آپ (ﷺ) کی مدد کرو اور آپ کی دل سے تعظیم کرو۔ اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتے رہو۔
16- سورت الحجرات 49، آیات 2 - 3 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ اے اہل ایمان! اپنی آوازیں نبی مکرم ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کرو، اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے رُوبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں اللہ نے ان کے دل تقویٰ کے لیے آزما لیے ہیں۔ ان کے لیے بخشش اور اجرِ عظیم ہے۔
17- سورت المجادلہ 58، آیت 20 إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ فِي الأَذَلِّينَ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے۔
18- سورت المجادلہ 58، آیت 22 لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ جو لوگ اللہ پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تم انہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے، خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کر دیا ہے اور فیضِ غیبی سے ان کی مدد کی ہے اور وہ انہیں بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا، ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش۔ یہی گروہ اللہ کا لشکر ہے۔ (اور) سُن رکھو کہ اللہ ہی کا لشکر مُراد حاصل کرنے والا ہے۔
19- سورت الحشر 59، آیت 4 ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَن يُشَاقِ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کریم ﷺ کی مخالفت کی۔ اور جو شخص اللہ کی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۲ء 247 تحفظ ناموس رسالت نمبر
مخالفت کرے تو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
دفعہ C-295 میں درج الفاظ ”یا عمر قید“ حذف کرنے کی منظوری
وفاقی شرعی عدالت اپنے فیصلہ میں حکومت کو 30 اپریل 1991ء تک ترمیم کرنے کی مہلت دی تھی کہ اس تاریخ تک پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ C-295 میں درج ”یا عمر قید“ کے الفاظ حذف کر دیئے جائیں ورنہ اس تاریخ سے وہ غیر موثر ہو جائیں گے۔ جون 1992ء کو عمر قید کی سزا کے خاتمے کا بل پیش ہوا اور قومی اسمبلی نے اسے منظور کر دیا۔ پھر یہ بل سینٹ پاکستان میں بھی اتفاق رائے سے منظور ہو کر پاکستان کا قانون بن گیا۔
1992ء میں گل مسیح کو سزا
پاکستان میں 1986ء میں پینل کوڈ کی دفعہ C-295 کے نفاذ کے بعد توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت غالباً سب سے پہلے چک نمبر 46 شمالی سرگودھا کے گل مسیح کو سنائی گئی۔ اس مقدمہ کا فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا خان طالب حسین خان بلوچ نے نومبر 1992ء کو سنایا (نوائے وقت لاہور 3-11- 1992ء)۔ گل مسیح نے لاہور ہائی کورٹ میں بری ہو جانے پر جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کر لی (نوائے وقت لاہور 26-2-1995ء)۔
1993ء میں ارشد جاوید کو سزا
فروری 1993ء میں ایڈیشنل سیشن جج بہاولپور فیض رسول سیال نے ملزم ارشد جاوید کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ اس کے علاوہ ملزم کو تین سال قید بامشقت بھی سنائی گئی۔ ملزم ارشد جاوید ولد عبدالستار چک نمبر 13-بی سی نے 14 فروری 1989ء کو اس وقت جب شاتم رسول سلمان رشدی کے خلاف جلوس نکالا جا رہا تھا، ایس ای کالج چوک پر جلوس کے سامنے آ کر حضرت عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ سلمان رشدی نے جو کتاب لکھی وہ درست ہے (جسارت کراچی 10-2-1993)۔
دفعہ C-295 اور مشہور مقدمہ سلامت مسیح
پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ C-295 کے تحت ایک مشہور مقدمہ توہین رسالت کے دو ملزموں سلامت مسیح عمر 14 سال اور اس کے چچا رحمت مسیح عمر 44 سال کا ہے۔ ان دونوں ملزموں کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا۔ ملزموں کو ایڈیشنل سیشن جج لاہور مجاہد حسین نے 9 فروری 1995ء کو سزائے موت سنائی تھی۔ 12 فروری 1995ء کو ملزموں کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی۔ ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی کارروائی کی کوریج کے لیے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی ٹیمیں لاہور پہنچ گئیں جن میں رائٹر، ڈبلیو ٹی این، وائس آف امریکہ، وائس آف جرمنی اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔
ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے جب ملزموں رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو سزائے موت کا حکم سنایا تو سب سے پہلے برطانیہ نے اس فیصلے کے خلاف حکومت پاکستان سے احتجاج کیا۔ اس سلسلے میں پاکستانی ہائی کمشنر کو دفتر
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 248 تحفظ ناموس رسالت نمبر
خارجہ لندن طلب کیا گیا جہاں دفتر خارجہ کے منسٹر ٹونی بلاری نے ان سے ملاقات کی۔ مسٹر ٹونی نے ہائی کمشنر کو بتایا کہ برطانیہ پاکستان کی عدلیہ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتا مگر سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو سزائے موت دیئے جانے پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ دونوں افراد کی زندگیاں بچائی جائیں [نوائے وقت لاہور 14-2-1995]۔ سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو سزائے موت کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کے طور پر پورے پاکستان میں مسیحی کمیونٹی نے ایک دن کا روزہ رکھا [نقیب لاہور 1-3-1995ء صفحہ 16]۔
سلامت مسیح کی لاہور ہائی کورٹ میں اپیل اور بریت
Salamat Masih and others---Appellants Versus The State--- Respondent [1995 P Cr. L J 811]
لاہور ہائی کورٹ نے سلامت مسیح اور رحمت مسیح کی اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی اور 15 فروری 1995ء کی تاریخ باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کی۔ لاہور ہائی کورٹ کے جس ڈویژن بنچ نے اس اپیل کی سماعت کی وہ جسٹس عارف اقبال حسین بھٹی اور جسٹس چوہدری خورشید احمد پر مشتمل تھا۔ ڈویژن بنچ نے 23 فروری 1995ء بمطابق 22 رمضان المبارک 1415ھ کو اس مقدمے کی ”آؤٹ آف ٹرن“ سماعت کر کے صرف نو روز کے اندر فیصلہ سنا دیا اور ملزمان کو توہین رسالت کے الزامات سے بری کر دیا۔
1996ء میں بے نظیر کابینہ کا فیصلہ : خواتین کے لیے سزائے موت کا خاتمہ
پاکستان کی وفاقی کابینہ کا ایک اجلاس مورخہ 10 جون 1996ء کو وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جن سنگین مقدمات میں خواتین کو سزائے موت دی جا سکتی ہے اب انہیں سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ کابینہ نے اس سلسلہ میں مسودہ قانون کی منظوری دی۔ اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات و نشریات خالد احمد خان کھرل نے بتایا کہ خواتین دہشت گردی یا معصوم شہریوں کے سفاکانہ قتل کی وارداتوں میں بہت کم ملوث پائی جاتی ہیں، لہٰذا ان کے لیے سزائے موت ختم کر دی گئی ہے۔ اس اقدام سے معاشرے پر خوشگوار اثر پڑے گا۔ [نوائے وقت لاہور 11-6-1996]
کابینہ کا یہ فیصلہ کسی لحاظ سے بھی درست نہ تھا اس لیے کابینہ کا یہ فیصلہ ملک کا قانون نہ بن سکا۔ یہ فیصلہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-C پر بھی اثر انداز ہوتا تھا۔ اس فیصلہ سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ سنگین جرائم کے ارتکاب کے لیے مردوں کے بجائے عورتوں کو استعمال کیا جائے گا۔ ویسے بھی اصول یہ ہے کہ سزا کی بنیاد جرم ہوتا ہے نہ کہ جنس۔ جس نے جو جرم کیا اسے اس جرم کی سزا ملے گی خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ اسلام میں جرم کے لحاظ سے مجرموں کو سزا دینے میں جنسی امتیاز نہیں ہے۔
عدالت سے سزائے موت یافتہ مجرم کو معافی
آئین پاکستان 1973ء کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی عدالت، ٹربیونل یا اتھارٹی سے دی جانے والی کسی بھی سزا کو معاف، ملتوی، کم یا اسے کسی ہلکی سزا میں تبدیل
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور، مارچ، اپریل 2011ء 249 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کر دے۔ اس آرٹیکل کے الفاظ یہ ہیں:
President's power to grant pardon, etc.—The President shall have power to grant pardon, reprieve and respite, and to remit, suspend or commute any sentence passed by any court, tribunal or other authority.
کیا اسلامی احکام کی رُو سے سربراہِ ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ عدالت سے سزائے موت پانے والے مجرم توہینِ رسالت کو معاف کر دے؟
رسول اللہ ﷺ کی سنت سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے گستاخانِ رسالت کو سزا دینے کے حوالے سے مختلف اوقات میں ان کے ساتھ مختلف سلوک کیے۔ مکی دور میں جہاں آپ ﷺ کو سیاسی طور پر غلبہ حاصل نہیں تھا آپ نے حکمِ الٰہی کے تحت کفارِ مکہ کی تمام گستاخیاں برداشت کیں۔ مدنی دور میں آپ ﷺ سیاسی مقتدرِ اعلیٰ تھے لیکن اس دور کے ابتدائی زمانہ میں گستاخوں کو مصلحتاً معاف کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے خود اس مصلحت کا اظہار فرمایا تھا۔
صحیح بخاری میں ہے کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی سلول کی حرکتوں پر جب حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ (1) اسے چھوڑ دو، کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں معافی میں یہ مصلحت بھی کارفرما تھی کہ ان نئے نئے مسلمانوں کی تالیفِ قلب بھی ہو۔ دینِ اسلام کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ اور اس کی طرف میلان رکھنے والے غیر مسلم افراد کو قبولِ اسلام کی طرف رغبت دلانا بھی مقصود تھا۔ نو مسلموں کی تالیفِ قلب کے ساتھ ساتھ ان خدشات اور شکوک کو دُور کرنا بھی مقصد تھا جو غیر مسلموں کے ذہنوں میں پیدا ہو سکتے تھے کہ مسلمانوں کے پیغمبر تو اپنے ساتھیوں ہی کو قتل کر دیتے ہیں۔
محدث ابن حجر عسقلانیؒ (م 852ھ) نے فتح الباری میں ابن بطال کے حوالے سے مہلب کا قول نقل کیا ہے کہ نو مسلموں کی تالیفِ قلب اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھی جب ان کی مضرتوں اور نقصانات کو دُور کرنے کے لیے اشد ضرورت تھی۔ لیکن جب اللہ نے اسلام کو غالب کر دیا تو پھر تالیف کی ضرورت نہ رہی۔ البتہ اگر ایسی حاجت پیش آجائے تو حاکمِ وقت کو انسانوں کی تالیفِ قلب کے لیے اقدامات کرنے کا اختیار ہے (2)۔
لیکن اس رائے کے خلاف ایک اور موقف ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ ابن قیمؒ (م 751ھ) کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا حق تھا کہ آپ اپنے گستاخ سے بدلہ لیتے یا اسے چھوڑ دیتے۔ امت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا حق پورا نہ کریں اور اسے چھوڑ دیں۔ مزید یہ کہ درگزر کرنے کا معاملہ شروع شروع میں تھا جب آپ ﷺ کو عفو و درگزر کا حکم دیا گیا تھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا حق چھوڑتے ہوئے مصلحت کے تحت مجرمینِ توہینِ رسالت کو معاف کیا تاکہ لوگ آپ سے متنفر نہ ہو جائیں اور لوگ یہ باتیں نہ کریں کہ محمد ﷺ
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 250
اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ حافظ ابن قیمؒ کہتے ہیں کہ یہ سب رسول اللہ ﷺ کی حیات ظاہری کے ساتھ مخصوص تھا اور آپ کے بعد کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ آپ ﷺ کا یہ حق ساقط کر دے (3)۔
موجودہ حالات کے تناظر میں یہ ضروری ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی شان اقدس پر جو حملے ہو رہے ہیں ان کے جواب میں مسلمانوں کو ردّ عمل ظاہر کرنا چاہیے، خواہ وہ کسی علاقے میں سیاسی طور پر اقلیت ہی میں ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کی توہین میں نعوذ باللہ جو گاہے بگاہے کارٹون، مضامین اور کتابیں شائع کی جارہی ہیں، یہ سب ایک منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے۔ یہ گھناؤنے واقعات امت مسلمہ کے لیے ٹیسٹ کیس ہیں جن کے ذریعے دشمنان اسلام یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں ابھی کتنی غیرت باقی ہے اور وہ ابھی دینی اعتبار سے کتنے بے حس ہوئے ہیں۔ ان مسلسل گستاخانہ واقعات کا یہ مقصد بھی ہے کہ مسلمان توہین رسالت کے ان واقعات کو عام سی بات سمجھنا شروع کر دیں۔ لہٰذا امت مسلمہ پر لازم ہے کہ ایسے واقعات پر اپنے غصہ اور نفرت کا اظہار پوری دنیا کے سامنے کرنا چاہیے۔ لیکن صرف ان جذباتی نعروں، جلوسوں اور مظاہروں سے کام نہیں بنے گا، مسلمانوں کو قرآن اور سنت نبوی سے اپنا تعلق مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ نبی ﷺ سے محبت کا اظہار ان مواقع پر صرف مظاہروں ہی کی شکل میں نہ ہو بلکہ ہماری ذاتی و اجتماعی زندگیوں میں بھی رسول اللہ ﷺ سے محبت کے مظاہرے نظر آنے چاہیں جو کہ آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہے۔
اسلامی فوجداری قانون میں جرائم کی حدود و تعزیرات میں تقسیم عہد صحابہؓ کے بعد کی ہے جسے فقہاء نے اختیار کیا ہے۔ فقہاء کے ہاں جرائم حدود کی تعداد میں اختلاف ہے۔ فقہاء نے جرائم کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ جو جرائم سنگین نوعیت کے تھے اور جن کی سزا قرآن و سنت یا اجماع سے متعین تھی انہیں حدود میں شمار کیا اور جو جرائم سنگینی میں حدود کے مانند نہیں تھے اور ان کی سزا نصوص میں متعین نہیں تھی ایسے تمام جرائم کو تعزیرات کی فہرست میں رکھ دیا گیا۔
حدود اور تعزیرات کی اس فقہی تقسیم کی وضاحت میں پروفیسر عمران احسن نیازی اس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر سب جرائم کو حقوق اللہ قرار دے دیا جاتا تو کسی سزا کو معاف کرنا اور کسی سخت سزا کو کسی نرم سزا میں تبدیل کرنا ممکن نہ ہوتا(4)۔ تعزیرات وہ جرائم ہیں جو حقوق العباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ بندے اپنا حق چھوڑ سکتے ہیں یا معاف کر سکتے ہیں یا کمی بیشی کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ جرائم جنہیں حدود قرار دیا گیا ہے ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حق کوئی بندہ معاف نہیں کر سکتا۔ حدود کو معاف نہیں کر سکتا، انہیں کسی نرم سزا میں تبدیل نہیں کر سکتا، ان میں صلح نہیں ہو سکتی اور نہ ان میں سفارش جائز ہے۔ یہ بات ہمیں سنت سے ملتی ہے۔
سنن ابی داؤد میں حضرت عائشہؓ سے مروی حدیث میں ہے کہ جب بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی تو اس کے قبیلے نے حضرت اسامہؓ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس سفارش کے لیے بھیجا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا:
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 251 تحفظ ناموس رسالت نمبر
يَا أُسَامَةُ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ فَقَالَ إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا (5)۔
اے اسامہ ! کیا تم اللہ کی حدوں میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو ؟ پھر آپ کھڑے ہوگئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: تم سے پہلے کی امتیں اس وجہ سے ہلاک ہوگئیں کہ جب ان میں سے کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے۔ اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔
سنن ابی داؤد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تَعَافُوا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ (6)
تم آپس میں حدود کو معاف کر دیا کرو۔ لیکن جو حد مجھ تک پہنچ گئی تو بیشک وہ واجب ہوگئی۔ یعنی اگر تم کسی کو جرم کرتے ہوئے دیکھو تو اسے چھپاؤ لیکن جب جرم کی اطلاع حکمران تک پہنچ گئی تو پھر اسے معاف نہیں کیا جاسکتا بلکہ سزائے حد واجب ہوگی۔
سنن ابی داؤد میں ایک اور روایت ہے کہ حضرت صفوان بن امیہؓ اپنی قیمتی چادر سر کے نیچے رکھ کر سو رہے تھے۔ ایک چور وہ چادر چرا کر لے گیا۔ چور کو پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا۔ آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ یہ سن کر حضرت صفوانؓ بولے: کیا آپ اس کا ہاتھ تیس درہم کی وجہ سے کاٹ رہے ہیں؟ میں یہ چادر اسے فروخت کرتا ہوں اور اس کی قیمت بعد میں لے لوں گا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:
فَهَلَّا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ (7)
پھر یہ میرے پاس لانے سے پہلے ہی کر لیا ہوتا۔
ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حدود سے متعلق جرائم اگر عدالت و حکمران کے سامنے آگئے تو جرم ثابت ہوجانے پر مجرم پر حد جاری ہوگی اور اسے معاف نہیں کیا جاسکتا، اس میں صلح نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اسے کسی کم اور نرم سزا میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سپریم جج تھے سب سے بڑی اپیل کورٹ تھے لیکن آپ نے حدود میں نہ تو کسی کی سفارش مانی، نہ مجرم کو معاف کیا، نہ سزائے جرم میں کمی کی اور نہ ہی اسے کم سخت سزا میں تبدیل کیا۔ مجرم اگر توبہ کرتا ہے تو اس کی یہ توبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہے لیکن دنیا میں اس پر حد جاری ہوگی۔ جیسے حضرت ماعزؓ پر حد جاری کی گئی اور ان کی توبہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا:
لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ (8)
ماعزؓ نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ توبہ ایک امت کے لوگوں میں بانٹ دی جائے تو سب کو کافی ہوجائے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور، مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 252 تحفظ ناموس رسالت نمبر
امام ابن تیمیہؒ (م 728ھ) نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے مجرم کو قتل کرنا لازمی ہے اور یہ جائز نہیں ہے کہ اس پر احسان کر کے یا فدیہ لے کر اسے چھوڑ دیا جائے (9)۔
لہٰذا اسلام کے قانونی نصوص کی روشنی میں مندرجہ بالا بحث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر توہین رسالت کے مجرم پر جرم ثابت ہو جائے اور عدالت اسے قرار واقعی سزائے موت کا فیصلہ سنا دے تو پھر کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ عدالت کے سنائے ہوئے فیصلے کے برعکس مجرم کو معاف کر دے یا اس کی سزا معطل کر دے یا اس کی سزا میں تخفیف کر دے یا سزائے موت کو کسی کم سزا میں تبدیل کر دے۔
اوپر صفحات میں پاکستان کے قانون ناموس رسالت کا ارتقائی جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ قانون ریاستی قانون ہے اور ہر پاکستانی شہری پر نافذ ہے۔ پاکستان کے تمام ادارے اور شہری ریاستی قانون کے ماتحت ہیں اور قانون سے ماورا کوئی نہیں ہے۔ یہ قانون اس بات کی ضمانت ہے کہ ایک شہری کی جان، مال اور عزت دوسروں کے ہاتھوں سے محفوظ ہے۔ اس کی موجودگی میں کسی پر جھوٹا الزام لگا کر اس کی جان اپنے ہاتھ میں نہیں لی جاسکتی بلکہ ریاستی قانون ہر ملزم کو صفائی کا پورا موقع فراہم کرتا ہے۔ مقننہ عوام کی بہتری اور ان کے فائدے کے لیے قانون سازی کرتی ہے۔ کسی قانون کی خلاف ورزی کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ قانون ہی غلط ہے۔ اگر یہ زاویۂ سوچ اختیار کر لیا جائے تو پھر شائد ہی کوئی قانون صحیح اور اچھا قرار دیا جاسکے۔
حوالہ جات
1- بخاری، محمد بن اسماعیل (م 256ھ)، صحیح بخاری، کتاب التفسیر،باب قولہ: { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ
لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ } باب قولہ: {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} ج2، ص 946، مکتبہ تعمیر انسانیت اردو بازار لاھور 1979ء
2- ابن حجر عسقلانی (م 852ھ)، فتح الباری، کتاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّینَ وَالْمُعَانِدِینَ وَقِتَالِهِمْ، بَاب مَنْ تَرَكَ قِتَالَ
الْخَوَارِجِ لِلتَّأَلُّفِ وَأَنْ لَا يَنْفِرَ النَّاسُ عَنْهُ، دار نشر الکتب الإسلامیۃ، شیش محل روڈ لاھور ج 12، ص 291
3- ابن قیم الجوزیۃ، محمد بن أبي بكر بن أيوب (م 751ھ)، زاد المعاد في هدی خیر العباد، مؤسسۃ الرسالۃ مکتبۃ
الإسلامیۃ، ج 3، ص 441 و ج 5، ص 61
4- General Principles of Criminal Law (Islamic and western) by Imran
Ahsan Nyazee, Shari'ah Academy International Islamic University Islamabad, Page 69
5- ابوداؤد، سلیمان بن اشعث (م 275ھ)، سنن أبي داؤد، کتاب الحدود، باب فی الحد یُشفع فیہ، دارالاشاعت
اردو بازار کراچی، ج 3، ص 318
6- سنن أبي داؤد، کتاب الحدود، باب العفو عن الحدود ما لم تبلغ السلطان، ج 3، ص 319
7- حوالہ بالا ج 3، ص 327
8- مسلم بن حجاج (م 261ھ)، صحیح مسلم، کتاب الحدود، باب حد الزنا، ج 4، ص 325 - 326
9- ابن تیمیۃ، الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ص 273
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ ' اپریل 2011ء
تحفظ ناموس رسالت نمبر
محمود الرحمن *
قانون ناموس رسالت
اور
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات
اسلامی نظریاتی کونسل وفاقی حکومت کا ایک ایسا ادارہ ہے جسے ملکی قوانین کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کی غرض سے قانون ساز اداروں کو قرآن وسنت کی روشنی میں مشاورت فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ کونسل ۱۹۶۲ء میں معرض وجود میں آئی۔ آئین کے آرٹیکل ۲۳۰ میں اسلامی نظریاتی کونسل کے درج ذیل فرائض کی نشاندہی کی گئی ہے۔
- (الف) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیوں سے ایسے ذرائع اور وسائل کی سفارش کرنا جن سے پاکستان کے
مسلمانوں کو اپنی زندگیاں انفرادی اور اجتماعی طور پر ہر لحاظ سے اسلام کے ان اصولوں اور تصورات کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب اور امداد ملے جن کا قرآن پاک اور سنت میں تعین کیا گیا ہے۔
- (ب) کسی ایوان، کسی صوبائی اسمبلی، صدر یا کسی گورنر کو کسی ایسے سوال کے بارے میں مشورہ دینا جس میں کونسل سے اس
بابت رجوع کیا گیا ہو کہ آیا کوئی مجوزہ قانون اسلامی احکام کے منافی ہے یا نہیں۔
- (ج) ایسی تدابیر کی سفارش کرنا، جن سے نافذ العمل قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا، نیز ان مراحل کی
سفارش کرنا جن سے گزر کر محولہ بالا تدابیر کا نفاذ عمل میں لانا چاہیے۔
- (د) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیوں کی رہنمائی کے لیے اسلام کے ایسے احکام کی ایک موزوں شکل میں
تدوین کرنا جنہیں قانونی طور پر نافذ کیا جاسکے۔
آئین میں بیان کی گئی کونسل کی ذمہ داریوں کے تناظر میں مختلف ریاستی ادارے مختلف معاملات میں اسلامی قانون فقہ کی تفہیم کے لئے وقتاً فوقتاً کونسل سے رجوع کرتے رہتے ہیں۔ کونسل ریاستی اداروں اور افراد کی طرف سے بھیجے گئے مراسلات پر اپنی رائے دیتی ہے۔ کونسل کا عمومی طریقہ یہ ہے کہ متعلقہ مسئلہ یا استفسار پر اراکین کا اجلاس منعقد کیا جاتا ہے اور اس اجلاس (یا یکے بعد دیگرے کئی اجلاسوں) کے نتیجہ میں زیر بحث مسئلہ پر سامنے آنے والی آراء کا نچوڑ متعلقہ اداروں کو مراسلہ یا رپورٹ کی صورت میں بھیجا جاتا ہے۔ تاہم اگر کوئی مسئلہ پہلے ہی کونسل کے پیش نظر آ چکا ہو اور کونسل اس پر اپنی رائے کو حتمی شکل دے چکی ہو تو وہ رائے جوابی مراسلہ میں ارسال کی جاتی ہے۔
* نائب مدیر ماہنامہ ضیائے حرم
تحفظ ناموس رسالت نمبر 254 ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
یہاں ان سطور میں کونسل کی کارکردگی اور طریق کار کا ذکر مقصود نہیں بلکہ یہاں قانون ناموس رسالت کے حوالہ سے اسلامی نظریاتی کونسل میں جو مباحث ہو چکی ہیں اور اس حوالہ سے کونسل نے جو آراء دی ہیں، ان کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں کونسل کے ۲۰۰۶ء تک کے ریکارڈ کی ورق گردانی سے معلوم ہوا ہے کہ جرم توہین رسالت کے حوالہ سے کونسل سے دو دفعہ رائے طلب کی گئی اور دونوں دفعہ کونسل نے جو سفارشات پیش کیں وہ حسب ذیل ہیں:
قانون ناموس رسالت میں مجوزہ ترمیم پر کونسل کی رائے
قانون ناموس رسالت مآب ﷺ کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے اور اسے ناقابل دست اندازی پولیس بنانے کے لیے پاکستان لاء کمیشن نے ۲۰ نومبر ۱۹۹۳ء کو چیئرمین کونسل کو ایک مراسلہ لکھا جس میں درج تھا کہ:
”توہین رسالت سے متعلق مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔ ج کے تحت یہ جرم ضابطہ فوجداری، جدول دوم، کی رو سے قابل دست اندازی پولیس اور ناقابل ضمانت جرم ہے۔ بعض اوقات اس قانون کے غلط یا بے جا استعمال کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ناکردہ گناہ ملزموں کے غیر معینہ مدت تک بندی خانے میں محبوس رہنے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر اس قانون کا غلط استعمال ہوگا تو غیر مسلم ذرائع ابلاغ کو مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کا موقع ملے گا۔“
لاء کمیشن نے یہ تجویز کیا کہ اس جرم کو قابل دست اندازی پولیس کی بجائے ناقابل دست اندازی پولیس اور قابل ضمانت قرار دیا جائے۔ یعنی یہ کہ پولیس ملزم کو بلا وارنٹ گرفتار نہ کر سکے اور ملزم کی ضمانت کی قانونی گنجائش بھی موجود ہو۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے ۱۳۲ ویں اجلاس منعقدہ ۲۰۔۲۱ اپریل ۱۹۹۸ء میں لاء کمیشن کی اس تجویز کے تمام پہلوؤں پر مفصل بحث کی اور کونسل کے اراکین کی توجہ اس جرم کو ناقابل دست اندازی پولیس قرار دینے کے مضمرات پر بطور خاص مرکوز رہی۔ کونسل نے اپنے اس اجلاس میں لاء کمیشن کی اس رائے سے اتفاق کیا کہ قانون کے غلط استعمال کا سد باب ضروری ہے تاہم کونسل نے لاء کمیشن کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا کہ توہین رسالت کے ملزم کو پولیس وارنٹ کے بغیر گرفتار نہ کر سکے۔ کونسل کی رائے میں اگر گستاخی رسول کے الزام کو نا قابل دست اندازی پولیس قرار دیا گیا تو اس قانون کے اجراء کا اصل مقصد ہی فوت ہو جائے گا اور یوں یہ قانون آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارادہ کرنے والے دریدہ دہنوں کو جرم کے ارتکاب سے باز رکھنے کی صلاحیت کھو دے گا۔ اس تناظر میں کونسل نے یہ بھی کہا ہے کہ ضابطہ فوجداری میں صرف یہی جرم قابل دست اندازی پولیس نہیں ہے بلکہ متعدد ایسے جرائم ہیں جو قابل دست اندازی پولیس ہیں اور ان کے حوالہ سے پولیس کی طرف سے اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایتیں بھی عام ہیں لیکن ان دوسرے جرائم کے حوالہ سے کمیشن کیوں انہیں ناقابل دست اندازی پولیس بنانے کی تجویز نہیں دیتا؟ کمیشن کے مراسلہ کے جواب میں اسلامی نظریاتی کونسل نے کمیشن کی اس تجویز کو ان لوگوں کا اعتراض قرار دیا جو پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور اسلامی نظام کے نفاذ کے مخالف ہیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
کونسل نے اسلامی قوانین کے نفاذ کے حوالے سے حکومتوں کے معذرت خواہانہ رویہ کو بھی قابل افسوس قرار دیا اور واضح الفاظ میں یہ کہا کہ قانون ناموس رسالت کو ناقابل دست اندازی پولیس بنانے کے لیے وہ قوتیں سرگرم ہیں جو انسانی حقوق کی نام نہاد علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ان کی ہمدردیاں ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ رہی ہیں جو توہین رسالت کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ کونسل نے توہین رسالت کے جرم کو ناقابل دست اندازی پولیس بنانے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت میں اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔ مزید برآں کونسل نے یہ سفارش بھی کی کہ اس قانون کے بے جا استعمال کو روکنے کے لیے مقدمہ کے اندراج میں یہ تبدیلی لائی جاسکتی ہے کہ جو شخص کسی کے خلاف توہین رسالت کی درخواست دے وہ بیان حلفی دے یا پھر اپنے بیان کی تائید میں دو گواہ پیش کرے تاکہ مقدمہ کے اگلے مراحل میں وہ اپنے بیان سے مکر نہ سکے۔ کونسل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے:
”کونسل کے نزدیک اس قانون کے غلط استعمال کے امکان کا سدباب کرنا ضروری ہے، تاہم اس قانون کو ناقابل دست اندازی پولیس قرار دینا کہ پولیس ایسے ملزم کو بلا وارنٹ گرفتار نہ کرسکے اس کا مناسب حل نہیں بلکہ اس طرح قانون کے اجراء کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا اور وہ جرم سے باز رکھنے کی صلاحیت سے عاری ہو جائے گا۔ مزید برآں ضابطہ فوجداری میں صرف یہی جرم قابل دست اندازی پولیس اور ناقابل ضمانت جرائم کی فہرست میں شامل نہیں، متعدد دیگر جرائم بھی قابل دست اندازی پولیس ہیں۔ ان کے بارے میں بھی پولیس کی طرف سے اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات برابر آتی رہتی ہیں۔ مگر ان دیگر جرائم کے بارے میں یہ حل پیش نہیں کیا جاتا کہ انہیں ناقابل دست اندازی پولیس قرار دیا جائے۔
کونسل الزام تراشی پر یقین نہیں رکھتی مگر دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ اعتراضات بالعموم اس طبقہ کی طرف سے کئے جاتے ہیں جو سرے سے اسلامی قوانین کی تنفیذ کی مخالفت میں پیش پیش رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری حکومتوں کا رویہ بھی اس قانون کے بارے میں معذرت خواہانہ رہا ہے۔ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں اور بعض شہرت طلب وکلاء کی ہمدردیاں بھی معروضی حقائق سے قطع نظر ان مجرموں کے ساتھ رہی ہیں جن پر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا۔
برصغیر میں طویل عرصہ سے مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے پیرو ساتھ ساتھ رہتے آئے ہیں مگر اس لائق نفرین جرم کے حالیہ واقعات کے تسلسل سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی گہری سازش کارفرما ہے۔ ہمارے دور میں اگرچہ بالعموم مسلمانوں کی اپنے دین کے احکام سے وابستگی کم ہو گئی ہے مگر ذات رسالت مآب ﷺ سے ہر ایک مسلمان کی والہانہ جذباتی وابستگی ہمارا ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ بین الاقوامی سازش اس کو بھی مسمار کر دینا چاہتی ہے۔ ایک سازش کے تحت بعض اسلام دشمن افراد سے شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخانہ کلمات کہلوائے گئے اور پھر ان کو تحفظ دے کر اعزاز کے ساتھ بیرون ملک روانہ کرنے کا اہتمام کیا گیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے پروسیجرل لاء میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے، تاہم جب تک ہم
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء 256 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اسلامی احکام اور اقدار و روایات کے مطابق ایک نیا پروسیجرل لاء نہیں بنا لیتے، اس جرم کو قابل دست اندازی پولیس اور نا قابل ضمانت ہی رہنا چاہیے۔ اس جرم کو ناقابل دست اندازی پولیس قرار دینے کی صورت میں یہ خدشہ شدید تر ہو جائے گا کہ ایسے مواقع پر عوام قانون کو خود اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ البتہ قانون کے غلط یا بے جا استعمال کے امکان کو روکنے کے لئے یہ طریق کار اختیار کیا جا سکتا ہے کہ جو شخص کسی کے خلاف توہین رسالت کے ارتکاب کی درخواست دے تو وہ یا تو حلفاً بیان دے، یا اپنے بیان کی تائید میں دو گواہ پیش کرے، تا کہ آئندہ وہ اپنے بیان سے مکر نہ سکے اور اگر اس نے کسی کو نا جائز طور پر ہراساں کرنے کے لئے ایسی درخواست دی ہے، تو وہ قانون کے مطابق جھوٹی شکایت دائر کرنے کی سزا پا سکے۔“
(اسلامی نظریاتی کونسل کی سالانہ رپورٹ: ۱۹۹۷۔ ۱۹۹۸ء صفحہ ۷۷۔۷۸)
قانون ناموس رسالت پر کونسل سے حکومت کا دوسرا استفسار
اسلامی نظریاتی کونسل کا اصل کام اگرچہ یہ ہے کہ وہ ملکی قوانین کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کے لیے اپنا مشاورتی کردار ادا کرے لیکن یہ بات نہایت افسوس سے کہنا پڑتی ہے کہ ۲۰۰۶ء میں مشرف کی نام نہاد روشن خیالی کے فلسفہ کے تحت کونسل نے حدود آرڈیننس کی تنسیخ میں اہم کردار ادا کیا۔ تحفظ حقوق نسواں بل کے نام سے حدود آرڈیننس کی تنسیخ میں اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار انتہائی تکلیف دہ امر ہے۔ اپنے دور اقتدار میں مشرف اسلامی نظریاتی کونسل کے ذریعے ملکی قانون میں موجود ایسی شقوں کو تبدیل کرنا چاہتا تھا جو اسلام کے نظام انصاف کی تعبیر کے مطابق ہیں۔ مشرف انتظامیہ میں قادیانی لابی چونکہ بہت مضبوط تھی اس لیے ایسی مربوط کوششیں کی گئیں کہ ملکی قوانین میں موجود اسلامی دفعات کی تنسیخ کی جائے۔ اس سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل میں ایسے لوگوں کو بٹھایا گیا جو نہ صرف یہ کہ اسلام کی تشریح مغربی نکتہ نظر سے کرتے ہیں بلکہ مغرب کے وظیفہ خوار بھی ہیں۔ ان کی ایک مثال جاوید احمد غامدی ہے۔ جس نے حدود بل کی تنسیخ کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے اور فکری انتشار پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا اور آج کل ناموس رسالت کے مسئلہ پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر کے ان کی دولت ایمان پر ڈاکہ زنی کا کام کر رہا ہے۔ مشرف دور میں ایک سے زائد بار قانون ناموس رسالت میں تبدیلی کی کوششیں ہوئیں جسے بیدار رائے عامہ کے شعور نے اپنے احتجاج کی طاقت سے ناکام بنا دیا۔ ناموس رسالت کے قانون ۲۹۵ سی میں تبدیلی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ توہین رسالت کے مرتکب افراد کو ماورائے قانون چھوڑ دینے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ اس سلسلہ میں ایک مراسلہ وفاقی گورنمنٹ کی قانون، انصاف اور انسانی حقوق ڈویژن کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل کو لکھا گیا جس میں توہین رسالت کے مرتکب ایک شخص ڈاکٹر یونس شیخ کی سزا کی معافی کے حوالہ سے کونسل سے رائے طلب کی گئی تھی۔ دراصل مشرف اپنے بیرونی آقاؤں کی خواہش پر ڈاکٹر یونس سے توبہ کا بیان دلوا کر اسے معاف کرنے کا جواز پیدا کرنے کا خواہاں تھا۔ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے یا وہ گواہ افراد کے لیے ایک ایسا دروازہ کھل جاتا جس سے وہ جب مرضی ہوتی توہین رسالت کا ارتکاب کر کے داخل ہوتے اور جب مرضی ہوتی توبہ کا بہانہ بنا کر نکل جاتے۔ مشرف دور میں توہین رسالت کے مجرم کی رہائی کی اس تجویز پر اسلامی نظریاتی کونسل
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 257 تحفظ ناموس رسالت نمبر
سے مہر تصدیق ثبت کروانے کی کوشش کی گئی۔
ڈاکٹر یونس شیخ نے اسلام آباد کے سیکٹر G-9 میں واقع کیپٹل ہومیو پیتھک کالج میں دوران تدریس نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا۔ اس کی اس دریدہ دہنی پر مارگلہ پولیس سٹیشن اسلام آباد میں چار اکتوبر 2000ء کو دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کروایا گیا۔ پولیس کے پاس مقدمہ کے اندراج سے قبل کالج کے طلباء نے ملعون کے بکواسات پر احتجاج کیا اور اس مسئلہ کو مقامی علمائے کرام کے سامنے رکھا۔ علماء اور اہل علاقہ کی مداخلت پر پولیس نے ابتدائی تحقیق کی اور یہ ثابت ہونے پر کہ ڈاکٹر یونس شیخ نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا ہے اس کے خلاف دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا اور اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کر دیا۔ ڈاکٹر ملعون پر کیس چلا اور 8 اگست 2001ء کو اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے مجرم کو توہین رسالت کے ارتکاب کے جرم میں سزائے موت سنائی۔ اس فیصلہ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ میں اپیل کی گئی۔ اپیل سماعت کے لیے منظور ہوئی اور ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ میں سے ایک جج نے مجرم کی سزائے موت کو بحال رکھتے ہوئے اس کی اپیل کو مسترد کرنے کا فیصلہ دیا جبکہ دوسرے جج نے اس کی اپیل کو منظور کر کے ایڈیشنل سیشن جج کی طرف سے دی گئی سزا کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ دیا۔ اس صورت حال میں یہ مقدمہ حسب ضابطہ تیسرے جج کو بھیجا گیا تاکہ وہ ڈویژن بنچ کی اس مقدمہ میں سامنے آنے والی متضاد رائے پر فیصلہ صادر کرے۔ اس دوران امریکی رکن کانگریس جیمس میک گورن نے پاکستان کو ملعون کی سزا کی منسوخی اور رہائی کی تجویز دے ڈالی اور امریکیوں کی طرف سے تجویز بھی ہمارے حکمران طبقہ کے لیے ایسا فرمان ہوتا جسے وہ بجا لانے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی روا نہیں رکھتے۔ تجویز کے آتے ہی پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنے بیرونی آقا امریکہ کی خوشنودی کے حصول کے لیے ایک سمری تیار کی جس میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ توہین رسالت کے مجرم کو توبہ کا ہر ممکن موقع فراہم کیا جانا چاہیے اور عدالتوں کو چاہیے کہ وہ ایسی توبہ کو مناسب طریقے سے زیر غور لائیں۔ یہ سمری قانون، انصاف اور انسانی حقوق ڈویژن کی وساطت سے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوائی گئی۔ اس میں تجویز دی گئی تھی کہ اگر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ بھی ڈاکٹر یونس شیخ کی سزا کو برقرار رکھتی ہیں تو صدر مملکت سے یہ سفارش کی جانی چاہیے کہ وہ ڈاکٹر یونس شیخ کی طرف سے توبہ کرنے کو بنیاد بناتے ہوئے اس کی سزا معاف کر دیں اور اسے رہا کر دیا جائے۔
پاکستان کی جیلوں میں ہزاروں افراد ناحق قید کاٹ رہے ہیں لیکن یہ تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ وزارت خارجہ کی طرف سے ان افراد کو اس ظلم سے نجات دلوانے کی کوئی سنجیدہ کوشش آج تک سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح قانون انصاف اور انسانی حقوق ڈویژن کو بھی ظلم کی چکی میں پسنے ان بے بس افراد کے انسانی حقوق کا کبھی خیال نہیں آیا، لیکن جب نبی اکرم ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی کے مرتکب افراد کا معاملہ ہوتا ہے تو ہمارے ریاستی اداروں کی اکثریت یہود و نصاریٰ کی پیروی میں ایسے افراد کی رہائی میں انتہائی سرگرم کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے اور اسلام کے نظام انصاف کا تقاضا بھی کہ محض الزام کی بنیاد پر کسی کو بھی سزا نہیں ملنی چاہیے تاوقتیکہ اس
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 258 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ملزم کے ارتکاب جرم میں شک و شبہ نہ رہے لیکن یہ مقام غور ہے کہ ہمارے قومی ادارے غیر ملکی آقاؤں کی ہدایات پر ہمیشہ توہین رسالت کے مرتکب افراد کو ہی چھڑانے میں کیوں سرعت کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی یہ سرگرمی باقی جرائم کے ملزموں کے حوالہ سے کیوں دکھائی نہیں دیتی؟ بہرحال شاتم رسول کی توبہ کے حوالہ سے حکومتی استفسار پر کونسل کی رائے ملاحظہ کیجئے۔
شاتم رسول کی توبہ کے حوالہ سے حکومتی استفسار پر کونسل کی رائے
توہین رسالت کے جرم کے بارے میں قانون، انصاف اور انسانی حقوق ڈویژن کی دفتری یادداشت نمبر ۱۶۱۹/ ۲۰۰۲ لاء (۱) کے حوالہ سے، مورخہ ۲۵/ اپریل ۲۰۰۳ء کو اسلامی نظریاتی کونسل کو موصول ہونے والی وزارت خارجہ کی ایک سمری میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ اس قانون کے تحت ماخوذ ملزم کو توبہ کا ہر ممکن موقع فراہم کیا جانا چاہئے اور عدالتوں کو چاہئے کہ وہ ایسی توبہ (Repentance) کو مناسب طریقے سے زیر غور لائیں۔
اس سمری کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
- ۱۔ اگر ڈاکٹر یونس کے اس بیان کے بعد بھی کہ اس کا توہین رسالت کے ارتکاب کا کبھی بھی کوئی ارادہ نہیں تھا، عدالت عالیہ
پنجاب اور عدالت عظمیٰ اپنا فیصلہ برقرار رکھے تو صدر پاکستان کو چاہیے کہ وہ از راہ رحم دلی ڈاکٹر یونس کی سزا کو معاف کردیں۔
- ۲۔ قوانین توہین رسالت کے غلط استعمال کو جرم شمار کیا جائے۔
- ۳۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۱۹۳ اور ۱۹۴ کو مضبوط بنایا جائے۔
- ۴۔ پولیس کو ہدایت کی جائے کہ وہ ابتدائی تحقیق میں واقعہ کی صداقت ثابت ہونے کے بعد ہی قوانین توہین رسالت
کے تحت مقدمات درج کرے۔
- ۵۔ عدالت کو توہین رسالت کے مقدمات کا جلد فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا جائے۔
- ۶۔ عدالتوں، ججوں، وکلاء، گواہوں اور ملزم کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ انتہا پسند انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔
- ۷۔ ملزم کو توبہ کے لئے پورا موقع فراہم کیا جائے۔
- ۸۔ ۲۹۵ (اے) کے تحت توہین رسالت کے مقدمات، انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے عام عدالتوں میں منتقل کر
دیئے جائیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی طرف سے وزارت خارجہ کی سمری میں جواب طلب نکات کا عبوری جوابی مراسلہ ۲۲/ مئی ۲۰۰۳ء کو سیکرٹری قانون وانصاف و انسانی حقوق ڈویژن کے نام ارسال کیا گیا جس میں انہوں نے لکھا:
”یہ درحقیقت حیران کن امر ہے کہ کانگریس کے رکن جیمس میک گورن نے ڈاکٹر یونس شیخ کی موت کی سزا کی منسوخی اور اس کی رہائی کی تجویز دینے کی دیدہ دلیری کی ہے۔ یہ امر مشکوک ہے کہ وہ اپنے ہی ملک کے عدالتی نظام کے حوالے سے ایسا مشورہ دے سکیں گے۔ یہ حقیقت اور بھی حیران کن اور مایوس کن ہے کہ وزارت امور
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
خارجہ نے اپنے طور پر یا کسی خارجی تجویز پر صدر سے سفارش کی کہ ”اگر عدالت عالیہ پنجاب اور عدالت عظمیٰ اپنا فیصلہ برقرار رکھتی ہے اور ڈاکٹر یونس بذریعہ اقرار نامہ یہ بیان دیتا ہے کہ اس کا توہین رسالت کے ارتکاب کا کبھی ارادہ نہیں تھا، تو صدر ڈاکٹر یونس شیخ کو بخوشی معافی دے سکتے ہیں“۔ اس صورت میں تو کوئی بھی ملزم یہ عذر پیش کر کے کہ اس کا توہین رسالت کا کوئی ارادہ نہیں تھا، سزا سے بلا روک ٹوک بچ سکے گا۔“
(اسلامی نظریاتی کونسل کی سالانہ رپورٹ: ۲۰۰۳-۲۰۰۴ء صفحہ: ۶۳-۶۴)
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے اس مراسلے میں سیکرٹری قانون، انصاف اور انسانی حقوق ڈویژن کی اس رائے سے پوری طرح اتفاق کیا کہ کانگریس کے رکن جیمس میک گورن کی طرف سے دی گئی تجویز اور اس سلسلے میں وزارت امور خارجہ نے جو سفارش کی ہے ”وہ عدالتی کارروائی اور انصاف رسانی میں مداخلت کے مترادف ہے“۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے سیکرٹری قانون کی اس تجویز سے بھی اتفاق کیا کہ ”کوئی تجویز جو معافی کے لیے ہو اس وقت پیش ہونی چاہیے، جب رحم کی پٹیشن پیش کی گئی ہو اور یہ صدر کے زیر غور ہو“، (اور موجودہ کیس میں یہ مرحلہ) اس صورت میں (پیش آئے گا) کہ جب عدالت عالیہ کے تیسرے (واحد) جج اور بعد میں عدالت عظمیٰ پاکستان بھی یہ سزا برقرار رکھے۔
کونسل کے مراسلے میں مزید لکھا گیا:
”کونسل سمری میں وزارت خارجہ کی طرف سے ظاہر کردہ تشویش سے کم و بیش اتفاق کرتی ہے۔ اس حقیقت پر مبنی عوامل کا ادراک کرتے ہوئے کونسل نے اپنے ۱۴۴، ۱۴۵ اور ۱۴۶ویں اجلاس جو بالترتیب ۱۴ تا ۱۶ / فروری ۲۰۰۱ء، ۲۸ تا ۳۰ / مئی ۲۰۰۱ء اور ۱۴ تا ۱۵ / نومبر ۲۰۰۱ء کو منعقد ہوئے، میں ان پر تفصیلی بحث کی۔ کونسل نے نتیجہ کے طور پر یہ سفارش کی کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ (سی) کے تحت تمام مقدمات کی سماعت براہ راست، اپنے ابتدائی اختیار سماعت کے تحت وفاقی شرعی عدالت میں ہونی چاہیے اور کوئی شخص جو توہین رسالت کا جھوٹا مقدمہ درج کروانے یا ایسے مقدمات میں جھوٹی گواہی دینے کا قصور وار پایا جائے، اسے وہی سزا دی جانی چاہیے جو ایسے جرم کے مرتکب شخص کے لیے مقرر ہے۔ یہ بات قابل افسوس ہے کہ ان سفارشات پر کسی بھی متعلقہ وزارت کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس بات کی بھی نشاندہی کی جاتی ہے کہ سنگین جرم پر کسی شخص کو سزا دلوانے کے ارادے سے جھوٹی گواہی دینے یا جھوٹی شہادت گھڑنے کے سلسلے میں تاحیات قید کی سزا یا زیادہ سے زیادہ دس سال قید بامشقت کی سزا پہلے سے سیکشن (دفعہ) ۱۹۴ مجموعہ تعزیرات پاکستان کے تحت موجود ہے۔ جیسا کہ سمری کے پیرا ۱۶ (بی) میں بیان کیا گیا ہے۔
- * کونسل پیرا ۲۱ (سی) میں درج تجویز کی حمایت نہیں کرتی، یہ پولیس کو ایسے عدالتی اختیارات
مرحمت کرتی ہے، جو سزا دہی کے مترادف ہیں۔ اس سلسلے میں پولیس کی جانب سے ملزم کو اس کے خلاف
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
جھوٹے مقدمات درج ہونے سے بچانے کی کوشش میں مستغیث کو ناجائز طور پر ہراساں کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا طریق کار تجویز جس پر غور کیا جانا چاہیے، وہ یہ ہے کہ دفعہ ہذا میں مستغیث سے یہ تقاضا کیا جائے کہ وہ مقدمہ کو رجسٹر کرانے سے قبل مجسٹریٹ کے سامنے حلف لے کر بیان ریکارڈ کروائے۔
- کونسل پیرا ۶۱(ڈی) سے اتفاق کرتی ہے۔
- پیرا ۶۱(الف) کے بارے میں ہماری یہ رائے ہے کہ عدالتوں کا تعلق اثبات جرم اور سزا سنانے سے
ہے ۔ اگر شہادت کے ذریعے جرم ثابت ہو جاتا ہے، تو عدالت کا یہ اختیار کہ مجرمان کو بعد ازاں پشیمانی کے نتیجے میں کوئی داد رسی کرے، ایک قابل اعتراض امر ہے۔
(اسلامی نظریاتی کونسل کی سالانہ رپورٹ : ۲۰۰۲-۲۰۰۳ء ، صفحہ: ۶۳-۶۵)
اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے مذکورہ جواب کے باوجود کونسل کے شعبہ تحقیق نے چیئرمین کونسل کی ہدایت پر شاتم رسول کی توبہ کے بارے میں ایک نوٹ تیار کیا۔ شعبہ تحقیق نے اپنے نوٹ میں یہ قرار دیا کہ اس مسئلہ پر اختلاف ہے اور اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بعض فقہاء کے نزدیک اس کا قتل حد کے طور پر کیا جائے گا اور بعض کے نزدیک ارتداد کے طور پر۔ چونکہ شعبہ تحقیق کی طرف سے تیار کردہ اس نوٹ میں بھی توہین رسالت کے مرتکب کی توبہ کی قبولیت و عدم قبولیت کے بارے میں ائمہ و فقہاء کے اختلاف رائے کو بیان کیا گیا تھا اور فقہاء کی اس مسئلہ میں تین مختلف آراء پیش کی گئی تھیں۔ اس لیے کونسل کے بعض اراکین نے تجویز پیش کی کہ تمام اراکین کی اس مسئلہ میں الگ الگ رائے معلوم کی جائے۔ کونسل کے اجلاس میں شریک اراکین میں سے بعض کی آراء کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کونسل کے رکن سید افضل حیدر نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کی توبہ کی قبولیت و عدم قبولیت کا رائج الوقت قانون میں کوئی ذکر نہیں ہے لہٰذا اس قانون کو نہ چھیڑیں کیونکہ قانون کا غلط استعمال ہوگا تو اس سے کونسل پر زد آئے گی لہٰذا اسے قانونی شکل نہ دی جائے۔
کونسل کے ایک اور رکن قاری روح اللہ نے اپنی رائے میں کہا کہ شاتم رسول کو توبہ کرنے کے باوجود سزا دی جاسکتی ہے۔ دلیل کے طور پر انہوں نے یہ حدیث پیش کی کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح فتح مکہ کے دن حضرت عثمانؓ کے ہاں چھپ گیا تھا، حضرت عثمانؓ نے اسے لا کر حضورﷺ کی خدمت میں حاضر کر دیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے، آپﷺ نے اس کی طرف تین بار دیکھا اور بیعت لینے سے انکار فرما دیا۔ آپ نے پھر تیسری بار بیعت لی تو رسول اللہﷺ نے حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم میں کوئی رجل رشید نہ تھا جو اسے اس وقت قتل کر دیتا جب میں نے اس کی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔ (ابوداؤد، باسناد صحیح)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ توبہ کے بعد بھی سزا دی جاسکتی ہے گو حاضرین آپ کا یہ منشا سمجھ نہ سکے تھے۔
قاری روح اللہ مزید کہتے ہیں : ”میرے پاس اس وقت پروفیسر حبیب اللہ چشتی کی کتاب ”مسئلہ اہانت رسولﷺ“ ہے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
اس میں اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے مصنف نے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کا واقعہ بھی بیان کیا ہے اور حضرت عمر فاروقؓ کے اس واقعہ کو بھی بیان کیا گیا ہے، جب انہوں نے اس نام نہاد مسلمان کو قتل کر دیا تھا، جس کا ایک یہودی کے ساتھ تنازعہ تھا اور وہ آنحضرتﷺ کے یہودی کے حق میں فیصلہ فرما دینے کے باوجود حضرت عمرؓ کے پاس فیصلہ کے لئے آیا تھا اور پھر حضرت عمرؓ کی تائید میں اس موقع پر سورۃ النساء کی آیت ۶۵ فلا و ربک لا یومنون...... الآیۃ نازل ہوئی تھی۔ دوسری طرف یہ واقعہ بھی موجود ہے کہ جب ایک شخص کو سزا دی گئی تو آپﷺ نے فرمایا اے اللہ ! میں اس سے بری ہوں، صحابہ کرام علیہم الرضوان سے آپﷺ نے فرمایا کہ تم نے اس سے توبہ کا مطالبہ کیوں نہ کیا ؟ قاضی عیاضؒ نے لکھا ہے کہ عام ارتداد اور سب النبیﷺ کے باعث ارتداد میں فرق ہے کیونکہ سب النبیﷺ کی صورت میں ارتداد بھی ہے اور اہانت بھی۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ کا بھی یہی قول ہے۔ آنحضرتﷺ نے اس یہودی عورت کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا تھا، جسے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی وجہ سے ایک نابینا صحابیؓ نے قتل کر دیا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ، امام مالکؒ، امام ابن الہمامؒ اور اہل کوفہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کو قتل کیا جائے گا، توبہ اسے قتل سے نہ بچا سکے گی نہ گرفتاری سے پہلے اور نہ بعد میں حتیٰ کہ اگر کسی نے نشہ کی حالت میں اس جرم کا ارتکاب کیا تو اسے بھی قتل کیا جائے گا۔
شاتم رسولﷺ کی قبولیت و عدم قبولیت کے حوالہ سے ممتاز عالم دین علامہ پروفیسر مفتی منیب الرحمٰن کی رائے تھی کہ اس کی توبہ کے باوجود اسے سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خان بریلویؒ نے بھی لکھا ہے کہ توبہ کے بعد بھی اسے سزا دی جائے گی لہٰذا اس مسئلہ کو نہ چھیڑا جائے کیونکہ اس کے غلط استعمال کا اندیشہ ہے۔
دوران بحث کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ اگر شرعاً توبہ کی گنجائش نکلتی ہو تو اس کا اظہار کرنا چاہیے، کیونکہ کچھ لوگ سچی توبہ کرنے والے بھی ہو سکتے ہیں اور جہاں تک اس کے غلط استعمال کا تعلق ہے، تو اس کے انسداد کی صورتوں پر غور ہونا چاہیے، کتمانِ حق نہیں ہونا چاہیے، انسانی جان کا معاملہ ہے لہٰذا اگر شریعت اجازت دیتی ہو تو ہم کیوں نہ دیں؟
کونسل کے رکن مولانا سید ذاکر حسین شاہ سیالوی نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر متقدمین کے اس مسئلہ میں دو گروہ تھے، تو ہمارے سامنے بھی دونوں راستے ہیں، حضورﷺ نے ایسے مجرموں کو خود معافی عطا بھی فرمائی لیکن زیادہ تر واقعات میں آپ نے انہیں قتل کروا دیا تھا۔ کتب حنفیہ میں بھی یہی ہے کہ اسے مار دیا جائے گا۔ امام بزاز، ابن الہمام، ابن نجیم اور علامہ خیر الدین رملی کے علاوہ بہت سے فقہاء احناف نے صراحت کی ہے کہ اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں۔
مفتی ظفر علی نعمانی نے کونسل کے اس اجلاس میں مذکورہ مسئلہ پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ آنحضرتﷺ کو اختیار تھا کہ آپ معاف فرمائیں یا نہ فرمائیں، یہ آپ کی خصوصیت تھی۔ شریعت کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
قاضی محمد ہارون نے عدم قبولیت توبہ کی رائے دی اور کہا کہ توہین رسالت کا مرتکب مرتد اور واجب القتل ہے۔ علامہ شامی نے اس مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کرنے کے بعد احناف کے تین اقوال بیان کئے ہیں: (۱) مرتکب توہین کی توبہ قبول اور سزا ساقط ہے (۲) توبہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں (۳) گرفتاری سے قبل قبول ہے بعد میں قبول نہیں۔
اگر توہین کا مرتکب غیر مسلم ہو تو اس کے ساتھ اسلامی ریاست کا معاہدہ نہیں ٹوٹے گا البتہ اسے تعزیری سزا دی جائے گی۔ امام مالک، امام احمد اور امام شافعی کا قول ہے کہ غیر مسلم بھی مسلم ہی کی طرح واجب القتل ہے۔ میرے نزدیک بھی اس کی سزا موت ہی ہونی چاہیے۔
مولانا غلام محمد سیالوی نے عدم قبول توبہ کے متعلق رائے دیتے ہوئے کہا کہ مرتکب توہین رسالت کو توبہ ضرور کر لینی چاہیے، اس توبہ کا اسے آخرت میں فائدہ ہوگا لیکن اس کی اس توبہ سے سزا ساقط نہیں ہوگی۔
اراکین کونسل کی بحث کا خلاصہ
اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین شاتم رسول کریم ﷺ کی توبہ کے قبولیت وعدم قبولیت کے مسئلہ پر ہونے والی اس علمی بحث کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ کونسل کے چیئرمین نے وزارت خارجہ کی سمری کی بنیاد پر وزارت قانون کے استفسار کا جو عبوری جواب دیا تھا اس میں یہ اضافہ کر دیا جائے کہ متعلقہ شخص ڈاکٹر یونس کے بیان پر توبہ کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔ تاہم کونسل نے اس قانون کے غلط استعمال کے سدباب کے لیے تجاویز کی تیاری کے کام کو اپنے آئندہ کے ایجنڈا میں شامل کرنے کی تجویز بھی منظور کی۔
کونسل کا کہنا تھا کہ قبولیت وعدم قبولیت توبہ ہر دو نقطہ نظر کی تائید میں دلائل موجود ہیں، احناف کا موقف ہے کہ یہ ارتداد ہے دیگر حضرات اسے حد مانتے ہیں۔ موجودہ قانون میں توبہ کا ذکر ہی نہیں، اس میں قتل کی سزا کے علاوہ اور کسی سزا کا ذکر نہیں لہٰذا اسی سزا کو برقرار رکھا جائے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
قَاضِی عَبْدُ القَدِیْر قَلَنْدَرِی *
قانون ناموس رسالت
295 سی کا مطالعاتی جائزہ
ابتدائی رپورٹ کے اندراج سے حکم سزا کی تعمیل و ملزم کی بریت تک کے مراحل پر ایک طائرانہ نظر
انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی وہ منتخب، کامل اور جامع الصفات ہستیاں ہوتی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کردہ نظام کے نفاذ کے لیے دنیا میں مبعوث کیا جاتا ہے۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام وحی الٰہی کے امین ہوتے ہیں۔ ان کی سیرت مطہرہ اور دعوت کی پاکیزگی و صداقت کی اولین گواہی خود رب کائنات کی طرف سے دی گئی ہوتی ہے۔ خالق کائنات کا کلام ان کی زندگیوں پر شاہد ہوتا ہے اور ان کی امتوں کے لیے ان کی دعوت کی دلیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ الہامی کلام کے مفسر ہوتے ہیں۔ ان کی زندگیوں اور اقوال کو الہامی کلام سے ملا کر دیکھا جاتا ہے۔
* ایڈیشنل ضلع قاضی بھمبر، راولاکوٹ آزاد کشمیر
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
سلسلہ نبوت و رسالت کی آخری کڑی خاتم النبیین تاجدار عرب و عجم سرور دوجہاں، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ مقام و مرتبہ کے حوالہ سے تمام انبیاء ورسل سے اکمل وافضل ہیں۔ آپ حامل قرآن اور قرآن کے اولین مفسر ہیں۔ آپ کی طہارت، پاکیزگی، عظمت و رحمت اور سیرت طیبہ کے جملہ اوصاف حمیدہ میں آپ کے علو مرتبت کی گواہی خود رب کریم نے دی ہے۔ آپ ﷺ کی عظمت و بزرگی تمام کائنات پر مسلم ہے اور کسی بھی فرد کو خواہ اس کا تعلق امت اجابت سے ہو یا کہ امت دعوت سے شرعاً و قانوناً اور فطرتاً یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ انبیاء علیہم السلام اور آپ ﷺ کی شان میں اشارۃً ، کنایۃً یا صراحتاً کوئی گستاخانہ کلمہ کہے۔ اس حوالہ سے کسی ملک میں اگر ریاستی قانون نہ بھی موجود ہو تو تب بھی اسلامی قانون موجود اور نافذ العمل ہے۔ اس ضمن میں قرآن وحدیث، صحابہ کرام کا طرز عمل، اقوال اور فقہائے کرام کا اجتہادی آراء اس پر شاہد ہیں۔ اس بابت کسی ایسے سوال کو قابلِ اعتناء نہیں سمجھا جائے گا کہ قرآن سے اس کی سزا کا صراحتاً وجود سامنے لایا جائے کیونکہ اولاً یہ کہ قرآن سے استدلال احکام صرف عبارۃ النص سے ثابت نہیں ہوتے ہیں بلکہ دیگر طرق اور قیاس جلی سے بھی اخذ کیے جاتے ہیں ثانیاً یہ کہ قرآن کے ہمراہ احادیث طیبہ، صحابہ کرام کے طرز عمل اور اجماع امت (مذاہب اربعہ) کو بھی ملا کر دیکھا جائے گا۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے واضعین قانون نے عصمت رسول ﷺ اور توہین رسالت کے حوالہ سے قانون سازی کرتے ہوئے تعزیرات پاکستان میں مذہب کے خلاف جرائم کے باب ۱۵ میں دفعہ C-295 کا اضافہ کیا ہے۔ ذیل کی سطور میں دفعہ متذکرہ کے حوالہ سے ضابطہ کار، تجویز کار، اور مطالعاتی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے تا کہ دفعہ ہٰذا کی تفہیم ہر فرد کے لیے ممکن ہو سکے۔
دفعہ 295-C کا عنوان:
رسول اکرم ﷺ کی بابت خلاف شان الفاظ استعمال کرنا (Use of derogatory remarks, etc, in respect of the holy prophet)
(۱) دفعہ ہٰذا کی اطلاق پذیری
ہر وہ شخص جو ایسے الفاظ سے جو خواہ منہ سے بولے جائیں یا لکھے جائیں یا لکھے گئے ہوں یا نظر آنے والے نمونوں سے یا کسی اتہام، خاکہ یا کنایہ سے، بلا واسطہ یا بالواسطہ مقدس پیغمبر ﷺ کے متبرک نام کی بے حرمتی کرے تو ایسا شخص توہین رسالت کے جرم کا مرتکب کہلائے گا۔
(۲) دفعہ ہٰذا کا مقصد
دفعہ متذکرہ کا مقصد آپ ﷺ کی ذات اور اسم مبارک کے تقدس کو برقرار رکھنا ہے۔ آپ ﷺ کی ذات اور اسم مبارک کا تقدس امت مسلمہ کی بنیادی اکائی اور وحدت کی علامت ہے۔ جس نے بھی آپ ﷺ کی ذات اور اسم مبارک
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد،
کے تقدس کو مجروح کیا تو مسلمانوں کی وحدت کو پہنچائی ہے۔
(۳) قانونی کار
جو کوئی شخص بھی قا متعلق پولیس کو اطلاع د بچشم خود دیکھا ہو بلکہ موصول ہونے پر انچارج اس کے دستخط کروائے صوبائی حکومت اس بارے رپورٹ ابتدائی مشینری کو حرکت میں لا نامزدگی، ملزم کا نام، ج رپورٹ کی تعریف میں قانونی مشینری اصلی مواد کا جائزہ لینے آفیسر اس اطلاع پر مقد سکتی ہے۔ رپورٹ ابتدائی استعمال کیا جا سکتا ہے کرنے میں معاون کی اندراجی جرم کے بابت نہیں ہے تاہم مندرجہ ذی
- ۱۔ رپورٹ ابتدائی ک
- ۲۔ اگر ایسی اطلاع پر
- ۳۔ قلمبند کرنے ک
- ۴۔ آفیسر انچارج اس
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 265 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کے تقدس کو مجروح کیا تو اس کا یہ فعل مستوجب سزا ہو گا کیونکہ اس نے ایک طرف اہانت رسول ﷺ کا ارتکاب کر کے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کیا ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھیل کر ان کے دلوں کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
(۳) قانونی کارروائی کا آغاز
جو کوئی شخص بھی توہین رسالت ﷺ کے جرم کا مرتکب ہو تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی ابتداء اس جرم سے متعلق پولیس کو اطلاع دینے سے ہوتی ہے۔ اطلاع دہندہ کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس نے اس جرم کے ارتکاب کو بچشم خود دیکھا ہو بلکہ سنی سنائی اطلاع بھی دے سکتا ہے اور یہ اطلاع تحریری اور زبانی بیان پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ اطلاع موصول ہونے پر انچارج تھانہ، ایف آئی آر کا اندراج زیر دفعہ ۱۵۴ ض ف کرے گا اور اطلاع دہندہ کو پڑھ کر سنائے گا اور اس کے دستخط کروائے گا۔ اس اطلاع کا خلاصہ ایک کتاب میں درج کرے گا جسے ایسا افسر اس طریقہ پر رکھے گا جو صوبائی حکومت اس بارے میں مقرر کرے۔
رپورٹ ابتدائی میں جرم سے متعلقہ جملہ مواد کا اندراج ضروری نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف قانونی مشینری کو حرکت میں لانا ہے تاکہ وہ درست حالات کا ادراک کر سکے۔ البتہ درست حالات و واقعات، چشم دید گواہان کی نامزدگی، ملزم کا نام، ملزم کا کردار، جرم کے ارتکاب کا طریقہ کار، مقام، وقت وقوع وغیرہ کا اندراج ایک مضبوط ابتدائی رپورٹ کی تعریف میں آتا ہے۔
قانونی مشینری ابتدائی رپورٹ کے اندراج سے ہی حرکت میں آجاتی ہے اور مجاز پولیس آفیسر حقائق کی روشنی میں اصلی مواد کا جائزہ لینے کے صوابدیدی اختیار کا حامل ہوتا ہے جس کی پرکھ وہ پیش کردہ شہادت کی بنا پر کرتا ہے۔ اگر پولیس آفیسر اس اطلاع پر مقدمہ کا اندراج نہ کرے تو اس کے خلاف پولیس ایکٹ کی دفعہ ۲۹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
رپورٹ ابتدائی کسی بھی مقدمہ کی بنیادی شہادت شمار نہیں ہوتی لیکن اطلاع دہندہ کی تائید اور تردید میں اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی قدر و قیمت یہی ہے کہ اس پر استغاثہ کی بنیاد ہوتی ہے اور کہانی استغاثہ سے متعلق نظریہ قائم کرنے میں معاون کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کی حیثیت رسمی فرد جرم کی سی نہیں ہوتی بلکہ اس کا بڑا مقصد کسی قابل دست اندازی جرم کے بابت پولیس کو حرکت میں لانا ہوتا ہے۔ رپورٹ ابتدائی میں ثبوت اور شہادت کی فراہمی اس کا لازمی جزو نہیں ہے تاہم مندرجہ ذیل امور رپورٹ ابتدائی کے لوازم میں شمار ہوتے ہیں
- ۱۔ رپورٹ ابتدائی کسی جرم قابل دست اندازی پولیس کی نسبت ہونی چاہیے۔
- ۲۔ اگر ایسی اطلاع پولیس آفیسر انچارج تھانہ کو دی گئی ہو تو یا وہ اسے قلمبند کرے یا اس کی ہدایت کے تحت قلمبند کی جائے۔
- ۳۔ قلمبند کرنے کے بعد اطلاع دہندہ کو پڑھ کر سنائے اور اس پر اس کے دستخط کروائے۔
- ۴۔ آفیسر انچارج اس کا خلاصہ مقرر کردہ فارم میں درج کرے جو اس مقصد کے لیے رکھا گیا ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 266 تحفظ ناموس رسالت نمبر
(۴) جرم توہین رسالت کی قانونی نوعیت
قطع نظر اس کے کہ شرعی طور پر توہین رسالت کا جرم، جرائم حدود میں شامل ہے یا کہ تعزیر میں یہاں صرف اور صرف تعزیرات پاکستان میں بیان کردہ اس جرم کی قانونی نوعیت کو بیان کرنا مقصود ہے۔ اولاً: یہ کہ توہین رسالت کا جرم قانونی طور پر جرائم تعزیر میں شامل ہوتا ہے اور اس کے مرتکب کو سزائے تعزیری دی جائے گی۔ ثانیاً: یہ کہ متذکرہ جرم کو ضمیمہ نمبر ۲ نقشہ جرائم کے باب ۱۵ کے خانہ نمبر ۳ میں قابل دست اندازی (Cognizable) پولیس قرار دیا گیا ہے۔ قابل دست اندازی پولیس سے مراد یہ ہے کہ جرم متذکرہ کے مرتکب کو پولیس زیر دفعہ ۵۴ ض ف بغیر کسی عدالت، مجسٹریٹ کی جانب سے وارنٹ جاری کروائے گرفتار کر سکتی ہے۔ ثالثاً: یہ کہ جرم ہذا کے مرتکب کو ابتداء حسب معمول گرفتاری کے لیے سمن کی بجائے وارنٹ کے ذریعہ طلبی کی جائے گی۔ اس نسبت ضمیمہ نمبر ۲، باب ۱۵ کے خانہ نمبر ۴ میں ضابطہ بیان کیا گیا ہے۔ رابعاً: یہ کہ اس جرم کی نوعیت ناقابل ضمانت جرائم کی ہے۔ یہاں یہ امر واضح ہو کہ واضعین قانون نے جرائم کو قابل ضمانت اور ناقابل ضمانت ہونے کی حیثیت سے انہیں تین اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ نمبر ۱: قابل ضمانت جرائم: یہ ایسے جرائم ہیں جن کی سزا زیادہ سے زیادہ تین سال تک بنتی ہے دوسرا ناقابل ضمانت جرائم، جن کی سزا زیادہ سے زیادہ سات سال سے لے کر دس سال تک بنتی ہے اور تیسرا ممنوعہ کلاز Prohibitory) (clause کے جرائم جن کی سزا دس سال یا اس سے زیادہ بنتی ہے۔ توہین رسالت کا جرم ناقابل ضمانت ہونے کے ساتھ ساتھ ممنوعہ کلاز میں بھی شامل ہے۔ خامساً: یہ کہ یہ جرم ناقابل راضی نامہ (Non Compoundable) جرائم میں بھی شامل ہوتا ہے کیونکہ اس جرم کا تعلق انسانی جان سے متعلقہ جرائم اور دیگر قابل راضی نامہ (Compoundable) جرائم سے نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی مرتبت سے ہے جس میں راضی نامہ کرنے کا اختیار امتیوں کو حاصل نہیں ہے۔
(۵) توہین رسالت کے جرم کا ثبوت
دفعہ مذکورہ کے تحت اس جرم کا اثبات مندرجہ ذیل دو میں سے کسی ایک طریقہ سے ہوتا ہے۔
- ۱۔ ملزم کے اقرار سے۔
- ۲۔ دو عاقل بالغ گواہان کی شہادتوں سے، جو قانون شہادت کی دفعہ ۳ پر پورے اترتے ہوں۔
(۶) توہین رسالت کے جرم کی سزا
جب توہین رسالت کا جرم پوری طرح بدوں شک و شبہ ثابت ہو جائے تو اس جرم کی سزا، سزائے موت مقرر کی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور گئی ہے۔
(۷) توہین رسالت کے
قانون میں اس جرم کی سام رہا ہو۔
(۸) پولیس کی تفتیش
مقدمہ کی ایف آئی آر ک ض ف کو بروئے کار لاتے ہوئے
(۹) ریمانڈ کا حصول
ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش پر تفتیش مکمل نہ ہو تو مزید تفتیش کے ہے جس میں پولیس کی جانب سے معقول خیال کرے تو وہ مناسب عدالت حوالات جوڈیشل بھیج د
(۱۰) شہادت کا جمع کرنا
ملزم کی گرفتاری کے سا سے شروع ہو جاتا ہے۔ ارکا جمع کیا جاتا ہے۔ اگر جرم کے تو تفتیشی آفیسر اس کو ضبط کر کرواتا ہے اور گواہان وقوعہ کرتا ہے۔
(۱۱) چالان کا مرتب ک
جملہ جمع شدہ مواد اور ش (چالان) زیر دفعہ ۱۷۳ض ف م کارروائی زیر دفعہ ۵۱۲ض ف کی ناموں کا اندراج، ملزمان کی کفیا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 267 تحفظ ناموس رسالت نمبر
گئی ہے۔
(۷) توہین رسالت کے جرم کی نسبت اختیار حدود سماعت
قانون میں اس جرم کی سماعت کا اختیار ایسی سیشن عدالت کو دیا گیا ہے جس کی صدارت مسلمان آفیسر پریزائیڈ کر رہا ہو۔
(۸) پولیس کی تفتیش
مقدمہ کی ایف آئی آر کے اندراج کے فوراً بعد تفتیشی ایجنسی حرکت میں آجاتی ہے اور اپنے اختیارات زیر دفعہ ۱۵۶ ض ف کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزم کی گرفتاری عمل میں لاتی ہے اور تفتیش کی ابتداء ملزم سے کی جاتی ہے۔
(۹) ریمانڈ کا حصول
ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش چوبیس گھنٹوں میں مکمل کی جانا ضروری ہے اور اگر اس کی گرفتاری کے بعد چوبیس گھنٹوں میں تفتیش مکمل نہ ہو تو مزید تفتیش کے لیے قریب ترین مجسٹریٹ سے ملزم کا جسمانی ریمانڈ زیر دفعہ ۱۶۷ ض ف حاصل کیا جاتا ہے جس میں پولیس کی جانب سے یہ تفصیل درج ہوتی ہے کہ مزید کیا تفتیش مطلوب ہے؟ مجسٹریٹ اگر پولیس کی استدعا کو معقول خیال کرے تو وہ مناسب مدت کا جسمانی ریمانڈ دے گا اور اگر تفتیش چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہو جائے تو ملزم کو مجاز عدالت حوالات جوڈیشل بھیج دیتی ہے۔
(۱۰) شہادت کا جمع کرنا
ملزم کی گرفتاری کے ساتھ ہی جرائم کے اثبات کے حوالہ سے جملہ شہادتوں کو جمع کرنے کا عمل پولیس کی جانب سے شروع ہو جاتا ہے۔ ارتکاب جرم کی بابت ہر قسم کی شہادت اور Incriminating material کو جمع کیا جاتا ہے۔ اگر جرم کے حوالہ سے کوئی دستاویز یا فوٹو ، یا کوئی دیگر چیز بطور وجہ ثبوت ضبط کی جانی مطلوب ہو تو تفتیشی آفیسر اس کو ضبط کرے گا اور فردات ضبطی دو کس گواہان کی موجودگی میں مرتب کرتے ہوئے ان کے دستخط کرواتا ہے اور گواہان وقوعہ ، گواہان ضبطی وغیرہ کے بیانات زیر دفعہ ۱۶۱ ض ف قلمبند کرتے ہوئے شامل ریکارڈ کرتا ہے۔
(۱۱) چالان کا مرتب کرنا
جملہ جمع شدہ مواد اور شہادت سے اگر ملزم کے خلاف جرم بمطابق استغاثہ ثابت ہو جائے تو پولیس اپنی رپورٹ (چالان) زیر دفعہ ۱۷۳ ض ف، مرتب کرتی ہے۔ ظاہری صفحہ پر ”مستغیث مقدمہ کا نام، ان ملزمان کے نام جن کے خلاف کارروائی زیر دفعہ ۵۱۲ ض ف کی استدعا ہو، یا جن کے خلاف جرم ثابت نہ ہوا ہو اور ان کی مخلصی زیر دفعہ ۱۶۹ ض ف کے ناموں کا اندراج، ملزمان کی کیفیات کہ وہ ضمانت پر ہیں یا کہ حراست پولیس میں، مال منضبطہ کی جملہ تفاصیل، فہرست گواہان
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
اور جرائم جو ملزمان کے خلاف پولیس تفتیش میں ثابت ہوئے ہیں‘‘ کا اندراج ہوتا ہے اور جملہ دستاویزات جو ہمراہ چالان لف کی گئی ہوں ان کی تفصیل بھی موجود ہوتی ہے۔
(١٢) عدالت میں چالان کا دائر کیا جانا
پولیس بذریعہ پیروکار سرکار (Public Prosecutor) مجاز عدالت میں چالان دائر کرتی ہے اور چالان دائر ہونے پر عدالت کی طرف سے سماعت مقدمہ کا آغاز ہوتا ہے۔ توہین رسالت کے جرم کی سماعت سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج سے متعلقہ ہے اور عدالت متذکرہ کو یہ اختیارات ضابطہ فوجداری کی دفعہ ١٩٣ کے تحت حاصل ہیں۔ عدالت مجاز چالان کو دائر کرتے ہوئے ٹرائل مقدمہ کا آغاز کرتی ہے۔
(١٣) ملزم کو بیانات اور دستاویزات کی فراہمی
ملزم کو حق دفاع حاصل ہے اور یہ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملزم کے علم میں یہ بات لائے کہ اس کے خلاف کون سی شہادت پولیس نے جمع کر کے پیش کی ہے۔ اس مقصد کے لیے عدالت جملہ پیش کردہ مواد، بیانات و دستاویزات مثلاً ابتدائی رپورٹ، گواہان کے بیانات قلم بند شدہ زیر دفعہ ١٦١ و ١٦٤ ض ف، کی نقول زیر دفعہ ٢٦٥ سی ض ف بلا معاوضہ ملزم کو دیتی ہے تاکہ ملزم کے علم میں یہ مواد آ جائے اور وہ اس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنا دفاع کر سکے۔
(١٤) فرد جرم عائد کرنا
اگر عدالت کے پاس یہ باور کرنے کی کافی وجوہات موجود ہوں کہ ملزم کے خلاف تجویز مقدمہ کی کارروائی جاری رکھی جاسکتی ہے تو عدالت ملزم پر فرد جرم عائد کرے گی اور عدالت یہ کارروائی زیر دفعہ ٢٦٥/ڈی ض ف عمل میں لائے گی۔ فرد جرم میں ملزم کا نام، ولدیت، سکونت، قومیت، پیشہ، عمر کے اندراج کے ساتھ ساتھ جرم، مقام ارتکاب جرم، کیفیات جرم، آلہ جرم، ارتکاب جرم کے نتیجہ میں متاثرہ شخص، اثرات جرم، وقت ارتکاب جرم، وغیرہ کا بھی اندراج کیا جائے گا اور ملزم سے صحت جرم کا اقرار، اقبال کرے تو اس کے مطابق جرم کی متعیّنہ سزا عدالت تجویز کرے گی۔
(١٥) شہادت استغاثہ کا قلم بند کرنا
اگر ملزم فرد جرم میں صحت الزام سے انکاری ہو تو تب استغاثہ کو زیر دفعہ ٢٦٥/ایف کے تحت شہادت پیش کرنے کا حکم صادر کیا جاتا ہے۔ زیر دفعہ ٣٥٣ ض ف ملزم کی موجودگی میں شہادت قلمبند کی جاتی ہے۔ البتہ اگر ملزم کو اصالتاً حاضری سے مستثنیٰ قرار دے کر بذریعہ کونسل پیروی کی اجازت دی گئی ہو تو شہادت کی قلمبندی ملزم کی عدم حاضری میں بھی جاری رکھی جاسکتی ہے۔ گواہ جو بیان عدالت میں دیتا ہے وہ تین حصوں میں منقسم ہوتا ہے۔ سوالات ابتدائی، سوالات جرح اور سوالات مکرر۔ ان سوالات کی ترتیب قانون شہادت ١٩٨٤ء کی دفعہ ١٣٣ میں بیان کی گئی ہے۔
19. De 20. PI Plac 21. Addre Areas Name/Father's 22. Addres Place (i) SIRHAN 1. NIL NIL 1. SIRHAND SHARIF (ii) 2. NIL NIL 2. (iii) 3. 3. (iv) 4. 4. (v) 5. 5. (vi) 6. 6. (vii) 7. 7. (viii) 8.
تحفظ ناموس رسالت نمبر اور جملہ دستاویزات جو ہمراہ چالان
میں چالان دائر کرتی ہے اور چالان کے جرم کی سماعت سیشن جج یا ایڈیشنل کے تحت حاصل ہیں۔ عدالت مجاز
بات لائے کہ اس کے خلاف کون دہ مواد، بیانات و دستاویزات مثلاً دفعہ ۲۶۵ی سر اجلاس ملزم کو دیتی ہے
خلاف تجویز مقدمہ کی کارروائی نا زیر دفعہ ۲۶۵ ڈی ض ف عمل اج کے ساتھ ساتھ جرم، مقام م، وقت ارتکاب جرم، وغیرہ کا نی جرم کی متعینہ سزا عدالت تجویز
ف کے تحت شہادت پیش کرنے کا ہے۔ البتہ اگر ملزم کو اصالتاً حاضری یا عدم حاضری میں بھی جاری رکھی تمائی سولات جرح اور سوالات
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 269 تحفظ ناموس رسالت نمبر
(۱۶) ملزم کا بیان قلم بند کرنا
شہادت استغاثہ کی تکمیل پر ملزم کا بیان بروئے دفعہ ۳۴۲ ض ف قلم بند کیا جاتا ہے اور ملزم کو سماعت کیا جاتا ہے۔ شہادت استغاثہ کے متعلق ملزم سے پوچھا جاتا ہے کہ اس کی سماعت کر لی ہے اور گواہان نے اس کے خلاف کیوں شہادت پیش کی ہے؟ جملہ فردات ضبطی کے حوالہ سے اس کا کیا موقف ہے؟ کیا وہ شہادت صفائی پیش کرنا چاہتا ہے، کیا وہ اپنا بیان برحلف دینا چاہتا ہے؟ اس کا فقہی مسلک کون سا ہے؟ ملزم کی جانب سے ان سوالات کے جوابات بھی درج کیے جائیں گے اور بمطابق جوابات ملزم جملہ قانونی تقاضا جات پورے کرنے کے بعد عدالت ملزم کی بریت یا سزا تجویز کرتی ہے۔
(۱۷) فیصلہ سنانا
ضابطہ فوجداری کا باب ۲۶ اور دفعات ۳۶۶ تا ۳۷۳ فیصلہ کے قواعد اور ضابطہ پر مبنی ہیں۔ ابتدائی سماعت کی کسی فوجداری عدالت میں تجویز مقدمہ کا فیصلہ سنایا جائے گا یا ایسے فیصلہ کے خلاصہ کی وضاحت کی جائے گی۔ فیصلہ کھلی عدالت میں یا تو تجویز مقدمہ کے اختتام کے فوری بعد یا بعد میں کسی وقت، جس کی فریقین یا ان کے وکیل کو اطلاع دی ہو اور فیصلہ عدالت کی زبان میں یا کسی دیگر زبان میں جو ملزم یا اس کا کونسل سمجھتا ہو سنایا جائے گا۔ ملزم اگر حراست میں ہو تو بوقت فیصلہ اس کو پیش عدالت کیا جائے گا اور اگر حراست میں نہ ہو تو اس کو حاضر ہونے کا حکم دیا جائے گا تا کہ اس کی موجودگی میں فیصلہ صادر کیا جائے البتہ اگر ملزم کی اصالتاً حاضری کو مستثنیٰ قرار دے کر بذریعہ کونسل مقدمہ کی پیروی کی عدالت نے اجازت دی ہو اور سزا بھی سزائے جرمانہ یا فیصلہ ملزم کی بریت کا ہو تو ایسی صورت میں ملزم کی حاضری ضروری نہیں ہے بلکہ کونسل کی موجودگی میں ہی فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ کوئی بھی فیصلہ جو عدالت نے سنایا ہو وہ اس وجہ سے باطل تصور نہ ہو گا کہ اس وقت فریقین میں سے کوئی یا ان کے کونسل موجود نہ تھے۔ اگر فیصلہ سزائے موت (Sentence of death) کا ہے تو ایسی صورت میں حکم سزا میں یہ ہدایت کی جائے گی کہ اس کو گردن سے لٹکایا جائے حتیٰ کہ اس کا دم نکل جائے۔ دفعہ ۳۷۱ ض ف میں یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ اس فیصلہ کی ایک نقل بلا اجرت ملزم کو اسی وقت دی جائے گی۔
(۱۸) ترسیل احکام بغرض توثیق
عدالت سیشن نے ایسے فیصلہ جات جن میں ملزم کو مجرم گردانتے ہوئے انہیں سزائے موت کی سزا تجویز کی ہو تو اس عدالت کے لیے ضروری ہے کہ وہ دفعہ ۳۷۴ ض ف پر عمل کرتے ہوئے اس کی توثیق کی نسبت کارروائی عدالت عالیہ میں ارسال کرے اور جب تک عدالت عالیہ اس سزا کی توثیق نہ کر دے اس وقت تک سزا کے حکم پر عمل نہ کیا جائے گا۔ عدالت عالیہ کو زیر دفعہ ۳۷۶ ض ف یہ اختیارات بھی حاصل ہیں کہ وہ عدالت سیشن کے حکم سزا کی توثیق کرے یا کوئی حکم صادر کرے جو قانوناً جائز ہو یا سزا کو منسوخ کر کے ملزم کو بری قرار دے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
(۱۹) عدالت اپیل کو سزا کی معطلی کے اختیارات
ضابطہ فوجداری کا باب ۲۹ سزاؤں کی معطلی، معافی اور تبدیلی سے متعلق ہے۔ عدالت اپیل کو زیر دفعہ ۴۲۶ ض ف یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ یہ حکم دے سکتی ہے اور اس کی وجوہ قلم بند کی جائیں گی کہ کسی مجرم قرار دیے گئے شخص کی اپیل کے دوران اس حکم سزا کی تعمیل معطل رہے جس کی ناراضگی سے اپیل ہوئی ہے اور یہ بھی حکم دے سکتی ہے کہ اگر مجرم قرار دیا گیا شخص حبس میں ہو تو وہ ضمانت پر یا خود اپنے مچلکہ پر خلاصی پائے۔
(۲۰) صوبائی حکومت کا سزا کو معاف کرنے اور معطل کرنے کا اختیار
صوبائی حکومت کو زیر دفعہ ۴۰۱ ض ف یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ کسی وقت بلا شرائط یا ایسی شرائط جن کو سزا یاب شخص قبول کرے، اس کی سزا کی تعمیل معطل کر دے یا جو سزا اس کو دی گئی ہے اس کو کلی یا جزوی طور پر معاف کر دے۔ صوبائی حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ بروئے دفعہ ۴۰۲ ض ف سزا کو تبدیل بھی کر سکتی ہے۔
(۲۱) صدر پاکستان کا سزاؤں کو معطل، معاف یا تبدیل کرنے کا اختیار
سزاؤں کی معطلی، معافی اور تبدیلی کے جو اختیارات زیر دفعہ ۴۰۱، ۴۰۲ ض ف صوبائی حکومت کو حاصل ہیں وہی اختیارات صدر پاکستان کو بروئے دفعہ ۴۰۲ اے بھی حاصل ہیں اور صدر پاکستان بھی سزاؤں کو معاف، معطل اور تبدیل کر سکتا ہے۔ یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ اے (۵) ۴۰۱، اس امر کا تعین بھی کرتی ہے کہ جب صدر کی طرف سے یا ان اختیارات کی رو سے جو وفاقی حکومت سے تفویض ہوئے ہوں کوئی مشروط معافی دی جائے تو کوئی شرط خواہ کسی نوعیت کی ہو جو اس طور پر عائد کی ہو، مجموعہ ہذا کے تحت عدالت مجاز کی عائد کردہ تصور ہوگی اور اس کے مطابق قابل نفاذ ہوگی۔
(۲۲) بعض سزاؤں کی معافی یا تبدیلی بغیر رضامندی نہ ہو سکے گی
دفعہ ۴۰۱، ۴۰۲، ۴۰۲ اے، ۴۰۲ بی میں شامل کسی امر کے باوجود صوبائی حکومت، یا صدر شخص زیر دفعہ ۴۰۲ سی ض ف ضرر رسیدہ یا اس کے ورثاء کی جیسی بھی صورت ہو رضامندی کے بغیر کسی بھی ایسی سزا کو معطل، معاف یا تبدیل نہیں کر سکے گا جو کہ تعزیرات پاکستان کی ایسی دفعات میں کسی دفعہ کے تحت صادر کی گئی ہوں جس کی صراحت باب ۱۶ میں کی گئی ہو۔
تعزیرات پاکستان کا باب ۱۶ ان جرائم سے متعلق ہے جو انسانی جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ باب متذکرہ میں، قتل کی جملہ اقسام، ضرر کی جملہ اقسام، اسقاط حمل، اسقاط جنین وغیرہ شامل ہیں۔ جرم توہین رسالت تعزیرات پاکستان کے باب ۱۵، سے متعلق ہے بدیں وجہ صوبائی حکومت یا صدر اس جرم کے مرتکب مجرم کی سزا کو معاف، معطل یا تبدیل کر سکتا ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
چاہیے اور اس کا فائدہ اگر کوئی ہو تو ملزم کو حاصل ہونا چاہیے۔ یہ ملزم پر عنایت نہ ہوگی بلکہ یہ اس کا حق ہوگا۔ بدیں وجہ ملزم بری کیا گیا ہے (1228 MLD 1997)
گواہان وقوعہ کے بیانات میں تضاد
چشم دید گواہان تضاد بیانی کا شکار ہیں۔ برآمدگی کے اہم نکتہ پر جو مبینہ طور پر ملزم کے قبضہ سے فوٹوگراف کی شکل میں برآمد ہوا تھا ان کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے اور ان کے بیانات آپس میں ہم آہنگ نہیں ہیں۔ شکایت کنندہ اور مراسلہ میں بیان کیے گئے الزامات کی دیگر گواہان کے بیانات سے تردید ہوتی ہے اور تائید نہیں ہوتی۔ استغاثہ بہترین شہادت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے بدیں وجہ ملزم بری کیا گیا ہے۔ (167 scmr 1996)
مال منضبطہ فوٹو گراف کا پیش عدالت نہ کرنا۔ اثرات
استغاثہ کی ساری شہادت فوٹو گراف پر مبنی تھی اور فوٹو گراف کو بطور شہادت پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی عدالت میں ایسی کوئی معقول وجہ بیان کی گئی ہے۔ اس مرحلہ پر قانون قیاس حرکت میں آتا ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ اگر اس نسبت فوٹو گراف کو پیش کیا جاتا تو وہ استغاثہ کے موقف کی تائید نہ کرتے ، بدیں وجہ استغاثہ نے انہیں پیش نہیں کیا۔ اس بنیاد پر ملزم کی بری قرار دیا گیا۔ (442 SD 1997)
ابتدائی رپورٹ کا دس ایام کی تاخیر سے درج ہونا
ملزم پر الزام ایک ماتحت کی جانب سے ایک آفیسر پر لگایا گیا تھا جو اسی دفتر میں کام کرتا ہے۔ ابتدائی رپورٹ بھی دس ایام کی تاخیر سے درج ہونا پائی جاتی ہے جس کی کوئی معقول وجہ بیان نہیں ہے۔ زبانی گفتگو کو الزام کا ذریعہ بنایا گیا تھا جس کو ثابت کرنا ضروری تھا، جو ثابت نہیں ہوا، بدیں وجہ ملزم کو بری قرار دیا گیا (442 SD 1997)
* * * * *
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء 272 تحفظ ناموس رسالت نمبر
چاہیے اور اس کا فائدہ اگر کوئی ہو تو ملزم کو حاصل ہونا چاہیے۔ یہ ملزم پر عنایت نہ ہوگی بلکہ یہ اس کا حق ہوگا۔ بدیں وجہ ملزم بری کیا گیا ہے
(1997 MLD 1228)
گواہان وقوعہ کے بیانات میں تضاد
چشم دید گواہان تضاد بیانی کا شکار ہیں۔ برآمدگی کے اہم نکتہ پر جو مبینہ طور پر ملزم کے قبضہ سے فوٹو گراف کی شکل میں برآمد ہوا تھا، ان کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے اور ان کے بیانات آپس میں ہم آہنگ نہیں ہیں۔ شکایت کنندہ اور مراسلہ میں بیان کیے گئے الزامات کی دیگر گواہان کے بیانات سے تردید ہوتی ہے اور تائید نہیں ہوتی۔ استغاثہ بہترین شہادت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے، بدیں وجہ ملزم بری کیا گیا ہے۔
(1996 scmr 167)
مالِ منضبط فوٹو گراف کا پیش عدالت نہ کرنا۔ اثرات
استغاثہ کی ساری شہادت فوٹو گراف پر مبنی تھی اور فوٹو گراف کو بطور شہادت پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی عدالت میں ایسی کوئی معقول وجہ بیان کی گئی ہے۔ اس مرحلہ پر قانونِ قیاس حرکت میں آتا ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ اگر اس نسبت فوٹو گراف کو پیش کیا جاتا تو وہ استغاثہ کے موقف کی تائید نہ کرتے، بدیں وجہ استغاثہ نے انہیں پیش نہیں کیا۔ اس بنیاد پر ملزم کی بری قرار دیا گیا۔
(1997 Sd 442)
ابتدائی رپورٹ کا دس ایام کی تاخیر سے درج ہونا
ملزم پر الزام ایک ماتحت کی جانب سے ایک آفیسر پر لگایا گیا تھا جو اسی دفتر میں کام کرتا ہے۔ ابتدائی رپورٹ بھی دس ایام کی تاخیر سے درج ہونا پائی جاتی ہے جس کی کوئی معقول وجہ بیان نہیں ہے۔ زبانی گفتگو کو الزام کا ذریعہ بنایا گیا تھا جس کو ثابت کرنا ضروری تھا، جو ثابت نہیں ہوا، بدیں وجہ ملزم کو بری قرار دیا گیا
(1997 SD 442)
* * * * *
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ/اپریل 2011ء 273 تحفظ ناموس رسالت نمبر
پاکستان میں توہین رسالت
کے مقدمات کا اجمالی جائزہ
* افتخار الحسن تبسم *
عہد نبوی سے آج تک امت مسلمہ کا قرآن حکیم، احادیث نبویہ، عمل صحابہ اور ائمہ مجتہدین کی شرعی آراء ودلائل کی بنیاد پر یہ اتفاق چلا آ رہا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ اور تمام سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین مستوجب سزائے موت جرم ہے۔ شریعت اسلامیہ میں جن سنگین جرائم کے ارتکاب پر سزائے موت مقرر کی گئی ہے، ان جرائم کو قاضی کی عدالت میں بلا شک وشبہ ثابت کرنے کے لئے اسلام نے گواہوں کا معیار بھی انتہائی بلند رکھا ہے۔ اس کا مقصد انصاف کے اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنانا ہے۔ نیز یہ کہ معاشرے کے غیر ذمہ دار لوگ حسد، کینہ اور تعصب کی وجہ سے معصوم وبے گناہ افراد پر سنگین الزامات عائد کر کے اور قاضی کے روبرو جھوٹے گواہ پیش کر کے انہیں سزائے موت دلوانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ اس کی ایک مثال زنا کا الزام ثابت نہ کر سکنے والے جھوٹے مدعی اور گواہوں پر حد قذف (اسی کوڑوں) کا نفاذ اور ہمیشہ کے لئے ان کی گواہی رد کیے جانے کا ارشادِ خداوندی ہے۔ سنگین جرائم کے الزامات کی صورت میں عدالت انتہائی باریک بینی سے الزام کی جزئیات کا ہر زاویہ سے جائزہ لینے کی پابند ہوتی ہے۔ اگر ایسے مقدمہ میں ذرا سا شک جرم کو ثابت کرنے میں حائل ہو تو ملزم کو اس کا فائدہ دے کر بری کرنا قاضی پر ارشادِ نبوی کی رو سے لازم ہے۔
یہاں یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ تحریک پاکستان کے دوران برصغیر میں راس کماری سے لے کر مکران کے ساحلوں تک بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کا مطالبہ اور مقصد اولیٰ یہ تھا کہ اس ملک میں شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے اس کے قوانین کی عملداری قائم کی جائے۔ ۱۹۷۳ء کے دستور میں شامل قرارداد مقاصد اسی عوامی مطالبہ کی پذیرائی کرتے ہوئے مسلمانوں کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کے مواقع دینے کا عہد کیا گیا جبکہ آئین کی دفعات ۲۰۳ اور ۲۲۷ میں موجودہ تمام ملکی قوانین کو اسلامی شریعت کے مطابق بنانے اور آئندہ کے لئے شریعت کے مطابق قانون سازی کرنے کی آئینی ضمانت دی گئی ہے۔ ان آئینی دفعات اور فعال عدلیہ کی موجودگی میں توہین رسالت سے متعلقہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵سی اور اس سے بڑھ کر وفاقی شرعی عدالت، اسلام آباد کے اکتوبر ۱۹۹۰ء کے فیصلہ میں اس جرم کی سزا صرف موت مقرر کیے جانے کو تبدیل یا منسوخ کرنا ممکن نہیں۔ اس کے سیاسی خطرات کو ایک طرف بھی رکھ دیا جائے تو ان آئینی دفعات کا کوہ گراں اٹھانا بیساکھیوں سے چلنے والی حکومت کے بس کی بات نہیں۔ اس لئے قوم
* ریسرچ ایسوسی ایٹ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 274 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کو پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے اس ملک میں شریعت کی بالادستی کا ایسا انتظام فرما دیا ہے کہ ہماری قومی غفلتوں، فوجی آمروں اور جمہوری شعبدہ بازوں کی حیلہ سازیوں کا مستقل اور مؤثر تریاق مہیا کر دیا ہے۔ یہ تریاق اس ملک کی آزاد، غیرت مند اور فعال عدلیہ ہے جو شریعت سے متعلقہ آئینی دفعات، شرعی قوانین اور ان کے درست اطلاقات کی محافظ و ضامن بن کر سامنے آئی ہے۔
موضوع کے پس منظر کے طور پر یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثناء) کے دوران پاکستان کے کروڑوں اہل ایمان نے معاشرتی واخلاقی زوال اور سنگین جرائم کے انسداد کے لئے شرعی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ منوانے کے لئے ایک بار پھر کئی جانوں کا نذرانہ دیا تھا۔ اس عوامی مطالبے کی طویل تاریخ کے نتیجہ میں ۱۹۷۹ء میں جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک میں حدود قوانین نافذ کر کے دینی طبقوں کی حمایت حاصل کی تھی۔ ان کے سیاسی مقاصد بھی تھے کیونکہ اس کے بعد انہوں نے ریفرنڈم کروا کر اپنے لئے منصب صدارت اگلے پانچ سال کے لئے پکا کر لیا تھا۔ ۲۰۰۶ء میں ایک اور فوجی آمر نے اپنے پیش رو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے ستائیس سال قبل نافذ کردہ حدود قوانین کو تحفظ حقوق نسواں بل کے ذریعہ منسوخ کر دیا تھا۔ حیرت ہے کہ ۱۹۷۷ء میں جن حدود قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے اس غیور قوم نے متعدد جانوں کا نذرانہ دیا تھا، مگر ۲۰۰۶ء میں انہیں منسوخ قرار دیئے جانے پر وہ لمبی تان کر سوگئی۔ کسی دینی طبقے یا جماعت نے فوجی آمر کے اس دین دشمن اقدام کے خلاف نہ کوئی تحریک چلائی، نہ دینی جماعتوں کے ارکان نے پارلیمنٹ سے استعفا دیا اور نہ اس فوجی حکومت کو زچ کرنے کے روایتی حربے آزمائے گئے۔ تمام حدود قوانین کی منسوخی کو ٹھنڈے پیٹوں گوارا کرنے والوں کا توہین رسالت کی دفعہ ۲۹۵سی کی منسوخی کا شوشہ اڑائے جانے پر اس کے دفاع کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا حیرت انگیز خوشی وشادمانی کا باعث ہے۔
انہیں نوید ہو کہ ۱۹۷۳ء کے دستور کی دفعات ۲، ۲۰۳D، ۲۲۷ اور ۲۲۷ کی دفاعی لائن عبور کرنا کسی بھی حکومت وقت کے لئے نا ممکن ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ وفاقی شرعی عدالت نے بھی سپریم کورٹ کی موجودہ قیادت کی بحالی کے بعد آمرانہ دور کی تابعداری سے جان چھڑا کر نہایت فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس عدالت نے تین ایک جیسی پٹیشنوں پر فیصلہ دیتے ہوئے حکومت پاکستان کو ۲۲ جون ۲۰۱۱ء تک مہلت دی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کر کے حدود قوانین کو بحال کرے جنہیں تحفظ حقوق نسواں بل ۲۰۰۶ء کے ذریعے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ فاضل عدالت نے اپنے فیصلہ میں حدود و قصاص سے متعلقہ دس سنگین جرائم اور ان کی اسلامی سزاؤں کی نشاندہی کر کے کسی ابہام اور لیت ولعل کا امکان ختم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس فیصلے میں وفاقی شرعی عدالت کا سابقہ دائرہ اختیار بھی بحال کر دیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہو جانا چاہیے کہ توہین رسالت سے متعلقہ دفعہ کی منسوخی کسی حکومت کے بس کی بات نہیں۔ غالباً آج کی بیدار، غیرت مند اور فعال عدلیہ کی وجہ سے ہی حکومت بار بار عوام کو یہ یقین دہانی کرا رہی ہے کہ وہ توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی لہٰذا اس کو بنیاد بنا کر ملک میں کوئی تحریک چلانا بے معنی سی بات ہے۔ پوری قوم کو موجودہ عدلیہ کا شکر گزار ہونا چاہیے جس نے حدود قوانین کی بحالی کا واشگاف فیصلہ دے کر ان کی منسوخی کے موقع پر برتی گئی قومی غفلت کا ازالہ کر دیا ہے۔
مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ سی میں اب تک یہی درج ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی توہین کے جرم کی سزا، موت
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
یا عمر قید اور جرمانہ ہے۔ جبکہ اس دفعہ میں موجود ”عمر قید اور جرمانہ“ کے الفاظ ختم کروانے کے لئے سینئر وکیل محترم محمد اسماعیل قریشی کی پٹیشن کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت نے اکتوبر ۱۹۹۰ء میں صدر پاکستان کو ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ء تک مہلت دی تھی کہ وہ قانون سازی کے ذریعے اس دفعہ سے عمر قید اور جرمانہ کے الفاظ حذف کروائیں۔ فاضل عدالت نے واضح الفاظ میں صدر مملکت سے کہا تھا کہ اگر اس مہلت کے اندر یہ ترمیم نہ کی گئی تو اس کے اختتام پر اس عدالت کا فیصلہ از خود قانون بن جائے گا جس کی رو سے اس جرم کی پاداش میں صرف سزائے موت ہی دی جا سکے گی۔ یہ فیصلہ آنے کے فوراً بعد بشپ دانی ایل تسلیم اور وفاق پاکستان نے اس کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ میں اپیلیں دائر کر کے اس پر عمل درآمد کی راہ مسدود کر دی تھی۔ ۱۹۹۱ء میں اس وقت کے وزیر اعظم محترم میاں محمد نواز شریف کو جب اس اپیل کی اطلاع ملی تو وہ سخت ناراض ہوئے۔ انہوں نے وزارت قانون کو حکم دیا کہ حکومت کی طرف سے دائر کی گئی اپیل فوراً واپس لی جائے۔ مگر بشپ دانی کی دائر کردہ اپیل اپنی جگہ پر موجود رہی۔ اپریل ۲۰۰۹ء میں یہ اپیل سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے روبرو سماعت کے لئے پیش ہوئی۔ اس موقع پر فاضل عدالت عظمیٰ سے ڈپٹی اٹارنی جنرل آغا طارق محمود نے استدعا کی یہ اپیل خارج کر دی جائے کیونکہ مدعی بشپ دانی نے اپنی اپیل کی پیروی نہیں کی، اس نے اپنی اپیل کے حق میں دلائل بھی نہیں دیئے، نیز مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ بشپ دانی آنجہانی ہو چکے ہیں۔ ان وجوہ کے پیش نظر فاضل عدالت عظمیٰ نے وہ اپیل اپریل ۲۰۰۹ء میں خارج کر دی۔ اس کے نتیجہ میں وفاقی شرعی عدالت کا اکتوبر ۱۹۹۰ء کا فیصلہ بحال ہو گیا۔ چنانچہ اب توہین رسالت مآب (ﷺ) کی سزا سے متعلقہ قانون، مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ سی نہیں ہے جس کا حوالہ احتجاجی جلسوں اور جلوسوں میں دیا جا رہا ہے بلکہ وفاقی شرعی عدالت کا اکتوبر ۱۹۹۰ء میں دیا گیا فیصلہ ہے جس کی رو سے اس جرم کی سزا صرف موت ہے۔ اس فیصلہ میں یہ اضافہ بھی کیا گیا تھا کہ نہ صرف نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کی توہین بلکہ تمام سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کی سزا بھی صرف موت ہے۔ جبکہ دفعہ ۲۹۵ سی میں صرف نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ کی اہانت پر سزا مقرر ہے۔
اس طویل پس منظر کے بعد یہ جاننا ضروری ہے اور آسان بھی کہ شریعت کے تابع و موافق توہین رسالت کے جرم کے انسداد کے لئے مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ سی اور اس دفعہ کی تصحیح و تکمیل سے متعلقہ وفاقی شرعی عدالت کے مذکورہ بالا فیصلہ کے باوجود اب تک کسی ایک مجرم کو بھی اس جرم میں سزائے موت کیوں نہیں دی جا سکی۔ نیز یہ معلومات بھی اہم ہوں گی کہ اب تک اس قانون کے تحت کتنے مقدمات پاکستان کے طول و عرض میں دائر ہو چکے ہیں اور یہ بھی کہ ان کا انجام کیا ہوا۔
۱۹۸۶ء میں دفعہ ۲۹۵ سی مجموعہ تعزیرات پاکستان مجریہ ۱۸۶۰ء میں شامل ہونے کے بعد سے اب تک اس کے تحت ۹۶۴ مقدمات قائم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ۴۷۹ مقدمات خود مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ ان ملزم مسلمانوں میں تمام معروف مکاتب فکر کے افراد شامل ہیں۔ جبکہ پاکستان میں بسنے والی تمام غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف کل ۴۸۵ مقدمات قائم ہوئے۔ مرزائیوں، لاہوری قادیانیوں اور احمدی قادیانیوں کے خلاف ۳۴۰ مقدمات، عیسائیوں کے خلاف ۱۱۹، ہندوؤں کے خلاف ۱۴ مقدمات جبکہ سکھوں اور پارسیوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف گزشتہ ۲۶ سالوں کے دوران صرف ۱۲ مقدمات درج کروائے گئے۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ اقلیتوں کے ہر فرقہ سے زیادہ اس دفعہ کے تحت
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 276 تحفظ ناموس رسالت نمبر
خود مسلمانوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔
دفعہ ۲۹۵سی کے تحت درج ہونے والے مقدمہ کی سنگین نوعیت کے پیش نظر اس کی سماعت کا اختیار مجسٹریٹ دفعہ ۳۰ کو بھی نہیں دیا گیا بلکہ براہ راست ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ہی اس مقدمہ کی سماعت کا مجاز ہوتا ہے۔ ان ۹۶۴ مقدمات میں سے ۹۳۹ مقدمات ملک بھر میں اسی سطح کی معزز عدالتوں نے خارج کر دیئے کیونکہ مقدمہ درج کروانے کے بعد مدعی غائب ہو گئے یا گواہ پیش نہیں ہوئے یا گواہ منحرف ہو گئے۔ اکثر مقدمات کے چشم دید اور موقعہ کے گواہ موجود نہ تھے نیز مدعی اور مدعی علیہ کے مابین پرانی دشمنی یا جائیداد کا تنازعہ عدالت میں ثابت ہو گیا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے مخالف فریق پر توہین رسالت کا الزام عائد کیا تھا۔ اس سے ملتی جلتی دیگر وجوہ سے دائر ہونے والے توہین رسالت کے ۹۳۹ مقدمات سماعت کے پہلے مرحلہ ہی میں ختم ہو گئے۔ جھوٹے مقدمات میں اکثر جج صاحبان نے مدعی اور اس کے جھوٹے گواہوں کے خلاف قانونی کارروائیوں کے احکام بھی اپنے فیصلوں میں تحریر کیے۔
اس دفعہ کے تحت درج ہونے والے کل ۹۶۴ مقدمات میں سے صرف ۲۵ مقدمات میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججز کے فیصلوں کے خلاف متعلقہ صوبوں کی ہائی کورٹس میں اپیلیں دائر کی گئیں کیونکہ ان میں مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی تھی یا مدعی کو مجرم کے بری کیے جانے کے خلاف اپیل کرنے کی گنجائش نظر آئی۔ ان ۲۵ اپیلوں پر ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف محض چند اپیلیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں۔ توہین رسالت کے مقدمات میں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی اپیلوں پر ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے باوجود ان میں سے ہر ایک پر لکھنا ممکن نہیں کیونکہ یہ فیصلے مجموعی طور پر پانچ سو سے زائد صفحات کو محیط ہیں۔ ان میں سے چند فیصلوں پر ایک نظر ڈالنے سے ہی ملک بھر میں توہین رسالت کے ۹۶۴ مقدمات درج ہونے کے باوجود کسی ایک مقدمہ میں بھی کسی ملزم (مجرم) کو سزائے موت نہ دیئے جا سکنے کی وجوہ واضح ہو سکتی ہیں۔
................................ * * * ................................
- ۱۔ مقدمہ (پٹیشن) فوجداری متفرق نمبرB/997، عنوان: محمد احسان اللہ بنام سرکار، لاہور ہائی کورٹ (۲۰۰۶ء
ماہنامہ لاء ڈائجسٹ)
روبرو جناب جسٹس خواجہ محمد شریف جج لاہور ہائی کورٹ
فاضل جج صاحب نے اس مقدمہ کے فیصلے میں اس کی جو تفصیل درج کی ہے، اس کے مطابق میاں محمد پرویز اختر نے محمد احسان اللہ کو زدوکوب کر کے اس قدر زخمی کر دیا تھا کہ ان زخموں سے اس کی موت بھی واقع ہو سکتی تھی۔ پولیس اسٹیشن سول لائنز، گجرات نے زخمی ہونے والے اس شخص کی درخواست کے باوجود میاں محمد پرویز اختر کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کی البتہ اس کی درخواست پر محمد احسان اللہ کے خلاف توہین رسالت کی دفعہ ۲۹۵سی کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا۔
جناب جسٹس خواجہ محمد شریف نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ اس ایف آئی آر کا مدعی اپنے دعوٰی توہین رسالت کو ثابت کرنے میں قطعی طور پر ناکام رہا ہے۔ نیز وہ خود اس مقدمہ کے اندراج سے فوراً پہلے (اس ایف آئی آر میں نامزد)
تحفظ ناموس رسالت نمبر 277 ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
ملزم کو شدید زخمی کرنے کا مرتکب ہوا ہے۔ جبکہ محمد احسان اللہ نے توہین رسالت کے جرم کے ارتکاب سے واشگاف الفاظ میں عدالت کے روبرو انکار کیا اور اس مقدمہ کی تفتیش کرنے والے ایس پی انوسٹی گیشنز نے بھی اسے اپنی تفتیشی رپورٹ میں معصوم و بے گناہ قرار دیا ہے۔ فاضل جج جسٹس خواجہ محمد شریف نے الزام کی حساسیت کی وجہ سے ذاتی اطمینان کے لئے توہین رسالت کے اس ملزم سے متعدد تیکھے سوالات کر کے حضور نبی اکرم ﷺ کے بارے میں اس کے ایمان واقرار اور جذبۂ احترام ومحبت کو جانچنے کی کوشش کی۔ کامل اطمینان کے بعد انہوں نے اپنے فیصلہ میں توہین رسالت کے الزام سے ملزم کو بری کرتے ہوئے ایف آئی آر ختم کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی متعلقہ قانونی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے اس ایف آئی آر کے مدعی مقدمہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروانے اور ملزم کو شدید زخمی کرنے کی الگ الگ ایف آئی آرز درج کر کے ہائی کورٹ کو ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا۔
................................... * * * ...................................
۲۔ یہ فیصلہ پشاور ہائی کورٹ کا ہے۔ جو (1997) MLD 1228 میں رپورٹ ہوا۔ اس کا عنوان: برات علی (مدعی) بنام سرکار ہے۔ اس مقدمہ کی ایف آئی آر پولیس کی مدعیت میں ۱۳ اگست ۱۹۹۳ء کو قنبر علی اور حاجی برات علی کے خلاف زیر دفعہ ۲۹۵سی تعزیرات پاکستان درج کی گئی۔ پولیس کو فون پر کسی نے اطلاع دی تھی کہ ملزم قنبر علی ایک پرنٹنگ پریس میں گیا ہے جو وہاں سے حضرت محمد ﷺ کی تصویر چھپوانا چاہتا ہے۔ اگر پولیس وقت ضائع کیے بغیر وہاں چھاپہ مارے تو اسے تصویر سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار کر سکتی ہے۔ جب پولیس وہاں پہنچی تو پریس کے باہر قنبر علی کی گرفتاری کا منظر دیکھنے کے لئے پہلے سے وہاں کئی افراد جمع تھے۔ پریس کے اندر جا کر پولیس نے قنبر علی کی تلاشی لی تو اس کی جیب سے ایک تصویر برآمد ہوئی جس کی پشت پر فارسی رسم الخط میں (حضرت) محمد (ﷺ) لکھا ہوا تھا۔ قنبر علی نے تفتیش کے دوران بتایا کہ یہ تصویر اسے ایک افغانی حاجی برات علی نے دی اور تین ہزار روپے دیئے کہ وہ اس پریس میں جا کر دس ہزار تصویریں چھپوا کر لائے۔ اس وجہ سے پولیس نے اپنی مدعیت میں اس کے خلاف دفعہ ۲۹۵سی کے تحت ایف آئی آر درج کی۔ وقوعہ کے تین روز بعد ۱۶ اگست ۹۳ء کو پشاور کے مجسٹریٹ دفعہ ۳۰ جناب فخر عالم خان نے اس کا اعترافی بیان قلمبند کیا۔ پولیس تفتیش مکمل ہونے پر ایڈیشنل سیشنز جج پشاور کی عدالت میں چارج شیٹ پیش کی گئی۔ ۴ ستمبر ۹۴ء کو ان دونوں ملزموں پر فرد جرم عائد ہوئی جو ان کو پڑھ کر سنائی گئی۔ دونوں ملزموں نے بے گناہ اور بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مقدمہ چلائیں۔ استغاثہ نے جو چھ گواہ پیش کیے وہ سب پولیس ملازم تھے۔ ۱۷ نومبر ۹۴ء کو استغاثہ کے گواہوں پر جرح کی گئی۔ جبکہ ملزمان کے پاس اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے گواہ نہ تھے۔ وہ خود ہی اپنے گواہ تھے لہٰذا ضابطہ فوجداری کی دفعہ (۲) ۳۴۰ کے تحت حلف پر ان کی ذاتی گواہی لے کر ان پر جرح کی گئی۔
سماعت مکمل ہونے پر ایڈیشنل سیشنز جج پشاور نے ۱۰ جنوری ۹۶ء کو دفعہ ۲۹۵سی کا انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنادی اور ہر دو کو بیس بیس ہزار روپے جرمانہ بھی کیا اور عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں ایک ایک سال قید بامشقت کا حکم دیا تھا۔
اس فیصلہ کے متاثرہ فریق نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی جس کی سماعت جناب جسٹس قاضی حمید الدین اور جناب جسٹس جاوید نواز خان گنڈا پور نے کی۔ غالباً قنبر علی بہت غریب آدمی تھا، اس لئے وہ اپیل نہ کر سکا۔ یہ اپیل برات علی نے کی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
تھی۔ اس لئے مقدمہ توہین رسالت میں سزا کے خلاف اپیل کا فیصلہ ”برات علی (مدعی) بنام سرکار (مدعی علیہ)“ کے عنوان سے 1997 MLD 1228 میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ جناب جسٹس جاوید نواز خان گنڈا پور نے تحریر کیا ہے۔
فاضل جج صاحبان نے فریقین کے فاضل وکلاء کے مفصل دلائل سننے کے بعد ۸ مئی ۹۶ء کو اپنے فیصلہ میں ملزمان کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔ اپنے اس فیصلہ کے لئے فاضل عدالت نے یہ دلائل دیئے:
- ا۔ سپریم کورٹ نے حاکم علی کے مقدمہ (1971 SC MR 432) میں یہ فیصلہ دیا کہ ”فوجداری مقدمہ میں یہ
استغاثہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مقدمہ کو ثابت کرے۔ استغاثہ اپنی شہادت کی قوت سے اپنے مقدمہ ثابت کرنے کا پابند ہے، نہ کہ کمزور دفاع کی وجہ سے اس کا مقدمہ ثابت ہوتا ہے۔
- ۲۔ اس لئے مقدمہ کا ہر وہ کمزور پہلو جو ملزم کی حمایت میں جا سکتا ہو، اس کا فائدہ ملزم پر رحم کھانے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ
ملزم کے حق کے طور پر اسے پہنچانا لازم ہے۔
- ۳۔ گواہوں نے اقرار کیا ہے کہ ملزم قنبر علی نے انہیں بتایا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کی مبینہ رنگین فوٹو اسے مدعی برات علی
نے دی تھی۔ کسی گواہ نے یہ نہیں کہا کہ اس نے خود دیکھا ہے کہ برات علی، قنبر علی کو یہ فوٹو اور تین ہزار روپے دے رہا تھا تاکہ وہ پرنٹنگ پریس سے دس ہزار تصویریں چھپوا کر لائے۔ ملزم قنبر علی نے الزام کی سخت تردید کی ہے۔
- ۵۔ گواہان کے بیانات میں تضاد کی وجہ سے استغاثہ کا مقدمہ بلاشک و شبہ ثابت نہیں ہوا جبکہ ملزم صحت جرم سے انکاری
ہیں۔ مقدمہ کے واقعات واضح کرتے ہیں کہ ملزمان کو سازش کے ذریعہ اس مقدمہ میں ملوث کیا گیا ہے۔
- ۶۔ شکوک کی موجودگی میں کسی ملزم کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔
.........................................***.........................................
- ۳۔ توہین رسالت کے ملزم کی متفرق درخواست برائے ضمانت و تنسیخ ایف آئی آر پر فاضل عدالت عالیہ کا فیصلہ:
مقدمہ بعنوان غفور اسلم (مدعی) بنام سرکار و دیگر (مدعاعلیہمان)، مقدمہ فوجداری متفرق نمبر 174/mof 2009 بعدالت جناب جسٹس رانا زاہد محمود، جج لاہور ہائی کورٹ، فیصلہ بمورخہ ۱۲ مارچ ۲۰۰۹ء (2009 PCr Lj 1108)
توہین رسالت کے اس مقدمہ کی ایف آئی آر نمبر 145 of 2007 مورخہ ۲ جون ۲۰۰۷ء کو پولیس اسٹیشن بی ڈویژن گجرات میں غفور اسلم و دیگر کے خلاف درج ہوئی تھی۔ اس کے مطابق ملزم نے دو ایسی کتابوں کی تعارفی تقریب منعقد کی تھی جن میں توہین رسالت پر مبنی مواد شائع ہوا تھا۔ اس تقریب کے دوران اس نے اور اس کے ایک شریک جرم شخص نے اپنی تقریروں میں بھی توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا۔ ایس پی (انویسٹی گیشنز) کی قیادت میں پولیس نے ان کتابوں اور ملزمان کی تقاریر کے مواد کا جائزہ لے کر ایڈیشنل سیشنز جج کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے دوران رپورٹ پیش کی جس میں ملزمان پر جرح مکمل کیے جانے کے بعد مقدمہ کے گواہان پر بھی جرح ہو چکی تھی اور فیصلہ آنے ہی والا تھا کہ ملزم غفور اسلم نے ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کو ضمانت پر رہائی اور ایف آئی آر خارج کرنے کی درخواست دے دی جو مسترد کر دی گئی۔
جناب جسٹس رانا زاہد محمود نے اپنے فیصلہ میں فریقین کے وکلاء کے دلائل کا تفصیل سے تجزیہ کرنے کے بعد لکھا۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد
- ۱۔ ایڈیشنل سیشنز جج
گواہوں پر جرح مکمل ہوچکی تنسیخ ایف آئی آر منظور کر
- ۲۔ ملزم کے فاضل وکیل
دیوانی نوعیت کی ہیں جبکہ سے کچھ تعلق نہیں۔
ان وجوہ سے جناب ایف آئی آر منسوخ کر تینوں مقدمات میں کو نہ بلاوجہ رہا کر رہی ہے انصاف کا قتل کر رہی ہے۔ کرنے والے ہر شخص کو اعتماد کا اندازہ اس بات عدلیہ کے ذریعہ ملزموں کو اثرات اور لوگوں کی جانب کے جرائم کو بلاشک و شبہ یہ پاکستانی معاشر بنیاد مقدمات درج کروانے درج کروائے گئے ہیں تک صرف ۱۱۹ مقدمات کروائے گئے مقدمات سزا موت دے سکتی ہے
- ۴۔ یہ مقدمہ سندھ ہائی
2004 Karachi 613 بنام قادر خان مندرجہ ذیل عزت مآب جناب ان کے مطابق اس مدعی مقد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ١۔ ایڈیشنل سیشن جج صاحب کی عدالت میں یہ مقدمہ آخری مراحل میں ہے۔ تمام شواہد پیش کیے جاچکے ہیں مدعی اور
گواہوں پر جرح مکمل ہو چکی ہے۔ اب جلد ہی فیصلہ سنایا جانے والا ہے اس لئے اس مرحلہ پر ملزم کی درخواست ضمانت و تنسیخ ایف آئی آر منظور کر کے ماتحت عدالت کی کارروائی پر اثر انداز ہونا مناسب نہیں۔
- ٢۔ ملزم کے فاضل وکیل نے اس مقدمہ کے اخراج کے لئے جن عدالتی نظائر کا حوالہ دیا ہے، وہ غیر متعلقہ ہیں کیونکہ وہ
دیوانی نوعیت کی ہیں جبکہ یہ انتہائی حساس نوعیت کا فوجداری مقدمہ ہے۔ اس لئے ان کے دلائل کا اس مقدمہ اور اس اپیل سے کچھ تعلق نہیں۔
ان وجوہ سے جناب جسٹس رانا زاہد محمود نے توہین رسالت کے اس مقدمہ میں گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت اور ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ (تا حال اس مقدمہ کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا)
تینوں مقدمات میں دیئے گئے فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ توہین رسالت کے مقدمات میں مجرموں کو نہ بلا وجہ رہا کر رہی ہے اور نہ ہی ناکافی شواہد کی وجہ سے جرم کے بلا شک و شبہ ثابت ہوئے بغیر سزائے موت دے کر انصاف کا قتل کر رہی ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں میں انصاف کا اعلیٰ معیار اور دلائل کی مضبوطی کا احساس ان فیصلوں کا مطالعہ کرنے والے ہر شخص کو ہوتا ہے۔ پاکستانی عوام کو اپنی عدلیہ کے ان فیصلوں اور عدلیہ کی جانب سے انصاف کی فراہمی پر اعتماد کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک توہین رسالت کے ۹۶۴ واقعات کی ایف آئی آر درج کروا کے عدلیہ کے ذریعہ ملزموں کو سزا دلوانے کی کوشش کی گئی۔ معاشرے کی عمومی غفلت، عوام کی باہمی نفرتیں، فرقہ واریت کے اثرات اور لوگوں کی جائیدادیں ہتھیانے کے عام رجحانات اگر ان مقدمات میں واضح طور پر نظر نہ آتے اور توہین رسالت کے جرائم کو بلا شک و شبہ ثابت کیا جا سکتا تو ۱۹۳۹ ایسے مقدمات ایڈیشنل سیشنز جج کی عدالتوں سے ہی خارج نہ ہوجاتے۔
یہ پاکستانی معاشرے کے ذمہ دار اہل اسلام کا فرض ہے کہ وہ ذاتی دشمنیاں چکانے کے لئے توہین رسالت کے بے بنیاد مقدمات درج کروانے والوں کی خود حوصلہ شکنی کریں۔ کیونکہ ایسے مقدمات اکثر حالات میں خود مسلمانوں کے خلاف درج کروائے گئے ہیں۔ غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف درج مقدمات کی تعداد پر نگاہ ڈالی جائے تو عیسائیوں کے خلاف اب تک صرف ۱۱۹ مقدمات درج ہوئے ہیں جبکہ کلمہ گو مسلمانوں کے خلاف توہین رسالت کی دفعہ ۲۹۵سی کے تحت درج کروائے گئے مقدمات کی تعداد ۳۷۹ ہے۔ ان حالات میں اعلیٰ عدلیہ کیسے آنکھیں بند کر کے ہر ملزم کو بلا جرم ثابت ہوئے سزا موت دے سکتی ہے۔
................................ ٭ ٭ ٭ ................................
- ۴۔ یہ مقدمہ سندھ ہائی کورٹ، کراچی میں جناب جسٹس سرمد جلال عثمانی نے سماعت کیا اور فیصلہ دیا جو 2006 PLD
613 Karachi میں شائع ہوا۔ درخواست فوجداری متفرق نمبر 2005 of 119، عنوان: محمد علی ودیگر (مدعیان) بنام قادر خان مندوخیل ودیگر (مدعاعلیہان)، تاریخ فیصلہ: ۳۰ جون ۲۰۰۶ء
عزت مآب جناب جسٹس سرمد جلال عثمانی نے اپنے فیصلہ کے شروع میں مقدمہ کے جو حقائق و واقعات بیان کیے ہیں، ان کے مطابق اس مدعی مقدمہ کو جاپان سے بستر کی چادریں تیار کرنے کا آرڈر، ایک ڈیزائن کے ہمراہ ملا جس کے مطابق اسے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء 280 تحفظ ناموس رسالت نمبر
جاپانی زبان میں کچھ الفاظ بھی بستر کی چادروں پر چھاپنا تھے۔ ان الفاظ کی بناء پر قادر خان مندوخیل نے اس کے خلاف دفعہ 295 سی کے تحت توہین رسالت کا مقدمہ درج کروا دیا کیونکہ اس کے مطابق یہ الفاظ 'اللہ' اور 'محمد' پڑھے جاتے تھے۔ اس ایف آئی آر میں مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعات ۲۹۵ اے اور ۲۹۵ بی بھی شامل کی گئی تھیں۔ ۲۹۵ سی کے تحت درج مقدمہ صرف ایڈیشنل سیشنز جج کو سماعت کرنے کا اختیار ہے جبکہ یہ دیگر دو دفعات کے تحت مقدمہ کی سماعت مجسٹریٹ درجہ اول سماعت کر سکتا ہے۔ اس وجہ سے پہلے تو یہی قضیہ حل طلب تھا کہ یہ مقدمہ کس عدالت کے دائرہ سماعت میں آتا ہے جس میں یہ تینوں دفعات یکجا ہو گئی ہیں۔ ان تکنیکی پہلوؤں کو زیر بحث لانے کے بعد فاضل جج صاحب نے مقدمہ کے میرٹ پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور میرٹ پر ہی مقدمہ کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مدعی (در حقیقت ملزم) کی درخواست منظور کرتے ہوئے توہین رسالت کا مقدمہ دیگر دو دفعات سمیت خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان دلائل و وجوہ کو اپنے فیصلہ کی بنیاد بنایا ہے:
- ۱۔ مدعی نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر اپنے غیر متزلزل ایمان واحترام کا اقرار کیا ہے اور یہ کہ اس
کی قطعا یہ نیت نہ تھی کہ وہ توہین خدا اور رسول کا مرتکب ہو۔ اس نے جاپانی زبان کے الفاظ بستر کی چادروں پر چھاپے ہیں جو قطعی طور پر ''اللہ'' اور ''محمد'' کے مبارک کلمات نہیں ہیں۔
- ۲۔ دارالافتاء، دارالعلوم کراچی کے مفتی صاحبان نے بھی یہ فتویٰ تحریری طور پر دیا ہے کہ یقینی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے
کہ یہ وہ مقدس نام نہیں لیکن جس شکل کے یہ جاپانی الفاظ ہیں، ان سے سادہ عوام کو مغالطہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا توہین خدا اور رسول ﷺ کا جرم واقع نہیں ہوا۔
- ۳۔ مدعی (ملزم) محمد علی نے اقرار کیا ہے کہ اگر چہ مفتی صاحبان کے فتویٰ کے مطابق بھی یہ الفاظ یقینی طور پر وہ نہیں جن
کے بستر کی چادروں پر چھاپنے کا اس پر الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم وہ توبہ کرتا ہے کہ اگر کسی کو بھی ایسی کوئی غلط فہمی ہو کہ اس نے ایسا کیا ہے۔ اس نے یہ اقرار بھی کیا ہے کہ آئندہ وہ انتہائی احتیاط کرے گا تا کہ کسی کو مغالطہ تک نہ ہو سکے۔
- ۴۔ پولیس کے اعلیٰ افسران نے عدالت میں تفتیشی رپورٹ میں واضح طور پر کہا کہ ملزم پر عائد کیا گیا الزام بے بنیاد اور
غلط ہے کیونکہ ملزم کی نہ نیت توہین خدا اور رسول کی تھی اور نہ یہ وہ مقدس نام ہیں جن کا مدعی مقدمہ کو وہم ہوا ہے۔ اس لئے یہ مقدمہ تمام دفعات سمیت خارج کیا جائے۔
- ۵۔ فاضل جج صاحب نے عدالت میں ان چادروں کے نمونے منگوا کر خود بھی ملاحظہ کیے جن کو بطور ثبوت پیش کرتے
ہوئے الزام عائد کیا گیا تھا، وہ بھی اس نتیجے پر پہنچے کہ ان جاپانی الفاظ کے بارے قطعی طور پر یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ''اللہ'' اور ''محمد'' کے مبارک کلمات ہیں۔
- ۶۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے واضح ارشادات، اصول قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلہ (محمد ب بنام سرکار) کی رو سے ملزم کو
شک کا فائدہ دے کر بری کرنا عدالت کا فرض ہے۔ اس اصول کو اسلامی شریعت، قانون اور مہذب دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے:
"Wherever there is a doubt, the benefit should be given to the accused because it is better to acquit ten guilty persous than to convict an innocent man"
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
”ہر گاہ جہاں کہیں شک پایا جائے گا، وہاں فائدہ ملزم کو دیا جائے گا کیونکہ دس مجرموں کو بری کرنا بہتر ہے، اس سے کہ ایک بے گناہ کو سزا دی جائے۔“
- ۷۔ مذکورہ بالا وجوہ سے ملیر (کراچی) کی ایڈیشنل سیشنز کورٹ میں اس مقدمہ کو جاری رکھنا، عدالت کا وقت ضائع
کرنے کے مترادف ہے۔ اس لئے ملزم کو توہینِ خدا اور رسول ﷺ کے الزام سے بری کرتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
.........................* * *.........................
- ۵۔ عنوان مقدمہ: عبداللطیف و ۳ دیگر (مدعیان) بنام سرکار و دیگر (مدعاعلیہان)، درخواست فوجداری متفرق نمبر
879-B of 2005 بعدالت جناب جسٹس محمد فرخ محمود، جج لاہور ہائی کورٹ: فیصلہ بمورخہ ۱۰ اکتوبر 2005ء
(2006 YLR 2488)
اس درخواست ضمانت پر فیصلہ دیتے ہوئے فاضل جج صاحب نے شروع میں اس کے تمام حقائق و واقعات بیان کیے ہیں۔ ان کے مطابق اس مقدمہ کی ایف آئی آر نمبر ۱۷۶ تھانہ حاصل پور صدر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان اور اُس کے ساتھی ماسٹر عبدالقیوم کی مدعیت میں عبداللطیف، یعقوب، سیگل، اسحاق اور شفیع محمد وغیرہ کے خلاف مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعات - 365/295, 342, 148 اور 149 کے تحت ۱۷ جون ۲۰۰۵ء کو درج ہوئی تھی۔ میڈیکولیگل رپورٹ موصول ہونے پر ان کے خلاف دفعہ 337-L(ii) کا اضافہ کیا گیا۔ جبکہ ۹ جولائی ۲۰۰۵ء کو دفعہ 295-B بڑھا دی گئی یہ درخواست ضمانت ہائی کورٹ میں ابھی زیر التوا تھی کہ تفتیشی افسر نے ایس پی آفس سے موصول ہونے والی فون کال کے بعد ۳۱ اکتوبر ۲۰۰۵ء کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ ۱۹۹۷ء کی دفعہ ۷ کا بھی اضافہ کر دیا۔
فاضل جج صاحب نے فیصلہ میں لکھا ہے کہ ان ملزمان (قادیانیوں) کے حاصل پور تھانہ صدر کی حدود میں ۱۵، ۱۶ گھر ہیں۔ اس واقعہ سے ۵، ۶ سال پہلے انہوں نے اپنے محلہ میں اپنی عبادت گاہ کی تعمیر کرنا شروع کی جو مسجد سے مشابہت رکھتی تھی۔ شکایت کنندہ نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ان قادیانیوں کو مسجد نما عبادت گاہ کی تعمیر روکنے کو کہا۔ مذاکرات کے بعد قادیانیوں نے عبادت گاہ کی اطراف کے دروازے بند کر دیئے اور میناروں کی تعمیر بھی روک دی۔ واقعہ سے ایک ماہ پہلے شکایت کنندہ کو پتا چلا کہ انہوں نے صدر دروازہ پھر کھول دیا ہے۔ وہ ساتھیوں کو ہمراہ لے کر دوبارہ مذاکرات کرنے آیا تو اسے بتایا گیا کہ بارش کی وجہ سے یہ دروازہ خراب ہو گیا تھا، اسے مرمت کروا کے بند کر دیا جائے گا۔ واقعہ کے روز نماز جمعہ کے دوران اسے اطلاع ملی کہ دروازہ تاحال بند نہیں کیا گیا۔ چنانچہ اس نے انہیں چک میں بلا بھیجا۔ دروازہ بند کرنے کے مسئلہ پر مذاکرات جاری تھے کہ ۹ مزید قادیانی ڈنڈوں سے مسلح ہو کر موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے شکایت کنندہ کو گالیاں دینا شروع کر دیں اور قرآن حکیم کی کچھ آیات کی تلاوت کرنے لگے۔ تاہم ان کی بیان کردہ تعبیرات مسلمانوں کے عقائد کے برعکس تھیں۔ مزید بتایا گیا کہ انہوں نے ”محمدﷺ“ کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی۔ ایف آئی آر درج کرنے والی مدعی مقدمہ نے انہیں اس کے سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ اس کے بعد صورت حال بگڑ گئی۔ تمام نامزد ملزمان نے اسے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اور اس کے ساتھی ماسٹر عبدالقیوم کو مکوں اور لاتوں سے زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔ بعد ازاں وہ انہیں اپنی عبادت گاہ کے احاطہ میں لے جا کر جسمانی تشدد کرتے رہے۔ تین چار گھنٹوں کے بعد سیف الرحمٰن، حبیب الرحمٰن اور لیاقت علی پٹواری کی مداخلت پر انہیں وہاں سے جانے دیا گیا۔
ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد شکایت کنندہ اور استغاثہ کے گواہوں کے سپلیمنٹری بیانات عدالت میں 27 اگست 2005ء کو ریکارڈ کیے گئے جن میں قرآن حکیم کی غلط تعبیرات کا الزام یعقوب، شفیع اور طارق پر جبکہ ”ﷺ“ کی توہین کا الزام یونس اور طارق کے خلاف عائد کیا گیا ہے۔ پہلے یہ لڑائی جھگڑے کا مقدمہ تھا بعد میں ایف آئی آر میں توہین رسالت کی دفعہ شامل کر لی گئی۔
ملزمان کے وکیل کا موقف تھا کہ ایف آئی آر میں توہین ”ﷺ“ اور توہین قرآن کی دفعات ابتداء میں شامل نہ تھیں۔ یہ دفعات فرقہ وارانہ اختلاف کی وجہ سے بدنیتی سے بعد میں بڑھائی گئی تھیں۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بھی واضح الفاظ میں عدالت عالیہ کو بتایا کہ ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد اضافہ کی گئی دفعات کی صداقت اور ان کے قابل اعتماد ہونے کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ ابتداء میں ان ملزمان کے خلاف ”ﷺ“ کی توہین کا الزام تھا ہی نہیں۔
یہاں پر جملہ معترضہ کے طور پر ہم قارئین کی توجہ اس اہم پہلو کی طرف دلانا چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے شکایت کنندہ نے توہین رسالت کی دفعہ 295 سی کے تحت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ”ﷺ“ کی توہین کا الزام عائد کیا جبکہ وہ دانستہ طور پر حضور نبی اکرم کا اسم مبارک ”محمد“ ذکر کرنے سے احتراز کرتا رہا۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران بھی اس نے حضرت محمد مصطفیٰ کی توہین کے بجائے ”ﷺ“ کی توہین کا الزام لگایا۔ ملزمان نے بھی اپنے اوپر الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ اسم مبارک نہیں لیا اور ایڈیشنل سیشن جج اور نہ ہی ہائی کورٹ کے فاضل جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں حضرت محمد ﷺ کی توہین کے الزام اور اس کے عدم ثبوت کا ذکر کرتے ہوئے یہ نام پاک لیا ہے۔ شکایت کنندہ کی طرح سبھی ”ﷺ“ کی توہین یا عدم توہین کے دلائل دیتے رہے ہیں۔ ”یہ دلچسپ صورت حال اس پورے مقدمہ میں نظر آتی ہے مگر کسی نے اس کو نوٹ نہیں کیا۔
فاضل جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ میں نے فریقین کے فاضل وکلاء کے دلائل سنے اور مقدمہ کا تمام ریکارڈ پڑھا ہے۔ یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندگان اور یعقوب، سہگل، اسحاق، عبداللطیف اور شفیع محمد کے درمیان مذاکرات جاری تھے کہ دوسرے ملزمان نے مقدس کتاب (قرآن حکیم) کی غلط تعبیر کرنا شروع کر دی اور ”ﷺ“ کے بارے میں توہین آمیز زبان استعمال کی۔ ایف آئی آر میں یہ بھی ہے کہ شکایت کنندہ اور ماسٹر عبدالقیوم کو تھپڑ مارے گئے اور گھونسوں اور لاتوں سے زدوکوب کیا گیا۔ کسی ملزم نے انہیں ڈنڈا نہیں مارا۔ یہ بھی نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ ایف آئی آر کے مطابق تیرہ افراد نے شکایت کنندہ اور عبدالقیوم کو زخمی کیا جبکہ میڈیکولیگل رپورٹ کے مطابق شکایت کنندہ کو پانچ زخم آئے مگر کوئی زخم گہرا یا شدید نہ تھا۔ جہاں تک ماسٹر عبدالقیوم کا تعلق ہے، اس نے کسی میڈیکل آفیسر سے ٹیسٹ نہیں کروایا تھا۔ یہ اوپر پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ یعقوب اور شفیع کے خلاف مخصوص الزامات
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء
وقوعہ کے دس روز بعد سپلیمنٹری بیان میں لگائے گئے۔ ٹرائل کورٹ کو تفتیشی افسر نے ۲۸ ستمبر ۲۰۰۵ء کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وہ شکایت کنندہ کی صداقت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اگرچہ سپلیمنٹری بیان اور استغاثہ کے گواہان کے بیانات کی قانونی حیثیت کا تعین شہادتیں ہو جانے کے بعد ٹرائل کورٹ (یعنی ایڈیشنل سیشنز کورٹ) کرے گی۔ لیکن یہ نہایت ہتک آمیز بات ہے کہ ہائی کورٹ میں یہ درخواست دائر ہوچکنے کے بعد ۲۲ ستمبر ۲۰۰۵ء ملزمان کے خلاف ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی ٹیلی فون پر دی گئی ہدایت پر انٹی ٹیررازم ایکٹ ۱۹۹۷ء کی دفعہ ۷ پہلے سے موجود شہادت کی بنیاد پر بڑھادی گئی۔ یعنی اس کی الگ سے کوئی شہادت و بنیاد موجود نہ تھی۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ عبادت گاہ تعمیر کرنے کے مسئلہ پر ۱۹۹۹ء سے فریقین کے درمیان تنازع چلا آ رہا تھا۔ مذکور بالا حقائق کی وجہ سے میری یہ رائے ہے کہ اس سارے مقدمہ کی مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔ اس کے نتیجہ کے طور پر میں ملزمان میں سے ہر ایک کی پچاس ہزار روپے کے مچلکوں پر ٹرائل کورٹ سے ضمانت پر رہائی کی منظوری دیتا ہوں۔ درخواست ضمانت منظور کی جاتی ہے۔
.....................٭٭٭.....................
اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے توہین رسالت کے ان دو مقدموں میں فیصلوں کے مطالعہ سے بھی ہمیں ایسے مقدمات کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ آخر اتنے سنگین الزام میں ماخوذ ملزمان کو متعلقہ دفعہ اور وفاقی شرعی عدالت کے اکتوبر ۱۹۹۰ء کے فیصلہ کے مطابق سزائے موت کیوں نہیں دی جاتی۔ جب تفتیش اور مقدمہ کی سماعت کے دوران ثابت ہو جائے کہ الزام غلط ہے اور مغالطہ کی وجہ سے عائد کیا گیا ہے تو اس کی پاداش میں ایک بیگناہ اور معصوم مسلمان کو جناب جسٹس سرمد جلال عثمانی جیسا دین دار جج کیسے سزائے موت دے سکتا ہے۔ دوسرے مقدمہ میں وجہ تنازعہ قادیانیوں کی عبادت گاہ کے دروازے کا کھلنا تھا مگر الزام توہین رسالت کا عائد کر دیا گیا جس کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ ایف آئی آر درج کروانے کے لئے معززین علاقہ پولیس پر دباؤ ڈالنے کے لئے شکایت کنندہ کے ہمراہ تھانے گئے۔ بار بار ایف آئی آر میں مزید دفعات کا اضافہ کیا جاتا رہا۔ استغاثہ نے دیدہ دلیری کی انتہاء کردی کہ اپیل ہائی کورٹ میں زیر التوا ہونے کے دوران ٹیررازم کی دفعہ ۷ بھی شامل کروالی۔ جب ایسے حساس نوعیت کے مقدمات میں دوسروں کو پھانسنے کے واضح شواہد ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہوں تو اعلیٰ عدلیہ ملزم کو شک کا فائدہ کیوں نہیں دے گی۔ اور کوئی ملزم ثبوت جرم کے بغیر کیونکر سزا پائے گا۔
قصور عدلیہ کا نہیں بلکہ معاشرے میں دیانت کے فقدان کے باعث جھوٹے مقدمات میں دوسروں کو ملوث کر کے سستی شہرت حاصل کرنے کے عام رجحان کی یہ کارفرمائی ہے۔ قرآن حکیم اور حضور رسالت مآب ﷺ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں ایسے افراد کو اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کرنی چاہیے۔ اسلام دشمن کے ساتھ بھی دھوکہ و فریب سے منع کرتا ہے مگر یہ جاہ پسند تو اپنے مسلمان بھائیوں سے بھی نہیں ٹلتے۔ یہی وجہ ہے کہ خود مسلمانوں کے خلاف توہین رسالت کے ۲۷۹ مقدمات اب تک درج کروائے جا چکے ہیں۔ یہ بڑی ہی دل آزاری کی بات ہے۔
پاکستان کی اشرافیہ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ حلقے عدم توازن کا شکار ہو کر توہین رسالت کے جرم سے متعلقہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ سی کے بے جا استعمال کی آڑ لے کر اس دفعہ ہی کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔ جبکہ کسی بھی قانون کی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 284 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کسی بھی دفعہ کا بے جا اور ناجائز استعمال نہ صرف ممکن ہے بلکہ بدقسمتی سے یہ ہمارے معاشرے کا عام چلن بن چکا ہے۔ اس صورت حال میں صرف اس ایک دفعہ کے خاتمے کا مطالبہ کسی اصلاح احوال کے بجائے مزید بگاڑ کا باعث بنے گا۔ یہ مطالبہ ایسے حالات میں اور بھی غیر دانشمندانہ نظر آتا ہے کہ جب ہمارے ملک کی اعلیٰ عدلیہ توہین رسالت کی اس دفعہ کے تحت درج ہونے والے انتہائی حساس مقدمات کے بھی پس پردہ عوامل کا کھوج لگا کر بے گناہ افراد کو اس کے بے جا اطلاقات سے بچانے میں نہایت مؤثر و فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ اس دفعہ کی مخالفت کرنے والے کسی ایک مقدمہ کی بھی مثال پیش نہیں کر سکتے جس میں کسی ملزم کو محض اقلیتی فرد ہونے کی وجہ سے اس دفعہ کے تحت سزا دی گئی۔ بدنیتی، خود غرضی، سستی شہرت حاصل کرنے یا کسی کی جائیداد ہتھیانے کے لئے جب کبھی کسی مسلمان، قادیانی یا مسیحی کے خلاف اس دفعہ کے تحت دائر کیا گیا مقدمہ اپیل میں اعلیٰ عدلیہ کے سامنے آیا، اس نے نہایت باریک بینی سے مقدمہ کے پس پردہ عوامل کو بے نقاب کیا اور کسی قسم کے امتیاز کے بغیر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا۔
یہاں پر ہم ایک ایسے ہی مقدمہ کے حالات، پس منظر اور اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ بطور مثال پیش کر رہے ہیں جسے پڑھ کر قارئین جان سکیں گے کہ بے لاگ انصاف فراہم کرنے والی آزاد عدلیہ کی موجودگی میں اس دفعہ کا ناجائز سہارا لے کر کسی بیگناہ کو سزا دلوانا آسان نہیں۔ اس سے یہ بھی جاننے میں مدد ملے گی کہ اس دفعہ کی وجہ سے اقلیتوں کو الٹا تحفظ ملا ہے۔ جبکہ توہین رسالت کا جرم اگر بلاشک وشبہ ثابت ہو جائے تو حقیقی مجرم اس عدلیہ کے ہاتھوں سزا پائے بغیر رہ نہیں سکتا۔ اس سے مسلمانوں کے تمام طبقوں کے لئے بھی اطمینان کا سامان فراہم ہوتا ہے۔
................................... ٭ ٭ ٭ ...................................
- ۶۔ توہین رسالت کے اس مقدمہ میں ایوب مسیح کو سزائے موت سنائے جانے کی وجہ سے اسے بین الاقوامی میڈیا میں بھی
خوب اچھالا گیا تھا۔ سیشنز کورٹ نے سزا سنائی تھی جبکہ ہائی کورٹ نے اسے بحال رکھا۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی۔ اس کا عنوان ہے: ایوب مسیح بنام سرکار۔ اپیل کی سماعت سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی جس کے فاضل ارکان جناب جسٹس ناظم حسین صدیقی، جناب جسٹس قاضی محمد فاروق اور جناب جسٹس میاں محمد اجمل تھے۔ سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ جناب جسٹس قاضی محمد فاروق نے تحریر کیا تھا جو PLD 2002 SC 108 میں رپورٹ (شائع) ہوا۔ ہم اس کا خلاصہ بیان کرنا کافی سمجھتے ہیں کیونکہ تفصیلی فیصلہ PLD میں دیکھا جاسکتا ہے جو کہ خاصا طویل ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۶ء کو سہ پہر ۳ بجے تھانہ صدر، عارف والا ضلع پاکپتن شریف کی حدود میں نامزد ملزم حکیم ماچھی کے گھر کے سامنے گلی میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتفاقیہ طور پر شکایت کنندہ اور اس کے ساتھی وہاں سے گزر رہے تھے کہ ملزم نے عیسائیت کی حمایت اور اسلام کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیں۔ اس نے نبی مکرم ﷺ کے بارے میں بھی نازیبا الفاظ بولے۔ اس نے نہ صرف شکایت کنندہ اور اس کے ساتھیوں کو سلمان رشدی کی کتاب پڑھنے کو کہا بلکہ انہیں اس مقصد سے اپنے ساتھ کراچی چلنے کو بھی کہا تھا، جج صاحب فیصلہ میں لکھتے ہیں کہ مقدمہ کے حقائق و شواہد اور ٹرائل کورٹ میں شہادتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزم ایوب مسیح نے شکایت کنندہ اور اس کے ساتھی ان پڑھ مزدوروں کو سلمان رشدی کی (انگریزی) کتاب پڑھنے اور اس غرض سے اس کے ساتھ کراچی چلنے کے لئے کہنے کے سوا کچھ نہیں کہا تھا۔ یہ اس کی انتہائی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لا حماقت تھی مگر صرف سلمان رشدی کو سیشنز کورٹ اور ہائی کورٹ اس مقدمہ کے اندراج تھا۔ یہ مقدمہ کے ریکارڈ سے پیش کرتے ہوئے عدالت کے گواہ نمبر ایک رشید احمد تھا بلکہ پٹواری مذکور کے ذریعہ ملاحظہ کیا ہے۔ اس سے واضح کورٹ نے شکایت کنندہ عدالت عظمیٰ نے اس نے اپنے تفصیلی بیان رہا۔ یہیں سے اس نے فاتحہ اور سورت اخلاص حضرت محمد ﷺ اور آپ شان میں گستاخی کے قانون کا پابند شہری ہے قائم نہیں ہوا۔ وہ لوگ کے ۱۹۶۵ء گھر میں ہم میرے مذہب نے ہمی کی تلقین کرتے ہیں۔ کرانے کے لئے اپ اس مقدمہ سے اس جھوٹے مقدمہ میں استغاثہ کے گواہ نمبر ایک کنندہ نے یہ ساری کا اپیل کے خلاف کورٹ کی جانب سے
19. 20. Plac (i) SIRHAI (ii) (iii) (iv) (v) (vi) (vii) (viii) 21. Addr Area Name/Father' 1. NIL NIL 2. NIL NIL 3. 4. 5. 6. 7. 8. 22. Addre Plac 1. SIRHAND SHA 2. 3. 4. 5. 6.
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 285 تحفظ ناموس رسالت نمبر
حماقت تھی مگر صرف سلمان رشدی کی کتاب پڑھنے کے لئے کہنا دفعہ 295سی کے تحت توہین رسالت کا جرم نہیں بنتا۔ اس نکتہ کو سیشنز کورٹ اور ہائی کورٹ نے نظر انداز کر دیا تھا۔
اس مقدمہ کے اندراج کے پیچھے اصل مقصد ملزم کے والد عنایت مسیح کے زیر قبضہ 9 مرلے کا احاطہ ہتھیانا تھا۔ یہ مقدمہ کے ریکارڈ سے بھی ثابت ہوتا ہے اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بھی حکومت پنجاب کے محکمہ مال کا ریکارڈ پیش کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کو بتایا ہے کہ ملزم کے خلاف توہین رسالت کا پرچہ کٹوانے کے بعد شکایت کنندہ نے استغاثہ کے گواہ نمبر ایک رشید احمد پٹواری کو ساتھ ملا کر اس کے ذریعہ نہ صرف ملزم ایوب مسیح کے والد کے زیر قبضہ احاطہ پر قبضہ کر لیا تھا بلکہ پٹواری مذکور کے ذریعہ احاطہ کا انتقال بھی اپنے نام کروا لیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس تمام ریکارڈ کو پوری احتیاط سے ملاحظہ کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملزم پر عائد کیا گیا توہین رسالت کا الزام بدنیتی پر مبنی ہے۔ مگر سیشنز کورٹ اور ہائی کورٹ نے شکایت کنندہ کی بدنیتی کے عنصر اور اس کے شواہد کو نظر انداز کر دیا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے فیصلہ میں لکھا ہے کہ ملزم ایوب مسیح نے ماتحت عدالتوں کے روبرو الزام کی صحت سے انکار کیا تھا۔ اس نے اپنے تفصیلی بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ جماعت اول سے دہم تک گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول، عارف والا میں پڑھتا رہا۔ یہیں سے اس نے 1986ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا جس میں دینیات لازمی تھی۔ اس وجہ سے اسے تینوں کلمے سورہ فاتحہ اور سورت اخلاص اب تک یاد ہیں۔ اس نے اپنا شہادتی بیان عدالت میں ریکارڈ کرواتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ وہ حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے پیروکاروں کے بارے میں انتہائی احترام کے جذبات رکھتا ہے اور حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس نے مبینہ الزام کی صحت سے انکار کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ قانون کا پابند شہری ہے اور اس کے خلاف اس سے پہلے کبھی کسی غیر اخلاقی یا کسی مذہب کی توہین یا قانون شکنی کا کوئی مقدمہ قائم نہیں ہوا۔ وہ لوگ عارف والا میں گزشتہ پچاس سالوں سے رہائش پذیر ہیں۔ اس نے بتایا کہ ہمارے چک میں مسیحیوں کے 15/16 گھر ہیں ہم مسلمانوں کے ساتھ امن و سکون کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ یہاں کبھی کوئی فرقہ وارانہ جھگڑا نہیں ہوا۔ میرے مذہب نے ہمیں دوسرے مذاہب کے احترام کی تعلیم دی ہے۔ ہم عملی طور پر امن پسند لوگ ہیں اور محبت و رواداری کی تلقین کرتے ہیں۔ اس نے اپنے شہادتی بیان میں عدالت کو مزید بتایا کہ شکایت کنندہ محمد اکرم نے یہ جھوٹا مقدمہ درج کرانے کے لئے اپنے رشتہ دار ظفر سلیم کا اثر و رسوخ استعمال کیا ہے جو کہ پولیس ملازم ہے۔
اس مقدمہ سے اس کی بدنیتی واضح ہے کہ وہ میرے والد عنایت مسیح کے زیر قبضہ احاطہ پر قبضہ جمانا چاہتا تھا۔ مجھے اس جھوٹے مقدمہ میں گرفتار کروانے کے بعد اس نے میرے والد کے زیر قبضہ احاطہ پر 26 فروری 1997ء کو قبضہ کر کے استغاثہ کے گواہ نمبر ایک رشید احمد پٹواری کی ملی بھگت سے 31 مئی 1997ء کو اس احاطہ کا انتقال اپنے نام کروا لیا تھا۔ شکایت کنندہ نے یہ ساری کارروائی اس وقت کی جبکہ میں اس جھوٹے مقدمہ کی وجہ سے ساہیوال ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہو چکا تھا۔
اپیل کے خلاف دلائل دیتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے دستیاب شہادتوں کی بناء پر ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے ملزم کو سزائے موت دیئے جانے کے حق میں اپنے دلائل میں کہا کہ توہین رسالت کو جرم ”حد“ نہیں
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 286 تحفظ ناموس رسالت نمبر ہے۔ (کہ تزکیۃ الشہود کا تقاضا پورا کیا جاتا ) اور یہ زیر بحث فیصلہ قابل استثناء نہیں ہے۔ جبکہ فاضل عدالت کو اپیل کنندہ ایوب مسیح کے فاضل وکیل جناب عابد حسن منٹو کی یہ دلیل متاثر کن محسوس ہوتی ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے محمد اسماعیل بنام پاکستان (10 PLD 1991 Federal shariat Court) میں اپنے فیصلہ میں طے کر دیا تھا:
"That the offence of blasphemy envisaged by section 295-C was an offence liable to Hodd and "Tazkia-tul-shahood" was obligatory in view of the observation made in "Sanaullah v the stat (PLD 1991 Federal Shariat Court 186), therfore, the prosecution evidence on which the two judgments of conviction were based was not legally admissible having not been tested on the touchstone of "Tazkia-tul-Shahood"
ترجمہ: یہ کہ دفعہ ۲۹۵ سی کے تحت آنے والا توہین رسالت کا جرم مستوجب حد جرم ہے اور ثناء اللہ بنام سرکار (پی ایل ڈی ۱۹۹۱ وفاقی شریعت عدالت ۱۸۶) میں فاضل عدالت نے یہ طے کر دیا تھا کہ حد کے مقدمہ میں تزکیۃ الشہود لازمی شرط ہے۔ اس کے نتیجہ میں استغاثہ کی شہادت جس کی بناء پر سزائے موت دینے کے دو فیصلے (ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے ) دیئے تھے، قانونی طور پر قابل قبول نہ تھی کیونکہ اسے تزکیۃ الشہود کے معیار پر پرکھا ہی نہیں گیا تھا۔
فاضل عدالت عظمیٰ نے ٹرائل کورٹ ملتان کے ڈویژن بینچ کی جانب سے ملزم کی دفعہ (۲) ۳۴۰ ضابطہ فوجداری کے تحت اپنی بریت کے حق میں حلفیہ بیان دینے سے انکار کو اس کے اعتراف سے تعبیر کرنے سے بھی اتفاق نہیں کیا۔ فاضل عدالت نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ یہ پہلے ہی امیر بنام فیاض احمد کیس PLD 1991 SC (787 میں طے کر چکی ہے کہ اس دفعہ کا ملزم پر کوئی اجباری اثر نہیں ہے۔ اس دفعہ کا اثر صرف اتنا ہے کہ عدالت ملزم کو حلف پر بیان دینے کے لئے کہہ سکتی ہے کہ کیا وہ ایسا کرنا چاہے گا۔ یہ اس (ملزم) کا اختیار ہے کہ حلف پر بیان دے یا نہ دے۔ اگر وہ حلف پر بیان نہ دے تو اس کے انکار کو اس کے خلاف ثبوت جرم کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
"In Munawar Ali v State (PLD 1993 Sc 251) it was held that adverse inference cannot be drawn if accused declines to make statement in his defence on oath. The view was reiterated in Javid v The stat (PID 1994 SC 679).
ترجمہ: منور علی بنام سرکار (پی ایل ڈی ۱۹۹۳ء سپریم کورٹ ۲۵۱) میں یہ فیصلہ دیا گیا تھا کہ اگر ملزم حلف پر بیان دینے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور سے انکار کر دے تو اس سے اخ ۱۹۹۴ء سپریم کورٹ ۶۷۹) میں بھ اپیل کنندہ کے وکیل جناب ہوا تھا۔ مدعی مقدمہ اور اس کے سا کے خلاف توہین رسالت کے ال صرف ۸ کلومیٹر تھا۔ ایف آئی آ ملزم کے خلاف اس مقدمہ کی منص کورٹ اور معزز ہائی کورٹ نے ال عدالت عظمیٰ نے اپیل کن کے لئے ٹرائل کورٹ اور پنجاب اور محمد ذوالفقار کی شہادت پر اعتم شہادت سزائے موت دینے کے اس عدالت نے مقدمہ ہ اشتیاق سے سنے ہیں۔ ان کی س حقدار ہے۔ لہٰذا اس بحث کی ض اس کے جرم اور اس کی پاداش می
اس مقدمہ کے حقائق ک ہمارے نظام عدل سے ملزم با چکے ہوں گے۔ انہیں یہ جانے صلاحیت کے باوجود ان کے خ کر برقرار نہیں رہ سکتے۔ اس ل مقدمہ کے اندراج میں اثر و ر شکایت کنندہ کا ملزم کے والد ایک رشید احمد پٹواری کا ملوث مشکوک بنانے میں اہم کردار ا کی سزائے موت کو برقرار رکھن
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 287 تحفظ ناموس رسالت نمبر
سے انکار کر دے تو اس سے الٹا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی قانونی نکتہ کو اس عدالت عظمیٰ نے جاوید بنام سرکار (پی ایل ڈی ۱۹۹۲ء سپریم کورٹ ۶۷۹) میں بھی دہرایا تھا۔
اپیل کنندہ کے وکیل جناب عابد حسن منٹو کی اس دلیل سے بھی عدالت عظمیٰ نے اتفاق کیا کہ وقوعہ دن ۳ بجے سہ پہر ہوا تھا۔ مدعی مقدمہ اور اس کے ساتھیوں نے ملزم کو موقع پر ہی دبوچ لیا تھا۔ وہ اسے ٹرالی میں ڈال کر تھانے لے گئے مگر اس کے خلاف توہین رسالت کے الزام میں ایف آئی آر رات ۱۰ بجے درج کروائی حالانکہ جائے وقوعہ سے تھانے کا فاصلہ صرف ۸ کلومیٹر تھا۔ ایف آئی آر درج کروانے کے لئے وہ علاقہ کے معززین کو بھی ہمراہ لے گئے یہ قابل توجہ تاخیر انہیں ملزم کے خلاف اس مقدمہ کی منصوبہ بندی کرنے میں ہوئی۔ یہ تاخیر بھی اس مقدمہ کو بدنیتی پر مبنی ظاہر کرتی ہے مگر ٹرائل کورٹ اور معزز ہائی کورٹ نے اس نکتہ سے صرف نظر کر دیا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے اپیل کنندہ کے فاضل وکیل کے اس نکتہ کو بھی درست تسلیم کیا کہ ان کے موکل کو سزائے موت دینے کے لئے ٹرائل کورٹ اور پنجاب ہائی کورٹ، ملتان کے ڈویژن بینچ کے فاضل ارکان نے مقدمہ کے دو گواہان شکایت کنندہ اور محمد ذوالفقار کی شہادت پر اعتماد کیا ہے حالانکہ ان کا عناد یہ مقدمہ درج کروانے سے ثابت ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے ان کی شہادت سزائے موت دینے کے لئے ٹھوس بنیاد نہیں بنتی۔
اس عدالت نے مقدمہ کا سارا ریکارڈ اور شواہد بڑی احتیاط سے ملاحظہ کیے ہیں اور فریقین کے دلائل بڑی توجہ اور اشتیاق سے سنے ہیں۔ ان کی روشنی میں یہ عدالت اس فیصلہ پر پہنچی ہے کہ اپیل کنندہ مقدمہ کے میرٹ کی بنیاد پر بریت کا حقدار ہے۔ لہٰذا اس بحث کی ضرورت ہی نہیں کہ دفعہ ۲۹۵ سی کے تحت جرم مستوجب حد ہے۔ اپیل منظور کرتے ہوئے عدالت اس کے جرم اور اس کی پاداش میں دی گئی سزا کو ختم کرتی ہے۔ اگر وہ کسی اور کیس میں ماخوذ نہ ہو تو اسے رہا کر دیا جائے۔
....................................٭٭٭....................................
اس مقدمہ کے حقائق و واقعات اور فریقین کے دلائل کو ہم نے قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس سے قارئین ہمارے نظام عدل سے ملزم یا مجرم کو اعلیٰ عدالتوں کی مختلف سطحوں پر اپیل کرنے کا حق دیئے جانے کی حکمت کو بہتر طور پر سمجھ چکے ہوں گے۔ انہیں یہ جاننے کا بھی موقع ملا ہے کہ ٹرائل کورٹ اور بعض اوقات ہائی کورٹ کے جج صاحبان کی قابلیت اور صلاحیت کے باوجود ان کے فیصلوں میں ایسے قانونی نقائص رہ جاتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے فیصلے سپریم کورٹ میں جا کر برقرار نہیں رہ سکتے۔ اس مقدمہ میں ان ماتحت عدالتوں نے مقدمہ کے اندراج میں معنی خیز تاخیر، معززین علاقہ کے مقدمہ کے اندراج میں اثر و رسوخ کا استعمال، مقدمہ کے اندراج میں شکایت کنندہ کے رشتہ دار پولیس ملازم کا کردار اور شکایت کنندہ کا ملزم کے والد کے زیر قبضہ احاطہ پر قبضہ اور اپنے نام انتقال کروانے کے علاوہ اس میں مقدمہ کے گواہ نمبر ایک رشید احمد پٹواری کا ملوث ہونا نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ جبکہ ان سب عوامل نے مل کر اس مقدمہ میں بنیادی الزام کو مشکوک بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اتنے زیادہ شکوک و شبہات کی موجودگی میں سپریم کورٹ کے لئے ملزم ایوب مسیح کی سزائے موت کو برقرار رکھنا ممکن نہ تھا۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس مقدمہ میں حتمی فیصلہ کے مطالعہ سے ہم نے بھی یہ جانا ہے کہ اگر توہین رسالت کے مقدمات کے اندراج کے پیچھے شکایت کرنے والوں کے گھٹیا مادی مفادات کے عنصر یونہی کارفرما رہے گا تو ۲۹۵ کیا، نوے ہزار ایسے مقدمات بھی درج کروالیے جائیں تو کسی ایک ملزم کو بھی اس سنگین جرم کی پاداش میں عملی طور پر سزائے موت نہیں دی جاسکے گی۔
اس مقدمہ کے مطالعہ سے ایک بار پھر یہ حقیقت نکھر کر سامنے آگئی ہے کہ مغربی ممالک کے دعویٰ کے برعکس توہین رسالت کا پاکستانی قانون بے گناہ مسلمانوں کی طرح غیر مسلم اقلیتوں کے بھی تحفظ کا ضامن ہے۔ مسیحیوں کے خلاف ۱۱۹ مقدمات کے مقابلے میں اس دفعہ ۲۹۵سی کے تحت مسلمانوں کے خلاف ۴۷۹ مقدمات کا اندراج اور کسی ایک مقدمہ میں بھی کسی بھی مذہب کے ماننے والے بے گناہ انسان کو اس دفعہ کے تحت سزائے موت عملی طور پر نہ دی جاسکنا ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں اس دفعہ کا مذہبی بنیادوں پر امتیازی اطلاق نہیں ہورہا۔
توہین رسالت کے جرم کے الزام میں درج کروائے گئے مقدمات کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ ایسے مقدمات کے پیچھے کارفرما گھٹیا مقاصد سے پردہ اٹھانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ اس صلاحیت کو بروئے کار لاکر اس نے بے گناہ انسانوں کو سزائے موت دلوانے کی ہر کوشش ناکام بنادی ہے۔
اگر کسی ملکی قانون کی خلاف ورزی کا الزام بلاشک و شبہ ثابت ہوجائے تو دنیا کے دیگر ممالک کی عدلیہ کی طرف ہماری معزز عدلیہ بھی کسی مجرم کو قرار واقعی سزا دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرے گی۔
یہاں یہ عرض کرنا بھی بے محل نہ ہوگا کہ دفعہ ۲۹۵سی کے تحت توہین رسالت مآب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا جرم ناقابل ضمانت ہے۔ کسی بھی شہری کے خلاف جب اس دفعہ کے تحت ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے تو ضابطہ فوجداری کے تحت پولیس اسے فوراً گرفتار کر لیتی ہے۔ وہ ملزم اس وقت تک قید ہی میں رہتا ہے جب تک ہائی کورٹ مقدمہ کے مشکوک پہلوؤں کی بنیاد پر اس کی درخواست ضمانت منظور نہیں کر لیتی یا اعلیٰ عدلیہ اسے الزام سے بری کر کے رہا کرنے کا حکم نہیں دے دیتی۔ اس وجہ سے سینکڑوں ملزمان دس دس سال تک جیلوں میں پڑے حتمی فیصلہ کا انتظار کرتے رہتے ہیں بعد میں الزام غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ یہ اذیتناک صورت حال اس سنگین الزام کا سامنا کرنے والے مسلمانوں کی طرح اقلیتوں کو بھی درپیش ہے۔ ایسا ضابطہ فوجداری میں نقائص کے باعث ہو رہا ہے نہ کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵سی کی وجہ سے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جانتے بوجھتے روشن خیال اشرافیہ ضابطہ فوجداری کے نقائص دور کرنے کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ دفعہ ۲۹۵سی کو ختم کرنے کے لئے غیر ملکی قوتوں کی ہمنوائی کر رہی ہے۔ تاہم کسی بھی بیرونی دباؤ کے باوجود کسی بھی حکومت کے لئے یہ دفعہ ختم کرنا ممکن نہیں۔ اس کی وجوہ ہم شروع میں بیان کرچکے ہیں۔ البتہ اس دفعہ کے حامیوں اور مخالفوں کو ضابطہ فوجداری میں اصلاحات کے لئے ارکان پارلیمنٹ پر زور ڈالنا چاہیے تاکہ ممکنہ طور پر کسی بے گناہ شخص کو حتمی فیصلے سے پہلے دس پندرہ سال کی طویل قید سے بچایا جاسکے۔ یہ اسلام کے بھی نظام عدل کا ضروری تقاضا ہے کیونکہ کسی جرم کے وقوع کے اٹل شواہد کے بغیر کسی شخص کو طویل قید میں رکھنا اسلامی شریعت میں قطعاً جائز نہیں ہے۔
* * * * *
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
جسٹس نذیر احمد غازی *
قانون ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فکری توازن کی روشنی میں
پاکستان ایک اسلامی نظریاتی سلطنت ہے۔ یہاں پر ہر شخص آزاد ہے لیکن آزادی کا مطلب انسانیت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق وفرائض کی پہچان ہے اور حقوق انسانی کا تحفظ کرنا ہے۔ اگر ریاست کے کسی فرد کو اپنے حق کا تحفظ میسر نہیں ہے تو ریاست کے ارباب بست و کشاد کا فرض ہے کہ وہ شہری کا حق دلوائے۔ اگر ریاست کا حاکم حق نہ دلوا سکے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی نااہلی کا اعتراف کرے۔ پاکستان کے ۱۷ کروڑ عوام میں سے ۹۵ فیصد لوگ مسلمان ہیں اور ان کا دین اسلام ہے اور اسلام کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اور کلمے کا امتیاز حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے غیر مشروط اور لامحدود وفاداری ہے اور پورے عالم انسانیت میں معیار وفا ومحبت بھی جناب رسالت پناہ ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ ایمان ومحبت کا محور بہرحال، مقصود کائنات ﷺ کی عظمت و کمال کو دل کی گہرائی سے تسلیم کرنا ہے، اس لئے ہر مسلمان کا بلا تفریق مسلک یہ عقیدہ ہے کہ ”محمد ﷺ کی محبت دین کی شرط اول ہے“۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ ایمان کی اہمیت جان سے زیادہ ہے اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی جان کو نقصان پہنچائے تو وہ لائق سزا ہے اور اگر کسی کے ایمان پر حملہ کرے تو وہ فساد فی الارض کے جرم کا ارتکاب کرتا ہے اور اس کا وجود، انسانیت بیزاری کا سبب ہے۔ اسلامی نظریاتی پاکستان میں یہود ونصاریٰ کے خفیہ اشاروں سے حوصلہ پا کر جب غیر مسلم جناب رسالت پناہ ﷺ کی توہین کی جسارت کرتے ہیں تو مسلمانوں کے دل زخمی ہوتے ہیں اور فساد اور بدامنی کا دروازہ کھلتا ہے، اسی لئے قانون کا راستہ اپنانے کے لئے ضابطہ تعزیرات پاکستان میں ۲۹۵ سی کا ایک مکمل ضابطہ موجود ہے۔ فساد اور بدامنی کو روکنے کے لئے جب قانون حرکت میں آتا ہے تو منافقین امت پورے زور وشور سے گستاخان نبی کی حمایت پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ ان منافقین کے نزدیک ایمان، اخلاق اور دین کی کوئی حیثیت نہیں۔ قانون و عدالت کو بے چارے کیا اہمیت دینگے۔
* سابق جج لاہور ہائیکورٹ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ ‘ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
پاکستان میں اس وقت اہم ترین مسئلہ حضرت محمد ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے توہین رسالت کی مغربی مہم نے اب نئے انداز سے اپنی کارروائی کو بڑھاتے ہوئے پاکستانی دانش وروں کو بہت ہی گہری چال میں پھنسا لیا ہے۔ سازش کے اس پیچیدہ جال میں ہمارا میڈیا اور بہت سے دانشور اس بری طرح سے پھنس گئے ہیں کہ اب وہ مغربی طاغوت کا ذہن اور زبان استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب مذہبی و سیاسی جماعتوں نے حسب سابق احتجاج اور روایتی اظہار بیان کا طریقہ اپنایا ہے۔ مغربی پریس اور مغرب کے زیر اثر ملکی میڈیا احتجاج کو محض جذباتیت قرار دے کر عام سادہ مسلمانوں کو بزعم خویش عقل کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کر رہا ہے۔ توہین رسالت کے مسئلہ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نہایت دانشمندی اور ملی غیرت کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
بین الاقوامی سطح پر یہودی فکری قوت علمی سطح پر اپنے مذموم دل خراش عقائد کو اہل دانش کے ذہن میں اس مکاری سے منتقل کرتی ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد کے خلاف ایک منظم فکری طبقہ پیدا ہو جاتا ہے۔ عارضی احتجاج اور روایتی جذباتیت اگرچہ ایک مزاحمتی انداز ہے لیکن دشمن قوتیں جامع منصوبہ بندی سے کام کرتی ہیں۔ ان کے داخلی اور خارجی محاذ اتنے مستحکم ہیں کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہتے ہیں، اسی لئے ایک مسلمہ عقیدہ اور مسلمہ فطری قانون کو متنازعہ بنانے میں انہیں زیادہ مشکل پیش نہیں آتی۔
مسلمانوں کے بنیادی اور امتیازی عقائد میں جناب رسالت پناہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے قلبی اور روحانی تعلق ایک اہم ترین عقیدہ ہے۔ قرآن کی نص قطعی ”النبی اولی بالمومنین من انفسهم“ کہ نبی کریم ﷺ تو مومنین کی جانوں سے بھی قریب ترین ہیں۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ کی الفت و محبت اہل ایمان کے دلوں میں ہر وقت اور ہر جگہ موجود رہتی ہے۔ یہی الفت و محبت ان کے ایمان کا جوہر اور امتیاز ہے۔ مسلمانوں کے کلمے میں بھی جو وجدان کی زندگی کو دستوری اور معاشرتی ہدایت کا سبق دیتا ہے، وہ حضور محمد مصطفیٰ ﷺ کی مقدس و بے عیب ذات ہے، اس لئے مسلمان اپنی زندگی، قبر اور حشر میں بھی اس تعلق محبت سے بے نیاز نہیں رہ سکتے اور رسول کونین ﷺ سے غیر مشروط محبت اور لا محدود وفاداری ان کے عقیدے کی بنیادی ضرورت ہے۔ قبر اور حشر کے مراحل تو تب پیش آتے ہیں جب بدن پر موت وارد ہو جائے، یعنی کوئی مسلمان اپنی جان سے گزر جائے۔ وہ جان سے گزر کر قبر اور حشر کے مراحل تک تو پہنچ جاتا ہے لیکن الفت رسول ﷺ اور جان سے بھی قریب ترین تعلق رسول ﷺ کا عقیدہ ختم نہیں ہوتا۔ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کا عقیدہ بھی اپنے انبیاء علیہم السلام کے بارے میں اسی طرح کا ہے لہٰذا ایمان اور محبت کو زندگی پر فوقیت حاصل ہے۔ ایمان اور قلبی جذباتیت ایک فطری حقیقت ہے۔ ماں بچے کو بچانے کے لئے اپنی زندگی کی پروا نہیں کرتی۔ یہ جبلت ہے کہ کوئی جاندار اپنے بچے کی حفاظت کے لئے آمادہ بہ جنگ ہو جاتا ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ ۱۱/۹ کے حملوں میں نہ صرف اس کے شہریوں کی جانیں تلف ہوئی ہیں بلکہ اس کی ریاست کی توہین بھی ہوئی ہے، اس لئے اس نے گزشتہ کئی سالوں سے قاتل کی تلاش میں کئی ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ امریکہ کو شک تھا کہ عراق میں اس کے خلاف اسلحہ جمع کیا جا رہا ہے۔ اس نے محض شک کی بنیاد پر کئی لاکھ افراد کو قتل کر دیا ہے۔ اب مقام غور
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
یہ ہے کہ امریکہ نے اپنی مادی زندگی اور مصنوعی ملی عزت و وقار کی خاطر انسانی جانوں کو جس طرح گاجر مولی سمجھ کر قتل کیا ہے کیا وہ اس فعل میں حق بجانب ہے؟ ان کی دلیل یہی ہوگی کہ ہمارے شہریوں کی جان بہت قیمتی تھی اور اس سے بڑھ کر ہمارا ملی وقار برباد ہوا۔ امریکہ ایک خطۂ زمین اور اس کے باشندے دنیا کی آبادی میں محض چند فیصد، جبکہ مسلمان تقریباً ڈیڑھ ارب ہیں اور دنیا کا ہر خطہ ان کا وطن ہے، اس لحاظ سے ان کے حقوق کا معاملہ بھی نہایت ہی اہم ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک ان کے عقائد کو ان کی مادی زندگی پر برتری اور ترجیح حاصل ہے، اس لئے ان کے عقائد کا تحفظ انسانی حقوق کے اولین اور اہم دائرے میں آتا ہے۔ مسلمانوں نے ہر دور میں اپنے عقائد کا تحفظ آئینی اور قانونی ضابطوں کے تحت کیا ہے۔ یہ ایک طویل اور وقت طلب موضوع ہے لیکن جب لوگ از خود آئین اور قانون کو مردہ سمجھ کر کھلی جارحیت پر اتر آئیں تو اہل دانش جواب دیں کہ فطرت کون سا راستہ فراہم کرتی ہے؟ جذباتیت اور عقل کا توازن بہر حال ایک محفوظ راستہ ہے۔ اس محفوظ راستے کو چھوڑ کر اگر کوئی فرد یا طبقہ اپنے لئے نئے راستے تلاش کرتا ہے تو یقیناً ایک فطری اور معاشرتی شدید ناہمواری جنم لے گی۔
ہم پاکستان کی ریاستی اور آئینی حیثیتوں سے بھی ذرا دیر کے لئے اگر صرف نظر کریں تو تب بھی انسانی حقوق کا مسئلہ کسی بھی بین الاقوامی پہلو سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی شخص اور معاشرے کی زندگی اور اس کی عزت نفس کا احترام اس کے داخلی اور مروجہ طریقوں سے کیا جانا نہایت ضروری ہے۔ ڈیڑھ ارب مسلمان کی زندگی اور عزت نفس جناب رسالت پناہ ﷺ کی عظمت و حرمت سے وابستہ ہے۔ یہاں پر بین الاقوامی معاشرتی اخلاقیات کے تقاضے یہی تلقین کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے جذبات کا احترام نہایت ضروری ہے اور اگر کوئی فرد یا معاشرہ اس احترام کو پیش نظر نہیں رکھتا تو پھر شدید معاشرتی بے چینی پیدا ہوتی ہے جو بالآخر تصادم کی طرف بڑھتی ہے۔ وہ کسی بھی سطح کی معاشرت کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس لئے پاکستان میں اسی بنیادی فکر کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی ضابطہ 295 سی مرتب ہوا۔ اس ضابطہ قانون میں کسی بھی اقلیت کی جان، مال، عزت اور عقیدہ قطعاً متاثر نہیں ہوتا، یہ ضابطہ معاشرے کو اعتدال کی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔
1986ء میں یہ قانون بنایا گیا کہ جو کوئی شخص رسول کریم ﷺ کی گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے (چاہے وہ گستاخی بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ) اس شخص کو عمر قید یا موت کی سزا دی جائیگی۔ پھر 30 اکتوبر 1990ء کو وفاقی شرعی عدالت کے فل بینچ نے کئی مہینوں تک وکلاء اور ماہرین اسلامی قانون کو سننے کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ گستاخ رسول کی سزا صرف موت ہے، اس لئے عمر قید کے لفظ حذف کر دیئے جائیں۔ راقم بھی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی حیثیت سے عدالت کی معاونت کرتا رہا تھا۔
پھر اگلا مرحلہ یہ پیش آیا کہ 1994ء میں ایک مقدمے کے سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے بھی اس قانونی دفعہ کو جائز قرار دیا اور کہا کہ اس دفعہ کے الفاظ آئین پاکستان سے قطعاً متصادم نہیں ہیں۔ خاص طور پر جسٹس میاں نذیر اختر نے ایک نوٹ لکھا۔ جس میں انہوں نے یہ وضاحت کی کہ ”اگر اس قانون کو ختم کر دیا جائے تو پھر توہین رسالت کے ملزمان
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء 292 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کو لوگ موقع پر ہی کیفر کردار تک پہنچا دیں گے اور یہی طریقہ قدیم سے رائج ہے۔" قارئین کی سہولت اور اصل فیصلے تک رسائی کے لئے اصل عبارت دی جا رہی ہے۔
If the provisions of section 295c of the PPC are repealed or declared to be ultra vires to constitution, the time old method of doing away with the culprits at the spot would stand revived."
ہمارے اہل دانش اس ایمانی حقیقت کو کیوں پس پشت ڈالتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایمانی حقیقت کا وجود حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہی کی محبت سے وابستہ ہے۔
بقول ظفر علی خان مرحوم
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہیں تو ہو
آج کل ٹی وی چینلز پر آنے والے چند معترضین اس بات کو مسلسل دہرا رہے ہیں کہ ۲۹۵ سی کے غلط استعمال کو روکنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عام سادہ ذہن پڑھے لکھے لوگ بھی ان کی اس غیر حقیقی بات کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ اپنے حلقوں میں اس کی تائید بھی کرتے ہیں اور افسوسناک پہلو تو یہ ہے کہ اپنے بہت سے دینی حلقے بھی اس خیانت بھرے جاہلانہ پروپیگنڈے کا شکار ہیں جبکہ قانون نے واضح طور پر تعزیرات پاکستان میں اس اعتراض کا مکمل جواب دیا ہے اور پوری طرح سے تدارک کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں آپ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۱۹۴ کا ملاحظہ کریں جس کے مطابق اگر کوئی شخص کسی آدمی کو ایسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کرے اور اس کے خلاف جھوٹی گواہی دے جس کی سزا عمر قید یا موت ہو تو ایسے شخص کو عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ اسی شق میں یہ بات بھی موجود ہے کہ اگر کسی شخص پر سزائے موت نافذ ہو گئی اور وہ بے گناہ تھا تو قانون کے مطابق جھوٹی گواہی دینے والے شخص کو بھی سزائے موت دی جائیگی۔ قارئین! آپ خود فیصلہ کیجئے کہ عمر قید اور سزائے موت سے بڑھ کر کون سی سزا ہو گی جو اس سلسلے میں دی جا سکتی ہے لہٰذا یہ بات واضح ہو گئی کہ ۲۹۵سی کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے جو قانون موجود ہے وہ نہایت سخت اور کارگر ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
قانون ناموس رسالت
ناقدین کے تحفظات کا اجمالی جائزہ
شہزاد افضل *
پاکستان کا سیکولر طبقہ ایک بار پھر قانون ناموس رسالت کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ اس طبقہ کی کوشش ہے کہ اس قانون کو ختم کیا جانا چاہیے۔ یہ لوگ جن مغربی ممالک سے رقوم بٹورتے ہیں انہی کے ایجنڈے کو آگے بھی بڑھاتے ہیں اور پاکستان کو یہاں کی اقدار مذہب، ملت اور آئین کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے مغرب کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ مغربی مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ مغرب ایسے تمام افراد کی کھلی حمایت اور سرپرستی کرتا ہے جو کسی بھی طرح توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مغربی فکر و فلسفہ کے خوشہ چین ہمیشہ مرتکبین اہانت بارگاہ رسالت کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں اور اس حوالہ سے موجود قانون کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ وہ نبی رحمت ﷺ کی رحمۃ للعالمینی کو جواز بنا کر یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ گستاخ رسول ﷺ کو بالکل ہی معاف کر دیا جانا چاہیے کیونکہ سرکار دو عالم ﷺ اپنے دشمنوں کو معاف فرما دیتے تھے۔ مزید برآں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اہانت بارگاہ رسالت کے مرتکب مجرم کو سزائے موت دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ یہ افراد ایسے دوسرے بہت سے قوانین پر حرف گیری نہیں کرتے جن پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ انہیں ان تمام قوانین پر عمل درآمد میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نظر نہیں آتی۔ یہ خلاف ورزی انہیں صرف اس وقت نظر آتی ہے۔ جب کوئی دریدہ دہن اللہ تعالیٰ کے حبیب مکرم ﷺ کی بارگاہ ناز میں زبان طعن دراز کر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دل چھلنی اور جذبات مجروح کرتا ہے۔ یہ طبقہ گستاخ رسول کی سزا کو یہ کہہ کر بھی ہدف تنقید بناتا ہے کہ یہ خدائی قانون نہیں ہے بلکہ یہ انسانوں کا بنایا ہوا قانون ہے۔ اس اہم اعتراض کے جواب میں ماہنامہ ضیائے حرم کے اس خصوصی نمبر میں بالاستیعاب جواب دیا گیا ہے اور قرآن وحدیث کی روشنی میں اس قانون کی اہمیت واضح کر دی گئی ہے۔ فکر و فلسفۂ افرنگ کی کیاریوں میں پروان چڑھنے والے اس طبقہ کے نمائندے آنجہانی سلمان تاثیر نے بھی کہا تھا کہ:
* ایم فل ریسرچ سکالر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
Pakistan Blasphemy Law is not "God given, But man made")
امید ہے انہیں اب اگلے جہاں میں یہ یقین آ گیا ہوگا کہ ناموس رسالت میں اہانت کے مرتکب شخص کے لیے موت کی سزا اللہ ہی کا قانون ہے۔
معترضین کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ رب العزت نے سرکار رسالت مآب ﷺ کو خاتم النبیین کے منصب پر مبعوث فرمایا اور آپ ﷺ کی بعثت کو بنی نوع انسان کے لیے احسان عظیم قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان عظیم کی تعظیم وتکریم کرنا اہل ایمان پر فرض قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ کی بارگاہ ناز کے آداب قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری صرف مسلمانوں کے لیے ہی اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم نہیں بلکہ تمام مخلوقات اس احسان عظیم کے فیوض و برکات کی خوشہ چین ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے انسانیت پر جو ان گنت احسانات ہیں، ان کا احاطہ ناممکن ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو جہالت وظلم کے قعر مذلت سے نکال کر حکمت و دانش اور شعور و آگہی سے آشنا کیا اور اسے کائنات کی معزز ترین مخلوق ہونے کا شرف عطا کیا۔ اسلام نے انسانی مساوات اور معاشرتی وسماجی عدل کا ایسا فقید المثال نمونہ پیش کیا ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
اسلام وہ واحد دین ہے جس میں احترام انسانیت کا معیار دیگر ادیان کے مقابلے میں سب سے بلند ہے۔ جس طرح انسانیت کی تذلیل اور رسوائی دیگر نظاموں میں ہوتی ہے اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دین اسلام نے ایک مثالی اور پر امن معاشرہ کے قیام کی خاطر انسداد جرائم کے لیے جو حدود و قیود اور سزائیں مقرر کی ہیں ان کو انسانی حقوق کی تذلیل اور رسوائی کا نام دے کر ان سے انکار کرنا انصاف نہیں بلکہ جہالت پرستی ہے۔ کیونکہ اگر ایک فرد معاشرے میں آزادی کے ساتھ باعزت زندگی گزارنے کا حقدار ہے تو اس پر دوسروں کے اس حق کا احترام کرنا بھی فرض ہے اور معاشرے کا جو فرد انسانی حقوق کی پامالی کرتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے اور پورے معاشرے کے نظم و ضبط کی خرابی کا باعث بنتا ہے اسے سزا نہ دینا انسانی حقوق کی انتہائی تذلیل ہے۔
مغربی نظام میں استثناء (Immunity) کے نام پر انسداد جرائم کے بجائے بااثر مجرموں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ جبکہ اسلام میں اس طرح کے کسی قانون کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ جب سرکار دوعالم ﷺ کے سامنے ایک عورت پر چوری کی سزا کے نفاذ میں تخفیف اور استثناء کی درخواست کی گئی تو جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا ”اس مقام پر مجھ محمد ﷺ (سربراہ مملکت) کی بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو اس پر بھی یہی سزا (قطع ید) نافذ ہوتی اور اس کا بھی ہاتھ کاٹا جاتا۔“
رسول کریم ﷺ کی ذات والا صفات کی گستاخی صرف دین اسلام میں ہی ایسا جرم نہیں جس پر سزا لازم آتی ہے بلکہ بائبل (Bible) میں مسلسل تحریف وتبدیلی کے باوجود بھی اب بھی محض کاہن اور قاضی کا گستاخ اور نافرمان بھی واجب القتل مجرم ہے:
"The man who shows contempt for the Judge or for the priest who stands ministering there to the Lord your God must be put to the death you must purge the evil from asrael(۲)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
یہی نہیں بلکہ بائبل کی کتاب اعمال میں عیسیٰ علیہ السلام کے ایک مبلغ کو سنگسار کرنے کا ذکر موجود ہے جس نے یہودی مذہب کی توہین کی تھی۔ (۳)
آج بھی انگلینڈ کے مجموعہ قوانین میں یہ قانون "Blasphemy Act" (قانون توہین مسیح) کے نام سے موجود ہے (۴) یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان میں عمانویل ظفر سابق وزیر برائے اقلیتی امور نے بھی اسمبلی سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ”اسلام میں دیگر انبیاء کرام کی گستاخی کے بارے میں سزاؤں کو بھی قانون کا حصہ بنایا جائے ۔(۵)
پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اس کا حصول ایک نظریہ (Ideology) کی بنیاد پر ہوا اور وہ نظریہ ”لا الہ الا اللہ“ ہے۔ پاکستان کے آئین میں بھی یہ بات صراحتاً مذکور ہے کہ اس ملک میں قانون سازی قرآن وسنت کی روشنی میں کی جائے گی۔ اگرچہ دستور پاکستان مکمل طور پر اسلامی مجموعہ قوانین تو نہیں ہے تاہم یہ قرارداد مقاصد کے ذریعہ سے اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ اس ملک میں کوئی ایسا قانون نہیں بن سکتا جو قرآن اور سنت کے خلاف ہو یہ قرارداد مقاصد آئین کا حصہ ہے۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان میں زیادہ تر فوجداری قوانین انڈین پینل کوڈ (IPC) سے مستعار لیے گئے ہیں۔ ۱۸۶۰ء میں انڈین پینل کوڈ (IPC) میں قانون توہین مسیح بطور (Common Law) موجود تھا۔ ۱۸۹۸ء میں ایک دفعہ ”۱۵۳۔اے“ کا اضافہ کیا گیا۔ یادرہے کہ راج پال کے خلاف مقدمہ بھی ۱۵۳۔اے کے تحت ہی رجسٹرڈ ہوا تھا۔ سیشن کورٹ نے تو اس کو سزا دی تھی لیکن ہائی کورٹ نے اس کی سزا معطل کر دی تھی۔ جس کی وجہ سے غازی علم دین شہید کو تاریخ رقم کرنا پڑی۔ (۶)
دفعہ ۲۹۵ سی کے مختصر پس منظر میں ۱۷ مئی ۱۹۸۶ء کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں منعقدہ ایک تقریب ہے جس سے خطاب کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے جناب نبی رحمت ﷺ کی شان میں انتہائی گستاخانہ کلمات ادا کیے تھے۔ عاصمہ جہانگیر کی اس دریدہ دہنی پر ۹ جولائی ۱۹۸۶ء کی قومی اسمبلی میں محترمہ بیگم نثار فاطمہ زہرہ مرحومہ (ایم این اے) نے سینئر علماء اور وکلاء کے توسط سے توہین رسالت کے مجرم کی سزا ”سزائے موت“ کے لئے ایک بل پیش کیا جسے فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ نمبر ۳ سال ۱۹۸۶ء کی صورت میں منظور کر کے تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۵ سی کے نام سے شامل کیا گیا۔ (۷) بحث کے دوران محترمہ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے ۱۹۸۴ء میں کی گئی ایک سفارش اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ۱۹۸۴ء میں ہی دائر کی گئی ایک پٹیشن (Petition) کا حوالہ بھی دیا جس پر پاکستان اور ہندوستان کے ۱۲۵ جید علماء کرام کے دستخط موجود تھے۔ (۸) قانون ناموس رسالت کی موجودہ شکل فیڈرل شریعت کورٹ کے ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ء کے ایک فیصلے کے باعث معرض وجود میں آئی جس کی توثیق بعد ازاں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے بھی کی۔ (۹)
مختصراً یہ کہ تازہ حالات میں حقوق کے تحفظ کی آڑ میں کچھ ریاستی و غیر ریاستی عناصر قانون ناموس رسالت میں ترمیم و تنسیخ کے خواہش مند ہیں۔ ان عناصر کی طرف سے اس قانون پر بے جا تنقید کی جاتی ہے۔ ہم یہاں ان سطور میں صرف دو ایسی خواتین کے اعتراضات کا جائزہ لیں گے جو اس طبقہ کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ اس طبقہ کے باقی افراد کی پروپیگنڈا مہم بھی انہی اعتراضات پر مبنی ہے جن کا اظہار ان خواتین نے کیا ہے۔ ان دو میں سے ایک شیریں رحمن ہیں جنہوں نے قانون ناموس رسالت میں تبدیلی کے لیے ایک بل قومی اسمبلی میں جمع کروایا تھا (ان کے بل کی کاپی شامل اشاعت کی جارہی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہے) جبکہ دوسری مشعل ساحر نامی ایک خاتون ہیں جنہوں نے اپنے اخباری کالم میں اس قانون کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ ۲۴ دسمبر ۲۰۱۰ء کو پیپلز پارٹی رکن اسمبلی اور سابقہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمٰن نے ایشین ہیومن رائٹس کمیشن (AHRC) کے پلیٹ فارم سے ایک پرائیویٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروایا جس میں کچھ تحفظات کی بنا پر یہ اپیل کی گئی کہ ۲۹۵۔سی میں مذکور سزا (Death Sentense) سزائے موت میں ترمیم کی جائے (۱۰) بل میں سزائے موت کی بجائے ۱۰ سال قید مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ (۱۱)
محترمہ نے اپنے بل میں قانون ناموس رسالت پر درج ذیل اعتراضات کیے ہیں:
- ۱۔ قانون ناموس رسالت کا غلط استعمال ہوتا ہے۔
- ۲۔ یہ قانون آزادی اظہار رائے کے خلاف ہے۔
- ۳۔ اس قانون کی موجودگی ملک کے اندر شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے کا سبب ہے۔
- ۴۔ یہ قانون اداروں کو (اسلامائز کرنے) اسلامی قانون شریعت کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش ہے۔
- ۵۔ یہ قانون اقلیت کی استحصال کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
شیری رحمٰن نے یہ بل ۲۲ دسمبر ۲۰۱۰ء کو اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروایا جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے اس سے ۱۴ دن پہلے ۶ دسمبر ۲۰۱۰ء کو پابندی کا حکم نامہ (Stay Order) جاری کیا تھا کہ پارلیمنٹ عدالتی فیصلہ آنے تک قانون ناموس رسالت میں کسی قسم کی آئینی ترمیم کرنے کی اہل نہیں ہے۔ (۱۲) جب شیری رحمٰن نے یہ بل جمع کروایا تو لاہور ہائی کورٹ نے ۲۳ دسمبر کو وفاقی حکومت سے جواب طلبی کے لیے اسے باضابطہ نوٹس بھی جاری کیا۔ اسی طرح ۲۶ نومبر ۲۰۱۰ء کے انگریزی اخبار The Daily Times میں مشعل ساحر نامی خاتون کا ایک کالم شائع ہوا جس کا عنوان تھا Blasphemy Law must be repealed (ناموس رسالت کے قانون کا خاتمہ ضروری ہے)۔
مشعل ساحر نے اپنے کالم میں دعویٰ کیا ہے کہ قانون کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود اور نظم و نسق کا قیام اور انصاف کی فراہمی ہوتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں ایسا نہیں۔ اس لیے یہاں قانون کی موجودگی کا فائدہ صرف وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو اقتدار میں یا اکثریت میں ہوتے ہیں اور قانون ناموس رسالت اس کی مکمل مثال ہے۔ اس حوالے سے موصوفہ نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
- ۱۔ یہ قانون اقلیتوں کے استحصال کا باعث ہے۔
- ۲۔ ذاتی جھگڑوں میں انتقام لینے کے لیے اس قانون کو استعمال کیا جاتا ہے۔
- ۳۔ ملزم عدالتی رہائی کے باوجود عوامی ردعمل کا شکار ہو جاتا ہے۔
- ۴۔ مذہب کے خلاف کوئی بات بھی کی جائے تو اسے قانون ناموس رسالت کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ
قرآن (سورہ فیل) سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہب کا محافظ خود رب ہے۔
- ۵۔ پاکستان ایک سیکولر ریاست ہے، اس کے بنانے کا مقصد معاشی اور معاشرتی آزادی تھا۔ کیونکہ قائد اعظم سیکولر قوم کا
وژن رکھتے تھے۔ اس کو بعد میں اسلامی ریاست کا نام دیا گیا۔
تحفظ ناموس رسالت نمبر قومی کالم میں اس قانون کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ اور سابقہ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شیری ف پرائیویٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سزا (Death Sentense) سزائے ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ (11) ات کیے ہیں:
دار کہنے کا سبب ہے۔ میں ڈھالنے کی کوشش ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے اس سے ۱۴ دن پہلے خلاف عدالتی فیصلہ آنے تک قانون ناموس رحمن نے یہ بل جمع کروایا تو لاہور ہائی حکم بھی جاری کیا۔ اسی طرح ۲۶ نومبر ۲۰۱۰ء ایک کالم شائع ہوا جس کا عنوان تھا قانون کا خاتمہ ضروری ہے)۔ فلاح و بہبود اور نظم و نسق کا قیام اور انصاف کی باقاعدہ صرف وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو ہوتا ہے۔ اس حوالے سے موصوفہ نے جو
خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ
کی آزادی تھا۔ کیونکہ قائد اعظم سیکولر قوم کا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ/اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
شیری رحمن کی طرف سے ۲۹۵ سی میں ترمیم کے لئے قومی اسمبلی میں جمع کروائے گئے بل کا عکس
ASIAN HUMAN RIGHTS COMMISSION
19 Floor, Go-Up Com Kowloon, Hong Kong . Tel: E-mail: ahrchk@ahr
22 December 2010
Dr. Fehmida Mirza Speaker National Assembly of Pakistan Parliament house, Islamabad PAKISTAN
Fax: +92 51 920 4673, + 92 51 922 1106 Pages: 2
Our ref. no.: AHRC-UAC-183-2010
Dear Dr. Fehmida Mirza,
RE: PAKISTAN: Appeal to amend the Blasphemy laws
The Asian Human Rights Commission (AHRC) is writing to voice our deep concern regarding the misuse of Blasphemy laws and to express strong support for the Private Member's Bill introduced by the People's Party MNA, Ms. Sherry Rehman that would amend Blasphemy laws to end the death penalty and rationalise punishments under the blasphemy laws.
According to the data we have collected at least 1030 persons were charged under these Anti- Blasphemy clauses from 1986 to August 2009, while over 30 persons were killed extra- judicially by angry mobs or individuals.
We are appalled by the political expediency of the government and ruling party who do not want to take a firm stand on the misuse of the Blasphemy law but instead is trying to sweep the basic issue of freedom of expression and discrimination on the basis of religion under the carpet. The deliberate institutionalization of Islam's status as protected and predominant promoted the perpetuation of religious intolerance by Islamic fundamentalists.
We are shocked to know that militant Muslim organizations are using Blasphemy as a tool as the best way to keep religious minority groups under pressure and even forcibly take land. The State is failing to protect the lives and property of the minority community. The Blasphemy law has made it compulsory that no police officer below the level of Superintendent of Police can investigate the charges but this is rarely adhered to.
We request you, as a Speaker for National Assembly of Pakistan, to repeal the Blasphemy law or at least amend it by deleting section 295-c from the Pakistan Penal Code (PPC) (the death sentence). We hereby fully support the initiative of Ms. Sherry Rehman to amend the Blasphemy law by submitting a private bill in the national assembly.
We also urge the government, the ruling political parties, the members of the National Assemblies and Senate to pass the amendment in Blasphemy law introduced in a private bill introduced by MNA Sherry Rehman.
Received 22/01/11
Salim 22/1/11 Secretary
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر ذیل میں دونوں خواتین کے اعتراضات کا اجمالی جائزہ لیا جاتا ہے۔
اعتراض ۱۔ قانون کا غلط استعمال:
معترضین کا کہنا ہے کہ قانون ناموس رسالت کا غلط استعمال ہوتا ہے لہٰذا اسے ختم کر دیا جانا چاہیے یا کم از کم اس میں ترمیم ضروری ہے۔ اس بات میں شک نہیں کہ کسی بھی قانون کا کئی مواقع پر غلط استعمال ہوتا ہے یہ بات صرف ۲۹۵سی کے ساتھ خاص نہیں۔ اس تناظر میں ہماری گزارش یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں جس قانون کا سب سے زیادہ غلط استعمال ہوتا ہے وہ دفعہ ۳۰۲ ہے۔ لیکن اس غلط استعمال کی وجوہات و اسباب کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے غلط استعمال کو روکے۔ بذات خود قانون کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ اگر قانون کا غلط استعمال ہی کسی قانون کی تنسیخ کا جواز ہے تو دفعہ ۳۰۲ کو پہلے ختم کرنا چاہیے۔
شیریں رحمن صاحبہ ایک لحاظ سے بذات خود بھی اس اعتراض کی ذمہ دار ٹھہرتی ہیں اور اس کی زد میں آتی ہیں۔ قانون کے صحیح نفاذ کو یقینی بنانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حکومت وقت ان اداروں سے کام لینے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اگر کہیں قانون کا غلط استعمال ہو تو اس کی جواب دہ بھی حکومت ہوتی ہے۔ محترمہ چونکہ خود حکومت وقت کا حصہ ہیں۔ اس لیے انہیں قانون پر اعتراض کے بجائے اپنی حکومتی نااہلی کا اعتراف کرنا چاہیے۔
ہمارے ملک میں سرحدوں کی حفاظت و نگرانی کرنے والا ادارہ، فوج آئین کی پاسداری کا پابند ہے لیکن اس نے چار مرتبہ آئین و حکومت کو بھاری بوٹوں کے موٹے تلوؤں کے نیچے بے دردی سے پامال کیا ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی یہ مطالبہ کرے کہ فوج کا ادارہ ہی ختم کر دیا جائے تو اس کی یہ بات انتہائی نامعقول تصور کی جائے گی۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا استعمال کے غلط ہونے پر قانون کو منسوخ کرنے اور اس میں تبدیلی کا مطالبہ کیا جانا چاہیے یا کہ اداروں کو مضبوط کیا جانا چاہیے اور قانون کو مزید سخت کر کے قانون کے غلط استعمال کا انسداد کیا جانا چاہیے۔ اگر اداروں کو مضبوط بنایا جائے، عوام کی اخلاقی تعلیم و تربیت کی جائے تو قانون کے غلط استعمال کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
قانون کے غلط استعمال کو جواز بنا کر اس کی تنسیخ کا مطالبہ کرنے والوں کا استدلال یہ ہے کہ اس قانون کی وجہ سے بے گناہ لوگوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروائے جاتے ہیں۔ اس لیے اسے منسوخ کیا جائے۔ اس حوالہ سے مجموعہ تعزیرات پاکستان میں پہلے سے قانون موجود ہے۔ اس کی دفعہ ۱۹۴ میں ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بے گناہ کو ایسے جھوٹے مقدمہ میں ملوث کرے کہ جس کی انتہائی سزا موت ہو اور شہادت دیتے وقت یا مقدمے کو Conclude کرتے وقت یہ ثابت ہو جائے کہ یہ گواہ جھوٹے تھے تو گواہوں اور مدعی کو عمر قید کی سزا ہو گی اور اگر جھوٹے مقدمہ میں کسی کو پھانسی کی سزا مل گئی بعد میں ثابت ہو گیا کہ مقدمہ جھوٹا تھا تو گواہوں اور مدعی کو سزائے موت دی جائے گی۔
اعتراض ۲۔ اظہار رائے پر قدغن
معترضین کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ یہ قانون بولنے کی آزادی کے خلاف ہے اور آزادی رائے کو محدود کرنے کا سبب ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہو ہر چیز کا دائرہ کار ہوتا ہے کیو کا خیال ضرور رکھا جاتا ہے اور آزا اظہار رائے کے سب سے بڑے ع اصل مالک یہودی ہیں۔ یہی وج کرے تو اسے سزا دی جاتی ہے۔ اٹھا سکے۔ اگر کبھی کوئی یہ جرأت کر
اعتراض ۳۔ عدم مساوات
معترضین کا کہنا ہے کہ یہ وضاحت کرنے سے قاصر ہیں والے مقدمات ان کے اس اعتر کے خلاف ہے جو مسلمان ہونے یہ اہم بات بھی پیش ن (Injustice) کا باعث مو مغربی جمہوری طرز حکومت کے مساوات کے خاتمہ کے لیے ق بنتا ہے۔ ایک مستحکم اور پرامن ہے اور نہ ہی کسی کا مال غصب چڑھنے والا معاشرہ انسانی حقو عدم استحکام کی وجہ یہ ہے کہ اوا
اعتراض ۴: ریاست کو ا
ایک اعتراض یہ کیا جا گا کہ اسلام کے نام پر معرض نظام میں ڈھالنا اور سیکولرائز ہے؟ معترضین نے اسلام کو بھ طرح مغرب نے معاشرے پھینک دیں مگر ایسا ہونا ممکن آداب زندگی کی تربیت بھی کر
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ‘ اپریل 2011ء 299 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہر چیز کا دائرہ کار ہوتا ہے‘ بولنے کی آزادی کے کوئی بھی مخالف نہیں مگر کس حد تک بولا جائے‘ اس میں بھی اخلاقی حدود کا خیال ضرور رکھا جاتا ہے اور آزادی اس حد تک ہوتی ہے جہاں تک دوسرے کی آزادی متاثر نہ ہو۔ مغربی ممالک آزادی اظہار رائے کے سب سے بڑے علمبردار ہیں لیکن اس آزادی کے لیے وہاں بھی کچھ قدغنیں ہیں۔ مغرب کی زمام کار کے اصل مالک یہودی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں کوئی بھی Anti Semetic یا Holocast کے خلاف بات کرے تو اسے سزا دی جاتی ہے۔ وہاں کسی شخص کی جرأت نہیں کہ وہ آزادی اظہار کے نام پر ہولوکاسٹ کی اصلیت پر سوال اٹھا سکے۔ اگر کبھی کوئی یہ جرأت کرتا ہے تو اسے اس کا سخت خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
اعتراض ۳۔ عدم مساوات اور ناانصافی کا سبب
معترضین کا کہنا ہے کہ یہ قانون ریاست کے شہریوں کے درمیان امتیاز اور عدم مساوات کا سبب ہے۔ لیکن معترضین یہ وضاحت کرنے سے قاصر ہیں کہ یہ قانون کس طرح عدم مساوات اور امتیاز کا باعث ہے۔ اس قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات ان کے اس اعتراض کی تکذیب کے لیے کافی ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان مقدمات کی اکثریت ان لوگوں کے خلاف ہے جو مسلمان ہونے کے دعویدار تھے۔ جبکہ اقلیتوں کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کی تعداد انتہائی کم ہے۔
یہ اہم بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ معاشرے میں عدم مساوات (unequality) اور نا انصافی (Injustice) کا باعث مغربی طرز حکومت ہے۔ اکثریت پر انعام اور اقلیت پر عتاب، ۴۹ عقلاء پر ۵۱ جہلا کو مسلط کرنا‘ مغربی جمہوری طرز حکومت کے ماتھے کا جھومر ہے۔ اس کا الزام مغربی حکومتی نظام پر ہے۔ معاشرے سے ناانصافی اور عدم مساوات کے خاتمہ کے لیے ضروری ہے کہ اس نظام کو بدلا جائے جو انسانی حقوق کی آڑ میں انسانی اقدار کی پامالی کا باعث بنتا ہے۔ ایک مستحکم اور پرامن معاشرہ کی تشکیل کے لیے ایسے نظام کا نفاذ ضروری ہے جو نہ ذاتی املاک رکھنے سے منع کرتا ہے اور نہ ہی کسی کا مال غصب کرنے کی اجازت دیتا ہے اور وہ نظام‘ اسلامی نظام حیات ہے جس کے سائے میں پروان چڑھنے والا معاشرہ انسانی حقوق کا علمبردار بھی ہوتا ہے اور احترام انسانیت پر کاربند بھی۔ ملک میں موجود عدم برداشت اور عدم استحکام کی وجہ یہ ہے کہ اداروں کو اسلامی نظام حیات کے قالب میں نہیں ڈھالا گیا۔
اعتراض ۴: ریاست کو اسلامائز کرنے کا باعث
ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ قانون ریاست کو اسلامائز کرنے کا باعث ہے۔ اس کے جواب میں اتنا کہنا کافی ہو گا کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی ریاست کے اداروں کو اسلامائز کرنا اگر جرم ہے تو کیا ان اداروں کو مغربی نظام میں ڈھالنا اور سیکولرائز (Secularize) کرنا اسے ریاست کے تاسیسی مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کا کارنامہ ہے؟ معترضین نے اسلام کو عیسائیت (Christianity) یا دیگر مذاہب کی طرح سمجھ لیا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ جس طرح مغرب نے معاشرے کو Dechristianize کر دیا ہے‘ اسی طرح ہم بھی اسلام کو معاشرے سے اٹھا کر باہر پھینک دیں مگر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو انفرادی زندگی کا محافظ بھی ہے اور اجتماعی آداب زندگی کی تربیت بھی کرتا ہے۔ جبکہ مغربی نظام تو جرائم پیشہ افراد اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کو تو استثناء کے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ ' اپریل 2011ء 300 تحفظ ناموس رسالت نمبر
نام پر کھلی آزادی دیتا ہے اور معاشرتی عدم مساوات اور امتیاز کا باعث بنتا ہے۔ یہ ملک چونکہ اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا اور اس کے حصول کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے اللہ تعالیٰ سے یہاں اسلامی نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا تھا‘ اس لیے وہ وعدہ پورا کرنا ہم پر فرض ہے۔ اس تناظر میں اگر ہم ایک قدم آگے بڑھتے ہیں تو ہمیں اس بات پر فخر کرنا چاہیے۔ اس سرزمین پر اسلام کے نظام کا نفاذ تو ضرور ہوگا۔ البتہ یہ سعادت پاکستانیوں کی کس نسل کو نصیب ہوگی یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
اعتراض ۵۔ اقلیتوں کے استحصال کا سبب
معترضین کا کہنا ہے کہ اس قانون کی آڑ میں اقلیت پر ظلم کر کے انہیں ان کے مال و جائیداد سے محروم کیا جاتا ہے۔ اس حوالہ سے گزارش ہے کہ معاشرے میں جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کی تفتیش پولیس کرتی ہے۔ اس کے بعد معاملہ عدالت میں جاتا ہے۔ قانون کا اس طور پر غلط استعمال صرف اس قانون کے ساتھ خاص نہیں بلکہ دوسرے بیسیوں قوانین کا بھی اسی طرح غلط استعمال ہوتا ہے۔ یہ قانون کے نفاذ کے ذمہ دار اداروں کی نااہلی ہے‘ اس میں قانون کا قصور نہیں ہے۔ اگر غلط استعمال ہی مطالبہ تنسیخ کی وجہ ہے تو معترضین اور ان کے قبیل کے باقی لوگوں کو ان تمام قوانین تنسیخ کا علم اٹھانا چاہیے جن کا غلط استعمال ہوتا ہے۔
یہ بات بہت اہم ہے کہ اس قانون کے استعمال کا ریکارڈ ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کرتا جس سے ثابت ہوتا ہو کہ کسی شخص پر محض اس لیے توہین رسالت کا مقدمہ درج ہوا ہو کہ وہ اقلیتی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے معترضین کا اعتراض لایعنی ہے اور اس کے اثبات میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے جو ان کے اعتراض کو تقویت دیتی ہو۔
قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے دوسرے اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کی اخلاقی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے اور یہ تربیت محض مغربی نظام تعلیم سے حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ اس کے لیے ایسی تعلیم کی بھی ضرورت ہے جو نہ صرف دین اور لادینیت کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو بلکہ وہ ان کے مقاصد و مبادیات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔ کیونکہ مذہبی انتہا پسندی اور سیکولر انتہا پسندی دونوں ایک دوسرے کے ردعمل میں سامنے آتے ہیں۔ دونوں کو ایک ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
متفرق اعتراضات
اپنے بل کے آخر میں محترمہ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قانون ناموس رسالت میں مجرم کی سزا کو سزائے موت سے تبدیل کر کے ۱۰ سال قید کی سزا مقرر کریں۔
توہین رسالت کے مجرم کی سزا کے حوالہ سے شریعت کے منشا کے قطع نظر یہ بات اپنی جگہ غور طلب ہے کہ کیا سزا میں تخفیف کر کے جرم کا خاتمہ ہو جائیگا؟ اس تناظر میں سزا میں تخفیف کے بجائے اس کے نفاذ کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جرائم کا خاتمہ ہو سکے۔ چونکہ یہ سزا شریعت کی قائم کردہ ہے‘ اس لیے اس میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں کی جاسکتی۔ اس حوالہ سے آپ اس قانون کی شرعی حیثیت کے ضمن میں دوسرے مضامین میں دلائل ملاحظہ فرما چکے ہیں۔
شیری رحمن کے موقف کی ہمنوائی میں آواز بلند کرنے والی ایک دوسری خاتون مشعل ساحر کا سطور بالا میں ذکر ہوا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام ہے۔ ان کے اخباری کا کے جواز کے طور پر پیش دراصل اس قانون کی مخالفت ہے تو عوام نے اس کو قتل کہ اس قانون کی وجہ سے باوجود قتل کر دیا‘ اس میں اٹھانے کی حوصلہ شکنی کر معاشرہ انارکی اور افراط معاشرہ کو تقسیم کر کے آپس ایسے میں پاکستان کے لیے معترضہ کا یہ کہ کے جواب میں اتنا ہی کروڑوں پاکستانیوں سے منسوب کسی بھی چیز تکمیل سے باز رہیں موصوفہ نے ا کا ذمہ دار تو خود رب حوالہ سے ہم معترضہ سوال کا جواب قرآنی شخصیت کے دو پہلو ہے اور دوسرے پہلو and Order) دہشت کی صورت میں إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ بے شک اللہ چاہے گا اس سے وہ اب انسان کے نفاذ کے لیے عملاً
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ/اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہے۔ ان کے اخباری کالم کے باقی اعتراضات تو تقریباً وہی ہیں جن کو شیریں رحمٰن نے اپنے بل میں اس قانون کی تنسیخ کے جواز کے طور پر پیش کیا ہے۔ البتہ مشعل ساحر صاحبہ نے اس قانون کی خامی کے طور پر ایک اور اعتراض کیا ہے جسے دراصل اس قانون کی خوبی سمجھا جانا چاہیے۔ موصوفہ نے کہا ہے عدالت نے اگر کسی مجرم کو بے گناہ ثابت کر کے رہا کیا بھی ہے تو عوام نے اس کو قتل کر دیا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ یہ قانون ملزم کو تحفظ فراہم کرتا ہے‘ قانون پر اعتراض تو تب تھا کہ اس قانون کی وجہ سے ملزم کو ناحق عدالت نے سزا دی ہو۔ جن ملزموں کو لوگوں نے عدالتی فیصلہ میں بری ہونے کے باوجود قتل کر دیا‘ اس میں قانون کا کیا قصور ہے؟ اس قانون کی موجودگی عوام الناس کی طرف سے از خود ایسے اقدامات اٹھانے کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ اگر قانون موجود نہیں ہوگا تو ہر شخص ملزم کو اپنے تئیں سزا دینے کا ارتکاب کرے گا۔ ایسے میں معاشرہ انارکی اور افراتفری کا شکار ہو جائے گا۔ اس قانون پر غوغا آرائی کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پاکستانی معاشرہ کو تقسیم کر کے آپس میں لڑا دیا جائے۔ ہر گھر مورچہ بن جائے اور ملک میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہو جائے اور ایسے میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر انتہا پسندوں کے قبضہ کا خدشہ ظاہر کر کے انہیں تلف کر دیا جائے۔
معترضہ کا یہ کہنا ہے کہ مذہب کے خلاف کوئی بھی بات کی جائے تو وہ بھی اسی قانون کی زد میں لائی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا‘ یہاں کسی کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ کروڑوں پاکستانیوں کے مذہب پر حرف گیری کر کے ان کے جذبات مجروح کرے۔ اسلام خصوصاً ذات نبی مکرم ﷺ سے منسوب کسی بھی چیز پر طعنہ زنی کے شوقین افراد کو خبردار رہنا چاہیے کہ وہ پاکستان میں رہتے ہوئے اپنے اس شوق کی تکمیل سے باز رہیں ورنہ غازی علم الدین شہید کے پیروکار ابھی زندہ ہیں۔
موصوفہ نے اپنے اخباری کالم میں یہ بھی لکھا ہے: ’’اگر قرآن کریم کو غور سے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے مذہب کا ذمہ دار تو خود رب ہے۔ (جیسے کہ سورہ فیل میں مذکورہ ہے)‘ ہم اس بارے میں قانون سازی کیوں کرتے ہیں‘‘۔ اس حوالہ سے ہم معترضہ کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو پورا قرآن پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ وہ خود اس سوال کا جواب قرآن پاک سے حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں۔ ہم اتنا عرض کر دینا چاہتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی شخصیت کے دو پہلو ہیں ایک پہلو کے اعتبار سے وہ اللہ کا بندہ اور مخلوق ہے اس لیے وہ اپنے رب کی بندگی اور عبادت کا پابند ہے اور دوسرے پہلو کے اعتبار سے وہ خلیفۃ اللہ ہے۔ اس دوسرے پہلو کی رو سے وہ معاشرے میں رہتے ہوئے نظم و نسق (Law and Order) برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے۔ جس کے لیے اسے ایک مکمل دستور حیات دیا گیا ہے جو کہ قرآن وسنت کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اس چیز کو قرآن کریم نے یوں بیان کیا ہے۔
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَام فَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ (القرآن)
بے شک اللہ کی طرف سے منتخب کردہ دین (نظام حیات) اسلام ہی ہے۔ پس جو کوئی اسلام کو چھوڑ کر کسی اور دین کو چاہے گا اس سے وہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔
اب انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دین میں رہتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں قانون سازی کرے اور اس کے نفاذ کے لیے عملی اقدام کرے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمیں کسی طرح کے بھی قانون کی ضرورت نہ تھی۔ ہم کسی آئینی و
و مقاصد
مستند معیاری اسلامی صحافت کا فروغ دیا جاسکے۔
تاکہ معرفت الٰہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
مسنون طریقہ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہوسکے۔
تاکہ وحدت امت مرحومہ کو قائم رکھا جاسکے۔
نفاق و افتراق، الحاد و لادینیت کی بیخ کنی کی جاسکے۔
صحیح عقائد کو شرک و بدعت کے مہلک مرض سے محفوظ رکھا جاسکے۔
جمود و تجدد کا سدباب کیا جاسکے۔
امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
جو مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا
Monthly
Vol: 416 No. 3
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ‘ اپریل 2011ء 302 تحفظ ناموس رسالت نمبر
دستوری قاعدہ وضابطہ کے پابند نہ ہوتے اور نہ کبھی کسی کو کسی بھی جرم پر کوئی سزادی جاسکتی۔ یوں معاشرہ فساد کا شکار ہو جاتا۔
اپنے کالم کے آخر میں خٹک صاحبہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک سیکولر ریاست کے طور پر بنایا گیا تھا۔ کیونکہ خود قائداعظم سیکولر قوم کا وژن رکھتے تھے۔ اسے بعد میں اسلامی جمہوریہ کا نام دیا گیا۔ یہ ایک ایسا اعتراض ہے جس کے جواب میں بے شمار تحقیقی کام ہو چکا ہے۔ اگرچہ خال خال ہی سہی لیکن ابھی بھی کچھ ایسے لوگ زندہ ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور اسلام کے نام پر وطن کے حصول کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ ان سے پوچھ لیا چاہے کہ پاکستان کیوں بنا تھا؟ اس حوالہ سے سادی سی بات یہ ہے کہ آیا کون سی ایسی اہم وجہ تھی جس کو تقسیم ہند کی بنیاد بنایا گیا۔ وہ اہم وجہ اسلامی نظریہ حیات ہی تھا۔ اسلام ہی اس ملک کی تخلیق وقیام کا سبب ہے۔ محترمہ کا یہ کہنا کہ قائداعظم پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے‘ اس لئے بھی منطقی اور قرین قیاس نہیں ہے کہ اگر سیکولر ریاست ہی قائم کرنا مقصود تھا تو اتنی قربانیاں نہ دی جاتیں کیونکہ بھارت سیکولر ازم کا ہم سے زیادہ دعویدار ہے۔ تحریک پاکستان کا بنیادی نعرہ ہی یہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ ”لا الہ الا اللہ“۔ اس لیے یہ بات واضح ہے کہ یہ ملک جس نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اور جس نظریہ پر یہاں کے کروڑوں باشندوں کے ایمان کا انحصار ہے‘ اس ملک میں آئین وقانون سازی بھی اسی نظریہ کی بنیاد پر ہوگی۔
ناموس رسالت قانون کے مخالفین ذرا یہ تو سوچیں کہ اگر یہ قانون نہ ہو تو تب اس کے نتائج زیادہ خطرناک ہو سکتے کیونکہ جب عوام کو عدالت جانے کا راستہ نہیں ملے گا تو وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں گے۔ اس سے ملک میں افراتفری زیادہ بڑھے گی اور قتل وغارت گری کا ماحول بن جائے گا۔ اسی طرح اگر گستاخ رسول کی سزا میں نرمی کا پہلو رکھا گیا تو اغیار کی اسلام دشمن سازشیں زیادہ زور پکڑ لیں گی اور ایسا کرنا اسلام کی بنیادوں کو اپنے ہاتھوں سے کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔
حوالہ جات
- ١۔ http://criticalppp.com/archives/31087 ٢۔ Deuteronomy:17:12, NIV
- ٣۔ Acts, 7:58, NIV
- ٤۔ قاضی، ڈاکٹر سمیحہ راحیل، قانون توہین رسالت کیا ہے اور کیوں ضروری ہے، ہفت روزہ ”ایشیا“، لاہور، ٢ تا ٨ دسمبر ٢٠١٠ء
- ٥۔ The Criminol Law (Amendment) Bill, 1986, National Assembly of
Pakistan, 9 th July, 1986, P-3238
- ٦۔ قاضی، ڈاکٹر سمیحہ راحیل، قانون توہین رسالت کیا ہے، ہفت روزہ ایشیا، لاہور، ٢ تا ٨ دسمبر ٢٠١٠ء
- ٧۔ The Criminol Law (Amendment) Bill, 1986, National Assembly of
Pakistan, 9 th July, 1986, P-3222
- ٨۔ Ibid, P. 3223
- ٩۔ قاضی، ڈاکٹر سمیحہ راحیل، قانون توہین رسالت کیا ہے، ہفت روزہ ایشیا، لاہور، ٢ تا ٨ دسمبر ٢٠١٠ء
- ١٠۔ Asioin Human Rights Commission, Ref no, AHRC-UAC-183-2010
- ١١۔ http://criticalppp.com/archives/31087
- ١٢۔ http://www.thenews.com.pk/newsdetail.aspx,E
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور
قانون
ا
قانون توہین رسالت قانون ہے، لہٰذا اسے ختم ہونا چاہئے۔ عجیب بات ہے۔ ہمیں سب سے کے ایک ہوٹل میں ایک سیمینار عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے ش بارے میں نہایت توہین آمیز الفاظ یہاں رقم کروں۔ عاصمہ معزز اراکین جناب عبدالرحمٰن کہ وہ ان توہین آمیز الفاظ کو وا اصرار پر سیمینار میں ہنگامہ برپا کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں کی طر اس جرم کا ارتکاب کرنے والو ”میرے شوہر طاہر جہانگیر قا (روزنامہ جنگ لاہور ۲۶ جول عاصمہ جہانگیر کی اس ط ایم این اے محترمہ آپا نثار فاطم توہین آمیز الفاظ کے خلاف حکر کوئی سزا مقرر نہیں تھی، اس لی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جس
تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء
قانون ناموس رسالت
ایک اہم شبہ کا ازالہ
محمد متین خالد
قانون توہین رسالت ﷺ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کا قانون مرحوم صدر ضیاء الحق کا بنایا ہوا قانون ہے، لہٰذا اسے ختم ہونا چاہیے۔ مرحوم صدر ضیاء الحق سے دشمنی کی آڑ میں قانون توہین رسالت ﷺ کی مخالفت عجیب بات ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اس قانون کے بننے کی وجہ معلوم کرنا چاہیے۔ 7 مئی 1986ء کی شام اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ایک سیمینار کے دوران (نام نہاد) انسانی حقوق کمیشن کی چیئر پرسن (سپریم کورٹ بار کی موجودہ صدر) عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے شریعت بل کے خلاف تقریر کرتے ہوئے حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں نہایت توہین آمیز اور گستاخانہ الفاظ استعمال کیے۔ میرا قلم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ میں وہ ناپاک الفاظ یہاں رقم کروں۔ عاصمہ جہانگیر کی شان رسالت ﷺ میں گستاخی کے ارتکاب پر راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے معزز اراکین جناب عبادالرحمن لودھی ایڈووکیٹ اور جناب ظہیر احمد قادری ایڈووکیٹ نے سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ ان توہین آمیز الفاظ کو واپس لے کر اس گستاخی پر معافی مانگے۔ عاصمہ جہانگیر کے انکار اور اپنے الفاظ پر مسلسل اصرار پر سیمینار میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اگلے دن جب اس واقعہ کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو پورے ملک میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں کی طرف سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر توہین رسالت کی سزا نافذ کی جائے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ دریں اثناء انہی دنوں عاصمہ جہانگیر نے برملا اعلان کیا کہ ”میرے شوہر طاہر جہانگیر قادیانی ہیں۔ میں اس سلسلہ میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتی۔ وہ ہم سے بہت بہتر ہیں۔“
(روزنامہ جنگ لاہور 26 جون 1986ء)
عاصمہ جہانگیر کی اس قابل اعتراض تقریر کا نوٹس سب سے پہلے قومی اسمبلی میں اسلامی جذبہ سے سرشار خاتون ایم این اے محترمہ آپا نثار فاطمہ نے لیا اور انہوں نے اسمبلی میں پوری قوت کے ساتھ آواز اٹھائی کہ عاصمہ جہانگیر کے ان توہین آمیز الفاظ کے خلاف حکومت فوری ایکشن لے۔ چونکہ اس وقت تعزیرات پاکستان میں توہین رسالت کے جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں تھی، اس لیے اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ ہوسکی۔ بعد ازاں محترمہ آپا نثار فاطمہ نے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جس میں توہین رسالت کی اسلامی سزا، سزائے موت تجویز کی گئی۔ اراکین قومی اسمبلی کی بھاری
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اکثریت نے اس بل کو منظور کیا اور اس طرح تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۵ سی کا اضافہ کیا گیا جس کی رُو سے ”اگر کوئی شخص زبانی یا تحریری الفاظ کے ذریعے یا واضح انداز میں یا بذریعہ بہتان طرازی یا بذریعہ طعن آمیز اشارہ، کنایہ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے اسم مبارک کی بے حرمتی کرتا ہے تو وہ سزائے موت کا مستوجب ہوگا یا اسے عمر قید کی سزادی جائے گی اور اسے جرمانہ بھی کیا جاسکے گا۔“
اس قانون میں دو سزائیں تجویز کی گئیں، سزائے موت یا عمر قید سزا۔ حالانکہ محترمہ آپا نثار فاطمہ کی طرف سے پارلیمنٹ سے پیش کیے گئے بل میں توہین رسالت علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی سزا صرف سزائے موت تجویز کی گئی تھی مگر وزارت قانون کی طرف سے اس بل میں یہ ترمیم کی گئی کہ شاتم رسول کی سزا، سزائے موت یا عمر قید ہوگی۔ اس طرح تعزیرات پاکستان میں C-295 کا اضافہ کر دیا گیا۔ چونکہ توہین رسالت کے مرتکب کی سزا ”عمر قید“ اسلامی قانون کے خلاف تھی۔ لہٰذا سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ، مجاہدِ تحفظ ناموس رسالت جناب محمد اسماعیل قریشی نے اس قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا کہ توہین رسالت ﷺ کی سزا بطور حد سزائے موت ہے اور حد کی سزا میں حکومت ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کو بھی سوئی کی نوک کے برابر کمی یا اضافہ کرنے کا اختیار نہیں اور یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت نومبر ۱۹۸۹ء میں شروع ہوئی۔ وفاقی شرعی عدالت کا یہ فل بنچ جناب جسٹس گل محمد خان چیف جسٹس، جناب جسٹس عبدالکریم خان کنڈی، جناب جسٹس عبادت یار خاں، جناب جسٹس عبدالرزاق اے تھہیم اور جناب جسٹس فدا محمد خان پر مشتمل تھا۔ عدالت نے خاصے عرصے تک اس درخواست کی سماعت کی اور متعدد سکالروں، تمام مسالک کے جید علماء کرام اور اس موضوع پر دسترس رکھنے والے سینئر قانون دانوں کو بھی طلب کیا تاکہ وہ اس موضوع پر اپنی آراء پیش کر کے عدالت کی قانونی معاونت کریں۔
۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو عدالت نے اس درخواست کا متفقہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ حضور نبی رحمت حضرت محمد ﷺ کی توہین یا آپ ﷺ کے اسم مبارک کی بے حرمتی کے جرم میں متبادل سزا، تاحیات قید، اسلام کی واضح نصوص (احکام) کے منافی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ دفعہ ۲۹۵ سی میں ”یا عمر قید“ کا لفظ توہین رسالت کے حوالہ سے شریعت اسلامیہ کے خلاف ہے، اس لیے صدر پاکستان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ء تک اس قانون کی اصلاح کریں اور ”یا عمر قید“ کے الفاظ ختم کریں اور یہ کہ اگر تاریخ مقررہ تک ایسا نہ کیا گیا تو پھر اس کے بعد یہ الفاظ خود بخود کالعدم متصور کیے جائیں گے اور صرف سزائے موت، ملک کا قانون بن جائے گا، چنانچہ مقررہ تاریخ تک یہ کام نہ ہوسکا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق یہ الفاظ خود بخود کالعدم ہو گئے۔ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ میں توہین رسالت کی سزا، سزائے موت کو قرآن اور سنت رسول ﷺ سے اخذ کردہ اور درست قرار دیا۔ (PLD 1991 FSC 10) یاد رہے کہ پاکستان کے آئین کی دفعہ ۲۰۳ ڈی کے تحت وفاقی شرعی عدالت ہی اس امر کی مجاز ہے کہ وہ کسی قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کرے۔ آئین کی شق ۲۰۳ ڈی کے مطالعہ کے بعد اس سلسلہ میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ اس آئینی شق میں کہا گیا ہے:
بسم الله الرحمن الرحيم Monthly No. 3
ومقاصد
- تھ مدینہ سے اسلامی صحافت کو فروغ دیا جاسکے۔
- معرفت الٰہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
- ت فریضہ نبوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہوسکے۔
- وحدت امت مرحومہ کو قائم رکھا جاسکے۔
- نفاق وانکار حدیث کی قلع قمع کی جاسکے۔
- صحیح نہج پر گامزن رہا جاسکے۔
- عقائد و مسلک اہل سنت کو محفوظ رکھا جاسکے۔
- موجودہ تجدد کا سدباب کیا جاسکے۔
- عزائم کو ناکام بنانا تاکہ خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
ایوان خطابت، حصہ دوم ۲۱۴، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور 214041901
تحفظ ناموس رسالت نمبر ۲۹۵ سی کا اضافہ کیا گیا جس کی رُو سے ’’اگر کوئی طعن طرازی یا بذریعہ طعن آمیز اشارہ، کنایہ، براہ بے حرمتی کرتا ہے تو وہ سزائے موت کا مستوجب
سزا۔ حالانکہ محترمہ آپا نثار فاطمہ کی طرف سے جس کی سزا صرف سزائے موت تجویز کی گئی تھی مگر عمر سزا، سزائے موت یا عمر قید ہوگی۔ اس طرح کے مرتکب کی سزا ’’عمر قید‘‘ اسلامی قانون کے گئے جناب محمد اسماعیل قریشی نے اس قانون کو کے لئے موت ہے اور حد کی سزا میں حکومت ہی اختیار نہیں اور یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اس کا یہ فل بینچ جناب جسٹس گل محمد خان چیف جناب جسٹس عبدالرزاق اے تھہیم اور جناب سماعت کی سماعت کی اور متعدد سکالروں، تمام دلائل کو بھی طلب کیا تاکہ وہ اس موضوع پر
نے قرار دیا کہ حضور نبی رحمت حضرت سزا، تاحیات قید، اسلام کی واضح نصوص توہین رسالت کے حوالہ سے شریعت اپریل ۱۹۹۱ء تک اس قانون کی اصلاح گیا تو پھر اس کے بعد یہ الفاظ خود بخود چنانچہ مقررہ تاریخ تک یہ کام نہ ہوسکا معدوم ہو گئے۔ وفاقی شرعی عدالت نے سے اخذ کردہ اور درست قرار دیا۔ ۲۰۳ ڈی کے تحت وفاقی شرعی عدالت ہی آئین کی شق ۲۰۳ ڈی کے مطالعہ کے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 305 تحفظ ناموس رسالت نمبر
’’عدالت از خود نوٹس پر یا پاکستان کے کسی شہری کی پٹیشن پر یا وفاقی یا کسی صوبائی حکومت کی پٹیشن پر یہ اختیار رکھتی ہے کہ وہ قرآن اور سنت رسول ﷺ کے اصولوں کی روشنی میں کسی بھی قانون یا اس کی شق کے اسلام کے مطابق یا اسلام سے متصادم ہونے کا فیصلہ کر سکے‘‘۔
یہ بات ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ قوانین وضع کرنے، ان پر نظر ثانی کرنے، ان میں ترمیم کرنے، ان کی تنسیخ کرنے کے وسیع تر اختیارات رکھتی ہے۔ پارلیمانی طریقہ کار اور قانون سازی کی روایات کے مطابق پارلیمنٹ کی طرف سے وضع کردہ قانون توہین رسالت کئی دہائیوں سے نافذ العمل ہے اور آئینی عدالت کے کڑے معیار پر پورا اتر چکا ہے۔ یہ کہنا کہ قرآن وسنت میں توہین رسالت کی سزا موت نہیں ہے، وفاقی شرعی عدالت اس اعتراض کا آئینی شق ۲۰۳ ڈی کی ذیلی شق کے تحت پہلے ہی باریک بینی سے جائزہ لے چکی ہے اور اس کے فیصلہ کی رو سے موجود قانون قرآن وسنت کے عین مطابق ہے اور قرار دیا گیا ہے کہ گستاخ رسول کے لیے موت کی سزا کے علاوہ کسی بھی قسم کی متبادل سزا اسلامی تعلیمات سے متصادم ہوگی۔ آئین کی شق ۲۰۳ ڈی کی ذیلی شق ۲ کی شق (ب) کے تحت یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے۔
حکومت نے وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی، اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا، بلکہ اس کا مقصد فیصلہ کے بعض پہلوؤں کی وضاحت حاصل کرنا تھا۔ تاہم یہ بات اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے علم میں نہیں تھی۔ جب انہیں معلوم ہوا تو انہوں نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور اپیل فوری واپس لینے کے احکامات جاری کیے یوں بعد ازاں حکومت نے سپریم کورٹ سے یہ اپیل واپس لے لی۔ بعض سیکولر اور قادیانی حضرات نے حکومت کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس سنگین جرم کے لیے صرف موت کی سزا قائم رکھنے پر اپنے ذہنی تحفظات کا اظہار کیا۔ لیکن ان لوگوں کے یہ ذہنی تحفظات عوامی سطح پر کوئی پذیرائی حاصل نہ کر سکے۔ نہ صرف رائے عامہ کے رہنماؤں نے، بلکہ منتخب اداروں اور قانون ساز اسمبلیوں نے بھی عوامی جذبات کو زبان دی۔
۲ جون ۱۹۹۲ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی، جس میں حکومت سے کہا گیا کہ حضرت محمد ﷺ کی توہین پر صرف اور صرف سزائے موت ہی دی جانی چاہیے۔ سینٹ نے بھی یہی راہِ عمل اختیار کی۔ ۸ جولائی ۱۹۹۲ء کو سینٹ میں ترمیمی قانون متفقہ طور پر منظور کیا گیا، جس میں اس جرم کے لیے صرف موت کی سزا دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر عوام کی مرضی پر عمل کرنے کے اصول کا کچھ مقصد ہے، اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے عوام کے اجتماعی ضمیر کا اظہار ہے، تو یہ قانون ہماری قومی تاریخ میں ایک سب سے زیادہ عوامی قانون تسلیم کیا جانا چاہیے۔ افسوس ہے کہ اس قانون کے مخالفین (قادیانی اور سیکولر حضرات) پارلیمنٹ کے اس متفقہ فیصلے کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہیں بلکہ وہ اس سلسلہ میں وفاقی شرعی عدالت کے تاریخی فیصلہ کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ وہ مسلمانوں کی اکثریت کے مذہبی جذبات کو رائی برابر بھی وقعت نہیں دیتے بلکہ اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے بعض دفعہ ایسی دل آزار اور اشتعال انگیز گفتگو کرتے ہیں کہ جس سے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
ومقاصد ت بندگانِ خدا میں صلاحیتوں کو فروغ دیا جاسکے۔ معرفت الٰہی کی دولتِ لازوال نصیب ہوسکے۔ شیرازۂ امت مرحومہ کو قائم رکھا جاسکے۔ امت فریضہ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہوسکے۔ فتنہ انکارِ حدیث کی بیخ کنی کی جاسکے۔ وحدتِ افکار کو پروان چڑھایا جاسکے۔ نفاق و شقاق کے مہلک مرض سے محفوظ رکھا جاسکے۔ موجودہ بگڑے حالات کا سدباب کیا جاسکے۔ مشن کی تائید کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔ وژن عطائی خطاط و پینٹر۔ جڑانوالہ روڈ فیصل آباد 4041991-0321
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 306 تحفظ ناموس رسالت نمبر
یہی وجہ ہے کہ ۱۹۹۴ء میں قادیانیوں نے ہائی کورٹ میں اس قانون کو چیلنج کر دیا کہ یہ قانون بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے۔ جس کی سماعت کے فل بینچ نے کی جو کہ جسٹس خلیل الرحمن خان، جسٹس زبیر اور جسٹس میاں نذیر اختر پر مشتمل تھا۔ کئی دن کی سماعت کے بعد ہائی کورٹ کے فل بینچ نے اس کیس (ریاض بنام سرکار) کا فیصلہ دیا کہ اس قانون میں کوئی بات بنیادی حقوق کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ عین بنیادی حقوق کے مطابق ہے۔
ایک اور اعتراض اس کے طریقہ کار (Procedure) پر کیا جاتا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے اس کے جواب میں تحفظ ناموس رسالت کے بے لوث مجاہد اور ہائی کورٹ کے سابق جج جناب جسٹس نذیر احمد غازی کا کہنا ہے: ”ہمارے ضابطہ فوجداری (Criminal Procedure Code) کی ایک دفعہ ۱۵۶/اے ہے۔ جس میں لکھا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے خلاف ۲۹۵سی کے تحت مقدمہ درج ہوگا تو کسی بھی صورت میں تفتیش کرنے والا پولیس آفیسر ایس پی کے عہدہ سے کم تر نہیں ہوگا۔ ایس پی پولیس ضلع کا سر براہ ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی اس تفتیش سے مطمئن نہ ہو تو پولیس رول ہمارے ملک میں موجود ہے اس کے مطابق وہ اپنی تفتیش مکمل ہونے کے بعد مقدمہ ضلعی عدالت میں آئے گا۔ اس پر عدالتی طریقہ کار کے مطابق ملزم اور گواہوں کے بیانات اور پولیس کی تفتیش کی رو سے فیصلہ سنایا جائے گا اب اگر فیصلہ صحیح ہے تو مان لیا جائے اگر مطمئن نہیں تو ہائی کورٹ کا ڈویژن بنچ (دو ججوں پر مشتمل) اس کی سماعت کرے گا۔ پھر بھی فیصلہ ملزم کے خلاف آتا ہے تو وہ سپریم کورٹ میں جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے تین جج اس کیس کی سماعت کریں گے۔ اگر پھر بھی فیصلہ ملزم کے خلاف آتا ہے تو اس کے لیے نظر ثانی (Review Petation) کی اپیل کر سکتا ہے۔ اس کے بعد صدر سے معافی کی درخواست کا مرحلہ آتا ہے (لیکن یاد رہے کہ قانون رسالت کے مجرم کو معاف کرنے کا اختیار صدر کو بھی حاصل نہیں ہے)۔ یہ ہے وہ طریقہ کار جس سے گزرنے کے بعد قانون توہین رسالت کے ایک ملزم کو ۲۹۵سی کے تحت سزائے موت دی جاسکتی ہے مگر یار لوگ اس قانون کے غلط استعمال کے بارے غوغا آرائی کرتے ہیں“۔
کہا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ حالانکہ قادیانیوں کو ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو (وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی موجودگی میں) ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس طرح قانون توہین رسالت ﷺ صدر ضیاء الحق نے نہیں بلکہ ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ سیکولر اور بے دین عناصر اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک آمر ضیاء الحق کے دور میں بنا، ان سے پوچھنا چاہیے کہ عائلی قوانین بھی تو ایک آمر صدر ایوب خاں کے دور میں بنائے گئے تھے، آپ اس کی مخالفت تو نہیں کرتے۔ مزید ان بزرجمہروں سے یہ بھی دریافت کرنا چاہیے کہ کیا صدر ضیاء الحق کے دور میں بنائے گئے دیگر تمام قوانین ختم ہوگئے ہیں یا اُن پر اب بھی من وعن عمل ہورہا ہے؟ آپ انہیں ختم کرانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ آخر یہ تضاد بیانی اور منافقت کیوں اور کب تک............؟
۞...............۞...............۞
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہو
جرم
بین الا
عربی تحریر: ڈاکٹر ص یہ مضمون ایک تمہید اور تی فرع اول میں ان بین الاقوامی مواخذہ جرم ہے۔ فرع ثانی مصطفیٰ ﷺ کی توہین اور دوسر فروع ثالث میں بین ال
عصر حاضر میں حقوق ان
اقوام ممالک اور بین ا کا وہ عالمی معاہدہ جسے ۱۰ دسمبر ۱ کی کوششوں کا ایک قابل فخر کا یہ معاہدہ دوسری عالمی میں حقوق انسانی کی وحدت نہیں بھولا تھا۔ اس وقت عا نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ بات کی دعوت دی گئی ہے کہ جائیں، قومی اور عالمی سطح پر ان ان حقوق کی رعایت عملی صو ان حقوق کی رعایت کی پاس * اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اد
تحفظ ناموس رسالت نمبر 307 ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ، اپریل 2011ء
جرم شاتم رسولﷺ کی سزا
بین الاقوامی قانون کے تناظر میں
عربی تحریر: ڈاکٹر حسین سید حامد خطاب * ترجمہ: مولانا ظفر اقبال کلیار * *
یہ مضمون ایک تمہید اور تین فروع پر مشتمل ہے۔ تمہید میں دور حاضر میں انسانی حقوق کی اہمیت کو بیان کیا جائے گا۔ فرع اول میں ان بین الاقوامی دستاویزات کا تذکرہ ہو گا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین قابلِ مؤاخذہ جرم ہے۔ فرع ثانی میں اس بات پر گفتگو ہو گی کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے حضور نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین اور دوسرے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین جرم ہے۔ فرع ثالث میں بین الاقوامی معاہدات کی روشنی میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کی سزا پر بحث کی جائے گی۔
عصر حاضر میں حقوق انسانی کی اہمیت
اقوام، ممالک اور بین الاقوامی تنظیمات کی سطح پر دور حاضر میں حقوق انسانی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ حقوق انسانی کا وہ عالمی معاہدہ جسے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاس کیا اسے مغربی تہذیب اور عصر حاضر میں مفکرین کی کوششوں کا ایک قابل فخر کارنامہ شمار کیا جاتا ہے۔ (۱)
یہ معاہدہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے چند سال بعد طے پایا۔ یہ درحقیقت انسانی اتحاد اور بین الاقوامی معاشرہ میں حقوق انسانی کی وحدت کی خواہش کی تعبیر تھی۔ کیونکہ معاشرہ دوسری عالمی جنگ کی ہلاکتوں کی تلخیوں کو ابھی تک نہیں بھولا تھا۔ اس وقت عالمی جنگ میں جس بے دردی سے انسانی حقوق کی پامالی ہوئی تھی یا انہیں کم اہمیت دی گئی تھی اس نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ جیسا کہ معاہدہ میں بھی اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے اس کے مقدمہ میں اس بات کی دعوت دی گئی ہے کہ انسانیت کے احترام اور آزادیوں کو یقینی بنایا جائے، تعلیم و تربیت کے لئے عملی اقدام کیے جائیں، قومی اور عالمی سطح پر ایسی کوششیں کی جائیں جن کے نتیجے میں حقوق انسانی کے اعتراف کی ضمانت فراہم ہو سکے اور ان حقوق کی رعایت عملی صورت میں ممکن ہو۔ عالمی تنظیمات میں شریک مختلف ممالک اور ان ممالک کے عوام الناس بھی ان حقوق کی رعایت کی پاسداری کریں۔ ۱۷۷۶ء میں امریکی خود مختاری کے اعلان کی دستاویز میں بھی ان حقوق کی بات کی
* اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ ادب، جامعہ طیبہ مدینہ منورہ * * فاضل بھیرہ شریف و بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
گئی ہے اور انسانی جان و مال کے تحفظ اور مساوات آدمیت پر زور دیا گیا ہے۔ ۱۴ جولائی ۱۷۸۹ء میں فرانس میں انقلاب آیا تو حقوق انسانی کے اعلان کی دستاویز میں بھی تقریباً یہی بات کی گئی تھی۔ یہ اعلان ان حقوق کا ایک اہم چارٹر شمار ہوتا ہے۔ یہ مذکورہ بالا تمام معاہدے اقوام متحدہ کے معاہدہ سے پہلے کے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یورپی فلاسفہ اور مفکرین کئی صدیوں پہلے انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ ان تمام کوششوں کا اصل ہدف اقوام عالم کو ان مشکلات اور آلام سے محفوظ رکھنا تھا جن کے تحت وہ یورپ میں ایک عرصہ سے زندگی بسر کر رہی تھیں۔
(۲)
ان مشکلات کی اصل وجہ جاگیردارانہ نظام کلیسائی شخصیات کا ظلم اور کلیسا کی فکری رجحانات کے خلاف وہ معاندانہ رویہ تھا جس کا مقصد انسان کی زندگی اور آزادی پر قدغن لگانا تھا۔ جب کہ حقوق انسانی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا مقصد ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا تھا جو انسان کے فکر و عمل پر پابندی عائد کرتی ہیں۔ ان تمام منفی عوامل کا اسلام میں کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ اسلام تو پہلے ہی سے انسان کو فکر و عمل کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو طے پانے والے حقوق انسانی کے عالمی اعلان کا مقصد تمام اقوام کے لئے ایک مشترکہ عالمی منشور دینا تھا تاکہ حقوق انسانی کی قدر و منزلت بلند ہو سکے اور انہیں بین الاقوامی قانون سازی میں خاطر خواہ اہمیت دی جاسکے اور حقوق انسانی کے عالمی اعلان میں جن حقوق کی بات کی گئی ہے وہ ایک بین الاقوامی معاہدہ کی شکل اختیار کر لے۔ اسی طرح معاشرتی اقتصادی قومی اور سیاسی حقوق کے دیگر معاہدے پایہ تکمیل تک پہنچے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ۱۶ دسمبر ۱۹۶۶ء کو دو معاہدے ہوئے جن کا نفاذ ۱۹۷۶ء میں ہوا۔ ان دو معاہدوں کے علاوہ انسانی حقوق کے مسئلہ کی اہمیت کئی دوسرے معاہدوں میں بھی سامنے آئی، جیسے نسلی امتیاز کے خاتمے کا بین الاقوامی معاہدہ، بچوں کے حقوق کا معاہدہ، غیر ملکی مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کا معاہدہ، عالمی سطح پر حقوق انسانی کے مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لیے بہت سی علاقائی اور بین ملکی تنظیمیں ہیں جیسے عرب لیگ اور مؤتمر اسلامی کی تنظیم وغیرہ۔
دینی اقدار کی توہین کی مخالفت کے بین الاقوامی معاہدے
انبیاء علیہم السلام کو سب و شتم کرنا اور ان کے خلاف زبان طعن دراز کرنا اور ان کے مقام رفیع کے منافی کوئی بات کرنا قطع نظر قومیت، دین، زبان کے ایک جرم ہے۔ انبیاء علیہم السلام کو دوسرے انسانوں کی نسبت افضلیت اور زیادہ تقدس حاصل ہے، ان کو بھی وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو دوسرے بنی نوع انسان کو حاصل ہیں۔ بین الاقوامی حقوق کی دستاویزات خواہ وہ خاص ہوں یا عام جن کی بنیاد شرف انسانی کے اصول پر رکھی گئی ہے، ان میں انبیاء علیہم السلام کے حقوق کا بھی تحفظ کیا گیا ہے۔ جب عام لوگوں کے حقوق کی پامالی ایک جرم ہے تو انبیاء علیہم السلام کی توہین کو تو بدرجہ اولیٰ جرم سمجھنا چاہیے۔
ان اہم دستاویزات میں چند درج ذیل ہیں:
- ۱۔ حقوق انسانی کا عالمی اعلان جو دسمبر ۱۹۴۸ء میں ہوا۔ اس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے حقوق انسانی کے لیے
ایک عالمی قرارداد منظور کی۔ اس قرارداد میں انسانی خاندان کے تمام ممبران کو حاصل ہونے والی بنیادی عزت کے اعتراف کی ضرورت پر زور دیا گیا اور پوری دنیا میں عدل و انصاف، سلامتی اور حریت کی اساس پر مکمل مساوات کے حقوق کی سفارش کی گئی ہے۔
(۳)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ‘ اپریل 2011ء 309 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس قرارداد میں بیان کیا گیا ہے کہ ان حقوق کی کوئی ایسی پریکٹس صحیح نہیں جو اقوام متحدہ کے مقاصد اور اس کے اصولوں سے متعارض ہو۔ (۳)
- ۲۔ انسانی حقوق کا یورپی معاہدہ جو روم میں نومبر ۱۹۵۰ء میں معرض وجود میں آیا اور جس کا ہدف انسانی حقوق اور آزادیوں کی
حفاظت اور اس کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کی کوشش تھی اور وہ درحقیقت دسمبر ۱۹۴۸ء کے حقوق انسانی کے عالمی اعلان کے مندرجات کی تفصیل تھا۔ اس کی دفعہ ۵ میں ہے کہ ہر انسان کو آزادی اور شخصی امن وامان کا حق حاصل ہے۔
دفعہ ۸ میں ہے: ہر انسان کو ذاتی زندگی کے احترام‘ خاندانی زندگی کے احترام اور گھر اور خط و کتابت کے احترام کا حق حاصل ہے۔
دفعہ ۱۵ میں قطع نظر قومیت‘ رنگ‘ عقیدہ اور زبان کے مقرر شدہ آزادیوں اور حقوق سے لطف اندوز ہونے کے حق کی حفاظت کی گئی ہے۔ اس لیے کسی انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے شخص کا اس کی رنگت‘ جنس یا عقیدہ کی وجہ سے مذاق اڑائے۔ خواہ وہ عقیدہ صحیح ہو یا باطل اور خواہ زیادتی لفظوں میں ہو یا عملی طور پر‘ اشارہ سے ہو یا کنایہ سے کسی صورت جائز نہیں۔ ایسی ہر حرکت حقوق انسانی کی توہین شمار ہوگی اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہوگی۔
- ۳۔ اقوام متحدہ کی قرارداد جو عصری امتیازات کی مختلف شکلوں کے خاتمے کے لیے پاس ہوئی اور عالمی تنظیم نے جس سے
۲۰ نومبر ۱۹۶۳ء میں اتفاق کیا‘ اس کے مقدمہ میں مذکور ہے کہ اقوام متحدہ کی عالمی تنظیم کی یہ رائے ہے کہ اقوام متحدہ کا معاہدہ جس کو تمام انسانیت کی عزت و کرامت اور برابر کے اصول پر قائم کیا گیا ہے اور جس کا مقصد بین الاقوامی تعاون کا فیصلہ کرنا ہے انسانی حقوق کے احترام کی حوصلہ افزائی ہے۔
- ۴۔ ۱۳ مئی ۱۹۶۸ء کو صادر ہونے والے اعلان تہران (Tehran Proclaim) کی پانچویں دفعہ میں ہے کہ
حقوق انسانی کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کا اصل ہدف یہ ہے کہ ہر انسان کو مکمل آزادی اور عزت حاصل ہو‘ قطع نظر اس کے کہ اس کا تعلق کس نسل‘ زبان‘ مذہب اور عقیدہ سے ہے۔
دفعہ نمبر ۱۱ میں ہے: اعلان میں اس عصری امتیاز کی سوچ پر برہمی کا اظہار کیا گیا ہے جس کی بنیادیں‘ عقیدہ یا کسی اور چیز پر رکھی گئی ہوں اور کہا گیا ہے کہ یہ چیز آزادی‘ عدل و انصاف اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ (۵) اور یہ کہ انسانی آزادیاں تمام انسانوں کے لیے ہیں بغیر کسی تفریق کے اور بغیر کسی نسلی‘ علاقائی‘ لسانی یا مذہبی امتیاز کے۔
اس اعلان میں کہا گیا ہے کہ
- ۱۔ پوری دنیا میں صنفی امتیاز کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خاتمے کی ضرورت ہے۔
- ب۔ انسانی عزت و احترام کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے‘ اس کی پہلی دفعہ میں یہ عبارت بھی موجود ہے کہ انسانیت میں
رنگ‘ نسل کی تقسیم شرف انسانی کی اہانت ہے۔ ضروری ہے کہ ایسی ہر حرکت کو اقوام متحدہ کے اصولوں سے انحراف اور عالمی اعلان میں بیان کردہ بنیادی آزادیوں اور حقوق کی توہین خیال کیا جائے۔
دوسری دفعہ میں ہے: کسی بھی ملک‘ تنظیم‘ جماعت یا فرد کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ انسانی حقوق کے سلسلہ میں کوئی
Monthly
No. 3
مقاصد
بندگان خدا کی اصلاحی مساعی کو فروغ دیا جاسکے۔
معرفت الہی کی دعوت و دلوں میں حب الہی پیدا ہو سکے۔
وحدت امت مرحومہ کو قائم رکھا جاسکے۔
فرقہ واریت کی بیخ کنی کی جاسکے۔
اختلاف و انتشار سے محفوظ رکھا جاسکے۔
کبر و غرور کے مرض سے محفوظ رکھا جاسکے۔
مخلوق خدا کی فلاح کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
ڈیزائن: حافظ ثناء اللہ ابو حمزہ طارق محمود 0321-4041991
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
تفریق برتے۔ انسانوں کو جو آزادی اور دوسرے حقوق حاصل ہیں خواہ وہ شخصی ہوں یا تنظیمی ان پر نسل، رنگ یا علاقہ کی وجہ سے قدغن لگانا جائز نہیں ہے۔
- ۵۔ اعلان ویانا جو حقوق انسانی کی بین الاقوامی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے جاری ہوا جس کا اجلاس ۱۴ جون تا ۲۵ جون
۱۹۹۳ء کو ویانا میں ہوا۔ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے معاہدہ اور انسانی حقوق کے عالمی منشور میں موجود اصولوں اور مقاصد کی پابندی کرنی چاہیئے اس اعلان میں تعلیم کے شعبے میں انسانی حقوق کے موضوع کی اہمیت پر بھی بیان دیا گیا ہے اور ہر ایسی صنفی تفریق کے خاتمے کی دعوت دی گئی ہے جس کی بنیاد نسل، علاقہ، زبان یا مذہب پر رکھی گئی ہو۔ اسی طرح گروہی اور صنفی تمیز کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ غیر ملکیوں سے نفرت کے خاتمے، رواداری کے جذبے کے فروغ، عزت اور مساوات کی ضرورت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ کانفرنس نے تمام حکومتوں کو اس بات کی ترغیب دی ہے کہ وہ ایسے فوری اقدامات کریں اور ایسی مختلف پالیسیاں وضع کریں جن کے ذریعے صنفی امتیاز کی مختلف شکلوں کی شدت کو روکا جاسکے اور دوسرے سے ہر طرح کے تعصب کا خاتمہ ہوسکے۔
- ۶۔ اقوام متحدہ کا اعلان جس میں تعصب کی تمام صورتوں اور رنگ و نسل اور دین و عقیدہ کی بنیاد پر قائم تمام امتیازات کے
خاتمے کی سفارش کی گئی تھی، یہ اعلان نومبر ۱۹۸۱ء میں جاری ہوا۔ اس میں اس بات کا بھی تذکرہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اس بات کو اہمیت دیتی ہے کہ دین یا عقیدہ جس پر کوئی انسان یقین رکھتا ہے، اسے اس کے تصور حیات میں ایک بنیادی عنصر کی حیثیت حاصل ہے اور یہ کہ دین اور عقیدہ کے احترام کی مکمل ضمانت ضروری ہے۔ اس طرح جنرل اسمبلی اس بات کو بھی بہت اہمیت دیتی ہے کہ انسانی حقوق اور اس کی ہر طرح کی آزادی بالخصوص آزادی فکر و وجدان اور آزادی مذہب واعتقاد کی کسی طرح بھی توہین یا اس کی حفاظت کی طرف سے بے اعتنائی انسانیت پر بہت بڑی زیادتی ہے اور اس کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ جنگ ہے۔ یہ اذیت کی انتہائی صورت ہے اور یہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے، اس کے ذریعے اقوام و ممالک کے درمیان نفرت پیدا ہونے کے امکانات زیادہ واضح ہیں۔
جنرل اسمبلی اس بات کو بھی اہمیت دیتی ہے کہ ایسی دینی عدم رواداری برتنے کی اجازت نہیں جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہو۔ اسمبلی ایسی ہر سوچ کی نفی کرتی ہے جس کے پیچھے دینی یا اعتقادی امتیاز پوشیدہ ہو۔
- ۷۔ اسلام میں انسانی حقوق کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کا اعلامیہ میں جو قاہرہ سے جاری ہوا۔ یہ کانفرنس اگست
۱۹۹۰ء میں مؤتمر عالم اسلامی کی تنظیم کے شرکاء نے منعقد کی تھی۔ اس کی دفعہ اول میں کہا گیا ہے کہ تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور تمام انسان انسانی عزت وشرف اور ذمہ داری میں برابر ہیں۔ ان میں رنگ، نسل، مذہب اور قوم کے حوالے سے کوئی تفریق نہیں ہے۔
دفعہ چار میں ہے: ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کی عزت کی جائے، اس کی زندگی اور مرنے کے بعد اس کی شہرت کو خراب نہ کیا جائے۔ تمام ممالک اور معاشروں پر لازم ہے کہ وہ اس کی لاش اور قبر کی حفاظت کریں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، ا
دفعہ نمبر ۲۲ میں درج ذیل
- ۱۔ ہر انسان کو اپنی رائے کے
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جائز نہیں ہے۔ اس خیال سے رائے کو اس بات سے مشروط اصولوں کی نفی نہ ہوتی ہو۔ اگر ب
- ب۔ میڈیا معاشرہ کی ایک ا
کے ذریعے مقدس دینی سے فساد پھیلے نقصان ہ
- ج۔ قومی اور مذہبی نفرت پھ
ہے۔ یہ حقیقت کسی سے طرح کی نفرت و عداو
- ۸۔ حقوق انسانی کے کمیشن
میں جو اپریل ۱۹۹۹ء م عزت و کرامت کی ا ہے۔ کمیشن نے ادیا بار بار غلط فہمیاں پھیلا ان سب کے بارے کے خلاف نفرت اور
- ۹۔ انسانی حقوق کا عرب
میں مذکور ہے کہ ہرا شخص کی جان اور مال تمام آزادیوں کو تفریق نہ بننے دے دفعہ نمبر ۳۵ میں ہے انسانی کا احترام کریں۔ تقر کریں اور بین الاقوامی تعاو
Monthly
No. 3
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ
اہم مقاصد
خداوند کے سوا کسی کی اطاعت کو فروغ نہ دیا جا سکے۔
مرحمت الہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
ت فریضہ ہجرت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہوسکے۔
وحدت امت مرحومہ کو قائم رکھا جا سکے۔
اف وافکار جدیدیت کی بیخ کنی کی جا سکے۔
یہ کاروان بے خبر منزل سے محفوظ رہا جاسکے۔
موجود کے مہلک مرض سے محفوظ رہا جاسکے۔
دشمنان کی شقاوت کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔
بحران کا سدباب کیا جاسکے۔
ڈیزائن: مطالعہ غوثیہ، لاہور 0321-4041991
تحفظ ناموس رسالت نمبر کی ہوں یا تنظیمی ان پر نسل رنگ یا علاقہ کی وجہ
جاری ہوا جس کا اجلاس ۱۴ جون تا ۲۵ جون ی کو اقوام متحدہ کے معاہدہ اور انسانی حقوق اعلان میں تعلیم کے شعبے میں انسانی حقوق ہونے کی دعوت دی گئی ہے جس کی بنیاد نسل‘ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ مفادات کی ضرورت پر بہت زیادہ زور دیا گیا قائم کریں اور ایسی مختلف پالیسیاں وضع کریں طرح کے تعصب کا خاتمہ ہو سکے۔
عقیدہ کی بنیاد پر قائم تمام امتیازات کے اثبات کا بھی تذکرہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ انسان یقین رکھتا ہے‘ اسے اس کے عقیدہ کے احترام کی مکمل ضمانت ضروری حقوق اور اس کی ہر طرح کی آزادی یا اس کی حفاظت کی طرف سے بے مرحلہ جنگ ہے۔ یہ اذیت کی انتہائی مترادف ہے‘ اس کے ذریعے اقوام و
اجازت نہیں جو اقوام متحدہ کے چارٹر موجود ہو۔
سے جاری ہوا۔ یہ کانفرنس اگست میں کہا گیا ہے کہ تمام انسان آپس خاندان میں رنگ‘ نسل‘ مذہب اور
زندگی اور مرنے کے بعد اس کی کی حفاظت کریں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ / اپریل 2011ء 311 تحفظ ناموس رسالت نمبر
دفعہ نمبر ۲۲ میں درج ذیل امور کو بیان کیا گیا ہے۔
- ا۔ ہر انسان کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے لیکن اس طریقہ سے کہ قانونی اصولوں کے ساتھ اس کا تعارض نہ آتا ہو۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی انسان کے لیے دوسرے کے ساتھ اور خاص کر کے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔ اس خیال سے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے اور اسے تعبیر کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ کیونکہ آزادی رائے کو اس بات سے مشروط کر دیا گیا ہے کہ کسی دوسرے کی توہین نہ ہوتی ہو اور اس آزادی رائے سے بین الاقوامی اصولوں کی نفی نہ ہوتی ہو۔ اگر بین الاقوامی اصولوں سے اس کا تعارض ہوا تو یہ جرم ہوگا۔
- ب۔ میڈیا معاشرہ کی ایک اہم ضرورت ہے۔ اسے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا یا اس کا غلط استعمال کرنا اور اس
کے ذریعے مقدس دینی اقدار اور انبیاء کرام علیہم السلام کے تقدس کو مجروح کرنا اور اس طرح کی کوئی پریکٹس جس سے فساد پھیلے‘ نقصان ہو یا مذہبی جذبات مجروح ہوں ممنوع ہے۔
- ج۔ قومی اور مذہبی نفرت پھیلانا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح ہر ایسا عمل جو کسی قسم کے طبقاتی امتیازات کا باعث بنے‘ ممنوع
ہے۔ یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ انبیاء ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین ان امور میں سے بہت اہم ہے جو اس طرح کی نفرت و عداوت کا نتیجہ بنتے ہیں۔
- د۔ حقوق انسانی کے کمیشن کے اجلاس کا ۵۴ واں سیشن جو مذاہب کی تصویر کے بگاڑ کے بارے تھا‘ اس کی ایک قرارداد
میں جو اپریل ۱۹۹۹ء میں پاس ہوئی‘ اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ دین اور عقیدے کی بنیاد پر صنفی امتیاز انسانی عزت وکرامت کی اہانت اور حقوق انسانی کی توہین ہے۔ یہ چیز اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں سے چشم پوشی ہے۔ کمیشن نے ادیان کے سلبی نظریہ کے بارے اپنے شدید اضطراب کا بھی اظہار کیا اور اسلام کے بارے میں جو بار بار غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں اور انسانی حقوق کی توہین کی جارہی ہے اور دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے‘ ان سب کے بارے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ سمعی اور بصری ذرائع ابلاغ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذرائع اسلام کے خلاف نفرت اور عداوت کے جذبات کو ابھارنے کی کوشش پر بھی تنقید کی۔
- ہ۔ انسانی حقوق کا عرب معاہدہ جو عرب لیگ کے سیشن نمبر (۵۴۲۷) میں ۱۵ ستمبر ۱۹۹۷ء کو ہوا۔ اس کی بارہویں دفعہ
میں مذکور ہے کہ ہر ایک ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کی سر زمین پر موجود اور اس کی حکومت کو تسلیم کرنے والے ہر شخص کی جان اور مال کی وہ حفاظت کرے۔ اس کے تمام حقوق اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اس کو حاصل تمام آزادیوں کو یقینی بنائے اور اس سلسلہ میں کسی امتیاز رنگ‘ نسل‘ دین‘ سیاسی فکر‘ علاقہ‘ قومیت اور کسی اور چیز کو وجہ تفریق نہ بننے دے۔
دفعہ نمبر ۳۵ میں ہے۔ اہل وطن کو فکری اور ثقافتی ماحول میں یہ حق حاصل ہے کہ وہ عرب قومیت پر فخر کریں اور حقوق انسانی کا احترام کریں۔ تفرقہ مذہبی امتیاز اور اس طرح کی کسی بھی چیز کو جو انسانوں کو الگ الگ کرے‘ اس سے اجتناب کریں اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء 312 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین اور دینی اقدار کا مذاق اڑانا ایک ایسی چیز ہے جو انسانی زندگی کی فضا کو مکدر کر دیتی ہے اور فکری و ثقافتی ماحول کو بدل دیتی ہے، اس سے امن اور رواداری کے جذبات کو فروغ ملنے کے بجائے عداوت، باہمی بغض عناد اور نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، لہٰذا ایسا عمل حقوق انسانی کے بین الاقوامی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
خلاصہ مضمون:
- ١۔ ایسی زیادتیاں جن کی بنیاد تعصب اور مذہبی فرقہ بندی پر رکھی گئی ہو اور جو دینی فکر یا دینی شعائر یا کسی خاص گروہ کی دینی
شخصیات کی توہین کا سبب بنتی ہوں، حقوق انسانی کی توہین اور انسان آزادی پر قدغن شمار ہوں گی۔ ایسی تمام حرکات کو بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی خیال کیا جائے گا۔
- ٢۔ ایسے بین الاقوامی معاہدات کا سلسلہ شروع کیا جائے جن کا مقصد افراد کی مذہبی آزادی کو یقینی بنانا اور مذہب کی
توہین کو جرم قرار دینا ہو کیونکہ آزادی رائے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی دوسرے شخص کے اعتقاد یا قومیت کو بنیاد بنا کر اس پر زیادتی کی جائے۔
- ٣۔ بین الاقوامی قانون میں اگرچہ کوئی ایسی وضاحت نہیں جس کی رو سے مذاہب یا مذہبی شعائر کی توہین جرم قرار پاتی ہو
علاوہ ازیں بین الاقوامی قانون میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے انسانیت پر عائد حقوق اور اس حوالے سے انسان کی ذمہ داریوں کے بارے میں کوئی تصریح موجود نہیں ہے۔ نہ ہی صراحت کے ساتھ اس بات کا کہیں تذکرہ موجود ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو دوسرے انسانوں کے مقابلے میں فضیلت حاصل ہے اور سب سے افضل ہمارے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ البتہ بین الاقوامی معاہدوں میں عرفی کے قاعدہ و اصول کے مطابق مذاہب کی توہین اخلاقی لحاظ سے منع ہے اور نہ ہی قانونی لحاظ سے۔
بین الاقوامی قانون کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ آزادی رائے کے پردہ میں ادیان اور اعتقادات کی توہین کرے بلکہ بین الاقوامی قانون میں تو انسان کی آزادیوں کو مذہبی اقدار کی عدم توہین سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
- ٤۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ادیان توہین کے بارے میں بین الاقوامی قانون بن جائے اور مختلف ممالک کے درمیان امن و
سلامتی، تعاون اور محبت کے تعلقات کو مستحکم کیا جائے اور دینی شعائر اور مذہبی شخصیات کی توہین کو بین الاقوامی سطح پر ممنوع قرار دے دیا جائے۔ ایسا کوئی قانون بنایا جائے کہ اگر کوئی شخص توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اس سے قانونی طور پر باز پرس کی جا سکے اور اس کو اس حرکت پر سزا دی جا سکے۔ ادیان کے احترام کے منافی افعال اور سرگرمیوں کو اور ہر طرح کے مذہبی جبر و اکراہ کو دور کیا جاسکے۔
جب دنیا میں کچھ عرصہ پہلے بہت سے لوگوں نے مذہبی شخصیات کو ہدف تنقید بنانے کی سوچی سمجھی مہم شروع کی تو بہت ساری سیاسی شخصیات اور دانش وروں نے اس رجحان کے خلاف آواز بلند کی۔ بارگاہ رسالت میں توہین کا جب سلسلہ شروع ہوا تو بہت سارے سیاستدانوں اور دانشوروں نے ایک ایسے بین الاقوامی قانون کی ضرورت پر زور دیا جو عالمی سطح پر
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد
دینی اقدار اور مذہبی شخصیات کے اخبارات میں رسول کریم ہے۔ عالم انسانیت کی فلاح قانون بنائیں جس کی رو سے کی جسارت کرے اس سے
حقوق انسانی میں تنقید کرتے ہیں۔ آج ضرورت الاقوامی قانون کی حیثیت
مصر کی قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ اعلیٰ والے توہین آمیز خاکوں کی رو سے مذاہب کی توہین کریم ﷺ کے توہین آمیز اخبارات کی ہرزہ سرائی
- ۵۔ جب بین الاقوامی
دیتے ہیں تو انبیاء کریم ﷺ کی توہین
بین الاقوامی قانون
مذکورہ بحث سے اہم اور درج ذیل ہیں جو
- ١۔ ادیان کی عدم توہین
- ٢۔ رائے، فکر اور
شخص یا ملت کے
- ٣۔ بین الاقوامی تعلـ
الرضوان کی شاـ
- ٤۔ دینی شخصیات
قومی وحدت کے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء 313 تحفظ ناموس رسالت نمبر
دینی اقدار اور مذہبی شخصیات اور شعائر کی توہین کو جرم قرار دیتا ہو۔ انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ فرانس اور ڈنمارک کے اخبارات میں رسول کریم ﷺ کے جو توہین آمیز خاکے شائع ہوئے ہیں یہ مذہب اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عالم انسانیت کی فلاح کی خاطر مختلف ممالک وہاں کی حکومتوں اور مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ مل بیٹھیں اور ایک ایسا قانون بنائیں جس کی رو سے اس طرح کی زیادتیوں کو بین الاقوامی معاہدہ کے تحت جرم قرار دیا جائے اور جو شخص ایسا کرنے کی جسارت کرے اس سے باز پرس کی جاسکے۔
حقوق انسانی میں تخصص کے حامل افراد کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بین الاقوامی معاہدے اس طرح کے قانون کی حمایت کرتے ہیں۔ آج ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ بین الاقوامی معاہدات کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جائے جو بین الاقوامی قانون کی حیثیت اختیار کرلیں۔
مصر کی قومی اسمبلی کی دینی کمیٹی نے اس مقصد کے لیے ایک فوری اجلاس بلانے کی استدعا کی اور پریس سپریم کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اعلیٰ ادارہ ہونے کی حیثیت سے اپنے اختیارات کو بروئے کار لائے اور اخبارات میں شائع ہونے والے توہین آمیز خاکوں کے بارے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ اس کمیٹی نے ایک ایسے قانون کی ضرورت پر زور دیا جس کی رو سے مذاہب کی توہین پر سخت ترین سزا دی جاسکے اور دین و اعتقاد کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔ یہ کارروائی رسول کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کے دوبارہ شائع ہونے اور اخبارات کی طرف سے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے خلاف اخبارات کی ہرزہ سرائی کے بعد کی گئی۔
- ۵۔ جب بین الاقوامی قانون کسی عام شخص کے ساتھ زیادتی کو بھی جرم قرار دیتا ہے اور قانون و شرع اس پر اسے سزا
دیتے ہیں تو انبیاء و رسل علیہم السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان اور دینی اقدار بالخصوص افضل البشر حضور نبی کریم ﷺ کی توہین پر تو بدرجہ اولیٰ سزا ہونی چاہیے۔
بین الاقوامی قانون جن امور کی تصریح کرتا ہے
مذکورہ بحث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حقوق انسانی کا بین الاقوامی قانون بعض امور کی تصریح کرتا ہے جس میں اہم امور درج ذیل ہیں ۔
- ۱۔ ادیان کی عدم توہین
- ۲۔ رائے، فکر اور تعبیر کی آزادی کا مطلب مطلق العنانی نہیں بلکہ اس سے مراد ایسی آزادی ہے جس سے کسی دوسرے
شخص یا ملت کے حقوق اور آزادی پامال نہ ہوتی ہو اور عام معاشرتی نظام میں کوئی خرابی پیدا نہ ہوتی ہو۔
- ۳۔ بین الاقوامی تعاون اور امن و آشتی کے قیام کا تقاضا یہ ہے کہ مذہبی شعائر بالخصوص انبیاء و رسل اور صحابہ کرام علیہم
الرضوان کی شان میں گستاخی نہ کی جائے۔
- ۴۔ دینی شخصیات (انبیاء و رسل علیہم السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان) کو سب و شتم کرنا عالمی امن و استحکام اور معاشرتی و
قومی وحدت کے منافی ہے۔ اس سے اجتناب ضروری ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء 314 تحفظ ناموس رسالت نمبر
توہین رسالت کا بین الاقوامی قانون میں جرم ہونا:
گزشتہ چند سالوں میں ڈنمارک‘ فرانس اور ناروے میں رسول کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکے تبصروں کے ساتھ دوبارہ شائع ہوئے ہیں۔ اس قبیح حرکت کے ارتکاب سے رسول رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بہت بڑی توہین‘ بین الاقوامی اصولوں اور معاہدوں کے خلاف بہت بڑی جسارت اور حقوق انسانی کی بہت بے دردی سے پامالی کی گئی ہے۔ یہ حرکت اسلام اور مسلمانوں کی واضح ہتک عزت ہے۔ پوری دنیا کے مسلمانوں نے ان جرائم پر اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے جو مشرق ومغرب کے درمیان نسلی اور مذہبی منافرت کا موجب بن سکتے ہیں۔ مسلمانوں نے اپنے غیض وغضب کا اظہار مختلف طریقوں سے کیا ہے۔ چوٹی کے علماء نے اس زیادتی کے بارے بیان دیے اور اس زیادتی کے خطرناک نتائج و اثرات سے خبردار کیا۔ مسلمانوں نے مختلف طریقوں سے احتجاج کرتے ہوئے اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا اور انہیں خبردار کیا کہ مسلمان اپنے نبی کریم ﷺ کی عزت ناموس کی خاطر کچھ بھی کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین ایک ایسا مسئلہ ہے جو فرقہ واریت اور تعصب پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔ اس جسارت نے باہمی منافرت کے جذبات کو ابھارا ہے اور شر و فساد کی مختلف صورتوں کو جنم دیا ہے۔ اگر اس طرح کے اقدامات کا تدارک نہ کیا گیا تو نفرت وعداوت کی خلیج اور بڑھے گی۔
اسلامی دنیا نے مغربی ممالک کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حضور ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کی جائے اور آپ کی توہین کو بین الاقوامی سطح پر جرم قرار دیا جائے۔ مسلمانوں نے مطالبہ کیا کہ توہین رسالت کا سلسلہ بند کیا جائے اور توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبارات کو سزا دی جائے۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اقتصادی بائیکاٹ مسلمانوں پر فرض کی حیثیت رکھتا ہے اور مسلمان ممالک کے بے حمیت حکمرانوں نے یہ فریضہ بہت اچھے طریقہ سے ادا نہیں کیا ہے۔ کیونکہ بین الاقوامی سطح پر ایسی کوئی کوشش نہیں ہوئی جو ڈنمارک‘ فرانس اور دوسرے لادین ممالک کے ان اخبارات کو اس زیادتی سے روکتی۔
- ۳۔ عراق کے تعزیراتی قانون مجریہ ۱۹۶۹ء میں یہ وضاحت موجود ہے کہ ایسی کوئی حرکت جس سے کسی مذہبی شعار یا کسی
خاص گروہ کی مذہبی شخصیت کی توہین ہوتی ہو قابل مؤاخذہ جرم ہے۔
اس قانون کی مختلف دفعات میں ۳۷۲ سزائیں بیان کی گئی ہیں۔ ۳۷۲ ویں سزا ان لوگوں کے بارے ہے جنہوں نے کسی مذہبی شعار یا کسی مذہبی شخصیت کی توہین کی ہو۔ تعزیراتی قانون نمبر ۲۳ مجریہ ۱۹۷۱ء میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مذہبی شخصیت کی توہین کرے تو قانونی چارہ جوئی کا حق کس کو حاصل ہوگا؟ یہ وضاحت دفعہ ۱۴۷ اور ۱۴۸ میں موجود ہے اور یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ کس شخص کے بارے ایسی قانونی چارہ جوئی ہو سکتی ہے؟
اس گفتگو سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ دینی اقدار اور ایسی شخصیات جن کو کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے نزدیک تقدس حاصل ہے جیسے انبیاء ومرسلین علیہم السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان‘ ایسی شخصیات کی توہین جرم ہے جس کی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
سزا زیادتی کے مطابق تجویز کی جائے گی۔ خواہ بین الاقوامی قانون میں اس کی صراحت موجود ہو یا انسانی حقوق اور آزادیوں سے متعلقہ معاہدوں سے یہ بات سمجھی گئی ہو۔ اگر حقوق انسانی کے حامی معاہدوں میں ایسی کوئی صراحت موجود نہ ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان اور محترم مذہبی شخصیات اور دینی شعائر کی توہین جائز ہے۔ تمام بین الاقوامی رسوم اور رواج ایسی حرکت کو ناپسند کرتے ہیں اور قطعی طور پر اس کی حمایت نہیں کرتے۔ علاوہ ازیں ضروری ہے کہ ہر اس شخص کو جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شان میں کسی طرح کی توہین کرے‘ سزادی جائے کیونکہ یہ فعل امن عامہ کے منافی ہے اور حقوق عامہ کی پامالی ہے۔ ضروری ہے کہ حقوق انسانی کے معاہدوں اور قوانین میں ایسی واضح عبارت موجود ہو جو اس طرح کی زیادتیوں کو جرم قرار دے اور ان پر سزاؤں کا تعین کرے۔
توہین انبیاء کی سزا بین الاقوامی قانون اور معاہدوں میں
بین الاقوامی معاہدوں میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کے بارے طرح کی آراء موجود ہیں۔
- ۱۔ ایک رائے یہ ہے کہ حقوق انسانی کے معاہدوں اور بین الاقوامی قانون میں ایسی کوئی واضح عبارت نہیں جس میں
انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کو جرم قرار دیا گیا ہو۔ اس لیے سب سے پہلے ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی قانون میں ایک ایسی عبارت کا اضافہ کیا جائے جو توہین رسالت کو جرم قرار دے اور دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ اس جسارت کو قابل مؤاخذہ جرم قرار دیا جائے۔ اس رائے کے حامل افراد کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ایسی کسی عبارت اور وضاحت کے بغیر توہین رسالت کے مجرم کو سزا نہیں دی جاسکتی۔
- ۲۔ دوسری رائے یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون میں کسی ایسی وضاحت کے اضافے کی ضرورت نہیں جو توہین رسالت کو
جرم قرار دے کیونکہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے معاہدوں میں کئی ایسی عبارات موجود ہیں جو مذہبی اقدار کی توہین کو جرم قرار دیتی ہیں اور جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ بین الاقوامی قانون آزادی رائے کی آڑ میں مذاہب کی توہین کی قطعا اجازت نہیں دیتا۔ آزادی رائے اس بات سے مشروط ہے کہ دینی اقدار اور مذہبی شخصیات کی اس سے توہین نہ ہوتی ہو۔ بین الاقوامی عدالت اس بناء پر ایسے جرائم کے خلاف فیصلہ سنانے کی پوزیشن میں ہے۔ تاہم ایک اور مشکل بہرحال باقی ہے اور وہ یہ کہ ایک ایسی قانونی دفعہ کی ضرورت ہے جو سزا کا تعین کرتی ہو تاکہ ان لوگوں کو ایسی ناپاک جسارت سے روکا جاسکے اور مذہبی اقدار اور مذہبی شخصیات کے تقدس اور احترام کو یقینی بنایا جاسکے۔ بین الاقوامی سطح پر یہ ممکن ہے کہ حکومتوں کو مختلف بین الاقوامی معاہدوں اور ایگریمنٹس کے ذریعے اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ مقامی سطح پر توہین رسالت کو جرم قرار دیں اور اس کے لیے سزا کا تعین کریں۔
حقوق انسانی کی بین الاقوامی کانفرنس کا ایک اجلاس ویانا میں ہوا‘ اس میں یہ قرار داد پاس ہوئی کہ حقوق انسانی کی عالمی کانفرنس تمام حکومتوں کو ایسی فوری تدابیر اختیار کرنے اور مستحکم پالیسیاں وضع کرنے کی ترغیب دیتی ہے جو تہذیبی منافرت اور نسلی تعصب کے تمام مظاہر اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی نفرت کی روک تھام کے لیے قانونی تدابیر اختیار کریں اور ایسی ملکی تنظیمیں قائم کریں جو ان مظاہر کا قلع قمع کرنے میں معاون ثابت ہوں۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ‘ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
لیکن اس رائے پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بین الاقوامی قانون میں ایسے افعال کو صراحۃ جرم قرار دینے والی واضح عبارت کا نہ ہونا ایسے افعال کی سزا پر دستخط کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کیونکہ تصریح کے نہ ہونے کے باوجود کسی سخت سزا پر دستخط سے یورپی معاہدہ کی دفعہ نمبر ۷ کی مخالفت لازم آتی ہے جس میں صراحت موجود ہے کہ کسی شخص کو جس نے کسی ایسے فعل کا ارتکاب کیا یا کسی فعل سے احتراز برتا جو وقوع فعل یا امتناع فعل کے وقت ملکی یا بین الاقوامی قانون میں جرم نہیں تھا تو اسے اس فعل کے ارتکاب یا امتناع پر سزا نہیں دی جاسکتی۔ سزا کے لئے فعل کا قانون میں صراحۃ جرم ہونا ضروری ہے۔
ان دونوں نقطہ ہائے نظر میں زیادہ مناسب رائے یہ ہو سکتی ہے کہ توہین رسالت کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی قانون اور حکومتوں کے مابین طے پانے والے معاہدوں میں ایک ایسی صریح عبارت کا اضافہ کیا جائے جس میں توہین رسالت کو جرم قرار دیا گیا ہو اور اس پر سزا کا تعین کیا گیا ہو تا کہ ان نفوس قدسیہ کی اہانت کے رجحان کو روکا جا سکے اور دینی اقدار‘ شعائر اور انبیاء ورسل علیہم السلام کے احترام کی ضمانت فراہم کی جاسکے۔ خصوصاً ایسی غیر مذہبی تنظیموں کی ہرزہ سرائیوں کو روکا جا سکے جو کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتیں اور آئے روز مذہب اور مذہبی شخصیات کو ہدف تنقید بنانے کی مذموم کوشش کرتی رہتی ہیں۔
نتائج بحث اور تجاویز:
- ۱۔ اسلام جملہ انبیاء ورسل علیہم السلام کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور ان کی تکریم وتعظیم کو لازمی قرار دیتا ہے۔ اسلام بیان کرتا
ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی حرمت تمام انسانیت کی حرمت سے بڑھ کر ہے۔ اس لیے ان کے تقدس‘ اجلال اور شانِ رفیع کا تقاضا یہ ہے کہ فتنہ پردازوں کے حملوں سے ان کی حفاظت کی جائے اور ان کے تقدس اور احترام کی پامالی کو قوانین کے ذریعے روکا جائے۔ یہ بات اسلام کی عمومی تعلیمات کا تقاضا ہے اور اسے سابقہ شرائع سے ممتاز کرتی ہے۔ اسلام پہلے ادیان کی تصدیق کرتا ہے اور ان کے تقدس کو بھی اسی طرح ضروری خیال کرتا ہے جس طرح خود اپنے تقدس کو ضروری قرار دیتا ہے‘ لیکن اس کے باوجود عالمی اور انسانی سطح پر بین الاقوامی قوانین انبیاء ورسل علیہم السلام کی حمایت سے بے پرواہ نظر آتے ہیں اور ان میں ایسی کوئی واضح اور دوٹوک عبارت موجود نہیں جس کی روشنی میں توہین انبیاء ورسل کو جرم قرار دیا جاسکے۔
- ۲۔ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں پر نبی کریم ﷺ کے حقوق کو لازمی قرار دیا ہے۔ حضور نبی مکرم ﷺ کا یہ حق آپ پر ایمان
لانے کے حق کے علاوہ ہے۔ آپ ﷺ کے انسانیت پر بہت سے حقوق ہیں جن میں سے اہم درج ذیل ہیں:
- ۱۔ آپ ﷺ سے دشمنی کی ایسی حرمت جو آپ کو ایذاء دینے اور آپ کی اہانت یا آپ کی دعوت کی توہین سے احتراز کو
مستلزم ہو‘ آپ ﷺ کا حق ہے۔ سو اس حق کا تقاضا ہے کہ آپ کو کسی طرح کی اذیت نہ پہنچائی جائے۔
- ۲۔ ہر وہ شخص جو آپ ﷺ اور آپ کی دعوت پر یقین نہ رکھتا ہو وہ کافر قرار پائے گا۔
- ۳۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر نبی کریم محمد ﷺ کی محبت فرض کر دی ہے۔ اس محبت کے دو درجے ہیں:
ایک درجہ فرض ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ جو دین اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں اس کو
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔لاہور مارچ اپریل 2011ء 317 تحفظ ناموس رسالت نمبر
قبول کیا جائے اور اسے برضا و رغبت پوری تعظیم اور آمادگی کے ساتھ اپنایا جائے اور آپ ﷺ کی تمام تعلیمات میں آپ کی اتباع کی جائے۔
دوسرا درجہ افضلیت کا ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے اخلاق حسنہ، آداب، نوافل اور مستحبات، آپ کے اکل و شرب، لباس اور معاشرت کی بھی پیروی کی جائے۔
- ۴۔ جب کسی مسلمان یا کافر نے صراحتاً یا اشارۃً ایسی بری بات کہی جو آپ ﷺ کے مقام رفیع کے منافی ہے، یا کسی قبیح
حرکت کی آپ کی ذات کی طرف نسبت کی اور اس سے اس کا ارادہ آپ کو گالی دینا اور آپ کی توہین کرنا تھا تو اگر وہ مسلمان تھا تو کافر مرتد ہو گیا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں، اور اس نے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کیا جس پر اس کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے
- ۵۔ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے کسی نبی کو گالی دی یا رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی یا اللہ تعالیٰ
کی نازل کردہ کسی کتاب کا انکار کیا یا کسی نبی کو قتل کیا تو وہ کافر ہے اگرچہ قائل اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام پر یقین رکھتا ہو۔ یہ انبیاء علیہم السلام کے خصائص میں سے ہے۔
- ۶۔ جب یہ بات طے ہوگئی کہ شاتم رسول واجب القتل ہے اور اس کی یہ سزا حتمی ہے جو کسی بھی وجہ سے ساقط نہیں ہوسکتی،
قطع نظر اس کے کہ یہ کسی کا حق ہے؟ اللہ تعالیٰ کا یا نبی کریم ﷺ کا۔ کیونکہ اس کا وجوب دو باتوں کی وجہ سے ہے۔ ایک یہ کہ اس نے کفر بلکہ شدید ترین کفر کا ارتکاب کیا ہے اور دوسری یہ کہ اس نے حضور ﷺ کو گالی دے کر ایک بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس پر حد جاری ہوتی ہے۔
- ۷۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بارگاہ رسالت میں توہین کرنے والا اگر صدق دل سے توبہ کرے اور اپنے کیے پر وہ
واقعی نادم ہو تو اس کی یہ توبہ اسے آخرت میں فائدہ دے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو سچی توبہ کی وجہ سے معاف فرما دیتا ہے۔
- ۸۔ جمہور فقہاء کی رائے یہ ہے کہ جس ذمی نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی یا آپ ﷺ کی طرف کوئی من گھڑیات منسوب
کی، یا آپ کی قدر و منزلت کو کم کیا یا آپ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس کے عقیدہ سے ہٹ کر ہو تو ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا اور صلح کرنے والے کافروں کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ جس نے قرآن اور صاحبِ قرآن یا دین اسلام کی توہین کی یا اسلام کی اشاعت کو روکنے کی کوشش کی یا اہل حرب کی مسلمانوں کے خلاف مدد کی یا کسی جاسوس کو اپنے گھر میں پناہ دی تو وہ معاہدہ شکن خیال کیا جائے گا اور اس کا خون ہدر ہوگا۔ اب مسلمانوں پر اس کے جان اور مال کی حفاظت لازم نہیں ہوگی۔
- ۹۔ علماء کے نزدیک یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ اگر چاہتے تو اپنے مجرم کو معاف کر دیتے۔ لیکن آپ کے وصال
کے بعد یہ حق کسی کو حاصل نہیں کہ وہ آپ کی توہین کرنے والے کو معاف کرے۔ آپ ﷺ نے گستاخوں کو معاف کیا تو آپ کے پیش نظر کچھ مصلحتیں تھیں۔ آپ شاید ان لوگوں کی تالیف قلب کرنا چاہتے تھے، یا آپ دینی منافرت
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
کو کم کرنا چاہتے تھے یا آپ چاہتے تھے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ حضرت محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ ان سب باتوں کا تعلق آپ کی ظاہری حیات طیبہ سے تھا۔
- ۱۰۔ علماء کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جس حربی کافر نے آپ ﷺ کو گالی دی‘ آپ کو جادوگر کہا۔ آپ پر شاعر‘ پاگل‘
سکھایا ہوا یا جھوٹے ہونے کا الزام لگایا یا آپ کے منصب عالی کی توہین کی وہ واجب القتل ہے۔ اسلامی حکومت جب بھی ایسے شخص کو گرفتار کرے اور سزا دینے کی پوزیشن میں ہوگی اسے سزا دے گی۔ حربی کافر کا قتل اس وجہ سے نہیں کہ وہ کافر ہے اور اس کا مسلمان سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا بلکہ اس کے واجب القتل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بارگاہ رسالت میں گستاخی کی ہے۔ حالانکہ اس کی یہ حرکت کفر‘ کدورت اور جنگ وجدل کو مستلزم ہے۔ قتل کی وجہ گالی دینا ہے وہ وجہ جہاں ہوگی وہاں ہی یہ حکم لگایا جائے گا کیونکہ مسلمان ہو یا کافر گالی دینے کی وجہ سے واجب القتل ہو جاتا ہے۔
- ۱۱۔ بین الاقوامی قانون اور حقوق انسانی کے معاہدے کسی ایسی واضح عبارت سے خالی ہیں جو توہین انبیاء کو جرم قرار دیتی
ہو اور اس پر سزا کا تعین کرتی ہو۔
- ۱۲۔ اسلامی حکومتوں پر لازم ہے وہ ایسا بین الاقوامی قانون پاس کروائیں اور عالمی طاقتوں سے ایسا معاہدہ کریں جو توہین
انبیاء کو جرم قرار دے۔ دینی اقدار کے احترام‘ دینی شخصیات‘ انبیاء ورسل کی عزت و ناموس کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور ہر حال میں انبیاء کرام علیہم السلام کے خلاف جسارت کرنے والے مجرموں کے لیے مناسب سزا کا تعین کریں بالخصوص غیر مذہبی ایسی تنظیمات کو روکنے کی سبیل کریں جو انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کا گھناؤنا جرم کرنے سے نہیں شرماتیں تا کہ مجرم خصلت لوگ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کا ارتکاب نہ کریں‘ ادیان کی توہین سے باز رہیں اور مقامی و بین الاقوامی قانون کے سامنے جوابدہ ہوں۔
حواشی:
- ۱۔ حقوق الانسان فی الاسلام ۸/۱‘ ڈاکٹر عبداللہ عبدالمحسن ترکی۔ پہلا ایڈیشن ۱۴۱۹ھ وزارت اوقاف والشئون
الاسلامیۃ بالمملکۃ العربیۃ السعودیۃ۔
- ۲۔ حقوق الانسان فی الاسلام ۱۰/۱
- ۳۔ حقوق انسانی کا عالمی اعلان‘ حقوق الانسان فی الاسلام ۸/۱‘ ڈاکٹر عبداللہ عبدالمحسن ترکی
- ۴۔ موقع الامم المتحدۃ فی ادارۃ شئون الاعلام ۲۰۰۳ء
- ۵۔ مجموعۃ صکوک دولیۃ۔ حقوق الانسان‘ پہلی جلد‘ الامم المتحدہ نیویارک ۱۹۹۳ء ص ۶۹ العھد الدولی
الخاص بالحقوق الاقتصادیۃ والاجتماعیۃ والثقافیۃ‘ المعتمدۃ من الجمعیۃ العامۃ نمبر ۲۲۰۰ ا‘ ۱۶ دسمبر ۱۹۶۶ء ‘ ۳ جنوری ۱۹۷۶ء‘ حصہ دوم‘ دفعہ نمبر ۲‘ جملہ ۲
* * * * *
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
حقوق انسانی سے متعلق بین الاقوامی قانون
اور
قانون تحفظ ناموس رسالت
سعدیہ تسنیم *
مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعات ۲۹۵ تا ۲۹۸۔ج میں توہین مذہب کی مختلف صورتوں پر سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ان میں بالخصوص دفعہ ۲۹۵۔ج میں توہین رسالت کے لئے جو سزا مقرر کی گئی ہے، اس پر حقوق انسانی کے بین الاقوامی قانون کی روشنی میں سخت مگر بے جا تنقید کی جاتی ہے اور اس قانون کو تبدیل کرنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس مضمون میں اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کا مختصر جائزہ لیا جائے گا۔
بین الاقوامی قانون اور ملکی قانون کا تعلق
اس ضمن میں سب سے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون اور ملکی قانون کے آپس میں تعلق کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟ اس حوالے سے عام طور پر دو نظریے پائے جاتے ہیں۔ کچھ ریاستوں اور ماہرین قانون کا موقف ہے کہ بین الاقوامی قانون اور ملکی قانون ایک ہی قانونی نظام کا حصہ ہیں، اس لیے جب کوئی ریاست کسی بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کرتی ہے تو اس معاہدے کی دفعات از خود ملکی قانون کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اس نظریے کو ان ممالک نے مانا ہے جہاں فرانس کا سول لا سسٹم رائج ہے۔ دوسری جانب وہ ممالک ہیں جہاں برطانیہ کا کامن لا سسٹم رائج ہے، وہ یہ موقف رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون اور ملکی قانون دو الگ قانونی نظام ہیں۔ اس لیے بین الاقوامی معاہدے کی دفعات اس وقت تک ملکی قانون کا حصہ نہیں بن سکتیں، جب تک ملک کی پارلیمان ان دفعات کو ملکی قانون کا حصہ بنانے کے لئے باقاعدہ طور پر مستقل قانون سازی نہ کرے۔
* لیکچرر شعبہ قانون بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
پچھلے کچھ عرصے سے ایک تیسرا نظریہ اقوام متحدہ کی تائید سے رائج ہوا اور حقوق انسانی کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں عام طور پر اس نظریے کا پرچار کرتی ہیں۔ اس نظریے کے مطابق بین الاقوامی قانون اور ملکی قانون میں کوئی تصادم نہیں ہے کیونکہ دونوں کا دائرہ کار مختلف ہے۔ ایک بین الاقوامی سطح پر نافذ ہوتا ہے اور دوسرا ملکی سطح پر۔ اس لیے ملکی سطح پر عدالتیں ملکی قانون کی پابند ہیں۔
بظاہر یہ دوسرا نظریہ ہے لیکن اس نظریے کے قائلین یہ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر چونکہ ریاست بین الاقوامی قانون کی پابند ہے اس لئے وہ یہ عذر پیش نہیں کر سکتی کہ اس کا ملکی قانون بین الاقوامی قانون پر عمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اگر وہ واقعی رکاوٹ ہے تو ریاست کا فرض ہے کہ ملکی قانون میں تبدیلی کر کے اس رکاوٹ کو دور کر دے۔ اس نظریے کے تحت پاکستان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ توہین مذہب کے قانون کو تبدیل کر لے کیونکہ وہ ان معاہدات سے متصادم ہے جن پر پاکستان نے دستخط کیے ہیں۔
کیا حقوق انسانی کے بین الاقوامی قانون کی اقدار عالمی حیثیت رکھتی ہیں؟
بین الاقوامی قانون اور بالخصوص حقوق انسانی کے قانون کے حوالے سے عام طور پر دو رویے پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ بین الاقوامی قانون کی اقدار عالمی حیثیت رکھتی ہیں اس لیے دنیا کے ہر خطے میں ہر قوم پر ہر زمانے میں ان کا یکساں اطلاق ہوگا۔ دوسری طرف ایک زاویۂ نظر یہ بھی ہے کہ مختلف معاشروں میں اور مختلف زمانوں میں ان اقدار کے مختلف مفاہیم ہوتے ہیں۔ جس طرح مساوات کا مغربی معاشرے میں مفہوم کچھ اور ہوگا جبکہ مشرقی معاشرے میں کچھ اور ہوگا۔ اسی طرح اظہار رائے کی آزادی کا مختلف معاشروں میں مختلف مفہوم ہوتا ہے۔ اس زاویۂ نگاہ کو cultural relativism کہتے ہیں۔ اس نظریہ کے ماننے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کی اقدار بالعموم مغربی معاشروں سے لی گئی ہیں اور یوں کوشش کی جا رہی ہے کہ مغربی اقدار کو عالمی اقدار بنا کر پیش کیا جائے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مختلف حقوق کے درمیان ترجیح کے لئے مختلف نظام ہائے قوانین نے مختلف ترتیب متعین کی ہے۔
مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ مقاصد شریعت میں دین باقی اقدار پر مقدم ہے پھر نفس کی باری آتی ہے، پھر نسل کی پھر عقل کی اور پھر مال کی۔ اس لیے ہمارے ہاں اس معاملے میں کوئی التباس نہیں پایا جاتا کہ ناموس رسالت کے تحفظ کو اظہار رائے کی آزادی (جس کا تعلق عقل سے ہے) پر ترجیح حاصل ہے کیونکہ تحفظ ناموس رسالت کا تعلق دین سے ہے۔
دوسری طرف مغرب میں مختلف تاریخی عوامل کی وجہ سے مذہب ترجیحات میں نچلی سطح پر چلا گیا ہے اور اظہار رائے کی آزادی نے ترجیح حاصل کر لی ہے۔ اس لیے وہاں لوگوں کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ توہین مذہب کے نام پر لوگوں کے حقوق کو کیسے محدود کیا جا سکتا ہے۔ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حقوق انسانی کی اقدار عالمی ہیں یا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ان اقدار کے درمیان تصادم کی صورت میں ترجیح کے لئے مغربی قانون کا طے کردہ معیار مان لیا جائے یا اسلامی قانون کا؟
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد ۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ان اصولی گزارشات کے بعد ذیل میں مختصراً بعض بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کا جائزہ لیا جائے گا جن میں اظہار رائے کی آزادی کا حق تسلیم کیا گیا ہے اور ساتھ ہی بین الاقوامی سطح پر توہین مذہب کی روک تھام کے لئے کی گئی کوششوں کا جائزہ بھی پیش کیا جائے گا۔
حقوق انسانی کا عالمی منشور، ۱۹۴۸ء
۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد پاس کی جس کا عنوان ہے حقوق انسانی کا عالمی منشور۔ یہ اگرچہ ایک اعلان (Declaration) ہے باقاعدہ معاہدہ (Convention) نہیں مگر حقوق انسانی کے قانون کی ترقی میں اسے ایک بنیادی سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ اس اعلان میں ایک جانب انسانوں کے لئے یہ حق مانا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی مذہب کا انتخاب کر سکتے ہیں (۱۴) تو دوسری جانب اظہار رائے کی آزادی کا حق بھی مانا گیا۔ اس اعلان کی دفعہ ۲۷ میں قرار دیا گیا ہے کہ کسی حق کا استعمال اس طور پر نہیں کیا جائے گا کہ اس سے دوسروں کے حقوق کی پامالی ہو۔
شہری اور سیاسی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ ۱۹۶۶ء
اسی طرح حقوق انسانی کا ایک بنیادی معاہدہ ۱۹۶۶ء شہری اور سیاسی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی دفعہ ۱۸ میں یہ حق مانا گیا ہے کہ ہر شخص اپنی مرضی سے اپنے لئے مذہب اپنا سکتا ہے اور دفعہ ۱۹ میں اظہار رائے کی آزادی کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ کسی مذہب کو اپنانے کے حق کو مذہب کے اظہار کے حق سے الگ سمجھا گیا ہے۔ مذہب کو اپنانے کا حق غیر مشروط ہے جبکہ مذہب کے اظہار کے حق پر بعض قیود عائد کی گئی ہیں۔ اسی طرح اظہار رائے کی آزادی کے متعلق مانا گیا ہے کہ اس پر ریاستیں ضروری قیود عائد کر سکتی ہیں بالخصوص دو چیزیں ذکر کی گئی ہیں:
- ۱۔ دوسروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے۔
- ۲۔ قومی سلامتی، امن عامہ یا صحت عامہ یا اخلاقی اقدار کے تحفظ کے لئے۔
اسی طرح اس معاہدے کی دفعہ ۲۰ میں ذکر کیا گیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی پر درج ذیل دو طرح کی قیود لازماً عائد ہوں گی:
- ۱۔ جنگی پروپیگنڈے کی ممانعت۔
- ۲۔ قومی، نسلی یا مذہبی بنیاد پر تنفر کی ممانعت کہ جس کا نتیجہ تشدد کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
”توہین مذہب کی ممانعت“ کی قراردادیں
کیا ان قیود کی بنا پر توہین مذہب یا توہین رسالت کو جرم قرار دیا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا مختلف حلقوں کی جانب سے مختلف جواب سامنے آیا ہے کیونکہ ہر کوئی ان قیود کی تشریح اپنے مخصوص نظریات اور اقدار کی روشنی میں کرتا ہے۔ بہرحال
Monthly No.3
مقاصد
- ۔ میدانِ اسلامی صحافت کو فروغ دیا جاسکے۔
- ۔ عشقِ نبیؐ کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
- ۔ عظمتِ امتِ مرحومہ کو قائم رکھا جاسکے۔
- ۔ فریضۂ دعوتِ حق کی تبلیغ کی جاسکے۔
- ۔ وحدتِ امت کا پرچم لہرایا جاسکے۔
- ۔ فتنۂ انکارِ حدیث کی بیخ کنی کی جاسکے۔
- ۔ فلسفۂ الحاد اور لادینیت کے مہلک مرض سے محفوظ رہا جاسکے۔
- ۔ فتنۂ تجدد کا سدباب کیا جاسکے۔
- ۔ ان تمام مقاصد کے حصول کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
ڈیزائن و خطاطی : حافظ محمد شفیق 03214041991
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء 322 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ان قیود کو بنیاد بنا کر ۱۹۹۹ء سے اقوام متحدہ کی سطح پر مختلف قراردادیں پاس کی جاتی رہی ہیں جن کو بالعموم مذاہب کی توہین کی روک تھام (combating defamation of religions) کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس طرح کی پہلی قرارداد پاکستان کی جانب سے ۱۹۹۹ء میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے حقوق انسانی میں پیش کی گئی جسے کمیشن نے منظور کیا۔ ۲۰۰۲ء میں اس کمیشن نے ایک اور قرارداد پاس کی جو اسلامی کانفرنس کی تنظیم نے پیش کی تھی۔ اس طرح مزید قراردادیں اگلے سالوں میں پاس کی گئیں اور دسمبر ۲۰۰۷ء میں پہلی دفعہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اس طرح کی قرارداد پاس کی۔
ان قراردادوں کے متعلق تین باتیں قابل ذکر ہیں:
- ۱۔ یہ محض قراردادیں ہیں نہ کہ معاہدات۔ اس لیے ان کی پابندی ریاستوں پر لازم نہیں ہے۔ تاہم اس طرح کی
قراردادیں بتدریج بین الاقوامی معاہدات کی صورت اختیار کر سکتی ہیں بشرطیکہ مسلمان ریاستیں اس کے لئے باقاعدہ اور مسلسل کوشش کریں۔
- ۲۔ یہ قراردادیں توہین رسالت کے موضوع سے براہ راست بحث نہیں کرتیں بلکہ عمومی الفاظ میں توہین مذہب کی
مذمت کرتی ہیں۔
- ۳۔ ان قراردادوں پر بہت سی ریاستوں، مغربی ماہرین قانون اور حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل
سخت تنقید بھی کی جاتی رہی ہے کیونکہ ان کو حقوق انسانی کی اقدار یعنی وہ مغربی اقدار جن کو عالمی اقدار بنا کر پیش کیا جاتا ہے‘ سے متصادم تصور کیا جاتا ہے۔
* * * * *
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہو
دیگر
تو
پیغمبر اسلام حضرت میں جس کی سزا موت قرار دی قانون کو اپنے اندازِ فکر اور ا قانون کہتے ہیں۔ انہیں چاہ مذہب و قوم کے قانون ر رسول ﷺ کو ہر چیز سے ب نہیں رہتا۔ ذیل میں بطور جاتا ہے کہ ایمان کے حوالے صحیح بخاری میں ہمراہ تھے اور آپ نے ح میں اپنی جان کے سوا باقی سے فرمایا:
لَا وَالَّذِي نَفْس
نہیں، قسم ہے اس زیادہ میں تمہیں
حضرت عمر ؓ
پر رسول اللہ ﷺ نے فر
ایسوسی ایٹ پروفی •
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
دیگر مذاہب و قوانین کی
توہین پر سزائیں
* ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں *
پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور توہین کرنا ایک ایسا جرم ہے اسلام میں جس کی سزا موت قرار دی گئی ہے۔ پاکستان میں بھی یہی قانون نافذ ہے۔ دیگر اقوام کے لوگ اسلام کے اس قانون کو اپنے انداز فکر اور اپنے معیارات سے دیکھتے ہیں تو وہ اسے ایک ظالمانہ اور انسانی بنیادی حقوق کے منافی قانون کہتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ مسلمانوں کے پیغمبر ﷺ کو مسلمانوں ہی کے زاویہ نظر سے دیکھیں۔ کسی بھی مذہب و قوم کے قانون کو اس کے اپنے معیارات اور تعلیمات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ مسلمان اپنے رسول ﷺ کو ہر چیز سے اعلیٰ و ارفع مانتے ہیں۔ یہ ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ان کا ایمان سلامت نہیں رہتا۔ ذیل میں بطور مثال تین قانونی نصوص (Legal Texts) دی جا رہی ہیں جن سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایمان کے حوالے سے مسلمانوں کا اپنے رسول اللہ ﷺ سے کیسا تعلق ہے:
صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن ہشام ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے اور آپ نے حضرت عمر ؓ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے آپ سے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں اپنی جان کے سوا باقی تمام چیزوں سے زیادہ آپ سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا: لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جب تک تمہاری جان سے بھی زیادہ میں تمہیں محبوب نہ ہو جاؤں۔
حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اَلْآنَ يَا عُمَرُ: ہاں اب اے عمر! (1)۔
- ● ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ علوم اسلامیہ، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (2) تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔
سنن نسائی میں حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ وَأَهْلِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (3) تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میری محبت اسے اپنے مال، اپنے اہل و عیال اور تمام انسانوں سے زیادہ نہ ہو جائے۔
مسلمانوں کے ہاں ان کے پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام مسلمانوں کی اپنی جانوں، اپنے والدین، اپنی اولاد، اپنے اموال اور تمام انسانوں سے زیادہ عزیز ہیں۔ اگر ان چیزوں میں سے کسی ایک چیز کی بھی محبت رسول اللہ ﷺ سے محبت پر غالب آ جاتی ہے تو مسلمان کا ایمان سلامت نہیں رہتا۔ لہٰذا رسول اللہ کی ذات گرامی ہر چیز سے مقدس و افضل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کا کسی چیز سے موازنہ یا برابری نہیں کی جا سکتی۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام انسانوں میں منتخب و مصطفیٰ (Choosen person) ہیں۔
سنن ترمذی میں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَعِيلَ وَاصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِسْمَعِيلَ بَنِي كِنَانَةَ وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ (4)
اللہ تعالیٰ نے اولاد حضرت ابراہیم علیہ السلام میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو چن لیا۔ اولاد حضرت اسماعیل علیہ السلام میں سے بنی کنانہ کو چن لیا۔ بنی کنانہ میں سے قریش کو چن لیا۔ قریش میں سے بنی ہاشم کو چن لیا اور بنی ہاشم میں سے مجھے چن لیا۔
جو چیز جتنی زیادہ مقدس اور اہم ہوتی ہے اس کی حرمت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور اس حرمت کی پامالی و توہین پر سزا بھی اتنی ہی زیادہ سخت دی جاتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس گستاخی کی سزا موت ہے۔ یہ سزا خود رسول اللہ ﷺ جو شارع (Law Giver) بھی تھے، کی طرف سے متعین ہے اور رسول اللہ ﷺ وہی کرتے ہیں جو اللہ کی مرضی و رضا ہوتی ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مار
اس مضمون کا ہدف یہ ہے اور دیگر مقدس شعائر کی توہین پر سزا جس چیز کو جتنا زیادہ مقدس اور حرمت
ہندو مت میں توہین مذہب پر
ہندو دھرم میں مذہبی عقا
وید کی توہین کرنے والا کافر (
ویدیں ہندو مذہب میں ویدوں کی توہین اور تحقیر کرنے والے وندکہ" (5) ویدوں کی نندا یعنی بر وید کے خلاف کتابوں کو مانن
ہندو دھرم میں نہ صرف کتب کو ماننا بھی کفر ہے۔ مشہور ہن جانو ناستک ہونا ہے" (6) جو جو
کافروں (ناستکوں) کی تبا
ویدوں کی اہانت اور برباد اور جلاوطن کرنے کا قانون کتابوں کی جو وید کے مطابق ہوں والوں کی جماعت) اور ملک سے
"ستیارتھ پرکاش" می کرے اسے قوم کے برگزیدہ حض سوامی جی نے اپنی کتاب رگ وید 8-10-4-1 کا جو ہند "جو ناستک، چور، ڈا آپ ۔۔۔ (سمولان و
مقاصد
مؤمنانہ مساعی کی طرف توجہ دی جاسکے۔ عزت الہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔ فریضہ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہوسکے۔ وحدت امت مرحومہ کا قیام قائم کیا جاسکے۔ ف و افکار اور حدیث کی تصحیح کی جاسکے۔ کے پروان چڑھایا جاسکے۔ کے مہلک مرض سے محفوظ رکھا جاسکے۔ رد و تجدید کے ملک گیر سلسلہ شروع ہوسکے۔ احقاق حق کا یہ مجاہدانہ سلسلہ شروع ہوسکے۔ پرویز خطائی کے خلاف اسلامی نقطہ نظر سے شعور بیدار کیا جاسکے
Monthly No. 3
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس مضمون کا ہدف یہ ہے کہ یہ بات سامنے لائی جائے کہ دیگر مذاہب و قوانین اقوام میں بھی مذہب اور دیگر مقدس شعائر کی توہین پر سزائے موت سمیت سخت سزائیں رہی ہیں اور ابھی تک ہیں۔ جن اقوام نے جس چیز کو جتنا زیادہ مقدس اور حرمت والا سمجھا اس کی تقدیس و حرمت کی توہین پر اتنی ہی سخت سزا مقرر کی۔
ہندومت میں توہین مذہب پر سزائیں
ہندو دھرم میں مذہبی عقائد اور کتب وغیرہ کی مخالفت اور توہین پر کڑی سزائیں رکھی گئی ہیں۔
وید کی توہین کرنے والا کافر (ناستک)
ویدیں ہندو مذہب میں سب سے زیادہ مقدس کتابیں مانی جاتی ہیں۔ ہندو دھرم کی مذہبی کتب ویدوں کی توہین اور تحقیر کرنے والے کو "ناستک" یعنی کافر قرار دیا گیا ہے۔ منو سمرتی کا قول ہے: "ناستکو وید نندکہ" (5) ویدوں کی نندا یعنی بے قدری کرنے والا ناستک ہے۔
وید کے خلاف کتابوں کو ماننا کفر
ہندو دھرم میں نہ صرف ویدوں کی تحقیر کرنے والا کافر ہے بلکہ ویدوں کے خلاف لکھی جانے والی کتب کو ماننا بھی کفر ہے۔ مشہور رشی دیانند سرسوتی کہتے ہیں: "جو جو گرنتھ وید سے وردھ ہیں ان کا پرمان کرنا جانو ناستک ہونا ہے" (6) جو جو کتابیں وید کے خلاف ہیں ان ان کا حوالہ ماننا گویا ناستک ہونا ہے۔
کافروں (ناستکوں) کی تباہی و بربادی اور جلاوطنی کا حکم
ویدوں کی اہانت اور مخالفت کرنے والے کو صرف کافر قرار دینے پر ہی بس نہیں کی گئی بلکہ انہیں تباہ و برباد اور جلاوطن کرنے کا قانون بھی ہے۔ سوامی دیانند کی تعلیم ہے کہ جو شخص وید اور آریہ لوگوں کی تصنیف شدہ کتابوں کی جو وید کے مطابق ہوں تحقیر کرتا ہے اس وید کی مذمت کرنے والے منکر کو ذات پنگت (یکجا کرنے والوں کی جماعت) اور ملک سے نکال دینا چاہیے (7)۔
"ستیارتھ پرکاش" میں لکھا ہے کہ جو شخص وید اور علمائے حق شعار کی تصانیف بمطابق وید کی توہین کرے اسے قوم کے برگزیدہ حضرات اپنے حلقے سے خارج کر دیں (8)۔
سوامی جی نے اپنی کتاب "آریہ ابھونے" جو آریاؤں کی دعاؤں کی کتاب ہے، میں وید منتر نمبر 14 یعنی رگ وید 1-4-10-8 کا جو ہندی ترجمہ لکھا ہے اس میں پرمیشور سے یوں دعا مانگی گئی ہے:
"جو ناستک، چور، ڈاکو ۔۔۔ مورکھ ۔۔۔ وید ودیا دروہی منشیہ ۔۔۔ ہیں ان سب دشتو کو آپ ۔۔۔ (سمولان وناشیہ) مول سہت کر دیجئے"۔ ترجمہ : جو ناستک (منکر) ڈاکو، چور ۔۔۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء [326] تحفظ ناموس رسالت نمبر
جاہل ۔۔۔ ویدوں کے علم کے مخالف انسان ہیں ان سب بدذاتوں کو آپ (سمولان و ناشیہ) جڑ بنیاد کے ساتھ تباہ و برباد کر دیجیئے (9)
ویدک دھرم کے مخالفوں کو آگ میں زندہ جلا دو
ویدک دھرم کے مخالفین کو زندہ رہنے کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ ویدوں میں لکھے حکم کے مطابق ویدک دھرمی راجہ کا فرض ہے کہ ویدک دھرم کے مخالفوں کو ہمیشہ تباہ و برباد کرے اور ان کو آگ میں جلائے۔ یجروید ادھیائے 13 ، منتر 12 میں سوامی جی نے پرمیشور کا حکم بزبان ہندی ان الفاظ میں بیان کیا ہے: "ہے تیز ڈنڈ دینے والے راج پرش دھرم کے دویشی شتروؤں کو نرنتر دشا میں کر کے سوکھے کاشٹ کا سمان جلائیے" ترجمہ: اے سخت ڈنڈ دینے والے راج پرش (یعنی راجہ) آپ دھرم کے مخالف دشمنوں کو ہمیشہ (آگ میں) جلائیے۔ وہ جو ہمارے دشمنوں کو حوصلہ دیتا ہے آپ اس کو الٹا لٹکا کر خشک لکڑی کی مانند جلائیے (10)۔
وید کی توہین کی سزا قتل
توہین وید کے مرتکب مجرم کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ ویدک دھرم میں سوامی جی نے کہا ہے: "ویدک مارگ وچھیدک اناچاریوں کو یتھایوگیہ شاسن کرو (شیگھر ان پر ڈنڈ نپاتا کرو) جس سے وے بھی شکشا یکت ہو کے ششٹ ہوں اتھوا ان کا پرانانت ہو جائے کتو ا ہمارے وش میں ہی رہیں۔" ترجمہ: وید کے رستہ کے خلاف چلنے والے بدچلنوں کو جیسا کہ چاہیے سزا دو (جلد ان پر عذاب نازل کرو) جس سے وہ بھی تعلیم یافتہ ہو کر مہذب ہوں یا تو ان کا خاتمہ ہو جائے (یعنی قتل ہو جائیں) یا ہمارے بس یعنی قابو میں رہیں (11)۔ منو کی تعلیمات میں شودر کے لیے وید سننا منع ہے۔ اگر شودر وید کی عبارت سن لے تو اس کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جائے گا۔ اگر وہ وید کی عبارت کو دہرائے تو اس کی زبان کاٹ دی جائے گی اور اگر وہ وید کی کوئی عبارت یاد کرلے تو اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں گے (12)۔
برہمن کی توہین پر سزا
ہندو مت میں انسانوں کو چار گروہوں میں تقسیم کیا ہوا ہے: برہمن، کھشتری، ویش اور شودر۔ برہمن سب سے اعلیٰ طبقہ ہے اور اسے مذہبی اجارہ داری حاصل ہے۔ شودر سب سے کم درجے کا طبقہ ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور ما...
انسانوں کو ان چار طبقات میں تقسی... بات کہے تو سزا کے طور پر شودر کی زبا... منو سمرتی کے قانون میں... دونوں ہونٹ کٹوادے۔ اگر وہ اس ... (شودر) اعلیٰ ذات کے آدمی (براہم... نشان لگا کر راجہ یا تو اس کو ملک بدر... فرائض کے متعلق ہدایت دے تو را...
مجسمہ مہاتما بدھ کی توہین پر ... چین کے فوجداری قانو... جرم کا ارتکاب کرنے والے مجرم... سزائے موت سنائی گئی اور اس کا ... صوبہ سی چوان کے ایک مندر میں... کاٹ کر لے گئے۔ ملزم کو گرفتا... دی گئی اور اس کا سر قلم کر دیا گیا...
اہل مغرب کے ہاں تصورِ ... انگریزی زبان میں ل... یونانی اصطلاح سے ماخوذ ہے ج... روایات میں " بلاس فیمی" عقا... ہالسبری لاز آف انگل... law consisting an religion or s the limit of a breach of spoken or bel. (16) " بلاس فیمی" ایک ا... بائبل کے بارے میں... بحث و اختلاف کے...
Monthly
No. 3
ضیائے حرم
لاہور
مقاصد
۱۔ صحافیانہ صلاحیتوں کو بیدار کر کے فروغ دیا جاسکے۔
۲۔ صحافت میں دینی ذوق کے لازوال نقوش ثبت کیے جاسکیں۔
۳۔ صحافت میں موجود کرپشن کا خاتمہ کیا جاسکے۔
۴۔ فرقہ واریت کی بیخ کنی کی جاسکے۔
۵۔ صحت مند صحافت کو پروان چڑھایا جاسکے۔
۶۔ جدید ذرائع ابلاغ کے مہلک اثرات سے محفوظ رہا جاسکے۔
۷۔ بے راہ روی کا سدباب کیا جاسکے۔
۸۔ ان کی صلاحیتوں کو مثبت رخ پر گامزن کیا جاسکے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء 327 تحفظ ناموس رسالت نمبر
انسانوں کو ان چار طبقات میں تقسیم کرنے کا ہندوؤں کا اپنا فلسفہ ہے۔ اگر کوئی شودر کسی برہمن کے خلاف بری بات کہے تو سزا کے طور پر شودر کی زبان کاٹ لی جائے گی (13)۔
منوسمرتی کے قانون میں یہ بھی ہے کہ اگر شودر کسی برہمن پر غرور سے تھوک دے تو راجہ اس کے دونوں ہونٹ کٹوا دے۔ اگر وہ اس پر پیشاب کرے تو اس کی شرمگاہ کو قطع کروا دے۔ جو ادنیٰ ترین ذات کا آدمی (شودر) اعلیٰ ذات کے آدمی (برہمن) کے برابر بے ادبی سے ایک ہی جگہ پر بیٹھ جائے تو اس کے پچھلے حصے پر نشان لگا کر راجہ یا تو اس کو ملک بدر کر دے یا اس کے سرین کٹوا دے۔ اگر شودر غرور کے ساتھ برہمن کو اس کے فرائض کے متعلق ہدایت دے تو راجہ اس کے منہ اور کان میں جلتا ہوا تیل ڈالنے کا حکم دے (14)۔
مجسمہ مہاتما بدھ کی توہین پر سزائے موت
چین کے فوجداری قانون کے مطابق بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین کرنا جرم ہے۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے مجرم کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ ایسے ہی ایک مجرم کو عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی اور اس کا سر قلم کر دیا گیا۔ 4 جون 1995ء کو وانگ ہونگ نامی شخص اور اس کا ساتھی صوبہ سی چوان کے ایک مندر میں چھپ گئے اور آدھی رات کے وقت آری کی مدد سے مہاتما بدھ کے مجسمہ کا سر کاٹ کر لے گئے۔ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ 29 مارچ کو جرم ثابت ہو جانے پر مذکورہ شخص کو سزائے موت سنا دی گئی اور اس کا سر قلم کر دیا گیا (15)۔
اہل مغرب کے ہاں تصور توہین مذہب
انگریزی زبان میں توہین مذہب وغیرہ کے لیے Blasphemy کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ ایک یونانی اصطلاح سے ماخوذ ہے جس کا مطلب speaking evil یعنی بری بات کہنا ہے۔ مسیحیت کی مذہبی روایات میں "بلاس فہمی" عقائد اور مقدس اقدار کے خلاف جرم کے لیے بولا جاتا ہے۔
ہالسبری لاز آف انگلینڈ (Halsbury Laws of England) میں لکھا ہے: Blasphemy is an indictable offence at common law consisting in the publication of words attacking the Christian religion or the Bible so violent, scurrilous or ribald as to pass the limit of decent controversy and tend to lead to a breach of peace. It is immaterial whether the words are spoken or written, if written they constitute a blasphemous libel.(16)
"بلاس فہمی" ایک ایسا جرم ہے جو کسی ایسی شائع شدہ تحریر پر مشتمل ہو جس میں مسیحی مذہب یا بائبل کے بارے میں اس انداز سے سخت الفاظ، گندی گالیاں اور فحش زبان استعمال کی گئی ہو کہ بحث واختلاف کے مذہبی طریقوں کی حدود پھلانگ دی جائیں اور اس سے نقص امن کا اندیشہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
پیدا ہو جائے۔ یہ بات غیر ضروری ہے کہ مسیحی مذہب اور بائیبل کے بارے میں فحش الفاظ زبانی کہے جائیں یا لکھ کر کہے جائیں۔ اگر یہ لکھ کر ہوں تو ایسی تحریر توہین آمیز تحریر ہو گی۔ بلیک سٹون (Black Stone) نے "بلاس فیمی" کی تعریف یوں کی ہے: Denying the being or providence of God, contumelious reproaches of our Sarious Christ, profane, scoffing at the Holly Scripture, or exposing it to contempt and redicule.(17)
خدا کی خدائی یا اس کے وجود کا انکار کرنا، ہمارے نجات دہندہ یسوع مسیح کے بارے میں توہین آمیز، شرمناک بات کہنا، مقدس بائیبل کا تمسخر اڑانا اور اس کی بے حرمتی کرنا یا اسے توہین اور تمسخر کے انداز میں پیش کرنا۔
اس کے علاوہ تثلیث (The Holy Trinity) کے عقیدے کا انکار بھی "بلاس فیمی" میں شامل ہے (18)۔ ان تعریفات سے پتہ چلتا ہے کہ خدا، حضرت عیسیٰ ، بائیبل، تثلیث اور مسیحی مذہب کی توہین مغربی قوانین میں "بلاس فیمی" ہے۔ ان قوانین میں توہین مذہب اس وقت جرم ہے جب اس سے نقص امن عامہ کا اندیشہ ہو۔
صرف مسیحی مذہب کی توہین جرم
برطانیہ میں صرف مسیحی مذہب کی توہین جرم ہے۔ ہالسبری لاز آف انگلینڈ میں لکھا ہے کہ 1838ء میں R.V. Gathercole نامی مقدمہ میں عدالت نے اپنے فیصلہ میں یہ قرار دیا تھا کہ مسیحیت کے سوا کسی دوسرے مذہب پر حملہ توہین مذہب کا جرم نہیں ہے (19)۔
برطانیہ میں اینجلیکن مسیحی فرقہ کی توہین جرم
برطانیہ میں نہ صرف مسیحی مذہب ہی کی توہین جرم ہے بلکہ اس کے بھی صرف اینجلیکن مسیحی فرقہ کی توہین جرم ہے۔ 1838ء میں R.V. Gathercole نامی مقدمہ میں عدالت نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی قرار دیا تھا کہ اینجلیکن فرقہ کے علاوہ کسی دوسرے مسیحی فرقہ پر حملہ بھی "بلاس فیمی" نہیں ہے (20)۔ لہٰذا برطانوی قانون کی رو سے صرف مسیحی مذہب اور اس کے بھی صرف اینجلیکن چرچ آف انگلینڈ کی توہین جرم ہے۔ کسی دوسرے مذہب یا کسی دوسرے مسیحی فرقہ کی توہین برطانوی قانون کے تحت قابل تعزیر جرم نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب برطانوی مسلمانوں نے ملعون سلمان رشدی کی کتاب Satanic Verses کے برطانیہ میں شائع ہونے پر اس کے خلاف لندن کی چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دی تو عدالت متذکرہ کتاب کے طابع و ناشر پنگوئن اور وائکنگ کے خلاف دائر کی جانے والی یہ درخواست مسترد کر دی اور فیصلہ دیا کہ برطانوی قانون کے تحت صرف اینجلیکن چرچ کا تحفظ ہو سکتا ہے اور برطانوی قانون کا اطلاق صرف
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد مسیحی مذہب کی بے حرمتی پ میں اپیل دائر کی۔ ہائی کور مسیحیت پر ہوتا ہے (22)۔
برطانوی پارلیمن ہاں قانونی جگہ پانے سے مح بات کا مطالبہ کیا جانے لگا ہ ایک برطانوی دانشور کلفور بانیان مذاہب جن میں سر بہ ماضی بنایا جائے (23)۔
یورپ میں توہین مذ
یورپ میں ت (Justinian-I) کے عہد تھی (24)۔
برطانوی باشند ہوئے اور انہوں نے اس ریاست پر حکمرانی تھی۔ چ فتح حاصل رہی۔ ریاست میں شہنشاہ ہنری چہارم ساتھ حاضر ہوا۔ پوپ شہنشاہ ننگے پاؤں اور اون بعد میں چر آویزش کا نتیجہ یہ نکلا ک معاملات سے نکال باہر کی جب چرچ کو جرأت نہیں تھی۔ جو کو سے اختلاف رکھنے والوں
خاندان کی فلاح و بہبود کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔ زوال کا سدباب کیا جاسکے۔ موجودہ دور کے مہلک مرض سے محفوظ رہا جاسکے۔ قوم کو پروان چڑھایا جاسکے۔ الحاد و افکار جدیدیت کی بیخ کنی کی جاسکے۔ فریضہ دعوت و تبلیغ کو قائم رکھا جاسکے۔ مرضی الہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔ خاندانی سلامتی کا تحفظ اور فروغ دیا جاسکے۔ Monthly No.3 وقتا فوقتا
Monthly Zia-e-Haram No. 3 مقاصد
- مستند اسلامی صحافت کو فروغ دیا جاسکے۔
- عرفان الٰہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
- فریضۂ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہوسکے۔
- بدعت اور لادینیت کی بیخ کنی کی جاسکے۔
- قریہ قریہ مسلکِ حق پہنچایا جاسکے۔
- قادیانیت کا سدباب کیا جاسکے۔
- دین کی نشاۃ ثانیہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔
ایوانِ ضیاء، احاطہ داتا دربار، لاہور فون: 37214041
تحفظ ناموس رسالت نمبر کے بارے میں فحش الفاظ آمیز تحریر ہو گی۔ ہے: Denying the being reproaches of our Sat Holly Scripture, or exp یسوع مسیح کے بارے میں توہین بے حرمتی کرنا یا اسے توہین اور "بلاس فیمی" میں شامل ہے(18)۔ مسیحی مذہب کی توہین مغربی قوانین میں اس سے نقصِ امن عامہ کا اندیشہ ہو۔ آف انگلینڈ میں لکھا ہے کہ 1838ء یہ قرار دیا تھا کہ مسیحیت کے سوا کسی کے بھی صرف انجیلیکل مسیحی فرقہ کی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی قرار نہیں ہے(20)۔ لہٰذا برطانوی آف انگلینڈ کی توہین جرم ہے۔ کسی قابلِ تعزیر جرم نہیں ہے۔ کی کتاب Stanic Verses کے کورٹ کی عدالت میں درخواست دی تو کرنے والی یہ درخواست مسترد کر دی اور ہے اور برطانوی قانون کا اطلاق صرف
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 329 تحفظ ناموس رسالت نمبر
مسیحی مذہب کی بے حرمتی پر ہوتا ہے (21)۔ اس فیصلے کے خلاف برطانوی مسلمانوں نے بینچ آف لندن ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ ہائی کورٹ نے بھی یہ اپیل اس بنا پر مسترد کر دی کہ "بلاس فیمی" قانون کا اطلاق صرف مسیحیت پر ہوتا ہے (22)۔
برطانوی پارلیمنٹ اتنی تنگ نظر ہے کہ برطانیہ ہی کے غیر مسیحی باشندوں کے مذہب کا احترام ان کے ہاں قانونی جگہ پانے سے محروم ہے۔ اب اس رویے کے خلاف مغرب میں آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس بات کا مطالبہ کیا جانے لگا ہے کہ مسیحیت کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے احترام کو بھی قانونی تحفظ دیا جائے۔ ایک برطانوی دانشور کلفورڈ لانگلے نے اس وقت کی وزیر اعظم مسز مارگریٹ تھیچر کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ بانیانِ مذاہب جن میں سر فہرست حضرت مسیح اور حضرت محمد ﷺ کی توہین کے خلاف ہتکِ عزت کا قانون مؤثر بہ ماضی بنایا جائے(23)۔
یورپ میں توہین مذہب کی سزا موت
یورپ میں تحفظ مذہب سے متعلق قوانین کی تاریخ بتاتی ہے کہ سلطنتِ روما میں بادشاہ جسٹینین اوّل (Justinian-I) کے عہد حکومت (527ء تا 556ء) میں توہین مذہب کے مجرم کو سزائے موت دی جاتی تھی(24)۔
برطانوی باشندے 597ء اور 687ء کے درمیانی عرصہ میں آہستہ آہستہ مسیحیت کی طرف مائل ہوئے اور انہوں نے اسے بطور مذہب قبول کیا(25)۔ شروع شروع میں مذہب کا سیاست پر غلبہ تھا۔ چرچ کی ریاست پر حکمرانی تھی۔ چرچ اور حکومت کے درمیان کشمکش بھی ہوتی رہی جس میں ابتدا میں چرچ کو حکومت پر فتح حاصل رہی۔ ریاست کے حکمران کے مقابلے میں یورپ کے چرچ کا اقتدار اس قدر طاقت ور تھا کہ 1077ء میں شہنشاہ ہنری چہارم کو مجبوراً کینوسا کے قلعہ میں پوپ کے حضور حاضر ہونا پڑا۔ چنانچہ وہ نہایت ذلت کے ساتھ حاضر ہوا۔ پوپ نے بڑی مشکل سے لوگوں کی سفارش پر بادشاہ کو اپنے سامنے کھڑا ہونے کی اجازت دی۔ شہنشاہ ننگے پاؤں اور اون پہنے آیا اور پوپ کے ہاتھ پر توبہ کی۔ پوپ نے اس کی غلطی کو معاف کر دیا (26)۔
بعد میں چرچ اور حکومت کی لڑائی میں کبھی پوپ کو فتح ہوتی اور کبھی حکومت فتح یاب ہوتی۔ اس مسلسل آویزش کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت چرچ کے مقابلے میں مکمل طور پر فاتح رہی اور حکومت نے چرچ کو ریاستی معاملات سے نکال باہر کیا۔
جب چرچ کو حکومت پر غلبہ و طاقت حاصل تھی تو کسی شخص کو مذہب اور چرچ کے خلاف لب کشائی کی جرات نہیں تھی۔ جو کوئی مذہب اور چرچ کی توہین کا ارتکاب کر بیٹھتا تو اسے سزائے موت دی جاتی تھی۔ مسیحیت سے اختلاف رکھنے والوں کا خون مباح تھا۔ ارباب کلیسا کے نام پر ان کی جائیدادیں ضبط کر لی جاتی تھیں۔ ایسی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
عدالتیں قائم کی گئیں جو ان "مرتدوں" کو سزائیں دیتی تھیں جو شہروں، گھروں، تہہ خانوں، جنگلوں، غاروں اور کھیتوں میں چھپے ہوئے تھے۔ ان عدالتوں نے مسیحی عقائد سے اختلاف رکھنے والے جن لوگوں کو سزا دی ان کی تعداد تین لاکھ سے بھی زیادہ بیان کی جاتی ہے اور 32 ہزار افراد کو آگ میں جلا دیا (27)۔
1553ء میں ملکہ الزبتھ کے عہد میں سب سے پہلے پروٹسٹنٹ کلیسائی قانون میں توہین مذہب سے متعلق ایک دفعہ کا اضافہ کیا گیا۔ اسی ملکہ کے دور حکومت میں پانچ یا چھ ایسے افراد جو مسیحیت اور یسوع مسیح کے بارے میں کفریہ عقائد رکھتے تھے انہیں زندہ جلا دیا گیا (28)۔ ایک نامور طبیب اور طبیعات دان سرویٹس (Sevetus) بھی اسی عہد میں الحاد کے الزام میں زندہ جلا دیا گیا (29)۔
سولہویں صدی عیسوی میں ایک دلچسپ اور عجیب مقدمہ ایک پادری فرینک ڈیوڈ ( Ferenc David) کا ہے جو ٹرانسلووینیا شہر کے یونیٹیرین چرچ (Unitarian Church) کا سربراہ تھا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ مسیحیوں کو یسوع مسیح کی عبادت نہیں کرنی چاہیے۔ اسے 1579ء میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ طبیعات کے سائنس دان برونو (Giordano Brunoe) کو 1600ء میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ روم کے کلیسا کے نزدیک اس کا جرم یہ تھا کہ وہ مذہبی عقائد کے برخلاف اس زمین کے علاوہ دوسری دنیاؤں کا بھی قائل تھا اور وہ کافرانہ عقائد رکھتا تھا (30)۔ مشہور طبیعی عالم گلیلیو (Galilio) کو بھی مسیحی عقائد سے اختلاف کرنے کے جرم میں موت کی سزا دی گئی۔ وہ سورج کے گرد زمین کے گھومنے کا قائل تھا (31)۔
1656ء میں ایک مسیحی فرقہ "The Society of Friends" جس کے ارکان کوئیکر (Quaker) کہلاتے تھے اس فرقہ کے رہنما جیمز نیلر (James Naylar) پر یہ الزام تھا کہ وہ خود کو یسوع مسیح کہتا تھا۔ اس جرم میں اسے انتہائی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اسے قید کر دیا گیا۔ اسے آہنی شکنجوں سے کس کر باندھا گیا اور بے تحاشا کوڑے برسائے گئے۔ اس کی زبان میں سوراخ کیے گئے (32)۔ جان بڈل ( John Biddle) ایک مسیحی فرقہ کا بانی تھا۔ اسے توہین مذہب اور کفریہ عقائد رکھنے کے جرم میں قید کر دیا گیا۔ وہ 1662ء میں جیل ہی میں وفات پا گیا (33)۔
1676ء میں ایک کسان جان ٹیلر پر توہین مذہب اور توہین یسوع مسیح کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ ججوں کے ایک بنچ نے یہ مقدمہ سنا۔ اس مقدمہ نے برطانوی عدالتوں کے اختیارات کو وسعت دی۔ اس سے پہلے "بلاس فیمی" کے مقدمات میں سزا دینا صرف مذہبی عدالتوں کو اختیار حاصل تھا، اب یہ اختیار عام عدالتوں کو بھی مل گیا۔ چیف جسٹس میتھیو (Mathew Hale) نے اس مقدمہ کے فیصلہ میں لکھا کہ صرف مذہبی عدالتیں ہی توہین مذہب کے مرتکبین کو سزا نہیں دے سکتیں بلکہ ملک کی دوسری عدالتوں کو بھی یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے مقدمات سنیں اور سزائیں دیں۔ اس نے فیصلے میں لکھا:
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
"...that the secular Courts had jusrisdiction of blasphemy and could punish blasphemus, because Christianity is part of the law of land and the State has to prevent dissolution of Government and religion". (34)
لادینی عدالتوں کو بھی توہین مذہب کے مقدمات میں اختیارات سماعت حاصل ہیں اور وہ توہین مذہب کے مرتکبین کو سزا دے سکتی ہیں۔ اس لیے کہ مسیحیت ملکی قانون کا حصہ ہے اور ریاست پر لازم ہے کہ وہ حکومت اور مذہب کو تباہ ہونے سے بچائے۔
1729ء میں کورٹ آف ایکس چکر (Court of Exchequer) نے یہ قرار دیا کہ یسوع مسیح کے کردار، یسوع مسیح کی تعلیمات اور بائیبل کی خلاف بات کرنا اور ان پر تنقید کرنا جرم ہے(35)۔
1812ء میں لندن کے مضافاتی علاقے کے ایک کتب فروش ڈینیل آئزک کو آہنی شکنجے میں کس دینے اور اٹھارہ ماہ قید کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے بائیبل کی کہانیوں پر تنقید کو شائع کیا تھا۔ اس مقدمہ کے فیصلہ میں عدالت نے لکھا:
"...the Christian religion is the law of land, and must be protected as the law".(36)
مسیحی مذہب ملکی قانون ہے اور ملکی قانون کی طرح اس کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
برطانوی بادشاہ ولیم سوم (King William III) کے زمانہ میں ایک قانون منظور کیا گیا جس کا نام یہ تھا: "An act for the more effectual suppression of Blasphemy and "profaneness۔ اس قانون کے تحت مسیحیت کے بنیادی عقائد اور اصولوں سے اختلاف کرنا، مسیحیت کو سچا مذہب تسلیم کرنے سے انکار کرنا، قدیم اور نئے عہد ناموں کو سچا نہ ماننا، خدا کی توہین کرنا اور ریاست کے امن کو تباہ کرنا جرم قرار دیا گیا تھا۔ اس قانون میں یہ لکھا تھا کہ اگر کوئی شخص ان جرائم میں سے کسی جرم کا پہلی مرتبہ ارتکاب کرے گا تو اسے ہر قسم کے عہدہ اور ملازمت کے حق سے محروم کر دیا جائے گا۔ اگر دوسری مرتبہ اس جرم کا ارتکاب کرے گا تو عدالت میں مقدمہ کرنے، دفاع کرنے، پیش ہونے یا کسی اور اقدام کے حق سے محروم کر دیا جائے گا اور اسے تین سال قید کی سزا بھی دی جائے گی(37)۔
مغرب میں چرچ جوں جوں کمزور ہوتا گیا اور ریاست کے اختیارات بڑھتے گئے توں توں مذہب کے تحفظ میں کمی ہوتی چلی گئی۔ آزادیِ اظہارِ رائے کے نعرے نے مذہبی عقائد کی اہمیت کم کی۔ ٹائن بی (Tyne B) نے لکھا ہے کہ شاہ ایڈورڈ چہارم کی دوسری کتابِ عبادت میں یہ دعا کی گئی تھی کہ خدا ہمیں اس بشپ سے نجات دلائے۔ اس دعا میں بشپ کے بارے میں بُرے الفاظ استعمال کیے گئے تھے جن کا ذکر ٹائن بی نے تو کیا ہے لیکن
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس مضمون میں وہ الفاظ حذف کیے جا رہے ہیں۔ ملکہ الزبتھ کے عہد میں جو کتاب تیار ہوئی اس میں یہ تکلیف دہ دعا حذف کر دی گئی تھی لیکن اصل جذبہ نفرت بدستور باقی رہا (38)۔
یورپ میں چرچ کے زوال کے اسباب کچھ بھی ہوں لیکن چرچ اور پادریوں کے خلاف ردّ عمل کے طور پر مغرب میں فرد کی آزادی کو بے لگام اور انتہا تک پہنچا دیا گیا۔ اظہار رائے کی آزادی ایک مقدس چیز ٹھہری۔ آج وہاں توہین مذہب اس وقت قابل تعزیر جرم بنتا ہے جب اس سے امن عامہ کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا۔ اگر مذہب کی توہین سے امن عامہ قائم رہتا ہے تو برطانیہ کا قانون حرکت میں نہیں آتا۔ آج وہاں اظہار رائے میں آزادی کا حق اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ کوئی شخص بھی مذہبی بنیادی عقیدہ سے متعلق اپنی رائے دے سکتا ہے شرط صرف یہ ہے کہ اس کا انداز فحش نہ ہو اور وہ معاشرے کے امن کو نقصان نہ پہنچائے۔
1883ء میں برطانیہ کے لارڈ چیف جسٹس نے یہ فیصلہ دیا کہ آزادی اظہار ہر قسم کی قانونی کارروائی سے مستثنیٰ ہے، یہاں تک کہ مسیحیت کے بنیادی عقائد پر تنقید بھی قانون کی گرفت سے باہر ہے (39)۔ لارڈ چیف جسٹس کے اس فیصلہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب میں مذہب کی تقدیس کا جو تھوڑا بہت بھرم قائم تھا وہ بھی ختم ہو گیا۔ اظہار رائے اور پریس کی آزادی کے نام پر مذہب کے تقدس کی دھجیاں بکھیری جانے لگیں۔
اب مغرب کے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ مسیحیت کو کسی قانونی تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔ مسیحی مذہب تعزیری سزاؤں کے بغیر زندہ رہنے کے قابل ہے۔ خدا اپنی عزت کا تحفظ خود کر سکتا ہے۔ وہ اپنی حفاظت کے لیے ہر قانون بناتے ہیں لیکن مذہب کی حفاظت کے لیے کسی قانون کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ فرد کی آزادی اور مذہب کے تحفظ سے متعلق یہ مغربی نظریہ انسانی فطرت کے اتنا خلاف تھا کہ آج فرد کی ہر خواہش کی تکمیل کو آزادی اور بنیادی حق قرار دیا جاتا ہے۔ مغرب کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں کوئی چیز بھی مقدس نہیں رہی۔ مارٹن سکارسیز نے "The Last Temptation of Christ" (مسیح کی آخری آزمائش) نامی ایک فلم بنائی۔ لاس اینجلس فلم ٹیچرز ایسوسی ایشن نے اس فلم کو پیش کرنے پر پروڈیوسر کو ایوارڈ سے نوازا۔ مارٹن نے کہا کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا بلکہ مسیح کی زندگی کے عام انسانی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ اس فلم میں پروڈیوسر نے مسیح اور مریم مگدلینی کے جنسی مراسم اور عریاں مناظر پیش کیے تھے (40)۔
1883ء میں لارڈ چیف جسٹس نے اظہار رائے اور پریس کی آزادی کو مذہب پر مقدم کرنے کا جو فیصلہ دیا تھا اس کے اثرات بعد میں تمام مقدمات پر پڑے اور یہ فیصلہ بطور نظیر (Precedent) خوب استعمال ہوا۔ اب مغرب میں مذہب کے تحفظ سے زیادہ پریس کی آزادی کو تحفظ حاصل ہے اور مذہب کی سالمیت سے زیادہ معاشرے کے امن و امان کو قانونی ضمانت مہیا ہے۔ توہین مذہب کے مقدمات میں اب اگر کوئی سزا دی جاتی ہے تو بہت معمولی۔ برطانوی قانون کے مطابق "بلاس فیمی" کا جرم کرنے پر مجرم کو سزا دینے میں عدالت صوابدیدی
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اختیارات رکھتی ہے۔ وہ چاہے تو مجرم کو قید کی سزا دے یا اسے جرمانہ کی سزا دے اور سزا کی مقدار کا تعین بھی عدالت پر چھوڑ دیا گیا ہے (41)۔ 1911ء میں ایک شخص ہیری بلر کو تین ماہ قید سنائی گئی۔ چیف کمشنر آف پولیس نے فیصلہ میں لکھا کہ ملزم کو توہین مذہب کی بنا پر سزا نہیں دی گئی بلکہ اس لیے سزا دی ہے کہ اس کے اس اقدام سے امنِ عامہ کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا (42)۔ 1912ء میں سٹیورٹ اور ولیم گوٹ نامی دو افراد کو توہین مذہب کے جرم میں بالترتیب تین اور چار ماہ قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ اس مقدمہ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے برطانیہ کے ہوم سیکرٹری نے ہاؤس آف کامن میں کہا تھا کہ ان مجرموں کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے جارحانہ انداز اختیار کرنے کی بنا پر سزا دی گئی ہے کیونکہ مجرم یہ جانتے تھے کہ ان کے اس جارحانہ انداز سے امنِ عامہ میں نقص پیدا ہو سکتا ہے (43)۔
توہین مسیح، توہین تثلیث اور توہین مذہب پر سزائے موت
سکاٹ لینڈ پارلیمنٹ میں 1661ء اور 1695ء میں منظور کیے جانے والے قوانین کے تحت توہین مسیح اور توہین مذہب وغیرہ کی سزا موت تھی۔ ان قوانین کے تحت ”بلاس فیمی“ کے جرم میں سزائے موت پانے والے آخری مجرم کا نام ”تھامس ایکن ہیڈ“ تھا۔ یہ ایک طالب علم تھا جسے 1696ء میں سزائے موت دی گئی تھی۔ بعد میں ”بلاس فیمی“ جرم پر موت کی سزا کا قانون ختم کر دیا گیا اور مجرموں کو صرف جرمانہ اور قید کی سزائیں دی جانے لگیں۔ دوسری مرتبہ ارتکاب جرم پر مجرم کو کوڑے بھی مارے جاتے۔ بعد میں کوڑے مارنے کی سزا بھی ختم کر دی گئی اور توہین مذہب کے مجرم کو جرمانہ اور قید کی سزا کا قانون نافذ کر دیا گیا (44)۔ جرمنی کے قوانین میں بلاس فیمی کے مجرم کو ایک سے تین سال تک قید کی سزا ہے۔ اس میں بھی یہ ضروری ہے کہ مجرم نے توہین مذہب کا ارتکاب سرعام کیا ہو اور انداز فحش اور بیہودہ ہو (45)۔ آسٹریا میں چھ ماہ سے دس سال تک قید کی سزا دی جاتی ہے (46)۔
ماضی میں امریکہ میں بھی توہین مذہب کا مجرم سزائے موت پاتا تھا۔ مثلاً امریکی ریاست ورجینا میں سترھویں صدی میں یسوع مسیح اور تثلیث کی توہین پر سزائے موت کا قانون نافذ تھا۔ یہ قانون 1611ء میں بنا۔ برطانیہ کی طرح امریکہ میں بھی صرف مسیحیت ہی کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ 1811ء میں نیو یارک کے ایک مقدمہ People V. Ruggles میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ امریکہ میں صرف مسیحی مذہب کو تحفظ حاصل ہے اور صرف مسیحی مذہب کی توہین کرنے والا جرم کا مرتکب ٹھہرے گا (47)۔ مغربی معاشرہ جس طرح مذہب سے دور ہوتا چلا جا رہا تھا اس کا اظہار عدالتی فیصلوں سے بھی ہوا۔ 1825ء میں مسٹر جیفرسن نے قرار دیا تھا کہ مسیحیت ملکی قانون کا حصہ نہیں ہے اور مذہب یا لادینیت دونوں ہی حکومت کے دائرہ کار سے تعلق نہیں رکھتے (48)۔
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
برطانیہ کے لارڈ چیف جسٹس نے پریس کی آزادی کو مذہب پر مقدم کرنے کا جو فیصلہ 1883ء میں دیا تھا اس کے اثرات امریکی معاشرہ پر بھی پڑے۔ بلاس فہمی کے تمام مجرموں نے اس فیصلے کی رعایت سے فائدہ اٹھایا اور انہیں سخت سزائیں نہ دی گئیں۔ امریکی معاشرہ میں مذہب کا رتبہ اور فرد اور مذہب کے باہمی تعلقات میں ریاست کے کردار کی کیا نوعیت ہے، اس کی تشریح امریکی سپریم کورٹ نے ایک مقدمہ Abington School District V. Schempp, 1963 میں یوں کی ہے:
The place of religion in our society is an exalted one, achieved through a long tradition of reliance on the home, the Church and the inviolatable citadel of the individual heart and mind. We have come to recognize through bitter experience that it is not within the power of government to invade that citadel... In the relationship between man and religion, the State is firmly committed to a position of neutrality. (49)
ہمارے معاشرے میں مذہب کا مقام بڑا واضح ہے۔ جو ملک اور چرچ اور ہر فرد کے دل و دماغ کے مضبوط حصار پر اعتماد کی ایک طویل روایت سے حاصل ہوا ہے۔ ہم اپنے تلخ تجربات کے نتیجے میں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس مضبوط حصار پر حملہ آور ہونا حکومت کے اختیارات میں شامل نہیں۔ انسان اور مذہب کے باہمی تعلقات میں ریاست اپنے غیر جانبدارانہ کردار پر مضبوطی سے قائم رہے گی۔
مارچ 2011ء میں جب امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک پادری نے قرآن مجید کو جلا ڈالنے کی ناپاک حرکت کی تو اس کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں نے بھرپور احتجاج کیا۔ اس موقع پر پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے جو بیان دیا اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ میں مذہب کے بارے میں وہاں کی پالیسی کیا ہے۔ کیمرون نے کہا: "یہ چند لوگوں کا ایک انفرادی فعل ہے جو امریکی روایات کے منافی ہے اور یہ افسوسناک واقعہ اسلام کے لیے امریکی عوام کے احترام پر مبنی جذبات کی عکاسی نہیں کرتا۔ کسی بھی کتاب کو جان بوجھ کر تباہ کرنا ایک نفرت انگیز عمل ہے۔ مذہب اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے امریکی عزم ہمارے ملک کے قیام کے وقت سے ہے اور یہ آئین میں ہے۔ ہم کسی بھی صورت میں مذہبی عدم رواداری کو مسترد کرتے ہیں (50)۔
اب صورت حال یہ ہے کہ امریکی عدالتوں میں توہین مذہب کا کوئی مقدمہ دائر نہیں ہوتا۔ یورپ کی طرح امریکی عوام نے بھی یہ یقین کر لیا ہے کہ خدا، مسیح اور مسیحیت کے تحفظ کے لیے قانون کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی خدا اور یسوع مسیح ایسے تحفظات کے محتاج ہیں۔ اگرچہ یورپ کی طرح امریکہ کا قانون بھی توہین مذہب کے مجرموں کے لیے ماضی کی نسبت سخت نہیں رہا، اس کے باوجود امریکی عوام مسیحیت، یسوع مسیح،
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور، مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 335 تحفظ ناموس رسالت نمبر
صلیب اور بائیبل وغیرہ کی توہین و تضحیک پر اپنے غم و غصہ کا بھرپور اظہار کرتے ہیں اور اپنے مذہب کی توہین و ہتک برداشت نہیں کرتے۔ ذیل میں چند واقعات بطور مثال ذکر کیے جاتے ہیں۔ ان سے یہ بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ مغرب میں آزادی اظہار رائے کے نام سے کس طرح مذہب اور اس کے شعائر کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔
1988ء میں "The Last Temptation of Christ" (مسیح کی آخری آزمائش) نامی ایک فلم امریکی سینماؤں میں پیش کی گئی۔ اس میں مسیح اور مریم مگدلینی کے جنسی مراسم اور عریاں مناظر پیش کیے گئے اور دکھایا گیا کہ یسوع مسیح نے صلیب پر جان نہیں دی تھی بلکہ انہوں نے شادی کی اور ایک بھرپور زندگی گزاری تھی۔ مسیح اور مریم مگدلینی کے جنسی تعلقات اور عریاں مناظر تو شائد امریکی عوام کے نزدیک قابلِ اعتراض نہ ہوں لیکن یسوع مسیح کا صلیب پر جان نہ دینا اور ان کا شادی کرنا اس فلم کے مناظر میں شامل تھا۔ ایسے مناظر مسیحی عقائد کے خلاف تھے لہٰذا اس فلم کے خلاف عوامی ردّعمل سامنے آیا۔ پورے امریکہ میں اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوئی۔ جن سینماؤں میں یہ فلم نمائش کے لیے پیش گئی تھی ان کا گھیراؤ کیا گیا اور دائمی بائیکاٹ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں (51)۔
مشہور امریکی گلوکارہ میڈونا پر ایک گانا "Like a prayer" فلمایا گیا۔ اس میں چرچ اور صلیب جیسے مسیحی شعائر کے تقدس کے منافی بعض مناظر فلمبند کیے گئے تھے۔ جب یہ گانا مارکیٹ میں آیا تو اس کی مخالفت کی گئی۔ میڈونا کو عوامی غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔ مشروبات کی ایک کمپنی میڈونا کو اپنے ٹیلیویژن کے اشتہارات میں بطور ماڈل دکھایا کرتی تھی۔ اس کمپنی پر عوام اور مختلف اداروں کی طرف سے اس قدر دباؤ ڈالا گیا کہ کمپنی نے میڈونا کو اپنے اشتہارات میں بطور ماڈل دکھانا بند کر دیا (52)۔
مارچ 1993ء میں امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے ایک شخص ڈیوڈ کوریش نے خود کو یسوع مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس خود ساختہ مسیح کے خلاف ریاستی پولیس نے مسلح کارروائی کی (53)۔ ٹیکساس ہی میں اسی سال واکو شہر کے قریب ایک اور شخص نے یسوع مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کا نام ورنن ہاول تھا اور "ڈیو یڈین" نامی فرقہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس جھوٹے یسوع کے خلاف بھی پولیس نے کارروائی کی۔ ایک زبردست پولیس مقابلے میں چار وفاقی سرکاری ایجنٹوں سمیت چھ افراد مارے گئے (54)۔
پاکستان کے بہترین ہمسایہ ملک چین میں اظہارِ رائے کے حق سے متعلق ان کا اپنا قانون ہے لیکن احترامِ مذہب کے حوالے سے حقِ اظہار رائے کے غلط استعمال پر چینی حکومت راست اقدام کرتی ہے۔ چین میں دو افراد کیلے (Ke Le) اور سانگ یا (Sang Ya) نے ایک کتاب "جنسی عادات" لکھی۔ اس کتاب میں جو کچھ لکھا گیا وہ سب کا سب یورپ اور امریکہ کے ان رسالوں اور کتابوں سے نقل کیا گیا تھا جنہیں لکھنے والے یہودی، اسلام دشمن کمیونسٹ اور دہریے تھے۔ اس کتاب میں حج، نماز، مساجد اور دیگر اسلامی عبادات و شعائر کو جنسی
مقاصد
- ٭... عقائد میں صلابت اور شعور کو فروغ دیا جاسکے۔
- ٭... عشقِ نبی کی دولتِ لازوال نصیب ہوسکے۔
- ٭... ملتِ مرحومہ کو قدموں پہ کھڑا کیا جاسکے۔
- ٭... فتنہء انکارِ حدیث کی بیخ کنی کی جاسکے۔
- ٭... باطل افکار پہ چھایا جاسکے۔
- ٭... معاشرے کو فرقہ واریت کے مہلک مرض سے محفوظ رکھا جاسکے۔
- ٭... اخلاقی زوال کا سدباب کیا جاسکے۔
- ٭... انقلابِ اسلامی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
Monthly No. 3 ضیائے حرم بانی و سرپرست: پیر محمد کرم شاہ الازہری چیف ایڈیٹر: پیر محمد امین الحسنات شاہ
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
رنگ دے کر جسمانی تلذذ کا ذریعہ بتایا گیا۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ مارچ 1988ء میں شنگھائی کلچرل پبلشنگ ہاؤس نے شائع کی۔ لیکن عام طور پر مسلمانوں کو اس کا علم نہ ہو سکا۔ زوانگ پبلشنگ ہاؤس نے اسے دوبارہ شائع کیا۔ مسلمانوں میں اضطراب پیدا ہوا۔ چینی مسلمانوں کا پہلا مظاہرہ اپریل 1988ء کے وسط میں کانسو صوبے میں ہوا۔ تیان من چوک میں مسلم خواتین نے مظاہرہ کیا جو حجاب میں تھیں اور اللہ اکبر کے نعرے لگا رہی تھیں۔ 12 مئی 1988ء کو ظہر کے بعد صوبہ کانسو کے شہر لانزہاؤ کے مرکزی چوک میں دس ہزار سے زیادہ مسلمانوں نے مظاہرہ کیا۔ ان مظاہرین کی اکثریت نوجوان طلباء و طالبات پر مشتمل تھی۔ چینی حکومت نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا۔ لانز ہاؤ میں پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری لی کیجان نے عید الفطر (8 مئی 1988ء) کے فوراً بعد مسلمان لیڈروں سے گفت و شنید کی اور باقاعدہ اظہار تاسف کے بعد معافی مانگی۔ اس کتاب کی ترسیل اور فروخت روک دی گئی۔ کتاب کو ضبط کر لیا گیا۔ یہ اعلان کیا گیا کہ مسلمانوں کے مطالبے کے مطابق تمام نسخوں کو جمع کر کے نذر آتش کر دیا جائے گا۔ آئندہ سے اس کتاب کا رکھنا جرم قرار دیا گیا۔ ضبطی کے احکام میں لکھا گیا کہ یہ کتاب پبلیکیشن کے قوانین اور مذہب کے سلسلے میں حکومت چین کی پالیسی کے منافی ہے (55)۔
ریاست سے غداری کی سزا موت
موجودہ زمانے میں ریاست انسانی معاشرے کا سب سے زیادہ بااختیار ادارہ بن چکا ہے۔ ریاست کی حاکمیت اعلیٰ کا انکار اور اس سے عدم وفاداری ریاست کی توہین کے مترادف ہے جسے سیاسی اصطلاح میں ریاست سے غداری کہا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر دستور میں ریاست سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض قرار دیا گیا ہے اور ریاست سے غداری کی سزا موت ہے۔ مثلاً برطانیہ میں غداری سے متعلق جتنے بھی قوانین آج نافذ ہیں جن کے تحت ریاست سے غداری کی سزا پھانسی پر لٹکا دینا ہے وہ سب Treason Acts 1352, 1702, 1795 پر انحصار کرتے ہیں۔ بعد میں ان قوانین میں Law Commission 1977 کے اصلاحات بھی کی گئیں (56)۔ امریکہ میں 1790ء کے ایکٹ کے تحت بغاوت کی سزا پھانسی تھی لیکن خانہ جنگی (civil war) کے بعد اس میں ترمیم کر کے صرف موت کی سزا رکھی گئی۔ اس کے ساتھ ہی عدالتوں کو یہ صوابدیدی اختیار دے دیا گیا کہ وہ مجرموں کو موت کے بجائے قید بامشقت کی سزا دے دیں جو پانچ سال سے کم نہ ہو اور جرمانہ کی سزا دیں (57)۔
سربراہ مملکت کی توہین پر سزائے موت
کئی ممالک کے دساتیر میں یہ ہے کہ مملکت کے سربراہ کی توہین کرنا ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا موت ہے۔ ہلسری لاز آف انگلینڈ (Halsbury's Laws of England) میں ہے کہ برطانیہ کے بادشاہ، اس کے تخت کے وارث، بڑے بیٹے اور ملکہ کو غداری سے متعلق قانون (Law of Trdason) کے تحت تحفظ حاصل
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آبا ہے۔ بادشاہ سے جنگ کر باعث بننے کو غداری کا جرم عراق میں 2 والے کسی بھی شخص کو موضوعات پر لکھنا قطعی م سویڈن کے دس شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ قسم کی چارہ جوئی سے بالا کہا گیا ہے اور تمام سینی آئین کی توہین پر سز اسلامی جمہور سے اکھاڑ پھینکنے یا ایسا ک کرنے یا طاقت کا مظاہر ہے۔ آئین پاکستان 73 ogates or empts or or show guilty of tioned in provide ason. عدالت کی توہین پر دنیا کے تما جرم ہے۔ برطانیہ کے توہین عدالت کے مرک امریکی قانون کے تحت اختیارات رکھتا ہے (
مقاصد
مقتدرانہ صلاحیت کو فروغ دیا جا سکے۔ رحمت الہی کی دولت لازوال نصیب ہو سکے۔ فریضہ دعوت و تبلیغ کو سمجھا جا سکے۔ خدمت امت مرحومہ کو قائم رکھا جا سکے۔ فتنہ انکار حدیث کی بیخ کنی کی جا سکے۔ گمراہیوں کے مہلک مرض سے محفوظ رہا جا سکے۔ زوال کا سدباب کیا جا سکے۔ ان کی نشاۃ ثانیہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔
تحفظ ناموس رسالت نمبر 1989ء میں شنگھائی کلچرل پبلشنگ پبلشنگ ہاؤس نے اسے دوبارہ شائع علاقے وسط میں کانسو صوبے میں اللہ اکبر کے نعرے لگا رہی تھیں۔ میں دس ہزار سے زیادہ مسلمانوں چینی حکومت نے اس بات کا سختی (8 مئی 1988ء) کے فوراً بعد اس کتاب کی ترسیل اور فروخت بمطابق تمام نسخوں کو جمع کر کے کو احکام میں لکھا گیا کہ یہ کتاب -(55)
ادارہ بن چکا ہے۔ ریاست کی سے سیاسی اصطلاح میں ریاست بنیادی فرض قرار دیا گیا ہے اور کا قوانین آج نافذ ہیں جن کے Treason Acts 135 Law کے اصلاحات بھی کی خانہ جنگی (civil war) کو یہ صوابدیدی اختیار دے سے کم نہ ہو اور جرمانہ کی سزا
ایسا جرم ہے جس کی سزا موت کہ برطانیہ کے بادشاہ، اس کے Law) کے تحت تحفظ حاصل
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 337 تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہے۔ بادشاہ سے جنگ کرنا، اس کے دشمنوں کی مدد کرنا، بادشاہ، ملکہ اور اس بڑے بیٹے اور وارث کی موت کا باعث بننے کو غداری کا جرم قرار دیا گیا ہے۔ برطانوی قانون میں غداری کی سزا موت ہے (58)۔
عراق میں 1982ء کے ایک قانون کے تحت صدر اور اعلیٰ سرکاری حکام کی شان میں گستاخی کرنے والے کسی بھی شخص کو موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔ عراقی آئین کے آرٹیکل 206 کے تحت جن بارہ موضوعات پر لکھنا قطعی ممنوع ہے ان میں صدر عراق کی ذات سر فہرست ہے (59)۔
سویڈن کے دستور کے آرٹیکل 55 اور نیدرلینڈ کے دستور کے آرٹیکل 3 کے تحت بادشاہ کو ایک مقدس شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ بادشاہ یا کسی دوسرے شاہی فرد کی اہانت قابل تعزیر جرم ہے۔ بادشاہ کا کوئی بھی اقدام ہر قسم کی چارہ جوئی سے بالاتر ہے (60)۔ اسی طرح سپین کے دستور کے آرٹیکل 8 کے تحت سپینی بادشاہ کو مقدس کہا گیا ہے اور تمام سپینی باشندوں پر اس کی عزت کرنا لازم ہے (61)۔
آئین کی توہین پر سزائے موت
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین منسوخ کرنے یا منسوخ کرنے کی کوشش یا سازش تیار کرنے، اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے یا ایسا کرنے کی کوشش یا سازش تیار کرنے کے لیے غیر دستوری طریقے سے طاقت کا استعمال کرنے یا طاقت کا مظاہرہ کرنے کا اقدام غداری قرار دیا گیا ہے اور ان تمام کاموں کی مدد و اعانت بھی جرم غداری ہے۔ آئین پاکستان 1973ء کے آرٹیکل 6 کے الفاظ یوں ہیں:
6. High treason.—(1) Any person who abrogates or attepmts or conspires to abrogate, subverts or attempts or conspires to subvert the Constitution by use of force or show of force or by other unconstitutional means shall be guilty of high treason. (2) Any person aiding or abetting the acts mentioned in clause (1) shall likewise be guilty of high treason. (3) [Majlis-e-Shoora (Parliament)] shall by law provide for the punishment of persons found guilty of high treason.
عدالت کی توہین پر سزا
دنیا کے تمام ممالک میں عدالتوں کو دستوری و قانونی تحفظ حاصل ہے اور عدالت کی توہین قابل تعزیر جرم ہے۔ برطانیہ کے قانون توہین عدالت (Contempt of Court Act 1981) کی دفعہ 14 کے تحت توہین عدالت کے مرتکب کو زیادہ سے زیادہ دو سال تک قید کی سزا اور پانچ سو ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے (62)۔
امریکی قانون کے تحت عدالت کا جج توہین عدالت کے مرتکب کو کمرۂ عدالت میں موقع پر ہی سزا سنانے کے وسیع اختیارات رکھتا ہے (63)۔ بھارتی دستور کے آرٹیکل 142(2) کے تحت سپریم کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے
مقاصد
- مندانہ اسلامی صحافت کو فروغ دیا جاسکے۔
- رفعت الٰہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
- فریضہ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہوسکے۔
- خدمت امت مرحومہ کو عام کیا جاسکے۔
- ب و افکار جدیدہ کی بیخ کنی کی جاسکے۔
- کو پروان چڑھایا جاسکے۔
- ر وتجدد کے مہلک مرض سے محفوظ رکھا جاسکے۔
- زوال کا سدباب کیا جاسکے۔
- ن کی اشاعت کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
Monthly No.3
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ ، اپریل ۲۰۱۱ء 338 تحفظ ناموس رسالت نمبر
کہ وہ توہین عدالت کے مرتکب کو سزا دے۔ پاکستانی آئین کے آرٹیکل 204 کی رو سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کو اختیارات حاصل ہیں کہ وہ عدالت کی توہین کرنے والے شخص کو سزا دیں۔ "ریاست بنام مجیب الرحمن شامی وغیرہ" مقدمہ میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ قرار دیا کہ عدالت کی توہین ریاست کے خلاف ایک جرم ہے (64)۔
ہتک عزت قابل تعزیر جرم
ہر مذہب اور معاشرے میں انسان کی ذاتی عزت ایک محترم چیز ہوتی ہے۔ اسے قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ ہر انسان کا یہ حق ہے کہ اس کی ذات کا احترام کیا جائے اور اس کی توہین نہ ہو۔ ہر ملک کا آئین اپنے شہریوں کو یہ حق عطا کرتا ہے۔ ہتک عزت کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف تعزیراتی قوانین موجود ہوتے ہیں۔ ہتک عزت کے مرتکب کا فعل متاثرہ شخص کے لیے موجب اذیت بنتا ہے۔ اس فعل کے اذیت ناک ہونے کا انحصار معاشرے کے عرف اور عادت اور متاثرہ شخص کی معاشرتی حیثیت پر ہوتا ہے۔ جو شخص جتنی زیادہ معاشرتی حیثیت اور مقام و مرتبہ کا حامل ہوتا ہے، اس کے خلاف ہتک عزت کا فعل اتنا ہی زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔ متاثرہ شخص کو جتنی زیادہ اذیت اور اس کے معاشرتی وقار کو نقصان پہنچا ہو مجرم کو اتنی ہی زیادہ سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔
برطانوی قانون میں ہتک عزت کی تعریف یوں کی گئی ہے:
A statement is defamatory of the person of whom it is published if it tends to lower him in the estimation of right thinking members of society or if it exposes him to public hatred, contempt or ridicule or if it causes him to be shunned or avoided.
(65)
کسی شخص کے بارے میں شائع ہونے والا ایسا ہر بیان توہین آمیز ہے جو اسے معاشرے کے سلیم سوچ رکھنے والے افراد کی نظروں سے گرادے، یا اس کے باعث اسے عوامی نفرت، حقارت یا تمسخر کا سامنا کرنا پڑے یا ایسا بیان عوام کی جانب سے اسے نظر انداز کیے جانے کا باعث بنے۔
برطانیہ کا قانون نہ صرف زندہ بلکہ فوت شدہ شخص کی ہتک عزت کو بھی جرم قرار دیتا ہے۔ ہالسبری لاز آف انگلینڈ میں لکھا ہے کہ کسی مردہ شخص کے بارے میں ایسی توہین آمیز تحریر کے خلاف فوجداری کارروائی ہو سکتی ہے جو اس ادارے یا ممکنہ طور پر اس رجحان کے ساتھ شائع کی گئی ہو کہ مردہ شخص کے زندہ رشتہ داروں کی شہرت کو نقصان پہنچے اور ان کی زندگی کا مقصد انتقام لینا یا نقص امن کا باعث بن جائے (66)۔ ہتک عزت کے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہو
مجرم کو برطانوی قانون کے تح دی جاسکتی ہیں (67)۔
کسی شخص کی معام وضاحت لارڈ ڈیننگ (ning 1990 A.C. کے فیصلہ میں "کسی آدمی کے کرو جانتے ہوں اور اس فراہم کر سکتے ہیں ج لہٰذا انگریزی قانو شہرت اور عزت کا اندازہ اہل جائے گا جس میں وہ رہتا ہے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ ہے۔ معاشرہ اور متعلقہ افر اسے ہی قانونی تحفظ حاصل
مندرجہ بالا ابح اہمیت کے اعتبار سے مقد سزائیں مقرر کیں اور کرو برباد کرنے، قتل کرنے او موت کا قانون موجود ہے جرم ہے۔ یورپ میں تو ہ مذہب کو اپنا اجتماعی مسئلہ ساتھ ان کے اجتماعی رویہ سے زیادہ اہم گردانتے میں کمزوری کے باعث ہ سربراہ مملکت کی توہین ہ جرم بنایا گیا ہے۔
مقاصد
مدینہ طیبہ کی فلاحی ریاست کا فروغ دیا جا سکے۔ رحمت الٰہی کی بدولت لازوال دولت نصیب ہو سکے۔ فریضہ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہو سکے۔ عظمتِ امتِ مرحومہ کو قائم رکھا جا سکے۔ رقہ واریت اور عصبیت کی بیخ کنی کی جا سکے۔ ت کو پروان چڑھایا جا سکے۔ وسی کے مہلک مرض سے محفوظ رہا جا سکے۔ قی زوال کا سدباب کیا جا سکے۔ مانانِ عالم کی نشاۃ ثانیہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ نوجوان خطباء، ائمہ مساجد اور مبلغین
تحفظ ناموس رسالت نمبر
2 کی رو سے سپریم کورٹ اور ہائی کو سزا دیں۔ "ریاست بنام مجیب توہین ریاست کے خلاف ایک جرم
تا ہے۔ اسے قانونی تحفظ حاصل ین نہ ہو۔ ہر ملک کا آئین اپنے ت تعزیراتی قوانین موجود ہوتے اس فعل کے اذیت ناک ہونے ہوتا ہے۔ جو شخص جتنی زیادہ مل اتنا ہی زیادہ اذیت ناک ہوتا مجرم کو اتنی ہی زیادہ سخت سزا
A statement published if i thinking men hatred, contemp or avoided.
معاشرے کے سلیم ں نفرت، حقارت یا نے کا باعث بنے۔ جرم قرار دیتا ہے۔ ہلسری لاز کے خلاف فوجداری کارروائی ہو شخص کے زندہ رشتہ داروں کی جائے (66)۔ ہتک عزت کے
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 339 تحفظ ناموس رسالت نمبر
مجرم کو برطانوی قانون کے تحت دو سال تک قید یا عدالت کی طرف سے عائد کردہ جرمانہ یا دونوں سزائیں اکٹھی دی جاسکتی ہیں (67)۔
کسی شخص کی معاشرتی عزت و شہرت کا تعین کرنے کے لیے کیا معیار اور طریقہ ہونا چاہیے، اس کی وضاحت لارڈ ڈیننگ (Lord Denning) نے ایک مقدمہ Plato Films Ltd. V. Speidal 1961 1090 A.C. کے فیصلہ میں یوں کی ہے:
"کسی آدمی کے کردار اور شہرت کا تعین کرنے کے لیے تمہیں ان لوگوں کو بلوانا ہو گا جو اسے جانتے ہوں اور اس کے ساتھ معاملات کرتے رہے ہوں۔ کیونکہ ایسے لوگ ہی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں جس پر اس آدمی کے کردار کی عمارت کھڑی کی جائے گی۔" (68)۔
لہٰذا انگریزی قانون میں یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ کسی شخص کی نیک نامی، شہرت اور عزت کا اندازہ ان لوگوں سے لگایا جائے گا جن کے ساتھ اس کا تعلق ہے اور اس معاشرے سے لگایا جائے گا جس میں وہ رہتا ہے۔ ہتک عزت کے مرتکب کی متأثرہ شخص کے معاشرتی مقام و عزت سے متعلق رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی۔ مثلاً وہ یہ کہے کہ میں اسے اس عزت کے قابل نہیں سمجھتا یا یہ اتنا صاحبِ عزت نہیں ہے۔ معاشرہ اور متعلقہ افراد کے ہاں اس شخص کا جو مقام و مرتبہ ہے وہی اس کی اصل عزت و شہرت ہو گی اور اسے ہی قانونی تحفظ حاصل ہو گا۔
مندرجہ بالا اجمالی بحث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ متعدد مذاہب و اقوام نے اپنے شعائر کو ان کی اہمیت کے اعتبار سے مقدس مانا اور ان کی تقدیس و حرمت برقرار رکھنے کے لیے سزائے موت سمیت مختلف سزائیں مقرر کیں اور کر رکھی ہیں۔ ہندومت میں ویدوں کی توہین کرنے والا کافر قرار دیا گیا ہے اور اسے تباہ و برباد کرنے، قتل کرنے اور جلاوطن کر دینے کا حکم ہے۔ بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ کے مجسمہ کی توہین پر سزائے موت کا قانون موجود ہے۔ برطانیہ میں صرف مسیحی مذہب اور اس کے بھی صرف اینگلیکن مسیحی فرقہ کی توہین جرم ہے۔ یورپ میں توہینِ مسیح، توہینِ تثلیث اور توہینِ مذہب پر سزائے موت رہی ہے۔ لیکن جب انہوں نے مذہب کو اپنا اجتماعی مسئلہ کے بجائے ذاتی معاملہ بنا لیا اور مذہب کو چرچ تک محدود کر دیا تو اس کے اثرات مذہب کے ساتھ ان کے اجتماعی رویے پر بھی پڑے۔ اب فرد کی آزادی ہر چیز پر حاوی ہے۔ لہٰذا جن چیزوں کی حرمت کو سب سے زیادہ اہم گردانتے ہوئے اس کی توہین پر سب سے زیادہ سخت سزا رکھی تھی۔ وہ سزا بھی مذہب سے تعلق میں کمزوری کے باعث کمزور اور کم ہوتی چلی گئی۔ کئی قوانین میں ریاست سے غداری کی سزا موت ہے۔ کہیں سربراہ مملکت کی توہین اور ریاست کے آئین کی توہین پر سزائے موت رکھی گئی ہے۔ ہتک عزت کو قابل تعزیر جرم بنایا گیا ہے۔
مقاصد
عقائد میں صلابت اور پختگی کو فروغ دیا جاسکے۔
رحمتِ الٰہی کی دولتِ لازوال نصیب ہو سکے۔
بدعت اور رسومِ باطلہ کا قلع قمع کیا جاسکے۔
فریضہ دعوت و تبلیغ صحیح نہج پر ادا کیا جاسکے۔
سب و شتم اور گالی گلوچ کا سدباب کیا جاسکے۔
کفر و ارتداد کے مہلک مرض سے محفوظ رہا جاسکے۔
باطنی و ظاہری فتنوں کا سدباب کیا جاسکے۔
ہر قسم کے زوال کا سدباب کیا جاسکے۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے ماہنامہ ضیائے حرم کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔
فون: 4041001-0321
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
جیسا کہ اس مضمون کے شروع میں مدلل بیان کیا گیا کہ مسلمانوں کے ہاں ان کے پیغمبر ﷺ تمام چیزوں سے زیادہ انہیں عزیز و محبوب ہیں۔ ان کی عزت و حرمت کے مقابلے میں کسی دوسری چیز کی عزت و حرمت ہیچ ہے۔ اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حرمت سب سے زیادہ ہے اس لیے اسلامی قانون میں آپ ﷺ کی اہانت کے جرم پر سزائے موت مقرر ہے۔
حواشی و حوالہ جات
- 1) ۔ صحیح بخاری، كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ، بَاب كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ج 3، ص 569، مكتبة
تعمیر انسانیت، اردو بازار لاہور 1980ء
- 2) ۔ صحیح بخاری، كِتَاب الْإِيمَان، بَاب حُبُّ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْإِيمَانِ، ج 3، ص 569، مكتبة تعمیر
انسانیت، اردو بازار لاہور 1980ء
- 3) ۔ سنن نسائی، كِتَاب الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ، بَاب عَلَامَةُ الْإِيمَانِ، ج 3، ص 361، دار الاشاعت اردو بازار کراچی
- 4) ۔ ترمذی، أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ج 2،
ص 636، نعمانی کتب خانہ اردو بازار لاہور 1988ء
- 5) ۔ ستیارتھ پرکاش از رشی دیانند، مترجم چموپتی ایم اے پرکاشک، صفحہ 297، مہاشہ کرشن آریہ پرتی ندھی سبھا پنجاب گوردت بھون
لاہور، تیرہواں ایڈیشن 1946ء ۔ سوامی دیانند اور ان کی تعلیم از خواجہ غلام الحسنین پانی پتی، صفحہ 213، اور اورینٹل لائبریری پانی پت 1932ء (بحوالہ منوسمرتی ادھیائے 2۔ شلوک 11
- 6) ۔ سوامی دیانند اور ان کی تعلیم از خواجہ غلام الحسنین پانی پتی، صفحہ 213
- 7) ۔ سوامی دیانند اور ان کی تعلیم از خواجہ غلام الحسنین پانی پتی، صفحہ 214
- 8) ۔ ستیارتھ پرکاش از رشی دیانند، صفحہ 250
- 9) ۔ سوامی دیانند اور ان کی تعلیم از خواجہ غلام الحسنین پانی پتی، صفحہ 216
- 10) ۔ سوامی دیانند اور ان کی تعلیم از خواجہ غلام الحسنین پانی پتی، صفحہ 217
- 11) ۔ سوامی دیانند اور ان کی تعلیم از خواجہ غلام الحسنین پانی پتی، صفحہ 217
- Khursheed Warsi, "The Hidden Enemies of India: the devils indisguies", -(12
Warsi Publications 1124, P.I.B. Colony, Kharachi 1994
- Khursheed Warsi, "The Hidden Enemies of India: the devils indisguies" page 19 -(13
- 14) ۔ منوسمرتی 8: 282
- 15) ۔ روزنامہ جنگ لاہور 6-4-1990ء
- Halsbury's Laws of England, Butterwords London 1975, 4th ed. Vol. 11, Page 576 -(16
- - The Everyman Encyclopedia, edited by Andrew Boyle, London: Published by -(17
J.M.Dent. and Sons Ltd. And in New York by E.P. Dutton & Co. Jan. 1993, Vol, Page 406
- 18) ۔ حوالہ بالا
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد
l.II, Page 577 -(19
20) ۔ حوالہ بالا
21) ۔ روزنامہ جسارت کراچی 7
bad, 10-4-1990 -(22
nal, Feb. 1989 -(23
ational Edition. -(24
2, Page 276
ol.14, Page 163 -(25
26) ۔ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے
27) ۔ حوالہ بالا، صفحات 264
l. 2, Page 241 -(28
29) ۔ روح اسلام از سید امیر ع
l. 2, Page 241 -(30
31) ۔ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے
of Religion -(32
.2, Page 671
.2, Page 241 -(33
. 2, Page 241 -(34
York: Vol.2, -(35
Page 671
2, Page 671 -(36
05. Page 36 -(37
38) ۔ مطالعہ تاریخ از ٹائن
صفحہ 44
2, Page 242 -(39
40) ۔ المذاہب، محمد اسلم را
l, Page 576 -(41
l, Page 407 -(42
1, Page 407 -(43
Britannica. -(44
2, Page 276
, Page 671 -(45
, Page 671 -(46
, Page 242 -(47
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء [341] تحفظ ناموس رسالت نمبر
19)- Halsbury's Laws of England, Vol.II, Page 577
20)- حوالہ بالا
21)- روزنامہ جسارت کراچی 17-3-1989ء
22)- Daily "Muslim" Islamabad, 10-4-1990
23)- Time International, Feb. 1989
24)- The Encyclopedia of America. Grolier Incorporated 1987. International Edition.
Vol.2, Page 276
25)- Halsbury's Laws of England, Vol.14, Page 163
26)- انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر از ابوالحسن علی ندوی، صفحہ 261
27)- حوالہ بالا، صفحات 264 - 265
28)- The Encyclopedia of Religion. Vol. 2, Page 241
29)- روح اسلام از سید امیر علی، صفحہ 581
30)- The Encycloledia of Religion. Vol. 2, Page 241
31)- انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر از ابوالحسن علی ندوی، صفحہ 265
32)- The Encycloledia of Religion. Vol. 2, Page 241. Encyclopedia of Religion
and Ethics. Charles Scribner's Sons. New York: Vol.2, Page 671
33)- The Encycloledia of Religion. Vol. 2, Page 241
34)- The Encycloledia of Religion. Vol. 2, Page 241
35)- Encyclopedia of Religion and Ethics. Charles Scribner's Sons. New York: Vol.2,
Page 671
36)- Encyclopedia of Religion and Ethics, : Vol.2, Page 671
37)- Twentieth Century Encyclopedia, 1905. Page 36
38)- مطالعہ تاریخ از ٹائن بی، جے آرنلڈ، تلخیص ڈی سی سومر ویل، مترجم غلام رسول مہر، مجلس ترقی ادب 2 کلب روڈ لاہور، حصہ دوم،
صفحہ 44
39)- The Encyclopedia of Religion. Vol. 2, Page 242
40)- المذاہب، محمد اسلم رانا، ملک پارک شاہدرہ لاہور، شمارہ: اگست 1993ء، صفحہ 16
41)- Halsbury's Laws of England. Vol. 1, Page 576
42)- The Everyman Encyclopedia Vol. 1, Page 407
43)- The Everyman Encyclopedia Vol. 1, Page 407
44)- Twentieth Century Encyclopedia. Page 361. The New Encyclopedia Britannica.
Vol. 2, Page 276
45)- Encyclopedia of Religion and Ethics. Vol. 2, Page 671
46)- Encyclopedia of Religion and Ethics. Vol. 2, Page 671
47)- The Encyclopedia of Religion. Vol. 2, Page 242
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد، لاہور مارچ، اپریل ۲۰۱۱ء 342 تحفظ ناموس رسالت نمبر
The Encyclopedia of Religion. Vol. 2, Page 242 -(48
An American Legal Almanac. Oceana Publications Dobbs Ferry, New York -(49 1978, Page 353
50)- روزنامہ نوائے وقت لاہور 23-3-2011ء
51)- المذاہب، محمد اسلم رانا، ملک پارک شاہدرہ لاہور، شمارہ: اگست 1993ء صفحہ 16۔ Daily "The Muslim" Islamabad. 16-2-1990
52)- روزنامہ جنگ لاہور 11-9-1990ء کالم "مشاہدات و تاثرات" از کوثر نیازی
53)- روزنامہ نوائے وقت لاہور 10-3-1993
54)- روزنامہ نوائے وقت لاہور 3-3-1993
55)- ہفت روزہ "تکبیر" کراچی 20 جولائی 1989ء 13-5-1989 Daily Newspaper Toranto Star
A Dictionary of Criminology. Routledgd & Kegan Paul, London. Page 225, -(56
A Consise Dictionary of Law. Oxford University Press 1984. Page 370
The Everyman Encyclopedia. JM Dent & Sons Ltd. London: Melbourne -(57 Tronoto, 1978. Vol. 12, Page 30
Halsbury's Laws of England. Vol. 8, Page 581, Vol. 11, Page 478, Treason -(58 Act 1814
59)- روزنامہ نوائے وقت لاہور 12-7-1995
Peaslee, Constitutions of Nations. Vol. 3, Pages 659, 848, 915 -(60
Peaslee, Constitutions of Nations. Vol. 3, Page 812 -(61
Halsbury's Laws of England. Vol. 37, Page 697 -(62
Encyclopedia of American Constitution. Mc Millan Publishing Company, -(63 New York, 1986. Vol. 1, Page 493
PLD 1973 Lahore 27, DLD 1973 Lahore 37 -(64)
Halsbury's Laws of England. Vol. 28, Page 22 - (65
Halsbury's Laws of England. Vol. 28, Page 5 -(66
Halsbury's Laws of England. Vol. 28, Page 138 -(67
Srivastare, A.S. Justice. Laws of Defamation and Malacious Prosecution. -(68 Law Publishing Allahabad India, 3rd Ed. 1987, Page 11
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہ
اہانت ح
بائبل کے
موضوع کا تعارف
مسلمانوں اور مسیحیو عزت، شان اور مقام کے ب معاشرے کا یہ بہت حساس م بارے میں اُن کے تصورات پر چلایا جاسکے۔ اس سلسلے میں بائبل میں توہین اور گستاخی کا والے کون تھے؟ بائبل میں ایک جیسی ہے یا مختلف؟ زی کسی بھی محقق نے اس موضو لانے سے گریز کیا گیا ہے عبارات کے مطالعے تک مح اہانت یا توہین اور عیسائیت میں طویل عرصہ ت Blasphemy اور !؟ Blasphemous ہوئے ہیں۔ یہ اس کے م میں سے بارہ کتابوں میں Blasphemy اردو زبان میں گا لیکچرار شعبہ تقابل ادیا *
Monthly Vol 19 No.3
مقاصد
- معیاری اسلامی صحافت کو فروغ دیا جاسکے۔
- رضائے الہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
- فریضہ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہوسکے۔
- وحدت امت کو قائم رکھا جاسکے۔
- سنت اور حدیث کی تبلیغ کی جاسکے۔
- کفر و الحاد پر چھایا جاسکے۔
- باطل کی یلغار سے محفوظ رہا جاسکے۔
- دجال کا سدباب کیا جاسکے۔
دین کی اشاعت کا فریضہ احسن طریقہ پر سرانجام دیا جاسکے۔ دفتر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد فون: 4041991-0321
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
خورشید احمد سعیدی *
اہانتِ خدا اور توہینِ رسالت
بائبل کے تصورِ توہین اور اس کی سزا کا
ایک تجزیاتی مطالعہ
موضوع کا تعارف
مسلمانوں اور مسیحیوں کے ہاں جس طرح خدا اور انبیاء کا ایک خاص تصور اور عقیدہ پایا جاتا ہے اسی طرح اُن کی عزت، شان اور مقام کے ساتھ ساتھ اُن کی اہانت یا اُن کی شان میں گستاخی کا بھی ایک خاص تصور ملتا ہے۔ مسلم مسیحی معاشرے کا یہ بہت حساس موضوع ہے۔ جب معاشرے میں مسلمان اور مسیحی اکٹھے رہ رہے ہوں تو زیرِ نظر موضوع کے بارے میں اُن کے تصورات کو سمجھنا بہت اہم ہو جاتا ہے تا کہ روزمرہ کی زندگی میں تعلقات اور معاملات کو پُر امن بنیادوں پر چلایا جا سکے۔ اس سلسلے میں جو سوالات مسلم عوام عموماً کرتے ہیں اُن میں سے چند یہ بھی ہیں: مسیحیوں کی مذہبی کتاب بائبل میں توہین اور گستاخی کا کیا تصور پایا جاتا ہے؟ بائبل میں کس کس کی توہین یا گستاخی مذکور ہے؟ توہین یا گستاخی کرنے والے کون تھے؟ بائبل میں اہانت یا گستاخی کی کیا سزا بتائی گئی ہے؟ کیا بائبل کے عہد نامہ قدیم اور جدید میں توہین کی سزا ایک جیسی ہے یا مختلف؟ زیرِ نظر مقالہ انہی سوالات سے بحث کرتا ہے کیونکہ اُردو کتب کے مطالعے سے یہ واضح ہوا ہے کہ کسی بھی محقق نے اس موضوع پر بائبل کا تفصیلی مطالعہ پیش نہیں کیا۔ اس مقالہ میں یہودی یا مسیحی مفکرین کی آراء کو زیرِ بحث لانے سے گریز کیا گیا ہے۔ گویا یہ مقالہ صرف بائبل بالخصوص پروٹسٹنٹ مسیحیوں کی ”کتابِ مقدس“ کے بیانات اور عبارات کے مطالعے تک محدود ہے۔
اہانت یا توہین اور گستاخی کے لیے انگریزی زبان میں لفظ Blasphemy استعمال کیا جاتا ہے۔ دُنیائے عیسائیت میں طویل عرصہ تک مستند (Authorized) سمجھی جانے والی انگریزی بائبل کنگ جیمز ورژن (KJV) میں Blasphemy اور اِس سے ملتے جلتے الفاظ مثلاً Blaspheme, Blasphemed, Blasphemer, Blasphemest, Blasphemies, Blaspheming, Blasphemous وغیرہ کثرت سے استعمال ہوئے ہیں۔ یہ اس کے عہد نامہ قدیم کی انتالیس میں سے آٹھ کتابوں میں تقریباً اٹھارہ بار جبکہ عہد نامہ جدید کی ستائیس میں سے بارہ کتابوں میں غالباً پینتیس بار پایا جاتا ہے۔[1]
Blasphemy کے لغوی معانی:
اردو زبان میں کنگ جیمز بائبل میں استعمال کیے گئے اِن الفاظ کے کیا معانی ہیں؟ پاکستان کے عیسائی لغت
* لیکچرار شعبہ تقابلِ ادیان، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد <khursheedsaeedi2010@gmail.com>
م ق ا ص د
مندرجہ بالا مساعی کو فروغ دیا جاسکے۔ رحمت الہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔ فریضہ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہوسکے۔ وحدت امت مرحومہ کو قائم رکھا جاسکے۔ پُر وقار اور باحیثیت کی سطح پر پہنچایا جاسکے۔ کو ملک کے طول و عرض میں محفوظ بنایا جاسکے۔ لادینیت و دجالیت و یہودیت کا سدباب کیا جاسکے۔ امت کے زوال کا سدباب کیا جاسکے۔ ان تمام مقاصد کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔ ایوان طارق گرافکس، سرکلر روڈ، گوجرانوالہ فون: 0321-4041991
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور، مارچ، اپریل 2011ء 344 تحفظ ناموس رسالت نمبر
نویسوں نے کرسچن سٹڈی سنٹر راولپنڈی سے ایک انگلش اردو ڈکشنری آف کرسچن ٹرمینالوجی ۱۹۷۶ء میں شائع کی تھی ۔ تقریباً پچیس سال بعد اُسی اردو انگلش ڈکشنری پر نظرثانی کی گئی اور اسے کمپیوٹر کمپوزنگ سے مزین کر کے ۲۰۰۱ء میں دوبارہ کرسچن سٹڈی سنٹر سے ہی شائع کیا گیا ۔ اس نظرثانی شدہ ایڈیشن میں مذکورہ الفاظ کے معانی میں کچھ اضافہ بھی کیا گیا [۲] ۔ انہیں درج ذیل جدول میں ملاحظہ فرمائیے:
اضافوں کے ساتھ اردو معانی (۲۰۰۱ء میں) اردو معانی (۱۹۷۶ء میں) انگریزی الفاظ کفر بکنا، گستاخی کرنا کفر بکنا Blaspheme کافر، کفر بکنے والا، گستاخ کافر، کفر بکنے والا Blasphemer کافرانہ کافرانہ Blasphemous کافرانہ طور پر کافرانہ طور پر Blasphemously کفر، مذمت دین، گستاخیٔ دین کفر، مذمت دین Blasphemy
آگے بڑھنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ ہم پاکستان کے مسلمان لغت نویسوں کے ہاں بھی ان الفاظ کے معانی ملاحظہ کر لیں۔ قومی انگریزی اردو لغت میں مذکورہ الفاظ کے معانی یہ لکھے گئے ہیں ۔ [۳] :
کلمۂ کفر کہنا، خدا یا مقدس چیزوں کے لیے بے ادبی کے الفاظ استعمال کرنا؛ عام طور پر برائی کرنا؛ کلمہ کفر بکنا؛ مذمت کرنا؛ بے حرمتی کرنا؛ جھٹلانا؛ تکذیب کرنا؛ منہ سے ناپاک الفاظ نکالنا؛ گستاخی سے بولنا؛ نازیبا الفاظ بولنا Blaspheme کفر بکنے والا ؛ مُلحد ؛ بے دین ؛ بے ادب Blasphemer کفریہ ؛ گستاخانہ ؛ مُلحدانہ ؛ بے ادبانہ ؛ کفریہ/ بے حرمتی کے (کلمات) Blasphemous کلمۂ کفر ؛ کفر کا ارتکاب ؛ خدائی طاقتوں کا دعوی ؛ مذمت دین Blasphemy
ان معانی سے واضح ہو جاتا ہے کہ Blasphemy اور اس سے بننے والے دوسرے الفاظ کے معانی اور اُن کا مجموعی تصور عیسائی اور مسلمان لغت نویسوں کے ہاں یکساں نہیں ہے۔ یہ فرق صرف لغت نویسوں تک محدود نہیں ہے بلکہ عیسائی اور مسلم علماء اور ان کے پیروکاروں کے ہاں بھی یہ فرق مشاہدہ سے محسوس کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ جب بھی تحقیقی انداز میں بات کرتے ہیں تو بحث لغوی معانی سے شروع ہوتی ہے۔ دوسری یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عیسائی لغت نویسوں نے پچیس سال بعد Blasphemy کے معانی میں صرف ’گستاخی کرنا، گستاخ اور گستاخیٔ دین‘ کا اضافہ کیا۔ انہوں نے اُن معانی کو شامل نہیں کیا جو ’قومی انگریزی اردو لغت‘ میں درج کیے گئے ہیں۔ اس لغت کا پہلا ایڈیشن ۱۹۹۲ء میں اور چوتھا ۱۹۹۹ء میں شائع ہو چکا تھا اور اغلب یہ ہے کہ یہ انگلش اردو ڈکشنری آف کرسچن ٹرمینالوجی پر نظرثانی کرنے والی کمیٹی
ماہنامہ ضیائے حرم کے سامنے بھی تھا۔ لغوی تعلقات میں اس بنیاد پر مندرجہ بالا سطور میں جانے والا فرق ملاحظہ کریں پاکستان میں پروٹسٹنٹ مقدس (١٩٥٨ء) ‘‘ ” استعمال کیے ہیں ان میں لعنت، توہین، تکبر اور حسب ضرورت کبھی ان تقریباً یکساں الفاظ برا، بدگو، کفر گو اور لعن طعن عہد نامہ قدیم قدیم میں phemy کے الفاظ کو اختیار کیا گیا خلاف کرنا کے الفاظ اردو ڈکشنری آف کرسچن بالترتیب ١٩٣٠ء اور ١٩٧٦ء ثانی کرتے وقت اس بات اردو تراجم میں استعمال
بائبل میں توہین رسالت
لغات میں توہین ذہن میں پیدا ہو سکتے ہیں کے جوابات کے لیے ان
- ١۔ ’’جو شخص بے
کاٹ ڈالا جائے
- ٢۔ اگر کوئی شخص اس
ہی سزا کا مستحق
مقاصد
- مسلمانوں میں عقیدہ ختم نبوت کا شعور بیدار کیا جاسکے۔
- عشق نبی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
- فریضہ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برا ہوا جاسکے۔
- سنت متروکہ کو عام کیا جاسکے۔
- عقائد باطلہ کی بیخ کنی کی جاسکے۔
- گمراہوں کو راہ راست دکھایا جاسکے۔
- ارتداد کے مہلک مرض سے محفوظ رہا جاسکے۔
- اخلاقی زوال کا سدباب کیا جاسکے۔
- نبی ﷺ کی شفاعت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
رابطہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (رجسٹرڈ) پاکستان۔ موبائل نمبر 03214041991
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور' مارچ' اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
نری آف کرسچن ٹرمینالوجی ۱۹۷۶ء میں شائع کی اور اسے کمپیوٹر کمپوزنگ سے مزین کر کے ۲۰۰۱ء میں مذکورہ الفاظ کے معانی میں کچھ اضافہ بھی کیا
لفظوں کے ساتھ اردو معانی (۲۰۰۱ء میں) یا، گستاخی کرنا کرنے والا، گستاخ طور پر اہانت دین، گستاخی دین
ڈکشنریوں کے ہاں بھی ان الفاظ کے معانی ملاحظہ فرمائیں:۔ [۴]
Blaspheme کرنا، عام طور پر منہ سے ناپاک Blasphemer Blasphemous Blasphemy
بنے والے دوسرے الفاظ کے معانی اور اُن رق صرف لغت نویسوں تک محدود نہیں ہے بلکہ وس کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ جب بھی تحقیقی انداز ت واضح ہوتی ہے کہ عیسائی لغت نویسوں نے اور گستاخی دین کا اضافہ کیا۔ انہوں نے اُن ۔ اس لغت کا پہلا ایڈیشن ۱۹۹۲ء میں اور کرسچن ٹرمینالوجی پر نظر ثانی کرنے والی کمیٹی
کے سامنے بھی تھا۔ لغوی معانی کا یہ فرق اہانت کے تصور میں اُن کے باہمی عدم اتفاق کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لئے عیسائی مسلم تعلقات میں اس بنیادی فرق کو مد نظر رکھنا فریقین کے لیے بہت ضروری ہے۔
مندرجہ بالا سطور میں آپ نے لغات اور لغت نویسوں کے درمیان Blasphemy وغیرہ الفاظ کے معانی میں پایا جانے والا فرق ملاحظہ کیا۔ اب آیئے دیکھیں کہ معروف اردو بائبلوں میں ہمارے زیر غور اصطلاح کے معانی کیا ہیں؟ پاکستان میں پروٹسٹنٹ عیسائیوں کی اردو بائبل ”کتاب مقدس (۱۹۳۰ء)“ جبکہ کیتھولک عیسائیوں کی اردو بائبل ”کلام مقدس (۱۹۵۸ء)“ معروف اردو بائبلیں ہیں۔ جن ورسوں میں انگریزی بائبل کنگ جیمز نے Blasphemy وغیرہ استعمال کیے ہیں ان میں اگر ہم غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ ”کتاب مقدس“ کے عہد نامہ قدیم میں اُن الفاظ کا ترجمہ ’کفر، لعنت، توہین، تکفیر اور حقارت‘ جبکہ ”کلام مقدس“ میں ’کفر، حقارت، اہانت، کفر گوئی، تکفیر اور ملامت‘ کیا گیا ہے۔ یہ الفاظ حسب ضرورت کبھی اسم اور کبھی فعل کی شکل میں لائے گئے۔ عہد نامہ جدید کے معاملے میں ان دونوں اردو بائبلوں نے تقریباً یکساں الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہ الفاظ ’کفر بکنا، کفر گوئی، باتیں خلاف کرنا، کفر کہلوانا، تکفیر ہونا، بد گوئی، بد نام، برا، بدگو، کفر گو اور لعن طعن‘ ہیں۔ البتہ بعض جگہ ان دونوں نے Blasphemy وغیرہ لفظ کا ترجمہ چھوڑ بھی دیا ہے۔ [۳]
عہد نامہ قدیم اور جدید میں پائی جانے والی اُن ورسوں کے مطالعے سے ایک یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عہد نامہ قدیم میں Blasphemy اور اس کے ہم مصدر الفاظ کا اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے توہین، اہانت، حقارت اور ملامت کے الفاظ کو اختیار کیا گیا مگر عہد نامہ جدید میں نہیں۔ اسی حوالے سے اگر چہ عہد نامہ جدید میں بدنامی، بد گوئی اور باتیں خلاف کرنا کے الفاظ کو لایا گیا مگر انہیں عہد نامہ قدیم میں نہیں لایا گیا۔ دوسری یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اگرچہ انگلش اردو ڈکشنری آف کرسچن ٹرمینالوجی کے ۱۹۷۶ء میں پہلی بار شائع ہونے سے بہت پہلے دونوں اردو بائبلیں بالترتیب ۱۹۳۰ء اور ۱۹۵۸ء میں وجود میں آچکی تھیں مگر عیسائی لغت نویسوں نے نہ تو ۱۹۷۶ء میں اور نہ ہی ۲۰۰۱ء میں نظر ثانی کرتے وقت اس لغت میں Blasphemy وغیرہ الفاظ کے اُن معانی کا لحاظ رکھا جنہیں اُن کے ماہرین بائبل کے اردو تراجم میں استعمال کر چکے تھے۔
بائبل میں توہین کا مفہوم:
لغات میں توہین کے معانی کا جائزہ لینے کے بعد اب بائبل میں توہین کے مفہوم کا جائزہ لیتے ہیں کیونکہ یہ سوالات ذہن میں پیدا ہو سکتے ہیں کہ بائبل کی اصطلاح میں اہانت یا توہین کسے کہتے ہیں؟ یہ کیسے ہوتی ہے؟ اس طرح کے سوالوں کے جوابات کے لیے جب ہم اردو ”کتاب مقدس“ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں درج ذیل عبارات ملتی ہیں۔
- ۱۔ ”جو شخص بے باک ہو کر گناہ کرے خواہ دیسی ہو یا پردیسی وہ خداوند کی اہانت کرتا ہے۔ وہ شخص اپنے لوگوں میں سے
کاٹ ڈالا جائے گا کیونکہ اُس نے خداوند کے کلام کی حقارت کی اور اُس کے حکم کو توڑ ڈالا۔“ [۵]
- ۲۔ اگر کوئی متکبر شخص یہ کہے کہ ”جیسے اور ملکوں کی قوموں کے معبودوں نے اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے نہیں بچایا ویسے
ہی حزقیاہ کا معبود بھی اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکے گا۔“ تو اس نے خداوند اسرائیل کے خدا کی اہانت
مقاصد
عقائد اسلامی کی حفاظت کو فروغ دیا جاسکے۔
وحدتِ امت کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
نفرت، عصبیت اور کدورت کو ختم کیا جاسکے۔
فریضہ دعوت و تبلیغ کو عام کیا جاسکے۔
الحاد و جدیدیت کی بیخ کنی کی جاسکے۔
بدعات و انکار حدیث کے رجحانات کا قلع قمع کیا جاسکے۔
کفر و ارتداد کے سیلاب کو روکا جاسکے۔
اخلاقی زوال کا سدباب کیا جاسکے۔
مغربی ثقافتی یلغار کا منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔
رابطہ: حافظ محمد عقیل انجم 03214041991
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
کی اور اُس کے حق میں کفر بکا۔ [۶]
- ۳۔ اگر کوئی شریر اپنے دل میں یہ کہے کہ خدا اُس سے اُس کی شرارتوں کی باز پرس نہ کرے گا اور اُس سے انتقام نہیں لے گا تو وہ اپنے اِس قول سے خدا کی اہانت کرتا ہے۔ [۷]
- ۴۔ جو شخص کسی مسکین و غریب پر ظلم کرے وہ خدا کی اہانت کرتا ہے۔ وہ اپنے اِس عمل سے خدا کی ملامت کرتا ہے۔ [۸]
- ۵۔ موجودہ توراۃ کی کتاب گنتی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ ”تو آدمیوں کو بھیج کہ وہ ملک کنعان کا جو میں بنی اسرائیل کو دیتا ہوں حال دریافت کریں۔ اُن کے باپ دادا کے ہر قبیلہ سے ایک آدمی بھیجنا جو اُن کے ہاں رئیس ہو۔ چنانچہ موسیٰ نے خداوند کے ارشاد کے موافق دشتِ فاران سے ایسے آدمی روانہ کیے جو بنی اسرائیل کے سردار تھے۔“ یہ منتخب لوگ ملک کنعان میں گئے اور واپس آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رپورٹ دی کہ ”جس ملک میں تو نے ہم کو بھیجا تھا ہم وہاں گئے اور واقعی دودھ اور شہد اُس میں بہتا ہے۔“ اِس کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ وہاں کے لوگ بہت زور آور ہیں اور ان کے شہروں کے گرد مضبوط فصیلیں ہیں۔ یہ سُن کر ”کالب نے موسیٰ کے سامنے لوگوں کو چپ کرایا اور کہا کہ چلو ہم ایک دم جاکر اُس پر قبضہ کریں کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اُس پر تصرف کر لیں۔ لیکن اور آدمی جو اس کے ساتھ گئے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم اس لائق نہیں کہ اُن لوگوں پر حملہ کریں کیونکہ وہ ہم سے زیادہ زور آور ہیں۔“ اس طرح کی باتیں سُن کر ”ساری یہودی جماعت زور زور سے چیخنے لگی اور وہ لوگ اُس رات روتے ہی رہے اور کل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت کرنے لگے اور ساری جماعت ان سے کہنے لگی ہائے کاش ہم مصر ہی میں مر جاتے! یا کاش اس بیابان میں ہی مرتے! خداوند کیوں ہم کو اس ملک میں لے جاکر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے۔ کیا ہمارے لئے بہتر نہ ہوگا کہ ہم مصر کو واپس چلے جائیں؟ پھر وہ آپس میں کہنے لگے آؤ ہم کسی کو اپنا سردار بنالیں اور مصر کو لوٹ چلیں۔“ گنتی کا مصنف کہتا ہے کہ خدا نے بنی اسرائیل کے اس عمل کو اپنی توہین قرار دیا۔ [۹]
- ۶۔ عہد نامہ قدیم کی آخری کتاب ملاکی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ملاکی نبی کے ذریعے فرمایا کہ ”اے میرے نام کی تحقیر کرنے والے کاہنو! بیٹا اپنے باپ کی اور نوکر اپنے آقا کی تعظیم کرتا ہے۔ پس اگر میں باپ ہوں تو میری عزت کہاں ہے؟ اور اگر آقا ہوں تو میرا خوف کہاں ہے؟ پر تم کہتے ہو ہم نے کس بات میں تیرے نام کی تحقیر کی؟ تم میرے مذبح پر ناپاک روٹی گذرانتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم نے کس بات میں تیری توہین کی؟ اسی میں جو کہتے ہو خداوند کی میز حقیر ہے۔“[۱۰]
کتاب مقدس کی متعلقہ ورسوں کا تجزیہ:
اب ہم کتاب مقدس کی اُن ورسوں کا تفصیل سے مطالعہ کرتے ہیں جن میں Blasphemy وغیرہ کے متبادل اردو الفاظ استعمال ہوئے ہیں تاکہ اہانت، توہین یا گستاخی کا تصور اور اس کی سزا سیاق کی مدد سے واضح ہو کر سامنے آجائے۔ کتاب احبار ۲۴:۱۱۔۱۶ میں سلومیت (Shelomith) نامی ایک ایسی اسرائیلی عورت کے بیٹے کا ذکر ہے جس کا باپ مصری تھا۔ وہ لڑکا ایک دن اسرائیلیوں کی لشکر گاہ میں گیا تو اس کی ایک اسرائیلی سے لڑائی ہو گئی۔ وہ ایک دوسرے کو
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور مارچ
مارنے پیٹنے لگے۔ اسی لڑائی کے دوران ا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس لے گ کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ حضرت موسیٰ ن لے جا کر وہ لوگ اسے سنگسار کر دیں جنہوں بھی خدا پر لعنت کرے اور کفر بکے تو اسے س ہوا کہ خدا کا نام بے ادبی سے لینا خدا کی ت حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ک تھا۔ عیسائی مصنفین اسے ناتن نبی کے ن اور ناتن نبی کے درمیان ایک گفتگو درج داؤد پر کی تھیں۔ مثلاً انہیں اسرائیل کا ب ملیں، وغیرہ۔ عیسائی مصنفین کے مطا ”ملامت کی“[۱۲]۔ اور کہا کہ ”چونکہ تو ن جو تجھ سے پیدا ہوگا مرجائے گا۔“
اگرچہ مسلمان علماء کے نزدیک ی اوریاہ (Uriah) کو قتل کروا کر اس کی ب پھر بھی اس سے بائبل کے تصور اہانت ک بکنے کو موقع ملے، خدا کی شان میں گستاخی ک
۱۔سلاطین باب اکیس میں یزرعیل نام انگوروں کا ایک باغ تھا۔ یہ باغ وہاں ک اسے مل جائے تاکہ وہ اسے سبزی ترکار دیتا ہوں اور یہ مجھے دے دو لیکن وہ ن میں لیٹ گیا اور کھانا بھی چھوڑ دیا مگر ا بندھائی اور وعدہ کیا کہ وہ باغ اسے دلوا د دو شریر آدمیوں کو نبوت کے خلاف جھوٹی گ ”شہر سے باہر نکال لے گئے اور اس کو ایس اس جگہ خدا اور بادشاہ پر لعنت کر ن بھی معلوم ہو گیا کہ اس دور کے لوگوں کو
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور ' مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
مارنے پیٹنے لگے۔ اسی لڑائی کے دوران سلومیت کے بیٹے نے پاک نام پر کفر بکا اور لعنت کی۔ لوگوں نے سُنا تو اسے پکڑ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس لے گئے۔ ان کے حکم پر اس لڑکے کو حوالات میں قید کر دیا گیا تا کہ اللہ سے جو حکم ملے اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے تو یہ حکم ملا کہ اس لڑکے کو لشکر گاہ سے باہر لے جا کر وہ لوگ اسے سنگسار کر دیں جنہوں نے اسے کفر بکتے سُنا تھا۔ اسی موقع پر یہ حکم جاری ہوا کہ دیسی یا پردیسی جو شخص بھی خدا پر لعنت کرے اور کفر بکے تو اسے ضرور جان سے مار دیا جائے۔ ساری جماعت اسے سنگسار کر دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کا نام بے ادبی سے لینا خدا کی توہین ہے اور اس کی شان میں گستاخی ہے۔
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے دور میں شاہی دربار کا ایک کاہن تھا جس کا نام ناتن (Nathan) تھا۔ عیسائی مصنفین اسے ناتن نبی کے نام سے بھی ذکر کرتے ہیں [۱۱]۔ ۲۔ سموئیل ۱۲: ۷۔۱۴ میں حضرت داؤد علیہ السلام اور ناتن نبی کے درمیان ایک گفتگو درج کی گئی ہے۔ اس گفتگو میں ناتن اُن نعمتوں کا ذکر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد پر کی تھیں۔ مثلاً انہیں اسرائیل کا بادشاہ بنایا، ان سے پہلے اسرائیل کا جو بادشاہ ساؤل تھا اُس کا گھر اور بیویاں انہیں ملیں، وغیرہ۔ عیسائی مصنفین کے مطابق اس ناتن نے ان لفظوں میں حتی اُوریاہ کی بیوی کا ذکر کر کے حضرت داؤد کو ”ملامت کی“ [۱۲]۔ اور کہا کہ ”چونکہ تو نے اس کام سے خداوند کے دشمنوں کو کفر بکنے کا بڑا موقع دیا ہے اس لئے وہ لڑکا بھی جو تجھ سے پیدا ہو گا مر جائے گا“۔
اگرچہ مسلمان علماء کے نزدیک بائبل کا یہ بیان خرافات، جھوٹ اور باطل ہے جس میں حضرت داؤد علیہ السلام پر حتی اوریاہ (Uriah) کو قتل کروا کر اس کی بیوی بت سبع (Bath Sheba) کو اپنی بیوی بنا لینے کا الزام لگایا گیا ہے [۱۳]۔ پھر بھی اس سے بائبل کے تصور اہانتِ خدا کا ایک پہلو معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایسا کام جس سے خدا کے دشمنوں کو کفر بکنے کو موقع ملے، خدا کی شان میں گستاخی ہے۔
۱۔سلاطین باب اکیس میں یزرعیل نام کے ایک شہر کا ذکر ہے۔ نبوت (Naboth) نام کے ایک شخص کا اُس شہر میں انگوروں کا ایک باغ تھا۔ یہ باغ وہاں کے بادشاہ اخی اب (Ahab) کے محل سے متصل تھا۔ بادشاہ چاہتا تھا کہ یہ باغ اسے مل جائے تا کہ وہ اسے سبزی ترکاری کا باغ بنالے۔ اس نے اخی اب سے کہا کہ میں تمہیں اس کے بدلے میں بہتر باغ دیتا ہوں اور یہ مجھے دے دو لیکن وہ نہ مانا کیونکہ وہ باغ اس کے باپ دادا کی میراث تھا۔ بادشاہ اداس ہو کر اپنے گھر میں لیٹ گیا اور کھانا بھی چھوڑ دیا مگر اس کی بیوی ایزابل کو اس بات کا علم ہوا تو اُس نے اپنے خاوند بادشاہ کی ڈھارس بندھائی اور وعدہ کیا کہ وہ باغ اُسے دلوا دے گی۔ پھر اُس نے مکاری سے شہر کے اُمراء وشُرفاء کو اپنے ساتھ ملایا اور شہر کے دو شریر آدمیوں کو نبوت کے خلاف جھوٹی گواہی دلوادی کہ اس نے ”خدا پر اور بادشاہ پر لعنت کی“۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ نبوت کو ”شہر سے باہر نکال لے گئے اور اس کو ایسا سنگسار کیا کہ وہ مر گیا“۔
اس جگہ خدا اور بادشاہ پر لعنت کرنے کا مطلب خدا اور بادشاہ کی شان میں توہین اور گستاخی کرنا ہے۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس دور کے لوگوں کو علم تھا کہ جو شخص خدا یا بادشاہ کی شان میں گستاخی کرے اس کی سزا موت ہے۔ جسے
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور، مارچ‘ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
وہ بذریعہ سنگساری نافذ کیا کرتے تھے۔
۲۔سلاطین باب اُنیس میں بیان کیے گئے واقعات کو سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
- (۱) حزقیاہ بادشاہ کی پریشانی
- (۲) اس کا اپنے نبی یسعیاہ بن آموص کے پاس اپنے ملازموں کو بھیجنا
- (۳) یسعیاہ کا تسلی دینا
- (۴) شاہِ اشور کا حزقیاہ بادشاہ کو دہشت زدہ کرنا
- (۵) حزقیاہ کا خداوند کے گھر میں لمبی دعا کرنا
- (۶) خدا تعالیٰ کا اس کی دعا کو سننا اور یسعیاہ نبی کے ذریعے اسے اچھے مستقبل کی خوشخبری دینا، اور
- (۷) شاہِ اشور کے لشکر کی تباہی و بربادی۔ پہلے حصے میں حزقیاہ بادشاہ کہتا ہے: ”آج کا دن دکھ اور ملامت اور توہین کا دن
ہے۔“ اس کا پسِ منظر شاہِ اشور کا وہ پیغام ہے جس کا ذکر باب ۱۸ میں بالتفصیل ہے۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ یہ پیغام اس کے لیے اور یروشلم کے یہودیوں کے لیے نہ صرف دہشت ناک ہے بلکہ اس میں خدا کی توہین بھی ہے۔ اسی توہین کا ذکر ورس نمبر ۴، ۶، ۲۲ اور ۲۳ میں بھی ہے جس میں خدا کی اس تکفیر کا ذکر ہے جو شاہِ اشور کے ملازموں اور قاصدوں نے کی تھی۔ اس توہین اور تکفیر کی سزا دی بھی گئی تھی جس کا ذکر اس باب کے آخری حصے میں ہے۔ وہاں یہ صراحتاً بتایا گیا ہے کہ اس توہین پر خدا نے شاہِ اشور کے لشکر میں رات کے وقت ایک فرشتہ بھیجا جس نے اس کے ایک لاکھ پچاسی ہزار آدمی مار ڈالے۔ اس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے ہاں توہین اور گستاخی کی سزا موت ہے۔
زبور (Psalms) کی کتاب کا زبور نمبر ۴۴ بعض مصنفین کے خیال میں یہودیوں کی جلاوطنی کے عرصہ میں لکھا گیا ہوگا۔ اس کا مصنف ورس نمبر ۱ تا ۳ میں ان نعمتوں کا اعتراف کرتا ہے جو خدا نے اس کے باپ دادا پر کی تھی؛ ورس نمبر ۴ تا ۸ میں مصنف خدا سے اپنی امید کا اظہار کرتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرے گا اور انہیں مخالفین پر غالب کرے گا۔ مگر ورس نمبر ۹ تا ۱۶ میں مصنف خدا سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ”تو نے تو اب ہم کو ترک کر دیا اور رُسوا کیا۔“ اپنی مصیبتوں اور دکھوں کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”ملامت کرنے والے اور کفر بکنے والے کی باتوں کے سبب سے اور مخالف اور انتقام لینے والے کے باعث“ وہ بہت رسوا اور شرمندہ ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھی انہوں نے خدا کو نہیں بھلایا اور نہ انہوں نے کسی جھوٹے خدا کے آگے ہاتھ پھیلائے۔ اس لئے وہ آخر میں خدا سے اپنی التجا کو اس بات پر ختم کرتا ہے کہ ”ہماری مدد کے لئے اُٹھ۔“
اسی طرح زبور نمبر ۷۴ کے بارے میں یہودیوں کا خیال ہے کہ اس کا مصنف آسف نام کا کوئی شخص ہے۔ یہ زبور بنیادی طور پر خدا سے التجا اور دعا ہے کہ وہ مصنف اور اس کی قوم کو دشمنوں کے پنجوں سے نجات دلائے۔ اس کا کہنا ہے کہ خدا کا قہر اس کے ماننے والوں پر ہے جبکہ دشمن نے نہ صرف خدا پر ایمان رکھنے والوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے ہیں بلکہ وہ خود خدا کے ”نام پر کفر بکتا رہے گا۔“ اس لئے مصنف خدا سے عرض کرتا ہے: ”اے خداوند! اسے یاد رکھ کہ دشمن نے طعنہ زنی کی ہے اور بے وقوف قوم نے تیرے نام کی تکفیر کی ہے۔“
مقاصد
- خداداد صلاحیتوں کو فروغ دیا جاسکے۔
- آخرت کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
- خدمتِ امتِ مرحومہ کا فریضہ سرانجام دیا جاسکے۔
- قرآن و حدیث کی صحیح تفہیم کی جاسکے۔
- نوجوانوں کو پروان چڑھایا جاسکے۔
- جمود کے مہلک مرض سے محفوظ رکھا جاسکے۔
- زوال کا سدِ باب کیا جاسکے۔
طالبِ دعا : محمد اسحاق قریشی پرنسپل (ریٹائرڈ) 0321/4041991
تحفظ ناموس رسالت نمبر کہا جا سکتا ہے:
کی خوشخبری دینا، اور ”آج کا دن دکھ اور ملامت اور توہین کا دن ہے۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ یہ پیغام اس خدا کی توہین بھی ہے۔ اسی توہین کا ذکر درس کے ملازموں اور قاصدوں نے کی تھی۔ اس وہاں یہ صراحتاً بتایا گیا ہے کہ اس توہین پر خدا لاکھ پچاسی ہزار آدمی مار ڈالے۔ اس سے
ان یہودیوں کی جلاوطنی کے عرصہ میں لکھا گیا اس کے باپ دادا پر کی تھی؛ درس نمبر ۴ تا ۸ مخالفین پر غالب کرے گا۔ مگر درس نمبر ۹ تا ۱۶ کیا۔ اپنی مصیبتوں اور دکھوں کو بیان کرتے سے اور مخالف اور انتقام لینے والے کے کو نہیں بھلایا اور نہ انہوں نے کسی جھوٹے قسم کرتا ہے کہ ”ہماری مدد کے لئے اُٹھ۔“ مصنف آسف نام کا کوئی شخص ہے۔ یہ زبور نا سے نجات دلائے۔ اس کا کہنا ہے کہ خدا ظلم کے پہاڑ ڈھائے ہیں بلکہ وہ خود خدا اے خدا اسے یاد رکھ کہ دشمن نے طعنہ زنی کی
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور، مارچ اپریل 2011ء 349 تحفظ ناموس رسالت نمبر
زبور کی ان درسوں کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مزاج اور ان میں توہین اور گستاخی والے امور اور ان کی سزا کا بیان اس طرح نہیں ہے جیسا کہ عہد نامہ قدیم کی مذکورہ الصدر کتب کے متعلق مندرجہ بالا میں پیش کیا جا چکا ہے۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ توہین اور گستاخی خدا اور ان یہودیوں کی ہو رہی ہے جن پر مخالفین اور دشمن ظلم کر رہے ہیں۔ عہد نامہ قدیم کی کتاب یسعیاہ میں بھی Blasphmey وغیرہ الفاظ کا ذکر ہے۔ یسعیاہ کے باب ۳۷ اور ۲۔ سلاطین کے باب ۱۹ میں گہری مماثلت ہے۔ توہین اور گستاخی پر دلالت کرنے والے الفاظ دونوں کی درس نمبر ۳، ۶ ،۲۲ اور ۲۳ میں پائے جاتے ہیں۔ ان کا موضوع اور بیان اتنا یکساں ہے کہ گمان ہوتا ہے کہ یا تو دونوں کا مصنف ایک ہے، یا ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے ہو بہو نقل کیا ہے۔ اس لئے اس جگہ ہم تکرار بحث نہیں کرنا چاہتے۔ یسعیاہ ۵۲ کا اسلوب بیان ایسے ہے جیسے خدا خود بول رہا ہو کیونکہ اس کے مصنف نے چار جگہ یعنی درس نمبر ۳، ۴ اور ۵ میں بات شروع کرنے سے پہلے لکھا ہے: ”خداوند خدا یوں فرماتا ہے“۔ اس کے بعد مصنف نے ایسا اسلوب اختیار کیا ہے کہ قاری کو محسوس ہو کہ خدا براہ راست کلام کر رہا ہے۔ مثلاً درس نمبر پانچ یوں ہے: ”پس خداوند یوں فرماتا ہے کہ اب میرا یہاں کیا کام حالانکہ میرے لوگ مفت اسیری میں گئے ہیں؟ وہ جو اُن پر مسلط ہیں للکارتے ہیں خداوند فرماتا ہے اور ہر روز میرے نام کی تحقیر کی جاتی ہے۔“
اس درس میں خدا کے نام کی توہین اور گستاخی کا تو ذکر ہے لیکن اس کی سزا کیا ہے؟ اس باب کے آخر تک اس کا کوئی واضح جواب نہیں ملتا۔ البتہ آخری درس نمبر ۱۵ میں یہ کہا گیا ہے کہ بادشاہ خدا کے سامنے خاموش ہوں گے ”کیونکہ جو کچھ ان سے کہا نہ گیا تھا وہ دیکھیں گے اور جو کچھ انہوں نے سُنا نہ تھا وہ سمجھیں گے“ یسعیاہ کے باب ۶۵ کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کچھ ابتدائی عبارت مفقود ہے۔ البتہ باب ۶۴ کی اختتامی عبارت پر غور کرنے سے کچھ اشارے ملتے ہیں کہ باب ۶۵ کے آغاز ہی سے خدا خود اپنے آپ سے کلام کر رہا ہے۔ اس کلام کا موضوع اس کی وہ عنایات ہیں جو اُس کے منکرین پر رہی ہیں اور ان لوگوں کے وہ کام بتائے جارہے ہیں جو خدا کو پسند نہیں۔ درس چھ اور سات میں یہ عبارت ملتی ہے: ”پس میں خاموش نہ رہوں گا بلکہ بدلہ دوں گا۔ خداوند فرماتا ہے ہاں اُن کی گود میں ڈال دوں گا۔ تمہاری اور تمہارے باپ دادا کی بدکرداری کا بدلہ اکٹھا دوں گا جو پہاڑوں پر خوشبو جلاتے اور ٹیلوں پر میری تکفیر کرتے تھے۔ پس میں پہلے اُن کے کاموں کو اُن کی گود میں ناپ کردوں گا۔“
یہاں خدا کی شان میں گستاخی کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ وہ لوگ کس کام کو کرنے سے گستاخی کے مرتکب ہوتے تھے لیکن اس کی سزا کیا ہے؟ اس کا قریب قریب تو کوئی ذکر نہیں ہے۔ البتہ دور جا کر درس نمبر ۱۶ میں مصنف لکھتا ہے کہ ”خداوند خدا تم کو قتل کرے گا اور اپنے بندوں کو ایک دوسرے نام سے بلائے گا“ اس بحث سے واضح ہوتا ہے کہ خدا کی شان میں گستاخی کرنے والے شخص کی سزا قتل ہے۔
حزقی ایل نبی کی کتاب میں بھی توہین اور گستاخی کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے باب ۲۰ کی ابتدائی درسوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے چند بڑے اشخاص حزقی ایل نبی کے پاس خدا سے کچھ دریافت کرنے آئے۔ اسلوب کلام اور مرکزی
Monthly No.3 Vol.19
مقاصد
- خدا کی صفتِ خلاقی کی طرف رجوع کیا جاسکے۔
- خداداد صلاحیتوں کو فروغ دیا جاسکے۔
- رحمتِ الٰہی کی دولتِ لازوال نصیب ہوسکے۔
- عشقِ الٰہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
- حرمتِ رسول کو ہر قیمت پر قائم رکھا جاسکے۔
- سیرتِ رسول کو عوام تک پہنچایا جاسکے۔
- حدیث و سنت کی شمع روشن کی جاسکے۔
- علومِ جدیدہ کی شمع روشن کی جاسکے۔
- صحابہ کرام کے مسلک کو اجاگر کیا جاسکے۔
- طالب علموں کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔
- ہر دور کے باطل کی سرکوبی کی جاسکے۔
- اخلاقی زوال کا سدباب کیا جاسکے۔
- دینِ حق کی ترویج و اشاعت کا فریضہ ادا کیا جاسکے۔
- ان تمام مقاصد کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
- عقیدہ ختمِ نبوت کا بھرپور دفاع کیا جاسکے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور‘ مارچ، اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
خیال یہ بتاتا ہے کہ خدا اُن سے سخت ناراض تھا۔ شروع سے لے کر درس نمبر ۲۶ تک دو طرح کی باتیں واضح طور پر سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک طرف ماضی میں بنی اسرائیل پر خدا تعالیٰ کے انعامات اور نوازشات کا بیان ہے تو دوسری طرف حاضر ہونے والے اُن اسرائیلیوں کے باپ دادا کی خدا سے بغاوت، نافرمانی اور بے ادبی کی تفصیل بھی پیش کی گئی ہے۔ اس سلسلہ کلام کے بعد درس نمبر ۲۷ میں ہمیں یہ عبارت ملتی ہے: ”اس لئے اے آدم زاد تو بنی اسرائیل سے کلام کر اور ان سے کہہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اس کے علاوہ تمہارے باپ دادا نے ایسے کام کر کے میری تکفیر کی اور میرا گناہ کر کے خطا کار ہوئے ۔“ اس کے بعد کی عبارت میں روئے سخن اس وقت کے بنی اسرائیل کے باپ دادا کی طرف نہیں بلکہ حاضر ہونے والے انہیں لوگوں اور اُن کی قوم کے بقیہ افراد کی طرف ہے کہ تم بھی ”اُن کے نفرت انگیز کاموں کی مانند بدکاری کرتے ہو۔“ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسے کام کرے جو خدا کی نظر میں نفرت انگیز ہیں تو وہ شخص خدا کی توہین کر رہا ہے۔
اسی کتاب کے باب ۳۵ میں بھی موضوع زیر بحث سے متعلق ایک حوالہ ملتا ہے۔ اس باب کے آغاز ہی میں نبی کو مخاطب کیا گیا ہے کہ وہ ”کوہ شعیر کی طرف متوجہ ہو اور اُس کے خلاف نبوت“ کرے۔ اس کے بعد درس نمبر گیارہ تک بنی اسرائیل پر آنے والے عذاب، مصیبتوں، دکھوں، پریشانیوں اور گوناگوں تکلیفوں کا ذکر ہے۔ درس نمبر بارہ اور تیرہ سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کوہ شعیر اور اس کے گرد و نواح میں بسنے والی اسرائیلی قوم کو ایک فرد کی حیثیت سے مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”اور تو جانے گا کہ خداوند نے تیری تمام حقارت کی باتیں جو تو نے اسرائیل کے پہاڑوں کی مخالفت میں کہیں کہ وہ ویران ہوئے اور ہمارے قبضہ میں کر دیئے گئے کہ ہم ان کو نگل جائیں سُنی ہیں۔ اسی طرح تم نے میرے خلاف اپنی زبان سے لاف زنی کی اور میرے مقابل زیادہ گوئی کی ہے جو میں سُن چکا ہوں۔“
اس توہین، گستاخی اور بے ادبی کی سزا کا اعلان درس نمبر ۱۴ اور ۱۵ کے ان الفاظ میں ہوا ہے: ”خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جب تمام دُنیا خوشی کرے گی میں تجھے ویران کروں گا... اے کوہ شعیر تو اور تمام ادوم بالکل ویران ہو گے اور لوگ جانیں گے کہ میں خداوند ہوں۔“
یہاں تک ہم نے عہد نامہ قدیم کی عبارات کا تجزیہ کر کے سیاق کی مدد سے توہین خدا و انبیاء کے تصور کی وضاحت کی ہے۔ اس کے بعد ہم عہد نامہ جدید کی اناجیل اور خطوط وغیرہ میں اس تصور کا جائزہ لیتے ہیں۔
عہد نامہ جدید کا تصور توہین خدا و نبی:
بائبل کے عہد نامہ قدیم میں Blasphemy سے متعلق عبارات کا تجزیہ کرنے اور توہین کی سزا پر روشنی ڈالنے کے بعد اب ہم عہد نامہ جدید کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس کی اناجیل اور خطوط وغیرہ موضوع کے بارے میں کیا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ اس عہد نامے کی پہلی انجیل متی کی ہے۔ اس انجیل کے باب نو کی پہلی چار درسیں یہ ہیں: ”پھر وہ کشتی پر چڑھ کر پار گیا اور اپنے شہر میں آیا۔ اور دیکھو لوگ ایک مفلوج کو چارپائی پر پڑا ہوا اُس کے پاس لائے۔ یسوع نے اُن کا ایمان دیکھ کر مفلوج سے کہا بیٹا خاطر جمع رکھ تیرے گناہ معاف ہوئے۔ اور دیکھو بعض فقیہوں نے اپنے دل میں کہا یہ کفر بکتا ہے۔ یسوع نے اُن کے خیال معلوم کر کے کہا کہ تم کیوں اپنے دلوں میں بُرے خیال لاتے ہو۔“
ماہنامہ ضیائے ح اس عبارت ہے۔ اگر کوئی اور مخا اسی انجیل متی ایک اندھے گونگے سردار بعلزبول کی دیئے۔ دلائل دیئے خلاف ہے اور جو میر جائے گا مگر جو کفر ر معاف کی جائے گی آنے والے میں اس سے یہ نے اس کے بجا گستاخی کی سزا نو عم متی کی انجیل بتایا گیا کہ بدگوئی کے باب چھبیس یہوداہ نے یہودیو کاہن کے پاس نے آپ کے خلا سردار کاہن نے کر کہا کہ: ”تو گرف اس کے بعد تم اب کر اپنے کپڑے تمہاری کیا رائے اس سے اور اس کی شان کی سوچ، رائے
ماہنامہ ضیائے حرم
مقاصد
- علمائے حق کی معرفت کو فروغ دیا جاسکے۔
- رحمت الٰہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
- فریضہ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہوسکے۔
- خدمت امت مرحومہ کو قائم رکھا جاسکے۔
- انکارِ حدیث کی بیخ کنی کی جاسکے۔
- نیکیوں کو پروان چڑھایا جاسکے۔
- الحاد کے مہلک مرض سے محفوظ رہا جاسکے۔
- زوال کا سدباب کیا جاسکے۔
- غلبہ دین کی تمنا کا جذبہ شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
دیوان ... لاہور فون 0321-4041991
تحفظ ناموس رسالت نمبر
...طرح کی باتیں واضح طور پر سمجھ میں ...ان ہے تو دوسری طرف حاضر ہونے ...ں بھی پیش کی گئی ہے۔ اس سلسلہ کلام ...ل سے کلام کر اور ان سے کہہ خداوند ...گناہ کر کے خطا کار ہوئے۔“ اس ...نہیں بلکہ حاضر ہونے والے انہیں ...علانیہ بدکاری کرتے ہو ۔“ اس سے ...کی توہین کر رہا ہے۔ ...ا اس باب کے آغاز ہی میں نبی کو ...اس کے بعد درس نمبر گیارہ تک بنی ...ہے۔ درس نمبر بارہ اور تیرہ سے پتہ ...امت سے مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ...رہنماؤں کی مخالفت میں کہیں کہ وہ ...طرح تم نے میرے خلاف اپنی زبان ...ں ہوا ہے: ”خداوند خدا یوں فرماتا ...دوم بالکل ویران ہو گے اور لوگ ...عقائد انبیاء کے تصور کی وضاحت کی ...توہین کی سزا پر روشنی ڈالنے کے ...بارے میں کیا نقشہ پیش کرتے ...ں: ”پھر وہ کشتی پر چڑھ کر پار گیا ...۔ یسوع نے اُن کا ایمان دیکھ کر ...دل میں کہا یہ کفر بکتا ہے۔ یسوع
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور' مارچ/اپریل 2011ء 351 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی علماء کے نزدیک گناہ معاف کرنے کا اختیار صرف خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر کوئی اور شخص یہ بات کہے تو وہ خدا کی توہین اور گستاخی کرتا ہے۔
اسی انجیل متی کے باب بارہ درس نمبر ۲۲ تا ۲۹ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک معجزہ مذکور ہے۔ جس میں انہوں نے ایک اندھے گونگے کو بینا اور گویا کر دیا۔ یہ دیکھ کر فریسی فرقہ سے تعلق رکھنے والے یہودیوں نے کہا کہ یہ کام بدرُوحوں کے سردار بعلزبول کی مدد سے کیا گیا ہے۔ ان کی اس غلط سوچ کا رد کرنے کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کئی عقلی دلائل دیئے۔ دلائل دینے کا یہ سلسلہ درس نمبر ۲۹ تک چلتا ہے۔ اس کے بعد تین درسیں کہتی ہیں: ”جو میرے ساتھ نہیں وہ میرے خلاف ہے اور جو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا وہ بکھیرتا ہے۔ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر معاف کیا جائے گا مگر جو کفر روح کے حق میں ہو وہ معاف نہ کیا جائے گا۔ اور جو کوئی ابن آدم کے برخلاف کوئی بات کہے گا وہ تو اُسے معاف کی جائے گی مگر جو کوئی روح القدس کے برخلاف کوئی بات کہے گا وہ اُسے معاف نہ کی جائے گی نہ اس عالم میں نہ آنے والے میں۔“
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بدرُوحوں کو جب روح القدس کی مدد سے نکالا اور یہودیوں نے اس کے بجائے بعلزبول کو مددگار بتایا تو انہوں نے روح القدس کی توہین کی اور اس کی شان میں گستاخی کی۔ اس گستاخی کی سزا تو نہیں بتائی گئی کہ وہ قتل ہے یا نہیں؟ مگر یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ وہ سزا معاف نہیں کی جائے گی۔
متی کی انجیل ۱۵:۱۹ میں توہین اور گستاخی کو لفظ 'بدگوئیاں' سے ذکر کیا گیا ہے کہ یہ دل سے نکلتی ہیں۔ مگر اس جگہ یہ نہیں بتایا گیا کہ بدگوئی کیسے ہوتی ہے؟ کس کے حق میں ہوتی ہے؟ اس کی سزا کیا ہے؟ وغیرہ۔ متی کی انجیل میں ایک اور حوالہ اس کے باب چھبیس میں پایا جاتا ہے۔ یہ وہ باب ہے جس میں انجیل نویس کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک شاگرد یہوداہ نے یہودیوں سے رشوت لے کر انہیں گرفتار کروایا تھا۔ گرفتاری کے بعد پکڑنے والے آپ علیہ السلام کو کائفا سردار کاہن کے پاس لے جایا گیا۔ آپ کو قتل کرنے کے لئے یہودی جھوٹی گواہیاں ڈھونڈنے لگے۔ جب دو جھوٹے گواہوں نے آپ کے خلاف یہ کہا کہ ”اس نے کہا ہے میں خدا کے مقدس کو ڈھا سکتا ہوں اور تین دن میں اُسے بنا سکتا ہوں۔“ تو سردار کاہن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جواب طلب کیا مگر آپ خاموش رہے۔ اس پر سردار کاہن نے خدا کی قسم دے کر کہا کہ: ”اگر تو خدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔ یسوع نے اُس سے کہا تو نے خود کہہ دیا بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اِس کے بعد تم ابن آدم کو قادر مطلق کی دہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے۔ اس پر سردار کاہن نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اُس نے کفر بکا ہے۔ اب ہم کو گواہوں کی کیا حاجت رہی؟ دیکھو تم نے ابھی یہ کفر سُنا ہے۔ تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا وہ قتل کے لائق ہے۔“ [۱۴]
اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہودیوں کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے اس قول کے ذریعے خدا کی توہین کی اور اس کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوئے اور یہ کہ ان کے نزدیک توہین اور گستاخی کی سزا قتل ہے۔ اگرچہ ہم یہودیوں کی سوچ، رائے اور فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے مگر یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انجیل متی کے مطابق بھی توہین اور گستاخی
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور مارچ‘ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
کی سزا قتل ہے۔
مرقس کی انجیل کے تین ابواب میں Blasphemy کا ذکر ہے۔ اس کے باب تین میں وہی قصہ دہرایا گیا ہے جس کا ذکر ہم مندرجہ بالا میں متی کی انجیل باب بارہ کے تحت پیش کر چکے ہیں۔ یہاں الفاظ کچھ مختلف ہیں۔ مرقس کی انجیل کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بنی آدم کے سب گناہ اور جتنا کفر وہ بکتے ہیں معاف کیا جائے گا لیکن جو کوئی روح القدس کے حق میں کفر بکے وہ ابد تک معافی نہ پائے گا بلکہ ابدی گناہ کا قصور وار ہے کیونکہ وہ کہتے تھے کہ اُس میں ناپاک روح ہے۔“ [۱۵] اسی طرح مرقس ۷: ۲۲ جس میں دل سے نکلنے والے بُرے خیالات کا ذکر ہے ایسے ہی ہے جیسے متی ۱۵: ۱۹ ہے۔ کیونکہ یہ انجیل نویس بھی اُسی قصے کو لکھ رہا ہے۔ اسی طرح مرقس ۱۴: ۶۴ میں بھی کفر بکنے یعنی توہین اور گستاخی کرنے ذکر ہے۔ مگر اس کی تفصیل متی باب چھبیس میں مذکور بیان سے کوئی زیادہ مختلف نہیں ہے۔
لوقا کی انجیل میں بھی Blasphemy کا ذکر ہے۔ مگر اس کی تفصیل متی کے ابواب ۱۹ اور ۱۲ میں دی گئی اس تفصیل سے زیادہ مختلف نہیں ہے جس کا تجزیہ اس بحث میں ہم پہلے کر آئے ہیں۔
یوحنا کی انجیل میں Blasphemy کا ذکر اس کے باب ۱۰: ۳۰ تا ۳۹ سے سمجھا جاسکتا ہے۔ انجیل نویس کہتا ہے کہ ”یہودیوں نے اُسے سنگسار کرنے کے لئے پتھر اٹھائے۔ یسوع نے انہیں جواب دیا کہ میں نے تم کو باپ کی طرف سے بہتیرے اچھے کام دکھائے ہیں۔ اُن میں سے کس کام کے سبب مجھے سنگسار کرتے ہو؟ یہودیوں نے اُسے جواب دیا کہ اچھے کام کے سبب سے نہیں بلکہ کفر کے سبب سے تجھے سنگسار کرتے ہیں اور اس لئے کہ تو آدمی ہو کر اپنے آپ کو خدا بناتا ہے۔“ یہودی کی اس بات پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”آیا تم اس شخص سے جسے باپ نے مقدس کر کے دُنیا میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے اس لئے کہ میں نے کہا میں خدا کا بیٹا ہوں؟“
انجیل نویس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد یہودیوں نے آپ کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن آپ اُن کے ہاتھ سے نکل گئے۔
اس انجیل سے بھی یہ واضح ہے کہ جو کوئی خدا کی توہین کرے اس کی سزا موت بذریعہ سنگساری ہے۔
اعمال کی کتاب کے پانچ ابواب میں Blasphemy کا حوالہ ملتا ہے۔ اس کے باب چھ میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ خاص شاگردوں نے خدا کے کلام کو پھیلانے کے لیے سات شاگردوں کو چنا۔ ان سات میں ایک ستفنس بھی تھا۔ وہ ’بڑے عجیب کام اور نشان ظاہر کیا کرتا تھا۔‘ مگر یروشلیم کے کچھ علاقوں سے ’بعض لوگ اُٹھ کر ستفنس سے بحث کرنے لگے۔ جب وہ اس کا مقابلہ نہ سکے اور اُسے روک نہ سکے تو ’اُنہوں نے بعض آدمیوں کو سکھا کر کہلوا دیا کہ ہم نے اس کو حضرت موسیٰؑ اور خدا تعالیٰ کے برخلاف کفر کی باتیں کرتے سُنا تھا۔ پھر وہ عوام اور بزرگوں اور فقیہوں کو اُبھار کر اُس پر چڑھ گئے اور پکڑ کر صدر عدالت میں لے گئے۔ اور جھوٹے گواہ کھڑے کئے جنہوں نے کہا کہ یہ شخص اس پاک مقام اور شریعت کے برخلاف بولنے سے باز نہیں آتا۔‘ [۱۶] پھر کیا ہوا؟ ساتویں باب کے آغاز سے اس ستفنس کی عدالت کے سامنے ایک طویل تقریر ہے۔ اس تقریر پر عدالت کے لوگ ’جی میں جل گئے اور اس پر دانت پیسنے لگے‘ اور
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور مارچ اپریل 2011ء 353 تحفظ ناموس رسالت نمبر
اُنہوں نے بڑے زور سے چلا کر اپنے کان بند کر لئے اور ایک دل ہو کر اُس پر جھپٹے۔ اور شہر سے باہر نکال کر اُس کو سنگسار کرنے لگے۔ اس طرح اُسے حضرت موسیٰ اور خدا کی توہین کرنے اور گستاخی کرنے کی سزا موت کی شکل میں مل گئی۔
[۱۷]
یہاں ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ سٹیفنُس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی تھی یا نہیں؟ اور یہ کہ اس نے توہین خدا کے جرم کا ارتکاب کیا تھا یا نہیں؟ ہمارا مقصود اس امر کو واضح کرنا ہے کہ اعمال کی کتاب کے مطابق بھی توہین خدا اور گستاخ رسول کی سزا موت ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہودیوں کے نزدیک ”پاک مقام اور شریعت کے برخلاف“ بولنا توہین اور گستاخی تھی۔ جس کی سزا ان کے نزدیک سنگساری تھی۔
اس کتاب کے باب ۱۳:۴۵ میں بھی کفر بکنے کا ذکر ہے۔ اعمال کا مؤلف کہتا ہے کہ ”مرید یہودی پُلس اور برنباس لوگوں میں کلام سُنا اور پھیلا رہے تھے اور انہیں سُننے کے لیے سارا شہر اکٹھا ہو گیا ”مگر یہودی اتنی بھیڑ دیکھ کر حسد سے بھر گئے اور پُلس کی باتوں کی مخالفت کرنے اور کفر بکنے لگے۔“ اسی طرح باب ۱۸:۶ میں پُلس کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ”کلام سُنانے کے جوش سے مجبور ہو کر یہودیوں کے آگے گواہی دے رہا تھا کہ یسوع ہی مسیح ہے۔ جب لوگ مخالفت کرنے اور کفر بکنے لگے تو اُس نے اپنے کپڑے جھاڑ کر اُن سے کہا تمہارا خون تمہاری ہی گردن پر۔ میں پاک ہوں۔ اب سے غیر قوموں کے پاس جاؤں گا“۔
ان عبارات کے مطابق توہین اور گستاخی کرنے والے یہودی تھے۔ اس توہین کی سزا بھی پُلس نے ”تمہارا خون تمہاری ہی گردن پر“ کہہ کر سُنا دی، مگر انہیں اس گستاخی کی سزا ملی یا نہیں؟ اس کا جواب یہاں نہیں ملتا۔ اعمال ۱۹:۳۵۔۳۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی دیوی کی بدگوئی بھی گستاخی شمار ہوتی تھی۔ اعمال ۲۶:۲۔۲۳ میں مصنف نے پُلس کے خلاف لگنے والے الزام کی جواب دہی پُلس کے الفاظ میں درج کی ہے۔ اس جواب دہی میں ایک جگہ پُلس کہتا ہے کہ ”میں نے بھی سمجھا تھا کہ یسوع ناصری کے نام کی طرح طرح سے مخالفت کرنا مجھ پر فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یروشلم میں ایسا ہی کیا اور سردار کاہنوں کی طرف سے اختیار پا کر بہت سے مقدسوں کو قید میں ڈالا اور جب وہ قتل کئے جاتے تھے تو میں بھی یہی رائے دیتا تھا۔ اور ہر عبادت خانہ میں انہیں سزا دلا دلا کر زبردستی اُن سے کفر کہلواتا تھا بلکہ اُن کی مخالفت میں ایسا دیوانہ بنا کہ غیر شہروں میں بھی جا کر انہیں ستاتا تھا“
[۱۸]
اس عبارت سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ قتل کی سزا اس صورت میں جائز سمجھی جاتی تھی جب کوئی توہین اور گستاخی کا مرتکب ہوتا تھا۔ اور یہ کام پُلس جیسی نمایاں شخصیت بھی کیا کرتی تھی۔ اس کے نزدیک کسی کو قتل کرنے کے لیے اُسے گستاخ ثابت کرنا ضروری تھا۔
تاہم آج کے حالات کے پیش نظر پُلس کی ایک بات بہت اچھی نظر آتی ہے۔ مسیحیوں کے لیے بالخصوص ضروری ہے کہ وہ اس بات پر عمل کریں۔ کلسیوں کے نام خط باب ۳ میں وہ اپنے پیروکاروں کو کئی کاموں سے منع کرتا ہے۔ درس آٹھ میں وہ کہتا ہے: ”اب تم بھی ان سب کو یعنی غصہ اور قہر اور بدخواہی اور بدگوئی اور منہ سے گالی بکنا چھوڑ دو۔“ توہین اور گستاخی کے ارتکاب سے بچنے کے لیے یہ ایک اچھی نصیحت ہے۔ اس پر عمل کرنے سے مسیحی قوم کئی پریشانیوں سے بچ سکتی ہے۔
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور، مارچ ' اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
عہد نامہ جدید میں پولس کے دو خطوط اس کے شاگرد تیمتھیس کے نام ہیں۔ ۱۔ تیمتھیس میں پولس کہتا ہے: ”میں اپنے طاقت بخشنے والے خداوند مسیح یسوع کا شکر کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے دیانتدار سمجھ کر اپنی خدمت کے لئے مقرر کیا۔ اگرچہ میں پہلے کفر بکنے والا اور ستانے والا اور بے عزت کرنے والا تھا تو بھی مجھ پر رحم ہوا اس واسطے کہ میں نے بے ایمانی کی حالت میں نادانی سے یہ کام کئے تھے۔“ [۱۹]
اس عبارت سے تو یہ سمجھنا آسان ہے کہ پولس مسیح پر ایمان لانے سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کے سچے پیروکاروں کو ستایا اور بے عزت کیا کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مسیح علیہ السلام کی شان میں توہین اور گستاخی بھی کیا کرتا تھا۔ البتہ اسی باب کی آخری درس میں تو اس کی بات خلاف عقل معلوم ہوتی ہے جب وہ کہتا ہے: ”... بعض لوگوں کے ایمان کا جہاز غرق ہو گیا۔ اُن ہی میں سے ہیمنیس اور سکندر ہیں۔ جنہیں میں نے شیطان کے حوالے کیا تا کہ کفر سے باز رہنا سیکھیں۔“
کفر، بدتمیزی اور بے ادبی سے بچنے کے لیے تو نیک لوگوں کی صحبت، ان سے اچھی باتیں سیکھنا اور ان پر عمل کرنا معاون اُمور ہیں۔ شیطان کے حوالے کیا گیا کوئی شخص کفر سے باز رہنا کیسے سیکھ سکتا ہے؟ شیطان تو اچھے بھلے ایماندار لوگوں کو کفر سکھاتا ہے۔ وہ ایمانداری اور راست بازی کا درس تو نہیں دیتا ہے۔ اس لئے پولس کی یہ بات بڑی عجیب اور غیر معقول لگتی ہے۔ تاہم پولس کی وہ بات جو اس خط کے باب ۶:۱ میں لکھی ہے معقول اور مناسب ہے۔ اس نے نصیحت کی ہے کہ: ”جتنے نوکر جوئے کے نیچے ہیں اپنے مالکوں کو کمال عزت کے لائق جانیں تا کہ خدا کا نام اور تعلیم بدنام نہ ہو۔“ اس درس میں اس نے لوگوں کو توہین اور گستاخی سے دور رہنے کی جو نصیحت کی ہے اس پر اگر پاکستان کے مسیحی عمل کریں تو بہت سے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ [۲۰]
عہد نامہ جدید میں پولس کے جو خطوط شامل ہیں اُن میں ایک ططس کے نام ہے۔ اس خط میں اُس نے بوڑھی عورتوں کو نیک نصیحت اور ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ : ”بوڑھی عورتوں کی بھی وضع مقدسوں کی سی ہو۔ تہمت لگانے والی اور زیادہ مے پینے میں مبتلا نہ ہوں بلکہ اچھی باتیں سکھانے والی ہوں۔ تاکہ جوان عورتوں کو سکھائیں کہ اپنے شوہروں کو پیار کریں، بچوں کو پیار کریں اور متقی اور پاک دامن اور گھر کا کاروبار کرنے والی اور مہربان ہوں اور اپنے اپنے شوہر کے تابع رہیں تا کہ خدا کا کلام بدنام نہ ہو۔“ [۲۱]
یہ بہت اچھی بات ہے کہ بڑی عمر کی خواتین اپنے سے کم عمر کی عورتوں سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو اخلاص سے پورا کریں تا کہ وہ خدا اور اس کے کلام کی توہین کرنے والی یا گستاخی کرنے والی نہ ہوں۔
عہد نامہ جدید میں ایک خط یعقوب (James) کا بھی ہے۔ اس خط میں خط نویس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام کی توہین اور گستاخی کا ذکر کیا ہے۔ اس نے اپنے ہم مذہب بھائیوں کی تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : ”کیا دولت مند تم پر ظلم نہیں کرتے اور وہی تمہیں عدالتوں میں گھسیٹ کر نہیں لے جاتے؟ کیا وہ اُس بزرگ نام پر کفر نہیں بکتے جس سے تم نامزد ہو؟ تو بھی اگر اس نوشتہ کے مطابق کہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ اُس بادشاہی شریعت کو پورا کرتے ہو تو اچھا کرتے ہو۔“ [۲۲]
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور مارچ‘ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس عبارت سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ قسطنطین کے دور میں بعض لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرتے تھے اور ان کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوتے تھے مگر یہ کہیں واضح نہیں ہے کہ ان گستاخوں کی گستاخی کیسی تھی اور ان کی سزا کیا تھی؟
عہد نامہ جدید کی آخری کتاب مکاشفہ میں بھی کئی عبارات ملتی ہیں لیکن وہ ہمارے موضوع میں کوئی خاص اضافہ نہیں کرتیں۔ مثلاً مکاشفہ ۲: ۹، ۸ میں ہے: ”جو اول و آخر ہے اور جو مر گیا تھا اور زندہ ہوا وہ یہ فرماتا ہے کہ میں تیری مصیبت اور غریبی کو جانتا ہوں (مگر تو دولت مند ہے) اور جو اپنے آپ کو یہودی کہتے ہیں اور ہیں نہیں بلکہ شیطان کی جماعت ہیں ان کے لعن طعن کو بھی جانتا ہوں۔“ اسی کتاب کے مصنف نے ایک حیوان کو دیکھا جس کے دس سینگ اور سات سر تھے جن پر کفر کے نام لکھے ہوئے تھے۔ اس کا منہ خدا کی نسبت کفر بکتا تھا۔ [۲۳]
نتائج بحث:
ہم نے اپنی بحث کا آغاز ان سوالات سے کیا تھا کہ مسیحیوں کی مذہبی کتاب بائبل میں توہین اور گستاخی کا کیا تصور پایا جاتا ہے؟ بائبل میں کس کس کی توہین یا گستاخی مذکور ہے؟ بائبل میں اہانت یا گستاخی کی کیا سزا بتائی گئی ہے؟ کیا بائبل کے عہد نامہ قدیم اور جدید میں توہین کی سزا ایک جیسی ہے یا مختلف؟ عہد نامہ قدیم اور جدید کی متعلقہ عبارات کے اس مفصل تجزیے کے بعد ہمیں اپنے سوالات کے جو جوابات ملے ہیں وہ بالاختصار یہ ہیں۔
- ١۔ کتاب مقدس میں توہین اور گستاخی کا ذکر کفر بکنا، تکفیر کرنا، کفر گوئی، بدگوئی کرنا، لعن طعن کرنا، ملامت کرنا، شکایت
کرنا، برخلاف باتیں کرنا، حقارت، تحقیر کرنا وغیرہ الفاظ سے کیا گیا ہے۔ قاموس الکتاب سے ہمارے اس نتیجے کی تائید ہوتی ہے۔ اس میں ہے کہ ”پرانے عہد نامہ میں کفر، تکفیر وغیرہ ایک عمل توہین ہے جس سے خدا کی عزت پر دھبہ آتا ہے۔“ [۲۴]
- ٢۔ جو شخص بے باک ہو کر گناہ کرے وہ خداوند کی اہانت کرتا ہے۔ اگر کوئی متکبر شخص اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ کہے کہ
وہ اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اہانت کی۔ اگر کوئی شریر اپنے دل میں یہ کہے کہ خدا اُس سے اُس کی شرارتوں کی باز پرس نہ کریگا اور اُس سے انتقام نہیں لے گا تو وہ اپنے اس قول سے خدا کی اہانت کرتا ہے۔ جو شخص کسی مسکین و غریب پر ظلم کرے وہ خدا کی اہانت کرتا ہے۔ وہ اپنے اس عمل سے خدا کی ملامت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سچے انبیاء اور رسولوں کے خلاف شکایات کرنا ان کی توہین کرنا ہے۔ جیسا کہ ہم نے گنتی کی کتاب میں حضرت سیدنا موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کے حوالے سے ملاحظہ کیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ناپاک قربانی پیش کرنا بھی توہین خدا کے زمرے میں شامل ہے۔
- ٣۔ بائبل میں جن جن کی توہین یا گستاخی کا تذکرہ ہوا ہے ان میں خود اللہ تعالیٰ، انبیاء و رسل، اپنے وقت کے بادشاہ خدا
کے نیک لوگ وغیرہ شامل ہیں۔
- ٤۔ بائبل میں توہین خدا اور گستاخی کی سزا قتل کرنا، سنگسار کرنا، گستاخی کرنے والے کی اولاد کا مر جانا، دشمن کے لشکر کو مار
ڈالنا، پوری قوم کو تباہ و برباد کر دینا وغیرہ بیان کی گئی ہے۔ البتہ عہد نامہ جدید میں یہ بھی ہے کہ روح القدس کی توہین اور گستاخی کے سوا تمام گستاخیاں معاف ہو سکتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نامہ قدیم کے احکامات عہد نامہ جدید سے
Monthly Vol. 19 No. 3 ماہنامہ ضیائے حرم
مقاصد
عقائد اسلامی کی صحت و ثبوت کو واضح کیا جاسکے۔ رضائے الہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔ فریضہ دعوت و تبلیغ کو عام کیا جاسکے۔ حدیث و سنت مرحومہ کو قائم رکھا جاسکے۔ فتنہ انکارِ حدیث کی بیخ کنی کی جاسکے۔ گمراہانِ بد مذہب کے شر سے محفوظ رہا جاسکے۔ اخلاقی زوال کا سدباب کیا جاسکے۔ منکرین ختم نبوت کے خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکیں۔ ایڈریس: ضیاء القرآن پبلی کیشنز، داتا دربار مارکیٹ، لاہور فون 03214041991
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور مارچ ' اپریل 2011ء 356 تحفظ ناموس رسالت نمبر
منسوخ ہوگئے۔ حالانکہ مسیحی علماء بائبل میں ناسخ ومنسوخ کا تصور نہیں مانتے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عہد نامہ قدیم اور جدید میں سزا کے معاملے میں بیانات مختلف اور بعض اوقات تضاد کا شکار ہیں۔ ۵۔ بعض مقامات پر بائبل کا بیان نامکمل اور ادھورا نظر آتا ہے جس سے موضوع پر قاری بہت تشنگی محسوس کرتا ہے۔
حواشی وحوالہ جات
- [۱] دیکھئے انگریزی کنگ جیمز بائبل: احبار ۲۴: ۱۱، ۱۶؛ ۲۔سموئیل ۱۲: ۱۳، ۱۴؛ ۱۔سلاطین ۲۱: ۱۰، ۱۳؛ ۲۔سلاطین ۱۹: ۳، ۲۲، ۳۷؛ زبور ۷۴: ۱۰،
۱۸؛ یسعیاہ ۳۷: ۳، ۴، ۲۳، ۲۴؛ ۵۲: ۵؛ ۶۵: ۷؛ حزقی ایل ۲۰: ۲۷، ۳۵: ۱۲؛ اور متی ۹: ۳، ۱۲: ۳۱، ۱۵: ۱۹، ۲۶: ۶۵؛ مرقس ۳: ۲۸، ۲۹؛ ۷: ۲۲، ۱۴: ۶۴؛ لوقا ۵: ۲۱، ۱۲: ۱۰، ۲۲: ۶۵؛ یوحنا ۱۰: ۳۳، ۳۶؛ اعمال ۶: ۱۱، ۱۳: ۴۵، ۱۸: ۶، ۱۹: ۹، ۲۶: ۱۱؛ رومیوں کے نام خط ۲: ۲۴؛ کلسیوں کے نام خط ۳: ۸؛ تیمتھیس کے نام پہلا خط ۱: ۱۳، ۲۰؛ ۲۔پطرس ۲: ۱۲؛ ططس کے نام خط ۲: ۵؛ یعقوب کا عام خط ۲: ۷؛ مکاشفہ ۲: ۹، ۱۳: ۱، ۵، ۶، ۱۱، ۱۶: ۹، ۱۱، ۲۱، ۱۷: ۳۔
- [۲] دیکھئے: English-Urdu Dictionary of Christian Terminology, (Rawalpindi:
Christian Study Centre, 1976), p. 13 اور English-Urdu Dictionary of Christian Terminology, (Rawalpindi: Christian Study Centre, revised edition, 2001), p. 12
- [۳] جمیل جالبی (ایڈیٹر)، قومی انگریزی اردو لغت، (اسلام آباد: مقتدرہ قومی زبان)، ط۴، ۱۹۹۹ء، ص ۱۹۸.
- [۴] مثلاً اعمال ۶: ۱۳ کی ورس کے الفاظ کا موازنہ کنگ جیمز بائبل اور اردو بائبلوں سے کریں تو یہ بالکل واضح ہو جائے گا۔
- [۵] گنتی ۱۵: ۳۰_۳۱.
- [۶] یہ بات تواریخ کے مصنف کے بقول اشور کے بادشاہ سنحیرب (Sennacherib) نے شاہ یہودہ حزقیاہ کے پاس اپنے
ملازموں کے ذریعے بھجوائی تھی۔ دیکھئے: ۲۔ تواریخ ۳۲: ۱۷.
- [۷] دیکھئے: زبور ۱۰: ۱۳. [۸] دیکھئے: امثال ۱۴: ۳۱.
- [۹] دیکھئے: گنتی باب ۱۳: ۱_۳، ۲۷_۳۰؛ ۱۴: ۱_۳، ۱۱. [۱۰] ملاکی ۱: ۶_۷، ۱۲.
- [۱۱] ایف ایس خیر اللہ، قاموس الکتاب، (لاہور: مسیحی اشاعت خانہ، ۱۹۹۷ء)، ص ۹۹۳.
- [۱۲] دیکھئے: قاموس الکتاب، ص ۹۹۳.
- [۱۳] دیکھئے: محمد کرم شاہ، تفسیر ضیاء القرآن، (لاہور: ضیاء القرآن پبلی کیشنز)، ج۴، ص ۲۳۴_۲۳۶.
- [۱۴] دیکھئے: متی ۲۶: ۶۴_۶۶. [۱۵] مرقس ۱۴: ۶۱_۶۴.
- [۱۶] دیکھئے: اعمال ۶: ۱۰_۱۴. [۱۷] دیکھئے: اعمال ۷: ۵۴_۶۰.
- [۱۸] دیکھئے: اعمال ۲۴: ۱_۹. [۱۹] ۱۔تیمتھیس ۱: ۱۲_۱۳.
- [۲۰] بدگوئی یعنی توہین اور گستاخی کا ایک حوالہ ۲۔تیمتھیس ۳: ۲ میں ہے لیکن وہ ہمارے موضوع زیر بحث میں کوئی خاص اضافہ نہیں کرتا۔
- [۲۱] ططس ۳: ۲_۵. [۲۲] یعقوب کے نام خط ۲: ۶_۸.
- [۲۳] دیکھئے: مکاشفہ باب ۱۳. [۲۴] قاموس الکتاب، ص ۹۴۷.
* * * * *
ماہنامہ ضیائے حرم
توہـ
قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے ارشاد قُلْ إِنْ كُنْتُمْ "(اے محبوب! آپ فرما دیجیے کہ پیروی کرو (تو) اللہ تم نبی کریم ﷺ سے محبت کا کے اللہ سے محبت کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ وارفتگی کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ آپ ﷺ کی ناموس کا مسئلہ سے عالمی سطح پر ہمہ گیر مسئلہ بن گیا ہے۔ انتہائی تنزلی کا شکار ہیں اور بالخصوص کے حکمرانوں کی اکثریت، اپنے مغربی آقاؤں کے مفادات کا مسلم حکمرانوں کی اس بے حسی غیرت کو کچوکے لگاتی ہے۔ جس کی وجہ اضطراب میں مبتلا ہوتی ہے۔ حمیت پر یکے بعد دیگرے کئی کاری ضربیں مکروہ ترین صورت میں ڈنمارک میں روز نہ صرف یہ کہ اپنا مکروہ فعل دہرا کر * لیکچرر شعبہ علوم اسلامیہ
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور، مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
توہین رسالت کیخلاف
ردعمل کو کیسے مؤثر بنایا جائے؟
ڈاکٹر حافظ منیر احمد الازہری * جویریہ عثمان * *
قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (١)
’’(اے محبوب مکرم!) آپ فرمائیے (انہیں کہ) اگر تم (واقعی) محبت کرتے ہو اللہ تعالیٰ سے تو میری پیروی کرو (تب) محبت فرمانے لگے گا تم سے اللہ۔‘‘
نبی کریم ﷺ کی کامل اتباع‘ اللہ سے محبت کی لازمی شرط ہے۔ اگر کوئی شخص اتباعِ رسول کریم ﷺ سے انحراف کر کے اللہ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اپنے دعویٰ کی خود تکذیب کر رہا ہوتا ہے۔ ہماری محبتوں کا محور اور ہماری قلبی و ذہنی وارفتگی کا منبع اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم ﷺ کی اتباع ہے۔ محبت اور اتباع کے اس دعوے کا تقاضا ہے کہ ہم آپ ﷺ کی ناموس کے تحفظ کے لئے اپنی جملہ مساعی کو بروئے کار لائیں۔ اس وقت مسلمان اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر ہمہ گیر کمزوری کا شکار ہیں۔ مسلم امہ پر ایسے حکمران مسلط ہیں جو نہ صرف سیرت و کردار کے حوالے سے انتہائی تنزلی کا شکار ہیں بلکہ اسلام دشمن قوتوں کے حاشیہ نشیں‘ دریوزہ گر اور ان کے فکری و عملی ایجنٹ بھی ہیں۔ مسلم ممالک کے حکمرانوں کی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو اسلام اور بانی اسلام حضور نبی رحمت ﷺ کی ذاتِ گرامی کے بجائے اپنے مغربی آقاؤں کے زیادہ وفادار ہیں۔
مسلم حکمرانوں کے اس طرزِ عمل نے عالمی سطح پر امتِ مسلمہ کو انتہائی بے توقیر کر دیا ہے۔ ملتِ اسلامیہ کے عوام کی غیرت کو کچوکے لگانے کے لیے اہلِ مغرب وقتاً فوقتاً ایسے اقدامات اٹھاتے رہتے ہیں کہ جن سے ملتِ اسلامیہ کرب و اضطراب میں مبتلا ہو اور وہ ان کے اضطراب کو دیکھ کر محظوظ ہوتے رہیں۔ مغربی دنیا کی طرف سے ملتِ اسلامیہ کی غیرت و حمیت پر یکے بعد دیگرے پوری منصوبہ بندی سے ایسے مکروہ وار کیے جا رہے ہیں۔ اس کی سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مکروہ ترین صورت حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی کی شانِ اقدس میں گستاخی کا ارتکاب ہے۔ یہود و نصاریٰ آئے روز نہ صرف یہ کہ اہانتِ رسول کا مختلف طریقوں سے ارتکاب کر رہے ہیں بلکہ مسلم ممالک میں ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی
* لیکچرر شعبہ علوم اسلامیہ اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور * * ریسرچ سکالر ایم۔اے علوم اسلامیہ
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
کرتے ہیں جو ان کے ان پراگندہ افکار کی ترجمانی کرتے ہوں۔ اس تمام صورت حال کی بڑی وجہ ملت اسلامیہ کی زبوں حالی ہے۔ اس تناظر میں ملت اسلامیہ کا فرض ہے کہ وہ اہانت رسول کریم کے خلاف اپنے موقف میں مضبوطی پیدا کرے اور اس کے انسداد کے لئے مؤثر لائحہ عمل اپنائے۔
توہین رسالت کے خلاف ردعمل کو موثر کیسے بنایا جائے:
نبی اکرم ﷺ کی شان میں ہرزہ سرائی کفار کا محبوب مشغلہ ہے۔ تاریخ ہمیں ایسے کئی واقعات بتاتی ہے کہ جب شتمات واہانت رسالت کی منظم تحریکیں برپا کی گئیں۔ عصر حاضر میں ٹیکنالوجی نے دنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا ہے۔ یہود و نصاریٰ جدید ٹیکنالوجی کا منفی استعمال کرتے ہوئے پیغمبر اسلام ﷺ کے گستاخانہ خاکے بنا کر اخبارات وانٹرنیٹ پر شائع کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اپنے خبیث باطن کی تسکین کے لیے توہین آمیز فلمیں بھی بنائی جارہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مسلمان اس صورت حال سے کس طرح موثر طریقے سے نمٹ سکتے ہیں کہ اہل مغرب اپنی کمینی حرکتوں سے باز آجائیں؟ اس تناظر میں مسلمانوں کو دو طرح کے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ایک فوری نوعیت کے اقدامات اور دوسرے دیر پا اور دور رس اثرات کے حامل اقدامات۔ یہ اقدامات اس مخصوص تناظر اور ماحول میں ہی تجویز کیے جارہے ہیں جس کی جدید ریاستوں میں مسلمانوں کے پاس گنجائش موجود ہے۔
فوری اقدامات:
فوری اقدام کے طور پر جن امور کو انجام دیا جانا چاہیے وہ درج ذیل ہیں:
- (۱) عوامی احتجاج: جس میں تین خصوصیات ہوں۔
- * احتجاج میں لاکھوں افراد شریک ہوں۔
- * یہ پر امن ہو۔
- * یہ عالمی سطح کا ہو۔
- (۲) حکومتی سطح پر احتجاج: مغرب کی طرف سے توہین رسالت ﷺ کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج کافی نہیں بلکہ
مسلمان ممالک کی حکومتوں کو بھی اس پر احتجاج کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کی تنظیم او آئی سی کا بھی فرض ہے کہ وہ ایسے حالات میں فوراً حرکت میں آئے اور مسلمان ممالک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھائیں اور اس حوالہ سے مضبوط منصوبہ بندی اور لابنگ کر کے اقوام متحدہ سے ناموس انبیاء ورسل کے تحفظ کا قانون پاس کروائیں۔
- (۳) توبہ واستغفار: نبی اکرم ﷺ کی اہانت ہم مسلمانوں کے لیے کوئی معمولی واقعہ نہیں یہ آزمائش ہمارے گناہوں اور
اللہ کے رسول ﷺ کے احکام کی نافرمانی کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور کثرت سے
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور، مارچ اپریل 2011ء 359 تحفظ ناموس رسالت نمبر
استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔
جو دینی تحریکیں اور تنظیمیں حرمت رسول ﷺ کے سلسلے میں جلسے اور جلوسوں کا اہتمام کرتی ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے جلسے جلوسوں میں درود شریف پڑھنے کے ساتھ استغفار کی رغبت بھی دلائیں اور احساس توبہ کو اجاگر کیا جائے تاکہ مسلمانوں کو احساس ہو کہ ان کی اس مصیبت کا اصل سبب ان کی دین سے دوری اور اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی نافرمانی ہے جس کی وجہ سے وہ دنیا میں بے وقعت ہو کر رہ گئے ہیں۔
- (۴) تیل پیدا کرنے والے اسلامی ممالک اپنے نبی مکرم ﷺ کی حرمت کے مسئلہ کو بنیاد بناتے ہوئے احتجاجاً تیل کی
سپلائی روک دیں اور دباؤ ڈال کر مغربی ممالک کو اس بات پر مجبور کریں کہ اقوام متحدہ تحفظ ناموس انبیاء کرام علیہم السلام کا قانون منظور کروائے۔
دور رس اقدامات:
دور رس اقدامات کے طور پر مسلمانوں کو اہل مغرب کی دشمنی کے پیچھے پوشیدہ غیر اعلانیہ اور غیر تحریری مقاصد اور اہداف کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
- (۱) مغربی منصوبہ سازوں کی خواہش یہ ہے کہ مغرب میں اسلام کو پھیلنے سے روکا جائے۔ اس غرض سے مسلمانوں کو
ان کے دین و پیغمبر کو (نعوذ باللہ) دہشت گرد اور وحشت گردی کا حامی اور علمبردار ثابت کرنا چاہتے ہیں تاکہ مغربی عوام اسلام اور مسلمانوں سے متنفر ہو جائیں اور اسلام کا ہمدردانہ مطالعہ نہ کر سکیں اور یوں ان کے اسلام قبول کرنے کے مواقع کم ہو جائیں۔ اس تناظر میں مغربی ممالک کے عوام کو اسلام کا مطالعہ کی طرف مائل کرنے کی کوششیں کی جائیں۔ جوں جوں وہ اسلام کا مطالعہ زیادہ کرتے جائیں گے، ان میں قبول حق کے لیے دلوں کے دریچے وا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
- (۲) مغربی ممالک کے عوام میں سے امن پسند و انصاف پسند طبقہ تک رسائی حاصل کی جائے اور ان کے ذریعے ایسی
مذموم حرکات کے تدارک و سدباب کے لیے راستے تلاش کیے جائیں نیز ان کے ذریعے مغربی حکومتوں پر دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ ایسے افراد کی سرپرستی نہ کریں جو توہین انبیاء علیہم السلام کے مرتکب ہوتے ہیں۔
- (۳) مسلمان ممالک دینی و ملی غیرت کا مظاہرہ کریں۔ اس حوالہ سے مسلمان عوام کا کردار اہم ہے۔ ایسے لوگوں کو
اقتدار سے نکالا جائے جو مغرب کے دریوزہ گر ہیں اور جن کی وفاداری ذات رسالت مآب ﷺ کے ساتھ مشکوک ہے۔ یعنی جو نام کے مسلمان ہیں لیکن عملی طور پر منافق ہیں۔ منافق حکمرانوں سے نجات کی تحریک چلا کر ان سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور ایسے لوگوں کو برسر اقتدار لانے کی کوشش کی جائے جو دین و ملت کے وفادار ہوں۔ اس حوالہ سے تمام
مقاصد
- عقائد اسلامی کی حفاظت و فروغ دیا جا سکے۔
- دین حق کی دولت لازوال نصیب ہو سکے۔
- بدعت و رسوم کو ختم کیا جا سکے۔
- سنت مصطفیٰ ﷺ کی ترویج کی جا سکے۔
- بے راہ روی سے محفوظ رہا جا سکے۔
- گھر اور معاشرہ میں دینی ماحول پیدا کیا جا سکے۔
- زوال کا سد باب کیا جا سکے۔
انشاء اللہ یہ کاوشیں بار آور ثابت ہوں گی۔
ڈیزائن، خطاطی: حافظ احمد فراز، 03214041991
ماہنامہ ضیائے حرم Monthly No. 3
تحفظ ناموس رسالت نمبر 360 ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور، مارچ اپریل 2011ء
اسلامی ممالک میں ایک منظم مہم کی ضرورت ہے جس کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے۔
- (۴) تمام مسلمان ممالک کم از کم چھ نکات کو بنیاد بنا کر ایک ایسے پلیٹ فارم پر متحد ہوں جو امت کی غیرت وحمیت کے
تحفظ کی ضمانت دیتا ہو۔ اس پلیٹ فارم سے نیٹو طرز کی اسلامی فوج کی بنیاد ڈالی جائے اور کسی بھی مسلمان ملک پر حملہ کو تمام اسلامی ممالک پر حملہ تصور کیا جائے۔ اس پلیٹ فارم سے کوشش کر کے اقوام متحدہ میں ویٹو پاور حاصل کی جائے۔
- (۵) جب تک اقوام متحدہ سے ناموس انبیاء کے تحفظ کا قانون پاس نہیں ہوتا، اس وقت تک مادر پدر آزاد اہل مغرب کو
اس قبیح جرم کے ارتکاب سے روکنا مشکل ہوگا۔ اس حوالہ سے تمام اسلامی ممالک یک نکاتی ایجنڈا پر اتحاد کریں اور اس کے لیے تگ و دو کریں۔
محترم سلیمان اسدی فاضل استاد گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ تحفظ ناموس رسالت کے حوالہ سے اقدامات تجویز کرتے ہوئے اپنے ایک مقالہ میں لکھتے ہیں:
- ۱۔ جناب نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی پر جس نوعیت کے اعتراضات اسی زاویہ نگاہ سے جواب دیا جائے۔ مثال کے
طور پر اگر آپ کی سیرت طیبہ کے حوالہ سے جو مستشرقین، منکرین حدیث اور دیگر غیر مسلموں نے قلم اٹھایا ہے، اسی علمی نوعیت کے ساتھ مسلمان اہل قلم کو چاہیے کہ وہ اپنے علمی و فکری لٹریچر کے ذریعے ان لوگوں کے طعن وتشنیع کا جواب دیں۔
- ۲۔ مبلغین اسلام کو چاہیے کہ اپنے بیانات اور خطابات میں حضور ﷺ کی سیرت طیبہ پر ہونے والے اعتراضات اور
بے ہودہ الزامات کا واضح طور پر جواب دیں اور اہل ایمان کو ان معترضین کے فرسودہ عزائم سے آگاہ رکھیں۔
- ۳۔ موجودہ حالات میں یورپ کے دریوزہ گروں کا ایک گروہ وطن عزیز میں قانون ناموس رسالت کو ختم کرنے کے لیے
کمر کس کر میدان میں آچکا ہے۔ ان میں غامدی فکر کے وہ گمراہ ترین افراد سر فہرست ہیں جنہوں نے ”اسلامی سکالرز“ کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور عقل فتنہ پرور کے زور پر اسلامی احکامات کی من مانی تاویلات کر کے سادہ لوح عوام کے خرمن ایمان پر ڈاکہ زنی کر رہے ہیں۔ یہ ان حالات میں جبکہ مختلف طرق سے پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات با برکات کی ناموس پر حملے ہورہے ہیں، ایسے مسلمانوں کو بطور خاص متوجہ ہونا چاہیے جو علم دین کے حامل ہونے کے ناطے منصب رسالت کی وراثت کے داعی، امین اور محافظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دین میں انہیں فقاہت اور بصیرت سے نوازا ہے۔ خاصہ خاصان رسل ﷺ کی امت کے نمائندے اور وراثت رسول کریم ﷺ کے امین ہونے کے ناطے ان پر بطور خاص یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ایسے المناک اور سنگین مراحل پر ملت اسلامیہ میں احساس وشعور بیدار کرنے میں کوئی کوتاہی نہ دکھائیں تاکہ امت مسلمہ اپنے فرائض کو بجالانے پر کمربستہ ہوجائے۔
- ۴۔ تمام اسلامی ریاستوں کے قانون سازی کا اختیار رکھنے والے وفاقی وصوبائی اداروں پر لازم ہے کہ وہ اسلامی
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور
سلطنت میں دیگر معا قوانین کو مزید مؤثر جرات نہ کر سکے۔
- ۵۔ تمام اسلامی ریاستوں
میں بھی ایسی شقیں ش خلاف سخت نوٹس لیا جا
- ۷۔ مملکت اسلامیہ کے
میں ایسے ملکوں سے ا
- ۸۔ اگر کسی سلطنت کا رہا
سے مسلسل سفارتی او ترک کرنے کی صور طور پر اختیار کر لیتے
- ۹۔ ہر شخص جو کسی بھی نہج
عزت و ناموس کی تح
- ۱۰۔ کسی غیر اسلامی مل
رکھنے میں مدد کی جا
- ۱۱۔ حکومتی اور عوامی س
رسول ﷺ کو تحف کے طور پر تدبر و تفکر
- (i) مسلمانوں کو چا
ہماری کسی بد عملی او ایسی ناپاک حرکتوں
- (ii) سیرت رسول رحمۃ
صلاحیتوں کو اس ع
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور مارچ اپریل 2011ء 361 تحفظ ناموس رسالت نمبر
سلطنت میں دیگر معاشرتی قوانین کے ساتھ ساتھ جناب نبی کریم ﷺ کی عزت وحرمت کو تحفظ دینے والے قوانین کو مزید مؤثر اور سخت بنائیں تاکہ کوئی بھی شیطان صفت دریدہ دھن آپ ﷺ کے بارے میں گستاخی کی جرأت نہ کر سکے۔
- ۵۔ تمام اسلامی ریاستوں کے سربراہان کو چاہیے کہ دیگر ممالک کے سربراہان سے رابطہ ہموار کر کے ان کے قوانین
میں بھی ایسی شقیں شامل کروائیں کہ اللہ کے برگزیدہ انسانوں کی عزت وحرمت پر کیچڑ اچھالنے والے افراد کے خلاف سخت نوٹس لیا جائے اور کاروائی کی جائے اور انہیں بر موقع سزا دے کر اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
- ۷۔ مملکت اسلامیہ کے لیے یہ لازمی تقاضا ہے کہ شانِ رسالت میں گستاخی کے مرتکب افراد کو سزا نہ دینے کی صورت
میں ایسے ملکوں سے احتجاج کرتے ہوئے اقتصادی اور دوسرے سفارتی تعلقات منقطع کریں۔
- ۸۔ اگر کسی سلطنت کا رہائشی اہانتِ رسول ﷺ کا مرتکب ہوتا ہے تو تمام اسلامی ممالک کے ذمہ داران کو چاہیے کہ ان
سے مسلسل سفارتی اور دیگر طرق سے احتجاج جاری رکھیں تاوقتیکہ وہ اس شخص کو منطقی انجام تک پہنچا دیں۔ احتجاج ترک کرنے کی صورت میں معاشرہ میں اس چیز کی وقعت اور اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ لوگ اسے مزاح ومذاق کے طور پر اختیار کر لیتے ہیں۔
- ۹۔ ہر شخص جو کسی بھی نہج پر کام کر رہا ہے، دینی محبت اور حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے متعلقین میں آپ ﷺ کی
عزت وناموس کی تعلیم دے۔
- ۱۰۔ کسی غیر اسلامی ملک میں گستاخی رسول کا واقعہ رونما ہونے کی صورت میں وہاں مقیم مسلمانوں کی احتجاج جاری
رکھنے میں مدد کی جائے تاوقتیکہ وہاں کی حکومت ان کے مطالبہ پر عمل درآمد کرنے پر آمادہ ہو جائے۔
- ۱۱۔ حکومتی اور عوامی سطح پر اسلامی سلطنت اور اسلامی معاشرہ میں کچھ ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے حرمتِ
رسول ﷺ کو تحفظ مل سکے اور انبیاء اور رسل کے خلاف منفی فکر اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے۔ ان میں سے آسانی کے طور پر تدبر وتفکر کے لیے ہم محض چند ایک کی نشاندہی پر اکتفا کرتے ہیں:
- (i) مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے فعل وعمل سے فرامین نبویہ کے تقدس پر اس طرح مہر تصدیق ثبت کریں کہ بذات خود
ہماری کسی بدعملی اور کوتاہی سے اہانت رسول کا شائبہ تک بھی پیدا نہ ہو۔ بدیہی طور پر یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ایسی ناپاک حرکتوں کے ارتکاب کا مقصد دنیا کو پیغام رسالت سے برگشتہ کرنا اور اسلام کو کمزور کرنا ہے۔
- (ii) سیرتِ رسول رحمتِ عالم ﷺ کے فرمودات وارشادات کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کا عزمِ مصمم کرنا، اپنی
صلاحیتوں کو اس کے سیکھنے اور پھیلانے میں کھپا دینا گویا آپ پر تہمت ترازی کرنے والوں کے بالمقابل آپ کے
مقاصد
عقائد اہل سنت کی اشاعت و فروغ دیا جاسکے۔ رضائے الہی کی دولت لازوال نصیب ہو سکے۔ فریضہ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہو سکے۔ وحدت امت مرحومہ کو قائم رکھا جاسکے۔ سنت اور حدیث کی شمع روشن کی جاسکے۔ ۔ باقاعدہ پرچہ چھاپا جاسکے۔ لوگوں کو گمراہ کن افکار سے محفوظ رکھا جاسکے۔ اخلاقی زوال کا سدباب کیا جاسکے۔ دین کی ترویج کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
ڈیزائن، خطاطی و گرافکس: محمد اسلم قادری، رابطہ: 0321-4041991
ماہنامہ ضیائے حرم 19 No. 3 Monthly
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور‘ مارچ اپریل 2011ء [362] تحفظ ناموس رسالت نمبر
رفعت ذکر کی عملی مثال پیش کرنے کے مترادف اور ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اہانت کرنے والوں کا مقصد لوگوں کو نبی مکرم ﷺ کی ذات اور آپ ﷺ کے پیغام سے بیزار کرنا ہے تاکہ اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے آگے بند باندھا جاسکے۔ لیکن آپ کی سیرت اور پیغام کی اشاعت ان کے مذموم ارادوں کو خاک میں ملا دے گی۔
- (iii) تقریر و خطاب کی سحر انگیزی کے ساتھ ساتھ قلم و قرطاس کے ذریعہ سے بھی سرور کونین ﷺ کی سیرت و کردار کو دور
دور تک پہنچایا جائے۔ مثلاً کتابیں‘ پمفلٹ اور مضامین لکھے جائیں۔ رسائل و جرائد کے خصوصی نمبر نکالے جائیں اور خطوط و ای میل سمیت جدید ٹیکنالوجی کے تمام ذرائع کو بروئے کار لایا جائے۔ اس طرح سے احتجاج منظم ہو کر سامنے آئے گا۔
- (iv) اپنے آپ کو دوسروں کے لئے محبت ومودت کا خوگر بنایا جائے اور اخوت اسلامی کے جذبہ کو پروان چڑھایا
جائے۔ اس کے بغیر اسلام کا رعب غیر مسلموں پر طاری نہیں ہو سکتا۔ جس طرح غیر مسلم اپنے مذموم مقاصد کے لیے یکسو اور متحد ہیں پورا یورپ اور مغربی میڈیا یک جہتی سے اسلام کی مخالفت پر کمر بستہ ہے‘ اس طرح مسلمان کو بھی نبی کریم ﷺ کی حرمت کی خاطر متحد ہونا پڑے گا۔ مغرب میں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ہونے والی پے در پے حرکتوں کا مقابلہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک مسلمانوں میں باہمی مواخات کو پیغمبر اسلام ﷺ سے محبت کے مرکزی نکتہ کے نام پر پروان نہ چڑھایا جائے۔ حضور نبی رحمت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے عقیدے کا اولین نکتہ ہے۔ جس میں خودسپردگی کے ساتھ اطاعت و وارفتگی کے جذبات بھی موجزن ہیں۔ باہمی اتحاد کے لیے اس نسخہ اکسیر کو کارگر طریقے سے استعمال میں لایا جائے۔ بعض مسلمان عملی اعتبار سے اس میں شرکت کر سکتے ہیں تو بعض ناموس رسالت کے تحفظ کے کام میں اپنے مال کا نذرانہ پیش کر کے اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ عمل کرنے اور ذمہ داری کو محسوس کرنے والوں کے لیے ہزاروں راستے ہیں۔‘‘
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
ماہنامہ ضیائے حرم لاہور
کتب
ابن تیمیہ، تقی الدین ابی الصارم المسلول بیروت: عالم الکتب
ابوالامتیاز اہانت رسول
احمد المجدع واللہ یعصمک من
احمد رضا خان رضا بریلوی گستاخ رسول
احمد، محمد منصور حرمت رسول
نوید سحر : ناموس
اعوان، ایچ ساجد تحفظ ناموس رسالت
تھانوی، جمیل احمد توہین رسالت
چشتی ، حبیب اللہ مسئلہ اہانت
٭ چیف لائبریرین، جامعہ ہجویریہ داتا دربار، لاہور
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور‘ مارچ ’اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
تحفظ ناموس رسالت پر کتابیات
شیر نواز خان *
کتب
ابن تیمیہ، تقی الدین ابی العباس (۶۶۱ - ۷۲۸ھ) الصارم المسلول علی شاتم الرسول ۔ طنطا: مکتبۃ تاج، ۱۹۶۰م، ۶۰۰ص بیروت: عالم الکتب، ۱۹۸۳م
ابوالامتیاز اہانت رسول ﷺ اور آزادی اظہار۔ کراچی: مجلس نشریات اسلام، ۲۰۰۰ء۔ ۱۷۶ص
احمد الجدع والله يعصمك من الناس ۔ بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۹۸۲م۔ ۲۲۳ص
احمد رضا خان رضا بریلوی ؒ گستاخ رسول ﷺ کی شرعی سزا۔ کراچی: ضیاء الدین پبلی کیشنز، ۳۹ص
احمد، محمد منصور حرمت رسول ﷺ ۔ لاہور: مکتبہ عرفان، ۱۴۲۸ھ۔ ۱۹۲ص
نوید سحر ناموس رسالت نمبر: مانسہرہ: جامعہ اسلامیہ حنفیہ، ۲۰۰۶ء، ۴۸ص
اعوان، ایچ ساجد تحفظ ناموس رسالت اور گستاخ رسول ﷺ کی سزا۔ ملتان: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ۱۹۹۶ء۔ ۸۹ص
تھانوی، جمیل احمد توہین رسالت اور اس کی سزا۔ لاہور: ادارہ اسلامیات، ۱۹۹۵ء، ۹۳ص
چشتی، حبیب اللہ مسئلہ اہانت رسول ﷺ ۔ لاہور: مکتبہ جمال کرم، ۱۴۲۴ھ
* چیف لائبریرین ڈاکٹر حمید اللہ لائبریری ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
خالد، محمد متین تحفظ ختم نبوت: اہمیت اور فضیلت۔ لاہور: مرکز سراجیہ، ۲۰۰۷ء۔ ۳۵۱ص
رضوی، محمد نعیم طاہر، مرتب تحفظ ناموس رسالت (مجموعہ مضامین)۔ لاہور: کنزالایمان پبلی کیشنز، پاکستان، ۲۰۰۷ء۔ ۴۷۶ص
زیدی، سید افتخار الحسن گستاخ رسول ﷺ کی سزا۔ فیصل آباد: مکتبہ نوریہ رضویہ، ۱۹۹۲ء، ۲۸۸ص
السبکی، تقی الدین علی اسلام اور احترام نبوت۔ ترجمہ: محمد خان قادری۔ لاہور: کاروان اسلام پبلیکیشنز، ۲۰۰۶ء۔ ۴۱۵ص
طاہر القادری، محمد احکام اسلام اور تحفظ ناموس رسالت۔ لاہور: منہاج القرآن پبلی کیشنز، ۱۹۹۷ء۔ ۳۶۴ص
طاہر القادری، محمد تحفظ ناموس رسالت۔ لاہور: منہاج القرآن پبلی کیشنز، ۲۰۰۳ء۔ ۴۰۹ص
فاروقی، رعایت اللہ گستاخ رسول کی سزا۔ کراچی: مکتبہ حلیمیہ، ۱۹۹۳ء، ۱۶۲ص
قریشی، محمد اسماعیل ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت۔ لاہور: ناشران و تاجران کتب، ۱۹۹۴ء، ۴۶۹ص
مدنی، محمد اسرار ارتداد اور توہین رسالت: اسلامی شریعت کی رو سے۔ لاہور: ادارہ اسلامیات، ۱۹۹۵ء۔ ۲۲۳ص
ندوی، محسن عثمان اسلام میں اہانت رسول ﷺ کی سزا۔ اسلام آباد: اسلامک بک شاپ، ۱۹۹۴ء، ۶۲۴ص
نسیم، فتح محمد نبی رحمت ﷺ۔ لاہور: مکتبہ جمال کرم، ۲۰۰۷ء، ۲۲۲ص
مقالات
ہجویری، رب نواز خان ”توہین رسالت۔ ایک ناقابل معافی جرم“۔ دعوت تنظیم اسلام (گوجرانوالہ) ۱۲:۲۲ (۲۰۱۰ء) ۱۵۔۱۷ص
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور، مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
ارشد، عبدالرشید ”آسیہ، عافیہ، توہین رسالت اور حکومت پاکستان“۔ نقیب ختم نبوت (ملتان) ۲۲:۱ (۲۰۱۱ء) ۱۵-۱۷ص
امین اللہ ”حقوق النبیؐ اور شاتم رسول کی توبہ کا حکم“۔ محدث (لاہور) ۴۳:۱ (۲۰۱۱ء) ۴۷-۴۸ص
انصاری، عبدالرشید ”انسداد توہین رسالت کا قانون اور اقلیتوں کے حقوق“ الحق (اکوڑہ خٹک) ۲۹:۱۱ (اگست ۱۹۹۴ء) ۵۱-۵۲ص
انگوی، رشید احمد ”توہین رسالت۔ پس منظر“ الحق (اکوڑہ خٹک) ۴۶:۴ (۲۰۱۰ء) ۲۶-۲۸ص
انوار الحق ”عظمت رسول ﷺ اور رسالت کی سزا“ الحق (اکوڑہ خٹک) ۴۶:۴ (۲۰۱۰ء) ۱۰-۱۷ص
انور غازی ”توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور یورپ“۔ محدث (لاہور) ۴۰:۴ (۲۰۰۸ء) ۷۶-۸۰ص
انعام الحق ”شاتم رسول ﷺ کی سزا“۔ بینات (کراچی) ۵۱:۸ (اپریل ۱۹۸۹ء) ۱۹-۲۶ص
پیر محمد امین الحسنات شاہ ”سر دلبراں......قانون ناموس رسالت تازہ یلغار کی زد میں“ ضیائے حرم (لاہور) ۴۱:۴ (جنوری ۲۰۱۱ء) ۷-۱۱ص
پیر محمد امین الحسنات شاہ ”سر دلبراں......قانون ناموس رسالت کی نظری وفکری بنیادیں“ ضیائے حرم (لاہور) ۴۱:۵ (فروری ۲۰۱۱ء) ۷- ۱۳ص
ترمذی، سید عبدالقدوس ”تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا قانون ناقابل ترمیم ہے“۔ الحقانیہ (ساہیوال) ۶:۱ (۲۰۱۰ء) ۳-۱۲ص
چوہدری، طاہر احمد ”قانون توہین رسالت اور سیکولر دانش ور“ ایشیاء (لاہور) ۶۰:۲ (۲۰۱۱ء) ۱۴ص
حامد میر ”آسیہ مسیح اور قانون توہین رسالت“۔ محدث (لاہور) ۴۳:۱ (۲۰۱۱ء) ۷۶-۸۵ص
No.3
Monthly
محمد رسول اللہ
مقاصد
- عقائدِ اسلامی و ثقافت کو فروغ دیا جاسکے۔
- رحمتِ الٰہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔
- فریضہ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہوسکے۔
- وحدتِ اُمتِ مرحومہ کو قائم رکھا جاسکے۔
- قرآن و حدیث کی صحیح تبلیغ کی جاسکے۔
- اخوت کو پروان چڑھایا جاسکے۔
- لادینیت کے مہلک مرض سے محفوظ رکھا جاسکے۔
- ارتداد کا سدّباب کیا جاسکے۔
- غلبۂ اسلام کے خواب شرمندہ تعبیر ہو سکیں۔
دیوان خطاطی واٹس ایپ نمبر 0321-4041991
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور مارچ / اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر ماہنامہ ضیائے حرم
حسن مدنی ’’قانون توہین رسالت: پس منظر اور ترامیم‘‘۔محدث (لاہور) ۴۳:۱ (۲۰۱۱ء) ۲۔۲۰ص
حسن مدنی ’’احادیث میں توہین رسالت کے واقعات‘‘۔محدث (لاہور) ۴۰:۴ (۲۰۰۸ء) ۶۱۔۷۵ص
حسن مدنی ’’رحمۃ للعالمینؐ کی توہین اور ہمارا فرض‘‘۔محدث (لاہور) ۴۰:۴ (۲۰۰۸ء) ۲۔۱۹ص
خان، مسلم اللہ ’’جرم توہین رسالت۔ چند پہلو‘‘۔الفاروق (کراچی) ۲:۲۷ (۲۰۱۱ء) ۱۵۔۲۱ص
خورشید احمد ’’شیطانی کارٹون:تہذیبی کروسیڈ‘‘۔ترجمان القرآن (لاہور) ۱۳۳:۳ (۲۰۰۶ء) ۳۔۳۰ص
ڈھلوں، عرفان خالد توہین رسالت کی سزا موت‘‘۔منہاج (لاہور) ۱۵:۱۔۲ (۱۹۹۷ء) ۹۔۹۰ص
ڈھلوں، عرفان خالد ’’توہین رسالت کی سزا موت‘‘۔منہاج (لاہور) ۱۴:۳ (جولائی۔ستمبر ۱۹۹۶) ۱۰۔۶۶ص
ساجد، اکرام اللہ ’’توہین خدا، توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم، توہین انبیاء، توہین قرآن، توہین اسلام اور توہین صحابہ کا نوٹس کون لے گا‘‘ محدث (لاہور) ۶:۱۸ (فروری ۱۹۸۸) ۲۔۱۱ص
ساجد، اکرام اللہ ’’توہین رسالت کے مرتکبین کو قرار واقعی سزا دی جائے‘‘ محدث (لاہور) ۱۶:۱۰ (جولائی ۱۹۸۶) ۲۔۱۱ص
سمیع، راشد الحق ’’توہین رسالت ﷺ کا بار بار ارتکاب صلیبی دہشت گردی کا تسلسل‘‘۔الحق (اکوڑہ خٹک) ۴۵: ۷۔۸ (۲۰۱۰ء) ۲۔۶ ص
سمیع، راشد الحق ’’توہین رسالت ایکٹ کے خلاف سازش غلامان مصطفی کے ہاتھوں شکست سے دوچار‘‘۔الحق (اکوڑہ خٹک) ۴۶: ۳،۴ (۲۰۱۰ء) ۲۔۴ص
سمیجہ، راحیل قاضی ’’قانون توہین
صدیقی، محمد عطاء اللہ ’’قانون توہین
ظہیر، ابتسام الٰہی ’’توہین رسالت
عابد، بشیر احمد ’’شاتم رسول ؐ
عبدالرؤف ’’توہین رسالت
عبدالستار، مفتی ’’توہین رسالت
عاصم، محمد یونس ’’محبت رسول ۲۔۴ص
فاروقی، ابن عمر ’’موہن رسول
قدوسی، عمر فاروق ’’توہین رسالت
قریشی، محمد اسماعیل ’’قانون توہین
کاظمی، سید احمد سعید ’’گستاخ رسول
گورایہ، خالد حسین ’’مسئلہ توہین
تحفظ ناموس رسالت نمبر 367 ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور، مارچ‘ اپریل 2011ء
سمیعہ راحیل قاضی ”قانون توہین رسالت اور عاصمہ جہانگیر کا کردار“۔محدث (لاہور) ۴۳: ۱ (۲۰۱۱ء) ۷۵۔۷۵ص
صدیقی، محمد عطاء اللہ ”قانون توہین رسالت اور عاصمہ جہانگیر کا کردار“۔محدث (لاہور) ۴۳: ۱ (۲۰۱۱ء) ۷۵۔۷۵ص
ظہیر، ابتسام الٰہی ”توہین رسالت کی سزا پر اٹھائے جانے والے اعتراضات“۔محدث (لاہور) ۴۳: ۱ (۲۰۱۱ء) ۳۰۔۳۶ص
عابد، بشیر احمد ”شاتم رسول ﷺ کی سزا قید یا موت؟“ طلوع اسلام (لاہور) ۴۳: ۱۲ (دسمبر ۱۹۹۰ء) ۸۵۔۲۶
عبدالرؤف ”توہین رسالت اور گستاخ رسول ﷺ کا بدترین انجام“۔بینات (کراچی) ۴۱: ۳ (۲۰۰۶ء) ۱۵۔۲۰ص
عبدالستار، مفتی ”توہین رسالت کی سزا“ الخیر (ملتان) ۱۲: ۳۔۴ (ستمبر ۱۹۹۹ء) ۵۹۔۷۶ص
عاصم، محمد یونس ”حبّ رسول ﷺ کا تقاضا اور قانون توہین رسالت میں ترمیم“ مجلۃ الجامعۃ السلفیہ (اسلام آباد) ۴: ۱ (۲۰۱۰ء) ۴۲۔۴۴ص
فاروقی، ابن عمر ”توہین رسول ﷺ کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع“ بینات (کراچی) ۷۴: ۱ (۲۰۱۱ء) ۴۱۔۵۱ص
قدوسی، عمر فاروق ”توہین رسالت اور موت کی سزا کیوں نہیں؟“۔الاخوۃ (لاہور) ۱۳: ۱ (۲۰۱۱ء) ۱۵۔۱۸ص
قریشی، محمد اسماعیل ”قانون توہین رسالت ﷺ میں ترمیم کے مضمرات“۔ترجمان القرآن (لاہور) ۱۳۲: ۱ (۲۰۰۵ء) ۴۱۔۴۶ص
کاظمی، سید احمد سعید ”گستاخ رسول ﷺ کی سزا قتل“۔کنز الایمان (لاہور) ۴: ۴ (مئی ۱۹۹۴ء) ۱۰۔۱۸ص
گورایہ، خالد حسین ”مسئلہ توہین رسالت پر علماء اہلحدیث کا فتویٰ“۔محدث (لاہور) ۴۳: ۱ (۲۰۱۱ء) ۱۳۱۔۱۳۴ص
ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور مارچ اپریل 2011ء 368 تحفظ ناموس رسالت نمبر
گھمن، محمد الیاس ”تحفظ ناموس رسالت ۔ تمام مکاتیب فکر کا اتحاد“، الحق (اکوڑہ خٹک) ۴۶:۴ (۲۰۱۰ء) ۲۹-۳۱ص
لودھی، طیب شاہین ”شاتم رسول ﷺ کی سزا“ محدث (لاہور) ۱۶:۵ (فروری ۱۹۸۶ء) ۱۵-۴۶ص
محمد ازہر ”شاتمین رسالت ﷺ اور ان کے پشت پناہ“، الخیر (ملتان) ۲۹:۲ (۲۰۱۱ء) ۳-۱۰ ص
محمد بلال ”تحفظ ناموس رسالت“، المصباح (لاہور) ۱۷:۱ (۲۰۱۱ء) ۲۳-۲۹ص
محمد صدیق ”توہین رسالت کے مرتکب کی سزا“، الخیر (ملتان) ۱۳:۱ (جون ۱۹۹۵) ۳۶-۴۸ص
مجددی، انور سعید ”گستاخ رسول ﷺ۔ واجب القتل ہے“۔ دعوت تنظیم اسلامی (گوجرانوالہ) ۲۲:۱۲ (۲۰۱۰ء) ۱۸-۲۵
مسعود عالم ”مسلم اور غیر مسلم شاتم رسول ﷺ کی سزا“۔ محدث (لاہور) ۴۳:۱ (۲۰۱۱) ۲۱-۲۹ص
مصطفیٰ، محمد اعجاز ”قانون توہین رسالت کیا اور کب سے ہے؟“۔ بینات (کراچی) ۷۴:۱ (۲۰۱۱ء) ۲۶-۳۲ص
نعمانی، ذاکر حسین ”مسئلہ توہین رسالت“۔ الحق (اکوڑہ خٹک) ۳۰:۸ (مئی ۱۹۹۵ء) ۴۹-۵۸ص
زاہد، صادق علی ”قانون ناموس رسالت ﷺ کی اہمیت اور پیپلز پارٹی کا طرز عمل“ ضیائے حرم (لاہور) ۴۰:۱ (اکتوبر ۲۰۰۹) ۳۳-۴۷ص
* * * * *
مقاصد ... ندائے اسلامی صحافت کو فروغ دیا جاسکے۔ ... رحمت الہی کی دولت لازوال نصیب ہوسکے۔ ... فریضہ دعوت و تبلیغ سے عہدہ برآ ہوسکے۔ ... خدمت امت مرحومہ کو عام کیا جاسکے۔ ... باطل افکار و جدیدیت کی بیخ کنی کی جاسکے۔ ... کو پروان چڑھایا جاسکے۔ ... و تجدد کے مہلک مرض سے محفوظ رکھا جاسکے۔ ... اعتزال کا سدباب کیا جاسکے۔ ... ن کی نشاۃ ثانیہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔ ماہنامہ ضیائے حرم Monthly Vol 49 No.3 ... نے ادارہ ضیائے حرم داتا دربار روڈ لاہور سے چھپوا کر شائع کیا فون 4041991 فیکس 03214041991
تحفظ ناموس رسالت نمبر (۲۰۱۱ء) ۲۹۔۳۱ ص یں ص میں (۲۰۱۰ء) ۱۸۔۲۵ یں ۲۷۔۳۲ ص لاہور) ۱:۴۰ (اکتوبر ۲۰۰۹)
ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد۔ لاہور مارچ اپریل 2011ء تحفظ ناموس رسالت نمبر
دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف کے فارغ التحصیل
مولانا حافظ عبدالخالق کا سانحہ رحلت
پاکباز نیک طینت سراپا عجز و نیاز حضرت مولانا عبدالخالق لاہوری دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف داخل ہوئے اور فارغ التحصیل ہو کر لاہور مراجعت فرما ہوئے۔ دور طالب علمی انتہائی متانت سے گزارا اور حصول علم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے، دوران تعلیم ہی حضرت ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ سے شرف بیعت حاصل کیا اور فراغت کے بعد دین حنیف کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ گورنمنٹ سیکنڈری سکول وحدت روڈ لاہور میں ملازمت اختیار کی اور ایک قابل رشک معلم کی صورت میں قوم کے نونہالوں کی خدمت میں مصروف رہے۔ ۱۹۸۰ء میں جامعہ مسجد حنفیہ نیلم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں امامت و خطابت کی ذمہ داری سنبھالی اور تادم واپسیں اس مرکز کو عملی سرگرمیوں اور ذکر وفکر سے آباد رکھا۔ اپنی درویشانہ زندگی میں احباب کو ہمیشہ یاد رکھا اور مقدور بھر دسترخوان تازہ رکھا۔ حضور ضیاء الامت ؒ کی ذات اور آپ کے مشن سے حد درجہ عقیدت رکھتے تھے اور پوری زندگی آپ ہی کے طریقہ کار کے مطابق دین کی خدمت سرانجام دیتے رہے۔ کچھ مدت سے معدے کے مریض تھے اور زیابطیس کا مرض بھی لاحق تھا جو بالآخر جان لیوا ثابت ہوا اور حضرت مولانا اپنے بچوں اور بچیوں کو سوگوار چھوڑ کر ۲۰ فروری ۲۰۱۱ء کو اپنے رب قدوس کے حریم ناز میں چلے گئے۔ ادارہ ضیائے حرم مرحوم و مغفور کے فرزند ارجمند مولانا عبدالقادر اور ان کے بہن بھائیوں نیز حافظ صاحب کے دیگر اہل خانہ کے غم میں شریک ہے اور ان کی بخشش کے لئے دعا گو ہے۔
مسلسل اشاعت کا 41 واں سال
اسلام آباد
لاہور
ضیائے حرم
مَاہنامہ
تحفظ
ناموس رسالت
نمبر
وَعِنْدَ اللّٰهِ فِى ذَاكَ الْجَزَاءُ
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طہٰ
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
اللّٰه
رَسُولُ
مُحَمَّد
لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمُ وِقَاءُ
مرتبین ● محبوب الرحمٰن ● محمد اعجاز احسن