رَدِّ قادیانیت
رسائل
- ترکی کے نامہ نگار • حضرت مولانا سید انور الحسن بخاریؒ
- جناب قاری عبدالحق عابدؔ • حضرت مولانا عزیز الرحمن دیوبندیؒ
- حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ • حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ
- حضرت مولانا عبدالستار خان نیازیؒ • حضرت مولانا افتخار احمد بگویؒ
- جناب مختار حسن صاحب • حضرت مولانا عبدالکریم مباہلہؒ
- حضرت مولانا فضل حق پشاوریؒ • الحاج میاں قمر الدین اچھرویؒ
- حضرت مولانا سعید الرحمن علیؒ
احتساب قادیانیت
جلد ٥٥
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4783486-061
ردّ قادیانیت
رسائل
احتساب قادیانیت
٥٥
- ترکی کے نامہ نگار
- حضرت مولانا انوار الحسن بخاری
- جناب قاری عبدالحق عابد
- حضرت مولانا عزیز الرحمن دیوبندی
- حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی
- حضرت مولانا ظہور احمد بگوی
- حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی
- حضرت مولانا افتخار احمد بگوی
- جناب مختار حسن صاحب
- حضرت مولانا عبدالکریم نبہانہ
- حضرت مولانا فضل حق پشاوری
- الحاج میاں قمر الدین چوہدری
- حضرت مولانا سید عبدالرحمن جیلانی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد پچپن (٥٥) مصنفین :
حضرت مولانا سید نور الحسن بخاریؒ حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن دیوبندیؒ حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ حضرت مولانا افتخار احمد بگویؒ حضرت مولانا عبدالکریم مباہلہؒ الحاج میاں قمر الدین اچھرویؒ ترکی کے نامہ نگار جناب قاری عبدالحئی عابد مرحوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ حضرت مولانا عبدالستار خان نیازیؒ جناب مختار حسن صاحب حضرت مولانا فضل حق پشاوریؒ حضرت مولانا سعید الرحمٰن علیؒ
صفحات : ٥٩٢ قیمت : ٣٥٠ روپے مطبع : ناصر فائن پریس لاہور طبع اوّل : فروری ٢٠١٤ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فہرست رسائل مشمولہ....... احتساب قادیانیت
☆...... عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا ١...... ہفت روزہ تنظیم اہل سنت لاہور، مرزا غلام احمد نمبر حضرت مولانا سید نور الحسن بخاری ٢...... ماہنامہ دارالعلوم دیوبند کا ”ختم نبوت نمبر“ حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن ٣...... ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ کا ”قادیان نمبر“ حضرت مولانا ظہور احمد بگوی ٤...... ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ کا ”ختم نبوت نمبر“ حضرت مولانا افتخار احمد بگوی ٥...... رپورٹ شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام ہند امرتسر حضرت مولانا عبدالکریم مباہلہ (از جنوری ١٩٣٩ء تا یکم اکتوبر ١٩٤١ء) ٦...... شعبہ تبلیغ مرکزیہ احرار اسلام ہند قادیان جناب الحاج میاں قمر الدین گورداسپور کی سالانہ روئیداد و گوشوارہ آمد و صرف ٧...... قادیانی سیاست حضرت مولانا عبدالکریم ٨...... خطبہ عیدالاضحیٰ ١٣٥٣ھ، ترکان احرار کا پیغام ترکی کے نامہ نگار ٩...... لا نبی بعدی جناب قاری عبدالحئی عابد ١٠...... قادیانیوں کے کفر کی حقیقت حضرت مولانا محمد یوسف ١١...... تحریک ختم نبوت حضرت مولانا عبدالستار خان ١٢...... سنڈیمن میں کیا ہوا؟ جناب مختار حسن صاحب ١٣...... اسلام میں عقیدہ ختم نبوت حضرت مولانا فضل حق ١٤...... امت مرزائیہ کی غلط بیانیوں کا جواب حضرت مولانا سعید الرحمٰن ١٥...... مرزائیوں کا سیاسی کردار 〃 〃
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فہرست رسائل مشمولہ....... احتساب قادیانیت جلد ٥٥
- ☆....... عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا ٤
- ١....... ہفت روزہ تنظیم اہل سنت لاہور، مرزا غلام احمد نمبر حضرت مولانا سید نور الحسن بخاریؒ ٩
- ٢....... ماہنامہ دارالعلوم دیوبند کا ”ختم نبوت نمبر“ حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن دیوبندیؒ ١١٥
- ٣....... ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ، ”کادیان نمبر“ حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ ٣١٧
- ٤....... ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ کا ”ختم نبوت نمبر“ حضرت مولانا افتخار احمد بگویؒ ٣٥٥
- ٥....... رپورٹ شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام ہند امرتسر حضرت مولانا عبدالکریم مباہلہؒ ٤١٩
(از جنوری ١٩٣٩ء تا یکم اکتوبر ١٩٤١ء)
- ٦....... شعبہ تبلیغ مرکزیہ احرار اسلام ہند قادیان جناب الحاج میاں قمر الدین اجمیریؒ ٤٢٥
کھاسپور کی سالانہ رسید اور گوشوارہ آمد و صرف
- ٧....... قادیانی سیاست حضرت مولانا عبد الکریم مباہلہؒ ٤٤١
- ٨....... خطبہ عیدالاضحیٰ ١٣٥٣ھ بترکان احرار کا پیغام ترکی کے نامہ نگار ٤٥١
- ٩....... لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ جناب قاری عبدالحی عابد مرحوم ٤٦١
- ١٠....... قادیانیوں کے کلمہ کی حقیقت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ٤٧٩
- ١١....... تحریک ختم نبوت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازیؒ ٤٨٣
- ١٢....... سنڈیمن میں کیا ہوا؟ جناب مختار حسن صاحب ٥١٩
- ١٣....... اسلام میں عقیدہ ختم نبوت حضرت مولانا فضل حق پشاوریؒ ٥٣٩
- ١٤....... امت مرزائیہ کی غلط بیانیوں کا جواب حضرت مولانا سعید الرحمٰن علویؒ ٥٤٥
- ١٥....... مرزائیوں کا سیاسی کردار " " " ٥٥٥
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عرض مرتب
الحمد للہ و کفیٰ و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفےٰ ، اما بعد! اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے احتساب قادیانیت کی جلد نمبر ٥٥ پیش خدمت ہے:
- ......١ ہفت روزہ تنظیم اہل سنت لاہور ، مرزا غلام احمد نمبر : کسی زمانہ میں ”تنظیم اہل
سنت“ لاہور سے ہفت روزہ رسالہ شائع ہوتا تھا جس کا ملک کے رسائل میں بڑا نام ومقام تھا۔ حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ صاحب بخاریؒ اس کے ایڈیٹر ہوتے تھے۔ آپ نے ١٩٣٩ء میں اس کا ”مرزا غلام احمد نمبر“ شائع کیا۔ اس میں ملک کے نامور اہل قلم اور سیاست دانوں کے رشحات قلم شائع کئے گئے ۔ ایک سال میں اس کے تین ایڈیشن شائع ہوئے۔ ٥؍ شعبان ١٣٦٩ھ، مطابق مئی ١٩٥٠ء میں اس خاص نمبر کا تیسرا ایڈیشن شائع ہوا جو اس وقت اس جلد میں شامل اشاعت کر رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی رسالہ کے خاص ایڈیشن کو ہم نے احتساب قادیانیت میں جگہ دی ہو۔ اس زمانہ (١٩٣٩ء) میں قادیانیوں کے خلاف قلم اٹھانا بڑے جگر گردہ کا کام تھا۔ مولانا سید نور الحسن بخاریؒ پوری امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے یہ بیڑا اٹھایا۔ تریسٹھ (٦٣) سال بعد اس کی اشاعت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔
- ......٢ ماہنامہ دارالعلوم دیوبند کا ”ختم نبوت نمبر“ : دارالعلوم دیوبند میں ٢٩ تا ٣١؍ اکتوبر
١٩٨٦ء ایک عالمی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں مقررین حضرات نے مقالہ جات بھی پڑھے۔ جسے بعد میں جون تا اگست ١٩٨٧ء کی اشاعت خاص ”ماہنامہ دارالعلوم دیوبند“ میں ”ختم نبوت نمبر“ کے نام پر شائع کیا گیا۔ اس جلد میں اس اشاعت خاص کو شامل کر رہے ہیں۔ اس وقت ”ماہنامہ دارالعلوم دیوبند“ کے نگران حضرت مولانا مرغوب الرحمنؒ تھے۔ متذکرہ کانفرنس امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ کی مساعی جمیلہ سے انعقاد پذیر ہوئی تھی۔
- ......٣ ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ ، قادیان نمبر : بھیرہ میں حزب الانصار کے قائد اپنے
دور میں حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ بھی رہے ہیں، جو نامور عالم دین اور صحیح معنی میں مجاہد ملت تھے۔ آپ نے قادیانی فتنہ کے خلاف وہ خدمات سرانجام دیں جو تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں۔ آپ کے زیر سایہ بھیرہ سے رسالہ شائع ہوتا تھا جس کا نام ”ماہنامہ شمس الاسلام“ بھیرہ تھا۔ دسمبر ١٩٣٣ء میں اس کا ”قادیان نمبر“ شائع ہوا جو احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اسی
اکاسی سال بعد اس کی اشاعت پر اللہ رب العزت ک
- ......٤ ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ کا ختم نبو
کے چشم و چراغ حضرت مولانا صاحبزادہ افتخار احمد ٧ ستمبر ١٩٧٤ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار د دو اشاعتوں کو اکٹھا کر کے ایک خاص اشاعت ”ختم بھی شائع کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ ا
- ......٥ رپورٹ شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلا
١٩٣١ء): کل ہند مجلس احرار اسلام کو اللہ رب العز اس نے قادیانیت کے تعاقب کا اہتمام کیا، کل ہ بہت ہی مبارک کام یہ تھا کہ اس نے ایک ”شعبہ تب لئے وقف کیا گیا۔ قادیان میں ”شعبہ تبلیغ“ کی ب نے امرتسر سے شائع کی۔ مولانا مرحوم اس شعبہ تب صفحات پر شائع ہوئی۔ جس میں جنوری ١٩٣٩ء شامل ہے۔ تاریخی ریکارڈ ہے۔ اس رپورٹ ج اسلام مولانا لال حسین اخترؒ کا نام بھی مبلغین شعب اسے شائع کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی ہے
- ......٦ شعبہ تبلیغ مرکزیہ احرار اسلام ہند ق
وصرف (یکم اپریل ١٩٤٥ء، لغایت ٣١ مار احرار اسلام نے ”شعبہ تبلیغ“ قائم کر کے قادیانیت کے مہتمم لاہور اچھرہ کا رئیس الحاج میاں قمر الدین شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے ”فاتح قادیان“ کے لقب سے ملقب ہو کر اتنی خ کی مرتب کردہ ہے جو اس جلد میں شائع کرنے کی س
- ......٧ قادیانی سیاست: حضرت مولا
مرحوم کے تین رسائل احتساب قادیانیت کی میں ہے اور دو رسائل اس جلد میں ہیں۔ یہ ر
اکاسی سال بعد اس کی اشاعت پر اللہ رب العزت کا لاکھوں لاکھ شکر ادا کرتے ہیں۔
- ٤....... ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ کا ختم نبوت نمبر: حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ کے خاندان
کے چشم و چراغ حضرت مولانا صاحبزادہ افتخار احمد بگوی نے اپنے بڑوں کے نام اور کام کو زندہ رکھا۔ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو آپ نے ”ماہنامہ شمس الاسلام“ بھیرہ کی دو اشاعتوں کو اکٹھا کر کے ایک خاص اشاعت ”ختم نبوت نمبر“ کے نام پر شائع کیا۔ اس جلد میں اسے بھی شائع کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔ فالحمدللہ اولاً و آخراً!
- ٥....... رپورٹ شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام ہند امرتسر (از جنوری ١٩٣٩ء تا یکم اکتوبر
١٩٤١ء): کل ہند مجلس احرار اسلام کو اللہ رب العزت نے توفیق بخشی کہ سب سے پہلے جماعتی سطح پر اس نے قادیانیت کے تعاقب کا اہتمام کیا۔ کل ہند مجلس احرار کے دیگر سنہری کاموں کے علاوہ ایک بہت ہی مبارک کام یہ تھا کہ اس نے ایک ”شعبہ تبلیغ“ قائم کیا جسے صرف رد قادیانیت کے کام کے لئے وقف کیا گیا۔ قادیان میں ”شعبہ تبلیغ“ کی سرگرمیوں پر مشتمل رپورٹ مولانا عبدالکریم مباہلہ نے امرتسر سے شائع کی۔ مولانا مباہلہ اس شعبہ تبلیغ کے اس وقت سیکرٹری تبلیغ تھے۔ یہ رپورٹ آٹھ صفحات پر شائع ہوئی۔ جس میں جنوری ١٩٣٩ء سے یکم اکتوبر ١٩٤١ء کے آمد و صرف کی رپورٹ بھی شامل ہے۔ تاریخی ریکارڈ ہے۔ اس رپورٹ میں فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر کا نام بھی مبلغین شعبہ تبلیغ میں درج ہے۔ آج ان کے ایک خوشہ چین کو اسے شائع کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے۔ زہے نصیب!
- ٦....... شعبہ تبلیغ مرکزیہ احرار اسلام ہند قادیان گورداسپور کی سالانہ روئیداد و گوشوارہ آمد
وصرف (یکم اپریل ١٩٤٥ء، لغایت ٣١؍ مارچ ١٩٤٦ء): جیسے ابھی ذکر ہوا کہ کل ہند مجلس احرار اسلام نے ”شعبہ تبلیغ“ قائم کر کے قادیانیت کے احتساب کا قادیان میں ڈول ڈالا۔ اس شعبہ تبلیغ کے مہتمم لاہور اچھرہ کا رئیس الحاج میاں قمر الدین مرحوم کو مقرر کیا گیا۔ اس شعبہ تبلیغ کے سرپرست امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔ آج اس روئیداد کے ٹائٹل پر حضرت امیر شریعت کو ”فاتح قادیان“ کے لقب سے ملقب پڑھ کر اتنی خوشی ہوئی کہ جھوم اٹھا۔ یہ روئیداد الحاج میاں قمر الدین کی مرتب کردہ ہے جو اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے۔
- ٧....... قادیانی سیاست: حضرت مولانا عبدالکریم مباہلہ کا یہ رسالہ مرتب کردہ ہے۔ مولانا
مرحوم کے تین رسائل احتساب قادیانیت کی جلد ٤٧، ایک رسالہ احتساب قادیانیت کی جلد ٤٦ میں ہے اور دو رسائل اس جلد میں ہیں۔ یہ سب ایک جلد میں آنے چاہئے تھے۔ لیکن ایسے نہ
ہوسکا۔ اب اگر کوئی دوست بعد میں احتساب کو جدید خطوط پر مرتب کرنا چاہیں تو اس کا خاص خیال رکھیں کہ جن حضرات کے کسی وجہ سے رسائل کئی جلدوں میں آگئے ہیں ان کو یکجا کر دیا جائے۔
- ٨...... خطبہ عیدالاضحیٰ ١٣٥٣ھ ...... ترکان احرار کا پیغام: ترکی میں خلافت عثمانیہ کے کسی
رہنما نے اپنے خطبہ میں دیگر احکام کے علاوہ قادیانیوں کی بھی خبر لی۔ مجلس احرار اسلام امرتسر نے اس خطبہ کو پمفلٹ کی شکل میں شائع کر دیا جسے اس جلد میں محفوظ کرنے کی سعادت سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔
- ٩...... لا نبی بعدی: حضرت مولانا قاری عبدالحئی عابد ملک عزیز کے نامور خطیب تھے۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے ان کا وصال ہوا ہے۔ ہمارے ملک کے نامور خطیب حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے مولانا عبدالحئی عابد برادر اصغر تھے۔ مولانا عابد نے یہ رسالہ مرتب کیا۔ قرآن وسنت سے ختم نبوت وحیات مسیح پر لکھا گیا ہے۔
- ١٠...... قادیانیوں کے کلمہ کی حقیقت: ١٩٨٤ء میں جب قادیانیوں کے خلاف جنرل محمد ضیاء
الحق نے امتناع قادیانیت آرڈینینس منظور کیا تو قادیانیوں نے کلمہ طیبہ کے بیج لگا کر اس قانون کی خلاف ورزی کرنا چاہی۔ تب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ان کے احتساب کا دائرہ تنگ کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں قادیانی تحریک اس طرح دم توڑ گئی جس طرح مرزا قادیانی کے اندر سے حیاء نے ڈیرہ اٹھا لیا تھا۔ اس زمانہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر واشاعت کے سربراہ شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ تھے۔ اس دور میں آپ کا قلم تازی گھوڑے سے بھی زیادہ میدان سر کر رہا تھا۔ آپ نے مختصر عرصہ میں قادیانی فرقہ سے متعلق اتنا تحریر کیا کہ جب اس کو جمع کیا گیا تو ”تحفہ قادیانیت“ کی چھ ضخیم جلدیں شائع ہوگئیں۔ بلاشبہ اس وقت تک کی فقیر کی نظر میں سب سے زیادہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے رد قادیانیت پر تحریر فرمایا۔ باقی حضرات میں سے کسی نے دو جلدیں، کسی نے تین۔ آپ کی چھ جلدیں جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت علیحدہ شائع کرنے کی سعادت حاصل کر چکی ہے۔ یہ رسالہ بھی ہمارے حضرت کا مرتب کردہ ہے۔
- ١١...... تحریک ختم نبوت: مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی نے تحریک ختم
نبوت ١٩٥٣ء میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ آپ نے تحریک کے چار سال بعد یہ رسالہ مرتب کیا۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ چنیوٹ میں انجمن طلباء اسلام چنیوٹ نے ختم نبوت کانفرنس رکھی جس میں مولانا عبدالستار خان نیازی یہ مقالہ لکھ کر تشریف لائے جسے آپ نے کانفرنس میں پیش کیا اور پھر شائع بھی کیا نصف صدی سے زائد عرصہ بعد اس کی اشاعت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔
- ١٢...... سنڈیمن میں کیا ہوا؟: جولائی ١٩٧٣ء میں فورٹ سنڈیمن میں
محرف ترجمہ قرآن تقسیم کیا۔ تب حضرت مولانا شمس الدین شہید اور حضرت صوفی محمد علی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و حضرت حاجی محمد عمر صاحب نے قادیانی سازش کے خلاف تحریک چلائی۔ جس کے نتیجہ میں پورے ضلع ژوب میں ہمیشہ کے لئے داخلہ بند کر دیا گیا۔ اس تحریک میں قربانیاں دیں اس کی روئیداد اس زمانہ میں ستمبر ١٩٧٣ء کے ہفت روزہ چٹان میں شائع کی تھی جسے بعد میں ادارہ ضیاء السنۃ مصطفیٰ آباد لاہور نے شائع کر دیا تھا۔ اتنے عرصہ بعد اس کی اشاعت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں
- ١٣...... اسلام میں عقیدہ ختم نبوت: جمعیت علماء اسلام کی صوبائی
حکومت نے پشاور میں دوروزہ علماء کنونشن کا اہتمام کیا۔ ٦؍ جون ١٩٨١ء کو فضل حق صاحبؒ نے یہ مقالہ پیش فرمایا جسے بعد میں پمفلٹ کی شکل میں عالمی مجلس نے شائع کیا اس جلد میں اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔
- ١٤...... امت مرزائیہ کی غلط بیانیوں کا جواب: ١٩٧٣ء میں
ایک ممبر آزاد کشمیر اسمبلی نے آزاد کشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار داد پیش کی جو بالاتفاق منظور کر لی گئی۔ یہ قرار داد کیا منظور ہوئی گویا قادیانیوں کے پاؤں کے نیچے آگ لگ گئی۔ اس قرار داد کے خلاف قادیانی جماعت کشمیر کے امیر منظور احمد ایڈووکیٹ قادیانی نے ایک پمفلٹ لکھا جس کے جواب میں حضرت مولانا سعید الرحمن علوی مرحوم جو ان دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ تھے اور حضرو میں خطیب تھے۔ آپ نے قلم اٹھایا اور یہ پمفلٹ تحریر کر دیا جسے محفوظ کرنے پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتا ہوں۔
(اس قرار داد کے خلاف مرزا ناصر نے ربوہ (چناب نگر) سے اپنا موقف ایک پمفلٹ کی شکل میں شائع کر دیا۔ جس کا حضرت مولانا علویؒ نے جواب تحریر فرمایا تھا۔ جسے ہم احتساب قادیانیت کی جلد ١٦ میں شائع کر چکے ہیں)
- ١٥...... مرزائیوں کا سیاسی کردار: مجاہد ملت حضرت مولانا محمد
علی جالندھریؒ نے ١٩٧٠ء کو کمپنی باغ سرگودھا میں خطاب فرمایا اور اسی روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔ اسی طرح کی ایک تقریر جامع مسجد گوجرانوالہ شہر میں ٢١؍ اکتوبر ١٩٦٦ء کو حضرت مجاہد ملت نے فرمائی تھی۔ ان دونوں تقاریر کو جناب محمد طاہر عبدالرزاق صاحب نے مرتب کر کے شائع کیا تھا۔
میں احتساب کو جدید خطوط پر مرتب کرنا چاہیں تو اس کا خاص خیال ے رسائل کئی جلدوں میں آ گئے ہیں ان کو یکجا کر دیا جائے۔
- ١١...... ترکان احرار کا پیغام: ترکی میں خلافت عثمانیہ کے کسی
کے علاوہ قادیانیوں کی بھی خبر لی مجلس احرار اسلام امرتسر نے اس خطبہ جسے اس جلد میں محفوظ کرنے کی سعادت سے بہرہ ور ہورہے ہیں۔ حضرت مولانا قاری عبدالحق عابد ملک عزیز کے نامور خطیب تھے۔ ہوا ہے۔ ہمارے ملک کے نامور خطیب حضرت مولانا محمد ضیاء دراصغر تھے۔ مولانا عابد نے یہ رسالہ مرتب کیا۔ قرآن وسنت ہے۔
حقیقت: ١٩٨٣ء میں جب قادیانیوں کے خلاف جنرل محمد ضیاء ں منظور کیا تو قادیانیوں نے کلمہ طیبہ کے بیج لگا کر اس قانون کی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ان کے احتساب کا دائرہ تنگ کر دیا۔ اس ح دم توڑ گئی جس طرح مرزا قادیانی کے اندر سے حیاء نے ڈیرہ ا تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر واشاعت کے سربراہ شہید اسلام ئے تھے۔ اس دور میں آپ کا قلم تازی گھوڑے سے بھی زیادہ عرصہ میں قادیانی فرقہ سے متعلق اتنا تحریر کیا کہ جب اس کو جمع ہم جلدیں شائع ہوگئیں۔ بلاشبہ اس وقت تک کی فقیر کی نظر میں سف لدھیانویؒ نے رد قادیانیت پر تحریر فرمایا۔ باقی حضرات میں ا۔ آپ کی چھ جلدیں جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت علیحدہ شائع ۔ یہ رسالہ بھی ہمارے حضرت کا مرتب کردہ ہے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی نے تحریک ختم سرانجام دیں جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ آپ نے تحریک کے چار سبب یہ ہوا کہ چنیوٹ میں انجمن طلباء اسلام چنیوٹ نے ختم بدالستار خان نیازی یہ مقالہ لکھ کر تشریف لائے جسے آپ نے بھی کیا نصف صدی سے زائد عرصہ بعد اس کی اشاعت پر
- ١٢...... سنڈیمن میں کیا ہوا؟: جولائی ١٩٧٣ء میں فورٹ سنڈیمن میں قادیانیوں نے اپنا
محرف ترجمہ قرآن تقسیم کیا۔ تب حضرت مولانا شمس الدین شہید اور آپ کے گرامی قدر رفقاء حضرت صوفی محمد علی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و حضرت حاجی محمد عمر خان صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے قادیانی سازش کے خلاف تحریک چلائی۔ جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کا قانونی طور پر ضلع ژوب میں ہمیشہ کے لئے داخلہ بند کر دیا گیا۔ اس تحریک میں علماء اہل اسلام نے کیا کیا قربانیاں دیں اس کی روئیداد اس زمانہ میں ستمبر ١٩٧٤ء کے ہفت روزہ زندگی لاہور میں جناب مختار حسن نے شائع کی تھی جسے بعد میں ادارہ ضیاء الحدیث مصطفیٰ آباد لاہور نے پمفلٹ کی شکل میں شائع کر دیا تھا۔ اتنے عرصہ بعد اس کی اشاعت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ فالحمدللہ!
- ١٣...... اسلام میں عقیدہ ختم نبوت: جمعیت علماء اسلام کی حکومت سرحد میں وزارت مذہبی
امور نے پشاور میں دو روزہ علماء کنونشن کا اہتمام کیا۔ ٦؍ جون ١٩٨١ء کو کنونشن میں حضرت مولانا فضل حق صاحبؒ نے یہ مقالہ پیش فرمایا جسے بعد میں پمفلٹ کی شکل میں مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور نے شائع کیا اس جلد میں اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ فالحمدللہ!
- ١٤...... امت مرزائیہ کی غلط بیانیوں کا جواب: ١٩٧٣ء میں جناب میجر محمد ایوب
صاحب ممبر آزاد کشمیر اسمبلی نے آزاد کشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کی جو بالاتفاق منظور کر لی گئی۔ اس سے قادیانی ایسے حواس باختہ ہوئے کہ الامان۔ قرارداد کیا منظور ہوئی گویا قادیانیوں کے پاؤں کے نیچے آگ جلا دی گئی۔ اس زمانہ میں اس قرارداد کے خلاف قادیانی جماعت کشمیر کے امیر منظور احمد ایڈووکیٹ قادیانی نے پمفلٹ لکھا جس کے جواب میں حضرت مولانا سعید الرحمن علوی مرحوم جو ان دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت اٹک کے امیر تھے اور حضرو میں خطیب تھے۔ آپ نے قلم اٹھایا اور یہ پمفلٹ تحریر کر دیا۔ اس رسالہ کو اس جلد میں محفوظ کرنے پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتا ہوں۔
(اس قرارداد کے خلاف مرزا ناصر نے ربوہ (چناب نگر) میں خطبہ دیا جسے بعد میں قادیانی جماعت نے پمفلٹ کی شکل میں شائع کر دیا۔ جس کا حضرت مولانا تاج محمود صاحبؒ نے جواب تحریر فرمایا تھا۔ جسے ہم احتساب قادیانیت کی جلد ١٦ میں شائع کر چکے ہیں)
- ١٥...... مرزائیوں کا سیاسی کردار: مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے ١٦؍ مئی
١٩٧٠ء کمپنی باغ سرگودھا میں خطاب فرمایا اور اسی روز ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب فرمایا۔ اس طرح مکی مسجد گوجرانوالہ شہر میں ٢١؍ اکتوبر ١٩٦٦ء کو حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا
خطاب ہوا۔ پریس کانفرنس سرگودھا، خطاب سرگودھا، خطاب گوجرانوالہ تینوں حضرت مولانا سعید الرحمٰن علوی مرحوم نے مرتب کئے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن خورشید ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے مبلغ تھے۔ آپ نے ان کو ”مرزائیوں کا سیاسی کردار“ کے نام سے پمفلٹ کی شکل میں شائع کر دیا۔ احتساب قادیانیت کی اس جلد میں اسے بھی قریباً نصف صدی کے بعد شائع کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔
غرض احتساب قادیانیت کی جلد ہذا (یعنی پچپن (٥٥) جلد) میں ١٣ حضرات کے ١٥ رسائل و کتب محفوظ ہو گئے ہیں جن کی فہرست پر ایک بار پھر نظر ڈالیں۔
- ١...... حضرت مولانا سید نور الحسن بخاری ؒ کا ١ رسالہ
- ٢...... حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن دیوبندی ؒ کا ١ رسالہ
- ٣...... حضرت مولانا ظہور احمد بگوی ؒ کا ١ رسالہ
- ٤...... حضرت مولانا افتخار احمد بگوی ؒ کا ١ رسالہ
- ٥...... حضرت مولانا عبدالکریم مباہلہ ؒ کے ٢ رسائل
- ٦...... الحاج میاں قمر الدین اچروی ؒ کا ١ رسالہ
- ٧...... ترکی کے نامہ نگار کا ١ رسالہ
- ٨...... قاری عبدالحق عابد مرحوم کا ١ رسالہ
- ٩...... حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ کا ١ رسالہ
- ١٠...... حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی ؒ کا ١ رسالہ
- ١١...... جناب مختار حسن صاحب کا ١ رسالہ
- ١٢...... حضرت مولانا فضل حق پشاوری ؒ کا ١ رسالہ
- ١٣...... حضرت مولانا سعید الرحمٰن علوی ؒ کے ٢ رسائل
گویا ١٣ حضرات کے کل ١٥ رسائل احتساب قادیانیت کی جلد (٥٥) میں شامل اشاعت ہیں۔ حق تعالیٰ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین ٠ بحرمة خاتم النبیین! محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ٨ ربیع الثانی ١٤٣٥ھ، بمطابق ٩ فروری ٢٠١٤ء
شعبہ نشر و اشاعت
خاتم النبیین لا نبی بعدی
مسجد آمنہ بھٹہ کالونی خانیوال
ہفت روزہ تنظیم اہل سنت
مرزا غلام احمد
حضرت مولانا سید نور الحسن بخاری
گودھا، خطاب سرگودھا، خطاب گوجرانوالہ تینوں حضرت مولانا سعید کئے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن خورشید ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم پ نے ان کو ”مرزائیوں کا سیاسی کردار“ کے نام سے پمفلٹ کی قادیانیت کی اس جلد میں اسے بھی قریباً نصف صدی کے بعد شائع رہا ہوں۔
یانیت کی جلد ہذا (یعنی پچپن (٥٥) جلد) میں ١٣ حضرات کے ں جن کی فہرست پر ایک بار پھر نظر ڈالیں۔
رالرحمن بخاری رحمہ اللہ کا ١ رسالہ ب الرحمن دیوبندی رحمہ اللہ کا ١ رسالہ احمد بگوی رحمہ اللہ کا ١ رسالہ محمد بگوی رحمہ اللہ کا ١ رسالہ ر ندیم سہولہ رحمہ اللہ کے ٢ رسائل اجمیری رحمہ اللہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ یوم کا ١ رسالہ ف لدھیانوی رحمہ اللہ کا ١ رسالہ تار خان نیازی رحمہ اللہ کا ١ رسالہ پ کا ١ رسالہ نا پشاوری رحمہ اللہ کا ١ رسالہ رحمن علوی رحمہ اللہ کے ٢ رسائل ..................................................
حضرات کے کل ١٥ رسائل جلد (٥٥) میں شامل اشاعت ہیں۔ حق تعالیٰ شرف قبولیت رمۃ خاتم النبیین!
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ٨ ربیع الثانی ١٤٣٥ھ، بمطابق ٩ فروری ٢٠١٤ء
خاتم النبیین لا نبی بعدی
طوبی لمن رآنی و آمن بی و طوبی لمن آمن بی و لم یرنی
ہفت روزہ تنظیم اہل سنت لاہور
مرزا غلام احمد نمبر
حضرت مولانا سید نور الحسن بخاری رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!
ملت اسلامیہ کا تبلیغی اخبار ’ہفت روزہ تنظیم اہل سنت لاہور‘
مرزا غلام احمد نمبر
"تنظیم اہل سنت کے مرزا قادیانی نمبر کی ترتیب پر میں سید نور الحسن صاحب کی خدمت میں مبارک باد عرض کرتا ہوں۔ انہوں نے تنظیم کے اس خاص نمبر کی اشاعت سے ملت اسلامیہ کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ ”تنظیم اہل سنت“ کے مندرجہ مضامین پڑھنے کے بعد کوئی معقولیت پسند انسان مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کا قائل ہو سکتا ہے۔"
(شیخ فیض محمد سپیکر اسمبلی)
"اس پرچے میں قادیانیت کے متعلق ایسے محققانہ مضامین ہیں جن کے مطالعے سے کسی مسلمان کو محروم نہیں رہنا چاہئے۔ کوئی صحیح العقیدہ مسلمان اس پرچے کے مطالعے سے محروم رہا ہو، تو یہ محرومی خوش قسمتی نہیں کہلائے گی۔ غرضیکہ یہ نمبر اپنے موضوع کے لحاظ سے قابل تحسین ہے اور تنظیم اہل سنت کا مدیر مستحق مبارک باد ہے۔ جس نے ان مضامین کا مجموعہ پیش کیا جو کفر و الحاد کے خرمن پر حق و صداقت کی بجلیوں کا کام کر سکتے ہیں۔"
(زمیندار لاہور)
اشاعت سوم
٢٨/ رجب، ٥/ شعبان ١٣٦٩ھ، مطابق ١٦، ٢٣/ مئی ١٩٥٠ء
مخلصانہ پیشکش
ہر اس فرزند توحید کی خدمت میں جو محبوب خدا محمد مصطفےٰ ﷺ کی عالمگیر قیادت اور ابدی رسالت پر غیر متزلزل ایمان رکھتا ہے اور ”رحمة للعالمین“ کے بعد ہر قسم کے مدعی نبوت کو کذاب و دجال اور اسے نبی اور مجدد ماننے والوں کو مرتد و ملعون سمجھتا ہے۔
(بخاری)
٢
ارباب نگارش
نقاشِ پاکستان علامہ اقبالؒ، حضرت مولانا ظفر علی خان صاحب، شیخ فیض محمد صاحب سپیکر اسمبلی، حضرت مولانا سید محمد داؤد صاحب غزنویؒ، صاحبِ سابق ڈسٹرکٹ جج ریاست بہاول پور۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل بانی تحریک جناب سردار احمد خان صاحب چتانی، فاتح قادیان حضرت مو اختر، حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی صاحب، حضرت طالوت۔ شاعرِ عظیم
تحریک تنظیم کے بانی محترم المقام جناب سردار احمد خان
اہل حق سے مختصر خطاب
دیگر مذہبی جماعتوں نے بڑے بڑے ادارے، بڑے بڑے جائیدادیں بنائی ہیں۔ ان کے سالانہ بجٹ لاکھوں تک پہنچتے ہیں۔ انہوں اور بڑی بڑی شاخوں کا جال بچھا کر ہر ایک شاخ کی ذہنی اور دماغی تربیت ہے کہ ان کے پیروکار گونا گوں مدات میں امداد دیتے نہیں تھکتے اور بلا جائیدادوں کے حصے دے رہے ہیں۔ ہم میں ایک بڑا عیب یہ بھی ہے کہ ایسے لوگوں کی ہے جو دیگر مذہبی جماعتوں کی مدح سرائی میں تو مصروف رہ تعمیر کو ذرا بھی زیرِ غور نہیں لاتے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ آپ کے فرائض صفت و ثناء اور ان کی مدح سرائی تک محدود ہیں یا آپ خود بھی کوئی کام کرینگے
اللہ کے فضل سے تنظیم اہل سنت کا ادارہ قائم ہو چکا ہے واشاعت اور جماعتِ اہل سنت کا اٹھان اس کے فرائض میں داخل ہے ہفتہ وار اخبار بھی جاری ہے۔ آپ لوگوں نے جہاں ہزاروں روپے کے اِ کر رکھے ہیں۔ وہاں اپنی حفاظت کا خرچ بھی اپنے ذمہ لے لیں تو ہرج اس میں نہ صرف وقتی سی امداد دیں بلکہ بڑی بڑی اور پیاری پیاری رق اپنائیں اور اپنے عطاء کردہ فنڈ کی نگرانی میں بھی شامل ہوں۔ اگر آپ بق سے اور فکرِ آخرت سے بالاتر نہیں ہیں اور اگر ہماری سعی محض جذبہ للہیت پر کہ یہ استدعا بے اثر اور بے نتیجہ رہے۔ ٣
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ فتی اخبار ”ہفت روزہ تنظیم اہل سنت لاہور“
مرزا غلام احمد نمبر
جھے مرزا قادیانی نمبر کی ترتیب پر جناب سید نور الحسن صاحب کی خدمت جنہوں نے تنظیم کے اس خاص نمبر کی اشاعت سے ملت اسلامیہ کی ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ ”تنظیم اہل نے کے بعد کوئی معقولیت پسند انسان مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت
(شیخ فیض محمد سپیکر اسمبلی)
دیانیت کے متعلق ایسے محققانہ مضامین ہیں جن کے مطالعے سے ہے۔ کوئی صحیح العقیدہ مسلمان اس پرچے کے مطالعے سے محروم رہا ئے گی۔ غرضیکہ یہ نمبر اپنے موضوع کے لحاظ سے قابل تحسین ہے ک باد ہے۔ جس نے ان مضامین کا مجموعہ پیش کیا جو کفر و الحاد کے اکام کر سکتے ہیں۔“
(زمیندار لاہور)
اشاعت سوم
١١ شعبان ١٣٦٩ھ، مطابق ٢٣ مئی ١٩٥٠ء
خدمت میں جو محبوب خدا محمد مصطفےٰ ﷺ کی عالمگیر قیادت اور ابدی ہے اور ”رحمۃ للعالمین“ کے بعد ہر قسم کے مدعی نبوت کو رد ماننے والوں کو مرتد و ملعون سمجھتا ہے۔
(بخاری)
٢
اربابِ نگارش
نقاشِ پاکستان علامہ اقبالؒ، حضرت مولانا ظفر علی خان صاحب مدظلہ العالی، عالی جناب شیخ فیض محمد صاحب سپیکر اسمبلی، حضرت مولانا سید محمد داؤد صاحب غزنوی، عالی جناب محمد اکبر خان صاحب سابق ڈسٹرکٹ جج ریاست بہاول پور۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب (گوجرانوالہ) بانی تحریک جناب سردار احمد خان صاحب پتافی، فاتح قادیان حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر، حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی صاحب، حضرت طالوت۔
شاعرِ تنظیم حضرت شوقیؔ مدیرِ تنظیم!
تحریک تنظیم کے بانی محترم المقام جناب سردار احمد خان صاحب پتافی کا
اہل حق سے مختصر خطاب
دیگر مذہبی جماعتوں نے بڑے بڑے ادارے، بڑے بڑے سرمائے اور بڑی بڑی جائیدادیں بنالی ہیں۔ ان کے سالانہ بجٹ لاکھوں تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے جا بجا چھوٹی چھوٹی اور بڑی بڑی شاخوں کا جال بچھا کر ہر ایک شاخ کی ذہنی اور دماغی تربیت کو اس درجہ تک پہنچا دیا ہے کہ ان کے پیروکار گونا گوں مدات میں امداد دیتے نہیں تھکتے اور بلا مبالغہ اپنی آمدنیوں اور جائیدادوں کے حصے دے رہے ہیں۔ ہم میں ایک بڑا عیب یہ بھی ہے کہ ہم میں بڑی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو دیگر مذہبی جماعتوں کی مدح سرائی میں تو مصروف رہتے ہیں۔ مگر اپنی جماعتی تعمیر کو ذرا بھی زیرِ غور نہیں لاتے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ آپ کے فرائض محض دوسرے فرقوں کی صفت و ثناء اور ان کی مدح سرائی تک محدود ہیں یا آپ خود بھی کوئی کام کریں گے؟
اللہ کے فضل سے تنظیم اہل سنت کا ادارہ قائم ہو چکا ہے۔ عقائد حقہ کی حفاظت واشاعت اور جماعت اہل سنت کا ترجمان اس کے فرائض میں داخل ہے۔ اس کی طرف سے ایک ہفتہ وار اخبار بھی جاری ہے۔ آپ لوگوں نے جہاں ہزاروں روپے کے اخراجات اپنے اوپر لازم کر رکھے ہیں۔ وہاں اپنی حفاظت کا خرچ بھی اپنے ذمہ لے لیں تو ہرج کیا ہے۔ اللہ کا نام لے کر اس میں نہ صرف وقتی سی امداد دیں بلکہ بڑی بڑی اور پیاری پیاری قربانیاں دے کر تحریک کو اپنائیں اور اپنے عطاء کردہ فنڈ کی نگرانی میں بھی شامل ہوں۔ اگر آپ بفضلہ تعالیٰ مذہبی جذبات سے اور فکر آخرت سے بالاتر نہیں ہیں اور اگر ہماری سعی محض جذبہ للہیت پر ہی مبنی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ استدعا بے اثر اور بے نتیجہ رہے۔
(احمد پتافی)
٣
اداریہ ...... از مولانا سید نور الحسن بخاری
مسلم لیگ کے باغی لیگ میں نہیں رہ سکتے اور قائد اعظم کی شان میں گستاخی کرنے والی زبان کھینچ لی جائے گی۔ مگر فخر دو عالم ﷺ کی شان میں بکواس کرنے والی نبوت چلتی رہے گی اور نبی کریم ﷺ کے باغی دائرہ اسلام میں ہی رہیں گے۔
اب تو یا رب! تیرے بندوں کی طبیعت بدلے
انگریز کا خوشامدی ”نبی“ قوم کو جہاد کی حرمت و تنسیخ کی تعلیم دیتا ہے تو کعبۃ اللہ پر بم کے گولے گرتے ہیں۔
بنائے کاخ فرنگی کو استوار کیا
اور قائد اعظم انگریز کی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے تو دیکھتے دیکھتے دنیا کے نقشے پر بفضلہ تعالیٰ اسلام کی سب سے بڑی ...... مملکت کا نقش ابھر آتا ہے اور مطلع کفر سے اسلام کا ستارہ چمک اٹھتا ہے۔ پاکستان پائندہ باد!
فرنگی کا خود کاشتہ ”بزدل نبی“ انگریز کے ملعون اقتدار کو خدا کی رحمت قرار دے کر اپنی امت کو عمر بھر انگریز پرستی کی تاکید کرتا ہے اور عیسائیت کی جڑیں ہند اور ہندوستان اور بیرون ہند میں غیر متزلزل اور مضبوط کرنے کی مردود اور ناکام کوشش میں مر جاتا ہے۔
رقص باگرد کلیسا کرد و مرد
تو اسلام مظلوم و مجبور اور مسجد میں محبوس و محصور ہو کر رہ جاتا ہے۔ مگر قوم وملت کا مخلص اور بہادر لیڈر انگریز، ہندو سکھ اور مرزائی کے چنگل سے اسلام کے لئے ایک ملک چھین لیتا ہے اور کشمیر کی پہاڑیوں اور ہمالیہ کی چوٹیوں پر اسلام کا علم لہرا دیتا ہے۔
اگر گاندھی جی نے قیام پاکستان کو گئو ماتا کی تکا بوٹی سے تعبیر کیا تو تارا سنگھ نے ننگی تلوار کو لہرا کر پاکستان کو چیلنج کیا۔ انگریز کی ساختہ پرداختہ نبوت اور پنڈت جواہر لال کا لاہور اسٹیشن پر
٤
اپنے رضا کاروں سے پر تپاک خیر مقدم کرانے والی خلافت کی مسلسل اور پرا معاندانہ روش کے باوجود اس مرد مسلماں کا مطالبہ پورا ہو کر رہا۔ محمد مصطفے ﷺ مجتبیٰ کے ایک غلام محمد علی جناح نے ”لا الہ الا اللہ“ کا نعرہ لگا کر محمد رسو ل اللہ ﷺ کی بقا و حفاظت کے لئے جو مطالبہ پیش کیا زمین و آسمان کی مخالفت ، اور انگریز ہندو، سکھ اور مرزائی کی متفقہ کوششوں، سازشوں اور ریشہ دوانیوں پاکستان لے کر رہا۔
اب اگر پاکستان کے اندر رہ کر کوئی انسان بانی پاکستان کے کرے تو اسے برداشت کیا جائے گا؟ قطعاً نہیں!
پچھلے دنوں قائد اعظم کے یوم انتقال پر تقریر کرتے ہوئے وز لیاقت علی خان صاحب نے کیا خوب اعلان فرمایا: ”آج بھی پاکستان میں باوجود یہ جاننے کے کہ پاکستان قائد اعظم کی کوششوں اور حوصلہ کا نتیجہ ہے جو مسلمان بے فکری سے آرام کی نیند سوتے ہیں قائد اعظم کی شان میں گستاخ دراز کرتے ہیں۔ آپ نے غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا جب ک میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ قائد اعظم کی شان میں گستاخی کے جرم کو پاکستان مترادف سمجھوں گا۔ میری حکومت ان کے خلاف شدید قدم اٹھائے گی اور گستاخی کرنے والے کی زبان گدی سے نکال دی جائے گی ۔“
بجا ارشاد ہوا اور سولہ آنے بجا ارشاد ہوا۔ مگر اے کاش ہمارے قائد اعظم سے جو ربط و تعلق اور عشق و عقیدت ہے کم از کم اتنا ربط و تعلق اور ا حکومت کو ذات اقدس ﷺ سے ہوتی تو آج پاکستان میں حضور ﷺ کی جاتی۔ بلاشبہ قائد اعظم پاکستانیوں کے محسن ہیں اور آج ان کی مساعی پاکستانی آرام کی نیند سوتے ہیں۔ ایک پاکستانی زبان اگر ان کی شان میں گدی سے کھینچ لی جائے۔ مگر سرور کائنات محمد رسول اللہ ﷺ تو محسن کائنات ہی کے قدموں کی برکت سے سارا عالم انسانی انسانیت کے شرف سے م انسانی کے کسی فرد یا کائنات کے کسی ذرے کو محسن کائنات اور رہبر انسانو میں گستاخی کی اجازت دی جائے گی؟
٥
...... از مولانا سید نور الحسن بخاری
ں لیگ میں نہیں رہ سکتے اور قائد اعظم کی شان میں گستاخی کرنے والی وعالم ﷺ کی شان میں بکواس کرنے والی نبوت چلتی رہے گی اور نبی ام میں ہی رہیں گے۔
یا رب! تیرے بندوں کی طبیعت بدلے
”نبی“ قوم کو جہاد کی حرمت و تنسیخ کی تعلیم دیتا ہے تو کعبۃ اللہ پر بم
کاخ فرنگی کو استوار کیا
ر کی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے تو دیکھتے دیکھتے دنیا کے سب سے بڑی...... مملکت کا نقش ابھر آتا ہے اور مطلع کفر سے اسلام کا ی پائندہ باد!
بزدل نبی“ انگریز کے ملعون اقتدار کو خدا کی رحمت قرار دے کر اپنی تائید کرتا ہے اور عیسائیت کی جڑیں مضبوط اور استوار کر نے کی مردود اور ناکام کوشش میں مر جاتا ہے۔
تا گرد کلیسا گردد مرد
سجد اور مسجد میں محبوس ومحصور ہو کر رہ جاتا ہے۔ مگر قوم وملت کا مخلص اور مرزائی کے چنگل سے اسلام کے لئے ایک ملک چھین لیتا ہے اور چوٹیوں پر اسلام کا علم لہرا دیتا ہے۔ اسلام زندہ باد! قائداعظم زندہ باد!
نہ قیام پاکستان کو گئو ماتا کی کٹابوٹی سے تعبیر کیا تو تارا سنگھ نے ننگی تلوار کو ریوں کی ساختہ پرداختہ نبوت اور پنڈت جواہر لال کا لاہور اسٹیشن پر ٤
١٣
اپنے رضا کاروں سے پر تپاک خیر مقدم کرانے والی خلافت کی مسلسل اور پر جوش مخالفت اور انتہائی معاندانہ روش کے باوجود اس مرد مسلماں کا مطالبہ پورا ہو کر رہا۔ محمد مصطفیٰ ﷺ کے ادنیٰ امتی، احمد مجتبیٰ کے ایک غلام محمد علی جناح نے ”لا الہ الا اللہ“ کا نعرہ لگا کر محمد رسول اللہ ﷺ کے حلقہ بگوش کی بقا و حفاظت کے لئے جو مطالبہ پیش کیا ٹرومین اٹلی مسلمان کی مخالفت کے باوجود اس پر ڈٹا رہا اور انگریز ہندو، سکھ اور مرزائی کی متفقہ کوششوں، سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے علی الرغم بعونہ تعالیٰ پاکستان لے کر رہا۔
اب اگر پاکستان کے اندر رہ کر کوئی انسان بانی پاکستان کے خلاف زبان طعن دراز کرے تو اسے برداشت کیا جائے گا؟ قطعاً نہیں!
پچھلے دنوں قائداعظم کے یوم انتقال پر تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان محترم لیاقت علی خان صاحب نے کیا خوب اعلان فرمایا: ”آج بھی پاکستان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو باوجود یہ جاننے کے کہ پاکستان قائداعظم کی کوششوں اور حوصلہ کا نتیجہ ہے جس میں آج آٹھ کروڑ مسلمان بے فکری سے آرام کی نیند سوتے ہیں قائداعظم کی شان میں گستاخی کرتے اور زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ آپ نے غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا جب تک میں وزیر اعظم ہوں میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ قائداعظم کی شان میں گستاخی کے جرم کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کے مترادف سمجھوں گا۔ میری حکومت ان کے خلاف شدید قدم اٹھائے گی اور قائداعظم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی زبان گدی سے نکال دی جائے گی۔“
بجا ارشاد ہوا اور سولہ آنے بجا ارشاد ہوا۔ مگر اے کاش ہمارے محترم وزیر اعظم کو مرحوم قائداعظم سے جو ربط و تعلق اور عشق و عقیدت ہے کم از کم اتنا ربط و تعلق اور اتنی محبت وعقیدت ہماری حکومت کو ذات اقدس ﷺ سے ہوتی تو آج پاکستان میں حضور ﷺ کی توہین یوں روا نہ رکھی جاتی۔ بلاشبہ قائداعظم پاکستانیوں کے محسن ہیں اور آج ان کی مساعی کے نتیجہ میں آٹھ کروڑ پاکستانی آرام کی نیند سوتے ہیں۔ ایک پاکستانی زبان اگر ان کی شان میں گستاخی کرے تو ضرور گدی سے کھینچ لی جائے۔ مگر سرور کائنات محمد رسول اللہ ﷺ تو محسن کائنات ہیں اور آج حضور ﷺ ہی کے قدموں کی برکت سے سارا عالم انسانی انسانیت کے شرف سے مشرف ہے۔ پھر کیا عالم انسانی کے کسی فرد یا کائنات کے کسی ذرے کو محسن کائنات اور رہبر انسانیت کی شان اقدس واطہر میں گستاخی کی اجازت دی جائے گی؟
٥
ساری کائنات اور پوری انسانیت سے قطع نظر! صرف محدود نظر سے پاکستان ہی کو لیجئے۔ بے شک یہ پاکستان محمد علی جناح نے حاصل کیا۔ مگر کس کے نام پر؟ کیا اس حقیقت کے باور کرنے میں کسی کو ذرہ بھر تامل ہو سکتا ہے کہ بارگاہ رب العزت سے پاکستان کی بھیک قائد اعظم کی جھولی میں ڈالی گئی تو محمد رسول اللہ ﷺ کے نام پر! پھر کیا محمد رسول اللہ کے مقدس نام پر حاصل کی گئی دولت خداداد پاکستان کے طول وعرض میں محمد رسول اللہ ﷺ کی توہین برداشت کی جائے گی اور حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی روا رکھی جائے گی؟
مرزائیت کیا ہے؟
کیا یہ اسلام سے کھلی بغاوت نہیں؟ غلام احمد کون ہے؟ کیا یہ محمد مصطفے ﷺ کا دشمن، مخالف، معاند، حریف، مقابل اور موہن نہیں؟
معزز معاصر ”مغربی پاکستان“ لاہور میں حضرت مولانا مرتضیٰ احمد خان صاحب نے یہ لکھتے ہوئے حقیقت کی کیا خوب ترجمانی فرمائی: ”یہ حقیقت کسے معلوم نہیں کہ فرقہ ضالہ مرزائیہ کے لوگ اور قادیانی نبی کے پیرو اپنے جلسوں میں اور اپنی گفتگوؤں میں مسلمانوں کے ہادی و مولا حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبے ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ انداز اختیار کرنے کے عادی ہیں۔ بلکہ ان کے دھرم کی بنیاد ہی حضرت ختمی مرتبت (ﷺ) کی شان خاتمیت کی تنقیص کے عقیدہ پر رکھی جاچکی ہے۔“
سیالکوٹ کے جس حادثہ فاجعہ سے متاثر ہوکر معزز معاصر نے یہ سطور قلمبند کی ہیں۔ اس میں مرزائی اللہ دتہ جالندھری نے آنحضرت خاتم الانبیاء والمرسلین کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے یہاں تک بکواس کی کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا دور ختم ہے۔ اب مرزا قادیانی کی نبوت کا زمانہ ہے۔
سیالکوٹ کے غیور مسلمانوں کی دینی غیرت اور ایمانی حمیت حضور ﷺ کی ذات اقدس پر حملہ کو برداشت نہ کرسکی۔ انہوں نے قربانی دی اور وہ ملت کی سرفروش سراپا ایثار دینی جماعت مجلس احرار کی قیادت میں اس جلسہ کو بند کراکے رہے۔ مسلم پریس نے متفقہ طور پر اس بکواس کے خلاف پر زور صدائے احتجاج بلند کی تو اللہ دتہ قادیانی نے یہ بیان شائع کیا: ”١٥؍ جنوری کو سیالکوٹ میں جو ہنگامہ ہوا اس کے لئے یہ وجہ جواز تراشی گئی ہے کہ خاکسار نے اپنی تقریر میں سید الانبیاء خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفے ﷺ کی شان میں توہین آمیز کلمات کہہ دیئے تھے۔ جنہیں احراری
٦
برداشت نہ کرسکے اور انہوں نے شور و شر اور ہنگامہ برپا کردیا۔ یہ الزام ہے اور کوئی احمدی سید الاولین والآخرین کی شان اقدس کے بارے میں سکتا۔“
(الفض
ڈھٹائی اور بے حیائی کا کمال
ملاحظہ ہو کہ حضور ﷺ کی شان میں توہین آمیز کلمات کو صر سکے اور انہوں نے ہنگامہ برپا کردیا۔ گویا احراریوں کے علاوہ تمام مسلما رسالت ﷺ کی توہین سے ان کے جذبات میں ہیجان پیدا نہیں ہوتا سے حضور ﷺ کی توہین برداشت کرتے ہیں۔ کاش کہ اس ملعون کو معلو محبت اور حضور کی عزت پر کٹ مرنے کا نام ”احراریت“ ہے تو ہر مسلمان ا اور مسلمان کبھی اپنے آقا ومولا محبوب خدا محمد مصطفے ﷺ کی ادنیٰ گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا اور جہاں وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ مح وعظمت کو خطرہ لاحق ہے وہاں وہ اس مادی دنیا کی انتہائی قربانی کرنے کیونکہ اس کا ایمان ہے۔
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکت
ایں طرفہ تماشا ہیں
اور سنئے ! کوئی احمدی سید الاولین والآخرین کی شان اقدس بات نہیں کہہ سکتا۔ چہ خوب
لب پہ دعویٰ ہے پارسائی ک
تقابل و استقلال
- ......١ سید العرب والعجم رسول مدنی کے مقابلہ میں مستقل رسول وقت
- ......٢ اصحاب النبی کے مقابلے میں اصحاب مسیح موعود۔
- ......٣ ازواج النبی امہات المومنین کے مقابلے میں ام المومنین۔
- ......٤ خلیفۃ الرسول کے مقابلہ میں خلیفۃ المسیح بلکہ خلیفہ اوّل (صد
٧
پوری انسانیت سے قطع نظر ! صرف محدود نظر سے پاکستان ہی کو علی جناح نے حاصل کیا۔ مگر کس کے نام پر؟ کیا اس حقیقت کے باور ہو سکتا ہے کہ بارگاہ رب العزت سے پاکستان کی بھیک قائد اعظم کی اللہ ﷺ کے نام پر! پھر کیا محمد رسول اللہ کے مقدس نام پر حاصل کی طول وعرض میں محمد رسول اللہ ﷺ کی توہین برداشت کی جائے گی یا گستاخی روارکھی جائے گی؟
کھلی بغاوت نہیں؟ غلام احمد کون ہے؟ کیا یہ محمد مصطفے ﷺ کا دشمن، اور مومن نہیں؟ یا پاکستان‘ لاہور میں حضرت مولانا مرتضیٰ احمد خان صاحب نے یہ ترجمانی فرمائی: ”یہ حقیقت کسے معلوم نہیں کہ فرقہ ضالہ مرزائیہ اپنے جلسوں میں اور اپنی گفتگوؤں میں مسلمانوں کے ہادی ومولا کی شان اقدس میں گستاخانہ انداز اختیار کرنے کے عادی ہیں۔ ذات ختمی مرتبت (ﷺ) کی شان خاتمیت کی تنقیص کے عقیدہ پر
اس واقعہ سے متاثر ہو کر معزز معاصر نے یہ سطور قلمبند کی ہیں۔ ہمارے آنحضرت خاتم الانبیاء والمرسلین کی شان میں گستاخی کرتے حضرت ﷺ کی نبوت کا دور ختم ہے۔ اب مرزا قادیانی کی نبوت کا
مسلمانوں کی دینی غیرت اور ایمانی حمیت حضور ﷺ کی ذات اقدس نے قربانی دی اور وہ ملت کی سرفروش سراپا ایثار دینی جماعت مجلس لہراتے رہے۔ مسلم پریس نے متفقہ طور پر اس بکواس کے خلاف روزنامہ قادیانی نے یہ بیان شائع کیا: ”١٥؍ جنوری کو سیالکوٹ میں الزام تراشی گئی ہے کہ خاکسار نے اپنی تقریر میں سید الانبیاء خاتم النبیین کی شان میں توہین آمیز کلمات کہہ دیئے تھے۔ جنہیں احراری
٦
برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے شور وشر اور ہنگامہ برپا کر دیا۔ یہ الزام سراسر جھوٹا اور ناپاک افتراء ہے اور کوئی احمدی سید الاولین والآخرین کی شان اقدس کے بارے میں اس قسم کی بات نہیں کہہ سکتا۔“
(الفضل مورخہ ٢٣؍جنوری ١٩٥٠ء)
ڈھٹائی اور بے حیائی کا کمال
ملاحظہ ہو کہ حضور ﷺ کی شان میں توہین آمیز کلمات کو صرف احراری برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ گویا احراریوں کے علاوہ تمام مسلمان مرزائی ہیں کہ حضرت فخر رسالت ﷺ کی توہین سے ان کے جذبات میں ہیجان پیدا نہیں ہوتا اور وہ نہایت سکون و سرور سے حضور ﷺ کی توہین برداشت کرتے ہیں۔ کاش کہ اس ملعون کو معلوم ہوتا کہ اگر حضور ﷺ کی محبت اور حضور کی عزت پر کٹ مرنے کا نام ”احراریت“ ہے تو ہر مسلمان احراری ہے۔ اور مسلمان کبھی اپنے آقا ومولا محبوب خدا محمد مصطفے ﷺ کی شان اقدس میں ادنیٰ سے ادنیٰ گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا اور جہاں وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت وعظمت کو خطرہ لاحق ہے وہاں وہ اس مادی دنیا کی انتہائی قربانی کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ کیونکہ اس کا ایمان ہے؎
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا
ایں طرفہ تماشا بیں
اور سنئے ! کوئی احمدی سیدالاولین والآخرین کی شان اقدس کے بارے میں اس قسم کی بات نہیں کہہ سکتا۔ چہ خوب؎
لب پہ دعویٰ ہے پارسائی کا
تقابل واستدلال
- ١...... سید العرب والعجم رسول مدنی کے مقابلہ میں مستقل رسول قادیانی۔
- ٢...... اصحاب النبی کے مقابلے میں اصحاب مسیح موعود۔
- ٣...... ازواج النبی امہات المومنین کے مقابلے میں ام المومنین۔
- ٤...... خلیفتہ الرسول کے مقابلہ میں خلیفۃ المسیح بلکہ خلیفہ اوّل (صدیق اکبر) کے مقابلہ میں
٧
خلیفہ اول (نورالدین) اور خلیفہ ثانی (حضرت عمرؓ) کے مقابلے میں خلیفہ ثانی (میاں محمود احمد)
- ٥...... مدینۃ الرسول کے مقابلہ میں مدینۃ المسیح۔
- ٦...... دیار حبیب کے مقابلہ میں دیار حبیب۔
- ٧...... مزار نبی کے مقابلہ میں بہشتی مقبرہ۔
- ٨...... قبر رسول کے مقابلے میں قبر مرزا۔
- ٩...... قبلۃ الرسول اوّل (مسجد اقصیٰ) کے مقابلے میں مسجد اقصیٰ۔
- ١٠...... قبلۃ الرسول ثانی (کعبۃ اللہ) کے مقابلہ میں مسجد قادیان۔
- ١١...... حرم اطہر (مکہ مکرمہ) کے مقابلے میں قادیان۔
- ١٢...... اجتماع محمدی (حج کعبۃ اللہ) کے مقابلہ میں قادیان کا سالانہ جلسہ۔
- ١٣...... سنہ محمدی (ہجری) کے مقابلہ میں سنہ قادیانی۔
- ١٤...... اور سب سے بڑھ کر وحی محمدی (کتاب اللہ) کے مقابلہ میں تذکرہ (الہامات مرزا) پر
تو احمدی ایمان لاسکتا ہے۔ لیکن حضور ﷺ کے بارے میں اس قسم کی بات نہیں کہہ سکتا۔
تفوق و برتری
تقابل و استقلال اور برابری و ہمسری پر قناعت نہیں کی گئی بلکہ تقابل و برابری سے آگے بڑھ کر مرزائے قادیان کے تفوق و برتری کے شرم ناک دعاوی کئے ہیں۔ سید الکونین رحمۃ اللعالمین کے دشمنوں کی تحقیر و اہانت اور تنقیص و مفضولیت کا جو نجس و ناپاک اور منحوس و ملعون بیج مرزا قادیانی نے بویا تھا وہ مصلح موعود اور اکابر مرزائیوں کی آبیاری سے اس قدر تناور اور گھنا درخت بن گیا ہے کہ اس کی چھاؤں تلے تمام قادیانی امت بیٹھی مرزا قادیانی کی نبوت کے گن گارہی ہے۔ خطبہ الہامیہ کی تعلیم ”نبوی“ کا نتیجہ قاضی اکمل جیسے دریدہ دہن قادیانی صحابی کے رسوائے عالم اشعار عالم آشکار ہوچکے ہیں۔ اب ایک دوسرے صحابی ڈاکٹر شاہ نواز خان قادیانی کے ناپاک الفاظ ملاحظہ فرمائیے اور تعجب نہ کیجئے:
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا اور یہ جزئی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔“
(مضمون ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی، رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ١٩٢٩ء)
دیکھئے کس جرأت و جسارت سے لگی لپٹی رکھے بغیر حضور کو مرزا قادیانی کے مقابلہ میں ...... نقل کفر کفر نہ باشد ...... ناقص العقل اور کم فہم کہا گیا ہے۔
٨
ظلیت بلکہ عینیت
- ١...... مصطفےٰ میر زابن کے آیا
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر کہ جب مصط
)
- ٢...... پہلی حالت سے بڑھ چڑھ کر
”چودھویں رات کا چاند مسیح موعود ہی تو ہے جو چاند رات کے بدرﷺ پس اس کا اصل حالت سے بڑھ چڑھ کر شان دار ہونا محال ہے۔“
(الفضل قادیان ج٤
اس علم کلام اس طرز تاویل اور اس انداز جواب سے سارا صاف ہو گیا۔ اب محبوب خدا محمد مصطفےٰ ﷺ کی شان اقدس میں جو گستاخ کے بعد غلام احمد قادیانی کو محمد مدنی سے خوب بڑھا چڑھا کر پیش کرو۔ اس طرح کی توہین کا اعتراض وارد نہیں ہوگا۔ کیونکہ جس غلام احمد کو اچھالا جا غیر تو نہیں۔ عین وہی محمد مصطفےٰ تو ہے ہی۔ اس لئے تقابل اور توہین کا حالانکہ اس سے زیادہ حبیب کبریا کی کوئی اور توہین ممکن اور متصور ہی نہیں پرداختہ ”نبی“ کو عین محبوب خدا سمجھ لیا جائے اور اس طرح انگریز کی خوش مجسٹریٹوں کی چاپلوسی اور پُزیرائی فریضہ جہاد کی تنسیخ وحرمت قرآن کریم حج بیت اللہ وغیرہ سے الہامات مرزا قادیان لاہور، اور قادیان کے سالا وقت کی ہر کافر و ظالم حکومت کی محکومی و فرمانبرداری مسلم لیگ کی بدخواہا رہنماؤں کی جاسوسی و گرفتاری، مسلمان سلطنتوں کی تباہی و بربادی، متعدد جرائم، انگریز کی دعا گوئی ورضا جوئی، سلطنت برطانیہ کے بقاء و دو مرتے دم تک غیر مختتم مساعی اور ان سب سے بڑھ کر رسوائے عالم بنا اولیٰ الامر قرار دینے اور اس کی غیر مشروط اطاعت کو پورا نصف اسلام وعلماء صحابہ واہل بیت حتیٰ کہ انبیاء کرام کے حق میں ہزاروں صریح اور گ متعفن لٹریچر کی پوری ذمہ داری سید الانبیاء خاتم المرسلین علیہ الصلوٰۃ وا
٩
لیفہ ثانی (حضرت عمرؓ) کے مقابلے میں خلیفہ ثانی (میاں محمود احمد) کے مقابلے میں مدینہ النبی۔ قابلے میں دیار حبیب۔ لہ میں بہشتی مقبرہ۔ بلے میں قبر مرزا۔ (مسجد اقصیٰ) کے مقابلے میں مسجد اقصیٰ۔ (کعبۃ اللہ) کے مقابلہ میں مسجد قادیان۔ مہ) کے مقابلے میں قادیان۔ کعبۃ اللہ) کے مقابلہ میں قادیان کا سالانہ جلسہ۔ ا کے مقابلہ میں سنہ قادیانی۔ ،وحی محمدی (کتاب اللہ) کے مقابلہ میں تذکرہ (الہامات مرزا) پر ن حضورﷺ کے بارے میں اس قسم کی بات نہیں کہہ سکتا۔
اور برابری و ہمسری پر قناعت نہیں کی گئی بلکہ تقابل و برابری سے کے تفوق و برتری کے شرم ناک دعاوی کئے ہیں۔ سید الکونین رحمتہ اہانت اور تنقیص ومفضولیت کا جو نجس وناپاک اور منحوس وملعون بیج موعود اور اکابر مرزائیوں کی آبیاری سے اس قدر تناور اور گھنا درخت ظلے تمام قادیانی امت بیٹھی مرزا قادیانی کی نبوت کے گن گا رہی ہے۔ کا نتیجہ قاضی اکمل جیسے دریدہ دہن قادیانی صحابی کے رسوائے عالم ۔ اب ایک دوسرے صحابی ڈاکٹر شاہ نواز خان قادیانی کے ناپاک نہ کیجئے:
ود (مرزا قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرتﷺ سے زیادہ تھا اور یہ موعود کو آنحضرتﷺ پر حاصل ہے۔“
(مضمون ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی، رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ١٩٢٩ء)
، جسارت سے لگی لپٹی رکھے بغیر حضور کو مرزا قادیانی کے مقابلہ ناقص العقل اور کم فہم کہا گیا ہے۔
٨
ظلیت بلکہ عینیت
- ١......مصطفےٰ میرزا بن کے آیا
ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفےٰ میرزا بن کے آیا
(الفضل مورخہ ٢٨؍ مئی ١٩٢٨ء)
- ٢......پہلی حالت سے بڑھ چڑھ کر
”چودھویں رات کا چاند مسیح موعود ہی تو ہے جو چاند رات کے وقت تھا۔ یعنی رسول کریمﷺ پس اس کا اصل حالت سے بڑھ چڑھ کر شان دار ہونا محل اعتراض کیوں کر ہو سکتا ہے۔“
(الفضل قادیان ج ٣ نمبر ٧٦، یکم جنوری ١٩١٦ء)
اس علم کلام اس طرز تاویل اور اس انداز جواب سے نادان یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا پہلو صاف ہو گیا۔ اب محبوب خدا محمد مصطفےٰﷺ کی شان اقدس میں جو گستاخی کر دی گئی ہے۔ اس تاویل کے بعد غلام احمد قادیانی کو محمد مدنی سے خوب بڑھا چڑھا کر پیش کرو۔ اس سے محبوب خدا مصطفےٰﷺ دوسرے کی توہین کا اعتراض وارد نہیں ہوگا۔ کیونکہ جس غلام احمد کو اچھالا اور بڑھایا جا رہا ہے وہ کوئی غیر تو نہیں۔ عین وہی محمد مصطفےٰ تو ہے ہی۔ اس لئے تقابل اور توہین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حالانکہ اس سے زیادہ حبیب کبریا کی کوئی اور توہین ممکن اور متصور ہی نہیں ہے کہ انگریز کے ساختہ پرداختہ ”نبی“ کو عین محبوب خدا سمجھ لیا جائے اور اس طرح انگریز کی خوشامد درآمد ڈپٹی کمشنروں اور مجسٹریٹوں کی چاپلوسی اور پزیرائی، فریضہ جہاد کی تنسیخ وحرمت قرآن کریم، کعبۃ اللہ، مدینہ منورہ اور حج بیت اللہ وغیرہ سے الہامات مرزا قادیان لاہور، اور قادیان کے سالانہ جلسہ کے تغیر وتبادلہ اور وقت کی ہر کافر وظالم حکومت کی محکومی وفرمانبرداری مسلم لیگ کی بدخواہی، آزادی اور حریت کے پروانوں کی جاسوسی وگرفتاری، مسلمان سلطنتوں کی تباہی وبربادی، سقوط...... بغداد پر قادیان میں چراغاں، انگریز کی دعا گوئی ورضا جوئی، سلطنت برطانیہ کے بقاء ودوام کی مسلسل ان تھک اور مرتے دم تک غیر مختتم مساعی اور ان سب سے بڑھ کر رسوائے عالم پچاس الماریوں اور انگریز کو اولیٰ الامر قرار دینے اور اس کی غیر مشروط اطاعت کو پورا نصف اسلام قرار دینے کے علاوہ صلحاء وعلماء، صحابہ واہل بیت حتیٰ کہ انبیاء کرام کے حق میں ہزاروں مرصع اور مسجع گالیوں پر مشتمل غلیظ اور متعفن لٹریچر کی پوری ذمہ داری سید الانبیاء خاتم المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات اقدس پر دھر کر
٩
عائد کر دی جائے۔ اس سے زیادہ ظلم سید الابرار کی ذات پر انوار کے ساتھ اور کیا ہو سکتا ہے؟ اور اس سے بڑھ کر اشرف الانبیاء افضل المرسلین کی شان اقدس میں اور کون سی گستاخی ہو سکتی ہے؟
سرکار دوعالم ﷺ پر شرمناک حملہ
عام مرزائیوں سے قطع نظر خود مصلح موعود ”میاں محمود احمد صاحب کی اس قسم کی بات“ ملاحظہ ہو:
الفضل ١٢ محرم میں ہے: ”چوہدری محمد حنیف خان صاحب نے اپنا ذیل خواب حلفیہ لکھ کر اس کی تعبیر کے متعلق عرض کیا....... قرآن شریف میں مجھے ایک جیسی تین مختلف مقام پر تصاویر نظر آئیں۔ درمیان میں ایک شاہانہ کرسی پر حضور (مرزا محمود) رونق افروز ہیں۔ سر پر حضور (مرزا محمود) کے شاہانہ تاج ہے۔ ایک طرف مسیح موعود کھڑے ہیں دوسری طرف ایک اور بزرگ صاحب نورانی شکل کھڑے ہیں۔ دونوں حضور (مرزا محمود) کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ مصلح موعود ہیں ....... حضور نے اس کی تعبیر فرمائی۔ ”تعبیر تو ظاہری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے ماتحت مصلح موعود کا ظہور ہوا ہے۔ تیسرے نورانی شکل بزرگ غالباً آقائے محمد رسول اللہ ہوں گے ۔“
(الفضل ١٢ محرم ١٣٦٥ھ ص٤)
گر ولی اینست لعنت بر ولی
کیا مصلح موعود کا خمیر توہین وتذلیل رسول امین سے اٹھایا گیا؟ کیا سید العرب والعجم کی شان: ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ میں انتہائی شرمناک گستاخی اور پرلے درجہ کی کمینہ بے ادبی کرنے والا مصلح موعود ہے یا مفسد موعود؟ العیاذ باللہ ! ثم العیاذ باللہ !
ایک ایسا فاسق و فاجر اور روسیاہ و بدکار شخص جس کی سیہ کاری کی طویل داستانیں نہ صرف مباہلہ کی فائلوں میں بلکہ عدالت کی مسلوں میں موجود ہوں۔ جس کی بدکاری کے حالات نہ صرف عام مجالس و محافل میں اور پریس اور پلیٹ فارم پر زبان زد ہر خاص و عام ہوں۔ بلکہ سیشن کورٹ اور ہائیکورٹ کی فضا ان سے گونج رہی ہو جو اپنے خلاف زنا و لواطت کے حلفیہ بیانات اور متعدد الزامات کی تردید میں آزاد تحقیقات پر آمادہ ہوتا ہو۔ نہ میدان مباہلہ میں نکلنے کی ہمت رکھتا ہو..... تو درمیان میں شاہانہ کرسی پر شاہانہ انداز میں شاہانہ تاج زیب سر کئے رونق افروز ہو اور محبوب خدا ممدوح ہر دو سرا سید الکونین رحمتہ للعالمین اشرف الانبیاء افضل المرسلین، نقل کفر کفر نہ باشد خادمانہ انداز میں کھڑے ہوں۔
١٠
مرا اے کاش کہ مادر نہ زادے
کیا اس سے زیادہ آنحضرت ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی زیادہ کفر کسی نے آج تک بکا ہے یا کسی یورپین یا امریکن مخالف اسلا انداز میں سرور کائنات اور فخر موجودات کی تصویر کھینچی ہے۔ کیا آج ت رسول نے خود صاحب تخت و تاج ہو کر اپنے سامنے صاحب السیر والم انداز میں کھڑا کیا ہے؟ کیا کسی انسان صورت شیطان نے آج تک ا بری طرح توہین وتذلیل کی ہے۔ نہیں اور یقیناً نہیں۔
کوئی بتائے کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے
پھر یہ حقیقت کتنی دلاویز اور عبرت انگیز ہے کہ مسیح موعود حضو خود شاہانہ کرسی پر شاہانہ تاج زیب سر کر کے رونق افروز ہونے وال بھی پاس نہیں۔
پرائمری فیل مصلح موعود
یہ طعن نہیں سولہ آنے حقیقت ہے۔ خود میاں صاحب کی مثال دیکھ لو میں پرائمری میں بھی فیل ہوا اور مڈل میں بھی فیل ہوا۔ مجھے اگلی جماعت میں بٹھا دیا گیا۔ لیکن انٹرنس میں جا کر سوائے تاریخ میں فیل ہو گیا ..... ایک لطیفہ یاد آ گیا کہ پچھلے دنوں جب لاہور میں ہوا تھا تو ایک طالب علم لڑکی جو کہ ایم اے فلاسفی میں پڑھتی تھی۔ آئی..... وہ مجھے کہنے لگی کہ کیا آپ ایم اے ہیں۔ میں نے کہا میں تو
(الفضل قادیان مورخہ
مگر اس پرائمری فیل کی کامیابی کا معیار ملاحظہ ہو۔ آق ”الفضل“ کے اسی صفحے پر صرف چند سطریں پہلے موجود ہے کہ: ”پس نہیں بن جاتے اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے۔“ (الف
یہ تو کسر نفسی سے چھوٹے محمد ﷺ بن رہے ہیں۔ و
١١
زیادہ ظلم سید الابرار کی ذات پر انوار کے ساتھ اور کیا ہو سکتا ہے؟ اور افضل المرسلین کی شان اقدس میں اور کون سی گستاخی ہو سکتی ہے؟
ناک حملہ
ے قطع نظر خود مصلح موعود ”میاں محمود احمد صاحب کی اس قسم کی بات“ ہے: ”چوہدری محمد حنیف خان صاحب نے اپنا ذیل خواب حلفیہ لکھ کیا ”...... قرآن شریف میں مجھے ایک جیسی تین مختلف مقام پر تصاویر شاہانہ کرسی پر حضور (مرزا محمود) رونق افروز ہیں۔ سر پر حضور ۔ ایک طرف مسیح موعود کھڑے ہیں دوسری طرف ایک اور بزرگ ۔ دونوں حضور (مرزا محمود) کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ مصلح تعبیر فرمائی۔ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے ماتحت مصلح موعود کا ظہور ہوا ہے۔ آقاے محمد رسول اللہ ہوں گے۔“
(الفضل ١١؍ محرم ١٣٦٥ھ ص ٤)
ینست لعنت برولی
توہین وتذلیل رسول امین سے اٹھایا گیا؟ کیا سید العرب والعجم کی مہ ”عظیم“ میں انتہائی شرمناک گستاخی اور پرلے درجہ کی کمینہ پے فسد موعود؟ العیاذ باللہ ! ثم العیاذ باللہ ! ر اور روسیاہ و بدکار شخص جس کی سیہ کاری کی طویل داستانیں نہ دالت کی مسلوں میں موجود ہوں۔ جس کی بدکاری کے حالات نہ پریس اور پلیٹ فارم پر زبان زد ہر خاص و عام ہوں۔ بلکہ سیشن سے گونج رہی ہو جو اپنے خلاف زنا و لواطت کے حلفیہ بیانات اور تحقیقات پر آمادہ ہوتا ہو۔ نہ میدان مباہلہ میں نکلنے کی ہمت رکھتا پر شاہانہ انداز میں شاہانہ تاج زیب سر کئے رونق افروز ہو اور وہین رحمۃ للعالمین اشرف الانبیاء وافضل المرسلین، نقل کفر کفر نہ ا ١٠
مرا اے کاش کہ مادر نہ زادے
کیا اس سے زیادہ آنحضرت ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی ہو سکتی ہے؟ کیا اس سے زیادہ کفر کسی نے آج تک بکا ہے یا کسی یورپین یا امریکن مخالف اسلام اور معاند رسول نے اس انداز میں سرور کائنات اور فخر موجودات کی تصویر کھینچی ہے۔ کیا آج تک کسی بداندیش و بدخواہ رسول نے خود صاحب تخت و تاج ہو کر اپنے سامنے صاحب السیر والمعراج کے دشمنوں کو غلامانہ انداز میں کھڑا کیا ہے؟ کیا کسی انسان صورت شیطان نے آج تک سرور عالم کے دشمنوں کی اس بری طرح توہین وتذلیل کی ہے۔ نہیں اور یقیناً نہیں۔
کوئی بتائے کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے؟
پھر یہ حقیقت کتنی دلاویز اور عبرت انگیز ہے کہ علم مجسم حضور ﷺ سراپا نور کو کھڑا کر کے خود شاہانہ کرسی پر شاہانہ تاج زیب سر کر کے رونق افروز ہونے والے بے غیرت خیر سے پرائمری بھی پاس نہیں۔
پرائمری فیل مصلح موعود
یہ طعن نہیں سولہ آنے حقیقت ہے۔ خود میاں صاحب کے الفاظ موجود ہیں: ”میری مثال دیکھ لو میں پرائمری میں بھی فیل ہوا اور مڈل میں بھی فیل ہوا۔ لیکن چونکہ گھر کا مدرسہ تھا اس لئے اگلی جماعت میں بٹھا دیا گیا۔ لیکن انٹرنس میں جا کر سوائے تاریخ اور جغرافیہ کے سب مضمونوں میں فیل ہو گیا...... ایک لطیفہ یاد آ گیا کہ پچھلے دنوں جب لاہور میں میں شیخ بشیر احمد کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا تو ایک طالب علم لڑکی جو کہ ایم، اے فلاسفی میں پڑھتی تھی۔ بعض سوالات پوچھنے کے لئے آئی...... وہ مجھے کہنے لگی کہ کیا آپ ایم، اے ہیں۔ میں نے کہا میں پرائمری فیل ہوں۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٢٨؍ اکتوبر ١٩٢٦ء ص ٦، کالم ٣،٤)
مگر اس پرائمری فیل کی کامیابی کا معیار ملاحظہ ہو۔ اسی خطبہ میں فرماتے ہیں جو اسی ”الفضل“ کے اسی صفحے پر صرف چند سطریں پہلے موجود ہے کہ: ”پس جب تک تم چھوٹے محمد (ﷺ) نہیں بن جاتے اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے۔“
(الفضل مورخہ ٢٨؍ اکتوبر ١٩٢٦ء ص ٦)
یہ تو کسر نفسی سے چھوٹے محمد ﷺ بن رہے ہیں۔ ورنہ دراصل تو (خاک بدہن) ١١
آنحضرت ﷺ سے بھی بڑھ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں: ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ١٥ مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
کیا جانے کیا کرے جو خدا اختیار دے
یہ تو خیر سے پرائمری فیل ہیں۔ اگر مڈل پاس ہو جاتے تو جانے کامیابی کا معیار کیا ٹھہراتے اور کیا سے کیا بن جاتے۔ طبعی افلاس اور دماغی قلاشی کا یہ حال کہ پرائمری تک پاس نہیں کر سکے اور تعلی یہ کہ حبیب کبریا ﷺ سے نیچے کوئی درجہ نظر ہی نہیں آتا۔
اب تو یا رب تیرے بندوں کی طبیعت بدلے
اور پھر یہ پرائمری فیل ہو کر محمد مصطفے ﷺ سے بڑھ جانے کے امکانات صرف بیٹے تک محدود نہیں۔ باپ کا بھی یہی حال ہے۔ وہ خیر سے امتحان تو مختاری کا پاس نہیں کر سکے۔ مگر نقل کفر کفر نباشد ! بڑھ گئے حبیب خدا محمد مصطفے ﷺ سے۔
ایک مردود مرید قاضی اکمل کی ملعون زبان بکتی ہے۔
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(البدر قادیان ص ١٤، مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء)
الفضل اس بے ایمانی و بے غیرتی پر چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کی بجائے قریباً چالیس سال بعد اس بے حیائی پر فخر و ناز کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ”یہ شعر اس نظم کا حصہ ہیں جو حضرت مسیح موعود کے حضور میں پڑھی گئی اور خوش خط لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور ..... (جزاکم اللہ تعالیٰ کہہ کر ) اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ حضرت کا شرف سماعت حاصل کرنے اور جزاکم اللہ تعالیٰ کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا ہے کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایمان و قلت عرفان کا ثبوت دے۔“
(الفضل مورخہ ٢٢؍اگست ١٩٤٤ء، ص ٤)
١٢
٢١
تف ہے اس ایمان اور لعنت ہے اس عرفان پر۔
مختاری فیل مسیح موعود
پھر یہ بھی تو دیکھئے کہ فخر رسل سید الانبیاء محمد مصطفے ﷺ سے احمد خیر سے کھوٹا رام جتنی قابلیت بھی نہیں رکھتے اور مختاری کا جو امتحان ہوا اسے وہ حضرت صاحب پاس نہ کر سکے۔ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب امیر شاہ صاحب استاد مقرر ہوئے۔ مرزا صاحب نے انگریزی شروع کتابیں پڑھیں۔ آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری کیلئے مطالعہ شروع کیا۔ پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے اور کیونکر ہوتے بنائے نہیں گئے تھے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٥٣)
چہ خوب! گویا امتحان میں کامیاب ہونا تو دنیوی اشغال ناکام ہونا مدارج نبوت کا ایک درجہ اور قصر مسیحیت کا ایک ضروری زینہ
چھوٹے میاں بشیر احمد صاحب کا یہ آخری فقرہ انگور کھٹے ہیں ہے، مگر اس سے زیادہ دلچسپ بڑے میاں محمود احمد صاحب کا ارشاد ملاحظہ ہو۔
افیمی استاد کا افیمی شاگرد
”حضرت مسیح موعود کو کبھی یہ دعویٰ نہ تھا کہ آپ نے ظاہری علوم حاصل کئے تھے۔ میرا ایک استاد تھا جو افیم کھایا کرتا تھا۔ وہ حقہ لے کر بیٹھتے اور اس سے اس کے حقہ کی چلم ٹوٹ جاتی۔ ایسے استاد نے پڑھانا کیا تھا۔“
گویا حضرت صاحب اس استاد سے پڑھتے پڑھاتے جس فن میں وہ ماہر تھا اس کا استفادہ کرتے تھے۔ چنانچہ ذیل کی روایت سے اس کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔
- ١....... میاں محمود احمد صاحب لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود نے ایک
دوائی الہامی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر
١٣
تف ہے اس ایمان اور لعنت ہے اس عرفان پر۔
مختاری فیل مسیح موعود
پھر یہ بھی تو دیکھئے کہ فخر رسل سید الانبیاء محمد مصطفےٰ ﷺ سے بڑھ کر شان والے منشی غلام احمد خیر سے کھوتا رام جتنی قابلیت بھی نہیں رکھتے اور مختاری کا جو امتحان ہزاروں ہندو سکھ پاس کر لیتے تھے وہ حضرت صاحب پاس نہ کر سکے۔ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم ۔ اے لکھتے ہیں: ”ڈاکٹر امیر شاہ صاحب استاد مقرر ہوئے۔ مرزا صاحب نے انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔ آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے اور کیونکر ہوتے وہ دنیوی اشغال کے لئے بنائے نہیں گئے تھے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٥٦ روایت نمبر ١٥٠)
چہ خوب! گویا امتحان میں کامیاب ہونا تو دنیوی اشغال کا پیش خیمہ تھا۔ مگر فیل اور ناکام ہونا مدارج نبوت کا ایک درجہ اور قصر مسیحیت کا ایک ضروری زینہ ؎
چھوٹے میاں بشیر احمد صاحب کا یہ آخری فقرہ انگور کھٹے ہیں کا مصداق اور بہت دلچسپ ہے۔ مگر اس سے زیادہ دلچسپ بڑے میاں محمود احمد صاحب کا ارشاد ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں:
افیمی استاد کا افیمی شاگرد
”حضرت مسیح موعود کو بھی یہ دعویٰ نہ تھا کہ آپ نے ظاہری علوم کہیں پڑھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے۔ میرا ایک استاد تھا جو افیم کھایا کرتا تھا۔ وہ حقہ لے کر بیٹھ رہتا تھا۔ کئی دفعہ پینک میں اس سے اس کے حقہ کی چلم ٹوٹ جاتی۔ ایسے استاد نے پڑھانا کیا تھا۔“
(الفضل مورخہ ٥؍ فروری ١٩٢٩ء)
گویا حضرت صاحب اس استاد سے پڑھتے پڑھاتے نہیں تھے۔ بلکہ اس سے جس فن میں وہ ماہر تھا اس کا استفادہ کرتے تھے۔ چنانچہ ذیل کی روایات سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔
- ١....... میاں محمود احمد صاحب لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود نے تریاق الٰہی دواء خدا تعالیٰ کی
ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد
١٣
حضرت خلیفہ اول (حکیم نورالدین) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔“
(الفضل مورخہ ١٩؍ جولائی ١٩٤٩ء)
- ٢.......
”آپ کی عادت تھی کہ روٹی توڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے جاتے پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کے منہ میں ڈال لیتے اور باقی ٹکڑے دستر خوان پر رکھے رہتے۔ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود ایسا کیوں کرتے تھے۔ مگر کئی دوست کہا کرتے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان روٹی کے ٹکڑوں میں سے کون سا تسبیح کرنے والا ہے اور کون سا نہیں۔“
(الفضل قادیان ٢٢؍ مارچ ١٩٣٥ء)
- ٣.......
صاحبزادہ بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں: ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ آپ چابیاں ازار بند کے ساتھ باندھتے تھے۔ جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا۔ اس لئے ریشمی ازار بند رکھتے تھے۔ تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جائے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازار بند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٥٥، روایت نمبر ٦٥)
- ٤.......
”بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لئے گرگابی جوتہ ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں۔ چنانچہ اس تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتہ پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھانا کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا ہے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٥٨، روایت نمبر ٣٧٥)
- ٥.......
”بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر تلے چڑھا لیتے مگر باوجود جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی۔ کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی پیر کی پشت پر آ جاتی اور کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی۔“
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٤٧، روایت نمبر ٣٤٤)
- ٦.......
”کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ، صدری، ٹوپی، عمامہ رات کو اتار کر تکیہ کے
١٤
نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے بستر پر سر اور جسم پ )
اس سلسلہ میں چند ایک مریدان با صفا کی روا
- ٧.......
”آپ کو (یعنی مرزا قادیانی کو) شیرینی سا عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھی اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔“
(ملحقہ حالات مرزا قادیانی براہین ا
- ٨.......
”ایک دفعہ ایک شخص نے بوٹ تحفہ میں پیش خاطر سے پہن لیا۔ مگر اس کے دائیں بائیں کی شناخ طرف کے بوٹ میں اور بایاں پاؤں دائیں طرف کے سے بچنے کے لئے ایک طرف بوٹ پر سیاہی سے نشان
(منکرین خلافت
- ٩.......
”نئی جوتی جب پاؤں کاٹتی تو جھٹ ایڑی وقت گرد اڑا کر پنڈلیوں پر چڑھایا کرتی تھی۔....... حضور سر مبارک اور داڑھی مبارک سے ہوتا ہوا بعض اوقات پڑ جاتے۔“
گو اس سلسلہ میں تفصیلات کا دامن زلف کے لئے اتنا کافی ہے۔
دو اشک بھی بہت ہیں
یہ منہ اور مسور کی دال
آہ! انسانیت کی بدقسمتی اور دین کی مظلو روٹی کھانے، چابیاں سنبھالنے، اپنی شلوار کا ازار بن دینے، استنجے کے ڈھیلے اور کھانے کے گڑ کو جدا جدا رک کو تیل لگانے کی بھی تمیز نہیں وہ دعویٰ کرتے ہیں ن الانبیاء سے تخت نبوت ورسالت اور سید المرسلین سے
١٥
نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے بستر پر اور جسم کے نیچے ملے جاتے۔“
(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٢٨، روایت نمبر ٤٤٤)
اس سلسلہ میں چند ایک مریدان باصفا کی روایت بھی سن لیجئے۔
- ٧...... ”آپ کو (یعنی مرزا قادیانی کو) شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی آپ کو
عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔“
(ملحقہ حالات مرزا قادیانی براہین احمدیہ ج اول ص ٦٧، مرتبہ معراج الدین قادیانی)
- ٨...... ”ایک دفعہ ایک شخص نے بوٹ تحفہ میں پیش کیا۔ آپ نے (مرزا قادیانی نے) اس کی
خاطر سے پہن لیا۔ مگر اس کے دائیں بائیں کی شناخت نہیں کر سکتے تھے۔ دایاں پاؤں بائیں طرف کے بوٹ میں اور بایاں پاؤں دائیں طرف کے بوٹ میں پہن لیتے تھے۔ آخر اس غلطی سے بچنے کے لئے ایک طرف بوٹ پر سیاہی سے نشان لگانا پڑا۔“
(منکرین خلافت کا انجام ص ٩٦، مصنفہ جلال الدین شمس صاحب)
- ٩...... ”نئی جوتی جب پاؤں کاٹتی تو جھٹ ایڑی بٹھا لیا کرتے تھے اور اسی سبب سے سیر کے
وقت گرد اڑ اڑ کر پنڈلیوں پر چڑھ جایا کرتی تھی..... حضور کبھی تیل سر مبارک پر لگاتے تو تیل والا ہاتھ سر مبارک اور داڑھی مبارک سے ہوتا ہوا بعض اوقات سینہ تک چلا جاتا جس سے قیمتی کوٹ پر دھبے پڑ جاتے۔“
(اخبار الحکم قادیان مورخہ ٢١؍ فروری ١٩٣٥ء)
گو اس سلسلہ میں تفصیلات کا دامن زلف یار سے بھی دراز تر ہے۔ تاہم اہل فکر ونظر کے لئے اتنا کافی ہے۔
دو اشک بھی بہت ہیں اگر کچھ اثر کریں
یہ منہ اور مسور کی دال
آہ! انسانیت کی بدقسمتی اور دین کی مظلومی کہ جس ذات شریف کو دسترخوان پر بیٹھ کر روٹی کھانے، چابیاں سنبھالنے، اپنی شلوار کا ازار بند کھولنے، جراب اور جوتا پہننے، کاج میں بٹن دینے، استنجے کے ڈھیلے اور کھانے کے گڑ کو جدا جدا رکھنے حتیٰ کہ سیر کے وقت چلنے اور داڑھی مبارک کو تیل لگانے کی بھی تمیز نہیں وہ دعویٰ کرتے ہیں تو صرف نبوت اور مسیحیت کے نہیں بلکہ افضل الانبیاء سے تخت نبوت ورسالت اور سیدالمرسلین سے تاج رشد و ہدایت چھیننے کے۔
١٥
پھر بھی دعویٰ ہے کہ اصلاح دو عالم ہم سے ہے
قادیانی نبوت کے تابوت میں آخری کیل
الفضل اور اللہ دتہ اپنا لکھا پڑھا چاٹ سکتے ہیں اور رائے عامہ کے دباؤ اور پریس کی گرفت سے گھبرا کر اپنی بات سے مکر سکتے ہیں اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی مرزائی اس قسم کی بات نہیں کہہ سکتا۔ لیکن کیا اس بات کا بھی انکار ممکن ہے کہ ان مرزائیوں کے پیشوا خود مرزا قادیانی عشق رسول کے مختلف مدارج تقابل و ہمسری، تفوق و برتری اور وحدت وعینیت طے کرنے کے بعد اب آخری منزل میں قدم رکھتے اور مقام مقصود پر آتے ہیں۔ یعنی نعوذ باللہ! سید المرسلین کو مسند رسالت اور کرسی نبوت سے اٹھاتے اور خود ہدایت عالم کا تاج زیب سر کر کے تخت خلافت پر براجمان ہوتے ہیں۔ سنئے! اور جگر تھام کر سنئے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ کہتے ہیں کہ: ”اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥)
فرمائیے! کیا اب بھی اس قسم کی بات میں کوئی کسر رہ گئی۔ کیا اس تصریح کی بھی کوئی تاویل کی جائے گی؟ کیا مقام محمد پر اس بے حیائی سے ڈاکہ زنی کے بعد بھی غلام احمد کی نبوت کو محمد رسول اللہ کی اتباع کامل کا ثمرہ قرار دیا جائے گا؟
ارباب اقتدار سے
ہم ارباب اقتدار سے بھی دریافت کرتے ہیں کہ سرور کائنات کے دشمنوں کی تحقیر واہانت اور تنقیص و مفضولیت کی خرافات اور بکواس سے گزر کر نعوذ باللہ سید المرسلین کو مسند رسالت سے اٹھا کر ہدایت عالم کے مقام محمود پر خود قبضہ کرنے کی نا بکار سعی کے باوجود اس کذاب اکبر اور دجال اعظم کو انسان اور اس کی مردود و ملعون لاہوری اور قادیانی امت کو مسلمان سمجھا جائے گا۔
ایں ہمہ بد گفتن و دین پیمبر داشتن
مسلم لیگ اور اسلام
میاں افتخار الدین اور سردار شوکت حیات خان ک انتشار کا موجب ہوں تو انہیں مسلم لیگ سے خارج کر دیا جاتا
مجلس عاملہ پاکستان مسلم لیگ نے ١١ اپریل ک صاحب کو پارٹی سے پانچ پانچ سال کے لئے خارج کرن جرم مرتب کی ہے۔
”میاں صاحب اور سردار صاحب نے جماعتی ن میں پارٹی میں فیصلوں کے خلاف تقریریں کر کے مسلم لیگ ک پارلیمنٹ میں پاکستان پارلیمنٹ کی حیثیت کو چیلنج کیا۔ ا پھیلانے کے لئے تخریبی کارروائیاں کیں اور مسلم لیگ کو ب
مگر آہ!
مرزا غلام احمد، میاں محمود احمد اور دوسرے مرزا وضبط کو صدمہ پہنچتا ہے نہ اسلام کے مفاد کو نقصان پہنچتا ہ اس کی رسوائی ہوتی ہے اور نہ ملت میں انتشار پیدا ہوتا ہ
اس سلسلہ میں معزز معاصر ”ڈان“ (اردو) ل ہے: ”گورنمنٹ اس کے ارکان اور اس کی عام پالیسی ک نے اس پر بھی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ دستوریہ پاکستان اور ق کیا۔ پاکستان کا کون سا نظام اور ادارہ باقی رہ گیا جس پ کا احترام ہے۔... ان کے اور مسلم لیگ پارٹی کے درم پارٹی کا رکن باقی رکھا جاتا۔“
بالکل انہی الفاظ میں ہم یہ عرض کرنے کی ج نمبر سے قطع نظر صرف زیر نظر افتتاحیہ میں ) ان کے ط مرزائیت اور اسلام کے درمیان کون سی چیز مشترک رہ گ باقی رکھا جائے۔ جب وہ اسلام اس کے ارکان اور اس ک سید الانبیاء رحمۃ اللعالمین کی شان رسالت کو ختم کر ک قابض ہونے کی ملعون کوشش کرے تو پھر اسلام کا باق
١٧
مسلم لیگ اور اسلام
میاں افتخار الدین اور سردار شوکت حیات خان اگر اپنی تقریروں سے مسلم لیگ میں انتشار کا موجب ہوں تو انہیں مسلم لیگ سے خارج کر دیا جاتا ہے۔
مجلس عاملہ پاکستان مسلم لیگ نے ١١؍ اپریل کو کراچی میں میاں صاحب اور سردار صاحب کو پارٹی سے پانچ پانچ سال کے لئے خارج کرتے ہوئے ان کے خلاف حسب ذیل فرد جرم مرتب کی ہے۔
”میاں صاحب اور سردار صاحب نے جماعتی نظم و ضبط کا خیال کئے بغیر مجلس دستور ساز میں پارٹی کے فیصلوں کے خلاف تقریریں کر کے مسلم لیگ کے مفاد کو نقصان پہنچایا بلکہ انہوں نے پارلیمنٹ میں پاکستان پارلیمنٹ کی حیثیت کو چیلنج کیا۔ انہوں نے پارٹی میں انتشار و بد نظمی پھیلانے کے لئے تخریبی کارروائیاں کیں اور مسلم لیگ کو رسوا کرنے کی کوشش کی۔“
مگر آہ!
مرزا غلام احمد، میاں محمود احمد اور دوسرے مرزائیوں کی اس قسم کی تقریروں سے نہ ملکی نظم وضبط کو صدمہ پہنچتا ہے نہ اسلام کے مفاد کو نقصان پہنچتا ہے۔ نہ دین کی حیثیت کو چیلنج ہوتا ہے۔ نہ اس کی رسوائی ہوتی ہے اور نہ ملت میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔
اس سلسلہ میں معزز معاصر ”ڈان“ (اردو) بعنوان ”پارٹی سے بغاوت کی سزا“ لکھتا ہے: ”گورنمنٹ اس کے ارکان اور اس کی عام پالیسی پر انہوں نے سخت حملے کئے ہیں۔ انہوں نے اس پر بھی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ دستوریہ پاکستان اور پارلیمنٹ کی نیابتی حیثیت پر بھی اعتراض کیا۔ پاکستان کا کون سا نظام اور ادارہ باقی رہ گیا جس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ ان کی نظر میں اس کا احترام ہے۔...... ان کے اور مسلم لیگ پارٹی کے درمیان کون سی چیز مشترک رہ گئی تھی جو انہیں پارٹی کارکن باقی رکھا جاتا۔“
بالکل انہی الفاظ میں ہم یہ عرض کرنے کی اجازت چاہتے ہیں کہ (اس سارے مرزا نمبر سے قطع نظر صرف زیر نظر افتتاحیہ میں) ان کے کرتوت کو بغور دیکھ کر ہمیں بتلایا جائے کہ مرزائیت اور اسلام کے درمیان کون سی چیز مشترک رہ جاتی ہے کہ مرزائیوں کو ملت اسلامیہ کا رکن باقی رکھا جائے۔ جب وہ اسلام اس کے ارکان اور اس کی عام پالیسی پر شدید حملے ہی نہ کریں بلکہ خود سید الانبیاء رحمۃ اللعالمین کی شان رسالت کو ختم کر کے مرزا غلام احمد قادیانی تخت و تاج نبوت پر قابض ہونے کی ملعون کوشش کرے تو پھر اسلام کا باقی کیا رہ گیا جس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ
١٧
مرزائیت کی نظر میں اس کا احترام ہے؟
الحاصل
مرزا غلام احمد محمد رسول اللہ ﷺ کا حریف و مقابل اور بدترین مخالف و معاند ہے اور امت مرزائیہ امت محمدیہ سے بالکل جدا اور مغائر! اسے محمد رسول اللہ کے پاکستان میں مسلمانوں کے ساتھ شامل رکھنا اسلام کی مظلومی کا درد انگیز مظاہرہ ہے اور ملت کی مجبوری کا المناک نظارہ جسے دیکھ کر حساس و دیندار فرزندان توحید کا دل گھٹتا...... اور جگر پھٹتا ہے۔
بے دست و پا کو دیدۂ بینا نہ چاہئے
اشاعت دوم
١٦؍شعبان المعظم ١٣٦٨ھ بمطابق ١٢؍جون ١٩٤٩ء
مرزا غلام احمد نمبر کا منشاء
ہمارے مقامی معاصر پیغام صلح نے اعلان کیا تھا: ”٢٦؍مئی حضرت مسیح موعود کا یوم وصال ہے۔ اس موقعہ پر پیغام صلح کا ایک خاص نمبر شائع ہوگا جس میں حضرت مجدد وقت کی صداقت آپ کے عظیم الشان کارناموں، آپ کی خدمات دینیہ اور سیرت و اخلاق پر بہت سے بیش قیمت مضامین درج ہوں گے۔“
ہم نے مناسب سمجھا کہ ہم بھی اس مبارک تقریب میں حصہ لیں اور تنظیم اہل سنت کا خاص نمبر شائع کر کے دنیا کو حضرت مجدد وقت کی صداقت آپ کے عظیم الشان کارناموں، آپ کی خدمات دینیہ اور سیرت و اخلاق سے باخبر اور آگاہ کریں۔ چنانچہ آج ہم بفضلہ تعالیٰ تنظیم کا یہ خاص نمبر ...... مرزا غلام احمد نمبر...... شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ دنیا کو اس خاص نمبر کے مطالعہ سے مرزا قادیانی کی شخصیت اور آپ کے صحیح منصب و مقام کے سمجھنے میں بہت مدد ملے گی۔ خدا ہمارے ”قادیانی“ کرم فرماؤں کو خالی الذہن ہو کر اس خاص نمبر کی روشنی میں مرزا قادیانی کی حقیقت جاننے پہچاننے کی توفیق عطاء فرمائے اور قبول حق کی سعادت سے انہیں بہرہ یاب فرمائے۔ آمین!
١٨
تنظیم اہل سنت کے ”مرزا غلام
معزز اکابر ملت کی آراء
عالی جناب شیخ فیض محمد صاحب سپیکر پنجاب ا ”تنظیم اہل سنت کے مرزا قادیانی نمبر کا میں ۔۔ نورالحسن صاحب کی خدمت میں مبارکباد عرض کرتا ہوں اشاعت سے ملت اسلامیہ کی بہت بڑی خدمت انجام د مرزائیت کے بارے میں حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمۃ ۔ جاذب توجہ ہے۔ ان خیالات کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا ماتحت ان کا اظہار فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ رائے میں نہیں سمجھ سکتا کہ تنظیم اہل سنت کے مندرجہ مضامین ۔ مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کا قائل ہو سکتا ہے۔ میری اردو نظموں کو مستقل کتاب کی شکل میں شائع کرنا مفید ہو کتاب کی اشاعت کے لئے خاص عطیات حاصل کر ۔ کی تقسیم مفت ہو۔ اس مقصد کے لئے میں اپنے مقدور ۔
قائد ملت حضرت مولانا سید داؤد صاحب غ
”ہفت روزہ تنظیم اہل سنت جو مولانا سید ہے۔ شاندار تبلیغی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ بلند کی معنوی خوبیوں کے لئے اور خود فاضل مدیر کا حسن ذ ضامن ہے۔ اس کے کئی مخصوص نمبر شائع ہوئے اور ا آخری مخصوص نمبر جو ”مرزا غلام احمد نمبر“ کے نام سے خاص اہمیت رکھتا ہے اس کی مقبولیت کا اندازہ اس ۔ بناء پر اسے دوبارہ طبع کرایا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ شا کی حوصلہ افزائی کا باعث ہوگی اور وہ پہلے سے زیادہ ۔ تبلیغ کو باحسن وجوہ سرانجام دیں گے ۔“
١٩
تنظیم اہل سنت کے ”مرزا غلام احمد نمبر“ کے متعلق
معزز اکابر ملت کی آرائے گرامی
عالی جناب شیخ فیض محمد صاحب سپیکر پنجاب اسمبلی کا ارشاد گرامی
”تنظیم اہل سنت کے مرزا قادیانی نمبر کا میں نے بغور مطالعہ کیا۔ اس کی ترتیب پر میں سید نور الحسن صاحب کی خدمت میں مبارکباد عرض کرتا ہوں۔ انہوں نے تنظیم کے اس خاص نمبر کی اشاعت سے ملت اسلامیہ کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔ مرزائیت کے بارے میں حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمۃ کے خیالات کی اشاعت خصوصیت کے ساتھ جاذب توجہ ہے۔ ان خیالات کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ علامہ موصوف نے کسی ہنگامی جذبہ کے ماتحت ان کا اظہار فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ رائے گرامی برسوں کے عمیق مطالعہ کا نچوڑ ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ تنظیم اہل سنت کے مندرجہ مضامین کے پڑھنے کے بعد کوئی معقولیت پسند انسان مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کا قائل ہو سکتا ہے۔ میری تجویز ہے۔ ان تمام اور بیسیوں قسم دیگر مضامین اردو نظموں کو مستقل کتاب کی شکل میں شائع کرنا مفید ہوگا۔ اس سلسلہ میں یہ بھی تجویز کرتا ہوں کہ کتاب کی اشاعت کے لئے خاص عطیات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور چھپ جانے پر اس کی تقسیم مفت ہو۔ اس مقصد کے لئے میں اپنے مقدور کے مطابق امداد کے لئے تیار ہوں۔“
قائد ملت حضرت مولانا سید داؤد صاحب غزنوی کا ارشاد گرامی
”ہفت روزہ تنظیم اہل سنت جو مولانا سید نور الحسن صاحب کی ادارت میں شائع ہوتا ہے۔ شاندار تبلیغی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ بلند پایہ علماء اور اہل قلم حضرات کے مضامین اس کی معنوی خوبیوں کے لئے اور خود فاضل مدیر کا حسن ذوق اس کے صوری اور معنوی محاسن کے لئے ضامن ہے۔ اس کے کئی مخصوص نمبر شائع ہوئے اور انہوں نے خاص قبولیت حاصل کی۔ لیکن یہ آخری مخصوص نمبر جو ”مرزا غلام احمد نمبر“ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے بعض مضامین کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ قارئین کے شوق طلب کی بناء پر اسے دوبارہ طبع کرایا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ شائقین کی یہ قدر افزائی کارکنان تنظیم اہل سنت کی حوصلہ افزائی کا باعث ہوگی اور وہ پہلے سے زیادہ شوق اور علو ہمتی سے کام کریں گے اور خدمت تبلیغ کو باحسن وجوہ سرانجام دیں گے۔“
١٩
محترم سید عبداللہ شاہ صاحب ایڈیٹر الفلاح پشاور
”ماشاء اللہ تنظیم جو کام سرانجام دے رہا ہے اس کی مثال دورِ حاضرہ میں مشکل ہے۔ پرچہ آتے ہی ہاتھوں ہاتھ مطالعہ کے لئے مانگا جاتا ہے اور میں تو مکرر سہ کرر پڑھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دیوے اور اس جدوجہد میں کامیاب کرے۔ ”مرزا غلام احمد نمبر“ آپ کی تاریخی یادگار رہے گی۔ بڑی محنت اور جانفشانی سے یہ عرق ریزی کی گئی ہے۔ ”مرزا غلام احمد نمبر“ کے براہ نوازش چالیس پرچے بھیج دیں۔ رقم بذریعہ منی آرڈر ارسال کردوں گا۔“
دوسرا مکتوب: ”وہ چالیس پرچے فوراً اڑ گئے ہیں۔ ٥ پرچے مزید ارسال فرمادیجئے۔“
محترم شیخ فیض الحق صاحب نوری، سید پوری گیٹ راولپنڈی
”آپ کے اخبار تنظیم اہل سنت کا ”مرزا غلام احمد نمبر“ میں نے تقریباً بیس آدمیوں کو مطالعہ کرایا۔ تمام افراد نے ایک ایک کاپی منگوانے کی مجھ سے درخواست کی۔ بہت سے اصحاب نے اخبار مذکورہ کو ہمیشہ کے لئے منگوانے کی خواہش ظاہر کی اور آپ کے دفتر کا پتہ بھی نوٹ فرمالیا۔ امید ہے آپ کو خطوط بھی پہنچ چکے ہوں گے۔ اب گذارش ہے کہ مندرجہ ذیل پتہ پر مرزا غلام احمد نمبر کتابی شکل میں چھپا ہوا یا اخباری شکل میں کم از کم پچاس کاپیاں ارسال فرماویں۔ قیمت انشاء اللہ ارسال کر دی جائے گی۔ میرے دوستوں کی رائے ہے کہ اخبار مذکور کا مطالعہ ہر مسلمان کے لئے آج کل نہایت ضروری ہے۔ تاکہ آپ کے اس کارخیر کی مالی امداد میں حصہ لے کر ہر باطل کے مقابلہ میں تنظیم کے تحت کھڑے ہو کر ثواب دارین حاصل کریں۔“
فقط: والسلام علیکم!
محترم صاحبزادہ رازق نور صاحب ای۔اے، بی۔ٹی (علیگ) ٹل ضلع کوہاٹ
”تنظیم سے ساری ملت اسلامیہ کا مفاد وابستہ ہے۔ ”مرزا غلام احمد نمبر“ یہاں بہت پسند ہوا ہے اور خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ نہایت عین موقعہ پر پہنچا۔ کیونکہ انہی دنوں فرزند علی ناظر امور عامہ قادیان بھی لوگوں کو مرتد کرنے کے لئے یہاں آیا ہوا تھا۔ وہ نہایت مایوس ہو کر یہاں سے گیا۔ اگرچہ وہ کھلے طور پر کسی سے نہ مل سکا۔ تاہم اس نے تین مریدوں سے جو باہر سے آ کر یہاں بس گئے ہیں اپنے دوستوں کو بلوایا اور اس کا وعظ ان کو سنوایا۔ میں نے بھی دامِ تزویر سے بچانے کے لئے ان لوگوں سے باتیں کیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ باطل کافور ہوا اور ان کے ایک چیلے نے تو
٢٠
٢٩
مجھ سے گلہ بھی کیا کہ میں نے ان کے لئے فضا خراب کردی
تنظیم اہل سنت کے مرزا غلام
مؤقر مسلم پریس کی ر
معزز معاصر زمیندار لاہور:
”مرزا غلام احمد نمبر! مسلمانوں کو معاصر عزیز تنظیم اہل سنت کا م نمبر شائع کر کے اسلام وملت کی بڑی خدمت انجام دی یہ کہہ کر پیش کی گئی ہے کہ۔
لے تجھے ہی تیرا آئینہ
اس پرچے میں قادیانیت کے متعلق ایسے مسلمان کو محروم نہیں رہنا چاہئے۔ ہمارا تو یہاں تک خی کے مطالعے سے محروم رہا تو یہ محرومی خوش قسمتی نہیں کہا اقبال نور اللہ مرقدہ، مولانا ظفر علی خان قبلہ، حضرت اسماعیل گوجرانوالہ اور مولانا محمد زاہد الحسینی ایسے عا غرضیکہ یہ نمبر اپنے موضوع کے لحاظ سے قابل تحسین جس نے مضامین کا مجموعہ پیش کیا جو کفر والحاد کے خ ہیں۔ قارئین کرام! یہ پرچہ دفتر ہفتہ وار تنظیم سے طلب
معزز معاصر! روزنامہ احسان لاہور
”ہفتہ وار تنظیم اہل سنت لاہور نے ٢٨ صفحات اخباری پر مشتمل ہے اور طباعت و کتاب اصل موضوع پر سیر حاصل تبصرے کا حامل ہے۔ ا اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا۔ بلکہ خود انہی کی کتابوں
٢١
مجھ سے گلہ بھی کیا کہ میں نے ان کے لئے فضا خراب کردی۔ فالحمدلله علی ذالك!“
(١١ / جون ١٩٣٩ء)
تنظیم اہل سنت کے مرزا غلام احمد نمبر کے متعلق
مؤقر مسلم پریس کی رائے گرامی
معزز معاصر زمیندار لاہور :
”مرزا غلام احمد نمبر!
مسلمانوں کو معاصر عزیز تنظیم اہل سنت کا ممنون ہونا چاہئے کہ اس نے مرزا غلام احمد نمبر شائع کر کے اسلام و ملت کی بڑی خدمت انجام دی ہے۔ یہ اشاعت مرزائیت کی خدمت میں یہ کہہ کر پیش کی گئی ہے کہ ؎
لے تجھے ہی تیرا آئینہ دکھا جاتا ہوں
اس پرچے میں قادیانیت کے متعلق ایسے محققانہ مضامین ہیں جن کے مطالعے سے کسی مسلمان کو محروم نہیں رہنا چاہئے۔ ہمارا تو یہاں تک خیال ہے کہ کوئی صحیح العقیدہ مسلمان اس پرچے کے مطالعے سے محروم رہا تو یہ محرومی خوش قسمتی نہیں کہلائے گی۔ مضمون نگاروں میں حضرت علامہ اقبال نور اللہ مرقدہ، مولانا ظفر علی خان قبلہ، حضرت طالوت، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد اسماعیل گوجرانوالہ اور مولانا محمد زاہد الحسینی ایسے عالم باعمل اور وسیع المعلومات رہنما شامل ہیں۔ غرضیکہ یہ نمبر اپنے موضوع کے لحاظ سے قابل تحسین ہے اور تنظیم اہل سنت کا مدیر مستحق مبارکباد ہے جس نے مضامین کا مجموعہ پیش کیا جو کفر و الحاد کے خرمن پر حق و صداقت کی بجلیوں کا کام کر سکتے ہیں۔ قارئین کرام ! یہ پرچہ دفتر ہفتہ وار تنظیم سے طلب کریں۔“
(زمیندار ٧؍ شعبان ١٣٥٨ھ)
معزز معاصر ! روزنامہ احسان لاہور
”ہفتہ وار تنظیم اہل سنت لاہور نے گذشتہ ہفتہ ”مرزا غلام احمد نمبر“ نکالا ہے جو ٢٨ صفحات اخباری پر مشتمل ہے اور طباعت و کتابت کے لحاظ سے دیدہ زیب ہونے کے علاوہ اصل موضوع پر سیر حاصل تبصرے کا حامل ہے۔ اس میں ہر مضمون نگار نے قادیانیت کے متعلق اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا۔ بلکہ خود انہی کی کتابوں کے حوالے سے پوری تصویر پیش کی ہے۔
٢١
مرزائیت کی سیاسی سرگرمیوں کے متعلق بعض اقتباسات ایسے دیئے گئے ہیں جنہیں پڑھ کر ہمیں سوچنا پڑتا ہے کہ اس فرقے کے متعلق کیا نظریہ قائم کریں۔ مثلاً الفضل کے ١٥؍ اپریل ١٩٤٧ء کی اشاعت کا اقتباس ملاحظہ ہو۔
”ممکن ہے عارضی افتراق (پاکستان کی شکل میں) پیدا ہو اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہو گی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے۔“
(ارشاد مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان)
بہر حال یہ نمبر بہت معلومات افزا اور دلچسپ ہے اور اس لائق ہے کہ ہر پڑھا لکھا آدمی اس کا مطالعہ کرے۔ قیمت فی پرچہ چار آنے رکھی گئی ہے۔“
(احسان مورخہ ٨؍ جون ١٩٤٩ء)
معزز معاصر روزنامہ تسنیم لاہور
”اخبار تنظیم اہل سنت لاہور نے ”مرزا غلام احمد نمبر“ شائع کر کے تبلیغ اسلام اور تردید باطل کا ایک نیا انداز پیش کیا ہے۔ مدعیان کاذب اور تحریکات باطل کے اندر داخلی طور پر اللہ تعالیٰ کی حکمت سے کچھ ایسے نمایاں سامان موجود ہوتے ہیں کہ ان کی تردید پر خارجی دلائل لانے کی بجائے صرف ان سامانوں کو الم نشرح کر دینا کافی ہوتا ہے۔ ان کے تیوروں کو دیکھ کر ہی ایک طالب حق فیصلہ کر لیتا ہے کہ ایک سچے داعی حق کے یہ لچھن نہیں ہیں۔ اس راز کو سب سے پہلے مولانا الیاس برنی نے بھانپا اور قادیانی مذہب کے نام سے ایک ضخیم کتاب حیدر آباد دکن سے شائع کی۔ جس میں قادیانی مذہب کے بانی اور اس کے متبعین کے اقوال اور تحریرات درج کر دیں۔ اپنی طرف سے انہوں نے تبصرے کے طور پر ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔ تجربے نے بتایا کہ یہ کتاب رد مرزائیت میں نہایت کامیاب ثابت ہوئی اور اس نے اس تحریک باطل کے خدوخال پر سے پروپیگنڈے کی تمام پر فریب چادریں اتار کر پھینک دیں۔
معاصر تنظیم اہل سنت کا ”مرزا غلام احمد نمبر“ بھی اسی اصول کار پر مبنی ہے۔ اسی پر مرزا غلام احمد قادیانی متنبی قادیان کی نظم ونثر کے شہ پاروں کو جمع کر دیا گیا ہے اور ایک آدمی بغیر کسی خارجی استدلال کے مرزا قادیانی کے طرز کلام، حسن اخلاق، اصول پروری، فہم قرآن اور انسانیت و شرافت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں معاصر نے قادیانی جماعت کے ارباب تقدس کے اس مسلک کو بھی درج کر دیا ہے جو پاکستان کے متعلق تقسیم سے پہلے وہ ظاہر کرتے رہے یہ نمبر تردید قادیانیت میں بہت ہی مفید شے ہے اور ظاہری وصوری محاسن کا مرقع، قیمت چار آنے۔“
(١٦؍ جون ١٩٤٩ء)
٢٢
معزز معاصر روزنامہ غازی لاہور
”ہفت روزہ ”تنظیم اہل سنت“ کا زیر نظر سے ملت پاکستان کے لئے ایک قابل قدر صحافتی پیش نگاہ سے دیکھے گا۔ اس شمارہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو پوری طرح بے نقاب کیا گیا ہے۔ مرزا بشیر الدی کارگزاریوں اور سرگرمیوں بلکہ مستقبل میں اس کے بھی مؤثر اور مدلل انداز میں کی گئی ہے۔ احمدیت معلومات افزا مضامین بھی درج ہیں۔ جن کے ذری دیکھنے کے لئے پوری امداد ملے گی۔ الغرض شمارۂ زیر نظر کی تمام نگارشات فرض عظیم سرانجام دیا ہے۔ جب کہ پاکستان کی تمی فرض شناس حلقوں سے اس کی توقع کر رہے تھے خوبیوں سے آراستہ شمارہ کی کامیاب تکمیل پر مبارک تنظیم ملت کی مذہبی پریشانیوں کے لئے صورت المی
معزز معاصر روزنامہ ”سفینہ“ لاہور
”ہفتہ وار تنظیم اہل سنت نے جو محولہ ذ کے عقائد کی تبلیغ اور ان کے حقوق کی نگرانی کے لئے خاص نمبر شائع کیا ہے جس میں بزرگان قادیان کی کتابوں سے دیئے گئے ہیں پچھلے دنوں قادیان معاملے میں ان کے عام مسلمانوں سے جو اختلا پاکستان کے وفادار نہیں اور یہ شبہ بھی بعض اقوال و کا مندرجہ ذیل اقتباس شائع کیا گیا ہے۔ ”ممکن ہے عارضی افتراق پیدا ہو اور مگر یہ حالت عارضی ہو گی اور ہمیں کوشش کرنی چاہ ہندوستان بنے۔“ یہ اقتباس مرزا محمود احمد امام جما
معزز معاصر روزنامہ ”غازی“ لاہور
ہفت روزہ ”تنظیم اہل سنت“ کا زیر نظر شمارہ اپنی ظاہری اور معنوی خوبیوں کے لحاظ سے ملت پاکستان کے لئے ایک قابل قدر صحافتی پیشکش ہے۔ جسے ہر سچا مسلمان قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھے گا۔ اس شمارہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی تحریروں کے حوالے سے ان کی حقیقت کو پوری طرح بے نقاب کیا گیا ہے۔ مرزا بشیر الدین کی تقریر اور تحریر کی روشنی میں مرزائیت کی کارگزاریوں اور سرگرمیوں بلکہ مستقبل میں اس کے وجود سے پیدا ہونے والے اندیشوں کی تعیین بھی مؤثر اور مدلل انداز میں کی گئی ہے۔ احمدیت سے متعلق حضرت علامہ اقبال مرحوم و مغفور کے معلومات افزا مضامین بھی درج ہیں۔ جن کے ذریعے مرزائیت کو اس کے اصلی رنگ و روپ میں دیکھنے کے لئے پوری امداد ملے گی۔
الغرض شمارۂ زیر نظر کی تمام نگارشات نے ایک ایسے وقت پر مرزائیت کی نقاب کشائی کا فرضِ عظیم سرانجام دیا ہے۔ جب کہ پاکستان کی تعمیری زندگی کے تقاضے مسلمانوں کے دیندار اور فرض شناس حلقوں سے اس کی توقع کر رہے تھے۔ ہم ”تنظیم“ جریدہ عظیم کو اس بلند پایہ اور معنوی خوبیوں سے آراستہ شمارہ کی کامیاب تکمیل پر مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ہماری دعا ہے کہ جریدہ تنظیم ملت کی مذہبی پریشانیوں کے لئے صورت اطمینان کا زندگی بخش ذریعہ ثابت ہو۔“
(١٦؍جون ١٩٥٩ء)
معزز معاصر روزنامہ ”سفینہ“ لاہور
”ہفتہ وار تنظیم اہل سنت نے جو محمود خان لغاری کی سرپرستی میں اہل سنت والجماعت کے عقائد کی تبلیغ اور ان کے حقوق کی نگہبانی کے لئے جاری ہے اس ہفتہ ایک خوش رنگ جاذب نظر خاص نمبر شائع کیا ہے جس میں بزرگان قادیان کے سلسلہ پر نقد و تبصرہ کیا گیا ہے اور حوالے انہی کی کتابوں سے دیئے گئے ہیں پچھلے دنوں قادیانیوں کے متعلق یہ عام شبہ کیا جاتا تھا کہ مذہبی معاملے میں ان کے عام مسلمانوں سے جو اختلاف ہیں سو ہیں۔ سیاسی معاملات میں بھی وہ پاکستان کے وفادار نہیں اور یہ شبہ بھی بعض اقوال و افعال کی بناء پر کیا گیا تھا۔ اس نمبر میں ”الفضل“ کا مندرجہ ذیل اقتباس شائع کیا گیا ہے۔
”ممکن ہے عارضی افتراق پیدا ہو اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے۔“ یہ اقتباس مرزا محمود احمد امام جماعت کی ایک تقریر سے لیا گیا ہے جو انہوں نے
اعلان تقسیم سے کوئی دو ہفتہ قبل کی تھی۔ اسی طرح اور معاملات پر اپنے نقطہ نظر سے بحث کی گئی ہے۔ ٤؍ میں یہ نمبر اخبار کے دفتر سے طلب کیجئے۔
(٩ جون ١٩٤٩ء)
معزز معاصر روزنامہ ”مغربی پاکستان“ لاہور ”ہفتہ وار تنظیم اہل سنت والجماعت نے یہ جدت کی ہے کہ اہل سنت کا اخبار ہونے کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی کے یوم ولادت پر اس نے ”مرزاغلام احمد نمبر“ کے نام پر ایک خاص نمبر شائع کیا ہے۔ اس خاص نمبر میں مرزاغلام احمد کی پھیلائی ہوئی گمراہیوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور مرزائیوں کے عقائد باطلہ کے پول نہایت عام فہم انداز سے کھولے گئے ہیں۔“
(مورخہ ١٨ شعبان المعظم ١٣٦٨ھ)
”مرزاغلام احمد نمبر“ کی اشاعت پر پیغام صلح کی فریاد و فغان
از: مولانا سید نورالحسن بخاری
ابھی تو ”حسن“ کا پہلا ہی پردہ اٹھا ہے
آپ کے تنظیم کا ”مرزا غلام احمد نمبر“ شائع ہوا اور ہاتھوں ہاتھ نکل گیا۔ ہمارے فہم و فکر میں بھی نہ تھا کہ یہ اتنا مقبول عام ہوگا۔ حیران ہوں کہ قادر مطلق کا کس زبان سے شکر ادا کروں۔ جس نے دین وملت کے اس واحد تبلیغی مرکز ..... مرکز تنظیم ..... کو تنظیم اہل سنت کا یہ خاص نمبر شائع کرنے کی توفیق مرحمت فرمائی اور پھر اس خاص نمبر کو قبولیت عامہ کی سند عطا فرما کر اسے برصغیر ہند و پاکستان کے طول وعرض میں پھیلا دیا۔
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
مقامی موقر پریس نے اس نمبر کی بہت زیادہ تعریف وتوصیف کر کے ہماری حوصلہ افزائی فرمائی۔ ملک وملت کے مشہور ومعزز روزنامہ زمیندار نے یہاں تک لکھ دیا کہ ہمارا تو یہاں تک خیال ہے کہ کوئی صحیح العقیدہ مسلمان اس پرچے کے مطالعہ سے محروم رہا تو یہ محرومی خوش قسمتی نہیں کہلائے گی۔ علاوہ ازیں ”زمیندار“ نے اس نمبر سے تنظیم کے شکریہ کے ساتھ اپنی دو اشاعتوں میں مضمون بھی نقل کئے۔ اس پر آرڈر آنے شروع ہو گئے۔ مگر افسوس کہ ہم ان کی تعمیل سے قاصر تھے۔ کیونکہ یہ نمبر اپنی اشاعت کے ایک ہفتہ بعد ختم ہو گیا تھا۔ سینکڑوں کی تعداد میں آرڈر آئے ٢٤
رکھے تھے اور ابھی مزید آ رہے ہیں۔ اس لئے ہم مجبور ہوئے کہ یہ مقبول ومحبوب نمبر چار صفحات کی ایزادی کے ساتھ ہدیہ قارئین
عام صحافتی تاریخ میں تو نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن تنظیم ہے کہ ہم بفضلہ تعالیٰ اس کا ایک خاص نمبر دوبارہ شائع ” والحمدللّٰه علی ذالك حمداً کثیراً “ اور اگر خدا کو زیادہ اضافہ کے ساتھ کتابی صورت میں شائع ہوگا۔ جیسا کہ سپیکر اسمبلی کی تجویز گرامی ہے۔
حق تعالیٰ اکابر ملت اور ارباب دولت کو عالم جامۂ عمل پہنانے اور اس نمبر ...... جو برادران اسلام و المسلمین تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
معزز اکابر ملت اور موقر مسلم پریس کی آراء آپ تصویر کا صرف ایک ہی رخ دیکھیں گے؟ اور ان دوستوں کی گے جن کی اصلاح وہدایت کی بفضلہ تعالیٰ اس نمبر کی اشاعت قبول حق اور رجوع عن الباطل کی توفیق مرحمت فرمائے۔
پیغام صلح کی فریاد و فغان
ہوں روسیاہ مجھے رہنے دو منہ
لاہوری قادیانیوں کا ترجمان ”پیغام صلح“ لاہور سنت“ نے پیغام صلح کے مسیح موعود نمبر کا اعلان دیکھ کر ” پرچہ شائع کیا ہے۔ اس پرچہ میں شاید ہی کوئی مضمون ہو گندی تصویر بنانے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔ جھوٹ، افترا وغیرہ کے الزامات آپ پر نہ لگائے گئے ہوں۔ آپ کی عشق رسول کی بھی اور اس بات پر سارا زور صرف کیا گیا اور رسول کی مخالفت میں گزری۔“ ٢٥
رکھے تھے اور ابھی مزید آ رہے ہیں۔ اس لئے ہم مجبور ہو گئے کہ نمبر کو دوبارہ شائع کریں۔ آپ کا یہ مقبول ومحبوب نمبر چار صفحات کی ایزادی کے ساتھ ہدیہ قارئین کرام ہے۔
عام صحافتی تاریخ میں تو نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن تنظیم اہل سنت کی تاریخ کا یہ پہلا موقعہ ہے کہ ہم بفضلہ تعالیٰ اس کا ایک خاص نمبر دوبارہ شائع کرنے کا شرف حاصل کر رہے ہیں۔ ”والحمد للہ علی ذالک حمداً کثیراً“ اور اگر خدا کو منظور ہے تو اس کا تیسرا ایڈیشن بھی بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ کتابی صورت میں شائع ہوگا۔ جیسا کہ محترم المقام جناب شیخ فیض محمد صاحب سپیکر اسمبلی کی تجویز گرامی ہے۔
حق تعالیٰ اکابر ملت اور ارباب دولت کو عالی جناب شیخ صاحب کی مبارک تجویز کو جامۂ عمل پہنانے اور اس نمبر....... جو برادران اسلام کے تحفظ ایمان کی ضمانت ہے....... عامۃ المسلمین تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
معزز اکابر ملت اور مؤقر مسلم پریس کی آرائے گرامی آپ کے سامنے ہیں۔ لیکن کیا آپ تصویر کا صرف ایک ہی رخ دیکھیں گے؟ اور ان دوستوں کے تاثرات سے آپ بے خبر رہیں گے جن کی اصلاح وہدایت کی بفضلہ تعالیٰ اس نمبر کی اشاعت سے توقع کی جاسکتی ہے۔ حق تعالیٰ قبول حق اور رجوع عن الباطل کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!
پیغام صلح کی فریاد و فغان
ہوں روسیاہ مجھے رہنے دو منہ چھپائے ہوئے
لاہوری قادیانیوں کا ترجمان ”پیغام صلح“ اپنے افتتاحیہ میں رقمطراز ہے۔ ”تنظیم اہل سنت“ نے پیغام صلح کے مسیح موعود نمبر کا اعلان دیکھ کر ”مرزا غلام احمد نمبر“ کے نام سے ایک خاص پرچہ شائع کیا ہے۔ اس پرچہ میں شاید ہی کوئی مضمون ہو۔ جس میں حضرت مسیح موعود کی گندی سے گندی تصویر بنانے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔ جھوٹ، افتراء، بدزبانی، تہمت طرازی اور شہوت رانی وغیرہ کے الزامات آپ پر نہ لگائے گئے ہوں۔ آپ کے عشق قرآن کی بھی تردید کی گئی ہے اور عشق رسول کی بھی اور اس بات پر سارا زور صرف کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کی ساری زندگی قرآن اور رسول کی مخالفت میں گذری۔“
(١٨؍جون ١٩٣٦ء)
٢٥
اس کا بہترین جواب وہی ہے جو معزز معاصر ”زمیندار“ اپنے شذرہ میں دے چکا ہے کہ یہ اشاعت مرزائیت کی خدمت میں یہ کہہ کر پیش کی گئی ہے۔
لے تجھے ہی ترا آئینہ دکھا جاتا ہوں
حضرت مسیح موعود کی گندی سے گندی تصویر کی ذمہ داری خود حضرت صاحب پر ہے۔ آئینہ میں تو وہی کچھ نظر آتا ہے جو اس کے سامنے لایا جاتا ہے۔ اس لئے معزز معاصر ”پیغام صلح“ کو .... اس بھونڈے، بھدے حبشی کی طرح جس نے آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر غصے سے اسے زمین پر پٹک دیا تھا اور کہا تھا۔ کیا منحوس اور بدصورت آدمی ہے۔ ”تنظیم اہل سنت“ کا ”مرزا غلام احمد نمبر“ دیکھ کر تنظیم پر غضبناک اور خشمگین ہونے کی بجائے خود مرزا قادیانی کے متعلق اپنے عقائد پر نظر ثانی کی تکلیف گوارا فرمانی چاہئے کہ
کسی کے روئے رنگیں سے میری رنگیں خیالی ہے
چیلنج
حقیقت یہ ہے کہ تنظیم نے صرف عکاسی کی ہے اور دیانتداری سے مرزا قادیانی کو ان کے اصلی رنگ اور روپ اور خدوخال میں منظر عام پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر ”پیغام صلح“ دیانتداری سے یہ سمجھتا ہے کہ تنظیم نے یہ غلط الزامات مرزا قادیانی پر لگائے ہیں تو پھر ہم پوری قوت سے اپنے معاصر کو غیر مبہم الفاظ میں کھلا چیلنج کریں گے کہ وہ عدالت میں ہمارے خلاف مقدمہ دائر کر دے۔ پھر دیکھئے ہم کس طرح سوائے شہوت رانی کے باقی سب اوصاف حمیدہ مرزا قادیانی ہی کے ارشادات عالیہ سے ثابت کرتے ہیں۔ رہا ثبوت زانی کا سوال! تو ہم نے یہ الزام مرزا قادیانی پر لگایا ہی کب ہے؟ ہم نے تو الٹا ان کے حسب ذیل اقوال نقل کر کے ان کی قابل رحم حالت زار کا اظہار کیا تھا۔
- ١....... ”صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ بکلی جاتا رہتا تھا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١٢، مکتوبات احمدیہ جدید ج ٢ ص ٢٠، مکتوب نمبر ١٠)
- ٢....... ”میری حالت مردی کالعدم تھی۔“
(نزول المسیح ص ٢٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٥٨٧)
صحبت کے وقت لیٹنے کی یہ حالت اور عدم مردی کی یہ حالت تو کسی اور حالت کا پتہ دیتی ہے۔ اس حالت پر شہوت رانی کا تو گمان بھی نہیں گزر سکتا۔ لہٰذا یہ تو ہم پر سراسر الزام، اتہام اور ٢٦
بہتان وافتراء ہے۔ ہاں باقی جو کچھ ہم نے لکھا ہے۔ وہ ہم - مرزا قادیانی کے ”وحی والہام“ یا پھر مرزائیت کے مسلم معتبر لٹریچر ہم ہر سرکاری عدالت یا غیر سرکاری پنچائت کے سامنے ہر وقت
تمہاری تیغ کے چھینٹے تمہارا نام
یہ دین قادیانی جاودانی ہو
شاعر عظیم حضرت مو
وہ اپنے منہ میاں مٹھو بنے لیکن بایں صورت مکال
مرے خالق نے بخشا ہے مجھے اسلام سا مذہب کوئی
نبوت جس کی وابستہ ہو پائے اہل یورپ سے وہ د
دلائل سے غرض کیا صرف اتنا جانتا ہوں میں خدا
ادھر اسلام کا دعویٰ ادھر کفار سے الفت ہمیں
جہاں میں دشمن ختم رسل موجود ہیں جب تک دل
کہاں سے لائیں جرأت میدانی بحث کرنے کی مقا
جسے نعلین پوشی میں بھی دھوکا پیش آ جائے وہ
گئے انگریز تو خود کاشتہ پودا بھی سوکھے گا
جو دنیا میں شریک زمرہ پا
وہ عقبیٰ میں قرین کامرانی
اے محمدی بیگم سے نکاح آسمانی، مرزائے قاد ہے، ١٨٨٦ء سے ١٩٠٧ء تک پورے اکیس سال کی شہ کمالات، تبلیغ رسالت جلد اول، دوم، سوم، حقیقت الو مندرجہ سینکڑوں حلفیہ آسمانی ارشادات اور ہزاروں اشتر ربانی الہامات کے علی الرغم جب آسمانی نکاح کا زمین بدرجہ اقل مسیح موعود مجدد اعظم مصلح اکمل اور امام اکبر اور ام ٢٧
بہتان وافتراء ہے۔ ہاں باقی جو کچھ ہم نے لکھا ہے۔ وہ ہم نے پوری دیانت وامانت کے ساتھ مرزا قادیانی کے ”وحی والہام“ یا پھر مرزائیت کے مسلم معتبر لٹریچر کی روشنی ہی میں لکھا ہے اور اسے ہم ہر سرکاری عدالت یا غیر سرکاری پنچائت کے سامنے ہر وقت ثابت کرنے کو تیار ہیں۔ بہر حال۔
تمہاری تیغ کے چھینٹے تمہارا نام لیتے ہیں
یہ دین قادیانی جاودانی ہو نہیں سکتا
شاعر عظیم حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب شوقی ابنالوی!
وہ اپنے منہ میاں مٹھو بنے لیکن بایں صورت مکاں کا رہنے والا لامکانی ہو نہیں سکتا
مرے خالق نے بخشا ہے مجھے اسلام سا مذہب کوئی اس دین کا دنیا میں ثانی ہو نہیں سکتا
نبوت جس کی وابستہ ہو پائے اہل یورپ سے وہ دنیا میں کبھی حق کی نشانی ہو نہیں سکتا
دلائل سے غرض کیا صرف اتنا جانتا ہوں میں خدا والا اسیر بدزبانی ہو نہیں سکتا
ادھر اسلام کا دعویٰ ادھر کفار سے الفت ہمیں تو اعتبار قادیانی ہو نہیں سکتا
جہاں میں دشمن ختم رسل موجود ہیں جب تک دل ناشاد وقف شادمانی ہو نہیں سکتا
کہاں سے لائیں جرأت میرزائی بحث کرنے کی مقابل امر حق کا نقش فانی ہو نہیں سکتا
جسے نعلین پوشی میں بھی دھوکا پیش آ جائے وہ ملت میں کسی جدت کا بانی ہو نہیں سکتا
گئے انگریز تو خود کاشتہ پودا بھی سوکھے گا یہ دین قادیانی جاودانی ہو نہیں سکتا
جو دنیا میں شریک زمرہ باطل رہے شوقی
وہ عقبیٰ میں قرین کامرانی ہو نہیں سکتا
١؎ محمدی بیگم سے نکاح آسمانی، مرزائے قادیانی کے تابوت مجددیت میں آخری کیل ہے۔ ١٨٨٦ء سے ١٩٠٧ء تک پورے اکیس سال کی شبانہ روز مسلسل جدوجہد، ازالہ اوہام، آئینہ کمالات، تبلیغ رسالت جلد اوّل، دوم، سوم، حقیقت الوحی، انجام آتھم وغیرہ بیسیوں کتابوں میں مندرجہ سینکڑوں حلفیہ آسمانی ارشادات اور ہزاروں اشتہاروں میں شائع شدہ مؤکد بعذاب قسمیہ ربانی الہامات کے علی الرغم جب آسمانی نکاح کا زمین پر نفاذ نہ ہوسکا اور وقت کا نبی اور رسول یا بدرجہ اقل مسیح موعود مجدد اعظم مصلح اکمل اور امام اکبر اور امامت کا سب سے بڑا (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٢٧
نذر مرزائے قادیانی ہے
شوقی بٹالوی!
سلک قطعات نو یہ اے شوقی نذر مرزائے آنجہانی ہے
نہ تھا عقل وخرد سے واسطہ جب نبی بننے کی اپنے دل میں ٹھانی
خدا بنتے تو واللہ خوب سجتے جناب مرزائے قادیانی
نبی بننے کا دعویٰ خوب آساں مگر پورا اترنا سخت مشکل
ذرا یاروں کی نادانی تو دیکھو نہ توشہ ہے نہ رہبر ہے نہ منزل
خدا کا ساختہ کوئی پیمبر نہ آئے گا قیامت تک کسی دن
مگر انگریز کے پروردہ فتنے ہزاروں ہوں اگر ظاہر تو ممکن
غلام شاہ لندن بن گئے ہیں ہوا یوں غرق بیڑا کترین کا
نبوت سے جناب میرزا کی ہوا ثابت کہ سب کچھ ہے انہیں کا
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) عاشق قرآن اور بے نظیر محب رسول ٧؍اپریل ١٨٩٢ء سے ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء تک ١٦سال سے پورا چلہ اوپر جب منکوحہ آسمانی کے ساتھ مرزا سلطان محمد (محمدی بیگم کے شوہر) کے ناجائز تعلقات دیکھتا رہا اور زنا اور ناجائز اولاد کا یہ سلسلہ بند نہ کرسکا تو ایک باضمیر اور باغیرت انسان ایک سیکنڈ کے لئے بھی مرزا غلام احمد کے قریب نہیں بھٹک سکتا...... قابل صد ہزار تحسین وتبریک ہے۔ لاہوری قادیانی کے امیر مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کا مرزا قادیانی سے ایمان واخلاص کہ ان کے پائے استقامت میں قطعاً لغزش نہ آئی اور یہ تسلیم کرنے کے بعد بھی کہ یہ اہم پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ آپ مرزا قادیانی کے مسیح موعود مجدد اعظم، مصلح اکمل اور امت میں واحد ویگانہ عاشق قرآن کی رٹ برابر لگائے چلے جاتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نکاح نہیں ہوا...... مگر میں کہتا ہوں...... صرف ایک پیش گوئی لے کر بیٹھ جانا اور باقی پیش گوئیوں کو چھوڑ دینا جن کی صداقت پر ہزاروں گواہیاں موجود ہیں۔ طریق انصاف اور راہ صواب نہیں۔ صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے دیکھنا چاہئے کہ تمام پیش گوئیاں پوری ہوئیں یا نہیں ۔“
(پیغام صلح لاہور مورخہ ١٦؍جنوری ١٩٢١ء)
مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے، ایل ایل۔ بی ہونے کے باوجود کس قدر بھولے بھالے آدمی ہیں۔ اجی حضرت! یہ کون کہتا ہے کہ نتیجہ پر پہنچنے کے لئے تمام پیش گوئیوں کو نہ دیکھنا چاہئے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٢٨
اشاعت اوّل ٢٤؍رجب، یکم؍شعبان ١٣٦٨ھ، مطا تنظیم اہل سنت کا ”مرزا بابائے شاعری وصحافت حضرت مولانا ظفر علی
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ہم تو یہی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ تمام پیش گوئیاں جن میں یہ محمدی بیگم نہیں۔ آپ اس معیار پر مرزا قادیانی کو جانچنے کے لئے تی انصاف اور راہ صواب نہیں۔ اس پر سوائے اس کے ہم اور کیا
یک بار ہم ملامت کشم
بہر حال مولوی صاحب کا اس معیاری پیش اس پر ہم انہیں ہدیۂ مبارکباد پیش نہیں کرسکتے۔ کیونکہ وسداد کی بناء پر نہیں بلکہ
مولوی صاحب نے حقیقت میں تمام راستے اس پیش گوئی کے غلط ثابت ہونے کا اقرار تو کر لیا۔ رہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی اپنے پرکھنے کی کسوٹی اور ا دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اسکی پیش گوئی اپنے حال اسے روک نہیں سکتا اور یہ پیش گوئی خدائے بزرگ کی وقت آئے گا مجھے قسم ہے خدا کی کہ محمدی بیگم کے خاون میرے نکاح میں آنے کی پیش گوئی سچی ہے۔ پس عنقر سچا یا جھوٹا ہونے کے لئے معیار قرار دیتا ہوں اور میں کہا۔“
مولوی صاحب مجدد اعظم اور اپنے ہادی و لئے خود پیش کیا ہے تو ببانگ دہل مرزا قادیانی کے جھو
٢٩
اشاعت اوّل
٢٤/رجب، یکم شعبان ١٣٦٨ھ، مطابق ٢٤، ٣١/مئی ١٩٤٩ء
تنظیم اہل سنت کا ”مرزا غلام احمد نمبر“
مولانا ظفر علی خان!
بابائے شاعری و صحافت حضرت مولانا ظفر علی خان صاحب مدظلہ العالی ایمان کی ایک
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ہم تو یہی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی صداقت کے متعلق صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ تمام پیش گوئیاں جس میں یہ محمدی بیگم کی پیش گوئی بھی شامل ہے پوری ہوئیں یا نہیں۔ آپ اس معیار پر مرزا قادیانی کو جانچنے کے لئے تو خود تیار نہیں اور کہتے دنیا کو ہیں کہ یہ طریق انصاف اور راہ صواب نہیں۔ اس پر سوائے اس کے ہم اور کیا عرض کریں۔
یک بار ہم ملامت چشم سیاہ خویش
بہر حال مولوی صاحب کا اس معیاری پیش گوئی کو غلط تسلیم کر لینا غنیمت ہے۔ لیکن اس پر ہم انہیں ہدیہ مبارکباد پیش نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ان کا یہ اعتراف حق وانصاف اور صدق وسداد کی بناء پر نہیں بلکہ ؎
مولوی صاحب نے حقیقت میں تمام راستے مسدود دیکھ کر اور کوئی راہ فرار نہ پا کر مجبوراً اس پیش گوئی کے غلط ثابت ہونے کا اقرار تو کر لیا۔ مگر مرزا قادیانی کی صداقت پر برابر ڈٹے رہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی اپنے پرکھنے کی کسوٹی اور اپنے تولنے کا ترازو اس پیش گوئی ہی کو قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اصلی پیش گوئی اپنے حال پر قائم ہے اور کوئی آدمی کسی حیلہ یا مکر سے اسے روک نہیں سکتا اور یہ پیش گوئی خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم ہے اور عنقریب وہ وقت آئے گا مجھے قسم ہے خدا کی کہ محمدی بیگم کے خاوند کے مرنے اور اس کے بعد محمدی بیگم کے میرے نکاح میں آنے کی پیش گوئی سچی ہے۔ پس عنقریب تم دیکھ لوگے۔ میں اس پیش گوئی کو اپنے سچا یا جھوٹا ہونے کے لئے معیار قرار دیتا ہوں اور میں نے جو کچھ کہا الہام اور وحی سے معلوم کر کے کہا۔“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
مولوی صاحب مجدد اعظم اور اپنے ہادی و مرشد کو اس معیار پر رکھتے جو انہوں نے اپنے لئے خود پیش کیا ہے تو بانگ دہل مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کا اعلان کر دیتے۔
(بخاری)
٢٩
جیتی جاگتی اور چلتی پھرتی تصویر ہیں اور ایمان عبارت ہے۔ کفر سے بغض وعداوت سے۔ چنانچہ حضرت مولانا کے خون کا ہر قطرہ آج نہیں بلکہ اس وقت سے جب کہ فرنگی اقتدار واستعمار کا آفتاب نصف النہار پوری تیزی اور تمازت سے چمک رہا تھا اور وقت کے نبی اس چڑھے سورج کو خدا مان کر اس کی پوجا پاٹ میں مستغرق تھے۔ اس کے تشدد واستبداد کو نظر انداز اور پامال کر کے انگریز اور انگریز کی خودکاشتہ نبوت سے بغاوت ونفرت میں متحرک و مضطرب ہے اور اسی تڑپ کا نتیجہ ہے کہ آپ نے دورِ حاضر کے اس سب سے بڑے فتنہ کے خلاف جو مسلسل جہاد کیا ہے اس کی نظیر عرصہ تقریر و خطابت میں تو شاید مل جائے لیکن دنیائے تحریر وصحافت میں ہرگز نہیں مل سکتی۔ شورش کاشمیری سے مولانا نے کیا خوب فرمایا ہے۔ ”اب ہم لوگ ایک تماشا ہیں اور آپ تماشائی۔ ہمارا زمانہ بیت گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی قلم ودوات کے وہ معرکے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ اب تو قافلہ حیات سکون کے ساتھ اپنا سفر پورا کر رہا ہے۔ ہمارے وقت کا آفتاب ڈوب گیا اور اس زمانہ کی صحبتیں لیل ونہار کے ساتھ ختم ہو گئیں۔“
اب جب کہ قلم اور دوات کے وہ معرکے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ ہم انہی معرکوں کے زمانہ کی ایک نظم عنوان بدل کر اپنے اس خاص نمبر کے زیب عنوان کر رہے ہیں۔ اس نمبر کے پس منظر کے پیش نظر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا مولانا نے یہ نظم اسی نمبر کے لئے موزوں فرمائی ہے۔
ہم بھی نکلیں ہاتھ میں لے کر علم اسلام کا
غیب سے کانوں میں پہنچی ہے یہ اڑتی سی خبر
قادیاں کے سر پہ پھٹنے کو ہے بم اسلام کا
سر چھپائیں گے کدھر جا کر پرستاران کفر
جب عرب اسلام کا ہے اور عجم اسلام کا
دل گواہی دے رہا ہے ایک دن اس دیس میں
بھرنے والے ہیں تمام انسان دم اسلام کا
سر کو بیچا اور خریدی اپنے مولا کی رضا
اس تجارت ہی سے قائم ہے بھرم اسلام کا
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
مرزا غلام احمد اور عشق خدا اور رسول
شرم تم کو مگر نہیں آتی!
از: مولانا سید نور الحسن بخاری
اخلاق وروحانیت کے لئے کتنا جانگسل اور روح فرسا ہے یہ حادثہ! کہ صرف رائی کا پربت اور پرکاہ کو پہاڑ بنا کر پیش کیا جائے۔ بلکہ نرے جھوٹ کو بالکل سچ بنا دیا جائے۔ شرافت
وصداقت کی کتنی مظلومی اور مجبوری ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھ وباطِل، حق واسلام کا نعرہ لگا کر میدان میں آ دھمکے۔ بدی روپ دھار کر خیر کے مقابلہ میں نکل آئے۔ جب زہر ہلا عراق کا لیبل لگا کر نہ صرف دنیا کو زہر دیا جائے بلکہ آب کی بدنصیبی اور حق وصداقت کی مظلومی کی کوئی حدوانتہا رہا ہٹلر، گوئنگ اور گوبلز اگر جھوٹ کو اس شدت جھوٹ کو سچ سمجھنے پر مجبور ہو جائے اور چرچل، سٹالن اور ٹر ودروغ کی اشاعت کریں کہ دنیا ان کو ٹرومین (سچا آدم حیرت انگیز نہیں۔ کیونکہ آج کل کی سیاست کی بنیاد ہی دیکھتی ہے کہ دینی حدود میں ایک سولہ آنے دشمنِ خداور ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ہے تو فرط حیرت سے انگش مرزا غلام احمد قادیانی کی خدا، رسول خدا ا چھپی بات نہیں۔ سورج کی طرح روشن اور ظاہر حقیقہ میں شک وشبہ کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مرزا بدقسمت اور بدنصیب دنیا کو دعوت دیتے ہیں تو مرزا قا اور خادم ومجدد دین بنا کر پیش کرتے ہیں۔ جس کا ن مسلمان اس دامِ تزویر وتلبیس میں پھنس کر مرتد ہو جا۔
لاہوری جماعت اور مولوی محمد علی
قادیانی اکابر تو اس بارے میں انسانیت لئے وہ مرفوع القلم اور خارج عن البحث ہیں۔ لیکن سنجیدہ اور شریف سمجھی جاتی ہے اس کا بھی یہ حال ہے وقت اور ہر موقع پر اس قسم کا دلازار راگ الاپتے رسول کو عاشقِ خدا اور محبتِ رسول بنا کر پیش کرتے ہ
جماعت کے امیر مولوی محمد علی صاحب مرزا قادیانی کے اسی عشق کے چرچے کا ہیضہ ہو گیا میں وہ اس قسم کی مسلم آزار روش اختیار نہ کرتے ہو
وصداقت کی کتنی مظلومی اور مجبوری ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرا اپنے آپ کو اجالا ظاہر کرے اور کفر وباطل، حق و اسلام کا نعرہ لگا کر میدان میں آ دھمکے۔ بدی نیکی کہلا کر نیکی کا منہ چڑائے اور شر، خیر کا روپ دھار کر خیر کے مقابلہ میں نکل آئے۔ جب زہر ہلاہل اور سم قاتل پر آب حیات اور تریاق عراق کا لیبل لگا کر نہ صرف دنیا کو زہر دیا جائے بلکہ آب تریاق کو چیلنج کیا جائے تو دنیا اور اہل دنیا کی بدنصیبی اور حق و صداقت کی مظلومی کی کوئی حد و انتہاء باقی رہ جاتی ہے؟
ہٹلر، گوئرنگ اور گوبلز اگر جھوٹ کو اس شدت و تکرار کے ساتھ دنیا میں نشر کریں کہ دنیا جھوٹ کو سچ سمجھنے پر مجبور ہو جائے اور چرچل، سٹالن اور ٹرومین اس قدر وثوق و اعتماد کے ساتھ کذب و دروغ کی اشاعت کریں کہ دنیا ان کو ٹرومین (سچا آدمی) سمجھنے لگ جائے تو یہ چیز اتنی تعجب خیز اور حیرت انگیز نہیں۔ کیونکہ آج کل کی سیاست کی بنیاد ہی دجل و فریب پر قائم ہے۔ لیکن جب دنیا یہ دیکھتی ہے کہ دینی حدود میں ایک سولہ آنے دشمن خدا و رسول کو عاشق خدا و رسول بنا کر دنیا کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ہے تو فرط حیرت سے انگشت بدنداں ہو کر رہ جاتی ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی خدا، رسول خدا اور دین خدا سے عداوت و بغاوت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ سورج کی طرح روشن اور ظاہر حقیقت ہے۔ کوئی عقل کا اندھا شبپرہ چشم ہی اس میں شک و شبہ کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مرزا قادیانی کی ذات اقدس کی طرف جب چند بدقسمت اور بدنصیب دنیا کو دعوت دیتے ہیں تو مرزا قادیانی کو سب سے بڑا محب خدا، عاشق رسول اور خادم و مجدد دین بنا کر پیش کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض سادہ لوح اور بے خبر مسلمان اس دام تزویر و تلبیس میں پھنس کر مرتد ہو جاتے ہیں۔
لاہوری جماعت اور مولوی محمد علی
قادیانی اکابر تو اس بارے میں انسانیت و شرافت کی تمام حدود پھاند چکے ہیں۔ اس لئے وہ مرفوع القلم اور خارج عن البحث ہیں۔ لیکن لاہوری جماعت جو عام طور پر اس سلسلہ میں سنجیدہ اور شریف سمجھی جاتی ہے اس کا بھی یہ حال ہے کہ اس کے مبلغ اس کا پریس، اس کا امیر سبھی ہر وقت اور ہر موقع پر اس قسم کا دل آزار راگ الاپتے رہتے ہیں اور آئے دن ایک دشمن خدا اور عدو رسول کو عاشق خدا اور محب رسول بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں۔
جماعت کے امیر مولوی محمد علی صاحب ایم، اے، ایل ایل، بی کا تو یہ حال ہے کہ انہیں مرزا قادیانی کے اسی عشق کے چرچے کا ہیضہ ہو گیا ہے اور ان کا عموماً کوئی خطبہ ایسا نہیں ہوتا جس میں وہ اس قسم کی مسلم آزار روش اختیار نہ کرتے ہوں۔ چند تازہ شواہد ملاحظہ ہوں:
٣١
حضرت مرزا صاحب کا عشق رسول
٨؍ اپریل ١٩٣٩ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں: ”ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے بھی یہ نظارہ دیکھا کہ ایک شخص ہمارے سامنے اٹھا اور خدا کے لئے اسی عشق اور محبت کا جذبہ ہم نے اس کے اندر دیکھا جس کی طرف محمد رسول اللہ ﷺ کی تاریخ ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ خدا جانتا ہے اسی جذبہ کی ایک جھلک...... ان آنکھوں سے ہم نے حضرت مرزا صاحب میں دیکھی جس کا اصل سر چشمہ ہمارے پیغمبر ﷺ ہیں۔ کس طرح دیکھا؟ گالیوں سے بھرے ہوئے خطوط آپ کو آتے ہیں اور آپ ہنس کر فرماتے ہیں کہ ہم نے انہیں ایک بوری میں ڈالنا شروع کیا تھا۔ مگر وہ بہت جلد بھر گئی۔ اس لئے اس کو بھی چھوڑ دیا۔ لیکن وہی شخص جو اپنے لئے گالیوں کی پرواہ تک نہیں کرتا وہی شخص جو اپنے متعلق گالیوں کو اس فراخدلی سے سن لیتا ہے جب نبی کریم ﷺ کے متعلق کوئی ایسا خط آجائے یا کوئی مضمون شائع ہو جس میں آپ پر حملہ ہو تو اس کی غیرت جوش میں آجاتی ہے اور چین نہیں لیتے جب تک اس کا جواب نہ دے لیں۔“
(پیغام صلح مورخہ ٢٠؍ اپریل ١٩٣٩ء)
ملاحظہ ہو کہ مرزا قادیانی کے عشق الٰہی کا راگ کس زور شور سے الاپا جارہا ہے اور ثبوت یہ دیا ہے کہ گالیوں سے بھرے ہوئے خطوط آپ کو آتے ہیں اور آپ ہنس کر فرماتے ہیں کہ ہم نے انہیں ایک بوری میں ڈالنا شروع کیا تھا۔ مگر وہ بہت جلد بھر گئی۔ اس لئے اس کو بھی چھوڑ دیا۔ لیکن وہی شخص جو اپنے لئے گالیوں کی پرواہ تک نہیں کرتا وہی شخص جو اپنے متعلق گالی کو اس فراخدلی سے سن لیتا ہے جب نبی کریم ﷺ کے متعلق کوئی ایسا خط آجائے یا کوئی مضمون شائع ہو جس میں آپ کی ذات پر کوئی حملہ ہو تو اس کی غیرت جوش میں آجاتی ہے اور چین نہیں لیتے۔ جب تک اس کا جواب نہ دے لیں۔ اللہ! اللہ!
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
مولوی صاحب پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ کیا وہ اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ آخر دنیا اس لچر اور پوچ بیان پر کیا کہے گی۔ اس لاف و گزاف پر حقیقت حال سے باخبر لوگ کتنا مضحکہ اڑائیں گے۔ آخر اس صریح غلط بیانی اور فضول کذب و دروغ پر مولوی صاحب کو کچھ شرم آنی چاہئے۔
پہلا جھوٹ
ان گالیوں سے بھرے ہوئے خطوط میں سے کسی ایک کی بھی نشاندہی کی جاسکتی ہے؟ کیا ہمارا یہ چیلنج قبول کیا جاسکتا ہے کہ مرزا قادیانی سبّاب اعظم نے جن اکابر دین اور علماء و مشائخ
٣٢
امت کو نام بہ نام بازاری گالیاں دی ہیں ان کی طرف سے کو پہلے یا اس سب وشتم کے بعد دی گئی ہو۔ کیا ہمارا یہ چیلنج ق
دوسرا جھوٹ
اگر مرزا قادیانی ”لوگوں کو گالیاں فراخدلی س نہیں کرتے تو پھر یہ مغلظات مرزا کس کا افتراء ہے۔ آخ خرافات، یہ سوقیانہ سب وشتم یہ بد زبانی و گالی گلوچ کی آ ہے؟ جس کی ایک ہلکی سی جھلک ہم نے اسی نمبر کے صفحات
تیسرا جھوٹ
آخری جھوٹ اور انتہائی کذب و دروغ یہ ا شائع ہو۔ جس پر آپ کی ذات پر کوئی حملہ ہو تو اس کی غ لیتے۔ جب تک اس کا جواب نہ دے دیں۔
اس لئے اس صریح غلط بیانی اور غلیظ فریب چاک ہوتا دیکھئے۔
سنئے اور جگر تھام کے سنئے! مرزا قادیانی کی ب بدذاتی اور مادری بدگوہری سے ہمارے نبیﷺ پر ہوت پلیدی سے اس سید المعصومین پر سراسر دروغ گوئی کا مسلمانوں کو اپنی محسن گورنمنٹ کا پاس نہ ہوتا تو ایسے شری مناسب حال ہوتا۔ مگر شریف انسانوں کو گورنمنٹ کی ق ایک گال کے بعد دوسرے گال پر عیسائیوں کو کھانا چاہ ہو کر پادریوں اور آریوں سے کھا رہے ہیں۔ یہ سب سے کرتے ہیں اور کریں گے۔ کیونکہ ان احسانات کا ج فضل نے اس مہربان گورنمنٹ کے ہاتھ سے ہمار لحظہ کے لئے بھی کوئی ہم سے ان نعمتوں کو فراموش ک
٣٣
امت کو نام بہ نام بازاری گالیاں دی ہیں ان کی طرف سے ایک گالی پیش کی جائے جو مرزا قادیانی کو پہلے یا اس سب وشتم کے بعد دی گئی ہو۔ کیا ہمارا یہ چیلنج منظور کرنے کی ہمت وقوت ہے۔
دوسرا جھوٹ
اگر مرزا قادیانی ”لوگوں کو گالیاں فراخدلی سے سن کر“ ہنس دیتے ہیں اور پرواہ تک نہیں کرتے تو پھر یہ مغلظات مرزا کس کا افتراء ہے۔ آخر مرزا قادیانی کی پاک تصنیفات میں یہ خرافات، یہ سوقیانہ سب وشتم، یہ بدزبانی و گالی گلوچ کی نجاست اور غلاظت کس نے داخل کر دی ہے؟ جس کی ایک ہلکی سی جھلک ہم نے اسی نمبر کے صفحات پر دکھلائی ہے۔
تیسرا جھوٹ
آخری جھوٹ اور انتہائی کذب و دروغ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے متعلق کوئی مضمون شائع ہو۔ جس پر آپ کی ذات پر کوئی حملہ ہو تو اس کی غیرت جوش میں آجاتی ہے اور چین نہیں لیتے۔ جب تک اس کا جواب نہ دے دیں۔
اس لئے اس صریح غلط بیانی اور غلیظ فریب کاری کا پردہ خود مرزا قادیانی کے ہاتھوں چاک ہوتا دیکھئے۔
سنئے اور جگر تھام کے سنئے! مرزا قادیانی لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں: ”بہتوں نے اپنی بد ذاتی اور مادری بدگوہری سے ہمارے نبی ﷺ پر بہتان لگائے۔ یہاں تک کہ کمال خباثت اور پلیدی سے اس سید المعصومین پر سراسر دروغ گوئی کی راہ سے ...... تہمت لگائی۔ اگر غیرت مند مسلمانوں کو اپنی محسن گورنمنٹ کا پاس نہ ہوتا تو ایسے شریروں کو وہ جواب دیتے جو ان کی بد اصولی کے مناسب حال ہوتا۔ مگر شریف انسانوں کو گورنمنٹ کی پاسداریاں ہر وقت روکتی ہیں اور وہ طمانچہ جو ایک گال کے بعد دوسرے گال پر عیسائیوں کو کھانا چاہئے تھا ہم لوگ گورنمنٹ کی اطاعت میں محو ہو کر پادریوں اور آریوں سے کھا رہے ہیں۔ یہ سب بردباریاں ہم اپنی محسن گورنمنٹ کے لحاظ سے کرتے ہیں اور کریں گے۔ کیونکہ ان احسانات کا ہم پر شکر کرنا واجب ہے جو خدائے تعالیٰ کے فضل نے اس مہربان گورنمنٹ کے ہاتھ سے ہمارے نصیب کئے اور نہایت بدذاتی ہوگی اگر ایک لحظہ کے لئے بھی کوئی ہم سے ان نعمتوں کو فراموش کر دے جو اس گورنمنٹ کے ذریعے سے
٣٣٣
مسلمانوں کو ملی ہیں۔ بلاشبہ ہمارا جان و مال گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی میں فدا ہے اور ہوگا اور ہم غائبانہ اس کے اقبال کے لئے دعا گو ہیں۔“
(آریہ دھرم ص ٥٨، ٥٩ خزائن ج ١٠ ص ٨٠، ٨١)
استغفر اللہ! العیاذ باللہ!!
فرنگ تیرے خیال و عمل کا ہے مسجود
بدن تھرتھرا اٹھتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ انسان لرزہ براندام ہوجاتا ہے۔ کس قدر جرأت و جسارت کا مظاہرہ ہے اور کس قدر بے باکانہ و گستاخانہ بیان ہے۔ چند روزہ مردود و ملعون فرنگی حکومت کی جھوٹی خوشامد اور چاپلوسی کے مقابلہ میں سرور کائنات، سید الاولین والاٰخرین کی انتہائی توہین گوارا کرلیتے ہیں اور محسن گورنمنٹ کے پاس و لحاظ میں مست و مدہوش ہوکر سید المعصومین پر زنا تک کے شرمناک الزام و اتہام کا زہر شیر مادر کی طرح پی جاتے ہیں۔ بلکہ اس عیسائی گورنمنٹ کے قدموں پر جس کے عہد میں جس کی شہ پر اس کے ہم قوم عیسائی پادریوں نے اس قبیل کے دلدوز و جگرسوز اقدام کئے۔ نیک ذات مرزا قادیانی جان ومال فدا کرتے نظر آتے ہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی اس گورنمنٹ کی نعمتوں کو فراموش نہ کرتے ہوئے ہر وقت غائبانہ اس کے لئے دعا گو رہتے ہیں۔ کیونکہ اگر یہ ملعون فرنگی حکومت نہ رہی اور پاکستان بن گیا تو پھر مسلمانوں کو یہ نعمتیں کہاں نصیب ہوں گی اور حضور رسول اکرمﷺ کی ذات اقدس واطہر پر پادریوں اور آریوں کی بدترین حملہ کی جرأت کیسے ہوسکے گی۔
حضرت مجدد وقت کے اس عظیم الشان کارنامے پر ہم سوائے اس کے اور کیا عرض کرسکتے ہیں ۔
رواست دانش افرنگ را پرستاری مگر ز احمد مرسل حیا نمی داری
مرزا قادیانی کے اس غیرت کش اور اخلاق سوز بیان سے جہاں مولوی محمد علی کی مندرجہ بالا صداقت اور حق گوئی کا بھانڈا بیچ چوراہے پر بری طرح پھوٹ کر چور چور ہوجاتا ہے۔ وہاں اس سے مرزا قادیانی کے عشق خدا اور عشق رسول کی حقیقت بھی عریاں ہوکر سامنے آجاتی ہے اور آپ کی زندگی بھر کے اس کیریکٹر سے عشق الہی کا وہ جذبہ اور عشق رسول کی وہ جھلک روز روشن کی طرح واضح ہوکر دنیا کے سامنے آجاتی ہے۔ جس کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بجایا جاتا ہے اور شب و روز جس کا پریس اور پلیٹ فارم سے گیت گایا جاتا ہے۔
٣٤
هذا لعمری فی الفعال بدیع
لو كان حبك صادقا لاطعته
ان المحب لمن یحب مطیع
حضرت مسیح موعود کا عشق قرآن
دو ہفتے بعد ٢٢؍ اپریل کا خطبہ جمعہ پڑھتے ہو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق کہ ان غلطیوں کی اصلاح ہوتی رہیں گی۔ ایک مصلح یا مجدد کو اللہ تعالیٰ بھیجتا رہے گا۔ چنا اس صدی کے سر پر بھی ایک مجدد آیا۔ اس کو اس قدر دردو دن رات قرآن پڑھتے تھے۔ اس کا پہلا کام یہ تھا کہ قرآ قرآن پڑھتے ہوئے آپ کے ملنے والوں کا بیان ہے کہ و یاد رکھو پہلی بات یہ ہے جو امام وقت میں نظر آتی ہے اور ج ساتھ عشق کیا ہے کہ اس کی دوسری نظیر اس امت میں نظر نہیں نے ایک دفعہ یہ کہا کہ محمد رسول اللہﷺ کے ساتھ تو لوگو ساتھ عشق مرزا قادیانی ہی نے کیا۔ قرآن کی عظمت کا و کرتے کہ اسلام کی صداقت کا ہر دعویٰ اور اس کی ہر د بطلان کے متعلق ہر دعویٰ اور اس کی دلیل قرآن میں مو بات آپ نے پیش کی تھی۔“
پہلا افتراء
اس مختصر سے بیان میں مولوی صاحب کا پہلا ا اپنا وعدہ ہے کہ ہر صدی کے سرے پر ایک مجدد بھیجتا رہے گا لے تو رسول کریمﷺ کی مخالفت اور بغاوت کا کرتا ہے۔ واللہ یہ بات دنیا میں عجیب و غریب تر ہے ک حضورﷺ کی اطاعت کا دم بھرتا۔ بلاشبہ عاشق صادق ا
٣٥
هذا لعمری فی الزمان بدیع
لوکان حبک صادقاً لاطعته
ان المحب لمن یحب مطیع
حضرت مسیح موعود کا عشق قرآن
دو ہفتے بعد ٢٢؍ اپریل کا خطبہ جمعہ پڑھتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تو اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق کہ ان غلطیوں کی اصلاح کے لئے جو وقتاً فوقتاً امت میں پیدا ہوتی رہیں گی۔ ایک مصلح یا مجدد کو اللہ تعالیٰ بھیجتا رہے گا۔ چنانچہ پہلے بھی ایسے لوگ آتے رہے اور اس صدی کے سر پر بھی ایک مجدد آیا۔ اس کو اس قدر درد تھا۔ قرآن کے ساتھ اس قدر عشق تھا کہ دن رات قرآن پڑھتے تھے۔ اس کا پہلا کام یہ تھا کہ قرآن کو پڑھتا چلا گیا۔ مہینے گذرتے گئے۔ قرآن پڑھتے ہوئے آپ کے ملنے والوں کا بیان ہے کہ کئی ہزار مرتبہ قرآن آپ نے پڑھا خوب یاد رکھو پہلی بات یہ ہے جو امام وقت میں نظر آتی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس قدر قرآن کے ساتھ عشق کیا ہے کہ اس کی دوسری نظیر اس امت میں نظر نہیں آتی۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے ایک دفعہ یہ کہا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تو لوگوں نے بڑا بڑا عشق کیا۔ لیکن قرآن کے ساتھ عشق مرزا قادیانی ہی نے کیا۔ قرآن کی عظمت کا وہ نقشہ آپ کے دل پر تھا کہ مخالفوں کو چیلنج کرتے کہ اسلام کی صداقت کا ہر دعویٰ اور اس کی ہر دلیل اور جتنے باطل مذاہب ہیں ان کے بطلان کے متعلق ہر دعویٰ اور اس کی دلیل قرآن میں موجود ہے۔ آتھم کے مباحثہ میں بھی یہی بات آپ نے پیش کی تھی۔“
(پیغام صلح مورخہ ٤ مئی ١٩٤٩ء)
پہلا افتراء
اس مختصر سے بیان میں مولوی صاحب کا پہلا جھوٹ تو یہ افتراء علیٰ اللہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنا وعدہ ہے کہ ہر صدی کے سرے پر ایک مجدد بھیجتا رہے گا۔ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ قرآن میں کیا ہے تو رسول کریم ﷺ کی مخالفت اور بغاوت کو شعار بنا کر بھی حضور ﷺ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے۔ واللہ یہ بات دنیا میں عجیب و غریب تر ہے۔ اگر تیرا عشق رسول کا دعویٰ سچا ہوتا تو حضور ﷺ کی اطاعت کا دم بھرتا۔ بلاشبہ عاشقِ صادق اپنے محبوب کا مطیع اور فرمانبردار ہوتا ہے۔
٣٥
یا کسی گول مٹول الہام میں یہ وعدہ جبرائیل علیہ السلام لایا یا چمچی؟
کاش مولوی صاحب اپنے جاہل جماعتوں سے چندہ بٹورنے کی غرض سے انہیں اپنے ساتھ وابستہ رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے کلام کو یوں دام تزویر و تلبیس نہ بناتے۔
دام تزویر مکن چو دگراں قرآن را
دوسرا جھوٹ
کیا مولوی صاحب اپنے سِوا آپ کے ملنے والوں میں سے کسی ایک کا بھی اس قسم کا بیان منظر عام پر لا سکتے ہیں کہ کئی ہزار مرتبہ قرآن آپ نے پڑھا۔ ایک دائم المرض انسان جو بیچارہ مجموعہ امراض ہو، مجسمہ علل ہو، جسکے نیچے کے دھڑ کی بیماریاں جدا لاحق ہوں اور اوپر کے دھڑ کی جداً۔ عمر بھر جس کے جسم کا حصہ اسفل صحیح رہا ہو نہ حصہ اعلیٰ۔ جو بیچارہ ایک ایک دن اور ایک ایک رات میں سو سو دفعہ پیشاب کرے۔ جس بے چارے کو ہسٹیریا کے باقاعدہ دورے پڑیں۔ جو بے چارہ مراق میں بھی مبتلا ہو اور جس کا دل درست ہو نہ دماغ ۔ اس بے چارے کو روزانہ سوا دس پارے قرآن پڑھنے کی فرصت ہی کب مل سکتی ہے۔
١؎ مرزا قادیانی کا قول ہے: ”الہامی عبارت ذی الوجوہ اور کچھ گول مول ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨٦، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٨ حاشیہ )
٢؎ حکیم نور الدین کو لکھتے ہیں: ”مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوئی ہے کہ چند امراض کاہلی و سستی و رطوبات معدہ اس سے دور ہو گئے ہیں۔ ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ نکل جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوا حرارت غریزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔“
(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٢ ص ١٤، مکتوبات احمدیہ ج ٢ ص ٢٠، مکتوب نمبر ١٠ جدید)
....... ”ایک میرے دوست سمانہ علاقہ پٹیالہ میں ہیں جن کا نام مرزا احمد یوسف بیگ ہے۔ انہوں نے کئی مرتبہ ایک معجون بنا کر بھیجی ہے جس میں کچلہ مدبر داخل ہوتا ہے۔ وہ معجون میرے تجربے میں آیا ہے کہ اعصاب کے لئے نہایت مفید ہے اور امراض رعشہ ، فالج اور تقویت دماغ اور قوت باہ کے لئے اور نیز تقویت معدہ کے لئے فائدہ مند ہے۔ مدت سے میرے استعمال میں ہے۔“
(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٢ ص ٥٥، مکتوبات احمدیہ جدید ج ٢ ص ٥٦، مکتوب نمبر ٣٥)
٣....... نواب صاحب کو تحریر فرماتے ہیں: ”کس قدر تریاق جدید کی گولیاں بمعرفت مرزا خدا بخش صاحب آپ کی خدمت میں ارسال ہیں۔ دوا تریاق الہی سے فوائد میں بہت بڑھ کر ہے۔ اس میں بڑی بڑی قابل قدر دوائیں پڑی ہیں جیسے مشک ، عنبر، مروارید، سونے کا کشتہ ، فولاد، یاقوت احمر ، کو کین ، فاسفورس، کھر با، مرجان ، صندل، کیوڑہ، زعفران یہ تمام دوائیں قریب سو کے ہیں اور بہت سا فاسفورس اس میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ دوا علاج طاعون کے علاوہ مقوی دماغ ، مقوی جگر ، مقوی معدہ، مقوی باہ اور مراق کو فائدہ کرنے والی اور مصفی خون ہے۔ مجھ کو اس کے تیار کرنے میں اوّل تامل تھا کہ بہت سے روپیہ پر اس کا تیار کرنا موقوف تھا۔ لیکن چونکہ حفظ صحت کے لئے یہ دوا مفید ہے۔ اس لئے اس قدر خرچہ گوارا کیا اور قوت باہ میں اس کو عجیب اثر ہے۔“
(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٤ ص ١٠٥، مکتوبات احمدیہ ج ٢ ص ٢٥٠ جدید) (بقیہ حاشیہ جات اگلے صفحہ پر)
٣٦
مولوی صاحب تو شاید فرما دیں کہ بایں ہمہ قرآن پاک سے غافل نہیں رہتے تھے۔ دست بکار دل رہنے کے باوجود روزانہ ایک تہائی سے کچھ اوپر قرآن پڑ لیکن اس کا کیا جواب ارشاد فرمائیے گا کہ حضرت صاحب ہزاروں قرآن تو کجا ؟ فرض نماز میں قرأت قرآن بھی اس عاجز کی بدستور ہے۔ کوئی وقت دوران سر سے خالی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس طرح پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون پڑھ سکوں۔ کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات
(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٤ ص ٨٨)
(بقیہ حاشیہ جات گذشتہ صفحہ) ٤؎ ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان ماہ جون ١٩٠٦ء، اخبار بدر ق
٥؎ ”مجھے دو مرض دامنگیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے کے حصے میں کہ پیشاب کثرت سے آتا اور اکثر دست آتے رہنا یہ دونو
٦؎ ”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں۔..... ہمیشہ درد سر ساتھ آتی ہے اور دوسری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے او
)
٧؎ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے لکھتے ہیں موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے پڑنے شروع ہو گئے۔“
٨؎ ”مراق کا مرض حضرت قادیانی کو موروثی نہ تھا بلکہ
٩؎ ”میرا دل و دماغ اور جسم نہایت کمزور تھا اور علاوہ دور نہ ہوا تھا ..... میری حالت مردی کالعدم تھی۔“
١٠؎ مرزا قادیانی نے ١٨٨٤ء میں مجدد ہونے کا دعویٰ کے صیغہ سے کم از کم تین ہزار ختم قرآن مراد لئے جائیں تو گویا مرز ختم قرآن کئے۔..... یعنی سوا دس پارے روزانہ۔
٣٧
مولوی صاحب تو شاید فرماویں کہ بایں ہمہ امراض وعلل حضرت صاحب تلاوت قرآن پاک سے غافل نہیں رہتے تھے۔ دست بکار دل بہ یار کے مصداق مجدد وقت بیمار و علیل رہنے کے باوجود روزانہ ایک تہائی سے کچھ اوپر قرآن پڑھ لیتے تھے۔ آمنا وصدقنا! بجا ارشاد ہوا۔ لیکن اس کا کیا جواب ارشاد فرمائیے گا کہ حضرت صاحب خود فرما رہے ہیں کہ مجھ سے نفلی طور پر ہزاروں قرآن تو کجا؟ فرض نماز میں قرأت قرآن بھی نہیں ہو سکتی۔ فرماتے ہیں: ”حالت صحت اس عاجز کی بدستور ہے۔ کوئی وقت دوران سر سے خالی نہیں گزرتا...... نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس موقع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے اور قرأت میں شاید قل ہو اللہ! بمشکل پڑھ سکوں۔ کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات کی ہوتی ہے۔“
(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٢ ص ٨٨، مکتوبات احمدیہ جدید ج ٢ ص ١٠١، مکتوب نمبر ٦٥)
(بقیہ حاشیہ جات گزشتہ صفحہ) ٣ ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت نے پیش گوئی کی تھی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دوزرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(رسالہ تحفۃ الاذہان قادیان ماہ جون ١٩٠٦ء، اخبار بدر قادیان مورخہ ٧ جون ١٩٠٦ء، ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)
٤ ”مجھے دو مرض دامنگیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سردرد اور دوران سر اور دوسرے جسم کے نیچے کے حصے میں کہ پیشاب کثرت سے آتا اور اکثر دست آتے رہتا یہ دونوں بیماریاں قریب ٢٠ برس سے ہیں۔“
(نسیم دعوت ص ٦٨، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٥)
٥ ”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں...... ہمیشہ درد سر اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو پیشاب آتا ہے۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر ٤، ٣ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠، ٤٧١)
٦ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے لکھتے ہیں کہ: ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا۔ اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٦، روایت نمبر ١٩)
٧ ”مراق کا مرض حضرت قادیانی کو موروثی نہ تھا بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا۔“
(رسالہ ریویو قادیان بابت اگست ١٩٢٦ء ص ١٠)
٨ ”میرا دل و دماغ اور جسم نہایت کمزور تھا اور علاوہ ذیابیطس اور دوران سر اور تشنج قلب کے دق کا اثر بھی بشکل دورہ ہوا تھا...... میری حالت مردی کالعدم تھی۔“
(نزول المسیح ص ٢٠٩ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٥٨٧)
٩ مرزا قادیانی نے ١٨٨٢ء میں مجدد ہونے کا دعویٰ کیا اور ١٩٠٨ء میں آپ کی وفات ہو گئی۔ اگر ہزاروں جمع کے صیغہ سے کم از کم تین ہزار ختم قرآن مراد لئے جائیں تو گویا مرزا قادیانی نے بایں ہمہ عوارض وامراض ٢٢ سال میں ٣٠٠٠ ختم قرآن کئے۔... یعنی سوا دس پارے روزانہ۔
٣٧
تیسرا الزام واتہام
در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید
تیسرا شرمناک الزام بطل حریت نقاش پاکستان حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کی ذات گرامی پر ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ یہ کہا کہ قرآن کے ساتھ عشق مرزا قادیانی ہی نے کیا۔ ”ان هذا الا بھتان عظیم“ اور مولوی صاحب یہ بہتان عظیم باندھتے ہیں اس لئے جری ہیں کہ علامہؒ اس دنیا میں موجود نہیں۔ اس لئے تردید کا بھی خوف وخطر نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حضرت حکیم الامت نے یہ کس سے کہا اور کب کہا؟ اگر صرف مولوی صاحب سے کہا اور عالم خلوت میں کہا تو مولوی صاحب اب تک...... جب کہ دنیا علامہ کو اس رنگ سے پیش کرتی رہی کہ وہ نہ صرف مرزا قادیانی کو کذاب ودجال کافر ومرتد سمجھتے ہیں بلکہ ان کے جملہ متبعین کو بھی خواہ وہ لاہوری ہوں یا قادیانی۔ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج جانتے ہیں۔...... کیوں علامہؒ کی اتنی زبردست شہادت مرزا قادیانی کی صداقت میں چھپائے بیٹھے رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ علامہ نقاش پاکستان سے پاکستانیوں کی عقیدت طوفان بڑھتا اور چڑھتا دیکھ کر اس طرف سے اپنے چندہ دینے والوں کو مطمئن کرنے کے لئے مولوی صاحب نے یہ سفید جھوٹ بولا ہے اور علامہؒ کی ذات پر ان کی وفات کے بعد یہ شرمناک بہتان والزام تراشا ہے۔ ورنہ علامہ کے عقائد وخیالات مرزا قادیانی اور مرزائیت...... قادیانی ولاہوری پارٹی دونوں کے متعلق کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس نمبر میں ہم حضرت ممدوح کے دو مضامین شائع کر رہے ہیں جن سے ان کے افکار عیاں ہیں۔
اللہ اللہ ! جب انسان خوف خدا سے بے پروا اور دنیا کی لعن طعن سے بے لحاظ ہو جاتا ہے تو پھر اس کے منہ میں جو کچھ آتا ہے بکتا چلا جاتا ہے اور اتنا بھی نہیں سوچتا کہ آخر دنیا کیا کہے گی؟ کہاں تو علامہ اقبالؒ کا یہ فیصلہ کہ:
- .......١ ”قادیانیت اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہے کہ گویا یہ تحریک ہی یہودیت
کی طرف رجوع ہے۔...... حتی کہ مسیح موعود کی اصطلاح بھی اسلامی نہیں بلکہ اجنبی ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٢٣)
- .......٢ ”اب احمدیت کی روح پر غور کرنا ہے۔ اس کے ماخذ اور اس امر کی بحث کہ قبل اسلام
٣٨
مجوسی تصورات نے اسلامی تصوف کے ذریعہ بانی احمدیت کے دلچسپ ہوگی۔“ گویا مرزا قادیانی اسلام وقرآن سے یکسر نابلد اور بگوش ہیں۔
اور کہاں مولوی صاحب کا یہ ارشاد کہ: ”علامہ م عاشق قرآن مانتے تھے۔“
فرمایئے! ان دونوں میں باہم کوئی ربط ومماثلت خطبہ میں آگے چل کر فرماتے ہیں کہ: ”اقبال کے اشعار کے مرزا صاحب ہی کے تاثرات ہیں۔“
العیاذ باللہ! ”اقبال کے کلام میں مرزا صاحب کے بہتان والزام اور کذب وافتراء ہو سکتا ہے اور ہم اس کے جوا اور کیا عرض کر سکتے ہیں۔
کہاں تو بہاء اللہ ایرانی اور مرزا قادیانی سے م (ص ٢٣٥) میں شائع ہو کر شرق وغرب، عرب وعجم کے کروڑ اور لاکھوں آدمیوں کے سینے میں محفوظ اور زبان پر شب وروز
آں ز حج بیگانہ وایں
سینہ ہا از گرمی قر
از چنیں مرداں چہ
اور کہاں جناب مولوی صاحب کی یہ ”صدری مرزا قادیانی ہی عاشق قرآن تھے۔
اسی خطبہ میں علامہؒ سے متعلق متعدد اور غلط بیان ہمارے موضوع سے خارج ہے۔ ہم تو صرف یہ دکھلا رہے طرح سفید جھوٹ بول کر مرزا قادیانی کے عشق الہی اور عشق کو سنارہے ہیں۔
٣٩
مجوسی تصورات نے اسلامی تصوف کے ذریعہ بانی احمدیت کے ذہن کو کس طرح متاثر کیا۔ بے حد دلچسپ ہوگی۔"
(حرف اقبال ص١٥٢)
گویا مرزا قادیانی اسلام وقرآن سے یکسر نابلد اور سراسر یہودیت اور مجوسیت کے حلقہ بگوش ہیں۔
اور کہاں مولوی صاحب کا یہ ارشاد کہ: ”علامہ مرحوم اس دنیا میں مرزا قادیانی ہی کو عاشق قرآن مانتے تھے۔“
فرمائیے ! ان دونوں میں باہم کوئی ربط ومماثلت ہے؟ اور پھر اس پر بس نہیں ۔ اس خطبہ میں آگے چل کر فرماتے ہیں کہ: ”اقبال کے اشعار کے اندر جو قرآن کی روح ہے وہ حضرت مرزا صاحب ہی کے تاثرات ہیں۔“
العیاذ باللہ! ”اقبال کے کلام میں مرزا صاحب کے تاثرات“ کیا اس سے بڑھ کر کوئی بہتان والزام اور کذب وافتراء ہوسکتا ہے اور ہم اس کے جواب میں لعنۃ اللہ علی الکاذبین کے سوا اور کیا عرض کر سکتے ہیں۔
کہاں تو بہاء اللہ ایرانی اور مرزا قادیانی سے متعلق علامہ کا یہ ارشاد جو جاوید نامہ (ص ٢٣٥) میں شائع ہو کر شرق وغرب، عرب وعجم کے کروڑوں آدمیوں کی نگہ سے گذر چکا ہے اور لاکھوں آدمیوں کے سینے میں محفوظ اور زبان پر شب و روز مذکور ہے ۔
آں ز حج بیگانہ وایں از جہاد
سینہ ہا از گرمی قرآن تہی
از چنیں مرداں چہ امید بہی
اور کہاں جناب مولوی صاحب کی یہ ”صدری اور شکمی“ روایت کہ دنیا میں صرف مرزا قادیانی ہی عاشق قرآن تھے۔
(رواہ مسلم یعنی مولوی محمد علی)
اسی خطبہ میں علامہ سے متعلق متعدد اور غلط بیانیاں ہیں جن سے بحث کرنا اس وقت ہمارے موضوع سے خارج ہے۔ ہم تو صرف یہ دکھلا رہے ہیں کہ لاہوری جماعت کے امیر کس طرح سفید جھوٹ بول کر مرزا قادیانی کے عشق الٰہی اور عشق رسول اور عشق قرآن کے افسانے دنیا کو سنا رہے ہیں۔
٣٩
فریب خوردگی یا فریب کاری؟
لب پہ دعویٰ ہے پارسائی کا
مولوی صاحب کی ان صریح غلط بیانیوں، دروغ بافیوں اور صاف کذب وزور سے قطع نظر، اب ہم جناب مولوی صاحب سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ کیا قرآن کے ورد اور قرآن سے عشق کے لئے یہی کافی ہے کہ روزانہ اس کی تلاوت کر لی جائے اور اس کی عظمت کے لئے یہی بس ہے کہ اسے آتھم کے ساتھ مباحثہ میں پیش کر دیا جائے۔ کیا مولوی صاحب بایں ہمہ قرآن دانی، قرآن کے موضوع اور مقصد سے ہی اتنے بے خبر اور اس بارے میں خود فریب نفس میں مبتلا ہیں یا سب کچھ جان بوجھ کر دنیا کو فریب دے رہے ہیں؟ بہرحال ” وما قدروا الله حق قدرہ“ کیا ایک نبی یا مجدد کے واسطے قرآن کریم اس واسطے آیا ہے کہ صرف اسے پڑھ لیا جائے یا اس کو ہاتھ میں لے کر مخالفین کو چیلنج کیا جائے۔ باقی رہی ساری عملی زندگی سو اس میں پوری شدومد کے ساتھ قرآن کے حکم کا کھلا خلاف کیا جائے۔ اخلاق، سیاست، تمدن، معاشرت الغرض زندگی کے کسی شعبہ میں قرآن کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیا جائے۔ اسلام کے اس نظام حیات کو جس کو قرآن اس دنیا میں لایا ہے۔
گلدستہ طاق نسیاں بنادیا جائے اور اس کے سولہ آنے الٹ اور بخط مستقیم خلاف انگریزی نظام کے گورے بھورے بت کو ساری عمر چوما چاٹا جائے۔ انگریزی حکومت کی اطاعت کو عین اسلام قرار دے کر گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کو اسلام اور خدا اور رسول کی سرکشی گردانیں اور خود اسلام اور خدا اور رسول ﷺ کی اطاعت سے مرتے دم تک سرکشی کریں۔ فرنگی آئین کی بدل و جان اطاعت کو تو شرائط بیعت میں جگہ دی جائے اور اسلامی آئین کو پس پشت ڈال دیا جائے۔
١؎ ”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کے جس نے امن قائم کیا ہے۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔ اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“
(اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٣، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
٢؎ ”اطاعت گورنمنٹ ...... میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ پرچہ شرائط ...... کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔“
(ضمیمہ کتاب البریہ ص ٩، خزائن ج ١٣ ص ١٠)
٤٠
انگریزی نظام کو رحمت اور برکت قرار دے کر اس کی پرستش و نظر انداز کر کے اسلامی اصول میں کیڑے نکالے جائیں اور بدتر اور حرام ٹھہرایا جائے۔ رائج الوقت کافرانہ نظام حکومت کی رات دن دعائیں مانگی جائیں اور متروک ومہجور قرآن کے مقا کار لانے کا کبھی بھولے سے بھی دل میں خیال نہ پیدا ہو۔
کبھی بھولے سے ہی آجا میرے گ
اور پھر اس پر بس نہیں۔
خاک پروانہ پہ دیکھو ابھی کیا
خلاف قرآن فرنگی نظام کو مقبول اور مستحکم کر کی جائے اور مسلم لیگ کو اس جرم کی پاداش میں کوسنے اور گا انگریز سے لڑ کر اس کا تختہ استبداد و استعمار الٹ ڈالے گی اور ہا
١؎ ”انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رح ہے۔ تمہارے مخالف جو مسلمان ہیں ہزار ہا درجہ ان سے ا انصاف کے ساتھ ہم سے پیش آتے ہیں۔ یاد رکھو کہ اسلا اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں۔
(تبلیغ رسالت ج
٢؎ ”یہ نقشہ اس غرض سے تجویز کیا گیا کہ اس م رہیں جو ایسی باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں ...... ہم نے اپن نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہ جو اپنے عقیدہ سے اپنی مفسدانہ حالتیں ثابت کرتے ہیں، کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹکل راز کی طرح اس و تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے اور ہم امید رکھتے ہیں نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ ر ونشان یہ ہیں۔“
(تبلیغ رسالت ج ٦
٤١
انگریزی نظام کو رحمت اور برکت قرار دے کر اس کی پرستش کی جائے۔ لیکن اسلامی نظام کو پامال و نظر انداز کر کے اسلامی اصول میں کیڑے نکالے جائیں اور اصل اصول اسلام ..... جہاد ...... کو بدتر اور حرام ٹھہرایا جائے۔ رائج الوقت کافرانہ نظام حکومت کی بقاء و قرار اور توسیع و ترقی کے لئے تو رات دن دعائیں مانگی جائیں اور متروک و مہجور قرآن کے مفلوج و مجروح نظام حیات کو پھر بروئے کار لانے کا کبھی بھولے سے بھی دل میں خیال نہ پیدا ہو۔
کبھی بھولے سے ہی آ جا میرے کاشانے میں
اور پھر اس پر بس نہیں ۔
خاک پروانہ پہ دیکھو ابھی کیا کیا گزرے
خلاف قرآن فرنگی نظام کو متزلزل اور کمزور کرنے والے مخلص قومی کارکنوں کی جاسوسی کی جائے اور مسلم لیگ کو اس جرم کی پاداش میں کشتنی و گردن زدنی قرار دیا جائے کہ یہ ایک دن انگریز سے لڑ کر اس کا پنجہ استبداد و استعمار مروڑ ڈالے گی اور ملک کو آزاد کر کے اس میں قرآنی نظام لائے ”انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے۔ تمہارے مخالف جو مسلمان ہیں ہزار ہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں۔ ظاہر ہے کہ انگریز کس انصاف کے ساتھ ہم سے پیش آتے ہیں۔ یاد رکھو کہ اسلام میں جہاد کا مسئلہ ہے۔ میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٤)
نیز ”یہ نقشہ اس غرض سے تجویز کیا گیا کہ اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں جو ایسی باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں ..... ہم نے اپنے محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں جو اپنے عقیدہ سے اپنی مفسدانہ حالتیں ثابت کرتے ہیں ..... لیکن ہم گورنمنٹ میں با ادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی ..... ایسے لوگوں کے نام مع پتہ و نشان یہ ہیں ۔“
(تبلیغ رسالت ج پنجم ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧ ، ٢٢٨)
٤١
کو بروئے کار لانے کے امکانات پیدا کر دے گی۔ کیا اسی کا نام عشق قرآن ہے؟ یہی عشق الہی ہے۔ یہی ولایت ہے اور یہی مجددیت۔
اگر اسلامی شریعت کے احیاء و نفاذ اور قرآنی نظام کے اجراء واستقرار کی ہر ممکن مخالفت اور فرنگی حکومت کی بقاء وحفاظت غیر اسلامی نظام کے استحکام و دوام اور مخالف قرآن آئین کے قرار قیام کی ہر ممکن دوڑ دھوپ کا نام ہے۔ عشق خدا اور رسول اور عشق قرآن اور اسی کا نام ہے۔ قرآن کا درد اور قرآن کی عظمت کا احساس اور قرآن کے محاسن کا علم تو واقعی اس کی دوسری نظیر اس امت میں نظر نہیں آتی اور پھر تو حکیم الامتؒ نے بجا فرمایا ہے کہ قرآن کے ساتھ یہ عشق مرزا قادیانی ہی
؎ مسلم لیگ کی انتہائی مذمت...... میاں محمود احمد صاحب فرماتے ہیں: ”ایک دفعہ صوبہ کے ایک بڑے افسر سے حضرت (مرزا غلام احمد قادیانی) ملنے کے لئے تشریف لے گئے...... ان افسر صاحب نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ آپ کا مسلم لیگ کے متعلق کیا خیال ہے؟...... فرمایا کہ میں پسند نہیں کرتا کہ لوگ سیاسیات میں دخل دیں۔ صاحب بہادر نے کہا مرزا صاحب مسلم لیگ کوئی بری چیز نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا ایک دن یہ بھی بڑھتے بڑھتے بڑھ جائے گی۔ صاحب بہادر نے کہا مرزا صاحب آپ نے کانگریس کا خیال کیا ہوگا۔ لیگ کا حال کانگریس کی طرح نہیں۔ کانگریس کی بنیاد چونکہ خراب رکھی گئی تھی اس لئے وہ مضر ثابت ہوئی۔ لیکن مسلم لیگ کے تو ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ اس میں باغیانہ عنصر پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ آج آپ کا خیال یہ تھوڑے دنوں تک لیگ بھی وہی کام کرے گی جو آج کانگریس کر رہی ہے۔“
(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ماہ جنوری ١٩٢٠ء)
دوسری شہادت بھی ملاحظہ ہو۔ الفضل قادیان میں ہے: ”ہمیں یاد ہے کہ مسلمانوں کے حقیقی مصلح اور دنیا کے سچے ہادی حضرت مسیح موعود مہدی آخر الزمان علیہ السلام کے حضور جب اس مسلم لیگ کا ذکر آیا تو مرزا قادیانی نے اس کے نسبت ناپسندیدگی ظاہر فرمائی۔ پس کیا کوئی ایسا کام جسے خدا کا برگزیدہ مامور ناپسند فرمائے۔ مسلمانوں کے حق میں سازگار و بابرکت ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ اب بھی اگر مسلمانوں کو اپنے حقیقی نفع وضرر کی کچھ فکر ہے تو ایسے فضول مشاغل سے بلند رہیں جن کے نتائج نہ تو ان کو دنیا کا فائدہ دے سکتے ہیں نہ دین کا۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کئی سال سے یہ بحث کانگریس لیگ میں ہوتی ہے۔ اس سے مسلمانوں نے کیا حاصل کیا۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٨ جنوری ١٩١٦ء)
٤٢
نے کیا۔ لیکن اگر قرآن کے نزول اجلال کا بھی کوئی منشاء و مقصد کے پیش نظر ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ اپنی زندگی کی آئین حیات میری آیات بینات میں تلاش کرو تو پھر مرزا اور کوئی عشق قرآن اور اس نوعیت کی محبت خدا اور رسول متصور و ممکن نہیں۔
ترجمان حقیقت کا یہ ارشاد حقیقت کی کتنی صحیح تر
تو ہمی دانی کہ آئین تو چیست
آں کتاب زندہ قرآن حکیم
نسخہ اسرار تکوین حیات
نوع انساں را پیام آخریں
اے گرفتار رسوم ایمان تو
قطع کر دی امر خودرا در زبر
گر تو می خواہی مسلمان زیستن
آہ! علم و خبر کی پستی اور فکر ونظر کی گراوٹ کہ غرض عملی زندگی کے شیطانی نظام حیات پر مر مٹنے والے شریعت اسلامی کو بروئے کار لانے کے جملہ وسائل وذر والے سب سے بڑے عاشق خدا عاشق رسول اور عاش جاتے ہیں۔ بانسوں اچھالے جاتے ہیں۔ آہ! قرآن ظلم کرنے والے کے حق میں کہا جاتا ہے کہ: ”اس قدر نظیر اس امت میں نظر نہیں آتی۔“ یعنی قرآن سے یہ کو۔ اہل بیت رسول کو تھا۔ نہ آل رسول کو۔ تابعین کو وقت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی کو۔
تنگ برما ریگزار دین شد است
٤٣
نے کیا۔ لیکن اگر قرآن کے نزول اجلال کا بھی کوئی منشا و مقصد ہے اور یہ کلام الہی اپنے منشاء و مقصد کے پیش نظر ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ اپنی زندگی کی باگیں میرے ہاتھ میں دے دو اور پورا آئین حیات میری آیات بینات میں تلاش کرو تو پھر مرزا قادیانی کے اس عشق قرآن سے بڑھ کر اور کوئی فسق قرآن اور اس نوعیت کی محبت خدا اور رسول سے زیادہ اور کوئی معصیت خدا و رسول متصور و ممکن نہیں۔
ترجمان حقیقت کا یہ ارشاد حقیقت کی کتنی صحیح ترجمانی ہے۔
تو ہمی دانی کہ آئین تو چیست زیر گردوں سر تمکین تو چیست
آں کتاب زندہ قرآن حکیم حکمت او لایزال است و قدیم
نسخہ اسرار تکوین حیات بے ثبات از قوتش گیرد ثبات
نوع انساں را پیام آخریں حامل او رحمۃ للعالمین
اے گرفتار رسوم ایمان تو شیوہ ہائے کافری زندان تو
قطع کر دی امر خود را در زبر جادہ پیمائی الی شئی نکر
گر تو می خواہی مسلمان زیستن نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن
آہ! علم و خبر کی پستی اور فکر و نظر کی گراوٹ کہ آج اخلاق و دیانت، سیاسیات و معاملات غرض عملی زندگی کے شیطانی نظام حیات پر مر مٹنے والے اور قرآن کے نظام رحمانی اور رسول خدا کی شریعت اسلامی کو بروئے کار لانے کے جملہ وسائل و ذرائع کی منظم طور پر شرمناک مزاحمت کرنے والے سب سے بڑے عاشق خدا عاشق رسول اور عاشق قرآن کے لباس میں منظر عام پر لائے جاتے ہیں۔ بانسوں اچھالے جاتے ہیں۔ آہ! قرآن کی مظلومی کہ آج قرآن پر سب سے زیادہ ظلم کرنے والے کے حق میں کہا جاتا ہے کہ: ”اس قدر قرآن کے ساتھ عشق کیا کہ اس کی دوسری نظیر اس امت میں نظر نہیں آتی۔“ یعنی قرآن سے یہ عشق خلفائے راشدین کو نہ تھا۔ نہ اصحاب رسول کو۔ نہ اہل بیت رسول کو تھا۔ نہ آل رسول کو۔ نہ تابعین کو تھا نہ ائمہ مجتہدین کو اور اگر تھا تو صرف مجدد وقت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی کو۔
تنگ برما رہگزار دین شد است ہر لئیمے رازدار دیں شد است
٤٣
بایک آئیں ساز اگر فرزانہ
از یک آئینی مسلماں زندہ است
پیکر ملت زقرآں زندہ است
الغرض قرآن ایک ضابطہ حیات ہے اور آئین ملت اور اسے اپنی ساری زندگی کے جملہ گوشوں کونوں پر حکمرانی و حکمرانی کا حق دینے کا نام ہے۔ اسلام! صرف قرآن کو پڑھ لینے، اسے مناظروں میں پیش کر دینے اور پھر اخلاق وسیاست معیشت و معاشرت، معاملات بلکہ عبادات تک میں اس کی رہنمائی پر اعتماد نہ کرنے کا نام اسلام نہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے عشق ومحبت کا دعویٰ کر کے عملی زندگی کی کسی شاہراہ پر محمد رسول اللہ کی قیادت قبول نہ کرنا اور زندگی کی باگیں انگریزی کے گورے ہاتھوں میں دے دینے کا نام اسلام نہیں۔ یہ اسلام سے بغاوت ہے۔ اس کا نام کفر ہے۔ اسی کا نام منافقت ہے اور یہی سب سے بڑی آفت ہے۔ انگریز قرآن کا کھلا دشمن ہے اور دین کا کھلا معاند ومخالف۔
اس نے اپنے دور اقتدار واستبداد میں دین کو پنپنے ہی نہیں دیا، کچل دیا۔ دین کی رگ حیات کاٹ کر رکھ دی۔ پرسنل لاء کے نام سے نکاح و طلاق اور بے روح سجدہ و نماز کی آزادی دے کر اسلام کے پورے نظام اور قرآن کے پورے آئین کو انگریز نے معطل اور پورے قرآن کو منسوخ کر کے رکھ دیا۔
مجدد وقت کی دانش وبصیرت ملاحظہ ہو کہ انہوں نے اس ملعون اور مردود صورت حالات کو خدا کی رحمت و برکت سمجھا۔
نادان سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
انہیں انگریز کے دربار سے مسیحیت ومجددیت کی کرسی مل گئی۔ انہوں نے اسے غنیمت سمجھا اور اس میں کوئی قباحت نہ دیکھی کہ؎
مجدد فقط اس کا سائیں ہے
بہر حال یہ الم انگیز اور دردناک حقیقت ہے کہ مرزا قادیانی نے بایں ہمہ بلند بانگ دعاوی اسلام کو آزاد اور متروک ومہجور قرآن کے مجروح و مفلوج نظام حیات کو پھر سے بحال کرنے کی ادنیٰ سی کوشش بھی نہ کی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ذہن وفکر کی اس حد تک کبھی رسائی بھی نہ
٤٤
ہوئی تھی وہ ساری عمر میں اپنی سیٹ کے لئے لڑتے جھگڑتے و التفات....... مبذول کرنے کی کبھی فرصت ہی نہیں ملی۔
وہ قرآنی نظام کو درہم برہم کرنے والے انگریز کی خو زیروزبر کرنے والے فرنگی اقتدار واستعمار کے استحکام و استقرار اور ساعی رہے۔ مگر جب ان کے علیٰ الرغم اس کا خاتمہ بالخیر ہو گیا خلفاء انہیں سب سے افضل رسول اور کم از کم امت میں سب اعلیٰ مجدد اسلام بتانے لگے۔
آخری ڈھٹائی
دیکھ کیا کیا نگہ یار کے احساں
یہ بہت بڑی ڈھٹائی اور ستم آرائی سہی۔ لیکن انتہائی جب قائد اعظم اور اسی مسلم لیگ نے جس پر مرزا قادیانی کانز ہمارے محسن اور مہربان اولی الامر اور ظل اللہ سے اقتدار چھیننے ک اور بفضلہ تعالیٰ پاکستان بن گیا تو یہ اسلام کے دشمن اور مسلم ق و قیام پاکستان کے اشد مخالف ،شرم وحیا کی آنکھیں بند کر کے ا....... خود پاکستان ہی کو مرزا قادیانی کی دعاؤں کا نتیج بتلانے لگے۔ اس کی وزارت خارجہ، اس کے فوجی عہدوں، اسامیوں پر چھا گئے۔ پاکستان کی جائیداد کو دونوں ہاتھوں سے مرکزی مقامات پر اچھی سے اچھی کوٹھیاں، فیکٹریاں، دکانیں
١؎ مولوی محمد علی صاحب فرماتے ہیں: ”حدیث لفظ آ گیا تھا۔ جس کو صاف کرنے (کیونکہ یہ ارشاد رسول اپنی ساری عمر گزار دی کہ اس لفظ نبی سے مراد حقیقی نبی (حضر محدث اور مجدد (حضرت مرزا صاحب۔ مدیر) ہے۔“ (پیا مرزا قادیانی کو سیٹ مل گئی۔ مدیر!
٤٥
ہوئی تھی وہ ساری عمر میں اپنی سیٹ کے لئے لڑتے جھگڑتے رہے۔ انہیں اس طرف گوشہ چشم التفات ..... مبذول کرنے کی کبھی فرصت ہی نہیں ملی۔
وہ قرآنی نظام کو درہم برہم کرنے والے انگریز کی خوشامد و چاپلوسی اور اسلامی آئین کو زیروزبر کرنے والے فرنگی اقتدار واستعمار کے استحکام واستقرار کے لئے انتہائی سرگرمی سے کوشاں اور ساعی رہے۔ مگر جب ان کے علیٰ الرغم اس کا خاتمہ بالخیر ہو گیا اور انگریز بستر گول کر گیا تو ان کے خلفاء انہیں سب سے افضل رسول اور کم از کم امت میں سب سے بڑا عاشق قرآن اور سب سے اعلیٰ مجدد اسلام بتانے لگے۔
آخری ڈھٹائی
دیکھ کیا کیا نگہ یار کے احساں ہوں گے
یہ بہت بڑی ڈھٹائی اور ستم آرائی تھی۔ لیکن انتہائی نہیں۔ ستم ظریفی کی انتہاء یہ ہے کہ جب قائد اعظم اور اسی مسلم لیگ نے جس پر مرزا قادیانی کا نزلہ گرا تھا اور اسی لئے گرا تھا کہ کبھی یہ ہمارے محسن اور مہربان اولی الامر اور ظل اللہ سے اقتدار چھینے گی۔ بزور بازو انگریز سے اقتدار چھینا اور بفضلہ تعالیٰ پاکستان بن گیا تو یہ اسلام کے دشمن اور مسلم لیگ کے بدترین معاند اور تقسیم ملک و قیام پاکستان کے اشد مخالف شرم وحیا کی آنکھیں بند کر کے:
- ......١ خود پاکستان ہی کو مرزا قادیانی کی دعاؤں کا نتیجہ اور آپ کی نبوت وامامت کا ثمرہ
بتلانے لگے۔ اس کی وزارت خارجہ، اس کے فوجی عہدوں سول کی اعلیٰ ملازمتوں اور بڑی بڑی اسامیوں پر چھا گئے۔ پاکستان کی جائیداد کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔ لاہور، کراچی، سیالکوٹ وغیرہ مرکزی مقامات پر اچھی سے اچھی کوٹھیاں، فیکٹریاں، دکانیں اور اچھے سے اچھے نفع بخش ادارے
١؎ مولوی محمد علی صاحب فرماتے ہیں: ”حدیث میں مسیح موعود کے متعلق ایک نبی اللہ کا لفظ آگیا تھا۔ جس کو صاف کرنے (کیونکہ یہ ارشاد رسول غیر صاف تھا۔ مدیر) حضرت مسیح نے اپنی ساری عمر گزار دی کہ اس لفظ نبی سے مراد حقیقی نبی (حضرت عیسیٰ ۔ مدیر) نہیں بلکہ اس امت کا محدث اور مجدد (حضرت مرزا صاحب ۔ مدیر) ہے۔“ (پیغام صلح ص ٢، مورخہ ٧ جون ١٩٣٣ء) لیجئے! مرزا قادیانی کو سیٹ مل گئی۔ مدیر!
٤٥
اور کارخانے انہوں نے ہتھیا لئے اور وہ بدنصیب مسلمان مہاجر جن کے گوشت پوست جن کے لہو اور ہڈیوں سے پاکستان کا گل گارا بنا، منہ دیکھتے رہ گئے اور پھر یہ نہ سمجھے کہ مہاجرین ہی نے پاکستان کی دولت لوٹی ہے۔ نہیں! حضرات انصار بھی اس مال غنیمت کی غارت گری میں مہاجرین سے پیچھے نہیں رہے۔
میاں صاحب خطبہ جمعہ (٢٩ نومبر ١٩٤٨ء) میں ان اسرار نہاں کو یوں بیان و عیاں کرتے ہیں: ”میں مغربی پاکستان والوں کو لیتا ہوں۔ خدا تعالیٰ نے ان پر بڑا فضل کیا ہے۔ انہوں نے اس طرف اپنی جائیداد کا کوئی حصہ نہیں چھوڑا۔ لیکن اس طرف انہوں نے دوسروں کے ساتھ (اخلاقی اور آئینی دونوں اعتبار سے ناجائز اور حرام ذرائع سے۔ مدیر) برابر کا حصہ لیا ہے۔ سینکڑوں ایسے آدمی ملتے ہیں جن کی پہلے کوئی جائیداد نہیں تھی۔ اب وہ کارخانوں کے مالک بن گئے۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ہندوستان سے باہر گئے ہوئے تھے۔ فسادات میں وہ یہاں آ گئے تاکہ لوٹ مار میں ان کو حصہ مل جائے۔ بہت سے شہروں میں ایسا ہوا ہے۔ بہر حال اکثر کی اقتصادی حالت پہلے سے بہت اچھی ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٥ دسمبر ١٩٤٨ء ص ٥، کالم ٤)
قادیانی سیاست، ہندوستان اکھنڈ رہے
یہ تو ہوئی نچلے طبقے کی پاکستان نوازی۔ اب ذرا اوپر کے طبقے کی پاکستانی دوستی ملاحظہ ہو۔ ہم نے ابھی عرض کیا ہے کہ مرزا قادیانی کی امت نے تقسیم ملک اور پاکستان کے قیام کی اشد مخالفت کی ہے۔ ہم نے اس محبت میں مرزائیت کو ننگا کر کے اس کے اصلی رنگ و روپ میں اسے
١؎ میاں محمود احمد صاحب ٢٦ نومبر کو خطبہ جمعہ میں بیان فرماتے ہیں: ”اب اکثر دوست آباد ہو چکے ہیں اور ان کی مالی حالت آگے سے بہت اچھی ہے۔ کیونکہ ہندوؤں کی بچی ہوئی تجارتیں اور کارخانے انہیں مل گئے ہیں اور ان میں سے بعض آگے سے دس دس بیس گنا زیادہ کما رہے ہیں۔ مجھے بعض لوگوں کا حال معلوم ہے۔ مشرقی پنجاب میں اگر وہ سات آٹھ ہزار کا مال لٹا کر آئے تھے تو آج وہ آٹھ دس لاکھ کے مالک بن گئے۔ ایک شخص کے متعلق میں نے سنا ہے وہ قادیان کا ایک تاجر تھا۔ چھابڑی پر چیز رکھ کر بیچا کرتا تھا..... اس نے بائیس ہزار کی موٹر خرید لی ہے۔.... اکثر حصہ غرباء کا ہے جو ہزاروں سے لکھ پتی بن گئے۔“
(الفضل ٥ دسمبر ١٩٤٨ء)
٢؎ کیا کمشنر صاحب نو آبادیات امام جماعت احمدیہ ہی کے اس بیان واظہار کی روشنی میں دولت پاکستان کی اس صریح غارت گری اور لوٹ مار کی تحقیقات کی تکلیف گوارا فرمائیں گے۔
٣؎ کیا اس سلسلہ میں حکومت پنجاب اپنا فرض محسوس کرے گی۔ (مدیر)
٤٦
پیش کرنے کی دیانتدارانہ کوشش کی ہے اور ہم نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے دلائل میں مرزا قادیانی اور اکابر مرزائیت کے اقوال معہ حوالہ پیش کئے ہیں تا کہ کسی کو انکار و روگردانی کی گنجائش اور فرار کی جگہ ہی نہ ملے۔ گو اس طرح افتتاحیہ طویل تو ہو گیا ہے۔ جس کے لئے ہم حضرات قارئین سے معذرت خواہ ہیں....... لیکن ہمارا کیس مضبوط اور نا قابل تردید ہو گیا ہے۔ اچھا لیجئے! ذرا ہمارے اس دعویٰ کی جو بظاہر ایک الزام و اتہام نظر آتا ہے ...... تصدیق میں حضرت خلیفۃ المسیح مصلح موعود میاں صاحب مرزا بشیر الدین محمود احمد کے الہامی ارشادات سن لیجئے ۔
فسادات مارچ ١٩٤٧ء کے بعد ٣؍اپریل کو مجلس عرفان میں میاں محمود احمد صاحب نے ارشاد فرمایا: ’’جہاں تک میں نے ان پیش گوئیوں پر نظر دوڑائی ہے جو مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہیں اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فعل پر جو مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے وابستہ ہے غور کیا ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندوستان میں ہمیں دوسری اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مشارکت رکھنی چاہئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ پیش گوئیاں جو ہندوؤں کے متعلق ہیں اسی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مثلاً جے سنگھ بہادر ، مرزا غلام احمد کی جے اور اے رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی ہے ....... اس لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں تا کہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔ بے شک یہ مشکل کام ہے۔ مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں ....... بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں ۔‘‘
(الفضل قادیان مورخہ ٥؍اپریل ١٩٤٧ء)
پاکستان کی پیٹھ میں چھرا، اگر پاکستان بن گیا تو ہم اسے جلد مٹادیں گے
پھر اسی پر بس نہیں اور مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے الہامات اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے پیش نظر اسی پر بس ہونی بھی نہیں چاہئے۔ بلکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے منشاء اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے خلاف بوڑھے قائد اعظم کی ہمت وقوت اور ان کی غلط اور فضول قیادت میں
١؎ ’’ہندو مانیں نہ مانیں مسلمان مانیں نہ مانیں، انگریز مانیں نہ مانیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس نے احمدیت (فتنہ مرزائیت) کو قائم کیا ہے وہ جانتا ہے کہ اب سوائے احمدیت اور سوائے احمدیت کے رہنما کے پیچھے چلنے کے کوئی علاج ان مشکلات کا نہیں....... بے شک آج دنیا ہمارے مشورے کو قبول نہ کرے ۔ لیکن ہمارے لئے وقت مقدر ہے جب وقت آئے گا تو دنیا کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہماری رہنمائی ہی صحیح رہنمائی تھی ۔‘‘
(خطبہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ٢٦؍دسمبر ١٩٤٧ء ، ص٤)
مسلم لیگ کی سرگرم جدوجہد اور ملت اسلامیہ کی جانفشانی و قربانی سے جو پاکستان بن گیا ہے اس کا صفحہ ہستی پر قائم رہنا مرزائیت کے مذہب حقہ کے بطلان کی دلیل ہے۔ لہٰذا اس کو (خاک بدہنش) صفحہ ہستی سے مٹا دینے اور پھر سے ہندوستان میں مدغم کر کے اکھنڈ ہندوستان بنانے کے منصوبے باندھے جاتے ہیں اور اسی مجلس عرفان کے اس بیان میں کہا جاتا ہے: ”ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہو اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہو گی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے...... بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے۔“
(ارشادات مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل مورخہ ٥؍ اپریل ١٩٤٧ء ص ٣، کالم ١، ٢)
سوال یہ ہے کہ مرزا محمود کے ان ناپاک عزائم، ان ملعون منصوبوں اور ان کی جماعت کی ان خلاف پاکستان سرگرمیوں کے پیش نظر ملت پاکستانیہ اور حکومت پاکستان کا بھی کوئی فرض ہے یا نہیں؟ کیا ان دشمن پاکستان عناصر کی حوصلہ افزائی کی جائے گی؟ اور ان کی ملعون سازشوں ریشہ دوانیوں اور فتنہ انگیزیوں کو پھلنے پھولنے اور بارآور ہونے کی اجازت دی جائے گی؟ تا آنکہ یہ فتنہ قیامت بنکر سامنے آجائے۔
قرارداد مقاصد احمدی نقطۂ نگاہ کی تفسیر ہے،
وزیر اعظم اور علامہ عثمانی مجدد وقت کے مقلد ہیں
اور صرف اسی پر بس نہیں کہ مرزا قادیانی کی ساری تاریخ اور انتہائی گھناؤنی تصویر بھلا کر انہیں پاکستان کا جنم داتا قرار دیا۔ بلکہ شرم و غیرت کی آنکھیں بند کر کے قرارداد مقاصد کے پاس ہونے پر یہاں تک کہہ دیا کہ یہ بھی مرزا قادیانی کے خواب کی تعبیر ہے اور آپ کے نقطۂ نگاہ کی تفسیر۔
- ١...... لاہوری قادیانیوں کے آرگن ”پیغام صلح“ کا افتتاحیہ (٤؍ مئی) ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں:
”کسی گزشتہ اشاعت میں ہم نے وزیر اعظم پاکستان کی قرارداد مقاصد اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے تائیدی بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اس حقیقت کا اظہار کیا تھا کہ ان دونوں میں انہی خیالات کو احسن پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلۂ احمدیہ کی طرف سے پیش کئے جاتے رہے ہیں۔ مثلاً قرآن اور سنت کو سب چیزوں پر مقدم کر کے انہیں پر دستور حکومت کی بنیاد رکھنا اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے سوائے اور کسی کا اصول نہیں تھا۔ آج اسی اصول کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد میں دستور حکومت کی اساس ٹھہرا کر ثابت کر دیا ہے کہ حضرت مجدد وقت کا فرمان بالکل صحیح اور ہر طرح لائق تقلید ہے۔“
٤٨
اس حق گوئی اور صداقت پر ہم مدیر محترم پیغام کرنے کے بعد اگر کچھ کہہ سکتے ہیں تو صرف یہ دعا ! کہ حق تعا کی پوری اتباع اور حضرت مجدد وقت کی کامل تقلید کی توفیق عـ مدعی نبوت و ارشاد اور مزعم وحی و الہام کو نبی اور مجدد ماننے و داخل جہنم اور داخل سقر ہونے کی بشارت سنادے۔ آمین!
- ٢...... حضرت امیر جماعت مولوی محمد علی صاحب کا
جمعہ میں فرماتے ہیں:
قرارداد مقاصد اور ہمارے وزیر اعظم
یہ جو پاکستان کی اسمبلی میں آئین بنانے کے کی ہے میں نے پچھلے ہفتے اس کے متعلق بتایا تھا کہ وہ احمد
اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور حضرت مجدد
یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ یہ اسلام کی نشاۃ کہاں سے آیا؟ کیا مرزا قادیانی سے پہلے بھی کوئی اسلام کـ سے پچاس سال پہلے جب ان چیزوں کو ناممکنات میں سـ اس کی مجددیت میں کلام ہو سکتا ہے؟ نہ حضرت مولانا ! کس کی مجال ہے کہ اس کی مـ کافر گردو۔
لیکن آخر یہ کیا معمہ ہے کہ فرنگی کے کافرانہ نـ ج ١٠ ص ١٢٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٣)، سایہ عاطفت گورنمنٹ محسنہ، مبارک دولت برطانیہ، گورنمنٹ انگر برطانیہ کے سچے خیر خواہ اور مطیع، بحضور نواب لیفٹیننٹ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٢)، تاج عزت عالی جنا (کشف الغطاء ص ١، خزائن ج ١٤ ص ١٧٧)، اپنے اور اپنے پچاس الماریاں، پچاس ہزار کتابیں، رسائل اور اشتہارا سرکار انگریزی کی راہ میں (باوجود حرمت جہاد وقتال والے (تبلیغ رسالت جلد ہفتم، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧١)
٤٩
اس حق گوئی اور صداقت پر ہم مدیر محترم پیغام صلح کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرنے کے بعد اگر کچھ کہہ سکتے ہیں تو صرف یہ دعا ! کہ حق تعالیٰ حکومت پاکستان کو اسلامی شریعت کی پوری اتباع اور حضرت مجدد وقت کی کامل تقلید کی توفیق مرحمت فرمائے تاکہ یہ ہرگز اب دجال مدعی نبوت وارشاد اور مزعم وحی والہام کو نبی اور مجدد ماننے والے باغی دین اور مرتد عن الاسلام کو داخل جہنم اور واصل سقر ہونے کی بشارت سنادے۔ آمین!
- ٢...... حضرت امیر جماعت مولوی محمد علی صاحب کا ارشاد بھی سن لیجئے۔ ١١؍مارچ کے خطبہ
جمعہ میں فرماتے ہیں:
قرارداد مقاصد اور ہمارے وزیراعظم
یہ جو پاکستان کی اسمبلی میں آئین بنانے کے لئے قرارداد مقاصد وزیراعظم نے پیش کی ہے میں نے پچھلے ہفتے اس کے متعلق بتایا تھا کہ وہ احمدیہ نقطہ نگاہ کی صحیح تفسیر ہے۔
اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور حضرت مجدد
یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہے۔ اب ذرا فرمائیے۔ یہ خیال کہاں سے آیا؟ کیا مرزا قادیانی سے پہلے بھی کوئی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا نام لیتا تھا؟ کیا جو شخص آج سے پچاس سال پہلے جب ان چیزوں کو ناممکنات میں سے سمجھا جاتا تھا ان خیالات کو لے کر اٹھا، اس کی مجددیت میں کلام ہو سکتا ہے؟
نہ حضرت مولانا! کس کی مجال ہے کہ اس کی مجددیت میں شک کرے۔ ہر کہ شک آرد کافر گردد۔
لیکن آخر یہ کیا معمہ ہے کہ فرنگی کے کافرانہ نظام کے حق میں خداداد نعمت (تبلیغ رسالت ج١٠ ص ١٢٣، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٨٣)، سایہ عاطفت، سایہ رحمت، اولی الامر منکم محسن حکومت گورنمنٹ محسنہ، مبارک دولت برطانیہ، گورنمنٹ انگریزی کی بدل وجان اطاعت، گورنمنٹ برطانیہ کے سچے خیر خواہ اور مطیع، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر، دام اقبالہ (تبلیغ رسالت حصہ ہشتم ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ١٢)، تاج عزت عالی جناب مکرمہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا (کشف الغطاء ص ١، خزائن ج١٤ ص١٧٩)، اپنے اور اپنے دینی کارناموں کے متعلق خود کاشتہ پودا، پچاس الماریاں، پچاس ہزار کتابیں، رسائل اور اشتہارات (ستارۂ قیصریہ ص٣، خزائن ج١٥ ص ١١٤)، سرکار انگریزی کی راہ میں (باوجود حرمت جہاد و قتال۔ مدیر) اپنے خون بہانے اور جان دینے والے (تبلیغ رسالت جلد ہشتم، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٣٧١) حرز سلطنت اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم
٤٩
عاجزانہ ادب کے ساتھ کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں۔ (تحفہ قیصریہ ص ٢٥، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٧) اور جہاد کے متعلق ان کے غلیظ خیالات ، احمقوں کے دلوں کو خراب کرنے والے دین کے لئے حرام ہے۔ اب جنگ اور قتال، اسلام کو بدنام کرنے والا بدتر مسئلہ جہاد...... اور اولیائے اللہ علمائے دین اور عامۃ المسلمین کے حق میں ولد الحرام، حرامزادے، کنجریوں کی اولاد، کنجر، ولد الزنا، نطفہ سفہاء، شتر مرغ، بھیڑیے، کتے، سور، بچھو، شیطان، مردود، ملعون، کمینے، بدبخت، بدذات، بے حیا، مردار خور، یہودی عیسائی، فرعون وغیرہ الہامی اقوال وارشادات اور نبوی القابات واعزازات تو ہزاروں بار سن سن کر دنیا کے کان پک گئے۔
سن سن کے قادیانیوں کی بد زبانیاں
لیکن ایک نظام حیات کی حیثیت سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا کسی نے کبھی کوئی لفظ نہ سنا۔ ان نا قابل انکار حقائق وواقعات اور زندہ و پائندہ نظائر و مشاہدات کے بعد بھی اگر میاں صاحب محمود احمد، مرزا قادیانی کو اولوالعزم نبی اور سب سے بڑا رسول بتلائیں اور مولوی صاحب محمد علی حضرت صاحب کو مجدد وقت امام الزمان، ساری امت میں بے نظیر عاشق قرآن ورسول اور پاکستان کا جنم داتا اور قرآنی نظام حیات کا سب سے پہلا داعی اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا سب سے پہلا نقاش ومصور اور محرک ومبلغ قرار دے کر آپ کو قرار داد مقاصد کا سرچشمہ اور وزیر اعظم پاکستان محترم لیاقت علی خان اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کو حضرت صاحب کا مرید اور مقلد ٹھہرائیں تو اس ستم ظریفی پر ہم تو وہی کچھ عرض کریں گے جو اس کلام کے سر آغاز پر عرض کر چکے ہیں۔ یعنی؎
ایں چہ بوالعجبی است
اس سلسلہ میں ایک دلچسپ حقیقت کا انکشاف تعجب وحیرت کا باعث ہوگا۔ ہمارے یہ مہربان جو محترم وزیر اعظم اور حضرت شیخ الاسلام کو حضرت مسیح موعود کی چوکھٹ پر جھکاتے نظر آتے ہیں۔ ان کا اپنا یہ حال ہے کہ حضرت صاحب کی تعلیمات کے تصور سے شرماتے ۔ ان کے اہم ارشادات کو نوک زبان پر لانے سے کتراتے اور سر قرطاس لکھنے سے گھبراتے ہیں۔ اسی انگریز کی خدمت واطاعت کو لیجئے جو بالفاظ مرزا قادیانی، مرزا قادیانی کا سرمایہ حیات اور باعث صد ہزار فخر ومباہات کارنامہ ہے۔ جو ان کی زندگی کا نصب العین ہے۔ یہ لوگ اس کا ذکر تک زبان وقلم پر نہیں لاتے اور انگریز کا نام سن کر عروس نو کی طرح شرمندہ اور شرمگندہ ہو جاتے ہیں۔ اسی پیغام صلح ہی
میں ہے: ”جماعت احمدیہ کا سب سے پہلا باقاعدہ اجتماع جو ١٨٩١ء آئینہ کمالات اسلام میں درج ہے۔ اس کیفیت میں لکھا ہے۔ آئندہ ہوں گے...... کہ اس گورنمنٹ برطانیہ کا سچا شکر گزار اور قدر دان جائیں۔“ (
اب ہر سال قادیانی اور لاہوری جماعتیں یہ سالانہ ج قادیانی جلسہ پر اب حکومت پاکستان نے پابندی لگا دی ہے۔ مرکز ماہ پہلے پروپیگنڈا ہوتا ہے۔ امیر جماعت اور امام سلسلہ خطبے پڑھت مقاصد کے متعلق زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ مگر ان لاتے۔ نہ جلسوں کے پروگرام میں اس مقصد عظیم کے متعلق کسی رکھا جاتا ہے۔ امیر جماعت اور امام سلسلہ سے لے کر معمولی مبلغین بچوں اور عورتوں تک کی بیسیوں تقریریں ہوتی ہیں۔ کسی ایک پروگ معمولی مبلغ کی کوئی ایک تقریر اس مقصد عظیم کے متعلق دکھلا دو۔ جو ایک لفظ کی نشاندہی کر دو۔ جس میں گورنمنٹ برطانیہ کی سچی شکر گ تدبیریں مذکور ہوں۔ نہیں دکھلا سکتے۔
پیغام صلح ہر سال جب اپنے سالانہ جلسہ کا پروپیگنڈہ بیان کرتے ہوئے اس اہم مقصد کو وغیرہ وغیرہ کر کے پی جاتا ہ ”جماعت کے پیش نظر وہی مقاصد رہے ہیں جو کہ حضرت بانی آج اس جماعت کا سالانہ اجتماع بھی اسی روح اور تڑپ کے نصف صدی قبل اس جماعت کا مطمح نگاہ اور نصب العین تھا۔ یعنی مقاصد رہیں گے کہ اشاعت اسلام اور ہمدردی نو مسلمین، امر ب سوچی جائیں اور دنیا میں نیک چلنی، تقویٰ طہارت اور اخلاقی عادات رذیلہ اور رسوم قبیحہ کو قوم میں سے دور کرنے کی کوش وغیرہ!“ (ایڈیٹوریل پ
اب ذرا امیر جماعت کی اخلاقی جرأت ملاحظہ ہو: مولوی محمد علی صاحب اسی جلسہ کا پروپیگنڈا کرت فرماتے ہیں: ”١٨٩١ء میں آپ نے مسیح موعود کے دعویٰ کا اعل
میں ہے: ”جماعت احمدیہ کا سب سے پہلا باقاعدہ اجتماع ١٨٩٢ء میں منعقد ہوا اس کی کیفیت آئینہ کمالات اسلام میں درج ہے۔ اسی کیفیت میں لکھا ہے۔ آئندہ بھی اس جلسہ کے یہی مقاصد ہوں گے...... کہ اس گورنمنٹ برطانیہ کا سچا شکر گزار اور قدردان بننے کی کوشش اور تدبیریں کی جائیں۔“
(پیغام صلح ص ٦، مورخہ ١٥؍ دسمبر ١٩٢٣ء)
اب ہر سال قادیانی اور لاہوری جماعتیں یہ سالانہ جلسہ منعقد کرتی ہیں۔ (جناب مگر قادیانی جلسہ پر اب حکومت پاکستان نے پابندی لگادی ہے۔ مرتب!) الفضل اور پیغام صلح میں کئی ماہ پہلے پروپیگنڈا ہوتا ہے۔ امیر جماعت اور امام سلسلہ خطبے پر خطبہ دیتے ہیں۔ جلسے کے دوسرے مقاصد کے متعلق زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ مگر اس اہم مقصد کو زبان وقلم پر نہیں لاتے۔ نہ جلسوں کے پروگرام میں اس مقصد عظیم کے متعلق کسی تقریر کے لئے دو چار منٹ وقت رکھا جاتا ہے۔ امیر جماعت اور امام سلسلہ سے لے کر معمولی مبلغین تک نوجوانوں، بوڑھوں، بلکہ بچوں اور عورتوں تک کی بیسیوں تقریریں ہوتی ہیں۔ کسی ایک پروگرام میں امیر اور امام کی نہ سہی کسی معمولی مبلغ کی کوئی ایک تقریر اس مقصد عظیم کے متعلق دکھلا دو۔ کسی مرد کی نہیں بلکہ بچہ کی تقریر میں ایک لفظ کی نشاندہی کر دو۔ جس میں گورنمنٹ برطانیہ کی سچی شکر گزاری اور قدردانی کی کوشش اور تدبیریں مذکور ہوں۔ نہیں دکھلا سکتے۔
پیغام صلح ہر سال جب اپنے سالانہ جلسہ کا پروپیگنڈہ کرتا ہے تو دوسرے مقاصد کے بیان کرتے ہوئے اس اہم مقصد کو وغیرہ وغیرہ کر کے پی جاتا ہے۔ چنانچہ اسی پرچہ میں لکھتا ہے: ”جماعت کے پیش نظر وہی مقاصد رہے ہیں جو کہ حضرت بانی تحریک احمدیہ کے مقاصد تھے اور آج اس جماعت کا سالانہ اجتماع بھی اسی روح اور تڑپ کے ساتھ منعقد ہوتا ہے جو آج سے نصف صدی قبل اس جماعت کا مطمح نگاہ اور نصب العین تھا۔ یعنی آئندہ بھی اس سالانہ جلسہ کے یہی مقاصد رہیں گے کہ اشاعت اسلام اور ہمدردی نو مسلمین، امریکہ اور یورپ کے لئے احسن تجاویز سوچی جائیں اور دنیا میں نیک چلنی، تقویٰ طہارت اور اخلاقی حالات کو ترقی دینے اور اخلاق اور عادات رذیلہ اور رسوم قبیحہ کو قوم میں سے دور کرنے کی کوشش اور تدبیریں کی جائیں۔ وغیرہ وغیرہ!“
(ایڈیٹوریل پیغام صلح ص ٦، مورخہ ١٥؍ دسمبر ١٩٢٣ء)
اب ذرا امیر جماعت کی اخلاقی جرأت ملاحظہ ہو: مولوی محمد علی صاحب اسی جلسہ کا پروپیگنڈا کرتے ہوئے جمعہ کے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”١٨٩١ء میں آپ نے مسیح موعود کے دعویٰ کا اعلان کیا اور ١٨٩١ء میں ہی آپ نے
سب سے پہلے سالانہ جلسہ کا اعلان کیا اور اس کے مقاصد میں اس بات کو رکھا کہ یورپ اور امریکہ میں تبلیغ کے وسائل سوچے جائیں اور وہاں کے نو مسلموں کی ہمدردی کے وسائل سوچے جائیں...... آپ نے فرمایا کہ آئندہ بھی اس جلسہ کے یہی مقاصد ہوں گے کہ اشاعت اسلام اور ہمدردی کو نو مسلمین امریکہ اور یورپ کے لئے احسن تجاویز سوچی جائیں۔“
(پیغام صلح ص٢، ٣ مورخہ ٣٠ نومبر ١٩٣٣ء)
غور فرمائیے! کہ جہاں مولوی صاحب اپنی طرف سے مرزا قادیانی کے بیان فرماتے ہوئے مقاصد جلسہ کی تعبیر کرتے ہیں وہاں بھی گورنمنٹ برطانیہ کی سچی شکر گزاری کی کوششوں کا ذکر تک نہیں کرتے اور جہاں خود مرزا قادیانی کی عبارت نقل کرتے ہیں وہاں بھی گورنمنٹ برطانیہ کی قدردانی کی تدبیریں سوچنے کو حذف کر دیتے ہیں۔ علماء یہود تو الفاظ پر ہاتھ رکھ کر چھپا لیا کرتے تھے۔ مگر یہاں تو الفاظ لائے ہی نہیں جاتے۔
اعتذار اور درخواست
آخر میں احمدی حضرات سے حق گوئی پر معافی چاہتا ہوں۔
خطا معاف کہ مجبور گفتگو ہوں میں
الحمد للہ ! کلمہ حق کا اعلاء ہو گیا۔ ہم مطمئن ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ ہماری طرف سے اتمام حجت ہو گیا۔ اب یہ احمدی دوستوں کا فرض ہے کہ وہ جذبات سے خالی ہو کر ہمارے ان معروضات پر غور اور اپنے عقیدہ پر نظر ثانی کریں۔ جس پر آخرت کی فوز وفلاح اور عاقبت کی نجات و عافیت کا دارو مدار ہے۔ آخر ایسے نبی یا مجدد پر ایمان لانے سے کیا حاصل؟ جس کے ارشادات والہامات کہنے سننے اور پڑھنے لکھنے سے آدمی کو دنیا میں شرم آئے اور جو قبر وحشر میں بھی کام نہ آئے۔
بہ کنار کسے مے آئی
بہ چہ امید مے تواں مردن
بہ مزار کسے مے آئی
اسلام کی تبلیغ اہل حق کی تنظیم اور اہل باطل کی تردید سے دلچسپی رکھنے والے ہر دوست کو تنظیم اہل سنت کی خریداری فوراً قبول فرما لینی چاہئے۔ (بخاری)
٥٢
قادیانی اور مولانا اختر
از: حضرت مولا
فروری ١٩٣٤ء کی بات ہے جب قادیانیوں نے کرنے کی مردود کوشش کی تو اکابر ملت نے اس فتنہ کی سرکوبی کیں۔ جس پر حکومت نے حضرت مولانا ظفر علی خان صاح اختر، حضرت مولانا عبدالحنان اور احمد یار خان صاحب سیکرٹر دیا۔ ایک دن مولانا ظفر علی خان سے ایک قیدی نے شکایت دیتے ہیں کہ پیسے نہیں جاتے۔ حضرت مولانا نے اپنے رفقاء ہماری چکی پیس کر وہ باقی دانے ختم کر دیئے۔ اس دوران میں ارشاد کی درخواست کی تو ارتجالاً حضرت مولانا کی زبان پر یہ شائع نہیں ہو سکے۔ حضرت مولانا اختر کے شکریہ کے ساتھ ہدیہ
ادھر توحید کی باتیں ادھر تثلیث کی گھاتیں میری فطر
یہ کہہ کر حق جتادوں گا محمد کی شفاعت پر کہ آقا
مقابل قادیانی ہو نہیں سکتے ہیں اختر کے پڑے گا
ہوا جب علم کا چرچا دیا فتویٰ یہ مرزا نے ہمارا علم
ہے امرتسر سے مغرب کی طرف مینارۂ مرزا یہ نکتہ حل
حکومت قادیانیوں کو ایک الگ جم
از: نقاش
اخبار اسٹیٹس مین نے علامہ اقبال کا بیان قادیانی احمد میں تنقید بھی کی۔ مندرجہ ذیل خط اس کے جواب میں لکھا گیا اور ا
١؎ ”قادیان جو ضلع گورداسپور پنجاب میں واقع ہے۔“
(تبلیغ رسالت
٢؎ مشہور جغرافیہ دان۔
٥٣
قادیانی اور مولانا اختر
از: حضرت مولانا ظفر علی خان صاحب مدظلہ العالی!
فروری ١٩٣٣ء کی بات ہے جب قادیانیوں نے اسلامیہ کالج لاہور کے طلباء کو مرتد کرنے کی مردود کوشش کی تو اکابر ملت نے اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے مسجد مبارک میں تقریریں کیں۔ جس پر حکومت نے حضرت مولانا ظفر علی خان صاحب مدظلہ، حضرت مولانا لال حسین اختر، حضرت مولانا عبدالحنان اور احمد یار خان صاحب سیکرٹری مجلس احرار اسلام کو مقید و محبوس کر دیا۔ ایک دن مولانا ظفر علی خان سے ایک قیدی نے شکایت کی کہ جیل والے اسے اتنے دانے دیتے ہیں کہ پیسے نہیں جاتے۔ حضرت مولانا نے اپنے رفقاء کو بلالیا اور سب حضرات نے باری باری چکی پیس کر وہ باقی دانے ختم کر دیئے۔ اس دوران میں مولانا اختر نے حضرت مولانا سے ارشاد کی درخواست کی تو ارتجالاً حضرت مولانا کی زبان پر یہ شعر آگئے۔ جو تا حال کسی کتاب میں شائع نہیں ہو سکے۔ حضرت مولانا اختر کے شکریہ کے ساتھ ہدیہ قارئین کرام ہیں۔ (مدیر)
ادھر توحید کی باتیں اُدھر تثلیث کی گھاتیں میری فطرت حجازی ہے سرشت اس کی ہے انگلیسی
یہ کہہ کر حق بتادوں گا محمد کی شفاعت پر کہ آقا تیری خاطر میں نے چکی جیل میں پیسی
مقابل قادیانی ہو نہیں سکتے ہیں اختر کے پڑے گا ایک ہی تھپڑ تو جھڑ جائے گی بتیسی
ہوا جب علم کا چرچا دیا فتویٰ یہ مرزا نے ہمارا علم ہے دریا کہ نام اس کا ہے سائنیسی
ہے امرتسر سے مغرب ١؎ کی طرف مینارۂ مرزا یہ نکتہ حل کریں مرقد سے اٹھ کر آج ادریسی ٢؎
(ستارہ قیصریہ طبع خورد ص ٣)
حکومت قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرے
از: نقاش پاکستان ترجمان حقیقت علامہ اقبالؒ !
اخبار اسٹیٹس مین نے علامہ اقبال کا بیان قادیانی اور جمہور مسلمان شائع کیا اور اس پر اپنے اداریہ میں تنقید بھی کی۔ مندرجہ ذیل خط اس کے جواب میں لکھا گیا اور ١٠ جون ١٩٣٥ء کی اشاعت میں طبع ہوا۔
١؎ ”قادیان جو ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے جو لاہور سے گوشہ جنوب مغرب میں واقع ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٤٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨)
٢؎ مشہور جغرافیہ دان۔
٥٣
علامہ پاکستان کے نقاشِ اوّل ہیں۔ آپ نے آج سے پورے چودہ سال پیشتر اجنبی اقتدار اور فرنگی عہد حکومت میں ”قادیانی جماعت ایک علیحدہ اقلیت ہے“ کا نعرہ بلند کیا اور ہندوستان کی انگریزی حکومت سے جو خود اس فتنہ کی بانی تھی مطالبہ کیا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرے۔ آہ! کس قدر دردناک اور عبرت انگیز ہے یہ حقیقت! کہ آج جب کہ علامہؒ کے ذہن و دماغ کے نقوشِ صفحہ ہستی پر ابھر آئے۔ بفضلہ تعالیٰ پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ جمہور مسلمانوں کی اپنی حکومت بن گئی اور اس نے قرارداد مقاصد پاس کر کے اسلام کا کلمہ بھی پڑھ لیا۔ قادیانیت نہ صرف اسلامی رنگ و روپ میں باقی ہے۔ بلکہ جسد اسلام کا ناسور بنتی جارہی ہے۔ علامہؒ کی روح کس قدر مضطرب اور بیقرار ہو اگر اسے علم ہو جائے کہ علامہ کے نہاں خانہ دماغ کا تصور و تخیل بعونہ تعالیٰ جب عملی شکل اختیار کر کے پاکستان بن گیا تو اس پاکستان کی پہلی مرکزی حکومت کا پہلا وزیر خارجہ اس دشمن ایمان اور غدار اسلام جماعت کا ایک فرد بنایا گیا۔ جس جماعت کو علامہ نے لاہور کے ایک تعلیمی ادارہ، انجمن حمایت اسلام، سے خارج کر کے انجمن کی تطہیر کی تھی اور اس وقت تک نہ تو چین لیا اور نہ کشمیر کمیٹی کی رکنیت قبول کی تھی جب تک اس کے صدر خلیفہ قادیان رہے۔ علامہؒ نے تب اطمینان کا سانس لیا جب کشمیر کمیٹی اس غیر مسلم عنصر سے پاک ہوگئی۔ کاش! کہ حکومت پاکستان اقبالؒ کی انجمن حمایت اسلام اور اقبال کی کشمیر کمیٹی کی طرح اقبال کی حکومت پاکستان کو اس غدار عنصر سے پاک کر کے اقبال کی روح کو بھی خوش کرتی۔ جس کی قبر کو پھولوں کی چادر سے ڈھانپا جارہا ہے اور جس کی یاد میں پاکستان کے طول و عرض میں یومِ اقبال منایا جاتا ہے۔ اقبال سے پیار کرنا یومِ اقبال منانا، اقبال کے فلسفہ حکومت علم اور فکر کی صحت و صداقت اور وسعت و رفعت پر فخر و ناز کرنا مگر اقبالؒ کے مسلک و مذہب کو عملاً ٹھکرا دینا انصاف و اخلاص کا کوئی اچھا مظاہرہ نہیں ہے۔ (مدیر)
”میرے بیان مطبوعہ ١٤؍ مئی ١٩٣٥ء پر آپ نے تنقیدی اداریہ لکھا۔ اس کے لئے میں آپ کا ممنون ہوں جو سوال آپ نے اپنے مضمون میں اٹھایا ہے وہ فی الواقعہ بہت اہم ہے اور مجھے مسرت ہے کہ آپ نے اس سوال کی اہمیت کو محسوس کیا۔ میں نے اپنے بیان میں اسے نظر انداز کر دیا تھا۔ کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ قادیانیوں کی تفریق کی پالیسی کے پیش نظر جو انہوں نے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں ایک نئی نبوت کا اعلان کر کے اختیار کی ہے۔ خود حکومت کا فرض ہے کہ وہ
٥٤
قادیانیوں اور مسلمانوں کے بنیادی اختلافات کا لحا انتظار نہ کرے کہ مسلمان کب مطالبہ کرتے ہیں اور متعلق رویہ سے بھی تقویت ملی۔ سکھ ١٩١٩ء تک آ جاتے تھے۔ لیکن اس کے بعد ایک علیحدہ جماعت تسلی نہیں کیا تھا۔ بلکہ لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا تھا ک
اب چونکہ سوال پیدا کیا ہے میں چاہت مسلمانوں کی ...... کے زاویہ نگاہ سے نہایت اہم ۔ علیحدہ ہیں کہ میں واضح کروں کہ حکومت جب کسی ج ہے۔ تو میں اسے کس حد تک گوارا کر سکتا ہوں۔ سو ع اوّلاً ...... اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس ایمان، انبیاء پر ایمان اور رسول کریم ﷺ کی ختم ر حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیا فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں۔ کریم ﷺ کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انہیں قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ ک جسارت نہیں کرسکا۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نب انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں ا ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے خا رسول کریم ﷺ کی شخصیت کا مرہونِ منت ہے۔
میری رائے میں قادیانیوں کے سامن کریں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اص لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہی سیاسی فوائد پہنچ جائیں۔
٥٥
قادیانیوں اور مسلمانوں کے بنیادی اختلافات کا لحاظ رکھتے ہوئے آئینی قدم اٹھائے اور اس کا انتظار نہ کرے کہ مسلمان کب مطالبہ کرتے ہیں اور مجھے اس احساس میں حکومت کے سکھوں کے متعلق رویہ سے بھی تقویت ملی۔ سکھ ١٩١٩ء تک آئینی طور پر علیحدہ سیاسی جماعت تصور نہیں کئے جاتے تھے۔ لیکن اس کے بعد ایک علیحدہ جماعت تسلیم کر لئے گئے۔ حالانکہ انہوں نے کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ بلکہ لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا تھا کہ سکھ ہندو ہیں۔
اب چونکہ سوال پیدا کیا ہے میں چاہتا ہوں اس مسئلہ کے متعلق جو برطانوی اور مسلمانوں کی ...... کے زاویہ نگاہ سے نہایت اہم ہے۔ چند معروضات پیش کروں۔ آپ سے علیحدہ یہ ہے کہ میں واضح کروں کہ حکومت جب کسی جماعت کے مذہبی اختلافات کو تسلیم کیوں کرتی ہے۔ تو میں اسے کس حد تک گوارا کر سکتا ہوں۔ سو عرض ہے کہ:
اوّلاً ...... اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کے حدود مقرر ہیں۔ یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء پر ایمان اور رسول کریم ﷺ کی ختم رسالت پر ایمان دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لئے فیصلہ کن ہے کہ کوئی فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں۔ مثلاً برہمو خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کر سکا۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔ لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول کریم ﷺ کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔
میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو۔ تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ جائیں۔
٥٥
ثانیاً...... ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیا............ سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ بانی تحریک نے ملت اسلامیہ سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ........... اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا دین کے بنیادی اصولوں سے انکار۔ اپنی جماعت کا نیا نام (احمدی) مسلمانوں کی قیام نماز سے قطع تعلق، نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ تمام دنیائے اسلام کافر ہے۔ یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں۔ جتنے سکھ ہندوؤں سے۔ کیونکہ سکھ ہندوؤں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ہندو مندروں میں پوجا نہیں کرتے۔
ثالثاً...... اس امر کو سمجھنے کے لئے کسی خاص ذہانت یا غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے کہ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟
علاوہ سرکاری ملازمتوں کے فوائد کے ان کی موجودہ آبادی جو ٥٦٠٠٠ (چھپن ہزار) ہے انہیں کسی اسمبلی میں ایک نشست بھی نہیں دلا سکتی اور اس لئے انہیں سیاسی اقلیت کی حیثیت بھی نہیں مل سکتی۔ یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ قادیانیوں نے اپنی جدا گانہ سیاسی حیثیت کا مطالبہ نہیں کیا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مجالس قانون ساز میں ان کی نمائندگی نہیں ہو سکتی۔ نئے دستور میں ایسی اقلیتوں کے تحفظ کا علیحدہ لحاظ رکھا گیا ہے۔ لیکن میرے خیال میں قادیانی حکومت سے بھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔
ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔ کیونکہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا سکے۔ حکومت نے ١٩١٩ء میں سکھوں کی طرف سے علیحدگی کے مطالبہ کا انتظار نہ کیا۔ اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبے کے لئے کیوں انتظار کر رہی ہے؟
(حرف اقبال ص ١٣٥ تا ١٣٨ بحوالہ اخبار اسٹیٹس مین مورخہ ١٠؍ جون ١٩٣٥ء)
٥٦
تلمیحات
حضرت طالوت تاریخ صحافت میں اپنی جگہ اسم گرامی محتاج تعارف نہیں۔ شاید قارئین کرام کو یاد ہوگا ک کا پہلا پرچہ شائع ہوا تو اس کے لئے حضرت طالوت ن ہمیں اس طرح بھلا دیا کہ آج تک کبھی بھول کر بھی یاد ن تعظیم کے لئے ایک لفظ بھی نہ لکھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی ک ہو کہ کل ہم نے تعظیم کے ”مرزا غلام احمد نمبر“ کا اعلان کیا ت لے آئے۔ یعنی آپ کے اشعار و تلمیحات ہمیں موصول ہ ہمارا ایمان ہے کہ آخرت میں ہمیں ضرور اس ک احمد نمبر“ کی اشاعت پر ہمیں سرور عالم ﷺ کی شفاعت ن کار خیر کی یہی جزا کیا کم ہے کہ ہمیں ایک بچھڑا ہوا یار پو برکت سے گھر بیٹھے پھر مل گیا۔ امید ہے کہ اب یہ وصال د طالوت پورے تعظیم کو نہ سہی اس کے تلمیحات کو ضرور اپنا لی
بازاری دوائی فروشوں کو آپ نے بارہا دیکھ و آسمان قلابے ملا رہے ہوتے ہیں اور پھر وہ دوائی ای جہاں کے امراض میں اس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے۔ چورن ہے۔ آپ دانتوں کے مرض میں مبتلا ہیں تو وہ ب ہے تو وہ سرمہ نور چشم ہے۔ کھانسی، نزلہ، زکام، بخار، غرض لئے اکسیر کا حکم رکھتی ہے اور پھر قیمت اتنی کم کہ آدمی کو ب
بعینہ اسی طرح بازاری قسم کے نبیوں کے بڑھنے کی خاصیت کے حامل ہر قسم کی تاویل کو برداشت جانے والے، موم کی ناک کی طرح ہر طرف مڑ جانے و زمان کی قید۔ جب چاہو اور جہاں چاہو مداری کے تم
٥٧
تلمیحات
از: طالوت!
حضرت طالوت تاریخ صحافت میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ اخباری حلقوں میں آپ کا اسم گرامی محتاج تعارف نہیں۔ شاید قارئین کرام کو یاد ہو گا کہ شروع ذی الحجہ ١٣٦٠ھ میں جب تنظیم کا پہلا پرچہ شائع ہوا تو اس کے لئے حضرت طالوت نے نظم لکھی تھی۔ مگر اس کے بعد آپ نے ہمیں اس طرح بھلا دیا کہ آج تک کبھی بھول کر بھی یاد نہ فرمایا اور ڈیڑھ سال کی طویل مدت میں تنظیم کے لئے ایک لفظ بھی نہ لکھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت و نبوت کا یہ تازہ نشان ملاحظہ ہو کہ کل ہم نے تنظیم کے ”مرزا غلام احمد نمبر“ کا اعلان کیا اور آج طالوت صاحب دفتر میں تشریف لے آئے۔ یعنی آپ کے اشعار و تلمیحات ہمیں موصول ہو گئے۔
ہمارا ایمان ہے کہ آخرت میں ہمیں ضرور اس خدمت پر اجر عظیم حاصل ہو گا اور ”غلام احمد نمبر“ کی اشاعت پر ہمیں سرور عالم ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی۔ رہی دنیا سو اس میں اس کار خیر کی یہی جزا کیا کم ہے کہ ہمیں ایک بچھڑا ہوا یار پورے ڈیڑھ سال کے بعد مرزا قادیانی کی برکت سے گھر بیٹھے پھر مل گیا۔ امید ہے کہ اب یہ وصال پھر کبھی مبدل بہ فراق نہ ہو گا اور حضرت طالوت پرچہ تنظیم کو نہ سہی اس کے تلمیحات کو ضرور اپنا لیں گے۔ (مدیر)
بازاری دوائی فروشوں کو آپ نے بارہا دیکھا ہو گا جو اپنی دوائی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہوتے ہیں اور پھر وہ دوائی اس قدر مفید اور ذی اثر ہوتی ہے کہ دنیائے جہاں کے امراض میں اس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے۔ آپ کو پیٹ میں درد ہے تو وہ اچھا خاصہ چورن ہے۔ آپ دانتوں کے مرض میں مبتلا ہیں تو وہ بنا بنایا منجن ہے۔ آپ کو آنکھوں کی تکلیف ہے تو وہ سرمہ نور چشم ہے۔ کھانسی، نزلہ، زکام، بخار، غرضیکہ کچھ ہی کیوں نہ ہو وہ دوائی ہر مرض کے لئے اکسیر کا حکم رکھتی ہے اور پھر قیمت اتنی کم کہ آدمی کو بغیر لئے چارہ نہیں رہتا۔
بعینہ اسی طرح بازاری قسم کے نبیوں کے الہام ہوتے ہیں۔ ربڑ کی طرح پھیلنے اور بڑھنے کی خاصیت کے حامل ہر قسم کی تاویل کو برداشت کے قابل۔ جہاں چسپاں کر دو وہیں چپک جانے والے، موم کی ناک کی طرح ہر طرف مڑ جانے والے۔ نہ موسم کی خصوصیت اور نہ مکان و زمان کی قید۔ جب چاہو اور جہاں چاہو مداری کے تھیلے میں سے ایک عدد الہام نکالو اور پکار اٹھو
٥٧
پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی
(تذکرہ ص ٥٤ طبع سوم)
انگریز کہیں ہارے یا جیتے، بغداد مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جائے۔ جنگ عظیم چھڑ جائے یا ختم ہو جائے۔ بہار میں زلزلہ آئے۔ کوئٹہ میں خدا کا عذاب نازل ہو، امان اللہ جائے اور نادر خان آئے۔ غرض دنیا میں کہیں کوئی اہم یا غیر اہم واقعہ یا حادثہ ہو جائے۔ پھر بہار آنے اور خدا کی بات پھر پوری ہونے میں قطعاً کوئی دیر نہیں لگتی۔ تبھی تو کہا گیا ہے ۔
غلام احمد کی الہام پٹاری ہے مداری کی
یہ نہ خیال فرمائیے کہ یہ ربیعی الہام موسم بہار کے واقعات پر ہی چسپاں ہو سکتا ہوگا۔ مئی، جون کی چلچلاتی ہوئی دھوپ اور جنوری فروری کی کپکپا دینے والی سردی دونوں اس کارگاہ الہام میں بہار کا حکم رکھتی ہیں اور تو اور یہاں تو خود خزاں بھی بہار سمجھی جاتی ہے۔ بھلا جہاں الہام کے زور سے مشی فی النوم اور مشق شناوری تک کو عین ایمان ثابت کیا جاسکتا ہو۔ وہاں خزاں کو بہار بنانا کون سا مشکل کام ہے۔
ایسا ہی امرت دھارا قسم کا ایک الہام جو پہلے بھی کئی جگہ کام دے چکا ہے اور ہنوز تہ بہ تہ ہے یہ ہے ۔ ”کمترین کا بیڑا غرق۔“
(تذکرہ ص ٦٨٣ ،طبع سوم)
مشرقی پنجاب میں جس طرح خاکسار کمترین غلام احمد متنبئ قادیان کی امت کا بیڑا غرق ہوا۔ وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں مگر بارگاہ خلافت میں نہ اب تک بہار آئی اور نہ خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ آخر یہ کیوں؟ جب واقعتاً کودک قادیان نے ”از غلط بر ہدف زند تیرے“ کہہ دیا ہے تو پھر اب شرمانے یا لجانے کا کیا موقع ہے۔ پہلے کی طرح حیا کی آنکھیں بند کر کے اب بھی پکار اٹھئے کہ دیکھئے حضرت مرزا قادیانی کتنے سچے تھے۔ مشرقی پنجاب کے سانحات کا جب کسی کو سان گمان بھی نہ تھا۔ آپ نے ان واقعات کا ذکر کس قدر بلیغ انداز میں فرما دیا تھا۔ ”کمترین کا بیڑا غرق“
(تذکرہ ص ٦٨٣ طبع سوم)
٥٨
اور اگر آپ یہ دعویٰ کر دیں تو آج کس کو یہ طا بھائی ”یہاں تو ہم بھی قائل ہو گئے۔“ ہمارا یہ ایمان کی بروز اتم تھے اور عمر بھر کبھی انہوں نے سچ بولنے کی کوشش نہ لیجئے ) بہر حال سچا ثابت ہو گیا ہے کہ : ”کمترین کا بیڑا غرق اور پھر کمترین کے کفر کا بیڑا غرق بھی ایسا ہو ابھارنے سے قاصر ہوئی جاتی ہیں۔ ہاں! پھر بہار آئی خدا کی بات
کمترین کا بیڑا
میرزا صاحب کا ہے الہام ٹھیک
مرکزیت دی ابوالولو نے چھوڑ
ڈارون صاحب کی بندر بانٹ سے
ان میں حرب و ضرب کی ہمت کہاں
وہ چپت آ کر پڑی رخسار پر
مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت وامام
نقاش پاکستان حکیم الامت حضـ
بابائے صحافت حضرت مولانا ظفر
حاسدان تیرہ باطن کو
تجھ میں اے پنجاب اقبال
٥٩
اور اگر آپ یہ دعویٰ کر دیں تو آج کس کو یہ طاقت ہے کہ آپ کی اس بات کو جھٹلا سکے۔
بھائی ”یہاں تو ہم بھی قائل ہو گئے ۔“ ہمارا یہ ایمان سہی کہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیلمہ کذاب کا بروز اتم تھے اور عمر بھر کبھی انہوں نے سچ بولنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر ان کا یہ فقرہ ( آپ الہام کہہ لیجئے ) بہر حال سچا ثابت ہو گیا ہے کہ : ”کمترین کا بیڑا غرق“
(تذکرہ ص ٦٨٣، طبع سوم)
اور پھر کمترین کے کفر کا بیڑا غرق بھی ایسا ہوا کہ اب ہر قسم کی سازشیں بھی اسے پھر ابھارنے سے قاصر ہوئی جاتی ہیں۔ ہاں !
(تذکرہ ص ٥٤١، طبع سوم)
کمترین کا بیڑا غرق
از: طالوت!
مرزا صاحب کا ہے الہام ٹھیک کمترین کا غرق بیڑا ہو گیا
مرکزیت دی ابولولو نے چھوڑ عشق بھی جی کا بکھیڑا ہو گیا
ڈارون صاحب کی بندر بانٹ سے کمترین کا غرق بیڑا ہو گیا
ان میں حرب و ضرب کی ہمت کہاں ان کو کافی اک تھپیڑا ہو گیا
وہ چپت آ کر پڑی رخسار پر کمترین کا غرق بیڑا ہو گیا
مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت و امامت اور تعلیمات کے متعلق
نقاش پاکستان حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ اور
بابائے صحافت حضرت مولانا ظفر علی خان کے ارشادات
تجھ میں اے پنجاب اقبال و ظفر پیدا ہوئے
(ظفر علی خان)
٥٩
نقاش پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کے ارشادات
زندگانی از خودی محرومی است
دولت اغیار را رحمت شمرد
رقص ہا گرد کلیسا کرد و مرد
(مثنوی پس چہ باید کرد ص ٢٩)
قادیانی نبوت؟ برگ حشیش
مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام
ہاں مگر عالم اسلام پہ رکھتا ہوں نظر
فاش ہے مجھ پہ ضمیر فلک نیلی فام
عصر حاضر کی شب تار میں دیکھی میں نے
یہ حقیقت کہ ہے روشن صفت ماہ تمام
وہ نبوت ہے مسلمان کے لئے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام
(ضرب کلیم ص ٥٣)
انگریز کی پرستار امامت
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی تیرے لئے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے
بہاء اللہ ایرانی اور غلام احمد قادیانی
آں زحج بیگانہ وایں از جہاد
سینہ ہا از گرمی قرآں تہی
از چنیں مرداں چہ امید بہی
٦٠
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے
لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں؟ مسجد
تیغ وتفنگ دست مسلماں میں ہے کہاں ہو
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل کہتا
تعلیم اس کو چاہئے ترک جہاد سے دنیا
باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے یورپ
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے مشرق
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا
اسلام کا محاسبہ، یورپ
مہدی برحق
پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں ے
ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ شا
دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت ہو
بابائے صحافت حضرت مولانا ظفر عل
سوکھ جائے نہ کہیں میری نبوت کا درخت یہ
مادیان قادیا
جو مجاور ہیں بہشتی مقبرہ کے آج کل گ
صرف غائب نحو عنقاء اور سلاست ناپدید آل
٦١
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں؟ مسجد میں اب یہ وعظ ہے بیسود و بے اثر
تیغ و تفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاں ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر
تعلیم اس کو چاہئے ترکِ جہاد سے دنیا کو جس کے پنجۂ خونی سے ہو خطر
باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخِ کلیسا نواز سے مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر؟
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر
مہدیٔ برحق
پیرانِ کلیسا ہوں کہ شیخانِ حرم ہوں نے جدتِ گفتار ہے نے جدتِ کردار
ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار
دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالمِ افکار
بابائے صحافت حضرت مولانا ظفر علی خان کے احساسات
سوکھ جائے نہ کہیں میری نبوت کا درخت یہ وہ پودا ہے کہ سرکار کا خود کاشتہ ہے
مادیان قادیان
جو مجاور ہیں بہشتی مقبرہ کے آج کل بیچتے پھرتے ہیں گھر گھر استخوان قادیان
صرف غائب نحو عنقا اور سلاست ناپدید ان سب اجزا سے مرکب ہے زبان قادیان
٦١
لوگ حیراں تھے کہ جب پھیکا ہے پکوان اس قدر ہوگئی پھر اتنی اونچی کیوں دکان قادیاں
جو فروشی کے لئے گندم نمائی شرط ہے تھا بڑا ہی کائیاں بازار گان قادیاں
کیا سلوک ان سے روا رکھتے ہیں منکر اور نکیر قبر میں خود دیکھ لیں گے منکران قادیاں
منکر ختم نبوت
کہہ دو مرزا سے کہ خاک کعبہ اڑ سکتی نہیں اپنے دل سے تمنائے جنوں پرور نکال
کائنات آنگن ہے اس کی اور ہے چھت عرش بریں تو بھی کوئی گھر نکال اس سے مگر بہتر نکال
اس کو ڈھا کر دوسرا گھر شوق سے بنوا مگر ابن آذر سے کوئی معمار بھی بڑھ کر نکال
سورج اس کا آئینہ ہے چاند اس کی شمع ہے تو بھی اک گھر جس سے یوں روشن ہوں بام و در نکال
پناہ بخدا
ٹیچی ٹیچی ہے ادھر اور ادھر غلام احمد ہزار بار ان آفات سے خدا کی پناہ
خدا بچائے ہمیں ان کے ساتھ ملنے سے منافقوں کی موالات سے خدا کی پناہ
بنے جو باپ خدا کا اور اس کی بیوی بھی ہر ایسے مسخرے کی ذات سے خدا کی پناہ
قادیانی اور لاہوری
شعلہ اٹھتا ہے اگر اس سے الوہیت کا تو بلند اس سے نبوت کا دھواں ہوتا ہے
ہیں خدا ان کے نصاریٰ یہ ہیں بندے ان کے وہیں ہوتے ہیں یہ انگریز جہاں ہوتا ہے
اسلام اور فقط اسلام
فقط اسلام ہی دنیا میں ہے طاقت ایسی ناطقہ بند جو کر سکتی ہے ہر گورے کا
٦٢
منکر ختم نبوت
منکر ختم نبوت کے مقدر میں ہے دوزخ
صوت الحمير
عیسیٰ مریم کو گالی قادیاں دے لے مگر
”قادیانیت اسلام کی چند نہایت اہم ص باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک پاس دشمنوں کے لئے لا تعداد زلزلے اور بیماریاں ہو روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں ا گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔“
قادیانی اور جمہور
”ہندوستان کی سرزمین پر بے شمار مذا تمام مذاہب کی نسبت گمراہ ہے۔ کیونکہ ان مذاہب نسلی ۔ اسلام نسلی تخیل کی سراسر نفی کرتا ہے اور اپنی بن بنیاد صرف دینی ہے اس لئے وہ سراپا روحانیت ہے۔ اسی لئے مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں ن خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی جماعت جو تاریخی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتق مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خط نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔ ١٣
منکر ختم نبوت کا حشر
منکر ختم نبوت کے مقدر میں ہے درج ذلت و خواری و رسوائی الی یوم التناد
صوت الحمیر
عیسیٰ مریم کو گالی قادیاں دے لے مگر یاد رکھے اس کی بھی ہیں نانیاں اور دادیاں
” قادیانیت اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔ اس کا حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لئے لا تعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں اس کا نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٢٣)
قادیانی اور جمہور مسلمان
از : نقاش پاکستان ترجمان حقیقت علامہ اقبالؒ!
”ہندوستان کی سرزمین پر بے شمار مذاہب ملتے ہیں۔ اسلام دینی حیثیت سے ان تمام مذاہب کی نسبت گہرا ہے۔ کیونکہ ان مذاہب کی بناء کچھ حد تک مذہبی ہے اور ایک حد تک نسلی۔ اسلام نسلی تخیل کی سراسر نفی کرتا ہے اور اپنی بنیاد محض مذہبی تخیل پر رکھتا ہے اور چونکہ اس کی بنیاد صرف دینی ہے اس لئے وہ سراپا روحانیت ہے اور خونی رشتوں سے کہیں زیادہ لطیف بھی ہے۔ اسی لئے مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہے۔ جو اس کی وحدت کے لئے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو لیکن اپنی بناء نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ سمجھے گا اور یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔
٦٣
انسان کی تمدنی تاریخ میں غالباً ختمِ نبوت کا تخیل سب سے انوکھا ہے۔ اس کا صحیح اندازہ مغربی اور وسط ایشیا کے مؤبدانہ تمدن کی تاریخ کے مطالعہ سے ہو سکتا ہے۔ مؤبدانہ تمدن میں زرتشتی، یہودی، نصرانی اور صابی تمام مذاہب شامل ہیں۔ ان تمام مذاہب میں نبوت کے اجراء کا تخیل نہایت لازم تھا۔ چنانچہ ان پر مستقل انتظار کی کیفیت رہتی تھی۔ غالباً یہ انتظار نفسیاتی حظ کا باعث تھی۔ عہدِ جدید کا انسان روحانی طور پر مؤبد سے بہت زیادہ آزاد منش ہے۔ مؤبدانہ رویہ کا نتیجہ یہ تھا کہ پرانی جماعتیں ختم ہوتیں اور ان کی جگہ مذہبی عبادتی جماعتیں لاکھڑی کرتے۔ اسلام کی جدید دنیا میں جاہل اور جوشیلے ملّا نے پریس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبل اسلامی نظریات کو بیسویں صدی میں رائج کرنا چاہا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ اسلام جو تمام جماعتوں کو ایک رسی میں پرونے کا دعویٰ رکھتا ہے ویسی تحریک کے ساتھ ہمدردی نہیں رکھ سکتا۔ جو اس کی موجودہ وحدت کے لئے خطرہ ہو اور مستقبل میں انسانی سوسائٹی کے لئے مزید افتراق کا باعث بنے۔
اس سے قبل اسلامی مؤبدیت نے حال ہی میں جن دو صورتوں میں جنم لیا ہے میرے نزدیک ان میں بہائیت، قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے۔ لیکن مؤخر الذکر اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔ اس کا حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لئے لا تعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں۔ اس کا نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روح مسیح کے تسلسل وغیرہ کا عقیدہ۔ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہے گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔ روح مسیح کا تسلسل، یہودی باطنیت کا جز ہے۔ پولینڈ بال شیم (Bal Shem) کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر بوبر کہتا ہے۔ ”مسیح کی روح پیغمبروں اور صالح آدمیوں کے واسطہ سے زمین پر اتری۔“
اسلامی ایران میں مؤبدانہ اثر کے ماتحت ملحدانہ تحریکیں اٹھیں اور انہوں نے بروز، حلول، ظل وغیرہ اصطلاحات وضع کیں تاکہ تناسخ کے اس تصور کو چھپا سکیں۔ ان اصطلاحات کا وضع کرنا اس لئے ضروری تھا کہ وہ مسلم کے قلوب کو ناگوار نہ گزریں۔ حتیٰ کہ مسیح موعود کی اصطلاح بھی اسلامی نہیں بلکہ اجنبی ہے اور اس کا آغاز بھی اسی مؤبدانہ تصور میں ملتا ہے۔ یہ اصطلاح ہمیں اسلام کے دورِ اوّل کی تاریخی اور مذہبی ادب میں نہیں ملتی۔
٦٤
اس حیرت انگیز واقعہ کو پروفیسر ونسنک نے نمایاں کیا ہے۔ یہ کتاب احادیث کے گیارہ مجموعوں پ ہے اور یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اسلام نے اس اصطلا غالباً اس لئے نا گوار تھی کہ اس سے تاریخی عمل کا غلط حرکت تصور کرنا تھا۔ صحیح تاریخ عمل کو بحیثیت ایک مسلمان مفکر اور مؤرخ یعنی ابن خلدون کے حصہ میں
ہندی مسلمانوں نے قادیانی تحریک کے جدید اجتماعیات کے طالب علم کے لئے بالکل واض ملٹری گزٹ میں ایک صاحب نے مقالہ کا خلاصہ ثبوت دے رہا ہے۔ اگر چہ اسے ختمِ نبوت کے عقید نے ختمِ نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں اور مغربیت عاری کر دیا۔ بعض ایسے ہی نام نہاد تعلیم یافتہ مسلما مشورہ دیا ہے۔ اگر سر ہربرٹ ایمرسن مسلمانوں کو ہوں۔ کیونکہ موجودہ زمانے کے ایک فرنگی کے لئے اس کے لئے اتنی گہری نظر پیدا کرنی دشوار ہے کہ مسائل کو سمجھ سکے۔
ہندوستان میں حالات بہت غیر معمول بقاء اپنے استحکام کے ساتھ وابستہ ہے۔ کیونکہ جو مغ سوا چارہ نہیں کہ مذہب کے معاملہ میں عدم مداخلت ملک پر بدقسمتی سے بہت برا اثر ڈالا ہے۔ جہاں ت جماعت کا استحکام اس سے کہیں کم ہے۔ جتنا حضر تحت تھا۔ ہندوستان میں کوئی مذہبی شعبدہ باز اپنی ا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت ک اپنے اطاعت اور وفاداری کا یقین دلا دے اور اس
٦٥
اس حیرت انگیز واقعہ کو پروفیسر ونسنک نے اپنی کتاب موسومہ ”احادیث میں ربط“ میں نمایاں کیا ہے۔ یہ کتاب احادیث کے گیارہ مجموعوں اور اسلام کے تین اولین تاریخی شواہد پر حاوی ہے اور یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اسلام نے اس اصطلاح کو کیوں استعمال نہ کیا؟ یہ اصطلاح انہیں غالباً اس لئے ناگوار تھی کہ اس سے تاریخی عمل کا غلط نظریہ قائم ہوتا تھا۔ یونانی ذہن وقت کو مدور حرکت تصور کرتا تھا۔ صحیح تاریخی عمل کو بحیثیت ایک تخلیقی حرکت کے ظاہر کرنے کی سعادت عظیم مسلمان مفکر اور مؤرخ یعنی ابن خلدون کے حصہ میں تھی۔
ہندی مسلمانوں نے قادیانی تحریک کے خلاف جس شدت احساس کا ثبوت دیا ہے وہ جدید اجتماعیات کے طالب علم کے لئے بالکل واضح ہے۔ عام مسلمان جسے پچھلے دن سول اینڈ ملٹری گزٹ میں ایک صاحب نے ملا زدہ کا خطاب دیا تھا اس تحریک کے مقابلہ میں حفظ نفس کا ثبوت دے رہا ہے۔ اگر چہ اسے ختم نبوت کے عقیدہ کی پوری سمجھ نہیں۔ نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس کے جذبہ سے بالکلی عاری کر دیا ۔ بعض ایسے ہی نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو رواداری کا مشورہ دیا ہے۔ اگر سر ہربرٹ ایمرسن مسلمانوں کو رواداری کا مشورہ دیں تو میں انہیں معذور سمجھتا ہوں۔ کیونکہ موجودہ زمانے کے ایک فرنگی کے لئے جس نے بالکل مختلف تمدن میں پرورش پائی ہو اس کے لئے اتنی گہری نظر پیدا کرنی دشوار ہے کہ وہ ایک مختلف تمدن رکھنے والی جماعت کے اہم مسائل کو سمجھ سکے۔
ہندوستان میں حالات بہت غیر معمولی ہیں۔ اس ملک کی بے شمار مذہبی جماعتوں کی بقاء اپنے استحکام کے ساتھ وابستہ ہے۔ کیونکہ جو مغربی قوم یہاں حکمران ہے اس کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ مذہب کے معاملہ میں عدم مداخلت سے کام لے۔ اس پالیسی نے ہندوستان ایسے ملک پر بدقسمتی سے بہت برا اثر ڈالا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ مسلم جماعت کا استحکام اس سے کہیں کم ہے۔ جتنا حضرت مسیح کے زمانہ میں یہودی جماعت کا رومن کے تحت تھا۔ ہندوستان میں کوئی مذہبی فتنہ باز اپنی اغراض کے ماتحت ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت کی ذرہ بھر پرواہ نہیں کرتی۔ بشرطیکہ یہ مدعی اسے اپنی اطاعت اور وفاداری کا یقین دلا دے اور اس کے پیرو حکومت کے محصول ادا کرتے رہیں۔
٦٥
اسلام کے حق میں اس پالیسی کا مطلب ہمارے شاعر عظیم اکبر نے اچھی طرح بھانپ لیا تھا۔ جب اس نے اپنے مزاحیہ انداز میں کہا۔
انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ
میں قدامت پسند ہندوؤں کے اس مطالبہ کے لئے پوری ہمدردی رکھتا ہوں جو انہوں نے نئے دستور میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف پیش کی ہے۔ یقیناً یہ مطالبہ مسلمانوں کی طرف سے پہلے ہونا چاہئے تھا جو ہندوؤں کے برعکس اپنے اجتماعی نظام میں نسلی تخیل کو دخل نہیں دیتے۔ حکومت کو موجودہ صورت حالات پر غور کرنا چاہئے اور اس اہم معاملہ میں جو قومی وحدت کے لئے اشد اہم ہے عام مسلمان کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہئے۔ اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے سوا چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدافعت کا کیا طریقہ ہے؟ اور وہ طریقہ یہی ہے کہ اصل جماعت جس شخص کو تلعب بالدین کرتے پائے اس کے دعاوی کو تحریر اور تقریر کے ذریعہ سے جھٹلایا جائے۔ پھر کیا یہ مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے۔ حالانکہ اس کی وحدت خطرہ میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ اگرچہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔
اگر کوئی گروہ جو اصل جماعت کے نقطہ نظر سے باغی ہے حکومت کے لئے مفید ہے تو حکومت اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے۔ دوسری جماعتوں کو اس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ توقع رکھنی بیکار ہے کہ خود جماعت ایسی قوتوں کو نظر انداز کر دے جو اس کے اجتماعی وجود کے لئے خطرہ ہیں۔ اس مقام پر یہ دہرانے کی غالباً ضرورت نہیں کہ مسلمانوں کے بے شمار مذہبی فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے پر الحاد کا فتویٰ ہی دیتے ہیں۔
ایک اور چیز بھی حکومت کی خاص توجہ کی محتاج ہے۔ ہندوستان میں مذہبی مدعیوں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مذہب سے عموماً بیزار ہونے لگتے ہیں اور بالآخر مذہب کے اہم عنصر کو ہی اپنی زندگی سے علیحدہ کر دیتے ہیں۔ ہندوستانی دماغ ایسی صورت میں مذہب کی جگہ کوئی اور بدل پیدا کرے گا جس کی شکل روس کی دہری مادیت سے ملتی جلتی ہوگی۔
(حرف اقبال ص ١٢١ تا ١٢٧)
٦٦
مہتمم مرکز تنظیم اہل سنت کی طرف سے مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ کو
غیر مشروط مناظرہ کا کھلا چیلنج
کبھی بھولے سے ہی آ جا مرے کاشانے میں
ہم مسیحیوں کو چیلنج کرتے ہیں نہ یہودیوں کو۔ ملحدوں کو دعوت مناظرہ دیتے ہیں نہ دہریوں کو۔ کیونکہ ان کا کفر مسلمہ ہے۔ وہ اپنے آپ کو غیر مسلم مانتے ہیں۔ مسلمان بھی انہیں غیر مسلم جانتے ہیں اور ان کی دعوت وتبلیغ کا شکار نہیں ہوتے۔ لیکن احمدی ہم انہیں روز اول سے برابر چیلنج کر رہے ہیں اور ہماری تخلیق کا مقصد ومنشا ہی براہین ودلائل سے ان کا ناطقہ بند کر دینا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اسلام کے رنگ وروپ میں دنیا کے سامنے آتے ہیں اور مسلمان بن کر صرف مسلمانوں کو مرتد کرنے سے نہیں شرماتے۔ نقاش پاکستان کے فکر اور رائے اور ملت اسلامیہ پاکستان کے متفقہ مطالبہ کے مطابق آج امت مرزائیہ ایک غیر مسلم اقلیت بن کر ہمارے سایہ عاطفت میں رہنے کا اعلان کردے۔ آج ہم انہیں چیلنج کرنا بند کردیں گے اور انہیں پاکستان میں انگریز کے ”ظل رحمت“ سے زیادہ مذہبی آزادی ہوگی۔
لیکن جب تک یہ اپنے غیر اسلامی قدوقامت پر اسلامی جامہ ولباس پہن کر آئیں گے اور احمدی بن کر محمدیوں کو متاع ایمان لوٹنے کی مردود وملعون کوشش سے باز نہیں آئیں گے تب تک امت مسلمہ اور ملت پاکستانیہ کا دینی اور تبلیغی نمائندہ ادارہ ”مرکز تنظیم اہل سنت“ برابر ان کے اسلام وایمان کو چیلنج کرتا رہے گا اور ان کا اخلاقی فرض ہوگا کہ ہماری موجودگی میں کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، ڈھاکہ یا پاکستان کے کسی دوسرے شہر یا قصبہ میں دنیا کے سامنے مرزا قادیانی اور اپنے اسلام وایمان کا ثبوت پیش کریں۔ (مدیر)
جناب میاں صاحب! آپ دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کو مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان نہ لانے کے جرم میں کافر مانتے ہیں۔ چنانچہ سرظفر اللہ خان نے کراچی میں دولت خداداد پاکستان کے بانی اور اپنے ذاتی محسن قائد اعظم مرحوم کا جنازہ نہ پڑھ کر مرزا قادیانی اور آپ کے اس فتویٰ پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ ہر وہ مسلمان جو قادیانی نبوت کا قائل نہیں ہے
٦٧
کافر ہے اور اس کا جنازہ نا جائز اور حرام ہے۔ خواہ وہ قائد اعظم ہی کیوں نہ ہو۔ یہ کفر واسلام کا سوال ہے اور اس پر آخرت کی نجات وفلاح کا انحصار ہے۔ اس لئے ہماری دلی خواہش ہے کہ ہم افہام وتفہیم سے اس مسئلہ کو اگر سلجھا سکتے ہیں تو سلجھائیں اور مسئلہ کی بنیاد مرزا قادیانی کے صدق وکذب پر باہم گفتگو کر لیں۔
کیا آپ مرکز تنظیم کی یہ مخلصانہ درخواست قبول فرمائیں گے؟
ہم کتاب اللہ ، سنت رسول اللہ ﷺ اور خود آپ کے لٹریچر سے یہ ثابت کردیں گے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت صحیح نہیں ہے اور آنحضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد ظلی ، بروزی ، پوری ، ادھوری ، لفظی ، معنوی ، وہبی ، کسبی ، تشریعی ، تنزیہی ہر قسم کی نبوت کا مدعی دجال و کذاب ہے اور اس پر ایمان لانے والے کافر ، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
اگر آپ ہماری یہ مخلصانہ دعوت قبول فرمائیں تو ”الفضل“ میں مقام تاریخ اور وقت کا اعلان فرمادیں اور ہمیں بھی مطلع کردیں تاکہ ہم بروقت مقام متعینہ پر پہنچ جائیں اور دنیا کے سامنے حق و باطل کو کھول کر رکھ دیں اور اگر آپ میں حق وصداقت کے مقابل آنے کی ہمت وجرأت نہ ہو تو پھر آپ کا اخلاقی فرض ہوگا کہ آپ اندھیری قبر اور روز محشر کا خیال کر کے بھولے بھالے مسلمان کو مرتد کرنے کی مہم ترک فرمادیں اور آپ نے اپنے ہر جماعتی کو بہر حال کم از کم ایک مسلمان کو مرزائی بنانے کا جو حکم دے رکھا ہے اسے واپس لے لیں۔
آپ کا خیر اندیش ، منتظر جواب، مہتمم ”مرکز تنظیم اہل سنت“ چوک جھنڈا (لوہاری دروازہ) لاہور!
ختم نبوت ایک ایسا مہتم بالشان مسئلہ اور اسلام کا اصل الاصول ہے کہ آنحضرت سید المرسلین ﷺ کے ساتھ دوسرے انبیاء ورسول اور خیر امت کے ساتھ سابقہ اقوام وامم اور زندوں کے ساتھ مردوں اور صاحب نطق وبیان انسانوں کے ساتھ بے زبان حیوانوں نے بھی اس کی شہادت دی۔ اس حقیقت کے پیش نظر اگر یہ کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ اسلام اور ایمان کے بنیادی مسائل وعقائد میں کوئی مسئلہ اور عقیدہ اس قدر سے زیادہ ظاہر وباہر زیادہ واضح ومبرہن زیادہ روشن وتابناک اور زیادہ اجماعی اور متفق علیہ نہیں جس قدر مسئلہ ختم نبوت۔
امت محمدیہ اور ملت اسلامیہ کا مسلمہ الکل، متفق علیہ اور اجماعی عقیدہ ختم نبوت
از: مولانا سید نور الحسن بخاری
ختم نبوت کا مسلمہ الکل مسئلہ کم از کم ١٠٢ آیات کریمہ اور دوسو دس احادیث نبویہ سے
٦٨
ثابت ہے۔ حضرت استاذی مفتی محمد شفیع صاحب سابق مفتی ”ختم نبوت فی القرآن“ میں یہ ١٠٢ آیات قرآنیہ پیش کر غور وتفتیش سے کام لیا جائے تو جس قدر آیات اس وقت پیش جمع ہوسکتی ہیں۔ لیکن احقر نے استیعاب کا قصد نہیں کیا ۔“
اسی طرح ”ختم نبوت فی الحدیث“ میں ٢١٠ احاد لکھتے ہیں: ”احادیث نبویہ کا غیر محصور دفتر جو اس مسئلہ میں دشوار بلکہ اس وقت تو عادۃً غیر ممکن ہے۔ لیکن اس میں سے تقرـ کتب احادیث کے مختصر ذخیرہ میں ناقص تتبع کے ساتھ سامنـ پھر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے بعد دین کا یہ بنیادی عقیـ اپنے ثبوت میں رکھتا ہے۔“
حضرت مفتی صاحب ممدوح نے ”ختم النبوۃ“ فاروق اعظمؓ اور حضرت علیؓ سے لے کر حضرت ابوقلابہؓ صحاب امام بخاری ، امام مسلم سے لے کر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ ائمہ تفسیر والحدیث امام طبریؒ ، امام راغب اور امام ابن کثیرؒ وغیرہ تک (٢٦) چھبیس مفسرین حضرات اور ائمہ الاحناف میں ، صاحب بحر الرائق ، فتاویٰ عالمگیری وغیرہ دس مشاہیـ نیز حجۃ الاسلام ، امام غزالی سے حضرت شاہ عبد العزیـ محدث اور امام الاولیا حضرت عبدالقادر جیلانی ، مولانا جامـ عربی ، امام العارفین حضرت مجدد الف ثانی وغیرہ اعاظم صوفیـ نمونہ بعض حضرات کے ارشادات ومقالات پیش کئے ہیـ ثابت ہو جاتا ہے کہ امت کے ہر طبقہ کے اکابر وعمائد کا اس مسئلـ کا منکر بالاجماع کافر ، مرتد اور واجب القتل ہے۔
سابق انبیاء علیہم السلام اور ان کی امتوں کی شہاد
پھر اس خیر امت کی اجماعی شہادت پر بس نہیں تورات وانجیل وغیرہ سے انبیاء سابقین علیہم السلام اور ان کی امتوں کی عبارات ص ٢٣ تا ٤١ پر نقل کی گئی ہیں جن میں سے بطور نمونـ
٦٩
ثابت ہے۔ حضرت استاذی مفتی محمد شفیع صاحب سابق مدرس ومفتی دارالعلوم دیوبند اپنی تالیف ”ختم نبوت فی القرآن“ میں یہ ١٠٢ آیات قرآنیہ پیش کر کے تحریر فرماتے ہیں کہ: ”اگر پورے غور و تفتیش سے کام لیا جائے تو جس قدر آیات اس وقت پیش کی گئی ہیں ان سے بہت زیادہ آیات جمع ہو سکتی ہیں۔ لیکن احقر نے استیعاب کا قصد نہیں کیا۔“
اسی طرح ”ختم نبوت فی الحدیث“ میں ٢١٠ احادیث صحیح نقل کرتے ہوئے صفحہ اوّل پر لکھتے ہیں: ”احادیث نبویہ کا غیر محصور دفتر جو اس مسئلہ میں منقول ہے اس کا استیعاب تو نہایت دشوار بلکہ اس وقت تو عادۃً غیر ممکن ہے۔ لیکن اس میں سے جس قدر حصہ اس تھوڑے وقت میں اور کتب احادیث کے مختصر ذخیرہ میں ناقص تتبع کے ساتھ سامنے آیا ہے اس کو حوالہ قلم کیا جاتا ہے۔ پھر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے بعد دین کا یہ بنیادی اور جوہری مسئلہ اجماع امت کی سند بھی اپنے ثبوت میں رکھتا ہے۔“
حضرت مفتی صاحب ممدوح نے ”ختم النبوۃ فی الآثار“ میں حضرت صدیق اکبرؓ، فاروق اعظمؓ اور حضرت علیؓ سے لے کر حضرت ابو طفیلؓ تک ١٨٠ جلہ صحابہ کرامؓ اور امام المحدثین امام بخاری، امام مسلم سے لے کر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ تک (٦٨) ائمہ محدثین عظام اور امام التفسیر والحدیث امام طبری، امام راغب اور امام ابن کثیر سے لے کر حضرت شاہ عبدالقادر دہلوی وغیرہ تک (٢٦) جلیل القدر مفسرین حضرات اور امام الاحناف ملا علی قاریؒ، امام الشوافع علامہ ابن حجر مکی، صاحب بحرالرائق، فتاویٰ عالمگیری وغیرہ دس مشاہیر فقہاء، علامہ تفتازانی، علامہ سیوطی، امام ابن ہمام حجۃ الاسلام، امام غزالی سے حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی تک (١٨) اٹھارہ اکابر متکلمین اسلام اور امام الاولیا حضرت عبدالقادر جیلانی، مولانا جامی عارف باللہ، شیخ اکبر محی الدین ابن عربی، امام العارفین حضرت مجدد الف ثانیؒ وغیرہ اعاظم صوفیائے امت کے اسمائے گرامی اور بطور نمونہ بعض حضرات کے ارشادات و مقالات پیش کئے ہیں جن سے روز روشن سے زیادہ ثابت ہو جاتا ہے کہ امت کے ہر طبقہ کے اکابر و عمائد کا اس مسئلہ پر ہمیشہ اجماع رہا ہے اور ختم نبوت کا منکر بالاجماع کافر، مرتد اور واجب القتل ہے۔
سابق انبیاء علیہم السلام اور ان کی امتوں کی شہادت
پھر اس خیر امت کی اجماعی شہادت پر بس نہیں بلکہ اس مسئلہ عظیم پر کتب قدیمہ، تورات وانجیل وغیرہ سے انبیاء سابقین علیہم السلام اور ان کی امتوں کی پے در پے شہادتیں مع حوالہ ”ختم النبوۃ فی الآثار“ ص ٢٣ تا ٤١ پر نقل کی گئی ہیں جن میں سے بطور نمونہ چند ہم یہاں پیش کرتے ہیں۔
٦٩
- ١...... "قال موسى يارب انی اجد فی الالواح امة هم الآخرین فی الخلق
السابقون فی دخول الجنة رب اجعلهم امتی قال تلک امة محمد ﷺ" (تفسیر ابن جریر طبری ودلائل النبوة محدث ابونعیم ص١٤) ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں الواح تورات میں ایک ایسی امت دیکھتا ہوں جو پیدائش میں سب سے آخری ہے اور دخول جنت میں سب سے مقدم۔ اے میرے رب ان کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ تو محمد ﷺ کی امت ہے۔“
- ٢...... حضرت کعبؓ احبار فرماتے ہیں کہ میرے والد تورات اور اس کلام پاک کے سب سے
زیادہ عالم تھے۔ جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا اور جو کچھ جانتے تھے مجھ سے کچھ نہ چھپاتے تھے۔ جب ان کی وفات قریب آئی تو مجھے بلایا اور کہا: ”بیٹا تم جانتے ہو کہ جو کچھ علم مجھے حاصل تھا میں نے تم سے کچھ نہیں چھپایا۔ مگر دو ورق ابھی تک میں نے تم پر ظاہر نہیں کئے تھے۔ جن میں ایک نبی کا ذکر ہے جن کی بعثت کا زمانہ قریب آ گیا ہے۔ میں نے مناسب نہ سمجھا کہ تمہیں پہلے سے اس پر مطلع کر دوں۔ کیونکہ خطرہ تھا کہ کوئی کذاب اٹھے اور تم اس کو نبی موعود سمجھ کر اطاعت شروع کر دو اور ان دونوں ورقوں کو میں نے اس طاق میں جسے تم دیکھ رہے ہو گارے سے بند کر دیا۔ کعب احبارؓ نے (اس کا ایک طویل دلچسپ قصہ لکھنے کے بعد) فرمایا کہ میں نے یہ دو ورق اس طاق سے نکالے تو ان میں یہ کلمات بھی لکھے تھے۔“
"محمد رسول الله خاتم النبیین لا نبی بعدہ (رواہ ابونعیم درمنثور ص ١٢٣، ج٣) ”محمد (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
- ٣...... حضرت مغیرہؓ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور ابن مالک شاہ روم (عیسائی)
مقوقس کے یہاں پہنچے...... اس نے دین محمدی کے متعلق پوچھا۔ ہم نے کہا کہ ہم میں سے کسی نے بھی ان کی دعوت قبول نہیں کی ...... اگر تمام انسان بھی ان کے دین میں داخل ہو جائیں تب بھی ہم داخل نہ ہوں گے۔ یہ سن کر مقوقس نے نفرت سے سر ہلا کر کہا تم لہو ولعب میں ہو...... اور وہ (نبی کریم) اور حضرت مسیح علیہ السلام تمام انبیاء سابقین علیہم السلام کی طرح ہیں......
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ہم ان کے پاس سے (متاثر ہو کر) اٹھے...... اس کے بعد میں اسکندریہ میں مقیم رہا اور کوئی کلیسا (گرجا) نہیں چھوڑا۔ جس میں جا کر میں نے وہاں کے قبطی اور رومی پادریوں سے دریافت نہ کیا ہو کہ تم محمد ﷺ کی کیا کیا صفات اپنی کتابوں میں پاتے ہو۔
کنیسہ ابی غنی میں ایک بڑا مشہور پادری تھا۔ دعا پڑھانے کے لئے اس کے پاس لاتے تھے اور میں وخضوع سے پڑھتا تھا۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ
"اخبرنی هل بقی احد من الانب امرنا عیسی باتباعہ وھو نبی الامی الـ والابالقصير فی عینیہ حمرة (الحدیث، دلـ
مجھے بتاؤ کہ کیا انبیاء میں سے کوئی نبی باقی ہیں۔ اسـ حضرت عیسیٰ نے ہمیں ان کے اتباع کا حکم فرمایا ہے۔ نـ دراز قد ہیں نہ پست قد۔ (بلکہ درمیانہ) ان کی آنکھوں اوصاف بیان کئے)“
حضرت مغیرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اسـ کلمات عموماً یاد رکھے اور پھر آنحضرت ﷺ کی خدمت اسلام ہو گیا۔
- ٤...... امام شعبیؒ فرماتے ہیں کہ صحیفہ ابراہیم میں لکـ
وشعوب حتی یاتی النبی الامی الذی یـ للسيوطی ص٩ ج١) ”آپ کی اولاد میں قبائل ایسی آ جائیں جو خاتم الانبیاء ہوں گے۔“
- ٥...... اور امام بیہقی بروایت عمرو ابن الحکم نقل فرمـ
محفوظ چلا آتا تھا جو جاہلیت میں نسلاً بعد نسل وراثت ظاہر ہوا۔ پھر جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ پڑھوایا گیا تو اس میں یہ عبارت لکھی تھی
"بسم الله وقولہ الحق ہـا یخوضون البحار الی اعدائہم فیہ الصلو کے نام پر شروع ہے اور اس کا قول حق ہے۔ یہ ذکـ دشمنوں کے مقابلے کے لئے دریاؤں میں گھس پڑیـ
٧١
کنیسہ ابی غنی میں ایک بڑا مشہور پادری تھا۔ جس کو متبرک سمجھ کر لوگ اپنے مریضوں پر دعا پڑھانے کے لئے اس کے پاس لاتے تھے اور میں دیکھتا تھا کہ وہ پانچ نمازیں نہایت خشوع وخضوع سے پڑھتا تھا۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ:
"أخبرنى هل بقى احد من الانبياء قال نعم وهو آخر الانبياء قد امرنا عيسى باتباعه وهو نبى الامى العربى اسمه احمد ، ليس بالطويل والا بالقصير فى عينيه حمرة (الحديث، رواه ابونعيم فى الدلائل ص ٢٠، ٢١) “
﴿مجھے بتاؤ کہ کیا انبیاء میں سے کوئی نبی باقی ہیں۔ اس نے کہا ہاں! اور وہی آخرالانبیاء ہیں ...... حضرت عیسیٰ نے ہمیں ان کے اتباع کا حکم فرمایا ہے۔ وہ نبی امی عربی ہیں۔ ان کا نام احمد ہے۔ نہ دراز قد ہیں نہ پست قد۔ (بلکہ درمیانہ) ان کی آنکھوں میں سرخی ہے (اس کے بعد اور بہت سے اوصاف بیان کئے)﴾
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کلام کو خصوصاً اور دوسرے پادریوں کے کلمات عموماً یاد رکھے اور پھر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام واقعہ سنایا اور مشرف بہ اسلام ہو گیا۔
- ٤....... امام شعبیؒ فرماتے ہیں کہ صحیفہ ابراہیم میں لکھا ہے: ”انه كائن من ولدك شعوب
وشعوب حتّى ياتى النبى الامى الذى يكون خاتم الانبياء (خصائص كبرىٰ للسيوطى ص ٩ ج ١) “ ﴿آپ کی اولاد میں قبائل در قبائل ہوتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ نبی امی آجائیں جو خاتم الانبیاء ہوں گے۔﴾
- ٥....... اور امام بیہقی بروایت عمرو ابن الحکم نقل فرماتے ہیں کہ میرے آباؤ اجداد سے ایک ورق
محفوظ چلا آتا تھا جو جاہلیت میں نسلاً بعد نسل وراثت میں منتقل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ دین اسلام ظاہر ہوا۔ پھر جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف فرما ہوئے تو لوگ یہ ورق آپ کی خدمت میں لے آئے۔ پڑھوایا گیا تو اس میں یہ عبارت لکھی تھی۔
"بسم الله وقوله الحق هذا الذكر لامة تاتى فى آخرالزمان يخوضون البحار الى اعدائهم فيه الصلوٰة (خصائص كبرىٰ ج ١ ص ١٦) “ ﴿اللہ کے نام پر شروع ہے اور اسی کا قول حق ہے۔ یہ ذکر اس امت کا ہے جو آخر زمانہ میں آئے گی وہ دشمنوں کے مقابلے کے لئے دریاؤں میں گھس پڑیں گے اور ان میں نماز ہوگی۔﴾
٧١
جب یہ ورق آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پڑھا گیا تو اس کے مضمون کو سن کر آپ ﷺ خوش ہوئے۔
- ٦ ...... اور زید ابن عمرو ابن نفیل جو علمائے اہل کتاب میں سے تھے اور آنحضرت ﷺ سے
پہلے وفات پاگئے۔ نبی کریم ﷺ کے حالات وصفات بیان کرتے تھے۔ ایک دفعہ فرمایا: ”میں دین ابراہیم علیہ السلام کی طلب میں تمام شہروں میں پہنچا اور یہود و نصاریٰ اور مجوس میں جس کسی سے پوچھتا تھا یہی جواب دیتا تھا کہ یہ دین تم سے آگے آنے والا ہے اور وہ نبی کریم ﷺ کے وہی اوصاف بیان کرتے تھے جو میں نے تم سے بیان کئے ہیں۔ ”ويقولون لم يبق نبی غیرہ“ اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ان کے سوا کوئی نبی باقی نہیں رہا۔“
(خصائص کبریٰ ص ٢٥، ج ١)
- ٧ ...... امام حدیث بیہقی اور طبرانی اور ابونعیم اور خرائطی خلیفہ ابن عبدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ
میں نے ایک دن محمد ابن عبدی ابن ربیعہ سے پوچھا کہ زمانہ جاہلیت میں تمہارے باپ نے تمہارا نام محمد کیسے رکھ دیا۔
انہوں نے جواب دیا کہ جو بات تم نے مجھ سے دریافت کی ہے میں نے خود اپنے والد سے دریافت کی۔ انہوں نے اس کا یہ واقعہ سنایا: ”کہ قبیلہ بنی تمیم سے ہم چار آدمی شام کے سفر کے لئے نکلے۔ جن میں ایک میں تھا اور دوسرے سفیان ابن مجاشع، ابن اسید اور تیسرے یزید ابن عمرو بن ربیعہ اور چوتھے اسامہ ابن مالک ابن خندف۔ جب ہم ملک شام میں پہنچے تو ایک تالاب پر اترے جس کے کنارے پر درخت کھڑے تھے۔ ہمیں دیکھ کر ایک پادری ہمارے پاس آیا اور پوچھا کہ تم کون لوگ ہو؟“
ہم نے کہا: ”کہ قبیلہ مضر کی ایک جماعت ہے۔“
اس نے کہا: ”تمہارے قبیلہ میں عنقریب ایک نبی مبعوث ہوگا تو ان کی طرف جلد پہنچو اور اپنا حصہ دین ان سے لو۔ تم ہدایت پاؤ گے۔ ”فانہ خاتم النبیین“ کیونکہ وہ آخری نبی ہے۔“
ہم نے پوچھا: ”کہ ان کا نام کیا ہے؟“ انہوں نے محمد بتایا۔
جب ہم وہاں سے واپس آئے تو اتفاقاً چاروں کے چار لڑکے پیدا ہوئے۔ ہم میں سے ہر ایک نے اپنے لڑکے کا نام اسی طرح پر محمد رکھ دیا کہ شاید وہی نبی ہو جائیں۔
(خصائص کبریٰ ج ١ ص ٢٣)
٧٢
- ٨ ...... ابن سعد محمد ابن کعب قرظی سے روایت
علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی : ”اني ابعث من النبی الحرمی ....... هو خاتم الانبياء واس میں آپ ﷺ کی ذریت میں بادشاہ اور انبیاء پیدا ہوں ...... وہ خاتم الانبیاء ہوں گے اور ان کا نام احمد ہو
ایک فوق العادت واقعہ، مردہ کی شہادت
اس سلسلہ میں ایک حیرت انگیز اور سبق آموز نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ: ”زید ابن خارجہ انصاری مدینہ طیبہ کے بازاروں میں پیدل چل رہے تھے کہ انصار کو اس کی خبر ہوئی تو ان کو وہاں سے اٹھایا اور گھر میں کچھ انصاری عورتیں تھیں جو ان کی وفات پر گریہ طرح پر جب مغرب و عشاء کا درمیانی وقت آیا تو ان رہو۔“ لوگوں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ آواز اس ہے۔ یہ دیکھ کر لوگوں نے ان کا منہ کھول دیا۔ اس وقت والا یہ کہتا ہے کہ ”محمد رسول الله النبی ذلك فى الكتاب الاول صدقها، صدقه انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔ آپ کے بعد کوئی توریت، انجیل وغیرہ میں موجود ہے۔ سچ کہا، سچ کہا
جنگلی جانوروں کی شہادت
یہاں ایک اور بصیرت آموز اور عبرت حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بیہقی ابونعیم، ابن عساکر، خصائص کبریٰ، سیوطی ج ٢ ص نے ایک اعرابی کو دعوت اسلام دی تو اس نے کہا۔ پر ایمان نہ لاؤں گا۔ آپ نے گوہ سے خطاب فرمایا کہ
٧٣
- ٨...... ابن سعد محمد ابن کعب قرظی سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب
علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی : ”انی ابعث من ذریتک ملوکاً وانبیاء حتى البعث النبی الحرمی ...... هو خاتم الانبیاء واسمه احمد (خصائص کبریٰ ص ٩ ج ١) “ ﴿میں آپ ﷺ کی ذریت میں بادشاہ اور انبیاء پیدا کروں گا۔ یہاں تک کہ حرم والے نبی مبعوث ہوں ..... وہ خاتم الانبیاء ہوں گے اور ان کا نام احمد ہوگا۔﴾
ایک فوق العادت واقعہ، مردہ کی شہادت
اس سلسلہ میں ایک حیرت انگیز اور سبق آموز واقعہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ : ”زید ابن خارجہ انصار کے سرداروں میں سے تھے۔ ایک روز وہ مدینہ طیبہ کے بازاروں میں پیدل چل رہے تھے کہ یکا یک زمین پر گر پڑے اور فوراً وفات پا گئے۔ انصار کو اس کی خبر ہوئی تو ان کو وہاں سے اٹھایا اور گھر لائے اور چاروں طرف سے ڈھانپ دیا۔ گھر میں کچھ انصاری عورتیں تھیں جو ان کی وفات پر گریہ وزاری میں مبتلا تھیں اور کچھ مرد جمع تھے۔ اس طرح پر جب مغرب وعشاء کا درمیانی وقت آیا تو اچانک ایک آواز سنی گئی کہ : ”چپ رہو! چپ رہو۔“ لوگوں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ آواز اسی چادر کے نیچے سے آرہی ہے جس میں میت ہے۔ یہ دیکھ کر لوگوں نے ان کا منہ کھول دیا۔ اس وقت دیکھا کہ زید ابن خارجہ کی زبان سے کہنے والا یہ کہتا ہے کہ ”محمد رسول الله النبى الامى خاتم النبيين لا نبي بعده كان ذلك في الكتاب الاول صدّقها، صدقها “ یعنی محمد اللہ کے رسول ہیں اور نبی امی ہیں جو انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ یہی مضمون کتاب الاوّل یعنی توریت، انجیل وغیرہ میں موجود ہے۔ سچ کہا، سچ کہا۔“
(ختم نبوت فی الآثار)
جنگلی جانوروں کی شہادت
یہاں ایک اور بصیرت آموز اور عبرت انگیز واقعہ بھی سن لیجئے۔ حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ ، حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بیہقی، طبرانی، اوسط طبرانی صغیر، ابن عدی، حاکم، ابونعیم، ابن عساکر، خصائص کبریٰ، سیوطی ج ٢ ص ٦٥ میں ایک روایت منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک اعرابی کو دعوت اسلام دی تو اس نے کہا۔ جب تک یہ گوہ آپ پر ایمان نہ لائے میں آپ پر ایمان نہ لاؤں گا۔ آپ نے گوہ سے خطاب فرمایا کہ بتلا میں کون ہوں؟
٧٢
گوہ نے نہایت بلیغ عربی زبان میں جس کو ساری مجلس سنتی تھی کہا: ”لبيك وسعديك يا رسول الله رب العالمين “یعنی اے رب العالمین کے سچے رسول میں حاضر ہوں اور آپ کی اطاعت کرتی ہوں......
آپ نے پھر فرمایا: ”فمن انا قالت انت رسول رب العالمين وخاتم النبيين “میں کون ہوں؟ گوہ نے جواب دیا کہ آپ پروردگار عالم کے سچے رسول ہیں اور انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔
الغرض ختم نبوت ایک ایسا مہتم بالشان مسئلہ اور اسلام کا اصل الاصول ہے کہ آنحضرت سیدالمرسلین ﷺ کے ساتھ دوسرے انبیاء ورسل اور خیر امت کے ساتھ سابقہ اقوام وامم اور زندوں کے ساتھ مردوں اور صاحب نطق وبیان انسانوں کے ساتھ بے زبان حیوانوں نے بھی اس کی شہادت دی ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر اگر یہ کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ اسلام اور ایمان کے بنیادی مسائل وعقائد میں کوئی مسئلہ اور عقیدہ اس قدر زیادہ ظاہر وباہر زیادہ واضح ومبرہن زیادہ روشن وتابناک اور زیادہ اجماعی اور متفق علیہ نہیں جس قدر مسئلہ ختم نبوت۔
اب ایک ایسے مسئلہ کا جس کا اقرار جنگل کی گوہوں تک کو ہے۔ جب قادیان کے متنبئ نے انکار کیا تو انہوں نے کئی پینترے بدلے۔ کئی جھوٹ بولے۔ کئی پاپڑ بیلے۔ مگر جب کامیابی کی کوئی صورت بنتی نظر نہ آئی تو آخر حربہ ظل اور بروز کا اختیار کیا جو بظاہر نظر فریب اور زہر برنگ تریاق ہے اور بہت سے کم نظر اور سادہ وبے خبر مسلمان اس کا شکار ہو کر متاع ایمان لٹا چکے ہیں۔
اس لئے ہم پھر کبھی اس مسئلہ کو ہر پہلو سے مفصل زیر بحث لا کر اس کا بطلان اظہر من الشمس کرنے کی سعی کریں گے۔ ” وما توفيقي الا بالله العلى العظيم “
تنظیم اہل سنت
طالوت!
ذرية البغايا کل تک تھا نام جن کا آج ان کی چاپلوسی کیوں ہو گئی ضروری
ابله فریبیاں ہیں سب لیڈری کی باقی مرکز کو چھوڑ آیا گو قادیاں کا نوری
ہے خون میں خوشامد گھٹی میں ہے تملق باپو تھا جی جناب بیٹا ہے جی حضوری
٧٤
لاہور کا سقر ہی محمود کا مقر ہے ہاتھوں
اب مقبرہ بھی کوئی پھر دوزخی بنائیں قبر ا
مصری کی چاشنی ہی مکھی کو کھینچ لائی درز
چندوں کی سب اپیلیں ہیں حرص کی دلیلیں قاد
باد صبا سے دیکھیں اب ہم نفس
نزدیک آگئے ہیں خلیفہ
بکر و ثیب (کنواری اور بیوہ) مرزا قا
حضرت مجدد وقت کی
مرزا غلام احمد قادیانی
از : فاتح قادیا
مرزا غلام احمد نے خشکی پر اپنی نبوت کی کشتی سچی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس کشتی کو اپنے چپو کا مقام بھی نبوت سے کچھ کم نہیں۔ بعض مقامات پر تو بڑھ گئے ہیں اور ایسے مشکل وقت میں جب کہ میر بحر نے محض اپنے چپو کے زور سے ناؤ کو پار لگا دیا۔ ”بکر خطرناک مقاموں میں سے ایک ہے۔ جہاں سے خ چپو باز اس کی مدد کو بروقت نہ پہنچ جاتے۔ مدعی نبوت والی شادی کے بعد بھی فرمارہے ہیں کہ: ”مقدر پورا ایک بیوہ سے، میں اس الہام کو یاد رکھتا ہوں۔ مجھے نشان تھا۔ جس کا ایک حصہ اس نے دیکھ لیا اور دو وقت میں دیکھ لے گا۔“ یعنی میر بحر تو بکر (حضرت ام المومنین رہے۔ مگر۔
٧٥
لاہور کا سقر ہی محمود کا مقر ہے ہاتھوں سے چھن گئے جب ڈلہوزی و مسوری
اب مقبرہ بھی کوئی پھر دوزخی بنائیں قبروں کا بیچنا ہے جب دین میں ضروری
مصری کی چاشنی ہی مکھی کو کھینچ لائی ورنہ اسے گوارا مرکز سے کب تھی دوری
چندوں کی سب اپیلیں ہیں حرص کی دلیلیں قانع بھلا ہو کیوں کر خواہش کی ناصبوری
باد صبا سے دیکھیں اب ہمنفس ہوں گل کب نزدیک آگئے ہیں غلمانیوں کے حوری
بکر و ثیب (کنواری اور بیوہ) مرزا قادیانی کی ایک پیش گوئی
حضرت مجدد وقت کی صداقت
مرزا غلام احمد قادیانی ...... اپنی زبانی
از: فاتح قادیان حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر !
مرزا غلام احمد نے خشکی پر اپنی نبوت کی کشتی چلائی۔ ان کی ہمت قابل داد ہے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس کشتی کو اپنے چپو کے زور سے کنارے لگانے کی کوشش کی ان کا مقام بھی نبوت سے کچھ کم نہیں۔ بعض مقامات پر تو یہ چپو مار کھیون ہار خود میر بحر سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں اور ایسے مشکل وقت میں جب کہ میر بحر کے اوسان خطا ہو گئے تھے ان کھیون ہاروں نے محض اپنے چپو کے زور سے ناؤ کو پار لگا دیا۔ ”بکر و ثیب“ کنواری اور بیوہ کا مقام بھی ان چند خطرناک مقاموں میں سے ایک ہے۔ جہاں سے نبوت کی کشتی صحیح سلامت نہ نکل سکتی۔ اگر یہ چپو باز اس کی مدد کو بر وقت نہ پہنچ جاتے۔ مدعی نبوت تو حضرت ام المؤمنین (معاذ اللہ) کی دہلی والی شادی کے بعد بھی فرما رہے ہیں کہ : ”مقدر یوں ہے کہ ایک بکر سے شادی ہوگی اور پھر بعدہ ایک بیوہ سے، میں اس الہام کو یاد رکھتا ہوں۔ مجھے امید نہیں محمد حسین نے بھلا دیا ہو ...... یہ خدا کا نشان تھا۔ جس کا ایک حصہ اس نے دیکھ لیا اور دوسرا حصہ جو ثیب بیوہ کے متعلق ہے دوسرے وقت میں دیکھ لے گا۔“
یعنی میر بحر تو بکر (حضرت ام المؤمنین) کے بعد برابر ثیب کی راہ میں چشم براہ رہے۔ مگر
٧٥
اگر وہ جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
الہام غلط ثابت ہوا۔ خدا کا نشان ظاہر نہ ہوا۔ مرزا قادیانی کی نبوت کا بیڑا ڈوبنے لگا تو اہل چوہڑاں پہنچے اور انہوں نے یہ چپو مار کر اس بیڑے کو ڈوبنے سے بچالیا کہ: ”یہ الہام الٰہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المؤمنین کی ذات میں ہی پورا ہوا۔ جو بکر آئیں اور ثیب رہ گئیں گویا اس الہام الٰہی کا مفہوم نہ الٰہی سمجھا سکا نہ نبی سمجھ سکا۔ اگر سمجھا تو برخوردار خلیفوں نے اور وہ بھی باپ کے انتقال کے بعد۔ سچ ہے۔ اگر پدر نتواند پسر تمام کند!“
کاش! کہ یہ بدھو چپو باز دنیا کو بدھو بنانے کی کوشش نہ کرتے۔ کاش کہ وہ یہ حقیقت جان لیتے کہ اس طرح وہ دنیا کو فریب دینے کی ناکام کوشش کر کے خود فریب کھا رہے ہیں اور دنیا کو بدنام اور ناکام نبوت پر ہنسنے اور مضحکہ اڑانے کے مزید مواقع بہم پہنچا رہے ہیں۔ (مدیر)
مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کو پرکھنے کے لئے کسی علمی بحث کی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی صداقت جانچنے کے لئے علمی حقائق، فلسفیانہ دلائل منطقی الجھنوں اور صرفی ونحوی بحثوں سے ہمیں بے نیاز کر دیا ہے۔ جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:
- الف ...... ”تورات اور قرآن نے بڑا ثبوت نبوت کا صرف پیش گوئیوں کو قرار دیا ہے۔“
(رسالہ استثناء ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ١١١)
- ب ...... ”سو پیش گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں۔ کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں
ہو۔ بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیش گوئیوں کے وقت کا انتظار کرے۔“
(شہادت القرآن ص ٨٠، ٨١، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥، ٣٧٦)
- ج ...... ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک
امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
- د ...... ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی ...... پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“
(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)
- ہ ...... ”کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ چڑھ کر رسوائی
ہے۔“
(تریاق القلوب ص ١٧، خزائن ج ١٥ ص ٣٨٢)
٧٦
مرزا قادیانی کی ان تحریرات نے فیصلہ کر دیا کہ ان کے صدق و کذب کی شناخت کا سب سے بڑا معیار ان کی پیش گوئیاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنی ہر تصنیف میں اپنے نشانات، کرامات اور معجزات کے بے سرے راگ ہمیشہ ہی الاپتے رہے اور یہاں تک لکھ دیا کہ: ”خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھائے ہیں کہ وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی نبوت بھی ان سے ثابت ہو سکتی ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
علیٰ وجہ البصیرت ہمارا دعویٰ ہے جس کی تردید قیامت تک امت مرزائیہ نہیں کر سکتی کہ مرزا قادیانی کی تمام تصانیف پڑھ لی جائیں تو سوائے فٹ بال کی طرح گول مول اور اٹ سنٹ پیش گوئیوں کے کسی نشان کسی کرامت اور کسی معجزے کا پتہ نہیں چلتا۔ لطف یہ ہے کہ قادیانی پیش گوئیوں کے الفاظ بھی موم کی ناک کی طرح ہیں۔ جدھر چاہو الٹ پھیر دو اور جب تک انہیں تاویلات باطلہ کے شکنجے میں نہ جکڑ دیا جائے وہ کسی واقعہ پر چسپاں نہیں ہو سکتے۔ ہماری تحقیقات کا نتیجہ ہے کہ مرزا قادیانی کی کوئی تحدیانہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ جتنی تحدی سے کوئی پیش گوئی کی گئی۔ اتنی ہی صراحت سے وہ غلط نکلی۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣) پر اپنی پیش گوئیوں اور نشانات کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ لکھی ہے۔ اس کے بعد کی پیش گوئیوں کا سلسلہ شیطان کی آنت سے بھی دراز تر ہوتا چلا گیا۔ مرزا قادیانی کی تمام پیش گوئیوں کی دھجیاں اڑانے کے لئے ضخیم کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔
ہم پیش نظر اشاعت میں مرزا قادیانی کی عظیم الشان اور تحدیانہ پیش گوئی بکر و ثیب کے چہرے سے اس لئے نقاب اٹھاتے ہیں کہ علماء اہل سنت والجماعت آج تک اسے منظر عام پر نہیں لائے۔ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”تقریباً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ مجھے کسی تقریب پر مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ ”اشاعۃ السنۃ“ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اس کو یہ الہام سنایا۔ جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا اور وہ یہ ہے۔ ”بکر و ثیب“ جس کے یہ معنی ہیں جو ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ خدائے تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا اور ایک بکر (کنواری عاقلہ) ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے
٧٧
متعلق تھا پورا ہو گیا اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کا انتظار ہے۔“
(تریاق القلوب ص٤٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٠١)
یہ الہام ١٨٨١ء کا ہے۔ جس میں مرزا قادیانی کو بشارت دی گئی اور ان سے وعدہ کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ دو عورتیں تیرے نکاح میں لائے گا۔ ایک کنواری اور دوسری بیوہ۔ بقول مرزا کنواری کا الہام پورا ہو گیا۔ نکاح بیوہ کے الہام کا انتظار ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کا کسی بیوہ سے نکاح نہ ہوا اور وہ اس انتظار اور حسرت کو اپنے ساتھ قبر میں لے گئے۔ کسی بیوہ کے ساتھ نکاح کی ناکامی نے قطعی فیصلہ کر دیا کہ بیوہ کے نکاح کا الہام شیخ چلی کی گپ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ مرزائی اس پیش گوئی کی الٹی سیدھی تاویل کرنے کے لئے کسی شرط کا بہانہ بھی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا الہام اور پیش گوئی کی تشریح بتا رہی ہے کہ پیش گوئی بلا شرط ہے۔ نہ ہی بیوہ کے نکاح کے الہام کو محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی پر چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ ١٨٨١ء کا الہام ہے۔ اس وقت مرزا قادیانی اور محمدی بیگم صاحبہ کے نکاح کا قصہ ہی شروع نہ ہوا تھا جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے تحریر کیا ہے۔
”اسی طرح شیخ محمد حسین بٹالوی کو حلفاً پوچھنا چاہئے کہ کیا یہ قصہ صحیح نہیں کہ یہ عاجز اس شادی سے پہلے جو دہلی میں ہوئی۔ اتفاقاً اس کے مکان پر موجود تھا۔ اس نے سوال کیا کہ کوئی الہام مجھ کو سناؤ۔ میں نے ایک تازہ الہام جو انہی دنوں میں ہوا تھا اور اس شادی اور اس کی دوسری جزو پر دلالت کرتا تھا اس کو سنایا اور وہ یہ تھا۔ بکر وثیب یعنی مقدر یوں ہے کہ ایک بکر سے شادی ہوگی اور پھر بعدہ ایک بیوہ سے۔ میں اس الہام کو یاد رکھتا ہوں۔ مجھے امید نہیں کہ محمد حسین نے بھلا دیا ہو۔
لے یہ بھی غلط ہے کہ کنواری کے نکاح کا الہام پورا ہو گیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے: ”دو جزوں میں سے ایک جزو باطل ہو جائے تو وہ اس بات کی مستلزم ہوئی کہ دوسرا جزو بھی باطل ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٧، خزائن ج ١٩ ص ١٣٧)
جب بیوہ کے نکاح کا الہام صریح جھوٹ نکلا تو بقول مرزا غلام احمد قادیانی کنواری کے نکاح کا الہام بھی غلط ثابت ہوا۔ کیونکہ ایک جزو باطل ہونے سے دوسرا جزو خود بخود باطل ہو گیا۔
کھٹکتی خار بن کر ہے مہک پھولوں کے بستر کی
٧٨
مجھے اس کا وہ مکان یاد ہے جہاں کرسی پر بیٹھ کر میں (مرزا قادیانی کی آسمانی منکوحہ محترمہ محمدی بیگم کے وا تھا۔ بس اگر وہ سمجھے تو سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا کا نشان تھا ی حصہ جو ثیب یعنی بیوہ کے متعلق ہے دوسرے وقت میں
مرزا قادیانی نکاح بیوہ کے الہام اس کی ام جہاں کی طرف کوچ کر گئے تو امت مرزائیہ نے مخب دجل و فریب کے شکنجہ میں جکڑ کر اس کی صورت کو بـ قادیان نے جس کے ناظر مرزا قادیانی آنجہانی کے (تریاق القلوب ص٤٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٠١) سے یہ پیش حاشیہ میں لکھا ہے: ”یہ الہام الہی اپنے دونوں پہلوؤ پورا ہوا۔ جو بکر آئیں اور ثیب رہ گئیں۔ خاکسار مرزا
قارئین کرام ! پھر ایک دفعہ مرزا قادیانی اور ساتھ ہی تذکرہ کے مرتب کی دجل آمیز عبارت کوشش کی گئی ہے۔ واللہ ! میں تو مرزائی مبلغین کی ا پہنچا ہوں کہ ان کے دل میں نہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہے
مرزا قادیانی تو لکھتے ہیں کہ: ”خدا نے میں لائے گا۔ ایک کنواری ہوگی اور دوسری بیوہ۔ نکاح سے الہام پورا ہو گیا۔ یعنی نصرت جہاں بیگم کی حالت میں مرزا غلام احمد قادیانی سے نکاح ہوا بیگم صاحب بیوہ رہ گئیں۔“
لے ”تذکرہ“ مرزائیوں کے قرآن کا مکاشفات، الہامات اور وحی مقدس کو مرزائیوں مجموعہ کو درجہ اور شان کے لحاظ سے قرآن مجید کے
٩
مجھے اس کا وہ مکان یاد ہے جہاں کرسی پر بیٹھ کر میں نے اس کو یہ الہام سنایا تھا اور احمد بیگ (مرزا قادیانی کی آسمانی منکوحہ محترمہ محمدی بیگم کے والد، ناقل!) کے قصہ کا ابھی نام ونشان نہ تھا۔ بس اگر وہ سمجھے تو سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا کا نشان تھا۔ جس کا ایک حصہ اس نے دیکھ لیا اور دوسرا حصہ جو غیب یعنی بیوہ کے متعلق ہے دوسرے وقت میں دیکھ لے گا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٤، خزائن ج ١١ ص ٢٩٨)
مرزا قادیانی نکاح بیوہ کے الہام اس کی امید اور حسرت سمیت ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو اگلے جہاں کی طرف کوچ کر گئے تو امت مرزائیہ نے غیب (نکاح بیوہ) کے الہام کو تاویلات نہیں بلکہ دجل و فریب کے شکنجہ میں جکڑ کر اس کی صورت کو مسخ کر دیا۔ نظارت تالیف وتصنیف جماعت قادیان نے جس کے ناظر مرزا قادیانی آنجہانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے ہیں۔ تذکرہ میں (تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٢٠١) سے یہ پیش گوئی (جسے ہم نقل کرچکے ہیں) درج کر کے حاشیہ میں لکھا ہے: ”یہ الہام الٰہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المؤمنین کی ذات میں ہی پورا ہوا۔ جو بکر آئیں اور ثیب رہ گئیں۔ خاکسار مرتب!“
(تذکرہ ص ٣٩ حاشیہ طبع ٣)
قارئین کرام! پھر ایک دفعہ مرزا قادیانی کے الہام اور اس کی تشریح وتوضیح کو پڑھ لیجئے اور ساتھ ہی تذکرہ کے مرتب کی دجل آمیز عبارت پر غور کیجئے کہ کس قدر دھوکا اور فریب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ واللہ! میں تو مرزائی مبلغین کی ایسی مکروہ چالبازیاں دیکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ان کے دل میں نہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہے اور نہ ہی انہیں لوگوں سے شرم وحیا آتی ہے۔
مرزا قادیانی تو لکھتے ہیں کہ: ”خدائے تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک کنواری ہوگی اور دوسری بیوہ۔ لیکن مرزا قادیانی کے چیلے کہتے ہیں کہ ایک ہی نکاح سے الہام پورا ہوگیا۔ یعنی نصرت جہاں بیگم صاحبہ (مرزا محمود احمد کی والدہ) کا کنواری ہونے کی حالت میں مرزا غلام احمد قادیانی سے نکاح ہوا اور مرزا قادیانی کی وفات کے بعد نصرت جہاں بیگم صاحبہ بیوہ رہ گئیں۔“
١؎ ”تذکرہ“ مرزائیوں کے قرآن کا نام ہے۔ جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے رؤیا، مکاشفات، الہامات اور وحی مقدس کو مرزائیوں کی تلاوت کے لئے جمع کیا گیا ہے۔ مرزائی اس مجموعہ کو درجہ اور شان کے لحاظ سے قرآن مجید کے ہم رتبہ اور برابر سمجھتے ہیں۔ (اختر)
٧٩
مرزائیو! (تریاق القلوب ص ٤٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٠١، انجام آتھم ص ١٤، خزائن ج ١١ ص ٢٩٨) سے ہماری درج کردہ اپنے مسیح موعود کی عبارات غور سے پڑھو تو تم پر روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی یہ نہیں لکھتے کہ میری بیوی بیوہ رہ جائے گی۔ بلکہ وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک کنواری ہوگی اور دوسری بیوہ۔ پس تم بتاؤ کہ کس بیوہ عورت سے مرزا قادیانی کا نکاح ہوا؟ اگر کسی بیوہ سے نکاح نہیں ہوا اور یقینا نہیں ہوا تو تمہیں مرزا قادیانی کو کاذب ماننے میں کون سا امر مانع ہے؟ کسی بیوہ عورت سے نکاح نہ ہونے کے باعث مرزا قادیانی کا عیب والا الہام صریح جھوٹ اور کھلا ہوا افتراء ثابت ہوا۔ پس مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے۔
کیونکہ خدائے تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ: ”ان اللہ لا یہدی من ہو مسرف کذاب“ سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں۔ جو شخص اپنے دعوے میں کاذب ہو اس کی پیش گوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٢، ٣٢٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
نیز مرزا قادیانی خود ارشاد فرماتے ہیں: ”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
جب آپ مذہب رکھتے ہیں..... تو!
مذہب کی حفاظت واشاعت سے بھی پوری پوری دلچسپی لیجئے! ”نزول مسیح کا نشان مال کی کثرت کے متعلق ہے۔ اسے کوئی قابل قبول نہیں کرے گا۔ حدیث میں ”حتی لا یقبله احد“ پر زور دیا گیا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے آنے کے بعد مال کی طلب ختم ہوگئی۔ ورع واتقاء نے لوگوں کو مال سے متنفر کر دیا۔ واقعہ یہ ہے۔ خود مرزا قادیانی کا خاندان چندوں کے لئے مختلف حیلے تراش رہا ہے۔ مسیح قادیان نے خود لنگر کا چندہ، براہین احمدیہ کا چندہ، بہشتی مقبرہ کا چندہ، تبلیغ کا چندہ۔ غرض تحصیل مال کے لئے کس قدر باطل راہیں تھیں۔ جھوٹے حیلے تھے۔ جو اختیار کئے۔ معلوم ہوتا ہے اصل مسیح تاحال تشریف نہیں لائے۔ بھیس بدل کر کچھ ارباب ہوس ان کی جگہ لینے کی کوشش کر کے چل بسے۔ سچے مسیح کا انتظار ہنوز باقی ہے جو دنیا کو مال سے بے نیاز کر دے گا۔“
٨٠
مرزا غلام احمد قادیانی احادیث اور واقعات کی نظر میں
از: حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب خطیب جامع مسجد اہل حدیث گوجرانوالہ!
آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تصدیق میں دو قسم کے دلائل سے کام لیا ہے۔
- ١...... اپنے الہامات۔
- ٢...... بعض احادیث کی پیش گوئیاں۔
الہامات سے تو وہی لوگ متاثر ہو سکتے ہیں جو ان کو پیغمبر مانتے ہیں۔ ورنہ الہام بذات خود کوئی چیز نہیں۔ پھر ایسے مخالفین کا تو خیال ہے کہ بیچارے مرزا غلام احمد قادیانی اسلام کے مبادی سے ہی ناواقف تھے۔ ان کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مطالعہ اسلامیات کے متعلق بے حد ناقص تھا۔ یہ ایک مستقل موضوع ہے جس میں گفتگو کسی دوسری صحبت میں ہوگی۔ اس وقت مقصود یہ ہے کہ احادیث میں پیش آمدہ حوادث کے معیار پر آنجہانی کے دعاوی کو پرکھا جائے۔
احادیث کی پیش گوئیاں
- ١...... صحیحین میں حضرت ابو ہریرہؓ سے نزول مسیح کے متعلق چند نشانات بتائے گئے ہیں۔
مسیحیت کے مدعی کے لئے ان کی مطابقت ضروری ہے۔
- الف...... ”يضع الجزيه“ حضرت مسیح نزول کے بعد جزیہ معاف کریں گے۔
- ب...... ”ويفيض المال حتى لا يقبله احد“ اس وقت مال اس قدر زیادہ ہوگا کہ
اسے کوئی قبول نہیں کرے گا۔
- ج...... ”وتكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها“ ایک سجدہ یا ایک
رکعت پوری دنیا کے مال ودولت سے زیادہ مرغوب ہوگی۔
جزیہ معاف کرنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ کفر یکسر ختم ہو جائے۔ تمام لوگ اسلام قبول کرلیں۔ جزیہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اس مفہوم کی تائید دوسری حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا: ”فليهلك الله الملل كلها الا ملة الاسلام“ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت تمام مذاہب ہلاک ہو جائیں گے۔ صرف اسلام رہ
٨١
جائے گا۔ غرض حضرت مسیح علیہ السلام اپنی قوت بازو سے تمام مخالفین کا خاتمہ فرمادیں گے۔ مرزا غلام احمد آئے۔ ان کی ساری عمر رسمی مناظرات اور پیشہ وارانہ مباحثات میں گذری۔ آپ کی زندگی میں آپ کے سامنے عیسائیت کو فروغ ہوا۔ مسیحی خیالات سے مسلمانوں کا ایک طبقہ متاثر ہوا۔ ارتداد کے پے در پے حملے ہوئے۔ آنجہانی اور آپ کی جماعت نے یہ سب حوادثات دیکھے۔ حالانکہ حسب ارشاد سرور عالمﷺ سچے مسیح کی زندگی میں اسلام کے سوا تمام مذاہب کو ختم ہو جانا چاہئے تھا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ کفر اتنا ذلیل ہو جائے کہ اس کے لئے مزید ذلت کی ضرورت نہ رہے۔ بلکہ مسلمان اپنے مراحم خسروانہ سے انہیں جزیہ سے سبکدوش کردیں۔ ان دونوں صورتوں کے لئے ضروری ہے کہ پہلے جنگ ہو۔ تصادم کے بعد دشمن کی طاقت ختم ہو جائے۔ مرزا قادیانی نے نہ جنگ کی اور نہ ان کے دلائل اور قلم دوات کی جنگ سے یہ صورت پیدا ہوسکی۔ جن کا تذکرہ سرور عالمﷺ نے فرمایا ہے۔ پہلی قسم کی جنگ تو شاید آنجہانی کے نزدیک ناجائز تھی۔ لیکن ان کی خود ساختہ جنگ بھی نتائج کے لحاظ سے بیکار ثابت ہوئی۔ اس سے ظاہر ہے کہ جس مسیح کا ذکر احادیث میں آیا ہے وہ ابھی تک نہیں آئے۔ وہ یقیناً کوئی جنگی مسیح ہے۔ جن کے حملوں کی تاب خود جنگ بھی نہیں لاسکتی۔ ارشاد ہے۔ ”تضع الحرب اوزارھا“ جنگ اس کے سامنے ہتھیار ڈال دے گی۔ واقعات شاہد ہیں کہ چاپلوسی اور متملق مسیح کے لئے احادیث میں کوئی مقام نہیں۔
- ٢....... دوسرا نشان مال کی کثرت کے متعلق ہے۔ اسے کوئی قبول نہیں کرے گا۔ حدیث میں
”حتی لا یقبله احد“ پر زور دیا گیا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے آنے پر مال کی طلب ختم ہوگئی۔ روح اتقاء نے لوگوں کو مال سے متنفر کر دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی کا خاندان چندوں کے لئے مختلف حیلے تراش رہا ہے۔ مسیح قادیانی نے خود لنگر کا چندہ، براہین احمدیہ کا چندہ، بہشتی مقبرہ کا چندہ، تبلیغ کا چندہ۔ غرض تحصیل مال کے لئے کس قدر باطل راہیں تھیں۔ جھوٹے حیلے تھے۔ جو اختیار کئے معلوم ہوتا ہے۔ اصل مسیح تاحال تشریف نہیں لائے۔ بھیس بدل کر کچھ ارباب ہوس ان کی جگہ لینے کی کوشش کر کے چل بسے۔ دولت مند مسیح کا انتظار ہنوز باقی ہے۔ جو دنیا کو مال سے بے نیاز کردے گا۔
- ٣....... تیسرا نشان یہ ہے کہ مسیح کے وقت لوگ عبادت کو دنیا کے مال پر ترجیح دیں گے۔ یہ
٨٢
نشان بھی تاحال پورا نہیں ہوا۔ مسیحیت جدیدہ کے مبلغین کا پنجگانہ تک کی پابندی مفقود ہے۔
”عن ابن عمرؓ قال قال رسول اللہﷺ الحجر یا مسلم ھذا یھودی خلفی تعال فاقتله (متفق علیہ)“
اس حدیث میں یہود کے ساتھ جنگ کی پیش گوئی حکومت آنحضرتﷺ کی بعثت سے کہیں پہلے تباہ ہو چکی تھی تعجب ہوتا تھا کہ جو طاقت اپنے مخالفین کو روندتی جارہی ہے طاقت ان کے مقابلے کی تاب کہاں سے لائے گی۔ وہ اس قدر آنکھیں ملاسکیں۔
آج قدرت کی نیرنگیوں کو دیکھئے کہ امریکہ، برطانیہ فلسطین میں ایک اسرائیلی حکومت کی تقویت کے امکانات ابھر رقابت یا ذاتی مصالح یا کمزوری کی وجہ سے یہودی حکومت نے اقوام عالم کی سالہا سال کے دجل وفریب کے باو گیا ہے۔ غالباً یہی وہ یہودی عساکر ہوں گے جو دجال کے ہمر حضرت مسیح اور ان کے مخلص رفقاء اپنی قوت بازو سے اس قوت کو
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آنجہانی مرزا غلام احمد کوئی یہودی طاقت تھی۔ نہ مرزا قادیانی ان سے لڑے۔ افر بھڑاس نکال لی۔ لیکن ان واقعات کا کیا کیا جائے جو ابھر کر موجودگی میں یہ سارا کھیل کھیلا گیا۔ ان کی وکالت کا حشر شرم وکیل کی ناکام کوششوں سے بہتر نہ ہوسکا۔ بلکہ یہ ہر جگہ ناکام ر مرزا بشیر الدین محمود کے الہامی خطبہ (٢٦؍ اپریل
وفاداران مادر زاد
از: حضرت مو
٨٣
نشان بھی تاحال پورا نہیں ہوا۔ مسیحیت جدیدہ کے مبلغین کا کیریکٹر ہمارے سامنے ہے۔ نماز پنجگانہ تک کی پابندی مفقود ہے۔
"عن ابن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ لنقاتلن اليهود حتى يقول الحجر يا مسلم هذا يهودى خلفى تعال فاقتله (متفق عليه)"
اس حدیث میں یہود کے ساتھ جنگ کی پیش گوئی فرمائی گئی ہے۔ حالانکہ یہود کی حکومت آنحضرت ﷺ کی بعثت سے کہیں پہلے تباہ ہو چکی تھی۔ اسلام کی فتوحات کا سیلاب دیکھتے تعجب ہوتا تھا کہ جو طاقت اپنے مخالفین کو روندتی جارہی ہے یہودیوں کی برسوں کی پامال شدہ طاقت ان کے مقابلے کی تاب کہاں سے لائے گی۔ وہ اس قدر مضبوط کیسے ہوں گے کہ اسلام سے آنکھیں ملا سکیں۔
آج قدرت کی نیرنگیوں کو دیکھئے کہ امریکہ، برطانیہ اور روس کے عیارانہ مصالح نے فلسطین میں ایک اسرائیل حکومت کی تقویت کے امکانات اجاگر کر دیئے ہیں۔ عرب روساء کی رقابت یا ذاتی مصالح یا کمزوری کی وجہ سے یہودی حکومت نے ابھرنا شروع کر دیا۔ اقوام عالم کی سالہاسال کے دجل وفریب کے بعد آج اس حکومت کا وجود تسلیم کر لیا گیا ہے۔ غالباً یہی وہ یہودی عساکر ہوں گے جو دجال کے ساتھ مل کر مسیح کا مقابلہ کریں گے اور حضرت مسیح اور ان کے مخلص رفقاء اپنی قوت بازو سے اس قوت کو پامال کر دیں گے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آنجہانی مرزا غلام احمد آئے اور چلے گئے۔ نہ اس وقت کوئی یہودی طاقت تھی۔ نہ مرزا قادیانی ان سے لڑے۔ انہوں نے علماء کو یہودی کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لی۔ لیکن ان واقعات کا کیا کیا جائے جو ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ سر ظفر اللہ کی موجودگی میں یہ سارا کھیل کھیلا گیا۔ ان کی وکالت کا حشر شروع سے لے کر آج تک ایک نالائق وکیل کی ناتمام کوششوں سے بہتر نہ ہو سکا۔ بلکہ یہ ہر جگہ ناکام ہوئے۔
مرزا بشیر الدین محمود کے الہامی خطبہ (٢٦؍ اپریل ١٩٣٥ء) کا لفظی مفہوم
وفاداران مادر زاد
از : حضرت مولانا ظفر علی خان صاحب مدظلہ العالی
٨٣
بہشتی مقبرے کی ہڈیوں کا تبرک بانٹ کر دل شاد ہم ہیں
پرستاران خاک کعبہ سن لیں کہ زیب مسند ارشاد ہم ہیں
نگارستان ایماں کی کرو سیر کہ اس کے مانی و بہزاد ہم ہیں
جسے اسلام سمجھے ہو وہ ہے کفر اور اس پر کرنے والے صاد ہم ہیں
پرانی ہو چکی مکہ کی تہذیب نئی تہذیب کے استاد ہم ہیں
فضا گونجی ہے جس کی گالیوں سے وہ بستی کر رہے آباد ہم ہیں
شریعت بن گئی جن کا کھلونا وہی مادر پدر آزاد ہم ہیں
خدا کا لوگ کر لیں بے شک انکار کہ ان کو دینے والے داد ہم ہیں
نبوت ہے ہمارے گھر کی لونڈی خدا کے آخری داماد ہم ہیں
نصاریٰ کی ہری کیوں ہو نہ کھیتی کہ ان کا کھیت ہے اور کھاد ہم ہیں
کوئی جا کر مسلمانوں سے کہہ دے کریں گے جو تمہیں برباد ہم ہیں
حکومت سے الجھتے کس لئے ہو پڑی ہے تم پہ جو افتاد ہم ہیں
غم استعمار کی دیوار کو کیا جب اس دیوار کی بنیاد ہم ہیں
دماغ ان کا نہ پہنچا جن کی تہ تک
وہ فتنے کر رہے ایجاد ہم ہیں
مرزا قادیانی کی سیرت مقدسہ اور آپ کے اخلاق عالیہ
جن کے تصور سے جبین انسانیت عرق آلود ہے اور چشم غیرت اشکبار!
از:سید نور الحسن شاہ بخاری
پھر بھی دعویٰ ہے کہ اصلاح دو عالم ہم سے ہے
اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ مرزا قادیانی کا صرف سیاسی کیریکٹر درخشندہ و تابندہ تھا۔ اگر تم مرزا قادیانی کی نبوی سیرت کا صرف سیاسی پہلو روشن پاتے ہو تو یہ تمہاری نظر کا فتور ہے۔ تمہارے علم و فہم کا قصور ہے۔ ورنہ یہاں تو جس پہلو سے دیکھو۔ یہ نبوت حسن ہی حسن ہے۔ نور ہی نور
٨٤
ہے۔ سراپا نور، عقائد، اعمال، سیاست، اخلاق اور قول و قرار ا دیکھ لو۔ روشن اور درخشندہ ہی پاؤ گے۔
آپ کی سیرت طیبہ اور حیات نبویہ کا ہر گوشہ قابل
کرشمہ دامن دل میکشد کہ
ہم اپنی تنگی داماں سے شکوہ سنج ہیں اور گلستان نبو پر قناعت کرتے ہیں۔
گلچین بہار تو ز داماں
یہ بجا ہے کہ مرزا قادیانی نے دنیا بھر کے کروڑ ولد الحرام، ذریۃ البغایا، کنجریوں کی اولاد، حرامزادے، خن مشرک، یہودی، مردود، ملعون اور بے شرم و بے حیا وغیرہ ایک ایک لفظ لکھا اور مانے بغیر چارہ نہیں۔ کیونکہ یہ آج کتابوں میں موجود ہے اور اسے اب چاٹا نہیں جاسکتا۔ کتابوں میں مسطور و مذکور اور موجود ہے۔ لیکن بایں ہمہ کبھی آلود نہیں ہوا۔ کیونکہ وہ تو خود فرماتے ہیں:
جس دل میں یہ نجاست بید
گو ہیں بہت درندے انساں
پاکوں کا خوں جو پیوے وہ
اور جب وہ خود بد زبانی کو نجاست اور بدزا بد زبانی فرما سکتے ہیں۔ بہر حال انہوں نے کسی کو کبھی گ کب نکل سکتی ہے۔ جب کہ نبی خود کہتا ہے کہ: ”گالیا
٨٥
ہے ۔ سراپا نور، عقائد، اعمال، سیاست، اخلاق اور قول و قرار تک جون سا پہلو چاہو، الٹ پلٹ کر دیکھ لو۔ روشن اور درخشندہ ہی پاؤ گے۔
آپ کی سیرت طیبہ اور حیات نبویہ کا ہر گوشہ قابل دید و شنید ہے۔
کرشمہ دامن دل میکشد کہ جا ایں جاست
ہم اپنی تنگی داماں سے شکوہ سنج ہیں اور گلستان نبوت سے صرف گلہائے سخن پیش کرنے پر قناعت کرتے ہیں۔
گلچین بہار تو ز داماں گلہ دارد
یہ بجا ہے کہ مرزا قادیانی نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کو اور اولیاء و علماء امت کو ولد الحرام، ذریۃ البغایا، کنجریوں کی اولاد، حرامزادے، خنزیر، کتے، بندر، شیطان، گدھے، کافر، مشرک، یہودی، مردود، ملعون اور بے شرم و بے حیا وغیرہ کہا۔ مانا کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ ایک ایک لفظ لکھا اور مانے بغیر چارہ نہیں۔ کیونکہ یہ آج بھی مرزا قادیانی کی پچاس الماریوں والی کتابوں میں موجود ہے اور اسے اب چاٹا نہیں جا سکتا۔ یہ سب بجا اور درست۔ یہ سب آج بھی کتابوں میں مسطور و مذکور اور موجود ہے۔ لیکن بایں ہمہ مرزا قادیانی کا دہن مبارک بد زبانی سے کبھی آلودہ نہیں ہوا۔ کیونکہ وہ تو خود فرماتے ہیں:
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے
گو ہیں بہت درندے انساں کی پوستیں میں
پاکوں کا خوں جو پیوے وہ بھیڑیا یہی ہے
(درثمین اردو ص ١٢)
اور جب وہ خود بد زبانی کو نجاست اور بد زبان کو بیت الخلاء فرما رہے ہیں تو وہ خود کب بد زبانی فرما سکتے ہیں۔ بہر حال انہوں نے کسی کو کبھی گالی نہیں دی۔ نبوت کی زبان سے بھلا گالی کب نکل سکتی ہے۔ جب کہ نبی خود کہتا ہے کہ: ” گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔“
(ست بچن ص ٢١، خزائن ج ١٠ ص ١٣٣)
٨٥
- ☆...... ”خدا تعالٰی نے اس (حضرت مولانا سعد اللہ صاحب لدھیانوی۔ مدیر) کی بیوی کے
رحم پر مہر لگا دی۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٤)
- ☆...... ”جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہوجاتے۔“ (حیات احمد جلد اوّل نمبر ٣ ص ٢٥)
- ☆...... ”آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں۔“
(چشمہ معرفت ص ١٠٦، خزائن ج ٢٣ ص ١١٤)
لیجئے اب آپ پورا مضمون پڑھئے!
- ١...... مسلمان حرامزادے ہیں۔ زنا کار کنجریوں کی اولاد ہیں
- الف...... ”جو شخص اس صاف فیصلہ کے خلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا......
اور کچھ شرم و حیا کو کام نہیں لائے گا...... اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں...... حرامزادہ کی یہی نشانی ہے کہ وہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
- ب...... ”كل مسلم....... يقبلنی ويصدق دعوتى الاذرية البغايا “ ہر مسلمان
مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ پر ایمان لاتا ہے۔ مگر زنا کار کنجریوں کی اولاد۔
(آئینہ کمالات ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ٢...... اولیاء امت اور مشائخ ملت، شیطان، شتر مرغ، ملعون یاوہ گو اور ڈاڑخابیں
”بعض جاہل سجادہ نشین اور فقیری اور مولویت کے شتر مرغ...... یہ سب شیاطین الانس ہیں...... اور میں اعلان سے کہتا ہوں کہ جس قدر فقراء میں سے اس عاجز کے منکر یا مکذب ہیں وہ تمام اس کامل لعنت مکالمہ الہیہ سے بے نصیب ہیں اور محض یاوہ گو اور ڈاڑ خابیں...... مکذبین کے دلوں پر خدا کی لعنت ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٢ تا ٤٤ ملخصاً، خزائن ج ١١ ص ٣٢٨ تا ٣٠٧)
- ٣...... علمائے امت کی ایسی تیسی
- الف...... ”اے بدذات فرقہ مولویان! کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہوديانہ خصلت چھوڑو
گے۔“
(انجام آتھم حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)
- ب...... ”اے بے ایمانو! نیم عیسائیو! دجال کے ہمراہیو! اسلام کے دشمنو! تمہاری ایسی تیسی
ہے۔“
(اشتہار انعامی تین ہزار حاشیہ ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)
٨٦
- ٤...... جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاے
”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے سا مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جا جاتے ہیں۔“
ان عمومی ارشادات نبویہ اور الہامات ربانیہ نوازشات ملاحظہ ہوں۔
- ٥...... امام المحدثین حضرت مولانا سید نذیر حسی
دہلویؒ، قطب العالم حضرت مولانا رشید احمد صا میں نبوی گوہر افشانی اور شیریں بیانی دیکھئے۔ ” ايها الشيخ الضال والرجل البـ الكاذب نذير المبشرين ثم الدهلوى عبد الـ سلطان المتكبرين وآخرهم الشيطان الاعمى الجنجوهي وهو شقى كالا مروهى ومن الملعو “
(ا
- ٦....... مرشد وقت پیر مہر علی شاہ صاحب قدس السـ
ہوتی ہے۔
- الف...... ”مجھے ایک کذاب کی طرف سے پہنچی ہے۔
ہے۔ اے گولڑہ کی سرزمین تجھ پر لعنت۔ تو ملعون کے سبب
کٹ گیا سر اپنی غـ
کھل گئی ساری حقیقت
کم کرو اب ناز اس
٨٧
- ٤.......جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں
”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف و گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔“
(حیات احمدیہ ج ١ نمبر ٣ ص ٢٥)
ان عمومی ارشادات نبویہ اور الہامات ربانیہ کے بعد اب ذرا بطور نمونہ نام بہ نام نوازشات ملاحظہ ہوں۔
- ٥.......امام المحدثین حضرت مولانا سید نذیر حسین محدث
دہلویؒ، قطب العالم حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ وغیرہم آئمہ وقت کے حق میں نبوی گوہر افشانی اور شیریں بیانی دیکھئے۔
”ایھا الشیخ الضال والرجل البطال....... فمنهم شيخك الضال الكاذب نذير المحدثين ثم الدهلوى عبدالحق رئيس المتصلفين....... ثم سلطان المتكبرين وأخرهم الشيطان الاعمى والغول الاغوى يقال له رشيد الجنجوهى وهو شقى كالا مروهى ومن الملعونين“
(انجام آتھم ص ٢٥٢،٢٧١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ٦....... مرشد وقت پیر مہر علی شاہ صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کے حق میں مشک افشانی
ہوتی ہے۔
- الف....... ”مجھے ایک کذاب کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب بچھو کی طرح نیش زن
ہے۔ اے گولڑہ کی سرزمین تجھ پر لعنت۔ تو ملعون کے سبب ملعون ہو گئی۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)
کٹ گیا سر اپنی ہی تلوار سے
کھل گئی ساری حقیقت سیف کی
کم کرو اب ناز اس مردار سے
(نزول المسیح ص ٢٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٠٢)
٨٧
- ج....... ”مہر علی نے ایک مردہ کا مضمون چرا کر کفن دزدوں کی طرح قابل شرم چوری کی
ہے.......نہ صرف چور بلکہ کذاب بھی لعنت اللہ علی الکاذبین رہا۔محمد حسن....... جس نے جھوٹ کی نجاست کھا کر وہی نجاست پیر صاحب کے منہ پر رکھ دی....... اس کے مردار کو چرا کر پیر مہر علی نے اپنی کتاب میں کھایا۔“
(نزول المسیح حاشیہ ص٧٠،٧١، خزائن ج١٨ ص٤٤٨،٤٤٩)
٧.......غزنویوں کی جماعت پر لعنت
حضرت مولانا عبدالحق صاحب غزنوی کا نطفہ اور ان کی اہلیہ محترمہ کے پیٹ سے چوہا۔
- الف....... ”عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہئے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔ کیا اندر
ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا۔ یا پھر رجعت قہقہری کر کے نطفہ بن گیا۔ اب تک اس کی عورت کے پیٹ سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔
- ب....... عبدالحق اور عبدالجبار غزنویان وغیرہ مخالف مولویوں نے بھی نجاست کھائی۔
- ج....... کیا اب تک عبدالحق کا منہ کالا نہیں ہوا۔ کیا اب تک غزنویوں کی جماعت پر لعنت
نہیں پڑی۔“
گل افشانیوں کے یہ نمونے ایک نبوی تصنیف لطیف (ضمیمہ انجام آتھم ص٢٧، خزائن ج١١ ص٣١١) پر ہیں۔ (ص٥٨، خزائن ج١١ ص٣٤٢) تک یہ زعفران زار کھلا ہے اور حجۃ اللہ (عربی) وغیرہ دوسری کتابوں میں بھی غزنوی خاندان کے متعلق یہ عطر بیزیاں موجود ہیں۔
٨.......حضرت مولانا شیخ سعد اللہ صاحب لدھیانوی کی بیوی کے رحم پر مہر
اس کی نسبت خدائے تعالیٰ نے فرمایا کہ: ”ان شانئک ھو الابتر گویا اسی دم سے خدا تعالیٰ نے اس کی بیوی کے رحم پر مہر لگادی اور اس کو یہ الہام کھلے کھلے لفظوں میں سنایا گیا کہ اب موت کے دن تک تیرے گھر اولاد نہ ہوگی اور نہ آگے سلسلہ اولاد کا چلے گا۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص١٣، خزائن ج٢٢ ص٤٤٤)
سبحان اللہ! کیا خوب ”نبوی“ اخلاق اور الہامی تہذیب ہے۔ جب بیویوں کے رحم پر مہر لگانے والے ”خدا اور رسول“ کی طرف دنیا کو دعوت دی جائے گی تو انگلستان، امریکہ، جرمنی اور فرانس وغیرہ کا ہر دل پھینک زندہ دل جنٹلمین ایمان لانے میں سبقت کرے گا اور ضبط تولید کی دلدادہ ہر لیڈی بصمیم قلب امنا وصدقنا پکار اٹھے گی۔
مرا اے کاش کہ مادر نہ زادے
(اقبال)
٨٨
پھر یہ بھی دیکھا کہ مرزا قادیانی کا خدا کسی کی دس ماہ کا بچہ بھی باہر نہ آسکے اور نہ اولاد کا سلسلہ چل سکے۔ لگا دے تو پچاس ساٹھ سالہ بوڑھا نبی یہ مہر توڑ کر کسی نہ کسی طر جائزہ رہے۔
لطیفہ: مناظرہ بھدرواہ میں جب مناظر اسلام تعلیم نے بوقت مناظرہ یہ الہام ربانی اور اس کی یہ مندرجہ ذیل تشریح پیش کی تو مولوی عبدالغفور صاحب فرمانے لگے : ”یہ کیا گندی باتیں ہیں ۔“ اس پر برجستہ فرمایا کہ جناب ! گندی باتیں کہاں ؟ یہ تو الہامات ربانی ہیں۔
٩.......حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب عورتوں کی عار
- الف....... ”مولوی ثناء اللہ صاحب پر لعنت لعنت دس بار لعنت۔“
(اعجاز احمدی ص٣٨، خزائن ج١٩ ص١٤٩)
- ب....... ”اے عورتوں کی عار ثناء اللہ.......اے جنگلوں کے خنزیر۔“
(اعجاز احمدی ص٨١، خزائن ج١٩ ص١٩٣)
یہ عقیدہ نہ کھلا کہ مرزا قادیانی نے کس شکایت پر عورتوں کی عار فرمایا۔ حالانکہ مولانا تو مرزا قادیانی کی دعوت پر فوراً قادیان پہنچ گئے تھے اور وہ چھپ کر بیٹھ رہے تھے اور مقابلہ و مناظرہ سے صاف فرار کر گئے تھے۔
پھر یہ نبوی کرم فرمائی صرف مسلمانوں تک محدود نہ تھی بلکہ غیر مسلمین کو بھی حصہ وافر ملا ہے۔ صرف نمونہ بطور قطرے کے پیش ہے۔
١٠.......لعنت، لعنت، لعنت، لعنت
(نور الحق ص١١٨، خزائن ج٨ ص١٥٨) پر عیسائیوں کے حق میں پوری ہزار لعنتیں لکھ کر قادیانی نبوی تہذیب و شرافت کو عرش پر پہنچا دیا ہے۔
١١.......ویسے کروا چکی زنا لیکن
آریوں کے متعلق صرف نیوگ پر ایک طویل نظم لکھی ہے:
نام اولاد کے حصول کا ہے
٨٩
پھر یہ بھی دیکھا کہ مرزا قادیانی کا خدا کسی کی بیوی کے رحم پر مہر لگائے تو یہ مہر توڑ کر نو دس ماہ کا بچہ بھی باہر نہ آسکے اور نہ اولاد کا سلسلہ چل سکے۔ مگر جب محمد رسول اللہ کا خدا نبوت پر مہر لگادے تو پچاس ساٹھ سالہ بوڑھا نبی یہ مہر توڑ کر کسی نہ کسی طرح باہر آجائے اور نبوت کا سلسلہ برابر جاری رہے۔
لطیفہ: مناظرہ بھدروانہ میں جب مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر مبلغ مرکز تنظیم نے بوقت مناظرہ یہ الہام ربانی اور اس کی یہ مندرجہ بالا نبوی تفسیر پیش کی تو قادیانی مناظر مولوی عبد الغفور صاحب فرمانے لگے: ”یہ کیا گندی باتیں ہیں۔“ اس پر برادر محترم مولانا اختر نے برجستہ فرمایا کہ جناب! گندی باتیں کہاں؟ یہ تو الہامات ربانیہ اور ارشادات نبویہ ہیں۔
- ٩...... حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب عورتوں کی عار ہیں
- الف....... ”مولوی ثناء اللہ صاحب پر لعنت لعنت دس بار لعنت....... ایک بھیڑئیے۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٨، ٣٩، خزائن ج ١٩ ص ١٤٩، ١٥١)
- ب....... ”اے عورتوں کی عار ثناء اللہ....... اے جنگلوں کے غول تجھ پر ویل۔“
(اعجاز احمدی ص ٨١، ٨٣، خزائن ج ١٩ ص ١٩٤، ١٩٦)
یہ عقیدہ نہ کھلا کہ مرزا قادیانی نے کس شکایت کی بناء پر مولانا کو عورتوں کی عار فرمایا۔ حالانکہ مولانا تو مرزا قادیانی کی دعوت پر فوراً قادیان پہنچ گئے تھے اور الٹا مرزا قادیانی ہی گھر میں چھپ کر بیٹھ رہے تھے اور مقابلہ و مناظرہ سے صاف فرار اختیار کر گئے تھے۔
پھر یہ نبوی کرم فرمائی صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ اس بارش الطاف و عنایات سے غیر مسلمین کو بھی حصہ وافر ملا ہے۔ صرف نمونہ بطور قطرے از بحر ذخار ملاحظہ ہو۔
- ١٠...... لعنت، لعنت، لعنت، لعنت
(نور الحق ص ١١٨، خزائن ج ٨ ص ١٥٨) پر عیسائیوں کو لعنت، لعنت، لعنت، لعنت حتیٰ کہ پوری ہزار لعنتیں لکھ کر قادیانی نبوی تہذیب و شرافت کو عریاں کیا ہے۔
- ١١...... دس سے کروا چکی زنا لیکن
آریوں کے متعلق صرف نیوگ پر ایک طویل نظم کے چند اشعار آبدار ملاحظہ ہوں۔
نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بیقراری ہے
دس سے کروا چکی زنا لیکن پاک دامن ابھی بیچاری ہے
زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے
لالہ صاحب بھی کیسے احمق ہیں ان کی لالی نے عقل ماری ہے
گھر میں لاتے ہیں اس کے یاروں کو ایسی جورو کی پاسداری ہے
جورو جی پر فدا ہیں یہ جی سے وہ نیوگی پر اپنے واری ہے
ہے قوی مرد کی تلاش انہیں خوب جورو کی پاسداری ہے
کیا کریں وید کا یہی ہے حکم ترک کرنا گنہگاری ہے
(آریہ دھرم ص ١٥ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٧٥، ٧٦)
١٣...... آریوں کا پرمیشر
”آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں۔“
(چشمہ معرفت ص ١٠٦، خزائن ج ٢٣ ص ١١٤)
تاریخ عالم کو الٹ پلٹ لو دنیا میں کوئی ایسا خوش کلام اور شیریں گفتار انسان پیش کر سکتے ہو تو کرو۔ نہیں کر سکتے ! ابتدائے آفرینش سے آج تک کیفیت میں اس قسم کی فحش کلامی وعریانی اور کمیت میں اس قدر بد زبانی اور زہر افشانی کا عشر عشیر بھی نہیں دکھلا سکو گے۔
یہاں ہم نے بادل ناخواستہ بطور نمونے مشتے از خروارے صرف چند ”خوش کلامیاں“ پیش کی ہیں۔ اگر اس سے زیادہ تفصیل مطلوب ہو تو مولانا نور محمد صاحب سابق مبلغ و مناظر مظاہر العلوم سہارن پور کا رسالہ ”مغلظات مرزا“ ملاحظہ ہو۔ گو مرزا قادیانی کے ان کارناموں کا استیعاب تو ان سے بھی نہیں ہو سکا۔ تاہم انہوں نے بڑے سائز کے ٧٢ صفحات کے اس رسالہ میں ٦ اور ٧ سو کے درمیان ایسی سوقیانہ گالیاں ردیف وار معہ حوالہ جمع کر دی ہیں۔
بد زبانی کے متعلق مرزا قادیانی کا فیصلہ
آخر میں بد زبانی کے متعلق خود مرزا قادیانی کا فیصلہ اور فتویٰ پیش کر دینا جہاں آپ لوگوں کی دلچسپی کا موجب ہوگا۔ وہاں اس سے غیر جانبدارانہ اور خالی الذہن مبصر و ناقد کو مرزا قادیانی کا حقیقی مقام اور صحیح منصب متعین کرنے میں مدد ملے گی۔
- ١....... ”گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔“ (ست بچن ص ٤١، خزائن ج ١٠ ص ١٣٣)
٩٠
- ٢....... بدتر ہر ایک بدسے جو بدزبان ہے
گو ہیں بہت درندے انساں کی پوست میں
پاکوں کا خوں جو پیوے وہ بھیڑیا ہے
افسوس کہ بد زبانی کی مذمت اور تقبیح کرتے ہوئے بھی مرزا قادیانی کی زبان اس گندگی سے ملوث ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ سچ ہے۔ ”ینضح الاناء بما فیہ“
بد زبانی کے جواب میں فریب کاری
کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی یہ گل افشانیاں مخالفین کی گالیوں اور بد زبانیوں کا ردعمل ہے۔ لہٰذا عوض معاوضہ گلہ ندارد! لیکن یہ سراپا مغالطہ اور دجل وفریب ہے۔ بلکہ صریح دھوکا بازی ہے۔ کیونکہ اول تو مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں:۔
- ١....... ”بدی کا جواب بدی سے مت دو۔ قول سے نہ فعل سے“
- ٢....... گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں گالی کے عوض
- ٣....... ”خبردار ! نفسانیت تم پر غالب نہ آوے۔ ہر ایک بد زبانی اور بدسلوکی کا
نرمی سے جواب دو۔“
- ٤....... ”ایک بزرگ کو کتے نے کاٹا (اس کی) چھوٹی بچی نے کہا کہ تم نے بھی کتے کو
کاٹا؟ اس نے جواب دیا۔ بیٹی! انسان سے کتا بننا نہیں آتا۔ یہی میری آپ کو نصیحت ہے کہ مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے۔ نہیں تو وہی کتا بننے والی بات ہوگی۔“
(تقریر مرزا قادیانی جلسہ قادیان ٢٧؍ دسمبر ١٩٠٧ء)
دوسرے ہم چیلنج کرتے ہیں کہ جس طرح ہم نے مرزا قادیانی کی بے شمار گالیاں پیش کر دی ہیں۔ اسی طرح علمائے کرام خصوصاً مجددین امت اور بالخصوص حضرت عیسیٰ
٩١
- ......٢ بدتر ہر ایک بد سے جو بدزباں ہے
گو ہیں بہت درندے انساں کی پوستین میں
پاکوں کا خوں جو پیوے وہ بھیڑیا یہی ہے
(درثمین اردو ص ١٢)
افسوس کہ بدزبانی کی مذمت اور تقبیح کرتے ہوئے بھی مرزا قادیانی کی زبان بدزبانی سے ملوث ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ سچ ہے۔ ”یترشح من الاناء ما ھو فیہ“
بدزبانی کے جواب میں فریب کاری
کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی یہ گل افشانیاں مخالفین کی زبان درازیوں کا جواب اور ردّعمل ہے۔ لہذا عوض معاوضہ گلہ ندارد! لیکن یہ سراپا مغالطہ اور سراسر فریب کاری اور سولہ آنے دھوکا بازی ہے۔ کیونکہ اوّل تو مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں:
- ......١ ”بدی کا جواب بدی سے مت دو۔ قول سے نہ فعل سے۔“
(نسیم دعوت ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٥)
- ......٢ گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو
(دافع الوساوس ص ٢٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ......٣ ”خبردار! نفسانیت تم پر غالب نہ آوے۔ ہر ایک سختی کو برداشت کرو۔ ہر ایک گالی کا
نرمی سے جواب دو۔“
(نسیم دعوت ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٥ ملخص)
- ......٤ ”ایک بزرگ کو کتے نے کاٹا (اس کی) چھوٹی لڑکی بولی۔ آپ نے کیوں نہ کاٹ
کھایا؟ اس نے جواب دیا۔ بیٹی! انسان سے کت پن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے۔ نہیں تو وہی کت پن کی مثال لازم آئے گی۔“
(تقریر مرزا قادیانی جلسہ قادیان ١٨٩٧ء، رپورٹ ١٨٩٧ء، ملفوظات ج ١ ص ١٠٣)
دوسرے ہم چیلنج کرتے ہیں کہ جس طرح مرزا قادیانی کی سینکڑوں بد زبانیاں ہم نے پیش کر دی ہیں۔ اسی طرح علمائے کرام خصوصاً مجدد وقت قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد
٩١
صاحب گنگوہیؒ، امام المحدثین حضرت سید نذیر حسین دہلویؒ، پیر کامل مرشد اعظم حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ کی زبان اور قلم سے ایک ناشائستہ کلمہ کی نشان دہی کی جائے اور بتلایا جائے کہ مرزا قادیانی نے تمام دنیا کے اربوں آدمیوں، کروڑوں مسلمانوں اور خصوصاً مولوی سعد اللہ صاحب لدھیانویؒ کو کم از کم پچاس دفعہ ذریۃ البغایا، ولد الحرام، حرامزادہ، حرامی لڑکا، ہندو زادہ کہا ہے اور یہ مرزا قادیانی کی مرغوب اور مخصوص گالی ہے اور ان کی زبان ہمیشہ اس حرام، حرام سے آلودہ رہتی ہے۔ کیا دنیا کے ایک آدمی نے ایک دفعہ بھی مرزا قادیانی کو یا مرزا قادیانی کی اولاد کو زنا کار کنجری کی اولاد۔ ولد الحرام، حرامزادہ، حرامی لڑکا اور ہندوزادہ کہا۔ اگر کہا تو پیش کرو۔ حالانکہ دنیا آپ کو نہیں تو آپ کی اولاد کو حسب ذیل اقوال کی روشنی میں اگر ان خطابات سے مخاطب کرتی تو وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہوتی۔ ملاحظہ ہو:
پھجے دی ماں
مرزا بشیر احمد صاحب گھر کے بھیدی لنکا ڈھاتے ہیں:۔
- ١...... "بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو اوائل ہی سے
مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر پھجے دی ماں کہا کرتے تھے۔ بے تعلقی سی تھی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور اس کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھی۔ اس لئے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔"
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٤٣، روایت نمبر ٤١)
حضرت صاحب گویا بچے ہی تھے
- ٢...... "خاکسار (مرزا بشیر احمد صاحب) عرض کرتا ہے کہ بڑی بیوی سے حضرت مسیح موعود
کے دو لڑکے پیدا ہوئے۔ یعنی مرزا سلطان احمد صاحب اور مرزا فضل احمد۔ حضرت صاحب ابھی گویا بچے ہی تھے کہ مرزا سلطان احمد پیدا ہو گئے۔"
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٥٣، روایت نمبر ٥٩)
ایک بچے کا بچے پیدا کرنا یقیناً ایک معجزہ ہے۔ لیجئے مرزا قادیانی کی نبوت کا ایک اور ثبوت مل گیا۔ تعجب ہے کہ امت مرزائیہ نے اس سے مرزا قادیانی کی نبوت کا استدلال کیوں نہ کیا۔
- ٣...... "٢١؍ ستمبر ١٩٠١ء اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے کبھی اولاد کی خواہش نہیں ہوئی تھی۔
حالانکہ خدا تعالیٰ نے پندرہ یا سولہ برس کی عمر کے درمیان ہی اولاد دے دی تھی۔ یہ سلطان احمد اور
٩٢
فضل احمد قریباً اسی عمر میں پیدا ہو گئے تھے۔"
(اخبار الحکم قادیان ج ٥ ص ٢٥، ملفوظات ج ٢ ص ٢٧٢)
اب غور فرمائیے! پندرہ برس کی عمر کے درمیان جب کہ آدمی پورا بالغ بھی نہیں ہوتا۔ مرزا سلطان احمد صاحب پیدا ہو گئے تو مرزا فضل احمد صاحب زیادہ سے زیادہ تیرہ برس کی عمر میں جب کہ انسان ابھی گویا بچہ نہیں حقیقی بچہ ہوتا ہے۔ اولاد پیدا کرنے کے قابل ہو گئے۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود کو اوائل سے ہی بچے دی ماں سے بے تعلقی بھی تھی۔ کیونکہ اس کا میلان مرزا قادیانی کے "بے دین" رشتہ داروں کی طرف تھا اور وہ انہی کے رنگ میں رنگین تھی۔ اس لئے حضرت مسیح موعود نے اوائل سے ہی ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔ مگر بایں ہمہ اعجازی طور پر پیاپے دو لڑکے پیدا ہو ہی گئے۔
کیا دنیا بے زبان ہے۔ مانا کہ دنیا اس فن شریف میں مجدد کی حیثیت نہیں رکھتی۔ لیکن کیا وہ مرزا قادیانی ہی کے اگلے ہوئے نوالے بھی ان کے منہ میں نہیں دے سکتی؟ اگر ہم مرزا قادیانی ہی کے عطا فرمودہ یہ تمام خطابات مرزا قادیانی کے حق میں استعمال کریں تو دنیا کا کوئی ضابطہ عدل و انصاف مانع ہونے کا حق رکھتا ہے؟ یا ہمارے منہ میں زبان اور ہاتھ میں قلم نہیں ہے؟ یہ سب کچھ ہے۔ مگر ہم بہ تقاضائے انسانی شرافت اور بمطالبہ اخلاق و آدمیت صرف عطائے تو بہ لقائے تو کہہ کر اس مکروہ باب کو ختم کرتے ہیں۔
پر تیری طرح عشق کو رسوا نہیں کرتے
چیلنج
اگر ان شواہد و دلائل کے باوجود بھی کسی قادیانی یا لاہوری دوست کو حضرت صاحب کی بد زبانی میں تامل ہو تو جیسا کہ بارہا پریس سے چیلنج دیا جا چکا ہے ہم انہیں آج ایک دفعہ پھر پوری قوت کے ساتھ چیلنج کرتے ہیں کہ وہ کسی وقت کسی جگہ اس عنوان پر ہم سے مناظرہ و بحث کر لیں۔ شرائط وغیرہ کا اڑنگا لگا کر نکل جانے کی راہ ہم نہیں دیں گے۔ ہم امن کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں اور غیر مشروط مناظرہ کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم صرف مرزا قادیانی کے اقوال و ارشادات ہی سے آفتاب نصف النہار کی طرح دکھلا دیں گے کہ عظیم الشان نبی یا اس صدی کا مجدد اعظم سباب اعظم اور مجدد سب وشتم ہے۔ نہ صرف مجدد بلکہ اس فن شریف میں موجد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نے ایسی ایسی لطیف و نفیس گالیاں ایجاد کی ہیں۔ جو لکھنؤ کی بھٹیاریوں تک کے وہم و گمان میں بھی نہ
٩٤
آئی ہوں گی۔ اس کے جواب میں آپ کلیتاً آزاد ہیں۔ مرزا قادیانی کی پوزیشن صاف کرنے کے لئے جو چاہیں کہیں۔ کوئی ہے جو ہمارا یہ غیر مشروط چیلنج قبول کرے۔
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں
بڑے میاں، بڑے میاں، چھوٹے میاں، سبحان اللہ! اگر برا نہ مانا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا مقابلہ ”خوش کلامی“ اور ”شیریں زبانی“ میں اگر کیا تو میاں محمود صاحب نے ”نبی“ کا ریکارڈ اگر توڑا تو ”خلیفہ“ نے باپ کی جگہ اگر لی تو بیٹے نے۔ آپ کی خوش بیانی کے ڈنکے دنیا بھر میں بجائے جاتے ہیں۔ آپ ایک خطبہ نکاح میں یوں اپنے دہن مبارک سے گل افشانی فرماتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے قریباً ہم عمر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی تھے۔ ان کے والد کا جس وقت نکاح ہوا ان کو اگر حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی حیثیت معلوم ہوتی اور وہ جانتے کہ میرا ہونے والا بیٹا محمد رسول اللہ ﷺ کے ظل اور بروز کے مقابلہ میں وہی کام کرے گا جو آنحضرت ﷺ کے مقابلہ میں ابو جہل نے کیا تھا تو وہ اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٢ نومبر ١٩٢٢ء)
انا للہ!
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے
پھولوں کی اس جھڑی اور موتیوں کی اس لڑی پر اتنا تعجب و تحیر نہیں۔ جتنی حیرت اس بات کی ہے کہ ان اقوال وارشادات بلکہ ان الہامات کے صدور ونزول اور آج تک ان کے باوجود باپ کو عظیم الشان نبی اور سب رسولوں سے افضل و برتر رسول یا درجہ اقل مجدد اعظم اور مسیح موعود مانا جاتا ہے تو بیٹے کو خلیفۃ المسیح اور مصلح موعود۔ حالانکہ باپ کو زبان وحی ترجمان سے حضرت مولانا غزنوی کی با عصمت بیوی کا پیٹ اور حضرت مولانا سعد اللہ صاحب لدھیانوی کی عفت مآب بیوی کا رحم محفوظ نہ رہا تو بیٹے کی لسان الہام نشان سے حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی کے باپ کا آلہ تناسل نہ بچ سکا۔
اگر حضرت اقدس مرزا قادیانی کا ہم عمر تھا تو مولوی محمد حسین حضرت مسیح موعود کے ٩٤
مقابلہ میں اگر کوئی کام کیا تھا تو مولوی محمد حسین نے، لیکن آ اس بیچارے کا کیا قصور؟ اس نے کون سا ایسا اقدام کیا تھا ج اس انتہائی گراوٹ اور زبان کے بدترین تلوث ہوئے بھی دم گھٹا جاتا ہے اور ضمیر مرا جاتا ہے۔۔۔۔ مرزا قاد تو یہ اس مرزائی علم کلام کی برکت ہے جو زبان وقلم کی الع مرزا قادیانی کو سلطان القلم اور خلیفہ صاحب کو غالب علی کل ومن لفظاً لفظاً نہیں بلکہ حرفاً حرفاً تسلیم کرنے کے بعد یہ کہتا ہ وناروا بات نکلی اور نہ نکل سکتی ہے۔
پھر ہم سے یہ کہتے ہیں کہ ہ
مرزا غلام احمد کا ایک عظیم ک
ابدی غلامی
از قلم : حضرت مولانا قاضی
خداوند تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی نجات ب حتیٰ کہ خاتم النبیین محمد ﷺ نے دو جبروتی نظاموں کے ”اذا هلك کسرٰی فلا کسرٰی ب بعدہ“ ساری دنیا پر یہی دو نظام تھے جنہوں نے محمد ﷺ کی مقدس تعلیم اور آپ ﷺ کے پاک جذبہ آزادی کامل سے نوازا۔ یہی مقصد ہر زمانہ میں انب السلام کا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون بنی اسرائیل ولا تعذبهم“ الغرض نبی کا سب سے بڑا کام یہی ہوا کر کر کے اشرف المخلوقات کو آرام اور سکون بخشے۔ بلکہ کہ نبی کا تو بہت ہی بلند مقام ہے۔ ذرا سا درد دل ر وہ ظالم حکومت کا مقابلہ کرے۔ ”الا ان اولیاء اللّٰ ٩٥
مقابلہ میں اگر کوئی کام کیا تھا تو مولوی محمد حسین نے، لیکن آلہ تناسل کاٹا جاتا ہے۔ ان کے والد کا اس بیچارے کا کیا قصور؟ اس نے کون سا ایسا اقدام کیا تھا؟
اس انتہائی گراوٹ اور زبان کے بدترین تلوث کے باوجود بھی .....کہ جسے نقل کرتے ہوئے بھی دم گھٹتا جاتا ہے اور ضمیر مرا جاتا ہے .....مرزا قادیانی اگر نبی ہیں اور میاں صاحب خلیفہ! تو یہ اس مرزائی علم کلام کی برکت ہے جو زبان وقلم کی ان گل افشانیوں اور جولانیوں کے بعد بھی مرزا قادیانی کو سلطان القلم اور خلیفہ صاحب کو غالب علی کل قرار دیتا ہے اور مذکورہ بالا حوالوں کو من وعن لفظاً لفظاً نہیں بلکہ حرفاً حرفاً تسلیم کرنے کے بعد یہ کہتا ہے کہ ان حضرات کے منہ سے کبھی ناجائز ونا روا بات نکلی اور نہ نکل سکتی ہے۔
پھر ہم سے یہ کہتے ہیں کہ ہم پردہ نشیں ہیں
مرزا غلام احمد کا ایک عظیم الشان کارنامہ
ابدی غلامی
از قلم: حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی صاحب، دارالاشاعت اٹک!
خداوند تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی نجات کے لئے ہر زمانہ میں رسول مبعوث فرمائے۔ حتی کہ خاتم النبیین محمدﷺ نے دو جبروتی نظاموں کے خاتمہ کا اعلان فرمایا۔
”اذا هلك كسرى فلا كسرى بعده واذا هلك قيصر فلا قيصر بعده“ ساری دنیا پر یہی دو نظام تھے جنہوں نے انسانیت کے وقار کو خاک میں ملایا ہوا تھا۔ محمدﷺ کی مقدس تعلیم اور آپﷺ کے پاک جذبہ حریت نے اس کا ابدی خاتمہ کر کے انسان کو آزادی کامل سے نوازا۔ یہی مقصد ہر زمانہ میں انبیاء علیہم السلام کا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے یہی مطالبہ کیا تھا کہ ”ارسل معنا بنی اسرائیل ولا تعذبهم“
الغرض نبی کا سب سے بڑا کام یہی ہوا کرتا ہے کہ وہ جبروتی نظام کے ظالمانہ وقار کو تار تار کر کے اشرف المخلوقات کو آرام اور سکون بخشے۔ بلکہ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہوں گے کہ نبی کا تو بہت ہی بلند مقام ہے۔ ذرا سا درد دل رکھنے والا اللہ کا بندہ بھی اپنا فرض عین سمجھتا ہے کہ وہ ظالم حکومت کا مقابلہ کرے۔ ”الا ان اولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون“
٩٥
فرعون کے وہ جادوگر جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سر پیکار تھے۔ ایمان لانے کے بعد اتنے بے خوف ہو گئے کہ فرعون کو صاف کہہ دیا تو صرف یہی کر سکتا ہے کہ ہماری دنیاوی زندگی کا فیصلہ صادر کردے۔
”انما تقضى هذه الحيوة الدنيا“ جناب رسول اللہ ﷺ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ ”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ اور دوسری جگہ فرمایا: ”افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر“ اسی جذبے سے متاثر ہو کر ابوالحسن خرقانیؒ نے سلطان محمود غزنوی کو ہندوستان پر حملہ کا حکم فرمایا۔ تاکہ ظالم گوسالہ پرستوں سے اللہ کے ماننے والوں کو نجات ملے۔ یہی وہ تڑپ تھی جس نے مجدد الف ثانی کو جہانگیر جیسے مسلمان (مگر غیر عامل) بادشاہ کے مقابل کر دیا۔ پھر فاتحان ہند اور مؤسس پاکستان سید احمد اور سید اسماعیلؒ نے اسی امنگ بلکہ اسی عقیدت سے سرشار ہو کر باطل کے مقابلہ میں جان تک نثار کر دی۔ علامہ جمال الدین افغانی ساری عمر باطل کی غلامی گوارہ نہ کی۔ اس حقیقت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی جو بالفاظ قادیانی امت مرزائیوں کے نبی تھے اور اس نے خود بھی کہا: ”هو الذی ارسل رسوله بالهدی“ اس کے حق میں نازل ہے اس کا دعویٰ یہ ہے کہ:
داد آں جام را مرا بہ تمام
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
اور بتاویل ”خاتم“ مجدد تھے۔ ضروری اور لازم تھا کہ وہ ہر باطل کے مقابلہ پر کمر بستہ ہو جاتے۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی بالکل برعکس ہے۔
اقبال مرحوم نے اس سارے فلسفے اور اس کی ساری تعلیم کو صرف ایک شعر میں جمع کر دیا ہے ۔ فرماتے ہیں:
زندگانی از خودی محرومی است
اب اسی شعر کی تشریح مرزائیوں کی زبانی ملاحظہ فرمادیں۔ مرزا بشیر احمد کا کہنا ہے کہ سکھوں کے زمانہ میں بھی ان کے بزرگوں نے وفاداری کا اعلان کیا اور اعزاز واکرام حاصل
٩٦
کئے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”ہمارے دادا مرزا غلام مرتضیٰ صاحب واپس آگئے اور باوجود زخم خوردہ ہونے کے ملک کے امن کی خا ملک کی قائم شدہ حکومت کے ہمیشہ وفادار رہے۔“
چنانچہ انگریزوں سے وفاداری اور ان کا خود کاشتہ پو سے اشرف اور قابل شکر سمجھنا یہ سب کچھ اس قدر کثرت سے شا نہیں رہی۔ انگریزوں کی حکومت کو مٹانے کے لئے جو تحریک روپیہ اس لئے خرچ کیا گیا کہ انگریزوں کی خوشنودی حاصل کی ج کا اعتراف کیا۔ جس کی شہادت مولوی محمد علی مرزائی امام جماع وقت انگریزوں کی حکومت تھی۔ اس لئے اس کی وفاداری لازم
نہرو کی حکومت قائم ہو گئی تو اب الفضل کی مدح سرائی ملاحظہ ہو
”بیشک کانگریس کے اصول بڑے جمہوری تھے۔
”ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی ہے اور اب پھ اصولاً غلط ہے۔“
”مسٹر گاندھی کی موت کا پیغام جو امیر مرزائیہ نے حلفاً لکھا۔ خدا جانتا ہے کہ باوجود اس کے کہ ہمارے مقدّس آپ کے اور آپ کی حکومت کے خیر خواہ ہیں۔“
جب ہندو اور انگریز کی غلامی سے نجات دلانے مرزائیت کی دونوں شاخوں نے اس کے ساتھ کوئی تعاون ن کا ایمان ہے۔ بشیر الدین خلیفہ نے اقرار کیا ہے کہ ہم ن تعلق نہیں۔
لاہوریوں کے امام مولوی محمد علی کا فیصلہ اب س چلی ہے۔ اس سے آپ باہر ہیں۔ خدا کا احسان ہے کہ ہ ہوئی ہے۔“
ہندوؤں کے مظالم سے جان بچانے کے لی
٩٧
کئے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”ہمارے دادا مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مہاراجہ کی اجازت سے قادیان واپس آگئے اور باوجود زخم خوردہ ہونے کے ملک کے امن کی خاطر اور خاندانی روایات کی بناء پر ملک کی قائم شدہ حکومت کے ہمیشہ وفادار رہے۔“
(الفضل ١٣؍جنوری ١٩٢٧ء)
چنانچہ انگریزوں سے وفاداری اور ان کا خود کاشتہ پودا ہونا، ان کی سلطنت کو مکہ مدینہ سے اشرف اور قابل شکر سمجھنا یہ سب کچھ اس قدر کثرت سے شائع ہو چکا ہے کہ اس کی اور ضرورت نہیں رہی۔ انگریزوں کی حکومت کو منانے کے لئے جو تحریک بھی اٹھی اس کی مخالفت پر لاکھوں روپیہ اس لئے خرچ کیا گیا کہ انگریزوں کی خوشنودی حاصل کی جائے۔ مرزا بشیر الدین نے خود اس کا اعتراف کیا۔ جس کی شہادت مولوی محمد علی مرزائی امام جماعت لاہور نے دی ہے۔ چونکہ اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی۔ اس لئے اس کی وفاداری لازم اور داخل ایمان تھی۔ مگر جب اسی نہرو کی حکومت قائم ہو گئی تو اب الفضل کی مدح سرائی ملاحظہ ہو۔
”بیشک کانگریس کے اصول بڑے جمہوری تھے۔“
(١٣؍اپریل ١٩٤٨ء)
”ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی ہے اور اب پھر کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک ہر تقسیم اصولاً غلط ہے۔“
(حوالہ مذکور)
”مسٹر گاندھی کی موت کا پیغام جو امیر مرزائیہ نے بھیجا۔ اس میں پنڈت نہرو کو لکھا اور حلفاً لکھا۔ خدا جانتا ہے کہ باوجود اس کے کہ ہمارے مقدس مرکز سے زبردستی نکالا گیا ہے۔ ہم آپ کے اور آپ کی حکومت کے خیر خواہ ہیں۔“
(الفضل مورخہ ٢؍فروری ١٩٤٨ء)
جب ہندو اور انگریز کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تو مرزائیت کی دونوں شاخوں نے اس کے ساتھ کوئی تعاون نہ کیا۔ بلکہ سیاسیات سے علیحدہ رہنا ان کا ایمان ہے۔ بشیر الدین خلیفہ نے اقرار کیا ہے کہ ہم مذہبی لوگ ہیں نہ حکومتوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔
لاہوریوں کے امام مولوی محمد علی کا فیصلہ اب سن لیں: ”یہ خدا کا فضل ہے جو سیاسی ہوا چلی ہے۔ اس سے آپ باہر ہیں۔ خدا کا احسان ہے کہ تمہاری جماعت اس زہریلی ہوا سے بچی ہوئی ہے۔“
(پیغام صلح مورخہ ٢٦؍دسمبر ١٩٣٨ء)
ہندوؤں کے مظالم سے جان بچانے کے لئے مسلمانوں نے جو دفاع کارروائی کی۔
٩٧
مرزائیوں کے نزدیک یہ سب کچھ ملحدانہ تحریکوں کا نتیجہ ہے۔ ”لیکن یہ مذہب کے تفرقہ کی وجہ سے ہوا ہے۔ مذہب پر یہ سراسر بہتان باندھا گیا ہے۔ یہ سب کچھ انہیں ملحدانہ تحریکوں کا کارنامہ ہے۔ اگرچہ مذہب کے نام پر سرانجام دیا گیا ہے۔“
(الفضل مورخہ ١٤؍دسمبر ١٩٤٧ء)
یہ ملحدانہ تحریک کس تحریک کا خطاب ہے؟ آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اس تعلیم کے زیر اثر وزیر خارجہ پاکستان ظفر اللہ خان صاحب ہندوستان اور پاکستان دونوں کو فسادات کا پورا پورا شریک قرار دے رہے ہیں۔ چنانچہ آپ نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے سالانہ ڈنر کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا: ”تقسیم کے بعد ہندوستان اور پاکستان میں مسابقت کی جنگ جاری رہی ہے اور دونوں نے دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ برائی اور ظلم میں ان میں سے کون دنیا کے سامنے مثال قائم کر سکتا ہے۔“
(نوائے وقت مورخہ ٢٠؍جنوری ١٩٤٩ء)
غرضیکہ مرزائیت کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ جو حکومت قائم ہو خواہ کافر ہو یا مسلمان۔ ظالم ہو یا عادل اس کی فرمانبرداری لازم اور ضروری ہے۔ اس کے خلاف آواز اٹھانا آزادی کے لئے جدوجہد کرنا حرام ہے۔ اسی لئے فریضہ جہاد کو حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ مرزا بشیر الدین نے لکھا ہے: ”ہم صرف انگریزوں کے فرمانبردار نہیں بلکہ افغانستان میں افغانی حکومت کے، مصر میں مصری حکومت کے اور اسی طرح دوسرے ممالک میں ان کی حکومتوں کے فرمانبردار اور مددگار ہیں۔“
(الفضل مورخہ ٢٩؍اکتوبر ١٩٤٧ء)
ان بیانات کے ذکر کرنے سے مقصد اظہار یہ ہے کہ مرزائیت ہر حکومت کی وفاداری شرط ایمان سمجھتی ہے۔ خواہ وہ کیسی ہی حکومت کیوں نہ ہو۔ ان مختصر سے حوالہ جات سے معلوم ہو گا کہ مرزائیت کی تحریک ابدی غلامی کی ایک زنجیر ہے۔ اس میں حریت کا جذبہ، آزادی کا شائبہ تک موجود نہیں ہے۔ ایسی تحریک سے نہ تو ملت کو نفع پہنچ سکتا ہے اور نہ ملک کو۔ بلکہ ایسی تحریکات نقصان دہ ثابت ہوا کرتی ہیں۔ چنانچہ آج بھی پاکستان کے کسی میدان سرفروشی میں انکا حصہ موجود نہیں ہے۔
اقبال مرحوم کا نصیحت آمیز شعر اس سارے مضمون کا خلاصہ ہے۔
غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز
٩٨
”مرزا قادیانی کی کتابیں دیکھنے سے یہ بات ساری تصانیف میں صرف چند ہی مسائل کا تکرار اور دور بیسیوں کتابوں میں مختلف عنوانوں سے ذکر کیا ہے اور ی تعارض پایا جاتا ہے اور خود مرزا قادیانی کی ایسی پریشان ب ہے کہ جس کا نتیجہ گڑبڑ ہے اور ان کو بوقت ضرورت مخلص نبوت کے عقیدہ کو اپنے مشہور اور اجماعی معنے کے ساتھ ت ایسے عقیدہ بتلانے والے مذہب کو لعنتی اور شیطانی مذہب ق نزول کو تمام امت محمدیہ کے عقیدہ کے موافق متواتر دین و نقل کرتے ہیں اور کہیں اس عقیدہ کو .....مشرکانہ عقیدہ بتلات
نبوت کا گورکھ د
از: عالی جناب محمد اکبر خا مقدمہ بہاول پور اور فیصلہ مقدمہ بہاول پور نے شوہر کے ارتداد پر تنسیخ نکاح کا دعویٰ کیا ..... علام مرزا قادیانی کے کفر اور مرزائیوں کے ارتداد کو ثابت کیا کوشش کی ..... فریقین کی مفصل بحث سن لینے کے بعد ف ایک تھوڑا سا حصہ ہدیہ قارئین ہے۔ (مدیر) ”معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی جب ا مکاشفات کا سلسلہ جاری ہونے لگا تو وہ اپنے آپ کو میں وحی اور نبوت کے الفاظ موجود پا کر انہوں نے سا خاطر اپنے لئے نبوت کی ایک اصطلاح تجویز فرمائی۔ یہ کہہ کر انہیں خاموش کرنا چاہا کہ گھبراتے کیوں ہو۔ آ مخاطبہ کے تم لوگ قائل ہو۔ میں ان کی کثرت کا نام ب نزاع ہے۔ سو ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کوئی اصطلا
٩٩
”مرزا قادیانی کی کتابیں دیکھنے سے یہ بات پوری طرح روشن ہو جاتی ہے کہ ان کی ساری تصانیف میں صرف چند ہی مسائل کا تکرار اور دور ہے۔ ایک ہی مسئلہ اور ایک ہی مضمون کو بیسیوں کتابوں میں مختلف عنوانوں سے ذکر کیا ہے اور پھر سب اقوال میں اس قدر تہافت اور تعارض پایا جاتا ہے اور خود مرزا قادیانی کی ایسی پریشان خیالی ہے اور بالقصد ایسی روش اختیار کی ہے کہ جس کا نتیجہ گڑ بڑ رہے اور ان کو بوقت ضرورت مخلصی اور مفر باقی رہے۔ چنانچہ کہیں تو وہ ختم نبوت کے عقیدہ کو اپنے مشہور اور اجماعی معنے کے ساتھ قطعی اور اجماعی عقیدہ کہتے ہیں اور کہیں ایسے عقیدہ بتلانے والے مذہب کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دیتے ہیں۔ کہیں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو تمام امت محمدیہ کے عقیدہ کے موافق متواتر دین میں داخل کرتے ہیں اور اس پر اجماع ہونا نقل کرتے ہیں اور کہیں اس عقیدہ کو...... مشرکانہ عقیدہ بتلاتے ہیں۔“
(بیان شیخ الاسلام حضرت علامہ انور شاہ صاحب)
نبوت کا گورکھ دھندا
از: عالی جناب محمد اکبر خان صاحب سابق ڈسٹرکٹ جج بہاول پور!
مقدمہ بہاول پور اور فیصلہ مقدمہ بہاول پور دونوں کی حیثیت تاریخی ہے۔ ایک مسلمہ نے شوہر کے ارتداد پر تنسیخ نکاح کا دعویٰ کیا...... علماء اسلام نے اپنے فاضلانہ بیانات میں مرزا قادیانی کے کفر اور مرزائیوں کے ارتداد کو ثابت کیا۔ مرزائی علماء نے تردید اور صفائی کی ناکام کوشش کی...... فریقین کی مفصل بحث سن لینے کے بعد فاضل جج نے ایک عالمانہ فیصلہ لکھا۔ جس کا ایک تھوڑا سا حصہ ہدیہ قارئین ہے۔ (مدیر)
”معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی جب اس میدان میں گامزن ہوئے اور ان پر مکاشفات کا سلسلہ جاری ہونے لگا تو وہ اپنے آپ کو نہ سنبھال سکے اور صوفیائے کرام کی کتابوں میں وحی اور نبوت کے الفاظ موجود پا کر انہوں نے سابقہ اولیاء اللہ سے اپنا مرتبہ بلند دکھانے کی خاطر اپنے لئے نبوت کی ایک اصطلاح تجویز فرمائی۔ جب لوگ یہ سن کر چونکنے لگے تو انہوں نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کرنا چاہا کہ گھبراتے کیوں ہو۔ آنحضرت ﷺ کے اتباع سے جس مکالمہ اور مخاطبہ کے تم لوگ قائل ہو۔ میں ان کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوۃ رکھتا ہوں۔ یہ صرف لفظی نزاع ہے۔ سو ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کوئی اصطلاح مقرر کرے۔ گویا انہوں نے نبی کے لفظ
٩٩
کو برعکس اس کی اصل اور عام فہم مراد کے یہاں اصطلاحی طور کثرت مکالمہ اور مخاطبہ پر حاوی کیا اور یہ اصطلاح بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم کی۔ اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ اس لفظ کا استعمال کثرت سے اپنے متعلق کرنے لگے تو لوگ پھر چونکے۔ اس پر انہوں نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کیا کہ میں کوئی اصلی نبی تو نہیں ۔ بلکہ اس معنی میں کہ میں نے تمام کمال آنحضرت ﷺ کے اتباع اور فیض سے حاصل کیا ہے۔ ظلی اور بروزی نبی ہوں اور اس کے بعد انہوں نے ان آیات قرآنی کو جو شاید کسی اچھے وقت میں ان پر نازل ہوئی تھیں، اپنے اوپر چسپاں کرنا شروع کر دیا اور شدہ شدہ تشریحی نبوت کے دعویٰ کا اظہار کر دیا۔ لیکن صریح آیات قرآنی اور احادیث اور اقوال بزرگان سے جب انہیں اس میں کامیابی نظر نہ آئی تو انہوں نے اس دعویٰ کو ترک کر کے اپنا مفر نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث میں جا تلاش کیا اور عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو بذریعہ وحی ثابت کر کے یہ دکھلایا کہ ان احادیث کا اصل مفہوم یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت میں کسی شخص کو نبوت کا درجہ عطا نہ کیا جائے گا۔
مدعا علیہ کے ایک گواہ کے بیان سے یہ اخذ ہوتا ہے اور نہ معلوم اس نے بطور خود یا مرزا قادیانی کی کسی تحریر کی رو سے یہ بیان دیا ہے کہ احادیث میں جو عیسیٰ ابن مریم کے نزول کی خبر آئی ہے اس میں رسول اللہ ﷺ سے ایک اجتہادی غلطی ہوگئی ہے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ بعض پیش گوئیاں ایسی ہوتی ہیں جو آئندہ زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیکن حقیقت ان کے ظہور کے وقت نمایاں ہوتی ہے اور اجتہادی غلطی پیش گوئیوں کے سمجھنے میں یعنی کیفیت تحقق وقوع کے لحاظ سے ہر نبی سے ممکن ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ سے بھی اس کی مثال اس نے بخاری کی ایک حدیث کا حوالہ دے کر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رؤیا کی بناء پر یہ سمجھا کہ وہ حجر یمامہ کی طرف ہجرت فرمائیں گے لیکن آپ جس وقت مدینہ کی طرف ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو اس وقت آپ ﷺ پر اس پیش گوئی کی حقیقت کھلی کہ اس سے مراد مدینہ تھا اور کہ جب نبی سے اجتہادی غلطی ممکن ہوئی تو پیش گوئی کے پورا ہونے کے وقت اصل حقیقت پیش گوئی کی منکشف ہو جائے گی اور کہ امتی کو پیش گوئی کے تحقق وقوع کے وقت وقوع کا علم ہو جاتا ہے۔ غرض مرزا قادیانی نے سابقہ مراحل سے گزرنے کے بعد بڑھ چڑھ کر اپنے مسیح موعود ہونے کے دعوے کا اظہار شروع کر دیا اور نبوۃ کو پھر ایک ایسا گورکھ دھندا بنا دیا کہ جو نہ تو لوگوں کی سمجھ میں آسکتا ہے اور نہ ہی ان کے اپنے متبعین جیسا کہ اوپر دکھلایا جا چکا ہے۔ ان کے مرتبے کو بخوبی سمجھ سکے ہیں۔ بلکہ خود خدا کو بھی نعوذ
١٠٠
باللہ ان کے نبی بنانے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ کہ نعوذ باللہ اس کے حبیب سے ایک اجتہادی غلطی ہوگئی ہے۔ مرزا قادیانی کو نبوۃ کا مرتبہ عطا فرمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیش گوئیوں کو جو قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہیں اور پھر کبھی انہیں مریم بنایا اور کبھی عیسیٰ اور اس کے بعد بارش کی ابن مریم فوت ہو چکے ہیں۔ اب تم بلا خوف و خطر نبی ہونے ’’ فاستمع لما یوحیٰ ‘‘ اور ’’ یا ایھا المدثر قم فانذر ‘‘ کو دھوکا دے کر اپنی طرف سے مامور فرمایا کرتا تھا۔ وہاں سر مختلف حیل اختیار کرنے پڑے۔ مرزا قادیانی کے اس طرز عمل ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نبوت کے عہدے ختم ہو مرزا قادیانی کے لئے نبوت کی اصطلاح تجویز فرمائی۔ پھر وہ نبی کا خطاب عطا فرما دیا۔ جیسا کہ نواب اور راجہ کے خطابات جاتے ہیں۔ جو صاحب ریاست نہ ہوں۔ لیکن جب مرزا قادی باوجودیکہ اللہ تعالیٰ انہیں یا ولدی فرما چکا تھا اور چونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں خاتم النبیین کہہ چکا تھا وہ مک ہوں۔ مرزا قادیانی کو آپ کا ظل بنا دیا گیا اور آخر کار جب ا بھی خیال آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخر زمانہ میں بھجوا مرزا قادیانی کو نبی بنا دیا۔ استغفر اللہ !
گواہ مدعاعلیہ نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی سے بھی اعتبار ہے کہ مرزا قادیانی سے یہ غلطی نہ ہوئی ہوگی۔ ضمناً کے ظل بھی ہیں اغلب ہے کہ اصل کی فطرت ظل کی فطرت مرزا قادیانی اپنے اقرار کے مطابق آنحضرت ﷺ سے خداوند تعالیٰ کے کئی سال کے متواتر وحی کے بعد انہوں نے ممکن ہے کہ انہوں نے وحی الٰہی کا مفہوم غلط سمجھ کر دعوی تصریحات سے یہ پایا جاتا ہے کہ انہیں امتی ہونے کے
١٦١
باللہ ان کے نبی بنانے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ جب خداوند تعالیٰ نے یہ محسوس کیا کہ نعوذ باللہ اس کے حبیب سے ایک اجتہادی غلطی ہو گئی ہے۔ اب ان کی آن رکھنے کے لئے مرزا قادیانی کو نبوۃ کا مرتبہ عطاء فرمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بقول مرزا قادیانی پہلے تو ان تمام پیش گوئیوں کو جو قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق تھیں۔ مرزا قادیانی کی طرف پھیر دیا اور پھر کبھی انہیں مریم بنایا اور کبھی عیسیٰ اور اس کے بعد بارش کی طرح وحی کر کے یہ جتا دیا کہ عیسیٰ ابن مریم فوت ہو چکے ہیں۔ اب تم بلا خوف و خطر نبی ہونے کا دعویٰ کر دو اور جہاں پہلے وہ "فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَى" اور "يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ" کی تحکمانہ وحی کے ذریعہ سے نبیوں کو چونکا کر کے اپنی طرف سے مامور فرمایا کرتا تھا۔ وہاں مرزا قادیانی کے لئے اُسنے نعوذ باللہ مختلف حیل اختیار کرنے پڑے۔ مرزا قادیانی کے اس طرزِ عمل سے نبی بننے سے یہ بات خود واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نبوت کے عہدے ختم ہو چکے تھے۔ کیونکہ اس نے پہلے تو مرزا قادیانی کے لئے نبوت کی اصطلاح تجویز فرمائی۔ پھر وہ جب اس سے خوش نہ ہوئے تو ان کو نبی کا خطاب عطاء فرما دیا۔ جیسا کہ نواب اور راجہ کے خطابات گورنمنٹ سے ان لوگوں کو فرمائے جاتے ہیں۔ جو صاحب ریاست نہ ہوں۔ لیکن جب مرزا قادیانی کی اس سے بھی تشفی نہ ہوئی۔
باوجودیکہ اللہ تعالیٰ انہیں یا ولدی فرما چکا تھا اور اس خیال سے کہ رسول اللہ ﷺ کو چونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں خاتم النبیین کہہ چکا تھا وہ بھی کسی دوسرے نبی کے بننے سے خفا نہ ہوں۔ مرزا قادیانی کو آپ کا ظل بنا دیا گیا اور آخر کار جب ان کی خوشی نبی بننے میں ہی دیکھی اور یہ بھی خیال آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخر زمانہ میں بھجوا دینے کا وعدہ ہو چکا ہے تو انہیں مار کر مرزا قادیانی کو نبی بنا دیا۔ استغفر اللہ!
گواہ مدعا علیہ نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی سے بھی اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے تو پھر اس کا کیا اعتبار ہے کہ مرزا قادیانی سے یہ غلطی نہ ہوئی ہو۔ خصوصاً جب کہ مرزا قادیانی رسول اللہ ﷺ کے ظل بھی ہیں اغلب ہے کہ اصل کی فطرت ظل کی فطرت پر اثر انداز نہ ہوئی ہو اور علاوہ ازیں مرزا قادیانی اپنے اقرار کے مطابق آنحضرت ﷺ سے زیادہ ذکی بھی نہیں پائے جاتے۔ کیونکہ خداوند تعالیٰ کے کئی سال کے متواتر وحی کے بعد انہوں نے یہ جا کر سمجھا کہ وہ نبی ہو چکے۔ اس لئے ممکن ہے کہ انہوں نے وحی الٰہی کا مفہوم غلط سمجھ کر دعویٰ نبوت کر دیا ہو۔ مرزا قادیانی کی اپنی تصریحات سے یہ پایا جاتا ہے کہ انہیں امتی ہونے کے وقت نزول مسیح کے متعلق وقوع کا علم نہیں
١٥١
ہوا۔ بلکہ جب ان کو نبوت کا خطاب مل چکا۔ اس کے بعد انہیں یہ جتلایا گیا کہ مسیح ناصری فوت ہوچکے ہیں۔ اس لئے مدعاعلیہ کے گواہ کا یہ کہنا کہ امتی کو وقوع کے متعلق تحقیق وقوع کا علم ہو جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کی اپنی تصریحات سے باطل ہو جاتا ہے۔
گواہ مذکور نے رسول اللہ ﷺ کی جس حدیث کا حوالہ دے کر یہ کہا ہے کہ آپ ﷺ سے اجتہادی غلطی کا وقوع ممکن ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ نے ہجرت کے وقت کوئی غلطی فرمائی۔ گواہ مذکور کی یہ حجت اس وقت صحیح ہوتی کہ جب آپ بجائے مدینہ ...... کے حجر یمامہ کی طرف تشریف لے جاتے اور پھر وہاں سے مدینہ عالیہ کی طرف لوٹتے۔ وہاں جانے کے متعلق آپ ﷺ کا صرف ایک خیال تھا۔ جو وقوع میں نہ آیا اور رؤیاء پر عمل اس طرح ہوا جس طرح مشیت ایزدی میں مقدر تھا۔ خود اس مثال سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ اگر کسی نبی کو کسی طرح غلط فہمی ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے فوراً رفع کر دیا جاتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ صدیوں تک وہ غلطی چلی جائے اور نہ خود نبی پر اور نہ اس کے کامل متبعین پر اس کا افشا ہو۔ اس لئے یہ کہنا دیدہ دلیری ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی بیان کرنے میں اجتہادی غلطی ہوئی ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے پھر اخیر عمر میں جا کر اپنے دعویٰ کی غلطی کو محسوس کیا اور پھر اصطلاحی نبوت کو ہی جا کر قائم کیا۔ جس سے انہوں نے اپنے دعویٰ کی ابتداء شروع کی تھی۔ جیسا کہ ان کے ایک خط سے جو انہوں نے وفات سے دو تین یوم قبل اخبار عام کے ایڈیٹر کے نام لکھا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں درج ہے کہ: ”سو میں صرف اس وجہ سے نبی کہلاتا ہوں کہ عربی اور عبرانی میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیش گوئی کرنے والا۔“ ان تمام واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے بجا طور پر یہ کہا ہے کہ مرزا قادیانی کی کتابیں دیکھنے سے یہ بات پوری طرح روشن ہو جاتی ہے کہ ان کی ساری تصانیف میں صرف چند ہی مسائل کا تکرار اور دور ہے۔ ایک ہی مسئلہ اور ایک ہی مضمون کو بیسیوں کتابوں میں مختلف عنوانوں سے ذکر کیا ہے اور پھر سب اقوال میں اس قدر تہافت اور تعارض پایا جاتا ہے اور خود مرزا قادیانی کی ایسی پریشان خیالی ہے اور بالقصد ایسی روش اختیار کی ہے جس سے نتیجہ گڑبڑ رہے اور ان کو بوقت ضرورت مخلص اور مفر باقی رہے۔ چنانچہ کہیں وہ ختم نبوت کے عقیدہ کو اپنے مشہور اور اجماعی معنے کے ساتھ قطعی اور اجماعی عقیدہ کہتے ہیں اور کہیں ایسا عقیدہ بتلانے والے مذہب کو
١٠٢
١١١ لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دیتے ہیں۔ کہیں عیسیٰ علیہ السلام کے موافق متواترات دین میں داخل کرتے ہیں اور اس پر اجماع عقیدہ کو مشرکانہ عقیدہ بتلاتے ہیں۔
ختم نبوت کا عقیدہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے میں سے ہے اور خاتم النبیین کے جو معنی مدعاعلیہ کی طرف سے اور احادیث صحیحہ سے اس کی تائید نہیں ہوتی بلکہ اس کے صحیح مع بیان کئے ہیں۔
اس بحث سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آیت خاتم النبیین بطن کے معنے ایسے نہیں ہو سکتے کہ جو رسول اللہ ﷺ کے خاتم ا ہوں اور چونکہ یہ اجماعی عقیدہ ہے۔ اس لئے مذکورہ بالا عقیدہ سے جو یہ کہا گیا ہے کہ تاویل کرنے والے کو کافر نہیں سمجھا گیا کہا ہے وہ اس قبیل کے نہیں جیسا کہ مسئلہ ختم نبوت لہٰذا یہ قرا معنے مدعیہ کی طرف سے کئے گئے ہیں اور اس معنی کے تحت جو د انحراف ارتداد کی حد تک پہنچتا ہے اور کہ آنحضرت ﷺ کے ہو چکے ہیں۔ مرزا قادیانی صحیح اسلامی عقائد کی رو سے نبی نہیں
ظلی اور بروزی نبی اگر آنحضرت ﷺ کے کمالا کے نبی مرزا قادیانی کے آنے سے قبل کئی آچکے ہوتے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے افاضہ روحانی سے سے قبل ایسے نبی آتے کہ جن کے بعد انہیں درجہ کمال درخواست میں کہا گیا ہے کہ ظلی اور بروزی کی اصطلاحیں دراصل مرزا قادیانی کی مراد اس سے اصل نبوت ہے۔ جیس ثانی نے کی۔
کچھ شک نہیں کہ یہ الفاظ مغالطہ پیدا کرنے کے کی کوئی حقیقت نہیں اور وہی شرع میں اس قسم کے الفاظ پر ک
مرزا قادیانی نے یہ بیان کر کے کہ اس قسم کی نبو
١٠٣
لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دیتے ہیں۔ کہیں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو امت محمدیہ کے عقیدہ کے موافق متواترات دین میں داخل کرتے ہیں اور اس پر اجماع ہونا نقل کرتے ہیں اور کہیں ایسے عقیدہ کو شرکانہ عقیدہ بتلاتے ہیں۔
ختم نبوت کا عقیدہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ اسلام کے اہم اور بنیادی مسائل میں سے ہے اور خاتم النبیین کے جو معنی مدعا علیہ کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں۔ آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے اس کی تائید نہیں ہوتی بلکہ اس کے صحیح معنی وہی ہیں جو کہ گواہان مدعیہ نے بیان کئے ہیں۔
اس بحث سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آیت خاتم النبیین قطعی الدلالت ہے اور اس کے بطن کے معنے ایسے نہیں ہو سکتے کہ جو رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین بمعنے آخری نبی سمجھنے کے منافی ہوں اور چونکہ یہ اجماعی عقیدہ ہے۔ اس لئے مذکورہ بالا عقیدہ سے انکار کفر ہے۔ مدعا علیہ کی طرف سے جو یہ کہا گیا ہے کہ تاویل کرنے والے کو کافر نہیں سمجھا گیا اور جن مسائل کی بناء پر اس نے ایسا کہا ہے وہ اس قبیل کے نہیں جیسا کہ مسئلہ ختم نبوت لہذا یہ قرار دیا جاتا ہے کہ خاتم النبیین کے جو معنے مدعیہ کی طرف سے کئے گئے ہیں اور اس معنی کے تحت جو عقیدہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس عقیدہ سے انحراف ارتداد کی حد تک پہنچتا ہے اور کہ آنحضرت ﷺ کے بعد عہدہ نبوت اور وحی نبوت منقطع ہو چکے ہیں۔ مرزا قادیانی صحیح اسلامی عقائد کی رو سے نبی نہیں ہو سکتے ......
ظلی اور بروزی نبی اگر آنحضرت ﷺ کے کمال اتباع سے ہونے ممکن ہوتے تو اس قسم کے نبی مرزا قادیانی کے آنے سے قبل کئی آچکے ہوتے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے افاضہ روحانی سے اگر نبوت مل سکتی ہے تو ضرور ہے کہ ان سے قبل ایسے نبی آتے کہ جن کے بعد انہیں درجہ کمال حاصل ہوتا۔ مدعیہ کی طرف سے یہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ظلی اور بروزی کی اصطلاحیں اور اصل الفاظ وہی الفاظ ہیں ورنہ دراصل مرزا قادیانی کی مراد اس سے اصل نبوت ہے۔ جیسا کہ اس کی تشریح بعد میں ان کے خلیفہ ثانی نے کی۔
کچھ شک نہیں کہ یہ الفاظ مغالطہ پیدا کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔ ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ ہی شرع میں اس قسم کے الفاظ پر کسی عقیدہ کا حصر ہے۔
مرزا قادیانی نے یہ بیان کر کے کہ اس قسم کی نبوت قیامت تک جاری ہے۔ اسلام میں
١٠٣
ایک فتنہ کی بنیاد ڈالی ہے اور ممکن ہے کہ ان کے بعد کوئی اور شخص دعویٰ نبوت کر کے ان کی کارگزاری کو ملیا میٹ کر دے۔ اس طرح مذہب سے امان اٹھ جائے گی اور سوائے اس کے کہ وہ ایک کھیل اور تمسخر بن جائے۔ اس کی کوئی حقیقت بحیثیت دین نہ رہے گی۔ اس لئے بھی رسول اللہ ﷺ کا آخری نبی ماننا عقائد صحیحہ میں سے ہونے کے لازمی ضروری ہے۔
مرزا قادیانی رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے۔ اس لئے ان کا اسلام سے اس بنیادی مسئلہ سے انکار کفر کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے دیگر عقائد بھی ان عقائد کے مطابق نہیں پائے جاتے۔ جن کی آج تک امت مرحومہ پابند چلی آئی ہے۔
خدا کا تصور اس نے بندے سے تشبیہ دے کر ایسا پیش کیا ہے کہ جو سراسر نص قرآنی کے خلاف ہے اور اس طرح یہ بیان کر کے کہ خدا خطاء بھی کرتا ہے اور صواب بھی اور روزے رکھتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسے عقیدہ کا اظہار کیا ہے کہ جو سراسر نصوص قرآنی کے خلاف ہے۔ انہوں نے آیات قرآنی کو اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔ جیسا کہ ایک آیت ”هو الذی ارسل رسولہ“ کے متعلق انہوں نے یہ کہا ہے کہ اس میں میرا ذکر ہے اور دوسرے الہام بالفاظ محمد رسول اللہ بیان کر کے یہ کہا کہ اس میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ اسی طرح کئی ایسی تصریحات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ آیات قرآنی کو اپنے اوپر چسپاں کرتے تھے۔ اس سے بھی رسول اللہ ﷺ کی توہین ہوتی ہے۔
اور حضرت مریم کی شان میں مرزا قادیانی نے جو کچھ کہا ہے اور جس کا حوالہ شیخ الجامعہ صاحب گواہ مدعیہ کے بیان میں ہے اور جس کا مدعاعلیہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس سے قرآن شریف کی صریح آیات کی تکذیب ہوتی ہے۔ یہ تمام امور ایسے ہیں کہ جن سے سوائے مرزا قادیانی کو کافر قرار دینے کے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوتا۔
مدعاعلیہ کی طرف سے مرزا قادیانی کی بعض کتب کے حوالے دیئے جاکر یہ کہا گیا ہے کہ مرزا قادیانی نے کسی نبی کی توہین نہیں کی۔ اس کا جواب سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے خوب دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایک جگہ کلمات توہین ثابت ہو گئے۔ تو اگر ہزار جگہ کلمات مدحیہ لکھے ہوں اور ثنا خوانی بھی کی ہو تو وہ کفر سے نجات نہیں دلا سکتے۔ جیسا کہ تمام دنیا اور دین کے قواعد مسلمہ اس پر شاہد ہیں کہ اگر ایک شخص تمام عمر کسی کا اتباع اور اطاعت گزاری کرے اور مدح وثناء کرتا رہے۔ لیکن کبھی کبھی اس کی سخت ترین توہین بھی کر دے تو کوئی شخص اس کو مطیع اور معتقد واقعی نہیں کہہ سکتا۔“
١٠٤
عجائبات مرزا
از: مولانا لال حسین اخترؒ
مرغ، بلی اور چوہا
مرزا غلام احمد قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ”رؤیا، کوئی شے ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ آپ لے لیں۔ دیکھ ہے۔ میں ان مرغوں کو اٹھا کر اور سر سے اونچا کر کے لے جا میں ایک بلی ملی۔ جس کے منہ میں کوئی شے مثل چوہا ہے۔ مگر میں ان مرغوں کو محفوظ لے کر گھر پہنچ گیا۔“
(البدر نمبر
مرزا قادیانی کے الہام کنندہ نے ”بلی کو چوہے دکھائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایسی بہادر اور خوفناک بلی سے بکرے تک کو خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ خلیفہ قادیان اور امت سالانہ جلسہ میں اس بلی کے لئے ہدیہ تشکر کی قرارداد منظور اور خود مرزا قادیانی کی طرف توجہ نہ کی۔ اگر وہ حملہ آور ہو نبوت مآب کی خیر نہ تھی۔
مرغی کا الہام
مرزا غلام احمد قادیانی ارشاد فرماتے ہیں: ”رؤی وہ کچھ بولتی ہے۔ سب فقرات یاد نہیں رہے۔ مگر آخری فقرہ مسلمین“ اس کے بعد بیداری ہوئی۔ یہ خیال تھا کہ مر ہوا۔ انفقوا فی سبیل اللہ ان کنتم مسلمین“
(بـ
مرزائیو! شکر کرو کہ تمہارے مسیح موعود کی روای
- ١؎ چادر میں بکرا سبحان اللہ ! عجائبات در عجائبات
- ٢؎ وہ تو خیر گزری کہ بلی نے توجہ نہ فرمائی۔ و
سلامت کب لے جا سکتے؟ اور بکرے بیچارے کی تو بلی نکا
١٠٥
عجائبات مرزا
از: مولانا لال حسین اخترؒ
مرغ، بلی اور چوہا
مرزا غلام احمد قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ”رؤیا، چند آدمی سامنے ہیں۔ ایک چادر میں کوئی شے ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ آپ لے لیں۔ دیکھا تو اس میں چند مرغ ہیں اور ایک بکرا ١؎ ہے۔ میں ان مرغوں کو اٹھا کر اور سر سے اونچا کر کے لے چلا۔ تا کہ کوئی بلی وغیرہ نہ پڑے۔ راستہ میں ایک بلی ملی۔ جس کے منہ میں کوئی شے مثل چوہا ہے۔ مگر اس بلی نے اس طرف توجہ نہیں کی اور میں ان مرغوں کو محفوظ لے کر گھر پہنچ گیا۔“
(البدر نمبر ١ ج ٢٠ مئی ١٩٠٥ء ، تذکرہ ص ٥٥٨ طبع سوم)
مرزا قادیانی کے الہام کنندہ نے ”بلی کو چوہے کی خواب“ کی ضرب المثل سچ کر دکھائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایسی بہادر اور خوفناک قسم کی بلی تھی کہ جس سے مرزا قادیانی کے بکرے تک کو خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ خلیفہ قادیان اور امت مرزائیہ کو چاہئے کہ آئندہ ربوہ کے سالانہ جلسہ میں اس بلی کے لئے ہدیہ تشکر کی قرارداد منظور کریں کہ اس بلی نے مرغوں، بکرے اور خود مرزا قادیانی کی طرف توجہ نہ کی۔ اگر وہ حملہ آور ہوتی۔ تو مرغوں، بکرے اور خود جناب نبوت مآب کی خیر نہ تھی۔
مرغی کا الہام
مرزا غلام احمد قادیانی ارشاد فرماتے ہیں: ”رؤیا دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک مرغی ہے۔ وہ کچھ بولتی ہے۔ سب فقرات یاد نہیں رہے۔ مگر آخری فقرہ جو یاد رہا یہ ہے۔ ”ان کنتم مسلمین“ اس کے بعد بیداری ہوئی۔ یہ خیال تھا کہ مرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں۔ پھر الہام ہوا۔ انفقوا فی سبیل اللہ ان کنتم مسلمین“
(بدر جلد ٢ نمبر ١٦، ١٩٠٦ء ، تذکرہ ص ٥٨٠ طبع سوم)
مرزائیو! شکر کرو کہ تمہارے مسیح موعود کی روایتی بلی کو اس الہام کرنے والی مرغی کا علم
- ١؎ چادر میں بکرا سبحان اللہ ! عجائبات در عجائبات ۔ (مدیر)
- ٢؎ وہ تو خیر گذری کہ بلی نے توجہ نہ فرمائی۔ ورنہ مرزا قادیانی بہادر مرغوں کو گھر تک
سلامت کب لے جاسکتے؟ اور بکرے بیچارے کی تو بلی ٹکا بوٹی کر دیتی۔ (مدیر)
١٠٥
نہیں ہوا۔ اگر اسے پتہ چل جاتا تو وہ اس مرغی کو معہ الہام بغیر ڈکار لئے ہضم کر جاتی۔ لگے ہاتھ اتنا تو بتاؤ کہ جب مرزا قادیانی کے سب فقرات یاد نہ رہے تو فرشتے کے لائے ہوئے الہام کس طرح یاد رہتے ہوں گے؟
سوئر کو الہام
میر محمد اسماعیل صاحب قادیانی لکھتے ہیں: ’’ایک جاہل شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نوکر تھا۔ اس پر ایک دن الہام کا چھینٹا بہ برکت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پڑ گیا۔ وہ سو رہا تھا۔ اسے الہام ہوا کہ اٹھ او سور نماز پڑھ۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٣ اکتوبر ١٩٢٦ء ص ٧)
سچ ہے جیسی روح ویسے فرشتے۔ جیسے قادیانیوں کے مسیح موعود ویسا نوکر۔ ویسی برکت ویسا فرشتہ اور ویسا الہام۔
کذاب فرشتہ
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ’’رؤیا کوئی شخص ہے اسے میں کہتا ہوں کہ تم حساب کر لو۔ مگر وہ نہیں کرتا۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے مٹھی بھر کر روپے مجھے دیئے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص آیا جو الٰہی بخش کی طرح ہے۔ مگر انسان نہیں فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ اس نے دونوں ہاتھ روپوں کے بھر کر میری جھولی میں ڈال دیے تو وہ اس قدر ہو گئے کہ میں ان کو گن نہیں سکتا۔ پھر میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا۔ میرا کوئی نام نہیں۔ دوبارہ دریافت کرنے پر کہا کہ میرا نام ہے۔ ٹیچی!‘‘
(تذکرہ ص ٥٢٩ طبع سوم)
مرزا قادیانی کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں روپے عطاء کرنے والا ٹیچی فرشتہ کذاب اعظم تھا۔ کسی عام انسان کے سامنے جھوٹ بولنا گناہ عظیم ہے۔ مرزائیوں کے ظلی و بروزی نبی کی خدمت میں کذب بیانی کذاب اکبر کا ہی حوصلہ ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے پہلی دفعہ اپنے محسن اعظم فرشتہ سے دریافت کیا کہ تمہارا نام کیا ہے تو اس نے جواب دیا کہ میرا کوئی نام نہیں مگر دوبارہ نام پوچھا تو اس نے کہا۔ میرا نام ہے ٹیچی۔ مرزا قادیانی کے فرشتے نے یا پہلی دفعہ جھوٹ بولا یا دوسری دفعہ۔
مرزائیو! جس نبی کے فرشتے جھوٹے اور کذاب ہوں اس نبی کی نبوت کا کیا اعتبار؟ سچ ہے جیسی روح ویسے فرشتے۔
١٠٦
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ماہنامہ
دارالعلوم
دیوبند
حضرت مولانا مرغوب الرحمن
کار لیے عزم کر جاتی ۔ لگے ہاتھ آتا تے کے لائے ہوئے الہام کس طرح
جاہل شخص حضرت مسیح موعود علیہ مسیح موعود علیہ السلام پڑ گیا۔ وہ سو رہا
دیان مورخہ ٢٣؍ اکتوبر ١٩٢٦ء ص ٧ )
مسیح موعود دیہا نوکر۔ ویسی برکت
است
ے میں کہتا ہوں کہ تم حساب کر روپے مجھے دینے ہیں۔ اس کے معلوم ہوتا ہے۔ اس نے دونوں کہ میں ان کو گن نہیں سکتا۔ پھر دریافت کرنے پر کہا کہ میرا نام
(تذکرہ ص ٥٢٩ طبع سوم)
سا روپے عطاء کرنے والا نیچی مقیم ہے۔ مرزائیوں کے ظلی سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے پہلی نے جواب دیا کہ میرا کوئی نام یانی کے فرشتے نے یا پہلی دفعہ
نبی کی نبوت کا کیا اعتبار؟ سچ
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخر الانبیاء ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
ماہنامہ
دارالعلوم دیوبند
”ختم نبوت نمبر“
حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن دیوبندی مدظلہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عرض حال
دارالعلوم دیوبند نے ٢٩ تا ٣١ اکتوبر ١٩٨٦ء کو تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے ایک عالمی کانفرنس کی تھی جس میں ہندوستان کے علاوہ سعودیہ عربیہ، عرب امارات، پاکستان، بنگلہ دیش وغیرہ ممالک اسلامیہ کے ارباب دعوت واصحاب قلم نے شرکت کی تھی۔ کانفرنس کا آغاز ہندوستان کے مشہور داعی حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی کی افتتاحی تقریر سے ..... اور اختتام رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری محترم ڈاکٹر عبداللہ نصیف کی تقریر پر ہوا تھا۔ کانفرنس کی مکمل رپورٹ اور کانفرنس میں منظور تجاویز ماہنامہ دارالعلوم مجریہ ماہ نومبر ١٩٨٦ء میں تفصیل سے آچکی ہے۔
اس موقع پر تقریروں کے علاوہ بہت سے صاحب نظر علماء نے مقالات بھی پیش کئے تھے۔ زیر نظر نمبر انہیں مقالات پر مشتمل ہے۔ مقالات کی ترتیب مضامین کے اعتبار سے کی گئی ہے۔ مقالہ نگاروں کی اہمیت وشہرت کا چنداں لحاظ نہیں کیا گیا ہے۔ نیز بعض مقالات میں حک و حذف سے بھی ضرورتاً کام لیا گیا ہے۔ اس طرح کے مجموعوں میں یہ عمل ناگزیر ہوتا ہے۔ امید ہے کہ مرتب کو اس سلسلے میں معذور سمجھا جائے گا۔ خیال یہ تھا کہ یہ خصوصی شمارہ زیادہ سے دو سو صفحات پر شائع کیا جائے۔ لیکن مقالات کی کثرت نے ایسا نہ کرنے دیا۔ پھر بھی بعض مقالات شامل اشاعت نہ کئے جاسکے۔ جس کی وجہ مقالہ کی غیر ضروری طوالت یا اسی موضوع پر اس سے بہتر مضمون کی اشاعت ہے۔ اس کانفرنس میں ایک نشست طلبہ دارالعلوم کے لئے مخصوص کی گئی تھی جس میں طلبہ عزیز نے تقریریں اور اپنے مقالات پڑھے تھے۔ افسوس کہ یہ مقالات مرتب کو حاصل نہ ہوسکے۔ ورنہ ان کی نمائندگی بھی ہوجاتی۔ اگر یہ مقالات بعد میں مل گئے تو آئندہ شماروں میں انتخاب کرکے شائع کر دئیے جائیں گے۔
یہ خصوصی نمبر اب سے بہت پہلے آجانا چاہئے تھا۔ کم از کم اعلان کے مطابق ١٥ جولائی ١٩٨٧ء تک ضرور شائع ہو جانا چاہئے تھا۔ اعلان کے مطابق ساری تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں۔ مگر میرٹھ اور دہلی کے نہ ختم ہونے والے سنگین فساد نے سارے نظام کو درہم برہم کردیا۔ رسل و رسائل کے ذرائع تقریباً منقطع ہوگئے اور انتہائی کوشش کے باوجود بھی کاغذ فراہم کرنے میں نہ صرف ہمارا دفتر بلکہ پریس کے مالک بھی ناکام رہے۔ اس مجبوری سے یہ خاص نمبر جولائی کے بجائے اب اگست میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ نیز صفحات کی زیادتی کی بناء پر دو
٢
ماہ کے بجائے یہ شمارہ تین مہینوں پر مشتمل ہے۔ انشاء اللہ محرم الحرام ١٤٠٨ھ، ستمبر ١٩٨٧ء سے ماہنامہ دارالعلوم حسب معمول ہر ماہ کی ١٥؍ تاریخ کو شائع ہوتا رہے گا۔ ”وما توفيقى الا بالله وهو حسبى ونعم الوكيل“
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !
حرف آغاز
نبیِ افرنگ کی داستان حیات
نام اور تاریخ پیدائش
(تکذیب براہین احمدیہ ص ١٣٧)
انگریزی نبی کا پہلا نام ”دسوندی“ تھا۔
پتہ نہیں دسوندی سے کب ”غلام احمد“ بن گئے۔ انہوں نے خود لکھا ہے کہ میری پیدائش موضع قادیان ضلع گورداسپور میں ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی اور ایک دوسری تحریر میں جو اپنے والد کی وفات کے سلسلہ میں لکھی ہے۔ کہتے ہیں کہ: ”جب میرے والد نے دنیا کو چھوڑا تو اس وقت
(کتاب البریہ ص ١٦٠، خزائن ج ١٣ ص ١٩٢ حاشیہ)
میری عمر ٣٤ یا ٣٥ سال کی تھی۔“
ان کے والد مرزا غلام مرتضیٰ کا انتقال ١٨٧٦ء میں ہوا ہے۔
(مسیح موعود، مؤلفہ مرزا محمود احمد ص ٢٠)
اس اعتبار سے سن پیدائش ١٨٤١ء، ١٨٤٢ء ہوتا ہے۔
مرزا قادیانی کا خاندان
مرزا قادیانی کس خاندان سے تعلق رکھتے تھے اس کا پتہ لگانا ان کی تحریروں سے نہایت دشوار ہے۔ کیونکہ وہ ١٨٩٨ء تک اپنے آپ کو مرزا لکھتے رہے ہیں۔ چنانچہ ١٨٩٨ء کی اپنی تصنیف (کتاب البریہ ص ١٣٤، خزائن ج ١٣ ص ١٦٢) پر اپنی قومیت برلاس (مغل) لکھی ہے۔ لیکن اسی کتاب کے (ص ١٣٤، خزائن ج ١٣ ص ١٦٣ حاشیہ در حاشیہ) پر لکھتے ہیں: ”میرے الہامات کی رو سے ہمارے آباء اولین فارسی تھے۔“ پھر ١٩٠١ء میں اسی نسبی تعلق سے دست بردار ہو کر اپنے رسالہ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦) پر رقمطراز ہیں کہ: ”میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی۔“ اس کے ایک سال بعد ایک پلٹا اور کھایا اور اپنی تصنیف (تحفہ گولڑویہ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ١١٧ حاشیہ) پر یہ تحقیق
٣
سپرد قلم کی۔ ”میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب آئے تھے۔“ ان انکشافات سے ان کی ذات چار قوموں کا معجون مرکب معلوم ہوتی ہے۔ یعنی وہ بیک وقت مغل، یہودی، سید اور چینی سب تھے۔ خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے۔
مرزا کے والد غلام مرتضیٰ بیگ کی عملی حالت
آنجہانی انگریزی نبی کے منجھلے لڑکے میاں بشیر احمد ایم۔ اے لکھتے ہیں کہ: ”ہمارے دادا مرزا غلام مرتضیٰ بے نمازی تھے۔ یہاں تک کہ ٧٥ سال کی عمر میں پہنچ کر بھی نماز نہیں پڑھی۔“
(سیرت المہدی ج ١ ص ٢٣١، روایت نمبر ٢٤٣)
مرزا کے ایام طفلی
اللہ تعالیٰ کے منتخب اور برگزیدہ بندوں کے بچپن کے برعکس مرزا قادیانی کے ایام طفلی دیگر بازاری بچوں ہی کی طرح نظر آتے ہیں۔ چنانچہ ان کی سوانح حیات سیرت المہدی میں درج ہے کہ: ”ایک مرتبہ مرزا کے ہم عمر لڑکوں نے ان سے کہا گھر سے شکر لاؤ۔ گھر گئے تو وہاں پسا ہوا نمک رکھا تھا۔ اسے شکر سمجھ کر چپکے سے جیب میں بھر لیا اور لڑکوں کے سامنے پہنچ کر پھانکنا شروع کر دیا۔“
(سیرت المہدی ج ١ ص ٢٤٢، روایت نمبر ٢٤٤)
انگریزی نبی صاحب کو بچپن میں چڑیوں کے پکڑنے کی بھی عادت تھی۔
(سیرت المہدی ج ١ ص ٢٥، روایت نمبر ٥١)
تعلیمی لیاقت
حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے علوم ومعارف تمام تر موہبت ربانی پر موقوف ہوتے ہیں۔ اپنے جیسے انسان سے تعلیم وتعلم اور اخذ فیض سے ان کی زندگی بالکل پاک ہوتی ہے۔ اس لئے انگریزی نبی کو بھی یہ فکر ہوئی کہ وہ اپنے آپ کو امی ثابت کریں۔ لیکن ان کا اسکولوں میں پڑھنا ایک ایسی حقیقت ہے جس کو خود مرزا قادیانی بھی اپنے دجل وفریب سے چھپا نہ سکے۔
حضرات انبیاء ورسل کی اس صفت خاص میں ہمسری وبرابری کی ناکام کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”امام الزماں کے لئے لازم ہے کہ وہ دینی امور میں کسی کا شاگرد نہ ہو، بلکہ اس کا استاد خدا ہو۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٩)
ایک دوسری جگہ تحریر کرتے ہیں: ”آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا ہی سے حاصل کرے گا اور قرآن وحدیث میں کسی کا شاگرد
٤
نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے انسان سے قرآن وحدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہ
نبی بننے کی خواہش میں ان جھوٹے دعوؤں بہترین مثال ملاحظہ کیجئے کہ بقلم خود آنجہانی مرزا کیا لکھ اس طرح ہوئی کہ جب میں سات سال کا تھا تو ایک ق جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کی کتابیں مجھے اور جب میری عمر قریباً دس سال کی ہوئی تو ایک عربی خ مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔۔۔۔ میں نے صرف پڑھے۔ اس کے بعد جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو میر پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ (ان) مولوی صاحب مروجہ کو حاصل کیا۔“ (کتاب
مرزا قادیانی کے پہلے استاذ فضل الٰہی قاد فضل احمد فیروزوالہ کے رہنے والے اہل حدیث تھے ا تھے۔
مرزا قادیانی نے اپنے تیسرے استاذ گل میرے والد نے ان کو نوکر رکھا تھا۔ بلکہ واقعہ یہ ہے دسترخوان کے ریزہ چین تھے۔ تفصیل کے لئے (مرآۃ ملاحظہ کیجئے۔
مرزا قادیانی کے اس بیان سے جہاں ال قرآن وغیرہ کا ایک سبق نہیں پڑھا ہے۔“ غلط ہو جا مرزا قادیانی کی تعلیم ناقص اور ادھوری تھی اور وہ ”نیم
انگریزی زبان میں معمولی واقفیت
انگریزی نبی کو بقول خود انگلش میں بھ
٥
نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن وحدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤)
نبی بننے کی خواہش میں ان جھوٹے دعوؤں کے بعد ”دروغ گو را حافظہ نباشد“ کی بہترین مثال ملاحظہ کیجئے کہ بقلم خود آنجہانی مرزا کیا لکھ رہے ہیں: ”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح ہوئی کہ جب میں سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کی کتابیں مجھے پڑھائیں۔ اس بزرگ کا نام فضل الہیٰ تھا اور جب میری عمر قریباً دس سال کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا...... میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے۔ اس کے بعد جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ (ان) مولوی صاحب سے میں نے نحو، منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو حاصل کیا۔“
(کتاب البریہ ص ١٤٨ تا ١٥٠، خزائن ج ١٣ ص ١٧٩ تا ١٨١)
مرزا قادیانی کے پہلے استاذ فضل الہیٰ قادیان کے باشندے اور حنفی تھے۔ دوسرے فضل احمد فیروزوالہ کے رہنے والے اہل حدیث تھے اور تیسرے استاذ گل علی شاہ متوطن بٹالہ شیعہ تھے۔
(سیرت المہدی ج ١ ص ١٧١، روایت نمبر ١٤٩)
مرزا قادیانی نے اپنے تیسرے استاذ گل علی شاہ کے بارے میں یہ جھوٹ لکھا ہے کہ میرے والد نے ان کو نوکر رکھا تھا۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے والد غلام مرتضیٰ ان کے دسترخوان کے ریزہ چین تھے۔ تفصیل کے لئے (مرأۃ القادیانیہ، مؤلفہ مرزا احمد علی امرتسری ص ٢٩ ف ٣) ملاحظہ کیجئے۔
مرزا قادیانی کے اس بیان سے جہاں ان کا پہلا دعویٰ کہ: ”میں نے کسی انسان سے قرآن وغیرہ کا ایک سبق نہیں پڑھا ہے۔“ غلط ہو جاتا ہے۔ وہیں اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی کی تعلیم ناقص اور ادھوری تھی اور وہ ”نیم ملا خطرہ ایمان“ کے سچے مصداق تھے۔
انگریزی زبان میں معمولی واقفیت
انگریزی نبی کو بقول خود انگلش میں بھی الہام ہوا کرتے تھے اور نہایت فخر سے کہا
٥
کرتے تھے کہ: ”انگریزی نہیں جانتا۔ اس کوچہ سے بالکل ناواقف ہوں۔ ایک فقرہ تک مجھے معلوم نہیں۔ مگر خرق عادت کے طور پر اس زبان میں بھی مجھے الہام ہوتے ہیں۔“
(نزول المسیح ص ١٣٨، خزائن ج ١٨ ص ٥١٦)
لیکن آنجہانی کا یہ دعویٰ بھی دروغ مصلحت آمیز پر مبنی تھا۔ کیونکہ انہوں نے سیالکوٹ میں دوران ملازمت انگریزی کی دو ایک کتابیں سبقاً سبقاً پڑھی تھیں اور اسی کے نتیجہ میں انگریزی کے ٹوٹے پھوٹے جملے بول اور لکھ لیا کرتے تھے۔ میاں بشیر احمد لکھتے ہیں: ”مولوی الٰہی بخش ڈسٹرکٹ انسپکٹر نے منشیوں کے لئے ایک انگریزی کا مدرسہ قائم کیا تھا۔ ڈاکٹر امیر شاہ پشاور معلم تھے۔ حضرت مسیح موعود نے بھی انگریزی کی دو ایک کتابیں پڑھیں۔“
(سیرت المہدی ج ١ ص ١٥٥، روایت نمبر ١٥٠)
کچہری کی منشی گیری
کچہری سیالکوٹ کی ملازمت بھی انگریزی نبی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ مرزا قادیانی کی تحریروں سے ثابت ہوتا ہے کہ انگریزی حکومت نے مرزا غلام مرتضیٰ کے لئے تاحین حیات سات سو روپے سالانہ کی پنشن مقرر کر دی تھی۔ اس پر خاندان کے گزر بسر کا مدار تھا۔ ایام شباب میں ایک مرتبہ مرزا قادیانی نے اس رقم کو وصول کر کے عیش کوشیوں اور جوانی کی رنگ رلیوں میں اڑا دی۔ بعد میں ہوا و ہوس کا نشہ جب کچھ اترا تو یہ شرمندگی دامن گیر ہوئی کہ کون سا منہ لے کر گھر جائیں۔ اس لئے قادیان واپس آنے کے بجائے سیالکوٹ چلے گئے اور وہیں اپنے مکتب کے ساتھی لالہ بھیم سین کی سعی و کوشش سے پندرہ روپے ماہانہ پر کچہری میں منشی مقرر ہو گئے۔
عہد ملازمت
مرزا زادے بشیر احمد لکھتے ہیں کہ: ”مرزا صاحب نے دوران ملازمت اپنا دامن رشوت ستانی سے ملوث ہونے نہیں دیا۔“ لیکن مرزا کے اکثر واقف کار اطلاع دیتے ہیں کہ انہوں نے زمانہ ملازمت دل کھول کر رشوتیں لیں۔ چنانچہ مرزا احمد علی شیعی اپنی کتاب دلیل العرفان میں لکھتے ہیں کہ منشی محمد الدین امرتسری نے اپنے رسالہ ”نکاح آسمانی کے راز ہائے پنہانی“ میں لکھا تھا کہ مرزا قادیانی نے زمانہ مجردی میں خوب رشوتیں لیں۔ یہ رسالہ مرزا قادیانی کی وفات سے آٹھ سال پہلے ١٩٠٠ء میں شائع ہو گیا تھا۔ مگر مرزا قادیانی نے اس کی تردید نہیں کی۔
٦
مقدمہ بازی کا مشغلہ
آنجہانی مرزا نے منشی سے مختار بن جانے کی ہوس مختاری کا امتحان بھی دیا تھا۔ استعداد کی کمی کی بناء پر اس امتحا منصب پر فائز ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ پھر بھی امتحا موشگافیوں سے کسی حد تک واقف ہو گئے۔ چنانچہ مختاری کے ا نوکری سے دلبرداشتہ ہو کر جب قادیان واپس لوٹے تو ان کے وا کی خدمت ان کے سپرد کر دی۔ مرزا قادیانی خود بتاتے ہیں کہ آبا و اجداد کے دیہات دوبارہ حاصل کرنے کے لئے انگریز تھے۔ انہوں نے انہی مقدمات میں مجھے لگا دیا اور ایک زمانہ در رہا۔“ (کتاب البری
مقدمہ بازی میں مرزا قادیانی کو اس قدر شغف تھـ کہ وہ خود لکھتے ہیں: ”ہمارا ایک مقدمہ موروثی اسامیوں پر تھا مقدمہ میں ڈگری ہو گئی۔“
اسی طرح کے ایک خواب کا تذکرہ (تریاق القلوب بھی کیا ہے۔
اپنے شرکاء کی اراضی پر غاصبانہ قبضہ
آنجہانی مرزا قادیانی کے تحریری بیانات سے معلو اور ان کے بھتیجوں و دیگر اقرباء کی کچھ زمین سکھوں نے اپنے انگریزی عہد سلطنت میں بذریعہ عدالت انہوں نے دوبار آنجہانی مرزا قادیانی اور ان کے بھائی غلام قادر بلا شرکت غیـ حقدار رشتہ داروں کو اس میں سے کچھ نہیں دیا۔ بالآخر ان حقـ پنشنر اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کے تعاون سے عدالت میں مقـ الرغم بذریعہ عدالت اپنا حصہ حاصل کر لیا۔ غم نصیب حقداروں شکایت کرتے ہوئے آنجہانی لکھتے ہیں: ”میرے والد کے لا نے شرکائے ملکیت قادیان کی طرف سے مجھ پر اور میرے بھـ ملکیت کا عدالت ضلع میں دائر کر دیا اور میں بظاہر جانتا تھا کہ
٧
مقدمہ بازی کا مشغلہ
آنجہانی مرزا نے منشی سے مختار بن جانے کی ہوس میں سیالکوٹ کے زمانہ قیام میں مختاری کا امتحان بھی دیا تھا۔ استعداد کی کمی کی بناء پر اس امتحان میں ناکام رہے اور مختاری کے منصب پر فائز ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ پھر بھی اتنا فائدہ تو ضرور ہوا کہ قانون مروجہ کی موشگافیوں سے کسی حد تک واقف ہو گئے۔ چنانچہ مختاری کے امتحان میں ناکامی اور منشی گیری کی نوکری سے دلبرداشتہ ہو کر جب قادیان واپس لوٹے تو ان کے والد نے خاندانی مقدمات کی پیروی کی خدمت ان کے سپرد کر دی۔ مرزا قادیانی خود بتاتے ہیں کہ: ”میرے والد صاحب اپنے بعض آبا و اجداد کے دیہات دوبارہ حاصل کرنے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے۔ انہوں نے انہی مقدمات میں مجھے لگا دیا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا۔“
(کتاب البریہ ص ١٥١، خزائن ج ١٣ ص ١٨٢ حاشیہ)
مقدمہ بازی میں مرزا قادیانی کو اس قدر شغف تھا کہ خواب بھی دیکھتے تو اسی کا جیسا کہ وہ خود لکھتے ہیں: ”ہمارا ایک مقدمہ موروثی اسامیوں پر تھا۔ مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ اس مقدمہ میں ڈگری ہو گئی۔“
(تذکرہ ص ٧، ٨٠ طبع سوم)
اسی طرح کے ایک خواب کا تذکرہ (تریاق القلوب ص ٣٧، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٦ حاشیہ) پر بھی کیا ہے۔
اپنے شرکاء کی اراضی پر غاصبانہ قبضہ
آنجہانی مرزا قادیانی کے تحریری بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے والد غلام مرتضیٰ اور ان کے بھتیجوں و دیگر اقرباء کی کچھ زمین سکھوں نے اپنے عہد حکومت میں ضبط کر لی تھی۔ جسے انگریزی عہد سلطنت میں بذریعہ عدالت انہوں نے دوبارہ واگزار کرایا۔ بعد میں اس زمین پر آنجہانی مرزا قادیانی اور ان کے بھائی غلام قادر بلاشراکت غیرے قابض و متصرف ہو گئے اور دیگر حقدار رشتہ داروں کو اس میں سے کچھ نہیں دیا۔ بالآخر ان حقداروں نے مرزا اعظم بیگ لاہوری پنشنر ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کے تعاون سے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا اور مرزا قادیانی کے علی الرغم بذریعہ عدالت اپنا حصہ حاصل کر لیا۔ غم نصیب حقداروں کی اس اعانت پر مرزا اعظم بیگ کی شکایت کرتے ہوئے آنجہانی لکھتے ہیں: ”میرے والد کے انتقال کے بعد مرزا اعظم بیگ لاہوری نے شرکائے ملکیت قادیان کی طرف سے مجھ پر اور میرے بھائی مرحوم مرزا غلام قادر پر مقدمہ دخل ملکیت کا عدالت ضلع میں دائر کر دیا اور میں بظاہر جانتا تھا کہ ان شرکاء کو ملکیت سے کچھ غرض نہیں۔
٧
کیونکہ وہ ایک گم گشتہ چیز تھی جو سکھوں کے وقت میں نابود ہو چکی تھی اور میرے والد نے تن تنہا مقدمات دائر کر کے اس ملکیت اور دوسرے دیہات کی بازیافت کے لئے آٹھ ہزار روپیہ کے قریب خرچ وخسارہ اٹھایا تھا۔ وہ شرکاء ایک پیسہ کے بھی شریک نہیں تھے۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٢ ص ٣٦)
تلاش شہرت اور مناظرانہ سرگرمیاں
آنجہانی مرزا قادیانی اپنے خانگی حالات سے بہت دل برداشتہ تھے اور شب و روز اسی خیال میں غلطاں و پیچاں رہتے تھے کہ خاندانی زوال کا مداوا کس طرح کیا جائے۔ مختاری کے ایوان میں باریابی کی توقع اٹھ چکی تھی۔ فوج یا پولیس کی ملازمت سے قلت تنخواہ کی بناء پر کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ تجارتی کاروبار سے سرمایہ کی کمی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے قاصر تھے۔ اس لئے اب لے دے کر صرف یہی ایک صورت باقی رہ گئی تھی کہ خادم اسلام کی حیثیت سے زندگی کے میدان میں نمودار ہوں اور اس راہ سے شہرت و دولت حاصل کریں۔ چنانچہ اپنے مکتب کے ساتھی اور قدیم رفیق مولوی محمد حسین بٹالوی کے مشورہ سے قادیان کے بجائے لاہور کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور آریوں و پادریوں سے مذہبی چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مولانا محمد حسین بٹالوی، منشی الہی بخش اکاؤنٹنٹ، بابو عبدالحق اکاؤنٹنٹ، حافظ محمد یوسف ضلع دار وغیرہ اس کام میں ان کے معاون بنے اور ہر مجلس، محفل میں یہ حضرات مرزا قادیانی کی قابلیت اور بزرگی کا چرچا کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند ماہ ہی کے اندر مرزا قادیانی مناظر اسلام کی حیثیت سے مشہور ہوگئے۔ چونکہ ابھی تک انہوں نے مہدویت مسیحیت وغیرہ کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اس لئے ہر مسلمان ان کو عزت وعقیدت کی نگاہ سے دیکھنے لگا اور علمائے دین بھی ان کے ساتھ تعاون واشتراک کو دینی خدمت سمجھتے رہے۔ شہرت کے اس مقام بلند پر پہنچنے کے بعد لاہور کے قیام کو غیر ضروری سمجھ کر مرزا قادیانی وطن مالوف قادیان واپس آگئے اور یہیں سے مناظرانہ اشتہار بازیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
مرزا قادیانی ایک عارف کامل کے روپ میں
مذہبی مناظروں کی بدولت مرزا قادیانی کو جو شہرت حاصل ہو گئی تھی وہ ہر قسم کے دام تزویر کے کامیاب بنانے کی ضامن تھی۔ چنانچہ اس شہرت سے نفع حاصل کرنے اور اس کے ذریعہ مستقبل کو سنوارنے کی غرض سے مرزا قادیانی نے باخدا صوفی کا سوانگ رچایا اور دنیوی کاروبار سے بظاہر منقطع ہو کر خلوت نشین ہوگئے۔ وظائف وعملیات کی کتابوں کا مطالعہ کر کے بغیر کسی مرشد وشیخ کی رہنمائی کے عملیات و وظائف شروع کر دیئے۔ علاوہ ازیں راتوں کو قادیان سے باہر جا کر
٨
خندق میں جابیٹھتے اور جادو کے عمل پڑھا کرتے۔ ساتھ ہی اس مستقبل کے حالات معلوم کرنے کی ناکام کوشش کرتے اور اس ناموں کی ورق گردانی میں مصروف رہتے۔ اس زمانہ میں ان کا دوسروں کو سنایا کرتے اور دوسروں کے خوابوں کی تعبیر خواب نام بتانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ مرزا زادے میاں بشیر احمد کا بیان ہوتا تو گھر کی عورتوں، بچوں اور خادماؤں تک سے پوچھا کرتے ہے؟ اگر کسی نے دیکھا ہوتا تو اسے بڑے غور سے سنتے تھے۔“
(سیرت
نبی افرنگ مراق کے شکار تھے
مراق یعنی مالیخولیا، دیوانگی کی ایک قسم ہے۔ مرزا قادی لکھتے ہیں ۔ ”مالیخولیا جنون کا ایک شعبہ ہے اور مراق مالیخولیا کی ایک
طب کی مشہور کتاب شرح اسباب میں ہے: ”نوع المراق“
مالیخولیا کی ایک قسم مراق ہے۔ اس مرض کا مریض آ نبوت، غیب دانی وغیرہ کا دعویٰ کرنے لگتا ہے۔ ”اگر مریض وکرامت کند سخن از خدائی گوید وخلق را دعوت کند۔“
اگر مراق کا مریض ذی علم ہو تو پیغمبری اور کرامت کا کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی رسالت کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ایسا مرض الصلوۃ والسلام کو قطعی طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔ لیکن نبی افرنگ بع ساتھ اس دماغی مرض کے بھی شکار تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں : ” آنحضرت ﷺ نے پیشین گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی مسیح آسمان سے جب اترے گا تو دوزرد چادریں اس نے پہن بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی
(رسالہ تحفۃ الاذہان جون ١٩٠٢ء ص ٦، مثلا
اسی طرح ایک مرزائی لکھتا ہے کہ : ”مراق کا مرض ح
٩
خندق میں جا بیٹھتے اور جادو کے عمل پڑھا کرتے۔ ساتھ ہی اس زمانہ میں خوابوں کے ذریعہ بھی مستقبل کے حالات معلوم کرنے کی ناکام کوشش کرتے اور اس سلسلے میں شب و روز مطبوعہ تعبیر ناموں کی ورق گردانی میں مصروف رہتے۔ اس زمانہ میں ان کا معمول یہ بھی تھا کہ اپنے خواب دوسروں کو سنایا کرتے اور دوسروں کے خوابوں کی تعبیر خواب ناموں کی ورق گردانی کی مدد سے بتانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ مرزا زادے میاں بشیر احمد کا بیان ہے ”جب کوئی اہم معاملہ پیش ہوتا تو گھر کی عورتوں، بچوں اور خادمائوں تک سے پوچھا کرتے تھے کہ تم نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے دیکھا ہوتا تو اسے بڑے غور سے سنتے تھے۔“
(سیرت المہدی ج ٢ ص ٦٢ ، روایت نمبر ٣٨٠)
نبی افرنگ مراق کے شکار تھے
مراق یعنی مالخولیا، دیوانگی کی ایک قسم ہے۔ مرزا قادیانی کے خلیفہ اعظم حکیم نورالدین لکھتے ہیں ۔”مالخولیا جنون کا ایک شعبہ ہے اور مراق مالخولیا کی ایک شاخ ہے۔“
(بیاض نورالدین ج ١ ص ١١)
طب کی مشہور کتاب شرح اسباب میں ہے: ”نوع من المالیخولیا یسمّی المراق“
(شرح اسباب ج ١ ص ٧٤)
مالخولیا کی ایک قسم مراق ہے۔ اس مرض کا مریض اگر کچھ پڑھا لکھا ہوتا ہے تو خدائی نبوت، غیب دانی وغیرہ کا دعویٰ کرنے لگتا ہے۔ ”اگر مریض دانشمند بودہ باشد دعوائے پیغمبری و کرامت کند سخن از خدائی گوید و خلق را دعوت کند ۔“
(اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٨)
اگر مراق کا مریض ذی علم ہو تو پیغمبری اور کرامت کا دعویٰ کرتا ہے اور خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی رسالت کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ایسا مرض ہے جس سے حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو قطعی طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔ لیکن نبی افرنگ بقول خود دیگر بہت سے امراض کے ساتھ اس دماغی مرض کے بھی شکار تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیشین گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔ سو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی ۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(رسالہ تشحیذ الاذہان جون ١٩٠٦ء ص ٦، ملخصاً اربعین نمبر ٣ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠)
اسی طرح ایک مرزائی لکھتا ہے کہ: ”مراق کا مرض حضرت (مرزا قادیانی) میں موروثی
نہیں تھا۔ بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا ۔“
(ریویو آف ریلیجنز بابت اگست ١٩٢٦ء ص ١٠)
مرزا قادیانی کی دوسری بیماریاں
مراق کے علاوہ اور مختلف امراض میں بھی آنجہانی مبتلا تھے۔ یہاں بعض امراض کا ذکر خود انہیں کے الفاظ میں کیا جا رہا ہے۔ لکھتے ہیں: ”میں دائم المرض ہوں۔ ہمیشہ درد سر، کمی خواب، تشنج، دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے۔“
(اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)
اور لکھتے ہیں: ”مرض ذیابیطس مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)
ایک دوسرے موقعہ پر لکھتے ہیں: ”کوئی وقت دوران سر سے خالی نہیں گزرتا۔ مدت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے۔ بعض وقت درمیان میں توڑنی پڑتی ہے۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ١٨٨، مکتوبات احمدیہ جدید ج ٢ ص ١٠١)
”مجھے اسہال کی بیماری اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔“
(منظور الٰہی ص ٣٣٩)
”ایک مرتبہ قولنج سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن تک پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٦)
اپنے مرید خاص و خلیفہ اعظم حکیم نورالدین کو ایک خط میں لکھتے ہیں: ”جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔“
ایک اور خط میں لکھا کہ: ”ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوذ باللہ منی جاتا رہتا تھا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٨٨، مکتوبات احمدیہ جدید ج ٢ ص ٢٠)
(نعوذ باللہ عدم برخاستن قضیب یعنی استادگی ذکر ) انگریزی نبی آنجہانی مرزا قادیانی کا ان موذی اور رسوا کن امراض میں مبتلا ہونا حیرت انگیز نہیں ہے بلکہ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو حیرت کی بات ضرور ہوتی۔
افیون اور شراب کا استعمال
مرزا قادیانی کہا کرتے تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک افیون نصف طب ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک دوا تریاق الٰہی کے نام سے تیار کی تھی جس کا بڑا جزو افیون تھا۔ اس دوا کو افیون کے مزید اضافہ کے ساتھ اپنے خلیفہ اوّل کو چھ ماہ سے زائد مدت تک کھلاتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً استعمال کرتے تھے۔
(اخبار الفضل قادیان ج ١٧ نمبر ٤٩، ١٩ جولائی ١٩٢٩ء)
١٠
ٹانک وائن کا استعمال
مرزا قادیانی اپنے چہیتے مرید حکیم محمد حسین کو ایک خط میں لکھتے ہیں: ”محب مخلص حکیم محمد حسین سلمہ اللہ تعالیٰ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، اس وقت میاں یار محمد کو بھیجا گیا ہے۔ جو اشیاء خریدنی ہوں خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید کر لائیں۔ مگر ٹانک وائن اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام!“
سودائے مرزا کے حاشیہ پر حکیم محمد علی پرنسپل طبیہ کالج نے لکھا ہے: ”میں نے ازراہ تحقیق لاہور میں پلومر کی دوکان سے ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی معرفت دریافت کرایا۔ دوکان دار صاحب جواباً تحریر فرماتے ہیں۔ حسب ارشاد پلومر کی دوکان سے دریافت کیا تو جواب حسب ذیل ملا۔ ”ٹانک وائن ایک قسم کی طاقت ور اور نشہ دینے والی شراب ہے۔ ولایت سے پیک شدہ میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ساڑھے پانچ روپے ہے۔“
مرزا قادیانی بحیثیت صاحب کشف
مرض مراق کے دماغ پر مسلط ہو جانے کے بعد مرزا قادیانی کے تاریک دل و دماغ سے الہامات کا سیل رواں پھوٹ پڑا اور اعلانات واشتہارات کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جس کا اثر یہ نکلا کہ دور دور سے لوگ قادیان آنے لگے۔ مرزا قادیانی دن بھر تو چوبارے کی چارپائی پر اپنے بیت الفکر نامی کمرے میں لیٹے رہتے اور الہام سازی کے چکر میں پڑے رہتے جب الہام کی غنودگی دور ہوتی تو فوراً اسے نوٹ بک میں درج کر لیا کرتے ۔
ایک ہندو لڑکا بحیثیت کاتب وحی
چونکہ ساون کی جھڑی کی طرح الہامات کا ایک تانتا بندھا رہتا تھا اس لئے اس امر کی ضرورت تھی کہ انہیں ضبط تحریر میں لانے کے لئے ایک مستقل کاتب موجود رہے۔ چنانچہ اس کام کی انجام دہی کے لئے ایک ہندو لڑکے کا انتخاب عمل میں آیا۔ خود مرزا صاحب لکھتے ہیں: ”ان دنوں ایک پنڈت کا بیٹا شام لال نامی جو ناگری اور فارسی دونوں خط جانتا تھا اور کچھ انگریزی بھی۔ نوکر رکھا گیا اور بعض امور غیبیہ جو ظاہر ہوتے تھے اس کے ہاتھ سے لکھائے جاتے تھے۔ وہ قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے اور پھر شام لال مذکور کے اس پر دستخط کرائے جاتے تھے۔“
١١
ٹانک وائن کا استعمال
مرزا قادیانی اپنے چہیتے مرید حکیم محمد حسین کو ایک خط میں لکھتے ہیں: ”محبی اخویم محمد حسین سلمہ اللہ تعالیٰ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خریدنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خریدیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام!“
(خطوط امام بنام غلام ص ٥)
سودائے مرزا کے حاشیہ پر حکیم محمد علی پرنسپل طبیہ کالج امرتسر لکھتے ہیں۔ ”ٹانک وائن کی حقیقت لاہور میں پلومر کی دوکان سے ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی معرفت معلوم کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جواباً تحریر فرماتے ہیں۔ حسب ارشاد پلومر کی دوکان سے دریافت کیا گیا۔ جواب حسب ذیل ملا۔ ”ٹانک وائن ایک قسم کی طاقت ور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے بند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ساڑھے پانچ روپے ہے۔“ ٢١؍ دسمبر ١٩٣٢ء
(سودائے مرزا ص ٢٩ حاشیہ)
مرزا قادیانی بحیثیت صاحب کشف
مرض مراق کے دماغ پر مسلط ہو جانے کے بعد مرزا قادیانی کے دل و دماغ کے سوتے سے الہامات کا سیل رواں پھوٹ پڑا اور اعلانات و اشتہارات کے ذریعہ اس کا خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ جس کا اثر یہ نکلا کہ دور دور سے لوگ قادیان آنے لگے۔ مرزا قادیانی تقدس کا روپ دھارے اپنے بیت الفکر نامی کمرے میں لیٹے رہتے اور الہامات کی بارش ہوتی رہتی تھی اور جب الہام کی غنودگی دور ہوتی تو فوراً اسے نوٹ بک میں درج کر لیا جاتا تھا۔
(سیرت المہدی ج ١ ص ٢٠، روایت نمبر ٢٢)
ایک ہندو لڑکا بحیثیت کاتب وحی
چونکہ ساون کی جھڑی کی طرح الہامات کا ایک غیر منقطع سلسلہ جاری تھا۔ اس لئے ضرورت تھی کہ انہیں ضبط تحریر میں لانے کے لئے ایک مستقل کاتب رکھا جائے۔ چنانچہ اس مقدس کام کی انجام دہی کے لئے ایک ہندو لڑکے کا انتخاب عمل میں آیا۔ خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”ان دنوں ایک پنڈت کا بیٹا شام لال نامی جو ناگری اور فارسی دونوں میں لکھ سکتا تھا۔ بطور روز نامہ نویس نوکر رکھا گیا اور بعض امور غیبیہ جو ظاہر ہوتے تھے اس کے ہاتھ سے ناگری اور فارسی خط میں قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے اور پھر شام لال مذکور کے اس پر دستخط کرائے جاتے تھے۔“
(البشریٰ ج ١ ص ١٠)
یہ ہندو لڑکا جب اوّل اوّل نوکر رکھا گیا تھا تو اس کی عمر کل بارہ سال کی تھی اور مرزا قادیانی کے چچا زاد بھائی مرزا امام الدین کے بقول اس درجہ بے سمجھ اور سادہ لوح تھا کہ سو تک بمشکل شمار کر سکتا تھا۔
(تکذیب براہین ص ٢٢٨)
”جیسی وحی ویسا کاتب حق بحق دار رسید۔“
زراندوزی کی ایک اور تجویز
مرزا قادیانی نے معاشی زبوں حالی کو دور کرنے کی غرض سے مذہبی مناظرہ اور بزرگی کا جو سوانگ رچایا تھا اس میں انہیں بڑی حد تک کامیابی مل گئی تھی اور دجل وفریب کے یہ تیر شہرت وقبولیت کے نشانہ پر ٹھیک بیٹھ گئے تھے۔ جس کی وجہ سے عوام وخواص کا ایک اچھا خاصا طبقہ ان کی جانب متوجہ ہوگیا۔ اس لئے انہوں نے روپیہ بٹورنے کی ایک اور تجویز سوچی اور ”براہین احمدیہ“ کے نام سے پانچ جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم کتاب کی طباعت کا اعلان کیا اور لوگوں سے پیشگی قیمت اور امداد واعانت حاصل کرنے کی غرض سے اشتہارات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیا۔
اس سلسلے کا پہلا اشتہار اپریل ١٨٧٩ء میں بعنوان ”اشتہار بغرض استعانت از انصار دین محمد ﷺ الابرار تھا“ اس میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی تحریر کیا تھا کہ ایسی بڑی کتاب کا چھپ کر شائع ہونا بجز معاونت مسلمان بھائیوں کے بڑا مشکل امر ہے اور ایسے اہم کام میں اعانت کرنے میں جس قدر ثواب ہے وہ ادنیٰ اہل اسلام پر بھی مخفی نہیں۔ لہٰذا اخوان مؤمنین سے درخواست ہے کہ اس کے مصارف طبع میں معاونت کریں۔ اغنیاء لوگ اگر اپنے مطبع کے ایک دن کا خرچ بھی عنایت فرمائیں گے تو یہ کتاب بسہولت چھپ جائے گی۔ ورنہ یہ مہر درخشاں چھپا رہے گا۔ یا یوں کریں کہ ہر ایک اہل وسعت بہ نیت خریداری کتاب پانچ پانچ روپے مع اپنی درخواستوں کے راقم کے پاس بھیج دیں۔ جیسی جیسی کتاب چھپتی جائے گی ان کی خدمت میں ارسال ہوتی رہے گی ۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢)
کچھ دنوں کے بعد ایک اور اشتہار بعنوان ”اشتہار کتاب براہین احمدیہ بجہت اطلاع جمیع عاشقان صدق وانتظام سرمایہ طبع کتاب“ شائع کیا۔ اس کا مضمون بھی پہلے اشتہار کے قریب قریب تھا۔
ان اشتہارات کے ملک میں پھیلتے ہی حسب توقع روپیوں کی بارش شروع ہوگئی۔ لیکن اس بارش زر نے استسقاء کے مریض کی طرح ان کی طلب مال کی تشنگی کو مزید بڑھا دیا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے ٣؍ دسمبر ١٨٧٩ء کو ...... اس کی قیمت میں پانچ روپے کا اور اضافہ کر کے دس
١٢
روپے کر دی اور اسی کے ساتھ اس وعدہ کا بھی اعلان کیا کہ ہو جائے گی۔
(تبلیغ
چونکہ مرزا قادیانی کے بے پناہ پروپیگنڈے تھا۔ اس لئے بڑی کثیر تعداد میں کتاب کے آرڈر آنے جانے کے بعد اس کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیا اور بجائے پچیس روپے سے لے کر سو روپے تک وصول کر
(تبلیغ رسال
بد معاملگی اور سخن تراشی
آنجہانی نے ابتداء میں پانچ حصوں پر مشت پانچوں حصوں کی پیشگی قیمت لوگوں سے وصول کر لی تھ سلسلہ کو بند کر دیا جس کی بناء پر خریداروں کو شکایت ہ غرض سے سخن تراشی اور الہام بازی شروع کردی۔ چناں
”ہم اور ہماری کتاب“ کے عنوان سے لکھتے ہیں: ”ابت وقت اس کی کوئی اور صورت تھی۔ اب اس کتاب کا العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک کہ جس قدر جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام کے ظاہ ہیں۔“
(تبلیغ رسالت
اس تولیت واہتمام خداوندی کے ڈھونگ کتاب کی طبع واشاعت کا ذمہ نہیں لے سکتا۔ اب یہ کا یا نہ طبع کرائے میری کوئی ذمہ داری نہیں۔
الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے
مرزا قادیانی لوگوں کی پیشگی رقمیں شیر مادر کہ لوگوں کو شکایتیں ہوئیں اور مرزا قادیانی کی بدمعامل لاحق ہوئی کہ شکوہ وشکایتوں کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا ت جمایا گیا تھا کہیں عقیدتمندوں کے دلوں سے زائل نہ صفحات کا ایک اشتہار شائع کیا۔ جس میں لکھا کہ: ”م
١٣
روپے کر دی اور اسی کے ساتھ اس وعدہ کا بھی اعلان کیا کہ جنوری ١٨٨٩ء میں کتاب طبع ہو کر شائع ہو جائے گی۔
(تبلیغ رسالت ج ا ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ص ١٣)
چونکہ مرزا قادیانی کے بے پناہ پروپیگنڈے نے لوگوں کو کتاب مذکور کا مشتاق بنادیا تھا۔ اس لئے بڑی کثیر تعداد میں کتاب کے آرڈر آئے۔ اس مقبولیت کو دیکھ کر دو حصوں کے طبع ہو جانے کے بعد اس کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیا اور فارغ البال لوگوں سے دس روپے کے بجائے پچیس روپے سے لے کر سو روپے تک وصول کرنے لگے۔
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٢٣، ٢٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٣)
بد معاملگی اور سخن تراشی
آنجہانی نے ابتداء میں پانچ حصوں پر مشتمل کتاب شائع کرنے کا اعلان کیا تھا اور پانچوں حصوں کی پیشگی قیمت لوگوں سے وصول کر لی تھی۔ لیکن چار حصے شائع کرنے کے بعد اس سلسلہ کو بند کر دیا جس کی بناء پر خریداروں کو شکایت ہوئی۔ اب اس بد معاملگی پر پردہ ڈالنے کی غرض سے سخن تراشی اور الہام بازی شروع کردی۔ چنانچہ براہین احمدیہ جلد چہارم کے آخری صفحہ پر ”ہم اور ہماری کتاب“ کے عنوان سے لکھتے ہیں: ”ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی۔ اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً اور باطناً حضرت رب العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام کے ظاہر کئے ہیں۔ یہ بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہیں“
(تبلیغ رسالت ج ١ص ٤٧، مجموعہ اشتہارات ج ١ص ٥٦، ٥٧)
اس تولیت واہتمام خداوندی کے ڈھونگ کا واحد مطلب یہ تھا کہ اب میں باقی ماندہ کتاب کی طبع واشاعت کا ذمہ نہیں لے سکتا۔ اب یہ کام خدا ہی کے سپرد ہے وہ چاہے تو طبع کرائے یا نہ طبع کرائے میری کوئی ذمہ داری نہیں۔
الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے
مرزا قادیانی لوگوں کی پیشگی رقمیں شیر مادر کی طرح ہضم کر گئے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کو شکایتیں ہوئیں اور مرزا قادیانی کی بد معاملگی کا چرچا بر سر عام ہونے لگا تو انہیں فکر لاحق ہوئی کہ شکوہ و شکایتوں کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو ایک عرصہ کے جتن کے بعد تقدس کا جو سکہ جمایا گیا تھا کہیں عقیدتمندوں کے دلوں سے زائل نہ ہو جائے۔ اس لئے یکم مئی ١٨٩٣ء کو آٹھ صفحات کا ایک اشتہار شائع کیا۔ جس میں لکھا کہ: ”مجھے ان مسلمانوں پر نہایت افسوس ہے کہ جو
١٣
اپنے پانچ یا دس روپے کے مقابل پر ٢٦؍ جزوں (٥٦٢ صفحات) کی ایسی کتاب پا کر جو معارف اسلام سے بھری ہوئی ہے۔ ایسے شرمناک طور پر بد گوئی اور بد زبانی پر مستعد ہو گئے کہ گویا ان کا روپیہ کسی نے چھین لیا یا ان پر کوئی قزاق آ پڑا اور گویا وہ ایسی بے رحمی سے لوٹے گئے کہ اس کے عوض میں ان کو کچھ نہیں دیا گیا اور ان لوگوں نے زبان درازی اور بدظنی سے اپنے نامۂ اعمال کو سیاہ کیا کہ کوئی دقیقہ سخت گوئی کا باقی نہ رکھا۔ اس عاجز کو چور قرار دیا گیا ، مکار ٹھہرایا ، مال مردم خور کر کے بدنام کیا ، حرام خور کہہ کر نام لیا ، دغاباز نام رکھا اور اپنے پانچ دس روپے کے غم میں سیاپا کیا کہ گویا تمام گھر ان کا لوٹا گیا۔"
(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ٤٤ ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٤٠٦)
وعدہ خلافی
مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کی پیشگی قیمت وصول کرتے وقت یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ اس کتاب میں حقانیت اسلام کے تین سو دلائل درج کئے جائیں گے۔ لیکن وعدہ کے مطابق ایک دلیل بھی پوری نہیں کی۔ چنانچہ مرزا زادے میاں بشیر احمد لکھتے ہیں : ’’تین سو دلائل جو آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے لکھنے تھے۔ ان سے صرف ایک ہی دلیل بیان ہوئی اور وہ بھی نامکمل طور پر۔‘‘
(سیرت المہدی ج ١ ص ١١٢ ، روایت نمبر ١٢٣)
یہ ہے آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی ٧٣ سالہ داستان حیات کا مختصر بیان جو ان کی تصنیفات یا ان کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے اور دیگر مرزائی مآخذوں کو سامنے رکھ کر پیش کی گئی ہے۔ قارئین اسے پڑھ کر خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آنجہانی جیسے کردار و اخلاق کا شخص شریف انسان کہے جانے کے بھی قابل نہیں ہے۔ چہ جائیکہ وہ ملہم ، محدث ، مہدی موعود ، مسیح زمان یا نبی ہو۔ سبحانك هذا بهتان عظيم!
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خطبۂ استقبالیہ
از حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند
الحمدلله رب العلمین والصلوٰة والسلام على رسوله سيدنا ومولانا محمد خاتم النبيين وعلى آله وصحبه اجمعين ، اما بعد!
اللہ تعالیٰ جل شانہ کے انعامات کا شکر کس زبان سے ادا کیا جائے کہ آج خدام
١٤
دارالعلوم کی حقیر دعوت پر لبیک کہنے والا ایک منتخب اجتماع ہے جس میں ہر طبقہ اور ہر سمت کے گرامی قدر علماء تشریف ہے کہ اس دعوت کو شرف قبولیت سے نوازنے والے صرف کے ارباب علم و دین بھی ہیں جن کو دیکھ کر حضور پاک ﷺ کے والاحمر کی عملی تفسیر نگاہوں میں گھوم جاتی ہے۔
اس ایمان پرور اور روح افزا موقع پر ہم خدام مہمانوں کا صرف رسمی نہیں بلکہ بصمیم قلب شکریہ ادا کریں سفری صعوبت برداشت فرما کر تشریف آوری کی زحمت گو پہنچایا کہ مسائل پر تبادلہ خیال کر کے ملت اسلامیہ کے س مقصود تک پہنچانے کی جدوجہد کو تیز کر سکیں۔
مہمانان محترم! دارالعلوم کی دعوت پر اس قافلہ نے بار بار دیکھا ہے اور اس طرح کی بہاریں اپنی جلوہ سا ہیں اور آج پھر الحمدللہ ! یہ بہار پورے آب و تاب کے سا کے جلو میں برگزیدہ علماء فرزندان قدیم اور اپنے محسنین
فالحمد لله على ذالك !
گرامی مرتبت حاضرین کرام ! اس مبارک مسلک سے متعلق یہ عرض کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے تہذیبی ، علمی ، اور عملی وراثت کا امین ہے جو اسے عہد خیر ا مسلمہ پر چودہ صدیاں بیت جانے کے باوجود بھی خیرالقرون کا نمونہ ہے۔ ہمارے یہاں سب سے باکمال زمان ومکان کے فاصلوں کو طے کر کے اسی مجلس نبوی ﷺ صحابہ کرام مستفید ہوئے تھے۔ غیر متزلزل یقین کے سا امت کے فرقہ ناجیہ کی جو علامت ”مـا انـا عليه واصـ طرح دارالعلوم اور اس کے مسلک پر منطبق ہے۔ یہی تاز عناصر نے پرورش پائی ہے وہ نہ صرف برصغیر ہند و پا عناصر کہلانے کے مستحق ہیں۔ نیز یہ کہ ان صالح عن
١٥
دارالعلوم کی حقیر دعوت پر لبیک کہنے والا ایک منتخب اجتماع سر زمین دیوبند کی رونق میں اضافہ کر رہا ہے جس میں ہر طبقہ اور ہر سمت کے گرامی قدر علماء تشریف فرما ہیں۔ خداوند قدوس کا احسان عظیم ہے کہ اس دعوت کو شرف قبولیت سے نوازنے والے صرف ہندوستان کے علماء نہیں بلکہ بیرون ہند کے ارباب علم و دین بھی ہیں جن کو دیکھ کر حضور پاک ﷺ کے ارشاد بعثت الی الاسود والاحمر کی عملی تفسیر نگاہوں میں گھوم جاتی ہے۔
اس ایمان پرور اور روح افزا موقع پر ہم خدام دارالعلوم ضروری سمجھتے ہیں کہ اپنے تمام مہمانوں کا صرف رسمی نہیں بلکہ صمیم قلب شکریہ ادا کریں کہ انہوں نے خالص لوجہ اللہ دور دراز کے سفر کی صعوبت برداشت فرما کر تشریف آوری کی زحمت گوارا فرمائی اور خدام دارالعلوم کو یہ موقع بہم پہنچایا کہ مسائل پر تبادلہ خیال کر کے ملت اسلامیہ کے سفینہ کو عصر حاضر کے طوفانوں میں ساحل مقصود تک پہنچانے کی جدوجہد کو تیز کر سکیں۔
مہمانان محترم! دارالعلوم کی دعوت پر اس قابل رشک پذیرائی کا یہ منظر سر زمین دیوبند نے بار بار دیکھا ہے اور اس طرح کی بہاریں اپنی جلوہ سامانیوں کے ساتھ بار بار جلوہ ریز رہ چکی ہیں اور آج پھر الحمدللہ! یہ بہار پورے آب و تاب کے ساتھ رونق افروز ہے اور ہم اس قافلۂ بہار کے جلو میں برگزیدہ علماء فرزندان قدیم اور اپنے محسنین ومعاونین کا استقبال کر رہے ہیں۔
فالحمد لله على ذالك!
گرامی مرتبت حاضرین کرام! اس مبارک اور مسعود موقع پر دارالعلوم اور اس کے مسلک سے متعلق یہ عرض کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم روز اوّل سے الحمدللہ! اسی تہذیبی، علمی، اور عملی وراثت کا امین ہے جو اسے عہد خیرالقرون سے قرناً بعد قرن پہنچی ہے۔ امت مسلمہ پر چودہ صدیاں بیت جانے کے باوجود بھی دارالعلوم علم و عمل کے لحاظ سے اسی عہد خیرالقرون کا نمونہ ہے۔ ہمارے یہاں سب سے باکمال وہ ہے جو زمانہ کی دور دراز مسافتوں اور زمان و مکان کے فاصلوں کو طے کر کے اسی مجلس نبوت میں حاضر ہو جائے۔ جس سے حضرات صحابہ کرام مستفید ہوئے تھے۔ غیر متزلزل یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ حضور پاک ﷺ نے امت کے فرقۂ ناجیہ کی جو علامت ”ما انا عليه واصحابی“ بیان فرمائی تھی وہ الحمدللہ! پوری طرح دارالعلوم اور اس کے مسلک پر منطبق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دارالعلوم کی آغوش میں جن مایۂ ناز عناصر نے پرورش پائی ہے وہ نہ صرف برصغیر ہند و پاک بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے صالح ترین عناصر کہلانے کے مستحق ہیں۔ نیز یہ کہ ان صالح عناصر کے ذریعہ دین وملت کی جو گراں قدر
١٥
خدمات انجام پائیں ان کی وجہ سے یہ کہنا قطعاً مبالغہ نہیں ہے کہ دارالعلوم علم وعمل کا صرف محور نہیں بلکہ منبع اور سرچشمہ ہے اور گذشتہ صدی کا تجدیدی کارنامہ اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل وکرم سے دارالعلوم اور اس کے فرزندوں کے ذریعہ انجام دلایا ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے ذریعہ اس تجدیدی کارنامہ کی انجام پذیری کی وجہ یہ ہے کہ علمی وعملی طور پر دارالعلوم دیوبند کی بنیاد قرآن مجید اور سنت پاک پر استوار ہوئی ہے۔ پھر جو روشنی قرآن کریم اور حدیث پاک کے ذریعہ دل ودماغ پر مستولی رہی اس نے احسان وسلوک اور فقہ وفتاویٰ کی شکل میں پوری ملت اسلامیہ کے لئے رہبری اور رہنمائی کی خدمت انجام دی۔ چنانچہ رجال دارالعلوم کے ذریعہ پیش آمدہ مسائل میں جو رہنمائی قرآن وسنت اور اجماع وقیاس کی روشنی میں کی گئی وہ الحمد للہ! اتنی جامع اور مکمل ہے کہ اگرچہ گذشتہ صدی اپنی مادی اور صنعتی ترقی کے لحاظ سے بہت اہم اور تاریخ انسانیت میں سب سے زیادہ انقلاب انگیز ہے۔ لیکن انسانیت اور مسلمانوں کا ایک مسئلہ بھی ایسا نہیں بتلایا جاسکتا ہے جس کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں پیش نہ کردیا گیا ہو۔
اس باب میں بلا مبالغہ ہدایت کا کوئی رخ ایسا نہیں ہے جہاں باری تعالیٰ نے دارالعلوم کے ہاتھوں مشعلیں اور منارے قائم نہ فرمادیئے ہوں اور اسی طرح ضلالت وگمراہی کا کوئی پیچ وخم ایسا نہیں ہے جہاں دارالعلوم کے ذریعہ صراط مستقیم کی تعیین نہ کرادی ہو۔
سامعین عالی مقام
دارالعلوم نے اپنے قیام کے روزِ اوّل سے صراط مستقیم کی تعیین اور غلط راستوں کی تغلیط کو اپنا نصب العین بنایا ہے دارالعلوم کا قیام جن حالات میں عمل میں آیا تھا اس وقت عیسائیت کے فروغ کا ایک ایسا فتنہ اٹھا ہوا تھا جس نے تقریباً پورے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بحمد اللہ! اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے دارالعلوم کا قدم آگے بڑھا اور مناظرہ وتقریر اور قلم وتحریر کے ہر میدان میں عیسائیت کے مبلغین کو شکست فاش نصیب ہوئی۔ اس موضوع پر ہزاروں صفحات فرزندان دارالعلوم کے قلم سے نکلے اور اس کے باوجود کہ حکومت واقتدار کی تمام طاقتیں اس فتنہ کی پشت پناہی کررہی تھیں۔ مگر دارالعلوم کے اہل حق مجاہدین نے برقِ بے اماں بن کر ان کی تمام پناہ گاہوں کو خاکستر کردیا۔ اسی فتنہ کے پہلو بہ پہلو توحید کی تعلیم سے محروم کرنے کے لئے آریائی یا شدھی تحریک وجود میں آئی۔ یہ مسلمانوں کو صراط مستقیم سے منحرف کرنے کی خطرناک اور زبردست سازش تھی۔ لیکن اس میدان میں بھی فرزندان دارالعلوم نے اپنا فرضِ منصبی پوری طرح ادا کیا اور اس فتنہ کو ہمیشہ کے لئے تاریخ کے گورستان میں دفن کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس سلسلے میں
١٦
فضلاء دارالعلوم کی سینکڑوں تصانیف آج بھی کتب خانہ اسلام کی
فتنہ قادیانیت
ان زبردست فتنوں کے علاوہ انگریز کی جانب سے فتنے برپا کرائے گئے۔ جن میں سب سے اہم فتنہ قادیانیت کا اعتقادی طور پر خلفشار پیدا کیا۔ اس فتنہ نے پوری تیرھویں صدی لیکن مرزا قادیانی نے ١٣٠١ھ میں براہین احمدیہ کے ٤ حصے شائع از بام کردیا تو علماء نے اس کا تعاقب شروع کردیا۔ اس سلسلہ میں امرتسر سے مولانا غلام علی امرتسری، مولانا احمد اللہ امرتسری، م عبدالعزیز لدھیانوی، مولانا محمد لدھیانوی، مولانا عبداللہ لدھ اور مولانا غلام دستگیر قصوری نے کی۔ مگر اکابر دارالعلوم کا کارنا محض الہامی طور پر فتنے کے وجود سے پہلے ہی پیش بندی فرماد
جماعت دیوبند کے سید الطائفہ حضرت حاجی امد بارے میں یہ معلوم کر کے حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے حرم مقدس میں قیام نہ فرمانے دیا اور ایک بڑے فتنہ کی پیشین گ آنے پر مجبور فرمایا۔ مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب قدس سرہ کے مہاجر مکی کے دوسرے خلفاء حضرت مولانا احمد حسن صاح صاحب حیدرآبادی، حضرت مولانا محمد علی مونگیری قدس اسر پوری طرح سرگرم ہیں۔ ان خلفاء گرامی قدر میں اگر چہ بعض کچھ بعد ہی میں سامنے آیا۔
لیکن اس کو حضرت حاجی صاحب کی نسبت سے گولڑوی کو تو حضرت حاجی صاحب نے بطور خاص اس فتنہ ک بھیجا تھا۔
حضرت مولانا احمد حسن صاحب امروہی اور حضر قدس سرہما بھی ابتداء ہی میں سامنے آگئے ہیں۔ حضر ومباہلہ کا چیلنج بھی دیا تھا۔
١٧
فضلاء دارالعلوم کی سینکڑوں تصانیف آج بھی کتب خانہ اسلام کی زینت ہیں۔
فتنہ قادیانیت
ان زبردست فتنوں کے علاوہ انگریز کی جانب سے مسلمانوں کے اندرون میں متعدد فتنے برپا کرائے گئے۔ جن میں سب سے اہم فتنہ قادیانیت کا تھا۔ اس فتنہ نے سیاسی، علمی اور اعتقادی طور پر خلفشار پیدا کیا۔ اس فتنہ کی طرح تو تیرہویں صدی ہجری کے اواخر میں پڑ گئی تھی۔ لیکن مرزا قادیانی نے ١٣٠١ھ میں براہین احمدیہ کے ٤ حصے شائع کر کے اپنے زیغ و ضلال کو طشت از بام کر دیا تو علماء نے اس کا تعاقب شروع کر دیا۔ اس سلسلہ میں ابتداء اگرچہ علمائے لدھیانہ وامرتسر مولانا غلام علی امرتسریؒ، مولانا احمد اللہ امرتسریؒ، حافظ عبدالمنان وزیر آبادیؒ، مولانا عبدالعزیز لدھیانویؒ، مولانا محمد لدھیانویؒ، مولانا عبداللہ لدھیانویؒ، مولانا محمد اسماعیل لدھیانویؒ اور مولانا غلام دستگیر قصوریؒ نے کی۔ مگر اکابر دارالعلوم کا کارنامہ اس سلسلے میں محیر العقول ہے کہ وہ محض الہامی طور پر فتنے کے وجود سے پہلے ہی پیش بندی فرما رہے ہیں۔
جماعت دیوبند کے سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی قدس سرہ کے بارے میں یہ معلوم کر کے حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ کو حجاز مقدس میں قیام نہ فرمانے دیا اور ایک بڑے فتنہ کی پیشین گوئی فرماتے ہوئے انہیں ہندوستان آنے پر مجبور فرمایا۔ مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب قدس سرہ کے علاوہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ کے دوسرے خلفاء حضرت مولانا احمد حسن صاحب امروہیؒ، حضرت مولانا انوار اللہ صاحب حیدر آبادیؒ، حضرت مولانا محمد علی مونگیری قدس اسرارہم وغیرہ بھی اس فتنہ کی سرکوبی میں پوری طرح سرگرم ہیں۔ ان خلفاء گرامی قدر میں اگرچہ بعض حضرات کا کارنامہ تاریخی اعتبار سے کچھ بعد ہی میں سامنے آیا۔
لیکن اس کو حضرت حاجی صاحب کی نسبت سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ پیر مہر علی صاحب گولڑویؒ کو تو حضرت حاجی صاحب نے بطور خاص اس فتنہ کی تردید کی طرف متوجہ فرما کر ہندوستان بھیجا تھا۔
حضرت مولانا احمد حسن صاحب امروہیؒ اور حضرت مولانا انوار اللہ صاحب حیدر آبادی قدس سرہما بھی ابتداء ہی میں سامنے آگئے ہیں۔ حضرت محدث امروہیؒ نے تو مرزا کو مناظرہ ومباہلہ کا چیلنج بھی دیا تھا۔
١٧
اور حضرت مولانا محمد علی مونگیری کا کام زمانہ کے اعتبار سے مؤخر سہی لیکن وہ ایک طاقتور تحریک کی صورت میں سامنے آیا اور اس نے باطل کے اس سیلاب پر بند باندھنے کا کام انجام دیا۔
قبل از وقت تنبیہ میں اکابر دارالعلوم میں حضرت حاجی صاحب قدس سرہ تنہا نہیں ہیں۔ بلکہ اس سلسلہ میں دوسرا نام حجۃ الاسلام حضرت اقدس مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی قدس سرہ کا ہے کہ انہوں نے فتنہ کی نقاب کشائی سے پہلے اس موضوع پر تحذیر الناس جیسی اہم مدلل اور قیمتی کتاب تصنیف فرمائی جو رد قادیانیت کے موضوع پر راہنما اور راہبر کا کام انجام دے رہی ہے۔ پھر مناظرہ عجیبہ میں ان کا یہ فیصلہ بالکل الہامی زبان میں نقل ہوا ہے۔ ”اپنا دین و ایمان ہے۔ بعد رسول اللہ ﷺ کسی اور نبی ﷺ کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تامل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔“
(مناظرہ عجیبہ ص١٠٣)
پھر مرزا غلام احمد قادیانی کے باطل ادعاء کے پہلے ہی سال ١٣٠١ھ میں جب مرزا قادیانی نے اپنے الہامات کو وحی الہی کی حیثیت سے براہین احمدیہ میں شائع کیا تو علماء لدھیانہ نے اس کی تکفیر کی۔
اس وقت تک حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ کو اس دجل و فریب سے پوری واقفیت نہ تھی۔ اس لئے کچھ لوگوں نے جو مرزا قادیانی سے حسن ظن رکھتے تھے۔ علماء لدھیانہ کی مخالفت میں حضرت گنگوہی سے فتویٰ منگالیا۔ لیکن علماء لدھیانہ اسی سال جمادی الاول ١٣٠١ھ میں جلسہ دستار بندی کے موقع پر دیوبند تشریف لائے اور قادیانی کے مسئلہ میں حضرت گنگوہی اور دوسرے علماء دیوبند سے بالمشافہ گفتگو فرمائی۔ گفتگو کے بعد دارالعلوم کے سب سے پہلے صدر مدرس حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی قدس سرہ نے جو تحریر مرتب فرمائی وہ یہ ہے۔
”یہ شخص (مرزا غلام احمد قادیانی) میری دانست میں لا مذہب معلوم ہوتا ہے۔ اس شخص نے اہل اللہ کی صحبت میں رہ کر فیض باطنی حاصل نہیں کیا۔ معلوم نہیں اس کو کس روح سے اویسیت ہے۔ مگر اس کے الہامات اولیاء اللہ کے الہامات سے کچھ مناسبت اور علاقہ نہیں رکھتے۔“
(رئیس قادیان ج٢ ص١٠)
اس کے بعد حضرت گنگوہی نے بھی مرزا قادیانی کے بارے میں وہ موقف اختیار فرمایا جو اس کے باطل عقائد کی رو سے ضروری تھا۔ کسی نے سوال کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے خیالات متعلق بہ وفات عیسیٰ علیہ السلام جو کچھ ہیں ظاہر ہے پس اس مرزا کی جماعت کا اپنی
١٨
مساجد میں نہ آنے دینا اور ان کے ساتھ نماز میں شر میں ارشاد فرمایا۔
”مرزا قادیانی گمراہ ہے۔ اس کے مرید ہے جیسا رافضی، خارجی کا الگ رہنا اچھا ہے۔ ان سے خارج کر دو۔ بحث کر کے ساکت کرنا اگر ہو سکے ہرگز فوت ہونا عیسیٰ علیہ السلام کا آیات سے ثابت ن ہے۔ مگر گمراہ ہے۔ اپنے اغواء اور اضلال سے باز ن
اس کے بعد حضرت گنگوہی قدس سرہ ن قرار دیا اور چونکہ حضرت اقدس ہی جماعت دیوبن جماعت کا اجماعی فیصلہ تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی کے آخری سانس تک نہ بھلا سکا اور حضرت اقدس ک
اس زمانہ میں حضرت مولانا احمد حسن کیرانوی کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں کہ ا وقلم کی پوری طاقت اس کے لئے وقف کر دی اور دستگیر قصوری کے استفتاء پر ١٣٠٢ھ میں مرزا قادیا علمائے حرمین سے اس کی تصدیق کرائی اور یہ فتو ثابت ہوا۔ اس کے بعد ١٣٠٧ھ میں مولانا م ہندوستان نے مرزا قادیانی کی تکفیر کی جس م گنگوہی نے رقم فرمایا: ”مرزا غلام احمد قادیان دجال، کذاب اور طریقہ اہل سنت والجماعت س
حضرت شیخ الہند قدس سرہ نے تحری نہیں ہو سکتا۔“
حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن ص اعتقاد رکھتے ہیں وہ بلاشک الحاد اور شریعت م
حضرت مولانا خلیل احمد صاحب ضال، مضل بلکہ دجالہ میں راس رئیس ہے۔
مساجد میں نہ آنے دینا اور ان کے ساتھ نماز میں شریک ہونے سے تنفر رکھنا کیسا ہے؟ تو جواب میں ارشاد فرمایا۔
”مرزا قادیانی گمراہ ہے۔ اس کے مرید بھی گمراہ ہیں۔ اگر جماعت سے الگ ہیں اچھا ہے جیسا رافضی، خارجی کا الگ رہنا اچھا ہے۔ ان کی واہیات مت سنو، اگر ہو سکے اپنی جماعت سے خارج کردو۔ بحث کر کے ساکت کرنا اگر ہو سکے ضرور ہے۔ ورنہ ہاتھ سے ان کو جواب دو اور ہرگز فوت ہونا عیسیٰ علیہ السلام کا آیات سے ثابت نہیں وہ بکتا ہے اس کا جواب علماء نے دے دیا ہے۔ مگر گمراہ ہے۔ اپنے اغواء اور اضلال سے باز نہیں آتا۔ حیاء اس کو نہیں کہ شرمادے۔“
اس کے بعد حضرت گنگوہی قدس سرہ نے مرزا قادیانی کو مرتد، زندیق اور خارج اسلام قرار دیا اور چونکہ حضرت اقدس ہی جماعت دیوبند کے سید الطائفہ تھے اور ان کا فتویٰ گویا پوری جماعت کا اجماعی فیصلہ تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی حضرت اقدس کے فتویٰ کی ضرب کاری کو زندگی کے آخری سانس تک نہ بھلا سکا اور حضرت اقدس کے بارے میں حسب عادت فحاشی پر اتر آیا۔
اس زمانہ میں حضرت مولانا احمد حسن صاحب امروہتی اور حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی خدمات بھی نا قابل فراموش ہیں کہ حضرت مولانا احمد حسن صاحب امروہتی نے زبان وقلم کی پوری طاقت اس کے لئے وقف کردی اور مولانا رحمت اللہ صاحب کیرانوی نے مولانا غلام دستگیر قصوری کے استفتاء پر ١٣٠٢ھ میں مرزا قادیانی کو مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر علمائے حرمین سے اس کی تصدیق کرائی اور یہ فتویٰ مرزا قادیانی کی بڑھتی ہوئی آندھی کی مؤثر کاٹ ثابت ہوا۔ اس کے بعد ١٣٠٧ھ میں مولانا محمد حسین بٹالوی کے استفتاء کے جواب میں تمام علماء ہندوستان نے مرزا قادیانی کی تکفیر کی جس میں اکابر دیوبند میں حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی نے رقم فرمایا: ”مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تاویلات فاسدہ اور ہفوات باطلہ کی وجہ سے دجال، کذاب اور طریقہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہے۔“
حضرت شیخ الہند قدس سرہ نے تحریر فرمایا: ”جاہل یا گمراہ کے سوا ایسے عقائد کا معتقد کوئی نہیں ہوسکتا۔“
حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب نے رقم فرما دیا: ”قادیانی اور اس کے پیرو جو اعتقاد رکھتے ہیں وہ بلاشک الحاد اور شریعت کا ابطال ہے۔“
حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری نے ارشاد فرمایا: ”ان عقائد کا مخترع ضال، مضل بلکہ دجاجلہ میں راس رئیس ہے۔“
حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے تحریر فرمایا: ”ایسے عقائد کا معتقد کتاب اللہ کی بنیادوں کو منہدم کرنے والا ہے۔“
اس کے بعد ١٣٠٨ھ میں جب مرزا قادیانی کی کتابیں ”فتح اسلام، توضیح مرام اور ازالہ اوہام“ شائع ہوئیں۔ جس میں وفات مسیح کا دعویٰ کر کے اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان کیا گیا تھا تو علماء ربانیین خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے اور سارا ہندوستان مرزا قادیانی کی تردید کے غلغلوں سے گونجنے لگا۔ اسی زمانہ میں حضرت مولانا اسماعیل صاحب علی گڑھیؒ نے کام شروع فرمایا۔ جگہ جگہ مناظروں میں مرزائیوں کو شکست فاش دی جانے لگی۔
شعبان ١٣٢١ھ میں حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب قدس سرہ نے البرہان نامی رسالہ شاہجہاں پور سے جاری کیا جو تقریباً دو سال تک تاریکیوں کی شب میں تنویر سحر کا کام انجام دیتا رہا۔
١٣٢٧ھ میں نواب حامد علی خاں والیٔ ریاست رامپور کے زیر اہتمام عظیم الشان تاریخی مناظرہ ہوا۔ جس میں حضرت مولانا احمد حسن صاحب امروہیؒ اور حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے باطل شکن دلائل اور بیانات سے قادیانیت لرزہ براندام ہوگئی اور ١٣٢٩ھ میں حضرت مولانا محمد علی مونگیری قدس سرہ کی زیر سرکردگی وہ تاریخی مناظرہ ہوا۔ جس میں چالیس علماء کرام نے شرکت فرمائی۔ جن میں حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوری، حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی اور دوسرے اکابر دیوبند شریک ہوئے اور اس مناظرہ میں مرزائیوں کی شکست فاش نے ان کی کمر توڑ دی۔
پھر اس کے بعد ١٣٣١ھ میں مولانا محمد سہول صاحبؒ، مفتی دارالعلوم دیوبند کے قلم سے ایک مفصل فتویٰ کی ترتیب عمل میں آئی۔ اس مفصل فتویٰ میں پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار وعقائد کو اسی کی کتابوں سے نقل کیا گیا تھا۔ پھر لکھا گیا تھا۔ ”جس شخص کے ایسے عقائد واقوال ہوں اس کے خارج از اسلام ہونے میں کسی مسلمان کو خواہ جاہل ہو یا عالم تردد نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جملہ متبعین درجہ بدرجہ مرتد، زندیق، ملحد، کافر اور فرقہ ضالہ میں یقیناً داخل ہیں۔“
اس فتویٰ پر حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت علامہ کشمیریؒ اور دوسرے مشاہیر علماء کے دستخط ہیں۔ حضرت شیخ الہند قدس سرہ نے اس فتویٰ پر دستخط کے ساتھ یہ الفاظ مزید قلمبند فرما کر اپنی مہر لگائی ہے ؎
٢٠
”مرزا! علیہ ما یستحقہ کے عقائد واقوال کا ا کوئی منصف فہم نہیں کر سکتا۔ جسکی تفصیل جواب میں
حضرت شیخ الہندؒ اگرچہ انگریز کی ذری قادیانی نبوت کے خالق (انگریز بہادر) سے ٹکر لی نہیں کیا اور اپنے نابغۂ روزگار تلامذہ (جن کی فہرس جنہوں نے اس موضوع کو اپنی خدمت کا جولانگ الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ، فقیہ الامت حضر حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، حضرت علام چاند پوریؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسر حضرت مولانا عبدالسمیع صاحب انصاریؒ، حضر ابوالقاسم رفیق دلاوریؒ اور حضرت مولانا محمد عالم نبوت کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیا۔ لیکن ان اکا حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور فاتح قادیان حض سب سے زیادہ نمایاں اور ممتاز ہے۔ حضرت مولا حضرت شیخ الہندؒ کے مسلک پر نہ تھے۔ مگر ختم نبوت حضرت شیخ الہندؒ نے آپ کے ذریعہ پورے حلق کردی اور مولانا امرتسریؒ نے مولانا ابراہیم سیالک لاکھڑا کر دیا۔ ادھر حضرت علامہ کشمیریؒ نے اپنے کے لئے وقف کر دی اور رد قادیانیت کی تقریب قیمتی سرمایہ تیار فرمایا کہ قیامت تک اس طرح حاصل کرتی رہے گی۔ حضرت علامہ کشمیریؒ کے صاحبؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، مولانا ادریس کاندھلویؒ، حضرت مولانا بدر سیوہارویؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیا
"مرزا علیہ ما یستحقہ کے عقائد واقوال کا کفریہ ہونا ایسا بدیہی مضمون ہے کہ جس کا انکار کوئی منصف فہم نہیں کر سکتا۔ جسکی تفصیل جواب میں موجود ہے۔"
بندہ محمود عفی عنہ صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند !
حضرت شیخ الہندؒ اگرچہ انگریز کی ذریت (قادیانی ٹولہ) سے نہیں بلکہ براہ راست قادیانی نبوت کے خالق (انگریز بہادر) سے ٹکر لے رہے تھے۔ لیکن ذریت برطانیہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا اور اپنے نابغہ روز گار تلامذہ (جن کی فہرست بڑی طویل ہے) کو اس جانب متوجہ فرمایا۔ جنہوں نے اس موضوع کو اپنی خدمت کا جولانگاہ بنایا۔ محدث کبیر علامہ انور شاہ کشمیریؒ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ، فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحبؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ، شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب، حضرت مولانا عبدالسمیع صاحب انصاریؒ، حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒ، حضرت مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوریؒ اور حضرت مولانا محمد عالم آسی امرتسریؒ نے تحریر و تقریر کے ذریعہ حریم ختم نبوت کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیا۔ لیکن ان اکابر کی خدمات کی فہرست میں حجۃ اللہ فی الارض حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور فاتح قادیان حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ کا کارنامہ سب سے زیادہ نمایاں اور ممتاز ہے۔ حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ اگرچہ مسائل فقہ میں حضرت شیخ الہندؒ کے مسلک پر نہ تھے۔ مگر ختم نبوت کے لئے آپ کے ارشاد پر جان چھڑکتے تھے۔ حضرت شیخ الہندؒ نے آپ کے ذریعہ پورے حلقہ اہل حدیث میں مرزائیت کے خلاف بیداری پیدا کردی اور مولانا امرتسریؒ نے مولانا ابراہیم سیالکوٹیؒ اور مولانا داؤد غزنویؒ کو بھی اس پلیٹ فارم پر لا کھڑا کر دیا۔ ادھر حضرت علامہ کشمیریؒ نے اپنے علم و قلم اور تلامذہ کی پوری طاقت اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے وقف کردی اور رد قادیانیت کی تقریب سے اصول دین اور اصول تکفیر کی وضاحت پر ایسا قیمتی سرمایہ تیار فرمایا کہ قیامت تک اس طرح کے فتنوں کی سرکوبی کے لئے امت اس سے روشنی حاصل کرتی رہے گی۔ حضرت علامہ کشمیریؒ کے تلامذہ میں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوریؒ، حضرت مولانا ادریس کاندھلویؒ، حضرت مولانا بدر عالم صاحب میرٹھیؒ، حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ، حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ، حضرت
٢١
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا چراغ محمد صاحب گوجرانوالہ، حضرت مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ، حضرت مولانا ابوالوفاء شاہجہان پوریؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانیؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن اعظمیؒ اور دوسرے جلیل القدر علماء نے اس فتنہ کا بھر پور تعاقب کیا۔ ہندوستان کے طول وعرض میں قریہ قریہ گھوم کر حق کی وضاحت کی اور اس موضوع کے ہر پہلو پر اتنا لٹریچر تیار کر دیا کہ اس کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں ہے۔ فجزاہم اللہ عنا وعن سائر المسلمین!
تقسیم ہند کے بعد اس فتنہ نے سرزمین پاکستان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا تو وہاں بھی علماء دیوبند اور مبلغین دیوبند نے تمام طاقتیں اس حریم مقدس کی حفاظت کے لئے وقف فرمادیں۔ تا اینکہ فتنہ قادیانیت تاریخ انسانیت میں ایک بہتان اور افتراء بن کر رہ گئی اور یہ کام خدا کے فضل وکرم سے تکمیل تک پہنچ گیا۔
مجاہدین قوم
علماء کرام کی جدوجہد سے قادیانیوں کو مرتد اور غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد اب قادیانیوں نے ایسے مقامات کو منتخب کیا ہے۔ جہاں انہیں اس سلسلہ میں سیاسی طور پر فرصت مہیا ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اب ہندوستان میں بھی ان کی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ جگہ جگہ مراکز قائم ہو رہے ہیں۔ کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں اور اس فتنہ نے از سر نو مختلف انداز پر کام شروع کر دیا ہے۔ تغلق آباد دہلی میں مرزائیوں نے ایک وسیع وعریض جگہ خرید کر وہاں اپنا مرکز قائم کر لیا ہے۔ خرید کردہ زمین کا احاطہ بنا لیا گیا ہے اور عارضی طور پر ایک مسجد ضرار (بیت الشیاطین) کی بنیاد ڈال کر اسلامی احمدی تبلیغی مشن کا بورڈ لگا دیا گیا ہے۔ بمبئی و کلکتہ میں ان کے مراکز پہلے سے قائم ہیں جن کی تجدید کر کے طاقتور بنایا جارہا ہے۔ میرٹھ میں بھی ایک دفتر قائم کر لیا ہے اور وہاں مرزائیوں کی ایک کانفرنس بھی منعقد ہو چکی ہے۔ اسی طرح چند ماہ قبل لکھنؤ میں بھی کانفرنس کر چکے ہیں۔ ہاتھرس ضلع علی گڑھ میں بھی مشن قائم کر لیا گیا ہے۔ جس سے غرباء میں مفت دوائیں بھی تقسیم ہو رہی ہیں اور طلبہ کو تعلیمی وظائف بھی دیئے جارہے ہیں اور وہاں العیاذ باللہ متعدد خاندان قادیانیت کو قبول بھی کر چکے ہیں۔ اسی طرح فتح پور کانپور میں بھی مرزائیوں کی جدوجہد تیز ہوئی ہے اور کئی گھرانے قادیانیت کے لپیٹ میں آگئے ہیں۔ حیدر آباد مالا بار میں بھی مرزائیوں کی تنظیم جدید ہورہی ہے۔ مرزائیوں کا شعبہ نشر واشاعت بھی زندہ کیا گیا ہے اور ١٩٨٢ء سے اب تک ان
کی کئی نئی اور پرانی کتابیں طبع ہو کر سامنے آئی ہیں اور پھر بدر قادیان میں از سر نو روح ڈالی جارہی ہے۔ مرزائیوں مبلغین کی تربیت کا کام بھی شروع کر دیا ہے اور اس کـ سینٹر کا قیام عمل میں آگیا ہے۔ اس لئے ضروری تھا کہ دا علماء کو اس موضوع پر غور وفکر کرنے کی دعوت دی جائے۔
اجلاس منعقد کرنا اگرچہ دارالعلوم کے بنیا ضرورت سامنے آئے اور حالات کا تقاضا ہو تو پھر اجلاس اجتماع دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ چنانچہ شوریٰ منعقدہ ١٩ کہ اس وقت سرزمین ہند پر قادیانیت کا عفریت پھر پنجـ محاسبہ کیا جانا چاہئے اور اہل علم کو جمع کر کے اس کے تازہ دینا چاہئے۔
علماء والا مقام! اس میں کوئی شک نہیں کہ ـ پوری طرح مکمل فرمادیا ہے۔ لیکن عرصہ دراز سے ہندوسـ گئی تھی۔ اس کی تردید کی جانب بھی کوئی توجہ نہیں تھی ا ہو گئی تھیں۔ اس موقع پر دارالعلوم کی جانب سے چند کتا کہ تازہ دم فضلاء کو اس فتنہ کی اہمیت سے آگاہ کر کے انھـ دیا جائے۔
اور اس کے ساتھ ہی صحیح افکار وعقائد کی نشر و کو تیز تر کر دیا جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اپنی جگہ ثابت انسانیت کی نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ انسا صراطِ مستقیم پر گامزن ہو جائے۔
قابل صد احترام بھائیو! اس موقع پر یکساں ضروری معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ ابھی چند دن پہلے اس سـ کوشش کی جو باتیں سامنے آئی ہیں ان کے سبب مسلمانو ہو گئی ہے۔
کی کئی نئی اور پرانی کتابیں طبع ہو کر سامنے آئی ہیں اور بہت سارے لٹریچر تیار کئے گئے ہیں۔ اخبار بدر قادیان میں از سر نو روح ڈالی جا رہی ہے۔ مرزائیوں نے اپنے کفر کی اشاعت کرنے کے لئے مبلغین کی تربیت کا کام بھی شروع کر دیا ہے اور اس کے لئے آگرہ میں ”سادھن“ کے نام سے سینٹر کا قیام عمل میں آ گیا ہے۔ اس لئے ضروری تھا کہ دارالعلوم کے فرزندوں اور ہندوستان کے علماء کو اس موضوع پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی جائے۔
اجلاس منعقد کرنا اگرچہ دارالعلوم کے بنیادی مقاصد میں نہیں ہے۔ لیکن جب ضرورت سامنے آئے اور حالات کا تقاضا ہو تو پھر اجلاس بلانا، اہل مشورہ اور ارباب تعلق کو زحمت اجتماع دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ چنانچہ شوریٰ منعقدہ ١٩، ٢٠، ٢١ شعبان ١٤٠٦ھ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس وقت سرزمین ہند پر قادیانیت کا عفریت پھر پنجہ گاڑنے کی تدبیریں کر رہا ہے تو فوراً اس کا محاسبہ کیا جانا چاہئے اور اہل علم کو جمع کر کے اس کے تازہ پیرہن کو تار تار کرنے کی جدوجہد کو تیز تر کر دینا چاہئے۔
علماء والا مقام! اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے اسلاف امجاد نے اس موضوع کو پوری طرح مکمل فرما دیا ہے۔ لیکن عرصہ دراز سے ہندوستان میں چونکہ قادیانیت کی آواز ، مدھم پڑ گئی تھی۔ اس کی تردید کی جانب بھی کوئی توجہ نہیں تھی اور اکابر مرحومین کی تمام ہی کتابیں نایاب ہو گئی تھیں۔ اس موقع پر دارالعلوم کی جانب سے چند کتابیں بھی شائع کی جارہی ہیں اور ارادہ ہے کہ تازہ دم فضلاء کو اس فتنہ کی اہمیت سے آگاہ کر کے انہیں اس کی تردید کے لئے میدان میں اتار دیا جائے۔
اور اس کے ساتھ ہی صحیح افکار و عقائد کی نشر و اشاعت کے لئے بھی تابمقدور اپنی مساعی کو تیز تر کر دیا جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اپنی جگہ ثابت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ کی بعثت کے بعد انسانیت کی نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ انسانیت کا قافلہ سرور عالم ﷺ کی بیان فرمودہ صراط مستقیم پر گامزن ہو جائے۔
قابل صد احترام بھائیو! اس موقع پر یکساں سول کوڈ کے مسئلے کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ ابھی چند دن پہلے اس سلسلے میں بار کونسل آف انڈیا کے زیر اہتمام کنونشن کی جو باتیں سامنے آئی ہیں ان کے سبب مسلمانوں کی پوری توجہ اس مسئلے کی طرف منعطف ہو گئی ہے۔
اس کنونشن میں جو پالیسی اختیار کی گئی اور جو طرز عمل سامنے آیا وہ مسلمانوں کے لئے انتہائی دل آزار ہے۔ کیونکہ یکساں سول کوڈ کے بعد مسلم پرسنل لاء کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی اور مسلمانوں کے لئے مذہبی اور شرعی ہدایات کے خلاف کسی چیز کا قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔
اس لئے دارالعلوم دیوبند، اس کے فرزند اور منتسبین غیر مبہم الفاظ میں اس سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور اس کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے اس کے ہر حال میں ناقابل قبول ہونے کو واضح کر دینا اپنا ملی اور مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس طرح کے تمام شرور و فتن سے محفوظ رکھے۔ آمین!
آخر میں احقر خدام دارالعلوم دیوبند کی جانب سے مہمانان گرامی قدر کا بصمیم قلب شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے اور واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کے لئے معذرت خواہ ہے اور امید کرتا ہے کہ حضرات محترمین نے جس طرح زحمت سفر برداشت کر کے کرم بے پایاں کا ثبوت دیا ہے اسی طرح تقصیرات سے صرف نظر فرما کر بھی ممنون فرمائیں گے۔ والسلام!
(حضرت مولانا) مرغوب الرحمن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند
ختم نبوت کی حقیقت
اور
حفاظت دین کے سلسلے میں ہمارے بزرگوں کا موقف
از حضرت مولانا محمد منظور صاحب نعمانی
حضرات کرام! آپ میرا حال دیکھ رہے ہیں، بیماری اور ضعف پیری سے نیم جان جسم آپ کے سامنے ہے۔ اس حال میں اپنی حاضری اور آپ حضرات کے درمیان موجودگی کو اللہ تعالیٰ کی توفیق خاص کا کرشمہ اور اپنے لئے باعث سعادت سمجھتا ہوں اور اس اجلاس کے موضوع ”ختم نبوت“ کی نسبت کی قوت کشش کا ایک ثمرہ۔
زندگی بھر کتاب و قلم سے واسطہ رہنے کے باوجود نہ علم آیا اور نہ قلم، اور اب تو آئے ہوئے علم کے جانے کا زمانہ ہے۔ رات ہی مجھے معلوم ہوا کہ اسی حال میں اتنے اہل علم حضرات کے سامنے اس اہم اجلاس کی پہلی نشست میں مجھے کچھ عرض کرنا ہے تو کوشش کی کہ چند مختصر اشارات قلمبند کرا دوں۔
محترم حضرات! نبوت و رسالت انسان کی سب سے اہم بنیادی اور فطری ضرورت اور
راہ سعادت کی طرف اس کی رہنمائی کی تکمیل کا خدائی انتظام صدی عیسوی تک تو اس طرح جاری رہا کہ قوموں، علاقوں انسانی مجموعوں معاشروں کے لئے الگ الگ انبیاء ورسل پھر چھٹی صدی عیسوی میں جب کہ انسانیت بلوغ کو پہنچ گئی مسلسل عمل کے نتیجہ میں دنیا کے جغرافیائی، تمدنی، مواصلاتی پوری دنیا کو ایک رہنمائی کا مخاطب بنانا، اسے ایک ہی مر قیامت تک کے لئے دین اور دین کے سرچشموں کتا ہوگئے۔ تب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو اس مبارک سلسلہ کا گیا اور گویا یہ طے کر دیا گیا کہ قیامت تک کے آنے والے والے انسانوں میں سے کسی ایک فرد پر اب ایک لمحہ بھی فیضان ہدایت سے خالی ہو۔ اس پہلو پر غور فرمایا جائے تو نعمت عظمیٰ کے انقطاع اور اس کے فیض سے محرومی نہیں بلکہ
ختم نبوت کا ایک اور پہلو اس لائق ہے کہ اس ہے کہ گذشتہ امتوں کے لئے نئے نبی کی آمد ایک شدید سے پہلے نبیوں کے ماننے والوں میں سے بہت کم لوگ تھے۔ بڑی تعداد انکار و تکذیب اور کفر کا راستہ اختیار کر آخری دو عظیم الشان رسولوں ہی کی مثال سامنے رکھ لیجئے عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائے اور احیاء موتی جیسے میں سے کتنے ان پر ایمان لائے اور کتنوں نے ان کو ج القتل قرار دیا اور ان کی شرعی عدالت نے ان کو سولی کے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو نہ مان کر اس لعنتی اور جہنمی ہو گئی۔
اسی طرح جب ان کے بعد سیدنا حضرت آپ ﷺ کے بارے میں واضح پیشین گوئیاں تورا موجود تھیں۔ اس کے باوجود اگلے پیغمبروں اور ان
٢٥
راہ سعادت کی طرف اس کی راہنمائی کی تکمیل کا خدائی انتظام ہے جو ابتدائے آفرینش سے چھٹی صدی عیسوی تک تو اس طرح جاری رہا کہ قوموں، علاقوں اور مختلف بنیادوں پر قائم ہونے والے انسانی مجموعوں معاشروں کے لئے الگ الگ انبیاء ورسل کی بعثت مختلف فرقوں میں ہوتی رہی۔ پھر چھٹی صدی عیسوی میں جب کہ انسانیت بلوغ کو پہنچ گئی اور حکمت الہی کے نظر نہ آنے والے مسلسل عمل کے نتیجہ میں دنیا کے جغرافیائی، تمدنی، مواصلاتی اور ذہنی احوال اس طرح کے ہو گئے کہ پوری دنیا کو ایک رہنمائی کا مخاطب بنانا، اسے ایک ہی مرکز ہدایت سے وابستہ کرنا ممکن ہو گیا اور قیامت تک کے لئے دین اور دین کے سرچشموں کتاب وسنت کی حفاظت کے اسباب پیدا ہو گئے۔ تب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو اس مبارک سلسلہ کا خاتم اور عالمین کے لئے مبعوث فرما دیا گیا اور گویا یہ طے کر دیا گیا کہ قیامت تک کے آنے والے زمانہ اور پورے کرۂ ارض میں بسنے والے انسانوں میں سے کسی ایک فرد پر اب ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آئے گا جو نبوت اور اس کے فیضان ہدایت سے خالی ہو۔ اس پہلو پر غور فرمایا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ختم نبوت اس نعمت عظمیٰ کے انقطاع اور اس کے فیض سے محرومی نہیں بلکہ اس کے دوام وتسلسل کا نام ہے۔
ختم نبوت کا ایک اور پہلو اس لائق ہے کہ اسے اچھی طرح سمجھ کر عام کیا جائے۔ وہ یہ ہے کہ گذشتہ امتوں کے لئے نئے نبی کی آمد ایک شدید آزمائش ہوا کرتی تھی۔ آنے والے نبی سے پہلے نبیوں کے ماننے والوں میں سے بہت کم لوگ اس کو قبول کرتے اور اس پر ایمان لاتے تھے۔ بڑی تعداد انکار وتکذیب اور کفر کا راستہ اختیار کر کے لعنتی اور جہنمی ہو جاتی تھی۔ سب سے آخری وعظیم الشان رسولوں ہی کی مثال سامنے رکھ لیجئے۔ اسرائیلی سلسلہ کے آخری رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائے اور احیاء موتی جیسے معجزے لے کر تشریف لائے تو یہودیوں میں سے کتنے ان پر ایمان لائے اور کتنوں نے ان کو جھوٹا مدعی نبوت قرار دے کر لعنتی اور واجب القتل قرار دیا اور ان کی شرعی عدالت نے ان کو سولی کے ذریعہ سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا اور اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو نہ مان کر اس وقت کی قریب قریب پوری یہودی امت لعنتی اور جہنمی ہوگئی۔
اسی طرح جب ان کے بعد سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو اگرچہ آپ ﷺ کے بارے میں واضح پیشین گوئیاں تورات وانجیل وغیرہ اگلی آسمانی کتابوں میں موجود تھیں۔ اس کے باوجود اگلے پیغمبروں اور ان کی اگلی کتابوں کے ماننے والے یہود
٢٥
ونصاریٰ میں سے بس چند ہی نے آپ ﷺ کو قبول کیا اور آپ ﷺ پر ایمان لائے۔ باقی سب انکار وتکذیب اور کفر کا راستہ اختیار کر کے دنیا میں اللہ کی لعنت اور آخرت میں جہنم کے ابدی عذاب کے مستحق ہوئے۔
پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم فرما کر اس امت محمدیہ پر یہ عظیم رحمت فرمائی کہ اس کو اس سخت ترین امتحان اور آزمائش سے محفوظ فرما دیا۔ اگر بالفرض نبوت کا سلسلہ جاری رہتا تو یقیناً وہی صورت ہوتی جو پہلے ہمیشہ ہوتی رہی تھی۔ یعنی حضور ﷺ کی امت کے بہت تھوڑے لوگ آنے والے نبی کو قبول کرتے اور زیادہ تر آپ ﷺ کے امتی اس کا انکار کر کے (معاذ اللہ) کافر اور لعنتی ہو جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ حضور ﷺ پر ختم فرما کر اس امت کو ہمیشہ کے لئے کفر اور لعنت کے اس خطرہ سے محفوظ فرما دیا۔ اس لئے یہ ختم نبوت امت محمدیہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین رحمت ہے۔
اس سلسلہ میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے ذمہ پیغام الٰہی کی تبلیغ اور اس کو قبول کرنے والوں کی تعلیم وتربیت کے کام کے علاوہ ایک کام یہ بھی تھا کہ ایک ایسی امت تیار کر دیں جو ان تینوں کاموں کو سنبھال لے۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اس حقیقت کی تعبیر یہ کہہ کر فرمائی ہے کہ بعثت ”بعثت مزدوجہ“ تھی۔ یعنی آپ ﷺ کی بعثت کے ساتھ آپ ﷺ کی امت کی بھی بعثت ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات میں اس طرف اشارے بھی آئے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی امت میں وقتاً فوقتاً ایسے بندے پیدا فرماتا رہے گا جو آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کی حفاظت واشاعت اور اس کی صفائی و آبیاری کی خدمت انجام دیتے رہیں گے۔ آپ ﷺ کے ایک ارشاد کے الفاظ ہیں ۔
"ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها “ ایک اور حدیث کے الفاظ ہیں: "يحمل هذا العلم عن كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الضالين وانتحال المبطلين وتاويل الجاهلين “ ایک اور ارشاد کے الفاظ ہیں ۔”لكل قرن سابق “
ایک اور حدیث کے الفاظ ہیں: ”بدأ الاسلام غريباً وسيعود غريباً فطوبى للغرباء قيل من الغرباء يا رسول الله (ﷺ)؟ قال الذين يصلحون ما افسد الناس من امتى “
٢٦
رسول اللہ ﷺ کے ان سب ارشادات کا حاصل آپ ﷺ کی امت میں ایسے افراد پیدا فرماتا رہے گا جو آ حفاظت واشاعت اور تجدید وصفائی کا کام کرتے رہیں گے۔ خدمات ہوئی ہیں وہ دراصل انہی ارشادات نبوی ﷺ کی عملی تجـ
محققین کا خیال ہے کہ ہزارہ دوم کے آغاز سے الـ نے سر زمین ہند کو بنا دیا۔ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ ہوا۔ ان سے اللہ تعالیٰ نے جو بڑے بڑے کام لئے ان میں ہے۔ جو ایسا فنا ہوا کہ اب تلاش کرنے سے اس کا ذکر صرف کے علاوہ توحید وسنت کی اشاعت ،مشرکانہ رسوم وبدعات کـ ستھرے نظام کی ترویج ،بگڑے ہوئے تصوف کی بیخ کنی ا مسلمانوں کو بچانے کی جدوجہد ان کے چند اہم تجدیدی کارنـ
ان کے بعد یہ امانت بارھویں صدی میں حضر زمانے میں ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں پر سخت حا زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اصرار کی وجہ سے مـ فکری صلاحیتیں باہم ایک دوسرے کی تردید وتضلیل ہی پر صـ نے وہ تمام کام کئے جن سے ملت اسلامیہ ہندیہ کی تعمیر نو قدموں میں ثبوت پیدا ہو اور ذوق ومزاج عملی اور مثبت ہـ وقت کے فتنوں اور اسلام کو درپیش داخلی وخارجی خطروں شیعیت کے سلسلہ میں ان کے کام کا حوالہ دیا جا سکتا ہے تصنیف کیں۔ (١) ازالة الخفاء عن خلافة الخلفا الشيخين ۔ بلکہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے اس رسالہ کا جـ تکفیر کے سلسلہ میں علماء خراسان کے فتوے کی تائید میں لکھـ
حضرت شاہ ولی اللہؒ کے متصلاً بعد ان کے جـ زمانہ آیا۔ اس زمانہ کے حالات کا اندازہ آپ جیسے اہل علم کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ نے اپنے زمانہ میں بـ
٢٧
رسول اللہ ﷺ کے ان سب ارشادات کا حاصل یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر دور میں آپ ﷺ کی امت میں ایسے افراد پیدا فرماتا رہے گا جو آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کی حفاظت واشاعت اور تجدید وصفائی کا کام کرتے رہیں گے۔ گزشتہ چودہ سو سال میں دین کی جو خدمات ہوئی ہیں وہ دراصل انہی ارشادات نبوی ﷺ کی عملی تطبیق ہیں۔
محققین کا خیال ہے کہ ہزارۂ دوم کے آغاز سے اس عظیم کام کا خصوصی مرکز حکمت الٰہی نے سرزمین ہند کو بنادیا۔ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ سے یہاں اس زریں سلسلہ کا آغاز ہوا۔ ان سے اللہ تعالیٰ نے جو بڑے بڑے کام لئے ان میں اکبر کے دین الٰہی کا خاتمہ سرفہرست ہے۔ جو ایسا فنا ہوا کہ اب تلاش کرنے سے اس کا ذکر صرف تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔ اس کے علاوہ توحید وسنت کی اشاعت، مشرکانہ رسوم و بدعات کے خلاف جہاد تزکیہ و احسان کے صاف ستھرے نظام کی ترویج، بگڑے ہوئے تصوف کی بیخ کنی اور شیعیت کے فتنہ سے اس دور کے مسلمانوں کو بچانے کی جدوجہد ان کے چند اہم تجدیدی کارنامے ہیں۔
ان کے بعد یہ امانت بارھویں صدی میں حضرت شاہ ولی اللہؒ کے سپرد ہوئی۔ ان کے زمانے میں ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں پر سخت حالات تھے۔ باہمی تفرقہ وانتشار بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اصرار کی وجہ سے مسلمانوں کے مختلف حلقوں اور مکاتبِ فکر کی صلاحیتیں باہم ایک دوسرے کی تردید وتضلیل ہی پر صرف ہو رہی تھیں۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے وہ تمام کام کئے جن سے ملت اسلامیہ ہندیہ کی تعمیر نو ہوسکے اور اس کی صفوں میں اتحاد اور قدموں میں ثبات پیدا ہو اور ذوق ومزاج عملی اور مثبت ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے وقت کے فتنوں اور اسلام کو درپیش داخلی و خارجی خطروں پر کڑی نظر رکھی۔ یہاں خاص طور پر رد شیعیت کے سلسلہ میں ان کے کام کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ خود دو کتابیں تصنیف کیں۔ (١) ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء۔ (٢) قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین۔ بلکہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے اس رسالہ کا عربی ترجمہ بھی کیا جو انہوں نے شیعوں کی تکفیر کے سلسلہ میں علماء خراسان کے فتوے کی تائید میں لکھا تھا۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ کے متصلاً بعد ان کے صاحبزادۂ گرامی حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کا زمانہ آیا۔ اس زمانہ کے حالات کا اندازہ آپ جیسے اہل علم ونظر حضرات صرف اس سے لگا سکتے ہیں کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ نے اپنے زمانہ میں ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا تھا۔ لیکن
٢٧
اپنے تمام دوسرے کاموں کے ساتھ جن میں رجال کار کی تیاری کا کام سب سے زیادہ اہم تھا انہوں نے بھی شیعیت کے فتنہ سے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لئے ”تحفہ اثناعشریہ“ جیسی کتاب تصنیف فرمائی جو انشاء اللہ ! اس راہ میں قیامت تک مسلمانوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔
پھر حضرت سید احمد شہیدؒ اور حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ نے اپنے تمام کاموں کے ساتھ جن میں اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے میدان کارزار کا سجانا سر فہرست ہے۔ شرک و بدعات کی بیخ کنی کا کام پورے اہتمام کے ساتھ جاری رکھا۔
پھر وہ وقت آیا کہ مغلیہ حکومت کا اگرچہ کچھ نام باقی تھا۔ لیکن فی الحقیقت وہ ختم ہوچکی تھی۔ اس کی جگہ سرکار ایسٹ انڈیا کمپنی کا اقتدار قائم ہوچکا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کی سیاسی مغلوبیت اور کمزوری کے اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر عیسائی مبلغین کی ایک فوج میدان میں آگئی۔ انہوں نے سمجھا تھا کہ اس وقت مسلمانوں کو عیسائی بنالینا آسان ہوگا۔ انہوں نے تحریر وتقریر سے تبلیغی مہم وسیع پیمانے پر شروع کردی تو ہمارے سلسلہ کے اکابر میں سے حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، دیگر علمائے کرام نے ایسا مقابلہ کیا جس نے عیسائی مبلغین کو ہمیشہ کے لئے پسپا اور خاص کر مسلمانوں کی طرف سے مایوس کردیا۔ اس کے کچھ ہی بعد سوامی دیانند کی آریہ سماجی تحریک وجود میں آئی۔ انہوں نے بھی اسلام اور مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ حضرت نانوتویؒ نے تحریر و تقریر سے اس کا بھی مقابلہ کیا۔ اسی دور میں یورپ کے سیاسی غلبہ اور اقتدار کے نتیجہ میں عقلیت اور روشن خیالی کے خوبصورت ناموں سے دہریت اور نیچریت کا فتنہ اٹھا۔ اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق سے حضرت نانوتویؒ نے اس طرف بھی خاص توجہ فرمائی اور اپنی تصانیف اور تقریروں سے ثابت کیا کہ اسلام کے تمام بنیادی عقائد ومسائل عقل وفطرت کے عین مطابق ہیں اور جو اس کے خلاف ہے وہی خلاف عقل و فطرت ہے۔
پھر ان خارجی حملوں اور فتنوں کے دفاع اور مقابلہ کے ساتھ شیعیت کی ضلالت کے خلاف بھی آپ نے لسانی اور قلمی جہاد کیا۔ اس سلسلہ میں آپ کی مستقل تصنیف ”ہدیۃ الشیعہ“ اور اس موضوع سے متعلق آپ کے مکتوبات حضرات اہل علم کے لئے قابل مطالعہ ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیمات نبوی اور دین کی حفاظت واشاعت کا سلسلہ جاری رہنے کے لئے دینی مدارس کے قیام کی طرف بھی خاص توجہ فرمائی۔ علی ہٰذا!
آپ کے رفیق خاص حضرت گنگوہیؒ نے بھی عمر بھر شیعیت اور دوسرے داخلی فتنوں اور
٢٨
گمراہیوں مشرکانہ رسوم و بدعات سے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لئے جدوجہد فرمائی اور اس کو تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھا۔ انہی کے زمانہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کا فتنہ شروع ہوا۔ ابتداء میں جب تک حضرت کے علم میں اس کی وہ باتیں اور دعوے نہیں آئے جن کی وجہ سے اس کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا فرض و واجب ہو گیا۔ آپ نے احتیاط فرمائی۔ لیکن جب اس کے ایسے دعوے سامنے آ گئے جن کے بعد کف لسان کی بھی گنجائش نہ رہی تو حضرت نے اس کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔
حضرت نانوتویؒ اور حضرت گنگوہیؒ کے بعد ان کے تلامذہ ومسترشدین، حضرت شیخ الہند، حضرت سہارنپوریؒ، حکیم الامت حضرت تھانویؒ، پھر ان کے تلامذہ ومسترشدین، حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا سید محمد مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ یہ سب حضرات بھی اپنے اکابر واسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، خارجی حملوں اور داخلی فتنوں سے دین کی حفاظت علوم نبوی کی اشاعت، امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور امت کی اصلاح وارشاد کی خدمت انجام دیتے رہے۔ اس وقت بھی ہم میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ان اکابر کی دینی غیرت وحمیت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ہم شہادت دیتے ہیں کہ کوئی بڑی سے بڑی مصلحت ان حضرات کو کسی فتنے سے سمجھوتہ اور کسی زیغ وضلال کو نظر انداز کرنے اور اس سے چشم پوشی پر آمادہ نہیں کر سکتی تھی۔ بارہا ہم نے دیکھا اور تجربہ کیا کہ ہمارے یہ اکابر کسی مسئلہ کی طرف بڑی شدت سے متوجہ ہوئے جو ہم جیسے کوتاہ نظروں کی نگاہ میں اس شدت کا مستحق نہیں تھا۔ لیکن تھوڑے ہی دن بعد سامنے آ گیا کہ ہم جس فتنہ کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے یا اس کو دین میں رخنہ اور فتنہ ہی نہیں سمجھ رہے تھے وہ دین کے لئے ایسے زہریلے برگ و بار لایا کہ الامان الحفیظ!
یہ اجلاس تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے بلایا گیا ہے اور یہی اس کا اصل موضوع اور مقصد ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارے استاذ امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہؒ سے (خاص طور سے اس دارالعلوم کی صدارت تدریس کے دوران میں) اللہ تعالیٰ نے جو کام لیا اور اس کے بارے میں ان کا جو حال تھا (جس کی طرف کچھ اشارہ اجلاس کے دعوت نامہ میں بھی کیا گیا ہے) میں مناسب بلکہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اس موقع پر آپ حضرات کے سامنے اس کا کچھ ذکر کروں۔ میں اس کا عینی شاہد ہوں۔
٢٩
اس وقت میں اس سلسلہ کی حضرت کی تصانیف اور ان کی علمی عظمت واہمیت کا ذکر نہیں کروں گا۔ اسی طرح حضرت کی توجہ اور فکر مندی سے آپ کے تلامذہ کی جو ایک بڑی تعداد قادیانی فتنہ کے خلاف تحریر و تقریر کے ذریعہ علمی جہاد کے لئے تیار ہو کر میدان میں آ گئی تھی، اس کا بھی ذکر نہیں کروں گا۔ پس چند واقعات ذکر کروں گا۔ جن سے اس فتنہ کے بارے میں حضرت کی شدت احساس اور قلبی اضطراب کا کچھ اندازہ لگایا جاسکے گا۔
میں ١٣٤٥ھ میں یہاں دورۂ حدیث کا طالب علم تھا، یہ دارالعلوم دیوبند میں حضرت کی صدارت تدریس اور درس حدیث کا آخری سال تھا جس دن دورۂ حدیث کے طلبہ کا سالانہ امتحان ختم ہوا اس دن حضرت نے بعد نماز عصر مسجد میں دورہ سے فارغ ہونے والے ہم طلبہ کو خصوصی خطاب فرمایا۔ وہ گویا ہم لوگوں کو حضرت کی آخری وصیت تھی۔ اس میں دوسری اہم باتوں کے علاوہ یہ بھی فرمایا کہ ہم نے اپنی عمر کے پورے تیس سال اس میں صرف کئے کہ یہ اطمینان ہوجائے کہ فقہ حنفی حدیث کے خلاف نہیں ہے۔ الحمد للہ! ایسا پختہ دیا اللہ ! اس پر پورا اطمینان ہو گیا کہ فقہ حنفی حدیث کے خلاف نہیں ہے۔ اگر اس مسئلہ کے خلاف کوئی حدیث ہے تو کم از کم اسی درجہ کی حدیث اس کی تائید اور موافقت میں موجود ہے۔
لیکن اب ہمارا احساس ہے کہ ہم نے اپنا یہ وقت ایسے کام پر صرف کیا جو زیادہ ضروری نہیں تھا۔ جو کام زیادہ ضروری تھے ہم ان کی طرف توجہ نہیں کر سکے۔ اس وقت سب سے زیادہ ضروری کام دین کی اور امت کی فتنوں سے حفاظت ہے جو بلاشبہ فتنہ ارتداد ہے۔ میں آپ لوگوں کو وصیت کرتا ہوں کہ ان فتنوں سے امت کی اور دین کی حفاظت کے لئے اپنے کو تیار کریں۔ یہ وقت کا جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ اس کے لئے اردو تحریر و تقریر میں مہارت پیدا کریں اور جن کے لئے انگریزی میں مہارت حاصل کرنے کا امکان ہو وہ انگریزی میں مہارت پیدا کریں۔ ملک کے اندر ان فتنوں کا مقابلہ اردو میں کیا جاسکتا ہے اور ملک کے باہر انگریزی کے ذریعہ۔ حضرت الاستاذ قدس سرہ سے یہ ارشاد سنے ساٹھ سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ الفاظ میں تو یقیناً فرق ہوگا۔ لیکن اطمینان ہے کہ حضرت کا پیغام اور ہم لوگوں کو وصیت یہی تھی۔
حضرت اپنے خطابات اور تقریروں میں قادیانی فتنہ پر گفتگو فرماتے ہوئے اکثر صدیق اکبرؓ کے اس غیر معمولی حال اور اضطراب کا ذکر فرماتے تھے جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ارتداد کے فتنوں خاص کر نبوت کے مدعی مسیلمہ کذاب کے فتنہ کے سلسلے میں آپ پر طاری تھا۔ ہم
٣٠
لوگ محسوس کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے قادیانی فتنہ کے بار حضرت الاستاذ پر طاری فرمادیا ہے۔
یہاں میں فتنہ قادیانیت کے سلسلہ میں حضر بہاولپور کے تاریخی مقدمہ کا واقعہ بھی ذکر کرنا مناسب سمجھتا تھا ایک مسلمان خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ میرا نکاح فلا مسلمان ظاہر کیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ قادیانی ہے ا نکاح کو فسخ اور کالعدم قرار دے بہاولپور کے علماء کرام بـ سلسلہ میں حضرت شاہ صاحبؒ کو بھی دعوت دی گئی کہ دیں۔ اس وقت حضرتؒ مریض اور مرض کی وجہ سے بہت تھے کہ بہاولپور تک کا طویل سفر فرمائیں۔ لیکن آپ نے فرمایا (میں نے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ میرے پاس کوئی شاید اس جال میں یہ سفر ہی میری نجات و مغفرت کا وسیلہ جا کر عدالت میں بڑا معرکۃ الآراء بیان دیا، دوسرے عـ ہوئے۔ خاص کر حضرت شاہ صاحبؒ کے بیان نے فاضـ کے افکار اور مرزا غلام احمد کو نبی ماننے کی وجہ سے دائرہ ا نے بہت مفصل فیصلہ لکھا۔ دعویٰ کرنے والی مسلم خاتوں کالعدم قرار دیا۔ فاضل جج کا یہ فیصلہ قریباً ڈیڑھ سو صفحات مقدمہ بہاولپور کے نام سے شائع ہوگیا تھا۔ اس کے مطا بنیاد حضرت شاہ صاحبؒ کا بیان تھا۔ برطانوی حکومت مـ قادیانیوں کو کافر اور غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔
فتنہ قادیانیت کے ہی سلسلہ میں ایک واقـ لیجئے۔ دورۂ حدیث کے ہمارے ہم سبق طلبہ میں ضلع زمانے میں ضلع اعظم گڑھ کے ایک صاحب جو قادیانـ عہدہ پر آگئے وہ ایک دن اپنے ہم ضلع اعظم گڑھی طلبـ جال میں پھانسنے کے لئے ) دارالعلوم آئے۔ ان طلبـ
٣١
لوگ محسوس کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے قادیانی فتنہ کے بارے میں کچھ اس طرح کا حال ہمارے حضرت الاستاذ پر طاری فرمادیا ہے۔
یہاں میں فتنہ قادیانیت کے سلسلہ میں حضرت شاہ صاحب سے متعلق ریاست بہاولپور کے تاریخی مقدمہ کا واقعہ بھی ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ یہ مقدمہ بہاولپور کی عدالت میں تھا ایک مسلمان خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ میرا نکاح فلاں شخص سے ہوا تھا۔ اس نے اپنے کو مسلمان ظاہر کیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ قادیانی ہے اس لئے وہ کافر ہے۔ عدالت میرے اس نکاح کو فسخ اور کالعدم قرار دے بہاولپور کے علماء کرام نے اس مقدمہ کی پیروی کا فیصلہ کیا، اس سلسلہ میں حضرت شاہ صاحبؒ کو بھی دعوت دی گئی کہ وہ تشریف لائیں اور عدالت میں بیان دیں۔ اس وقت حضرتؒ مریض اور مرض کی وجہ سے بہت ضعیف و نحیف تھے۔ بالکل اس لائق نہ تھے کہ بہاولپور تک کا طویل سفر فرمائیں۔ لیکن آپ نے اسی حال میں تشریف لے جانے کا فیصلہ فرمایا (میں نے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ میرے پاس کوئی عمل نہیں ہے جس سے نجات کی امید ہو، شاید اس حال میں یہ سفر ہی میری نجات و مغفرت کا وسیلہ بن جائے) بہر حال تشریف لے گئے اور جاکر عدالت میں بڑا معرکۃ الاراء بیان دیا، دوسرے چند حضرات علمائے کرام کے بھی بیانات ہوئے۔ خاص کر حضرت شاہ صاحبؒ کے بیان نے فاضل جج کو مطمئن کر دیا کہ قادیانی ختم نبوت کے انکار اور مرزا غلام احمد کو نبی ماننے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج کافر و مرتد ہیں۔ انہوں نے بہت مفصل فیصلہ لکھا۔ دعویٰ کرنے والی مسلم خاتون کے حق میں ڈگری دی اور نکاح فسخ اور کالعدم قرار دیا۔ فاضل جج کا یہ فیصلہ قریباً ڈیڑھ سو صفحات کی کتاب کی شکل میں اسی زمانہ میں فیصلہ مقدمہ بہاولپور کے نام سے شائع ہوگیا تھا۔ اس کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بڑی بنیاد حضرت شاہ صاحب کا بیان تھا۔ برطانوی حکومت کے دور میں یہ پہلا عدالتی فیصلہ تھا جس میں قادیانیوں کو کافر اور غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔
فتنہ قادیانیت کے ہی سلسلہ میں ایک واقعہ حضرت شاہ صاحب کے جلال کا بھی سن لیجئے۔ دورۂ حدیث کے ہمارے ہم سبق طلبہ میں ضلع اعظم گڑھ کے بھی چند حضرات تھے۔ اسی زمانے میں ضلع اعظم گڑھ کے ایک صاحب جو قادیانی تھے۔ سہارنپور میں حکومت کے کسی بڑے عہدہ پر آگئے وہ ایک دن اپنے ہم ضلع اعظم گڑھی طلبہ سے ملنے کے لئے (لیکن فی الحقیقت ان کو جال میں پھانسنے کے لئے) دارالعلوم آئے۔ ان طلبہ نے ان کی اچھی خاطر مدارات کی وہ شکار
٣١
کے بہانے ان میں سے بعض کو اپنے ساتھ بھی لے گئے جو رات کو دارالعلوم واپس آئے۔ حضرت شاہ صاحب کو کسی طرح اس واقعہ کی اطلاع ہو گئی۔ حضرت کو ان طلبہ کی اس دینی بے حمیتی سے سخت قلبی اذیت ہوئی۔ ان طلبہ کو اس کا علم ہوا تو ان میں سے ایک سعادت مند طالب علم غالباً معافی مانگنے کے لئے حضرت کی خدمت میں پہنچ گئے۔ حضرت پر جلال کی کیفیت طاری تھی۔ قریب میں چھڑی رکھی تھی اس سے ان کی خوب پٹائی کی۔ (یہ فاروقی شدت فی امر اللہ کا ظہور تھا) ہمارے وہ ہم سبق طالب علم بڑے خوش اور مسرور تھے اور اس پر فخر کرتے تھے کہ ایک غلطی پر حضرت شاہ صاحب کے ہاتھ سے پٹنے کی سعادت ان کو نصیب ہوئی جو حضرت کے ہزاروں شاگردوں میں سے غالباً کسی کو نصیب نہ ہوئی ہوگی۔ کیونکہ حضرت فطری طور پر بہت ہی نرم مزاج تھے۔ ہم نے کبھی ان کو غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا۔
آخر میں اپنا ایک ذاتی واقعہ ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتا ہوں۔ میرے اصل آبائی وطن سنبھل سے قریباً پندرہ میل کے فاصلہ پر ایک موضع ہے۔ اس موضع میں چند دولت مند گھرانے تھے۔ والد ماجدؒ سے ان لوگوں کے تجارتی اور کاروباری تعلقات تھے جس کی وجہ سے ان کی آمدورفت رہتی تھی۔ میں جب شعبان ١٣٤٥ھ کے اواخر میں دارالعلوم کی تعلیم سے فارغ ہوکر مکان پہنچا تو میرے بڑے بھائی صاحب نے بتلایا کہ اس موضع والوں کے کوئی رشتہ دار امروہہ میں ہیں جو قادیانی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ برابر وہاں آتے ہیں اور قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہیں اور دعوت دیتے ہیں اور لوگ متاثر ہورہے ہیں اور سنا ہے کہ اس کا خطرہ ہے کہ بعض لوگ قادیانی ہو جائیں۔ میں نے عرض کیا کہ وہاں چلنا چاہئے۔ آپ پروگرام بنائیے ! (میرے یہ بھائی صاحب مرحوم عالم تو نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے دین کی بڑی فکر عطاء فرمائی تھی) چند روز کے بعد انہوں نے بتلایا کہ معلوم ہوا ہے کہ امروہہ کا وہ قادیانی (جس کا نام عبد السمیع تھا) فلاں دن وہاں آنے والا ہے۔ بھائی صاحب نے اس سے ایک دن پہلے پہنچنے کا پروگرام بنایا۔ رمضان مبارک کا مہینہ تھا۔ ہم اپنے پروگرام کے مطابق پہنچ گئے۔ لوگوں سے ہم نے باتیں کیں تو اندازہ ہوا کہ بعض لوگ بہت متاثر ہوچکے ہیں۔ بس اتنی ہی کسر ہے کہ ابھی باقاعدہ قادیانی نہیں ہوئے ہیں۔ جب ہم نے قادیانیت کے بارے میں ان لوگوں سے گفتگو کی تو انہوں نے بتلایا کہ امروہہ سے عبد السمیع صاحب آنے والے ہیں۔ آپ ان کے سامنے یہ باتیں کریں۔ ہم نے کہا یہ تو بہت ہی اچھا ہے۔ ہم ان سے بھی بات کریں گے اور ان کو بھی بتلائیں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیسا آدمی تھا اور
٣٢
اس کو نبی ماننا گمراہی کے علاوہ کتنی بڑی حماقت ہے۔ اس صاحب نے (جو کچھ پڑھے لکھے تھے) وہ عبد السمیع کی باتوں سـ عبدالشکور صاحب لکھنویؒ سے مناظرہ کرچکا ہے اور امروہـ بحث کرچکا ہے اور سب کو لاجواب کرچکا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ یہ بات سن کر میں بڑی فکر میں پڑ نہ ہو کہ وہ اپنی تجربہ کاری اور چرب زبانی سے لوگوں کو متا میری مدد اور انجام بخیر فرمائے۔ میں اس حال میں سوگیا دیکھا۔ آپ نے کچھ فرمایا جس سے دل میں اعتماد اور قادیانی مناظر آجائے۔ تب بھی میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ ا اس کے بعد میری آنکھ کھلی تو الحمدللہ ! میرے دل میں و قادیانی عبد السمیع نہیں آیا۔ ہم نے کہا کہ اب جب کبھی و آئیں گے۔ اس کے بعد ہم نے لوگوں کو بتلایا اور سمجھایـ کرنا یا کسی دعویٰ کرنے والے کو نبی ماننا صریح کفر و ارتداد کہ وہ کیسا آدمی تھا۔ ہم بفضلہ تعالیٰ وہاں سے اس اطمیـ اب یہاں کے لوگ اس قادیانی کے جال میں نہیں آئـ مجھے دکھایا اس کو میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت
محترم حضرات ! حضرت شاہ صاحب کے بیان کئے کہ اس دارالعلوم کے اکابر میں اللہ تعالیٰ نـ خلاف جہاد کا (جو اس اجلاس کا خاص موضوع ہے ) سـ تاریخی تسلسل کی روشنی میں عرض کر رہا تھا کہ ہمارے و گنگوہیؒ کی ایک خصوصیت بتوفیق خداوندی ہر قسم کے کی حفاظت اور اس سلسلہ میں پوری بیداری، ہوشیاری ہونی چاہئے کہ یہ مزاج اپنی تمام تر خصوصیات کے سـ منتقل ہو جو ہمارے مدارس میں تیار ہورہی ہیں۔
میں اس موقع پر آپ حضرات سے اپنـ
٣٣
اس کو نبی ماننا گمراہی کے علاوہ کتنی بڑی حماقت ہے۔ اس گفتگو ہی کے درمیان وہاں کے ایک صاحب نے (جو کچھ پڑھے لکھے) اور عبدالسمیع کی باتوں سے زیادہ متاثر تھے۔ بتلایا کہ وہ تو مولانا عبدالشکور صاحب لکھنویؒ سے مناظرہ کر چکا ہے اور امروہہ کے سب بڑے بڑے عالموں سے بحث کر چکا ہے اور سب کو لاجواب کر چکا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ یہ بات سن کر میں بڑی فکر میں پڑ گیا اور دل میں خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی تجربہ کاری اور چرب زبانی سے لوگوں کو متاثر کر لے۔ میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میری مدد اور انجام بخیر فرمائے۔ میں اس حال میں سو گیا۔ خواب میں حضرت استاذ قدس سرہ کو دیکھا۔ آپ نے کچھ فرمایا جس سے دل میں اعتماد اور یقین پیدا ہو گیا کہ بڑے سے بڑا کوئی قادیانی مناظر آ جائے۔ تب بھی میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ حق کو غالب اور اس کو مغلوب فرمائے گا۔ اس کے بعد میری آنکھ کھلی تو الحمدللہ ! میرے دل میں وہی یقین واعتماد تھا۔ لیکن امروہہ سے وہ قادیانی عبدالسمیع نہیں آیا۔ ہم نے کہا کہ اب جب کبھی وہ آئے تو ہم کو اطلاع دیجو۔ ہم انشاء اللہ ! آئیں گے۔ اس کے بعد ہم نے لوگوں کو بتلایا اور سمجھایا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا یا کسی دعویٰ کرنے والے کو نبی ماننا صریح کفر وارتداد ہے اور مرزا قادیانی کے بارے میں بتلایا کہ وہ کیسا آدمی تھا۔ ہم بفضلہ تعالیٰ وہاں سے اس اطمینان کے ساتھ واپس ہوئے کہ انشاء اللہ ! اب یہاں کے لوگ اس قادیانی کے جال میں نہیں آئیں گے۔ خواب میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھے دکھایا اس کو میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت اور حضرت شاہ صاحبؒ کی کرامت سمجھا۔
محترم حضرات! حضرت شاہ صاحب کے یہ چند واقعات تو میں نے صرف اس لئے بیان کئے کہ اس دارالعلوم کے اکابر میں اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کے تحفظ کا اور قادیانی فتنہ کے خلاف جہاد کا (جو اس اجلاس کا خاص موضوع ہے) سب سے زیادہ کام انہی سے لیا...... ورنہ میں تاریخی تسلسل کی روشنی میں عرض کر رہا تھا کہ ہمارے اس سلسلہ مجددی و ولی اللہی اور سلسلۂ قاسمی وگنگوہی کی ایک خصوصیت بتوفیق خداوندی ہر قسم کے فتنوں اور ہر قسم کی تحریف سے دین اور امت کی حفاظت اور اس سلسلہ میں پوری بیداری، ہوشیاری اور صلابت وصراحت رہی ہے۔ ہمیں یہ فکر ہونی چاہئے کہ یہ مزاج اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ زندہ اور قائم رہے اور ہماری ان نسلوں کو منتقل ہو جو ہمارے مدارس میں تیار ہورہی ہیں۔
میں اس موقع پر آپ حضرات سے اپنا یہ احساس عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ
٣٣
وقت کا بہت اہم مسئلہ یہ ہے کہ امت کے عوام ہی میں نہیں بلکہ ان میں جن کو خواص سمجھا جاتا ہے ایک بڑی تعداد ہے جو دین کے بنیادی عقائد و حقائق کے بارے میں بھی، تسامح، تساہل اور چشم پوشی کے رویہ کو اچھے اچھے نام دے کر اختیار کرتی جارہی ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ وہ ایمانی غیرت وحمیت اور وہ دینی حس جو اکثر بڑے بڑے فتنوں کے مقابلہ میں محافظین دین کی مددگار رہی ہے کہیں وہ اتنی مضمحل نہ ہو جائے کہ پھر اس کے بعد آپ کو دو طرفہ کام کرنے پڑے۔ ایک تو آپ کو ان فتنوں کا مقابلہ کرنا پڑے اور دوسری طرف امت کو بلکہ ان کے خواص کو اس بات پر مطمئن کرنے پر اپنی توانائی صرف کرنی پڑے کہ عقیدہ اور دین پر کسی اور شے کو مقدم کرنا ہمارے دین کے خلاف ہے۔
اگر یہ اجلاس ختم نبوت کے خلاف ہونے والی صریح اور پوشیدہ بغاوتوں اور اسی طرح دوسرے فتنوں کے مقابلہ کے لئے اپنے اکابر واسلاف کی روایات کو زندہ کرنے کی کوشش کا نقطہ آغاز بن جائے اور مدارس کے فضلاء کی ایسی جامع تربیت کا ایسا پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کر دے جس کے ذریعہ انہیں دین کی حفاظت اور فتنوں کے مقابلہ کے لئے تیار کیا جائے تو میرے خیال میں یہ اجلاس کی افادیت کا ایک عملی ثبوت ہوگا۔ آخری کلمہ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر درود و سلام ہے۔ "اللهم انصر من نصر دين محمد ﷺ واجعلنا منهم واخذل من خذل دين محمد ﷺ ولا تجعلنا منهم"
بسم الله الرحمن الرحيم
قادیانیت اسلام کے متوازی ایک جدید مذہب
"الحمدلله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى" از مولانا حبیب الرحمٰن قاسمی
١٨٥٧ء کے بعد اگرچہ ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط مکمل طور پر قائم ہو گیا تھا اور ان کا پنجہ استبداد ملک کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔ پھر بھی حکومت برطانیہ اس خطرے سے بے نیاز نہیں تھی کہ ہندوستانی قوم بالخصوص مسلمان جن سے انگریزوں نے ملک کی زمام اقتدار چھینی تھی اگر متحد و متفق ہو گئے تو اپنے اس غاصبانہ تسلط کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے آئین
٣٤
جہانداری کی رو سے ضروری سمجھا گیا کہ ان کے ذہنی م مذاہب عالم کو آپس میں ٹکرا دیا جائے۔ بلکہ ہر مذہب میں ہر فرقے میں نئی نئی قلمیں لگا کر ہندوستان کو مذاہب وافکا تاکہ آوازۂ حریت بلند کرنے کی کسی کو فرصت ہی نہ ملے اس افتراقی غلغلہ کے شور میں دب کر رہ جائے۔ چنانچہ انگریزوں کی نگاہ دور بین نے مسلم و انتشار پیدا کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کا ا مرزا پر وحی خفی و جلی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جس کے ن شریعت کے مقابل و متوازی ایک جدید شریعت امت کے اندر ایک نئے فرقہ کا اضافہ ہو گیا اور یہی شاطران ف یہ فتنہ انگریزوں کی در پردہ سازش سے ا اسلام اس کے مد مقابل ڈٹ نہ جاتے تو جس طرح تین ایک کے غیر معقول فلسفہ میں الجھا کر وحدانیت مرزا غلام احمد قادیانی وحی والہام کے پر فریب دعوؤ و رہبانیت کا ترجمان بنا دیتے۔
اس مختصر مقالہ میں مرزا غلام احمد قادیانی گئے ہیں۔ پورے مقالہ میں اس بات کا بطور خاص بجائے قرآن و سنت سے ماخوذ اسلامی عقائد واحکا کے مزعومات خود بانی مذہب مرزا قادیانی کی زبان
اسلامی شریعت کا یہ بنیادی عقیدہ ہے ہیں۔ آپ ﷺ کی ذات والاصفات پر مراتب نبو
دلائل عقیدہ نمبر ١:
"ما كان محمد ابا احد من رجـ ” محمد رسول اللہ تمہارے مرد
(احزاب: ٤٠)
خاتم اور آخری نبی ہیں۔“
جہانداری کی رو سے ضروری سمجھا گیا کہ ان کے ذہنی مشغلہ اور روحانی توجہ کے لئے نہ صرف مذاہب عالم کو آپس میں ٹکرا دیا جائے ۔ بلکہ ہر مذہب میں نئے نئے فرقے پیدا کئے جائیں اور پھر ہر فرقے میں نئی نئی قلمیں لگا کر ہندوستان کو مذاہب وافکار کی آویزش کی ایک آماجگاہ بنا دیا جائے تا کہ آوازۂ حریت بلند کرنے کی کسی کو فرصت ہی نہ ملے اور اگر کسی گوشے سے یہ آواز اٹھے بھی تو اس افتراقی غلغلہ کے شور میں دب کر رہ جائے۔
چنانچہ انگریزوں کی نگاہ دوربین نے مسلمانوں کے اندر مذہبی رنگ میں افتراق وانتشار پیدا کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا جس کے بعد آسمان مغرب سے مرزا پر وحی خفی وجلی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جس کے ذریعہ نبی آخرالزماں محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے مقابل ومتوازی ایک جدید شریعت امت کے سامنے پیش کی گئی۔ اس طرح مسلمانوں کے اندر ایک نئے فرقہ کا اضافہ ہوگیا اور یہی شاطران فرنگ کا عین مطلوب ومقصود تھا۔
یہ فتنہ انگریزوں کی درپردہ سازش سے اس قوت کے ساتھ اٹھایا گیا تھا کہ اگر علمائے اسلام اس کے مدمقابل ڈٹ نہ جاتے تو جس طرح سینٹ پال نے دین مسیحیت کو ایک تین اور تین ایک کے غیر معقول فلسفہ میں الجھا کر وحدانیت سے شرک کی راہ پر ڈال دیا۔ ٹھیک اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی وحی والہام کے پرفریب دعوؤں کے ذریعہ دین اسلام کو مسخ کر کے الحاد ودہریت کا ترجمان بنا دیتے۔
اس مختصر مقالہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی اسی ناپاک کوشش کے دس نمونے پیش کئے گئے ہیں۔ پورے مقالہ میں اس بات کا بطور خاص لحاظ رکھا گیا ہے کہ اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے قرآن وسنت سے ماخوذ اسلامی عقائد واحکام اور اس کے بالمقابل ومتوازی مذہب مرزائی کے مزعومات خود بانی مذہب مرزا قادیانی کی زبان سے پیش کر دیئے جائیں۔
اسلامی شریعت کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ رسالت مآب محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کی ذات والا صفات پر مراتب نبوت ختم ہو گئے۔ اللہ جل مجدہ کا ارشاد ہے۔
دلائل عقیدہ نمبر:١
”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب:٤٠) ”محمد رسول اللہ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن انبیاء کے خاتم اور آخری نبی ہیں۔“
٣٥
قدیم ترین مفسر امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ھ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: "ولكنه رسول الله وخاتم النبيين الذي ختم النبوة فطبع عليها فلا تفتح لاحد بعده الى قيام الساعة (جامع البيان في تفسير القرآن ج٢٢ ص١١)" آپ ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ یعنی ایسے شخص ہیں جس نے نبوت کو ختم کر دیا اور اس پر مہر لگادی۔ آپ ﷺ کے بعد اب قیامت تک کسی کے لئے یہ نہیں کھولا جائے گا۔
محقق حافظ عمادالدین ابن کثیر المتوفی ٧٧٤ھ تحریر کرتے ہیں: "فهذه الاية نص في انه لا نبي بعده واذا كان لا نبي بعده فلا رسول بالطريق الاولى والاخرى لان مقام الرسالة اخص من مقام النبوة فان كل رسول نبي ولا ينعكس . وبذالك وردت الاحاديث المتواترة عن رسول الله ﷺ من حديث جماعة من الصحابة (تفسير ابن كثير ج٦ ص٣٨١) "یہ آیت اس بارے میں نص صریح ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور جب کوئی نبی نہیں ہوگا تو رسول بدرجہ اولیٰ نہ ہوگا۔ کیونکہ رسالت کا مرتبہ نبوت کے مرتبہ سے خاص ہے۔ ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے اور ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں۔ اس مسئلہ میں آنحضرت ﷺ کی احادیث متواترہ بھی حضرات صحابہ سے منقول ہیں۔
امام زمخشری، قاضی ابوسعود، امام نسفی، علامہ سید آلوسی وغیرہ مشاہیر علمائے تفسیر نے بھی اپنی اپنی تفسیروں میں باختلاف الفاظ یہی بات لکھی ہے۔ البتہ جاراللہ زمخشری اور قاضی ابوسعود نے اس موقع پر ایک شبہ کا جواب بھی دیا ہے۔ شبہ یہ ہے کہ جب مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام دنیا میں نزول اجلال فرمائیں گے تو پھر آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء اور آخری نبی کیسے ہو سکتے ہیں۔ امام زمخشری اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ: "معنى كونه آخر الانبياء انه لا ينبأ احد بعده وعيسى (عليه السلام) ممن نبئ قبله " آخرالانبیاء کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان حضرات انبیاء میں ہیں جنہیں رسالت مآب ﷺ سے پہلے منصب نبوت سے سرفراز کر دیا گیا ہے۔
صحابی رسول حضرت ثوبان آنحضرت ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "سيكون في امتى كذبون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين
٣٦
لا نبى بعدى (ابوداؤد ج٢ ص٢٣٤، ترمذي ج٢ ص جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ ہوں ۔ میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا۔﴾
مشہور شارح حدیث حافظ ابن حجر عسقلانی اس المراد بالحديث من ادعى النبوة مطلقا فانهم ينشأ لهم ذالك من جنون وسوداء وانما المراد بـ ج ١٤ ص٣٤٣) ” اس حدیث پاک میں مطلقاً مدعی نبوت بے شمار ہیں۔ کیونکہ یہ بے بنیاد دعویٰ بالعموم پاگل پن اور ہے بلکہ اس حدیث میں جن تیس (دجالوں) و کذاب کا ذ پیروکاروں کی کثرت اور شوکت حاصل ہو جائے۔
اسی مفہوم کی حدیث، بخاری، مسلم، ترمذ مستدرک حاکم میں علی الترتیب ابو ہریرہ (متعدد طرق، م مطعم ، ابوامامہ باہلی، ابوذرغفاری، انس بن مالک، جبیر منقول ہے۔ اس لئے معنوی طور پر یہ حدیث متواتر ہے مطابق جو حدیث دس حضرات صحابہ سے مروی ہو وہ حدت کتاب وسنت کے ان نصوص کی بناء پر محقق محمد آخر الانبياء فليس بمسلم لانه من د ص١٣٨) ” جب کوئی اس کا معترف نہ ہو کہ آنحضر ہے۔ کیونکہ یہ ضروریات دین سے ہے (جس کا عدم ا دیتا ہے ) ملاعلی قاری آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبو ہیں۔
ان تفصیلات سے معلوم ہو گیا کہ بنص کتا محمد رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں۔ آپ مدعی دجال، کذاب ہے اور باتفاق علماء دین مرتد ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اسی مسئلہ پر اجماع ہو
٣٧
لا نبی بعدی (ابوداؤد ج٢ ص٢٣٤، ترمذی ج٢ ص٤٥) ”میری امت میں تیس ایسے جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا۔“
مشہور شارح حدیث حافظ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: ”لیس المراد بالحديث من ادعى النبوة مطلقاً فانهم لا يحصون كثرة لكون غالبهم ينشأ لهم ذالك من جنون وسوداء وانما المراد من قامت له الشوكة (فتح البارى ج١٤ ص٣٤٣) ”اس حدیث پاک میں مطلقاً مدعی نبوت مراد نہیں۔ کیونکہ ایسے (عقل باختہ) بے شمار ہیں۔ کیونکہ یہ بے بنیاد دعویٰ بالعموم پاگل پن اور سوداویت کے غلبہ سے وجود میں آتا رہتا ہے بلکہ اس حدیث میں جن تیس دجال و کذاب کا ذکر ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں پیروکاروں کی کثرت اور شوکت حاصل ہو جائے۔
اسی مفہوم کی حدیث، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان، ابو یعلی اور مستدرک حاکم میں علی الترتیب ابو ہریرہ (متعدد طرق، سعد بن ابی وقاص، عقبہ بن عامر، جبیر بن مطعم، ابو امامہ باہلی، ابو ذر غفاری، انس بن مالک، تمیم داری اور زید بن حارثہؓ) کی روایت سے منقول ہے۔ اس لئے معنوی طور پر یہ حدیث متواتر ہے۔ کیونکہ ائمہ اصول حدیث کی تصریح کے مطابق جو حدیث دس حضرات صحابہ سے مروی ہو وہ حد تواتر کو پہنچ جاتی ہے۔
کتاب وسنت کے ان نصوص کی بناء پر محقق ابن نجیم لکھتے ہیں: ”اذا لم يعرف ان محمد آخر الانبياء فليس بمسلم لانه من ضروريات الدين (الاشباه والنظائر ص١٣٨) ”جب کوئی اس کا معترف نہ ہو کہ آنحضرتﷺ آخر الانبیاء ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ضروریات دین سے ہے (جس کا عدم اعتراف مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے) ملا علی قاری آنحضرتﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کے کفر پر اجماع نقل کرتے ہیں۔
(شرح فقہ اکبر ص٢٠٢)
ان تفصیلات سے معلوم ہو گیا کہ بنص کتاب وسنت اور باجماع علماء امت ہمارے نبی محمد رسول اللہﷺ خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں۔ آپﷺ کے بعد دعوائے نبوت کرنے والا بالفاظ حدیث دجال، کذاب ہے اور باتفاق علماء دین مرتد و کافر ہے۔ یہ بات بھی اہل علم سے مخفی نہیں ہے کہ اس میں سب سے پہلے اسی مسئلہ پر اجماع ہوا ہے۔
٣٧
شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔ پھر اگر وہ مدعی مکلف (عاقل گے اور اگر غیر مکلف (مجنون و طفل غیر عاقل ) ہے تو اس سے اع قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں: ”وکذالك من ادعی یدع النبوة فھؤ لاء کلھم کفار مکذبون للنبیﷺ ہی وہ شخص (بھی کافر ہے ) جس نے دعویٰ کیا کہ میرے پا نبوت نہ ہو۔ یہ سب کے سب کافر اور نبی کریمﷺ کی تکذیب
ان تصریحات کے بعد مرزا غلام احمد کی ہفوات مدمقابل یہ کیا عقیدہ رکھتے ہیں:
- ......١ ”مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح می
عقیدہ پر قائم رہنے نہ دیا۔“ (حقی
- ......٢ ”اور بعد میں جس طرح قرآن شریف پر ایمان
کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان رکھتا ہوں جو مجھے ہوئی۔“
(اشتہار ا
- ......٣ ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی
کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی
مرزا قادیانی نے اپنی اس تحریر میں صاحب و ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
اسلامی شریعت کا عقیدہ نمبر :٣
اسلامی شریعت میں نجات صرف آنحضرتﷺ کہ باری تعالیٰ عزاسمہ کا ارشاد ہے: ”قل ان کنتم تحب ویغفرلکم ذنوبکم واللہ غفور رحیم ٠ قل اطیع اللہ لا یحب الکفرین (آل عمران:٣١،٣٢) ”آ کی محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو تاکہ تم سے اللہ محبت ک
٣٩
شریعت کے موافق ہو یا مخالف ۔ پھر اگر وہ مدعی مکلف ( عاقل بالغ ) ہے تو اس کی گردن اڑا دیں گے اور اگر غیر مکلف ( مجنون و طفل غیر عاقل ) ہے تو اس سے اعراض کریں گے ۔﴿
قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں : ”وكذالك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة فهؤ لاء كلهم كفار مكذبون للنبیﷺ (شفاء ج ٢ ص ٢٧١) ” ﴿ایسے ہی وہ شخص (بھی کافر ہے ) جس نے دعویٰ کیا کہ میرے پاس وحی ربانی آتی ہے ۔ اگرچہ مدعی نبوت نہ ہو ۔ یہ سب کے سب کافر اور نبی کریم ﷺ کی تکذیب کرنے والے ہیں ۔﴿
ان تصریحات کے بعد مرزا غلام احمد کی ہفوات سنئے اور دیکھئے اسلامی عقائد کے مد مقابل یہ کیا عقیدہ رکھتے ہیں :
- ......١ ”مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس
عقیدہ پر قائم رہنے نہ دیا ۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)
- ......٢ ”اور بعد میں جس طرح قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ
کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان رکھتا ہوں جو مجھے ہوئی ۔“
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
- ......٣ ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان
کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعہ ہو گیا ۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں ۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی ۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
مرزا قادیانی نے اپنی اس تحریر میں صاحب وحی ہونے کے ساتھ صاحب الشریعۃ ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
اسلامی شریعت کا عقیدہ نمبر :٣
اسلامی شریعت میں نجات صرف آنحضرتﷺ کی اتباع اور پیروی میں ممکن ہے جیسا کہ باری تعالیٰ عزاسمہ کا ارشاد ہے : ”قل ان كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله ويغفرلكم ذنوبكم والله غفور رحيم ٠ قل اطيعوالله والرسول فان تولوا فان الله لا يحب الكفرين (آل عمران : ٣١،٣٢) “﴿آپ (اے محمدﷺ ) کہہ دیجئے ! اگر تم اللہ کی محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو تاکہ تم سے اللہ محبت کرے اور تمہارے گناہ بخش دے اور اللہ
٣٩
بخشنے والا مہربان ہے۔ آپ (اے محمدﷺ ) کہہ دیں اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی پھر اگر اعراض کریں تو اللہ کو محبت نہیں ہے کافروں سے۔﴿
ان دونوں آیتوں میں رسول پاکﷺ کی پیروی کو مغفرت اور نجات کا ذریعہ بتایا گیا ہے اور آپﷺ کی اتباع سے اعراض کو کفر سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ مدار نجات آپﷺ ہی کی پیروی ہے۔ اس کے برخلاف مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اب مدار نجات میری وحی میں ہے جو اس کی اتباع نہیں کرے گا وہ جہنمی ہے۔ ملاحظہ ہو ان کی عبارت بلفظہ :
- ......١ ”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید
ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور میری وحی کو فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم کو میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی نہ آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“
(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٦ ،خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
- ......٢ ”بہرحال جب کہ خدائے تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر وہ شخص جس کو میری دعوت
پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“
(نہج المصلی مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ص ٢٧١)
- ......٣ مرزا محمود بن مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب حقیقت النبوۃ میں لکھتے ہیں: ”آپ
(مرزا غلام احمد ) کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے اور اسے مدار نجات ٹھہرایا ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٥٦)
اسلامی شریعت کا عقیدہ نمبر : ٤
اسلامی شریعت کا عقیدہ ہے کہ معجزہ نبی کے علاوہ کسی سے ظاہر نہیں ہو سکتا اور چونکہ آنحضرتﷺ پر سلسلہ نبوت ختم ہو گیا۔ اس لئے اب کسی سے معجزہ صادر نہیں ہو سکتا۔ امام شعرانی تحریر فرماتے ہیں: "وقد حد جمهور الاصوليين المعجزة بانها امر خارق للعادة مقرون بالتحدى مع عدم المعارضة" ﴿ جمہور اصولیوں نے معجزہ کی یہ تعریف کی ہے کہ تحدی یعنی دعویٰ رسالت کے ساتھ رسول سے امر خارق ظاہر ہو اور کوئی اس کا معارضہ نہ کر سکے۔﴿
اس دعویٰ کے مقابلہ میں آنجہانی مرزا کی لن ترانی ملاحظہ ہو :
- ......١ ”ہاں اگر یہ اعتراض ہو کہ اس جگہ معجزات کہاں ہیں تو میں صرف یہی جواب دوں گا
کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں۔ بلکہ خدا کے فضل و کرم س ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ اس قدر معجزات دکھائے ہوں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس قد ہمارے نبیﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان طور پر محال ہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔“ ( ایک موقع پر لکھتے ہیں :
- ......٢ ”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کر
اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تق ثابت ہو سکتی ہے۔“
براہین احمدیہ حصہ پنجم میں لکھا ہے :
- ......٣ ”در حقیقت یہ خرق عادت نشان ہیں اور
احتیاط سے بھی ان کا شمار کیا جائے تب بھی یہ نشان جو ظ
( تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ ، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) پر کی تعداد تین ہزار بتائی ہے اور اپنے معجزات کی تعد حقیقت الوحی ص ١٣٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤) اس لئے آ فریب ہے۔
اسلامی شریعت کا عقیدہ نمبر : ٥
اسلامی شریعت میں رسالت مآبﷺ ان کے مقام مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ افضل البریہ علیہ الس النبىﷺ قال انا قائد المرسلين ولا فح ﴿حضرت جابرؓ راوی ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرم کوئی فخر نہیں۔﴿
ایک دوسری حدیث میں آپﷺ فرم
ولا فخر (مشكوة ص ٥١٧، بحواله ترمذی) بلا فخر کے۔﴿
٤١
کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں۔ بلکہ خدا کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطع اور یقینی طور پر محال ہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)
ایک موقع پر لکھتے ہیں:
- ٢...... ”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں
اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
براہین احمدیہ حصہ پنجم میں لکھا ہے:
- ٣...... ”در حقیقت یہ خرق عادت نشان ہیں اور اگر بہت ہی سخت گیری اور زیادہ سے زیادہ
احتیاط سے بھی ان کا شمار کیا جائے تب بھی یہ نشان جو ظاہر ہوئے دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) پر مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار بتائی ہے اور اپنے معجزات کی تعداد دس لاکھ سے بھی زائد بتاتے ہیں۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤) اس لئے آنحضرت ﷺ کے معجزات کا استثناء محض ایک فریب ہے۔
اسلامی شریعت کا عقیدہ نمبر: ٥
اسلامی شریعت میں رسالت مآب ﷺ افضل کائنات ہیں۔ مخلوق میں سے کوئی بھی ان کے مقام مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ افضل البریہ علیہ السلام والتحیہ کا ارشاد ہے: ”عن جابر ان النبی ﷺ قال انا قائد المرسلین ولا فخر (مشکوۃ ص ٥١٤، بحوالہ دارمی) “ ”حضرت جابرؓ راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں تمام مرسلین کا قائد اور پیشرو ہوں اور کوئی فخر نہیں۔“
ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”انا اکرم الاولین والآخرین ولا فخر (مشکوۃ ص ٥١٤، بحوالہ ترمذی)“ ”میں تمام اگلوں اور پچھلوں سے افضل ہوں بلا فخر کے۔“
٤١
اور مرزا قادیانی اپنی تعریف میں یوں گویا ہیں۔
- ......١
آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بہ تمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(نزول المسیح ص٩٩، ١٠٠، خزائن ج١٨ص٤٧٧، ٤٧٨)
ترجمہ: اگر چہ انبیاء بہت گزرے ہیں۔ میں معرفت میں ان میں کسی سے کم نہیں ہوں۔ خدا نے جو پیالہ ہر نبی کو دیا ہے وہ پیالہ مجھ کو بتمامہ دیا ہے۔ (پیالہ سے مراد ساغر نبوت ہے) یقیناً میں ان تمام نبیوں سے کم نہیں ہوں۔ جو جھوٹ کہتا ہو وہ ملعون و مردود ہے۔ ”زاں ہمہ“ کے عموم میں خاتمِ نبوت رسالت مآب سرور کائنات محمد رسول اللہ بھی شامل ہیں۔
- ......٢ درج ذیل شعر میں تو بالتشخیص آنحضرت ﷺ پر اپنی بالا تری کا دعویٰ کیا ہے۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ص١٨٣)
مرزا قادیانی ہی کے الفاظ میں ترجمہ ملاحظہ کیجئے: ”اس (یعنی نبی کریم) کے لئے (صرف) چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں (کے گرہن) کا کیا تو انکار کرے گا۔“ ترجمہ میں ”اس کے“ الفاظ کس ذات گرامی کے لئے استعمال کئے ہیں۔ بطور خاص قابل توجہ ہیں۔
اسلامی شریعت کا عقیدہ نمبر :٦
اسلامی شریعت میں حضرات انبیاء علیہم السلام کی تعظیم وتوقیر فرض ہے اور ان کی توہین وتنقیص مستلزم کفر۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ (الفتح:٩)“ ﴿تا کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم بجالاؤ۔﴾ مشہور تابعی حضرت مجاہد راوی ہیں کہ حضرت فاروق اعظم کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے (نعوذ باللہ) آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کے کلمات کہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اسے قتل کی سزا دی اور فرمایا کہ ”من سب الله تعالیٰ أوسب احدا من الانبياء فاقتلوہ (الصارم المسلول ص١٩٥)“ م - ٤٢
علامہ ابن تیمیہ نے یہی فتویٰ حبر الامہ حضرت عبداللہ ا قاضی عیاض علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”من کذب بام احدا منهم اوبرى منهم فهو مرتد (شفا ج٢ ص٢٨٦)“ تنقیص یا برأت کا اظہار کیا وہ مرتد ہے۔﴾ لیکن قادیانیوں کے مذہب میں کسی نبی کی توہین وتنقیص گستاخی سب روا ہے۔ چنانچہ بانی مذہب قادیانی مرزا آنجہانی ، علیہ السلام کی شانِ اقدس میں ایسے گستاخانہ کلمات استعمال کئے ہ دل ہل رہا ہے۔ ہاتھ کانپ رہا ہے اور قلم لرزش میں ہے۔ مگر نقل کفر ک چند حوالے سپرد قلم ہیں۔ ملاحظہ کیجئے اور اس گستاخ رسول پر اللہ کی
- ......١ ”پس اس نادان اسرائیلی نے (مراد حضرت عیسیٰ علی
پیشین گوئی کیوں نام رکھا۔“ (ضمیمہ ا
- ......٢ ”ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عاد
آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر ا جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہا
(ضمیمہ انجام
- ......٣ ”نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی
یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا
(ضمیمہ انجا
- ......٤ ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے
زنا کار کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذی اور صحبت شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہ کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پی ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔“ (ضمیمہ انجا ظاہر ہے کہ ان بے بنیاد الزامات اور بازاری گالیو تقدس پر کیا اثر پڑے گا جسے رب العزت نے کلمتہ اللہ اور روح ٤٣
علامہ ابن تیمیہ نے یہی فتویٰ حبر الامہ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے بھی نقل کیا ہے۔ قاضی عیاض علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”من كذب باحد من الانبياء او تنقص احدا منهم او برئ منهم فهو مرتد (شفا ج ٢ ص ٢٨٦) ”جس نے کسی نبی کی تکذیب، تنقیص یا برأت کا اظہار کیا وہ مرتد ہے۔“
لیکن قادیانیوں کے مذہب میں کسی نبی کی توہین و تنقیص اور ان کی مقدس شان میں گستاخی سب روا ہے۔ چنانچہ بانی مذہب قادیانی مرزا آنجہانی نے برگزیدہ پیغمبر حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی شان اقدس میں ایسے گستاخانہ کلمات استعمال کئے ہیں کہ انہیں نقل کرتے ہوئے دل دہل رہا ہے۔ ہاتھ کانپ رہا ہے اور قلم لرزش میں ہے۔ مگر نقل کفر، کفر نہ باشد سے دل کو تسلی دے کر چند حوالے سپرد قلم ہیں۔ ملاحظہ کیجئے اور اس گستاخ رسول پر اللہ کی لعنت بھیجئے۔
- .......١ ”پس اس نادان اسرائیلی نے (مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں) ان معمولی باتوں کا
پیشین گوئی کیوں نام رکھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)
- .......٢ ”ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ
آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- .......٣ ”نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہیں
یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا میری تعلیم ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- .......٤ ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی
زنا کار کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
ظاہر ہے کہ ان بے بنیاد الزامات اور بازاری گالیوں سے اس پاکیزہ اور محترم ہستی کے تقدس پر کیا اثر پڑے گا جسے رب العزت نے کلمۃ اللہ اور روح اللہ کے خطاب سے عزت بخشی ہو۔
٤٣
ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ میں فرماتا ہے: ”ومامنا الا له مقام معلوم وانا لنحن الـ کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اس کی گرمی روشنی مطابق زمین کی ہر چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح روحانیت کے کے موافق نفوس ملکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے کریں یا سیدھے اور موحدانہ طریق سے ملائک کا لقب دیں اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے۔“
اسلامی شریعت کا عقیدہ نمبر : ٨
اسلامی عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن مردے قبروں میدان حشر میں جمع ہوں گے۔ جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں درج ذیل آیت پاک : ”ونفخ فی الصور فاذاهم من (یسین: ٥١) ﴿”صور پھونکا جائے گا تو اس وقت سب کے سب کی طرف چلیں گے۔﴾
یہ آیت کریمہ اس بات پر نص ہے کہ قیامت کے اٹھیں گے اور اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے۔ اس آیت بے شمار آیتیں ہیں جن میں مردوں کے زندہ ہو کر میدان حشر کے بعد جنت یا جہنم میں جانے کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں آ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں۔ ملاحظہ ہو وہ کو فرماتے سنا : ”يحشر الناس يوم القيامة حفاة الله الرجال والنساء جميعاً ينظر بعضهم بعضاً“ من ان ينظر بعضهم الى بعض (مشكوة ص ٤٨٢) قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ اٹھا کر جمع عرض کیا یا رسول اللہ مرد عورتیں ایک دوسرے کو (اس حال عائشہؓ وہ حالت اس سے زیادہ سخت ہوگی کہ لوگ ایک دوسرے منهم يومئذ شأن يغنيه“
٤٥
ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ ان کی طرف سے قرآن شریف میں فرماتا ہے: ”وما منا الا له مقام معلوم وانا لنحن الصافون“ پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اس کی گرمی روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے مطابق زمین کی ہر چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح روحانیت سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس ملکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے نامزد کریں یا سیدھے اور مواحدانہ طریق سے ملائک کا لقب دیں۔ درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے۔“
اسلامی شریعت کا عقیدہ نمبر: ٨
اسلامی عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن مردے قبروں سے نکل کر حساب و کتاب کے لئے میدان حشر میں جمع ہوں گے۔ جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔ ملاحظہ ہو درج ذیل آیت پاک: ”ونفخ فی الصور فاذاھم من الاجداث الی ربھم ینسلون (یٰسین: ٥١)“ ﴿صور پھونکا جائے گا تو اس وقت سب کے سب اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چلیں گے۔﴾
یہ آیت کریمہ اس بات پر نص ہے کہ قیامت کے دن مردے قبروں سے زندہ ہو کر اٹھیں گے اور اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے۔ اس آیت پاک کے علاوہ قرآن کریم میں بے شمار آیتیں ہیں جن میں مردوں کے زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہونے اور حساب و کتاب کے بعد جنت یا جہنم میں جانے کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے۔ جسے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں۔ ملاحظہ ہو وہ نقل کرتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے سنا: ”یحشر الناس یوم القیامة حفاة عراة، غرلًا قلت یا رسول اللہ الرجال والنساء جمیعاً ینظر بعضھم بعضاً فقال یا عائشة الامر اشد من ان ینظر بعضھم الیٰ بعض (مشکوٰۃ ص٤٨٣، بحوالہ بخاری ومسلم) ”لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ اٹھا کر جمع کئے جائیں گے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ مرد عورتیں ایک دوسرے کو (اس حال میں) دیکھیں گے۔ آپ نے فرمایا عائشہؓ وہ حالت اس سے زیادہ سخت ہو گی کہ لوگ ایک دوسرے کی جانب دیکھیں۔ ”لکل امری منھم یومئذ شأن یغنیه“
٤٥
مرزا قادیانی! قرآن وحدیث کی ان تصریحات کے بالمقابل یہ لکھتے ہیں: ”اگر بہشتی لوگ بہشت میں داخل شدہ تجویز کئے جائیں تو طلبی کے وقت انہیں بہشت سے نکلنا پڑے گا اور اس لق و دق جنگل میں جہاں تخت رب العالمین بچھایا گیا ہے۔ حاضر ہونا پڑے گا۔ ایسا خیال تو سراسر جسمانی اور یہودیت کی سرشت سے نکلا ہوا ہے۔“ (ازالۃ الاوہام ص ٣٥٠، خزائن ج ٣ ص ٢٧٩)
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٣٥٢، خزائن ج ٣ ص ٢٨٠) پر بزعم خویش ثابت کر چکے ہیں جو شخص بہشت میں داخل کیا جاتا ہے وہ اس سے کبھی خارج نہیں کیا جاتا اور اسی کتاب کے (ص ٣٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٨٠) پر لکھتے ہیں: ”مؤمن کو فوت ہونے کے بعد بلا توقف بہشت میں جگہ ملتی ہے۔“
ان عبارتوں کو یوں ترتیب دیں کہ مؤمن فوت ہوتے ہی بہشت میں داخل ہو جاتا ہے اور بہشت میں داخل ہو جانے کے بعد اس سے باہر نہیں نکالا جائے گا۔ لہٰذا حساب و کتاب کے لئے میدان حشر میں اپنے رب کے حضور ان کے جمع ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔ یہ ہے مرزا قادیانی کا قیامت اور حشر ونشر و حساب و کتاب کے متعلق نظریہ۔ لیکن اسے اس طرح پر پیچ اور اگر مگر کی بھول بھلیوں میں الجھا کر پیش کر رہے ہیں تا کہ بادی النظر میں پڑھنے والا دھوکہ کھا جائے۔
اسلامی شریعت کا عقیدہ نمبر : ٩
اسلامی شریعت میں بحالت اختیار نماز کے لئے سمت کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہے۔ ”فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره (البقره:١٤٤)“ ”پس پھیر تو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف اور تم لوگ (اے مسلمانو!) جس جگہ ہوا کرو اپنا منہ اسی کی طرف پھیرو۔“
یہ پوری امت کا اجماعی مسئلہ ہے اور فقہ کی ہر چھوٹی بڑی کتابوں میں موجود ہے۔ لیکن مرزائی شریعت میں مرزا قادیانی کی وحی ”فاتخذوا من مقام ابراهیم مصلی“ کی رو سے قادیان قبلہ ہے۔ چنانچہ مرزائی یورپی گروہ کا اس پر عمل ہے یہ گروہ قادیان کی جانب رخ کر کے نماز پڑھنے کو اولیٰ قرار دیتا ہے۔
(حق المبین ص ٣٢٧)
خود مرزا غلام احمد قادیانی (حقیقت الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١) پر اپنا یہ الہام نقل کرتے ہیں: ”فاتخذوا من مقام ابراهیم مصلی انا انزلنا قریباً من القادیان“ ابراہیم کی جگہ کو قبلہ بناؤ اور مصلی ٹھہرا لو۔ ہم نے اسے قادیان کے قریب نازل کیا ہے۔ اس الہام
٤٦
میں مرزا نے قادیان کو قبلہ قرار دیا ہے۔ معلوم ہونا چاہئے ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے اس الہام سے ظاہر ہے مرزا قادیانی ) پیدا ہو گا اور ان فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے
اسلامی شریعت کا عقیدہ نمبر : ١٠
اسلامی شریعت میں جہاد قیامت تک بوقت ضرو عليكم القتال (بقره:٢١٦) ”جہاد تم پر فرض کیا گیا ہ ”وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلو (اور جنگ کرو اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو تم سے جنگ آیتیں فرضیت جہاد پر نص صریح ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا ار قائماً يقاتل عليه عصابة من المسلمين حتى بحواله مسلم)“
لیکن مرزا قادیانی کی شریعت میں جہاد منسو چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں : ” یہ بات تو بہت اچھی ہے جہاد کے خراب مسئلہ کے خیال کو دلوں سے مٹادیں۔“
خطبہ الہامیہ میں کہتے ہیں: ”کافروں کے سا
بطور مشتے از خروار یہ اس مختصر مقالہ میں مرز وہ احکام نقل کئے گئے ہیں جو سب کے سب اسلامی عقائ واقعی فہرست بڑی طویل ہے جو انشاء اللہ کسی اور موقع
مرزا قادیانی کے اقوال کفریہ اس
از : حضر
پوری امت اسلامیہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ آپ ﷺ پر ختم کر دیا گیا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد
٤٧
میں مرزا نے قادیان کو قبلہ قرار دیا ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ ابراہیم سے مراد خود مرزا کی ذات ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے اس الہام سے ظاہر ہے: ”آخر زمانہ میں ایک ابراہیم (یعنی مرزا قادیانی) پیدا ہوگا اور ان فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٦٩)
اسلامی شریعت کا عقیدہ نمبر : ١٠
اسلامی شریعت میں جہاد قیامت تک بوقت ضرورت و شرائط فرض ہے۔ ”کتب علیکم القتال (بقرہ: ٢١٦)“ ﴿جہاد تم پر فرض کیا گیا ہے۔﴾ ”وقاتلوا فی سبیل الله الذین یقاتلونکم ولا تعتدوا (بقرہ: ١٩٠)“ ﴿اور جنگ کرو اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو تم سے جنگ کریں۔﴾ یہ اور ان کے علاوہ متعدد آیتیں فرضیت جہاد پر نص صریح ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے: ”لن یبرح هذا الدین قائماً یقاتل علیه عصابة من المسلمین حتى تقوم الساعة (مشکوۃ ص ٣٣٠، بحوالہ مسلم)“ لیکن مرزا قادیانی کی شریعت میں جہاد منسوخ ہے کیونکہ یہ ایک خراب چیز ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”یہ بات تو بہت اچھی ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کی جائے اور جہاد کے خراب مسئلہ کے خیال کو دلوں سے مٹا دیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤٣)
خطبہ الہامیہ میں کہتے ہیں: ”کافروں کے ساتھ لڑنا مجھ پر حرام کیا گیا ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥، خزائن ج ١٦ ص ٥٨)
بطور مشتے از خروارے اس مختصر مقالہ میں مرزائی شریعت کے صرف دس بنیادی اصول و احکام نقل کئے گئے ہیں جو سب کے سب اسلامی عقائد و احکام کے معارض و مخالف ہیں۔ ورنہ واقعات کی فہرست بڑی طویل ہے جو انشاء اللہ کسی اور موقع پر پیش کی جائے گی۔
مرزا قادیانی کے اقوال کفریہ اس کی تحریروں کے آئینہ میں
از حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب لاجپوری
پوری امت اسلامیہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ نبوت کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم کر دیا گیا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا اور یہ عقیدہ قرآن
٤٧
وحدیث سے ایسے محکم اور قطعی طریقہ پر ثابت ہے کہ اس میں ذرہ برابر شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن مجید میں آپ ﷺ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے اور خود آپ ﷺ نے اپنے متعلق ارشاد فرمایا کہ سلسلہ نبوت مجھ پر ختم کر دیا گیا ہے۔ میں خاتم النبیین ہوں اور اب میرے بعد کوئی نیا نبی اللہ کی طرف سے نہیں آئے گا۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ کے بعد صدیق اکبرؓ کے زمانہ خلافت سے لے کر آج تک پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ جس طرح توحید ورسالت، قیامت وآخرت اور قرآن کے کلام اللہ ہونے کا منکر، پنجگانہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کا منکر مسلمان نہیں ہو سکتا ایسا شخص کذاب ہے، ملعون ہے، دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہے۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح جو شخص اس کی نبوت کو تسلیم کرے وہ بھی مسلمان نہیں ہے۔ اگر وہ پہلے سے مسلمان تھا تو اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا جائے گا۔
امت کی پوری تاریخ میں عملاً یہی ہوتا رہا ہے۔ سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ اور تمام صحابہ کرامؓ نے مدعی نبوت ”مسیلمہ کذاب“ اور اس کے ماننے والوں کے متعلق یہی فیصلہ صادر فرمایا۔ حالانکہ یہ بات متفق ہے کہ وہ لوگ توحید ورسالت کے قائل تھے ان کے یہاں اذان بھی ہوتی تھی اور اذان میں ”اشهد ان لا اله الا الله“ اور ”اشهد ان محمدا رسول الله“ بھی کہا جاتا تھا۔ ختم نبوت سے متعلق اسلام کا یہ بنیادی عقیدہ ہے۔
لیکن غلام احمد قادیانی نے اس بنیادی اور اجماعی عقیدہ سے بغاوت کی ہے اور اپنے لئے ایسے الفاظ کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کیا ہے کہ اس میں کسی طرح کی کوئی تاویل اور توجیہہ کی گنجائش نہیں ہے اور اس کے معتقدین اس کو دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے مثل نبی کہتے ہیں اور اس پر ان کو بے حد اصرار بھی ہے۔ مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے ”حقیقت النبوۃ“ ایک کتاب شائع کی تھی جس کا موضوع ہی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو ثابت کرنا تھا اور اس کتاب میں مرزا قادیانی کے نبوت کے دلائل خود مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے پیش کئے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے لئے مسیحیت اور مہدویت کا اتنی کثرت سے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا انکار یا اس کی تاویل ناممکن ہے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام جو بالاجماع معصوم ہیں ان کی بہت سخت توہین کی ہے اور بہت سے مقامات پر اپنے کو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے افضل بلکہ تمام انبیاء کی روح بتایا ہے۔ نیز معجزات کا استہزاء کیا ہے۔ قرآن میں تحریف کی ہے۔ احادیث کی بے حرمتی کی ہے۔ وغیرہ وغیرہ!
٤٨
دعویٰ نبوت واقوالِ کفریہ اس کی تحریر کے آئینہ
- ١....... ”خدا وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول کو یہ
تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
- ٢....... ”میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔“
(اشتہا
- ٣....... ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس
مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھ نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہ نمونہ کسی قدر اس کتاب میں لکھے گئے ہیں۔“
(تھ
- ٤....... ”سچا خدا وہ خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا
- ٥....... ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔“
(مرزا قادیانی کا آخری خط مندرجہ اخبار عام مورخہ ٢٦
- ٦....... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول و نبی ہیں۔“
(
- ٧....... ”پس اس میں کیا شک ہے کہ میری پیشین
آفات کا سلسلہ شروع ہو جانا میری سچائی کے لئے ایک خواہ کسی حصہ زمین میں تکذیب ہو مگر اس کی تکذیب ہیں۔“
- ٨....... ”سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے ن
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وما كنا معذبين حتى طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف غافلو ! تلاش کرو شاید تم میں کوئی خدا کی طرف سے ن ہو۔“
- ٩....... ”خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گوا
٤٩
دعویٰ نبوت واقوال کفریہ اس کی تحریر کے آئینہ میں
- ١....... ”خدا وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور
تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
- ٢....... ”میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔“
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)
- ٣....... ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے
مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں جن میں بطور نمونہ کسی قدر اس کتاب میں لکھے گئے ہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
- ٤....... ”سچا خدا وہ خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٥....... ”میں خدا کے علم کے موافق نبی ہوں۔“
(مرزا قادیانی کا آخری خط مندرجہ اخبار عام مورخہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)
- ٦....... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول و نبی ہیں۔“
(بدر مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
- ٧....... ”پس اس میں کیا شک ہے کہ میری پیشین گوئیوں کے بعد دنیا میں زلزلوں اور دوسری
آفات کا سلسلہ شروع ہو جانا میری سچائی کے لئے ایک نشان ہے۔ یادرہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصہ زمین میں تکذیب ہو مگر اس کی تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦١، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٥)
- ٨....... ”سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں جیسا کہ قرآن شریف میں......
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً“ پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اے غافلو! تلاش کرو شاید تم میں کوئی خدا کی طرف سے نبی قائم ہو گیا ہے۔ جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٨، ٩، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠٠، ٤٠١)
- ٩....... ”خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑے ۔“
(دافع البلاء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)
- ......١٠ ”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک
کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“
(دافع البلا ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
- ......١١ ”الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور،
خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)
- ......١٢ ”انا ارسلناک احمد الیٰ قومہ فاعرضوا وقالوا کذاب اشر“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)
- ......١٣ ”فکلمنی و نادانی وقال انی مرسلک الیٰ قوم مفسدین وانی جاعلک
للناس اماماً وانی مستخلفک اکراماً کما جرت سنتی فی الاولین“
(انجام آتھم ص ٧٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ......١٤ ”اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی فرق ایک ذرہ کے
خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کی متواتر نشانیوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے۔ جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمدﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اسی طرح میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللہ ہوں۔ مگر پیشین گوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠، ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٢٦٤)
- ......١٥ ”آپ (یعنی مرزا قادیانی) نبی ہیں اور خدا نے اور اس کے رسول نے انہی الفاظ میں
آپ کو نبی کہا ہے۔ جس میں قرآن کریم اور احادیث میں پچھلے نبیوں کو نبی کہا گیا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٠)
- ......١٦ ”پس اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح موعود قرآن کریم کے معنوں کی رو سے بھی
نبی ہیں اور لغت کے معنوں کی رو سے بھی نبی ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١١٦)
- ......١٧ ”پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس معنی کو حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی
نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٤)
٥٠
- ١٨....... "بلحاظ نبوت ہم بھی مرزا صاحب کو پہلے نبیوں کے مطابق مانتے ہیں۔"
(حقیقت النبوۃ ص ٢٩٢)
مسیح موعود ہونے کا دعویٰ
حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ہمارا (یعنی اہل سنت والجماعت کا) عقیدہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے اور قیامت کے قریب آپ تشریف لائیں گے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میرا بھی پہلے یہی عقیدہ تھا مگر بعد میں ان کا خیال یہ ہو گیا کہ اللہ نے اس کو بذریعہ وحی یہ بتلایا کہ یہ سراسر غلط خیال ہے کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ ہیں اور کسی وقت وہ دنیا میں دوبارہ آویں گے۔ بلکہ وہ مسیح اور عیسیٰ جو آنے والا تھا وہ خود تو ہی ہے۔ تیرا ہی نام ابن مریم رکھا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں خود مرزا قادیانی کا بیان ملاحظہ ہو۔ ”اور میری آنکھیں اس وقت تک بالکل بند رہیں جب تک کہ خدا نے بار بار کھول کر مجھ کو نہ سمجھایا کہ عیسیٰ ابن مریم اسرائیلی تو فوت ہو چکا ہے اور وہ واپس نہیں آئے گا۔ اس زمانہ اور اس امت کے لئے تو تو ہی عیسیٰ ابن مریم ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٨٥ خزائن ج ٢١ ص ١١١)
حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر فضیلت کا دعویٰ
پہلے تو مرزا قادیانی مسیح موعود اور عیسیٰ ابن مریم ہی بنے تھے۔ لیکن پھر وہ آگے بڑھے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی فضیلت کا اعلان شروع کر دیا ان کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم، اے نے مرزا کا یہ قول نقل کیا ہے۔ ”میں مسیح علیہ السلام کی خدائی کا منکر ہوں۔ ہاں بے شک وہ خدا کے نبیوں میں سے ایک نبی تھا۔ مگر مجھے خدا نے اس سے برتر مرتبہ عطا کیا ہے۔“
(تبلیغ ہدایت ص ١٥٥)
”اور دیکھو آج تم میں سے ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
مرزا قادیانی کا درج ذیل شعر بہت مشہور ہے۔
اس سے بڑھ کر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
مرزا قادیانی کا دوسرا شعر ہے۔
میری مرہم سے شفا پائے گا ہر ملک و دیار
(درثمین اردو ص ٨٧)
٥١
حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توہین
”ہاں آپ کو (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو) گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کس قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
”مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن کریم میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہیں رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات کی نسبت مرزا قادیانی کے خیالات
”کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ کل کے ذریعہ سے بعض چڑیاں پرواز بھی کرتی ہیں۔“
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٣٠٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
”کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک کے مارنے سے کسی طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے۔ یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ حاشیہ)
٥٢
اس حوالہ میں غور کیجئے! حضرت مریم اور حضرت بہتان لگایا ہے۔ قرآن مجید کی بیان کی ہوئی اس حقیقت پر تما ایمان ہے کہ اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے حضرت عیسیٰ علیہ ا امر ”کن“ سے پیدا فرمایا تھا۔ حضرت مریم عفیفہ اور پاکدامن تھ نہیں ہوا تھا۔ قرآن پاک کی اس صریح وضاحت کے باوجود م بات لکھی ہے۔ اس کی یہ بات قرآن کے بالکل خلاف ہے او اس کو مسلمان سمجھنا اور اس کے متبعین کا اپنے کو مسلمان کہنا کیسے
”اوائل میں میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری کو جز کی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا کی وحی بارش نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خط
(-)
”اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ الص گئیں جو مجھے دی گئیں۔ کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خ وهذا تحديث نعمة الله ولا فخر!“
(-)
حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام پر فضیلت ک
”پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیل قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچالیا گیا۔ مگر یوسف بن یعقو
(برا
میں سب کچھ ہوں
مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ میں تمام نبیوں ہستی میں تمام انبیاء سمائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اس نے عیسیٰ بن مریم کے نام سے موسوم نہیں بلکہ اور بھی میر ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقو ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں مح
٥٣
اس حوالہ میں غور کیجئے! حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کس قدر خبیث بہتان لگایا ہے۔ قرآن مجید کی بیان کی ہوئی اس حقیقت پر تمام اہل اسلام کو بلا کسی شک وشبہ کے ایمان ہے کہ اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بلا کسی شخص کی وساطت کے امر ”کن“ سے پیدا فرمایا تھا۔ حضرت مریم عفیفہ اور پاکدامن تھیں۔ آپ کا کسی شخص سے تعلق قائم نہیں ہوا تھا۔ قرآن پاک کی اس صریح وضاحت کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی نے کس قدر غلط بات لکھی ہے۔ اس کی یہ بات قرآن کے بالکل خلاف ہے اور قرآن کا انکار ہے۔ اس کے باوجود اس کو مسلمان سمجھنا اور اس کے متبعین کا اپنے کو مسلمان کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟
”اوائل میں میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)
”اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وہ فطری طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں۔ کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔ وهذا تحديث نعمة الله ولا فخر!“
(حقیقت الوحی ص ١٥٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧)
حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام پر فضیلت کا فتویٰ
”پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچا لیا گیا۔ مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧٦، خزائن ج ٢١ ص ٩٩)
میں سب کچھ ہوں
مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ میں تمام نبیوں کی روح اور ان کا خلاصہ ہوں۔ میری ہستی میں تمام انبیاء سمائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اس نے لکھا ہے: ”میں خدا کے دفتر میں صرف عیسیٰ بن مریم کے نام سے موسوم نہیں بلکہ اور بھی میرے نام ہیں۔ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں......سو ضرور ہے کہ ہر نبی کی
٥٣
شان مجھ میں پائی جائے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)
معجزات کی کثرت
جب مرزا قادیانی نے پیغمبری اور نبوت کا دعویٰ کیا تو معجزات کا دعویٰ بھی لازم تھا۔ چنانچہ انہوں نے معجزات کا دعویٰ بھی معمولی انداز سے نہیں کیا بلکہ اللہ کے تمام نبیوں کو معجزات کے معاملہ میں مرزا قادیانی نے اپنے مقابلہ میں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ چنانچہ لکھا ہے:۔
”اللہ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
”ہاں! اگر یہ اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میں صرف یہی جواب نہیں دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں۔ بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقین طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)
”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح علیہ السلام کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے ۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)
”ان چند سطروں میں جو پیشین گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اوّل درجہ پر فائق ہیں۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)
”اگر بہت ہی سخت گیری اور زیادہ سے زیادہ احتیاط سے بھی ان کا شمار کیا جائے۔ تب بھی یہ نشان جو ظاہر ہوئے دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)
احادیث کے متعلق مرزا قادیانی کا خیال
”ہم اس کے جواب میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی
٥٤
حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وحی جو میرے پر نازل ہوئی کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی ک ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال کفریہ میں سے ان اقوال سے صراحۃً یہ ثابت ہو رہا ہے کہ وہ نبوت کا مدع نبوت کے قائل ہیں۔ لہٰذا غلام احمد قادیانی قطعی طور پر اسلا جو اس کی نبوت کو تسلیم کرتے ہیں یا دعویٰ نبوت کے باوجود بھی قطعی طور پر کافر، مرتد، اور خارج از اسلام ہیں۔
علمی لطیفہ
موقع کی مناسبت سے ایک علمی لطیفہ ذہن میں پہنچا۔ بڑا چالاک اور چالباز تھا اس نے اہل رنگوں کے سا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے اور یہ بات قسمیہ کہتا۔ جب کہتے ہیں۔ خواہ مخواہ ہم کو بدنام کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہم حضور اکرم ﷺ کو اللہ کا سچا رسول سمجھتے ہیں۔ عوام اس کی با گئیں۔ بہت سے مقامات پر نماز بھی پڑھائی۔ جمعہ تک پڑ کہ عوام کو کس طرح اس فتنہ سے محفوظ رکھیں۔ عوام میں دین مقامی علماء سے اس کی گفتگو بھی ہوئی۔ مگر اپنی چالبازی کی مشورہ کر کے یہ طے پایا کہ امام اہل سنت حضرت مولانا مح چنانچہ تار دے دیا گیا اور وہاں اس کی شہرت بھی ہو گئی کہ لا رہے ہیں۔ وہ اس سے گفتگو کریں گے۔ خواجہ کمال ال اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت دیکھی۔ چنانچہ وہ مولا مولانا تشریف لے گئے۔ مولانا کی تقریریں ہوئیں۔ مح داروں کی ایک مجلس میں فرمایا کہ آپ حضرات نے غور فر وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھ گیا ہوگا کہ میں اس سے یہ سوال کروں قائل نہیں۔ مگر تو اسے مسلمان سمجھتا ہے یا کافر؟ اس کا جو
٥٥
حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وحی جو میرے پر نازل ہوئی ہاں تائیدی طور پر ہم حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کی معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، ٣١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال کفریہ میں سے چند اقوال کفریہ بطور نمونہ نقل کئے گئے۔ ان اقوال سے صراحتاً یہ ثابت ہو رہا ہے کہ وہ نبوت کا مدعی ہے اور اس کے معتقدین بھی اس کی نبوت کے قائل ہیں۔ لہٰذا غلام احمد قادیانی قطعی طور پر اسلام سے خارج ہے اور اس کے متبعین بھی جو اس کی نبوت کو تسلیم کرتے ہیں یا دعویٰ نبوت کے باوجود اسے دائرہ اسلام میں سمجھتے ہیں وہ لوگ بھی قطعی طور پر کافر، مرتد، اور خارج از اسلام ہیں۔
علمی لطیفہ
موقع کی مناسبت سے ایک علمی لطیفہ ذہن میں آیا۔ رنگون میں خواجہ کمال الدین قادیانی پہنچا۔ بڑا چالاک اور چالباز تھا اس نے اہل رنگون کے سامنے اپنے اسلام کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ہم غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے اور یہ بات قسمیہ کہتا۔ جیسا کہ بہت سے قادیانی خصوصاً لاہوری کہتے ہیں۔ خواہ مخواہ ہم کو بدنام کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہم پکے مسلمان ہیں۔ قرآن کو مانتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کو اللہ کا سچا رسول سمجھتے ہیں۔ عوام اس کی باتوں میں آگئے۔ اس کی تقریریں ہونے لگیں۔ بہت سے مقامات پر نماز بھی پڑھائی۔ جمعہ تک پڑھایا۔ رنگون کے ذمہ دار بہت فکرمند تھے کہ عوام کو کس طرح اس فتنے سے محفوظ رکھیں۔ عوام میں دن بدن اس کو مقبولیت حاصل ہورہی ہے۔ مقامی علماء سے اس کی گفتگو بھی ہوئی۔ مگر اپنی چالبازی کی وجہ سے اپنی اصلیت ظاہر نہ ہونے دیتا۔ مشورہ کر کے یہ طے پایا کہ امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحبؒ کو مدعو کیا جائے۔ چنانچہ تار دے دیا گیا اور وہاں اس کی شہرت بھی ہوگئی کہ بہت جلد مولانا عبدالشکور صاحب تشریف لا رہے ہیں۔ وہ اس سے گفتگو کریں گے۔ خواجہ کمال الدین نے جب مولانا کا نام سنا تو راہ فرار اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ چنانچہ وہ مولانا کے وہاں پہنچنے سے پہلے پہلے چلا گیا۔ مولانا تشریف لے گئے۔ مولانا کی تقریریں ہوئیں۔ عوام الناس کو حقیقت سے خبردار کیا اور ذمہ داروں کی ایک مجلس میں فرمایا کہ آپ حضرات نے غور فرمایا کہ وہ کیوں یہاں سے چلا گیا۔ دراصل وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھ گیا ہوگا کہ میں اس سے یہ سوال کروں گا کہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا قائل نہیں۔ مگر تو اسے مسلمان سمجھتا ہے یا کافر؟ اس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا جو بھی جواب دیتا
٥٥
پکڑا جاتا وہ مرزا قادیانی کو کسی حال میں کافر تو کہہ نہیں سکتا تھا۔ اگر مسلمان کہتا تو اس پر بھی اس کی گرفت ہوتی کہ جو شخص مدعی نبوت ہو وہ کسی حال میں مسلمان نہیں رہ سکتا۔ ایسے آدمی کو مسلمان سمجھنا خود کفر ہے۔ میں اس سے یہی سوال کرتا اور انشاء اللہ! اسی ایک سوال پر وہ لاجواب ہو جاتا اور اس کا راز فاش ہو جاتا۔ یہ سوال آپ لوگوں کے ذہن میں نہیں آیا۔ اس لئے آپ لوگ پریشان رہے۔
(نوٹ: ماہنامہ دارالعلوم دیوبند کے ختم نبوت نمبر میں ”مرزاغلام احمد قادیانی کے تیس جھوٹ“ عنوان کا مضمون تھا وہ چونکہ تحفہ قادیانیت میں چھپ چکا ہے۔ لہٰذا یہاں سے حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)
مرزاغلام احمد قادیانی کے تیس جھوٹ
از: مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی
بسم الله الرحمن الرحیم!
”الحمدلله وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفےٰ“
مرزاغلام احمد قادیانی کے دعووں کی علمائے امت نے ہر پہلو سے قلعی کھول دی ہے اور کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا۔ انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے سچے وارثوں کا بنیادی وصف صدق و راست گفتاری ہے۔ نبی کی زبان پر کبھی خلاف واقعہ بات آ ہی نہیں سکتی اور جو شخص جھوٹ کا عادی ہو وہ نبی تو کجا ایک شریف آدمی کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔
جو لوگ نبی و رسالت یا مجددیت و مہدویت کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں حق تعالیٰ ان کی ذلت و رسوائی کے لئے ان کا جھوٹ خود ان ہی کی زبان سے کھول دیتے ہیں۔ شیخ علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں: ”مأمن احد ادعى النبوة من الكذابين الا وقد ظهر عليه من الجهل والكذب لمن له ادنى تميز بل وقد قيل ما اسراحد سريره الا اظهر الله على صفحات وجهه وفلتات لسانه (ص٧٢)“ جھوٹے لوگوں میں سے جس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے معمولی عقل و تمیز کے شخص پر بھی اس کا جہل و کذب واضح کر دیا۔ بلکہ کہا گیا ہے کہ جس نے بھی اپنے دل میں کوئی بات چھپائی اللہ تعالیٰ نے اس کے چہرے پر اور زبان کی گفتگو میں اس کو ظاہر کر کے چھوڑا۔
٥٦
راقم الحروف نے مرزاغلام احمد قادیانی کی مرزا قادیانی کی تحریر میں سچائی اور راستی کا تلاش کرنا کا سچی بات کہہ دیتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے گویا قسم خ میں اپنے جھوٹ کی آمیزش ضرور کرے گا۔ پیش نظر م ہیں۔ دس آنحضرتﷺ پر، دس حق تعالیٰ شانہ پر اور د
آنحضرتﷺ کی ذات گرامی پر مرزا قاد
آنحضرتﷺ کی طرف کسی غلط بات کو احادیث متواترہ میں اس پر دوزخ کی وعید آئی ہے اور ت اس نے ایک بات بھی آنحضرتﷺ کی طرف منسوب کوئی بات اور کوئی روایت لائق اعتماد نہیں رہتی۔ مرزا غ باک اور جری تھا۔ وہ بات بات میں آنحضرتﷺ پر ا کی دس مثالیں پیش کرتا ہوں۔
- ١...... ”انبیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر
صدی کے سر پر ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔“ انبیاء گذشتہ کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبی دو باتیں منسوب کی ہیں۔ مسیح کا چودھویں صدی کے سر جھوٹ ہے۔ اس طرح مرزا قادیانی نے صرف ایک م ریکارڈ قائم کیا۔
نوٹ...... پہلے ایڈیشن میں انبیاء گذشتہ کا لفظ تھا۔ ہما گیا۔ اس تحریف کے بعد بھی جھوٹ کی سنگینی میں کچھ کم
- ٢...... ”مسیح موعود کی نسبت تو آثار میں یہ لکھا ہے
(ضمیہ ب
آثار کا لفظ کم از کم دو تین احادیث پر بولا جاتا
- ٣...... ”ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ
چودھویں صدی کا مجدد ہوگا...... اور لکھا تھا کہ وہ اپنی رکھے گا اور دو نام پائے گا اور اس کی پیدائش دو خاندا
٥٧
راقم الحروف نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ مرزا قادیانی کی تحریر میں سچائی اور راستی کا تلاش کرنا کار عبث ہے۔ بڑے بڑے جھوٹے بھی کبھی سچی بات کہہ دیتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے گویا قسم کھا رکھی ہے کہ وہ کلمہ طیبہ بھی پڑھے گا تو اس میں اپنے جھوٹ کی آمیزش ضرور کرے گا۔ پیش نظر مقالہ میں بطور نمونہ تئیس جھوٹ ذکر کئے گئے ہیں۔ دس آنحضرتﷺ پر، دس حق تعالیٰ شانہ پر اور دس حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر۔
آنحضرتﷺ کی ذات گرامی پر مرزا قادیانی کے دس جھوٹ
آنحضرتﷺ کی طرف کسی غلط بات کو منسوب کرنا خبیث ترین گناہ کبیرہ ہے۔ احادیث متواترہ میں اس پر دوزخ کی وعید آئی ہے اور جس شخص کے بارے میں معلوم ہو جائے کہ اس نے ایک بات بھی آنحضرتﷺ کی طرف منسوب کی ہے وہ مفتری اور کذاب ہے اور اس کی کوئی بات اور کوئی روایت لائق اعتماد نہیں رہتی۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس معاملہ میں نہایت بے باک اور جری تھا۔ وہ بات بات میں آنحضرتﷺ پر افترا پردازی کرنے کا عادی تھا۔ یہاں اس کی دس مثالیں پیش کرتا ہوں۔
- ١...... ”انبیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر مہر لگادی ہے کہ وہ (مسیح موعود) چودھویں
صدی کے سر پر ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣١)
انبیاء گذشتہ کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ ان کی طرف مرزا قادیانی نے دو باتیں منسوب کی ہیں۔ مسیح کا چودھویں صدی کے سر پر آنا اور پنجاب میں آنا اور یہ نسبت خالص جھوٹ ہے۔ اس طرح مرزا قادیانی نے صرف ایک فقرہ میں ڈھائی لاکھ جھوٹ جمع کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔
نوٹ...... پہلے ایڈیشن میں انبیاء گذشتہ کا لفظ تھا۔ بعد میں اس کی جگہ ”اولیاء گذشتہ“ کا لفظ کر دیا گیا۔ اس تحریف کے بعد بھی جھوٹ کی سنگینی میں کچھ کمی نہیں ہوتی۔
- ٢...... ”مسیح موعود کی نسبت تو آثار میں یہ لکھا ہے کہ علماء اس کو قبول نہیں کریں گے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٦، خزائن ج ٢١ ص ٣٧٥)
آثار کا لفظ کم از کم دو تین احادیث پر بولا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ مضمون کسی حدیث میں نہیں۔
- ٣...... ”ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ (مسیح موعود) صدی کے سر پر آئے گا اور
چودھویں صدی کا مجدد ہوگا....... اور لکھا تھا کہ وہ اپنی پیدائش کی رو سے دو صدیوں میں اشتراک رکھے گا اور دو نام پائے گا اور اس کی پیدائش دو خاندانوں سے اشتراک رکھے گی اور چوتھی دو گونہ
٥٧
صفت یہ کہ اس کی پیدائش میں بھی جوڑے کے طور پر پیدا ہوگا۔ سو یہ سب نشانیاں ظاہر ہوگئیں ۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٩)
اس فقرہ میں مرزا قادیانی نے چھ باتیں احادیث صحیحہ کی طرف منسوب کی ہیں۔ حالانکہ ان میں سے ایک بات بھی کسی حدیث صحیح میں نہیں آئی۔ اس لئے اس فقرے میں اٹھارہ جھوٹ ہوئے۔
- ٤...... ”ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت سوال کیا گیا تو
آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ملک میں اللہ تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ:”کان فی الھند نبیاً اسود اللون اسمه کاهناً “یعنی ہند میں ایک نبی گزرا جو سیاہ رنگ کا تھا اور نام اس کا کاہن تھا۔ یعنی کنہیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔“
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨١)
مرزا قادیانی کی ذکر کردہ حدیث کسی کتاب موجود نہیں۔ اس لئے یہ خالص افتراء ہے۔ ظالم کو عربی کی صحیح عبارت بھی نہ بنانی آئی۔ سیاہ رنگ شاید اپنی تصویر دیکھ کر یاد آ گیا۔
- ٥...... ”اور آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ زبان پارسی میں بھی کبھی خدا نے کلام کیا ہے تو فرمایا
کہ ہاں خدا کلام زبان پارسی میں بھی اترا ہے۔ جیسا کہ وہ اس زبان میں فرماتا ہے۔ ”ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم“
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٢)
یہ مضمون بھی کسی حدیث میں نہیں۔ خالص جھوٹ اور افتراء ہے۔
- ٦...... ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو
چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔“
(ریویو ج ٦ نمبر ٦ ص ٢٦٥، بابت ماہ ستمبر ١٩٠٧ء)
وبا کی جگہ کو بلا توقف چھوڑ دینے کا حکم کسی حدیث میں نہیں۔ یہ خالص مرزائی جھوٹ ہے۔ بلکہ اس کے برعکس حکم ہے کہ اس جگہ کو نہ چھوڑا جائے۔ ”واذا وقع بارض وانتم بھا فلا تخرجوا فراراً منہ“
(متفق علیہ ، مشکوٰۃ ص ١٣٥)
- ٧...... ”افسوس ہے کہ وہ حدیث بھی اس زمانے میں پوری ہوئی جس میں لکھا تھا کہ مسیح کے
زمانے کے علماء ان سب لوگوں سے بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)
مسیح کے زمانے کے علماء کے بارے میں یہ بات ہرگز نہیں فرمائی گئی۔ یہ ایک طرف آنحضرت ﷺ پر افتراء ہے اور دوسری طرف علمائے امت پر صریح بہتان ہے۔
٥٨
- ٨...... ”چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے
جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ اس لئے گوئی آج پوری ہوگئی ۔“
(ضمیمہ
”چھپی ہوئی کتاب“ کا مضمون کسی صحیح حدیث مرزا قادیانی نے اپنے ٣١٣ اصحاب کے جو نام ازالہ اوہام میں کافر قرار دے کر اس کی صحابیت سے نکل گئے۔ اس لئے مہدویت پر راست نہ آئی۔
- ٩...... ”مگر ضرور تھا کہ وہ مجھے کافر کہتے اور میرا نام دجا
پہلے سے یہ فرمایا تھا کہ اس مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا اور اس گے اور ایسا جوش دکھلائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کو قتل کر ڈا
(ضمیمہ
اس عبارت میں تین باتیں ”احادیث صحیحہ“ کے جھوٹ ہیں۔ اس لئے اس عبارت میں نو جھوٹ ہوئے۔
- ١٠...... ”بہت سی حدیثوں سے ثابت ہو گیا کہ بنی آدم
آدم پہلے آدم کی طرز پر الف ششم کے آخر میں جو روز ششم کے
)
آخری آدم کا افسانہ کسی حدیث میں نہیں آتا۔ ا کی عمر کے بارے میں بعض روایات آتی ہیں۔ مگر وہ روایا
”امین الکذب“ سے تعبیر کیا ہے۔
افتراء علی اللہ کی دس مثالیں
- ١...... ”سورۃ مریم میں صریح طور پر بیان کیا گیا ہے
گیا ہے اور پھر پوری اتباع شریعت کی وجہ سے اس مریم میں اور روح پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پیدا ہو گیا اور ا مریم رکھا ۔“
(ضمیمہ انجام
سورہ مریم سب کے سامنے موجود ہے۔ مرزا میں بیان کیا جانا ذکر کیا ہے، کیا یہ صریح افتراء علی اللہ نہیں۔
٥٩
- ......٨ "چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک کتاب چھپی ہوئی ہوگی
جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ اس لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیش گوئی آج پوری ہوگئی۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠، خزائن ج ١١ ص ٣٢٤)
"چھپی ہوئی کتاب" کا مضمون کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے۔ لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے ٣١٣ اصحاب کے جو نام ازالہ اوہام میں لکھے تھے۔ ان میں سے کئی مرزا کو کافر قرار دے کر اس کی صحابیت سے نکل گئے۔ اس لئے یہ جھوٹی روایت بھی اس کی جھوٹی مہدویت پر راست نہ آئی۔
- ......٩ "مگر ضرور تھا کہ وہ مجھے کافر کہتے اور میرا نام دجال رکھتے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ میں
پہلے سے یہ فرمایا تھا کہ اس مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا اور اس وقت کے شریر مولوی اس کو کافر کہیں گے اور ایسا جوش دکھلائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٨، خزائن ج ١١ ص ٣٢٢)
اس عبارت میں تین باتیں "احادیث صحیحہ" کے حوالے سے کہی گئی ہیں اور یہ تینوں جھوٹ ہیں۔ اس لئے اس عبارت میں نو جھوٹ ہوئے۔
- ......١٠ "بہت سی حدیثوں سے ثابت ہو گیا کہ بنی آدم کی عمر سات ہزار برس ہے اور آخری
آدم پہلے آدم کی طرز پر الف ششم کے آخر میں جو روز ششم کے حکم میں ہے پیدا ہونے والا ہے۔"
(ازالۃ اوہام ص ٦٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٧٥)
آخری آدم کا افسانہ کسی حدیث میں نہیں آتا۔ اس لئے یہ بھی خالص جھوٹ ہے۔ دنیا کی عمر کے بارے میں بعض روایات آتی ہیں۔ مگر وہ روایات ضعیف ہیں اور محدثین نے ان کو "ابین الکذب" سے تعبیر کیا ہے۔
(موضوعات کبیر ص ١٦٢)
افتراء علی اللہ کی دس مثالیں
- ......١ "سورۃ مریم میں صریح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بعض افراد اس امت کا نام مریم رکھا
گیا ہے اور پھر پوری اتباع شریعت کی وجہ سے اس مریم میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روح پھونکی گئی اور روح پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پیدا ہو گیا اور اسی بناء پر خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ بن مریم رکھا۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٥٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١١)
سورۃ مریم سب کے سامنے موجود ہے۔ مرزا نے صریح طور پر جن امور کا سورۃ مریم میں بیان کیا جانا ذکر کیا ہے، کیا یہ صریح افتراء علی اللہ نہیں۔
٥٩
- ٢...... ”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر
ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحیٰی نبی کو اس پر (یعنی عیسیٰ علیہ السلام پر) ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور نہ کبھی سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا اپنے ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے قرآن نے یحیٰی کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
حضرات انبیاء کرام کی طرف فواحش کا منسوب کرنا کفر ہے۔ مرزا قادیانی ایسے قصے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کرتا ہے اور ایسے کفر صریح کے لئے قرآن کریم کے لفظ ”حصور“ کا حوالہ دیتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان قصوں میں ملوث تھے۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بہتان بھی ہے اور افتراء علی اللہ بھی۔
- ٣...... ”اور اس عاجز کو خدا تعالیٰ نے آدم مقرر کر کے بھیجا ...... اور ضرور تھا کہ وہ ابن مریم
جس کا انجیل اور فرقان میں آدم بھی نام رکھا گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٧٥)
یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام قرآن کریم میں آدم رکھا گیا ہے۔ خالص جھوٹ ہے اور اس مضمون کو انجیل سے منسوب کرنا دوسرا جھوٹ ہے اور یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کو اللہ تعالیٰ نے آدم مقرر کر کے بھیجا ہے۔ تیسرا جھوٹ ہے۔
- ٤...... اور مجھے بتلایا گیا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا
مصداق ہے کہ ”ھو الذی ارسل رسولہ ...... کلہ“
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
کون نہیں جانتا کہ اس آیت کریمہ کا مصداق آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ پس یہ کہنا کہ تیری خبر قرآن میں ہے ایک جھوٹ۔ حدیث میں ہے دوسرا جھوٹ اور مرزا اس آیت کا مصداق ہے۔ تیسرا جھوٹ اور ان تمام باتوں کو مجھے بتلایا گیا ہے۔ کہہ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب بدترین افتراء علی اللہ ہے۔
- ٥...... ”قادیان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور
پیش گوئی پہلے سے لکھا گیا تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٩)
یہ بھی سفید جھوٹ اور افتراء علی اللہ ہے۔
- ٦...... ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف کی وہ پیشین گوئیاں پوری ہوتیں جس میں لکھا گیا تھا
٦٠
کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو (١) اسلامی علماء کے ہاتھ دیں گے۔ (٣) اور اس کو قتل کرنے کے فتوے دیئے ہوگی۔ (٥) اور اس کو اسلام سے خارج اور دین کا تباہ ک ان چھ باتوں کو قرآن کریم کی پیش گویاں
- ٧...... ”پھر خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشا
گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین م پائے گا تیری نسل بہت ہوگی۔“
(اشتہار
اس اشتہار کے بعد مرزا قادیانی کے عقد م لئے اس فقرے میں اللہ تعالیٰ کی طرف جو بشارت افترائے خالص ہے۔
- ٨...... ”الہام بکر و ثیب“ یعنی خدا تعالیٰ کا اراد
گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو ک انتظار ہے۔“
مرزا کے نکاح میں کوئی ثیب نہیں آئی۔ ب عمر کٹ گئی۔ مگر وہ بیوہ نہ ہوئی۔ اس کے بکر و ثیب کا الہ
- ٩...... ”شاید بارہ ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر
الظاہر والباطن تم کو عطاء کیا جائے گا سو اس کا نام ب ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک نکاح تمہیں کرنا پڑے گا ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطاء ہوگی وہ
(مکتوبات ا
یہ سارا مضمون سفید جھوٹ ثابت ہوا۔
- ١٠...... ”اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے
(محترمہ محمدی بیگم مرحومہ) کے لئے سلسلہ جنبانی کر گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے ک
٦١
کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو (١) اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ (٢) وہ اس کو کافر قرار دیں گے۔ (٣) اور اس کو قتل کرنے کے فتوے دیئے جائیں گے۔ (٤) اور اس کی سخت توہین ہوگی۔ (٥) اور اس کو اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔"
(اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)
ان چھ باتوں کو قرآن کریم کی پیش گوئیاں قرار دینا سفید جھوٹ اور افتراء علی اللہ ہے۔
- ٧...... "پھر خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے
گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی۔"
(اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢)
اس اشتہار کے بعد مرزا قادیانی کے عقد میں کوئی خاتون نہیں آئی۔ نسل کیسے چلتی؟ اس لئے اس فقرے میں اللہ تعالیٰ کی طرف جو بشارت منسوب کی گئی ہے یہ دروغ بے فروغ اور افترائے خالص ہے۔
- ٨...... "الہام بکر وثیب" یعنی خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے
گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہو گیا اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔"
(تریاق القلوب ص ٧٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٠١)
مرزا کے نکاح میں کوئی ثیب نہیں آئی۔ محمدی بیگم کے بیوہ ہونے کے انتظار میں ساری عمر کٹ گئی۔ مگر وہ بیوہ نہ ہوئی۔ اس کے بکر وثیب کا الہام محض افتراء علی اللہ ثابت ہوا۔
- ٩...... "شاید چاردہ ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر ہو گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین کامل
الظاہر والباطن تم کو عطاء کیا جائے گا سو اس کا نام بشیر ہوگا۔ ...... اب زیادہ تر الہام اس بات پر ہورہے ہیں کہ عنقریب ایک لڑکا ضائع تمہیں کرنا پڑے گا اور جناب الٰہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطاء ہوگی وہ صاحب اولاد ہوگی۔"
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ٥، مکتوبات احمدیہ جدید ج ٢ ص ١٢)
یہ سارا مضمون سفید جھوٹ ثابت ہوا۔
- ١٠...... "اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں
(محترمہ محمدی بیگم مرحومہ) کے لئے سلسلہ جنبانی کر ان دنوں جو زیادہ تصریح کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت
٦١
درخواست کی گئی تھی ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔“
(اشتہار ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٥٨)
یہ بھی دروغ خالص ثابت ہوا۔ مرزا محمدی بیگم کی حسرت لے کر دنیا سے رخصت ہوا۔ اس عفت مآب کا سایہ بھی اسے مدۃ العمر نصیب نہ ہوا اور اس سلسلہ میں جتنے الہامات گھڑے تھے سب جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے۔ مرزا قادیانی نے اس نکاح کے سلسلہ میں کہا تھا: ”یاد رکھو اگر اس پیشین گوئی کی دوسری جزو (یعنی سلطان محمد کا مرنا اور اس کی بیوہ کا مرزا کے نکاح میں آنا) پوری نہ ہوئی تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٤، خزائن ج١١ ص٣٣٨)
اللہ تعالیٰ نے ثابت کر دیا کہ مرزا واقعتاً اپنے اس فقرہ کا مصداق تھا۔ یہ میں مثالیں خدا اور رسول پر افتراء کی تھیں۔ اب دس مثالیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر افتراء کی ملاحظہ کیجئے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر دس جھوٹ
- ......١ ”یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ
جب لوگ نماز کے لئے مسجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پیئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہیں کرے گا۔“
(حقیقت الوحی ص٢٩، خزائن ج٢٢ ص٣١)
مرزا قادیانی کا اشارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے جن کی تشریف آوری کے مسلمان قائل ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے ان کی طرف جو چھ باتیں منسوب کی ہیں۔ یہ نہ صرف صریح جھوٹ بلکہ شرمناک بہتان ہے۔
- ......٢ ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ
السلام شراب پیا کرتے تھے۔“
(کشتی نوح حاشیہ ص٦٦، خزائن ج١٩ ص٧١)
- ......٣ ”مسیح ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا تھا جب استاد کے سامنے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ
کر بیٹھا تو استاد نے اس کو عاق کر دیا۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ کس طرح مسیح بن مریم جوان عورتوں سے ملتا اور کس طرح ایک بازاری عورت سے عطر لٹواتا تھا۔“
(الحکم ٢١؍ فروری ١٩٠٢ء، ملفوظات ج٣ ص١٤٧)
- ......٤ ”اور یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی
٦٢
کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن، نہ خدائی کے بعد بلکہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا بد نتیجہ تھا۔“
ان تین حوالوں میں شراب نوشی اور دیگر گندگی طرف کی گئی ہے۔ یہ نہایت گندا بہتان ہے اور ہمارے بہتانوں کی مذمت کر سکیں اور ہم یہ تصور نہیں کر سکتے کہ ک سطح تک بھی اتر سکتا ہے۔
- ......٥ ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں آ
گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں کو م صریح ہے۔
- ......٦ ”عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات
کوئی معجزہ نہیں ہوا...... اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہ معجزہ ہے۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی نفی ق کھلی تکذیب ہے اور عجیب تر یہ کہ مرزا تالاب کا معجزہ ما السلام کا معجزہ ماننے پر تیار نہیں۔
- ......٧ ”اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہ
الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف مسمریزم مسمریزم کا نتیجہ قرار دینا دوسرا جھوٹ، اس پر باوجو علیہ السلام کو اس میں لپیٹنا تیسرا جھوٹ۔
- ......٨ ”حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوس
کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیق کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں حم
٦٣
کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن، نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا تھا۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا بد نتیجہ تھا۔‘‘
ان تین حوالوں میں شراب نوشی اور دیگر گندگیوں کی جو نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے۔ یہ نہایت گندا بہتان ہے اور ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے اس گندے بہتانوں کی مذمت کر سکیں اور ہم یہ تصور نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص فحاشی و بدگوئی اور کمینہ پن کی اس سطح تک بھی اتر سکتا ہے۔
- ٥....... ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین
گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں کو صاف طور پر جھوٹی کہنا سفید جھوٹ اور کفر صریح ہے۔
- ٦....... ”عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے
کوئی معجزہ نہیں ہوا...... اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠، ٢٩١)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی نفی نہ صرف کذب صریح ہے بلکہ قرآن کریم کی کھلی تکذیب ہے اور عجب تر یہ کہ مرزا تالاب کا معجزہ ماننے کے لئے تیار ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ماننے پر تیار نہیں۔
- ٧....... ”اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت ابن مریم باذن حکم الٰہی
الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٣٠٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧ حاشیہ)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف مسمریزم کی نسبت کرنا ایک جھوٹ، ان کے معجزات کو مسمریزم کا نتیجہ قرار دینا دوسرا جھوٹ، اس پر باذن و حکم الٰہی کا اضافہ تیسرا جھوٹ اور حضرت الیسع علیہ السلام کو اس میں لپیٹنا تیسرا جھوٹ۔
- ٨....... ”حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کا کام
کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ حاشیہ)
٦٣
یوسف نجار کو حضرت مسیح کا باپ کہنا ایک جھوٹ، حضرت مسیح کو بڑھئی کہنا دوسرا جھوٹ اور ان کے معجزات کو نجاری کا کرشمہ کہنا تیسرا جھوٹ۔
- .......٩ ”بہر حال مسیح کی یہ فریبی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے
تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات کو ”فریبی کارروائیاں“ کہنا، انہیں مکروہ اور قابل نفرت کہنا صریح بہتان اور تکذیب قرآن ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے برتری کی امید رکھنا اور اس کو فضل و توفیق خداوندی کی طرف منسوب کرنا صریح کفر اور افتراء علیٰ اللہ ہے۔
- .......١٠ ”اور آپ کی انہیں حرکات کی وجہ سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے ناراض رہتے تھے
اور ان کو یقین ہو گیا تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے ہیں کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ حاشیہ)
”یسوع درحقیقت بوجہ مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔“
(ست بچن حاشیہ ص ٧١، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف (نعوذ باللہ) خلل دماغ، مرگی اور دیوانگی کی نسبت کرنا سفید جھوٹ ہے۔ یہ اور اس قسم کی دیگر تحریریں غالباً مرزا قادیانی نے ”مراق“ کی حالت میں لکھی ہیں۔ جس کا اس نے خود کئی جگہ اعتراف کیا ہے یہ مرزا قادیانی کے جھوٹ کے تیس نمونے پیش کئے گئے ہیں۔ جن سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کو سچائی اور راستی سے کتنی نفرت تھی۔ اس تحریر کو مرزا قادیانی کی ایک عبارت پر ختم کرتا ہوں۔
”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایسے جھوٹوں سے بچائے اور مرزائیوں کو بھی اس جھوٹ سے نکلنے کی توفیق ارزانی فرمائے۔ ”سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العلمين“ محمد یوسف عفا اللہ عنہ ، ٢٤ صفر ١٤٠٧ھ
٦٤
مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشین گوئیاں
قادیانیت کا مختصر تعارف اور ...... پیشین گوئی صادق یا کاذب ہونے کا معیار اور حق و باطل کے درمیا ثابت ہوئیں۔
قادیانیت کے جیب و گریباں
اس وقت ہمارا موضوع مرزا غلام احمد قادیا جنہیں خود مرزا قادیانی نے اپنے صادق یا کاذب ہو پہلے ہم چاہتے ہیں کہ غلام احمد کی شخصیت اور قادیانیت اب پھر سر ابھارتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس لئے ہ انگریزوں اور خطرناک چالوں کو سمجھیں اور ان کی سازشو زبان و قلم کی طاقت سے کام لے کر قادیانیت کے بد نا مرزا غلام احمد قادیانی نے امام مہدی، مسیح ملت اسلامیہ کی صفوں کو بنیادی طور پر درہم برہم کر ہندو پاک اور بنگلہ دیش وغیرہ ممالک کے اہل علم حض اپنے دائروں میں بجا طور پر اس گمراہی کو روکنے اور عقا دینے کی مؤثر اور کامیاب کوششیں کی ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے زعم میں ختم نبو کرتے ہیں جو نہ ماننے کے مترادف ہے۔ وہ قرآنی مطابق تفسیر کرتے ہیں۔ وہ اور ان کے ساتھی انبیاء علی خلیفہ مرزا بشیر الدین ”حقیقت النبوۃ ص ٢٥٧“ میں اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گئے۔“
وہ اپنے جاہل چیلوں کو حضرات صحابہؓ مجروح کرنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔ قادیانیو کی اشاعت میں لکھتا ہے: ”پس ان دونوں گروہو
٦٥
مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشین گوئیاں واقعات کے آئینہ میں
از: مولانا کفیل احمد علوی کیرانوی
قادیانیت کا مختصر تعارف اور...... پیشین گوئیاں جنہیں خود غلام احمد قادیانی نے اپنے صادق یا کاذب ہونے کا معیار اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن قرار دیا تھا اور جو قطعی طور پر غلط ثابت ہوئیں۔
قادیانیت کے جیب و گریباں
اس وقت ہمارا موضوع مرزا غلام احمد قادیانی کی ان پیشین گوئیوں کا جائزہ لینا ہے جنہیں خود مرزا قادیانی نے اپنے صادق یا کاذب ہونے کا اصل معیار قرار دیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ غلام احمد کی شخصیت اور قادیانیت پر ایک سرسری نظر ڈال لی جائے۔ یہ فتنہ اب پھر سر ابھارتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ مسلمان قادیانیوں کی فتنہ انگیزیوں اور خطرناک چالوں کو سمجھیں اور ان کی سازشوں سے باخبر رہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ زبان و قلم کی طاقت سے کام لے کر قادیانیت کے بد نما چہرہ کو سر عام بے نقاب کر دیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے امام مہدی ، مسیح موعود اور نبوت کے جھوٹے دعوے کر کے ملت اسلامیہ کی صفوں کو بنیادی طور پر درہم برہم کرنے کی ناپاک سعی کی ہے۔ اس حقیقت سے ہندو پاک اور بنگلہ دیش وغیرہ ممالک کے اہل علم حضرات بخوبی واقف ہیں اور انہوں نے اپنے اپنے دائروں میں بجا طور پر اس گمراہی کو روکنے اور حقائق کی طاقت سے اس کے اثرات بد کو ختم کر دینے کی مؤثر اور کامیاب کوششیں کی ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے زعم میں ختم نبوت کو مانتے تو ہیں مگر اس کی ایسی مہمل تاویل کرتے ہیں جو نہ ماننے کے مترادف ہے۔ وہ قرآنی آیات مقدسہ کی اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق تفسیر کرتے ہیں۔ وہ اور ان کے ساتھی انبیاء علیہم السلام کی توہین کرتے ہیں۔ غلام احمد کے خلیفہ مرزا بشیر الدین ”حقیقت النبوۃ ص ٢٥٧“ میں غلام احمد کے متعلق لکھتے ہیں : ”وہ بعض اولو العزم نبیوں سے بھی آگے نکل گئے۔“
وہ اپنے جاہل چیلوں کو حضرات صحابہؓ کے ہم رتبہ قرار دے کر ان کی مسلمہ عظمت کو مجروح کرنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔ قادیانیوں کا اخبار ”الفضل“ جلد ٥ مورخہ ٢ مئی ١٩١٨ء کی اشاعت میں لکھتا ہے : ”پس ان دونوں گروہوں میں تفریق کرنی یا ایک کو دوسرے سے مجموعی
٦٥
رنگ میں افضل قرار دینا ٹھیک نہیں۔
ممکن ہے ہمارا خیال غلط ہو۔ لیکن ہمارا تجربہ یہی ہے۔ ہمارے نزدیک وہ ایک دہریہ صفت آدمی تھا۔ ایک نہایت فریب کار انسان اس کی ضخیم کتابیں اس کی ذہنی عیاری کی آئینہ دار ہیں۔ اس نے لوگوں کی نفسیات کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دنیا کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک اکثریت نادان لوگوں کی ہے اور نادان لوگوں کو مختلف طریقوں سے بہکا کر اپنے ساتھ لگا لینا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں۔ اب سوال یہ تھا کہ عزت وشہرت، مال ودولت اور بھر پور مفادات حاصل کرنے کے لئے اسے کون سا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ اگر وہ مذہب کے خلاف جھنڈا اٹھا کر سامنے آتا تو اس کے اپنے ہی گھر کے اور خاندان کے لوگ چند قدم بھی آگے نہ پڑھنے دیتے۔ اس شخص نے مسلمانوں کی نفسیات کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ یہ ایک ایسی قوم ہے جسے مذہب کے نام پر گرمایا بھی جا سکتا ہے اور ٹھنڈا بھی کیا جا سکتا ہے۔ جگایا بھی جا سکتا ہے۔ سلایا بھی جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس سے مذہب کی آڑ میں وہ تمام کھیل کھیلے جو آج سب کے سامنے ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اسے حکومت برطانیہ کا ہر رخ سے بھر پور تعاون بھی حاصل رہا۔ حکومت اس وقت مسلمانوں کے اتحاد سے اور جذبہ جہاد کی تیز تر لہر سے خائف تھی۔ سید احمد شہیدؒ اور ان کے عظیم ساتھیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں انگریزی اقتدار کے لئے پریشان کن بنی ہوئی تھیں۔ مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور ان کی توجہات کو ملکی اور غیر ملکی مسائل سے ہٹا دینے کے لئے انہیں مسلمانوں میں ایسے ہی ذہین وفطین آدمی کی ضرورت تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢١) میں اقرار کرتے ہیں: ”میں حکومت برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١١) میں لکھا ہے: ”میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان وقلم سے اس کام میں مشغول ہوں تا کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیر دوں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“
(تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج١٥ ص١٥٥) میں لکھا ہے: ”میں نے مخالفت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ ایسی کتابوں کو تمام عرب ممالک اور مصر وشام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔“
٦٦
ایک طرف مرزا قادیانی برابر مسلمانوں کو انگر رہے۔ دل سے مطیعانہ برتاؤ کی تبلیغ کرتے رہے۔ دوس عقائد پر شاطرانہ انداز میں حملے شروع کر دیئے اور توقع مسلم گھرانوں میں ہوئے تھے۔ مگر مرزا قادیانی کی طر انہوں نے اپنے پیر گھنٹال مرزا غلام احمد قادیانی کے علم و کشف و کرامت کی تشہیر شروع کر دی۔ اس کے استخارو مستجاب بیان کیا جانے لگا۔ لوگ آنے لگے۔ بے وقو رہی۔ نہ پہلے تھی اور نہ آج ہے۔ پھر یہ تو دام ہی ہم ر پڑھے لکھے بھی پھنس گئے۔
پہلے مرحلہ میں مرزا قادیانی نے مختلف نفسیا ہونے کا تاثر لوگوں کے ذہن نشین کرایا۔ امام مہدی اور مسیح بن گئے۔ نبی ظلی ہو گئے۔ فن کاری دیکھئے! حضر کے بارے میں قرآنی صراحت کے باوجود حیات مسی وہ مرزا قادیانی...... خود ہیں۔ اس سوال سے بچنے کے نہیں تو آپ مسیح کہاں سے آگئے تو مثیل مسیح کا شو النبیین ہونے پر نصوص قطعیہ موجود ہیں۔ اسی لئے ع عقیدہ کو مدار ایمان قرار دیتے آئے ہیں۔ مگر اس کے تازیانہ سے بچنے کے لئے کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی لیں۔ جب کہ نبوت ظلی ومجازی یا بروزی ہوتی ہی نہی بھی ختم کر دیا گیا۔ کہتے ہیں: ”ھو الذی ارسل ہی حق میں فرمایا گیا ہے۔ دوسری آیت: ”محمد رسول ال میں ہی ہوں۔
شوق فضیلت یا جوش عیاری نے جب افضل ہو گئے۔ کہتے ہیں: ”لہ خسف القمر المشرقان اتنکر“ اس کے لئے یعنی نبی کر
ایک طرف مرزا قادیانی برابر مسلمانوں کو انگریزوں کے ساتھ وفاداری کی تعلیم دیتے رہے۔ دل سے مطیعانہ برتاؤ کی تبلیغ کرتے رہے۔ دوسری طرف مرحلہ وار مسلمانوں کے بنیادی عقائد پر شاطرانہ انداز میں حملے شروع کر دیئے اور توقع کے مطابق ایسے لوگ بھی مل گئے جو پیدا تو مسلم گھرانوں میں ہوئے تھے۔ مگر مرزا قادیانی کی طرح تھے بے دین اور مفاد پرست۔ چنانچہ انہوں نے اپنے گرو گھنٹال مرزا غلام احمد قادیانی کے علم وفضل، تقویٰ وطہارت بزرگی اور بجا طور پر کشف و کرامت کی تشہیر شروع کردی۔ اس کے استخاروں کو کامیاب، الہامات کو سچے اور دعاؤں کو مستجاب بیان کیا جانے لگا۔ لوگ آنے لگے۔ بے وقوف اور توہم پرست لوگوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ نہ پہلے تھی اور نہ آج ہے۔ پھر یہ تو دام ہم رنگ زمین بچھایا گیا تھا۔ کچھ سادہ لوح اور پڑھے لکھے بھی پھنس گئے۔
پہلے مرحلہ میں مرزا قادیانی نے مختلف نفسیاتی پہلوؤں سے کام لے کر اپنے خدارسیدہ ہونے کا تاثر لوگوں کے ذہن نشین کرایا۔ امام مہدی اور مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ دوسرے مرحلہ میں مسیح بن گئے۔ نبی ظلی ہو گئے، فن کاری دیکھئے! حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے کے بارے میں قرآنی صراحت کے باوجود حیات مسیح کے تو قائل نہیں لیکن آمد مسیح کے قائل ہیں اور وہ مرزا قادیانی...... خود ہیں۔ اس سوال سے بچنے کے لئے کہ جب آپ کے بقول مسیح زندہ ہی نہیں تو آپ مسیح کہاں سے آ گئے تو مثیل مسیح کا شوشہ لگا دیا۔ ایسے ہی آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر نصوص قطعیہ موجود ہیں۔ اسی لئے علمائے سلف وخلف شدومد سے ختم نبوت کے عقیدہ کو مدار ایمان قرار دیتے آئے ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ شخص نبی بن بیٹھا اور اس حقیقت کے تازیانہ سے بچنے کے لئے کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ظلی و بروزی کی اصطلاحیں گھڑ لیں۔ جب کہ نبوت ظلی ومجازی یا بروزی ہوتی ہی نہیں۔ تیسرے مرحلہ میں ظلی و بروزی کا تکلف بھی ختم کر دیا گیا۔ کہتے ہیں: ”ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق“ میرے ہی حق میں فرمایا گیا ہے۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
دوسری آیت: ”محمد رسول اللہ والذین معہ“ میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہی ہوں۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
شوق فضیلت یا جوش عیاری نے جب مزید ابھارا تو حضرت محمد مصطفے ﷺ سے بھی افضل ہو گئے۔ کہتے ہیں: ”لہ خسف القمر المنیر وان لی ...... خسفا القمران المشرقان اتنکر“ اس کے لئے یعنی نبی کریم کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور
٧٧
میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ کیا اب تو انکار کرے گا؟ (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) متعدد آیات کے بارے میں بے جھجک کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے مجھے مخاطب کیا ہے۔ اس شخص کا حوصلہ دیکھئے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین ﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام کی کچھ عظمتوں ہی کو اپنی ذات میں سمو لینے کا مدعی نہیں بلکہ وہ صاف صاف کہتا ہے کہ میں ہی سب کچھ ہوں۔
وہ لکھتا ہے: ”میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں محمد ﷺ کا مظہر اتم ہوں۔ یوں ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦ حاشیہ)
اس کا کہنا ہے کہ میرے معجزات انبیاء کے معجزات سے بڑھ کر ہیں۔
(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦ ملخص)
اور میری پیش گوئیاں نبیوں کی پیش گوئیوں سے زیادہ ہیں۔ (ایضاً) اس نے لکھا ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تو جس چیز کو بنانا چاہے بس کن کہہ دے وہ ہو جائے گی۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
جب کہ صاحب بہادر کی وہ پیشین گوئیاں بھی پوری نہیں ہو پاتیں جو انتہائی بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ کی گئی تھیں جنہیں ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی فیصلہ کن پیشین گوئیاں اور ان کا شرمناک انجام
غلام احمد قادیانی اگرچہ بے پناہ چالاک آدمی تھا، مگر جیسے کسی ملاح کا حد سے زیادہ بڑھا ہوا حوصلہ اس کی غرقابی کا سبب بن جاتا ہے اسی طرح چالاکی و مکاری میں اس کا حد سے زیادہ گزر جانا اس کو بری طرح لے ڈوبا۔ اس نے مختلف پہلوؤں سے انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخیاں کیں۔ قرآن کریم کی تحریف میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کلمہ اسلام کا گو صراحتاً انکار نہیں کیا۔ مگر اس کے لازمی تقاضوں کی صریح مخالفت کی۔ خاتم النبیین ﷺ کو جھٹلایا۔ اجماع امت کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ قدم قدم پر مسلمانوں کی دل آزاری کی۔ عیسائیوں کو بھی نہیں بخشا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا ناجائز بیٹا بتایا۔ جو قرآنی صداقتوں کے قطعی خلاف ہے۔ ہندوؤں کے بزرگوں کی بھی مٹی پلید کر کے رکھ دی۔ اس طرح غلام احمد نے ایک ہی وقت میں بہت ساری مخالفتیں مول لے لیں۔
٦٨
عیسائیوں کے ساتھ امرتسر کے ایک عبداللہ آتھم سے شکست فاش کھا گئے تو جہنم اور یہ سمجھ کر کہ یہ بوڑھا شخص ہے سال ڈیڑھ سا ماہ رکھی گئی۔ اعمال بد کے نتیجہ میں مرزا قادی ہو گیا اور پیشین گوئی کی مدت پوری ہونے ۔ پیشین گوئی کا جائزہ لیں گے۔ واضح رہے کہ ہم پادری آتھم کے کو چھوڑ کر حیثیت پر یقین رکھنے والا حق پر قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار اس پیشین گوئی کے ساتھ مرزا ایک پنڈت لیکھرام کے متعلق جو ان کی بـ مرزا احمد بیگ کے بارے میں جو ان کے بوڑھے مرزا قادیانی بہادر کا پیغام نکاح طـ مرزا قادیانی کی وضاحت ملاحظہ فرمائیں عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف ہـ صاحب امرتسری کی نسبت پیشین گوئی پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبـ مرزا بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی نسبت آج کی تاریخ سے جو ٢١ ستمبر ١٨٩٢ء ۔ طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں۔ ایک صاـ امانت دونوں حق تعالیٰ کے اختیار میں خدا تعالیٰ اس کی خاطر سے کسی اس کے پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار ٹھہراوے۔ پیشین گوئیاں کوئی معمولی ہوں۔ بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیا کے وقتوں کا انتظار کرے۔ یہ تینوں پـ
عیسائیوں کے ساتھ امرتسر کے ایک مناظرہ میں جب مرزا قادیانی ایک بوڑھے پادری عبداللہ آتھم سے شکست فاش کھا گئے تو جھنجھلاہٹ میں اس کے لئے موت کی پیشین گوئی کر دی اور یہ سمجھ کر کہ یہ بوڑھا شخص ہے سال ڈیڑھ سال میں لڑھک جائے گا۔ پیشین گوئی کی مدت پندرہ ماہ رکھی گئی۔ اعمال بد کے نتیجہ میں مرزا قادیانی کو قدرتی طور پر ذلیل ہونا تھا۔ پادری سخت جان ہو گیا اور پیشین گوئی کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی کافی عرصہ تک زندہ رہا۔ ہم پہلے اس الہامی پیشین گوئی کا جائزہ لیں گے۔
واضح رہے کہ ہم پادری آتھم کے حامی نہیں ہیں اور نہ مذہبًا اسے حق پر سمجھتے ہیں۔ توحید کو چھوڑ کر تثلیث پر یقین رکھنے والا حق پر کبھی نہیں ہو سکتا۔ اس پیشین گوئی کو چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دے دیا تھا اس لئے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
اس پیشین گوئی کے ساتھ مرزا قادیانی نے اور بھی کئی پیشین گوئیاں شامل کر دی تھیں۔ ایک پنڈت لیکھرام کے متعلق جو ان کی بیہودہ گوئیوں پر انہیں برا بھلا کہتے رہتے تھے۔ دوسری مرزا احمد بیگ کے بارے میں جو ان کے قریبی عزیز تھے اور جنہوں نے اپنی بیٹی محمدی بیگم سے بوڑھے مرزا قادیانی بہادر کا پیغام نکاح حقارت سے ٹھکرا دیا تھا۔ ان پیشین گوئیوں کے سلسلے میں مرزا قادیانی کی وضاحت ملاحظہ فرمائیں۔ شہادت القرآن میں لکھتے ہیں: ”پھر ماسوا اس کے اور عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں۔ جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیشین گوئی جس کی میعاد ٥؍ جون ١٨٩٣ء سے پندرہ مہینے تک اور پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت جس کی میعاد ١٨٩٣ء سے چھ سال تک ہے اور پھر مرزا بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی نسبت پیشین گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے۔ جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو ٢١؍ ستمبر ١٨٩٢ء ہے۔ قریباً ١١؍ مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں۔ ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں! کیونکہ احیاء اور اماتت دونوں حق تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو خدا تعالیٰ اس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی دعا سے ہلاک نہیں کر سکتا۔ خصوصاً ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہراوے۔ پیشین گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہوں۔ بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سوا اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشین گوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔ یہ تینوں پیشین گوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر
٦٩
حاوی ہیں۔ یعنی ایک مسلمان سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وہ پیشین گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں: (١) مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔ (٢) اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کا شوہر ہے۔ اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔ (٣) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔ (٤) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔ (٥) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔ (٦) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے (محمدی بیگم کا) نکاح ہو جائے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔“
(شہادت القرآن ص ٨٠، ٨١، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥، ٣٧٦)
پادری آتھم کے بارے میں ایک خصوصی الہام
پادری آتھم کے متعلق پیشین گوئی کہ وہ ٥؍ جون ١٨٩٣ء سے پندرہ ماہ کے اندر اندر مر جائے گا۔ ہم مرزا قادیانی کی واضح عبارت نقل کر چکے ہیں۔ لیکن بعد میں مرزا قادیانی کو آتھم کے بارے میں ایک خصوصی الہام ہوا جس کے الفاظ یہ ہیں۔
”آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں (جو آتھم سے ہوئی تھی) دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان (حضرت عیسیٰ) کو خدا بتا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک ماہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ (جہنم) میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص حق پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیشین گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے ہو جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں ۔“
(جنگ مقدس ص ١٨٨، ١٨٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩١، ٢٩٢)
اس پیشین گوئی کے بارے میں مزید لکھتے ہیں: ”میں حیران تھا کہ اس بحث میں مجھے کیوں آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ (جہنم)
٧٠
میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھا ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ض کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں
اس پیشین گوئی میں مرزا قادیانی نے پوری آتھم نے حق کی طرف رجوع نہ کیا تو وہ پیشین گوئی کی گا، جہنم رسید ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ مرزا قادیانی اس لئے آتھم کے حق کی طرف رجوع کرنے کا صا تائب ہو کر مرزا قادیانی کے دین میں داخل نہ ہوئے کے مطابق پندرہ ماہ کے اندر مر جائیں گے اور طبعی مو میں پہنچیں گے۔
مگر افسوس مرزا قادیانی کی اس قدر اہم نہیں مرے۔ کافی لمبے عرصے تک زندہ رہے۔ پیشین تک جہنم رسید ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر وہ ٢٧؍ جولائی ١٨٩٦
(ہدایۃ المھتدی ص
پیشین گوئی کی میعاد پوری ہو جانے کے ساتھ امرتسر شہر میں جلوس نکالا اور لوگوں کو دکھایا کہ گوئی رکھی رہ گئی اور وہ بد نصیب لنگڑے، اندھے اور کو پیشین گوئی کے ظہور میں آنے کے ساتھ بشارت
اب اگر مرزا قادیانی کو اپنے دعوؤں کا اپنے کاذب اور فریبی ہونے کا کھلے عام اعتراف کر لئے پیش کر دیتے اور اعلان کرتے کہ میں جسے حرکات تھیں اور حق تعالیٰ کی بارگاہ بے نیاز میں مجھ سابقہ کردار پر ہزار بار لعنت بھیجتے اور دین کی صحیح راہ کیا اور وہ کر بھی نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ وہ کسی غلط فہمی ا
٧١
میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسا ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا، ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“
(جنگ مقدس ص ١٨٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
اس پیشین گوئی میں مرزا قادیانی نے پوری وضاحت کے ساتھ یہ یقین دلایا ہے کہ اگر آتھم نے حق کی طرف رجوع نہ کیا تو وہ پیشین گوئی کی تاریخ سے پندرہ مہینے کے عرصہ میں مرجائے گا۔ جہنم رسید ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ مرزا قادیانی حق پر خود کو اور اپنے متبعین ہی کو سمجھتے تھے۔ اس لئے آتھم کے حق کی طرف رجوع کرنے کا صاف مطلب یہی تھا کہ اگر وہ عیسائیت سے تائب ہو کر مرزا قادیانی کے دین میں داخل نہ ہوئے اور انہیں مسیح موعود نہ مانا تو لازماً پیشین گوئی کے مطابق پندرہ ماہ کے اندر مرجائیں گے اور طبعی موت نہیں مریں گے۔ بلکہ بسزائے موت جہنم میں پہنچیں گے۔
مگر افسوس مرزا قادیانی کی اس قدر اہم پیشین گوئی کے بعد بھی وہ پندرہ مہینے کے اندر نہیں مرے۔ کافی لمبے عرصے تک زندہ رہے۔ پیشین گوئی کے مطابق پادری آتھم کو ٥ ستمبر ١٨٩٤ء تک جہنم رسید ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر وہ ٢٧؍ جولائی ١٨٩٦ء میں مرے اور طبعی موت مرے۔
(ہدایۃ المھتدی عن غوایۃ المفتری ص ١٤١، مصنفہ مولانا عبد الغنی پٹالوی)
پیشین گوئی کی میعاد پوری ہو جانے کے بعد عیسائیوں نے آتھم کا بڑی دھوم دھام کے ساتھ امرتسر شہر میں جلوس نکالا اور لوگوں کو دکھایا کہ دیکھو آتھم زندہ ہے۔ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی رکھی رہ گئی اور وہ بدنصیب لنگڑے، اندھے اور بہرے بھی ٹھیک ہونے سے محروم رہ گئے۔ جن کو پیشین گوئی کے ظہور میں آنے کے ساتھ بشارت دی گئی تھی۔
اب اگر مرزا قادیانی کو اپنے دعوؤں کا پاس ہوتا تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ صاف طور پر اپنے کاذب اور فریبی ہونے کا کھلے عام اعتراف کرتے۔ اپنے آپ کو عوام کی عدالت میں سزا کے لئے پیش کر دیتے اور اعلان کرتے کہ میں جسے وحی سمجھتا تھا درحقیقت وہ وحی نہیں تھی۔ شیطانی حرکات تھیں اور حق تعالیٰ کی بارگاہ بے نیاز میں سجدہ ریز ہو کر اپنے گناہوں کا اقرار کرتے۔ اپنے سابقہ کردار پر ہزار بار لعنت بھیجتے اور دین کی صحیح راہ پر گامزن ہو جاتے۔ لیکن اس شخص نے ایسا نہیں کیا اور وہ کر بھی نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ وہ کسی غلط فہمی کا شکار تھا ہی نہیں۔ نہ اس پر کسی خبیث کا کوئی اثر
٧١
تھا۔ ورنہ حقیقت حال کھل جانے پر وہ لازماً تائب ہو گیا ہوتا۔ ہم اپنا خیال ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ ایک ذہین و فطین اور الحاد پسند آدمی تھا۔ جو کچھ وہ کر رہا تھا پوری طرح جان بوجھ کر کر رہا تھا۔ لوگوں کو بے وقوف بنانے اور اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے کر رہا تھا۔
مرزا قادیانی کے کرتب
پہلا کرتب
جب مرزا قادیانی نے دیکھ لیا کہ پادری آتھم ان کی پیشین گوئی کی مدت نکل جانے کے بعد بھی زندہ ہے جس سے لوگوں میں ان کی بری طرح رسوائی ہو رہی ہے اور اپنے لوگوں کے ٹوٹ جانے کا بھی خطرہ ہے۔ وہ سوالات بھی کر رہے ہیں تو آپ نے پینترا بدلا۔ فرمایا: ”میری مراد صرف آتھم سے نہیں بلکہ پوری جماعت سے ہے جو اس بحث میں اس کی معاون تھی۔“
(انوار الاسلام ص ٢، خزائن ج ١١ ص ٦)
لوگوں کو احمق بنانے کے لئے پیشین گوئی کو زبردستی وسعت دے کر پادریوں کی صفوں میں نظر دوڑانی شروع کر دی۔ اس عرصہ میں ایک پادری رائٹ مر گیا تھا۔ قدرت کا نظام ہے لوگ پیدا بھی ہوتے ہیں مرتے بھی رہتے ہیں۔ جیسے ہی رائٹ کا مرنا معلوم ہوا فوراً مرزا قادیانی پکار اٹھے کہ میری پیشین گوئی پوری ہو گئیں۔ پادری رائٹ مر گیا۔ ہاویہ میں جا گرا۔ اب کہئے! اسے عیاری نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے؟ پیشین گوئی کی گئی آتھم کے بارے میں۔ مراد لے لی جماعت۔ مر گیا رائٹ۔ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی پوری ہو گئی۔ بہت خوب۔ کیا کہنے ہیں نبی ظلی کی دیانت وصداقت کے۔
مرزا قادیانی کو چھوڑ دیجئے۔ وہ تو چٹ بھی اپنی اور پٹ بھی اپنی سے کام لے کر اپنا الو سیدھا کر رہے تھے۔ افسوس تو ان پر ہے جو قدرت کی عطا کی ہوئی سمجھ اور روشن آنکھوں سے صحیح کام نہ لے کر مرزا قادیانی کے ساتھ اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور اتنی کھلی ہوئی باتیں بھی انہیں غلط راہ سے نہیں ہٹا سکیں۔
دوسرا کرتب
سمجھے ہوں گے کہ شاید میری یہ توجیہہ لوگوں کو مطمئن نہ کر سکے۔ اس احساس سے دوسرا پینترا بدلا۔ فرمایا: ”پیشین گوئی میں یہ بھی تو ہے کہ اگر اس نے حق کی طرف رجوع نہ کیا۔“ اور اس نے رجوع الی الحق کر لیا تھا اسی لئے تو نہیں مرا۔ مزید فرمایا: ”پیشین گوئی نے اس کے دل پر اثر کیا
اور وہ پیشین گوئی کی عظمت کی وجہ سے دل میں موت کے غم
(اشتہار ہزاری ص الف، دو ہزاری ص ١، سہ ہزاری ص ٢، انوار
جب لوگوں نے کہا مرزا قادیانی! اس نے رجوع عیسائیت پر مضبوطی سے قائم ہے۔ تو ایک اور پینترا بدلا۔ ف کے دل میں موت کا ڈر پیدا ہوا جس سے وہ خدا کی طرف امرتسر سے باہر آتا جاتا رہا۔“
اہل نظر غور فرمائیں! پندرہ ماہ کے عرصہ میں کیا اس سے بھی زیادہ آ سکتے ہیں اور آتے رہتے ہیں۔ اگر پا دو چار دفعہ کہیں سفر میں چلا گیا تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جا سے ڈر کر امرتسر سے باہر بھاگا پھرتا رہا؟ اور پھر پیشین گوئی مرے گا۔ باہر چلا گیا تو نہیں مرے گا۔ اس میں تو صرف مر مدت میں کہیں بھی مر جاتا۔ پیشین گوئی سچی بھی جاتی۔
تیسرا کرتب
مرزا قادیانی جانتے تھے کہ پیشین گوئی پوری نہ ہے۔ ابھی تک کوئی بات ڈھنگ کی نہیں بنی۔ اس لئے آس اثر دینا چاہا کہ آتھم اگرچہ عیسائیت پر قائم ہے مگر دلی طور میری پیشین گوئی کے بعد سے اس نے عیسائیت کے لئے اس مباحثہ کے بعد میری پیشین گوئی کے ڈر سے عیسائیت بس یہی اس کے رجوع کی علامت ہے۔“
درانحالیکہ آتھم عیسائیت کی حمایت میں حسب عیسائیت کی حمایت ہی میں لکھا بلکہ خود مرزا قادیانی کی فریب آخری دنوں تک پردے اٹھاتا رہا۔ اسے دجال، کذاب کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلنے والے اس صورتحال کو کیا دجال کہنے والا شخص بھی ان کی نظر میں رجوع الی الحق کئے گوئی کی سخت مار سے بچ گیا۔
در حقیقت اس پیشین گوئی کے سراسر غلط ثابت
اور وہ پیشین گوئی کی عظمت کی وجہ سے دل میں موت کے غم سے شہر شہر مارا پھرتا رہا۔"
(اشتہار ہزاری ص الف، دو ہزاری ص ١، سہ ہزاری ص ٢، انوارالاسلام، خزائن ج ٩ ص ٥٦، ٦٣، ٦٤ ملخص)
جب لوگوں نے کہا مرزا قادیانی! اس نے رجوع الی الحق کیا کہاں۔ وہ تو آج تک عیسائیت پر مضبوطی سے قائم ہے۔ تو ایک اور پینترا بدلا۔ فرمایا: "میری پیشین گوئی کے بعد اس کے دل میں موت کا ڈر پیدا ہوا جس سے وہ خدا کی طرف رجوع ہوا اور اس نے ڈرا۔ اسی لئے امرتسر سے باہر آتا جاتا رہا۔"
(انوارالاسلام ص ١٠، خزائن ج ٩ ص ١٠ ملخص)
اہل نظر غور فرمائیں! پندرہ ماہ کے عرصہ میں کیا کسی کو دو چار سفر پیش نہیں آسکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ آسکتے ہیں اور آتے رہتے ہیں۔ اگر پادری آتھم بھی اپنی کسی ضرورت سے دو چار دفعہ کہیں سفر میں چلا گیا تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے گا کہ وہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی سے ڈر کر امرتسر سے باہر بھاگا۔ پھرتا رہا؟ اور پھر پیشین گوئی میں یہ کہاں ہے کہ وہ امرتسر میں رہا تو مرے گا۔ باہر چلا گیا تو نہیں مرے گا۔ اس میں تو صرف مرنے کی بات ہے۔ وہ پندرہ ماہ کی متعینہ مدت میں کہیں بھی مر جاتا۔ پیشین گوئی سچی سمجھی جاتی۔
تیسرا کرتب
مرزا قادیانی جانتے تھے کہ پیشین گوئی پوری نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال زیادہ بگڑ گئی ہے۔ ابھی تک کوئی بات ڈھنگ کی نہیں بنی۔ اس لئے آپ نے ایک نیا پینترا بدلا اور لوگوں کو یہ اثر دینا چاہا کہ آتھم اگرچہ عیسائیت پر قائم ہے مگر دلی طور سے وہ حق کی طرف مائل ہو گیا ہے اور میری پیشین گوئی کے بعد سے اس نے عیسائیت کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔ کہتے ہیں: ”اس نے اس مباحثہ کے بعد میری پیشین گوئی کے ڈر سے عیسائیت کی حمایت میں ایک سطر بھی نہیں لکھی۔ بس یہی اس کے رجوع کی علامت ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٤)
درانحالیکہ آتھم عیسائیت کی حمایت میں حسب طاقت برابر لکھتا رہا۔ اس نے نہ صرف عیسائیت کی حمایت ہی میں لکھا بلکہ خود مرزا قادیانی کی فریب کارانہ حرکتوں پر سے بھی وہ زندگی کے آخری دنوں تک پردے اٹھاتا رہا۔ اسے دجال، کذاب اور فریب کار تک لکھتا رہا۔ مرزا قادیانی کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلنے والے اس صورتحال کو کیا کہیں گے؟ کیا مرزا قادیانی کو جھوٹا اور دجال کہنے والا شخص بھی ان کی نظر میں رجوع الی الحق کئے ہوئے ہے؟ جس کی وجہ سے وہ پیشین گوئی کی سخت مار سے بچ گیا۔
در حقیقت اس پیشین گوئی کے سراسر غلط ثابت ہو جانے سے مسیح موعود اور نبی ظلی ذات
کو شدید دھکا پہنچا۔ اس کا قصر نبوت سارا کا سارا زمین پر آ رہا۔ وہ چالاک ترین آدمی ہونے کے باوجود گھبرا گیا اور اس گھبراہٹ میں ایک سے ایک لچر اور بے تکی بات کہہ گیا۔
ایک جگہ کہتے ہیں: ”آتھم نے جلسہ مباحثہ میں ستر معزز آدمیوں کے روبرو آنحضرتﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کیا اور پیشین گوئی کی بناء یہی تھی کہ اس نے آپﷺ کو دجال کہا تھا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٦ حاشیہ)
قارئین غور فرمائیں ! اس پیشین گوئی میں کسی رخ سے بھی آنحضرتﷺ کا ذکر نہیں۔ اس میں تو یہ ہے کہ جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ پندرہ مہینے کے اندر ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔ مرزا قادیانی کو اس پیشین گوئی نے دراصل ایک ایسے موڑ پر کھڑا کر دیا تھا جہاں انہیں کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا اور وہ بوکھلائے ہوئے تھے۔
مرزا قادیانی کی الٹی منطق
پیشین گوئی کی مدت میں آتھم کے جہنم رسید نہ ہونے کی ایک طرف تو وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اس نے رجوع الی الحق کر لیا تھا۔ اسی لئے وہ پیشین گوئی کی مار سے بچ نکلا۔ دوسری طرف مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”وہ ہاویہ میں مبتلا رہا۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ موت کے ڈر سے پریشان حال رہا۔ امرتسر سے گھبراہٹ میں ادھر ادھر بھاگا پھرا۔ اس کا سکون غارت ہو گیا اور یہی ہاویہ ہے۔“ آگے لکھتے ہیں: ”ہماری پیشین گوئی کے الہامی الفاظ پڑھو اور ایک طرف اس کے مصائب کو جانچو جو اس پر وارد ہوئے تو تمہیں کچھ بھی اس بات میں شک نہیں ہوگا کہ وہ بے شک ہاویہ میں گرا۔ ضرور گرا اور اس کے دل پر وہ رنج وغم اور بدحواسی اس طرح وارد ہوئی جس کو ہم آگ کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہہ سکتے۔“
(انوار الاسلام ص ٧، خزائن ج ٩ ص ٧)
اب مرزا قادیانی تو ہیں نہیں جو ان سے پوچھے کہ یہ کیا الٹی منطق ہے کہ ایک طرف تو اس پر زور دیا جا رہا ہے کہ آتھم نے رجوع الی الحق کر لیا تھا۔ دوسری طرف یوں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ ہاویہ (جہنم) میں گرا۔ ضرور گرا۔ معلوم نہیں کہ وہ کم بخت حق کے ساتھ ہاویہ میں کیسے گر گیا؟
مولانا محمد حسین وغیرہ سے متعلق پیشین گوئی
یہ پیشین گوئی مولانا محمد حسین بٹالوی اور ان کے دو ساتھیوں کے لئے کی گئی تھی جو مرزا قادیانی کے لئے ایک بھاری آفت بنے ہوئے تھے۔ جن کے سامنے مرزائی ساری مکاریاں ناکام ہو رہی تھیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی اس الہامی پیشین گوئی کو بھی فیصلہ کن اور حق
٧٤
وباطل کا معیار قرار دیا تھا۔ اپنے متوسلین کو معصومانہ انداز اپنی جماعت کے لئے خصوصاً یہ اشتہار شائع کرتا ہوں ک ٢١ نومبر ١٨٩٥ء کو بطور مباہلہ شیخ محمد حسین بٹالوی صاح گیا ہے جس کی میعاد ١٥؍ جنوری ١٩٠٠ء میں ختم ہوگی او ہوں کہ وہ طریق تقویٰ پر پنجہ مار کر یاوہ گوئی کے مقابلہ گالیاں نہ دیں۔ وہ بہت کچھ ٹھٹھا اور ہنسی سنیں گے۔ ج رہیں اور تقویٰ اور نیک بختی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فیص خدا تعالیٰ کی نظر میں قابل تائید ہوں تو صلاح اور تقویٰ عدالت کے سامنے مسل مقدمہ ہے جو کسی کی رعایت ن کرتی۔ جب تک انسان عدالت کے کمرے سے باہ مگر اس شخص کے جرم کا مواخذہ بہت سخت ہے جو م ارتکاب جرم کرتا ہے۔ اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں ا نرمی اور تواضع اور صبر و تقویٰ اختیار کرو اور خدا تعالیٰ ک فرماوے۔“
اب مرزا قادیانی کا مندرجہ ذیل اشتہار پ کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین بٹالوی میں آپ فیصلہ کر ذوالجلال پروردگار اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذل بٹالوی نے اپنے رسالہ ”اشاعۃ السنۃ“ میں بار بار مجھ ک ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوال کو چھوڑا ہے میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا میں ایسا ہی ذلیل ہوں تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر یعنی ذلت کی مار وارد کر اور ان لوگوں کی عزت اور وجاہ فرما۔ لیکن اگر میرے آقا میرے مولا میرے منعم م اور میں جانتا ہوں تیری جناب میں میری کچھ عزت مہینوں میں جو ١٥؍ دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥؍ جنوری ١ جعفر زٹلی اور متقی مذکور کو جنہوں نے میرے ذلیل ک
٥
و باطل کا معیار قرار دیا تھا۔ اپنے متوسلین کو معصومانہ انداز میں ہدایات دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”میں اپنی جماعت کے لئے خصوصاً یہ اشتہار شائع کرتا ہوں کہ وہ اس اشتہار کے نتیجہ کے منتظر رہیں کہ ٢١؍ نومبر ١٨٩٩ء کو بطور مباہلہ شیخ محمد حسین بٹالوی صاحب اور اس کے دو رفیقوں کی نسبت شائع کیا گیا ہے جس کی میعاد ١٥؍ جنوری ١٩٠٠ء میں ختم ہوگی اور میں اپنی جماعت کو چند لفظ بطور نصیحت کہتا ہوں کہ وہ طریق تقویٰ پر پنجہ مار کر یاوہ گوئی کے مقابلہ پر یاوہ گوئی نہ کریں اور گالیوں کے مقابلہ پر گالیاں نہ دیں۔ وہ بہت کچھ لغو اور ہنسی سنیں گے۔ جیسا کہ سن رہے ہیں۔ مگر چاہئے کہ خاموش رہیں اور تقویٰ اور نیک بختی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فیصلہ کی طرف نظر رکھیں۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں قابل تائید ہوں تو صلاح اور تقویٰ اور صبر کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ اب اس عدالت کے سامنے مسل مقدمہ ہے جو کسی کی رعایت نہیں کرتی اور گستاخی کے طریقوں کو پسند نہیں کرتی۔ جب تک انسان عدالت کے کمرے سے باہر ہے اگرچہ اس کی بدی کا بھی مواخذہ ہے۔ مگر اس شخص کے جرم کا مواخذہ بہت سخت ہے جو عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر بطور گستاخی ارتکاب جرم کرتا ہے۔ اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی عدالت کی توہین سے ڈرو اور نرمی اور تواضع اور صبر و تقویٰ اختیار کرو اور خدا تعالیٰ سے چاہو کہ وہ تم میں اور تمہاری قوم میں فیصلہ فرمادے۔“
(رازِ حقیقت ص ٢١، خزائن ج ١٤ ص ١٥٢، ١٥٣)
اب مرزا قادیانی کا مندرجہ ذیل اشتہار ملاحظہ فرمائیے: ”میں نے خدا سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین بٹالوی میں آپ فیصلہ کرے اور وہ دعا جو میں نے کی ہے یہ ہے کہ اے ذوالجلال پروردگار اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل اور جھوٹا اور مفتری ہوں جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ ’اشاعۃ السنہ‘ میں بار بار مجھ کو کذاب اور دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن فتیحی نے اس اشتہار میں جو ١٠؍ نومبر ١٨٩٧ء کو چھاپا ہے میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا تو اے میرے مولا! اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل ہوں تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر یعنی ١٥؍ دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥؍ جنوری ١٩٠٠ء تک ذلت کی مار وارد کر اور ان لوگوں کی عزت اور وجاہت ظاہر کر اور اس روز روز کے جھگڑے کا فیصلہ فرما۔ لیکن اگر میرے آقا میرے مولا میرے منعم! میری ان نعمتوں کے دینے والے جو تو جانتا ہے اور میں جانتا ہوں تیری جناب میں میری کچھ عزت ہے تو میں عاجزی سے دعا کرتا ہوں کہ ان تیرہ مہینوں میں جو ١٥؍ دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥؍ جنوری ١٩٠٠ء تک شمار کئے جائیں گے شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور فتیحی مذکور کو جنہوں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے یہ اشتہار لکھا ہے ذلت کی مار سے
٧٥
دنیا میں رسوا کر۔ غرض اگر یہ لوگ تیری نظر میں سچے اور متقی اور پرہیزگار اور میں کذاب اور مفتری ہوں تو مجھے ان تیرہ مہینوں میں ذلت کی مار سے تباہ کر اور اگر تیری جناب میں مجھے وجاہت اور عزت ہے تو میرے لئے یہ نشان ظاہر فرما کر ان تینوں کو ذلیل اور رسوا اور ”ضربت علیہم الذلۃ“ کا مصداق کر۔“
آگے لکھتے ہیں: ”یہ دعا تھی جو میں نے کی۔ اس کے جواب میں الہام ہوا کہ میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کروں گا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹیں گے ١؎“۔
اس کے بعد یہ الہام ہوا اور کچھ الہامات عربی میں ہوئے۔ کہتے ہیں: ”یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے جس کا ماحصل یہی ہے کہ ان دونوں فریق میں سے جن کا ذکر اس اشتہار میں ہے یعنی یہ خاکسار ایک طرف شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور مولوی ابوالحسن بٹی ، دوسری طرف خدا کے حکم کے نیچے ہیں۔ ان میں سے جو کاذب ہے وہ ذلیل ہوگا۔ یہ فیصلہ چونکہ الہام کی بناء پر ہے اس لئے حق کے طالبوں کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو کر ہدایت کی راہ ان پر کھولے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٠، ٦١)
مرزا قادیانی نے عاجزانہ اور دل کش انداز میں اپنے متبعین کو ہدایات دے کر اپنی پیشین گوئیوں کے برحق ہونے پر اور اپنے نصب العین کو صداقت پر جمانے کی سعی کی ہے۔ بہر کیف وہ کوئی بھی انداز اختیار کریں۔ ہمیں اس سے یہاں کوئی بحث نہیں۔ بحث ان کی پیشین گوئیوں سے ہے۔ یہ بات تو قارئین کے سامنے آ ہی گئی کہ مرزا قادیانی اپنی ان پیشین گوئیوں کو اپنے صادق یا کاذب ہونے کا معیار قرار دے رہے ہیں اور پوری قوت کے ساتھ یہ حقیقت ذہن نشین کرا رہے ہیں کہ اگر یہ پیشین گوئیاں اپنی اپنی جگہ صحیح اور حق ثابت ہوئیں تو مجھے دوسری باتوں میں بھی صادق تسلیم کیا جائے۔ عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ ورنہ ہر جہت سے کاذب ، مفتری اور جھوٹا سمجھا جائے۔ یہ پیشین گوئیاں کیونکہ بہت زور دار دعوؤں کے ساتھ کی گئی تھیں۔ اس لئے ان کے ناسمجھ متبعین نے بھی خوب دل کھول کر پروپیگنڈہ کیا اور بے قراری کے ساتھ ان کے وقوع پذیر ہونے کا انتظار کیا جانے لگا۔
١؎ ہاتھ کاٹنے سے مراد یہ ہے کہ جن ہاتھوں سے ظالم نے جو حق پر نہیں ہے ناجائز تحریر کا کام لیا وہ ہاتھ اس کی حسرت کا موجب ہوں گے۔ وہ افسوس کرے گا کہ کیوں یہ ہاتھ ایسے کام پر چلے۔ (مرزا)
٧٦
الہام مرزا کے بموجب یہ فیصلہ قطعی اور آخری فیصلہ ہونا چاہئے تھا ان کے چیلے مرزا قادیانی کو تو حق ہی پر جانتے تھے۔ وہ شدت سے منتظر تھے کہ اب دیکھئے پیشین گوئی زدہ لوگوں کا کیا حشر بنتا ہے۔ مگر وہ نیک حضرات کیونکہ حق پر تھے اور ان کے سینے ختم نبوت کے صحیح عقیدے کی روشنی سے منور تھے اس لئے ان کا کچھ بھی نہیں بگڑا۔ خود مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کی موجیں ان کے ساحل ایمان سے ٹکرا کر فضا میں تحلیل ہو گئیں۔ وہ نیک دل اور مخلص حضرات ہر طرح بعافیت رہے۔ ملت اسلامیہ میں ان کی عزت افزائی ہوئی۔ البتہ مرزا قادیانی کی رسوائیوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ مگر وہ بزبان خود مسیح موعود اور نبی ظلی ایسے کہاں تھے جو حقائق کو تسلیم کر لیتے۔ حقائق سے تو ان کو الرجی ہوتی تھی۔
پیشین گوئی کے تیرہ ماہ کے اندر تو کیا، کئی سال بعد تک بھی جب مرزا قادیانی کے مقابل لوگوں پر کوئی آفت نہ آئی اور نہ کوئی افتاد پڑی تو مرزا قادیانی نے اپنی دیرینہ عادت کے مطابق اسی فن کاری سے کام لیا۔ جس کا مظاہرہ وہ پہلے سے کرتے آ رہے تھے۔ پیشین گوئی کا نشانہ بنائے جانے والوں کے خلاف کفر کا فتویٰ جڑ دیا اور شور مچا دیا کہ میری پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ وہ ذلیل ہو گئے۔
ان پر کفر کا فتویٰ لگ گیا۔ نیز یہ کہ اس اثناء میں محمد حسین کو کافی زمین ملی ہے۔ وہ زمیندار ہو گیا ہے۔ یہ بھی ہماری پیشین گوئی کے سچی ہو جانے کا بین ثبوت ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ زمین کا ملنا تو خوشحالی کی علامت ہے اور جسے انعام خداوندی کہنا چاہئے اس میں تو ان کی عزت ہی بڑھی، ذلت تو نہ ہوئی۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔ ہاں اگر زمین ناجائز طور پر یا ظالمانہ انداز میں حاصل کی گئی ہے تو آپ کی بات کسی حد تک ٹھیک کہی جاسکتی ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے یا پھر آپ ثابت کیجئے۔
اس پر فرمایا گیا وہ زمین ملنے سے زمیندار ہو گیا ہے جو ذلت ہے۔ کیونکہ جس گھر میں کھیتی کے آلات داخل ہوں وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔ یہ ہیں مرزا قادیانی بہادر کی توجیہات اور ان کے بھاری اور معقول دلائل اور یہ تھیں نبی ظلی کی الہامی پیشین گوئیاں۔ یہی حال ان کے تمام الہامات کا ہے اور یہی معجزات کا وہ اپنے معجزات کی تعداد بڑے فخر کے ساتھ تین لاکھ بتاتے ہیں۔ لیکن وہ جنہیں معجزات کہتے ہیں وہ اس تعداد سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی جاہل عقیدت مند نے ایک روپیہ مرزا قادیانی کی نذر کر دیا تو فرمایا: ”میرے دل میں یہ بات آئی تھی ۔“ بس ایک
٧٧
معجزہ ہو گیا۔ اسی طرح اگر کسی سے پانچ دس ہزار روپے ٹھگ لئے تو فی روپیہ ایک معجزہ کے حساب سے اتنی ہی معجزات تیار ہو گئے۔ ان کے قلم سے غلط سلط عربی میں یا اردو میں کوئی شعر یا غزل وغیرہ نکل گئی تو اس کے تمام حروف و الفاظ معجزات بن گئے۔
پنڈت لیکھرام سے متعلق پیشین گوئی
یہ پنڈت لیکھرام وہی ہے جن کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ ان سے متعلق پیشین گوئی کے بارے میں جو اشتہار مرزا قادیانی کی طرف سے منظر عام پر آیا تھا وہ ذیل میں درج کیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے : ”واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شائع کیا گیا تھا اندرمن مراد آبادی اور لیکھرام پشوری کو اس بات کی دعوت دی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو ان کی قضا وقدر کی نسبت بعض پیشین گوئیاں شائع کی جائیں۔ سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا۔ لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشین گوئی چاہو شائع کر دو۔ میری طرف سے اجازت ہے۔ سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ ”عجل جسد له خوار له نصب وعذاب“ یعنی ایک بچھڑا گوسالہ ہے جس کے اندر سے مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بد زبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقرر ہے۔ جو ضرور اس کو مل کر رہے گا اور اس کے بعد آج ٢٠؍فروری ١٨٩٣ء روز دوشنبہ ہے۔ اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ٢٠؍فروری ١٩٠٣ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بد زبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں کی ہیں۔ عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سو اب میں اس پیشین گوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نہ نازل ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو۔ تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا نطق ہے اور میں اس پیشین گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسا ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جاوے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشین گوئی میں جھوٹا نکلنا جو تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے زیادہ اس سے کیا لکھوں ۔“
(سراج منیر ص ١٢، خزائن ج ١٢ ص ١٤، ١٥)
٧٨
قارئین ! خاص طور پر یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ کی موت کے بارے میں نہیں ہے۔ بلکہ خرق عادت کے طور بارے میں ہے جس کا تعلق زندگی سے ہے۔ یعنی اس کی زند نازل ہوگا۔ چھ سال پورے ہونے لگے اور لیکھرام پر کوئی الہ پر کوئی عذاب نازل ہوا۔ جس کو لے کر مرزا قادیانی لوگوں کو پوری ہو رہی ہے۔ وہ کس طرح عذاب میں مبتلا ہے۔ مرزا تھے۔ انہیں اپنی پیشین گوئی کی دلدل سے نکلنے کا کوئی موقع نہ ان کے ایک دشمن نے چھرا گھونپ کر ان کو مار ڈالا۔ مرزا قا صورتحال کو پیشین گوئی کے سچی ثابت ہونے کے ثبوت میں موت کی پیشین گوئی تھی ہی نہیں۔ پیشین گوئی ایک بار پھر کہ لیکھرام اتنی مدت میں قتل کر دیا جائے گا تو پھر مرزا قادیا
مرزا قادیانی نے یہاں مسلمانوں کی ہمدردیاں کوشش کی ہے کہ لیکھرام نے آنحضرت ﷺ کی شان می میں نے اس کے لئے یہ پیشین گوئی کی ہے۔ ہم یہ نہیں کہ گئی، کی ہوں گی۔ اس پر اس کی جس قدر بھی مذمت کی حمایت ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ دکھانا مقصود ہے کہ غلام احمد قاد غلطی بتا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ مجس سوا کچھ نہیں ۔ آنحضرت ﷺ کی اور حق تعالی کی شان م آخری لمحوں تک کرتے رہے ہیں اور بڑی ڈھٹائی کے نے ارشاد فرمایا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مرزا اللہ تعالیٰ نے فرمایا محمد خاتم النبیین ہیں۔ مرزا قادیانی ن یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلانے کا صریح ارتکاب
مرزا احمد بیگ، ان کے داماد اور آسمانی نکاح
پادری آتھم کے بارے میں مرزا قادیانی مولانا محمد حسین اور ان کے ساتھیوں سے متعلق پیشین گ لیکھرام کے لئے جو پیشین گوئی فرمائی گئی تھی وہ بھی جھو
٧٩
قارئین! خاص طور پر یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ مرزا قادیانی کی یہ پیشین گوئی لیکھرام کی موت کے بارے میں نہیں ہے۔ بلکہ خرق عادت کے طور پر کسی بھاری اور عبرت ناک عذاب کے بارے میں ہے جس کا تعلق زندگی سے ہے۔ یعنی اس کی زندگی میں اس پر کوئی ہیبت ناک عذاب نازل ہوگا۔ چھ سال پورے ہونے لگے اور لیکھرام پر کوئی افتاد نہیں پڑی اور نہ خرق عادت کے طور پر کوئی عذاب نازل ہوا۔ جس کو لے کر مرزا قادیانی لوگوں کو باور کرا سکتے کہ دیکھو ہماری پیشین گوئی پوری ہو رہی ہے۔ وہ کس طرح عذاب میں مبتلا ہے۔ مرزا قادیانی اور ان کے ہمنوا سخت پریشان تھے۔ انہیں اپنی پیشین گوئی کی دلدل سے نکلنے کا کوئی موقع نہیں مل رہا تھا۔ اتفاق سے اسی اثناء میں ان کے ایک دشمن نے چھرا گھونپ کر ان کو مار ڈالا۔ مرزا قادیانی نے اس سے فائدہ اٹھایا اور اس صورتحال کو پیشین گوئی کے سچی ثابت ہونے کے ثبوت میں پیش کر دیا۔ جب کہ لیکھرام کے متعلق موت کی پیشین گوئی تھی ہی نہیں۔ پیشین گوئی ایک بار پھر پڑھ لیجئے۔ ہاں! اگر پیشین گوئی یہ ہوتی کہ لیکھرام اتنی مدت میں قتل کر دیا جائے گا تو پھر مرزا قادیانی کو کچھ کہنے کا حق حاصل ہو سکتا تھا۔
مرزا قادیانی نے یہاں مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ لیکھرام نے آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کی تھی۔ اس لئے میں نے اس کے لئے یہ پیشین گوئی کی ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ لیکھرام نے گستاخیاں نہیں کی ہوں گی، کی ہوں گی۔ اس پر اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ ہمارا مقصد لیکھرام کی حمایت ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ دکھانا مقصود ہے کہ غلام احمد قادیانی جو خود کو مامور من اللہ، مسیح موعود اور نبی ظلی بتا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ مجسم جھوٹ اور سراپا مکر وفریب ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ آنحضرت ﷺ کی اور حق تعالیٰ کی شان میں گستاخیاں تو خود مرزا قادیانی زندگی کے آخری لمحوں تک کرتے رہے ہیں اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مرزا قادیانی نے کہا آئے گا اور وہ میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا محمد خاتم النبیین ہیں۔ مرزا قادیانی نے کہا نہیں۔ نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ کیا یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلانے کا صریح ارتکاب نہیں ہے؟
مرزا احمد بیگ، ان کے داماد اور آسمانی نکاح کے بارے میں پیشین گوئی
پادری آتھم کے بارے میں مرزا قادیانی کی زور دار پیشین گوئی قطعاً غلط ثابت ہوئی۔ مولانا محمد حسین اور ان کے ساتھیوں سے متعلق پیشین گوئی کا جو حشر بنا وہ سامنے آ چکا ہے۔ پنڈت لیکھرام کے لئے جو پیشین گوئی فرمائی گئی تھی وہ بھی جھوٹی ہو کر ان کی رسوائی کا باعث بنی۔ اب یہ
٧٩
پیشین گوئی ایک مسلمان شخص مرزا احمد بیگ کے بارے میں ہے۔ تنہا احمد بیگ کے بارے میں نہیں ۔ ان کے داماد اور بیٹی کے لئے بھی ہے۔ جس سے شادی کرنے کے لئے مرزا قادیانی بے تاب تھے۔ سابقہ پیشین گوئیوں کی طرح بلکہ ان سے زیادہ مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کو معرکۃ الآراء عظیم الشان اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن قرار دیا تھا۔ لیکن دوسری پیشین گوئیوں کی طرح یہ بھی مرزا قادیانی اور ان کی پوری جماعت کے لئے انتہائی رسوا کن ثابت ہوئی۔ ہم واقعات کی صاف روشنی میں اس کا جائزہ پیش کر رہے ہیں۔ پیشین گوئی پڑھنے سے قبل اچھا ہے کہ آپ ایک نظر اس کے پس منظر کو بھی دیکھ لیں۔
اس پیشین گوئی کی اصل وجہ یہ تھی کہ مرزا احمد بیگ نے جو غلام احمد کے قریبی عزیز تھے لیکن ان کی گمراہیوں سے متنفر تھے۔ اپنے کسی معاملہ میں مرزا قادیانی سے اخلاقی تعاون چاہا۔ مرزا قادیانی نے فرمایا ۔ اس وقت تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ تم پھر کسی وقت آنا۔ احمد بیگ دوسرے وقت پہنچے۔ مرزا قادیانی نے کہا۔ مجھے الہام ہوا ہے کہ میں تمہاری بیٹی (محمدی بیگم) سے نکاح کر لوں اور یہ نکاح مقدر ہو چکا ہے۔ لہٰذا میں اس کے لئے تمہارے سے درخواست کرتا ہوں کہ تم اس رشتہ کو قبول کرلو۔ اس سے تمہیں بہت فائدہ پہنچے گا۔ مرزا قادیانی نے اس غریب عزیز کی مجبوری سے بیجا طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ یہ وہ مذموم اور خود غرضانہ حرکت تھی جس سے ایک حساس معاشرہ میں ہمیشہ نفرت وغصہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ احمد بیگ ایک غیور آدمی تھے۔ انہیں مرزا قادیانی کی یہ سودے والی بات ناگوار گذری اور گذرنی ہی چاہئے تھی۔ انہوں نے بڑی حقارت سے اس رشتہ کو ٹھکرا دیا۔ مرزا قادیانی کی دلی تمنا تھی کہ وہ کسی بھی طرح محمدی بیگم کو حاصل کر لیں۔ انہوں نے احمد بیگ کے صاف انکار کے بعد بھی کوششیں جاری رکھیں۔ خطوط لکھے۔ سفارشیں کرائیں۔ جب کسی صورت بات نہ بنی تو پیشین گوئی کی دھونس دی اور بالآخر پیشین گوئی کر ہی دی۔ اس دھونس سے ان کا منشا یہی تھا کہ احمد بیگ اور ان کی اہلیہ جو اس معاملہ میں بہت سخت ہو گئی تھیں۔ خوفزدہ ہو کر اپنی چہیتی بیٹی کو بوڑھے اور جھوٹے نبی مرزا غلام احمد کے حوالہ کر دیں۔ احمد بیگ کے ہونے والے داماد پر غصہ رقابت کی آگ تھی۔
اب مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کے الفاظ بغور پڑھئے! لکھتے ہیں: ”اس خدائے قادر وحکیم مطلق نے مجھے فرمایا ہے کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کرو اور ان کو کہہ دو کہ تمام سلوک ومروت تم سے اسی شرط سے کیا جاوے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام رحمتوں اور برکتوں سے
حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء میں درج ہیں کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس خا آئیں گے۔“
آگے لکھتے ہیں: ”پھر ان دنوں جو زیادہ تر معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے جو مقرر کر رکھا ہے وہ مکتوب گئی تھی ہر ایک دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز مسلمان بنادے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلا دے گا
(مورخہ ١٠؍جولائی
اس پیش گوئی میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کردیا گیا تو نکاح کی تاریخ سے تین سال کے اندر اس کا شوہر دونوں موت کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ یہ میں منعقد ہوا اور وہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کے گے۔ مرزا قادیانی ہی کے الفاظ پڑھئے۔ وہ میعاد
خزائن ج ٦ ص ٢٧٥) میں لکھتے ہیں: ”٢١؍ستمبر ١٨٩٣ ان کے لکھنے کے مطابق ٢١؍اگست ١٨ محمدی بیگم کے شوہر کو زندہ نہیں رہنا چاہئے تھا۔ مگر وہ گھریلو تعلقات کی خوشگوار فضا میں زندہ رہا۔ اس عرصہ گیا ہوتا یا میاں بیوی کے باہمی تعلقات میں کچھ تلخی اٹھتے کہ ہماری پیشین گوئی سچی ہو گئی۔ دیکھ لو احمد ہمارے نزدیک خود موت کے مترادف ہے۔
قارئین غور فرمائیں! پیشین گوئی میں سال کے اندر ختم ہو جائے گا۔ جب کہ وہ نکاح سے کے گھر پر تفرقہ، تنگی اور مصیبت پڑے گی۔ ان دنوں میں تھا کہ درمیانی زمانہ میں محمدی بیگم غم و رنج میں
٨٠
حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جاوے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جاوے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔‘‘
آگے لکھتے ہیں: ’’پھر ان دنوں جو زیادہ تضرع اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے جو مقرر کر رکھا ہے وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنادے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلا دے گا۔‘‘
(مورخہ ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٥٧، ١٥٨)
اس پیش گوئی میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر محمدی بیگم کا نکاح دوسرے کسی شخص سے کر دیا گیا تو نکاح کی تاریخ سے تین سال کے اندر احمد بیگ اور ان کا ہونے والا داماد یعنی محمدی بیگم کا شوہر دونوں موت کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ یہ جاننے کے لئے کہ محمدی بیگم کا نکاح کس تاریخ میں منعقد ہوا اور وہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کے مطابق کب تک موت کے منہ میں جائیں گے۔ مرزا قادیانی ہی کے الفاظ پڑھئے۔ وہ میعاد کے متعلق اپنے رسالہ (شہادت القرآن ص٨٠، خزائن ج٦ ص٣٧٥) میں لکھتے ہیں: ’’٢١؍ ستمبر ١٨٩٣ء سے قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی تھی۔‘‘
ان کے لکھنے کے مطابق ٢١؍ اگست ١٨٩٤ء کے بعد ایک دن بھی احمد بیگ کے داماد محمدی بیگم کے شوہر کو زندہ نہیں رہنا چاہئے تھا۔ مگر وہ زندہ رہا اور صحت وعافیت کے ساتھ زندہ رہا۔ گھریلو تعلقات کی خوشگوار فضا میں زندہ رہا۔ اس عرصہ میں اگر کہیں وہ بیمار ہو گیا تو یا کسی سفر میں چلا گیا ہوتا یا میاں بیوی کے باہمی تعلقات میں کچھ تلخیاں پیدا ہو گئی ہوتیں تو مرزا قادیانی جھٹ پکار اٹھتے کہ ہماری پیشین گوئی سچی ہو گئی۔ دیکھ لو احمد بیگ کا داماد کس حالت میں ہے اور یہ حالت ہمارے نزدیک خود موت کے مترادف ہے۔
قارئین غور فرمائیں! پیشین گوئی میں کہا گیا تھا کہ احمد بیگ کا داماد نکاح کے بعد تین سال کے اندر ختم ہو جائے گا۔ جب کہ وہ نکاح کے بعد آٹھ نو سال تک زندہ رہا۔ کہا گیا تھا کہ ان کے گھر پر تفرقہ، تنگی اور مصیبت پڑے گی۔ ان میں سے کوئی بات بھی پیش نہیں آئی۔ پیشین گوئی میں تھا کہ درمیانی زمانہ میں محمدی بیگم غم ورنج میں مبتلا ہوگی۔ ایسا بھی نہیں ہوا۔ پیشین گوئی میں یہ
٨١
بھی تھا کہ انجام کار محمدی بیگم اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ جب کہ زندگی بھر حضور اسی حسرت میں تڑپتے رہے۔ محمدی بیگم سے نکاح تو کیا ہوتا اس کی شکل بھی نہیں دیکھ سکے اور بیچارے نبی ظلی اسی نامرادی میں ذلتوں کا بھاری بوجھ سر پر رکھ کر دنیا سے سدھار گئے اور آنجہانی بن گئے۔ ہم مرزا قادیانی کا ایک خط جو انہوں نے مولانا ثناء اللہ صاحب کو لکھا تھا پیش کر رہے ہیں۔ اسے غور سے پڑھئے!
مرزا قادیانی بنام مولانا ثناء اللہ صاحب ...... آخری فیصلہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم یسئلونک احق ھو قل ای وربی انہ لحق بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علیٰ من اتبع الھدیٰ!
مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب، تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور دجال اور کذاب ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کرتے اور دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔
یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی نہیں محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک! اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض
٨٢
میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک۔ میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین!
مگر اے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں ۔ تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ منصبی فرض سمجھ کر ہمیشہ مجھ کو دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین!
میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے تمام دنیا میں میری نسبت یہ بات مشہور کر دی اور یہاں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص (مرزا قادیانی) نرا کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا برا آدمی ہے۔
میں دیکھتا ہوں مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک! تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔
بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
(اشتہار مورخہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٠)
خدا کی قدرت اور مقام عبرت دیکھئے کہ مولانا ثناء اللہ امرتسری تو ایک طویل عرصہ تک بعافیت زندہ رہے اور بوڑھے ہو جانے کے باوجود قادیانیوں کا تعاقب کرتے رہے مگر مرزا قادیانی بہادر اپنے اس اشتہار کے ایک ہی سال بعد ہیضہ میں مبتلا ہو کر ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو
٨٣
میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک ۔ میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین!
مگر اے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں۔ تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر، مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بد زبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ منصبی فرض سمجھ کر ہمیشہ مجھ کو دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین!
میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بد زبانی حد سے گذر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دیسوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص (مرزا قادیانی) در حقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا برا آدمی ہے۔
میں دیکھتا ہوں مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلے کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے، اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک! تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین!
بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
(اشتہار مورخہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)
خدا کی قدرت اور مقام عبرت دیکھئے کہ مولانا ثناء اللہ صاحب تو ایک مدت تک بعافیت زندہ رہے اور بوڑھے ہو جانے کے باوجود قادیانیت کی بیخ کنی میں لگے رہے اور مرزا قادیانی بہادر اپنے اس اشتہار کے ایک ہی سال بعد ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء میں اپنے دامن میں
٨٣
بہت ساری رسوائیاں سمیٹ کر پادری آتھم اور پنڈت لیکھرام کے پاس ہاویہ میں جا پہنچے۔ قادیانیت کی سرزمین پر سناٹا چھا گیا۔ ان کے امتی حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے۔ انتظار تھا مولانا ثناء اللہ کے مرجانے کا لڑھک گئے مرزا قادیانی۔ ”وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدك الخير انك على كل شئ قدير“
تھپڑ صبا نے مارا، شبنم نے منہ پر تھوکا
”نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ اس خط میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔“
چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اسی خط میں ہے کہ: ”اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون و ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں۔ آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔“
خدا کے فضل و کرم سے مولانا ثناء اللہ صاحب تو ہر طرح سے محفوظ رہے۔ نہ طاعون میں مبتلا ہوئے اور نہ ہیضہ کی بیماری ان کو چھو سکی۔ اس کے برعکس خود مرزا قادیانی ہیضہ کی شدید تکلیف میں مبتلا ہو کر مرے۔ اس خط سے پہلے بھی مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ صاحب کے لئے پیشین گوئی کی تھی۔ اس کا جو حشر ہوا وہ بھی دیکھ لیجئے۔
مولانا ثناء اللہ سے متعلق پیشین گوئی
مرزا قادیانی نے ایک پیشین گوئی کی تھی کہ: ”وہ (مولانا ثناء اللہ) قادیان میں میری پیشین گوئیوں کی پڑتال کے لئے ہرگز نہیں آئیں گے۔“ (اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) جیسے ہی یہ پیشین گوئی مولانا کے علم میں آئی وہ فوراً اسی مقصد کے لئے ١٠؍جنوری ١٩٠٣ء میں قادیان جا دھمکے وہ اور مولانا محمد حسین صاحب وغیرہ تو جھوٹے نبی کو ہر جگہ اور ہر رخ سے مات دینے کا عزم مصمم کئے ہوئے تھے۔ وہ اس موقع پر کیسے چوک سکتے تھے۔ جب مولانا ثناء اللہ نے ایک خط کے ذریعہ مرزا قادیانی کو آگاہ کیا کہ میں آپ کی پیشین گوئی کے برخلاف قادیان پہنچ چکا ہوں اور گفتگو چاہتا ہوں تو مرزا قادیانی گول ہو گئے اور اس وقت تک زنان خانہ سے باہر نہ نکلے۔
٨٤
١٩٩
جب تک ایسے معتبر لوگوں سے یقین کے ساتھ یہ معلوم نہیں ہو باہر جا چکے ہیں۔ دیکھئے نبی ظلی کی پیشین گوئی کتنی سچی ثابت ہوئ مولانا ثناء اللہ کو دعوت مبارزت اور میدان میں آ
ایک مرتبہ مرزا قادیانی نے عربی میں ایک قصیدہ لکھ ”یہ میرا قصیدہ ہے عربی میں ہے اور یہ میرا اہم معجزہ ہے۔ اگر اندر اس جیسا قصیدہ لکھ کر پیش کرو۔“
(١)
مولانا مرحوم نے بڑا اچھا جواب دیا۔ فرمایا: ”تمہا آ کر اس کی عربی صحیح کرو اور پھر میں پانچ دن سے پہلے قصیدہ پ
اس پر مرزا قادیانی گھبرا گئے اور چپ سادھ لی۔ کہ کسی عربی داں کے سامنے آکر زبان وقواعد کے مسئلہ میں گفتگ
ایک دلچسپ پیشین گوئی
١٨٨٦ء میں مرزا قادیانی کی بیگم حاملہ ہوئیں۔ آ ”خداوند کریم نے جو ہر چیز پر قادر ہے مجھے اپنے الہام سے فر دیتا ہوں۔ تادین اسلام کا شرف کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ اس کی کتاب، اس کے رسولوں کو انکار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ب پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ وہ تیرے ہی تخم تیری ہی ذریت س مہمان آتا ہے۔ اس کا نام بشیر بھی ہے۔ مبارک وہ جو آسما ہے۔ وہ بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ علوم ظاہر چاک کرنے والا ہوگا۔ اسیروں کی رستگاری کا باعث ہوگا۔ تو میں
(اشتہار مورخہ ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١
کسی سے سن لیا ہوگا کہ حمل کے دوران دائیں کوکھ اور بائیں کا بھاری ہونا لڑکے کی ۔ استفسار پر بیگم نے کہہ دیا ہو گا تھا مرزا قادیانی نے جھٹ سے پیشین گوئی کر ڈالی۔ یہ ان کی بتاتے تھے۔ معتقدین میں ایک مادر زاد ولی کامل، مجدد وقت انتظار کیا جانے لگا۔ اللہ اللہ کر کے جب دن پورے ہوئے اور
٨٥
جب تک ایسے معتبر لوگوں سے یقین کے ساتھ یہ معلوم نہیں ہو گیا کہ ثناء اللہ قادیان کی حدود سے باہر جا چکے ہیں۔ دیکھئے نبی ظلی کی پیشین گوئی کتنی سچی ثابت ہوئی؟
مولانا ثناء اللہ کو دعوت مبارزت اور میدان میں آنے سے گریز
ایک مرتبہ مرزا قادیانی نے عربی میں ایک قصیدہ لکھ لیا اور مولانا ثناء اللہ کو چیلنج کر دیا کہ:
”یہ میرا قصیدہ ہے عربی میں ہے اور یہ میرا اہم معجزہ ہے۔ اگر تم حق پر ہو تو آج سے پانچ دن کے اندر اس جیسا قصیدہ لکھ کر پیش کرو۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٦، خزائن ج ١٩ ص ١٤٦)
مولانا مرحوم نے بڑا اچھا جواب دیا۔ فرمایا: ”تمہارا چیلنج منظور ہے۔ مگر پہلے مجمع میں آ کر اس کی عربی صحیح کرو اور پھر میں پانچ دن سے پہلے قصیدہ پیش کرتا ہوں۔“
اس پر مرزا قادیانی کھسک گئے اور چپ سادھ لی۔ کیونکہ انہیں اتنی عربی آتی ہی نہیں تھی کہ کسی عربی داں کے سامنے آ کر زبان و قواعد کے مسئلہ میں گفتگو کر سکیں۔
ایک دلچسپ پیشین گوئی
١٨٨٦ء میں مرزا قادیانی کی بیگم حاملہ ہوئیں۔ آپ نے فوراً پیشین گوئی فرما دی کہ:
”خداوند کریم نے جو ہر چیز پر قادر ہے مجھے اپنے الہام سے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔ تا دین اسلام کا شرف کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔ تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا، خدا کے دین، اس کی کتاب، اس کے رسولوں کو انکار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک کھلی نشانی ملے۔ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ وہ تیرے ہی تخم تیری ہی ذریت سے ہوگا۔ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام بشیر بھی ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے۔ وہ بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جاوے گا۔ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ اسیروں کی رستگاری کا باعث ہوگا۔ قومیں اس سے برکت پائیں گی۔“
(اشتہار مورخہ ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١ ص ٥٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٠، ١٠١)
کسی سے سن لیا ہو گا کہ حمل کے دوران داہنی کوکھ بھاری ہونا لڑکے..... کی علامت ہے اور بائیں کا بھاری ہونا لڑکی کی۔ استفسار پر بیگم نے کہہ دیا ہوگا کہ میری داہنی کوکھ بھاری ہے۔ اب کیا تھا مرزا قادیانی نے جھٹ سے پیشین گوئی کر ڈالی۔ یہ ان کی عادت تھی ہی کہ اپنی ہر بات کو الہامی بتاتے تھے۔ معتقدین میں ایک مادر زاد ولی کامل، مجدد وقت اور امام زماں کے ظہور کا شدت سے انتظار کیا جانے لگا۔ اللہ اللہ کر کے جب دن پورے ہوئے اور حمل باہر آیا تو ..... لڑکا نہیں، لڑکی تھی۔
٨٥
لوگوں نے پوچھا! مرزا قادیانی یہ کیا ہوا؟ یہ تو لڑکی ہوگئی۔ آپ نے تو عظیم الشان لڑکے کی پیشین گوئی کی تھی؟ مرزا قادیانی نے فوراً کرتب دکھایا کہ میں نے یہ کب کہا تھا کہ اسی حمل سے لڑکا ہوگا۔ الہام کے مطابق لڑکا ضرور ہوگا۔ دوسرے حمل میں ہوگا۔ دوسرے میں بھی نہ ہوا۔ تیسرے میں ہوگا۔ ہوگا ضرور!
مولانا ثناء اللہ وغیرہ جو کراماً کاتبین کی طرح مرزا قادیانی کی ہر ہر بات پر نظر رکھتے تھے۔ جستجو میں رہنے لگے اور ایسا انتظام کرلیا گیا کہ مرزا قادیانی کے گھر کی خبریں بھی ملتی رہیں۔ خطرہ یہ تھا کہ کہیں مرزا قادیانی کسی دوسرے کے نومولود سے بیگم کی گود بھر کر یہ مشہور نہ کر دیں کہ میرے الہام کے مطابق لڑکا پیدا ہو گیا۔ یہ ان سے کچھ بعید بھی نہیں تھا۔ مرزا قادیانی نے لڑکا پیدا ہونے کے لئے نہ جانے کیا کچھ کیا ہوگا۔ لیکن افسوس! اس لڑکی کے بعد ان کے یہاں کوئی بچہ ایسا پیدا نہیں ہوا جسے مرزا قادیانی اپنی پیشین گوئی کا مصداق قرار دے سکتے۔
مرزا قادیانی کی فیصلہ کن اور دوسری پیشین گوئیاں جب پوری نہ ہوئیں تو بڑے پیمانہ پر ان کی رسوائی ہوئی۔ ہونی ہی تھی، ہوئی اور خوب ہوئی۔ مسلمانوں ہی میں نہیں، ہندوؤں اور عیسائیوں میں بھی ہوئی۔ ان کے چیلوں کو چاہئے تھا کہ وہ حقائق کے سامنے آجانے کے بعد صحیح راہ پر آجاتے۔ مرزا قادیانی کا ساتھ چھوڑ دیتے۔ مگر ان میں سے بہت سوں نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ عذر گناہ بدتر از گناہ کے مرتکب ہو گئے۔ مرزا قادیانی کے ایک چیلے ظہور الدین اکمل، پیشین گوئیوں کے صحیح ثابت نہ ہونے سے گھبرا کر اور مرزا قادیانی کے چہرے سے ذلت کی گرد صاف کرنے کے لئے ایک نرالا انداز اختیار کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ”ہر بات کی کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ غرض پوری ہوئی یا نہیں۔ جب اصل غرض پوری ہو جائے تو پھر یہ سوال بے فائدہ ہے کہ پیشین گوئی پوری ہوئی یا نہیں۔“
(مرزا حمید بیگ والی پیشین گوئی ص١٢)
دنیا جانتی ہے کہ کسی پیشین گوئی کو جب کہ وہ ایسے شخص کی طرف سے کی جارہی ہو جو مامور من اللہ اور نبی ہونے کا مدعی ہو، اسی وقت درست مانا جائے گا جب وہ دعویٰ کے عین مطابق پوری ہوگی ورنہ نہیں۔ غرض تو بعد میں کچھ بھی بتائی جاسکتی ہے۔ اس طرح کی پیشین گوئی بلکہ اس سے کہیں معقول انداز میں تو کوئی بھی کرسکتا ہے۔ پیشین گوئی کا اور اس پر زور دینے کا حتیٰ کہ اسے کذب وصدق کا معیار اور قطعی فیصلہ کن قرار دیئے جانے کا تو صاف مطلب یہی ہوتا ہے کہ جس طرح کہا جارہا ہے اس کو اس طرح ہونا چاہئے۔ نہ ہونے کی صورت میں یہ کہنا کہ اس سے
٨٦
٢٠١ میرا مطلب یہ تھا۔ میری غرض یہ تھی۔ حق کے ساتھ آنا رکیک توجیہات ہیں۔ جنہیں معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا
مرزائیت، عقل سلیم
حکیم مطلق نے قرآن پاک میں اپنے رس غور کیجئے! تو ہر بیان میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ۔ باری تعالیٰ نے آنے والے دور میں بڑے بڑے فتنو صفات کا استقصاء تو مشکل اور تفصیل طلب ہے۔ مثال بہت بڑا مقصد عظیم یہ سمجھ میں آتا ہے کہ نبی کریم علیہ کے اعلیٰ ترین مقام کو سامنے رکھتے ہوئے ذہن ود بہترین سامان کر دیا ہے۔ پھر قرآن پاک میں متعد ذکر فرما کر اس حفاظت کو اور بھی مستحکم فرما دیا ہے۔ اس اسریٰ بعبدہ “ ایک اور جگہ: ”وانہ لما قام عبـ اوحیٰ“ اور ”وان کنتم فی ریب مما نزلنا ع پھر حضرت مسیح علیہ السلام بھی قیامت میں کو اختیار فرمائیں گے۔ ”اذہبوا الی محمد عبد دوسری صفت قرآن پاک نے یوں بیا النبیین “ کے سلسلے میں ایک بات نو آخر الزمان ﷺ کی دعوت کا بنیادی مقصد ایک ذات کو محمد بن عبداللہ سے کوئی کینہ نہ تھی۔ ہاں! آپ کی کہ صدیوں سے تین سو ساٹھ بلکہ ہزاروں اور لاکھو معبود کی طرف بلایا اور صرف اسی ایک ذات کو پو۔ پر کمر بستہ ہو گئے۔ جب تک آپ ﷺ اس دنیا میں بھڑکتا رہا۔ طرح طرح کے مظالم اور جنگ کا باز فرماتے ہی انہوں نے براہ راست قصر نبوت پر۔
٧
میرا مطلب یہ تھا۔ میری غرض یہ تھی۔ حق کے ساتھ آنا کافی ہے۔ فہم وشعور کو منہ چڑانا ہے۔ غلط اور رکیک توجیہات ہیں۔ جنہیں معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا بھی نہیں مان سکتا۔
مرزائیت، عقل سلیم کے لئے چیلنج
ڈاکٹر رشید الوحیدی، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی!
حکیم مطلق نے قرآن پاک میں اپنے رسول کی طرح طرح صفت بیان فرمائی ہے۔ غور کیجئے! تو ہر بیان میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔ بعض اسماء وصفات کے ذکر سے جناب باری تعالیٰ نے آنے والے دور میں بڑے بڑے فتنوں کا سدباب فرما دیا ہے۔ تمام اسماء اور تمام صفات کا استقصاء تو مشکل اور تفصیل طلب ہے۔ مثال کے طور پر لفظ ”عبد“ کو لیجئے۔ اس لفظ سے بہت بڑا مقصد عظیم یہ سمجھ میں آتا ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے بے مثال، اور انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام کو سامنے رکھتے ہوئے ذہن وعقیدہ کو بھٹکنے، گمراہ ہونے سے محفوظ رکھنے کا بہترین سامان کر دیا ہے۔ پھر قرآن پاک میں متعدد جگہ اس لفظ ”عبد“ کو اشرف ترین مقام میں ذکر فرما کر اس حفاظت کو اور بھی مستحکم فرما دیا ہے۔ اسراء کے ذکر میں ہے: ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ“ ایک اور جگہ: ”وانہ لما قام عبداللہ“ پھر فرمایا: ”فاوحیٰ الیٰ عبدہ ما اوحیٰ“ اور ”وان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا“ وغیرہ ذالك!
پھر حضرت مسیح علیہ السلام بھی قیامت میں شفاعت کے موقع پر اسی شرف ومجد والے لفظ کو اختیار فرمائیں گے۔ ”اذهبوا الی محمد عبد غفرلہ ما تقدم من ذنبہ وما تاخر“
دوسری صفت قرآن پاک نے یوں بیان فرمائی ہے: ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کے سلسلے میں ایک بات نوٹ کرنے کی ہے، تمام ہی انبیاء کرام خصوصاً نبی آخرالزمان ﷺ کی دعوت کا بنیادی مقصد ایک ذات واحد کی طرف مخلوق کو بلانا تھا۔ مشرکین عرب کو محمد بن عبداللہ سے کوئی کد نہ تھی۔ ہاں! آپ کی نبوت کے تصور سے ان کو چڑ تھی، اور یہ اس لئے کہ صدیوں سے تین سو ساٹھ بلکہ ہزاروں اور لاکھوں بتوں کو پوجنے والوں کو جب نبی نے ایک ہی معبود کی طرف بلایا اور صرف اسی ایک ذات کو پوجنے کی دعوت دی تو وہ پوری طرح اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔ جب تک آپ ﷺ اس دنیا میں رہے ان کے سینے میں غیض وغضب کا طوفان بھڑکتا رہا۔ طرح طرح کے مظالم اور جنگ کا بازار گرم رکھا، اور آپ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرماتے ہی انہوں نے براہ راست قصر نبوت پر حملے شروع کر دیئے اور اس طرح کہ بہت سے
٨٧
جھوٹے نبی، دعوائے نبوت کرنے لگے، نبی کریم ﷺ اس خطرے سے واقف تھے۔ آپ کے قلب صافی پر آنے والے اس فتنے کا خطرہ گذر رہا تھا۔ چنانچہ اللہ کے اس فرمان ”خاتم النبیین“ کی طرح طرح سے آپ ﷺ نے تشریح فرمائی۔ مثال دے کر وضاحت فرمائی اور بعض مواقع پر تو صاف ہی بتا دیا کہ میرے بعد کچھ جھوٹے لوگ نبوت کا دعویٰ بھی کریں گے۔ یہ سب آپ ﷺ اسی لئے کر رہے تھے کہ امت اس عظیم گمراہی میں پڑ کر دین کو برباد نہ کرلے۔ شرک میں داخل ہو کر اللہ کے سخت غضب کا شکار نہ ہو جائے۔ نیز نبی آخر الزمان کی ذات سے امت میں جو ایک مرکزیت پیدا ہو گئی ہے۔ سیکڑوں نبی کے جھوٹے دعوؤں سے وہ انتشار کا شکار نہ ہو جائے۔ چنانچہ صحیحین کی ایک روایت میں اس کو مثال دے کر بتایا۔
”میری اور انبیاء کی مثال ایک خوبصورت محل کی ہے۔ وہ محل یوں تو مکمل ہے۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ اس میں خالی ہے۔ اس محل کو دیکھنے والوں نے گھوم گھوم کر اس کو دیکھا، پسند کیا۔ اسی ایک اینٹ کی خالی جگہ کے علاوہ اور کوئی عیب ان کو نظر نہ آیا۔ پس میں اس خالی جگہ کو بھر دوں گا۔ مجھ پر وہ عمارت مکمل ہوگی اور رسالت بھی مجھ پر ختم ہوگی۔“
(بخاری ج ١ ص ٤٩١، مسلم ج ٢ ص ١٦٢)
ایک جگہ سرکار دو عالم ﷺ نے تاکید فرمائی: ”میرے مختلف نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں (اللہ میرے ذریعے کفر کو محو فرمائیں گے) میں حاشر ہوں (اللہ پاک میرے قدموں میں لوگوں کو جمع فرمائیں گے) میں عاقب ہوں (عاقب وہ کہ اس کے بعد کوئی نبی نہ ہو)“
(مسلم شریف ج ٢ ص ٢٦١)
پھر اگلی روایت میں آپ نے (مرزا ایسے) جھوٹے نبیوں کی تکذیب اور تردید فرمادی۔ ”بے شک میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے اور ہر ایک ان میں سے خود کو نبی سمجھے گا اور میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“
(مسلم شریف ج ٢ ص ٣٩٧)
ایک جگہ نبی کریم ﷺ نے دیگر انبیاء کے مقابلے میں سات چیزوں میں اپنی فضیلت ذکر فرمائی ہے۔ اس میں سے آخری فضیلت یہ ذکر فرمائی: ”مجھ پر نبوت ختم ہو گئی ہے۔“ غرض کہ آپ ﷺ اس دجالی اور کذابی فتنے سے بخوبی واقف تھے۔ اس لئے ”ختم نبوت“ کے قرآنی اعلان کو طرح طرح سے واضح فرمایا اور اپنی ذات پاک پر نبوت کے اختتام کا طرح طرح سے یقین دلاتے رہے۔ مگر اس بد نصیبی کا کیا جائے کہ دشمنانِ دین و اسلام نے پھر بھی تمام تاکیدوں اور صراحتوں کے باوجود، اپنی نبوت کا جھوٹا اعلان کیا۔ خود بھی گمراہ ہوئے اور امت کے افراد کو بھی تباہ و برباد کیا۔ خود نبی اکرم ﷺ کے سامنے پھر حضرت ابو بکر صدیق کے عہد خلافت میں یہ صورت
٨٨
پیش آئی، آپ نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس گمراہی جھوٹے مدعیان نبوت اٹھتے رہے اور الحمد للہ! ہر دور میں بڑھتے ہوئے سیلاب کو روک دیا۔ بہت تھوڑی جماعت مگر امت کی اکثریت کو، ہر دور کے علماء حق اور مبلغین سے بچایا ہے۔
ہندوستان میں بھی یہ، اور دوسرے فتنے بپا سب میں گہرا، گمراہ کن اور دیر پا فتنہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیحیت سے ترقی کر کے حریمِ نبوت کے تقدس کو پامال آج تک یہ فتنہ برابر موجود ہے۔ وقتاً فوقتاً جگہ جگہ سر اٹھا کا گڑھ بن ہی چکا ہے۔
مرزا قادیانی کے دعوے کے اسباب
مرزا نے ایسا دعویٰ کیوں کیا۔ متعدد تحریروں تو خود ان کے دماغ میں بچپن ہی سے، تعلّی، عجب، خود اس پر ستم یہ کہ طرح طرح کے موذی امراض کا حملہ، میں انسان کا دل و دماغ صحیح کام نہیں کر سکتا تھا۔
مولانا ابو الحسن علی ندوی تحریر فرماتے ہیں: مریض تھے اور بڑی شدت سے اپنے دل میں یہ خواہش ان کے کچھ متبعین اور مؤمنین ہوں اور تاریخ میں ان اللہ ﷺ کا ہے۔“
١؎ یہ حاشیہ مولانا ندوی مدظلہ کا ہے۔ ”اس شخص جنہیں دیکھ کر ایک مؤرخ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ ان جائے، جس نے اس شخص سے یہ ساری حرکتیں سرزد کر جائے اور نبوت کے نام سے پورے عالم اسلام پر چھا سے اس کی اور اس کے ماننے والوں کی کتابیں بھر سیاسی اغراض و مقاصد اور سرکار انگریزی کی خدمت
(مولانا علی میاں ندوی ص ٦٩)
٨٩
پیش آئی، آپ نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس گمراہی کا قلع قمع کر دیا۔ مگر اس کے بعد بھی برابر جھوٹے مدعیانِ نبوت اٹھتے رہے اور الحمد للہ! ہر دور میں علماءِ امت نے خم ٹھونک کر ان کا مقابلہ کیا۔ بڑھتے ہوئے سیلاب کو روک دیا۔ بہت تھوڑی جماعت ان کے دجل و فریب سے متاثر بھی ہوئی۔ مگر امت کی اکثریت کو، ہر دور کے علماءِ حق اور مبلغین اسلام نے اس فتنے کے بھنور میں ڈوبنے سے بچایا ہے۔
ہندوستان میں بھی یہ، اور دوسرے فتنے نئے نئے روپ سے ابھرتے رہے ہیں اور ان سب میں گہرا، گمراہ کن اور دیر پا فتنہ مرزا غلام احمد قادیانی کا فتنہ تھا۔ جو تجدد، محدثیت، مہدویت، مسیحیت سے ترقی کر کے حریم نبوت کے تقدس کو بزعم خویش تار تار کر گیا اور اپنے آغاز سے لے کر آج تک یہ فتنہ برابر موجود ہے۔ وقتاً فوقتاً جگہ جگہ سر اٹھاتا رہتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ تو اس فتنے کا گڑھ بن ہی چکا ہے۔
مرزا قادیانی کے دعوے کے اسباب
مرزا نے ایسا دعویٰ کیوں کیا۔ متعدد تحریروں کے دیکھنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ اوّل تو خود ان کے دماغ میں بچپن ہی سے، تعلی، عجب، خود نمائی اور طلبِ شہرت کا کیڑا رینگتا رہتا تھا۔ اس پر ستم یہ کہ طرح طرح کے موذی امراض کا حملہ، مانخولیا، ہسٹریا اور جانے کیا کیا، الا بلا، جس میں انسان کا دل و دماغ صحیح کام نہیں کر سکتا تھا۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی تحریر فرماتے ہیں: ١؎ ”مرزا غلام احمد قادیانی جو ذہنی انتشار کے مریض تھے اور بڑی شدت سے اپنے دل میں یہ خواہش رکھتے تھے کہ وہ ایک نئے دین کا بانی بنے، ان کے کچھ متبعین اور مؤمنین ہوں اور تاریخ میں ان کا ویسا ہی نام و مقام ہو جیسا جناب رسول اللہ ﷺ کا ہے۔“
١؎ یہ حاشیہ مولانا ندوی مدظلہ کا ہے۔ ”اس شخص میں تین ایسی چیزیں بیک وقت جمع تھیں جنہیں دیکھ کر ایک مؤرخ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ ان میں سے اہم ترین اور حقیقی سبب کسے قرار دیا جائے جس نے اس شخص سے یہ ساری حرکتیں سرزد کرائیں۔ (١) دینی رہنمائی کے منصب پر پہنچا جائے اور نبوت کے نام سے پورے عالم اسلام پر چھایا جائے۔ (٢) مانخولیا جس کے بار بار تذکرہ سے اس کی اور اس کے ماننے والوں کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ (٣) مبہم اور غیر واضح قسم کے سیاسی اغراض و مفادات اور سرکار انگریزی کی خدمت گزاری۔“
(مولانا علی میاں ندوی ص٩، قادیانیت دین محمد اور اسلام کے خلاف ایک بغاوت)
دوسرے یہ کہ سارے ملک اور ملت اسلامی کی بد نصیبی کہیے، انگریزوں کو ایک ایسے شخص کی تلاش تھی جس سے وہ سودے بازی کر سکیں اور وہ سودے بازی یہ کہ (الف) اس شخص کے ذریعے مسلمانوں کو اپنی مخالفت سے باز رکھ سکیں۔ (ب) مسلمانوں کے اندر سے جذبہ جہاد کو ختم کر سکیں۔ (ج) مسلمانوں کو اپنا وفادار اور اطاعت گزار بنا سکیں۔
ان تین مقاصد کے لئے انگریز کسی کو اپنا آلہ کار بنانا چاہتے تھے۔ انگریز جانتے تھے کہ مسلمان دین کے معاملے میں خاصے جذباتی ہوتے ہیں۔ قرآن دین اور رسول کا نام لے کر اس قوم سے بڑے سے بڑا کام لیا جا سکتا ہے۔ پھر یہ برے بھلے اور دین میں غلط یا صحیح کی تمیز کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ چنانچہ انہیں مسلمانوں میں ایک ایسے ہی شخص کی تلاش تھی جو دین کے نام پر مسلمانوں کو بیوقوف بنا کر ان کا یہ مقصد پورا کر سکے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ سودا قبول کر لیا اور ”بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ اَنْفُسَهُمْ“ کی دھمکی کو نظر انداز کر کے یہ خدمت انجام دینے لگے۔ چنانچہ مرزا قادیانی میں انگریز پرستی جنون کی حد تک موجود تھی۔ اپنی تقریر، تحریر اور عمل سے وہ اس کا ثبوت دیتے رہتے تھے اور ہر اس مجاہد یا جماعت مجاہدین کو گالیوں، طعنوں اور سب وشتم سے نوازتے رہتے تھے جو انگریزوں سے مقابلہ کر رہے تھے یا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ حتیٰ کہ ١٨٥٧ء کے شرکاء اور شہداء کو انہوں نے ”بے رحم، کم عقل، بد اخلاق، بے انصاف، چور، قزاق، حرامی، اپنے محسن گورنمنٹ انگریز پر حملہ آور“ یہ سب کچھ بتایا۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا جب کہ یہ شخص اور اس کی جماعت انگریزوں کا ہی پیدا کردہ پودا اور انگریزوں ہی کے رحم وکرم پر پل رہا تھا۔ بڑھ رہا تھا۔ اس بارے میں مولانا علی میاں نے بہت عمدہ نفسیاتی تجزیہ فرمایا ہے: ”علمی اور تاریخی حیثیت سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ قادیانیت فرنگی سیاست کے بطن سے وجود میں آئی ہے۔“
آگے مولانا علی میاں کا بیان ہمارے اس خیال کے لئے سند کا درجہ رکھتا ہے۔ مولانا سید احمد شہید، سوڈان میں شیخ محمد احمد سوڈانی، جمال الدین انصاری کی تحریک اور جذبہ جہاد کا ذکر فرما کر تحریر فرماتے ہیں: ”یہ سرگرمیاں برطانوی حکومت کے لئے پریشانی اور تشویش کا باعث تھیں۔ اس نے ان سب خطرات کو محسوس کیا۔“
اور پھر مولانا انگریزوں کی چال بازیوں کا ذکر فرماتے ہیں: ”اس نے مسلمانوں کے مزاج وطبیعت کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ان کا مزاج دینی مزاج ہے۔ دین ہی انہیں
٩٠
گرما تا ہے اور دین ہی سلا سکتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں عقائد اور ان کے دینی میلانات ونفسیات پر قابو پانے مرزا غلام احمد قادیانی کے عظیم فتنے کو جنم دیا۔ ایک طرف مسلمان کی مذہبی جذباتیت اور پھر امت مسلمہ کے لئے انہیں مرزا ایسا ایمان فروش بھی ہاتھ لگ گیا یہ طے کیا کہ مسلمانوں ہی میں کسی شخص کو ایک بہت او مسلمان عقیدت کے ساتھ اس کے گرد جمع ہو جائیں ایسا سبق پڑھائے کہ پھر انگریزوں کو مسلمانوں سے ک
اور مرزا قادیانی نے انگریزوں کی یہ تمنا انگریز کے لئے وقف کر دی اور پھر دینی منصب کے کہ معلوم ہوا پہلے مقام تجدید پھر مہدویت، مسیحیت وفاداری اور خیر خواہی کا سبق پڑھاتے پڑھاتے ان تعلیم کے مخالف قرار دے دیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی لئے سچے جاں نثار، دوست اور کامیاب جاسوس کا ک
اب ہم ان کے دعاوی پر ایک سرسری موضوع پر دفتر کے دفتر چھپ چکے ہیں۔
مرزا قادیانی نے ١٨٥٧ء اور ١٨٨٠ء آغاز کیا۔ وہ اس وقت اچھا خاصا انسان تھا۔ اس ب تھی۔ اس لعنت کا پتہ ونشان تو ١٨٨٢ء سے ظاہر ہو میں باتیں ہوتی رہیں۔ برملا بغاوت کی ہمت نہ ہ دعویٰ کر ڈالا اور صاف کہا۔ ”آپ کو مجدد ہونے کی حیثیت سے ا
اور پھر ١٨٩١ء میں آپ کا ایک دوس اعلان کیا: ”مسیح موعود مر چکے ہیں اب زندہ نہیں میں ہی مسیح ہوں۔“
گرماتا ہے اور دین ہی سلا سکتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پر قابو پانے کی واحد شکل یہ ہے کہ ان کے عقائد اور ان کے دینی میلانات ونفسیات پر قابو پایا جائے۔“ یہ تھی وہ دہری مصیبت جس نے مرزا غلام احمد قادیانی کے عظیم فتنے کو جنم دیا۔ ایک طرف انگریزوں کی مکارانہ نفسیات، دوسری طرف مسلمان کی مذہبی جذباتیت اور پھر امت مسلمہ کی بدنصیبی سے انگریزوں کو اپنے مقصد برآری کے لئے انہیں مرزا ایسا ایمان فروش بھی ہاتھ لگ گیا۔ بقول مولانا ندوی: ”برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ مسلمانوں ہی میں کسی شخص کو ایک بہت اونچے دینی منصب کے نام سے ابھارا جائے کہ مسلمان عقیدت کے ساتھ اس کے گرد جمع ہو جائیں اور وہ اس حکومت کی وفاداری اور خیر خواہی کا ایسا سبق پڑھائے کہ پھر انگریزوں کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہ رہے۔“
اور مرزا قادیانی نے انگریزوں کی یہ تمنا پوری کر دی اور اپنی پوری زندگی اپنے ولی نعمت انگریز کے لئے وقف کر دی اور پھر دینی منصب کے نام سے تو ایسا ابھرے کہ ابھرتے ابھرتے جیسا کہ معلوم ہوا ہے مقام تجدید پھر مہدویت، مسیحیت حتیٰ کہ نبوت تک جا پہنچے اور انگریزوں سے وفاداری اور خیر خواہی کا سبق پڑھاتے پڑھاتے انہوں نے اسلام کا ایک رکن جہاد ہی کو قرآن کی تعلیم کے مخالف قرار دے دیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے انگریزی حکومت کے لئے سچے جاں نثار، دوست اور کامیاب جاسوس کا کام کر رہے تھے۔
اب ہم ان کے دعاوی پر ایک سرسری نگاہ ڈال کر بات ختم کرتے ہیں۔ اگرچہ اس موضوع پر دفتر کے دفتر چھپ چکے ہیں۔
مرزا قادیانی نے ١٨٧٧ء اور ١٨٨٠ء کے دوران آریوں کے خلاف بحث ومباحثے کا آغاز کیا۔ وہ اس وقت اچھا خاصا انسان تھا۔ اس کے مذہبی عقائد میں کوئی فرق اور تبدیلی نمایاں نہ تھی۔ اس لعنت کا پتہ ونشان تو ١٨٨٢ء سے ظاہر ہونا شروع ہوا۔ مگر غنیمت تھا کہ اشارے وکنایے میں باتیں ہوتی رہیں۔ برملا بغاوت کی ہمت نہ ہوئی تھی۔ مگر ١٨٨٨ء آتے آتے مجدد ہونے کا دعویٰ کر ڈالا اور صاف کہا۔
”آپ کو مجدد ہونے کی حیثیت سے اللہ نے اصلاح امت کا کام سپرد کیا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات)
اور پھر ١٨٩١ء میں آپ کا ایک دوسرا کریہہ رخ ظاہر ہوا جب مرزا قادیانی نے یہ اعلان کیا: ”مسیح موعود مر چکے ہیں اب زندہ نہیں ہوں گے۔ میں چونکہ ان کے مثل ہوں اس لئے میں ہی مسیح ہوں۔“
٩١
اپنی دو کتابوں (فتح اسلام ص ١٥، خزائن ج ٣ ص ١٠ حاشیہ اور توضیح المرام ص ١٦ تا ١٨، خزائن ج ٣ ص ٥٨ تا ٦٠ ملخص) میں متعدد جگہ یہ دعویٰ ظاہر کرتے ہیں: ”مسیح جو آنے والا تھا یہی (مرزا قادیانی) ہے۔“
”مسیح کے نام پر یہ عاجز (مرزا قادیانی) بھیجا گیا ہے۔“
(فتح اسلام ص ٧، خزائن ج ٣ ص ١١ حاشیہ)
پھر ایک جگہ مسئلے کو صاف ہی کر دیا: ”میرا دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک کتابوں میں پیشین گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥)
یہ ایک درد ناک طویل اور مسلسل داستان ہے ہم اور چند حوالوں کا ذکر کر کے نبوت کے بارے میں مرزائی دریدہ دہنی ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ: ”خدا نے مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
(قادیانی اخبار ریویو آف ریلیجنز، بابت ماہ مئی ١٩٢٩ء) رقمطراز ہے: ”حضرت مسیح موعود (غلام احمد) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔“
اخبار الفضل مرزا محمود کی ڈائری میں سے ایک دعویٰ ملاحظہ فرمائیں: ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے۔ بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ بلکہ حضرت محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء نمبر ٥ ج ١٠)
صرف امت محمدیہ ﷺ ہی کو نہیں تمام انبیاء کو بھی مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے اور یہ ”عقل و خرد سے بیگانے“ مرزا قادیانی کے ماننے والوں کا حال ہے۔ ان کے صاحبزادے کا بیان ہے: ”جب تمام انبیاء علیہم السلام کو مجملاً حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا فرض ہوا، تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٣ نمبر ٣٨، ٣٩ مورخہ ١٩، ٢١ ستمبر ١٩١٥ء)
خود مرزا قادیانی اپنے آپ کو پیغمبر آخر الزمان سے افضل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے:
غسا القمران المشرقان اتنكر
٩٢
حضور ﷺ کے لئے صرف چاند کے خسوف سورج دونوں تاریک ہوگئے۔ کیا اب بھی انکار کرو گے۔ اور خرافات سنئے: ”تین ہزار معجزات ہمارے
اور اپنی ذات کے لئے: ”اس خدا نے میری تص تین لاکھ تک پہنچے۔“
(تح
ابھی تسکین نہیں ہوئی: ”خدا نے مجھے دس لاکھ
یہ مشتے نمونہ، خود مرزا قادیانی اور ان کے مانے چیزیں پیش کی گئی ہیں۔ ان خرافات اور ان کی زیادہ تر ہجو ان مسلمانوں پر ہے جو ایسے انسان کو نہ صرف مقتدیٰ پیشوا آتا اس قسم کے کردار کو عقل سلیم قبول کس طرح کرتی ہے۔
اب ہم مرزا قادیانی کو روئیں یا ان کے ماننے کریں۔ بہر حال نبوت کی خاتمیت پر زور لگا کر مرزا قادیا جتلا کر دیا ہے۔ مسلم قوم کے مرکزی اتحاد کو جس طرح پارہ کی جہاد آزادی اور استخلاص وطن کی کوششوں کو انگریزوں طرح سبوتاژ کیا ہے۔ ایشیاء و افریقہ کے مظلوم عوام کو جس یا مذبح خانوں کے حوالے کر دینے کی اسکیم بنائی۔ یہ ایسے اسلام کے ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ اس ناپاک تنظیم کے بیخ مٹادیں تو دوسری طرف ایک سیکولر، انصاف پسند حکومت کا برداشت نہ کرے۔ جس کا دامن ملک سے وفاداری کی دارالعلوم اور جمعیت العلماء کے علماء کرام نے ہمیشہ ہی یہ ف اور دینی لحاظ سے دارالعلوم کو اس فتنے کا شدید احساس ہ آگے آیا ہے۔ ”ربنا تقبل منا انك انت العزيز الـ اور اب ان کے بارے میں اس کے علاوہ کیا ک عما يعمل الظلمون انما يؤخرهم ليوم تشخص
٩٣
حضورﷺ کے لئے صرف چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند سورج دونوں تاریک ہوگئے۔ کیا اب بھی انکار کرو گے۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
اور خرافات سنئے: ”تین ہزار معجزات ہمارے نبی سے ظہور میں آئے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
اور اپنی ذات کے لئے: ”اس خدا نے میری تصدیق کی بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
ابھی تسکین نہیں ہوئی: ”خدا نے مجھے دس لاکھ معجزات عطا کئے۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)
یہ مشتے نمونہ، خود مرزا قادیانی اور ان کے ماننے والوں کی تحریروں کے حوالے سے کچھ چیزیں پیش کی گئی ہیں۔ ان خرافات اور ان کی زیادہ تر جھوٹی ہی پیشین گوئیوں کے باوجود، حیرت ان مسلمانوں پر ہے جو ایسے انسان کو نہ صرف مقتدئ پیشوا بلکہ نبی تک مان بیٹھے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا اس قسم کے کردار کو عقل سلیم قبول کس طرح کرتی ہے۔
اب ہم مرزا قادیانی کو روئیں یا ان کے ماننے والوں کے ذہنی دیوالئے پن پر ماتم کریں۔ بہرحال نبوت کی خاتمیت پر زور لگا کر مرزا قادیانی نے امت کو جس تشتت اور انتشار میں مبتلا کر دیا ہے۔ مسلم قوم کے مرکزی اتحاد کو جس طرح پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہندوستان کی جہاد آزادی اور استخلاص وطن کی کوششوں کو انگریزوں سے خفیہ واعلانیہ معاملات کر کے جس طرح سبوتاژ کیا ہے۔ ایشیاء وافریقہ کے مظلوم عوام کو جس طرح مغربی آقاؤں کے عشرت کدوں یا مذبح خانوں کے حوالے کر دینے کی اسکیم بنائی۔ یہ ایسے ابواب ہیں کہ اگر ایک طرف علماء، بلکہ اسلام کے ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ اس ناپاک تنظیم کے بیج اور اس کے اثرات کو روئے زمین سے مٹادیں تو دوسری طرف ایک سیکولر، انصاف پسند حکومت کا بھی یہ اخلاقی فرض ہے کہ اس جماعت کو برداشت نہ کرے۔ جس کا دامن ملک سے وفاداری کی نسبت سے ماضی میں داغدار رہا ہے۔ دارالعلوم اور جمعیت العلماء کے علماء کرام نے ہمیشہ ہی یہ فرض پورا کیا ہے اور آج پھر الحمدللہ! مذہبی اور دینی لحاظ سے دارالعلوم کو اس فتنے کا شدید احساس ہوا اور ہمیشہ کی طرح پھر یہ مرکزی ادارہ آگے آیا ہے۔ ”ربنا تقبل منا انك انت العزيز الحكيم“ اور اب ان کے بارے میں اس کے علاوہ کیا کہا جائے۔ ”لا تحسبن الله غافلاً عما يعمل الظلمون انما يؤخرهم ليوم تشخص فيه الابصار“
٩٣
مسئلہ ختم نبوت کتاب وسنت کی روشنی میں
از: محمد ظفیر الدین مفتی دارالعلوم دیوبند
"الحمدلله رب العلمین والصلوة والسلام علیٰ رسوله خاتم النبیین وعلیٰ آله وصحبه اجمعین" دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان ایک مذہبی ملک ہے۔ اس کے رگ وریشہ میں مذہب رچا بسا ہوا ہے۔ یہاں بسنے والے مختلف مذاہب کے پیرو ہیں۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، سبھی یہاں رہتے سہتے ہیں اور اپنے دین ودھرم سے انس ومحبت رکھتے ہیں۔ بلکہ اپنے دین کی حفاظت پر اپنی جانیں نچھاور کرتے ہیں۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دور میں کچھ افراد مختلف راستوں سے مذہب پر حملے کرتے رہے ہیں۔ چونکہ یہاں عرصہ تک مسلم حکمراں رہے ۔ اس لئے اسلام کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا اور مزے کی بات یہ ہے کہ جہاں غیر مذہب والوں نے مخالفت کی اس کی رو میں اپنے لوگ بھی حملہ آور ہوتے رہے۔
مسلمانی حکومت کے ختم ہوتے ہی کہنا چاہئے اسلام مخالفین کے نرغہ میں آ گیا۔ انگریز جو نئے حکمراں کی حیثیت سے آئے تھے انہوں نے خصوصی طور پر اسلام کو مٹانے کی جدوجہد کی اور یہی وجہ ہے کہ ١٨٥٧ء میں انگریزوں نے بے دردی کے ساتھ علماء اسلام کو تہ تیغ کیا، ان کو پھانسیوں پر لٹکایا اور جو تھوڑے بہت بچ گئے تھے ان پر مقدمہ قائم کر کے کالا پانی بھیج دیا اور انہیں تڑپ تڑپ کر جان دینے پر مجبور کیا۔
دوسری طرف عیسائیت کی تبلیغ کے لئے پوپ پادریوں کا جم غفیر بلا لیا اور ان کی پشت پناہی کے لئے ایک مکتی فوج بنادی۔ نئے حکمرانوں نے سوچا تھا کہ وہ بڑی آسانی کے ساتھ متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائیت میں داخل کر لیں گے اور اس طرح ان کی طرف سے حکومت وقت کو جو شدید خطرہ لاحق ہے وہ ٹل جائے گا۔
ادھر بچے کھچے علماء دین ششدر تھے کہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کے لئے کیا کیا جائے اور ان کو اپنے سچے دین قیم پر کس طرح باقی رکھا جائے؟ یہ بڑا ہی صبر آزما اور خطرناک وقت تھا، حکومت کے ساتھ ساتھ جان و مال کی بھی بربادی ہو چکی تھی۔ لے دے کر دین باقی تھا۔ وہ بھی زد پر تھا۔ بلکہ سب سے زیادہ وہی نشانہ بنا ہوا تھا۔
٩٤
اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء کرے بانیان حالات کے باوجود ہمت نہیں ہاری، قاسم العلوم والخیـ قدس سرہ بڑی جرأت اور ہمت کے آدمی تھے۔ ساـ تھے۔ وہ برابر اپنے مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجـ وہاں ١٨٥٧ء کے بعد روپوش ہو گئے۔ بالآخر رب اـ دینیہ کے قیام کا جذبہ بطور الہام پیدا فرما دیا۔ حضرت اپنے ساتھی اور احباب حضرات امام ربانی حضرت مولانا ذوالفقار علیؒ، مولانا فضل الرحمٰن عثمانیؒ اور دوسـ عربی اسلامی مدرسہ کی داغ بیل ڈالی۔ پھر مراد آباـ مدارس دینیہ قائم کرائے اور مسلمانوں کے چندوں ہشت گانہ لکھ کر ہدایات جاری فرمایا کہ ان اصولوں کـ
دیوبند کا یہی مدرسہ اسلامی عربی جو ١٢٨٣ـ ہوا تھا بہت جلد تھوڑے ہی دنوں میں پورے متحدہ گیا۔ پوپ پادریوں اور آریہ تحریک کے مقابلہ میـ آپ کے تلامذہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ، مولانا رحیم اللہ بجنوری، مولانا عبد العلی میرٹھی، مولاـ قدر، میدان عمل میں آئے اور حفاظت دین کے لـ کہ پوپ پادریوں اور انگریزی حکومت کو اسلام کھانی پڑی اور مذہبی طور پر ان کی برتری ماننے پر مـ
مگر انگریز پھر بھی کہاں چین سے بیٹھنـ دوسری تدبیریں اختیار کیں۔ خود مسلمانوں میں بـ کر دیا۔ فرقہ بہائی، بابی، اور دوسرے ملحدین کو طاقـ تفریق پیدا کریں اور علماء کا رخ انگریز دشمنی سے اـ
لیکن دارالعلوم دیوبند اب توانا ہو چکا تـ بلکہ ہندوستان سے نکل کر غیر ممالک میں جا چکے تـ تھے۔ اس لئے ملک میں وہ تمام تحریکیں آگے نہ چلـ
٥
اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء کرے بانیان دارالعلوم دیوبند کو جنہوں نے ایسے نامساعد حالات کے باوجود ہمت نہیں ہاری، قاسم العلوم والخیرات حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی قدس سرہ بڑی جرات اور ہمت کے آدمی تھے۔ ساتھ ہی دور اندیش اور ملک وملت کے بہی خواہ تھے۔ وہ برابر اپنے مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے پنجاب جا کر مشورہ کرتے رہے۔ جو وہاں ١٨٥٧ء کے بعد روپوش ہوگئے۔ بالآخر رب العالمین نے ان بزرگوں کے دلوں میں مدارس دینیہ کے قیام کا جذبہ بطور الہام پیدا فرما دیا۔ حضرت نانوتوی اس کے محرک اوّل تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھی اور احباب حضرات امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حاجی سید عابد حسین، مولانا ذوالفقار علی، مولانا فضل الرحمن عثمانی اور دوسرے ہمدردوں سے مل کر پہلے دیوبند میں ایک عربی اسلامی مدرسہ کی داغ بیل ڈالی۔ پھر مراد آباد، نگینہ، گلاؤٹھی اور جہاں جہاں اثرات تھے، مدارس دینیہ قائم کرائے اور مسلمانوں کے چندوں سے ان کو چلانے کی رہنمائی فرمائی اور اصول ہشت گانہ لکھ کر ہدایات جاری فرمایا کہ ان اصولوں کو پیش نظر رکھا جائے۔
دیوبند کا یہی مدرسہ اسلامی عربی جو ١٢٨٣ھ مطابق ١٨٦٦ء میں چھتہ کی مسجد میں قائم ہوا تھا بہت جلد تھوڑے ہی دنوں میں پورے متحدہ ہندوستان میں پھیل گیا اور مرکزی دارالعلوم بن گیا۔ پوپ پادریوں اور آریہ تحریک کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوگیا۔ پہلے خود حضرت نانوتوی اور آپ کے تلامذہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن، مولانا احمد حسن امروہی، مولانا فخر الحسن گنگوہی، مولانا رحیم اللہ بجنوری، مولانا عبدالعلی میرٹھی، مولانا منصور مراد آبادی اور دوسرے شاگردان گرامی قدر، میدان عمل میں آئے اور حفاظت دین کے لئے اپنی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ یہ واقعہ ہے کہ پوپ پادریوں اور انگریزی حکومت کو اسلام کے سلسلے میں علماء دیوبند کے مقابلہ میں شکست کھانی پڑی اور مذہبی طور پر ان کی برتری ماننے پر مجبور ہوئی۔
مگر انگریز پھر بھی کہاں چین سے بیٹھنے والے تھے۔ انہوں نے علماء کو شکست دینے کی دوسری تدبیریں اختیار کیں۔ خود مسلمانوں میں سے بہت سارے لوگوں کو اسلام کے خلاف کھڑا کر دیا۔ فرقہ بہائی، بابی، اور دوسرے ملحدین کو طاقت پہنچائی کہ وہ مسلمانوں میں مذہب کے نام پر تفریق پیدا کریں اور علماء کا رخ انگریز دشمنی سے اپنے مذہب کی حفاظت کی طرف پھیر دے۔
لیکن دارالعلوم دیوبند اب توانا ہوچکا تھا۔ اس کے فرزند پورے ملک میں پھیل چکے تھے بلکہ ہندوستان سے نکل کر غیر ممالک میں جا چکے تھے اور اشاعت دین کی خدمت میں منہمک ہوچکے تھے۔ اس لئے ملک میں وہ تمام تحریکیں آگے نہ چل سکیں، جو انگریزوں کے سہارے اٹھ رہی تھیں۔
٩٥
خوب ذہن نشین کر لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے علماء دیوبند کو ایک خاص ”نور بصیرت“ عطا فرمائی ہے۔ وہ بہت جلد بھانپ لیتے ہیں کہ کن تحریکوں کا کیا منشاء ہے اور اس کا رخ کدھر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیسیوں نئی نئی جماعتیں بنیں اور انہوں نے اسلام کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا۔ مگر ان کو کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ علماء دیوبند ہر محاذ پر سینہ سپر ہو گئے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے جب تک مخالف جماعت نے دم توڑ نہیں دیا۔
قادیانیت کا فتنہ بھی دراصل انگریزی حکومت کا پیدا کردہ ہے۔ یہ دور جنگ آزادی کا دور شباب تھا۔ علماء آگے بڑھ کر انگریزی حکومت کے خلاف بول رہے تھے۔ انگریزوں نے ان کا رخ موڑنے کے لئے اس تحریک قادیانیت کو بھر پور تعاون دیا۔ اس جماعت سے جہاد کے خلاف فتویٰ دلایا اور چاہا کہ مسلمانوں کو اس میں الجھا دیا جائے اور علماء اس میں الجھ کر انگریزی حکومت کے خلاف جہاد بند کر دیں۔
خاکسار نے قادیانیت بالخصوص بانی قادیانیت کا جہاں تک مطالعہ کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس فتنہ کا بانی مالخولیا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اور جن لوگوں نے اس فتنہ کو قبول کیا۔ یقیناً وہ بھی عقل و خرد سے بیگانہ تھے یا انگریزوں کو خوش کرنا چاہتے تھے اور عہدوں کے طالب تھے۔
بانی فتنہ نے کبھی مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ کبھی مہدی بننے کا اعلان کیا۔ کبھی مسیح موعود بنا اور آخر میں آ کر نبوت کا مدعی بن گیا اور اسلامی تعلیمات میں من مانی کتر بیونت شروع کر دی۔ پھر نبوت کی مختلف قسمیں بیان کیں۔ تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی، لغوی، مجازی، نہ معلوم کیا کیا بکواس کی۔ کوئی شبہ نہیں کہ صورتحال علماء حق کے لئے بڑی ہی ناگوار اور خطرناک تھی۔ بالخصوص علماء دیوبند یہ دیکھ کر بے چین ہو گئے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر انہوں نے طے کر لیا کہ اس فتنہ کو ختم کرنا ہے۔ خواہ اس کے لئے جتنی بھی قربانیاں دینا پڑیں اور جس قدر بھی مصیبت برداشت کرنا پڑے۔
اس زمانہ میں دارالعلوم دیوبند کی صدارت تدریس پر محدث العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ قدس سرہ جیسے جلیل القدر عالم ربانی فائز تھے۔ جن کے علم و عمل اور قوت حافظہ کی اپنے اور غیروں سبھوں میں دھوم تھی۔ کچھ لوگ انہیں چلتا پھرتا کتب خانہ کہا کرتے تھے اور بلا ریب حضرت شاہ صاحب بڑی خوبیوں کے مالک تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں وافر علم حدیث و فقہ سے نوازا تھا۔ اہتمام کی مسند پر حضرت نانوتویؒ کے خلف الرشید مولانا حافظ محمد احمد صاحب جلوہ افروز
٩٦
تھے۔ جب ان تک اس فتنہ کی خبر پہنچی تو یہ سراپا فتنہ، محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دین قیم پر سے بیٹھنا جائز نہیں ہے۔
اس زمانہ میں حضرت شاہ صاحبؒ دینے والے تھے۔ استاذ کے ساتھ یہ سارے صاحبؒ نے خود بھی اس فتنہ کے خلاف متو دارالعلوم کے دوسرے اساتذہ نے بھی کتا ہندوستان میں ہر مسلک کے علماء بھی اس فتنہ اللہ امرتسریؒ، مجدد اعظم والملت مولانا سید مح کرام نے بھی اس محاذ پر اپنی طاقت لگا دی۔ رہ گیا۔ ہندوستان کی سرزمین بہت حد تک پا پھر ایک دفعہ پاکستان میں سر اٹھایا اور بڑی قو دیوبند کی ایک بڑی جماعت موجود تھی وہ ا دیوبندیؒ، حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ، ح بخاریؒ، مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ اور دوسرے سرکوبی میں جدوجہد شروع کر دی۔ اس کا ن قادیانیوں کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا اور غیر مسلم قرار دیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس بند کر دیا۔ اب یہ فتنہ بحمداللہ دب دبا گیا، مگر مبتلا ہیں اور مخالف اسلام طاقتیں اس کو ابھا جو اس فتنہ سے تقریباً نا آشنا ہے اس کو آگا جب کبھی وقت آئے تو یہ میدان عمل میں کو آئے اسے ہمیشہ کے لئے بجھا ڈالیں اور بھر پور جذبہ پیدا کر لیں۔ اس فتنہ کا سد مشکوک بنانے کی سعی کی ہے۔ مگر اس عنوا وقت مناسب معلوم ہوا کہ اس پر سرسری ن
تھے۔ جب ان تک اس فتنہ کی خبر پہنچی تو یہ سراپا عمل بن کر میدان میں اتر آئے اور فرمایا کہ بھائی یہ فتنہ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دین قیم پر بڑا حملہ ہے۔ جب تک یہ مٹ مٹا نہ جائے چین سے بیٹھنا جائز نہیں ہے۔
اس زمانہ میں حضرت شاہ صاحبؒ کے تلامذہ ذی علم، ذی استعداد اور دین مبین پر جان دینے والے تھے۔ استاذ کے ساتھ یہ سارے تلامذہ اس فتنہ کی سرکوبی پر آمادہ ہو گئے۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے خود بھی اس فتنہ کے خلاف متعدد کتابیں لکھیں۔ دورے کئے اور اسی کے ساتھ دارالعلوم کے دوسرے اساتذہ نے بھی کتابیں تصنیف کیں اور دورے کئے۔ پھر سارے ہندوستان میں ہر مسلک کے علماء بھی اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے میدان میں نکل آئے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، بحر العلوم والعرفان مولانا سید محمد علی مونگیریؒ بانی ندوۃ العلماء لکھنؤ اور دوسرے علماء کرام نے بھی اس محاذ پر اپنی طاقت لگا دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ فتنہ بہت جلد قادیان میں سکڑ کر رہ گیا۔ ہندوستان کی سرزمین بہت حد تک پاک وصاف ہوگئی۔ ملک کی تقسیم کے بعد اس فتنہ نے پھر ایک دفعہ پاکستان میں سر اٹھایا اور بڑی قوت کے ساتھ تحریک شروع ہوئی۔ مگر پاکستان میں علماء دیوبند کی ایک بڑی جماعت موجود تھی وہ اس کو کہاں برداشت کر سکتی تھی۔ حضرت مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ، حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا بدر عالم میرٹھیؒ اور دوسرے علماء سینہ سپر ہوگئے اور پوری قوت کے ساتھ اس کی سرکوبی میں جدوجہد شروع کر دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے عالم اسلام (ممالک اسلامیہ) نے قادیانیوں کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا اور اس کا اعلان کیا۔ پھر حکومت پاکستان نے اس فرقہ کو غیر مسلم قرار دیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کو ابھرنے سے روک دیا۔ بلکہ ایک محدود دائرہ میں بند کر دیا۔ اب یہ فتنہ بحمداللہ دب دبایا گیا ۔ مگر بہرحال اب بھی کہیں کہیں دو چار گھرانے اس فتنہ میں مبتلا ہیں اور مخالف اسلام طاقتیں اس کو ابھارنا چاہتی ہیں۔ دارالعلوم دیوبند چاہتا ہے کہ موجودہ نسل جو اس فتنہ سے تقریباً نا آشنا ہے اس کو آگاہ کرے اور آئندہ کے لئے ان کو آمادہ و تیار کرے تاکہ جب کبھی وقت آئے تو یہ میدان عمل میں کود پڑیں اور جہاں جہاں اس وقت اس فتنہ کی چنگاری نظر آئے اسے ہمیشہ کے لئے بجھا ڈالیں اور اسی نام پر وہ دوسرے آنے والے فتنوں کی سرکوبی کا بھی بھرپور جذبہ پیدا کر لیں۔ اس فتنہ کا سب سے بڑا محاذ ختم نبوت کا مسئلہ ہے۔ جس کو اس نے مشکوک بنانے کی سعی کی ہے۔ مگر اس عنوان پر بڑی عمدہ اور مضبوط کتابیں چھپ چکی ہیں۔ لہٰذا اس وقت مناسب معلوم ہوا کہ اس پر سرسری نظر ڈال لی جائے اور یہ بتا دیا جائے کہ مسئلہ ختم نبوت مسلم
٩٧
ہے اور سارے شکوک و شبہات سے بالاتر ہے۔ عہد نبوت سے لے کر اب تک یہ مسئلہ بے غبار رہا ہے اور انشاء اللہ تا قیامت بے غبار رہے گا۔
مسئلہ ختم نبوت کے متعلق اگر یہ ذہن نشین ہو جائے کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے اور نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے، نہ تشریعی باقی ہے، نہ غیر تشریعی ، نہ ظلی باقی ہے اور نہ بروزی، آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد جو بھی کسی طرح کی نبوت کا مدعی ہے وہ جھوٹا ، کذاب اور دجال ہے۔ جیسا کہ خود سرور کائنات ﷺ کا ارشاد ہے: ”لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون، كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧) ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک بہت سے دجال اور جھوٹے نہ اٹھائے جائیں۔ جن میں سے ہر ایک یہ خیال کرتا ہو کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی اور نبی دوسرا ہونے والا نہیں ہے۔“
سیکڑوں آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے صراحت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت آنحضرت ﷺ پر تمام ہو چکی ہے اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (الاحزاب:٤٠) ”محمد تمہارے مردوں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں، اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔“
اس آیت میں صراحت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے بعد آپ ﷺ کی تشریف آوری ہوئی ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی اور دوسرا ہونے والا نبی نہیں ہے۔ بلکہ خاتم النبیین خود آپ ﷺ ہی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک جتنے انسان ہوں گے وہ سب آپ ﷺ کی امت میں داخل ہوں گے۔
خود قرآن پاک میں ہے: ”قل يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعا، الذى له ملك السمٰوت والارض (الاعراف:١٥٨) ”آپ کہہ دیجئے! اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ جس کی بادشاہی ہے تمام آسمانوں اور زمین میں۔“
اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق صراحت ہے کہ آپ ﷺ زمین پر تمام بسنے والے انسانوں کے رسول برحق ہیں۔ قیامت تک جو بھی انسان پیدا ہوگا آپ ﷺ کی امت میں داخل ہوگا اور اس کا فرض ہوگا کہ آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین قیم کی پیروی
٩٨
کرے۔ چنانچہ دوسری جگہ ارشاد ہے: ”وما ونذيراً (سبا:٢٨) ”اور ہم نے تو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے۔“
دنیا کے تمام انسانوں کی رہبری ا ہے۔ جنت کی خوشخبری سنا دیجئے۔ ان لوگوں کو ا ڈرائیے ان کو جو ایمان و اسلام کی دولت سے مـ
ایک اور جگہ قرآن نے کہا: ”ومـ (الانبياء:١٠٧) ”اور ہم نے نہیں بھیجا آ کے لئے۔“
ان تمام آیات سے معلوم ہوا کہ کے لئے بھی اور قیامت تک پیدا ہونے والو آنا نہیں ہے اور خدا کا دین آپ ﷺ پر مکمل خامی باقی نہیں رہی کہ کسی اور نبی کی ضرورت
فرمایا: ”اليوم اكملت لكم دينكم و دينا (المائده:٣) ”میں نے تمہارے دی اور میں نے تمہارے لئے دین اسلام کو
یہاں ایک اور بات بتا دینے ہے۔ تاء کے زبر کے ساتھ بھی ہے اور تاء زیر کے ساتھ بھی ہے۔ اور ان دونوں صورتوں میں دونوں کے معنی ختم کرنے وا خاتم النبيين بمعنى آخر النـ کے معنی ہوں گے وہ ذات جس پر سلسلہ ا معلوم ہوا کہ خاتم ہو یا خاتم بـ کرنے والے اور سارے نبیوں کے بعـ وضاحت کے ساتھ یہی معلوم ہوا کہ محمـ نبی آنے والا نہیں ہے۔
کرے۔ چنانچہ دوسری جگہ ارشاد ہے: ”وما ارسلناك الا كافة للناس بشيراً ونذيراً (سبا:٢٨)“ ﴿اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے۔﴾
دنیا کے تمام انسانوں کی رہبری و ہدایت آپ ﷺ کی ذات اقدس سے تعلق رکھتی ہے۔ جنت کی خوشخبری سنا دیجئے۔ ان لوگوں کو جو ایمان و اسلام کی دولت قبول کریں اور دوزخ سے ڈرایئے ان کو جو ایمان و اسلام کی دولت سے محروم رہ گئے ہیں۔
ایک اور جگہ قرآن نے کہا: ”وما ارسلنك الا رحمة للعلمين (الانبياء:١٠٧)“ ﴿اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ کو لیکن دنیا جہاں کے لوگوں پر مہربانی کرنے کے لئے۔﴾
ان تمام آیات سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کی نبوت عام ہے۔ اپنے عہد کے انسانوں کے لئے بھی اور قیامت تک پیدا ہونے والوں کے لئے بھی۔ آپ ﷺ کے بعد کسی نبی ورسول کو آنا نہیں ہے اور خدا کا دین آپ ﷺ پر مکمل کر دیا گیا ہے۔ اس دین مبین میں کہیں سے کجی یا خامی باقی نہیں رہی کہ کسی اور نبی کی ضرورت باقی کہی جاسکے۔ رب کائنات جل مجدہ نے اعلان فرمایا: ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا (المائده:٣)“ ﴿میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل، کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور میں نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔﴾
یہاں ایک اور بات بتا دینے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ خاتم النبیین میں دو قرأتیں ہیں۔ تاء کے زبر کے ساتھ بھی ہے اور تاء کے زیر کے ساتھ بھی ہے۔ قاری حسن اور عاصم نے تاء کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور ان دونوں کے علاوہ دوسرے تمام قاریوں نے تاء کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور دونوں کے معنی ختم کرنے والے اور اخیر کے آتے ہیں۔ معنی خاتم النبیین ”الذي ختم النبيون به ومآ لہ آخر النبيين (روح المعانى ج٧ ص٥٩)“ پس خاتم النبیین کے معنی ہوں گے وہ ذات جس پر سلسلہ انبیاء ختم کر دیا گیا ہو اور اس کا حاصل آخر النبیین ہی ہے۔
معلوم ہوا کہ خاتم ہو یا خاتم نتیجہ کے اعتبار سے دونوں کے معنی ایک ہیں کہ نبیوں کے ختم کرنے والے اور سارے نبیوں کے بعد آنے والے، اوپر کی آیتیں جو نقل کی گئیں ان سے بھی وضاحت کے ساتھ یہی معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ ﷺ خاتم المرسلین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔
٩٩
یہ عجیب بات ہے کہ گمراہ فرقہ جو مسلمانوں قرآن کا نام لے کر ہی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے او جنہوں نے قرآن نہیں پڑھا ہے بڑی آسانی سے اس برباد کر لیتے ہیں۔
حالانکہ جو فرقہ قرآن کا ایسا معنی بیان کرتا ہ نہیں ہیں وہ یقیناً الحاد ودہریت ہے اور دین قیم سے کھ الحاد ودہریت کی یہ راہ اختیار کی اور دنیاوی اغراض کے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ ختم نبوت کا بیان قرآن مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنی کتاب ختم نبوت میں آنحضرت ﷺ کا آخری نبی ہونا ثابت ہے۔
ختم نبوت پر خود احادیث نبوی میں بھی بڑ فرمایا کہ چھ امور میں مجھے اللہ تعالیٰ نے دوسرے انبیاء ایک یہ ہے:” وارسلت الى الخلق كافة وخ
(ص٥١٢، باب فضائل سيد المرسلين)“ میں
آمد ختم کر دی گئی ہے۔ ﴿
ایک بار ارشاد ہوا کہ ہر نبی کسی خاص انسانوں کے لئے مبعوث کیا گیا۔ ”وكان النبى يبعث الى قومه خـ
عليه، مشكوة ص ٥١٢)“
نبی اپنے خاص قوم مبعوث ہوا۔ ﴿
ایک موقعہ سے سرور کونین ﷺ نے فرما النبيين (مشكوة ص ٥١٣)“ میں اللہ کے نز ایک حدیث ہے:” أنا العاقب و
عليه (مشكوة ص٥١٥، باب اسماء النبى) “
کے بعد کوئی نہ آئے۔ ﴿
٠١
یہ عجیب بات ہے کہ گمراہ فرقہ جو مسلمانوں میں پیدا ہوتا ہے وہ عوام کو سب سے پہلے قرآن کا نام لے کر ہی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بے پڑھے لکھے عوام یا وہ جدید تعلیم یافتہ جنہوں نے قرآن نہیں پڑھا ہے بڑی آسانی سے اس کی باتوں میں آ جاتے ہیں اور اپنی عاقبت برباد کر لیتے ہیں۔
حالانکہ جو فرقہ قرآن کا ایسا معنی بیان کرتا ہے جو صحابہ کرام اور سلف صالحین سے منقول نہیں ہیں وہ یقیناً الحاد و دہریت ہے اور دین قیم سے کھلی ہوئی بغاوت ہے۔ قادیانی فرقہ نے بھی الحاد و دہریت کی یہ راہ اختیار کی اور دنیاوی اغراض کے لئے قرآن پاک کے غلط معنی بیان کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ ختم نبوت کا بیان قرآن پاک میں متعدد جگہ آیا ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنی کتاب ختم نبوت میں ننانوے آیتیں نقل کی ہیں۔ جن سے آنحضرت ﷺ کا آخری نبی ہونا ثابت ہے۔
ختم نبوت پر خود احادیث نبوی میں بھی بڑا ذخیرہ ہے۔ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ چھ امور میں مجھے اللہ تعالیٰ نے دوسرے انبیاء کرام میں فضیلت عطاء فرمائی۔ ان میں سے ایک یہ ہے: ”وارسلت الى الخلق كافة وختم بي النبيون (رواه مسلم، مشكوة ص ٥١٢، باب فضائل سيد المرسلين)“ ﴿میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا اور مجھ پر نبیوں کی آمد ختم کر دی گئی ہے۔﴾
ایک بار ارشاد ہوا کہ ہر نبی کسی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوئے۔ مگر مجھے عام انسانوں کے لئے مبعوث کیا گیا۔
”وكان النبي يبعث الى قومه خاصة وبعثت الى الناس عامة (متفق عليه، مشكوة ص ٥١٢)“ ﴿نبی اپنے خاص قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں عام کی طرف مبعوث ہوا۔﴾
ایک موقعہ پر سرور کونین ﷺ نے فرمایا: ”انی عند الله مكتوب خاتم النبيين (مشكوة ص ٥١٣)“ ﴿میں اللہ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا گیا ہوں۔﴾
ایک حدیث ہے: ”انا العاقب والعاقب الذي ليس بعده نبي، متفق عليه (مشكوة ص ٥١٥، باب اسماء النبی)“ ﴿میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نہ آئے۔﴾
١٠١
ان تمام حدیثوں میں ختم نبوت کی صراحت ہے۔ پھر اس میں تاویل کیسے چل سکتی ہے۔ خود رحمت عالم ﷺ نے اس باب میں کوئی گوشہ ایسا نہیں چھوڑا ہے جس سے اس مسئلہ میں کوئی تحریف کی جاسکے۔ اس پر تمام امت کا اجماع ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول ہرگز نہیں بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا : ”انا اخر الانبیاء وانتم آخر الامم (رواہ ابن ماجہ ایضاً) ”میں تمام نبیوں کے بعد آیا اور تم ساری امتوں کے بعد آخری امت ہو۔“
ختم نبوت سے متعلق علماء کی تحقیق کے مطابق دو سو حدیثیں ہیں۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ان میں سے حضرت مفتی شفیع صاحبؒ نے دو سو سے زیادہ حدیثیں نقل کر دی ہیں۔ ان حدیثوں کا مطالعہ وہاں کیا جاسکتا ہے۔ آیت کریمہ اور آپ ﷺ کے خاتم النبیین کے پیش نظر امام غزالیؒ نے لکھا ہے : ”ان الامة قد فهمت من هذا اللفظ انه افهم عدم نبي بعده ابداً وعدم رسول بعده ابدا وانه ليس فيه تاويل ولا تخصيص فكلامه من انواع الهذيان لا يمنع الحكم بتكفيره لا نه مكذب لهذا النص الذى اجمعت الامة علی انه غیر مأول ولا مخصوص (كتاب الاقتصاد) ”پوری امت نے خاتم النبیین کے الفاظ سے یہی سمجھا ہے کہ یہ آیت بتاتی ہے کہ رسول خدا ﷺ کے بعد کبھی بھی نہ کوئی نبی ہے اور نہ رسول ہے اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ نہ اس میں کوئی تاویل ہے اور نہ کوئی تخصیص اور جس نے اس کے خلاف سمجھا ہے وہ اس کی بکواس ہے اور جو تاویل کرے۔ اس کے کافر قرار دینے کو کوئی روک نہیں سکتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اس طرح نص صریح، آیت قرآنی کی تکذیب کرتا ہے۔ جس کے متعلق امت محمدیہ کا اجماع ہے اور اس میں نہ کوئی تاویل کی گنجائش ہے اور نہ کسی تخصیص کی۔“
ایسے لوگ جو ختم نبوت میں شک کرتے ہیں ان کو علماء اسلام نے بالاتفاق کافر و مرتد اور واجب القتل قرار دیا ہے اور گذشتہ زمانہ میں ایسے اشخاص کو علماء کرام کے فتاویٰ کی بنیاد پر قتل بھی کیا گیا ہے۔ عہد نبوی میں مسیلمہ کذاب قتل کیا گیا۔ اسود عنسی قتل کیا گیا۔ حضرت کشمیریؒ نے اس سلسلے میں بہت سارے فتاویٰ اپنی کتاب اکفار الملحدین میں جمع کر دیا ہے۔ ایک جگہ شرح شفاء کے حوالہ سے لکھتے ہیں : ”اسی طرح ابن قاسم مالکی نے اس شخص کو مرتد کہا جو خود کو نبی کہے اور دعویٰ کرے کہ ہمارے پاس وحی آتی ہے۔ سحنون مالکی کا قول بھی یہی ہے۔ ابن قاسم نے نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو مرتد قرار دیا ہے۔ خواہ وہ پوشیدہ طور پر اپنی نبوت کی دعوت دیتا ہو۔ خواہ اعلانیہ طور پر۔ اس لئے کہ وہ اس طرح آیت قرآنی، خاتم النبیین کا انکار کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی بھی
١٠٢
تکذیب کرتا ہے۔ اس لئے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ نبی نہ ہوگا۔ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بہتان لگاتا ہے اور بھیجی ہے اور مجھے رسول بنایا ہے۔“
قاضی عیاضؒ اپنی کتاب شفاء میں فرماتے حارث نامی مدعی نبوت کو قتل کر کے عبرت کے لئے سـ دوسرے خلفاء اور سلاطین نے ایسے تمام مدعیان نبوت تصویب و تائید کی ہے اور جو کوئی اس تصویب کرنے والے
علامہ خفاجیؒ لکھتے ہیں : ”اسی طرح ہم اس شخـ کسی اور کے نبی ہونے کا دعویٰ کرے۔ مثلاً مسیلمہ کذاب آپ ﷺ کے بعد کوئی اور شخص نبوت کا دعویٰ کرے آپ ﷺ قرآن وحدیث کے نصوص اور تصریحات ہیں۔ لہٰذا ان کے عقائد اور دعوؤں سے ان تمام نصوص کفر ہے۔“
اسی طرح وہ شخص بھی کافر ہے جو یہ دعویٰ کـ نبی ہونے کا دعویٰ نہ بھی کرے۔ یہ سارے لوگ ا اکرم ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ ﷺ کی تقـ اس پر اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ختم نبوت کے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ جو اس کے خـ
محدث جلیل حضرت شاہ صاحب کشمیریؒ ہے : ”کہ جو شخص یہ نہ جانتا ہو کہ محمد ﷺ آخری نبی ہـ ضروریات دین میں سے ہے۔“
گویا نہ جاننا عذر قرار نہیں پایا۔ دوسرے میں قطعا عذر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ شرح عقائد نسفی پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخـ
اسی طرح عقائد کی تمام کتابوں میں صـ نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
تکذیب کرتا ہے۔ اس لئے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بہتان لگاتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے اور مجھے رسول بنایا ہے۔“
(اکفار الملحدین)
قاضی عیاضؒ اپنی کتاب شفاء میں فرماتے ہیں کہ: ”خلیفہ عبدالملک بن مروان نے حارث نامی مدعی نبوت کو قتل کر کے عبرت کے لئے سولی پر لٹکایا تھا۔ اسی طرح اور بہت سے دوسرے خلفاء اور سلاطین نے ایسے تمام مدعیان نبوت کو قتل کیا ہے اور علماء امت نے اس قتل کو تصویب و تائید کی ہے اور جو کوئی اس تصویب کرنے والے کا مخالف ہے وہ بھی کافر ہے۔“ (ایضاً)
علامہ خفاجیؒ لکھتے ہیں: ”اسی طرح ہم اس شخص کو بھی کافر کہیں گے جو آپ ﷺ کے بعد کسی اور کے نبی ہونے کا دعویٰ کرے۔ مثلاً مسیلمہ کذاب کو یا اسود عنسی کو یا کسی اور کو نبی مانتا ہو، یا آپ ﷺ کے بعد کوئی اور شخص نبوت کا دعویٰ کرے (جیسے قادیانی فرقہ کے لوگ) اس لئے کہ آپ ﷺ قرآن وحدیث کے نصوص اور تصریحات کے مطابق خاتم النبیین اور آخری رسول ہیں۔ لہٰذا ان کے عقائد اور دعوؤں سے ان تمام نصوص کی تکذیب اور انکار لازم آتا ہے جو صریحاً کفر ہے۔“
(اکفار الملحدین)
اسی طرح وہ شخص بھی کافر ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ اس کے پاس وحی آتی ہے۔ اگرچہ وہ نبی ہونے کا دعویٰ نہ بھی کرے۔ یہ سارے لوگ اس لئے کافر ہیں کہ اس ضمن میں وہ رسول اکرم ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ ﷺ کی تصریحات کے خلاف جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس پر اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ختم نبوت کے سلسلے میں جو کچھ فرمایا ہے وہ اپنے ظاہر پر ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ جو اس کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے وہ کافر ہے۔
محدث جلیل حضرت شاہ صاحب کشمیریؒ نے الاشباہ والنظائر کے حوالہ سے یہ بھی نقل کیا ہے: ”کہ جو شخص یہ نہ جانتا ہو کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس لئے کہ ختم نبوت ضروریات دین میں سے ہے۔“
گویا نہ جاننا عذر قرار نہیں پایا۔ دوسرے امور میں جہل کو عذر مانا گیا ہے۔ مگر اس بات میں قطعاً عذر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ شرح عقائد نسفی میں علامہ تفتازانیؒ نے لکھا ہے کہ: ”سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی محمد ﷺ ہیں۔“
اسی طرح عقائد کی تمام کتابوں میں صراحت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ خدا کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
١٠٣
صاحب روح المعانی نے لکھا ہے: ”وكونه ﷺ خاتم النبيين مما نطق به الكتاب وصدعت به السنة واجمعت عليه الامة ويكفر مدعی خلافه ويقتل ان أصرّ (ج٧ ص١٥)“ ﴿آنحضرت ﷺ کا آخری نبی ہونا ان مسائل میں سے ہے جس پر کتاب اللہ ناطق ہے اور سنت میں جن کی صراحت ہے اور امت کا جن پر اتفاق واجماع ہے اس کے خلاف جو دعویٰ کرے گا وہ کافر قرار دیا جائے گا اور اگر اپنے دعویٰ پر مصر ہوگا تو قتل کیا جائے گا۔﴾
مسلم شریف کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”فاني آخر الانبياء وان مسجدی آخر المساجد (مسلم ج١ ص٤٤٦)“ ﴿میں خاتم النبیین ہوں اور میری مسجد انبیاء کرام کی مسجدوں کی خاتم المساجد ہے۔﴾
حدیث میں اس کی بھی صراحت موجود ہے کہ نبوت ختم ہوچکی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ البتہ اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں۔ ”لم يبق من النبوة الا المبشرات قالوا وما المبشرات قال الرؤيا الصالحة (مشكوة ص٣٩٤، كتاب الرؤيا)“ ﴿مبشرات نبوت میں سے اچھے خوابوں کے سوا دوسرا اور کچھ باقی نہ رہا۔﴾
مختصر یہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کی امت آخری امت ہے۔ اب دین قیم کی اشاعت و حفاظت کی ساری ذمہ داری آپ ﷺ کی امت پر ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دو چیزیں تم لوگوں میں چھوڑ رہا ہوں۔ ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب، دوسری اپنی سنت، تم لوگ جب تک ان کو مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے۔
”قال رسول الله ﷺ تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما كتاب الله وسنة رسوله (رواه في المؤطا، مشكوة ص٣١، باب الاعتصام بالكتاب والسنة)“ ﴿اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ ایک اللہ کی کتاب قرآن پاک ہے اور دوسرے اس کے رسول کی سنت احادیث نبوی ہے۔﴾
رسول الثقلین ﷺ نے ایک دفعہ مستقبل کے فتنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا: ”قال رسول الله ﷺ يكون فى آخر الزمان دجالون كذابون يأتونكم من الاحاديث بما لم تسمعوا انتم ولا آبائكم فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم (رواه مسلم، مشكوة ص٢٨)“ ﴿آخری زمانہ میں بہت سارے دجال و کذاب
١٠٤
ایسی باتیں لے کر تمہارے پاس آئیں گے جو کبھی نہ تم نے سنا ہو لہٰذا تم ان سے خبردار رہنا، وہ تم کو نہ تو گمراہ کرنے پائیں اور نہ تو فتنہ شاید وہ زمانہ آگیا ہے کہ طرح طرح کے دجال و کذ ہیں۔ نئی نئی باتیں گڑھ کر پیش کر رہے ہیں اور مختلف انداز میں مس درپے ہیں۔ نام بظاہر بڑا خوشنما ہے۔ مگر زہر آلود یہ قادیانی فتنہ ک صورت ہے جو ہندوستان میں ہمارے سامنے ظاہر ہیں۔ حیرت وزندیق کھڑا ہو کر یہ کہنے کی جرات کرتا ہے کہ وہ حضرت مہدی معاذ اللہ! ایسی بے باکی، ایسی گستاخی اور ایسا غلط دعویٰ اگر اسلا کردیا جاتا۔
یاد رکھا جائے جب تک دارالعلوم دیوبند اور اس کی ایسی دجالی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔ جس طرح دارالعلو گزشتہ سوا سو سال سے دین مبین کی حفاظت کی ہے۔ آئندہ بھی یہ فریضہ انجام دیتی رہے گی اور یہ ان افراد کو پیدا کرتی رہے وصیانت تعلیمات اسلامی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو تاقیا مجھے بے ساختہ اس وقت سابق مہتمم حکیم الاسلام حضرت مولانا ہے۔ فرمایا کہ اب اس برصغیر میں مجدد کا فریضہ دارالعلوم دیوبنـ فتنے اور خس و خاشاک مخالفین کی طرف سے آئیں گے۔ ان فتنـ دامن اسلام کو محفوظ رکھنا ان کے فرائض میں داخل ہے۔ اللہ رب کی دینی جرأت و ہمت برقرار رکھے۔ تاکہ یہاں سے حق کی آو ”ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم. آم
عقیدۂ ختم نبوت اور مرزا غلام
از: مولا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ کے آخری پیغمبر حضر دنیا میں مبعوث ہوئے وہ خدا کی آخری اور دائمی شریعت ہے جـ میں کوئی الجھاؤ ہے اور نہ ہی کسی قسم کا ابہام ہے۔ اسی طرح جنـ
١٠٥
ایسی باتیں لے کر تمہارے پاس آئیں گے جو کبھی نہ تم نے سنا ہوگا اور نہ تمہارے آباء واجداد نے لہٰذا تم ان سے خبردار رہنا، وہ تم کو نہ تو گمراہ کرنے پائیں اور نہ تو فتنہ میں ڈالنے پائیں۔ ﴾
شاید وہ زمانہ آگیا ہے کہ طرح طرح کے دجال و کذاب پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں ۔ نئی نئی باتیں گڑھ کر پیش کر رہے ہیں اور مختلف انداز میں مسلمانوں کو راہ حق سے ہٹانے کے در پے ہیں۔ نام بظاہر بڑا خوشنما ہے۔ مگر زہر آلود یہ قادیانی فتنہ بھی دراصل اسی دجالی فتنہ کی ایک صورت ہے جو ہندوستان میں ہمارے سامنے ظاہر ہے۔ حیرت ہے کہ ہندوستان میں ایک ملحد و زندیق کھڑا ہو کر یہ کہنے کی جرأت کرتا ہے کہ وہ حضرت مہدی ہے۔ مسیح موعود ہے اور نبی ہے۔ معاذ اللہ! ایسی بے باکی، ایسی گستاخی اور ایسا غلط دعویٰ اگر اسلامی حکومت ہوتی تو اسی وقت وہ قتل کر دیا جاتا۔
یاد رکھا جائے جب تک دارالعلوم دیوبند اور اس کی فیض یافتہ جماعت موجود ہے کوئی ایسی دجالی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ جس طرح دارالعلوم دیوبند اور اس کے تلامذہ نے گزشتہ سوا سو سال سے دین مبین کی حفاظت کی ہے۔ آئندہ بھی یہ دینی اور بین الاقوامی درسگاہ اپنا یہ فریضہ انجام دیتی رہے گی اور یہ ان افراد کو پیدا کرتی رہے گی جن کی زندگی کا مشن حفاظت وصیانت تعلیمات اسلامی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو تا قیامت زندہ و تابندہ رکھے۔ اخیر میں مجھے بے ساختہ اس وقت سابق مہتمم حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد طیب صاحب کی بات یاد آ رہی ہے۔ فرمایا کہ اب اس برصغیر میں مجدد کا فریضہ دارالعلوم دیوبند اور اس کے علماء پر عائد ہے۔ جو فتنے اور خس و خاشاک مخالفین کی طرف سے آئیں گے۔ ان فتنوں کا مٹانا اور خس و خاشاک سے دامن اسلام کو محفوظ رکھنا ان کے فرائض میں داخل ہے۔ اللہ رب العالمین خادمان دارالعلوم دیوبند کی دینی جرأت و ہمت برقرار رکھے۔ تاکہ یہاں سے حق کی آواز اٹھتی اور پھیلتی رہے۔
”ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم . آمین یا رب العلمین“
عقیدہ ختم نبوت اور مرزا غلام احمد قادیانی
از: مولانا عبدالحلیم فاروقی دارالمبلغین لکھنؤ
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ جو مقدس شریعت لے کر دنیا میں مبعوث ہوئے وہ خدا کی آخری اور دائمی شریعت ہے جو بالکل واضح اور روشن ہے۔ نہ تو اس میں کوئی الجھاؤ ہے اور نہ ہی کسی قسم کا ابہام ہے۔ اسی طرح جن پاکباز ہستیوں نے اس دین متین کو
١٠٥
ذات رسالت سے براہ راست حاصل کیا اور آنے والی نسلوں تک حد درجہ ذمہ داری اور کمال دیانت و ثقاہت کے ساتھ منتقل کیا ان کی شخصیات علم و عقل، فضل و کمال، فہم و تدبر، ذہن و مزاج اور طہارت و پاکیزگی کے اعتبار سے کامل واکمل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام کو مٹانے یا اس کے مزاج و طبیعت کو بدلنے کے لئے جب مخالفین اسلام کی طرف سے کوئی کوشش یا سازش رونما ہوئی تو ان حضرات نے کبھی اس کو برداشت نہ کیا اور سر بکف میدان عمل میں اتر آئے۔ حضور اقدس ﷺ کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت کے آغاز میں جب فتنہ ارتداد اٹھا اور مدعیان نبوت نے اپنی جھوٹی نبوتوں کے محل تعمیر کرنے کی ناکام کوشش کی تو حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں نے ان جھوٹے دعویداران نبوت کے محلوں کو اپنی ٹھوکروں سے گرا کر پوری دنیا کو بتا دیا کہ قصر نبوت کی تکمیل ہوچکی۔ اب اگر کوئی اس محل کے سامنے دوسرا محل بنائے گا اسے زمین بوس کر دیا جائے گا۔
ہمارے زمانہ میں تقریباً ایک صدی قبل قادیانی فتنہ کا وجود ہوا جس کی بنیاد انیسویں صدی عیسوی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے رکھی۔ یہ شخص ١٨٣٩ء میں پنجاب کے ایک گاؤں قادیان ضلع گورداسپور میں پیدا ہوا۔ وہیں اس نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور کچھ دیگر فنون و علوم کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد طویل مدت تک انگریزی حکومت کی ملازمت کی۔ ابتداء اس نے دعویٰ کیا کہ اللہ کی طرف سے اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے طرز پر مخلوق خدا کی اصلاح کرے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ مسلسل گمراہیوں کی طرف بڑھتا رہا۔ کبھی کہتا تھا کہ مجھ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح حلول کر گئی ہے اور کبھی دعویٰ کرتا کہ مجھے الہامات و مکاشفات ہوتے ہیں۔ وہ توریت، انجیل اور قرآن پاک کی طرح خدا کا کلام ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ آخری زمانہ میں قادیان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ مجھ پر دس ہزار سے زائد آیتیں اتاری گئی ہیں اور قرآن کریم حضور پاک ﷺ اور دیگر انبیائے سابقین نے میری نبوت کی شہادت دی ہے اور اس شخص نے اپنے گاؤں قادیان کو مکہ اور مدینہ کے ہم رتبہ اور اپنی مسجد کو حضور پاک ﷺ کی مسجد سے افضل کہا اور اس بات کی لوگوں میں تبلیغ کی کہ یہی وہ مقدس بستی ہے جس کو قرآن پاک میں مسجد اقصیٰ کے نام سے ذکر کیا گیا ہے اور جس کا حج کرنا فرض ہے۔ یہ اور ان جیسے نامعلوم اس نے کتنے دعوے کئے جو اس کی اور اس کے متبعین کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی دراصل ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھنے کا خواہشمند تھا جس کے
١٠٦
لئے اس نے پوری کوشش کی وہ اسی لئے انگریزوں کی اطاعت میں حکومت تھی اور ان کی خدمت گزاری اور کاسہ لیسی میں زبان و قلم سے انگریزوں کی محبت و خیر خواہی اور ہمدردی کا ثبو کو بھی اپنے اغراض و مفادات کے لئے یہ شخص موزوں نظر آ کام شروع کیا۔ پہلے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر چند قدم آ اور گذرے تو مسیح موعود بن بیٹھا اور آخر کار منصب نبوت کا ہوا۔ حکومت انگلشیہ نے اس کی سرپرستی کا پورا حق ادا کیا او طرح کی سہولتیں اور مراعات بہم پہنچائیں۔ مرزا غلام احمد ق معترف رہا اور صاف طور پر اس نے اقرار کیا کہ ”میں حکو ایک جگہ اپنی وفاداریوں اور خدمت گذاریوں کو گناتے ہو سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گذرا ہے اور میں کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع ک کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں“۔
خلاصہ گفتگو یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ا اور عقیدہ ختم نبوت کو مٹانے کے لئے بھر پور جدوجہد کی ب قطعیات کا انکار کیا اور ان کی من مانی بے جا اور رکیک مسلمانوں کا ایک ایسا اجماعی اور قطعی عقیدہ ہے جس میں نہیں۔ اس عقیدہ کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لئے یہی اس پر متفق ہیں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ا
عقیدہ ختم نبوت
صدر اسلام سے آج تک تمام مسلمان بخو رکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ گیا ہے۔ یہ ایک ایسا مشہور اور بنیادی عقیدہ ہے کہ اساسی اور ضروری عقائد میں شمار کرتا ہے۔ جس پر ایما قرآن پاک نے بھی بڑی صراحت و صفائی کے س النبیین“ ہیں۔ یہ عقیدہ دراصل دین اسلام کی حیات
١٠٧
لئے اس نے پوری کوشش کی وہ اسی لئے انگریزوں کا اطاعت گزار رہا۔ جن کی ان دنوں ہندوستان میں حکومت تھی اور ان کی خدمت گزاری اور کاسہ لیسی میں اپنی عمر کا ایک بہت بڑا حصہ گزارا اور زبان وقلم سے انگریزوں کی محبت وخیر خواہی اور ہمدردی کا خوب خوب اظہار کیا۔ انگریزی حکومت کو بھی اپنے اغراض ومفادات کے لئے یہ شخص موزوں نظر آیا۔ چنانچہ اس نے بڑی تیزی سے اپنا کام شروع کیا۔ پہلے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر چند قدم آگے بڑھ کر امام مہدی بن گیا۔ کچھ دن اور گزرے تو مسیح موعود بن بیٹھا اور آخر کار منصب نبوت کا مدعی ہوگیا۔ انگریز نے جو چاہا تھا وہ پورا ہوا۔ حکومت انگلشیہ نے اس کی سرپرستی کا پورا حق ادا کیا اور اس کی حفاظت میں کوئی کمی نہ کی۔ ہر طرح کی سہولتیں اور مراعات بہم پہنچائیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہمیشہ حکومت کے احسانات کا معترف رہا اور صاف طور پر اس نے اقرار کیا کہ ”میں حکومت برطانیہ کا خودکاشتہ پودا ہوں۔“ اور ایک جگہ اپنی وفاداریوں اور خدمت گزاریوں کو گناتے ہوئے لکھتا ہے: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
خلاصہ گفتگو یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی خود ساختہ جھوٹی نبوت کے ثبوت میں اور عقیدۂ ختم نبوت کو مٹانے کے لئے بھر پور جدوجہد کی یہاں تک کہ مسلمہ اصول اور قرآنی نصوص وقطعیات کا انکار کیا اور ان کی من مانی بے جا اور رکیک تاویلات کیں جب کہ عقیدۂ ختم نبوت مسلمانوں کا ایک ایسا اجماعی اور قطعی عقیدہ ہے جس میں کسی قسم کی تاویل وتوجیہہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اس عقیدہ کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لئے یہی کافی ہے کہ چودہ سو برس سے تمام مسلمان اس پر متفق ہیں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول اور آخری نبی ہیں۔
عقیدۂ ختم نبوت
صدر اسلام سے آج تک تمام مسلمان یہی مانتے رہے ہیں اور آج بھی اسی پر ایمان رکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کی ذات پر باب نبوت کلی طور پر بند کردیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا مشہور اور بنیادی عقیدہ ہے کہ عامی سے عامی مسلمان بھی اسے دین کے اساسی اور ضروری عقائد میں شمار کرتا ہے۔ جس پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ قرآن پاک نے بھی بڑی صراحت وصفائی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ ”خاتم النبیین“ ہیں۔ یہ عقیدہ دراصل دین اسلام کی حیات اجتماعی اور امت کی شیرازہ بندی کا محافظ ہے
١٠٧
اور اس پر ہمیشہ مسلمانوں کا اجماع رہا ہے اور اس اجماع کی حکایت بھی متواتر ہے۔ قرآن وسنت اور اجماع امت تینوں میں جابجا ”ختم نبوت“ پر واضح اور روشن دلائل موجود ہیں۔
قرآن پاک میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ”ماكـــان محمد ابـا احـد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب : ٤٠)“ (محمدﷺ تم لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ وہ تو اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔)
آیت قرآنیہ میں ”خاتم“ کا لفظ ”ت“ کے زبر اور زیر دونوں کے ساتھ یہی مطلب واضح کرتا ہے کہ آپﷺ آخری نبی ہیں یا یہ کہ آپﷺ نے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ ختم فرما دیا اور آپﷺ کے بعد کوئی شخص مقام نبوت پر سرفراز نہ ہو سکے گا۔ اب اگر کوئی شخص اس کا دعویٰ کرے تو وہ ایسی چیز کا مدعی ہے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔
”خاتم النبیین“ کا یہی مطلب ماہرین لغت نے لکھا ہے کہ ”خـــاتـم الـقـوم آخــر الـقـوم“ کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ لسان العرب جو لغت عرب کی مشہور ومستند کتاب ہے اس میں لکھا ہے: ”ختـام الـقـوم وخاتمهم آخرهـم ومحمـدﷺ خـاتـم الانـبـيـاء “ پھر آگے لکھتے ہیں: ”وخـاتـم الـنـبـيـيـن اى آخـرهـم“ القاموس اور اس کی شرح ”تاج العروس“ میں بھی خاتم اور خاتم کے معنی یہی تحریر کئے ہیں اور اسی کو تمام محققین وعلماء مفسرین نے اختیار کیا ہے۔ امام ابن کثیر خاتم النبیین کی تفسیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اس کے رسول نے اپنی متواتر سنت میں بتایا ہے کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ آپﷺ کے بعد جو بھی شخص اس مقام کا دعویٰ کرے گا وہ انتہائی جھوٹا، مکار، دجال اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہوگا۔“
امام آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں: ”محمدﷺ کے خاتم النبیین ہونے کی خبر قرآن میں دی گئی ہے۔ سنت میں بھی اسے دوٹوک الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ محمدﷺ آخری نبی ہیں۔ اس پر پوری امت کا اجماع ہے۔ لہٰذا جو شخص اس کے خلاف دعویٰ لے کر اٹھے گا اسے کافر قرار دیا جائے گا۔“
صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے: ”نبیﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کرتے تھے۔ ایک نبی وفات پا جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“
(بخاری ج ١ ص ٤٩١)
ایک دوسری جگہ پر نبیﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے۔ ہر
١٠٨
ایک اپنے متعلق دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ حالانکہ میں کوئی نبی نہ ہوگا۔“
(تر
اسی طرح نبی کریمﷺ کی متعدد احادیث اور صحابہ ک معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ پر نبوت ورسالت کا سلسلہ بن میں ختم نبوت پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آپﷺ تک آپﷺ سے پہلے کسی نبی پر نبوت ختم نہ ہونے کے تین اہم اور
- ١...... یہ کہ حضور اقدسﷺ تک جس قدر انبیاء علیہم الس
تشریف لائے ان میں سے کسی کی بھی نبوت عام نہ ہوا کرتی تھی خاص بستی کے لئے ہوا کرتا تھا۔ اسی لئے ضرورت ہوتی تھی کہ و دوسرا نبی بھیجا جائے۔
- ٢...... اجزائے نبوت کی دوسری وجہ یہ تھی کہ انبیائے سابقین
تو ان کے چلے جانے کے بعد ان کی شریعت میں تحریف ہو جاتی شریعت کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی تھی۔ بنابریں ضرورت پ نئی شریعت دی جائے یا سابقہ شریعت کی اس کے ذریعہ سے اصلا
- ٣...... یہ کہ انبیائے پیشین جو شریعت لے کر مبعوث ہوئے
نہیں فرمایا۔ اسی لئے ان کا لایا ہوا دین غیر اکمل ہوتا تھا۔
مذکورہ بالا وجوہ کی بناء پر آپﷺ سے پہلے یکے سلسلہ نبوت دراز ہوتا رہا۔ مگر جب اللہ نے آپﷺ کو اپنا تینوں امور سے پورے طور پر مطمئن کر دیا۔ آپﷺ کی لئے عام کر دی۔ چنانچہ قرآن پاک میں اس مضمون کو مختلف اند ہوا: ”ومـا ارسـلـنـاك الا كـافـة للـنـاس بـشـيـراً ونـذيـر سے یہ اعلان کرایا گیا: ”قـل يـا ايـهـا الـنـاس انـى رسـو مضمون کو اس طرح بھی ذکر فرمایا گیا: ”ومـا ارسـلـنـاك ال آپﷺ کی شریعت کو ابدی اور دائمی فرما کر اس کو رد و بدل ، تحری اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اپنے اوپر لی۔ ”انــا نــحـ لـحـافـظـون“ اور پھر یہ بھی خوشخبری سنا دی گئی کہ ہم نے آپ
ایک اپنے متعلق دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔"
(ترمذی ج ٢ ص ٤٥، ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧)
اسی طرح نبی کریم ﷺ کی متعدد احادیث اور صحابہ کرامؓ کے متعدد آثار سے قطعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ورسالت کا سلسلہ بند ہو گیا۔ اگر عقل و درایت کی روشنی میں ختم نبوت پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ تک سلسلۂ نبوت کے جاری رہنے اور آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی پر نبوت ختم نہ ہونے کے تین اہم اور بنیادی اسباب ہیں۔
- ......١ یہ کہ حضور اقدس ﷺ تک جس قدر انبیاء علیہم السلام مختلف ادوار میں ...... دنیا میں
تشریف لائے ان میں سے کسی کی بھی نبوت عام نہ ہوا کرتی تھی...... ہر نبی کسی ایک خاص قوم یا کسی خاص بستی کے لئے ہوا کرتا تھا۔ اسی لئے ضرورت ہوتی تھی کہ دوسری قوم اور دوسری بستی کے لئے دوسرا نبی بھیجا جائے۔
- ......٢ اجرائے نبوت کی دوسری وجہ یہ تھی کہ انبیائے سابقین جب دنیا سے تشریف لے جاتے
تو ان کے چلے جانے کے بعد ان کی شریعت میں تحریف ہو جاتی تھی اور خداوند قدوس نے کسی بھی شریعت کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی تھی۔ بنابریں ضرورت پڑتی تھی کہ دوسرا نبی آئے اور اس کو نئی شریعت دی جائے یا سابقہ شریعت کی اس کے ذریعہ سے اصلاح کرائی جائے۔
- ......٣ یہ کہ انبیائے پیشین جو شریعت لے کر مبعوث ہوئے اس کو اللہ نے اکمال کا شرف عطاء
نہیں فرمایا۔ اسی لئے ان کا لایا ہوا دین غیر اکمل ہوتا تھا۔
مذکورہ بالا وجوہ کی بناء پر آپ ﷺ سے پہلے یکے بعد دیگرے انبیاء آتے رہے اور سلسلۂ نبوت دراز ہوتا رہا۔ مگر جب اللہ نے آپ ﷺ کو اپنا نبی و رسول بنا کر دنیا میں بھیجا تو ان تینوں امور سے پورے طور پر مطمئن کر دیا گیا۔ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت بھی پوری دنیا کے لئے عام کر دی۔ چنانچہ قرآن پاک میں اس مضمون کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا۔ کبھی تو ارشاد ہوا: ”وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیراً ونذیراً “ اور کبھی آپ کی زبان مبارک سے یہ اعلان کرایا گیا: ”قل یا ایہا الناس انی رسول الله الیکم جمیعاً “ اور اسی مضمون کو اس طرح بھی ذکر فرمایا گیا: ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین “ اسی طرح آپ ﷺ کی شریعت کو ابدی اور دائمی فرما کر اس کو ردو بدل، تحریف وتنسخ کے عمل سے محفوظ فرما دیا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اپنے اوپر لی۔ ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون “ اور پھر یہ بھی خوشخبری سنادی گئی کہ ہم نے آپ ﷺ پر اپنے دین کو اکمل فرما دیا۔
١٠٩
”اليوم اكملت لكم دينكم“ اور ”هو الذى ارسل رسوله بالہدیٰ ودين الحق ليظهر على الدين كله“
نقل و شریعت عقل و درایت ہر اعتبار سے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول خداﷺ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں۔ آپ کے ذریعہ سے جو شریعت ہم کو ملی ہے وہ اس کی آخری ابدی اور دائمی قیامت تک باقی رہنے والی شریعت ہے۔
ختم نبوت کی نئی تفسیر
لیکن مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین نے تاریخ میں پہلی بار ختم نبوت کی جو نرالی تفسیر کی ہے وہ مسلمانوں کی متفقہ تفسیر سے ہٹ کر کی ہے کہ ”خاتم النبیین“ کا مطلب یہ ہے کہ ...... آپ ”نبیوں کی مہر“ ہیں اور اس کی وضاحت یہ بیان کی کہ حضورﷺ کے بعد اب جو بھی نبی آئے گا اس کی نبوت آپﷺ کی مہر تصدیق لگ کر مصدقہ ہوگی۔ اس کے ثبوت میں قادیانی مذہب کی کتابوں سے بکثرت عبارتوں کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ مگر ہم چند حوالوں پر اکتفاء کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں: ”خاتم النبیین کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپﷺ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سند ہو جاتا ہے۔ اسی طرح آنحضرتﷺ کی مہر اور تص
ختم نبوت کی تفسیر کا یہ اختلاف صرف ایک لفظ کی تاویل و تفسیر تک محدود نہ رہا۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے والوں نے اس سے آگے بڑھ کر یہاں تک اعلان کیا کہ نبی ﷺ کے بعد ایک نہیں ہزاروں نبی آ سکتے ہیں۔ یہ بات بھی ان کے اپنے واضح بیانات سے ثابت ہے۔ ہم اس موقع پر بطور نمونہ چند حوالے زیر تحریر لاتے ہیں: ”یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨)
”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا تو جھوٹا ہے کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔“
(انوار خلافت ص ٦٥)
”انہوں نے (یعنی مسلمانوں نے) یہ سمجھ لیا کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔“
(انوار خلافت ص ٦٢)
مرزا قادیانی کا دعوائے نبوت
اس طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت کے لئے راہ ہموار کر کے تخت نبوت بچھا دیا اور ان کے متبعین و مریدین نے بھی ان کو حقیقی معنوں میں نبی تسلیم کر لیا۔ قادیانی گروہ کی بے شمار کتابوں میں ان کے اس دعویٰ کے ثبوت میں بہت سی عبارتیں ہیں۔ ہم مختصراً کچھ تحریریں نقل کئے دیتے ہیں جن سے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کا پتہ چلے گا۔
”میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ بموجب آیت ”وآخرین منهم لما يلحقوا بهم“ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
”مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“
(کشتی نوح ص ٥٦، خزائن ج ١٩ ص ٦١)
”پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) ہرگز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)
منصب نبوت کی توہین
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی جھوٹی نبوت کے ثبوت اور ختم نبوت کے انکار میں فاسد خیالات اور باطل افکار کا اظہار کیا ہے۔ اس کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں: ”وہ دین دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ صرف چند منقول باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اور خدائے حی و قیوم کی آواز سننے اور اس کے مکالمات سے قطعی ناامیدی ہے اور اگر کوئی آواز بھی غیب سے کسی کان تک پہنچتی ہے تو وہ ایسی مشتبہ آواز ہے کہ کہہ نہیں سکتے کہ وہ خدا کی آواز ہے یا شیطان کی ۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨، ١٣٩ خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)
”یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے۔ جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا جو کچھ ہیں قصے ہیں اور کوئی اگر چہ اس کو راہ میں جان بھی فدا کرے۔ اس کی رضا جوئی میں فنا ہو جائے اور ہر ایک چیز پر اس کو اختیار کرے۔ تب بھی وہ اس پر اپنی شناخت کا دروازہ نہیں کھولتا اور مکالمات ومخاطبات سے اس کو مشرف نہیں کرتا۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہیں ہو گا میں ایسے مذہب کا نام شیطانی رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی ۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣ خزائن ج ٢١ ص ٣٥٤)
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ایجاد کردہ مذہب قادیانیت کے جرائم اور مفاسد کو کون کہاں تک گنائے۔ افسوس کہ قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی جیسے ایک پست، ذلیل اور کم عقل انسان کو تاج نبوت پہنا کر ”عقیدہ ختم نبوت“ کے مفہوم کو بالکل الٹا کر دیا۔ ”قادیانیت“ جو درحقیقت اسلام کے خلاف ایک گھناؤنی سازش اور نبوت محمدیہ کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہے وہ عالم اسلام کے جسم کو وہ بدگوشت اور فاسد مادہ ہے جس کو دور کرنا امت مسلمہ کا اہم فریضہ ہے۔ ”قادیانیت“ اسلام کے بنیادی عقائد سے لے کر فروعی مسائل تک اپنا الگ راستہ اختیار کرتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ چند بحثوں میں مسلمانوں سے الگ ہے۔ بلکہ دین کے ہر معاملہ میں مسلمانوں سے اختلاف رکھتی ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود اپنی ایک تقریر میں جو ”الفضل“ کے ٣٠ جولائی ١٩٣١ء کے شمارے میں مسلمانوں سے اختلاف کے
١١٢
عنوان سے شائع ہوئی تھی کہتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل میں ہے۔ آپ نے فر قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیـ سے اختلاف ہے۔“
قادیانیت کا اہم موضوع اگرچہ کافی وسیـ عنوان کے تحت اجمالاً کچھ عرض کیا ہے۔ امید ہے کـ طرف خصوصی توجہ فرمائیں گے اور مل کر وقت کے ا پاک دین حق کی حمایت وحفاظت اور حقانیت ونفا کو بار آور فرمائے۔ آمین!
ختم نبوت علم وعقل کـ
از : فرید الدین مـ
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دین مکمل ہو خاتم النبیین ہیں۔ امت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ رسول اکـ ہے ۔ اسلام خدا کا آخری پیغام اور زندگی کا مکمل نظـ اجماع امت، اولین و آخرین اور قیاس، چاروں دلائل
اللہ تبارک وتعالیٰ رب العالمین ہیں۔ انـ مناسب تربیت دے کر تدریجاً کمال تک پہنچانے کـ مادی ارتقاء کو حد تکمیل تک پہنچانے کے لئے سارے العالمین کی حکمت بالغہ سے یہ کیونکر متصور ہو سکتا ہے اور اس کا مکمل انتظام نہ فرماتے۔
روح عالم امر کی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نـ خدائے رحیم وکریم نے بے پناہ ربوبی شفقت ہی کـ ساتھ ساتھ انسان کی ابتدائے آفرینش ہی سے انبیـ اور نبوت کا سنہری سلسلہ جاری فرمایا ہے اور بتدریـ
عنوان سے شائع ہوئی تھی کہتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریمﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“
قادیانیت کا اہم موضوع اگرچہ کافی وقت کو چاہتا ہے۔ مگر ہم نے صرف ایک عنوان کے تحت اجمالاً کچھ عرض کیا ہے۔ امید ہے کہ دیگر اصحاب قلم اور ارباب علم وفن اس طرف خصوصی توجہ فرمائیں گے اور ملک وملت کے اس خطرناک فتنہ کا تعاقب کریں گے۔ اللہ پاک دین حق کی حمایت وحفاظت اور حقانیت و فقاہت کے سلسلہ میں ہونے والی ہر خدمت کو بارآور فرمائے۔ آمین!
ختم نبوت علم وعقل کی روشنی میں
از: فرید الدین مسعود، ڈائریکٹر اسلامک فاؤنڈیشن بنگلہ دیش
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دین مکمل ہو چکا ہے اور محمدﷺ خدا کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ امت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد اور کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے۔ اسلام خدا کا آخری پیغام اور زندگی کا مکمل نظام ہے۔ یہ عقیدہ قرآن کریم، سنت متواترہ، اجماع امت، اولین و آخرین اور قیاس، چاروں دلائل کی رو سے ایک طے شدہ امر ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ رب العالمین ہیں۔ رب کے معنی یہی ہیں کہ کسی چیز کو اس کے مناسب تربیت دے کر بتدریج کمال تک پہنچانے والا۔ اسی ربوبیت کا تقاضا تھا کہ انسان کے مادی ارتقاء کو حد تکمیل تک پہنچانے کے لئے سارے مادی اسباب کا انتظام فرمایا گیا۔ پس رب العالمین کی حکمت بالغہ سے یہ کیونکر متصور ہو سکتا ہے کہ وہ انسان کی روحانیت کی تکمیل کا بندوبست اور اس کا مکمل انتظام نہ فرماتے۔
روح عالم امر کی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے امر وتذکیر ہی سے اس کی تسکین ہوتی ہے۔ خدائے رحیم و کریم نے بے پناہ ربوبی شفقت ہی کی بناء پر مادی ارتقاء کے اسباب مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی ابتدائے آفرینش ہی سے انسانیت وروحانیت کی تربیت وترقی کے لئے وحی اور نبوت کا سنہری سلسلہ جاری فرمایا ہے اور بتدریج اس کو تکمیل تک پہنچایا۔
١١٣
انسان اس انسانیت کے ارتقاء کی راہ میں بالکل اس قافلہ کے مانند ہے جو ایک متعین منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ لیکن اس منزل تک پہنچنے کے راستے سے وہ آگاہ نہیں۔ کوئی واقف راہ شفیق رہنما اس کو راہ کی کچھ نشانیاں بتا دیتا ہے اور وہ قافلہ اس کی بتائی ہوئی نشانیوں کے مطابق کچھ راستہ طے کر لیتا ہے۔ لیکن اب اس قافلہ کو پھر کسی رہنما کی ضرورت پیش آتی ہے اور وہ اس کی بتائی ہوئی علامات کے مطابق مزید کچھ اور فاصلہ طے کر لیتا ہے۔ اس طرح منزل کی طرف بڑھنے کی صلاحیت میں بتدریج اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
بالآخر اسے ایک ایسا شخص مل جاتا ہے جو اسے راہ سفر کا ایک مکمل نقشہ دے دیتا ہے اور قافلہ اس نقشے کے حاصل کرنے کے بعد کسی نئے رہبر کی ضرورت سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں انسان اور معاشرہ کا ارتقاء کوئی اندھا دھند عمل میں آنے والی حرکت نہیں بلکہ یہ ایک باہدف عمل ہے اور اس کی ایک ہی راہ ہے جسے صراط مستقیم کہا گیا ہے۔ اس عمل کا نقطہ آغاز اور راہ سفر اور منزل مقصود سب متعین اور مشخص ہے۔
سنت الہی کے مطابق نبوت اور وحی کی یہ راہ بتدریج کمال تک پہنچی ہے۔ جیسا کہ ایک عمارت مکمل ہوتی ہے۔ عمارت کی تعمیر کا ہدف اس کے ستون اور دیواریں ہیں۔ ان سے ایک مکمل مکان ہوتا ہے نبوت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ نبوت مصطفوی اس کی کامل صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت کا سلسلہ ختم ومکمل ہو جانے کے بعد وہ مزید کسی اضافے کو قبول نہیں کرتا۔ کیونکہ تکمیل کے بعد کوئی اضافہ کمال کے منافی ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ایک مشہور حدیث میں اسی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا نبوت ایک مکان کی مانند ہے لیکن اس کے مکمل ہونے میں صرف ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی۔ میں ہی وہ اینٹ ہوں۔
یہ تکمیل انسانی ارتقاء کا ایک امر فطری ہے۔ ایک انعام خداوندی وموہبت الہی کی حیثیت سے قرآن اسی اتمام کا اعلان کرتا ہے۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً (المائده: ٣)“
عقیدہ ختم نبوت کا انکار دراصل انسانی اور انسانیت کی فطری تکمیل اور ایک نعمت الہی کی بغاوت ہے۔ دوسرے نبی کی ضرورت عقلا کئی وجوہ سے ہوتی ہے اور ماضی کی تاریخ بھی اس پر شاہد ہے۔
- ١...... کسی کی نبوت وقتی ہو۔ پس وہ وقت گزر جانے پر دوسرے کسی نبی کی ضرورت ہو۔
١١٤
٢٩
- ٢...... کسی کی نبوت خاص کوئی علاقے کے
لئے دوسرے کسی نبی کی ضرورت ہو۔
- ٣...... یا تو کوئی نبی اپنی حمایت تائید میں دو
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ
- ٤...... یا تو نبی کی تعلیمات محفوظ نہ ہوں۔ تح
- ٥...... یا تو دین وشریعت کی تکمیل نہ ہوئی ہ
ان تمام وجوہ سے اگر ہم نظر کریں تو ضرورت باقی نہیں رہی۔ کیونکہ آپ ﷺ کی غ ارشاد خداوندی ہے۔ ”وما ارسلناک ال الناس لا يعلمون“ ”ایسا ہی آپ ﷺ نے نہیں کیا۔ اس کے برخلاف قرآن کریم میں ص من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم آپ ﷺ کی تعلیمات بھی من و ع نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون واتمام کا بھی واضح طور پر اعلان کر دیا گیا۔ ”ال نعمتی (مائده: ٣)“
ختم نبوت رسول اللہ ﷺ کی نبو صفت میں آپ ﷺ کے ساتھ کوئی شریک ن میں لاشریک ماننا ایمان کے لئے ضروری ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی م مانتا تو یہ ماننا بھی حقیقتاً نہ ماننے کے مترادف
شاید یہ بھی ایک حکمت ہو کہ کلم ساتھ ساتھ نبی ﷺ کی رسالت کی شہادت ایمان کے لئے اللہ کو ماننے میں جیسا کہ مو والا انبیاء یقین کرنے میں بھی موحد ہونا ضرو شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب فرما
- ......٢ کسی کی نبوت خاص کسی علاقے کے لئے محدود ہو۔ پس اس محدود علاقہ کے باہر کے
لئے دوسرے کسی نبی کی ضرورت ہو۔
- ......٣ یا تو کوئی نبی اپنی حمایت تائید میں دوسرے کسی نبی کو اللہ تعالیٰ سے مانگ لے۔ جیسا کہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو مانگ لیا تھا۔
- ......٤ یا تو نبی کی تعلیمات محفوظ نہ ہوں، تحریف کا شکار ہوگئی ہوں۔
- ......٥ یا تو دین و شریعت کی تکمیل نہ ہوئی ہو۔
ان تمام وجوہ سے اگر ہم نظر کریں تو دیکھتے ہیں کہ نیا نبی ظلی ہو یا اصلی۔ اب اس کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ کیونکہ آپﷺ کی نبوت کسی زمان و مکان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ”وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیراً ونذیراً ولکن اکثر الناس لا یعلمون“ ایسا ہی آپﷺ نے اپنی تائید کے لئے کسی کو رب العزت سے طلب بھی نہیں کیا۔ اس کے برخلاف قرآن کریم میں صاف اعلان ہوتا ہے: ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (احزاب:٤٠)“
آپﷺ کی تعلیمات بھی من وعن محفوظ ہیں۔ لفظاً بھی معنی بھی، ارشاد ہوتا ہے: ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (الحجر:٩)“ ساتھ ساتھ دین محمدیﷺ کی تکمیل واتمام کا بھی واضح طور پر اعلان کردیا گیا۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (مائدہ:٣)“
ختم نبوت رسول اللہﷺ کی نبوت ورسالت کا طرۂ امتیاز اور خاصہ لازمہ ہے اور اس صفت میں آپﷺ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ جیسا کہ اللہ رب العزت کو ذات وصفات میں لاشریک ماننا ایمان کے لئے ضروری ہے۔ اللہ کو معبود والہ ماننا ہے۔ مگر الہ واحد اور اکیلا نہ ماننا تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی رسولﷺ کو رسول تو مانتا ہے مگر آخری نبی و رسول نہیں مانتا تو یہ ماننا بھی حقیقتاً نہ ماننے کے مترادف ہے۔
شاید یہ بھی ایک حکمت ہو کہ کلمہ شہادت میں اللہ رب العزت کی الوہیت کی توحید کے ساتھ ساتھ نبیﷺ کی رسالت کی شہادت بھی لی گئی ہے اور یہ گویا کہ اس بات کی وضاحت ہے کہ ایمان کے لئے اللہ کو ماننے میں جیسا کہ موحد ہونا ضروری ہے۔ ایسا ہی آپﷺ کو خاتم المرسلین والانبیاء یقین کرنے میں بھی موحد ہونا ضروری ہے۔ یہی عقیدہ اسلام کے لئے حد فاصل ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا: ”یہ عقیدہ کہ حضرت محمدﷺ خاتم النبیین ہیں۔ تنہا وہ
١١٥
عامل (Factor) ہے جو اسلام اور ان کے ادیان کے درمیان ایک مکمل سرحدی خط ( Lene Of Demarcateon ) کھینچتا ہے جو توحید میں مسلمانوں کے ہم عقیدہ ہیں اور محمد ﷺ کی نبوت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن وحی نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے قائل نہیں ہیں۔ جیسا کہ ہندوستان میں برہمو سماج، یہی وہ چیز ہے جسے دیکھ کر کسی گروہ پر داخل اسلام یا خارج اسلام ہونے کا حکم لگایا جاسکتا ہے۔ میں تاریخ میں کسی ایسے مسلمان گروہ کا نام نہیں جانتا جس نے اس خط کو پھاند جانے کی جرأت کی ہو۔"
اور یہی حکمت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک سارے انبیاء کرام علیہم السلام آپ ﷺ کی نبوت کی بشارت دیتے نظر آتے ہیں اور قیامت سے پہلے پہلے جھوٹے مدعی نبوت نے دجال اور کذاب کے فریب کو چاک کرنے کے لئے سارے انبیاء سابقین کی طرف سے اسی شہادت کو دہرانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے اور کذابین کا قلع قمع فرمائیں گے۔ اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی آنے والا ہوتا تو آپ ﷺ پر فریضہ عائد ہوتا کہ آنے والے نبی کی بشارت دیتے جب کہ پہلے انبیاء آپ ﷺ کی بشارت دے کر گئے ۔ حالانکہ کہیں پر ایسا کوئی لفظ آپ ﷺ سے منقول نہیں ہے بلکہ اس کے برخلاف تواتر کے ساتھ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی (ظلی ہو یا اصلی ) نہیں آئے گا۔
ایک طریق زندگی جو انسانی فطرت کے مطابق ہو، جامع اور کلی ہو اور ہر طرح کی تبدیلی اور تحریف سے محفوظ ہو اور جو مسائل کی اچھی تشخیص کرے۔ جسے اچھی طرح منطبق کیا جاسکے۔ عمل ونفاذ کے مرحلے میں ہمیشہ رہنمائی کر سکے اور حالات کے مطابق مختلف طریقوں اور بے شمار جزئی قوانین کے لئے سرچشمہ ثابت ہوسکے۔ یہ انسانی فطرت کا ایک عام تقاضا اور انسان کی ایک بنیادی ضرورت تھی۔ دین محمدی ﷺ کی تکمیل کے ذریعہ جب یہ ضرورت پوری ہو گئی تو فطرۃً وعقلاً کسی نئے نبی کے آنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ لہٰذا نبی، یا نبوت کا ادعا فطرت اور عقل کے خلاف ہے۔
حضرات! اب میں بنگلہ دیش میں قادیانیوں کی کچھ سازش کے متعلق عرض کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان سے قادیانیوں کے ناامید ہو جانے کے بعد برصغیر میں بنگلہ دیش کی زمین انہیں اپنے عزائم پورا کرنے کے لئے ہاتھ آگئی ہے۔ دوسرے علاقے کے مانند یہاں ...... سامراجی ایجنٹ کرسچین مشینری اور یہودیوں کی بھر پور تائید ان کو مل رہی ہے۔ ڈھا کہ کے مشہور علاقہ بخشی بازار میں ان کا مرکز ہے۔ دارالحکومت ڈھا کہ کے مختلف علاقوں میں زمین خرید کر بستیاں بسا رہے
١١٦
ہیں۔ اس کے علاوہ برہمن باڑیا، سلہٹ، سنام گن ورسوخ بڑھا رہے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا بیداری نہیں۔ چار پانچ سال پہلے ڈھا کہ میں انج ہوئے تھے لیکن آج کل یہ بھی سرد پڑ گئی۔
مادر علمی کی طرف سے اس عظیم الشان میں اس فتنے کے خلاف نئی تحریک میں روح پھونکنے دارالعلوم کے اکابر اور اس عظیم الشان اور مبارکباد پیش کرنے کی سعادت میں حصہ لیتے کی توفیق بخشے اور ناموس خاتم الانبیاء پر مٹنے کی س وآخر دعوانا ان الح
ختم نبوت اور مرز
مرزا غلام احمد قادیانی بہت کایاں ان آریہ سماجیوں سے کامیاب مناظرے کئے۔ قابل ڈال دیتی ہے۔ یہی معاملہ مرزا قادیانی کے ساتھ تحذیر الناس میں ختم نبوت پر بحث فرماتے ہوئے خاتمیت زمانی، خاتمیت مکانی، اور خاتمیت ب خاتمیت ثابت ہے۔
خاتمیت رتبی پر بحث فرماتے ہوے یہ ہے کہ نبوت کا اونچے سے اونچا مرتبہ آپ ﷺ سے آخر میں آنا چاہئے تھا۔ کیونکہ اس کے بعد ک حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ن فرمائی ہے اس کے بعد ضرورت نہیں رہ جاتی ک حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے مقدمہ بہاول البتہ بحث کی چیز یہ رہ جاتی ہے ک
ہیں ۔ اس کے علاوہ برہمن باڑیا ، سلہٹ ، سنام گنج ، دیناج پور وغیرہ علاقوں میں بھی وہ اپنا اثر ورسوخ بڑھا رہے ہیں ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری طرف سے وہاں خاص کوئی بیداری نہیں ۔ چار پانچ سال پہلے ڈھاکہ میں انجمن تحفظ ختم نبوت کی طرف سے چند جلسے جلوس ہوئے تھے لیکن آج کل یہ بھی سرد پڑ گئی ۔
مادر علمی کی طرف سے اس عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد عالم بھر میں خصوصاً بنگلہ دیش میں اس فتنے کے خلاف نئی تحریک میں روح پھونکنے میں مؤثر ثابت ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
دارالعلوم کے اکابر اور اس عظیم الشان کانفرنس کے منتظمین کو میں پھر تہہ دل سے شکریہ اور مبارکباد پیش کرنے کی سعادت میں حصہ لیتے ہوئے رب العزت سے دعا گو ہوں ۔ مرضیات کی توفیق بخشے اور ناموس خاتم الانبیاء پر مر مٹنے کی سعادت نصیب فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین!
ختم نبوت اور مرزا غلام احمد قادیانی
از: مولانا عزیز احمد قاسمی (بی۔اے)
مرزا غلام احمد قادیانی بہت عیار انسان تھے۔ ابتداء میں انہوں نے عیسائیوں اور آریہ سماجیوں سے کامیاب مناظرے کئے۔ قابلیت کو اگر کنٹرول میں نہ رکھا جائے تو وہ غلط راستہ پر ڈال دیتی ہے۔ یہی معاملہ مرزا قادیانی کے ساتھ پیش آیا۔ حضرت مولانا محمد قاسمؒ نے اپنی کتاب تحذیر الناس میں ختم نبوت پر بحث فرماتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ خاتمیت تین طرح کی ہوتی ہے۔ خاتمیت زمانی، خاتمیت مکانی، اور خاتمیت رتبی۔ آنحضرت ﷺ کے لئے تینوں طرح کی خاتمیت ثابت ہے۔
خاتمیت رتبی پر بحث فرماتے ہوئے مولانا نے تحریر فرمایا ہے کہ خاتمیت رتبی کا مفہوم یہ ہے کہ نبوت کا اونچے سے اونچا مرتبہ آپ ﷺ کو عطا فرمایا گیا تھا اور جو خاتم رتبی ہو اسے سب سے آخر میں آنا چاہئے تھا۔ کیونکہ اس کے بعد کسی اور نبی کی ضرورت نہیں رہتی۔
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے تحذیر الناس میں ختم نبوت کے سلسلہ میں جو بحث فرمائی ہے اس کے بعد ضرورت نہیں رہ جاتی کہ اس کو ثابت کرنے کی سعی کی جائے۔ اس کے علاوہ حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے مقدمہ بہاول پور میں جو بحث فرمائی ہے وہ بھی کافی و شافی ہے۔ البتہ بحث کی چیز یہ رہ جاتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جو دعویٰ نبوت کیا ہے وہ
دعویٰ کہاں تک صحیح ہو سکتا ہے قبل اس کے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر بحث کی جائے۔ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت پر کچھ دلائل بیان کر دیئے جائیں تو بہتر ہے۔
- .......١ سب سے پہلے تو قرآن پاک کی یہ آیت ہے: ”الیوم اکملت لکم دینکم
واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً (مائدہ:٣)“ اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا۔ یعنی دین کی تکمیل آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی پر ہو گئی۔ اب کسی پیغمبر کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اللہ تعالیٰ نے دین کو ہر پیغمبر پر نازل فرمایا۔ مگر ابتدائی انسانوں کا ذہنی ارتقاء زیادہ نہیں ہوا تھا۔ اس لئے جوں جوں زمانہ گزرتا گیا انسانی ذہن میں ترقی ہوتی رہی۔ اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ دین کے احکام نازل فرماتے رہے۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی انسانی ذہن کا ارتقاء مکمل نہیں ہوا تھا۔ جیسا کہ انجیل مقدس کے عہد جدید میں مذکور ہے کہ ایک بار حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کے سامنے تقریر فرماتے ہوئے یہ فرمایا کہ میں بہت سی باتیں تمہیں بتا چکا ہوں۔ مگر بہت سی باتیں ایسی ہیں جو میں نے تمہیں نہیں بتائیں۔ کیونکہ تم ان کو ابھی نہیں سمجھ سکتے۔ میرے بعد فارقلیط آئیں گے۔ وہ تمہیں وہ باتیں بھی بتائیں گے جو میں بتا چکا ہوں اور وہ باتیں بھی بتائیں گے جو میں نے تمہیں نہیں بتائی ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی ذہن کا ارتقاء اس وقت تک مکمل نہیں ہوا تھا۔ آنحضرت ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لے جانے کے پانچ سو سال بعد تشریف لائے۔ اس وقت انسانی ذہن ....... ارتقاء کی آخری منزل طے کر چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ سے پہلے آنے والے انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں کبھی سارے عالم کے انسانوں کے دماغ میں یہ بات نہیں آئی تھی کہ ساری دنیا کی قوموں کی کوئی ایک انجمن ہونی چاہئے۔ مگر آنحضرت ﷺ کے بعد دنیا کے سارے ممالک کی پہلی انجمن بنی جو آپس کے اختلافات کی وجہ سے ختم ہو گئی۔ اس کے بعد دوبارہ انجمن اقوام متحدہ (یو این او) قائم ہوئی جو آج تک قائم ہے۔ نیز ایک عالم عظیم اقتصادی، سماجی، اور ثقافتی (یونیسکو) کے نام سے قائم ہوئی۔ جو آج تک قائم ہے۔ ان کے علاوہ عالمی بینک اور عالمی فوج بھی قائم ہوئی اور انسانی ذہن نے اتنی ترقی کی کہ ریڈیو، ٹیلی ویژن، تار برقی، لاسلکی، (وائرلیس) اور ایٹمی توانائی ایجاد کر لی اور راکٹ ایجاد کئے جن میں سوار ہو کر انسان نے ساری دنیا کے کئی چکر لگائے اور چاند تک پہنچ گیا۔ اس سے پہلے ان چیزوں کا تصور بھی انسانی ذہن نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ اس کا ذہن اتنا ترقی یافتہ نہیں تھا۔
١١٨
آنحضرت ﷺ کی خاتمیت رتبی کے بارے میں ”قرآن پاک میں پارہ ”سبحان الذی“ کی ابتداء میں م لیلتہ المعراج میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک پہنچایا۔ وہاں تم آنحضرت ﷺ نے امامت فرمائی اور تمام انبیاء علیہم السلام ن کا مرتبہ معلوم ہوتا ہے۔ وہاں سے حضرت جبرائیل علیہ السلا کسی اور پیغمبر کو معراج نہیں ہوئی۔ یہ عروج کا انتہائی درجہ تھا ج تمام انبیاء سابقین علیہم السلام نے جب اپنی قو مخاطب فرمایا۔ مگر آنحضرت ﷺ نے ”یا ایھا الناس “ کیونکہ آپ تمام انسانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے تھے آنحضرت ﷺ بین الاقوامی (انٹرنیشنل) نبی تھے۔ اس سے
خود مرزا قادیانی نے اپنے نبی ہونے کا صاف ا
- .......١ حمامۃ البشریٰ ص ٣٤، خزائن ج ٧ ص ٢١٩، مع
- .......٢ کتاب البریہ ص ١٨٤، خزائن ج ١٣ ص ٢٠٧ ح
- .......٣ ازالہ اوہام ص ٥٧٧، ٥٣٤، خزائن ج ٣ ص م
- .......٤ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً حاشیہ
- .......٥ ”میرے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ میں اپنے پ
کافر ہو جاؤں۔“
ان تصریحات کے ہوتے ہوئے مرزا قادیانی فرمایا جو (تبلیغ رسالت ج ١ ص ٣٢، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧ اس کے بعد اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان ا بھیجا ہے اور جس کی تغلیط کرنا کفر ہے۔ میں بقسم کہتا ہ ہے۔“
اس کے بعد مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”می بھیجا گیا اور نہ کوئی قدیم پیغمبر بلکہ ہمارے پیغمبر محمد ﷺ ن
(لیکچر لدھیانہ مرزا غلام احمد قادیانی شائع شدہ الحکم قادیا
١١٩
آنحضرت ﷺ کی خاتمیت رتبی کے بارے میں ذیل کے بیانات ملاحظہ فرمائیں:
”قرآن پاک میں پارہ ”سبحان الذی“ کی ابتداء میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو لیلة المعراج میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک پہنچایا۔ وہاں تمام انبیاء سابقین علیہم السلام جمع تھے۔ آنحضرت ﷺ نے امامت فرمائی اور تمام انبیاء علیہم السلام نے اقتداء کی۔ اس سے بھی آپ ﷺ کا مرتبہ معلوم ہوتا ہے۔ وہاں سے حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کو معراج کے لئے لے گئے اور کسی اور پیغمبر کو معراج نہیں ہوئی۔ یہ عروج کا انتہائی درجہ تھا جو آنحضرت ﷺ کو عطا فرمایا گیا۔“
تمام انبیاء سابقین علیہم السلام نے جب اپنی قوم کو مخاطب فرمایا تو قوم کا نام لے کر مخاطب فرمایا۔ مگر آنحضرت ﷺ نے ”یا ایھا الناس“ فرما کر مخاطب فرمایا۔ یعنی اے انسانو! کیونکہ آپ تمام انسانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے تھے اور انبیاء علیہم السلام قومی نبی تھے۔ مگر آنحضرت ﷺ بین الاقوامی (انٹرنیشنل) نبی تھے۔ اس سے بڑا کوئی درجہ نہیں ہو سکتا۔
خود مرزا قادیانی نے اپنے نبی ہونے کا صاف لفظوں میں انکار فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو:
- ١...... حمامۃ البشریٰ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٢١٩، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی۔
- ٢...... کتاب البریہ ص ١٨٤، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧ حاشیہ۔
- ٣...... ازالۃ اوہام ص ٥٧٧، ٥٤٣، خزائن ج ٣ ص ٤١٣،٤١٨۔
- ٤...... انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧ حاشیہ۔
- ٥...... ”میرے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ میں اپنے بارے میں نبی ہونے کا اعلان کروں اور
کافر ہو جاؤں۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
ان تصریحات کے ہوتے ہوئے مرزا قادیانی نے پہلے اپنے ولی یا مجدد ہونے کا اعلان فرمایا جو (تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٢، ١٣، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٨،٢٩٧) پر شائع ہوا۔
اس کے بعد اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان اس طرح فرمایا: ”خدا کی قسم جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس کی تغلیط کرنا کفر ہے۔ میں بقسم کہتا ہوں کہ اس نے مجھے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠ ملخص)
اس کے بعد مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”میرے اعتقاد کے مطابق نہ تو کوئی نیا پیغمبر بھیجا گیا اور نہ کوئی قدیم پیغمبر بلکہ ہمارے پیغمبر محمد ﷺ نے خود ہی نزول فرمایا ہے۔“
(لیکچر مرزا غلام احمد قادیانی شائع شدہ الحکم قادیان مورخہ ٣٠ نومبر ١٩٠١ء، ملفوظات ج ٢ ص ٤٠٤)
١١٩
غور فرمائیے کہ پہلے محدث بنے، پھر مسیح موعود بنے اور آخر میں آنحضرت ﷺ بننے کا دعویٰ کیا۔
مرزا قادیانی نے نبوت وغیرہ کے جو دعاوی کئے اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں شدید قسم کے جسمانی اور دماغی امراض نے گھیر رکھا تھا۔ چنانچہ اپنی تصنیف میں فرماتے ہیں: ”جب میری شادی کے بارے میں غیبی پیغامات وصول ہوئے اس وقت میں جسمانی اور دماغی اعتبار سے بہت کمزور تھا اور ایسے ہی میرا دل بھی کمزور تھا۔ ذیابیطس، دوران سر، اور قلبی تکلیف کے علاوہ تپ دق کی علامات ابھی تک باقی تھیں۔ جب ان ناگفتہ بہ حالات میں میری شادی ہوگئی۔ میرے بہی خواہوں کو بہت رنج ہوا۔ کیونکہ قوت رجولیت صفر تھی اور میں بالکل بوڑھوں کی طرح زندگی گزار رہا تھا۔“
(نزول المسیح ص ٢٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٥٨٧)
دوسری جگہ درج ہے: ”مرزا قادیانی کے خاندان میں مراق کی بیماری وراثتاً نہیں تھی۔ بلکہ یہ چند خارجی اسباب کی بناء پر (مرزا قادیانی کو) ہو گئی تھی۔ خارجی اثرات کی وجہ دماغی تکان کی کثرت دنیاوی افکار اور قبض تھا جس کا نتیجہ مستقل دماغی کمزوری تھا۔ جس نے مراق کی شکل اختیار کر لی تھی۔“
(میگزین ریویو قادیان ص ١٠، اگست ١٩٢٨ء)
شرح اسباب والعلامات، سر کی بیماری، مصنفہ علامہ برہان الدین نفیسی میں ہے کہ: ”کچھ مریض جو مراق کے مرض میں مبتلا ہوں اس وہم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ غیب کا علم رکھتے ہیں اور آئندہ ہونے والے واقعات کی پیشین گوئی کرتے ہیں اور بعض مریض تو اپنے آپ کو پیغمبر سمجھتے ہیں۔“
(اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٨)
(سیرت المہدی ج ٢ ص ٥٥) میں ہے: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھے بتایا کہ مسیح موعود نے مجھے اکثر بتایا کہ مجھے ہسٹریا کی شکایت ہے اور بعض وقت وہ مراق کی شکایت بھی کرتے تھے۔“
(الفضل قادیان ج ١٧ نمبر ٦ ، مورخہ ١٩ جولائی ١٩٢٩ء) میں ہے کہ: ”حضرت مسیح موعود نے ایک دوا تیار کی جس کا نام ”تریاق الہیٰ“ تھا۔ یہ دوا الہامی ہدایات کے ماتحت تیار ہوئی تھی۔ اس کا خاص جزو افیون تھی۔“
مرزا قادیانی جب ایسے امراض میں مبتلا تھے اور افیمی تھے۔ نیز برانڈی شراب بھی استعمال فرماتے تھے۔
(دیکھو الحکم قادیان ج ٣٩، نمبر ٢٥، مورخہ ٧، نومبر ١٩٣٦ء)
١٢٠
تو ایسے انسان کو ایک صحیح الدماغ انسان کہنا جائے۔ ”محمد عاشق صاحب نائب صدر مجلس احرار کی موج انہوں نے برا بھلا کہا تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے فرمایا ک
(الفضل قادیان ج ٢٣ نمبر ٤٣، م
حالانکہ خود مرزا قادیانی کی موت ہیضہ کے مرض
(رسالہ میر مہ
ختم نبوت اور امت کی
از : مولانا سعید اح
الحمدلله رب العلمين، والصلا وخاتم النبيين وعلى آله وصحبه اجمعين .
اللہ رب العالمین کا تعارف، حضرت موسیٰ علی کے روبرو اس طرح کرایا ہے: ”قال ربنا الذی (طہ : ٥٠) ”کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز ک راہنمائی فرمائی۔“
یعنی کائنات کی ہر چیز کو جیسا ہونا چاہئے تھا، مخلوق کے لئے جو شکل وصورت اور جو اوصاف وکمالات مناسب تھے وہ اس کو عطا فرمائے اور پھر ان کے استعمال کر نے سب کی راہنمائی بھی فرمائی جو مخلوق جس راہنمائی ک محتاج تھی وہ اس کو سکھائی گئی۔
انسان پیدا کیا گیا تو اس کی سب سے پہلی اور سب سے ب بڑی ضرورت اس کی غذا تھی۔ چنانچہ اس کی غذا کی طلب ک باتیں اس کو الہام کی گئیں۔ بچے کو ابتدائے پیدائش کے وقت عقل تو اس میں نہیں ہوتی۔ یہ کس نے سکھایا کہ ماں کی چھاتی سے اپنی غذا حاصل کرے۔ رونا ایک ایسا فعل ہے کہ جس کے ذریعہ سے و ہ اپنی تمام ضرورتیں پوری کر سکتا ہے، یہ ہنر اس کو کس نے بتلایا؟ بھوک پیاس، سردی، گرمی کی تکلیف میں بچہ کا رو دینا ہی اس کی تمام ضرورتوں ک پوری کرنے کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ مگر یہ رونا اس کو کس نے سکھایا؟ یہی وہ اللہ کی ہدایت ہے اور غیبی الہام ہے ک جو ہر مخلوق کو اس کی حیثیت اور ضرورت کے مطابق غیبی ہ دی گئی ہے۔ اللہ کی اس ہدایت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے ک طرح اللہ رب العالمین نے ہر مخلوق کو ایک خاص قسم کا شعور بخشا ہے اور زندگی کی راہوں میں اس کی اس ط ہدایت کر دی ہے کہ وہ کس کام کے لئے پیدا کی گئی ہے ا
١٢١
تو ایسے انسان کو ایک صحیح الدماغ انسان کہنا بھی جائز نہیں ہے۔ چہ جائیکہ پیغمبر کہا جائے۔ ”محمد عاشق صاحب نائب صدر مجلس احرار کی موت ہیضہ میں ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی کو انہوں نے برا بھلا کہا تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے فرمایا کہ ان کو بہت خراب موت ہوئی۔“
(الفضل قادیان ج ٢٤، نمبر ٢٠٤، اگست ١٩٣٦ء)
حالانکہ خود مرزا قادیانی کی موت ہیضہ کے مرض میں ہوئی۔
(رسالہ سیرت مسیح ص ١٤، مصنفہ شیخ یعقوب عرفانی، قادیان)
ختم نبوت اور امت کی ذمہ داریاں
از: مولانا سعید احمد پالنپوری استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند
الحمدلله رب العلمين، والصلوة والسلام على سيد المرسلين وخاتم النبيين وعلى آله وصحبه اجمعين . اما بعد!
الله رب العالمین کا تعارف ، حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرعون لعین کے روبرو اس طرح کرایا ہے: ”قال ربنا الذي اعطى كل شئ خلقه ثم هدى (طه:٥٠) ”کہا! ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے مناسب بناوٹ عطاء فرمائی۔ پھر راہنمائی فرمائی۔“
یعنی کائنات کی ہر چیز کو جیسا ہونا چاہئے تھا پہلے اس کو ویسا ہی بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر مخلوق کے لئے جو شکل وصورت اور جو اوصاف وکمالات مناسب سمجھے عطاء فرمائے۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی نے سب کی راہنمائی بھی فرمائی جو مخلوق جس راہنمائی کی محتاج تھی سب کی حاجت روائی فرمائی۔ انسان پیدا کیا گیا تو اس کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی ضرورت بقاء تھی۔ چنانچہ اس کی صورتیں اس کو الہام کی گئیں۔ بچے کو ابتدائے پیدائش کے وقت جب کہ اس کو کوئی بات سکھانا کسی کے بس میں نہیں تھا۔ یہ کس نے سکھایا کہ ماں کی چھاتی سے اپنی غذا حاصل کرے؟ چھاتی کو دبا کر چوسنے کا ہنر اس کو کس نے بتلایا؟ بھوک پیاس، سردی، گرمی کی تکلیف ہو تو رو پڑنا اس کی ساری ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ مگر یہ رونا اس کو کس نے سکھایا ہے؟ یہی وہ ہدایت ربانی ہے جو ہر مخلوق کو اس کی حیثیت اور ضرورت کے مطابق غیب سے بغیر کسی کی تعلیم کے عطاء ہوئی ہے۔ اسی طرح اللہ رب العالمین نے ہر مخلوق کو ایک خاص قسم کا ادراک وشعور بخشا ہے جس کے ذریعہ اس کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ کس کام کے لئے پیدا کی گئی ہے اور اسے کیا کرنا ہے۔
١٤١
عام مخلوقات کے لئے تو اتنی رہنمائی کافی تھی۔ مگر اہل عقول، جن و انس، اس تکوینی ہدایت کے علاوہ ایک دوسری ہدایت کے بھی محتاج تھے اور وہ تھی روحانی یا تشریعی ہدایت۔ کیونکہ تکوینی ہدایت انسان کی صرف مادی ضروریات پوری کرتی ہے۔ جب کہ انسان کا قلب و ضمیر، اور عقل و فہم، جن کی وسعت پذیری کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ سب سے زیادہ ہدایت ربانی کے محتاج تھے سورۂ فاتحہ میں ان کو جو دعا تلقین فرمائی گئی ہے اور جسے بار بار پھیرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے وہ ”اهدنا الصراط المستقیم“ (الٰہی ! ہمیں سیدھا راستہ دکھلا دیجئے ) ہے یہ دعا واضح کرتی ہے کہ انسان کے لئے تکوینی اور مادی ضروریات سے بھی اہم اور مقدم روحانی اور تشریعی ہدایت ہے۔ پھر بھلا کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مادی ضروریات کا تو سامان کریں مگر اس کی سب سے اہم ضرورت سے صرف نظر فرمالیں؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ اور ربوبیت کاملہ نے انسان کی اس ضرورت کا بھی انتظام فرمایا اور سب سے پہلے انسان سیدنا حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام مرسل بھی تھے اور مرسل الیہ بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ سے ہدایات حاصل فرماتے تھے اور اس کے مطابق زندگی گزارتے تھے۔ پھر ان کے ذریعہ ان کی اولاد تک اللہ تعالیٰ کی ہدایت پہنچی۔
روحانیت کا یہ نظام ہزاروں سال تک اپنے ارتقائی منازل طے کرتا رہا۔ تا آنکہ اس کی ترقی حد کمال پر جا کر رک گئی اور اپنی تمام تابانیوں کے ساتھ آفتاب ہدایت طلوع ہوا۔ جس کی ضیا پاشی سے عالم کا چپہ چپہ روشن ہو گیا اور دنیا نجوم و کواکب کی روشنی سے مستغنی ہو گئی اور انسانیت کو یہ مژدہ جاں فزا سنایا گیا کہ: ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام ديناً (مائدہ:٣) ” آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور میں نے تم پر اپنا انعام تام کر دیا اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین بننے کے لئے پسند کر لیا ۔ ﴾
ساتھ ہی دین اسلام کی حفاظت کا اعلان بھی فرمایا گیا کہ: ”انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون (الحجر: ٩) ”بے شک ہم ہی نے نصیحت (قرآن کریم) نازل فرمائی ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔﴾
جب دین پایہ تکمیل کو پہنچ گیا، اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تام ہو گئیں اور دین اسلام کی قیامت تک کے لئے حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لے لی۔ تو اب سلسلہ نبوت رسالت کی کوئی حاجت باقی نہ رہی۔ اس لئے ایک سلسلۂ بیان میں صاف اعلان کر دیا گیا کہ: ”ماکان محمد ابا لاحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب:٤٠)“
١٢٢
﴿(حضرت) محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ ہاں اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔﴾
احادیث متواترہ میں بھی آپ ﷺ کی خاتمیت مختلف انداز سے واضح کی گئی ہے اور شروع سے آج تک پوری امت کا اس عقیدہ پر اجماع ہے کہ سرور کونین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ کی ذات سے قصر نبوت تکمیل پذیر ہو چکا ہے۔ اب کسی نبی کی نہ ضرورت ہے نہ امکان ہے اور جو بوالہوس ایسا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، افتراء پرداز، مرتد اور ملعون ہے۔
اس جگہ پہنچ کر ایک سوال قدرتی طور پر ابھر کر سامنے آتا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کتاب وسنت کی شکل میں اپنی اصلی صورت میں آج موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گی۔ اس لئے اب کسی بھی طرح کے کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر انبیاء کے بغیر اللہ کی یہ ہدایت لوگوں تک پہنچائے گا کون؟
حضرات انبیاء کرام کا کام اللہ تعالیٰ سے ہدایات حاصل کر کے لوگوں تک پہنچانا تھا۔ آج چونکہ ہدایات ربانی موجود ہے اس لئے تحصیل دین کی ضرورت تو نہیں ہے مگر تبلیغ دین تو بہر حال ضروری ہے؟ اسی طرح اپنوں اور پرایوں کی خیرہ دستیوں سے ...... دین کی حفاظت کی بھی ضرورت ہوگی۔ یہ فریضہ کون انجام دے گا؟ اس کا جواب واضح ہے کہ یہ ذمہ داری امت کے سپرد کی گئی ہے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے: ”کنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله (آل عمران: ١١٠) ﴿”آپ لوگ (علم الٰہی میں) بہترین امت تھے۔ جو لوگوں کے نفع کے لئے ظاہر کی گئی ہے جو نیک کام کا حکم دیتی ہے اور بری باتوں سے روکتی ہے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتی ہے۔“﴾
حدیث شریف میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: ”بلغوا عنى ولو اية“ ﴿میری طرف سے لوگوں کو (دین) پہنچاؤ چاہے ایک ہی آیت ہو۔﴾
مشہور جملہ جو زبان زد عام و خاص ہے کہ: ”علماء امتى كانبياء بنى اسرائيل“ ﴿میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔﴾
یہ جملہ حدیث ہونے کے اعتبار سے تو بے اصل ہے۔ ”قال القارى حديث علماء امتى كانبياء بنى اسرائيل لا اصل له كما قال الدميرى والزركشى، والعسقلانى (المصنوع فى الاحاديث الموضوع لعلى القارى ص ١٢٣)“
١٢٣
مگر مضمون کے اعتبار سے قرآن وحدیث کا نچوڑ ہے۔ اس قول میں علماء امت کا مقام ورتبہ نہیں۔ بلکہ ان کی ذمہ داری بتائی گئی ہے کہ جس طرح دین موسوی کی حفاظت واشاعت کی ذمہ داری انبیاء بنی اسرائیل کو تفویض ہوتی تھی، اسی طرح دین مصطفوی کی تبلیغ واشاعت اور حفاظت وصیانت کی ذمہ داری علماء امت کو سپرد کی گئی ہے۔
ایک حدیث شریف میں پیشین گوئی کے انداز میں خبر دی گئی ہے کہ : ”یحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين، وانتحال المبطلين وتاويل الجاهلين (مشكوة ص٣٦، كتاب العلم) ”یہ علم دین ہر آئندہ نسل کے معتبر لوگ حاصل کریں گے جو اس دین سے غلو کرنے والوں کی تحریفات، باطل پرستوں کی بدعات اور جاہلوں کی تاویلات کو دور کریں گے۔“
الغرض! عقیدۂ ختم نبوت برحق ہے۔ دین کی حفاظت واشاعت کے لئے اب کسی طرح کے کوئی نبی تشریف نہیں لائیں گے۔ یہ فریضہ پوری امت کو اور خاص طور پر علماء امت کو انجام دینا ہے۔ الحمد للہ امت کبھی اپنے اس فریضہ سے غافل نہیں ہوئی۔ مگر یہ بھی واقعہ ہے۔ فی الوقت اندر اور باہر کام کا جو تقاضا ہے وہ شاید پورا نہیں ہورہا ہے۔ خود امت استجابہ میں ایک بڑی تعداد ایسی موجود ہے جن تک تعلیمات نبوی تفصیل کے ساتھ نہیں پہنچ سکی ہیں اور وہ دین کی بنیادی باتوں سے بھی بے خبر ہیں اور ایسے مسلمان بھی ہیں جن کو دین اس کی اصلی صورت میں نہیں پہنچا جس کی وجہ سے وہ طرح طرح کی بدعات وخرافات میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی دنیا کا تقریباً آدھا حصہ وہ ہے جن تک دین کی دعوت بھی شاید نہیں پہنچ سکی ہے۔ ضرورت ہے کہ یہ نمائندہ اجتماع اس سلسلہ میں عملی اقدام کے لئے غور وفکر کرے اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے کمر بستہ ہو کر میدان عمل میں اتر آئے۔ ”وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العلمین“
قصر نبوت پر اسلام کے باغیوں کا حملہ اور ہماری ذمہ داری
از: امام علی دانش قاسمی لکھیم پوری
الحمدلله رب العلمين والصلوة والسلام على خاتم النبيين محمد وآله وصحبه اجمعين . اما بعد!
حضرت محمد عربی ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ورسول ہیں۔ ان پر نازل کی جانے والی کتاب قرآن مجید اپنے اصلی الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ ان کی شریعت کامل ومکمل ہے۔ ان کی
١٢٤
تعلیم وہدایت زندہ ہے۔ ان کے افعال ان کے اقوال سب اسلام کی دائمی اور آفاقی تعلیم دی گئی ہے۔ ایسے اصول وقوانین رہنمائی کے لئے کافی ہیں۔ وہ ذرائع بھی خدا کی قدرت سے شریعت محمدی کے عقائد واحکام معلوم کرنا سہولت کے ساتھ ممک یہ وہ قطعی اور اصولی باتیں ہیں جن کو ہر مسلمان تسل مسلمہ کا متفقہ اجماعی فیصلہ ہے کہ ہر قسم کی نبوت ورسالت ان آنحضرت ﷺ کی بعثت عمومی و دوامی ہے۔ آپ ہر ملک او ہیں جو شخص بھی آپ ﷺ کے بعد کسی بھی درجہ میں نبوت کا د ملاعلی قاری حنفی فرماتے ہیں: ”ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ ہے۔“
قاضی عیاضؒ نے وضاحت سے لکھا ہے: ”جو کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرے یا صفائی قلب کے ذ کے ذریعہ اس کو حاصل کرنے کو جائز سمجھے یا جو یہ دعویٰ کرے نبوت کا دعویٰ نہ کرے پس یہ سب کفار ہیں اور حضور علیہ ال کیونکہ آپ ﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نب
(تفسیر روح المعانی ج ٦ ص ٦٥) پر لکھا ہے کہ : ”خ کتاب اللہ ناطق ہے اور احادیث نے کھول کر بتا دیا اس پر دعویٰ کرے کافر ہو گیا اور اگر اپنے دعوے پر اصرار کرتا ہے ت
اسود عنسی کذاب نے دور رسالت میں نبوت ک نے اس کے خلاف جہاد کا حکم دیا جس کی تعمیل کرتے ہوئ کر دیا۔ مسیلمہ کذاب اور طلیحہ اسدی نے نبوت کے دعویٰ ئے خلیفۃ الرسول حضرت ابو بکر صدیق اکبر کے حکم سے ان نیست و نابود کر دیا۔ صحابہ کرام کے دور زریں کے بعد بھ والے پیدا ہوتے رہے اور اپنے برے انجام تک پہنچتے رہ
١٢٥
تعلیم و ہدایت زندہ ہے۔ ان کے افعال ان کے اقوال سب کے سب محفوظ ہیں۔ ان کے ذریعہ اسلام کی دائمی اور آفاقی تعلیم دی گئی ہے۔ ایسے اصول وقوانین سکھائے گئے جو ہمیشہ اور ہر دور میں رہنمائی کے لئے کافی ہیں۔ وہ ذرائع بھی خدا کی قدرت سے میسر ہیں اور میسر رہیں گے۔ جن سے شریعت محمدی کے عقائد واحکام معلوم کرنا سہولت کے ساتھ ممکن ہے۔
یہ وہ قطعی اور اصولی باتیں ہیں جن کو ہر مسلمان تسلیم کرتا ہے۔ قرآن وحدیث اور امت مسلمہ کا متفقہ اجماعی فیصلہ ہے کہ ہر قسم کی نبوت ورسالت اور نزول وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت عمومی ودوامی ہے۔ آپ ہر ملک اور ہر قوم اور ہر دور کے لئے نبی ورسول ہیں جو شخص بھی آپ ﷺ کے بعد کسی بھی درجہ میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ کذاب ومفتری ہے۔ ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں: ”ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔“
(شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢)
قاضی عیاضؒ نے وضاحت سے لکھا ہے: ”جو شخص آپ ﷺ کے ساتھ یا آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرے یا صفائی قلب کے ذریعہ نبوت کے درجہ تک پہنچنے اور کسب کے ذریعہ اس کو حاصل کرنے کو جائز سمجھے یا جو یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے اگرچہ صراحۃً نبوت کا دعویٰ نہ کرے پس یہ سب کفار ہیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جھٹلانے والے ہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔“
(شفاء شریف ص ٢٧٠)
(تفسیر روح المعانی ج ٧ ص ٦٥) پر لکھا ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے پر کتاب اللہ ناطق ہے اور احادیث نے کھول کر بتا دیا اس پر امت کا اجماع ہے۔ اس کے خلاف جو دعویٰ کرے کافر ہو گیا اور اگر اپنے دعوے پر اصرار کرتا ہے تو قتل کر دیا جائے گا۔“
اسود عنسی کذاب نے دور رسالت میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے خلاف جہاد کا حکم دیا جس کی تعمیل کرتے ہوئے فیروز نے اسے قتل کر کے جہنم رسید کر دیا۔ مسیلمہ کذاب اور طلیحہ اسدی نے نبوت کے دعویٰ کئے۔ حضرت خالد ابن ولید سیف اللہ نے خلیفۃ الرسول حضرت ابو بکر صدیق اکبرؓ کے حکم سے ان باغیان رسالت سے جنگ کر کے ان کو نیست و نابود کر دیا۔ صحابہ کرامؓ کے دور زریں کے بعد بھی عقیدۂ ختم نبوت سے بغاوت کرنے والے پیدا ہوتے رہے اور اپنے برے انجام تک پہنچتے رہے۔
١٢٥
قرآن وحدیث کی واضح تصریحات اور امت مسلمہ کے اجماعی فیصلہ وعمل کے ہوتے ہوئے اسلام کے دشمنوں نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے براہ راست نبوت کا دعویٰ کرنے کے بجائے تلبیسات و تحریفات کے دوسرے طریقے بھی اپنائے۔ ابن سبا یہودی نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر محبت اہل بیت کا نعرہ لگایا۔ نبوت کے مقابلہ میں امامت کا عنوان اختیار کیا اور اسلام کا نیا ایڈیشن تیار کر کے لوگوں کو گمراہ کیا جس کے فتنہ انگیز اثرات آج بھی مسلمانوں میں انتشار وافتراق پیدا کرتے رہتے ہیں جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔
یہودیوں اور عیسائیوں نے اسلام کی شکل مسخ کرنے کے لئے مستشرقین کو کھڑا کیا۔ تعلیم و تہذیب کے دلکش نام پر اللہ کے آخری نبی کی شریعت کو مٹانا چاہا۔ الحاد، دہریت، عقل پرستی، معجزات کا انکار، اسلاف امت سے بدظنی، تفسیر وفقہ کے قدیم ذخیروں پر عدم اعتماد، اکابر امت کی تنقیص، علماء حق کی بدگوئی، خالص عقلیت پرستی یا پھر خاندانی و ملکی رسم و رواج کی اتباع پر اصرار وغیرہ سب گمراہی کی جتنی شکلیں ظاہر ہوئیں ان تمام کا مقصد اور جتنے ملحدین و دشمنان دین ہوئے ہیں یا جو موجود ہیں ان سب کی مشترکہ اور متحد کوششوں کا خلاصہ یہی رہا ہے کہ اسلام اپنی اصلی شکل میں جو اس وقت مسلمانوں کے سامنے ہے لائق اعتماد نہ رہے۔ قابل اطمینان نہ رہے۔ اسی لئے تمام ملحدوں، دہریوں اور دین کے نام پر بیدینی پھیلانے والوں کا پہلا نشانہ علمائے حق رہے ہیں اور آج...... قرآن وحدیث کی تعلیم و ہدایت کو صحیح شکل میں پیش کرنے والے علمائے دین ہی کو یہ مار آستین گروہ مطعون کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
قادیانی فتنہ
چودھویں صدی ہجری میں مسلمانوں کی دنیاوی شوکت وقوت کو پامال کرنے کی کوششوں میں اسلام دشمن یہودیوں اور انگریزوں نے کامیابی عارضی طور پر حاصل کر لی۔ جس سے ان کے ناپاک حوصلے بلند ہوئے اور انہوں نے اسلام میں تحریف اور شریعت محمدی میں رخنہ اندازی کے لئے پھر ختم نبوت کے عقیدہ کی مخالفت اور قصر نبوت پر باغیانہ یورش کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی حمایت شروع کر دی۔ قادیان کے رئیس حکیم غلام مرتضیٰ کے لڑکے مرزا غلام احمد قادیانی نے پادریوں سے مذہبی عقائد میں بحث کر کے شہرت حاصل کر لی تھی۔ دماغ میں بڑائی کا سودا سمایا۔ انہوں نے پہلے ١٨٨٠ء میں الہام کا دعویٰ کیا اس کے ٢٠ سال بعد مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیا اور ١٩٠٠ء میں نبوت کا دعویٰ کیا اور مئی ١٩٠٨ء میں اپنی موت سے پہلے مستقل نبی ورسول ہونے کا دعویٰ کر بیٹھے۔ غالباً مرزا قادیانی کو بھی اندازہ ہوگا کہ نبوت کا دعویٰ اگر
وہ اول لمحہ میں کردیں گے تو مسلمانوں کے لئے قطعی ناقابل برداشت ہوگا۔ اسی لئے انہوں نے تدریجی چال چلی اور دل کا مدعا کافی تاخیر سے زبان پر لائے۔ مرزائے قادیان کے خلیفہ اور پسر مرزا محمود صاحب نے حقیقت النبوۃ میں پوری تفصیل و وضاحت سے اپنے والد کے نبوت و رسالت کے دعویٰ کو ثابت مانا ہے اور جو لوگ پہلی تحریروں کی بناء پر مرزا قادیانی کے جھوٹے دعویٰ نبوت میں تاویلیں کرتے ہیں ان کو گمراہ اور غلط گو بتایا ہے۔ اگرچہ مرزا قادیانی کے متبعین مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے آج بھی دوسرے موضوعات حیات مسیح و خروج دجال و آمد مہدی وغیرہ پر گفتگو کر کے شکوک وساوس پیدا کرتے ہیں اور اجرائے سلسلہ نبوت اور مرزا آنجہانی کے دعویٰ نبوت کا اظہار بہت بعد کو اپنے دام تزویر میں گرفتار کرنے کے بعد کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے علمائے ربانی کو اور اکابر دیوبند کو، غیرتمند مسلمانوں کو، شمع نبوت کے پروانوں کو جنہوں نے علم و تفقہ سے اخلاص و للہیت سے، جہد و عمل سے، حق گوئی و بے باکی سے عوام الناس کے اجتماعات سے لے کر حکومت کے ایوانوں تک میں ہر جگہ و ہر محاذ پر فتنہ قادیان کا مقابلہ کیا اور ان باغیان ختم نبوت اور قصر شریعت محمدی پر حملہ کرنے والوں کو ناکام و نامراد کیا۔ مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ہے۔
اگرچہ پیر ہے آدم جواں ہیں لات و منات
تبلیغ اسلام کے عنوان سے مرزائیت کی اشاعت اور خدمت علم و دین کے نام سے قادیانیت کا پرچار بعض مقامات پر جاری ہے۔
ہماری ذمہ داری
تمام مسلمانوں کی اور خاص طور پر اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ شریعت محمدی کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی شریعت کی بغاوت کا تعاقب پوری ہوشیاری کے ساتھ ساتھ کرتے رہیں۔ اس سلسلہ میں بنیادی اور اہم بات یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی تفسیر و تعبیر کا حق ہر کس و ناکس استعمال کرنا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ عربی سے ناواقف لوگ محض ترجمہ کی بنیاد پر مفتی و محقق بن جانا چاہتے ہیں۔ شریعت محمدی کو اسلامی دستور و قانون کو بازیچہ اطفال سمجھا جانے لگا ہے۔ قانون خداوندی کے ساتھ استہزاء کا یہ سلسلہ بند کرنے کی تدبیر کرنی چاہئے۔ حیرت ہے وہی لوگ جو دنیاوی قانون میں صرف ماہرین قانون کی رائے کو تسلیم کرتے ہیں وہی اسلامی دستور پر معمولی معلومات کی بنیاد پر رائے زنی کرنی شروع کر دیتے ہیں۔ اسلام کی بنیادی کتاب قرآن مجید ہے
١٢٧
جس کے الفاظ بھی خدا کے نازل کردہ ہیں اور مفہوم ومعنی بھی خدا نے محمد رسول اللہ ﷺ کو سکھایا اور آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو قولی وعملی طور پر قرآن کا مفہوم سمجھا دیا۔ جسے سنت سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کتاب وسنت کی تعلیمات کی تشریح وتوضیح اجتہاد واجماع سے امت مسلمہ کے وہ حضرات جن کو علم ربانی میں رسوخ حاصل تھا کرتے رہے ہیں۔ اس امت مسلمہ کی اسلام سے وابستگی اور ایمان پر پختگی صرف اسی صورت میں نصیب رہ سکتی ہے کہ کتاب وسنت کی وہی تفسیر وتعبیر معتبر مانی جائے جو اسلاف واکابر ملت کر چکے ہیں یا جدید مسائل پر اکابر کے طریقہ پر عمل کرتے ہوئے علمائے متقدمین یہ فریضہ انجام دیں۔
مرزائیوں سے غیر مسلموں جیسا سلوک کیا جائے
قصر نبوت محمدی پر حملہ کرنے والے مرزائی باغیوں سے مسلمانوں جیسا سلوک ہرگز نہ کیا جائے۔ ان کے اسلامی ناموں سے فریب نہ کھایا جائے۔ بلکہ ان سے دوٹوک انداز میں بات کی جائے اور ان پر واضح کیا جائے کہ عقیدۂ ختم نبوت کا انکار کرنے والے اسلام کے دشمن ہیں۔ ہم ان سے موالات کا معاملہ نہیں کر سکتے اور عوام مسلمانوں کو سمجھایا جائے کہ مرزائی دین قادیانی شریعت قرآن وحدیث اور اجماع امت کے متفقہ فیصلہ سے انحراف وبغاوت ہے اور رسول اکرم ﷺ کے بعد کسی بھی مدعی نبوت کو تسلیم کرنا اسے مصلح یا مجدد دین ماننا اسلام کے دامن کو چھوڑنا ہے۔
اسلام کے مقابلہ میں مرزائی نظریات
مرزائیوں نے اسلام کے مقابلہ میں جن نظریات کو مذہبی حیثیت سے تسلیم کیا ہے ان کی تعداد بہت ہے۔ بطور تمثیل ملاحظہ کیجئے:
- ١....... اسلامی شریعت میں حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ مگر مرزائی نظریہ میں مرزا قادیانی
کی نبوت پر ایمان لانا فرض ہے۔
- ٢....... اسلامی شریعت میں حضور ﷺ کی شریعت مدار نجات ہے۔ مگر مرزائی نظریہ میں
مرزا قادیانی کی تعلیم پر عمل کئے بغیر نجات نہیں۔
- ٣....... اسلامی شریعت میں کسی نبی کی پیشین گوئی جھوٹ نہیں نکلتی۔ مگر مرزائی نظریہ میں حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین گوئیاں صاف جھوٹ نکلیں اور مرزا قادیانی کی کئی پیشین گوئیاں جھوٹ نکلیں۔
- ٤....... اسلامی شریعت میں وحی آنے کا سلسلہ بند ہے۔ مگر مرزائی نظریہ میں مرزا قادیانی پر
١٢٨
وحی نبوت بارش کی طرح اترتی تھی۔
- ٥....... اسلامی شریعت میں معجزات بھی اب کسی
مرزا قادیانی کے معجزات ہزاروں لاکھوں ہیں۔
- ٦....... اسلامی شریعت میں جہاد کا حکم ہے جو منس
حکم خراب تھا۔ مرزا قادیانی نے منسوخ کر دیا۔
- ٧....... اسلامی شریعت میں حضرت عیسیٰ علیہ السل
قریب اتریں گے۔ مگر مرزائی نظریہ میں حضرت عیسیٰ موجود ہیں۔
- ٨....... اسلامی شریعت میں حضرت عیسیٰ علیہ السل
احمد" کا مصداق حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔
- ٩....... مسلمانوں کا اجماعی فیصلہ ہے کہ قرآن
نے سمجھا وہی حق ہے۔ مرزائی نظریہ میں قرآن وہ تابع ہے۔
- ١٠....... مسلمانوں کے نزدیک دجال، مہدی،
صحیح ہے۔ مرزائی نظریہ میں ان الفاظ کے مفہوم بد
مرزا غلام احمد کی ناپاک جسار
از : مولانا
قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب
چونکہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد اب بندوں کی ہد جدید آسمانی کتاب نازل ہوگی۔ اس لئے اللہ تعا قیامت تک کے لئے بندوں کے پاس ایک کتاب خدائی حفاظت کے باوجود ہر دور میں نشانہ بنانے کی مردود کوشش کی ہے اور اس روشن
وحی نبوت بارش کی طرح اترتی تھی۔
- ٥...... اسلامی شریعت میں معجزات بھی اب کسی سے ظاہر نہیں ہوں گے۔ مگر مرزائی نظریہ میں
مرزا قادیانی کے معجزات ہزاروں لاکھوں ہیں۔
- ٦...... اسلامی شریعت میں جہاد کا حکم ہے جو منسوخ نہیں ہوسکتا۔ مگر مرزائی نظریہ میں جہاد کا
حکم حرام تھا۔ مرزا قادیانی نے منسوخ کر دیا۔
- ٧...... اسلامی شریعت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے اور قیامت کے
قریب اتریں گے۔ مگر مرزائی نظریہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے اور ان کے مرزا عیسیٰ موجود ہیں۔
- ٨...... اسلامی شریعت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ”يأتى من بعدى اسمه
أحـــمـــد“ کا مصداق حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ ہیں۔ مگر مرزائی نظریہ میں اس آیت کا مصداق مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔
- ٩...... مسلمانوں کا اجماعی فیصلہ ہے کہ قرآن وحدیث کا جو مطلب صحابہ کرامؓ اور اسلاف
نے سمجھا وہی حق ہے۔ مرزائی نظریہ میں قرآن وحدیث کا مطلب مرزا قادیانی کی عقل وفہم کے تابع ہے۔
- ١٠...... مسلمانوں کے نزدیک دجال، مہدی، یاجوج و ماجوج کا جو مطلب علماء نے لکھا ہے وہ
صحیح ہے۔ مرزائی نظریہ میں ان الفاظ کے مفہوم بدلتے رہتے ہیں۔
(ہدایۃ المہتدی، مؤلفہ مولانا عبدالحقؒ)
مرزا غلام احمد کی ناپاک جسارت ...... تحریف قرآن
از: مولانا شمیم احمد لکھیم پوری (کتب خانہ دارالعلوم دیوبند)
قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو اللہ کے آخری رسول ﷺ پر نازل ہوئی۔ چونکہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد اب بندوں کی ہدایت کے لئے کوئی اور نبی نہیں آئے گا اور نہ کوئی جدید آسمانی کتاب نازل ہوگی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا تا کہ قیامت تک کے لئے بندوں کے پاس ایک کتاب ہدایت موجود رہے۔
خدائی حفاظت کے باوجود ہر دور میں باطل پرستوں نے قرآن کو اپنی بیجا تحریفات کا نشانہ بنانے کی مردود کوشش کی ہے اور اس روشن کتاب پر اپنی ظلمت خیز تلبیسات کا پردہ ڈالنے کی
١٢٩
قبیح سعی کی ہے جس میں مرزا غلام احمد قادیانی بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ ذیل میں اس کی تحریفات کے نمونے پیش کئے جارہے ہیں۔
تحریف کے معنی اور مطلب
اصل الفاظ کو بدل کر کچھ اور لکھ دینا (لغات فیروزی) بات کو بدل دینا (المنجد عربی اردو) قول کو اس کے معنی سے پھیر دینا۔ (مصباح اللغات)
تحریف کی اقسام
فرقہ احمدیہ یا خود مرزا قادیانی نے قرآن پاک میں جن جگہوں پر ایسی حرکتیں کی ہیں وہ تین طرح کی ہیں۔
- اول ...... لفظی تحریف، یعنی قرآن پاک کے الفاظ میں یا تو کمی کر دی یا پھر زیادتی کردی۔
- دوم ...... معنوی تحریف۔ یعنی قرآن پاک کا ترجمہ کرتے وقت اس فرقہ نے بالارادہ اصلی
ترجمہ اور معنی نہیں کئے۔ بلکہ اس سے ہٹ کر دوسرا ترجمہ کر دیا۔
- سوم ...... معنوی یا مرادی تحریف۔ یعنی جو آیات آنحضور ﷺ کی شان میں نازل ہوئی ہیں
ان کو یا تو اپنے اوپر منطبق کیا گیا ہے یا کسی غیر کے اوپر یا جو آیات خانہ کعبہ اور مکہ معظمہ کی شان میں نازل کی گئی ہیں انہیں کسی اور جگہ چسپاں کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی یہ تحریفات خواہ لفظی ہوں یا معنوی یا مرادی بہر حال ایک جرم عظیم کا ارتکاب ہے۔ ایسا کرنے والا آخرت میں عذاب الیم کا مستحق ہوگا۔
تحریف لفظی کے چند نمونے
- ١...... قرآن پاک کی اصل آیت ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبي الا
اذا تمنى القى الشيطان في امنيته (حج:٥٢)“ اس کا مفہوم یہ ہے اور (اے محمد ﷺ یہ لوگ جو شیطان کے اغواء سے آپ ﷺ سے مجادلہ کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ) ہم نے آپ ﷺ کے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے اللہ کے احکام میں سے کچھ پڑھا۔ (تب ہی) شیطان نے اس کے پڑھنے میں (کفار کے قلوب میں) شبہ (اور اعتراض) ڈالا (اور کفار ان ہی شبہات اور اعتراضات کو پیش کر کے انبیاء سے مجادلہ کیا کرتے)
(معارف القرآن ج٦ ص٢٦٤)
١٣٠
اس آیت میں ”من قبلك “ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لوگوں کا آپ ﷺ سے مجادلہ بوجہ اغواء الشیطان آپ سے قبل بھی ہو چکا ہے۔ آپ کے بعد اس امر کا وقوع اس لئے ممکن نہیں کہ اب رسالت ختم ہو چکی۔ اگر آپ ﷺ کے بعد بھی اس کا امکان رہتا تو یہ مذکورہ آیت اس طرح ہونی چاہئے تھی کہ جس سے قبل اور بعد دونوں میں اس مجادلہ کا وقوع ثابت ہو سکتا۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد نے اپنے لئے اس کا راستہ مسدود ہونے نہیں دیا۔ اس لئے ”من قبلك “ کو حذف کر دیا۔
(حاشیہ ازالۃ الاوہام ج ١ ص ٢٥٧ قدیم)
- ٢....... قرآن پاک کی اصل آیت: ”وجاهدوا باموالكم وانفسكم فی سبیل الله
(توبہ) “ اس سے پہلے قرآن میں جہاد کا بیان چل رہا ہے۔ باری تعالیٰ کا حکم ہے۔ نکلو ہلکے اور بوجھل اور اللہ ہی کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے صیغہ امر کا استعمال کیا ہے اور امر وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہو رہی تھی کہ جہاد کی فرضیت اور وجوب کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی تو جہاد کو ختم کرنے کے لئے آئے تھے۔ انگریزوں کے ایماء پر وہ کتابوں سے جہاد کا باب ختم کر چکے تھے۔ بھلا کس طرح گوارا کرتے۔ اس لئے اس آیت میں صیغہ امر کے بجائے صیغہ مضارع ”ان یجاھدوا “ استعمال کیا اور مخاطب کی ضمیروں کے بجائے اس مضارع کی ضمیر کی مطابقت کی وجہ سے کم کی جگہ غائب کی ضمیر ہم استعمال کی اور فی سبیل اللہ کو آخر سے اٹھا کر ”ان یجاهدوا “ کے بعد رکھ دیا تا کہ وجوبیت و فرضیت ثابت نہ ہو سکے۔
(جنگ مقدس ص ١٧٦ مورخہ ٥؍جون ١٨٩٣ء، ریاض ہند پریس امرتسر)
- ٣....... اصل آیت قرآن: ”كل من علیها فان ویبقی وجه ربك ذوالجلال
والاكرام (رحمٰن)“ خداوند قدوس نعمتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد فرماتا ہے۔ تم کو ان کا شکر ادا کرنا چاہئے اور کفر و معصیت سے ناشکری نہ کرنا چاہئے۔ کیونکہ اس عالم کے فنا کے بعد ایک دوسرا عالم آنے والا ہے۔ جہاں جزا و سزا دی جائے گی۔ چنانچہ مذکورہ بالا آیت کے اندر ارشاد ہے کہ جتنے (جن وانس) روئے زمین پر موجود ہیں سب فنا ہو جائیں گے اور (صرف) آپ کے پروردگار کی ذات جو کہ عظمت (والی) اور (باوجود عظمت کے) احسان والی ہے باقی رہ جائے گی۔
١٣١
تحریف شدہ آیت: ”كل شئ فان ويبقى وجه ربك ذوالجلال والاكرام“
(ازالہ اوہام ص ١٣٦ قدیم)
یہ دو آیتیں تھیں پہلے تو ان کو ایک کر دیا اور ”من علیھا“ کو حذف کر کے لفظ ”شئ“ کو بڑھا دیا۔ ممکن ہے مرزا قادیانی کے ذہن میں یہ بات رہی ہو کہ ”شئ“ کے تحت دنیا کی ہر چیز داخل ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی داخل ہو گئے۔ جس سے ان کی موت وفنا کا استدلال کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ خود مرزا قادیانی اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ہو گئی اور وہ زندہ نہیں۔ ان کے نزول کے سلسلہ میں جو وارد ہوا ہے وہ مثل مسیح ہوگا۔ چنانچہ وہ میں ہی ہوں۔ العیاذ باللہ!
- ٤...... مرزا قادیانی کا چونکہ دعویٰ ہے کہ میں (مرزا غلام احمد قادیانی) مسیح موعود ہوں۔ اس
لئے اس دعویٰ کے اثبات میں نہ جانے انہوں نے کتنے جتن کر ڈالے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ دمشق میں نزول ہوگا ...... اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا بھی قول ملاحظہ فرمائیے۔ مگر دمشق میں تو کوئی خوبی کی بات نہیں جس کی وجہ سے تمام امکنہ متبرکہ کہ چھوڑ کر نزول کے لئے صرف دمشق کو مخصوص کیا جائے۔ اس جگہ بلاشبہ استعارہ کے طور پر کوئی مرادی معنی مخفی ہیں جو ظاہر نہیں کئے گئے اور یہ عاجز اس کی تفتیش کی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا کہ وہ معنی کیا ہیں۔ اسی اثناء میں حکیم نورالدین صاحب قادیان تشریف لائے اور انہوں نے مجھ سے کہا ایسے چند مجمل الفاظ ہیں ان کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی جائے۔ لیکن ان دنوں میری طبیعت علیل اور دماغ نا قابل جدوجہد تھا۔ اس لئے میں ان تمام مقاصد کی طرف توجہ کرنے سے مجبور رہا۔ پھر تھوڑی توجہ کرنے سے ایک لفظ کی تشریح یعنی دمشق کے لفظ کی حقیقت میرے پر کھولی گئی۔
(حاشیہ ازالہ اوہام حصہ اول ص ٦٥، خزائن ج ٣ ص ١٥٢)
اس کے بعد کئی صفحات میں اپنی عقل کے اعتبار سے بڑی اچھوتی تحقیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”دمشق جو نزول مسیح کی جگہ ہے اور احادیث وغیرہ میں جو لفظ دمشق استعمال کیا گیا ہے وہ محض استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔“ مرزا قادیانی نے اپنے سارے علم کو اس بات کے ثابت کرنے پر صرف کر دیا کہ دمشق سے مراد وہ مخصوص جگہ نہیں بلکہ اس کی خصوصیات کی حامل جگہ مراد ہے۔ چنانچہ ان خصوصیات کا حامل قادیان ہے۔ آگے چل کر اسی مذکورہ بالا کتاب کے (ص ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٨ حاشیہ) پر لکھ ہی دیا کہ یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے۔ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان وبالحق انزلناہ بالحق نزل وكان وعدالله مفعولاً “ یہ آیت
١٣٢
براہین احمدیہ میں بھی ہے۔ (حاشیہ در حاشیہ نمبر ٢ ص ٤٩٨) یعنی یہ ہے اور سچائی کے ساتھ اتارا اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہونا تھا ہوتا ہے کہ قادیان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا نو گوئی پہلے لکھا گیا تھا۔ (ازالہ اوہام ص ٧٤، خزائن ج ٣ ص ١٣٩) کرتے ہوئے ایک اور کذب بیانی سے کام لے رہے ہیں مذکور جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا میرے بھائی غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآ انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ ”انا انزلناہ قريباً من تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن ش نصف کے موقعہ پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔“
(از
- ٥...... اصل آیت: ”ولقد آتيناك سبعاً من
تحریف شدہ آیت ”انا اتيناك سبعاً من المثاني و دیا۔ قرآن کے ”ن“ پر زبر اور اسی طرح العظیم کے ”م“ پر میں زیر موجود ہے۔
(براہین احمدیہ حاشیہ نمبر ١
- ٦...... اصل آیت: ”الم يعلموا انه من يحادد
خالداً فيها وذالك الخزى العظيم (توبه)“ تحریف شدہ آیت: ”الم يعلموا انه من ي خالداً فيها ذالك الخزى العظيم “ مرزا قادیانی حذف کر دیا۔
- ٧...... اصل آیت: ”ياايها الذين أمنوا ان
ويكفرعنكم سيئاتكم ويغفرلكم والله ذوالفضل محرف آیت: ”ياايها الذين أمنوا ا ويكفر عنكم سيئاتكم ويجعل لكم نوراً تمشو نے ”يجعل لكم نوراً تمشون به“ کو بڑھا دیا
١٣٣
براہین احمدیہ میں بھی ہے۔ (حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣ ص ٤٩٨) یعنی ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اتارا اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہونا تھا۔ اس الہام پر نظر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیش گوئی پہلے لکھا گیا تھا۔ (ازالہ اوہام ص ٧٤، خزائن ج ٣ ص ١٣٩) پھر آگے پر اپنی بات کی مزید توثیق کرتے ہوئے ایک اور کذب بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”جس روز وہ الہام مذکور جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا۔ اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا میرے بھائی غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا یہ دیکھو تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقعہ پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ العیاذ باللہ!
(ازالہ ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ)
- ٥....... اصل آیت: ”ولقد آتيناك سبعاً من المثانى والقرآن العظيم“ (حجر)
تحریف شدہ آیت ”انا اتيناك سبعاً من المثانى والقرآن العظيم“ ”ولقد“ کو حذف کر دیا۔ قرآن کے ”ن“ پر زبر اور اسی طرح العظیم کے ”م“ پر بھی زبر ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی کتاب میں زیر موجود ہے۔
(براہین احمدیہ حاشیہ نمبر ١ ص ٤٨٨ قدیم)
- ٦....... اصل آیت: ”الم يعلموا انه من يحاددالله ورسوله فان له نار جهنم
خالداً فيها وذالك الخزى العظيم (توبہ)“ تحریف شدہ آیت: ”الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله يدخله ناراً خالداً فيها ذالك الخزى العظيم“ مرزا قادیانی نے یدخلہ کا اضافہ کیا اور فان لہ اور جہنم کو حذف کر دیا۔
(حقیقت الوحی ص ١٣٠ قدیم)
- ٧....... اصل آیت: ”ياايها الذين آمنوا ان تتقوا الله يجعل لكم فرقاناً
ويكفر عنكم سيئاتكم ويغفرلكم والله ذوالفضل العظيم (انفال)“ محرف آیت: ”ياايها الذين آمنوا ان تتقوا الله يجعل لكم فرقانا ويكفر عنكم سيئاتكم ويجعل لكم نوراً تمشون به“ سيئاتكم کے بعد مرزا قادیانی نے ”يجعل لكم نوراً تمشون به“ کو بڑھا دیا اور ”يغفرلكم والله ذوالفضل
١٣٣
العظیم“ کو ختم کر دیا۔
(دفع الوسواس ص ٧٧، طبع ٢، وزیر ہند پریس امرتسر ١٩٢٣ء)
- ٨...... اصل آیت: ”وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ
الا انا فاعبدون“
تحریف شدہ آیت: ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبی ولا محدث الا اذا تمنى القی الشيطان فی امنیتہ فینسخ الله ما یلقی الشيطان ثم یحکم الله آیاتہ“ اصل آیت میں رسول تک تحریر کی۔ آگے اپنی جانب سے مکمل عبارت بڑھا دی اور محدث کا لفظ جو قرآن میں ہے ہی نہیں داخل کر دیا۔ یہ سارا ڈھونگ مرزا قادیانی نے اس لئے رچایا کہ اپنے کو محدث اور ملہم من اللہ ثابت کر دکھائیں۔
(براہین احمدیہ باب اول حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣ ص ٥٤٨ قدیم، مطبع بدر لاہور)
معنوی تحریف کی چند مثالیں
مرزائیوں نے معنوی تحریف بھی کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود نے قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر کی ہے جس میں ارادۃ معنوی تحریف کی ہے۔
- ١...... ”غير المغضوب عليهم ولا الضالين“ کے معنی میں تحریف کرتے ہوئے اس
طرح ترجمہ کیا ہے جن پر نہ تو بعد میں تیرا غضب نازل ہوا ہے اور نہ وہ بعد میں گمراہ ہو گئے ہیں۔ (بحوالہ قادیانی نمبر قومی ڈائجسٹ پاکستان) حالانکہ صحیح ترجمہ یہ ہے۔ نہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان لوگوں کا جو گمراہ ہو گئے۔
- ٢...... ”والذين يؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالآخرة ہم
یوقنون“ کا ترجمہ اس طرح کیا ہے۔ ”اور جو تجھ پر نازل کیا گیا یا جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا تھا اس پر ایمان لاتے ہیں اور آئندہ ہونے والی موعود باتوں پر بھی یقین رکھتے ہیں ۔“
(بحوالہ قادیان نمبر)
حالانکہ اصل ترجمہ یہ ہے اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں آپﷺ پر جو نازل ہوا اور جو کچھ آپﷺ سے پہلے نازل ہوا اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔
- ٣...... ”اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت علیہم“ کا ترجمہ کرتے
ہوئے مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اے میرے خدا وند رحمان و رحیم ہمیں ایسی ہدایت بخش کہ آدم صفی اللہ کے مثیل ہو جائیں۔ شیث نبی اللہ کے مثیل بن جائیں۔ حضرت نوح آدم ثانی کے مثیل ہو جائیں۔“
(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٢٧٥، خزائن ج ٣ ص ٢٢٩)
١٤٤
اور
(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٣٦، خزائن ج ٣ ص ٤٥٣)
کا ماحصل کیا ہے یہی تو ہے کہ ہمیں اے ہمارے خدا نبی بنادے۔
- ٤...... ”یاعیسی انی متوفیک ورافعک“
کہتے ہیں۔ رفع سے مراد ان کی روح ہے نہ کہ جسد اور آگے لکھتے ہیں توفی کے معنی روح کو قبض کرنا اور جسم کو چھوڑ کر غیر ضروری کا خیال دل میں لانا سراسر جہل ہے۔
دوسری جگہ مزید اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”قرآن شریف میں قریب قریب ایسی شہادتیں ہیں جو مسیح ابن مریم کے فوت ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اس کا زندہ رہنا قرآن سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ باطل بات ہے۔“
(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٣٦٢، خزائن ج ٣ ص ٢٨٦)
- ٥...... ”انا انزلناہ فی لیلة القدر“ فرماتے ہیں ”وہی قرآن جو خدا نے فرمایا ہے۔
بابرکت رات ہے جس میں قرآن شریف اترا بلکہ وہ میرا ہی زمانہ ہے اور میری ہی رات ہے۔“ دوسرے معنی بھی ہیں جو رسالہ فتح الاسلام میں درج ہیں۔
- ٦...... ”یضل بہ کثیراً ویھدی بہ کثیراً“ کے متعلق فرماتے ہیں ”یہ آیت اسی
آیت کا مصداق ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیشہ ظاہر ہوتا رہا ہے کہ مامورین الہی کے ابتدائی زمانہ ظہور کے وقت دھوکہ کھا جاتے ہیں اور زیادہ تر ٹھوکر کھانے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ جیسا کہ سمجھا گیا پورا ہو جائے۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا ۔“
(ازالہ اوہام ج ١ ص ٢٩٤، خزائن ج ٣ ص ٢٤٩)
- ٧...... ”قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمة الله“
اے میرے بندو خدا کی رحمت سے نا امید مت ہو۔ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے خود اپنی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ اب دیکھو! ”یاعبادی“ کے لفظ سے مراد مجھ کو لیا گیا ہے۔ حالانکہ لوگ خدا کے بندے ہیں نہ آنحضرتﷺ کے مگر اس جگہ فرط محبت سے آنحضرتﷺ کو اس میں تمام مخلوق کو رسول اللہ کا بندہ قرار دیا گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ج ١ ص ١٥٣، خزائن ج ٣ ص ١٨٨)
٥
اور (ازالہ اوہام ج٢ ص ٥٣٧، خزائن ج٣ ص ٣٨٩، ٣٩٠) میں رقمطراز ہیں: ”اس دعا کا ماحصل کیا ہے یہی تو ہے کہ ہمیں اے ہمارے خدا نبیوں اور رسولوں کا مثیل بنا۔“
- ......٣ ”یاعیسیٰ انی متوفیک ورافعک یا بل رفعہ اللہ الیہ“ میں مرزا قادیانی
کہتے ہیں۔ رفع سے مراد ان کی روح ہے نہ کہ جسد اور یہ ہر مومن کے لئے ضروری ہے۔ ضروری کو چھوڑ کر غیر ضروری کا خیال دل میں لانا سراسر جہل ہے۔
(ازالہ اوہام ج ١ ص ٢٦٧، خزائن ج ٣ ص ٢٣٥)
دوسری جگہ مزید اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قرآن میں تیس کے قریب ایسی شہادتیں ہیں جو مسیح ابن مریم کے فوت ہونے پر دلالت بین کر رہی ہیں۔ غرض یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اترے گا۔ نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٠٢، ٣٠٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
- ......٥ ”انا انزلناہ فی لیلۃ القدر“ فرماتے ہیں کہ اس کے صرف یہی معنی نہیں کہ ایک
بابرکت رات ہے جس میں قرآن شریف اترا بلکہ باوجود ان معنوں کے اس آیت کے بطن میں دوسرے معنی بھی ہیں جو رسالہ فتح الاسلام میں درج کئے گئے ہیں۔
(ازالہ اوہام ص ٣١٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٩)
- ......٦ ”یضل بہ کثیراً وّیھدی بہ کثیراً“ فرماتے ہیں کہ اکثر پیش گوئیاں اس
آیت کا مصداق ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیشہ ظاہر پرست لوگ امتحان میں پڑ کر پیش گوئی کے ظہور کے وقت دھوکہ کھا جاتے ہیں اور زیادہ تر انکار کرنے والے اور حقیقت مقصودہ سے بے نصیب رہنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ حرف حرف پیش گوئی کا ظاہری طور پر جیسا کہ سمجھا گیا پورا ہو جائے۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔
(ازالہ اوہام ج اول ص ٦٣ تا ٦٤، خزائن ج ٣ ص ١٣٣، ١٣٤)
- ......٧ ”قل یٰعبادی الذین اسرفوا علیٰ انفسہم الآیہ“ یعنی ان لوگوں کو کہہ کہ
اے میرے بندو خدا کی رحمت سے ناامید مت ہو۔ خدا تمام گناہ بخش دے گا۔ بعد ترجمہ مطلب کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ اب دیکھو! ”یا عباد اللہ“ کی جگہ ”یا عبادی“ کہہ دیا گیا۔ حالانکہ لوگ خدا کے بندے ہیں نہ آنحضرت ﷺ کے مگر یہ استعارہ کے رنگ میں بولا گیا ہے۔ اس میں تمام مخلوق کو رسول اللہ کا بندہ قرار دیا گیا ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦)
١٣٥
تحریف منصبی کی چند جھلکیاں
- ١...... ” ومريم ابنة عمران التي احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا
(تحریم)“ ترجمہ اور دوسری مثال اس امت کے افراد کی مریم عمران کی بیٹی ہے جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا۔ تب ہم نے اس کے پیٹ میں اپنی قدرت سے روح پھونک دی۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی روح۔ اب خود غور کر کے دیکھ لو اور دنیا میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس آیت کا بجز میرے کوئی دنیا میں مصداق نہیں۔ پس یہ پیش گوئی سورہ تحریم میں خاص میرے لئے ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٣٣٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥١)
- ٢...... ”انا اعطينك الكوثر“ اس کا ترجمہ بھی غلط کیا ہے۔ ”ہم نے کثرت سے تجھے
دیا۔“
(تذکرہ ص ٦٥٧ طبع سوم)
- ٣...... ”يٰسٓن انك لمن المرسلين“
(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
- ٤...... ”وما ارسلناك الارحمة للعلمين“
(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
- ٥...... ”قل ان كنتم تحبون الله الآيه“
(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
- ٦...... ”قل انما انا بشر مثلكم يوحىٰ الی“
(حقیقت الوحی ص ٨١، ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
- ٧...... ”انا فتحنا لك فتحاً مبيناً“
(ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧١١)
”اراد الله ان يبعثك مقاماً محموداً“
(ایضاً ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٣)
مندرجہ بالا چھ آیتیں مرزا قادیانی نے اپنے اوپر ملہم ثابت کی ہیں اور جہاں حقیقت الوحی میں الہامات درج کئے ہیں وہیں ان کو بھی درج کیا ہے۔ ایسی نہ معلوم کتنی تحریفات ہیں جن کو مرزا قادیانی نے بڑی دلیری کے ساتھ انجام دیا ہے اور اسی پر بس نہیں کی بلکہ کلمہ اور درود پاک میں بھی دست درازی کی ہے۔
تحریف کلمہ اور درود شریف
اصل کلمہ جس کو مسلمان پڑھتے ہیں اور جس پر ایمان ہے وہ یہ ہے: ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ مگر اس کلمہ کی بھی اس نے تحریف کر ڈالی اور محمد کی جگہ احمد رکھ دیا۔ جس کا ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور احمد ( مرزا غلام احمد قادیانی) اللہ کے رسول ہیں۔
(بحوالہ قادیانی نمبر)
١٣٦
اسی طرح درود پاک میں بھی اس تحریف والجماعت کے عقیدہ کی رو سے درست ہے وہ یہ ہے محمد كما صليت على ابراهيم وعلى بارك الخ!“ اس میں اس نے یہ کیا کہ جہاں ا اضافہ کر دیا ہے۔
یہ ہیں مرزائیوں کے ناقابل معافی جرائم سامنا ہے۔ اس معرکہ آرائی میں ایک طرف تو ایمان طرف تقدس رسول کو برقرار رکھتے ہوئے خدا کی وحد کتاب کی دل و جان سے حفاظت کرنی ہے۔ انشاء ا
قادیانی
١٨٣٩ء میں ایک منحوس ساعت آئی جب ہوا اور اس نے انگریزی حکومت کے زیر سایہ اور اس دعویٰ کیا۔ چونکہ یہ حکومت کا خود کاشت پودا تھا اور ہندوستان کی آب و ہوا اس کے پنپنے اور بڑھنے کے نام مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ جو پنجاب کے ایک ١٨٥٧ء کے آس پاس نبوت کا دعویٰ کیا۔ مرزا غلام کے بڑے بھائی کا نام مرزا غلام قادر تھا۔ جو انگر سپرنٹنڈنٹ تھا۔ اس خاندان کے بعض دوسرے مرزا غلام احمد نے پہلے مسیح اور مہدی موعود ہونے کا احمد کی جو سوانح حیات شائع ہوئی ہے سوانح نگار نے لکھا ہے: ”جب آپ کی عمر چالیس سال کی ہوئی ت جس کے آنے کا مسیحیوں اور مسلمانوں سے وعدہ تھ مدت تک اس کو ظاہر پر محمول کیا۔ لیکن بار بار الہام ہ کا اعلان کیا۔“
(سیرت
١٣٧
صنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا کے افراد کی مریم عمران کی بیٹی ہے جس نے اپنی اپنی قدرت سے روح پھونک دی۔ یعنی عیسیٰ میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس آیت کا سورہ تحریم میں خاص میرے لئے ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٣٣٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥١)
ترجمہ بھی غلط کیا ہے۔ ”ہم نے کثرت سے تجھے
(تذکرہ ص ٦٥٧ طبع سوم)
(حقیقت الوحی ص ٧٠، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
” (حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
(حقیقت الوحی ص ٨٢،٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧١١)
آ“
(ایضاً ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٣)
سچے اور ملہم ثابت کی ہیں اور جہاں حقیقت کیا ہے۔ ایسی نہ معلوم کتنی تحریفات ہیں جن کو ور اسی پر بس نہیں کی بلکہ کلمہ اور درود پاک میں
س پر ایمان ہے وہ یہ ہے: ”لا اله الا الله کے لائق نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول محمد کی جگہ احمد رکھ دیا۔ جس کا ترجمہ یہ ہوتا ہے مرزا غلام احمد قادیانی) اللہ کے رسول ہیں۔
(بحوالہ قادیانی نمبر)
اسی طرح درود پاک میں بھی اس تحریف کا ارتکاب کیا ہے۔ اصل درود جو اہل سنت والجماعت کے عقیدہ کی رو سے درست ہے وہ یہ ہے: ”اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجيد . اللهم بارك الخ!“ اس میں اس نے یہ کیا کہ جہاں لفظ محمد آیا ہے وہاں اس کے آگے لفظ احمد کا بھی اضافہ کر دیا ہے۔
(بحوالہ قادیانی نمبر پاکستان)
یہ ہیں مرزائیوں کے ناقابل معافی جرائم جن سے امت مسلمہ کو ایک زبردست مقابلہ کا سامنا ہے۔ اس معرکہ آرائی میں ایک طرف تو ایمان کو متزلزل ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔ دوسری طرف تقدس رسول کو برقرار رکھتے ہوئے خدا کی وحدانیت کے ساتھ قرآن جیسی پیش بہا اور آخری کتاب کی دل و جان سے حفاظت کرنی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ !
قادیانیت
از : مولانا نظام الدین اسیر ادروی
١٨٣٩ء میں ایک منحوس ساعت آئی جب پنجاب کے ضلع گورداسپور میں ایک شخص پیدا ہوا اور اس نے انگریزی حکومت کے زیر سایہ اور اس کی تلواروں کی حفاظت میں اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ چونکہ یہ حکومت کا خود کاشت پودا تھا اور انگریزوں کا نیر اقبال عروج پر تھا۔ اس لئے ہندوستان کی آب و ہوا اس کے پنپنے اور بڑھنے کے لئے سازگار ثابت ہوئی۔ اس خود ساختہ نبی کا نام مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ جو پنجاب کے ایک مقام قادیان میں ١٨٣٩ء میں پیدا ہوا اور ١٨٧٥ء کے آس پاس نبوت کا دعویٰ کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ اور اس کے بڑے بھائی کا نام مرزا غلام قادر تھا۔ جو انگریزی حکومت کی طرف سے ضلع گورداسپور کا سپرنٹنڈنٹ تھا۔ اس خاندان کے بعض دوسرے افراد بھی انگریزی حکومت کے ملازم تھے۔
مرزا غلام احمد نے پہلے مسیح اور مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ چنانچہ مرکز قادیان سے مرزا غلام احمد کی جو سوانح حیات شائع ہوئی ہے سوانح نگار نے اس میں اس کے دعویٰ مسیحیت کے سلسلہ میں لکھا ہے : ”جب آپ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو آپ کو الہام ہوا کہ تم ہی وہ مسیح اور مہدی ہو جس کے آنے کا مسیحیوں او مسلمانوں سے وعدہ تھا۔ جب یہ الہام آپ کو ہوا تو آپ نے ایک مدت تک اس کو ظاہر پر محمول کیا۔ لیکن بار بار الہام ہونے کے بعد آپ نے اپنے مسیح و مہدی ہونے کا اعلان کیا ۔ “
(سیرت و سوانح مرزا غلام احمد، شائع کردہ مرکز قادیان ص ٩)
١٣٧
چالیس سال کی عمر میں آپ کا پہلا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا تھا اور اسی کی تبلیغ واشاعت کرتا رہا۔ جب اس کے حلقہ بگوشوں کی تعداد پانچ چھ سو سے زائد ہوگئی تو اس نے ایک اور چھلانگ لگائی اور تاج نبوت زیب سر کر کے منصب رسالت کی کرسی زریں پر متمکن ہو گیا۔ دعویٰ مسیحیت کے کئی سال بعد اس نے ایک کتاب لکھی۔ اس میں اس نے غیر مبہم لفظوں میں لکھا۔ ”خدا وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب و اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
اب اس نے صراحتاً اپنے نبی و رسول ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اس سلسلہ میں اس کی سوانح عمری کے مرتب نے مزید تفصیلات مہیا کی ہیں۔ وہ لکھتا ہے: ”حضور کا وہ مکتوب جو آخری مکتوب کہلاتا ہے اور جو ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کے اخبار عام لاہور میں شائع ہوا ہے۔ جس کی عبارت یہ ہے۔ جس بنا پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں۔ وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہوں۔ وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے اوپر کھولتا ہے۔ جب تک کہ انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو۔ دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے مطابق نبی ہوں۔“
(عقائد احمدیہ ص ٣ شائع کردہ انجمن احمدیہ قادیان ص ٩٧، ٩٨)
مرزا غلام احمد قادیانی جب نبی بن گیا تو اس کے پاس وحی بھی آنی چاہئے۔ وہ شیطان ہی کی طرف سے کیوں نہ ہو۔ اس لئے اس پر وحی آئی اور مسلسل آتی رہی۔ اس پر جب وحی آتی تھی تو اس کی کیا کیفیت ہوتی تھی؟ اس کی منظر کشی اسی کے الفاظ میں سنئے۔
”وحی آسمان سے دل پر ایسی گرتی ہے جیسے کہ آفتاب کی شعاع، میں روز دیکھتا ہوں جب مکالمہ و مخاطبہ کا وقت آتا ہے تو اوّل دل پر ایک ربودگی طاری ہو جاتی ہے۔ تب میں ایک تبدیل یافتہ کے مانند ہو جاتا ہوں اور میری حس اور میرا ادراک اور میرے ہوش گو بکلیتہ باقی ہوتے ہیں۔ مگر اس وقت میں یوں پاتا ہوں کہ گویا ایک وجود شدید الطاقۃ نے میرے تمام وجود کو اپنی ہستی میں لے لیا ہے اور میں اس وقت محسوس کرتا ہوں کہ میری ہستی کی تمام رگیں اس کے ہاتھ میں ہیں اور جو کچھ میرا ہے اب وہ میرا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا ہے۔ جب یہ حالت ہو جاتی ہے تو سب سے پہلے خدا تعالیٰ دل کے ان خیالات کو میری نظر کے سامنے پیش کرتا ہے۔ جن پر اپنے کلام کی شعاع ڈالنا اس کو منظور ہوتا ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک خیال دل کے سامنے آیا تو
١٣٨
جھٹ اس پر ایک ٹکڑا کلام الٰہی کا شعاع کی طرح گر ہی تمام بدن ہل جاتا ہے۔“
(عقائد
مرزا قادیانی مہدی سے نبی تک ترقی کر حلقہ بگوشوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا تو انہوں مسلمان بھی کہتے تھے اور مسلمانوں کے سوادِ اعظم کے تھے۔ لیکن جب نبی بن کر اپنی شریعت خاص کا اج کے خارج از ایمان ہونے کا اعلان کر دیا اور کہا ”الحمد“ سے ”والناس“ تک پورا قرآن آسان امر ہے؟ یہ میں از خود نہیں کہتا، خدا تعالیٰ ک چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا گو زبان سے ن تکذیب کر دی اور خدا کو چھوڑ دیا۔ اس کی طرف میر منی وانا منک ”بیشک میری تکذیب سے ت میری تکذیب نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہے
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہو کی طرح ایک مدعی نبوت ہے اس طرح حضور اکر ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ناروا اور ناپاک فرقہ نہیں۔ شدید ترین اسلام دشمن ایک مستقل مذ ہے۔ اس کی براہ راست زد اسلام پر پڑتی ہے۔ کی ہے اور تمام مذہبی اصطلاحات کو اپنے فرقہ میں است اس لئے غیر مسلم اقوام کو تو اپنے مذہب میں لانے اصل مشن ہے۔ وہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا، عذاب مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ مرزا غلا نہیں کیا تھا۔ اس لئے مسلمان حلقوں میں اس کی جعلی پیروں کی جولانگاہ رہا ہے۔ اس لئے بتدری وسیع ہوتا چلا گیا۔ جب اس کے گردو پیش کچھ افرا پر پرزے نکالے اور اپنے عقائد کا اعلان کیا۔ تب
٩
جھٹ اس پر ایک ٹکڑا کلام الہی کا شعاع کی طرح گرتا ہے اور بسا اوقات اس کے گرنے کے ساتھ ہی تمام بدن ہل جاتا ہے۔‘‘
(عقائد احمدیہ ت شائع کردہ انجمن احمدیہ قادیان ص ١١٤، ١١٥)
مرزا قادیانی مہدی سے نبی تک ترقی کر گئے اور الہام سے وحی تک پہنچ گئے اور ان کے حلقہ بگوشوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا تو انہوں نے اور بھی ہاتھ پاؤں نکالے۔ اب تک اپنے کو مسلمان بھی کہتے تھے اور مسلمانوں کے سواد اعظم کے عقائد پر قائم رہنے کا بھی اعلان کرتے رہتے تھے۔ لیکن جب نبی بن کر اپنی شریعت خاص کا اجرا کیا تو اپنے متبعین کے سوا سارے مسلمانوں کے خارج از ایمان ہونے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ: ”جو لوگ میری تکذیب کریں گے ان کو ”الحمد“ سے ”والناس“ تک پورا قرآن چھوڑنا پڑے گا۔ پھر سوچو کیا میری تکذیب کوئی آسان امر ہے؟ یہ میں از خود نہیں کہتا، خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھ کو چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا گوزبان سے نہ سہی مگر اپنے عمل سے اس نے پورے قرآن کی تکذیب کر دی اور خدا کو چھوڑ دیا۔ اس کی طرف میرے ایک الہام میں بھی اشارہ ہے۔ ”انت منی وانا منك“ بیشک میری تکذیب سے خدا کی تکذیب لازم آتی ہے۔ پھر میری تکذیب میری تکذیب نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہے۔‘‘
(عقائد احمدیہ ت ص ١٢٣، ١٢٤)
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیلمہ کذاب کی طرح ایک مدعی نبوت ہے اس طرح حضور اکرم ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے سے اس کو انکار ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ناروا اور ناپاک الزامات لگائے ہیں۔ اس لئے قادیانیت ایک فرقہ نہیں۔ شدید ترین اسلام دشمن ایک مستقل مذہب ہے۔ اس کی بنیاد ہی اسلام دشمنی پر پڑی ہے۔ اس کی براہ راست زد اسلام پر پڑتی ہے۔ کیونکہ وہ قرآن وحدیث پر اپنے عقیدہ کا اظہار کرتا ہے اور تمام مذہبی اصطلاحات کو اپنے فرقہ میں استعمال کرتا ہے جو خالص اسلامی اصطلاحیں ہیں۔ اس لئے غیر مسلم اقوام کو تو اپنے مذہب میں لانے میں ناکام ہے۔ البتہ مسلمانوں کو مرتد بنانا اس کا اصل مشن ہے۔ وہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا۔ اسلامی نام پایا۔ اس لئے اس کے دعویٰ نبوت کا عذاب مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے ہی مرحلہ پر نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اس لئے مسلمان حلقوں میں اس کی بات سنی جاتی تھی۔ پنجاب ہمیشہ سے جاہل اور جعلی پیروؤں کی جولانگاہ رہا ہے۔ اس لئے بتدریج اس کی پھیلائی ہوئی ضلالت و گمراہی کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔ جب اس کے گرد و پیش کچھ افراد جمع ہو گئے تو وہ اپنے اصلی رنگ میں ظاہر ہوا اور پر پرزے نکالنے اور اپنے عقائد کا اعلان کیا۔ تب لوگوں کی آنکھیں کھلیں۔ تب تک رستا ہوا پانی
١٣٨
سیلاب بن چکا تھا اور جب ١٩٠٨ء میں اس کا انتقال ہوتا ہے تو اس وقت تک قادیانیت ایک طاقتور مذہب کی شکل اختیار کر چکی تھی۔
آج یہ فرقہ دنیا کا مالدار ترین فرقہ ہے۔ اس کے دو مرکزی دفاتر ہیں۔ ایک ہندوستان کے شہر قادیان میں ہے۔ یہیں سے اس کے اشاعتی لٹریچر تیار کر کے پورے ملک میں مفت تقسیم کئے جاتے ہیں اور ایک ہفتہ وار اخبار بدر کے نام سے نکلتا ہے۔ اس مرکز کے ماتحت کئی درجن با تنخواہ مشینری پورے ملک میں اپنے مذہب کی تبلیغ واشاعت میں شب و روز مصروف رہتے ہیں۔ ان کا دوسرا مرکزی دفتر پاکستان میں چنیوٹ کے قریب اپنے آباد کردہ شہر ربوہ میں ہے۔ اس دفتر سے عالمی پیمانے پر قادیانیت کی نشر و اشاعت کے پروگرام بنائے جاتے ہیں۔ یہیں کی تربیت گاہ سے نکلے ہوئے قادیانی دنیا کے مختلف ملکوں میں جاکر اپنے مذہب کی تبلیغ کا فرض انجام دیتے ہیں۔ وہاں ان کے بہت سے مدارس اور کالج ہیں۔ ان میں سب سے اہم احمدیہ مشنری کالج ہے۔ جس میں قادیانیت کے مشنری تیار کئے جاتے ہیں۔ قادیان اور ربوہ دونوں مرکزی دفاتر کا سالانہ بجٹ گیارہ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
(سیرت وسوانح مرزا غلام احمد قادیانی ص ٦٠، شائع کردہ مرکز قادیان)
یہی دونوں مرکز اپنے عالمی مشنریوں کو منظم کرتے ہیں۔ ہدایات دیتے ہیں۔ ان کے دفاتر کا بجٹ پورا کرتے ہیں۔ ایک سو سے زائد مرکزی مشنری ہیں اور ١٦٤ لوکل مشنری کام کرتے ہیں۔ اس طرح ٢٦٤ پرجوش، بااختیار، مالیات کی فراہمی سے بے نیاز داعی اور مشنری عالمی پیمانے پر تبلیغ قادیانیت کے نظام کو پوری قوت سے چلا رہے ہیں۔ یہ طریقہ انہوں نے عیسائی مشنریوں سے لیا ہے اور ٹھیک اسی نہج پر وہ کام کرتے ہیں۔ ان کے نظام تبلیغ و اشاعت مذہب کی وسعت اور پھیلاؤ کا اندازہ مندرجہ ذیل تفصیل سے کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ کی چار ریاستوں میں ٩ مشن کام کرتے ہیں۔ ان کی ١٤ عبادت گاہیں ہیں اور تین مدرسے، پانچ اخبارات ورسائل شائع ہوتے ہیں۔ یورپ کے ملکوں میں کینیڈا، انگلینڈ، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، جرمنی، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، بلجیم، اسپین اور اٹلی میں ان کے ٢٤ مشن، ٣٠ مسجدیں، ٢ مدرسے ہیں اور ٩ رسالے اور اخبارات جاری ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں فلسطین، شام، لبنان، عدن، مصر، کویت، بحرین، مسقط، دبئی اور اردن میں ١٠ مشن چار عبادت گاہیں اور ایک مدرسہ ہے اور ایک رسالۃ البشریٰ عربی زبان میں شائع ہوتا ہے۔ مشرقی افریقہ میں کینیا، تنزانیہ، یوگنڈا، زامبیا میں ٤٦ مشن ٧١ مسجدیں ٥ مدرسے ہیں اور ١٥ اخبارات ورسائل شائع ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ کامیابی ان کو مغربی افریقہ میں ملی ہے۔
١٤٠
وہاں نائیجیریا، گھانا، سیرالیون، گیمبیا، آئیوری کوسٹ، لا میں ٢٣٧ مشن ٤٦٩ عبادت گاہیں ١٥٤ مدارس اور ٢٥ کئے جاتے ہیں۔ ممالک بحر ہند میں ماریشس، لنکا، برما، ہے۔ ١٣ اخبارات ورسائل جاری ہیں۔ مشرق بعید میں فلپائن، جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن میں ٧٣ مشن، ٦ اخبارات ورسائل ہیں۔ مشرق بعید میں سب سے زیا جو ایک مسلم ملک کہا جاتا ہے۔ صرف انڈونیشیا میں ٤٠ م اس کے مختلف شہروں میں موجود ہیں۔
مذکورہ بالا تفصیل سے آپ اندازہ کر سکتے ہ بڑی فوج لگی ہوئی ہے اور یہ ساری فوج صرف امت مح کوئی منظم جماعت ہماری نگاہوں میں نہیں ہے۔
ان کی سب سے کاری ضرب اسلام پر ان تائید میں مسلمانوں کی کتاب قرآن کو استعمال کرتے ہ میں ترجمہ کرتے ہیں اور ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد م ہیں۔ انہوں نے ترجمہ میں کیا کیا بددیانتیاں کی ہوں گ اتنے بڑے پیمانے پر تمام ممالک میں پھیلا چکے ہیں۔ ج
قرآن کے انگریزی ترجمہ کے متعدد ایڈی ہیں۔ انگریزی زبان میں پانچ جلدوں میں ایک تفسیر ت ہے۔ اس تفسیر کا خلاصہ بھی انگریزی میں شائع کر دیا گیا کی ڈچ زبان میں قرآن کے ترجمے کے تین ایڈیشن ا کے تین ایڈیشن، مشرقی افریقہ میں کینیا کی سواحلی زبا تین ہزار نسخے شائع ہو چکے ہیں۔ نائیجیریا کی زبان یور تین ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ ڈنمارک کی زبان ڈینش میں کر کے تقسیم کیا گیا۔ یوگنڈا کی زبان یوگنڈی، یورپ انڈونیشین میں، فرانس کی زبان فرنچ میں، روسی، اطال کے ترجمے کرائے گئے ہیں۔ مشرقی افریقہ کی بعض د
١٤١
وہاں نائجیریا، گھانا، سیرالیون، گیمبیا، آئیوری کوسٹ، لائبیریا، ٹوگو لینڈ، نائیجر، بینن اور صومالیہ میں ٢٤٧ مشن ٤٦٩ عبادت گاہیں ١٥٤ مدارس اور ٢٥ ہسپتال ہیں اور ١٤ اخبارات و رسائل شائع کئے جاتے ہیں۔ ممالک بحر ہند میں ماریشس، لنکا، برما میں ٧ مشن ١٣ عبادت گاہیں اور ایک مدرسہ ہے۔ ١٣ اخبارات و رسائل جاری ہیں۔ مشرق بعید میں انڈونیشیا، ملیشیا، فجی آئی لینڈ، جاپان، فلپائن، جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن میں ٧٣ مشن ١٢٧ عبادت گاہیں اور ٥ مدرسے ہیں۔ ٦ اخبارات و رسائل ہیں۔ مشرق بعید میں سب سے زیادہ کامیابی ان کو انڈونیشیا میں حاصل ہوئی جو ایک مسلم ملک کہا جاتا ہے۔ صرف انڈونیشیا میں ٣٠ مشن مصروف کار ہیں اور ١١٥ عبادت گاہیں اس کے مختلف شہروں میں موجود ہیں۔
مذکورہ بالا تفصیل سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ قادیانیت کی تبلیغ میں کتنی منظم اور کتنی بڑی فوج لگی ہوئی ہے اور یہ ساری فوج صرف امت محمدیہ پر حملہ آور ہے اور اس کی مدافعت میں کوئی منظم جماعت ہماری نگاہوں میں نہیں ہے۔
ان کی سب سے کاری ضرب اسلام پر ان کے ترجمہ قرآن سے پڑتی ہے۔ وہ اپنی تائید میں مسلمانوں کی کتاب قرآن کو استعمال کرتے ہیں۔ اس کا دنیا کی تمام اہم ترین زبانوں میں ترجمہ کرتے ہیں اور ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں شائع کرتے ہیں۔ تمام مترجمین قادیانی ہیں۔ انہوں نے ترجمہ میں کیا کیا بددیانتیاں کی ہوں گی۔ اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ان تراجم کو اتنے بڑے پیمانے پر تمام ممالک میں پھیلا چکے ہیں۔ جن کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے۔
قرآن کے انگریزی ترجمہ کے متعدد ایڈیشن کئی لاکھ کی تعداد میں وہ شائع کر چکے ہیں۔ انگریزی زبان میں پانچ جلدوں میں ایک تفسیر بھی شائع کی ہے جو ٣٣٠٠ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس تفسیر کا خلاصہ بھی انگریزی میں شائع کر دیا گیا ہے جو ١٥٠٠ صفحات پر مشتمل ہے۔ ہالینڈ کی ڈچ زبان میں قرآن کے ترجمے کے تین ایڈیشن اب تک وہ شائع کر چکے ہیں۔ جرمنی ترجمے کے تین ایڈیشن، مشرقی افریقہ میں کینیا کی سواحلی زبان میں ترجمہ قرآن کے بھی تین ایڈیشن یعنی تین ہزار نسخے شائع ہوچکے ہیں۔ نائجیریا کی زبان یوروبا میں قرآن کا ترجمہ کیا گیا۔ اس کے بھی تین ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ ڈنمارک کی زبان ڈینش میں ترجمہ کر کے اس کو دس ہزار کی تعداد میں طبع کر کے تقسیم کیا گیا۔ یوگنڈا کی زبان یوگنڈی، یورپ کی جدید زبان اسپرنٹو میں انڈونیشیا کی انڈونیشین میں، فرانس کی زبان فرنچ میں، روسی، اطالین، سپینش، پرتگالی، بنگلہ زبان میں قرآن کے ترجمے کرائے گئے ہیں۔ مشرقی افریقہ کی بعض دوسری زبانوں کیکویو، لوؤ، کیکامبہ میں بھی
١٤١
قرآن کا ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ آسامی، پنجابی اور ہندی زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں جن میں سے بعض شائع ہوچکے ہیں۔ بعض طباعت کے مرحلے میں ہیں۔ عنقریب وہ بھی شائع ہوجائیں گے۔ مغربی افریقہ کی مقامی زبانوں میں مثلاً سیرالیون کی زبان مینڈ ی، گھانا کی زبان فنتے، ٹوائی، نائیجیریا کی ایک زبان ہاؤسا اور فجی کی زبان فجین میں ترجمہ کا کام جاری ہے۔ مستقبل قریب میں وہ بھی شائع ہوجائیں گے۔ چینی زبان میں بھی ترجمہ کی تیاریاں ہیں۔
ان حالات کے پیش نظر آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ قادیانیت کی جڑیں کتنی گہرائی تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس کی مدافعت میں جتنی توانائیاں ہمیں لگانی چاہئے تھیں ہم نے نہیں لگائیں۔ ہم چند دلچسپ مباحثوں، مناظروں اور اشتہار بازیوں میں مصروف رہے اور اسے ایک حقیر اور مختصر سی جماعت سمجھ کر اس کی طرف سے بے نیازی برتتے رہے اور وہ خاموشی سے مسلمانوں کے ایمانوں پر ڈاکے ڈالتے رہے اور ہم خاموش تماشائی بنے رہے۔
قادیانیت کی جنم بھومی ہندوستان کی سرزمین ہے۔ یہیں کے علماء کا سب سے پہلے فریضہ تھا کہ اس نئے مذہب کی تباہ کاریوں اور ہلاکت آفرینیوں سے تمام عالم اسلام کو باخبر کرتے اور ابتداء ہی سے اس کے خلاف ایک متفقہ اجتماعی پالیسی اختیار کرکے اپنے فیصلہ سے اسلامی دنیا کو باخبر رکھتے تو شاید اتنے بڑے پیمانے پر یہ تباہی نہ پھیلتی۔ یہ ہماری کوتاہی تھی، اسلام نے ہمارے اوپر اپنی حفاظت کی جو ذمہ داری عائد کی تھی اس کو کما حقہ ہم نے پورا نہیں کیا اور ہزاروں، لاکھوں مسلمانوں کے ایمان کی پونجی ہماری غفلت سے لٹ گئی۔ خدا ہماری کوتاہیوں اور لغزشوں کو معاف فرمائے۔
تلافی مافات کے لئے ضروری ہے کہ آج ہم ایک غیر متزلزل لائحہ عمل لے کر اٹھیں اور قادیانیت کے بارے میں غیر مبہم الفاظ میں اپنی رائے دنیائے اسلام کے سامنے پیش کردیں۔
اس سلسلہ میں میری تجویز ہے کہ:
- ١...... واضح اور غیر مبہم لفظوں میں یہ اعلان کردیا جائے کہ قادیانیت مسلمانوں کا کوئی فرقہ
نہیں بلکہ یہ اسلام دشمن ایک مستقل مذہب ہے جس کا اسلام سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔
- ٢...... ان کی پوجا پاٹ کی جگہ کو مسجد نہ کہا جائے اور حتی الامکان اس نام کے استعمال سے ان کو
روکا جائے۔
- ٣...... قادیانیوں کا حدود حرم مکہ و مدینہ میں داخلہ ممنوع ہو، ان کے ساتھ غیر مسلموں کا سلوک
کیا جائے۔
١٤٢
- ٤...... مسلمانوں کے کسی مذہبی اجتماع میں ان کو شا
مدعو کیا جائے۔
- ٥...... پورے ملک میں جہاں بھی قادیانی بستے ہوں
کے روابط سے روکا جائے۔
- ٦...... تمام اسلامی ممالک سے اپیل کی جائے کہ
فہرست میں نہ شمار کیا جائے۔
- ٧...... حکومت ہند سے اپیل کی جائے کہ وہ قادیا
ان کے مقدمات نکاح و طلاق، وراثت وغیرہ کا فیصلہ پرسنل لاء کو ان پر نافذ العمل نہ تسلیم کیا جائے۔
- ٨...... کانفرنس کے فیصلہ سے تمام عالم اسلام کو ا
اردو، عربی اور انگریزی میں طبع کراکے تمام اہم اور ع ارسال کیا جائے۔
مسیح اور مہدی دو
از: جمیل احمد نذیری
قادیانی عقیدہ کے مطابق مسیح موعود اور مہد ایک ہی شخصیت کے دو لقب ہیں۔ یہ عقیدہ مرزا غلام جو "حقیقت المہدی، حقیقت الوحی، نزول المسیح، اعجاز ا شکل میں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مرزا قادیا دونوں کے مصداق وہ خود ہیں۔
”ایھا الناس انی انا المسیح المع مسیح محمدی اور میں ہی احمد مہدی ہوں۔
ضرورۃ الامام میں لکھتے ہیں: ”اب بالآخ کون ہے جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہد تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔ سو میں ا کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان میں ہوں ا شرطیں جمع کی ہیں۔“
٤٣
- ٤...... مسلمانوں کے کسی مذہبی اجتماع میں ان کو شرکت کی اجازت نہ دی جائے اور نہ ان کو
مدعو کیا جائے۔
- ٥...... پورے ملک میں جہاں بھی قادیانی بستے ہوں وہاں کے مسلمانوں کو ان سے ہر طرح
کے روابط سے روکا جائے۔
- ٦...... تمام اسلامی ممالک سے اپیل کی جائے کہ مردم شماری میں قادیانیوں کو مسلمانوں کی
فہرست میں نہ شمار کیا جائے۔
- ٧...... حکومت ہند سے اپیل کی جائے کہ وہ قادیانیوں پر مسلم پرسنل لاء کا اطلاق نہ کرے۔
ان کے مقدمات نکاح و طلاق، وراثت وغیرہ کا فیصلہ عام قوانین ہند کے تحت کیا جائے اور مسلم پرسنل لاء کو ان پر نافذ العمل نہ تسلیم کیا جائے۔
- ٨...... کانفرنس کے فیصلہ سے تمام عالم اسلام کو باخبر کرنے کی ہر امکانی کوشش کی جائے۔
اردو، عربی اور انگریزی میں طبع کرا کے تمام اہم اور ضروری مقامات، اداروں اور مسلم تنظیموں کو ارسال کیا جائے۔
مسیح اور مہدی دو شخصیتیں
از: جمیل احمد نذیری، جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارکپور اعظم گڑھ
قادیانی عقیدہ کے مطابق مسیح موعود اور مہدی معہود دونوں دو شخصیتیں نہیں بلکہ دونوں ایک ہی شخصیت کے دو لقب ہیں۔ یہ عقیدہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ان تحریروں سے وجود میں آیا جو ”حقیقت المہدی، حقیقت الوحی، نزول المسیح، اعجاز احمدی، ازالۃ اوہام اور ضرورۃ الامام“ وغیرہ کی شکل میں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ مسیح موعود اور مہدی معہود، دونوں کے مصداق وہ خود ہیں۔
”ایہا الناس انی انا المسیح المحمدی واحمد المہدی“ اے لوگو! میں ہی مسیح محمدی اور میں ہی احمد مہدی ہوں۔
(خطبہ الہامیہ ص ٢٧، خزائن ج ١٦ ص ٦١)
ضرورۃ الامام میں لکھتے ہیں: ”اب بالآخر یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرنی خدائے تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔ سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان میں ہوں اور مجھ میں خدائے تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں، شرطیں جمع کی ہیں ۔“
(ضرورت الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٦ ص ٤٩٥)
١٤٣٣
چند سطروں کے بعد پھر لکھتے ہیں: ”پس یہ تمام مختلف رائیں اور مختلف قول ایک فیصلہ کرنے والے حکم کو چاہتے تھے۔ سو وہ حکم میں ہوں۔ میں روحانی طور پر کسر صلیب کے لئے اور نیز اختلافات کے دور کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ انہیں دونوں امروں نے تقاضا کیا کہ میں بھیجا جاؤں۔“
(ضرورت الامام ص ٢٤، ٢٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)
مرزا قادیانی کے ایک امتی قاضی محمد نذیر لکھتے ہیں: ”پس یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ مسیح موعود اور مہدی معہود کا بنیادی کام ہوچکا ہے۔“
(امام مہدی کا ظہور ص ٣٩)
یہی صاحب ان سطروں سے پہلے ص ١٦ پر اپنی جماعت کی تحقیق ان الفاظ میں پیش کر چکے ہیں ۔ ”امام مہدی اور مسیح موعود ایک ہی شخص ہے ۔“
(کتاب مذکور ص ١٦)
قادیانی دعوے کا جائزہ
لیکن مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کا یہ دعویٰ صحیح نہیں، احادیث کریمہ میں مسیح موعود (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اور امام مہدی کے بارے میں جو تفصیلات موجود ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں دو شخصیتیں ہیں۔ سب سے پہلے وہ احادیث ملاحظہ کیجئے جن میں مسیح موعود کے نزول کا تذکرہ ہے۔
”عن أبي هريرة، قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها ثم يقول أبو هريرة فاقرأو ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسلم ج ١ ص ٨٧)“
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ تم میں ابن مريم نازل ہوں، حاکم عادل کی حیثیت سے۔ پس وہ صلیب کو توڑیں گے ۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ کو ختم کر دیں گے۔ مال (پانی کی طرح) بہے گا۔ لیکن اسے کوئی لینے والا نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ سجدہ واحد دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو۔ (کیونکہ اس میں اسی زمانہ کی طرف اشارہ ہے) ”وان من اهل الكتاب“ بیشک اہل کتاب ضرور بالضرور ایمان لائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے۔
١٤٤
دوسری روایت میں ہے: ”واللہ ینزلن ابن مریم حكماً عادلاً (مسلم ج١ ص٨٧) ﴿خدا کی قسم! ابن مریم ضرور بالضرور نازل ہوں گے حاکم عادل بن کر۔﴾
ابن عباس کی روایت میں ہے: ”ینزل اخی عيسىٰ بن مريم من السماء (کنز العمال ج٧ ص٢٥٩، ٢٦٨) ﴿میرے بھائی عیسیٰ ابن مریم آسمان سے اتریں گے۔﴾
نواس بن سمعان سے مروی ہے: ”فيبعث الله المسيح بن مريم فينزل عند المنارة البيضاء الشرقى دمشق بين مهرودتين واضعاً يديه على اجنحة ملكين (مسلم ج٢ ص٤٠١، ترمذی ج٢ ص٤٧، ابوداؤد ج٢ ص٢٤٥، ابن ماجہ ص٣٠٦) ﴿پس اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا۔ پس وہ دمشق کے مشرقی سفید منارہ کے پاس دو چادریں اوڑھے ہوئے، دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔﴾
مراسیل حسن بصریؒ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود سے فرمایا تھا: ”ان عيسىٰ لم یمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (تفسير ابن كثير ج٢ ص٢٣٠) ﴿حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی۔ وہ تمہاری جانب قیامت سے پہلے اتریں گے۔﴾
نجران کے عیسائی وفد سے حضور ﷺ نے فرمایا تھا: ”الستم تعلمون ان ربنا حی لا يموت وان عيسىٰ ياتى عليه الفناء (تفسير كبير ج٢ ص٣٨٨، درمنثور ج٢ ص٢٠٣) ﴿کیا تم جانتے نہیں کہ ہمارا پروردگار زندہ ہے۔ مرے گا نہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فنا آئے گی۔﴾
ان احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح موعود، حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا تھا۔ قیامت کے قریب انہیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے گا۔ وہ آسمان سے دو فرشتوں کے سہارے دمشق کے مشرقی سفید منارہ کے پاس اتریں گے۔
ان احادیث، یا جتنی بھی حدیثیں نزول مسیح سے متعلق ہیں، کسی میں مثیل مسیح کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ صاف صاف بغیر کسی ابہام و استعارہ کے مسیح ابن مریم، عیسیٰ ابن مریم یا صرف ابن مریم کے الفاظ مذکور ہیں۔ دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ تمام حدیثوں میں ”نزول“ یعنی اترنے کا ذکر ہے۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں سے اتریں گے۔ بعض میں تو آسمان کی بھی صراحت ہے اور ظاہر بات ہے کہ جب آسمان پر اٹھائے گئے ہیں تو نزول بھی وہیں سے ہوگا۔
١٤٥
نزول کا وقت کیا ہوگا؟ اس کے متعلق یہ احادیث ملاحظہ کیجئے۔ ”و امامهم رجل صالح فبينما امامهم قد تقدم يصلى بهم الصبح اذا نزل عليهم عيسى بن مريم الصبح فرجع ذالك الامام ينكص يمشى القهقرى ليقدم عيسى يصلى فيضع عيسى يده بين كتفيه ثم يقول له تقدم فصل فانها لك اقيمت فيصلى بهم امامهم (ابن ماجه ص٣٠٨) “ ﴿ان کا امام ایک صالح مرد ہوگا۔ پس اس درمیان کہ وہ امام انہیں نماز فجر پڑھانے کے لئے بڑھے گا، اچانک حضرت عیسیٰ ابن مریم اتر آئیں گے۔ پس وہ امام پیچھے ہٹے گا۔ تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آگے بڑھائے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت عیسیٰ اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھیں گے اور کہیں گے آگے بڑھئے اور نماز پڑھائیے۔ کیونکہ آپ ہی کے لئے اقامت کہی گئی ہے۔ چنانچہ ان کا امام انہیں نماز پڑھائے گا۔﴾
دوسری حدیث میں ہے: ”فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة (مسلم ج١ ص٨٧) “ ﴿پس حضرت عیسیٰ ابن مریم اتریں گے تو ان کا امیر کہے گا۔ آئیے! ہمیں نماز پڑھائیے۔ وہ کہیں گے نہیں، تم میں کا بعض، بعض پر امیر ہے اس بزرگی کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عطاء کی ہے۔﴾
ایک اور حدیث میں ہے: ”كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم (بخاری ج١ ص٤٩٠، مسلم ج١ ص٨٧) “ ﴿تمہارا کیا حال ہوگا؟ جب تم میں ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام تمہی میں سے ہوگا۔﴾
حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے۔ حج بھی کریں گے۔ شادی بھی ہوگی۔ اولاد بھی ہوگی۔ وفات کے بعد حضور ﷺ کے پاس دفن ہوں گے۔ (مسلم ج١ ص٢٨٩، ج٢ ص٤٠١، مسند احمد ج٢ ص٢٩، عون المعبود شرح ابی داؤد ج٤ ص٤٠٥، مشکوۃ ج٢ ص٤٨٠)
امام مہدی کا نام اور خاندان
اب امام مہدی کے نام، خاندان اور کام کے متعلق احادیث ملاحظہ کیجئے: ”عن عبدالله بن مسعود قال قال رسول الله ﷺ لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى (ترمذی ج٢ ص٤٦) “ ﴿عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ دنیا ختم نہیں ہوسکتی۔ یہاں تک کہ (اس) دنیا کا مالک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص نہ ہوجائے۔ جس کا نام میرے ہی نام جیسا ہوگا۔﴾
١٤٦
٢٦١
یعنی اس کا نام محمد ہوگا۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ان کے باپ کا نام میرے باپ کا نام یعنی عبداللہ ہوگا۔
”لو لم يبق من الدنيا الا يوم لطول الله ذالك اليوم حتى يبعث الله فيه رجلا منى او من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابى يملاء الارض قسطاً وعدلاً كما ملئت ظلما وجورا (ابو داؤد ج٢ ص٢٣٩)“ ﴿اگر دنیا کا ایک ہی دن رہ جائے تو بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ اس میں میرے اہل بیت میں سے ایسے شخص کو بھیجے گا جو مجھ سے ہوگا۔ یا حضور ﷺ نے فرمایا میرے اہل بیت میں سے ہوگا۔ جس کا نام میرے نام اور اس کے باپ کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ جب کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی﴾
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ مہدی کا نام محمد بن عبداللہ ہوگا۔
ام سلمہؓ کی روایت میں ہے: ”المهدی من عترتى من ولد فاطمة (ابو داؤد ج٢ ص٢٣٩، مشکوۃ ص٢٤٨) “ ﴿مہدی میرے خاندان سے ہوں گے، اولاد فاطمہؓ میں سے۔﴾
امام مہدی کی یہ خصوصیت بکثرت احادیث میں ہے کہ وہ دنیا کو جو اس وقت کفر و ضلالت، ظلم و جور سے بھر چکی...... ہوگی۔ عدل وانصاف سے، اسلام اور اس کی برکات سے بھر دیں گے۔ ان کے زمانہ میں مال و دولت کی فراوانی ہوگی۔ زمین اپنے خزانے اگل دے گی۔ بارشیں بکثرت ہوگی۔ لوگ آرام وراحت اور چین وسکون سے گزاریں گے۔
صحیح مسلم میں اگرچہ مہدی کے لفظ کی صراحت نہیں تاہم ان کا جو حلیہ، ان کے جو کام اور جو وقت بتایا گیا ہے وہ مہدی کے علاوہ کسی پر صادق نہیں آسکتا۔
”عن جابر بن عبدالله قال قال رسول الله ﷺ يكون فى اخر امتى خليفة يحثى المال حثياً ولا يعده عداً (مسلم ج٢ ص٣٩٠) “ ﴿جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال عطا کرے گا۔ لیکن اسے شمار نہیں کرے گا۔﴾
”عن ابى سعيد الخدرى قال قال رسول الله ﷺ من خليفة يحثو المال حثياً ولا يعده عداً (مسلم ج٢ ص٣٩٠) “ ﴿ابوسعید خدریؓ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے خلفاء میں ایک ایسا خلیفہ ہوگا جو مال دے گا، شمار نہیں کرے گا۔﴾
یعنی اس کا نام محمد ہوگا۔ دوسری حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ امام مہدی کے باپ کا نام عبداللہ ہوگا۔
"لو يبق من الدنيا الا يوم قال زائدة لطول الله ذالك اليوم حتى يبعث الله فيه رجلا منى اومن اهل بيتى يواطى اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابى يملاء الارض قسطاً وعدلاً كما ملئت ظلماً وجوراً
(ابوداؤد ج ٢ ص ٢٤٧) "
﴿اگر دنیا کا ایک ہی دن رہ جائے تو بھی اللہ تعالیٰ اس کو لمبا کر دے گا۔ یہاں تک کہ اس میں ایک ایسے شخص کو بھیجے گا جو مجھ سے ہوگا۔ یا حضورﷺ نے یوں فرمایا کہ میرے اہل بیت سے ہوگا۔ اس کا نام میرے نام اور اس کے باپ کا نام میرے والد کے نام جیسا ہوگا۔ وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا۔ جب کہ وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی۔﴾
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ مہدی کا آنا بالکل یقینی اور شک وشبہ سے بالاتر ہے۔
ام سلمہؓ کی روایت میں ہے: ”المهدى من عترتى من ولد فاطمة (کتاب مذکور ص ٢٤٨) “ ﴿مہدی میرے خاندان سے اولاد فاطمہ سے ہوگا۔﴾
امام مہدی کی یہ خصوصیت بکثرت احادیث میں وارد ہوئی ہے کہ وہ دنیا کو، جب کہ دنیا ظلم وجور سے بھر چکی ...... ہوگی۔ عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ بخشش وسخاوت کے دریا بہائیں گے۔ ان کے زمانہ میں مال ودولت کی فراوانی ہوگی۔ بارش بھی خوب ہوگی۔ پیداوار بھی خوب ہوگی۔ لوگ آرام وراحت اور چین وسکون سے گزر بسر کریں گے۔
(مشکوٰۃ ج٢ ص٤٧٠،٤٧١)
صحیح مسلم میں اگرچہ مہدی کے لفظ کی صراحت نہیں۔ مگر جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں اور جو وقت بتایا گیا ہے وہ مہدی کے علاوہ کسی پر صادق نہیں آتا۔
"عن جابر بن عبدالله قال قال رسول الله ﷺ يكون فى اخر امتى خليفة يحثى المال حثياً ولا يعده عداً (مسلم ج٢ ص٣٩٠) “ ﴿حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میری امت کے آخری زمانہ میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال عطا کرے گا۔ لیکن اسے شمار نہیں کرے گا۔﴾
"عن ابى سعيد الخدرى قال قال رسول الله ﷺ من خلفاء كم خليفة يحثو المال حثياً ولا يعده عدداً (حوالہ مذکورہ) “ ﴿حضرت ابوسعید خدریؓ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تمہارے خلفاء میں سے ایک خلیفہ مال لٹائے گا مگر اسے شمار نہیں کرے گا۔﴾
١٤٧
ایک اور حدیث میں ہے: ”يكون في آخر الزمان خليفة يقسم المال ولا يعده“ (حوالہ بالا) آخر زمانہ میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال تقسیم کرے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا۔ امام مہدی کی یہی خصوصیت، بغیر کسی ابہام واجمال کے لفظ ”مہدی“ کی صراحت کے ساتھ ترمذی میں یوں موجود ہے۔
”قال فيجئ اليه الرجل فيقول يا مهدی اعطنى اعطنى قال فحثى له فى ثوبه فلا استطاع ان يحمله (ج ٢ ص ٤٦)“ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ایک آدمی اس کے پاس آ کر کہے گا۔ اے مہدی! مجھے دو، مجھے دو، پس وہ اس کے کپڑے میں دیتا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ اسے اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھے گا۔
حاکم نے مستدرک میں شرط شیخین پر کئی روایات نقل کی ہیں جن میں لفظ ”مہدی“ کی صراحت ہے اور وقت اور صفات بھی وہی بیان کی گئی ہیں جو احادیث بالا میں ہیں۔
(مقدمہ ابن خلدون ص ٢٦٩)
ان تمام احادیث پر جو شخص انصاف کی نظر ڈالے گا اسے یہ فیصلہ کرنے میں ذرا بھی تردد نہ ہوگا کہ مسیح موعود اور مہدی معہود، دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ ایک باحیات ہے، آسمان سے اترے گی، دوسری رسول اللہ ﷺ کے خاندان میں پیدا ہوگی۔ ایک کا نام عیسیٰ ابن مریم ہے۔ دوسرے کا نام محمد بن عبداللہ۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی الگ الگ خصوصیات ہیں۔
پھر اس حدیث جس کی سند کو سلسلۃ الذہب کہا جاتا ہے، نے بالکل ہی فیصلہ کر دیا کہ مسیح اور مہدی دو شخصیتیں ہیں۔
”عن جعفر عن ابيه عن جده قال قال رسول الله ﷺ كيف تهلك امة انا اولها والمهدى وسطها والمسيح أخرها ولكن بين ذالك فيج الاعوج ليسوا منى ولا انا منهم (مشكوة ج ٢ ص ٥٨٣)“ جعفر صادق نے اپنے باپ محمد باقر سے انہوں نے زین العابدین علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کے اوّل میں میں ہوں۔ درمیان میں مہدی اور آخر میں مسیح علیہ السلام۔ لیکن درمیان درمیان میں کچھ کج رو گروہ ہوں گے جو مجھ سے نہ ہوں گے اور نہ میں ان سے ہوں گا۔
حدیث لا مهدی الا عیسیٰ موضوع ومنکر ہے
ابن ماجہ میں انس بن مالک سے مروی ہے ۔”ولا المهدى الا عيسى بن مريم
١٤٨
(ص ٣٠٦، باب شدة الزمان) ”عیسیٰ ابن مریم ہی مہدی ہے“ اس حدیث کے متعلق قاضی محمد نذیر لکھتے ہیں: ”محدثین کے نزدیک یہ حدیث ضعیف ہے کہ عیسیٰ ابن مریم ہی ”المہدی“ ہے اور اس کے علاوہ کوئی مہدی نہیں۔
لیکن یہ حدیث ”ناطق فیصلہ“ تو کیا ہوتی ۔ اس حدیث کا ایک ایک حرف ان احادیث کی موجودگی میں جن میں صراحۃً عیسیٰ اور مہدی کو دو الگ الگ شخصیات قرار دیا گیا ہے۔
اگر قادیانی حضرات اس حدیث کا حوالہ دیتے وقت شرم محسوس نہیں کرتے تو ان کو بھی انہیں پتہ چل جاتا کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے کیسی ہے، اس کے راویوں کا کیا حال ہے، مشہور و مستفیض احادیث کے مقابلے میں پیش کیا جائے تو اس کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ یہ حدیث کہ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ ہذا خبر منکر یعنی یہ حدیث منکر ہے۔ حاکم نے اسے منقطع بھی کہا ہے۔ سلسلہ سند میں ایک راوی محمد بن خالد الجندی ہے۔ جس کے متعلق کہا گیا ہے مجہول (وہ مجہول ہے) اسی طرح حافظ نے بھی اسے رجل مجہول قرار دیا ہے۔
مقدمہ ابن خلدون میں ہے: ”وبالجملة فالحديث ضعيف مضطرب“ (ص ٣٢٢) ”خلاصہ کلام حدیث ضعیف ومضطرب ہے“۔
مرقات شرح مشکوٰۃ میں ہے: ”حديث لا مهدی الا عیسیٰ بن مريم ضعيف باتفاق المحدثين كما صرّح به الجزری على ما فى فتح الباری (ج ٦ ص ١٨٠) ”حدیث ”لا مهدی الا عیسیٰ بن مریم“ باتفاق محدثین ضعیف ہے۔ جیسا کہ ابن جزری نے اس کی صراحت کی ہے کہ یہ ”لا یتقویٰ“۔
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: ”قال ابو الحسين الآبرى فى مناقب الشافعى تواترت الاخبار بأن المهدى من هذه الامة و ان عيسى يصلى خلفه ذكره ذالك رداً للحديث الذي اخرجه ابن ماجه عن انس ولا مهدی الا عیسیٰ (فتح البارى ج ٦ ص ٤٩٣)“ ابو الحسین الآبری اپنے مناقب شافعی میں کہتے ہیں کہ مہدی کے اسی امت میں سے ہونے کے متعلق اخبار متواتر ہیں اور یہ بھی کہ عیسیٰ علیہ السلام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ ابو الحسین نے یہ سب کچھ اس حدیث کے
١٤٩
(ص ٣٠٢، باب شدة الزمان) ”عیسیٰ ابن مریم ہی مہدی ہیں۔“ ﴾
اس حدیث کے متعلق قاضی محمد نذیر لکھتے ہیں: ”اس حدیث نے ناطق فیصلہ دے دیا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم ہی ”المہدی“ ہے اور اس کے علاوہ کوئی ”المہدی“ نہیں ہے۔“
(امام مہدی کا ظہور ص ٢٠)
لیکن یہ حدیث ”ناطق فیصلہ“ تو کیا ہوتی۔ سرے سے لائق استناد ہی نہیں۔ وہ بھی ان احادیث کی موجودگی میں جن میں صراحۃً عیسیٰ ابن مریم اور مہدی کو الگ الگ شخصیت قرار دیا گیا ہے۔
اگر قادیانی حضرات اس حدیث کا حوالہ دینے سے پہلے ابن ماجہ کا حاشیہ ہی دیکھ لیتے تو بھی انہیں پتہ چل جاتا کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے کیسی ہے؟ اور اس لائق ہے یا نہیں کہ اسے مشہور و مستفیض احادیث کے مقابلے میں پیش کیا جائے۔ ابن ماجہ کے حاشیہ پر صاف لکھا ہوا ہے کہ علامہ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ ہٰذا خبر منکر (یہ حدیث منکر ہے) پھر آگے چل کر اسے منقطع بھی کہا ہے۔ سلسلۂ سند میں ایک راوی محمد بن خالد ہے جس کے متعلق حاکمؒ کہتے ہیں کہ مجہول (وہ مجہول ہے) اسی طرح حافظ نے بھی اسے رجل مجہول قرار دیا ہے۔
(ابن ماجہ ص ٣٠٢، حاشیہ نمبر ٣)
مقدمہ ابن خلدون میں ہے: ”وبالجملة فالحدیث ضعیف مضطرب (ص ٣٢٢)“ خلاصہ کلام حدیث ضعیف و مضطرب ہے۔
مرقات شرح مشکوٰۃ میں ہے: ”حدیث لا مہدی الا عیسی بن مریم ضعیف باتفاق المحدثین کما صرّح بہ الجزری علی انہ من باب لا فتی الا علی (ج ١٠ ص ١٨٠)“ ﴿حدیث ”لا مہدی الا عیسی بن مریم“ باتفاق محدثین ضعیف ہے۔ جیسا کہ ابن جزریؒ نے اس کی صراحت کی ہے کہ یہ ”لا فتیٰ الا علیٰ“ کے باب میں ہے۔﴾
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں: ”قال ابوالحسن الخسعی الابدی فی مناقب الشافعی تواترت الاخبار بأن المہدی من ہذہ الامة وأن عیسیٰ یصلی خلفہ ذکرہ ذالک رداً للحدیث الذی اخرجہ ابن ماجہ عن انسؓ وفیہ ولا مہدی الا عیسیٰ (فتح الباری ج ٦ ص ٤٩٣)“ ﴿ابو الحسن خسعی ابدیؒ مناقب شافعی میں کہتے ہیں کہ مہدی کے اسی امت میں سے ہونے کے متعلق احادیث متواتر ہیں اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ ابو الحسن خسعیؒ نے یہ بات اس حدیث پر رد کرتے
١٤٩
ہوئے لکھی ہے۔ جسے ابن ماجہ نے انسؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ہی مہدی ہیں۔﴾ علامہ طیبیؒ کہتے ہیں کہ مہدی کے اولاد فاطمہ میں سے ہونے کی احادیث میں تصریح ہے۔ لہٰذا حدیث ”لا مہدی الا عیسیٰ بن مریم“ ظاہری معنی میں قبول نہیں کی جاسکتی۔ جبکہ وہ سنداً ضعیف بھی ہے۔
(مرقات المفاتیح ج ٥ ص ١٨٠)
چنانچہ بعض حضرات نے تاویلات بھی کی ہیں اور وہ بھی انہیں آراء کے دوش بدوش موجود ہیں۔ جہاں اسے ضعیف و منکر کہا گیا ہے۔ مگر جب اس حدیث کا باتفاق محدثین ضعیف و منکر ہونا ثابت ہو چکا ہے تو میرے خیال میں تاویلات کے نقل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں رہ جاتی۔
ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ اس حدیث کو ابن ماجہ نے ص ٣٠٢ باب شدۃ الزمان کے تحت نقل کیا ہے۔ جیسا کہ آگے چل کر ص ٣٠٩ پر خود ہی باب خروج المہدی (مہدی کے خروج کا باب) باندھا ہے۔ وہاں اس حدیث کو نہیں لائے۔ وہاں صرف وہی حدیثیں نقل کی ہیں جو مہدی کے، امت محمدیہ یا اولاد فاطمہ میں سے ہونے کے متعلق ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ابن ماجہ خود بھی اس حدیث کو ظاہری معنی پر محمول نہیں کرتے تھے۔ ورنہ باب خروج المہدی میں اسے ضرور نقل کرتے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کنز العمال میں بھی یہ حدیث موجود ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں پر اس سند کے ساتھ ہے جو ابن ماجہ میں ہے۔ لہٰذا اس کے بھی وجوہ ضعف وہی ہوں گے جو ابن ماجہ کی روایت کے ہیں۔
قادیانی حضرات کی ایک دلیل مسند احمد کی یہ حدیث بھی ہے: ”یوشك من عاش منکم ان یلقى عيسى ابن مريم اماماً مهدياً حكماً عادلاً“ ﴿قریب ہے کہ تم میں سے جو زندہ رہے وہ عیسیٰ ابن مریم سے ملاقات کرے۔ درآنحالیکہ وہ امام مہدی اور حاکم عادل ہوں گے۔﴾
اس روایت کے متعلق قاضی محمد نذیر لکھتے ہیں: ”اس میں صاف الفاظ میں موعود عیسیٰ ابن مریم کو امام مہدی قرار دیا گیا ہے۔“
(امام مہدی کا ظہور ص ١٩)
مگر قاضی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امام مہدی لغوی معنی میں کہا گیا ہے۔ نہ کہ اصطلاحی معنی میں۔ مہدی کے لغوی معنی ہیں ہدایت یافتہ۔ ظاہر ہے کہ پیغمبر ہدایت یافتہ نہ ہوگا تو کون ہوگا؟ اور امام کے معنی ہیں پیشوا اور مقتدیٰ ظاہر ہے کہ پیغمبر پیشوا اور مقتدیٰ ہوتا ہی ہے۔
١٥٠
٢٦٥
یہاں پر مہدی کو لغوی معنی پر محمول کرنے کی احادیث میں مہدی کو اصطلاحی معنی میں استعمال کیا گیا ہ لائی گئی۔ بلکہ مطلقاً لفظ مہدی لایا گیا ہے۔ (اس سلسلے می سے متعلق احادیث کو ایک بار پھر دیکھ لیں)
اس کے علاوہ ان احادیث میں ”مہدی“ کو ہے نہ کہ بطور صفت اور یہاں پر مہدی عیسیٰ بن مریم کی صفت بلکہ اس کے علاوہ بھی اس لفظ سے پہلے امام اور بعد میں موجود ہیں۔
بحث اصطلاحی مہدی سے ہے نہ کہ لغوی مہد ہر امیر و خلیفہ کو جو کہ صحیح راہ پر گامزن ہو۔ امام مہدی کہا ج اصطلاحی مہدی نہیں بن سکتا۔
امامکم منکم کا مطلب
قادیانی حضرات نے عیسیٰ ابن مریم اور امام بھی ثابت کیا ہے: ”كيف انتم اذا نزل ابن مريم ص ٤٩٠ ، مسلم ج ١ ص ٨٧) ”﴿تم کیسے ہوگے ج امام تمہیں میں سے ہوگا۔﴾
حدیث کے الفاظ ”وامامکم منکم“ ”اور وہ تم میں سے تمہارا امام ہوگا۔ یعنی یہ امام باہر س ہوگا۔“
قارئین اس بنیادی نکتہ کو یاد رکھیں کہ اس ح حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو نماز ک السلام یا امام مہدی؟ اس بات کے صاف ہونے ک کا مذکورہ ترجمہ صحیح ہے یا غلط اور ان کا مقصود اس حدیث
اس سلسلے میں یہ احادیث ملاحظہ کیجئے: ”فی امیرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضک لهذه الامة (مسلم ج ١ ص ٨٧) ”﴿پس عیسیٰ
١٥١
یہاں پر مہدی کو لغوی معنی پر محمول کرنے کی خاص اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ جن جن احادیث میں مہدی کو اصطلاحی معنی میں استعمال کیا گیا ہے وہاں مہدی کے ساتھ کوئی صفت نہیں لائی گئی۔ بلکہ مطلقاً لفظ مہدی لایا گیا ہے۔ (اس سلسلے میں قارئین کرام پچھلے صفحات میں مہدی سے متعلق احادیث کو ایک بار پھر دیکھ لیں )۔
اس کے علاوہ ان احادیث میں ”مہدی“ کو مسند الیہ یا متبوع کی حیثیت سے لایا گیا ہے نہ کہ بطور صفت اور یہاں پر مہدی عیسیٰ بن مریم کی صفت واقع ہے اور یہی ایک صفت نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی اس لفظ سے پہلے امام اور بعد میں حکم اور عدل کل تین صفات اور بھی موجود ہیں۔
بحث اصطلاحی مہدی سے ہے نہ کہ لغوی مہدی سے۔ لغوی اعتبار سے تو مسلمانوں کے ہر امیر وخلیفہ کو جو کہ صحیح راہ پر گامزن ہو۔ امام مہدی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اس لغوی اطلاق سے وہ اصطلاحی مہدی نہیں بن سکتا۔
امامکم منکم کا مطلب
قادیانی حضرات نے عیسیٰ ابن مریم اور امام مہدی کے ایک ہونے کو اس حدیث سے بھی ثابت کیا ہے: ”كيف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم (بخاری ج١ ص٤٩٠، مسلم ج١ ص٨٧) ”تم کیسے ہوگے جب کہ تم میں ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔“
حدیث کے الفاظ ”وامامکم منکم“ کا ترجمہ قادیانی حضرات یوں کرتے ہیں: ”اور وہ تم میں سے تمہارا امام ہوگا۔ یعنی یہ امام باہر سے نہیں آئے گا۔ امت محمدیہ میں سے قائم ہوگا۔“
(امام مہدی کا ظہور ص ١١)
قارئین اس بنیادی نکتہ کو یاد رکھیں کہ اس حدیث کے متعلق اصل بحث یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو نماز کی امامت کون کرے گا؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا امام مہدی؟ اس بات کے صاف ہونے کے بعد ہی ثابت ہو سکے گا کہ قادیانی حضرات کا مذکورہ ترجمہ صحیح ہے یا غلط اور ان کا مقصود اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔
اس سلسلے میں یہ احادیث ملاحظہ کیجئے: ”فینزل عیسیٰ بن مریم فیقول اميرهم تعال صلّ لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله تعالى لهذه الامة (مسلم ج١ ص٨٧) ”پس عیسیٰ ابن مریم اتریں گے مسلمانوں کا امیر کہے گا
١٥١
آئیے! ہمیں نماز پڑھائیے۔ وہ فرمائیں گے نہیں تم میں کا بعض بعض پر امیر ہے۔ اس تکرمہ کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو عطا فرمائی۔ ﴾
ابن حجر عسقلانی، مسند احمد کے حوالہ سے حضرت جابرؓ کی روایت نقل کرتے ہیں۔ "واذاهم بعيسى فيقال تقدم يا روح الله فيقول ليتقدم امامكم فليصل بكم (فتح الباری ج ٦ ص ٤٩٣) " ﴿اچانک ان کے سامنے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے پس کہا جائے گا اے روح اللہ! آگے بڑھئے، وہ کہیں گے چاہئے کہ تمہارا ہی امام آگے بڑھے اور نماز پڑھائے۔ ﴾
ابن ماجہ میں اس سے بھی زیادہ صراحت ہو گئی ہے کہ امام حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ ہوں گے۔ بلکہ امام مہدی ہوں گے۔"وامامهم رجل صالح فبينما امامهم قد تقدم يصلى بهم الصبح اذا نزل عليهم عيسى بن مريم الصبح فرجع ذالك الامام ينكص يمشى القهقرى ليقدم عيسى يصلى فيضع عيسى يده بين كتفيه ثم يقول له تقدم فصل فانها لك اقيمت فيصلى بهم امامهم (ابن ماجه ص ٣٠٨) " ﴿مسلمانوں کا امام ایک مرد صالح ہوگا۔ پس جس درمیان کہ وہ امام انہیں نماز فجر پڑھانے کے لئے آگے بڑھے گا اچانک حضرت عیسیٰ ابن مریم اتر آئیں گے۔ پس وہ امام پیچھے ہٹے گا تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آگے بڑھائے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھیں گے اور کہیں گے آگے بڑھئے اور نماز پڑھائیے۔ کیونکہ آپ ہی کے لئے اقامت کہی گئی ہے۔ چنانچہ ان کا امام انہیں نماز پڑھائے گا۔﴾
اب شارحین کی آراء ملاحظہ کیجئے۔ فتح الباری میں ہے: "قال ابوالحسن الخسعى الابدى فى مناقب الشافعى تواترت الاخبار بأن المهدى من هذه الامة وأن عيسى يصلى خلفه (ج ٦ ص ٤٩٣) " ﴿ابوالحسن خسعی ابدیؒ مناقب شافعیؒ میں کہتے ہیں کہ اس معاملہ میں احادیث تواتر کو پہنچ گئی ہیں کہ مہدی اسی امت کے فرد ہوں گے اور حضرت عیسیٰ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔﴾
عمدۃ القاری میں ہے: "معناه يصلى معكم بالجماعة والامام من هذه الامة (ج ١٦ ص ٤٠) " ﴿امامکم منکم کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ تمہارے ساتھ باجماعت نماز پڑھیں گے اور امام اسی امت میں سے ہوگا۔﴾
مرقات المفاتیح میں ہے: "والحاصل ان امامكم واحد منكم دون عيسى
١٥٢
٢٦٧
(ج ٥ ص ٢٢٣) ” ﴿حاصل یہ کہ امام تمہیں میں کا ایک
ان احادیث و عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت کی نماز امام مہدی سے یہ بھی صاف طور پر معلوم ہو گئی کہ نزول مسیح کے وقت، اما لہٰذا ”امامکم منکم“ کا ترجمہ درآنحالیکہ نہیں بلکہ ترجمہ یوں ہونا چاہئے ۔ ”درآنحالیکہ تمہارا اما سے موجود ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی امام کی اقتد
ایک اشکال اور اس کا جواب
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلا پھر اشکال یہ ہے کہ آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہو گے اور خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی انہیں کو آگے بڑ افضل طریقہ یہی ہے کہ امامت افضل شخص ہی کرے۔ افضل طریقہ چھوڑ کر غیر افضل کیوں اختیار کریں گے؟
اس اشکال کا جواب بھی شارحین حدیث ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امامت کے لئے آگے بڑھ جا نہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آگے بڑھنا، رسول اللہ یا مستقل شارع کی حیثیت سے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ مہدی کے پیچھے مقتدی بن کر نماز پڑھیں گے تا کہ یہ با شارع کے نہیں بلکہ بحیثیت شریعت مصطفویہ کے ایک ف باوجود انہوں نے امت محمدیہ کے ایک فرد کے پیچھے نماز فرمان لا نبي بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں مبعوث
مرقات المفاتیح میں ہے: ”(فيقول لا) بامامتي لكم نسخ دينكم (ج ٥ ص ٢٢٢) “ ﴿ تمہارا امام نہیں بنوں گا۔ یہ اس لئے تا کہ میری امامت می پیدا کرے۔﴾
١٥٣
(ج ٥ ص ٢٢٣) ﴿حاصل یہ کہ امام تمہیں میں کا ایک شخص ہوگا نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔﴾ ان احادیث وعبارات سے صاف ظاہر ہے کہ نزول کے وقت امامت، امام مہدی ہی کریں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت کی نماز امام مہدی ہی کی اقتداء میں ادا کریں گے۔ ان احادیث سے یہ بھی صاف طور پر معلوم ہو گئی کہ نزول مسیح کے وقت، امام مہدی پہلے سے موجود ہوں گے۔
لہٰذا ’’امامکم منکم‘‘ کا ترجمہ درآں حالیکہ وہ ابن مریم تم میں سے تمہارا امام ہوگا۔ صحیح نہیں بلکہ ترجمہ یوں ہونا چاہئے ۔’’درآں حالیکہ تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔‘‘ یعنی وہ امام پہلے سے موجود ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی امام کی اقتداء کریں گے۔
ایک اشکال اور اس کا جواب
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی سے افضل و برتر ہوں گے۔ پھر اشکال یہ ہے کہ آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہوتے ہوئے امامت، کیوں امام مہدی کریں گے اور خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی انہیں کو آگے بڑھانے پر کیوں اصرار کریں گے۔ جب کہ افضل طریقہ یہی ہے کہ امامت افضل شخص ہی کرے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی افضل طریقہ چھوڑ کر غیر افضل کیوں اختیار کریں گے؟
اس اشکال کا جواب بھی شارحین حدیث نے دیا ہے۔ چنانچہ ابن جوزیؒ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امامت کے لئے آگے بڑھ جائیں گے تو یہ شبہ پیدا ہونے لگے گا کہ پتہ نہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آگے بڑھنا، رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ اور نائب کی حیثیت سے ہے یا مستقل شارع کی حیثیت سے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی شبہ کو دور کرنے کے لئے امام مہدی کے پیچھے مقتدی بن کر نماز پڑھیں گے تاکہ یہ بات صاف ہو جائے کہ ان کا نزول بحیثیت شارع کے نہیں بلکہ بحیثیت شریعت مصطفویہ کے ایک متبع کے ہے۔ یہاں تک کہ نبی ہونے کے باوجود انہوں نے امت محمدیہ کے ایک فرد کے پیچھے نماز پڑھ لی۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں مبعوث ہو سکتا) کی عملی تصدیق ہوگئی۔
(فتح الباری ج ٦ ص ٤٩٣)
مرقات المفاتیح میں ہے: ’’(فیقول لا) ای لا اصیر اماماً لکم لئلا یتوہم بامامتی لکم نسخ دینکم (ج ٥ ص ٢٢٢)‘‘ ﴿حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے میں تمہارا امام نہیں بنوں گا۔ یہ اس لئے تاکہ میری امامت میرے ذریعہ تمہارے دین کے نسخ کا وہم نہ پیدا کرے۔﴾
١٥٣
لیکن امام مہدی کی یہ امامت مستقل امامت نہ ہوگی۔ بلکہ صرف اسی وقت ہوگی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ اس کے بعد جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ رہیں گے، وہی امام ہوں گے۔
کوئی شبہ کر سکتا ہے کہ مسلم شریف کی بعض روایات میں ”وامکم منکم“ اور ”فامکم منکم“ کے الفاظ آئے ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی فرمائیں گے اور امام مہدی مقتدی ہوں گے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ اس سے بھی قادیانی حضرات کا مدعا ثابت نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ہمارے مذکورہ بالا جواب سے صاف ظاہر ہے کہ امام مہدی کے مقابلے میں اصلی اور واقعی امام (افضلیت کے اعتبار سے ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوں گے اور صرف ایک وقت امام مہدی کا امامت کرانا اسی شبہ کو زائل کرنے کے لئے ہوگا جو اوپر بیان کیا گیا اور اس وقت کی امامت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہی حکم اور مرضی سے ہوگی۔
اس کے ساتھ ہی مسلم شریف کی اس روایت نے قادیانی حضرات کے ایک اعتراض کا جواب بھی فراہم کر دیا جو ان کے خیال میں نہایت ہی معرکۃ الآراء اعتراض ہے اور غالباً وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔
اعتراض یہ ہے:
- ....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت بنی اسرائیل کی طرف ہوئی تھی اور حضور ﷺ کی بعثت
سارے عالم کی طرف، اب اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی مسیح موعود بن کر آئیں گے؟ اور کیا یہ عقیدہ حضور ﷺ کی اس خصوصیت (سارے عالم کے لئے نبی ہونا) کو نہیں توڑتا؟
- ....... اگر ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ آئے، تو حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کا آنا کیا ختم نبوت کے منافی نہ ہوگا؟
- ....... اس اعتبار سے خاتم النبیین، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوئے۔ کیونکہ ان کے بعد کوئی نبی
نہ آئے گا، حضور ﷺ خاتم النبیین نہ ہوں گے۔ کیونکہ ان کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔
(نزول المسیح ص ٥٣، از قاضی محمد نذیر)
اس اعتراض کا بہت ہی آسان اور سیدھا و سادہ جواب ہے جو اعتراض کی تینوں شقوں کو شامل ہے۔ جواب یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول، حضرت عیسیٰ کی بعثت نہ ہوگی۔
١٥٤
کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو حضور ﷺ سے کئی سو سال ہوئی تو یہ سوال ہی ختم ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا حضور ﷺ کی طرح سارے عالم کے لئے۔ بعثت پر ہی بعثت نہ ہوئی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ختم نبوت حضور ﷺ ہی رہے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، کیو حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو اور ظاہر ہے کہ حضر رہا یہ سوال کہ کیا ثبوت ہے کہ حضرت عیسیٰ عل جواب مسلم شریف کی اسی زیر بحث روایت میں موجود السلام کے متعلق ارشاد فرمایا تھا۔
”وامکم منکم“ اور وہ امامت کریں گے یعنی تمہاری شریعت کے مطابق نماز پڑھائیں
اس روایت کے ایک راوی ابن ابی ذئب بن مسلم ہیں۔ ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ ابن ابی ذئب سے ( کیا تم جانتے ہو کہ حضرت عیسیٰ تمہاری کیا امامت کری کہا ”تخبرنی“ (آپ ہی بتائیے ) انہوں نے کہا: وسنة نبيكم ﷺ (مسلم ج ١ ص ٨٧، فتح ص ٣٠٦) ”پس وہ تمہاری امامت کریں گے تمہاری تمہارے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق ۔“
طبرانی میں عبداللہ بن مغفل کی روایت میں مصدقاً بمحمد على ملته (فتح الباری ج ٦ اتریں گے، محمد ﷺ کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے مذ
نووی میں ہے: ”ای ينزل حاكماً بـ مستقلة وشريعة ناسخة بل هو حاكم من ج ١ ص ٨٧) ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے وشریعت لے کر نہیں آئیں گے کہ وہ ادیان باقیہ کے ۔ حکام میں سے ایک حاکم ہوں گے۔“
١٥٥
کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو حضور ﷺ سے کئی سو سال پہلے مبعوث ہو چکے تھے اور جب بعثت نہ ہوئی تو یہ سوال ہی ختم ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کے لئے نبی ہوں گے یا حضور ﷺ کی طرح سارے عالم کے لئے۔ بعثت پر ہی دارو مدار تھا عقیدہ ختم نبوت کا بھی۔ جب بعثت نہ ہوئی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ختم نبوت کے منافی نہ ہوا۔ اس طرح خاتم النبیین حضور ﷺ ہی رہے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، کیونکہ خاتم النبیین کا مطلب ہی یہی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو اور ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔
رہا یہ سوال کہ کیا ثبوت ہے کہ حضرت علیہ السلام کا نزول، بحیثیت بعثت نہ ہوگا۔ اس کا جواب مسلم شریف کی اسی زیر بحث روایت میں موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا تھا۔
”وامکم منکم“ اور وہ امامت کریں گے تمہاری اور تمہیں میں سے۔
یعنی تمہاری شریعت کے مطابق نماز پڑھائیں گے (نہ کہ اپنی شریعت کے مطابق)
اس روایت کے ایک راوی ابن ابی ذئب ہیں اور ان سے روایت کرنے والے ولید بن مسلم ہیں۔ ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ ابن ابی ذئب نے مجھ سے کہا: ”أتدري ما امكم منكم“ (کیا تم جانتے ہو کہ حضرت عیسیٰ تمہاری کیا امامت کریں گے تمہیں میں سے؟) ولید بن مسلم نے کہا ”تخبرنی“ (آپ ہی بتائیے) انہوں نے کہا: ”فامكم بكتاب ربكم عزوجل وسنة نبيكم (مسلم ج ١ ص ٨٧، فتح الباری ج ٦ ص ٤٩٢، فتح الملہم ج ٢ ص ٣٠٦) ”﴿پس وہ تمہاری امامت کریں گے تمہارے رب عزوجل کی کتاب (قرآن) اور تمہارے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق۔﴾
طبرانی میں عبداللہ بن مغفل کی روایت میں ہے: ”ينزل عيسى بن مريم مصدقاً بمحمد على ملته (فتح الباری ج ٦ ص ٤٩١) ”﴿عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں گے، محمد ﷺ کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے مذہب پر۔﴾
نووی میں ہے: ”أى ينزل حاكماً بهذه الشريعة لا ينزل نبياً برسالة مستقلة وشريعة ناسخة بل هو حاكم من حكام هذه الامة (نووی علی المسلم ج ١ ص ٨٧) ”﴿حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، اسی شریعت کے مطابق، مستقل رسالت وشریعت لے کر نہیں آئیں گے کہ وہ ادیان سابقہ کے لئے ناسخ بن جائے۔ بلکہ وہ اسی امت کے حکام میں سے ایک حاکم ہوں گے۔﴾
١٥٥
فتح الملہم میں ہے: ”قال الطیبی المعنیٰ یؤمکم عیسٰی حال کونہ فی دینکم (ج٢ ص ٣٠٤)“ ﴿طیبیؒ فرماتے ہیں۔ ”یؤمکم“ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمہاری امامت کریں گے۔ ان کے ہونے کی حالت میں تمہارے دین پر۔﴾ مرقات المفاتیح میں ہے: ”ای یؤمکم عیسٰی حال کونہ من دینکم (ج٥ ص ٢٢٦)“ ﴿امامت کریں گے عیسیٰ علیہ السلام ان کے ہونے کی حالت میں تمہارے دین پر۔﴾
ایک نکتہ
ایک قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ زیر بحث حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے امت محمدیہ کی خوش قسمتی اور نصیبہ وری کو بیان فرمایا ہے۔ ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم“ ﴿تم کتنے اچھے اور خوش قسمت ہوگے جب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ حالانکہ تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔﴾
اس خوش قسمتی کی دو ہی شکل ہو سکتی ہے۔ تیسری نہیں۔
- ......١ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہوتے ہوئے، امت محمدیہ کا یہ اعزاز ہو کہ امامت امت کا
ہی کوئی فرد کرے۔
ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں: ”کیف حالکم وانتم مکرمون عند اللّٰہ تعالٰی والحال ان عیسیٰ ینزل فیکم وامامکم منکم وعیسٰی علیہ السلام یقتدی بامامکم تکرمۃ لدینکم ویشھد لہ الحدیث الآتی (مرقات المفاتیح ج٥ ص ٢٢٦)“ ﴿کیا حال ہوگا تمہارا (یعنی تم کتنے خوش قسمت ہوگے کہ) اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی قابل اعزاز واکرام ٹھہروگے۔ حال یہ کہ عیسیٰ ابن مریم تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا اور عیسیٰ علیہ السلام تمہارے امام کی اقتداء کریں گے۔ تمہارے دین کے اعزاز کو ظاہر کرتے ہوئے اور اس کی تائید آنے والی حدیث (روایت جابرؓ) بھی کرتی ہے۔﴾ (یہ حدیث گزر چکی ہے)
- ......٢ امامت حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام ہی کریں۔ لیکن اپنی شریعت کے مطابق نہیں
کریں، بلکہ امت محمدیہ کو عطا کردہ شریعت کے مطابق، جیسا کہ ابن ابی ذئب کی روایت سے پتہ چلا۔
دونوں میں سے جو مفہوم بھی لیا جائے۔ قادیانی حضرات کا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہو سکتا کہ امامت کرنے والے عیسیٰ امت محمدیہ میں سے ہوں گے۔ وہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نہ ہوں گے۔ جن کے متعلق رفع الی السماء کا عقیدہ ہے۔
١٥٦
٢٧١
مذکورہ بالا مباحث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام وہی ہیں جو زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے اور مہدی گے۔ جو نزول مسیح کے وقت امت محمدیہ میں پہلے سے موجود ہوں نہیں، دو شخصیتیں ہیں۔
رد قادیانیت پر فضلاء دارالعلوم دیوبند
از: برہان الدین
”الحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلا النبیین محمد والہ واصحابہ اجمعین ومن تبعہم بـ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم وحکمت کے تقاضہ سے کم وبیش چھ سو سال کے طویل فترہ (وقفہ) کے بعد پھر اپنے سب سے بہـ ترین بندے اور رسول جناب محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب وسلم) کے پاس بھیجی اور تقریباً ٢٣ سال تک یہ آمدوشد جاری رہنے کے بعد اکمال دین واتمام نعمت کا اعلان فرما کر ہمیشہ کے لئے یہ سلسلہ بند کر دیا۔ اب چونکہ قیامت تک نہ کسی نئی وحی کی ضرورت تھی نہ اضافہ کی گنجائش۔
حکیم الاسلام حضرت مولانا احمد بن عبدالرحیم المعروف بہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اس مسئلہ کو بڑے حکیمانہ اسلوب میں فرمایا ہے کہ آخری شریعت کا مادہ فطرت انسا نی کے خمیر سے تیار کیا گیا ہے۔ اور اس کو بالفاظ دیگر قامت انسانی کے لئے ایسا جامہ عطا کر دیا گیا جو ہر طر ح مکمل اور ہر لحاظ سے خوبصورت ہے۔ پھر اس میں کتر بیونت یا پیوند کاری اور تبدیلی فضول کام ہی قرار پائے گا۔ (اور یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ جو حکیم و خبیر بھی ہے کی ذات پاک ہے) البتہ یہ ضرورت بہر حال
١؎ مشہور مصری عالم علامہ خضری (صاحب تصانیف کثیرہ) نے اپنی مشہور کتاب تاریخ التشریع الاسلامی ص ٥، ٦ میں قول راجح اسے قرار دیا ہـ ہے کہ نزول ١٧ رمضان المبارک کو ہوا اور آخری آیت ٩ ذی الحجہ کو اتری۔ گویا کل مدت وحی ٢٢ سال ٢ ماہ ٢٢ دن ہوتی ہے۔ (تارخ ٢؎ شاہ صاحب کے الفاظ یہ ہیں: ”واذا کان کمـ شریعۃ ماھو بمنزلۃ المذھب الطبیعی (حجۃ اللّٰہ ج١
١٥٧
مذکورہ بالا مباحث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہی حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام ہوں گے جو زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے اور مہدی امت محمدیہ کے ایک فرد ہوں گے۔ جو نزول مسیح کے وقت امت محمدیہ میں پہلے سے موجود ہوں گے۔ لہٰذا دونوں ایک شخصیت نہیں، دو شخصیتیں ہیں۔
رد قادیانیت پر فضلاء دارالعلوم دیوبند کی تصنیفی خدمات
از : برہان الدین سنبھلی، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
”الحمدللّٰه رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الامین خاتم النبیین محمد وآلہ واصحابہ اجمعین ومن تبعہم باحسان الیٰ یوم الدین“
اللہ تعالیٰ نے اپنے علم وحکمت کے تقاضہ سے ساتویں صدی عیسوی کے اوائل میں کم وبیش چھ سو سال کے طویل فترہ (وقفہ) کے بعد پھر وحی آسمانی اور ملائکہ ربانی اپنے ایک مقرب ترین بندے اور رسول جناب محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الہاشمی (علیہ الف الف صلوٰۃ وسلام) کے پاس بھیجے اور تقریباً ٢٣ سال تک یہ آمدوشد جاری رکھنے کے بعد اکمال دین واتمام نعمت کا اعلان فرما کر ہمیشہ کے لئے یہ سلسلہ بند کر دیا۔ کیونکہ اس میں نہ پھر تبدیلی کی ضرورت تھی نہ اضافہ کی گنجائش۔
حکیم الاسلام حضرت مولانا احمد بن عبدالرحیم المعروف شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے اپنے حکیمانہ اسلوب میں فرمایا ہے کہ آخری شریعت کا مادہ فطرت انسانی کے عین مطابق بنایا گیا ہے۔ یا بالفاظ دیگر قامت انسانی کے لئے ایسا جامہ عطا کر دیا گیا جو ہر طرح لائق ومناسب نیز پائیدار ہے تو پھر اس میں کتر بیونت یا پیوند کاری اور تبدیلی فضول کام ہی قرار پائے گا۔ (جس سے اللہ تعالیٰ جو حکیم وخبیر بھی ہے کی ذات پاک ہے) البتہ یہ ضرورت بہرحال تھی کہ وہ ”جامہ“ کہنگی وفرسودگی
١ مشہور مصری عالم علامہ خضری (صاحب تصانیف کثیرہ) نے اپنی مشہور زمانہ کتاب تاریخ التشریع الاسلامی ص ٥، ٦ میں قول راجح اسے قرار دیا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر پہلی وحی کا نزول ١٧ رمضان المبارک کو ہوا اور آخری آیت ٩ ذی الحجہ کو نازل ہوئی۔ اس طرح کل مدت وحی ٢٢ سال ٢ ماہ ٢٢ دن ہوتی ہے۔
(تاریخ التشریع الاسلامی ص ٥، ٦ مطبوعہ مصر)
٢ شاہ صاحب کے الفاظ یہ ہیں: ”واذا کان کذالك وجب ان تکون مادة شریعة ماهو بمنزلة المذهب الطبیعی (حجة الله ج ١ ص ١٨، مطبوعہ مصر) “
١٥٧
سے محفوظ اور صحیح و سالم رہے۔ چنانچہ اس کی ذمہ داری بھی اسی علیم و قدیر نے خود لے کر اعلان بھی ہمیشہ باقی رہنے والی اپنی کتاب میں فرمایا: ”وانا له لحافظون“ لیکن عالم اسباب میں جس طرح اس کی صفت ربوبیت و رزاقیت کبھی شفقت مادری کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے اور کبھی زمین سے روئیدگی کی صورت میں۔ اسی طرح اس نے اپنے خاص بندوں کو توفیق بخش کر دین قیم کی حفاظت کا سامان کیا۔ جس کی اطلاع اس کے صادق و مصدوق پیغمبر ﷺ نے مختلف پیرایوں میں دی۔ مثلاً ایک موقع پر فرمایا: ”يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتاويل الجاهلين (مشكوة المصابيح ج ١ ص٣٦، مطبوعہ اصح المطابع دهلی، بحواله بیهقی)“
ایک اور ارشاد یہ ہے: ”لا تزال طائفة من امتى ظاهرين على الحق لا يضرهم من خذلهم حتى يأتى امر الله (صحيح مسلم ج ٢ ص ١٤٣، مطبوعہ مکتبہ رشیدیه دهلی)“
چنانچہ یہ عدول اور طائفہ منصورہ ہر اس موقع پر کبھی سر بکف اور کبھی دست بقلم، میدان میں آیا جب کبھی دین کامل کو تحریف یا اور کسی طرح کا خطرہ پیش آیا۔ اس پر امت مسلمہ کی پوری تاریخ گواہ ہے۔ خواہ وہ خطرہ صدر اوّل میں مسیلمہ کذاب کی شکل میں آیا ہو یا چودھویں صدی کے مسیلمہ پنجاب کی صورت میں۔
اس وقت وقت کی قلت کی بناء پر پوری تاریخ تو کیا اس کا مختصر ترین حصہ بھی بیان نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ آخرالذکر فتنہ کے ظہور کے بعد سے اس مؤید و منصور جماعت کے چند افراد کی مساعی جمیلہ کا تذکرہ کر کے سعادت دارین کا سامان اپنے لئے فراہم کرنا مقصود اصلی ہے۔ (یہاں یہ بتانا بھی غیر ضروری ہی معلوم ہو رہا ہے کہ اس مختصر سے وقت میں چند افراد کے تمام کارناموں کا بھی مکمل جائزہ لینا مشکل بلکہ ناممکن ہے)
راقم نے اپنے لئے جیسا کہ مقالہ کے عنوان سے ظاہر ہے۔ رد قادیانیت پر ”فضلاء دارالعلوم کی تصنیفی خدمات“ عنوان اختیار کیا ہے۔ یہ عنوان بظاہر محدود و مختصر ہونے کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ اپنے اندر سمندر جیسی وسعت و پہنائی رکھتا ہے اور شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اس ”دارالعلوم“ کے تمام فضلاء کا نہیں، صرف اس کے ایک فاضل (اور گل سرسبد) علامہ کشمیریؒ کی خدمات کا اگر تفصیلی تذکرہ کیا جائے تو مجھ جیسا بے بضاعت بھی آپ لوگوں کا یہ سارا وقت لے کر بھی غالباً آخر میں یہ کہنے پر مجبور ہوتا کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔
١٥٨
٢٧٣ زیر نظر مقالہ میں اگرچہ اصالۃً محدث جلیل علا بحث نہیں بنایا گیا ہے۔ بلکہ ان کے تلامیذ کی قادیانیت کے ہے۔ لیکن تیمن و تفاول کے طور پر مقالہ کی ابتداء علامہ کشمی کی گئی ہے کہ اسی ایک چراغ سے اوروں میں بھی روشنی آئی
عام طور پر یہ بات واقف لوگوں کو معلوم ہی دعویٰ دفعتاً نہیں کیا بلکہ اس میں چالاکی ہے۔ ایک خاص ولایت و مجددیت، نیز مھدویت و مہدویت کا دعویٰ کیا جو بالآخر کامل رسول و نبی۔ بلکہ افضل الرسل کے برابر ہونے کے درمیان خاصا زمانی فاصلہ ہے جس کی تفصیل الیاس صاحب کی لاجواب کتاب ”قادیانی مذہب“ میں ملا (قادیانیت کی پوری حقیقت جاننے کے لئے اس کتاب مرزا قادیانی نے جیسے ہی اپنے دعوؤں کا سلسلہ شروع کیا بـ تردید کا فرض کفایہ بھی ادا کرنا شروع کر دیا۔
مرزائی دعوؤں کے ابطال کے لئے اس مرزا قادیانی اور ان کے اعوان وانصار کی طرف سے مغالـ گئے اقوال سلف اور اٹھائے گئے شبہات کی ایسے مضبوط ازالہ کیا جائے کہ پھر کس مخلص طالب حق کے لئے غلط فہمی اور پھیلائے ہوئے جال میں پھنسنا ممکن نہ رہ جائے۔ ا و حکمت نے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا اور اسے توفیق خدمت کے لئے کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا تھا۔ ”ولله جنـ شيئا ان يقول له كن فيكون“ یوں تو موصوف ذہانت کے ذریعہ بہت سے اشکالات رفع فرمائے اور سب کا ذکر کسی مقالہ کا نہیں۔ کتاب کا موضوع بن سکتا ہ اکابر سلف کے اقوال سے پیدا ہونے کی بناء پر اچھے اچھے باعث تشویش بنے ہوئے تھے اور جن کی موجودگی میں مر
١٥٩
زیر نظر مقالہ میں اگرچہ اصالۃ محدث جلیل علامہ انور شاہ کشمیری کی خدمات کو موضوع بحث نہیں بنایا گیا ہے۔ بلکہ ان کے تلامیذ کی قادیانیت کے بارے میں مساعی کا تذکرہ اصلاً مقصود ہے۔ لیکن تیمن وتفاول کے طور پر مقالہ کی ابتداء علامہ کشمیری ہی کے بعض اہم علمی کارناموں سے کی گئی ہے کہ اسی ایک چراغ سے اوروں میں بھی روشنی آئی ہے۔
عام طور پر یہ بات واقف لوگوں کو معلوم ہی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ دفعۃً نہیں کیا بلکہ اس میں چالاکی سے ۔ ایک خاص ترتیب وتدریج ملحوظ رکھی۔ چنانچہ پہلے ولایت ومجددیت، نیز محدثیت ومہدویت کا دعویٰ کیا جو پھر شبیہ مسیحیت کے مراحل سے گزرتا ہوا بالآخر کامل رسول ونبی۔ بلکہ افضل الرسل کے برابر ہونے کے انجام تک پہنچا۔ اس ابتداء وانتہاء کے درمیان خاصا زمانی فاصلہ ہے جس کی تفصیل الیاس برنی (پروفیسر سید محمد الیاس) صاحب کی لاجواب کتاب ”قادیانی مذہب“ میں مدلل ومفصل طور پر بیان کر دی گئی ہے۔ (قادیانیت کی پوری حقیقت جاننے کے لئے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید بلکہ ضروری ہے) مرزا قادیانی نے جیسے ہی اپنے دعوؤں کا سلسلہ شروع کیا۔ مؤمنانہ فراست رکھنے والوں نے ان کی تردید کا فرض کفایہ بھی ادا کرنا شروع کر دیا۔
مرزائی دعوؤں کے ابطال کے لئے اس بات کی بھی ضرورت محسوس کی گئی کہ مرزا قادیانی اور ان کے اعوان وانصار کی طرف سے مغالطہ انگیز اور نام نہاد علمی انداز میں پیش کئے گئے اقوال سلف اور اٹھائے گئے شبہات کی ایسے مضبوط علمی انداز میں صحیح توجیہہ ہو اور شبہات کا ازالہ کیا جائے کہ پھر کسی مخلص طالب حق کے لئے غلط فہمی میں مبتلا ہونا اور مرزا قادیانی کے بچھائے اور پھیلائے ہوئے جال میں پھنسنا ممکن نہ رہ جائے۔ اس اہم کام کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت وحکمت نے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا اور اسے توفیق بخشی جس سے زیادہ اہل اور موزوں اس خدمت کے لئے کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا تھا۔ ”وللہ جنود السمٰوت والارض اذا اراد شيئاً ان يقول له كن فيكون “ یوں تو موصوف نے اپنے بے پایاں مطالعہ اور قابل رشک ذہانت کے ذریعہ بہت سے اشکالات رفع فرمائے اور مرزائی مغالطوں کا پردہ چاک کیا کہ ان سب کا ذکر کسی مقالہ کا نہیں ۔ کتاب کا موضوع بن سکتا ہے۔ لیکن بعض اشکال ایسے بھی رفع کئے جو اکابر سلف کے اقوال سے پیدا ہونے کی بناء پر اچھے اچھے اہل علم کے لئے بھی موجب پریشانی اور باعث تشویش بنے ہوئے تھے اور جن کی موجودگی میں مرزا اور مرزائیوں پر کفر کا فتویٰ لگانا مشکل ہو
١٥٩
رہا تھا۔ مثلا امام ابو حنیفہؒ سے نقل کیا گیا۔ ان ہی کی طرف منسوب کتاب ”فقہ اکبر“ کی شرح ملا علی قاری میں یہ قول کہ امام فرماتے تھے: ”لا نكفر احدا من اهل القبلة“ یا اسی شرح میں شرح مواقف کے حوالے سے ذکر شدہ یہ تصریح ”ان جمهور المتكلمين والفقهاء على انه لا يكفر احد من اهل القبلة“
(شرح فقہ اکبر لملاعلی قاری ص ١٨٦)
اس طرح کی بکثرت عبارتیں عقائد و کلام کی دیگر کتابوں میں بھی بعض اکابر علماء کی طرف منسوب ملتی ہیں۔ مثلاً امام غزالیؒ کی شہرۂ آفاق کتاب ”فيصل التفرقة بين الاسلام والزندقه“ میں ہے۔ ”اما الوصيه فان تكف لسانك عن اهل القبلة ما امكنك ماداموا قائلين لا اله الا الله محمد رسول الله غير مناقضين لها والمناقضة تجويزهم الكذب على رسول الله ﷺ بعذر او بغير عذر فان التكفير فيه خطر والسكوت لا خطر فيه“
(فیصل التفرقہ ص ٥٦)
امام ابو حنیفہؒ کی طرف یہ قول بھی منسوب کیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے قول میں ٩٩ احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال اسلام کا تو اس کے کافر ہونے کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔
(مقدمہ از مولانا محمد یوسف بنوری مصنفہ علامہ کشمیری)
یہ اور اس جیسی دیگر عبارتوں اور مسلمات کے درجہ میں پیش کئے جانے والے اقوال کی بناء پر عام اہل علم مدتوں غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین کے بارے میں محتاط رویہ اپنائے رہے۔ جس سے یہ فرقہ ناجائز فائدہ اٹھا کر بھولے بھالے مسلمانوں کو دام فریب میں گرفتار کرنے بلکہ بہتوں سے مرزائی نبوت کا اعتراف کرا لینے میں کامیاب ہوتا رہا۔ اس لئے شدید ضرورت اس بات کی تھی کہ ایسی کوئی شخصیت میدان میں آئے جس کی نہ علمی برتری میں کوئی شبہ ہو نہ تقویٰ و دیانت میں۔ جو اس موضوع پر ایسے انداز میں علمی بحث و گفتگو اور مواد فراہم کرے جس کے بعد پھر کسی جویائے حق کے لئے عذر باقی نہ رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت سے صحیح وقت پر ایسے ہی ..... ایک عظیم شخص کو اس کام کی توفیق بخشی یعنی امام عصر، محدث جلیل، ماہر معقول و منقول حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے یہ خدمت بطریق احسن انجام دی کہ اپنے وسیع و عمیق مطالعہ اور بے نظیر حافظہ کی مدد سے اس موضوع پر اتنا مواد جمع کر دیا کہ جو مرزائی عمارت کی تمام دیواروں کو شکستہ و منہدم کرنے کے لئے بالکل کافی ہے اور بعد میں اس راہ پر چلنے والوں کے لئے مزید تحقیق کی حاجت نہ چھوڑی۔
١٦٠
حضرت علامہ موصوف نے اس سلسلے میں متعدد کتابیں خالص علمی انداز پر لکھیں۔ جن میں ”اکفار الملحدین“ کا تو گویا خاص موضوع ہی ”مذکورہ بالا قسم کے اقوال اور کلامی عبارتوں سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ہے۔“ مثلاً امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب مذکورہ بالا قول ”لا نکفر احداً من اہل القبلة“ کے بارے میں متعدد معتبر کتابوں کے حوالوں کے ذکر کے بعد تحریر فرماتے ہیں: ”وسیاتها عن ابی حنيفة ولا نكفر اهل القبلة بذنب مقيد بالذنب وهي في رد المعتزلة والخوارج لا غير اذ صورة العبارة تعريض لمن يكفر اهل القبلة بغير ما يوجب الكفر وهو الذنب واما كلمات الكفر فان لم يكفر بها فليقل انها ليست بكلمات كفر وهو سفسطه “ پھر اس کے بعد شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کی کتاب الایمان سے اپنی تائید میں یہ عبارت پیش فرمائی ۔ ”نحن اذا قلنا اهل السنة متفقون على انه لا يكفر بالذنب فانما نريد به المعاصی کالزنا والشرب“ پھر فرمایا ”واوضحه القونوی فی شرح العقيدة الطحاوية انا لا نكفرهم بذنب كما يفعله الخوارج قال القونوى وفى قوله بذنب اشارة الى تکفیره بفساد اعتقاد، كفساد اعتقاد المجسمة والمشبهة ونحوهم لان ذلك لا يسمى ذنبا (اکفار الملحدین ص٢٢)“
امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب ایک قول (٩٩ احتمال کفر کے ہوں اور ایک اسلام کا تو اسے کافر نہیں کہا جائے گا) کے ذریعہ پھیلائی جانے والی غلط فہمی کے ازالہ کی غرض سے ہی غالباً حسب ذیل افادات تنبیہ کے عنوان سے قلمبند فرماتے ہیں۔
”اتفقوا فى بعض الافعال على انها كفر مع انه يمكن فيها ان ينسلخ من التصديق لانها افعال الجوارح لا القلب وذلك كالهزل بلفظ كفر وان لم يعتقده وكالسجود لصنم وكقتل نبى والاستخفاف به ...... واختلفوا في وجه الكفر بها بعد الاتفاق على التكفير “ پھر اس تحقیق کی تائید و توجیہہ کے لئے متعدد ممتاز علماء و فقہاء مثلاً ابو الحسن اشعری، علامہ ابن تیمیہ، علامہ قاسم والمسایرۃ کے حاشیہ نگار اور علامہ شامی کی کتابوں اور اقوال سے حوالہ دینے کے بعد لکھتے ہیں: ”وبالجملة يكفر ببعض الافعال ايضاً اتفاقاً وان لم ينسلخ من التصديق اللغوى القلبى وقال القاضي ابوبكر الباقلانى كما فى الشفاء والمسايرة فان عصى بقول او فعل نص الله تعالىٰ ورسوله اواجمع المسلمون انه لا يوجد الا من كافر اويقوم دليل على
١٦١
ذالك فقد كفر وقال ابوالبقاء فى كلياته والكفر قد يحصل بالقول تارة وبالفعل اخرى والقول الموجب لكفر انكار مجمع عليه فيه نص ولا فرق بين ان يصدر عن اعتقاد او عناد او استهزاء“
(ایضاً ص ٦٨، ٦٩)
اس کے ساتھ شاہ صاحبؒ نے ان امور کی تفصیل بہت شرح وبسط کے ساتھ فرمائی جن کا نام علماء شریعت کی اصطلاح میں ضروریات دین ہے کہ ان میں سے ہر ایک پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور کسی ایک کا بھی انکار کفر کا موجب ہوجاتا ہے۔ یہ بحث خاصی طویل ہے۔ اختصاراً اسے یہاں پیش نہیں کیا جارہا ہے۔
قادیانی عمارت کو سہارا دینے کے لئے متکلمین کے اس اصول سے بھی مرزائی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی نص کی تاویل یا تاویل سے انکار کی بناء پر کوئی شخص کافر نہیں ہو جاتا۔ علامہ موصوف نے اس اصول کی تشریح فرما کر بتایا کہ وہ کون سی تاویل ہے جس سے معذور ٹھہرایا جاسکتا ہے یا نہیں۔ فرماتے ہیں: ”والشارع لم يعذر قط فى تاويل باطل فقال فى عبدالله بن حذافة امير السرية من تحته بدخول النار لودخلوها ماخرجوا منها الى يوم القيمة انما الطاعة فى معروف...... وغير ذالك من الوقائع...... حيث كان التاويل فيها فى غير محله وعلى تعبير الفقهاء فى فصل غير مجتهد فيه (ای لم يكن التاويل فيه قطعى البطلان كما يظهر من كلامه بعد سطرين)“
اس کے بعد علامہ تفتازانی کی مشہور کتاب ”مقاصد الطالبین فی اصول الدین“ سے حسب ذیل عبارت شاہ صاحب نے بطور تائید نقل فرمائی۔ ”الكافر ان اظهر الايمان خص باسم المنافق وان ابطن عقائد هي كفر بالاتفاق فبالزنديق“ پھر اس کی مزید توضیح بایں طور کی۔ ”قال فى شرحه قد ظهر ان الكافر...... وان كان مع اعترافه بنبوة النبى ﷺ واظهار شعائر الاسلام يبطن عقائد هى كفر بالاتفاق خص باسم الزنديق...... فالمراد بابطان بعض عقائد الكفر ليس مجرد كتمان من الناس بل المراد ان يعتقد بعض ما يخالف عقائد الاسلام مع ادعائه اياه وهو المراد بقولهم يبطن الكفر اى يخلط كما فى فتح البارئ وحكم المجموع من حيث المجموع الكفر لا غير (اكفار الملحدين ص ١٦تا١٧)“
١٦٢
قادیانی عمارت کا اہم ستون حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مغالطہ انگیز اور پرفریب تاویلات ہیں۔ جن میں غالباً سب سے اہم یہ فریب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری کی جاچکی ہے۔ اس لئے اب ان کا دوبارہ دنیا میں واپس آنا ممکن نہیں اور اپنے اس مغالطہ میں وزن پیدا کرنے کے لئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کی دوبارہ آمد کے عقیدہ سے ختم نبوت کے عقیدہ پر زد پڑتی ہے۔ حالانکہ خود مرزا نبوت کا دعویٰ کر کے ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ چہ دلاورست دزدے کہ بکف چراغ دارد۔ اس قسم کی فریب دہی کے ذریعہ دراصل وہ بزعم خویش، یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ احادیث نبویہ میں جس مسیح کی آمد کی پیشین گوئیاں کی گئی ہیں اس کا مصداق وہ خود مرزا قادیانی ہیں۔ (العیاذ باللہ) نہ کہ مشہور اسرائیلی پیغمبر (چنانچہ قادیانی امت ان مرزا قادیانی کو ہی مسیح موعود کہتی ہے) مرزائیوں کا یہ دعویٰ اگرچہ اس درجہ لغو اور باطل ہے کہ اس کی تردید تو کیا تذکرہ کی بھی ضرورت نہ ہونی چاہئے تھی۔ لیکن اسے زمانہ کی ستم ظریفی کہیئے یا بقول ایک مفکر، انتشار فکر و خیال کے اس دور کی کمزوری کا نام دیجئے کہ ایسا لغو بلکہ بیہودہ دعویٰ نہ صرف قابل غور ٹھہرا بلکہ بہت سے ضعیف العقل لوگ اس کا شکار ہوگئے۔
اس لئے یہ بھی بہت ضروری تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھالئے جانے اور دوبارہ دنیا میں واپس آنے سے متعلق جو احادیث صحیحہ اور قرآنی آیات سے حقائق ثابت ہوتے ہیں وہ سامنے لائے جائیں تاکہ پھر کسی طالب حق کے لئے فریب خوردگی کا امکان نہ رہے۔ اس غرض سے شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے ایک طرف خود عقیدۃ الاسلام و تحیۃ الاسلام کے نام سے گراں قدر علمی مواد اور کثیر الجہات نیز پرمغز مباحث پر مشتمل ایک قیمتی کتاب تصنیف فرمائی۔ دوسری طرف اپنے شاگرد رشید حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (جو اسی دارالعلوم کے مایہ ناز فرزند ہیں) سے اپنی راہنمائی و نگرانی میں ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ نامی کتاب مرتب کرائی۔ جس میں تقریباً ستر حدیثیں ہیں جن میں چالیس سے زیادہ صحیح وحسن کے درجہ کی ہیں۔ مختلف خطی، متداول وغیر متداول مآخذ سے جمع کر کے ثابت کیا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول یعنی دنیا میں قیامت کے قریب دوبارہ تشریف لانے کا مسئلہ احادیث متواترہ سے ماخوذ اور اجماعی ہے۔ جس پر ہر دور کے مسلمان صحابہ سے لے کر آج تک متفق رہے ہیں۔ مزید کہ قادیانی امت نے اپنی عادت کے موافق جن حضرات (علمائے سلف) پر یہ افتراء کیا کہ وہ بھی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مرزائیوں جیسا عقیدہ رکھتے تھے (کہ ان کی موت ہوچکی ہے لہٰذا دوبارہ آمد کا گویا امکان نہیں) موصوف نے اس غلط بیانی کا پردہ چاک کر کے مدلل طریقے اور مکمل ١٦٣
حوالوں کے ساتھ واضح کیا ہے کہ وہ حضرات بھی دیگر علمائے اہل سنت کی طرح ان کی دوبارہ آمد کے قائل تھے۔ اس بارے میں ان کی تصریحات، معتبر مآخذ کے حوالوں سے نقل کی ہیں جس سے ان حضرات کے دامن کا اس الزام سے پاک وصاف ہونا واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے یہ کتابیں دراصل اہل علم کے استفادہ کی غرض سے لکھی گئی ہیں۔ (اسی وجہ سے عربی زبان میں ہیں) اور ان کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ بھی اہل علم ہی کر سکتے ہیں۔
ان کے علاوہ شاہ صاحب قدس سرہ کی ایک کتاب فارسی زبان میں بھی ”خاتم النبیین“ ہے جو دراصل انہوں نے اپنے اہل وطن کشمیریوں اور بلوچستان کے رہنے والوں کے واسطے لکھی ہے۔ کیونکہ ان علاقوں میں فارسی بھی عام طور سے مقامی زبانوں کے علاوہ سمجھی جاتی ہے جیسا کہ کتاب کے مقدمہ نگار علامہ کے شاگرد مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانی مرحوم نے تصریح کی ہے۔ اس میں مصنف کے بیان کے مطابق قرآن مجید کی سورۃ احزاب کی آیت ”خاتم النبیین“ کی صحیح تفسیر و تشریح احادیث نبویہ اور اقوال صحابہ و تابعین نیز جمہور امت کی آراء کی روشنی میں کی گئی ہے کہ اس سے مرزائیوں کی غلط توجیہات اور باطل تاویلات کا پردہ چاک ہو جاتا ہے۔ مرزائیوں نے مذکورہ آیت کی ایسی ایسی رکیک اور مضحکہ خیز تاویلات کی ہیں کہ سن کر ان کے علم و فہم نیز ان کی عقل وخرد پر بے ساختہ ہنسی آجاتی ہے۔ رسالہ کا تعارف کراتے ہوئے خود مصنف علیہ الرحمہ نے لکھا ”ایں مقالہ رسالہ ایست در ختم نبوت، تفسیر آیت کریمہ ”خاتم النبیین“ کہ در رد و الحاد و زندقہ و کفر و ارتداد قادیانی علیہ ماعلیہ صورت تحریر بست۔“
(مقدمہ خاتم النبیین)
علامہ کشمیری کے بعض تلامیذ کی مساعی
حضرت شاہ صاحب کے نزدیک اس فتنہ (قادیانیت) کی کس قدر اہمیت تھی اس کا اندازہ کرنے کے لئے تنہا یہ بات کافی ہے کہ موصوف نے اپنے ذوق ومزاج کے خلاف اور دیگر کثیر علمی مشاغل میں اشتغال اور قلت فرصت کے باوجود نہ صرف یہ کہ خود گراں قدر علمی ذخیرہ جمع کر کے اس فتنہ کے قلع قمع کرنے کی فکر کی بلکہ اپنے متعدد ممتاز تلامیذ کو بھی اس راہ پر لگایا۔ چنانچہ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب سے نزول عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق احادیث جمع کرنے کا کام اپنی راہنمائی اور نگرانی میں انجام دلوایا۔ جس کے نتیجہ میں ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ جیسی عظیم و نافع کتاب وجود میں آئی اس کتاب کو بعد میں محقق عصر و محدث روزگار شیخ عبدالفتاح ابو غدہ شامی استاذ جامعۃ الامام محمد بن سعود (ریاض) نے نہایت اہتمام سے شائع کر کے اس کے حسن معنوی وصوری میں غیر معمولی اضافہ کیا۔ ”فجزاہ اللہ خیر الجزاء“
١٧٤
اس کے علاوہ مفتی صاحب نے ایک کتاب کے نام سے لکھی جو تین حصوں میں مکمل ہوئی۔ پہلے حصہ نہایت بسط و تفصیل کے ساتھ آیت ”خاتم النبیین کے بعد مرزائی باطل توجیہات اور رکیک تاویلات کا حصہ میں پوری ایک سو آیتوں سے آنحضرت ﷺ پر نبو
دوسرے حصہ میں مصنف کے بیان کے مط میں جمع کر کے پیش کی گئی ہیں۔ تیسرے اور آخری حصہ ختم نبوت ان مسائل میں سے ہے جن پر صحابہ، تابع واتفاق رہا ہے۔ نیز یہ کہ ان چیزوں میں ہے جنہیں بارے میں خود مصنف کے الفاظ یہ ہیں۔ ”یہ مسئلہ طم جس پر آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آ افراد کا قطعی اجماع واتفاق رہا ہے جس نے کسی مسل مسئلہ میں شبہ یا تاویل کے درپے نہیں ہو سکتا۔“
علامہ کشمیری ہی کے ایک دوسرے ممتاز شریف کی درسی تقریر ”فیض الباری“ کے نام سے مر زندہ و جاوید بن گئی۔ یعنی حضرت مولانا بدر عالم صا گراں قدر نقوش ہیں جن میں ان کا ایک رسالہ ”آوا قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ چنانچہ پروفیسر صلاح الدین اس موضوع پر سنگ میل کا درجہ رکھنے والی ایسی کتاب شخص بے نیاز نہیں رہ سکتا نے اپنی اس کتاب کی غیر معمولی یورش اور سرگرمیاں دیکھ کر بالآخر مسلمانوں پھیلا۔ چنانچہ ختم نبوت کے مسئلہ پر مسلمانوں کی طر اس سلسلہ میں سب سے مدلل اور جامع رسالہ ”آو استاذ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کا علمی کرشمہ ہے۔۔۔۔ اور
اس کے علاوہ مولانا مرحوم نے اپنی گر حصہ سوم کے مستقل ایک باب میں حضرت عیسیٰ علیہ
٦٥
اس کے علاوہ مفتی صاحب نے ایک کتاب سلیس اردو زبان میں ”ختم النبوة“ کے نام سے لکھی جو تین حصوں میں مکمل ہوئی۔ پہلے حصہ ”ختم النبوة فی القرآن“ میں نہایت بسط و تفصیل کے ساتھ آیت ”خاتم النبیین“ کی عالمانہ تفسیر و تشریح ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد مرزائی باطل توجیہات اور رکیک تاویلات کا تار پود بکھر کر رہ جاتا ہے۔ موصوف نے اس حصہ میں پوری ایک سو آیتوں سے آنحضرت ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو جانا ثابت کیا ہے۔
دوسرے حصہ میں مصنف کے بیان کے مطابق دوسو دس احادیث ختم نبوت کے اثبات میں جمع کر کے پیش کی گئی ہیں۔ تیسرے اور آخری حصہ میں دلائل کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت ان مسائل میں سے ہے جن پر صحابہ، تابعین، ائمہ، مجتہدین اور جمہور امت کا اجماع و اتفاق رہا ہے۔ نیز یہ کہ ان چیزوں میں ہے جنہیں ضروریات دین کا درجہ حاصل ہے۔ اس بارے میں خود مصنف کے الفاظ یہ ہیں: ”یہ مسئلہ ملت اسلامیہ کے ان ضروریات میں سے ہے کہ جس پر آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آج تیرہ سو سال تک تمام امت اسلامیہ کے افراد کا قطعی اجماع و اتفاق رہا ہے جس نے کسی مسلمان گھرانے میں پرورش پائی ہو وہ کبھی اس مسئلہ میں شبہ یا تاویل کے درپے نہیں ہو سکتا۔“
(ختم نبوت حصہ سوم ص ١)
علامہ کشمیری ہی کے ایک دوسرے ممتاز شاگرد جن کی سعی و توجہ سے علامہ کی بخاری شریف کی درسی تقریر ”فیض الباری“ کے نام سے عربی کا جامہ پہن کر اور زیور طبع سے آراستہ ہو کر زندہ و جاوید بن گئی۔ یعنی حضرت مولانا بدر عالم صاحب میرٹھی ثم المدنی کے بھی اس سلسلے میں گراں قدر نقوش ہیں جن میں ان کا ایک رسالہ ”آواز حق“ جب منظر عام پر آیا تو اہل نظر نے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ چنانچہ پروفیسر صلاح الدین محمد الیاس برنی جن کی تصنیف قادیانی مذہب اس موضوع پر سنگ میل کا درجہ رکھنے والی ایسی کتاب ہے جس سے قادیانیت پر کام کرنے والا کوئی شخص بے نیاز نہیں رہ سکتا نے اپنی اس کتاب کی تمہید میں لکھا ہے:۔ ”قادیانی صاحبان کی یہ غیر معمولی یورش اور سرگرمیاں دیکھ کر بالآخر مسلمانوں میں بھی توجہ و حرکت پیدا ہوئی۔ تحقیق کا شوق پھیلا۔ چنانچہ ختم نبوت کے مسئلہ پر مسلمانوں کی طرف سے بھی رسالے نکلنے شروع ہوئے۔ لیکن اس سلسلہ میں سب سے مدلل اور جامع رسالہ ”آواز حق“ نکلا۔ جو مولانا بدر عالم صاحب میرٹھی استاذ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کا علمی کرشمہ ہے ....... اور حیدرآباد میں شائع ہوا۔“ (قادیانی مذہب ص ٣)
اس کے علاوہ مولانا مرحوم نے اپنی گرانقدر بلکہ شاہکار تصنیف ”ترجمان السنہ“ کے حصہ سوم کے مستقل ایک باب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر تشریف لے جانے
١٦٥
اور قیامت کے قریب پھر آسمان سے تشریف لانے پر احادیث نبویہ نیز دلائل عقلیہ سے استدلال کر کے اسے ثابت کیا ہے۔ مولانا نے مسئلہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر اس تفصیل کے ساتھ کلام قادیانی فتنہ کے ہی پیش نظر کیا ہے اور قادیانی تلبیسات کا اچھی طرح جائزہ لے کر برا فگندہ نقاب کیا ہے۔ اسی لئے یہ باب کتابی شکل میں مصنف کے پیش لفظ کے ساتھ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے نام سے پاکستان کے ایک ادارہ (ادارہ نشریات اسلام رحیم یار خان) نے علیحدہ شائع کر دیا ہے۔ اس میں مولانا نے اپنے خاص محققانہ اسلوب میں بہت بصیرت افروز اور علمی طریقہ پر نزول مسیح کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ کا اثبات اور مرزائی دعوائے مسیحیت کا ابطال کیا ہے۔ موصوف نے بحث کا آغاز ہی ایک نہایت اچھوتے اور مؤثر انداز میں کیا ہے۔ فرماتے ہیں ۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع و نزول بے شک عالم کے عام دستور کے خلاف ہے۔ لیکن ذرا اس پر بھی تو غور کیجئے کہ ان کی ولادت کیا عالم کے عام دستور کے موافق ہے؟ ان کا نزول عالم کے درمیانی واقعات میں سے نہیں بلکہ عالم کے تخریب کی علامات میں شمار ہے اور ”تخریب عالم“ یعنی قیامت کی بڑی علامات میں سے ایک علامت بھی ایسی نہیں جو عالم کے عام دستور کے موافق ہو ۔“
(نزول مسیح ص ٦)
اس بارے میں علامہ کشمیریؒ کے ایک اور شاگرد حضرت مولانا محمد منظور نعمانی کی قلمی کاوشوں کا ذکر نہ کرنا موصوف کے ساتھ ہی نہیں، موضوع کے ساتھ بھی نا انصافی ہوگی ۔ مولانا نعمانی کے قلم کی سادگی اور پر کاری عوام بالخصوص بے پڑھے لکھے یا بہت کم پڑھے لکھے لوگوں کے لئے جس درجہ مفید اور مؤثر ہوتی ہے اس کا مقابلہ نیز دلوں میں اتر جانے والے ان کے انداز تحریر کا اثر عام لوگ جتنا لیتے ہیں اس کی برابر کم سے کم موجودہ فضلائے دارالعلوم میں شاید ہی کوئی کر سکے۔ مولانا محترم کے اپنے اسی خاص طرز میں مختصر مگر نہایت جامع اور مؤثر دو رسالے ”قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا راستہ“ اور ”قادیانی کیوں مسلمان نہیں“ عام طور پر قادیانیت کے توڑ میں جتنے مفید بلکہ سم قادیانیت کے بارے میں عوام کے لئے جس درجہ اکسیر ہیں اس میں غالباً اس درجہ کی کسی اور کتاب کا نام لینا مشکل ہوگا ۔ البتہ دارالعلوم کے مستفیدین میں عالمی شہرت کے حامل مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ”قادیانیت“ خصوصاً جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے لئے مرزائیت کے زہر کا تریاق فراہم کرتی ہے۔ مولانا محترم نے اس گروہ کی نفسیات اور ان کی ذہنی سطح و مذاق کا پورا لحاظ رکھتے ہوئے عصری اسلوب میں یہ کتاب لکھی ہے اور ایک خاص بات یہ تحریر فرمائی ہے جس کے لئے بعض غیر مسلم ہندوستانیوں کے مضامین بطور حوالہ پیش کئے ہیں کہ
١٦٦
قادیانیوں کو ”ہندو“ قومیت کے علمبردار ذہن لوگوں کی تائید و حمایت سمجھتے ہیں کہ ”قادیانی نبوت پر ایمان لانے والوں کا قبلہ ہندوستان کے جو دور رس نتائج ہو سکتے ہیں وہ اہل نظر سے مخفی نہیں ۔ (
مولانا علی میاں صاحب ہی نے ایک دوسری کتاب میں اس فتنہ کے بعض اور اہم پہلو بھی سامنے لائے گئے ہیں۔ مثلاً میں نہیں ہے (مثلاً عیسائیت) وہ اس درجہ انتشار اور پراگندگی پیغمبروں سے تنگ آکر وہ ان سب کی تکذیب ہی میں عافیت ملتوں کے بعض ذہین لوگوں کی تصانیف شہادت میں پیش کیں ۔
(تفصیل کے لئے دیکھئے)
آخر میں ”مسک الختام“ کے طور پر دارالعلوم کے اس بخشا اور مقالہ کا حسن اتمام مقصود ہے۔ جس نے نہ صرف زبان کی سرکوبی کے لئے سر بکف میدان میں اتر پڑا کہ پھر جس کی سامریوں کا عرصہ حیات اسی سرزمین میں تنگ ہو گیا ۔ جو سب سے سینہ میں وسعت رکھتی تھی میری مراد حضرت مولانا سید محمد یوسف جمیلہ اور تحریک ”تحفظ ختم نبوت“ (کہ جس کے آخری اور فیصلہ کن پہلے پاکستان میں ، پھر اس کی اتباع میں عالم اسلام کے دیگر ملکوں قرار دیا گیا ۔ ”رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعدَ اِذْ هَدَيْتَنَا و اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّاب“
رأس الاذكياء
حضرت مولانا سید احمد حسن محدث امروہی
از : مولانا حضرت مولانا سید احمد حسن محدث امروہی ( والمعارف کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ حضرت حاجی امداد خلیفہ مجاز بھی تھے۔ تحریر و تقریر میں اپنے استاذ معظم سے بہت
١٦٧
قادیانیوں کو ”ہندو“ قومیت کے علمبردار ذہین لوگوں کی تائید وحمایت بھی حاصل رہی ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ”قادیانی نبوت پر ایمان لانے والوں کا قبلہ ہندوستان ہوگا نہ حجاز ۔“ اور اس تحویل قبلہ کے جو دور رس نتائج ہو سکتے ہیں وہ اہل نظر سے مخفی نہیں۔
(قادیانیت ص ١٧٥، طبع لاہور ١٣٨٦ھ)
مولانا علی میاں صاحب ہی نے ایک دوسری کتاب ”النبی الخاتم“ بھی لکھی ہے جس میں اس فتنہ کے بعض اور اہم پہلو بھی سامنے لائے گئے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ختم نبوت کا عقیدہ جن ملتوں میں نہیں ہے (مثلاً عیسائیت) وہ اس درجہ انتشار اور پراگندگی کا شکار بنیں کہ ہر روز نت نئے پیغمبروں سے تنگ آ کر وہ ان سب کی تکذیب ہی میں عافیت سمجھنے لگیں۔ اس پر مولانا نے ان ملتوں کے بعض ذہین لوگوں کی تصانیف شہادت میں پیش کیں۔
(تفصیل کے لئے دیکھئے النبی الخاتم (عربی) از ص ٥٥ تا ٦٤)
آخر میں ”مسک الختام“ کے طور پر دارالعلوم کے اس عظیم فرزند کے ذکر سے قلم کو عزت بخشنا اور مقالہ کا حسنِ اتمام مقصود ہے۔ جس نے نہ صرف زبانِ قلم سے اس فتنہ کا مقابلہ کیا بلکہ اس کی سرکوبی کے لئے سر بکف میدان میں اتر پڑا کہ پھر جس کی قلندرانہ جسارت کی بناء پر ان فتنہ سازوں کا عرصۂ حیات اسی سر زمین میں تنگ ہو گیا۔ جو سب سے زیادہ ان کے لئے فراخ اور اپنے سینہ میں وسعت رکھتی تھی میری مراد حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ سے ہے کہ جن کی مساعی جمیلہ اور تحریک ”تحفظ ختم نبوت“ (کہ جس کے آخری اور فیصلہ کن دور میں وہ قائد تھے) کی بدولت پہلے پاکستان میں، پھر اس کی اتباع میں عالم اسلام کے دیگر ملکوں میں قادیانیوں کو غیر مسلم اور کافر قرار دیا گیا۔ ”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب“
رأس الاذکیاء
حضرت مولانا سید احمد حسن محدث امروہیؒ اور مرزا قادیانی
از: مولانا مفتی نسیم احمد صاحب فریدی امروہی
حضرت مولانا سید احمد حسن محدث امروہیؒ (م ١٣٣٠ھ) حضرت قاسم العلوم والمعارف کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اور حضرت نانوتویؒ کے خلیفہ مجاز بھی تھے۔ تحریر و تقریر میں اپنے استاذِ معظم سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔ اس لئے ان کو
١٦٧
حضرت امروہیؒ نے اپنے استاذ حضرت قاسم الم کیا اور اپنی تحریر و تقریر سے باطل کو ابھرنے نہ دیا۔ باطل کی سر اس کام کو کہاں کہاں اور کس کس تدبیر سے انجام دیا اس کی ت میں صرف حضرت محدث امروہیؒ کی اس جدوجہد کو ذکر کر مقابلہ میں کسی بدقسمتی سے امروہہ میں حکیم محمد احسن جو ایک کے دام فریب میں آگئے اور قادیان سے ان کا وظیفہ مقرر ہو بات پوشیدہ نہیں ہے کہ حکیم محمد احسن امروہی اور حکیم نورا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ شیخین کا مرتبہ رکھتے ہیں ان کو رضی اللہ عنہ لکھا جا دارمدار انہیں دونوں کی دجل آمیز تحقیق پر تھا۔ حکیم محمد احسن چند اشخاص کو مرزا قادیانی کی طرف مائل کر دیا تھا۔ حضرت شاگردوں نے حکیم محمد احسن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وہ اپنی کامیاب نہ ہو سکے۔ ان لوگوں میں سے جو قادیانی کی طرف کر لی تھی۔ حضرت محدث امروہیؒ کو بڑا فکر تھا کہ ان کے و ہے۔ چنانچہ وہ اپنے ایک مکتوب گرامی میں جو مولانا حافظ ہے اس فتنہ کا ذکر فرماتے ہیں:
بندہ محمد احقر الزمن احمد حسن غفرلہ! بخدمت برادر مکرم جامع کمالات عزیزم حافظ مدعا نگار ہے کہ ...... امروہہ میں اور خاص محلہ دربار (کلال (ہے) کہ محمد احسن جو مرزا قادیانی کا خاص حواری ہے اس بیعت تھے مرزا قادیانی کا مرید بنا چھوڑا اور سید بدرالحسن
١؎ مولانا سید بدرالحسن امروہی حضرت امروہیؒ کے تلامذ مرزا قادیانی کے پاس رہنے لگے اور ان کی باتیں سن کر حیات مسیح علی علامہ نے ہر چند ان کو سمجھایا۔ بلکہ ان میں باطل کا اثر ہو گیا تھا۔ اس لئے حضرت محدث امروہیؒ کو اس کی اطلاع ہو چکی تھی۔ ایک دن ان ا حضرت نے ان کو دیکھ کر فرمایا! مولوی بدرالحسن، حقیقت میں تم ہما شاگرد اور ہمارے پاس بیٹھنے والا باطل میں گرفتار نہیں ہو سکتا۔ اب دیا۔ نہ معلوم کہ کس جذبہ سے یہ الفاظ فرمائے تھے کہ مولوی بدرالحس پھرے اور اپنے فاسد عقیدہ سے توبہ کی۔ یہی بدرالحسن حضرت کے سا
١٦٩
حضرت امروہیؒ نے اپنے استاذ حضرت قاسم العلوم والمعارف کی طرح ہر فتنہ کا مقابلہ کیا اور اپنی تحریر و تقریر سے باطل کو ابھرنے نہ دیا۔ باطل کی سرکوبی کرنا ان کا خاص نصب العین تھا۔ اس کام کو کہاں کہاں اور کس کس تدبیر سے انجام دیا اس کی تفصیل بھی مدنظر نہیں۔ مجھے اس مقالہ میں صرف حضرت محدث امروہیؒ کی اس جدوجہد کو ذکر کرنا ہے جو انہوں نے مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کی۔ بدقسمتی سے امروہہ میں حکیم محمد احسن جو ایک اچھے خاندان کے فرد تھے مرزا قادیانی کے دام فریب میں آگئے اور قادیان سے ان کا وظیفہ مقرر ہو گیا۔ قادیانی مذہب کے واقفین پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ حکیم محمد احسن امروہی اور حکیم نورالدین بھیروی قادیانیوں کے یہاں نعوذ باللہ شیخین کا مرتبہ رکھتے ہیں ان کو رضی اللہ عنہ لکھا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا دارومدار انہیں دونوں کی دجل آمیز تحقیق پر تھا۔ حکیم محمد احسن نے اپنے محلہ کے قریب رہنے والے چند اشخاص کو مرزا قادیانی کی طرف مائل کر دیا تھا۔ حضرت مولانا امروہیؒ اور ان کے ذی استعداد شاگردوں نے حکیم محمد احسن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وہ اپنی باطل و بیجا کوشش میں امید کے مطابق کامیاب نہ ہو سکے۔ ان لوگوں میں سے جو قادیانی کی طرف مائل ہو گئے تھے بعض لوگوں نے توبہ کر لی تھی۔ حضرت محدث امروہیؒ کو بڑا فکر تھا کہ ان کے وطن میں یہ فتنہ وباء کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے ایک مکتوب گرامی میں جو مولانا حافظ سید عبدالغنی صاحب پھلاؤدی کے نام ہے اس فتنہ کا ذکر فرماتے ہیں:
بندہ ضعیف احقر الزمن احمد حسن غفرلہ!
بخدمت برادر مکرم جامع کمالات عزیزم حافظ مولوی محمد عبدالغنی سلمہ اللہ تعالیٰ بعد سلام مدعا نگار ہے کہ...... امروہہ میں اور خاص محلہ دربار (کلاں) میں ایک مرض وبائی مہلکہ یہ پھیل رہا (ہے) کہ محمد احسن جو مرزا قادیانی کا خاص حواری ہے اس نے حکیم آل محمد کو جو مولانا نانوتویؒ سے بیعت تھے مرزا قادیانی کا مرید بنا چھوڑا اور سید بدرالحسن کو جس نے مدرسہ میں مجھ ناکارہ سے بھی
لے مولانا سید بدرالحسن امروہیؒ حضرت امروہیؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔ ان کی آمد و رفت حکیم محمد احسن امروہی قادیانی کے پاس رہنے لگی اور ان کی باتیں سن کر حیات مسیح علیہ السلام میں ان کو شک و تردد ہو گیا۔ بہت سے علماء نے ہر چند ان کو سمجھایا۔ مگر ان میں باطل کا اثر ہو گیا تھا۔ اس لئے کسی کی نہ سنتے تھے اور الٹا مناظرہ کرتے تھے۔ حضرت محدث امروہیؒ کو اس کی اطلاع ہو چکی تھی۔ ایک دن ان کو حضرت کے پاس لایا گیا یا وہ خود بخود آئے۔ حضرت نے ان کو دیکھ کر فرمایا: مولوی بدرالحسن، حقیقت میں تم ہمارے طبیب روحانی ہو۔ ہمیں غرور ہو چلا تھا کہ ہمارا شاگرد اور ہمارے پاس بیٹھنے والا باطل میں گرفتار نہیں ہو سکتا۔ اب معلوم ہوا کہ یہ بات غلط ہے تم نے ہمارا غرور توڑ دیا۔ نہ معلوم کہ کس جذبہ سے یہ الفاظ فرمائے تھے کہ مولوی بدرالحسن زار زار رونے لگے اور قدموں پر لوٹ پوٹ ہو گئے اور اپنے فاسد عقیدہ سے توبہ کی۔ یہی بدرالحسن حضرت کے ساتھ مجلس مناظرہ رامپور میں موجود تھے۔
کچھ پڑھا (ہے) مرزا قادیانی کی طرف مائل (کر دیا) ان دونوں کے بگڑنے سے محمد احسن کی بن پڑی۔ لن ترانیاں کرنی شروع کیں۔ طلبہ کے مقابلہ سے یوں عقب گزاری (کی) احمد حسن میرے مقابلہ پر آوے، میں جب مناظرہ پر آمادہ ہوا اور یہ پیغام دیا کہ حضرت! مرزا کو بلائیے صرف راہ میرے ذمہ (یا) مجھ کو لے چلئے میں خود اپنے صرف کا متکفل (ہوں گا) بسم اللہ آپ اور مرزا دونوں مل کر مجھ سے مناظرہ کر لیجئے یا میرے طلبہ سے مناظرہ کیجئے۔ ان کی مغلوبی میری مغلوبی، تب مناظرہ کا دعویٰ چھوڑ، مباہلہ کا ارادہ کیا۔ بنام خدا میں اس پر آمادہ ہوا اور بے تکلف کہلا بھیجا۔ بسم اللہ مرزا آوے، مباہلہ، مناظرہ جو شق وہ اختیار کرے میں موجود ہوں۔ (میں نے) اس کے بعد جامع مسجد (امروہہ میں) ایک وعظ کہا اور اس پیغام کا بھی اعلان کر دیا اور مرزا قادیانی کے خیالات فاسدہ کا پورا رد کیا۔
کل بروز جمعہ دوسرا وعظ ہوا جو بفضلہ تعالیٰ بہت پرزور تھا اور بہت زور کے ساتھ یہ پکار دیا کہ دیکھو مولوی فضل حق کا یہ اشتہار مطبوعہ (اور) میرا یہ اعلان مرزا قادیانی کو کوئی صاحب لوجہ اللہ غیرت دلائیں۔ کب تک خلوت خانہ میں چوڑیاں پہنے بیٹھے رہو گے؟ میدان میں آؤ اور اللہ برتر کی قدرت کاملہ کا تماشا دیکھو کہ ابھی تک خدا کے کیسے کیسے بندے تم جیسے دجال امت کی سرکوبی کے واسطے موجود ہیں۔ اگر تم کو اور تمہارے حوارین کو غیرت ہے تو آؤ۔ ورنہ اپنے ہفوات سے باز آؤ۔ بفضلہ تعالیٰ ان دونوں وعظوں کا اثر شہر میں امید سے زیادہ پڑا اور دشمن مرعوب ہوا۔
پیشین گوئی تو یہ ہے کہ نہ مباہلہ ہو نہ مناظرہ۔ مگر دعا سے ہر وقت یاد رکھنا مولانا گنگوہی مدظلہ (اور) مولوی محمود حسن صاحب دیوبندی نے بہت کلمات اطمینان تحریر فرمائے ہیں۔ ارادہ (ہے) دو چار وعظ اور کہوں۔
(٢٠/ ذیقعدہ ١٣١٩ھ مطابق یکم/ مارچ ١٩٠٢ء از امروہہ)
خود حضرت محدث امروہتی نے مرزا قادیانی کو براہ راست بھی ایک مکتوب گرامی تحریر فرمایا جو قادیانیوں کی روئیداد مباحثہ رامپور میں درج ہے۔ حضرت تحریر فرماتے ہیں: ”بسم اللہ آپ تشریف لائیے! میں آپ کا مخالف ہوں۔ آپ مسیح موعود نہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ آپ اپنے کو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ میں بنام خدا مستعد ہوں، خواہ مناظرہ کیجئے یا مباہلہ آپ اپنے اس دعویٰ کا احادیث معتبرہ سے ثبوت دیجئے۔ میں انشاء اللہ تعالیٰ اس دعوے کی قرآن واحادیث
١٧٠
صحیحہ سے تردید کروں گا۔" والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ راقم خادم الطلبہ احقر الزمن احمد حسن
ان تمام کوششوں کا ذکر مرزائے قادیان کے رسالہ اعجاز احمدی میں ہے۔ جب تک یہ رسالہ بذریعہ خط یا براہ راست کیا جاتا ہوگا۔ مرزا کو جہاں دیگر علماء کے مقابلہ میں خفت اٹھانی پڑی دلی بغض ہو گیا اور ایک رسالہ دافع البلاء لکھا جس میں ایک گالی حضرت امروہتی کو بھی دی۔
١؎ حضرت محدث امروہتی کی ایک تحریر مجھے ملی ہے رسالہ دارالعلوم دیوبند بابت شعبان ١٣٧٣ھ میں بسلسلہ سوانح قاسمی صفحہ ١١ سے ١٤ تک نقل کر چکا ہوں اس کا ترجمہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ ”اس میں شبہ نہیں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان کی طرف اٹھایا اور ان کو قتل وصلیب سے محفوظ رکھا۔ وہ آخری زمانہ میں دجال کے بعد جامع دمشق کے منارہ شرقی سے اتریں گے ان کے جسم پر دو زرد چادریں ہوں گی اور دو فرشتوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے۔ ان کے سر سے پانی کے قطرے اس طرح ابھی غسل کر کے غسل خانہ سے برآمد ہوئے ہیں۔ وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو ہلاک کریں گے۔ جزیہ موقوف کر دیں گے دجال اکبر ان کے ہاتھ سے باب لد پر جو بیت المقدس کے قریب ہے جائے گا۔ جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔ باطل ختم ہو جائے گا اور ان کی نظر حد نگاہ تک راہ نہیں۔ کتاب اللہ سے اور نبی صادق ومصدوق ﷺ کی احادیث سے یہ سب کچھ ثابت ہے دعویٰ کرتا ہے کہ مسیح ابن مریم وفات پا گئے اور وہ خود نعوذ باللہ مسیح ہے، وہ دجال ہے اور کذاب ہے کے رسول سے بغاوت کی اور اس نے کتاب اللہ اور احادیث رسول اللہ ﷺ کو پس پشت ڈال امر ثابت کی مخالفت کی وہ ”ومن یشاقق الرسول“ کی وعید کا مصداق ہے۔ پس قادیانی ہیں۔ یہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے منکر ہیں۔ عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے کفر اور الحاد کو ظاہر کر دے حق کی فتح ہوگی۔ اللہ تعالیٰ بہترین کارساز ہے۔ اے مسلمانو! خدا تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ﷺ کے شیدائیو! تم اس گمراہ اور گمراہ کن شخص سے اور اس کی جماعت سے بچو اور ان سے پرہیز رکھو۔ اس لئے کہ یہ اس امت کا دجال ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تیس جھوٹے دجال نہ آ جائیں۔ اور ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ حررہ خادم الطلبہ احمد حسن امروہتی۔ عفی عنہ۔ احمد حسن الحسینی غفر لہ
١٧١
صحیحہ سے تردید کروں گا۔" والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ! راقم خادم الطلبہ احقر الزمن احمد حسن غفرلہ، مدرس مدرسہ عربیہ امروہہ!
(تنبیہ ضروری مباحثہ رامپوری ص ٥٦)
ان تمام کوششوں کا ذکر مرزائے قادیان کے سامنے بھی ان کی جماعت کی طرف سے بذریعہ خط یا براہ راست کیا جاتا ہوگا۔ مرزا کو جہاں دیگر علماء حق سے عناد تھا حضرت امروہی سے بھی دلی بغض ہو گیا اور ایک رسالہ دافع البلاء لکھا جس میں ایک بڑی لمبی چوڑی تمہید کے بعد حضرت
١؎ حضرت محدث امروہیؒ کی ایک تحریر مجھے ملی ہے جو عربی زبان میں ہے اور جس کو میں رسالہ دارالعلوم دیوبند بابت شعبان ١٣٧٣ھ میں بسلسلہ سوانح حضرت محدث امروہیؒ شائع کرا چکا ہوں اس کا ترجمہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ "اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسیح ابن مریم علیہما السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان کی طرف اٹھایا اور ان کو قتل وصلوب سے بچالیا وہ قرب قیامت میں خروج دجال کے بعد جامع دمشق کے منارہ شرقی سے اتریں گے اور دو زرد چادروں میں لپٹے ہوں گے اور دو فرشتوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے۔ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا۔ گویا وہ ابھی غسل کر کے غسل خانہ سے برآمد ہوئے ہیں۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے۔ خنزیر کو قتل کر دیں گے۔ جزیہ موقوف کر دیں گے دجال اکبر ان کے ہاتھ سے قتل ہوگا۔ ان کے سانس سے کافر مر جائے گا۔ جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔ باطل ختم ہو جائے گا۔ یہ باتیں حق ہیں اس میں باطل کو راہ نہیں۔ کتاب اللہ سے اور نبی صادق ومصدوق ﷺ کے اقوال سے یہی ثابت ہے جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مسیح ابن مریم وفات پاگئے اور وہ خود نعوذ باللہ! مسیح موعود ہے۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کی اور اس نے کتاب اللہ اور احادیث کی نصوص ظاہرہ سے اعراض کیا اور امر ثابت کی مخالفت کی وہ ”ومن یشاقق الرسول “ کا مصداق ہے۔ یہ مرزائی جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے منکر ہیں۔ عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے قول کو باطل کر دکھلائے گا اور حق کی فتح ہوگی۔ اللہ تعالیٰ بہترین کارساز ہے۔ اے مسلمانو! اور اے کتاب اللہ اور احادیث رسول ﷺ کے شیدائیو! تم اس گمراہ اور گمراہ کن شخص سے بچتے رہو اور اس کے میل جول سے سخت پرہیز رکھو۔ اس لئے کہ یہ اس امت کا دجال ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تیس جھوٹے دجال نہ آجائیں۔ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ حررہ خادم الطلبہ احقر الزمن!"
احمد حسن الحسینی الامروہی غفرلہ ولوالدیہ واحسن الیہما والیہ!
١٧١
امروہی کو مخاطب کیا ہے۔ مخاطبت میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو حضرت کی ذات سے اپنے لئے بڑا خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ دافع البلاء سے مرزا قادیانی کی تحریر کے چند جملے یہاں پیش کئے جاتے ہیں۔
”مولوی احمد حسن صاحب امروہی کو ہمارے مقابلہ کے لئے خوب موقع مل گیا ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں تاکہ کسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کو موت سے بچالیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنادیں۔ بڑی جانکاہی سے کوشش کر رہے ہیں۔...... اگر مولوی احمد حسن صاحب کسی طرح باز نہیں آتے تو اب وقت آگیا ہے کہ آسمانی فیصلہ سے ان کو پتہ لگ جائے۔ یعنی اگر وہ در حقیقت مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں اور میرے الہامات کو انسان کا افتراء خیال کرتے ہیں نہ خدا کا کلام تو سہل طریق یہ ہے کہ جس طرح میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ”انہ اوى القرية لولا الاكرام لهلك المقام وانه اوى الامروھہ“ لکھ دیں۔ مؤمنوں کی دعا تو خدا سنتا ہے۔ وہ شخص کیسا مؤمن ہے کہ ایسے شخص کی دعا اس کے مقابلہ میں سنی جاتی ہے۔ جس کا نام اس نے دجال اور بے ایمان اور مفتری رکھا ہے۔ مگر اس کی اپنی دعائیں نہیں سنی جاتیں۔ پس جس حالت میں میری دعا قبول کر کے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ میں قادیان کو اس تباہی سے محفوظ رکھوں گا خصوصاً ایسی تباہی سے کہ لوگ کتوں کی طرح طاعون کی وجہ سے مریں یہاں تک کہ بھاگنے اور منتشر ہونے کی نوبت آوے۔ اسی طرح مولوی احمد حسن صاحب کو چاہئے کہ اپنے خدا سے جس طرح ہو سکے امروہہ کی نسبت دعا قبول کرالیں کہ وہ طاعون سے پاک رہے گا اور اب تک یہ دعا قریب قیاس بھی ہے۔ کیونکہ ابھی تک امروہہ طاعون سے دو سو کوس کے فاصلہ پر ہے۔ لیکن قادیان سے طاعون چاروں طرف سے بفاصلہ دو کوس آگ لگا رہی ہے۔ یہ ایک ایسا صاف صاف مقابلہ ہے کہ اس میں لوگوں کی بھلائی بھی ہے اور نیز صدق اور کذب کی شناخت بھی۔ کیونکہ اگر مولوی احمد حسن صاحب لعنت باری کا مقابلہ کر کے دنیا سے گزر گئے تو اس سے امروہہ کو کیا فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر انہوں نے اپنے فرضی مسیح کی خاطر دعا قبول کرا کے خدا سے یہ بات منوالی کہ امروہہ میں طاعون نہیں پڑے گی تو اسی صورت میں نہ صرف ان کو فتح ہوگی بلکہ تمام امروہہ پر ان کا ایسا احسان ہوگا کہ لوگ اس کا شکر نہیں کر سکیں گے اور مناسب ہے کہ ایسے مباہلہ کا مضمون اس اشتہار کے شائع ہونے سے پندرہ دن تک بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے دنیا میں شائع کر دے۔ جس کا یہ مضمون ہو کہ میں یہ اشتہار مرزا غلام احمد کے مقابل پر
لے مرزا قادیانی کے یہاں طاعون مؤنث ہے۔
١٧٢
شائع کرتا ہوں۔ جنہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور دعوے کر کے یا الہام پاکر یا خواب دیکھ کر یہ اشتہار دیتا ہوں۔ کہ سے ہر دو سے محفوظ رہے گا۔ لیکن قادیان میں تباہی پڑے گی۔ کیو اس اشتہار سے غالباً آئندہ جاڑے تک فیصلہ ہوجا
........ اول یہ کارروائی (طاعون) پنجاب میں شروع ہوئی۔ سے دور نہیں۔ اس لئے اس مسیح کا کافر کش دم ضرور امروہہ سے دعویٰ ہے۔ مولوی احمد حسن اس اشتہار کے شائع ہونے کے ا دے گا امروہہ کو طاعون سے بچاسکا اور کم سے کم تین جاڑے امن طرف سے نہیں پس اس سے بڑھ کر اور کیا فیصلہ ہوگا اور میں بھی خد مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نبیوں نے وعدہ دیا ہے اور م نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے کہ اس و اور زمین پر طاعون پڑے گی اور میرا یہی نشان ہے کہ ہر ایک مخالف امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خو قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ض جائے گا۔ کیونکہ اس نے خدائے تعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی اور تک محدود نہیں بلکہ اب تو آسمان سے عام مقابلہ کا وقت آگیا اور جیسے شیخ محمد حسین بٹالوی جو مولوی کر کے مشہور ہیں اور پیر مہر علی شا راہ سے روکا ہوا ہے اور عبدالجبار اور عبدالحق اور عبدالاحد غزنوی جو عالم کہلاتے ہیں اور منشی الہی بخش صاحب اکاؤنٹنٹ جنہوں نے م مولوی عبداللہ صاحب کو سید بنا دیا ہے اور اس قدر صریح جھوٹ ب حسین دہلوی جو ظالم طبع اور تکفیر کا بانی ہے ان سب کو چاہئے کہ اپن ان کی عزت رکھ لیں اور اپنے اپنے مقام کی نسبت اشتہار دے اس میں مخلوق کی سراسر بھلائی اور گورنمنٹ کی خیر خواہی ہے او صادق سمجھے جائیں گے۔ ورنہ وہ اپنے کاذب اور مفتری ہونے پر م لہذا اس بارے میں مفصل اشتہار شائع کریں گے۔ والسلام علے
(دافع البلاء ص ١٠
١٧٣
شائع کرتا ہوں۔ جنہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میں جو مؤمن ہوں دعا قبولیت پر بھروسہ کر کے یا الہام پا کر یا خواب دیکھ کر یہ اشتہار دیتا ہوں۔ کہ امروہہ ضرور بالضرور طاعون کی دست برد سے محفوظ رہے گا۔ لیکن قادیان میں تباہی پڑے گی۔ کیونکہ مفتری کے رہنے کی جگہ ہے۔
اس اشتہار سے غالب آئندہ جاڑے تک فیصلہ ہو جائے گا۔ دوسرے تیسرے جاڑے تک....... اوّل یہ کارروائی (طاعون) پنجاب میں شروع ہوئی۔ لیکن امروہہ بھی مسیح موعود کی محیط ہمت سے دور نہیں۔ اس لئے اس مسیح کا کافرکش دم ضرور امروہہ تک بھی پہنچے گا۔ یہی ہماری طرف سے دعویٰ ہے۔ مولوی احمد حسن اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد جس کو وہ قسم کے ساتھ شائع کر ے گا امروہہ کو طاعون سے بچا سکا اور کم سے کم تین جاڑے امن سے گزر گئے تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں پس اس سے بڑھ کر اور کیا فیصلہ ہوگا اور میں بھی خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نبیوں نے وعدہ دیا ہے اور میری نسبت اور میرے زمانے کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے کہ اس وقت آسمان پر خسوف و کسوف ہوگا اور زمین پر طاعون پڑے گی اور میرا یہی نشان ہے کہ ہر ایک مخالف خواہ وہ امروہہ میں رہتا ہو اور خواہ امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں اور خواہ بٹالہ میں اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہو جائے گا۔ کیونکہ اس نے خدائے تعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی اور یہ امر کچھ مولوی احمد حسن صاحب تک محدود نہیں بلکہ اب تو آسمان سے عام مقابلہ کا وقت آ گیا اور جس قدر لوگ مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں جیسے شیخ محمد حسین بٹالوی جو مولوی کر کے مشہور ہیں اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی جس نے بہتوں کو خدا کی راہ سے روکا ہوا ہے اور عبدالجبار اور عبدالحق اور عبدالواحد غزنوی جو مولوی عبداللہ کی جماعت میں سے ملہم کہلاتے ہیں اور منشی الٰہی بخش صاحب اکاونٹنٹ جنہوں نے میرے مخالف الہام کا دعویٰ کر کے مولوی عبداللہ صاحب کو سید بنادیا ہے اور اس قدر صریح جھوٹ سے نفرت نہیں کی اور ایسا ہی نذیر حسین دہلوی جو ظالم طبع اور تکفیر کا بانی ہے ان سب کو چاہئے کہ ایسے موقع پر اپنے الہاموں اور اپنے ایمان کی عزت رکھ لیں اور اپنے اپنے مقام کی نسبت اشتہار دے دیں کہ وہ طاعون سے بچایا جائے گا۔ اس میں مخلوق کی سراسر بھلائی اور گورنمنٹ کی خیر خواہی ہے اور ان لوگوں کی عظمت ثابت ہوگی اور ولی سمجھے جائیں گے۔ ورنہ وہ اپنے کاذب اور مفتری ہونے پر مہر لگادیں گے اور ہم عنقریب انشاء اللہ اس بارے میں مفصل اشتہار شائع کریں گے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!“
(دافع البلاء ص ١٥، ١٨ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥، ٢٣٨)
١٧٣
طاعون کی پیش گوئی کا انجام
قادیان میں طاعون کا آنا، مولانا ثناء اللہ امرتسری نے مرزا قادیانی کی بہت سی پیش گوئیوں کا الٹا اثر دکھانے کے بعد اس پیش گوئی پر بھی اپنے رسالے ”الہامات مرزا“ میں بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ میں اس موضوع پر ان کے کہے ہوئے مضامین میں سے چند اقتباسات پیش کرتا ہوں۔ مولانا امرتسری فرماتے ہیں: ”اس پیش گوئی پر تو مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا بہت کچھ مدار رکھا ہے۔ رسالہ دافع البلاء میں تو اس قدر زور ہے کہ تمام دنیا کے لوگوں کو للکارا جاتا ہے۔ ”کوئی ہے کہ وہ بھی ہماری طرح اپنے اپنے شہر کی بابت کہے۔ ”انه اوى القرية“ یہاں (قادیان میں) طاعون کیوں نہیں آتا؟ بلکہ جو کوئی باہر کا آدمی قادیان میں آ جاتا ہے وہ بھی اچھا ہو جاتا ہے۔ مگر خدا کی شان کیا ہی کسی نے سچ کہا ہے؎
تکبر وہ بری شے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے
چند روز تو مرزا قادیانی نے بہت کوشش کی کہ قادیان کے طاعون کا اظہار نہ ہو۔ مگر بکری کی ماں کب تک خیر منائے۔ آخر جب یہ امر ایسا متحقق ہو گیا کہ مرزا قادیانی کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے تو ایک اعلان جلی حرفوں میں جاری کیا جو درج ذیل ہے۔
”اعلان..... چونکہ آج کل مرض طاعون ہر جگہ بہت زور پر ہے۔ اس لئے اگرچہ قادیان میں نسبتاً آرام ہے۔ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ برعایت اسباب ہذا مجمع جمع ہونے سے پرہیز کیا جائے۔ اس لئے یہ قرین مصلحت ہوا کہ دسمبر کی تعطیلوں میں جیسا کہ پہلے اکثر احباب قادیان میں جمع ہو جایا کرتے تھے۔ اب کی دفعہ اس اجتماع کو بلحاظ مذکورہ بالا ضرورت کے موقوف رکھیں اور اپنی اپنی جگہ پر خدا سے دعا کرتے رہیں کہ وہ اس خطرناک ابتلاء سے ان کو اور ان کے اہل وعیال کو بچاوے۔“
(اخبار البدر قادیان مورخہ ١٩؍دسمبر ١٩٠٢ء)
الله الله! کیسی دبی زبان سے قادیان میں طاعون ہونے کا اقرار ہے۔ کس سوچ بچار سے لکھا گیا ہے کہ نسبتاً آرام ہے۔ جس سے دام افتادوں کو بالکل آرام ہی معلوم ہو مگر دانا اس نسبتاً کے لفظ کی نسبت کو سمجھتے ہیں اور اس کی جانچ کرنے کو سرکاری رپورٹیں پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ قادیان کے اخبار البدر (جو مرزا قادیانی کا ڈائری نویس ہے) کے نمبر ١ ص ٤ پر لکھا ہے کہ: ”رائے پرتاب سنگھ نے (جو قادیان میں لوگوں کو ٹیکہ لگانے آئے تھے) کہا کہ میں مرزا قادیانی سے بھی کہتا مگر انہوں نے ڈھنگ بنایا ہوا ہے۔ اس لئے میں سردست ان کی خدمت میں کچھ نہیں کہتا۔
١٧٤
نہیں یہاں نہ آتا مگر چونکہ متواتر رپورٹ پہنچ رہی ہے کہ ( نکلنے آنا پڑا۔“
یہ سن کر جناب مرزا قادیانی کس ناز و ادا س تاویل فرماتے ہیں: ”انه اوى القرية“ میں قریہ کا لفظ ہے جس کے معنی جمع ہونے اور اکٹھے بیٹھ کر کھانے کے ہ ہیں اس میں ہندو اور چوہڑے داخل نہیں۔
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
قادیان کا نام لے دیا ہے، اب یہاں صاف ہی انکار ہ کہ یوں لکھا جاتا تھا اور شور مچایا جاتا تھا کہ (تیسری با ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہرحال جب تک کہ طاعو قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونک تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
مولانا امرتسری اس عبارت کو درج کرنے کہ قادیان کا نام ہی نہیں قادیان کے رہنے والوں س پیشین گوئی نہ کرتا تو قادیان میں کبھی طاعون نہ آتا۔ اسی روز سے سمجھا تھا کہ ہماری خیر نہیں۔ خدا اس کی تکذی بھیجے گا۔ سو ایسا ہی ہوا۔“
١٦؍اپریل ١٩٠٤ء کے اخبار البدر قادیا سے نکلا تھا۔ (وہ یہ ہے)
”قادیان، آریہ سماج کے دوسرے سالان کہ یوگیندر پال صاحب نے بڑے دعوے سے یہ پی (طاعون سے) پاک و صاف کریں گے۔ سو جلسہ کا خود طاعون نے صفائی شروع کر دی۔“
اخبار اہل حدیث امرتسر مورخہ ٢٧؍مئی ١٩٠٤ گیا ہے کہ مارچ اپریل ١٩٠٤ء کے دو مہینوں میں ٦٣ حالانکہ کل آبادی ٢٨٠٠ کی ہے۔ سب لوگ ادھر ادھر بھا
١٧٥
میں یہاں نہ آتا مگر چونکہ متواتر رپورٹ پہنچ رہی ہے کہ (یہاں) چوہڑوں میں طاعون ہے۔ اس لئے آنا پڑا۔“
یہ سن کر جناب مرزا قادیانی کس ناز و ادا سے بعد تسلیم وجود طاعون دبی زبان سے تاویل فرماتے ہیں: ”انہ اوی القریة“ میں قریہ کا لفظ ہے قادیان کا نام نہیں اور قریہ قریٰ سے نکلا ہے جس کے معنی جمع ہونے اور اکٹھے بیٹھ کر کھانے کے ہیں۔ وہ لوگ جو آپس میں مواکلت رکھتے ہیں اس میں ہندو اور چوہڑے داخل نہیں۔
(اخبار مذکور مورخہ ٣١؍اکتوبر ١٩٠٢ء)
حالانکہ (دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) پر لکھتے ہیں: ”خدا نے سبقت کر کے قادیان کا نام لے دیا ہے، اب یہاں صاف ہی انکار ہے۔ خدا کی شان کہ ابھی کل ہی کا ذکر ہے کہ یوں لکھا جاتا تھا اور شور مچایا جاتا تھا کہ (تیسری بات جو اس وحی (متعلق طاعون) سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گا گو ستر برس تک رہے) قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ (ہے) اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
مولانا امرتسری اس عبارت کو درج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”مگر آج یہ بات کھلی کہ قادیان کا نام ہی نہیں قادیان کے رہنے والوں سے ہم نے بگوش خود سنا کہ اگر مرزا قادیانی یہ پیشین گوئی نہ کرتا تو قادیان میں کبھی طاعون نہ آتا۔ جب سے اس نے پیش گوئی کی ہے ہم نے اسی روز سے سمجھا تھا کہ ہماری خیر نہیں۔ خدا اس کی تکذیب کرنے کو قادیان میں ضرور ہی طاعون بھیجے گا۔ سو ایسا ہی ہوا۔“
١٦؍اپریل ١٩٠٤ء کے اخبار البدر قادیان میں مندرجہ ذیل ایک نوٹ ایڈیٹر کی طرف سے نکلا تھا۔ (وہ یہ ہے)
”قادیان، آریہ سماج کے دوسرے سالانہ جلسہ پر جو کہ ٢ تا ٤؍اپریل کو ہوا۔ سنا گیا ہے کہ یوگیندر پال صاحب نے بڑے دعوے سے یہ پیش گوئی کی تھی کہ ہم بذریعہ ہون کے قادیان کو (طاعون سے) پاک و صاف کریں گے۔ سو جلسہ کا ختم ہونا تھا کہ یوگیندر پال تو کیا صاف کرتے خود طاعون نے صفائی شروع کر دی۔“
اخبار اہل حدیث امرتسر مورخہ ٢٧؍مئی ١٩٠٤ء کے پرچہ میں معتبر شہادت کے حوالہ سے بتلایا گیا ہے کہ مارچ اپریل ١٩٠٤ء کے دو مہینوں میں ٤٦٣ آدمی قادیان میں طاعون سے مرے ہیں۔ حالانکہ کل آبادی ٢٨٠٠ کی ہے۔ سب لوگ ادھر ادھر بھاگ گئے۔ تمام قصبہ ویران سنسان نظر آتا ہے۔
١٧٥ ١٧٥آتا ہے۔
١٧٥
مولانا ثناء اللہ امرتسری مرزا غلام احمد قادیانی کی مندرجہ ذیل عبارت (حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧) سے نقل فرماتے ہیں: ”طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون زور پر تھا میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا ۔“
(ماخوذ از الہامات مرزا مصنفہ مولانا ثناء اللہ امرتسری)
مناظرہ رام پور
رامپور میں منشی ذوالفقار علی قادیانی ہو گئے تھے (جو مولانا محمد علی جوہر کے بڑے بھائی تھے) اور ان کے چچازاد بھائی حافظ احمد علی خاں شوق رامپوری جماعت حقہ کے ساتھ تھے۔ دونوں ہی نواب رامپور کے خاص ملازم تھے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کے قول کے مطابق ان دونوں میں بحث و مباحثہ ہوا کرتا تھا۔ نواب حامد علی خان والی ریاست رامپور نے اس بحث و مباحثہ کا حال معلوم کر کے کہا کہ دونوں فریق سرکاری خرچ پر اپنے اپنے علماء کو بلائیں۔ چنانچہ ١٥؍ جون (١٩٠٩ء) مناظرہ کے لئے مقرر ہوئی۔ اہل حق کی طرف سے حضرت محدث امروہی، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی، حضرت مولانا حافظ محمد احمد، حضرت مولانا تھانوی وغیرہم کو مدعو کیا گیا۔ ابوالوفا مولانا ثناء اللہ امرتسری نے مناظرہ کیا۔ فریق ثانی کی حمایت کے لئے حکیم محمد احسن امروہی قادیانی، خواجہ کمال الدین قادیانی وغیر ہما رامپور پہنچے تھے۔ حضرت مولانا امروہی نے مولانا حافظ عبدالغنی پھلاودی کو ایک مکتوب گرامی میں اس مناظرہ کے بارے میں یوں تحریر فرمایا تھا۔
....... امسال ایک مرتبہ دہرہ دون جانا ہوا اور پھر بھاگلپور اب ریاست رامپور میں فیما بین اہل سنت و جماعت وگروہ قادیانی مناظرہ قرار پایا ہے۔ رئیس (نواب) کی خواہش ہے میری مواجہت میں مناظرہ ہو، قادیانیوں نے مولوی محمد احسن امروہی، مولوی سرور قادیانی و دو چار اور کو منتخب کیا ہے۔ ادھر سے اوّل میرا نام لیا گیا ہے اور مولوی محمد اشرف علی صاحب کا (اور) مولوی خلیل احمد، مولوی مرتضیٰ حسن چاند پوری کا، نیز پندرہ جون مقرر ہے۔ کل بطلب بندہ رجسٹری خط آیا کہ آپ بروز پنجشنبہ دس جون کو رام پور آ جاویں۔ امور ضروریہ آپ کے سامنے طے ہونے ہیں۔ غالباً جمعہ کے بعد روانہ ہوں۔ میں نے مولانا محمود حسن صاحب، صاحبزادہ صاحب (مولانا حافظ محمد احمد) اور مولانا حبیب الرحمٰن صاحب کو لکھا ہے کہ (امروہہ) جمعہ پڑھیں اور ایک ساتھ روانہ ہوں۔ غالباً سب حضرات تشریف لاویں۔ آپ کو ضروریہ تکلیف دی جاتی ہے کہ دعا اور ہمت قلبی سے اعانت کریں۔
(١٩؍ جمادی الاوّل ١٣٢٧ھ بروز چہار شنبہ (مطابق) ٩؍ جون ١٩٠٩ء)
اپنے دوسرے مکتوب گرامی میں اس مناظرہ میں جو نمایاں کامیابی ہوئی اس کو مولانا حافظ عبدالغنی پھلاودی کے نام ایک مکتوب میں یوں ارقام فرماتے ہیں۔
١٧٦
بندہ نحیف احقر الزمن احمد حسن غفرلہ !
بخدمت جامع کمالات برادر مکرم مولوی حاجی حافظ محمد عبدالغنی صاحب سلمہم !
بعد سلام مسنون مکلف ہے...... رامپور جانے کے بعد سہ شنبہ کے روز مناظرہ شروع ہوا۔ مسئلہ وفات مسیح کا مولوی محمد احسن قادیانی...... مرزائی نے ثبوت پیش کیا۔
مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اہل اسلام کی طرف سے تحقیق والزامی وہ جوابات دنداں شکن دیئے کہ ماشاء اللہ ! مجلس میں ہر خاص و عام پر محمد احسن کی مغلوبی اور مولوی ثناء اللہ کا غلبہ واضح و ثابت ہو گیا۔ اسی روز رامپور میں عام شہرت ہو گئی (کہ) قادیانی پسپا ہوئے۔ مگر وہ بے غیرت اگلے روز بھی آ کر زیادہ ذلیل ہوئے۔ محمد احسن کو ناقابل مان کر خود ان کے گروہ نے دوسرا مناظر مقرر کیا۔ وہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ تیسرے روز الزامی جوابات میں بہت ذلیل ہوئے۔
نواب صاحب نے فرمایا۔ یہ مسئلہ ختم ہوا اور حاضرین کو حق و ناحق معلوم ہو گیا۔ اب نبوت مرزا قادیانی کا ثبوت دیجئے۔ آمادہ نہ ہوئے اور ایک شب کی مہلت لی، شب میں یہ درخواست لکھی کہ حضور (نواب صاحب) اہل اسلام کے حامی ہیں۔ بمقابلہ حضور ہم کو مناظرہ کرنا منظور نہیں۔ نیز مناظر اہل اسلام بدزبان ہے۔ ہمارے مقتدا و وسیلۂ نجات (مرزا قادیانی) کی بھاری گستاخی کرتا ہے۔ لہذا ہم کو مناظرہ کرنا کسی حال میں منظور نہیں۔ معاف فرمائیے۔ یہ درخواست لکھ کر بعضے شب میں ہی روانہ ہوئے اور بعضے دن میں راہی...... والحمد للہ !
(٢٨ جون ١٩٠٩ء)
اب مناسب خیال کرتا ہوں کہ مناظرہ رامپور کی کچھ روئیداد ہفت روزہ اخبار دبدبہ سکندری رامپور سے پیش کیا جائے۔
دبدبہ سکندری کے دو پرچوں میں مناظرہ کا مختصر حال لکھا ہے۔ مفصل طور پر مناظرہ کی رپورٹ نہیں لکھی ہے۔ ایک پرچہ سے معلوم ہوا کہ حافظ احمد علی صاحب نے مناظرہ کی مکمل روئیداد دبدبہ سکندری کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن وہ بعض موانع کی وجہ سے پوری کیفیت تحریر کر کے دبدبہ سکندری کو نہ بھیج سکے۔ ممکن ہے مولانا ثناء اللہ امرتسری نے اپنے رسالہ اہل حدیث میں مناظرہ کے تمام احوال و کوائف شائع کر دیئے ہوں۔ لیکن رامپور کی رضا لائبریری میں اخبار اہل حدیث کا کوئی فائل ١٩١١ء سے پہلے کا نہیں ہے۔ حضرت محدث امروہیؒ کی ایک معرکۃ الآراء تقریر بھی مناظرہ کے دوران یا اختتام پر نواب کی موجودگی میں ہوئی تھی۔ اس کا بھی حاضرین پر بہت اثر پڑا تھا۔ مولانا عبد الوہاب خان رامپوری مرحوم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ میں نے یہ تقریر سنی تھی۔ یہ مناظرہ قلعہ رامپور کے اندر ہوا تھا اور اندازہ ہوتا ہے کہ شرفاء و خواص کے شہر کے اور بھی بہت سے
١٧٧
تعلیم یافتہ اشخاص کو سماعت کا موقع ملا تھا۔ مناظرہ ١٥؍ جون ١٩٠٩ء کو شروع ہوا۔ اخبار دبدبہ سکندری کے پرچوں میں اس کی جو روئیداد چھپی ہے۔ اس کی تلخیص یہ ہے۔
’’اس ہفتہ میں کئی روز حضرات علماء اسلام اور جماعت احمدیہ قادیانی میں نہایت عمدہ مناظرہ ہوا۔ اس مناظرہ کے محرک و مجوز جناب حافظ احمد علی خاں صاحب حنفی نقشبندی مہتمم کارخانہ جات، ذات خاص حضور اور منشی ذوالفقار علی خان صاحب سپرنٹنڈنٹ محکمہ آبکاری ریاست رامپور ہیں۔
بہت سے حضرات علماء اسلام مناظرہ میں تشریف لائے ہیں۔ جن میں سے چند حضرات کے نام نامی یہ ہیں۔ (حضرت) مولانا احمد حسن امروہی، حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، جناب مولانا محمد ثناء اللہ صاحب امرتسری، جناب مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی، جناب مولانا محمد الدین صاحب امرتسری، جناب مولانا محمد برکات علی صاحب لدھیانوی، جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب دہلوی، جناب مولوی محمد عاشق الٰہی صاحب میرٹھی، جناب مولوی محمد یحییٰ صاحب کاندھلوی، جناب حاجی محمد عبدالغفار صاحب سوداگر دہلی، جناب مولوی حکیم قیام الدین صاحب جونپوری، جناب مولوی محمد حامد رضا خاں صاحب حنفی قادری بریلوی، جناب ڈاکٹر محمد عبدالحکیم صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ، حضرت مولانا سید محمد شاہ صاحب محدث رامپوری، جناب مولوی عبدالغفار خاں صاحب حنفی نقشبندی رامپوری، جناب مولوی محمد لطف اللہ صاحب مفتی ریاست رامپور، جناب مولانا محمد فضل حق صاحب رامپوری مدرس اوّل مدرسہ عالیہ ریاست رامپور، جماعت قادیانی کی طرف سے یہ اشخاص آئے ہیں۔
مولوی محمد احسن امروہی، میاں سرور شاہ صاحب، منشی مبارک علی صاحب، منشی قاسم علی صاحب، منشی محمد علی صاحب، ایم۔اے، خواجہ کمال الدین صاحب وکیل لاہور، منشی یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم قادیان، حافظ روشن علی صاحب، ڈاکٹر محمد یعقوب خاں لاہوری، شیخ رحمت اللہ سوداگر لاہور وغیرہ۔
١٥؍ جون ١٩٠٩ء حیات وممات مسیح علیہ السلام کی بحث چلی، سب سے پہلے جماعت قادیانی کی طرف سے محمد احسن امروہی نے ایک تحریری مضمون پڑھا۔ مولانا محمد ثناء اللہ صاحب امرتسری نے ان کے چاروں استدلالوں پر نقض قائم کر دیئے۔ مولوی محمد احسن کے بیان کی بے ربطی کا خود قادیانی جماعت نے اقرار کیا اور اس امر کو ان کی پیرانہ سالی کے سر منڈھا۔
١٦؍ جون ١٩٠٩ء کو بعد معزولی محمد احسن منشی قاسم علی قادیانی نے تحریری بیان وفات مسیح ١٧٨
علیہ السلام پر پڑھنا شروع کیا۔ بجائے اس کے کہ مولانا جواب دیا جاتا وہ ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر کے بعد صرف ایک اعتر
١٧؍ جون ١٩٠٩ء کو ناسازی طبع کی وجہ سے نو اور ان کی قائم مقامی چیف سیکرٹری اور ریونیو سیکرٹری نے سے کہا گیا کہ وہ مولانا امرتسری کے اعتراضات کا جواب جواب دینے میں پہلو تہی کی گئی۔
١٨؍ جون ١٩٠٩ء کو مناظرہ نہیں ہوا۔
١٩؍ جون ١٩٠٩ء کو مناظرہ ہوا۔ آج بھی قا ثبوت پیش نہ کر سکے۔‘‘
’’٢٠؍ جون کو اہل اسلام نے کہا کہ قادیانی جما کرتے ہیں اور بار بار کے اصرار پر بھی عاجز ہیں۔ کل مرزا قادیانی پر گفتگو کریں گے۔ اس پر خواجہ کمال الدین نکالے اور ہٹ دھرمی سے کام لینا چاہا۔ بہت ردوکد ک حضرت مسیح علیہ السلام پر آپ کو جو کچھ کہنا ہو کہیں تاکہ مضمون پڑھنا شروع کیا اور اہل اسلام کی طرف سے ج دیا۔ قادیانیوں کی تحریر کے ختم پر جناب مولانا ثناء اللہ انہوں نے فریق مخالف کے تمام دلائل کو تارِ عنکبوت کی ط کہ ہم مناظرہ کرنا نہیں چاہتے۔ ’الحق یعلوا ولا ی اللہ تعالیٰ نے دین حق کی نصرت فرمائی اور ٢١؍ جون کو یہاں سے چلے گئے۔ جناب مولانا قیام ال تاریخ کہی۔
احمدی کہتے ہیں اپنے کو وہ لوگ
بخت نے لکھی یہ سچی تاریخ
اخبار دبدبہ سکندری ٢٢؍ جون ١٩٠٩ء کو ا ١٧٩
علیہ السلام پر پڑھنا شروع کیا۔ بجائے اس کے کہ مولانا محمد ثناء اللہ کے کل کے چار اعتراضات کا جواب دیا جاتا وہ ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر کے بعد صرف ایک اعتراض کی جانب پلٹ کر آئے۔ ١٧؍ جون ١٩٠٩ء کو ناسازی طبع کی وجہ سے نواب صاحب جلسہ مناظرہ میں نہیں آئے اور ان کی قائم مقامی چیف سیکرٹری اور ریونیو سیکرٹری نے کی۔ (آج) قادیانی جماعت کے مناظر سے کہا گیا کہ وہ مولانا امرتسری کے اعتراضات کا جواب دیں۔ مگر جماعت قادیانی کی جانب سے جواب دینے میں پہلو تہی کی گئی۔
١٨؍ جون ١٩٠٩ء کو مناظرہ نہیں ہوا۔
١٩؍ جون ١٩٠٩ء کو مناظرہ ہوا۔ آج بھی قادیانی مناظر وفات مسیح علیہ السلام کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔"
(اخبار دبدبہ سکندری ٢١؍ جون ١٩٠٩ء)
"٢٠؍ جون کو اہل اسلام نے کہا کہ قادیانی ثبوت وفات مسیح علیہ السلام دینے سے گریز کرتے ہیں اور بار بار کے اصرار پر بھی عاجز ہیں۔ کل سے حضرات علماء اہل اسلام ابطال نبوت مرزا قادیانی پر گفتگو کریں گے۔ اس پر خواجہ کمال الدین نے مناظرہ سے جان بچانے کے ڈھنگ نکالے اور ہٹ دھرمی سے کام لینا چاہا۔ بہت ردو قدح کے بعد قادیانیوں سے کہا گیا کہ وفات حضرت مسیح علیہ السلام پر آپ کو جو کچھ کہنا ہو کہیں تا کہ مسئلہ تو ختم ہو۔ چنانچہ منشی قاسم علی نے تحریر مضمون پڑھنا شروع کیا اور اہل اسلام کی طرف سے جو نقض ان پر وارد ہوئے تھے بعض کا جواب دیا۔ قادیانیوں کی تحریر کے ختم پر جناب مولانا ثناء اللہ صاحب کھڑے ہوئے اور تھوڑی دیر میں انہوں نے فریق مخالف کے تمام دلائل کو تار عنکبوت کی طرح توڑ دیا۔ اسی دن قادیانیوں نے یہ لکھا کہ ہم مناظرہ کرنا نہیں چاہتے۔ ’’الحق یعلوا ولا یعلی‘‘ اللہ تعالیٰ نے دین حق کی نصرت فرمائی اور قادیانی خائب وخاسر ٣٠؍ جون کی شب اور ٣١؍ جون کو یہاں سے چلے گئے۔ جناب مولانا قیام الدین صاحب بخت جونپوری نے کیا خوب تاریخ کہی۔
احمدی کہتے ہیں اپنے کو وہ لوگ لیکن این نسبت آنہا غلط است
بخت نے لکھی یہ سچی تاریخ احمدیوں کو ہوئی فاش شکست
(اخبار دبدبہ سکندری ٢٨؍ جون ١٩٠٩ء)
اخبار دبدبہ سکندری ٢٢؍ جون ١٩٠٩ء کو ایک تحریر ”فیصلہ حضرات علماء کرام اہل اسلام
١٧٩
دربارہ مسئلہ حیات وممات حضرت مسیح علیہ السلام' کے عنوان سے چھپی ہے۔ جس کے آخر میں علماء امروہہ، مراد آباد، رامپور، بسولی، دیوبند، سہارنپور، کاندھلہ، میرٹھ، دہلی، امرتسر، سیالکوٹ، جونپور کے علماء کے دستخط ہیں۔ ذیل میں فیصلہ کی تحریر اور دستخط کنندگان کے نام لکھے جاتے ہیں۔
١٥، ١٦ / جون ١٩٠٩ء کو مباحثہ
بموجودگی نواب صاحب رامپور یہ مباحثہ مجمع عام میں ہم لوگوں کے سامنے تواریخ مذکورہ میں ہوا۔ جماعت اہل اسلام کی طرف سے جناب مولانا مولوی ابوالوفاء محمد ثناء اللہ صاحب مولوی فاضل امرتسری مناظر مقرر ہوئے۔ (پہلے دن جماعت قادیانی کے مولوی محمد احسن صاحب نے ایک تحریر پڑھی جس پر اعتراضات ہوئے) مگر دوسرے تیسرے روز جماعت قادیانی کی طرف سے منشی قاسم علی صاحب دہلوی نے تحریر پڑھی۔ وفات مسیح علیہ السلام کے متعلق جتنے دلائل قادیانی جماعت کی طرف سے پیش ہوئے۔ اسلامی مناظر نے ایک ایک کا جواب بڑی خوبی سے دیا۔ نمایاں طور پر حیات مسیح علیہ السلام کو ثابت کر دیا۔ فجزاہ اللہ عنا وسائر المسلمین خیراً!
اس بحث سے شکستہ خاطر ہو کر قادیانیوں کو دوسرے مسئلہ (نبوت مرزا قادیانی) پر باوجود قرار داد وعدہ بحث کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ لہذا وہ دوسرا مسئلہ پیش کئے بغیر خود بخود چلے گئے۔ "فللہ الحمد علی ذالک صدق اللہ العلی العظیم جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقاً" (مولوی) محمد عبدالغفار رامپوری، (مولوی) محمد لطف اللہ، (ابن مفتی سعد اللہ رامپوری)، (مولوی) محمد اعجاز حسین وکیل رامپوری، (مولوی) محمد فضل اللہ رامپوری، (مولوی) محمد بشیر احمد مدرس اوّل مدرسہ انوار العلوم رامپور، (مولوی) محمد اسلم، (مولوی) فضل حق رامپوری مدرس اوّل مدرسہ عالیہ رامپور، (مولوی) افضال الحق رامپوری، (مولوی) محمد نبی رامپوری، (مولوی) مرتضیٰ حسن چاند پوری مدرس مدرسہ عربیہ دیوبند، (مولوی) ابراہیم سیالکوٹی، (مولانا) محمود حسن مدرس اوّل مدرسہ اسلامیہ دیوبند، (مولانا) عبدالرحمٰن مدرس اوّل مدرسہ شاہی مراد آباد، (مولوی) محمود حسن سہسوانی مدرس دوم مدرسہ شاہی مراد آباد، (مولانا) محمد اشرف علی تھانوی، (مولانا) احمد حسن امروہی، مدرس اوّل مدرسہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ، (مولوی) محمد امین مدرس مدرسہ جامعہ مسجد امروہہ، (مولوی) رضا حسن مدرس مدرسہ امروہہ،
١؎ دیوبند سیکرٹری میں بجائے محمود حسن کے محمد میاں لکھا گیا ہے جو غالباً نامہ نگار کی عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔
١٨٠
(مولوی) عبدالرؤف امروہی (ابن مولانا سید راحت ع (مولوی) محمد معظم حسین امروہی، (مولوی) محمد سلیم س (مولوی) سید محمد شاہ محدث رامپوری، (مولوی) سید حام (محدث) رامپوری مدرس درجہ حدیث مدرسہ عالیہ رامپور مج محمد قیام الدین جونپوری، (مولانا) محمد سہول بھاگلپوری مدر ابراہیم دہلوی، (مولوی) محمد قدرت اللہ مدرس مدرسہ (محدث) سہارنپوری مدرس اوّل مدرسہ مظاہر علوم سہارن (مولوی) محمد یحییٰ مدرس دوم مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور (وال انصاری امروہی، (مولوی) سید بدرالحسن امروہی، (مولوی اللہ محدث مقیم رام پور، (مولوی) احمد امین مدرس دوم مدرس مدرسہ عالیہ رامپور، (مولوی) غلام رسول مدرس مدرسہ عالیہ المعروف میا نجانخاں رامپوری، (مولوی) معز اللہ خاں ما یوسف مقیم رامپور، غلام رحمانی مقیم رامپور، (مولوی) سید ع وزیر خان مدرس مدرسہ عالیہ رامپور، (مولوی) محمد فضل کریم رامپور، (مولوی حافظ) عبدالغفار دہلوی، (مولانا حافظ) ق
نواب رامپور نے اس مناظرہ کا جو فیصلہ دیا ہے محجوبیہ اور الہامات مرزا کے آخر میں درج کیا ہے۔ ذیل میں "رامپور میں قادیانی صاحبوں سے مناظرہ کے کی گفتگو ہم نے سنی۔ مولوی صاحب نہایت فصیح البیان ہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جس امر کی تمہید کی ا سے محظوظ ومسرور ہوئے۔"
فتنہ قادیانیت اور حضرت مونگیر
از: امیر شریعت بہار واڑیسہ حضرت فرق باطلہ میں قادیانی فرقہ بڑی تیزی سے ا
١٨١
(مولوی) عبدالرؤف امروہی (ابن مولانا سید راست علی)، (مولوی) محمد شفیق احمد امروہی، (مولوی) محمد معظم حسین امروہی، (مولوی) محمد سلیم سکندر پوری مدرس مدرسہ عالیہ رامپور، (مولوی) سید محمد شاہ محدث رامپوری، (مولوی) سید حامد شاہ رامپوری، (مولوی) محمد منور علی (محدث) رامپوری مدرس درجہ حدیث مدرسہ عالیہ رامپوری، (مولوی) محمد طیب عرب، (مولوی) محمد قیام الدین جونپوری، (مولانا) محمد سہول بھاگلپوری مدرس مدرسہ اسلامیہ دیوبند، (مولوی) محمد ابراہیم دہلوی، (مولوی) محمد قدرت اللہ مدرس مدرسہ شاہی مراد آباد، (مولانا) خلیل احمد (محدث) سہارنپوری مدرس اوّل مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور، (مولوی) محمد عاشق الٰہی میرٹھی، (مولوی) محمد یحیٰ مدرس دوم مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور (والد شیخ الحدیث)، (مولوی) محمد اسماعیل انصاری امروہی، (مولوی) سید بدر الحسن امروہی، (مولوی) سردار احمد امروہی، (مولانا) محمد خلیل اللہ محدث مقیم رام پور، (مولوی) احمد امین مدرس دوم مدرسہ عالیہ رامپور، (مولوی) احمد نور مدرس مدرسہ عالیہ رامپور، (مولوی) غلام رسول مدرس مدرسہ عالیہ رامپور، (مولوی) صاحبزادہ محمد الطاف المعروف میاں مجا خاں رامپوری، (مولوی) معز اللہ خاں مدرس مدرسہ عالیہ رامپور، (مولوی) محمد یوسف مقیم رامپور، غلام ربانی مقیم رامپور، (مولوی) سید سجاد علی بسولوی مقیم رامپوری، (مولوی) وزیر خاں مدرس مدرسہ عالیہ رامپور، (مولوی) محمد فضل کریم مقیم رامپور، (مولوی) دیانت حسین مقیم رامپور، (مولوی حافظ) عبد الغفار دہلوی، (مولانا حافظ) نور الدین احمد دہلوی۔
نواب رامپور نے اس مناظرہ کا جو فیصلہ دیا ہے اس کو مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے صحیفہ محبوبیہ اور الہامات مرزا کے آخر میں درج کیا ہے۔ ذیل میں اس کو بھی نقل کیا جاتا ہے۔
"رامپور میں قادیانی صاحبوں سے مناظرہ کے وقت مولوی ابوالوفاء محمد ثناء اللہ صاحب کی گفتگو ہم نے سنی۔ مولوی صاحب نہایت فصیح البیان ہیں اور بڑی خوبی یہ ہے کہ برجستہ کلام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جس امر کی تمہید کی اسے بدلائل ثابت کیا۔ ہم ان کے بیان سے محظوظ ومسرور ہوئے۔"
(محمد حامد علی خان والی ریاست رامپور)
فتنہ قادیانیت اور حضرت مونگیریؒ کی خدمات جلیلہ
از: امیر شریعت بہار و اڑیسہ حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی مدظلہ، مونگیر
فرق باطلہ میں قادیانی فرقہ بڑی تیزی سے ابھرا، بڑھا اور مسلمانوں میں پھیلتا چلا
١٨١
گیا۔ اس سے جاہل عوام اور ناخواندہ مسلمان ہی متاثر نہ ہوئے۔ تعلیم یافتہ بھی ان کے حلقہ بگوش ہوئے۔ قادیانی فرقہ نے جس زمانے میں اپنی تحریک و دعوت کا آغاز کیا یہ وہ زمانہ تھا کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمان مختلف گروہوں، ٹولیوں میں منقسم تھے۔ ہر فرقہ دوسرے فرقہ کی تردید میں سرگرم اور کمربستہ تھا۔ مذہبی مناظروں اور مباحثوں کا بازار گرم تھا۔ جس کے نتیجے میں اکثر مار پیٹ، قتل و خون اور عدالتی چارہ جوئیوں کی نوبت آتی۔ گویا سارے ہندوستان میں مذہبی خانہ جنگی قائم تھی۔ اس صورتحال سے علماء کے وقار اور دین کے احترام کو بڑا نقصان پہنچا تھا۔
نیز سارے مسلمان اختلافی باتوں کے سننے پڑھنے اور سمجھنے کے عادی ہوچکے تھے اور انہیں اس میں بڑا لطف آتا تھا۔ یہ تو دینی حالات کا ایک اجمالی خاکہ ہے جس میں اس وقت کے ہندوستانی مسلمان مبتلا تھے۔ سیاسی لحاظ سے مسلمان شکست خوردگی سے چور تھے، حکومت برطانیہ کے قدم ہندوستان میں جم چکے تھے اور ١٨٥٧ء میں آزادی کی جدوجہد میں ناکامی کے بعد مسلمان تنگ دل اور کم ہمت ہوچکے تھے۔ ان کے سامنے ماحول تاریک تھا اور راستے مسدود، مسلمانوں کے احساس شکست خوردگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی مذہبی لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے درمیان آئے۔ ”براہین احمدیہ“ نامی کتاب پانچ جلدوں میں لکھ کر کافی نام پیدا کیا۔ شہرت بڑھی اور عوام سے لے کر خواص تک میں ان کا خاصہ تعارف ہوا۔ جب کہ آنجہانی مرزا قادیانی خود تحریر فرماتے ہیں۔ ”یہ وہ زمانہ تھا جس میں مجھے کوئی نہیں جانتا تھا، نہ کوئی موافق تھا نہ کوئی مخالف۔ کیونکہ میں اس زمانے میں کچھ بھی چیز نہ تھا اور ایک ”احد من الناس“ اور زاویہ گمنامی میں پوشیدہ تھا۔ اس قصبہ قادیان کے لوگ اور دوسرے ہزار ہا لوگ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں درحقیقت میں اس مردے کی طرح تھا جو قبر میں صد ہا سال سے مدفون ہو اور کوئی نہ جانتا ہو کہ یہ کس کی قبر ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٧، ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٠)
١٨٨٨ء میں مرزا قادیانی نے ہوشیار پور میں ایک آریہ سماج سے مناظرہ کیا۔ اس مناظرہ کے متعلق ایک کتاب لکھی جس کا نام ”سرمہ چشم آریہ“ ہے۔ اس کتاب سے مرزا قادیانی کی شخصیت اور نمایاں ہوئی۔ مرزا قادیانی نے محسوس کیا کہ ان میں اپنے ماحول کو متاثر کرنے اور ایک دینی تحریک کے چلانے کی اچھی صلاحیت ہے۔ چنانچہ اس احساس نے ان کے ذہن میں ایک نئی تبدیلی پیدا کی اور اب ان کا رخ عیسائیوں اور آریہ سماجیوں سے ہٹ کر خود مسلمانوں کی طرف ہوا۔
١٨٢
تدریجی ارتقاء
مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے (١٨٩٠ء تک جو کہ حکیم نور الدین ١٨٩١ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کی کتاب لکھی۔ ١٩٠٠ء کی بات ہے کہ قادیان (ض عبدالکریم صاحب نے جمعہ کے خطبہ میں آنجہانی مرزا نبی کے الفاظ استعمال کئے۔ خطبہ میں ان باتوں کو سن ک ہے۔ دوسرے جمعہ میں پھر مولوی عبدالکریم صاحب خطبہ میں آپ کو خدا کا رسول اور نبی مانتا ہوں۔ اگر میں غل کے بعد جب مرزا قادیانی جانے لگے تو پھر مولوی عبد محراب میں مرزا قادیانی نے کہا: ”مولوی صاحب ہما اعلان کیا۔“ مولوی عبدالکریم اور مولوی محمد احسن صاحب مرزا قادیانی کمرے باہر آئے اور ظالم نے یہ آیت پڑ ”لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبى (القرآن)“ ہے اور اپنے نبی ہونے کا دعویٰ بھی ہے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ اس دعوے کے بعد کوئی مسلمان خاموش ہوکر بی کہ حضور اقدس محمد رسول اللہ ﷺ خدا کے آخری رسول ہے اور شریعت قیامت تک کے لئے ہر لحاظ سے کامل اور نہ ہی زیادتی کی گنجائش ہے۔ اگر مرزا قادیانی کی ب کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آنجہانی مرز قائم کرنا چاہتے ہیں جو نبوت کی طرح حضرت اقدس امت کہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے گم
اس دعوٰی کے بعد علمائے اسلام پر ان کی کر سامنے آئی۔ چنانچہ مولوی عبدالحق صاحب غزنوی سرگرم رہے اور اشتہارات کے ذریعہ مرزا قادیانی وہ مباہلہ کے لئے تیار ہوئے جسے مرزا قادیانی نے مضمون یہ تھا۔
١٨٣
تدریجی ارتقاء
مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے (١٨٩٠ء تک) مجدد و مامور ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر بمشورہ حکیم نور الدین ١٨٩١ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے دعویٰ کی حمایت میں فتح اسلام نامی کتاب لکھی۔ ١٩٠٠ء کی بات ہے کہ قادیان (ضلع گورداسپور پنجاب) کی مسجد کے امام عبدالکریم صاحب نے جمعہ کے خطبہ میں آنجہانی مرزا قادیانی کا نام لیا اور ان کے لئے نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کئے۔ خطبہ میں ان باتوں کو سن کر مولوی محمد احسن امروہی پیچ و تاب کھانے لگے۔ دوسرے جمعہ میں پھر مولوی عبدالکریم صاحب نے مرزا قادیانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو خدا کا رسول اور نبی مانتا ہوں۔ اگر میں غلطی پر ہوں تو میری اصلاح فرمادیں۔ نماز کے بعد جب مرزا قادیانی جانے لگے تو پھر مولوی عبدالکریم صاحب نے مخاطب کیا تو اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے کہا: ”مولوی صاحب ہمارا بھی یہی مذہب اور دعویٰ ہے جو آپ نے بیان کیا۔“ مولوی عبدالکریم اور مولوی محمد احسن صاحب میں اس موضوع پر باتیں تیز ہونے لگیں۔ مرزا قادیانی کمرے باہر آئے اور ظالم نے یہ آیت پڑھی: ”یاایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی (القرآن) “ جس میں آواز اونچی کرنے والوں کو ہدایت بھی ہے اور اپنے نبی ہونے کا دعویٰ بھی ہے۔ مرزا قادیانی متعدد مراحل طے کرنے کے بعد نبوت تک پہنچے۔ اس دعوے کے بعد کوئی مسلمان خاموش ہوکر بیٹھ نہیں سکتا تھا۔ مسلمان تو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ حضور اقدس محمد رسول اللہ ﷺ خدا کے آخری رسول ہیں اور آپ ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور شریعت قیامت تک کے لئے ہر لحاظ سے کامل اور مکمل ہے۔ نہ اس میں کمی کی ضرورت ہے اور نہ ہی زیادتی کی گنجائش ہے۔ اگر مرزا قادیانی کی کتابوں کو پڑھا جائے اور ان کی عبارت کو مرتب کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آنجہانی مرزا قادیانی ایک متوازی نبوت اور متوازی امت قائم کرنا چاہتے ہیں جو نبوت کی طرح حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت سے کم نہیں اور جو امت کہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے کم تر نہیں بلکہ فائق ہی ہے۔
اس دعویٰ کے بعد علمائے اسلام پر ان کی بدنیتی اور اسلام کے خلاف ان کی سازش کھل کر سامنے آئی۔ چنانچہ مولوی عبدالحق صاحب غزنوی مقیم امرتسر مرزا قادیانی کی مخالفت میں برابر سرگرم رہے اور اشتہارات کے ذریعہ مرزا قادیانی کے فاسد خیالات کی دھجیاں بکھیرتے رہے اور وہ مباہلہ کے لئے تیار ہوئے جسے مرزا قادیانی نے منظور کیا۔ اس وقت جو اشتہار شائع ہوا اس کا مضمون یہ تھا۔
١٨٣
اطلاع عام برائے اہل اسلام
از : مولوی صوفی عبدالحق غزنوی مباہل مرزا
اس میں کچھ شک نہیں کہ میں مرزا قادیانی کے مباہلہ کا مدت سے پیاسا ہوں اور تین برس سے اس سے یہی درخواست ہے کہ اپنی کفریات پر جو تو نے اپنی کتابوں میں شائع کئے ہیں۔ مجھ سے مباہلہ کر..... لہذا میں نے یہ خط مسطور الذیل بتاریخ ٧ ذیقعدہ ١٣١٠ھ ارسال کیا کہ ہم کو آپ سے مباہلہ بدل و جان منظور ہے۔ مگر تاریخ تبدیل کر دو۔ مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں ٧ ذیقعدہ ١٣١٠ھ میں خط لکھا کہ میں مباہلے کے لئے تیار ہوں۔ چنانچہ ١٠ ذیقعدہ ١٣١٠ھ کو امرتسر کی عیدگاہ میں دونوں صاحبوں کا مباہلہ ہوا اور دونوں فریق امن وامان سے واپس آگئے۔ لیکن مرزا قادیانی اپنے مباہل مولوی عبدالحق غزنوی کی موجودگی میں ٢٦ مئی ١٩٠٨ء مطابق ٢٤ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ کو فوت ہو گئے اور الحمد للہ ! مولوی عبدالحق صاحب غزنوی مرزا قادیانی کی وفات کے بعد بھی کئی برس زندہ رہے۔
مولانا محمد نذیر حسین دہلوی کا مناظرہ
مولانا سید نذیر حسین صاحب کے شاگرد رشید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی شروع ہی سے مرزا قادیانی کی شدت سے مخالفت کر رہے تھے۔ مرزا قادیانی نے خود ان کے بجائے ان کے استاذ سے مناظرہ کرنا پسند کیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ایک اشتہار نکالا اور اس میں مناظرہ کی دعوت دی جس میں لکھا کہ مولوی نذیر حسین صاحب سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم کو زندہ سمجھنے میں حق پر ہوں اور قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے اس کی زندگی ثابت کر سکتے ہیں کہ میرے ساتھ پابندی شرائط مندرجہ اشتہار ٢ اکتوبر ١٨٩١ء بالاتفاق بحث کر لیں۔ اگر انہوں نے بقول شرائط اشتہار ٢ اکتوبر ١٨٩١ء بحث کے لئے مستعدی ظاہر نہ کی اور پوچ اور بے اصل بہانوں سے ٹال دیا تو سمجھا جائے گا کہ انہوں نے مسیح ابن مریم کی وفات کو قبول کر لیا۔ چنانچہ حضرت میاں صاحب نے مناظرہ کو قبول کیا۔ میاں صاحب کے متکلم مولوی بشیر احمد صاحب تھے۔ انہوں نے پہلے دن حیات مسیح پر پانچ دلائل حاضرین مجلس کو سنائے اور پھر اس پر دستخط کر کے مرزا قادیانی کو دیئے۔ مرزا قادیانی نے مجلس بحث میں جواب لکھنے سے عذر کیا۔ دوسرے دن بھی جواب نہ پیش کر سکے اور اس طرح مناظرہ سے شکست کھا کر واپس ہو گئے۔
(حوالہ رسالہ الحق الصریح ص٢)
١٨٤
مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری فاضل دیو بند
مرزا قادیانی کی مخالفت پنجاب میں کھل کر مولا اس لئے مرزا غلام احمد نے مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری ک ہیں۔ دعوت نامہ میں وہ لکھتے ہیں: ”مولوی ثناء اللہ اگر سچے کو جھوٹی تو ثابت کریں اور ہر ایک پیشین گوئی کے لئے ایک آمد و رفت کا کرایہ علیحدہ۔“
آگے پھر وہ لکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ : ”مولوی نشانیاں میرے ظاہر ہوں گی۔“
- ١....... وہ قادیان میں تمام پیشین گوئیوں کی پڑتال کے
اور سچی پیشین گوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا ان کے
- ٢....... اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب، صا
مریں گے اور سب سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصید روسیاہی ثابت ہو جائے گی۔
مولانا ثناء اللہ صاحب ١٠؍ جنوری ١٩٠٣ء کو قا لکھا کہ خاکسار قادیان میں اس وقت حاضر ہے۔ مگر مرز شرطیں لگاتے رہے۔ اس لئے دونوں حضرات میں مباحثہ
مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری نے مرزا قاد بھی۔ مختلف کتابوں، رسائل اور اشتہارات کے ذریعہ ان پردازی کی دھجیاں بکھیرتے رہے اور اپنے لطائف سے م بالآخر عاجز آکر مرزا قادیانی مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسر موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیرا رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلا جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی س زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ
١٨٥
مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری فاضل دیوبند
مرزا قادیانی کی مخالفت پنجاب میں کھل کر مولانا ثناء اللہ صاحب کرتے رہتے تھے۔ اس لئے مرزا غلام احمد نے مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کو قادیان آنے اور گفتگو کرنے کی دعوت دی۔ دعوت نامہ میں وہ لکھتے ہیں: ”مولوی ثناء اللہ اگر سچے ہیں تو قادیان میں آ کر کسی پیشین گوئی کو جھوٹی تو ثابت کریں اور ہر ایک پیشین گوئی کے لئے ایک ایک سو روپے انعام دیا جائے گا اور آمد و رفت کا کرایہ علیحدہ۔“
(اعجاز احمدی ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١٧، ١١٨)
آگے پھر وہ لکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ: ”مولوی ثناء اللہ کے ذریعے سے عنقریب تین نشانیاں میرے ظاہر ہوں گی۔“
- ١....... وہ قادیان میں تمام پیشین گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہر گز نہیں آئیں گے
اور سچی پیشین گوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہوگی۔
- ٢....... اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب، صادق سے پہلے مر جائے تو ضرور وہ پہلے
مریں گے اور سب سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلد تر ان کی روسیاہی ثابت ہو جائے گی۔
(اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)
مولانا ثناء اللہ صاحب ١٠ جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان پہنچے اور مرزا قادیانی کو اطلاعی خط لکھا کہ خاکسار قادیان میں اس وقت حاضر ہے۔ مگر مرزا قادیانی ٹال مٹول کرتے رہے اور بیجا شرطیں لگاتے رہے۔ اس لئے دونوں حضرات میں مباحثہ نہ ہو سکا۔
مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری نے مرزا قادیانی سے تقریری مقابلہ بھی کیا اور تحریری بھی۔ مختلف کتابوں، رسائل اور اشتہارات کے ذریعہ ان کی کذب بیانی اور دروغ بافی اور افتراء پردازی کی دھجیاں بکھیرتے رہے اور اپنے لطائف سے مرزا قادیانی کو ذلیل و خوار کرتے رہے۔ بالآخر عاجز آ کر مرزا قادیانی مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کو یہ خط لکھتے ہیں کہ: ”اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔
١٨٥
اس لئے اب میں تیری ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے۔ یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک ایسا ہی کر۔“
پھر مرزا قادیانی اعلان کرتے ہیں کہ: ”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔“
(حوالہ اخبار بدر ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)
اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے کذب وافتراء کو دنیا پر آشکارا فرمایا اور مرزا غلام احمد قادیانی ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو فوت کر گئے اور بحمد اللہ مولانا ثناء اللہ صاحب ہر طرح صحت وعافیت سے بہت دن زندہ رہے۔
حضرت مولانا محمد علی مونگیری اور فتنہ قادیانی
جب فتنہ قادیانیت پنجاب سے نکل کر دوسری جگہوں پر پھیلا تو علمائے حق بے چین ہو گئے۔ ان کا آرام حرام ہو گیا اور ان کی راتوں کی نیند اڑ گئی۔ اسی گروہ کے سرخیل مجدد علم وعرفان حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری بھی ہیں۔ جن کو اس فتنہ کا اتنا شدید احساس ہوا کہ تہجد کے وقت بھی فتنہ قادیانیت سے متعلق رسائل تصنیف کرتے، کتابیں لکھتے اور اس کی اشاعت کا انتظام کرتے۔
حضرت مولانا مونگیری کے اضطراب کو اس خط میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ”قادیانی کی سعی اور کوشش اس قدر انتھک اور منظم ہے کہ جس کو دیکھ کر ایک مسلمان کا دل لرز جاتا ہے کہ الٰہی یہ کیا طوفانِ کفر اور سیلابِ ارتداد ہے۔ اس کو روکنے کی کیا صورت ہو، ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں جہاں ان کے لوگ تبلیغ نہ کرتے ہوں اور ہندوستان کے علاوہ یورپ، انگلستان، جرمنی، امریکہ اور جاپان میں بڑے زوروں اور نہایت نظم سے اپنے مذہب کی اشاعت کر رہے ہیں۔ ان کے پاس کوئی بینک نہیں، کوئی ریاست نہیں، صرف ایک بات ہے کہ مرزا قادیانی نے کہہ دیا ہے کہ ہر مرید حسب استطاعت ماہانہ مذہب کی اشاعت کے لئے کچھ دے اور جو تین ماہ تک کچھ نہیں دے گا وہ بیعت سے خارج ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیت المال میں لاکھوں روپے جمع ہو گئے اور ان کا ہر مرید اپنی آمدنی کا کم از کم دسواں حصہ اور بعض تو تہائی اور چوتھائی حصہ قادیان بھیجتے رہتے ہیں۔ جس سے وہ خاطر خواہ اپنے مذہب کی اشاعت کر رہے ہیں۔“
(کمالات محمدیہ ص ٢٧٠)
حضرت مونگیری نے یہ محسوس کیا کہ اگر پوری قوت کے ساتھ اس تحریک کا مقابلہ نہ کیا گیا تو
١٨٦
سے بڑے افسوسناک نتائج ظاہر ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ مو ہمتوں کے ساتھ میدان میں اتر آئے اور اپنا سارا وقت اور و تمام مریدین و مسترشدین رفقاء اور اہل تعلق کو اس میں بڑ ف کہا کہ جو اس معاملہ میں میرا ساتھ نہ دے گا میں اس سے
بہار میں قادیانیوں نے چار ضلعوں میں بہت کا و بھاگلپور کے متعلق یہ اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ یہ دونوں ضل مجھائی مولوی عبد الماجد صاحب پورنوی، بھاگلپور (جو ایک فقہ میں بڑی دستگاہ حاصل تھی اور انہوں نے شرح تہذ مناسبت کا پورا ثبوت پیش کیا اور ان کا حاشیہ آج بھی کتب قادیانی ہو چکے تھے اور اپنی پوری صلاحیت اس باطل مذھ تھے۔ مونگیر کا تو کہنا ہی کیا، مونگیر میں آنجہانی مرزا قادیانی کے خسر مولوی حکیم خلیل احمد صاحب آمجھائی تشریف فر طلاقت لسانی کو مرزا قادیانی کے نوزائیدہ مذہب کی حمایت دو حضرات نے بھاگلپور اور مونگیر کی فضا کو بہت زیادہ م دونوں جگہوں پر رہنے والے مسلمان رفتہ رفتہ قادیانی مذہب میں قادیانی تحریک زوروں پر پھیل رہی تھی۔ حضرت مولا بہار کے علاوہ بنگال میں بھی اس نے مہم شروع کر دی ہے
حضرت مولانا مونگیری نے قادیانیت کے خ مہم شروع کی۔ اس کے لئے دورے کئے خطوط لکھے، کانپور سے کتابیں طبع کرا کے مونگیر لانے اور اشاعت حالات کا تقاضا یہ تھا کہ اس میں ذرا بھی تاخیر نہ ہو اس کے لئے قائم کیا۔ اس پریس سے سو سے زائد چھوٹی ب سب مولانا کے قلم سے ہیں۔ اس قدر ضعف اور سلسلۂ بجائے خود ایک کرامت سے کم نہیں اور جس کی توجیہ ب سے نہیں کی جا سکتی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز میں خدا کا فضل ان کے شامل حال تھا۔
١٨٧
اس سے بڑے افسوسناک نتائج ظاہر ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں حضرت مونگیریؒ اپنی ساری صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں اتر آئے اور اپنا سارا وقت اور ساری قوت اس کے لئے وقف کر دی۔ اپنے تمام مریدین ومسترشدین، رفقاء اور اہل تعلق کو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تلقین کی اور صاف صاف کہا کہ جو اس معاملہ میں میرا ساتھ نہ دے گا میں اس سے ناخوش ہوں ۔ (کمالات محمدیہ ص ٤٤)
بہار میں قادیانیوں نے چار ضلعوں میں بہت کامیابی حاصل کی تھی۔ خاص طور پر مونگیر اور بھاگلپور کے متعلق یہ اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ یہ دونوں ضلع قادیانی ہو جائیں گے۔ بھاگلپور میں آنجہانی مولوی عبد الماجد صاحب پورنوی، بھاگلپور (جو ایک جید عالم اور اچھے مدرس تھے، منطق اور فلسفہ میں بڑی دستگاہ حاصل تھی اور انہوں نے شرح تہذیب پر حاشیہ لکھ کر فن منطق سے اپنی مناسبت کا پورا ثبوت پیش کیا اور ان کا حاشیہ آج بھی کتب خانہ رحمانیہ خانقاہ مونگیر میں موجود ہے) قادیانی ہو چکے تھے اور اپنی پوری صلاحیت اس باطل مذہب کی اشاعت وتبلیغ میں صرف کر رہے تھے۔ مونگیر کا تو کہنا ہی کیا، مونگیر میں آنجہانی مرزا قادیانی کے خاص سمدھی اور مرزا بشیر محمود آنجہانی کے خسر مولوی حکیم خلیل احمد صاحب آنجہانی تشریف فرما تھے اور خدا کی دی ہوئی ذکاوت اور طلاقت لسانی کو مرزا قادیانی کے نوزائیدہ مذہب کی حمایت میں شب و روز صرف کر رہے تھے۔ ان دو حضرات نے بھاگلپور اور مونگیر کی فضا کو بہت زیادہ مسموم کر رکھا تھا اور اس کا خطرہ تھا کہ ان دونوں جگہوں پر رہنے والے مسلمان رفتہ رفتہ قادیانی مذہب اختیار کر لیں گے۔ پٹنہ اور ہزاری باغ میں قادیانی تحریک زوروں پر پھیل رہی تھی۔ حضرت مولانا مونگیری نے اپنے خط میں ذکر کیا ہے کہ بہار کے علاوہ بنگال میں بھی اس نے مہم شروع کر دی ہے۔
حضرت مولانا مونگیریؒ نے قادیانیت کے خلاف باقاعدہ اور منظم طریقے پر زبردست مہم شروع کی۔ اس کے لئے دورے کئے، خطوط لکھے، رسائل اور کتابیں تصنیف کیں۔ دہلی اور کانپور سے کتابیں طبع کرا کے مونگیر لانے اور اشاعت فرمانے میں خاصہ وقت صرف ہوتا تھا اور حالات کا تقاضا یہ تھا کہ اس میں ذرا بھی تاخیر نہ ہو اس لئے مولانا نے خانقاہ میں پریس اسی مقصد کے لئے قائم کیا۔ اس پریس سے سو سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں رد قادیانیت پر شائع ہوئیں جو سب مولانا کے قلم سے ہیں۔ اس قدر ضعف اور سلسلۂ علالت کے ساتھ اتنا وقیع اور عظیم تصنیفی کام بجائے خود ایک کرامت سے کم نہیں اور جس کی توجیہہ تائید الٰہی وتوفیق خداوندی کے سوا کسی اور چیز سے نہیں کی جاسکتی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے اس کام پر مامور تھے۔ ہر چیز میں خدا کا فضل ان کے شامل حال تھا۔
١٨٧
حضرت مونگیری نے اپنے ایک معتمد اور خادم خاص کو ایک خط میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور بے تکلفی اور سادگی کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میرا ضعف و ناتوانی اے عزیز تم اور اس کے سب بھائیوں پر ظاہر ہے کہ میں مدت سے بیکار ہو چکا ہوں اور میرے ظاہری قویٰ نے جواب دے دیا ہے۔ مگر خدائی ارشاد اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَه لَحَافِظُون “ نے اپنی غیر محدود قدرت کو ایک ضعیف و ناتواں ہستی میں جلوہ گر فرما کر وہ کام لیا جس کا خیال و خطرہ بھی نہ تھا۔ اس قدر رسائل اور ضعف و ناتوانی میں لکھوا دینا اسی کا کام ہے۔
(کمالات محمدیہ)
حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ نے قادیانیت کی تردید میں سو سے زیادہ کتابیں اور رسائل تصنیف کئے جس میں سے صرف چالیس کتابیں ان کے نام سے طبع ہوئیں اور بقیہ دوسرے ناموں سے یا ابواحمد کے نام سے جو حضرت کی کنیت تھی۔ حضرت مولانا نے فتنہ قادیانیت کے ہر گوشہ اور ہر پہلو پر گفتگو کی اور رسائل لکھے اور اس باطل مذہب کے رد میں لکھنے کے لئے کوئی چیز نہ چھوڑی۔ انہوں نے قادیانیت کی بیخ کنی کی اور اس کے استیصال کو وقت کا اہم ترین جہاد قرار دیا ہے۔ حضرت مونگیریؒ کتاب پر کتاب تردید میں لکھتے جاتے اور لوگوں میں مفت تقسیم کرتے اور مناسب جگہوں پر پہنچاتے۔ اس راہ میں ہزاروں روپے صرف کئے۔ اس مہم میں اپنے دوستوں، عزیزوں اور عقیدتمندوں کو بھی مجتمع اور منظم ہو کر مقابلہ کرنے کی ہدایت کرتے۔ حضرت مونگیریؒ اپنے ایک گرامی نامہ میں تحریر فرماتے ہیں: ”میں چاہتا ہوں کہ مخالفین اسلام کی بے انتہاء سعی اور کوشش کا جواب دیا جائے۔ بالخصوص مرزائی جماعت کا فتنہ رفع کرنے میں جو کچھ ہو سکے اس سے دریغ نہ کیا جائے اور نہایت انتظام کے ساتھ یہ سلسلہ میرے بعد جاری رہے۔ اس لئے رائے یہ ہے کہ ایک انجمن قائم کی جائے۔ جس کا نظم تم لوگ اپنے ہاتھ میں لو اور اس کے لئے ہر وہ شخص جو مجھ سے ربط و تعلق رکھتا ہے وہ اس میں حسب حیثیت التزام کے ساتھ ماہانہ شرکت کرے۔ ورنہ جو شخص میرے اس دینی اور ضروری ہدایت کی طرف متوجہ نہ ہوگا میں اس سے ناخوش ہوں اور وہ خود یہ سمجھ لے کہ اس کو مجھ سے کیا تعلق باقی رہا۔“
(کمالات رحمانی ص ٢٧٦)
حضرت مونگیریؒ کو فتنہ قادیانی کا شدید احساس تھا اور اس کے مقابلہ کا ان کو اس قدر اہتمام تھا کہ آپ اکثر فرمایا کرتے: ”خالص اور اس قدر طبع کراؤ اور تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب صبح کو سو کر اٹھے تو اپنے سرہانے ردقادیانی کی کتاب پائے۔ حضرت مونگیریؒ نے تصنیف و تالیف ہی کے ذریعہ قادیانی کی تردید پر اکتفاء کیا بلکہ مناظرہ بھی کئے، مونگیر کے مناظرہ سے قادیانیت کی تحریک پر ضرب کاری لگی جس سے اس کے قدم اکھڑ گئے اور ملت اسلامیہ کو اس سے بڑا فائدہ پہنچا۔“
١٨٨
یہ مناظرہ ١٩٠٦ء میں ہوا جس میں تقریباً چالیس رف سے حکیم نورالدین وغیرہ آئے۔ اس کی تفصیل یہ ہ ورالدین صاحب، سرور شاہ صاحب اور روشن علی صاحب م کی شکست میری شکست ہے۔ ان کی فتح میری فتح، اس طر صاحب ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند، علامہ انور شاہ عبدالوہاب بہاری، مولانا ابراہیم صاحب سیالکوٹی (تقریباً کا بیان ہے کہ عجیب منظر تھا۔ صوبہ بہار کے اضلاع کے لوگ تھا کہ خانقاہ میں علماء کی ایک بڑی بارات ٹھہری ہوئی ہے۔ کئے جا رہے ہیں اور بحثیں چل رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوا وکیل اور نمائندہ کون ہو؟ قرعہ فال مولانا مرتضیٰ حسن صاحب حسن صاحب کو تحریراً اپنا نمائندہ بنایا، علماء کی یہ جماعت مید طرف مولانا مرتضیٰ حسن صاحب اسٹیج پر تقریر کے لئے آئے اس وقت تک سر نہ اٹھایا جب تک کہ فتح کی خبر نہ آگئی۔ بخ عجیب تھا۔ مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کی ایک ہی تقریر مطالبہ کیا گیا تو مرزا قادیانی کے نمائندے جواب دینے ۔ میں کرسیاں اپنے سر پر لئے ہوئے یہ کہتے بھاگے کہ ہم جوا
فیصلہ آسمانی
مولانا کی سب سے پہلی تصنیف فیصلہ آسمانی ہے۔ اس کے تین ایڈیشن مولانا کی زندگی میں ہی شائع ہ دینے کی ہمت نہ ہوئی۔ مولانا کی وفات کے بعد بھی کسی ق نہ کی۔ قادیانیت کے خلاف سارے لٹریچر میں جواب تک رکھتی ہے اور اپنے محکم طرز استدلال، اسلوب کی وضاحت سے بہت کم کتابیں اس معیار پر پوری اترتی ہیں۔ اس ر کے ایک بڑے مبصر کی رائے یہ ہے کہ قادیانیت کی رد میں امثال کی گنجائش نکل آتی ہے۔ لیکن اس کتاب میں کسی خامی اور کمزوری نظر نہیں آتی۔
١٨٩
یہ مناظرہ ١٩٠٦ء میں ہوا جس میں تقریباً چالیس علماء شریک ہوئے۔ مرزا قادیانی کی طرف سے حکیم نور الدین وغیرہ آئے۔ اس کی تفصیل یہ ہے۔ مرزا قادیانی کے نمائندے حکیم نور الدین صاحب، سرور شاہ صاحب اور روشن علی صاحب مرزا قادیانی کی تحریر لے کر آئے کہ ان کی شکست میری شکست ہے۔ ان کی فتح میری فتح، اس طرف سے مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری صاحب ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند، علامہ انور شاہ کشمیریؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا عبد الوہاب بہاریؒ، مولانا ابراہیم صاحب سیالکوٹیؒ (تقریباً چالیس علماء) بلائے گئے تھے۔ لوگوں کا بیان ہے کہ عجیب منظر تھا۔ صوبہ بہار کے اضلاع کے لوگ تماشائی بن کر آئے تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ خانقاہ میں علماء کی ایک بڑی بارات ٹھہری ہوئی ہے۔ کتابیں الٹی جا رہی ہیں۔ حوالے تلاش کئے جارہے ہیں اور بحثیں چل رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ مولانا محمد علیؒ کی طرف سے مناظرہ کا وکیل اور نمائندہ کون ہو؟ قرعہ فال مولانا مرتضیٰ حسن صاحبؒ کے نام پڑا۔ آپ نے مولانا مرتضیٰ حسن صاحبؒ کو تحریراً اپنا نمائندہ بنایا، علماء کی یہ جماعت میدان مناظرہ میں گئی وقت مقرر تھا۔ اس طرف مولانا مرتضیٰ حسن صاحبؒ اسٹیج پر تقریر کے لئے آئے اور اس طرف آپ سجدہ میں گر گئے اور اس وقت تک سر نہ اٹھایا جب تک کہ فتح کی خبر نہ آگئی۔ بڑوں کا کہنا ہے کہ میدان مناظرہ کا منظر عجیب تھا۔ مولانا مرتضیٰ حسن صاحبؒ کی ایک ہی تقریر کے بعد جب قادیانیوں سے جواب کا مطالبہ کیا گیا تو مرزا قادیانی کے نمائندے جواب دینے کے بجائے انتہائی بدحواسی اور گھبراہٹ میں کرسیاں اپنے سر پر لئے ہوئے یہ کہتے بھاگے کہ ہم جواب نہیں دے سکتے۔
فیصلہ آسمانی
مولانا کی سب سے پہلی تصنیف فیصلہ آسمانی ثابت ہوئی۔ یہ کتاب تین جلدوں میں ہے۔ اس کے تین ایڈیشن مولانا کی زندگی میں ہی شائع ہو گئے۔ لیکن کسی قادیانی کو اس کا جواب دینے کی ہمت نہ ہوئی۔ مولانا کی وفات کے بعد بھی کسی قادیانی نے اس کا جواب دینے کی جرأت نہ کی۔ قادیانیت کے خلاف سارے لٹریچر میں جو اب تک لکھا گیا ہے۔ یہ کتاب ایک خاص امتیاز رکھتی ہے اور اپنے محکم طرز استدلال، اسلوب کی وضاحت اور صفائی و صحت و طاقتور گرفت کے اعتبار سے بہت کم کتابیں اس معیار پر پوری اترتی ہیں۔ اس راہ کے نشیب و فراز کو دیکھتے ہوئے اور اس کے ایک بڑے مبصر کی رائے یہ ہے کہ قادیانیت کی رد میں لکھی ہوئی اکثر کتابوں میں بعض بعض جگہ احتمال کی گنجائش نکل آتی ہے۔ لیکن اس کتاب میں کسی جگہ احتمال کی گنجائش یا استدلال میں کوئی خامی اور کمزوری نظر نہیں آتی۔
١٨٩
مرزا قادیانی نے اپنے کمال واعجاز کے لئے ”اعجاز احمدی“ لکھی یا لکھوائی تھی اور اس کا دعویٰ کیا تھا کہ اس رسالہ اور قصیدہ اعجازیہ کی ادبی بلاغت اور فنی کمال کی نظیر کوئی دوسرا پیش نہیں کر سکتا۔ مولانا نے اس قصیدہ کا بہت پر لطف قصہ بیان کیا ہے اور اس سارے جال کا تار و پود بکھیر دیا ہے جو مرزا قادیانی نے علماء اور عام مسلمین دونوں کو بیک وقت فریب دینے کے لئے پھیلایا تھا۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ وہ اس جال میں خود ہی گرفتار ہو گئے اور تدبیر ان کے لئے الٹی پڑ گئی۔
مرزا قادیانی نے ٥ نومبر ١٨٩٩ء میں یہ اعلان کیا تھا۔ ”اے میرے مولیٰ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں تو ان تین سالوں کے اندر جو جنوری ١٩٠٠ء سے آخر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہو جائیں گے کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو۔ اگر تین برس کے اندر میری تائید اور تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلاوے تو میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ۔“ مولانا لکھتے ہیں کہ ”اس دعا کے بعد مرزا قادیانی تین برس اسی فکر و تجویز میں رہے کہ کوئی نشان تراش کر مسلمانوں کو دکھایا جائے۔ میرے خیال میں انہوں نے یہ تدبیر سوچی کہ ہندوستان میں عربی ادب کا مذاق نہیں ہے۔ اس لئے ایک عربی قصیدہ لکھوا کر اور اس کی تمہید اردو میں لکھ کر رسالہ شائع کر کے اعجاز کا دعویٰ کیا جائے۔ اس زمانہ میں ایک عرب طرابلس کے رہنے والے ہندوستان میں آئے ہوئے تھے۔ جابجا وہ پھرتے رہے اور حیدرآباد میں ان کا قیام زیادہ رہا ہے۔ یہ عربی کے شاعر تھے اور مزاج میں آزادی بھی شاعروں کی سی رکھتے تھے۔ اس شہر میں مرزائی زیادہ ہیں۔ انہوں نے مرزا قادیانی سے ربط کر لیا اور خط و کتابت ہونے لگی۔ انہوں نے قصیدہ کی فرمائش کی، عرب صاحب نے روپیہ لے کر قصیدہ لکھ دیا۔ مولانا محمد سہول صاحب بھاگلپوری مفتی دارالعلوم دیوبند کہتے ہیں کہ حیدرآباد میں، میں نے ان سے ادب کی کتابیں پڑھی ہیں۔ بڑے ادیب تھے۔ کہتے تھے کہ مجھے روپیہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔ میں نے مرزا قادیانی کو لکھا اس نے قصیدہ لکھوایا۔ میں نے لکھ دیا اس نے مجھے روپے دیئے۔“
(فیصلہ آسمانی ص ٥٩)
اس شخص نے جان بوجھ کر کچھ ایسی غلطیاں بھی قصیدہ میں شامل کر دی تھیں جو اہل زبان سے مستبعد ہیں۔ اس کے متعلق مولانا لکھتے ہیں: ”سعید (شاعر کا نام) مرزا قادیانی کو جھوٹا جانتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ عربی ادب سے مرزا کو مس نہیں ہے۔ اس لئے اس نے قصداً غلطیاں رکھیں تاکہ اہل علم اس سے واقف ہو کر اس کی تکذیب کریں۔ چونکہ عرصہ تک ہند میں رہا ہے اور
بعض علوم عقلیہ اس نے یہاں پڑھے ہیں۔ اس لئے و لئے مرزا قادیانی کو فریب دیا اور بعض ہندی الفاظ بھی ق مرزا قادیانی کا اعجاز نہیں ہے۔ اگر اعجاز کہا جائے تو سعید حضرت مونگیریؒ کی اس سعی پیہم اور آہ سحر گا لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔
فتنہ قادیان اور علمائے دیوبند
فتنہ قادیانیت کے استیصال کے سلسلے میں نہایت اہم اور ناقابل فراموش ہیں۔ حضرت مولانا دیوبند جو راقم الحروف کے استاذ بھی ہیں نے اس مناظرے بھی کئے اور مونگیر کے مناظرہ میں مولانا م تھے۔ ساتھ ہی ساتھ آپ نے رد قادیانیت پر متعدد ر دوسرے مطابع سے شائع ہوئے۔
حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ صدر المہ خصوصی توجہ فرمائی اور بہاول پور کے مقدمہ میں جا ججوں کو قادیانی کے خلاف فیصلہ لکھنے پر مجبور کر دی
حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب بھی شامل تھے۔ ا ایک نہایت قیمتی بیالیس صفحہ کا رسالہ لکھ کر مرزا قادیانی کھڑی کر دی۔ حضرت شاہ صاحب کا یہ رسالہ ”ت دیوبند سے شائع ہوا ہے۔ اسی طرح حضرت علامہ نے اس طرف اپنی توجہ مبذول کی اور قابل قدر خ
المحترم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ دیوبندی انکار ختم نبوت کے فتنہ کو علمی طور پر قیامت تک کے ختم نبوت فی القرآن، ختم نبوت فی ا مسئلہ ختم نبوت پر حرف آخر کی حیثیت رکھتے ہیں ب کرام نے جدوجہد کی ہے ان کا استقصاء مقصود ن
بعض علوم عقلیہ اس نے یہاں پڑھے ہیں۔ اس لئے وہ ہندی محاورات سے بھی واقف تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی کو فریب دیا اور بعض ہندی الفاظ بھی قصیدہ میں داخل کر دیئے۔ الحاصل یہ قصیدہ مرزا قادیانی کا اعجاز نہیں ہے۔ اگر اعجاز کہا جائے تو سعید شامی کا اعجاز ہوگا۔"
(ایضاً)
حضرت مونگیریؒ کی اس سعی پیہم اور آہ سحر گاہی نے بہار کا بالخصوص نقشہ پلٹا اور پھر سے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔
فتنہ قادیان اور علمائے دیوبند
فتنہ قادیانیت کے استیصال کے سلسلے میں علمائے دیوبند کی خدمات اور کوششیں بھی نہایت اہم اور ناقابل فراموش ہیں۔ حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند جو راقم الحروف کے استاذ بھی ہیں نے اس سلسلہ میں دورے کئے۔ تقریریں کیں اور مناظرے بھی کئے اور مونگیر کے مناظرہ میں مولانا مرحوم ہی حضرت مونگیریؒ کے وکیل اور نمائندہ تھے۔ ساتھ ہی ساتھ آپ نے ردّ قادیانیت پر متعدد رسائل بھی تصنیف کئے جو مطبع رحمانی مونگیر اور دوسرے مطابع سے شائع ہوئے۔
حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند نے اس فتنہ کی طرف خصوصی توجہ فرمائی اور بہاول پور کے مقدمہ میں جا کر شہادت دی اور اپنے علمی و تحقیقی بیان سے ججوں کو قادیانی کے خلاف فیصلہ لکھنے پر مجبور کر دیا۔ اس مقدمہ میں شہادت دینے والوں میں حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب بھی شامل تھے۔ پھر حضرت شاہ صاحب کشمیریؒ نے حیات مسیحؑ پر ایک نہایت قیمتی بیالیس صفحہ کا رسالہ لکھ کر مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود کے سامنے لوہے کی دیوار کھڑی کر دی۔ حضرت شاہ صاحب کا یہ رسالہ ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ دارالاشاعت دیوبند سے شائع ہوا ہے۔ اسی طرح حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی صاحبؒ اور دوسرے علمائے دیوبند نے اس طرف اپنی توجہ مبذول کی اور قابل قدر خدمات انجام دی ہیں اور پھر اس عاجز کے استاذ المحترم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی ثم پاکستانی نے مسئلہ ختم نبوت پر تین رسالے لکھ کر انکار ختم نبوت کے فتنہ کو علمی طور پر قیامت تک کے لئے دفن کر دیا۔
ختم نبوت فی القرآن، ختم نبوت فی الاحادیث، ختم نبوت فی الآثار، یہ تینوں رسالے مسئلہ ختم نبوت پر حرف آخر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس فرقہ باطلہ کے استیصال کے لئے جن علمائے کرام نے جدوجہد کی ہے ان کا استقصاء مقصود نہیں ہے۔ یقیناً جن حضرات کے نام لکھے ہیں ان
١٩١
سے کہیں زیادہ وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اس مختصر سے مقالہ میں نہیں کر سکا ہوں۔ تقریباً یہ سب واصل بحق ہو چکے ہیں۔ حق تعالیٰ ان کی سعی کو مشکور فرمادے ان کے مراتب بلند کرے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
اس موقعہ پر نامناسب ہوگا اگر پروفیسر محمد الیاس صاحب برنی عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن کا نام نہ لیا جائے۔ انہوں نے ”قادیانی مذہب“ کے نام سے ایک ہزار صفحوں پر کتاب لکھ کر خود قادیانیوں کے ہاتھ میں آئینہ دے دیا ہے کہ وہ اپنی صورت اور قادیانیت کے سارے خدوخال صاف طریقہ پر ”قادیانی مذہب“ کے آئینہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کتاب میں الیاس صاحب مرحوم و مغفور نے اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا۔ اس میں جو کچھ ہے وہ قادیانی سربراہوں اور ان کے رہنماؤں اور مبلغوں کی تقریریں اور تحریریں ہیں جو صحیح حوالے کے ساتھ درج کر دی گئی ہیں۔ پروفیسر صاحب مرحوم نے ان تحریروں اور تقریروں کو مختلف حصوں اور ابواب میں جمع کر کے عنوان لگا دیا ہے۔ اس کتاب کی قدر و قیمت مطالعہ کے بعد ہی معلوم ہو سکتی ہے۔ پروفیسر صاحب مرحوم اس وقت دنیا میں نہیں ہیں۔ ہم ان کے لئے سعادت و نجات کی دعا کرتے ہیں۔
رد قادیانیت پر دو اہم رسائل
از : مولانا عبدالحی فاروقی ، ایم اے (عربی) ، ایم اے (معاشیات ) نئی دہلی
مرزا غلام احمد قادیانی (١٨٣٥ء تا ١٩٠٨ء) نے جب سے اپنے باطل دعاوی کا آغاز کیا اسی وقت سے علماء حق نے ان کے خلاف آواز اٹھانا شروع کر دی تھی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی حق وصداقت کی راہ میں رخنے ڈالے گئے طاغوتی طاقتوں نے سر اٹھانا شروع کیا اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی جانے لگی تو اس کے خلاف جو طبقہ سب سے پہلے سامنے آیا وہ ہمارے علمائے کرام ہی کا تھا۔ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ (م١٦٢٤ء)، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (م١٧٦٢ء)، شاہ عبدالعزیز دہلویؒ (م١٨٢٤ء)، حضرت سید احمد شہیدؒ (ش١٨٣١ء)، مولانا سید محمد علی مونگیریؒ (م١٣٤٦ھ) اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ (م١٩٥٧ء) وغیرہ ایسے ہی مجاہد علماء حق میں سے تھے جو مذہب کے نام پر پیدا ہونے والی ہر اسلام مخالف تحریک کے خلاف سر بکف اور کفن بردوش اٹھ کھڑے ہوئے اور یہاں تک نبرد آزما ہوتے رہے جب تک کہ حق و باطل کے درمیان حد فاصل قائم نہیں ہو گئی۔ قادیانیت بھی اسی قسم کی ایک اسلام دشمن اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی ذات مقدسہ سے بغض وعناد رکھنے والی ایک
١٩٢
جماعت ہے جس نے ہندوستان میں جنم لے کر پورے عالم تھا۔ مرزا قادیانی کی تحریرات کے منظر عام پر آنے کے مستقبل کی خطرناکیوں کو اچھی طرح بھانپ لیا تھا۔ لہٰذا اس کا آغاز کیا گیا۔ مضامین لکھے گئے۔ رسائل اور کتابیں لکھ مناظرے بھی کئے گئے۔ تاکہ عوام و خواص کو عقائد کی گراہی رد قادیانیت پر دیکھتے ہی دیکھتے اچھا خاصا ذخیرہ معرض و فراست رکھنے والوں کو اس فرقہ کو سمجھنے اور اس کو خارج از ہے کہ آج ہمارے تردیدی لٹریچر میں اب ایسے بہت سے ضرور ہوتی جارہی ہے۔ اس وقت ہم ایسے ہی دو کمیاب اپنے موضوع پر نہایت جامع اور مکمل ہیں۔ ان دونوں ر حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی مدظلہ کی علمی تحقیقات ۔
١ حضرت مولانا عبدالشکور صاحب فاروقی ضلع لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد مولوی تحصیلدار تھے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم اور عربی کتب در فتح پور ہی میں مختلف مقامات پر مکمل ہوئیں۔ لیکن بع مولانا سید عین القضاۃ صاحب حیدرآبادی ثم لکھنوی حضرت مولانا عبدالحی فرنگی محلی کے ارشد تلامذہ میں فراغت پائی۔ آپ استاذ کے نہایت معتمد اور مقرب دونوں دارالعلوم ندوۃ العلماء، مدرسہ عالیہ فرقانیہ اور انجام دیں۔ لیکن جلد ہی ملازمتوں کا سلسلہ ختم کر ١٣٣٢ھ میں اپنا مشہور ماہنامہ علم الفقہ ، ١٣٥١ھ میں بنیاد ڈالی جو اب بھی باقی ہے۔ تقریباً ٧٥ کتابیں رد قادیانیت اور رد بدعت کے علاوہ رد شیعیت میں پر اسلامیان ہند کی طرف سے آپ کو ”امام اہل سن کے مشہور بزرگ حضرت شاہ ابواحمد صاحب بھو ١٣٨١ھ مطابق ١٩٦٢ء میں لکھنؤ میں آپ نے وفات
٣
جماعت ہے جس نے ہندوستان میں جنم لے کر پورے عالم اسلام کو اپنے گرداب بلا میں لپیٹنا چاہا تھا۔ مرزا قادیانی کی تحریرات کے منظر عام پر آنے کے بعد ہی سے علماء نے ان کے عزائم اور مستقبل کی خطرناکیوں کو اچھی طرح بھانپ لیا تھا۔ لہٰذا اس کے سدباب کے لئے قلمی اور لسانی جہاد کا آغاز کیا گیا۔ مضامین لکھے گئے۔ رسائل اور کتابیں تصنیف کی گئیں اور اخیر میں براہ راست مناظرے بھی کئے گئے۔ تاکہ عوام و خواص کو عقائد کی گمراہیوں سے بچایا جاسکے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ رد قادیانیت پر دیکھتے ہی دیکھتے اچھا خاصا ذخیرہ معرض وجود میں آگیا جس کی مدد سے دین کی فہم وفراست رکھنے والوں کو اس فرقہ کو سمجھنے اور اس کو خارج از اسلام قرار دینے میں بڑی مدد ملی۔ افسوس ہے کہ آج ہمارے تردیدی لٹریچر میں اب ایسے بہت سے رسائل اور کتب اگر نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہوتی جارہی ہے۔ اس وقت ہم ایسے ہی دو کمیاب مطبوعہ رسائل پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں جو اپنے موضوع پر نہایت جامع اور مکمل ہیں۔ ان دونوں رسائل کا تعلق مشہور عالم دین اور مصلح امت حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی مدیر النجم کی علمی تحقیقات سے ہے۔
١؎ حضرت مولانا عبدالشکور صاحب فاروقی لکھنوی ٢٣ ذی الحجہ ١٢٩٣ھ کو قصبہ کاکوری ضلع لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد مولوی حافظ ناظر علی صاحب ضلع فتح پور یوپی میں تحصیلدار تھے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم اور عربی کتب درسیہ یعنی جلالین، ہدایہ، قطبی اور نورالانوار ضلع فتح پور ہی میں مختلف مقامات پر مکمل ہوئیں۔ لیکن بعد کی ساری کتابیں استاذ الاساتذہ حضرت مولانا سید عین القضاۃ صاحب حیدرآبادی ثم لکھنوی بانی مدرسہ عالیہ فرقانیہ لکھنو سے پڑھیں جو حضرت مولانا عبدالحئی فرنگی محلی کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ ١٣١٧ھ میں آپ نے تعلیم سے فراغت پائی۔ آپ استاذ کے نہایت معتمد اور مقرب شاگردوں میں سے تھے۔ شروع کے کچھ دنوں دارالعلوم ندوۃ العلماء، مدرسہ عالیہ فرقانیہ اور مدرسہ عالیہ امروہہ یوپی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ لیکن جلد ہی ملازمتوں کا سلسلہ ختم کر کے ساری زندگی تصنیف وتالیف میں بسر کی۔ ١٣٣٢ھ میں اپنا مشہور ماہنامہ النجم، ١٣٥١ھ میں لکھنؤ میں ایک دینی ادارہ ’دارالمبلغین‘ کی بنیاد ڈالی جو اب بھی باقی ہے۔ تقریباً ٧٥ کتابیں آپ نے تصنیف وتالیف اور ترجمہ کیں۔ رد قادیانیت اور رد بدعت کے علاوہ رد شیعیت میں آپ نے نمایاں کارنامے انجام دیئے۔ اسی بناء پر اسلامیان ہند کی طرف سے آپ کو ”امام اہل سنت“ کے خطاب سے نوازا گیا۔ سلسلہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ حضرت شاہ ابو احمد صاحب بھوپالی سے آپ کو بیعت وخلافت حاصل تھی۔ ١٣٨١ھ مطابق ١٩٦٢ء میں لکھنؤ میں آپ نے وفات پائی۔
١٩٣
پہلا رسالہ
اس سلسلہ کا پہلا رسالہ ”صحیفہ رنگون بر پیروان دجال زبون“ ہے ایک سو چھیالیس صفحات پر مشتمل یہ رسالہ اس مناظرے کی روداد ہے جو مولانا لکھنویؒ اور قادیانیوں کی لاہوری پارٹی کے سربراہ خواجہ کمال الدین بی اے، ایل ایل بی کے درمیان ١٩٢٠ء میں بمقام رنگون ہوا تھا۔ اس مناظرے کا اہتمام جمعیت علمائے رنگون نے کیا تھا۔ جس کے سربراہ مولانا احمد بزرگ سملکتی تھے جو اس وقت جامع سورتی رنگون کے مہتمم اور مفتی بھی تھے۔ آپ ہی کی خصوصی دعوت پر مولانا لکھنویؒ رنگون تشریف لے گئے تھے۔ آپ کے ساتھ آپ کے صاحبزادے مولانا عبدالمؤمن صاحب فاروقی (م ١٩٦٧ء) اور حضرت مولانا محمد منظور نعمانی صاحب مدیر الفرقان دامت برکاتہم بھی شریک سفر تھے۔
اس رسالہ کو ایک مقدمہ، دو ابواب اور ایک خاتمہ میں منقسم کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں مرزا اور مرزائیت کی مختصر تاریخ دلچسپ انداز میں بیان کی گئی ہے۔ پہلے باب میں خواجہ کمال الدین اور مولانا لکھنویؒ کے رنگون پہنچنے کے بعد خواجہ صاحب کے مقابلہ میں اتمام حق کی جو بھی کارروائیاں ہوئیں تھیں ان کا مفصل بیان ہے۔ دوسرے باب میں مرزا قادیانی اور مرزائیت کے باطل اور خارج از اسلام ہونے کے دلائل بیان کئے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں جن امور کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے ان میں حسب ذیل قابل ذکر ہیں۔
- .......١ مرزا قادیانی کی کذب گوئی خود انہی کی کتابوں سے۔
- .......٢ مرزا قادیانی کے اقوال توہین انبیاء علیہم السلام۔
- .......٣ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت۔
- .......٤ مرزا قادیانی کا منکر ضروریات دین ہونا۔
- .......٥ ختم نبوت کی بحث۔
- .......٦ حیات مسیح علیہ السلام کی بحث۔
- .......٧ مرزائیوں کے شائع کردہ انگریزی ترجمہ قرآن مجید کے کچھ مفاسد اور خاتمہ میں مرزا
اور مرزائیوں کے کفر پر علماء اسلام کے فتوے۔ اس کے بعد حکومت وقت کا ایک فیصلہ درج کیا گیا ہے۔ جس میں مرزائیوں کا خارج از اسلام ہونا اور مسلمانوں کے قبرستانوں سے ان کا بے دخل ہونا ظاہر کیا گیا ہے۔ اس رسالہ کے متعلق مولانا احمد بزرگ صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”الحمدللہ کہ یہ
١٩٤
کتاب ایسی جامع و مکمل تیار ہوگئی ہے کہ جو شخص اس کو ا وری حقیقت سے واقف ہونے کے علاوہ بڑے سے بڑ سکتا ہے۔“
کادیان یا قادیان؟
ضلع گورداسپور پنجاب میں ایک قصبہ قاد رہنے والے تھے۔ اس قصبہ کا صحیح اور اصلی نام کادیان ہ پکارتے ہیں۔ پنجابی زبان کا دی، کیوڑہ کو کہتے ہیں۔ ا کرتے تھے۔ اس لئے پوری بستی کو کادیان کہا جانے میں توڑ مروڑ، تحریف اور تاویل کرنے کا چسکہ لگا ہوا تھ اور حقائق کی پردہ پوشی کیا کرتے تھے۔ لہٰذا اپنی اس ذن کے سرکاری کاغذات میں اس کو قادیان لکھوایا اور مشہو بگڑ کر قادیان ہوگیا۔
چند اعتراضات اور ان کے جوابات
فرق باطلہ کا ہمیشہ یہ دستور رہا ہے کہ وہ ک لیکن آڑ میں بیٹھ کر خطوط یا اشتہار بازی سے کام ل خواجہ کمال الدین مرزائی نے بھی رنگون میں یہی کیا مخاطب بنایا۔ براہ راست مناظرے کی نوبت نہی صاحب نے اسلامی معتقدات کے خلاف چار سوالا مفروضہ قائم کر لیا کہ علماء اسلام سے ان کا جواب در نے فی الفور ان سوالات کے جوابات لکھ کر شائع کر
پہلا اعتراض....... قرآن مجید ظاہر کرتا ہے ک جس کی طرف وہ بھیجا گیا ہے۔ اس طرح یہ بھی کہا ہوا ہے تاکہ مخاطب لوگ اس کو سمجھ سکیں۔ لہٰذا معلو کے لئے آئے تھے۔ اس لئے یہ دعویٰ کیوں کیا جات
جواب....... قرآن مجید میں مذکورہ
٩٥
کتاب ایسی جامع ومکمل تیار ہوگئی ہے کہ جوشخص اس کو اوّل سے آخر تک دیکھ لے وہ مرزائیت کی پوری حقیقت سے واقف ہونے کے علاوہ بڑے سے بڑے مرزائی کو بحث میں مغلوب ومبہوت کر سکتا ہے۔"
(صحیفہ رنگون ص٢)
کادیان یا قادیان؟
ضلع گورداسپور پنجاب میں ایک قصبہ کادیان ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی وہیں کے رہنے والے تھے۔ اس قصبہ کا صحیح اور اصلی نام کادیان ہے۔ اہل پنجاب اب بھی اس کو اسی نام سے پکارتے ہیں۔ پنجابی زبان کادی ، کیوڑہ کو کہتے ہیں۔ چونکہ اس بستی میں زیادہ تر کیوڑہ فروش رہا کرتے تھے۔ اس لئے پوری بستی کو کادیان کہا جانے لگا۔ مرزا قادیانی کو جہاں دینی ومذہبی ماخذ میں توڑ مروڑ ،تحریف اور تاویل کرنے کا چسکہ لگا ہوا تھا وہاں وہ دنیاوی معاملات میں بھی ردو بدل اور حقائق کی پردہ پوشی کیا کرتے تھے۔ لہٰذا اپنی اس ذہنیت کی بناء پر انہوں نے کافی روپیہ خرچ کر کے سرکاری کاغذات میں اس کو قادیان لکھوایا اور مشہور یہ کیا کہ یہ لفظ درحقیقت قاضیان تھا جو اب بگڑ کر قادیان ہوگیا۔
(صحیفہ رنگون ص٣)
چند اعتراضات اور ان کے جوابات
فرق باطلہ کا ہمیشہ یہ دستور رہا ہے کہ وہ براہ راست مناظرے سے گریز کرتے ہیں۔ لیکن آڑ میں بیٹھ کر خطوط یا اشتہار بازی سے کام لے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی نے بھی رنگون میں یہی کیا اور صرف مراسلات واشتہارات ہی کو ذریعہ تخاطب بنایا۔ براہ راست مناظرے کی نوبت نہیں آنے دی۔ اپنے آخری اشتہار میں خواجہ صاحب نے اسلامی معتقدات کے خلاف چار سوالات قائم کر کے شائع کئے اور اپنے دماغ میں یہ مفروضہ قائم کرلیا کہ علماء اسلام سے ان کا جواب دیتے نہ بن پڑے گا۔ لیکن حضرت مولانا لکھنویؒ نے فی الفور ان سوالات کے جوابات لکھ کر شائع کر دیئے جو حسب ذیل ہیں۔
پہلا اعتراض ...... قرآن مجید ظاہر کرتا ہے کہ ہر رسول پر اسی قوم کی زبان میں وحی آئی ہے جس کی طرف وہ بھیجا گیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن عربی زبان میں اس لئے نازل ہوا ہے تا کہ مخاطب لوگ اس کو سمجھ سکیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ قرآن اور محمد ﷺ صرف عرب ہی کے لئے آئے تھے۔ اس لئے یہ دعویٰ کیوں کیا جاتا ہے کہ قرآن ساری دنیا کے لئے آیا ہے؟
جواب ...... قرآن مجید میں مذکورہ مضمون صرف ان نبیوں کی بابت آیا ہے جو
١٩٥
آنحضرت ﷺ سے پہلے آئے تھے۔ کیونکہ آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کی نبوت ساری دنیا کے لئے نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ ہر نبی صرف ایک خاص قوم کے لئے ہوتا تھا اور اسی قوم کی زبان میں ان پر وحی اترتی تھی۔ اس قضیہ کو الٹ کر یہ نتیجہ نکالنا کہ جس نبی کی جو زبان ہو اس کی نبوت اسی قوم کے ساتھ مخصوص ہے، غلط ہے۔ قرآن عربی زبان میں اس لئے آیا ہے کہ سب سے پہلے اس کی روشنی عرب میں پھیلے اور پھر اس کے ذریعے ساری دنیا منور ہو۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری ہوتا ہے: ’’لتکونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا (بقرہ:١٤٣)‘‘ ﴿اے اہل عرب! تم سب لوگوں کے سامنے گواہی دینے والے بنو اور رسول تمہارے سامنے گواہی دینے والے بنیں۔﴾
یہاں قرآن یہ صاف تصریح کر رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کی ہدایت ساری دنیا کے لئے ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں حسب ذیل آیتیں مزید اس کی شاہد ہیں۔
- ١...... ’’قل يايها الناس انی رسول الله اليكم جميعاً...... فامنوا بالله
ورسوله النبي الامی (الاعراف:١٥٨)‘‘ ﴿اے نبی کہہ دیجئے کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر۔﴾
- ٢...... ’’وما ارسلنک الا كافة للناس بشيراً ونذيرا (سباء:٢٨)‘‘ ﴿اے نبی
ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔﴾
- ٣...... ’’واوحى الى هذا القرآن لانذركم به ومن بلغ (الانعام:١٩)‘‘ ﴿یہ
قرآن مجھ پر وحی کیا گیا تاکہ میں تم کو اس کے ذریعہ سے ڈراؤں اور نیز ان تمام لوگوں کو (ڈراؤں) جن تک یہ قرآن پہنچ جائے۔﴾
- ٤...... ’’تبارك الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعلمين نذيراً
(الفرقان:١)‘‘ ﴿برکت والا ہے وہ خدا جس نے اپنے بندوں پر قرآن اتارا تاکہ وہ تمام دنیا کے لئے ڈرانے والا بنے۔﴾
لہٰذا جب قرآن مجید کی یہ واضح تصریح ہے تو اس کے خلاف آیت کا مطلب لینا کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کسی کلام سے کوئی ایسا مفہوم استنباط کرنا جو اس کلام کے دوسرے حصہ کی تصریح کے خلاف ہو یہ عقلاً بھی جائز نہیں ہے۔
دوسرا اعتراض....... قرآن دوسرے مذاہب کو تسلیم کرتا ہے اور توریت کو نور ہدایت کہتا ہے
اس لئے ایسی حالت میں اگر یہ وحیاں کامل تھیں تو کیوں لوگ کیوں کامل چیز سے محروم کئے گئے۔
جواب....... قرآن شریف نے بیشک یہ بیانا اور ہدایت اتری ہے۔ مگر یہ کہیں نہیں بیان کیا گیا کہ دنیا تعلیم ان کی نبیوں نے دی تھی۔ جب کہ اس کے برعکس یہ کی تعلیمات اور ان کی خدائی کتابوں میں ان نبیوں کے اس تحریف و ترمیم کا ثبوت تاریخی واقعات اور دوسرے چاہیئے کہ اگلی شریعتوں کے منسوخ ہونے کے دو اسباب باقی نہیں رہی تھی اور ان میں بہت کچھ تحریفات کر دی گئ لے کر آیا ہے۔ جب کہ اگلی شریعتیں بہ نسبت شریعت جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے: "الیوم اکمل نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا۔)
لہٰذا اگلی شریعتوں کے بہ نسبت شریعت مح کے مسائل دیکھنے سے بھی بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔
اب یہ کہنا کہ اگلی قومیں کیوں ایسے دی اعتراض ہے۔ نظام عالم ہم کو بتلا رہا ہے کہ قانون قد جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ اس وقت کمزور ہوتا انسان سے تعلق رکھتی ہیں وہ بتدریج اس میں پیدا اعتراض کرنا کہ پہلے ہی سب قوتیں انسان کو کیوں گئے۔ قانون فطرت پر اعتراض کرنا ہے۔
تیسرا اعتراض....... بہائی لوگ کہتے ہیں کہ ق علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا کہ ہم وقتاً فوقتاً پیغمبر بھیج سلسلہ قائم رہنا چاہئے اور محمد (ﷺ) پر نبوت ختم
جواب....... بہائی لوگوں کا، یا ان سے یہ کہنا کہ نبوت ختم نہیں ہوئی ہے۔ قرآن اور عقل ہے کہ محمد ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی ہے۔
اس لئے ایسی حالت میں اگر یہ وحیاں کامل تھیں تو کیوں منسوخ ہوئیں اور اگر کامل نہیں تھیں تو وہ لوگ کیوں کامل چیز سے محروم کئے گئے۔
جواب ...... قرآن شریف نے بیشک یہ بیان کیا ہے کہ ہر قوم اور ہر ملک میں نبی آئے اور ہدایت اتری ہے۔ مگر یہ کہیں نہیں بیان کیا گیا کہ دنیا کے موجودہ مذاہب بعینہ وہی ہیں جن کی تعلیم ان کی نبیوں نے دی تھی۔ جب کہ اس کے برعکس یہ تصریح ضرور اکثر آیتوں میں ہے کہ انبیاء کی تعلیمات اور ان کی خدائی کتابوں میں ان نبیوں کے بعد بہت کچھ تحریف و ترمیم کر دی گئی ہے۔ اس تحریف و ترمیم کا ثبوت تاریخی واقعات اور دوسرے دلائل سے بھی ہم کو ملتا ہے۔ لہٰذا یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگلی شریعتوں کے منسوخ ہونے کے دو اسباب ہیں۔ ایک یہ کہ وہ شریعتیں اصلی حالت پر باقی نہیں رہی تھی اور ان میں بہت کچھ تحریفات کر دی گئی تھیں۔ دوسرے یہ کہ قرآن مجید دین کامل لے کر آیا ہے۔ جب کہ اگلی شریعتیں بہ نسبت شریعت محمدیہ کے دین کامل لے کر نہیں آئی تھی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے: ”الیوم اکملت لکم دینکم (مائدہ:٣) ”﴿آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا ہے۔“
◄ لہٰذا اگلی شریعتوں کے بہ نسبت شریعت محمدیہ کا مکمل ہونا اور مذکورہ بالا دوسری شریعتوں کے مسائل دیکھنے سے بھی بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔
اب یہ کہنا کہ اگلی قومیں کیوں ایسے دین کامل سے محروم کی گئیں۔ یہ ایک بے جا اعتراض ہے۔ نظام عالم ہم کو بتلا رہا ہے کہ قانون قدرت یہی ہے کہ ترقی بتدریج ہوتی ہے۔ چنانچہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ اس وقت کمزور ہوتا ہے۔ کیونکہ بولنا چلنا پھرنا اور تمام وہ قوتیں جو انسان سے تعلق رکھتی ہیں وہ بتدریج اس میں پیدا ہوتی ہیں اور ترقی کرتی ہیں۔ لہٰذا اس پر یہ اعتراض کرنا کہ پہلے ہی سب قوتیں انسان کو کیوں نہ مل گئیں اور بچے اس کمال سے کیوں محروم کئے گئے۔ قانون فطرت پر اعتراض کرنا ہے۔
تیسرا اعتراض ...... بہائی لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبری ختم نہیں ہوئی ہے۔ خدا نے حضرت آدم علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا کہ ہم وقتاً فوقتاً پیغمبر بھیجتے رہیں گے۔ اس لئے بنی آدم میں ہمیشہ نبوت کا سلسلہ قائم رہنا چاہئے اور محمد (ﷺ) پر نبوت ختم ہونے کا عقیدہ غلط ہے۔
جواب ...... بہائی لوگوں کا، یا ان سے سیکھ کر مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروؤں کا یہ کہنا کہ نبوت ختم نہیں ہوئی ہے۔ قرآن اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔ قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ محمد ﷺ پر نبوت ختم ہو گئی ہے۔
١٩٧
”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب : ٤٠)“ ”محمد ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔“
قرآن مجید کی وہ آیات جن کا حوالہ اعتراض میں ہے۔ ان کا مطلب وہ نہیں ہے جو بہائی اور مرزائی بیان کرتے ہیں بلکہ ان کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ خدا کی طرف سے نبی آئیں گے اور ہدایت آئے گی کسی لفظ سے اشارہ بھی یہ نہیں نکلتا کہ نبوت کبھی ختم نہیں ہوگی۔ یہ بات دوسرے اعتراض کے جواب میں بیان ہوچکی ہے کہ اگلی شریعتیں کیوں منسوخ ہوتی ہیں۔ چونکہ منسوخیت کی وہ وجہ شریعت محمدیہ میں نہیں ہے۔ اس لئے محمد ﷺ پر نبوت کا ختم ہوجانا عقل کے بھی موافق ہے۔ اگلی شریعتیں دین کامل نہیں تھیں اور شریعت محمدیہ دین کامل ہے۔ اگلی شریعتوں میں تحریف ہوگئی تھی۔ لیکن شریعت محمدیہ کے محفوظ رہنے کا خود خدا تعالیٰ ذمہ دار ہے۔
”انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (الحجر:٩)“ ”یہ نصیحت ہم نے اتاری ہے اور ہم خود (ہی) اس کے محافظ ہیں۔“
شریعت محمدیہ کا محفوظ رہنا ان سلسلۂ اسانید کے علاوہ جو اہل اسلام کے پاس ہیں تاریخی واقعات اور غیر مسلم اصحاب کی شہادت سے بھی بخوبی ظاہر ہے۔
چوتھا اعتراض ...... قرآن کسی خاص پیغمبر کی پیروی میں نجات کو منحصر نہیں کرتا جیسا کہ دوسرے پارے کی آیت سے ظاہر ہے۔ لہٰذا صرف دین اسلام ہی قبول کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
جواب...... کسی خاص پیغمبر کی پیروی میں نجات کا منحصر نہ ہونا صرف خواجہ کمال الدین ہی کا قول ہے۔ ورنہ قرآن کی بہت سی آیتوں میں بیان ہوا ہے کہ نجات دین اسلام میں منحصر ہے۔
”ومن يبتغ غير الاسلام ديناً فلن يقبل منه (آل عمران:٨٥)“ ”جو شخص اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا تو وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا۔“
دوسرے پارے کی وہ آیت جس کا حوالہ لائق معترض نے دیا ہے اس کا مطلب انہوں نے صحیح بیان نہیں کیا ہے۔ اس آیت کا منشاء صرف اس قدر ہے کہ قرآن نجات کو کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں بتاتا۔ جیسا کہ یہودیوں کا قول تھا: ”الذین آمنوا“ اور ”نصاریٰ“ اور ”صابئین“ وغیرہ الفاظ مذہبی حیثیت سے متجاوز ہوکر قومیت کے معنی میں مستعمل ہونے لگے تھے۔ لفظ عرب، قومیت کے معنی میں مخصوص ہے۔ مگر تمدن عرب کا مصنف مذہبی معنوں میں استعمال کرتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو خواہ کسی بھی قوم کے ہوں وہ عرب کہتا ہے۔ اس لئے قرآن نے
١٩٨
کہ جو شخص اسلام قبول کرے خواہ وہ کسی قوم کا ہو نجات کا مستحق ہیں جو خواجہ کمال الدین کہتے ہیں تو معاذ اللہ یہ ایک مہمل کلام
”آمنوا“ کے ساتھ ”من آمن“ کا لفظ کسی طرح نہیں لگ سکتا کہ وہ ایمان لائیں بے معنی ہے۔
رسالہ کے بعض دوسرے مباحث
ان مکمل جوابات کے بعد پھر خواجہ صاحب کی طر وہ انتہائی ذلت ورسوائی کے ساتھ رنگون سے روانہ ہوگئے۔
جن میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں کے ستائیس اقتبا ان سے پوری طرح ثابت ہوتا ہے کہ وہ مدعی نبوت تھے۔
لاہوری پارٹی اکثر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے یہ کہہ د دعویٰ کیا ہے مگر یہ دعویٰ محض مجازی، ظلی، بروزی اور غیرمستقل ن نئی شریعت ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔
اس کے علاوہ اس رسالہ کا سب سے زیادہ اہ کے مسئلہ پر گفتگو کی گئی ہے۔ یہ مسئلہ ایسا مہتم بالشان ہے لے کر اس وقت تک ہر زمانہ اور ہر مقام کے مسل آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔ لہٰذا جو شخص بھی کذاب ودجال ہے اور قطعاً کافر ہے۔
ایک بار مولانا لکھنوی سے مناظرہ کرنے کے نورالدین (م١٣٣٢ھ) نے تین مرزائی مولویوں کو جن اور میر قاسم علی دہلوی تھے۔ لکھنؤ بھیجا تھا ان لوگوں ن مناظرہ کی خواہش ظاہر کی۔ چنانچہ مولانا ممدوح نے اس ایک مضمون ختم نبوت پر اور ایک مضمون حیات مسیح پر مرق جواب نہیں دیا۔
کفر کا فتویٰ
رسالہ کے آخر میں ٢٨٨ علماء اسلام کے اس
١٩٩
بتایا کہ جو شخص اسلام قبول کرے خواہ وہ کسی قوم کا ہو نجات کا حقدار ہے۔ اگر آیت کے وہ معنی لئے جائیں جو خواجہ کمال الدین کہتے ہیں تو معاذ اللہ یہ ایک مہمل کلام ہوا جاتا ہے۔ اس لئے کہ ”الذین امنوا“ کے ساتھ ”من امن“ کا لفظ کسی طرح نہیں لگ سکتا۔ یعنی ایمان والوں کے لئے یہ شرط لگانا کہ وہ ایمان لائیں بے معنی ہے۔
(صحیفہ رنگون ص ٢٨ تا ٣٢)
رسالہ کے بعض دوسرے مباحث
ان مکمل جوابات کے بعد پھر خواجہ صاحب کی طرف سے کوئی جواب الجواب نہیں آیا اور وہ انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ رنگون سے روانہ ہو گئے۔ اس رسالہ کا ایک اہم حصہ وہ ہے جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں کے ستائیس اقتباسات بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں۔ جن سے پوری طرح ثابت ہوتا ہے کہ وہ مدعی نبوت تھے۔ یہ اس لئے ضروری ہوا کہ مرزائیوں کی لاہوری پارٹی اکثر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے یہ کہہ دیتی ہے کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت تو کیا ہے مگر یہ دعویٰ محض مجازی، ظلی، بروزی اور غیر مستقل نبوت کا ہے اور یہ کہ انہوں نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔
(صحیفہ رنگون ص ١٠١)
اس کے علاوہ اس رسالہ کا سب سے زیادہ لائق توجہ وہ حصہ ہے جس میں ختم نبوت کے مسئلہ پر گفتگو کی گئی ہے۔ یہ مسئلہ ایسا مہتم بالشان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک سے لے کر اس وقت تک ہر زمانہ اور ہر مقام کے مسلمانوں کا اس پر اجماع قطعی ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔ لہٰذا جو شخص بھی آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کذاب و دجال ہے اور قطعاً کافر ہے۔
ایک بار مولانا لکھنوی سے مناظرہ کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کے خلیفہ حکیم نور الدین (م ١٣٣٢ھ) نے تین مرزائی مولویوں کو جن کے نام مولوی سرور شاہ، مفتی محمد صادق اور میر قاسم علی دہلوی تھے۔ لکھنؤ بھیجا تھا ان لوگوں نے زبانی مناظرہ کرنے کے بجائے تحریری مناظرہ کی خواہش ظاہر کی۔ چنانچہ مولانا ممدوح نے اپنے رسالہ ”النجم“ لکھنؤ کی جلد ١٠ نمبر ١٣ میں ایک مضمون ختم نبوت پر اور ایک مضمون حیات مسیح پر سپرد قلم کیا جس کا آج تک کسی مرزائی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
(صحیفہ رنگون ص ١١٣)
کفر کا فتویٰ
رسالہ کے آخر میں ٢٨٨ علماء اسلام کے اسماء گرامی درج ہیں جنہوں نے فتویٰ پر دستخط
١٩٩
کئے تھے کہ مرزاغلام احمد اور ان کے متبعین قطعاً کافر ہیں۔ ان کے ساتھ کوئی اسلامی معاملہ جائز نہیں ہے۔ نہ ان کے ساتھ مناکحت درست ہے۔ نہ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال ہے۔ نہ ان کو اپنی مسجدوں میں نماز کی اجازت دینی چاہئے اور نہ ہی ان کے مردوں کو اپنے قبرستانوں میں دفن کرنے کی، ان دستخط کنندگان میں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ (م ١٣٨١ھ)، مولانا محمد داؤد غزنویؒ (م ١٩٦٣ء)، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ (م ١٣٦٧ھ)، مولانا محمد یحییٰ قاضی شہر بھوپال، مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب دہلویؒ (م ١٣٧٢ھ)، مولانا مفتی محمد سہول صاحب بھاگلپوری (م ١٣٦٧ھ)، شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحبؒ (م ١٣٣٩ھ)، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (م ١٣٦٩ھ)، مولانا محمد ابراہیم بلیاویؒ (م ١٣٨٧ھ)، شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحبؒ (م ١٣٧٤ھ)، مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوریؒ (م ١٣٤٦ھ)، مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوریؒ (م ١٩١٩ء)، مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوریؒ (١٣٨٢ھ)، مولوی عبدالرؤف صاحب دانا پوری، مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محلیؒ (م ١٣٤٤ھ)، مولانا عبدالشکور صاحب لکھنویؒ اور مولانا سید فخر الدین صاحب مراد آبادیؒ (م ١٩٧٢ء) وغیرہم کے نام نامی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
(صحیفہ رنگون ص ١٣٢ تا ١٤٢)
اس فتوے کے بعد قادیانیوں کے خلاف ایک عدالتی فیصلہ بھی درج کیا گیا ہے جو مسلمانان اڈیسہ کی درخواست پر کٹک کی عدالت نے ١٠؍ فروری ١٩١٩ء کو صادر کیا تھا۔ اس مقدمہ کی پوری کارروائی اخبار ”وحی اڑیا کٹک“ نے ٢٦؍ مارچ ١٩١٩ء کو شائع کی تھی۔
دوسرا رسالہ
اس سلسلہ کے دوسرے رسالہ کا نام ہے۔ ”صولت محمدیہ برفرقہ غلمدیہ“ سب سے پہلے رسالہ ١٩٢٤ء میں ”النجم“ لکھنؤ کے صفحات پر قسط وار شائع ہوتا رہا پھر اس کے بعد علیحدہ سے کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا۔ اس کے مرتب و ناشر مولانا عبدالسلام صاحب فاروقیؒ (م ١٩٧٤ء) تھے جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت لکھنویؒ کے صاحبزادے تھے۔ اس رسالہ کے اندر ایک تاریخی مقدمہ کی کاروائی درج ہے جو غیر منقسم ہندوستان کی مشہور ریاست بہاول پور (پنجاب) کی عدالت میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان دائر تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ مضافات بہاول پور میں مولوی الٰہی بخش نامی ایک صاحب نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک شخص کے ساتھ کیا۔ ابھی رخصتی نہیں ہونے پائی تھی کہ وہ شخص مرتد ہو کر قادیانی ہو گیا۔ مولوی صاحب نے عدالت میں فسخ نکاح کا ٢٠٠
دعوٰی دائر کر دیا۔ لیکن بعض روشن خیال افسران نے قانون وغیرہ کا بہانہ بنا کر مقدمہ دائر کرنے سے روک دیا۔ مجبور ہو کر مولوی الٰہی بخش نے ریاست کی عدالت میں فسخ نکاح کا دعوٰی دائر کر دیا۔ اس پر مقامی و اسلامی عدالت نے فریقین کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اپنے مؤقف کی تائید میں علماء کو عدالت میں پیش کریں۔ اس عرصہ میں یہ بجائے شخصی کے ایک قومی و ملّی مسئلہ بن گیا، لہٰذا تمام ملی موئید الاسلام بہاول پور نے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ مولانا محمد شفیع صاحب اور قاضی محمد سعید بہاول پورنے جو کہ ریاست کے صدرالصدور بھی تھے اس مقدمہ میں نمایاں حصہ لیا۔ ان کے سامنے قادیانیت کے خلاف شہادت دینے کے لئے دعوت دی گئی، چنانچہ جن حضرات نے عدالت میں شہادت دی ان میں مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ (م ١٩٣٣ء)، مولانا نجم الدینؒ (م ١٣٨١ھ) سابق صدر المدرسین مدرسہ امدادیہ مراد آباد، مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ (م ١٩٧٦ء) سابق پروفیسر اورینٹل کالج لاہور، مولانا محمد شفیع صاحبؒ (م ١٩٧٦ء) مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند، مولانا محمد حسین صاحب ساکن کوکوٹارڑ ضلع گوجرانوالہ، مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری صاحبؒ (م ١٩٦٢ء) تھے۔
علماء کا فیصلہ
ان حضرات کی شہادتوں کا خلاصہ یہ تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین مرتد ہیں۔ ان کے ساتھ مناکحت حرام ہے۔ اگر نکاح کے بعد کوئی شخص قادیانی ہو جائے تو اس کا نکاح بغیر قضاء قاضی فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی منکوحہ کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا حق ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے کافر و مرتد ہونے کے اسباب حسب ذیل ہیں:
کہ انہوں نے اپنے اوپر وحی نازل ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ دوم یہ کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ سوم یہ کہ انہوں نے حضرات انبیاء علیہم السلام خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں سخت گستاخیاں کیں تھیں۔ چہارم یہ کہ انہوں نے ضروریات دین اور قطعیات اسلام کا انکار کیا تھا اور پنجم یہ کہ انہوں نے تمام دنیا کے ان مسلمانوں کو جو ان پر ایمان نہ لائیں کافر کہا ہے۔
اس فرقہ کو احمدی کہنا گناہ ہے
مولانا لکھنویؒ فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے پیرو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں۔ ان ٢٠١
مقدمہ دائر کر دیا۔ لیکن بعض روشن خیال افسران نے قانون وقت کے مطابق اس دعویٰ کو خارج کرا دیا۔ مجبور ہوکر مولوی الٰہی بخش نے ریاست کی عدالت میں جو کہ ایک اسلامی ریاست تھی اپیل دائر کر دی۔ اسلامی عدالت نے فریقین کو ہدایت دی کہ وہ اپنے مشہور اور مستند علماء کی مذہبی شہادت عدالت میں پیش کریں۔ اس عرصہ میں یہ بجائے شخصی کے ایک ملی معاملہ بن گیا۔ لہٰذا اس کی پیروی انجمن موئید الاسلام بہاول پور نے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ مولانا غلام محمد صاحب، شیخ الجامعہ جامعہ عباسیہ بہاول پور نے جو کہ ریاست کے صدر الصدور بھی تھے اس وقت کے اکابر اور اماثل کو عدالت کے سامنے قادیانیت کے خلاف شہادت دینے کے لئے دعوت دی۔ جن علماء نے بہاول پور جا کر عدالت میں شہادت دی ان میں مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ (م ١٣٦١ھ) سابق صدر المدرسین مدرسہ امدادیہ مرادآباد، مولانا نجم الدین صاحبؒ (م١٩٥٢ء) سابق پروفیسر اورینٹل کالج لاہور، مولانا محمد شفیع صاحبؒ (م١٣٩٦ھ) سابق مفتی دارالعلوم دیوبند، مولانا محمد حسین صاحبؒ ساکن کولو تارڑ ضلع گوجرانوالہ اور مولانا عبد الشکور صاحب لکھنویؒ (م١٩٦٢ء) تھے۔
(صولت محمدیہ ص ٢٣ تا ٢٤)
علماء کا فیصلہ
ان حضرات کی شہادتوں کا خلاصہ یہ تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین کافر و مرتد ہیں۔ ان کے ساتھ مناکحت حرام ہے۔ اگر نکاح کے بعد کوئی شخص مرزائی ہو جائے تو وہ نکاح بغیر قضاء قاضی فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی منکوحہ کو دوسری جگہ نکاح کر لینا درست ہے۔
(صولت محمدیہ ص ٢٤)
مرزا غلام احمد قادیانی کے کافر و مرتد ہونے کے پانچ وجوہ بیان کئے گئے تھے۔ اوّل یہ کہ انہوں نے اپنے اوپر وحی نازل ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ دوم یہ کہ انہوں نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ سوم یہ کہ انہوں نے حضرات انبیاء علیہم السلام کی اور حضرت سید الانبیاء ﷺ کی شان میں سخت گستاخیاں کیں تھیں۔ چہارم یہ کہ انہوں نے ضروریاتِ دین کا مثلاً حشر جسمانی وغیرہ کا انکار کیا تھا اور پنجم یہ کہ انہوں نے تمام دنیا کے ان مسلمانوں کو جو ان کو نبی نہیں تسلیم کرتے کافر کہا ہے۔
(صولت محمدیہ ص ٢٤)
اس فرقہ کو احمدی کہنا گناہ ہے
مولانا لکھنویؒ فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے ماننے والے اپنے کو ”احمدی“ لکھتے اور
کہتے ہیں اور اکثر مسلمان بھی اپنی نادانی اور کم علمی کی بناء پر انہیں ”احمدی“ کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کو احمدی کہنے میں تین گناہ ہیں۔
- اوّل...... احمدی کہنا گویا اس افتراء کی تصدیق کرنا ہے جو وہ اپنی کتابوں میں لکھ گیا ہے کہ آیہ
کریمہ: ”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (الصف:٦)“ ﴿اور میں بشارت سناتا ہوں کہ ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے ان کا نام احمد ہوگا۔﴾ کا مصداق میں ہی ہوں۔
- دوم...... احمدی کہنے میں اس امر کا شبہ ہوتا ہے کہ شاید یہ نسبت سید الانبیاء ﷺ کے نام مبارک
”احمد“ کی طرف ہے جب کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔
- سوم...... آج سے بہت پہلے لفظ ”احمدی“ امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندیؒ
کے متوسلین کا مخصوص لقب رہ چکا ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ کے اکابر بطور شعار یہ لفظ اپنے نام کے ساتھ استعمال کیا کرتے تھے جیسے (شاہ) غلام علی احمدی اور (شاہ) احمد سعید احمدی وغیرہ ان حضرات کی مہروں میں یہ نسبت اسی طرح کندہ تھی اس لئے قادیانیوں کو احمدی کہنا گویا اکابر امت کے ایک امتیازی لقب کا غصب کرنا ہے۔
(صولت محمدیہ ص ٢٠)
فرقہ غلمدیہ
اس فرقہ کا ایک مشہور نام مرزائی ہے لیکن یہ لوگ اس نام سے چڑتے ہیں۔ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ اس فرقہ کو ”جدید عیسائی“ کہا کرتے تھے۔ کیونکہ ان کا مقتدیٰ اپنے عیسیٰ ہونے کا مدعی تھا۔ لیکن حضرت مولانا عبدالشکور صاحب لکھنویؒ اس فرقہ کو غلمدی کہا کرتے تھے۔ غلام احمد نام میں دو جز ہیں اور دونوں کی طرف نسبت اس نام میں آگئی ہے۔ عربی قاعدہ کے مطابق بھی یہ طریق نسبت کثیر الاستعمال ہے۔ جیسے عبدالقیس سے عبقسی، عبدالدار سے عبدری اور عبدالشمس سے عبشمی وغیرہ علمی حلقوں میں یہ نام بہت مقبول ہوا تھا۔ حضرت مونگیریؒ نے بھی اس نام کو بہت پسند کیا تھا۔ چنانچہ ان کے متوسلین اس نام کو برابر اپنی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تحریروں میں استعمال کیا کرتے تھے۔
(صولت محمدیہ ص ٢١)
یہ پورا رسالہ چھیاسٹھ صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کے اکثر و بیشتر مضامین وہی ہیں جو ”صحیفہ رنگون بر پیروان دجال قادیان“ میں لکھے گئے ہیں۔ لہٰذا ان کی تکرار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہ وقت کا اہم تقاضہ ہے کہ ایسے رسائل اور کتابیں جو اب نایاب ہوتی جارہی ہیں۔ انہیں دوبارہ شائع کیا جائے تاکہ ان سے روشنی حاصل کر کے آنے والی نسلیں صحیح اور سیدھی راہ کو اختیار کرسکیں اور عقائد کی گمراہیوں سے خود بھی بچ سکیں اور دوسروں کو بھی بچاسکیں۔
٢٠٢
ماہنامہ
شمس الاسلام
کادیان
حضرت مولانا ظہور
بسم الله الرحمن الرحيم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
ماہنامہ
شمس الاسلام بھیرہ
قادیان نمبر
حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اسلام اور مرزائیت کا تضاد
تکفیر اہل قبلہ اور لعن معین پر عالمانہ بحث
حضرت ارژنگ کا یہ مضمون اخبار زمیندار مورخہ ١٩ مارچ ١٩٣٣ء میں شائع ہوا تھا۔ اس کا خلاصہ دوبارہ شمس الاسلام میں شائع کیا جاتا ہے۔ اس کی اشاعت سے انشاء اللہ بہت سے شکوک رفع ہو جائیں گے۔ اور جو لوگ مذہب کی قبا اوڑھ کر مسلمانوں کو مرزا کے دام میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ عام مسلمان ان کے مکائد سے بخوبی واقف ہو جائیں گے۔
وہ دجالی فتنہ اور انکار ختم نبوت جس کی پیش گوئی حضور مخبر صادق ﷺ سے تواتر کو پہنچ چکی ہے۔ ایک بار پھر اٹھا اور ہند کے آغوش میں پلا۔ حکومت ہند کے سایہ میں روایتی پچاس الماریوں کی کیف آور معجون کھا کھا کر جوان ہوا اور بحکم کل شئی یرجع الی اصلہ کبھی یورپ کے ہوش ربا ہوٹلوں اور گاہے امریکہ کی دل رہا رقص گاہوں میں مصروف کار رہا۔ ہماری حیرت و تعجب کی کوئی حد نہیں رہتی۔ جب ہم اس کو یکا یک اس دور نامسعود میں حکومت کے ایوانوں، عدالت کی قہرمان طاقتوں، پھر مساجد کے ممبروں، واعظوں کی طاقت لسانی اور شیریں مقالیوں، علماء کے جدال علمی، حضرات صوفیہ کے رین بسیروں کے دامن دراز میں پناہ گزیں ہوتا دیکھتے ہیں۔
دو گنا مصیبت
مسلمانان ہند کان کھول کر اچھی طرح سن لیں کہ اس وقت یہ فتنہ دو حربوں سے مسلح ہو کر ھل من مبارز کا اعلان کر رہا ہے۔
- .......١ حکومت وقت کی طاقت اس کی پشتیبان ہے۔
- .......٢ علماء و خواجگان کا علم و تصوف اس کا حوصلہ افزاء اور اس کے لئے راستہ صاف کر رہا ہے۔
یہ حربہ بالکل نیا اور نہایت ہی خطرناک ہے۔ جنگ عظیم کے دوران میں اور اس کے بعد استعمار پسندوں کے لئے جس قدر یہ حربہ مفید ثابت ہوا ہے۔ اتنا ڈیڑھ فٹ دہانے کی توپیں بھی
ہرگز ثابت نہیں ہوتیں۔ یہی وہ حربہ ہے جس کے ہوتے ہو کامیاب نہیں ہو سکتی۔ آج اس کے ذریعہ مرزائیت کی جڑوں کو اور علم اور فتاویٰ سے، خواجگان اپنے مکاشفات اور وجدانیات س ہیں۔ خدا کی شان بے نیازی بجز اس کے کیا کہا جائے ؎
عن ناظريك لما اضاء ال
علماء و خواجگان کے ارشادات کا خلاصہ
غور کے بعد تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نئے
- .......١ یہ زمانہ باہمی اختلاف و فساد کا نہیں بلکہ اتحاد و یگانگت
اپنے ساتھ ملا رہے ہیں تو مسلمانوں کے لئے افتراق باہمی کس ط مگر حیرت ہے کہ حضرت واعظ اور تقدس مآب ز نہیں فرماتے۔ تمام رواداریاں صرف ہم پر کیوں ختم کر دی جات اکبر کو کیوں نہ سوجھا۔ صدیق و فاروق نے قیصر کے مقابلہ ک رسالت سے اس نہایت ہی آڑے وقت میں کیوں سیاسی اتحاد کے باعث حضرت عثمان ذی النورین جیسے اکابر صحابہ دریائے خ تھے۔ نصوص شاہد ہیں۔ واقعات تاریخیہ گواہ ہیں کہ مسیلمہ اور قا دعوت دینا قرن اول کی مقدس ترین جماعت (صحابہ کرام) ک ذمت) پاس کرنا ہے۔ جیسے آئندہ چل کر واضح ہوگا۔
- .......٢ اہل قبلہ کی تکفیر ناجائز ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
توجب الكفر ووجه واحد يمنع فعلى المفتى أن ي ﴿جب کوئی مسئلہ متعدد وجوہ سے کفر کا باعث ہو چاہئے کہ صرف اسی ایک وجہ کو لے۔﴾ لیکن اسی عبارت کے
بارادة توجب الكفر فلا ينفعه التاويل “ ﴿لیکن اگر کوئی شخص کھلم کھلا ایسے عقیدے کا اعل پھر وہ کفر سے بچ نہیں سکتا۔﴾
٣
کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔ یہی وہ حربہ ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی تحریک کسی صورت میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ آج اس کے ذریعہ مرزائیت کی جڑوں کو سیراب کیا جا رہا ہے۔ علماء اپنے زور علم اور فتاویٰ سے، خواجگان اپنے مکاشفات اور وجدانیات سے اس فتنہ کو برابر ہوا دے رہے ہیں۔ خدا کی شان بے نیازی بجز اس کے کیا کہا جائے ؎
عن ناظریک لما اضاء الفرقد
علماء و خواجگان کے ارشادات کا خلاصہ
غور کے بعد تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نئے حربہ کے تین حصے ہیں۔
- ١....... یہ زمانہ باہمی اختلاف و فساد کا نہیں بلکہ اتحاد و یگانگت کا ہے۔ جب ہندو اچھوتوں کو
اپنے ساتھ ملا رہے ہیں تو مسلمانوں کے لئے افتراق باہمی کس طرح زیبا نہیں۔
مگر حیرت ہے کہ حضرت واعظ اور مقدس مآب زاہد یہی نکتہ مرزائیوں کو کیوں تلقین نہیں فرماتے۔ تمام رواداریاں صرف ہم پر کیوں ختم کر دی جاتی ہیں۔ پھر یہی نکتہ حضرت صدیق اکبرؓ کو کیوں نہ سوجھا۔ صدیقؓ و فاروقؓ نے قیصر کے مقابلہ کے لئے مرتدین عرب، منکرین ختم رسالت سے اس نہایت ہی آڑے وقت میں کیوں سیاسی اتحاد نہ کیا۔ جب کہ حضورﷺ کی وفات کے باعث حضرت عثمان ذی النورینؓ جیسے اکابر صحابہ دریائے حیرت و سراسیمگی میں غوطے کھا رہے تھے۔ نصوص شاہد ہیں۔ واقعات تاریخیہ گواہ ہیں کہ مسیلمہ اور قادیانی کو کلمہ گو قرار دیکر سیاسی اتحاد کی دعوت دینا قرن اول کی مقدس ترین جماعت (صحابہ کرامؓ) کے خلاف ووٹ آف سنشر (قرارداد مذمت) پاس کرنا ہے۔ جیسے آئندہ چل کر واضح ہوگا۔
- ٢....... اہل قبلہ کی تکفیر ناجائز ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ”اذا کان فی المسئلة وجوہ
توجب الکفر و وجہ واحد یمنع فعلی المفتی ان یمیل الی ذالک الوجہ“
﴿جب کوئی مسئلہ متعدد وجوہ سے کفر کا باعث ہو۔ مگر ایک وجہ کفر کی مانع بھی ہو تو مفتی کو چاہئے کہ صرف اسی ایک وجہ کو لے۔ لیکن اسی عبارت کے بعد یہ بھی مذکور ہے: ”الا اذا صرح بارادة توجب الکفر فلا ینفعہ التاویل“
﴿لیکن اگر کوئی شخص کھلم کھلا ایسے عقیدے کا اعلان کرے جو کفر صریح کا موجب ہو تو پھر وہ کفر سے بچ نہیں سکتا۔﴾
- ٣...... تکفیر شخص معین، لعن فرد خاص ناجائز ہے۔ حالانکہ شرح مقاصد میں ہے۔
"ان ابا حنيفة: قال لجهم اخرج عنى يا كافر، وفى التسعينية لابن تيميه باسناد عن محمد قال قال ابو حنيفة لعن الله عمرو بن عبيد"
﴿امام اعظم ابو حنیفہ نے جہم بن صفوان، پیشوائے جہمیہ سے کہا او کافر! میرے گھر سے چلے جاؤ، امام ابن تیمیہ رسالہ تسعینیہ میں امام احمد سے ناقل ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے فرمایا: خدا عمر و بن عبید پر لعنت کرے۔
ذیل میں ہم ان پر شبہات کا تفصیلی جواب لکھنا چاہتے ہیں اور یہی ہماری اس خامہ فرسائی کا مقصد ہے۔ وبالله التوفيق
جواب شبہہ اول اور فتنہ مرزائیت کی تاریخ
اسلام میں سب سے پہلا فتنہ اور اس کے مکمل دستور العمل پر سب سے پہلا دارالکفر ختم رسالت اور شرک فی النبوۃ سے شروع ہو کر اسود عنسی، مسیلمہ کذاب، طلیحہ اسدی، سجاح کے رنگ میں نمودار ہوا۔ اگر ختم المرسلین ﷺ کی تدبیر صائب اور حضور ﷺ کی پیش گوئیاں ۔ صدیق اکبر کی فراست ایمانی، خالد بن ولید کی شمشیر خاراشگاف بروئے کار نہ آئیں تو یہ فتنہ اپنے اندر لاکھوں طوفان اور کروڑوں آندھیاں پوشیدہ رکھتا تھا۔
اسود عنسی : فتنہ ادعاء نبوت، حضور سرور کائنات ﷺ کے آخری دور حیات میں نمودار ہوا۔ چنانچہ حضور جب ١٠ھ میں حجۃ الوداع سے واپس تشریف لائے اور سفر کی تھکان کے باعث چند دن طبیعت علیل ہوئی۔ تو اسود نے اس کی اطلاع پا کر ختم نبوت کا انکار کرتے ہوئے اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔ بلاذری کی فتوح البلدان اور تاریخ طبری اور کامل ابن اثیر میں ہے:۔
کہ : ”اسود عنسی کا ارتداد دور نبوت کا اولین ارتداد تھا۔ وہ مرتد اس لئے تھا کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ شخص کاہن اور شعبدہ باز تھا۔ عجیب و غریب کرشمے دکھاتا تھا۔ قوم عنس اور بعض دوسری اقوام نے اس کی نبوت کا اعتراف کیا۔ اسود نے اپنا نام رحمن یمن تجویز کیا تھا۔ جیسے مسیلمہ اپنے آپ کو رحمن یمامہ کہتا تھا۔ پہلے اسود نے نجران پر حملہ کیا۔ پھر اس کی تحریک آگ کی طرح طائف، بحرین، احساء وعمان تک پھیل گئی ۔“
ختم الانبیاء کا اسود کے ساتھ سلوک
"وجاء الى السكون والى من باليمن من المسلمين كتاب النبى ﷺ
٤
وامرهم بقتال الاسود مصادمة اوغيلة"
آنحضرت ﷺ نے قوم سکون اور مسلمانان یمن کو حکم دیا کہ اسود کو قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ تعمیل ارشاد کے لئے فیروز او ر اس وقت اسود کے گھر میں گھس کر اس کو قتل کر دیا۔ علی الصبح ہر سہ حضرات نے اس کا سر اس کے لشکر میں پھینک دیا اور بآواز بلند اذان دیتے ہوئے یہ ان محمداً رسول الله وان عبهلة الاسود كذاب “ حضور علیہ السلام کو اس واقعہ کی اطلاع بذریعہ وحی اس ذریعے اس کے قتل کی بشارت مدینہ منورہ میں حضور ﷺ کے انتقال سے قبل پہنچی۔ قتل اسود صدیق اکبر کے لئے پہلی بشارت تھی۔
طلیحہ اسدی
تاریخ طبری اور کامل میں ہے: ”وكان طليحة ق يقول ان جبريل ياتيني ويسجع للناس الاكاذيب نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ طلیحہ کہا کرتا تھا کہ میرے پاس جبرائیل آ کر لوگوں کے سامنے جھوٹی مگر مسجع عبارتیں پیش کرے۔
اس کے گروہ نے حضرت صدیق اکبر کو پیغام بھی تے ہیں مگر زکوۃ نہیں دیں گے۔ اس پر صدیق نے فرمایا کہ بخدا اگر وہ رسی بھی روکیں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔
صدیق اور طلیحہ
طاقت کے مضبوط ہو جانے کے بعد طلیحہ نے مد بہت ہی کم وقفہ کے بعد بری طرح پسپا کر دیئے گئے۔ سلس تھی۔ فتنہ طلیحہ کی اہمیت اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس روز ص ”ذاللقصة“ تک مرتدین کا تعاقب کیا۔ کامل ابن اثیر می عوده في اربعين يوماً“
﴿حضرت صدیق اس مہم میں چالیس روز
٥
بامرهم بقتال الاسود مصادمة او غيلة “
بحوالہ سابقہ۔
آنحضرت ﷺ نے قوم سکون اور مسلمانان یمن کو حکم نامہ لکھا کہ جس طرح بھی بن پڑے اسود کو قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ تعمیل ارشاد کے لئے فیروز اور داذویہ اور قیس نے رات کے وقت اسود کے گھر میں گھس کر اس کو قتل کر دیا۔ علی الصبح ہر سہ حضرات نے سر کاٹ کر قلعہ کی دیوار کے نیچے اس کے لشکر میں پھینک دیا اور بآواز بلند اذان دیتے ہوئے یہ الفاظ کہے: ”اشہد ان محمد رسول الله وان عبهلة الاسود كذاب “
حضور علیہ السلام کو اس واقعہ کی اطلاع بذریعہ وحی اسی شب کو ہو گئی تھی مگر پیام بر کے ذریعے اس کے قتل کی بشارت مدینہ منورہ میں حضور ﷺ کے انتقال کے بعد ماہ ربیع الاول ١٠ھ کے آخر میں پہنچی۔ قتل اسود صدیق اکبرؓ کے لئے پہلی بشارت تھی۔
طلیحہ اسدی
تاریخ طبری اور کامل میں ہے: ”وكان طليحة قد تنباء فى حياته ﷺ كان يقول ان جبريل ياتينى وليسجع للناس الاكاذيب “ ﴿ حضور کی حیات ہی میں طلیحہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ طلیحہ کہا کرتا تھا کہ میرے پاس جبرائیل وحی لایا کرتے ہیں۔ اس نے لوگوں کے سامنے جھوٹی مسجع عبارتیں پیش کیں۔ ﴾
اس کے گروہ نے حضرت صدیق اکبرؓ کو پیغام بھیجا کہ ہم نماز کی فرضیت تسلیم کرتے ہیں مگر زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ اس پر صدیقؓ نے فرمایا کہ بخدا مال زکوٰۃ میں سے اگر اونٹ کا زانو بند بھی روکیں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔
صدیقؓ اور طلیحہ
طاقت کے مضبوط ہو جانے کے بعد طلیحہ نے مع فوج کے مدینہ پر شب خون مارا۔ لیکن بہت ہی کم وقفہ کے بعد بری طرح پسپا کر دیئے گئے۔ سلسلہ ردت میں اسلامی فوج کی یہ پہلی فتح تھی۔ فتنہ طلیحہ کی اہمیت اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس روز صدیق اکبرؓ نے مع اسلامی لشکر کے مقام ”ذالقصة“ تک مرتدین کا تعاقب کیا۔ کامل ابن اثیر میں ہے: ”وكانت غزوة الصديق عوده في اربعين يوماً“
﴿حضرت صدیق اس مہم میں چالیس روز تک مصروف رہ کر مدینہ واپس تشریف لائے۔﴾
٥
خالد و طلیحہ
صدیق اکبرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو فوج دے کر طلیحہ کے مقابلہ کے لئے روانہ کیا۔ مقام بزاخہ پر طرفین میں خون ریز جنگ ہوئی۔ عیینہ بن حصن فزاری نے (جو طلیحہ کا کمان دار اعظم تھا) طلیحہ سے بار بار دریافت کیا۔ کیا جبرائیل تمہارے پاس مژدۂ فتح نہیں لائے۔ طلیحہ عین جنگ میں وحی کا اسی طرح منتظر رہا جیسے قادیانی آسمانی منکوحہ کا۔ آخر مرتدین کو شکست فاش ہوئی۔ طلیحہ شام کی طرف بھاگ گیا۔ بعد میں تائب ہو کر دوبارہ ختم المرسلین کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہوا۔ فتوح عراق۔ علی الخصوص نہاوند اور جلولا وغیرہ معرکوں میں اس نے اپنی مردانگی کے اسلامی جوہر پوری شان سے دکھائے۔
مسیلمہ کذاب
مسیلمہ کذاب ١٠ھ میں وفد بنی حنیفہ کے ساتھ دربار رسالت میں حاضر ہوا اور حضور ﷺ سے کہنے لگا: ”ان شئت اخلنالك الامرو بايعناك على انه لنا بعدك فقال رسول الله لاولا نعمة عين ولكن الله قاتلك“
(فتوح البلدان از بلاذری)
- اگر آپ چاہیں تو ہم آپ ﷺ کی مزاحمت ترک کر کے آپ ﷺ سے اس شرط پر
بیعت کر لیتے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد مسند نبوت پر ہمارا قبضہ ہو۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ البتہ خدائی لشکر تم سے برسرپیکار ہوں گے۔ ﴿
دعویٰ نبوت
وفد مذکور واپس گیا۔ حجۃ الوداع کے بعد حضور ﷺ کی ناسازی طبیعت سن کر مسیلمہ نے موقع کو غنیمت سمجھا اور نبوت کا اعلان کر دیا۔ بلاذری، طبری، کامل میں ہے کہ مسیلمہ جب سفر مدینہ یمامہ واپس آیا تو مرتد ہو کر اس نے نبوت کا اعلان کر دیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ میں نبوت میں حضور ﷺ کا شریک ہوں۔ قرآن کا معارضہ کرتے ہوئے اس نے چند سجع جملے بھی بطور وحی پیش کئے۔ اپنے متبعین سے فرضیت نماز ساقط کر دی۔ شراب اور زناء کو حلال قرار دیا۔ با ایں ہمہ وہ حضور ﷺ کی رسالت کا اعتراف کیا کرتا تھا۔ اس پر بنو حنیفہ نے خوشی کے مارے تالیاں بجائیں۔
مسیلمہ کا دعوت نامہ
قادیانی کی طرح مسیلمہ کو بھی تبلیغی نامہ و پیام کی سوجھی، حوصلہ بڑا پایا تھا۔ اس لئے خود
٦
ات ﷺ کو ١٠ھ میں دعوت نبوت کے بعد ذیل کی چٹھی لکھی "من مسيلمة رسول الله الى محمد ف الارض ولقريش نصفها ولكن قريشاً قوم ي
- از مسیلمہ پیغمبر خدا بسوئے محمد رسول اللہ، واضح ہو
( کیونکہ میں نبوت میں آپ کا شریک ہوں) اور نصف انصاف ہیں۔ ﴿
خاتم الانبیاء کا جواب
”فكتب اليه رسول الله ﷺ ، بسم رسول الله الى مسيلمة الكذاب اما بعد فان ال يشاء والعاقبة للمتقين والسلام على من اتبع ال
- حضور ﷺ نے اس کے جواب میں لکھا از م
ہو کہ مملکت در حقیقت خدا تعالیٰ کی ہے۔ وہ اپنے بندوں آخری کامیابی صرف نیکوں کے لئے ہے۔ آخر میں تمام ہدا
دعواۓ اسلام اور مسیلمہ
مذکورہ بالا واقعات سے ظاہر ہو چکا ہے کہ م نبوت کا معترف تھا۔ مگر ختم نبوت کا منکر ہو کر شرک فرضیت کا قائل نہ تھا۔ مگر اس کے ہاں برابر اذان و طبری اور کامل میں ہے: ”وكان الذي يوذن له له حجير بن عميرة“ مسیلمہ کذاب کا مؤذن عبداللہ بن نواح
- قطعی بات ہے کہ مسیلمہ کذاب، اسود عنس
پر صحابہ کرامؓ نے ان سے جہاد کیا۔ حالانکہ مسیلمہ مر تھا۔ ورنہ نہ تو اس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ اور نہ خلافت میں (قادیانی کذاب کی طرح) یا خانہ ساز نبوت ک
سرور کائنات ﷺ کو ١٠ھ میں دعوت نبوت کے بعد ذیل کی چٹھی لکھی۔
"من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله اما بعد فان لنا نصف الارض ولقريش نصفها ولكن قريشاً قوم لاينصفون"
(طبری و کامل و بلاذری)
﴿از مسیلمہ پیغمبر خدا بسوئے محمد رسول اللہ، واضح رہے کہ عرب کی نصف مملکت ہماری ہے۔ (کیونکہ میں نبوت میں آپ کا شریک ہوں) اور نصف قریش کی لیکن قریش بڑے بڑے بے انصاف ہیں۔﴾
(طبری و کامل بلاذری)
ختم الانبیاء کا جواب
"فكتب اليه رسول الله ﷺ . بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله الى مسيلمة الكذاب اما بعد فان الارض لله يورثها من عباده من يشاء والعاقبة للمتقين والسلام على من اتبع الهدى"
(بلاذری)
﴿حضور ﷺ نے اس کے جواب میں لکھا از محمد رسول اللہ بسوئے مسیلمۃ کذاب واضح ہو کہ مملکت در حقیقت خدا تعالیٰ کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ مگر آخری کامیابی صرف نیکوں کے لئے ہے۔ آخر میں تمام راہ راست پر چلنے والوں کو سلام۔﴾
دعوائے اسلام اور مسیلمہ
مذکورہ بالا واقعات سے ظاہر ہو چکا ہے کہ مسیلمہ کذاب حضور رسالت مآب ﷺ کی نبوت کا معترف تھا۔ مگر ختم نبوت کا منکر ہو کر شرک فی النبوۃ کا مدعی تھا۔ ہر چند کہ وہ نماز کی فرضیت کا قائل نہ تھا۔ مگر اس کے ہاں برابر اذان واقامت کے ساتھ نماز ادا ہوا کرتی تھی۔
طبری اور کامل میں ہے : ”وكان الذى يوذّن له عبدالله بن النواحة والذى يقيم له حجير بن عميرة"
”مسیلمہ کذاب کا مؤذن عبداللہ بن نواحہ اور اقامت کہنے والا حجیر بن عمیر تھا۔“
قطعی بات ہے کہ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، طلیحہ، سجاح کے ہم خیال مرتد تھے۔ اسی بناء پر صحابہ کرامؓ نے ان سے جہاد کیا۔ حالانکہ مسیلمہ صرف ختم نبوت کا منکر اور شرک فی النبوۃ کا قائل تھا۔ ورنہ نہ تو اس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ اور نہ خلاف توحید کوئی کتاب تصنیف کی بلکہ اس کے کلام میں (قادیانی کذاب کی طرح) یا خانہ ساز نبوت کا تذکرہ ہوتا رہا۔ یا چند فضول مگر مسجع فقرے۔
٧
تا آنکہ اس کا مؤذن کہتا تھا (شہد ان محمد ومسیلمہ رسول اللہ، قادیانی چونکہ زیادہ کائیاں واقع ہوا تھا) اس لئے اس نے نہایت سوچ بچار کے بعد کہا کہ میں تمام انبیاء کے کمالات کا مظہر ہوں۔ تا آنکہ
(درثمین فارسی ص ١٧٣)
اور تا آنکہ
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
(درثمین فارسی ص ١٢٨)
بنابریں اس کو اذان اور اقامت میں اضافے کی ضرورت نہ ہوئی۔ یقین جانئے کہ اس شعر کے پیش نظر ہر قادیانی ”اشہد ان محمد رسول اللہ“ سے محمد عربی ﷺ شہ لولاک مراد نہیں لیتا بلکہ مرزائے غلام احمد قادیانی کو مراد لیتا ہے۔
مسیلمہ کا انجام
باوجود ان حالات کے صحابہ کرامؓ نے اس کذاب سے جہاد فرض سمجھا اور بے شمار قربانیاں دینے کے بعد حضرت وحشیؓ کے حربہ (خورد نیزہ) اور ایک انصاریؓ کی تلوار سے قتل ہوا۔ حضرت وحشیؓ عموماً کہا کرتے تھے کہ اگرچہ حالت کفر میں میں نے بزرگ ترین ہستی (حضرت سید الشہداء حمزہؓ) کو شہید کیا تھا تو حالت اسلام میں میں نے دنیا کے بدترین شخص اور خبیث کو بھی اس حربہ سے قتل کیا۔ امید ہے کہ کفارہ ہو جائے گا۔
ختم نبوت کا انکار ہر دور میں ارتداد ہے
مذکورہ بالا حقائق سے بداہۃً ثابت ہوتا ہے کہ صدر اول کے منکرین ختم نبوت اس لئے اور صرف اس لئے واجب القتل، مرتد، فریق محارب قرار دیئے گئے ہیں کہ وہ حضور ختم المرسلین ﷺ کے ساتھ شریک فی النبوۃ ہونے کے مدعی تھے۔ ورنہ وہ عام طور پر احکام الاسلامیہ کو تسلیم کرتے اور حسب استطاعت ان پر عمل درآمد رکھتے تھے۔ ختم نبوت کے انکار کی تحریک مختلف ادوار میں مختلف نام بدلتی رہی۔ کبھی اس کو اسود عنسی، مسیلمہ، طلیحہ کی قیادت نصیب ہوئی اور آج اس کی زمام قیادت مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ میں ہے۔ گو اس وقت صدیق و فاروق و خالد کے
٨
بجائے پچاس الماریوں والی حکومت قائم ہے اور متنبئ قادیان اس کو ظل اللہ کہہ کر من مانی مرادیں حاصل کر رہا ہے۔ مگر احکام شرعیہ بدل نہیں سکتے۔ آج بھی یہ جماعت شرعاً اس سلوک کی مستحق ہے جو اس سے دور صحابہ کرامؓ میں کیا گیا: "فلن تجد لسنة الله تبديلا ولن تجد لسنة الله تحويلا"
مسئلہ تکفیر اہل قبلہ
شبہ اول کے جواب میں جن صریح واقعات کا ذکر ہوا۔ ان کے سمجھ لینے سے اہل قبلہ کی تکفیر و عدم تکفیر کا مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے۔
مسئلہ کی تاریخ
اہل قبلہ سے جہاد نہ کرنے کا مشورہ سب سے پہلے حضرت فاروق اعظمؓ نے اس وقت پیش کیا جب کہ حضرت صدیق اکبرؓ مرتدین سے برسر پیکار ہونے کو تیار ہو گئے تھے۔ صحیحین کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔
حضور ﷺ کے انتقال کے بعد جب صدیق اکبرؓ خلیفہ ہوئے اور عرب کے مرتدین سے جہاد کرنے کے لئے آپ تیار ہوئے تو فاروقؓ نے صدیقؓ سے کہا کہ آپ ان سے کیونکر لڑ سکتے ہیں۔ جب حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ "لا اله الا الله" کہنے والے کا جان اور مال ہم سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس کے باطن کا معاملہ خدا کے سپرد ہے۔ ہاں حقوق اسلام کے متعلق اس سے گرفت کی جاسکتی ہے۔ یہ سن کر ابوبکرؓ نے فرمایا۔ تو زکوٰۃ بھی حق مال ہے۔ پس جو شخص صلوٰۃ اور زکوٰۃ کی فرضیت میں فرق کرے گا۔ میں اس سے ضرور جہاد کروں گا۔ بخدائے لا یزال! اگر انہوں نے ایک بکری کا بچہ بھی روکا جو حضور کے عہد میں دیا کرتے تھے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ فاروقؓ فرماتے ہیں کہ بس میں نے سمجھ لیا کہ صدیقؓ کو اس مسئلہ میں شرح صدر حاصل ہو چکا ہے۔ پس ان کی تلقین سے میں بھی حقیقت کو سمجھ گیا۔
(مشکوٰۃ)
نتیجہ
اس روایت سے صاف معلوم ہوا کہ اہل قبلہ کو ضروریات دین کا انکار کفر و ارتداد اور اس کے انجام بد یعنی قتل سے بچا نہیں سکتا۔
تکفیر اہل قبلہ کی اصل
اس مبحث میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ مسئلہ مذکور کے اصلی الفاظ جو سلف سے منقول ہوئے ہیں۔ سامنے رکھے جائیں تا کہ مرتد زندیق اور عاصی کے درمیان مابہ الامتیاز قائم کیا جاسکے۔ شرح تحریر ابن ہمام مصنفہ ابن امیر الحاج ص ٣١٨ میں بحوالہ منتقیٰ مسئلہ مذکور حضرت امام اعظم سے بالفاظ ذیل منقول ہوا ہے۔ ”لا نكفر اهل القبلة بذنب“ علی ہذا القیاس ”یواقیت“ میں یہ مسئلہ حضرت امام شافعی سے بھی مذکورہ بالا الفاظ سے منقول ہوا ہے۔ غرض یہ مسئلہ سلف صالحین سے جہاں کہیں بھی منقول ہوا ہے۔ ”ذنب“ سے مقید ہے لیکن ملحدوں اور زندیقوں نے ان کو غلط رنگ میں پیش کر کے اپنے کفر و الحاد کو چھپانا چاہا ہے۔
جملہ مذکورہ کا حل
جملہ مذکور کی ساخت اور وضع صاف بتلا رہی ہے کہ یہ جملہ دراصل خوارج پھر معتزلہ کی تردید میں کہا گیا۔ ضروریات دین کے منکر اس سے مراد نہیں تھے۔ خوارج گنہگار کو کافر قرار دیتے ہیں اور بقول معتزلہ عاصی نہ مومن ہے نہ کافر۔ علامہ قونوی، محشی شرح عقیدہ طحاویہ ص ٣٤٧ میں لکھتے ہیں: ”اس جملہ میں خوارج کی تردید ہے جو گناہ کے مرتکب کو (صغیرہ ہو یا کبیرہ) کافر کہتے ہیں اور بعض خوارج فقط کبیرہ کے مرتکب کو کافر قرار دیتے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس اس جملہ میں معتزلہ کی بھی تردید ہے۔ جن کے ہاں مرتکب گناہ ایمان سے قطعاً محروم ہو جاتا ہے جس کی پاداش میں ابدالآباد تک جہنم میں رہے گا۔ گو کفر میں داخل بھی نہیں ہوتا۔“
- ......٢ شیخ ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ”نحن اذا قلنا اهل السنة متفقون على انه لا
يكفر بالذنب فانما يريد به المعاصى كالزنا والشرب“ (ص ١٦١ کتاب الایمان ) ﴿ہم جب یہ کہیں کہ اہل سنت گناہگار کو کافر نہیں کہتے تو اس سے ہماری مراد فقط عاصی ہوتا ہے جیسے بدکار اور شراب خور وغیرہ (ضروریات دین کا منکر مراد نہیں ہوتا )﴾
- ......٣ شرح فقہ اکبر بحث ایمان میں علامہ قونوی سے نقل ہے: ”ولم اجده لـعـلــه
لاختلاف النسخ وفى قـولـه بـذنب اشارة الى تكفير لفساد اعتقاده كفساد الاعتقاد المجسمة والمشبهة ونحوهم لان ذلك لا يسمى ذنبا والكلام فى الذنب“ ﴿لفظ ’ذنب‘ میں ادھر اشارہ ہے کہ بدعقیدہ مثلاً تجسیم باری کا
قائل اس کو مخلوقات سے مشابہہ ماننے والا وغیرہ عقائد ب اصطلاحاً ”ذنب“ نہیں کہتے۔﴾
واضح رہے کہ دورِ ردت میں مرتدین کے کئی گروہ
- ......١ قوم کندہ اور قوم تمیم صرف فرضیت زکوٰۃ کی منکر تھ
- ......٢ قوم حنیفہ اور قوم اسد کا ارتداد دو وجہ سے تھا۔ فی
کی نبوت کا اعتراف۔
- ......٣ قوم حنیفہ اس لئے بھی کہ وہ صبح اور مغرب کی ن
سب سے بڑھ کر کافر تھی۔ (دور ردت میں مرتدین کے اص مجھے علم ہے معالم السنن خطابی سے بڑھ کر کہیں نہی
- ......٤ صحیح مذہب یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے ل
ہے۔ مثلاً حدوث عالم توحید باری تعالیٰ اس کا قدم اس تمام انبیاء علی الخصوص حضور ﷺ کی نبوت کا اقرار، آپ نے تو جہاد کو منسوخ قرار دیا) اور یہ اعتراف کہ آپ ﷺ شریعہ کی اصل ہے۔ کعبہ رخ ہو کر نمازیں ادا کرنا فرض تمام ضروریات دین کا معترف ہو وہی مسلمان ہے۔
علامہ تفتازانی شرح مقاصد ص ٢٦٨ می متعلق اختلاف علماء صرف ایسی صورت میں ہے وغیرہ ضروریات دین کا تو قائل ہے مگر بعض دوسر ہو۔ مثلاً صفات الہیہ کا مسئلہ خلق افعال کا نظریہ و حق متعدد نہیں بلکہ واحد ہے۔ فقط ایسے فرقہ کی ہے۔ ورنہ جو فرقہ یا فرد ضروریات دین کا منکر ہو کے علمی احاطے کا منکر ہو یا اسی نوع کا کوئی اور ا خواہ ہمہ عمر عبادت الہی میں صرف کرے۔“
شرح فقہ اکبر میں ہے: ”اہل قبلہ سے عالم، حشر اجساد، خدا تعالیٰ کے احاطہ علمی اسی نو
قائل اس کو مخلوقات سے مشابہہ ماننے والا وغیرہ عقائد رکھنے والا کافر ہے کیونکہ بدعقیدگی کو اصطلاحاً ”ذنب“ نہیں کہتے۔ ﴿ واضح رہے کہ دورِ ردت میں مرتدین کے کئی گروہ تھے۔
- ١...... قوم کندہ اور قوم تمیم صرف فرضیت زکوٰۃ کی منکر تھی۔ اس لئے مرتد قرار دی گئی۔
- ٢...... قوم حنیفہ اور قوم اسد کا ارتداد دو وجہ سے تھا۔ فرضیت زکوٰۃ سے انکار اور مسیلمہ، طلیحہ
کی نبوت کا اعتراف۔
- ٣...... قوم حنیفہ اس لئے بھی کہ وہ صبح اور مغرب کی نماز کی فرضیت کی منکر تھی۔ لہٰذا قوم حنیفہ
سب سے بڑھ کر کافر تھی۔ (دورِ ردت میں مرتدین کے اصناف وانواع کی تحقیق وتفصیل جہاں تک مجھے علم ہے معالم السنن خطابی سے بڑھ کر کہیں نہیں۔ معالم حلب یا دمشق میں زیر طبع ہے۔
- ٤...... صحیح مذہب یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے تمام ضروریاتِ اسلام کا اعتراف لازم
ہے۔ مثلاً حدوثِ عالم توحید باری تعالیٰ اس کا قدم اس کا عدل اور اس کی حکمت نفی تشبیہہ، تعطیل تمام انبیاء علی الخصوص حضور ﷺ کی نبوت کا اقرار، آپ ﷺ کی شریعت کے دوام کا عقیدہ (مرزا نے تو جہاد کو منسوخ قرار دیا) اور یہ اعتراف کہ آپ ﷺ کی تعلیم تمام تر حق ہے۔ قرآن تمام احکام شرعیہ کی اصل ہے۔ کعبہ رخ ہو کر نمازیں ادا کرنا فرض ہے۔ زکوٰۃ، حج فرض ہیں۔ الغرض جو شخص تمام ضروریاتِ دین کا معترف ہو وہی مسلمان ہے۔
علامہ تفتازانی شرح مقاصد ص٢٦٨ میں لکھتے ہیں: ”اہل قبلہ کی تکفیر وعدم تکفیر کے متعلق اختلاف علماء صرف ایسی صورت میں ہے کہ کوئی فرقہ یا فرد، حدوث عالم، حشر اجساد وغیرہ ضروریاتِ دین کا تو قائل ہے مگر بعض دوسرے عقائد میں عامۂ مسلمین سے اس کا اختلاف ہو۔ مثلاً صفات الہیہ کا مسئلہ خلق افعال کا نظریہ وغیرہ مسائلِ اختلافیہ جن میں بااتفاق فریقین حق متعدد نہیں بلکہ واحد ہے۔ فقط ایسے فرقہ کی تکفیر وعدم تکفیر میں علماء کا اختلاف منقول ہوا ہے۔ ورنہ جو فرقہ یا فرد ضروریاتِ دین کا منکر ہو جیسے قدمِ عالم کا معتقد ہو۔ یا قیامت یا خدا تعالیٰ کے علمی احاطے کا منکر ہو یا اسی نوع کا کوئی اور کفر اس سے سرزد ہو تو وہ باتفاق علماء کافر ہے۔ خواہ ہمہ عمر عبادت الٰہی میں صرف کرے۔“
شرح فقہ اکبر میں ہے: ”اہل قبلہ‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ضروریاتِ دین مثلاً حدوثِ عالم، حشر اجساد، خدا تعالیٰ کے احاطۂ علمی اسی نوع کے دوسرے اہم مسائل کے معترف ہوں۔ بنا
بریں جو شخص ہمہ عمر عبادت الہی میں صرف کر دے۔ گمراہی کا عقیدہ یہ ہو کہ عالم قدیم ہے قیامت نہیں آئے گی۔ خدا تعالیٰ جزئیات کو نہیں جانتا۔ یہ شخص اہل سنت کے نزدیک اہل قبلہ سے نہیں۔ رہا اہل سنت کا یہ قول کہ ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے ۔ اس کے یہی معنی ہیں کہ افعال کفر ( مثلاً سجدہ صنم ) کا مرتکب ہو۔ علامات کفر اس سے ظاہر نہ ہوں۔ ( جسے زنار باندھنا )
علامہ عبدالعزیز فرہادی نبراس ص ٥٧٢ میں لکھتے ہیں: ”اہل قبلہ متکلمین کی اصطلاح میں جو ضروریات دین یعنی دین کے بدیہی مشہور مسائل کے مقر ہوں۔ بنا بریں جو شخص ضروریات دین میں سے کسی چیز کا منکر ہوگا۔ جیسے حدوث عالم یا قیامت یا خدا کے احاطہ علمی یا فرضیت صلوٰۃ وصوم کا منکر ہو ۔ تو وہ اہل قبلہ میں داخل نہیں۔ اگر چہ زاہد مرتاض ہی ہو۔ علیٰ ہذا القیاس۔ جس شخص میں کفر کے علامات پائے جائیں۔ مثلاً سجدہ صنم یا کسی شرعی مسئلہ کا استخفاف کرے۔ وہ بھی اہل قبلہ سے نہیں۔ اہل سنت کا یہ مسئلہ کہ ”ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے ۔“ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ ہم عاصی کو، دین کے غیر ضروری نظری مسائل کے منکر کو کافر نہیں جانتے۔ یہ محققین کا مذہب اور عقیدہ اور تحقیق ہے۔“
فقہا اور اصولیین کی رائے
- .......١ تحقیق شرح حسامی میں اور کشف الاسرار شرح اصول بزدوی ج ٣ ص ٢٣٨ میں ہے:
”وان غلافی هواه حتى وجب اكفاره به لا يعتبر خلافه ووفاته ايضاً لعدم دخوله فی مسمى الامة المشهود لها بالعصمة وان صلى الى القبلة واعتقد نفسه مسلماً لان الامة ليست عبارت عن المصلين الى القبلة بل عن المؤمنين وهو كافر وان كان لا يدرى انه كافر “ ﴿اگر کسی متبدع کا غلو کفر کے درجہ تک پہنچ جائے تو اجماع امت کے مسئلہ میں داخل ہی نہیں۔ جس کے لئے آں حضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ تمام کی تمام گمراہ نہ ہوگی۔ ہر چند کہ وہ قبلہ رخ ہو کر نمازیں پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان شمار کرتا ہو ۔ یہ اس لئے کہ امت محمدیہ عبارت اس سے نہیں۔ کہ کوئی قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھ لے۔ بلکہ امت مومنین کا نام ہے اور یہ شخص مومن نہیں بلکہ کافر ہے۔ ﴾
- .......٢ علامہ ابن عابدین ردالمحتار ص ٣٧٢ میں لکھتے ہیں: ”لاخلاف فی کفر المخالف
فی ضروريات الاسلام وان كان من اهل القبلة المواظب طول عمره على الطاعات كما فی شرح التحرير “ ﴿ضروریات دین کا منکر بالاتفاق کافر ہے۔ اگرچہ اہل
١٢
ہو اور تمام عمر طاعات میں صرف کر دے۔ جیسے ابن امیر الحاج نے شرح تحریر میں لکھا ہے۔﴿ ....... بحرالرائق سے ردالمختار میں منقول ہے: "والحاصل ان المذهب عدم تكفير احد من المخالفين فيما ليس من الاصول المعلوم من الدين ضرورة" ﴿ہمارا مذہب یہ ہے کہ مسلم اپنے کسی مخالف کو کافر نہیں کہتے جب تک کہ وہ ضروریات دین کا منکر نہ ہو۔﴾
....... خفاجی شرح شفا ج٤ ص ٣٣٠ میں آئمہ مالکیہ کے اقوال نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "قال ابن القاسم وكذا سحنون فى من تنباء كالمرتد وقال اصبغ بن الفرج من زعم انه نبى فهو كالمرتد وقال اشهب فى يهودى زعم انه نبى او قال ان بعد نبيكم نبى سياتى من الله بشريعة انه كالمرتد يستتاب والا قتل لانه مكذب النبى ﷺ فى قوله لانبى بعدى" ﴿ابن قاسم سحنون اصبغ فرماتے ہیں کہ مدعی نبوت مرتد ہے۔ اشہب نے کہا اگر یہودی نبوت کا دعویٰ کرے یا یہ کہے کہ حضور کے بعد کوئی دوسرا نبی آنے والا ہے تو وہ مرتد ہے اگر توبہ کرے تو فبہا ورنہ قتل کر دیا جائے۔ اس لئے کہ انہوں نے حضور کے ارشاد لا نبى بعدى کی تکذیب کی۔﴾
حضور خاتم الانبیاء والرسل ہیں اور اس کا منکر کافر ہے
امام ابو منصور عبدالقادر بغدادی اپنی شہرۂ آفاق تصنیف اصول الدین مطبوعہ استانبول میں فرماتے ہیں: "كل من اقر بنبوة نبينا محمدﷺ اقر بانه خاتم الانبياء والرسل واقر بتأبيد شريعته ومنع من نسخها وقال ان عيسى عليه السلام اذا نزل من السماء ينزل بنصرة شريعة الاسلام يحيى ما احياه القرآن ويميت ما اماته القرآن خلاف فرقة من الخوارج تعرف باليزيدية المنتسبة الى يزيد بن ابى انيسة فانهم زعموا ان الله يبعث فى اخر الزمان نبيا من العجم وينزل عليه كتاباً من السماء وينسخ بذالك الشرع شرع القرآن وقد نص القرآن بأن محمداًﷺ خاتم النبيين وقد تواترت الاخبار عنه بقوله لانبى بعدى۔ ومن رد حجة القرآن والسنة فهو الكافر" (ج ١ ص ١٦٢) ﴿ہر ایک مومن جس طرح آں حضرت ﷺ کی نبوت کا معترف ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ کو ختم الانبیاء والرسل، آپ ﷺ کی شریعت کا دوام اور اس کا عدم نسخ بھی مانتا ہے۔ نیز یہ بھی عقیدہ رکھتا ہے کہ حضرت مسیح
١٣
علیہ السلام جب آسمان سے نزول فرمائیں گے تو شریعت اسلامیہ کی تائید کریں گے۔ ان ہی احکام کی دوبارہ اشاعت کریں گے۔ جو قرآن نے پیش کئے اور انہی امور سے روکیں گے جو قرآن نے ممنوع قرار دیئے۔ برخلاف فرقہ یزیدیہ کے (اتباع یزید بن ابی انیسہ خارجی) ان کا عقیدہ ہے کہ آخر زمان میں خدا تعالیٰ عجم سے ایک نبی مبعوث فرمائے گا۔ (مرزا کے حق میں پیشین گوئی ہو رہی ہے۔) اس پر کتاب نازل ہوگی۔ اس کی شریعت شریعت قرآنی کی ناسخ ہوگی۔ حالانکہ قرآن نے صاف اعلان کیا ہے کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اس کے علاوہ ”لا نبي بعدي “ حضور ﷺ سے بہ تواتر مروی ہے۔ ﴿جو شخص قرآن اور حدیث کی تردید کرے وہ پکا کافر ہے۔﴾
زندیق اور مرتد میں فرق
شبہہ ثانی کے جواب میں ہم سلف سے نقل کر آئے۔ کہ نصوص ختم نبوت کو اپنے ظاہر پر رکھنا لازم اور ضروری ہے۔ ان میں ہر تاویل باطل ہوگی۔ جو ماؤل کو کفر سے بچا نہیں سکتی۔ مرزا اور اس کی امت کی تمام تر بنیاد تاویل پر ہے۔ مرزائی لٹریچر کا مطالعہ کرنے والا جانتا ہے کہ یہ گروہ باب تاویل میں باطنیہ جیسے باطل پرست فرقہ سے بھی دو قدم آگے بڑھا ہوا ہے۔ (باطنیہ کی تسویلات و تاویلات کا مطالعہ کرنا ہو تو کتاب الفرق کو ص ٢٦٥ سے ص ٢٩٩ تک دیکھئے۔) اور یہ تاویلات سراسر زندقہ ہیں۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ زندیق کا ترجمہ بھی سلف سے نقل کر دیا جائے تاکہ مرزائیہ کی حقیقت پورے طور پر سمجھ آسکے۔
- ١....... علامہ تفتازانی شرح مقاصد میں فرماتے ہیں: ” الكافر ان اظهر الايمان خص
باسم المنافق وان كفر بعد الاسلام خص باسم المرتد وان قال بالهين او اكثر خص باسم المشرك. وان كان متدينا وان كان مع اعترافه بنبوة النبي ﷺ واظهاره شعائر الاسلام يبطن عقائد هي كفر بالاتفاق خص باسم الزنديق ﴿کافر اگر بظاہر اسلام کا اقرار کرے تو وہ منافق ہے اور اگر کوئی شخص اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے۔ تو وہ مرتد ہے اور اگر تعدد معبود کا قائل ہو تو مشرک ہے اور اگر حضور ﷺ کی نبوت کا اعتراف کرتے ہوئے شعائر اسلام کی پابندی بھی دکھائے لیکن ضروریات دین کے خلاف عقائد رکھتا ہو تو یہ زندیق ہے۔﴾
- ٢...... حضرت امام الہند شاہ ولی اللہ دہلوی مسوّیٰ شرح مؤطا ج ٢ ص ١٠٩ میں زندیق کی
حقیقت بالفاظ ذیل واضح کرتے ہیں۔ ”دین حق کا مخالف اگر سرے سے اس کا معتقد اور مقر ہی
نہیں۔ نہ ظاہراً نہ باطناً تو وہ کافر ہے اور اگر زبان سے اع منافق ہے اور اگر بظاہر دین حق کا اعتراف کرے مگر بعض کرے جو صحابہ، تابعین، اجماع امت کے برخلاف ہو شخص شریعت میں زندیق ہے۔ جیسے کوئی کہے کہ قرآن حق اس قدر ہیں کہ انسان کو اچھے اخلاق سے وہاں گونہ سر بد اخلاق کو اس عالم میں گونہ ندامت ہوگی۔ فی الواقع ہے۔“ (غرض زندیق سب کچھ مانتا ہے۔ مگر سب پر پ دین کی صورت بحال رہتی ہے مگر حقیقت مسخ ہو جاتی ہے ”واضح رہے کہ تاویل دو قسم کی ہے۔
- ١....... جو کسی نص قطعی اور حدیث صحیح اور اجماع ام
- ٢....... جو کسی نص قطعی سے ٹکرائے۔ ثانی الذکر ز
آنحضرت خاتم انبیاء ہیں۔ مگر اس کے معنی یہ ہیں کہ نبوت کا مفہوم (یعنی ایسا انسان جو خدا تعالیٰ کی طرف اغلاط اور گناہوں سے معصوم اور غلطی سے مبرا ہو۔) ہے۔ پس یہ شخص زندیق ہے جمہور فقہاء حنیفہ اور شافعیہ
توبہ زندیق
زندیق اور مرتد کی حقیقت میں فرق واضح ہ اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ منظور کر لی جائے گی۔ لیکن ز اس کے باطن میں حیثیت پوشیدہ ہے۔ توبہ سے کیا ث احکام القرآن ج ١ ص ٥٣ میں۔ اور علامہ بدرالدین عی ابویوسف قال ابو حنيفة اقتلو الزنديق سر اس لئے کہ اس کی توبہ کا پتہ لگانا مشکل ہے۔﴾ ” قال والا لا یتاب لان المسلم اذا ارتد بالخفا لم ی ج ١ ص ١٥) ﴿مالک فرماتے ہیں اگر کوئی مسلمان جاد کرنا ضروری نہیں کیونکہ باطنی مرتد کی توبہ اظہار الاسل
نہیں ۔ نہ ظاہرا نہ باطناً تو وہ کافر ہے اور اگر زبان سے اعتراف کرئے مگر دل میں کفر بھرا ہوا ہو تو یہ منافق ہے اور اگر بظاہر دین حق کا اعتراف کرے مگر بعض ضروریات دین کی ایسی من مانی تاویل کرے جو صحابہ، تابعین، اجماع امت کے برخلاف ہو۔ (جیسے مرزا محمود کا ترجمہء نبوت) تو ایسا شخص شریعت میں زندیق ہے۔ جیسے کوئی کہے کہ قرآن حق، جنت و جہنم حق، لیکن جنت کے معنی فقط اس قدر ہیں کہ انسان کو اچھے اخلاق سے وہاں گونہ سرور حاصل ہو گا اور جہنم سے مراد یہ ہے کہ بداخلاق کو اس عالم میں گونہ ندامت ہو گی۔ فی الواقع کوئی جنت و جہنم نہیں۔ ایسا شخص زندیق ہے۔ ”(غرض زندیق سب کچھ مانتا ہے۔ مگر سب پر پانی پھیر دیتا ہے۔ یہ ہے زندقہ۔ اس میں دین کی صورت بحال رہتی ہے مگر حقیقت مسخ ہو جاتی ہے۔ یہ مرتد سے کئی گنا بدتر ہے۔)
”واضح رہے کہ تاویل دو قسم کی ہے۔
- ......١ جو کسی نص قطعی اور حدیث صحیح اور اجماع امت کے مخالف نہ ہو۔
- ......٢ جو کسی نص قطعی سے ٹکرائے۔ ثانی الذکر زندقہ ہے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ بیشک
آنحضرت خاتم انبیاء ہیں۔ مگر اس کے معنی یہ ہیں کہ آپﷺ کے بعد نبی کہلانا جائز ہے۔ رہا نبوت کا مفہوم (یعنی ایسا انسان جو خدا تعالیٰ کی طرف خلق خدا کو ہدایت کرنے آئے۔ واجب الطاعۃ اور گناہوں سے معصوم اور غلطی سے مبرا ہو۔) سو یہ آپﷺ کے بعد آئمہ دین میں موجود ہے۔ پس یہ شخص زندیق ہے جمہور فقہاء حنفیہ اور شافعیہ کا اتفاق ہے کہ زندیق واجب القتل ہے۔“
توبہ زندیق
زندیق اور مرتد کی حقیقت میں فرق واضح ہو چکا ہے اس کے بعد احکام کا درجہ ہے۔ مرتد اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ منظور کر لی جائے گی۔ لیکن زندیق کی توبہ کا اعتبار کریں تو کیونکر اس لئے کہ اس کے باطن میں خبثیت پوشیدہ ہے۔ توبہ سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ امام ابو بکر جصاص رازی تفسیر احکام القرآن ج١ ص٥٣ میں۔ اور علامہ بدر الدین عینی حنفی عمدہ ص٢١٣ میں لکھتے ہیں: ”قال ابو یوسف قال ابو حنیفة اقتلو الزندیق سراً فان توبة لا تعرف “ زندیق کو قتل کر دو اس لئے کہ اس کی توبہ کا پتہ لگانا مشکل ہے۔ ”قال مالك المسلم اذا تولى عمل السحر قتل والا یستتاب لان المسلم اذا ارتد بالخفا لم تُعرف توبته باظهاره الاسلام “ (جصاص ج١ ص١٥) مالک فرماتے ہیں اگر کوئی مسلمان جادو کا عمل اختیار کر لے تو اس کی سزا قتل ہے توبہ پیش کرنا ضروری نہیں کیونکہ باطنی مرتد کی توبہ اظہار الاسلام سے معلوم نہیں ہو سکتی۔
جواب شبہ اور تکفیر معین
گزشتہ تمام تر تفصیلات شبہ ثانی کے جواب سے متعلق تھیں۔ رہا شبہ سوم کا جواب اوّل تو ہر دو شبہات کے جوابات کو مطالعہ کر لینے کے بعد اس کی لغویت خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ابتدا میں بعض جزئیات نقل بھی کر دیئے گئے ہیں۔ یہاں ہم ایک جامع مانع قاعدہ اس مسئلہ کے متعلق لکھ کر مضمون کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ قاعدہ کو عبارت سابقہ سے صریحاً استنباط کیا جاسکتا ہے۔ مگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنے مقصد کو سلف صالحین ہی کے الفاظ میں ادا کریں۔
علامہ محمود حنفی قونوی شرح عقیدہ طحاویہ ص ٢٣٨ میں لکھتے ہیں کہ: ”کسی معین شخص کی نسبت اگر مسلم سے دریافت کیا جاوے کہ آیا وہ (قیامت میں) سزایاب ہوگا؟ اور آیا وہ کافر ہے؟ تو اس کے متعلق واضح رہے کہ یہ بڑی بے انصافی ہے کہ کسی معین شخص کے متعلق ہم (خم ٹھوک کر) کہہ دیں کہ خدا تعالیٰ اس کو (آخرت میں) نہیں بخشے گا۔ اس پر رحم نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کو نیران جہنم میں رکھے گا، کیونکہ اس قسم کا فیصلہ صرف اس شخص کے متعلق ہے جو کفر پر مر چکا ہو۔ (جیسے فرعون، ابو جہل، مسیلمہ)“
لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح رہے کہ ہمارا یہ توقف صرف آخرت کے متعلق ہے۔ رہا دنیاوی احتساب ، یقیناً ہم اس کو اشاعت بدعت سے روکتے ہوئے سزا دیں گے اور اس سے کہیں گے کہ ان خیالات سے باز آجا۔ اگر مان لے تو فبہا ورنہ قتل کر دیا جائے گا۔
مزید برآں ہر دو شقیں بھی اسی وقت تک جب تک کوئی عقیدہ کفر صریح کو مستلزم نہ ہو ورنہ ہم ایسے خیالات کو کفر اور ان کے قائل اور معتقد کو کافر قرار دیں گے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص منافق و زندیق ہو جائے ۔ بنا بریں ہم اہل قبلہ میں سے منافق اور زندیق کو کافر کہیں گے۔ خواہ معین ہی کیوں نہ ہو۔“
موازنہ نبوت
(مولانا حضرت شاکر صدیقی شاہ پور نچھاوانی)
دبے نہ باطل سے گرچہ آفاق میں اس نے ان کو ہلا ڈالا کبھی بھی قول و عمل میں ان کے نہ ذرہ بھر بھی ہوا تفاوت
مجاز کہتا ہے جس کو عالم نہ تھا وہ ان کے لئے جہاں میں رہی ہیں ان کی نگاہیں اٹھتی مدام سوئے رُخ حقیقت
١٦
اٹھائے فاقے لڑائیوں میں شکم پہ گو بندھے رہے تھے پتھر خوشی تھی اس کی کہ کر رہے ہیں خدائے واحد ہی کی اطاعت
نہ پاس فوجیں نہ ملک و دولت اور اس پہ طرہ کہ سب تھے دشمن کوئی بتائے تو کس نبی نے خدائے باطل کی عبادت
مگر نبوت یہ قادیانی قسم خدا کی ہے وہ نبوت رہے ہیں ہاتھوں میں جس کے پلتے ہوائے عشق و ریا و شہرت
نہیں غلامی کا طوق پہنا کسی نبی نے جہاں میں ہرگز مگر یہاں تو جبین مرزا تھی وقف سنگ در حکومت
رقیب اڑائے ادھر مزے ہے ادھر نبی جی شکستہ دل سے فراق جاناں میں خون کی صورت بہائیں آنکھوں سے اشک حسرت
گھڑی میں ماشہ گھڑی میں تولہ اور اس تلون پہ ہے یہ دعویٰ کہ سو حسینوں سے بھی زیادہ ہے اس کے شیوہ میں استقامت
کہیں تو بنتے ہیں آپ عیسیٰ کہیں ہیں مہدی کہیں خدا ہیں مسیلمہ کے مثیل کذاب کی خوں رولاتی ہے یہ جسارت
یہ کشف و الہام فریب مرزا خدا بچائے یہی دعا ہے جسے یہ آب حیات سمجھے وہ تھا سراب فریب و دولت
رہی ہے قدرت اسی کی حامی کرے وہ پیدا رسول امی نہیں یہ شان نبی کے شایاں وہ سیکھے غیروں سے علم و حکمت
وہیں پیمبر ہے دفن ہوتا جہاں پہ آئی ہو اسے قضا یہیں تو نکتہ بتا رہی ہے رسول اکرم کی خود شریعت
یہی طریقہ زبان قدرت سے کہہ رہا ہے کہ ہے یہ کاذب مزار اس کا قادیان میں بنا تھی اس کی لاہور جائے رحلت
کسی نبی نے نہیں ہے اب تک وبا میں ہرگز وفات پائی مگر جو ہیضے نے اس نبی کی بنائی درگت ہے درسِ عبرت
ہیں اس طرح کی ہزار باتیں جو پول کھولیں تو ہو یہ روشن کہ نور چمکا جو قادیان میں وہ تھا سراسر فریب و ظلمت
جہاں میں طعنوں کے تیر کھا کر خدا کی لعنت میں ڈب دبا کر مرا یہ حسرت کا مجسمہ آخر لہو کے آنسو بہا بہا کر
(نوٹ: رسالہ ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ دسمبر ١٩٣٣ء کے شمارہ جسے قادیان نمبر کا نام دیا گیا۔ اس کو احتساب قادیانیت جلد ٣ ص ٥٠ تا ٥٣ پر شائع کیا جا چکا ہے۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دیا گیا ہے۔ مرتب!)
از خواب گراں خیز!
از مولانا تاثیر عاقل شامی
رہے گا خفتگان بخت کا دیں پاسباں کب تک یہی حالت رہی اپنی تو پھر نام و نشاں کب تک
کہو احساس بھی رکھتے ہو کچھ اپنی تباہی کا نہیں کیا پاس کچھ تم کو محمدؐ کی غلامی کا
١٧
صحابہؓ کی چلن سیکھو کہ اس میں نورِ ایقاں ہے بچو ہر فتنۂ نو سے کہ اس میں دیں کا نقصاں ہے
مسلمانو! بہت فتنے جہاں میں رونما ہوں گے
نبوت کے بھی دعوے کرنے والے اشقیاء ہوں گے
خدا نے مجھ پہ کامل کر دیا دین اور نعمت بھی ہوا اسلام سے راضی ملی مجھ کو بشارت بھی
بنایا مجھ کو تاج الانبیاء ختم الرسالۃ بڑھایا رحمت العالمین سے شان و رفعت بھی
نبوت کے جو میرے بعد جتنے مدعی ہوں گے
وہ سارے مفتری، کذاب، دجال و شقی ہوں گے
رسول اللہ کا فرماں دنیا میں عیاں دیکھا اُٹھے مرتد زمانے میں نبوت کا کیا دعویٰ
کیا گمراہ لاکھوں کو مچایا شور و شر ہر جا مسلمانوں میں اکثر کر گئے فتنے نئے برپا
نبی بن بن کے مرتد شورشیں دن رات کرتے تھے
وہ ابلیس لعیں کو بھی جہاں میں مات کرتے تھے
مگر کچھ اور ہی فتنہ ہے اک ابلیس ثانی کا نہیں یہ صرف دشمن ہے مسیح آسمانی کا
ہے خوگر انبیاء کی شان میں بھی بدزبانی کا زمانے میں ثبوت اچھا دیا گندہ لسانی کا
نہ شرم آئی اسے توہینِ سے خاتونِ جنت کی
نہ کیا کیا حضرت حسنینؓ کی اس نے اہانت کی
اور اس کا ہے دعویٰ رحمت العالمین ہوں میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں نورِ اولین ہوں میں
بشارت کی بناء پر پیشوائے مرسلین ہوں میں شرف رکھتا ہوں میں نبیوں پہ سید دنیا و دیں ہوں میں
محمد کی غلامی سے نکل کر جو بنے باغی!!!
غلام آقا کا جب ہمسر بنے کیونکر نہ ہو باغی
رسول پاکؐ کا ہمسر غلام قادیانی ہے تعجب ہے مگس کو قصد سیر آسمانی ہے
یہ دیدہ بے باکی یہ گستاخی تباہی کی نشانی ہے مسلمانوں کا ان فتنوں سے بچنا کامرانی ہے
یہ تبلیغ و اشاعت کے بہانے ہم میں آتے ہیں
یہ رہزن دولتِ ایمان پہ ڈاکے ڈال جاتے ہیں
١٨
رسوا کو حاصل نورِ ایماں ہو نہیں سکتا مسلمانو
خبر تھی کس کو یہ ملعون فتنہ
یہاں رسوا کڑک سے آکے گرے گا
فخرِ رسل پیشوا یوں گدی آیا صداقت
جب ہے حضرت یوسف سے برتر خود کو دکھلایا حیا سو
نہ آئی شرم کچھ فرضی زلیخا کو
عزیز احباب کی توہین سے ایذا کو
پیشوا سے آج کل ہر ایک کو وحشت ہے کہاں
ہر خاص کو اس پہ بہت شرم و ندامت ہے یہ تبلیغ
سُنا پیشوا جی کے عجب الہام
خنزیر ہیں جس کے تحت میں سب کام
کبھی ہے وحی روپیے کے خزانے مجھ کو ملتے ہیں کچھ
نشاط انگیز عشرت کے ٹھکانے مجھ کو ملتے ہیں نہال
بشارت ہو تجھے تو لذت پائے
تو تخت و تاج بھی پائے حکومت پائے
عزیزو دیکھنا مرزائیوں کی یہ صداقت ہے یہی
یہی تعظیم ہے تصویر تبلیغ و اشاعت ہے یہی
یہ دھوکے دے کر گھروں میں مسلماں
اشاعت کے فریب مکر سے پشیماں
گداگر بن کے پیسوں کا کوئی بھوکا آتا ہے الو
اشاعت کی نئی تحریک سے سکہ جماتا ہے بنا
نرالا رنگ تھا دو چار پرچہ
ریاست میں مبلغ بن کے نکالا خرچہ
١٩
کبھی بسوا کو حاصل نور ایماں ہو نہیں سکتا مسلمانوں سے اس کا مکر پنہاں ہو نہیں سکتا
خبر تھی کس کو یہ ملعون فتنہ جابجا ہوگا
یہاں بسوا گدک سے آکے قمر الانبیاء ہوگا
بنا فخر رسل بسویشور بسون گڈی آیا صداقت کے لئے مرزا کی شیطانی وحی لایا
غضب ہے حضرت یوسف سے برتر خود کو دکھلایا حیاسوز اپنے قصوں سے ذرا دل میں نہ شرمایا
نہ آئی شرم کچھ فرضی زلیخا کی کہانی سے
عزیز احباب کی توہین سے ایذا رسانی سے
سنا بسویشور سے آج کل ہر ایک کو وحشت ہے کہ اس ماسٹر کے طرز عمل سے سب کو حیرت ہے
مشیر خاص کو اس کے بہت شرم و ندامت ہے یہ تبلیغ و اشاعت کا نتیجہ درس عبرت ہے
سنا بسویشور جی کے عجب الہام ہوتے ہیں
محیر خیز جس کے تحت میں سب کام ہوتے ہیں
کبھی ہے وحی بمبے کے خزانے تجھ کو ملتے ہیں کبھی الہام ہے اچھے گھرانے تجھ کو ملتے ہیں
نشاط انگیز عشرت کے ٹھکانے تجھ کو ملتے ہیں نہال آرزو میں آشیانے تجھ کو ملتے ہیں
بشارت ہو تجھے تو لذت دنیا اٹھانا ہے
کہ تخت و تاج بھی پانا حکومت بھی بنانا ہے
عزیزو دیکھنا مرزائیوں کی یہ صداقت ہے یہی ان حصہ داران نبوت کی حماقت ہے
یہی تعلیم ہے تصویر تبلیغ و اشاعت ہے یہی عملی نمونے ہیں یہی سرگرم خدمت ہے
یہ دھوکے دے کر قریوں میں مبلغ بن کے جاتے ہیں
اشاعت کے فریب مکر سے مرتد بناتے ہیں
گدک سے بن کے بسوا کوئی بنگلور آتا ہے انوکھی چال سے بسون گڈی میں گھر بناتا ہے
اشاعت کی نئی تحریک سے سکہ جماتا ہے بنا اک انجمن ماموریت کے گل کھلاتا ہے
نرالا رنگ تھا دو چار پر جب چل گیا جادو
ریاست میں مبلغ بن کے بس پھرنے لگا ہر سو
١٩
دیا موقع جو خود غرضوں نے اجلاسوں میں آنے کا تعارف سے ملا قابو اشاعت کے بہانے کا
نہیں ہندو کوئی مسلم بنا اس طرز حکمت سے
مسلماں ہو گئے مرتد مگر بسوا کی بیعت سے
مسلمانو! یہ مرزائی عجیب فتنے مچاتے ہیں مسلمانوں میں یہ مرتد منافق بن کے آتے ہیں
فریب آموز باتوں پر مسلماں پھول جاتے ہیں تو دام مکر میں سو طرح سے ان کو پھنساتے ہیں
مسلمانوں میں مل جل کر وہ اپنا کام کرتے ہیں
جو ان کا کام کرتے ہیں برا انجام کرتے ہیں
عزیزو! کیا یہی قومی حمیت کا تقاضا ہے تمہارے دشمنان دین پر تم کو بھروسہ ہے
تمہیں غارت گراں دین و ایماں سے مدارا ہے تمہاری اس روش سے سب مسلمانوں کو دھوکا ہے
سب اپنی مجلسوں میں شوق سے ان کو بلاتے ہیں
عنایت سے تمہاری اور ہی وہ گل کھلاتے ہیں
یہ مار آستیں ہیں دوستو! خوب حذر کیجو زہیر اب قوم کو اس فتنہ نو سے خبر کیجو
نہ کچھ تو ان کی تبلیغ واشاعت پر نظر کیجو یہ دھوکہ ہے یہ دھوکہ ہے بہت اس سے حذر کیجو
الٰہی اس شر دجال کو پامال کردینا
دلوں کو نعمت ایمان سے مالا مال کردینا
ایک انوکھا رحمت للعالمین
مرزا قادیانی کا سیدالانبیاء علیہ السلام کا ہمسر بننا
از ابوالنور مولوی محمد بشیر صاحب کوٹلی لوہاراں مغربی!
یہ امر مثل روز روشن واضح رہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضور خاتم المرسلین ﷺ کو اس عالم میں تاج ”رحمت للعالمین“ پہنا کر مبعوث فرمایا۔ قرآن پاک میں صاف ارشاد ہے: ”وما ارسلنك الا رحمة للعالمين“ (ہم نے آپ ﷺ کو تمام عالموں کے واسطے رحمت بنا کر بھیجا۔) چنانچہ حضرت رحمت للعالمین کے صدقہ میں رب العالمین نے مخلوق پر قسم قسم کے انعام واکرام فرمائے اور حضور ﷺ کی خاطر کافروں کو بھی باوجود ان کی درخواست عذاب کے عذاب دینے سے محفوظ رکھا۔
٢٠
یہ امر بھی مثل نصف النہار روشن ہے کہ رحمت نہیں۔ پروردگار نے رحمت للعالمین ہونا حضور علیہ السلام دینہ ہی کو پہنایا گیا ہے۔ چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرم ”رحمت را نسبت خاص است
امام جلال الدین سیوطیؒ نے حضور ﷺ کے خ ہونا بھی شمار کیا ہے۔ (خصائص کبریٰ ص ١٨٩، ١٩٠) امام فخر میں زیر تفسیر آیت ”تلك الرسل فضلنا“ حضور علیہ ہے۔ (تفسیر کبیر) امام عزالدین بن عبدالسلامؒ نے بہ للعالمین ہونا آپ ﷺ کی خصوصیت لکھی ہے۔ (جواہر وابن مردویہ اور بزار ابو یعلیٰ بیہقی نے حضرت ابوہریر واقع معراج مفصل بیان ہوتے ہوئے حضور علیہ السلام نے تمام انبیاء کے حمد کرچکنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد فر خصائص ظاہر کرتے ہوئے اپنا رحمت للعالمین ہونا بھی
(دیکھئے خ
مختصر یہ کہ رحمت للعالمین بجز محمد رسول اللہ کیا کہیے مرزا قادیانی کی جرات اور دلیری کے۔ کہ جس کے غلام بنتے ہیں۔ اسی آقا کی مسند پر بیٹھنا چا خاتم النبیین ﷺ کا ہمسر و ہم پایہ بننے کی خاطر اپنی نے مجھے بھی یہ الہام کیا ہے۔ ”وما ارسلنا الا رح
استغفر اللہ! کتنی جرات اور بے خوفی ہ ہیں اور جس صفت سے کسی نبی کو بجز حضور ﷺ کے وصف کا مالک بننا چاہتا ہے۔ مرزا قادیانی رحمت للعالمین بننے کو تو بہ بیٹھ گئے۔ (معاذ اللہ ) مگر ہمیں دیکھنا تو یہ ہے کہ آی
یہ امر بھی مثل نصف النہار روشن ہے کہ رحمت للعالمین بجز مصطفیٰ ﷺ کے اور کوئی نہیں۔ پروردگار نے رحمت للعالمین ہونا حضور علیہ السلام سے مخصوص فرمایا ہے۔ یہ تاج صرف شاہ مدینہ ہی کو پہنایا گیا ہے۔ چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:
(مدارج النبوۃ ج ١ ص ١٤٨)
امام جلال الدین سیوطیؒ نے حضور ﷺ کے خصائص میں آپ ﷺ کا رحمت للعالمین ہونا بھی شمار کیا ہے۔ (خصائص کبریٰ ص ١٨٩، ١٩٠) امام فخر الدین رازیؒ نے اپنی تفسیر مفاتیح الغیب میں زیر تفسیر آیت "تلك الرسل فضلنا " حضور علیہ السلام کا مخصوص برحمت للعالمین ہونا لکھا ہے۔ (تفسیر کبیر) امام عز الدین بن عبدالسلامؒ نے بدایۃ السول میں حضور علیہ السلام کا رحمت للعالمین ہونا آپ ﷺ کی خصوصیت لکھی ہے۔ (جواہر البحار ج ١ ص ١٨٩) ابن جریر اور ابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بزار ابو یعلیٰ بیہقیؒ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک حدیث کا اخراج کیا جس میں واقع معراج مفصل بیان ہوتے ہوئے حضور علیہ السلام کا خدا کی حمد کرنا درج ہے۔ جو آپ ﷺ نے تمام انبیاء کے حمد کر چکنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد فرمائی۔ اس حمد میں حضور علیہ السلام نے اپنے خصائص ظاہر کرتے ہوئے اپنا رحمت للعالمین ہونا بھی اپنی خصوصیت بیان فرمائی۔
(دیکھئے شرح الشفا ص ٣٩١، نیز خصائص کبریٰ ج ١ ص ١٧٣)
مختصر یہ کہ رحمت للعالمین بجز محمد رسول اللہ ﷺ کے نہ کوئی ہے نہ خدا نے کسی کو فرمایا مگر کیا کہئے مرزا قادیانی کی جرات اور دلیری کے۔ کہ آپ بمصداق ”مان نہ مان میں تیرا مہمان“ جس کے غلام بنتے ہیں۔ اسی آقا کی مسند پر بیٹھنا چاہتے ہیں۔ یعنی آپ نے حضرت سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ کا ہمسر وہم پایہ بننے کی خاطر اپنی کتاب حقیقت الوحی میں یہ الہام لکھ مارا کہ اللہ نے مجھے بھی یہ الہام کیا ہے۔ ”وما ارسلنا الا رحمت للعالمین“
(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
استغفر اللہ ! کتنی جرات اور بے خوفی ہے جس خصوصیت کے مالک صرف آپ ﷺ ہیں اور جس صفت سے کسی نبی کو بجز حضور ﷺ کے موصوف نہیں کیا گیا۔ آج گستاخ قادیانی اس وصف کا مالک بننا چاہتا ہے۔
مرزا قادیانی رحمت للعالمین بننے کو تو بن گئے۔ حضور علیہ السلام کے پہلو بہ پہلو بیٹھنے کو تو بیٹھ گئے۔ (معاذ اللہ) مگر ہمیں دیکھنا تو یہ ہے کہ آپ دنیا کے لئے رحمت ثابت بھی ہوئے یا نہیں۔
٢١
آپ دنیا بھر کے لئے رحمت ثابت ہوئے یا عذاب۔ پس سنئے! کہ حضرت رحمت للعالمین ﷺ کے تاج رحمت کے تین کنارے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کی رحمت کے تین پہلو ہیں۔
- ......١ حضور ﷺ کی موجودگی میں کافروں کا عذاب دنیا سے محفوظ رہنا۔
- ......٢ حضور ﷺ کا کافروں کے حق میں بددعا نہ فرمانا اور ان کی اصلاح کی دعا فرمانا۔ باوجود
یہ کہ کافروں کا آپ کو سخت سے سخت ایذائیں دینا اور باوجود صحابہ کا عرض کرنا کہ حضور ﷺ ان کے لئے بددعا فرمائیے۔
- ......٣ حضور کا ”احسن الناس خلقاً“ ہونا۔
اب ذرا حضور تاجدار مدینہ ﷺ کی رحمت اور اس انوکھے رحمت للعالمین قادیانی کی رحمت کا موازنہ کیجئے۔
پہلا پہلو
کافروں نے کہا ”اللّٰہم ان كان ھذا ھو الحق من عندك فامطر علینا حجارۃ من السماء اوئتنا بعذاب الیم“ ﴿یعنی اے اللہ! اگر یہ دین (محمدی) تیرے نزدیک سچا ہے اور ہم جھوٹے ہیں تو ہم پر آسمان پر سے پتھر برسا۔ یا دردناک عذاب لے آ۔﴾
اس آیت سے ظاہر ہے کہ کافروں نے خود عذاب کی درخواست کی۔ مگر ملاحظہ فرمائیے حضور ﷺ کے طفیل اللہ تعالیٰ بجائے اس کے کہ کافروں پر عذاب نازل کرے۔ یوں فرماتا ہے: ”ماکان اللہ لیعذبہم وانت فیہم“ ﴿اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نہیں کرے گا دراں حالیکہ تو (یعنی رحمت للعالمین ﷺ) ان میں جلوہ گر ہے۔﴾ علامہ اسماعیل حقیؒ اس آیت کے ماتحت فرماتے ہیں:
(روح البیان ج١ ص٨٤٠)
یعنی حضور علیہ السلام جب رحمت ہیں تو عذاب اور رحمت دونوں ضدیں ہیں اور دو ضدیں آپس میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ آیت زیر بحث ”وما ارسلناک الا رحمت للعالمین“ کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں: ”ھو عام فی حق من آمن ومن لم یؤمن فمن آمن ھو رحمۃ فی الدنیا والآخرۃ ولم یؤمن فھو رحمۃ لہ فی الدنیا بتاخیر العذاب عنہ“
(خازن ج٣ ص٢٧٩)
﴿یعنی حضور ﷺ کی رحمت مومن اور کافر کے لئے عام ہے۔ مومن کے لئے تو حضور ﷺ دنیا و آخرت میں رحمت ہیں اور کافر کے لئے صرف دنیا میں اس سے عذاب دنیا مؤخر
٢٢
ہو جانے سے رحمت ہیں۔﴾ علامہ نسفیؒ فرماتے ہیں: ” وللکافرین فی الدنیا بتاخیر العقوبۃ ف حضور ﷺ مومنوں کے لئے ہر دو جہان میں رحمت ہ مؤخر ہو جانے سے صرف دنیا میں رحمت ہیں۔﴾
مختصر یہ کہ حضور اقدس ﷺ کے رحمت الل عذاب دنیوی سے امن پایا اور کیوں نہ پاتے۔ جب کافر بھی شامل ہیں۔ وہ مردود ہستیاں جو بندر اور استیصال اور عذاب خسف ومسخ میں مبتلا ہو جانے کی للعالمین کے صدقہ میں ہر بلا سے محفوظ رکھا۔
ہاں۔ اب ذرا مرزا قادیانی کی رحمت کا
مرزا قادیانی کی رحمت کا یہ پہلو
مرزا قادیانی آتے ہی سناتے ہیں: ”ا میں بیماریاں پھیلیں گی اور بہت جانیں ضائع ہوں
”پنجاب میں طاعون پھیل جائے گی بہت مری پڑے گی اور ہزار ہا لوگ طاعون کا شکا گے۔“
”یاد رہے خدا نے مجھے عام طور پر پیشین گوئی کے مطابق امریکہ میں زلزلے آ مختلف مقامات میں آئیں گے اور بعض ان میں خون کی نہریں چلیں گی۔ اس موت سے چرند پر آئے گی کہ اس روز سے کہ انسان پیدا ہوا اسکا
”میرے آنے کے ساتھ خدا ک ہوگئے۔“
ہو جانے سے رحمت ہیں۔ ﴿ علامہ نسفیؒ فرماتے ہیں: ”هو رحمة للمؤمنين في الدارين وللكافرين في الدنيا بتاخير العقوبة فيها“ (مدارک ص ٢٧٩ بر حاشیہ خازن) ﴿ یعنی حضورﷺ مومنوں کے لئے ہر دو جہان میں رحمت ہیں اور کافروں کے لئے ان سے عذاب دنیا مؤخر ہو جانے سے صرف دنیا میں رحمت ہیں۔﴾
مختصر یہ کہ حضور اقدسﷺ کے رحمت للعالمین ہونے کے صدقہ میں کافروں نے بھی عذاب دنیوی سے امن پایا اور کیوں نہ پاتے۔ جب کہ حضور رحمت للعالمین ہیں اور عالمین میں کافر بھی شامل ہیں۔ وہ مردود ہستیاں جو بندر اور سؤر بن جانے کے لائق تھیں اور جو عذاب استیصال اور عذاب خسف و مسخ میں مبتلا ہو جانے کی مستحق تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مدنی رحمت للعالمین کے صدقہ میں ہر بلا سے محفوظ رکھا۔
ہاں۔ اب ذرا مرزا قادیانی کی رحمت کے اس پہلو پر نظر ڈالئے:
مرزا قادیانی کی رحمت کا یہ پہلو
مرزا قادیانی آتے ہی سناتے ہیں: ”الامراض تشاع والنفوس تضاع۔ ملک میں بیماریاں پھیلیں گی اور بہت جانیں ضائع ہوں گی۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٤ ، خزائن ج ٢٢ ص ٩٧)
”پنجاب میں طاعون پھیل جائے گی اور ہر ایک مقام طاعون سے آلودہ ہو جائے گا اور بہت مری پڑے گی اور ہزار ہا لوگ طاعون کا شکار ہو کر مر جائیں گے اور کئی گاؤں ویران ہو جائیں گے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٢٠ ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٠)
”یاد رہے خدا نے مجھے عام طور پر زلزلوں کی خبر دی ہے۔ پس یقیناً سمجھو کہ جیسا کہ پیشین گوئی کے مطابق امریکہ میں زلزلے آئے۔ ایسا ہی یورپ میں بھی آئے اور نیز ایشیاء کے مختلف مقامات میں آئیں گے اور بعض ان میں قیامت کا نمونہ ہوں گے اور اس قدر موت ہوگی کہ خون کی نہریں چلیں گی۔ اس موت سے چرند پرند بھی باہر نہیں ہوں گے۔ اور زمین پر اس قدر تباہی آئے گی کہ اس روز سے کہ انسان پیدا ہوا ایسی تباہی کبھی نہیں آئی ہوگی۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٥٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٨)
”میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے تجلے جو ایک بڑی مدت سے مخفی تھے ظاہر ہو گئے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٥٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٨)
٢٣
”نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لوگے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٥٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٩)
دوسرا پہلو
صحابہ کرامؓ نے حضور علیہ السلام سے عرض کی کہ: ”ادع على المشركين“ حضور ﷺ مشرکین کے حق میں بددعا فرمائیے۔ رحمت للعالمین نے فرمایا: ”انی لم ابعث لعانا وانما بعثت رحمة “ (مشکوٰۃ شریف ص ٥١١) میں لعنت اور بددعا کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا۔ میں تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ قریش نے جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب کی تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے حاضر ہوکر عرض کی: ”ان الله عزوجل قد سمع قول قومك لك وما ردّوا عليك وقد بعث اليك ملك الجبال لتامره بما شئت فيهم قال فنادانى ملك الجبال وسلّم علىّ ثم قال يا محمد ان الله قد سمع قول قومك لك وانا ملك الجبال وقد بعثنى ربك اليك لتامرنى بامرك فما شئت ان شئت اطبقت عليهم الاخشبين فقال له رسول الله ﷺ بل ارجو ان يخرج الله تعالى من اصلابهم من يعبد الله وحده لا يشرك به شيئا“
(مسلم شریف ج٢ ص ١٠٩)
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی قوم نے آپ ﷺ کو جو کچھ کہا اور جو جواب دیا، سنا اس نے آپ ﷺ کی طرف پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے۔ تاکہ جو کچھ آپ ان مشرکین کے حق میں چاہیں۔ اس کو حکم کریں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں پھر پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے نداء کی اور مجھ پر سلام بھیجا اور عرض کی کہ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ تاکہ آپ مجھے اپنے امر سے حکم فرمائیں۔ آپ کیا چاہتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں اخشبین (پہاڑ ابو قیس اور جو اس کے مقابلہ میں ہے۔ دونوں بڑے بڑے پہاڑوں کو) ان مشرکین پر ڈال دوں۔ رحمت للعالمین ﷺ نے فرمایا بلکہ میں یہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پیٹھوں سے ان کو پیدا فرمائے۔ جو ایک اللہ کی عبادت کریں اور جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
جنگ احد میں جب مشرکین نے حضور ﷺ کو بے حد اذیت پہنچائی تو بجائے اس کے کہ آپ ﷺ ان کے حق میں بددعا فرماتے ہیں۔ حضرت عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ چہرہ انور سے خون مبارک پونچھتے جاتے اور فرماتے: ”رب اغفرقومى فانهم لا يعلمون “(مسلم
٢٤
٣٤١ شریف ص ١٠٨، ج٢) اے میرے رب میری قوم کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی مبارک شہید ہوا۔ اور جب آپ ﷺ کا چہرہ منور زخ لو دعوت عليهم “ حضور ﷺ ! آپ ان لم ابعث لعانا ولكن بعثت داعياً رحمة ا الخفا، ص ٧٣٧) میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھی کر بھیجا گیا ہوں۔ اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے حضرت عمرؓ نے ایک بار حضور ﷺ سے نوح على قومه فقال رب لا تذر على لهلكنا من عند آخرنا قد وطئ فابيت ان تقول الا خيرا “(شرح الشفاء السلام نے اپنی قوم کے حق میں بددعا فرمائی اور کہا دیتا رہا۔ حضور! اگر آپ بھی اسی طرح ہم پر بدد کی پیٹھ دبائی گئی۔ حضور کا چہرہ انور خون آلود ک آپ ﷺ نے سوائے خیر کے اور کچھ نہیں فرمایا ا لا يعلمون ﴾ ابن منکدر نے روایت کی کہ جبرائی یہ عرض کی: ”ان الله امر السماء والارض فقال اوخّر عن امتى الذى استحقوه نے زمین اور پہاڑوں کو حکم دیا کہ وہ آپ ﷺ فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں اپنی اس ا ہو چکی۔ عذاب کو مؤخر کرتا ہوں۔ شاید انہیں ہ ہاں اب ذرا انوکھے رحمت للعالمین
مرزا قادیانی کی رحمت کا یہ پہلو
- ١....... ” وخذ رب من عادى ال
شریف ص ١٠٨، ٢٩٠) ﴿اے میرے رب میری قوم کو بخش، وہ جانتے نہیں۔﴾
بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہے کہ جنگ احد میں جب حضور ﷺ کا دانت مبارک شہید ہوا۔ اور جب آپ ﷺ کا چہرہ منور زخمی کیا گیا تو صحابہ پر بہت شاق گزرا اور عرض کی "لو دعوت علیہم " حضور ﷺ! آپ ان کے حق میں بددعا فرمائیے۔ ﴿فرمایا: ”انی لم ابعث لعانا ولكن بعثت داعياً رحمة اللهم اهد قومى فانهم لايعلمون“ (شرح الشفاء ص ٢٣٧) ﴿میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا لیکن رحمت اور اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے وہ جانتے نہیں ہیں۔﴾
حضرت عمرؓ نے ایک بار حضورﷺ سے عرض کی: ”يا رسول الله ﷺ لقد دعا نوح على قومه فقال رب لا تذر على الارض الايته ولو دعوت علينا مثلها لهلكنا من عند آخرنا قد وطئى ظهرك وادمى وجهك وكسرت رباعيتك فابيت ان تقول الا خيرا “ (شرح الشفاء علی القاری ص ٢٣٨) ﴿یا رسول اللہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے حق میں بددعا فرمائی اور کہا: رب لا تذر على الارض من الكفرين ديارا۔ حضور ! اگر آپ بھی اسی طرح ہم پر بددعا فرما دیتے تو ہماری تو بیخ کنی ہو جاتی ۔ آپ ﷺ کی پیٹھ دبائی گئی۔ حضور کا چہرہ انور خون آلود کیا گیا۔ حضورﷺ کا دانت شہید کیا گیا مگر پھر بھی آپ ﷺ نے سوائے خیر کے اور کچھ نہیں فرمایا اور یہی فرمایا: اللّٰهم اهد قومى فانهم لايعلمون﴾
ابن منکدر نے روایت کی کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضور علیہ السلام کے خدمت میں یہ عرض کی : ”ان الله امر السماء والارض والجبال ان تطيعك فمرها بما شئت فقال اوخر عن امتى الذى استحقوه بكفرهم لعلّ الله ان يتوب عليهم “ ﴿اللہ نے زمین اور پہاڑوں کو حکم دیا کہ وہ آپ ﷺ کی اطاعت کریں۔ پس آپ ﷺ جو چاہیں حکم فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں اپنی اس امت سے جو اپنے کفر کے سبب سے عذاب کی مستحق ہو چکی۔ عذاب کو مؤخر کرتا ہوں۔ شاید انہیں ایمان کی توفیق مل جائے۔﴾ (شرح الشفاء ص ٢٨٠)
ہاں اب ذرا انوکھے رحمت للعالمین قادیانی صاحب کی رحمت کا یہ پہلو ملاحظہ ہو۔
مرزا قادیانی کی رحمت کا یہ پہلو
- .......١ ”وخذ رب من عادى الصلاح ومفسدا. ونزل عليه الزجر حقا
٢٥
ودمر۔ وفرخ کروبی یا کریمی ونجنی۔ ومزق خصیمی یا الھی وغفر۔ ترجمہ جو مرزا نے خود کیا: اے میرے خدا جو شخص نیک راہ اور نیک کام کا دشمن ہے اور فساد کرتا ہے اس کو پکڑ اور اس پر طاعون کا عذاب نازل کر اور اس کو ہلاک کر اور میری بے قراریوں دور کر اور مجھے غموں سے نجات دے۔ اے میرے کریم اور میرے دشمن کو ٹکڑے ٹکڑے کر اور خاک میں ملا دے۔“
(سرالخلافہ ص ٦٣، خزائن ج ٨ ص ٣٩١، نیز حقیقت الوحی ص ٢٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٥)
- ٢...... ”میں نے طاعون پھیلنے کی دعا کی ہے سو وہ دعا قبول ہو کر ملک میں طاعون پھیل گئی“
(حقیقت الوحی ص ٢٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٥)
- ٣...... ”اور پھر مذکورہ بالا دعائیں جو دشمنوں کی سخت ایذا کے بعد کی گئیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٢٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٦)
- ٤...... ”اور جب فسق ہلاک کرنے والا حد سے بڑھ گیا تو میں نے آرزو کی کہ اب ہلاک
کرنے والی طاعون چاہئے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٢٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٦)
- ٥...... ”میرے مالک تو ان کو خود سمجھا۔ آسمان سے پھر ایک نشانی دکھلا۔ اس دعا کا
ماحصل یہ ہے کہ نشان کے طور پر کوئی اور بلا آریوں پر نازل ہو۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٦٠٨)
- ٦...... ”میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت ہو۔ تو ملعون کے سبب سے ملعون
ہوگئی۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)
- ٧...... ”وہ شریر جو گالیاں دینے سے باز نہیں آتا اور طعنا کرنے سے نہیں رکتا اور توہین کی
عادت نہیں چھوڑتا اور ایک مجلس میں میرے نشانوں سے انکار کرتا ہے اس کو چاہئے کہ میعاد مقررہ میں اس نشان کی نظیر پیش کرے ورنہ ہمیشہ کے لئے اور دنیا کے انقطاع تک مفصلہ ذیل لعنتیں اس پر آسمان سے پڑتی رہیں گی اور وہ لعنتیں یہ ہیں: لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، لعنت“ تلك عشرة كامله!
(اعجاز احمدی ص ٣٨، خزائن ج ١٩ ص ١٤٩)
ناظرین! ذرا اس انوکھے رحمت للعالمین کی حرکت دیکھئے۔ لعنت تقسیم کر رہے ہیں اور پھر کس مزے سے نقشے کھینچ کھینچ کر اور پھر رحمت للعالمین کی رحمت کا تقاضا ملاحظہ ہو۔ لعنت تقسیم کرتے وقت آیت قرآنیہ تلک عشرۃ کاملۃ کو مدنظر رکھتے ہوئے دس ١٠ بار لعنت ارسال فرمائی ہیں۔
مرزائیو! تمہارے اس انوکھے رحمت للعالمین کی ان لعنتوں کے ماتحت آیت قرآن کیا ہی زیب دے رہی ہے؟
٢٦
اخلاق کا پہلو
حضور سید المرسلین ﷺ کے اخلاق سے کون واقف مخالفین خود قائل تھے۔ حضور رحمت للعالمین ﷺ کی عادت میں نہیں اور دل آزار جملہ نہ فرمانا، کسی کو گالی نہ دینا، چنانچہ حضور میں نے حضور ﷺ کی خدمت کی، حضور ﷺ نے مجھے کبھی ’اُف‘ نیز فرمایا: ”کان رسول اللہ ﷺ من احس حضور تمام مخلوق سے بہتر خلیق تھے۔﴾ اور فرمایا: ”لم یک فاحشا ولا سخابا “ (مشکوۃ ص ٥١١) ”حضور فحش گو اور لع تھے۔“ الغرض حضور علیہ السلام کے اخلاق نہایت پاکیزہ اب ذرا آپ ﷺ انوکھے رحمت للعالمین کی رحمت کا یہ پہ
مرزا قادیانی کی رحمت کا یہ پہلو
مرزا قادیانی پرلے درجہ کے فحش گو لعان تھے۔ ان کی کتابیں مطالعہ کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ غلیظ کلمات استعمال کرنے میں بڑے ماہر تھے۔ ہمیں یہا اس وقت ہم مرزا قادیانی ہی کی ایک نظم کے دو شعر یہاں ن اپنے اخلاق کا صحیح فوٹو کھینچ دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
كم من قلوب قد شققت بنیزتی كم من صدور قد
ترجمہ جو مرزا قادیانی نے خود کیا ہے: ” غلاف میں ہے۔ بات میری نیزہ کی نوک کی طر ہلاک کر دیئے ہیں۔ بہت سینے ہیں جو میں
٧
تیسرا پہلو
حضور سید المرسلین ﷺ کے اخلاق سے کون واقف نہیں۔ آپ ﷺ کے اخلاق حمیدہ کے عدو خود قائل تھے۔ حضور رحمت للعالمین ﷺ کی عادت میں داخل تھا کہ نرمی سے گفتگو فرمانا، کسی کو دلخراش اور دل آزار جملہ نہ فرمانا، کسی کو گالی نہ دینا، چنانچہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ: ”میں نے دس برس حضور ﷺ کی خدمت کی۔ حضور ﷺ نے مجھے کبھی ’اُف‘ بھی نہیں کہا۔“
(مشکوٰۃ ص٥١٠)
نیز فرمایا: ”کان رسول اللّٰہ ﷺ من احسن الناس خلقاً“
(مشکوٰۃ ص٥١٠)
حضور تمام مخلوق سے بہتر خلیق تھے۔ ﴿اور فرمایا: ”لم یکن رسول اللّٰہ ﷺ فاحشا ولا لعانا ولا سبابا“ (مشکوٰۃ ص٥١١) ﴿حضور فحش گو اور لعنت کرنے والے اور گالی دینے والے نہ تھے۔﴾ الغرض حضور علیہ السلام کے اخلاق نہایت پاکیزہ اور محمودہ تھے۔ اسے ہر کوئی جانتا ہے۔
اب ذرا آپ ﷺ انوکھے رحمت للعالمین کی رحمت کا یہ پہلو بھی ملاحظہ فرمالیں۔
مرزا قادیانی کی رحمت کا یہ پہلو
مرزا قادیانی پرلے درجہ کے فحش گو، لعان تھے۔ آپ کی کتابیں اس پر شاہد ہیں۔ آپ کی کتابیں مطالعہ کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ گالی دینے اور دلخراش جملات، دل آزار کلمات استعمال کرنے میں بڑے ماہر تھے۔ ہمیں یہاں اتنا لمبا بیان کرنے کی حاجت نہیں۔ اس وقت ہم مرزا قادیانی ہی کی ایک نظم کے دو شعر یہاں لکھ دیتے ہیں جن میں مرزا قادیانی نے اپنے اخلاق کا صحیح فوٹو کھینچ دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
قولی کعالیۃ القنا او لہذم
کم من قلوب قد شققت غلافہا
کم من صدور قد کلمت واکلم
(حقیقت الوحی ص٣٥٠، خزائن ج٢٢ ص٣٦٣)
ترجمہ: جو مرزا قادیانی نے خود کیا ہے: ”میرا نطق تلوار کاٹنے والی کی مانند ہے جو دشمن کو ہلاک کرتی ہے۔ بات میری نیزہ کی نوک کی طرح یا لہدم کی طرح ہے۔ بہت دل ہیں جن کے غلاف میں نے پھاڑ دیئے۔ بہت سینے ہیں جو میں نے مجروح کئے اور کرتا ہوں۔“
فـــــــقـــــــط
عریانی حقائق
از جناب غلام دستگیر خان صاحب جنجوعہ جالندھری!
گزشتہ ماہ میرے ایک دوست کے ہاں ٹی پارٹی تھی۔ میرا خیال تھا کہ وقت مشرقی ہوگا۔ یعنی دعوت ہوتی ہے دس بجے کی۔ اور بمشکل لوگ پہنچتے ہیں بارہ بجے۔ انتظام بھی دئے ہوئے وقت سے ایک گھنٹہ بعد تک ٹھیک نہیں ہوتا۔ اسی خیال سے میں ذرا دیر سے پہنچا۔ رائج الوقت فیشن کے مطابق چند ایک فقرے ٹکسالی تہذیب کے جن میں کسی کو خط کا جواب نہ دینے یا کسی جگہ دیر سے پہنچنے کی شرمندگی کو عدیم الفرصتی کے سیاہ نقاب میں چھپایا جاتا ہے۔ کہہ کر میں بھی ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔ ٹی پارٹی کیا تھی۔ اچھی خاصی فرقہ پارٹی تھی جس میں ایک صاحب مرزائی تھے، ایک شیعہ، ایک وہابی اور ایک آریہ۔ چند ایک رند مزاج، کچھ زاہد تر، کچھ زاہد خشک اور چند نئے تعلیم یافتہ، تبادلہ خیالات ہو رہا تھا اور ہوتا رہا۔ مجھے ان سب فرقوں کے نمائندوں سے الجھنا پڑا۔ اور سب سے پہلے مرزائی صاحب سے۔
صحبت امروزہ میں ان ہی کا ذکر خیر کرتا ہوں۔ تاکہ یہ مضمون مرزا نمبر میں شائع ہو سکے۔ آئندہ سب کا فرداً فرداً آئینہ خیال لے کر حاضر ہوں گا۔ انشاء اللہ! حتی الامکان میں اختصار کے ساتھ پورا مفہوم ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔
مرزائی صاحب مشنری رنگ میں فرما رہے تھے۔ صاحبان! ایک نجات دہندہ دنیا میں آیا لیکن دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ اس نے اسلام کی عزت کو اس زمانے میں بچایا۔ آریوں کو جواب دیئے۔ عیسائیوں کو ساکت کیا۔ سب دین والوں پر الزام رکھا۔‘‘
میں: اور مسلمانوں کو کافر بنایا۔
مرزائی: مسلمان تو خود کافر بنے۔ انسان خود کافر بنتا ہے۔ کسی کے بنائے نہیں بنتا۔ آپ لوگ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے نہ مانیں۔ مجدد تو مان لیں۔ اس میں تو کوئی حرج نہیں۔
چودھری صاحب: یہ کیا؟ میں نہیں سمجھا۔ نبوت سے انکار اور مجددیت کا اقرار۔ کفر تو پھر قائم رہا۔
مرزائی: اس سے ہٹنے کے کافر نہیں رہو گے۔
چودھری صاحب: کافر تو پھر بھی رہے۔ تھرڈ کلاس ہی سہی۔ آدھے تیتر آدھے بٹیر۔
٢٨
احمدی صاحب! آپ اس بات سے مرزا قادیا تے ہیں نبوت کا۔ اور آپ کہتے ہیں مجدد ہی مان لو۔
مرزائی: ان کا دعویٰ نبوت کا تھا بھی اور نہیں بھی۔
میں: یعنی مثبت (+) اور منفی (-) ملکر برابر ہوا صفر ک ہست اور معدوم بھی۔ جلوۂ نور بھی ہے۔ ظلمت کی سیاہی بھی۔
مرزائی: میرا کہنا یہ ہے کہ آپ مطلق انکار نہ کریں۔ کچھ مان لیں۔
میں: آپ کی ہمدردی کا شکریہ۔ آپ ان کو اضافی ن
مرزائی: اس کا مطلب؟
میں: لاہوری پارٹی کی طرح ظلی اور بروزی نبی ما
مرزائی: مستقل نبی بھی اور ظلی بھی۔
میں: میں ظلی اور بروزی کے جھگڑے میں پڑ کر و دینا چاہتا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ فرض محال یہ ما ہے تو پھر مرزا قادیانی نبی کیسے ہو گئے۔ ان کے کردار، نبی تو بعد میں سہی پہلے مسلمان اور مومن تو ثابت کیجئے۔
مرزائی: وہ کیسے؟
میں: ایسے کہ قرآن اور حدیث شریف میں ن اخلاق کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی میں
مرزائی: ان کے اخلاق نہایت بلند تھے۔
میں: کیونکہ مرزا قادیانی نے حروف تہجی کا ک نے مسلمانوں کو گالیاں نہ دی ہوں۔ بالخصوص علماء ک
مرزائی: یہ کیا بات ہے۔ انسان تیزی میں کچھ ک
میں: گالی گلوچ کرنا، فحش گو اور بد زبان ہو ن ہے۔ لیکن خیال کیجئے کہ جو شخص ہدایات قرآن پاک رکھ سکتا۔ وہ دل کے مذموم اور برے خیالات کو ک ہو سکتا ہے۔
میں: احمدی صاحب! آپ اس بات سے مرزا قادیانی کی توہین کرتے ہیں۔ وہ تو دعویٰ کرتے ہیں نبوت کا۔ اور آپ کہتے ہیں مجدد ہی مان لو۔
مرزائی: ان کا دعویٰ نبوت کا تھا بھی اور نہیں بھی۔
میں: یعنی مثبت (+) اور منفی (-) ملکر برابر ہوا صفر کے۔ ایک وقت میں ایک چیز موجود بھی ہے اور معدوم بھی۔ چشمہ نور بھی ہے۔ ظلمت کی سیاہی بھی۔
مرزائی: میرا کہنا یہ ہے کہ آپ مطلق انکار نہ کریں۔ کچھ تو مانیں۔ وگرنہ میں تو ان کو نبی ہی مانتا ہوں۔
میں: آپ کی ہمدردی کا شکریہ۔ آپ ان کو اضافی نبی مانتے ہیں یا سادہ نبی۔
مرزائی: اس کا مطلب؟
میں: لاہوری پارٹی کی طرح ظلی اور بروزی نبی مانتے ہیں یا صرف نبی؟
مرزائی: مستقل نبی بھی اور ظلی بھی۔
میں: میں ظلی اور بروزی کے جھگڑے میں پڑ کر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا اور نہ بحث کو طول دینا چاہتا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر بہ فرض محال یہ مان لیا جائے کہ باب نبوت قیامت تک کھلا ہے تو پھر مرزا قادیانی نبی کیسے ہو گئے۔ ان کے کردار، ان کے افعال اور ان کے اعمال سے آپ کو نبی تو بعد میں سہی پہلے مسلمان اور مومن تو ثابت کیجئے۔
مرزائی: وہ کیسے؟
میں: ایسے کہ قرآن اور حدیث شریف میں مسلم اور مؤمن کے لئے جن صفات اور جن اخلاق کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی میں وہ صفات ثابت کیجئے۔
مرزائی: ان کے اخلاق نہایت بلند تھے۔
میں: کیونکہ مرزا قادیانی نے حروف تہجی کا کوئی حرف بچا نہ رکھا جس کے تحت انہوں نے مسلمانوں کو گالیاں نہ دی ہوں۔ بالخصوص علماء کو جو وارث الانبیاء ہیں۔
مرزائی: یہ کیا بات ہے۔ انسان تیزی میں کچھ کہہ ہی دیتا ہے۔ یہ معمولی بات ہے۔
میں: گالی گلوچ کرنا، فحش گو اور بد زبان ہونا۔ آپ کے نزدیک عیب نہیں اور معمولی بات ہے۔ لیکن خیال کیجئے کہ جو شخص ہدایات قرآن پاک اور حدیث شریف کے تحت زبان قابو میں نہیں رکھ سکتا۔ وہ دل کے مذموم اور برے خیالات کو کیسے روک سکتا ہے اور اخلاق اللہ سے کیسے متصف ہو سکتا ہے۔
٢٩
مرزائی: آپ اس بحث کو چھوڑیے۔ یہ تو دیکھئے کہ مرزا قادیانی نے خدمت دین کیسی شاندار کی ہے۔
میں: ہاں! ان کی خدمت دین میں مانتا ہوں کیونکہ انہوں نے باپ کو بیٹے سے اور بیٹے کو باپ سے جدا کر دیا۔ امت مرحومہ میں تفرقہ اندازی کی۔ نمازیں اور جنازے تقسیم کر ڈالے۔ نبوت کو اتنا سستا کر دیا کہ ہر کس و ناکس دو خواب دیکھ کر نبی بننے لگا۔ اس سے پیشتر چونکہ دماغوں میں نبوت کا کوئی تخیل نہیں تھا۔ اس لئے لوگ رب (نعوذ باللہ) بنتے تھے۔ نبی نہیں بنتے تھے۔ (صدیاں ہو چکیں کہ اسی طرح لوگ نبی بنتے تھے۔ مگر یہ قصہ پارینہ ہو چکا تھا اور لوگ بھول چکے تھے۔) جس وقت آپ نے ان کے دل میں ڈال دیا کہ نبوت بند نہیں ہوئی۔ فوراً خیال نے دل اور دماغ کو متاثر کر دیا۔ بھولے ہوئے قصے تازہ ہو گئے اور پیاسوں کو سراب پانی نظر آنے لگا۔
مرزا قادیانی نے جہاد کو جو مسلم کے بدن میں بمنزلہ روح کے ہے۔ منسوخ کر کے مسلمانوں کی رہی سہی قوت عمل کو بیکار کرنے میں ایک شاندار کام کیا۔ مرزا قادیانی نے آریوں اور عیسائیوں سے حسب عادت اور وہ آپ کی معمولی سی بات سے چڑ کر یہ کلام کر کے مذہب اور بانی مذہب کی شان میں ان سے بدزبانی کرائی۔
مرزا قادیانی نے زبردستوں کی گری ہوئی چاپلوسی اور خوشامد کر کے مسلمانوں میں نفاق کی ذلت آمیز عادات کو ترقی دی۔ مرزا قادیانی نے مباحثہ کا مہذب طریق چھوڑ کر جنگ و جدال کا راستہ اختیار کیا اور جب کبھی بحث میں اپنا پہلو دبتا دیکھا۔ فوراً موت و ذلت کی پیشگوئیاں شروع کر دیں۔
یہ ہیں مشتے نمونہ اس پیغمبر بے جبرائیل کے کارنامے جس نے خلاف شان پیغمبروں کے ترکہ چھوڑا اور پھر قرآن کے احکام کے مطابق مسلمانوں کی طرح تقسیم بھی نہ کیا۔ اگر ضرورت ہو تو اور سناؤں۔ یہ داستان بہت لمبی ہے۔
مرزائی: میں نہیں سننا چاہتا۔ یہ سب کچھ چھوڑ دیں۔ میری ایک بات کا جواب دیں۔ آپ سب مانتے ہیں کہ خدا کی قدرتوں کا نہ کوئی شمار ہے اور نہ حد۔ اس کا علم اس قدر وسیع ہے کہ وسعت کا لفظ بھی اس کے اظہار سے قاصر ہے۔ اس کی قدرت کا احاطہ کرنا ناممکن۔ وہ فہم و ادراک سے بالاتر ہے۔ تو پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ آج سے چودہ سو سال پیشتر اس کی قدرتوں اور علموں میں یک لخت رکاوٹ پیدا ہو گئی اور وہ محمد ﷺ رسول اللہ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں کر سکا اور نہ کبھی کر سکے اور اس کا
٣٠
ہو جائے۔ ہم تو محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت بڑھا رہے ہ کہ نبی بھیجتا رہتا ہے۔ اور آپ خدا کو بھی بے چارہ بنا ر ہی کم کر رہے ہیں۔
آپ رسول پاک کی عزت بڑھانے والے کون۔ خد لفظ: "الم نشرح لك صدرك، ورفعنا لك ذكرك و نا اعطيناك الكوثر" آپ ﷺ ہی کی شان میں فرمایا گ گیا۔ آپ ﷺ رحمت للعالمین کے ممتاز لقب سے ملقب آپ ﷺ یقیناً امیدوار کئے گئے۔ پھر وہ آپ لوگوں کا خیا ت کا مہر لگا کر نبیوں کو بھیجنا عجیب بات ہے۔ اول تو چودہ سو سا نبی پنجابی جس کے آسمانی الہامات میں صرف نحو کی غلطیا کہتا ہوں کہ عطائے نبوت تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔ (رسول ارشاد کر چکا: "اليوم اكملت لكم دينكم واتممت علي اور نعمت بھی تمام ہو گئی۔ پھر مرزا کے لئے نہ کوئی نیا دین بچا نہ اگر آپ ختم نبوت یا ختم نعمت خدا کی قدرت کا نقص خیال کر ٹوٹے گا کہ اس کا جوڑنا نہ قادیانی کے لئے ممکن ہوگا نہ انبیا زمین و آسمان کو۔ اس ساری کائنات کو پیدا کر کے ان کو ا رہے ہیں۔ چھوڑ دینا قدرت کے منافی ہوگا۔ اگر یہ کامل ہوگا۔ اور اگر نہیں تو آپ کے پاس مکمل نہ ہونے کی کیا دلیل
مرزائی: میں نہیں سمجھا۔ اس آخر کی بات کو ذرا واضح طور
میں: اگر یہ کارخانہ عالم جیسا کہ اب ہے۔ اس سے نقص ہوگا کیونکہ باوجود اس کے کہ اس سے بہتر ہونا ممکن نے نہ بنایا تو یا تو اس کے بہتر بنانے پر قادر نہ تھا یا باوج یا غفلت کی یا کچھ اور۔ اور اگر اس سے بہتر ہونا ناممکن تھ کی۔ اسی طرح نبوت کو قیاس کر لیں۔ اخلاق و عرفا و مباشرت و سیاست و شریعت کے اصول و فروع مکمل ہ
٣١
خزانہ خالی ہو جائے۔ ہم تو محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت بڑھا رہے ہیں کہ وہ ایسا خاتم النبیین ہے کہ مہر لگا کر نبی بھیجتا رہتا ہے۔ اور آپ خدا کو بھی بے چارہ بنا رہے ہیں۔ اور حضرت محمد ﷺ کی شان بھی کم کر رہے ہیں۔
میں: آپ رسول پاک کی عزت بڑھانے والے کون۔ خدا نے ان کی شان وہ بڑھائی کہ سبحان اللہ: ”الم نشرح لك صدرك، ورفعنا لك ذكرك واوحى الى عبده ما اوحى وانا اعطينك الكوثر“ آپ ﷺ ہی کی شان میں فرمایا گیا۔ آپ ﷺ کے لئے دین اکمل کر دیا گیا۔ آپ ﷺ رحمت للعالمین کے ممتاز لقب سے ملقب کئے گئے۔ قیامت میں مقام محمود کے آپ ﷺ یقیناً امیدوار کئے گئے۔ پھر وہ آپ لوگوں کا شان بڑھانا کیا معنے۔ دوسرے رسول پاک کا مہر لگا کر نبیوں کو بھیجنا عجیب بات ہے۔ اول تو چودہ سو سال میں صرف ایک نبی بھیجا۔ اور وہ بھی پنجابی جس کے آسمانی الہامات میں صرف ونحو کی غلطیاں۔ نعوذ باللہ منہا۔ لیکن پھر میں کہتا ہوں کہ عطائے نبوت تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔ (رسول کریم ﷺ کے ہاتھ میں نہیں ۔) جو ارشاد کرچکا: ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتی“ دین بھی کامل ہو گیا اور نعمت بھی تمام ہو گئی۔ پھر مرزا کے لئے نہ کوئی نیا دین بچا نہ نئی نعمت۔ سب کچھ طے ہو چکا۔ اب اگر آپ ختم نبوت یا ختم نعمت خدا کی قدرت کا نقص خیال کریں تو پھر یہ رشتہ بیسیوں جگہ سے ایسا ٹوٹے گا کہ اس کا جوڑنا نہ قادیانی کے لئے ممکن ہوگا نہ ایرانی کے لئے۔ اس کارخانہ عالم کو اس زمین و آسمان کو۔ اس ساری کائنات کو پیدا کر کے ان کو انکی موجودہ صورت میں جیسے کہ ہم دیکھ رہے ہیں۔ چھوڑ دینا قدرت کے منافی ہوگا۔ اگر یہ کامل اور مکمل ہیں تو مکمل سے اوپر کون درجہ ہوگا۔ اور اگر نہیں تو آپ کے پاس مکمل نہ ہونے کی کیا دلیل ہے۔
مرزائی: میں نہیں سمجھا۔ اس آخر کی بات کو ذرا واضح طور پر کہئے۔
میں: اگر یہ کارخانہ عالم جیسا کہ اب ہے۔ اس سے بہتر ہونا ممکن تھا تو پھر صنعت کردگار میں نقص ہوگا کیونکہ باوجود اس کے کہ اس سے بہتر ہونا ممکن تھا اور پھر خدائے قادر و توانا و لطیف و حکیم نے نہ بنایا تو یا تو اس کے بہتر بنانے پر قادر نہ تھا یا باوجود قادر ہونے کے بہتر نہ بنایا۔ تو بخل کیا یا غفلت کی یا کچھ اور۔ اور اگر اس سے بہتر ہونا ناممکن تھا تو پھر نہ قدرت کی نفی ہوتی ہے نہ حکمت کی۔ اسی طرح نبوت کو قیاس کرلیں۔ اخلاق وعرفان مکمل طور پر عطا کر دیئے گئے۔ تمدن و معاشرت و سیاست و شریعت کے اصول وفروع مکمل دے دیئے گئے اور یہ پیالہ مئے عرفان سے
ایسا لبریز کر دیا گیا کہ ایک قطرہ کی بھی گنجائش نہ رہی۔ توحید مکمل، تفرید و تجرید مکمل، ولایت مکمل، کتاب مکمل، کتاب کی شرح مکمل، کتاب لانے والا اور اس کی توضیح کرنے والا مکمل، قاب قوسین او ادنیٰ۔ تو پھر وہ کیا چیز رہ گئی جس کے لئے نبی کی ضرورت ہو۔
مرزائی: خیر آپ ان کو ملہم ہی مانئیے۔ میں: ہاں تراشیدہ و ناتراشیدہ الہامات جو آسمان کے تاروں سے بھی زیادہ منجانب مرزا قادیانی شائع ہوئے اور جن میں سے کئی ایک کے معنی وہ سنیاسیوں کے نسخوں کی طرح قبروں میں ساتھ لے گئے۔ اگر عقائد و مذہب میں کوئی قیمت رکھتے ہوں تو بہت قابل قدر ہیں اور آئندہ سب کے لئے حجت ہوں گے۔ ہر ایک مدعی ہو جائے گا۔ مرزا قادیانی کی کوئی خصوصیت نہ رہے گی۔ مگر میں تو ان کو ملہم بھی نہیں مانتا۔
چودھری صاحب: تو پھر آپ کافر ظنی۔ میزبان: صاحبان! یہ بحث ختم۔ دوسری شروع ہو گئی۔ اس سے نتیجہ نکلا کہ ہم پہلے اپنے مکمل نبی کی ہدایات پر تو کار بند ہولیں۔ پھر نئے نبی دیکھ لیں گے۔
کفریات مرزا
- .......١ مرزا قادیانی (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) میں لکھتے ہیں: ”مسلمانوں کو
واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن مجید میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا ۔“ (اور ست بچن ص ١٥٩، خزائن ج ١٠ ص ٢٨٣) میں لکھا ہے یسوع مسیح ایک اسرائیلی آدمی مریم کا بیٹا ہے، اور (انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤١) میں لکھا ہے۔ (مریم کا بیٹا کوشلیا کے بیٹے یعنی رامچندر سے کچھ زیادتی نہیں رکھتا۔) توبہ توبہ نعوذ باللہ من ذلك، حالانکہ سیدنا مسیح بن مریم کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید سورہ مائدہ میں فرماتا ہے: ”مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ “ یعنی حضرت مسیح ابن مریم خدا کے رسول ہیں۔﴾
- ......٢ مرزا قادیانی ( دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) میں لکھتا ہے: ”خدا نے ہمیں تو بتلایا
کہ انجیل ایک مردہ اور ناتمام کلام ہے“ اور ( براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٣٦١، خزائن ج ١ ص ٤٣١) میں لکھتا ہے: ”حضرت عیسیٰ تو انجیل کو ناقص کی ناقص چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھے۔“ حالانکہ اللہ تعالیٰ سورہ مائدہ میں فرماتا ہے: ”وَ آتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ “ یعنی دی ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل جس میں ہدایت اور نور ہے۔﴾
٣٢
٣...... مرزا قادیانی (اعجاز المسیح ص ١٠١، خزائن ج ١٨ ص ١٠٤) میں لکھتے ہیں: ”فیکون رحمن محمدﷺ یقیناً۔ یعنی یقیناً رحمن محمد ہی ہے۔“ اور ص ١٠٢، خزائن ج ١٨ ص ١٠٥ میں لکھا ہے: ”ان الرحمن محمدﷺ وان محمد الرحمن. یعنی رحمن محمدﷺ ہے اور محمد رحمن ہے۔“ یعنی اللہ اور محمد ایک ہی چیز ہے۔ حالانکہ یہ کفر ہے۔ نصاریٰ کا بھی یہی دعویٰ تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ مائدہ میں فرماتا ہے: ”لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم“ ﴿یعنی یقیناً کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا اللہ مسیح بن مریم ہے۔﴾
٤...... اسی (اعجاز المسیح ص ١٤٣، خزائن ج ١٨ ص ١٤٧) میں لکھا ہے: ”مسمی زمان المسیح الموعود یوم الدین. یعنی یوم الدین میرے زمانہ کا نام ہے۔“ اور ازالۃ الاوہام ص ١٤٣، خزائن ج ٣ ص ١٦٩ میں لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کے تائید یافتہ بندے یعنی خود مرزا قادیانی قیامت کا ہی روپ بن کر آتے ہیں اور انہی کا وجود قیامت کے نام موسوم ہو سکتا ہے۔“ حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید پارہ ٢٩ میں قیامت کے متعلق ایک مستقل سورہ نازل فرمائی جس کا نام ہی سورہ قیامت ہے۔ اس کے آخر میں ہے: ”الیس ذلک بقادرٍ علی ان یحیی الموتی“ ﴿یعنی کیا اللہ تعالیٰ کی ذات پاک اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو پھر زندہ کرے۔﴾ (مگر مرزا قادیانی اور امت مرزائیہ کا اس بات سے انکار ہے)
٥...... مرزا قادیانی (توضیح مرام ص ٢٤، خزائن ج ٣ ص ٦٤) میں لکھتے ہیں: ”جس قدر روح میں گرمی پیدا ہوتی ہے اس کو فرشتہ وملک کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔“ حالانکہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی پارہ قرآن مجید میں فرماتا ہے: ”من کان عدو للہ وملائکتہ ورسلہ وجبریل ومیکائیل فان اللہ عدو للکافرین“ ﴿یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کے رسولوں کے اور جبرائیل اور میکائیل فرشتوں کے دشمن ہیں، تو اللہ تعالیٰ بھی ایسے کافروں کا دشمن ہے۔﴾
٦...... مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧) میں اپنی وحی نقل کرتے ہیں: ”کہ میرا خدا کہتا ہے کہ اخطی واصیب اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ دوں گا، کبھی پورا کردوں گا۔“ اس وحی الٰہی کے ظاہری الفاظ یہ معنے رکھتے ہیں کہ میں خطا بھی کرتا ہوں اور صواب بھی۔ واہ مرزا قادیانی کا خدا؟ یہی وجہ ہے کہ محمدی بیگم کے نکاح کا مرزا قادیانی کے ساتھ وعدہ بھی کر دیا اور وحی بھی بھیج دی۔ جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص ٣٩٦، ٣٩٧، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) میں مرقوم ہے اور پورا بھی نہ کر سکا۔ مگر مسلمانوں کے خدا کی صفت یہ ہے کہ: ”فعال لما یرید سورہ بروج“ ﴿یعنی پورا کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے۔﴾
- ٧...... مرزا قادیانی (توضیح مرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠) میں لکھتے ہیں: ”ہم فرض کر سکتے ہیں
کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول بھی رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح (جو ایک دریائی جانور ہے) اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔“ یہ ہے مرزا قادیانی کا خدا۔ اور مسلمانوں کے خدا کی صفت یہ ہے: ”ليس كمثله شئ وهو السميع البصير“ (سورہ شوریٰ) ﴿اور اس کے مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔﴾
- ٨...... (حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧) میں لکھا ہے: ”قرآن مجید خدا کی کتاب اور
میرے منہ کی باتیں“ حالانکہ اللہ تعالیٰ سورہ اسراء میں فرماتا ہے: ”قل لئن اجتمعت الجن والانس على ان يأتوا بمثل هذا القرآن لا ياتون بمثله ولوكان بعضهم لبعض ظهيرا“ ﴿یعنی اگر جن و انسان سب جمع ہو کر قرآن کے مثل کوئی کلام لانا چاہیں تو نہ لاسکیں گے۔ اگر چہ ایک دوسرے کی امداد بھی کریں۔﴾
- ٩...... اسی (کتاب حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) میں لکھا ہے: ”آسمان سے کئی تخت
اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا ۔“ اور نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧ میں لکھا ہے: ”آدمم نیز احمد مختار. در برم جامع ہمہ ابرار“ آگے لکھتے ہیں: ”کم نیم زان ہمہ بروئے یقیں. ہر کہ گوید دروغ است لعین. یعنی تمام انبیاء آدم سے لیکر آن حضورﷺ تک جتنے گزرے ہیں۔ سب کے مدارج مجھ (مرزا) میں پائے جاتے ہیں۔ اور درجہ میں کسی سے کم نہیں اور یہ جھوٹی بات نہیں۔“ گویا مرزا قادیانی درجہ میں آنحضورﷺ سے بھی بڑھ کر ہیں۔ (نعوذ باللہ من ذلک) حالانکہ حضورﷺ کے بے شمار فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضورﷺ کو خاتم النبیین بنایا جیسا کہ سورہ احزاب میں مذکور ہے اور آپﷺ کے سوا یہ شان کسی کو حاصل نہیں مرزا قادیانی نے اسی کتاب (نزول المسیح ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١) میں لکھا ہے: ”میں رسول اور نبی نہیں ہوں ۔“ اور ازالۃ اوہام ص ٤٣١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠ میں لکھا ہے: ”من نیستم رسول ونیا وردہ ام کتاب“ اب تعجب انگیز بات تو یہ ہے کہ ادھر مرزا قادیانی رسول اور نبی بھی نہیں اور ادھر اولوالعزم انبیاء سے بھی درجہ میں زیادہ ہیں۔ گویا اپنے قول پر بول کرنا ہے۔
- ١٠...... (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) میں لکھا ہے: ”انما امرك اذا اردت
شيئا ان تقول له كن فيكون. یعنی خدا نے کن فیکون کا اختیار مرزا قادیانی کو دے دیا۔“ پس
٣٤
اسی بناء پر مرزا قادیانی (کتاب البریہ ص ٨٧، خ ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں۔“ کی خبر سورہ قصص میں دی ہے: ”وقال فرع غیرى “ ﴿یعنی فرعون نے کہا اے جماعت الغرض جو کچھ مذکور ہوا یہ مرزا قادیانی کے کفری ایمانی حالت ہو کب وہ امام یا مجدد یا مقرب خ
مرزاغلام احم
از جناب حکیم محمد علی صاحب
مرزا غلام احمد قادیانی کا قول کتا ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمی ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی
حکیم نور احمد صاحب سکنہ لودھی
پر مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کی طبی تصدیق مراق تھا“ اب مراقی مریض کے متعلق حکی ایک شاخ ہے۔ مالیخولیا مراق میں دماغ کو ا
خود مرزائی ڈاکٹر شاہ نواز صاحب
ص ١٦ پر لکھتے ہیں کہ: ”ایک مدعی الہام مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید۔ چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو حواریوں کی تحریرات سے ثابت ہو گیا کہ تھے اور جس خرافات کو وہ الہامات سے تعب نتیجہ تھی۔ جب تبخیر مراقیہ کا زور ہو تو علاما ہیں۔ اسی وجہ سے جب مرزا قادیانی کو تبخی زور کم ہونے پر وہ خود بھی اپنے اقوال پ
اسی بناء پر مرزا قادیانی (کتاب البریہ ص ٧٨، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) میں لکھتے ہیں: ”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں۔“ حالانکہ یہ فرعون کا دعویٰ تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر سورہ قصص میں دی ہے: ”وقال فرعون يا ايها الملاء ما علمت لكم من اله غيرى “ ﴿یعنی فرعون نے کہا اے جماعت تمہارے لئے میں اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔﴾ الغرض جو کچھ مذکور ہوا یہ مرزا قادیانی کے کفریات سے مشتے نمونہ از خروار ہے۔ پس جس شخص کی یہ ایمانی حالت ہو کب وہ امام یا مجدد یا مقرب خدا بن سکتا ہے۔ نبوۃ تو بجائے خود رہی۔
مرزا غلام احمد قادیانی مراقی تھا
از جناب حکیم محمد علی صاحب مصنف ”سودائے مرزا“ امرتسری!
مرزا غلام احمد قادیانی کا قول کتاب منظور الٰہی کے ص ٣٤٨ پر لکھا ہے: ”میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہوں۔ تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اسی کام کو کرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے۔“
حکیم نور احمد صاحب سکنہ لودھی ننگل نے ریویو آف ریلیجنز مطبوعہ ماہ اپریل ١٩٢٥ء کے ص ٤٥ پر مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کی طبی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے: ”بے شک مرزا قادیانی کو مرض مراق تھا“ اب مراقی مریض کے متعلق حکیم نور الدین کی تشریح ظاہر کرتی ہے کہ ”مراق مالیخولیا کی ایک شاخ ہے۔ مالیخولیا مراق میں دماغ کو ایذاء پہنچاتی ہے۔“
(بیاض نور دین ج ١ ص ٣١١)
خود مرزائی ڈاکٹر شاہ نواز صاحب اسسٹنٹ سرجن ریویو آف ریلیجنز ماہ اگست ١٩٢٦ء کے ص ١٦ پر لکھتے ہیں کہ: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“ پس خود مرزا اور اس کے حواریوں کی تحریرات سے ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے مختلف دعاوی کی محض مرض مراق کا نتیجہ تھے اور جن خرافات کو وہ الہامات سے تعبیر کرتا ہے۔ وہ ابخرہ مراقیہ کے پیدا کردہ تخیلات فاسدہ کا نتیجہ تھی۔ جب تبخیر مراقیہ کا زور ہو تو علامات مرض بڑھ جاتی اور جب زور کم ہو تو علامات گھٹ جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے جب مرزا قادیانی کو تبخیر مراقیہ کا زور ہوتا تھا تو وہ اٹ سنٹ بولنے لگتے تھے لیکن زور کم ہونے پر وہ خود بھی اپنے اقوال پر نادم ہو جاتے تھے۔ چنانچہ (کشف الغطاء کے ص ١٢، خزائن
٣٥
ج ١٤ ص ١٩٣) پر وہ لکھتے ہیں: ”ممکن ہے کہ کئی لوگ میری ان باتوں پر ہنسیں گے یا مجھے پاگل اور دیوانہ قرار دیں گے کیونکہ یہ باتیں دنیا کی سمجھ سے بڑھ کر ہیں اور دنیا ان کو شناخت نہیں کر سکتی۔“ مرزا کے قول پر مرزائی طبی بورڈ کا فیصلہ اور پھر مرزا کی تحریروں سے اس امر کی تائید کہ اسے مراق کا عارضہ لاحق تھا۔ ایسی چیز ہے جس سے مرزائی امت انکار نہیں کر سکتی۔ پھر تعجب ہے کہ لوگ اس کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔
فتنہ قادیان
از مولانا ظفر علی خان صاحب
محمد کے غلام اسکندر و جم بن ہی جاتے ہیں امانت کچھ اثر دکھلا ہی جاتی ہے امینوں میں
انگوٹھی ایک ہے اسلام کی ہم سب نگیں اس کے رسول اللہ کرلیں انتخاب اپنے نگینوں میں
حسیں ہے اور بھی لیکن جو میری آنکھ سے دیکھو تو ہے اسلام کی صورت ہی پیاری سب حسینوں میں
جلال اسلام کا منظور ہو گر دیکھنا تم کو تو سجدوں کی تڑپ کو دیکھ لو آ کر جبینوں میں
زمانہ نے ترقی علم وفن میں اس قدر کی ہے کہ طے ہوتی ہے منزل آج برسوں کی مہینوں میں
مسلمان بھی نہ تھے نا آشنا اس رمز اکبر سے کہ ہونی چاہئے تعمیر سفینوں کی سفینوں میں
عرب نے سارے عالم میں بکھیرا ان جواہر کو نہ ڈھونڈے سے بھی مل سکتے جو یمن کے دفینوں میں
وہ بت جن سے نہیں اڑتی ہے اپنی ناک کی مکھی خدا کی شان وہ بھی ہیں خدا کے نکتہ چینوں میں
زبان پر دین کا غل اور سر میں کفر کا سودا چھپائے جا رہے ہیں آج کل بت آستینوں میں
کہاں پنجاب میں اسلام تیری اٹھ گئی غیرت بٹھایا کفر کو لاکر نبی کے ہم نشینوں میں
تفو اے گنبد گردوں گرداں ! کیا قیامت ہے کہ ہمسر شیر کی روباہ بنتی ہے عرینوں میں
کھلونا قادیاں کا بن گئی وہ سطوت کبریٰ بپا اب تک شور جس کا آسمانوں اور زمینوں میں
حدیث اسمہ احمد غلام احمد پہ چسپاں ہو پڑے خاک اس سلیقے پر، لگے آگ ان قرینوں میں
مسلمانو ! کچھ اس دجال اعظم کی خبر بھی ہے ملایا جس نے آتے ہی سعیدوں کو لعینوں میں
گہر کی قدر ہو کس طرح کوئی جوہری بھی ہو نہیں فرق اب رہا کچھ پتھروں اور آبگینوں میں
مثالب کا مجھے کیا ڈر مرا ایمان ہے قرآں پر کہ حق تک عین سے پہنچا ہوں میں اپنے یقینوں میں
میرے اشعار ہیں یا گنبد گرداں کے تارے ہیں نظر آتا ہے رنگ آسماں میری زمینوں میں
٣٦
پاپائے قادیان کی شوخ چشمانہ جسارت
(ایک آلودۂ خطا انسان کو مسند اکملیت پر بٹھانے کی کوشش!)
از مولانا ظفر علی خان!
ہماری باتیں موسیو بشیر اور ان کے خرد باختہ حلقہ بگوشوں کو کڑوی معلوم ہوتی ہیں۔ ہمارے اقوال ان کو گراں گزرتے ہیں۔ اور ہمارے ان چابکوں کی تفصیل بار بار گنائی جاتی ہے جو ہمارے دفعۂ استہزاء نے قادیانیت کے جگر میں رہ رہ کر لگائے جاتے ہیں۔ اور ہم سے استدعا کی جاتی ہے کہ اس سلسلۂ طعن و تعریض کو بند کر دیں۔ اس کے دوسرے معنی یہ ہوئے کہ موسیو بشیر اور ان کی امت ''کثیر الانفاز'' کو تو یہ اختیار دے دیا جائے کہ اسلام کا منہ چڑائیں۔ روایات اسلام کا استخفاف کریں۔ رسول اللہ ﷺ کی نقلیں اتاریں۔ ازواج مطہرات حضور سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ناموس کو اپنے خاندان کی خواتین کے القاب و آداب کے لئے وجہ محاکات بنائیں۔ لیکن ہم کو اجازت نہ ہو کہ اس بے باکانہ طرز عمل پر ایک حرف بھی زبان قلم سے نکالیں۔
آپ اس حقیقت کبریٰ سے دور جائیے۔ لیکن ہمارے دل کے پاک ترین گوشے اور ہماری آنکھ کے نازک ترین پردے میں اس کا جیتا جاگتا مفہوم ہر وقت موجود ہے کہ خدائے برتر و بزرگ کے بعد محمد مصطفیٰ ﷺ اور احمد مجتبیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام وسلاماً دائماً ابداً خلاصۂ کائنات وزبدۂ موجودات ہیں جن پر انسان کے لئے حجت حق ختم ہو گئی۔ جن کی ذات عدیم المثال ہے اور جن کی صفات فقید النظیر ہیں۔ پھر آپ ہی انصاف فرمائیں کہ ہمارے دل کو کس درجہ تکلیف ہوتی ہے۔ ہماری روح کو کس قدر صدمہ پہنچتا ہے۔ ہمارے جذبات کس حد تک مجروح ہوتے ہیں۔ جب آپ مرزا غلام احمد جیسے آلودۂ خطا ونسیان انسان کو حضور محمد مصطفیٰ ﷺ جیسے انسان کامل کی مسند اکملیت پر بٹھا کر اسلام کا منہ اس طرح چڑاتے ہیں:
- ١....... ہم بغیر کسی فرق کے بہ لحاظ نبوت انہیں (مرزا غلام احمد قادیانی کو) ایسا ہی رسول مانتے
ہیں جیسے کہ پہلے رسول مبعوث ہوتے رہے۔
- ٢....... ہم مانتے ہیں اور صدق دل سے جانتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی بعثت اول جیسی کہ
پانچویں ہزار میں ہوئی ایسی ہی چھٹے ہزار کے لئے مقدر تھی اور سورۂ جمعہ میں اس کا ذکر ہے۔
- ٣....... مرزا قادیانی کی صداقت کے لئے اس قدر نشانات ظاہر ہوئے کہ اگر وہ ہزار ہا پر بھی
تقسیم کئے جائیں تو ان کی نبوت بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
٣٧
- ٤....... پھر ہم کہتے ہیں کہ وہ (مرزا قادیانی) جری اللہ فی حلل الانبیاء تھا یعنی تمام
انبیاء کا نمونہ آپ کی ذات قدسی صفات میں جمع تھا۔
- ٥....... آپ نے اس کو (مرزا قادیانی کو) نہیں پہچانا۔ مگر ہم نے تو اسے دیکھنے کی آنکھوں
سے دیکھا۔ وہ یقیناً سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے جمیع کمالات قدسیہ کا جامع ہے۔ اور ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ کا مصداق۔
- ٦....... جس بات نے حضرت محمد ﷺ کو حضرت محمد ﷺ بنا دیا۔ وہی بات اس (مرزا قادیانی)
میں ہمارے نزدیک موجود تھی۔
- ٧....... اس (مرزا قادیانی) کے اقوال و تصانیف کا ایک ایک لفظ ہمارے لئے ایسا ہی حجت
قوی اور قیمتی ہے جیسے کسی اور نبی کا۔
- ٨....... جب ایک شخص کی بھی تعظیم کی جاتی ہے جو دو چار خادم رکھتا ہو اور کوئی مہذب آدمی پسند
نہیں کرتا کہ ایک معمولی وجاہت کے انسان کو بھی برا کہے۔ اور اس کی توہین کرے۔ تو آپ کے لئے یہ کیونکر جائز ہو گیا کہ اس خدا کے برگزیدہ جاہ و جلال کے نبی عظیم الشان نبی۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار کی شان رکھنے والے نبی ”انت منی وانا منك ظهورك ظهوری“ کے مخاطب نبی کو کھلے کھلے الفاظ میں گالیاں دیں۔“
(الفضل قادیان ١٦؍ اکتوبر ١٩٤٧ء)
ہز ہولی نس موسیو بشیر اور ان کے عقیدت کیش یقین مانیں کہ ”الفضل“ کے محولہ فوق اقتباس کے الفاظ پڑھ کر فرط غیظ و غضب سے ہماری حالت دگرگوں ہو جاتی ہے۔ اور ہمارا غرق خون دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے ان کا منصب چھین کر کسی نا اہل کو دے دینا مسلم آزاری کا ایک ایسا فعل ہے جس کے ارتکاب کی جرأت اس سوا تیرہ سو سال کے عرصہ میں قادیان والوں ہی کو ہوئی ہے۔ مسلمان باقی تمام حرکات مذبوحی کو برداشت کر سکتے ہیں لیکن اس کی تاب نہیں لاسکتے۔ کہ ہر ایرے غیرے کو محمد مصطفیٰ ﷺ بنا دیا جائے۔ اگر موسیو بشیر جنہیں اپنے لاکھوں مریدوں کے ایثار و فدویت پر گھمنڈ ہے۔ ہم چالیس کروڑ جان نثار محمد ﷺ کو بھی کسی شمار و قطار میں سمجھتے اور ہمارے جذبات کی بھی پرواہ کرتے تو ہم ان کی خدمت میں عرض کرتے ؎
هر چه خواهی کن ولیکن مسلم آزاری مکن
فقط!
٣٨
ماہنامہ
شمس الاس
ختم نبو
حضرت مولانا اف
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
ماہنامہ
شمس الاسلام بھیرہ
کا
ختم نبوت نمبر
حضرت مولانا افتخار احمد بگوی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دیباچہ
لمعات
٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد کے ذریعے موجودہ آئین میں یہ دستوری ترمیم کی کہ وہ تمام لوگ اور جماعتیں جو نبی کریم ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے۔ یا کسی نوع کے داعی نبوت کو مصلح یا مجدد تسلیم کرتے ہیں۔ ”وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔“
چنانچہ اسی روز تیسری خواندگی کے بعد یہ اہم ترمیم آئین پاکستان کا حصہ بن گئی۔
واقعہ یہ ہے کہ یہ قرارداد اور ترمیم کسی خاص فرد، جماعت یا وقتی وعلاقائی کوششوں کا کوئی اضطراری نتیجہ نہیں ہے۔ بلکہ اس اہم تبدیلی کے پیچھے برصغیر کے علمائے ربانی کی ان گنت، کٹھن اور طویل قربانیوں کا سلسلہ ہے۔ جن کے نتیجے میں جہان ایک طرف عوام کے دلوں میں ایمان کا جذبہ اور عشق مصطفیٰ کا شعلہ پوری آب و تاب کے ساتھ فروزاں رہا۔ وہاں دوسری طرف اس فتنے کا برصغیر اور بیرون ، مناسب تدارک اور استیصال ہوتا رہا۔ چنانچہ تمام تر سرکاری سرپرستی ، شاہ کی مصاحبت ، فرقے کی تنظیم ، سرمائے اور وسائل کے باوجود، محض علماء کی انہی مساعی کی بناء پر قادیانیت برصغیر میں پوری طرح پنپ نہیں سکی ۔
قادیانیت
چند اعتقادات واجتہادات ، اختراعات و مزعومات یا اوہام و اشتہارات کا ہی نام نہیں، اسلام کے متوازی اس تحریک کے پیش نظر مخصوص سیاسی اور تاریخی مقاصد بھی ہیں ۔ اگر توحید کو اس کائنات کے ربط واتحاد کی فطری اساس قرار دیا جائے تو نبی کریم ﷺ کی رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کو عالم اسلام کے لئے بجاطور پر اتفاق و اتحاد بلکہ امتیاز وافتخار کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔ مرزا قادیانی کی تحریک اسی علامت کے درپے ہے تا کہ مسلمان اپنا تشخص و امتیاز ، اتحاد اور سرمایہ افتخار چھوڑ دیں ۔
١٨٥٧ء کی جدوجہد آزادی ، غیر ملکی سامراج کے خلاف محکوم ہندوستان کی پہلی ہمہ گیر کوشش تھی ۔ اس جنگ میں اور اس کے بعد اس سوتے سے جو تحریکیں برپا ہوئیں۔ ان سب کی
٢
قیادت عملی اور فکری اعتبار سے مسلمان علماء کے تہذیبی ،فکری، دینی اور عملی لحاظ سے بے پایاں او تراشے۔ ان میں وہ علماء کو نہیں بھولا۔ چنانچہ ان افادیت اور اہمیت کو سرے سے ختم کر دیا اور مسلم اقتدار کو مستحکم بنانے اور علماء کی توجہ اور توانائی کو مر ڈالی۔ ان اقدامات سے نہ صرف لوگوں کی رجع منتشر ہوئی اور قادیانیت کی شکل میں انگریز کو وفادار جماعت ہاتھ آئی ۔
آئین تو محض ایک تحریری دستاویز صرف الفاظ بدلنے سے تو حقیقت حال نہیں بد تحریک کا مقصد اور آئینی تبدیلی کا تقاضا پورا ن ان کے پیروکار گمراہ، کافر اور دائرہ اسلام سے ہے اور یہ فیصلہ آج یا کل کا نہیں ہوا۔ بلکہ اس سے مرزا قادیانی گمراہ ہوئے۔ یہ باتیں عملی ا پہچانی صداقت کا محض اعتراف ہے۔
ترمیمی مقاصد سے ہم آہنگ عمل
فوائد ضرور حاصل ہوئے ہیں ۔
- اولاً : اس عجمی نبوت کے ابطال
- ثانیاً: اندرون ملک عموماً اور بیرون
- ثالثاً: نظریہ پاکستان کے اس
ازموں کے پرچارکوں کی حوصلہ شکنی ۔
- رابعاً: ملکی سیاست، معاشرے
اس فیصلے کے بعد ہمارے سا۔
- ١....... آئینی ترمیم کی روشنی میں اب
نئی غیر مسلم اقلیت کے حقوق کا مناسب تعی
قیادت عملی اور فکری اعتبار سے مسلمان علماء کے پاس تھی۔ اس لئے انگریز نے مسلمانوں کو اقتصادی تہذیبی، فکری، دینی اور عملی لحاظ سے بے جان اور بے آبرو کرنے کے لئے جو طویل المیعاد منصوبے تراشے۔ ان میں وہ علماء کو نہیں بھولا۔ چنانچہ لارڈ میکالے کی تعلیمی پالیسیوں نے دینی مدارس کی افادیت اور اہمیت کو سرے سے ختم کر دیا اور مسلم عوام کے دلوں سے جذبہ جہاد ختم کرنے، انگریزی اقتدار کو مستحکم بنانے اور علماء کی توجہ اور توانائی کو ضائع کرنے کے لئے ایک ہندی نبوت کی داغ بیل ڈالی۔ ان اقدامات سے نہ صرف لوگوں کی رغبت دینی تعلیم سے کم ہوتی چلی گئی۔ بلکہ علماء کی قوت منتشر ہوئی اور قادیانیت کی شکل میں انگریز کو مسلمانوں کے اندر ہی سے ایک اطاعت گزار اور وفادار جماعت ہاتھ آئی۔
آئین تو محض ایک تحریری دستاویز ہے جو اصل میں ذریعہ ہوتا ہے چند مقاصد کی تکمیل کا صرف الفاظ بدلنے سے تو حقیقت حال نہیں بدل سکتی جب تک ترمیم عملاً نافذ نہ ہو۔ اس وقت تک تحریک کا مقصد اور آئینی تبدیلی کا تقاضا پورا نہیں ہوتا۔ قرآن وحدیث کی رو سے مرزا قادیانی اور ان کے پیروکار گمراہ، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس بات پر پوری امت مسلمہ کا اجماع ہے اور یہ فیصلہ آج یا کل کا نہیں ہوا۔ بلکہ اس روز سے بدیہی حقیقت اور ایک امر واقعہ ہے جب سے مرزا قادیانی گمراہ ہوئے۔ بنا بریں عملی اور انتظامی اقدامات کے بغیر دستوری ترمیم ایک جانی پہچانی صداقت کا محض اعتراف ہے۔
ترمیمی مقاصد سے ہم آہنگ عملی اقدامات کے فقدان کے باوجود اس فیصلے سے چند فوائد ضرور حاصل ہوئے ہیں۔
اولاً: اس عجمی نبوت کے ابطال سے فتنہ ارتداد کا قلع قمع۔
ثانیاً: اندرون ملک عموماً اور بیرون ممالک میں خصوصاً اس فتنے کی ترویج واشاعت میں کمی۔
ثالثاً: نظریہ پاکستان کے اس جزوی احیاء سے بے دین اور خدا بیزار عناصر اور مختلف ازموں کے پرچارکوں کی حوصلہ شکنی۔
رابعاً: ملکی سیاست، معاشرے اور دستور کا دینی مزاج اور مسلم تشخص کی مزید وضاحت۔
اس فیصلے کے بعد ہمارے سامنے کرنے کے چار کام ہیں۔
- ١....... آئینی ترمیم کی روشنی میں اب جلد عملی اقدامات کئے جائیں اور علماء کے تعاون سے اس
نئی غیر مسلم اقلیت کے حقوق کا مناسب تعین اور تحفظ کیا جائے۔
٣
- ٢...... نظریہ پاکستان یعنی اسلام کے عملی نفاذ اور مسلم (قومیت کے) تشخص کے لئے واضح،
مؤثر اور دور رس لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
- ٣...... بیرون ملک خصوصاً جہاں قادیانی کام کر رہے ہیں۔ قومی فیصلے کی مناسب تشہیر کی
جائے اور راہ گم کردہ اور بھٹکے ہوئے قادیانی اصحاب کو پوری دل سوزی اور دردمندی کے ساتھ اسلام کی دعوت دی جائے۔
- ٤...... فتنہ ارتداد کے کلی سدّ باب، اسلام کے اساسی عقیدہ ختم نبوت اور ناموس مصطفیٰ کی
صیانت کے لئے قادیانی نظریات اور جماعت پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ اگر ایک سیاسی جماعت، نظریہ پاکستان اور وطن کی سالمیت کے منافی سرگرمیوں کے الزام میں ختم کی جاسکتی ہے تو ایک مذہبی اور سیاسی گروہ اتنے واضح اور سنگین جرائم کی بناء پر کیوں ختم نہیں کیا جاسکتا؟
نبی کریم ﷺ کی رسالت اور عقیدہ ختم نبوت پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص عملی یا آئینی طور پر مسلمان نہیں ہو سکتا اور نہ مسلم معاشرے نے کسی ایسے فکر یا اشخاص کو کبھی قبول کیا ہے۔ جس طرح ایک مردہ شاخ درخت سے یا ایک مردہ حصہ، زندہ جسم سے الگ ہو کر رہتا ہے۔ اسی طرح قادیانیت جو مسلم معاشرے کا طفیلی اور عالم اسلام کا مردہ حصہ تھی۔ اسے عملاً اور آئیناً بہر حال الگ ہونا تھا۔ سو وہ فکری تقاضا پورا ہوا۔ اس یادگار موقع پر ماہنامہ شمس الاسلام کا ”ختم نبوت نمبر“ نکالنے کا مقصد یہ ہے:
- ١...... قادیانیت کے خدوخال، مضمرات اور مستقبل کے خدشات اور پیش بندیاں۔
- ٢...... تحریک تحفظ ختم نبوت ١٨٨٥ء سے ١٩٧٥ء کے موجودہ عبوری انجام تک۔
- ٣...... قیام پاکستان سے پہلے اور پھر ١٩٥٣ء اور ١٩٧٤ء کی تحریکوں میں علماء اور عوام کا کردار۔
- ٤...... حالیہ تحریک ختم نبوت میں قومی اسمبلی، طلبہ اور عوام کا کردار۔
- ٥...... تردید قادیانیت میں علماء، ”مشائخ گولڑویہ“۔ ”مجلس حزب الانصار“ اور شمس الاسلام
کی خدمات۔
- ٦...... ستمبر ١٩٧٤ء کی دستوری ترمیم کے عملی تقاضے اور اب کرنے کے کام۔
- ٧...... عالم اسلام کے لئے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور اس کی حفاظت کے لئے مستقل
اقدامات کی ضرورت۔ حالیہ تحریک اس اعتبار سے بہت منفرد تھی کہ اپنی سیاسی جمعیت اور جماعتی قوت کے زعم باطل میں ارباب ربوہ نے اپنی پسند کے محاذ پر دعوت مبارزت دی تھی۔ اس چیلنج کا
٤
مقابلہ کرنے اور یوں تحریک شروع کرنے خصوصاً طلبہ کا اور عوام کا جذبۂ ایمان، جوش ایک متحد ومتفق قوم کی علامات تھیں۔ مختلف تحفظ ختم نبوت کی خوش اسلوبی اور حسنِ تدب استعمال ہوئیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر شخص، ہ وادیِ آبلہ پائے وفاء سے جس نے بھی اللہ خاطر جس جگہ اور جتنا بھی کام کیا۔ وہ لائقِ اس تحریک میں، بصیرت و بے غیور اور بیدار مغز عوام اور یہاں کی جواں مزاج بنیادی طور پر اجتماعی، تاریخی اور ق موجودہ تحریک اور ١٩٥٣ء کی تحریک میں رہے۔ عوام نے مقامی اور مرکزی مجلسِ اطاعت کی اور تمام سرگرمیوں خصوصاً ستا استقامت سے حصہ لیا۔
١٩٧٤ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت
ایک واقعاتی جائزہ .............
زیر نظر ١٩٧٤ء کی ملک گیر مختصر واقعاتی جائزہ ہے جو شعوری ترتیب و رسائل اور جرائد کو پیش نظر رکھا ہے۔ حقیقت پسندانہ تبصروں کو حاصل ہے۔ بظاہر تو یہ تحریک ٢٩ مئی کو میں اپنے آئینی اختتام کو پہنچی۔ مگر واقع مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبو جدوجہد کا آغاز ہوا۔ چنانچہ وہ گروہ ا قرار پایا۔ حالیہ آئینی ترمیم، دراصل
مقابلہ کرنے اور یوں تحریک شروع کرنے کا سہرا نوجوانوں خصوصاً طلبہ کے سر ہے۔ نوجوانوں خصوصاً طلبہ کا اور عوام کا جذبہ ایمان، جوش عمل، مخلصانہ تعاون اور دینی غیرت ............. دراصل ایک متحد و متفق قوم کی علامات تھیں۔ مختلف مکاتیب فکر کے علماء کی مشترکہ قیادت، مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی خوش اسلوبی اور حسن تدبیر سے قوم کی تمام صلاحیتیں اور توانائیاں ٹھیک ٹھیک استعمال ہوئیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر شخص یا جماعت جس کا تعلق حریم اقتدار سے تھا یا اختلاف کی وادی آبلہائے پاء سے جس نے بھی اللہ کے دین مبین کی سربلندی اور نبی کریم ﷺ کے ناموس کی خاطر جس جگہ اور جتنا بھی کام کیا ۔ وہ لائق تحسین و تبریک ہے۔
اس تحریک میں بھیرہ نے بہت مؤثر اور جاندار کردار ادا کیا۔ یقیناً اس کا سہرا بھیرہ کے غیور اور بیدار مغز عوام اور یہاں کی جواں اور فعال مجلس عمل کے سر ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بھیرہ کا مزاج بنیادی طور پر اجتماعی، تاریخی اور مذہبی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک کثیر المساجد شہر ہے۔ موجودہ تحریک اور ١٩٥٣ء کی تحریک میں اہل بھیرہ روز اول سے آخر تک پوری طرح شریک رہے۔ عوام نے مقامی اور مرکزی مجلس عمل کے تمام فیصلوں ان کی اپیلوں اور ہدایات کی مکمل اطاعت کی اور تمام سرگرمیوں خصوصاً سماجی مقاطعے، جلسے اور جلوسوں میں پورے خلوص، جوش اور استقامت سے حصہ لیا۔
١٩٧٤ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت
ایک واقعاتی جائزہ...................................صاحبزادہ لمعات احمد بگوی معلم بی اے
زیر نظر ١٩٧٤ء کی ملک گیر، انتہائی منظم، پر امن اور مؤثر تحریک تحفظ ختم نبوت کا ایک مختصر واقعاتی جائزہ ہے جو صعودی ترتیب کے ساتھ مدون کیا گیا ہے۔ اس کی تیاری میں گو مختلف رسائل اور جرائد کو پیش نظر رکھا ہے۔ تاہم فوقیت اور اولیت آزاد جرائد کی بے لاگ خبروں اور حقیقت پسندانہ تبصروں کو حاصل ہے۔
بظاہر تو یہ تحریک ٢٩ مئی کو ربوہ ریلوے سٹیشن سے شروع ہوئی اور ٧ ستمبر کو اسلام آباد میں اپنے آئینی اختتام کو پہنچی۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ انیسویں صدی کی آخری دہائی میں قادیان میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کے ساتھ ہی مسلم علماء اور عوام کی بھر پور شعوری اور عملی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ چنانچہ وہ گروہ اپنے بانی سمیت گمراہ، جھوٹا، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار پایا۔ حالیہ آئینی ترمیم، دراصل علماء حق کے اولین متفقہ فیصلے کی بازگشت اور ان کی نوے سالہ
٥
کوششوں کا ایک نتیجہ ہے۔
(ادارہ)
٢٩ مئی ١٩٧٤ء: ربوہ ریلوے سٹیشن پر ٢٩ مئی کو ہزاروں مسلح افراد نے چناب ایکسپریس پر حملہ کر دیا۔ نشتر میڈیکل کالج ملتان کے ١٦٠ طلباء کو بری طرح پیٹا گیا۔ ٣٠ طالب علم شدید زخمی، حملہ آوروں میں طالب علم، دکاندار، شہری شامل ہیں۔
حکومت امن وامان درہم برہم کرنے کی ہر کوشش کو کچل دے گی۔ (سرکاری اعلان)
٣٠ مئی: واقعہ ربوہ کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں ہڑتالیں اور زبردست مظاہرے، تعلیمی ادارے موسم گرما کی تعطیلات کے لئے بند کر دیئے گئے۔ یونیورسٹی اور بورڈ کے مختلف امتحانات غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی۔ ربوہ کے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔ پنجاب ہائی کورٹ کے جسٹس کے ایم صمدانی کا بطور تحقیقاتی افسر تقرر۔
٣١ مئی: مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے اور کلیدی اسامیوں پر فائز قادیانی ملازموں کو علیحدہ کرنے کا مطالبہ، ربوہ میں بے شمار اسلحہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ (قائد حزب اختلاف علامہ ارشد کی پنجاب اسمبلی میں تقریر) مختلف شہروں میں بھر پور ہڑتالوں اور پرجوش مظاہرے، متعدد مکان اور دکانیں نذر آتش، فائرنگ سے کئی افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کا لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال، ملزموں کی گرفتاری کے لئے پولیس نے ربوہ میں کئی جگہ چھاپے مارے۔ ربوہ کا قادیانی اسٹیشن ماسٹر گرفتار۔
یکم جون....... پورے صوبے میں امن وامان کی صورتحال انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے۔
گوجرانوالہ، ہارون آباد، رحیم یار خان میں بعض ناخوشگوار واقعات (سرکاری اعلان) فرقہ وارانہ خبروں کی اشاعت پر ایک ماہ کے لئے سنسر عائد کر دیا گیا۔
٢ جون....... روزنامہ نوائے وقت لاہور کے اداریے کا کالم سنسر کے باعث خالی۔
٣ جون رسول اکرم ﷺ خدا کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ پاکستان میں اسلامی احکام پر عمل ہوگا۔
(بھٹو)
٤ جون....... مسجد وزیر خاں کے باہر جلوس کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ منتشر ہونے والے ہجوم نے بعض مقامات پر آگ لگا دی۔ (سرکاری اعلان) قومی اسمبلی میں واقعہ ربوہ کے التواء کی سات تحریکیں مسترد کر دی گئیں۔ اپوزیشن کے ارکان ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے واک آؤٹ کر گئے۔ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی۔
(سپیکر)
٦
٦١
٥ جون....... سرگودھا میں آتشزدگی صوبے میں حالات معمول پر آگئے ہیں۔ (سر عدالت میں مقدمہ چلائے۔ (میاں افتخار احمد) کرنے کا حکم ۔ سانحہ ربوہ کی تفتیش کرائمز برانچ
٦ جون....... حکومت ختم نبوت پر ا آئینی طور پر طے کیا جانا ہے۔ (بھٹو کا قومی ا ٩ جون کو لاہور میں علماء کرام کی میٹنگ طلب کر بھی اسی دن ہوگا۔
٧ جون....... قادیانیوں پر ظلم ہو رہا اپنے مبصرین بھیجنے کی اپیل (مرزا ظفر اللہ) امیر میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مؤثر قرار دے دی گئی۔
٨ جون....... ختم نبوت پر عوام بے اجازت نہیں دے سکتی۔ (رائے) علماء قادی چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اخبارات پر سنسر پنجاب کا دورہ کرنے کی دعوت۔
٩ جون....... چودھری ظفر اللہ کا ب کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ (میاں اور انہیں تمام کلیدی اسامیوں سے برطرف ک ہڑتال کی جائے گی۔ (کل پاکستان مجلس عمل
١٠ جون....... قادیانی انگریزوں تھے۔ (بی بی سی) وزیر اعظم بھٹو آخرت کما
١١ جون....... قادیانیوں کو غیر مسلم جائے گی۔ (مرکزی مجلس عمل) عوام ہڑتال رہیں۔ (متحدہ جمہوری محاذ) قادیانیوں کر رکھا ہے۔
٥/ جون....... سرگودھا میں آتشزدگی کی وارداتیں۔ بعض شہروں میں ہڑتال رہی۔ صوبے میں حالات معمول پر آ گئے ہیں۔ (سرکاری اعلان) سانحہ ربوہ کے ذمہ دار افراد پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلائے۔ (میاں افتخار احمد) احمدیہ جماعت کے امیر مرزا ناصر احمد کو شامل تفتیش کرنے کا حکم۔ سانحہ ربوہ کی تفتیش کرائمز برانچ کے سپرد کر دی گئی۔
٦/ جون....... حکومت ختم نبوت پر ایمان رکھتی ہے۔ ختم نبوت کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے آئینی طور پر طے کیا جانا ہے۔ (بھٹو کا قومی اسمبلی میں بیان) ملکی حالات پر غور کرنے کے لئے ٩/ جون کو لاہور میں علماء کرام کی میٹنگ طلب کر لی گئی۔ اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس بھی اسی دن ہوگا۔
٧/ جون....... قادیانیوں پر ظلم ہو رہا ہے مگر انتظامیہ خاموش ہے۔ عالمی اداروں سے اپنے مبصرین بھیجنے کی اپیل (سر ظفر اللہ) امیر جماعت احمدیہ مرزا ناصر کی طرف سے ہائی کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست۔ سرکاری وکیل کی وضاحت کے بعد درخواست غیر مؤثر قرار دے دی گئی۔
٨/ جون....... ختم نبوت پر عوام سے مکمل اتفاق رکھنے کے باوجود حکومت لاقانونیت کی اجازت نہیں دے سکتی۔ (رامے) علماء قادیانیوں کے بارے میں اپنے مطالبات منوانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اخبارات پر سینسر کی تمام پابندیاں ختم کر دی گئیں۔ غیر ملکی مبصرین کو پنجاب کا دورہ کرنے کی دعوت۔
٩/ جون....... چودھری ظفر اللہ کا بیان غیر ممالک کو پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ (میاں طفیل محمد) قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں تمام کلیدی اسامیوں سے برطرف کیا جائے۔ اگر مطالبہ پورا نہ ہوا تو ١٤/ جون کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔ (کل پاکستان مجلس عمل ختم نبوت کی تشکیل)
١٠/ جون....... قادیانی انگریزوں کے مفاد کی خدمت کر کے اپنا وجود برقرار رکھ سکے تھے۔ (بی بی سی) وزیر اعظم بھٹو آخرت کما لیں۔ (نوائے وقت کا اداریہ)
١١/ جون....... قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہ دیا گیا تو ١٤/ جون کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔ (مرکزی مجلس عمل) عوام ہڑتال کے موقع پر تشدد پسندوں اور شرپسندوں سے ہوشیار رہیں۔ (متحدہ جمہوری محاذ) قادیانیوں نے غیر ممالک میں کروڑوں روپے کا ناجائز زرمبادلہ جمع کر رکھا ہے۔
٧
١٢؍ جون ....... لاہور میں قادیانی مسئلے پر ممتاز دینی اور سیاسی رہنماؤں سے وزیراعظم کے صلاح و مشورے۔
١٣؍ جون ....... حکومت قادیانیوں کے مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دینی و سیاسی رہنماؤں سے مذاکرات ختم ہونے سے پہلے ایجی ٹیشن کا کوئی جواز نہیں۔ کل ہڑتال نہ کی جائے (وزیر اعلیٰ حنیف رامے)
دوسرے روز وزیراعظم نے میاں طفیل محمد، مولانا محمد یوسف بنوری، نوابزادہ نصر اللہ خان اور دیگر رہنماؤں سے تبادلہ خیال کیا۔ واقعہ ربوہ کے خلاف احتجاج کے طور پر کل پورے ملک میں ہڑتال کی جائے کیونکہ وزیراعظم نے ابھی تک مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ (مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی اپیل)
١٤؍ جون ....... ربوہ کے واقعہ سے تعلق رکھنے والے سارے مسئلے کو جولائی کے پہلے ہفتے میں قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔ اسمبلی اسے اسلامی مشاورتی کونسل یا سپریم کورٹ کے جج کو بھی پیش کر سکتی ہے۔ عوام ہڑتال کر لیں لیکن امن و امان تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فوج کو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (بھٹو کی نشری تقریر)
وزیر مملکت عزیز احمد کی ظفر اللہ خان سے لندن میں ملاقات۔
١٥؍ جون ....... قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبے کی حمایت میں ملک گیر ہڑتال۔ مجلس عمل کی اپیل پر کامیاب ہڑتال ریفرنڈم کی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی جگہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ان کا سماجی بائیکاٹ کرنے کی اپیل۔ مختلف شہروں میں ممتاز علماء گرفتار۔ تحفظ ختم نبوت کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دی جائے گی۔ تاخیری حربوں سے مسلمانوں کے جذبات سرد نہیں پڑ سکتے۔ مسئلہ حل کرنے کے لئے حکومت کو ٣٠؍ جون تک مہلت دی جائے گی۔ (مسجد وزیر خان کے اجتماع میں تقریریں)
١٦؍ جون ....... قادیانیوں کے بارے میں وزیراعظم بھٹو کی نشری تقریر پر مرکزی مجلس عمل نے عدم اطمینان کا اظہار کر دیا۔
١٩؍ جون ....... سرحد اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی سفارش کر دی۔ قرارداد جمعیت علماء اسلام کے مولانا حبیب گل نے پیش کی۔
٢٠؍ جون ....... حکومت قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے میں جان بوجھ کر تاخیر کر رہی ہے۔ شریعت کی رو سے قادیانی غیر مسلم ہیں۔ (ائر مارشل اصغر خان)
٨
٢١/جون...... آج اعلیٰ سطحی اجلاس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر غور کیا جائے گا۔ متعدد وفاقی وزراء و وزیر اعلیٰ پنجاب، اعلیٰ سول و فوجی حکام شریک ہوں گے۔ مجلس عمل کے مطالبات پورے ہونے تک تحریک ختم نبوت جاری رہے گی۔ سوشل بائیکاٹ کے فیصلہ پر سختی سے عمل پیرا ہونا چاہئے۔ (سیکرٹری مرکزی مجلس عمل)
٢٢/جون...... قادیانیوں کا مسئلہ پارلیمنٹ میں پیش ہوگا۔ ٣/ جولائی کو قومی اسمبلی غور کرے گی۔
٢٣/جون...... حکومت قادیانیوں کے مسئلہ کو مستقل طور پر حل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ (بھٹو۔ آرمی ایجوکیشن کور سے خطاب) مرزا ناصر احمد اور سر ظفر اللہ کے بیانات قطعی بے بنیاد ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات میں ٤٢/افراد ہلاک ہوئے۔ حکومت نے واقعہ ربوہ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تین ہفتوں میں قابو پالیا۔ (سرکاری اعلان) وفاقی حکومت نے کلیدی مناصب پر فائز قادیانیوں کی فہرستیں تیار کرنے کا حکم دے دیا۔
٢٤/جون...... قادیانی فرقہ در حقیقت اسلام کے خلاف ایک منظم تحریک ہے۔ برطانیہ اور قادیانی تحریک کے درمیان مضبوط رشتے پائے جاتے ہیں۔ (سعودی عرب کے اخبار الاسلامی کا اداریہ) حکومت قادیانیوں کو غیر مسلم اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا فی الفور اعلان کرے۔ (مفتی محمود)
٢٥/جون...... قادیانی مسئلہ پر اسلامی ممالک سے رائے طلب کر لی گئی۔ حکومت متفقہ مؤقف اختیار کرنا چاہتی ہے۔ ایس پی گجرات کو فوری طور پر معطل کر کے تشدد کے الزامات کی تحقیقات کرائی جائے۔ (چودھری ظہور الٰہی)
٢٦/جون...... قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ (سر ظفر اللہ کی دھمکی) یہ ہمارے لئے آزمائش ہے۔ ہم بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ میں نے قائد اعظم کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ (ظفر اللہ کا انٹرویو کے دوران اعتراف)
٢٧/جون...... ہم یزید کی طرح مخالفین پر پانی بند کر دینے کے قائل نہیں۔ قادیانیوں کے مسئلے کو آئین اور رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں حل کیا جائے گا۔ (حنیف رامے) پنجاب اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ قرارداد پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف کے ٧٠/ ارکان نے مشترکہ طور پر تیار کی تھی۔ حزب اختلاف کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کر گئے۔
٩
٢٨ جون ....... مجلس عمل تحفظ ختم نبوت آج قادیانیوں کے بارے میں مجوزہ تحریک پر غور کرے گی۔ (مفتی محمود) ظفر جمال بلوچ ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ کو قابل اعتراض تقریر کی بناء پر گرفتار کر لیا گیا۔ طلبہ ٣٠ جون کو اسلام آباد میں مظاہرہ کریں گے۔ ہم اب تک ایک سو جلسے منعقد کر چکے ہیں۔ اب دیہی علاقوں میں تحریک کا آغاز کر رہے ہیں (فرید پراچہ کی پریس کانفرنس)
٢٩ جون ....... قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے کل قومی اسمبلی میں بل پیش کیا جائے۔ بل کی منظوری تک اجلاس جاری رہنا چاہئے ۔ (مجلس عمل کا مطالبہ ) قادیانیوں کا مسئلہ حل کرنے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار۔
٣٠ جون ....... وزیراعظم بھٹو ڈھاکہ کے ٣ روزہ دورے کے بعد راولپنڈی واپس پہنچ گئے ۔
یکم جولائی ...... قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مسئلہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ خصوصی کمیٹی تمام ارکان قومی اسمبلی پر مشتمل ہوگی ۔ اپوزیشن کی قرارداد اور سرکاری تحریک دونوں متفقہ طور پر قبول کر لی گئیں ۔ (قرارداد اور تحریک کا مکمل متن، شمس الاسلام میں کسی اور جگہ دیکھئے ) اب اس مسئلے پر مظاہرے بند ہو جانے چاہئیں ۔ ( حفیظ پیرزادہ )
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے آج سے تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے مجلس عمل کے زعماء آج ملک کے مختلف حصوں کے تفصیلی دورے پر روانہ ہوں گے ۔ (مجلس عمل کی قراردادیں )
٢ جولائی ....... خصوصی کمیٹی نے مسئلہ ختم نبوت پر قراردادیں اور تجاویز طلب کر لیں ۔ اخبارات چیئرمین کمیٹی کی جاری کردہ خبروں کے سوا کوئی مواد شائع نہ کرسکیں گے اور نہ کمیٹی کی کارروائی پر کسی قسم کا تبصرہ یا قیاس آرائی کرانے کی اجازت ہو گی ۔
تحریک تحفظ ختم نبوت کے اسیر طلبہ کو فی الفور رہا نہ کرانے سے حالات سنگین ہو سکتے ہیں۔ حکومت پولیس کے ذریعے علماء کرام کو دھمکانے کا سلسلہ بند کرے ۔ (طفیل میاں محمد )
٤ جولائی ...... قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے تجاویز پر غور کرنے کے لئے ذیلی کمیٹی قائم کر دی۔
٥ جولائی ...... عوام سے خصوصی دعائیں مانگنے کی اپیل تاکہ اراکین کو ایمان و ضمیر کے مطابق رائے دینے اور قومی اسمبلی کو اللہ کے دین کے منشاء کے مطابق فیصلہ کرنے کی توفیق ملے ۔
(مولانا بنوری اور علامہ رضوی)
١٠
٦٥
٦ جولائی ....... پنجاب سرکار نے آغا شور تحت گرفتار کر لیا ۔
٧ جولائی ....... قومی اسمبلی کی خاص کمیٹ پروگرام، قراردادوں اور تجاویز پر غور کیا اور ناظم اشاعت اسلام لاہور کی جانب سے اپنا اپنا نقط دستاویزی ثبوت مہیا کرنے کی درخواست منظور کر
٨ جولائی ....... اخبارات میں قابل احتر اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کو اپنا اہم کام مکمل کرنے کے ل
٩ جولائی ....... گرفتار شدہ علماء اور لیڈ جائیں۔ عوام پرامن رہیں اور تشدد پھیلانے وا
١٠ جولائی ...... وقوعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹری سماعت جاری ہے ۔
١١ جولائی ....... نشتر میڈیکل کالج کے
(مجلس صمدانی کا فیصلہ )
١٢ جولائی ....... میں ارکان اسمبلی سے م بائیکاٹ مناسب نہیں اسلام بھی اس کی اجازت نہ
١٣ جولائی ....... قومی اسمبلی کی رہبر کمیٹی لاہور کے بیانات پر غور کیا۔
١٤ جولائی ....... قومی اسمبلی کی خاص کمی اب تک کی کارگزاری اور رفتار کار پر اظہار اطمینان
١٥ جولائی ....... قومی اسمبلی قادیانیوں ک تاخیر نہیں کرے گی ۔ خاص کمیٹی اور رہبر کمیٹی نے
١٩ جولائی ....... قادیانیوں کا سماجی مقا ہاشمی کو قابل اعتراض تقریر کی بناء پر دوبارہ گرفتار
٢٠ جولائی ....... تحقیقاتی ٹریبونل آج ر
٦ جولائی....... پنجاب سرکار نے آغا شورش کاشمیری مدیر ہفت روزہ چٹان کو ڈی پی آر کے تحت گرفتار کر لیا۔
٧ جولائی....... قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی نے اپنی رہنما کمیٹی کی طرف سے پیش کردہ پروگرام، قراردادوں اور تجاویز پر غور کیا اور ناظم اعلیٰ انجمن احمدیہ ربوہ اور جنرل سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام لاہور کی جانب سے اپنا اپنا نقطہ نظر تحریری طور پر پیش کرنے اور بعض امور میں دستاویزی ثبوت مہیا کرنے کی درخواست منظور کر لی۔
٨ جولائی....... اخبارات میں قابل احترام علماء کو بدنام کرنے کی مہم بند ہونی چاہئے۔ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کو اپنا اہم کام مکمل کرنے کے لئے سازگار ماحول مہیا کرنے کی اپیل۔ (کوثر نیازی)
٩ جولائی....... گرفتار شدہ علماء اور ایڈیٹروں کو رہا کر کے اخبارات پر سے پابندیاں ہٹائی جائیں۔ عوام پرامن رہیں اور تشدد پھیلانے والے عناصر سے ہوشیار رہیں۔ (مرکزی مجلس عمل)
١٠ جولائی....... وقوعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل جج مسٹر جسٹس کے ایم اے صمدانی کے روبرو سماعت جاری ہے۔
١١ جولائی....... نشتر میڈیکل کالج کے کسی طالب علم کا کوئی عضو یا زبان نہیں کاٹی گئی۔ (جسٹس صمدانی کا فیصلہ)
١٢ جولائی....... میں ارکان اسمبلی سے مسئلہ جلد نمٹانے کے لئے کہوں گا۔ قادیانیوں کا بائیکاٹ مناسب نہیں اسلام بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ (بھٹو)
١٣ جولائی....... قومی اسمبلی کی رہبر کمیٹی نے انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن اشاعت اسلام لاہور کے بیانات پر غور کیا۔
١٤ جولائی....... قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی نے اپنی رہبر کمیٹی کی سفارشات منظور کر لیں۔ اب تک کی کارگزاری اور رفتار کار پر اظہار اطمینان۔
١٥ جولائی....... قومی اسمبلی قادیانیوں کا مسئلہ حل کرنے میں ایک دن کی بھی بلاضرورت تاخیر نہیں کرے گی۔ خاص کمیٹی اور رہبر کمیٹی نے اب تک تمام فیصلے اتفاق رائے سے کئے ہیں۔
١٩ جولائی....... قادیانیوں کا سماجی مقاطعہ ختم کر دینے کی اپیل (حفیظ پیرزادہ) جاوید ہاشمی کو قابل اعتراض تقریر کی بناء پر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
٢٠ جولائی....... تحقیقاتی ٹربیونل آج ربوہ کے ریلوے سٹیشن کا معائنہ کرے گا۔
11
٢٣ جولائی ...... اسیر لیڈروں کو رہا کر کے اخبارات وجرائد کے ڈیکلریشن بحال کئے جائیں۔ (مولانا بنوری) تحریک کے رہنماؤں اور طلبہ کو رہا کر کے فضا کو خوشگوار بنایا جائے۔ ٹرسٹ کے اخبارات، ریڈیو اور ٹیلیویژن کے ذریعے مجلس عمل کے خلاف پروپیگنڈہ بند کرنے کا مطالبہ۔
٢٤ جولائی ..... قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی نے مرزا ناصر احمد کا حلفیہ بیان مکمل طور پر قلمبند کر لیا۔ اجلاس اگلے ہفتے تک ملتوی ہو گیا۔
٢٦ جولائی ..... حکومت مرزائیوں کے مسئلہ کو منصفانہ اور مکمل طور پر حل کرنا چاہتی ہے۔ (بھٹو)
٢٧ جولائی ..... آغا شورش کاشمیری مدیر چٹان رہا کر دیئے گئے۔ ان کا پریس واگزار اور چٹان بحال کر دیا گیا ہے۔
٣٠ جولائی ..... قادیانیوں کا مسئلہ عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔ (متحدہ جمہوری محاذ ) مرکزی مجلس عمل کے وکلاء، صمدانی ٹربیونل کی کاروائی سے دستبردار ہو گئے۔ تحریک ختم نبوت کے بارے میں حکومت کا رویہ غیر جمہوری ہے۔ (علامہ رضوی)
٣١ جولائی ..... وزیر اعظم نے قادیانی مسئلہ کو جلد حل کرنے کے لئے اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا۔ قومی اسمبلی کا فیصلہ قطعی اور آخری ہوگا۔ (بھٹو) صمدانی کمیشن نے واقعہ ربوہ کی تحقیقات مکمل کر لی۔ بعض تنظیموں کی علیحدگی سے تحقیقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
یکم اگست ..... قادیانیوں کا مسئلہ حل ہونے ہی والا ہے۔ (بھٹو) خبروں پر سینسر شپ میں ایک ماہ کی توسیع (پنجاب سرکار) قادیانی مسئلہ کا ١٤ اگست تک فیصلہ کر دیا جائے۔ (مفتی محمود، مولانا نورانی، پروفیسر غفور احمد)
٢ اگست ....... قادیانی مسئلے کے حل کی تاریخ متعین کرنے پر اعلیٰ سطح کی کانفرنس میں غور و خوض۔
٤ اگست ....... ربوہ کا واقعہ پہلے سے طے شدہ منصوبے اور سازش کا نتیجہ ہے۔ (مسلم وکلاء کا مؤقف) آئینی اعتبار سے ہمیں اپنے عقیدے کی تبلیغ اور اسے اپنانے سے نہیں روکا جاسکتا۔ (قادیانی وکیل کا موقف) واقعہ ربوہ تحقیقاتی ٹربیونل کی کارروائی کے اختتام کا اعلان۔ ٹربیونل ٢٠ اگست تک اپنی رپورٹ پیش کر دے گا۔
٥ اگست ....... قادیانی مسئلہ ٧ ستمبر تک حل کر دیا جائے گا۔ مسئلے میں بعض قومی اور بین الاقوامی پیچیدگیاں ہیں۔ ٹھنڈے دل سے غور کی ضرورت ہے۔ تاہم تاخیر قومی مفاد میں نہیں۔ (بھٹو)
١٢
٦ اگست ....... قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے مرزا ناصر احمد سے مزید معلومات حاصل کیں۔
٧ اگست ....... قادیانی مسئلہ آئین وقوانین میں مناسب ترمیموں کے ذریعے مستقل طور پر حل ہونا چاہئے۔ (مرکزی مجلس عاملہ جماعت اسلامی)
١٠ اگست ....... ملک خصوصاً پنجاب میں ہونے والے اشتعال انگیز واقعات، علماء اور طلبہ کی گرفتاریوں اور ان پر تشدد۔ حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کی سخت تشویش کا اظہار اور مطالبہ کہ ملک میں پھیلی ہوئی بدامنی کے پیش نظر ١٠ اگست کے بعد وقفہ نہ کیا جائے اور خصوصی کمیٹی کو بلا توقف کام کرنے کی اجازت دی جائے۔
١١ اگست ....... ارکان اسمبلی اہم قومی مسئلہ کے بارے میں قانونی تقاضوں کو جلد پورا کریں۔ (میاں طفیل محمد)
١٣ اگست ....... آزاد کشمیر اسمبلی نے اسلامی تعزیرات کا مسودہ قانون منظور کر لیا۔
١٨ اگست ....... عوام اپنا موقف واضح کر چکے ہیں۔ حکومت حسب وعدہ ٧ ستمبر تک قادیانی مسئلہ حل کرے۔ ہمارا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں۔ (مجلس عمل)
ایک ترمیمی بل وزیر اعظم کی مقررہ تاریخ کے اندر منظور نہ ہوا تو پھر قوم کا اضطراب جو شکل اختیار کرے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری ارباب حکومت پر ہوگی۔ (مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی قراردادیں)
١٩ اگست ....... قومی اسمبلی منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دے گی۔ (مولانا نورانی)
٢٠ اگست ....... اپوزیشن قادیانی مسئلے پر خصوصی کمیٹی کی کارروائی سے مطمئن ہے۔
- (پروفیسر غفور احمد) یکم ستمبر کو لاہور میں مجلس عمل کا کل پاکستان کنونشن منعقد ہوگا۔
٢١ اگست ....... صمدانی ٹربیونل نے رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کر دی۔
٢٢ اگست ....... قادیانیوں کا مسئلہ سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق حل ہو جائے گا۔ (مولانا عبد الحکیم ایم این اے)
٢٣ اگست ....... کسی سیاسی جماعت کو تحریک ختم نبوت سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ (مولانا بنوری)
٢ ستمبر ....... ٧ ستمبر کو فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق نہ ہوا تو تحریک چلائی جائے گی۔ عقیدہ ختم نبوت کی ہر قیمت پر حفاظت کی جائے گی۔ قومی اسمبلی اور حکومت کو منکرین ختم نبوت کے بارے میں فیصلہ مسلمانوں کی خواہشات کو مد نظر رکھ کر کرنا ہوگا۔ (مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم
١٣
نبوت کے زیر اہتمام بادشاہی مسجد لاہور میں تاریخی جلسہ عام)
٤؍ ستمبر ....... قادیانیوں کے بارے میں قرارداد منظور کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ ممکن ہے ٧؍ ستمبر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ بلانا پڑے۔
٦؍ ستمبر ....... سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق قادیانی مسئلے کا قابل قبول حل تلاش کرلیا گیا۔ حکومتی پارٹی اور حزب اختلاف کے مابین حل کے بارے میں مکمل اتفاق رائے۔ قومی اسمبلی کی کمیٹی نے مسئلے کے بارے میں متفقہ قرارداد منظور کرلی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امن وامان برقرار رکھنے کے لئے ضروری اقدامات (خان قیوم) ختم نبوت کے مسئلہ پر جذبات کا اظہار کرنے کے لئے پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کی اپیل پر صوبے بھر میں طلبہ کی علامتی ہڑتال۔
٧؍ ستمبر ....... قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ قومی اسمبلی اور سینٹ نے اتفاق رائے سے آئین میں دوسری ترمیم کی اجازت دے دی۔ رسول اکرم ﷺ کو آخری نبی نہ ماننے والا یا نبوت کا دعویٰ کرنے والا یا مدعی نبوت کو نبی یا مصلح ماننے والا مسلمان نہیں۔
کوئی شخص ختم نبوت کے عقیدے کے خلاف پرچار نہیں کرسکے گا۔ خلاف ورزی قابلِ تعزیر جرم ہوگی۔
منکرینِ ختم نبوت کو غیر مسلم قرار دینے کے فیصلہ کا پرجوش خیر مقدم۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا اسلامی تاریخ کا اہم فیصلہ ہے۔
(مرکزی مجلس عمل)
دستور میں ترمیم کے بعد اب عملی اقدامات بھی کئے جانے چاہئیں۔
(مولانا مودودی)
یہ ایک صحیح فیصلہ ہے۔
(مفتی محمود)
قادیانی اب افریقی عوام کو دھوکہ نہ دے سکیں گے۔
(نورانی میاں)
آج کا دن بڑا مبارک ہے۔ قادیانیوں کے مسئلہ کا حل بہت بڑی کامیابی ہے۔
(اصغر خان)
منکرینِ ختم نبوت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ پوری قوم کی خواہشات کا آئینہ دار ہے۔
(وزیر اعظم بھٹو)
اے مسلمان نوجوانو
خاک کے ذروں میں ہو لولوئے لالہ کا مزاج اسی خزاں میں بھی یہاں سرو و سمن پیدا کرو
١٤
اے عزیزان مکرم اے قلمکاران نو عصر حاضر میں روایات کہن پیدا کرو
میکدوں میں بادۂ عشق نبی کا دور ہو بت کدوں میں غیرت دین حسن پیدا کرو
خواجۂ کون و مکاں کے نقش پا کو چوم کر اپنی ہر تحریک میں ان سے لگن پیدا کرو
داستان کربلا کے نام لیوا ہیں کہاں ان سے کہتا ہوں لہو دے کر چمن پیدا کرو
جہد و استقلال کی تاریخ دہرائے ہوئے اک زمانہ ہو گیا دار و رسن پیدا کرو
(شورش کاشمیری)
تحریک ختم نبوت اور طلبہ کا کردار
(فرید احمد پراچہ سابق صدر سٹوڈنٹس یونین پنجاب یونیورسٹی وصدر پنجاب سٹوڈنٹس کونسل)
ایک شخص سامان سے لدے ہوئے اونٹ سمیت جنگل میں سفر کر رہا تھا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ سخت گرمی اور چلچلاتی دھوپ سے بچاؤ کے لئے اس نے ایک درخت تلے پڑاؤ ڈالا۔ اور اونٹ کو کھلا چھوڑ کر خود سو گیا۔ لمبی تان کر ایسا سویا کہ جب آنکھ کھلی تو نہ اونٹ تھا نہ سامان۔ لق ودق صحراء میں مسافر کی صدائیں بلند ہوئیں۔ اونٹ کی تلاش میں وہ مارا مارا پھرا کبھی پہاڑیوں پر چڑھا۔ کبھی میدانوں میں اترا۔ کبھی صحرا کے ذروں سے دریافت کیا۔ کبھی جنگل میں پکارتا رہا۔ لیکن اونٹ کو نہ ملنا تھا نہ ملا آخر تھک ہار کر اسی درخت کے تلے آبیٹھا۔ ٹھنڈی ہوا چلی تو مسافر کی آنکھ لگ گئی۔ خواب میں یہی تلاش...... یہی جستجو...... اچانک آنکھ کھلی تو دیکھا کہ معجزانہ طور پر اونٹ سامنے موجود تھا...... صحابہؓ کے سامنے اس تمثیل کو بیان فرما کر حضور انور ﷺ کی زبان صداقت ترجمان نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: ”بتاؤ! ایسے شخص کی خوشی کی کیا انتہا ہوگی؟“ بحیثیت قوم ہم بھی خوشی کے انہی جذبات سے دوچار ہیں۔ جب ہم خواب غفلت میں مبتلا تھے تو عشق مصطفیٰ کی متاع بے بہا ہم سے کھوگئی۔ ڈاکو ختم نبوت کی عمارت پر ڈاکہ ڈال چکے تھے۔ جب ہم نے تحریکیں چلائیں، تقریریں اور جلسے کئے۔ نعرے لگائے۔ جلوس نکالے پھر جب ہماری ہمتیں جواب دے گئیں تو اچانک خدا نے فضل کیا اور کوششیں بار آور ہوئیں۔ اچانک ہمیں اونٹ مل گیا............ اچانک ڈاکو پکڑے گئے۔
یہ کس کا کارنامہ ہے؟ کس کی جیت ہے؟...... اس معرکے کا ہیرو کون ہے؟ عوام؟ طلبہ؟ علماء؟ صحافی؟ حکومت؟ سیاست دان؟
١٥
یہ فیصلہ اتنا آسان نہیں اس لئے کہ میرے نقطہ نظر میں ختم نبوت تحریک کی کامیابی فی الحقیقت کوئی بڑا کارنامہ ہی نہیں۔ یہ تو خدا اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے امت مسلمہ پر ایک قرض تھا، نوے سال پرانا قرض۔ ہم نے صرف قرض ہی اتارا ہے۔ اور کیا ہی کیا ہے۔
کسی قدر شرم کا مقام ہے کہ آقائے عربی کے غلاموں میں نوے سال ایک جھوٹی نبوت پلتی اور بڑھتی رہی اور ہم نے اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے رہے۔ اب خدا نے ہم پر کرم کیا اور عشق مصطفیٰ ﷺ کے صدقے ہم نے اپنے جسم کے اس ناسور کو کاٹ کر علیحدہ پھینکا ہے۔ اس تحریک کی کامیابی کا سہرا دراصل عشق مصطفیٰ کے سر بندھتا ہے۔ اس تحریک میں طلبہ کا کردار کیا رہا؟
یہ سوال اب تشنہ جواب نہیں۔ اس لئے کہ طلبہ کا کردار اتنا نمایاں اور بھرپور تھا کہ نہ اسے تاریخ نظر انداز کرسکے گی اور نہ ہی اس ملک کے عوام۔
اس تحریک کا آغاز ہی طلبہ کی جدوجہد سے ہوا۔ اس تحریک کے سفر کے آغاز پر ایک خونی سنگ میل نصب ہے۔ جس پر طلبہ کی اس جدوجہد کی داستان رقم ہے۔
٢٩ مئی کو نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ اپنے سفر سے واپس آرہے تھے کہ ربوہ کے پلیٹ فارم پر انہیں ایک اور سفر کی دعوت دی گئی۔ ایک طویل اور بھرپور سفر کی جس کی منزل تحفظ ختم نبوت مقرر ہوئی۔ پھر کارواں نکلتے رہے، قافلے آمادہ سفر ہوئے ۔ اور بالآخر منزل نے ان جیالوں کے قدم چوم لئے۔ ٢٩ مئی کو جب ربوہ پلیٹ فارم پر طلبہ کو آہنی سلاخوں اور آتشین اسلحہ سے پیٹا گیا۔ اور ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ ظلم کے ہتھیاروں سے دبانے کی کوشش کی گئی تو ایک ہلاکت خیز طوفان ملک کے ہر تعلیمی ادارہ سے اٹھا۔ ٣٠ مئی کو لاہور، ملتان، لائلپور، راولپنڈی اور دیگر مقامات پر احتجاجی جلوس غم وغصہ کے جذبات سے لبریز سڑکوں پر موجود تھے۔ چونکہ مضروبین میں اسلامی جمعیت طلبہ نشتر کالج کے ناظم محمد امین اور سٹوڈنٹس یونین کے صدر ارباب عالم موجود تھے۔ اس لئے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی طرف سے تمام ملک کے منتخب شدہ طلبہ نمائندوں کو اس تحریک کے آغاز کی ہدایت کی گئی۔ چنانچہ پورے ملک میں طلبہ سراپا احتجاج بن گئے۔ پنجاب یونیورسٹی اس تحریک کا مرکز بنی اور سٹوڈنٹس یونین نے اس تحریک کو ملک کے کونے کونے میں پھیلانے کا عزم کرلیا۔ ملک کے دوسرے شہر سرگرم عمل تھے۔ آتش احتجاج میں جل رہے تھے۔ لیکن لاہور جو تحریکوں کا شہر ہے۔ اس وقت تک خاموش تھا۔ چنانچہ ٦ جون کو سینسر زدہ اخبارات میں ایک مختصر سا اعلان چھپا کہ ٧ جون کو طلبہ کے نمائندے مسجد نیلا گنبد میں نماز جمعہ ادا کریں گے۔
١٦
یہ اعلان دراصل اعلان جنگ تھا۔ سمجھنے والے سمجھ چکے تھے کہ نماز جمعہ ادا کرنے سے کیا مراد ہے۔ اس روز نماز جمعہ پر مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ نماز جمعہ ختم ہوئی تو طلبہ نے مسجد میں ہی جلسے کا اعلان کر دیا۔ جلسہ بھر پور تھا۔ طلبہ کا لہجہ آتشیں تھا۔ وہ اہل لاہور کو جھنجھوڑ رہے تھے۔ اہل لاہور بیدار ہو گئے۔ طلبہ جلوس کی قیادت کرتے ہوئے مسجد سے باہر نکلے تو پولیس اور فیڈرل سکیورٹی فورس کے دستے راستہ روکے کھڑے تھے۔ یہ لاہور کا پہلا جلوس تھا۔ طلبہ کا عزم تھا کہ مال روڈ تک پہنچیں گے۔ انتظامیہ کا فیصلہ تھا کہ طلبہ کو آگے بڑھنے نہ دیا جائے۔ لیکن انتظامیہ ہار گئی۔ طلبہ جیت گئے۔ پولیس کا گھیراؤ چیرتے ہوئے طلبہ آگے نکل گئے۔ اس موقع پر طلبہ کے نمائندے گرفتار کر لئے گئے۔ لیکن تحریک کی ابتداء ہو چکی تھی۔
چند روز کے بعد طلبہ کے نمائندے رہا ہوئے تو پریس کانفرنس میں انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ١٤؍ جون تک قادیانیوں کو اقلیت قرار نہ دیا گیا تو ١٤؍ جون کو ملک گیر تحریک چلائی جائے گی اور ١٤؍ جون بھر پور ہڑتال کا دن ہوگا۔ چنانچہ ١٤؍ جون کو طلبہ نے پنجاب یونیورسٹی میں ایک عظیم الشان جلسہ کیا۔ شہر میں فوج گشت کر رہی تھی۔ لیکن طلباء جلوس کی شکل میں باہر نکلے اور پورے شہر پر چھا گئے۔ انتظامیہ بے بس ہو گئی۔ ١٤؍ جون کو ہی طلبہ نے پنجاب کو تین سیکٹروں میں تقسیم کر کے رابطہ عوام کی مہم کا آغاز کر دیا۔ لاہور سیکٹر میں لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، ساہیوال، لائلپور اور جھنگ کے اضلاع شامل تھے۔ اس سیکٹر میں نعیم سردیا صدر انجینئرنگ یونیورسٹی، راجہ شفقت حیات سیکرٹری ایف سی کالج، انور گوندل ناظم اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ پنجاب کے علاوہ راقم شامل تھے۔ راولپنڈی سیکٹر میں پنڈی، جہلم، گجرات، کیمبل پور، میانوالی اور سرگودھا کے اضلاع شامل تھے۔ اور اس ٹیم میں حفیظ اللہ نیازی صدر اسلام آباد یونیورسٹی شامل تھے۔ ملتان سیکٹر میں ملتان، ڈیرہ غازیخان، بہاول پور، بہاول نگر، رحیم یار خان اور مظفر گڑھ کے اضلاع شامل تھے اور اس علاقہ کی ذمہ داری عبدالشکور سیکرٹری پنجاب یونیورسٹی، منظور خان، سابق صدر گورنمنٹ کالج ملتان اور احسان باری پر ڈالی گئی۔ طلبہ ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرتے رہے۔ ایک ایک دن میں تین تین جلسے ہوئے جلوس نکالے گئے۔ ہر جگہ عوام نے بھر پور استقبال کیا۔ ہر جلسے میں ہزاروں کی تعداد میں عوام شامل ہوئے۔ ٣٠؍ جون تک طلبہ اپنے طوفانی دورے میں دو ہزار سے زائد جلسے اور ١٨ جلوس نکال چکے تھے۔ اسی دوران لاہور شہر میں مسعود کھوکھر، نائب صدر پنجاب یونیورسٹی اکمل جاوید سیکرٹری انجینئرنگ یونیورسٹی اور احسان اللہ وقاص ناظم اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کی قیادت میں ڈیڑھ سو جلسے منعقد کئے گئے۔ ٣٠؍ جون کو طلبہ کے نمائندے ایک ایک ماہ کے لئے
١٧
نظر بند کر دیئے گئے لیکن تحریک پھر بھی جاری رہی۔
طلبہ نے پہلے سے زیادہ جوش وخروش سے جلسے کئے۔ مظاہرے کئے اور ملک کے درودیوار پر ختم نبوت زندہ باد، قادیانیوں کو اقلیت قرار دو اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دو کے نعرے لکھ دیئے گئے۔ اگست میں طلباء رہا ہوئے تو فیصلہ کیا گیا کہ اب حکومت سے کھلم کھلا اور آخری جنگ کے لئے پنجاب یونیورسٹی میں پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کا اجلاس بلایا جائے۔ اس اجلاس میں اہم نوعیت کے فیصلے کئے گئے۔ فیصلہ کیا گیا کہ جب تک قادیانیوں کو اقلیت قرار نہ دیا گیا۔ تعلیمی اداروں میں قادیانی طلبہ اور اساتذہ کا داخلہ بند رہے گا۔ پنجاب میں ایک اور طوفانی دورہ ہوگا۔
٥ ستمبر کو تمام تعلیمی اداروں میں کلاسوں کا بائیکاٹ ہوگا۔ ١٤ اگست کو لاہور میں تاریخی جلوس نکالا جائے گا۔ ٥ ستمبر کو اسلام آباد میں کل پاکستان طلبہ کنونشن ہوگا۔ اور سب سے اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ اگر ٧ ستمبر کو قادیانیوں کو اقلیت قرار نہ دیا گیا تو پھر طلبہ ”حکومت چھوڑ دو“ تحریک کا آغاز کریں گے۔ ١٤ اگست کو طلبہ نے لاہور میں عظیم الشان جلوس نکالا اور پھر ١٨ اگست کو لاہور کی مسلم مسجد میں ٨٠ر سے زائد پنجاب بھر کے منتخب طلبہ کے نمائندوں نے ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کیا۔ یہ اپنی نوعیت کا واحد جلسہ عام تھا۔
٥ ستمبر کو پورے صوبہ میں طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ اتنا بھر پور کہ حکومت بوکھلا اٹھی۔ ٥ ستمبر کو طلباء کے نمائندے اسلام آباد میں جمع تھے۔ اسی روز اسلام آباد میں عظیم الشان جلوس نکالا گیا۔ اسلام آباد کے راستے بند تھے۔ لیکن طلبہ پہنچ رہے تھے۔ خان قیوم نے بیان دیا کہ طلبہ کو اسلام آباد میں کچل دیا جائے گا۔ طلبہ..... نمائندے اتنی کثیر تعداد میں پہنچ گئے تھے اور ممبران اسمبلی پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ حکومت کے لئے طلبہ کا وجود نا قابل برداشت ہو گیا۔ چنانچہ پولیس نے ہر راستہ کی ناکہ بندی کی۔ اور بالآخر طلبہ گرفتار کر لئے گئے۔
اس تحریک میں طلبہ نمائندوں کی یہ چوتھی گرفتاری تھی۔ طلباء نے اسلام آباد کو اپنی تحریک کے فائنل میچ کے لئے منتخب کر کے حکومت کے اعصاب شل کر دیئے تھے۔ طلبہ، نمائندوں کی گرفتاریوں کے باوجود احتجاج جاری رہے۔ پولیس اور طلبہ میں آنکھ مچولی ہوتی رہی۔ طلبہ ہر کونہ میں پھیل گئے۔ جگہ جگہ جلسے کرتے رہے۔ جوش پھیلاتے رہے۔ ممبران اسمبلی تک پہنچنے کے راستے بھی بند کر دیئے گئے۔ لیکن طلبہ ہر حدود پھلانگ گئے۔ اور بالآخر حکومت نے ہتھیار ڈال دیئے۔
٧ ستمبر کو طلبہ جیت گئے۔ عوام جیت گئے۔ علماء جیت گئے اور اسی ملک میں تمام مسلمانوں کا جذبہ عشق نبی ﷺ جیت گیا۔
١٨
بھیرہ میں حالیہ تحر
ملک محمد
برصغیر پاک وہند میں گاہ بگاہ تحریک اقتصادی، مذہبی یا سیاسی پروگرام لے کر عوام ال تقریروں، تحریروں، جلسے جلوسوں اور دیگر ذرائع مقاصد اور ترقی سے آگاہ رہیں اور دوسری طرف کسی تحریک کی زندگی چند ماہ ہی ہے۔ کوئی چند ہف اس کے برعکس تحریک ختم نبوت جو مرزا غلام احمد قا وقت گزرنے کے ساتھ مدھم پڑنے کے بجائے م آبیاری علماء حق کی جانسپاریوں اور عوام کے عشق گہرائی کے سبب اتنی مؤثر نتیجہ خیز اور جامع تھی کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کی خواہشات اور ان کے مطالبہ
١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں ملک اگر چہ چھوٹا سا قصبہ ہے لیکن علماء وصلحاء کے اثرا کرنے کا جذبہ اور قومی تحریکوں میں بھر پور شمو سرزمین سے حکیم نور الدین قادیانی اور حکیم فض حضرت مولانا ظہور احمد بگوتی نے جنم لیا۔ جنھو تعاقب کر کے قادیانی تحریک اور قادیانیوں کا بھیرہ نے اپنے علماء کی آواز پر لبیک کہا اور یوں
٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ کے ریلوے کے تحت نہتے اور بے خبر طلبہ کو اپنی وحشت اور شدید اضطراب اور بے چینی پھیل گئی۔ اس فطر جمعہ کے خطبوں میں ہوا۔ شہر کے علماء اور خطباء نے عوام کو قادیانیت کے فتنے کے خدوخال او
بھیرہ میں حالیہ تحریک ختم نبوت
ملک محمد معصوم!
برصغیر پاک و ہند میں گاہ بگاہ تحریکیں اٹھتی رہی ہیں۔ یہ تحریکیں مخصوص سماجی، اقتصادی، مذہبی یا سیاسی پروگرام لے کر عوام الناس کے سامنے آئیں۔ ہر تحریک نے اپنا نقطہ تقریروں، تحریروں، جلسے جلوسوں اور دیگر ذرائع سے پیش کیا تاکہ عوام ایک طرف تو تحریک کے مقاصد اور ترقی سے آگاہ رہیں اور دوسری طرف عوامی جوش وجذبہ اور تحریکی ولولہ تابندہ رہے۔ مگر کسی تحریک کی زندگی چند ماہ ہی رہی۔ کوئی چند ہفتے اور بعض اس سے بھی کم وقفے میں دم توڑ گئیں۔ اس کے برعکس تحریک ختم نبوت جو مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ مدھم پڑنے کے بجائے ٩٠ سالوں میں تیز تر ہوئی۔ دراصل اس تحریک کی آبیاری علماء حق کی جانسپاریوں اور عوام کے عشق مصطفیٰ نے کی۔ حالیہ تحریک اپنی شدت گیرائی اور گہرائی کے سبب اتنی مؤثر نتیجہ خیز اور جامع تھی کہ تمام تر تاخیری حربوں کے باوجود اربابِ اختیار کو یہ مسئلہ مسلمانوں کی خواہشات اور ان کے مطالبے کے مطابق طے کرنا پڑا۔
١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں ملک بھر میں ہر سطح پر بڑا منظم اور پرجوش کام ہوا۔ بھیرہ اگر چہ چھوٹا سا قصبہ ہے لیکن علماء وصلحاء کے اثرات کے سبب اس کے خمیر میں باطل قوتوں کا مقابلہ کرنے کا جذبہ اور قومی تحریکوں میں بھرپور شمولیت کا ولولہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ اگر بھیرہ کی سرزمین سے حکیم نور الدین قادیانی اور حکیم فضل دین قادیانی پیدا ہوئے تو یہیں سے مجاہد ملت حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ نے جنم لیا۔ جنہوں نے اپنی تحریر اور تقریر سے پورے علاقے میں تعاقب کر کے قادیانی تحریک اور قادیانیوں کا ناطقہ بند کر دیا۔ چنانچہ حالیہ تحریک کے دوران اہل بھیرہ نے اپنے علماء کی آواز پر لبیک کہا اور یوں دل وجان سے تحریک کو کامیاب بنایا۔
٢٩؍مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ کے ریلوے سٹیشن پر جب قادیانیوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نہتے اور بے خبر طلبہ کو اپنی وحشت اور بربریت کا نشانہ بنایا تو ملک بھر کے مسلمانوں میں شدید اضطراب اور بے چینی پھیل گئی۔ اس فطرتی ردعمل کا پہلا بھرپور عوامی اور دینی اظہار ٣١؍مئی کو جمعہ کے خطبوں میں ہوا۔ شہر کے علماء اور خطباء نے مساجد میں اس موضوع پر تقریریں کیں۔ انہوں نے عوام کو قادیانیت کے فتنے کے خدوخال اور برگ وبار سے آگاہ کیا اور ان مضمرات اور خطرات
کی نشاندہی کی جو اس حملے کی جسارت کا باعث بنے اور جس سے اسلام مسلمانوں اور وطن عزیز کو مزید نقصانات کا احتمال تھا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت بھیرہ کے صدر مولانا سراج الدین، مولانا جلال الدین مولانا محمد یامین جلسہ و جلوس کے باقاعدہ پروگرام کے لئے حضرت امیر حزب الانصار کے پاس تشریف لائے۔ چنانچہ باہمی مشورے اور اتفاق رائے سے ایک باضابطہ لائحہ عمل طے ہوا۔ اس جمعہ کو جامع مسجد بگویہ میں معمول سے زیادہ اجتماع تھا۔ حضرت مولانا افتخار احمد بگوی امیر حزب الانصار نے اپنی پرجوش تقریر میں واضح کیا۔
ربوہ کا حادثہ اس لحاظ سے بہت سنگین ہے کہ مرزائیوں نے تاریخ میں پہلی بار کسی اشتعال کے بغیر اپنی ریاست میں مسلمانوں کو للکارا ہے۔ خصوصاً جب کہ ملک حالیہ بھارتی ایٹمی دھماکے اور دیگر داخلی معاملات کی بناء پر خطروں سے دوچار ہے۔ دراصل مرزا ناصر نے اپنی قوت اور رسوخ کے گھمنڈ میں یہ دیکھنا چاہا ہے کہ حالات کے ہاتھوں تنگ آئے ہوئے اور دین سے رغبت نہ رکھنے والے مسلمانوں کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔
میں مرزائیوں کو خبردار کرتا ہوں کہ اب ان کے احتساب کا دن آ پہنچا ہے۔ طلبہ کے خون کے یہ چھینٹے رائیگاں نہیں جائیں گے۔ ١٩٥٣ء کے مجاہدین اور شہدائے ختم نبوت کی قربانیاں اب رنگ لا کر رہیں گی۔ محمد عربی کے غلام اور شمع رسالت کے پروانے اب کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔“
تقریر کے اختتام پر مولانا نے اعلان کیا کہ نماز جمعہ کے بعد مرزائیوں کے اس وحشیانہ جسارت اور ملت اسلامیہ کے خلاف ناپاک عزائم کی مذمت کے لئے جلوس نکالا جائے گا جس کے اختتام پر ایک عظیم الشان اجتماع سے شہر کے علماء خطاب کریں گے۔ چنانچہ نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد سے ایک بہت بڑا جلوس نکلا جس کی قیادت امیر حزب الانصار جناب پیر بدرالامیر گیلانی، مولانا حکیم برکات احمد بگوی اور مولانا محمد یعقوب احسن کر رہے تھے جب یہ جلوس بیرون دروازہ چک والہ پہنچا تو امیر حزب الانصار نے شرکاء جلوس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
”ہمارا جلوس احتجاجی ہے ہم مرزائیوں کی جسارت کی مذمت کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں پرامن رہنا چاہئے اور بدامنی یا توڑ پھوڑ کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔ ایسی بات نہ صرف اسلامی رواداری کے خلاف ہے بلکہ اس سے ان سماج دشمن عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع ملے گا جو تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے تخریبی سرگرمیوں کی آڑ چاہتے ہیں۔ علاوہ ازیں ابتدائی مرحلے پر لاء اینڈ
آرڈر کا مسئلہ انتظامیہ اور سرکار کے ساتھ غیر ضروری اور نقصان دہ تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔" جلوس بڑے وقار اور امن کے ساتھ بڑھ رہا تھا۔ قائدین کے طے کردہ نعرے بلند ہورہے تھے۔ مگر جب جلوس بازار کے ایک حصے میں پہنچا تو بعض غیر ذمہ دار عناصر کی انگیخت پر نوجوانوں کے جذبات برافروختہ ہو گئے اور اس طرح چند غیر مسلموں کی دکانوں کو نقصان پہنچا مگر قائدین کی فوری اور مؤثر مساعی سے صورتحال جلد قابو میں آگئی اور جلوس پھر پوری تمکنت اور شان کے ساتھ نعرہ زن اپنے راستے پر آگے بڑھتا چلا گیا ۔ زبانوں پر تحمید و تقدیس کے کلمات جاری تھے اور دل دعا گو کہ اب یہ تحریک کامیاب ہو۔
ایک جلوس مولانا جلال الدین اور مولانا سراج الدین کی قیادت میں دارالعلوم خضریہ محلہ پراچگان سے شروع ہوا جس میں بعد ازاں دارالعلوم محمدیہ غوثیہ کا جلوس زیر قیادت حضرت مولانا پیر محمد کرم شاہ اور ایک جلوس مدرسہ عربیہ تعلیم الدین کے مولانا عبدالرشید کی قیادت میں شریک ہو گئے۔ شہر کے مین بازار میں یہ جلوس اور جامع مسجد بگویہ کا جلوس باہم مل گئے۔ بازار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تاحد نگاہ سر ہی سر نظر آ رہے تھے۔ اہل بھیرہ اپنے روایتی جوش وخروش کے ساتھ ناموسِ مصطفیٰ کو نذرانہ محبت وعقیدت پیش کررہے تھے۔ بازار کے دوطرفہ مکانوں، دکانوں کی منڈیروں پر مستورات جمع تھیں۔ فضا درود و سلام، جذبہ جوش ایمان افروز اور باطل شکن کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ اس پر مستزاد مختلف مکاتب فکر کے علماء اور کارکنوں کا اتحاد واتفاق، یہ کیف یہ کمال بس اس کا تو فیض تھا جس کے نام کی سربلندی اور ناموس کی حفاظت کے لئے آج سارا شہر بازاروں اور گلیوں میں امڈ آیا تھا۔
اختتام جلوس پر گنج منڈی کے روایتی اور تاریخی پنڈال میں عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں علماء نے معلومات افزا ولولہ انگیز اور ایمان پرور تقاریر کیں اور عوام کو مرزا قادیانی اور اس کے مذہب کے مقاصد، خطرات اور سازشوں سے آگاہ کیا۔
٣١؍ مئی کے اس پرجوش اور انتہائی مؤثر مظاہرے نے اچھی طرح واضح کر دیا کہ بھیرہ کا مسلمان مکمل طور پر بیدار اور آقائے نامدار ﷺ کے ناموس کے تحفظ کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ اب وہ قادیانی فتنے سے نمٹنے کے لئے اپنے علماء کی قیادت میں ہر راست اقدام کر گزرنے کو اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ اس اثناء میں دو تین جگہوں پر قادیانیوں نے کسی اشتعال کے بغیر مسلمانوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سے جذبات کا مشتعل ہو کر قابو سے باہر ہونا ایک قدرتی بات تھی۔ حکومتی کارندوں کے لئے بھیرہ کی عوام کی بیداری اور ردعمل ایک تشویشناک بات تھی۔
٢١
اس سرکاری تشویش کی حاشیہ آرائی اور وضاحت کے لئے بعض شاہ پرستوں کے کردار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف تشویش کو مبالغے کے ساتھ پیش کیا بلکہ تحریک کے ’سدباب‘ کے لئے اپنی گرانقدر تجاویز بھی پیش کیں۔ چنانچہ اس ’مشورے‘ کے بعد رات ساڑھے دس بجے امیر حزب الانصار کے فون کی گھنٹی بجی۔ مقامی تھانے کے انچارج نے انہیں ایک ضروری میٹنگ کے لئے بلابھیجا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد پولیس کے افراد مولانا کو اپنی نگرانی میں تھانے لے گئے۔ جانے سے پہلے اپنی متوقع گرفتاری کے پیش نظر مولانا نے اپنے رفقاء اراکین اور طلبہ دارالعلوم عزیزیہ کو پیش آئند امور کی بابت ضروری ہدایت دیں۔ کسی بستر اور آسائش کے بغیر مولانا نے وہ رات تھانے میں گزاری۔ مقامی انتظامیہ نے سارے شہر سے صرف انہیں گرفتار کیا تھا۔ ان کے لئے پولیس کے یہ ہتھکنڈے، قید کی صعوبتیں اور مشقتیں نئی نہیں تھیں۔ ١٩٥٣ء میں وہ ان سے زیادہ مشکل حالات میں اور زیادہ جارح حکومت کے مظالم کا مقابلہ کر چکے تھے جب وہ کئی ماہ پنجاب کی مختلف جیلوں شاہ پور، لاہور، سرگودھا وغیرہ میں قید رہے اور آخر ساہیوال سے رہا ہوئے تھے۔ شہر کے چیدہ چیدہ افراد کو مولانا کی غیر قانونی حراست کی اطلاع رات کو ہی مل گئی تھی۔ مگر صبح ہوتے ہی یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی۔ لوگ مشتعل ہوگئے۔ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ شہر کی بیداری اور عوامی ردِعمل کی ذمہ داری بطور خطیب شہر اور مفتی شہر امیر حزب الانصار پر عائد ہوتی ہے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ مسلمانان بھیرہ کو حادثہ ربوہ کی مذمت، عقیدہ ختم نبوت کی صیانت اور قومی معاملات پر اظہار جذبات کا پورا پورا حق ہے۔ بدامنی اور توڑ پھوڑ کا کام خدا ترس مسلمان کا نہیں بلکہ بدامن اور قانون شکن مرزائیوں اور سماج دشمن عناصر کا شاخسانہ ہے۔ وہ اور اہل بھیرہ ایسی قانون شکنی سے بری الذمہ ہیں۔ اسی اثناء میں انتظامیہ نے مولانا عبدالرشید اور مولانا جلال الدین کو بھی اپنی انتظامی کارکردگی میں لپیٹ لیا۔ اس بات سے حالات مزید کشیدہ ہوگئے۔ شہر میں پولیس کی بھاری جمعیت گشت پر مامور کردی گئی۔ کہیں بلند آواز سے احتجاجی نعرے لگے۔ بعض جگہوں پر نوجوان دھرنا مار کر بیٹھ گئے۔ حضرت امیر حزب الانصار کی گرفتاری کی خبر سن کر بھیرہ اور گردونواح کے مسلمان گروہ در گروہ جامع مسجد بھیرہ آنے لگے۔ گیلانی
١؎ ١٩٥٣ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت میں بھیرہ کے کثیر رضا کاروں کے علاوہ مجلس عمل کے درج ذیل عہدیدار اور ممتاز اصحاب کئی ماہ کے لئے صوبے کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔ ١....... مولانا افتخار احمد بگوی، امیر حزب الانصار، ٢....... شیخ محمد اسلم مرحوم، ٣....... حکیم برکات احمد بگوی صاحب، ٤....... جناب پیر بدرالامیر گیلانی، ٥....... حافظ محمد صدیق صاحب ٢٢
خاندان کے سبھی افراد اپنے عقیدت مندوں کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔ حکومتی مشینری بھاگ دوڑ میں مصروف ہ صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ حضرت مولانا افتخار ا مدارس دینیہ کی ناجائز حراست کے خلاف شہر میں ایسی ہڑت واضح ہو چکا تھا کہ یہ گرفتاریاں ناجائز ہیں اور امن عا تعاون سے اپنی حسن کارکردگی کے زعم میں خود پیدا کر رکھ ہدایت پر جناب حکیم غلام مرتضیٰ نے پولیس حکام س اقدامات سے شہر کا امن تباہ ہوجائے گا اور صورت حال بعد ازاں علماء و مشائخ شہر، سیاسی اور سماجی مذاکرات ہوئے۔ انتظامیہ کے مقامی کارندوں نے چار بجے علمائے کرام اور دینی طلبہ کو بلامشروط رہا کر دیا۔ راجہ سکندر خان رکن صوبائی اسمبلی اور جناب سید عاشو مساعی کیں۔ نوجوان کارکنوں میں محمد اقبال، عقیل، مح محمد ریاض، مقبول احمد وغیرہ نے اس موقع پر بڑے ج ٣١؍مئی کے مظاہرے اور یکم جون کی ہڑ بھیرہ میں رائے عامہ کی ہمواری اور تحریک کی سمت وغضب کی آگ میں جل رہا تھا۔ قادیانیوں کی غن پرستوں کے ہتھکنڈوں اور سرکار کے تاخیری حربوں کے قیام کے رسمی اعلان سے پہلے ہی مختلف شہروں شروع ہوگئی تھیں۔ مطالبات کی پذیرائی اور تحریک چنانچہ ٨؍جون کو مولانا سراج الدین کی دعوت پر دا رہنماؤں، سماجی کارکنوں، طلبہ نمائندوں اور صحافیو طے کیا جائے۔ کیونکہ اب تک تحریکی کام منظم پیپلز پارٹی کے عہدے دار شریک نہیں ہوئے۔ الب نتیجہ نہ نکل سکا۔ اور انتظامی ہیئت نہ بن سکی۔
خاندان کے سبھی افراد اپنے عقیدت مندوں کے ساتھ موجود تھے اور مقامی پریس کلب کے جواں سال صحافی ہیں۔ حکمت قدسی بھاگ دوڑ میں مصروف، علمائے شہر اور زعمائے علاقہ نے بگڑی ہوئی صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ حضرت مولانا افتخار احمد بگوئی، امیر حزب الانصار اور دیگر علمائے مدارس دینیہ کی ناجائز حراست کے خلاف شہر میں ایسی بھر پور اور مکمل ہڑتال ہوئی کہ باید و شاید، اب واضح ہو چکا تھا کہ یہ گرفتاریاں ناجائز ہیں اور امن عامہ کا مسئلہ مقامی انتظامیہ شاہ پرستوں کے تعاون سے اپنی حسن کارکردگی کے لئے خود پیدا کر رہی ہے۔ محترم حکیم مولوی شاہ محمد صاحب کی ہدایت پر جناب حکیم غلام مرتضیٰ نے پولیس حکام سے رابطہ قائم کیا اور انہیں سمجھایا کہ ایسے غلط اقدامات سے شہر کا امن تباہ ہو جائے گا اور صورت حال کنٹرول سے باہر ہو جائے گی۔
بعد ازاں علماء و مشائخ شہر، سیاسی اور سماجی رہنما اور مقامی صحافی تھانے پہنچے اور تفصیلی مذاکرات ہوئے۔ انتظامیہ کے مقامی کارندوں نے ضلعی حکام سے رابطہ کے بعد یکم جون، سہ پہر چار بجے علمائے کرام اور دینی طلبہ کو بلاشرط رہا کر دیا۔ اس موقع پر جناب شیخ انوار الحق پراچہ، جناب راجہ سکندر خان رکن صوبائی اسمبلی اور جناب سید عاشق حسین نے صورت حال کو سنبھالنے کی بھر پور مساعی کیں۔ نوجوان کارکنوں میں محمد اقبال، عقیل، محمد عظیم تھانوی، ممتاز خان، حاجی محمد، ملک محمد عمر، محمد ریاض، مقبول احمد وغیرہ نے اس موقع پر بڑے جوش وخروش سے کام لیا۔
٣١؍ مئی کے مظاہرے اور یکم جون کی ہڑتال، علماء کی گرفتاری اور رہائی۔ ان امور سے بھیرہ میں رائے عامہ کی ہمواری اور تحریک کی مستقل راہ پر خاصہ تیز کام ہوا۔ پورا ملک غیض وغضب کی آگ میں جل رہا تھا۔ قادیانیوں کی خودسری اور اشتعال انگیزیوں، انتظامیہ اور شاہ پرستوں کے ہتھکنڈوں اور سرکار کے تاخیری حربوں سے اسے ہوا ملی۔ مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام کے رسمی اعلان سے پہلے ہی مختلف شہروں اور قصبوں میں تحریک کی انتظامی مجالس قائم ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ مطالبات کی پذیرائی اور تحریک کو ٹھیک ٹھیک چلانے کے لئے یہ ناگزیر تھا۔ چنانچہ ٨؍ جون کو مولانا سراج الدین کی دعوت پر دارالعلوم محمدیہ غوثیہ میں مقامی علمائے کرام، سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، طلبہ نمائندوں اور صحافیوں کا اجتماع ہوا۔ تاکہ آئندہ کے لئے لائحہ عمل طے کیا جائے۔ کیونکہ اب تک تحریک کا کام منظم طور پر نہیں ہو رہا تھا۔ اس نمائندہ اجتماع میں پیپلز پارٹی کے عہدے دار شریک نہیں ہوئے۔ البتہ مرزائی نواز گماشتوں کی بدولت کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل سکا۔ اور انتظامی ہیئت نہ بن سکی۔
٢٣
١٤ جون کو مرکزی مجلس عمل کی اپیل پر پہلی اور بھیرہ کی دوسری ہڑتال ہوئی جو تنظیم اور تاثر کے اعتبار سے انتہائی کامیاب تھی۔ ١٨؍ جون کو ایک اور نمائندہ اجتماع مسجد حاجی گلاب میں منعقد ہوا جس کے کنوینئر مولانا محمد رمضان علویؒ تھے۔ اس اجتماع میں اتفاق رائے سے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بھیرہ کے درج ذیل عہدے داران نامزد ہوئے۔
صدر: مولانا حکیم برکات احمد بگوی ناظم اعلیٰ: مولانا جلال الدین خازن: حاجی رحیم بخش
اراکین مجلس شوریٰ: مولانا افتخار احمد بگوی، مولانا پیر کرم شاہ، مولانا عبدالرشید، جناب پیر بدرالدین گیلانی، مولانا سراج الدین، مولانا عبدالرحیم، مولانا محمد یامین، صاحب زادہ امین الحسنات، مولانا محمد یعقوب احسن، جناب عبدالرشید، جناب واحد شاہ، جناب عزیز الرحمن خورشید، ملک نثار احمد، جناب غلام اللہ، جناب عبدالوحید، جناب عبدالسلام۔
تحریک ختم نبوت کا پہلا تحریکی جلسہ مدنی مسجد میں صدر مجلس عمل کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مجلس عمل بھیرہ نے بھیرہ اور اس کے گردونواح میں قریباً پچاس شاندار جلسے کئے۔ اور ٣١؍ مئی بروز جمعہ ١٨؍ جولائی بروز جمعرات، ١٤؍ اگست بروز اتوار اور ١٥؍ اکتوبر ہفتہ کو مقامی حالات، مرکزی مجلس عمل کی ملک گیر اپیل اور علاقائی حالات کی بناء پر ضلعی مجلس عمل کی ہدایت پر پانچ کامیاب ہڑتالیں کروائیں۔ ان ہڑتالوں کی کامیابی کا سہرا اہل بھیرہ خصوصاً کاروباری حضرات کے سر ہے جنہوں نے اخروی سرخروئی اور ناموس مصطفیٰ کی حفاظت کے لئے اپنے مالی خسارے اور کاروباری نقصان کو خوشی سے برداشت کیا۔ تحریک کے کم وبیش تمام جلسے شہر کی مختلف مساجد میں منعقد ہوئے۔ جن میں محلہ حفظانہ، محلہ پراچگان، ٹبہ اور رکھ چراگاہ کے جلسوں کو کافی شہرت حاصل ہوئی کیونکہ یہ جلسہ خاص مرزائی یا مرزائی نواز آبادیوں کے درمیان ہوئے تھے۔ ان میں ضلعی مجلس عمل کے راؤ عبدالمنان، مولانا صالح محمد، مولانا وزیر خان اور دیگر عہدے دار بھی خصوصی دعوت پر شریک ہوئے۔ ٨؍ جولائی کو مجلس مرکزیہ حزب الانصار کے زیر اہتمام جامع مسجد بگویہ میں ایک عظیم الشان اجتماع ہوا جس کی صدارت امیر حزب الانصار نے کی۔ مجلس عمل بھیرہ کے تمام عہدیداران اس ممتاز جلسے میں شریک ہوئے۔ ناظم اعلیٰ مجلس عمل بھیرہ مولانا جلال الدین کی تقریر کے بعد مولانا محمد حسین چنیوٹی نے عقیدہ ختم نبوت پر پرجوش اور بصیرت افروز تقریر کی۔
٢٤
بھیرہ کے نوجوان خصوصاً طلباء ہے کہ حالیہ تحریک نوجوانوں کی تحریک تھی یـ رسالت کی کرنیں لے کر قریہ قریہ گاؤں گاؤ ہوئی اور سارے ملک میں مانی گئی۔ مجلس عمـ پہلے ”تنظیم طلبہ“ کے نام سے ایک جماعت ہدایات پر عمل کرنے اور انہیں نافذ کرنے ٢٢ جون کو مولانا محمد یعقوب احسن صدر اتفاق رائے سے صاحبزادہ لمعات احمد بگوی احمد بگوی سیکرٹری اور مجلس شوریٰ کے یہ ارکاں جاوید قریشی، نذیر احمد، علامہ منظور قادر شاہ کو منظم کیا۔ طلبہ نے سماجی مقاطعے ہڑتالوں دور اندیشانہ اور مؤثر خدمات سرانجام دیں نبوت بھیرہ نے بعدازاں طلبہ سمیت اپنے اور منظم کرنے کے لئے اپنی ایک ذیلی تنظیـ مقرر کیا۔ چنانچہ ناظم اعلیٰ مجلس عمل بھیرہ کے یک جا کیا۔ اس نئی تنظیم ”الفتح“ کے سا طلبائے اسلام کے کارکن بھی مقامی مجلس عمـ معاون رہے۔ دراصل سماجی مقاطعے کا سحـ سے بار آور ہوا۔ ہر نوجوان نے خواہ وہ کـ ہمہ وقت مستعدی اور پورے جذبہ جوش والے ہتھکنڈے، شاہ پرستوں کی سازشیں، راہ میں حائل نہیں ہوسکی۔ اور نہ ہی ذاتی مقصد کی سچائی کا یقین تھا اور خدا رسول کامیابی کی منزل سے ہمکنار کیا۔
قادیان کے زلہ خواروں کو نچایا جا
بھیرہ کے نوجوان خصوصاً طلباء نے تحریک ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ واقعہ یہ ہے کہ حالیہ تحریک نوجوانوں کی تحریک تھی۔ انہوں نے ہی اس کا آغاز کیا تھا۔ اور وہی شمع ناموس رسالت کی کرنیں لے کر قریہ قریہ گاؤں گاؤں شہر شہر پھیل گئے۔ یہ انہی کی پکار تھی جو ربوہ میں بلند ہوئی اور سارے ملک میں مانی گئی۔ مجلس عمل بھیرہ کے مشورے اور تائید سے بھیرہ میں طلبہ نے پہلے ”تنظیم طلبہ“ کے نام سے ایک جماعت تشکیل دی تاکہ وہ مجلس عمل کے فیصلوں، اپیلوں اور ہدایات پر عمل کرنے اور انہیں نافذ کرنے میں دست و بازو کا کام دے اس کا تاسیسی اجلاس ٢٢؍ جون کو مولانا محمد یعقوب احسن صدر مدرس دارالعلوم عزیزیہ کی صدارت میں ہوا جس میں اتفاق رائے سے صاحبزادہ لمعات احمد بگوی صدر، ملک شیراز فراش نائب صدر، صاحبزادہ حسنات احمد بگوی سیکرٹری اور مجلس شوریٰ کے یہ ارکان طے ہوئے۔ لیاقت قریشی، حافظ محمد منیر، ملک محمد علی، جاوید فراش، نذیر احمد، علامہ منظور قادر شاہ ”تنظیم طلبہ“ نے اپنی برادری کو فعال اور ان کی صلاحیتوں کو منظم کیا۔ طلبہ نے سماجی مقاطعے ہڑتالوں اور مجلس عمل کے جلسوں کے دوران بڑی جرات مندانہ دور اندیشانہ اور مؤثر خدمات سرانجام دیں۔ انہی اقدامات اور مقاصد کے لئے مجلس عمل تحریک ختم نبوت بھیرہ نے بعدازاں طلبہ سمیت اپنے تمام رضا کاروں اور کارکنوں کی سرگرمیوں کو مربوط مستحکم اور منظم کرنے کے لئے اپنی ایک ذیلی تنظیم ”الفتح“ بنائی اور صاحبزادہ امین الحسنات کو اس کا ناظم مقرر کیا۔ چنانچہ ناظم اعلیٰ مجلس عمل بھیرہ کے ایماء اور کوششوں سے ”تنظیم طلبہ“ اور ”الفتح“ دونوں کو یک جا کیا۔ اس نئی تنظیم ”الفتح“ کے ساتھ اور جداگانہ طور پر اسلامی جمعیت الطلبہ اور جمعیت طلبائے اسلام کے کارکن بھی مقامی مجلس عمل کی ہدایات اور پروگراموں پر پوری طرح عمل پیرا اور معاون رہے۔ دراصل سماجی مقاطعے کا کٹھن اور صبر آزما کام انہی نوجوانوں کی محنتوں اور قربانیوں سے بار آور ہوا۔ ہر نوجوان نے خواہ وہ کسی تنظیم یا جماعت سے منسلک تھا یا نہیں۔ ہر جگہ، ہر محاذ پر ہمہ وقت مستعدی اور پورے جذبہ جوش کے ساتھ دین کی سربلندی کے لئے کام کیا۔ راتوں کو پھٹنے والے پٹاخے، شاہ پرستوں کی سازشیں، انتظامیہ کی دھمکیاں اور تادیبی ہتھکنڈے کوئی چیز اس کی راہ میں حائل نہیں ہوسکی۔ اور نہ ہی ذاتی نمودونمائش یا شہرت و ناموری، مطلوب تھی۔ اسے اپنے مقصد کی سچائی کا یقین تھا اور خدا رسول سے سچی محبت اس محنت وایثار یقین اور محبت ہی نے اسے کامیابی کی منزل سے ہمکنار کیا۔
اعلان عام
کٹ مروں گا خواجہ کونینؐ کے ناموس پر سر کوئی شے ہی نہیں، یہ بھی کٹایا جائے گا
جانتا ہوں اہل ربوہ کے سیاسی پیچ وخم کافرانِ دینِ قیم کو جھکایا جائے گا
گونجتا ہے نعرۂ تکبیر ہر میدان میں ایشیا میں اس کی ہیبت کو بٹھایا جائے گا
مسند میر اممؐ کے وارثوں کو بے خطر کھینچ کر اسلام کی چوکھٹ پر لایا جائے گا
عرصۂ کونین میں لختِ دل زہراؓ کا نام استقامت کے حریفوں کو سنایا جائے گا
دار کے تختہ پر کھنچوا دو کہ میں ڈرتا نہیں جھنگ کے پہلو سے ربوہ کو اٹھایا جائے گا
قادیانی ارض پاکستان میں یا للعجب؟ راز کیا ہے ایک دنیا کو بتایا جائے گا
سرزمین پاک میں سرمایہ داری کا وجود اب مٹانا ہی پڑا ہے تو مٹایا جائے گا
ناصر احمد چیز کیا ہے کلپرزے ہی کا جوش
ارتداد اس کا زمانہ کو دکھایا جائے گا
(شورش کاشمیری)
برصغیر کا پہلا اجماعِ امت
مولانا محمد ذاکر شاہ ایم اے
انیسویں صدی کا نصف آخر برصغیر کے مسلمانوں کے لئے انتہائی تاریک دور تھا۔ ان کی عظمت وشوکت قصۂ پارینہ بن چکی تھی۔ مختلف حیلوں سے برطانوی استبداد مسلمانوں کی سیاسی، عمرانی اور مذہبی زندگی کے درپے تھا۔ ایک طرف تو ہندوؤں کو بے ضرر اور ملک کی اکثریت سمجھ کر ساتھ ملایا جا رہا تھا۔ تاکہ مسلمانوں کے ظلموں کی من گھڑت کہانیاں سنا کر انہیں خونِ مسلم کی ارزانی پر آمادہ کیا جاسکے اور دوسری طرف یہ مساعی بھی جاری تھیں کہ مسلمانوں کے اندرونی نظم وضبط اور یگانگت واتحاد کو ختم کر دیا جائے تاکہ یہ جسم کھوکھلا ہو کر رہ جائے۔ اس دوسرے مسئلہ پر پوری توجہ مبذول کی جا رہی تھی۔
قادیان کا ایک رئیس زادہ دنیاوی اقتدار کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ اس کی خوش قسمتی یہ تھی کہ وہ ایک حد تک اسلامی علوم اور عربی زبان سے واقف تھا۔ انگریز جو اپنے لئے کسی ڈھب کے آدمی کی تلاش میں تھا۔ اس ”جوہر مراد“ کو تاڑ گیا۔ اور اس کی پھڑکتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔ مرض کی تشخیص تو ہو چکی تھی۔ دوا تجویز کر دی گئی۔ اب مسلمانوں کو قعرِ مذلت میں گرنے کی ٢٦
کوششیں تیز تر کر دی گئیں۔ مسلمانوں کی اجتماعیت کے شاطروں نے تیز کی تھی۔ قادیان سے دعاویٰ کا مرزا قادیانی نے سوچا مسلمانوں کے عقائ کے چیلنج دئے جائیں۔ تاکہ ”ولی نعمت“ کا مقصد بھی کے زریں مواقع بھی ملتے رہیں۔ انہوں نے اسی مقص کو للکارا۔ بحثوں کے جال بچھائے۔ مغالطات کے ا برطانوی استعماریت زیر لب مسکرائی اور واہ واہ کے ٹ تفسیر ہورہی ہے۔
عامۃ المسلمین پر سب سے زیادہ اثر اور ”دیو استبداد“ کو بھلا کیوں خوش نہ کرتے۔ اولیائے اس نیلگوں آسمان کے سایہ میں کسی شخص کو مجال نہیں میں آشکارا اور بے باک کہتا ہوں کہ اے اہل اسلا اور مفسریت کا دعویٰ کر کے گردن فرازی کرتے ہیں پاؤں نہیں رکھتے۔ اور گروہ ہیں جو خدا شناسی کے چشتی، قادری، نقشبندی، سہروردی اور کیا کیا کہلاتے آئیں۔“
مسلمان زعماء کب تک مہر بلب رہ کر سنتے۔ ان شوخیوں کے جواب میں فقر غیور میدان قلم حق گو ہرافشانی کرنے لگا۔ فقیر غیور نے پہلی الہدایت“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تلوار بے نیا کے دست حق پرست میں تھی۔ کتاب بازار میں گیا۔ بنتا کھیل بگڑنے لگا۔ حامی اسلام نے للکار مرزا قادیانی پر سکوتِ مرگ طاری ہ بھیروی خلیفہ اول نبضیں ٹٹولنے میں مصروف تھا ہونے والے ہدایت کے سورج نے خوئے خفاش
FC
کوششیں تیز تر کر دی گئیں۔ مسلمانوں کی اجتماعیت پر مرزائیت کی وہ چھری چلا دی گئی جو یورپ کے شاطروں نے تیز کی تھی۔ قادیان سے دعاوی کا ایک سیلاب امڈ پڑا۔ مرزا قادیانی نے سوچا مسلمانوں کے مختلف طبقات سے الجھا جائے۔ انہیں مناظروں کے چیلنج دئے جائیں۔ تاکہ ”ولی نعمت“ کا مقصد بھی پورا ہو۔ اپنی شہرت بھی ہو جائے اور جلب زر کے زریں مواقع بھی ملتے رہیں۔ انہوں نے اسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے ملک کے مایہ ناز علماء کو للکارا۔ بحثوں کے جال بچھائے۔ مغلظات کے انبار لگائے۔ جوش تحریر میں شرافت کا منہ نوچا۔ برطانوی استعماریت زیر لب مسکرائی اور واہ واہ کے ڈونگرے برسائے۔ کہ اسلام کی نئی اور بے ضرر تفسیر ہو رہی ہے۔
عامۃ المسلمین پر سب سے زیادہ اثر اولیائے کرام کا تھا۔ مرزا قادیانی انہیں چھوڑ کر ”دیو استبداد“ کو بھلا کیوں خوش نہ کرتے۔ اولیائے کرام کو ان غیر مہذب الفاظ سے نوازا۔ ”آج اس نیلگوں آسمان کے سایہ میں کسی شخص کو مجال نہیں کہ وہ میرے ساتھ ہمسری کی لاف مار سکے۔ میں آشکارا اور بے باک کہتا ہوں کہ اے اہل اسلام! تمہارے درمیان بعض لوگ ہیں جو مہدویت اور مسیحیت کا دعویٰ کر کے گردن فرازی کرتے ہیں۔ بعض طائفے ہیں کہ نازش پندار سے زمین پر پاؤں نہیں رکھتے۔ اور گروہ ہیں جو خدا شناسی کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں اور اپنے آپ کو چشتی، قادری، نقشبندی، سہروردی اور کیا کیا کہلاتے ہیں۔ ان سب سے کہو ذرا میرے سامنے تو آئیں۔“
(ترجمہ از ایام صلح، ص ١٥٩، خزائن ج ١٤، ص ٤٠٧)
مسلمان زعماء کب تک مہر بلب رہ کر اس انگریز کے خود ساختہ پودے کی لن ترانیاں سنتے۔ ان شوخیوں کے جواب میں فقر غیور میدان میں اتر آیا۔ پھر باطل دعاوی کے ابطال کے لئے قلم حق گو گہر افشانی کرنے لگا۔ فقیر غیور نے پہلی ضرب حیدری کا وار کیا۔ یہ ضرب حیدری ”شمس الہدایت“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تلوار بے نیام اعلیٰ حضرت قدوۃ الاصفیاء سیدنا پیر مہر علی شاہؒ کے دست حق پرست میں تھی۔ کتاب بازار میں کیا آئی۔ قادیان کے ”بیت الفکر“ میں تہلکہ مچ گیا۔ بنتا کھیل بگڑنے لگا۔ حامی اسلام نے للکارا ذرا کلمہ طیبہ کے معانی بتاتے جاؤ۔
مرزا قادیانی پر سکوت مرگ طاری تھا۔ نبضیں ڈوب رہی تھیں اور حکیم نور الدین بھیروی خلیفہ اول نبضیں ٹٹولنے میں مصروف تھا۔ وہ تاڑ گیا کہ سرزمین گولڑہ کی طرف سے طلوع ہونے والے ہدایت کے سورج نے خوئے خفاشی کو نوید مرگ عطا کی ہے۔ اس نے دلاسا دیا۔
٢٧
بارہ سوال لکھے۔ حضرت کو بھیجے اور مریض مراق کو کچھ افاقہ ہوا۔ مگر جب حضرت گولڑویؒ کے جوابات موصول ہوئے تو مالیخولیا جو آنجناب کا موروثی مرض تھا بڑھنے لگا۔ اب ضرب حیدری مرحب کے ساتھ عنتر کا بھی سرقلم کرنے کے لئے بڑھی۔ حضرت نے حکیم موصوف سے ”حقیقت معجزہ“ کی تشریح کا مطالبہ فرما دیا۔ فضائیں آج تک ان ضربات کی گونج سنا رہی ہیں۔ مگر مرزا کے ”بیت الفکر“ اور خلیفہ کے ”بیت الحکمت“ مقفل پڑے ہیں۔ کوئی جواب نہیں بن پڑا ہے۔
زخمی سانپ تڑپ رہا تھا۔ پھنکار شروع تھی۔ مرزا جی نے اپنے ترکش سے آخری تیر نکالا۔ ٢٢؍ جولائی ١٩٠٠ء کو ایک اشتہار جاری کیا جس میں حضرت اقدسؒ کی عربی زبان میں تفسیر لکھنے کا چیلنج دیا۔ اس کا خیال تھا کہ آپ صوفی منش گوشہ نشین ہیں۔ بھلا میدان مناظرہ میں کیسے آئیں گے؟ لیکن شاید وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ غوث الثقلینؒ کے پوتے کے نزدیک تو عشق مصطفوی ہی اصل اسلام اور منشائے ولایت ہے۔ ان کے نزدیک تو محور اسلام ہی حضورﷺ کا عشق تھا۔
صدق خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق معرکہ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
مقام مصطفیٰ موضوع بحث بنا دیا جائے اور خون حسین جوش میں نہ آئے۔ حضرت اعلیٰ نے مرزا قادیانی کا چیلنج قبول کرلیا۔ اور انہی کی خواہش کے مطابق ٢٥؍ اگست ١٩٠٠ء کو تاریخ مناظرہ مقرر فرما دی۔ طے ہوا کہ یہ مناظرہ تاریخی مسجد یعنی شاہی مسجد میں ہو۔ تاکہ برصغیر سے مناظرہ کی کیفیت دیکھنے والے لوگ آسانی سے وہاں آسکیں۔ ویسے بھی لاہور سرزمین گولڑہ سے دور اور قادیان سے قریب تھا۔
حضرتؒ نے ارشاد فرمایا کہ تفسیر نویسی میں مقابلہ ضرور ہوگا کیونکہ مرزا قادیانی کی خواہش یہی ہے۔ مگر اس کا بھی تو خیال ہونا چاہئے کہ مرزا قادیانی خود کو مثیل مسیح اور مثیل محمدﷺ کہتے ہیں۔ (استغفر اللہ) ان ہر دو عظیم المرتبت رسولوں نے تحریری تبلیغ نہیں فرمائی۔ بلکہ زبانی تبلیغ فرماتے رہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی تقریری مناظرہ بھی فرمائیں۔ اس طرح ایک تو ان عالی مقام انبیاء سے مماثلت کا راز بھی طشت از بام ہو جائے گا اور دوسرے برصغیر کے خواص و عوام تک پیغام پہنچانے کا موقع بھی مل جائے گا اور لوگ آنجناب کے اصلی قد کاٹھ کو بھی پہچان لیں گے۔ مرزا قادیانی نے حضرت سے کہا تھا کہ آپ برصغیر کے عظماء کو بذریعہ اشتہار مطلع فرمائیں گے۔
٢٨
حضرت نے برصغیر کے لوگوں کو اشتہارات بھیجے اور دعوت نامے جاری فرمائے۔ اب مرزا قادیانی پر الہامات کے دروازے وا ہو گئے۔ یہ انداز کیوں اختیار کیا گیا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ مرزا قادیانی اس شور و غوغا سے ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے تھے کہ حضرت لاہور تشریف نہ لائیں۔ ان کی پیش گوئیاں کچھ اس قسم کی تھیں کہ حضرت کی زبان گنگ ہو جائے گی۔ مرزائیت کے پھیلنے کا وقت آگیا ہے۔ قادیانی کا بول بالا ہو جائے گا۔ یہ تو ظاہری باتیں تھیں مگر جب تنہائی میں ”بیت الفکر“ کے کسی گوشے میں دبک کر سوچا تو جسم کا انگ انگ کانپنے لگا۔ دل نے کہا مناظرہ میں ”شمس الہدایت“ کے مصنف سے واسطہ پڑے گا۔ شاید وہ سر محفل کلمہ طیبہ کا معنی قرآنی ادب کے مطابق پوچھ لیں۔ وہاں جلال مصطفیٰ (علیہ السلام) بے نقاب ہوگا۔ پھر کیا ہوگا؟ ان خیالات نے ہذیانی کیفیت طاری کر دی۔ اب مسیح ایک امتی کے دروازے پر سائل بنا کھڑا تھا۔ دنیا میں یہ پہلی مثال تھی کہ ایک داعی نبوت اپنے ایک امتی کے علم کے سہارے چلنے کی سعی میں مصروف تھا۔ یہ مرید محمد احسن امروہوی تھا۔ اس نے تاریخ مناظرہ سے صرف ٤ دن پہلے حضرتؒ کو اطلاع دی کہ مرزا قادیانی تقریری مناظرہ نہیں کرنا چاہئے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مناظرہ تحریری ہو۔ اگر تحریری مناظرہ منظور ہے تو لاہور آیئے، ورنہ نہیں۔ فقر غیور تو کسی صورت بھی مرزا قادیانی کو میدان سے جانے کی اجازت دینے پر آمادہ نہ تھا۔ لہٰذا حضرتؒ نے یہ شرط منظور فرمائی۔ اگرچہ وقت مختصر تھا کیونکہ صرف چار دن بعد مناظرہ منعقد ہونا تھا۔ تاہم حضرتؒ نے ملت کے زعماء کو کئی دعوتیں بھی بھیج دیں۔
مسلمان پشاور سے راس کماری تک اس مناظرہ کے منتظر تھے۔ قافلے لاہور کی طرف بڑھنے لگے۔ زندہ دلان لاہور نے اپنی تاریخی مہمان نوازی کی داستان دہرا دی۔ اتنا بڑا اجتماع لاہور نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ مسلمانوں کا برصغیر کی تاریخ میں پہلا معرکہ لآراء اجتماع تھا جس میں مسلمانوں کے سب مکاتب فکر کے علماء و صلحاء تھے اور ان کی دوش بدوش عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر معرکہ حق و باطل دیکھنے حاضر ہوا تھا۔ پوری ملت اسلامیہ کی نگاہیں حضرت اقدس کی طرف اٹھ چکی تھیں اور دلوں کی دھڑکنیں ان سعادت آثار لمحات کی منتظر تھیں جب حضور اپنے قدوم میمنت لزوم سے نوازیں گے۔ پورا برصغیر آپ کو اپنا مذہبی قائد مان چکا تھا اور بینا آنکھیں اس پیش گوئی کی صداقت کو ملاحظہ کر رہی تھیں جو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے حضرت گولڑوی کے بارے میں فرمائی تھی کہ: ”آپ نے ہندوستان سے ہجرت نہ فرمائیں۔ آپ کی وجہ سے ایک عظیم
٢٩
فتنہ وہاں دب جائے گا اور لوگ کفر سے بچ جائیں گے۔“
آج ٢٣ اگست ١٩٠٠ء تھی سرزمین گولڑہ سے اسلام کا نوری قافلہ کشاں کشاں لاہور کی طرف بڑھ رہا تھا۔ برصغیر کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں کہ ”یوم موعود“ آ پہنچا۔ شوق کے فاصلے عشق کی مہمیز پا کر برق رفتار بن چکے تھے۔
نالاں جرس ہیں شور ہے کوس رحیل کا
حضرت نے پہلے پنڈی اور پھر لالہ موسیٰ سے قادیان تار دیئے کہ میں آ رہا ہوں۔ پچاس عالی مقام علماء حضرت کے ساتھ تھے اور راستے میں علم وعمل کے مزید دریا اس بحر ذخار میں شامل ہوتے گئے۔ جب گاڑی لاہور ریلوے سٹیشن پر پہنچی تو تا حد نگاہ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اپنے دیدہ و دل فرش راہ کئے حضور کا منتظر تھا۔ یہ لوگ حضور کو جلوس کی صورت میں شہر لے جانا چاہتے تھے مگر فقر کا نمائش سے کیا کام؟ آپ نے انکار فرمایا۔ برکت علی محمڈن ہال میں قیام فرمایا۔
رات کو اس ہال میں وہ محفل لگی جو حیات لاہور کے لئے انفاس قدسیہ سے کم نہ تھی۔ برصغیر کی روح و دل علماء و اولیاء ہمہ تن گوش بنے بیٹھے تھے اور میر محفل علم و حکمت کے دریا بہانے میں مصروف تھے۔ اسلام کی تفسیر نے کذب کی تصویر کے پرخچے اڑا دیئے۔ صحابہ کرام کی مجلس شوریٰ کی نورانی جھلکیاں بینا آنکھوں نے دیکھیں۔ اجماع امت کی ضیاء پاشیوں نے دجل وفریب کے اندھیروں کو تار تار کر کے رکھ دیا۔ لاہور کی قسمت جاگ اٹھی کہ تیرہ سو سال بعد اس کی چھاتی پر مسئلہ ختم نبوت پر امت کا اجماع ہوا۔
برصغیر ہند و پاک کا یہ پہلا اجماع تھا جس نے مرزائیت کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا اور متنبی کی کتاب الہام کے اوراق بکھیر کر رکھ دیئے۔ یہ ٹھیک ہے کہ حضرت علامہ اقبالؒ اور حضرت علامہ انور شاہ کاشمیریؒ نے مرزائیت کے خلاف بڑا کام کیا۔ لیکن اس صحیح نہج پر کام کا آغاز حضرت گولڑویؒ نے فرمایا۔ اگر آپ ایک صحیح طرز قائم نہ فرما جاتے تو بعد کے حضرات شاید اتنا کام نہ کر سکتے تھے۔ بالخصوص یہ دور شاعر مشرق کی جوانی کا دور تھا اور ان کے اپنے شہر میں حیدر کرارؓ کا پوتا کفر کو للکار رہا تھا۔ کیا ان حالات نے علامہ کے حساس ذہن کی قوتوں کو اس عظیم مقصد کیلئے بیدار نہ کیا ہوگا؟ اس اجماع کی وسعتوں کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ برکت علی محمڈن ہال اور شاہی مسجد لاہور مسلمانوں کی پہلی قومی اسمبلیاں تھیں۔ جہاں ملت نے مرزائیت کے لئے اپنا فیصلہ
٣٠
صادر فرمایا اور اسی فیصلہ کی گونج صرف حضرت لاہور کیا تشریف بہانے شروع ہوئے۔ حضرت ہر حال دھواں بن کر اڑ جائے۔ مرزا قادیانی ک ہیں اور اگر مرزا قادیانی وہاں آ جائیں پر بھی ایمان نہیں تھا کہ ان کا خدا انہیں کر رہا تھا۔ صداقت کے علم کی شعاعیں تھیں مگر جھوٹ جس کے پاؤں نہیں کترنے میں مصروف تھا۔
جب مرزا قادیانی کی قسم خادم دین موجود ہیں جو اگر قلم پر توجہ ہے کہ اشارہ ہی اشارہ میں حضرت موضوع پر کسی نے سوال کیا تو ارشاد کے کرم سے پورا ہوتا کیونکہ یہ کلمات حضرت عالی مقام ٢٩ مگر روشنی کے سامنے ظلمت نہ آسکی شمار لوگ اندھیرے سے نور کی طرف قرآنی سماں آنکھوں کے سامنے ثابت نہ ہوئے تو حضرت نے جا مرحب کا سر قلم کر چکی تھی۔
حضرت گولڑہ شریف کرانے کا پروگرام بنایا تا کہ یہ سلسا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا شکست فاش کے بعد مرزا قادیان
صادر فرمایا اور اسی فیصلہ کی گونج صرف ٧٤ سال بعد پاکستان نیشنل اسمبلی میں ستمبر ١٩٧٤ء کو سنی گئی۔ حضرت لاہور کیا تشریف لائے۔ قادیانیت کا بانی ”بیت الفکر“ میں سو گیا۔ حیلے بہانے شروع ہوئے۔ حضرت ہر حال اسے میدان میں لانا چاہتے تھے تا کہ کذب وافتراء کا طومار دھواں بن کر اڑ جائے۔ مرزا قادیانی کو سرحدی پٹھانوں کا خوف کھائے جا رہا تھا کہ وہ لاہور آچکے ہیں اور اگر مرزا قادیانی وہاں آجائیں تو وہ انہیں قتل کر دیں گے۔ شاید اب حضرت متنبی کا اس بات پر بھی ایمان نہیں تھا کہ ان کا خدا انہیں بچانے کا وعدہ دے چکا ہے۔ فقر غیور میدان میں رجز خوانی کر رہا تھا۔ صداقت کے علم کی شعاعیں ”مہر اسلام“ سے پھوٹ پھوٹ کر پورے برصغیر کو منور کر رہی تھیں مگر جھوٹ جس کے پاؤں نہیں ہوتے۔ آج بیت الحکمت میں کسی پرانے متنبی کے دلائل کترنے میں مصروف تھا۔
جب مرزا قادیانی کی تفسیر نویسی کا ذکر آیا تو حضرت نے فرمایا: ”امت محمدیہ میں ایسے خادم دین موجود ہیں جو اگر قلم پر توجہ ڈالیں تو وہ خود بخود کاغذ پر ”تفسیر قرآن“ لکھ جائے ۔“ ظاہر ہے کہ اشارہ ہی اشارہ میں حضرت نے بہت کچھ فرما دیا اور سمجھنے والے بات پاگئے۔ بعد میں اسی موضوع پر کسی نے سوال کیا تو ارشاد ہوا : ”یہ تو عام سی بات تھی اس وقت جو دعویٰ بھی ہوتا اللہ کریم کے کرم سے پورا ہوتا کیونکہ یہ کلمات از خود نہیں کہے جا رہے تھے۔ بلکہ اشارہ ہو رہا تھا۔“
حضرت عالی مقام ٢٩ اگست ١٩٠٠ء تک لاہور کی سرزمین کو مہبط انوار بناتے رہے۔ مگر روشنی کے سامنے ظلمت نہ آسکی۔ کفر کی کالی رات ”مہر منیر“ کے سامنے کب ٹھہر سکتی تھی۔ بے شمار لوگ اندھیرے سے نور کی طرف بھاگے۔ ”يخرجهم من الظلمات الى النور“ کا قرآنی سماں آنکھوں کے سامنے تھا۔ اہل اسلام حقیقت کو پا گئے۔ مرزا قادیانی جب مرد میدان ثابت نہ ہوئے تو حضرت نے چاہا کہ قادیان پہنچا جائے مگر علماء مانع ہوئے کیونکہ ضرب حیدری مرحب کا سر قلم کر چکی تھی۔
حضرت گولڑہ شریف مراجعت فرما ہوئے۔ مرزا قادیانی نے گھر بیٹھ کر مقابلہ شروع کرانے کا پروگرام بنایا تا کہ یہ ساری کوششیں شاید اپنی گدی کو بچانے کے لئے تھیں تا کہ مرزائیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاسکے۔ نیز ان ادیبوں اور صحافیوں کی توجہ کو بھی موڑا جاسکے جو اس شکست فاش کے بعد مرزا قادیانی کے لئے تیغ براں بن چکے تھے۔ قلم سنبھالا اور اعجاز المسیح نام کی
٣١
معجزاتی تفسیر لکھی۔ یہ صرف سورۃ فاتحہ کی تفسیر تھی اور ان کے مرید احسن امروہوی نے ”سرکار عالی“ کا اشارہ پا کر ”شمس بازغہ“ کے نام سے ”شمس الہدایت“ پر لکھنے کی سعی لاحاصل کی۔
حضرت اقدس کا قلم جولاں ہوا اور وہ کتاب عالم وجود میں آئی جس نے علمی دنیا میں دھوم مچادی۔ علامہ اشرف علی تھانوی جیسے جید فضلاء نے اس کتاب کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مرزائیت کے خلاف بعد میں جتنا بھی لٹریچر سپرد قلم ہوا یہ کتاب اس کے لئے سنگ میل ثابت ہوئی اور اس کی منفرد حیثیت پون صدی گزر جانے کے بعد آج بھی جوں کی توں باقی ہے۔
حضرت نے ”اعجاز المسیح“ کی نام نہاد مسیحائی کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑ دیا۔ عربی زبان وادب اور نحو و بلاغت کے وہ اعتراضات اٹھائے کہ آج تک مدعیان ظلمت سے جواب نہیں بن پڑا۔ فقر مصطفوی نے ”سیف چشتیائی“ سے اعجاز المسیح کی دھجیاں اڑا دیں۔ اور متنبی کے ”میدان اعجاز“ میں دھول اڑا دی۔ ان اعتراضات کا لطف اہل علم ہی اٹھا سکتے ہیں۔ وہ انداز جو ”سیف چشتیائی“ میں حضرت نے ”اعجاز المسیح“ اور ”شمس بازغہ“ کا رد کرتے ہوئے اختیار فرمایا ہے جو آپ ہی کا حصہ تھا۔
چونکہ مرزا قادیانی خود مریدوں سے ”علمی تبرکات“ کے حصول کے قائل تھے۔ لہٰذا جب جواب ہی نہ بن پڑا تو کہا یہ کتاب حضرت کے کسی مرید کی تصنیف ہے۔ یہ نہیں سوچا کہ اس طرح گہرے کیچڑ میں ان کی خانہ ساز نبوت ہی دھنس رہی ہے۔ بھلا جو شخص امت محمدیہ کے ایک ولی اللہ کے مرید کی تحریر کا جواب نہیں دے سکتا۔ وہ تحریر میں ”مقام اعجاز“ پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟
”فأتوا بسورة من مثله کہنے والے تو اور ہی ہوتے ہیں۔“
ہم قارئین کی خوشنودی طبع کے لئے حضرت کی تحریر گرامی کے کچھ اقتباسات تبرکاً پیش کرنا سعادت سمجھتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے قرآنی آیت ”هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“ (تذکرہ ص ٤٥، طبع ٤) کو اپنے لئے وحی قرار دیا۔
حضرت ارشاد فرماتے ہیں۔
- ١....... اوّل تو کوئی عاقل نہیں کہہ سکتا کہ اگر کسی شخص کو خواب یا بیداری میں یہ آیت سنائی دے
جیسا کہ اکثر حفاظ اور شاغلین کو کثرت استعمال و خیال کے سبب ایسا ہوا کرتا ہے۔ یا فرض کیا بذریعہ الہام ہی سہی تو وہ شخص بشہادت اسی آیت کے رسول کہلانے کا مجاز ہو۔ یا ایسا ہی ” واقیمو
٣٢
الصلوۃ وآتوا الزکوۃ" کے سننے سے کوئی دعویٰ نہیں اور نئی زکوۃ کا حکم مجھ پر نازل ہوا ہے۔ لیکن برتقدیر الہام رسولہ ” بفرض محال اگر رسول کہلانے کا مستحق ہے میں مراد ہیں۔ یعنی اصل رسول، ورنہ دلیل دعویٰ پر منطبق یعنی ”ارسل رسولہ“ میں رسول اصلی اور نیز "ر کلام الہی میں تحریف معنوی لازم آئے گی۔ لہذا اس ہے۔ کہ دعویٰ اصلی نبوت ہونے کا ہے۔“
مرزا قادیانی نے کہا فنا فی الرسول ہونے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ حضرت نے مواخذہ فرمایا
- ١....... اگر صرف فنا فی الرسول کا مقام ہی رسول
کہ صدیق اکبر جن کی شان میں ” لوكنت متخذ گیا اور ایسا ہی عمر فاروق نے باوجود لقب محدثیت معنوی کے اور علی مرتضیٰ نے باوجود بشارت ”انت سید الشباب اہل الجنت حسنین نے جن کا مجموعہ اصحا اور نبی کہلانے پر جرات نہ کی اور ہزار ہا اہل اللہ جن شہادت دیتا ہے کسی نے نبی اور رسول نہیں کہلوایا الہیہ میں سے کسی مکالمہ میں باوجود شان ” خضت یعنی ”فنا فى النبى الا في الذى هو كالـ پکارے گئے۔ یہ تو سب اسی قاعدہ مسلمہ میں محدود ”حضرت“ باوجود اپنے ”اوصاف“ کے مقام فنا
آپ ذرا آخری سطر میں لفظ ”حضر فرمائیں۔ کسی لطافت سے حضرت نے روئے ”اوصاف“ کا ذکر کتنے لطیف پیرایہ میں کیا ہے اقتباسات بھی پیش کرتے۔ اب انہی اقتباسات
الصلوٰۃ و اتو الزکوٰۃ" کے سننے سے کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں نبی اور رسول ہوں اور نئی نماز اور نئی زکوٰۃ کا حکم مجھ پر نازل ہوا ہے۔ لیکن بر تقدیر الہام بآیت مذکور ”ہو الذی ارسل رسولہ“ بفرض محال اگر رسول کہلانے کا مستحق ہے تو اس معنی سے رسول ہوگا جو معنی اس آیت میں مراد ہیں۔ یعنی اصل رسول، ورنہ دلیل دعویٰ پر منطبق نہ ہوگی۔ کیونکہ دعویٰ رسول ظلی اور دلیل یعنی ”ارسل رسولہ“ میں رسول اصلی اور نیز ”رسولہ“ سے رسول ظلی مراد لینے کی تقدیر میں کلام الہی میں تحریف معنوی لازم آئے گی۔ لہذا استدلال بآیت مسطورہ بلند آواز سے پکار رہا ہے۔ کہ دعویٰ اصلی نبوت ہونے کا ہے۔“
(بحوالہ مہر منیر ص ٥٤١،٥٤٠)
مرزا قادیانی نے کہا فانی الرسول ہونے والے کو ظلی طور پر وہی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ حضرت نے مواخذہ فرمایا۔
- ١....... اگر صرف فانی الرسول کا مقام ہی رسول اور نبی کہلانے کی اجازت دیتا ہے تو کیا وجہ ہے
کہ صدیق اکبر جن کی شان میں ”لوکنت متخذا خلیلا لاتخذت ابا بکر خلیلا“ فرمایا گیا اور ایسا ہی عمر فاروق نے باوجود لقب محدثیت کے اور عثمانؓ نے باوجود کمال اتباع صوری اور معنوی کے اور علی مرتضیٰ نے باوجود بشارت ”انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ“ کے اور سید الشباب اہل الجنت حسنینؓ نے جن کا مجموعہ بعینہ جمال با کمال آنحضرت ﷺ کا آئینہ تھا۔ رسول اور نبی کہلانے پر جرأت نہ کی اور ہزارہا اہل اللہ جن کے فانی اللہ ہونے پر ان کے سایہ کا گم ہو جانا بھی شہادت دیتا ہے کسی نے نبی اور رسول نہیں کہلوایا۔ قطب الاقطاب سیدنا الغوث الاعظم مکالمات الہیہ میں سے کسی مکالمہ میں باوجود شان ”خضنا بحر الم یقف علی ساحلہ الانبیاء“ کے یعنی ”فنا فی النبی الا فی الذی ہو کالبحر فی السخاء“ نبی اور رسول کے لفظ سے نہ پکارے گئے۔ یہ تو سب اسی قاعدہ مسلمہ میں محدود رہے۔ ”الولی لا یبلغ درجۃ النبی“ مگر یہ ”حضرت“ باوجود اپنے ”اوصاف“ کے مقام فنا سے نبوت تک پہنچ گئے۔“
(بحوالہ مہر منیر ص ٥٣١)
آپ ذرا آخری سطر میں لفظ ”حضرت“ اور ”باوجود اپنے اوصاف کے“ دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔ کسی لطافت سے حضرت نے روئے سخن کو مرزا قادیانی کی طرف موڑا ہے اور ان کے ”اوصاف“ کا ذکر کتنے لطیف پیرایہ میں کیا ہے۔ مضمون کی طوالت کا خوف نہ ہوتا تو ہم کچھ اور اقتباسات بھی پیش کرتے۔ اب انہی اقتباسات پر قارئین حضرات سے رخصت چاہتے ہیں۔
٣٣
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
قادیانی فتنہ کے استیصال کی اجتماعی کوششوں کے لئے ایک منظم تحریک
عزیز الرحمن خورشید!
مرزا غلام احمد نے جونہی دعویٰ نبوت کیا۔ اسی وقت سے علماء اور اہل حق اس فتنہ کے خلاف نبرد آزما ہیں اور اسی سلسلہ میں متعدد اکابرین کے نام جگمگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جنہوں نے نتائج سے بے پروا ہو کر اس فتنہ ضالہ و مرتدہ کا مقابلہ کیا۔
لیکن چونکہ اس فتنہ کا در پردہ بانی خود انگریز تھا اور اس کی ظالمانہ حکومت کا ڈنکا بج رہا تھا۔ اس لئے مرزائیت اپنا کام کرتی رہی اور اپنی موت آپ نہ مر سکی۔
ایک بات جو سبھی حضرات کو کھٹکتی تھی وہ یہ تھی کہ اس سلسلہ میں ہونے والا سارا ہی کام انفرادی طور پر ہو رہا ہے اور اس سلسلہ میں کوئی اجتماعی کوشش نہیں ہو رہی۔ الا یہ کہ دارالعلوم دیوبند میں مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیری، امرتسر میں مولانا ثناء اللہ امرتسری اور شمالی پنجاب کے مشہور شہر بھیرہ میں مولانا ظہور احمد بگوی بانی امیر حزب الانصار رحمہم اللہ تعالیٰ نے اپنے محور پر حلقے بنا رکھے تھے۔ جو کسی درجہ میں اجتماعی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ لیکن اس کے باوجود بھر پور اجتماعی کوشش نہ تھی جو ملکی اور بعد میں عالمگیر سطح پر اس فتنہ کا تعاقب کر سکے۔
اس ضرورت کے پیش نظر حضرت سید محمد انور شاہ قدس سرہ نے مجلس احرار اسلام کو اس طرف توجہ دلائی۔ چنانچہ مجلس نے اس کام کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور قادیان تک میں ایک تبلیغی مرکز قائم کر دیا۔
اس زمانے میں قادیان میں دعوت حق کا کام انگاروں پر چلنے کے مترادف تھا۔ لیکن حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہ کی قیادت میں یہ کام ہوا اور اس شان سے ہوا کہ مرزائی بوکھلا اٹھے۔ پاکستان بن جانے کے بعد توقع یہ تھی کہ یہاں اسلام کا بول بالا ہوگا لیکن یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ بلکہ مرزائیت سمیت تمام فتنوں کے لئے یہ سرزمین بڑی زرخیز ثابت ہوئی اور ہر فتنہ نے یہاں پنپنا شروع کر دیا۔
مرزائیت کا معاملہ سب سے بڑھ کر تھا کیونکہ ایک طرف تو مرزائیوں کے ایک اہم فرد سر ظفر اللہ کو وزیر خارجہ بنا دیا گیا اور دوسری طرف ایک زرخیز سرزمین اور محفوظ علاقہ میں انہیں ہزار ایکڑ اراضی کوڑیوں کے بھاؤ دے دی گئی تھی تاکہ وہ اپنا مرکز بنا سکیں۔ انہی حالات کی وجہ سے
٣٤
حضرت امیر شریعتؒ نے ان عملی سیاسیات سے کنارہ کر تاکہ مرزائیت سمیت تمام فتنوں کا منظم مقابلہ کیا جاسکے
چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی داغ بیل ڈا ناظم اعلیٰ، مولانا محمد علی جالندھریؒ قرار پائے۔ ایک اور دفتر شاہ جی مرحوم کا گھر ہی قرار پایا۔ لیکن چند مخلص اور ارباب عزیمت کی محن تناور درخت بنا دیا۔ شاہ جیؒ کے بعد خطیب پاکستان جبکہ ناظم عمومی بدستور مولانا جالندھریؒ رہے اور جب تو مولانا محمد علیؒ امیر ثالث منتخب ہوئے اور مناظر اسلا امیر ثالث کا دور بڑا با برکت دور تھا اس د جن میں سے بعض مختلف ضلعی ہیڈ کوارٹروں میں قیام اس کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان میں مبلغین نے فریضہ دعوت الی اللہ کے لئے قابل قدر
تیسرا قابل ذکر کارنامہ جو اس دور م مولانا نے جماعتی فنڈز سے زمین خرید کر جماعت کام دیتا ہے۔ اس میں دارالمبلغین ، دفاتر ، مہما سب سے اہم کارنامہ اس دور کا یہ ہے کہ مناظر اسلا میں قیام فرما کر مرزائیت کا کامیاب تعاقب کیا۔
امیر شریعتؒ کی دیرینہ خواہش تھی کہ دیتی ہے۔ قدرت نے انتظام کر دیا۔ چنانچہ اپن لال حسینؒ وہاں تشریف لے گئے برطانیہ ، فرانس خوب کام ہوا۔ بالخصوص فجی اور برطانیہ میں جماع مرزا ناصر بھاگا۔ اس کے علاوہ کثیر سرمائے سے میں مرکز اسلام کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ مرزائیوں کا غاصبانہ قبضہ تھا۔ مولانا اختر مرحو جالندھریؒ کے بعد مولانا لال حسینؒ امیر رابع ق
حضرت امیر شریعتؒ نے ان عملی سیاسیات سے کنارہ کش ہو کر صرف تبلیغی مشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مرزائیت سمیت تمام فتنوں کا منظم مقابلہ کیا جاسکے۔
چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی داغ بیل ڈال گئی۔ جس کے پہلے امیر، امیر شریعتؒ اور ناظم اعلیٰ، مولانا محمد علی جالندھریؒ قرار پائے۔ ایک روپیہ کے سرمائے سے اس کام کی ابتداء ہوئی اور دفتر شاہ جی مرحوم کا گھر ہی قرار پایا۔
لیکن چند مخلص اور ارباب عزیمت کی محنت و سعی رنگ لائی اور قدرت نے اس پودے کو تناور درخت بنا دیا۔ شاہ جیؒ کے بعد خطیب پاکستان قاضی احسان احمد مرحوم امیر ثانی قرار پائے۔ جبکہ ناظم عمومی بدستور مولانا جالندھریؒ رہے اور جب قاضی صاحبؒ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو مولانا محمد علیؒ امیر ثالث منتخب ہوئے اور مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ ناظم عمومی۔
امیر ثالث کا دور بڑا بابرکت دور تھا اس دور میں مبلغین کی تعداد ٣ درجن کے قریب ہوگئی جن میں سے بعض مختلف ضلعی ہیڈ کوارٹروں میں قیام پذیر تھے اور جہاں ضرورت ہوتی وہیں پہنچتے۔ اس کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان میں جماعتی کام شروع ہوا اور وہاں چند باقاعدہ مبلغین نے فریضہ دعوت الی اللہ کے لئے قابل قدر قربانی دی۔
تیسرا قابل ذکر کارنامہ جو اس دور سے متعلق ہے وہ مرکزی دفتر کی تعمیر ہے۔ مرحوم مولانا نے جماعتی فنڈز سے زمین خرید کر جماعت کا ایک شاندار دفتر بنایا جو گویا مرکزی سیکرٹریٹ کا کام دیتا ہے۔ اس میں دارالمبلغین، دفاتر، مہمان خانہ، لائبریری وغیرہ سب کچھ ہے۔ چوتھا اور سب سے اہم کارنامہ اس دور کا یہ ہے کہ مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ نے ٣ سال تک یورپ میں قیام فرما کر مرزائیت کا کامیاب تعاقب کیا۔
امیر شریعتؒ کی دیرینہ خواہش تھی کہ یورپ میں مرزائیت کو للکارا جائے کہ اس کا منبع وہی ہے۔ قدرت نے انتظام کر دیا۔ چنانچہ اجنبی حکومتوں کی ہر طرح کی رکاوٹوں کے باوجود مولانا لال حسینؒ وہاں تشریف لے گئے برطانیہ، فرانس، جرمنی، جزائر فجی اور یوگوسلاویہ وغیرہ ممالک میں خوب کام ہوا۔ بالخصوص فجی اور برطانیہ میں جماعتی مراکز بنے، مناظرے ہوئے۔ برطانیہ سے خود مرزا ناصر بھاگا۔ اس کے علاوہ کثیر سرمائے سے وہاں جماعت نے دفتر خریدا۔ جو اس وقت یورپ میں مرکز اسلام کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ووکنگ کی شاہ جہاں مسجد جس پر نصف صدی سے مرزائیوں کا غاصبانہ قبضہ تھا۔ مولانا اختر مرحوم کی کاوش سے مسلمانوں کے قبضہ میں آئی۔ مولانا جالندھریؒ کے بعد مولانا لال حسینؒ امیر رابع قرار پائے اور مولانا عبدالرحیم اشعر ناظم اعلیٰ اور جب
٣٥
امیر رابع بھی دنیا سے رخصت ہو گئے تو عبوری دور کے لئے فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحب امیر مقرر ہوئے جبکہ بعد میں باضابطہ امیر حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ مقرر ہوئے اور آج کل ناظم عمومی مولانا محمد شریف جالندھریؒ ہیں۔
اس وقت جماعت کے ٤٠/ مبلغین ہیں جو شب و روز خدمت دین میں مصروف ہیں۔
سابقہ دفتر کے علاوہ ابھی حال ہی میں جماعت نے مزید زمین ملتان میں خرید کر لی ہے جس میں ایک شاندار مسجد اور ایک لائبریری وغیرہ کا قیام ہوگا۔ جماعت نے ایوب خان کے زمانہ میں ہونے والی بین الاقوامی اسلامی کانفرنس کے موقع پر اپنے محترم رکن اور سرپرست مولانا مفتی محمود مدظلہ سے ایک کتابچہ بزبان عربی لکھوا کر وسیع پیمانہ پر شائع کیا اور گزشتہ سال سربراہی کانفرنس کے موقع پر اضافوں کے ساتھ پھر وہی رسالہ شائع کیا۔ اس کے علاوہ یہ رسالہ ترکی میں کثرت سے پھیل چکا ہے۔ جسے وہیں کی ایک مسلم انجمن نے چھپوایا ہے۔ ساتھ ہی مجلس نے انگریزی اور عربی کا لٹریچر وسیع پیمانے پر مڈل ایسٹ اور یورپ میں تقسیم کیا ہے۔
گزشتہ سال جب مرزائیوں نے ربوہ کے سٹیشن پر ادھم مچایا تو جماعت نے ملک بھر کی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر ایک دفعہ پھر اکٹھا کیا اور اتفاق رائے سے جو مجلس عمل بنی اس کے سربراہ بھی جماعت کے امیر مولانا بنوری مدظلہ قرار پائے۔ کسی قسم کا چندہ وغیرہ کئے بغیر مرکزی سطح پر ہونے والے تمام اخراجات جماعت ( عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ) نے ذاتی طور پر برداشت کئے۔ اس سلسلہ میں جماعت کا قابل فخر کارنامہ وہ کتاب ہے جو ”ملت اسلامیہ کا مؤقف“ کے نام سے چھپ کر اراکین اسمبلی اور دیگر ذمہ دار حضرات میں تقسیم ہوئی اور اس کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ اس کتاب کے لئے مواد مہیا کرنے میں مولانا محمد حیاتؒ اور مولانا عبدالرحیم اشعرؒ جیسے حضرات نے لائق تحسین محنت کی۔ جبکہ ترتیب کا کام مولانا سمیع الحق مدیر ”الحق“ اکوڑہ اور مولانا محمد تقی عثمانی ایڈیٹر ”البلاغ“ کراچی نے سرانجام دیا اور نگرانی مکمل طور پر حضرت مولانا بنوریؒ اور حضرت مفتی محمود صاحبؒ نے کی۔
٧ ستمبر کے فیصلہ کے بعد امیر جماعت مولانا بنوریؒ یورپ وغیرہ کا مختصر دورہ بھی کر آئے ہیں۔ اب وہاں کے مرکز کو اور منظم کر دیا گیا ہے۔ جماعت کے پلیٹ فارم پر تمام مکاتیب فکر اور سیاسی ذہن رکھنے والے لوگ دین حق کی خدمت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ اب جماعت نے لائل پور کے مشہور ہفت روزہ ”لولاک“ کو سنبھال لیا ہے۔ اور اس طرح جماعت کی سرگرمیوں کی تشہیر و تعارف کا ایک اچھا ذریعہ بن گیا ہے۔ جماعت کو ملک بھر کے علماء ارباب
٣٦
طریقت اور دیندار مسلمانوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس وقت خصوصی سرپرستوں میں حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی اور مولانا مفتی محمود صاحبؒ ہیں۔ جبکہ جماعت کے نائب امیر حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ سجادہ نشین کندیاں ہیں۔
حکیم عبدالمجید احمد سیفیؒ
٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کے ایک عظیم رہنما
نصیب احمد سیفی
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ!
جب اپنوں کی بزم نے بھی اس کے ذکر سے تغافل برتا۔ حالانکہ وہی تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی ایک اہم کڑی گنا جاتا تھا۔ تحریک کے ذکر کے ساتھ اس کا ذکر گویا پھول اور خوشبو کا رشتہ تھا!...... پہلی اور دوسری تحریک کا فاصلہ ہی کتنا ہے؟...... صرف اتنا کہ اس وقت وہ جدوجہد میں پنہاں تھا مگر اب خاک میں!...... قلم اس بیگانگی حالات کو محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا اور جذبات و احساسات کی رو میں بہہ نکلا کہ جہاں صرف اور صرف یادوں کا بسیرا ہے.............. وہ راکھ میں چھپی ہوئی چنگاریوں کو ہوا دیتا گیا اور ذہن کے نہاں خانوں کو اس کی بخشی ہوئی ضیاء سے اجاگر کرتا گیا!.............. جب وہ دن رات ایک ہی سانچے میں ڈھل گئے تھے.............. تب اسے کچھ خبر نہ تھی.............. کسی کی بھی نہیں...... اگر تھی تو صرف اتنی کہ اب تک اس نے طاغوتی طاقتوں کو کتنا نقصان پہنچایا ہے؟ اور کتنا بچانا ہے؟.............. اسی لگن اور شوق نے اس کے عشق رسول کو جلا بخشی اور اس کا حجرہ محمد ﷺ کے پروانوں کا خفیہ اڈہ بن گیا......
جب مرزائی نواز حکومت عوام کے جذبات سے کھیل رہی تھی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ملت اسلامیہ کو حق بات منوانے کے لئے تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا تو اس وقت اس کو ایک ایک پل کی خبریں مل رہی تھیں۔ وہ ان کے مطابق مستحسن قدم اٹھاتا۔ اس سلسلے میں وہ ایک انتہائی محتاط شخص واقع ہوا تھا۔ حالانکہ سی آئی ڈی والوں کی نظروں میں اس کا گھر کھٹکنے لگا تھا اور ایجنٹ ذرا ذرا سی بات کی خبر لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ کبھی دن دہاڑے اور کبھی آدھی رات کو مسلح پولیس نے (Raid) چھاپے مارے مگر اس کی ذہانت اور فراست فقید المثال ثابت ہوئی اور پولیس کی کیفیت کچھ یوں ہوتی کہ جیسے کوئی ننھا سا بچہ ہوا کو پکڑنے کی کوشش کرے مگر جب مٹھی کھولے تو اس میں
٣٧
کچھ بھی نہ ہو ۔ وہ تو اپنی طالب علمی کے دور میں رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر کا ہم نشین رہ چکا تھا جس نے اس وقت پولیس کو گئی کا ناچ نچادیا۔ پھر اس وقت ان کے لئے کیا ثبوت چھوڑتا !..........
پھر ایک وقت وہ آیا جب ان کا نسبتی بھائی حکیم محمد ذوالقرنین جو لاہور میں تحریک ختم نبوت کا جنرل سیکرٹری تھا اور ان کے دونوں ہم زلف مولانا افتخار احمد بگوی، مولانا لمعات احمد بگوی گرفتار ہو گئے تو پولیس نے ایک مرتبہ پھر ریڈ کیا مبادا کہ تحریک کے رہنما مولانا غلام غوث ہزارویؒ ان کے ہاں ہوں تو اسی کے اسی لمحے اس نے تحریک کے رہنما کو روپوش کروانے کا انتظام کرلیا کیونکہ بقول اس کے سرغنہ کی گرفتاری تحریک کی موت ہوتی ہے۔ تو پھر بھلا وہ یہ قدم اٹھانے سے کیوں چوکتا ؟...........
تحریک کے رہنما مولانا غلام غوث ہزارویؒ کچھ عرصہ بعد روپوش ہو گئے۔ انہوں نے اپنی روپوشی کے ایام اسی مرد قلندر کی اعانت سے پورے کئے۔ اس بارے میں حکومت کو پختہ یقین ہو گیا تھا کہ تحریک کے صدر نے افغانستان کی سرحد پار کرلی ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ ساری مدت بھلوال ضلع سرگودھا ہی میں گزاری اور اسی دوران میں تحریک کی سرگرمیوں میں سر مو فرق نہ آیا۔ اس سلسلے میں پولیس نے مکمل ناکہ بندی کر رکھی تھی مگر اس کے باوجود یہ دونوں ہستیاں حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر لاہور اسمبلی چیمبرز کے سامنے واقع تفریحی پارک میں ملتیں اور کسی کو شک تک نہ گزرتا !......
یہ وہ وقت تھا کہ جب تمام مسلمان اپنے فرقہ وارانہ اور سیاسی اختلافات بھلا کر امیر شریعتؒ اور مولانا ابوالحسناتؒ کے علم تلے جمع ہو چکے تھے۔ اس سلسلے میں بھی اس شخص کی مخلصانہ کاوشوں کا دخل تھا۔ تحریک ختم نبوت میں ایک روح پھونکنے کے لئے مرزائی نواز حکومت سے حق بات منوانے کے لئے اور مرزائیوں سے براہ راست ٹکر لینے کے لئے اس نے اظہار خیال اور نشرواشاعت کا ہر ممکن طریقہ اپنایا۔
میانوالی کی ایک معروف سیاسی شخصیت ملک محمد افضل خان نے ایک مرتبہ ان سے سوال کیا کہ ”آپ تو تحریک کے محور رہے مگر مخصوص لوگوں کے علاوہ آپ کو کوئی بھی نہیں جانتا؟“ ...... آپ نے مسکرا کر جواب دیا ”بھلا بنیادوں کے پتھر بھی کہیں نظر آتے ہیں؟
اور یہی ہے وہ اچنبھے کی بات کہ وہ کبھی کھل کر سامنے نہ آیا بلکہ تحریک کا خفیہ ترین رکن ثابت ہوا اور اندر ہی اندر وہ ایک ایسا کام انجام دے گیا جو رہتی دنیا تک اس کا نام زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے۔ وہ انتہائی ٹھنڈے مزاج کا مالک تھا۔ اس کا ہر فیصلہ ایک ٹھوس حقیقت پر مبنی ہوتا۔ ٣٨
اس لئے اسے اپنی بات منوانے میں کبھی دشواری پیش نہ سیاسی فہم کا ہر کوئی معترف تھا جو شرافت، صداقت، لیاقت خوبیوں کے بل بوتے پر بڑی سے بڑی ہستی سے بھی ا شاعرانہ مزاج اور ادیبانہ خیال کے اس بخشا تو وہ ”عبدالمجید“ کے نام سے پہچانا گیا۔ جس کا لفظ
ایسا کچھ کر کے چلو کہ
ان کے متعلق ماہانہ شمس الاسلام نے لکھا دل میں بے پناہ دینی جذبہ اور ملت کا درد موجود تھا طالب علم تھے کہ تحریک خلافت شروع ہوگئی۔ مولانا کہتے ہوئے آپ نے تعلیمی سلسلہ منقطع کر دیا اور تحری تحریک خلافت کے روح رواں تھے۔ آپ نے کہ دریغ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ہر قسم کی قربانیوں کے لئے آ
وہ اپنی ڈائری میں رقم طراز ہیں: ”جس کے لئے مسیح الملک حافظ حکیم اجمل خان صاحب م رہا۔ اس کے بعد کچھ عرصہ حکیم عبدالرسول صاحب
لاہور کے زمانہ قیام میں آپ نے تصن طریقے سے شائع کروائیں جن میں ارشاد الطال مکاتیب شریفہ شاہ غلام علی صاحب دہلویؒ شامل ہیں صاحب ٹھٹہوی کی ”خلاصۃ الطب“ شائع کی اور ا
وفات سے کچھ عرصہ پیشتر آپ ۔ عظیم الشان کا اپنے ذمہ لیا۔ اس مقصد کے لیے کی گئیں۔ کتابت کا کام ختم ہو چکا تھا اور اب جرمنی جانے ہی والے تھے کہ اجل کا پیغام آ پہنچ
رفت از ما ع
اس لئے اسے اپنی بات منوانے میں کبھی دشواری پیش نہ آتی۔ اس کی ذہانت، فطانت، بصیرت، اور سیاسی فہم کا ہر کوئی معترف تھا جو شرافت، صداقت، لیاقت، نفاست اور خودداری میں یکتا تھا اور انہی خوبیوں کے بل بوتے پر بڑی سے بڑی ہستی سے بھی اپنی بات منوالیتا۔
شاعرانه مزاج اور ادیبانہ خیال کے اس شخص کو اس کی صفات نے جب سیفی کا روپ بخشا تو وہ ”عبدالمجید“ کے نام سے پہچانا گیا۔ جس کا نصب العین ہی یہی تھا۔
ایسا کچھ کر کے چلو کہ یاں بہت یاد رہو!
ان کے متعلق ماہنامہ شمس الاسلام نے لکھا تھا کہ مرحوم کی پوری زندگی شاہد ہے کہ ان کے دل میں بے پناہ دینی جذبہ اور ملت کا درد موجود تھا۔ آپ علی گڑھ یونیورسٹی میں بی ایس سی کے طالب علم تھے کہ تحریک خلافت شروع ہوگئی۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آپ نے تعلیمی سلسلہ منقطع کر دیا اور تحریک میں شامل ہو گئے۔ آپ ضلع سرگودھا میں تحریک خلافت کے روح رواں تھے۔ آپ نے کبھی تحریک کے لئے جان و مال خرچ کرنے سے دریغ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ہر قسم کی قربانیوں کے لئے آمادہ رہے!
وہ اپنی ڈائری میں رقم طراز ہیں: ”جب تحریک خلافت ختم ہو گئی تو فن طبابت کی تحصیل کے لئے مسیح الملک حافظ حکیم اجمل خان صاحب دہلوی کا تلمذ اختیار کیا۔ دہلی میں کئی سال تک قیام رہا۔ اس کے بعد کچھ عرصہ حکیم عبدالرسول صاحب بھکر ضلع میانوالی سے بھی استفادہ حاصل کیا۔“
لاہور کے زمانہ قیام میں آپ نے تصوف کی کئی نایاب کتب اپنی زیر نگرانی بڑے احسن طریقے سے شائع کروائیں جن میں ارشاد الطالبین، ایضاح الطریقہ، کنز الہدایت، مبداء ومعاد، مکاتیب شریفہ شاہ غلام علی صاحب دہلویؒ شامل ہیں۔ فن طب پر آپ نے اپنے استاد مولانا عبدالرسول صاحب بھکروی کی ”خلاصۃ الطب“ شائع کی اور اپنے تجربات کا نچوڑ ”کلیات سیفی“ میں جمع کیا۔
وفات سے کچھ عرصہ پیشتر آپ نے مکتوبات مجددیہ و مکتوبات معصومیہ طبع کروانے کا عظیم الشان کام اپنے ذمہ لیا۔ اس مقصد کے لئے پاکستان کے چوٹی کے کاتبوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ کتابت کا کام ختم ہو چکا تھا اور اب آپ ان مکتوبات کی نہایت عمدہ طباعت کے لئے جرمنی جانے ہی والے تھے کہ اجل کا پیغام آ پہنچا۔
رفت از ما عابد عالی نژاد
٣٩
آن گرامی قدر مانیکو نهاد
بدر
ارمغان قادیان
مولانا ظفر علی خان
مولانا ظفر علی خان تحریک آزادی ہند و پاکستان کے ممتاز رہنما تھے۔ وہ شعلہ نوا خطیب قادر الکلام شاعر، بے باک صحافی اور انتہائی ذہین اور مخلص سیاسی لیڈر تھے۔ ”ارمغان قادیان“ ان کے اس مجموعۂ کلام کا نام ہے جو قادیانیت سے متعلق ہے۔ اس فرقے کے بارے میں مولانا چراغ حسن حسرت دیباچے میں رقم طراز ہیں۔
”مرزا غلام احمد کی تحریک میں جو چیز سب سے نمایاں نظر آتی ہے وہ تنسیخ جہاد اور انگریزوں کی خلافت الٰہیہ کے مسائل ہیں۔ ان کی کتابوں میں کوئی دوسرا مسئلہ نہیں جس کا ذکر انہوں نے اس جوش و خروش کے ساتھ بار بار کیا ہو۔ ان کے خیالات میں تضاد و تبائن بے حد ہیں۔ وہ خود اپنے دعاوی کے متعلق ایسی متضاد باتیں کہتے ہیں کہ پڑھنے والا پریشان ہو جاتا ہے لیکن تنسیخ جہاد اور انگریزی حکومت کی اطاعت کے متعلق انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ ہر قسم کے ابہام و تضاد سے پاک ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دو چیزوں کو اصل کی حیثیت حاصل ہے اور دوسرے تمام مسائل حتیٰ کہ ان کا دعویٰ مہدویت بھی فرع کی حیثیت رکھتا ہے۔“
حسرت مرحوم، مولانا ظفر علی خان کے بارے میں لکھتے ہیں: ”علماء نے مرزا غلام احمد کی پرزور مخالفت کی لیکن وہ وفات مسیح، ظہور مہدی، علامات قیامت، نزول مہدی، خروج دجال وغیرہ مسائل میں الجھ کر رہ گئے اور قادیانی تحریک کے سیاسی پہلو کو بالکل نظر انداز کر دیا۔ مولانا ظفر علی خان نے سب سے پہلے تحریک کے سیاسی پہلو کی جانب توجہ کی جسے علماء نے بالکل نظر انداز کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ختم نبوت کے مسئلے کی اہمیت کی جانب لوگوں کی توجہ دلائی۔ قادیانی تحریک کے عقائد کا تجزیہ کیا۔ ان عناصر و عوامل کے چہرے سے نقاب الٹ دیا جو اس تحریک کو بروئے کار لائے ہیں۔“
مولانا کی بیشتر نظموں میں طنز و ہجو کا انداز غالب ہے۔ اس طنز و ہجو کا ہدف مرزا غلام احمد قادیانی ہیں جو نبی کریم کی ہمسری کے مدعی اور نعت گو شاعر کا نشانۂ غیض و غضب بننے کے لئے
٤٠
بہت موزوں ہیں۔ مولانا کی چند منتخب نظمیں درج ذیل ہیں:
چندے کا دھندہ
سنا ہے قادیاں میں بانسری بجتی ہے گوکل کی مگر ا
مجدد الف ثانی سے غلام احمد کو کیا نسبت ثریٰ ک
اگر مکہ سے بھی کرتا وہ دعویٰ یوں ڈھینچوں ہو آئے پہ خا
سرشت مومن کا بدلنا غیر ممکن ہے پلیتی
حدیث قادیان
(رواہ بخاری!
یہ وہ تلبیس ہے ابلیس کو خود ناز ہے جس پر مسلماں
پلی ہے مغربی تہذیب کے آغوش عشرت میں نبوت
نصاریٰ کی رضا جوئی ہے مقصد اس نبوت کا اور ا
پیاس اور اس کی موجیں آئے دن کرتی ہیں غمازی کہ ی
مداری کی پٹاری
پرستان کو نہ شرمائے بھلا قصر خلافت کیوں کہ ا
بشیر الدین اور کشمیر کی ہمدردیاں چھوڑے نظر
جواب ”الفضل“ کا ترکی بہ ترکی دے تو دیں ہم بھی اتا
میرے ہر شعر کی زد کاسئہ سر پر ہی پڑتی ہے نہ لا
یہ مانا بھول جاتے قادیاں میرے تخالف کو مگر
قادیان کی نبوت
عداوت حق ہے باطل سے محبت
یہ نبوت ہے یا اک دیوانہ پن ہے
٤١
بہت موزوں ہیں۔ مولانا کی چند منتخب نظمیں درج ذیل ہیں:
(ادارہ)
چندے کا دھندہ
سنا ہے قادیاں میں بانسری بجتی ہے گوکل کی مگر ہر بانسری والا کنہیا ہو نہیں سکتا
مجدد الف ثانی سے غلام احمد کو کیا نسبت ثریٰ کتنا بھی اونچا ہو ثریا ہو نہیں سکتا
اگر مکہ سے بھی کرتا وہ دعویٰ مہدی ہونے کا یہ ظاہر ہے متنبی مسیحا ہو نہیں سکتا
سرشت مومن کا بدلنا غیر ممکن ہے چنبیلی کا یہ پودا کیکر ہو نہیں سکتا
حدیث قادیان
رواہ بخاری!
یہ وہ تلبیس ہے ابلیس کو خود ناز ہے جس پر مسلمانوں کو اس بندے نے اچھی طرح چھیلا ہے
پلی ہے مغربی تہذیب کے آغوش عشرت میں نبوت بھی رسیلی ہے پیمبر بھی رسیلا ہے
نصاریٰ کی رضا جوئی ہے مقصد اس نبوت کا اور ابطال جہاد انجاح مقصد کا وسیلا ہے
یہ اس بکواس کی موجیں آئے دن کرتی ہیں غمازی کہ پوتا قادیاں کے رب اکبر کا رنگیلا ہے
مداری کی پٹاری
پرستان کو نہ شرمائے بھلا قصر خلافت کیوں کہ فصل گل ہے اور آمد ہے ابر نو بہاری کی
بشیر الدین اور کشمیر کی ہمدردیاں چھوڑے نظیر کیسے تم بھولتے ہو اک شکاری کی
جواب ”الفضل“ کا ترکی بہ ترکی دے تو دیں ہم بھی اتاریں کیسے لیکن نقل اصوات حماری کی
میرے ہر شعر کی زد کاسہ سر پر بھی پڑتی ہے نہ لائے گا کبھی محمود تاب اس ضرب کاری کی
یہ مانا بھول جاتے قادیاں میرے تحائف کو مگر کیا بھول سکتا ہے وہ سوغاتیں بخاری کی
قادیان کی نبوت
عداوت حق ہے باطل سے محبت ہے اتنی ہی حقیقت قادیاں کی
٤١
عبد المجید سانیکو نهاد بدر
بیان مان ستان کے ممتاز رہنما تھے۔ وہ شعلہ نوا خطیب ں سیاسی لیڈر تھے۔ ”ارمغان قادیان“ ان ہے۔ اس فرقے کے بارے میں مولانا چراغ
سے نمایاں نظر آتی ہے وہ تنسیخ جہاد اور بوں میں کوئی دوسرا مسئلہ نہیں جس کا ذکر ان کے خیالات میں تضاد و تباین بے حد ہتے ہیں کہ پڑھنے والا پریشان ہو جاتا ہے ق انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ ہر قسم کے و چیزوں کو اصل کی حیثیت حاصل ہے اور کی حیثیت رکھتا ہے۔“ ے میں لکھتے ہیں: ”علاوہ نے مرزا غلام احمد مات قیامت، نزول مہدی ، خروج دجال ی پہلو کو بالکل نظر انداز کر دیا۔ مولانا ظفر انب توجہ کی جسے علماء نے بالکل نظر انداز کی اہمیت کی جانب لوگوں کی توجہ دلائی ۔ کے چہرے سے نقاب الٹ دیا جو اس لب ہے۔ اس طنز و ہجو کا ہدف مرزا غلام شاعر کا نشانہ غیظ و غضب بننے کے لئے
نصاریٰ کی پرستش کے سب اسرار سکھاتی ہے شریعت قادیاں کی
دمشق اور اندلس کے بھاگ جاگے گئی جس وقت لغت قادیاں کی
مسلمانوں کی آزادی ہو نابود الم نشرح ہے نیت قادیاں کی
لگے رونے بشیر الدین محمود بنائی میں نے وہ گت قادیاں کی
ٹپچی ٹپچی
پلومر کی بھٹی سلامت رہے ہے جس کی صبوحی مرا ناشتہ
کنہیا بھی ہوں اور مہدی بھی ہوں ہے دونوں کی عزت میری داشتہ
دکھائے نہ توحید آنکھیں مجھے کہ تثلیث ہے پرچم افراشتہ
یہ ہے ٹپچی ٹپچی کی بروقت سچ جو ہے میری فیملی برداشتہ
برطانوی سامراج کی چوکھٹ پر
ڈاکٹر محمد معظم (ایم اے، ایم بی بی ایس، ڈی سی پی لندن)
درج ذیل مرزا غلام احمد قادیانی کی تصنیف ”تحفہ قیصریہ“ کے بلا تبصرہ اقتباسات ہیں ۔ یہ مرزا قادیانی کی اس طویل عرضداشت کا حصہ ہیں جو انہوں نے محکوم ہندوستان کی انگریز ملکہ وکٹوریہ کی شصت سالہ جوبلی کی ایک تقریب میں پیش کی تھی۔ اس قصیدے کا لفظ، لفظ، قصیدہ نگاری ذہنی اور فکری کیفیت، اخلاقی اور سیاسی حالت کا غماز ہے۔ انگریز نے ڈیڑھ سو سال کے لگ بھگ برصغیر پر ظالمانہ قبضہ جمائے رکھا۔ اس کے اقتدار کی تحسین سامراجی عزائم کی تائید اور ان کی بقاء کی آرزو صرف وہی شخص کر سکتا ہے جسے قومی جدوجہد آزادی کا پاس نہ ہو۔ اور جو دین وملت کا غدار ہو۔ مرزا قادیانی کی عبارات من وعن درج کی گئی ہیں۔ یقیناً گرائمر کی غلطیوں سمیت صرف عنوانات مرتب کئے ہیں۔ (مرتب)
کتاب کا نام اور کوائف جو پہلے صفحے پر درج ہیں: الہدیۃ المبارکہ یعنی تحفہ قیصریہ بمقام قادیان مطبع ضیاء الاسلام میں چھپا۔ ٢٥ مئی ١٨٩٧ء
ملکہ معظمہ (وکٹوریہ) سے سچی اطاعت کا طریق سمجھانا ”مقاصد بحث“ میں شامل ہے۔: ”اس شخص کی طرف سے ہے جو یسوع مسیح کے نام پر طرح طرح کی بدعتوں سے دنیا کو چھوڑانے کے
٤٢
لئے آیا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ امن اور نرمی کے ساتھ ا اپنے پیدا کنندہ سے سچی محبت اور بندگی کا طریق سکھائے اور رعایا ہیں۔ سچی اطاعت کا طریق سمجھائے۔“
ایک ”مسیح“ ایک مسیحی امتی عورت ملکہ وکٹوریہ شکرگزار ہی ہے کہ جو عالی جناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ دائی الـ میں تقریب جلسہ جوبلی شصت سالہ بطور مبارک باد پیش کیا گـ اس خدا کا شکر ہے جس نے آج ہمیں عظیم الشا معظمہ قیصرہ ہند وانگلستان کی شصت سالہ جوبلی کو دیکھا۔ جـ ہوئی کون اس کو اندازہ کر سکتا ہے؟ ہماری محسنہ قیصرہ مبارک بھری ہوئی مبارک باد پہنچے۔“
”ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو جو اپنی رعایا پـ ہوئے جس کے ایک وجود سے کروڑہا انسانوں کو آرام پہـ کہ جلسہ جوبلی کی تقریب پر (جس کی خوشی سے کروڑہا دل میں ان پھولوں کی طرح حرکت کر رہے ہیں۔ جو نسیم صبا طرح اپنے پیروں کو ہلاتے ہیں۔) جس زور و شور سے بـ ہے۔ ایسا ہی آسمان بھی اپنے آفتاب و ماہتاب اور تمام سـ
ملکہ معظمہ کے احسانات کو یاد کرنا واجب ہے
”ہر ایک شخص پر واجب ہے کہ ملکہ معظمہ ہـ ساتھ مبارکباد دے اور حضور قیصرہ ہند وانگلستان میں ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ میرے کارروائی کے لئے ملکہ معظمہ کی پرامن حکومت کی پناہ لـ
کارنامہ اپنا
”اور اگرچہ میں نے اس شکرگزاری کے تالیف کر کے اور ان میں جناب ملکہ معظمہ کے تمام ا
٤٣
لئے آیا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ امن اور نرمی کے ساتھ دنیا میں سچائی قائم کرے اور لوگوں کو اپنے پیدا کنندہ سے سچی محبت اور بندگی کا طریق سکھائے اور اپنے بادشاہ ملکہ معظمہ سے جس کی وہ رعایا ہیں۔ سچی اطاعت کا طریق سمجھائے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٣٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٥)
ایک ”مسیح“ ایک مسیحی امتی عورت ملکہ وکٹوریہ کے حضور: ”اور یہ نوشتہ ایک ہدیہ شکر گزاری ہے کہ جو عالی جناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ والی انگلستان و ہند دام اقبالہا وجلالہا کے حضور میں تقریب جلسہ جوبلی شصت سالہ بطور مبارک باد پیش کیا گیا ہے۔ مبارک! مبارک!! مبارک!!! اس خدا کا شکر ہے جس نے آج ہمیں عظیم الشان خوشی کا دن دکھلایا کہ ہم نے اپنی ملکہ معظمہ قیصرہ ہند وانگلستان کی شصت سالہ جوبلی کو دیکھا۔ جس قدر اس دن کے آنے سے مسرت ہوئی کون اس کو اندازہ کر سکتا ہے؟ ہماری محسنہ قیصرہ مبارکہ کو ہماری طرف سے خوشی اور شکر سے بھری ہوئی مبارک باد پہنچے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٤)
”ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو جو اپنی رعایا کی مختلف اقوام کو کنار عاطفت میں لئے ہوئے جس کے ایک وجود سے کروڑہا انسانوں کو آرام پہنچ رہا ہے۔ تادیر سلامت رکھے اور ایسا ہو کہ جلسہ جوبلی کی تقریب پر (جس کی خوشی سے کروڑ ہا دل برٹش انڈیا اور انگلستان کے جوش نشاط میں ان پھولوں کی طرح حرکت کر رہے ہیں۔ جو نسیم صبا کی ٹھنڈی ہوا سے شگفتہ ہو کر پرندوں کی طرح اپنے پروں کو ہلاتے ہیں۔) جس زور وشور سے زمین مبارک بادی کے لئے اُچھل رہی ہے۔ ایسا ہی آسمان بھی اپنے آفتاب و ماہتاب اور تمام ستاروں کے ساتھ مبارکباد دیوے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٤)
ملکہ معظمہ کے احسانات کو یاد کرنا واجب ہے
”ہر ایک شخص پر واجب ہے کہ ملکہ معظمہ کے احسانات کو یاد کر کے مخلصانہ دعاؤں کے ساتھ مبارکباد دے اور حضور قیصرہ ہند و انگلستان میں شکر گزاری کا ہدیہ گزارے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ میرے لئے خدا نے پسند کیا کہ میں اپنی آسمانی کارروائی کے لئے ملکہ معظمہ کی پرامن حکومت کی پناہ لوں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٥)
کارنامہ اپنا
”اور اگرچہ میں نے اس شکر گزاری کے لئے بہت سی کتابیں اردو، عربی اور فارسی میں تالیف کر کے اور ان میں جناب ملکہ معظمہ کے تمام احسانات کو برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے شامل
٤٣
حال ہیں۔ اسلامی دنیا میں پھیلائی ہیں۔ اور ہر ایک مسلمان کو سچی اطاعت اور فرمانبرداری کی ترغیب دی ہے۔ لیکن میرے لئے یہ ضروری تھا کہ یہ تمام کارنامہ اپنا جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں بھی پہنچاؤں۔
(تحفہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٥)
اپنا تعارف
مسیح موعود کا نام اور خاندان۔ ”میں اس بات کو ظاہر کرنا بھی اپنی روشناسی کرانے کی غرض سے ضروری دیکھتا ہوں کہ میں حضرت ملکہ معظمہ کی رعایا میں سے پنجاب کے ایک معزز خاندان میں ایک شخص ہوں جو مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے مشہور ہوں جو میرے والد کا نام مرزا غلام مرتضیٰ اور ان کے والد کا نام مرزا عطاء محمد اور ان کے والد کا نام مرزا گل محمد ...... مجھے جیسا کہ آگے بیان ہو گا اپنی خدمت میں لے لیا اور جیسا کہ وہ اپنے بندوں سے قدیم سے کلام کرتا آیا ہے۔ مجھے اس نے اپنے مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف بخشا اور مجھے اس نے نہایت پاک اصولوں پر جو نوع انسان کے لئے مفید ہیں قائم کیا۔ چنانچہ منجملہ ان اصولوں کے جن پر مجھے قائم کیا گیا ہے۔ ایک یہ ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٦)
دوسرا مقصد بعثت
”اور دوسرا اصول جس پر مجھے قائم کیا گیا ہے وہ جہاد کے اس مسئلہ کی اصلاح ہے۔ جو بعض نادان مسلمانوں میں مشہور ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٢)
١٨٥٧ء کی جنگ آزادی پر تبصرہ
”کسی عادل گورنمنٹ کے سایہ معدلت کے نیچے رہ کر جیسا کہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی سلطنت ہے۔ پھر اس کی نسبت بغاوت کا قصد رکھنا اس کا نام جہاد نہیں ہے بلکہ یہ ایک نہایت وحشیانہ اور جہالت سے بھرا ہوا خیال ہے۔ جس گورنمنٹ کے ذریعے سے آزادی سے زندگی بسر ہو اور پورے طور پر امن حاصل ہو۔ اور فرائض مذہبی کما حقہ ادا کر سکیں۔ اس کی نسبت بدنیتی کو عمل میں لانا ایک مجرمانہ حرکت ہے نہ جہاد۔ اس لئے ١٨٥٧ء میں مفسدہ پرداز لوگوں کی حرکت کو خدا نے پسند نہیں کیا۔ اور آخر طرح طرح کے عذابوں میں وہ مبتلا ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنی محسن اور مربی گورنمنٹ کا مقابلہ کیا۔ سو خدا تعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ یہ گورنمنٹ برطانیہ ہے۔ سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکر گزاری کی جائے۔ سو میں اور میری
٤٤
جماعت اس اصول کے پابند ہیں۔ چنانچہ میں نے کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں تالیف کیں۔.... گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں اور کتابوں کا اثر پڑا ہے۔“
١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے دوران خا
”میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ دربار گو ایسے خیر خواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ٥٧ ٥٠ جوان جنگجو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس
ظاہر و باطن کی وفادار جماعت
”بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی کہ میں مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔“
حسن طلب؟
”اور میں نہ اپنے نفس سے اور نہ ان گورنمنٹ کے سایہ عطوفت کے نیچے میں امن و میں مشغول رہوں۔“
مسلمانوں پر قابو پانے کے لئے بعض م
”اور میری رائے میں مسلمانوں کے وسیع اختیارات ہونے بڑی پر خیر مصلحت ہے کیو عادات کو بھلا دیں گے۔ وجہ یہ کہ جیسا کہ ایک کر دیتا ہے۔ ایسا ہی جب ایک مقصد ایک پہلو
جماعت اس اصول کے پابند ہیں۔ چنانچہ میں نے اس مسئلہ پر عمل درآمد کرانے کے لئے بہت سی کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں تالیف کیں۔۔۔۔۔۔۔ یہ کتابیں ہزار ہا روپیہ کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں اور میں جانتا ہوں کہ یقیناً ہزار ہا مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١١، ١٢ ، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٣، ٢٦٤)
١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے دوران خاندانی کردار
”میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ دربار گورنری میں کرسی نشین بھی تھے اور سرکار انگریز کے ایسے خیر خواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ١٨٥٧ء میں ٥٠ گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور ٥٠ جوان جنگجو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٨ ، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٠، ٢٧١)
ظاہر و باطن کی وفادار جماعت
”بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے وہ ایک ایسی سچی مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی کہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے۔ جن کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٢ ، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٤)
حسن طلب؟
”اور میں نہ اپنے نفس سے اور نہ اپنے خیال سے بلکہ خدا سے مامور ہوں کہ جس گورنمنٹ کے سایہ عطوفت کے نیچے میں امن کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہوں۔ اس کے لئے دعا میں مشغول رہوں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٣ ، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٥)
مسلمانوں پر قابو پانے کے لئے بعض مشورے
”اور میری رائے میں مسلمانوں کے لئے مذہبی خیالات کے اظہار میں قانونی حد تک وسیع اختیارات ہونے بڑی پر خیر مصلحت ہے کیونکہ وہ اس طور سے اپنی اصل غرض کو پا کر جنگجوئی کی عادات کو بھلا دیں گے۔ وجہ یہ کہ جیسا کہ ایک غشی چیز کا استعمال کرنا دوسری غشی چیز سے فارغ کر دیتا ہے۔ ایسا ہی جب ایک مقصد ایک پہلو سے نکلتا ہے۔ تو دوسرا پہلو خود سست ہو جاتا ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٢ ، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٤)
٤٥
مسلمان لوگوں کو جہاد سے ہٹانے کے لئے مذہبی مباحثات
”انہی اغراض سے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ مذہبی مباحثات کے بارے میں انگریزی آزادی سے فائدہ اٹھاؤں اور نیز اسلامی جوش کے لوگوں کو اس جائز امر کی طرف توجہ دے کر ناجائز خیالات اور جوشوں سے ان کے جذبات کو روک دوں۔ مسلمان لوگ ایک خونی مسیح کے منتظر تھے اور نیز ایک خونی مہدی کا بھی انتظار کرتے تھے اور یہ عقیدے اس قدر خطرناک ہیں کہ ایک مفتری کاذب مہدی موعود کا دعویٰ کر کے ایک دنیا میں غرق کر سکتا ہے کیونکہ مسلمانوں میں اب تک یہ خاصیت ہے کہ جیسا کہ وہ ایک جہاد کی رغبت دلانے والے کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ شاید وہ ایسی تابعداری بادشاہ کی بھی نہیں کر سکتے۔ پس خدا نے چاہا کہ یہ غلط خیالات دور ہوں ۔اس نے مجھے مسیح موعود اور مہدی موعود کا خطاب دے کر۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٢، ١٣، خزائن ج ١٢ص ٢٦٤، ٢٦٥)
برطانوی امپیریلزم کی برکات
”یہ ایک بڑی قابل قدر بات ہے کہ اکثر لوگ عرفانی روشنی کی تلاش میں لگ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ یہ بھی بادشاہ وقت کا ایک پرتو ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہ گورنمنٹ ہندوستان میں داخل ہوتے ہی ایک روحانی سرگرمی اور حق کی تلاش کا اثر ساتھ لائی ہے۔ اور بلاشبہ یہ اس ہمدردی کا نتیجہ ہوتا ہے جو ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ کے دل میں برٹش انڈیا کی رعیت کی نسبت مرکوز ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٧، خزائن ج ١٢ص ٢٦٩)
سامراجی لوٹ کی تحسین
”میرے خیال میں یہ بھی گزرتا ہے کہ اس سے پہلے اس ملک جس کی فارغ البالی اور دولت مندی اس کی روحانی ترقی کی بہت مانع تھی۔ اگر ہندوستان کی وہی صورتحال رہتی تو آج شاید اس ملک کے رہنے والے وحشیوں سے بھی بدتر ہوتے۔ یہ اچھا ہوا کہ بہ سبب احسن تدبیر گورنمنٹ برطانیہ کے اس ملک کے اسباب تنعم و آرام طلبی کچھ مختصر کئے گئے تاکہ لوگ فنون اور علوم کی طرف متوجہ ہوں۔ اور روحانی تریاق کا بھی دروازہ کھلے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٧، ١٨، خزائن ج ١٢ص ٢٦٩، ٢٧٠)
برطانوی امپیریلزم کے زیر سایہ مقاصد کی تکمیل
”اور پھر دوسرا شکریہ ہے کہ وہ خدا جو کبھی اپنے وجود کو بے دلیل نہیں چھوڑتا وہ جیسا کہ
تمام نبیوں پر ظاہر ہوا اور ابتداء سے زمین کو تاریکی میں پا کر روشن کرتا آیا ہے۔ اس نے اس زمانہ کو بھی اپنے فیض سے محروم نہیں رکھا۔ بلکہ جب دنیا کو آسمانی روشنی سے دور پایا تو اس نے چاہا کہ زمین کی سطح کو ایک نئی معرفت سے منور کرے اور نئے نشان دکھائے اور زمین کو روشن کرے۔ سو اس نے مجھے بھیجا اور میں اس کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک ایسی گورنمنٹ کے سایہ رحمت کے نیچے جگہ دی جس کے زیرسایہ میں بڑی آزادی سے اپنا کام نصیحت اور وعظ کا ادا کر رہا ہوں۔ اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا ہر ایک پر رعایا میں سے شکر واجب ہے مگر میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصرہ ہند کی حکومت کے زیر سایہ کے نیچے انجام پذیر ہورہے ہیں۔ ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہو سکتے۔"
(تحفہ قیصریہ ص ٣١، ٣٢ خزائن ج ١٢ ص ٢٨٣، ٢٨٤)
برطانوی حکومت کے سامنے الحاح وزاری
"اور نیز وہ باتیں جو میں نے یسوع مسیح کی زبان سے سنیں اور وہ پیغام جو اس نے مجھے دیا۔ ان تمام امور نے مجھے تحریک کی کہ میں جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں یسوع کی طرف سے ایلچی ہو کر با ادب التماس کروں۔"
(تحفہ قیصریہ ص ٢٣ خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥)
"لیکن اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم عاجزانہ ادب کے ساتھ تیرے حضور میں کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جوبلی کا وقت ہے یسوع کے چھوڑنے کے لئے کوشش کر۔"
(تحفہ قیصریہ ص ٢٥ خزائن ج ١٢ ص ٢٧٧)
"اگر حضور ملکہ معظمہ میرے تصدیق دعویٰ کے لئے مجھ سے نشان دیکھنا چاہیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہو کہ وہ نشان ظاہر ہو جائے اور نہ صرف یہ بلکہ دعا کر سکتا ہوں کہ یہ تمام زمانہ عافیت اور صحت سے بسر ہو۔ لیکن اگر کوئی ظاہر نہ ہو اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ حضور ملکہ معظمہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں یہ سب الحاح اس لئے ہے کہ کاش ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کو اس آسمان کے خدا کی طرف خیال آ جائے جس سے اس زمانہ میں عیسائی مذہب بے خبر ہے۔"
(تحفہ قیصریہ ص ٢٤ خزائن ج ١٢ ص ٢٧٦ حاشیہ)
"اور یسوع کی طرف سے رسول کی طرح ہو کر جس طرح کشفی عالم میں اس کی زبان سے سنا حضور قیصرہ ہند میں پہنچا دیتے ہیں۔"
(تحفہ قیصریہ ص ٢٢ خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤)
"اور خدا کی عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں ایک یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے۔ یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے...... قیصرہ ہند میری
٢٧
توجہ سے مسیح کو دیکھ سکتی ہیں...... کیونکہ میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا تحفہ ہے جو حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ انگلستان و ہند کی خدمت عالیہ میں پیش کرنے کے لائق ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٣)
”ان واقعات پر نظر ڈالنے سے نہایت آرزو سے دل چاہتا ہے کہ ہماری قیصر ہند دام اقبالہا بھی قیصر روم کی طرح ایسامذہبی جلسہ پایہ تخت میں انعقاد فرمادیں کہ یہ روحانی طور پر یہ یادگار ہوگی۔مگر یہ جلسہ قیصر روم کی نسبت زیادہ توسیع کے ساتھ ہونا چاہئے۔ کیونکہ ہماری ملکہ معظمہ بھی اس قیصر کی نسبت زیادہ وسعت اقبال رکھتی ہیں۔ اور اس التماس کا ایک یہ بھی سبب ہے کہ جب سے اس ملک کے لوگوں نے امریکہ کے جلسہ مذاہب سے اطلاع پائی ہے۔طبعاً دلوں میں یہ جوش پیدا ہو گیا ہے کہ ہماری ملکہ معظمہ بھی خاص لندن میں ایسا جلسہ منعقد فرمائیں تاکہ اس تقریب سے اس ملک کی خیر خواہ رعایا اور ان کے رئیسوں اور عالموں کے گروہ وہ خاص لندن پایہ تخت میں شرف لقاء حضور حاصل کرسکیں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٩)
”سوا اے ہماری عالم پناہ ملکہ خدا تجھے بے شمار فضلوں سے معمور کرے۔اس مقدمہ کو اپنی قدیم منصفانہ عادت کے ساتھ فیصلہ کر۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٦، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٨)
خاتمہ کتاب
”اب میں حضور ملکہ معظمہ میں زیادہ مصدع اوقات ہونا نہیں چاہتا اور اس دعا پر یہ عریضہ ختم کرتا ہوں کہ:
اے قادر کریم اپنے فضل و کرم سے ہماری ملکہ معظمہ کو خوش رکھ جیسا کہ ہم اس کے سایہ عاطفت کے نیچے خوش ہیں۔ اور اس سے نیکی کر جیسا کہ ہم اس کی نیکیوں اور احسانوں کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔اور ان معروضات پر کریمانہ توجہ کرنے کے لئے اس کے دل میں آپ الہام کر ہر ایک قدرت اور طاقت تجھی کو ہے۔ آمین ثم آمین۔“
الملتمس: خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی ضلع گورداس پور پنجاب
قادیانی تحریک قانون کی عدالت میں
مرتب: محمد سعید الرحمن علوی
- ١...... فیصلہ مقدمہ بہاول پور ١٩٣٥ء بعدالت
جناب شیخ محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج بہاول پور۔
”یہ تمام شواہد ایسے ہیں کہ جن سے سوائے مرزا قادیانی کا کافر قرار دینے کے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہو سکتا۔“
٤٠٣
- ٢...... فیصلہ مقدمہ راولپنڈی ١٩٥٥ء بعدالت
شیخ محمد اکبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی
- ٣...... فیصلہ جیمس آباد ١٩٦٩ء بعدالت شیخ محمد
رفیق کوریجہ جج سول اور فیملی کورٹ
- ٤...... فیصلہ رحیم یار خان ١٩٧٢ء بعدالت
چودھری محمد نسیم سول جج
- ٥...... فیصلہ بہاولپور ١٩٧٢ء بعدالت ملک احمد
خان، کمشنر بہاول پور
- ٦...... آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد ١٩٧٣ء محرک
میجر محمد ایوب
- ٧...... رابطہ عالم اسلامی، مکہ مکرمہ کی قرارداد
اپریل ١٩٧٤ء
- ٨...... آئینی ترمیم، پاکستان کے دستور میں ستمبر
١٩٧٤ء
عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اس عقیدہ سے متعلق قرآن کریم موجود ہیں۔ پھر جناب نبی کریم علیہ السلام سے مسئلہ ہے اور چودہ سو سال میں امت مسلمہ اس لیکن انگریز سرکار نے اپنی ظالمانہ کیا تو مرزا غلام احمد قادیانی کو اس مقصد کے انگریز سرکار کی خوشامد شروع کی اور اس کی خو عقیدہ کے خلاف بھی بغاوت کی۔ چنانچہ علماء کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ اس کے علاوہ ١٩٠٢ء اور ١٩٣٢ وہاں کی حکومت نے ارتداد کے جرم میں سنگ
٢..... فیصلہ مقدمہ راولپنڈی ١٩٥٥ء بعدالت ”مرزائی دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔“ شیخ محمد اکبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی ٣..... فیصلہ جیمس آباد ١٩٦٩ء بعدالت شیخ محمد ”مرزائی خواہ قادیانی ہوں یا لاہوری، غیر مسلم رفیق کوریجہ جج سول اور فیملی کورٹ ہیں۔“ ٤..... فیصلہ رحیم یار خان ١٩٧٢ء بعدالت ”مسلمان آبادیوں میں قادیانیوں کو تبلیغ کرنے چودھری محمد نسیم سول جج یا عبادت گاہ بنانے کی اجازت نہیں۔“ ٥..... فیصلہ بہاولپور ١٩٧٢ء بعدالت ملک احمد ”مرزائی، مسلم امت سے بالکل الگ گروہ خان، سیشن جج بہاول پور ہے۔“ ٦..... آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد ١٩٧٣ء محرک ”قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔“ میجر محمد ایوب ٧..... رابطہ عالم اسلامی، مکہ مکرمہ کی قرارداد حزب اختلاف کی اور سرکاری قراردادیں۔ اپریل ١٩٧٤ء ٨..... آئینی ترمیم، پاکستان کے دستور میں ستمبر ”مولانا ہزاروی کی قرارداد، خصوصی کمیٹی کی ١٩٧٤ء متفقہ قرارداد، سفارشات اور ترمیم شدہ دفعات کی تفصیلات۔“
عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔
اس عقیدہ سے متعلق قرآن کریم اور حضور علیہ السلام کے ٣سو کے قریب ارشادات موجود ہیں۔ پھر جناب نبی کریم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے جس مسئلہ پر اجماع ہوا وہ یہی مسئلہ ہے اور چودہ سو سال میں امت مسلمہ اس عقیدہ میں متفق اللسان ہے۔
لیکن انگریز سرکار نے اپنی ظالمانہ حکومت کے لئے جب ربانی سند مہیا کرنے کا اہتمام کیا تو مرزا غلام احمد قادیانی کو اس مقصد کے لئے منتخب کیا۔ مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کر کے انگریز سرکار کی خوشامد شروع کی اور اس کی خوشنودی کے لئے جہاد کو حرام قرار دیا بلکہ اس بنیادی عقیدہ کے خلاف بھی بغاوت کی۔ چنانچہ علماء، صلحاء اور عام مسلمان شروع دن سے اس کھلی گمراہی کے خلاف برسرپیکار ہیں۔
اس کے علاوہ ١٩٠٢ء اور ١٩٣٣ء میں افغانستان میں جانے والے مرزائی مبلغوں کو وہاں کی حکومت نے ارتداد کے جرم میں سنگسار کرا دیا۔
مختلف مواقع پر دنیا کی مختلف عدالتیں ان کے خلاف فیصلے صادر کرتی رہیں۔ مثلاً ١٩؍ نومبر ١٩٢٧ء کا فیصلہ جو چیف جسٹس ماریشس نے صادر کیا۔ ١٩٣٥ء میں حکومت ترکیہ کا فیصلہ اور ١٩٥٥ء میں حکومت مصر، شام اور عراق کے فیصلے اپنی مثال آپ ہیں۔ برصغیر کی تاریخ میں اس موضوع پر جو عدالتی کاروائی ہوئی یا آئین وقانون کی رو سے جو فیصلے ہوئے ان کی تلخیص پیش ہے۔
(مرتب)
ڈسٹرکٹ جج بہاولپور جناب محمد اکبر خان کا فیصلہ ١٩٣٥ء: چند اقتباسات
”معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی جب اس میدان میں گامزن ہوئے اور ان پر مکاشفات کا سلسلہ جاری ہونے لگا تو وہ اپنے آپ کو سنبھال نہ سکے اور صوفیائے کرام کی کتابوں میں وحی اور نبوت کے الفاظ موجود پا کر انہوں نے اولیاء اللہ سے اپنا مرتبہ بلند دکھانے کی خاطر اپنے لئے نبوت کی ایک اصطلاح تجویز فرمائی۔ جب لوگ یہ سن کر چونکنے لگے تو انہوں نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کرنا چاہا کہ تم گھبراتے کیوں ہو۔ آنحضرت ﷺ کے اتباع سے جس مکالمہ اور مخاطبہ کے تم لوگ قائل ہو۔ میں ان کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔ یہ صرف لفظی نزاع ہے سو ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کوئی اصطلاح مقرر کرے۔ گویا انہوں نے نبی کے لفظ کو برعکس اس کی اصل اور عام فہم مراد کے یہاں اصطلاحی طور کثرت مکالمہ اور مخاطبہ پر حاوی کیا۔ اور یہ اصطلاح بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم کی۔ اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ اس لفظ کا استعمال کثرت سے اپنے متعلق کرنے لگے تو لوگ پھر چونکے اس پر انہوں نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کیا کہ میں کوئی اصلی نبی تو نہیں۔ بلکہ اس معنی میں کہ میں نے تمام کمال آنحضرت ﷺ کے اتباع اور فیض سے حاصل کیا ہے۔ ظلی اور بروزی نبی ہوں۔ اور اس کے انہوں نے ان آیات قرآنی کی جو ”شاید کسی اچھے وقت میں ان پر نازل ہوئی تھیں ۔“ اپنے اوپر چسپاں کرنا شروع کر دیا اور شدہ شدہ تشریعی نبوت کے دعوے کا اظہار کر دیا لیکن صریح آیات قرآنی اور احادیث اور اقوال بزرگان سے جب انہیں اس میں کامیابی نظر نہ آئی تو انہوں نے اس دعویٰ کو ترک کر کے اپنا مقر نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث میں جا تلاش کیا اور عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو بذریعہ وحی ثابت کر کے یہ دکھلایا کہ ان احادیث کا اصل مفہوم یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت میں کسی شخص کو نبوت کا درجہ عطا کیا جائے گا۔“
”معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے پھر آخر عمر میں جا کر اپنے دعویٰ کی غلطی کو محسوس کیا
٥٠
اور پھر اصطلاحی نبوت کو ہی جا کر قائم کیا جس سے امتی کہ ان کے خط سے جو انہوں نے وفات سے دو تین ہوتا ہے۔ اس میں درج ہے کہ ”سو میں اس درجہ سے معنی ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیش گوئی کر سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے بجا طور پر کہا ہے پوری طرح روشن ہوتی ہے کہ ان کی ساری تصانیف ایک ہی مسئلہ ایک ہی مضمون کو بیسیوں کتابوں میں میں اس قدر تہافت اور تعارض پایا جاتا ہے اور خود ایسی روش اختیار کی ہے کہ وہ نتیجہ خیز ہو رہے اور ان کہیں ختم نبوت کے عنوان کو اپنے مشہور اور اجتماعی کہیں ایسا عقیدہ بتلانے والے مذہب کو لعنتی السلام کے نزول کو امت محمدیہ ﷺ کے عقیدہ کے پرا جماع ہونا نقل کرتے ہیں اور کہیں ایسے عقیدہ کو
”ختم نبوت کا عقیدہ جیسا کہ اوپر مسائل میں سے اور خاتم النبیین کے جو معنی مد قرآنی اور احادیث صحیح سے اس کی تائید نہیں ہ مدعیہ نے بیان کئے ہیں۔
”اس بحث سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہ کے بطن کے معنے ایسے نہیں ہو سکتے کہ جو رسول منافی ہوں اور چونکہ یہ اجماعی عقیدہ ہے۔ اس طرف سے جو یہ کہا گیا ہے کہ تاویل کرنے و نے ایسا کہا ہے وہ اس قبیل کے نہیں۔ جیسا النبیین کے جو معنے مدعیہ کی طرف سے کئے گئے اس عقیدہ انحراف ارتداد کی حد تک پہنچا ہے منقطع ہو چکے ہیں۔ مرزا قادیانی صحیح اسلامی
اور پھر اصطلاحی نبوت کو ہی جا کر قائم کیا جس سے انہوں نے اپنے دعویٰ کی ابتداء شروع کی تھی۔ جیسا کہ ان کے خط سے جو انہوں نے وفات سے دو تین یوم قبل اخبار عام کے ایڈیٹر کے نام لکھا تھا ظاہر ہوتا ہے۔ اس میں درج ہے کہ ”سو میں اس وجہ سے نبی کہلاتا ہوں کہ عربی اور عبرانی میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیش گوئی کرنے والا۔“ ان تمام واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے بجا طور پر کہا ہے کہ مرزا قادیانی کی کتابیں دیکھنے سے یہ بات پوری طرح روشن ہوتی ہے کہ ان کی ساری تصانیف میں صرف چند ہی مسائل کا تکرار اور دور ہے۔ ایک ہی مسئلہ ایک ہی مضمون کو بیسیوں کتابوں میں مختلف عنوانوں سے ذکر کیا ہے اور پھر سب اقوال میں اس قدر تہافت اور تعارض پایا جاتا ہے اور خود مرزا قادیانی کی ایسی پریشان خیالی ہے اور بالقصد ایسی روش اختیار کی ہے کہ وہ نتیجہ خیز نہ رہے اور ان کو بوقت ضرورت مخلص اور مفر باقی رہے۔ چنانچہ کہیں ختم نبوت کے عنوان کو اپنے مشہور اور اجماعی معنے کے ساتھ قطعی اور اجماعی عقیدہ کہتے ہیں اور کہیں ایسا عقیدہ بتلانے والے مذہب کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دیتے ہیں۔ کہیں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو امت محمدیہ ﷺ کے عقیدہ کے موافق متواترات دین میں داخل کرتے ہیں اور اس پر اجماع ہونا نقل کرتے ہیں اور کہیں ایسے عقیدہ کو مشرکانہ عقیدہ بتلاتے ہیں۔“
”ختم نبوت کا عقیدہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ اسلام کے اہم اور بنیادی مسائل میں سے اور خاتم النبیین کے جو معنی مدعا علیہ کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں۔ آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے اس کی تائید نہیں ہو سکتی۔ اس کے صحیح معنی وہی ہیں جو کہ گواہان نے مدعیہ نے بیان کئے ہیں۔
”اس بحث سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آیت خاتم النبیین قطعی الدلالت ہے اور اس کے ظنی معنے ایسے نہیں ہو سکتے کہ جو رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین بمعنے آخری نبی سمجھنے کے منافی ہوں اور چونکہ یہ اجماعی عقیدہ ہے۔ اس لئے عقیدہ مذکورہ بالا سے انکار کفر ہے۔ مدعا علیہ کی طرف سے جو یہ کہا گیا ہے کہ تاویل کرنے والے کو کافر نہیں سمجھا گیا اور جن مسائل کی بناء پر اس نے ایسا کہا ہے وہ اس قبیل کے نہیں۔ جیسا کہ مسئلہ ختم نبوت ۔ لہٰذا یہ قرار دیا جاتا ہے کہ خاتم النبیین کے جو معنے مدعیہ کی طرف سے کئے گئے ہیں ۔ اور اس معنی کے تحت جو عقیدہ ظاہر کیا گیا ہے اس عقیدہ سے انحراف ارتداد کی حد تک پہنچا ہے اور یہ کہ آنحضرت کے بعد عہدہ نبوت اور وحی نبوت منقطع ہو چکے ہیں۔ مرزا قادیانی صحیح اسلامی عقائد کی رو سے نبی نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے آیات
٥١
قرآنی کو اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔ جیسا کہ ایک آیت ”ھو الذی ارسل رسولہ ...... الخ“ کے متعلق انہوں نے یہ کہا ہے کہ اس میں میرا ذکر ہے اور دوسرے الہام بالفاظ محمد رسول اللہ بیان کر کے یہ کہا کہ اس میں میرا نام رکھا گیا اور رسول بھی۔ اس طرح کئی ایسی تصریحات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ آیات قرآنی کو اپنے اوپر چسپاں کرتے تھے اور اس سے بھی رسول ﷺ کی توہین ہوتی ہے۔“
”اور حضرت مریم کی شان میں مرزا قادیانی نے جو کچھ کہا ہے اور جس کا حوالہ شیخ الجامعہ صاحب گواہ مدعیہ کے بیان میں ہے اور جس کا مدعا علیہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس سے قرآن شریف کی صریح آیات کی تکذیب ہوتی ہے۔ یہ تمام امور ایسے ہیں کہ جن سے سوائے مرزا قادیانی کو کافر قرار دینے کے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوتا۔“
”مدعا علیہ کی طرف سے مرزا قادیانی کے بعض کتب کے حوالوں کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ مرزا قادیانی نے کسی نبی کی توہین نہیں کی۔ اس کا جواب سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے جواب دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایک جگہ کلمات توہین ثابت ہو گئے تو اگر ہزار جگہ کلمات مدحیہ لکھے ہوں اور ثناء خوانی بھی کی ہو تو وہ کفر سے نجات نہیں دلا سکتے جیسا کہ تمام دنیا اور دین کے قواعد مسلمہ اس پر شاہد ہیں کہ اگر ایک شخص تمام عمر کسی کا اتباع اور اطاعت گزاری کرے اور مدح و ثناء کرتا رہے لیکن کبھی کبھی اس کی سخت ترین توہین بھی کر دے تو کوئی شخص اس کو مطیع اور معتقد واقعی نہیں کہہ سکتا۔“
عدالتی فیصلہ جناب شیخ محمد رفیق گورایہ سول جج جیمس آباد سندھ
٢٢ / مارچ ١٩٢٩ء
”مندرجہ بالا بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدعیہ جو ایک مسلمان عورت ہے۔ کی شادی مدعا علیہ کے ساتھ جس نے شادی کے وقت خود اپنا قادیانی ہونا تسلیم کیا ہے۔ اس طرح جو غیر مسلم قرار پایا غیر مؤثر ہے۔ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ چنانچہ مدعیہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مدعا علیہ کی بیوی نہیں ہے۔“
فیصلہ کمشنر بہاول پور ڈویژن
بعدالت ملک احمد خاں (پی سی ایل ...... ٨ نومبر ١٩٧٢ء)
”آج فریقین ہمراہ وکلاء حاضر ہیں۔ ہم نے ان کے عذرات کی سماعت کر لی ہے۔
٥٢
فیض محمد اپیلانٹ کا حق تسلیم کیا جائے کیونکہ: کلکٹر نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا ہے جو مسلم امت سے بالکل الگ تھلگ گروہ ہے مذہبی کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ اس پتی میں رہنے و پٹی دار مسلمان اہل سنت والجماعت ہیں۔ لہٰذا تقرر نمبردار کے لئے کمیونٹی (community کی گئی ہے۔ ان دونوں فریقوں میں بہت فرق کے درمیان کوئی اتحاد و اتفاق نہیں ہے۔ احمدی کتابوں میں احمدی گروہ کے درج ذیل قسم کے
- ا....... غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا ناجا
- ٢...... غیر احمدی کے پیچھے احمدی کا جنازہ
- ٣...... غیر احمدی کے نکاح میں احمدی لڑ
- ٤...... ہمارا حج مسلمانوں کے حج سے ال
سر ظفر اللہ وزیر خارجہ پاکستان س ریکارڈ ملاحظہ کرنے اور فاضل و مدعی اور مدعا علیہ دونوں اگر چہ آ مگر ان کے مذہبی، سماجی، معاش کر دیا ہے۔ اس لئے فضل محمد کو اس پر ترجیح فضل محمد کی اپیل منظور کرتے ہیں۔“
آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد
٢٨ / اپریل ١٩٧٣ء آزاد کشمیر درج ذیل قرارداد پیش کی جو اتفاق رائے
”قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا ج باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے اور انہیں ا شعبوں میں ان کی نمائندگی کا تعین کرایا جا
فیض محمد اپیلانٹ کا حق تسلیم کیا جائے کیونکہ:
کلکٹر نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ فضل احمد رسپانڈنٹ احمدی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے جو مسلم امت سے بالکل الگ تھلگ گروہ ہے۔ اس فرقہ کا مسلم امت سے سوشل کمرشل اور مذہبی کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ اس پٹی میں رسپانڈنٹ واحد پٹی دار ہے جو احمدی ہے جبکہ دیگر تمام پٹی دار مسلمان اہل سنت والجماعت ہیں۔ لہٰذا ریونیو بورڈ ١٩٦٨ء کے رول نمبر ١٧ (ایف) میں تقرر نمبردار کے لئے کمیونٹی (Community) کی اہمیت اور طاقت کو زیر غور رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان دونوں فریقوں میں بہت فرق ہے۔ مذہبی اور معاشرتی دونوں حیثیتوں سے ان کے درمیان کوئی اتحاد و اتفاق نہیں ہے۔ احمدی گروہ کے مذہبی رہنما مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی کتابوں میں احمدی گروہ کے درج ذیل قسم کے متعدد ہدایات دی ہیں۔
- ١....... غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز ہے۔
- ٢....... غیر احمدی کے پیچھے احمدی کا جنازہ پڑھنا ناجائز ہے۔
- ٣....... غیر احمدی کے نکاح میں احمدی لڑکی دینا ناجائز ہے۔
- ٤....... ہمارا حج مسلمانوں کے حج سے الگ ہے۔
سر ظفر اللہ وزیر خارجہ پاکستان نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔
ریکارڈ ملاحظہ کرنے اور فاضل وکیل کے دلائل کافی وزن دار ہیں۔
مدعی اور مدعا علیہ دونوں اگرچہ ایک ہی قوم جٹ کے افراد ہیں۔
مگر ان کے مذہبی ، سماجی ، معاشرتی اختلاف نے ان کو ایک دوسرے سے بالکل جدا کر دیا ہے۔ اس لئے فضل محمد کو اس پر ترجیح دیتے ہوئے ہم فضل احمد کی اپیل نامنظور کرتے ہیں اور فضل محمد کی اپیل منظور کرتے ہیں۔“
آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد
٢٨؍ اپریل ١٩٧٣ء آزاد کشمیر اسمبلی کے معزز رکن جناب میجر محمد ایوب صاحب نے درج ذیل قرارداد پیش کی جو اتفاق رائے سے اسمبلی نے منظور کر لی۔
”قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ریاست میں جو قادیانی رہائش پذیر ہیں ان کی با قاعدہ رجسٹریشن کی جائے اور انہیں اقلیت قرار دینے کے بعد ان کی تعداد کے مطابق مختلف شعبوں میں ان کی نمائندگی کا تعین کرایا جائے۔
٥٣
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں قادیانیت کی تبلیغ ممنوع ہوگی۔“
میجر صاحب نے اپنی قرارداد پر دلائل دیتے ہوئے دوسری چیزوں کے علاوہ آئین پاکستان کے ص ١١٤ پر درج شدہ صدر مملکت اور وزیر اعظم کے مجوزہ حلف نامے بھی پڑھ کر سنائے اور کہا کہ : ”آئین میں ان دونوں سربراہوں کے لئے مسلمان ہونا لازم قرار دیا گیا اور ان حلف ناموں کے ضمن میں مسلمان کی جامع تعریف بھی شامل کر دی گئی ہے جس میں یہ بات واضح طور پر شامل ہے کہ حلف اٹھانے والا یہ اقرار کرتا ہے کہ اس کا ایمان ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
میجر صاحب نے واضح کیا کہ چونکہ احمدی حضور علیہ السلام کو آخری نبی نہیں مانتے بلکہ آپ ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم کرتے ہیں اس لئے وہ آئین کی رو سے غیر مسلم قرار پاتے ہیں۔“
٨؍ اپریل ١٩٧٤ء کو رابطہ عالم اسلام مکہ مکرمہ کے زیر اہتمام ایک سو سے زائد
اسلامی انجمنوں کی
قرارداد
قادیانیت وہ باطل مذہب ہے جو اپنے ناپاک اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ اس کی اسلام دشمنی ان چیزوں سے واضح ہے۔
- الف....... اس کے بانی کا دعویٰ نبوت کرنا۔
- ب....... قرآنی نصوص میں تحریف کرنا۔
- ج....... جہاد کے باطل ہونے کا فتویٰ دینا۔
قادیانیت برطانوی استعمار کی پروردہ ہے اور اس کے زیر سایہ سرگرم عمل ہے۔
قادیانیوں نے امت مسلمہ کے مفادات سے ہمیشہ غداری کی ہے اور استعمار اور صہیونیت سے مل کر اسلام دشمن طاقتوں سے تعاون کیا اور یہ طاقتیں بنیادی اسلامی عقائد میں تحریف و تغییر اور ان کی بیخ کنی میں مختلف طریقوں سے مصروف عمل ہیں۔
- الف....... معابد کی تعمیر جن کی کفالت اسلام دشمن طاقتیں کرتی ہیں۔
- ب....... اسکولوں، تعلیمی اداروں اور یتیم خانوں کا کھولنا جن میں قادیانی اسلام دشمن طاقتوں کے
٥٤
٠٩
سرمائے سے تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور شدہ ترجمے شائع کر رہے ہیں۔ ان خطرات کے پیش
- ١....... تمام اسلامی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ قا
مقامات میں جہاں وہ سیاسی سرگرمیوں میں مش ہوئے جال سے بچنے کے لئے عالم اسلام کے سر
- ٢....... اس گروہ کے کافر اور خارج از اسلام
- ٣....... احمدیوں سے مکمل عدم تعاون اور
بائیکاٹ کیا جائے۔ ان کے کفر کے پیش نظر ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے ۔
- ٤....... کانفرنس اور تمام اسلامی ملکوں ـ
قادیانی کے متبعین کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پ جائے۔ نیز ان کے لئے اہم سرکاری عہدوں ـ
- ٥....... قرآن مجید میں قادیانیوں کی تحریـ
شمار کر کے لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے اور ا
- ٦....... دیگر تمام باطل فرقوں سے قادیا نیو
بلکہ محرک مولانا غلام غوث ہزاروی
ہرگاہ کہ
- ١....... مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت
اتباع سے یہ مقام پایا ہے اور وحی نے مجھے مرـ
- ٢....... مرزا غلام احمد قادیانی حضرت ـ
ہے جبکہ براہین احمدیہ لکھنے تک اس کا عقیدـ ہیں۔
- ٣....... مرزا قادیانی نے سرور عالم ﷺ
خزائن ج ٣ ص ١٢٦ حاشیہ ) حالانکہ قرآن وحد
سرمائے سے تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور قادیانی مختلف زبانوں میں قرآن مجید کے تحریف شدہ ترجمے شائع کر رہے ہیں۔ ان خطرات کے پیش نظر کانفرنس نے مندرجہ ذیل قرارداد منظور کی ہے۔
- ١....... تمام اسلامی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ قادیانی معابد، مدارس، یتیم خانوں اور دوسرے تمام
مقامات میں جہاں وہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں ان کا محاسبہ کریں اور ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لئے عالم اسلام کے سامنے ان کو پوری طرح بے نقاب کیا جائے۔
- ٢....... اس گروہ کے کافر اور خارج از اسلام ہونے کا اعلان کیا جائے۔
- ٣....... احمدیوں سے مکمل عدم تعاون اور اقتصادی، معاشرتی اور ثقافتی ہر میدان میں مکمل
بائیکاٹ کیا جائے۔ ان کے کفر کے پیش نظر ان سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔
- ٤....... کانفرنس اور تمام اسلامی ملکوں سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد
قادیانی کے متبعین کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ نیز ان کے لئے اہم سرکاری عہدوں کی ملازمتیں ممنوع قرار دی جائیں۔
- ٥....... قرآن مجید میں قادیانیوں کی تحریفات کی تصاویر شائع کی جائیں اور ان تراجم قرآن کا
شمار کر کے لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے اور ان تراجم کی ترویج کا سد باب کیا جائے۔
- ٦....... دیگر تمام باطل فرقوں سے قادیانیوں جیسا سلوک کیا جائے۔“
بل محرک مولانا غلام غوث ہزاروی
ہر گاہ کہ
- ١....... مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور لکھا ہے کہ: ”سرور عالم ﷺ کے
اتباع سے یہ مقام پایا ہے اور وحی نے مجھے صریح نبی کا لقب دیا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)
- ٢....... مرزا غلام احمد قادیانی حضرت مسیح موعود بن بیٹھا ہے اور حیات مسیح کا اس لئے انکار کیا
ہے جبکہ براہین احمدیہ لکھنے تک اس کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢، ١٥٣)
- ٣....... مرزا قادیانی نے سرور عالم ﷺ کی معراج جسمانی کا انکار کیا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٤٧،
خزائن ج ٣ ص ١٢٦ حاشیہ) حالانکہ قرآن وحدیث اور امت کا فیصلہ ہے کہ آپ ﷺ کو جاگتے ہوئے
٥٥
جسم مبارک کے ساتھ معراج ہوئی۔
- ٤....... مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کا انکار کیا ہے اور انگریز کی اطاعت فرض قرار دی ہے۔
اس کا اپنا شعر ہے۔
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور جدال
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
- ٥....... مرزا قادیانی نے وحی اور مکالمات الہیہ کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی وحی کو قرآن پاک کی
طرح کہا ہے۔
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمین ایمانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
اور اس سلسلہ میں امام ربانی مجدد الف ثانی پر جھوٹ بولا اور بہتان باندھا ہے کہ ’’جب مکالمات الہیہ کی کثرت ہو جائے تو اس آدمی کو نبی کہتے ہیں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) حالانکہ انہوں نے محدث لکھا ہے نبی قطعاً نہیں لکھا۔
- ٦....... مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل قرار دیا ہے۔ ابنِ
مریم کے ذکر کو چھوڑ دو اس سے بہتر غلام احمد ہے۔
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بمنبرم
(درثمین فارسی ص ٧٩)
- ٧....... مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شرابی لکھا ہے۔
(کشتی نوح ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١ حاشیہ)
اور پیغمبروں کی بھی توہین کی ہے۔ اس کے اشعار ہیں۔
من بہ عرفان نہ کمترم زکسے
٥٦
داد آن جــــــام رامــــــرا بتمــــــام
(نزول المسیح ص ٩٩ ، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٨...... مرزا قادیانی نے کافر کے ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنے کا انکار اور آخر کار ان کے نکلنے کا
قول کیا ہے۔ جو قرآن پاک کے نصوص کے قطعاً خلاف ہے اور ہر گاہ کہ یہ تمام امور کفریہ ہیں ان کے کہنے اور ماننے سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
- ٩...... مرزا قادیانی نے اپنے کو مسیح موعود نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو اسی طرح کافر کہا
ہے جیسے قرآن اور حدیث کا انکار کرنے والوں کو اور عام مسلمانوں سے شادی کرنے اور ان کا جنازہ پڑھنے سے روکا ہے۔
(انوار خلافت ص ٩٣، ٩٢ ملخص)
- ٩...... اور ہر گاہ کہ دنیا بھر کی تمام نمائندہ جماعتوں نے مکہ معظمہ میں جمع ہو کر مرزائیوں کو غیر
مسلم اقلیت قرار دیا ہے اور اس مسئلہ میں بھی کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو چاہے اس کو نبی مانیں یا مجدد اور یا مسیح موعود، اسلام سے خارج ہیں۔ اور ہر گاہ کہ پاکستان کے عوام تمام مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ان کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بنابریں پاکستان قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہم یہ بل پیش کرتے ہیں۔
- ١...... کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرووں کو چاہئے کہ وہ مرزا کو نبی مانیں یا مجدد یا مسیح موعود
چاہے وہ قادیانی کہلائیں یا لاہوری احمدی ...... سب کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔
- ٢...... ان سب کو کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کر دیا جائے اور آئندہ ان کو ان آسامیوں پر
متعین نہ کیا جائے۔
- ٣...... اور ان کا کوئی مخصوص شہر نہ ہو جہاں بیٹھ کر وہ ملک کے خلاف ہر طرح کی سازش کر سکیں۔
یہ بل پاس ہوتے ہی سارے پاکستان میں نافذ ہوگا اور اس بل کا نام ”غیر مسلم اقلیت بل“ ہوگا۔
(مولانا) غلام غوث ہزاروی، (مولانا) عبدالحکیم، (مولانا) عبدالحق (بلوچستان) اراکین قومی اسمبلی
حزب اختلاف کی قرارداد مورخہ ٣٠؍ جون ١٩٧٤ء کا متن
- ١...... چونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت محمد ﷺ کے بعد جو
٥٧
اللہ کے آخری نبی ہیں، نبوت کا دعویٰ کیا۔
- ٢...... اور چونکہ اسی کا جھوٹا دعویٰ نبوت ، قرآن کریم کی بعض آیات میں تحریف کی سازش اور
جہاد کو ساقط کر دینے کی کوشش ، اسلام کے مسلمات سے بغاوت کے مترادف ہے۔
- ٣...... اور چونکہ وہ سامراج کی پیداوار ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔
- ٤...... چونکہ پوری امت مسلمہ کا اس بات پر کامل اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، خواہ
وہ مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہوں یا اسے کسی اور شکل میں اپنا مذہبی پیشوا یا مصلح مانتے ہوں۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
- ٥...... چونکہ اس کے پیروکار خواہ انہیں کسی نام سے پکارا جاتا ہو، وہ دھوکہ دہی سے مسلمانوں ہی
کا فرقہ بن کر اور اس طرح گھل مل کر اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔
- ٦...... چونکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی تنظیموں کی ایک کانفرنس میں جو ٦ تا ١٠ اپریل ١٩٧٤ء
مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر کی ١٤٠ مسلم تنظیموں اور انجمنوں نے شرکت کی۔ اس میں کامل اتفاق رائے سے یہ فیصلہ صادر کر دیا گیا کہ قادیانیت جس کے پیروکار دھوکہ دہی سے اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ کہتے ہیں۔ دراصل اس فرقہ کا مقصد اسلام اور مسلم دنیا کے خلاف تخریبی کاروائیاں کرنا ہے۔ اس لئے اب یہ اسمبلی اعلان کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار خواہ انہیں کسی نام سے پکارا جاتا ہو مسلمان نہیں ہیں اور یہ کہ اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو دستور میں ضروری ترامیم کے ذریعے عملی جامہ پ
مزید غور و خوض مکمل کر لیا جائے جس کا تعین کمیٹی کرے گی۔
- ٣...... اس غور و خوض کے نتیجہ میں شہادتیں قلمبند کرنے اور دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے
بعد کمیٹی اپنی سفارشات ایوان میں پیش کرے گی۔
متفقہ (تاریخی) قرارداد کا متن
جسے ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو قومی اسمبلی نے منظور کیا۔
قومی اسمبلی کے کل ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی متفقہ طور پر طے کرتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات قومی اسمبلی کو غور اور منظوری کے لئے بھیجی جائیں۔
کل ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی اپنی رہنما کمیٹی اور ذیلی کمیٹی کی مدد سے اس کے سامنے پیش یا قومی اسمبلی کی طرف سے اس کو بھیجی گئی قراردادوں پر غور کرنے اور دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ، انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو حسب ذیل سفارشات پیش کرتی ہے:
- ١...... کہ پاکستان کے آئین میں حسب ذیل ترمیم کی جائے۔
- الف...... دفعہ ١٠٦ (٣) میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو
احمدی کہلاتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔
- ب...... دفعہ ١٠٦ میں ایک نئی شق کے ذریعے غیر مسلم کی تعریف درج کی جائے۔
مذکورہ بالا سفارشات کے نفاذ کے لئے خصوصی کمیٹی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور شدہ مسودہ قانون منسلک ہے۔
- ٢...... کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٢٩٥ الف میں حسب ذیل تشریح کی جائے۔
تشریح
کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق نمبر ٣ کی تشریحات کے مطابق حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل کرے یا تبلیغ کرے۔ وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہوگا۔
- ٣...... کہ متعلقہ قوانین مثلاً قومی رجسٹریشن ایکٹ ١٩٧٣ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد مجریہ
١٩٧٤ء میں نتیجتاً قانونی اور ضابطہ کی ترامیم کی جائیں۔
- ٤...... کہ پاکستان کے تمام شہریوں خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، کے جان
٥٩
و مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے۔
- ١...... عبدالحفیظ پیرزادہ ٢...... مولانا مفتی محمود ٣...... مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی
- ٤...... پروفیسر غفور احمد ٥...... غلام فاروق ٦...... چودھری ظہور الہی
- ٧...... سردار مولا بخش سومرو
آئین پاکستان کی متعلقہ (ترمیم شدہ) دفعات
آرٹیکل نمبر ٢٦٠
جو شخص خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل ایمان نہیں لاتا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کسی بھی انداز میں نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی نبوت یا مذہبی مصلح پر ایمان لاتا ہے۔ وہ از روئے آئین و قانون مسلمان نہیں ہے۔
آرٹیکل نمبر ١٠٦ کلاز نمبر ٣
میں طبقوں کے لفظ کے بعد قادیانی یا لاہوری گروپ کے اشخاص جو ”احمدی“ کہلاتے ہیں کے جملے کا اضافہ کر دیا گیا ہے اب کلاز نمبر ٣ کی صورت یہ ہوگی : ”صوبائی اسمبلیوں میں بلوچستان، پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ اور سندھ کی کلاز نمبر ١ میں دی گئی نشستوں کے علاوہ ان اسمبلیوں میں عیسائی، ہندوؤں، سکھوں، بدھوؤں، پارسیوں اور قادیانیوں یا شیڈول کاسٹس کے لئے اضافی نشستیں ہوں گی۔“
آئین میں دوسری ترمیم کے بل کا متن
یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں درج اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔ لہٰذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔
مختصر عنوان اور آغاز نفاذ
- ١...... یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوم) ایکٹ ١٩٧٤ء کہلائے گا۔
- ٢...... یہ ایکٹ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔
آئین کی دفعہ ١٠٦ میں ترمیم
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں جسے بعد ازیں آئین کہا جائے گا۔ دفعہ ١٠٦
کی شق نمبر ٣ میں لفظ اشخاص کے بعد الفاظ اور قوسین اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت اشخاص جو اپنے آپ کو ’احمدی‘ کہتے ہیں، درج کئے جائیں گے۔
آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ترمیم
دفعہ ٢٦٠ کی شق نمبر ٢ کے بعد حسب ذیل نئی شقیں درج کی جائیں گی۔
- ٣...... جو شخص حضرت محمد ﷺ جو آخری نبی ہیں کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط
طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔
بیان و اغراض
جیسا کہ تمام ایوان کی خصوصی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق قومی اسمبلی میں طے پایا ہے کہ اس بل کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طرح ترمیم کرنا ہے تاکہ ہر وہ شخص جو حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے ۔ اسے غیر مسلم قرار دیا جائے۔
عبدالحفیظ پیرزادہ وزیر انچارج
شیخ اکبرؒ اور ختم نبوت
علامہ رحمت اللہ ارشد مدظلہ، قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی!
نبوت قادیانیہ سے وابستگان اپنے سراب نما دعوے کی تائید میں بہت سے بزرگان دین و ائمہ مجتہدین کے اقوال پیش کر کے خود ساختہ مطالب پیدا کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ عالم اسلام سے تعلق رکھنے والے ارباب بصیرت سمجھ چکے ہیں کہ اسلاف کے اقوال و آثار پیش کرنے سے ان کی فقید المثال شخصیت پر داغ لگ جانے کا احتمال تو ہے لیکن اسلامیان عالم کے لئے طمانیت وسکون کا سامان موجود نہیں ہو سکتا۔ چونکہ سیزدہ صد سال میں نبوت کی یہ موشگافیاں ایک جدت پسندانہ تعبیر تھیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کے لئے ایک ضروری اور لابدی امر تھا کہ وہ اپنے جرم کی اہمیت کو معدوم یا کم از کم کرنے کے لئے بہت سے سلف صالحین کے اقوال اپنی تائید میں
پیش کر کے حلقہ بگوشان آقائے مدنی کے لئے کسی قسم کا اطمینان پیدا کریں۔ ہر چند ایسی تاویلیں اور عبارات کی غلط تعبیریں قرآن کو حدیث، تفسیر وفقہ اور ادب وعربیت سے نابلد کو مطمئن کر سکتی ہے۔ لیکن میکدۂ حجاز کے سرشاروں اور سرمستوں کے لئے کوئی تسکین بہم نہیں پہنچتی۔
سرزمین ہند کی عربیت ناشناسی اور علوم دینیہ کی لاعلمی نے ان دجل وتلبیس کے علمبرداروں کے حوصلے اور بھی بلند کر دیئے۔ ایک لاعلم کی بے چارگی اور بے کسی کے لئے لاعلمیت ہی بلائے بے درمان ہے۔ اس کو مزید غلط فہمیوں میں مبتلا کرنے کے لئے زیادہ محنت ومشقت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ شخصیت سے مرعوب ہونے والی قوم صرف شخصیت کے نام سے مطمئن ہو جاتی ہے۔ خواہ اس بزرگ کی سلیس عبارت ہی جھوٹے مدعی کی ایستادہ بنیاد کو دھڑام سے کیوں نہ گرا دے۔
اسی سلسلہ میں حضرت شیخ الشیوخ محی الدین ابن عربی کا نام پیش کر کے یہ دھوکہ دینے کی سعی کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اجزائے نبوت کے قائل ہیں اور ان کے نزدیک ختم نبوت کے وہی معنی ہیں جو مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں۔
جہاں تک ہمارا تجربہ ہے اس مسئلہ میں نہ صرف عوام الجھے ہیں بلکہ خواص کا بھی ایک بہت بڑا گروہ اس کی پیچیدگی کو نہیں سلجھا سکا۔ چونکہ شیخ ممدوح سے عقیدت کا تعلق نہ صرف علمائے دین کو ہے بلکہ سالکان طریقت اور جادہ پیمایان معرفت بھی ایک خاص عقیدت رکھتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اس مسئلہ میں شیخ کی صاف وصریح عبارات پیش کر کے امت مرحومہ کو ان دینی ڈاکوؤں سے بچنے کی تلقین کریں۔
فتوحات مکیہ
شیخ کی مؤلفہ کتاب ہے۔ حقیقت میں شیخ کا یہی علمی شاہکار ان کی بلند پایہ علمیت کی بین دلیل ہے اور یہی وہ کتاب ہے کہ جس کو سبقاً سبقاً پڑھنا سالک حضرات اپنے لئے فخر ومباہات سمجھتے ہیں۔ شیخ اپنی اسی مشہور تصنیف میں لکھتے ہیں:
”اور جان لو! ہمیں (یعنی اولیاء اللہ) اللہ تعالیٰ سے صرف الہام ہوتا ہے۔ وحی قطعاً نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ وحی کا دروازہ آں حضرت ﷺ کی وفات سے بند ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے تو وحی موجود تھی۔ البتہ کسی خبر الٰہی نے ہمیں یہ نہیں بتلایا کہ آپ ﷺ کے بعد بھی وحی کا اجراء باقی رہے گا۔ جیسے قرآن میں فرمایا کہ: ’یقیناً آپ کی طرف وحی کی گئی اور آپ ﷺ سے پہلے نبیوں کی طرف بھی۔‘ اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے بعد وحی کے متعلق نہیں فرمایا۔“
٦٢
عبارت مذکور میں حضرت شیخ نے نہ صرف اپنا عقیدہ بتایا بلکہ اپنے اس عقیدے پر قرآن کی ایک آیت بھی بطور دلیل پیش کی۔ اور نہایت وضاحت سے بیان فرمایا کہ اولیاء اللہ کے قلوب نہ صرف الہام سے نوازے جاتے ہیں مگر وحی محض نبیوں اور رسولوں پر ہوتی ہے اور نبوت و رسالت کا دروازہ رسول خدا کی ذات گرامی پر بند ہو چکا۔ اب وحی و رسالت کا مدعی کذاب ہے۔ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”پس آج کے دن نبوت کے بند ہو جانے کے بعد سوائے عرفان الہی اور کچھ باقی نہیں ۔“
(فتوحات مکیہ ج ٣ ص ٣٩)
ایک اور جگہ انسداد نبوت کے متعلق ایک واضح طریق پر فرماتے ہیں: ”اور چونکہ نبوت بکلی مسدود تھی۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے انقطاع رسالت پر ہی اکتفاء نہیں کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ امت میں نبوت کے باقی رہنے کا وہم گزر جائے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت دونوں منقطع ہوگئیں۔ اب میرے (آنحضرت ﷺ کے ) بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی رسول“
(فتوحات ج ٣ ص ٤٨)
اس عبارت میں شیخ ممدوح نے حدیث نبوی سے استدلال کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ رسالت و نبوت دونوں ختم ہوگئیں۔ اب نہ کوئی نبی ہو سکتا ہے اور نہ رسول اور ساتھ ہی مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر نہایت ہی واضح الفاظ میں فرمایا کہ نبوت کے باقی رہنے کا وہم کرنا بھی ایک بہت بڑے شرعی جرم کے ارتکاب کے مترادف ہے۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کا منشاء بھی یہی بتلایا تا کہ امت مسلمہ کبھی آئندہ کے لئے نبوت کی بقاء واجراء کے وہم میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اگر صرف یہی کہا جاتا کہ ”قد انقطع الرسالة“ تو پھر وہم کا امکان موجود تھا کہ شاید نبوت باقی ہو مگر حضور کے اس ارشاد نے کہ ”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا نبی ولا رسول “ کی نص صریح نے اس وہم کا امکان بھی رفع کردیا۔ شیخ نے ایک اور مقام پر اختصار مگر نہایت صراحت سے فرمایا کہ نبوت کا دروازہ بالکل بند ہے۔
(فتوحات ج ٢ ص ٢٦٢)
اولیاء اللہ کی رفعت مرتبت وعلو منزلت کو بیان کرتے ہوئے مسئلہ ختم نبوت کی تشریح یوں فرمائی کہ: ”پس اولیاء کرام، انبیائے عظام کے ساتھ خلافت خاصہ نبویہ میں تو لاحق ہوتے ہیں مگر وہ رسالت ونبوت میں لاحق نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ نبوت و رسالت کا دروازہ مسدود ہے۔“
(فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٣٠٨)
٦٣
حضرت شیخ کی اس تصریح نے صاف صاف بتلایا کہ اولیاء کرام صرف خلافت خاصہ نبویہ کے مستحق ہوتے ہیں مگر یہ ممکن نہیں کہ نبوت ورسالت میں لاحق ہو سکیں۔ اس لئے کہ نبوت ورسالت کا دروازہ اب بند ہو چکا ہے۔ اب الحاق کا امکان کہاں؟ ان تمام تصریحات نے ہر جھوٹے مدعی کا منہ بند کر دیا اور اپنی نبوت کے ڈھونگ رچانے کے لئے شیخ جیسی اولوالعزم شخصیت کو بدنام کرنا اپنی صداقت و دیانت کا دیوالیہ نکالنا نہیں تو اور کیا ہے۔
مشت نمونہ از خروار کے طریق پر مسئلہ ختم نبوت میں شیخ کی پوزیشن کو واضح کیا گیا ہے۔ ورنہ اس عقیدہ میں اسلاف کو قطعاً انکار نہیں۔ بلکہ ان کی تمام تر زندگی اس عقیدہ کی اشاعت میں بسر ہوئی۔ انہی حقائق کے پیش نظر شیخ ممدوح صوفیائے کرام کی باقی ماندہ جماعت کا عقیدہ بھی تصریحاً توضیحاً بیان فرماتے ہیں۔
اور ہمارے شیخ العباس ابن العریف الصناجی اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ تو نے نبوت ورسالت کے دروازے کو ہم پر بند کر دیا لیکن ولایت کے دروازہ کو بند نہیں فرمایا۔
”اے اللہ ولایت کے ہر اس بلند رتبہ کو جو تو نے اپنے بلند درجہ ولی کے لئے متعین اور مقرر فرمایا ہے تو پھر مجھے وہی ولی بنادے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ یہ وہ حق پسند لوگ ہیں جو ممکن چیز کی استدعا کرتے ہیں۔“
شیخ العباس کی شخصیت اور مقام ظاہر کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ حضرت شیخ ابن عربی انہیں شیخنا (ہمارے شیخ) کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ ختم نبوت کا عقیدہ ایک اساسی اور اصولی عقیدہ ہے۔ اس پر عوام سے لے کر خواص تک سب کا اجماع ہے۔ صوفیائے کرام خصوصیت سے اس عقیدہ پر نہ صرف زور دیتے ہیں بلکہ اپنی خلوت وجلوت میں اس پر ایمان وایقان رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنی دعاؤں میں بھی اس عقیدہ کا ورد کیا کرتے ہیں اور شیخ ابن عربی نے یہ بھی فرمایا کہ یہ دعا حق پسندی پر مبنی ہے اور یہ بھی تصریحاً فرما دیا کہ ولایت کی استدعا ممکن کی تلاش ہے۔ مگر نبوت غیر ممکن اور محال ہے۔
دلم گلہ ہمیں دارد کہ مختصر گفتم
...... ☆ ...... ٦٤
انا خاتم النبیین لانبی بعدی
رپورٹ شعبہ تبلیغ
مجلس احرار اسلام
ہند امرتسر
(از جنوری ١٩٣٩ء تا یکم اکتوبر ١٩٤١ء)
حضرت مولانا عبدالکریم مباہلہ رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عرض حال
- ١....... ہمارا ارادہ تھا کہ شعبہ تبلیغ احرار اسلام ہند کی مکمل رپورٹ شائع کی جائے۔ جس میں
تمام معطی حضرات کے اسماء گرامی معہ نمبر رسید وغیرہ درج کئے جائیں۔ مگر کاغذ کی موجودہ گرانی ہمیں اس درجہ مفصل رپورٹ شائع کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
- ٢....... شعبہ تبلیغ کا اہم ترین مقصد دفتر شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان کی سرپرستی ہے۔
بالفاظ دیگر ہمارا مقابلہ اس گروہ سے ہے جو محض باطل کی اشاعت کے لئے لاکھوں روپیہ سالانہ خرچ کرتا ہے۔
ہماری خواہش ہے کہ شعبہ تبلیغ کو اس حد تک کامیاب ہونا چاہئے کہ اس کی رپورٹ کے اعداد و شمار اس امر کا یقین دلائیں کہ ہمارا ادارہ قادیانی مفاسد کے انسداد کی طاقت رکھتا ہے۔ اس خواہش کی تکمیل کے انتظار میں اب تک رپورٹ شائع نہ کی گئی۔ مگر اب دوست و احباب کو مزید توجہ دلانے کے لئے اس کو شائع کیا جاتا ہے۔ امید ہے کہ ہمدردان تحریک رپورٹ مطالعہ فرما کر نہ صرف خود توجہ فرمائیں گے۔ بلکہ اپنے حلقہ احباب میں معاونین کی تعداد بڑھائیں گے۔
- ٣....... ایک شہر میں دفتر کو پانچ روپیہ کی وصولی کے لئے جو خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ وہی
خرچ پندرہ یا بیس روپیہ کی وصولی پر ہوگا۔ اس لئے آمدنی کو زیادہ اور خرچ میں کفایت کی صرف یہی صورت ہے کہ احباب کرام ممبران میں اضافہ فرمانے کی کوشش فرمائیں۔
مجلس احرار اسلام کی عظیم الشان مذہبی خدمت
مجلس احرار اسلام ہند کی سیاسی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ مذہبی میدان میں بھی مجلس احرار اسلام نے شعبہ تبلیغ کی بنیاد قائم کر کے چند سالوں میں دلائل و براہین کے ذریعہ دشمن کو وہ شکست دی ہے جس کی نظیر گذشتہ نصف صدی میں نہیں مل سکتی۔
٢
٢١
قادیانی گروہ نے ابتداءً مناظرہ و مبا اپنے جال کا شکار بنایا۔ آہستہ آہستہ ان کو قادیان تربیت کچھ ایسی اسکیم کے ماتحت کی گئی کہ ان لوگو فرض قرار دے لیا۔
باوجودیکہ یہ گروہ ابتداء اسلام کے م اسلام سے اس قدر دوری پیدا کر دی گئی کہ انہیں ک جائیداد و املاک چھیننا، دن رات مقدمہ بازی، ا
مسلمانوں کی حقیقی غم خوار جماعت ہند کے ماتحت قادیان میں اپنا ایک دفتر قائم کر ہر مسلمان فخر کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قادیانی جو مناظرہ و م چھپانے کے لئے جگہ تلاش کرتے ہیں۔ صرف احرار اسلام کے وقار کو ختم کرنے کے لئے نہ صر مخالفت کر کے دانستہ طور پر مسلمانوں سے دشمن کی سچی خدمت کے لئے اس جماعت کو سلامتی
اغراض
شعبہ تبلیغ
- ١....... ہندوستان اور بیرون ہند میں اسل
- ٢....... مسلمانوں میں تبلیغ اسلام کا جذبہ
جماعت تیار کرنا۔
قادیانی گروہ نے ابتداء مناظرہ و مباحثہ کا میدان گرم کر کے بعض سادہ لوح لوگوں کو اپنے جال کا شکار بنایا۔ آہستہ آہستہ ان کو قادیان میں ہجرت کرنے کی ترغیب دی۔ جہاں ان کی تربیت کچھ ایسی اسکیم کے ماتحت کی گئی کہ ان لوگوں نے قانون شکنی اور دہشت انگیزی کو اپنا مذہبی فرض قرار دے لیا۔
باوجودیکہ یہ گروہ ابتداء اسلام کے مقدس نام پر جمع کیا گیا۔ مگر چند سال بعد ان میں اسلام سے اس قدر دوری پیدا کر دی گئی کہ انہیں کلمہ گو مسلمانوں کا بائیکاٹ، ان کو زدوکوب، ان کی جائیداد و املاک چھیننا، دن رات مقدمہ بازی، انتہاء یہ کہ ان کا قتل بھی کار ثواب نظر آنے لگا۔
مسلمانوں کی حقیقی غم خوار جماعت احرار نے اس فتنہ کو بھانپا اور شعبہ تبلیغ احرار اسلام ہند کے ماتحت قادیان میں اپنا ایک دفتر قائم کر کے وہ کار نمایاں سر انجام دیا، جس پر آج بجا طور پر ہر مسلمان فخر کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قادیانی جو مناظرہ و مباحثہ کے انتہائی شوقین نظر آیا کرتے تھے آج منہ چھپانے کے لئے جگہ تلاش کرتے ہیں۔ صرف اسی ایک عظیم الشان خدمت کا نتیجہ ہے کہ مجلس احرار اسلام کے وقار کو ختم کرنے کے لئے نہ صرف قادیانی بلکہ بعض نادان دوست بھی مجلس احرار کی مخالفت کر کے دانستہ طور پر مسلمانوں سے دشمنی کرتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی سچی خدمت کے لئے اس جماعت کو سلامت رکھے۔
اغراض و مقاصد
شعبہ تبلیغ احرار اسلام ہند
- ١...... ہندوستان اور بیرون ہند میں اسلام کے مقدس اصولوں کی اشاعت کرنا۔
- ٢...... مسلمانوں میں تبلیغ اسلام کا جذبہ صادق پیدا کرنا اور مبلغین اسلام کی ایک سرگرم کارکن
جماعت تیار کرنا۔
٣
- ٣....... فتنہ قادیان کے تباہ کن اثرات سے تعلیم اسلام کو محفوظ رکھنا اور مسلمانوں کو ان کے
دجل سے بچانا۔
توضیح ...... شعبہ تبلیغ مجلس مرکزیہ احرار اسلام کو سیاسیات کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا۔ بلکہ ایک خالص تبلیغی اور مذہبی ادارہ ہوگا۔
مندرجہ بالا مقاصد کی تکمیل کے لئے ملک کے طول وعرض میں سینکڑوں مقامات پر مبلغین شعبہ تبلیغ احرار اسلام ہند نے تبلیغی دورہ کیا اور اپنے مواعظ حسنہ سے لاکھوں اشخاص کو مستفید کیا۔ جن مقامات پر دفتر کی معرفت تبلیغی دورہ یا کانفرنس کا انتظام کیا گیا وہاں کے احباب دفتر شعبہ تبلیغ کی خدمات اور اپنی سہولت سے واقف ہیں۔ تبلیغ واشاعت اسلام کے لئے عرصہ زیر رپورٹ میں مبلغین شعبہ تبلیغ کی مساعی جمیلہ نہایت حوصلہ افزا ہیں۔
مبلغین شعبہ تبلیغ احرار اسلام ہند
جن اصحاب نے عرصہ زیر رپورٹ میں مستقل یا غیر مستقل طور پر بحیثیت مبلغ کام کیا۔ ان کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں:
(١) مولانا عبدالغفار صاحب غزنوی (٢) خواجہ عبدالرحیم صاحب عاجز (٣) مولانا لال حسین صاحب اختر (٤) حکیم غوث محمد صاحب جام پوری (٥) مولوی محمد امین صاحب (٦) مولانا محمد حیات صاحب (٧) حافظ الہ یار صاحب (٨) مولوی محمد اسماعیل صاحب (٩) حکیم عبدالرحیم صاحب (١٠) محمد جان صاحب نسیم بی۔اے۔
اسماء گرامی محصلین
(١) حافظ عبدالرحیم صاحب حیدر (٢) شیخ علی بخش صاحب (٣) حاجی محمد حسن صاحب (٤) میاں محمد صاحب (٥) مولوی عبدالمجید صاحب (٦) مولوی عبدالحمید صاحب (٧) مولوی عبدالصمد صاحب (٨) سید طیب شاہ صاحب (٩) حاجی مظفر علی صاحب (١٠) مولوی محمد اسمعیل صاحب مکھیا نوی (١١) چوہدری اللہ دتہ صاحب۔
٤
دفتر شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان
محترم مولانا عنایت اللہ صاحب چشتی
آپ ہیں۔ آپ عرصہ ٧ سال سے جس تندہی ، خلوص رہے ہیں اس کے لئے آپ مستحق مبارک باد ہیں۔ مقدمات کی پیروی، قادیانی سیاست کا مقابلہ، آپ کبھی فرصت مل جائے تو آپ اپنے علاقہ میں تبلیغی د آپ کا ماتحت عملہ بھی آپ کے نقش قدم
گوشوارہ آمد
از جنوری ١٩٣٩ء تا
روپیہ آنہ پائی ٢٥٥٦ ......١٣ ......٩ ٣٨٨ ......١ ......٠ ٢٩ ......١٣ ......٠ ٢٥٧٣ ......١٣ ......١٠ ٢٢٥٣ ......١٣ ......٠ ١ ......٠ ......٠ ١ ......٠ ......٠ ٦ ......١١ ......٠ ٢٣٦ ......٩ ......٣ ٤٥١ ......١٥ ......٠
دفتر شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان
محترم مولانا عنایت اللہ صاحب چشتی انچارج دفتر قادیان کا خلوص و ایثار اپنی مثال آپ ہے۔ آپ عرصہ ٧ سال سے جس تندہی، محنت ومشقت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اس کے لئے آپ مستحق مبارک باد ہیں۔ مظلوموں کی امداد، قادیانی مظالم کا انسداد، مقدمات کی پیروی، قادیانی سیاست کا مقابلہ آپ کو دن رات فرصت نہیں دیتا۔ اگر اس کام سے کبھی فرصت مل جائے تو آپ اپنے علاقہ میں تبلیغی دورہ فرماتے ہیں۔
آپ کا ماتحت عملہ بھی آپ کے نقش قدم پر ہے۔ مدرسہ نہایت کامیابی سے جاری ہے۔
گوشوارہ آمد و خرچ
از جنوری ١٩٣٩ء تا یکم اکتوبر ١٩٤١ء
خرچ روپیہ آنہ پائی دفتر شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان ٢٥٥٦ ....... ١٣ ....... ٩ تبلیغی لٹریچر وطباعت رسید و فارم بلز ٣٨٨ ....... ١ ....... ٠ شعبہ تبلیغ احرار اسلام بٹالہ ٢٩ ....... ١٣ ....... ٠ تنخواہ مبلغین ومحصلین ٢٥٧٣ ....... ١٣ ....... ١٠ سفر خرچ مبلغین ومحصلین ٢٢٥٣ ....... ١٣ ....... ٠ بنام امرت بینک امرتسر ١ ....... ٠ ....... ٠ بنام عبدالحمید صاحب لوہ گڈھ ١ ....... ٠ ....... ٠ امداد مستحقین ٦ ....... ١١ ....... ٠ ڈاک خرچ ،سٹیشنری، بلاک، منادی، بٹہ ومتفرق ٢٣٦ ....... ٩ ....... ٣ کرایہ دفتر ومتعلقہ دفتر بابت سال ١٩٣٩ء، ١٩٤٠ء ٣٥١ ....... ١٥ ....... ٠ یکم جنوری ١٩٤١ء سے کرایہ دفتر تخفیف میں لایا گیا
٥
بنام چوہدری اللہ دتہ صاحب محصل پیشگی ٤ ...... ١٢ ...... ٠ مہمان کھاتہ مشمولہ مہمانان کانفرنس ستمبر ١٩٤٠ء ٩٦ ...... ١٣ ...... ٠ میزان خرچ ٨٥٠٠ ...... ٨ ...... ١٠
آمد روپیہ آنہ پائی آمد از مستقل و غیر مستقل معاونین بابت ١٩٣٩ء ٩٣٧ ...... ٦ ...... ٦ آمد از مستقل و غیر مستقل معاونین بابت ١٩٤٠ء ٤٨٢٨ ...... ٨ ...... ٣ آمد از مستقل و غیر مستقل معاونین بابت ١٩٤١ء ٢٥٠٢ ...... ١٣ ...... ٦ قرض از مختلف اصحاب ٢٣٣ ...... ١ ...... ١ کل میزان آمد ٨٥٠١ ...... ١٣ ...... ٤ کل خرچ ٨٥٠٠ ...... ٨ ...... ١٠ موجود ١ ...... ٤ ...... ٦
برادران اسلام سے اپیل
ہمارے کام سے پوری ہمدردی تو ان اصحاب کو ہو سکتی ہے جن کو کبھی قادیان تشریف لانے کا اتفاق ہوا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مظالم کو احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہے۔ جو صاحب ایک مرتبہ قادیان میں قادیانی مظالم کی ایک جھلک بھی ملاحظہ فرمالیں ۔ وہ کبھی اپنی امداد سے دریغ نہیں کریں گے۔ ہمارے دوستوں کو ماہوار مستقل اعانت کی عادت نہیں۔ مگر مستقل ادارے بغیر مستقل اعانت کبھی جاری نہیں رہ سکتے۔
معاونین کا شکریہ
عرصہ زیر رپورٹ تقریباً تین سال میں جن اصحاب نے شعبہ تبلیغ کی مستقل یا غیر مستقل امداد فرمائی، وہ ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اموال میں برکت عطاء فرمائیں۔ امید ہے کہ ہمارے مستقل معاونین مزید ممبر پیدا کر کے اور غیر مستقل معاونین اپنی امداد کو مستقل فرما کر ثواب دارین حاصل کریں گے۔
نیاز مند: عبدالکریم مباہلہ!
٦
خاتم النبیین
لا نبی بعدی
شعبہ تبلیغ مرکزیہ احرار اسلام ہ
سالانہ روئیداد و گو
(یکم اپریل ١٩٤٥ء، لغایت
الحاج میاں قمر الد
محصل پیشگی نفرنس ستمبر ١٩٤٠ء
زمین بابت ١٩٣٩ء زمین بابت ١٩٤٠ء زمین بابت ١٩٤١ء
قادیان تشریف ہے۔ جو صاحب ی امداد سے دریغ قل ادارے بغیر
قل یا غیر مستقل عطاء فرمائیں۔ امداد کو مستقل جلد !
خَاتَمَ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
شعبہ تبلیغ مرکزیہ احرار اسلام ہند قادیان گورداسپور کی
سالانہ روئیداد و گوشوارہ آمد و صرف
(یکم اپریل ١٩٤٥ء، لغایت ٣١/ مارچ ١٩٤٦ء)
الحاج میاں قمر الدین اچھروی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
توضیح
شعبہ تبلیغ، مجلس احرار اسلام کا ملکی سیاسیات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ خالص تبلیغی ادارہ ہے۔ اس کے مبلغین ہر مذہبی جماعت کی سٹیج پر وعظ فرماتے ہیں۔ احباب جلسہ وغیرہ کرتے وقت خاص خیال رکھیں۔
اغراض و مقاصد
سرکار دوعالم ﷺ کے تاج ختم نبوت کو نقصان پہنچانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے مصنوعی نبوت کا ڈھونگ رچا کر اسلام کی توہین اور شعائر اسلام کی بے حرمتی کی اور ہر مسلمان کلمہ گو کو مرتد قرار دیا۔ اس فتنہ عظیم کا انسداد انفرادی طور پر ہوتا رہا۔ لیکن مرزائیت کے انسداد اور تبلیغ اسلام کے لئے ایک مستقل تبلیغی نظام کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے برسوں سے مجلس احرار اسلام ہند نے شعبہ تبلیغ قائم کیا ہے۔ جس کے ماتحت مبلغین رد مرزائیت اور تبلیغ اسلام کے فرائض ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ روئیداد ہٰذا کو مکمل طور پر مطالعہ کرنے کے بعد ناظرین کرام پر بخوبی واضح ہو جائے گا کہ شعبہ تبلیغ نے کس ماحول میں کام کی ابتداء کی ہے۔ اور آج کس منزل پر پہنچ گیا ہے۔ شعبہ ہٰذا کے اغراض و مقاصد حسب ذیل قرار دیئے گئے ہیں۔
- ١...... ہندوستان اور بیرون ہند میں اسلام کے مقدس اصولوں کی اشاعت کرنا۔
- ٢...... مسلمانوں میں تبلیغ اسلام کا جذبہ صادق پیدا کرنا اور مبلغین کی ایک سرگرم عمل اور
کارکن جماعت تیار کرنا۔
- ٣...... فتنہ قادیان (مرزائی تحریک) کے تباہ کن اثرات سے تعلیم اسلامی کو محفوظ رکھنا اور
مسلمانوں کو ان کے دجل و فریب سے بچانا۔
نوٹ ...... مبلغین شعبہ ہٰذا جماعتی پروگرام کے علاوہ مختلف تبلیغی انجمنوں کے اجلاس میں بھی شمولیت کر کے تعلیمات اسلامی اور تردید مرزائیت کے فرائض انجام دے سکتے ہیں۔
معذرت
چونکہ جنگی حالات میں کاغذ کی کمیابی بلکہ نایابی زبردست رکاوٹ رہی اور انہی مجبوریوں
٢
کی وجہ سے پچھلی روئیداد شائع نہ کی جاسکی۔ اس لیے واحباب اور حضرات معاونین کرام سے معذرت خواہ نیز اب تک حسب ضرورت کاغذ دستیا اسمائے گرامی بمعہ نمبرات رسید وغیرہ مفصل طور پر آئندہ کے لئے کاغذ ملنے کی صورت میں مفصل س معاونین کرام کے اسمائے گرامی بمعہ نمبرات رسید و
عرض حال
جیسا کہ اغراض و مقاصد میں عرض کیا احرار اسلام قادیان کی سرپرستی اور استیصال مرزائیہ ہے جو محض باطل کی اشاعت اور اسلامی لباس می سالانہ خرچ کرتا ہے۔
ہماری خواہش ہے کہ شعبہ تبلیغ ہٰذا کو اس کے اعداد و شمار اس امر کا یقین دلائیں کہ ہمارا ادارہ ہے۔ اسی خواہش کی تکمیل کے لئے دوست واحبا طرف مرکوز کرانے کے لئے یہ چند سطور ہدیہ ناظر مطالعہ فرما کر نہ صرف خود توجہ فرمائیں گے بلکہ بڑھائیں گے۔
قادیان میں فرعونی بربریت کا دور دورہ
یوں تو ارباب بصیرت سے مخفی نہیں کہ کشمکش الحاد و ارتداد۔ بے دینی اور لامذہبیت کی آ میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ خصوصاً قصبہ قادیان می جس جگہ پر نبی کریم ﷺ کی پیشینگوئی کے عین م دعویٰ کر کے تاج ختم نبوت پر ناپاک حملہ کیا۔ آنحضرت ﷺ کی روحانیت سے (العیاذ باللہ) بتائی۔ اپنے مریدوں کو صحابہ کرام کا خطاب دیا۔ کو ام المومنین کہلوایا وغیرہ وغیرہ۔ غرض کہ تمام خص
کی وجہ سے پچھلی روئیداد شائع نہ کی جاسکی۔ اس لئے کارکنان شعبہ تبلیغ احرار اسلام جملہ دوست و احباب اور حضرات معاونین کرام سے معذرت خواہ ہیں۔
نیز اب تک حسب ضرورت کاغذ دستیاب نہ ہو سکنے کی وجہ سے معاونین کرام کے اسمائے گرامی بمعہ نمبرات رسید وغیرہ مفصل طور پر شائع کرنے سے ہم قاصر رہے۔ امید ہے کہ آئندہ کے لئے کاغذ ملنے کی صورت میں مفصل سہ ماہی رپورٹ شائع کی جائے گی جس میں تمام معاونین کرام کے اسمائے گرامی بمعہ نمبرات رسید و رقومات وغیرہ بالتفصیل درج ہوں گے۔
عرض حال
جیسا کہ اغراض و مقاصد میں عرض کیا گیا ہے۔ شعبہ تبلیغ کا اہم ترین مقصد شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان کی سرپرستی اور استیصال مرزائیت ہے۔ کیونکہ ہمارا مقابلہ ایک ایسے گروہ سے ہے جو محض باطل کی اشاعت اور اسلامی لباس میں فتنہ ارتداد پھیلانے کے لئے لاکھوں روپے سالانہ خرچ کرتا ہے۔
ہماری خواہش ہے کہ شعبہ تبلیغ ہذا کو اس حد تک کامیاب بنایا جائے کہ اس کی رپورٹ کے اعداد و شمار اس امر کا یقین دلائیں کہ ہمارا ادارہ قادیانی مفاسد کے انسداد کی پوری طاقت رکھتا ہے۔ اسی خواہش کی تکمیل کے لئے دوست و احباب اور جملہ مذہب پرور مسلمانوں کی توجہ اس طرف مرکوز کرانے کے لئے یہ چند سطور ہدیہ ناظرین ہیں۔ امید ہے کہ ہمدردان اسلام یہ روئیداد مطالعہ فرما کر نہ صرف خود توجہ فرمائیں گے بلکہ اپنے حلقہ احباب میں بھی معاونین کی تعداد بڑھائیں گے۔
قادیان میں فرعونی بربریت کا دور دورہ اور مجاہدین اسلام کی استقامت کا نتیجہ
یوں تو ارباب بصیرت سے مخفی نہیں کہ اس کفر و الحاد کے پرفتن دور میں جبکہ حق و باطل کی کشمکش الحاد و ارتداد، بے دینی اور لامذہبیت کی آندھیوں نے ہر طرف سے نور اسلام کو مدھم کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ خصوصاً قصبہ قادیان عرصہ دراز سے کفر و ارتداد کا پورا اڈا بن گیا ہے۔ جس جگہ پر نبی کریم ﷺ کی پیشینگوئی کے عین مطابق مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹی پیغمبری کا دعویٰ کر کے تاج ختم نبوت پر ناپاک حملہ کیا۔ چنانچہ اپنی تصنیفات کفریہ میں اپنی روحانیت کو آنحضرت ﷺ کی روحانیت سے (العیاذ باللہ) بڑھ کر بتایا۔ مسجد اقصیٰ کے مقابل میں مسجد اقصیٰ بنائی۔ اپنے مریدوں کو صحابہ کرام کا خطاب دیا۔ قادیان کو رسول کی تخت گاہ قرار دیا۔ اور اپنی بیوی کو ام المومنین کہلوایا وغیرہ وغیرہ۔ غرض کہ تمام خصوصیات نبوی ﷺ پر ڈاکہ مارا۔
٣
ناظرین کرام کو یہ سن کر حیرانگی ہوگی کہ یہ جھوٹا مدعی نبوت دراصل ایک دیہاتی زمیندار کا لڑکا تھا جو ابتداء کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازمت کرتا تھا۔ پیٹ کی دوزخ کو بھرنے کے لئے امتحان مختاری میں بیٹھا۔ مگر بدقسمتی سے فیل ہو کر تلاش روزگار میں بھٹکتا ہوا ادھر ادھر دوستوں اور یاروں سے صلاح ومشورہ کرتا رہا۔ آخر کار مسلمانوں کی سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تبلیغ کے نام پر چندہ جمع کرنا شروع کیا اور ترقی کرتا ہوا مجدد دین (مجدد ہونے) کا دعویٰ دار بن بیٹھا۔ چونکہ تازیانہ بے روزگاری کے مارے ہوئے اسی قماش کے چند اور ساتھی بھی اسے مل گئے۔ لہذا رفتہ رفتہ دین اسلام میں رخنہ اندازی کرتا ہوا رحمت للعالمین، خاتم النبیین ﷺ کے قصر ختم نبوت پر گولہ باری شروع کی۔ اور طرح طرح کے باطل عقائد تحریر و تقریر کے ذریعے خود بھی اور اپنے ایجنٹوں کے بالواسطہ بھی ناسمجھ مسلمانوں میں پھیلانے لگا۔
بدقسمتی سے یہ گاؤں شہری آبادی سے دور تھا جب کچھ تسلط بیٹھ گیا تو قتل کے الہام، طاعون کے خواب، زلزلوں کی پیشینگوئیاں کر کے اپنے معترضین کو دھمکیاں دینے لگا اور لوگوں پر اپنا سکہ قتل وغارت، لوٹ مار کے ذریعے منوانا چاہا۔ مگر خدا تعالیٰ بھلا کرے مسٹر ڈوئی ڈپٹی کمشنر کا جس نے زیر دفعہ ١٠٧ ضابطہ فوجداری اس کا منہ بند کیا۔ مگر اس کے جانشین نے جب اس گاؤں میں غلبہ حاصل کیا۔ اور اپنے مریدوں کو ہجرت کے نام پر جمع کر کے قادیان میں اکثریت بنائی اور دیگر اثر و رسوخ سے ممتاز حیثیت حاصل کر کے غریب مسلمانوں کا بائیکاٹ، آتشزدگی، قتل وغارت سے عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلمانوں کی غریب جماعت (احرار) اپنا تبلیغی مشن لے کر اس ظلم گاہ میں گئی۔ اور اس گاؤں کے مسلمانوں کی آواز کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
جب سے قادیان میں شعبہ تبلیغ احرار اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس شعبہ کی نگرانی میں آج تک نبی کریم ﷺ کے تاج ختم نبوت کی حفاظت کے لئے مبلغین کا عملہ بفضلہ تعالیٰ کام کر رہا ہے۔ مسلمان بچوں کی تعلیم کے لئے اسلامی مدرسہ اور باہر سے آنے والے مسلمان مہمانوں کے لئے لنگر خانہ اور جائے رہائش وغیرہ کے ضروری انتظامات بھی کئے گئے۔ اگرچہ مرزائیوں نے ابتداء میں اس اسلامی ادارے کو اپنے مضبوط مرکز میں برداشت نہ کرتے ہوئے شدید مزاحمت شروع کی۔ شعبہ تبلیغ احرار اسلام کی راہ میں گوناگوں رکاوٹیں ڈالیں۔ مقدمات میں ہمیں الجھایا گیا۔ متشددانہ حملے ہوئے۔ لیکن خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ شعبہ تبلیغ کے کارکنان ان تمام مصائب کے لئے سینہ سپر رہے اور ان کے استقلال میں ذرہ بھر جنبش بھی نہ آئی۔
٤
ابتداء میں شعبہ تبلیغ کا کاروبار چلا کہ یہ چند بوریا نشین مالی مشکلات کے باوجود علاوہ شعبہ ہذا کے لئے مستقل ملکیتی مکان اور
خوشخبری
معاونین کرام اور جملہ غیور مسلما تک شعبہ تبلیغ ایک پختہ مکان، نیز ایک قطعہ مرزائی مرکز کے متصل خرید کر چکا ہے جو تبلیغ علاوہ ازیں ایک قطعہ زرعی زمین جناب سید وقف کی ہے۔ جس کی آبپاشی کے لئے پختہ کنو پختہ کمرے بھی بنائے گئے ہیں اور ایک عالیش کہ جنگی حالات کے باعث خاطر خواہ ساما وقف شدہ زمین کا ٹرسٹ بھی قائم ہے۔
قادیان میں مدرسہ دارالمبلغین کا
ناظرین کرام! قادیانی امت ا تن دہی سے کام لیتی ہے؟ لاکھوں روپے س ہوئے تبلیغ اسلام کی آڑ میں دور دراز مما ناپاک جدوجہد کے لئے ایک طرف جائ دوسری طرف متعدد اخبارات، رسالے، مصروف کار نظر آتے ہیں۔ باوجود یکہ دنی حسرت وافسوس کا مقام ہے کہ ہندوستان شایان شان تبلیغی مقابلہ کے لئے آمادہ نہ ہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شعبہ تبلیغ موجودہ رقما شعبہ تبلیغ کی خواہش ہے کہ قا بڑے بڑے فارغ التحصیل طلباء کو تبلیغ وم ہو جائیں۔ ان کو تنخواہیں مقرر کر کے دور و عملی جامہ پہنانے کے لئے کافی سرمایہ
ابتداء میں شعبہ تبلیغ کا کاروبار چلانے کے لئے جرأت نہ ہو سکتی تھی۔ لیکن کس کو معلوم تھا کہ یہ چند بوریا نشین مالی مشکلات کے باوجود تبلیغ وتدریس لنگر وغیرہ اخراجات کو پورا کرنے کے علاوہ شعبہ ہذا کے لئے مستقل ملکیتی مکان اور زمین کا انتظام بھی کر سکیں گے۔
خوشخبری
معاونین کرام اور جملہ غیور مسلمانوں کو یہ معلوم کر کے انتہائی خوشی ہوگی کہ اس وقت تک شعبہ تبلیغ ایک پختہ مکان، نیز ایک قطعہ زمین سفید اور ایک کچا مکان قصبہ قادیان کے اندر مرزائی مرکز کے متصل خرید کر چکا ہے جو تبلیغ وتدریس اور مہمان خانہ وغیرہ کے لئے وقف ہے۔ علاوہ ازیں ایک قطعہ زرعی زمین جناب سید پیر شاہ چراغ صاحب ساکن قادیان نے شعبہ تبلیغ کو وقف کی ہے۔ جس کی آبپاشی کے لئے پختہ کنواں بھی تیار کیا گیا ہے۔ وقف شدہ زمین میں تین عدد پختہ کمرے بھی بنائے گئے ہیں اور ایک عالیشان مسجد کی بنیاد بھی عرصہ دراز سے رکھی جا چکی ہے جو کہ جنگی حالات کے باعث خاطر خواہ سامان تعمیر نہ مل سکنے کی وجہ سے تا حال مکمل نہ ہوسکی۔ اس وقف شدہ زمین کا ٹرسٹ بھی قائم ہے۔
قادیان میں مدرسہ دارالمبلغین کا قیام!
ناظرین کرام! قادیانی امت اپنے باطل عقائد کو پھیلانے میں کس قدر ایثار و قربانی اور تن دہی سے کام لیتی ہے؟ لاکھوں روپے سالانہ خرچ کر رہی ہے۔ زرکثیر کو پانی کی طرح بہاتے ہوئے تبلیغ اسلام کی آڑ میں دور دراز ممالک تک دجل وفریب کا جال پھیلا رہی ہے۔ اور اس ناپاک جدوجہد کے لئے ایک طرف جائیدادیں مکانات اور زندگیاں وقف کی جارہی ہیں تو دوسری طرف متعدد اخبارات، رسالے، چھاپہ خانے بھی اس غلط پروپیگنڈے میں رات دن مصروف کار نظر آتے ہیں۔ باوجودیکہ دنیا بھر میں ان کی تعداد ہزاروں سے زیادہ نہ ہوگی۔ لیکن حسرت وافسوس کا مقام ہے کہ ہندوستان میں مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی شایان شان تبلیغی مقابلہ کے لئے آمادہ نہ ہوئے۔ بلکہ اکثر مسلمانوں میں تبلیغ اسلام کا عملی جذبہ ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شعبہ تبلیغ موجودہ رفتار کار سے پوری طرح مطمئن نہیں۔
شعبہ تبلیغ کی خواہش ہے کہ قادیان میں ایک عظیم الشان مدرسہ دارالتبلیغ ہو جس میں بڑے بڑے فارغ التحصیل طلباء کو تبلیغ ومناظرہ کی تعلیم دی جائے۔ اور جو طلباء یہاں سے فارغ ہو جائیں۔ ان کو تنخواہیں مقرر کر کے دور دور علاقوں میں تبلیغ کے لئے بھیجے جائیں۔ لیکن اس سکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کافی سرمایہ کی ضرورت ہے۔ نیز ایسے جان نثار اور فدائے اسلام
٥
مسلمانوں کی ضرورت ہے کہ اس سکیم کو کامیاب بنانے میں ہماری ہر طرح سے امداد کریں۔ جس قدر مدارس عربیہ ہندوستان کے مشہور مقامات میں ہیں۔ ان کے مہتمین حضرات کا بھی فرض ہے کہ ہر سال اپنے مدارس کے فارغ التحصیل طلباء میں سے کوئی نہ کوئی طالب علم فنِ تبلیغ ومناظرہ سیکھنے کے لئے اس دارالتبلیغ میں بھیج دیا کریں۔
شعبہ تبلیغ کا پختہ ارادہ ہے کہ آئندہ ماہ شوال سے اس دارالتبلیغ کا افتتاح کیا جائے۔ چنانچہ مدرسین کا انتظام کیا گیا ہے۔ انشاء اللہ توکلاً علی اللہ دس شوال المکرم ١٣٦٥ھ سے کام شروع کیا جائے گا۔ تبلیغ ومناظرہ سیکھنے کے شوقین طلباء یکم شوال تک اپنی اپنی درخواستیں بھیج دیں اور دس شوال المکرم تک قادیان پہنچ جائیں۔
تبلیغی پروگرام
گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی شعبہ تبلیغ کے زیر اہتمام قادیان اور گردونواح میں میلاد النبی، معراج النبی، جمعۃ الوداع، عیدین وغیرہ اسلامی تقاریب پر عظیم الشان جلسے منعقد ہوئے۔ جن میں لاؤڈ سپیکر، مہمانوں کی خوراک، جائے رہائش وغیرہ کی جملہ ضروریات کا انتظام شعبہ تبلیغ ہی کرتا رہا۔ جو حضرات متذکرہ تقاریب اور جلسوں میں شمولیت کر کے تقاریر فرما چکے ہیں۔ ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔
مولانا قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی، مولانا محمد علی صاحب جالندھری، مولانا محمد بشیر صاحب فاضل دیوبند پسروری، مولانا صدر الدین صاحب خطیب گول مسجد شریف پورہ امرت سر، مولانا محمد چراغ صاحب گوجرانوالہ، مولانا عطاء محمد صاحب حافظ آباد، مولانا محمد عبداللہ صاحب معمار، مولانا محمد ادریس صاحب، مولانا عزیز الرحمٰن صاحب ہزاروی، مولانا چودھری عبدالعزیز صاحب گورداسپوری، مولانا فضل کریم صاحب سیالکوٹی، حاجی عبدالرحمٰن صاحب بٹالوی، مولانا رحمت اللہ صاحب مہاجر بٹالوی، مولانا محمد حسین صاحب سرحدی، مولانا محمد حیات صاحب مبلغ ومناظر، چودھری غلام فرید صاحب سکنہ گھوگہ، خواجہ عبدالحمید صاحب (بٹ)، مولانا عتیق الرحمٰن صاحب چنیوٹی (سابق مرزائی مبلغ) جناب مولانا غلام محمد صاحب و غیرہم!
اس کے علاوہ قادیان کے گردونواح دیہات مثلاً ست کوہا، دیال گڑھ، مہرائے بھینی میلواں، گھوگہ، بھٹیاں گہوت، چھینا بھٹیاں، سری گوبند پور، ڈیری والا، فیض اللہ چک، کوٹ، دھرم کوٹ، شاہ پور، کوٹلی بارے خاں، شکار ماچھیاں، بھینی بسوال، داراپور، نکہ پور، ٹھمان، لدھامنڈا وغیرہ وغیرہ مقامات میں بھی تبلیغی پیغام پہنچایا۔
٦
نیز ضلع گوجرانوالہ، لاہور، لائلپور، جالندھر، سیالکوٹ، گورداسپور، شیخوپورہ، جہلم، کے مختلف اضلاع اور دہلی، آگرہ وغیرہ میں بھی کئے۔ تبلیغی جلسے اور مناظرے کئے۔ جن کے مقامات میں مرزائیت سے توبہ کرکے پھر مسلما اعلان کیا گیا ہے۔
مقتدر حضرات
(انتخاب از رائے بک دفتر ذیل میں بعض ان حضرات کی رائیں جو وقتاً فوقتاً قادیان آ کر یہاں کے انتظامات شعبہ تبلیغ خیال فرمایا ہے۔
- ١....... مفتی ہند حضرت مولانا کفایت
”قادیان جو نبوت کاذبہ اور دجالیت حقانیت کا فریضہ نہایت مستعدی سے انجام دے خدمت اسلام میں طرح طرح کی تکلیفیں بردا ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ مسلمانوں کی اعانت و تعاون کے مستحق ہیں۔ ف نڈ سے ان کی امداد کرنی لازم ہے۔“
- ٢....... امیر شریعت حضرت مولانا سید
”مجلس احرار ہند کی طرف سے بر شعبہ تبلیغ اسلام قائم ہے۔ شعبہ تبلیغ کے مبلغ اعلیٰ مو اس شعبہ کا ایک ادنیٰ خادم ہے۔ سرظفر اللہ اگر حکو میں جاکر اور پبلک جلسوں میں کھڑا ہو کر مرزائ ہندوستان و دیگر ممالک کے لوگوں سے لاکھوں ر کے فرائض انجام دے سکتا ہے۔ تو مسلمانان ہند
نیز ضلع گوجرانوالہ، لاہور، لائلپور، ملتان، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، لدھیانہ، جالندھر، سیالکوٹ، گورداسپور، شیخوپورہ، جہلم، جھنگ، امرتسر، فیروز پور، میانوالی وغیرہ پنجاب کے مختلف اضلاع اور دہلی، آگرہ وغیرہ میں بھی مبلغین شعبہ ہذا نے نہایت کامیاب دورے کئے۔ تبلیغی جلسے اور مناظرے کئے۔ جن کے نتیجے کے طور پر بہت سے مرزائیوں نے مختلف مقامات میں مرزائیت سے توبہ کر کے پھر مسلمان ہوگئے۔ جن کا اخبار و رسائل میں وقتاً فوقتاً اعلان کیا گیا ہے۔
مقتدر حضرات کی آراء
(انتخاب از رائے بک دفتر شعبہ تبلیغ اسلام قادیان)
ذیل میں بعض ان حضرات کی رائیں ملخص طور پر نقل کی جاتی ہیں۔ جنہوں نے وقتاً فوقتاً قادیان آ کر یہاں کے انتظامات شعبہ تبلیغ کا چشم دید نظارہ کر کے رائے بک میں اظہار خیال فرمایا ہے۔
- ١...... مفتی ہند حضرت مولانا کفایت اللہ صاحب دہلوی کی رائے
"قادیان جو نبوت کاذبہ اور دجالیت کا مرکز ہے۔ اس میں شعبہ تبلیغ ابطال باطل و تبلیغ حقانیت کا فریضہ نہایت مستعدی سے انجام دے رہا ہے۔ اس کے مخلص کارکن ہر وقت سر بکف خدمت اسلام میں طرح طرح کی تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے مسلمانوں کو راہ حق دکھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور ان کی مخلصانہ مساعی کو قبول کرے۔ وہ تمام مسلمانوں کی اعانت و تعاون کے مستحق ہیں۔ اہل دل و اصحابِ دولت کو دامے درمے جانے قدمے ان کی امداد کرنی لازم ہے۔" محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی
- ٢...... امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی رائے
"مجلس احرار ہند کی طرف سے برطانوی نبوت کے مرکز قادیان میں ایک غیر سیاسی شعبہ تبلیغ اسلام قائم ہے۔ شعبہ تبلیغ کے مبلغ اعلیٰ مولوی محمد حیات صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ہیں۔ اور فقیر اس شعبہ کا ایک ادنیٰ خادم ہے۔ سر ظفر اللہ اگر حکومت برطانیہ کی ناک کا بال ہوتے ہوئے مسجدوں میں جا کر اور پبلک جلسوں میں کھڑا ہو کر مرزا غلام احمد کی برطانوی نبوت کی تبلیغ کر سکتا ہے اور ہندوستان و دیگر ممالک کے لوگوں سے لاکھوں روپے بٹور کر تبلیغ اسلام کے بہانے تخریب اسلام کے فرائض انجام دے سکتا ہے۔ تو مسلمانان ہند کو خواہ وہ ملازم حکومت ہی کیوں نہ ہو۔ اس شعبہ
٧
میں شامل ہو کر اس کے خوشگوار بوجھ کو سر پر اٹھا لینا چاہئے۔ شعبہ ہذا کو قادیان میں کافی زمین مل چکی ہے۔ جو مسئلہ ختم نبوت کی تبلیغ واشاعت اور درس وتدریس کے لئے وقف ہو چکی ہے۔ مسجد کی بنیادیں پڑ چکی ہیں۔ کنواں بن کر جاری ہے جس سے کاشت ہو رہی ہے۔ یہاں کے مسلمان بچوں کے لئے پرائمری اور دینیات کا مدرسہ کھلا ہوا ہے۔ جنگ کی وجہ سے بہت سا کام رکا پڑا ہے۔ ورنہ شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام اپنی دینی خدمات کو نمایاں طور پر مسلمانوں کے سامنے رکھ سکتا۔ مسلمانان ہند سے فقیر کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اس طرح توجہ کریں۔ اور اس نیک کام میں شریک ہو کر دامے، درمے، جانے، مالے، خیالے، قدمے امداد کر کے دربار رسالت علیٰ صاحبها الصلوٰة والتحیۃ میں اپنے کو سرخرو کریں اور اس کام کو مسلمانوں کے لئے وسیلہ نجات بنائیں۔
چونکہ قادیان میں مسلمان مسافروں کے لئے کھانے پینے کی کوئی دکان نہیں ہے۔ اس لئے شعبہ تبلیغ کی طرف سے ایک لنگر خانہ بھی جاری ہے۔ جس میں خاص کر ورغلائے ہوئے مسلمانوں کو کھانا دیا جاتا ہے۔ اور دوسرے مسافروں کو بھی کھانا دیا جاتا ہے۔“ دستخط ...... فقیر سید عطاء اللہ بخاری
......٣ مجاہد سرحد حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی کی رائے
”١٩٣٥ء کی احرار تبلیغ کانفرنس قادیان کے بعد پہلی بار میں برائے ادائیگی نماز جمعہ اس عجیب و غریب بستی میں حاضر ہوا۔ مجلس احرار اسلام ہند کے شعبہ تبلیغ نے کفر و ارتداد، ظلم وطغیان، زنا وگناہ کی روک تھام کے لئے شاندار کام جاری کر رکھا ہے۔ فی الحال یہاں ”جامعہ محمدیہ“ کے نام پر ایک مدرسہ جاری ہے۔ جس میں اس وقت نوے کے قریب مسلمان بچے تعلیم پا رہے ہیں۔ اس عجیب بستی میں پہلے اصل مردم شماری صرف دو ہزار تھی۔ مگر مرزائی فتنہ کے بعد مرزائی تارکین وطن نے آکر یہاں کی آبادی میں سات ہزار کا اضافہ کیا۔ یہی سب سے بڑی کمائی ہے جو مرزا آنجہانی نے آیات قرآنیہ کی تحریف کے مقابلہ میں حاصل کی۔ اس غلبہ آبادی کی وجہ سے اصلی باشندے جو مسلمان تھے، ظلم و ستم، قتل وغارت کی تاب نہ لاکر یہاں سے ہجرت کر گئے۔ جو تھوڑے سے رہے وہ ضعیف الایمانی کی وجہ سے اسلام کا اظہار نہ کر سکتے تھے۔ مجلس احرار کے تبلیغی مرکز کے قیام کے بعد اس قصبہ اور ماحول کے مسلمان اب علی الاعلان اپنے کو مسلمان ظاہر کر سکتے ہیں۔
٨
اس طرح ہزاروں مسلمانوں کا ایمان محفوظ ہو گیا ہے۔ یہاں مسلمانوں کی دو مسجدیں ہیں ۔ جس کا انتظام شعبہ تبلیغ احرار اسلام کے ماتحت ہے۔ تیسری جامع مسجد مجلس احرار بنوا رہی ہے۔ ایک بڑی زمین ختم نبوت کے لئے وقف ہے۔ اس کا انتظام بھی شعبہ تبلیغ ہی کے ماتحت ہے۔ جس کے لئے ایک کمیٹی بنی ہوئی ہے۔ مولانا محمد حیات صاحب اور مولانا فضل عظیم صاحب تمام علاقہ میں فتنہ ارتداد کے خلاف کامیاب تبلیغ فرما رہے ہیں۔ جس امر سے مجھے خاص مسرت ہے۔ وہ یہ ہے کہ شعبہ تبلیغ نے لاؤڈسپیکر حاصل کر لیا ہے۔ اور خدا کے فضل سے مرزائیوں کے سالانہ میلے کے موقع پر لاؤڈسپیکر کے ذریعہ شعبہ ہذا بھی تبلیغ اسلام کا حق ادا کر رہا ہے۔ یہ امر نہایت ہی موجب اطمینان ہے کہ حساب کتاب کے رجسٹر بہت صاف ہیں۔ آمد و خرچ کی پڑتال تک کی اجازت ہر مسلمان کو ہے۔ چاہے وہ چندہ دے یا نہ۔
مولانا محمد حیات صاحب کے حسن انتظام سے سابقہ بہت سے قرضے ادا ہو گئے ہیں۔ لاؤڈسپیکر کی مرمت پر تین سو روپیہ خرچ کیا گیا۔ جامع مسجد زیر تعمیر کے لئے کنواں تیار ہو گیا ہے۔ ایک اور نئی بات کا اضافہ ہوا ہے کہ بیرونجات کا کوئی مسلمان مہمان آئے تو اس کے لئے دفتر احرار میں باقاعدہ لنگر جاری رہتا ہے۔ اس طرح اب قادیان آنے والے مسلمانوں کو جو مرزائیوں کا ذبیحہ نہیں کھاتے اور نہ ہی ان کو خوردونوش کی کوئی سہولت تھی۔ بلکہ مرزائی لنگر کی وجہ سے بڑا اثر بھی علاقہ پر پڑ رہا تھا۔ اب یہ مشکل رفع ہوگئی۔ میں مقامی دفتر شعبہ تبلیغ احرار کو موجودہ بہترین نظم و نسق اور کامیابی پر مبارک باد دیتا ہوں۔“
دستخط ...... غلام غوث ممبر آل انڈیا ورکنگ کمیٹی مجلس احرار اسلام
- ٤...... حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری کی رائے
”میں ٢٩ نومبر ١٩٤٤ء کو مرزائیوں کے سالانہ جلسہ پر قادیان دفتر احرار اسلام کی درخواست پر مجلس احرار اسلام کے سالانہ جلسہ میں شرکت کی غرض سے یہاں حاضر ہوا۔ دفتر احرار کے کارکنان کے مساعی قابل تحسین ہیں۔ قادیان جیسے شہر میں عملہ دفتر اور مولانا محمد حیات صاحب کی ہر دلعزیزی ان کے اخلاق حسنہ کی ترجمانی کرتی ہے۔ مدرسہ محمدیہ قادیان اور جدید تعمیر کی سکیم اور زرعی زمین کی آبادی قابل مبارکباد ہے۔ اگر جملہ کارکنان نے موجودہ اتحاد کو قائم رکھا تو دفتر احرار اور جامعہ محمدیہ قادیان ایک کامیاب ادارہ ہوگا۔ مرزائیوں کے سالانہ جلسے پر تبلیغ حق کا طریق بہت پسندیدہ ہے۔ جملہ ماتحت جماعتوں کو شعبہ ہذا کی ہر طرح سے امداد کرنی چاہئے۔“
عبدہ المذنب محمد علی جالندھری عفا اللہ عنہ
٩
- ٥...... حضرت مولانا بہاءالحق صاحب قاسمی امرتسری کی رائے
"مولانا محمد حیات صاحب مبلغ شعبہ تبلیغ کے اخلاص اور سرگرمیوں کا میں پہلے سے معترف ہوں اور باقاعدہ حساب و کتاب وغیرہ چیزوں کو دیکھ کر مولانا موصوف کو ایک اچھا اور بہترین منتظم بھی پایا۔ اگر اسی نہج پر کام ہوتا رہا، تو انشاء اللہ تعالیٰ اس کے بہت عمدہ نتائج و ثمرات ظہور پذیر ہوں گے۔" محمد بہاء الحق قاسمی امرتسری عفا اللہ عنہ
- ٦...... مولانا عبدالحق صاحب بٹالوی بھاگووال کی رائے
"مولانا محمد حیات صاحب کے حسن انتظام کو دیکھ کر طبیعت نہایت خوش ہوئی۔ ہر مسلمان کا حق ہے کہ شعبہ تبلیغ کی ہر ممکن طریق سے امداد و اعانت کرے۔ فتنہ ارتداد کی بیخ کنی ہر مسلمان کا فرض اولین ہے۔" المفتقر الی اللہ الحق ، عبد الحق بٹالوی بھاگووال
- ٧...... جناب عبدالرشید خان صاحب پٹیالہ تحریر فرماتے ہیں
"میں پہلی مرتبہ ایک مرزائی دوست کے ساتھ قادیان پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ مرزائیوں کے سالانہ جلسے کی حقیقت ایک میلہ اور عیاشی کے اڈے سے زیادہ نہیں۔ میں نے کئی ایک مردوں کو عورتوں سے بدمعاشی کی باتیں کرتے ہوئے خود دیکھا ہے۔ دفتر شعبہ تبلیغ احرار اسلام میں انتظام نہایت اعلیٰ اور قابل تحسین پایا۔ حسابات کو بالکل درست اور مکمل پایا۔ مجھے دفتر ہذا میں پہنچ کر بہت ہی خوشی ہوئی۔ کہ قادیان میں بہت ہی ضرورت ہے کہ قادیان کے رہنے والوں کی تکالیف میں کمی واقع ہو۔ اور مسلمانوں کے ایمان محفوظ رہیں۔ تبلیغ کا انتظام بھی بہترین ہے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ دفتر قادیان کی ہر طرح سے امداد کی جائے۔ دفتر میں باہر سے آنے والوں کے لئے قیام و طعام کا بھی بہترین انتظام ہے۔" عبدالرشید خاں پٹیالہ محلہ گیمر سوڈھیاں، ٦؍ دسمبر ١٩٣٢ء
- ٨...... جناب مولانا نبی بخش صاحب مدرس عربی گورنمنٹ ہائی سکول گورداسپور کی رائے
"جملہ بزرگان نے جو کچھ اوپر فرمایا ہے من کل الوجوہ صحیح و درست ہے۔ شعبہ تبلیغ ہر طرح کی امداد و معاونت کا مستحق ہے۔" ٦/١٢/١٩٣٣ نبی بخش مدرس عربی گورداسپور
- ٩...... "آج مورخہ ٢٢/١٢/١٩٣٣ کو میں نے موضع قادیان میں بمعہ سات آٹھ نفر ہمراہیوں
کے شعبہ تبلیغ احرار اسلام کا جلسہ سنا۔ تبلیغ اسلام کا یہ طریقہ عمدہ پایا۔ مرزائیت کی تردید سن کر میرے تمام ساتھی جو مرزائی ہونے کے واسطے آئے تھے ۔ مرزائی مذہب سے نفرت کر کے بدستور مسلمان
١٠
ہونے کی حالت میں واپس گاؤں کو چلے گئے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم جھوٹے نبی کے پھندے سے بچ گئے۔ حساب کتاب اور لنگر کا انتظام معائنہ سے بڑا عمدہ پایا۔“
مختار احمد ماڑی لوٹیاں تحصیل بٹالہ
- ١٠...... جناب محمد رفیق خاں نیازی منٹگمری تحریر فرماتے ہیں
”آج مورخہ ٢٤-١٢-٢٩ کو دفتر شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام قادیان کا معائنہ کیا۔ اور عوام سے پوچھ گچھ کی۔ شعبہ تبلیغ کا جلسہ مرزائی جماعت کے مقابلے میں کامیاب رہا۔ اور تمام لوگ مولوی محمد حیات صاحب کے حسن اخلاق کی تعریف کرتے ہیں۔ حساب کتاب نہایت تسلی بخش ہے۔“
محمد رفیق نیازی ساکن منٹگمری ٢٩/١٢/١٩٢٣ء
- ١١...... جناب مولانا عبدالمجید صاحب خطیب مسجد چینیاں لاہور تحریر فرماتے ہیں
”آج مورخہ ١٣/٥/١٩٣٤ء کو مولوی محمد حیات صاحب سے سرسری ملاقات دفتر شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان میں ہوئی۔ دفتری کاغذات حساب آمد و خرچ صاف پایا۔ کام بہت عمدہ ہے۔ موصوف سرگرم کارکن ہیں۔ تمام اہل اسلام کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ مولانا اور ان کے جملہ معاونین کو ہمت واستقلال عطا فرمائے۔“
عبدالمجید خطیب مسجد چینیاں لاہور
- ١٢...... جناب سید افتخار احمد صاحب رضا سجادہ نشین آستانہ مکان شریف ضلع
گورداسپور کی رائے
آج مورخہ ٢٠/٣/١٩٣٤ء کو عید میلاد النبی ﷺ کے جلسے کے سلسلہ میں دفتر شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان میں حاضری کا اتفاق ہوا۔ حضرت مولانا محمد حیات صاحب، مولانا عزیز الرحمن صاحب، حافظ محمد خان صاحب دفتر میں موجود تھے۔ ان تمام علماء کو شعبہ تبلیغ نے تبلیغ کے سلسلے میں اس کفر کی بستی میں مقرر کر رکھا ہے۔ مولانا عزیز الرحمن صاحب علاقہ میں تبلیغ کا کام فرماتے ہیں۔ حافظ محمد خان صاحب مقامی طور پر تبلیغ کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد حیات صاحب علاوہ تبلیغ کے علاقہ دور دراز سے شعبہ تبلیغ کے لئے امداد حاصل کرتے ہیں۔ اور تمام مقامی شعبہ کا
١١
انتظام وانصرام حضرت مولانا صاحب موصوف کے ہاتھ میں ہے۔
مولانا نے مجھے آمد و خرچ کے رجسٹر دکھائے۔ آمدنی کا حساب باقاعدہ درج ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی رقم بھی اندراج میں لائی گئی ہے۔ میں نے کیش بک کا رجسٹر کھاتہ سے موازنہ کیا۔ چند ایک رقومات مختلف مہینوں کی آمد کے نکال کر دیکھے۔ جن کا بالکل درست اندراج پایا۔ آمدنی کی ایک آنہ کی رقم تک بھی لکھی ہوئی پائی۔ اور آمدن کو مولانا موصوف کے حسن انتظام سے بتدریج ترقی حاصل ہو رہی ہے۔ اور ان کی حسن تدبیر سے شعبہ کا ماہوار خرچ جو تین صد روپے سے متجاوز ہے۔ باقاعدگی سے چل رہا ہے۔ بلکہ اس کے علاوہ شعبہ تبلیغ نے ایک لنگر قائم کر رکھا ہے۔ تمام مسلمان اصحاب جنہیں کسی غرض کے لئے اس کفر کی بستی میں آنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ انہیں بلا لحاظ کھانا مفت دیا جاتا ہے۔ بلکہ اگر رات ٹھہرنے کا موقع آجائے تو ان کی رہائش کا مکمل انتظام دفتر میں موجود رکھا ہوا ہے۔ مجھے ایک رجسٹر دکھایا گیا جس میں تمام آنے والے مہمانوں کا باقاعدہ اندراج تھا۔ یہ حسن انتظام کی بہترین علامت ہے۔ مولانا محمد حیات صاحب آمد و خرچ کے رجسٹر ماہوار مہتمم صاحب سے چیک کرواتے ہیں۔ ہر مہینہ کے اخیر میں مہتمم صاحب کے دستخط موجود تھے۔ بلکہ سالانہ حساب مکمل آڈٹ کرایا گیا ہے۔ ہر مسلمان کو ہر وقت اجازت ہے کہ وہ شعبہ کے رجسٹروں کا معائنہ کر سکتا ہے۔ اس انتظام کی پر زور الفاظ میں تعریف کرتا ہوں۔“
٢٠/٣/١٩٣٣
نوٹ ...... مندرجہ بالا آراء کے علاوہ اور بہت سے حضرات کی رائیں رائے بک میں درج ہیں۔ جو عدم گنجائش کی وجہ سے نقل کرنا مناسب نہ سمجھا گیا۔
گوشوارہ ملازمین مرکزیہ شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان
اس وقت شعبہ تبلیغ کے سٹاف (عملہ) کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
نمبر شمار اسمائے ملازمین عہدہ موجودہ ١ مولانا محمد حیات صاحب مبلغ ٢ مولانا فضل کریم صاحب مبلغ ٣ مولانا عطاء محمد صاحب مبلغ بلا تنخواہ ٤ جناب مولانا حافظ غلام محمد صاحب مدرس خطیب علوم عربیہ ٥ جناب حافظ محمد خان صاحب عربی مدرس پرائمری مدرسہ
١٢
٦ جناب مولوی قطب الدین صاحب اول مدرس پرائمری مدرسہ ٧ جناب مولوی عبدالغفور صاحب مدرس پرائمری مدرسہ ٨ مولوی محمد عمر صاحب محصل ٩ قاضی عبدالودود محرر دفتر ١٠ محمد شریف ماشکی ١١ سنتو خاکروب
(نوٹ: گوشوارہ آمد وخرچ یہاں پر درج تھا عدم ضرورت کی بناء پر اسے خارج کر دیا ۔ مرتب!)
تعمیر مکانات
گزشتہ صفحات میں خوشخبری کے طور پر تحریر کیا جا چکا ہے کہ بفضلہ تعالیٰ شعبہ تبلیغ اب تک معاونین کرام کی امداد واعانت کی بدولت قادیان میں مرزائیوں کی فرضی مسجد اقصیٰ اور منارۃ المسیح کے قریب تر ایک پختہ مکان نمبر ١ ر اور زمین سفید نمبر ٢ ر اور ایک کچا مکان نمبر ٣ ر خرید کر چکا ہے۔ لیکن موجودہ مکانات تمام ضروریات شعبہ پورا کرنے کے لئے کافی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب تک مدرسہ ”جامعہ محمدیہ“ کرایہ کے مکان میں چل رہا ہے۔ اس لئے ضرورت لاحق ہوئی کہ مکانات مذکورہ میں تعمیر کی ایزاد کی جائے۔ نیز زمین سفید کو بھی آباد کیا جائے۔ تاکہ مہمان خانہ، لنگر خانہ، قیام گاہ طلباء، مکان مدرسہ وغیرہ تمام ضروریات پوری ہوں۔ اور جو تکلیف اس وقت شعبہ کو درپیش ہے۔ اس سے نجات ہو جائے۔ چنانچہ نقشہ بنوا کر برائے حصول اجازت و منظوری دفتر میونسپلٹی قادیان میں دیا گیا ہے۔ جس کی نقل روئیداد ہذا میں شائع کی گئی ہے۔ (وہ بھی حذف کر دیا۔ مرتب!) مکانات قابل تعمیر پر تخمیناً اڑھائی تین ہزار روپے کم از کم خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔
معاونین کرام اور جملہ اہل خیر مسلمانوں کی فیاضی، دریا دلی اور اسلام پروری سے قوی امید ہے کہ تعمیر کے اس اہم کام میں شعبہ تبلیغ کی بیش از بیش امداد واعانت فرمائیں گے۔ غیرت اسلامی رکھنے والے حضرات سے اس اپیل پر ہمدردانہ غور فرمانے کی ہمیں پوری پوری توقع ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروؤں کے کفریہ عقائد
تبلیغی فرائض کی ادائیگی کرتے کرتے ضروری ہے کہ مرزائیوں کے گندے عقائد بھی کچھ نہ کچھ بیان کئے جائیں۔ اگر ان کے تمام کفریہ عقائد اور گندے اقوال تفصیلاً لکھے جائیں تو
١٣
برسوں میں ختم نہیں ہوتے۔ کیونکہ مرزا غلام احمد اور اس کے خلیفہ اور مریدوں کے بے انتہا کتابیں کفریات، توہمات وغیرہ سے بھری ہیں۔ مگر ہم صرف مشتے نمونہ از خروارے چند عبارات مرزائیوں کی کتابوں سے نقل کر کے ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد کفریہ
مرزا قادیانی اپنی کتاب (آئینہ کمالات کے ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں کہ: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اللہ کا عین ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں اور خدائی والوہیت میرے رگ و ریشہ میں گھس گئی۔ اور میں نے اس حالت میں دیکھا کہ ہم نیا نظام بنانا چاہتے ہیں۔ نئی زمین نیا آسمان۔ پس پہلے میں نے آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی تفریق و ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان کو مرتب کیا۔ اور میں اپنے دل سے جانتا تھا کہ میں ان کے پیدا کرنے قدرت رکھتا ہوں۔ پھر میں نے سب سے قریبی آسمان کو پیدا کیا۔ پھر میں نے کہا کہ ”انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ پھر میں نے کہا کہ ہم انسانوں کو بھی پیدا کریں گے۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) میں لکھا ہے ۔ ”انت منی بمنزلة ولدی“
یعنی خدا نے مجھ سے کہا کہ ”تو میرے بیٹے کی مانند ہے۔“ (العیاذ باللہ)
(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”خدا نے
مجھے کہا کہ اب تیرا یہ مرتبہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے صرف اس قدر کہہ۔ ہو جا پس وہ ہو جائے گی۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠٦) میں لکھا ہے کہ: ”میں نے خدا کو مجسم دیکھا اور اس کے دستخط
پیشینگوئیوں پر کرائے اور سرخی کے چھینٹے میرے کرتے پر پڑے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٧٣٨، ٧٩٠، ٧٥٢) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”قرآن شریف
میں جو معجزات ہیں وہ سب مسمریزم ہیں۔“
مرزا محمود خلیفہ ثانی مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد
(انوار خلافت ص ٩٠) میں لکھتا ہے کہ : ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں (مسلمانوں)
کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔“
(برکات خلافت ص ٧٥) میں لکھتا ہے : ”کوئی احمدی غیر احمدی کو لڑکی نہ دے۔ اس کی
تعمیل کرنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے۔“
١٤
(برکات خلافت ص ٧٣) میں لکھتا ہے: ”غیر احمدی کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے وہ نکاح جائز نہیں ہے۔“
(انوار خلافت ص ٩٣) میں لکھتا ہے: ”غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہوا اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔“
(انوار خلافت ٤٣) میں تحریر کرتا ہے: ”کوئی ایسا شخص جو حضرت صاحب (مرزا غلام احمد کو سچا مانتا ہے لیکن ابھی اس نے بیعت نہیں کی۔ یا احمدیت کے متعلق غور کر رہا ہے۔ اور اسی حالت میں مر گیا۔ یہ تو ممکن ہے خدا تعالیٰ کوئی سزا نہ دے لیکن شریعت کا فتویٰ ظاہری حالات کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیں اس کے متعلق بھی یہی کرنا چاہئے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔“
باقی عقائد انشاء اللہ تعالیٰ کسی آئندہ روئیداد میں نقل کئے جائیں گے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اسلام کے ان دشمنوں سے عقائد محفوظ رکھیں اور حتی الوسع اس فتنہ کفریہ کے انسداد میں کوشاں رہیں۔
آپ کا فرض متذکرہ الصدر صفحات میں آپ نے شعبہ تبلیغ احرار اسلام کے علماء مبلغین اور اراکین کی مساعی جمیلہ کا ایک خاکہ ملاحظہ فرمایا ہے۔ کیا ۔
آپ کے نزدیک اتنا کام کافی ہے؟ آپ اس آمدنی کو کافی سمجھتے ہیں؟ جماعت مرزائیہ کے مقابلہ میں مختصر نظام پر اکتفا کرتے ہیں؟ ...... ارتداد و زندقہ کے اس طوفان میں مزید تبلیغ اسلام کی ضرورت نہیں۔
اور کیا تردید مرزائیت کے لئے مبلغین کی ضرورت نہیں؟ یقیناً آپ کو اس سے اتفاق نہیں۔ آپ کا دل گواہی دیتا ہے کہ اس وقت ان امور پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تو پھر آپ کا فرض ہے کہ آج سے ہی حلقہ اثر میں شعبہ تبلیغ کی امداد کے لئے کوشش فرمائیں۔ اگر جلسہ میں مبلغین کی ضرورت ہو تو فوراً دفتر شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان پنجاب کو تحریر فرمائیں۔
دردمندانہ اپیل
میری اپیل حاملان درد دل اور نفس تبلیغ کا احساس رکھنے والے احباب سے ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم بلغ و بلغوا سے رسالت مآب ﷺ کے زمانہ میں چار دانگ عالم
١٥
پر اسلامی پرچم لہرایا۔ لیکن اس زمانہ میں مسلمانوں کی بے بسی اور بے دینی نے اس فریضہ کو ادھورا چھوڑ دیا۔ جس کے نتیجہ میں قادیانی اور بہائی وغیرہ مذاہب پیدا ہو گئے اور اسلام میں ارتداد و زندقہ کا زہر پھیلانا شروع کیا۔ دہریت کا دور دورہ ہے۔ ٨٠ فیصدی مساجد ویران ہو گئیں اور جہالت نے گھر کر لیا۔
کیا اس وقت ضرورت نہیں کہ اس ماحول کو تبدیل کر کے قرونِ اولیٰ کی پرہیز گاری، دینداری، خدا ترسی اور اخلاق پیدا کئے جائیں۔ خاص طور پر اسلام کے خلاف ہم رنگ زمین جال بچھانے والوں کا سدباب کیا جائے۔ چنانچہ انہی ضروریات کے پیش نظر شعبہ تبلیغ احرار اسلام نے قادیان میں مرکز قائم کیا اور ہزار مصائب (مقدمات، سوشل بائیکاٹ، جھگڑے وغیرہ) پر لاکھوں روپیہ صرف کر کے بھی اپنے ارادہ کو متزلزل نہ ہونے دیا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ تیرہ چودہ سال کی محنت شاقہ کے بعد ہم ایک ٹھوس پروگرام کو چلانے کے لئے وسیع میدان میں قدم رکھ چکے ہیں۔ اور کثیر اخراجات سے تعلیمی مدرسہ مبلغین کا طائفہ اور قابل معلم و علماء رکھے گئے ہیں۔ جو مقامی طور پر اور مضافات قادیان بلکہ پنجاب بھر کے دور دور مقامات میں مرزائیت کے زہر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے میں سرگرم عمل ہیں۔
مدرسہ، مہمان خانہ، لنگر خانہ، کتب خانہ، قیام گاہ طلباء وغیرہ ضروریات کے لئے مکانات کا انتظام بھی کیا گیا ہے اور جن کی مزید تعمیر کے لئے مالی امداد کی ضرورت ہے۔ زمرہ مبلغین میں اضافہ کرنے کی بھی ضرورت لاحق ہے۔ غرضیکہ شعبہ تبلیغ کو اس وقت کئی قسم کے وسیع اخراجات کا سامنا ہے۔ اس وقت جو ماہوار آمد کا اوسط اندازہ ہے وہ بمشکل ماہانہ اخراجات موجودہ کو پورا کر لیتا ہے۔
میں ملک کے تمام سجادہ نشین حضرات صوفیائے عظام، علمائے کرام اور جملہ ہمدردان اسلام کے احساسات اسلامی، ختم نبوت کی حفاظت اور محبت رسول اکرم ﷺ کے جذبہ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ اپنی خیرات، زکوٰۃ اور صدقات میں اس تبلیغی مرکز کو خصوصیت سے یاد رکھیں۔ نیز کتب خانہ کے لئے درسی وغیرہ درسی کتب وقف کرنے میں بھی دریغ نہ فرمائیں۔ فقط والسلام! قمر الدین مہتمم شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان، صدر دفتر اچھرہ لاہور!
١٦
دفتر مرکزیہ مجلس احرار الاسلام
قادیانی
حضرت مولانا عنا
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانی سیاست
حضرت مولانا عبدالکریم مباہلہ رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
برادران اسلام کا فرض
صیغہ اشاعت صدر انجمن مباہلہ امرتسر نے عرصہ سے بغرض افادہ پبلک ماہواری ٹریکٹوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جو بلا قیمت صرف محصول ڈاک آنے پر ارسال خدمت ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ کا ماہواری نمبر آپ کے سامنے ہے۔ اسلام کا درد اور قوم کی خیر خواہی رکھنے والے اصحاب خود اس ٹریکٹ کو پڑھیں اور دوسروں کو سنائیں۔ اس ٹریکٹ کے مطالعہ سے آپ کو معلوم ہوگا کہ قادیانی فرقہ کوئی مذہبی گروہ نہیں۔ بلکہ ایک تجارتی کمپنی ہے۔ جس نے مذہب کی اوڑھنی اوڑھ کر اپنی تجارتی اغراض کو پورا کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔
قادیانی سیاست
عنوان بالا پر ہمیں اظہار خیال کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ ان دنوں قادیانی کمپنی نے اپنی تجارت کو فروغ دینے کے لئے جو طرز عمل اختیار کر رکھا ہے۔ وہ یہ ہے کہ دنیا کے ہر سیاسی معاملہ میں دخل دینا ان کا فرض اولین ہے۔ اور اس دنیا میں بسنے والے انسانوں کا کوئی معاملہ بغیر ان کے مشورہ کے طے نہیں ہو سکتا۔ مثلاً خطہ کشمیر کے سیاسی معاملات میں دخل دینے اور کشمیر کمیٹی کا ڈھونگ رچانے کی ”ان تھک کوششوں“ کو ہی دیکھئے کہ قادیانی کمپنی نے اس کام کے لئے کیونکر اپنی نیند کو بھی حرام کر رکھا ہے۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ خود قادیانی کمپنی کے اقوال سے اس کمپنی کی حقیقت کو بے نقاب کریں۔ قادیانیوں کا بڑا حربہ روحانیت کا دعویٰ، تقدس آمیز وعظ اور ہمدردی مخلوق کا اظہار ہوتا ہے۔ جن احباب کو کبھی کسی قادیانی تصنیف کے مطالعہ کا موقع ملا ہے۔ وہ اس چیز سے بے خبر نہیں کہ یہ لوگ اپنی تحریروں میں کیسی شان جلالی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انکا طرز خطاب ایسا ہوتا ہے۔ گویا خدا اپنی مخلوق کو مخاطب کر رہا ہے۔ دنیا کی زبوں حالی اور بندگان خدا کی ہمدردی میں جس درد و کرب سے ٹسوے بہانے کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ اپنی نظیر آپ ہے۔
ہمیں اس روحانی گروہ کے اقوال وافعال کو واقعات کی کسوٹی پر پرکھنے کا اس وقت تک
٢
حق حاصل ہے۔ جب تک یہ اپنے مذہب کی دعوت دیتے ہیں۔ اس نقطہ نگاہ سے یہ شرعاً قادیانی کمپنی نے اپنے ابتدائی ایام حکومت کی نظروں سے بچنے کے لئے تھا۔ یا پ نہیں۔ ہمارا مقصود اس جگہ اس کمپنی کی دور ہو جائے گی کہ اس کمپنی کی دورنگی اس امر کی بین تجارتی کمپنی ہے جس کا کام وقت بے وقت کا راگ دیکھئے کہ قادیانی جماعت کا لیڈر اپنی جماعت تقدس دینداری اور پرہیزگاری کا اظہار کر کو یوں بیان کرتا ہے:
”ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ شرعاً یہ بھی ہے کہ جائز ایجی ٹیشن کو گورنمنٹ بھی سیاست سے روکا جاتا ہے۔ اور حضرت مسیح م
اس سوال کا جواب خلیفہ قادیان مریدوں کو سیاست میں دخل دینے سے روک دعوٰی کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ جن میں دخل ایک زہر ہے۔ اور اس میں قادیانی کو کبھی ناجائز بتایا ہے۔ مذکورہ بالا کتاب فرمائیے: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قاد کی طرف توجہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ لئے میں اپنی جماعت کو اس کی اجازت نہیں
”غرضیکہ گورداسپور کے ایک بڑے لیگ سے نقصان نہیں ہوگا۔ لیکن حضرت ص اچھا نہیں ہوگا۔“
”اس طرح سیاست کا خون ج اور اس کے اندر ہی گھسا جاتا ہے۔“
حق حاصل ہے۔ جب تک یہ اپنے مذہب کی اشاعت اور دوسروں کو اس مذہب کے قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس نقطہ نگاہ سے یہ ٹریکٹ ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔
قادیانی کمپنی نے اپنے ابتدائی ایام میں خصوصاً خود کو خالص مذہبی گروہ ظاہر کیا۔ یہ حکومت کی نظروں سے بچنے کے لئے تھا۔ یا دنیا پر تقدس کے اظہار کے لئے۔ ہمیں اس سے بحث نہیں۔ ہمارا مقصود اس جگہ اس کمپنی کی دورنگی بتانا ہے۔ اس ٹریکٹ کے مطالعہ سے یہ چیز عیاں ہو جائے گی کہ اس کمپنی کی دورنگی اس امر کی بین دلیل ہے۔ کہ یہ کوئی مذہبی جماعت نہیں۔ بلکہ ایک تجارتی کمپنی ہے جس کا کام وقت وقت کا راگ الاپنا ہے۔ ذیل کے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے اور دیکھئے کہ قادیانی جماعت کا لیڈر اپنی جماعت کو سیاست سے علیحدہ رہنے کی تاکید کرتا ہوا کس قدر تقدس دینداری اور پرہیزگاری کا اظہار کرتا ہے۔ خلیفہ قادیان اپنی جماعت کے ایک اعتراض کو یوں بیان کرتا ہے:
’’ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ سٹرائکوں سے فائدہ ہوتا ہے اور حقوق مل جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ جائز ایجی ٹیشن کو گورنمنٹ بھی ناپسند نہیں کرتی تو پھر کیا وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کو سیاست سے روکا جاتا ہے۔ اور حضرت مسیح موعود نے کیوں روکا ہے۔‘‘
(برکات خلافت ص ٥٤)
اس سوال کا جواب خلیفہ قادیان نے ١٨ صفحات پر دیا ہے۔ اور پورے زور سے اپنے مریدوں کو سیاست میں دخل دینے سے روکا ہے۔ ہم اس طویل جواب کے چند اقتباسات اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ جن سے یہ ظاہر ہوگا کہ قادیانی خلیفہ کے نزدیک سیاست میں دخل ایک زہر ہے۔ اور اس میں قادیانی جماعت کی ہلاکت ہے۔ حتیٰ کہ جائز حقوق کے مطالبہ کو بھی ناجائز بتایا ہے۔ مذکورہ بالا کتاب برکات خلافت کے حسب ذیل اقتباسات ملاحظہ فرمائیے: ’’حضرت مسیح موعود (مراد مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ گورنمنٹ ایک حد تک سیاسی امور کی طرف توجہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس کام کا انجام خراب ہوگا۔ اس لئے میں اپنی جماعت کو اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘
(برکات خلافت ص ٥٦)
’’غرضیکہ گو صوبہ کے ایک بڑے اور ذمہ دار حاکم نے اس بات پر زور بھی دیا کہ مسلم لیگ سے نقصان نہیں ہوگا۔ لیکن حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے یہی جواب دیا کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔‘‘
(برکات خلافت ص ٥٧)
’’اس طرح سیاست کا خون جس کسی کے منہ لگ جاتا ہے۔ پھر وہ اسے نہیں چھوڑ سکتا۔ اور اس کے اندر ہی گھسا جاتا ہے۔‘‘
(برکات خلافت ص ٥٩)
٣
"آج کل اسلام پر جو نازک وقت آیا ہوا ہے۔ اس سے پہلے اس پر کبھی نہیں آیا۔ اس لئے اس وقت اسلام کو جتنے بھی ہاتھ کام کے لئے مل جائیں اور جس قدر بھی سپاہی اسلام کی حفاظت کے لئے مل جائیں۔ اتنے ہی کم ہیں۔ اس لئے آج مسلمانوں کے لئے سیاست کی طرف متوجہ ہونا ایک ایسا زہر ہے جسے کھا کر ان کا بچنا محال بلکہ ناممکن ہے۔"
(برکات خلافت ص ٥٦)
"حضرت مسیح موعود نے یہ پسند نہ کیا جو تھوڑے سے آدمی ان کے ساتھ شامل ہیں۔ ان کو بھی آپ سیاست میں دخل دینے کی اجازت دے کر اپنے ہاتھ سے کھو دیں۔"
(برکات خلافت ص ٩٠)
"سیاست میں پڑ کر چھوٹی قوم بڑی میں جذب ہو جاتی ہے۔"
(برکات خلافت ص ٦٢)
"سیاست کا کوئی مذہب نہیں۔"
(برکات خلافت ص ٦٣)
خلیفہ قادیان سیاست سے علیحدہ رہنے کی ایک وجہ یہ بھی فرماتے ہیں: "احسان کا بدلہ ہونا چاہئے۔ احسان بھی تو دنیا میں کوئی چیز ہے۔ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ وہ تلخی اور مرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اُٹھائی تھی۔ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آ کر ہم سب بھول گئے۔"
(برکات خلافت ص ٦٤)
"کیا دراصل وجہ کا یوں اظہار کیا ہے کہ حکومت نے ہم کو آرام پہنچایا ہے۔ اس لئے ہم خوش ہیں اور اپنے حقوق طلب کرنا بھی گناہ ہے۔ یا یوں سمجھئے کہ حکومت کی ذرہ بھر ناراضگی لے کر اپنی کمپنی کا خاتمہ ہونے کا خوف دامن گیر ہے۔ بہر حال سیاست سے بچنے کا وعظ سنتے جائیے: "نادان ہے وہ انسان جو اس وقت سیاست کی کشمکش کو دیکھ کر اور پھر اسلام کی حالت کو معلوم کر کے سیاست کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔"
(برکات خلافت ص ٦٠ ، ٦١)
"اگر کوئی یہ کہے کہ ہمیں سیاست کے چھوڑنے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہم تحصیل دار، ڈپٹی اور دیگر سرکاری عہدے حاصل نہیں کر سکے تو وہ سمجھ لے کہ اس کے چھوڑنے سے خدا ملتا ہے اور نہ چھوڑنے سے دنیا۔ پس اگر تمہیں خدا پیارا ہے تو سیاست کو چھوڑو۔ ہماری اپنی تو یہ حالت ہے کہ کوئی دشمن ہمیں تنگ کرتا ہے۔ تکلیفیں دیتا ہے۔ دکھ پہنچاتا ہے تو ہم کو گورنمنٹ کے سپاہی ہی اس سے بچاتے ہیں۔ تو سیاست کی وجہ سے ہمیشہ وہی قوم کامیاب ہوتی ہے۔ جس کا جتھا ہو۔"
(برکات خلافت ص ٦١)
٤
دلی خیالات کا بھی اظہار ہو گیا۔ اسلام کا درد محض بہانہ ہے۔ اصلی چیز یہی ہے اور سنئے!
"اگر ہم یہ تھوڑے سے آدمی بھی سیاست میں لگ جائیں تو اور کون ہوگا جو اسلام کی خدمت کرے گا۔ ان لوگوں کو جانے دو جو سیاست میں پڑتے ہیں۔ اور تم دین اسلام کی خدمت میں لگے رہو۔"
(برکات خلافت ص ٦٩)
"اسلام کی موجودہ ضروریات چاہتی ہیں کہ ہماری جماعت سیاسی معاملات سے ایسی الگ رہے کہ جس حد تک گورنمنٹ اپنی رعایا کو سیاسی معاملات میں دلچسپی رکھنے کی اجازت بھی دیتی ہے۔ وہ سیاست میں اس قدر بھی دخل نہ دے۔"
(برکات خلافت ص ٧١)
حضرات! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اسلام کی خدمت کا رونا روتے ہوئے قادیانی خلیفہ (جس نے اپنے باپ کے اقوال بھی نقل کئے ہیں۔) نے کیونکر جماعت کو سیاست میں کسی قسم کا دخل دینے سے منع کیا ہے۔ اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیے۔ اور یہ بات ذہن میں رکھئے کہ ہمیں اس سے بحث نہیں کہ سیاست اچھی چیز ہے یا بری۔ اس میں دخل دینا تباہی و بربادی ہے یا فائدہ بخش۔ بلکہ ہمارا مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ یہ جماعت قطعاً قطعاً مذہبی جماعت نہیں۔ اس گروہ کی بنیاد تجارتی اغراض پر ہے۔ جن کے حصول کے لئے مذہب کو آڑ بنایا گیا ہے۔ ان کی دورنگی اس امر کے ثبوت کے لئے کافی ہے۔
جس کتاب سے یہ اقتباسات نقل کئے گئے ہیں۔ وہ ١٩١٤ء کی ہے۔ اس وقت ضرورت تھی کہ اس قسم کا وعظ کر کے اپنے تقدس کا اظہار کیا جائے۔ مگر اس کے چند ہی سال بعد کیا ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ واقعات سے فرمائیے۔
دنیا کا کوئی معاملہ ہو۔ جاپان سے متعلق ہو یا چین سے۔ امریکہ کا معاملہ ہو یا افریقہ کا، افغانستان کا ہو یا ترکستان کا یہ گروہ اس میں دخل دینا ضروری سمجھتا ہے۔
ہمارا سوال صرف یہ ہے کہ کیا اب اسلام کو سپاہیوں کی ضرورت نہیں رہی؟ کیا اسلام کی ضرورت ختم ہوگئی؟ آخر آج کونسے وجوہ ہیں جن کی بناء پر تم سیاسیات میں دخل دے رہے ہو۔ کیا اس کا باعث صرف یہ نہیں کہ تم ہر جگہ تفرقہ انگیزی کے ذریعہ اپنا فرض سرانجام دے رہے ہو؟ مثلاً شاہ افغانستان کا معاملہ لیجئے۔ امان اللہ خان سابق شاہ کابل کے خلاف اس کے ملک میں بغاوت ہوئی۔ بغاوت کرانے میں قادیانیوں کا دخل تھا یا نہیں۔ اس وقت یہ بحث نہیں۔ صرف یہ دیکھئے کہ آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں۔
٥
"جس بات کا خطرہ تھا وہ ہو کر رہی۔ یعنی کابل کے ملاں فتنہ و فساد پھیلانے سے باز نہ آئے۔ اور انہوں نے ایک حصہ ملک میں بدامنی و بغاوت کرا ہی دی۔ سمجھ میں نہیں آتا وہ لوگ جو دینی علوم کے ماہر اور مسلمانوں کے مذہبی رہنما ہونے کے مدعی بنتے ہیں۔ وہ اپنی ملکی حکومت کے خلاف بغاوت پھیلانا کیونکر جائز قرار دے لیتے ہیں؟ ان کی یہ حرکت کسی بھی عقل مند انسان کے نزدیک قابل معافی نہیں ہو سکتی۔ اور حکومت کابل نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے۔ اس میں کوئی انہیں قابل ہمدردی نہیں قرار دے سکتا۔"
(الفضل ١١؍ دسمبر ١٩٢٨ء)
"ہزمیجسٹی شاہ کابل کو اپنے ملک میں اصلاحات جاری کرنے پر سب سے بڑی مشکلات اور رکاوٹیں ان لوگوں کی طرف سے پیش آرہی ہیں جو پیرو ملاں کہلاتے اور بلاوجہ عوام کو اپنے پھندے میں پھنسائے ہوئے ہیں۔"
"خدا تعالیٰ شاہ کابل کو جھوٹے اور بناوٹی پیروں کے رسوخ کو پورے طور پر مٹانے کی توفیق دے۔"
"ہمیں نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان کے علماء کا وہ طبقہ جن کے دماغوں میں بوسیدہ خیالات بھرے ہوئے ہیں شاہ کابل کی اصلاحی تجاویز کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔"
(الفضل ٦؍ نومبر ١٩٢٨ء)
آپ نے امان اللہ خاں کی تائید میں زور دار الفاظ سن لئے۔ اب بچہ سقہ کی تعریف بھی سنئے۔ جونہی اس گروہ نے دیکھا۔ کہ بچہ سقہ غالب نظر آ رہا ہے تو یہ ارشاد ہوا:
"سابق شاہ کابل امان اللہ خاں یورپ کی سیاحت سے کچھ ایسے متاثر ہوئے کہ انہوں نے نہ صرف خود یورپ کی ہر بات میں تقلید کرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھا۔ بلکہ اپنی ملکہ کو بھی مغربی رنگ میں رنگ دیا۔ ملکہ نے نقاب تو جہاز پر سوار ہوتے ہی اتار دیا تھا۔ لیکن یورپ پہنچ کر وہاں ایسے ایسے زنانہ فیشن اختیار کئے جو مغربی شرفاء کی خواتین میں سے بھی شاید ہی کوئی پسند کرتی ہوں۔ آخر امان اللہ خاں جب سیاحت ختم کر کے اپنے ملک میں پہنچے تو مغربی تہذیب و تمدن سے اس درجہ مسحور ہو چکے تھے کہ انہوں نے اپنے ملک میں مغربی معاشرت جاری کرنے کے لئے جبر سے کام لینا شروع کر دیا۔" (یہی وہ مغربی تہذیب تھی جس کو چند روز پہلے آسمانی گزٹ اصلاحی تجاویز قرار دے کر علماء کو کوس رہا تھا)
"ہمارے حضرت امام ایدہ اللہ تعالیٰ (مرزا بشیر) نے پہلے ہی (بطور پیشگوئی) بتا دیا
٦
تھا کہ افغانستان کا اختیار کردہ راستہ ترقی کا نہیں
"اب جب کہ دست قدرت مناسب یہی ہے کہ ان کا ذکر اگر عبرت کے حالت کے مطابق ہوں۔ ورنہ ایک سقہ کے شہر یار غازی کہا جائے۔ تو یہ اس کی توقیر نہیں جہاں لوگ بیٹھے بٹھائے غازی بن جاتے ہ
"غازی" امان اللہ خاں کا وجود شان اتنا ہی نقصان رساں اور تباہی خیز ثاب
ہر دو قسم کے اقوال آپ نے ملا اب ضرورت ختم ہو گئی تھی جو انہوں نے س قادیان اس حکومت کے خلاف جس کے س ہیں۔ یوں ارشاد فرماتے ہیں: "حضرت کے لئے مقرر تھا۔ اب آنے والے کے آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ با نے کوئی کام مقرر کیا ہوا۔ اور اسے دوسرا ہو چکے ہیں۔ اور عیسائیوں کا غلبہ مٹ ر ہو سکتا تھا کہ انگریز کبھی ہندوستان کو .... رہے ہیں۔ پھر ان کی تجارتی طاقت بھی یورپ کی دو بڑی سے بڑی طاقتوں سے قادیانی نے پیش گوئی فرمائی ہے جـ
سلطنت بما
بعد ازاں
اس کے کچھ عرصہ بعد جب شروع ہو گئے۔ ہندوستان میں جو رو رو
تھا کہ افغانستان کا اختیار کردہ راستہ ترقی کا نہیں۔ بلکہ ترقی کے لئے اسلام کی ضرورت ہے۔“
(الفضل ٢٥ جولائی ١٩٢٨ء)
”اب جب کہ دست قدرت نے امان اللہ خاں کو ہر لحاظ سے تہی دست کر دیا۔ مناسب یہی ہے کہ ان کا ذکر اگر عبرت کے طور پر کرنا پڑے تو انہی الفاظ میں کیا جائے۔ جو ان کی حالت کے مطابق ہوں۔ ورنہ ایک سقہ کے بچہ کے خوف سے بھاگ آنے والے کو اگر غازی اور شہر یار غازی کہا جائے۔ تو یہ اس کی توقیر نہیں ہوگی۔ بلکہ اس کے ساتھ تمسخر ہوگا لیکن سرزمین ہند جہاں لوگ بیٹھے بٹھائے غازی بن جاتے ہیں۔ وہاں جنگ سے بھاگا ہوا کیوں غازی نہ کہلائے۔
”غازی امان اللہ خاں کا وجود جس قدر افغانستان کے لئے مفید سمجھا گیا تھا۔ خدا کی شان اتنا ہی نقصان رساں اور تباہی خیز ثابت ہوا ہے۔“
(الفضل ٥ جولائی ١٩٢٩ء)
ہر دو قسم کے اقوال آپ نے ملاحظہ فرمائے۔ اب غور فرمائیے۔ کہ اسلام کی خدمت کی اب ضرورت ختم ہو گئی تھی جو انہوں نے سیاست میں دخل دیا اور سنئے۔ کانگرس کا زور ہوا تو خلیفہ قادیان اس حکومت کے خلاف جس کے بے شمار احسانات بقول خلیفہ قادیان مرزا کے خاندان پر ہیں۔ یوں ارشاد فرماتے ہیں: ”حضرت مرزا قادیانی نے وہ کام تو کر دیا ہے جو آنے والے مسیح کے لئے مقرر تھا۔ اب آنے والے کے لئے کوئی اور کام باقی نہیں۔ اور اس لئے کسی اور کے آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ بات بالکل عقل کے خلاف ہے کہ کسی کے لئے خدا تعالیٰ نے کوئی کام مقرر کیا ہو۔ اور اسے دوسرا آ کر کر جائے۔ عیسائیت میں بھی تنزل کے آثار شروع ہو چکے ہیں۔ اور عیسائیوں کا غلبہ مٹ رہا ہے۔ آج سے پچاس سال قبل کسی کو یہ خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ انگریز کبھی ہندوستان کو ..... حقوق دے دیں گے۔ لیکن اب وہ آہستہ آہستہ دے رہے ہیں۔ پھر ان کی تجارتی طاقت بھی ٹوٹ رہی ہے۔ کوئی زمانہ تھا کہ انگریز کہتے تھے۔ ہم یورپ کی دو بڑی سے بڑی طاقتوں سے دو گنا بحری بیڑا رکھیں گے۔ اس زمانہ میں حضرت مرزا قادیانی نے پیش گوئی فرمائی ہے؎
بعد ازاں آثار ضعف واختلال
اس کے کچھ عرصہ بعد جب ملکہ وکٹوریہ فوت ہوئیں تو اس سلطنت میں آثار ضعف شروع ہو گئے۔ ہندوستان میں جو بیداری آج نظر آ رہی ہے یہ دراصل جنگ ٹرانسوال کے زمانہ میں
٧
ہی شروع ہوگئی تھی۔ اس وقت ہندوستانیوں نے خیال کیا کہ اگر یہ تیس لاکھ انسان انگریزوں کو تنگ کر سکتے ہیں۔ تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اسی وقت سے یہ کشمکش شروع ہوئی۔ اور پھر روز بروز ضعف زیادہ ہی ہوتا چلا گیا۔ اب عیسائیت کھڑی رہ ہی نہیں سکتی۔ حضرت مرزا قادیانی نے مسیح کو مار دیا اور اس طرح اسلام کو عیسائیت کے غلبہ سے بچا لیا۔ بلکہ اناجیل سے وفات مسیح ثابت کرکے باقی دنیا کو بھی عیسائیت کے غلبہ سے محفوظ کر دیا ہے۔“
(الفضل ٧/ مارچ ١٩٣٠ء ص ١٤)
”ہندوستانی غیر محدود زمانہ تک غیر ملکی حکومت گوارا نہیں کر سکتا۔ اب ہندوستان خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔“
(الفضل ٢٩/ جون ١٩٣٠ء)
”سائمن کمیشن اس غرض کے لئے مقرر کیا گیا تھا کہ دیکھا جائے۔ مزید اختیارات کس حد تک دئے جاسکتے ہیں۔ ادھر ہندوستان میں اس حد تک بیداری تعلیم آزادی کا احساس پیدا ہو چکا ہے۔ اور دوسرے ممالک اس طرح آزاد ہو رہے ہیں کہ اب ہندوستانی خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ اور یہ ممکن ہی نہیں کہ دنیا کی آبادی کا ٤/١ حصہ غیر محدود اور غیر معین عرصہ تک ایک غیر ملکی حکومت کی اطاعت گوارا کر سکے۔ اگر یہ مطالبہ منظور نہ کیا گیا۔ تو آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ملک عقل مندی مصلحت اور دور اندیشی کے تمام قوانین توڑنے کے لئے کھڑا ہو جائے گا۔ اور خواہ اسے خود کشی کہا جائے اور خواہ اس کا نام تباہی و بربادی رکھا جائے۔ خواہ اسے ہلاکت اور خونریزی قرار دیا جائے۔ ملک اس کے لئے آمادہ ہو جائے گا۔“
(الفضل ٩/ مئی ١٩٣٠ء)
”میں نے پہلے ہی لکھا تھا کہ جس وقت سے ملک میں حکومت خود اختیاری کا سوال پیدا ہوا ہے۔ حکومت ہمیشہ زبردست کا ساتھ دینے کی کوشش کرتی ہے۔ کیونکہ کوئی خواہ کتنا ہی دیانت دار ہو۔ اگر اس میں دینداری اور روحانیت نہیں۔ تو وہ قومی مفاد کے مقابلہ میں دیانت داری کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں کرتا۔ (انگریزوں کی طرف اشارہ ہے) جس کے اخلاق کیسے ہی ہوں۔ وہ جہاں بھی قومی سوال پیدا ہوگا۔ انہیں خیر آباد کہہ دے گا۔ اس لئے میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں کہ جوں جوں ہندوستان میں حکومت خود اختیاری کا سوال زور پکڑتا جائے گا۔ انگریز زبردست کی طرف جھکتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں۔ زبردست کی حمایت کے بغیر ہم یہاں نہیں رہ سکتے۔ آئرلینڈ میں دیکھ لو کیا ہوا۔ جن لوگوں نے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر حکومت کا ساتھ دیا حکومت نے جب دیکھا کہ ملک میں مخالفت بڑھ گئی ہے۔ تو اس نے ان جانبازوں کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اور ایسے ایسے قوانین پاس کر دیئے جنہیں ان بہادروں نے اپنی حق تلفی سمجھا۔ وہ
٨
لوگ ان کے ہم مذہب ہم قوم اور وفادار تھے۔ لیکن ان کے مقابلہ میں پرواہ نہ کی گئی۔ تو صرف وفاداروں کو ساتھ چھوڑ دینا کونسی اچنبے کی بات ہے۔“ (خلیفہ محمود
مذکورہ بالا اقوال تو اس وقت کے ہیں۔ جب بعد کانگریس قادیانیوں کے خیال میں ہی ناکام و
”ہندوستان جیسے غریب ملک میں اسی قسم کی دوسری مہیا کرنے سے باز رکھ رہی۔ جس قدر تباہی اور بدامنی حد تک نازک ہو چکے ہیں۔ وہ خود کانگریسیوں سے کہہ کی طرف متوجہ ہوتے نظر نہیں آتے۔ حالانکہ عقل مند کوئی ایسی راہ اختیار نہ کرے جو حریف کے علاوہ اپنے مگر ان لوگوں کو جو ہندوستان کے نجات دہندہ بننے رہے ہیں کہ ان کے افعال حکومت کی نسبت خود ان وطنوں کے لئے زیادہ نقصان رساں اور ہلاکت آفریں مگر ان سے باز نہیں آتے کسی نہ کسی مقام جوں ان کی غلط کاریوں اور نقصان رسانیوں سے سرد ہوتا جائے گا۔ جس کی وجہ سے اندھا دھند کام جوں اس کے زخم ٹھنڈے ہوتے جائیں گے جائیں گے۔ اس کے آثار ابھی سے نظر آ رہے ہیں بڑے جوش وخروش سے قانون شکنی کی تھی۔ کچھ حرکات نہ کرنے کا عہد کر کے رہائی حاصل کر رہے ہے۔“
اور سنئے کانگریس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کو پورے زور سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خفیہ اطلاعات بھیجتے رہیں۔“ (تاکہ یہی اطلاعات سی آئی ڈی کا کام سرانجام دیتے ہیں)
لوگ ان کے ہم مذہب ہم قوم اور وفادار تھے۔ لیکن ان تعلقات کے ہوتے ہوئے جب زبردست کے مقابلہ میں پرواہ نہ کی گئی۔ تو صرف وفاداروں کو جو نہ ان کے ہم مذہب ہیں۔ اور نہ ہم قوم، ساتھ چھوڑ دینا کونسی اچنبھے کی بات ہے۔ (خلیفہ محمود)
(الفضل ١١؍ اکتوبر ١٩٢٩ء ص ٦)
مذکورہ بالا اقوال تو اس وقت کے ہیں۔ جب کانگریس زوروں پر تھی۔ مگر جوں ہی چند دن بعد کانگریس قادیانیوں کے خیال میں ہی ناکام دکھائی دی تو خلیفہ قادیان ارشاد فرماتے ہیں: ’’ہندوستان کے سے غریب ملک میں اسی قسم کی دوسری تحریکیں جو لاکھوں آدمیوں کو قوت لایموت مہیا کرنے سے باز رکھ رہی۔ جس قدر تباہی اور بدامنی پیدا کر سکتی ہیں وہ ظاہر ہے، اور حالات جس حد تک نازک ہو چکے ہیں۔ وہ خود کانگریسیوں سے بھی پوشیدہ نہیں۔ لیکن باوجود اس کے وہ اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے نظر نہیں آتے۔ حالانکہ عقل مندی اور دور اندیشی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ انسان کوئی ایسی راہ اختیار نہ کرے جو حریف کے علاوہ اپنے آپ کو بھی ہلاکت کے گڑھے میں گرا دے مگر ان لوگوں کو جو ہندوستان کے نجات دہندہ بننا چاہتے ہیں۔ اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ دیکھ ر ہے ہیں کہ ان کے افعال حکومت کی نسبت خود ان کے لئے ان کے ملک کے لئے اور ان کے ہم وطنوں کے لئے زیادہ نقصان رساں اور ہلاکت آفرین ثابت ہو رہے ہیں۔
مگر ان سے باز نہیں آتے کسی نہ کسی مرحلہ پر پہنچ کر انہیں ہار تو آنا پڑے گا۔ کیونکہ جوں جوں ان کی غلط کاریوں اور نقصان رسانیوں سے عام لوگ آگاہ ہوتے جائیں گے۔ ان کا وہ جوش سرد ہوتا جائے گا۔ جس کی وجہ سے اندھا دھند کانگرسی لیڈروں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اور جوں جوں اس کے قدم ٹھنڈے ہوتے جائیں گے۔ تھک اور ہار کر ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہوتے جائیں گے۔ اس کے آثار ابھی سے نظر آ رہے ہیں۔ چنانچہ مختلف صوبوں میں وہ لوگ جنہوں نے بڑے جوش وخروش سے قانون شکنی کی تھی۔ گورنمنٹ سے معافی مانگ کر اور آئندہ اس قسم کی حرکات نہ کرنے کا عہد کر کے رہائی حاصل کر رہے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘
(الفضل ٨؍ ستمبر ١٩٣٠ء ص ٣)
اور سنئے کانگریس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں: ’’پس میں جماعت کو پورے زور سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خلاف امن تحریکات کی خبر گیری کریں۔ اور وقتاً فوقتاً مجھے اطلاعات بھیجتے رہیں۔‘‘ (تاکہ یہی اطلاعات حکومت کو بھیج کر اپنا احسان جتایا جائے کہ دیکھو ہم ہی سی آئی ڈی کا کام سر انجام دیتے ہیں)
٩
آگے لکھتے ہیں: ”میں نے ایک سکیم بھی تیار کی ہے جس کے ماتحت پچیس سال تک کے تمام نوجوانوں کو منظم کیا جائے گا ۔ لیکن علاوہ اس تنظیم کے ہمارے جماعت کے ہر فرد کو حکومت کے اس معاملہ میں مدد کرنی چاہئے ۔“ (حکومت کی مدد کرو گے تو حکومت مضبوط ہوگی ۔ مگر یہ بتاؤ کہ تمہارے مرزا کی پیش گوئی جو حکومت کی تباہی کے لئے کی گئی ہے۔ کیونکر پوری ہوگی ۔ پس کیا یہ باتیں تم دل سے کہہ رہے ہو)
(خطبہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ٧ جولائی ٣٢ء)
سوال یہ ہے کہ اب اپنی جماعت کے نوجوانوں کو حکومت کی امداد کے لئے تیار کرنا کیا معنی رکھتا ہے ۔ کیا ہندوستان مسلمان ہو گیا ؟ خاص قادیان کی کہو کہ وہاں ہندو سکھ، عیسائی باقی نہیں رہے ۔ کیا اسلام کو آج سپاہیوں کی ضرورت نہیں رہی ۔ اسلام کا وہ درد جو ١٩١٤ء میں پیدا ہوا تھا کہاں گیا ۔ کیا اسلام کی خدمت کا کام ختم ہو چکا ۔ جواب اس سے فارغ ہو کر خدا کو ملنے کے بجائے اب دنیا یعنی سیاست کے پیچھے پڑے ہو ۔
ہمیں اس وقت اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ۔ قادیانی فوج تیار ہوئی تو کیا کرے گی ؟ ١....... جو لوگ قادیان میں مذبح کو نہ بچا سکے وہ کیا کریں گے ۔ ٢....... یہ صرف لفظی طور پر حکومت کے خوش کرنے کے لئے فوج کی تیاری کا اعلان کیا ہے ۔ ٣....... یہ سمجھا ہے کہ حکومت کو امداد کی ضرورت تو ہوگی نہیں ۔ لفظی ہمدردی میں کیا حرج ہے ۔ کیونکہ ہمارا مقصود تو اس وقت قادیانی خلیفہ کے اقوال سے ان کی دورنگی ظاہر کر کے یہ ثابت کرنا ہے ۔ کہ یہ کمپنی کوئی مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک تجارتی کمپنی ہے ۔ جس نے مذہب کی اوڑھنی اوڑھ رکھی ہے ۔
قادیانی کمپنی کا موجودہ طرز عمل ملاحظہ فرمائیے ۔ کشمیر میں فتنہ انگیزی ، معاملات کشمیر میں دخل در معقولات ، کشمیر کمیٹی کا ڈھونگ ، مسلم لیگ کی صدارت ، ایک قادیانی کا گول میز کانفرنس میں جانے کے لئے انتہائی کوشش کرنا وغیرہ ذالک ۔
قادیانی ان معاملات میں کیوں منہمک ہیں ۔ یا مسلمانوں کے معاملات میں دخل دے کر قادیانیوں کا کیا حشر ہوتا ہے ۔ اس وقت اس چیز پر ہماری بحث نہیں ۔ ہمارا سوال تو صرف یہ ہے کہ کیا اسلام کی خدمت کا کام سرانجام پا چکا ۔ جواب سیاست میں دخل دے رہے ہو ۔ اور تمہارا یہ اعلان کہاں گیا ؟ ”اگر ہم تھوڑے سے آدمی بھی سیاست میں لگ جائیں تو اور کون ہوگا جو اسلام کی خدمت کرے گا ۔ اگر تمہیں خدا پیارا ہے تو سیاست کو چھوڑ دو ۔“
پس یا تو مانو کہ اب خدا پیارا نہیں یا اس بات کا اقرار کرو کہ بقول خود ”سیاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔“ تم دراصل ہو ہی سیاسی گروہ ۔
١٠
سیدنا حضرت امیر شریعت
خطبہ عید
ترکان احرار
ترکی
ماتحت پچیس سال تک ت کے ہر فرد کو حکومت مضبوط ہوگی۔ مگر یہ بتاؤ پوری ہوگی۔ پس کیا یہ بہ الفضل ١٧ جولائی ١٩٣٢ء) داد کے لئے تیار کرنا کیا سکھ، عیسائی باقی نہیں ١٩١٤ء میں پیدا ہوا تھا خدا کو ملنے کے بجائے
فوج تیار ہوئی تو کیا ..... یہ صرف لفظی طور سمجھا ہے کہ حکومت کو دو تو اس وقت قادیانی مذہبی جماعت نہیں
زی، معاملات کشمیر کا گول میز کانفرنس
بات میں دخل دے ا سوال تو صرف یہ رہے ہو۔ اور تمہارا کون ہوگا جو اسلام
سیاست کا کوئی
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
ارشاد فرمودہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
خطبہ عید الاضحیٰ ١٣٥٣ھ
ترکان احرار کا پیغام
ترکی کے نامہ نگار
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صدق خلیل کی سالگرہ
خطبہ عیدالاضحیٰ ١٣٥٣ھ
برادران اسلام! آج اس عظیم الشان قربانی کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ جس میں سرور کائنات ﷺ کے جد پاک حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے صدق اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کے صبر کی آزمائش ہوئی۔ ضرورت ہے کہ ہم اس سنت کی سالگرہ مناتے ہوئے غور کریں کہ اس قربانی کا مقصد کیا تھا اور ہر سال ماہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ اور اسلام کی بین الاقوامی کانفرنس یعنی حج کے دوسرے روز عیدالاضحیٰ کے نام سے اس قربانی کی یاد کیوں تازہ کی جاتی ہے۔ جس میں لاکھوں کروڑوں حلال جانداروں کا خون اللہ کی فوج کے سپاہی یعنی مسلمان اپنے ہاتھوں سے بہانے کی مشق کرتے ہیں؟
اگر صدق خلیل علیہ السلام اور صبر اسماعیل علیہ السلام کے واقعہ اور اس کے بعد کے اسلامی واقعات پر نگاہ دوڑائی جائے۔ تو ہمیں اس کا جواب خود بخود مل جائے گا۔ اور ماننا پڑے گا کہ اس مشق ۔۔۔۔ کروانے کا منشاء صرف یہ ہے کہ اللہ کی فوج دنیا بھر میں حکومت الٰہی قائم کرنے کی عادت حاصل کرتی رہے۔ تاکہ ۔۔۔۔ اسلام کا نصب العین پورا ہو۔
اسلام کا نصب العین کیا ہے؟
اسلام کا نصب العین یہ ہے کہ دنیا میں اللہ کی حکومت قائم کی جائے۔ تاکہ نوع انسانی اسی دنیا میں اجتماعی مصیبتوں سے نجات پا کر دنیا اور آخرت میں اللہ کی نعمتوں کا لطف اٹھا سکے۔ اسی لئے بانی اسلام محمد ﷺ (ابی و امی فداہ) نے شرف نبوت یعنی چالیس سال کی عمر سے اس کام کو شروع کر کے متواتر اکیس برس تک بے شمار قربانیوں کے بعد ٨ھ میں مرکز عرب اور اپنے وطن مکہ بلکہ معلوم دنیا کے تقریباً وسط میں ہونے کی وجہ سے مرکز عالم میں حکومت الٰہی قائم کر دی۔ اور تقریباً دو سال تک اس نظام حکومت کو چلانے کے بعد ٦٣ سال کی عمر میں ١١ھ میں وفات پائی۔ حجۃ الوداع (آخری حج) کے موقع پر مکہ کی ایک پہاڑی کے اوپر اونٹنی پر سوار ہو کر حضور نے تقریباً ایک لاکھ اور کئی ہزار کے مجمع میں خطبہ دیا۔ جس میں آپ نے اعلان کیا۔ قیام حکومت الٰہی کے لئے جو کام اللہ کی طرف سے میرے سپرد ہوا۔ اس کی تکمیل ہو گئی اور اس حکومت کا نظام نامہ اور دستور
٢
العمل (کانسٹی ٹیوشن) قرآن ہے۔ اور کہ آئندہ مسلمانوں کی پالیسی یہ ہوگی۔ کہ دنیا بھر میں یہی نظام حکومت الٰہی (دستور العمل) نافذ کیا جائے۔ چنانچہ حضورﷺ کی وفات کے بعد خلفاء راشدین کے عہد تک وہی نظام حکومت الٰہی قائم رہا۔ اور جمہوریت اسلامیہ شام، مصر، ایران اور عراق وغیرہ تک پھیل گئی۔
عہد معاویہؓ میں نظام حکومت الٰہی کے بجائے شخصی حکومت کا قیام
لیکن اس کے بعد شہادت عثمانؓ سے پیدا شدہ اموی ہاشمی سوال نے بنو اُمیہ کی زبردست اکثریت اور کچھ وقتی حالات کی وجہ سے معاویہؓ کے لئے سیاست اسلامیہ پر قابض ہوجانے کا موقع پیدا کردیا۔ اور جناب امیر کرم اللہ وجہہ کا عہد خلافت ختم ہوتے ہی جمہوریت الٰہیہ اسلامیہ شخصی حکومت میں تبدیل ہوگئی۔ اور اسی بدعت کو قائم رکھنے کے باعث صبر حسینؓ کی آزمائش ہوئی۔ یہ اس لئے کہ معاویہؓ نے خلافت اسلامیہ الٰہیہ کو شخصی حکومت بنادینے کے بعد اس بدعت کو نسلی وراثت بنادیا اور اپنے بعد اپنے بیٹے یزید کو وارثِ تخت قرار دیا۔ لیکن سید الشہداءؓ نے اس بدعت کو تسلیم کرنے کے بجائے تاجِ شہادت قبول کیا۔ اور رہتی دنیا تک مثال قائم کردی کہ مردِ مومن حکومتِ الٰہی میں رد و بدل برداشت کرنے کے بجائے اپنی جانوں پر کھیل جانے کی سنتِ تازہ رکھنا پسند کرتے ہیں۔ خلیل اللہ کی قربانی کے بعد اسلام کی اس سب سے بڑی قربانی کا لطف اقبالؔ نے اپنی تازہ تصنیف ”بالِ جبریل“ میں اس طرح دکھایا ہے کہ ؎
معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی عشق
آج اس بنیادی سبق کو بھول کر ہم مسلمان کہلاتے ہوئے بھی ذلت و خواری میں مبتلا ہیں اور ملکوں کے ملک کھودینے کے ساتھ ہی ایمان لٹا بیٹھنے کے بعد بھی اپنی اسلامیت پر مطمئن ہیں۔ خدا کے لئے غور کرو کہ مقصدِ اسلام سے منہ پھیر کر.......... بنیادی سنت کی پیروی کے بغیر ہمارا اسلام محمدﷺ کی منافقانہ وفاداری کے دھوکہ باز اعلان کے سوائے اور کیا ہے؟
اب ہمارے سامنے سوال صرف یہ ہے کہ آیا ساڑھے تیرہ صدیاں گزر جانے کے بعد اس وقت تک چالیس پچاس کروڑ مسلمانوں کی موجودگی کے باوجود دنیا بھر میں حکومت الٰہی قائم ہوگئی یا کہ نہیں؟ جس کا جواب صاف ہے کہ دنیا بھر میں حکومت الٰہی قائم ہونے کے بجائے عہدِ معاویہؓ سے لے کر اب تک حکومتِ الٰہی کا صحیح تصور بھی ہمارے ذہن سے دور رہا۔ اور بنو اُمیہ و بنو
٣٠
عباس اور دوسرے مسلمان حکمرانوں کی غیر اسلامی شخصی حکومتوں کو ہم الٰہی حکومتیں سمجھتے رہے۔ زیادہ تر ملت اسلامیہ کی اس ایک غلط فہمی کی وجہ سے دنیا کا بڑا حصہ اسلام یعنی حکومت الٰہی سے اب تک محروم ہے۔
اسی لئے امام احمد بن حنبلؒ کو سچ کہنے کے بدلے میں کوڑوں سے اپنا جسم لہولہان کروانا پڑا۔ اور قید و بند کا مزا چکھنا پڑا۔ امام ابو حنیفہؒ کو راست گوئی کی خاطر جیل جا کر یوسف علیہ السلام کی سنت تازہ کرنی پڑی۔ امام ابن تیمیہؒ نے بھی جیل خانہ کی ہوا کھا کر سچائی کی سند حاصل کی۔ قیام حکومت کے سلسلہ ہی میں مولانا اسماعیل شہیدؒ کی شہادت کو ابھی ایک صدی ہی کا عرصہ گزرا ہے۔ اور دور کیوں جاتے ہو۔ اس زمانے کے حامیان حکومت الٰہی شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ ، حکیم محمد اجمل خاں صاحب مرحوم اور رئیس الاحرار مولانا محمد علی صاحبؒ کے تو ابھی کفن بھی میلے نہیں ہوئے۔
موجودہ زمانہ میں حکومت الٰہی کے قیام کی آسانیاں
ساڑھے تیرہ صدیوں میں جو کچھ ہونا تھا وہ ہوا۔ لیکن ہمارا سفر ابھی بہت زیادہ باقی ہے۔ لیکن ہمارا کام بہت آسان ہو گیا ہے۔ کیونکہ موجودہ دنیا کی علمی تحقیقات اور سائنس کی ایجادات نے قرآن کی ظاہر و پوشیدہ سچائیوں کو عقلی کسوٹیوں پر لگا کر اقرار کرنا شروع کر دیا ہے۔ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہی تعلیم فطرت ہے۔ اس لئے اسی تعلیم میں دنیا کی نجات ہے۔ اسی لئے دنیا خود بخود حکومت الٰہی کی متلاشی اور حمایت پر آمادہ ہوتی جا رہی ہے۔ اور مختلف ناموں سے قیام نظام حکومت الٰہی کے لئے کوشاں ہے۔ مسلمانو! سمجھو کہ نظام حکومت الٰہی کیا ہے۔ تا کہ اسے سمجھ کر ہم اپنی منزل کا راستہ آسان بنائیں۔
نظام حکومت الٰہی
نظام حکومت الٰہی کی تفصیل و تشریح قرآن وحدیث اور ان دونوں کی زندہ تفسیر یعنی آخری نبی کے نمونہ عمل میں موجود ہے۔ جس کا اختصار یہ ہے کہ دنیا کا حکمران یعنی اللہ ایک ہے۔ محمد ﷺ اس کے آخری رسول ہیں۔ جن کے ذریعہ سے دنیا کو آخری مکمل آئین (کاسٹی ٹیوشن) دیا گیا ہے۔ اور انہیں کے ہاتھ سے حکومت الٰہی کا نمونہ مکہ میں قائم ہوا۔ جس کے بعد اعلان کیا گیا کہ سب اولاد آدم ایک ہی کنبہ ہے۔ اور آدم مٹی سے بنا تھا۔ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں۔ نہ کسی عجمی کو عربی پر فضیلت ہے۔ کسی نسل کو کسی نسل پر کوئی امتیاز نہیں۔ صرف فضیلت کے قابل وہی انسان ہے۔ جو پاک باز اور نیک عمل کرتا ہے۔ حکومت الٰہی میں ساری دنیا کی دولت دنیا والوں کی
٤
مشترکہ ہے۔ کسی شخص کو حق نہیں کہ وہ سود یا دوسرے بلکہ حکومت الٰہی کا فرض ہے۔ ہر فرد رعایا کو حسب مطابق ضرورت سے زیادہ دولت اکٹھی کر کے ا مستحقین اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرتی رہے حقوق یتیم، حقوق بیوگان، حقوق مسافر، حقوق اپاہ و تقسیم جائیداد کو بذریعہ وراثت رکھا ہے۔ عورتوں کو اور ناچاقی کی صورت میں شوہر سے طلاق حاصل میں بذریعہ قاضی خلع کا حق رکھتی ہے۔
فسق و فجور اور فضول رسومات کا رواج
تجارت کرنے کا اور محنت و مزدوری یا زراعت
فوج یعنی مسلمانوں پر روزانہ پانچ دفعہ جماعت
اسلام میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنا
مسلمانو ! حکومت الٰہی کے قیام کے س
نام کے مسلمانو! سوچو کہ اس دنیا زندگی میں بہشتی زندگی کی عادت حاصل کرنے اور کونسا ہو سکتا ہے۔ تم جانتے ہو کہ ریلوں، ہوا تمہارا کام کس قدر آسان ہو گیا ہے۔ اللہ کا نا پکار پکار کر تمہیں کہہ رہا ہے۔ کہ۔
از خواب گراں، خوا
ترکان احرار کا پیغام
ترکان احرار صدیوں سے حکومت عثمانیہ بھی کلیۃً نظام حکومت الٰہی کے مطابق اپنی عقل کے مطابق حکومت عثمانیہ کو ہی حکو مسلمانان عالم کے اعمال کی سزا اس روئے زمی
مشترکہ ہے۔ کسی شخص کو حق نہیں کہ وہ سود یا دوسرے ناجائز ذرائع سے خلق خدا کی روزی چھینے۔ بلکہ حکومت الہی کا فرض ہے۔ ہر فرد رعایا کو حسب ضرورت روٹی دے۔ اور قرآن کے اصولوں کے مطابق ضرورت سے زیادہ دولت اکٹھی کر کے رکھنے والوں سے وقتاً فوقتاً دولت حاصل کر کے مستحقین اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرتی رہے۔ جس کا نام اسلام نے زکوٰۃ، حقوق ہمسایہ، حقوق یتیم، حقوق بیوگان، حقوق مسافر، حقوق اپاہج، حقوق مساکین، حقوق اخراجات نظام حکومت وتقسیم جائیداد وبذریعہ وراثت رکھا ہے۔ عورتوں کو وراثت ملکیت کا حق ہوگا۔ رضا مندی سے نکاح اور ناچاقی کی صورت میں شوہر سے طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ اور خاوند کی ہٹ دھرمی کی صورت میں بذریعہ قاضی خلع کا حق رکھتی ہے۔
فسق وفجور اور فضول رسومات کا رواج قانوناً بند ہوگا۔ سود کے بغیر مقررہ پابندیوں سے تجارت کرنے کا اور محنت ومزدوری یا زراعت کے لئے ہر شخص کو حق حاصل ہوگا۔ حکومت الہی کی فوج یعنی مسلمانوں پر روزانہ پانچ دفعہ جماعت بند ہونا اور ان کے نمائندوں کے لئے ہر سال مرکز اسلام میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنا فرض ہوگا۔
مسلمانو! حکومت الہی کے قیام کے لئے اٹھو!
نام کے مسلمانو! سوچو کہ اس دنیا میں بہشت کے نمونہ سے لطف اٹھانے اور دوسری زندگی میں بہشتی زندگی کی عادت حاصل کرنے کے لئے حکومت الہی کے قیام سے زیادہ نیک عمل اور کونسا ہو سکتا ہے۔ تم جانتے ہو کہ ریلوں، ہوائی جہازوں، چھاپہ خانوں اور دوسری ایجادات سے تمہارا کام کس قدر آسان ہو گیا ہے۔ اللہ کا نام لے کر حکومت الہی کے قیام کے لئے اٹھو۔ زمانہ پکار پکار کر تمہیں کہہ رہا ہے۔ کہ ؎
از خواب گراں خواب گراں خواب گراں خیز
ترکان احرار کا پیغام
ترکان احرار صدیوں سے حکومت الہی سنبھالنے کے دعویدار چلے آتے ہیں۔ گو حکومت عثمانیہ کبھی کلیۃً نظام حکومت الہی کے مطابق نہ تھی۔ لیکن ترکوں نے اپنے علماء دین پر بھروسہ کر کے اپنی عقل کے مطابق حکومت عثمانیہ کو ہی حکومت خلافت اسلامیہ سمجھ کر قائم رکھا۔ لیکن آخر کار مسلمانان عالم کے اعمال کی سزا اس رہی سہی خلافت اسلامیہ کو بھی اٹھانی پڑی۔ اور حکومت عثمانیہ
٥
ہماری غفلتوں اور دینی بے حسی کی نذر ہو گئی۔ جسے اسلام کے مجاہد اعظم انور پاشا نے اپنے سر کی بازی لگا کر بچانے کی کوششوں کے بعد آخر وسط ایشیا میں غریب الوطنی کی حالت میں اپنی کروڑوں جانوں سے قیمتی جان میدان جنگ میں قربان کر دی۔ لیکن یہ سعادت غازی مصطفیٰ کمال اتاترک (ترک اعظم) کی تلوار کو حاصل ہوئی۔ اس مرد مجاہد نے غازی عصمت پاشا، غازی رؤف پاشا اور غازیہ خالدہ ادیب خانم کی امداد و اعانت سے دوبارہ جمہوریہ ترکیہ کی بنیاد رکھی۔ آج اسی مصطفیٰ کمال کے وطن ترکیہ کے شہر استنبول کی جامع مسجد کے امام حافظ نور اللہ آفندی اور خود مصطفیٰ کمال کی زبان سے پیغام آیا ہے کہ حکومت الٰہی کے قیام میں رکاوٹ پیدا کرنے والے اور بغاوت پھیلانے والے فتنوں کے استیصال کے لئے کمال اعظم اور ملت ترکی ہمہ تن تیار ہے۔ اس پیغام کے پہنچانے والے روزنامہ اخبار ’احسان‘ لاہور کو اللہ زندہ رکھے۔
آثار بتا رہے ہیں کہ یہی پیغام انشاء اللہ مسلمانوں کی پھوٹ اور انتشار ختم کرنے کا باعث ہوگا۔ اور ایک دن آئے گا کہ؎
موج مضطر ہی انہیں زنجیر پا ہو جائے گی
حکومت الٰہی کی حمایت کے لئے ترکان احرار کا تازہ اقدام
اخبار ”احسان“ لکھتا ہے کہ مورخہ ٢٠ جنوری ١٩٣٥ء کو جامع مسجد استنبول میں ایک جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں ملت ترکیہ کے ٧٠ ہزار فرزندوں کے علاوہ ٥٠ قائدین ملت نے بھی شمولیت کی۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد رئیس العلماء حافظ نور اللہ نے آلہ مکبر الصوت پر ایک بصیرت افروز تقریر کی اور کہا کہ اس وقت دشمنان اسلام میں تشتت و افتراق کا بیج بونے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں اور اس بات کے درپے ہیں۔ کہ بھائیوں بھائیوں میں پھوٹ ڈال کر مسلمانوں کی قوت کا شیرازہ منتشر کر دیں اور اسلام کے مقدس اصولوں کو پامال کر کے ملت اسلام کی یکجہتی کے رشتہ کو منقطع کر دیں۔
اکثر اسلامی ممالک میں آئے دن ایسے آدمی پیدا ہوتے رہتے ہیں جو اپنی خرافات سے حضور سید البشر والکائنات ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہو کر ہمارے محکوم مسلمان بھائیوں کے جذبات کو مجروح کرتے رہتے ہیں۔
ترکوں کے جذبہ اسلامی سے اپیل
اے ترک مجاہدو! تمہارے آباؤ اجداد تحفظ ناموس رسالت اور رفعت و شوکت اسلام
کے لئے آٹھ سو سال تک شمشیر بکف لئے اپنا خون بہا کر حضور رسالت مآب ﷺ رہے۔ اس لئے تمہیں بھی چاہئے، کہ اسلام ک کے نقش قدم پر گامزن رہو اور ملت اسلام کی آوری میں بالکل کوتاہی نہ کرو اور اسلام س برادران اسلام کو اس روحانی عذاب سے نجا پر لازم ہے کہ تم اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کر کے دنیا پر عیاں کر دو کہ تمام مسلمان ایک میں تمہارا مذہبی رہنما ہونے کی تعلیمات کے مطابق اپنے محکوم لیکن مسلمان بغض و عداوت پر مبنی ہو۔ پرانے واقعات رسالت محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم ک اپنے بھائی سمجھو۔ ان کے غم کو اپنا غم اور ان تمہارے محکوم بھائیوں نے حکومت کی مجبوری لیکن یقین جانو کہ وہ اپنی اس حرکت سے ظ فوقیت دی ہے۔ اور یہ سب خدائے تعالیٰ کا
قادیانی دجل کی حقیقت
میرے غیور بھائیو! آج میں ت چاہتا ہوں۔ اس فرقہ کی ابتداء ہندوستان م
آج سے چند سال قبل مرزا غلا دعوٰی کیا۔ اور اپنی فریب کاریوں سے اس بیعت کر لی۔ اور اس کی نبوت کا اقرار کر لیا لیاقت اور اس کی اقتدار کے متعلق سوال کیا معمولی اہلکار تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ اپنی شاطرانہ کے رتبہ تک جا پہنچا۔ اس نے اپنی گروہ کی حمایت میں مضامین لکھتا۔ اور اس کی ت
کے لئے آٹھ سو سال تک شمشیر بکف پھرتے رہے اور پھر چار دانگ عالم میں خدمت اسلام کے لئے اپنا خون بہا کر حضور رسالت مآب ﷺ کی روح مبارک کی خوشنودی سے فیض یاب ہوتے رہے۔ اس لئے تمہیں بھی چاہئے، کہ اسلام کی عزت کو برقرار رکھنے کے لئے تم بھی اپنے اباؤ اجداد کے نقش قدم پر گامزن رہو اور ملت اسلام کی ناموس کی حفاظت کو فرض جانتے ہوئے اس فرض کی بجا آوری میں بالکل کوتاہی نہ کرو اور اسلام کے خلاف خرافات بکنے والوں کو عبرتناک سزا دے کر برادران اسلام کو اس روحانی عذاب سے نجات دو۔ جس میں وہ مدت سے مبتلا چلے آتے ہیں۔ تم پر لازم ہے کہ تم اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کرو اور غیر مسلم اقوام کے مقابلہ میں انہیں سربلند کر کے دنیا پر عیاں کر دو کہ تمام مسلمان ایک عالمگیر اخوت کے رشتے میں منسلک ہیں۔
میں تمہارا مذہبی رہنما ہونے کی حیثیت سے درخواست کرتا ہوں کہ تم قرآن پاک کی تعلیمات کے مطابق اپنے محکوم لیکن مسلمان بھائیوں کے متعلق دل میں کوئی ایسا خیال نہ لاؤ۔ جو بغض و عداوت پر مبنی ہو۔ پرانے واقعات کو بھول جاؤ۔ اور ان لوگوں کو جو توحید باری تعالیٰ، رسالت محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان رکھتے ہیں۔ بلا تخصیص رنگ و نسب اپنے بھائی سمجھو۔ ان کے غم کو اپنا غم اور ان کی مسرت کو اپنی مسرت سمجھو۔ اس میں شک نہیں کہ تمہارے محکوم بھائیوں نے محکومیت کی مجبوریوں کے ماتحت ایک بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا۔ لیکن یقین جانو کہ وہ اپنی اس حرکت سے نادم ہیں۔ جنہیں خدا نے روئے زمین کے مسلمانوں پر فوقیت دی ہے۔ اور یہ سب خدائے تعالیٰ کا فضل ہے۔
قادیانی دجل کی حقیقت
میرے غیور بھائیو! آج میں تمہارے ساتھ فرقہ مرزائیہ کے دجال کا تار پود بکھیرنا چاہتا ہوں۔ اس فرقہ کی ابتداء ہندوستان کے ایک قصبہ قادیان سے ہوئی تھی۔
آج سے چند سال قبل مرزا غلام احمد نامی ایک آدمی نے اپنے نبی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اور اپنی فریب کاریوں سے اس نے ایسا اثر پیدا کیا کہ معدودے چند احمقوں نے اس کی بیعت کر لی۔ اور اس کی نبوت کا اقرار کر لیا۔ (اس وقت حاضرین میں سے کسی نے مرزا غلام احمد کی لیاقت اور اس کی اقتدار کے متعلق سوال کیا۔) مقرر نے جواب دیا کہ مرزا مذکور سرکاری دفتر میں معمولی اہلکار تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ اپنی شاطرانہ چالوں اور فوق العادت غباوت فطری کی وجہ سے ”نبی“ کے رتبہ تک جا پہنچا۔ اس نے اپنی گرد و پیش کاسہ لیسوں کا ایک حلقہ جمع کر لیا تھا۔ جو اس کی تائید و حمایت میں مضامین لکھتا۔ اور اس کی تالیفات کی تعریف میں رطب اللسان رہتا۔ اس نے
٧
ہندوستان کی موجودہ حکومت کی تائید و اعانت کے بل بوتے پر وہاں کے مسلمانوں کو پریشان کرنا شروع کردیا۔
اور انہوں نے کفر و الحاد کے فتوے چسپاں کرنے شروع کر دیئے ۔ میں اور میرے چند رفقاء، مرزائیہ کی ایمان سوز سرگرمیوں کا دلچسپی سے مطالعہ کر رہے ہیں۔ افسوس ہے کہ ترکی مدتوں تک شخصی حکومت کی زنجیروں میں جکڑا رہا اور جب ملوکیت کی نحوست دور ہوئی تو غیر مسلم اقوام نے اسے تباہ کرنے کے لئے اس پر یورش کر دی۔ اور ہمیں آج تک کوئی موقع نہیں مل سکا کہ ہم عوام کو باقاعدہ اس نئے فرقے کے حالات سے مطلع کر سکیں اور انہیں بتا سکیں کہ اس فرقہ نے اغیار کی مدد سے شعائر اسلامی میں رخنہ اندازی کر کے اسلام کو نقصان پہنچانے کی کس قدر کوشش کی ہے۔
قرآنی آیات میں تحریف
میرے عزیزو! مرزا نے قرآنی آیات کی ترجمانی میں بہت تحریف سے کام لیا ہے۔ اور قرآنی آیات میں اپنے نام کو داخل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے جہاد کو منسوخ کر دیا اور مکہ معظمہ کے بجائے حجاج کی عقیدت کا مرکز قادیان کو قرار دیا۔ وہ کلیم اللہ ہونے کا مدعی تھا۔ اور عوام میں ہمیشہ یہ مشہور کرتا تھا کہ رات کو مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ مجھ میں مسیح موعود کی تمام نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ اس لئے مجھ پر ایمان لے آؤ۔
مرزا کے جانشین
مرزا کے مرنے کے بعد اس کے جانشین بدستور اسی غلط راہ پر کار بند رہے جو مرزا قادیانی نے ان کے لئے تجویز کیا تھا۔ وہ لوگ ذلیل سے ذلیل حرکات کے ارتکاب سے نہیں ہچکچاتے اور پچھلے دنوں تو انہوں نے مسلمانوں کی تحقیر اور حقوق شکنی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ان کا دعویٰ کہ ان کے سوا روئے زمین کے مسلمان کافر ہیں۔ مرزا قادیانی کا جانشین بشیر الدین محمود اپنے آپ کو دنیا کا روحانی حکمران تصور کرتا ہے۔ اور مسلمانوں کو دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ کہ میں اپنی بددعاؤں سے تمام پر بیماریاں اور عذاب نازل کر دوں گا۔
”احسان“ اور ”زمیندار“ کی تحریروں کا اثر
پچھلے دنوں حاجی محمد زکریا صاحب نے جو آج کل ہندوستان مقیم ہیں۔ مجھے ایک خط اور اس کے ساتھ ”زمیندار“ اور ”احسان“ کے چند پرچے بھیجے۔ جن کا ترجمہ سن کر میں نے محسوس ٨ کیا کہ واقعی اس فرقہ ضالہ نے ہندوستان محمد زکریا صاحب نے اپنے مکتوب میں ا خلاف ذلیل پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے اچھالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی خرافات
یہ فرقہ ضالہ مرزائیہ اس وقت کوششوں کا منتہا یہ ہے کہ وہ ہندوستان انہیں تخویف و تہدید سے مرعوب کریں۔
شدید احتجاج
میں اور ترکی کے دوسرے ق خیال کرتے ہیں۔ اور ہر مسلمان سے شدید احتجاج کریں۔ اور اگر ضرورت کرنے میں دریغ نہ کریں۔
میرے دوستو! یہ وہی ذلیل کے شامیانے بچھائے۔ اور سقوط بغداد ا ہدیہ تبریک پیش کیا۔ میں ترکوں سے ا کے لئے کوشاں ہوں۔
ہمیں چاہئے کہ مجلس ملی کی کے خلاف احتجاجی مکتوب ارسال کریں کا قلع قمع کرنے سے قاصر ہے تو ترک کر سکیں۔ میرے بھائیو تم دنیا پر ثابت قائم رہیں گے۔ نیز وقت پڑنے پر وہ غازی مصطفیٰ کمال پاشا کی تقر
اس تقریر کے بعد آلہ جمہو پاشا نے کہا کہ میں نے رئیس العلما ہے۔ واقعی اغیار نے اسلام کو کھلونا ب اسلام پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کریں
کیا کہ واقعی اس فرقہ ضالہ نے ہندوستان کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ خود حاجی محمد زکریا صاحب نے اپنے مکتوب میں اس امر کی تصریح کی ہے کہ قادیانیوں نے مسلمانوں کے خلاف ذلیل پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے۔ اور اس ضمن میں انہوں نے ترکی علماء پر بھی کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی خرافات کو پڑھ کر میرا دل خون ہو گیا ہے۔
یہ فرقہ ضالہ مرزائیہ اس وقت ملت اسلامیہ کی تخریب کے درپے ہے۔ ان کی ناپاک کوششوں کا منتہا یہ ہے کہ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو ہر ممکن طریق سے تکلیف پہنچائیں۔ اور انہیں تخویف و تہدید سے مرعوب کریں۔
شدید احتجاج
میں اور ترکی کے دوسرے تمام علماء مرزا کی تعلیمات کو قرآن پاک کی تعلیم کے منافی خیال کرتے ہیں۔ اور ہر مسلمان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس فتنہ آخر زمان کے خلاف شدید احتجاج کریں۔ اور اگر ضرورت پڑے تو اس فتنہ کے استیصال کے لئے مالی اور جانی جہاد کرنے میں دریغ نہ کریں۔
میرے دوستو! یہ وہی ذلیل گروہ ہے۔ جس نے جنگ عظیم میں ترکی کی شکست پر خوشی کے شادیانے بجائے۔ اور سقوط بغداد اور عربستان سے ترکوں کے اخراج کے موقع پر حکومت ہند کو ہدیہ تبریک پیش کیا۔ میں ترکوں سے امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی قوت کے مطابق اس فتنہ کے انسداد کے لئے کوشاں ہوں۔
ہمیں چاہئے کہ مجلس ملی کی وساطت سے حکومت ہند کے پاس اس کی مرزائیت نوازی کے خلاف احتجاجی مکتوب ارسال کریں۔ اور اس سے درخواست کریں کہ اگر حکومت ہند مرزائیوں کا قلع قمع کرنے سے قاصر ہے تو ترک مجاہدوں کو اجازت دے کہ وہ اپنے محکوم بھائیوں کی امداد کر سکیں۔ میرے بھائیو تم دنیا پر ثابت کر دو کہ ترک ابھی تک اسلام پر قائم ہیں۔ اور تا حشر بدستور قائم رہیں گے۔ نیز وقت پڑنے پر وہ دشمنان اسلام کو دندان شکن جواب دے سکنے پر قادر ہیں۔
غازی مصطفیٰ کمال پاشا کی تقریر
اس تقریر کے بعد آلہ مکبر الصوت پر انگورہ سے جواب دیتے ہوئے غازی مصطفیٰ کمال پاشا نے کہا کہ میں نے رئیس العلماء حافظ نور اللہ آفندی کی تقریر کو سنا ہے۔ اور مجھے سخت رنج ہوا ہے۔ واقعی اغیار نے اسلام کو کھلونا سمجھ رکھا ہے اور وہ ذلیل اور ناپاک طریقوں سے آئے دن ملت اسلام پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اغیار اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ترکوں نے
٩
اسلامی تعلیمات کو ترک کر دیا ہے۔ اور اس لئے ان کے حوصلے اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ وہ ہمارے فلاکت زدہ اور محکوم بھائیوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ مخالفین اسلام نے اسلامی تعلیمات کو تضحیک و استہزاء کا موضوع سمجھ رکھا ہے۔ اس وقت ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم دنیا پر ظاہر کر دیں کہ شوکت اسلامی کے احیاء کے لئے ہم آج بھی آمادہ عمل ہیں۔
مسلمانوں کی غلامی پر اظہار افسوس
عزیز بھائیو! جب میں کروڑوں مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں تو میرے دل میں ایک درد اٹھتا ہے۔ کاش مسلمان یہ سمجھتے کہ غلامی ان کے مذہبی احکام کے خلاف ہے۔ ترکوں کو ملک گیری کی ہوس بالکل نہیں۔ لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان غلامی کی قید سے نجات پائیں۔ اور اسلامی مقدسات پر کسی قسم کی آنچ نہ آئے۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ دنیا کے مسلمانوں کی رہنمائی کریں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہمارے ہاتھ میں شمشیر دی ہے۔
اسلام اور جغرافیائی حدود
رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ "اتفاق امتی حجۃ قاطع" تم یہ خیال نہ کرو کہ ہندوستان کہاں اور ہم کہاں۔ بلکہ اس حدیث شریف پر عمل کرو۔ کیونکہ مرد مجاہد کے لئے جغرافیائی حدود کی کوئی حقیقت نہیں۔ تمہارے اجداد کبھی دریاؤں، پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں سے خوف زدہ نہیں ہوئے۔ میرے دوستو! اگر کوئی موقع آیا تو تم دیکھو گے کہ تحفظ ناموس اسلام کی راہ میں سر کٹانے کے لئے میں مجاہدین کی صف اول میں شامل ہوں گا۔ تمہیں اجازت ہے کہ تم فرقہ ضالہ قادیانیہ کے استیصال کے لئے ہر ممکن اور جائز ذریعہ اختیار کرو۔ اور میں تمہیں کامیابی کی نوید دیتا ہوں۔ "وكانت حقا علينا نصر المؤمنين"
جلسہ کا اختتام
غازی اعظم اتاترک کی تقریر کے اختتام کے بعد حافظ نور اللہ صاحب آفندی نے قوم کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔ اور قادیانیت اور دوسرے فتنوں کے استیصال کے لئے انجمن مدافعہ حقوق مقدسہ اسلامی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس انجمن کی تشکیل کے لئے یکم فروری بروز جمعہ مسجد سلطان محمد فاتح میں مسلمانوں کا اجتماع ہوا۔
(ترک نامہ نگار)
١٠
حجۃ الوداع کی آخری وصیت
لا نبی
قاری عبد ا
خاتم النبیین لانبی بعدی
لانبی بعدی
قاری عبدالحئی عابد مرحوم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پیش لفظ
مرزائی مبلغ جب کسی سیدھے سادھے مسلمان کو اپنے دام فریب میں پھنسانا چاہتے ہیں ۔ تو اس انداز سے بات کرتے ہیں ۔ جیسے وہ بھی کسی مسلمان فرقہ ہی کے مبلغ ہیں اور ختم نبوت کا مسئلہ بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے ۔ جیسے فروعی مسائل میں مسلمانوں کا باہم اختلاف رائے ہے ۔ جس طرح آمین خفی اور جہری کفر و اسلام کا معیار نہیں ۔ اسی طرح ختم نبوت و اجرائے نبوت بھی کفر و اسلام کا فاصلہ نہیں بن جاتے ۔ یعنی یہ فریب کار اس وقت اس مسئلہ کو اتنا ہلکا اور معمولی ظاہر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ یہ سادہ لوح مسلمان اسے معمولی تبدیلی رائے سمجھ کر ہمارے جال میں پھنس جائے ۔ پھر اسے ایسا جکڑیں گے کہ ہمارے جہنم کے غار سے کبھی نہ نکل سکے گا۔ جب کوئی سادہ لوح عقیدہ ختم نبوت کو واقعی معمولی اور فروعی بات سمجھ کر ان کے حلقہ میں پھنس جاتا ہے تو پھر رفتہ رفتہ اسے ان تمام عقائد کا پابند ہونا پڑتا ہے ۔ جو اس گمراہ فرقہ کے لازمی اور مسلمہ عقائد باطلہ ہیں پھر یہی معمولی اور فروعی مسئلہ ایک سنگین اور بنیادی مسئلہ بن جاتا ہے ۔ پھر یہی مسئلہ کفر اور اسلام کا معیار بن جاتا ہے ۔ پھر نہ تو ختم نبوت کا عقیدہ رکھنے والوں سے نکاح ہو سکتا ہے ۔ نہ ان کا جنازہ پڑھا جا سکتا ہے ۔ نہ ان کے پیچھے نماز ادا ہو سکتی ہے ۔ غرض بقول مرزا غلام احمد قادیانی جو اس پر ایمان نہ لائے ۔ وہ مرد خنزیر اور ان کی عورتیں کنجریاں ہیں ۔ معاذ اللہ!
سادہ لوح مسلمان اور وہ حضرات جو علوم جدیدہ سے تو کماحقہ واقف ہیں ۔ مگر مسلمان ہوتے ہوئے بھی اسلام کے بنیادی مسائل پر بالغانہ نگاہ نہیں رکھتے ۔ اشد ضرورت ہے کہ ان کو یہ سمجھا دیا جائے کہ عقیدہ ختم نبوت کوئی فروعی اور معمولی مسئلہ نہیں ۔ بلکہ یہ مسئلہ ابدی جنت یا ابدی دوزخ حاصل کرنے کا مسئلہ ہے۔
یہ مسئلہ کفر و اسلام کا مسئلہ ہے ۔ یہ مسئلہ ایسا ہی ہے ۔ جیسا کہ ایک یہودی عیسائی ہو جائے تو وہ یہودی نہیں رہتا اور ایک عیسائی مسلمان ہو جائے تو وہ عیسائی نہیں رہتا ۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان مرزائی ہو جائے تو وہ مسلمان نہیں رہتا ۔ یہ مسئلہ اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے ۔ جو شخص ختم نبوت کے عقیدہ کی دیوار کو پھلانگ گیا گویا وہ کفر و ارتداد کی گہری اور اندھی کھائی میں جا پڑا۔
برادر عزیز مولانا قاری عبدالحئی صاحب عابد نے یہ کتابچہ اسی ضرورت کے تحت لکھا
٢
ہے ۔ تاکہ ہر مسلمان یہ یقین کرے کہ عقیدہ نہایت سلیس اور سادہ انداز میں وہ آیات قرآ جو اہمیت کو بیان کرتی ہیں ۔ تحریر کر دی گئی ہے ۔ تا کہ ہر قاری مسئلہ کی اہمیت وحدیث اس طرح پکار پکار واضح کرے ۔ و ہے ۔ اور چودہ سو سالوں سے تمام مسلمان اہمیت و اصلیت میں فرق نہیں آسکتا۔ جس ط وہ قرآن وحدیث کی رو سے اور اجماع ام زیادہ سے زیادہ اشاعت کرنا ہم سب کا فر نوازیں اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر ہو۔ آمی
بسم اللہ
عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی ا
جس طرح توحید باری تعالیٰ ، بالبعث اسلام کے بنیادی اصول ہیں ۔ اس اصل اسلام ہے ۔
انکار ختم نبوت کفر و ارتداد ہے
اگر کوئی شخص نسلاً مسلمان ہو۔ بھی کیا ہو ۔ مگر وہ یہ کہے کہ ملائکہ کے وجود کو پہلی کتاب کا انکار کر دے تو بالاتفاق وہ کافر ہیں۔ وہ لاکھ اپنے آپ کو مسلمان کہے ۔ مگر کو مسلمان تصور کرتے ہوئے آنحضور ﷺ مسلمان نہ رہا ۔ بلکہ کافر اور مرتد ہوا ۔ کیونکہ ایک اصل کا انکار کر دیا ۔ اب آنحضور ﷺ سے نبی کریم ﷺ پر نبوت ختم ہو جانے کے قبول فرما کر ذریعہ نجات بنائیں ۔ آمین ثم
ہے ۔ تاکہ ہر مسلمان یہ یقین کرے کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے ۔ انہوں نے نہایت سلیس اور سادہ انداز میں وہ آیات قرآن پاک اور احادیث مقدسہ جو اس عقیدہ کی حقیقت اور اہمیت کو بیان کرتی ہیں ۔ تحریر کر دی ہیں ۔ اور جہاں ضرورت محسوس کی مختصر تشریح و وضاحت کر دی ہے۔ تاکہ ہر قاری مسئلہ کی اہمیت اور حقیقت سے آگاہ ہو جائے ۔ جس مسئلہ کو قرآن وحدیث اس طرح پکار پکار واضح کریں ۔ وہ مسئلہ معمولی نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ اور چودہ سو سالوں سے تمام مسلمان اس پر متفق ومتحد رہے ہیں۔ اور قیامت تک اس کی اہمیت واصلیت میں فرق نہیں آسکتا ۔ جس شخص نے بھی عقیدہ ختم نبوت کے خلاف لب کشائی کی۔ وہ قرآن وحدیث کی رو سے اور اجماع امت کے فیصلہ کے مطابق کافر و مرتد ہے ۔ اس رسالہ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کرنا ہم سب کا فرض ہے ۔ اللہ تعالیٰ عابد صاحب کو جزائے خیر سے نوازیں اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر ہو۔ آمین ۔
سید امین گیلانی شیخوپورہ! ١٠/ذی الحجہ ١٣٨٨ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے ۔
جس طرح توحید باری تعالیٰ ، ایمان بالملائکہ، ایمان بالانبیاء، ایمان بالکتاب اقرار بالبعث اسلام کے بنیادی اصول ہیں ۔ اس طرح حضرت نبی کریم ﷺ کو آخری نبی یقین کرنا بھی اصل اسلام ہے۔
انکار ختم نبوت کفر وارتداد ہے
اگر کوئی شخص نسلاً مسلمان ہو۔ نماز پڑھتا ہو۔ روزے رکھتا ہو۔ زکوٰۃ بھی دیتا ہو۔ حج بھی کیا ہو۔ مگر وہ یہ کہے کہ ملائکہ کے وجود کو میں نہیں مانتا یا یہ کہے کہ قیامت کا میں قائل نہیں ۔ یا کسی پہلی کتاب کا انکار کر دے تو بالاتفاق وہ کافر و مرتد ہے ۔ اس کی ساری عبادتیں اور ریاضتیں اکارت ہیں ۔ وہ لاکھ اپنے آپ کو مسلمان کہے ۔ مگر وہ ہرگز ہرگز مسلمان نہیں! بعینہ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان تصور کرتے ہوئے آنحضورﷺ کے بعد نبوت کے جاری ہونے کا قائل ہو تو وہ شخص بھی مسلمان نہ رہا۔ بلکہ کافر اور مرتد ہوا۔ کیونکہ اس نے اسلام کے جو بنیادی اصول ہیں ۔ ان میں سے ایک اصل کا انکار کر دیا۔ اب احقر پہلے قرآن پاک کی آیات سے اس کے بعد احادیث مقدسہ سے نبی کریم ﷺ پر نبوت ختم ہو جانے کے ثبوت پیش کرے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری اس سعی کو قبول فرما کر ذریعہ نجات بنائیں ۔ آمین ثم آمین!
٣
یاد رہے کہ بندہ نے صرف قرآن وسنت سے ہی لا نبی بعدی کے دلائل حاصل کئے ہیں ۔
مخلص: عبدالحی عابد قادری راشدی ، ذی الحجہ ١٣٨٨ء
کنز العمال کی روایت ہے اول الانبیاء آدم و آخرهم محمد اس روایت کے پیش نظر نبوت ابو البشر سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی تو اب یہ سوال پیدا ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد نبوت جاری رہے گی۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"قلنا اهبطوا منها جميعاً فاما ياتينكم منى هدى فمن تبع هداى فلا خوف عليهم ولاهم يحزنون (بقرہ ٣٨) "﴿کہا ہم نے اترو اس سے سب پس جو آوے گی تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت، پس جو پیروی کرے میری ہدایت کی، نہیں ڈر ان پر اور نہ وہ غم کھائیں گے ۔ ﴾
اس سے معلوم ہوا کہ نبوت سیدنا آدم علیہ السلام پر بند نہیں ہوئی بلکہ یہ سلسلہ جاری رہا۔ حتی کہ ہدایت یعنی نبوت سیدنا نوح تک پہنچی۔ تو پھر سوال پیدا ہوا کہ نبوت ختم ہوگئی یا آئندہ بھی نبی آئیں گے؟
تو ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ ہاں نبوت ابھی جاری ہے: ” ولقد ارسلنا نوحاً وابراهيم وجعلنا فى ذريتهما النبوة والكتاب فمنهم مهتد (الحدید ٢٦)“ ﴿اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ہم نے ان کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی۔ پس بعض ان میں سے راہ پانے والے ہیں ۔ ﴾
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سلسلہ نبوت جاری رہے گا۔ دوسری بات یہ واضح ہوئی کہ نبوت کا ظرف اور محل آل ابراہیم ہی ہے۔ جس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں دو شعبے قرار دیئے۔ ایک بنی اسحاق جس میں نبوت کا سلسلہ حضرت عیسیٰ پر ختم نبوت ہوا۔ دوسرا بنی اسماعیل جن میں حضور اکرم ﷺ تک کوئی نبی نہیں آیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کی طرف نگاہ کی جائے تو قرآن سے یہ معلوم ہوگا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے۔
"ولقد آتينا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل (بقرہ ٨٧)“ ﴿اور ہم نے اے بنی اسرائیل! تمہاری ہدایت کے لئے ہمیشہ سے بڑے بڑے سامان کئے پس سب سے اول موسیٰ کو کتاب توراۃ دی اور ان کے درمیان میں یکے بعد دیگرے برابر مختلف پیغمبروں کو بھیجتے رہے ۔﴾
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی سلسلۂ نبوت جاری ہے۔ کیونکہ لفظ الرسل ہے۔ یعنی کئی ایک رسولوں کے آنے کا وعدہ کیا ہے۔
اور یہ سلسلہ نبوت جاری رہا۔ حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ حکم دیا کہ میری طرف سے اب یہ اعلان کر دیجئے ”واذ قال عیسیٰ ابن مریم یٰبنی اسرآئیل انی رسول اللہ الیکم مصدقاً لما بین یدی من التوراة ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد (الصف۔٦)“ ﴿جس وقت عیسیٰ بن مریم نے فرمایا: اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ کہ مجھ سے پہلے جو تورات ہے۔ میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ اور میرے بعد جو ایک رسول ﷺ آنے والے ہیں۔ جن کا نام احمد ہوگا۔ ان کی بشارت دینے والا ہوں۔﴾
اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ سے جو اعلان کرایا۔ اس کی نوعیت ہی بدل گئی۔ کیونکہ حضرت مسیح سے قبل انبیاء الرسل کی خبر دیتے رہے۔ اب حضرت مسیح علیہ السلام ایک خاص رسول کی خبر دیتے ہیں۔ اور ساتھ ہی اس ایک خاص رسول کے نام کا بھی اظہار کر دیا کہ کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اسمہ احمد!
اور پھر جب حضرت مسیح کی بشارت کے مطابق وہ خاص رسول آگیا۔ جس کی بشارت ”اسمہ احمد“ کے ساتھ دی گئی تھی۔ پھر آخری کتاب قرآن مجید میں یوں اعلان فرمایا۔
”ماکان محمد ابآ احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (احزاب۔٤٠)“ ﴿محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں (اور مہر سب نبیوں پر۔ شاہ عبدالقادرؒ)﴾
حضرات قارئین کرام! یہاں غور فرمائیں کہ خداوند تعالیٰ نے مختلف انبیاء کے زمانہ میں سلسلہ نبوت جاری رہنے اور رسل کے آنے کی اطلاع دی اور آنحضرت ﷺ پر آ کر اس اطلاع کے برخلاف ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کا اعلان کر دیا۔ نہ تو یہاں قبل مسیح آنے والے انبیاء کی طرح ”الرسل“ کا اعلان ہوا۔ اور نہ ہی حضرت مسیح کی طرح ”برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ کی طرح کسی واحد نبی کے آنے کی اطلاع دی گئی۔ بلکہ خاتم النبیین کی خبر دے کر دنیا کو بتلا دیا کہ اب کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
”والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک (بقرہ)“ ﴿اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ یقین رکھتے ہیں۔ اس کتاب پر بھی جو آپ کی طرف اتاری گئی ہے۔ اور ان
٥
کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری جاچکی ہیں۔ ﴿ ”قولوا آمنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم واسمعيل واسحق ويعقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيسى والنبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون (بقرہ:١٣٦) ”آپ فرما دیجئے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ پر اور اس پر جو ابراہیم واسمعیل واسحق ویعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف بھیجا گیا ہے۔ اور اس پر بھی جو موسیٰ، عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو دیا گیا۔ ان کے پروردگار کی طرف سے اس کیفیت پر کہ ہم ان میں سے کسی ایک میں بھی تفریق نہیں کرتے۔ اور ہم تو اللہ ہی کے مطیع ہیں۔ ﴾
ان آیات سے اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر فرمایا ہے کہ جتنے انبیاء پر وحی نازل کی گئی ہے۔ وہ زمانہ ماضی میں کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں انہی انبیاء پر ایمان لانے کی تاکید کی جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہوچکے ہیں۔ ان آیات میں کسی ایسے نبی پر ایمان لانے کی تاکید نہیں فرمائی۔ جو آپ ﷺ کے بعد آنے والا ہو اور اگر کوئی آپ ﷺ کے بعد آنے والا ہوتا تو ضرور اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر ایمان لانے کی تاکید فرماتے۔ آنحضور ﷺ سے قبل انبیاء کی وحی پر ایمان لانے والوں کو ان آیات قرآنی میں اللہ تعالیٰ نے مفلحون کے لقب سے سرفراز فرمایا۔
”قل يايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً الذي له ملك السموت والارض (اعراف:١٥٨) ﴿ ”آپ فرما دیجئے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے ﴾ ”وما ارسلنك الا كافة للناس بشيراً ونذيراً ولكن اكثر الناس لا يعلمون“ اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ ”وما ارسلنك الا رحمة للعالمين“ اور ہم نے آپ کو کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا۔ مگر دنیا جہان کے لوگوں پر مہربانی کرنے کے لئے۔ ﴾ ”تبرك الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعلمين نذيراً“ ﴿ بڑی عالی شان ذات ہے جس نے یہ فیصلہ کی کتاب اپنے بندہ خاص پر نازل فرمائی تاکہ وہ تمام دنیا جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔ ﴾
ان تمام آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ حضرات جملہ بنی آدم کی طرف مبعوث ہوئے ہیں اور تمام آیات ختم نبوت کے لئے ایک صاف اور صریح دلالت کرنے والی ہیں۔ ”انما انت منذر ولكل قوم هاد (رعد:٧) ﴿ ”آپ صرف ڈرانے والے ہیں۔ اور ہر قوم کے لئے ہادی ہوتے چلے آئے ہیں۔ ﴾
٦
جیسے کہ امم ماضیہ میں ہادی ہوتے چلے آئے ہیں لئے ہادی ہیں۔ یعنی تمام قوموں کے لئے ہادی ہیں۔ جو قیامت
”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتك رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصر تعالیٰ نے عہد لیا انبیاء سے کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم دوں مصداق ہو۔ اس کا جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس رسو داری بھی کرنا۔ ﴾ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء ع ہے۔ جو سب کا مصدق رسول ہو۔ وہ جناب محمد رسول اللہ ہیں
”يأيها الذين آمنو اطيعو الله واطيعو فان تنازعتم فى شئی فردوه الى الله والر واليوم الآخر (النساء:٥٩) ”اے ایمان والو تم اللہ کا لوگ حاکم ہوں۔ ان کا بھی پھر اگر کسی امر میں تم باہم اختلا کی طرف لوٹایا کرو۔ اگر تم اللہ پر اور یوم قیامت پر ایمان رکھے اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اے لوگو! جو محمد ﷺ کی والے ہو! تم تین چیزوں کی اطاعت کرو۔ اللہ کی اور اس ر الامر کی اور اگر تمہارا حکام سے کسی معاملہ میں اختلاف ہوجا کی رضا کی طرف لوٹنا لازم ہے۔ یہاں بھی اسی طرف لوٹن سے فیصلہ طلب کر لیا کرنا۔
”ربنا وابعث فيهم رسولاً منهم يتلوا والحكمة ويزكيهم (بقرہ:١٢٩) ”اے ہمارے پرور میں سے ایک ایسا پیغمبر بھی مقرر کیجئے جو ان لوگوں کو آپ کتاب فہم و دانائی اور پاکیزگی کی تعلیم دیں۔ ﴾
اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُ عربی قوم سے پیدا ہو اور اس دعا کے مصداق جناب نبی کریم کہ میں حضرت عیسیٰ کی خوشخبری اور حضرت ابراہیم کی دعا ہوں بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو
٧
جیسے کہ امم ماضیہ میں ہادی ہوتے چلے آئے ہیں۔ اسی طرح آپ بھی اس دور کے لئے ہادی ہیں۔ یعنی تمام قوموں کے لئے ہادی ہیں۔ جو قیامت تک آنے والے ہیں۔
"واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب وحکمة ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ (آل عمران: ٨١)" ﴿اور جب اللہ تعالیٰ نے عہد لیا انبیاء سے کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم دوں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو مصداق ہو۔ اس کا جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس رسول پر ایمان بھی لانا اور اس کی طرف داری بھی کرنا۔﴾ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے ایک ایسے رسول کے متعلق عہد لیا ہے۔ جو سب کا مصدق رسول ہو۔ وہ جناب محمد رسول اللہ ہیں۔ (ابن کثیر)
"یاایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم ج فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والرسول۔ ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الآخر (النساء: ٥٩) "﴿اے ایمان والو تم اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو اور تم میں جو لوگ حاکم ہوں۔ ان کا بھی پھر اگر کسی امر میں تم باہم اختلاف کرنے لگو تو اس امر کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹایا کرو۔ اگر تم اللہ پر اور یوم قیامت پر ایمان رکھتے ہو۔﴾
اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اے لوگو! جو محمدﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک ہونے والے ہو ! تم تین چیزوں کی اطاعت کرو۔ اللہ کی اور اس کے رسول کی۔ (یعنی محمدﷺ ) اور اولی الامر کی اور اگر تمہارا حکام سے کسی معاملہ میں اختلاف ہو جائے تو اس معاملہ میں خدا اور رسول ہی کی رضا کی طرف لوٹنا لازم ہے۔ یہاں بھی اسی طرف کوئی اشارہ نہیں کہ کسی آنے والے رسول سے فیصلہ طلب کر لیا کرنا۔
"ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلوا علیھم آیتک ویعلمھم الکتاب والحکمة ویزکیھم (بقرہ: ١٢٩)" ﴿اے ہمارے پروردگار ! اور اس جماعت کے اندر، ان ہی میں سے ایک ایسا پیغمبر بھی مقرر کیجئے جو ان لوگوں کو آپ کی آیتیں پڑھ کر سنایا کریں اور ان کو کتاب فہم و دانائی اور پاکیزگی کی تعلیم دیں۔﴾
اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک رسول کے لئے دعا کی ہے جو انہی عربی قوم سے پیدا ہو اور اس دعا کے مصداق جناب نبی کریم ﷺ ہی ہیں۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ میں حضرت عیسیٰ کی خوشخبری اور حضرت ابراہیم کی دعا ہوں۔ "ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون (الفتح: ٢٨)" ﴿وہ
٧
اللہ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے۔ تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے۔ اگرچہ مشرک کتنے ہی ناخوش ہوں۔ ﴿اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ دین محمدی تمام ادیان کے لئے ناسخ ہے۔ اور یہ آیت نبوۃ و شریعت کے اختتام کی صریح دلیل ہے۔
”وعد الله الذين آمنو منكم وعملوا الصلحت ليستخلفنهم فى الارض كما استخلف الذين من قبلهم (النور ٥٥)“ ﴿تم میں جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو زمین میں حکومت عطا فرمائے گا۔ جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حکومت دی تھی۔﴾
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ پر ایک خاص انعام کا ذکر کیا ہے۔ وہ انعام نبوت کی خلافت اور نیابت کا ہے۔ جس کا ظہور خلفاء راشدین سے ہوا ہے اور خلافت کے معنی قائم مقامی کے ہیں۔ اس آیت میں امت سے نبوت کا وعدہ نہیں ہے۔ بلکہ نبوت کی خلافت اور نیابت کا وعدہ ہے۔ یہ کسی آیت اور حدیث میں نہیں ہے کہ ہم کسی کو نبوت عطا کریں گے۔ تو معلوم ہوا کہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔ صرف خلافت باقی ہے۔
”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا (مائده ٣)“ ﴿آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دین کو میں نے کامل کر دیا۔ اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لئے پسند کر لیا۔﴾
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ دین کامل ہو گیا ہے۔ اس لئے اب نہ کسی دوسرے دین کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی دوسرے نبی کی ضرورت ہے اور اگر آپ ﷺ کے بعد کسی اور کو نبی مانا جائے تو قرآن کریم کی تکذیب لازم آئے گی۔
”ياايها النبي انا ارسلنك شاهداً ومبشراً ونذيرا. وداعيا الى الله باذنه وسراجاً منيرا (احزاب: ٤٥)“ ﴿اے نبی! ہم نے بے شک آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا کہ آپ گواہ ہوں گے اور آپ بشارت دینے والے ہیں۔ اور ڈرانے والے ہیں۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے ہیں۔ اور آپ ایک روشن چراغ ہیں۔﴾
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو سراج کہا ہے۔ اس سے ظاہر کرنا یہ منظور ہے کہ جس طرح سورج کے طلوع کے بعد کسی ستارے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس ایسی ہے کہ اس کے بعد اور کسی نبی یا ہادی کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ رات بھر تمام ستارے اور سیارے سورج ہی کے پرتو سے چمکتے ہیں۔ اور اہل زمین پر اپنی اپنی ٨
حیثیت کے مطابق روشنی ڈالتے ہیں۔ مگر جب خورشید پھر اس کی تابانیوں اور درخشانیوں کے آگے کوئی ستارہ باقی رہتی ہے۔ پس اس لئے سرور دو عالم ﷺ کو ”سراج روشنیاں اسی ایک آفتاب جہاں تاب کے پرتو سے ہیں کی حاجت نہیں رہی۔
”فلا وربك لا يؤمنون حتى يـ فى انفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تـ کے رب کی۔ یہ لوگ ایمان دار نہ ہوں گے۔ جب میں آپ کو اپنا حکم نہ مانیں۔ پھر آپ ﷺ کے فیصلہ تسلیم کریں۔﴾
جب ختم نبوت اور اجرائے نبوت کا مسلہ ”يحكموك فيما شجر بينهم“ ہم اپنا تنازعہ کریں۔ اگر ہم پورے ایمان دار ہیں تو ان کے فیصلہ تسلیم خم کر دیں گے۔ اگر کوئی اس فیصلہ کو مسترد کر صادق کا قول ہے کہ کوئی قوم یا جماعت نماز، روزہ، آپ ﷺ کے کسی فعل پر حرف گیری کرے تو وہ مشرک مومن نہیں ہوگا۔ متواتر احادیث نبویہ سے ثابت ہے ہیں۔ ان کے بعد کوئی نیا نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا زندہ ہیں۔ وہ ضرور تشریف لائیں گے۔ لیکن شریعت ”ليظهره على الدين كله“ کے ماتحت منسوب بھی بحث کروں گا اور قرآن وحدیث سے ثابت کر قرب قیامت دنیا میں تشریف لائیں گے اور دینِ اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ روضہ اطہر میں مرزا غلام احمد قادیانی جو کچھ کہتا ہے۔ خلاف ہے۔ لیجئے وہ احادیث پیش خدمت ہیں:
حیثیت کے مطابق روشنی ڈالتے ہیں۔ مگر جب خورشید جہاں تاب بہ نفس نفیس طلوع ہو جاتا ہے۔ تو پھر اس کی تابانیوں اور درخشانیوں کے آگے کوئی ستارہ یا سیارہ نہیں ٹھہرتا اور نہ ہی ان کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ پس اس لئے سرور دو عالم ﷺ کو ”سراج منیر“ کہا گیا تا کہ زمین جان لے کہ یہ تمام روشنیاں اسی ایک آفتاب جہاں تاب کے پرتوے ہیں۔ جب اس نے خود طلوع کیا تو اب کسی اور کی حاجت نہیں رہی۔
"فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في انفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تسليما (النساء: ٦٥) ”پھر قسم ہے آپ ﷺ کے رب کی۔ یہ لوگ ایمان دار نہ ہوں گے۔ جب تک ان کی یہ کیفیت نہ ہو کہ یہ باہمی تنازعات میں آپ کو اپنا حکم مانیں۔ پھر آپ ﷺ کے فیصلہ سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پائیں اور پورا پورا تسلیم کریں۔﴾
جب ختم نبوت اور اجرائے نبوت کا تنازعہ سامنے آ گیا ہے۔ تو آیئے بمصداق ” يحكموك فيما شجر بينهم “ ہم اپنا تنازعہ سردار دو جہاں ﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کریں۔ اگر ہم پورے ایمان دار ہیں تو ان کے فیصلہ وارشاد کو بغیر کسی تنگی اور عذر کے قبول کر کے سر تسلیم خم کر دیں گے ۔ اگر کوئی اس فیصلہ کو مسترد کرے گا تو وہ بے ایمان ہوگا۔ جیسا کہ امام جعفر صادق کا قول ہے کہ کوئی قوم باجماعت نماز، روزہ ، حج ، زکوٰۃ، نیز اسلام کے تمام کام کرے۔ مگر آپ ﷺ کے کسی فعل پر حرف گیری کرے تو وہ مشرک ہے۔
(کتاب روح المعانی ص ٦٥ ج ٥)
اس لئے حضور اکرم ﷺ کی احادیث پر عمل بھی ضروری ہے۔ جو ان کا انکار کرے گا وہ مومن نہیں ہوگا۔ متواتر احادیث نبویہ سے ثابت ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ آخری نبی ورسول ہیں۔ ان کے بعد کوئی نیا نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو آسمانوں پر زندہ ہیں۔ وہ ضرور تشریف لائیں گے۔ لیکن شریعت محمدیہ کے تابع ہوں گے اور شریعت عیسوی ”ليظهره علی الدین کله “ کے ماتحت منسوخ ہو چکی ہے۔ انشاء اللہ العزیز ”حیات عیسیٰ پر بھی بحث کروں گا اور قرآن وحدیث سے ثابت کروں گا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر زندہ ہیں اور قرب قیامت دنیا میں تشریف لائیں گے اور دین کی خدمت کریں گے۔ اور دجال کو قتل کریں گے اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ روضہ اقدس میں دفن ہوں گے۔“
مرزا غلام احمد قادیانی جو کچھ کہتا ہے وہ لغو و کذب ہے۔ اور قرآن وحدیث کے صریحاً خلاف ہے۔ لیجئے وہ احادیث پیش خدمت ہیں جو نبی کریم، جناب محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ ﷺ کی ختم
٩
نبوت پر دال ہیں۔ اور جن سے مسئلہ ختم نبوت، آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہو جاتا ہے۔ دیکھئے آقائے کونین، سرور دوعالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کیا ارشاد فرماتے ہیں۔
احادیث نبوی
ارشادات رسول اللہ ﷺ
”عن عرباض بن سارية عن النبى ﷺ قال انى عند الله مكتوب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل في طينته (رواه في شرح السنة احمد في مسنده كما في المشكاة ص٥١٣، باب فضائل سید المرسلین)“ عرباض بن ساریہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں خدا کے نزدیک اس وقت خاتم النبیین مقرر ہو چکا تھا۔ جب کہ آدم علیہ السلام ابھی گارے کی شکل میں تھے (یعنی ان کے جسم و روح میں تعلق پیدا نہ ہوا تھا ۔) ﴿
کنز العمال میں بحوالہ ابن سعد اس حدیث میں بجائے عنداللہ کے ام الکتاب کا لفظ ہے۔ پس اس ارشاد سے یہ واضح ہوا کہ میں لوح محفوظ میں خاتم النبیین لکھا جا چکا تھا۔
”عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ لما خلق الله عزوجل آدم عليه السلام اخبر بنيه فجعل يرى فضائل بعضهم على بعض فرأى نوراً ساطعاً في اسفلهم قال يا رب من هذا قال هذا ابنك احمد هو الاول وهو الآخر وهو شافع واول مشفع (رواہ ابن عساکر کما فی الکنز ج ١١ص ٤٤٧)“
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو انہیں ان کی اولاد کی خبر دی۔ آدم نے دیکھا کہ بعض بعض پر فضیلت رکھتے ہیں۔ ان سب کے آخر میں ایک بلند نور دیکھا تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار یہ کون ہے؟ ارشاد ہوا یہ تمہارے فرزند احمد ﷺ ہیں۔ یہی سب سے پہلے نبی ہیں۔ اور یہی سب سے آخر ہیں۔ یہی قیامت میں سب سے پہلے شفاعت کریں گے اور انہی کی شفاعت سب سے پہلے قبول ہوگی ۔
”عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ لما نزل آدم باالهند واستوحش فنزل جبريل فنادى باذان الله اكبر، الله اكبر مرتين اشهد ان لا اله الا الله مرتين اشهد ان محمداً رسول الله ﷺ مرتين قال آدم لجبريل من محمد قال اخر ولدك من الانبياء (كنز العمال ج ١١ ص ٤٥٥، والخصائص ج ١ ص ٩)“ ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدم علیہ السلام جب ہندوستان میں نازل
١٠
ہوئے اور تنہائی کی وجہ سے گھبرائے تو جبرائیل تشری مرتبہ اشہدان لا الہ الا اللہ ۔ دو مرتبہ اشہدان محمد رسو گرامی سنا تو فرمایا کہ یہ محمد کون ہیں؟ جبرائیل نے ہیں۔ ﴾
”عن سلمان في حديث طو آدم فقد ختمت بك الانبياء وما خل ص١٩٣) سلمان سے ایک طویل حدیث میں کہا آپ ﷺ کا پروردگار کہتا ہے اگر میں نے آپ ﷺ پر تمام انبیاء کو ختم کر کے خاتم النبیین نہیں کی جو مجھے آپ ﷺ سے زیادہ عزیز ہو۔ ﴾
”عن جابر قال بين كتف النبيين. (رواه ابن عساکر خصائص ج ١ ص ٧)“ السلام کے دونوں شانوں کے درمیان یہ لکھا ہوا تھا
”عن ابي هريرة ان رسول ا اعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب مسجداً وطهوراً وارسلت الى الخلق كلاً مشكوة ص ٥١٢)“ حضرت ابی ہریرہ سے روایت چھ فضیلتیں دی گئی ہیں۔ مجھے مختصر کلمات جو معانی میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ہے۔ میرے میرے لئے مسجد اور پاک کرنے کا سبب بنا دی انبیاء کا سلسلہ میری ذات پر ختم کر دیا گیا ہے۔ ﴾
”عن على قال بين كتفيه خـ في شمائلة ص ٣ باب خاتم النبوة)“ حضرت علی سے درمیان مہر نبوت تھی۔ کیونکہ آپ ﷺ خاتم النبییـ
”عن عرباض ابن ساريـ وخاتم النبيين (رواه البيهقي والحاكم كذافي الـ
ہوئے اور تنہائی کی وجہ سے گھبرائے تو جبرائیل تشریف لائے اور اذان کہی۔ اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔ دو مرتبہ اشہد ان لا الہ الا اللہ۔ دومرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ ۔ دومرتبہ جب آدم نے محمدﷺ کا اسم گرامی سنا تو فرمایا کہ یہ محمد کون ہیں؟ جبرائیل نے کہا کہ انبیاء میں آپ کے سب سے آخری بیٹے ہیں۔﴾
"عن سلمان في حديث طويل قال قال جبرئيل للنبي اصطفيت آدم فقد ختمت بك الانبياء وما خلقت خلقاً اكرم منك على (خصائص ج ٢ ص١٩٤) ﴿سلمانؓ سے ایک طویل حدیث میں روایت ہے کہ جبرائیل نے رسول اللہ ﷺ سے کہا آپ ﷺ کا پروردگار کہتا ہے اگر میں نے آدم علیہ السلام کو صفی اللہ کا خطاب دیا ہے تو آپ ﷺ پر تمام انبیاء کو ختم کرکے خاتم النبیین کا خطاب دیا ہے اور میں نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی جو مجھے آپ ﷺ سے زیادہ عزیز ہو۔﴾
"عن جابر قال بين كتفى آدم مكتوب محمد رسول الله خاتم النبيين. (رواہ ابن عساکر خصائص ج ١ ص ١٧) ﴿حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں شانوں کے درمیان یہ لکھا ہوا تھا محمد اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔﴾
"عن ابي هريرة ان رسول الله ﷺ قال فضلت على الانبياء بست اعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب واحلت لي الغنائم وجعلت لي الارض مسجداً وطهوراً وارسلت الى الخلق كافة وختم بي النبيون (رواہ مسلم ج ١ ص ١٩٩، مشکوۃ ص ٥١٢) ﴿حضرت ابی ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے انبیاء پر چھ فضیلتیں دی گئی ہیں۔ مجھے مختصر کلمات جو معانی کثیرہ کے حامل ہیں، عطاء کئے گئے ہیں، دشمن پر میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ہے۔ میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے۔ تمام زمین میرے لئے مسجد اور پاک کرنے کا سبب بنادی گئی ہے۔ تمام مخلوق کی طرف مجھے بھیجا گیا ہے۔ انبیاء کا سلسلہ میری ذات پر ختم کر دیا گیا ہے۔﴾
"عن على قال بين كتفيه خاتم النبوة وهو خاتم النبيين (رواه ترمذي في شمائلہ ص ٣ باب خاتم النبوۃ) ﴿حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔ کیونکہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔﴾
"عن عرباض ابن سارية قال قال رسول الله ﷺ اني عندالله مکتوب خاتم النبيين (رواہ البیہقی والحاکم کذافی الدر المنثور، مشکوٰۃ ص ٥١٣، بَاب فَضَائِلِ سَید المرسلین ﷺ)"
١١
﴿حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ ہوں اور میں خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہوں۔﴾
"عن ابن عمر يقول خرج علينا رسول الله ﷺ يوماً كالمودع فقال انا النبى الامى ثلاثا ولا نبي بعدي (رواہ احمد فی تفسیر ابن کثیر ج ٨ ص ٩١) ”ابن عمر سے روایت ہے کہ ایک دن حضور اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور اس طرح تقریر فرمائی۔ جیسے کوئی رخصت ہونے والا تقریر کیا کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نبی امی جن کی آمد کی خبر تھی وہ میں ہی ہوں۔ اور میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔﴾
"عن ابى هريرة ان رسول الله ﷺ قال ان مثلى ومثل الانبياء من قبلي كمثل رجل بنى بيتاً فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة وانا خاتم النبيين (بخاری ج ١ص ٥٠١، مسلم ج ٢ ص ٢٤٨) ”ابی ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اسے خوب آراستہ پیراستہ کیا۔ مگر اس کے ایک گوشے میں صرف ایک اینٹ چھوڑ دی۔ لوگ آکر اس کے ارد گرد گھومنے لگے اور تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے یہ اینٹ کیوں نہ رکھ دی گئی۔ تاکہ یہ عیب بھی نہ رہتا اور میں آخری نبی ہوں (بعض الفاظ میں یہ ہے کہ میں نے آکر اس اینٹ کی جگہ کو پر کر دیا۔ اور اب قصر نبوت میری آمد سے مکمل ہو گیا ہے اور مجھ پر تمام رسول ختم کر دیئے گئے)﴾
"عن سعد بن ابى وقاص قال قال رسول الله ﷺ لعلى انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى (بخاری ج ٢ ص ٤٣٣، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨)“ ﴿سعد ابن ابی وقاص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت علی سے کہ تمہیں مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔ مگر فرق اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔﴾
"عن ام كرز قالت سمعت النبى ﷺ ذهبت النبوة وبقيت المبشرات (احمد، ابن ماجہ ) ”ام کرز روایت فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم سے خود سنا ہے کہ نبوت تو ختم ہوئی ہاں صرف مبشرات باقی ہیں۔﴾
"عن عقبة ابن عامر قال قال رسول الله ﷺ لوكان بعدى نبى لكان عمر بن الخطاب (رواہ ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩) ”عقبہ بن عامر روایت فرماتے ہیں کہ حضور
١٢
اکرم ﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطا
"عن عبدالله بن ابراهيم ابن قارظ ا رسول الله ﷺ فاني آخر الانبياء وان مس ص ٣٤٦) ”ابن قارظ فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں ک کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں سب انبیاء کے آخر میں ا (یعنی اب کوئی مسجد ایسی نہ ہوگی جسے کوئی نبی تعمیر کرے)﴾
"عن ثوبان قال قال رسول الله ﷺ ا ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين ل (ترمذی ج ٢ ص ٤٥) ”ثوبان سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ن میں سخت جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ان میں ہر ایک اپنے متعل میں سب سے آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہ تذکرہ ہے۔﴾
"كانت بنو اسرائيل تسوسهم ال وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون الاول فالاول (صحیح بخاری ج ١ص ٤٩١، مسلم ج ٢ ص ١٢٦ ا انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تو اللہ ت بھیج دیتے۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ البتہ خلف صحابہ نے عرض کیا کہ آپ ﷺ ان کے بارے م ارشاد فرمایا۔ خلیفہ اول سے وفا کرو اور یکے بعد دیگرے ہر خ
"عن قتادة انه اخذ الله ميثاقهم و بان محمداً رسول الله واعلان رسول الله بان قتادہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء سے اس بات کریں اور اپنے اپنے زمانہ میں اس کا اعلان کریں کہ محمد الل کا اعلان کریں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
"عن الشعبي في مجلة ابراهيم شعوب حتى يأتى النبى الامى الذى يكون خا
١٣
اکرم ﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔ ﴾
"عن عبدالله بن ابراهيم ابن قارظ اشهدانى سمعت اباهريرة قال رسول الله ﷺ فانى آخر الانبياء وان مسجدى آخر المساجد (رواہ مسلم ج١ ص ٤٤٦) ﴿ ابن قارظؒ فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابو ہریرہؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں سب انبیاء کے آخر میں ہوں۔ اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔ (یعنی اب کوئی مسجد ایسی نہ ہوگی جسے کوئی نبی تعمیر کرے۔ ﴾
"عن ثوبان قال قال رسول الله ﷺ انه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلّهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (ابوداؤد ج٢ ص ١٢٨، ترمذی ج٢ ص٤٥) ﴿ ثوبانؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آئندہ میری امت میں تیس سخت جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ان میں ہر ایک اپنے متعلق گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں سب سے آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ایک روایت میں دجالوں کا بھی تذکرہ ہے۔ ﴾
"كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلّما هلك نبى خلفه نبى وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون قالوا فما تامرنا قال فوا بيعة الاول فالاول (صحیح بخاری ج١ ص٤٩١، مسلم ج٢ ص١٢٦) ﴿ بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو اس کے پاس بھیج دیتے۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ آپ ﷺ ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ خلیفہ اول سے وفا کرو اور یکے بعد دیگرے ہر خلیفہ سے۔
"عن قتادة انه اخذ الله ميثاقهم بتصديق بعضهم بعضاً واعلان بأن محمداً رسول الله واعلان رسول الله بان لا نبى بعده (درمنثور) ﴿ حضرت قتادہؒ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء سے اس بات کا عہد لیا کہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں اور اپنے اپنے زمانہ میں اس کا اعلان کریں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور آپ ﷺ اس بات کا اعلان کریں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴾
"عن الشعبي فى مجلة ابراهيم عليه السلام انه كائن من ولدك شعوب حتى يأتى النبى الامى الذى يكون خاتم الانبياء (خصائص کبریٰ للسیوطی ج١
١٣
ص ٩) ﴿امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کے صحیفہ میں ہے کہ اے ابراہیم ! تیری اولاد میں بہت سے گروہ ہوں گے۔ یہاں تک کہ وہ نبی امی ظاہر ہو کہ جو خاتم الانبیاء یعنی آخری نبی ہو گا۔﴾
”عن ابى هريرة فى حديث الاسراء قالوا يا جبريل من هذا معك قال هذا محمد رسول الله خاتم النبيين (رواہ البزار، کذافی مجمع الزوائد ص ٢٧-٢٩ بحوالہ ختم نبوت کامل )“ ﴿ابو ہریرہؓ معراج کی حدیث میں روایت فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے جبرائیلؑ سے دریافت کیا، تمہارے ساتھ کون ہے۔ وہ بولے محمد ہیں جو اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔﴾
”عن انس قال قال رسول الله ﷺ لما اسرى بى الى السماء قربنی ربى تعالى حتى كان بيني وبينه كقاب قوسين او ادنى قال يا حبيبي يا محمد! قلت لبيك يا رب قال هل غمك ان جعلتك آخر النبيين قلت لا يا رب قال حبيبي هل غم امتك ان جعلتهم آخر الامم قلت يا رب لا قال ابلغ عنى السلام وأخبرهم انى جعلتهم آخر الامم (رواہ خطیب وبغداد یلمی، کذافی الکنز ج ٦ ص ١١٢)“ ﴿حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جب شب معراج میں مجھے آسمان پر لے گئے تو میرے پروردگار نے مجھے قریب بلایا اور بہت قریب بلایا اور کہا اے میرے حبیب ! اے محمد ! میں نے کہا حاضر ہوں اے میرے پروردگار ! ارشاد ہوا اگر ہم آپ کو آخری نبی بنادیں تو تم نا خوش تو نہ ہوں گے؟ میں نے عرض کیا اے میرے پروردگار! نہیں۔ پھر ارشاد ہوا: اگر تمہاری امت کو آخری امت بنادیں تو وہ نا خوش تو نہ ہوگی ۔ میں نے عرض کیا: نہیں ۔اے میرے پروردگار! ارشاد ہوا: اچھا تو اپنی امت کو میرا سلام کہنا اور انہیں بتلا دینا کہ میں نے انہیں آخری امت بنادیا ہے۔﴾
حضرت قارئین ! آقائے کونین ﷺ کے ارشادات گرامی آپ نے ملاحظہ فرمائے اور پورے یقین و ایمان کے ساتھ ان ارشادات گرامی کو تسلیم کرتے ہیں۔ اور اعلان کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا۔ نبوت کا دروازہ قیامت تک کے لئے بند ہو چکا ہے۔
اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ جو شخص حضور ﷺ کے فیصلہ وارشاد کو تسلیم کرنے میں عذر و تاویل یا انکار یا روگردانی کرے۔ وہ مسلمان ہے یا کافر؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور ان کی آمد ناقض ختم نبوت نہیں۔
مرزائی گروہ عوام کو مغالطہ میں ڈالنے کے لئے حیات و رفع مسیح علیہ السلام اور آمد مسیح
١٤
کی بحث چھیڑ کر مختلف حیلوں اور بے جا تا ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں مرزا غلام کی صورت میں آگیا اور جو مسیح آ جاری رہی۔ لہذا قرآن میں حدیث میں جو حضور کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ بلکہ یہ مہر تصدیق سے آئے گا۔ (استغفر اللہ)
اب میں اس مغالطہ کو دور کرنے کے پھر احادیث مقدسہ پیش کرتا ہوں۔ تاکہ ثا اٹھائے گئے۔ وہ قرب قیامت نزول فرما کر پیدا ہوں گے اور حضور اکرم ﷺ کے امتی کہلا دے کر فوت ہو جائیں گے۔ اور روضہ اطہر میں موجودہ حیات اور قرب قیامت تشریف آوری اب دیکھئے حیات عیسیٰ علیہ السلام
حیات عیسیٰ
ارشادات قرآن مجید
”ومكروا ومكر الله والـ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے اور صلیب تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب تدبیر کرنے والوں میں
”وقولهم انا قتلنا المسيح عـ صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اخـ الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا. بل رفـ ١٥٨) “ اور اس کہنے پر کہ ہم نے مارا مسیح کو اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ہیں ۔ وہ اس جگہ شبہ میں پڑے ہیں۔ کچھ نہیں شک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور
کی بحث چھیڑ کر مختلف حیلوں اور بے جا تاویلوں سے بزعم خویش یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔ اور جس مسیح کے آنے کا ذکر ہے وہ مثل مسیح ہے جو مرزا غلام کی صورت میں آ گیا اور جو مسیح آئے گا چونکہ وہ نبی ہوگا۔ اس لئے نبوت ختم نہ ہوئی بلکہ جاری رہی۔ لہٰذا قرآن میں حدیث میں جہاں جہاں ختم نبوت کا ذکر ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ آئندہ جو بھی نبی آئے گا۔ آنحضور ﷺ کے مہر تصدیق سے آئے گا۔ (استغفر اللہ)
اب میں اس مغالطہ کو دور کرنے کے لئے قارئین کرام کی خدمت میں پہلے قرآن پاک پھر احادیث مقدسہ پیش کرتا ہوں۔ تاکہ ثابت ہو جائے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ اٹھائے گئے۔ وہ قرب قیامت نزول فرمائیں گے۔ اسلام کی تبلیغ کریں گے۔ شریعت محمدی پر عمل پیرا ہوں گے اور حضور اکرم ﷺ کے امتی کہلائیں گے۔ جتنے امور ان کے ذمہ ہوں گے۔ وہ سرانجام دے کر فوت ہو جائیں گے۔ اور روضہ اطہر میں حضور ﷺ ، شیخین کے پاس دفن ہوں گے۔ نیز ان کی موجودہ حیات اور قرب قیامت تشریف آوری۔ حضور کی ختم نبوت کے قطعاً خلاف نہ ہوگی۔
اب دیکھئے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن پاک کیا ارشاد فرماتا ہے؟
حیات عیسیٰ علیہ السلام
ارشادات قرآن مجید
”ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر المکرین (ال عمران ٥٤)“ یعنی یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے اور صلیب پر چڑھانے کی تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی ایک تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ (حضرت تھانویؒ)
”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم. وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه. مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا. بل رفعه الله اليه. وكان الله عزيزاً حكيماً (نساء ١٥٨)“ اور اس کہنے پر کہ ہم نے مارا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا، نہ اس کو مارا ہے اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی انکے آگے اور جو لوگ اس میں کئی باتیں نکالتے ہیں وہ اس جگہ شبہ میں پڑے ہیں۔ کچھ نہیں ان کو اس کی خبر مگر اٹکل پر چلنا اور اس کو مارا نہیں بے شک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔ (شاہ عبد القادر)
١٥
”اذ قال الله يعيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا (ال عمران ٥٥) ”جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ ! بے شک میں تم کو وفات دینے والا اور میں تم کو اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور تم لوگوں کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو منکر ہیں۔ (حضرت تھانویؒ)﴾
”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون (الزخرف ٦١) ”اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول علامات قیامت میں سے ہے۔ تم لوگ اس میں شک مت کرو اور تم لوگ میرا اتباع کرو۔ (حضرت تھانویؒ)﴾
”وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيدا (نساء ١٥٩) ”اور جو فرقہ ہے کتاب والوں میں سو وہ اس پر (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ) یقین لائیں گے۔ اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر بتانے والا (شاہ عبدالقادرؒ)﴾
”وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شئى شهيد (المائدہ ١١٧) ”اور میں ان کی حالت پر مطلع رہا۔ جب تک ان میں موجود رہا سو اس وقت تک کا حال تو میں نے مشاہدہ کیا ہے۔ اس کے متعلق بیان کر سکتا ہوں۔ پھر جب آپ نے مجھ کو اٹھا لیا۔ (یعنی اول بار میں تو زندہ آسمان کی طرف اور دوسری بار میں وفات کے طور پر ) تو اس وقت صرف آپ ان کے احوال پر مطلع رہے۔ اس وقت کی مجھ کو خبر نہیں کہ ان کی گمراہی کا سبب کیا ہوا اور کیونکر ہوا۔ اور آپ ہر چیز کی پوری خبر رکھتے ہیں۔﴾
حضرات قارئین کرام ! آپ نے حیات عیسیٰ کے متعلق قرآن پاک کے ارشادات گرامی سنے جس میں آپ نے دیکھ لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر نہیں چڑھائے گئے۔ بلکہ زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے۔ قرب قیامت ان کا ظہور ہوگا اور وہ اپنے فرائض سرانجام دے کر فوت ہو جائیں گے۔ اور روضہ اطہر میں دفن ہو جائیں گے۔ اب دیکھئے احادیث نبوی ﷺ حیات عیسیٰ کے متعلق کیا بتاتی ہیں۔
ارشادات رسول اللہ ﷺ
”اخرج ابوليلى مرفوعاً والذي بيده لينزلن عيسى ابن مريم، ثم لئن قام على قبره وقال يا محمد لا جيبنه (روح المعانی) ”آپ ﷺ نے اس
١٦
ذات کی قسم کھا کر فرمایا جس کے قبضہ میں میری جا کر رہیں گے۔ اور اگر وہ میری قبر پر آ کر کھڑے ہوئے ان کو ضرور جواب دوں گا۔﴾
”عن ابى هريرة مرفوعاً انى عيسى بن مريم فان عجل بي موت فـ احمد ) ” ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اگر میری زندگی در السلام سے میری ملاقات ہو جائے گی اور اگر اس ب زمانہ پائے وہ میری جانب سے ان کی خدمت میں س
”عن الحسن مرفوعاً وموقوفـ عيسى لم يمت وانه راجع اليكم يوم القـ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود سے قیامت سے پہلے ان کو لوٹ کر تمہارے پاس آنا ہے
”عن ابى هريرة عن النبي ﷺ واحد وامهاتهم شتى وانا اولى الناس وبينه نبي وانه نازل فاذا رايتموه فا والبياض سبط كان راسه يقطر وان لم يـ ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويبطل الـ الدجال الكذاب وتقع الامنة في الارض والنمور مع البقر الذئاب مع الغنم و يضر بعضهم بعضاً فيمكث ماشاء المسلمون ويدفنونه (مسند احمد ج ٢ ص اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جتنے انبیاء ہیں ایک اور مائیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ دیکھو وہ ضرور اتر
٧
ذات کی قسم کھا کر فرمایا جس کے قبضہ میں آپ کی جان ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بن مریم ضرور اتر کر رہیں گے۔ اور اگر وہ میری قبر پر آ کر کھڑے ہوں گے اور مجھ کو یا محمد کہہ کر آواز دیں گے تو میں ان کو ضرور جواب دوں گا۔ ﴾
"عن ابی هريرة مرفوعاً انی لا رجوا ان طالت بی حیاة ان ادرك عیسیٰ بن مریم فان عجل بی موت فمن ادركه فليقرئه منی السلام (مسند احمد) " ﴿ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اگر میری زندگی دراز ہو گئی تو مجھ کو امید ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے میری ملاقات ہو جائے گی اور اگر اس سے پہلے میری موت آ جائے تو جو شخص ان کا زمانہ پائے وہ میری جانب سے ان کی خدمت میں سلام عرض کر دے۔ ﴾
"عن الحسن مرفوعاً وموقوفاً قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عیسی لم یمت وانه راجع اليكم يوم القيامة (ابن کثیر ج ١ ص ٣٦٦) " ﴿حضرت حسنؒ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود سے ارشاد فرمایا عیسیٰ ابھی مرے نہیں ہیں۔ اور قیامت سے پہلے ان کو لوٹ کر تمہارے پاس آنا ہے۔ ﴾
"عن ابی هريرة عن النبی ﷺ قال الانبیاء اخوة العلات ابوهم واحد وامهاتهم شتی وانا اولی الناس بعیسی بن مريم لانه لم يكن بينی وبينه نبی وانه نازل فاذا رايتموه فاعرفوه فانه رجل مربوع الی الحمرة والبياض سبط كان راسه يقطروان لم يصبه بلل ممصرتين فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويبطل الملل حتى يهلك الله فی زمانه المسيح الدجال الكذاب وتقع الامنة فی الارض حتی ترتع الابل مع الاسد جميعاً والنمور مع البقر الذباب مع الغنم ويلعب الصبيان والغلمان بالحيات لا يضر بعضهم بعضاً فيمكث ماشاء الله ان يمكث ثم يتوفی فیصلی عليه المسلمون ويدفنونه (مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٧، تفسیر ابن جریر ج ٦ ص ٢٢) " ﴿ابو ہریرہؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جتنے انبیاء ہیں سب باپ شریک بھائیوں کی طرح ہیں۔ والد ایک اور مائیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام سے سب سے زیادہ نزدیک میں ہوں۔ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ دیکھو وہ ضرور اتریں گے۔ اور جب تم ان کو دیکھو گے تو فوراً پہچان
١٧
لینا کیونکہ ان کا قد میانہ ہوگا۔ رنگ سرخ وسفید ۔ کنگھی کئے ہوئے سیدھے سادھے۔ بال یوں معلوم ہوگا کہ سر سے پانی ٹپکنے والا ہے۔ اگر چہ اس پر کہیں تری کا نام نہ ہوگا۔ دو گیرو کے رنگ کی چادریں اوڑھے ہوئے ہوں گے۔ وہ اتر کر صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کریں گے اور تمام مذاہب ان کے زمانہ میں ختم ہو کر صرف ایک مذہب اسلام باقی رہ جائے گا۔ اور ان کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ جھوٹے مسیح دجال کو ہلاک کرے گا اور زمین پر امن وامان کا وہ نقشہ قائم ہوگا کہ اونٹ شیروں کے ساتھ، چیتے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور لڑکے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور ایک دوسرے کو ذرا کوئی تکلیف نہ دے گا۔ اسی حالت پر جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا وہ رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان پر نماز جنازہ ادا کریں گے۔ اور ان کو دفن کردیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ روضہ اطہر میں دفن کئے جائیں گے۔ ﴿
”عن عبدالله بن عمرؓ مرفوعاً ينزل عيسىٰ بن مريم الي الارض فيتزوج ويولد (مشکوٰة ص٤٨٠)“ ﴿ عبدالله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عیسیٰ بن مریم زمین پر اتریں گے اور نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی۔ ﴿
”عن عبدالله بن سلام قال يدفن عيسىٰ مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعاً (درمنثور ج٢ص٢٤٦)“ ﴿ عبدالله بن سلام بیان کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آکر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دو جانثاروں یعنی ابوبکرؓ اور عمرؓ کے پاس دفن ہوں گے اور اس لحاظ سے ان کی قبر چوتھی ہوگی۔ ﴿
قارئین کرام! آپ نے تمام دلائل پڑھ لئے ہیں۔ جن سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نہ مسیح بن مریم ہے نہ مثیل مسیح۔ کیونکہ اس میں کوئی ایسی علامت نہیں پائی جاتی جو احادیث میں بتائی گئی ہیں۔ بلکہ یہ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) ثلاثون کذابون میں سے ایک ہے اور چودہ سو سال سے ختم نبوت کے معنی یہی سمجھے گئے کہ حضور اکرم ﷺ سب نبیوں کے آخر میں ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ حضور اکرم ﷺ کو خاتم النبیین ثابت کرنے کے لئے انبیاء سابقین میں سے ایک نبی کو اللہ تعالیٰ نے زندہ رکھا اور قیامت کے نزدیک نازل فرمائیں گے تاکہ وہ منکرین کو بتلائے کہ جس آخری نبی ”اسمه احمد“ کی میں نے بشارت دی تھی، وہ یہی آخرالزمان ہیں اس طرح حجت تمام ہوجائے گی۔
١٨
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانیوں کے
کلمہ کی حقیقت
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قادیانی ناواقف مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے بڑے زور سے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ وہ بھی محمد عربی ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت ومسیحیت کی طرح ان کا یہ دعویٰ بھی سو فیصد جھوٹ اور ابلہ فریبی ہے۔ اصل حقیقت کیا ہے؟ مندرجہ ذیل نکات کو سامنے رکھ کر اس کا فیصلہ معمولی عقل وفہم کا آدمی بھی کر سکتا ہے۔
- .......١ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ دو دفعہ دنیا میں تشریف لائے۔ پہلی بار مکہ
میں اور دوسری بار مرزا قادیانی کے بروزی روپ میں۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”آنحضرت ﷺ کے دو بعث ہیں۔ یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں۔ کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت ﷺ کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا جو مسیح موعود اور مہدی معہود (مرزا قادیانی) کے ظہور سے پورا ہوا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص٩٤ حاشیہ، خزائن ج١٧ ص٢٤٩)
- .......٢ چونکہ قادیانیوں کے نزدیک محمد رسول اللہ ﷺ مرزا قادیانی کی شکل میں دوبارہ آگئے
ہیں ۔ اس لئے اب مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ﷺ ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص٤، خزائن ج١٨ ص٢٠٧)
- .......٣ اور اب محمد رسول اللہ ﷺ کے تمام کمالات مرزا قادیانی کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔
چنانچہ ملاحظہ ہو: ”جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو کونسا الگ انسان ہوا۔ جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص٥، خزائن ج١٨ ص٢١٢)
- .......٤ چونکہ مرزا قادیانی بعینہ محمد رسول اللہ ﷺ ہے۔ اس لئے وہ آنحضرت ﷺ کے مقام
و مرتبہ پر فائز ہے (نعوذ باللہ ) چنانچہ ملاحظہ ہو: ”خدا تعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا وجود آنحضرت ﷺ کا ہی وجود ہے۔ یعنی خدا کے دفتر میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور آنحضرت ﷺ آپس میں کوئی دوئی یا مغایرت نہیں رکھتے۔ بلکہ ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ، ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ گویا لفظوں میں باوجود دو ہونے کے ایک ہی ہیں۔“
(الفضل قادیان ١٦ ستمبر ١٩١٥ء بحوالہ قادیانی مذہب ص٢٧٤ طبع نہم لاہور)
٢
- ٥...... بلکہ قادیانی عقیدے کے مطابق مرزا قادیانی پہلے محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر ہے
اور اس کے زمانے کی روحانیت محمد عربی ﷺ کے زمانے سے اقویٰ اکمل اور اشد ہے۔ (معاذ اللہ) چنانچہ ملاحظہ ہو: ”اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی۔ پس اس نے حق کا اور نصِ قرآن کا انکار کیا۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کی طرح ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص١٨١، خزائن ج١٦ ص٢٧١ تا ٢٧٢)
اسی مضمون کو مرزا قادیانی کے ایک مرید قاضی ظہور الدین اکمل نے ایک قصیدہ نعتیہ کی شکل میں نظم کر کے مرزا قادیانی کو پیش کیا۔ اور مرزا قادیانی سے خراج تحسین وصول کیا۔
غلام احمد ہے عرش رب اکبر مکاں اس کا ہے گویا لا مکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
(اخبار بدر قادیان ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء، الفضل قادیان ٢٢؍ اگست ١٩٤٤ء ص٤)
- ٦...... اسلام محمد عربی کے زمانہ میں پہلی رات کے چاند کی طرح تھا۔ اور مرزا قادیانی کے
زمانے میں چودھویں رات کے چاند کی طرح ہو گیا۔
(خطبہ الہامیہ ص١٨٤، خزائن ج١٦ ص٢٧٥)
- ٧...... مرزا قادیانی کی فتح مبین آنحضرت ﷺ کی فتح مبین سے بڑھ کر ہے۔
(خطبہ الہامیہ ص١٩٣، خزائن ج١٦ ص٢٨٨)
- ٨...... آنحضرت ﷺ کا زمانہ روحانی ترقیات کے لئے پہلا قدم تھا۔ اور مرزا قادیانی کا
زمانہ روحانی کمالات کی معراج ہے۔
(خطبہ الہامیہ ص١٧٧، خزائن ج١٦ ص٢٦٦)
- ٩...... مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔
(ریویو آف ریلیجنز مئی ١٩٢٩ء بحوالہ قادیانی مذہب ص٢٦٦)
- ١٠...... قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے بغیر محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ باطل اور منسوخ
ہے۔ کوئی شخص یہ کلمہ پڑھ کر مسلمان نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا
قادیانی ) کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥ از مرزا محمود احمد قادیانی)
- ١١....... قادیانیوں کے نزدیک کلمہ طیبہ کا مفہوم یہ ہے کہ اس میں مرزا قادیانی داخل ہے۔
چنانچہ ملاحظہ ہو: ”ہاں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے آنے سے (کلمہ کے مفہوم میں) ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللہ ﷺ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے۔ مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے بعد (محمد رسول اللہ ﷺ) کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨ طبع اول ١٩١٥ء)
- ١٢....... قادیانیوں نے کلمہ طیبہ کا مفہوم یوں تبدیل کیا کہ چونکہ محمد رسول اللہ نے بعینہ مرزا
قادیانی کی شکل میں دوبارہ ظہور کیا ہے۔ اس لئے قادیانی عقیدہ کے مطابق:
کلمہ طیبہ : لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کلمہ خبیثہ : لا الہ الا اللہ مرزا قادیانی رسول اللہ
دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے۔ یعنی کلمہ میں محمد رسول اللہ سے بعینہ مرزا قادیانی مراد ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
”مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: ”صار وجودی (میرا وجود بعینہ محمد رسول اللہ کا وجود ہے) جودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی و مارای (جس نے میرے اور مصطفےٰ کے درمیان فرق کیا۔ اس نے مجھے نہیں پہچانا) اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آیت ”آخرین منھم“ سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ہے۔ فتدبروا!“
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)
مندرجہ بالا حوالوں سے واضح ہے کہ قادیانی اس لئے کلمہ پڑھتے ہیں کہ ان کے نزدیک مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ﷺ ہے اور محمد رسول اللہ مرزا قادیانی ہے۔
- ١٣....... مرزا قادیانی کے بغیر ان کے نزدیک دین اسلام ، لعنتی ، شیطانی ، مردہ اور قابل نفرت
ہے۔“
(ضمیمہ براہین پنجم ص ١٨٣، ملفوظات ص ١٢٧ ج ١٠)
٤
خاتم النبیین لا نبی بعدی
مسجد آمنہ رضی اللہ عنہا متصل گولڑہ شریف
تحریک ختم نبوت
حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
افتتاحیہ
رفیق محترم جانباز مرزا کے فرزند گرامی عزیز خالد جانباز اور ان کے دوست شیخ پرویز صاحب سیکرٹری مجلس طلبائے اسلام پاکستان (چنیوٹ) یہ فرمائش لے کر تشریف لائے کہ میں شیخ الفاضل محترم عبدالستار خان نیازی ایم اے، ایل ایل بی کے شہدائے ختم نبوت کانفرنس (١٠؍ مارچ ١٩٥٣ء) میں خطاب کا افتتاحیہ لکھوں اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ان عزیزان گرامی نے اس بار امانت کا قرعہ فال مجھ دیوانے پر کیوں دے مارا ہے؟..... کہاں محترم نیازی صاحب کی بلند و بالا شخصیت اور کہاں یہ کوتاہ قامت شیرازی...... یعنی چه نسبت خاك را با عالم پاك ۔ لیکن یہ سوچ کر کہ ؎
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
اس فرمائش کی تعمیل کر رہا ہوں کہ شاید یہ چند سطور مجھ گناہگار پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بہانہ بن جائیں۔ اور قیامت کے روز خاتم النبیین، شفیع المذنبین، رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ ﷺ کا دامان شفاعت میسر آجائے۔
محترم شیخ الفاضل عبدالستار خان نیازی، آغا شورش کاشمیری اور جناب ابوسعید انور سے راقم الحروف کی یاد اللہ بہت پرانی ہے۔ اور یہ باتیں ہیں جب کی کہ آتش جواں تھا۔ نیازی صاحب ہندوستان میں خلافت اسلامی قائم کرتے کرتے تحریک حصول پاکستان کے سیاسی مجاہدین کی صف یعنی مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ آغا شورش مجلس اتحاد ملت سے ہوتے ہوئے مجلس احرار اسلام کی سٹیج پر جلوہ فرما ہوئے۔ ابوسعید انور ہم وطنوں کو فارسی اور انگریزوں کو اردو پڑھاتے پڑھاتے مسلم لیگی بن گئے اور راقم الحروف نے غلبہ اسلام کی منزل تک پہنچنے کے لئے اس قافلے کی گرد راہ یعنی خاکسار بننا قبول کر لیا ؎
او بصحرا رفت و ما در کوچہ ہا رسوا شدیم
لیکن جب ہم سب لوگ منزل تک پہنچے تو ہم نے یہ عجیب تماشا دیکھا۔
٢
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
اور ہمارے احساسات کی کیفیت اب تک یہ ہے کہ
آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں
ہمارے یہی احساسات جب صورت پذیر ہوتے ہیں تو ان لوگوں سے جو پاکستان کے خطہ ارضی کے حصول کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑے۔ اپنے معصوم بچوں کے سروں کو نیزوں کی انی پر رقص بپا کرتے دیکھا۔ اپنی بہنوں اور بچیوں کی عصمتیں لٹتے دیکھیں۔ اپنی ماؤں کی مامتا کو بلکتے دیکھا۔ اپنی بیویوں کے سہاگ اجڑنے کا تماشا دیکھا۔ اگر اس سوال کا جواب آسودگان منزل اثبات میں دیتے ہیں تو پھر مجھے یہ کہنے میں ہرگز باک نہیں کہ دنیا کے تختے پر ان ہندوستانی مسلمانوں سے زیادہ احمق، بے وقوف اور اندھی قوم ہرگز موجود نہیں اور پاکستان کے عوام اور رہنماؤں کو اپنے ملک کا نام فوراً تبدیل کرلینا چاہئے۔ ورنہ مستقبل کا مورخ اس ملک کا تعارف احمخستان کے نام سے کرانے پر مجبور ہوگا......!
لیکن اگر پاکستان سے عبارت ایک ایسا خطہ ارضی ہے جہاں اسلام کی حکمرانی، خدائے بزرگ و برتر کی حکومت اور خاتم الانبیاء سرور کائنات، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شریعت کا قانون نافذ ہوگا اور جو ملک لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نعرہ توحید و رسالت کے نتیجے میں مملکت خداداد پاکستان کہلاتا ہے تو اس ملک میں حکومت کی باگ ڈور صرف انہی لوگوں کے ہاتھ میں رہنا ضروری ہے۔ جن کی گردنوں میں محمد اور صرف محمد کی غلامی کا نقش ثبت ہے۔ ورنہ قانونی اور اخلاقی لحاظ سے ہرگز اس ملک کی کلیدی اسامیوں پر فائز نہیں رہ سکتا۔
اسلام بدھ مت کی طرح انفرادی فعل اور افراد کا ذاتی معاملہ نہیں۔ دین اسلام مسلمانوں کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ جس سے مسلمان قوم ہر شعبہ زندگی میں رشد و ہدایت حاصل کرتی ہے۔
اس واضح امر کی موجودگی میں جو لوگ دین اور سیاست کو الگ الگ کر کے ”ختم نبوت“ کے نعرے کو مذہبی جنون کا نام دیتے ہیں۔ وہ یا تو جنت الحمقاء میں بستے ہیں یا دیوانہ بکار خویش ہشیار کے مصداق ہیں۔ ختم نبوت ہی تو وہ مہر ہے، وہ نقش ہے، محمد کی غلامی کا وہ طوق ہے جس کی
٣
بنیاد پر پاکستان کی بلند و بالا عمارت تعمیر اور قائم ہے۔ اس بنیادی پتھر کو نکالنے کی کوشش کرنے والے پاکستان کی عمارت اور اسلام کے ستون کو تباہ و برباد کر دینا چاہتے ہیں۔
مجھے خوب یاد ہے کہ تحریک تحفظ ختم نبوت سے کم و بیش چار برس پیشتر علامہ عنایت اللہ خان المشرقی نے پاکستان کو پیش آنے والے جن تین بڑے خطروں کی نشاندہی کی تھی۔ ان میں سب سے بڑا خطرہ قادیانیت کا تھا۔ اس خطرے سے پاکستان کے مستقبل کو محفوظ رکھنا آج بھی انتہائی ضروری ہے۔ بابائے صحافت یہاں یاد آئے۔
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں جب حکومت نے نیازی صاحب کو تختہ دار پر چڑھانے کا حکم صادر کیا۔ راقم الحروف نے روزنامہ ”سعادت“ لائل پور میں اندھیر نگری چوپٹ راج کے عنوان سے ایک اداریہ سپرد قلم کیا تھا۔ جس میں اس وقت کے اندھے راجاؤں کو توجہ دلائی گئی تھی کہ وہ قادیانیت کی گردن میں ڈالنے والا پھانسی کا پھندا نیازی صاحب کی گردن میں صرف اس لئے ڈال رہے ہیں کہ نیازی صاحب کی گردن انہیں اس پھندے کے مطابق دکھائی دے رہی ہے۔
وقت نے ان اندھے راجاؤں کی بساط سلطنت یوں الٹائی تھی کہ اب ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں۔ اور نیازی صاحب کی فراخ پیشانی پر ختم نبوت کا نور بدستور چمک رہا ہے اور حشر تک چمکتا رہے گا۔ (انشاء اللہ)
حضرت مجاہد ملت عبدالستار خان نیازی صاحب نے اپنی اس جامع و مانع تقریر میں تحفظ ختم نبوت کے سیاسی پہلوؤں پر خصوصی توجہ دلا کر عامۃ المسلمین اور ارباب اقتدار کو اس پر غور و فکر کی جو دعوت دی ہے۔ فی الحقیقت اس دعوت پر عمل کرنے میں نہ صرف پاکستان کے قیام وبقاء اور تحفظ و استحکام کا راز مضمر ہے۔ بلکہ خود ارباب اقتدار کی فلاح و بہبود، دنیاوی اور اخروی نجات اور حسنات اسی میں پوشیدہ ہے۔ مجلس طلبائے اسلام کے نوجوان کارکن یقیناً لائق تبریک
٤
تحسین ہیں کہ وہ اس نایاب تقریر کی اشاعت کا دفتر ہ
نحمده ونستعينه ونس بسم الله ال الذين قالوا لا خوانهم وقعد انفسكم الموت ان كنتم صدقين امواتا۔ بل احياء عند ربهم ير ويستبشرون باللذين لم يلحق يحزنون۔ يستبشرون بنعمة من الله الذين استجابو لله والرسول من بـ واتقوا اجر عظيم۔ الذين قال لهم ا فزادهم ايمانا وقالوا حسبنا الله ونعـ لم يمسسهم سوء واتبعوا رضوان اللـ
یہ کانفرنس اس لئے منعقد ہو رہی ہ کے شہداء کی یادگار منائی جائے۔ چونکہ یہ ایک خلاف معمول اپنی معروضات تقریر کے بجا یہاں موجود نہیں۔ وہ بھی بیرون جات میں ا وہ اس نشست سے اٹھ کر جب واپس جائیں تحریر کی شکل میں یہ معروضات پیش کرنے کا تحریک کے موقف کو توڑ مروڑ کر بیان کر فہمیاں پھیلاتے ہیں۔ وہ آسانی سے ایسا ن
یادگار منانے کا مقصد
یادگار منانے سے مفہوم یہ ہے ک
تحسین ہیں کہ وہ اس نایاب تقریر کی اشاعت کا بیڑا اٹھا کر سعادت دارین حاصل کر رہے ہیں۔ دفتر ماہنامہ ”تذکرہ“ لاہور، خاکپائے شہیدان ختم نبوت (حکیم) آزاد شیرازی
نحمده ونستعينه ونستغفره ونومن به......الخ بسم الله الرحمن الرحیم
الذين قالوا لاخوانهم وقعدوا لو اطاعونا ما قتلوا. قل فادرء وا عن انفسكم الموت ان كنتم صدقين۔ ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا. بل احياء عند ربهم يرزقون۔ فرحين بما اتهم الله من فضله ويستبشرون باللذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الا خوف عليهم ولا هم يحزنون۔ يستبشرون بنعمة من الله وفضل وان الله لا يضيع اجرا لمؤمنين۔ الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح۔ للذين احسنوا منهم واتقوا اجر عظيم۔ الذين قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم ايمانا وقالوا حسبنا الله ونعم الوكيل۔ فانقلبوا بنعمة من الله وفضل لم يمسسهم سوء واتبعوا رضوان الله. والله ذو فضل عظيم۔
(آل عمران: ١٦٨ تا ١٧٤)
یہ کانفرنس اس لئے منعقد ہو رہی ہے کہ آج سے چار سال قبل کی تحریک تحفظ ختم نبوت کے شہداء کی یادگار منائی جائے۔ چونکہ یہ ایک کانفرنس ہے۔ محض ایک جلسہ نہیں۔ اس لئے میں خلاف معمول اپنی معروضات تقریر کے بجائے تحریر کی شکل میں پیش کر رہا ہوں تاکہ جو شرکاء کار یہاں موجود نہیں۔ وہ بھی بیرون جات میں ان مسائل پر غور کر سکیں اور جو احباب یہاں موجود ہیں وہ اس نشست سے اٹھ کر جب واپس جائیں تو زیادہ غور سے ان معروضات کی نسبت سوچ سکیں۔ تحریر کی شکل میں یہ معروضات پیش کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ تحریک ختم نبوت کے جو مخالفین تحریک کے مؤقف کو توڑ مروڑ کر بیان کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اور یوں اس کے متعلق غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں۔ وہ آسانی سے ایسا نہ کر سکیں۔
یادگار منانے کا مقصد
یادگار منانے سے مفہوم یہ ہے کہ جس واقعہ یا جس شخصیت یا جس پیغام کی ہم یاد منانا
٥
چاہتے ہیں۔ جو ہمیں پسند ہے اور جس کی ہمارے دل میں قدر ہے۔ اس کی تفصیلات وقت گزرنے سے ہمیں بھول نہ جائیں۔ اس لئے کہ جن کو وہ تفصیلات یاد ہیں۔ وہ انہیں دہرائیں۔ ہم ایک مرتبہ پھر یہ دیکھیں کہ جس شے کی ہم یادگار منا رہے ہیں۔ وہ ہمیں کیوں محبوب تھی؟ اس کا کون سا پہلو ہمیں عزیز تھا؟ مدت گزر جانے کے بعد بھی ہم کیوں اسے بھولنے پر آمادہ نہیں؟ اس یاد کو تازہ کرنے سے کیا فائدہ ہے اور جس مقصد کی خاطر وہ شے ہمیں عزیز تھی۔ بدلے ہوئے حالات میں وہ مقصد کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے؟
تحریک کیوں شروع ہوئی؟
فروری ١٩٥٣ء کے آخر میں کراچی اور لاہور سے تحریک تحفظ ختم نبوت نے تین مطالبات کو خواجہ ناظم الدین کی مسلم لیگی وزارت سے منوانے کی خاطر راست اقدام کی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ تحریک کی ابتداء ایک مجلس عمل نے کی تھی۔ جس نے یہ پہلے سے بتا دیا تھا کہ تحریک کا مقصد تشدد یا قانون شکنی نہیں۔ بلکہ اس وزارت کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنا ہے۔ جو رائے عامہ کے مطالبات کو تسلیم نہیں کرتی۔ خود اپنی جماعت کے فیصلے پر بھی عمل نہیں کرتی اور جس نے سوائے راست اقدام کے اور کوئی راستہ باقی نہیں چھوڑا۔ جس کے ذریعے یہ تین مطالبات منوائے جاسکیں۔ نہ ہی یہ وزارت ملک کا آئین مکمل کرنے پر آمادہ تھی۔ آئین کی تکمیل کی صورت میں عام انتخابات کا بھی امکان نہ تھا۔ جہاں رائے عامہ آئینی طریقے سے اپنے مطالبات پورے کرواسکتی۔
وہ تین مطالبات یہ تھے:
اوّل ...... سر ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے ہٹا دیا جائے۔ کیونکہ وہ اپنے اس مذہبی عقیدے کا خود اقرار کر چکے ہیں کہ برطانوی حکومت سے وفاداری ان کے دین و ایمان میں داخل ہے اور جو شخص کسی غیر مملکت کی حکومت سے شرعی وفاداری اپنے ایمان میں داخل سمجھتا ہو وہ پاکستان کی آزاد مملکت میں وزارت خارجہ جیسے اہم عہدے پر متمکن رہنے کا ہرگز اہل نہیں۔
دوسرا ...... مطالبہ یہ تھا کہ کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا۔ جب تک وہ ہر مسئلہ میں جناب خاتم النبیینﷺ کی تعلیمات کو آخری حجت تسلیم نہ کرے اور حضور سرور کائناتؐ کی تعلیمات میں سے کسی کی تفسیر، تعبیر یا تاویل کا سوال پیدا ہو تو مسلمانوں کی کثرت رائے کے فیصلے کی پابندی کو اپنے لئے ضروری نہ سمجھے۔ پاکستان اس لئے حاصل کیا گیا ہے کہ یہاں اسلام کی
٦
تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی خاطر ایک
لہٰذا جو لوگ پاکستان میں رہنا چاہیں میں آخری حجت تسلیم نہ کریں۔ یا حضورﷺ کی کی پابندی قبول نہ کریں۔ انہیں آئین پاکستان
تیسرا ....... مطالبہ یہ تھا کہ پاکستان ہ کو اسلامی تعلیمات کے ماتحت لانے کا ہے۔ سرکاری ملازمین کو بھی بڑا دخل ہے۔ لہٰذا جب تک پر صرف ایسے سرکاری ملازمین کو مقرر نہیں کیا جا آخری حجت تسلیم کریں اور حضورﷺ کی تعلیم کی پابندی اپنا ایمان اور منصبی فرض سمجھیں۔ تب تک
اس کانفرنس میں تاخیر کیوں ہوئی؟
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مطالبات کے متعلق راست اقدام کی تحریک چار سال پر تحریک کو کچلنے کے لئے جب مسلمانوں کو شہید لیکن آج تک ان شہداء کی یاد منانے کے ل منعقد ہو سکی ۔
مختصر طور پر اس سوال کا جواب یہ ایسی وزارت مرکز میں اور صوبے میں برسراقت منانے کے وہ وعدے بھول چکی تھی کہ ج
پاکستان کا مطلب
یہ وزارت جس ایوان کے سامنے کے دوران میں ثابت ہوا ) وہ ایوان اپنے آپ تک ان کو عدالتی پروانے کے ذریعے ان کی کر اپنے منصب سے کسی صورت ہٹنے پر آمادگی ظا
تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی خاطر ایک وطن قائم کیا جائے۔
لہٰذا جو لوگ پاکستان میں رہنا چاہیں۔ لیکن خاتم النبیینﷺ کی تعلیمات کو کسی مسئلہ میں آخری حجت تسلیم نہ کریں۔ یا حضورﷺ کی کسی تعلیم کی تاویل میں مسلمانوں کی کثرت رائے کی پابندی قبول نہ کریں۔ انہیں آئین پاکستان کے ماتحت اقلیت قرار دینا چاہئے۔
تیسرا....... مطالبہ یہ تھا کہ پاکستان بن جانے کے بعد یہاں سب سے بڑا مسئلہ حکومت کو اسلامی تعلیمات کے ماتحت لانے کا ہے۔ حکومت صرف وزارت کا نام نہیں بلکہ اس میں سرکاری ملازمین کو بھی بڑا دخل ہے۔ لہٰذا جب تک پاکستان میں سرکاری محکموں کی کلیدی آسامیوں پر صرف ایسے سرکاری ملازمین کو مقرر نہیں کیا جاتا جو ہر مسئلہ میں خاتم النبیینﷺ کی تعلیمات کو آخری حجت تسلیم کریں اور حضورﷺ کی تعلیم کی تاویل میں مسلمانوں کی کثرت رائے کے فیصلے کی پابندی اپنا ایمان اور منصبی فرض سمجھیں۔ تب تک پاکستان کو اسلامی مملکت نہیں بنایا جاسکتا۔
اس کانفرنس میں تاخیر کیوں ہوئی؟
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مطالبات تو آج سے پانچ سال قبل پیش کئے گئے تھے۔ ان کے متعلق راست اقدام کی تحریک چار سال پہلے شروع ہوئی تھی۔ اس وقت کی وزارت نے اس تحریک کو کچلنے کے لئے جب مسلمانوں کو شہید کیا تھا۔ اس واقعہ کو بھی اتنی ہی مدت گزر چکی ہے۔ لیکن آج تک ان شہداء کی یاد منانے کے لئے اس پیمانے پر کانفرنس اس سے پہلے کیوں نہ منعقد ہوسکی۔
مختصر طور پر اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جب یہ تحریک شروع ہوئی تو اس وقت ایک ایسی وزارت مرکز میں اور صوبے میں برسراقتدار تھی جو پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی مملکت بنانے کے وہ وعدے بھول چکی تھی کہ ؎
یہ وزارت جس ایوان کے سامنے جواب دہ تھی (جیسا کہ بعد میں ایک عدالتی مقدمے کے دوران میں ثابت ہوا) وہ ایوان اپنے آپ کو مختار مطلق اور سلطان مطلق سمجھتا تھا۔ اور جب تک ان کو عدالتی پروانے کے ذریعے ان کی کرسیوں سے برطرف نہ کر دیا گیا۔ تب تک انہوں نے اپنے منصب سے کسی صورت بے زاری ظاہر نہ کی۔
نماند ستمگار بدروزگار
یہ وزارت اور یہ ایوان بعض سرکاری افسروں کے ساتھ مل جل کر من مانی رنگ رلیاں مناتے تھے۔ لہٰذا جب تحریک تحفظ ختم نبوت نے ”راست اقدام“ کا آغاز کیا تو ان ارباب اقتدار نے نہ عوام کے مطالبات مانے، نہ ”راست اقدام“ کرنے والوں کی پر امن عوامی گرفتاریاں قبول کیں۔ بلکہ پہلے ان پر لاٹھی چلائی۔ پھر گولی چلائی اور آخر میں فوج کو دھاوا بولنے کا حکم دے دیا۔ اس کے بعد ملک میں ارباب غرض نے ایک ایسی صورت پیدا کر دی کہ ختم نبوت کا نام لینا قانون شکنی کے ہم معنی قرار پایا۔ عام مجرموں کو ارتکاب جرم سے پہلے ارادہ جرم کی سزا نہیں دی جاتی۔ لیکن ختم نبوت کا عقیدہ بیان کرنا بھی کچھ مدت تک جرم قرار پا گیا تھا۔ جب ملک کے قانون نے پورا ساتھ نہ دیا تو سیفٹی ایکٹ سے کام لیا گیا۔ جو غداران وطن کے خلاف استعمال کرنے کی خاطر بنایا گیا تھا۔ جب سیفٹی ایکٹ سے بھی تسلی نہ ہوئی تو بنگال ریگولیشن سے کام لیا گیا۔ جب اس سے بھی دل ٹھنڈا نہ ہوا تو مجلس دستور ساز سات سال میں ملک کا دستور نہ بنا سکی تھی۔ اس نے سات گھنٹے کے اندر ایک انڈیمنٹی ایکٹ منظور کر دیا۔ جس کا سادے الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ حاکم وقت جس کو چاہے ختم نبوت کا نام لینے کے جرم میں جیل کے اندر ڈال دے۔ پھانسی کے تختے پر لٹکا دے۔ جائیداد قرق کر لے۔ جو فریاد کرے اس کو بھی شریک جرم قرار دے کر جو چاہے سزا دے۔
ظاہر ہے کہ اس سختی اور جبر سے دہشت پھیلی۔ جن کے دل میں دہشت نے اثر نہ کیا، ان کے سامنے یہ سوال تھا کہ جب ارباب اقتدار فوج کشی پر آمادہ ہوگئے ہیں تو ان کا مقابلہ کرنے سے ملک کے اندر خانہ جنگی پیدا نہ ہوجائے۔ جو پاکستان ہم نے لاکھوں قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔ اس کا استحکام اور سالمیت خطرے میں نہ پڑ جائے۔ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت ہے۔ وہ گہوارہ ہے جس میں پرورش پانے والے انشاء اللہ العزیز ایک دن دنیا کے اندر اسلامی نظام قائم کر کے ہی دم لیں گے۔ اس لئے عارضی طور پر یہاں ختم نبوت کی تحریک کو کچلنے والے ارباب اختیار سے بھی کھلا تصادم ہمارے مقاصد کے لئے مفید نہ تھا۔
جس قانون کو ہم نے غلط سمجھا اس کا مقابلہ بھی ہم نے قانون کی حد سے آگے بڑھ کر نہ کیا۔ کیونکہ ہم اپنی تلواریں ان دشمنوں کے لئے بچا رکھنا چاہتے ہیں جو صرف ہماری گردنیں ہی
٨
نہیں کاٹنا چاہتے۔ بلکہ ہمارے وطن کو ختم کر دینے کے عزائم رکھتے ہیں۔
قربانی دینے والوں کا صبر کام آیا۔ پہلے صوبے کی وہ وزارت ختم ہوئی جس نے تحریک ختم نبوت کو مکر اور تشدد سے ختم کرنا چاہا تھا۔ پھر وہ مرکزی وزارت ختم ہوئی، جس نے اقتدار کے زعم میں ختم نبوت سے سرکشی کی تھی۔ پھر وہ مجلس دستور ساز ختم ہوئی جس نے انڈمنٹی ایکٹ جیسے قانون بنا کر تحریک ختم نبوت کو خلاف قانون بنانا چاہا تھا۔ تب وہ آئین بھی ختم ہو گیا جس نے اس قسم کی مجلس دستور ساز کو آٹھ سال تک ہمارے سروں پر مسلط کر دیا تھا۔ ”لولا دفع الله الناس بعضهم ببعض لهدمت صوامع وبيع ومساجد يذكر فيها اسم الله......الخ“ ﴿اللہ تعالیٰ اگر بعض ظالموں کو دوسرے ظالموں سے ٹکرا کر ان کا فتنہ دور نہ کر دیتا تو خدا کا نام لینے والے درویشوں کی خانقاہیں اور معابد اور مسجدیں ویران ہو جاتیں اور کوئی خدا کا نام لینے والا باقی نہ رہتا۔﴾
نئے دستور کی سہولتیں
اس کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک نیا دستور پچھلے سال نافذ ہوا۔ ہم اس دستور کو اسلامی لحاظ سے بے نقص نہیں سمجھتے۔ لیکن اس دستور کے بن جانے کا یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اب ملک میں ایسا کوئی گورنر جنرل باقی نہیں رہا جو ملکہ برطانیہ کا نمائندہ ہونے کی حیثیت میں عوام کے مطالبات کو ہمیشہ قانون کے دائرے کے اندر رہ کر دبا سکے۔ یہ ٹھیک ہے کہ مرکزی اور صوبائی ایوان کے اراکین ابھی رائے عامہ کے نمائندے نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ عام الیکشن کی تاریخ ہر سال اگلے برس پر ملتوی کر دی جاتی ہے۔ لیکن یہ کھیل زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ اب ملک کے اندر آئینی جدوجہد کی ایک ایسی راہ کھل چکی ہے کہ ملک کے باشندوں کی اکثریت اگر کسی بات پر تل جائے تو اس کے ارادے پورے ہونے میں تاخیر تو ڈالی جاسکتی ہے۔ لیکن ان ارادوں کو مٹایا نہیں جاسکتا اور بالآخر ان کی کامیابی سے مفر نہیں اور جو لوگ رائے عامہ کی مخالفت کریں یا اطاعت نہ کریں۔ ان کے زیادہ دیر تک برسر اقتدار رہنے کا بھی امکان نہیں۔
جب میں کہتا ہوں کہ نیا آئین بن جانے کے بعد رائے عامہ کے فیصلوں کو پاکستان میں زیادہ دیر تک نافذ ہونے سے باز نہیں رکھا جاسکتا تو میرا اشارہ صرف عام الیکشن کی جانب نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ عام الیکشن میں بھی بدعنوانیاں اور بے قاعدگیاں کی جاسکتی ہیں۔ میں عام الیکشن کی تیاری اور اس کے نتائج سے زیادہ اہم ملک کی جمہوری رائے عامہ کی تربیت کو خیال کرتا ہوں۔
٩
نئے آئین کے ماتحت عوام کو جو بنیادی حقوق حاصل ہو چکے ہیں اور ان بنیادی حقوق کے نفاذ کے لئے عدالتی پروانہ حاصل کرنے کا جو آسان طریقہ رائج ہو چکا ہے۔ اور اس طریقے کو استعمال کرتے ہوئے ارباب اقتدار کی متعدد بدعنوانیوں کو روکنے میں جو کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔ وہ ختم نبوت پر حتمی عقیدہ رکھنے والوں کے لئے یہ راہ کھول دیتے ہیں کہ وہ ملک کی رائے عامہ پر اپنے مقاصد کی اہمیت واضح کریں۔ انہیں اپنا ہم نوا بنائیں اور مخالفین نے سچائی کے سورج کو چھپانے کے لئے جھوٹ کے جو بادل پھیلا رکھے ہیں۔ ان کو چاک کر دیں۔ اگر یہ کام سلیقے اور صبر سے انجام دیا جائے۔ تو ان مٹھی بھر مفاد پرستوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ جو تحریک کو بدنام کر کے اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔
کانفرنس اب منعقد ہونے کی وجہ
یہ وجہ تھی کہ شہداء ختم نبوت کانفرنس چار سال تک اس پیمانے پر منعقد نہ ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے تازہ حالات میں نہ راست اقدام کی ضرورت باقی ہے۔ نہ تحریک کے عزائم کو آئین اور قانون کی حدود کے اندر پروان چڑھنے سے دشمنوں کی کوئی سازش روک سکتی ہے اور نہ آج کوئی ایسی طاقت ملک کے اندر موجود ہے۔ جو تشدد اور جبر سے اس تحریک کو کچل سکے۔
جب قدرت نے یوں ہمیں چار سال پہلے شمع نبوت پر قربان جانے والے ان پروانوں کی یادگار منانے کا موقع دیا ہے تو آئیے ہم ذرا غور کریں کہ شہادت کیا ہے؟ شہادت کا منصب کیا ہے؟ اسلامی شہید کی وہ کیا خصوصیت ہے جو اسے دنیا کے دوسرے نامور سورماؤں سے ممتاز کرتی ہے۔ جو کسی قومی یا دنیاوی مقصد کی خاطر اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔
موت سے بڑی قربانی کوئی نہیں
اس دنیا کی تمام تکالیف اور مصیبتوں کی بابت کہا گیا ہے کہ وہ موت کے ایک جزو سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ اس لئے اگر کافر بھی کسی مقصد کی خاطر اپنی جان قربان کرتا ہے تو ہمیشہ احترام کی نگاہیں جھک جاتی ہیں۔ مسلمان جب کسی دنیا کے جھگڑے میں اپنی جان پر کھیل جاتا ہے تو چاہے اس میں دین کے کسی حکم کی خلاف ورزی بھی کی گئی ہو تب بھی مرنے والے سے ایک عجیب قسم کی ہمدردی محسوس کی جاتی ہے۔
دیکھئے چند سال پہلے ڈھاکہ میں بعض بنگالی نوجوانوں نے اس مقصد کی خاطر بلوہ کر دیا کہ سرکاری زبان بنگالی ہونی چاہئے۔ مقصد یہ تھا کہ اس طرح بنگالیوں کو سرکاری نوکریاں زیادہ
١٠
ملیں۔ بلوہ میں چند نوجوان مارے گئے۔ ا گئے۔ وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ کچھ مد والوں کو شہید کے نام سے یاد کرتی تھی۔ پچھ کے ووٹوں کے بغیر حکومت کی گدی پر نہیں نے ان بنگالی زبان کے شہیدوں کی یاد میں کردی۔ ایوان کی ہر قابل ذکر پارٹی نے ا
اسی طرح ١٩٣٠ء میں جب ا سرحد کی سرخ پوش تحریک نے کانگریس کے میں کچھ پٹھان انگریزی فوج سے الجھتے ہو گیا۔ ان کی یاد بھی اب ہر سال دھوم دھام
مغربی ممالک میں یہ عام دستو کی قبر ملک کے دارالحکومت میں بنا دیتے طرح پھول چڑھاتا ہے۔ جیسے پاکستا چڑھائے جاتے ہیں۔
مسلمان شہید کی خصوصیت
بلاشبہ وہ تمام لوگ جنہوں قربان کر دی۔ وہ اور ان کی یاد ایک احتر ابراہیمی کا نام لیوا سمجھتے ہیں۔ ہمارے کچھ مختلف ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہے۔ ہماری قوم کے قومی مفاد بھی ال ہاں اجتماعی مفاد کی نگہداشت ہوئی ہے
"ملۃ ابیکم ابراہ الرسول شہیدا علیکم وتک انتساب تمہارے بزرگ ابراہیم علیہ کے نام سے پکارا۔ قرآن مجید نازل
ملیں۔ بلوہ میں چند نوجوان مارے گئے۔ اس وقت انہیں مجرم، قوم کے دشمن وغیرہ القاب دیئے گئے۔ وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ کچھ مدت بعد ایک ایسی پارٹی برسراقتدار آ گئی جو ان مرنے والوں کو شہید کے نام سے یاد کرتی تھی۔ پھر مرکز میں ایک ایسی حکومت بن گئی جو اس بنگالی پارٹی کے ووٹوں کے بغیر حکومت کی گدی پر نہیں بیٹھ سکتی۔ مرکزی اسمبلی کا حالیہ اجلاس جاری تھا کہ کسی نے ان بنگالی زبان کے شہیدوں کی یاد میں اسمبلی کا اجلاس ٥ منٹ تک ملتوی کرنے کی تجویز پیش کر دی۔ ایوان کی ہر قابل ذکر پارٹی نے اس تجویز کی تائید کی۔
اسی طرح ١٩٣٠ء میں جب انگریز کے خلاف کانگریس کی تحریک زوروں پر تھی اور صوبہ سرحد کی سرخ پوش تحریک نے کانگریس کے ساتھ شرکت اختیار کر لی تھی۔ تو قصہ خوانی بازار پشاور میں کچھ پٹھان انگریزی فوج سے الجھتے ہوئے مارے گئے۔ بعد میں ان کو بھی شہید کا لقب دے دیا گیا۔ ان کی یاد بھی اب ہر سال دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔
مغربی ممالک میں یہ عام دستور ہے کہ جنگ میں کام آنے والے کسی ایک گمنام سپاہی کی قبر ملک کے دارالحکومت میں بنا دیتے ہیں اور باہر سے آنے والے ہر معزز مہمان اس قبر پر اسی طرح پھول چڑھاتا ہے۔ جیسے پاکستان میں قائد اعظمؒ اور شہید ملتؒ کے مزارات پر گلدستے چڑھائے جاتے ہیں۔
مسلمان شہید کی خصوصیت
بلاشبہ وہ تمام لوگ جنہوں نے اپنی قوم کی کوئی خدمت انجام دیتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔ وہ اور ان کی یاد ایک احترام کی مستحق ہے۔ لیکن ہم مسلمان جو اپنے آپ کو اسوۂ ملت ابراہیمی کا نام لیوا سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں شہید کے معنی، اس کا مقام اور اس کی یاد منانے کے معنی کچھ مختلف ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں قوم کا مفہوم بھی دوسری قوموں سے بالکل مختلف ہے۔ ہماری قوم کے قومی مفاد بھی ان معنوں میں قومی نہیں جس طرح دنیا کی دوسری قوموں کے ہاں اجتماعی مفاد کی نگہداشت ہوتی ہے۔
"ملۃ ابیکم ابراہیم ۔ ھو سمّٰکم المسلمین ۔ من قبل وفی ھذا لیکون الرسول شہیدا علیکم وتکونوا شہداء علی الناس (الحج:٧٨)" ’’تمہاری ملت کا انتساب تمہارے بزرگ ابراہیم علیہ السلام سے ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے ہی تمہیں مسلمان کے نام سے پکارا۔ قرآن مجید نازل ہونے سے پہلے بھی تمہیں اسی وجہ سے مسلمان کہا جاتا تھا۔
١١
قرآن مجید میں بھی تمہیں مسلمان ہی کا نام دیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ خاتم النبیین ﷺ تمہارے منصب پر شہادت دیں اور تم انسانیت کے مرتبے کی شہادت دو۔
دوسرے مقامات پر ملت ابراہیمی کو دوسری قوموں سے ممتاز کرنے والے اوصاف کی یوں تشریح کی گئی ہے کہ : "قد كانت لكم اسوة حسنة فى ابراهيم والذين معه اذ قالوا لقومهم انا برآء منكم ومما تعبدون من دون الله كفرنا بكم وبدا بيننا وبينكم العداوة والبغضاء ابداً حتى تؤمنوا بالله وحده ...... الخ (الممتحنہ : ٤) "ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی سنت کی پیروی مسلمانوں کے لئے بہترین دستور ہے۔ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا : اے کافرو! تم اللہ کے سوا جن کی پرستش کرتے ہو ہم ان سے اور تم سے بے تعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم تمہارا انکار کرتے ہیں۔ ہمارے اور تمہارے مابین ہمیشہ عداوت اور بغض رہے گا۔ جب تک کہ تم ایک خدا پر ایمان نہیں لاتے۔
کافر خدا کے سوا جن کی پرستش کرتے ہیں۔ ان کی وضاحت کرتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام نے جس رائے کا اظہار کیا وہ قرآن مجید میں ایک مقام پر یوں بیان کی گئی ہے : "وقال انما اتخذتم من دون الله اوثاناً مودة بينكم فى الحيوة الدنيا ثم يوم القيمة يكفر بعضكم ببعض ويلعن بعضكم بعضا ومأوكم النار ومالكم من ناصرين (العنکبوت ٢٥)"
ابراہیم علیہ السلام نے کافروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ خدا سے جدا جن بتوں کی پرستش کرتے ہو تمہاری اس پرستش کی بنیاد بتوں سے بھی کسی مخلصانہ وابستگی پر نہیں۔ بلکہ دراصل تم کو دنیا کی زندگی کا لالچ ہے اور دنیا سے یہ مشترکہ لالچ رکھنے کے باعث تمہارے اندر ایک باہمی لگاؤ پیدا ہو گیا ہے اور اس لگاؤ کی مجسم شکل تم نے بتوں کو بنا لیا ہے۔ لیکن تمہاری اس وابستگی کا پول قیامت کے دن کھل جائے گا۔ (جب دنیاوی تعلقات کے رشتے کٹ چکے ہوں گے۔) تب تم ایک دوسرے سے ان تعلقات کا انکار کرو گے اور باہم لعنتیں بھیجو گے ...... الخ
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی ﷺ
غرض مسلمان اس لئے ایک ملت ہے کہ انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کا دین قبول کر لیا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے کائنات کے حقائق پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ ستارے چاند نکلنے پر مدھم پڑ جاتے ہیں۔ چاند کی روشنی سورج کی روشنی سے زائل ہو جاتی ہے۔ اور خود سورج بھی
١٢
ایک وقت غروب ہو جاتا ہے۔ اس لئے دنیا کے محسوس حقائق جو کہ بدلتے رہتے ہیں۔ کوئی اصلیت نہیں رکھتے۔ اصلیت اس پائیدار طاقت کو حاصل ہے جو ان سب حقائق کو پیدا کرتی ہے۔ مسلمان اس مٹ جانے والے واقعات سے توجہ ہٹا کر خدا کی ہمیشہ رہنے والی قدرت کے سامنے اپنا رشتہ جوڑنے کا خواہشمند ہے۔ وہ دنیا کی قدر صرف اسی حد تک کرتا ہے۔ جس سے آخرت کی فصل کاٹی جاسکے۔ مسلمان مل کر جب تک قوم کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ تو اس قومیت کے نظام سے بھی ان کا مقصد ایک ایسا طریقہ زندگی رائج کرنا ہے۔ جو انہیں دنیا کے رشتوں سے پاک کر کے اور اونچا اٹھا کر آخرت کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کا موقع دے۔
دنیا کی دوسری قومیں قومیت کے نظام اس لئے قائم کرتی ہیں کہ کوئی اپنی نسل کو دنیا کی دوسری نسلوں کے حصے کی زمین چھین کر دینا چاہتا ہے۔ کوئی دوسروں کو غلام بنانا چاہتا ہے۔ کوئی تجارت یا دولت کی ترقی چاہتا ہے۔ لیکن مسلمان اپنی شخصیت کی اس نشوونما کا خواہش مند ہے۔ جس کے لئے زمین، نسل اور دولت وسائل سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔
موت حقیقی زندگی کا آغاز ہے
مولانا رومؒ نے حضرت امیر حمزہؓ کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جوانی میں زرہ پہن کر جنگ کرتے تھے۔ لیکن مسلمان ہوئے تو زرہ اتار کر جہاد میں شامل ہوئے۔ کسی نے پوچھا: آپ جوان تھے تو زرہ پہنتے تھے۔ اب بڑھاپے میں بغیر زرہ کے لڑنا کہاں مناسب ہے۔ آپ نے جواب دیا۔ جوانی میں طبعی شجاعت کے بل پر جنگ کرتا تھا۔ جیسے پروانہ اپنی فطرت سے مجبور ہو کر آگ کی طرف جاتا ہے۔ تب مقصد موت نہ تھا۔ بلکہ طبیعت کی تسکین کی خاطر موت کے کھیل میں حصہ لیتا تھا۔ بہر صورت خواہش یہی ہوتی تھی کہ موت سے بچ کر دنیاوی کامیابی حاصل کرلوں۔ لیکن اب ایمان لانے کے بعد یہ راز کھلا ہے کہ وہ ناموری جس کی خاطر جنگ میں حصہ لیتے تھے۔ اصل حقیقت نہیں بلکہ اصل حقیقت اس سے ایک قدم آگے ہے۔ طبیعت کو جو سکون خطرات برداشت کرنے سے ملتا تھا۔ اس طبیعت کو تسکین دینا ہی اصل مقصد نہیں بلکہ اصلیت اس سے آگے ہے۔ اس لئے اب ایمان لانے کے بعد میں جنگ میں جاتا ہوں تو طبعی جوش کی تسکین یا ناموری حاصل کرنے نہیں جاتا۔ بلکہ ایک برتر زندگی کی تلاش میں جاتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اب مجھے نہ موت سے بچنے کی خواہش ہے اور نہ ناموری کی آرزو میں زندہ رہنے کی خاطر زرہ پہننے کی حاجت۔
١٣
نیستم من شہر خاکی را زبوں
(رومی)
میں نے اس تقریر کے آغاز میں جن آیات کریمہ کی تلاوت کی تھی۔ ان میں بھی اس نکتہ کی وضاحت ہے کہ جو لوگ خدا کی راہ میں جان دینے والوں کو مردہ کہتے ہیں۔ وہ خود زندگی اور موت کی حقیقت سے جاہل ہیں۔ اگر یہ دنیا کی زندگی ہی اصل زندگی ہے تو پھر اعتراض کرنے والو! تم خود کیوں آخر کار اپنے آپ کو موت سے نہیں بچا لیتے۔ موت یہ ہے جس میں تم دنیا کے قیام کے دوران گرفتار ہوئے اور زندگی وہ ہمیشہ رہنے والی حالت ہے۔ جو اس دنیاوی موت سے چھٹکارا پانے کے بعد تمہیں حاصل ہوگی۔ اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کو مردہ نہ کہو۔ بلکہ یہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے پاس زندگی حاصل کر لی۔ وہاں وہ کھاتے پیتے بھی ہیں اور اللہ کا فضل پانے کی خوشی سے بھی مسرور ہیں۔ اپنے سے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی اپنے جیسی زندگی کی بشارت دیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں نہ خوف ہے نہ غم۔
وہ یہ بشارت دیتے ہیں کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ اللہ کا فضل اور اس کی نعمتیں حاصل کرنے کی راہ کھلی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو چوٹ کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول ﷺ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں۔ جن کو انہیں دشمنوں کے غلبے سے بددل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ان کی قوت ایمانی میں اور اضافہ ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں اللہ بہترین مددگار اور بہترین کارساز ہے۔ یہ لوگ اللہ کے فضل سے لدے پھندے واپس آتے ہیں۔ بے شک اللہ بڑا صاحب فضل ہے۔
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
شہید کے مقام کے متعلق مسلمانوں کا مسلمہ عقیدہ وہی ہے جو میں نے آیات قرآنی کے حوالے سے ابھی بیان کیا ہے۔ ممکن ہے جو لوگ دنیاوی زندگی کی لذتوں کو حاصل زندگی سمجھتے ہیں۔ شاید وہ شہداء کی اس روحانی عظمت کو پوری طرح نہ سمجھ سکیں۔ ایسے لوگوں کو سمجھانے کی خاطر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جس دنیاوی کامیابی اور ترقی کو انہوں نے اپنا معیار بنا لیا ہے۔ علاوہ شہداء کی روحانی اور اخروی عظمت کے۔ یہ دنیاوی کامیابی بھی شہداء کے کارناموں ہی کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہوتی ہے۔
١٤
آج ہم فخر سے سر اونچا کر کے کہتے ہیں کہ روسی اور امریکی بلاک کے مقابلے میں انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک اسلامی بلاک بننے کا امکان موجود ہے۔ ذرا غور کرو اگر بدر وحنین اور احد واحزاب کے وہ شہداء اپنی جانیں نچھاور نہ کرتے جن کی تعداد شاید انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے تو آج ہمارا یہ اسلامی بلاک کدھر ہوتا؟ صرف یہی نہیں۔ اس تیرہ سو سال کی مدت میں کیا کیا سلطنتیں بنیں اور بگڑیں، چشم فلک نے کیا کیا عظمتیں ابھرتی ہوئی دیکھیں۔ تہذیب و تمدن اور علوم وفنون نے دہلی، کابل، بغداد، قاہرہ اور قرطبہ میں کیا کیا بلندیاں حاصل کیں۔ نہ معلوم روز قیامت تک اسلامی تمدن ابھی مزید کیا کیا عروج حاصل کرتا ہے۔
کیا یہ سب کارنامے، یہ سب فضیلتیں، اگر ہم محض ان کے مادی پہلو پر ہی توجہ دیں اور تھوڑی دیر کے لئے ان شہداء کی ان روحانی عظمتوں سے قطع نظر بھی کرلیں جو میرے اور آپ کے ایمان کے مطابق ان تمام دنیاوی دولتوں سے زیادہ پر شکوہ ہیں۔ تو کیا یہ تاریخ کے تمام درخشندہ صفحات ان چند شہداء کی ذات میں اسی طرح مضمر نہ تھے۔ جس طرح شاہ بلوط کا ایک تناور اور عظیم درخت ایک رائی کے برابر بیج میں چھپا ہوتا ہے۔ صدیوں تک لوگ اس کے سائے میں بیٹھتے ہیں۔ اس کی ایک ایک شاخ سے شاندار محلات کی چھتیں تعمیر ہوتی ہیں۔ فرنیچر بنتے ہیں۔ لیکن کیا یہ سب کچھ اس ننھے بیج کی قربانی کے بغیر ہو سکتا تھا؟ جس نے اپنی جان نچھاور کر دی تا کہ ان عظمتوں کو جنم دے سکے۔
پاکستان کے اصل معمار شہداء تھے
خود پاکستان کی گزشتہ تاریخ پر ایک نگاہ ڈالئے۔ ابھی ٢٨ سال ہی تو گزرے ہیں کہ اسی شہر میں ایک ایسی صورت حال پیدا ہو گئی تھی کہ ایک گستاخ ہندو نے رنگیلا رسول نامی کتاب شائع کر کے خاتم النبیین ﷺ کے ناموس پر ہاتھ بڑھانے کی جرات کی تھی۔ ملک کا قانون ملت اسلامیہ کے اس مرکز کو اور خود کو بچانے سے انکار کر چکا تھا۔ ایک غریب بڑھئی کا نحیف لڑکا اٹھا اور اس نے وہ کارنامہ سرانجام دیا جو بڑی بڑی علم دین رکھنے والی شخصیتوں اور با رسوخ سیاسی لیڈروں کے بس کا روگ نہ رہا تھا۔ اس ایک شہید کی کوشش سے یہ نتائج برآمد ہوئے کہ قانون بھی بدل گیا۔ عدالت عالیہ کے فیصلے بھی بدل گئے اور جو مسلمان اقلیت کی پوزیشن میں اپنے رسول ﷺ کے ناموس کے تحفظ کے لئے مطالبات کیا کرتے تھے۔ انہیں ایک جدا گانہ قوم کی حیثیت میں ایک مستقل وطن کے مدعی ہونے کا حوصلہ مل گیا۔
١٥
مؤرخ کہتا ہے کہ پاکستان کا مطالبہ علامہ اقبال کے الہ آباد کے خطبے سے شروع ہوا۔ میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ فلسفی کا خواب شہید کے جہاد کا محض ایک عکس تھا۔ جو ہم اور آپ دیکھ سکتے ہیں۔ خبر نہیں اس کے اور کتنے عکس لوح سے لے کر عرش تک ابھی تک ہماری آنکھوں سے پوشیدہ ہیں اور آنے والی نسلیں ان کے آثار سے کیا کیا برکتیں حاصل کریں گی۔
یہ غازی علم الدین شہید کا دکھایا ہوا راستہ تھا۔ جس پر چل کر شہید گنج کی مسجد کو غلط قانون کے پنجے سے چھڑانے کی کوشش کی گئی۔ بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ وہ کوشش ناکام رہی۔ لیکن چشمِ بصیرت دیکھ سکتی ہے کہ غیر مسلموں کو شہید گنج سے نکالنے کی جو کوشش شروع ہوئی تھی۔ اسی نے تمام مغربی پاکستان کو غیر مسلموں کے غلبے سے نجات دلانے کی مہم کی صورت اختیار کر لی۔
قیام پاکستان کی تحریک میں جن شہداء نے اپنی جانیں جان آفریں کے سپرد کر دیں۔ اگر آج ہمیں اپنے گناہوں کے باعث یہ نظر حاصل نہیں کہ ہم عالم اخروی میں ان کی روحانی بلندیوں کو دیکھ سکیں۔ تو کم از کم ان کا یہ اثر ہماری یہ گنہگار آنکھیں بھی دیکھ سکتی ہیں۔ جن کو آخرت کی پرواہ تھی۔ ان کو اللہ نے آخرت کے انعامات سے نوازا اور ان کے جن بھائیوں کو فقط دنیا کی ہوس تھی۔ انہیں شہداء کی قربانیوں کے طفیل ملت کے ان دنیا پرست عناصر کو دنیاوی انعامات سے یوں سیراب کیا کہ جن کو قلم پکڑنا نہ آتا تھا۔ ان کے قلم دفتروں پر حاوی ہو گئے اور جن کو کلرکی میں ترقی کی آرزو رہتی تھی۔ وہ دنیا کے بادشاہوں کی صفوں میں ہم نشین ہونے لگے۔
تحریک ختم نبوت ایک سیاسی انقلاب کا پیش خیمہ تھی
شہداء ختم نبوت کی ابھی تک تعداد معین نہیں ہو سکی۔ مغربی پاکستان کے مختلف شہروں قریوں اور دیہات میں جو دور ابتلا آیا۔ اس کی تفصیل بھی یک جا قلم بند نہیں ہوئی۔ لیکن میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ قیام پاکستان سے لے کر ١٩٥٢ء تک اسلام کے نام پر جس طرح چند پیشہ ور سیاست دانوں نے ایک پولیٹکل پارٹی کے سوا تمام سیاسی جماعتوں کے گلے گھونٹ دیئے تھے۔ اور بقول پاکستان کی عدالت عالیہ کے جس طرح مجلس دستور ساز نے یہ پوزیشن حاصل کر لی تھی کہ اگر وہ ابدالآباد تک ملک کا آئین تیار نہ کرتی تو انہی گنے چنے سیاسی بازی گروں نے پاکستان کے سیاسی اقتدار پر اجارہ داری قائم رکھی تھی۔
کیا وجہ ہے کہ تحریک ختم نبوت سے پہلے ملک میں اس جور و استبداد سے نجات دلانے کے لئے کوئی عمومی تحریک نہ اٹھی؟ یہ ٹھیک ہے کہ بظاہر گورنر جنرل نے اس دستوریہ سے نجات دلائی۔ لیکن گورنر جنرل کے اس اقدام کے لئے سازگار صورتحال کس تحریک نے پیدا کی۔ اگر گورنر
١٦
جنرل ہی اس اصلاحی قدم کے محرک العنانی کے دور کو استقامت حاصل نہ دانشور طبقہ کا جمہوری شعور تھا جس نے دوسرا سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ کیا میں چھ سال سے منجمد خون کو پھر زندگی گرم خون کی تپش تھی۔ جس نے اس جو دنیا کی ہر نعمت شہداء کی قربانی اگر خدانخواستہ اس تمام بحر کے باور کرنے میں ذرا شک ہے تو می حقیقت کی طرف مبذول کروا دے وطن پرستی کی آڑ میں جلب منفعت او اس کی باگیں موڑ کر اسے جمہوریت ان شہداء کی قربانی تھی۔ میں خدا تعا کارنامے کی قدر و قیمت سمجھا کر اس کردے۔
اے حاضرین جلسہ! اگر چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ جن سے ہمارے مکانات اور زمینیں جو باپ بھائی کے رشتے جن سے آنکھوں کا جاتے ہیں اور پینے کی چیزیں جنہیں جس سے میل جول اور دنیا کے طعن آرام ملتا ہے۔ یا دنیا کی زندگی باسم معاشرے کے اندر ایک اپنائیت کا ما خدانخواستہ اگر ہمارے اندر سے حیا کون کس کا رہے گا؟ نہ کوئی کسی کا با کوئی کسی کا وارث ۔ نہ کوئی اپنا ہو گا
جنرل ہی اس اصلاحی قدم کے محرک اولیٰ تھے۔ تو وہ کیا قوت تھی جس نے گورنر جنرل کی مطلق العنانی کے دور کو استقامت حاصل نہ کرنے دی۔ شاید کہا جائے کہ یہ ملک کی رائے عامہ تھی۔ یا دانشور طبقہ کا جمہوری شعور تھا جس نے یہ کارنامے انجام دیئے۔ لیکن میں اس صورت حال میں یہ دوسرا سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ کیا مضراب تھی جس نے ملکی رائے عامہ اور دانشور طبقہ کی رگوں میں چھ سال سے منجمد خون کو پھر زندگی کی گردش سے حرارت عطا کی۔ بلاشبہ یہ شہداء ختم نبوت کے گرم خون کی تپش تھی۔ جس نے اس جمود و تعطل کو دور کیا۔
دنیا کی ہر نعمت شہداء کی قربانی کے طفیل حاصل ہے
اگر خدانخواستہ اس تمام مجمع میں کوئی ایک شخص بھی ایسا ہے جسے شہداء کی اخروی عظمتوں کے باور کرنے میں ذرا شک ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ایسے شخص کی توجہ اس کھلی حقیقت کی طرف مبذول کروا دے کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی اسلامی تحریک جس طرح وطن پرستی کی آڑ میں جلب منفعت اور استبدادی حکومت کے استقلال کے راستے پر چل نکلی تھی۔ اس کی باگیں موڑ کر اسے جمہوریت، آئین اور اسلامی اقدار کے راستے پر لانے والی واحد قوت ان شہداء کی قربانی تھی۔ میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں۔ کہ وہ ایسے شخص کے سینے کو اس سیاسی کارنامے کی قدر و قیمت سمجھا کر اس کی بلند تر روحانی عظمتوں کا اندازہ کرنے کی جانب متوجہ کردے۔
اے حاضرین جلسہ! اگر ہم اپنی روزمرہ کی زندگی پر نگاہ ڈالیں۔ اگر ہم صرف ان چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ جن سے ہمیں مادی فائدے اور جسمانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں۔ یہ ہمارے مکانات اور زمینیں جو باپ دادا سے ورثے میں حاصل ہوتی ہیں۔ یہ باپ، بیٹے اور بہن بھائی کے رشتے جن سے آنکھوں کو سرور اور دلوں کو ٹھنڈک پہنچتی ہے۔ یہ لذیذ کھانے جو کھائے جاتے ہیں اور پینے کی چیزیں جنہیں پیا جاتا ہے۔ یہ دوستوں کی محفلیں اور یہ برادریوں کی رسمیں جس سے میل جول اور دنیا کے ملاپ قائم ہیں۔ غرض دنیا کی ہر شے اور ہر وہ رشتہ جس سے یہاں آرام ملتا ہے۔ یا دنیا کی زندگی بامعنی بنتی ہے۔ کیا یہ سب چیزیں اس بات پر قائم نہیں کہ ہمارے معاشرے کے اندر ایک اپنائیت کا رشتہ قائم ہے اور ہم میں کم از کم کچھ لوگ بعض اقدار پر متفق ہیں؟ خدانخواستہ اگر ہمارے اندر سے حرام اور حلال، جائز اور ناجائز، برے اور بھلے کی تمیز مٹ جائے تو کون کس کا رہے گا؟ نہ کوئی کسی کا باپ ہوگا اور نہ کوئی کسی کا بیٹا۔ کوئی کسی جائیداد کا مالک ہوگا اور نہ کوئی کسی کا وارث۔ نہ کوئی اپنا ہوگا اور نہ کوئی بے گانہ وغیرہ۔
١٧
ہماری قومیت کی بنیاد عشق ناموس رسول ﷺ ہے
اب ذرا ایک لمحہ کے لئے غور کرو کہ یہ سارے رشتے اور یہ سارے بندھن کس کے واسطے سے قائم ہیں۔ کیا یہ ہمارا پیارا اور آخری نبی ﷺ ہی نہیں جس نے ہمیں سکھایا ہے کہ اس کائنات کا ایک رب بھی ہے۔ اور کیا اسی نے ہمیں آگاہ نہیں کیا کہ قرآن اس برتر اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب ہے۔ اور یہ قرآن نہیں جس کے بتائے ہوئے دستور سے خاندان قائم رہتے ہیں۔ ان نکات کو فلسفیانہ موشگافیاں نہ سمجھو۔ ذرا سوچو اگر نبی ﷺ کا نام بیچ سے اٹھ جائے تو وہ کیا حد ہوگی۔ وہ کون سی دیوار ہوگی جو تمہیں پٹیل، تارا سنگھ یا نہرو سے جدا رکھے گی اور اگر تم نہ ہو گے تو پاکستان کہاں ہوگا؟ اور اگر پاکستان نہ ہوگا تو یہ حکومت کہاں ہوگی اور قومی غیرت کس شے کا نام ہوگا۔ پھر اگر یہ موٹی بات ہے کہ ان سب رشتوں اور ان تمام وابستگیوں کی جڑ خاتم النبیین ﷺ ہیں۔ تو جو طاقت تمہیں اس نبی سے جدا کرتی ہے۔ وہ کیا تمہارے ماں، باپ، بھائی، بہن، تمہاری جائیداد اور تمہاری زندگی کی ہر اس خوشی سے تمہیں محروم نہیں کرنا چاہتی۔ جس سے تمہاری دنیاوی زندگی کے یہ سہارے بھی قائم ہیں۔
ایسی شیطانی قوت سے جو تمہیں تمہارے نبی ﷺ سے بیگانہ کرنے کے لئے کوشاں تھی۔ بچانے کی خاطر جن نوجوانوں نے اپنا شباب قربان کر دیا جن بوڑھوں نے بڑھاپے میں جواں ہمتی دکھائی اور جن بچوں نے لڑکپن میں پیرانہ سالی کی دور اندیشی کا ثبوت دیا۔ ان تمام شہداء کے متعلق یہ کہنا کسی قسم کا مبالغہ ہوگا کہ ان کی ہمت کے بغیر تم دنیا کی ہر نعمت سے بھی محروم ہو جاتے؟
دین کی سرسبزی خون شہیداں کی سرخی سے سیراب ہے
موسم آئیں گے اور رتیں بدل جائیں گی۔ باران رحمت ہوگی اور شہداء کی قبروں کو دھو کر بہہ جائے گی۔ خزاں کے پتے ہوا سے اڑیں گے۔ اور قبرستانوں میں بکھر جائیں گے۔ موسم بہار میں شبنم اپنے ٹھنڈے آنسو ان مزارات پر ٹپکائے گی جن کو شاید کبھی لوح مزار بھی نصیب نہ ہو۔ لیکن کیا ہم اور ہماری آئندہ نسلیں ان شہداء کا دنیاوی احسان بھی کبھی فراموش کر سکتے ہیں۔ جنہوں نے اپنی جانیں دیں۔ تا کہ تم زندہ رہو۔ جنہوں نے موت کی تلخی چکھی تا کہ تم نشوونما کی مٹھاس سے بہرہ ور ہوسکو۔ جنہوں نے اس دنیا میں اپنا سب کچھ تج دیا۔ تا کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ بھی محفوظ رہے اور آئندہ تم مزید بھی حاصل کر سکو۔ خدانخواستہ اگر ہمارے اندر کوئی ایسا شخص بھی موجود ہے جو مرنے کے بعد ان شہداء کی شفاعت سے رحمتیں حاصل کرنے کی توقع سے محروم
١٨
ہو چکا ہے۔ تو میں پوچھتا ہوں وہ کون بدبخت ہوگا۔ جو اس جہاں کی برکتوں سے محرومیت قبول کرنے کے بعد اس جہان کی ایک ایک گھڑی کو بامعنی بنانیوالے عالی حوصلہ عاشقان پاک طینت کی عظمت کا بھی انکار کرے۔
تحریک صرف مذہبی نہیں تھی
اے دوستو! جب ہم ان پاکیزہ روحوں کو فاتحہ کا ثواب پہنچانے سے فارغ ہوں۔ تو آؤ چند منٹ اس پر بھی غور کریں کہ ان جان پر کھیل جانیوالے دلیروں کے روحانی اور مذہبی عزائم پر جہاں ہم نے نگاہ ڈالی ہے۔ وہاں اس عالم اسباب میں وہ کیا حالات تھے۔ جنہوں نے خاص مارچ ١٩٥٣ء میں انہیں اس تحریک کا علم بردار بننے کی رغبت دی۔
یہ ایک مشہور مسئلہ ہے کہ مسلمان کا دین اس کی دنیا سے جدا نہیں۔ مسلمان کی سیاست اس کی عبادت سے منقطع نہیں۔ باوجود اس کے تحریک تحفظ ختم نبوت کے متعلق یہ ایک افسوسناک سانحہ ہے کہ اس تحریک کو ان معنوں میں بار بار مذہبی تحریک کہا گیا ہے۔ گویا یہ ایک سیاسی، اقتصادی اور عالم گیر تحریک نہ تھی۔ جب مذہبی کا لفظ ان معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے تو اس کی وہی گت بن جاتی ہے۔ جس طرح ”مذہبی سکھوں“ کی ترکیب لفظی ہیں۔
مذہب کا اسلامی مفہوم مسخ ہو جاتا ہے۔ بلاشبہ تحریک تحفظ ختم نبوت ان معنوں میں ایک مذہبی تحریک تھی جن معنوں میں تحریک حصول کشمیر ایک مذہبی تحریک ہے اور جن معنوں میں سود کی ممانعت سے پاکستان کی اقتصادیات کو مغربی بنکاری کے انسانیت کش اثرات سے نجات دلانے کی تحریک ایک مذہبی تحریک ہوگی۔ اس غلط فہمی اور غلط بیانی کی ابتداء اس ماحول میں ہوئی جب کہ راست اقدام کو بغاوت کے مترادف قرار دینے کی ناجائز کوشش جاری تھی۔
تحریک کا مقصد سیاسی بھی تھا
جس شخص نے تحریک تحفظ ختم نبوت کی ابتداء اور ارتقاء کے مراحل کا مطالعہ کیا ہے اور اس وقت کی تقاریر اور جلسوں کی کارروائی اور کارکنوں کی جدوجہد اور تنظیم کی سرگرمیوں پر اس کی نگاہ ہے۔ وہ بخوبی جانتا ہے کہ اس تحریک کے چلانے والوں کو صرف یہ خیال دامن گیر نہ تھا کہ وہ الہیات، فقہ یا علم عقائد کا کوئی اصولی مسئلہ بجائے مدرسہ میں طے کرنے کے مسند حکومت پر بیٹھ کر سلجھانے کے خواہشمند تھے۔
بات یہ تھی کہ الہیات، فقہ اور علم عقائد کے ایک مسلمہ مسئلہ کو بعض سیاسی، اقتصادی اور عملی سازشوں کی مصلحت نے یوں الجھا دیا تھا کہ بغیر اس مسئلہ کو مسند حکومت پر بیٹھ کر طے کئے نہ ان
١٩
سیاسی غداروں کا علاج کیا جا سکتا تھا، جو نبوت کا نور ملکہ وکٹوریہ کے نور سے اخذ کرنا چاہتے تھے۔ نہ ان اقتصادی رخنہ اندازوں کا قلع قمع ہو سکتا تھا جو امریکہ میں پیدا ہونے والے وافر غلے کی منڈی پاکستان میں مہیا کرنے کی خاطر ایک طرف پاکستان کے دریاؤں کا رخ بدلے جانے پر کسی عملی مداخلت کے بجائے یو این او میں ساڑھے بارہ گھنٹے تقریر کرنا کافی سمجھتے تھے۔ اور دوسری طرف ملکی غلے کو بھارت میں سمگل ہونے کا موقع دے کر یہاں مصنوعی قحط کی صورت پیدا کر رہے ہیں۔ نہ ہی ان عالم گیر سازشوں کا مقابلہ کیا جا سکتا تھا جو روس اور امریکہ کی لڑائی میں اسلام کے نام پر پاکستانی سپاہیوں سے وہی کام لینا چاہتے تھے جو پہلی اور دوسری عالم گیر جنگوں کے دوران میں راولپنڈی اور جہلم کے رنگروٹوں نے بغداد اور مصر میں حکومت انگلشیہ کی زریں خدمات بجا لا کر انجام دیا تھا۔
تحفظ ختم نبوت کے مسئلہ کے دینی پہلو کو یکسر علیحدہ رکھتے ہوئے تین سراسر دنیاوی مسائل ایسے تھے جو پاکستان کو درپیش تھے۔ اور درپیش ہیں اور جن کا حل سوائے ختم نبوت کے اصول کو پاکستان کی سیاست، پاکستان کی اقتصادیات اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور اور مرکز بنائے بغیر ممکن نہ تھا۔
پاکستان کی سالمیت ختم نبوت کے اعتقادات سے وابستہ ہے
- ......١
پہلا مسئلہ پاکستان کی سیاسی ہیئت تشکیل قائم رکھنے اور نشو و نما دینے کا تھا۔ میں منصب شہادت کے متعلق قرآنی آیات نقل کرتے وقت آپ کو توجہ دلا چکا ہوں کہ ملت ابراہیمی دنیا میں ایک انوکھی قومیت کی ابتداء تھی۔ امت محمدیہ اسی ملت ابراہیمی کے احیاء کا نام ہے۔ اس ملت کی خصوصیت یہ ہے کہ برخلاف دنیا کی دوسری تمام قوموں کے یہ ملت محض ان افراد کی حفاظت اور بہبودی کی خاطر قائم نہیں جو اس کے اندر شامل ہیں۔ بلکہ یہ ملت اپنے آپ کو کائنات کی تمام مخلوقات اور دنیا کی تمام دیگر اقوام کی صحیح رہبری کے لئے بھی جواب دہ تصور کرتی ہے۔ اس ملت کی اپنی کوئی نسل نہیں۔ اس میں ہر دوسری نسل کے افراد کے لئے شامل ہونے کا راستہ ہمیشہ کھلا ہے۔ لیکن یہ ملت دنیا میں انسانیت کی ایک نئی نسل پیدا کرنا چاہتی ہے۔ جس کی نسلی خصوصیات سنت ابراہیمی کی تقلید ہے۔
بیسویں صدی میں پاکستان کا قیام ایک عجوبہ تسلیم کیا گیا۔ اس لئے کہ پاکستان کے دو منطقوں میں نہ جغرافیائی ہمسائیگی ہے نہ زبان مشترک ہے۔ نہ پٹ سن اور روئی کی کاشت اور فروخت یکساں اقتصادی، صوبوں کی پابند ہے۔ صرف دین کا رشتہ ہے جس کی بناء پر ملک قائم ہوا
٢٠
اور قائم رہ سکتا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے وضاحت کر چکا ہوں۔ دین کے عام فہم معنی سوائے اس کے کچھ نہیں کہ آخری نبی ﷺ کی تعلیمات کو زندگی کے ہر مسئلے میں آخری حجت مانا جائے۔ اور ہر زمانے میں جن لوگوں نے اس نبی کی تعلیمات کو زندگی کے ہر مسئلے میں آخری حجت تسلیم کیا ہے۔ ان کی کارگزاری کی روشنی میں نبی ﷺ کی تعلیمات کا مفہوم سمجھا جائے۔ جسے فقہاء کی اصطلاح میں سنت سلف صالحین کہا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں بھی قرآن وسنت کو سارے آئین کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کی سالمیت برقرار رکھنے کی خاطر پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی نبی پر نازل ہونے والی کتاب اور کسی نبی کی سنت آئین کا سرچشمہ ہے۔
ختم نبوت کے بغیر دو قوم کا نظریہ باقی رہے گا نہ ایک پاکستانی قوم
گویا ختم نبوت صرف فقہ اور عقائد کا مسئلہ نہیں۔ یہ پاکستان کے آئین اور ناموس کا مسئلہ ہے۔ یہ مشرقی پاکستان، کشمیر، سرحد، بلوچستان، پنجاب اور سندھ کو ایک دوسرے سے پیوست کرنے یا ایک دوسرے سے اکھاڑ کر ریزہ ریزہ کر دینے کا مسئلہ ہے۔ صرف یہی نہیں یہ پاکستان کو بھارت سے جدا کرنے یا بھارت کے ساتھ واپس ملحق کر دینے کا مسئلہ ہے۔ صرف یہی نہیں یہ ہر پاکستانی خاندان کے اندر نسب اور صلہ رحمی کے رشتے قائم رکھنے یا منقطع کر دینے کا مسئلہ ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بحیثیت ایک مسلمان کے کسی مسلمان کی شخصیت کو قائم رکھنے یا ایک دیوانے کے خواب کی طرح اس کی شخصیت کے مختلف اجزاء کو ایک دوسرے سے برسر پیکار کر کے۔ اس کی اخلاقی اور ذہنی موت وارد کر دینے یا توحید سے اس کو بامعنی بنا دینے کا مسئلہ ہے۔
میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یہ کسی شاعری کی مبالغہ آرائی یا کسی واعظ کی محفل آرائی نہیں۔ تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ جس دن سے تحریک تحفظ ختم نبوت کو کچلا گیا ہے۔ اس دن سے مشرقی اور مغربی پاکستان کے مابین مساوات نمائندگی اور مساوات تقسیم کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ جس پختونستان کو ہم جاہلانہ عصبیت کا نام دیا کرتے تھے۔ وہ ہمارے صدر مملکت اور ایک بیرونی بادشاہ کے مابین موضوع گفت و شنید بن چکا ہے۔ ملک کی ایک کے بجائے دو زبانیں مقرر ہو چکی ہیں۔ جس پنجاب نے پاکستان بنانے کے لئے سب سے زیادہ قربانی دی۔ جس نے سب سے زیادہ مہاجرین کو آباد کیا۔
آج اس کو ساٹھ فی صدی کے بجائے چالیس فی صدی نیابت ملتی ہے۔ اور ادنیٰ ملازمتوں میں یہ تناسب بیس سے لے کر تیس فی صدی تک گر چکا ہے۔ مجھ سے زیادہ صوبائی
٢١
عصبیتوں کا مخالف کوئی نہ ہوگا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک مسلمان بھائی کا حق دوسرے مسلمان بھائی کو منتقل کر دینا ظلم ہے۔ ظلم سے تعصب مٹا نہیں کرتے بلکہ ہر تعصب کی پرورش کسی ظلم سے ہوتی ہے۔ کل پنجاب کے نام پر بنگال کو اس کثرت آبادی کے حق نیابت سے محروم کیا گیا تھا۔ بعض نادان پنجابی اس پر خوش ہوئے کہ بنگالی بڑے متعصب ہیں۔ اچھا ہے ان کی نیابت کم ہوگئی۔ اس کا صلہ یہ ملا کہ آج خود پنجاب ساٹھ فیصد کے بجائے چالیس فیصد نیابت پاتا ہے اور قبائلی نمائندگی کے نام پر پولیٹیکل ایجنٹوں کے بنائے ہوئے جرگے اسمبلیوں میں نمائندے بھیجتے ہیں۔ غرض ظلم کی جڑ سے ہمیشہ ظلم کا پھل پیدا ہوتا ہے۔ ظلم اور انصاف کے مابین حد سوائے نبی ﷺ کی شریعت کے اور کسی پیمانے سے کھینچی نہیں جاسکتی۔
نبی ﷺ کی شخصیت کو ملک کی سیاست سے خارج کرنے کی کوشش کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ خود ملک کی سیاست مجہول اور معدوم ہو کر رہ گئی ہے۔ جن بوالعجبیوں پر کبھی مسلم لیگ کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ آج ملک کی ہر سیاسی پارٹی ان بوالعجبیوں کا عجائب گھر بن کر رہ گئی ہے۔ اور خود مسلم لیگ جو پاکستان کے مخالفین کے مسند اقتدار پر قابض ہو جانے کے شکوے کیا کرتی تھی۔ وہ ملک کی وحدت کی جڑ پر کلہاڑے چلانے والوں کے ساتھ سودا بازی پر مجبور ہے۔
اقتصادی مشکلات کا حل بھی ختم ہے
- ٢....... دوسرا مسئلہ پاکستان کی اقتصادیات کو کوئی واضح شکل دینے اور اقتصادی مشکلات کو حل
کرنے کا تھا۔ یہ مسئلہ آگے تین ضمنی مسائل پر منقسم ہے۔ ایک یہ کہ خوراک کی کمی کس طرح دور ہو۔ اگر ہر سال یہی چلن رہا کہ قرض لے کر ادھار کھاتے رہے تو ایک دن اپنے ساتھ اولاد اور باپ دادا کے ورثے کو بھی خاکم بدہن رہن رکھنے کی نوبت آجائے گی۔ دوسرا ضمنی مسئلہ صنعت کو ترقی دینے اور صنعت کو زراعت کے مابین توازن قائم رکھنے اور بین الاقوامی تجارت کا کوئی منصوبہ بنانے پر مشتمل ہے۔ تیسرا ضمنی مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے اندر جو دولت یا جائیداد فراہم ہو۔ اس کی تقسیم کسی منصفانہ بنیاد پر ہونی چاہئے۔ تاکہ خدانخواستہ امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر نہ ہوتے چلے جائیں۔ کسی ہنر مند کے کمانے کا راستہ بند نہ ہو اور کسی بے ہنر پر دوسروں کی کمائی ہتھیا لینے کے راستے کھلے نہ رہیں۔
یہ موقع ان مسائل پر تفصیلی بحث کا نہیں۔ مختصر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک ضمنی مسئلے کے مختلف حل ہیں۔ مثلاً خوراک کے متعلق کوئی کہتا ہے کہ پہلے کاشتکاروں کے حقوق ملکیت ملنے چاہئیں۔ کوئی کہتا ہے۔ بڑے زمینداروں کو ملکیت سے محروم کرنا چاہئے۔ کوئی کہتا ہے
٢٢
کہ قومی ملکیت مسئلے کا اصل حل ہے۔
کوئی کہتا ہے کہ جس حکومت سے گندم اور چینی کی تقسیم منصفانہ نہیں ہو سکتی ، زرعی اراضی بھی اس کے ڈپٹی کمشنروں کی قومی ملکیت بن گئی تو زعفران کی طرح پنساری کی پڑیوں میں تلاش کرنی پڑے گی۔ علیٰ ہذا القیاس صنعت کے متعلق کسی کا خیال ہے کہ ملکی صنعت کاروں پر بے جا قیود عائد ہیں اور کسی کا خیال ہے کہ ان کو ناجائز نفع کمانے کے مواقع مہیا ہیں۔ دولت اور جائیداد کی مساوی اور منصفانہ تقسیم کے متعلق بھی کمیونزم سے لے کر سرمایہ داری تک مختلف نظریات ہیں۔
میں یہاں ان میں سے کسی نظریہ کی مخالفت یا موافقت بے موقع سمجھتا ہوں۔ لیکن ایک سوال پوچھنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ کیا ان میں سے کوئی حل بھی اس وقت تک قابل عمل ہو سکتا ہے ۔ یا اس سے کوئی مفید نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ جب تک ملک میں کوئی ایسی قوت پیدا نہ ہو جو اس حل پر واقعی کچھ عرصہ تک استقلال اور ہمت سے عمل کروا سکے۔
یہ تو نہ ہو کہ چار سال میں ایک پنج سالہ منصوبہ بنے اور چار ہفتوں میں اس کو نئی وزارت نامنظور کر دے۔ مزید برآں کوئی حل اسی وقت مفید ہو سکتا ہے۔ جب ملک کے وسیع رقبوں میں اس پر عمل درآمد ہو سکے اور ملک کے مختلف طبقات کے معتد بہ عناصر دل جمعی اور حسنِ نیت سے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر آمادہ ہوں۔
زرعی اصلاحات بھی ختم نبوت کے سہارے ہی ممکن ہیں
یہ دونوں باتیں یعنی کسی حل پر عمل کرانے کے لئے کسی زبردست قوت کا مہیا ہونا اور ملک کے وسیع رقبوں میں غالب اکثریت کا اس حل کو خوش دلی سے قبول کرنا اس وقت تک ناممکن ہے۔ جب تک ملک کی آبادی میں کوئی مشترکہ معیار ایسا نہ ہو۔ جس کے مطابق مختلف خیالات اور مختلف دلائل کو جانچا نہ جا سکے۔
میں پوچھتا ہوں کہ پاکستان میں سوائے آخری نبی ﷺ کی تعلیمات کے وہ کون سا معیار ہے جسے ملک کے ہر حصے میں ہر شخص بغیر چون و چرا کے قبول کرنے پر آمادہ ہو۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ بات ہر شخص کو معلوم ہے کہ ہمارا ملک ایک دیہاتی ملک ہے۔ جس کی اکثر آبادی ناخواندہ ہے۔ سوائے اسلام کی اصطلاحات کے یہ لوگ نہ کوئی زبان جانتے ہیں۔ نہ کسی علم سے واقف ہیں۔ جس کی وساطت سے مسائل ان کو سمجھائے جا سکیں۔ اکنامکس، فزکس، بیالوجی، سائیکالوجی اور سوشیالوجی کے فارمولے اور باتوں سے قطع نظر محض اس لئے بے کار ہیں کہ خود نسخہ لکھنے والوں کو بھی اکثر اجزاء کا کچھ حال سوائے اس کے معلوم نہیں کہ کسی نے کچھ اس کے متعلق
٢٤٣
کہیں کسی زمانے میں بیان کیا تھا اور اس نسخہ کی عطاری کے لئے تو سوائے لندن یا نیویارک کے غیر ملکی ماہرین کے اور کوئی کارآمد ہی نہیں ہوسکتا۔ کسی گاؤں میں جائیے، کسی شخص کو یہ سمجھائیے کہ بھئی فلاں فعل نہ کرو۔ یہ بڑا اینٹی سوشل ایکٹ ہے یا فلاں منصوبے کی تائید کرو۔ اس سے جمہوریت کو نشوونما ہوگی۔
کیا سو میں سے ننانوے آدمیوں کی سمجھ میں خاک بھی پلے پڑے گی۔ برعکس اس کے خیبر سے لے کر چٹاگانگ تک کسی شخص کو یہ کہئے کہ بھئی یہ فعل مسلمان کو زیب نہیں دیتا اور فلاں تجویز کی اس لئے تائید کرو کہ کالی کملی والے ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا تو یہ دوسری بات ہے کہ وہ آپ کی رائے سے متفق ہو یا نہ ہو۔ لیکن ایسا کون ہوگا جو اس بات کو سمجھ نہ جائے۔ عورتیں اور بچے بھی اس زبان کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
خارجہ پالیسی بھی ختم نبوت کے اصول کی محتاج ہے
٣....... تیسرا مسئلہ عالمگیر حکمت عملی اختیار کرنے کا تھا۔ جدید ایجادات نے دنیا کی ایسی کایا پلٹ دی ہے کہ دور و دراز کے ملک ایک رشتے میں بندھ گئے ہیں۔ بوڈاپسٹ میں بغاوت ہوتی ہے تو کراچی کی سیاست پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ واشنگٹن میں صدر منتخب ہوتا ہے تو بھائی پھیرو کی میونسپلٹی کے عہدے داروں میں تغیر و تبدل کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ جمہوری سرمایہ داری، سویز اور الجزائر کے زخموں پر پھایہ رکھنے میں قاصر ثابت ہورہی ہے اور ”دنیا بھر کے مزدور متحد ہو جاؤ“ کا نعرہ لگانے والے ہنگری کے مزدوروں پر گولی چلانے سے باز نہیں رہ سکتے۔ اس کیفیت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ اسلامی ملکوں سے رشتے مضبوط کئے جائیں۔
لیکن اسلامی ملکوں سے رشتے مضبوط کرنے کا مطلب کچھ عرصے سے یہی سمجھا گیا ہے کہ دو مسلمان ملکوں کے انگریزی بولنے والے اور پتلون پہننے والے لیڈر کسی سینما میں اکٹھے بیٹھ کر کوئی اطالوی فلم دیکھ لیں۔ یا ایک دوسرے کی صحت کے جام نوش کرلیں۔ چاہے از روئے تقویٰ قلقل و مینا میں سوائے سادہ پانی کے اور کچھ نہ بھرا ہو۔ ظاہر ہے کہ ایسی ملاقات کا انتظام و اہتمام جس فرنگی لارڈ یا امریکی بینکر کی مدد سے ہوگا۔ اس کے پڑھائے ہوئے میاں مٹھو اپنے استاد کی سکھائی ہوئی ٹرائیں (بجز ٹرائیں ) سے زیادہ اور کیا بات کرسکیں گے۔ نتیجہ یہی ہوگا کہ ملک فیروز خاں نون صاحب کو اسرائیل کی یہودی حکومت کے قیام کی ابدیت میں کوئی شک باقی نہ رہے گا اور وہ پکار اٹھیں گے۔ کہ پندرہ لاکھ یہودیوں کو سمندر میں تو نہیں دھکیلا جاسکتا۔ وہ یہ بھول جائیں گے کہ
٢٤
ان یہودیوں سے زیادہ تعداد رکھنے والے فلسطینی عربوں کو ان کے وطن سے دھکیلا جا چکا ہے۔ یا زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ پاکستان، کینیڈا اور فلپائن کی مدد سے کشمیر حاصل کرانے کی امید سے مست ہو کر مصر اور شام کے ساتھ تعلقات بگاڑ لے گا۔ غرض نہرو بڑا بھائی قرار پائے گا اور افغانستان سے سرحد کا جھگڑا نمٹنے میں نہ آئے گا۔
اتحاد عالم اسلام بھی مسئلہ ختم نبوت کے تصفیہ کا منتظر ہے
کیا اس الجھن کا حل سوائے اس کے ہو سکتا ہے کہ مسلمان ممالک سے پاکستان کے تعلقات صرف بادشاہوں، رئیسوں اور رقاصوں کے تبادلے تک محدود نہ رہیں۔ بلکہ مسلمان عوام ایک دوسرے کے حالات اور مسائل سے آگاہ ہوں۔ لیکن جب ہمارے خارجہ تعلقات کی بنیاد یہ ہو تو کیا خاتم النبیین ﷺ سے وابستگی کے سوا کوئی اور وسیلہ بھی ایسا ہے جو نعت کی موسیقی ، مسجد کی عبادات اور قرآن کی زبان کی مانند مشرق ومغرب اور شمال وجنوب کے مسلمانوں کو ایک کر سکے۔
یہ تین مسائل ایسے تھے جو سر ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے ہٹائے بغیر حل نہیں ہو سکتے تھے۔ کیونکہ وہ بیرونی ممالک میں آخری نبی ﷺ سے زیادہ پرچار قادیان کے نبی کی تعلیمات کا کیا کرتے تھے۔ نہ ہی ملک میں اس وقت تک سیاسی استحکام پیدا ہو سکتا تھا۔ جب تک حکومت کے اندر ایک دوسری حکومت قائم کرنے والے نظام کا خاتمہ نہ کر دیا جاتا۔ جس کی جدا گانہ پولیس، جدا گانہ عدالتیں، جدا گانہ خزانہ اور جدا گانہ بیرونی سفارتیں قائم ہو چکی تھیں۔ غضب یہ ہے کہ اس خانہ ساز حکومت کا پاکستان کی حکومت کے محکموں سے براہ راست ربط قائم ہو چکا تھا۔ خود فوج بھی اس مداخلت کا نشانہ بنائے جانے سے محفوظ نہ تھی۔ جو کام ملکی حکام کے اشارے سے نہ ہو سکتا تھا۔ وہ خلیفہ ربوہ (چناب نگر) کی سفارش سے ہو سکتا تھا۔
راست اقدام کے متعلق غلط فہمیاں
یہ سیاسی، اقتصادی اور بین الاقوامی وجوہات تھیں جن کی بناء پر تحریک تحفظ ختم نبوت نے ١٩٥٣ء میں راست اقدام کا آغاز کیا۔ راست اقدام کے مفہوم کے متعلق غلط فہمی پھیلانے کی ایسی منظم کوشش کی گئی کہ خود تحریک کے سادہ لوح بھی اس کا مفہوم بھول چکے ہیں۔ یا کم از کم اس کے متعلق الجھاؤ محسوس کرتے ہیں۔ ہم جن شہداء کی یادگار منانے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان کا جذبہ قربانی ان روحانی اور دینی مقاصد سے متعلق تھا۔ جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں۔ لیکن ان کی اس قربانی کے سیاسی، اقتصادی اور بین الاقوامی نتائج بھی اس قدر اہم ہیں کہ ان کی جدو جہد کے مادی اسباب کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ راست اقدام کے مفہوم کو سمجھنا اس لئے بھی ضروری ہے
٢٥
کہ تحریک کو آئندہ چلانے کے لئے اس کی گزشتہ تاریخ سے واقف ہونا از بس ضروری ہے۔ میں بیان کر چکا ہوں کہ بحالات موجودہ راست اقدام کی ضرورت نہیں۔ لیکن ١٩٥٣ء میں جو راست اقدام کیا گیا تھا اس کے متعلق غلط فہمیاں دور کرنا اور حقیقت حال کو معلوم کرنا تحریک تحفظ ختم نبوت کے آئندہ پروگرام کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
راست اقدام کی تاریخ
راست اقدام کی تاریخ سمجھنے کے لئے ہمیں ١٩١٩ء اور ١٩٢٠ء کے پر آشوب دور کی جانب رجوع کرنا ہوگا۔ مولانا محمد علی جوہر وہ مرد مجاہد تھے جنہوں نے اس برصغیر کے دور غلامی کے حالات پر غور کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انگریزی استبداد کو ملک کے اندر تشدد بغاوت سے ختم کرنا ممکن نہ تھا۔ فقہ اسلامی کا بھی یہ مسئلہ ہے کہ جب نہ قدرت ہو اور نہ امکان قدرت بلکہ جہاد کے آغاز میں ہی ہلاکت یقینی ہو تو امیر کو حتی الوسع قتال شروع کرنے میں توقف کرنا چاہئے۔ مولانا محمد علی جوہر مرحوم نے اس وقت کے تمام سرکردہ علماء سے مشورہ کیا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ وہ ہر قسم کی صورت حال کا مقابلہ کرنے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اس وقت جب کہ ملک میں فرنگی کا غلبہ ہے۔ غدار طاقتوں نے انگریز کا ساتھ دینے کا تہیہ کر لیا ہے۔ اس وقت مسلمان جنگ آزادی کے لئے کیا حربہ استعمال کریں۔ ان لوگوں نے بین الاقوامی حالات پر نگاہ کی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی قوت کا جائزہ لیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ جب کفر کا مقابلہ مادی لحاظ سے ناممکن ہو جائے تب بھی یہ امکان تو ہمیشہ باقی رہتا ہے کہ کفر کے ساتھ تعاون نہ کیا جائے۔ کفر کو ظلم کرنے میں بھی ایسے مجبور کیا جائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ظلم کرنے پر مجبور ہوتا جائے۔ حتیٰ کہ ظلم وشدت کی اس انتہا کو پہنچ جائے۔ جہاں سے اس کا جاری رکھنا ظالم کے لئے ناممکن ہو جائے۔
اس نئے حربہ جنگ کو اور نئے اصول جنگ کو تحریک عدم تعاون اور ترک موالات کا نام دیا گیا۔ غالباً اس اصول اور حربے کا سرچشمہ آیت قرآنی تھی کہ "تعاونوا علیٰ البر والتقویٰ ولا تعاونوا علیٰ الاثم والعدوان" نیکی اور بھلائی کے کام میں تعاون کرو۔ لیکن گناہ اور سرکشی سے تعاون نہ کرو۔ خود جواہر لال نہرو کی اپنی خود نوشتہ سرگزشت میں یہ اقرار ہے کہ برصغیر میں پہلی سول نافرمانی مولانا محمد علی جوہر نے جمعیت العلماء کے تعاون سے شروع کی۔ گاندھی اور انڈین نیشنل کانگریس نے کہیں ایک مہینہ بعد جا کر مسلمانوں کی پیروی میں اس سول نافرمانی میں حصہ لینا شروع کیا۔ لیکن مسلمانوں کو یہ دقت تھی کہ ان کے اخبارات بہت تھوڑے تھے۔ انگریزی زبان میں تو مسلمان کے اخبارات بہت ہی کم تھے۔ اور پھر ان اخبارات میں سے
٢٦
بھی کئی حکومت وقت کا ساتھ دیتے تھے۔
برعکس اس کے ہندوؤں کے ہوچکے تھے۔ اس لئے گو گاندھی ایک ماہ بعد ہندو پریس نے اس کو یوں اچھالا اور اس کا اس کثرت سے اور اس گرمجوشی سے گاندھی حکومت میں رسائی تھی، مولانا محمد علی جوہر منسوب ہوگئی۔ گاندھی نے اس تحریک پر کا زیادہ چرچا شروع کیا۔ جس کا مطلب عد دیا۔ انگریزی اخبارات نے اس تحریک کو & Civil Disobedience) جب کانگریس نے دوبارہ اسی طریقے پر ک سیاسی اسلوب فکر وعمل کی شکل اختیار کر گیا۔
اس زمانے میں جب کانگریس کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے تو اس وقت ڈائریکٹ ایکشن کا نام دیا گیا۔
مسلم لیگ کا ڈائریکٹ ایکشن
١٩٤٠ء میں مسلم لیگ نے پا کے اندر مسلم لیگ نیشنل گارڈز پر پابندی نافرمانی کی۔ کچھ عرصہ بعد صوبہ سرحد میں عظم جب کانگریس اور انگریزوں پر قا رہے تھے۔ تو انہوں نے سارے ہندوست بھی منوایا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ کلکتہ جنگ شروع ہوگئی تھی۔
برصغیر کی سیاسی تاریخ کا یہ پس خاص مفہوم اختیار کر لیا تھا کہ جب حکوم آئینی راستہ بھی نہ چھوڑے۔ جس کے
بھی کئی حکومت وقت کا ساتھ دیتے تھے۔
برعکس اس کے ہندوؤں کے کارخانے اور اخبارات ملک کے اکثر حصوں میں قائم ہو چکے تھے۔ اس لئے گو گاندھی ایک ماہ بعد تحریک آزادی میں مولانا محمد علی جوہر کا پیرو بنا تھا۔ لیکن ہندو پریس نے اس کو یوں اچھالا اور اس کا اتنا چرچا کیا۔ دوسری طرف ہندو مالدار طبقہ اور وکلاء نے اس کثرت سے اور اس گرمجوشی سے گاندھی کا ساتھ دیا اور مسلمانوں کے اس طبقے نے کہ جس کی حکومت میں رسائی تھی، مولانا محمد علی جوہر سے ایسی کنارہ کشی رکھی کہ تحریک عدم تعاون گاندھی سے منسوب ہو گئی۔ گاندھی نے اس تحریک پر اپنا ہندو روغن پھیرنے کی خاطر ایک تو اہنسا کے اصول کا زیادہ چرچا شروع کیا۔ جس کا مطلب عدم تشدد تھا۔ دوسرا اس نے ستیہ گرہ یعنی سچائی پر زیادہ زور دیا۔ انگریزی اخبارات نے اس تحریک کو نان کو آپریشن اور سول ڈس اوبی ڈینس (Non Co-operation & Civil Disobedience) کا نام دیا۔ ٣٢-١٩٣٠ء میں جب کانگریس نے دوبارہ اسی طریقے پر تحریک چلائی تو برصغیر میں یہ سیاسی طریقہ کار ایک مسلمہ سیاسی اسلوب فکر و عمل کی شکل اختیار کر گیا۔
اس زمانے میں جب کانگریس کے عہدے دار انگریزی حکومت کو یہ تحریک شروع کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے تو اس وقت عدم تعاون کے مقابلے میں سول نافرمانی کی تحریک کو ڈائریکٹ ایکشن کا نام دیا گیا۔
مسلم لیگ کا ڈائریکٹ ایکشن
١٩٤٠ء میں مسلم لیگ نے پاکستان کی قرارداد منظور کی۔ ١٩٤٧ء میں جب پنجاب کے اندر مسلم لیگ نیشنل گارڈز پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی گئی تو مسلم لیگ نے بھی سول نافرمانی کی۔ کچھ عرصہ بعد صوبہ سرحد میں بھی مسلم لیگ نے ایسی ہی سول نافرمانی کی۔ قائدا عظم جب کانگریس اور انگریزوں پر قیام پاکستان کے مطالبے کو منوانے کے لئے زور دے رہے تھے۔ تو انہوں نے سارے ہندوستان میں ٢٦ جولائی ١٩٤٦ء کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے بھی منوایا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ کلکتے کے اندر بیچ بیچ ہی ہندو اور مسلمانوں میں کچھ مدت کھلی جنگ شروع ہو گئی تھی۔
برصغیر کی سیاسی تاریخ کا یہ پس منظر تھا جس میں ”راست اقدام“ کی اصطلاح نے یہ خاص مفہوم اختیار کر لیا تھا کہ جب حکومت وقت عوام کے مطالبات کو تسلیم نہ کرے اور کوئی ایسا آئینی راستہ بھی نہ چھوڑے۔ جس کے ذریعے عوام حکومت کو اپنے مطالبات منوانے پر مجبور
٢٧
کرسکیں۔ اور عوام کسی مصلحت کی بناء پر حکومت کے ساتھ کھلی جنگ پر آمادہ نہ ہوں اور فتنہ و تصادم بھی شروع نہ کرنا چاہیں تو ایسی صورت حال میں عوام یہ چارہ کار بھی اختیار کرسکتے ہیں کہ کسی ایک قانون کی پرامن اور اصطلاحی نافرمانی سے اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کریں۔ حکومت جو ووٹ بیلٹ میں ڈال کر فیصلہ نہیں کرنے دیتی۔ ووٹر جیل میں داخل ہو کر انہی ووٹوں کا شمار دنیا کی رائے عامہ پر ظاہر کردیں اور اس اخلاقی دباؤ سے حکومت کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کردیں۔
پرامن سول نافرمانی مسلمہ جمہوری سیاسی طریقہ کار ہے
پرامن سول نافرمانی کا یہ طریقہ کار برصغیر ہند و پاکستان میں ایک ایسے مسلمہ سیاسی طریقہ کار کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ غالباً دونوں ڈومینینوں میں لکھے ہوئے آئین کا کوئی اصول اتنا پرانا اور ایسا مسلم نہیں جیسا کہ پرامن سول نافرمانی کا اصول۔ کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں کے آئین خود اسی سول نافرمانی سے حاصل کی ہوئی، آزادی کے مرہون منت ہیں۔ تاریخ کی یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ حصول آزادی کے بعد بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں میں جن سیاسی لیڈروں نے پرامن سول نافرمانی کے نام پر انگریز سے آزادی کے اختیارات حاصل کئے تھے۔ جب خود انہوں نے اپنے عوام کے بعض حقوق کو دبانا چاہا اور عوام نے اپنے مطالبات ان لیڈروں سے منوانے کی خاطر پرامن سول نافرمانی کا راستہ اختیار کیا۔ تو ان لیڈروں نے ایک الٹی رَٹ لگالی اور یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ سول نافرمانی تو ہمارے لئے انگریز کے خلاف جائز تھی۔ اب جب ہم حاکم بن چکے ہیں تو عوام کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ خود ہمارے خلاف بھی یہی ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیں۔ انگریز بیرونی حاکم تھا۔ ہم ملکی حاکم ہیں۔ لہٰذا انگریز کے خلاف سول نافرمانی آزادی کے مترادف تھی۔ ہمارے خلاف سول نافرمانی وطن سے غداری اور بغاوت کے مترادف ہے۔
آئین کے تحت وزارت بدلنا عوام کا جمہوری حق ہے
یہ منطق اس قابل نہیں کہ اس کا کوئی جواب دیا جائے لیکن یہ نامناسب نہ ہوگا کہ امریکہ کے ٤؍ جولائی ١٧٧٦ء کے تاریخی اعلان آزادی سے ایک پیراگراف ان لوگوں کی شرح صدر کے لئے نقل کر لیا جائے۔ جن پر آیات قرآنی اور فطری عدل و انصاف کے تقاضوں سے زیادہ اثر مہذب ممالک کی آئینی روایات کا ہوا کرتا ہے۔
٢٨
”حسب ذیل اصول ہمارے ظاہر ہے۔ یہ کہ سب انسان برابر ہیں ۔ ہیں جو کوئی اس سے چھین نہیں سکتا۔ ان اپنی مرضی سے تلاش کرنے کا حق شامل انسانوں پر حکومت کرنے کے کچھ نہیں کہ ان حقوق کو حق دار تک اخذ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی حکومت اس حکومت کو موقوف کردے۔ یا اسے بدل نئی حکومت کی بنیاد ایسے اصولوں پر رکھی کے نزدیک رعایا کے تحفظ اور خوش حالی ١٩٥٣ء میں کئی دوسری اسلامی امریکیوں نے یہ تاریخی اع
be self-evident. that they are endowed by alienable rights, that rty and the persuit of e rights governments ving their just powers rnment that when wer omes destructive of he people to altar or d to institute a new on an such principles uch form, as to them ect their safety and
"We hold these truth to be self-evident. that all men are created equal. That they are endowed by their creature with certain un-alienable rights, that among their rights are life, liberty and the persuit of hapiness. That to secver these rights governments are instituted among men. hariving their just powers from the concend of the government that when wer only form of government becomes destructive of there ends. it is the right of the people to altar or abolish the govenment, and to institute a new government laying its foundation an such principles and orgnising its powers in such form, as to them shall seem most likly to effect their safety and happiness."
"حسب ذیل اصول ہمارے ایک ایسے حق کی حیثیت رکھتے ہیں جس کی سچائی از خود ظاہر ہے۔ یہ کہ سب انسان برابر ہیں۔ یہ کہ انسان کے خالق نے ہر فرد کو چند ایسے حقوق عطا کئے ہیں جو کوئی اس سے چھین نہیں سکتا۔ ان حقوق میں زندہ رہنے کا حق، آزاد رہنے کا حق اور اپنی خوشی اپنی مرضی سے تلاش کرنے کا حق شامل ہیں۔
انسانوں پر حکومت کرنے کے لئے جو نظام کھڑا کیا جاتا ہے اس کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ان حقوق کو حق دار تک پہنچا دیا جائے۔ ہر حکومت کا اقتدار رعایا کی رضامندی سے اخذ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی حکومت اس اصل مقصد سے منحرف ہو جائے تو رعایا کا حق ہے کہ ایسی حکومت کو موقوف کر دے۔ یا اسے بدل ڈالے۔ پہلی حکومت کی جگہ ایک نئی حکومت قائم کر لے۔ نئی حکومت کی بنیاد ایسے اصولوں پر رکھی جائے اور اس کو صرف وہ اختیارات سونپے جائیں جو رعایا کے نزدیک رعایا کے تحفظ اور خوش حالی کے لئے مفید مطلب ہوں۔"
١٩٥٣ء میں کئی دوسری اسلامی جمہوری تحریکیں بھی کچلی گئی تھیں
امریکیوں نے یہ تاریخی اعلان آزادی تب شائع کیا تھا جب آج سے قریباً پونے تین
٢٩
سو سال پہلے انگریز انہیں کہتے تھے کہ تمہارا ملک ہم نے آباد کیا ہے۔ تم شاہ برطانیہ کی رعایا ہو۔ لہٰذا ہم تم سے پوچھے بغیر تم پر ٹیکس لگا سکتے ہیں اور امریکی باشندے احتجاج کرتے تھے کہ :
"No taxetion without representation"
یعنی جس سیاست میں ہمیں نیابت حاصل نہیں۔ اس سیاست کو ہم سے ٹیکس وصول کرنے کا کیا حق حاصل ہے؟ لیکن تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ جو اہل امریکہ اس اعلان آزادی کے نام پر ایک قوم بنے۔ ١٩٥٣ء میں اسی امریکہ کے اثر و رسوخ نے مصر کے اندر کرنل ناصر سے ”اخوان المسلمین“ کا معصوم خون بہایا۔ ایران میں مصدق جیسے بطل جلیل اور محب وطن کو پابند سلاسل اور قید تنہائی کا اسیر کر دیا گیا۔ فاطمی کو گولی مار دی گئی۔ اور فدایان اسلام کا وہ نواب صفوی جو قرآن مجید بغل میں لے کر شب و روز اسلامی حکومت کے قیام کی تبلیغ کرتا تھا۔ مارشل لاء کے ماتحت شہید کر دیا گیا۔
کم و بیش یہ وہی ایام تھے جب پاکستان میں شہداء ختم نبوت اپنی جانیں جان آفریں کو سپرد کر رہے تھے۔ شاید قدرت جب اپنے بندوں کا امتحان لیتی ہے تو ایک ہی وقت میں مختلف ممالک کے اندر یکساں عقیدے رکھنے والوں کو ایک ہی قسم کے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔
سابقہ معروضات کا لب لباب
ہم شہداء ختم نبوت کی یادگار منانے کے لئے اس کانفرنس میں جمع ہوئے ہیں۔ اس وقت تک میں نے آپ کو بتایا ہے کہ یادگار آج سے چار برس پہلے اس پیمانے پر کیوں نہ منائی جاسکی۔ وہ کیا مطالبات تھے جن کی خاطر ان شہیدوں نے جانیں دیں۔ وہ مطالبات کیوں پیش کئے گئے تھے۔ جنہوں نے ان مطالبات کو نامنظور کیا اور بزم خوشنوداں کو نیست و نابود کر دیا۔ آج وہ خود اور ان کی سیاسی جماعتیں اور ان کا اقتدار اور وہ تمام ادارے جن کی بناء پر وہ ظلم و ستم کرتے تھے۔ سب نیست و نابود ہو چکے ہیں۔
اس مرحلے پر میں اپنی گزارشات ختم کرنے سے پہلے دو مزید موضوعات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:
- اوّل...... یہ کہ کیا ہم صرف شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے پر اکتفا کریں گے اور
ان کے ورثاء کی دست گیری کا کوئی اہتمام نہ کریں گے۔ کیا ہماری یہ کانفرنس صرف کانفرنس تک محدود رہے گی اور ہم شہداء کی یادگار کے لئے کوئی ٹھوس آثار کھڑے نہ کریں گے؟
- دوسرے....... یہ کہ یادگار تو ہم نے منالی۔ جن کی یادگار منائی تھی ان کا چرچا بھی ہم نے
٣٠
کر دیا۔ لیکن کیا ہم ان قابل یادگار ہستیوں کی زندگی سے خود کوئی سبق حاصل نہ کریں گے۔ اور ان کی پیروی میں ہم دین و ملت کی خدمت انجام دینے کا کوئی منصوبہ نہ بنائیں گے؟
جدید سرکاری تحقیقات کی ضرورت
جہاں تک شہداء کے ورثاء کی نگہداشت کا تعلق ہے میں حسب ذیل تجاویز پیش کرتا ہوں:
- ......١ ١٩١٩ء میں جب برطانوی حکومت نے پنجاب میں مارشل لاء لگایا تھا تو اس کے بعد
مارشل لاء کے دوران میں جن لوگوں کو جانی یا مالی نقصان پہنچا یا کسی افسر نے اپنے فرائض منصبی سے تجاوز کیا۔ اس کی تحقیق کے لئے ایک کمیشن مقرر کیا گیا تھا۔ اس کمیشن کی سفارشات کے مطابق نقصان اٹھانے والوں کو معاوضہ بھی دیا گیا تھا۔ معاوضہ کی رقم کا تعین کرنے کے لئے الگ کمیشن مقرر ہوا تھا۔ جس میں عوام کے نمائندے بھی شامل تھے۔ ١٩٥٣ء کے مارشل لاء کے متعلق اگرچہ ایک عدالت انکوائری کر چکی ہے۔ لیکن اس انکوائری میں عوام کے جانی اور مالی نقصان کا اندازہ کرنا شامل نہ تھا۔ نہ ہی فرائض منصبی سے تجاوز کرنے والے افسروں کی کوئی پرسش کی گئی۔ بلکہ یہ عدالت تو اس مفروضے پر مقرر کی گئی تھی کہ مارشل لاء کا نفاذ بہر صورت ضروری تھا۔ اس کے نفاذ میں تاخیر کیوں ہوئی۔ اب جب کہ حالات بدل چکے ہیں اور Indemnity act کو منظور کرنے والی نہ وزارت باقی ہے نہ وہ پارلیمنٹ باقی ہے تو یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عوام اور پارلیمنٹ کے نمائندوں پر مشتمل ایک ایسا کمیشن مقرر کیا جائے جو یہ تحقیق کرے کہ عوام کو کس قدر جانی اور مالی نقصان پہنچا۔ اختیارات سے تجاوز کی کون سی مثالیں ہیں۔ علاوہ ازیں مجروحین اور شہداء کے ورثاء کو معقول مالی معاوضہ دیا جائے۔ شہر کی جن املاک کو نقصان پہنچا۔ ان کی مرمت کی جائے۔ جن جماعتوں یا افراد کا سرمایہ ضبط کر لیا گیا تھا۔ وہ انہیں واگزار کر دیا جائے۔ جن لوگوں کو ناواجب جرمانے کئے گئے، وہ واپس کئے جائیں۔ جن کو ناجائز سزائیں ملیں، ان کو ہرجانہ دیا جائے۔ اور جن افسران نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ان کو مناسب سزا دی جائے۔
- ......٢ شہداء ختم نبوت کے اعزاز میں چھ مارچ کو مکمل تعطیل ہوا کرے۔
- ......٣ تمام مغربی پاکستان کے جن جن مقامات پر شہداء پر فائرنگ کی گئی۔ وہاں یادگاری
مینار نصب کئے جائیں اور ان پر ایک تختی لگا کر اس پر مختصر حالات درج کئے جائیں اور جو لوگ شہید ہوئے۔ ان کے نام ولدیت، جائے سکونت اور عمر کی بھی وضاحت کی جائے۔
- ......٤ شہداء کے مزارات کی جہاں نشان دہی ہو سکے۔ وہاں سرکاری خرچ پر ان کے مزارات
٣١
کی تعمیر کی جائے اور الواح مزار نصب کی جائیں۔
- ٥...... دہلی دروازہ لاہور کے باہر جو نیا چوک تعمیر ہو رہا ہے۔ اس کا نام چوک شہیداں ختم
نبوت رکھا جائے اور چاروں جانب یہ نام مناسب حروف میں لکھے جائیں۔ ان حروف پر چراغاں کا مناسب انتظام کیا جائے۔
- ٦...... جہاں تک تحریک کے مطالبات کا تعلق ہے۔ ان میں سے سر ظفر اللہ کو منصب سے
ہٹائے جانے کا مطالبہ پورا ہو چکا ہے۔ لیکن کلیدی آسامیوں پر تقررات اور پاکستان میں اقلیتوں کے تعین کے مسائل بدستور قائم ہیں۔
علیٰ ہٰذا القیاس پاکستان کے اندر مذہبی یا سیاسی جماعتوں نے متوازی حکومت کے نمونے قائم کر رکھے ہیں۔ اور حکومت پاکستان کی طرح ان کی جداگانہ وزارتیں اور فوجیں ہیں۔ انہیں خلاف قانون جماعتیں قرار دے کر ان کے ناپاک عزائم کی تفتیش اور قابل اعتراض لٹریچر کی ضبطی نہایت ضروری ہے۔
ہمارا فرض
اب میں اس موضوع کی جانب رجوع کرتا ہوں کہ شہداء ختم نبوت کی یادگار منانے سے ہم خود کیا عملی سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ آج دنیا میں جو اضطراب بدامنی اور نفسانفسی کا عالم ہے۔ اس کے اثرات ہم سب کی زندگی پر پڑتے ہیں۔ اگر ہم میں کوئی ایسے افراد بھی شامل ہیں۔ جو احساس اخلاق سے عاری ہو چکے ہیں۔ اور دین کی خاطر یا اجتماعی مفاد کی خاطر کسی کوشش پر آمادہ نہیں تو ان کی انفرادی زندگی کے مفاد بھی انہیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ اصلاح احوال کی جانب مائل ہوں۔
میں اس نکتے کے متعلق اپنی معروضات پہلے پیش کر چکا ہوں کہ تحفظ ختم نبوت کس طرح پاکستان میں انفرادی اور اجتماعی اصلاح کا مرکزی نقطہ ہے۔ میں خاص طور پر تین طبقات سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ ان کے فوری مفاد کا تقاضا ہے کہ وہ تحریک تحفظ ختم نبوت کے پروگرام کی روشنی میں اپنی روزمرہ کی زندگی کا جائزہ لیں۔
نوجوانوں کو دعوت عمل
- ١...... میرا پہلا خطاب نوجوانوں اور طالب علموں سے ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے
زندگی کے امکانات ختم نہیں ہوئے۔ نہ ان کی عادات میں ٹھہراؤ پیدا ہو چکا ہے۔ بلکہ وہ مستقبل کے منتظر ہیں۔ دنیا کی تمام قوموں اور ملکوں میں انقلاب ہمیشہ طالب علموں نے پیدا کیا ہے۔ مصر کو
٣٢
انگریز کے پنجے سے قاہرہ کے طلباء کی طول وطویل جدوجہد نے چھڑایا۔ روس میں انقلاب طالب علموں کی مدد سے آیا۔ چین میں چیانگ کائی شیک کو طالب علموں نے بھگایا اور خود اس پاکستان کی تاریخ پر غور کیجئے کہ جب قائد اعظم کو یونینسٹ پنجاب میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیتے تھے تو یہ پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوان اراکین ہی تھے جنہوں نے سیاست کا رخ اور اقتدار کا پانسہ الٹ کر رکھ دیا۔ آج ملک میں جو بیماری، بھوک، افلاس، بے حیائی، فحاشی اور انحطاط وزوال پرورش پا رہا ہے۔ بوڑھوں کو تو شاید اس کی پرواہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی زندگی گزار چکے اور اب ان میں یہ سکت بھی باقی نہیں کہ وہ نامساعد حالات کا مقابلہ کر سکیں۔
وہ حالات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ لیکن میں نوجوانوں سے پوچھتا ہوں کہ تم اپنے راستے سے وہ کوڑا کرکٹ ہٹانا نہیں چاہتے ، جس کی سڑاند سے تمہارے نتھنے نفرت کرتے ہیں۔ اٹھو اور پاکستان کے دیہات کے کونے کونے میں پھیل جاؤ۔ تمہیں ہر جگہ ایسے نوجوان ملیں گے جو تمہاری طرح بدی سے نفرت اور نیکی کی آرزو رکھتے ہیں۔ وہ بھی اس وہم سے بددل ہو چکے تھے کہ کوئی ان کا ساتھی نہیں۔ شاید ان کی کوششیں کوئی پھل نہیں لاسکتیں۔ ان کی تمناؤں کو آواز بازگشت سے ہرا کر دو۔ آرزوؤں کے بیج بو کر تو دیکھو ایک ہی فصل کے اندر وہ کھیتی کھڑی ہو جائے گی جس سے تمہاری جھولیاں بھر پور ہو جائیں گی۔
علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل
- ٢....... میرے دوسرے مخاطب علماء، ائمہ مساجد اور مشائخ ہیں۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ
جن سے تخت حکومت چھن جاتا ہے وہ تو اس امید پر صابر ہو کر گوشہ نشین ہو جایا کرتے ہیں کہ حجرے اور بوریے پر قناعت کر کے گزارہ کر لیں گے۔ لیکن تم سے تو مصلی اور منبر، حجرہ اور مسجد چھینا جا رہا ہے۔ یہاں سے نکل کر کہاں گزارہ کرو گے۔ بادشاہوں سے تو بیزاری اختیار کی جاسکتی ہے لیکن تحریک تحفظ ختم نبوت سے روگردانی کی، تو صرف اس دنیا میں تم پر آوازے نہ کسے جائیں گے کہ دیکھو قوم کے نونہالوں کے خون کی قربانی دے کر یہ لوگ جو رسول کے نائب ہونے کا دعویٰ کیا کرتے تھے۔ اب ناموس رسول کی نسبت اپنے فرض سے بھی غافل ہو گئے ہیں۔ بلکہ جب اس روز کا سامنا ہو گا۔ جس سے کسی کو مفر نہیں تو بتاؤ شافع محشر کو جا کر کیا جواب دو گے؟ تم اس لئے بددل ہو گئے کہ تمہاری داڑھیوں کی بے حرمتی کی گئی تھی یا جیل میں تم سے وہ سلوک نہ ہوا تھا جس کے تم مستحق تھے۔ لیکن ان دین کی محبت رکھنے والوں ، کو علم دین سے تمہارے
٣٣
جتنا حصہ نہ پانے والوں کا بھی خیال تو کرو جنہوں نے گردنیں کٹا دیں۔ اپنے سلف سے سبق حاصل کرو۔ اپنے مقام کو پہچانو۔ آپ وہ لوگ ہو جو وقت سے منہ موڑا نہیں کرتے۔ بلکہ وقت کے دھارے کا رخ پھیر دیا کرتے ہیں۔ اگر تدبیر میں کوئی غلطی رہ گئی تھی۔ تو اس کی تصحیح کر لیجئے اور نیت میں ہی کچھ کمی تھی۔ تب بھی وقت باقی ہے۔ اس کمی کو بھی پورا کر لیجئے۔
چھوٹے سرکاری ملازم کلرک اور غریب تاجر توجہ کریں
٣....... تیسرے درجہ پر میرے مخاطب متوسط تجارتی طبقے اور ادنیٰ سرکاری ملازمت پیشہ افراد ہیں۔ ممکن ہے یہ طبقہ جیالے پن اور دلیری میں عوام سے کچھ پیچھے ہو۔ لیکن بہرصورت وہ اپنے خاندانوں میں شرافت کا کچھ معیار باقی رکھنا چاہتے ہیں۔ حرام و حلال کی تمیز سے بالکل بے بہرہ نہیں۔ عاقبت کا خوف انہیں ہر وقت نہیں تو کبھی کبھار آ ہی جاتا ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جن کو خدا نے دنیا سے زاید حصہ دے دیا ہے۔ وہ تو شاید اس لئے تحفظ ختم نبوت سے غافل ہیں کہ ان کو زندگی کے دوسرے نشے میسر ہیں۔ لیکن جس نے شراب بھی نہیں پی۔ خنزیر پر بھی نہیں کھایا اور بدکاری بھی نہیں کی۔
آخر وہ ایسا کرنے والوں کو خوشحال دیکھ کر ذہنی تصورات میں ہی ایسا کیوں الجھ گیا ہے کہ نہ حلال میں اپنے جائز حصہ کی فکر ہے اور نہ حرام کی سزا سے اپنے آپ کو بچانے کا خیال۔ ذرا تو غور کرو کہ یہ تہذیب اور یہ تعلیم جو ہمارے اندر نفوذ کر رہی ہے۔ آخر اس کا مطلب کیا ہے۔ یہی نہ کہ کتے کی طرح حکم مانو اور دسترخوان سے بچی کھچی ہڈیاں کھا کر پیٹ موٹا کرلو۔ پھر ریچھ کی طرح رقص کرو، اور بھیڑیوں کی طرح ایک دوسرے کے بخیے نوچو۔ فرصت ملے تو گدھ کی طرح مردار کھا کر اپنے تودہ غلاظت پر خود ہی بیٹھے اونگھتے رہو۔
ان تمام آلودگیوں سے نجات دلا کر تمہاری جائز توقعات کو پورا کرنے، تمہاری خاندانی شرافت کو بچانے اور جن چیزوں کی تم قدر کرتے ہو۔ ان کو محفوظ رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس نبی ﷺ کے منصب کی خاتمیت کو فراموش نہ کرو۔ جس کی تعلیم کے بغیر تمہاری اس دنیا اور عقبیٰ کی زندگی کو سنوارنے کا اور کوئی راستہ نہیں۔
جمہور کی اسلامی تربیت اور بیداری
اگر یہ تینوں طبقات میری معروضات پر کان دھریں تو میں کہتا ہوں جس کے پاس
٣٤
فرصت ہے۔ لیکن استطاعت نہیں وہ اپنے کچھ اوقات تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کر دے۔ جس کے پاس استطاعت ہے۔ لیکن فرصت نہیں وہ اپنی استطاعت سے ان کا ہاتھ بٹائے جو اپنے اوقات فراغت کو اس نیک کام پر صرف کرنے کے خواہشمند ہیں۔ جس کے پاس اہلیت اور صلاحیت کار ہے۔ لیکن فرصت اور استطاعت دونوں نہیں وہ ان دونوں کو صحیح راستے پر چلنے کے لئے صائب مشورے دے۔
اس طرح ہر پاکستان اپنی ضروریات کو کچھ کم کر کے اپنی استطاعت کا ایک حصہ تحریک کے لئے وقف کر دے۔ آخر رمضان میں روزے بھی رکھتے ہو۔ ایک دن ایک وقت کا کھانا نہ کھاؤ۔ جو سینما اور اس قسم کی دوسری لغو تفریحات میں اپنے اوقات اور اپنی استطاعت دونوں ضائع کرتے ہیں۔ وہ مہینے کے کچھ روز اپنی وافر آمدن تحریک کے لئے وقف کر دیں۔ یہ پس انداز پونجی خود اپنے ہی پاس علیحدہ رکھو۔ تم ہی اس کو رسول کی منت سمجھ کر خود ہی اس کے امانت دار بن جاؤ۔ پھر ہر ہفتے میں ایک یا دو روز اس کام کے لئے وقف کر دو۔ جو لاہور سے باہر نہیں جاسکتے وہ کسی ایسے محلے میں جائیں۔ جہان ان کی واقفیت ہے جو باہر جاسکتے ہیں۔ وہ کسی ایسے شہر یا قصبے میں جائیں۔ جہاں ان کی شناسائی ہے اور جو صاحب ہمت اپنے اندر یہ اہلیت محسوس کریں ، وہ دور افتادہ دیہات میں پہنچیں۔ ”تحفظ ختم نبوت“ کیوں ضروری ہے اور اس کے لئے کیا عمل ہم سب پر فرض ہے۔
یہ مسئلہ خود آپ پر پوری طرح واضح نہیں تو میں نے ابھی آپ کے سامنے جو معروضات پیش کی ہیں۔ وہ آپ کو ایک پمفلٹ کی شکل میں ”تحریک تحفظ نبوت“ کے لاہور کے دفتر کی معرفت مل سکتی ہیں۔ انہیں کو پڑھ لیجئے جس حصے کو آپ پسند نہ کریں اسے قلم زن کر دیجئے۔ آپ کو جو بہتر تجویز سوجھے اسے خود لکھ لیجئے۔
بہر حال اس پیغام کو ایک ایک پاکستانی گھرانے کے ایک ایک بچے، بوڑھے اور مستورات تک پہنچا دیجئے۔ خواتین گھروں کے اندر رہ کر خود اپنے خاندان کے افراد کو تلقین کریں۔ عورتیں جب چاہتی ہیں تو رشتے داروں کے پرانے جھگڑوں کو مٹا دینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے شوہروں اور اپنے بھائیوں کو اپنی منت سماجت سے ہمیشہ قائل کر سکتی ہیں اور جب اس کے الٹ چاہیں تو دوستوں کے اندر پھوٹ بھی ڈلوا دیتی ہیں۔ ان کے لئے بھی توشہ آخرت
٣٥
یہی ہے کہ کسی مرد کو اس وقت تک کھانے، سونے اور آرام سے بیٹھنے کی مہلت نہ دیں۔ جب تک کہ وہ تحفظ ختم نبوت کے لئے کسی نہ کسی ذمہ داری کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو جائے۔
ایک انقلاب کروٹ لے رہا ہے
جب ساری قوم اس ایک عزم سے سرشار ہو کر اٹھے گی تو حالات بدل جائیں گے۔ فضا بدل جائے گی۔ سیاست کا رخ بدل جائے گا۔ تمہاری قسمت اور تمہاری بے چارگی بھی بدل جائے گی۔ تمہیں ان لیڈروں سے نجات مل جائے گی۔ جو تحفظ ختم نبوت کی نسبت اپنی نفس پروری ضروری سمجھتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم ان جھوٹے رہنماؤں کو چھوڑ کر اس کی پیروی نہ کریں جو دونوں جہانوں کا بادشاہ ہونے کے باوجود ایک کالی کملی پر گزارہ کرتا تھا۔ ایک کھجور کے بوریے پر سوتا تھا۔ کبھی دو وقت پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاتا تھا۔ قوم کو یہ سبق دیتا تھا کہ میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو اس کے ہاتھ کاٹ دوں گا۔ غلطی سے کسی مسکین کو کوڑا لگ جائے تو اپنی پیٹھ ننگی کر کے اس کے سامنے عاجزی سے کھڑا ہو جاتا تھا کہ بھائی امتی ہو، تو کیا ہے۔ مجھ سے تمہیں تکلیف پہنچی، اپنا بدلہ لے لو۔
ختم نبوت ایک نئی دینی اور دنیاوی زندگی کا پیغام ہے
اگر تمہاری نگاہیں ان رموز و اسرار کو نہیں پہنچ سکتیں۔ جو معراج میں پوشیدہ تھے اگر تم ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کی طرح اس نبیﷺ کے مقام سے آگاہ نہیں ہو سکتے تو کم از کم اتنا تو دیکھ سکتے ہو کہ وہ کمیونزم جس کا سٹالین غریبوں کے نام پر امیریاں کرنے لگ گیا تھا اور وہ امریکہ اور برطانیہ اور فرانس کی جمہوریتیں جو الجزائر اور فلسطین کے مظلوموں کو گولیوں سے حریت کا سبق دیتی ہیں اور مسلمان ممالک میں وطن پرستی کی تحریکوں کے وہ سربراہ جو اپنے مفاد کی خاطر قومی مفاد کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ تمہیں تمہاری زندگی بہتر بنانے ترقی کرنے اور تمہارے دکھوں اور تکالیف سے نجات دلانے کی خاطر وہ مثال مہیا نہیں کر سکتے جو کہ تمہارا اپنا آقا اور مولا مہیا کر سکتا ہے۔
"وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ والتابعین وتبع التابعین وسلف الصالحین وبارک وسلم علیہم اجمعین"
٣٦
مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
لا نبی بعدی
خاتم النبیین
صلی اللہ علیہ وسلم
سنڈیمن
میں کیا ہوا؟
جناب مختار حسن صاحب
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ہم اہل سنڈیمن کو سلام کرتے ہیں!
قادیان کے نبی کا ذب کی امت مرزائیہ کی کوشش اور خواہش کے علی الرغم جب متحدہ ہندوستان کی تقسیم عمل میں آئی اور مرزائیوں کو اپنے شہر ”مقدس“ قادیان سے خواہی نخواہی نکلنا پڑا تو پاکستان میں آنے کے بعد اس امت نے بیک وقت دو خطوط پر سوچنا اور عمل کرنا شروع کیا۔ ایک تو پھر سے اکھنڈ بھارت کا قیام۔ دوسرے پاکستان میں کسی صوبے یا علاقے کو خالص مرزائی بنانا۔ تا کہ اکھنڈ بھارت کی مرزائی کوششوں کی ناکامی کی صورت میں پاکستان ہی میں ایک اڈہ قائم کر کے بین الاقوامی استعمار کے عزائم و مقاصد کو پروان چڑھایا جا سکے۔
اس کے لئے پنجاب کے پہلے انگریز گورنر سر فرانسس موڈی نے ابتداء ربوہ کی سرزمین برائے نام قیمت پر ۔ آٹھ فی مرلہ کے حساب سے ۔ اس امت کو الاٹ کر دی جہاں اس نے اپنا بیس کیمپ قائم کر دیا۔ پاکستان کے اس انگریز گورنر کی ہلا شیری و آشیر باد سے اس امت کے مذموم عزائم میں اور پختگی آئی اور اس نے بلوچستان کو میرزائی صوبہ بنانے کی ٹھانی۔ چنانچہ ٢٣ جولائی ١٩٤٨ء کو خلیفہ مرزائے قادیان نے کوئٹہ میں خطبہ دیا۔ جس میں انہوں نے بلوچستان کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا۔
”اسے (بلوچستان ) بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلدی احمدی بنایا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہوسکتا ہے۔“
(قادیانی مسئلہ۔ از مولانا مودودی بحوالہ الفضل ١٣ اگست ١٩٤٨ء )
اس ہدایت کے مطابق مرزائیوں کی سرگرمیاں بلوچستان میں جاری ہیں۔ لیکن حال ہی میں بلوچستان کے ایک اہم علاقے کے غیور مسلمانوں نے اس امت کا جو حشر وہاں کیا اور ان کے مذموم عزائم کو جس طرح خاک میں ملایا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ انگریزی
٢
استعمار کے پروردہ اس ٹولے کو انشاء اللہ و بالاخر سنڈیمن کے علاقے میں جو مع جس عزم و ہمت اور جرأت سے مرزائیوں پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم باب اور پاک دینی غیرت وحمیت کا ایک بہترین نمونہ ہے ملک پوری طرح واقف نہ ہو سکے۔ دراں روشناس کرانے کی سخت ضرورت ہے۔ اس شائع کر رہے ہیں جو ہفت روزہ ”زندگی“ لا ہم سنڈیمن کے مجاہدین ختم نبوت کو ان کی سے یہ سوال
اے روسیاہ مح
فورٹ سنڈیمن میں
مسلمانوں
ژوب، بلوچستان کے شمال مش ہے۔ ژوب کے صدر مقام فورٹ سنڈیمن جس نے سازش، انتشار اور ننگی جارحیت شامل کیا۔ جسے آج صوبہ بلوچستان کے ہے۔ مسلم برصغیر کی تاریخ کے بہت سے ہوئے ”پولیٹکل ایجنسی“ نظام کی تاریکیوں پاکستانی دانشور اس کا ذہنی طور پر احاطہ نہ جہاں انگریزوں کو شدید مزاحمت کا سامنا وہاں پر دفن کوئی انگریز اپنی موت نہ مرا۔
استعمار کے پروردہ اس ٹولے کو انشاء اللہ وہاں کبھی اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ سنڈیمن کے علاقے میں جو مسلم مرزائی کشمکش ہوئی اور وہاں کے مسلمانوں نے جس عزم و ہمت اور جرأت سے مرزائیوں اور ان کے سرکاری پشت پناہوں سے ٹکر لی ہے۔ وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم باب اور پاکستانی مسلمانوں کے لئے جذبہ عمل، حرارت ایمانی اور دینی غیرت وحمیت کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ افسوس ہے کہ اس داستان عزم وشجاعت سے اہل ملک پوری طرح واقف نہ ہوسکے۔ دراں حالیکہ اس کی عام اشاعت اور اہل ملک کو اس سے روشناس کرانے کی سخت ضرورت ہے۔ اسی لئے ہم اس رپورٹ کو ایک پمفلٹ کی صورت میں شائع کررہے ہیں جو ہفت روزہ ”زندگی“ لاہور کے نمائندے نے قلم بند کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم سنڈیمن کے مجاہدین ختم نبوت کو ان کی سرفروشانہ خدمات پر سلام کرتے ہیں اور دیگر اہل ملک سے یہ سوال۔
اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہوسکا
ناظم...... ادارہ ضیاء الحدیث ۔ مصطفیٰ آباد ۔ لاہور
فورٹ سنڈیمن میں مرزائی سرگرمیوں کے خلاف
مسلمانوں کی کارگزاری کی تفصیل
(از جناب مختار حسن صاحب)
ژوب، بلوچستان کے شمال مشرقی ضلع کا نام ہے جو صوبہ سرحد اور افغانستان سے متصل ہے۔ ژوب کے صدر مقام فورٹ سنڈیمن کا نام برطانوی فاتح رابرٹ سنڈیمن سے منسوب ہے جس نے سازش، انتشار اور ننگی جارحیت کے حربوں سے وہ علاقہ برطانیہ کی استعماری سلطنت میں شامل کیا۔ جسے آج صوبہ بلوچستان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ژوب پشتونوں کی سرزمین ہے۔ مسلم برصغیر کی تاریخ کے بہت سے درخشندہ ابواب کا امین ہے۔ لیکن انگریزوں کے لائے ہوئے ”پولیٹکل ایجنسی“ نظام کی تاریکیوں میں گرفتار مقامی عوام اور پرانی دانش کی جہالتوں کا شکار پاکستانی دانشور اس کا ذہنی طور پر احاطہ نہ کرسکے۔ ژوب برصغیر کے ان مسلم خطوں میں سے ہے۔ جہاں انگریزوں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ فورٹ سنڈیمن کا گورا قبرستان اس کا گواہ ہے کہ وہاں پر دفن کوئی انگریز اپنی موت نہ مرا۔ اسے کسی نہ کسی مرد مسلمان کی شمشیر یا گولی کا نشانہ بننا پڑا۔
٣
غلط اور صحیح تصویریں
دہلی کے سوری اور لودھی بادشاہ کس علاقے سے تعلق رکھتے تھے؟ چنگیز خان اور ہلاکو خان کی وحشیانہ یلغاروں کا کس علاقے نے کامیابی سے مقابلہ کیا؟ کس علاقے کے لوگوں نے انگریزوں کو مسلسل پریشان کئے رکھا؟ ١٩١٩ء کے جہاد عام میں جسے انگریز چالاکی سے تیسری جنگ افغانستان کا نام دیتے ہیں، کونسا پورا خطہ انگریزوں کے ہاتھ سے نکل گیا اور پھر تحریک پاکستان میں ژوب کے کیا جاندار انداز تھے؟ یہ سب کچھ پولیٹیکل ایجنسی نظام کی تاریکیوں اور دانشوروں کی جہالتوں کے باعث گمنامی کے دھندلکوں میں کھورہا ہے اور جو کچھ تاریخ کے ریکارڈ پر ہے۔ وہ مسلم دشمن، متعصب انگریز کا لکھا ہوا گزٹئر ہے۔ یا امیر عبدالرحمن امیر کابل کی خود نوشت سوانح میں ژوب کا مضحکہ خیز انداز میں ذکر ہے۔ (امیر عبدالرحمن تخت سے عارضی محرومی کے دوران دشت نوردی کرتا ہوا ژوب کے بیابانوں اور ویرانوں سے گزرا تھا)
ژوب کی اس غلط تصویر کے باعث چند برس پیشتر ہالی ووڈ کے فلمسازوں نے (Bandits of Zhob) (ژوب کے لٹیرے) نامی فلم بنا ڈالی جس میں ژوب کے عوام کا کردار مسخ کر کے پیش کیا گیا تھا۔ پاکستان میں یہ فلم بڑے اہتمام سے لائی گئی۔ لیکن لاہور کے چند قلندروں کی کوشش سے اس کی نمائش ممنوع قرار دی گئی۔ اس کے گم گشتہ ماضی کی داستان بالآخر لکھی جائے گی۔ لیکن حال ہی میں ژوب کے عوام نے اپنی پرامن جدوجہد اور عوامی قوت کے ذریعے ایک انتہائی قومی اہمیت کے معاملے میں جو کامیابی حاصل کی۔ اسے نہ صرف قومی تاریخ کے صفحات پر محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ بلکہ کئی پہلوؤں سے ملک بھر کے عوام کو روشنی دکھاتی ہے۔
ژوب کے عوام کی یہ تحریک مرزائیوں (جو اپنے آپ کو ’احمدی‘ کہتے ہیں) کے خلاف تھی جن کی کارگزاریوں نے انہیں احتجاج پر مجبور کر دیا تھا۔ دین کے انتہائی جذباتی معاملات سے متعلق ہونے کے باوجود عوام نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ ایک غیر مسلم بھائی کے اچانک قتل کے سوا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ عوام پر اشتعال کے کئی مرحلے آئے۔ صوبائی اور ملکی انتظامیہ نے فورٹ سنڈیمن شہر اور پورے ضلع ژوب کے عوام کو دیدہ دانستہ طور پر بھی بھڑکا دینے والی صورت حال سے دوچار کیا۔ بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اور علاقے کے منتخب رکن اسمبلی مولانا شمس الدین غائب کر دیئے گئے۔ درجنوں علماء اور نمایاں شہریوں کو حوالہ زنداں کیا
٤
گیا۔ آٹھ روز تک فورٹ سنڈیمن شہر میں مارکیٹ، بازار اور ٹرانسپورٹ کی ایسی مکمل ہڑتال رہی جس کی نظیر قومی تاریخ میں شاید ہی ملے۔ شہر کا مکمل انتظام و انصرام شہریوں کی ”مجلس عمل“ کے ہاتھ میں تھا۔
انتظامیہ بالکل بے بس ہوچکی تھی۔ لیکن اس کے باوجود فورٹ سنڈیمن میں نہ کسی اقلیتی فرقے کے فرد کو نقصان پہنچا اور نہ کوئی سرکاری یا غیر سرکاری عمارت تباہ کی گئی۔ قومی اسمبلی میں حکومت کے ہاتھوں مولانا شمس الدین کی پراسرار گمشدگی کا سوال اٹھا۔ قومی اخبارات میں فورٹ سنڈیمن کے تشویش انگیز حالات پر اداریے لکھے گئے۔ لیکن اس کے باوجود اس دور افتادہ قصبے کی اصل صورتحال سامنے نہ آسکی۔ ١٩؍ اگست ١٩٧٤ء کی شام جب راقم السطور فورٹ سنڈیمن پہنچا۔ تو ژوب کے عوام کی چھبیس روزہ تحریک کو کامیابی سے ہمکنار ہوئے، بیالیس گھنٹے گزر چکے تھے۔ مولانا شمس الدین ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی اور دیگر علماء اور شہری رہا ہوچکے تھے۔ شہریوں کی پندرہ روزہ بھوک ہڑتال ختم ہوچکی تھی۔
مرزائیوں کو سرکاری نگرانی میں ضلع ژوب سے نکالا جا چکا تھا اور ان کے پھیلائے ہوئے قرآنی ترجمہ و تفسیر کے غلط نسخے ضبط ہوچکے تھے۔ اس کامرانی پر عوام کے حوصلے انتہائی بلند تھے۔ لیکن انہیں شکوہ تھا کہ ان کی ٣٦؍ روزہ تحریک کے دوران قومی پریس نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی۔ قومی اخبارات کا کوئی نمائندہ ادھر نہ آیا۔
ربوہ کے ”قرآن“
فورٹ سنڈیمن کوئٹہ سے دو سو چھ میل، ڈیرہ غازی خان سے دو سو چار میل اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک سو اڑتیس میل دور پچیس ہزار آبادی کا خوابیدہ قصبہ ہے۔ ١٩٦١ء میں اس کی آبادی گیارہ ہزار کے لگ بھگ تھی۔ لیکن اب بلوچستان میں صوبائی حکومت کے قیام اور آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ (اس اضافی آبادی میں ارد گرد کے علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کے علاوہ بڑا حصہ افغانستان کے خانہ بدوشوں (پوندوں) کے قبیلے ”ناصر“ پر مشتمل ہے۔) فورٹ سنڈیمن بلوچستان کے پشتون علاقے کا سیاسی طور پر بیدار ترین قصبہ بنتا جارہا ہے۔ حالیہ کامیاب عوامی تحریک کے بعد تو سیاسی بیداری کی دھاک بھی بلوچستان بھر پر بیٹھ چکی ہے۔ یوں تو فورٹ سنڈیمن میں تقریباً سبھی بڑی قومی پارٹیوں کا وجود ہے۔ لیکن بااثر صرف تین پارٹیاں، جمعیت العلماء اسلام، نیپ اور نیپ پشتون خوا (اچکزئی گروپ) ہیں۔ بارہ جولائی کی شام مجلس
٥
تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری صوفی محمد علی جو قصبے کے معروف تاجر بھی ہیں، کے ہاتھ قرآن کا ایک نسخہ لگا۔ جسے مرزائی کئی دنوں سے تقسیم کر رہے تھے۔ اور جس کے متعلق چہ میگوئیاں جاری تھیں۔ صوفی محمد علی نے اسے اپنے ساتھی کئی دکانداروں کو دکھایا اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر شیخ عمر خان مندوخیل کے علم میں بھی لائے۔ دریں اثناء اس مختصر سے قصبے میں یہ بات رات پڑنے تک پھیل چکی تھی کہ مرزائی خفیہ خفیہ جس ”قرآن“ کو پھیلا رہے ہیں۔ وہ مل گیا ہے۔ مشہور یہ تھا کہ مرزائیوں نے ہزاروں کی تعداد میں تحریف شدہ نسخے منگوائے ہیں اور اسے اچھی چھپائی اور طباعت کی بدولت کم فہم لوگوں میں پھیلا رہے ہیں۔ کہا جارہا تھا۔ مرزائیوں کے مقامی سربراہ مستری اللہ یار نے ایسے تین ہزار نسخے منگوائے ہیں۔
ژوب میں مرزائیوں نے جو ”قرآنی“ ترجمے اور تفسیریں بانٹی تھیں۔ ان میں معنوی تحریف کی گئی تھی۔ یہ تحریف شدہ ”قرآنی“ ترجمے اور تفسیریں ہیڈ کوارٹر ربوہ کی شائع کردہ تھیں۔ ان میں مرزائیوں کے ”نبی“ کے خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین محمود کی ”تفسیر صغیر“ بھی شامل ہے۔ اس کا ایک نسخہ جو ضلعی حکام کے ضبط شدہ نسخوں میں سے تھا۔ مجلس عمل کے سیکرٹری حافظ عبدالغفور نے ہمیں دکھایا جس میں مرزائی عقائد کے مطابق قرآن کی معنوی تحریف میں سے بعض مقامات کو نشان زد کیا گیا تھا۔
مرزائی ترجمے کے مطابق سورہ فاتحہ کی آخری آیت کے نصف ”غیر المغضوب علیہم ولا الضالین“ کا ترجمہ کیا گیا تھا۔
جن پر نہ تو بعد میں تیرا غضب نازل ہوا ہے اور نہ وہ بعد میں گمراہ ہو گئے ہیں۔ (ص٤)
سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ٥...... "والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون" کا ترجمہ یہ تھا۔
”اور جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے، یا جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا تھا، اس پر ایمان لاتے
ہیں اور آئندہ ہونے والی موعود باتوں پر بھی یقین رکھتے ہیں۔“ (ص٥)
(خط کشیدہ فقرے تحریف شدہ ترجمہ ہیں)
یہ صرف دو نمونے ہیں، وگرنہ ہر صفحہ اسی طرح کی معنوی تحریف سے داغدار ہے۔ یہ وہ چیز تھی جسے قرآن کا ترجمہ اور تفسیر قرار دیکر پھیلایا جا رہا تھا۔ یہاں عوام کے لئے بالعموم اور حفاظ وعلماء اسلام کے لئے بالخصوص یہ نقطہ فکر بھی ہے کہ ربوہ کے شائع کردہ ”قرآنوں“ پر اس پہلو سے بھی غور کیا جائے کہ کہیں اس میں لفظی تحریف بھی موجود نہ ہو۔
٦
تحریک کا آغاز
واقعات کی طرف پلٹتے ہوئے فورٹ سنڈیمن میں تیرہ جولائی دس بجے صبح کا منظر ابھرتا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی مولانا شمس الدین جو فورٹ سنڈیمن سب ڈویژن اور تحصیل قلعہ سیف اللہ سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔ فورٹ سنڈیمن سب ڈویژن کے ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر (مخفف۔ ای اے سی، پنجاب کے ایس ڈی ایم کی طرح) سے ملاقات کرتے ہیں۔ ان کے ہمراہ شہر کے معروف عالم مولانا محمد اسحاق خوشی بھی ہیں۔ مولانا شمس الدین، قاضی غلام سرور ان حضرات کے سامنے ضلعی انتظامیہ کے سربراہ ڈپٹی کمشنر و پولیٹیکل ایجنٹ جناب فقیر محمد بلوچ سے فون پر رابطہ قائم کرتے ہیں۔ جواب ملتا ہے۔ یہ اہم معاملہ ہے۔ اس کے لئے صوبائی ہوم سیکرٹری جناب ارشاد احمد سے مشورہ ضروری ہے۔ اتفاق سے تیرہ جولائی کو جمعہ کا روز ہے۔ نماز جمعہ تک تین ساڑھے تین گھنٹوں میں پولیٹیکل ایجنٹ (مخفف پی۔ اے) جناب فقیر محمد بلوچ بار بار استفسار کے باوجود کوئی جواب نہیں دے سکے۔ قصبے کی ہر مسجد میں تقاریر کا موضوع تحریف قرآن ہے۔
شام تک پی۔اے ژوب ہوم سیکرٹری سے تحریف شدہ قرآن کے نسخوں کی ضبطی کا حکم حاصل نہیں کر سکے۔ لوگوں میں اضطراب بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ لوگ حیران ہیں۔ اس جائز بات کا حکم دینے میں کیا چیز مانع ہے؟ غالباً صورت یہ ہے کہ صوبائی انتظامیہ کی طرف سے التواء کے ذریعے معاملہ نمٹانے کا حکم ہے۔ شام تک عوام کا اضطراب اشتعال میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ وہ مرزائیوں کو ضلع سے نکال باہر کرنے کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ پشتون خوا کے جواں سال رہنما حافظ عبدالغفور اور نوجوان عالم مولوی عبدالرحمن لاؤڈ سپیکر پر بازاروں میں اعلان کرتے ہیں کہ کل صبح آٹھ بجے ظریف شہید پارک میں جلسہ عام ہوگا۔ عوام کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔
سیاسی اختلافات ختم
چودہ جولائی کی صبح وادی ژوب پر چمکتا سورج فورٹ سنڈیمن کے مختصر سے ظریف پارک اور ارد گرد کی سڑکوں پر عوام کا جم غفیر دیکھتا ہے۔ مقامی گورنمنٹ کالج اور سکول حافظ عبدالغفور اور مولوی عبدالرحمن کی اپیل پر بند ہیں۔ ظریف پارک سے میل بھر دور واقع کالج ہائی سکول کے طلبہ چلے آرہے ہیں۔ اس جلسہ میں حزب اختلاف کی سب جماعتیں شرکت کر رہی ہیں۔ نیپ پشتون خواہ (اینٹی اچکزئی گروپ) جس کا نیپ اور جمعیت سے حد درجہ سیاسی اختلاف ہے۔ بھی
٧
شریک ہے۔ حافظ عبدالغفور پشتون خوا کے رہنما ہیں۔ ان کے مرکزی صدر عبدالرحیم ایڈووکیٹ بھی جلسے میں حاضر ہیں۔ شہر کی جامع مسجد کے خطیب مولانا میرک شاہ شہر کے سب علماء سمیت موجود ہیں۔ فورٹ سنڈیمن میں مؤثر تینوں جماعتوں پشتون خوا، جمعیت اور نیپ کے کارکنوں کی اپیل پر پورا بازار بند ہو چکا ہے۔ صرف برسر اقتدار پیپلز پارٹی بحیثیت جماعت کے شریک نہیں۔ البتہ اس کے اکا دکا کارکن جذبہ ایمانی سے مجبور جلسے میں حاضر ہیں۔
حافظ عبدالغفور کے قریبی رفیق جناب محمد فاروق کی بیٹھک سے پلے کارڈ اور بینرز لائے جاتے ہیں۔ جنہیں چند کارکن وہاں رات بھر تیار کرتے رہے ہیں۔ ان پر مرزائیوں کی تحریف شدہ قرآن کی فوری ضبطی، مرزائیوں کے متعلق مختلف مطالبات درج ہیں۔ پارٹیوں کی تمیز ختم ہو چکی ہے۔ فورٹ سنڈیمن کے تمام عوام ناموس مصطفیٰ کی خاطر یک جان و یک قالب ہو چکے ہیں۔ جلسے کے اختتام پر ایک قرارداد منظور کی جاتی ہے جس میں تین مطالبات ہیں۔
- ١....... کلام اللہ کے مرزائی نسخوں کی فوری ضبطی کی جائے۔
- ٢....... مرزائیوں کو ٢٤ گھنٹے کے اندر ضلع ژوب سے نکال دیا جائے۔
- ٣....... مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
بھائی کی ہلاکت
جلسے کے بعد عوام نے جلوس کی صورت اختیار کر لی اور شہر کی شرقی جانب بلند پہاڑی پر واقع پولیٹیکل ایجنٹ کے کیسل Castle رہائشی قلعہ کو چلے۔ جلوس بازار سے نکل چکا تھا کہ پیچھے چلنے والے ایک سو کے لگ بھگ نوجوان تھانہ بازار میں مڑ گئے جہاں ایک بہائی عبدالرزاق غفوری کی دکان کھلی تھی۔ اس بازار میں کھانے پینے والی اشیاء کی دکانیں بھی کھلی تھیں۔ لیکن ہڑتال کے طے شدہ اصول کے مطابق یہ دکانیں کھلی رہ سکتی تھیں۔ جبکہ ایرانی بہائی پرچون کی دکان کا مالک تھا۔ نوجوان اس دکان کو دیکھ کر مشتعل ہو گئے۔ کہا جاتا ہے جب انہوں نے اسے دکان بند کرنے کے لئے کہا تو اس نے توقف کیا اور تاویل سے انہیں ٹالنا چاہا اور یہی چیز ان کی موت کا سبب بن گئی۔
مشتعل نوجوانوں کے اس ہجوم نے دکان کے باٹ اور بوتلیں مار مار کر اسے ہلاک کر دیا۔ جلوس کی قیادت کرنے والے رہنماؤں میں سے اکثر کو اس کا علم تک نہ ہوا۔ حتیٰ کہ جب جلوس ضلعی دفاتر کی پہاڑی کے دامن میں واقع ”چلڈرن پارک“ پہنچا تو پولیٹیکل ایجنٹ جناب فقیر محمد بلوچ نمودار ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ جلوس کے ایک حصے نے ایک بہائی کو مار ڈالا ہے۔
٨
جلوس کے قائدین نے اپنے تین نکاتی مطالبہ پیش کیا۔ جناب بلوچ نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ مرزائی سربراہ مستری اللہ یار کے گھر پر چھاپہ مار کر قرآن کے تحریف شدہ نسخے قبضہ میں لے چکی ہے۔ دوسرے مطالبے کے لئے جناب بلوچ نے مزید مہلت مانگی جسے جلوس کے قائدین نے مشورے سے مزید چوبیس گھنٹے یعنی ٤٨ گھنٹے کر دیا۔ تیسرے مطالبے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت سے متعلق ہے اور وہاں پہنچا دیا جائے گا۔ چنانچہ جلوس واپس ہو گیا۔
در زنداں کھلا
بھائی کی ہلاکت کے بعد حالات سنگین صورت اختیار کر سکتے تھے اور مرزائی بھی اسی قسمت سے دوچار ہو سکتے تھے۔ لیکن پولیٹیکل ایجنٹ جناب فقیر محمد بلوچ نے حکمت عملی سے حالات پر قابو رکھا مگر ایسا محسوس ہوتا تھا۔ صوبائی اور مرکزی دارالحکومت میں براجمان بعض حضرات کی طبع پر یہ سب کچھ گراں گزر رہا تھا۔ چنانچہ شام تک صورتحال بدل چکی تھی۔ ایک طرف بدنام زمانہ فیڈرل سکیورٹی فورس کے دستے فورٹ سنڈیمن روانہ ہو چکے تھے۔ تو دوسری طرف گرفتاریوں کے احکامات جاری ہو چکے تھے۔ عصر کے وقت پولیس انسپکٹر نے خطیب جامع مسجد مولانا میرک شاہ کو پیغام بھیجا کہ وہ تھانے میں آئیں۔ کیونکہ کوئٹہ سے ڈی آئی جی پولیس آ رہے ہیں جو ان سے صورتحال پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔
مولانا میرک شاہ اور دوسرے حضرات تھانے گئے۔ انہیں گرفتاری کا یقین تھا۔ مولانا میرک شاہ نے تھانے میں پولیس انسپکٹر سے ڈی آئی جی کے بارے میں دریافت کیا تو پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ وہ کوئٹہ سے روانہ ہو چکے ہیں۔ آٹھ نو بجے رات کے درمیان یہاں پہنچیں گے۔ مولانا میرک شاہ نے کہا کہ وہ بھی اسی وقت آ جائیں گے۔ پولیس انسپکٹر نے انہیں جانے دیا۔ شاید اس کی یہ وجہ بھی ہو کہ تھانے پر عوام کے ہجوم کا خطرہ تھا۔ نماز عشاء کے بعد مسجد سے ملحق مدرسے کے صحن میں تمام جماعتوں کے رہنماؤں اور نمایاں شہریوں کا کھلا اجلاس منعقد ہوا۔ اس وقت تک تصدیق ہو گئی کہ حکومت نے نو افراد کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا۔ جن میں مولانا میرک شاہ خطیب جامع مسجد و سرپرست جمعیت العلماء اسلام کے علاوہ شیخ عمر مندو خیل صدر مجلس تحفظ ختم نبوت ، صوفی محمد علی سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت ، مولانا رحمت اللہ، مولانا محمد اسحق خروٹی، مولوی عبدالرحمٰن، مولوی احمد شاہ، جناب محمد جان (پشتون خوا کے مقامی رہنما) اور حاجی محمد زمان خان مردان زئی شامل ہیں۔
اس اجلاس میں طے پایا کہ پرامن تحریک جاری رکھی جائے گی اور گرفتاریاں پیش کی
٩
جائیں۔ چنانچہ ڈپٹی سپیکر مولانا شمس الدین اور ان نو حضرات سمیت پینتیس افراد تھانے پہنچ گئے اور سب نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کر دیا۔
پولیس حکام نے کچھ پس و پیش کے بعد ان سب پینتیس کے پینتیس حضرات کو حوالات میں بند کر دیا۔ ڈپٹی سپیکر مولانا شمس الدین کی گرفتاری ملک بھر میں محسوس کیا جانے والا معاملہ تھا جس پر پولیس حکام اور ضلعی انتظامیہ بالائی سطح پر رابطہ قائم کرنے پر مجبور تھی۔ وہاں سے یہی ہدایات آئیں کہ مولانا شمس الدین کو حوالات سے نکالنے کا منصوبہ بنایا جائے۔ کیونکہ وہ حوالات سے نکلنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ان سے کہا گیا پولیٹیکل ایجنٹ ان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا جواب تھا وہ یہاں آکر مجھ سے بات کر لیں۔ تھوڑی دیر بعد انہیں بتایا گیا۔ پولیٹیکل ایجنٹ تھانے میں آگئے ہیں۔ ان کی درخواست ہے وہ دفتر میں آکر ان سے مل لیں۔ مولانا شمس الدین تو جانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ لیکن دوسرے حضرات کے اصرار پر جب وہ تھانے کے دفتر میں پہنچے تو وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ پولیس حکام نے غلط بیانی پر معذرت کرتے ہوئے مولانا شمس الدین سے کہا کہ انہیں یہ احکامات اوپر سے ملے تھے۔
جلتی پر تیل
پندرہ جولائی ١٩٧٤ء کی صبح تک راتوں رات ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر کے مرزائیوں کو جو بال بچوں سمیت پچاس کے لگ بھگ تھے۔ ایک جگہ جمع کر لیا۔ اس سے پیشتر ان کے گھروں پر پولیس اور فرنٹئیر کور (ملیشیا) کے خود کار آتشین ہتھیاروں سے مسلح دستے متعین کر دیئے گئے تھے۔ حالانکہ تحریک کے رہنماؤں نے ٢٨؍ گھنٹے تک ان کا بال بیکا نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ پندرہ جولائی کی صبح جب مرزائیوں کو لے جانے والی بس تھانے کے سامنے کھڑی تھی۔ ایک ہجوم وہاں جمع ہو گیا اور اسی میں سے کسی نے فائر کر دیا۔ جو مرزائیوں کے سربراہ مستری اللہ یار کے بازو میں لگا۔ بعد میں پولیس نے زرگر عبدالرحمن کوبانی کو فائرنگ کے الزام میں پکڑ لیا۔ فائرنگ کے اس حادثے کے بعد مرزائیوں کے انخلاء کو ملتوی کر دیا گیا۔ پندرہ جولائی کو گرفتاریوں کے خلاف ایک روزہ ہڑتال پہلے ہی تھی۔ لیکن اب مرزائیوں کے انخلاء میں التواء نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ تحریک کے باقی ماندہ رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ اس وقت تک مکمل ہڑتال جاری رہے گی جب تک ان تین مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔
- ......١ ژوب سے مرزائیوں کا فوری انخلاء۔
١٠
- ......٢ تمام گرفتار شدگان کی غیر مشروط
- ......٣ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے
ہڑتال بے مثال
در حقیقت یہی وہ لمحہ تھا جب تحر اسے ناکامی سے بچا لیا۔ اس فیصلے کی بدو پر امن راستے پر صرف ہونے لگی۔ دوس مقصود (Goal) دے دی گئی۔ وہ منزل کے نتیجے میں کھانے پینے کی دکانیں ، ہو بیکریوں کی بھٹیوں سے مشابہ ہیں) اور دیگر سواریاں بند تھیں۔ سکول کالج بند ہ تھی۔ حکومت نے اس صورتحال پر قابو آزمایا۔ چنانچہ اگلے ہفتے کی داستان عوام میں حکومت زچ ہوئی اور ژوب کے عوام
ڈپٹی سپیکر کا اغواء
اسی روز رات تک فیڈرل س جولائی سے طاقت کا ننگا مظاہرہ شروع ہتھیاروں سے لیس دستوں نے گاڑ جاسکے۔ دفعہ ١٤٤ نافذ کر دی گئی۔ فور ڈھنڈورا پٹوایا۔ یہاں ابھی تک اعلان ورنہ جو دکان بند پائی گئی اسے سرکاری تعلیم گاہوں میں پہنچنے کی ہدایت کی گ منظم ہو چکے تھے۔
انہوں نے نہ دکانیں کھو دفعہ ١٤٤ توڑنے والوں میں سابق ف مندو خیل سبقت لے گئے۔ نماز عصر
- ......٢ تمام گرفتار شدگان کی غیر مشروط رہائی۔
- ......٣ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔
ہڑتال بے مثال
در حقیقت یہی وہ لمحہ تھا جب تحریک کے قائدین نے بر وقت اور بے مثل فیصلہ کیا اور اسے ناکامی سے بچا لیا۔ اس فیصلے کی بدولت ایک طرف مشتعل عوام کی تمام تر قوت مکمل ہڑتال کے پر امن راستے پر صرف ہونے لگی۔ دوسری طرف بے قابو اشتعال کے بجائے ایک محسوس منزل مقصود (Goal) دے دی گئی۔ وہ منزل پہلے دو مطالبات کی صورت میں تھی۔ پر امن مکمل ہڑتال کے نتیجے میں کھانے پینے کی دکانیں یعنی ہوٹل، تندور، ڈاش (یہ پٹھان طرز کے تندور ہیں جو بیکریوں کی بھٹیوں سے مشابہ ہیں) اور سبزی کی دکانوں وغیرہ کے سوا پورا بازار بند تھا۔ بسیں اور دیگر سواریاں بند تھیں۔ سکول کالج بند تھے۔ حتیٰ کہ سرکاری دفتروں میں حاضری برائے نام رہ گئی تھی۔ حکومت نے اس صورتحال پر قابو پانا چاہا۔ حکومت نے جبر اور اشتعال کے سب حربوں کو آزمایا۔ چنانچہ اگلے ہفتے کی داستان عوام اور حکومت کے درمیان اسی کشمکش سے عبارت ہے جس میں حکومت زچ ہوئی اور ژوب کے عوام کا عزم بالآخر کامیاب رہا۔
ڈپٹی سپیکر کا اغواء
اسی روز رات تک فیڈرل سکیورٹی فورس فورٹ سنڈیمن پہنچ گئی۔ چنانچہ اگلے روز سولہ جولائی سے طاقت کا ننگا مظاہرہ شروع ہوا۔ عوام کی طرف تانی ہوئی مشین گنوں اور دوسرے خود کار ہتھیاروں سے لیس دستوں نے گاڑیوں پر سوار شہر کا گشت شروع کیا۔ تا کہ انہیں ہراساں کیا جاسکے۔ دفعہ ١٤٤ نافذ کر دی گئی۔ فورٹ سنڈیمن سب ڈویژن کے ای۔ اے۔ سی نے شہر میں ڈھنڈورا پٹوایا۔ یہاں ابھی تک اعلان کی یہ کلاسیکل روایت قائم ہے کہ دکاندار دکانیں کھول دیں۔ ورنہ جو دکان بند پائی گئی اسے سرکار سیل کر دے گی۔ گویا بحق سرکار ضبط کر لیا جائے گا۔ طلبہ کو اپنی تعلیم گاہوں میں پہنچنے کی ہدایت کی گئی اور ٹرانسپورٹ کو جاری کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ لیکن عوام منظم ہوچکے تھے۔
انہوں نے نہ دکانیں کھولیں، نہ ٹرانسپورٹ چلائی اور نہ دفعہ ١٤٤ کی پروا کی۔ اس روز دفعہ ١٤٤ توڑنے والوں میں سابق ڈپٹی وزیر مغربی پاکستان و حال صدر ضلعی نیپ جناب صالح محمد مندوخیل سبقت لے گئے۔ نماز عصر سے پیشتر جامع مسجد میں جلسہ ہورہا تھا۔ ڈپٹی سپیکر مولانا شمس
11
الدین تقریر کر رہے تھے۔ تھانے کے سامنے نوجوانوں کا ایک مختصر سا ہجوم تھا جو حوالات میں بند ختم نبوت کے قیدیوں سے ملاقات کا خواہش مند تھا۔ انتظامیہ نے یہ موقع غنیمت جانا اور ختم نبوت کے قیدیوں کو فورٹ سنڈیمن سے نکال کوئٹہ لے جانے کا منصوبہ بنایا۔ علماء اور دیگر قیدیوں کو بند ٹرکوں میں ڈال کر فیڈرل سکیورٹی فورس کی مدد سے نکالنا چاہا۔
تھانے کے سامنے موجود مختصر سا ہجوم آڑے آیا۔ جس پر پولیس نے بے دردی سے لاٹھی چارج کیا۔ پشتون خوا کے معروف رہنما جناب شیر جان مندوخیل اور اسلامی مدرسے کے ایک طالب علم صدر محمد زخمی ہوئے۔ جناب شیر جان شدید چوٹیں لگنے کے باعث بے ہوش ہو گئے اور یوں مار دھاڑ کرتے ہوئے پولیس اور فورس، ختم نبوت کے قیدیوں کو لے کر کوئٹہ روانہ ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس کی اطلاع جب جامع مسجد میں تقریر کرتے ہوئے بلوچستان کے نوجوان ٢٩ سالہ ڈپٹی سپیکر مولانا شمس الدین تک پہنچی تو انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہم حکومت کو کل اس کا جواب ایک اہم جوابی اقدام سے دیں گے۔ لیکن اسی رات پچھلے پہر فیڈرل سکیورٹی فورس کے تین سو مسلح افراد نے ان کے گھر کا گھیرا ڈالا اور انہیں گرفتار کر کے لے گئے۔ گرفتاریوں کے وقت قبائلی روایات کے مطابق ان کے چھوٹے بھائی اور چند دوسرے افراد نے مزاحمت کی اجازت طلب کی۔ لیکن مولانا شمس الدین نے کہا کہ وہ جمہوری سیاست کے قائل ہیں اور پھر ختم نبوت کی راہ میں یہ تکالیف ان کے لئے سعادت کا باعث ہیں۔
مولانا شمس الدین کو سورج نکلنے سے پیشتر کاکڑ خراساں کی سڑک پر واقع ایک گاؤں شغالو پہنچایا گیا۔ جہاں ژوب ملیشیا کی چوکی بھی ہے۔ مولانا شمس الدین کو اس سڑک کے ذریعے کوئٹہ لے جانے کا طویل راستہ اس لئے اختیار کیا گیا تھا کہ فورٹ سنڈیمن سے کوئٹہ جانے والی شاہرہ پر پچیس میل دور مینا بازار کے قریب لگ بھگ دو سو افراد سڑک کو روکے ہوئے تھے۔ اور جب ختم نبوت کے قیدی وہاں سے گزرے تو پولیس اور فورس کے حکام نے غلط بیانی سے کام لے کر ان ٹرکوں کو گزارا تھا۔ انہوں نے سڑک پر دھرنا مارے ہوئے عوام کو یہ بتایا تھا کہ ان بند ٹرکوں میں مرزائی ہیں جنہیں عوامی مطالبے کے مطابق ضلع بدر کیا جا رہا ہے۔ (ختم نبوت کے قیدیوں پر کیا گزری؟ اس کا ذکر آگے چل کر ہوگا ) اب اس بات کا پورا امکان تھا کہ وہ لوگ دوبارہ دھوکے میں نہیں آئیں گے۔
١٢
غیرت کا سوال
ملیشیا کی چوکی میں چائے پلا تو چند میل دور سڑک کے کنارے کھڑے عبدالرحیم لون نے مولانا شمس الدین کو جا رہا ہے۔ یہ حضرات اپنے ساتھیوں سمی ٹرک لے کر تعاقب میں روانہ ہو گئے اور جب حکومت کی فورسز ختم نبوت کے قیدی نہیں لے جاسکتیں۔ تو ان کے علاقے قبیلے کی ننگ (غیرت) کا سوال ہے اور سے پیشتر آج مرنا زیادہ مناسب سمجھت قبائلی معاشرے میں بہت گہرے معان بھی مسلح تھے۔
تصادم کا خطرہ شدید تھا۔ آمادہ ہوئے کہ واپس شغالو چلا جائے قائم کیا جائے۔
شغالو واپس پہنچے تو ١٧ مارچ سے احکامات لینے میں گزارا۔ اگر چہ تھے۔ عوام کا کہنا تھا مولانا شمس الد شغالو میں مولانا شمس الدین کو لینے کاپٹر کے ذریعے لے جانے کو شک و فورٹ سنڈیمن کے بجائے کہیں اور کہا کہ آپ نے بہترین حکمت عملی (غیر ہوئے ہیں۔ اب اگر حکومت وعدہ خ ناموس مصطفیٰ ﷺ کی خاطر گرفتاری جائے۔ آپ لوگوں کو تعرض نہیں کرن
غیرت کا سوال
ملیشیا کی چوکی میں چائے پلانے کے بعد مولانا شمس الدین کو شغالو سے آگے نکالا گیا۔ تو چند میل دور سڑک کے کنارے کھڑے دو قبائلی ملکوں ملک حاجی غلام حیدر مروان زئی اور ملک عبدالرحیم لون نے مولانا شمس الدین کو پہچان لیا اور یہ بھی سمجھ گئے کہ انہیں گرفتار کر کے لے جایا جا رہا ہے۔ یہ حضرات اپنے ساتھیوں سمیت سائیکلوں پر شغالو پہنچے اور وہاں سے بار برداری کا ایک ٹرک لے کر تعاقب میں روانہ ہو گئے اور بالآخر اس ٹرک کو جا لیا اور اسے رکنے پر مجبور کر دیا۔ کہ جب حکومت کی فورسز ختم نبوت کے قیدی مولانا شمس الدین کو فورٹ سنڈیمن کوئٹہ شاہراہ عام سے نہیں لے جاسکتیں ۔ تو ان کے علاقے سے بھی گزار کر نہ لے جائیں۔ کیونکہ یہ ان کی اور ان کے قبیلے کی ننگ (غیرت) کا سوال ہے اور وہ کل اپنے کسی سیال (ہم چشم) کا کوئی پیغور (طعنہ) سننے سے پیشتر آج مرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ (ننگ) پیغور اور سیال کے الفاظ پشتون بالخصوص قبائلی معاشرے میں بہت گہرے معانی رکھتے ہیں۔ قبائلی تو ہر وقت مسلح ہی رہتے ہیں۔ حضرات بھی مسلح تھے۔
تصادم کا خطرہ شدید تھا۔ بالآخر مولانا شمس الدین کے سمجھانے پر قبائلی اس بات پر آمادہ ہوئے کہ واپس شغالو چلا جائے اور وہاں پر موجود وائرلیس کے ذریعے ضلعی حکام سے رابطہ قائم کیا جائے۔
شغالو واپس پہنچے تو ١٧؍ جولائی کا پورا دن ضلعی حکام نے صوبائی اور مرکزی حکمرانوں سے احکامات لینے میں گزارا۔ اگرچہ بڑی تعداد میں مسلح قبائلی عوام ملیشیا کے قلعے کا محاصرہ کر چکے تھے۔ عوام کا کہنا تھا مولانا شمس الدین کو واپس فورٹ سنڈیمن لے جائیں۔ ١٨؍ جولائی کی صبح شغالو میں مولانا شمس الدین کو لینے ایک فوجی ہیلی کاپٹر آیا۔ قبائلی عوام مولانا شمس الدین کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانے کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ انہیں شک تھا یہ ہیلی کاپٹر انہیں فورٹ سنڈیمن کے بجائے کہیں اور لے جائے گا۔ مولانا شمس الدین نے قبائلی ملکوں اور عوام سے کہا کہ آپ نے بہترین قبائلی (غیرت مندی) کا مظاہرہ کیا ہے۔ اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اب اگر حکومت وعدہ خلافی کرتی ہے تو کوئی بات نہیں۔ کیونکہ میں نے اپنے آپ کو ناموس مصطفیٰ ﷺ کی خاطر گرفتاری کے لئے خود پیش کیا ہے۔ اب حکومت جہاں چاہے مجھے لے جائے۔ آپ لوگوں کو تعرض نہیں کرنا چاہئے۔
١٣
اس طرح مولانا شمس الدین نے حکمت سے بدترین خونی تصادم کو ٹالا۔ مولانا شمس الدین کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے شغالو سے قلعہ سیف اللہ اور مسلم باغ سے ہوتے سمنگلی (کوئٹہ) ایئر پورٹ پر لایا گیا۔ جہاں سے درہ بولان اور سبی سے ہوتے ہوئے اسی شام انہیں ضلع سبی کے مشہور مقام ماوند پہنچا دیا گیا۔ ماوند مری قبیلے کا وہی گاؤں ہے جسے مری علاقے میں فوجی کارروائیوں کے لئے بیس کیمپ بنایا گیا۔
یہ تھی ڈپٹی سپیکر بلوچستان مولانا شمس الدین کے سرکاری اغواء کی مختصر روداد ...... سرکاری اغواء اس لئے کہ نہ انہیں گرفتاری کے وقت وارنٹ دکھائے گئے اور نہ بعد میں حکومت نے ان کی گرفتاری کا اعتراف کیا۔ جب عوامی تحریک اور حزب اختلاف کے دباؤ نے حکومت کو اصل واقعات بیان کرنے پر مجبور کیا۔ تو مرکزی وزیر داخلہ خان قیوم نے انکشاف کیا کہ مولانا شمس الدین ماوند میں آزاد ہیں۔
مجلس عمل
مولانا شمس الدین نے ٧ اگست تک اپنی اکیس روزہ اس جبری ”آزادی“ میں سرزمین پاکستان پر ایرانی فوجیوں کے علاوہ کیا کچھ دیکھا؟ یہ سب کچھ وہ خود کراچی کے پریس کلب میں بتا چکے ہیں۔ اس لئے ہم فورٹ سنڈیمن کی طرف لوٹتے ہیں۔ جہاں ١٦ جولائی کو رضاکار دستے ترتیب دیئے جانے لگے تھے۔ تاکہ ہڑتال کو پرامن اور منظم رکھا جاسکے۔ مولانا شمس الدین کی گرفتاری تک وہی اس تحریک کے ”فگر ہیڈ“ تھے۔ اور ان کی نمایاں شخصیت سے محرومی نے ان لوگوں کے لئے جو درحقیقت تحریک کے روح رواں تھے۔ فوری طور پر تنظیم کا مسئلہ پیدا کر دیا۔ خطرہ تھا چیدہ چیدہ علماء کی گرفتاری اور اس کے بعد مولانا شمس الدین کا اغواء تحریک کو بے سری کر دے گا اور اس طرح یہ ختم ہو کر رہ جائے گی۔ شاید حکومت کا یہی منشاء ہو۔ لیکن فورٹ سنڈیمن اور ضلع ژوب کے عوام کے احساسات جن بلندیوں پر تھے وہاں تنظیم اور نظم و ضبط مشکل کام نہ تھا۔ چنانچہ ١٧ جولائی کو باقی ماندہ سیاسی شخصیتوں اور نمایاں شہریوں پر مشتمل نو رکنی مجلس عمل بنائی گئی جس کے چیئرمین مولانا عماد الدین قریشی تھے۔ اس میں سابق ڈپٹی کمشنر جناب صالح محمد مندوخیل، عبدالرحیم ایڈووکیٹ، ملک یٰسین، مولانا صبغت اللہ شیرانی، جناب شیر جان مندوخیل، حاجی عبدالواحد خان اپوزئی، حاجی محمد خان اور حافظ عبدالغفور شامل تھے۔ حافظ عبدالغفور پر مجلس عمل کی سیکرٹری شپ کے فرائض عائد کئے گئے۔ بعد میں ضرورت کے مطابق اس مجلس عمل کی توسیع جاری رہی۔
١٤
مجلس عمل نے سب سے پہلے تمام شاہراہوں کی ناکہ بندی کا انتظام کیا۔ فورٹ سنڈیمن سے چاروں طرف نکلنے والی سڑکوں پر مجلس عمل کے رضا کاروں نے ناکہ بندی کی خاطر چین (زنجیر) لگا دیئے۔ کسی سرکاری یا پرائیویٹ گاڑی کو مجلس عمل کی اجازت کے بغیر شہر سے جانے کی اجازت نہ تھی۔ سرکاری گاڑیوں میں یہ دیکھا بھالا جاتا تھا کہ کہیں اس میں کسی کو گرفتار کر کے تو نہیں لے جایا جا رہا۔ یہ کیفیت مولانا شمس الدین کے سرکاری اغواء کا ردعمل تھی۔ ہر ناکے پر رضا کاروں اور عوام کی بھاری تعداد موجود ہوتی تھی۔ چنانچہ ٢٢ جولائی تک مکمل ہڑتال کے دوران انتظامیہ کے اعلیٰ ترین افسر بھی مجلس عمل کی اجازت سے آتے جاتے تھے۔ شہر میں اگرچہ فیڈرل سکیورٹی فورس کی لاریوں پر سوار مسلح گشت جاری تھا۔ لیکن در حقیقت شہر کا انتظام مجلس عمل کے ہاتھ میں تھا۔ پولیس اپنے تھانے اور پولیس لائن میں عملاً نظر بند ہو چکی تھی۔
پولیس کے با وردی اکا دکا سپاہی صرف فیڈرل سکیورٹی فورس کی لاریوں میں رہنمائی کے لئے نظر آتے تھے۔ اس کے باوجود فورٹ سنڈیمن میں نہ تو بنکوں کو لوٹا گیا۔ نہ سرکاری عمارات تباہ کی گئیں اور نہ عوام میں سے کسی کو نقصان پہنچا۔ حکومت کی طرف سے اشتعال کے کئی مرحلے آئے۔ لیکن فورٹ سنڈیمن کے دلیر عوام نے شعور پر گرفت ڈھیلی نہ کی۔ اڑتی اڑتی اطلاع یہ بھی ہے کہ ژوب اور فورٹ سنڈیمن شہر کے عوام کی اس پر امن جدوجہد، جائز مطالبات، صبر و تنظیم اور جوش اور ولولہ سے خود فیڈرل سکیورٹی فورس کے جوان بھی اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے ایک سے زیادہ مواقع پر احکامات کے باوجود گولی چلانے سے انکار کر دیا۔
شہر کا انتظام
اب شہر کے انتظام کا حال سنئے۔ مجلس عمل کی نگرانی میں کسی ناگزیر ضرورت کے لئے دکان کھلائی جاسکتی تھی۔ ہر روز ڈیڑھ گھنٹے کے لئے اعلان کردہ میڈیکل سٹور کھولنے کی اجازت ہوتی تھی۔ تاکہ مریضوں کے لئے ادویات لی جاسکیں۔ رضا کاروں نے ہڑتال کے باوجود اشیائے خوردنی کی قیمتوں کو بڑھنے نہ دیا۔ نہ ان کی قلت پیدا ہونے دی۔ بار برداری کے ٹرکوں کو شہر سے مال لے جانے اور لانے کی اجازت تھی۔ اس طرح خوراک اور اجناس کی کمی کا خطرہ پیدا نہ ہونے دیا گیا۔ صدر مملکت (اس وقت مسٹر ذوالفقار علی بھٹو تھے ) صوبائی گورنر ، صوبائی وزیر اعلیٰ ، مرکزی اور صوبائی وزراء، مرکزی و صوبائی ہوم سیکرٹریوں اور اخبارات کے ایڈیٹروں کو صورتحال اور مطالبات پر مبنی تاریں ارسال کی جاتی رہیں۔ اب ان تین مطالبوں میں ایک اور مطالبے کا اضافہ ہو چکا تھا۔ ختم نبوت کے قیدی مولانا شمس الدین کو رہا کرو۔
١٥
زنداں کا سفر
١٩؍ جولائی تک حکومت مختلف حربے آزماتی رہی اور یہ بھی انتظار کرتی رہی کہ طویل ہڑتال کی وجہ سے شاید تحریک خود ہی جان دے دے۔ لیکن یہ امیدیں بر نہ آئیں۔ چنانچہ ایک طرف بعض قبائلی ملکوں کی مدد سے فورٹ سنڈیمن میں مجلس عمل سے سلسلہ جنبانی شروع کیا گیا تو دوسری طرف کوئٹہ میں گرفتار شدگان سے وزیر اعلیٰ جام غلام قادر نے خود مذاکرات شروع کئے۔ مذاکرات کی بات کرنے سے پیشتر ختم نبوت کے ان قیدیوں پر بیتے ہوئے واقعات کا قصہ بیان ہونا چاہئے۔
١٦؍ جولائی کی شام جب ان میں سے ٣٣ قیدیوں کو دو ٹرکوں میں دھکیل کر ڈالا گیا۔ ٹرکوں کو تختوں اور ترپالوں سے بند کیا گیا تھا۔ شہر میں لاٹھی چارج اور تشدد کے ذریعہ راستہ صاف کر کے جب انہیں کوئٹہ لے جایا جا رہا تھا تو عوام نے مینا بازار میں ٹرک روک لئے۔ اس وقت ختم نبوت کے ان قیدیوں نے فیصلہ کیا کہ خاموش بیٹھے رہیں گے اور حکام کو جھوٹ بولنے دیں گے کہ ان ٹرکوں میں مرزائیوں کو لے جایا جا رہا ہے۔ کیونکہ سڑک پر دھرنا مارے مسلح اور غیر مسلح قبائلی عوام کو اگر یہ معلوم ہوا کہ ان میں ختم نبوت کے قیدی ہیں، تو وہ جان پر کھیل جائیں گے۔ لیکن ٹرکوں کو گزرنے نہیں دیں گے۔ راستے میں ان ٹرکوں سے کہیں بھی علماء اور شہریوں کو نماز کے لئے بھی باہر نکلنے کی اجازت نہ دی گئی اور نماز کے لئے ٹرک رکوانے کی مسلسل درخواستوں کو نظر انداز کیا، حتیٰ کہ ان حضرات نے تیمم کر کے تین نمازیں چلتے ٹرکوں میں ادا کیں۔ ایک قیدی عبدالرحمٰن زرگر جس پر فائرنگ کا الزام تھا۔ کوئٹہ کے قریب کچلاک میں اتار کر کہیں اور لے جایا گیا۔ باقی ٣٢ قیدیوں میں سے سات نمایاں علماء حضرات کو کوئٹہ جیل میں رکھا گیا اور ٢٥ افراد مچھ بھیج دیئے گئے۔
جام صاحب کے مہمان
وزیر اعلیٰ جام غلام قادر کے حکم پر ١٩؍ جولائی کی رات ان سات حضرات کو جن میں خطیب جامع مسجد مولانا میرک شاہ اور دوسرے علماء شامل تھے۔ ان کے بنگلے پر لایا گیا۔ نو بجے سے رات بارہ بجے تک ان "قیدیوں" سے وزیر اعلیٰ کی گفتگو جاری رہی۔ جام صاحب کا اصرار تھا قیدی فورٹ سنڈیمن فون کر دیں کہ انہیں رہا کیا جا رہا ہے۔ اس لئے کل سے ہڑتال ختم کر دی جائے۔ مولانا میرک شاہ اور ان کے ساتھیوں کا متفقہ موقف تھا کہ جب تک مرزائیوں کو ضلع بدر
١٦
نہیں کیا جاتا اور ختم نبوت کے تمام گرفتار ش بات کرنے کے لئے تیار نہیں۔ جام صا چاہتے تھے اور ضمانتیں بھی طلب کرتے تھے نے فیصلہ دیا کہ جب تک اس معاہدے پ نہیں۔ چنانچہ جام صاحب نے اپنے ان
مرزائیوں کا اخلاء
بات یہ تھی کہ اگلے روز ٢٠ اندیشوں میں جلاوطنی اور مذاکرات کا یہ س میں جولائی کا جمعہ پرامن گزرا۔ ادھر فور ذریعے مجلس عمل سے رابطہ پیدا کیا۔ ان حاجی سفر خان اور دوسرے سولہ افراد شا سامنے یہ اقرار کیا کہ وہ ٢٥؍ جولائی سے کے ذمہ دار ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ د عمل کو ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ ذریعے کوئٹہ روانہ کیا جس کی صورت یہ تھ بطور یرغمال بیٹھے تھے اور بس کے آگے فورسز کے ٹرکوں پر سوار دستے تھے۔
قید سے رہائی
٢٢؍ جولائی کی صبح کو کوئٹہ جی حضرات فوری طور پر روانہ ہو جائیں ل ہو جائے۔ ان سات حضرات کو مچھ جیل انہیں ٹرکوں پر سوار کر کے فورٹ سنڈیمن تعداد نسبتاً کم تھی اور بزرگ علماء ٹرکوں کی ٢٤؍ جولائی کی صبح فورٹ س
نہیں کیا جاتا اور ختم نبوت کے تمام گرفتار شدگان کو رہا نہیں کیا جاتا۔ وہ فورٹ سنڈیمن میں کسی سے بات کرنے کے لئے تیار نہیں۔ جام صاحب ان گرفتار شدگان کو آہستہ آہستہ آٹھ دنوں میں رہا کرنا چاہتے تھے اور ضمانتیں بھی طلب کرتے تھے۔ یہ شرائط نا قابل قبول تھیں۔ بالآخر ان سات حضرات نے فیصلہ دیا کہ جب تک اس معاہدے پر عمل درآمد نہ ہو۔ وہ فورٹ سنڈیمن فون کرنے پر تیار نہیں۔ چنانچہ جام صاحب نے اپنے ان مہمانوں کو وزیراعلیٰ ہاؤس سے جیل بھجوا دیا۔
مرزائیوں کا انخلاء
بات یہ تھی کہ اگلے روز ٢٠ جولائی کو جمعہ تھا اور صوبائی حکومت شدید ردعمل کے اندیشوں میں مبتلا تھی اور مذاکرات کا یہ سلسلہ اسی خوف کے پیش نظر تھا۔ مجلس عمل کی دانشمندی سے بیس جولائی کا جمعہ پر امن گزرا۔ ادھر فورٹ سنڈیمن میں حکومت نے معتبر ملکوں اور شہریوں کے ذریعے مجلس عمل سے رابطہ پیدا کیا۔ ان میں کلی اپوزئی کے ملک عصمت اللہ، ملک دین محمد شیرانی، حاجی سفر خان اور دوسرے سولہ افراد شامل تھے۔ ان انیس حضرات نے جامع مسجد میں عوام کے سامنے یہ اقرار کیا کہ وہ ٢٥ جولائی سے مرزائیوں کے انخلاء اور ختم نبوت کے قیدیوں کی واپسی کے ذمہ دار ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ دس ہزار روپے فی کس یعنی ایک لاکھ نوے ہزار روپے مجلس عمل کو ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ حکومت نے ٢١ جولائی کی صبح مرزائیوں کو ایک بس کے ذریعے کوئٹہ روانہ کیا جس کی صورت یہ تھی کہ بس کی اگلی نشست پر عوام کی طرف سے حاجی سفر خان بطور یرغمال بیٹھے تھے اور بس کے آگے پیچھے بھاری اور ہلکے خودکار آتشین ہتھیاروں سے مسلح فورسز کے ٹرکوں پر سوار دستے تھے۔
قید سے رہائی
٢٢ جولائی کی صبح کو کوئٹہ جیل میں بند سات افراد کو رہا کر دیا گیا۔ حکومت چاہتی تھی یہ حضرات فوری طور پر روانہ ہو جائیں تاکہ کہیں کوئٹہ میں مرزائیوں کے خلاف تحریک شروع نہ ہو جائے۔ ان سات حضرات کو مچھ جیل کے قیدیوں کا انتظار تھا۔ جیسے ہی وہ پہنچے۔ حکومتی ذرائع انہیں ٹرکوں پر سوار کر کے فورٹ سنڈیمن روانہ ہو گئے۔ اب فرق صرف اتنا تھا کہ مسلح نگرانوں کی تعداد نسبتاً کم تھی اور بزرگ علماء ٹرکوں کی فرنٹ سیٹوں پر بٹھایا ہوا تھا۔
٢٤ جولائی کی صبح فورٹ سنڈیمن رہائی کی اطلاع مل چکی تھی۔ چنانچہ بہت سے لوگ
١٧
رہا شدہ قیدیوں کے استقبال کے لئے کوئٹہ کی سڑک پر ٢٢ جولائی کو منتظر رہے۔ لیکن ختم نبوت کے یہ قیدی ٢٣ جولائی صبح دس بجے فورٹ سنڈیمن پہنچے۔ ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
فورٹ سنڈیمن پہنچنے کے بعد ان قیدیوں کو معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے ضمانت ناموں پر دستخط کرنا ہوں گے۔ یہ معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔ کیونکہ قیدی غیر مشروط طور پر رہا ہوئے تھے۔ لیکن قبائلی ملکوں اور معتبروں نے بیچ میں پڑ کر صورتحال کو بگڑنے سے بچایا اور خود ہی ضمانتیں دے ڈالیں اور کہا گیا کہ یہ صرف مقدمے کی صورت حاضر ہونے کی ضمانت ہے۔ لیکن ابھی تک ختم نبوت کے ایک قیدی مولانا شمس الدین کا کچھ پتہ نہیں تھا اور حکومت ان کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کر رہی تھی۔ چنانچہ ہڑتال تو ختم ہو گئی۔ لیکن جلسے جلوس ختم نہ ہوئے۔ اسی دوران مجلس عمل نے متحدہ جمہوری محاذ کے سیکرٹری جنرل پروفیسر عبدالغفور کو مولانا شمس الدین کے سرکاری اغواء اور پھر پراسرار گمشدگی کے متعلق تار دی اور التماس کی کہ متحدہ جمہوری محاذ کی طرف سے اس مسئلے کو قومی اسمبلی میں اٹھایا جائے۔ غالباً یہی تار حزب اختلاف کی طرف سے بلوچستان کے ڈپٹی سپیکر کی گمشدگی کا معاملہ قومی اسمبلی میں زیر بحث لانے کا باعث بنی۔ دو اگست تک مولانا شمس الدین کی رہائی اور ختم نبوت کے قیدیوں پر سے مقدمات کی واپسی کا معاملہ جلسے جلوسوں تک محدود رہا۔ اس دوران کوئٹہ میں ٣٠ جولائی کو عبدالرحمن زرگر کو رہا کیا گیا۔ تو ٣١ جولائی کو فورٹ سنڈیمن اس کی آمد پر زبردست جلوس نکالا گیا اور شہر سے سولہ میل دور ہاون زئی سے اسے جلوس کی صورت میں لایا گیا۔ لیکن حکومت کے کان پر جوں نہ رینگی۔ حالانکہ وہ فورٹ سنڈیمن شہر اور ضلع ژوب کے عوام کی بیداری اور یکجہتی کا مظاہرہ دیکھ چکی تھی۔
بھوک ہڑتال
٣ اگست سے اس تحریک نے نیا رخ اختیار کیا اور ظریف پارک میں مجلس عمل کی ہدایات پر پانچ افراد نے تین مطالبات کے لئے بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ اب مطالبات یہ تھے۔
- ١....... مولانا شمس الدین کو رہا کیا جائے۔
- ٢....... گرفتار شدگان پر سے مقدمات ختم کئے جائیں۔
- ٣....... مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
١٨
بھوک ہڑتال کے سلسلے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں علماء نے بھی شرکت کی۔ ہڑتال کی صورت یہ تھی کہ پہلے روز ٢٤ گھنٹے کی بھوک ہڑتال ہوئی۔ تیسرے روز ٤٨ گھنٹے کی بھوک ہڑتال شروع ہوئی۔ ٤ اگست تک پہنچتے پہنچتے ٧٢ گھنٹے کی بھوک ہڑتال شروع ہو چکی تھی اور پروگرام یہ تھا کہ اسی طرح بھوک ہڑتال کا عرصہ بڑھایا جاتا رہے گا۔ علماء نے اس بھوک ہڑتال میں شرکت کا جواز پشتونوں کی اس روایت سے نکالا کہ جب دوست قبائل یا خاندانوں کا آپس میں کوئی تنازعہ ہو جاتا ہے تو وہ اپنے اپنے وفد لے کر دوسرے گاؤں یا گھر پہنچ جاتے ہیں۔ دھرنا دے کر بیٹھ جاتے ہیں اور اس وقت تک کوئی تواضع قبول نہیں کرتے۔ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کر لئے جاتے یا معاملہ خوشدلی سے طے نہیں ہو جاتا۔
اس روایت کو پشتو میں ”نخورہ“ کہتے ہیں۔ ”نخورہ“ کے دوران میں ہفتہ ہفتہ بھر پانی یا تمباکو تو پیا جاتا ہے لیکن کچھ کھایا نہیں جاتا اور بعض صورتوں میں چائے یا لسی پی لی جاتی ہے۔ لیکن کھانا یا ماکولات کی کسی دوسری نوعیت کی تواضع قبول نہیں کی جاتی۔ علماء نے اس بھوک ہڑتال کو جدید سیاسی ”نخورہ“ قرار دے کر اس میں شرکت کی۔ سترہ اگست کو جس دن مولانا شمس الدین کو رہا کیا گیا۔ اسی روز بھوک ہڑتال میں جامع مسجد کے خطیب مولانا میرک شاہ، مولانا محمد اسحق خروٹی اور دوسرے جید علماء نے شریک ہونا تھا۔
اور پھر جیت ہوگئی
سترہ اگست کو رات گیارہ بجے ڈپٹی سپیکر مولانا شمس الدین سنڈیمن پہنچے۔ انہیں شہر سے سولہ میل دور جلوس کی صورت میں لایا گیا تھا۔ آدھی رات کو شہر میں میلے کا سماں تھا۔ شہر میں جلوس کا گشت ظریف پارک پر ختم ہوا۔ جہاں ٧٢ گھنٹے کے ١٤ ہڑتالی بیٹھے تھے۔ اگلے روز صبح مجلس عمل کے کھلے اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ بھوک ہڑتال ختم کی جائے۔ کیونکہ ایک بڑا مطالبہ ختم نبوت کے آخری قیدی مولانا شمس الدین کی رہائی مان لیا گیا ہے اور دوسرا بڑا مطالبہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینا پورے ملک سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کے لئے ملک گیر تحریک کی ضرورت ہے۔ تیسرے مطالبے مقدمات کی واپسی کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ اگر مقدمات چلانے کی کوشش کی گئی تو اس دھاندلی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
اٹھارہ اگست کی صبح کو بھوک ہڑتال ایک تقریب کے ساتھ ختم ہوئی۔ بھوک ہڑتالیوں کو پھولوں سے لادا گیا۔ جامع مسجد میں جلسہ عام ہوا جس میں مولانا شمس الدین نے اپنے سرکاری
١٩
اغواء کی کہانی سنائی اور دوسرے مقررین نے تحریک کی کامیابی کا جائزہ لیا۔
دو کامیابیاں، تین سوال
ژوب کی اس تحریک نے پرامن طریقے سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی مثال قائم کرنے کے علاوہ دو واضح کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ ضلع ژوب اب ہمیشہ کے لئے مرزائیوں سے صاف ہو گیا اور دوسری یہ کہ ژوب میں قرآن پاک کے تحریف شدہ نسخے ضبط کر لئے گئے ہیں اور اب آئندہ یقیناً کسی کو کم از کم ژوب میں ایسی حماقت کی جرات نہ ہوگی۔ لیکن اس کے ساتھ مقامی اور ملکی سطح پر چند ایک سوال اٹھتے ہیں۔ اول تو یہ کہ قرآن پاک کے ان تحریف شدہ مرزائی نسخوں کی ضبطی کیا صرف ضلع ژوب کا مسئلہ ہے؟ کیا ملک کے دوسرے ٥٥/پچپن اضلاع اور ایجنسیوں میں ایسی ہی کارروائی کی ضرورت نہیں اور پھر یہ بھی کہ آیا ضلعی حکام نے ایسے نسخوں کی ضبطی کے لئے باقاعدہ احکامات جاری کئے ہیں۔ یا صرف چند نسخوں کو قبضہ میں لے کر عوام کو مطمئن کیا جا رہا ہے؟ ضلع ژوب کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (پولیٹیکل ایجنٹ) کو اس سلسلے میں واضح احکامات جاری کرنا چاہئیں۔ تاکہ تحریف شدہ نسخوں کی ضبطی باقاعدہ قانونی صورت اختیار کر لے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ تحریک ہی میں حصہ لینے والوں پر قائم شدہ مقدمات واپس کیوں نہیں لئے جا رہے؟ کیا صوبائی یا مرکزی حکومت یہ مقدمات باقی رکھ کر ان لوگوں کو کسی مناسب موقع پر سزا دینا چاہتی ہے، جنہوں نے دینی غیرت و حمیت کا ثبوت دیا اور قومی اہمیت کے اور قومی سلامتی سے متعلق ایک مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اسی بات کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مرزائی عناصر نے اپنی قوت سے کام لے کر یہ مقدمات قائم رکھے ہیں۔ اور موقع پانے پر ژوب کے عوام سے بدلہ چکائیں گے۔
تیسرا سوال بلوچستان کے ڈپٹی سپیکر مولانا شمس الدین کو سرکاری طور پر اغواء اور گم رکھنے سے متعلق ہے۔ مولانا شمس الدین کی بلا وارنٹ گرفتاری کا باعث اینٹی مرزائی تحریک میں حصہ لینا ہے۔ کیا مرزائی یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ جو ان کے مقابلے میں آئے گا۔ چاہے وہ منتخب نمائندہ ہو یا اسمبلی کا ڈپٹی سپیکر ، اسے ایسے غائب کیا جا سکتا ہے کہ نام و نشان نہ ملے۔ پاکستان میں مرزائیوں کے ہاتھ ہمیشہ لمبے رہے ہیں اور اب اگر وہ ایسی دیدہ دلیری پر اتر آئے ہیں کہ منتخب نمائندوں کو بلا وارنٹ حبس بے جا میں رکھوا سکیں تو ان کا سد باب ہونا چاہئے۔
بشکریہ ہفت روزہ زندگی لاہور مورخہ ١٠ ستمبر ١٩٧٣ء
٢٠
اسلام
عقیدہ ختم
حضرت مولانا فضل
لیا۔
مد حاصل کرنے کی مثال قائم ج وہ باب ہمیشہ کے لئے ں کے تحریف شدہ نسخے ضبط قت کی جرات نہ ہوگی۔ لیکن قرآن پاک کے ان تحریف ک کے دوسرے ٥٥ بچیں ں کہ آیا ضلعی حکام نے ایسے چند نسخوں کو قبضہ میں لے کر کل ایجنٹ) کو اس سلسلے میں قاعدہ قانونی صورت اختیار
شدہ مقدمات واپس کیوں کر ان لوگوں کو کسی مناسب اور قومی اہمیت کے اور قومی ب پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ا۔ اور موقع پانے پر ڈوب
سرکاری طور پر اغواء اور گم ٹ اینٹی مرزائی تحریک میں ں آئے گا۔ چاہے وہ منتخب شان نہ ملے۔ پاکستان میں ی پر اتر آئے ہیں کہ منتخب ہے۔ لاہور مورخہ ١٠ ستمبر ١٩٧٣ء
خاتم النبیین لا نبی بعدی
محکمہ نشر واشاعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
اسلام میں
عقیدہ ختم نبوت
حضرت مولانا فضل حق پشاوریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
غیر سیاسی تبلیغی جماعت ہے۔ اتحاد بین المسلمین اور تردید مرزائیت مجلس کی امتیازی خصوصیت ہے۔ مجلس ہی کی مخلصانہ مساعی اور مسلسل جدوجہد سے مرزا غلام احمد قادیانی (کذاب مدعی نبوت) اور اس کے جملہ پیروکار نہ صرف پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جاچکے ہیں۔ بلکہ پورے عالم اسلام میں کسی جگہ بھی انہیں مسلمان نہیں سمجھا جاتا لیکن ابھی اندرون ملک اور بیرون ملک قادیانیوں کے متعلق بہت سے امور تشنہ تکمیل ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا قافلہ رَأسِ الاتقیاء مرشد العلماء والصلحاء، السید الحاج حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں کی زیر قیادت منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اہل اسلام کے مکمل تعاون سے ناموس رسالت کے ان قزاقوں کی تمام جلی وخفی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھتے ہوئے ہے۔ اسلام اور ملت اسلامیہ کے ان غداروں کا تعاقب کر کے کامیابی حاصل کرے گا۔
اس سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت تمام مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ختم نبوت کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے مجلس سے مکمل تعاون فرمائیں۔
زیر نظر مقالہ الحاج مولانا فضل حق صاحب خطیب جامع مسجد ہشت نگری پشاور نے علماء کے دوروزہ صوبائی کنونشن پشاور منعقدہ ٦؍ جون ١٩٨١ء کے اجلاس میں پڑھا۔
اس اجلاس کی صدارت حضرت مولانا عبدالباقی صاحب وزیر مذہبی امور سرحد نے فرمائی اور جناب عبدالہاشم خان وزیر تعلیم سرحد بحیثیت مہمان خصوصی اجلاس میں تشریف فرما تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت سرحد، وزارت مذہبی امور سرحد کے شکریہ کے ساتھ یہ مقالہ مسلمانوں کے استفادہ کے لئے شائع کررہی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ جل شانہ اس مساعی کو قبول فرما کر ہم سب کو خاتم النبیین ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
اسلام میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت
بسم الله الرحمن الرحیم
"الحمدلله وحده والصلوة والسلام علی من لا نبی بعده. ومن
٢
اعتقد غير ذلك فقد تزندق ولا خير له۔ اما بعد فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم۔ ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين۔ وكان الله بكل شئ عليما۔ وقال النبى ﷺ انا خاتم النبيين لا نبى بعدى، اما بعد“
دين اسلام كی بنيادی اينٹ ختم نبوت كا عقيدہ ہے۔ رب كائنات نے كائنات كے لئے رشد و ہدايت كا جو سلسلہ جاری فرمايا وہ نبوت و رسالت كا سلسلہ ہے جو كہ حضرت آدم عليہ السلام سے شروع ہو كر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوتا ہے اور جيسا كہ پيغمبر آخر الزمان ﷺ نے فرمايا كہ قصر نبوت كی ميں آخری اينٹ ہوں۔ ميری بعثت سے قصر نبوت كی تكميل ہو گئی۔ ميرے بعد كسی كو نبوت ملنے والی نہيں۔ ختم نبوت كے اس عقيدے كی اللہ تعالیٰ كی آخری آسمانی كتاب ميں بے شمار تصريحات موجود ہيں۔
مذكورہ بالا آيت جس طرح ثبوت كے اعتبار سے قطعی ہے، اسی طرح دلالت كے اعتبار سے بھی۔ علماء دين سے يہ امر مخفی نہيں كہ قرآن حكيم كی ايک بھی قطعی الدلالت آيت كريمہ ثبوت كے لئے كافی ہے۔ ختم نبوت كا ثبوت تو سو سے زيادہ آيات مباركہ اور دو سو سے زائد احاديث متواترہ سے ملتا ہے اور تواتر بھی ايسا كہ عقيدہ توحيد كے بعد اس كی نظير نہيں ملتی اور پھر عقيدہ ختم نبوت پر امت محمديہ كا اجماع بھی ہے اور نہ صرف امت محمديہ كا بلكہ تمام كتب سماويہ كا اس پر اجماع ہے۔ تمام انبياء كرام كا اس پر اجماع ہے۔ انبياء كرام سے يہ اقرار ”لتؤمنن به ولتنصرنه۔ قالوا اقررنا“ اس پر شاہد ہے۔ ہر جانے والے نبی نے اپنے بعد آنے والے نبی كی واضح طور پر نشاندہی كی اور اپنے پيروؤں كو آنے والے نبی پر ايمان اور اس كی نصرت كی وصيت فرمائی۔
اگر حضور نبی ﷺ كے بعد سلسلۂ نبوت ختم نہ ہوتا تو ضرور حضور اكرم ﷺ بھی سابقہ انبياء كرام كی طرح اپنے بعد آنے والے نبی كی واضح طور پر نشاندہی فرماتے اور اپنی امت كو اس پر ايمان اور اس كی نصرت كی وصيت فرماتے۔ جہاں اللہ تعالیٰ كے بتانے سے حضور پاک ﷺ نے بے شمار پيشين گوئیاں فرمائيں۔ آپ ايمان بالغيب كے اس اہم مسئلے سے كبھی بھی خاموشی اور اغماض نہ فرماتے۔ اس سے معلوم ہوا كہ حضور پاک كا بعد والے نبی كا ذكر نہ كرنا۔ نبوت كے ختم ہونے كی وجہ سے ہے۔
”يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك“ كے ساتھ ”من بعدك“ كا ذكر نہ كرنا اس بات كا بين ثبوت ہے كہ حضور ﷺ پر اور حضور ﷺ سے سابقہ انبياء پر جو كچھ نازل كيا
٣
گیا۔ ان پر ایمان لانا لازم اور ضروری ہے۔ اور بعد میں نہ کوئی نبی ہے۔ اور نہ اس کی وحی ہے اور نہ اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اگر وحی نبوت جاری ہوتی تو ضرور من بعدك بھی ہوتا۔ پس جس طرح توحید تمام ادیان کا اجماعی عقیدہ ہے۔ اسی طرح ختم نبوت کا عقیدہ بھی تمام کتب الہیہ تمام انبیاء کرام ، تمام ادیان سماویہ کا متفق علیہ اور اجماعی عقیدہ ہے۔ آغاز انسانیت سے لے کر آج تک از آدم تا ایں دم اس پر ہمیشہ اتفاق رہا ہے کہ خاتم النبیین صرف محمد ﷺ ہی ہوں گے اور سلسلہ نبوت ورسالت آپ ﷺ کی ذات گرامی پر ختم ہو جائے گا۔
حضرت صدیق اکبرؓ کے دور خلافت میں اسلامی جہاد کا آغاز ہی مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت وحفاظت کے پیش نظر جنگ یمامہ سے ہوا۔ جس میں سات سو ٧٠٠ /حفاظ قرآن شہید ہوئے جو صحابہؓ میں اہل القرآن کے لقب سے مشہور تھے۔ مسیلمہ کذاب سے مقابلہ میں صحابہؓ کی اتنی کثیر تعداد کی شہادت مسئلے کا واضح ثبوت ہے۔ حضرت صدیق اکبرؓ اور باقی خلفاء ثلاثہؓ میں سے اور نہ ہی کسی دوسرے صحابیؓ نے مسیلمہ کذاب سے اس بات کی وضاحت طلب کی کہ تیرا دعویٰ نبوت تشریعی ہے یا غیر تشریعی ، ظلی ہے یا بروزی ،مستقل ہے یا طفیلی ۔ اور نہ ہی کسی مناظرے کو ضروری سمجھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ختم نبوت کے متعلق صحابہ کرامؓ کے اذہان کتنے صاف تھے۔ اور مسئلہ کتنا واضح تھا۔
بدقسمتی سے برطانوی اقتدار میں جب اس بنیادی عقیدہ پر ضرب لگانے والے کو کھڑا کیا گیا یہ سمجھ کر کہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ اس کے متزلزل ہو جانے سے اسلام کی بنیادی عمارت یا تو سرے سے منہدم ہو جائے گی۔ یا کم از کم اس میں بڑے بڑے شگاف پڑ جائیں گے۔ متحدہ ہندوستان میں دور غلامی کی وجہ سے مسلمان برطانیہ کے خودکاشتہ پودے کا مقابلہ دینی بحثوں اور مناظروں کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ امام العصر مولانا سید انور شاہ صاحبؒ دیوبندی ،مولانا سید پیر مہر علی شاہ صاحبؒ گولڑوی،محدث کبیر مولانا ثناء اللہ صاحبؒ امرتسری ودیگر علماء کرام واکابرین ملت نے نہایت ہی جانفشانی سے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے کام کیا۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ، مولانا ابوالحسنات صاحب لاہوریؒ، علامہ کفایت حسین صاحب اور مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف صاحب بنوریؒ وغیرہم نے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔
بزرگان محترم ! مقالے کے شروع میں جس آیت کریمہ کو پڑھا گیا ۔ اس کا ترجمہ ہے: ”محمد ﷺ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر...... خاتم النبیین میں دو قرأتیں ہیں۔ خاتم بفتح التاء، خاتم بكسر التاء خاتم ،ختم کرنے والا
٤
یعنی آخری، آخر القوم وفاعل الختم“ خاتم بمعنی مہر۔ سلسلہ نبوت پر مہر، آپ ﷺ کی بعثت سے مہر لگ گئی۔ یہ سلسلہ سربمہر کر دیا گیا جیسے وثیقہ اور لفافہ لکھ کر سب سے آخر میں سر بمہر کیا جاتا ہے۔ سلسلہ نبوت کو بھی سربمہر کر دیا گیا۔ حضور پاک ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایک ایسی صفت ہے جو تمام کمالات نبوت ورسالت میں آپ ﷺ کے اعلیٰ فضیلت اور خصوصیت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیونکہ ہر چیز میں تدریجی ترقی ہوتی ہے اور انتہا پر پہنچ کر اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ اور جو آخری نتیجہ ہوتا ہے۔ وہی اصل مقصود ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت قرآن حکیم نے یوں فرمائی۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی“ یعنی آج تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی۔
جس نعمت کی ابتداء پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی۔ اس کی تکمیل سب سے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر کی گئی۔ اب فہرست نبوت تمت تمام شد۔ وخاتم النبیین میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے کہ اوپر آنحضرت ﷺ بصفت رسول (ولکن رسول اللہ) آیا ہے۔ اس لئے بظاہر مناسب یہ تھا۔ کہ آگے وخاتم المرسلین کا لفظ اختیار کیا جاتا مگر قرآن حکیم نے اس کے بجائے خاتم النبیین کا لفظ اختیار فرمایا۔ وجہ یہ ہے کہ جمہور علماء کے نزدیک نبی اور رسول میں فرق ہے۔ وہ یہ کہ نبی تو ہر اس شخص کو کہا جا سکتا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ اصلاح خلق کے لئے منتخب فرمائیں اور اپنی وحی سے مشرف فرمائیں۔ خواہ اس کے لئے مستقل کتاب و شریعت تجویز کریں۔ یا پہلے ہی کسی نبی کی کتاب و شریعت کے تابع لوگوں کی ہدایت کرنے پر مامور فرمائیں۔ جیسے حضرت ہارون علیہ السلام کہ حضرت موسیٰ علیہما السلام کی کتاب و شریعت کے تابع ہدایت کرنے پر مامور تھے اور رسول خاص اس نبی کے لئے بولا جاتا ہے جس کو مستقل کتاب و شریعت دی گئی ہو۔ اسی طرح لفظ نبی کے مفہوم میں بہ نسبت لفظ رسول کے عموم زیادہ ہے تو آیت کا مفہوم یہ ہوا۔ کہ آپ سب انبیاء کے ختم کرنے والے اور سب سے آخری ہیں۔ خواہ صاحب شریعت نبی ہو یا صرف پہلے نبی کے تابع۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کی جتنی قسمیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہو سکتی ہیں۔ وہ سب آپ ﷺ پر ختم ہو گئیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنے والی نہیں۔
امام ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر ہی میں فرمایا ”فهذه الآية في انه لا نبى بعده واذا كان لا نبى بعده فلا رسول بعده بالطريق الاولى“ ہاں اگر کسی کج فہم کو یہ شبہ پیدا ہو کہ ایک پیغمبر قیامت تک کیسے کافی اور مختلف انسانی نسلوں کے لئے رہنما اور قابل اتباع و تقلید نمونہ بن سکتا ہے اور اس کی شریعت و تعلیمات کیونکر تمام انسانی ضرورت، نئے نئے تقاضوں اور عہد بعہد
٥
تبدیلیوں سے عہدہ برآ ہوسکتی ہے تو اس کا جواب آیت کے آخری حصے میں معجزانہ طور پر مختلف الفاظ میں یوں دیا گیا: ”وكان الله بكل شئ عليما“ ﴿اور اللہ سب چیزوں کا جاننے والا ہے ۔﴾ اجرائے نبوت اور ختم نبوت کی مصلحت کو خوب جانتا ہے۔ ختم نبوت کا فیصلہ دنیا کے نئے مسائل سے بے خبری میں نہیں کیا گیا ۔ بلکہ یہ علم ازلی و ابدی کے مالک علیم کا فیصلہ ہے۔ ”وما ارسلنك الا كافة للناس“ کے بعد اجرائے نبوت کا کیا فائدہ۔ جیسے اللہ تعالیٰ رب الناس کے بعد دوسرا رب نہیں۔ ”مبعوث الى كافة للناس“ کے بعد دوسرا نبی نہیں۔ ”قرآن هدى للناس“ کے بعد کوئی دوسری آسمانی کتاب نہیں۔
”ان اول بيت وضع للناس“ کے علاوہ کوئی دوسرا کعبہ و قبلہ نہیں۔ ”خير امة اخرجت للناس“ کے بعد کوئی دوسری امت مسلمہ نہیں۔
اور اسی کی وضاحت ارشاد نبوی میں ”لا نبي بعدي ولا امة بعدكم“ میں فرمائی گئی ۔ دین اسلام کی یہی جامعیت اس کے دین فطرت ہونے کی دلیل ہے۔
وحی الہی کے مراد کو صاحب وحی ہی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے ”انا خاتم النبيين / انا خاتم الانبياء لا نبي بعدي“ ﴿میں خاتم النبیین ہوں، خاتم الانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔﴾ خاتم النبیین قرآن حکیم کا لفظ ہے۔ لا نبی بعدی اس کا مطلب ۔ اب اگر کوئی لفظ خاتم النبیین پر ایمان رکھتا ہو اور لا نبی بعدی کا قائل نہ ہو تو اس کے ایمان کا کوئی اعتبار نہیں ۔ بالکل ویسے کہ جیسے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرے ۔ اس کا رب اور الہ ہونا مانے اور اس کے باوجود اس کی صفات مخصوصہ علم و قدرت اور تصرفات دوسروں کے لئے بھی تسلیم کرے ۔ اس کا دعویٰ ایمان بھی باطل ہے۔
”لا اله الا الله وحده“ تب معتبر ہوگا کہ ”لا شريك له“ پر بھی ایمان ہو اور ”انا خاتم النبيين“ تب قابل اعتبار ہوگا کہ ”لا نبی بعدی“ پر بھی ایمان ہو۔
مسلمانوں کے اتحاد کا مرکزی نقطہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضور اقدس ﷺ کی ختم نبوت ہے۔ جیسا کہ شاعر مشرق نے حرف اقبال میں ایک جگہ کہا ۔ ”اسلامی وحدت ختم نبوت ہی سے استوار ہوتی ہے ۔“
(حرف اقبال)
(اقبال ضرب کلیم)
فقط: ناچیز فضل حق، خطیب جامع مسجد ہشت نگری بازار، پشاور شہر
٦
امت غلط بیانیو حضرت مولانا
ے آخری حصے میں مجزانہ طور پر مختلف ”اور اللہ سب چیزوں کا جاننے والا تا ہے۔ ختم نبوت کا فیصلہ دنیا کے نئے کے مالک علیم کا فیصلہ ہے۔ ”ومـــــــا فائدہ۔ جیسے اللہ تعالیٰ رب الناس کے کے بعد دوسرا نبی نہیں۔ ”قرآن هدی
کوئی دوسرا کعبہ وقبلہ نہیں۔ ”خير امة
بعدی ولا امة بعدكم“ میں فرمائی کی دلیل ہے۔ تہ سکتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے بعدی“ میں خاتم النبیین ہوں، ن قرآن حکیم کا لفظ ہے۔ لا نبی بعدی ہو اور لا نبی بعدی کا قائل نہ ہو تو اس ا کی وحدانیت کا اقرار کرے۔ اس کا مہ علم و قدرت اور تصرفات دوسروں
شريك له“ پر بھی ایمان ہو اور ”انا “ پر بھی ایمان ہو۔
حید اور حضور اقدس ﷺ کی ختم نبوت ”اسلامی وحدت ختم نبوت ہی سے
(حرف اقبال)
ہوتا جس سے الہام بھی الحاد
(اقبال ضرب کلیم)
جامع مسجد ہشت نگری بازار، پشاور شہر
خاتم النبیین لا نبی بعدی
امت مرزائیہ کی
غلط بیانیوں کا جواب
حضرت مولانا سعید الرحمن علوی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ابتدائیہ
جب سے آزاد کشمیر اسمبلی نے واضح اکثریت سے قادیانیوں کے خلاف قرارداد منظور کی ہے۔ ربوہ اور اس کے سیاسی حلیفوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ اس قرارداد کو سبوتاژ کرنے کے لئے جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک المیہ سے کم نہیں۔
انتہائی تشویشناک خبروں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ جس کے بین السطور طوفان امڈتے نظر آرہے ہیں۔ اللہ خیر کرے۔
جماعت ہائے مرزائیہ آزاد کشمیر کے امیر منظور احمد وکیل کی طرف سے ایک پریس ریلیز مطبوعہ مکتبہ جدید پریس لاہور ڈاک کے ذریعے مجھے ملا۔ معلوم نہیں ناشر کون ہے؟ اندازہ ہے کہ محکمہ اطلاعات کا اس کی پشت پر ہاتھ ہے۔ اگر میرا یہ شبہ صحیح ہے تو اس کے جو نتائج ہو سکتے ہیں وہ اہل نظر سے مخفی نہیں۔
کتابچہ میں سوائے غلط بیانیوں کے اور کچھ نہیں۔ مناسب معلوم ہوا کہ اس کا مختصر جواب شائع کر دیا جائے تاکہ منظور صاحب کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔ واللہ ولی وبیدہ التوفیق!
محمد سعید الرحمٰن علوی، امیر مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع کیمبل پور، مورخہ ٢٦ مئی ١٩٧٣ء
غلام قادیان اور اس کی امت کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر قرآن وسنت کے علاوہ پوری امت کا اجماع دلیل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
دوسری حقیقت جس کو جھٹلانا آسان نہیں وہ یہ ہے کہ یہ گروہ انگریزی سامراج کے مکروہ عزائم کو پروان چڑھانے کے لئے انگریز کے اشارہ آبرو کے مطابق میدان میں آیا اور پھر اس نے اپنے آقا کی آرزوؤں کی تکمیل کے لئے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا۔ دو سال کی طویل اور صبر آزما جنگ کے بعد برصغیر کے مطلع پر آزادی کا سورج طلوع ہوا اور برصغیر کا ایک حصہ پاکستان کے نام
٢
سے معرض وجود میں آیا تو عامۃ المسلمین بحیثیت کے ساتھ ساتھ ان کے دیسی مہرے بھی دفن ہو
وطن عزیز کے حکمرانوں نے الحاد رواداری کا مظاہرہ کر کے مسلمانوں کی آرزوؤ کردی۔ اگر میں یہ کہوں کہ بدیسی حکمران ام ہمارے مسلم حکمران، تو یہ غلط نہ ہوگا۔
اس کفر نوازی کے جو سنگین نتائج باوجود وہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اور پہلے سے
اب تو ربوہ والوں نے سیاسی جما محاذ سا بنا رکھا ہے اور ربوہ والے بڑے طمطراق ہیں۔
ہماری برسر اقتدار پارٹی بھی ان ہے۔ جس کی ایک کڑی یہ ہے کہ آزاد کشمیر بعد پاکستان کی پی پی پی حرکت میں آچکی ہے بے پرواہ ہو کر ربوہ کا تحفظ کرنے میں مشغو میں چھپنا اور جیسا کہ شبہ ہے کہ یہ محکمہ اطلاعا حکومت سے کچھ کہنا تو بے سو کے انجام سے سبق حاصل کرو جو ربوہ کی پنا
البتہ زیر نظر سطور کے ذریعہ منظو ریکارڈ کندہ نہ ہو۔
- ١....... قرارداد کے الفاظ ٹرسٹی روزنا
ہیں۔ اور ص ٤ پر ایک نوٹ کے ذریعے
سے معرض وجود میں آیا تو عامۃ المسلمین بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ بدیسی حکمرانوں کے اخلاء کے ساتھ ساتھ ان کے دیسی مہرے بھی دفن ہو جائیں گے۔ لیکن
وطن عزیز کے حکمرانوں نے الحاد و دہریت پر مبنی ہر مکتب فکر کے معاملہ میں غلط قسم کی رواداری کا مظاہرہ کر کے مسلمانوں کی آرزوؤں کا خون کیا۔ اور اس فرقہ مرتدہ کے معاملہ میں تو حد کر دی۔ اگر میں یہ کہوں کہ بدیسی حکمران اپنے اس خودکاشتہ پودے پر اتنا مہربان نہیں تھا۔ جتنے ہمارے مسلم حکمران، تو یہ غلط نہ ہوگا۔
اس کفر نوازی کے جو سنگین نتائج سامنے آچکے ہیں وہ ڈھکے چھپے نہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اور پہلے سے بڑھ کر۔
اب تو ربوہ والوں نے سیاسی جماعت کا روپ دھار کر برسراقتدار پارٹی کے ساتھ متحدہ محاذ سا بنا رکھا ہے اور ربوہ والے بڑے طمطراق سے مدعی ہیں کہ یہ بلندیاں ہماری کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔
ہماری برسراقتدار پارٹی بھی ان کی مخلصانہ خدمات کے شکریہ کے طور پر بہت کچھ کر رہی ہے۔ جس کی ایک کڑی یہ ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد کے سلسلہ میں آزاد کشمیر پی پی پی کے بعد پاکستان کی پی پی پی حرکت میں آچکی ہے۔ اور خود حکومت کے بعض ذمہ دار حضرات نتائج سے بے پرواہ ہو کر ربوہ کا تحفظ کرنے میں مشغول ہیں۔ کشمیر کے ایک مرزائی وکیل کا پریس ریلیز لاہور میں چھپنا اور جیسا کہ شبہ ہے کہ یہ محکمہ اطلاعات نے چھاپا ہے۔ ہمارے دعویٰ کی دلیل ہے۔
حکومت سے کچھ کہنا تو بے سود ہے۔ صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ اپنے پیش روؤں کے انجام سے سبق حاصل کرو جو ربوہ کی بھینٹ چڑھ گئے۔
البتہ زیر نظر سطور کے ذریعہ مذکور وکیل کی غلط بیانیوں کا نوٹس لیا جا رہا ہے۔ تا کہ تاریخی ریکارڈ گندہ نہ ہو۔
١...... قرارداد کے الفاظ ٹرسٹی روزنامہ مشرق کی اشاعت مجریہ یکم مئی ١٩٧٣ء سے لئے گئے ہیں۔ اور ص ٤ پر ایک نوٹ کے ذریعے کہا گیا ہے کہ ٢٥ کے ہاؤس میں ١١ ممبر موجود نہ تھے۔
٣
”میری معلومات کے مطابق دس ممبر نہ تھے۔ چلو گیارہ سہی کیا۔ ٢٥؍ میں ١٤ ممبر واضح اکثریت کے حامل نہیں؟ دوسری بات یہ ہے کہ قرارداد کا تیا پانچہ کرانے کے لئے جو روایتی ہتھکنڈے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر صحیح راہ اختیار کرنے کی آپ میں سکت ہے؟“
کیا آپ ان گیارہ یا دس غیر حاضر ممبران میں سے کسی سے اس قرارداد کے برعکس قرارداد کا مسودہ اسمبلی میں پیش کرا سکتے ہیں؟ وہاں نہ سہی پاکستان کی کسی اسمبلی میں کرانے کا حوصلہ پیدا کریں؟
- ٢...... ”تجزیہ کرتے ہوئے قرارداد کو مذہب کی آڑ میں ملک وقوم سے مہلک و بھیانک
غداری قرار دیا گیا ہے۔“
(ص٤)
غدار وغداری کا لفظ اتنا کثیر الاستعمال ہے کہ آج تک شرمندہ معنی نہیں ہو سکا۔ اسی وجہ سے غدارانہ اور وفادارانہ نظریات کے حامل عناصر و جماعتیں گڈ مڈ ہو کر رہ گئی ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ آپ کس مذہب کا نام لیتے ہیں۔ محمدی مذہب کا یا غلام قادیانی کے مذہب کا؟
محمدی مذہب کی رو سے یہ قرارداد عین حق وصواب ہے اور اس کے محرک ومؤید محمدی پرچم کے نیچے ہوں گے اور اگر غلام قادیان کے مذہب کی بات ہے تو ہم اسے مذہب کہنا ہی غلط سمجھتے ہیں۔ وہ تو مداری کی پٹاری ہے...... جس میں کرشن سے لے کر مہدی، مجدد، مسیح موعود، ظلی نبی، مستقل نبی، سب کچھ ہے۔ جس میں مرد کو حیض آتا ہے۔ مرد عورت بن کر خدا سے ملتا ہے۔ (معاذ اللہ) حمل قرار پاتا ہے۔ بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اور اتنے مرحلوں کے بعد وہ مرد ہی کہتا ہے کہ میں ہی یہ بچہ ہوں۔ (اعاذنا اللہ تعالٰی من ہذہ الخرافات)
رہ گئی قوم تو آپ تو قوم کے افراد کو کنجریوں کی اولاد اور جنگلوں کے سور کہتے ہیں۔ محض اس جرم میں کہ وہ سیالکوٹ کچہری کے منشی کو بلند و بالا نہیں سمجھتے۔
اور ملک تو آپ اس ملک کے وجود کو مشیت الٰہی کے خلاف قرار دے کر مستقبل میں اکھنڈ بھارت کی پیشینگوئی کر چکے ہیں۔ غالباً اسی وجہ سے ربوہ کے بہشتی مقبرہ کی بوسیدہ ہڈیوں کو قادیان دفنانے کے احکامات دفتر خلافت سے جاری ہوتے رہتے ہیں۔
جب آپ ملک وقوم کے معاملہ میں اتنے مخلص ہیں تو ان کے نام کی دہائی کیوں؟
٤
آپ کی ذہنی بیماریوں کے پیش نظر ہی مصور پاکستان اقبال مرحوم نے آپ کو ہندوستان و اسلام کا غدار قرار دیا تھا۔ غیر مسلم اکثریت کے ملک انڈیا کے غدار مسلم اکثریت کے پاکستان کے وفادار کب ہو سکتے ہیں؟
- ٣...... تجزیہ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ قرارداد کو تحریک آزادی کشمیر اور استحکام پاکستان کے
خلاف سازش سے تعبیر کیا گیا ہے۔
- ٤...... اس دعوٰی کی دلیل کے طور پر کئی صفحات سیاہ کر دیئے گئے ہیں اور ٣١ء سے لے کر اب
تک کی تحریک آزادی کشمیر کے ہر موڑ کو مرزائیت کا مرہون منت قرار دیا گیا ہے۔
چونکہ یہ صفحات مغالطوں سے پر ہیں۔ اس لئے ان پر ذرا تفصیلی گفتگو کی جاتی ہے۔
- ٥...... تحریک آزادی کشمیر ١٩٣١ء میں شروع ہوئی اور مرزائی جماعت اس کی روح رواں
تھی۔
اس دعوٰی کے لئے دلیل کے طور پر کشمیر کمیٹی کو پیش کیا گیا ہے۔ جس کے سربراہ قادیان و ربوہ کے آمر مطلق بشیر الدین محمود آنجہانی تھے اور اس میں اقبال سمیت کئی مسلم زعماء بھی تھے۔
- ٦...... اس کمیٹی کی اس ہیئت سے ہمیں انکار نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگلی بات کیوں نہیں
بتاتے؟ موصوف محمود کمیٹی کی آڑ میں کشمیر کو قادیانی سٹیٹ بنانا چاہتے تھے۔ اقبال وغیرہ پر راز کھلا تو فی الفور علیحدہ ہو گئے اور اقبال تو خم ٹھونک کر میدان میں آگئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ لوگ اجتماعی مفادات کے مقابلہ میں جماعتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور اپنے امیر کے حکم کے بغیر مرتے کو پانی دینا گوارا نہیں کرتے۔
- ٧...... اس چار روزہ دورہ کے نتیجہ میں اہل قادیان کے مالہ و ماعلیہ سے واقف ہو گئے۔ نتیجتاً
اسے ہندوستان و اسلام کا غدار قرار دیا۔ پنڈت نہرو نے ان کی وکالت کی تو اسے دندان شکن جواب دیئے۔ عجمی یہودیت سے تعبیر کیا۔ اس طبقہ کو مسلم صفوں میں انتشار و پراگندگی کا ذمہ دار گردانا (جیسے کوثر نیازی صاحب وزیر اطلاعات پاکستان فرماتے ہیں۔ دیکھیں آپ کی کتاب بنیادی حقیقتیں ١١٤، ١١٥) اور برٹش حکومت سے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
اور خود انجمن حمایت اسلام لاہور کے صدر کی حیثیت سے مرزائی ممبران کو نکال باہر کیا
٥
جس کے صدمہ کی تاب نہ لا کر ایک مرزائی چل بسا۔
- ......٨ منظور صاحب یقین کریں کہ آپ کے موسیو محمود اس آڑ میں اس خطہ کو سامراجی
طاقتوں کا اڈہ بنانا چاہتے تھے۔ اقبال وغیرہ کے بروقت اقدام نے اس منصوبہ کو خاک میں ملا دیا۔
- ......٩ اس کے برعکس انہی سالوں میں ملک کے ایثار پیشہ اور مخلص کارکنوں کی جماعت مجلس
احرار اسلام نے ڈوگراراج کو نیچا دکھانے کے لئے ایثار وقربانی کا ریکارڈ قائم کیا۔ بیسیوں کارکن شہید ہوئے۔ ہزاروں اپنے رہنماؤں سمیت جیل گئے۔ برطانوی ڈنڈا آپ کے اشارہ ابرو پر نہ چلتا تو کشمیر کا نقشہ آج اور ہوتا۔
- ......١٠ ص ٨ پر آپ نے گورداسپور کا قضیہ چھیڑ کر ۔
کی شعری حقیقت کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ اس ضلع کی انڈیا میں شمولیت ظلم ہے کہ یہ مسلم اکثریت کا ضلع تھا اور مسلم اکثریت کا دارومدار قادیانی جماعت پر تھا۔ اس کے بغیر تو مسلم اقلیت کا ضلع بنتا ہے۔
جان من! یہی تو قصہ ہے کہ آپ نے "الكفر ملة واحدة" کے مصداق اپنے کافر بھائیوں ہندوؤں کا ساتھ دے کر اپنے کفر پر مہر تصدیق ثبت کر دی اور ضلع کو انڈیا میں شامل کرایا۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ آپ کے ممدوح ظفر اللہ خان باؤنڈری کمیشن کے لئے پاکستانی وکیل تھے۔ جنہوں نے دیانتداری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے اور خود کیس کے دو حصے کر کے گورداسپور کی فائلیں شیخ بشیر قادیانی وکیل کو دے دیں اور اپنے محسنوں اور موکلوں (قائداعظم سمیت تمام لیگی زعماء) سے مشورہ تک نہ لیا؟
- ......١١ آپ نے وادی کشمیر کے "لکھوکھا" قادیانیوں کا ڈھنڈورہ پیٹ کر ایک دھونس
جما نے کی کوشش کی ہے۔
(ص ٩)
اور یہ تکنیک آپ کے بانی کے دور سے چل رہی ہے۔ ورنہ ہمیں آپ کی قد و قامت کا علم ہے۔ جس طرح عربی یہودی امریکہ کی سر پرستی میں زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔ عجمی یہودی بھی سامراجی طاقتوں کے پیش نظر حکومت پاکستان کے زیر سایہ نخرے کرتے پھرتے ہیں۔ ذرا
٦
ہاتھ اٹھے تو پتہ چل جائے کہ آپ کتنے پانی میں ہاں یاد آیا کہ آپ کے موجودہ خل ایک کروڑ بتلائی ہے۔ کیا آپ کا خلیفہ اور آپ پیش کریں گے؟
- ......١٢ پاکستان کے بعد جماعتی خدمات کا
اور خدمات کی دلیل وسند کے طو نام لیا گیا ہے۔
بابو! یہ صدارتیں تو یونہی ملیں جیسے کلیدی مناصب! ...... اور اس کی وجوہات آزادی کی روح سے ہم کنار نہیں ہوتے۔ یہ غلام قوم کا اپنا ہوتا کیا ہے۔ وہاں تو بقول س اختلاف وغیرہ ) باہر حکومتوں کے معاملے ط باقی یہ کہ پاکستان بننے کے بعد ق دو وہ آزادی اور تم! جن کے گرو نے پچاس لوٹنے والوں کو محسن قرار دیا۔ آزادیوں کی لئے کیا کریں گے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ خوش قسمتی ۔ دیگر یہ بھی مقبوضہ کشمیر ہوتا !
- ......١٣ اقوام متحدہ میں کشمیر کیس کے
چڑھائے گئے ہیں اور خدمات کا تذکرہ چودھری صاحب کی خدمات کا قصہ بڑا طوی
- الف...... امریکی گندم ( خواجہ ناظم الدین
- ب ...... باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش
ہاتھ اٹھے تو پتہ چل جائے کہ آپ کتنے پانی میں ہیں۔
ہاں یاد آیا کہ آپ کے موجودہ خلیفہ نے اس قرارداد پر غصہ نکالتے ہوئے اپنی تعداد ایک کروڑ بتلائی ہے۔ کیا آپ کا خلیفہ اور آپ رائے شماری میں اپنے کو مرزائی لکھوا کر اس کا ثبوت پیش کریں گے؟
- ١٢...... پاکستان کے بعد جماعتی خدمات کا تذکرہ بڑے طمطراق سے کیا گیا ہے۔ (ص١٠)
اور خدمات کی دلیل وسند کے طور پر آزاد خطہ کشمیر کے ایک مرزائی صدر غلام نبی گلکار کا نام لیا گیا ہے۔
بابو! یہ صدارتیں تو یونہی ملیں جیسے ظفر اللہ اور دوسرے قادیانیوں کو وزارت اور دوسرے کلیدی مناصب! ...... اور اس کی وجوہات ہیں۔ جنہیں آپ بھی جانتے ہیں اور جب تک ہم آزادی کی روح سے ہمکنار نہیں ہوتے۔ یہ سلسلہ شاید جاری رہے۔ جسمانی طور پر آزاد لیکن ذہنی غلام قوم کا اپنا ہوتا کیا ہے۔ وہاں تو بقول سردار بہادر خان (سابق گورنر مرکزی وزیر قائد حزب اختلاف وغیرہ) باہر حکومتوں کے معاملے طے ہوتے ہیں۔
باقی یہ کہ پاکستان بننے کے بعد تحریک آزادی کشمیر کا سہرا بھی ہمارے سر ہے۔ تو جانے دو وہ آزادی اور تم! جن کے گرو نے پچاس الماریاں جہاد کے خلاف لکھ ڈالیں۔ دنیا کی آزادی لوٹنے والوں کو محسن قرار دیا۔ آزادیوں کی بربادی پر چراغاں کئے۔ وہ بے چارے آزادی کے لئے کیا کریں گے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ خوش قسمتی سے یہ حصہ آپ کی دست برد سے محفوظ رہ گیا۔ بصورت دیگر یہ بھی مقبوضہ کشمیر ہوتا!
- ١٣...... اقوام متحدہ میں کشمیر کیس کے عنوان سے ص١١ پر ظفر اللہ خان کی تربت پر پھول
چڑھائے گئے ہیں اور خدمات کا تذکرہ بڑے فخر ومباہات سے کیا گیا ہے۔ میاں آپ کے چودھری صاحب کی خدمات کا قصہ بڑا طویل ہے۔ ہم معترف ہیں۔ سنئے مشتے نمونہ از خروارے۔
- الف...... امریکی گندم (خواجہ ناظم الدین کا اعتراف)
- ب...... باؤنڈری کمیشن کے سامنے طشتری میں رکھ کر گورداسپور انڈیا کو دینا (بھارتی ججوں کا
اعلان)
- ج ...... ان کے صدقے دس ہزار سے زیادہ نوجوانوں کے خون سے لاہور کے درودیوار کی
میناکاری۔
- د ...... ١٩٦٥ء کی جنگ (یاد رہے کہ جنگ سے چند دن پہلے انہی کی صدارت میں لندن میں
متوقع قادیانی حکومت کے سلسلہ میں مشورے ہوئے) جنگ چھڑی تو تنبیہ در تنبیہ کے باوجود ربوہ میں بلیک آؤٹ نہ ہوا اور مجبوراً گورنر مغربی پاکستان نے کنکشن کٹوا دیا۔
- ہ ...... بہ حیثیت وزیر خارجہ غلام قادیان کا ڈھنڈورہ پیٹنا۔
- و ...... بقول حمید نظامی سفارتی دفاتر کو قادیانیت کے اڈوں میں تبدیل کرنا۔
- ز ...... عالمی عدالت میں قانون کی گتھیاں سلجھانا جہاں اب جنگی قیدیوں کا مقدمہ لڑنے گئے
ہیں وغیرہ۔ اللہ کرے ایک ایسی قرارداد یہاں بھی منظور ہو تو خدمات کی "اصلیت" بے نقاب ہو جائے۔
- ١٤ ...... ص ١٢ پر استحکام پاکستان کو خطرہ کے عنوان سے رونا رویا گیا ہے۔ ١٩٥٣ء کی یاد دہانی
کرائی ہے۔ حضور! ١٩٥٣ء کی منیر رپورٹ کو چھوڑیئے، منیر بشرطیکہ اپنے انجام کا شکار نہیں ہوا، سے پوچھئے کہ یہ کیسے مرتب ہوئی؟ باقی ١٩٥٣ء کا آنا لابدی تھا کہ میاں محمود ١٩٥٢ء کے آنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ١٩٥٢ء تو نہ آیا ١٩٥٣ء آگیا اگرچہ ١٩٥٣ء آپ کے آقایان ولی نعمت کی بربریت کا شکار ہو گیا۔ لیکن مبتلائے مصیبت آپ کو بھی کر گیا۔ اب آپ ١٩٥٣ء کے خواب دیکھتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں ١٩٥٣ء پر بھی آسکتا ہے۔ ١٩٥٢ء سے کوئٹہ کو مرزائی صوبہ بنانے سے میجر جنرل نذیر قادیانی کی سربراہی میں راولپنڈی کی سازش سے اور فرقان بٹالین جس کا پردہ اسی مسلم کانفرنس کے رہنما ساغر مرحوم نے چاک کیا تھا، سے استحکام کا خطرہ نہ تھا۔ تو اس قرارداد سے بھی خطرہ نہیں۔ بلکہ مزید استحکام ہوگا۔ صرف سمجھنے کی ضرورت ہے۔
- ١٥ ...... ص ١٣ پر فرماتے ہیں کہ ممکن ہے اس میں کسی دشمن ملک کا ہاتھ ہو۔ ظاہری دشمن
برطانیہ، امریکہ، اسرائیل، بھارت اور روس ہیں۔ برطانیہ کے آپ خود کاشتہ پودے ہیں۔ امریکہ موجودہ دور میں برطانیہ کے جانشین کی حیثیت سے آپ کا مربی ہے۔ حکومت پاکستان نے
٨
اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے باوصف امریکہ کو مشن کی اجازت نہیں دی۔) کتاب بیرونی مشن (فارن مشن) ملا غالباً آپ کو اجازت اس اور ہاں بقول بھٹو صاحب ...... بنگلہ دیش رہنماؤں کا آپ کے خلاف غصہ بھی حق چار لازمی ہے۔ بھارت! تو آپ اس پاکستان آپ کے نزدیک مشیت الہی بھارت کی موجودہ وزیراعظم اندرا گاند "الكفر ملة واحدة" کے مصداق کریں۔ مسلمانوں سے نہیں۔ اس منطق دہلی سے ماسکو کا معاملہ ناقابل فہم نہیں پھر ان کا قرارداد سے کیا واسطہ؟
ص ١٣ پر ارشاد ہے کہ کسی د چور کی نشاندہی کی تو اجازت ہے۔ اس نہیں۔ ایک مسلمان حقیقت میں تحریک کی نشاندہی ہے۔
میجر ایوب صاحب کی قرار صدر و وزیر اعظم کے حلف نامہ کی روشنی سے آگاہ کر کے فرض منصبی کو ادا کیا گیا ہ
- ١٧ ...... آخر میں ص ١٤ پر بانی سلسل
حوالہ سے قرآن کو خاتم الکتب، رسول حقیقی نجات دہندہ قرار دیا گیا ہے۔ ی
EASY
اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے باوصف آپ کا مشن وہاں موجود ہے۔ (جبکہ اس نے اپنے آقا امریکہ کو مشن کی اجازت نہیں دی۔) اپنے مشن کا علم نہ ہو تو موجودہ خلیفہ کے بھائی کی انگریزی کتاب بیرونی مشن (فارن مشن) ملاحظہ فرمائیں۔
غالباً آپ کو اجازت اس لئے ملی کہ آپ یہودیت کا عجمی ایڈیشن ہیں۔ (بقول اقبال) اور ہاں بقول بھٹو صاحب ...... بنگلہ دیش کا منصوبہ اسرائیل میں بنا۔ اسرائیل آپ کا آقا ہے اور بنگالی رہنماؤں کا آپ کے خلاف غصہ بھی حقیقت ہے۔ ان کڑیوں کے ملانے سے دو جمع دو (٢+٢) نتیجہ چار لازمی ہے۔ بھارت! تو آپ اس کی جغرافیائی حدود بڑھانے کے علمبردار ہیں۔ کیونکہ پاکستان آپ کے نزدیک مشیت الٰہی کے خلاف ہے۔ اور مشیت اکھنڈ بھارت چاہتی ہے اور بھارت کی موجودہ وزیراعظم اندرا کے باپ نے آپ کی کھلم کھلا وکالت کی تھی۔ رہ گیا روس تو ”الکفر ملۃ واحدۃ“ کے مصداق اسے ان سے تو ہمدردی ہو سکتی ہے۔ جو مسلم سٹیٹ کو برباد کریں۔ مسلمانوں سے نہیں۔ اس منطق صغریٰ کبریٰ میں، ربوہ سے قادیان، قادیان سے دہلی اور دہلی سے ماسکو کا معاملہ نا قابل فہم نہیں، اب بتلائیے کہ ہمارے دشمن۔ آپ کے تو دوست ہیں۔ پھر ان کا قرارداد سے کیا واسطہ؟
ص ١٣ پر ارشاد ہے کہ کسی دنیوی اسمبلی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو کافر کہے۔ درست لیکن چور کی نشاندہی کی تو اجازت ہے۔ اس اصول کے پیش نظر سکہ بند کافروں کو کافر کہہ دینا تو جرم نہیں۔ ایک مسلمان حقیقت میں ٹریفک کے سپاہی کی مانند ہے۔ چاہے وہ کہیں ہو اس کا فرض خطرہ کی نشاندہی ہے۔
میجر ایوب صاحب کی قرارداد میں آپ کو کافر بنایا نہیں گیا بتایا گیا ہے۔ پاکستان کے صدر و وزیراعظم کے حلف نامہ کی روشنی میں آپ کے کفر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اور اس طرح خطرہ سے آگاہ کر کے فرض منصبی کو ادا کیا گیا ہے اور بس!
- ١٧....... آخر میں ص ١٤ پر بانی سلسلہ غلام قادیان کے ملفوظات کی جلد نمبر ٢ ص ١٠٨، ١٠٧ کے
حوالہ سے قرآن کو خاتم الکتب، رسول کریم کو خاتم الانبیاء ماننے کے ساتھ ساتھ اسلام کو زندہ اور حقیقی نجات دہندہ قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ ملفوظات مرزائیوں کے نزدیک وحی و الہام کی
٩
چیزیں ہیں۔ لیکن ایسی وحی جس کے ایک صفحہ پر کچھ ہے تو دوسرے پر کچھ۔
مرزا صاحب نے وحی کے زور پر یہ بھی کہا جو اوپر ہے اور اپنے کو کرشن، مہدی، مجدد، مسیح موعود، ظلی نبی اور مستقل نبی بھی کہا۔ اپنے معجزات کی اتنی تعداد بیان کی۔ جن سے سب نبیوں کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے اور اپنے کو سب سے افضل کہا۔ اب کونسا ملفوظ مبارک مانیں؟ آپ نے جو ملفوظ نقل کئے۔ وہ سیالکوٹ کے منشی کے تھے۔ ہم جو کہہ رہے ہیں۔ وہ آپ کے سلسلہ کے بانی کے ہیں؟ یا تو آپ اپنے سلسلہ کے بانی سے لاتعلق ہو جائیں اور واضح لفظوں میں کہیں کہ مرزا قادیانی کے ملفوظات مداری کی پٹاری ہیں۔ اور مرزا قادیانی مراقی ہونے کے سبب یہ سب کچھ کہتے رہے۔ حتیٰ کہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی لے ڈوبے۔ تب تو بات بنے۔
لیکن آپ اس پٹاری کی تبلیغ کریں۔ دنیا میں اپنے گماشتے بھیجیں۔ لوگوں کو ماننے کا کہیں۔ بصورت دیگر کافر اور کنجریوں کی اولاد کا فتویٰ دیں تو پھر آپ کے اس اعتراف کو کون مانے گا؟
آپ کے بانی نے اسلام کو زندہ مذہب کہا تو آپ کے ممدوح ظفر اللہ نے اسلام کو مردہ مذہب اور قادیانیت کو زندہ مذہب قرار دیا (کراچی کی تقریر ٥٢) آپ کے ایم ایم احمد نے ملفوظات مرزا کے بل بوتے پر ہی سری کورٹ میں اسے نبی اور اس کے نہ ماننے والوں کو کافر کہا۔ اب کچھ تو کہو کہ ہم کس کی مانیں؟ آپ کے سلسلہ کے بانی کی یا آپ کی؟ آخری سطر ہے کہ یہ میرا عقیدہ ہے۔ اگر یہ کفر ہے تو میں اس پر راضی مجھے دنیا کے کسی فتویٰ کی پرواہ نہیں تو جناب ہم نے بھی تو آپ کو کافر ہی کہا ہے۔ میجر ایوب نے بھی یہی کیا۔ اس سے پہلے مصر، شام، لیبیا، سعودی عرب، افغانستان کی حکومتوں، بہاولپور، راولپنڈی، جیمس آباد کی عدالتوں نے بھی یہی کہا۔ پھر اس پر دہائی کیوں۔
وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں ہے
خدا حقائق کو سمجھ کر اپنانے کی توفیق دے۔ آمین!
٭……٭……٭
١٠
خاتم النبيين لا نبي بعدي
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
مرزائیوں کا
سیاسی کردار
حضرت مولانا سعید الرحمن علوی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ابتدائیہ
”الحمدلله وحده والصلوۃ والسلام على من لا نبي بعده ولا امة بعد امته اما بعد!“
اس حقیقت سے کسی فرد بشر کو انکار نہیں کہ مملکت خداداد پاکستان ایک خاص مقصد کے تحت معرض وجود میں آئی اور اسی مقصد کی خاطر مسلم قوم نے اپنی ہمت و بساط سے بڑھ کر قربانیاں دیں۔ یہ الگ بات ہے کہ آج تک وہ مقصد پورا نہ ہو سکا۔
بلکہ خداوندان حکومت و سیاست نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ آج کچھ لوگوں کو یہ جرأت ہو گئی ہے کہ وہ اس مملکت کے معرض وجود میں آنے کا مقصد ہی کچھ دوسرا بتلا رہے ہیں۔ بلکہ تحریک پاکستان کی قیادت عظمیٰ کو بھی اس میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ اور یہ کہا جا رہا کہ تحریک کی قیادت عظمیٰ ”جمہوری سیکولر سٹیٹ“ کا نقشہ ذہن میں رکھتی تھی۔ رہ گیا۔ ”لا اله الا الله“ کا نعرہ تو یہ محض سیاسی سٹنٹ تھا۔ دیکھئے روزنامہ امروز لاہور کی اشاعت ٧؍مئی ١٩٧٠ء کا (ص٢) راجہ صاحب محمود آباد کا بیان۔
اور روزنامہ امروز لاہور کی اشاعت ١٠؍مئی ١٩٧٠ء کا (ص١) ابوالحسن صفہانی کا بیان۔
پاکستان بن جانے کے بعد ملک کے ناخداؤں نے انگریزوں کے خودکاشتہ پودے اور برطانوی حکومت کے متوقع امیدوار مرزائیوں کو جس طرح بعض کلیدی آسامیوں پر براجمان کیا۔ وہ ملک کی نظریاتی سرحدوں پر پہلی کاری ضرب تھی۔
کیونکہ اس حقیقت کو جھٹلانا ناممکن ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو انگریز سرکار نے اپنے مخصوص مفادات کی خاطر امپورٹ کیا اور اسے منصب نبوت پر بٹھایا۔ ملک کے نامور مفکر اور مجاہد، متکلم اسلام مولانا محمد علی جالندھری نے مورخہ ١٦؍مئی ١٩٧٠ء کو گارڈنیہ ہوٹل سرگودھا میں اخباری نمائندوں کی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس سازش کی مختلف کڑیوں کو یوں بیان فرمایا (افسوس کہ مقبوضہ پریس میں کچھ بھی شائع نہ ہو سکا۔ فیا حسرتا!)
مولانا نے فرمایا:
٢
- الف...... کہ نبی رحمت علیہ التحیۃ والثناء
سربلندی کے لئے جتنی تکلیفیں اٹھائیں ارشاد دال ہے۔ اوذیت مالم یؤذنی پر ہوتا ہے۔ جس نے ایمان کے ساتھ آ پچھلے کلام کو جاری رکھتے ہو جب قتل کی سازش ہوئی تو ہجرت کا حکم ہو گناہ کبیرہ ہے۔ ٨ھ میں اعلان فرمایا ” القيامة (الحديث)“ کہ ہجرت ختم
- ب...... اس وقت دنیا میں دو بڑی ق
١٤ سو سال کے عرصہ میں عیسائیوں سے ہوئی جس کا سلسلہ آج میدان جہاد میں ثواب کی نیت لے کر آ
- ج...... ہندوستان پر انگریز نے قب
تھا۔ کیونکہ انہوں نے نہ صرف فتویٰ ہ (اس کی تفصیلات فتاویٰ عزیزی، عل ١٢۔مرتب!) جو لڑائی ہم نے اپنے آ انگریز نے غدار قرار دیا۔
(اور انگریز کے مقاصد کیں اور اپنے آقا کی کورانہ تقلید کر کے
- د...... ١٨٦٩ء میں انگلستان سے
کا جائزہ لینا تھا اور بالخصوص مسلم قوم ک تاج برطانیہ کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔ میں کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کین کے پادری بھی دعوت خاص پر شریک کہ ”دی ارائیول آف برٹش ایمپائر“
- الف...... کہ نبی رحمت علیہ التحیۃ والثناء اور آپ ﷺ کے جاں نثار ساتھیوں نے دین حق کی
سربلندی کے لئے جتنی تکلیفیں اٹھائیں۔ اتنی کسی نے نہیں اٹھائیں اس پر خود نبی کریم علیہ السلام کا ارشاد دال ہے۔ اوذیت مالم یوذین۔ اس مرحلہ پر مولانا نے فرمایا صحابی کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے۔ جس نے ایمان کے ساتھ آفتاب نبوت کا دیدار کیا ہو۔ چاہے وہ اہل خانہ ہو یا نہ!
پچھلے کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ: ”تکالیف پر خدا کی طرف سے صبر کا حکم تھا جب قتل کی سازش ہوئی تو ہجرت کا حکم ہوا۔“ اور جب جہاد فرض ہوا تو فرمایا ”فرار عن الجهاد“ گناہ کبیرہ ہے۔ ٨ھ میں اعلان فرمایا ”لا هجرة بعد الهجرة والجهاد ماض الى يوم القيامة (الحديث)“ ﴿کہ ہجرت ختم لیکن جہاد قیامت تک رہے گا۔﴾
- ب...... اس وقت دنیا میں دو بڑی حکومتیں تھیں۔ ایران۔ روم۔
١٣؍١٤ سال کے عرصہ میں تھوڑی بہت لڑائیاں تو سب سے ہوئیں۔ لیکن طویل جنگ عیسائیوں سے ہوئی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ چونکہ جہاد حکم شرعی ہے۔ اس لئے مسلمان میدان جہاد میں ثواب کی نیت لے کر آتا ہے۔
- ج...... ہندوستان پر انگریز نے قبضہ کیا تو اہل ہند نے بھرپور مقابلہ کیا۔ اس میں علماء کا بڑا حصہ
تھا۔ کیونکہ انہوں نے نہ صرف فتویٰ جہاد دیا بلکہ مختلف مقامات پر دست بدست لڑائی بھی لڑی۔ (اس کی تفصیلات فتاویٰ عزیزی، علماء ہند کا شاندار ماضی، نقش حیات وغیرہ میں ملیں گی۔ ١٢۔ مرتب!) جو لڑائی ہم نے اپنے حقوق کے تحفظ اور آزادی کے حصول کے لئے لڑی۔ اسے انگریز نے غدر قرار دیا۔
(اور انگریز کے چہیتوں نے بھی وہی وطیرہ اختیار کیا کہ قوم فروشی کر کے جاگیریں حاصل کیں اور اپنے آقا کی کورانہ تقلید کر کے جنگ آزادی کو غدر کا نام دیا، واحسرتا ١٢۔ مرتب!)
- د...... ١٨٦٩ء میں انگلستان سے ایک تحقیقاتی کمیشن آیا جس کا مقصد ہندوستان کے حالات
کا جائزہ لینا تھا اور بالخصوص مسلم قوم کی بے چینی کے اسباب کا سراغ لگانا مقصود تھا۔ نیز یہ کہ مسلمان تاج برطانیہ کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔ یہ وفد سال بھر انڈیا میں مقیم رہا۔ ١٨٧٠ء میں وائٹ ہال لندن میں کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کمیشن مذکورہ کے نمائندگان کے علاوہ ہندوستان میں متعین مشنری کے پادری بھی دعوت خاص پر شریک ہوئے۔ جس میں دونوں نے علیحدہ علیحدہ رپورٹ پیش کی جو کہ ”دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا“ کے نام سے شائع کی گئی۔
٣
کمیشن کے سربراہ سرولیم ہنٹر کا درج ذیل اقتباس خاص طور پر قابل غور ہے۔ "مسلمانوں کا مذہبی عقیدہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کے زیر سایہ نہیں رہ سکتے۔ اور ان کے لئے غیر ملکی حکومت کے خلاف جہاد کرنا ضروری ہے۔ جہاد کے اس تصور سے مسلمانوں میں ایک جوش اور ولولہ ہے اور وہ جہاد کے لئے ہر لمحہ تیار ہیں۔ ان کی کیفیت کسی وقت بھی انہیں حکومت کے خلاف ابھار سکتی ہے۔"
کانفرنس میں شریک ہونے والے پادری صاحبان نے اس مشکل کا جو حل تجویز کیا وہ بھی اس رپورٹ میں موجود ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ۔ "یہاں کے باشندوں کی ایک بہت بڑی اکثریت پیری مریدی کے رجحانات کی حامل ہے۔ اگر اس وقت ہم کسی ایسے غدار کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں جو ظلی نبوت کا دعویٰ کرنے کو تیار ہو جائے تو اسکے حلقہ نبوت میں ہزاروں لوگ جوق در جوق شامل ہو جائیں گے۔ لیکن مسلمانوں میں سے اس قسم کے دعویٰ کے لئے کسی کو تیار کرنا ہی بنیادی کام ہے۔ یہ مشکل حل ہو جائے تو اس شخص کی نبوت کو حکومت کے زیر سایہ پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ ہم اس سے پہلے برصغیر کی تمام حکومتوں کو غدار تلاش کرنے کی حکمت عملی سے شکست دے چکے ہیں۔ وہ مرحلہ اور تھا۔ اس وقت فوجی نقطہ نظر سے غداروں کی تلاش کی گئی تھی۔ لیکن اب جب کہ ہم برصغیر کے چپہ چپہ پر حکمران ہو چکے ہیں اور ہر طرف امن وامان بھی بحال ہو گیا ہے۔ تو ان حالات میں ہمیں کسی ایسے منصوبہ پر عمل کرنا چاہئے جو یہاں کے باشندوں کے داخلی انتشار کا باعث ہوتا۔"
(اقتباس از مطبوعہ رپورٹ کانفرنس وہائٹ ہال لندن منعقدہ ١٨٧٠ء، دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا")
اور یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ انگلستان کے وزیر اعظم گلیڈسٹون نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ: ”جب تک یہ کتاب (قرآن) دنیا میں موجود ہے۔ ہم اطمینان سے حکومت نہیں کر سکتے یہ کہہ کر اس بدبخت نے کلام الہی کو زمین پر دے مارا۔“
چونکہ قرآنی حکومت کے پیش نظر جہاد ایک ایسا مقدس فریضہ اور محبوب مشغلہ تھا جس کے طفیل عرب کے بادیہ نشینوں نے قیصر و کسریٰ کے تخت الٹ دیئے۔ اس لئے سازشیں کی گئی کہ مسلمانوں میں کوئی غدار تلاش کیا جائے۔ وہ دعویٰ نبوت کر کے جہاد کو حرام اور انگریزی حکومت کی تابعداری کو فرض عین قرار دے۔
مولانا نے فرمایا کہ یہ سوال حل طلب ہے کہ پادریوں نے نبی کے متعلق کیوں سوچا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت تک جہاد باقی رہنے کا اعلان چونکہ نبی علیہ السلام نے کیا ہے اور نبی
٤
کے حکم کو نبی ہی منسوخ کر سکتا ہے۔ کر سکتے ہیں۔ اس لئے کہ عالم کا کا اس لئے مدعی نبوت کا منصوبہ تیار کیا ....... اس مقصد کی خاطر مرزا قا ان کے خاندان نے سرکار برطانیہ سے کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دے۔ موجود ہیں جن میں سے چند یہ ہیں ۔
- ١....... مرزا قادیانی نے لیفٹینن
پودا لکھا اور اپنی جماعت وخاندان کی کے نام لکھے اور اس چٹھی کا مقصد مرز دیکھیں چٹھی مرزا قادیانی (٢٤ فروری ١٨
- ٢....... وائسرائے کے خط میں م
(جنگ آزادی یا فسادات ١٨٥٧ء مرزائیوں کا محسن ہے ١٢؍ مرتب) کو
- ٣....... ”میری عمر کا اکثر حصہ
ضروری ہے۔“
- ٤....... ”انگریز کی اطاعت کا
زبانوں میں لٹریچر لکھا جو پوری دنیا الماریاں بھر جائیں گی۔ اور اس کا ہے جو مکہ، مدینہ، قسطنطنیہ وغیرہ میں
- ٥....... مرزا قادیانی کی کتاب
ہے۔ جس میں جی بھر کر برطانوی ۔ ہے۔
- ٦....... شہادت القرآن کے صفحہ
کے حکم کو نبی ہی منسوخ کر سکتا ہے۔ ایک لاکھ علماء کے مقابلہ میں دو لاکھ کھڑے ہو کر ان کی تغلیط کر سکتے ہیں۔ اس لئے کہ عالم کا کام مسئلہ بتانا ہے۔ بنانا نہیں۔ تبدیل شریعت نبی کا کام ہے۔ اس لئے مدعی نبوت کا منصوبہ تیار کیا گیا۔
......و اس مقصد کی خاطر مرزا غلام احمد قادیانی سے بہتر کوئی آدمی نہ تھا کیونکہ مرزا قادیانی اور ان کے خاندان کے سرکار برطانیہ سے دیرینہ مراسم تھے۔ اور یہ لوگ برطانوی حکومت کے استحکام کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دے چکے تھے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کے لاتعداد اعترافات موجود ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔
- ......١ مرزا قادیانی نے لیفٹیننٹ گورنر کے نام خط میں اپنے آپ کو تاج برطانیہ کا خودکاشتہ
پودا لکھا اور اپنی جماعت و خاندان کی خدمات کو درج کر کے آخر میں جماعت کے ٣١٦ آدمیوں کے نام لکھے اور اس چٹھی کا مقصد مزید مراعات حاصل کرنا اور عنایات خسروانہ کی التماس تھی۔ دیکھیں چٹھی مرزا قادیانی مرقومہ
(٢٣ فروری ١٨٩٨ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد نمبر ٧ ص ١٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
- ......٢ وائسرائے کے خط میں مرزا قادیانی نے لکھا ”میرے باپ نے ١٨٥٧ء کے فسادات
(جنگ آزادی یا فسادات؟ ١٢ مرتب) میں ٥٠ گھوڑے اور ٥٠ آدمی بمدد گورنمنٹ (انگریز مرزائیوں کا محسن ہے ١٢ مرتب) کو دیئے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٣٩)
- ......٣ ”میری عمر کا اکثر حصہ اس مقصد میں گزرا کہ جہاد حرام ہے اور انگریز کی اطاعت
ضروری ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١ ملخص)
- ......٤ ”انگریز کی اطاعت کا جذبہ پیدا کرنے اور جہاد کے تصور کو ختم کرنے کے لئے متعدد
زبانوں میں لٹریچر لکھا جو پوری دنیا میں پھیلایا۔ اگر اس سارے لٹریچر کو اکٹھا کیا جائے تو پچاس الماریاں بھر جائیں گی۔ اور اس کا مقصد یہ تھا کہ مجھے اس سلطنت برطانیہ کے زیر سایہ وہ امن ملا ہے جو مکہ، مدینہ، قسطنطنیہ وغیرہ میں کہیں بھی نہ مل سکتا تھا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦ ملخص)
- ......٥ مرزا قادیانی کی کتاب ”ستارہ قیصریہ“ میں ملکہ برطانیہ کے نام ایک طویل چٹھی موجود
ہے۔ جس میں جی بھر کر برطانوی سامراج کی تعریف کی گئی ہے اور اپنے لئے اس کی بھیک مانگی گئی ہے۔
- ......٦ شہادت القرآن کے ضمیمہ پر مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ”چونکہ انگریز ہمارے محسن ہیں۔ -
٥
اس لئے ان کا شکریہ ہم پر لازم ہے۔ جب ہم محسن کا شکر ادا نہ کریں گے تو گویا ہم نے خدا کا بھی شکر ادا نہیں کیا۔“
(شہادت القرآن ص ج ٣ ، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
آگے چل کر انگریز سے لڑائی کرنے والوں کو احمق کہا ہے اور صاف لفظوں میں اعتراف کیا ہے کہ : ”میرا مذہب جس کو میں نے بار بار ظاہر کیا ہے۔ یہ ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ پہلا یہ کہ خدا کی اطاعت کی جائے ۔ دوسرا یہ کہ اس کی سلطنت کی اطاعت کی جائے جس نے امن قائم کیا اور وہ سلطنت برطانیہ ہے۔“
(شہادت القرآن ص ج ٣ ، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
نوٹ....... انگریزی حکومت کی وفاداری کے سلسلہ میں نمبر ١ سے نمبر ٤ تک حوالے مولانا جالندھری کے ارشاد فرمودہ ہیں۔ باقی میں نے بڑھائے ہیں۔
(از مرتب)
سوال....... جب مرزا قادیانی انگریز کے اتنے وفادار تھے تو پھر عیسائیوں کے خلاف کتابیں کیوں لکھیں۔ ان سے مباحثے کیوں کئے؟
یہ ایک سوال ہے جو ہر ذہن میں اٹھتا ہے اس کا جواب مولانا نے خود مرزا قادیانی کی تحریروں سے دیا اور فرمایا کہ مرزا نے سرکاری عمال کو جو خطوط لکھے۔ اس میں خود ہی اس سوال کا جواب دے دیا کہ چونکہ مسلمان ایک جوش رکھنے والی قوم ہے۔ اور عیسائی پادریوں نے اس پیغمبر اسلام کے خلاف بڑی گندی زبان استعمال کی تھی۔ اس لئے میں نے محض مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا۔
گویا یہ بھی ایک طرح سے انگریز کی ہی وفاداری ہے کہ: ”حکمت عملی سے وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ والد مرحوم کے اثر ، گورنمنٹ عالیہ کے احسانات اور خدا تعالیٰ کے الہام نے مجھے گورنمنٹ برطانیہ کا اول درجہ کا خیر خواہ بنا دیا ہے۔“ مرزا صاحب کی عاجزانہ درخواست بحضور گورنمنٹ مرقومہ ٢٧ ستمبر ١٨٩٩ء۔
(ضمیمہ تریاق القلوب ص ج ، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)
ان ساری تفصیلات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کس کے کھونٹے پر ناچ کر دعویٰ نبوت کیا۔
جب دعاوی پورے ہو گئے تو اب ضرورت تھی کہ جہاد کے اسلامی نظریہ کے خلاف فضا پیدا کی جائے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اس سلسلہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اعترافات ملاحظہ ہوں۔
- .......١ مرزا قادیانی کی کتاب (تحفہ
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام
اب آسمان سے نور خدا کا نزول
تم میں سے جس کو دین و دیانت سے
لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت مسیح
ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے
- .......٢ ان کی کتاب (اربعین نمبر
اعلان موجود ہے جس میں جہاد کو قطعاً
- .......٣ مینارۃ المسیح کے لئے چندہ
فرماتے ہیں کہ اس مینارہ میں ایک کم پہچان کر سمجھ لیں کہ مسیح آ چکا اور باب
- .......٤ (تریاق القلوب کے اشتہا
جس کا مجھے خدا نے امام مقرر کیا ہے میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں....... اور قط
- .......٥ ”میں یقین رکھتا ہوں
کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیو
ان اعترافات کے بعد ہیں۔ تاہم مزید چند حوالے ملاحظہ کے مفادات کے لئے سرگرم عمل رہ
- .......١ موسیو بشیر الدین آنجہا
کو حکومت افغانستان نے محض اس اور برطانوی سرکار کے تسلط کی خا انجینئر کی کتاب سے ہوا جو افغانست نایاب ہو چکی ہے اور اتفاقاً ایک ل
- ١...... مرزا قادیانی کی کتاب (تحفہ گولڑویہ کے ضمیمہ ص ٢٦ تا ٢٩، خزائن ج ١٧ ص ٧٧ تا ٨٠) میں ہے۔
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
تم میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار اب اس کا فرض ہے کہ وہ دل کر کے استوار
لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت مسیح ہے اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے
ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خدا
- ٢...... ان کی کتاب (اربعین نمبر ٣ ص ١٣ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣) پر ١٥/دسمبر ١٩٠٠ء کا ایک
اعلان موجود ہے جس میں جہاد کو قطعاً موقوف قرار دیا گیا ہے۔
- ٣...... مینارۃ المسیح کے لئے چندہ کا جو اشتہار دیا اسے اپنا خطبہ الہامیہ نقل کیا ہے۔ جس میں
فرماتے ہیں کہ اس مینارہ میں ایک گھنٹہ نصب کیا جائے گا۔ جس کا مقصد یہ ہوگا کہ لوگ وقت کو پہچان کر سمجھ لیں کہ مسیح آچکا اور باب جہاد بند ہے۔
- ٤...... (تریاق القلوب کے اشتہار واجب الاظہار ص ٢١، خزائن ج ١٥ ص ٥١٧) پر لکھا ہے کہ: ”وہ فرقہ
جس کا مجھے خدا نے امام مقرر کیا ہے۔ اپنے ساتھ بڑا امتیازی نشان رکھتا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں...... اور قطعاً اس بات کو حرام سمجھتا ہے۔“
- ٥...... ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے۔ ویسے ویسے مسئلہ جہاد
کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، مطبوعہ فاروق پریس قادیان اگست ١٩٢٢ء)
ان اعترافات کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قادیانی انگریز کے خود کاشتہ پودے ہیں۔ تاہم مزید چند حوالے ملاحظہ فرمائیں جس سے معلوم ہو سکے گا کہ مرزائی پوری دنیا میں انگریز کے مفادات کے لئے سرگرم عمل رہتے ہیں اور ان کا مقصد ہی برطانیہ کے لئے جاسوسی کرنا ہے۔
- ١...... میاں بشیر الدین محمود اپنے خطبہ میں اعتراف کرتے ہیں کہ صاحبزادہ عبداللطیف
کو حکومت افغانستان نے محض اس لئے مروایا کہ وہ افغانستان میں جہاد کے خلاف تبلیغ کرتے تھے اور برطانوی سرکار کے تسلط کی خاطر کوشاں رہتے تھے۔ بقول موسیو اس راز کا انکشاف اطالوی انجینئر کی کتاب سے ہوا جو افغانستان میں ایک ذمہ دار عہدے پر فائز تھا۔ اس کی یہ کتاب چھپ کر نایاب ہو چکی ہے اور اتفاقاً ایک لائبریری میں مل گئی۔
(خطبہ جمعہ مندرجہ الفضل ٦/اگست ١٩٣٥ء)
٧
- ٢ ...... افغانستان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ: "ملا عبدالحلیم اور ملا نور علی قادیانی
عقائد کے گرویدہ ہو چکے ہیں۔ اور لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کے قبضے سے سازشی خطوط برآمد ہوئے جو غیر ممالک سے آئے ہیں۔ ان خطوط سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھوں بک چکے ہیں۔"
(اخبار الفضل بحوالہ امان افغان مورخہ ٣؍مارچ ١٩٢٥ء)
- ٣ ...... قادیانی مبلغ محمد امین کا بیان اخبار الفضل مورخہ (٢٨؍ستمبر ١٩٢٢ء) میں شائع ہوا جس
میں اس نے کہا کہ میں روسیہ (روس) میں اگرچہ تبلیغ احمدیت کے لئے گیا تھا لیکن چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش حکومت کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ اس لئے جہاں میں اپنے سلسلے کی تبلیغ کرتا تھا۔ وہاں لازماً مجھے گورنمنٹ انگریزی کی خدمت گزاری بھی کرنی پڑتی تھی۔
- ٤ ...... قادیانی خلیفہ آنجہانی میاں بشیر الدین کا خطبہ مرقومہ (الفضل یکم نومبر ١٩٣٣ء) ملاحظہ
فرمائیں: "دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ جب جرمنی میں احمدیہ عمارت کے افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن وزیر نے شمولیت کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم ایسی جماعت کی تقریب میں شامل ہوئے جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔" (پھر قادیانی خلیفہ نے اس کی کوئی تردید نہ کی۔ کرتے بھی کیسے جرمن والوں نے سچ ہی تو سمجھا تھا)
- ٥ ...... لارڈ ہارڈنگ کی سیاحت عراق پر اظہار خیال کو (الفضل ١١؍فروری ١٩١٠ء) میں ملاحظہ
فرمائیں: "ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع کے ساتھ ہمارے لئے اشاعت اسلام کا میدان بھی وسیع ہو جائے گا اور غیر مسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمان کو پھر مسلمان کریں گے۔"
- ٦ ...... "فی الواقع گورنمنٹ برطانیہ ایک ڈھال ہے جس کے نیچے احمدی جماعت آگے ہی
آگے بڑھتی جاتی ہے۔ اس ڈھال کو ذرا ایک طرف کر دو اور دیکھو کہ زہریلے تیروں کی کیسی خطرناک بارش تمہارے سروں پر ہوتی ہے۔ پس کیوں ہم اس گورنمنٹ کے شکر گزار نہ ہوں۔ ہمارے فوائد اس گورنمنٹ سے متحد ہو گئے ہیں۔ اور اس گورنمنٹ کی تباہی ہماری تباہی ہے اور اس گورنمنٹ کی ترقی ہماری ترقی ! ...... جہاں جہاں اس گورنمنٹ کی حکومت پھیلتی جاتی ہے ہمارے لئے تبلیغ کا ایک میدان نکل آتا ہے۔"
(الفضل ١٩؍اکتوبر ١٩١٥ء)
- ٧ ...... "سلسلہ احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ سے جو تعلق ہے وہ باقی تمام جماعتوں سے نرالا
ہے۔ ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائد ایک ہو گئے ہیں۔ گورنمنٹ
٨
برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ہمیں بھی آگے نقصان پہنچے تو اس صدمے سے ہم بھی محزون
اتنے ٹھوس حوالوں کے بعد بھی اس سے انکار کر سکتا ہے کہ مرزائی ا یہی وجہ ہے کہ مرزائی ا (منیر رپورٹ ص ١٩٦) اور اس خیال میں پر بھی قادیانی فتنہ نظر آ رہا تھا۔
قادیانی جماعت کا اصلی چہ و اسباب تھے کہ مصور پاکستان شاعر مشر کے خلاف آواز بلند کی، مرحوم اقبال ن فرمائیں ۔ فرماتے ہیں :۔
جس نبوت ۔
- ٢ ...... پنڈت جواہر لال نہرو کے
ملاحظہ ہوں ۔
- الف ...... "دینیاتی نقطہ نظر سے اس
تنظیم میں محمد ﷺ کے بعد کسی ایسے شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ اسلام
- ب ...... "علماء ہند نے قادیانیت
مقابلہ کرنے نکل آئے۔ میرا خیال ہے ١٨٩٩ء سے ہندوستان میں اسلامی دنیا اصل محرکات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ہے۔ اُسی سال ٹیپو کی شکست ہوئی۔ اُسی ایشیاء میں اسلام کا انحطاط انتہا کو پہنچ گیا
برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ہمیں بھی آگے قدم بڑھانے کا موقع ملتا ہے اور اس کو خدانخواستہ اگر کوئی نقصان پہنچے تو اس صدمے سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے ۔"
(خلیفہ قادیان کا اعلان مندرجہ اخبار الفضل ٢٧ / جولائی ١٩١٨ء)
اتنے ٹھوس حوالوں کے بعد بھی کوئی کسر باقی رہ جاتی ہے؟ اور کوئی عقل مند آدمی اب بھی اس سے انکار کر سکتا ہے کہ مرزائی برطانوی سامراج کے مہرے اور دم چھلے نہیں؟
یہی وجہ ہے کہ مرزائی اس ملک میں انگریز کے متوقع جانشین تھے۔ ملاحظہ ہو (منیر رپورٹ ص ١٩٦) اور اس خیال میں مرزائی اتنے مست تھے کہ انہیں ہندوستان سے بڑھ کر روس پر بھی قادیانی پھریرا نظر آ رہا تھا۔
(خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ الفضل ٤ / اگست ١٩٤٦ء)
قادیانی جماعت کا اصلی چہرہ خود انہی کی عبارتوں سے آپ نے دیکھ لیا۔ یہی حالات و اسباب تھے کہ مصور پاکستان شاعر مشرق علامہ محمد اقبال مرحوم نے برٹش دور میں ہی اس فرقہ ضالہ کے خلاف آواز بلند کی ، مرحوم اقبال نے نظم ونثر میں مرزائیت کا اصلی چہرہ بے نقاب کیا۔ ملاحظہ فرمائیں۔ فرماتے ہیں :۔
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام
(کلیات اقبال ضرب کلیم ص ٦٨٦)
- ٢....... پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں اقبال مرحوم کے طویل بیان کے اقتباسات
ملاحظہ ہوں۔
- الف...... "دینیاتی نقطہ نظر سے اس نظریہ کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ اسلام کی اجتماعی اور سیاسی
تنظیم میں محمد ﷺ کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں ۔ جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے ۔ وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔"
- ب....... "علماء ہند نے قادیانیت کو ایک دینی تحریک تصور کیا اور دینیاتی حربوں سے اس کا
مقابلہ کرنے نکل آئے ۔ میرا خیال ہے اس تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے یہ طریقہ موزوں نہیں۔ ١٧٩٩ء سے ہندوستان میں اسلامی دینیات کی جو تاریخ رہی ہے ۔ اس کی روشنی میں احمدیت کے اصل محرکات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ دنیائے اسلام کی تاریخ میں ١٧٩٩ء کا سال بے حد اہم ہے۔ اسی سال ٹیپو کی شکست ہوئی ۔ اسی سال جنگ نوارینو ہوئی۔ جس میں ترکی کا بیڑہ تباہ ہو گیا اور ایشیاء میں اسلام کا انحطاط انتہا کو پہنچ گیا۔"
٩
- ٢...... ”مسلمان عوام کو صرف ایک چیز قطعی طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ اور وہ زبانی سند ہے۔
احمدیت نے اس الہامی بنیاد کو فراہم کیا اور اس طرح جیسا کہ اس کا دعویٰ ہے۔ برطانوی شہنشاہیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ جو اس نے سرانجام دی ہے۔“
- ٣...... ”قادیانی تحریک نے مسلمانوں کے ملی استحکام کو بے حد نقصان پہنچایا اگر استیصال نہ کیا
گیا تو آئندہ شدید نقصان پہنچے گا۔“
(ملفوظات اقبال مرتبہ عبدالرشید طارق)
- ٤...... ”ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش
نہیں کرنا چاہئے۔ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو پھر سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل ہونے کے لئے کیوں مضطرب ہیں۔ ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے کیونکہ ابھی وہ (قادیانی) اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا سکے۔“
(سٹیٹسمین کے نام علامہ اقبال کا خط ١٠ جون ١٩٣٥ء)
- ٥...... ”بہائیت، قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی
ہے۔ لیکن مؤخر الذکر (قادیانیت) اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔ اس کے خمیر میں یہودیت کے عناصر ہیں۔ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف راجع ہے۔“
(قادیانیت اور اسلام جواب نہرو)
- ٦...... ملفوظات مرتبہ عرشی کا درج ذیل ملفوظ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس سے اقبال مرحوم
کی بصیرت کا پتہ چل سکے گا اور معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے کس طرح قادیانیت کی حقیقت کو بھانپ لیا تھا۔ آخر عمر میں قریباً ہر صحبت میں مرزا غلام احمد قادیانی کا ذکر آ جاتا تھا۔ ایک دفعہ فرمایا۔
”سلطان ٹیپو کے جہاد حریت سے انگریزوں نے اندازہ کیا کہ مسئلہ جہاد ان کی حکومت کے لئے مستقل خطرہ ہے۔ جب تک شریعت اسلام سے اس مسئلہ کو خارج نہ کیا جائے۔ ان کا مستقبل محفوظ نہیں۔ لیکن تنسیخ جہاد کے لئے انسانی علم کو ناکافی سمجھ کر ایک جدید نبوت کی ضرورت محسوس ہوئی جس کا بنیادی موقف ہی یہ ہو کہ اقوام اسلامیہ میں تنسیخ جہاد کی تبلیغ دی جائے۔ احمدیت کو حقیقی سبب اسی ضرورت کا احساس تھا۔“
- ٧...... ”کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ
معاندانہ قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے۔ (اس ضمن میں رواداری ایک ....... اصطلاح
١٠
ہے)۔ اصل جماعت کو رواداری کی وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو پلے باندھتے ۔
- ٨...... ”حکومت کے لئے بہتر
کرے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی ہ برتیں گے جیسا باقی مذاہب کے معام
- ٩...... ”رواداری کی تلقین کر
کرتے ہیں۔ جو اپنے مذہب کی سرپ
- ١٠...... ”اسلام ایسی کسی تحریک
خطرہ اور مستقبل میں انسانی سوسائٹی
مصور پاکستان مرحوم کے ہیں۔ ان میں ہر مخلص و غیور پاکستانی تحریک کے متعلق کیا رائے رکھتے تھے مسئلہ کے حل میں کوشاں رہتے تھے آ دیا جائے اور امت مسلمہ کی ملی وحدت نے انہیں آ دبوچا اور ان کی تحریک الا مزید ستم اور افسوس یہ ہ زیادہ ضرر رساں سمجھا۔ اس کے متعلق باتیں بازو کی تقسیم کا شکار ہو کر اقبا جا رہی ہے۔ ایک فریق مرحوم کو علم دوسرا فریق کلام اقبال سے سوشلزم ب حالانکہ اقبال سیدھے سا تصور نہ تھا بلکہ وہ صراط مستقیم کی طرف کھپادی ۔
گز بہ ا
ہے ۔) اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو ۔ خواہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو ۔“ (جواب نہرو) کاش اس جملہ کو ہمارے خداوندان سیاست پلے باندھتے ۔
- ٨...... "حکومت کے لئے بہترین طریقہ کار یہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم
کرے ۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے بھی عین مطابق ہوگا۔ مسلمان ان سے ویسی ہی رواداری برتیں گے جیسا باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتے ہیں ۔“ (جواب نہرو)
- ٩...... "رواداری کی تلقین کرنے والے اس شخص پر عدم رواداری کا الزام لگانے میں غلطی
کرتے ہیں۔ جو اپنے مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے ۔“
- ١٠...... "اسلام ایسی کسی تحریک کے ساتھ ہمدردی نہیں رکھتا جو اس کی موجودہ وحدت کے لئے
خطرہ اور مستقبل میں انسانی سوسائٹی کے لئے مزید افتراق کا باعث ہو ۔“ (تلك عشرة كاملة)
مصور پاکستان مرحوم کے ارشادات و خطبات میں سے یہ دس اقتباسات نقل کئے گئے ہیں۔ ان میں ہر مخلص و غیور پاکستانی مسلم کے لئے سرمۂ بصیرت موجود ہے کہ اقبال مرحوم قادیانی تحریک کے متعلق کیا رائے رکھتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ عمر کے آخری دور میں خاص طور پر وہ اس مسئلہ کے حل میں کوشاں رہتے تھے کہ کسی طرح قادیانیت کو امت مسلمہ سے الگ امت قرار دے دیا جائے اور امت مسلمہ کی ملی وحدت کو مزید نقصان نہ پہنچے لیکن افسوس کہ موت کے بے رحم ہاتھوں نے انہیں آ دبوچا اور ان کی تحریک ان کی زندگی میں کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی ۔
مزید ستم اور افسوس یہ ہے کہ جس چیز کو اقبال مرحوم نے ملی وحدت کے لئے سب سے زیادہ ضرر رساں سمجھا۔ اس کے متعلق تو نام نہاد وارثان اقبال کی زبانیں گنگ ہیں ۔ البتہ دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم کا شکار ہو کر اقبال کی تعلیم کو اپنے اپنے سانچے میں ڈھالنے کی مذموم سعی کی جا رہی ہے۔ ایک فریق مرحوم کو علمبردار جمہوریت ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے تو دوسرا فریق کلام اقبال سے سوشلزم کے حق میں سند لانے کی فکر میں ہے ۔
حالانکہ اقبال سیدھے سادھے مسلمان تھے ان کے نزدیک دائیں اور بائیں بازو کا کوئی تصور نہ تھا بلکہ وہ صراط مستقیم کی طرف جانے والے حدی خواں تھے اور اسی مقصد میں انہوں نے عمر کھپادی ۔
گر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است
١١
یہ اقبال کی تعلیم کا مرکزی نکتہ ہے۔ افسوس کہ اسے بھلا کر آج اس غریب کو دوسرے پیمانوں سے ناپنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
جس پاکستان کے لئے اقبال نے الہٰ آباد کے اجلاس میں قرارداد پیش کر کے بنیادی پتھر رکھا تھا۔ وہ پاکستان آج قادیانیوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد جہاں ظفر اللہ قادیانی کو وزیر خارجہ بنایا گیا۔ وہاں دوسرے مرزائیوں کو دوسری کلیدی آسامیوں پر براجمان کر کے روح اقبال کو تڑپایا گیا اور ظفر اللہ کی طوطا چشمی کا یہ عالم تھا کہ اس نے گورداسپور کے ضلع کو انڈیا کے سپرد کر کے کشمیر کے مسئلہ کو الجھایا۔ افغانستان سے ہمارے تعلقات بگڑے۔ مشرق وسطیٰ میں ہم انتہائی بدنام ہوئے اور طرفہ یہ کہ ہمیں امریکہ کے گھڑے کی مچھلی سمجھا جانے لگا۔ اور پھر اسی ظفر اللہ نے اپنے محسن بانی پاکستان کا جنازہ تک نہ پڑھا۔
١٩٥٣ء میں جب ملک بھر کے علماء اور دیندار طبقہ نے منظم ہو کر قادیانیوں کے سلسلہ میں اقبال کے خواب کی تعبیر کا منصوبہ بنایا تو:
- الف ...... ایک طرف تو اقبال کی وارث مسلم لیگ نے جو عنان اقتدار کی مالک تھی۔ اہل حق کو ہی
رگیدا اور مرزائیوں کو گلے لگائے رکھا شاید مسلم لیگ کا یہ پرانا وطیرہ تھا کہ اہل حق کے مقابلہ میں اس نے ہمیشہ منکرین ختم نبوت کو ہم نوالہ ہم پیالہ بنائے رکھا۔
اس جماعت کی تاریخ میں ایک دور پہلے بھی آیا جب اس کی ساکھ کو قادیانی خلیفہ نے قائم رکھا۔ دیکھیں:
(مدینہ بجنور ٩ نومبر ١٩٤٩ء)
- ب ...... دوسری طرف کلام اقبال سے اپنی تقریروں کو چٹ پٹی بنانے والے علماء کرام نے نہ
صرف لاتعلقی کا اظہار کیا۔ بلکہ ناموس رسالت پر کٹ مرنے والے اہل حق کو باغی و مفسد قرار دے کر حکومت وقت اور قادیانیوں کی خوشنودی حاصل کی اور روح مصطفیٰ کی پھٹکار کا طوق گلے میں باندھ لیا۔ فیا حسرتا۔
- ج ...... تیسری طرف اقبال کے ناکردہ گناہوں کو بخش کر حال ہی میں ”اقبال ڈے“ منانے
والے اسلام کے نام نہاد اجارہ داروں نے عین وقت پر تحریک کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر سلطانی گواہ کا کردار ادا کر کے دارین کی ابدی لعنت کا تمغہ بحق خود رجسٹرڈ کروا لیا۔
یہ تحریک چونکہ اپنے اصلی مقصد میں کامیاب نہ ہوسکی۔ اس لئے چند سالوں کے بعد جب سابق صدر ایوب خان کا دور آیا تو پھر قادیانیوں نے پر پرزے نکالنے شروع کر دیئے۔
پاکستان کے ابتدائی دور کی طرح یار لوگ پھر کلیدی آسامیوں پر براجمان ہوگئے اور
١٢
پھر سے ملک کے سیاہ و سفید کے قابض ہو گئے۔ مرزائیوں کے ظاہری کردار سے یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ وہ ملک کے بڑے خیر خواہ ہیں۔ کیوں کہ ان کی وساطت سے ہمیں پہلے بھی غیر ملکی امداد ملتی تھی (جب ظفر اللہ تھا) اور آج بھی ملتی ہے (جب ایم ایم احمد ہے۔) ارباب بصیرت تو اس امداد کو زہر سمجھتے ہیں۔ لیکن خوش فہم طبقہ اس سے بڑا متاثر ہوتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ آخر مرزائی ملک کے دشمن کیوں ہیں؟ اس پیچیدہ اور ٹیڑھے سوال کا مفصل جواب آپ کو آئندہ صفحات میں ملے گا۔ اس کی تقریب یوں ہوئی کہ ١٥، ١٦؍مئی ١٩٧٠ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے زیر اہتمام دو روزہ عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پہلے دن مجلس کے ناظم اعلیٰ، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر (جو حال ہی میں یورپ کے دورہ سے واپس تشریف لائے ہیں) کے علاوہ دوسرے حضرات نے خطاب کیا۔
اور اگلے دن حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے پریس کانفرنس سے بھی خطاب فرمایا (جس کا حوالہ شروع میں گزر چکا ہے) اور رات کے جلسہ عام میں بھی ان محترم نے ہی تقریر کی۔
احقر نے بعض بزرگوں اور دوستوں کی خواہش پر یہی سوال مولانا موصوف کی خدمت میں پیش کر کے استدعا کی کہ رات کو اس سوال کا مفصل جواب عنایت فرمایا جائے۔
مجھے خوشی ہے کہ موصوف نے احقر کی اس گزارش کو شرف قبولیت سے نوازا اور وعدہ فرمالیا۔
چنانچہ رات کو آپ نے اسی موضوع پر تقریباً تین گھنٹہ مفصل تقریر فرمائی جسے فوری طور پر قلم بند کر لیا گیا اور اگلے ہی دن ضروری نوٹ مرتب کر کے جماعتی آرگن ہفت روزہ ”لولاک“ لائل پور میں اشاعت کے لئے بھیج دیئے جو لولاک کی اشاعت مجریہ ١٢؍جون ١٩٧٠ء میں شائع ہو چکے ہیں۔
برادر محترم کی خواہش کو ٹالنا میرے لئے ممکن نہ تھا۔ تاہم بے پناہ مصروفیات کے سبب دیر ضرور ہو گئی اور اب تھوڑا سا وقت نکال کر میں اس قابل ہوا ہوں کہ اس قیمتی تقریب کو مرتب کردوں۔
استدعا! ملک بھر کی سیاسی پارٹیوں اور بالخصوص موجودہ حکومت سے دردمندانہ گزارش ہے کہ یہ ملک حضور ختمی مرتبت ﷺ کے جوتوں کے صدقہ میں ہمیں نصیب ہوا۔ اس کے حصول کے لئے ہمیں آگ اور خون کے سمندر سے گزرنا پڑا۔ قیام ملک کے فوراً بعد مرزائی اس ملک کے لئے خطرہ بن گئے تھے۔ جس کا سد باب تحریک ١٩٥٣ء سے ہوا۔ آج پھر مرزائی اس ملک کے لئے
١٤
خطرہ بن چکے ہیں۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ دین حق کی سربلندی کی خاطر بننے والا ملک مرزائیل کی شکل اختیار کر لے اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو پھر یقین رکھیں کہ جہاں ہم روح مصطفیٰ کے غضب کا شکار ہوں گے۔ وہاں مصور پاکستان کی روح بھی ہمارا ماتم کرے گی۔ اور لاکھوں فرزندان توحید کی شہادت و قربانی کے لئے بھی ہمارے پاس کوئی وجہ جواز نہ ہوگی۔ لاتعداد عصمت مآب خواتین اور معصوم بچوں کی معصومانہ قربانیاں ہمارے لئے قہر خداوندی بن جائیں گی۔ ”فتدبروا وتفکروا“
اس وقت ملک میں سوشلزم اور اسلام کی جو نام نہاد جنگ چھڑ چکی ہے اور جس کے نتیجہ میں نفرت و حقارت کے جذبات بڑھ رہے ہیں اور ایک خدا کے نام لیوا ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کی فکر میں ہیں۔ اس کا بانی مبانی بین الاقوامی عدالت انصاف کا جج سر ظفر اللہ قادیانی ہی ہے۔ دیکھیں ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی اشاعت مجریہ ٥/جون ١٩٧٠ء بعنوان ”ماضی کے آئینہ میں حال کے سیاسی چہرے۔“
یہ وہی ظفر اللہ ہے جس کے نامہ اعمال میں تحریک ختم نبوت کے ہزاروں پروانوں کا خون عذاب خداوندی کی صورت میں ثبت ہے۔ سوچیں کہ ظفر اللہ اس نام نہاد جنگ کے ذریعہ پھر سے تو کوئی ناٹک رچانا نہیں چاہتا؟
اور مشرقی و مغربی پاکستان کی بڑھتی ہوئی نفرت و بے گانگی کا سبب مرزائی افسر ایم ایم احمد ہے جو پورے ملک کی قسمت کا واحد مالک بن کر قومی منصوبوں پر اپنی چودھراہٹ قائم کئے ہوئے ہے۔
دیکھیں ہفت روزہ لولاک لائل پور مجریہ ٢٩؍مئی ١٩٧٠ء و خدام الدین لاہور مجریہ ٥/جون ١٩٧٠ء :
نیز حصہ پنجاب سے ملحقہ ریاست بہاولپور کے حالیہ فسادات بھی ربوہ (موجودہ چناب نگر) کی شاطرانہ چالوں میں سے ایک چال ہے۔ دیکھیں پریس کانفرنس شہزادہ مامون الرشید نائب صدر پی ڈی پی مغربی پاکستان، امروز لاہور ٥؍اپریل ١٩٧٠ء ولولاک یکم مئی ١٩٧٠ء۔
جب مارشل لاء کے دور میں مرزائی یہ مکروہ کھیل کھیل کر وطن عزیز کی سالمیت و استحکام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو اس کے بعد کیا ہوگا۔ اس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
مولانا محمد علی جالندھریؒ ایک عظیم مدرس، مجاہد، مناظر، مفکر اور خطیب ہیں۔ حضرت
١٤
مولانا عبدالحق حقانی رئیس الجامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک بلاشبہ متکلم اسلام ہیں۔ ان کے خطیبانہ صلاحیتوں کا اعتراف ایشیا کے سب سے بڑے عوامی خطیب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو بھی تھا۔ متعدد بار شاہ جی نے ان کی تقریر کے بعد تقریر کرنے سے انکار فرما دیا اور انہیں وکیل ختم نبوت کہہ کر نوازا۔ جب آپ جوان تھے تو رات بھر خطابت کے جوہر دکھاتے اور سامعین سے داد حاصل کرتے۔ آج جب کہ ستر پچھتر کے پیٹے میں ہیں۔ ٣،٤ گھنٹہ مسلسل بولنا اب بھی ان کے لئے مشکل نہیں، موضوع پر مفصل گفتگو کرنا اور عوام کی زبان میں انہیں بات سمجھانا مولانا کی ایسی خصوصیت ہے جس سے ان کے ہم عصر تہی دامن ہیں۔
ان لازوال خصوصیات کے پیش نظر ان کے معاصرین بھی معترف ہیں۔ مولانا نے جس طرح مفصل گفتگو کی ہے۔ وہ ہر پڑھنے والے کو فکر و تدبر کی دعوت دے رہی ہے۔
احقر نے تقریر سے قبل ”ابتدائیہ“ کے عنوان سے جو کچھ لکھا ہے وہ درحقیقت موصوف کی تمہید ہے۔ میرا مقصد اس طول بیانی سے صرف یہ ہے کہ مرزائیت کا چہرہ پوری طرح نکھر کر سامنے آجائے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی کتابوں کے مختلف حوالے، نیز بشیر الدین کے مختلف اقتباسات اور علامہ اقبال مرحوم کے رشحات فکر اسی مقصد کے پیش نظر خاص ترتیب سے میں نے نقل کئے ہیں۔
تقریر کے اجمالی نکات کی فٹ نوٹ کے ذریعہ اور زیادہ تفصیل کر دی گئی ہے تاکہ کسی طرح کا ابہام نہ رہے۔ اس کے بعد یہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
استدراک! آج سے چار سال پہلے جب احقر نصرت العلوم گوجرانوالہ میں دورہ حدیث کا طالب علم تھا۔ مرزائیوں نے خالص مسلم آبادی میں اپنا اڈہ جمانے کی نامسعود سعی کی۔ اور گوجرانوالہ کے نام نہاد مسلم آفیسرز نے ان کا ہاتھ بٹایا لیکن مسلمانوں کی مزاحمت سے انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور ان کی پشت پناہی کرنے والے سرکاری افسران بھی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ مسلمانوں کا جذبہ فدائیت کام آیا اور راتوں رات اس جگہ مسجد کھڑی کر کے اقبال کے اس مصرعہ کی حقیقی تعبیر پھر دکھا دی۔
١٥
اسی دوران مولانا موصوف نے ایک جمعہ کو گوجرانوالہ تشریف لانا منظور فرمایا اور نماز جمعہ سے قبل سوا گھنٹہ کے قریب آیت خاتم النبیین کی اچھوتے انداز میں تفسیر و تشریح بیان فرمائی۔ یہ خطبہ اس وقت قلم بند کر لیا ہے۔ اب چار سال بعد کاغذات میں ملا ہے تو مناسب معلوم ہوا کہ اسے بھی اس کتابچہ میں شامل کر دیا جائے۔ چنانچہ ضمیمہ کے عنوان سے وہ اچھوتا خطبہ شامل ہے۔ فدایانِ عشقِ محمدی اسے پڑھ کر یقیناً سرور محسوس کریں گے۔
محمد سعید الرحمن علوی حضرو، ٢ / ربیع الثانی ١٣٩٠ء یوم الاحد، ٧/ جون ١٩٧٠ء بعد الظہر
تقریر حضرت مولانا محمد علی جالندھری
امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
بمقام کمپنی باغ سرگودھا مورخہ ١٦/ مئی ١٩٧٠ء بعد نماز عشاء
الحمدللہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شیء علیما۔
(الاحزاب آیت ٤٠)
صدق اللہ العلی العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم صدر محترم حاضرین مجلس! یہ جماعتی کانفرنس ہے۔ اس لئے میں وہی باتیں کروں گا جو جماعتی نقطہ نگاہ سے ضروری ہوں گی۔
مجلس تحفظ ختم نبوت، غیر سیاسی اور مستقل جماعت ہے (کسی جماعت کا ذیلی ادارہ نہیں ۔) سید الاحرار سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم ساری عمر احرار میں رہے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک کے دوران جیل تشریف لے گئے۔ رہائی کے بعد دوستوں کو بلایا اور فرمایا کہ: ”احرار کا مقصد آزادی تھی، سو وہ حاصل ہوگئی۔ اب تبلیغی کام کریں۔ بعض دوستوں نے اختلاف کیا تو فرمایا اچھا جماعت کو بانٹ لو۔ ایک حصہ سیاسی کام کرے دوسرا تبلیغی۔“
شیخ حسام الدین، ماسٹر تاج الدین رحمہما اللہ تعالیٰ اور نوابزادہ نصر اللہ خان (موجودہ صدر پی ڈی پی مغربی پاکستان) نے احرار لے کر سیاسی کام کا اعلان کر دیا۔ خود بخاری صاحب مرحوم نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی داغ بیل ڈال کر تبلیغی کام کا آغاز کیا اور مروجہ سیاسیات یعنی الیکشن سے کنارہ کشی اختیار کی۔ (گویا حتمی فیصلہ ہے کہ اب یہ کام نہیں کرنا۔) مرحوم شیخ حسام الدین نے
١٦
درخواست کی کہ (مولانا) محمد علی ہمیں د چنانچہ ان کی درخواست کو قبول نہ فرمایا اور نے جماعت کو تقسیم کیا۔ اسی طرح لاہور م اس موقع پر مولانا نے مرحوم مجلس احرار ک زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
مولانا نے جماعتی دستور کی و جس سیاسی جماعت میں چاہیں شامل ہو س کر سکتے۔
ووٹ کے معاملہ میں آزاد ہ جماعت کے دو کام کرے گی۔
- ١...... مرزائیوں کو ممبر نہیں بننے دی
- ٢...... جو لوگ مرزائیوں کو مسلمان ن
خصوصی اعلان
مولانا نے فرمایا کہ تمام مدع خارج از اسلام سمجھتا ہوں اور جو لوگ ا خارج سمجھتا ہوں۔
آپ نے فرمایا کہ ہر آزا ون یونٹ اور صوبائی خود مختاری وغیرہ س شہری ہوں اور اس ملک کی خاطر جیلو ٢٤ / گھنٹہ میں اس دنیا سے رخصت ہو ج
اس موقع پر موصوف ن کا بل پیش ہوا۔ بعض لوگوں نے کہا ک دنیا کچھ کہے اپنے دل کی آواز کو دبا نہی کہ عیسائی بد اخلاقی و بدکرداری کا خوگ اور میں دعوٰی سے کہتا ہوں کہ جو مزا بحیثیت آزاد شہری میرا مطالبہ آج بھ
درخواست کی کہ (مولانا) محمد علی ہمیں دے دو۔ فرمایا انہیں تمہیں دے کر اپنے پاس کیا رکھوں؟ چنانچہ ان کی درخواست کو قبول نہ فرمایا اور مجھے اپنے ساتھ رکھا۔ جس طرح بخاری صاحب مرحوم نے جماعت کو تقسیم کیا۔ اسی طرح لاہور کے دفتر کو بھی تقسیم کر دیا۔ ایک حصہ احرار ملا دوسرا مجلس کو۔ اس موقع پر مولانا نے مرحوم مجلس احرار اور اس کے جلیل القدر زعماء اور کارکنوں کی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
مولانا نے جماعتی دستور کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے کارکن آزاد ہیں۔ جس سیاسی جماعت میں چاہیں شامل ہو کر سیاسی کام کر سکتے ہیں۔ مجلس کے عہدیدار سیاسی کام نہیں کر سکتے۔
ووٹ کے معاملہ میں آزادی ہے جس نمائندہ کو صحیح سمجھیں۔ ووٹ دیں۔ مجلس بحیثیت جماعت کے دو کام کرے گی۔
- ١...... مرزائیوں کو ممبر نہیں بننے دے گی۔
- ٢...... جو لوگ مرزائیوں کو مسلمان سمجھیں گے۔ انہیں ممبر نہیں بننے دے گی۔
خصوصی اعلان
مولانا نے فرمایا کہ تمام مدعیان نبوت کی طرح مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے گروہ کو خارج از اسلام سمجھتا ہوں اور جو لوگ انہیں خارج از اسلام نہیں سمجھتے انہیں بھی دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔
آپ نے فرمایا کہ ہر آزاد شہری کو اپنا مطالبہ پیش کرنے کا حق ہوتا ہے۔ جیسے آج کل ون یونٹ اور صوبائی خود مختاری وغیرہ کے مطالبات پیش ہو رہے ہیں۔ چونکہ میں بھی ایک آزاد شہری ہوں اور اس ملک کی خاطر جیلوں میں رہ چکا ہوں اور میرے جیل ہوتے ہوئے دو بھائی ٢٤ گھنٹہ میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس لئے مجھے اپنا مطالبہ پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔
اس موقع پر موصوف نے لندن پارلیمنٹ کے حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جنس پرستی کا بل پیش ہوا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ دنیا کیا کہے گی؟ ایک ممبر نے کہا کہ میں آزاد شہری ہوں۔ دنیا کچھ کہے اپنے دل کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔ دوسرے ممبر نے بھی اس کی حمایت کی بلکہ آگے بڑھ کر عیسائی بداخلاقی و بدکرداری کا خوب خوب مظاہرہ کیا۔ اور کہا اس کام میں میرا تجربہ دو طرفہ ہے اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ جو مزہ نیچے لیٹنے میں ہے اوپر لیٹنے میں نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ بحیثیت آزاد شہری میرا مطالبہ آج بھی وہی ہے جس سے ١٩٥٣ء میں ملک کے در و دیوار گونج اٹھے
١٧
تھے۔ یعنی جب مرزائی سماجی اور معاشرتی طور پر ہم سے علیحدہ ہے تو اسے سیاسی طور پر بھی علیحدہ کیا جائے۔
مجلس کی خدمات اور شکوہ
آپ نے اس امر پر اظہار افسوس کیا کہ مرزائی کو کفر و ارتداد کی تبلیغ کے لئے کھلی چھٹی دی جاتی ہے لیکن بیرونی ممالک میں مجلس کے لئے دروازے بند ہیں۔
مولانا لال حسین اختر کا پاسپورٹ جن مشکلات سے بنا وہ ہمیں معلوم ہے میں نے خود افریقہ جانے کی اجازت مانگی جواب تک نہ ملا۔ مجبوراً آج کل بذریعہ خط و کتابت سلسلہ تبلیغ جاری ہے۔ مجلس کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ جماعت نے ملک کو مرزائیت سے بچالیا ہے۔ یہ تو درست ہے کہ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کو آستین میں چھپے ہوئے دشمنوں کے عین وقت پر دھوکہ دہی قانونی طور پر مرزائیوں کو اقلیت قرار دلانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ لیکن الحمدللہ کہ عوامی بائیکاٹ کا مرحلہ تو مکمل ہو ہی گیا اور آج کوئی مخلص مسلمان مرزائیوں کو منہ نہیں لگاتا۔
مرزائی حکومت
آپ نے فرمایا کہ مرزائی مختلف مقامات پر بڑ ہانکتے ہیں کہ فلاں سال میں ہماری حکومت قائم ہو جائے گی۔ لیکن یاد رکھو اب اس ملک میں مرزائیت کی موت ہے۔ اسے اب وقت گزارنے کے لئے امریکی اڈوں میں پناہ لینا ہوگی۔
مولانا نے سوال کیا کہ جب مرزائی اس قسم کی باتیں کہتے ہیں تو محکمہ سی آئی ڈی کہاں ہوتا ہے؟ تحقیق کیوں نہیں ہوتی؟ ١٩٦٥ء کی جنگ میں ربوہ (موجودہ چناب نگر ) کی بتیاں جلتی رہیں۔ لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
مرزائیوں کو شاید اس لئے مخلص پاکستانی سمجھا جاتا ہے کہ ان کی وساطت سے امریکہ گندم دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا اگر میں ملک کا صدر ہوتا تو قوم کو مشورہ دیتا کہ بھوکے مر جاؤ۔ امریکی گندم نہ کھاؤ۔ ایم ایم احمد ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کی وساطت سے ملنے والی امریکی امداد حقیقت میں زہر ہے۔ آپ نے متنبہ کیا کہ اینگلو امریکی سامراج اسرائیل کے بعد مرزائیل کے قیام کی فکر میں ہے۔ چنانچہ بیروت سے آنے والے خط اس پر شاہد ہیں کہ تمام اسلام دشمن مل کر مرزائیل کے ذریعہ پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک امریکی سیاح کا ذکر کرتے ہوئے
١٨
مولانا نے فرمایا کہ اس نے خط میں لکھا ہے کہ میں سیاحت پاکستان کے دوران جب ربوہ (چناب نگر) گیا تو محسوس ہوا کہ ربوہ کا اسرائیل سے خاص تعلق ہے۔
آپ نے فرمایا کہ جماعت کے ناظم مولانا لال حسین اخترؒ نے لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر سے اسرائیل جانے کی اجازت مانگی تو جواب ملا کہ چونکہ تعلقات کشیدہ ہیں۔ اس لئے اجازت نہیں دی جاسکتی۔
مولانا نے سوال کیا کہ جب تعلقات کشیدہ ہیں تو پھر مرزائی مشن وہاں کیوں ہے؟ کیا کر رہا ہے؟
اس کا بجٹ ربوہ میں تیار ہوتا ہے۔ تفصیلات مرزائی اخبار الفضل میں شائع ہوتی ہیں۔ لیکن یہاں ایک خاموشی ہے آخر کیوں؟
آپ نے فرمایا کہ مرزائی حکومت کا خواب ایک عرصہ سے دیکھ رہے ہیں۔ چنانچہ جسٹس منیر نے بھی تسلیم کیا ہے کہ قادیانی انگریز کے جانشین بننے کے متوقع امیدوار تھے۔ (منیر انکوائری رپورٹ ص ١٩٦) لیکن اس وقت ان کی آرزو پوری نہ ہوسکی۔ اب وہ آئے دن دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ چنانچہ آج ہی ایک مرزائی نے ہمارے دوست کو پھر چند سالوں کی دھمکی دی ہے۔
لیکن یاد رکھو کہ حکومت حاصل کرنے کے دو طریقے ہو سکتے ہیں۔ پہلا آئینی یعنی انتخاب کے واسطہ سے۔ دوسرا غیر آئینی یعنی انقلاب کے راستہ سے؟
مولانا نے واشگاف الفاظ میں فرمایا کہ جہاں تک پہلے راستہ کا تعلق ہے اس راستہ سے مرزائی کبھی برسر اقتدار نہیں آسکتے۔ اور اگر انہوں نے دوسرے راستوں سے ادھر آنے کی کوشش کی تو پھر ہمارا اعلان سن لو کہ ہم تمہاری حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے اور بغاوت کر دیں گے۔ تم اگر طاقت کے بل بوتے پر جبر وتشدد سے منوانے کی کوشش کرو گے۔ تو ہم بھی مقابلہ کریں گے۔ نتیجتاً یا تو تم رہو گے یا ہم!
١؎ روایت یہ ہے کہ جب متحدہ عرب جمہوریہ کے بیدار مغز صدر اور اینگلو امریکی سامراج کے سب سے بڑے دشمن، بطل حریت جمال عبدالناصر نے مرزائیوں کو اپنے ملک سے چلتا کیا تو اسی مشن نے اسرائیل جا کر ڈیرہ بسایا۔ واللہ اعلم ١٢ علوی
١٩
آپ نے تحریک ختم نبوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک سے ملک محفوظ ہو گیا اور اس کا اعتراف سرکاری اہل کاروں کو بھی ہے۔ چنانچہ ایوب خان نے جب فوجی حکومت کا بگل بجایا تو ملتان میں ایک سرکاری آدمی ہمارا دفتر سیل کرنے آیا۔ ہم نے اسے جماعتی دستور دکھایا کہ ہماری جماعت تبلیغی ہے سیاسی نہیں۔ اس لئے سیل کرنے کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں۔ اس نے وہیں سے کسی افسر کو فون کیا افسر مذکور نے انتظار کرنے کے لئے کہا۔ چنانچہ انتظار کے بعد پھر یہی حکم ہوا کہ سیل کر دو۔ میں نے لاہور کے ایک ذمہ دار افسر سے رابطہ قائم کیا اور پوچھا کہ جب ہماری جماعت تبلیغی ہے تو پھر دفتر کو سیل کیوں کیا گیا؟ اس نے کہا کہ یہ غلط فہمی کی بناء پر ہو گیا ہے۔ اگر ہم سیاسی جماعت سمجھتے تو لاہور اور دوسرے مقامات پر موجود دفاتر کو بھی سیل کر دیتے۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ آپ درخواست دے دیں سیل توڑ دی جائے گی۔ چنانچہ ہم نے درخواست دی، ہمارا دفتر کھول دیا گیا۔
اثنا گفتگو میں میں نے سوال کیا کہ ہمارے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے رو رو کر کہا کہ مولانا ہم بھی مسلمان ہیں اور گناہوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن بخشش کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے شفاعت احمد مجتبیٰ ﷺ کے۔
اس لئے دیانت دارانہ رائے یہ ہے کہ آپ لوگوں نے تحریک چلا کر ملک کو بچا لیا۔ ورنہ مرزائی گورنمنٹ بن چکی تھی۔ اسی طرح ہمارے مولانا محمد شریف جالندھری کے ایک دوست جن کا پولیس سے تعلق تھا۔ اکثر ملنے آتے۔ ایک دن کہنے لگے کہ جس دن علماء نے تحریک شروع کی۔ مجھے بڑا غصہ تھا۔ اور میں برا بھلا بھی کہتا تھا کہ یہ لوگ ملک کے دشمن ہیں۔
لیکن اب میری رائے یہ ہے کہ اگر آپ لوگ تحریک نہ چلاتے تو آپ اسلام کے بھی غدار ہوتے اور ملک کے بھی مجرم ہوتے۔ اس لئے مرزائی گورنمنٹ کا منصوبہ بن چکا تھا۔ تحریک چلا کر تم لوگوں نے اسے ناکام بنا دیا۔ آپ نے مرزائیوں کے پاکستان دشمن کردار کو بے نقاب کیا اور سلسلہ وار تفصیلات جلسہ عام میں ارشاد فرمائیں۔
آپ نے فرمایا کہ پاکستان بن جانے سے پہلے میں بھی خلاف تھا اور میری رائے یہ تھی کہ پاکستان نہ بنے۔ اس موقع پر آپ نے شگفتہ انداز میں فرمایا کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ مودودی صاحب کی طرح غلط بیانی سے کام لوں کہ مخالفت کے باوجود کہوں کہ میں مخالف نہیں تھا۔
آپ نے فرمایا کہ مخالفت کے باوجود جب بن گیا تو دیانت داری کے ساتھ ہم نے
٢٠
اس کے استحکام کے لئے کوششیں انڈیا میں ہی مقیم تھے۔ ان کا چاہئے۔ چنانچہ مجاہد ملت مولانا انڈیا پارلیمنٹ نے قیام پاکستان فرمایا کہ میں ان لوگوں میں سے پاکستان بن گیا ہے تو سلامت ر دارالعلوم دیوبند، صدر جمعیت ع سنڈیمن کو خط لکھا جس میں فرمایا حکومت سے تعاون کرو اور نئے آپ نے وضاحت کرتے ہوئ ہو لیکن جب تقسیم ہو گیا تو اختلافی قادیانی کی وحی غلط ثابت ہوئی۔ نے لکھا کہ : ”مرزا غلام احمد کا الہ مجبوراً تسلیم کریں گے اور کوشش کر میں یہ اعلان شائع ہوا تھا۔ وہ پر ہم نے دکھلایا لیکن افسوس کہ کسی ہ
١۔ اس کے علاوہ خود مو کہ گاندھی جی آتے ہیں اور ایک چا کے طور پر میاں محمود نے کہا کہ جماع وقت کے لئے دونوں قومیں جدا رہیں جلد دور ہو جائے۔ (الفضل مورخہ ٥ کا جواب اس خواب کے بعد آج تک امانت کے طور پر دفن کرنا اور قادیان کے علاوہ منیر رپورٹ کے ص ١٩٦ ر اور اگر تقسیم ہو گئی تو دوبارہ برصغیر کے
اس کے استحکام کے لئے کوششیں شروع کر دیں اور نہ صرف ہم نے کیں بلکہ ہمارے وہ اکابر جو انڈیا میں ہی مقیم تھے۔ ان کا بھی یہی خیال تھا کہ جب پاکستان بن گیا ہے تو اسے باقی رہنا چاہئے۔ چنانچہ مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی مرحوم ناظم عمومی آل انڈیا جمعیت علماء ہند و ممبر انڈیا پارلیمنٹ نے قیام پاکستان کے بعد پٹنہ کے دوسرے فسادات کے دوران تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو قیام پاکستان کے حق میں نہ تھے۔ لیکن اب میرا ایمان ہے کہ پاکستان بن گیا ہے تو سلامت رہے۔ اسی طرح شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی مرحوم شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند، صدر جمعیت علماء ہند نے اپنے ایک خادم مولوی رحمت اللہ صاحب مقیم فورٹ سنڈیمن کو خط لکھا جس میں فرمایا کہ اب جب کہ پاکستان بن گیا ہے سابقہ اختلافات کو بھول کر حکومت سے تعاون کرو اور نئے ملک کے استحکام کی طرف توجہ دو (وہ خط اب بھی موجود ہے ١٢) آپ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ سیاسی نقطہ نگاہ سے ہماری ایک رائے تھی کہ ملک تقسیم نہ ہو لیکن جب تقسیم ہو گیا تو اختلاف رائے بھی ختم ہو گیا۔ اس کے برعکس مرزائیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی وحی غلط ثابت ہوتی ہے۔ اگر وہ پاکستان کو تسلیم کریں چنانچہ موسیو بشیر الدین آنجہانی نے لکھا کہ: ”مرزا غلام احمد کا الہام چاہتا ہے کہ ہندوستان اکٹھا رہے۔ اگر تقسیم ہو گئی تو ہم اسے مجبوراً تسلیم کریں گے اور کوشش کریں گے کہ پھر ملک متحد ہو جائے ۔“ مولانا نے فرمایا کہ جس پرچہ میں یہ اعلان شائع ہوا تھا۔ وہ پرچہ خواجہ ناظم الدین، شہاب الدین اور سردار عبدالرب نشتر مرحوم کو ہم نے دکھلایا لیکن افسوس کہ کسی نے توجہ تک نہ دی۔ ١؎
١؎ اس کے علاوہ خود موسیو محمود کا یہ رویہ قابل ملاحظہ ہے جس میں محمود نے اس بات کا اظہار کیا کہ گاندھی جی آتے ہیں اور ایک چارپائی پر لیٹنا چاہتے ہیں اور ذراسی دیر لیٹنے کے بعد اٹھ بیٹھے ..... تعبیر کے طور پر موسیو محمود نے کہا کہ جماعت احمدیہ کا الہامی عقیدہ یہ ہے کہ پاکستان کا وجود عارضی ہے۔ کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا رہیں گی۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی۔ اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ یہ بعد جلد دور ہو جائے۔ (الفضل مورخہ ٥؍ اپریل ١٩٤٧ء ص ٣) حکومت مغربی پاکستان کے پانچ سوال اور ان کا جواب اس خواب کے بعد آج تک ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں پورا ٹیکس ادا کرنے والے مریدان باصفا کو امانت کے طور پر دفن کرنا اور قادیان کے بہشتی مقبرہ کے خواب دیکھنا آخر کس بات کی غمازی کرتا ہے؟ اس کے علاوہ منیر رپورٹ کے ص ١٩٦ پر بھی اس حقیقت کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ : ”مرزائی تقسیم کے مخالف تھے اور اگر تقسیم ہو گئی تو دوبارہ برصغیر کے اتحاد کے لئے وہ کوشش کریں گے۔“
٢١
- ٢...... مرحوم ڈاکٹر محمد اقبال نے کشمیر کمیٹی میں مرزا بشیر الدین کو صدر مان لیا۔ لیکن حالات
جب کھل کر سامنے آ گئے تو مرزا کو علیحدہ کروادیا اور کہا کہ ہر مرزائی سرکاری ملازم مرزا کا حکم پہلے مانتا ہے اور حکومت کا بعد میں ا۔
- ٣...... کانگریس نے تقسیم ملک کی تجویز مان لی لیکن شرط یہ تھی کہ پنجاب و بنگال کو تقسیم کیا جائے
گا۔ چنانچہ اگست ١٩٤٧ء میں وائسرائے نے جب پنجاب کی تقسیم کا اعلان کیا تو گورداسپور کو پاکستان میں شامل کیا لیکن چند دن بعد ڈرامائی طور پر دوبارہ اعلان کر کے گورداسپور کو ہندوستان میں شامل کر دیا۔ اس دوبارہ اعلان کا سبب کون تھا؟ یہی مرزائی جنہیں ملک کا بڑا خیر خواہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے کہ پنجاب کے اضلاع تین قسم کے تھے۔
- ١...... مسلم اکثریت والے۔
- ٢...... مسلم اقلیت والے۔
- ٣...... تیسری قسم کا ضلع صرف ایک ہی تھا۔ یعنی گورداسپور!
جس کی نوعیت یہ تھی کہ اگر مرزائی مسلمانوں کا ساتھ دیتے تو یہ ضلع پاکستان کو مل جاتا۔ ہندوؤں کا ساتھ دیا تو ہندوستان کو مل گیا (گویا اس قدم سے مرزائیوں نے اپنے غیر مسلم ہونے کا واضح ثبوت دے دیا لیکن افسوس ہے کہ پاکستان کی تمام حکومتیں انہیں آج تک مسلمانوں میں شامل کرنے پر مصر ہیں۔ (١٢ مرتب)
لے اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ظفر اللہ نے اپنے محسن سر فضل حسین کا جنازہ نہ پڑھا۔ اس لئے کہ وہ مسلمان تھا باوجودیکہ سر فضل حسین نے ظفر اللہ کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں اپنا جانشین بنا کر سواد اعظم کے جذبات کو مجروح کیا تھا۔ اسی طرح لاہور میں موجود ہونے کے باوجود ڈاکٹر اقبال مرحوم کا جنازہ نہ پڑھا اور حد یہ ہے کہ بانی پاکستان کا جنازہ نہ پڑھا بلکہ ١٩٤٧ء میں بانی پاکستان کو بیوقوف قرار دیا اور کہا کہ تقسیم سے مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچے گا۔ مسٹر سری پرکاش جس کے سامنے ظفر اللہ نے اس خیال کا اظہار کیا تھا۔ اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ: ”تقسیم کے بعد کراچی میں جب ظفر اللہ سے میں نے پوچھا کہ اب تمہاری کیا رائے ہے تو کہا کہ میرا اب بھی وہی جواب ہے۔ مگر ظفر اللہ نے بعد میں اس کی تردید کی اور کہا کہ جناح صاحب تو مجھے اپنا سیاسی بیٹا سمجھتے تھے اور مجھ پر بڑے مہربان تھے۔ لیکن اس کے باوجود اپنے محسن اور باپ کا جنازہ تک نہ پڑھا۔“
(حکومت کے پانچ سوال اور ان کا جواب ص ٢٢، ٢٣)
٢٢
٤....... پنجاب لیگ کے صدر ممدوٹ مرحوم سے یہ غلطی ہوئی کہ وہ اپنی ریاست کے بچاؤ کے سلسلہ میں مرزائیوں کی سازش کا شکار ہو گئے۔ کیونکہ موصوف کے تحصیل فیروز پور میں ٨٠ گاؤں تھے اس کا سرکاری وکیل پیر اکبر علی شاہ قادیانی تھا۔
پیر اکبر علی شاہ نے ممدوٹ کو ذاتی ریاست کے بچاؤ کا جھانسہ دے کر ورغلایا اور کہا کہ اگر مسلم لیگ ظفر اللہ خان کو باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنے وکیل کی حیثیت سے پیش کر دے تو مزہ آ جائے گا۔ ممدوٹ مرحوم قادیانی سازش کا شکار ہو گئے اور ظفر اللہ کو وکیل تسلیم کر لیا گیا۔ لیکن ظفر اللہ نے چال یہ چلی کہ مسلمانوں کا کیس تو خود لڑا اور مرزائیوں کا کیس مرزا بشیر الدین کے ہم زلف مرزا بشیر احمد کے سپرد کر دیا۔ (گویا کیس کو دو حصوں میں بانٹ دیا)
ا۔ مسلم لیگ کہ چہیتے وکیل سر ظفر اللہ نے گورداسپور کے معاملہ میں جو مکروہ کردار ادا کیا اس پر خود لیگی حلقے آج ماتم کناں ہیں۔ چنانچہ مشہور لیگی لیڈر راجہ غضنفر علی خان کی یادداشتوں کا مجموعہ بعنوان ”مارشل لاء سے مارشل لاء تک“ میں ہے کہ ”ریڈ کلف اپنے سامنے پیش ہونے والے مقدمہ کے اس خاص نقطہ میں پیشگی دلچسپی لے رہا تھا جس علاقہ پر پرواز کرنا چاہتا تھا۔ وہ وہی علاقہ تھا جس کا ضلع گورداسپور کی تقسیم سے متعلق تھا جسٹس دین محمد اور جسٹس محمد منیر اس خاص نقطے کی اہمیت سمجھتے تھے۔ اسی وجہ سے ریڈ کلف کا رویہ انہیں خاص طور پر معنی خیز معلوم ہوتا تھا۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی یہ تھی کہ کمیشن کے بچانے کے لئے وہ اتنی دور دراز کی باتیں سوچ رہے تھے اور استعفیٰ پیش کرنے کی تجویز پیش کر رہے تھے۔ مسلم لیگ کے مقدمہ کی پیروی کرنے والے وکیل اسے خود ہی چاندی طشتری میں رکھ کر بھارت کو پیش کر رہے تھے۔“ مارشل لاء سے مارشل لاء تک، مرتبہ سید نور احمد (ص ٣١٧۔١٨) اسی کتاب کا ایک دوسرا اقتباس ملاحظہ فرمائیں اور پھر دیکھیں کہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لئے انڈیا نے کیا سازشیں کی تھیں؟
ز....... حد بندی کے سلسلہ میں ریڈ کلف کی پیشگی دلچسپی کو بعض دوسرے واقعات کے سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن غالباً ٣ جون کے پلان کی منظوری سے پہلے ہی پنڈت جواہر لال نہرو کے ساتھ کم از کم اس حد تک پختہ وعدہ کر چکا تھا کہ گورداسپور کے پورے ضلع کو پاکستان پنجاب میں شامل کرنے کے بجائے اس طرح تقسیم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ کم از کم پٹھان کوٹ کی تحصیل بھارتی علاقہ میں شامل ہو جائے۔ تحصیل پٹھان کوٹ کی خاص جغرافیائی اہمیت یہ تھی کہ اس کا ایک سرا ریاست جموں و کشمیر کے علاقے سے ملحق تھا۔ لہٰذا اگر یہ تحصیل بھارت کا حصہ بن جائے تو بھارت کی سرحد ریاست (کشمیر) سے جا ملتی تھیں اور بھارت کو اس ریاست تک پہنچ جانے کا راستہ مل جاتا تھا۔ اس کے علاوہ بھارت اور اس ریاست کے درمیان کوئی جغرافیائی تعلق نہ ہو سکتا تھا؟ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٢٣٤
مولانا نے فرمایا کہ میں نے خطیب پاکستان قاضی احسان احمد مرحوم کو جسٹس منیر کے پاس بھیجا جو باؤنڈری کمیشن کا پاکستانی ممبر تھا اور اس سازش سے آگاہ کیا۔ لیکن منیر نے ہماری بات نہ مانی جب کہ ابھی دو سال پہلے اخبارات میں منیر نے ایک مضمون لکھا جس میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ ظفر اللہ نے کیس علیحدہ علیحدہ کیوں کیا؟ (لیکن اب اظہار حیرت کا کیا فائدہ؟ پہلے تو بات نہ مانی گئی۔ محض اس لئے کہ کہنے والے مولوی ہیں۔ اب حیرت و استعجاب سے کیا بنتا ہے ۔
کاش منیر صاحب قاضی مرحوم کی بات مان لیتے تو اسی وقت سازش سامنے آ جاتی اور یہ روز بد ہمیں نہ دیکھنا پڑتا۔ ظفر اللہ کی اس بداعمالی کے سبب کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے الجھ کر رہ گیا۔ اور آج کل نہری پانی کے جن تنازعات کا ہم شکار ہیں۔ اس کے برگ و بار انہی قادیانیوں کے پیدا کردہ ہیں۔ گورداسپور انڈیا کو نہ ملتا تو کشمیر پر اس کے قبضہ کی کوئی سبیل ہی نہ تھی اور کشمیر ہمارا ہوتا تو نہری پانی کا جھگڑا کیوں ہوتا ؟ از مرتب۔)
اس مرحلہ پر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تقسیم کے دوران سکھوں نے یہ مطالبہ پیش کیا تھا۔ کہ ننکانہ کو سکھ شہر قرار دیا جائے۔ اس کے مقابلہ میں پانی پت کے مسلمانوں نے درخواست دی کہ پانی پت کو مسلم شہر قرار دیا جائے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ ظفر اللہ کے معاون وکیل مسٹر اے رحیم نے پانی پت کے مسلمانوں کی درخواست تک پیش نہ کی۔
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ان اقتباسات کے بعد مرزائیوں کے مشہور مبلغ شمس صاحب کے کتابچہ ”قیام پاکستان اور جماعت احمدیہ“ ص ٥٢ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں: ”مسلم لیگ کا کیس پیش کرنے کے لئے سر ظفر اللہ خان لندن سے لاہور پہنچے اور خود امام جماعت احمدیہ بھی تمام کارروائی دیکھنے اور سننے کے لئے عدالت میں موجود تھے۔ اور مناسب ہدایات دیتے رہے۔ علاوہ ازیں لندن سکول آف اکنامکس کے پروفیسر مسٹر بیسٹ جو باؤنڈری ایکسپرٹ تھے خدمات حاصل کی گئیں۔ اور ان کے تمام اخراجات جماعت احمدیہ نے پیش کئے ۔“
سابقہ اقتباسات کے ساتھ اس اقتباس کو پڑھیں اور پھر اقبال مرحوم کا قول سامنے رکھیں کہ مرزائی سرکاری ملازم حکومت سے پہلے اپنی جماعت کا حکم مانتے ہیں۔ اس طرح یہ سازشی کڑیاں مل کر سامنے آ جاتی ہیں۔ کاش کہ ارباب حکومت توجہ فرمائیں۔ از مرتب ٢٤
- ٤....... سر ظفر اللہ نے وزارت خارجہ کے دور میں شام کے مشہور شہر اور دارالسلطنت دمشق کو
مرزائیوں کا اڈہ بنا دیا۔ چنانچہ نوائے وقت کے ایڈیٹر مسٹر حمید نظامی مرحوم نے لکھا کہ دمشق کا سفارت خانہ مرزائیوں کا اڈہ بن چکا ہے۔ (الحمد للہ کہ شام و مصر کے اتحاد کے دوران زعیم ملت ناصر کی بیدار مغزی کے سبب شام بھی مرزائیوں سے خالی ہو گیا اور اس طرح یہ عظیم عرب ملک مرزائی اڈہ بننے سے بچ گیا۔ از مرتب )
- ٥....... روزنامہ جنگ راولپنڈی جلد ٧، شمارہ ٣٠٩، فرسٹ و چناب ایڈیشن کی اشاعت مجریہ
٤ اگست ١٩٦٥ء کی یہ خبر ملاحظہ فرمائیں۔ ”لندن ٣ اگست (نمائندہ جنگ) جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونشن جماعت کے لندن مرکز میں منعقد ہورہا ہے۔ جس میں تمام یورپی ممالک کے احمدیہ مشن شرکت کررہے ہیں۔ کنونشن کا افتتاح گزشتہ روز ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کے جج سر ظفر اللہ نے کیا۔ یہ کنونشن ٧ اگست تک جاری رہے گا۔ جماعت نے مختلف افریقی ممالک میں اپنے مشن قائم کر لئے ہیں۔ برطانیہ میں جماعت احمدیہ کے اٹھارہ مرکز قائم ہو چکے ہیں۔ کنونشن میں شریک مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر احمدی جماعت برسر اقتدار آ جائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے جائیں اور دولت کو از سر نو تقسیم کیا جائے اور سود پر پابندی لگادی جائے اور شراب نوشی ممنوع قرار دی جائے۔“
سوال یہ ہے کہ برسر اقتدار آنے کے خواب کہاں دیکھے جارہے تھے؟ ظاہر بات ہے کہ لندن یا امریکہ میں احمدی برسر اقتدار نہیں آسکتے؟ ان کی جولان گاہ پاکستان ہی ہے چنانچہ آئے دن وہ دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔
پھر ایک ماہ بعد امریکی سامراج کی شہ پر انڈیا کا پاکستان پر حملہ کرنا اور اس دوران ربوہ کی بتیاں جلتے رہنا ان کڑیوں کو بغور دیکھا جائے اور مرزائیوں کی سامراج دوستی اور سامراج نوازی کو نگاہ میں رکھا جائے تو اس جڑ کے مضمرات سے ہر کوئی آگاہ ہو سکتا ہے۔
- ٦....... انگریز یہ سوچ کر گئے تھے کہ مرزائی برسر اقتدار آجائیں (اور مرزائی بھی متوقع جانشین
تھے جیسا کہ پہلے گزرا ۔ از مرتب ) اس منصوبہ کے لئے کتنے پاپڑ بیلے گئے وہ ایک بڑی کرب ناک اور دکھ بھری داستان ہے۔ مولانا کی زبانی اس کی کڑیاں ملاحظہ فرمائیں۔
پہلے پنجاب کے گورنر سر فرانسس موڈی نے ربوہ کی زمین الاٹ کی۔ پھر پاکستانی کمانڈر ان چیف جنرل گریسی نے فوج کے راستہ سے انہیں اوپر لانے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ بکثرت مرزائی بھرتی کئے۔ حتیٰ کہ خالص مرزائی بٹالین، فرقان بٹالین کے نام سے قائم کی۔ اور
٢٥
مرزائی میجر جنرل نذیر احمد کو اپنا جانشین بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ میں اور قاضی احسان احمد مرحوم پنڈی گئے۔ قائد کشمیر چودھری غلام عباس مرحوم کے دوست اللہ رکھا اور آفتاب احمد ملنے آئے۔ ان سے بھی اس منصوبہ کی تائید ہوئی۔ چنانچہ لاہور میں ایک جلسہ کا اہتمام کیا گیا اور اس میں ان کے ذریعہ سے ہی اس کا اظہار کروا دیا گیا۔ بات پریس میں آئی گریسی چیخ اٹھا اور چودھری مرحوم سے شکوہ کیا۔ چودھری نے ساتھیوں کو بلایا وہ گریسی کے گلے پڑ گئے کہ تم ملک میں مرزائیوں کو کیوں مسلط کرنا چاہتے ہو؟ گریسی نے کہا کہ تم پریس میں اپنی تقریر کی تردید کر دو میں فرقان فورسز کو توڑ دوں گا۔ انہوں نے پریس میں بیان دے دیا اور مطلوبہ چار پرچے مہیا کر کے باقی سارے اخبارات جلا دیئے گئے۔ فرقان بٹالین ٹوٹ گئی۔ لیکن مرزائی اسلحہ لے دوڑے۔ میں ملتان میں نظر بند تھا۔ میرے بھائی کا انتقال ہو گیا۔ میں نے ٧ دن کی اجازت مانگی لیکن نہ ملی۔ اسی دوران سکیورٹی سٹاف کے ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ فرقان بٹالین جب ٹوٹی تو مرزائی اسلحہ لے کر دوڑ گئے تھے۔ کیا آپ اس کی تلاش میں ہماری مدد کر سکتے ہیں؟
میں نے کہا کہ پوری مدد کر سکتا ہوں۔ بشرطیکہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ نہ آج تک ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا گیا۔ نہ اس اسلحہ کا پتہ چل سکا۔ آج بھی اگر حکومت اس پیش کش کو تسلیم کر لے تو وعدہ پورا ہو سکتا ہے۔
- ٧...... راولپنڈی سازش مقدمہ کا مشہور واقعہ ہے۔ دوسرے ملزم پکڑے گئے لیکن نذیر احمد
قادیانی کی گرفتاری عمل میں نہ آئی۔ قاضی احسان احمد مرحوم نے فرمایا کہ مرزائی سازش معلوم ہوتی ہے اور پھر جسٹس منیر سے ملے جو تحقیقاتی افسر تھا لیکن اس نے توجہ دی نہ دینا تھی۔
مولانا غلام غوث ہزاروی سے پشاور بازار سے کسی آدمی نے ذکر کیا اور اسی انداز کی بات کی کہ مرزائی ملوث ہیں۔ مولانا نے اسے لاہور کا مشورہ دیا وہ لاہور آیا۔ شاہ جی سے تذکرہ کیا۔ شاہ مرحوم نے مجھے بلایا اس آدمی نے سارے حالات میرے سامنے بیان کئے۔ میں نے کہا کہ آپ لکھ کر دے سکتے ہیں۔ وہ آمادہ ہو گیا اور سب کچھ لکھ کر دے دیا۔ انہی دنوں سرگودھا میں کل پاکستان مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ شاہ جی مرحوم نے آخری اجلاس میں تقریر کرنا تھی۔ وہ اتفاق سے بیمار تھے۔ مجھے بھیجا میں نے تقریر کی۔ عشاء سے لے کر صبح ٤ بجے تک تقریر ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تقریر خوب ہوئی اور خوبی کا راز بعد میں پتہ چلا۔ جب ایک آدمی سے شاہ جی نے تقریر کی کیفیت پوچھی تو راز یہ کھلا کہ مرحوم ملتان میں عشاء سے لے کر صبح ٤ بجے تک مصلیٰ پر بیٹھے رہے ادھر وہ ٤ بجے مصلیٰ سے اٹھے۔ ادھر میں نے تقریر ختم کر دی۔
٢٦
اس تقریر کے دوران میں نے سارا قصہ کہہ سنایا اور کہا کہ میرے پاس تحریری ثبوت ہے کہ یہ مرزائی سازش ہے۔ گورنمنٹ ثبوت مانگے تو میں ثبوت مہیا کر سکتا ہوں۔ اسی طرح ساہیوال وغیرہ تقریر ہوئی اور ہر جگہ اسی انداز سے تقریر ہوئی۔ لیکن حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اصل یہ ہے کہ مرزائی ہر محکمہ میں چھائے ہوئے ہیں۔ (مطلب کی بات راستہ میں ہی رہ جاتی ہے) آخر قاضی مرحوم کے مشورہ سے لیاقت مرحوم سے ملاقات ہوئی۔ علیک سلیک کے بعد مرحوم نے شاہ جی کی خیریت پوچھی۔ پھر مطلب کی بات ہوئی۔ لیاقت نے کاغذ لیا۔ پڑھا۔ پھر واپس کر دیا۔ آخر اس خط کی نقل مانگی۔ ہم نے اصل کاغذات اسے دے دیئے۔ مرحوم اگلے دن پنڈی پہنچے۔ مرزائی (نذیر) لندن سے واپسی پر ہوائی اڈہ سے ہی گرفتار ہو کر سزایاب ہوا اور فوج سے نکالا گیا۔ اس طرح خدا نے ایک فتنہ سے ملک کو بچا لیا۔
- ٨...... مرزا بشیر الدین محمود نے کوئٹہ کو قادیانی صوبہ بنانے کا اعلان کیا۔
- ١...... درحقیقت مرزائی ایک عرصہ سے اقتدار کا خواب دیکھ رہے تھے۔ جسٹس منیر کو اس
بات کا اعتراف ہے کہ وہ برطانیہ کے متوقع جانشین تھے۔ (دیکھیں منیر انکوائری رپورٹ ص ١٩٦) اور مرزا بشیر الدین کو اس حد تک خوش فہمی تھی کہ وہ ہندوستان کے علاوہ روس کو قادیانی سٹیٹ ہی سمجھ رہے تھے۔ جیسا کہ الفضل کی ٤ اگست ١٩٣٦ء کی شہادت موجود ہے: ”جماعت احمدیہ کے افراد نہ صرف پورے ہندوستان کے حکمران ہوں گے۔ بلکہ روس پر بھی ان کی حکومت ہوگی۔“ مرزائی حکومت کیوں چاہتے تھے۔ انہیں اقتدار کی ہوس آخر کیوں پریشان کئے ہوئے ہے۔ اس کا جواب بھی مرزائی تحریروں سے مل سکے گا۔
- ١...... مرزا بشیر الدین نے خطبہ میں کہا کہ ”ہماری حکومت نہیں ہے کہ ہم قوت سے لوگوں کی
اصلاح کریں اور ہٹلر اور مسولینی کی طرح اب سب لوگوں کو ملک بدر کر سکیں جو ہمارے احکامات کی تعمیل نہ کریں اور جو ہماری بات نہ سنیں یا نہ مانیں۔ انہیں عبرت ناک سزا دے سکیں۔ اگر ہمارے پاس حکومت ہوتی تو ہم یہ نتائج ایک دن میں حاصل کر سکتے تھے۔“ (الفضل ٢ جون ١٩٣٦ء)
- ٢...... بے شک قادیان ہمارا ایک مذہبی مرکز ہے لیکن اس وقت ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہماری
قوت اور ہمارے وقار کا مرکز کون سے مقام پر قائم ہوگا۔ یہ مرکز ہندوستان کے کسی بھی شہر میں قائم ہو سکتا ہے۔ (الفضل ٢٩ نومبر ١٩٣٣ء) گویا بزور مسلمانوں کو قادیانی بنانے کے لئے ریاست اور اقتدار کی ضرورت تھی۔ اس کے لئے ان کی نگاہیں مختلف خطوں کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ جن کی ترتیب کچھ یوں ہے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٢٧
(افادیت کے لئے موصوف کا وہ خطبہ نقل کیا جا رہا ہے۔ ١٢ مرتب) (بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ)
- ١...... ایک زمانہ میں حیدرآباد دکن کو اس مقصد کے لئے بہترین جگہ تصور کیا گیا لیکن خدا کی
کروڑوں رحمتیں ہوں الیاس برنی مرحوم اور دوسرے اہل حق پر جنہوں نے اس سازش کے خلاف بند باندھا۔
- ٢...... پھر کشمیر کی طرف نگاہیں اٹھیں۔ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے نام پر کشمیر کمیٹی کا
قیام، موسیو بشیر الدین کا اس کا صدر بننا اور بقول الفضل ١٦؍ جون ١٩٣١ء بار بار کشمیر جاؤ۔ اس سلسلہ کے مختلف کڑیاں تھیں۔ اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے۔ دارالعلوم دیوبند کے رئیس الاساتذہ الشیخ محمد انور شاہ کشمیری کو جن کی نگاہ بصیرت مرزائی سازش کو تاڑ گئی۔ اور علامہ اقبال مرحوم کو سمجھا کر آمادہ کیا۔ جس سے اقبال نے کشمیر کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا اور یہ کمیٹی برباد ہو گئی۔ نیز متحدہ ہندوستان کی مخلص مجلس احرار نے اس سازش کو پروان نہ چڑھنے دیا اور اس طرح مرزائیوں کا یہ منصوبہ خاک میں مل گیا۔ ان تفصیلات کے لئے مجلس احرار کے بیدار مغز رہنما مرحوم ماسٹر تاج الدین کا کتابچہ ”احرار اور تحریک کشمیر“ نیز محمد احمد خان صاحب کی کتاب ”اقبال کا سیاسی کارنامہ“ قابل مطالعہ ہیں۔
- ٣...... تقسیم کے بعد بلوچستان پر قبضہ کا منصوبہ (جس کی تفصیلات متن میں موجود ہیں)
جنرل گریسی کے ذریعہ فوج پر مسلط ہونے کے خواب اور پنڈی سازش کیس سب اس سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔
- ٤...... مرزائیوں کا وقفہ وقفہ سے اپنے اقتدار کی دھمکیاں دینا اور منصوبہ بندی کرنا۔ جس کی
ایک جھلک لندن میں مرزائی کنونشن منعقدہ ٣٠؍ اگست ٦٥ء میں دیکھی جاسکتی ہے، بھی اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ درحقیقت یہ سب پاپڑ برطانوی سامراج کے سب سے بڑے مہرے اور اپنے یک چشم انگریزی نبی کے اس ارشاد کی تکمیل کے لئے بیلے پڑے جو الفضل ج ٦ شمارہ ٤٢ میں موجود ہے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں مہدی موعود اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلے میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح (بغداد) سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب ہو یا شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان تفصیلی معروضات کی روشنی میں بلوچستان پر مرزائی قبضہ کی آرزو کی وجہ جو اب آسانی سے سمجھ میں آجائے گی۔ کاش پاکستانی ارباب حل وعقد مرزائی ریشہ دوانیوں کو سمجھتے؟ ٢٨
”غریب بلوچستان“
آبادی اگر چہ دوسرے صوبوں ک اہمیت حاصل ہے۔ دنیا میں جسے ہے۔ وہاں سٹیٹس سینٹ کے آبادی دس کروڑ ہے یا ایک کر بلوچستان کی آبادی ٦،٥ لاکھ ک اہمیت حاصل ہے۔ زیادہ آباد مشکل نہیں۔ پس جماعت اس ہے۔ یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک پہلے بیس مضبوط ہو تو پھر تبلیغ ک بنالو۔ کسی ملک میں ہی بنالو۔ ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ ک
مولانا نے فرمایا ک علماء کو اکٹھا کیا اور مرزائیت کے ہم دونوں کی تقریر ہوئی۔ تقریر ک ہمیں فخر ہے کہ ہم نے ایک پور مرزا محمود کی نخوت زمین پر لٹائی گئیں اور دوغلا ر اور بال بچھے ہوئے تھے۔ مرز مرزائی صوبہ بنانے کا اعلان کی ہماری تقریر سے م ابراہیم میر سیالکوٹی مرحوم کو سنن محمود نام تھا۔ ١٢ مرتب ) نے مسلمانوں نے اسے پکڑا۔ دو
”برٹش بلوچستان جو اب پاکی بلوچستان ہے کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ یہ آبادی اگرچہ دوسرے صوبوں کی آبادی سے کم ہے۔ مگر بوجہ ایک یونٹ ہونے کے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ دنیا میں جیسے افراد کی قیمت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کا کانسٹی ٹیوشن ہے۔ وہاں سٹیٹس سینٹ کے لئے اپنے ممبر منتخب کرتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی اسٹیٹ کی آبادی دس کروڑ ہے یا ایک کروڑ ہے۔ سب سٹیٹس کی طرف سے برابر ممبر لئے جاتے ہیں۔ غرض بلوچستان کی آبادی ٦،٥ لاکھ ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک یونٹ ہے۔ اس لئے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے۔ لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلد احمدی بنایا جاسکتا ہے۔ یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جب تک ہماری (Base) مضبوط نہ ہو۔ پہلے ایک مضبوط ہو تو پھر تبلیغ پھیلتی ہے۔ بس پہلے اپنی بیس مضبوط کرلو۔ کسی نہ کسی جگہ اپنی بیس بنالو۔ کسی ملک میں ہی بنالو...... اگر ہم سارے صوبے کو احمدی نہ بناسکیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہوجائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں۔ اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہوسکتا ہے۔“
(خطبہ موسومہ بشیر الدین بمقام کوئٹہ مندرجہ الفضل ٢٣ جولائی ١٩٤٨ء)
مولانا نے فرمایا کہ مرزا کے اس اعلان کے بعد میں اور قاضی صاحب مرحوم کوئٹہ گئے۔ علماء کو اکٹھا کیا اور مرزائیت کے اصلی چہرے کو بے نقاب کر کے علماء کو متنبہ کیا۔ رات جلسہ عام میں ہم دونوں کی تقریر ہوئی۔ تقریر کیا ہوئی۔ پورے صوبہ میں مرزائیوں کے خلاف آگ لگ گئی اور ہمیں فخر ہے کہ ہم نے ایک پوری آبادی کو مرزائی ہونے سے بچالیا۔
مرزا محمود کی نخوت اور غرور و تکبر کا یہ عالم تھا کہ جب کوئٹہ گیا تو نوجوان مرزائی لڑکیاں زمین پر لٹائی گئیں اور دو قطاروں میں لڑکیوں کو اس طرح لٹایا گیا کہ ان کے سر جڑے ہوئے تھے اور بال بچھے ہوئے تھے۔ مرزا محمود ان بالوں پر سے گزرا اور اس متکبرانہ انداز میں بلوچستان کو مرزائی صوبہ بنانے کا اعلان کیا۔
ہماری تقریر سے مرزائیوں کے خلاف سخت نفرت پھیل گئی۔ تھوڑے دنوں بعد مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی مرحوم کوئٹہ تشریف لے گئے۔ ان کی تقریر کے دوران ایک مرزائی ڈاکٹر (اغلباً محمود نام تھا۔ از مرتب) نے اٹھ کر کہا مولوی صاحب بکواس بند کرو۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ دو مسلمانوں نے اسے پکڑا۔ دور لے گئے اور مار مار کر ختم کر دیا اور نعش نالے میں بہادی۔ باقی مجمع
٢٩
امن و سکون سے بیٹھا تقریر سنتا رہا۔
مرزا محمود کوئٹہ میں ہی تھا۔ پولیس نے اسے کہا کہ بہتر ہے تم یہاں سے چلے جاؤ۔ مشتعل مسلمان تم پر برس پڑے تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ چنانچہ مرزا کو راتوں رات پولیس کے پہرہ میں وہاں سے نکلنا پڑا۔ اور مرزائی خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ وہ مسلمان دندناتے رہے اور کسی کو ان پر ہاتھ اٹھانے کی جرات نہ ہوسکی۔
- ٩....... مرزائی افسروں نے چنیوٹ میں اچھے قسم کے پندرہ سو مکانات خالی کرانے کا حکم دیا
تاکہ مرزائیوں کو آباد کیا جاسکے۔ حالانکہ مکان الاٹ ہو چکے تھے۔ لٹے پٹے مہاجرین بسیرا ڈال چکے تھے۔ گویا مرزائیوں نے اس شہر کو ایک مرزائی سٹیٹ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ میں چنیوٹ گیا۔ تقریر کے دوران عہد لیا کہ ہماری لاشیں تو نکالی جاسکتی ہیں۔ زندہ ان مکانوں سے ہم نہ نکلیں گے۔ اس طرح خداوند قدوس نے یہاں بھی مرزائیوں کو رسوا کیا۔
یہ ساری تفصیل مرزائیوں کے کردار کو سمجھنے کے لئے کافی ہے اور اس سے معلوم ہو جائے گا کہ مرزائی ملک میں کیا گل کھلانا چاہتے ہیں۔ مرزائیوں کی دسیسہ کاریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے امیر شریعت مرحوم نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنا ڈالی تھی جس نے الحمد للہ تعالیٰ بے سرو سامانی کے عالم میں مختلف مواقع پر ملک کو مرزائی سازشوں سے بچایا ہے۔ مجلس نے پائی پائی جوڑ کر اب دفتر تعمیر کیا ہے۔ تاہم مرزائیت کا مقابلہ کرنے کے لئے مادی اعتبار سے جو ضروریات ہیں وہ اب بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ محض حضور خاتم النبیین ﷺ کی ختم المرسلینی کا صدقہ ہے کہ اس بے سروسامان کے عالم میں بھی گاڑی چل رہی ہے۔
مولانا نے ملک کے ہر طبقہ سے اپیل کی کہ وہ اپنی اپنی جگہ ختم نبوت کے مبلغ بن جائیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو پھر انشاء اللہ مرزائیوں کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ آپ نے افسوس کا اظہار کیا کہ سرکاری افسر مرزائی نبوت کے مرکز ربوہ کے پاسبان بنے ہوئے ہیں۔ جس کے سبب وہاں کی پراسرار سرگرمیاں منظر عام پر نہیں آسکتیں۔ اگر ان سرکاری افسروں کو بھی تین سو تین کی طرح مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر کے ان کی ملک دشمن سرگرمیوں کے پیش نظر برطرف کر دیا جائے تو ربوہ کا وجود چند لمحے بھی باقی نہ رہ سکے گا۔
آپ نے تقریر کے آخر میں ایک بار پھر اپیل کی کہ ہر کہ ومہ کو ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے میدانِ عمل میں آجانا چاہئے۔ اس طرح ہم لوگ محمدی سرکار کی شفاعت کے مستحق بن جائیں گے۔
٣٠
چنانچہ رئیس المحدثین سیـ میں دارالعلوم دیوبند کے تمام اساتذہ ہے تو امت محمدیہ کو دشمنان ختم نبوت ہـ
اسی طرح آپ نے ایـ عورت اپنے خاوند کو روکتی تھی کہ تحریـ خواب میں تشریف لائیں اور نہایت خاوند کو روکتی ہو۔ چنانچہ اس عورت نے اسے بشارت بھی دی کہ انشاء الـ
ان واقعات کے اظہار کـ اور اس کام میں معاونت و شرکت بـ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الـ
حضرت مولانا کی تقریر
ہر آدمی رئیس الاحرار چودھری افضل امپیریلزم“ کے کھلے ایجنٹ ہیں۔ مـ طبقہ کا ذہن رکھتے ہیں۔ ارد گرد کی مرعوب کرنا ان کا دھندا ہے۔ اور ص ١٨٠) اور جب یہ درست ہے کہ اس مسئلہ پر سنجیدگی سے توجہ د
تقریر حضـ
کی
خطبہ مسنونہ کے
”اعوذ بالله من محمد ابا احد من رجالكم
چنانچہ رئیس المحدثین سید الاساتذہ حضرت العلام سید انور شاہ کشمیریؒ نے آخری عمر میں دارالعلوم دیوبند کے تمام اساتذہ اور طلبہ کو جمع کر کے فرمایا کہ اگر شفاعت نبی علیہ السلام درکار ہے تو امت محمدیہ کو دشمنان ختم نبوت سے بچاؤ۔
اسی طرح آپ نے ایک دوسرا واقعہ ارشاد فرمایا کہ تحریک مقدمہ کے دوران ایک عورت اپنے خاوند کو روکتی تھی کہ تحریک میں شامل نہ ہو۔ لیکن سیدۃ النساء اہل الجنت حضرت فاطمہؓ خواب میں تشریف لائیں اور نہایت غصے میں فرمایا کہ میرے اباجی کی عزت کا مسئلہ ہے اور تم اپنے خاوند کو روکتی ہو۔ چنانچہ اس عورت نے معافی مانگی اور خاوند کو جیل بھیج دیا۔ حضرت خاتون جنت نے اسے بشارت بھی دی کہ انشاء اللہ تیرا خاوند جلدی آجائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
ان واقعات کے اظہار کا مقصد یہ ہے کہ یہ کوئی دنیوی کام نہیں بلکہ خالصتاً دینی کام ہے اور اس کام میں معاونت و شرکت رضا الٰہی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
حضرت مولانا کی تقریر حواشی اور احقر کے قلم سے لکھا ہوا ابتدائیہ ملاحظہ فرمانے کے بعد ہر آدمی رئیس الاحرار چودھری افضل حق مرحوم کی اس رائے کو درست تسلیم کرے گا کہ ”مرزائی برٹش امپیریلزم“ کے کھلے ایجنٹ ہیں۔ مسلمانوں کی جمعیت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ان کا مشن ہے۔ وہ اعلیٰ طبقہ کا ذہن رکھتے ہیں۔ ارد گرد کی غریب آبادیوں کا بائیکاٹ کرنا اور دوسرے ذریعوں سے انہیں مرعوب کرنا ان کا دھندا ہے۔ اور وہ مسلمانوں میں بطور ففتھ کالم کام کرتے ہیں (تاریخ احرار ص ١٨٠) اور جب یہ درست ہے تو انہیں اقلیت قرار دینے میں کون سا عذر ہے؟ کیا ارباب حل و عقد اس مسئلہ پر سنجیدگی سے توجہ دیں گے۔
تقریر حضرت مولانا محمد علی جالندھری
مکی مسجد گوجرانوالہ شہر ٢١ اکتوبر ١٩٦٦ء
خطبہ مسنونہ کے بعد مولانا نے درج ذیل آیت تلاوت فرمائی۔
”اعوذ بالله من الشیطن الرجیم۔ بسم الله الرحمن الرحیم۔ ما کان محمد ابا احد من رجالکم الآیۃ“
٣١
اس کے بعد فرمایا کہ میں ١٩٤٢ء میں احرار کانفرنس میں شمولیت کی غرض سے ملتان آیا تھا ان دنوں مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی مرحوم جیل میں تھے۔ تقریر کے بعد دوستوں نے جیل میں مولانا سے درخواست کی۔ انہوں نے حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ سے درخواست کی۔ اس طرح بزرگوں کے حکم سے مجھے ملتان میں قیام پذیر ہونا پڑا۔ مدرسہ بنایا اور وہیں کام شروع کر دیا اور جب ١٩٤٧ء میں مدرسہ خیرالمدارس جالندھر سے ملتان آیا تو اپنا مدرسہ ختم کر کے اس میں مدغم کر دیا۔ اس وقت سے اہل ملتان سے وعدہ کیا کہ کچھ بھی ہو، جمعہ ملتان میں ہی پڑھاؤں گا اور حقیقت بھی یہ ہے کہ اگر جمعہ بھی وہاں نہ پڑھاؤں تو پھر اہل ملتان بالکل محروم رہتے ہیں۔ یہ تو درست ہے کہ میں ملتان میں کوئی باضابطہ خطیب نہیں۔ نہ تنخواہ کا سلسلہ ہے۔ البتہ ایک وعدہ ہے۔ جس کا ایفاء کر رہا ہوں۔
پھر یہ کہ تقسیم کے بعد شاہ جی مرحوم ملتان تشریف لائے۔ مرکزی دفتر بھی ملتان ہی قائم ہوا۔ اس لئے اس وعدہ کے ایفاء کے لئے مزید سامان پیدا ہو گئے۔ ١٩٤٢ء سے لے کر اب تک سلسلہ ایسے ہی چل رہا ہے۔ دوران سفر کتنا ہی دور کیوں نہ ہوں۔ جمعہ کو ہر حال میں وہاں پہنچتا ہوں۔ آپ لوگوں نے ایک دینی جذبہ کے تحت یہ مسجد بنائی۔ اسکی خوشی میں ٢٤ سالہ روایت چھوڑ کر جمعہ کو یہاں چلا آیا۔ جب کہ احرار اور مجلس ختم نبوت کی کانفرنسوں میں بھی اصرار کے باوجود کبھی جمعہ نہیں دیا۔ بس اس مسجد کی خوشی اور آپ کی قربانی، شوق اور تڑپ کی قدر کرتے ہوئے حاضر ہو گیا ہوں۔ خدا اس حاضری کو قبول فرمائے اور آپ کی قربانی کو قبول فرما کر روز حشر اجر جزیل سے نوازے۔ (آمین) حقیقت یہ ہے کہ قیامت کے دن کچھ مل گیا تو بیڑا پار ہو جائے گا۔
جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو ماں بنا سنوار کر رخصت کرتی ہے۔ سمجھا کر بھیجتی ہے کہ بیٹی نیا گھر ہے۔ ہوش اور عقل سے رہنا ان ساری چیزوں کے باوجود اگر خاوند کو پسند نہ آئے تو کوئی فائدہ نہیں، خاوند کو پسند آ گئی تو پھر سب ٹھیک ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کو کوئی عمل پسند آ گیا تو بات بن جائے گی۔ ورنہ تباہی و بربادی ہے۔ (اعاذنا اللہ تعالیٰ منھا)
حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ پر مقدمہ چلا، حجاز میں گرفتار ہوئے، مالٹا میں اسیر ہوئے۔ (حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ فرماتے ہیں کہ حضرت کو شیخ الہند کہنے والے ان سے انصاف نہیں کرتے۔ ان کا اصل نام شیخ العرب والعجم ہے۔) انگریزی حکومت سزائے موت کا
٣٢
فیصلہ کر چکی تھی اس لئے کہ ان کا جرم انگریز کے نزدیک بڑا سنگین تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی مرحوم نے سفر نامہ اسیر مالٹا کے عنوان سے کچھ لکھا ہے۔ جس سے کچھ ارشادات ملتے ہیں۔ حضرت کی سکیم یہ تھی کہ انگریز کو نکالا جائے۔ فوج افغانستان کی ہو، جرنیل ترک ہوں۔ وہ باہر سے حملہ کریں اور اندر سے بغاوت کر دی جائے۔ امروٹ شریف (سندھ) دین پور شریف (رحیم یار خان) کھڈہ کراچی، رائے پور شریف وغیرہ بغاوت کے خفیہ مراکز تھے۔ لیکن اللہ کو ابھی منظور نہ تھا۔ راز افشاء ہو گیا۔ سکیم فیل ہوگئی۔ اسی سکیم کے تحت حضرت شیخ نے امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی مرحوم کو بیرون ملک بھیجا۔ انگریز کو اس کا پتہ چل گیا ادھر کسی نام نہاد بغدادی مسلمان نے افغانستان اور انگریز کی صلح کرا دی۔ نتیجتاً مولانا سندھی افغانستان سے نکالے گئے۔ ان کو کہیں جگہ نہ ملی۔ پھرتے پھراتے حجاز تشریف لے گئے۔ ادھر حضرت شیخ الہند انتقال کر گئے۔ مولانا سندھی کو بڑی دیر بعد انڈیا آنے کی اجازت ملی۔
تو عرض یہ کر رہا تھا کہ حضرت کی سکیم انتہائی سخت تھی۔ اس بناء پر سزائے موت کا فیصلہ ہوا۔ مالٹا میں پانچ ساتھیوں کو علیحدہ علیحدہ کال کوٹھڑیوں میں رکھا گیا۔ (یعنی حضرت شیخ الہند، حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی، حضرت مولانا حکیم نصرت حسین، حضرت مولانا وحید احمد مدنی اور حضرت مولانا عزیر گل صاحب مقیم کاکوٹ ضلع مردان زید مجدہم از مرتب) ادھر انڈیا میں اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوئی۔ انگریز کے خلاف نفرت بڑھی تو مصلحتاً سزائے موت کو منسوخ کر دیا گیا۔ حضرات کو کوٹھڑیوں سے نکال کر ایک میدان میں جمع کیا گیا۔ جس کے ارد گرد خاردار تاروں کی باڑ تھی۔ خدام نے حضرت شیخ کی نقاہت و کمزوری کو دیکھا تو بھانپ گئے کہ اتنے دن آپ نے کچھ کھایا پیا نہیں پوچھنے پر آپ نے تصدیق فرمائی پھر جب سوال ہوا کہ کیوں؟ تو آپ نے فرمایا بھائی غم اس بات کا تھا کہ مجرم تو میں تھا تم بلاوجہ مفت میں ساتھ لائے گئے۔ دوسرا یہ کہ میں تو بوڑھا ہو چکا ہوں۔ عمر طبعی پوری ہو چکی تم جوان ہو میری وجہ سے بیوی بچوں سے علیحدہ کئے گئے ہو تم نے ابھی زندگی کی بہاریں بھی نہیں دیکھیں۔ یہ سن کر مولانا عزیر گل نے عرض کیا۔ حضرت آپ بھی عجیب آدمی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان جا رہی تھی۔ تو غم کیسا؟ حضرت نے فرمایا کیا کہتے ہو؟ اللہ کی راہ میں جان، جان دینے والا دے دے اور مالک کہے کہ مجھے منظور نہیں تو پھر؟ مقصد یہ ہے کہ تکبر و غرور نہیں ہونا چاہئے۔ کوئی کام ہو جائے تو اس کی عنایت سمجھ کر اس کا شکر بجالانا چاہئے۔ اس لئے کہ
٣٤٤
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
چنانچہ حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا اس کی عمر پانچ سو سال تھی۔ اس پر تعجب نہ ہونا چاہئے۔ سیدنا نوح علیہ السلام کی عمر ١٤ سو سال تھی۔ ساڑھے نو سو برس تبلیغ کی۔ شروع میں قد اور عمریں بڑی تھیں۔ بعد میں کمی ہوتی چلی گئیں۔ الغرض وہ بنی اسرائیل جزیرہ سمندر میں رہتا۔ وہاں نہ کھانا تھا نہ میٹھا پانی حق تعالیٰ نے وہاں اس کے لئے انار کا درخت اگا دیا۔ (یہ سب اللہ کے قبضہ میں ہے حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ”عرفت ربی بفسخ العزائم“ یعنی میں نے اپنے رب کو جب پہچانا جب میرے ارادے پورے نہ ہوئے۔ ارادے پورے نہ ہوں اور بلا اسباب انتظام ہوجائے سب اس کے قبضہ میں ہے۔ انار کے درخت کے ساتھ کھارے پانی میں سے شیریں چشمہ ابل پڑا۔ پھر شان ربی یہ کہ انار بارہ ماہ پیدا ہوتے یہ شخص انار کھاتا پانی پیتا اور عبادت کرتا۔ یہ شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوگا تو حکم ہوگا جا تجھے اپنی رحمت سے بخش دیا۔
وہ کھڑا رہے گا جائے گا نہیں۔ سوال ہوگا جاتا کیوں نہیں؟ عرض کرے گا کہ تو نے اپنی رحمت سے بخشا ہے تو پانچ سو سال کی عبادت کہاں گئی؟ اللہ میاں فرمائیں گے تجھے نجات مقصود تھی مل گئی۔ بحث نہ کر معافی مل گئی۔ غنیمت سمجھ کر چلا جا۔ وہ نہ مانے گا تو حساب ہوگا حکم ہوگا کہ جہاں تو تھا تیری خاطر شیریں پانی اور انار کا انتظام کیا تو نے کھایا تو عبادت کا معاملہ برابر ہوگیا۔ اس کے علاوہ پیدائش شکل وصورت وغیرہ کے احسانات تو اس کا بدلہ کیا ہے؟ حکم ہوگا کہ جہنم میں ڈال دو اور اب شور مچائے گا اور رحمت رب کا واسطہ دے کر معافی کی التجا کرے گا۔ لیٹ جائے گا۔ چنانچہ پھر بخشش کا حکم ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ عبادت اس کا حکم ہے ورنہ احسانات کا بدلہ کیسے ملے گا؟
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
آپ نے ایک نیکی کا کام کیا (یعنی راتوں رات مسجد بنائی) خدا مساجد کو آباد کرنے کی توفیق دے۔ تعمیر مساجد مومنوں کا کام ہے۔ ”انما يعمر مساجد الله الآیۃ“ اور حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے مسجد بنائی۔ حق تعالیٰ اس کا گھر جنت میں بنائے گا۔ آپ نے یہ نیکی کی۔ اس پر خدا کا شکر کریں کہ یہ سب کچھ اس کی توفیق سے ہوا ورنہ بغیر اس کی توفیق کچھ بھی نہیں
.٣٤.
ہو سکتا۔ اس تمہید کے بعد میں اس آیت کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو میں نے تلاوت کی۔ اس آیت کا شان نزول سمجھنا ضروری ہے۔ کسی آیت کے اترنے کا کوئی سبب ہوتا ہے۔ اس کو شان نزول کہتے ہیں۔ یا مثلاً کسی واقعہ پر کوئی آیت اتری تو وہ واقعہ اس آیت کا شان نزول کہلائے گا۔
مثال نمبر ١...... سورہ نور میں کچھ آیات ہیں۔ عبداللہ بن ابی کی جماعت نے سیدہ عائشہ صدیقہ پر بہتان باندھا۔ حضرت مسطح حضرت حسان جیسے مخلص مسلمان پروپیگنڈہ کا شکار ہو گئے۔ (اللہ تعالیٰ بہتان سے محفوظ رکھے) حضرت عائشہ کی صفائی میں اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرمائیں تو گویا یہ واقعہ ان آیات کا شان نزول ہے۔
مثال نمبر ٢...... کفار کے مالدار طبقہ نے کہا کہ اے پیغمبر ہم تیری باتیں بھی سنیں گے۔ تیرے پاس بیٹھنے کو بھی تیار ہیں۔ بشرطیکہ یہ غریب لوگ جو آپ کے پاس بیٹھے ہیں۔ ان سے علیحدہ ہمارے لئے وقت مقرر کر دیں۔ نبی رحمت جو ان کے ایمان کے حریص تھے اور دنیا کو عذاب خداوندی سے بچانا چاہتے تھے، نے اسے غنیمت سمجھ کر اوقات مقرر فرمادیئے اور صحابہ سے فرما دیا تم تو میرے ہو، ہر وقت میرے پاس رہتے ہو۔ ذرا علیحدہ ہو جایا کرو۔ ان سے باتیں کرلوں۔ شاید یہ اسلام قبول کر لیں۔ ایک دن آپ ان سے مصروف گفتگو تھے کہ نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم تشریف لائے۔ حضرت نبی علیہ السلام کو ان کا آنا پسند نہ آیا۔ ناپسندیدگی کے آثار چہرے پر ظاہر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا "عبس وتولی الخ الآیہ" تو گویا اس سورہ کا شان نزول حضرت ابن ام مکتوم کی آمد ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا کی جھڑک ہے۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔ حضور علیہ السلام اس کے بعد جب ابن ام مکتوم تشریف لاتے تو فرماتے "مرحبا بمن عاتبنی فیہ ربی " لوگ ترجمہ کرتے ہیں کہ : "مبارک ہو تجھے تیرے سبب میرے رب نے مجھے جھڑکا۔" حضرت ابن ام مکتوم عرض کرتے یا رسول اللہ ایسا نہ فرمایا کریں۔ حالانکہ یہ ترجمہ مناسب نہیں اور مجھے اعتراف ہے کہ ابھی اردو زبان تشنہ ہے۔ ہمارے امیر شریعت مرحوم ماہر مترجم قرآن تھے۔ وہ پنجابی میں ترجمہ کرتے "مبارک ہووے تینوں تیری وجہ تو مینوں میرے رب نے مہنہ دتا۔ جو لوگ پنجابی ادب سے واقف ہیں۔ وہ اس ترجمہ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ مہنہ میں محبت بھرا شکوہ ہوتا ہے اور ایک خاص قسم کی لطافت جب کہ جھڑکنا بڑا سخت لفظ ہے۔"
ایسے ہی اللہ الصمد کا معنی لوگ کرتے ہیں ۔ اللہ بے نیاز ہے حالانکہ یہ ترجمہ نامکمل
٣٥
ہے۔ پورا ترجمہ یہ ہے ایسی ذات جو کسی کی محتاج نہ ہو اور سب اس کے محتاج ہوں۔ ہندی میں اس کا متبادل لفظ موجود ہے۔ جس کو حضرت شاہ عبدالقادر مرحوم نے ترجمہ میں اختیار کیا ہے کہ اللہ نرا دھار ہے۔
مثال نمبر ٣...... ثعلبہ بن ابی حاطب نے عرض کیا: یا رسول اللہ میرے مالدار ہونے کی دعا فرمائیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ مالدار ہو کر خدا کی راہ میں خرچ نہ کرنا اس سے غربت بہتر ہے۔ عرض کی یا رسول اللہ خرچ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کٹھن مسئلہ ہے۔ سوچ لو! تین دفعہ اس نے کہا حضور علیہ السلام نے اسی طرح تلقین فرمائی۔ آخر دعا کی ، وہ مالدار ہو گیا۔ جنگل کے جنگل اس کے قبضہ میں اور ہر جگہ بکریاں چر رہی تھیں۔ جب اللہ میاں نے جانوروں کی زکوٰۃ کا حکم دیا تو نبی علیہ السلام نے سفیر روانہ فرمائے۔ ثعلبہ نے کہا زکوٰۃ کیسی؟ سفراء نے عرض کیا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے۔ اس نے ثبوت مانگا ثبوت ملا تو کہنے لگا۔ اچھا کافروں پر جو ٹیکس تھا۔ وہ اب ہم پر بھی لاگو ہو گیا۔ انکار کر دیا اور کچھ نہ دیا۔ اس پر آیت اتری: ” ومنهم ما عاهد الله لئن آتانا من فضله لنصدقن ولنكونن من الصالحين فلما اتاهم من فضلهم بخلوا به وتولوا وهم معرضون (توبہ) “ یعنی کچھ لوگ اللہ سے عہد کرتے ہیں کہ خدا نے ہمیں دیا تو ہم صدقہ دیں گے اور نیکو کار ہو جائیں گے۔ لیکن جب خدا نے انہیں نوازا تو بخل سے کام لیا اور پھر گئے ( مفہوم ترجمہ ) تو گویا یہ آیات ثعلبہ کے قصہ کا شان نزول ہے۔
شان نزول کا مطلب سمجھ جانے کے بعد اب اس آیت مبارکہ (ماکان محمد الآیہ) کا شان نزول سماعت فرمائیں۔ حضور علیہ السلام نے جو امیری غریبی کا فرق مٹانے اور نیکی بدی کا حقیقی مفہوم سمجھانے کا تہیہ کیا تو آپ ﷺ نے اپنے متبنٰی غلام حضرت زیدؓ سے اپنی پھوپھی زاد بہن اور قریشی خاندان کے باعزت خاتون حضرت زینبؓ کا نکاح کر دیا۔ اسلام کی حقیقی مساوات کا عملی نمونہ یہ تھا کہ بنو ہاشم کی لڑکی کو غلام کے حبالہ عقد میں دے دیا۔ آخر میاں بیوی کی نبھ نہ سکی تو آپ نے ایک دفعہ تو صلح کرا دی۔ لیکن بالآخر معاملہ انقطاع کلی پر جا کر اختتام پذیر ہوا۔ طلاق کے بعد حکم خداوندی کے پیش نظر آپ نے خود نکاح کر لیا۔
عرب کے رواج کے پیش نظر متبنٰی کے وہی حقوق تھے جو حقیقی بیٹے کے ہوتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے اس غلط رسم کو مٹانے کی خاطر پیغمبر کے ذریعہ اصلاحی منصوبہ بنایا اور نکاح کروا دیا۔ اس ترکیب سے جہاں غلط رسم مٹی اور حضرت زینبؓ کے دکھ کا مداوا ہو گیا۔ وہاں کفار کا شور مچانا لابدّی تھا۔ کہنے لگے کہ دیکھو یہ نبی ہے۔ جس نے اپنی مطلقہ بہو سے نکاح کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ٣٦
الزام کا جواب دیا اور فرمایا ”مسلمان مردوں سے کسی مرد کے باپ نہیں۔ مقصد یہ ہے ابراہیم علیہم الرضوان تو بچپن میں انتقال فر بیٹا نہیں۔ جب بیٹا نہیں تو بہو کیسی؟ حضر صفائی جناب عیسیٰ علیہ السلام نے دی۔ م پر تہمت لگی تو خدا خود کٹہرے میں آیا اور ص چنانچہ آیت مبارکہ کے اس ک کہہ رہا ہے۔ اس کا لڑکا کوئی نہیں۔ اس ل کیسا؟ جلدی جان چھوٹ جائے گی۔ اس نہ سہی ، روحانی تو ہے۔ اس لئے کہ آپ ا اس کا نام لیوا کوئی نہ ہوگا۔ اولاد تو نا خلف امت ہوگی اور نام لے گی۔ کافر پریشان تھ کیا ہوا جب تک یہ نام لیوا ہوں گے۔ جان چھوٹ جائے گی۔ اس پر ارشاد ہوا ” وخاتم ال سوال ہی نہیں۔ اب ہمیشہ کے لئے اسی ہیں۔ معاملہ ہی ختم ہے۔ گویا آیت کے ت مقصد یہ ہوا کہ محمد مدنی علیہ السلام کے بعد
نہ ہماری چشم تما
افسوس یہ ہے کہ سارقان ختم ن کا نام دیا جاتا ہے اور ہماری مدافعت کو ف ہے اور مرزائی ہم سے لڑتے ہیں۔ میں ن صاحب کو سمجھاؤ کہ یا تو محمد ﷺ سے ی ہو جائے ورنہ ہم بھی ختم ہو جائیں تو دوسری
الزام کا جواب دیا اور فرمایا ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم“ یعنی محمد علیہ السلام تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ آپ کے صاحبزادگان جناب قاسم، طیب، طاہر۔ ابراہیم علیہم الرضوان تو بچپن میں انتقال فرما گئے۔ ان کی تو شادیاں نہیں ہوئیں۔ اور ان کے علاوہ بیٹا نہیں۔ جب بیٹا نہیں تو بہو کیسی؟ حضرت امیر شریعت فرمایا کرتے تھے کہ یوسف علیہ السلام کی صفائی جناب عیسیٰ علیہ السلام نے دی۔ لیکن جب حضرت عائشہؓ پر تہمت لگی یا محمد مصطفیٰ علیہ السلام پر تہمت لگی تو خدا خود کٹہرے میں آیا اور صفائی دی۔ ”ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء“
چنانچہ آیت مبارکہ کے اس ٹکڑے کے نزول کے بعد کافروں نے بغلیں بجائیں کہ خدا کہہ رہا ہے۔ اس کا لڑکا کوئی نہیں۔ اس لئے اس کے بعد اس کا نام کون لے گا۔ اولاد ہی نہیں تو نام کیسا؟ جلدی جان چھوٹ جائے گی۔ اس پر اگلا ٹکڑا نازل ہوا ”ولکن رسول الله“ نسبی اولاد نہ سہی، روحانی تو ہے۔ اس لئے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ یعنی بغلیں نہ بجاؤ کہ محمد ﷺ کے بعد اس کا نام لیوا کوئی نہ ہوگا۔ اولاد تو ناخلف ہو کر باپ کا نام مٹانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ یہاں تو امت ہوگی اور نام لے گی۔ کافر پریشان تو ہوئے لیکن تسلی خاطر کے لئے کہنے لگے کہ رسول ہوا تو کیا ہوا جب تک ہے نام لیوا ہوں گے۔ جب تک دوسرا نہیں آ جاتا جب دوسرا آ جائے گا تو پھر جان چھوٹ جائے گی۔
اس پر ارشاد ہوا ”وخاتم النبیین“ یعنی قیامت تک یہی ہے دوسرے کے آنے کا سوال ہی نہیں۔ اب ہمیشہ کے لئے اس کا نام لیا جائے گا۔ اب نبی، کتاب، کعبہ وقبلہ سب آخری ہیں۔ معاملہ ہی ختم ہے۔ گویا آیت کے تین ٹکڑے ہیں اور ہر ٹکڑے کا شان نزول جدا جدا ہے اور مقصد یہ ہوا کہ محمد مدنی علیہ السلام کے بعد نبی بنانے کی مشین ہی ختم ہے۔
نہ ہماری چشم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں
افسوس یہ ہے کہ سارقان ختم نبوت کے سرخیل مرزا غلام احمد قادیانی کی خرافات کو مٹھائی کا نام دیا جاتا ہے اور ہماری مدافعت کو گالی کا نام دیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قصور مرزا کا ہے اور مرزائی ہم سے لڑتے ہیں۔ میں مرزائیوں سے کہتا ہوں کہ ہم سے نہ لڑو بلکہ اپنے حضرت صاحب کو سمجھاؤ کہ یا تو محمد ﷺ سے پہلے پیدا ہو جاتا۔ اگر نبوت کا شوق تھا اور یا اس دنیا کو ختم ہو جانے دو ہم بھی ختم ہو جائیں تو دوسری دنیا میں آ جانا پھر نہ ہم ہوں گے نہ لڑائی ہوگی۔
٣٧
ایک ضروری بات
نام سے سمجھ آ جاتی ہے کہ فلاں کون ہے۔ مثلاً حافظ جی سے پتہ چلے گا کہ فلاں حافظ ہے وغیرہ۔ اسی طرح پیغمبر کی دو قسمیں ہیں۔
- ١....... وہ نبی جسے جدید کتاب ملے۔
- ٢....... وہ نبی جسے جدید کتاب نہ ملے بلکہ حکم ہو کہ پہلے کی کتاب ہی تیری کتاب ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”انا انزلنا التورة فیها هدى و نور یحکم بها النبییون الآیت“ مقصد یہ ہے کہ تورات نازل تو ہوئی۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر لیکن اس کے ذریعے فیصلے کئی انبیاء کرتے تھے۔ کتاب والے انبیاء کی صحیح تعداد معلوم نہیں تین سو کے قریب کہا جاتا ہے۔ نبی کا لفظ عام ہے۔ صاحب کتاب کو بھی شامل ہے اور جسے کتاب نہیں ملی اسے بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس لفظ رسول خاص ہے۔ یعنی جسے کتاب ملی۔
آیت کریمہ میں اللہ میاں نے رسول اللہ کہہ کر حضرت محمد علیہ السلام کے صاحب کتاب ہونے کی خبر دی۔ اور خاتم النبیین کہہ کر اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ رسول عربی دونوں قسم کے انبیاء کے خاتم ہیں۔ اس لئے کہ نبی دونوں قسم کے پیغمبروں کو کہا جاتا ہے۔
مرزا کہتا ہے کہ کتاب والے تو ختم ہو گئے۔ لیکن بغیر کتاب والوں کا سلسلہ جاری ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ جس طرح ماضی کا عالم ہے۔ مستقبل کا بھی ہے۔ اس لئے خدا نے خاتم النبیین فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ مرزا کی طرح کتنے ہی کذاب ودجال آئیں گے۔ اور دھوکہ دیں گے۔ اس لئے خاتم المرسلین کے بجائے خاتم النبیین فرما کر دھوکہ بازوں کے لئے موقع ہی باقی نہ چھوڑا۔ اور یہ اس لئے ہوا کہ مولیٰ کریم حکیم ہیں۔ اور قاعدہ ہے کہ ”فعل الحکیم لا یخلو عن الحكمة“
تو حکیم مطلق جل وعلیٰ مجدہ نے اپنی حکمت بالغہ کے پیش نظر جھوٹ اور مکر کی بنیاد ہی ختم کردی۔ اللہ تعالیٰ راہ حق پر چلنے کی توفیق بخشے اور خاتم النبیین ﷺ کے دامن اقدس سے سچی وابستگی نصیب فرمائے اور حضور علیہ السلام کی شفاعت سے نوازے۔
خاکپائے اکابر دیوبند۔ احقر محمد سعید الرحمن علوی، خطیب مرکزی مسجد حضرو (ضلع اٹک)
التماس....... قارئین سے التماس ہے کہ ان شہ پاروں کے مطالعہ سے جب لذت قلب و نظر حاصل کریں تو بندۂ ناچیز کی بہن بھائیوں اور والدین و اعزہ سمیت ان کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں کہ خداوند قدوس خدمت دین کی توفیق مرحمت فرمائے اور خاتمہ بالایمان نصیب فرمائے۔
علوی عفاہ اللہ تعالیٰ عنہ!
٤٨