احتساب قادیانیت جلد 42 · مولانا محمد بشیر سہسوانی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 42 · Maulana Muhammad Bashir Shahwani
PDF 1

رَدّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

جلد ٤٢

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 061-4783486

PDF 2

ردّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٤٢

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٣

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد بیالیس (٤٢) مصنفین : حضرت مولانا محمد بشیر سہسوانی ؒ حضرت مولانا عبدالمجید دہلوی ؒ حضرت مولانا محمد عبداللہ شاہجہانپوری ؒ حضرت مولانا دوست محمد خان بھوپالی ؒ حضرت مولانا خلیل الرحمن بھوپالی ؒ حضرت مولانا محمد اسماعیل علی گڑھی ؒ جناب شیخ حسین بن محسن انصاری یمنی ؒ حضرت مولانا محمد سعد اللہ لدھیانوی ؒ حضرت مولانا غلام رسول مہر امرتسری ؒ حضرت مولانا غلام مصطفےٰ قاسمی امرتسری ؒ صفحات : ٧٣٦ قیمت : ٣٥٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اول : فروری ٢٠١٢ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بسم اللہ الرحم

فہرست رسائل مشمولہ.....ا

عرض مرتب

صفحہ ٣

بسم اللہ الرحمن الرحیم !

فہرست رسائل مشمولہ....... احتساب قادیانیت جلد ٢٢

عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ ٤

صفحہ ٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عرض مرتب

نحمده ونصلى على رسوله الكريم . اما بعد! محض اللہ رب العزت کی عنایت کردہ توفیق وفضل سے احتساب قادیانیت کی جلد بیالیس (٤٢) پیش خدمت ہے۔ اس جلد کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں صرف وہ کتابیں شامل کی گئی ہیں جو دجال قادیان کے رد میں اس کے جیتے جی (حین حیات) میں لکھی گئیں۔ لیکن کذاب قادیان کو ان کی تردید کی توفیق نہ ہوئی۔ حالانکہ ان کتب کے شائع ہونے کے بعد وہ سالہا سال زندہ رہا۔

احمد قادیانی نے اکتوبر ١٨٩١ء میں دہلی جاکر مولانا سید نذیر حسین صاحبؒ سے مناظرہ کی طرح ڈالی۔ لیکن پھر خود ہی حیلے بہانوں سے کنی کترانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ تب اس زمانہ کے ایک عالم دین مولانا محمد بشیر سہسوانیؒ جو بھوپال میں مقیم تھے، انہوں نے مرزا قادیانی کو کھلی چھٹی دے دی کہ جن شرائط پر آپ چاہیں آپ سے مناظرہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ چنانچہ بھوپال سے وہ دہلی تشریف لائے اور مرزا قادیانی کے ”گلے فٹ“ ہو گئے۔ ماہ اکتوبر ١٨٩١ء دہلی میں مناظرہ ہوا۔ مولانا محمد بشیر سہسوانیؒ نے تین پرچے لکھے۔ تین پرچے مرزا قادیانی نے لکھے۔ لیکن تیسرے پرچہ میں مرزا قادیانی نے اپنے خسر میر ناصر کی بیماری کا بہانہ کرکے قادیان جانے کے لئے دہلی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ مولانا محمد بشیر صاحبؒ نے بہت زور لگایا کہ اپنے تیسرے پرچہ کا جواب لے لو۔ لیکن مرزا قادیانی نہ مانا۔ ”میں نہ مانوں“ کی گردان نے مرزا قادیانی نے منہ سے جھاگ کا منظر پیش کیا۔ مولانا محمد بشیر صاحبؒ نے اس کا جواب لکھ کر مرزا قادیانی کو بھجوایا۔ مولانا محمد بشیر صاحب سہسوانیؒ نے ”الحق الصريح فى اثبات حیات المسیح“ تحریر فرمائی۔ ہم نے

اس جلد میں صرف مولانا محمد بشیر صاحبؒ کے پرچوں کو حذف کر دیئے ہیں۔ مرزا قادیانی کے پرچے چونکہ خود شائع کر دیئے تھے۔ شائقین وہاں دیکھ سکتے ہیں۔ اصل ک جاسکتی ہیں۔ ایک سو بیس سال بعد اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ اس سعادت کے حصول پر سجدہ شکر بجا لاتا ہوں۔

تحریری مباحثہ ہوا۔ جسے وہ ناتمام چھوڑ کر ”جہاں سے آ بشیر سہسوانیؒ نے ”الحق الصريح فى اثبات حیات پر قادیانی چیف گرو کے چیلے محمد احسن امروہی قادیانی عبدالمجیدؒ نے دہلی سے بھوپال جاکر مولوی احسن امر مراسلت مولانا عبدالمجید دہلویؒ نے ”بیان للناس“ کے ن کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

اکذب پیر کے حق میں کتاب لکھی۔ جس کا نام ”اعلام ا خوب تعریف کے پل باندھے۔ غرض ”اعلام الناس قادیانی کتاب ”اعلام الناس“ کا حضرت مولانا محمد ع ١٨٩١ء، ١٨٩٢ء) میں جواب لکھا۔ اس کتاب کے شائع رہا۔ لیکن اس کتاب کا رد لکھنے کی دجال قادیان کو جرأ مرزا قادیانی کو سولہ آنے جھوٹا ثابت کر دیا۔ خوشی کا باعث جا رہی ہے۔

صفحہ ٥

اس جلد میں صرف مولانا محمد بشیر صاحب کے پرچوں کو درج کیا ہے۔ مرزا قادیانی کے پرچے حذف کر دیئے ہیں۔ مرزا قادیانی کے پرچے چونکہ خود مرزا قادیانی نے ”مباحثہ الحق دہلی“ میں شائع کر دیئے تھے۔ شائقین وہاں دیکھ سکتے ہیں۔ اصل کتاب پڑھنے سے باقی تفصیلات ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ ایک سو بیس سال بعد اس کتاب کی اشاعت ڈھیروں ڈھیر کریم کے کرم کے اعتراف کے ساتھ اس سعادت کے حصول پر سجدہ شکر بجا لاتا ہوں۔

تحریری مباحثہ ہوا۔ جسے وہ ناتمام چھوڑ کر ”جہاں سے آیا تھا وہاں چلا گیا“ اس بحث کو مولانا محمد بشیر سہسوانیؒ نے ”الحق الصریح فی اثبات حیات المسیح“ کے نام سے شائع کیا۔ اس پر قادیانی چیف گرو کے چیلے محمد احسن امروہی قادیانی نے ”اعلام الناس“ لکھی۔ جس پر مولانا عبدالمجیدؒ نے دہلی سے بھوپال جا کر مولوی احسن امروہی قادیانی سے خط و کتابت کی یہ تمام مراسلت مولانا عبدالمجید دہلویؒ نے ”بیان للناس“ کے نام پر شائع کی۔ جسے ہم اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

اکذب پیر کے حق میں کتاب لکھی۔ جس کا نام ”اعلام الناس“ تھا۔ اسے مرزا قادیانی نے پڑھا تو خوب تعریف کے پل باندھے۔ غرض ”اعلام الناس“ مرزا قادیانی کی تصدیق شدہ سمجھی گئی۔ قادیانی کتاب ”اعلام الناس“ کا حضرت مولانا محمد عبداللہ شاہجہانپوریؒ نے ١٣٠٩ھ (مطابق ١٨٩١ء ١٨٩٢ء) میں جواب لکھا۔ اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد مرزا قادیانی سولہ سال زندہ رہا۔ لیکن اس کتاب کا رد لکھنے کی دجال قادیان کو جرأت نہ ہوئی۔ چنانچہ اس عجز و بے بسی نے مرزا قادیانی کو سولہ آنے جھوٹا ثابت کر دیا۔ خوشی کا باعث ہے کہ اس جلد میں یہ کتاب بھی شامل کی جا رہی ہے۔

صفحہ ٦

سہارنپوری کے ایک اور ہمنام حضرت مولانا احمد علی سہارنپوریؒ مدرسہ مظاہر العلوم مدرس تھے۔ جو مدرسہ کی اعانت کے لئے ١٩؍جولائی ١٨٩٥ء کو ڈیرہ دون تشریف لائے۔ ان دنوں محمد احسن امروہی قادیانی بھی ڈیرہ دون آیا ہوا تھا۔ حسب عادت قادیانیاں احسن امروہی قادیانی نے مولانا احمد علی سہارنپوریؒ کو دعوت قادیانیت دی۔ جواب میں دونوں حضرات کا مباحثہ طے پا گیا۔ اس کی تفصیل اس رسالہ میں مولانا دوست محمد خانؒ نے تحریر فرمائی۔ جس کے پڑھنے سے احسن امروہی کی ذلت آمیز شکست فاش کا نقشہ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ ایک سو سترہ (١١٧) سال بعد اس کی اشاعت کی حق تعالیٰ نے توفیق بخشی۔ فلحمد لله تعالیٰ!

دھونے کے لئے قادیانی احسن امروہی نے تحریری مکالمہ کے لئے ڈول ڈالا۔ مولانا خلیل الرحمن نے اس کے چیلنج کو قبول کر کے تحریری مکالمہ کا آغاز کر دیا۔ غرض قادیانی احسن امروہی اور مولانا خلیل الرحمنؒ کے درمیان جو تحریری مکالمہ ہوا وہ بتمام و بکمال مولانا دوست محمد خانؒ نے مرتب کر کے ”رقيمة الاخلاص“ کے نام پر ٢٣؍اگست ١٨٩٥ء کو شائع فرما دیا۔ جو اس جلد میں شامل ہے۔

کاروائیوں میں رسواء ہوا تو اس نے ایک رسالہ ”سواء السبیل“ شائع کیا۔ جس کا حضرت مولانا خلیل الرحمن صاحبؒ نے ”نصرة الحق فی رد قول الزاهق“ تحریر فرمایا۔ اس کے آخر میں منشی سعد اللہ لدھیانویؒ کی بعض نظموں کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ رسالہ بھی اگست ١٨٩٥ء کا مرتب کردہ ہے جسے اس جلد میں شامل کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

احسن امروہی قادیانی کی کتاب ”اعلام الناس“ کے جواب میں مولانا محمد اسماعیل علی گڑھیؒ نے یہ کتاب تحریر فرمائی۔ اس جلد میں اس کتاب کو شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ وہ کتاب ہے جس کے متعلق کذاب قادیان نے ایک بدبودار جھوٹ تراشا تھا۔ جس کی سزا بندے

صفحہ ٧

آج تک قادیانی مناظرین منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ تفصیلی تعارف ڈاکٹر بہاء الدین صاحب نے اس کا تحریر فرمایا ہے۔ جو کتاب کے ابتداء میں درج ہے۔ وہاں دیکھ لیا جائے۔

انصاریؒ نے یہ کتاب تحریر فرمائی۔ جسے اردو ترجمہ کے ساتھ حضرت مولانا عبدالمجید دہلویؒ نے مطبع انصاری دہلی سے ١٣١١ھ (مطابق ١٨٩٣ء، ١٨٩٤ء) میں شائع فرمایا۔ حسین بن محسن انصاریؒ یمنی تھے۔ بھوپال کے حکمرانوں کی علم دوستی کے باعث وہ بھوپال میں قیام پذیر تھے۔ اس زمانہ میں بہت سے علماء نے آپ سے کسب فیض بھی کیا۔ اس جلد میں اس کتاب کو بھی شامل کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے۔ فالحمد للہ تعالیٰ!

٭ حضرت مولانا سعد اللہ لدھیانویؒ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے عہد حیات میں مرزا قادیانی ملعون کو کتی کا ناچ نچایا۔ آپ نے مرزا قادیانی کے خلاف نظم ونثر میں لکھا اور خوب لکھا۔ مرزا قادیانی ملعون آپ کے نام ”سعد“ کو جل بھن کر ”نحس“ لکھتا تھا۔ نتیجہ میں مولانا سعد اللہ بھی جواباً غزل میں مرزا قادیانی کو وہ سناتے کہ ”کتے توے“ پر رقص کرنے لگ جاتا۔ مورخہ ١١؍ رمضان المبارک ١٣١٤ھ بمطابق ١٣؍ فروری ١٨٩٧ء کو آپ نے سولہ صفحاتی ایک رسالہ لکھا۔

کالم بنا کر کچھ حاشیہ پر لکھ کر سمندر کو کوزہ میں بند کیا۔ ہم اس جلد میں ان کو شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

اس رسالہ میں دو باتوں پر تبصرہ کیا ہے۔

صفحہ ٩

(صرف مباہلہ کیا تھا) اس لئے وہ سلامت رہا۔

(ب) قادیانی کی ایک اور بے حیائی کہتا ہے کہ مرزا سلطان بیگ قادیانی کی تکذیب نہیں کرتا۔ (اگر اس کی الہامی زوجہ پر قابض ہے) اب اس سے کوئی تکذیب کرا کر دکھلائے۔ ان دو امور کو اس مضمون میں زیر بحث لائے۔ اس کتابچہ کے آخر پر نظم میں ایک لطیفہ تھا وہ کاٹ دیا۔ اس لئے کہ وہ دوسرے رسالہ میں آگے آرہا ہے۔

....... حاشیہ پر ”قادیانی اور ایک نصرانی کی گفتگو میں ایک مسلمان کی حاشی“ کا عنوان دے کر چند سطور تحریر کیں۔ ہم نے ان چاروں رسائل کو علیحدہ علیحدہ عنوان سے اس جلد میں شامل کیا ہے۔ ایک سو چودہ سال پہلے کی امانت آج کی نسل کے سامنے لانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

لیکن اس میں تین حرفیاں ہیں۔ (الف، ب) چودھویں صدی کا جھوٹا مسیح، (ج) سہ حرفی اندڑ پوپو۔ اس کے علاوہ اس میں (د) اہل سنت والجماعت دے عقائد دا بیان، وصیت دے طور اتے۔ (ھ) مرزا قادیانی کے قرآن پر ایمان کی حقیقت سوال و جواب کے پیرایہ میں۔ پہلے چار نمبرات پنجابی میں ہیں۔ پانچواں نمبر اردو میں مکالمہ ہے۔ (و) اس رسالہ کے آخر میں ”سارے جہان کے مسیحیوں کی تردید کا بے مثال نغمہ“ بہت ہی برجستہ اور مزاحیہ کلام پر مشتمل ہے۔ یہ تمام مولانا محمد سعد اللہ لدھیانوی مدرس گورنمنٹ ہائی سکول لدھیانہ کے رشحات قلم ہیں۔ جو اس جلد میں یکجا شائع کئے گئے ہیں۔

سعد اللہ صاحب نے ٢٣ شعبان ١٣١٤ھ مطابق ١٠ فروری ١٨٩٧ء کو تحریر فرمایا۔ یہ رسالہ مصنف مرحوم کی منظوم کلام پر مشتمل ہے۔ لجنہ قادیانی کی درخواست بحضور گورنمنٹ پر مختصر ایک صفحاتی ریمارکس نثر پر مشتمل تھا۔ یہ بھی آپ نے تحریر فرمایا جو اس جلد میں شامل کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

٢٢ مئی ١٨٩٣ء سے پندرہ دن تحریری مناظرہ ہوا۔ مرزا قادیانی نے اس میں لازوال ذلت کا ہار خریدا تو

پیش گوئی گھڑ لی کہ ١٥ دن سے مراد پندرہ ماہ یعنی ١٥ ستمبر یعنی مر جائے گا۔ نتیجہ میں مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی ا ہوئی۔ مرزا قادیانی نے تحریر فتح اسلام کے نام پر ایک ص ٢٣ تا ٣٨ پر ہے۔ یہی اشتہار انوار الاسلام ص ١٢، ١٣ پر اشتہار کا مولانا محمد بگوی وارد مالیر کوٹلہ نے ”حملہ آسمانی مضمون تحریر فرمایا۔ اسی رسالہ کے اختتام پر مولانا سعد اللہ گئیں۔ یہ رسالہ آٹھ صفحات بڑے سائز پر مشتمل تھا۔ وا اس جلد میں اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہ

رسالہ ہے۔ جو تمام نظم پر مشتمل ہے۔ اس جلد میں شائع کی صاحب کے مزید رسائل، انہزام قادیانی، کید مرزائیہ وغیرہ بھ

رسول نقشبندی حنفی امرتسری کی عربی زبان میں تصنیف ہے آپ نے عقلی نقلی اعتبار سے حیات مسیح علیہ السلام کے مسل کئے کہ مرزا قادیانی سمیت کسی قادیانی کو مقابلہ میں لب ہل کتاب کی تصنیف کے بعد مرزا قادیانی پندرہ سال زندہ رہا۔ اسے دم مارنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ مولانا غلام رسول کا وصال ١٨٩٣ء میں شائع ہوا۔ آج ٢٠١٢ء میں گویا کہ ١١٩ سال بع ڈھیروں خوشیوں کا موجب ہے۔ فللّٰہ الحمد!

الصحیح فی اثبات حیات المسیح “ عربی زبان میں

صفحہ ٩

پیش گوئی جڑ دی کہ ١٥ دن سے مراد پندرہ ماہ، یعنی ٥ ستمبر ١٨٩٤ء تک عبداللہ آتھم ہاویہ میں گرے گا۔ یعنی مر جائے گا۔ نتیجہ میں مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی اس کی دیگر پیش گوئی کی طرح دھوکہ کی ٹٹی ثابت ہوئی۔ مرزا قادیانی نے تقریر فتح اسلام کے نام پر ایک اشتہار شائع کیا جو مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٣٢٣ تا ٣٨ پر ہے۔ یہی اشتہار انوار الاسلام ص ١ تا ١٢، خزائن ج ٩ ص ١ تا ١٣ پر بھی شائع شدہ ہے۔ اس اشتہار کا مولانا محمود گنجوہیؒ وارد مالیر کوٹلہ نے ”حملہ آسمانی دربارہ شکست قادیانی“ کے نام سے جوابی مضمون تحریر فرمایا۔ اسی رسالہ کے اختتام پر مولانا سعد اللہ صاحبؒ کی پانچ نظمیں بھی ساتھ ہی شائع کی گئیں۔ یہ رسالہ آٹھ صفحات بڑے سائز پر مشتمل تھا۔ ١٠ اکتوبر ١٨٩٤ء اشاعت کی تاریخ لکھی گئی تھی۔ اس جلد میں اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

رسالہ ہے۔ جو تمام نظم پر مشتمل ہے۔ اس جلد میں شائع کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مولانا سعد اللہ صاحبؒ کے مزید رسائل، انہدام قادیانی، گیدڑ نامہ وغیرہ ہیں جو میسر نہ آئے۔

رسول نقشبندی حنفی امرتسری کی عربی زبان میں تصنیف ہے۔ آپ نے یہ کتاب ١٨٩٣ء میں تصنیف کی۔ آپ نے عقلی نقلی اعتبار سے حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر اس کتاب میں دلائل کے ایسے انبار جمع کئے کہ مرزا قادیانی سمیت کسی قادیانی کو مقابلہ میں لب ہلانے یا قلم اٹھانے کی جرات نہ ہوسکی۔ اس کتاب کی تصنیف کے بعد مرزا قادیانی پندرہ سال زندہ رہا۔ لیکن مولانا غلام رسولؒ کے دلائل کے سامنے اسے دم مارنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ مولانا غلام رسولؒ کا وصال ١٩٠٢ء میں ہوا۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ١٨٩٣ء میں شائع ہوا۔ آج ٢٠١٢ء میں گویا کہ ١١٩ سال بعد اس کتاب کی اشاعت ثانی ہمارے لئے ڈھیروں خوشیوں کا موجب ہے۔ فلحمد للہ!

الصحیح فی اثبات حیات المسیح“ عربی زبان میں تھی۔ جس کا آپ کے بھتیجے اور شاگرد حضرت

صفحہ ١٠

مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی نقشبندی امرتسری نے اردو میں ترجمہ کیا۔ اس ترجمہ کا نام ”آفتاب صداقت“ تجویز فرمایا۔ مولانا غلام مصطفیٰ قاسمیؒ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ اس وقت پاکستان کے نامور اہل قلم جناب عطاء الحق قاسمی کے جدِ محترم تھے۔ ”الالہام الصحیح“ کا پہلا ایڈیشن جو ١٨٩٣ء میں شائع ہوا۔ یہ ترجمہ عربی متن کے نیچے صفحہ بصفحہ شائع ہوا۔ احتساب کی اس جلد میں متن سے ترجمہ کو علیحدہ ایک کتاب شمار کیا گیا ہے۔ احتساب کی اس جلد میں اس کتاب کی اشاعت پر اللہ رب العزت کے حضور شکر گزار ہیں۔

خلاصہ یہ کہ احتساب قادیانیت کی جلد بیالیس (٤٢) میں:

گویا دس حضرات کی کل پندرہ عدد کتب و رسائل شامل ہیں۔ حق تعالیٰ شانہٗ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ امین بحرمۃ النبی الکریم!

محتاجِ دعاء: فقیر اللہ وسایا! یکم ربیع الثانی ١٤٣٣ھ، بمطابق ٢٥ فروری ٢٠١٢ء

خاتم النبیین

سے آخری

الحق ال

فی

اثبات حیات

حضرت مولانا محمد

PDF 12

خاتم النبیین لا نبی بعدی

حضور ﷺ کی آخری قطعی نبوت پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔

الحق الصريح

فی

اثبات حیات المسيح

حضرت مولانا محمد بشیر سہسوانیؒ

صفحہ ١٢

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله الذی أمر فی محکم کتابه بالدعوة الی سبیله بالحکمة والموعظة الحسنة والجدال بالتی هی احسن والصلوة والسلام علی رسوله الذی جاهد حق جهاده فی اماتة الکفر والفسق والفاحشة ماظهر منها وما بطن وعلی آله واصحابه الذین بلغوا الدین کما سمعوا من العقائد والفرائض والسنن وسعوا بالایدی والالسنة والقلوب فی تغییر المنکرات والبدع والفتن ، اما بعد !

یہ کیفیت ہے اس مناظرہ کی جو میرے اور مرزاغلام احمد قادیانی مدعی مسیحیت کے درمیان میں بمقام دہلی واقع ہوا۔ مرزا قادیانی نے دہلی میں آکر دو اشتہار ایک مطبوعہ دوم اکتوبر ١٨٩١ء۔ دوسرا مطبوعہ ششم اکتوبر ١٨٩١ء صدر بمقابلہ جناب مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی مدظلہ العالی کے شائع کئے اور طالب مناظرہ ہوئے۔ وہ دونوں اشتہار خاکسار کے بھی دیکھنے میں آئے۔ خاکسار نے محض بنظر نصرت دین وسنت وازالۂ الحاد و بدعت قصد مناظرہ مصمم کر کے جواب اشتہار مرزا قادیانی کے پاس بوساطت جناب حاجی محمد احمد صاحب دہلوی کے بھیجا اور اس جواب میں مرزا قادیانی کے سب شروط کو تسلیم کر کے صرف شرط ثالث میں قدرے ترمیم چاہی۔ مرزا قادیانی نے بھی اس ترمیم کو قبول کیا۔ بعد ترمیم کے یہ تین شرطیں قرار پائیں۔

دستخط کر کے پیش کرے اور ایسا ہی فریق ثانی لکھ کر جواب دے۔

مسیح موعود ہونے کا دعویٰ خود چھوڑ دیں گے اور اگر وفات ثابت ہو تو مرزا قادیانی کا اصل دعویٰ یعنی عدم نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا ثابت ہوگا۔ پھر حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول اور مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے میں بحث نہ کی جاوے گی اور جو شخص طرفین میں سے ترک بحث کرے گا اس کا گریز کرنا سمجھا جاوے گا۔ جب تصفیہ شروط کا ہو گیا تو جناب حاجی محمد احمد صاحب نے حسب ایماء مرزا قادیانی کے خاکسار کو طلب کیا۔ چنانچہ شب شانزدہم

٢

١٣

ربیع الاول ١٣٠٩ھ کو میں بھوپال سے روانہ ہو کر روز سہ شنبہ چہار ساعت کے دہلی میں داخل ہوا اور مرزا قادیانی کو اطلاع مختلف رقعوں کے ذریعے سے شروط میں تبدیلی ذیل فرمائی دینا ہوگا۔

بحث اس عاجز کے مکان پر ہو۔ جلسہ عام نہیں ہ ہوں۔ آپ ساتھ لا سکتے ہیں۔ مگر شیخ بٹالوی اور مولوی عبد پانچ سے زیادہ نہ ہو اور پہلا پرچہ آپ کا ہو۔ انتہی !

اب سب شروط کا قبول کرنا نہ تو خاکسار پر لازم کے تسلیم کرنے کی تھی۔ مگر محض اس خیال سے کہ مرزا قادیانی یہ سب باتیں منظور کی گئیں۔ بعد اس کے تاریخ نوزدہم ربیع

مناظرہ شروع ہوا۔ خاکسار نے ان کے مکان پہنچ کر پرچہ حاضرین کو سنا دیا اور دستخط اپنے کر کے مر نے مجلس بحث میں جواب لکھنے سے عذر کیا۔ ہر چند جناب الزام نقض عہد ومخالفت شروط کا دیا۔ مگر مرزا قادیانی نے نہ م آپ لوگ کل دس بجے آئیے۔ ہم لوگ دوسرے روز دس ب تھے۔ اطلاع دی گئی تو مرزا قادیانی باہر نہ آئے اور کہلا بھیجا ک تیار ہو گا اس وقت آپ کو بلا لیا جاوے گا۔ پھر غالباً دو بجے ب یہ کہا کہ اب مجلس بحث میں جواب لکھنے کی ضرورت نہیں ہے میں اس تحریر کو مکان پر لے آیا۔ اسی طرح چھ روز تک سلس پرچے میرے ہو چکے تھے اور تین پرچے مرزا قادیانی کے۔ چھوڑ کر مباحثہ قطع کیا اور یہ ظاہر کیا کہ اب مجھے زیادہ قیام میرے خسر بیمار ہیں۔ اس وقت ایک مضمون جو پہلے سے تیّ اس امر پر کہ مرزا قادیانی کی جانب سے نقض عہد ومخالفت میں سب حاضرین جلسہ کو سنا دیا گیا۔ حاضرین جلسہ م مرزا قادیانی نے ایک نہ سنی۔ اسی روز تہیہ سفر کر کے شب کو دہ

٣

صفحہ ١٣

ربیع الاول ١٣٠٩ھ کو میں بھوپال سے روانہ ہوکر روز سہ شنبہ تاریخ شانزدہم ماہ مذکور قریب بوقت چہار ساعت کے دہلی میں داخل ہوا اور مرزا قادیانی کو اطلاع اپنے آنے کی دی تو مرزا قادیانی نے مختلف رقعوں کے ذریعے سے شروط میں تبدیل ذیل فرمائی کہ حیات مسیح علیہ السلام کا ثبوت آپ کو دینا ہوگا۔

بحث اس عاجز کے مکان پر ہو۔ جلسہ عام نہیں ہوگا۔ صرف دس آدمی تک جو معزز خاص ہوں۔ آپ ساتھ لاسکتے ہیں۔ مگر شیخ بٹالوی اور مولوی عبدالمجید ساتھ نہ ہوں۔ پرچوں کی تعداد پانچ سے زیادہ نہ ہو اور پہلا پرچہ آپ کا ہو۔ انتہی!

اب سب شروط کا قبول کرنا نہ تو خاکسار پر لازم تھا اور نہ میرے احباب کی رائے ان کے تسلیم کرنے کی تھی۔ مگر محض اس خیال سے کہ مرزا قادیانی کو کوئی حیلہ مناظرہ سے گریز کا نہ ملے۔ یہ سب باتیں منظور کی گئیں۔ بعد اس کے تاریخ نوزدہم ربیع الاول روز جمعہ بعد نماز جمعہ۔

مناظرہ شروع ہوا۔ خاکسار نے ان کے مکان پر جا کر مجلس بحث میں پانچ ادلہ حیات مسیح کے لکھ کر حاضرین کو سنا دیئے اور دستخط اپنے کر کے مرزا قادیانی کو دے دیئے۔ مرزا قادیانی نے مجلس بحث میں جواب لکھنے سے عذر کیا۔ ہر چند جناب حاجی محمد احمد صاحب وغیرہ نے ان کو الزام نقض عہد و مخالفت شروط کا دیا۔ مگر مرزا قادیانی نے نہ مانا اور یہ کہا کہ میں جواب لکھ رکھوں گا۔ آپ لوگ کل دس بجے آئیے۔ ہم لوگ دوسرے روز دس بجے گئے۔ مرزا قادیانی مکان کے اندر تھے۔ اطلاع دی گئی تو مرزا قادیانی باہر نہ آئے اور کہلا بھیجا کہ ابھی جواب تیار نہیں ہوا۔ جس وقت تیار ہوگا اس وقت آپ کو بلا لیا جاوے گا۔ پھر غالباً دو بجے کے بعد ہم لوگوں کو بلا کر جواب سنایا اور یہ کہا کہ اب مجلس بحث میں جواب لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ مکان پر لے جائیں۔ چنانچہ میں اس تحریر کو مکان پر لے آیا۔ اسی طرح چھ روز تک سلسلہ مباحثہ جاری رہا۔ چھٹے روز کہ تین پرچے میرے ہو چکے تھے اور تین پرچے مرزا قادیانی کے۔ مرزا قادیانی نے پہلے ہی بحث کو ناتمام چھوڑ کر مباحثہ قطع کیا اور یہ ظاہر کیا کہ اب مجھے زیادہ قیام کی گنجائش نہیں ہے اور زبانی فرمایا کہ میرے خسر بیمار ہیں۔ اس وقت ایک مضمون جو پہلے سے بنظر احتیاط لکھ رکھا تھا اور وہ متضمن تھا۔ اس امر پر کہ مرزا قادیانی کی جانب سے نقض عہد و مخالفت شروط ہوئی۔ مرزا قادیانی کی موجودگی میں سب حاضرین جلسہ کو سنا دیا گیا۔ حاضرین جلسہ مرزا قادیانی کو الزام دیتے تھے۔ مگر مرزا قادیانی نے ایک نہ سنی۔ اسی روز تہیہ سفر کر کے شب کو دہلی سے تشریف لے گئے۔ مرزا قادیانی

٣

صفحہ ١٤

کے یہ افعال اوّل دلیل ہیں۔ اس پر کہ ان کے پاس اصل مسئلہ یعنی ان کے مسیح موعود ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اصل بحث کے لئے دو سدین انہوں نے بنارکھی ہیں۔ ایک بحث حیات و وفات مسیح علیہ السلام۔ دوسرے نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ جب دیکھا کہ ایک سد جو ان کی زعم میں بڑی راسخ تھی۔ ٹوٹنے کے قریب ہے۔ اس کے بعد دوسری سد کی جو ضعیف ہے۔ نوبت پہنچے گی۔ پھر اصل قلعہ پر حملہ ہوگا۔ وہاں کچھ ہے ہی نہیں تو قلعی کھل جاوے گی۔ اس لئے فرار مناسب سمجھا بعد انقطاع مباحثہ اور چلے جانے مرزا قادیانی کے احقر دو روز دہلی میں متوقف رہ کر روز شنبہ کو ڈاک گاڑی میں روانہ بھوپال ہوا ؎

اب بنظر فائدہ عام یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قبل نقل ان رقعوں اور پرچوں کے جو مباحثہ کے متعلق ہیں۔ ادلہ حیات مسیح علیہ السلام جو مرزا قادیانی کے مباحثہ میں پیش کئے گئے اور نیز دیگر ادلہ واضح طور پر عام فہم عبارت میں لکھ دیئے جاویں۔ تا کہ ہر خاص و عام اس کو سمجھ سکے اور مرزا قادیانی کی طرف سے جو اعتراضات ان پر ہوئے اور خاکسار کی جانب سے جو جوابات دیئے گئے وہ بھی بطور خلاصہ لکھ دیئے جاویں اور مرزا قادیانی نے جو اپنی اخیر تحریر میں دو دلیلیں وفات کی لکھیں۔ وہ اور جو کچھ جواب اس کا خاکسار نے لکھا۔ اس کا بھی خلاصہ لکھ دیا جاوے۔ ”اللهم انت عضدی ونصیری بک احول وبک اصول“

دلیل اوّل

حیات مسیح علیہ السلام کے باب میں سورۃ نساء کی یہ آیت ہے۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيدا (نساء: ١٥٩)“ اس آیت کا ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب نے اس طرح پر کیا ہے۔ و نباشد ہیچ کس از اہل کتاب الا البتہ ایمان آورد بہ عیسیٰ علیہ السلام پیش از مردن عیسیٰ علیہ السلام و روز قیامت باشد عیسیٰ علیہ السلام گواہ بر ایشان فائدہ میں یہ لکھا ہے۔ مترجم گوید یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ علیہ السلام را البتہ ایمان آرند شاہ رفیع الدین صاحب نے ترجمہ اس طرح پر کیا ہے اور نہیں کوئی اہل کتاب سے۔ مگر البتہ ایمان لاوے گا۔ ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہوگا۔ اوپر ان کے گواہ۔

شاہ عبدالقادر صاحب نے اس طرح ترجمہ کیا ہے اور جو فرقہ ہے۔ کتاب والوں میں سے سو اس پر یقین لاویں گے۔ اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا۔ ان کا بتانے والا۔

٤

صفحہ ١٥

فائدہ میں یہ لکھا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ جب یہود میں دجال پیدا ہوگا۔ تب اس جہان میں آکر اس کو ماریں گے اور یہود ونصاریٰ سب ان پر ایمان لاویں گے کہ یہ مرے نہ تھے۔ انتہیٰ !

یہ آیت قطعیۃ الدلالۃ حیات مسیح علیہ السلام پر ہے۔ بیان اس کا یہ ہے کہ موتہ کی ضمیر میں مفسرین کے دو ہی قول ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے۔ پہلی صورت میں تو قطعاً مطلب حاصل ہے۔ کیونکہ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی مرے نہیں۔ لیؤمن کو خواہ خالص مستقبل کے لئے لیجئے اور یہی صحیح ہے اور اسی پر اتفاق ہے۔ سب نحویوں کا اور خواہ حال یا استمرار کے لئے لیجئے۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں۔ اگرچہ اس تقدیر پر معنی فاسد ہوتے ہیں۔ مگر ہمارا مطلب فوت نہیں ہوتا ہے اور ماضی کے معنی میں لینا بالبداہت باطل ہے۔ کیونکہ ایسا مضارع کہ جس کے اوّل میں لام تاکید اور آخر میں نون تاکید ہو۔ بمعنی ماضی نہیں آتا ہے۔ ومن يدعى خلافه فعليه البيان اور ایسا ہی بہ کی ضمیر کو خواہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف عائد کیجئے یا اللہ کی طرف یا آنحضرت ﷺ کی طرف اگرچہ اوّل ہی صحیح ہے۔ مگر ہمارا مطلب ہر صورت میں حاصل ہے۔

مفسرین کا اختلاف اس ضمیر میں ہمارے مطلوب میں کچھ خلل نہیں ڈالتا ہے۔

دوسرے قول پر یعنی اگر ضمیر موتہ کی اہل کتاب کی طرف پھیری جاوے بھی۔ ہمارا مطلب حاصل ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اس وقت ہم پوچھتے ہیں کہ بہ کی ضمیر کس کی طرف پھیرو گے۔ اگر آنحضرت ﷺ یا اللہ تعالیٰ کی طرف پھیرتے ہو تو یہ باطل ہے۔ تین وجوہ سے :

عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہیں۔ پس ظاہر نص یہی ہے کہ ضمیر بہ کی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہو۔ ”فان النصوص تحمل على ظواهرها وصرف النصوص عن ظواهرها بغير صارف قطعى الحاد“ اور یہاں کوئی صارف قطعی پایا نہیں جاتا ہے۔ ”ومن يدعى فعليه البيان“

ہیں۔ اسی لئے اس رکوع میں اس آیت کے قبل وبعد جتنی ضمیریں آنحضرت ﷺ کی طرف پھرتی ہیں وہ سب ضمیریں مخاطب کی ہیں۔ وہ یہ ہیں۔ ”یسئلك، ان تنزل، اليك، من قبلك“ اگر

٥

صفحہ ١٦

ضمیر آنحضرت ﷺ کی طرف راجع ہوتی تو یوں کہنا مناسب تھا۔ لیؤمن بک علاوہ اس کے اس مقام پر آنحضرت ﷺ کے لئے کوئی اسم ظاہر نہیں آیا ہے کہ وہ مرجع اس ضمیر کا قرار دیا جاوے اور اللہ تعالیٰ متکلم ہے۔ اسی لئے اس رکوع میں اس آیت کے قبل وبعد جتنی ضمیریں اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہیں۔ وہ سب ضمیریں متکلم کی ہیں۔ وہ یہ ہیں ۔ ” فعفونا، آتینا، رفعنا، قلنا، قلنا

دوم اخذنا، حرمنا اعتدنا سنؤتیہم“ اگر یہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہوتی تو یوں کہنا مناسب تھا۔ لیؤمن بی یا لیؤمن بنا اور صرف عن الظاہر بغیر صارف قطعی غیر جائز ہے اور یہاں کوئی صارف قطعی نہیں ہے۔ ”ومن یدعی فعلیہ البیان۔“

سوم ....... اس تقدیر پر اس آیت میں کچھ ذکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نہ ہوگا اور حالانکہ قبل وبعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ مذکور ہے اور اجنبی محض کا بلا فائدہ درمیان میں لانا خلاف بلاغت ہے اور اس اجنبی کا یہاں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ”ومن یدعی فعلیہ البیان “ پس ثابت ہوا کہ بہ کی ضمیر قطعاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف عائد ہے۔ بعد اس تمہید کے میں کہتا ہوں کہ اس تقدیر پر سب ضمیریں واحد غائب کی موتہ کے پہلے کی اور بعد کی راجع ہوئیں۔ طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔ پس بظاہر نص قرآنیہ یہی ہے کہ ضمیر موتہ بھی راجع ہو۔ طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اور صرف نص کا ظاہر سے بغیر صارف قطعی جائز نہیں اور یہاں کوئی صارف قطعی موجود نہیں۔ ”ومن یدعی فعلیہ البیان “ پس جس تقدیر پر ضمیر کا عائد ہونا کتابی کی طرف فرض کیا گیا تھا۔ اس تقدیر پر بھی ضمیر کا عائد ہونا طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لازم آیا۔ پس یہ محذور اس سے ناشئ ہوا کہ ضمیر موتہ کی کتابی کی طرف پھیری گئی۔ پس ثابت ہوا کہ ارجاع ضمیر موتہ کا طرف کتابی کے باطل ہے۔ پس متعین ہوا کہ ضمیر موتہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ وهو المطلوب!

دوسری وجہ اس بات کی کہ موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف عائد کرنا باطل ہے کہ اس تقدیر پر ایمان سے جو لیؤمن میں ہے۔ کیا مراد ہے۔ آیا وہ ایمان جو زہوق روح کے وقت ہوتا ہے اور جو شرعاً غیر معتد بہ و غیر نافع ہے۔ جیسا کہ مفسرین نے اس تقدیر پر اس کے ارادہ کی تصریح کی ہے تو یہ باطل ہے۔ اس لئے کہ استقراء آیات قرآن مجید سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں سب جگہ لفظ ایمان سے وہ ایمان مراد ہے جو قبل زہوق روح کے ہوتا ہے اور جو شرعاً معتد بہ اور نافع ہے۔ مگر جہاں قرینہ صارفہ قطعیہ ہے۔ چند مقامات بطور نظیر لکھے جاتے ہیں۔

٦

صفحہ ١٧

”يؤمنون بالغيب، يؤمنون بما انزل اليك، لا يؤمنون، آمنا بالله، وماهم بمؤمنين، يخادعون الله والذين آمنوا، واذا قيل لهم آمنوا كما آمن الناس قالوا انؤمن كما آمن السفهاء، واذا لقوا الذين آمنوا قالوا آمنا، فاما الذين آمنوا فيعلمون انه الحق من ربهم، وآمنوا بما انزلت، ان الذين آمنوا والذين هادوا والنصارى والصابئين من آمن بالله، واذا لقوا الذين آمنوا قالوا آمنا، والذين آمنوا وعملوا الصالحات، واذا قيل لهم آمنوا بما انزل الله قالوا نؤمن بما انزل علينا، ان كنتم مؤمنين، قل بئسما يامركم به ايمانكم ان كنتم مؤمنين، ولوانهم آمنوا واتقوا، ياايها الذين آمنوا لاتقولوا راعنا، ومن يتبدل الكفر بالايمان، لويردونكم من بعد ايمانكم، اولئك يؤمنون به، وارزق اهله من الثمرات من آمن بالله، قولوا آمنا بالله، فان آمنوا بمثل ماآمنتم به، وماكان الله ليضيع ايمانكم، ياايهاالذين آمنوا استعينوا بالصبر والصلوة، والذين آمنوا اشد حبا لله، ياايها الذين آمنوا كلوا من طيبات مارزقنكم، ولكن البر من آمن بالله، يا ايها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام، وليؤمنوا بى، يا ايها الذين آمنوا ادخلوا فى السلم، ويسخرون من الذين آمنوا، والذين آمنوا معه، ان الذين آمنوا والذين هاجروا، ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا ولعبد مؤمن، وبشر المؤمنين، من كان منكم يؤمن بالله، ان كنتم مؤمنين، فمنهم من آمن، ويؤمن بالله، الله ولى الذين آمنوا، قال اولم تؤمن، يا ايهاالذين آمنوا لا تبطلوا، ولا يؤمن بالله، ياايها الذين آمنوا انفقوا، ان الذين آمنوا وعملوا الصالحات، ياايها الذين آمنوا اتقواالله وذروا ما بقى من الربوا ان كنتم مؤمنين، آمن الرسول بما انزل اليه من ربه والمؤمنون كل آمن بالله (بقرہ:٣، ٤، ٦، ٨، ٩، ١٣، ١٤، ٢٦، ٤١، ٦٢، ٧٢، ٨٢، ٩١، ٩١، ٩٣، ١٠٣، ١٠٤، ١٠٨، ١٠٩، ١٢١، ١٢٦، ١٣٦، ١٣٧، ١٤٣، ١٥٣، ١٦٥، ١٧٢، ١٧٧، ١٨٣، ١٨٦، ٢٠٨، ٢١٢، ٢١٤، ٢١٨، ٢٢١، ٢٢٣، ٢٣٢، ٢٤٨، ٢٥٣، ٢٥٦، ٢٥٧، ٢٦٠، ٢٦٤، ٢٦٧، ٢٧٧، ٢٧٨، ٢٨٥)“

٧

صفحہ ١٩

پس ظاہر ایمان سے وہ ایمان ہے جو قبل زہوق روح کے ہوتا ہے اور صرف نص کا ظاہر سے بغیر صارف قطعی جائز نہیں ہے اور یہاں کوئی صارف قطعی موجود نہیں ہے۔ ”ومن يدعى فعليه البيان“ علاوہ اس کے اس وقت لفظ قبل کو ظاہر معنی سے صرف کر کے بمعنی عند یا وقت کے لینا پڑے گا اور کوئی صارف قطعی یہاں موجود نہیں ہے۔ ”ومن يدعى فعليه البيان“ اس وقت بجائے ”قبل موته“ کے ”عند موته“ یا ”حین موته“ یا ”وقت موته“ کہنا مقتضائے حال تھا۔ اس سے عدول کرنے کی کیا وجہ ہے یا مراد ليؤمنن میں ایمان سے وہ ہے جو قبل زہوق روح کے ہوتا ہے۔ پس اس صورت میں یا یہ حکم عام ہے۔ ہر کتابی کے لئے تو کذب صریح حق تعالیٰ کے کلام میں لازم آتا ہے۔ کیونکہ ہم بالبداہت دیکھتے ہیں کہ صدہا ہزارہا اہل کتاب مرتے ہیں اور اپنے مرنے سے پہلے یعنی قبل زہوق روح کے وہ ایمان شرعی جو معتد بہ اور نافع ہے نہیں لاتے۔ ”تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا“ اور اگر کسی خاص زمانہ کے اہل کتاب کے لئے یہ حکم ہے تو قید ”قبل موته“ کی لا طائل ہوتی ہے۔ یہ کلام تو بعینہ ایسا ہوا کہ کوئی کہے کہ آج میں نے اپنی موت سے پہلے سبق پڑھ لیا۔ آج میں اپنی موت سے پہلے کچہری گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ کلام مجنونانہ ہے۔ ایسا ہی اللہ تعالیٰ کے کلام کا کلام مجنونانہ ہونا لازم آتا ہے۔ ”تعالى الله عما يقوله الظالمون“ مرزا قادیانی خود بھی اپنی کتاب توضیح المرام اور ازالۃ الاوہام کے چند مواضع میں ضمیر موتہ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرنا تسلیم کر چکے ہیں۔ اب اگر تسلیم کرتے ہیں تو مدعا ہمارا حاصل ہے اور اگر نہیں تسلیم کرتے تو اس کی وجہ بیان کریں کہ توضیح المرام وازالۃ الاوہام میں کیوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیری۔ اب بدلیل تحقیقی والزامی ثابت ہو گیا کہ مرجع ضمیر موتہ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور اس تقدیر پر ہمارا مدعا یعنی حیات مسیح علیہ السلام قطعاً ثابت ہوا۔ فتح البیان میں ہے کہ سلف میں ایک جماعت کا یہی قول ہے اور یہی ظاہر ہے اور بہت سے تابعین وغیرہم اسی طرف گئے ہیں۔ فتح الباری میں ہے۔ ابن جریر نے اس قول کو اکثر اہل علم سے نقل کیا ہے اور ابن جریر وغیرہ نے اس کو ترجیح دی ہے۔ حدیث بخاری و مسلم سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو ہریرہؓ کا یہی قول ہے۔ ابن عباسؓ سے بھی بسند صحیح یہی منقول ہے اور اس کے خلاف جو روایت ان سے ہے۔ وہ ضعیف ہے۔ جیسا کہ فتح الباری وغیرہ میں مرقوم ہے۔ ابن کثیر میں ہے کہ ابو مالک وحسن بصری وقتادہ وعبدالرحمٰن بن زید بن اسلم وغیرہم کا بھی قول ہے اور یہی حق ہے۔ مرزا قادیانی کی طرف سے اس دلیل پر دو اعتراض ہوئے۔ ایک یہ کہ یہ آیت ذوالوجوہ ہے۔ چند احتمالات مفسرین نے اس کی معنی میں لکھے ہیں۔

٨

پس یہ آیت کیسی قطعیۃ الدلالۃ ہو سکتی ہے کہ آیت کا ذوالوجوہ ہونا اور اس کی معنی میں چند احتمالا نے سب وجوہ واحتمالات مخالفہ کو دلیل الزامی و قطعی س ابن عباسؓ وقرأت ابی بن کعب اس پر دال ہے کہ مرجع اس کا جواب خاکسار کی طرف سے یہ ہوا کہ اثر وقرأت چہ جائیکہ صارف قطعی ہوں۔ ایک طریق اثر مذکور میں ا بن مسعود ہے۔ یا یحییٰ بن ہانی بن عروہ کا شیخ ہے۔ دوسرے طریق میں عبداللہ بن ابی نجیح یسار المکی ہے۔ وہ مدلس تیسرے طریق میں محمد بن حمید رازی ہے۔ وہ ضعیف وضعيف واقع ہیں۔ روایات عتاب کے تصنیف سے چوتھے طریق میں سلیمان بن داؤد طیالسی ہے۔ وہ کثیر ا نے خطا کی ہے۔ قرأت ابی بن کعب کی روایت میں راویوں کے متعلق تحریر چہارم میں منقول ہیں۔ من ش

دلیل دوم میں سورہ نساء کی یہ آیت ہے۔ ”

وكان الله عزيزاً حكيماً (نساء:١٥٨،١٥٧)“

شاہ ولی اللہ صاحب اس کے ترجمہ میں لکھتے او را خدا تعالیٰ بسوئے خود اوست خدا غالب استوار کار

شاہ رفیع الدین صاحب لکھتے ہیں اور طرف اپنے اور ہے اللہ غالب حکمت والا۔

شاہ عبد القادر صاحب لکھتے ہیں اور اس کو طرف اپنے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا۔

فائدہ میں لکھتے ہیں۔ فرمایا کہ اس کو ہرگز ن ان کو بنا دی۔ اس صورت کو سولی پر چڑھایا۔ انتہی ملخصاً

وجہ استدلال یہ ہے کہ مرجع رفعہ کی ضمیر کا قطعا روح مع الجسد ہے۔ کیونکہ مور د قتل روح مع الجس

٩

صفحہ ١٩

پس یہ آیت کیسی قطعیۃ الدلالۃ ہو سکتی ہے۔ اس کا جواب خاکسار کی طرف سے دیا گیا کہ آیت کا ذوالوجوہ ہونا اور اس کی معنی میں چند احتمالات کا ہونا منافی قطعیۃ نہیں ہے۔ کیونکہ ہم نے سب وجوہ واحتمالات مخالفہ کو دلیل الزامی قطعی سے باطل کر دکھایا۔ دوسرا اعتراض یہ ہوا کہ اثر ابن عباسؓ وقرأت ابی بن کعب اس پر دال ہے کہ مرجع موتہ کا کتابی ہے۔ نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا جواب خاکسار کی طرف سے یہ ہوا کہ اثر وقرأت مجروح ہیں۔ احتجاج کے لائق نہیں ہیں۔ چہ جائیکہ معارض قطعی ہوں۔ ایک طریق اثر مذکور میں ایک راوی ابو حذیفہ ہے۔ یہ ابو حذیفہ یا موسیٰ بن مسعود ہے۔ یا یحییٰ بن ہانی بن عروہ کا شیخ ہے۔ پہلا سی الحفظ ہے۔ دوسرا مجہول ہے اور اس طریق میں عبداللہ بن ابی نجیح یسار المکی ہے۔ وہ مدلس ہے اور عنعنہ مدلس کا مقبول نہیں ہے۔ دوسرے طریق میں محمد بن حمید رازی ہے۔ وہ ضعیف ہے۔ تیسرے طریق میں عتاب بن بشیر ضعیف واقع ہیں۔ روایات عتاب کی تضعیف سے مناکیر ہیں اور تضعیف میں بہت جرح ہے۔ چوتھے طریق میں سلیمان بن داؤد طیالسی ہے۔ وہ کثیر الغلط ہے۔ ہزار احادیث کی روایت میں اس نے خطا کی ہے۔ قرأت ابی بن کعب کی روایت میں بھی عتاب ضعیف واقع ہیں۔ عبارات ان راویوں کے متعلق تحریر چہارم میں منقول ہیں۔ من شاء فلیراجع الیہ!

دلیل دوم میں سورہ نساء کی یہ آیت ہے ۔ ”وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما (نساء:١٥٧،١٥٨)“

شاہ ولی اللہ صاحب اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں۔ ویقین نہ کشتہ اند اورا بلکہ برداشت اورا خدا تعالیٰ بسوئے خود وہست خدا غالب استوار کار۔

شاہ رفیع الدین صاحب لکھتے ہیں اور نہ مارا اس کو یقین بلکہ اٹھا لیا اس کو اللہ نے طرف اپنے اور ہے اللہ غالب حکمت والا۔

شاہ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں اور اس کو مارا نہیں بے شک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے طرف اپنے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا۔

فائدہ میں لکھتے ہیں۔ فرمایا کہ اس کو ہرگز نہیں مارا حق تعالیٰ نے۔ اس کی ایک صورت ان کو بنا دی۔ اس صورت کو سولی پر چڑھایا۔ انتہی ملخصاً!

وجہ استدلال یہ ہے کہ مرجع رفعہ کی ضمیر کا مسیح بن مریم رسول اللہ ہے اور مراد مرجع سے قطعا روح مع الجسد ہے۔ کیونکہ مورد قتل روح مع الجسد ہے۔ نہ صرف روح اور ایسا ہی ضمائر وما قتلوہ

٩

صفحہ ٢١

وما صلبوہ وما قتلوہ یقینا سے بھی مراد قطعا روح مع الجسد ہے اور جس کے قتل کا یہود دعویٰ کرتے تھے۔ اس کے قتل و صلب کی نفی اور رفع کا ثبوت حق تعالیٰ کو منظور ہے۔ پس ظاہر نص قرآنی یہی ہے کہ رفعہ سے مراد رفع روح مع الجسد ہے۔ رفعہ کی ضمیر صرف روح کی طرف عائد کرنا یا مضاف مقدر ماننا یعنی تقدیر عبارت یوں کرنا بل رفع روحہ صرف نص کا ظاہر سے ہے اور صرف النص عن الظاہر بغیر صارف قطعی کے جائز نہیں اور صارف قطعی یہاں غیر متحقق ہے۔ ”ومن يدعى فعليه البيان“ اور مؤید اس کی یہ بات ہے کہ ”بل رفعہ“ میں بل اضراب کا ہے۔ پس وہ رفع مراد ہونا چاہئے۔ جو مقابل ہو قتل کا یعنی قتل کے ساتھ جمع نہ ہوسکے اور رفع روحانی قتل کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔ عموماً اہل اسلام جانتے ہیں کہ شہداء جو اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ان کے لئے بھی رفع روحانی ہوتا ہے۔ پس متعین ہوا کہ مراد رفع سے رفع روح مع الجسد ہے۔ وہو المطلوب!

اور یہ بات بھی اس کی مؤید ہے کہ رفع کا لفظ صرف دو نبیوں کے لئے آیا ہے۔ ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ دوسرے حضرت ادریس علیہ السلام۔ اس تخصیص کی کیا وجہ ہے۔ رفع روحانی کی تو کچھ ان دو نبیوں کے ساتھ خصوصیت نہیں ہے۔ یہ رفع تو سب نبیوں بلکہ عامہ صالحین کے لئے بھی ہوتا ہے۔ اثر صحیح ابن عباس جس کے رجال ثقات ہیں اور حکماً وہ مرفوع ہے۔ رفع الروح مع الجسد پر قطعی طور پر دلالت کرتا ہے۔ اس کی عبارت آئندہ نقل کی جاوے گی۔ فانظر!

مرزا قادیانی نے اس دلیل کے جواب میں یہ لکھا کہ اس آیت میں اس وعدہ کے ایفا کی طرف اشارہ ہے۔ جو دوسری آیت میں ہوچکا ہے اور وہ آیت یہ ہے۔ ”یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ (آل عمران:٥٥)“ گویا مرزا قادیانی نے آیت ”یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ“ کو صارف ٹھہرایا۔ ظاہر معنی ”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله الیہ (نساء:١٥٨،١٥٧)“ سے۔ لیکن اس آیت کا صارف ہونا اس وقت ہوسکتا ہے کہ توفی سے مراد قطعا موت ہو اور یہ متوقف اس پر ہے کہ حقیقی معنی توفی کے موت کے ہوں۔ بلا قرینہ یہ معنی متبادر ہوتے ہوں۔ حالانکہ ہم نے تحریر چہارم میں ثابت کردیا کہ توفی کا استعمال جس جگہ بمعنی موت قرآن مجید میں آیا ہے۔ وہاں قرینہ قائم ہے اور یہ بھی ثابت کردیا کہ حقیقی معنی توفی کے اخذ الشیء وافیاً کے ہیں۔ یعنی کسی چیز کا پورا لینا اس آیت کو اگرچہ خاکسار نے تحریر اول میں غیر قطعیة الدلالۃ لکھا ہے۔ مگر اب میری رائے یہ ہے کہ یہ آیت بھی قطعیة الدلالۃ ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام پر۔ تیسری دلیل سورۃ آل عمران کی یہ آیت ہے۔ ”ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر

١٠

الماکرین ٭ اذ قال الله یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ (آل عمران:٥٤،٥٥)“

ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب: ”و بدسگالیدند یہود و بدسگالید خدا و خدا بہترین از ہمہ بدسگالان آگاہ کہ گفت خدا اے عیسیٰ ہرآئینہ من گیرندہ توام و بردارندہ تو و پاک کنندہ توام از صحبت کسانی کہ کافر شدند و گردانندہ تابعان تو زبر آنانکہ کافر شدند۔“

شاہ رفیع الدین صاحب: ”اور مکر کیا انہوں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ بہتر مکر کرنے والوں کا جس وقت کہا اللہ نے اے عیسیٰ تحقیق میں پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنے اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو ان لوگوں سے جو کافر ہوئے اور کرنے والا ہوں ان لوگوں کو کہ پیروی کریں گے تیری اوپر ان لوگوں کے جو کافر ہوئے دن قیامت کے۔“

ترجمہ شاہ عبدالقادر صاحب: ”اور فریب کیا انہوں نے اور داؤ کیا اللہ نے اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے۔ جس وقت کہا اللہ نے اے عیسیٰ میں تجھ کو لے لوں گا اور اٹھا لوں گا اپنی طرف اور پاک کردوں گا کافروں سے اور رکھوں گا تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب قیامت کے دن تک“ فائدہ ”یہود کے عالموں نے اس وقت کے بادشاہ کو حضرت عیسیٰ پر ابھارا کہ توریت کے حکم سے خلاف بتاتا ہے۔ اس نے لوگ بھیجے کہ ان کو پکڑ لائیں۔ تب اللہ نے ان کو بچا لیا اور وہ سرک گئے۔ اس شتابی میں حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر اٹھا لیا اور ایک شخص کو ان کی شکل کر دیا اسی کو پکڑ لائے۔ پھر سولی پر چڑھایا۔“

وجہ استدلال کی یہ ہے کہ توفی کے اصلی و حقیقی معنی اخذ الشیء وافیاً کے ہیں جیسا کہ بیضاوی و قسطلانی و فخر رازی و غیرہم نے لکھا ہے۔ عبارت بیضاوی وغیرہ کی تحریر چہارم میں لکھی گئی ہے فمن شاء فلیراجع الیہ اور موت توفی کے معنی مجازی ہیں نہ حقیقی اور مجازی معنی بے قرینہ صارفہ کے استعمال نہیں ہوتا ہے۔ تحقیق اس کی تحریر چہارم میں کی گئی ہے اور بطلان تاویلات مرزائیہ ہوچکا ہے۔ ومن یدعی فعلیہ البیان اس لئے اصل و حقیقی معنی توفی کے یہاں مراد ہیں۔ اور توفی انسان کا وافیا لینا یہی ہے کہ مع روح و جسم کے لیا جاوے۔

یہ آیت بھی قطعیة الدلالۃ ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام پر۔ مرزا قادیانی اگرچہ اس آیت کو قطعیة الدلالۃ وفات مسیح علیہ السلام پر سمجھتے ہیں، مگر یہ ان کا فہم نارسا ہے۔ ورنہ اس کا قطعیة الدلالۃ ہونا حیات مسیح پر اس عاجز سے ثابت ہوچکا ہے۔

١١

صفحہ ٢١

الماكرين . اذ قال الله يعيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة (آل عمران: ٥٥،٥٤) “

ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب: ”وبد سگالیدند کافران وبدسگالید خدا وخدا قوی ترست از ہمہ بدسگالان آنگاہ کہ گفت خدا اے عیسیٰ ہر آئینہ من برگیرنده تو ام وبردارندہ تو ام بسوئے خود و پاک کنندہ تو ام از صحبت کسانی کہ کافر شدند و گردانندہ تابعان تو ام بالائے کافران تا روز قیامت۔“

شاہ رفیع الدین صاحب: ”اور مکر کیا انہوں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ بہتر ہے مکر کرنے والوں کا جس وقت کہا اللہ نے اے عیسیٰ تحقیق میں لینے والا ہوں۔ تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں۔ تجھ کو طرف اپنے اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو ان لوگوں سے کہ کافر ہوئے اور کرنے والا ہوں ان لوگوں کو کہ پیروی کریں گے تیری اوپر ان لوگوں کے کہ کافر ہوئے قیامت کے دن تک۔“

ترجمہ شاہ عبدالقادر صاحب: ”اور فریب کیا ان کافروں نے اور فریب کیا اللہ نے اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے۔ جس وقت کہا اللہ نے اے عیسیٰ میں تجھ کو بھرلوں گا اور اٹھالوں گا اپنی طرف اور پاک کردوں گا کافروں سے اور رکھوں گا تیرے تابعوں کو منکروں سے اوپر قیامت کے دن تک“ فائدہ ”یہود کے عالموں نے اس وقت کے بادشاہ کو بہکایا کہ یہ شخص ملحد ہے۔ توریت کے حکم سے خلاف بتاتا ہے۔ اس نے لوگ بھیجے کہ ان کو پکڑ لاویں۔ جب وہ پہنچے حضرت عیسیٰ کے یار سرک گئے اس شتابی میں حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر اٹھا لیا اور ایک صورت ان کی رہ گئی اسی کو پکڑ لائے۔ پھر سولی پر چڑھایا۔“

وجہ استدلال کی یہ ہے کہ توفی کے اصلی وحقیقی معنی اخذ الشی وافیاً کے ہیں۔ جیسا کہ بیضاوی وقسطلانی وفخر رازی وغیرہم نے لکھا ہے۔ عبارات ان کی تحریر چہارم میں منقول ہیں۔ من شاء فلیرجع الیہ اور موت توفی کے معنی مجازی ہیں نہ حقیقی۔ اس واسطے بغیر قیام قرینہ کے موت میں استعمال نہیں ہوتا ہے۔ تحقیق اس کی تحریر چہارم میں کی گئی اور یہاں کوئی قرینہ موت کا قائم نہیں ہے۔ ومن یدعی فعلیہ البیان اس لئے اصل وحقیقی معنی یعنی اخذ الشی وافیاً مراد لئے جاویں گے اور انسان کا وافیاً لینا یہی ہے کہ مع روح وجسم کے لیا جاوے۔ وهو المطلوب!

یہ آیت بھی قطعیۃ الدلالۃ ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام پر مرزا قادیانی اور ان کے اتباع اس آیت کو قطعیۃ الدلالۃ وفات مسیح علیہ السلام پر سمجھتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس کا قطعیۃ الدلالۃ ہونا حیات مسیح پر اس عاجز سے ثابت کرا دیا۔ ولله الحمد على ذلك!

صفحہ ٢٣

اگر کہا جاوے کہ توفی اس وقت عین رفع ہوئی تو قول اللہ تعالیٰ کا ورافعک تکرار ہوگا تو جواب اس کا یہ ہے کہ توفی کا لفظ چونکہ بمعنی موت ونوم بھی آتا ہے۔ اس لئے لفظ رافعک سے تعین مراد مقصود ہے۔ اب تکرار نہ ہوئی۔ جیسا کہ آیت ”ثم بعثناكم من بعد موتکم“ میں بعث کو موت کے ساتھ مقید کیا ہے۔ اس لئے کہ بعث اغماء ونوم سے بھی ہوتا ہے اور جیسا کہ ”حتی يتوفهن الموت (نساء:١٥)“ میں موت کا لفظ تعین مراد کے لئے چوتھی دلیل سورۂ مائدہ کی یہ آیت ہے۔ ”وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم (مائدہ: ١١٧)“

ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب: ”وبودم برایشان نگاہبان مادامیکہ درمیان ایشان بودم پس وقتیکہ بر گرفتی مرا تو بودی نگہبان برایشان۔“

فائدہ میں لکھتے ہیں: ”یعنی بر آسمان بردی۔“

ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحب: ”اور تھا میں اوپر ان کے شاہد جب تک رہا میں بیچ ان کے۔ پس جب قبض کیا تو نے مجھ کو تھا تو ہی نگہبان اوپر ان کے۔“

ترجمہ شاہ عبدالقادر صاحب: ”اور میں ان سے خبردار تھا۔ جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے بھر لیا تو تو ہی تھا خبر رکھتا ان کی۔“

وجہ استدلال وہی ہے جو اوپر کی آیت میں گزری۔ یعنی معنی حقیقی توفی کے اخذ الشی وافیاً ہیں اور صرف حقیقت سے مجاز کی طرف بغیر صارف کے جائز نہیں اور صارف یہاں موجود نہیں ہے۔ بلکہ ایک لفظ تعین مراد کرنے والا۔ یعنی رافعک آیت سابقہ میں موجود ہے۔ مخفی نہ رہے کہ حق تعالیٰ نے آیت ”انی متوفيك ورافعك الی“ میں توفی ورفع کو جمع کیا ہے اور ”بل رفعه الله الیہ“ میں رفع پر قصر کیا ہے اور ”فلما توفيتنى“ میں توفی پر قصر کیا ہے۔ اس میں اشارہ ہے۔ اس طرف کہ توفی ورفع ایک چیز ہے۔ مقصود زیادت لفظ رفع سے صرف تعین مراد ہے۔ یہ آیت بھی قطعیۃ الدلالۃ ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام پر مرزا قادیانی اور ان کے اتباع اس آیت کو بھی قطعیۃ الدلالۃ وفات پر سمجھتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے اس آیت کا قطعیۃ الدلالۃ حیات پر ہونا اس ناچیز پر ظاہر فرمایا۔ الحمد لله على ذلك!

پانچویں دلیل: سورۂ آل عمران کی یہ آیت ہے۔ ”ويكلم الناس فى المهد وكهلا ومن الصالحين (آل عمران:٤٦)“

١٢

ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب: ”وسخن گوید بامردمان شائستگان۔“

ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحب: ”اور باتیں کرے ادھیڑ اور صالحون سے ہے۔“

ترجمہ شاہ عبدالقادر صاحب: ”اور باتیں کرے گا لو اور جب پوری عمر کا ہوگا اور نیک بختوں میں سے۔“

وجہ استدلال یہ ہے کہ اصل سن کہولت میں اختلاف اور بعض کے نزدیک بتیس اور بعض کے نزدیک تینتیس اور بعض شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے: ”وقال فى اللباب الكهل ثلثون او اثنتان وثلثون او ثلث وثلثون او او ستون ثم يدخل فى سن الشيخوخة“

شیخ زادہ حاشیہ بیضاوی میں لکھتا ہے: ”واول اسن اثنان وثلثون وقيل اربعون وآخر سنها خمس الانسان فى سن الشيخوخة“ اور ہم مامور ہیں۔ اس با اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف رد کریں۔ قال اللہ تعالیٰ ”فان ت الله والرسول“ موافق اس کے اب ہم رجوع حدیث کی ط میں اہل جنت کے حق میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ”لا یف ابوسعید وابو ہریرہؓ میں ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ ایک ندا کرنے و تشبوا فلا تهرموا ابدا“ رواہ مسلم اور اس باب میں احادی ہوا کہ اہل جنت کا شباب کبھی زائل نہ ہوگا اور حدیث سے یہ بھی ث ہوں گے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تخمی اس کے ثبوت کے لئے تفسیر ابن کثیر کی یہ عبارت کافی ہے۔ ”فم سنة فى الصحيح وقد ورد فى حديث فى صفة آدم وميلاد عيسى ثلث وثلثين سنة“

اور نیز تفسیر ابن کثیر میں سورۂ واقعہ کی تفسیر میں تحت آی

١٣

صفحہ ٢٣

ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب: ”وسخن گوید با مردمان در گہوارہ و وقت معمری و باشد از شائستگان۔“

ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحب: ”اور باتیں کرے گا لوگوں سے بیچ جھولے کے اور ادھیڑ اور صالحون سے ہے۔“

ترجمہ شاہ عبدالقادر صاحب: ”اور باتیں کرے گا لوگوں سے جب ماں کی گود میں ہوگا اور جب پوری عمر کا ہوگا اور نیک بختوں میں سے۔“

وجہ استدلال یہ ہے کہ اصل سن کہولت میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک تیس ہے اور بعض کے نزدیک بتیس اور بعض کے نزدیک تینتیس اور بعض کے نزدیک چالیس قسطلانی نے شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے: ”وقال فى اللباب الكهل من بلغ من الكهولة واولها ثلثون او اثنتان وثلثون او ثلث وثلثون او اربعون وآخرها خمسون او ستون ثم يدخل فى سن الشيخوخة“

شیخ زادہ حاشیہ بیضاوی میں لکھتا ہے: ”واوّل اسن الكهولة ثلثون وقيل اثنان وثلثون وقيل اربعون وآخر سنها خمسون وقيل ستون ثم يدخل الانسان فى سن الشيوخة“ اور ہم مامور ہیں۔ اس بات کے ساتھ کہ جب اختلاف ہو تو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف رد کریں۔ قال اللہ تعالیٰ ”فان تنازعتم فى شئ فردوه الى اللہ والرسول“ موافق اس کے اب ہم رجوع حدیث کی طرف کرتے ہیں تو حدیث ابو ہریرہؓ میں اہل جنت کے حق میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ”لا یفنی شبابه“ رواہ مسلم اور حدیث ابو سعید وابو ہریرہؓ میں ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا۔ ”ان لکم ان تشبوا فلا تهرموا ابدا“ رواہ مسلم اور اس باب میں احادیث بکثرت ہیں۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ اہل جنت کا شباب کبھی زائل نہ ہوگا اور حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ تینتیس برس کی عمر کے ہوں گے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تینتیس برس کی عمر میں اٹھائے گئے۔ اس کے ثبوت کے لئے تفسیر ابن کثیر کی یہ عبارت کافی ہے۔ ”فانه رفع وله ثلث وثلثون سنة فى الصحيح وقد ورد فى حديث فى صفة اهل الجنة انهم على صورة آدم وميلاد عيسى ثلث وثلثين سنة“

اور نیز تفسیر ابن کثیر میں سورۂ واقعہ کی تفسیر میں تحت آیت کریمہ ”اترا بالاصحب

١٣

صفحہ ٢٥

الیمین“ کے مرقوم ہے۔ ”وروی الطبرانی واللفظ له من حدیث حماد بن سلمة عن علی بن زید بن جدعان عن سعید ابن المسیب عن ابی هریرة قال قال رسول اللہﷺ یدخل اهل الجنة الجنة جردا مردا بیضا جعادا مکحلین ابناء ثلث وثلاثین وهم علی خلق آدم ستون ذراعا فی عرض سبعة اذرع وروی الترمذی من حدیث ابی داؤد الطیالسی عن عمران القطان عن قتادة عن وشهر بن حوشب عن عبدالرحمن بن غنم عن معاذ بن جبل ان رسول اللہﷺ یدخل اهل الجنة الجنة جردا مردا مکحلین بنی ثلث وثلثین سنة ثم قال حسن غریب وقال ابن وهب اخبرنا عمر وبن الحارث ان دارجا اباالسمح حدثه عن ابی الهیثم عن ابی سعید قال قال رسول اللہﷺ من مات من اهل الجنة من صغیرا وکبیر یردون بنی ثلاث وثلاثین فی الجنة لایزیدون علیها ابداً وکذلک اهل النار ورواه الترمذی عن سوید بن نصر عن ابن المبارک عن رشدین بن سعد عن عمر وبن الحارث به وقال ابوبکر بن ابی الدنیا حدثنا القاسم بن هاشم حدثنا صفوان بن صالح حدثنا رواد بن الجراح العسقلانی حدثنا الاوزاعی عن هرون بن ذهاب عن انس قال قال رسول اللہﷺ یدخل اهل الجنة الجنة علی طول آدم ستین ذراعا بذراع الملک علی حسن یوسف وعلی میلاد عیسیٰ ثلث وثلاثین سنة وعلی لسان محمد جرد مرد مکحلون وقال ابوبکر بن ابی داؤد حدثنا محمد بن خالد وعباس بن الولید قالا حدثنا عمر عن الاوزاعی عن هرون بن ذهاب عن انس بن مالک قال قال رسول اللہﷺ یبعث اهل الجنة الجنة علی صورة آدم فی میلاد ثلث وثلثین جردا مردا مکحلین ثم یذهب بهم الی شجرة فی الجنة فیکسون منها لا تبلی ثیابهم ولا یفنی شبابهم (تفسیر ابن کثیر ج٨ ص٢٤)“

اور حافظ عبدالعظیم منذری ترغیب وترہیب میں لکھتے ہیں: ” وعن المقدام ان رسول اللہﷺ قال مامن احد یموت سقطا ولا هرما وانما الناس فیما بین ذلک الا یبعث ابن ثلاث وثلثین سنة فانکان من اهل الجنة کان علی مسحة

١٤

آدم وصورة یوسف وقلب ایوب ومن کل کالجبال رواه البیهقی باسناد حسن (الترغیب پس اس سے صاف ثابت ہوا کہ جنتیوں پر ورنہ فناء شباب اہل جنت لازم آتا ہے۔ ”وهو خلاف

پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سن میں۔ علاوہ اس کے اصل معنی کہل کے ”من وخطه ا کہ قاموس وصحاح وغیر ہا میں لکھا ہے۔ یعنی کہل وہ شخص آجائے اور دیکھی جائے۔ اس کے لئے بزرگی اور احوال فی الواقع مختلف نہیں ہیں۔ بلکہ یہ اختلاف مبنی ہے۔ ا رکھتا ہے۔ اس کا اوّل سن کہولت چالیس یا قریب چالیس ہے۔ اس کا اوّل کہولت بتیس یا تینتیس ہوتا ہے اور کہولت بعد تیس کے ہوتا ہے۔ اختلاف زمانہ کو اختلاف خلق آدم سے بعد ہوتا جاتا ہے۔ اسی قدر قوی ضعیف قرآنیہ وحدیثیہ ناطق ہیں۔ ان میں سے ہے۔ حدیث یزل الخلق ینقص بعده حتی الآن “ یہ عمر کے میں کہتا ہوں کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آ گئی تھی۔ لیکن آپ کی سرمبارک اور ریش شریف میں وسلم میں انسؓ سے روایت ہے۔ ”وتوفاه اللہ راسه ولحیته عشرون شعره بیضاء وع رسول اللہﷺ فقال انه لم یبلغ ما لحیته وفى روایة لوشئت ان اعد شم وفى روایة المسلم قال انما كان البيا الرأس نبذ “ مخفی نہ رہے کہ حدیث اوّل میں کے خلاف آیا ہے۔ بعض میں ثلث ستین اور بعض میں بین الروایات ان من روی خمسا وست

١٥

صفحہ ٢٥

آدم وصورة يوسف وقلب ايوب ومن كان من اهل النار عظموا وفخموا كالجبال رواه البيهقى باسناد حسن (الترغيب والترهيب ص ٤٠١)“ پس اس سے صاف ثابت ہوا کہ تینتیس برس کا سن سنِ شباب ہے۔ نہ سن کہولت۔ ورنہ فناء شباب اہل جنت لازم آتا ہے۔ ”وهو خلاف ماثبت بالاحاديث الصحيحة“ پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سن شباب میں اٹھائے گئے۔ نہ سن کہولت میں ۔ علاوہ اس کے اصل معنی کہل کے ”من وخطه الشيب ورايت له بجالة“ ہیں۔ جیسا کہ قاموس وصحاح وغیرہا میں لکھا ہے۔ یعنی کہل وہ شخص ہے جس کے بالوں میں سپیدی مخلوط ہو جائے اور دیکھی جائے۔ اس کے لئے بزرگی اور اقوال مختلفہ جو اوّل سن کہولت میں منقول ہیں۔ وہ فی الواقع مختلف نہیں ہیں۔ بلکہ یہ اختلاف مبنی ہے۔ اختلاف قویٰ اشخاص پر جو اعلیٰ درجہ کی قوت رکھتا ہے۔ اس کا اوّل سن کہولت چالیس یا قریب چالیس کے ہوتا ہے اور جو اوسط درجہ کی قوت رکھتا ہے۔ اس کا اوّل کہولت بتیس یا تینتیس ہوتا ہے اور جو ادنیٰ درجہ کی قوت رکھتا ہے۔ اس کا اوّل کہولت بعد تیس کے ہوتا ہے۔ اختلاف زمانہ کو اختلاف قویٰ میں بہت دخل ہے۔ جس قدر زمانہ خلق آدم سے بعید ہوتا جاتا ہے۔ اسی قدر قویٰ ضعیف ہوتے جاتے ہیں۔ اس پر مشاہدہ و نصوص قرآنیہ و حدیثیہ ناطق ہیں۔ ان میں سے ہے۔ حدیث ابی ہریرۃ جو مرفوع اور متفق علیہ ہے۔ ”فلم يزل الخلق ينقص بعده حتى الآن“ یہ عمدہ صورت اقوال مختلفہ میں تطبیق کی بعد اس تمہید کے میں کہتا ہوں کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی عمر مبارک ساٹھ سے تجاوز کر گئی تھی۔ لیکن آپ کے سر مبارک اور ریش شریف میں گنتی کے بیس بال سے کم سفید تھے۔ بخاری ومسلم میں انسؓ سے روایت ہے۔ ”وتوفاه الله على راس ستين سنة وليس فى راسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء وعن ثابت قال سئل انس عن خضاب رسول الله ﷺ فقال انه لم يبلغ ما يخضب لوشئت ان اعد شمطاته فى لحيته وفى رواية لوشئت ان اعد شمطات كن فى راسه فعلت متفق عليه وفى رواية لمسلم قال انما كان البياض فى عنفقته وفى الصدغين وفى الراس نبذ“ مخفی نہ رہے کہ حدیث اوّل میں جو ستین کا لفظ آیا ہے۔ دوسری احادیث میں اس کے خلاف آیا ہے۔ بعض میں ثلث ستین اور بعض میں خمس وستین ہے۔ ”قال العلماء الجمع بين الروايات ان من روى خمسا وستين عد سنتى المولد والوفاة من روے ١٥

صفحہ ١٦

ثلث وستين لم يعدهما ومن روى ستين لم يعد الكسور كذافي تهذيب الاسماء“ اور آنحضرت ﷺ کے اس قدر بالوں کا اس عمر میں سپید ہو جانا اصحاب رسول اللہ ﷺ خلاف عادت سمجھتے تھے۔ چنانچہ اس پر یہ حدیث دال ہے۔ ”عن ابی جحیفة قال قالوا یا رسول الله قد شبت قال شيبتنى هود واخواتها رواه الترمذی“ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے چھ سو برس پہلے تھے اور ظاہر ہے کہ اس زمانہ کے قویٰ بہ نسبت آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے ضرور قوی تر ہوں گے۔ پس ہرگز یہ بات عقل میں نہیں آتی ہے کہ تینتیس برس کی عمر میں جو صحیح روایت رفع کے باب میں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بالوں میں سپیدی مخلوط ہوگئی ہو۔ بلکہ ظاہر یہی ہے کہ اس وقت بال ان کے بالکل سیاہ ہوں گے تو تعریف کہل کے ان پر صادق آئی اور مؤید اس کا ہے وہ لفظ جو اثر صحیح ابن عباس میں کہ حکماً مرفوع ہے۔ وارد ہے۔ ”فقام شباب من احدثهم سناً “ ماسوا اس کے عبارت فتح الباری سے معلوم ہوتا ہے کہ قریب اربعین کا قول راجح وقوی ہے اور دیگر اقوال ضعیف ہیں۔ عبارت فتح الباری کے یہ ہے۔ ”قال ابوجعفر النحاس ان هذا لا يعرف فى أللغة وانما الكهل عندهم من ناهز الاربعين اوقاربها وقيل من جاوز الثلثين وقيل ابن ثلث وثلثين انتهى “ پس موافق اس قول راجح کے کہل ہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قبل رفع ثابت نہیں ہوتا ہے۔ یہ آیت اگر چہ قطعیة الدلالة حیات مسیح علیہ السلام پر نہیں۔ لیکن ادلہ ظنیہ میں سے ایک قوی دلیل ہے اور یہ قول بعض مفسرین کا کہ یہ استدلال ضعیف ہے۔ خطاء میں ہے۔ کیونکہ ہم نے اوپر حدیث صحیح سے ثابت کر دیا کہ جس سن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے ہیں وہ سن شباب تھا۔ نہ سن کہولت۔ مرزا قادیانی نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ آپ کہل کے لفظ سے درمیان عمر کا آدمی مراد لیتے ہیں۔ مگر یہ صحیح نہیں ہے۔ صحیح بخاری اور قاموس وتفسیر کشاف وغیرہ میں کہل کے معنی جوان مضبوط کے لکھے ہیں۔ اس کا جواب خاکسار کی طرف سے یہ ہوا کہ صحیح بخاری میں تو یہ ہے۔ ”وقال مجاهد الكهل الحليم “ جوان مضبوط اس سے کس طرح سمجھا جاتا ہے۔ اس کا جواب مرزا قادیانی نے یہ دیا کہ حلیم وہ ہے جو مبلغ الحلم کا مصداق ہو اور جو حلم کے زمانہ تک پہنچے۔ وہ جوان مضبوط ہی ہوتا ہے۔ اس کا جواب خاکسار کی طرف سے یہ ہوا کہ یہ حصر غیر مسلم ہے۔ کیونکہ حلیم قرآن مجید میں صفت غلام کی آئی ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ۔ ” فبشرناه بغلام حليم “ اور غلام کے معنی کودک صغیر کے ہیں۔ کما فی الصراح۔ پس محتمل ہے کہ حلیم اس جگہ پر ماخوذ ہو حلم

٢٧ سے جو آہستگی اور بردباری کے معنی میں ہے۔ اس کا جواب مر اب میں یہ کہتا ہوں کہ حافظ نے فتح الباری میں لکھـ النحاس ان هذا لا يعرف فى اللغة وانما الكهل قاربها وقيل من جاوز الثلثين وقيل ابن ثلث ان مجاهد افسره بلازمه الغالب لان الكهل يـ انتهى “ قسطلانی لکھتا ہے: ”فلعل مجاهد افسره بـ يكون فيه وقار وسكينة انتهى “ قاموس میں ہے۔ ”الكهل من وخط الشيب الثلثين او اربعا وثلثين الى احدى وخمسين انـ کشاف میں ہے: ”ومعناه ان يكلم ا الانبياء من غير تفاوت بين حال الطفولة وحـ العقل ويستنباء فيها الانبياء انتهى “ ان عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ کہل کے معـ اور نہ قاموس میں نہ کشاف میں اور کہل کے معنی جوان کے کہولۃ میں تضاد ہے۔ مصباح المنیر میں ہے۔ ”شب الغـ شبيبة وهو شاب وذلك قبل سن الكهولة “ محال ہے۔ چھٹی دلیل سورہ زخرف کی یہ آیت ہے۔ ”وا واتبعون هذا صراط مستقيم “ ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب: ”وہر آئینہ مکنید در قیامت و بگو یا محمد پیروی من کنید این ست راه اسـ ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحب: ”اور تحقیق و شک کرو ساتھ اس کے اور پیروی کرو میری یہ ہے راہ سید ترجمہ شاہ عبدالقادر صاحب: ”اور وہ نشان ہـ میرا کہا مانو۔ یہ ایک سیدھی راہ ہے۔ فائدہ حضرت عیسیٰ کـ

صفحہ ٢٧

سے جو آہستگی اور بردباری کے معنی میں ہے۔ اس کا جواب مرزا قادیانی نے کچھ نہیں دیا۔

اب میں یہ کہتا ہوں کہ حافظ نے فتح الباری میں لکھا ہے: ”وقد قال ابو جعفر النحاس ان هذا لا يعرف فى اللغة وانما الكهل عندهم من ناهز الاربعين او قاربها وقيل من جاوز الثلثين وقيل ابن ثلث وثلثين انتهى. والذى يظهر ان مجاهد افسره بلازمه الغالب لان الكهل يكون غالباً فيه وقار وسكينة انتهی“

قسطلانی لکھتا ہے: ”فلعل مجاهد افسره بلازمه الغالب لان الكهل غالباً يكون فيه وقار وسكينة انتهی“

قاموس میں ہے: ”الكهل من وخط الشيب رأيت له بجالة او من جاوز الثلثين او اربعا وثلثين الى احدى وخمسين انتهى“

کشاف میں ہے: ”ومعناه ان يكلم الناس فى هاتين الحالين كلام الانبياء من غير تفاوت بين حال الطفولة وحال الكهولة التي يستحكم فيها العقل ويستنبأ فيها الانبياء انتهى“

ان عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ کہل کے معنی جوان مضبوط کے نہ صحیح بخاری میں ہیں اور نہ قاموس میں نہ کشاف میں اور کہل کے معنی جوان کے۔ کیونکر ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ شباب اور کہولۃ میں تضاد ہی مصباح المنیر میں ہے۔ ”شب الصبی يشب من باب ضرب شباباً شبيبة وهو شاب وذلك قبل سن الكهولة“ اور ہر عاقل جانتا ہے کہ اجتماع الضدین محال ہے۔

چھٹی دلیل سورہ زخرف کی یہ آیت ہے۔ ”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون هذا صراط مستقيم“

ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب: ”وہر آئینہ عیسیٰ نشانه است قیامت را پس شبهه مکنید در قیامت وبگو یا محمد پیروی من کنید این ست راہ راست۔“

ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحب: ”اور تحقیق وہ البتہ علامت قیامت کی ہے۔ پس مت شک کرو ساتھ اس کے اور پیروی کرو میری یہ ہے راہ سیدھی۔“

ترجمہ شاہ عبدالقادر صاحب: ”اور وہ نشان ہے اس گھڑی کا سو اس میں دھوکا نہ کرو اور میرا کہا مانو۔ یہ ایک سیدھی راہ ہے۔ فائدہ حضرت عیسیٰ کا آنا نشان ہے قیامت کا۔ انتہی!“

١٧

صفحہ ٢٩

(تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٢٠٨) میں ہے: ”وقوله سبحانه وتعالى وانه لعلم للساعة تقدم تفسير ابن اسحق ان المراد من ذلك ما بعث به عيسى عليه الصلوة والسلام من احياء الموتى وابراء الاكمه والابرص وغير ذلك من الاسقام وفى هذا نظر وابعد منه ماحكاه قتاده عن عن الحسن البصرى وسعيد بن جبير ان الضمير فى وانه عائد على القرآن بل الصحيح انه عائد على عيسى عليه الصلوة والسلام فان السياق فى ذكره، ثم المراد بذلك نزد له قبل يوم القيامة كما قال تبارك وتعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قبل موت عيسى عليه الصلوة والسلام ثميوم القيامة يكون عليهم شهيداً ويؤيد هذا المعنى القرأة الاخرى وانه لعلم للساعة اى امارة ودليل على وقوع الساعة قال مجاهد وانه لعلم للساعة اى آية للساعة خروج عيسى بن مريم عليه السلام قبل يوم القيمة وهكذا روى عن ابى هريرة وابن عباس وابى العالية وابى مالك وعكرمة والحسن وقتادة وضحاك وغيرهم وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله ﷺ انه اخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيامة اماماً عادلا وحكماً مقسطاً انتهى“

اور بھی اس میں ہے: ”وقال الامام احمد حدثنا هاشم بن القاسم حدثنا شيبان عن عاصم بن ابى النجود عن ابى رزين عن ابي يحيى مولى ابن عقيل الانصارى قال قال ابن عباس لقد علمت آية من القرآن ماسالنى عنها رجل ولا ادرى اعلمها الناس فلم يسألوا عنها ام لم يفطنوا لها فيسألوا عنها فى حديث طويل فى آخره قال فانزل الله عزوجل ولما ضرب ابن مريم مثلاً اذا قومك منه يصدون قال يضحكون وانه لعلم للساعة قال هو خروج عيسى ابن مريم عليه الصلوة والسلام قبل يوم القيمة انتهى“

معالم تنزیل میں ہے: ”وانه يعني عيسى عليه السلام لعلم للساعة يعني نزوله من اشراط الساعة يعلم به قربها وقرأ ابن عباس وابو هريرة وقتادة وانه لعلم للساعة بفتح اللام والعين اى امارة وعلامة وروينا عن النبى ﷺ ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً يكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك فى زمانه الملل كلها الا الاسلام انتهى“

١٨

فتح البیان میں ہے: ”وانه لعلم للساعة ا وقتادة ان المراد المسيح وان خروجه اى نزو قربها لكونه شرطا من اشراطها لان الله سبح الساعة كما ان خروج الدجال من اعلام ال جبير المراد القرآن لانه يدل على قرب اهوالها واحوالها وقيل المعنى ان حدوث للموتى دليل على صحة البعث وقيل الضمي ابن عباس اى خروج عيسى بن مريم عليه الس الحكم وابن مردوية عنه مرفوعاً وعن اب حمید انتهى“

سیوطی اکلیل میں لکھتے ہیں: ”فيه نزول ع عباس فى قوله وانه لعلم للساعة قال خروج

کشاف میں ہے: ”وانه وان عيسى عل من اشراطها تعلم به فسمى الشرط علما ل لعلم وهو العلامة وقرئ للعلم وقرأ ذكرا كما سمى مايعلم به علما وفى الحديث ا ثنية بالارض المقدسة يقال لها افيق وع وبيده حربة وبها يقتل الدجال فياتى والصبح والامام يؤم بهم فيتأخر الامام ف محمد عليه السلام ثم يقتل الخنازي والكنائس ويقتل النصارى الامن آمن به“

بیضاوی میں ہے: ”وانه وان عيسى من اشراط الساعة يعلم به دنوها اولان أ عليه قرئ لعلم اى علامة ولمذكر على تذ ينزل عيسى على ثنية بالارض المقدسة ا

١٩

صفحہ ٢٩

فتح البيان میں ہے: ”وانه لعلم للساعة قال مجاهد والضحاك والسدى وقتادة ان المراد المسيح وان خروجه اى نزوله مما يعلم به قيام الساعة اى قربها لكونه شرطا من اشراطها لان الله سبحانه ينزله من السماء قبل قيام الساعة كما ان خروج الدجال من اعلام الساعة وقال الحسن وسعيد بن جبير المراد القرآن لانه يدل على قرب مجيئ الساعة وبه يعلم وقتها و اهوالها واحوالها وقيل المعنى ان حدوث المسيح من غير اب واحياءه للموتى دليل على صحة البعث وقيل الضمير لمحمدﷺ والاول اولى قال ابن عباس اى خروج عيسى بن مريم عليه السلام قبل يوم القيامة واخرجه الحاكم وابن مردوية عنه مرفوعاً وعن ابى هريرة نحوه اخرجه عبدبن حميد انتهى“

سيوطى اكليل میں لکھتے ہیں: ”فيه نزول عيسى قربها روى الحاكم عن ابن عباس في قوله وانه لعلم للساعة قال خروج عيسى انتهى“

كشاف میں ہے: ”وانه وان عيسى عليه السلام لعلم للساعة اى شرط من اشراطها تعلم به فسمى الشرط علما لحصول العلم به وقرأ ابن عباس لعلم وهو العلامة وقرئ للعلم وقرأ ابى لذكر على تسمية مايذكر به ذكرا كماسمى مايعلم به علما وفي الحديث ان عيسى عليه السلام ينزل على ثنية بالارض المقدسة يقال لها افيق وعليه ممصرتان وشعر رأسه دهن وبيده حربة وبها يقتل الدجال فياتى بيت المقدس والناس فى صلوة والصبح والامام يؤم بهم فيتأخر الامام فيقدمه عيسى ويصلى على شريعة محمد عليه السلام ثم يقتل الخنازير ويكسر الصليب ويخرب البيع والكنائس ويقتل النصارى الامن آمن به“

بيضاوى میں ہے: ”وانه وان عيسى لعلم للساعة لان حدوثه اونزوله من اشراط الساعة يعلم به دنوها اولان احياءه الموتى يدل على قدرة الله عليه قرئ لعلم اى علامة ولذكر على تسمية مايذكر به ذكرا وفى الحديث ينزل عيسى على ثنية بالارض المقدسة اهـ“

١٩

صفحہ ٣١

تفسیر ابو السعود میں ہے: ”وانه وان عیسی لعلم للساعة ای انه بنزوله شرط من اشراطها وتسمیة علما لحصوله به او بحدوثه بغیر اب او باحیاء الموتی ودلیل علی صحته البعث الذی هو معظم ماینکرہ الکفرة من الامور الواقعة فی الساعة“

جلالین میں ہے: ”وانه ای عیسی لعلم للساعة تعلم بنزوله“

جمل میں ہے: ”والمعنی وان نزوله علامة علی قرب الساعة مدارک “

میں ہے: ”ای وان نزوله علم الساعة انتھی“ جامع البیان میں ہے: ”وانه عیسی لعلم للساعة ای علامتها فان نزوله من اشراطها انتھی“

وجہ استدلال کی یہ ہے کہ انہ کی ضمیر میں مفسرین نے تین احتمالات لکھے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عائد ہے طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔ دوسرا یہ کہ وہ عائد ہے طرف قرآن مجید کے۔ تیسرا یہ کہ وہ عائد ہے طرف آنحضرت ﷺ کے احتمالین آخرین بالبداہۃ باطل ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید و آنحضرت ﷺ کا اوپر کہیں ذکر نہیں ہے۔ بخلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ ان کا ذکر قبل بعد موجود ہے۔ پس یہ بات متعین ہوئی کہ مرجع انہ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اب یہاں تین احتمالات ہیں یا نزول مقدر مانا جاوے یا معجزات یا حدوث احتمالین آخرین صحیح نہیں ہیں اور ان کی عدم صحت کی وجہ تحریر اوّل خاکسار میں مرقوم ہے اور مرزا قادیانی نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا۔

من شاء فلیرجع الیہ!

علاوہ اس کے یہ دونوں احتمال غیر ناشئ عن الدلیل ہیں اور نزول کو مقدر ماننے پر دلیل موجود ہے۔

اوّل حدیث ابن عباس جس کو امام احمد نے موقوفاً اور حاکم اور ابن مردویہ نے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ دوسری حدیث حذیفہ بن الاسید غفاری ”قال اطلع النبی ﷺ علینا ونحن نتذاکر فقال ماتذکرون قالوا نذکر الساعة قال انھا لن تقوم حتی تروا قبلھا عشر آیت فذکر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربھا ونزول عیسیٰ بن مریم الحدیث ورواہ مسلم ج ٢ ص ٣٩٣“

ودیگر احادیث صحیحہ بخاری و مسلم و غیرہما کہ جو بکثرت نزول عیسیٰ علیہ السلام میں وارد ہوئی ہیں اور یہی قول ابن عباسؓ و ابوہریرہؓ و مجاہد و ابوالعالیہ و ابو مالک وعکرمہ وحسن و قتادہ وضحاک

٢٠

وسدی وغیرہم کا ہے اور سب مفسرین نے اس احتمال کو تر

قریب قطعی کے تو ضرور ہے۔ مرزا قادیانی نے اس پر یہ اع کے دوبارہ نزول سے شکلی طور پر بھی کچھ تعلق نہیں اور اگر ف مراد لیا جاوے اور وہی نزول ان لوگوں کے لئے جو آ قیامت ٹھہرایا جاوے تو یہ استدلال وجود قیامت تک لمبی کہ مسیح آخری زمانہ میں نزول کر کے قیامت کا نشان ٹھہ کے قیامت سے کیوں انکاری ہوتے ہو۔ وہ عذر پیش کرتے کہنا کس قدر عبث ہے کہ اب قیامت کے وجود پر ایمان دلیل قیامت کے آنے کی بیان کردی۔ انتہی !

میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ ا سے شکلی طور پر بھی کچھ تعلق نہیں۔ آنحضرت ﷺ وابو مالکؓ وعکرمہ وحسن وقتادہ وضحاک وسدی وسائر مفس عیسیٰ علیہ السلام سمجھا ہے۔ جہالت کا الزام لگانا ہے۔ ا اگر نزول مسیح مراد لیا جاوے تو یہ استدلال وجود قیامت نہایت ہنسی کے لائق ہے۔

مرزا قادیانی آیت کا مطلب ہی نہیں ”فلاتمترن بھا“ میں جو فاء سببیہ آئی ہے وہ چا مابعد مسبب پس نزول عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کی نشانی کا اور نزول ابھی متحقق ہی نہیں ہے۔ پس کیسے کہا جاسکتا اس کا یہ ہے کہ نفس تحقق نزول عیسیٰ علیہ السلام قطع نظر ہونے کی خبر دی ہے۔ کسی طرح پر قیامت یا قرب قیام یہ خبر دینا کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام علم ساعۃ ہے۔ البتہ ق اگر قیامت کا وقوع ہی نہ ہو تو نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عل ساعۃ ہونا اس جہت سے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے امتراء بالقیامۃ کا اور اس کے نظائر قرآن مجید میں بکثر

٢١

صفحہ ٣١

وسدی وغیرہم کا ہے اور سب مفسرین نے اس احتمال کو ترجیح دی ہے۔ یہ دلیل اگر قطعی نہیں ہے تو قریب قطعی کے تو ضرور ہے۔ مرزا قادیانی نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس آیت کو حضرت مسیح کے دوبارہ نزول سے شکی طور پر بھی کچھ تعلق نہیں اور اگر خواہ نخواہ تحکم کے طور پر اس جگہ نزول مسیح مراد لیا جاوے اور وہی نزول ان لوگوں کے لئے جو آنحضرت ﷺ کے عہد میں تھے۔ نشان قیامت ٹھہرایا جاوے تو یہ استدلال وجود قیامت تک ہنسی کے لائق ہوگا اور جن کو یہ خطاب کیا گیا کہ مسیح آخری زمانہ میں نزول کر کے قیامت کا نشان ٹھہرے گا۔ اب تم باوجود اتنے بڑے نشان کے قیامت سے کیوں انکاری ہوتے ہو۔ وہ عذر پیش کر سکتے ہیں کہ دلیل تو ابھی موجود نہیں۔ پھر یہ کہنا کس قدر عبث ہے کہ اب قیامت کے وجود پر ایمان لے آؤ۔ شک مت کرو۔ ہم نے پختہ دلیل قیامت کے آنے کی بیان کردی۔ انتہی!

میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ اس آیت کو حضرت مسیح کے دوبارہ نزول سے شکی طور پر بھی کچھ تعلق نہیں۔ آنحضرت ﷺ وابن عباسؓ وابو ہریرہؓ مجاہد وابوالعالیہ وابو مالکؓ وعکرمہ وحسن وقتادہ وضحاک وسدی وسائر مفسرین پر جنہوں نے اس آیت سے نزول عیسیٰ علیہ السلام سمجھا ہے۔ جہالت کا الزام لگانا ہے۔ اعاذنا اللہ منہ اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ اگر نزول مسیح مراد لیا جاوے تو یہ استدلال وجود قیامت تک ہنسنے کے لائق ہوگا۔ الیٰ آخر ما قال! نہایت ہنسی کے لائق ہے۔

مرزا قادیانی آیت کا مطلب ہی نہیں سمجھے اور منشاء غلط یہ معلوم ہوتا ہے کہ "فلا تمترن بھا" میں جو فاء سببیہ آئی ہے وہ چاہتی ہے اس امر کو کہ اس کا ماقبل سبب ہو اور مابعد مسبب پس نزول عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کی نشانی ہونا سبب ہوا۔ قیامت میں نہ شک کرنے کا اور نزول ابھی تحقق ہی نہیں ہے۔ پس کیسے کہا جاسکتا ہے کہ پس قیامت میں شک نہ کرو۔ جواب اس کا یہ ہے کہ نفس تحقق نزول عیسیٰ علیہ السلام قطع نظر اس سے کہ حق تعالیٰ نے اس کے علم ساعۃ ہونے کی خبر دی ہے۔ کسی طرح پر قیامت یا قرب قیامت پر دلالت نہیں کرتا ہے۔ ہاں حق تعالیٰ کا یہ خبر دینا کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام علم ساعۃ ہے۔ البتہ قطعاً وقوع قیامت پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ اگر قیامت کا وقوع ہی نہ ہو تو نزول عیسیٰ علیہ السلام کا علم ساعۃ ہونا باطل ہوا جاتا ہے۔ پس عیسیٰ کا علم ساعۃ ہونا اس جہت سے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے اس کی خبر دی ہے۔ بے شک سبب ہے عدم امتراء بالقیامۃ کا اور اس کے نظائر قرآن مجید میں بکثرت ہیں کہ ماقبل فاء سببیت کا بنظر نفس ذات

٢١

صفحہ ٣٢

اسی کے سبب نہیں ہے۔ مابعد کا لیکن اس اعتبار سے کہ حق تعالیٰ نے اس ماقبل کی خبر دی ہے۔ وہ سبب ہے مابعد کا سورہ بقرہ میں ہے۔ ”الحق من ربك فلا تكونن من الممترين (بقرہ:١٤٧)“ یہاں مراد استقبال کعبہ کا حق ہونا ہے اور یہ بغیر حق تعالیٰ کے اخبار کے سبب عدم امتراء کا نہیں ہوسکتا۔ سورہ آل عمران میں ہے۔ ”الحق من ربك فلاتكن من الممترين“

سورہ نساء میں ہے: ”انما المسيح عيسى بن مريم رسول الله وكلمته القها الى مريم وروح منه فامنوا بالله ورسله ولا تقولوا ثلثة انتهوا خيرا لكم (نساء:١٧١)“

سورہ شعراء میں ہے: ”انى لكم رسول امين فاتقوا الله واطيعون (شعراء:١٠٧، ١٠٨)“

سورہ فاطر میں ہے: ”ان الشيطان لكم عدو فاتخذوه عدوا (فاطر:٦)“

سورہ حم سجدہ میں ہے: ”قل انما انا بشر مثلكم يوحى الى انما إلهكم آله واحد فاستقيموا اليه واستغفروه (حم سجدہ:٦)“

سورہ تغابن میں ہے: ”زعم الذين كفروا ان لن يبعثوا قل بلى وربى لتبعثن ثم لتنبئن بما عملتم وذلك على الله يسير فآمنوا بالله ورسوله والنور الذى انزلنا (تغابن:٧، ٨)“

سورہ کوثر میں ہے: ”اعطينك الكوثر فصل لربك وانحر“

ساتویں دلیل۔ سورہ حشر کی آیت ہے۔ ”وما اتكم الرسول فخذوه ومانهاكم عنه فانتهوا“

شاہ ولی اللہ صاحبؒ ”وہر چہ بدہد شما را پیغمبر بگیرید وہر چہ منع کند شما را ازان باز ایستید۔

شاہ رفیع الدین صاحبؒ ”اور جو کہ دیوے تم کو رسول پس لے لو اس کو اور جو کچھ منع کرے تم کو اس سے پس باز رہو۔“

شاہ عبدالقادر صاحبؒ ”اور جو دیوے تم کو رسول سو لے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو۔“

موافق اس آیت کے جو احادیث صحیحہ کی طرف رجوع کی گئی تو بکثرت اس بات میں

٢٢

٣٣ احادیث صحیحہ موجود ہیں۔ جن کا تواتر مرزا قادیانی نے ( ص٢٠٠) میں تسلیم کیا ہے۔ ان میں سے ہے حدیث متفق علیہ الله عليه وسلم والذى نفسى بيده ليوشكن ان ين فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجز احد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الد فاقروا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمن کہ فرمایا رسول مقبول ﷺ نے قسم ہے اس کی جس کے قبضہ ہے یہ کہ اترے گا تم میں بیٹا مریم کا حاکم منصف ہو کر پھر تو اور موقوف کرے گا۔ جزیہ اور بہے گا مال یہاں تک کہ نہ قبو ہوگا۔ ایک سجدہ بہتر دنیا وما فیہا سے پھر کہتے تھے۔ ابو ہریرہ من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نس میں سے کوئی مگر البتہ تحقیق وہ ایمان لاوے گا۔ عیسیٰ پر قبل م کی یہ ہے کہ معنی حقیقی ابن مریم کے خود عیسیٰ بن مریم ہیں۔ م لفظ وارد ہوا ہے اور سب جگہ حضرت عیسیٰ ہی مراد ہیں۔ مثی تحمل علی ظواہر ہا وصرف النصوص عن ظواہر ہا۔ بغیر صارف ق نہیں ہے۔ ”ومن يدعى فعليه البيان“ پس ان السلام کا قطعاً ثابت ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اس دلیل جاوے کہ اخیر کی تین دلیلوں سے نزول عیسیٰ بن مریم س حیات تھا۔ پس تقریب تمام نہ ہوئی تو جواب یہ ہے کہ ح مقصود بالفرض ہے۔ پس اگر نزول موقوف حیات پر ثابت ہونے سے لازم خود ثابت ہو گیا۔ پس حیات ثابت المقام “ اور اگر نزول حیات کو مستلزم نہیں ہے تو اگرچہ ح تھا۔ یعنی نزول خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہی ثابت ہو ثابت کی جاتی تھی۔ پس اثبات حیات کی کچھ حاجت نہ

آٹھویں دلیل صحیح بخاری کی یہ حدیث ہے۔

٢٣

صفحہ ٣٣

احادیث صحیحہ موجود ہیں۔ جن کا تواتر مرزا قادیانی نے (ازالۃ الاوہام کے ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص٤٠٠) میں تسلیم کیا ہے۔ ان میں سے ہے حدیث متفق علیہ ابو ہریرۃ کی :”قال قال رسول الله ﷺ والذى نفسى بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لايقبله أحد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا ومافيها ثم يقول ابوهريرة فاقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ کہا ابو ہریرہؓ نے کہ فرمایا رسول مقبول ﷺ نے قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ البتہ بیشک قریب ہے یہ کہ اترے گا تم میں بیٹا مریم کا حاکم منصف ہوکر پھر توڑے گا۔ صلیب کو اور قتل کرے گا سور کو اور موقوف کرے گا۔ جزیہ اور بہے گا مال یہاں تک کہ نہ قبول کرے گا۔ اس کو کوئی یہاں تک کہ ہوگا۔ ایک سجدہ بہتر دنیا ومافیہا سے پھر کہتے تھے۔ ابو ہریرہؓ پس پڑھو تم اگر چاہو تم یہ آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء:١٥٩)“ یعنی اور نہیں ہوگا اہل کتاب میں سے کوئی مگر البتہ تحقیق وہ ایمان لاوے گا۔ عیسیٰ پر قبل مرنے ان کے۔ یہاں تقریب استدلال کی یہ ہے کہ معنی حقیقی ابن مریم کے خود عیسیٰ بن مریم ہیں۔ قرآن مجید و احادیث صحیحہ میں بکثرت یہ لفظ وارد ہوا ہے اور سب جگہ حضرت عیسیٰؑ مراد ہیں۔ مثیل ایک جگہ بھی مراد نہیں ہے۔ والنصوص تحمل علیٰ ظواہرہا وصرف النصوص عن ظواہرہا۔ بغیر صارف قطعی الحاد ہے اور یہاں کوئی صارف قطعی موجود نہیں ہے۔”ومن يدعى فعليه البيان“ پس ان احادیث سے نزول خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قطعا ثابت ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اس دلیل کا اپنی کسی تحریر میں جواب نہیں دیا۔ اگر کہا جاوے کہ اخیر کی تین دلیلوں سے نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ثابت ہوتا ہے اور مقصود ثبوت حیات تھا۔ پس تقریب تمام نہ ہوئی تو جواب یہ ہے کہ مقصود بالذات اثبات نزول ہے اور حیات مقصود بالعرض ہے۔ پس اگر نزول موقوف حیات پر ہے اور مستلزم ہے حیات کو تو ملزوم کے ثابت ہونے سے لازم خود ثابت ہو گیا۔ پس حیات ثابت ہوئی۔ ”وهو المطلوب فى هذا المقام“ اور اگر نزول حیات کو مستلزم نہیں ہے تو اگرچہ حیات ثابت نہ ہوئی۔ لیکن جو مقصود بالذات تھا۔ یعنی نزول خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہی ثابت ہو گیا۔ جس کے لئے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کی جاتی تھی۔ پس اثبات حیات کی کچھ حاجت نہ رہی۔ آٹھویں دلیل صحیح بخاری کی یہ حدیث ہے۔ ”عن ابن عباس قال خطب ٢٣

صفحہ ٣٥

رسول اللہ ﷺ فقال يا ايها الناس انكم محشورون الى الله حفاة عراة غرلا ثم قال كما بدأنا اول خلق نعيده وعدا علينا انا كنا فاعلين الخ! ثم قال الاوان اول الخلائق يكسى يوم القيامة ابراهيم الاوانه يجاء برجال من امتى فيوخذ بهم ذات الشمال فاقول يا رب اصيحابى فيقال انك لاتدرى ما احد ثوا بعدك فاقول كما قال العبد الصالح وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم فيقال ان هؤلاء لم يزالوا مرتدين على اعقابهم منذ فارقتهم“ روايت ہے۔ ابن عباسؓ سے کہا کہ خطبہ پڑھا رسول اللہ ﷺ نے پس فرمایا اے لوگو! بے شک تم جمع کئے جاؤ گے اللہ کی طرف ننگے پاؤں ننگے بدن بغیر ختنہ کئے۔ پھر پڑھی یہ آیت ”كما بدأنا اوّل خلق نعيده وعدا علينا انا كنا فاعلين الى آخر الآيه“ پھر فرمایا کہ آگاہ ہو جاؤ کہ سب مخلوق سے پہلے قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جاویں گے۔ آگاہ ہو جاؤ اور بیشک لائے جاویں گے۔ چند مرد میری امت میں سے پھر لے جاویں گے۔ ان کو بائیں طرف پھر کہوں گا میں۔ اے رب میرے یہ میرے چھوٹے ساتھی ہیں۔ پس کہا جاوے گا بیشک تو نہیں جانتا ہے کہ کیا نئی چیزیں نکالیں۔ انہوں نے بعد تیرے پس کہوں گا میں مانند اُس کی کہ کہا بندہ صالح یعنی ”عيسىٰ نے وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم (مائدة:١١٧)“ پس کہا جاوے گا کہ بیشک یہ لوگ پھر گئے اپنی ایڑیوں پر جب سے کہ چھوڑا تو نے ان کو انتہت وجہ استدلال یہ ہے کہ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اپنے قول کو تشبیہ دی۔ ساتھ قول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اور یہ نہیں فرمایا کہ ”فاقول ماقال العبد الصالح“ یعنی پس کہوں گا میں جو کہا بندہ صالح نے اور مشبہ اور مشبہ بہ میں مغائرت ہوتی ہے۔ نہ عینیت۔ پس معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے توفّی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے توفّی میں مغائرت ہے۔ نہ عینیت اور آنحضرت ﷺ کے توفّی تو قطعاً بذریعہ موت کے ہوئی۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفّی بذریعہ موت کے نہیں ہوئی۔ بلکہ بذریعہ رفع واصعاد کے ہوئی جو مشابہ ومشاكل موت کا ہے اور یہی مدعا تھا۔

نویں دلیل اثر ابن عباس ہے جو حكماً مرفوع ہے۔ فتح البیان میں ہے۔ ”اخرج سعيد بن منصور والنسائى وابن ابي حاتم وابن مردويه عن ابن عباس قال ٢٤

لما اراد الله ان يرفع عيسىٰ الى السماء خر عشر رجلاً من الحواريين فخرج عليهم من عـ فقال ان منكم من يكفر بى اثنى عشر مرة بعـ عليه شبهى فيقتل مكانى فيكون معى فى درجـ فقال له اجلس ثم اعاد عليهم ثم قام الشاب فـ الشاب فقال انا فقال انت ذاك فالقى عليـ روزنه فى البيت الى السماء قال وجاء الطلب ثم صلبوه فكفر به بعضهم اثنى عشر مرة بعد ا فقالت طائفة كان الله فينا ماشاء ثم صعد الى فرقة كان فينا ابن الله ماشاء ثم رفعه الله ا فرقه كان فينا عبدالله رسوله وهولاء المسلـ المسلمة فقتلوها فلم يزل الاسلام طامساً عليه وسلم فانزل الله عليه فآمنت طائفة التي آمنت فى زمن عيسىٰ وكفرت طائفة يـ فايدنا الذين آمنوا فى زمن عيسىٰ باظهار

قال ابن كثير بعد ان ساقه بهذا اللفظ عند سنان ثنا ابو معاوية عن الاعمش عن المنهال عن ابن عباس فذكره وهذا اسناد صحيح الـ فهؤلاء كلهم من رجال الصحيح واخرجه النسـ ابى معاوية بنحوه“ روایت کیا سعید بن منصور و

عباسؓ سے کہا انہوں نے جب ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ اٹھا طرف نکلے ۔ حضرت عیسیٰ اپنے یاروں کی طرف اور گھر مـ نکلے ان پر ایک چشمہ سے جو گھر میں تھا اور سر سے ان کے میں سے وہ ہے کہ کفر کرے گا میرے ساتھ بارہ بار بعد ا کون تم میں ہے کہ ڈالی جاوے اس پر شبیہ میری پھر قتل کیا ٢٥

صفحہ ٣٥

لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء خرج الى اصحابه وفى البيت اثنا عشر رجلاً من الحواريين فخرج عليهم من عين فى البيت وراسه يقطر ماء فقال ان منكم من يكفر بى اثنى عشر مرة بعد ان آمن بى ثم قال ايكم يلقى عليه شبهى فيقتل مكانى فيكون معى فى درجتى فقام شاب من احدثهم سناً فقال له اجلس ثم اعاد عليهم ثم قام الشاب فقال اجلس ثم اعاد عليهم فقام الشاب فقال انا فقال انت ذاك فالقى عليه شبه عيسى ورفع عيسى من روزنةٍ فى البيت الى السماء قال وجاء الطلب من يهود فاخذوا الشبه فقتلوه ثم صلبوه فكفر به بعضهم اثنى عشر مرة بعد ان آمن به وافترقوا ثلاث فرق فقالت طائفة كان الله فينا ماشاء ثم صعد الى السماء فهؤلا اليعقوبية وقالت فرقة كان فينا ابن الله ماشاء ثم رفعه الله اليه وهؤلاء النسطورية وقالت فرقه كان فينا عبدالله رسوله وهولاء المسلمون فتظاهرت الكافرتان على المسلمة فقتلوها فلم يزل الاسلام طامساً حتى بعث الله محمداً صلى الله عليه وسلم فانزل الله عليه فآمنت طائفة من بنى اسرائيل يعنى الطائفة التى آمنت فى زمن عيسى وكفرت طائفة يعنى التى كفرت فى زمن عيسى فايدنا الذين آمنوا فى زمن عيسى باظهار محمد دينهم على دين الكافرين قال ابن كثير بعد ان ساقه بهذا اللفظ عند ابن ابی حاتم قال ثنا احمد بن سنان ثنا ابومعاوية عن الاعمش عن المنهال بن عمرو عن سعيد بن جبير عن ابن عباس فذكره وهذا اسناد صحيح الى ابن عباس وصدق ابن كثير فهؤلاء كلهم من رجال الصحيح واخرجه النسائى من حديث ابى كريب عن ابى معاوية بنحوه “ روايت كيا سعيد بن منصور ونسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباسؓ سے کہا انہوں نے جب ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ اٹھا دے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف نکلے۔ حضرت عیسیٰ اپنے یاروں کی طرف اور گھر میں بارہ مرد تھے۔ حواریوں میں سے پس نکلے ان پر ایک چشمہ سے جو گھر میں تھا اور سر سے ان کے پانی ٹپکتا تھا۔ پس فرمایا کہ تحقیق بعض تم میں سے وہ ہے کہ کفر کرے گا میرے ساتھ بارہ بار بعد اس کے کہ ایمان لایا مجھ پر۔ پھر فرمایا کہ کون تم میں ہے کہ ڈالی جاوے اس پر شبیہ میری پھر قتل کیا جاوے۔ وہ میری جگہ اور میرے ساتھ ٢٥

صفحہ ٣٧

میرے درجہ میں پس کھڑا ہوا ایک جوان نو عمروں میں سے۔ پس فرمایا واسطے اس کے بیٹھ جا پھر اعادہ کیا ان پر اس بات کا پھر کھڑا ہوا وہی جوان پھر فرمایا کہ بیٹھ جا پھر اعادہ کیا۔ ان پر اس بات کا پھر کھڑا ہوا وہی جوان پس کہا اس نے میں پس فرمایا کہ تو وہی ہے۔ پس ڈالی گئی اس پر شبہ عیسیٰ کی اور اٹھائے گئے عیسیٰ روشندان سے جو گھر میں تھا آسمان کیطرف کہا اور آئے تلاش کرنے والے یہود کی طرف سے پس پکڑ لیا انہوں نے شبہ کو پس قتل کیا اس کو پھر سولی پر چڑھایا اس کو پس کفر کیا ساتھ ان کے بعض ان کے نے بارہ بار بعد اس کے کہ ایمان لایا ان پر اور متفرق ہو گئے تین فرقے۔ پس کہا ایک فرقہ نے رہا اللہ ہم میں جب تک کہ چاہا اس نے پھر چڑھ گیا آسمان کی طرف۔ پس یہ یعقوبیہ ہیں اور کہا ایک فرقہ نے تھا ہم میں بیٹا اللہ کا جب تک کہ چاہا اس نے پھر اٹھا لیا اس کو اللہ نے اپنی طرف اور یہ نسطوریہ ہے اور کہا ایک فرقہ نے تھا ہم میں بندہ اللہ کا اور رسول اس کا یہ مسلمان تھے۔ پھر چڑھائی کی کافروں نے مسلمانوں پر۔ پس قتل کیا ان کو پس ہمیشہ رہا اسلام مٹا ہوا۔ یہاں تک کہ بھیجا اللہ نے محمد ﷺ کو پس اوتاری اللہ نے ان پر یہ آیت فآمنت طائفۃ من بنی اسرائیل۔ یعنی پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے یعنی وہ گروہ جو ایمان لایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اور کفر کیا ایک گروہ نے یعنی اس نے کہ کافر ہوا۔ حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں پس تائید کی ہم نے ان لوگوں کے کہ ایمان لائے۔ زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس طرح پر کہ محمد ﷺ نے ان کے دین کو کافروں کے دین پر غالب کیا۔ کہا ابن کثیر نے بعد اس کے کہ چلایا اس حدیث کو اس لفظ سے نزدیک ابن ابی حاتم کے کہا حدیث کی ہم کو احمد بن سنان نے حدیث کی ہم کو ابو معاویہ نے اعمش سے انہوں نے منہال بن عمرو سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس سے پس ذکر کیا اس کو اور یہ سند صحیح ہے ابن عباس تک اور سچ کہا ابن کثیر نے۔ پس یہ کل رجال رجال صحیح میں سے ہیں اور روایت کیا اس کو نسائی نے حدیث ابی کریب سے انہوں نے معاویہ سے مثل اس کے العبد کہتا ہوں میں کہ اس ناچیز نے سب رجال کو دیکھا تو سب رجال اس کے رجال بخاری ومسلم کے ہیں۔ سوائے منہال بن عمرو کے کہ وہ صرف رجال بخاری سے ہے اور اس اثر کی حکماً مرفوع ہونے پر یہ عبارت سخاوی کی دال ہے۔ ”قال شیخنا فیہ ان اباھریرۃ لم یکن یاخذ عن اھل الکتاب وان الصحابی الذی یکون کذلک اذا اخبر بما لامجال للرای والاجتھاد فیہ یکون للحدیث حکم الرفع انتھی وھذا یقتضی تقیید الحکم بالرفع بصدورہ عن من لم یاخذ

٢٦

عن اھل الکتاب انتھی“ اور بھی اس میں ہے۔ ”واصرح للکعب ولو وافق کتابنا وقال انہ لاحاجۃ وکذا وغیرہ من الصحابۃ انتھی“

ساتویں دلیل حدیث مرسل حسن کی ہے۔ تفسیر ابن کثیر حاتم حدثنا ابی حدثنا احمد بن عبدالرحمن حد عن ابیہ حدثنا الربیع بن انس عن الحسن متوفیک یعنی وفاۃ المنام رفعہ اللہ فی منامہ قال ا للیھود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یـ (ج٢ ص ٤٠) ”کہا حسن نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے یہود سے شک وہ رجوع کرنے والے ہیں۔ تمہاری طرف دن قیامت ۔ مرسل ہے تو جواب یہ ہے کہ اس مرسل کی تقویت چند طرح پر ہو

تفسیر ابن کثیر میں ہے :”وقال ابن جریر علیۃ حدثنا ابورجاء عن الحسن وان من اھل موت عیسیٰ واللہ انہ لحی الآن عند اللہ ولک انتھی “پس معلوم ہوا کہ یہ مرسل حسن کے نزدیک قوی ہے۔

سعید انک تقول قال رسول اللہ ﷺ وانک لـ سالتنی عن شئ ماسالنی عنہ احد قبلک ولولا فی زمان کماتری وکان فی عمل الحجاج کل شـ اللہ ﷺ فھو عن علی بن ابی طالب غیرانی علیاً انتھی یھی تھذیب میں ھے۔ قال محمد بـ المقدمی سمعت علی بن المدینی یقول مرسـ الربیع ومرسلات الحسن البصری التی مایسقط منھا انتھی“

٢٧

صفحہ ٣٧

عن اهل الكتاب انتهى“ اور بھی اس میں ہے۔ ”واصرح منه منع ابن عباس له اى للكعب ولو وافق كتابنا وقال انه لا حاجة وكذا نهى عن مثله ابن مسعود وغيره من الصحابة انتهى“

ساتویں دلیل حدیث مرسل حسن کی ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے۔ ”وقال ابن ابی حاتم حدثنا ابی حدثنا احمد بن عبدالرحمن حدثنا عبدالله بن ابی جعفر عن ابيه حدثنا الربيع بن انس عن الحسن انه قال فى قوله تعالى انى متوفيك يعنى وفاة المنام رفعه الله فى منامه قال الحسن قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (تفسير ابن كثير ج ٢ ص ٤٠)“ کہا حسن نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے یہود سے کہ تحقیق عیسیٰ نہیں مرے اور بے شک وہ رجوع کرنے والے ہیں تمہاری طرف دن قیامت سے پہلے اگر کہا جاوے کہ یہ حدیث مرسل ہے تو جواب یہ ہے کہ اس مرسل کی تقویت چند طرح پر ہوگئی ہے۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے: ”وقال ابن جرير حدثنى يعقوب حدثنا ابن علية حدثنا ابورجاء عن الحسن وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موت عيسى والله انه لحى الآن عند الله ولكن اذا نزل آمنوا به اجمعون انتهى“ پس معلوم ہوا کہ یہ مرسل حسن کے نزدیک قوی ہے۔ ورنہ قسم نہ کھاتے۔

سعيد انك تقول قال رسول الله ﷺ وانك لم تدركه قال يا ابن اخى لقد سالتنى عن شئ ماسالنى عنه احد قبلك ولولا منزلتك منى ما اخبرتك انى فى زمان كما ترى وكان فى عمل الحجاج كل شئ سمعتنى اقول قال رسول الله ﷺ فهو عن على بن ابی طالب غير انى فى زمان لا استطيع ان اذكر علياً انتهى یہی تہذیب میں ھے۔ قال محمد بن احمد بن محمد بن ابی بکر المقدمی سمعت على بن المدينى يقول مرسلات يحيى بن ابى كثير شبه الريح ومرسلات الحسن البصرى التى رواها عنه الثقات صحاح اقل ما يسقط منها انتهى“

٢٧

صفحہ ٣٩

خلاصہ میں ہے: ”قال ابوزرعة کل شئ قال الحسن قال رسول اللہ ﷺ وجدت لہ اصلا خلا اربعة احادیث انتہی“

جامع ترمذی کی کتاب العلل میں ہے: ”حدثنا سوار بن عبدالله العنبری قال سمعت یحیی بن سعید القطان یقول ما قال الحسن فی حدیثہ قال رسول الله ﷺ الا وجدنا لہ اصلا الا حدیثا او حدیثین انتہی“

سیوم یہ مرسل معتضد ہے۔ ساتھ تین آثار ابن عباس کے ایک بیان میں کیفیت رفع عیسیٰ علیہ السلام کی دوم در تفسیر آیت کریمہ ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ میں تیسرا در تفسیر آیہ کریمہ ”وانہ لعلم للساعة“ میں ”کما تقدم“ اور ان آثار میں سے دو کے رجال رجال صحیح ہیں اور ایک حکماً مرفوع ہے اور ایک کو بعض مخرجین نے مرفوع کیا ہے اور معتضد ہے۔ ساتھ اثر ابوہریرہ کے جس سند کے ساتھ صحیح بخاری میں مذکور ہے اور معتضد ہے۔ ساتھ حدیث مرفوع ابن عباس کے جو مسنداً صحیح بخاری میں مروی ہے اور معتضد ہے۔ ساتھ آیات کریمہ ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (نساء: ١٥٩)“ اور دیگر آیات شریفہ کے جو اثبات حیات کے لئے بیان کی گئی ہیں اور مرسل اس سے کم میں قابل احتجاج ہوجاتا ہے۔

الفیہ میں ہے: ”لکن اذا صح لنا مخرجہ بمسند او مرسل یخرجہ من لیس یروی عن رجال الاول نقبلہ“

سخاوی فتح المغیث میں لکھتے ہیں: ”وکذا یعتضد بما ذکر مع مذهب الشافعی کما سیأتی من موافقة قول بعض الصحابی اوفتوی عوام اهل العلم انتہی“ پس اس مرسل کے قوی و قابل احتجاج ہونے میں کیا شک باقی رہا۔ تلک عشرۃ کاملۃ یہ پوری دس دلیلیں ہوئیں حیات مسیح علیہ السلام پر۔

مخفی نہ رہے کہ جو عبارات مفسرین کی تحریر چہارم میں نقل کی گئی ہیں۔ ان سے صاف واضح ہے کہ سب اہل اسلام آنحضرت ﷺ کے وقت سے لے کر اس زمانہ تک صحابہ و تابعین و تبع تابعین و فقہاء و اہل حدیث و عامہ مفسرین سب کا اعتقاد یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ مع الجسد موجود ہیں۔ کوئی نہیں کہتا ہے کہ وہ مردہ ہیں۔ اگر چہ اہل اسلام کا اس میں ٢٨

اختلاف ہے کہ اٹھائے جانے سے پہلے ان پر موت طاری مذہب ہے کہ موت طاری نہیں ہوئی اور یہی صحیح ہے اور بعض اللہ تعالیٰ نے پھر زندہ کر کے مع الجسد اٹھا لیا۔ یہ کوئی بھی نہیں مذہب مرزا قادیانی نے احداث کیا ہے یہ قول کسی کا اہل اسلام شروع کی جاتی ہے نقل ان رقعوں و پرچوں کی جو مباحثہ دہلی

نقل جواب اشتہارات مرزا قادیانی از جانب

بسم الله الرحمن الر
حامداً ومصلياً ومس
ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وه

الوہاب۔ اما بعد!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے اتباع پر مخفی ٤؍اکتوبر ١٨٩١ء و مورخہ ١٩؍اکتوبر سنہ مذکور جو بمقابلہ جناب کے شائع ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں آئے معلوم نہیں کہ جناب خاکسار محض بنظر احقاق حق و ابطال باطل صرف حق تعالیٰ مناظرے کے لئے تیار ہے اور شروط مسلمہ مندرجہ اشتہار میں تھوڑی ترمیم چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ تو آپ خود ہی وفات عیسیٰ میں غلطی پر نکلا تو دوسرا دعویٰ خود چھوڑ دوں گا، میں اس بحث وفات عیسیٰ میں صواب پر نکلا تو صرف اسی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور میرا مسیح موعود ہونا ثابت نہ ہو کے ان دونوں امور میں بھی بلا عذر بحث ضرور کی جاوے تو گریز پر حمل کیا جائے گا اور نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام باطل متصور نہ ہوگا۔ آپ کا دعویٰ جو تمام اہل اسلام کے نزول عیسیٰ علیہ السلام اور دعویٰ آپ کے مسیح موعود ہونے المعلن خاکسار محمد بشیر عفی عنہ از بھوپ ٢٩

صفحہ ٣٩

اختلاف ہے کہ اٹھائے جانے سے پہلے ان پر موت طاری ہوئی یا نہیں۔ جمہور اہل اسلام کا یہ مذہب ہے کہ موت طاری نہیں ہوئی اور یہی صحیح ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ موت طاری ہوئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر زندہ کر کے مع الجسد اٹھا لیا۔ یہ کوئی بھی نہیں کہتا ہے کہ اب وہ مردہ ہیں۔ پس جو مذہب مرزا قادیانی نے احداث کیا ہے یہ قول کسی کا اہل اسلام میں سے نہیں ہے۔ اب یہاں سے شروع کی جاتی ہے نقل ان رقعوں و پرچوں کی جو مباحثہ دہلی کے متعلق طرفین سے لکھی گئی۔

نقل جواب اشتہارات مرزا قادیانی از جانب راقم

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

حامداً ومصلیاً ومسلماً

ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذہديتنا وہب لنا من لدنك رحمۃ انك انت الوہاب. اما بعد!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے اتباع پر مخفی نہ رہے کہ آپ کے اشتہارات مورخہ ٤؍ اکتوبر ١٨٩١ء و مورخہ ١٦؍ اکتوبر سنہ مذکور جو بمقابلہ جناب مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب دہلوی کے شائع ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں آئے معلوم نہیں کہ جناب میاں صاحب نے کیا جواب دیا۔ لیکن خاکسار محض بنظر احقاق حق و ابطال باطل صرف حق تعالیٰ کی نصرت پر اعتماد کر کے آپ کے ساتھ مناظرے کے لئے تیار ہے اور شروط مسلمہ مندرجہ اشتہار ١٦؍ اکتوبر کو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن شرط ثالث میں تھوڑی ترمیم چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ تو آپ خود ہی حلفاً اقرار کرتے ہیں کہ اگر میں اس بحث وفات عیسیٰ میں غلطی پر نکلا تو دوسرا دعویٰ خود چھوڑ دوں گا۔ اس قدر اس میں اور زیادہ کر دیجئے کہ اگر میں اس بحث وفات عیسیٰ میں صواب پر نکلا تو صرف اتنی بات سے میرا اصل دعویٰ یعنی عدم نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور میرا مسیح موعود ہونا ثابت نہ ہوگا۔ بعد اختتام بحث وفات عیسیٰ علیہ السلام کے ان دونوں امور میں بھی بلا عذر بحث ضرور کی جاوے گی اور جو کوئی طرفین میں سے عذر کرے گا تو گریز پر حمل کیا جائے گا اور نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف ثبوت وفات عیسیٰ علیہ السلام سے باطل متصور نہ ہوگا۔ آپ کا دعویٰ جو تمام اہل اسلام کے مخالف سمجھا جاتا ہے۔ وہ تو یہی دعویٰ عدم نزول عیسیٰ علیہ السلام اور دعویٰ آپ کے مسیح موعود ہونے کا ہے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!

المعلن خاکسار محمد بشیر عفی عنہ از بھوپال محلہ گوجر پورہ ٩؍ ربیع الاوّل ١٣٠٩ھ

٢٩

صفحہ ٤١

جواب مرزا قادیانی

مجھے یہ منظور ہے کہ اوّل حضرت مسیح ابن مریم کی وفات حیات کے بارے میں بحث ہو۔ اس بحث کے تصفیہ کے بعد پھر ان کے نزول اور اس عاجز کے مسیح موعود ہونے کے بارے میں مباحثہ کیا جائے اور جو شخص طرفین میں سے ترک بحث کرے گا اس کا گریز کرنا سمجھا جائے گا۔

رقعہ مرزا قادیانی موسومہ حاجی محمد احمد صاحب

بسم اللہ الرحمن الرحیم!
نحمده ونصلی

مکرمی اخویم مولوی محمد احمد صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ! حسب استفسار آپ کے عرض کیا جاتا ہے کہ مجھے حضرت مولوی محمد بشیر صاحب سے مسئلہ حیات وفات مسیح ابن مریم علیہ السلام میں بحث کرنا بدل و جان منظور ہے۔ پہلی بہر حال یہی بحث ہوگی۔ بعد اس کی حضرت مولوی صاحب ان کے نزول کے بارے میں بھی بحث کر لیں۔ بحث تحریری ہوگی۔ ہر ایک فریق سوال یا جواب لکھ کر حاضرین کو سنا دے گا۔ والسلام! خاکسار غلام احمد عفی عنہ ١٥؍ اکتوبر ١٨٩١ء

رقعہ اوّل از جانب راقم جو دہلی پہنچ کر لکھا گیا

بسم اللہ الرحمن الرحیم!
حامداً مصلیاً مسلماً

جناب مرزا غلام احمد صاحب دام مجدکم ! بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ خاکسار حسب طلب جناب آ گیا ہے اور جناب کی سب شروط کو پہلے ہی تسلیم کر چکا ہے اور آپ بھی میری ترمیم کو قبول فرما چکے ہیں۔ آپ تاریخ و وقت واسطے مناظرہ کے تجویز فرما کر خاکسار کو مطلع کیجئے۔ تاکہ واسطے مناظرہ کے حاضر ہو۔ والسلام! محمد بشیر عفی عنہ ١٧؍ ربیع الاول ١٣٠٩ھ

جواب رقعہ اوّل

حضرت مولوی محمد بشیر صاحب سلمہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

مجھے آپ کی تشریف آوری سے بہت خوشی ہوئی اور خط آمدہ اخویم مولوی سید محمد احسن صاحب سے آپ کے اخلاق اور متانت اور تہذیب کا حال معلوم ہو کر دل پہلے سے ہی مشتاق ٣٠

ہو رہا تھا کہ اس مسئلہ میں آپ سے اظہار الحق بحث ہو۔ سو الحمد مجھے بوجہ ضروریات فرصت نہیں کل انشاء اللہ القدیر کوئی تاریخ بحث تحریری ہوگی۔ تا ہر ایک فریق کا بیان محفوظ رہے اور دور درا موقعہ مل سکے۔ سب سے اوّل مسئلہ حیات و وفات مسیح میں بـ آپ کو ثبوت دینا ہوگا۔ اس ثبوت کے بعد آپ دوسری بحثیـ ایک اشتہار بھی بھیجا جاتا ہے۔ جس سے آپ کو معلوم ہوگا کـ پابندی سے آپ کو بحث کرنا ہوگا۔

رقعہ دوم

بسم اللہ الرحمن الرحیم
حامداً مصلیاً مسلماً

جناب مرزا غلام احمد صاحب دام مجدکم ! دیروز آپ کا رقعہ مورخہ ٢١؍ اکتوبر ١٨٩١ء وصـ کل انشاء اللہ القدیر کوئی تاریخ مقرر کر کے اطلاع دوں انتظار رہا۔ اب گزارش ہے کہ آج اس وعدہ کا ایفا ضرو تحریری ہوگی۔ خاکسار پہلے سے تسلیم کر چکا ہے اور یہ بھی تـ مسیح میں بحث ہوگی۔ اب آپ کا یہ ارشاد ہے کہ حیات مـ یہ بھی بسر و چشم قبول کرتا ہوں۔ اس کے بعد نزول حضر ہوگی۔ من بعد آپ کے مسیح موعود ہونے میں اور آ ہیں۔ والسلام خیر الختام! ٣١

صفحہ ٤١

ہو رہا تھا کہ اس مسئلہ میں آپ سے اظہار الحق بحث ہو۔ سو الحمدللہ! آپ تشریف لے آئے۔ آج مجھے بوجہ ضروریات فرصت نہیں کل انشاء اللہ القدیر کوئی تاریخ مقرر کر کے اطلاع دوں گا۔ لیکن بحث تحریری ہوگی۔ تا ہر ایک فریق کا بیان محفوظ رہے اور دور دست کے لوگوں کو بھی رائے نکالنے کا موقعہ مل سکے۔ سب سے اوّل مسئلہ حیات ووفات مسیح میں بحث ہوگی۔ حیات مسیح علیہ السلام کا آپ کو ثبوت دینا ہوگا۔ اس ثبوت کے بعد آپ دوسری بحث کر سکتے ہیں۔ آپ کی خدمت میں ایک اشتہار بھی بھیجا جاتا ہے۔ جس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ حیات وفات مسیح میں کن شرائط کی پابندی سے آپ کو بحث کرنا ہوگا۔

والسلام! خاکسار عبداللہ الصمد غلام احمد عفی عنہ ٢١؍اکتوبر ١٨٩١ء

رقعہ دوم

بسم اللہ الرحمن الرحیم! حامداً مصلیاً مسلماً جناب مرزا غلام احمد صاحب دام مجدکم! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

دیروز آپ کا رقعہ مورخہ ٢١؍اکتوبر ١٨٩١ء وصول ہوا۔ آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ کل انشاء اللہ القدیر کوئی تاریخ مقرر کر کے اطلاع دوں گا۔ اب تک آپ کے ایفاء وعدہ کا انتظار رہا۔ اب گزارش ہے کہ آج اس وعدہ کا ایفا ضرور فرمائیے۔ آپ کی یہ بات کہ بحث تحریری ہوگی۔ خاکسار پہلے سے تسلیم کر چکا ہے اور یہ بھی کہ سب سے اوّل مسئلہ حیات ووفات مسیح میں بحث ہوگی۔ اب آپ کا یہ ارشاد ہے کہ حیات مسیح علیہ السلام کا آپ کو ثبوت دینا ہوگا۔ یہ بھی بسر وچشم قبول کرتا ہوں۔ اس کے بعد نزول حضرت مسیح علیہ السلام کا آپ کو ثبوت دینا ہوگا۔ یہ بھی بسر وچشم قبول کرتا ہوں۔ اس کے بعد نزول حضرت مسیح علیہ السلام میں بحث کی جائے گی۔ من بعد آپ کے مسیح موعود ہونے میں اور آپ بھی پہلے سے اس کو تسلیم فرما چکے ہیں۔ والسلام خیر الختام!

خاکسار محمد بشیر عفی عنہ ١٨؍ربیع الاوّل ١٣٠٩ھ

٣١

صفحہ ٤٣

جواب رقعہ دوم

مكرمی اخویم مولوی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

کل دس بجے کے بعد بحث ہو یا اگر ایک ضروری کام سے فرصت ہوئی تو پہلے ہی اطلاع دے دوں گا۔ ورنہ انشاء اللہ القدیر دس بجے کے بعد تو ضرور بحث شروع ہوگی۔ صرف اس بات کا التزام ضروری ہوگا کہ بحث اس عاجز کے مکان پر ہو۔ اس کی ضرورت خاص وجہ سے ہے۔ جو زبانی بیان کر سکتا ہوں۔ جلسہ عام نہیں ہوگا۔ صرف دس آدمی تک جو معزز خاص ہوں۔ آپ ساتھ لا سکتے ہیں۔ مگر شیخ بٹالوی اور مولوی عبدالمجید ساتھ نہ ہوں اور نہ آپ کو ان بزرگوں کی کچھ ضرورت ہے۔

والسلام!

مرزا غلام احمد عفی عنہ

٢٢ / اکتوبر ١٨٩١ء

جواب رقعہ سوم جو گم ہو گیا

جناب مولوی صاحب مکرم بندہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

میں امید کرتا ہوں کہ آپ ان تمام شرطوں کو جو میں اپنے کل کے پرچے میں لکھ چکا ہوں قبول کرنے سے کسی قسم کا انحراف یا میلان انحراف ظاہر نہ کریں گے۔ میں نے جن لوگوں کو آنے سے روکا ہے تحریراً اور مصلحتاً روکا ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ خیر و برکت اسی میں ہے۔ بہت مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعد از فراغ نماز جمعہ بحث شروع ہو اور شام تک یا جس وقت تک ممکن ہو سکے سلسلۂ بحث جاری ہو اور دس آدمیوں سے زیادہ ہرگز ہرگز کسی حال میں آپ کے ساتھ نہ ہوں اور اس لحاظ سے کہ بحث کو بیفائدہ طول نہ ہو۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پرچوں کی تعداد پانچ سے زیادہ نہ ہو اور پہلا پرچہ آپ کا ہو۔

محمد بشیر سہسوانی کا پہلا پرچہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی. اما بعد!

ارباب علم و دین پر مخفی نہ رہے کہ اصل دعویٰ مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونے کا ہے۔ لیکن جناب ممدوح کے محض اصرار بلیغ سے مباحثہ حیات و وفات مسیح میں منظور کیا گیا ہے اور اس مسئلہ میں بھی اصل منصب مرزا قادیانی کا مدعی کا ہے۔ لیکن صرف جناب ممدوح کے اصرار سے ہی

٣٢

یہ بھی قبول کیا گیا کہ پہلے یہ عاجز ادلہ حیات مسیح تحریر کرے خلط نہ کیا جائے۔ ’’فأقول بحول الله وقوته وما تو انیب‘‘ جاننا چاہئے کہ دلیلیں حیات مسیح کی پانچ آیتیں ہیں الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم (نساء:١٥٩) ’’وجہ استدلال کی یہ ہے کہ لیؤمنن میں نون خالص استقبال کے لئے کر دیتا ہے۔ ماضی اور حال کی تاکید

ازہری تصریح میں لکھتا ہے: ’’ولایؤکد بھا لانہما یخلصان مدخولہما للاستقبال وذلك ینا

اور دوسری جگہ لکھتا ہے: و لایجوز تاکید المضارع حالاً کقرأۃ ابن کثیر. لاقسم بیوم ال

یمینا لا بغض
یزخرف قولا ولا

فأقسم فی الآیة والبغض فی البی علیہما وانما یوکدا بالنون لکونہا تخلص الفعل

فوائد ضیائیہ میں ہے: ’’تختص ای نون والاستفهام والتمنی والعرض والقسم وانما اخت الدالة علی الطلب دون الماضی والحال لانہ لای

عبدالحکیم، تکملہ میں لکھتے ہیں: ’’لان النون فکرهوا الجمع بین حرفین لمعنی واحد فی ک

مغنی میں ہے: ’’ولایؤکد بہما الماضی و لم یؤکدبہما وان کان مستقبلا اکدبہما وجوباً

شیخ زادہ، حاشیہ بیضاوی میں لکھتے ہیں: ’’وأن تلحق بآخر فعل مستقبل فیہ معنی والتمنی والعرض نحو اضربن زید تضربن مثقلة ومخففة واختص بما فیہ

٣٣

صفحہ ٤٣

یہ بھی قبول کیا گیا کہ پہلے یہ عاجز ادلہ حیات مسیح تحریر کرے اور اس میں بحث صعود ونزول وغیرہ کا خلط نہ کیا جائے۔ ”فاقول بحول الله وقوته وما توفيقي الا به عليه توكلت واليه انيب“ جاننا چاہئے کہ دلیلیں حیات مسیح کی پانچ آیتیں ہیں۔ دلیل اوّل یہ ہے: ”وان من اھل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا (نساء:١٥٩) ”وجہ استدلال کی یہ ہے کہ لیؤمنن میں نون تاکید کا آیا ہے اور نون تاکید مضارع کو خالص استقبال کے لئے کر دیتا ہے۔ ماضی اور حال کی تاکید کے لئے نون نہیں آتا ہے۔

ازہری تصریح میں لکھتا ہے: ”ولايؤكد بهما الماضى لفظا ومعنى مطلقاً لانهما يخلصان مدخولهما للاستقبال وذلك ينافى المعنى“

اور دوسری جگہ لکھتا ہے: ولايجوز تاكيده بهما اذا كان منفياً او كان المضارع حالاً كقرأة ابن كثير. لاقسم بيوم القيامة. وقول الشاعر ؎

يمينا لا بغض كل امرىء
يزخرف قولاً ولا يفعله

فاقسم فى الآية والبغض فى البيت، معناهما الحال لدخول اللام عليهما وانما لم يوكدا بالنون لكونها تخلص الفعل للاستقبال وذلك ينافى الحال“

فوائد ضیائیہ میں ہے: ”تختص اى نون بالفعل المستقبل فى الامر والنهى والاستفهام والتمنى والعرض والقسم وانما اختصت هذه النون بهذه المذكورات الدالة على الطلب دون الماضى والحال لانه لايوكد الا ما يكون مطلوباً“

عبد الحکیم تکملہ میں لکھتے ہیں: ”لان النون تخلص المضارع للاستقبال فكرهوا الجمع بين حرفين لمعنى واحد فى كلمة واحدة“

مغنی میں ہے: ”ولايؤكد بهما الماضى مطلقاً واما المضارع فان كان حالاً لم يؤكد بهما وان كان مستقبلا اكد بهما وجوباً فى نحو والله لا كيدن اصنامكم“

شیخ زادہ، حاشیہ بیضاوی میں لکھتے ہیں: ”واعلم ان الاصل فى نون التاكيد ان تلحق بآخر فعل مستقبل فيه معنى الطلب كالامر والنهى والاستفهام والتمنى والعرض نحو اضربن زيداً ولا تضربن وهل تضربنه وليتك تضربن مثقلة ومخففة واختص بما فيه معنى الطلب دون ضده للتاكيد

٣٣

صفحہ ٤٥

والتاكيد انما يليق بما يطلب حتى يوجد ويحصل فيعلم هو بوجدان المطلوب ولا يليق بالخبر المحض لانه قد وجد وحصل فلا يناسبه التاكيد واختص بالمستقبل لان الطلب انما يتعلق بما لم يحصل بعد ليحصل وهو المستقبل بخلاف الحال والماضى لحصولهما والمستقبل الذى هو خبر محض لا تلحق نون التاكيد بآخره الا بعد ان يدخل على اوّل الفعل ما يدل على التاكيد كلام القسم وان لم يكن فيه معنى الطلب لان الغالب ان المتكلم يقسم على مطلوبه“

اور ایسا ہی بلا خلاف تمام کتب نحو میں مرقوم ہے۔

قرآن مجید اور سنت مطہرہ میں بھی نون بہت مواضع میں خاص مستقبل کے لئے آیا ہے اور ماضی اور حال کے لئے ایک جگہ بھی پایا نہیں جاتا۔ اس مقام پر چند آیات نقل کی جاتی ہیں۔

سورہ بقرہ میں ہے۔ ”فاما يأتينكم منى هدى فمن تبع هداى فلا خوف عليهم ولاهم يحزنون (بقرہ:٣٨)“

اور ”فلنولينك قبلة ترضاها (بقره:١٤٤)“

اور ”ولنبلونكم بشئ من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات (بقره:١٥٥)“

سورہ آل عمران میں ہے: ”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما آتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاء كم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران:٨١)“

اور ”لتبلون فى اموالكم وانفسكم ولتسمعن من الذين اوتو الكتاب من قبلكم ومن الذين اشركوا اذى كثيراً (آل عمران:١٨٦)“

اور ”واذ اخذ الله ميثاق الذين اوتو الكتاب لتبيننه للناس ولا تكتمونه (آل عمران:١٨٧)“

اور ”فالذين هاجروا واخرجوا من ديارهم واوذوا فى سبيلى وقاتلوا وقتلوا لاكفرن عنهم سيآتهم ولادخلنهم جنت تجرى من تحتها الانهار (آل عمران:١٩٥)“

سورہ نساء میں ہے: ”ولاضلنهم ولأمـ الانعام ولآمرنهم فليغيرن خلق الله (نساء:١١٩)

سورہ مائدہ کے رکوع گیارہ میں ہے: ”لتجـ آمنوا اليهود والذين اشركوا ولتجدن اقربـ انا نصارى (مائده:٨٢)“

سورہ مائدہ کے تیرویں رکوع میں ہے: ”ليـ بشئ من الصيد تناله ايديكم ورماحكم (مائـ

سورہ انعام کے دوسرے رکوع میں ہے: ”لـ فيه (انعام:١٢)“

سورہ اعراف کے پہلے رکوع میں ہے: ”فلـ ولنسئلن المرسلين . فلنقصن عليهم بعلم

سورہ اعراف کے رکوع ١٤ میں ہے: ”لأقـ ثم لاصلبنكم اجمعين (اعراف:١٢٤)“

سورہ اعراف کے رکوع ٢١ میں ہے: ”وا القيامة من يسومهم سوء العذاب (اعراف:١

سورہ ابراہیم کے دوسرے رکوع میں ہے (ابراهيم:١٢)“

سورہ ابراہیم کے تیسرے رکوع میں ہے: ” لنخرجنكم من ارضنا اولتعودن فـ الظالمين . ولنسكننكم الارض من بعدهـ

سورہ نحل کے رکوع ١٣ میں ہے: ”وليبـ تختلفون (النحل:٩٢)“

اور اسی میں ہے: ”ولتسئلن عما كـ

اسی میں ہے: ”من عمل صالحاً مـ حيوة الطيبة ولنجزينهم (النحل:٩٧)“

صفحہ ٣٥

سورۃ نساء میں ہے: ”ولاضلنهم ولامنينهم ولامرنهم فليبتكن آذان الانعام ولآمرنهم فليغيرن خلق الله (نساء: ١١٩)“

سورہ مائدہ کے رکوع گیارہ میں ہے: ”لتجدن اشد الناس عداوة للذين آمنوا اليهود والذين اشركوا ولتجدن اقربهم مودة للذين آمنوا الذين قالوا انا نصارىٰ (مائده: ٨٢)“

سورہ مائدہ کے تیرہویں رکوع میں ہے: ”یا ایها الذین آمنوا ليبلونكم الله بشئ من الصيد تناله ايديكم ورماحكم (مائده: ٩٤)“

سورہ انعام کے دوسرے رکوع میں ہے: ”ليجمعنكم الى يوم القيامة لاريب فيه (انعام: ١٢)“

سورہ اعراف کے پہلے رکوع میں ہے: ”فلنسئلن الذين ارسل اليهم ولنسئلن المرسلين. فلنقصن عليهم بعلم وما كنا غائبين (اعراف: ٦،٧)“

سورہ اعراف کے رکوع ١٤ میں ہے: ”لاقطعن ايديكم وارجلكم من خلاف ثم لاصلبنكم اجمعين (اعراف: ١٢٤)“

سورہ اعراف کے رکوع ٢١ میں ہے: ”واذ تاذن ربك ليبعثن عليهم الى يوم القيامة من يسومهم سوء العذاب (اعراف: ١٦٧)“

سورۃ ابراہیم کے دوسرے رکوع میں ہے: ”ولنصبرن على ما اذيتمونا (ابراهيم: ١٢)“

سورہ ابراہیم کے تیسرے رکوع میں ہے: ”وقال الذين كفروا لرسلهم لنخرجنكم من ارضنا او لتعودن فى ملتنا فاوحى اليهم ربهم لنهلكن الظالمين. ولنسكننكم الارض من بعدهم (ابراهيم: ١٣، ١٤)“

سورہ نحل کے رکوع ١٣ میں ہے: ”وليبينن لكم يوم القيامة ماكنتم فيه تختلفون (النحل: ٩٢)“

اور اسی میں ہے: ”ولتسئلن عما كنتم تعملون (النحل: ٩٣)“

اسی میں ہے: ”من عمل صالحاً من ذكر او انثى وهو مؤمن فلنحيينه حيوة الطيبة ولنجزينهم (النحل: ٩٧)“

٣٥

صفحہ ٤٧

بنی اسرائیل کے پہلے رکوع میں ہے: ”وقضينا الى بنى اسرائيل في الكتاب لتفسدن في الارض مرتين ولتعلن علوا كبيراً (الاسراء:٤)“

سورۃ حج کے چھٹے رکوع میں ہے: ”ولينصرن الله من ينصره ان الله لقوى عزيز (الحج:٤٠)“

سورہ نور کے ساتویں رکوع میں ہے: ”وعدالله الذين آمنوا منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنهم في الارض كما استخلف الذين من قبلهم وليمكنن لهم دينهم الذى ارتضى لهم وليبد لنهم من بعد خوفهم أمنا (النور:٥٥)“

سورہ نمل کے دوسرے رکوع میں ہے: ”لاعذبنه عذابا شديداً اولاذبحنه اولياتينى بسلطان مبين (النمل:٢١)“

سورۃ عنکبوت کے ساتویں رکوع میں ہے: ”والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا (عنکبوت:٦٩)“

سورہ محمد کے ٤ رکوع میں ہے: ”ولتعرفنهم فى لحن القول (محمد:٣٠)“

سورہ تغابن کے پہلے رکوع میں ہے: ”قل بلى وربى لتبعثن ثم لتنبؤن بما عملتم (تغابن:٧)“

سورہ انشقاق میں ہے: ”لتركبن طبقاً عن طبق (شقاق:١٩)“

اگر مرزا قادیانی ایک آیت یا ایک حدیث یا کوئی کلام عرب عرباء کا ایسا پیش کریں کہ اس میں نون تاکید حال یا ماضی کے لئے یقینی طور پر آیا ہو تو کوئی عبارت کتاب نحو کی جس میں تصریح اس امر مذکور کی ہو، تو میں اپنے اس مقدمہ کو غیر صحیح تسلیم کرلوں گا۔

بعد اس کے تمہید کے میں کہتا ہوں کہ لفظی ترجمہ اس آیت کا یہ ہوا۔

اور نہیں ہوگا اہل کتاب میں سے کوئی۔ مگر البتہ ایمان لاوے گا ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پہلے مرنے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے۔

اور حاصل ترجمہ یہ ہے کہ آئندہ زمانے میں ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ سب اہل کتاب اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ایمان لاویں گے۔ یہی ایک معنی اس آیت کے موافق محاورہ عرب وقواعد نحو اور محاورہ کتاب وسنت کے صحیح ہیں اور اس کے ماعدا جتنے معنی ہیں سب غلط اور باطل ہیں۔ کیونکہ کسی معنی کی بناء پر لیؤمنن کا لفظ خالص استقبال کے لئے نہیں باقی رہتا۔ وہ چار معنی ہیں۔

اوّل وہ جو عامہ تفاسیر میں منقول ہے کہ موت کی ضمیر اہل ہیں کہ نہیں کوئی اہل کتاب میں سے۔ مگر البتہ ایمان لاتا ہے مرنے سے پہلے یعنی نزع روح کے وقت اس تقدیر پر لیؤمنن کا لفظ خا ہے۔ اس لئے یہ معنی باطل ہیں۔

دوسرے معنی وہ ہیں جو مرزا قادیانی نے کشفی طور پر ص٢٩١) میں لکھے ہیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ: ہر اہل کتاب ہمارے اس بیان مذکور بالا پر جو ہم نے ظاہر کیا ہے۔ ایمان رکھتا ہے۔ قبل اس کے کہ وہ ایمان لاوے ک یہ معنی بھی، بسبب اس کے کہ اس تقدیر پر لیؤمنن خالص باطل ہیں اور اس معنی کشفی کے بطلان کے اور بھی وجوہ ہیں، ج ہے۔ اس لئے ہم ان کو یہاں بیان نہیں کرتے۔ انشاء اللہ تعالیٰ میں بہ بسط بسیط کیا جائے گا۔

تیسرے وہ معنی ہیں جو مرزا قادیانی نے (ازالۃ الاوہام ص لکھے ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ: مسیح تو ابھی مرا بھی نہیں تھا کہ جب سے یہ خیالات دلوں میں چلے آتے ہیں۔ فقط: یہ معنی بھی اسی وجہ سے باطل ہیں کہ لیؤمنن اس تقد رہتا۔ بلکہ ماضی کے لئے ہو جاتا ہے۔

چوتھے وہ ہیں جو مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی ص (القول الجمیل ص٢٨) میں لکھے ہیں۔ وہ یہ ہیں: اور ان اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص کے م مر جانے سے پیشتر ہی تسلیم کرے۔

اس عبارت کا مطلب اگر یہ ہے کہ ان اہل کتاب م اس بات کو اپنے مرنے سے پہلے ہی تسلیم کرے۔ یعنی یہ جو القول الجمیل اس پر قرینہ ہے تو اس معنی کے غلط ہونے کی و

صفحہ ٤٧

اول وہ جو عامہ تفاسیر میں منقول ہے کہ موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف عائد ہے اور معنی یہ ہیں کہ نہیں کوئی اہل کتاب میں سے۔ مگر البتہ ایمان لاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے مرنے سے پہلے یعنی نزع روح کے وقت اس تقدیر پر لیؤمنن کا خالص استقبال کے لئے نہ ہونا ظاہر ہے۔ اس لئے یہ معنی باطل ہیں۔

دوسرے معنی وہ ہیں جو مرزا قادیانی نے کشفی طور پر (ازالہ اوہام ص ٣٧٢، خزائن ج ٣ ص ٢٩١) میں لکھے ہیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ:

ہر اہل کتاب ہمارے اس بیان مذکور بالا پر جو ہم نے اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کیا ہے۔ ایمان رکھتا ہے۔ قبل اس کے کہ وہ ایمان لاوے کہ مسیح اپنی موت سے مر گیا۔ فقط:

یہ معنی بھی ، بسبب اس کے کہ اس تقدیر پر لیؤمنن خالص استقبال کے لئے نہیں رہتا ہے۔ باطل ہیں اور اس معنی کشفی کے بطلان کے اور بھی وجوہ ہیں۔ مگر ان کو اس بحث سے علاقہ نہیں ہے۔ اس لئے ہم ان کو یہاں بیان نہیں کرتے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ان وجوہ کا ذکر ازالہ اوہام کے رد میں بہ بسط بسیط کیا جائے گا۔

تیسرے وہ معنی ہیں جو مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ٣٨٥، خزائن ج ٣ ص ٢٩٨) میں لکھے ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ:

مسیح تو ابھی مرا بھی نہیں تھا کہ جب سے یہ خیالات شک وشبہ کے یہود ونصاریٰ کے دلوں میں چلے آتے ہیں۔ فقط:

یہ معنی بھی اسی وجہ سے باطل ہیں کہ لیؤمنن اس تقدیر پر خالص استقبال کے لئے نہیں رہتا۔ بلکہ ماضی کے لئے ہوجاتا ہے۔

چوتھے وہ ہیں جو مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی سیالکوٹی۔ مرید مخلص مرزا قادیانی نے (القول الجمیل ص ٢٨) میں لکھے ہیں۔ وہ یہ ہیں:

اور ان اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص کے لئے ضروری ہے کہ اس بات کو اپنے مرجانے سے پیشتر ہی تسلیم کرے۔

اس عبارت کا مطلب اگر یہ ہے کہ ان اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص کو چاہئے کہ اس بات کو اپنے مرنے سے پہلے ہی تسلیم کرے۔ یعنی یہ جملہ انشائیہ ہے۔ جیسا کہ بعض عبارات القول الجمیل اس پر قرینہ ہے تو اس معنی کے غلط ہونے کی یہ وجہ ہے کہ صاحب القول الجمیل اس

٣٧

صفحہ ٤٩

مقام پر غلط فاحش کا مصدر ہوا۔ کیونکہ لیؤمن میں لام مکسورہ لام الامر سمجھا ہے۔ حالانکہ قرآن خواں اطفال بھی جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں لام مفتوحہ، لام تاکید ہے اور اگر یہ معنی ہیں کہ ان اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص اس بات کو اپنے مرنے سے پہلے تسلیم کر لیتا ہے۔ یعنی یہ جملہ خبر یہ ہے تو اس وقت لیؤمن خالص استقبال کے لئے نہیں رہتا ہے۔ اس لئے یہ معنی غلط ہوئے اور وہ معنی اس آیت کے جو خاکسار نے اوپر بیان کئے۔ سلف میں سے ایک جماعت کثیر اسی طرف گئی ہے۔ ان میں سے ہیں۔ ابو ہریرہؓ اور ابن عباسؓ اور ابو مالکؓ اور حسن بصریؒ و قتادہ وعبدالرحمن بن زید بن اسلم۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے: ”حدثنا ابن بشار حدثنا عبدالرحمن عن سفيان عن ابی حصين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ۔ قال قبل موت عيسى بن مريم قال العوفى عن ابن عباس مثل ذلك قال ابومالك فى قوله الا ليؤمنن به قبل موته قال ذلك عند نزول عيسى وقبل موت عيسى بن مريم عليه السلام لا يبقى احد من اهل الكتاب الا امن به وقال الضحاك عن ابن عباس وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته يعنى اليهود خاصة وقال الحسن البصرى يعنى النجاشي واصحابه رواهما ابن ابي حاتم وقال ابن جبير حدثنى يعقوب حدثنا ابورجاء عن الحسن وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى والله انه لحى عند الله ولكن اذا نزل آمنوا به اجمعون وقال ابن ابی حاتم حدثنا ابی حدثنا علی بن عثمان اللاحقی حدثنا جويرية بن بشير قال سمعت رجلاً قال للحسن يا ابا سعيد قول الله عزوجل وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى ان الله رفع اليه عيسى وهو باعثه قبل يوم القيامة مقاماً يؤمن به البر والفاجر وكذا قال قتاده عبدالرحمن بن زيد بن اسلم وغير واحد وهذا القول هو الحق كما سنبينه بعد بالدليل القاطع انشاء الله وبه الثقة وعليه التكلان (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ١٤١)“

اور ابو ہریرہؓ کا اس طرف جانا حدیث صحیحین سے ظاہر ہے۔ مخفی نہ رہے کہ مرزا قادیانی

نے اس معنی پر جس کو ہم نے صحیح اور حق لکھا ہے۔ (ازا میں چار اعتراض کئے ہیں۔ ان سب کا مسکت جواب بغ

اعتراض اوّل: آیت موصوفہ بالا صاف طو معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل ک کے بعد برابر ہوتے رہیں گے اور آیت میں ایک بھی ای سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔ فقط: جواب اس کا بدو وجہ ہے۔

کرتا ہے۔

ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ آپ کے نزدیک لفظ اہل کتاب بھی شامل ہے جو مسیح کے وقت میں ان کو صلیب پر چ بیان مذکورہ بالا پر ایمان رکھنا قبل اس کے کہ وہ اس پر ا غیر متصور ہے اور ایسا ہی آپ کے دوسرے معنی بھی باط علی من له ادنی تامل“

اعتراض دوم

احادیث صحیحہ بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ غیر اہل کتاب کفر کی حالت میں مریں گے۔ جواب اس کا بدوجہ ہے:

پر ایمان لے آویں گے۔ بلکہ آیت میں تو صرف ا ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے سب اہل کتاب ان پ جنکا علم الٰہی میں مسیح کے دم سے کفر کی حالت میں مرنا ہے وہ کہاں ایمان لے آویں ۔

موافق ایمان سے مراد ایمان شرعی نہیں ہے بلکہ یقی

صفحہ ٤٩

نے اس معنی پر جس کو ہم نے صحیح اور حق لکھا ہے۔

(ازالۃ الاوہام ص ٣٦٨، ٣٦٩، خزائن ج ٣ ص ٢٨٩)

میں چار اعتراض کئے ہیں۔ ان سب کا مسکت جواب بفضلہ تعالیٰ ہمارے پاس موجود ہے۔

اعتراض اوّل: آیت موصوفہ بالا صاف طور پر فائدہ تعمیم کا دے رہی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں۔ جو مسیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے اور آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانے سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔ فقط:

جواب اس کا بدووجہ ہے۔

کرتا ہے۔

ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ آپ کے نزدیک لفظ اہل کتاب کا آیت موصوفہ میں ان سب اہل کتاب کو بھی شامل ہے جو مسیح کے وقت میں ان کو صلیب پر چڑھانے سے پہلے موجود تھے۔ حالانکہ ان کا بیان مذکورہ بالا پر ایمان رکھنا قبل اس کے کہ وہ اس پر ایمان لاویں کہ مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔ غیر متصور ہے اور ایسا ہی آپ کے دوسرے معنی بھی باطل ہوئے جاتے ہیں۔ ”وهذا غير خفى على من له ادنى تامل“

اعتراض دوم

احادیث صحیحہ بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ مسیح کے دم سے اس کے منکر خواہ اہل کتاب یا غیر اہل کتاب کفر کی حالت میں مریں گے۔

جواب اس کا بدووجہ ہے:

پر ایمان لے آویں گے۔ بلکہ آیت میں تو صرف اسی قدر ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آویں گے۔ پس ہو سکتا ہے کہ جن کفار کا علم الٰہی میں مسیح کے دم سے کفر کی حالت میں مرنا مقدر ہو۔ ان کے مرنے کے بعد سب اہل کتاب ایمان لے آویں۔

موافق ایمان سے مراد ایمان شرعی نہیں ہے بلکہ یقین مراد ہے۔

٤٩

صفحہ ٥١

اعتراض سوم

مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دجال بھی اہل کتاب میں سے ہوگا اور یہ بھی مانتے ہیں کہ وہ مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔

اس کا جواب بھی انہی دو وجہوں سے ہے۔ جو اعتراض دوم کے جواب میں لکھی گئیں۔ اعادہ کی حاجت نہیں۔

اعتراض چہارم

مسلم میں موجود ہے کہ مسیح کے بعد شریر رہ جائیں گے۔ جن پر قیامت آئے گی۔ اگر کوئی کافر نہیں رہے گا تو وہ کہاں سے آجائیں گے۔

جواب ...... یہ اعتراض مرزا قادیانی کی شان سے نہایت مستبعد ہے۔ کیا مرزا قادیانی یہ نہیں خیال فرماتے کہ یقیناً دنیا میں ابتداء ایک ایسا زمانہ بھی گزر چکا ہے کہ کوئی کافر نہ تھا۔ پھر یہ کفار جو اب تک موجود ہیں۔ کہاں سے آگئے۔ جیسے یہ کفار ہو گئے ایسا ہی بعد عیسیٰ علیہ السلام کے بھی ہو جائیں گے۔

دوسری دلیل: یہ آیت سورۃ آل عمران کی ہے۔ ” ویکلم الناس فی المہد وکہلا ومن الصالحین (آل عمران:٤٦) “

اس آیت سے علماء نے استدلال حیات مسیح پر کیا ہے۔ تفسیر ابو السعود میں ہے۔ ” وبہ استدل علی انہ علیہ السلام سینزل من السماء لما انہ علیہ السلام رفع قبل التکہل قال ابن عباس ارسلہ اللہ تعالیٰ وھو ابن ثلاثین سنۃ ومکث فی رسالتہ ثلاثین شھراً ثم رفع اللہ تعالیٰ الیہ “

تفسیر کبیر میں ہے: ” قال الحسین بن الفضل وفی ھذہ الآیۃ نص فی انہ علیہ الصلوۃ والسلام سینزل فی الارض “

بیضاوی میں ہے: ” وبہ استدل علی انہ سینزل فانہ رفع قبل ان یکتھل “

جلالین میں ہے: ” یفید نزولہ قبل الساعۃ لانہ رفع قبل الکھولۃ “

معالم میں ہے: ” وقیل للحسین بن الفضل ھل تجد نزول عیسیٰ فی القرآن قال نعم قولہ وکھلاً وھو یکتھل فی الدنیا وانما معناہ وکھلاً بعد نزول من السماء “

٤٠

یہ آیت اگرچہ فی نفسہا قطعیۃ الدلالۃ حیات مسیح پر من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ (نساء:١٥٩) “ کے قطع ایک حسن اس آیت میں یہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ ” کلام فی المـ ہی ” کلام فی الکھولۃ “ معجزہ ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ اس زمان و زندہ رہنا اور اس میں کچھ تغیر نہ آنا خارق عادت ہے۔ ورنہ کلا کرتے ہیں۔ حضرت مسیح کا اس میں کیا کمال ہے۔ جس کو اللہ فرمایا ہے۔

دلیل سوم

سورۃ نساء میں ہے ۔ ” وما قتلوہ یقیناً بل رف حکیما (نساء:١٥٨،١٥٩) “

یہ آیت بھی ” فی نفسہا “ اگر چہ قطعی الدلالۃ حیا ” رفع الروح مع الجسد “ ہے۔ کیونکہ ” وما قتلوہ “ ا منصوب کا مرجع تو قطعاً روح مع الجسد ہے۔ پس یہ امر دال منصوب کا بھی روح مع الجسد ہے۔ علی الخصوص جب آیت ”و لیؤمنن بہ “ اس کے ساتھ ضم کی جاوے تو یہ بھی قطعی الدلال

دلیل چہارم

سورۃ زخرف میں ” وانہ لعلم للساعۃ فلا تم مستقیم (زخرف:٦١) “

یہ آیت بھی ” فی نفسہا “ اگرچہ قطعی الدل ہے۔ کیونکہ ارجاع ضمیر ” انہ “ کا طرف قرآن مجید کے ضرور مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوئے۔ اب یہاں تین ا یا ارادہ معجزات یا نزول۔ اوّل باطل ہے۔ اس لئے کہ ہمار قریبہ قیامت کے ہے۔ جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہے۔

” بعثت انا والساعۃ کھاتین (بخاری

پس حضرت عیسیٰ کی تخصیص کی کوئی وجہ نہیں اورا

٤١

صفحہ ٥١

یہ آیت اگرچہ فی نفسہا قطعیۃ الدلالۃ حیات مسیح پر نہیں ہے۔ مگر بانضمام آیت ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ (نساء:١٥٩)“ کے قطعی الدلالۃ ہو جاتی ہے اور اس بناء پر ایک حسن اس آیت میں یہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ ”کلام فی المہد“ ایک آیت اور معجزہ ہے۔ ایسا ہی ”کلام فی الکھولۃ“ معجزہ ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ اس زمان دراز تک جسم کا بغیر طعام و شراب کے زندہ رہنا اور اس میں کچھ تغیر نہ آنا خارق عادت ہے۔ ورنہ ”کلام فی الکھولۃ“ تو سب ہی کیا کرتے ہیں۔ حضرت مسیح کا اس میں کیا کمال ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے فہرست نعم جلیلہ میں ذکر فرمایا ہے۔

دلیل سوم

سورۃ نساء میں ہے۔ ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیما (نساء:١٥٧،١٥٨)“

یہ آیت بھی ”فی نفسہا“ اگرچہ قطعی الدلالۃ حیات مسیح پر نہیں ہے۔ مگر ظاہرا اس سے ”رفع الروح مع الجسد“ ہے۔ کیونکہ ”وما قتلوہ“ اوّل دعویٰ اور ”ما صلبوہ“ کے ضمیر منصوب کا مرجع تو قطعاً روح مع الجسد ہے۔ پس یہ امر دال ہے۔ اس پر کہ مرجع رفع کے ضمیر منصوب کا بھی روح مع الجسد ہے۔ علی الخصوص جب آیت ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ“ اس کے ساتھ ضم کی جاوے تو یہ بھی قطعی الدلالت ہو جاتی ہے۔

دلیل چہارم

سورۃ زخرف میں ”وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم (زخرف:٦١)“

یہ آیت بھی ”فی نفسہا“ اگرچہ قطعی الدلالۃ حیات مسیح پر نہیں ہے۔ مگر ظاہر یہی ہے۔ کیونکہ ارجاع ضمیر ”انہ“ کا طرف قرآن مجید کے بالکل خلاف سیاق و سباق ہے۔ پس ضرور مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوئے۔ اب یہاں تین احتمال ہیں۔ یا حدوث مقدر مانا جاوے یا ارادہ معجزات یا نزول۔ اوّل باطل ہے۔ اس لئے کہ ہمارے آنحضرت ﷺ کا حدوث علامت قریبہ قیامت کے ہے۔ جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہے۔

”بعثت انا والساعۃ کھاتین (بخاری ج٢ ص ١٠٦٣، مسلم ج٢ ص٤٠٦)“

پس حضرت عیسیٰ کی تخصیص کی کوئی وجہ نہیں اور ایسا ہی احتمال دوم بھی باطل ہے۔ کیونکہ

٤١

صفحہ ٥٣

معجزات سب دلالت علی قدرۃ اللہ تعالیٰ میں برابر ہیں۔ تخصیص معجزات عیسویہ کی کیا ہے۔ پس متعین ہوا کہ مراد نزول ہے۔ خاص کر جب کہ آیت ”وان من اھل الکتاب“ جو قطعی الدلالۃ ہے اور احادیث صحیحہ بخاری ومسلم اس کی تفسیر میں واقع ہو گئی ہیں تو اس حیثیت میں یہ آیت بھی قطعی الدلالۃ حیات مسیح پر ہو گئی۔

دلیل پنجم

آیت ”وما آتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا (حشر:٧)“ ہے۔ جو موافق اس آیت کے جو احادیث صحیحہ کی طرف رجوع کی گئی تو بکثرت اس باب میں احادیث صحیحہ موجود ہیں۔ جن کا تواتر تو مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) میں تسلیم فرمایا ہے۔ ان میں سے حدیث متفق علیہ ابو ھریرۃؓ کی ہے: ”قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیراً من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابوھریرۃؓ فاقرأو ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسلم ج ١ ص ٨٧)“

معنی حقیقی ابن مریم کے عیسیٰ بن مریم ہیں اور صارف یہاں کوئی موجود نہیں۔ بلکہ آیت ”وان من اھل الکتاب“ اس معنی کی تعیین کر رہی ہے۔ پس نزول عیسیٰ متعین ہو گیا۔ اس سے ظاہر یہی ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے: ”وقال ابن ابی حاتم حدثنا ابی حدثنا احمد بن عبدالرحمن حدثنا عبدالله بن جعفر عن ابیه حدثنا الربیع بن انس عن الحسن انه قال فی قوله تعالیٰ انی متوفیک یعنی وفاۃ المنام رفعه الله فی منامه قال الحسن قال رسول الله ﷺ لليهود ان عیسیٰ لم یمت وانه ارجع الیکم قبل یوم القیامۃ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠)“

یہ حدیث اگرچہ مرسل ہے۔ لیکن ”وان من اھل الکتاب“ اس کی صحت کی عاضد ہے۔ یہ اخیر چار آیات اگرچہ ہر واحد، ان میں سے بنفسہا دلیل قطعی حیات مسیح علیہ السلام پر نہیں۔ مگر تاہم بہ نسبت ان تیس آیات کے جو مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں واسطے اثبات وفات

٤٢

حضرت مسیح کے لکھی ہیں۔ یہ آیات قوی الدلالۃ حیات مس نے تیس آیات واسطے اثبات وفات مسیح علیہ السلام کے لکھی آیات تین قسم کی ہیں۔

مرزا قادیانی نے ان سے محض اجتہاداً استنباط وفات کیا ہے

قسم اوّل کا جواب یہ ہے کہ بعد فرض و تسلیم اس روح کے ہیں اور دوسرے معنی مجازی ہیں۔ ہم کہتے ہیں لیؤمنن بہ قبل موتہ“ سے جو قطعی الثبوت قطعی ا ہو گئی تو اب یہ آیت صاف ہو گئی۔ آیات مذکورہ کے معنی مجازی پر محمول کی جاویں گی اور وہ معنی مجازی جو یہاں مر اردو میں پورا لینا کہتے ہیں اور توفی کا استعمال بمعنی اخذ ا قاموس میں ہے: ”وتوفی علیہ اش واوفاہ فاستوفاہ وتوفاہ“ اور صحاح میں ہے: ”اوفاہ حقہ وو واستوفی حقہ وتوفاہ“ مصباح المنیر میں ہے: ”وتوفیتہ وا مجمع البحار میں ہے: ”واستوفیت حق صراح میں ہے: ”ایفاء گزاردن و ووفاہ استیفاء توفی تمام گرفتن حق“ قسطلانی میں ہے: ”التوفی اخذ الش اور دوسرے معنی مجازی ”انامت“ ی بمعنی انامت قرآن مجید سے ثابت ہے۔ فرمایا الل الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی م ویرسل الاخریٰ (الزمر:٤٢)“

صفحہ ٥٣

حضرت مسیح کے لکھی ہیں۔ یہ آیات قوی الدلالۃ حیات مسیح پر ہیں۔ باقی رہا یہ امر کہ مرزا قادیانی نے تیس آیات واسطے اثبات وفات مسیح علیہ السلام کے لکھی ہیں۔ سو ان کا جواب اجمالی یہ ہے کہ یہ آیات تین قسم کی ہیں۔

مرزا قادیانی نے ان سے محض اجتہاداً استنباط وفات کیا ہے۔

قسم اوّل کا جواب یہ ہے کہ بعد فرض و تسلیم اس کے کہ لفظ توفی کے معنی حقیقی موت و قبض روح کے ہیں اور دوسرے معنی مجازی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ آیت ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ سے جو قطعی الثبوت و قطعی الدلالۃ ہے۔ حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت ہوگئی تو اب یہ آیت صاف ہو گئی۔ آیات مذکورہ کے معنی حقیقی سے اس لئے آیات ”توفی“ معنی مجازی پر محمول کی جاویں گی اور وہ معنی مجازی جو یہاں مراد ہو سکتے ہیں وہ اخذ تام و قبض ہے۔ جس کو اردو میں پورا لینا کہتے ہیں اور توفّی کا استعمال بمعنی اخذ تام و قبض لغت سے ثابت ہے۔

قاموس میں ہے: ”واوفی علیہ اشرف وفلانا حقہ اعطاہ وافیاً توفاہ واوفاہ فاستوفاہ وتوفاہ“

اور صحاح میں ہے: ”اوفاہ حقہ ووفاہ بمعنی ای اعطاہ حقہ وافیاً واستوفی حقہ وتوفاہ“

مصباح المنیر میں ہے: ”وتوفیتہ واستوفیتہ بمعنی“

مجمع البحار میں ہے: ”واستوفیت حقی ای اخذتہ تاماً“

صراح میں ہے: ”ایفاء گزاردن حق کسے بتمام وقال منہ اوفاہ حقہ ووفاہ استیفاء توفی تمام گرفتن حق“

قسطلانی میں ہے: ”التوفی اخذ الشئ وافیاً والموت نوع منہ“

اور دوسرے معنی مجازی ”انامت“ ہیں۔ جن کو اردو میں سلانا کہتے ہیں اور ”توفی“ بمعنی انامت قرآن مجید سے ثابت ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورہ زمر میں: ”اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضی علیھا الموت ویرسل الاخری (الزمر:٤٢)“

٤٣

صفحہ ٥٥

اور فرمایا سورہ انعام میں: ”وهو الذى يتوفاكم بالليل ويعلم ماجرحتم بالنهار ثم يبعثكم فيه ليقضى اجل مسمى (انعام: ٦٠)“

اور قسم دوم کا جواب بعد تسلیم عمومات کے یہ ہے کہ آیت: ”وان من اهل الكتاب“ جو قطعی الدلالۃ ہے۔ ان آیات کی مخصص واقع ہوئی ہے۔

اور قسم سوم کا جواب یہ ہے کہ اگر بالفرض تسلیم کیا جاوے کہ الفاظ ”فی نفسها“ ان معانی کے محتمل ہیں جو مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں۔ لیکن آیت ”وان من اهل الکتاب“ جو قطعی الثبوت وقطعی الدلالۃ ہے۔ ان احتمالات کو رد کرتی ہے۔ لہذا وہ معنی باطل ہوئے۔ صحیح معنی ان آیات کے وہ ہیں جو تفاسیر معتبرہ میں مذکور ہیں اور وہ موافق ہیں آیت ”وان من اهل الكتاب“ کے اور جواب تفصیلی ان آیات کا جن کو مرزا قادیانی نے واسطے ثبوت وفات پیش کیا ہے۔ ازالہ اوہام کے جواب میں انشاء اللہ بہ بسط لکھا جاوے گا۔ ”وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على خير خلقه محمد وآله وصحبه اجمعين“

محمد بشیر سہسوانی کا دوسرا پرچہ

بسم الله الرحمن الرحيم . اللهم انصر من نصر الحق وخذل الباطل واجعلنا منهم واخذل من خذل الحق ونصر الباطل ولا تجعلنا منهم . اما بعد!

واضح ہو کہ مرزا قادیانی نے بہت امور کا جواب اپنی تحریر میں نہیں دیا ہے۔ ناظرین کو مطالعہ سے معلوم ہو جائے گا اور اصل اور عمدہ بحث خاکسار کی تحریر میں نون تاکید کی ہے۔ مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں نہ کوئی عبارت کسی کتاب نحو کی نقل کی اور نہ ان عبارات میں جو خاکسار نے نقل کی تھیں۔ کچھ جرح کی۔

اور یہ امر بھی مخفی نہ رہے کہ میری اصل دلیل حیات مسیح علیہ السلام پر آیت اولیٰ ہے۔ میرے نزدیک یہ آیت اس مطلوب پر دلالت کرنے میں قطعی ہے۔ دوسری آیات محض تائید کے لئے لکھی گئی ہیں۔ مرزا قادیانی کو چاہئے کہ اصل بحث، آیت اولیٰ کی رکھیں۔ دوسری ابحاث کو تبعی واستطرادی تصور فرمائیں۔

قولہ ...... (قادیانی) یہ بات صحیح نہیں ہے کہ مسئلہ وفات حیات مسیح میں بار ثبوت اس عاجز کے ذمہ ہو۔

اقول ....... (محمد بشیر ) اس میں کلام ہے۔ بچند وجوہ۔

٤٤

اول ....... یہ کہ جب حسب ارشاد آپ کے بار ثبوت حیات تو اب یہ بحث بے فائدہ ہے۔

دوم ...... بار ثبوت وفات کا آپ کے ذمہ نہ ہونا خاکسار نے توضیح مرام میں دعویٰ کیا ہے کہ مسیح علیہ السلام دنیا میں نہیں ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ مسیح وفات پا چکے اور جو کوئی وفات ہے اور جو جنت میں جاتا ہے وہ جنت سے نکالا نہیں جاتا۔ پہلا اور دلیل کے ہر مقدمہ کا بار ثبوت مدعی کے ذمہ ہوتا ہے۔

سوم ...... آپ نے اپنے خط موسومہ مولوی محمد حسین صاحب میں ...... جناب آپ خوب جانتے ہیں کہ اصل امر اس بحث ہے اور میرے الہام میں بھی یہی اصل قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ مسیح فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق پہلا اور اصل امر الہام میں بھی یہی ٹھہرایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم پس وفات مسیح ابن مریم آپ کا مستقل دعویٰ ہے ذمہ ہے۔ بالجملہ بار ثبوت وفات دو حیثیت سے آپ کے ذمہ اصل دعویٰ آپ کا ہے۔ دوسرے اس حیثیت سے کہ مسیح موعود مقدمہ ہے۔

چہارم ...... اگر بار ثبوت آپ کے ذمہ نہیں ہے تو یہ کام عبث وفات مسیح توضیح مرام وازالہ اوہام میں بہ بسط تمام بیان کئے۔

قولہ ...... (قادیانی) مولوی صاحب نے اس آیت کی تاکہ قطعیۃ الدلالت ہو جاوے۔ یہ ایک جدید قاعدہ بیان فرمایا میں نون تاکید ہے اور نون تاکید مضارع کو خالص استقبال کے

اقول ....... (محمد بشیر ) اس قاعدہ کو جدید کہنا نہایت محل استعجاب تحریر کو غور سے پڑھ لیتے تو معلوم ہو جاتا کہ ازہری اور ملا جامی زادہ نے اس قاعدہ کی تصریح کی ہے اور سب کتب نحو میں یہ خلاف نہیں کیا۔ یہاں تک کہ میزان خواں اطفال بھی جانتے استقبال کر دیتا ہے۔

٤٥

صفحہ ٥٥

اوّل ...... یہ کہ جب حسب ارشاد آپ کے بار ثبوت حیات خود خاکسار نے اپنے ذمہ لے لیا ہے تو اب یہ بحث بے فائدہ ہے۔

دوم ...... بار ثبوت وفات کا آپ کے ذمہ نہ ہونا خاکسار کی سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ کیونکہ آپ نے توضیح مرام میں دعویٰ کیا ہے کہ مسیح علیہ السلام دنیا میں نہ آویں گے اور جو دلیل اس پر پیش کی ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ مسیح وفات پا چکے اور جو کوئی وفات پا چکتا ہے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور جو جنت میں جاتا ہے وہ جنت سے نکالا نہیں جاتا۔ پس یہ دلیل متضمن تین مقدموں کو ہے اور دلیل کے ہر مقدمہ کا بار ثبوت مدعی کے ذمہ ہوتا ہے۔

سوم ...... آپ نے اپنے خط موسومہ مولوی محمد حسین صاحب نمبر ١٢ میں لکھا ہے ؎ جناب آپ خوب جانتے ہیں کہ اصل امر اس بحث میں جناب مسیح ابن مریم کی وفات ہے اور میرے الہام میں بھی یہی اصل قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ الہام یہ ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہوکر وعدہ کے موافق تو (اے مرزا قادیانی) آیا ہے۔ سو پہلا اور اصل امر الہام میں بھی یہی ٹھہرایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔ پس وفات مسیح ابن مریم آپ کا مستقل دعویٰ ہے۔ اس لئے بار ثبوت وفات آپ کے ذمہ ہے۔ بالجملہ بار ثبوت وفات دو حیثیت سے آپ کے ذمہ ہے۔ ایک اس حیثیت سے کہ یہ اصل دعویٰ آپ کا ہے۔ دوسرے اس حیثیت سے کہ مسیح موعود ہونے کے دعویٰ کی دلیل کا یہ ایک مقدمہ ہے۔

چہارم ...... اگر بار ثبوت آپ کے ذمہ نہیں ہے تو یہ کام عبث آپ نے کیوں کیا کہ آپ نے ادلہ وفات مسیح توضیح مرام وازالہ اوہام میں بہ بسط تمام بیان کئے۔

قولہ ...... (قادیانی) مولوی صاحب نے اس کامیابی کی امید پر کہ کسی طرح آیت موصوفہ بالاقطعیۃ الدلالت ہو جاوے۔ یہ ایک جدید قاعدہ بیان فرمایا ہے کہ آیت کے لفظ ”لَیُؤْمِنَنَّ“ میں نون تاکید ہے اور نون تاکید مضارع کو خالص استقبال کے لئے کر دیتا ہے۔

اقول ...... (محمد بشیر) اس قاعدہ کو جدید کہنا نہایت محل استبعاد ہے۔ اگر مرزا قادیانی میری ہی تحریر کو غور سے پڑھ لیتے تو معلوم ہو جاتا کہ ازہری اور ملا جامی اور عبدالحکیم اور صاحب مغنی اور شیخ زادہ نے اس قاعدہ کی تصریح کی ہے اور سب کتب نحو میں یہ قاعدہ مرقوم ہے۔ کسی نے اس میں خلاف نہیں کیا۔ یہاں تک کہ میزان خواں اطفال بھی جانتے ہیں کہ نون تاکید مضارع کو بہ معنی استقبال کر دیتا ہے۔

٤٥

صفحہ ٥٧

قولہ ...... (قادیانی) چنانچہ انہوں نے اپنے خیال میں اس مدعا کے اثبات کے لئے قرآن کریم سے نظیر کے طور پر ایسے الفاظ نقل کئے ہیں۔ جن کی وجہ سے ان کے زعم میں مضارع استقبال ہو گیا ہے۔

اقول ...... (محمد بشیر) خاکسار کی اصل دلیل اتفاق آئمہ نحات کا ہے۔ اس قاعدہ پر اس کا جواب مرزا قادیانی نے مطلق نہیں دیا۔ ہاں آیات اس قاعدہ کی تائید کے لئے البتہ لکھی گئی ہیں۔ مرزا قادیانی پر واجب ہے کہ اس قاعدہ کو توڑنے کے لئے کوئی عبارت کسی کتاب معتبر نحو کی پیش کریں۔

قولہ ...... (قادیانی) کیا استقبال کے طور پر یہ دوسرے معنی بھی نہیں ہو سکتے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔

اقول ...... (محمد بشیر) مخفی نہ رہے کہ اس معنی کا مناط اس پر ہے کہ اختصار کے وقت ہر شخص پر وہ حق کھل جاتا ہے جس کو وہ نہ جانتا تھا۔ جیسا کہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے اور یہ امر نفس الامر میں تینوں زمانوں کو شامل ہے۔ یعنی نزول آیت کے قبل کا زمانہ اور وقت نزول کا زمانہ اور بعد کا زمانہ۔ اب آیت اگر خالص استقبال کے لئے کیجئے گا تو یہ شبہ ہوگا کہ یہ امر زمانہ حال کو شامل نہیں ہے اور یہ خلاف نفس الامر ہے۔ پس اس کلام میں یہ عیب ہوا کہ خلاف نفس الامر کا موہم ہے اور فائدہ کوئی نہیں ہے۔ اگر کہا جاوے کہ اس آیت میں وعید ہے اہل کتاب کے لئے اور تحریض ہے ان کو ایمان لانے پر قبل اس کے کہ مضطر ہوں اس کی طرف، جیسا کہ بیضاوی وغیرہ میں لکھا ہے اور اس وعید و تحریض سے وہی اہل کتاب منتفع ہو سکتے ہیں جو بعد نزول آیت کے مرنے والے ہیں۔ نہ وہ جو پہلے مر چکے اور نہ وہ جو وقت نزول کے زہوق روح کی حالت میں تھے۔ اس فائدہ کے لئے تخصیص استقبال کی گئی تو جواب یہ ہے کہ اگر ایسا لفظ اختیار کیا جاتا جو تینوں زمانوں کو شامل ہوتا تو بھی وعید وتحریض ان اہل کتاب کی حاصل ہوتی جو بعد نزول آیت کے مرنے والے ہیں اور خلاف نفس الامر کا بھی موہم نہ ہوتا۔ یعنی بجائے "لیؤمنن" کے لفظ "یؤمن" اختیار کیا جاتا۔ یعنی یوں کہا جاتا: "وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ"

یہ عبارت ایسی عمدہ ہوتی ہے کہ اس میں وعید و تحریض جو مطلوب ہے۔ وہ بھی حاصل ہے اور موہم خلاف نفس الامر بھی نہیں ہے اور اختصار بھی حاصل ہے۔ یعنی لام ونون نہیں۔ پس قرآن مجید کی بلاغت جو حد اعجاز کو پہنچ گئی ہے۔ خلاف ہے کہ ایسی عبارت کو چھوڑ کر بجائے اس کے

٤٦

ایسا صیغہ اختیار کیا جاوے کہ جس میں ایہام خلاف نفس الامر ہے خالص معنی استقبال پر حمل کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔

محصل کلام اس مقام پر یہ ہے کہ معنی دوم آیت استقبال پر محمول کیجئے تو کلام حق تعالیٰ جو بلاغت میں حد اعجاز ہے اور اگر خالص استقبال پر محمول نہ کیجئے تو مخالف ہوتا ہے ۔

قولہ ...... (قادیانی) بلکہ ان معنوں پر آیت کی دلالت صر میں یوں آیا ہے۔ جو بیضاوی وغیرہ میں لکھا ہے۔ "الا لیؤم

اقول ...... (محمد بشیر) اس میں کلام ہے بوجہ وجوہ۔

خالص استقبال پر محمول کیا جائے گا تو کلام حق تعالیٰ جو بلاغت سے نازل ہو جاتا ہے اور اگر خالص استقبال پر محمول مجمع علیہا نحاۃ کے۔

اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے زمانہ آئندہ میں مسیح پر کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں۔ اس طرح پر کہ زمانہ آئندہ مراد لیا جاوے۔

جب بسند صحیح متصل منقول ہو اور یہاں سند متصل صحیح اس مرزا قادیانی پر واجب ہے کہ اس کی سند بیان فرماویں او

ودونہ خرط القتاد!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کی ہے اور یہ قرأت مرزا قادیانی یہ تو خیال فرماویں کہ وہ معنی کہ جس کی تصحیح و تخ بفرض توڑنے دعویٰ اس خاکسار کے ہے وہ خود نفس الامر اس تقدیر پر استدلال ان کا موت مسیح پر آیت وان من اہ

٤٧

صفحہ ٥٧

لیؤمن اختیار کیا جاوے کہ جس میں ایہام خلاف نفس الامر ہے اور اطناب بلا فائدہ اور یہ سب محذور خالص معنی استقبال پر حمل کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔

محصل کلام اس مقام پر یہ ہے کہ معنی دوم آیت کے بہر تقدیر باطل ہے۔ اگر خالص استقبال پر محمول کیجئے تو کلام حق تعالٰی جو بلاغت میں حد اعجاز کو پہنچ چکا ہے۔ بلاغت سے گرایا جاتا ہے اور اگر خالص استقبال پر محمول نہ کیجئے تو مخالف ہوتا ہے۔ قاعدہ مجمع علیہا نحاۃ کے۔

قولہ ...... (قادیانی) بلکہ ان معنوں پر آیت کی دلالت صریحہ ہے۔ اس واسطے کہ دوسری قرأت میں یوں آیا ہے۔ جو بیضاوی وغیرہ میں لکھا ہے۔ "الا لیؤمنن بہ قبل موتھم"

اقول ...... (محمد بشیر) اس میں کلام ہے چند وجوہ۔

اول ...... یہ کہ اس قرأت کی بناء پر بھی معنی دوم صحیح نہیں ہوتے ہیں۔ کیونکہ لیؤمن کو یا تو خالص استقبال پر محمول کیا جائے گا تو کلام حق تعالٰی جو بلاغت میں حد اعجاز کو پہنچ گیا ہے۔ بلاغت سے نازل ہو جاتا ہے اور اگر خالص استقبال پر محمول نہ کیجئے تو مخالف ہوتا ہے۔ قاعدہ مجمع علیہا نحاۃ کے۔

دوم ...... یہ کہ یہ قرأت ہماری معنی کے مخالف نہیں ہے۔ کیونکہ اس قرأت پر یہ معنی ہیں کہ ہر اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے زمانہ آئندہ میں مسیح پر ایمان لاوے گا اور یہ معنی معنی اوّل کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں۔ اس طرح پر کہ زمانہ آئندہ سے زمانہ نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد لیا جاوے۔

سوم ...... یہ کہ یہ قرأۃ غیر متواترہ ہے اور قرأت غیر متواترہ عموماً قابل احتجاج نہیں ہے۔ بلکہ جب بسند صحیح متصل منقول ہو اور یہاں سند متصل صحیح اس کی مرزا قادیانی نے تحریر نہیں فرمائی۔ مرزا قادیانی پر واجب ہے کہ اس کی سند بیان فرماویں اور اس کے سب رجال کی توثیق کریں۔

ودونہ خرط القتاد!

چہارم ...... یہ کہ مرزا قادیانی نے قبل موتہ کی ضمیر توضیح المرام اور ازالۃ الاوہام میں جو الہامی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کی ہے اور یہ قرأت اس خیال کو بالکل باطل ٹھہرا رہی ہے۔ مرزا قادیانی یہ تو خیال فرماویں کہ وہ معنی کہ جس کی تصحیح وتقویت کے وہ آپ درپے ہیں اور یہ محض بغرض توڑنے دعوٰی اس خاکسار کے ہے وہ خود نفس الامر میں ان کے نزدیک غیر صحیح ہیں۔ کیونکہ اس تقدیر پر استدلال ان کا بموجب معنی دوم آیت وان من اہل الکتاب سے مطلقاً غیر صحیح ٹھہرتا ہے۔

١٧

صفحہ ٥٩

پس کیا یہی مقتضائے دیانت وانصاف ہے کہ جس چیز کو وہ خود نفس الامر میں غیر صحیح جانتے ہیں۔ اس کو بمقابلہ خصم صحیح بتادیں تو یہ مناظرہ نہ ہوا۔ محض مجادلہ ٹھہرا۔

قولہ ...... (قادیانی) پہلی آیات کی نظیر یہ کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ ”ولنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام (بقرہ:١٤٤)“ اب ظاہر ہے کہ اس جگہ حال مراد ہے۔

اقول ...... (محمد بشیر) قرآن مجید میں ”فلنولينك“ ہے نہ ”ولنولينك“ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ یہاں ارادہ حال محض غلط ہے۔ بلکہ یہاں خالص مستقبل مراد ہے۔ بچند وجوہ:

اوّل ...... یہ کہ بیضاوی میں مرقوم ہے۔ ”فول وجهك واصرف وجهك شطر المسجد الحرام“ ونحوہ عبدالحکیم ”واصرف وجهك“ کے تحت میں لکھتے ہیں: ”ولم يجعله من المتعدى الى المفعولين بان يكون شطر مفعوله الثانى لان ترتبه بالفاء وكونه انجاز للوعد بان الله تعالى يجعل النبى متقبلا القبلة او قريباً من سمتها بان يأمر بالصلوة اليها يناسبه ان يكون النبى ماموراً بصرف الوجه اليها لا بان يجعل نفسه مستقبلاً اياها او قريباً من جهتها“

اس عبارت میں صاف ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے قول ”فلنولينك“ میں وعدہ فرمایا اور ”فول وجهك“ کے ساتھ اس کا انجاز کیا۔

دوم ...... یہ کہ اگر یہاں حال مراد لیا جائے تو ”فلنولينك“ کے یہ معنی ہوں گے۔ پس البتہ پھیرتے ہیں ہم تجھ کو اور پھیرنے سے یہ تو مراد ہی نہیں کہ ہم تجھ کو ہاتھ پکڑ کے قبلہ کی طرف پھیرتے ہیں۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم تجھ کو قبلہ کی طرف پھرنے کا حکم کرتے ہیں۔ اس تقدیر پر قول اللہ تعالیٰ کا ”فول وجهك“ زائد ولا طائل ہوگا۔

سوم ...... یہ کہ شاہ ولی اللہ، وشاہ رفیع الدین، وشاہ عبدالقادر نے ترجمہ اس لفظ کا بمعنی مستقبل کیا ہے۔ عبارت شاہ ولی اللہ کی یہ ہے۔ پس متوجہ گردانیم ترا بآں قبلہ کہ خشنود شوی۔

لفظ شاہ رفیع الدین کا یہ ہے۔ پس البتہ پھیریں گے ہم تجھ کو اس قبلہ کو کہ پسند کرے اس کو۔ شاہ عبدالقادر کا ترجمہ یہ ہے۔ سو البتہ پھریں گے تجھ کو جس قبلہ کی طرف تو راضی ہے۔

قولہ ...... (قادیانی) اور ایسا ہی یہ آیت ”وانظر الى الهك الذى ظلت عليه عاكفا لنحرقنه (طه:٩٧)“

٤٨

اقول ...... (محمد بشیر) ارادہ حال اس آیت میں غلط ہے۔ بدو

اوّل ...... یہ کہ آیت میں وعید ہے اور جس چیز کی وعید کی جاتی پس استقبال یہاں متعین ہوا۔

دوم ...... یہ کہ تراجم ثلاثہ سے معنی استقبال واضح ہیں۔ عبار بسوزانیم آنرا پس پراگندہ سازیم آنرا۔“

لفظ شاہ رفیع الدین کا یہ ہے: ”ابھی جلا دیں گے ہم

لفظ شاہ عبدالقادر کا یہ ہے: ”ہم اس کو جلا دیں گے پـ

ان دونوں آیتوں میں جو مرزا قادیانی نے حال کـ ہے کہ استقبال دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک استقبال قریب استقبال قریب کو قرب کی وجہ سے حال سمجھ گئے ہیں۔

قولہ ...... (قادیانی) اور دوسری آیات جو حال اور استقبال پر مشتمل ہیں۔ ان کی نظیر ذیل میں پیش کرتا ہوں۔ پہلی یہ آیت لنهدينهم سبلنا (عنکبوت:٦٩)“

اقول ...... (محمد بشیر) اس میں کلام ہے بدو وجہ:

اوّل ...... یہ کہ یہ امر مسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت مستمرہ دکھلایا کرتا ہے۔ لیکن یہاں اس عادت کا بیان مقصود نہیں۔ عـ موعود وعدہ کے بعد متحقق ہوتا ہے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے کے معنی دوم کی تائید میں بیان فرمایا ہے اور صحیح خالص استقبـ زہوق روح کے وقت ایمان لانا امر مستمر ہے۔ خصوصیت کسی

دوم ...... یہ کہ تراجم ثلاثہ تعیین استقبال کرتے ہیں۔ لفظ شا کردند در راه ما البتہ دلالت کنیم ایشان را برا

عبارت شاہ رفیع الدین یہ ہے: ”اور جن لوگوں دکھا دیں گے ہم ان کو راہیں اپنی۔“

عبارت شاہ عبدالقادر کی یہ ہے: ”اور جنہوں گے ان کو اپنی راہیں۔“

٤٩

صفحہ ٥٩

اقول ....... (محمد بشیر) ارادہ حال اس آیت میں غلط ہے۔ بدو وجہ:

اول....... یہ کہ آیت میں وعید ہے اور جس چیز کی وعید کی جاتی ہے وہ اس کے بعد متحقق ہوتی ہے۔ پس استقبال یہاں متعین ہوا۔

دوم....... یہ کہ تراجم ثلاثہ سے معنی استقبال واضح ہیں۔ عبارت شاہ ولی اللہ کی یہ ہے: ”البتہ بسوزانیم آنرا پس پراگندہ سازیم آنرا۔“

لفظ شاہ رفیع الدین کا یہ ہے: ”ابھی جلا دیں گے ہم اس کو پھر اڑا دیں گے ہم اس کو۔“

لفظ شاہ عبد القادر کا یہ ہے: ”ہم اس کو جلا دیں گے پھر بکھیر دیں گے۔“

ان دونوں آیتوں میں جو مرزا قادیانی نے حال کے معنی سمجھے تو منشاء غلط یہ معلوم ہوتا ہے کہ استقبال دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک استقبال قریب دوسرا استقبال بعید۔ مرزا قادیانی استقبال قریب کو قرب کی وجہ سے حال سمجھ گئے ہیں۔

قولہ....... (قادیانی) اور دوسری آیات جو حال اور استقبال کے سلسلہ متصلہ ممتدہ پر استمرار کے طور پر مشتمل ہیں۔ ان کی نظیر ذیل میں پیش کرتا ہوں۔ پہلی یہ آیت: ”والذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا (عنکبوت:٦٩)“

اقول ....... (محمد بشیر) اس میں کلام ہے بدو وجہ:

اول ....... یہ کہ یہ امر مسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت مستمرہ ہے کہ مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہیں دکھلایا کرتا ہے۔ لیکن یہاں اس عادت کا بیان مقصود نہیں۔ مقصود بالذات صرف وعدہ ہے اور امر موعود وعدہ کے بعد متحقق ہوتا ہے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے آیت ”وان من اہل الکتاب“ کے معنی دوم کی تائید میں بیان فرمایا ہے اور تصحیح خالص استقبال کی، کی ہے۔ حالانکہ اہل کتاب کا زہوق روح کے وقت ایمان لانا امر مستمر ہے۔ خصوصیت کسی زمانہ کی اس میں نہیں۔

دوم....... یہ کہ تراجم ثلاثہ تعیین استقبال کرتے ہیں۔ لفظ شاہ ولی اللہ کا یہ ہے: ”و آنانکہ جہاد کردند در راہ ما البتہ دلالت کنیم ایشان را براہ ہائے خود“

عبارت شاہ رفیع الدینؒ یہ ہے: ”اور جن لوگوں نے محنت کی بیچ راہ ہمارے کے البتہ دکھاویں گے ہم ان کو راہیں اپنی۔“

عبارت شاہ عبدالقادرؒ کی یہ ہے: ”اور جنہوں نے محنت کی ہمارے واسطے ہم سجھاویں گے ان کو اپنی راہیں ۔“

٤٩

صفحہ ٦١

قول....... (قادیانی) دوسری یہ آیت ”کتب اللّٰہ لا غلبن انا ورسلی“

اقول....... (محمد بشیر) یہاں ارادہ استمرار قطعا باطل ہے اور ارادہ استقبال متعین بوجہ:

بالحجۃ“ ظاہر ہے کہ لوح محفوظ میں جب لکھا ہے۔ اس وقت اور اس سے پہلے غلبہ متصور نہیں ہے۔ کیونکہ غلبہ کے لئے غالب ومغلوب ضروری ہے۔ اس وقت نہ رسل تھے نہ ان کی امت تھی۔ یہ سب بعد ان کے ہوئے ہیں۔

غالب شوم من وغالب شوند پیغمبران من۔“

لفظ شاہ رفیع الدین کا یہ ہے: ”لکھ رکھا ہے خدا نے البتہ غالب آؤں گا میں اور پیغمبر میرے۔“

لفظ شاہ عبدالقادر کا یہ ہے: ”اللّٰہ لکھ چکا کہ میں زبر ہوں گا اور میرے رسول۔“

قول....... (قادیانی) تیسری آیت یہ ہے:”من عمل صالحاً من ذکر او انثیٰ وھو مؤمن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ ولنجزینھم اجرھم باحسن ماکانوا یعملون (نحل:٩٧)“

اقول....... (محمد بشیر) اس آیت میں بھی استقبال مراد ہے۔ بوجہ دو وجوہ:

عمل صالحاً وھو العمل المتابع لکتاب اللّٰہ وسنۃ نبیہ ﷺ من ذکر اوانثیٰ من بنی آدم وقلبہ مؤمن باللّٰہ ورسولہ وان ھذا العمل المامور بہ مشروع من عند اللّٰہ بان یحی اللّٰہ حیوۃ طیبۃ فی الدنیا وان یجزیہ باحسن ماعملہ فی الدار الآخرۃ (تفسیر ابن کثیر ج٤ ص٥١٦)“

اور جس کا وعدہ ہوتا ہے وہ چیز وعدہ کے بعد پائی جاتی ہے۔

مرد باشد یا زن واو مسلمان است ہر ائینہ زندہ کنمش بزندگانی پاک۔“

لفظ شاہ رفیع الدین کا یہ ہے: ”جو کوئی کرے اچھا مردوں سے یا عورتوں سے اور وہ ہو ایمان والا۔ پس البتہ زندہ کریں گے ہم اس کو زندگی پاکیزہ۔“

٥٠

عبارت شاہ عبدالقادر کی یہ ہے: ”جس نے کیا نی پر ہے تو اس کو ہم جلاویں گے ایک اچھی زندگی۔“

قول....... (قادیانی) چوتھی آیت یہ ہے۔ ”ولینصرن عزیز (حج:٤٠)“

اقول....... (محمد بشیر) یہاں استقبال مراد ہے۔ بوجہ دو وجوہ

بان سلط المھاجرین والانصار علی ھـ وقیاصرتھم واورثھم ارضھم ودیارھم“ اور جس کے پائی جاتی ہے۔

خواہد داد خدا کسے را کہ قصد نصرت دین وے کند۔“

لفظ شاہ رفیع الدین کا یہ ہے:”اور البتہ مدد دیو

لفظ شاہ عبدالقادر کا یہ ہے:”اور اللّٰہ مقرر مدد د

قول....... (قادیانی) پانچویں آیت یہ ہے۔ ”والذین لندخلنھم فی الصالحین (عنکبوت:٩)“

اقول....... (محمد بشیر) یہاں بھی مستقبل مراد ہے۔ بوجہ

بعد کو پائی جاتی ہے۔

کارہائے شائستہ کردند البتہ درآریم ایشاں را در زمرہ شائـ

لفظ شاہ رفیع الدین کا یہ ہے:”اور وہ لوگ کـ

کریں گے ہم ان کو بیچ صالحوں کے۔“

لفظ شاہ عبدالقادر کا یہ ہے:”اور جو لوگ ایـ

کریں گے نیک لوگوں میں۔“

آپ کا محذور جب لازم آوے کہ یہ بیان مـ

٥١

صفحہ ٦١

عبارت شاہ عبدالقادر کی یہ ہے: ”جس نے کیا نیک کام ، مرد ہو یا عورت ہو اور وہ یقین پر ہے تو اس کو ہم جلا دیں گے ایک اچھی زندگی۔“

قولہ ...... (قادیانی) چوتھی آیت یہ ہے ۔ ”ولینصرن الله من ینصره ان الله لقوی عزیز (حج:٤٠)“

اقول ...... (محمد بشیر) یہاں استقبال مراد ہے۔ بچند وجوہ:

اول ...... یہ کہ یہ وعدہ مہاجرین وانصار سے ہے ۔ ”قال البیضاوی وقد انجز وعده بان سلط المهاجرین والانصار علی صنادید العرب واکاسرة العجم وقیاصرتهم واورثهم ارضهم ودیارهم “ اور جس کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ چیز بعد زمانہ وعدہ کے پائی جاتی ہے۔

دوم ...... یہ کہ تراجم ثلاثہ میں استقبال مصرح ہے۔ عبارت شاہ ولی اللہ کی یہ ہے : ”والبته نصرت خواهد داد خدا کسے را کہ قصد نصرت دین وے کند ۔“

لفظ شاہ رفیع الدین کا یہ ہے: ”اور البتہ مدد دیوے گا اللہ اس کی کہ مدد دیتا ہے اس کو ۔“

لفظ شاہ عبدالقادر کا یہ ہے : ”اور اللہ مقرر مدد دے گا اس کی جو مدد کرے گا اس کی ۔“

قولہ ...... (قادیانی) پانچویں آیت یہ ہے۔ ” والذین آمنوا وعملوا الصالحات لندخلنهم فی الصالحین (عنکبوت:٩)“

اقول ...... (محمد بشیر) یہاں بھی مستقبل مراد ہے ۔ بدو وجہ:

اول ...... یہ کہ یہ وعدہ ہے اور جس چیز کا وعدہ دیا جاتا ہے وہ وقت وعدہ کے متحقق نہیں ہوتی ہے۔ بعد کو پائی جاتی ہے۔

دوم ...... تراجم ثلاثہ اس پر دال ہیں۔ عبارت شاہ ولی اللہ کی یہ ہے : ”و آنانکه ایمان آوردند کار ہائے شائستہ کردند البتہ در آریم ایشاں را در زمرہء شائستگان ۔“

لفظ شاہ رفیع الدین کا یہ ہے : ”اور وہ لوگ کہ ایمان لائے اور کام کئے اچھے البتہ داخل کریں گے ہم ان کو بیچ صالحوں کے ۔“

لفظ شاہ عبدالقادر کا یہ ہے: ”اور جو لوگ ایمان لائے اور بھلے کام کئے ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں میں ۔“

آپ کا محذور جب لازم آوے کہ یہ بیان ہو عادت کا ، بلکہ یہ تو وعدہ ہے۔

٥١

صفحہ ٦٢

قولہ ...... (قادیانی) اب میں آپ کے اس قاعدہ کو توڑ چکا کہ نون ثقیلہ کے داخل ہونے سے خواہ مخواہ اور ہر ایک جگہ خاص طور پر استقبال کے معنی ہی ہوا کرتے ہیں۔

اقول ...... (محمد بشیر) بالا معلوم ہوا کہ آپ نے جتنی آیتیں ذکر کی ہیں۔ سب میں مراد معنی مستقبل ہے۔ نہ حال اور نہ استمرار۔

قولہ ...... (قادیانی) اور آپ کو معلوم ہے کہ تمام مفسرین قدیم وجدید جن میں عرب کے رہنے والے بھی داخل ہیں۔ لیؤمنن کے لفظ کے حال کے معنی بھی کرتے ہیں۔

اقول ...... (محمد بشیر) ان لوگوں کے کلام میں کہیں تصریح حال کی نہیں ہے۔ محتمل ہے کہ ان کی مراد استقبال ہو۔ جیسا کہ آپ خود اوپر لکھ چکے ہیں۔ کیا استقبال کے طور پر دوسرے معنی بھی نہیں ہو سکتے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے۔ دیکھو یہ بھی تو خالص استقبال ہی ہے۔ اگر کوئی شبہ کرے کہ پھر اس دوسرے معنی کا رد قاعدہ مقررہ نحاۃ کے موافق کیسے ہوگا۔ تو جواب یہ ہے کہ بے شک اس صورت میں قاعدہ مقررہ کی بناء پر البتہ رد نہ ہو سکے گا۔ بلکہ اس کا رد منوط ہوا۔ امر آخر پر جس کا ذکر اوپر ہو چکا۔ یعنی یہ کہ اس صورت میں کلام الہی اعلیٰ درجہ بلاغت سے نازل ہوا جاتا ہے۔ ”فلیتأمل فانہ احریٰ بالتأمل“

قولہ ...... (قادیانی) اور آپ نے تفسیر ابن کثیر کے حوالہ سے جو لکھا ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام ہوگا اور کوئی اہل کتاب میں سے نہیں ہو گا جو اس کے نزول کے بعد اس پر ایمان نہیں لائے گا۔ یہ بیان آپ کے لئے کچھ مفید نہیں۔ (الیٰ قولہ) اور پھر اس قول کو ما نحن فیہ سے متعلق کیا ہے۔

اقول ...... (محمد بشیر) اس مقام پر آپ نے میرے کلام کو غور سے ملاحظہ نہیں فرمایا۔ میرا مطلب وہ نہیں جو آپ سمجھے ہیں۔ میرا مطلب تو عبارت ابن کثیر کی نقل سے صرف اس قدر ہے کہ یہ معنی جو میں نے اختیار کئے ہیں۔ اس طرف ایک جماعت سلف میں سے گئی ہے اور یہ امر میری تحریر میں مصرح ہے۔ چنداں غور کا بھی محتاج نہیں ہے۔

قولہ ...... (قادیانی) واضح رہے کہ آپ اس عاجز کے اعتراضات کو جو ازالہ اوہام میں آیت موصوفہ بالا کے ان معنوں پر وارد ہوتے ہیں جو آپ کرتے ہیں۔ اٹھا نہیں سکے۔ بلکہ رکیک عذرات سے میرے اعتراضات کو اور بھی ثابت کر دیا۔

اقول ...... (محمد بشیر) میرے ادلہ کا قوی ہونا ابھی ثابت ہو چکا۔ پس یہ آپ کا فرمانا بجائے خود ثابت نہیں ہے۔

٥٢

٦٣

قولہ ...... (قادیانی) آپ کے نون ثقیلہ کا حال تو معلوم ہو

اقول ...... (محمد بشیر) آپ نے نون ثقیلہ کے بارہ میں جو کچھ

قولہ ...... (قادیانی) اور ”لیؤمنن“ کے لفظ کی تعمیم بدستو

اقول ...... (محمد بشیر) جب یہ امر ثابت ہو گیا کہ نون مضا ہے تو اب تعمیم کہاں قائم رہی۔

قولہ ...... (قادیانی) اب فرض کے طور پر اگر آیت کے نزول کے وقت جس قدر اہل کتاب ہوں گے۔ سب مسل سے آپ نے روایت کیا ہے تو مجھے مہربانی فرما کر سمجھا دیں

اقول ...... (محمد بشیر) آپ نے اس معنی کی تقریر میں جو یہ کی ہے۔ آیت کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے سب مسلمان ہو جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ حض اور ان کی موت سے پہلے ایک زمانہ ایسا ضرور ہوگا کہ اس جائیں گے اور ابو مالک کے کلام کا بھی یہی مطلب ہے۔ ف

قولہ ...... (قادیانی) آپ تسلیم کر چکے ہیں۔ (الیٰ قولہ)

اقول ...... (محمد بشیر) حضرت من! اس مقام پر بھی آپ اس لئے میں پھر اس تقریر کا اعادہ کرتا ہوں۔ امید ہے آجائے گا اور تسلیم بھی کر لیجئے گا۔

حاصل میری کلام کا یہ ہے کہ آپ کے اعتراضا

ایمان لے آویں گے۔ بلکہ یہ کہ بعد نزول مسیح اور قبل زمانہ میں سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے۔ پس کیونکہ جو کفار مسیح کے دم سے مرنے والے ہوں گے و لے آویں گے۔

اس معنی کے معارض نہیں ٹھہرتی ہیں۔ الحاصل مقصود دفع

٥٣

صفحہ ٦٣

قولہ..... (قادیانی) آپ کے نون ثقیلہ کا حال تو معلوم ہو چکا۔

اقول..... (محمد بشیر) آپ نے نون ثقیلہ کے بارہ میں جو کچھ تحریر فرمایا وہ سب ”ھباء منبثا“ ہو گیا۔

قولہ..... (قادیانی) اور ”لیؤمنن“ کے لفظ کی تعمیم بدستور قائم رہی۔

اقول..... (محمد بشیر) جب یہ امر ثابت ہو گیا کہ نون مضارع کو خالص استقبال کے لئے کر دیتا ہے تو اب تعمیم کہاں قائم رہی۔

قولہ..... (قادیانی) اب فرض کے طور پر اگر آیت کے یہ معنی لئے جاویں کہ حضرت عیسیٰ کے نزول کے وقت جس قدر اہل کتاب ہوں گے۔ سب مسلمان ہو جائیں گے۔ جیسا کہ ابو مالکؒ سے آپ نے روایت کیا ہے تو مجھے مہربانی فرما کر سمجھا دیں کہ یہ معنی کیونکر درست ٹھہر سکتے ہیں۔

اقول..... (محمد بشیر) آپ نے اس معنی کی تقریر میں جو میرے نزدیک متعین ہیں۔ تھوڑی سی خطا کی ہے۔ آیت کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت جس قدر اہل کتاب ہوں گے سب مسلمان ہو جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد اور ان کی موت سے پہلے ایک زمانہ ایسا ضرور ہوگا کہ اس وقت کے اہل کتاب سب مسلمان ہو جائیں گے اور ابو مالکؒ کے کلام کا بھی یہی مطلب ہے۔ ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیے۔

قولہ..... (قادیانی) آپ تسلیم کر چکے ہیں۔ (الی قولہ) پھر اس لفظ کے لانے سے فائدہ کیا ہے۔

اقول..... (محمد بشیر) حضرت من! اس مقام پر بھی آپ نے میرے مطلب پر مطلق غور نہیں کیا۔ اس لئے میں پھر اس تقریر کا اعادہ کرتا ہوں۔ امید ہے کہ اگر آپ توجہ فرمائیں گے تو سمجھ میں آجائے گا اور تسلیم بھی کر لیجئے گا۔

حاصل میری کلام کا یہ ہے کہ آپ کے اعتراض کا جواب بدو طور ہے:

ایمان لے آویں گے۔ بلکہ یہ کہ بعد نزول مسیح اور قبل موت مسیح ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ میں سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے۔ پس احادیث صحیحہ اس کے منافی نہ ہوئیں۔ کیونکہ جو کفار مسیح کے دم سے مرنے والے ہوں گے وہ پہلے مریں گے۔ باقی ماندہ سب ایمان لے آویں گے۔

اس معنی کے معارض نہیں ٹھہرتی ہیں۔ الحاصل مقصود دفع تعارض ہے جو آپ نے آیت کے معنی اور

٥٣

صفحہ ٦٤

احادیث صحیحہ میں بیان فرمایا ہے۔ آپ معلوم نہیں کہ کہاں سے کہاں چلے گئے۔ غور کر کے جواب لکھا کیجئے۔ اب انصاف سے غور فرمائیے کہ آپ کا یہ فرمانا کہ ان کا لفظ تو ایسا کامل حصر کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک فرد بھی باہر رہ جائے تو یہ لفظ بے کار اور غیر مؤثر ٹھہرتا ہے۔ کیسا بے محل ہے۔ کیونکہ جس زمانہ کے لئے یہ حصر کیا گیا ہے۔ اس کی نسبت پورا حصر ہے اور ایسا ہی یہ فرمانا کہ اوّل تو آپ نے ان کے لفظ سے زمانہ قبل از نزول کو باہر کیا۔ پھر اب زمانہ بعد از نزول میں بھی اس کا پورا پورا اثر ہونے سے انکار کیا تو پھر اس لفظ کے لانے سے فائدہ ہی کیا تھا۔ محض بے موقع ہے۔ کیونکہ خاکسار نے از خود زمانہ قبل از نزول کو باہر نہیں رکھا اور نہ زمانہ بعد از نزول میں پورا پورا اثر ہونے سے انکار کیا۔ بلکہ یہ تو مقتضیٰ نون ثقیلہ و لفظ قبل موتہ کا ہے جو کلام الٰہی میں واقع ہوا ہے اور ایسا ہی آپ کا یہ فرمانا کہ اب اگر ان کفار کو جو کفر پر مر گئے مؤمن ٹھہراتے ہیں یا اس جگہ ایمان سے مراد یقین رکھتے ہیں تو اس دعویٰ پر آپ کے پاس کیا دلیل ہے۔ محض بے ربط ہے۔ کیونکہ خاکسار اس مقام پر نہ مدعی ان کے ایمان کا ہے اور نہ مدعی اس امر کا ہے کہ مراد ایمان سے یقین ہے۔ مقصود اس مقام پر صرف رفع تناقض ہے جو آپ نے درمیان آیت واحادیث کے سمجھا ہے۔ اس امر کے فیصلہ کے لئے خاکسار آپ کے دو معتقد خاص حکیم نورالدین اور مولوی سید محمد احسن امروہی کو حکم تسلیم کرتا ہے کہ آپ میری اس کلام کا مطلب بالکل نہیں سمجھے۔

قولہ ...... (قادیانی) یا حضرت آپ ان آیتوں پر متوجہ ہوں۔ (الیٰ قولہ) اب دیکھئے کہ قرآن مجید میں اللہ جل شانہ کا صاف وعدہ ہے کہ قیامت کے دن تک دونوں فرقے متبعین اور کفار باقی رہیں گے۔

اقول ...... (محمد بشیر) اس میں کلام ہے۔ بدو وجہ:

موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب اہل کتاب مؤمن ہو جائیں گے۔ پس یہ آیت مخصص ہے۔ آیت ”وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامة (آل عمران:٥٥)“ کی۔

قائم ہوگی۔ پس معلوم ہوا کہ آیت عام مخصوص البعض ہے۔

قولہ ...... (قادیانی) پھر اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ ”فاغرینا بینھم العداوة والبغضاء

٥٤

صفحہ ٦٥

الى يوم القيامة (مائده:١٤) ’’اب ظاہر ہے کہ اگر قیامت کے پہلے ہی ایک فرقہ ان دونوں میں سے نابود ہو جاوے تو پھر عداوت کیونکر باقی رہے گی۔

اقول ...... (محمد بشیر) یہ آیت بھی عام مخصوص البعض ہے۔ مخصص اس کی آیت ”وان من اهل الکتاب“ ہے۔

قولہ ...... (قادیانی) دوسری آیت آپ نے پیش کی ہے: ”يكلم الناس فى المهد وكهلاً (آل عمران:٤٦)“

اقول ...... (محمد بشیر) کہل کے معنی میں فی الواقع اہل لغت نے اختلاف کیا ہے۔ اسی واسطے اس آیت کو ”قطعية الدلالة لذاتها“ نہیں کہا گیا۔ بلکہ ”قطعية الدلالة لغيرها“ کہا گیا۔ یعنی بانضمام آیت ”وان من اهل الكتاب“ جو قطعیۃ الدلالت ہے۔ یہ بھی قطعی ہو جاتی ہے اور آپ نے جو شبہ ”وان من اهل الكتاب“ کے قطعیۃ الدلالت ہونے میں کیا ہے وہ بالکل مرتفع ہو گیا۔

قولہ ...... (قادیانی) صحیح بخاری میں دیکھئے جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے۔ اس میں کہل کے معنی جوان مضبوط کے لکھے ہیں۔

اقول ...... (محمد بشیر) عبارت بخاری کی یہ ہے: ”وقال مجاهد الكهل الحليم“ آپ پر واجب ہے کہ یہ امر ثابت کیجئے کہ اس سے جوان مضبوط کس طرح سمجھا جاتا ہے۔

قولہ ...... (قادیانی) حضرت اس ”رافعك الى“ میں جو ”رفع“ کا وعدہ دیا گیا ہے۔ یہ وہی وعدہ تھا جو آیت ”بل رفعه الله“ میں پورا کیا گیا۔

اقول ...... (محمد بشیر) مسلم ہے کہ آیت ”انی متوفيك ورافعك“ میں جو وعدہ تھا وہ آیت ”بل رفعه الله“ میں پورا کیا گیا۔ لیکن ”انی متوفيك“ میں موت مراد ہونا غیر مسلم ہے۔ جیسا کہ اس کی تقریر تحریر اوّل میں لکھ چکا ہوں۔ اور آپ نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا۔

قولہ ...... (قادیانی) نزول مسیح موعود سے کس کو انکار ہے۔

اقول ...... (محمد بشیر) آپ کو نزول عیسیٰ بن مریم سے انکار ہے اور حالانکہ تحریر اوّل میں لکھا گیا ہے کہ حدیث میں لفظ ابن مریم جس کے معنی حقیقی عین ابن مریم ہے موجود ہے اور صارف یہاں کوئی پایا نہیں جاتا ہے۔ آپ نے اس کا کچھ جواب نہ دیا۔

قولہ ...... (قادیانی) اور فہم ابو ہریرہؓ حجت کے لائق نہیں۔

٥٥

صفحہ ٦٧

اقول ...... (محمد بشیر) فہم ابو ہریرہ گو میں حجت نہیں کہتا۔ استدلال تو لفظ ابن مریم سے ہے جو حدیث میں واقع ہے۔ قولہ ...... (قادیانی) یہ حدیث مرسل ہے۔ پھر کیونکر قطعیۃ الدلالت ہوگی۔ اقول ...... (محمد بشیر) اس حدیث کو قطعیۃ الدلالت نہیں کہا گیا۔ صرف تائید کے لئے لائی گئی ہے۔ قولہ ...... (قادیانی) یہ بخاری کی حدیث مرفوع متصل سے جو حضرت مسیح کی وفات پر دلالت کرتی ہے اور نیز قرآن کی تعلیم سے مخالف ہے۔ اقول ...... (محمد بشیر) آپ وہ حدیث صحیح مرفوع متصل بیان فرمائیے۔ تا کہ اس میں نظر کی جاوے اور مخالفت تعلیم قرآن غیر مسلم ہے۔ "ومن يدعي فعليه البيان" محمد بشیر عفی عنہ ٢٥؍ اکتوبر ١٨٩١ء

محمد بشیر بھوپالی کا تیسرا پرچہ

بسم الله الرحمن الرحيم۔ حامداً مصلياً مسلماً۔ ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب

قولہ ...... (قادیانی) میں کہتا ہوں کہ اس بات کو ادنیٰ استعداد کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ بار ثبوت کسی امر متنازع فیہ کی نسبت اس فریق پر ہوا کرتا ہے کہ جو ایک امر کا کسی طور پر ایک مقام میں اقرار کر کے پھر کسی دوسری صورت اور دوسرے مقام میں اسی امر قبول کردہ کا انکار کر دیتا ہے۔

اقول ...... (محمد بشیر) یہاں کلام ہے۔ بچند وجوہ :

آپ حیات کا انکار کرتے ہیں تو موافق اپنی تعریف کے آپ مدعی ٹھہرے۔

خیال کہ مسیح علیہ السلام وفات پا چکے۔ بعد آپ کے اس الہام کے پیدا ہوا ہے کہ مسیح فوت ہو گیا یا قبل اس کے اگر بعد پیدا ہوا ہے تو گویا یہ کہنا ہوا کہ الہام سے پہلے میرا اس خیال سے کچھ واسطہ نہ تھا اور یہ میرا دعویٰ نیا ہے۔ جو وقت الہام کے پیدا ہوا۔ اس وجہ سے آپ مدعی ہوئے اور ثبوت آپ کے ذمہ ہوا کہ آپ بعد اس اقرار کے کہ الہام سے پہلے مجھ کو اس خیال سے کچھ واسطہ نہ تھا۔ پھر مخالف اپنے اس پہلے بیان کے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وقت الہام سے مجھ کو یہ خیال ہے کہ

٥٦

مسیح فوت ہو گیا۔ پس اس وجہ سے آپ سے ثبوت مانگا مخالف دوسرا بیان کرتے ہیں اور اس دعویٰ میں ایک جدید اگر قبل سے یہ خیال تھا تو اس خیال کا یقین قانون قدرت کو حاصل ہو گیا تھا یا نہیں؟

بر تقدیر اول آپ نے قبل الہام مذکور براہین اپنے پرانے باطل خیال پر باوجود یقین بطلان کے کیوں ا اور تقدیر ثانی بعد الہام کے اس خیال کا یقین صرف ایک ظنی یا شکی یا وہمی بات پر اصرار خلاف دیانت وفات کا آپ کو حاصل ہوا تو ظاہر ہے کہ مفید یقین اس قرآن کریم اور آپ کا ملہم ہونا ابھی تک پایۂ ثبوت کو نہیں پہلے اپنا ملہم ہونا ثابت کیجئے۔ پھر ہر الہام کا حجت ہونا دونوں امر کے دعویٰ وفات مسیح اور اپنے مسیح موعود ہو وفات مسیح و مسیح موعود ہونے کا عند العقلاء ہرگز لائق سماع

آپ کا ان کو صریحہ بینہ قطعیہ کہنا باطل ہے اور بر تقدیر سب صحابہ و تابعین و تبع تابعین اور تمام مسلمین الیٰ یومنا ھذا کافر ہوں اور آپ خود بھی جس زمانہ میں اعتقاد نصوص صریحہ بینہ قطعیہ کا کافر ہوتا ہے۔

دلیل کتاب اللہ وسنت رسول اللہ اس کے لئے ہے۔ یا محدث یا کسی فقیہ کا اس کے ثبوت کے لئے پیش کیجئے

ہے: ’’والمدعى من نصب نفسه لاثبات الجزى الذي تكلم به من حيث انه اثبات مولانا عصام الملۃ والدین نے شرح رسـ يفيد مطابقة النسبة الواقع‘‘

٥٧

صفحہ ٦٧

مسیح فوت ہو گیا۔ پس اس وجہ سے آپ سے ثبوت مانگا جاتا ہے کہ آپ اپنے پہلے بیان کے مخالف دوسرا بیان کرتے ہیں اور اس دعویٰ میں ایک جدت ہے۔ جس کے آپ خود قائل ہیں اور اگر قبل سے یہ خیال تھا تو اس خیال کا یقین قانون قدرت یعنی سنت اللہ و آیات قرآن سے آپ کو حاصل ہو گیا تھا یا نہیں؟ بر تقدیر اوّل آپ نے قبل الہام مذکور براہین وغیرہ میں اس کو کیوں نہیں ظاہر فرمایا اور اپنے پرانے باطل خیال پر باوجود یقین بطلان کے کیوں اڑے رہے؟ اور تقدیر ثانی بعد الہام کے اس خیال کا یقین آپ کو حاصل ہوا یا نہیں؟ اگر نہیں ہوا تو صرف ایک ظنی یا شکی یا وہمی بات پر اصرار خلاف دیانت ہے اور اگر بعد الہام کے یقین اس خیالی وفات کا آپ کو حاصل ہوا تو ظاہر ہے کہ مفید یقین اس وقت آپ کا الہام ہوا نہ سنت اللہ و آیات قرآن کریم اور آپ کا ملہم ہونا ابھی تک پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچا۔ اس تقدیر پر آپ پر واجب ہے کہ پہلے اپنا ملہم ہونا ثابت کیجئے۔ پھر ہر الہام کا حجت ہونا، ملہم وغیر ملہم پر ثابت کیجئے۔ بعد اثبات ان دونوں امر کے دعویٰ وفات مسیح اور اپنے مسیح موعود ہونے کا پیش کیجئے۔ بغیر اس کے آپ کا دعویٰ وفات مسیح ومسیح موعود ہونے کا عندالعقلاء ہرگز لائق سماعت نہیں ہے۔

سوم ...... اس مقام پر نصوص قرآنیہ قطعی طور پر وفات مسیح پر دلالت کرتی ہیں یا نہیں؟ بر تقدیر ثانی آپ کا ان کو صریحہ بیّنہ قطعیہ کہنا باطل ہے اور بر تقدیر اوّل لازم آتا ہے کہ آپ کے نزدیک وہ سب صحابہ و تابعین و تبع تابعین اور تمام مسلمین الیٰ یومنا جو حیات مسیح کے قائل ہیں۔ ”أعاذنا الله منہ“ کافر ہوں اور آپ خود بھی جس زمانہ میں اعتقاد حیات مسیح کا رکھتے تھے کافر ہوں۔ کیونکہ منکر نصوص صریحہ بیّنہ قطعیہ کا کافر ہوتا ہے۔

چہارم ...... آپ نے جو تعریف مدعی کی بیان کی ہے۔ یہ محض اپنی رائے سے بیان کی ہے یا کوئی دلیل کتاب اللہ و سنت رسول اللہ اس کے لئے ہے۔ یہ نہ سہی کوئی قول کسی صحابی یا تابعی یا کسی مجتہد یا محدث یا کسی فقیہ کا اس کے ثبوت کے لئے پیش کیجئے۔

پنجم ...... یہ تعریف مدعی کی، مخالف ہے اس کے جس کو علماء مناظرہ نے لکھا ہے۔ رشیدیہ میں ہے: ”والمدعی من نصب نفسه لاثبات الحكم اى تصدى لان يثبت الحكم الجزی الذی تکلم به من حیث إنه اثبات بالدليل او التنبيه“ مولانا عصام الملۃ والدین نے شرح رسالہ عضدیہ میں لکھا ہے: ”المدعى من يفيد مطابقة النسبة الواقع“

٥٧

صفحہ ٦٩

اور یہ دونوں تعریفیں آپ پر صادق آتی ہیں اور آپ کی تعریف مخالف ہے۔ ان دونوں تعریفوں کے۔

قولہ ...... (قادیانی) معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ مولوی صاحب نے یہ دعویٰ تو کر دیا کہ ہم حیات جسمانی مسیح ابن مریم آیات قطعیۃ الدلالت سے پیش کریں گے۔ لیکن بحث کے وقت اس دعویٰ سے ناامیدی پیدا ہو گئی۔ اس لئے اب اس طرف رخ کرنا چاہتے کہ دراصل مسیح ابن مریم کی حیات جسمانی ثابت کرنا ہمارے ذمہ نہیں۔

اقول ...... (محمد بشیر) یہ آپ کا سوء ظن ہے اور ہر مسلم مامور ہے۔ اپنے بھائی کے ساتھ حسن ظن کرنے کے لئے چہ جائیکہ آپ سا شخص مدعی الہام ومجددیت ومسیحیت۔ آپ کو بالاولیٰ حسن ظن چاہئے۔ میں نے صرف ایک امر نفس الامری کا اظہار کر دیا۔ ورنہ میں تو بار ثبوت حیات اپنے ذمہ لے چکا ہوں اور اس کا ثبوت ایک قاعدہ نحویہ اجماعیہ کی بناء پر آپ کے روبرو پیش کیا گیا۔ مگر افسوس کہ آپ نے اس قاعدہ اجماعیہ کے انکار میں کچھ حیا کو کام نہ فرمایا۔

اب میں اس قاعدہ سے قطع نظر کر کے عرض کرتا ہوں۔ بفضلہ تعالیٰ میرا دعویٰ حیات مسیح آپ کے اقرار سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ بیان اس کا یہ ہے کہ آپ نے توضیح المرام وازالۃ الاوہام میں اس امر کا اقرار کیا ہے کہ ضمیر موتہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ اب آپ چاہے قاعدہ نحویہ اجماعیہ کو مانئے یا نہ مانئے۔ ہر طرح میرا مدعا ثابت ہے۔ کیونکہ یا تو آپ لیؤمنن کو بمعنی استقبال لیجئے گا یا بمعنی حال یا بمعنی استمرار یا بمعنی ماضی۔

شق اول میں تو میرے مطلوب کا حاصل ہونا محتاج بیان نہیں ہے۔

شق ثانی، اوّل تو بدیہی البطلان ہے۔ سوا اس کے مطلوب اس سے بھی حاصل ہے۔ کیونکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ نزول آیت میں سب اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قبل ان کی موت کے ایمان لاتے تھے۔ پس معلوم ہوا کہ زمان نزول آیت تک زندہ تھے اور رفع یقیناً اس سے پہلے ہوا تو معلوم ہوا کہ زندہ اٹھائے گئے۔ وھو المطلوب!

شق ثالث، اوّل تو بدیہی البطلان ہے۔ سوا اس کے اس شق پر شق اوّل سے بھی زیادہ حصول مدعی ظاہر ہے۔ کیونکہ اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ سب اہل کتاب زمانہ گذشتہ وحال واستقبال میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کے مرنے سے پہلے ایمان لاتے ہیں۔ پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ زمانہ ماضی وحال میں زندہ تھے اور استقبال میں بھی ایک زمانہ تک زندہ رہیں گے۔ رفع کے وقت زندہ تھے۔

٥٨

شق رابع باطل ہے۔ اس لئے کہ ایسا مضار میں نون تاکید ہو۔ بمعنی ماضی کہیں نہیں آیا۔ آپ قواعد نحو ماضی آنا قرآن یا صحیح حدیث سے ثابت کیجئے۔ و دونه خ

افسوس کہ آپ کو جب الزام موافق قواعد نحویہ د نہیں کرتے اور اگر آپ کے مسلمات سے آپ کو الزام د یہ امر اوّل دلیل ہے۔ اس بات پر کہ آپ کو احقاق حق اور ا

قولہ ...... (قادیانی) پھر اس کے بعد آپ نے نصوص ص دوبارہ آیت ”لیؤمنن“ کے نون ثقیلہ پر زور دیا ہے۔

اقول ...... (محمد بشیر) ”ان من اهل الکتاب“ صریح دلالت اس کے قطعیہ میں محل نہیں ہے۔

قولہ ...... (قادیانی) اور جمہور مفسرین صحابہ اور تابعین کی وجہ سے اس بات پر زور دیا ہے کہ آیت بوجہ نون ثقیلہ

اقول ...... (محمد بشیر) یہ قول غلط محض ہے۔ جمہور مفسر بمعنی حال یا استمرار نہیں لیا ہے۔ اگر سچے ہو تو ثابت کر کتابی کی طرف راجع کی ہے۔ اس سے معنی حال یا استق آپ کے کوئی اہل علم ایسی بات منہ سے نہیں نکال سکتا۔ م ہے۔ جیسا کہ آپ پہلی تحریر میں اقرار کر چکے ہیں۔

قولہ ...... (قادیانی) ان معنوں پر زور دینے کے وقت و جو پہلے ہم دونوں کے درمیان قرار پا چکی تھی کہ ”قال ا جائیں گے۔

اقول ...... (محمد بشیر) ایک قاعدہ نحویہ اجماعیہ کو ”قال ا کسی کے نزدیک خارج ہونا نہیں۔ یہ صرف آپ کا ا سکتے۔ بلکہ یہ خروج بقول آپ کے آپ پر لازم آگیا ۔ ج ٣ ص ٤٢٥) میں اس کے مرتکب ہوئے ہیں۔ عبارت ا وہ نہیں سوچتے کہ آیت ”فلما توفیتنی

٥٩

صفحہ ٦٩

شق رابع باطل ہے۔ اس لئے کہ ایسا مضارع کہ اس کے اول میں لام تاکید اور آخر میں نون تاکید ہو۔ بمعنی ماضی کہیں نہیں آیا۔ آپ قواعد نحو کو مانتے ہی نہیں۔ ایسے مضارع کا بمعنی ماضی آنا قرآن یا صحیح حدیث سے ثابت کیجئے۔ ودونہ خرط القتاد!

افسوس کہ آپ کو جب الزام موافق قواعد نحویہ اجماعیہ کے دیا جاتا ہے تو اس کو آپ تسلیم نہیں کرتے اور اگر آپ کے مسلمات سے آپ کو الزام دیا جاتا ہے تو بھی آپ قبول نہیں کرتے۔

یہ امر ادل دلیل ہے۔ اس بات پر کہ آپ کو احقاق حق اور اظہار صواب ملحوظ نظر نہیں ہے۔

قولہ..... (قادیانی) پھر اس کے بعد آپ نے نصوص صریحہ بینہ قرآن وحدیث سے ناامید ہو کر دوبارہ آیت ”لیؤمنن“ کے نون ثقیلہ پر زور دیا ہے۔

اقول..... (محمد بشیر) ”ان من اہل الکتاب“ صریح و بین ہے اور نون ثقیلہ کا بمعنی استقبال کر دینا اس کے قطعیہ میں مخل نہیں ہے۔

قولہ..... (قادیانی) اور جمہور مفسرین صحابہ اور تابعین سے تفرد اختیار کر کے محض اپنے خیال خام کی وجہ سے اس بات پر زور دیا ہے کہ آیت بوجہ نون ثقیلہ کے خالص استقبال کے لئے ہوگئی ہے۔

اقول..... (محمد بشیر) یہ قول غلط محض ہے۔ جمہور مفسرین صحابہ اور تابعین نے اس آیت کا ہرگز بمعنی حال یا استمرار نہیں لیا ہے۔ اگر سچے ہو تو ثابت کرو۔ رہی یہ بات کہ بعض مفسرین نے ضمیر کتابی کی طرف راجع کی ہے۔ اس سے معنی حال یا استمرار لینا کسی طرح لازم نہیں آتا۔ سوائے آپ کے کوئی اہل علم ایسی بات منہ سے نہیں نکال سکتا۔ علاوہ ازیں اس تقدیر پر بھی استقبال ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ آپ پہلی تحریر میں اقرار کر چکے ہیں۔

قولہ..... (قادیانی) ان معنوں پر زور دینے کے وقت آپ نے اس شرط کا کچھ خیال نہیں رکھا۔ جو پہلے ہم دونوں کے درمیان قرار پا چکی تھی کہ ”قال الله وقال الرسول“ سے باہر نہیں جائیں گے۔

اقول..... (محمد بشیر) ایک قاعدہ نحویہ اجماعیہ کو ”قال الله“ میں جاری کرنا ”قال الله“ سے کسی کے نزدیک خارج ہونا نہیں۔ یہ صرف آپ کا اجتہاد ہے۔ جس کا ثبوت آپ نہیں دے سکتے۔ بلکہ یہ خروج بقول آپ کے آپ پر لازم آگیا۔ کیونکہ آپ خود (ازالہ اوہام ص ٦٠٢، خزائن ج ٣ ص ٤٢٥) میں اس کے مرتکب ہوئے ہیں۔ عبارت آپ کی یہ ہے۔

وہ نہیں سوچتے کہ آیت ”فلما توفیتنی“ سے پہلے یہ آیت ہے: ”واذ قال الله

٥٩

صفحہ ٧٠-٧١

یا عیسی ابن مريم أأنت قلت للناس (مائدہ:١١٦) ”ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اول اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ ”أتأمرون الناس بالبر وتنسون انفسكم وانتم تتلون الكتاب افلا تعقلون (بقره:٤٤) “

قولہ ..... (قادیانی) اور نہ ان بزرگوں کی عزت ومرتبت کا کچھ پاس کیا جو اہل زبان اور صرف اور نحو کو آپ سے بہتر جاننے والے تھے۔

اقول ..... (محمد بشیر) آپ ایسی باتیں کرنے سے لوگوں کو مغالطہ دینا چاہتے ہیں۔ بھلا صاحب اس قاعدہ کے جاری کرنے سے ان بزرگوں کی عزت ومرتبت میں معاذ اللہ کس طرح نقصان آسکتا ہے۔ ان کے کلام میں تصریح حال یا استمرار کی کہاں ہے؟ یہ تو صرف آپ کا اجتہاد ہے۔ آپ اپنے ساتھ ان بزرگوں کو ناحق شریک کرتے ہیں۔

قولہ ..... (قادیانی) ہمارے اوپر اللہ ورسول نے یہ فرض نہیں کیا کہ ہم انسانوں کے خودتراشیدہ قواعد صرف ونحو کو اپنے لئے ایسا رہبر قرار دیں کہ باوجودیکہ ہم پر کافی وکامل طور پر کسی آیت کے معنی کھل جائیں اور اس پر اکابر مؤمنین اہل زبان کی شہادت بھی مل جائے تو پھر بھی ہم اس قاعدہ صرف ونحو کو ترک نہ کریں۔

اقول ..... (محمد بشیر) یہ بھی آپ کی سراسر مغالطہ دہی پر مبنی ہے۔ کافی وکامل طور پر آیت کے معنی کا کھل جانا اور اس پر اکابر مؤمنین اہل زبان کی شہادت کا ملنا غیر مسلم ہے۔ ”وجھہ مر انفاً فتذکر “علاوہ اس کے آپ نے جو باوجود نہ کھلنے معنی آیت کے اور عدم شہادت اکابر مؤمنین اہل زبان کے ایک قاعدہ نحو یہ اجماعیہ کا محض اپنی بات بنانے کی غرض سے انکار کیا ہے۔ اس سے یہ احتمال قوی پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ کو التزام علوم لغت ونحو ومعانی اصول فقہ واصول حدیث سے جو کہ خادم کتاب وسنت ہیں، دیا جاوے گا تو آپ فوراً اس قاعدہ کا انکار کر جائیں گے اور یہ بات آپ کے علم ودیانت کے خلاف ہے۔ کیونکہ اہل علم کو ان علوم سے چارہ نہیں ہے اور ہم کو الفاظ قرآن وحدیث کے موافق لغت ومحاورہ عرب کے سمجھنا ضروری امر ہے۔ ورنہ کسی مسئلہ پر استدلال نہیں ہوسکتا ہے اور یہ امر ”فِي زماننا “ غیرممکن ہے کہ خود عرب جاکر ہر لغت ومحاورہ اور جمیع قواعد صرف ونحو ومعانی وغیرہ کی تحقیق کی جاوے۔ پس اگر آپ کو کسی اہل اسلام سے مباحثہ کرنا منظور ہے تو پہلے ان دو کاموں سے ایک کام کیجئے اور اگر ایک بھی آپ قبول نہ کریں گے تو یہ امر آپ کی گریز پر محمول ہوگا۔

٦٠

یا تو لغت صرف ونحو ومعانی واصول فقہ واصول حدیث اقرار کیجئے۔ یا بالفعل مناظرہ سب اہل اسلام سے موقوف کر کے تصنیف فرمائیے اور جو کچھ ان علوم میں آپ کو ترمیم کرنا ہو وہ تاکہ آپ کی مسلمات سے آپ کو الزام دیا جاوے۔ ورنہ موافق کیا ہے کوئی عاقل کسی عاقل کو الزام نہیں دے سکتا۔

قولہ ..... (قادیانی) آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں ’انّ موجود ہے۔

اقول ..... (محمد بشیر) اس کا جواب عامہ تفاسیر میں موجود ہے نقل کی جاتی ہے: ”وهذان اسم ان على لغة بلحارث ا للتثنية واعربوا المثنى تقديراً وقيل اسمها ضمی لساحران خبرها وقيل ان بمعنى نعم وما بعدها لا يدخل خبر المبتداء وقيل اصله انه هذان له وفيه ان المؤكد باللام لا يليق به الحذف “

قولہ ..... (قادیانی) جس میں بجائے ان ہذان کے ان ہذی

اقول ..... (محمد بشیر) یہ خطائے فاحش ہے۔ صواب یہ ہے کہ ہذان لکھا ہو۔

قولہ ..... (قادیانی) آپ کو یاد ہوگا کہ میرا یہ مذہب نہیں ۔ پاک ہیں۔ یاہمہ وجوہ متم ومکمل ہیں۔

اقول ..... (محمد بشیر) یہ بات اگر قواعد اختلافیہ کی نسبت اجماعیہ کی نسبت ایسا کہنا گویا دروازہ الحاد کا کھولنا اور سب قواعد جب غلط ٹھہرے خود عرب میں جا کر فی زماننا تحقیق پابندی قواعد کی باقی نہ رہے گی۔ ہر شخص اپنی ہوا کے موافق آپ کو چاہئے کہ قواعد اجماعیہ کے تسلیم کا جلد اشتہار دے د ونحو موافق قرآن وحدیث کے اپنے اجتہاد سے بنا کر جلد ش آپ سے بحث کی جاوے۔

٦١

صفحہ ٧١

یا تو لغت صرف ونحو ومعانی واصول فقہ واصول حدیث کی اجماعی باتوں کو تسلیم کرنے کا اقرار کیجئے۔ یا بالفعل مناظرہ سب اہل اسلام سے موقوف کر کے ایک الگ کتاب علوم مذکورہ میں تصنیف فرمائیے اور جو کچھ ان علوم میں آپ کو ترمیم کرنا ہو وہ کر لیجئے۔ اس کے بعد مباحثہ کیجئے تاکہ آپ کی مسلمات سے آپ کو الزام دیا جاوے۔ ورنہ موافق اس طریق کے جو آپ نے اختیار کیا ہے کوئی عاقل کسی عاقل کو الزام نہیں دے سکتا۔

قولہ ...... (قادیانی) آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں ”ان هذان لساحران“ آیت موجود ہے۔

اقول ...... (محمد بشیر) اس کا جواب عامہ تفاسیر میں موجود ہے۔ عبارت بیضاوی کی اس مقام پر نقل کی جاتی ہے: ”وهذان اسم ان علی لغة بلحارث ابن كعب فانهم جعلوا الالف للتثنية واعربوا المثنی تقدیراً وقيل اسمها ضمير الشأن المحذوف وهذان لساحران خبرها وقيل ان بمعنى نعم وما بعدها مبتداء وخبر وفيه ان اللام لا يدخل خبر المبتداء وقيل اصله انه هذان لهما ساحران فحذف الضمير وفيه ان المؤكد باللام لا يليق به الحذف“

قولہ ...... (قادیانی) جس میں بجائے ان ہذان کے ان ہذین لکھا ہو ۔ ٭

اقول ...... (محمد بشیر) یہ خطائے فاحش ہے۔ صواب یہ ہے کہ جس میں بجائے ان ہذین کے ان ہذان لکھا ہو۔

قولہ ...... (قادیانی) آپ کو یاد ہوگا کہ میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قواعد موجودہ صرف ونحو غلطی سے پاک ہیں۔ یا ہمہ وجوہ متمم و مکمل ہیں۔

اقول ...... (محمد بشیر) یہ بات اگر قواعد اختلافیہ کی نسبت کہی جائے تو مسلم ہے۔ لیکن قواعد اجماعیہ کی نسبت ایسا کہنا گویا دروازہ الحاد کا کھولنا اور سب احکام شرعیہ کا باطل کرنا ہے۔ کیونکہ قواعد جب غلط ٹھہرے خود عرب میں جا کر فی زماننا تحقیق لغت وقواعد صرف ونحو غیر ممکن ۔ پس پابندی قواعد کی باقی نہ رہے گی۔ ہر شخص اپنی ہوا کے موافق قرآن وحدیث کے معنی کرے گا۔ آپ کو چاہئے کہ قواعد اجماعیہ کے تسلیم کا جلد اشتہار دے دیجئے یا کوئی کتاب لغت وقواعد صرف ونحو موافق قرآن وحدیث کے اپنے اجتہاد سے بنا کر جلد شائع کیجئے۔ تاکہ انہی قواعد کے بنا پر آپ سے بحث کی جاوے۔

٦١

صفحہ ٧٢

قولہ ...... (قادیانی) قرآن کریم ان کی غلطی ظاہر کرتا ہے اور اکابر صحابہ اس پر شہادت دے رہے ہیں۔

اقول ...... (محمد بشیر ) ”سبحانك هذا بهتان عظيم (النور:١٦)“

قولہ ...... (قادیانی) اور اس خیال خام کی نحوست سے آپ کو تمام اکابر کی نسبت بدظنی کرنی پڑی۔

اقول ...... (محمد بشیر ) آپ ان اکابر کا مطلب نہیں سمجھے۔ فافہم!

قولہ ...... (قادیانی) ابھی میں انشاء اللہ تعالیٰ ! یہ آپ پر ثابت کر دوں گا کہ آیت ”لیؤمنن بہ“ آپ کے معنوں پر اس صورت میں قطعیۃ الدلالۃ ٹھہر سکتی ہے۔ جب ان سب بزرگوں کے قطعی الجہالت ہونے پر فتویٰ لکھا جائے اور نعوذ باللہ نبی معصوم کو بھی اس میں داخل کر دیا جائے۔

اقول ...... (محمد بشیر ) توضیح مرام سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ بقرینہ وفات مسیح پر دلالت کرتی ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٣٠٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) میں مرقوم ہے: ”اور قرآن شریف میں اگرچہ حضرت مسیح کے بہشت میں داخل ہونے کا بقرینہ کہیں ذکر نہیں۔ لیکن ان کے وفات پا جانے کا تین جگہ ذکر ہے۔“

حاشیہ میں وہ تین آیتیں آپ نے لکھی ہیں۔ ان میں سے آیت ”وان من اهل الكتاب“ بھی ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٣٨٥، خزائن ج ٣ ص ٢٩٨) میں ہے: ”غرض قرآن شریف میں تین جگہ مسیح کا فوت ہو جانا بیان کیا گیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٠٣، خزائن ج ٣ ص ٤٢٥) میں ہے: ”چوتھی آیت جو مسیح کی موت پر دلالت کرتی ہے وہ یہ آیت ہے کہ ان من أهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتة‘

جاننا چاہئے کہ آپ کی یہ تقریر بادنی تغیر آپ پر منعکس ہو جاتی ہے۔ تقریر اس کی یہ ہے کہ آیت ”لیؤمنن“ کے وفات مسیح پر اس وقت صریحۃ الدلالۃ ٹھہر سکتی ہے کہ ان سب بزرگوں کی جہالت پر فتویٰ لکھا جاوے۔ ”نعوذ بالله“ نبی معصوم کو بھی ان میں داخل کیا جاوے۔ ورنہ آپ کبھی اور کسی صورت میں دلالت کا فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔

قولہ ...... (قادیانی) اب میں آپ پر واضح کرتا ہوں کہ کیا اکابر مفسرین نے اس آیت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے لئے قطعیۃ الدلالۃ قرار دیا ہے یا کچھ اور بھی معنی لکھتے ہیں۔

٦٢

٧٣

اقول ...... (محمد بشیر ) یہ طعن بادنی تغیر آپ پر بھی وارد ہے اس سے اشد ہے۔ یعنی آپ نے فرمایا ہے کہ آیت ” مسیح پر دلالت کرتی ہے اور آپ کی بعض عبارات سے ہے۔ پس کیا اکابر مفسرین نے اس آیت کو حضرت عیسیٰ ہے۔ ایک نے بھی نہیں۔

قولہ ...... (قادیانی) کشاف ص ١٩٩ میں ”لیؤمنن بہ“

اقول ...... (محمد بشیر ) اس عبارت سے صرف اس قدر ثاب ہے۔ مفسرین نے قطعیۃ الدلالۃ ہونے کی تصریح نہیں کی۔ الدلالہ تصریح نہ کرنا قطعیۃ کو باطل نہیں کرتا۔ آپ کے نزد توفیتنی“ قطعیۃ الدلالۃ ہے۔ موت حضرت عیسیٰ علیہ ا حضرت عیسیٰ کی موت کے لئے قطعی الدلالۃ نہیں قرار دیا ہے

قولہ ...... (قادیانی) پھر نووی میں یہ عبارت لکھی ہے۔

اقول ...... (محمد بشیر ) نووی کی عبارت سے صرف اس قد موتہ کی کتابی کی طرف راجع کی ہے۔ اس سے آپ کے نز ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ کے نزدیک آیت ”وانی متوفی قطعیۃ الدلالۃ ہے۔ وفات مسیح پر حالانکہ تفسیر ابن کثیر میں لک بالوفاة ههنا النوم “ اور ایسا ہی آپ کے نزدیک دلیل صریح ہے۔ وفات مسیح پر اور حالانکہ وفات مسیح کا اس قول کے جس کو نووی نے اکثرین کا قول قرار دیا ہے اور ہے۔ اس کے بعد آپ نے عبارت مدارک اور بیضاوی ن ترجمہ کر کے اوراق کو بڑھایا ہے اور حالانکہ ان سب ۔ سوائے اس کے ضمیر موتہ میں اختلاف ہے اور اوپر ثاب دلالت صریحہ کے نہیں۔ ورنہ چاہئے کہ آپ سے ادلہ وفا ”فلما توفیتنی“ اور آیت ”وان من اهل الكتاب ”وهو خلاف ما ادعيتم“

٦٣

صفحہ ٧٣

اقول ...... (محمد بشیر) یہ طعن فساد فی تفسیر آپ پر بھی وارد ہوتے ہیں۔ بلکہ جو آپ نے طعن کی ہے اس سے اشد ہے۔ یعنی آپ نے فرمایا ہے کہ آیت ”وان من اهل الكتاب“ موت مسیح پر دلالت کرتی ہے اور آپ کی بعض عبارات سے مستنبط ہوتا ہے کہ یہ دلالت صریحی ہے۔ پس کیا اکابر مفسرین نے اس آیت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر دلیل ٹھہرایا ہے۔ ایک نے بھی نہیں۔

قولہ ...... (قادیانی) کشاف ص ١٩٩ میں ”لیؤمنن بہ“ کی آیت کے نیچے یہ تفسیر ہے۔

اقول ...... (محمد بشیر) اس عبارت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ مرجع موتہ میں اختلاف ہے۔ مفسرین نے قطعیۃ الدلالۃ ہونے کی تصریح نہیں کی۔ کئی معنی لکھے ہیں۔ لیکن مفسرین کا قطعی الدلالۃ تصریح نہ کرنا قطعیۃ کو باطل نہیں کرتا۔ آپ کے نزدیک ”انی متوفیک“ اور ”فلما توفیتنی“ قطعیۃ الدلالۃ ہے۔ موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حالانکہ مفسرین نے اس آیت کو حضرت عیسیٰ کی موت کے لئے قطعی الدلالۃ نہیں قرار دیا ہے۔ کچھ اور بھی معنی لکھے ہیں۔

قولہ ...... (قادیانی) پھر نووی میں یہ عبارت لکھی ہے۔

اقول ...... (محمد بشیر) نووی کی عبارت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ اکثروں نے ضمیر موتہ کی کتابی کی طرف راجع کی ہے۔ اس سے آپ کے نزدیک بھی قطعیۃ الدلالۃ میں فرق نہیں ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ کے نزدیک آیت ”انی متوفیک“ و آیت ”فلما توفیتنی“ قطعیۃ الدلالۃ ہے۔ وفات مسیح پر حالانکہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے: ”وقال الاکثرون المراد بالوفاة ههنا النوم“ اور ایسا ہی آپ کے نزدیک آیت: ”وان من اهل الكتاب“ دلیل صریح ہے۔ وفات مسیح پر اور حالانکہ وفات مسیح کا اس میں رائحہ بھی نہیں ہے۔ نہ برتقدیر اس قول کے جس کو نووی نے اکثرین کا قول قرار دیا ہے اور نہ برتقدیر قول آخر کے جو اس کا مقابلہ ہے۔ اس کے بعد آپ نے عبارت مدارک اور بیضاوی و تفسیر مظہری کی نقل کی ہے اور ہر ایک کا ترجمہ کر کے اوراق کو بڑھایا ہے اور حالانکہ ان سب سے اور کسی امر جدید کا فائدہ نہیں ہوا۔ سوائے اس کے ضمیر موتہ میں اختلاف ہے اور اوپر ثابت ہوا کہ مجرد اختلاف منافی قطعیت دلالت صریحہ کے نہیں۔ ورنہ چاہئے کہ آپ کے ادلہ وفات آیت ”انی متوفیک“ اور آیت ”فلما توفیتنی“ اور آیت ”وان من اهل الكتاب“ ادلہ قطعیہ اور دلیل صریح نہ ہوں۔ ”وهو خلاف ما ادعيتم“

٦٣

صفحہ ٧٥

اور تفسیر مظہری والے کا یہ قول: ”وكيف يصح هذا التاويل ما ان كلمة ان من اهل الكتاب شامل للموجودين فى زمن النبى صلى الله عليه وسلم البتة سواء كان هذا الحكم خاصاً بهم اولا فان حقيقة الكلام المحال ولاوجه لان يراد به فريق من اهل الكتاب يوجدون حين نزول عيسى عليه السلام“ مخدوش ہے اور مخالف ہے۔ عامہ تفاسیر کے، کیونکہ کلام کا حال کے لئے حقیقت ہونا اس تقدیر پر ہے کہ کوئی صارف نہ پایا جائے اور یہاں نون تاکید صارف موجود ہے اور یہی وجہ ہے۔ اس امر کی کہ اہل کتاب سے ایک فریق خاص مراد لیا جاوے۔ پس صاحب تفسیر مظہری کا یہ قول لاوجہ کوئی وجہ نہیں رکھتا۔

اور یہ جو تفسیر مظہری میں ہے: ”اخرج ابن المنذر عن ابى هاشم وعروة قالا فى مصحف ابی بن كعب وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتهم“ مخدوش ہے کہ تفسیر مظہری میں اس قرأت کی پوری سند مذکور نہیں۔ ابن کثیر نے اس قرأت کو اس طرح پر روایت کیا ہے ۔ ”حدثنى اسحاق بن ابراهيم ابن حبيب الشهيد حدثنا عتاب بن بشير عن خصيف عن سعيد بن جبير عن ابن عباس وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتهم“

اس میں دو راوی مجروح ہیں۔ اول خصیف ، دوم عتاب ابن بشیر۔

خصیف کے ترجمہ میں تقریب میں لکھا ہے: ”صدوق سيئ الحفظ خلط بآخره رمى بالارجاء“

میزان میں ہے: ”ضعفه احمد وقال ابوحاتم تكلم فى سوء حفظه وقال احمد ايضاً تكلم فى الارجاء وقال عثمان بن عبدالرحمان رأيت على خصيف ثياباً سوادا كان على بيت المال. انتهى ملخصاً“

عتاب کے ترجمہ میں میزان میں مرقوم ہے: ”قال احمد اتا عن خصيف بمنا كير اراها من قبل خصيف قال النسائى ليس بذاك فى الحديث وقال ابن المدينى كان اصحابنا يضعفونه وقال على ضربنا على حديثه. انتهى ملخصاً“

قولہ (قادیانی) اور بلاشبہ قرأت شاذہ حکم صحیح حدیث کا رکھتی ہے۔

٧٤

اقول ...... (محمد بشیر) عموماً یہ بات غلط ہے۔ ہاں قرأ خفیفہ غامضہ قادحہ سے خالی ہو۔ البتہ حکم حدیث صحیح کا دو رجال مجروح ہیں۔

قولہ ...... (قادیانی) اب فرض کے طور پر اگر قبول عکرمہ وغیرہ صحابہ ان معنوں کی سمجھ میں خطا پر تھے اور ت کامل درجہ پر ثابت نہیں تو کیا آپ کے دعویٰ قطعیۃ ال کا کچھ بھی اثر نہ پڑا۔ کیا وہ دعویٰ جس کے مخالف صحا اور دنیا کی تمام مبسوط تفسیریں باتفاق اس پر شہادت د

اقول ...... (محمد بشیر) نہ صحابہ کا اتفاق خلاف پر ہے قبل موتہ میں البتہ منقول ہیں۔ اس سے البتہ قطعیۃ آتا ہے۔ اس لئے کہ نظائر کتاب وسنت میں بکثرت مو اس کے اس بناء پر آپ کے ادلہ وفات میں سے آی توفيتنى“ و آیت ”وان من اهل الكتاب الدلالۃ کیونکہ ان آیات میں چند اقوال منقول ہیں ۔

قولہ ...... (قادیانی) مگر آپ جانتے ہیں کہ اکابر قبول نہیں کئے ہیں۔

اقول ...... (محمد بشیر) یہ کذب صریح ہے۔ تحریر سے ابن عباسؓ وابو مالکؒ وحسن بصریؒ وقتادہؒ عبد قبول کرنا ثابت ہے اور ابو ہریرہؓ کا اس معنی کا قبو ہے کہ یہ معنی بدلیل قاطع ثابت ہیں اور بھی ابن کثی بالصحة القول الاول وهو انه لا عيسى عليه السلام الا آمن به قبل م ابن جرير هو الصحيح المقصود من اليهود من قتل عيسى وصلبه وت ذلك. انتهى (تفسير ابن كثير ج ص ٤٠٢

٥

صفحہ ٧٥

اقول ...... (محمد بشیر ) عموماً یہ بات غلط ہے۔ ہاں قرأت شاذہ جو بسند صحیح متصل ہوکر شذوذ و دیگر علل خفیہ غامضہ قادحہ سے خالی ہو۔ البتہ حکم حدیث صحیح کا رکھتی ہے اور ابھی واضح ہوا کہ اس کی سند میں دو رجال مجروح ہیں۔

قولہ ...... (قادیانی) اب فرض کے طور پر اگر قبول کر لیں کہ اگر ابن عباسؓ اور علی ابن طلحہؓ اور عکرمہؓ وغیرہ صحابہ ان معنوں کی سمجھ میں خطا پر تھے اور قرأت ابیؓ بن کعب بھی یعنی ”قبل موتھم“ کامل درجہ پر ثابت نہیں تو کیا آپ کے دعویٰ قطعیۃ الدلالت ہونے آیت ”لیؤمنن بہ“ پر اس کا کچھ بھی اثر نہ پڑا۔ کیا وہ دعویٰ جس کے مخالف صحابہ کرام بلند آواز سے شہادت دے رہے ہیں اور دنیا کی تمام مبسوط تفسیریں باتفاق اس پر شہادت دے رہی ہیں۔ اب قطعیۃ الدلالۃ ہے۔

اقول ...... (محمد بشیر ) نہ صحابہ کا اتفاق خلاف پر ہے اور نہ تمام تفسیروں کا۔ ہاں دو قول مرجع ضمیر قبل موتہ میں البتہ منقول ہیں۔ اس سے البتہ قطعیۃ الدلالۃ اور صریح الدلالۃ ہونے میں فرق نہیں آتا ہے۔ اس لئے کہ نظائر کتاب وسنت میں بکثرت موجود ہیں۔ ”من شاء فلیراجع الیھا“ علاوہ اس کے اس بناء پر آپ کے ادلہ وفات میں سے آیت ”انی متوفیک“ آیت ”فلما توفیتنی “ وآیت ”وان من اھل الکتاب “ بھی نہ قطعیۃ الدلالت ٹھہرتی ہے۔ نہ صریحۃ الدلالۃ کیونکہ ان آیات میں چند اقوال منقول ہیں۔ ”فما ھو جوابکم فھو جوابنا“

قولہ ...... (قادیانی) مگر آپ جانتے ہیں کہ اکابر صحابہ اور تابعین سے کسی گروہ نے آپ کے معنی قبول نہیں کئے ہیں۔

اقول ...... (محمد بشیر ) یہ کذب صریح ہے۔ تحریر اول میں عبارت ابن کثیر نقل کی گئی ہے۔ اس سے ابن عباسؓ وابو مالکؓ وحسن بصری وقتادہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم وغیر واحد کا اس معنی کو قبول کرنا ثابت ہے اور ابو ہریرہؓ کا اس معنی کا قبول کرنا صحیحین میں مصرح ہے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ معنی بدلیل قاطع ثابت ہیں اور بھی ابن کثیر میں ہے: ”واولٰی ھٰذه الاقوال بالصحۃ القول الاوّل وھو انه لا یبقی احد من اھل الکتاب بعد نزول عیسٰی علیہ السلام الا اٰمن به قبل موت عیسٰی ولا شک ان ھٰذا الذی قاله ابن جریر ھو الصحیح المقصود من سباق الآی فی تقریر بطلان ما ادّعته الیھود من قتل عیسٰی وصلبه وتسلیم من سلّم لھم من النصاریٰ الجھلة ذلک۔ انتھی (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٤٠٢)“

٦٥

صفحہ ٧٦

قوله ..... (قادیانی) اور میں نے جو آپ کے قاعدہ نون ثقیلہ کا نام جدید رکھا تو اس کی یہ وجہ ہے کہ اگر آپ کا یہ قاعدہ تسلیم کر لیا جاوے۔ ” نعوذ بالله “ بقول آپ کے ابن عباسؓ جیسے صحابی کو جاہل و نادان قرار دینا پڑے گا۔

اقول ..... (محمد بشیر) میں نے تو وہی معنی جو تمام صحابی و تابعین و غیرہم سے منقول ہیں اور وہی قاعدہ جو عامہ مسلمین کا معمول رہا ہے۔ لکھے ہیں البتہ آپ کے مسائل مخترعہ کی بناء پر سارے صحابہ کو جاہل ماننا پڑتا ہے۔ فما هو جوابكم فهو جوابى ! علاوہ اس کے اوّل صحابہ کے کلام میں کہیں تصریح معنی حال کی نہیں ہے۔ ان کا کلام معنی مستقبل پر بھی محمول ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ آپ تحریر اوّل میں اس امر کا اعتراف کر چکے ہیں۔ باقی رہا یہ امر کہ جن لوگوں نے ضمیر کتابی کی طرف پھیری ہے۔ وہ اس امر میں خطا پر ہیں۔ یہ کوئی مقام استبعاد نہیں۔ آپ بہت سے صحابہ کو اکثر مسائل میں خطا پر جانتے ہیں۔

قوله ..... (قادیانی) اور قرأت قبل موتہم کو خواہ نخواہ افتراء قرار دینا پڑے گا۔

اقول ..... (محمد بشیر) خواہ نخواہ چہ معنی دارد! قرأت مذکور فی الواقع ضعیف ہے۔ لائق احتجاج نہیں۔ ” كما مر بیانه آنفاً “

قوله ..... (قادیانی) کیا آپ کا یہ نحوی قاعدہ ان اکابر کو جاہل قرار دے سکتا ہے اور کیا صدہا مفسرین کو بلکہ ہزارہا جو اب تک یہ معنی کرتے آئے۔ وہ جاہل مطلق اور آپ کے نحو سے غافل تھے۔

اقول ..... (محمد بشیر) یہ قول سراسر مبنی سوء فہم پر ہے۔ معنی مذکور کا فساد اس وجہ سے نہیں کہ وہ مخالف ہے۔ قاعدہ نحو کے بلکہ یہ معنی تو سراسر موافق ہیں۔ قاعدہ نحو کے کیونکہ اس معنی پر تو مضارع صریح بمعنی استقبال کیا گیا ہے۔ ذرا سوچ کر جواب دیجئے۔

قوله ..... (قادیانی) کوئی مبسوط تفسیر تو پیش کرو۔ جو ان معنوں سے خالی ہے۔ جس نے ان معنوں کو سب سے مقدم نہ رکھا۔ (الیٰ قولہ) بلکہ سب کے سب آپ ہی کے معنوں کو ضعیف ٹھہراتے ہیں۔

اقول ..... (محمد بشیر) دو بڑی تفسیریں معتبر پرانی پیش کرتا ہوں۔ ایک تفسیر ابن کثیر دوسری تفسیر ابن جریر کہ ان دونوں نے معنی مذکور کو مقدم نہیں رکھا اور نہ میرے معنی کو ضعیف کہا۔ بلکہ صحت کی تصریح کی ہے۔ پس اس مقام پر کذب صریح اس قول کا ” كالشمس في نصف النهار “ ظاہر ہو گیا۔

٦٦

صفحہ ٧٧

قولہ....... (قادیانی) حضرت اس قرأت سے حضرت مسیح ابن مریم کی زندگی کیونکر اور کہاں ثابت ہوئی۔ (آپ نے) تو قبل موتہ کے ضمیر سے مسیح کی زندگی ثابت کرنی تھی۔

اقول....... (محمد بشیر) یہ قول بھی سوء فہم پر مبنی ہے۔ میں نے یہ نہیں کہا ہے کہ قرأت مذکورہ سے مسیح بن مریم کی زندگی ثابت ہے۔ میں نے صرف یہ کہا ہے کہ قرأت مذکورہ مخالف ہمارے معنی کے نہیں۔ بالجملہ مقصود رفع مخالفت ہے۔ نہ اثبات دعویٰ۔ وبینہما فرق جلی!

قولہ....... (قادیانی) ہم نے تفاسیر معتبرہ کے ذریعہ سے اس کی اسناد پیش کر دی ہیں۔

اقول....... (محمد بشیر) سند میں جو جرح ہے وہ میں نے اوپر بیان کردی۔ فتذکر!

قولہ....... (قادیانی) بھلا اگر آپ حق پر ہیں تو تیرہ سو برس کی تفسیروں میں سے کوئی ایسی تفسیر تو پیش کیجئے جو ان معنوں کی صحت پر معترض ہو۔

اقول....... (محمد بشیر) تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن کثیر اور تفسیر فتح القدیر اور تفسیر فتح البیان اس معنی کی صحت پر معترض ہیں۔

قولہ....... (قادیانی) الہامی معنی جو میں نے کئے ہیں وہ درحقیقت ان معنوں کے معارف ہیں۔

اقول....... (محمد بشیر) یہ محض غلط ہے۔ کیونکہ الہامی معنی کا مدار اس پر ہے کہ ضمیر موتہ کی راجع طرف عیسیٰ کے ہے اور معنی مذکور کا مدار اس پر ہے کہ ضمیر موتہ کی راجع طرف کتابی کے ہے۔ پس سخت تعارض بین متخالف موجود ہے۔ مجھ کو سخت تعجب ہے۔ آپ کی دیانت سے کہ آپ باوجودیکہ ضمیر موتہ کا مرجع عیسیٰ ہونا اپنی کتب میں تسلیم کر چکے ہیں اور آیت ”وان من اھل الکتاب“ کو صریحۃ الدلالۃ وفات عیسیٰ پر کہتے ہیں۔ پھر اس اقراری حق سے کیوں اعراض کرتے ہیں اور ”جحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم“ کی وعید سے نہیں ڈرتے۔

قولہ....... (قادیانی) کیونکہ ہمارے نزدیک حال کسی ٹھہرنے والے زمانہ کا نام نہیں ہے۔

اقول....... (محمد بشیر) یہ امر مسلم ہے۔ بے شک زمانہ، نام مقدار غیر قار کا ہے اور حال ایک فرد ہے۔ زمانہ کا اور حد حقیقی حال کی باعتبار عرف کی یہی ہے کہ تکلم فعل کے پہلے زمانہ کا تو ماضی ہے اور تکلم فعل کے بعد کا زمانہ مستقبل ہے اور تکلم فعل کے مبداء سے منتہی تک زمانہ حال ہے۔ اس بناء پر ظاہر ہے کہ استقبال قریب ہرگز حال نہیں ہو سکتا ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قول کے تکلم کا زمانہ بعد ہے۔ زمانہ تکلم ”فلنولینک“ سے۔ پس اس کے استقبال ہونے میں کیا شک ہے۔

قولہ....... (قادیانی) جب آپ خود مستقبل قریب کے قائل ہو گئے۔ اسی طرح وہ بھی قائل ہیں۔

٦٧

صفحہ ٧٩

اقول ..... (محمد بشیر) فرق نہ کرنا درمیان مستقبل قریب وحال کے محصلین سے بعید ہے۔ جیسا کہ ماہر علم نحو پر بلکہ قاصر پر بھی مخفی نہیں ہے۔

قولہ ..... (قادیانی) یہ تو ہم نے تسلیم کیا کہ وعدہ ہے۔ مگر یہ کہاں سے ثابت ہے کہ وعدہ آنے والے لوگوں کے لئے خاص ہے۔

اقول ..... (محمد بشیر) یہ کس نے کہا کہ یہ وعدہ آنے والے لوگوں کے لئے خاص ہے۔ بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ اس کا ایفاء زمانہ آئندہ ہی میں ہو سکتا ہے۔ نہ حال میں اور اس بات میں جو آپ نے طول کیا ہے۔ اس کو اصل مطلب سے کچھ علاقہ نہیں اور ہم کو اس سنت اللہ سے ہرگز انکار نہیں کہ مجاہدہ کرنے پر ضرور ہدایت مرتب ہوتی ہے۔ صرف بحث اس میں ہے کہ یہ سنت اللہ ان آیات وعد و وعید سے ثابت نہیں ہے۔ بلکہ اس کے لئے دوسری آیات دلیل ہیں۔

قولہ ..... (قادیانی) اب دیکھئے کہ ان آیات سے بھی آپ کا دعویٰ قطعیۃ الدلالت ہونا آیت لیؤمنن بہ کا کس قدر باطل ثابت ہوتا ہے۔

اقول ..... (محمد بشیر) آیات منافی قطعیۃ الدلالت ہونے آیت لیؤمنن کے نہیں۔ بلکہ آیت لیؤمنن آیات مذکورہ کی مخصص واقع ہوئی ہے۔

قولہ ..... (قادیانی) حلیم وہ ہے جو مبلغ الحلم کا مصداق ہو۔

اقول ..... (محمد بشیر) یہ حصر غیر مسلم ہے۔ کیونکہ حلیم قرآن مجید میں صفت غلام کی آئی ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے فبشرناہ بغلام حلیم اور غلام کے معنی کودک صغیر کے ہیں۔ ” کما فی الصراح “ پس محتمل ہے کہ حلیم اس مقام پر ماخوذ حلم سے ہو جو آہستگی و بردباری کے معنی میں ہے۔ ” کما فی الصراح “ قاموس میں ہے۔ ” والحلم بالکسر الاناة والعقل جمعہ احلام وحلوم ومنہ ام تامرہم احلامہم وہو حلیم جمع حلماء واحلاما “

قولہ ..... (قادیانی) جب کہ عیسیٰ بن مریم کی حیات ہی ثابت نہیں ہوتی اور موت ثابت ہورہی ہے تو عیسیٰ کے حقیقی معنی کیونکر مراد ہو سکتے ہیں؟

اقول ..... (محمد بشیر) اس کلام میں بدوجوہ شک ہے۔

اول ..... یہ کہ آیت ” وان من اھل الکتاب “ سے آپ کے اقرار سے صراحتاً موت ثابت ہے۔ کیونکہ آپ نے توضیح المرام وازالہ اوہام میں اقرار کیا ہے کہ ضمیر موتہ عیسیٰ کی طرف راجع ہے

٦٨

اور بعد اقرار اس امر کے حیات کا اقرار لازم آتا ہے۔ ” کما مر بیانہ “

دوم ..... بر تقدیر موتہ بھی نزول خود حضرت عیسیٰ کا نہ عقلاً محال ہے نہ شرعاً۔ اور جو امر محال عادی و عقلی نہ ہو اور مخبر صادق اس کی خبر دے تو اس سے انحراف جائز نہیں۔ حالانکہ نزول عیسیٰ کی خبر متواتر موجود ہے۔

قولہ ..... (قادیانی) جب آپ حیات مسیح کو ثابت کر دکھائیں گے تب مانا جائے گا۔

اقول ..... (محمد بشیر) اس میں کچھ ملازمہ نہیں۔ بر تقدیر وفات بھی اس کے نزول سے انکار کی کوئی وجہ معقول نہیں ہے۔

قولہ ..... (قادیانی) دیکھئے بخاری میں وہ حدیثیں بھی ہیں۔ جن سے مراد کوئی مثیل لیا گیا ہے۔

اقول ..... (محمد بشیر) ظاہراً اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوائے ان چند احادیث کے اور حدیثیں بھی بخاری میں ایسی ہیں۔ جن میں ابن مریم کا ذکر کر کے اس سے مثیل آپ کو چاہئے کہ براہ عنایت ان احادیث کو نقل فرمائیں تاکہ ان پر بحث کی جائے کہ ان سے مثیل مراد لیا گیا ہے یا نہیں۔

قولہ ..... (قادیانی) افسوس کہ اب تک آپ کچھ پیش نہ کر سکے۔

اقول ..... (محمد بشیر) افسوس کہ باوجود اس کے کہ آپ کے نزدیک آیت ” وان من اھل الکتاب “ سے صراحۃً ثابت ہوگئی۔ پھر بھی آپ اس کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ” انا للہ وانا الیہ راجعون. والى اللہ المشتکی “ اب سنئے یہ تو آپ کی تحریر کا جواب ترکی بہ ترکی ہو چکا ۔ اب میں آپ کو ایک اور فیصلہ کن جواب دیا جاتا ہے۔ آپ اگر انصاف کے مدعی ہیں تو اس فیصلہ کو بغور ملاحظہ فرما لیں اور جواب ترکی بہ ترکی سے تعارض نہ کریں۔ ایسا کریں گے تو ہم سمجھیں گے کہ آپ انصاف کرنا نہیں چاہتے اور احقاق حق سے آپ کو غرض نہیں ہے۔ ورنہ ہم نے تو محض للہ اور نیک نیتی سے احقاق حق کی غرض سے اپنے ان جملہ دلائل کو جن کو ہم نے آپ کے رسائل سے جمع کیا تھا یک بارگی قلم بند کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا اور ان کا نام ” فیصلہ ربانی بر ادعائے

٦٩

صفحہ ٧٩

اور بعد اقرار اس امر کے حیات کا اقرار لازم آتا ہے۔ ”کما مر تقریره بحيث لا يحوم حوله شک“

دوم ..... بر تقدیر موت کے بھی نزول خود حضرت عیسیٰ کا نہ محال ہے اور نہ محال عادی اور جو چیز محال عادی و عقلی نہ ہو اور مخبر صادق اس کی خبر دے تو اس سے انحراف جائز نہیں اور احادیث صحیحہ میں نزول عیسیٰ کی خبر متواتر موجود ہے۔

قولہ ..... (قادیانی) جب آپ حیات مسیح کو ثابت کر دکھائیں گے تو پھر ان کا نزول بھی مانا جائے گا۔

اقول ..... (محمد بشیر) اس میں کچھ ملازمت نہیں۔ بر تقدیر وفات بھی نزول کے نہ ماننے کی کوئی وجہ معقول نہیں ہے۔

قولہ ..... (قادیانی) ورنہ بخاری میں وہ حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں ابن مریم کا ذکر کر کے ان سے مراد کوئی مثیل لیا گیا ہے۔

اقول ..... (محمد بشیر) ظاہراً اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوائے احادیث نزول کے دیگر احادیث بھی بخاری میں ایسی ہیں۔ جن میں ابن مریم کا ذکر کر کے اس سے مراد اس کا کوئی مثیل لیا گیا ہے۔ پس آپ کو چاہئے کہ براہ عنایت ان احادیث کو نقل فرمائے تا کہ اس میں نظر کی جاوے کہ وہاں مثیل مراد لیا گیا ہے یا نہیں۔

قولہ ..... (قادیانی) افسوس کہ اب تک آپ کچھ پیش نہ کر سکے۔

اقول ..... (محمد بشیر) افسوس کہ باوجود اس کے کہ آپ کے اقرار سے حیات مسیح آیت ”و ان من اهل الکتاب“ سے صراحۃً ثابت ہو گئی۔ پھر بھی آپ ایسا فرماتے ہیں۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون۔ والی اللہ المشتکیٰ“

اب سنئے یہ تو آپ کی تحریر کا جواب ترکی بہ ترکی ہوا۔ اب ایک نہایت منصفانہ اور فیصلہ کرنے والا جواب دیا جاتا ہے۔ آپ اگر انصاف کے مدعی اور حق کے طالب ہیں تو اسی کا جواب دیں اور جواب ترکی بہ ترکی سے تعارض نہ کریں۔ ایسا کریں گے تو یقیناً سمجھا جائے گا کہ آپ فیصلہ کرنا نہیں چاہتے اور احقاق حق سے آپ کو غرض نہیں ہے۔ وہ جواب یہ ہے کہ میں نے کمال نیک نیتی سے احقاق حق کی غرض سے اپنے ان جملہ دلائل کو جن کو میں اس وقت پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یک بارگی قلم بند کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا تھا کہ میرا

٦٩

صفحہ ٨١

اصل متمسک اور مستقل دلیل پہلی آیت ہے اور اس کے قطعیۃ الدلالت کے ثبوت میں قواعد نحویہ اجماعیہ کو پیش کیا۔ آپ بھی نیک نیت اور طالب حق ہوتے تو اس کے جواب میں دو صورتوں میں سے ایک صورت اختیار کرتے یا تو میرے جملہ دلائل وجوابات سے تعرض کرتے اور ان میں سے ایک بات کا جواب بھی باقی نہ چھوڑتے۔ یا صرف میری اصل دلیل سے تعرض فرماتے۔ اس کے سوا کسی بات کے جواب سے معترض نہ ہوتے۔ آپ نے پہلی صورت اختیار کی نہ دوسری۔ بلکہ میری اصلی دلیل کے علاوہ اور باتوں سے بھی تعرض کیا۔ مگر ان کو بھی ادھورا چھوڑا اور بہت سی باتوں کا جواب حوالہ آئندہ پر چھوڑا اور ان کے مقابلہ میں اپنے دلائل احادیث بخاری وغیرہ کے بیان کو بھی آپ نے آئندہ پرچہ پر ملتوی کیا اور جو کچھ بیان کیا ایسے انداز سے بیان کیا کہ اصل دلیل سے بہت دور چلے گئے اور اپنے بیان کو ایسے پیرایہ میں ادا کیا کہ اس سے عوام دھوکہ کھائیں اور خواص ناخوش ہوں۔ اس کی مثال آپ کی یہ بحث ہے کہ آپ مدعی نہیں ہیں۔ صاحب من! جس حالت میں میں خود مدعی ہو کر دلائل پیش کر چکا تھا تو آپ کو اس بحث کی کیا ضرورت تھی۔

دوسری مثال یہ ہے کہ حضرت شیخنا وشیخ الکل کی رائے کا ذکر بے موقع کر کے لوگوں کو پھر جتانا چاہا کہ حضرت شیخ الکل بھی اس بحث میں آپ کے مخاطب ہیں۔ حالانکہ شیخ الکل کی بحث سے فرار اختیار کر کے آپ نے مجھے مخاطب بحث بنایا تھا۔ لہذا شیخ الکل کا ذکر میرے خطاب میں محض اجنبی و نامناسب تھا۔

تیسری مثال یہ ہے کہ آپ نے چند تفاسیر کی عبارات و اقوال بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم نقل کر کے عوام الناس کو یہ جتانا چاہا ہے کہ تمام مفسرین اور عامہ صحابہ و تابعین مسئلہ حیات وفات مسیح میں آپ کے موافق اور ہمارے مخالف ہیں اور یہ محض مغالطہ ہے۔ کوئی صحابی کوئی تابعی کوئی مفسر اس بات کا قائل نہیں ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام اس وقت زندہ نہیں ہیں۔

چوتھی مثال آپ کا عوام الناس کو یہ جتانا ہے کہ نون یؤمنن کو استقبال کے لئے ٹھہرانا تمام صحابہ ومفسرین کو جاہل قرار دینا ہے جو سراسر آپ کا دھوکا ومغالطہ ہے۔

آپ کی اس قسم کی باتوں کا میں تین دفعہ تو جواب ترکی بہ ترکی دے چکا۔ آئندہ بھی یہ ہی طریقہ جاری رہا تو اس سے آپ کو یہ فائدہ ہوگا کہ اصل بات ٹل جائے گی اور آپ کے اتباع میں آپ کی جواب نویسی ثابت ہو جائے گی۔ مگر اس میں مسلمانوں کا یہ حرج ہوگا کہ ان پر نتیجہ بحث ظاہر نہ ہوگا اور آپ کا اصل حال نہ کھلے گا کہ آپ لاجواب ہو چکے ہیں اور اعتقاد وفات مسیح میں خطا

٧٠

پر ہیں اور بات کو ادھر ادھر لے جا کر ٹلا رہے ہیں۔ لہذا آئندہ آ آپ کو بحث منظور اور الزام فرار سے احتراز مدنظر ہو تو زائد باتو وبحث کو محدود و محصور کریں۔

اور جو میں یہ شہادت قواعد نحویہ اجماعیہ مضمون آیہ اور بصورت صحت تخصیص اس مضمون کا وقت نزول مسیح سے مخصو در صورت تسلیم قواعد نحویہ اجماعیہ دو حرفی دیں کہ تمام قواعد نحوی قاعدہ غلط ہے اور اس کو فلاں شخص نے غلط قرار دیا ہے اور اس کی عرب عرباء سے یہ دلیل ہے اور بجائے اس کے قاعدہ صحیحہ فلاں یا یہ کہ فہم معنی قرآن کے لئے کوئی قاعدہ مقرر نہیں کے معنی گھڑ سکتا ہے اور در صورت تسلیم قاعدہ اور تسلیم تخصیص مضمون کے تخصیص زمانہ نزول مسیح سے فلاں دلیل کی شہادت فائدہ بیان کیا گیا ہے وہ اور صورتوں اور معنی سے بھی جو بیان اور اگر مجرد اختلاف مفسرین تفسیر آیت میں اسی تخ مفسرین آپ کے نزدیک لائق استدلال واستناد ہیں تو آپ جو در باب حیات مسیح وارد ہیں۔ قبول کریں یا ان کے ایسے معنی

ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ جہاں کے مفسرین اور ان میں کوئی اس کا قائل نہیں کہ مسیح ابن مریم اب زندہ نہیں ایک امام مفسر سے بہ سند صحیح اگر یہ ثابت کر دیں کہ حضرت م مسیح سے دست بردار ہو جائیں گے۔ لیجئے ایک ہی بات می ہے۔ اب اگر آپ یہ ثابت نہ کر سکے تو ہم سے جملہ مفسرین

ہم آئندہ پرچہ میں نقل کریں گے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں۔ گے اور اس سے نتیجہ بحث نکالیں گے۔ آپ سے ہم کو امی آئیں گے اور زائد باتوں کو چھوڑ کر صرف دو حرفی جواب د طلب کیا گیا ہے۔ و آخر دعوانا ان الحمد لله ر علی خیر خلقه محمد وآله واصحابه اجمعين

٧١

صفحہ ٨١

پر ہیں اور بات کو ادھر ادھر لے جا کر ٹلا رہے ہیں۔ لہٰذا آئندہ آپ کو اس پر مجبور کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کو بحث منظور اور الزام فرار سے احتراز مد نظر ہو تو زائد باتوں کو چھوڑ کر میری اصل دلیل پر کلام وبحث کو محدود و محصور کریں۔

اور جو میں بہ شہادت قواعد نحویہ اجماعیہ مضمون آیت کا زمانہ استقبال سے مخصوص ہونا اور بصورت صحت تخصیص اس مضمون کا وقت نزول مسیح سے مخصوص ہونا ثابت کیا ہے۔ اس کا جواب در صورت تسلیم قواعد نحویہ اجماعیہ دوحرفی دیں کہ تمام قواعد نحوی بے کار و بے اعتبار ہیں یا خاص کر یہ قاعدہ غلط ہے اور اس کو فلاں شخص نے غلط قرار دیا ہے اور اس کی غلطی پر قرآن یا حدیث صحیح یا اقوال عرب عرباء سے یہ دلیل ہے اور بجائے اس کے قاعدہ صحیحہ فلاں ہے۔

یا یہ کہ فہم معنی قرآن کے لئے کوئی قاعدہ مقرر نہیں ہے۔ جس طرح کوئی چاہے قرآن کے معنی گھڑ سکتا ہے اور در صورت تسلیم قاعدہ اور تسلیم تخصیص مضمون آیت بزمانہ استقبال اس مضمون کی تخصیص زمانہ نزول مسیح سے فلاں دلیل کی شہادت سے باطل ہے یا اس تخصیص سے جو فائدہ بیان کیا گیا ہے وہ اور صورتوں اور معنی سے بھی جو بیان کئے گئے ہیں۔ حاصل ہو سکتا ہے۔

اور اگر مجرد اختلاف مفسرین تفسیر آیت میں اسی تخصیص کا مبطل ہو سکتا ہے اور مجرد اقوال مفسرین آپ کے نزدیک لائق استدلال و استناد ہیں تو آپ مفسرین صحابہ و تابعین کے ان اقوال کو جو در باب حیات مسیح وارد ہیں۔ قبول کریں یا ان کے ایسے معنی بتا دیں جن سے وفات مسیح ثابت ہو۔

ہم دعوٰی سے کہتے ہیں کہ جملہ مفسرین اور جملہ صحابہ و تابعین ہمارے ساتھ ہیں۔ ان میں کوئی اس کا قائل نہیں کہ مسیح ابن مریم اب زندہ نہیں ہیں۔ آپ ایک صحابی یا ایک تابعی یا ایک امام مفسر سے بہ سند صحیح اگر یہ ثابت کر دیں کہ حضرت مسیح اب زندہ نہیں ہیں تو ہم دعویٰ حیات مسیح سے دست بردار ہو جائیں گے۔ لیجئے ایک ہی بات میں بات طے ہوتی ہے اور فتح ہاتھ آتی ہے۔ اب اگر آپ یہ ثابت نہ کر سکے تو ہم سے جملہ مفسرین و صحابہ و تابعین کے اقوال سنیں۔ جن کو ہم آئندہ پرچہ میں نقل کریں گے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں۔ عام ناظرین تو اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور اس سے نتیجہ بحث نکالیں گے۔ آپ سے ہم کو امید نہیں رہی کہ آپ اصل مدعا کی طرف آئیں گے اور زائد باتوں کو چھوڑ کر صرف دوحرفی جواب دیں جو اس منصفانہ جواب میں آپ سے طلب کیا گیا ہے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین! محمد بشیر عفی عنہ، ٢٧؍اکتوبر ١٨٩١ء

٧١

صفحہ ٨٣

مضمون جو وقت قطع مباحثہ کے سنایا گیا

بسم الله الرحمن الرحيم!

الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد الهادين وعلى آله واصحابه الراشدين المهديين. اما بعد!

بڑے افسوس کی بات ہے کہ میں نے سب شرطیں اور ضدیں مرزا قادیانی کی منظور کیں اور مرزا قادیانی نے پھر بھی اپنے تحریر و تقریر کی خلاف کیا۔ حضرات سامعین و ناظرین آپ کو یاد رہے کہ مجھ کو مرزا قادیانی نے بوساطت حاجی محمد احمد صاحب طلب کیا۔ میں آیا مرزا قادیانی نے تحریری بحث کی شرط کی۔ میں نے منظور کی مرزا قادیانی نے پہلے مجمع عام میں بحث کا وعدہ کر کے پھر اپنے مکان پر تخلیہ کی قید لگائی۔ وہ بھی میں نے منظور کی پھر اس تخلیہ میں بھی۔ یہ شرط کی کہ مولوی محمد حسین صاحب اور مولوی عبدالمجید صاحب نہ ہوں۔ میں نے اتماماً للحجۃ یہ بھی قبول کیا۔ حالانکہ یہ امر نہ مجھ کو زیبا تھا اور نہ مرزا قادیانی کے لئے قابل اظہار تھا۔ مرزا قادیانی نے گفتگو تحریری بالمواجہہ کرنی ٹھہرائی تھی۔ مگر جس وقت میں نے اپنا دعوٰی ان کے مکان پر لکھ کر پیش کیا تو کہا اس کو چھوڑ جاؤ۔ کل دس بجے جواب دوں گا۔ میں نے یہ بھی منظور کیا اور دوسرے دن دس بجے مرزا قادیانی کے مکان پر گیا اور تھوڑی دیر بیٹھا رہا۔ مرزا قادیانی کو اطلاع کرائی گئی تو خود نہ آئے اور کہلا بھیجا کہ ابھی پورا لکھا نہیں گیا۔ سہ پہر کو آنا۔ مرزا قادیانی نے خود ہی اپنی تحریر میں لکھا تھا کہ جانبین کی پانچ پانچ تحریریں ہوں۔ تاکہ بحث میں طول نہ ہو۔ میں نے یہ بھی منظور کیا۔ مگر ہنوز میری اور مرزا قادیانی کی تیسری تحریر ہے اور آج بحث ختم کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے ذمہ بار ثبوت تھا باوجود ادعائے چنان و چنین میرے ذمہ رکھا میں نے یہ بھی منظور کیا اور ثبوت حیات حضرت مسیح علیہ السلام قرآن وحدیث سے پیش کیا۔ مرزا قادیانی نے نہ اس کو قبول کیا اور نہ اس کا جواب حسب قاعدہ مناظرہ دیا۔ بلکہ فضول باتوں میں اپنا وقت ضائع کیا۔ جس سے عموماً ناظرین اور سامعین نتیجہ بحث سمجھ سکتے ہیں۔ آخر میں یہ بھی کہنا نامناسب نہیں سمجھتا کہ قطع بحث باوجود ان تمام امور مذکورہ بالا کے مرزا قادیانی ہی کرتے ہیں اور اپنے ان تمام رقعات کو ردی کرتے ہیں۔ جن میں یہ وعدہ لکھ چکے ہیں کہ اوّل بحث وفات وحیات مسیح میں ہوگی اور پھر نزول مسیح میں اور تیسری بحث میرے مسیح موعود ہونے میں جو کوئی ان میں انکار کرے اس کی گریز متصور ہوگی۔ پس سب صاحب ایماناً اور انصافاً کہہ دیں کہ فی الواقع مرزا قادیانی اپنے خیالات اور مقالات اور ایفاء وعدہ میں کس قدر سچے اور پکے اور مضبوط وقائم ہیں۔ فاعتبروا يا اولى الابصار!

٧٢

تحریر چہارم راقم مولانا بشیر سہسوانی جو بعد انقطاع

الحمد لله الذى هدانا للاسلام وما كنا والصلوة والسلام على سيدنا محمد سيد كل وصحبه واتباعه الرادين على كل دجال كذاب قـ

قولہ ...... اے ناظرین! آپ صاحبوں پر واضح ہے کہ حضـ سے تحریری مباحثہ شروع کر کے اس بات کا ثابت کرنا اپنـ زندہ اپنی خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے اور آج موجود ہیں۔

اقول ...... حضرت مسیح بن مریم کا زندہ اپنی خاکی جسم کے ساتھ خاکی جسم کے ساتھ موجود ہونا اگر چہ میرے نزدیک حق ہے مـ میں یہ دعویٰ میں نے نہیں کیا ہے۔ بالفعل جو دعویٰ مرزا قـ صرف یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام خاکی جسم کے ساتھ تدلیس دعویٰ کی شاید اس غرض سے کی ہے کہ آیت ”وان مـ حیات ثابت ہوتی ہے نہ خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھا ساتھ زندہ موجود ہونا ”وهذا البعيد من التقوى والد

قولہ ...... پھر چار آیتوں کو تو خود اس اقرار کے ساتھ چھوڑ جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہونا قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتـ الدلالہ نہیں ہیں۔

اقول ...... مخفی نہ رہے۔ قطعیۃ الدلالۃ کی دو قسمیں ہیں قطعیۃ الدلالۃ لغیر ہا پہلی آیت قطعیۃ الدلالۃ لذاتہا عـ ہیں۔ یعنی بضم آیت وان من اہل الکتاب اور اس امر ا ہے۔ پس مرزا قادیانی کا عموماً اور مطلقاً یہ قول کہ پھر چار آ کہ ان سے حضرت مسیح کا جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہوتـ وبہتان ہے۔ کیونکہ جس اعتبار اور حیثیت سے ان کو میں ان کو ہرگز نہیں چھوڑا۔ میں ان کو اب بھی قطعی کہتا ہوں۔

٧٣

صفحہ ٨٣

تحریر چہارم راقم مولانا بشیر سہسوانی جو بعد انقطاع مناظرہ لکھی گئی ہے

الحمد لله الذی ہدانا للاسلام وما کنا لنہتدی لولا ان ہدانا الله والصلوٰة والسلام علی سیدنا محمد سید کل صدیق اواب اواہ وعلی آلہ وصحبہ واتباعہ الرادین علی کل دجال کذاب تیاہ۔ اما بعد!

قولہ ...... اے ناظرین! آپ صاحبوں پر واضح ہے کہ حضرت مولوی محمد بشیر صاحب نے مجھ سے تحریری مباحثہ شروع کر کے اس بات کا ثابت کرنا اپنے ذمہ لیا تھا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم زندہ اپنے خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے اور آسمان پر اس خاکی جسم کے ساتھ زندہ موجود ہیں۔

اقول ...... حضرت مسیح بن مریم کا زندہ اپنے خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا اور آسمان پر اسی خاکی جسم کے ساتھ موجود ہونا اگرچہ میرے نزدیک حق ہے۔ مگر ابھی تک مرزا قادیانی کے مقابلہ میں یہ دعویٰ میں نے نہیں کیا ہے۔ بالفعل جو دعویٰ مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کیا گیا ہے۔ وہ صرف یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام خاکی جسم کے ساتھ زندہ موجود ہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ تدلیس دعویٰ کی شاید اس غرض سے کی ہے کہ آیت ’’وان من اہل الکتاب‘‘ سے تو صرف حیات ثابت ہوتی ہے نہ خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا اور نہ آسمان پر اس خاکی جسم کے ساتھ زندہ موجود ہونا ’’وھذا البعید من التقویٰ والدیانۃ‘‘

قولہ ...... پھر چار آیتوں کو تو خود اس اقرار کے ساتھ چھوڑ دیا کہ ان سے حضرت مسیح علیہ السلام کا جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہونا قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا۔ یعنی کئی احتمال رکھتے ہیں اور قطعیۃ الدلالۃ نہیں ہیں۔

اقول ...... مخفی نہ رہے۔ قطعیۃ الدلالۃ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قطعیۃ الدلالۃ لذاتہا اور دوسری قطعیۃ الدلالۃ لغیرہا پہلی آیت قطعیۃ الدلالۃ لذاتہا ہے اور دوسری آیات قطعیۃ الدلالۃ لغیرہا ہیں۔ یعنی بضم آیت وان من اہل الکتاب اور اس امر کی تصریح پہلی ہی تحریر میں خاکسار کر چکا ہے۔ پس مرزا قادیانی کا عموماً اور مطلقاً یہ قول کہ پھر چار آیتوں کو تو خود اس اقرار کے ساتھ چھوڑ دیا کہ ان سے حضرت مسیح کا جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہونا قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا۔ محض افتراء و بہتان ہے۔ کیونکہ جس اعتبار اور حیثیت سے ان کو میں نے قطعی کہا ہے اس اعتبار سے میں نے ان کو ہرگز نہیں چھوڑا۔ میں ان کو اب بھی قطعی کہتا ہوں۔

٧٣

صفحہ ٨٤

قولہ ...... اور فرماتے ہیں کہ جو حضرت ابن عباس وغیرہ صحابی نے اس کے مخالف معنی کئے ہیں۔ اقول ...... اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں سے سوائے ابن عباسؓ کے دوسروں نے بھی اس کے مخالف معنی کئے ہیں۔ حالانکہ تفاسیر معتبرہ میں سوائے ابن عباسؓ کے دوسرے کا قول منقول نہیں۔ "ومن يدعى فعليه البيان" اگر کہا جائے کہ ابی بن کعب کی قرأت میں قبل موتہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابی بن کعب کے نزدیک بھی معنی آیت کے وہی ہیں جو ابن عباسؓ کے نزدیک ہیں تو جواب یہ ہے کہ اس قرأت سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ معنی کے ابی بن کعب کے نزدیک بھی وہی ہوں جو ابن عباسؓ سے منقول ہیں۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ مراد یہ ہو کہ اہل کتاب موجودہ زمانہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی موت سے پہلے ایمان لاویں گے نہ یہ کہ نزع روح کے وقت ہر ایک اہل کتاب ان پر ایمان لاتا ہے اور مجرد موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف عائد کرنے سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ اس کے قائل کے نزدیک یہ معنی ہوں کہ ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے نزع روح کے وقت حضرت عیسیٰ پر ایمان لاتا ہے۔ بلکہ محتمل ہے کہ ان قائلین کی یہ مراد ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ہر کتابی ان پر اپنے مرنے سے پہلے ایمان لائے گا۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے تصریح اس کے خلاف کی کر دی ہے۔

قولہ ...... مولوی صاحب کی اس تقریر کا حاصل کلام یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ابن عباسؓ اور عکرمہ اور ابی بن کعب وغیرہ صحابہ نحوی غلطی پر اڑے ہوئے ہیں۔

اقول ...... ظاہر اس کلام کا یہ ہے کہ عکرمہ صحابہ میں سے ہیں۔ حالانکہ یہ غلط محض ہے۔ عکرمہ تو تابعین میں داخل ہے۔ علاوہ اس کے یہ قول دلالت کرتا ہے۔ اس پر کہ سوائے ابن عباسؓ اور ابی بن کعب کے اور صحابہ نے بھی یہ معنی کئے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی غلط محض ہے۔ ومن يدعى فعليه الاثبات!

قولہ ...... اور اگر مولوی صاحب نحوی غلطی کا ابن عباسؓ پر الزام قائم نہیں کرتے تو پھر کیا کوئی اور بھی وجہ ہے۔ جس کے رو سے مولوی صاحب کے خیال میں ابن عباسؓ کے وہ معنی اس آیت متنازع فیہ میں رد کے لائق ہیں۔ جن کی تائید میں ایک قرأت شاذہ بھی موجود ہے۔

اقول ...... مخفی نہ رہے کہ ابن عباسؓ سے جو معنی منقول ہیں اس سے ابن عباسؓ پر الزام نحوی غلطی کا نہیں لگایا جاتا ہے۔ بلکہ اس معنی کی اور وجوہ میں حاصل یہ ہے کہ جو معنی ابن عباسؓ سے منقول ہیں اس میں دو احتمال ہیں۔

٧٤

٨٥

اوّل ...... یہ کہ نہیں کوئی اہل کتاب میں سے خواہ زمانہ ماضی مگر وہ ایمان لاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے مرنے دوم ...... یہ کہ نہیں ہے کوئی اہل کتاب میں سے جو زمانہ نزو ایمان لاوے گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے مرنے سے پہلے کے موافق الزام نحوی غلطی کا آتا ہے۔ نہ دوسرے معنی کے موا دوسرے معنی مراد لئے ہوں۔ پس الزام نحوی غلطی کا ان کی طر ابن عباسؓ سے پہلے معنی سمجھے ہیں۔ جیسے نحوی وصاحب تفسیر غلطی کا عائد ہوگا۔ رہی یہ بات کہ کوئی اور بھی وجہ ہے کہ جس کی لائق ہیں تو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ ابن عباسؓ کے تسلیم نہیں۔ بوجہ وجوہ :

اوّل ...... وہ وجہ جو تحریر دوم میں خاکسار نے بیان کی ہے او میں اس کا جواب نہیں دیا۔ پس بمقتضائے السکوت فی مع مرزا قادیانی نے اس کو تسلیم کر لیا۔ محصل اس کا یہ ہے کہ اس وقت ہر شخص پر وہ حق کھل جاتا ہے جس کو وہ نہ جانتا تھا اور یہ ا ہے۔ اب آیت کو اگر خالص استقبال کے لئے لیجئے گا تو یہ شب شامل نہیں ہے اور یہ خلاف نفس الامر ہے۔ پس اس کلام میں ہے اور فائدہ کوئی نہیں۔ اگر بجائے لیؤمنن لفظ یؤمن یا آمنو مطلوب ہے وہ بھی حاصل ہوتی اور اختصار بھی پس قرآن مجی اس کے خلاف ہے کہ ایسی عمدہ عبارت چھوڑ کر بجائے اس کے ایہام خلاف نفس الامر ہے اور اطناب بلا فائدہ۔

دوّم ...... وہ وجہ ہے کہ جس سے سب معانی کا بطلان جو ہوتا ہے۔ خواہ وہ معانی ہوں جو اگلے مفسرین نے آنحضرت خواہ وہ جو اس زمانہ میں مرزا قادیانی اور ان کے اتباع نے ا کوئی اختراع کرے اور یہ وجہ میرے نزدیک اقوی الوجوہ کہہ چھوڑا تھا اگر مرزا قادیانی خلاف معاہدہ کے مباحثہ کو ٹا

٧٥

صفحہ ٨٥

مگر وہ ایمان لاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے مرنے سے پہلے زہوق روح کے وقت۔

ایمان لاوے گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے مرنے سے پہلے زہوق روح کے وقت۔ پہلے معنی کے موافق الزام نحوی غلطی کا آتا ہے۔ نہ دوسرے معنی کے موافق۔ پس محتمل ہے کہ ابن عباس نے دوسرے معنی مراد لئے ہوں۔ پس الزام نحوی غلطی کا ان کی طرف عائد نہ ہوگا۔ ہاں جو لوگ کلام ابن عباسؓ سے پہلے معنی سمجھے ہیں۔ جیسے نوی وصاحب تفسیر مظہری وغیرہما ان پر البتہ الزام نحوی غلطی کا عائد ہوگا۔ رہی یہ بات کہ کوئی اور بھی وجہ ہے کہ جس کی رو سے ابن عباسؓ کے یہ معنی رد کے لائق ہیں تو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ ابن عباسؓ کے یہ معنی علاوہ ضعف روایت کے قابل تسلیم نہیں۔ بچند وجوہ:

میں اس کا جواب نہیں دیا۔ پس بمقتضائے السکوت فی معرض البیان بیان یہ ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے اس کو تسلیم کرلیا۔ محصل اس کا یہ ہے کہ اس معنی کا مناط اس پر ہے کہ احتضار کے وقت ہر شخص پر وہ حق کھل جاتا ہے جس کو وہ نہ جانتا تھا اور یہ امر نفس الامر میں تینوں زمانوں کو شامل ہے۔ اب آیت کو اگر خالص استقبال کے لئے لیجئے گا تو یہ شبہ پیدا ہوگا کہ یہ امر زمانہ ماضی وحال کو شامل نہیں ہے اور یہ خلاف نفس الامر ہے۔ پس اس کلام میں یہ عیب ہوا کہ خلاف نفس الامر کا موہم ہے اور فائدہ کوئی نہیں۔ اگر بجائے لیؤمنن لفظ یومن یا یومنون اختیار کیا جاتا تو وعید اور تحریص جو مطلوب ہے وہ بھی حاصل ہوتی اور اختصار بھی پس قرآن مجید کی بلاغت جو حد اعجاز کو پہنچ گئی ہے۔ اس کے خلاف ہے کہ ایسی عمدہ عبارت چھوڑ کر بجائے اس کے لیؤمنن اختیار کیا جاوے کہ جس میں ایہام خلاف نفس الامر ہے اور اطناب بلا فائدہ۔

ہوتا ہے۔ خواہ وہ معانی ہوں جو اگلے مفسرین نے آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے اب تک لکھے ہیں خواہ وہ جو اس زمانہ میں مرزا قادیانی اور ان کے اتباع نے اختراع کئے ہیں یا آئندہ قیامت تک کوئی اختراع کرے اور یہ وجہ میرے نزدیک اقوی الوجوہ ہے۔ اخیر تحریر کے لئے میں نے اس کو رکھ چھوڑا تھا اگر مرزا قادیانی خلاف معاہدہ کے مباحثہ کو ناتمام چھوڑ کر دہلی سے نہ چلے جاتے تو

٧٥

صفحہ ٨٧

انشاء اللہ تعالیٰ چوتھی یا پانچویں تحریر میں ذکر اس کا ضرور کرتا۔ اب میں اس کو لکھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ضمیر قبل موتہ کی دو حال سے خالی نہیں یا تو راجع ہے طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تو مطلوب حاصل ہے۔ یعنی ثبوت حیات مسیح علیہ السلام خواہ لیؤمنن کو استقبال کے لئے خاص کیجئے یا نہیں۔ بر تقدیر استقبال تو ثبوت مدعا ظاہر ہے اور بر تقدیر حال قطع نظر اس احتمال کے صحت و فساد سے اس قدر ضرور ثابت ہوتا ہے کہ زمانہ نزول آیت تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ تھے جو زمانہ رفع عیسیٰ علیہ السلام سے چھ سو برس سے زائد کے بعد آیا ہے اور اس زمانہ کے بعد وفات پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ پس حیات ثابت ہوئی اور بر تقدیر استمرار قطع نظر اس احتمال کے صحت و فساد سے ثبوت مدعا اظہر من الشمس ہے اور لیؤمنن کو ماضی کے لئے لینا قطع نظر اس احتمال کے صحت و فساد سے صریح البطلان ہے۔ کیونکہ ایسا فعل مضارع جس کے اوّل میں لام تاکید اور آخر میں نون تاکید ہو۔ کہیں بمعنی ماضی نہیں آیا ہے۔ ”و من یدعی فعلیه البیان“ اور یا ضمیر قبل موتہ کی راجع طرف کتابی کے ہے۔ پھر یہاں تین احتمالات ہیں یا تو ضمیر بہ کی راجع ہے۔ طرف عیسیٰ علیہ السلام کے پس ضمائر ماقبل یعنی ماقتلوہ وما صلبوہ و فیہ ومنہ وبہ وما قتلوہ و بل رفعہ و بہ یہ سب آٹھ ضمائر راجع ہوئے۔ طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اور ضمیر مابعد یعنی ضمیر یکون بھی راجع ہے۔ طرف عیسیٰ علیہ السلام کے۔ پس اس سے ہر منصف سمجھ سکتا ہے کہ ظاہر نص قرآنی یہی ہے کہ ضمیر قبل موتہ کی بھی راجع ہے طرف عیسیٰ علیہ السلام کے اور صرف نص کا ظاہر سے بلا صارف قطعی جائز نہیں۔ کما تقرر فی الاصول والکلام اور یہاں کوئی صارف قطعی موجود نہیں ہے۔ اثر ابن عباسؓ صارف قطعی ہو نہیں سکتا ہے۔ کیونکہ:

”قال ابن كثير في تفسيره ذكر من قال ذلك حدثنا ابن بشار حدثنا عبدالرحمن عن سفيان عن أبي حصين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس وان من أهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى ابن مريم عليه السلام وقال العوفي عن ابن عباس مثل ذلك (تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٤٠١)“ اس اثر کے سب رجال صحیحین ہیں۔

٧٦

پہلا طریق یہ ہے۔ ”حدثنا ابو حذیفة حدثنا شبل عن ابن ابی نجیح عن مجاهد في قوله الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى ابن مريم وقال لا تخرج نفسه حتى يومن بعيسى كذافي تفسير ابن

ابن مسعود کا حال یہ ہے۔ تقریب میں ہے۔ ”صدوق سیء صغار التاسعة مات سنة عشرين اوبعدها وقد البخاري في المتابعات “ میزان الاعتدال میں ہے الترمذى وقال ابن خزيمة لا يحتج به وقال عبـ د الرحمن بن مہدی وقال ابواحمد الحاكم ليس بالقـ وى وقال يعقوب سمعت احمد يقول كان سفيان الذى يكره ان يحدث عنه الناس وقال ابو حـ اتم كان سفيان لمانزل البصرة ينفذه فى حوائجه یا ابو حذیفہ مجہول ہے۔ تقریب میں ہے۔ ”ابو حذیفـ ة مجہول من السادسة اور اس طریق میں عبداللہ بن ابی نجیح بھی ہے۔ تقریب میں ہے۔ ”وربما دلس من السادسـ ة قال القطان لم يسمع التفسير كله من مجاهد بل کـ ان عنعنہ مدلس کا مقبول نہیں ہے۔ دوسرا طریق یہ ہے۔ ”حد ثنا يحيى بن واضح حدثنا حسين بن واقد عن ابن عباس قال لا يموت اليهودي حتى يشهد ا ن عيسى عبدالله ورسوله كذافي تفسير ابن كثير “ پہلا راوی اس کا محمد بن حمید رازی ہے۔ وہ ضعیف محمد بن حمید الرازی حافظ ضعیف ابو زرعہ اور یحییٰ بن معین نے محمد بن حمید کو کذ اب کہا اور وقال س لیس ثقة “ خلاصہ میں ہے۔ ”وکـ ان یکذب ویضع الحدیث “

٧٧

صفحہ ٨٧

پہلا طریق یہ ہے۔ ”حدثنا ابو حذيفة حدثنا سهيل عن ابن ابی نجیح عن مجاهد فى قوله الا ليؤمنن به قبل موته كل صاحب كتاب ليؤمنن بعيسىٰ قبل موته قبل موت صاحب الكتاب وقال ابن عباس لوضربت عنقه لم تخرج نفسه حتى يومن بعيسى كذافى تفسير ابن كثير راوى“

اوّل......ابو حذیفہ ہے۔ یہ ابو حذیفہ یا موسیٰ بن مسعود ہے یا شیخ ہے یحییٰ بن ہانی بن عروہ کا موسیٰ ابن مسعود کا حال یہ ہے۔ تقریب میں ہے۔ ”صدوق سئ الحفظ وكان يصحف من صغار التاسعة مات سنة عشرين او بعدها وقد جاوز التسعين وحديثه عند البخارى فى المتابعات“ میزان الاعتدال میں ہے: ”تکلم فيه احمد وضعفه الترمذي وقال ابن خزيمة لا يحتج به وقال عمرو بن على لا يحدث عنه من ينصر الحديث وقال ابواحمد الحاكم ليس بالقوى عندهم وقال ابراهيم بن يعقوب سمعت احمد يقول كان سفيان الذى يحدث عنه ابو حذيفة ليس هو سفيان الذى يحدث عنه الناس وقال ابوحاتم صدوق معروف بالثورى كان سفيان لمانزل البصرة ينفذه فى حوائجه ولكن كان يصحف“ اور یحییٰ بن ہانی بن عروہ کا شیخ مجہول ہے۔ تقریب میں ہے۔ ابو حذیفہ غیر منسوب شیخ یحییٰ بن ہانی بن عروة مجہول من السادسة اور اس طریق میں عبداللہ بن ابی نجیح یسار المکی ابو یسار الثقفی واقع ہے۔ وہ مدلس ہے۔ تقریب میں ہے۔ ”وربما دلس من السادسة“ میزان میں ہے۔ ”قال یحییٰ القطان لم يسمع التفسير كله من مجاهد بل كله عن القاسم بن ابى بزة“ اور عنعنۂ مدلس کا مقبول نہیں ہے۔ دوسرا طریق یہ ہے۔ ”حدثنا ابن حميد حدثنا ابوتميله يحيى بن واضح حدثنا حسين بن واقد عن يزيد النحوى عن عكرمة عن ابن عباس قال لايموت اليهودى حتى يشهد ان عيسىٰ عبدالله ورسوله ولو عجل عليه مات بسلاح كذافى تفسير ابن كثير“

پہلا راوی اس کا محمد بن حمید رازی ہے۔ وہ ضعیف ہے تقریب میں ہے۔ ”محمد بن حمید بن حیان الرازی حافظ ضعیف انتهی“ کاشف میں ہے۔ ”محمد بن حميد الرازی الحافظ عن يعقوب بن بشير كثير المناكير وقال البخارى فيه نظر وقال س ليس ثقة “ خلاصہ میں ہے۔ ”وكذبه الكوسج وابوزرعة وصالح بن محمد وابن فراش“

٧٧

صفحہ ٨٨

میزان الاعتدال میں ہے۔ ”محمد ابن حميد الرازى الحافظ عن يعقوب القمى وابن المبارك من بحور العلم وهو ضعيف قال يعقوب بن بشير كثير المناكير وقال البخارى فيه نظر وكذبه ابوزرعة وقال فضلك الرازى عند ابن حميد خمسون الف حديث ولا احدث عنه بحرف وروى محمد بن شاذان عن اسحق الكوسج قال قرأ علينا ابن حميد كتاب البخارى عن سلمة فقلت اقرؤ عليه ابن حميد يعنى عن سلمة فتعجب على وقال سمعه محمد بن حميد منى وعن الكوسج قال اشهد انه كذاب وقال صالح جزرة كلنا نتهم ابن حميد فى كل شئ يحدثنا ما رأيت اجره على الله منه كان يا خذ احاديث الناس فيقلب بعضه على بعض وقال ابن خراش ثناه ابن حميد وكان والله يكذب وجاء عن غير واحد ان ابن حميد كان يسرق الحديث وقال النسائى ليس بثقة وقال صالح الجزرى ما رأيت احذق بالكذب من ابن حميد ومن ابن الشاذكوفى وقال ابوعلى النيشاپورى قلت لابن خزيمة لو حدث الاسناد عن ابن حميد فان احمد بن حنبل قد احسن الثناء عليه قال انه لم يعرفه ولو عرفه كما عرفناه لما اثنى عليه اصلا وقال ابو احمد العسال سمعت فضلك الرازى يقول دخلت على محمد بن حميد وهو يركب الاسانيد على المتون “

تیسرا طریق یہ ہے: ”حدثنى اسحق بن ابراهيم بن حبيب بن الشهيد حدثنا عتاب بن بشير عن خصيف عن سعيد بن جبير عن ابن عباس وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال هى فى قرأت ابى قبل موتهم ليس يهودى يموت ابداً حتى يؤمن بعيسى الحديث “ اس میں راوی عتاب بن بشیر ضعیف ہے اور وہ خصیف سے روایت کرتا ہے اور روایات اس کی خصیف سے منکر ہیں۔

کاشف میں ہے۔ ”قال احمد احاديثه عن خصيف منكرة “ ایسا ہی خلاصہ میں ہے۔ میزان میں ہے۔ ”قال احمد ارجوان لا يكون به باس الى من خصيف بمناكير اراها من قبل خصيف وقال النسائى ليس بذاك فى الحديث وقال ابن المدينى كان اصحابنا يضعفونه وقال على ضربنا على حديثه ملخصاً“ ٧٨

صفحہ ٨٩

اور اس طریق میں راوی ضعیف ہے اور وہ بہت مجروح ہے۔ تقریب میں ہے۔ ”الخصيف بالحاء المهملة مصغرا ابن عبدالرحمن الجزرى ابوعون صدوق سيّئ الحفظ خلط بآخره ورمى بالارجاء من الخامسة“ کاشف میں ہے۔ ”خصيف بن عبدالرحمن الجزری ابوعون مولیٰ بنى امة عن سعيد بن جبير ومجاهد وعنه سفيان وابن فضيل صدوق سيّئ الحفظ ضعفه احمد“ میزان میں ہے۔ ”ضعفه احمد وقال مرة ليس بقوى وقال ابوحاتم تكلم فى سوء حفظه وقال احمد ايضا تكلم فى الارجاء“ چوتھا طریق یہ ہے۔ ”روی ابوداؤد الطيالسى عن شعبة عن ابى هرون الغنوى عن عكرمة عن ابن عباسؓ“ اس میں راوی سلیمان بن داؤد الطیالسی ہے۔ اس نے بہت احادیث کی روایت میں خطا کی ہے۔ تقریب میں ہے۔ ”سليمان بن داؤد بن الجارود ابوداؤد الطيالسى البصرى ثقة حافظ غلط فى احاديث من التاسعه“ میزان میں ہے۔ ”قال ابراهيم بن سعيد الجوهرى الحافظ اخطا ابوداؤد فى الف حديث وقال ابوحاتم ابوداؤد محدث صدوق كثير الخطاء وقال محمد بن المنهال الضرير كنت اتهم اباداؤد وقال لى لم اسمع من ابن عون ثم سألته بعد سنة اسمعت من ابن عون قال نعم نحو عشرين حديثا“

پانچویں طریق میں علی بن ابی طلحہ راوی ہے۔ اس نے ابن عباسؓ سے تفسیر نہیں سنی ہے اور یہ راوی ضعیف بھی ہے اور قرأۃ شاذہ ابی بن کعب بھی صارف قطعی نہیں ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس میں دو راوی ضعیف ہیں ایک عتاب بن بشیر۔

دوم: ...... خصيف ! اگر کہا جاوے کہ آیت ”انى متوفيك ورافعك الیّ (آل عمران:٥٥) وآيت فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم (مائده:١١٧)“ اس کی صارف قطعی ہے تو جواب یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں کی بحث تحریر ہذا کے آخر میں انشاء اللہ تعالیٰ بیان کی جاوے گی اور اگر ضمیر بہ کی عائد کی جاوے طرف اللہ تعالیٰ یا محمد رسول اللہ ﷺ کے تو ان دونوں تقدیروں پر آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء:١٥٩)“ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ سے کچھ تعلق نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ اجنبیت محضہ ہے اور حالانکہ ماقبل و مابعد

٧٩

صفحہ ٩١

میں بیان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے اور اجنبی کلام کا وسط قصہ میں بغیر کسی فائدہ کے لانا نظم قرآن کو بلاغت سے گرانا ہے۔ علاوہ اس کے ان دونوں تقدیروں کے ابطال کے اور وجوہ بھی ہیں۔ جن کو انشاء اللہ تعالیٰ مقدمہ میں بیان کیا جائے گا۔ پس کتابی کی طرف ضمیر کے راجع کرنے میں تین احتمالات تھے۔ وہ تینوں باطل ہو گئے۔ پس متعین ہوا کہ ضمیر قبل موتہ کی عائد طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہے اور اس پر اور بھی دلیل ہے جو مقدمہ میں انشاء اللہ تعالیٰ لکھی جاوے گی اور یہ امر مبطل ہے اور ابن عباس کے معنی مذکور کا۔ وھو المطلوب!

وجہ سوم لیؤمنن میں ایمان کا لفظ واقع ہے اور یہ لفظ سارے قرآن مجید واحادیث میں اس ایمان کے لئے استعمال کیا گیا ہے جو شرعاً نافع ومعتد بہ ہے۔ یعنی ایمان قبل زہوق روح کسی ایک جگہ بھی قرآن وحدیث میں بغیر قرینہ صارفہ کے ایمان باس کے لئے نہیں آیا ہے۔ پس ظاہر ایمان سے ایمان قبل الباس ہے اور صرف آیت کا ظاہر سے بغیر صارف قطعی کے جائز نہیں ہے اور یہاں کوئی صارف قطعی پایا نہیں جاتا اور بالا ظاہر ہوا کہ اثر ابن عباس اور قرأت شاذہ ابی بن کعب مطلق صارف ہونے کی ہی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔ چہ جائیکہ صارف قطعی ہو اور ابن عباس کے معنی مذکور کے موافق ایمان سے ایمان باس مراد ہے۔

چہارم ...... ابن عباس کے معنی مذکور کے موافق قبل موتہ کی قید لغو ہوتی ہے۔ کیونکہ اس تقدیر پر موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف عائد ہوگی اور ظاہر ہے کہ ہر ایمان لانے والا اپنی موت سے پہلے ایمان لاتا ہے۔ بعد الموت تو متصور ہی نہیں۔ یہ قید اس تقدیر پر کلام الٰہی کو ایسا لغو کئے دیتی ہے۔ جیسا فارسی کا یہ شعر۔

دندان تو جملہ در دہان ست
چشمان تو زیر ابروان ست

پنجم ....... ابن عباس کے اس معنی کے موافق صرف لفظ قبل کا ظاہر معنی سے لازم آتا ہے۔ کیونکہ ظاہر قبل موتہ کا عام ہے۔ اس سب زمانہ کو شامل ہے جو موت سے پہلے ہے اور مقصود زمانہ زہوق روح کا ہے۔ اس تقدیر پر بجائے قبل موتہ کے عند موتہ یا وقت موتہ یا حین موتہ مناسب تھا۔

ششم ...... یہ معنی ابن عباس کے مبنی ہیں۔ روایت مذکورہ پر اور روایت مذکورہ کے سب طریق ضعیف ہیں۔ کما مر آنفاً!

قولہ ....... فرض کرو کہ وہ قرأت بقول حضرت مولوی صاحب کے ایک ضعیف حدیث ہے۔ مگر

٨٠

حدیث تو ہے یہ ثابت نہیں ہوا کہ وہ کسی مفتری کا افتراء ہے ترجیح دینے کے لئے کچھ بھی اثر نہیں ڈالتی۔

اقول ...... اگرچہ حدیث ضعیف تائید کے لئے کافی ہے۔ مگر وموتہ کی عائد طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہے اور صا روایت اس قرأت کی قطعی نہیں ہے۔

قولہ ...... ابن عباس اور عکرمہ پر یہ الزام دینا کہ وہ نحوی قا نہیں آتا۔

اقول ...... میں نے ابن عباس اور عکرمہ پر ہرگز یہ الزام نہیں کے لئے آپ کی چالاکی ہے۔ خدا سے ڈریئے اور ایسے صرف ابن عباس کی ایک روایت کو ضعیف وغیر معتبر کہا ہے ا کہ اس معنی کی بناء پر مخالفت قاعدہ نحویہ اجماعیہ کی لازم آ ثبوت اس روایت کے ابن عباس کی وہی مراد ہو۔ ہو سکتا ہوں جو اوپر مذکور ہوئے۔ ہاں دوسرے معنی کو بھی ادلہ س مخالفت قاعدہ نحویہ سے کچھ علاقہ نہیں ہے۔ بالجملہ میں نے قاعدہ سے بیخبری کا طعنہ نہیں دیا ہے۔ میں نے صرف تین کا کے رواۃ میں دوسرے اس روایت کے ایک معنی پر الزام اس روایت کے دوسرے معنی کو باطل کیا ہے۔ بادلۂ قاطع سبب طعن نہیں ہو سکتا ہے۔

قولہ ...... اگر وہ اپنے معنوں کو قطعیۃ الدلالۃ بنانا چاہ باتوں کا قطعی طور پر پہلے فیصلہ کر لیں۔ کیونکہ جب تک ان احتمال صحت باقی ہے اور ایسا ہی گو قرأت شاذہ بقول مولو صحت رکھتی ہے۔ تب تک مولوی صاحب کے معنی باوجو قطعی ٹھہر سکتے ہیں۔

ناظرین! آپ لوگ خود سوچ لیں کہ قطعی معن دوسری وجوہ سرے سے پیدا نہ ہوں یا پیدا تو ہوں۔ لیک مخالف معنوں کو توڑ دے۔

٨١

صفحہ ٩١

حدیث تو ہے یہ ثابت نہیں ہوا کہ وہ کسی مفتری کا افتراء ہے۔ پس کیا وہ ابن عباس کے معنوں کو ترجیح دینے کے لئے کچھ بھی اثر نہیں ڈالتی۔

اقول ...... اگرچہ حدیث ضعیف تائید کے لئے کافی ہے۔ لیکن ظاہر نص قرآنی یہ ہے کہ ضمیر بہ وموتہ کی عائد طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہے اور صارف نص کا ظاہر سے قطعی چاہئے اور روایت اس قرأت کی قطعی نہیں ہے۔

قولہ ...... ابن عباسؓ اور عکرمہ پر یہ الزام دینا کہ وہ نحوی قاعدہ سے بے خبر تھے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا۔

اقول ...... میں نے ابن عباسؓ اور عکرمہ پر ہرگز یہ الزام نہیں دیا ہے۔ یہ تو عوام کے فریب دینے کے لئے آپ کی چالاکی ہے۔ خدا سے ڈریئے اور ایسے افتراء سے پرہیز کیجئے۔ میں نے تو صرف ابن عباسؓ کی ایک روایت کو ضعیف وغیر معتبر کہا ہے اور اسی کے ایک معنی پر اعتراض کیا ہے کہ اس معنی کی بناء پر مخالفت قاعدہ نحویہ اجماعیہ کی لازم آتی ہے۔ پس کیا ضرور ہے کہ برتقدیر ثبوت اس روایت کے ابن عباسؓ کی وہی مراد ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ابن عباسؓ کی مراد دوسرے معنی ہوں جو اوپر مذکور ہوئے۔ ہاں دوسرے معنی کو بھی ادلہ سے میں نے رد کیا ہے۔ مگر اس کو الزام مخالفت قاعدہ نحویہ سے کچھ علاقہ نہیں ہے۔ بالجملہ میں نے ابن عباسؓ اور عکرمہؒ پر ہرگز الزام نحوی قاعدہ سے بیخبری کا نہیں دیا ہے۔ میں نے صرف تین کام کئے ہیں۔ ایک تکلم کیا ہے اس روایت کے رواۃ میں دوسرے اس روایت کے ایک معنی پر الزام دیا ہے مخالفت قاعدہ نحویہ کا تیسرے اس روایت کے دوسرے معنی کو باطل کیا ہے۔ بادلہ قاطعہ صریحہ اور ان امور میں سے کوئی امر سبب طعن نہیں ہو سکتا ہے۔

قولہ ...... اگر وہ اپنے معنوں کو قطعیۃ الدلالۃ بنانا چاہتے ہیں تو ان پر فرض ہے کہ ان دونوں باتوں کا قطعی طور پر پہلے فیصلہ کر لیں۔ کیونکہ جب تک ابن عباسؓ اور عکرمہ کے مخالف معنوں میں احتمال صحت باقی ہے اور ایسا ہی گو قرأت شاذہ بقول مولوی صاحب کے ضعیف ہے۔ مگر احتمال صحت رکھتی ہے۔ تب تک مولوی صاحب کے معنی باوجود قائم ہونے ان تمام احتمالات کے کیونکر قطعی ٹھہر سکتے ہیں۔

ناظرین! آپ لوگ خود سوچ لیں کہ قطعی معنی تو ان ہی معنوں کو کہا جاتا ہے۔ جن کی دوسری وجوہ سرے سے پیدا نہ ہوں یا پیدا تو ہوں۔ لیکن قطعیۃ کا مدعی دلائل شافیہ سے ان تمام مخالف معنوں کو توڑ دے۔

٨١

صفحہ ٩٣

اقول ...... مخفی نہ رہے کہ اس ناچیز نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے وہ تمام معانی جو مخالف میرے مدعا کے مباحثہ ہذا کے زمانہ تک ظاہر ہوئے تھے۔ دلائل شافیہ سے توڑ دیئے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے اب تک مفسرین نے اس آیت کے دو ہی معنی لکھے ہیں۔ دلالتہما ایک یہ کہ ضمیر قبل موتہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف عائد کی جاوے۔ اعم اس سے کہ بہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف عائد ہو یا اللہ تعالیٰ کی طرف یا آنحضرت ﷺ کی طرف سب کا مآل ایک ہے۔ یعنی آئندہ زمانہ میں ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے سب اہل کتاب اللہ تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ایمان لاویں گے۔ یہ معنی میں نے اختیار کئے ہیں اور یہی مثبت حیات مسیح عم ہیں۔ دوسرے یہ کہ ضمیر قبل موتہ کی کتابی کی طرف عائد ہو۔ اعم اس سے کہ بہ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف پھرے یا محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف پھرے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف مآل ایک ہے۔ یعنی ہر اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے زہوق روح کے وقت اللہ تعالیٰ و آنحضرت ﷺ وحضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لاتا ہے۔ اس معنی کو مع دونوں احتمالوں کے خاکسار نے باطل کر دیا اور مرزا قادیانی سے اس کا کچھ جواب نہ ہوسکا اور وہ تین معانی جو مرزا قادیانی اور ان کے اتباع کے مخترعات سے تھے۔ وہ بھی باطل کر دیئے کہ جن کا کچھ جواب مرزا قادیانی کی طرف سے نہ ہوسکا۔ پھر ایک تقریر آپ کی مسلمات کی بناء پر ایسی لکھی گئی ہے۔ جس سے سارے معنی جو مخالف میرے دعوے کے ہیں۔ اعم اس سے کہ حضرت ﷺ کے زمانہ سے اب تک کسی مفسر نے لکھے ہوں یا حال کے زمانہ میں کسی نے ایجاد کئے ہوں یا آئندہ قیامت تک کوئی ایجاد کرے باطل ہو گئے اور آپ سے اس کا کچھ جواب نہ ہوسکا۔ اب تحریر ہذا میں ایک دلیل حقیقی طور پر ایسی لکھی گئی ہے۔ جس سے معانی ماضیہ وموجودہ وآتیہ و تمام احتمالات عقلیہ جو مخالف میرے دعویٰ کے ہیں۔ قطعاً باطل ہو جاتی ہیں۔ اس دلیل کا تحریر چہارم یا پنجم میں لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی مباحثہ کو ناتمام چھوڑ کر فرار کر گئے۔ لہٰذا نوبت لکھنے کی نہ آئی۔ اس لئے تحریر ہذا میں لکھی گئی۔ الحمد لله حمداً كثيراً طيباً مباركاً فيه على ما احق الحق وابطل الباطل فماذا بعد الحق الا الضلال!

اب ناظرین با انصاف انصاف سے فرماویں کہ احتمالات معانی مخالفہ کا توڑنا مافوق اس کے متصور ہے۔ جیسا کہ حق تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس عاجز کے واسطے توڑ کر ظاہر کر دیا۔

٨٢

قولہ ...... مجرد ضعیف حدیث کا بیان کرنا اس کو بطلان

اقول ...... مسلم ہے کہ بطلان اثر سے روک نہیں سکتا۔ صارف قطعی صرف نصوص عن الظواہر جائز نہیں ہے۔

قولہ ...... امام بزرگ حضرت ابو حنیفہ فخر الائمہ سنت ساتھ بھی قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں۔

اقول ...... امام بزرگ نے تو صرف یہی کہا ہے کہ دیتا ہوں۔ یہ تو نہیں کہا کہ ضعیف حدیث کے ساتھ هذا من ذاك !

قولہ ...... اب کیا جس قدر حدیثیں صحاح ستہ میں مرسل یا منقطع الاسناد ہیں۔ وہ بالکل پایہ اعتبار سے کے نزدیک موضوعات کے برابر سمجھی جاتی ہیں۔

اقول ...... سب بے اعتبار محض اور موضوعات تو نہیں

قولہ ...... ازانجملہ ایک یہ کہ اہل کتاب کا لفظ اعم جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے بیان فرم پاس باوجود اس دوسرے معنی ابن عباس اور عکرمہ کے اہل کتاب سے وہ لوگ قطعاً باہر رکھے گئے ہیں۔

اقول ...... دلیل اس پر یہی ہے کہ ظاہر نص قرآ حضرت عیسیٰ عم کی طرف ہی عائد ہیں اور کوئی یہاں میں ثابت ہے کہ ”النصوص تحمل علیٰ ظواهرها“ الخ

قولہ ...... ازانجملہ ایک یہ کہ مولوی صاحب نے تغییر

اقول ...... قطعی ثبوت یہی ہے کہ ظاہر نص قرآنی عیسیٰ عم کے اور کوئی صارف یہاں متحقق نہیں ہے۔ ول

قولہ ...... کیونکہ تفسیر معالم التنزیل وغیرہ تفاسیر روایت ہے کہ ضمیر بہ کی جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ط

٨٣

صفحہ ٩٣

قولہ ...... مجرد ضعیف حدیث کا بیان کرنا اس کو بکلی اثر سے روک نہیں سکتا۔

اقول ...... مسلم ہے کہ بکلی اثر سے روک نہیں سکتا۔ مگر صارف قطعی ہونے سے روکتا ہے اور بغیر صارف قطعی صرف نصوص عن الظواہر جائز نہیں ہے۔

قولہ ...... امام بزرگ حضرت ابو حنیفہ فخر الائمہ سے مروی ہے کہ میں ایک ضعیف حدیث کے ساتھ بھی قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں۔

اقول ...... امام بزرگ نے تو صرف یہی کہا ہے کہ ضعیف حدیث کے ساتھ میں قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں۔ یہ تو نہیں کہا کہ ضعیف حدیث کے ساتھ ظاہر نص قرآنی کو چھوڑ دیتا ہوں۔ فاین ھذا من ذاک !

قولہ ...... اب کیا جس قدر حدیثیں صحاح ستہ میں بہ باعث ضعف راویوں کے قابل جرح یا مرسل یا منقطع الاسناد ہیں۔ وہ بالکل پایہ اعتبار سے خالی اور بے اعتبار محض ہیں اور کیا وہ محدثین کے نزدیک موضوعات کے برابر سمجھی جاتی ہیں۔

اقول ...... سب بے اعتبار محض اور موضوعات تو نہیں ہیں۔ لیکن صارف قطعی بھی نہیں ہو سکتی ہیں۔

قولہ ...... از انجملہ ایک یہ کہ اہل کتاب کا لفظ اکثر قرآن کریم میں موجودہ اہل کتاب کے لئے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے بیان فرمایا گیا ہے۔ الیٰ قولہ! پھر مولوی صاحب کے پاس باوجود اس دوسرے معنی ابن عباس اور عکرمہ کے کون سی قطعی دلیل اس بات پر ہے کہ اس ذکر اہل کتاب سے وہ لوگ قطعا باہر رکھے گئے ہیں۔

اقول ...... دلیل اس پر یہی ہے کہ ظاہر نص قرآنی یہی ہے کہ دونوں ضمیریں بہ وموتہ کی حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف ہی عائد ہیں اور کوئی یہاں صارف قطعی پایا نہیں جاتا اور اصول و کلام میں ثابت ہے کہ ” النصوص تحمل علی ظواھرھا وصرف النصوص عن ظواھرھا الحاد “

قولہ ...... از انجملہ ایک یہ کہ مولوی صاحب نے تعیین مرجع یؤمن بہ میں کوئی قطعی ثبوت پیش نہیں کیا۔

اقول ...... قطعی ثبوت یہی ہے کہ ظاہر نص قرآنی یہی ہے کہ ضمیر بہ کی عائد ہے۔ طرف حضرت عیسیٰ ؑ کے اور کوئی صارف یہاں متحقق نہیں ہے۔ وقد مر تفصيله فتذكر!

قولہ ...... کیونکہ تفسیر معالم التنزیل وغیرہ تفاسیر معتبرہ میں حضرت عکرمہ وغیرہ صحابہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ضمیر بہ کی جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی طرف پھرتی ہے۔

٨٣

صفحہ ٩٤

اقول ....... ظاہر اس کلام کا یہ ہے کہ عکرمہ صحابہ میں داخل ہیں۔ حالانکہ یہ غلط محض ہے۔ اس روایت کی سند اگرچہ عکرمہ تک نہایت صحیح ہے۔ مگر یہ قول تابعی ہے۔ مخالف ظاہر نص قرآنی کے اور قول تابعی صارف نص کا ظاہر سے ہو نہیں سکتا ہے۔ علاوہ اس کے اس تقدیر پر آیۃ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء:١٥٩)“ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ اجنبیت محضہ ہے۔ حالانکہ ماقبل و مابعد میں ذکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے اور اجنبی کے ساتھ بلا فائدہ فصل خلاف بلاغت ہے۔ بالجملہ اس معنی کے رد کے لئے بھی وہ دلیل تحقیقی جو ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔ جو سارے معانی و احتمالات مخالفہ کو رد کرتی ہے، کافی ہے۔

قولہ ....... اور یہ روایت قوی ہے۔ کیونکہ مجرد مسیح ابن مریم پر ایمان لانا موجب نجات نہیں ٹھہر سکتا۔

اقول ....... بعد نزول مسیح ابن مریم کے مجرد مسیح ابن مریم پر ایمان لانا موجب نجات ہے۔ اس لئے کہ بعد نزول کے حضرت مسیح ابن مریم شریعت محمدیہ ﷺ کے متبع ہو کر رہیں گے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ پس مسیح پر ایمان لانا مستلزم ہے۔ خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لانے کو اور خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لانا بلاشبہ موجب نجات ہے۔ کیونکہ وہ ایمان تمام نبیوں پر ایمان لانے کو مستلزم ہے۔

قولہ ....... اور بموجب روایت عکرمہ برعایت آپ کے نحوی قاعدہ کے یہ معنی ٹھہریں گے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے موجودہ اہل کتاب سب کے سب نبی ﷺ پر اپنی موت سے ایمان لے آئیں گے۔ جس ایمان کے طفیل مسیح ابن مریم پر بھی ایمان لانا انہیں نصیب ہو جائے گا۔

اقول ....... یہ معنی باطل ہیں۔ بچند وجوہ:

اول ....... یہ کہ ظاہر قرآن یہ ہے کہ ضمیر بہ موتہ کی راجع طرف حضرت مسیح کے ہے اور صارف قطعی یہاں کوئی موجود نہیں ہے اور بغیر صارف قطعی صرف النص عن الظاہر غیر جائز ہے۔

دوم ....... قبل موتہ کی قید اس وقت لغو ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر ایمان لانے والا اپنی موت سے پہلے ایمان لاتا ہے۔ ایمان بعد الموت متصور نہیں۔ اس وقت اسی قدر کہنا کافی تھا۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به“

سوم ....... یہ کہ آیت ”ويوم القيمة يكون عليهم شهيداً (نساء:١٥٩)“ میں ضمیر یکون

٨٤

٩٥

قطعا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور کے ایمان لانے کا اس آیت میں ذکر ہے اور گواہ ہو ان کے ایمان لانے کے زمانہ میں ان میں زندہ موجو

چہارم ....... اگر ضمیر بہ کی آنحضرت ﷺ کی طرف کیونکہ آنحضرت ﷺ کے لئے ماقبل اس آیت کی ضم يسئلك اهل الكتاب ان تنزل عليهم كتاب ہے۔ ”قال الله تعالى لكن الراسخون فـ انزل اليك وما انزل من قبلك (النساء:١٦٢ ”قال تعالى انا اوحينا اليك (الـ ”وقال تعالى ورسلاً قد نقصصهم عليك (النساء:١٦٤)“ ”وقال تعالى لكن الله يشهد بـ پس درمیان میں جو ضمیر غائب کے لان التفات کے نہیں معلوم ہوتی ہے۔ پس یہاں فائدہ

پنجم ....... جب ضمیر بہ و موتہ کی غیر عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ سے نہ ہوا اور حالانکہ ماقبل و مابعد ض میں بلا فائدہ کلام اجنبی کا لانا خلاف بلاغت ہے۔

ششم ....... روایت عکرمہ کی یہ معنی جو آپ نے عکرمہ کا لفظ بھی صراحۃً اس کے خلاف پر دلالت ”قال عكرمة لايموت النصرانى ولا الـ صاف مطلب یہی ہے کہ ہر اہل کتاب اپنے مرن یعنی زہوق روح کے وقت پس وہ معنی جو آپ نے معنی کے رو کے لئے وہی دلیل تحقیقی جو اوپر لکھی گئی

قولہ ....... اور اگر آپ اپنی ضد نہ چھوڑیں اور ضم طرف ہی پھیرنا چاہیں تو باوجود اس فساد کے جس

٥

صفحہ ٩٥

قطعاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور ضمیر علیہم کا مرجع یقیناً وہ اہل کتاب ہیں۔ جن کے ایمان لانے کا اس آیت میں ذکر ہے اور گواہ ہونا جب ہی ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ایمان لانے کے زمانہ میں ان میں زندہ موجود ہوں۔

چہارم ...... اگر ضمیر بہ کی آنحضرت ﷺ کی طرف ہوتی تو واجب تھا کہ بجائے بہ کے بک ہوتا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے لئے ماقبل اس آیت کی ضمیر خطاب کی ہے۔ ”قال الله تعالى يسئلك اهل الكتاب ان تنزل عليهم كتاباً (النساء:١٥٣)“ اور مابعد یہی ضمیر خطاب کی ہے۔ ”قال الله تعالى لكن الراسخون فى العلم منهم والمؤمنون يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك (النساء:١٦٢)“

”قال تعالى انا اوحينا اليك (النساء:١٦٤)“

”وقال تعالى ورسلاً قد قصصنهم عليك من قبل ورسلاً لم نقصصهم عليك (النساء:١٦٤)“

”وقال تعالى لكن الله يشهد بما انزل اليك (النساء:١٦٦)“

پس درمیان میں جو ضمیر غائب کی لائی گئی۔ اس کی تصریح کی کوئی وجہ سوائے قاعدہ التفات کے نہیں معلوم ہوتی ہے۔ پس یہاں قاعدہ التفات موافق علم معانی کے بیان کرنا چاہئے۔

پنجم ...... جب ضمیر بہ وموتہ کی غیر عیسیٰ ؑ کی طرف راجع ہوئی تو اس کو کچھ علاقہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ سے نہ ہوا اور حالانکہ ماقبل وما بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ پس درمیان میں بلا فائدہ کلام اجنبی کا لانا خلاف بلاغت ہے۔

ششم ...... روایت عکرمہ کی یہ معنی جو آپ نے کہے ہیں۔ اس کے لئے کوئی سلف نہیں ہے۔ خود عکرمہ کا لفظ بھی صراحۃً اس کے خلاف پر دلالت کرتا ہے۔ ابن کثیر میں اسی روایت میں ہے۔ ”قال عكرمة لايموت النصرانى ولا اليهودى حتى يؤمن بمحمد ﷺ“ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ ہر اہل کتاب اپنے مرنے کے وقت آنحضرت ﷺ پر ایمان لاتا ہے۔ یعنی زہوق روح کے وقت پس وہ معنی جو آپ نے بیان کئے ہرگز صحیح نہیں ہو سکتے ہیں۔ بالجملہ اس معنی کے رد کے لئے وہی دلیل تحقیقی جو اوپر لکھی گئی کافی ہے۔

قولہ ...... اور اگر آپ اپنی ضد نہ چھوڑیں اور ضمیر لیؤمنن بہ کو خواہ نخواہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہی پھیرنا چاہیں تو باوجود اس فساد کے جس کا نقصان آپ کی طرف عائد ہے۔ ہماری طرز

٨٥

صفحہ ٩٧

بیان کا کچھ بھی حرج نہیں۔ کیونکہ ہمارے طور پر برعایت خالص استقبال کے پھر اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے سب اہل کتاب اپنی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ الیٰ قولہ! اب اگر ہماری اس تاویل میں آپ کوئی جرح کریں گے تو وہی جرح آپ کی تاویل میں ہوگی۔

اقول ...... یہ معنی بھی آپ کے باطل ہیں۔ بچند وجوہ:

اول ...... یہ کہ اس معنی پر صرف نص کا ظاہر سے لازم آتا ہے۔ بغیر صارف قطعی کے کیونکہ ظاہر نص یہی ہے کہ ضمیر قبل موتہ کی راجع ہے۔ طرف عیسیٰ علیہ السلام کے اور صارف قطعی کوئی یہاں پایا نہیں جاتا ہے۔

دوم ...... قبل موتہ کی قید اس وقت لغو ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ ایمان لانے والا اپنے مرنے سے پہلے ہی ایمان لاتا ہے۔ ایمان بعد الموت تو متصور ہی نہیں۔ اس وقت یہ کلام مجانین کا سا کلام ہوا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ آج میں نے مرنے سے پہلے نماز پڑھ لی اور مرنے سے پہلے کھانا کھا لیا اور مرنے سے پہلے کچہری گیا اور مرنے سے پہلے سبق پڑھا وقس علیٰ ہذا تو کیا اس کو کوئی شخص عاقل سمجھے گا۔ ہرگز نہیں۔

قولہ ...... پس گو ابن جریر یا ابن کثیر کا اپنا مذہب کچھ ہو یہ شہادت تو انہوں نے بڑے بسط سے بیان کر دی ہے کہ اس آیت کے معنی اہل تاویل میں مختلف فیہ ہیں اور ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں کہ مسیح ابن مریم کے نزول اور حیات پر قطعی دلالت اس آیت کی ہرگز نہیں اور یہی ثابت کرنا تھا۔

اقول ...... اگرچہ اس آیت کی تاویل میں اختلاف ہے۔ مگر مجرد اختلاف قطعیت کو رد نہیں کر سکتا ہے۔ ہم نے اوپر ثابت کر دیا کہ ظاہر نص قرآنی یہی ہے کہ ضمیر قبل موتہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف عائد ہے اور اس ظاہر سے کوئی صارف قطعی پایا نہیں جاتا ہے اور صرف نص کا ظاہر بغیر صارف قطعی جائز نہیں بلکہ الحاد ہے اور بقیہ احتمالات ومعانی کو تحقیقی والتزامی دونوں طور پر بفضلہ تعالیٰ باطل کر کے ہم نے دکھلا دیا۔ ”الحمد للّٰہ علی ذلک حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ کما یحب ویرضی“

قولہ ...... واضح ہو کہ قرآن میں ”یا عیسی انی متوفیک ورافعک الی“ (نساء: ٥٥) موجود ہے۔ قرآن کریم کے عموم محاورہ پر نظر ڈالنے سے قطعی ویقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تمام قرآن میں توفی کا لفظ قبض روح کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ یعنی اس قبض روح میں جو موت

٨٦

کے وقت ہوتا ہے دو جگہ قرآن مجید میں وہ قبض روح بھی م ہے۔ لیکن اس جگہ قرینہ قائم کر دیا ہے۔ جس سے سمجھا گیا ہے

اقول ...... یہ کلام دو امر پر دال ہے۔

اول ...... یہ کہ توفی کے معنی حقیقی موت ہی ہیں اور دیگر معنی م

دوم ...... یہ کہ موت کے ارادہ کے لئے قرینہ قائم نہیں قرینہ قائم کیا جاتا ہے اور یہ دونوں امر منظور فیہ ہیں۔ یع موت کے ہیں نہ اس قبض روح کے جو موت کے وقت ہو بتمامہ کے ہیں۔

بیضاوی میں ہے: ”والتوفی اخذ الشئ و

اور بیضاوی میں ہے: ”فان اصلہ قبض ال

تفسیر ابوالسعود میں ہے: ”التوفی اخذ الش

تفسیر کبیر میں ہے: ”التوفی اخذ الشئ و

اور بھی اس میں ہے: ”التوفی جنس تحت بالاصعاد الی السماء“

تفسیر ابوالسعود میں ہے: ”واصلہ قبض ال

تفسیر کبیر میں ہے: ”فثبت ان الموت و واحد منھا توفیا للنفس“

قسطلانی میں ہے: ”والتوفی اخذ الشئ

اور موت و نوم کو توفی اس لئے کہتے ہیں کہ اس

اصل موضوع لہ توفی کا یہ معنی کلی ہیں اور موت ونوم وغیر

اور علم اصول وبلاغت میں ثابت ہوا ہے کہ وہ لفظ جو ایک بعض افراد میں استعمال کیا جائے گا تو یہ استعمال مجازی ہو گے۔ بلا قرینہ صارفہ معنی کلی ہی سمجھے جائیں گے اور بع ہوگی۔ اسی لئے قرآن مجید میں جہاں توفی کا لفظ بمعنی م جیسا کہ نوم کے لئے قرینہ قائم کیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی

٨٧

صفحہ ٩٧

کے وقت ہوتا ہے دو جگہ قرآن مجید میں وہ قبض روح بھی مراد لیا ہے۔ جو نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔ لیکن اس جگہ قرینہ قائم کر دیا ہے۔ جس سے سمجھا گیا ہے کہ حقیقی معنی توفی کے موت ہی ہیں۔

اقول ...... یہ کلام دو امر پر دال ہے۔

اول ...... یہ کہ توفی کے معنی حقیقی موت ہی ہیں اور دیگر معنی مجازی ہیں۔

دوم ...... یہ کہ موت کے ارادہ کے لئے قرینہ قائم نہیں کیا جاتا ہے اور دیگر معانی کے لئے قرینہ قائم کیا جاتا ہے اور یہ دونوں امر منظور فیہ ہیں۔ بیان اس کا یہ ہے کہ توفی کے اصل معنی نہ موت کے ہیں نہ اس قبض روح کے جو موت کے وقت ہوتا ہے۔ بلکہ اصل معنی اس لفظ کے قبض بتمامہ کے ہیں۔

بیضاوی میں ہے: ” والتوفی اخذ الشئ وافیا والموت نوع منہ “

اور بیضاوی میں ہے: ” فان اصلہ قبض الشئ بتمامہ “

تفسیر ابو السعود میں ہے: ” التوفی اخذ الشئ وافیاً والموت نوع منہ “

تفسیر کبیر میں ہے: ” التوفی اخذ الشئ وافياً والموت نوع منہ “

اور بھی اس میں ہے: ” التوفی جنس تحتہ انواع بعضہا بالموت وبعضہا بالاصعاد الی السماء “

تفسیر ابو السعود میں ہے: ” واصلہ قبض الشئ بتمامہ “

تفسیر کبیر میں ہے: ” فثبت ان الموت والنوم یشترکان فی کون کل واحد منہا توفیا للنفس “

قسطلانی میں ہے: ” والتوفی اخذ الشئ وافياً والموت نوع منہ “

اور موت و نوم کو توفی اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں اخذ الشی پایا جاتا ہے۔ پس معنی حقیقی واصل موضوع لہ توفی کا یہ معنی کلی ہیں اور موت و نوم وغیرہ یا معنی حقیقی و معنی موضوع لہ کے افراد ہیں اور علم اصول و بلاغت میں ثابت ہوا ہے کہ وہ لفظ جو ایک معنی کلی کے لئے وضع کیا گیا ہے جب بعض افراد میں استعمال کیا جائے گا تو یہ استعمال مجازی ہوگا اور وہ بعض افراد معنی مجازی قرار پائیں گے۔ بلا قرینہ صارفہ وہ معنی کلی ہی سمجھے جائیں گے اور بعض بعض افراد کے لئے قرینہ کی ضرورت ہوگی۔ اسی لئے قرآن مجید میں جہاں توفی کا لفظ بمعنی موت آیا ہے وہاں قرینہ قائم کیا گیا ہے۔ جیسا کہ نوم کے لئے قرینہ قائم کیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی نے جو خود (ازالہ اوہام ص ٣٣٠ تا ٣٣٢، خزائن

٨٧

صفحہ ٩٩

ج ٣ ص ٢٦٨) تک تئیس مقامات قرآن مجید کے لکھے ہیں۔ جن میں لفظ توفی بمعنی موت آیا ہے انہی کو ہم نے بہت غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ سب جگہ قرینہ قائم ہے۔ وہ مقامات حسب تفصیل ذیل ہیں۔ مقام اول سورہ نساء میں ہے: ”حتی یتوفھن الموت (النساء: ١٥)“ اس کو مرزا قادیانی نے یوں نقل کیا ہے ۔”ثم یتوفھن الموت“ یہاں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ توفی سے مراد ”اخذ الشئ وافیا“ ہے۔ نہ موت ورنہ لفظ موت بیکار ہے اور اگر لفظ موت قرینہ تعین معنی موت کا ٹھہرایا جاوے تو معلوم ہوا کہ توفی سے موت سمجھنا محتاج قرینہ ہے۔ مقام دوسرا سورہ آل عمران میں ہے: ”وتوفنا مع الابرار (نساء: ١٩٣)“ یہاں مع الابرار قرینہ ہے ارادہ موت کے لئے ۔ وھذا ظاہر!

مقام تیسرا سورہ سجدہ میں ہے: ”قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم (سجدہ: ١١)“ یہاں لفظ ملک الموت قرینہ ہے۔ ارادہ موت کے لئے۔

مقام چوتھا سورہ نساء میں ہے: ”ان الذین توفھم الملائکۃ ظالمی انفسھم (نساء: ٩٧)“ یہاں لفظ ملائکہ قرینہ موجود ہے۔

مقام پانچواں سورہ مؤمن میں ہے: ”فاما نرینک بعض الذی نعدھم او نتوفینک فالینا یرجعون (مؤمن: ٧٧)“ یہاں لفظ اما اور او جو کلمہ حصر ہے۔ قرینہ ہے ارادہ موت پر۔

مقام چھٹا سورہ نحل میں ہے: ”الذی تتوفھم الملائکۃ ظالمی انفسھم (النحل: ٢٨)“

مقام ساتواں بھی اسی میں ہے: ”الذی تتوفھم الملائکۃ طیبین (نحل: ٣٢)“ مرزا قادیانی نے تتوفہم کی جگہ توفہم لکھا ہے۔ یہاں لفظ ملائکہ بلکہ سارا قصہ قرینہ ہے۔ ارادہ موت کا۔

مقام آٹھواں حسب تحریر مرزا قادیانی سورۂ بقرہ میں ہے: ”یتوفون منکم (بقرہ: ٢٤٠)“ یہ مقام خاکسار کو نہیں ملا۔

مقام نواں سورۂ بقرہ میں ہے: ”والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا (بقرہ: ٢٣٤)“ یہاں لفظ ویذرون ازواجا یتربصن بلکہ سارے احکام جو اس مقام پر مذکور ہیں قرینہ ہیں۔ ارادہ موت پر اسی سورہ و پارہ میں

٨٨

دوسری جگہ لکھا ہے: ”الذین یتوفون منکم و متاعاً الی الحول غیر اخراج (بقرہ: ٢٤٠) قرینہ ہیں۔ ارادہ موت پر مخفی نہ رہے کہ آٹھویں مقا ہے کہ لکھا گیا ہے۔

مقام دسواں سورۂ انعام میں ہے: ”حتی رسلنا وھم لا یفرطون (انعام: ٦١)“ یہاں لفظ

مقام گیارھواں سورۂ اعراف میں ہے: ”ح (اعراف: ٣٧)“ یہاں لفظ رسل بلکہ سارا قصہ قرینہ ہے

مقام بارھواں سورۂ اعراف میں ہے: ”ت سارا قصہ قرینہ ہے ارادہ موت پر

مقام تیرھواں سورۂ الانفال ”یتوفی ا وجوھھم وادبارھم (انفال: ٥٠)“ باوجود تلاش

مقام چودھواں سورہ محمد میں ہے: ”فکی وجوھھم وادبارھم (محمد: ٢٧)“ یہاں لفظ ارادہ موت پر۔

مقام پندرھواں سورۂ یونس میں ہے: ”و او نتوفینک فالینا مرجعھم (یونس: ٤٦)“

مقام سولہواں یوسف میں ہے: ”تو (یوسف: ١٠١)“ یہاں حالت دعا و لفظ مسلما موت پر۔

مقام سترھواں سورۂ رعد میں ہے: ”وام او نتوفینک (رعد: ٤٠)“ یہاں کلمہ حصر دلیل ہے

مقام اٹھارواں مؤمن میں ہے: ”وم یہاں ماقبل اس کا یعنی ”ثم لتبلغوا اشدکم ث پر۔ ازالہ اوہام میں غلطی سے بجائے ٢٤، ٤ لکھا گیا

٩

صفحہ ٩٩

دوسری جگہ لکھا ہے: ”الذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا وصية لازواجهم متاعاً الى الحول غير اخراج (بقرہ:٢٤٠)“ یہاں بھی لفظ ویذرون اور سارے احکام قرینہ ہیں۔ ارادۂ موت پر مخفی نہ رہے کہ آٹھویں مقام میں شاید سہواً کاتب سے ازالۃ الاوہام میں بجا ہے کہ لکھا گیا ہے۔

مقام دسواں سورۂ انعام میں ہے: ”حتی اذا جاء احدکم الموت توفتہ رسلنا و هم لا يفرطون (انعام:٦١)“ یہاں لفظ موت ورسل قرینہ ہے۔ ارادۂ موت پر۔

مقام گیارھواں سورۂ اعراف میں ہے: ”حتی اذا جاء تهم رسولنا يتوفونهم (اعراف:٣٧)“ یہاں لفظ رسل بلکہ سارا قصہ قرینہ ہے۔ ارادۂ موت پر۔

مقام بارھواں سورۂ اعراف میں ہے: ”توفنا مسلمين (اعراف:١٢٦)“ یہاں سارا قصہ قرینہ ہے ارادۂ موت پر

مقام تیرھواں سورۂ الانفال ”يتوفى الذين كفروا الملائكة يضربون وجوههم وادبارهم (انفال:٥٠)“ باوجود تلاش کے خاکسار نے نہیں پایا۔

مقام چودھواں سورۂ محمد میں ہے: ”فكيف اذا توفتهم الملائكة يضربون وجوههم وادبارهم (محمد:٢٧)“ یہاں لفظ ملائکہ و یضربون وجوہہم و ادبارہم قرینہ ہے۔ ارادۂ موت پر۔

مقام پندرھواں سورۂ یونس میں ہے: ”واما نرينك بعض الذي نعدهم او نتوفينك فالينا مرجعهم (یونس:٤٦)“ یہاں کلمہ حصر قرینہ ہے ارادۂ موت پر۔

مقام سولہواں یوسف میں ہے: ”توفنى مسلماً و الحقنى بالصلحين (یوسف:١٠١)“ یہاں حالت دعا و لفظ مسلما والحقني بالصالحين قرینہ ہے ارادہ موت پر۔

مقام سترھواں سورۂ رعد میں ہے: ”واما نرينك بعض الذي نعدهم او نتوفينك (رعد:٤٠)“ یہاں کلمہ حصر دلیل ہے ارادۂ موت پر۔

مقام اٹھارواں مؤمن میں ہے: ”ومنكم من يتوفى من قبل (مؤمن:٦٧)“ یہاں ماقبل اس کا یعنی ”ثم لتبلغوا اشدكم ثم لتكونوا شيوخا “ قرینہ ہے ارادہ موت پر۔ ازالۃ الاوہام میں غلطی سے بجائے ٢٤ ، ١٤ لکھا گیا۔

٨٩

صفحہ ١٠٠

مقام انیسواں سورہ مؤمن میں ہے: ”او نتوفينك “ ازالہ اوہام میں یہاں دو غلطیاں ہیں۔ اول بجائے ٤٤، ٤١ لکھا ہے۔ دوم یہ آیت پہلے ہو چکی ہے۔ یہاں مکرر لکھی گئی ہے۔

مقام بیسواں نحل : ”والله خلقكم ثم يتوفكم ومنكم من يرد الى ارذل العمر (نحل: ٧٠) “ یہاں ومنكم من يرد الى ارذل العمر قرینہ ہے ارادۂ موت پر۔

مقام اکیسواں حج : ”ومنكم من يتوفى ومنكم من يرد الى ارذل العمر (الحج: ٥) “ یہاں ومنكم من يرد قرینہ ہے ارادہ موت پر۔

مقام بائیسواں سورۃ الزمر میں ہے: ”الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها (زمر: ٤٢) “ یہ آیت اوّل دلیل ہے۔ مرزا قادیانی کے خلاف مطلوب پر یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ توفی کا لفظ موت ونوم دونوں کے لئے آتا ہے اور دونوں استعمالوں میں قرینہ کی حاجت ہے۔ موت کے لئے یہاں قرینہ لفظ حین موتھا اور نوم کے لئے والتی لم تمت فی منامھا موجود ہے۔

مقام تئیسواں الانعام : ”هو الذى يتوفكم بالليل (انعام: ٦٠) “ یہاں توفی سے نوم مراد ہے اور قرینہ لفظ بالیل ہے۔ یہاں سے بخوبی ثابت ہوا کہ لفظ توفی کا موضوع لہ معنی کلی یعنی اخذ الشئ وافياً ہے اور موت اور نوم کے معنی کے لئے قرینہ کی حاجت ہے۔ پس جب تک کوئی قرینہ قطعیہ قائم نہ ہوگا تو اس معنی کلی سے صرف نہ کیا جائے گا۔ کیونکہ النصوص تحمل على ظواهرها وصرف النصوص عن ظواهرها الحاد قاعدہ مقررہ ہے اور یہ بھی اپنی جگہ ثابت ہوا ہے کہ اللفظ يحمل على الحقيقة مالم يصرف عنها صارف

قولہ ...... بہر حال جب کہ تمام قرآن میں لفظ توفی کا قبض روح کے معنوں میں آیا ہے اور احادیث میں ان تمام مواضع میں جو خدا تعالیٰ کو فاعل ٹھہرا کر اس لفظ کو انسان کی نسبت استعمال کیا ہے۔ جابجا موت ہی کے معنی لئے ہیں تو بلاشبہ یہ لفظ قبض روح اور موت کے لئے قطعیہ الدلالۃ ہوگیا۔

اقول ...... اس میں کلام ہے بوجوہ:

اول ...... یہ کہ اگرچہ لفظ توفی قرآن واحادیث میں بہت جگہ موت کے معنی میں آیا ہے مگر کوئی ایک جگہ بھی ایسی نہیں کہ قرینہ وہاں قائم نہ کیا گیا ہو اور معنی حقیقی ہونا موت کا جب ثابت ہو کہ کوئی ایسی جگہ قرآن وحدیث میں آپ بتائیے کہ بلا قیام قرینہ یقینی طور پر وہاں موت مراد ہو۔

٩٠

صفحہ ١٠١

دوم ..... یہ کہ یہ آیت ”ذو الوجوہ“ ہے اور مفسرین قدیماً وحدیثاً اس کے معنی میں چند تاویلات لکھتے چلے آتے ہیں اور جو معنی آپ نے کہے وہ کسی نے نہیں کہے ہیں اور جب آپ نے آیت ”وان من اھل الکتاب“ کو اس وجہ سے کہ وہ ذوالوجوہ ہے۔ قطعیۃ الدلالۃ ہونا تسلیم نہیں کیا۔ حالانکہ وہ معنی یہی تفسیروں میں موجود ہیں جو احقر نے بیان کئے۔ پس آیت ”انی متوفیک“ کو جو ذوالوجوہ ہے اور آپ کے مخترع معنی ایک تفسیر میں بھی نہیں لکھے ہیں۔ معنی مخترع کو قطعیۃ الدلالۃ کہنا بڑی جسارت وجرأت ہے۔ حدیث ”اذا لم تستحی فاصنع ما شئت“ کو یاد کر لیجئے اور ”وعيد من فسر القرآن برايہ فليتبوّ مقعدہ من النار“ کا بھی لحاظ رکھئے۔ اب ہم اس آیت کے ذوالوجوہ ہونے کے لئے چند تفاسیر کی عبارت نقل کرتے ہیں۔

معالم میں ہے: ”واختلفوا فی معنی التوفی منھا قال الحسن والکلبی وابن جریج انی قابضک ورافعک من الدنیا الیَّ من غیر موت بذلک يدل علیہ قولہ تعالیٰ فلما توفیتنی اے قبضتنی الی السماء وانا حی لان قومہ انما تنصروا بعد رفعہ لا بعد موتہ فعلی ھذا للتوفی تاویلان احدھما انی رافعک الیَّ وافیاً لم ینالوا منک شیئاً من قولھم توفیت منہ کذا وکذا واستوفیتہ اذا اخذتہ تاماً والآخر انی متسلمک من قولھم توفیت منہ کذا ای تسلمتہ وقال الربیع بن انس المراد بالتوفی النوم وکان عیسیٰ قد نام فرفعہ اللہ نائما الیٰ السماء معناھا انی منیمک ورافعک الیَّ کما قال اللہ تعالیٰ وھو الذی یتوفکم باللیل اے ینیمکم وقال بعضھم المراد بالتوفی الموت وروی علی بن طلحة عن ابن عباس ان معناہ انی ممیتک يدل علیہ قولہ تعالیٰ قل یتوفکم ملک الموت فعلی ھذا لہ تاویلان احدھما ما قالہ وھب توفی اللہ عیسیٰ ثلث ساعات من النھار ثم احیاہ ورفعہ اللہ الیہ وقال محمد بن اسحاق ان النصاریٰ یزعمون ان اللہ تعالیٰ توفاہ سبع ساعات من النھار ثم احیاہ ورفعہ الیہ والآخر ما قالہ الضحاک وجماعۃ ان فی ھذہ الآیۃ تقدیما وتاخیرا معناہ انی رافعک الیَّ ومطھرک من الذین کفروا ومتوفیک بعد انزالک من السماء انتھی“

٩١

صفحہ ١٠٢

تفسیر ابن کثیر میں ہے: ”اختلف المفسرون فی قوله تعالیٰ انی متوفیک ورافعك الى فقال قتادة وغيره هذا من المقدم والمؤخر تقديره اني رافعك الى ومتوفيك يعنى بعدذلك وقال علی بن ابی طلحة عن ابن عباس انی متوفیک اے مميتك وقال محمد اسحق عمن لايتهم عن وهب بن منبه قال توفاه الله ثلث ساعات من اول النهار حين رفعه الله قال ابن اسحق والنصارى يزعمون ان الله توفاه سبع ساعات ثم احياه قال اسحق بن بشير عن ادريس عن وهب اماته الله ثلثة ايام ثم بعثه ثم رفعه قال مطر الوراق انى متوفيك فى الدنيا ليس بوفات موت وكذا قال ابن جریر توفیه هو رفعه وقال الاكثرون المراد بالوفاة هنا النوم كما قال الله تعالى وهو الذي يتوفكم بالليل الآية وقال الله يتوفى الانفس حين موتها والتي لم تمت في منامها الآية وكان رسول الله ﷺ يقول اذا قام من النوم الحمد لله الذي احيانا بعد ما اماتنا الحديث انتهى“

تفسیر بیضاوی میں ہے: ”یا عیسی انی متوفيك اى مستوفی اجـلك ومؤخرك الى اجلك المسمى عاصما اياك من قتلهم اوقابضك من الارض من توفيت مـالـى او مـتـوفـيـك نـائمـا إذ روى انه رفع نائما او مميتك عن الشهوات العائقة عن العروج الى عالم الملكوت وقيل اماته الله سبع ساعات ثم رفعه الى السماء واليه ذهب النصارى انتهى“

کشاف میں ہے: ”انی متوفيك اى مستوفى اجلك ومعناه اني عاصمك من ان يقتلك الكفار ومؤخرك الى اجل كتبته لك ومميتك حتف انفك لا قتلا بايديهم ورافعك الى اى سمائى ومقر ملائكتى ومطهرك من الذين كفروا من سوء جوارهم وخبث صحبتهم وقيل متوفيك قابضك من الارض من توفيت مالى على فلان اذا استوفيته وقيل مميتك في وقتك بعد النزول من السماء ورافعك الآن وقيل متوفى نفسك بالنوم من قوله والتي لم تمت في منامها ورافعك وانت نائم حتى لا يلحقك خوف وتستيقظ وانت في السماء امن مقرب انتهی“

٩٢

١٠٣ تفسیر کبیر میں ہے: ”الصفة الاولى انی حكاية عنه فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عـ هاتين الآيتين على طريقين أحدهما اجراء الآ ولا تأخير فيها والثانى فرض التقديم ولـ فبيانه من وجوه الاول معنى قوله انی متوفـ اتوفك فلا اتركهم حتى يقتلوك بل انا رافعك واصونك عن أن يتمكنوا من قتلك وهذا تـ مميتك وهو مروى عن ابن عباس ومحمـ لا يصل اعداه من اليهود الى قتله ثم انه بعد ثم اختلفوا على ثلثة اوجه احدها قال وهب بـ قال محمد بن اسحق توفی سبع ساعات الربيع بن انس انه تعالى توفاه حين رفعه الانفس حين موتها والتي لم تمت فى منامها الواو فى قوله متوفيك ورافعك لا يفيد التـ يفعل به هذه الافعال فاما كيف يفعل ومـ الدليل وقد ثبت بالدليل على انه حى وورد ويقتل الدجال ثم انه تعالى يتوفاه بعد ماقاله ابوبكر الواسطى وهو ان المراد اني نفسك ثم قال ورافعك الى وذلك لان من لم يـ له وصول الى مقام معرفة الله وايضا فعيـ كحال الملائكة فى زوال الشهوة والغـ السادس ان التوفى اخذ الشئ وافياً ولما ان الذي رفعه الله هو روحه لا جسده تبـ الصلوة والسلام رفع بتمامه الى السماء يـ هذا التاويل قوله تعالى وما يضرونك من ٩٣

صفحہ ١٠٣

تفسیر کبیر میں ہے: "الصفة الاولى انی متوفیک ونظیرہ قولہ تعالیٰ حکایة عنہ فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم واختلف اہل التاویل فی ہاتین الآیتین علی طریقین احدہما اجراء الآیة علی ظاہرہا من غیر تقدیم ولا تاخیر فیہا والثانی فرض التقدیم والتاخیر فیہا اما الطریق الاولیٰ فبیانہ من وجوہ الاوّل معنی قولہ انی متوفیک ای انی متمم عمرک فحینئذ اتوفک فلا اترکھم حتی یقتلوک بل انا رافعک الی سمائی ومقربک بملائکتی واصونک عن ان یتمکنوا من قتلک وھذا تاویل حسن والثانی متوفیک ای ممیتک وھو مروی عن ابن عباس ومحمد بن اسحق قالوا والمقصود ان لایصل اعدائہ من الیہود الی قتلہ ثم انہ بعد ذلک اکرمہ بان رفعہ الی السماء ثم اختلفوا علی ثلثة اوجہ احدہا قال وھب توفی ثلث ساعات ثم رفع ثانیہا قال محمد بن اسحق توفی سبع ساعات ثم احیاہ اللّٰہ ورفعہ الثالث قال الربیع بن انس انہ تعالیٰ توفاہ حین رفعہ الی السماء قال تعالیٰ اللّٰہ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا الوجہ الرابع فی تاویل الآیة ان الواو فی قولہ متوفیک ورافعک لایفید الترتیب فالآیة تدل علی انہ تعالیٰ یفعل بہ ھذہ الافعال فاما کیف یفعل ومتی یفعل فالامر فیہ موقوف علی الدلیل وقد ثبت بالدلیل علی انہ حی وورد الخبر عن النبیﷺ انہ سینزل ویقتل الدجال ثم انہ تعالیٰ یتوفاہ بعد ذلک الوجہ الخامس فی التاویل ما قالہ ابو بکر الواسطی وھو ان المراد انی متوفیک عن شھواتک وحظوظ نفسک ثم قال ورافعک الی وذلک لان من لم یصر فانیا عما سوی اللّٰہ لایکون لہ وصول الی مقام معرفة اللّٰہ وایضاً فعیسیٰ لما رفع الی السماء صار حالہ کحال الملائکة فی زوال الشہوة والغضب والاخلاق الذمیمة والوجہ السادس ان التوفی اخذ الشئ وافیاً ولما علم ان من الناس من یحظر ببالہ ان الذی رفعہ اللّٰہ ھو روحہ لاجسدہ ذکر ھذا الکلام لیدل علی انہ علیہ الصلوٰة والسلام رفع بتمامہ الی السماء بروحہ وبجسدہ ویدل علی صحة ھذا التاویل قولہ تعالیٰ وما یضرونک من شئ والوجہ السابع انی متوفیک ٩٣

صفحہ ١٠٥

اى اجعلك كالمتوفى لانه اذا رفع الى السماء وانقطع خبره واثره عن الارض كان كالمتوفى واطلاق اسم الشئ على مايشابهه فى اكثر خواصه وصفاته جائز حسن الوجه الثامن ان التوفى هوالقبض يقال وفانى فلان دراهمى واوفالى وتوفيت منه كما يقال سلم فلان دراهمى الى وتسلمته منه وقد يكون ايضا توفى بمعنى استوفى وعلى كلا الوجهين كان اخراجه من الارض واصعاده الى السماء توفيا له فان قيل فعلى هذا الوجه كان التوفى عين الرفع اليه فيصير قوله ورافعك الى تكراراً قلنا قوله انى متوفيك يدل على حصول التوفى وهو جنس تحته انواع بعضها بالموت وبعضها بالاصعاد الى السماء فلما قال بعده ورافعك الى كان هذا تعيينا للنوع ولم يكن تكراراً الوجه التاسع ان يقدر فيه حذف المضاف والتقدير متوفى عملك بمعنى مستوفى عملك ورافعك الى اى رافع عملك الى وهو كقوله اليه يصعد الكلم الطيب والمراد من هذه الآية انه تعالى بشره بقبول طاعته واعماله وعرفه ان مايصل اليه من المتاعب والمشاق فى تمشيته دينه واظهار الشريعة من الاعداء فهولا يضيع اجره ولايهدم ثوابه فهذه جملة الوجوه المذكورة على قول من يجرى الآية على ظاهرها الطريق الثانى وهو قول من قال لابد فى الآية من تقديم وتاخير من غير ان يحتاج فيها الى تقديم او تاخير قالوا ان قوله ورافعك الى ليقتضى انه رفعه حيا والواو لا يقتضى الترتيب فلم يبق الا ان يقول فيها تقديم وتاخير والمعنى انى رافعك ومطهرك من الذين كفروا ومتوفيك بعد انزالى اياك فى الدنيا ومثله من التقديم والتاخير كثير فى القرآن واعلم ان الوجوه الكثيرة التى قدمناها تغنى عن التزام مخالفة الظاهر والله اعلم انتهى “

فتح البيان میں ہے: ”قال الفراء ان فى الكلام تقديما وتاخيراً تقديره انى رافعك ومطهرك ومتوفيك بعد انزالك من السماء قال ابوزيد متوفيك قابضك وقيل الكلام على حاله من غير ادعاء تقديم وتاخير فيه والمعنى كما قال فى الكشاف مستوفى اجلك ومعناه انى عاصمك من ان يقتلك الكفار ٩٤

ومؤخر أجلك الى اجل كتبته لك ومميتك حتف الوراق قال متوفيك من الدنيا وليس بوفاة مو تاويل الوفاة بما ذكر لان الصحيح ان الله تـ وفاه كما رجحه كثير من المفسرين واختاره انه قد صح فى الاخبار عن النبى ﷺ نزو سبحانه توفاه ثلاث ساعات من نهار ثم رفعـ المراد بالوفاة هنا النوم ومثله هو الذى يتو كثيرون وقيل الواو فى قوله ورافعك لاتفيد فرق بين التقديم والتاخير قاله ابوالبقاء قـ متوفيك عن شهواتك وحظوظ نفسك وهذ انتهی“ یہاں سے ذو الوجوہ ہونا اس آیت کا ثابت ہو نے کہے وہ کسی مفسر نے نہیں لکھے۔ مفسرین کے دو ہی فر لئے گئے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مار کر پھر زندہ کیا اور رَفع ہے کہ وہ اب بھی مردہ ہیں۔ اگر کہا جاوے کہ ان تفاسیر متوفیک کی انی ممیتک کے ساتھ کی ہے تو جواب یہ ہے تاویل کی ہے اور تاویل ضروری ہے۔ اس لئے کہ روايـ اثر کے معارض ومخالف ہیں۔

اوّل ...... وہ جو ابن کثیر وغیرہ میں مرقوم ہے: ”عن الايؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسـ سند اوپر مرقوم ہوئی ہے۔

دوم ...... وہ جو فتح البیان وغیرہ میں مرقوم ہے: ”اخـ وابن ابى حاتم وابن مردويه عن ابن عبا الى السماء خرج الى اصحابه وفى الـ فخرج عليهم من عين فى البيت وراسـ اثنى عشر مرة بعد ان آمن بى ثم قال ٩٥

صفحہ ١٠٥

ومؤخر اجلك الى اجل كتبته لك ومميتك حتف انفك لاقتلا بايديهم عن مطر الوراق قال متوفيك من الدنيا وليس بوفاة موت وانما احتاج المفسرون الى تاويل الوفاة بما ذكر لان الصحيح ان الله تعالى رفعه الى السماء من غير وفاة كما رجحه كثير من المفسرين واختاره ابن جرير الطبري ووجه ذلك انه قد صح فى الاخبار عن النبى ﷺ نزوله وقتله الدجال وقيل ان الله سبحانه توفاه ثلاث ساعات من نهار ثم رفعه الى السماء وفيه ضعف وقيل المراد بالوفاة هنا النوم ومثله هو الذى يتوفاكم بالليل اى ينيمكم وبه قال كثيرون وقيل الواو فى قوله ورافعك لا تفيد الترتيب لانها لمطلق الجمع فلا فرق بين التقديم والتاخير قاله ابوالبقاء قال ابوبكر الواسطى المعنى انى متوفيك عن شهواتك وحظوظ نفسك وهذا بالتحريف اشبه منه بالتفسير انتهى“ یہاں سے ذوالوجوہ ہونا اس آیت کا ثابت ہوا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ جو معنی مرزا قادیانی نے کہے وہ کسی مفسر نے نہیں لکھے۔ مفسرین کے دو ہی مذہب اس بات میں ہیں یا تو یہ کہ زندہ اٹھا لئے گئے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مار کر پھر زندہ کیا اور زندہ اپنی طرف اٹھا لیا۔ یہ کسی کا مذہب نہیں ہے کہ وہ اب بھی مردہ ہیں۔ اگر کہا جاوے کہ ان تفاسیر سے معلوم ہوا کہ ابن عباس نے تفسیر انی متوفیک کے انی ممیتک کے ساتھ کی ہے تو جواب یہ ہے کہ اہل تفسیر نے ابن عباس کے اس قول کی تاویل کی ہے اور تاویل ضروری ہے۔ اس لئے کہ دو اثر ابن عباس کے جو بسند صحیح مروی ہیں۔ اس اثر کے معارض ومخالف ہیں۔

اول...... وہ جو ابن کثیر وغیرہ میں مرقوم ہے: ”عن ابن عباس وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى ابن مريم عليه السلام“ اور اس کی سند اوپر مرقوم ہوئی ہے۔

دوم...... وہ جو فتح البیان وغیرہ میں مرقوم ہے: ”اخرج سعید ابن منصور والنسائى وابن ابی حاتم وابن مردويه عن ابن عباس قال لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء خرج الى اصحابه وفى البيت اثنا عشر رجلا من الحواريين فخرج عليهم من عين فى البيت وراسه يقطر ماء فقال ان منكم من يكفر بى اثنى عشر مرة بعد ان آمن بى ثم قال ايكم يلقى عليه شبهى فيقتل مكانى

٩٥

صفحہ ١٠٧

نے فی زماننا تراشے ہیں۔ خواہ وہ جو قیامت تک آئندہ نکالے جا الدلالۃ ہونا بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔

قولہ ....... اور بخاری جو اصح الکتب ہے۔ اس میں بھی تفسیر آیہ متوفیک کے معنی ممیتک لکھا ہے۔

اقول ....... جواب اس کا بوجوہ ہے۔

اول ....... یہ روایت مخالف و معارض ہے ان دو روایتوں صحیح کے ج سے علماء نے اس روایت کو ماوّل کیا ہے۔

دوم ....... راوی اس کا علی بن طلحہ ہے۔ قسطلانی میں ہے: ”وقال ابن ابی حاتم من طریق علی بن طلحة عنه فی متوفيك معناه مميتك “ اور علی بن ابی طلحہ کو ابن عباسؓ سے س

تقریب میں ہے: ”علی بن ابی طلحة سالم مولی ارسل عن ابن عباس ولم يره من السادسة صدوق

خلاصہ میں ہے: ”عن ابن عباس مرسلاً وعن بن یزید ومعمر والثوری قال احمد له اشیاء منکرات

کاشف میں ہے: ”قال احمد له اشیاء منکرا

میزان میں ہے: ”قال أحمد بن حنبل له اشـ يسمع على بن ابى طلحة التفسير عن ابن عباس

اور بخاری جو اصح الکتب ہے۔ اس سے مراد بخار کے ساتھ بخاری اپنی صحیح میں لاتا ہے نہ تعلیقاً سخاوی فتح المغیث تایید حمل قول البخارى ما ادخلت فی کتابی الا مـ الاحاديث الصحيحة المسندة دون التعاليق والآ فمن بعدهم والاحاديث المترجم بها ونحو ذلك ا

قولہ ....... اور اگر کوئی کہے کہ رافعک مقدم اور متوفیک مؤخر ” متوفيك فقره جاعل الذين اتبعوك فوق الذيـ بعد اور بیچ میں یہ فقرہ محذوف ہے۔ ” ثـم مـنـزلـك الـى الا

٩٧

صفحہ ١٠٧

نے فی زماننا تراشے ہیں۔ خواہ وہ جو قیامت تک آئندہ نکالے جاویں۔ پس اس آیت کا قطعیہ الدلالۃ ہونا بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔

قولہ ...... اور بخاری جو اصح الکتب ہے۔ اس میں بھی تفسیر آیت فلما توفیتنی کی تقریب میں متوفیک کے معنی ممیتک لکھا ہے۔

اقول ...... جواب اس کا بدو وجہ ہے۔

اوّل ...... یہ روایت مخالف و معارض ہے ان دو روایتوں صحیح کے جن کا ذکر اوپر ہوا۔ اسی ضرورت سے علماء نے اس روایت کو ماوّل کیا ہے۔

دوم ...... راوی اس کا علی بن طلحہ ہے۔ قسطلانی میں ہے: ”وقال ابن عباس فيما رواه ابن ابی حاتم من طريق علی بن طلحة عنه فى قوله تعالى يا عيسى انى متوفيك معناه مميتك “ اور علی بن ابی طلحہ کو ابن عباس سے ملاقات نہیں ہے اور ضعیف ہے۔

تقریب میں ہے: ”علی بن ابى طلحة سالم مولی بنى العباس سكن حمص ارسل عن ابن عباس ولم يره من السادسة صدوق قد يخطى“

خلاصہ میں ہے: ”عن ابن عباس مرسلاً وعن مجاهد والقاسم وعنه ثور بن يزيد ومعمر والثورى قال احمد له اشياء منكرات وقال القسوى ضعيف“

کاشف میں ہے: ”قال احمد له اشياء منكرات“

میزان میں ہے: ”قال احمد بن حنبل له اشياء منكرات وقال دحيم لم يسمع على بن ابى طلحة التفسير عن ابن عباس انتهى ملخصاً“

اور بخاری جو اصح الکتب ہے۔ اس سے مراد بخاری کی وہ احادیث مرفوعہ ہیں جو سند کے ساتھ بخاری اپنی صحیح میں لاتا ہے نہ تعلیق سخاوی فتح المغیث میں لکھتے ہیں کہ: ”وبما تقدم تايد حمل قول البخارى ما ادخلت فى كتابى الا ماصح على مقصوده به وهو الاحاديث الصحيحة المسندة دون التعاليق والآثار الموقوفة على الصحابة فمن بعدهم والاحاديث المترجم بها ونحو ذلك انتهى“

قولہ ...... اور اگر کوئی کہے کہ رافعک مقدم اور متوفیک مؤخر ہے۔ یعنی رافعک آیت کے سر پر اور ”متوفيك فقره جاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا (آل عمران: ٥٥) “ کے بعد اور بیچ میں یہ فقرہ محذوف ہے۔ ”ثم منزلك الى الارض“ سو یہ ان یہودیوں کے طرح

٩٧

صفحہ ١٠٩

تحریف ہے۔ جن پر بوجہ تحریف کے لعنت ہو چکی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں آیت کو اس طرح پر زیر و زبر کرنا پڑے گا۔ ”یا عیسی انی رافعک الی السماء ومطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الى یوم القیمۃ ثم منزلک الی الارض ومتوفیک (آل عمران: ٥٥) “

اقول ...... ایک جماعت سلف میں سے اس تقدیم و تاخیر کی قائل ہوئی ہے۔ ان میں سے ہیں۔ ابن عباسؓ وضحاک و قتادہ وفراء وغیرہ ہم ضحاک و قتادہ و فراء کا قائل تقدیم و تاخیر ہونا تو مصرح ہے اور ابن عباسؓ کا اس لئے کہ ابن عباس سے تفسیر متوفیک ممیتک مروی ہے اور حالانکہ موت قبل الرفع معارض ہے۔ اثرین صحیحین کے جو ابن عباس سے منقول ہوئے تو وجہ توفیق نہیں ہے۔ مگر یہی قول بالتقدیم والتاخیر۔ پس اب یہ کہنا کہ یہودیوں کی طرح تحریف ہے۔ ان سب سلف پر تحریف کا الزام لگانا ہے۔

ناظرین! براے خدا غور فرماویں کہ کیا مرزا قادیانی اس بات کے مجاز ٹھہر سکتے ہیں کہ ابن عباس و قتادہ و ضحاک وفراء وغیرہم جلیل الشان اکابر کو یہودیوں کی سی تحریف کا الزام دیویں ان اکابر پر یہودیوں کی سی تحریف کا الزام دینا میری سمجھ میں نہیں آتا۔ آپ نے کچھ ان بزرگوں کی عزت و مرتبہ کا پاس نہ کیا جو تفسیر قرآن کو آپ سے بہتر جاننے والے تھے۔ علاوہ اس کے مجرد تقدیم و تاخیر موجب تحریف نہیں ہے۔ موجب تحریف وہ تقدیم و تاخیر ہے جو خلاف قواعد اس زبان کے ہو جس میں وہ کتاب نازل ہوئی ہے اور اس کے نظائر کتاب اللہ میں نہ پائے جاتے ہوں اور کوئی دلیل اس پر نہ ہو اور اس تقدیم و تاخیر میں کوئی قاعدہ موافق علم بلاغت کے نہ ہو اور یہاں چاروں امور غیر متحقق ہیں۔ خلاف قاعدہ تو اس لئے نہیں کہ (واو) لغت عرب میں ترتیب کے لئے نہیں آتا ہے۔ مطلق جمع پر دلالت کرتا ہے نظائر اس تقدیم و تاخیر کے بکثرت قرآن مجید میں موجود ہیں۔

تفسیر کبیر میں ہے ۔”مثلہ فی التقدیم والتاخیر کثیر فی القرآن“ ”دلیل اس پر آیۃ ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ و اثر“ صحیح ابن عباسؓ جو حکماً مرفوع ہے موجود ہے۔ اس تقدیم و تاخیر میں فائدہ موافق علم بلاغت کے یہ ہے کہ چونکہ کفار درپے قتل و صلیب تھے۔ اس لئے توفی جو واقع میں بعد رفع ہونے والی تھی۔ اس کا ذکر اہم تھا۔ مقصود یہ کہ ہم تم کو تمہاری اجل معلوم کے وقت ماریں گے۔ کفار تم کو قتل نہ کرسکیں گے۔ ان کے قتل سے ہم

٩٨

تم کو بچائیں گے اور بالفرض اگر یہ معنی آپ کے نزدیک عباسؓ سے جلیل القدر صحابی کو اور دیگر بزرگوں کو کمال سوء

چون خدا خواہد کہ
میلش اندر طعنۂ

قولہ ...... اگر جسمانی طور پر رفع مراد لیا جائے تو سخت دوسرے آسمان میں بیٹھا ہوا ہے تو دوسرے آسمان میں

اقول ...... اس اشکال کو خصوصیت رفع جسمانی کے س وارد ہوتا ہے اور تقریر اس کی بعینہ یہی ہے جو آپ نے ہے کہ حضرت مسیح معہ اپنے خالہ زاد بھائی کے دوسر آسمان میں بیٹھا ہوا ہے تا دوسرے آسمان میں ہوتا اشکال کا یہ ہے کہ فوقیت واستوا علی العرش کی صفت الل اور کیفیت اس کی مجہول ہے۔ پس فوق السموات و ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا دوسرے آسمان میں بیٹھا مذہب سلف کے ہے جو آیات صفات میں تاویل نہیں جو بیضاوی وغیرہ میں لکھی ہے۔ لفظ بیضاوی یہ ہے: ”

شیخ زادہ اس کے تحت میں لکھتا ہے: ”لما کان ظ فی مکان یستعلی علیہ بین ان المر عبر عن رفعہ اللہ برفعہ الی نفسہ ت ابراہیم علیہ السلام انی ذاہب الی رب الی الشام ویسمی الحجاج زوار اللہ والم الاماکن وتفخیماً فکذا ہذا“

قولہ ...... بلکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ف میں بجز قبض روح کے اور کوئی معنی نہیں ہو سکتا۔ اس بناء

اقول ...... اوپر ہم نے ثابت کر دیا کہ جس مقام موجود ہے جو علامت مجاز کی ہے۔ پس مجھے جھوٹا اث

٩

صفحہ ١٠٩

تم کو بچائیں گے اور بالفرض اگر یہ معنی آپ کے نزدیک خطا تھے تو تخطیہ کافی تھا۔ الزام تحریف ابن عباسؓ سے جلیل القدر صحابی کو اور دیگر بزرگوں کو کمال سوء ادب ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔

چون خدا خواہد کہ پردہ کس درد
میلش اندر طعنۂ پاکان برد

قولہ...... اگر جسمانی طور پر رفع مراد لیا جائے تو سخت اشکال پیش آتا ہے۔ الیٰ قولہ تو کیا خدا تعالیٰ دوسرے آسمان میں بیٹھا ہوا ہے تو دوسرے آسمان میں ہونا رافعک الیٰ کا مصداق ہو جائے۔

اقول...... اس اشکال کو خصوصیت رفع جسمانی کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ اشکال تو رفع روحانی پر بھی وارد ہوتا ہے اور تقریر اس کی بعینہ یہی ہے جو آپ نے کی یعنی احادیث صحیحہ بخاری سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح معہ اپنے خالہ زاد بھائی کے دوسرے آسمان پر ہیں۔ تو کیا خدا تعالیٰ دوسرے آسمان میں بیٹھا ہوا ہے تا دوسرے آسمان میں ہونا رافعک الیٰ کا مصداق ہو جائے اور حل اس اشکال کا یہ ہے کہ فوقیت واستواء علی العرش کی صفت اللہ تعالیٰ کے لئے بادلۂ کتاب وسنت ثابت ہے اور کیفیت اس کی مجہول ہے۔ پس فوق السموات وعرش کی طرف اٹھانا اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھانا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا دوسرے آسمان میں بیٹھا ہونا کہاں لازم آتا ہے۔ یہ جواب تو موافق مذہب سلف کے ہے جو آیات صفات میں تاویل نہیں کرتے ہیں اور موافق خلف کے وہ تاویل ہے جو بیضاوی وغیرہ میں لکھی ہے۔ لفظ بیضاوی یہ ہے: ”الى محل كرامتى ومقر ملائکتی“ شیخ زادہ اس کے تحت میں لکھتا ہے: ”لما كان ظاهر الآية مشعراً بكونه تعالى متمكناً فى مكان يستعلى عليه بين ان المراد برفعه رفعه الى مكان رفيع لانه عبر عن رفعه الى الله برفعه الى نفسه تشريفا لذلك المكان وتعظيما كما قال ابراهيم عليه السلام انى ذاهب الى ربى وانما ذهب عليه السلام من العراق الى الشام ويسمى الحجاج زوار الله والمجاورون جيران الله كل ذلك لتعظيم الامكنة وتفخيماً فكذا هذا“

قولہ...... بلکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فاعل ہونے اور انسان کے مفعول ہونے کی حالت میں بجز قبض روح کے اور کوئی معنی نہیں ہو سکتا۔ اس بناء پر میں نے ہزار روپیہ کا اشتہار بھی دیا ہے۔

اقول...... اوپر ہم نے ثابت کر دیا کہ جس مقام پر توفی کے معنی موت کے آئے ہیں وہاں قرینہ موجود ہے جو علامت مجاز کی ہے۔ پس مجھے جھوٹا اشتہار دینا تو منظور نہیں۔ لیکن میں یہ سچا اشتہار دیتا

٩٩

صفحہ ١١١

ہوں کہ اگر آپ قرآن مجید میں توفی بمعنی موت کے بغیر قرینہ مقالیہ یا حالیہ کے ایک جگہ بھی ثابت کر دیں تو میں آپ کو اس دعویٰ میں کہ یہ آیت قطعیۃ الدلالۃ ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام پر صادق مان لوں گا۔ پھر اس میں بحث رہے گی کہ کوئی دوسری آیت قطعیۃ الدلالۃ اس کے معارض ہے یا نہیں۔

قولہ ..... اب اگر یہ آیت مسیح ابن مریم کی وفات پر قطعیۃ الدلالۃ نہیں تو دلائل مذکورہ بالا اور نیز دلائل مفصلہ مبسوط ازالۃ اوہام کا جواب دینا چاہئے۔

اقول ..... دلائل مذکورہ بالا کا تو جواب بفضلہ تعالیٰ ہو گیا۔ رہی دلائل مفصلہ مبسوط ازالۃ اوہام ان کا جواب بھی انشاء اللہ تعالیٰ جلد ہونے والا ہے۔ فانتظر !

قولہ ..... تو کہ آپ کو ہزار روپیہ بھی مل جائے اور اپنے بھائیوں میں علمی شہرت بھی حاصل ہو جائے۔

اقول ..... تعجب کہ آپ باوجود ادعائے مسیحیت خاکسار کو طمع روپیہ شہرت کا دیتے ہیں۔ خاکسار کی تو یہ دعا ہے کہ حق تعالیٰ مجھے اور آپ کو اور سب اہل اسلام کو طمع روپیہ وشہرت سے بچاوے۔

قولہ ..... دوسری دلیل مسیح ابن مریم کی وفات پر خود جناب رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے۔ جس کو امام بخاری اپنی کتاب التفسیر میں اس غرض سے لایا ہے کہ تا ظاہر کرے کہ لما توفیتنی کے کیا معنی ہے۔ الیٰ قولہ! اس میں تو کچھ شبہ نہیں کہ ہمارے نبی ﷺ فوت ہوگئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آپ کا مزار ہے۔ پھر جب کہ آنحضرت ﷺ نے وہی لفظ فلما توفیتنی کا حدیث بخاری میں اپنے لئے اختیار کیا ہے اور اپنے حق میں ویسا ہی استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں مستعمل تھا تو کیا اس بات کے سمجھنے میں کچھ کسر رہ گئی کہ جیسا کہ آنحضرت ﷺ وفات پاگئے۔ ایسا ہی حضرت مسیح ابن مریم بھی وفات پاگئے۔

اقول ..... اس مقام پر یا تو آپ نے بڑا مغالطہ کھایا ہے یا دیا ہے۔ بیان اس کا یہ ہے کہ لفظ صحیح بخاری کا یہ ہے: ” فاقول كما قال العبد الصالح وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم “ یہاں کاف تشبیہ ہے۔ جو مغایرت پر دلالت کرتا ہے۔ اگر حضرت یوں فرماتے ۔” فاقول ماقال العبد الصالح “ تو استدلال آپ کا درست ہوتا جب حضرت نے کاف تشبیہ اس پر داخل کیا تو یہ دلیل مغایرت ہوئی۔ معلوم ہوا کہ حضرت کے توفی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے توفی میں ایک مشابہت تو ہے۔ مگر عین نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی تو بطور اصعاد ہوئی اور حضرت ﷺ کی توفی بطور موت سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے حضرت کی زبان سے کیسا لفظ نکلوایا کہ جس سے حیات مسیح میں شبہ کرنے والوں کے شبہ کا استیصال کلی ہوگیا۔ الحمدلله على ذالك حمداً كثيراً طيباً مباركاً فيه!

١٠٠

دیکھو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ ال ہے۔ ”ماقلت لهم الا ما امرتنی به ان ا یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ”کما امرتنی“ میں فرق ہے۔ ایسا ہی ما قال العبد الصالح اور کما قال بينهما فقد اخطا خطاء فاحشاً“ پس الحمد لله على ذالك !

قولہ ..... کیا قطعیۃ الدلالۃ اسی کو کہتے ہیں کہ ہمارے سید و مولیٰ نبی عربی خاتم الانبیاء کی طرف ا ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرے اور ک

اقول ..... اوپر ثابت ہوا کہ کتابی کی طرف قبل موت کی طرف پھیرنا متعین ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ ار اثبات مدعی کے لئے کافی ہے۔ ضمیر بہ کی خواہ حق تع طرف یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اختلاف ص

قولہ ..... اور پھر اہل کتاب کے لفظ میں بھی ت کتاب ہیں۔

اقول ..... جتنے احتمالات مخالف مطلوب میں ان

قولہ ..... پھر بقول آپ کے ایمان لانے والو معین نہیں۔

اقول ..... تعین اس زمانہ کا تو لفظ قبل موتہ سے ب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بالجملہ وہ زمانہ بعد نزول ف کر اور کیا تعیین ہوگی۔ علاوہ اس کے زمانہ کا عد ہے۔ دیکھو قیامت کا زمانہ کوئی معین نہیں ہے۔ حال

قولہ ..... قرآن کریم کے کتنے مقامات سے ث کتاب باقی رہیں گے۔

اقول ..... آپ نے اس باب میں تحریر اول میں

١

صفحہ ١١١

دیکھو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول کو سورۂ مائدہ میں یوں حکایت کی ہے ۔ ”ماقلت لهم إلا ما امرتنی به ان اعبدوا الله ربی وربکم (مائدہ:١١٧)“ یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ”کما امرتنی“ نہیں کہا۔ پس معلوم ہوا کہ ما امرتنی اور کما امرتنی میں فرق ہے۔ ایسا ہی ما قال العبد الصالح اور کما قال العبد الصالح میں فرق ہے۔ ”ومن لم يفرق بينهما فقد اخطأ خطاء فاحشاً“ پس یہ استدلال آپ کا اوہن من نسج العنکبوت نکلا۔ الحمد لله على ذالك !

قولہ ...... کیا قطعیۃ الدلالۃ اسی کو کہتے ہیں کہ کوئی اس کے ضمیر خدا کی طرف پھیرے اور کوئی ہمارے سید ومولیٰ نبی عربی خاتم الانبیاء کی طرف اور کوئی حضرت عیسیٰ کی طرف اور کوئی قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرے اور کوئی کتاب کی طرف۔

اقول ...... اوپر ثابت ہوا کہ کتابی کی طرف قبل موتہ کی ضمیر پھیرنا باطل ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرنا متعین ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ ارجاع ضمیر قبل موتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اثبات مدعی کے لئے کافی ہے۔ ضمیر بہ کی خواہ حق تعالیٰ کی طرف پھیری جاوے یا آنحضرت ﷺ کی طرف یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اختلاف ضمیر بہ قطعیۃ میں کچھ مخل نہیں ہے۔

قولہ ...... اور پھر اہل کتاب کے لفظ میں بھی تفرقہ اور اختلاف ہے کہ وہ کس زمانہ کے اہل کتاب ہیں۔

اقول ...... جتنے احتمالات مخالف مطلوب ہیں ان سب کا ابطال اوپر ہوچکا۔ فتذکرہ!

قولہ ...... پھر بقول آپ کے ایمان لانے والوں کا زمانہ بھی ایک نشان دہی کے ساتھ مقرر اور معین نہیں۔

اقول ...... تحقق اس زمانہ کا تو لفظ قبل موتہ سے سمجھا جاتا ہے اور مبدء قرینہ حالیہ سے یعنی بعد نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام بالجملہ وہ زمانہ بعد نزول وقبل الموت کے درمیان میں ہوگا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا تعیین ہوگی۔ علاوہ اس کے زمانہ کا عدم تعیین قطعیۃ الدلالۃ ہونے میں مخل نہیں ہوسکتا ہے۔ دیکھو قیامت کا زمانہ کوئی معین نہیں ہے۔ حالانکہ نصوص دالۃ علی القیامۃ قطعی ہیں۔

قولہ ...... قرآن کریم کے کتنے مقامات سے ثابت ہوا ہے کہ اس دنیا کے زوال تک کفار اہل کتاب باقی رہیں گے۔

اقول ...... آپ نے اس باب میں تحریر اوّل میں دو آیتیں لکھی ہیں۔ ایک ”وجاعل الذین

١٠١

صفحہ ١١٣

اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة. (آل عمران:٥٥) ”دوسرے واغرينا بينهم العداوة البغضاء الى يوم القيمة“ پہلی آیت کا خاکسار نے اپنی تحریر دوم میں دو طرح پر جواب دیا۔ اوّل یہ کہ آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء:١٥٩)“ اس کی تخصیص ہے۔ دوم احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ قبل قیامت سب شریر مر جاویں گے۔ جن پر قیامت قائم ہوگی۔ پس معلوم ہوا کہ آیت عام مخصوص البعض ہے اور دوسری آیت کا یہ جواب دیا کہ یہ آیت بھی عام مخصوص البعض ہے۔ آپ نے اپنی تحریر دوم و سوم میں اس جواب پر کچھ اعتراض نہیں کیا اور پھر بار بار ان ہی آیات کو جن کا جواب ہو چکا ہے۔ لکھے جاتے ہیں یہ امر آداب مناظرہ کے خلاف ہے۔ اگر آپ کے نزدیک جواب میرا صحیح تھا تو استدلال ان آیات کے ساتھ ترک کرنا واجب تھا اور اگر غیر صحیح تھا تو اس کے عدم صحت کی وجہ لکھنا واجب تھی اور اگر صرف یہ ہی وجہ ہے کہ آیت ”وان من اهل الكتاب“ ذوالوجوہ ہے۔ قطعیۃ الدلالۃ نہیں ہے۔ اس لئے مخصص نہیں ہو سکتی ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ اوپر ہم نے آیت کا قطعیۃ الدلالۃ ہونا دلیل الزامی و تحقیقی سے ثابت کر دیا۔ فتدبر!

علاوہ اس کے ان دونوں آیتوں کی دلالت اس معنی پر کہ اس دنیا کے زوال تک کفار اہل کتاب باقی رہیں گے۔ صرف آپ کا فہم ہے یا سلف وخلف میں سے کسی نے یہ معنی بھی لکھے ہیں۔ اگر کسی نے لکھے ہیں تو سند لائیے اور اگر صرف آپ کا فہم عالی ہے تو ہرگز قابل اعتبار نہیں۔ آپ تو فہم معانی آیات میں بہت خطا کیا کرتے ہیں۔ دیکھئے اسی آیت ”اغرينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيمة (مائدة:١٤)“ میں بَيْنَهُم کا مرجع آپ نے یہود ونصاریٰ کو تحریر اوّل میں ٹھہرایا ہے۔ حالانکہ جمہور مفسرین کے نزدیک یہ قول ضعیف ہے۔ مفسرین نے اس کو قیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اصل مرجع اس کا فرق نصاریٰ ہیں سیاق قرآن مجید بھی اسی پر دال ہے۔ کیونکہ اس سے قبل یہ آیت ہے۔ ”ان الذین قالوا انا نصاریٰ اخذنا ميثاقهم فنسوا حظا مما ذكروا به (مائدة:١٤)“ مطلب پہلی آیت کا یہ ہے کہ میں تیرے تابعداروں کو کافروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ یعنی وقت وعدے سے لے کر قیامت تک جس زمانہ میں یہ دونوں پائے جائیں گے۔ تیرے تابعدار غالب رہیں گے نہ یہ کہ ان دونوں کا قیامت تک پایا جانا بھی ضرور ہے اور مطلب دوسری آیت کا یہ ہے کہ ہم نے نصاریٰ کے فرقوں میں عداوت و دشمنی لازم کر دی ہے۔ قیامت تک یعنی جس زمانہ میں یہ فرق پائے جائیں گے تو ان ١٠٢

میں عداوت بھی رہے گی۔ نہ یہ کہ ان سب فرقوں کا قیامت کے مؤیدہ حدیث ابوہریرہؓ ہے۔ جس کو باسناد صحیح امام احمد و الحافظ فى الفتح وروى احمد وابوداؤد عبدالرحمن بن آدم عن ابی هريرة مثله م عيسى عليه السلام ثوبان ممصران فيدق ال الجزية ويدعو الناس الى الاسلام ويهلك الاسلام وتقع الامنة فى الارض حتى ت الصبيان بالحيات وقال فى آخره ثم يتوفى وي قولہ..... پھر وہب اور محمد بن اسحق اور ابن عباسؓ کا واقعہ موت اقول..... وہب ومحمد بن اسحق اگرچہ واقعہ موت کے قائل اللہ تعالیٰ نے پھر زندہ کر کے مع الجسد ان کو آسمان پر اٹھا ل ابن عباسؓ کا واقعہ موت کا قائل ہونا کہیں مصرح نہیں ہے۔ منقول ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ واقعہ موت میں مانند قتادہ ضحاک وغیرہ کے تقدیم و تاخیر کے قائل ہوں کے جن کا اوپر ذکر ہوا۔ علاوہ اس کے آپ کے نزدیک لغت کہ ازالۃ الاوہام میں مصرح ہے اور ابن عباسؓ کے اس ا گئی۔ فتدبر!

قولہ..... اور رسول اللہ ﷺ موت مسیح پر صریح شہادت د اقول..... یہ غلط محض ہے۔ کیونکہ حدیث صحیح البخاری میں العبد الصالح“ پس کاف تشبیہ دال ہے تغایر مقولین پر ہے۔ یا تو لفظی یا معنوی لفظی کی یہ صورت ہے کہ مثلاً آ بجائے اس کے لفظ امتی فرماویں اور معنوی کی یہ صورت کہ مگر لفظ توفیتنی سے امتی مراد لیں۔ دونوں تقدیر پر موت م قولہ..... اور امام بخاری خود اپنا مذہب بھی یہ ہی ظاہر کر اقول..... امام بخاری نے ہرگز اپنا یہ مذہب ظاہر نہیں ١٠٣

صفحہ ١١٣

میں عداوت بھی رہے گی۔ نہ یہ کہ ان سب فرقوں کا قیامت تک پایا جانا بھی ضرور ہے۔ اس معنی کے مؤید وہ حدیث ابو ہریرہؓ ہے۔ جس کو باسناد صحیح امام احمد وابوداؤد نے روایت کیا ہے: ”قال الحافظ في الفتح وروى احمد وابوداؤد وباسناد صحيح من طريق عبدالرحمن بن آدم عن ابی هريرة مثله مرفوعاً وفى هذا الحديث ينزل عيسى عليه السلام ثوبان ممصران فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويدعو الناس الى الاسلام ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام وتقع الامنة فى الارض حتى ترتع الاسود مع الابل وتلعب الصبيان بالحيات وقال فى آخره ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون“

قولہ ...... پھر وہب اور محمد بن اسحٰق اور ابن عباسؓ واقعہ موت کے قائل ہیں۔

اقول...... وہب ومحمد بن اسحٰق اگرچہ واقعہ موت کے قائل ہیں۔ مگر اس امر کے بھی قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پھر زندہ کر کے مع الجسد ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اس سے بھی حیات ثابت ہوئی اور ابن عباسؓ کا واقعہ موت کا قائل ہونا کہیں مصرح نہیں ہے۔ ہاں تفسیر متوفیک کی ممیتک البتہ ان سے منقول ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ واقعہ موت کے وہ قائل ہیں۔ محتمل ہے کہ وہ آیت میں مانند قتادہ ضحاک وغیرہ کے تقدیم وتاخیر کے قائل ہوں۔ بلکہ راجح یہی ہے بدلیل اثرین صحیحین کے جن کا اوپر ذکر ہوا۔ علاوہ اس کے آپ کے نزدیک لفظ ممیتک کا دلیل موت حقیقی پر نہیں۔ جیسا کہ ازالۃ الاوہام میں مصرح ہے اور ابن عباسؓ کے اس روایت میں جو جرح ہے وہ اوپر بیان کی گئی۔ فتدبر!

قولہ...... اور رسول اللہ ﷺ موت مسیح پر صریح شہادت دیتے ہیں۔

اقول...... یہ غلط محض ہے۔ کیونکہ حدیث صحیح البخاری میں صرف یہی ہے۔ ”اقول كما قال العبد الصالح“ پس کاف تشبیہ دلالت تغایر مقولین پر کرتا ہے نہ عینیت پر اور تغایر میں دو احتمال ہیں یا تو لفظی یا معنوی لفظی کی یہ صورت ہے کہ مثلاً آنحضرت ﷺ لفظ توفیتنی نہ فرماویں بلکہ بجائے اس کے لفظ امتنی فرماویں اور معنوی کی یہ صورت کہ آنحضرت ﷺ لفظ توفیتنی ہی فرماویں۔ مگر لفظ توفیتنی سے امتنی مراد لیں۔ دونوں تقدیر پر موت مسیح پر شہادت مفقود ہے۔

قولہ...... اور امام بخاری خود اپنا مذہب بھی یہی ظاہر کرتے ہیں۔

اقول...... امام بخاری نے ہرگز اپنا یہ مذہب ظاہر نہیں کیا۔ سبحانک ہذا بہتان عظیم! البتہ امام

١٠٣

صفحہ ١١٥

بخاری نے سورۂ مائدہ کی تفسیر میں یہ لکھا ہے: ”وقال ابن عباس متوفيك مميتك“ اور اسی سورۃ کی تفسیر میں باب ”وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شئ شهيد (مائده: ١١٧)“ میں حدیث ابن عباس لایا ہے۔ جس میں یہ لفظ ہے: ”فاقول كما قال العبد الصالح وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم“ اس سے یہ بات ہرگز ثابت نہیں ہوتی ہے کہ امام بخاری کا یہ مذہب ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ بلکہ بخاری کا مذہب یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ دلیل اس پر یہ ہے کہ بخاری نے کتاب احادیث الانبیاء میں اپنا قول نزول عیسیٰ ابن مریم لکھا ہے۔ ابوذر کی روایت میں بغیر لفظ باب کے ہے اور غیر ابوذر کی روایت میں باب ہے۔ اس باب میں بخاری نے دو حدیثیں لکھی ہیں۔ ان میں سے پہلی حدیث ابو ہریرہ کی ہے۔ ”والذی نفسی بیده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم“ جس میں یہ لفظ موجود ہے۔ ”ثم يقول ابوهریرة واقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا“

بخاری کا اس حدیث کو لانا دلالت کرتا ہے۔ اس پر کہ حضرت مسیح علیہ السلام بخاری کے نزدیک زندہ ہیں۔

قولہ ...... تو پھر باوجود ان مخالفانہ ثبوتوں کے قبل موتہ کی ضمیر کیونکر قطعی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف پھر سکتی ہے۔

اقول ...... اوپر ہم نے دلیل الزامی وتحقیقی سے ثابت کر دیا کہ ضمیر قبل موتہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف پھرتی ہے۔ نہ کتابی کی طرف اگر ضمیر قبل موتہ کی کتابی کی طرف ہو تو مراد ایمان سے یا وہ ایمان ہے جو زہوق روح کی وقت ہوتا ہے تو لفظ قبل کا محض بے محل ہے۔ بجائے اس کے حین یا عند یا وقت چاہئے یا وہ ایمان جو اس سے پہلے ہوتا ہے۔ یعنی ایمان نافع معتد بہ تو اس وقت قبل موتہ کے قید لا طائل ہوتی ہے۔ کلام الہی کو معاذ اللہ سفہا کا سا کلام بنائے دیتی ہے۔

قولہ ...... اور میں نے آپ کے خالص مستقبل کا بھی پورا پورا فیصلہ کر دیا۔

اقول ...... مخفی نہ رہے کہ ہم نے اوپر ثابت کر دیا کہ ہمارے مدعی کے اثبات کے لئے صرف یہ ہی امر کافی ہے کہ ضمیر قبل موتہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہو۔ لیؤمن کو خالص مستقبل

١٠٤

کے لئے لیجئے یا نہ لیجئے۔ خالص مستقبل کی بحث تو صرف فاسد ہوتے ہیں اور فساد معنی در صورتحال واستمرار ظاہر ہ

قولہ ...... اگر آپ کے ساتھ کوئی عامی اور بے خبر مفلس پیارا اور برگزیدہ رسول ہے۔

اقول ...... سب مفسرین کو جن میں صحابہ میں سے ابن حسن بصری و ضحاک وابن جریج و ربیع بن انس و قتادہ و اسلم و وہب بن منبہ و محمد بن اسحق وابن جریر وابن ک التنزیل و بیضاوی و مدارک و غیرہم سب داخل ہیں۔ و بے ادبی ہے۔

چون خدا خواهد کہ
میلش اندر طعنہ

اور ہم نے اوپر ثابت کر دیا کہ نہ اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ ہیں۔

قولہ ...... کیا اس حدیث کے موافق جو کتاب ال ایسا نہ کریں کہ آیت لیؤمن کی طرح کوئی ذوالوجوہ او

اقول ...... ان سب امور کے جواب سے بفضلہ تعا اس مقام پر اپنی دلیل کا آپ کی دلیل سے موازن جائے کہ آپ کی دلیل کی ترجیح کی کوئی وجہ نہیں ہے سے ظاہر موت ہے تو ہم بھی اوپر ثابت کر آئے کہ ق لیؤمنن بہ قبل موتہ“ سے حیات ہے اور اگ رسول اللہ ﷺ نے حدیث بخاری میں اس طرح ف الصالح “ تو میں کہتا ہوں کہ حدیث بخاری میں ت جناب رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمائی ہے:” فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر ال ويفيض المال حتى لا يقبله احد

٥

صفحہ ١١٥

کے لئے لیجئے یا نہ لیجئے۔ خالص مستقبل کی بحث تو صرف اس لئے کی گئی تھی کہ بغیر مستقبل کے معنی فاسد ہوتے ہیں اور فساد معنی در صورتِ حال واستمرار ظاہر ہے اور احتمال ماضی تو صریح البطلان ہے۔

قولہ ...... اگر آپ کے ساتھ کوئی عامی اور بے خبر مفسر ہوگا۔ ہمارے ساتھ اللہ جل شانہ اور اس کا پیارا اور برگزیدہ رسول ہے۔

اقول ...... سب مفسرین کو جن میں صحابہ میں سے ابن عباسؓ و ابوہریرہؓ اور من بعد الصحابہ میں سے حسن بصری و ضحاک و ابن جریج و ربیع بن انس و قتادہ ومطرف وابو مالک و عبد الرحمن بن زید بن اسلم و وہب بن منبہ و محمد بن اسحاق و ابن جریر و ابن کثیر اور صاحب تفسیر در منثور وکشاف ومعالم التنزیل و بیضاوی و مدارک و غیرہم سب داخل ہیں۔ ان سب کو عامی و بے خبر کہنا نہایت گستاخی و بے ادبی ہے۔

چون خدا خواہد کہ پردہ کس درد
میلش اندر طعنہ پاکان برد

اور ہم نے اوپر ثابت کر دیا کہ نہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے اور نہ اس کا رسول۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ ہیں۔

قولہ ...... کیا اس حدیث کے موافق جو کتاب التفسیر میں امام بخاری نے لکھی ہے الیٰ قولہ لیکن ایسا نہ کریں کہ آیت لیؤمنن کی طرح کوئی ذوالوجوہ اور مجہول المفہوم حدیث پیش کر دیں۔

اقول ...... ان سب امور کے جواب سے بفضلہ تعالیٰ ہم فارغ ہو گئے۔ الحمد للہ علیٰ ذالک! اب ہم اس مقام پر اپنی دلیل کا آپ کی دلیل سے موازنہ کرتے ہیں تاکہ سب اہل انصاف پر ظاہر ہو جائے کہ آپ کی دلیل کی ترجیح کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اگر آپ کی دلیل کی ترجیح کی یہ وجہ ہے کہ توفی سے ظاہر موت ہے تو ہم بھی اوپر ثابت کر آئے کہ ظاہر آیت ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ سے حیات ہے اور اگر یہ وجہ ہے کہ ”انی متوفیک“ کی تفسیر جناب رسول اللہ ﷺ نے حدیث بخاری میں اس طرح فرمائی ہے کہ ”فاقول کما قال العبد الصالح“ تو میں کہتا ہوں کہ حدیث بخاری میں تفسیر اس آیت ”وان من اھل الکتاب“ کے جناب رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمائی ہے۔ ”والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من

١٠٥

صفحہ ١١٧

الدنيا ومافيها “ کیونکہ اس حدیث سے صاف خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول جسمانی ثابت ہوتا ہے اور نزول فرع صعود کی ہے تو ثابت ہوا کہ صعود بھی جسمانی ہوا۔

پس یہ حدیث صعود جسمانی کے اثبات کے لئے کم نہیں ہے۔ حدیث ” فاقول کما قال العبد الصالح “ سے اثبات وفات کے لئے اگر کہا جائے کہ حدیث نزول بسبب معارضہ آیت انی متوفیک کے مصروف عن الظاہر ہے تو ہم کہیں گے کہ حدیث ” فاقول کما قال العبد الصالح “ بھی بسبب معارضہ آیت ” وان من اهل الكتاب “ کے مصروف عن الظاہر ہے۔ اگر وجہ ترجیح یہ ہے کہ بخاری میں ہے کہ ابن عباس نے متوفیک کی تفسیر ممیتک کی ہے تو بخاری میں ہے کہ ابو ہریرہ نے ” وان من اهل الكتاب “ کی ایسی تفسیر کی ہے کہ جس سے قطعی حیات ثابت ہوتی ہے۔ اب ہماری دلیل کے وجہ ترجیح سنئے۔ ہم نے قطعی طور پر ثابت کر دیا کہ ضمیر قبل موتہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے۔ جس سے قطعاً حیات ثابت ہے اور آپ سے لفظ توفی کا بمعنی موت حقیقی ہونا ثابت نہ ہو سکا۔ کیونکہ مدار اس کا اس امر پر ہے کہ آپ کوئی ایسی آیت یا حدیث پیش کریں کہ وہاں بلا قیام قرینہ موت مراد ہو۔ ” وانى لكم هذا ۔ حديث والذى نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم “ صاف نزول جسمانی پر دلالت کرتی ہے اور آیت انی متوفیک اس کے معارض نہیں ہے۔ بخلاف ” فاقول کما قال العبد الصالح “ کے کہ یہ وفات پر مطلق دلالت ہی نہیں کرتی۔ کیونکہ اس میں لفظ تشبیہ موجود ہے اور بفرض دلالت آیت ” وان من اهل الكتاب “ اس کی معارض وصارف عن الظاہر ہے اور تفسیر ابن عباس پر تفسیر ابو ہریرہ کو دو طرح ترجیح ہے۔

آپ کی دلیل پر تین وجہوں سے ترجیح ہے۔

قولہ ...... آپ جانتے ہیں کہ آیت لیوشکن کے متعلق چند روز کس قدر ہم دونوں کا وقت ضائع ہوا اور آخر آپ کا دعوٰی قطعیۃ الدلالۃ صریح باطل نکلا۔

اقول ...... آیت کے متعلق بحث میں بنظر احقاق حق جو وقت صرف ہوا اس کو ضائع کہنا آپ ہی کا کام ہے۔ میں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید اجر کی رکھتا ہوں۔ آپ کو نہ ہو تو نہ سہی اور ظاہر بھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آیت کا قطعیۃ الدلالۃ ہونا ثابت ہو گیا اور حجت آپ پر اور آپ کے اتباع پر تمام

١٠٦

ہو گئی۔ حجت الزامی تو آپ پر عین مناظرہ ہی میں تمام ہو گئی تھی میں حجت تحقیقی بھی جو تحریر ہذا میں لکھی گئی ہے لکھی جاتی۔ مگر آپ معاہدہ و شرط مباحثہ نا تمام چھوڑ کر تشریف لے گئے۔

قولہ ...... اور آپ نے جن پانچ دلیلوں پر حصر کیا تھا وہ ہباء منثورا ہو گئے۔

اقول ...... سبحانک ہذا بہتان عظیم! وہ کون کلمہ حصر کا ہے جس سے میرے پاس بفضلہ تعالیٰ اور بھی ادلہ سوائے ان پانچ کے موجود ہیں۔ لکھوں گا۔ فانتظر ! ان پانچ میں سے ایک کی قطعیت تو میں نے ایسی کیا گیا تھا اور باقی ادلہ کو قطعی نہ سہی۔ مگر ادلہ ظنیہ تو ہیں ظنی طور پر دلیل ظنی کا منکر اگرچہ کافر نہیں۔ مگر مبتدع تو ہے۔

قولہ ...... حضرت آپ ناراض نہ ہوں۔ اگر پہلے سے آپ فرماتے آپ کے ساتھ ضائع نہ ہوتا۔

اقول ...... آپ اپنے وقت کو اس مباحثہ میں ضائع سمجھتے ہیں تو حضرت من! اس کا سبب میں نہیں ہوا۔ بلکہ اس کا سبب آپ کا باطل حق کو اس کا نہ تسلیم کرنا ہے۔ آپ اگر پہلے سے سوچ لیتے تو آپ کا ضائع نہ ہوتا۔ میں بھی آپ کے اس قول کے ساتھ اتفاق ضائع ہوا۔ عند اللہ اس لئے کہ بعد ظہور حق کے باطل پر آپ اڑے کو شکست فاش اس مباحثہ میں ہوئی کہ زبانی عذر بارد مرض کا نا تمام چھوڑ کر چل دیئے۔ ذالک ہو الخسران المبین! اور میرا وقت ہوا۔ بلکہ میرے مخالف پر حجت تمام ہو گئی اور مجھ کو ناصر حقیقی نے علی ذالک ! اور چونکہ احقر نے حتی الوسع اس مناظرہ کو محض اظہار غرض دنیوی و نفسانی کے ساتھ منسوب ہونے سے اس کو بقدر ا مانقول وكيل “ اس لئے مجھ کو اپنے رب سے امید قوی ہے مجھے ملے گا۔ ” وماتوفيقی الا بالله ولاحول ولا قوة الا

قولہ ...... اب جب کہ آپ کے ان اول درجہ کے دلائل کا پیش کیا تھا۔ آخر میں یہ کیفیت نکلی تو میں کیونکر اعتبار کروں کہ

١٠٧

صفحہ ١١٧

ہو گئی۔ حجت الزامی تو آپ پر عین مناظرہ ہی میں تمام ہوگئی تھی اور قریب تھا کہ تحریر چہارم یا پنجم میں حجت تحقیقی بھی جو تحریر ہذا میں لکھی گئی ہے لکھی جاتی۔ مگر آپ اس کے خوف سے پہلے ہی خلاف معاہدہ و شرط مباحثہ نا تمام چھوڑ کر تشریف لے گئے۔

قولہ ...... اور آپ نے جن پانچ دلیلوں پر حصر کیا تھا وہ ہباء منثوراً کی طرح نابود ہوگئیں۔

اقول ...... سبحانک ہذا بہتان عظیم ! وہ کون کلمہ حصر کا ہے اگر آپ سچے ہیں تو ارشاد فرمائیے۔ میرے پاس بفضلہ تعالیٰ اور بھی ادلہ سوائے ان پانچ کے موجود ہیں جن کو انشاء اللہ میں مقدمہ میں لکھوں گا۔ فانظر! ان پانچ میں سے ایک کی قطعیت تو میں نے ثابت کر دی۔ جس کی قطعیت کا دعویٰ کیا گیا تھا اور باقی ادلہ گو قطعی نہ سہی۔ مگر ادلہ ظنیہ تو ہیں ظنی طور پر اثبات مدعیٰ کے لئے کافی ہیں۔ دلیل ظنی کا منکر اگرچہ کافر نہیں۔ مگر مبتدع تو ہے۔

قولہ ...... حضرت آپ ناراض نہ ہوں۔ اگر پہلے سے آپ سوچ لیتے تو میرا عزیز وقت ناحق آپ کے ساتھ ضائع نہ ہوتا۔

اقول ...... آپ اپنے وقت کو اس مباحثہ میں ضائع سمجھتے ہیں تو آپ کا وقت ضائع ہوا ہوگا۔ لیکن حضرت من اس کا سبب میں نہیں ہوا۔ بلکہ اس کا سبب آپ کا پہلے سے باطل پر ہونا اور بعد تبیین وظہور حق کے اس کا نہ تسلیم کرنا ہے۔ آپ اگر پہلے سے سوچ لیتے یا بعد ظہور حق کے تسلیم کر لیتے تو یہ وقت آپ کا ضائع نہ ہوگا۔ میں بھی آپ کے اس قول کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں کہ فی الواقع آپ کا وقت ضائع ہوا۔ عند اللہ اس لئے کہ بعد ظہور حق کے باطل پر آپ اڑے رہے اور عند الناس اس لئے کہ آپ کو شکست فاحش اس مباحثہ میں ہوئی کہ زبانی عذر بارد مرض خسر صاحب خود بتا کر کے پہلے ہی بحث کا ناتمام چھوڑ کر چل دیئے۔ ذالک ہو الخسران المبین! اور میرا وقت تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ضائع نہیں ہوا۔ بلکہ میرے مخالف پر حجت تمام ہوگئی اور مجھ کو ناصر حقیقی نے فتح نمایاں نصیب کی۔ الحمدلله على ذالك ! اور چونکہ احقر نے حتی الوسع اس مناظرہ کو محض احقاق حق کے لئے کیا۔ ریا وسمعہ یا کسی اور غرض دنیوی و نفسانی کے ساتھ منسوب ہونے سے اس کو بقدر استطاعت بچایا۔ ”والله على مانقول وکیل“ اس لئے مجھ کو اپنے رب سے امید قوی ہے کہ اس کا اجر آخرت میں انشاء اللہ تعالیٰ مجھے ملے گا۔ ”وما توفیقی الا بالله ولا حول ولا قوة الا بالله“

قولہ ...... اب جب کہ آپ کے ان اوّل درجہ کے دلائل کی جن کو آپ نے تمام ذخیرہ سے چن کر پیش کیا تھا۔ آخر میں یہ کیفیت نکلی تو میں کیونکر اعتبار کروں کہ آپ کے دوسرے دلائل میں جان ہوگی۔

١٠٧

صفحہ ١١٨

اقول ...... یہاں سے آپ نے تمہید گریز کی شروع کی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب وہ پانچ ادلہ جو سرسری طور سے جلسہ واحدہ میں بالمشافہ لکھ کر آپ کو دیئے گئے اور اس جلسہ میں ان کا جواب آپ سے نہ ہو سکا اور مہلت آپ نے طلب کی اور شرط بالمشافہ تحریر کو آپ نے حذف کر دیا اور غائبانہ جو جواب آپ نے لکھا وہ سراسر باطل اور ہیچ اور لغو محض اس لئے آپ کو یہ دھڑکہ پیدا ہوا کہ ان ادلہ سرسری کے جواب میں تو یہ حال ہے۔ پس اگر دوسرے ادلہ جو اطمینان سے لکھے جاویں گے اس کا جواب دہ میں کیونکر ہو سکوں گا اور جب بحث حیات و وفات میں جس کو میں اپنی دلیل قوی سمجھتا تھا یہ حال ہے تو بحث نزول بحث مسیح موعود میں کیا حالت گزرے گی۔ اس لئے آپ نے ذلت فرار کو اختیار فرمایا۔ یہ خیال نہ کیا کہ یہاں تو فرار کر کے اپنی جان بچائی۔ لیکن رب السموات والارض سے جان بچا کر کہاں جائے گا۔ اگر آپ کو کچھ حیا و غیرت یا خوف حق تعالیٰ کا ہے تو پھر آپ دہلی میں تشریف لایئے اور مباحثہ حیات و وفات کو حسب معاہدہ و شرط تمام کیجئے اور اس کے بعد نزول مسیح میں موافق عہد و شرط کے مباحثہ کیجئے اور پھر موافق وعدہ کے مباحثہ اپنے مسیح موعود ہونے میں۔ اگر آپ سچے مسیح موعود ہیں تو ضرور یہ ابحاث آپ کو پورے کرنے چاہئے۔ ورنہ یہی علامت آپ کی مسیح کاذب ہونے کے لئے کافی سمجھی جاوے گی۔ ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة اعدت للكافرين (بقرہ:٢٤)“

مخفی نہ رہے کہ آپ نے اوپر یہ ظاہر کیا کہ خاکسار نے پانچ دلیلوں پر حصر کیا تھا۔ مگر یہاں آپ کے اقرار سے ثابت ہوا کہ آپ کے گمان میں میرے پاس دوسرے دلائل بھی موجود ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ قصداً بھی جھوٹ بولا کرتے ہیں۔ جاننا چاہئے کہ میں نے خلاف اپنی عادت کے کچھ کلمات سخت یہاں آپ کو لکھے ہیں۔ مگر وہ کلمات آپ کے کلمات طیبہ کے مقابلہ و موازنہ میں کچھ سخت نہیں ہیں۔ اگر آپ فرمائیے گا تو موازنہ کر کے دکھا دیا جاوے گا۔ بایں ہمہ اس قدر سختی بھی میں اپنی جبلت کے خلاف سمجھتا ہوں۔ میں گمان کرتا ہوں کہ حق تعالیٰ نے مجھ سے اس حکمت و مصلحت سے یہ لکھوائے ہیں کہ آپ غیرت میں آ کر پھر تینوں ابحاث کے لئے تیار ہو جاویں گے تو آپ کا دجل و تمویہ کھل جاوے گی۔

قولہ ...... اور آج جیسا کہ آپ کی طرف سے تین پرچے لکھے جاچکے ہیں۔ میری طرف سے بھی تین پرچے ہو گئے۔ اب یہ چھ پرچے ہم دونوں کی طرف سے بجنسہ چھپ جانے چاہئے۔ پبلک خود فیصل کرلے گی۔

١٠٨

صفحہ ١١٩

اقول ...... جب مباحثہ ابھی ناتمام ہے تو پبلک کیسے فیصلہ کر سکتی ہے۔

قولہ ...... چونکہ مساوی طور پر ہم دونوں کے پرچے تحریر ہو چکے ہیں۔ تین آپ کی طرف سے اور تین میری طرف سے اس لئے یہی پرچے بلاکم وبیش چھپ جائیں گے اور ہم دونوں میں سے کسی کو اختیار نہ ہوگا کہ غائبانہ طول پر کچھ اور زیادہ یا کم کرے۔

اقول ...... یہ عجیب آپ کا انصاف ہے۔ آپ اپنے رقعے مورخہ ٢٣ اکتوبر میں لکھ چکے ہیں اور ”اس لحاظ سے کہ بحث کو بے فائدہ طول نہ ہو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پرچوں کی تعداد پانچ سے زیادہ نہ ہو اور پہلا پرچہ آپ کا ہو۔“

اس کلام سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے پانچ پرچوں تک کی احقر کو اجازت دی تھی اور مدعی بھی احقر کو بنایا تھا اور طبعی طور پر یہ امر ثابت ہے کہ مدعاعلیہ کا پرچہ ایک کم ہونا چاہئے۔

مرزا قادیانی نے خط موسومہ مولوی محمد حسین صاحب مورخہ ٨ /جون ١٨٩١ء میں خود لکھا ہے: ”پرچے پانچ ہونے چاہئیں جو صاحب اوّل لکھیں۔ ایک پرچہ زائد ان کا حق ہے۔“

اس خاکسار نے اوّل لکھا ہے۔ اس لئے ایک پرچہ زائد میرا حق ہے اور مرزا قادیانی کا ایک پرچہ کم ہونا چاہئے۔ پس جب احقر کو پانچ کی اجازت ہوئی تو آپ کو چار کی۔ اب اگر اس سے کم پر مقرر کرنا منظور تھا تو اس کی تین صورتیں تھیں یا تو ہر واحد کو مستقل کم کرنے کا اختیار دیا جاتا تو اس صورت میں تو مناظرہ ہی متصور نہیں۔ کیونکہ احد المناظرین مثلاً اگر دو تحریروں پر قصداً کرنا چاہتا ہے اور دوسرا تین پر یا احد المناظرین تین پر اور دوسرا چار پر احد المناظرین چار پر اور دوسرا پانچ پر تو مناظرہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس لئے کہ اجتماع اضداد محال ہے اور اگر احد المناظرین کو اختیار دیا جاوے نہ دوسرے کو ترجیح بلامرجح خلاف عدل ہے یا دونوں کو باتفاق رائے کم پر قصر کرنے کا اختیار ہے۔ یہی شق متعین ہے اور یہ آپ نے اختیار نہیں کی۔ اگر آپ کو میری تین تحریروں پر قصر کرنا تھا تو آپ پر دو امر واجب تھے۔

اوّل ...... یہ کہ قبل قطع مباحثہ تراضی طرفین حاصل کر لیتے۔

دوم ...... جس تقدیر پر احقر تین پرچوں پر راضی ہو جاتا تو آپ اپنے دو ہی پرچے رکھتے۔ تیسرا نہ لکھتے۔ جب آپ نے دو واجبوں کا ترک کیا تو اب نقض معاہدہ ومخالفت آپ سے صادر ہوئی۔ اس لئے اب مجھے عقلاً وشرعاً وقانوناً آپ کی اخیر تحریر کے جواب لکھنے کا اختیار باقی ہے۔ ہاں جو تحریرات مباحثہ میں ہوئی ہیں۔ وہ انشاء اللہ تعالیٰ بعینہ محفوظ رہیں گے۔ اس میں کچھ کم وبیش نہ کیا جاوے گا۔ علاوہ اس کے وفات کی دلیل آپ نے اخیر پرچے میں لکھی اور وہ لکھ کر آپ چل دیئے

١٠٩

صفحہ ١٢١

اور احقر کو مطلق موقع جواب کا نہ دیا۔ کیا یہی انصاف ہے۔ اگر آپ کو تیسرے پرچہ پر قطع بحث منظور تھی تو دلیل وفات دوسرے ہی میں لکھ دی ہوتی۔ کیا مسیح موعود کی ایسی دیانت ہونی چاہئے۔ ہاں مسیح کاذب کے لئے یہی زیبا ہے۔ سوائے اس کے آپ تحریر اخیر میں چند امور کا مطالبہ فرماتے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں: ”بلکہ اگر وہ اپنے معنوں کو قطعیۃ الدلالۃ بنانا چاہتے ہیں تو ان پر فرض ہے کہ ان دونوں باتوں کا قطعی طور پر فیصلہ کرلیں۔“

دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”پھر مولوی صاحب کے پاس باوجود اس دوسرے معنی ابن عباسؓ اور عکرمہ کے کون سی قطعی دلیل اس بات پر ہے کہ اس ذکر اہل کتاب سے وہ لوگ قطعاً باہر رکھے گئے ہیں اور کون سی حجت شرعی یقینی قطعیۃ الدلالۃ اس بات پر ہے کہ اہل کتاب سے مراد اس زمانہ نامعلوم کی اہل کتاب ہیں۔ جس میں تمام وہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے۔“

تیسری جگہ لکھتے ہیں: ”اب فرمائیے کیا اس تحریف پر کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل مل سکتی ہے۔“

چوتھی جگہ ہے: ”اگر کسی حدیث صحیح میں ایسی تحریف کی اجازت ہے تو بسم اللہ دکھلائیے۔“

پانچویں جگہ ہے: ”آپ اگر سچے ہیں تو اس کتاب اصح الکتب سے کوئی حدیث اس پایہ کی پیش کریں۔“

وغیرہ وغیرہ مقامات میں چند امور کا آپ مطالبہ کر رہے ہیں اور یہاں یہ ارشاد ہے کہ یہی پرچہ بلاکم و بیش چھپ جائیں گے اور ہم دونوں میں سے کسی کو اختیار نہ ہوگا کہ غائبانہ طور پر کچھ اور زیادہ یا کم کریں۔ یہ اجتماع المتخالفین کیسا ہے۔

قولہ ...... یہ بھی یاد رہے کہ تین پرچوں پر طبعی طور پر فریقین کے بیانات ختم ہوگئے ہیں۔

اقول ...... یہ غلط محض ہے اور دعویٰ بلا دلیل اور کذب صریح ہے۔ عقل و نقل کے مخالف کیونکہ میرے بیانات کا ختم ہونا آپ کو کیسے معلوم ہوا۔ علاوہ اس کے ابھی تک اس خیال سے کہ یہ مقدمہ آپ کے مسلمات سے ہے کہ قبل موتہ کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ دلیل تحقیقی اس پر قائم نہیں کی گئی تھی۔ آپ کے مسلمات پر بناء کی گئی تھی اور یہ ارادہ تھا کہ اگر آپ مطالبہ دلیل تحقیقی کریں گے تو دلیل تحقیقی بیان کی جاوے گی۔ سو آپ نے ص ٤ تحریر اخیر میں مطالبہ تو کیا اور جواب کا انتظار آپ نہیں کرتے ہیں۔ کیا یہی قطعی طور پر فریقین کے بیان پر ختم ہونا ہے تو یہ ظلم صریح ہے۔

”وسيعلم الذين ظلموا اى منقلب ينقلبون“

١١٠

علاوہ اس کے باوجود مطالبہ آپ نے کسی پرچہ فرمائی۔ ہاں پرچہ اخیر میں دو دلیلیں لکھی ہیں تو اب محض طبعی طور پر فریقین کے بیانات کا ختم ہونا ہے۔ اس لئے آپ کو کتمان حق و دجل و تمویہ مقصود ہے۔ اظہار صواب حق منظور ہوتا تو ایسے امور کا ارتکاب آپ ہرگز نہ کرتے مباحثہ حیات و وفات کو ختم کیجئے۔ اس کے بعد نزول مسیح میں بحث کیجئے۔ ورنہ آپ مسیح کاذب تصور کئے جاویں گے

قولہ ...... اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد جس قدر ہوں گی اور تلاشوں کے ذریعہ سے صحیح رائے جو حق کی مؤید آپ تحریری طور پر دوسرے امور میں بحث کر سکتے ہیں۔

اقول ...... یہ امر معاہدہ و شرط کے خلاف ہے۔ کیونکہ ”پہلے مسئلہ حیات و وفات مسیح ابن مریم میں بحث ہو گی عاجز کی مسیح موعود ہونے میں یہ قید جواب آپ نے زبانی کے بعد جب پبلک کی طرف سے منصفانہ رائیں شائع جو حق کی مؤید ہو پیدا ہو جائے گی۔“

کسی رقعہ میں نہیں تحریر فرمائی اس سے معلوم احقاق حق سے کچھ کام نہیں بتلائیے تو فرمائیے کہ وہ پبلک کون میری جماعت نے فیصلہ کیا تو آپ اس کو تسلیم نہ کریں گے اس کو تسلیم نہ کروں گا۔ پھر وہ فیصلہ کرنے والی جماعت ہی فیصلہ کرنا رکھا جاوے تو یہ شکل عمدہ معلوم ہوتی ہے تحریریں ایک جماعت کے سامنے پیش ہوں کہ ان میں موافق ہوں اور دو آدمی آپ کے مذہب کے آپ کی جماعت میں داخل ہو اور نہ آپ کی جماعت میں جو نیچری عالم مانند سید احمد خان صاحب وغیرہ کے اور ہو ۔ پھر فیصلہ کثرت رائے پر کیا جاوے اس کے سوا نہیں معلوم ہوتا۔

١١١

صفحہ ١٢١

علاوہ اس کے باوجود مطالبہ آپ نے کسی پرچہ میں دلیل وفات مسیح علیہ السلام تحریر نہیں فرمائی۔ ہاں پرچہ اخیر میں دو دلیلیں لکھی ہیں تو اب مہلت آپ جواب کی نہیں دیتے ہیں۔ کیا یہی طبعی طور پر فریقین کے بیانات کا ختم ہونا ہے۔ اس سے صریح آپ کی چالاکی معلوم ہوتی ہے۔ آپ کو کتمان حق و دجل و تمویہ مقصود ہے۔ اظہار صواب و احقاق حق ہرگز مطلوب نہیں۔ اگر احقاق حق منظور ہوتا تو ایسے امور کا ارتکاب آپ ہرگز نہ کرتے۔ آپ اگر سچے ہیں تو پھر دہلی میں آکر مباحثہ حیات و وفات کو ختم کیجئے۔ اس کے بعد نزول مسیح علیہ السلام میں پھر اپنے مسیح موعود ہونے میں بحث کیجئے۔ ورنہ آپ مسیح کاذب تصور کئے جاویں گے۔

قولہ ....... اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد جب پبلک کی طرف سے منصفانہ رائیں شائع ہوں گی اور ثالثوں کے ذریعہ سے صحیح رائے جو حق کی مؤید ہو پیدا ہو جائے گی تو اس تصفیہ کے بعد آپ تحریری طور پر دوسرے امور میں بحث کر سکتے ہیں۔

اقول ...... یہ امر معاہدہ و شرط کے خلاف ہے۔ کیونکہ آپ تین رقعوں میں تحریر فرما چکے ہیں کہ: ”پہلے مسئلہ حیات و وفات مسیح ابن مریم میں بحث ہوگی۔ اس کے بعد نزول مسیح ابن مریم میں اور عاجز کے مسیح موعود ہونے میں یہ قید جو اب آپ نے زیادہ کی ہے۔ یعنی اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد جب پبلک کی طرف سے منصفانہ رائیں شائع ہوں گی اور ثالثوں کے ذریعہ سے صحیح رائے جو حق کی مؤید ہو پیدا ہو جائے گی ۔“

کسی رقعہ میں نہیں تحریر فرمائی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو دفع الوقتی مقصود ہے۔ احقاق حق سے کچھ کام نہیں بھلا یہ تو فرمائیے کہ وہ پبلک کون ہوگی اور وہ ثالث کون ہوں گے ۔ اگر میری جماعت نے فیصلہ کیا تو آپ اس کو تسلیم نہ کریں گے اور آپ کی جماعت نے فیصلہ کیا تو میں اس کو تسلیم نہ کروں گا۔ پھر وہ فیصلہ کرنے والی جماعت کون ہوگی۔ میرے نزدیک اگر جماعت پر ہی فیصلہ کرنا رکھا جاوے تو یہ شکل عمدہ معلوم ہوتی ہے کہ میری چاروں تحریریں اور آپ کی تین تحریریں ایک جماعت کے سامنے پیش ہوں کہ ان میں دو آدمی میرے مذہب کے میری پسند کی موافق ہوں اور دو آدمی آپ کے مذہب کے آپ کی پسند کے مطابق اور ایک وہ شخص ہو کہ نہ میری جماعت میں داخل ہو اور نہ آپ کی جماعت میں جیسے کوئی عیسائی عالم یا کوئی آریہ سماج عالم یا کوئی نیچری عالم مانند سید احمد خان صاحب وغیرہ کے اور اس کا منتخب کرنا بھی ہم دونوں کے اتفاق سے ہو۔ پھر فیصلہ کثرت رائے پر کیا جاوے اس کے سوا اور کسی طرح پر کسی جماعت کا فیصلہ قابل قبول نہیں معلوم ہوتا۔

١١١

صفحہ ١٢٣

قولہ...... لیکن اس تحریری بحث کے لئے میرا اور آپ کا دہلی میں مقیم رہنا ضروری نہیں۔ جب کہ تحریری بحث ہے تو دور رہ کر بھی ہو سکتی ہے۔ اقول...... یہ امر بھی معاہدہ و شرط کے خلاف ہے۔ کیونکہ معاہدہ و شرط یہ ہے کہ تحریری بحث بالمشافہ ہو ورنہ آپ کا دہلی میں آنا عبث تھا اور مجھ کو دہلی میں طلب فرمانا بھی عبث۔ اگر آپ پہلے سے یہ سوچ لیتے تو مجھے اور آپ دونوں کو دہلی کے جانے کی تکلیف کیوں کرنی پڑتی۔ پس آپ کی اس تحریر سے ہر منصف مزاج بخوبی آپ کی گریز تسلیم کر لے گا اور غالباً آپ کو بھی اس تحریر کے بعد جس سے صریح گریز ٹپک رہی ہے۔ پشیمانی ہوئی ہوگی اور آئندہ آپ کسی سے مناظرہ کا نام نہ لیں گے اور نہ کوئی اور اہل علم آپ کو بایں پریشان خیالی مناظر بنانا چاہے گا۔ جب تک کہ آپ کے حیلہ جوئیوں کا پورا بندوبست نہ کرے۔ والحمد اللہ اولاً و آخراً وظاهراً وباطناً وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وصلیٰ اللہ علیٰ خیر خلقہ محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین!

نظم دلپذیر ریختہ طبع وقاد و ذہن نقاد گلشن آرای شیوہ بیانے

منشی سید شکیل احمد صاحب ہسوانے سلمہ اللہ تعالیٰ

دین احمد کا زمانہ سے مٹا جاتا ہے قہر ہے اے مرے اللہ یہ ہوتا کیا ہے
عافیت تنگ ہے بے دینوں سے دینداروں کی قائم اب تک ہے یہ دنیا سبب اس کا کیا ہے
نفخ میں صور کے یارب ہے تامل کیسا اب قیامت کے بپا ہونے میں وقفہ کیا ہے
ٹوٹ پڑتا نہیں کس واسطے یا رب یہ فلک کیوں زمین شق نہیں ہوتی یہ تماشا کیا ہے
کس لئے مہدی برحق نہیں ظاہر ہوتے دیر عیسیٰ کے اترنے میں خدایا کیا ہے
عالم الغیب ہے آئینہ ہے تجھ پر سب حال کیا کہوں ملت اسلام کا نقشہ کیا ہے
رات دن فتنوں کی بوچھاڑ ہے بارش کی طرح گر نہ ہو تیری صیانت تو ٹھکانا کیا ہے
مضمحل ملت بیضا ہے مسلماں ضعیف ملحدوں کی جو بن آئے تو اچنبا کیا ہے
فکر بے دینوں کو بس یہ ہے کہ ہر پہلو سے مال دنیا کا ملے دولت عقبے کیا ہے
حائل منزل مقصود ہیں قطاع طریق نقد ایمان کے تحفظ کا طریقہ کیا ہے
شغل یاروں کا ہے تحریف کتاب وسنت دین جاتا ہے تو جائے انہیں پروا کیا ہے
یا رب اس دور پر آشوب میں ایمان قائم تو ہی رکھے تو رہے ورنہ بھروسا کیا ہے

١١٢

قادیانی نے نیا فتنہ کیا ہے برپا میں س
یک قلم زندگی ورفع ونزول عیسیٰ سب ا
صاف کہتا ہے کہ نجار کے بیٹے تھے مسیح ہو ئ
کی ہے وہ ہرزہ درائی کہ عیاذاً باللہ کلمہ
پہلے ملا تھا پھر الہامی بنا پھر عیسیٰ قائل
کی ہے کیا جلد ترقی پہ ترقی حاصل وہ ا
حوصلہ اس کا بمعنی یہی کہتا ہے ابھی دیکھ
دیکھتے ہیں جو دکھاتا ہے تو ہم کو یارب سنے
صرف تحصیل زر و مال ووجاہت ہے غرض اور
مومنو ابلہ فریبی میں نہ آنا اس کے ایک
نہ سمجھ بیٹھنا اس کو کہیں عیسیٰ کا مثیل دیکھ
جائے درہنگام وعلامات نزول عیسیٰ س
کوئی انصاف سے دیکھے اگر اس نامہ کو اہم
موجزن اس میں ہیں حقیقت حق کی مضمون یہ
ہوا قرآن سے اثبات حیات عیسیٰ ب
رہنما ہے یہ کتاب اہل سعادت کے لئے ج
کٹ گئے دشمن دین دیکھ کے اس کے مضمون
آخری وقت کے فتنوں سے بچانا یا رب

قطعہ تاریخ طبع کتاب

ایک اک دعوٰی ہے اصل مسیح کاذب
پڑھ کے اس نامہ کو دیندار یہی کہتا ہے
خدع مرزا کا کھلا لوگ ضلالت سے بچے
طبع کے سال کا اس
ثبت زندگی عی

٣

صفحہ ١٢٣
قادیانی نے نیا فتنہ کیا ہے برپا میں مسیحا ہوں وہ کہتا ہے مسیحا کیا ہے
یک قلم زندگی ورفع ونزول عیسیٰ سب کا منکر ہے اس آفت کا ٹھکانا کیا ہے
صاف کہتا ہے کہ نجار کے بیٹے تھے مسیح ہوئے بے باپ کے پیدا یہ عقیدہ کیا ہے
کی ہے وہ ہرزہ درائی کہ عیاذاً باللہ ٹکڑے ٹکڑے ہو دل سن کے کلیجا کیا ہے
پہلے ملا تھا پھر الہامی بنا پھر عیسیٰ قابل دید تماشا ہے یہ مرزا کیا ہے
کی ہے کیا جلد ترقی پہ ترقی حاصل واہ اے ہمت عالی ترا کہنا کیا ہے
حوصلہ اس کا یہ بھی یہی کہتا ہے ابھی دیکھتے جائیں ابھی آپ نے دیکھا کیا ہے
دیکھتے ہیں جو دکھاتا ہے تو ہم کو یا رب سنتے ہیں تو جو سناتا ہے بس اپنا کیا ہے
صرف تحصیل زرومال ووجاہت ہے غرض اور اس دعویٰ باطل کا نتیجہ کیا ہے
مومنو ابلہ فریبی میں نہ آنا اس کے یہ نیا فتنہ ہے تم نے اسے سمجھا کیا ہے
نہ سمجھ بیٹھنا اس کو کہیں عیسیٰ کا مثیل دیکھو قرآن واحادیث کا منشاء کیا ہے
جائے وہنگام وعلامات نزول عیسیٰ سب احادیث میں موجود ہیں چھپاتا کیا ہے
کوئی انصاف سے دیکھے اگر اس نامہ کو ابھی کھل جائے وہ سچا ہے کہ جھوٹا کیا ہے
موجزن اس میں ہیں تحقیق حق کے مضمون یہ رسالہ ہے خدا جانے کہ دریا کیا ہے
ہوا قرآن سے اثبات حیات عیسیٰ یہ کرامت ہے کہ اعجاز مسیحا کیا ہے
رہنما ہے یہ کتاب اہل سعادت کے لئے جو ازل سے ہیں شقی تذکرہ ان کا کیا ہے
کٹ گئے دشمن دین دیکھ کے اس کے مضمون سیف مسلول کہوں اس کو تو بیجا کیا ہے
آخری وقت کے فتنوں سے بچانا یا رب ہے یہی دل کی مراد اور تمنا کیا ہے

قطعہ تاریخ طبع کتاب منہ سلمہ اللہ تعالیٰ

ایک اک دعویٰ بے اصل مسیح کاذب خوب آیات واحادیث سے مردود ہوا
پڑھ کے اس نامہ کو دیندار یہی کہتا ہے نکلا ارمان مرا حاصل مقصود ہوا
خدع مرزا کا کھلا لوگ ضلالت سے بچے تیری تائید سے یہ اے مرے معبود ہوا
طبع کے سال کا اس نامہ کے القاء مجھ کو

١٣٠٩ھ

ثبت زندگی عیسیٰ موعود ہوا

١١٣

صفحہ ١٢٥

حاشیہ جات

مختار راقم کے باعتبار ان کے ظاہر معنی کے اور نیز ابطال معنی کا جن کو مرزا قادیانی اور ان کے اتباع زمانہ تحریر ہذا تک لکھ چکے ہیں۔ پس جاننا چاہئے کہ وہ احتمالات جو مفسرین نے لکھے ہیں وہ تین ہیں۔ ایک یہ کہ ضمیر موتہ کی کتابی کی طرف عائد ہے اور ضمیر بہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف دوسرا یہ کہ ضمیر موتہ کی کتابی کی طرف عائد ہے اور ضمیر بہ کی آنحضرت ﷺ کی طرف تیسرا یہ کہ ضمیر موتہ کی کتابی کی طرف عائد ہے اور ضمیر بہ کی اللہ تعالیٰ کی طرف اور ان تینوں احتمالات کا مرجع ایک ہے۔ جیسا کہ تفسیر مظہری وغیرہ میں مرقوم ہے اور ظاہر معنی اس کے یہ ہیں کہ نہیں کوئی اہل کتاب میں سے۔ مگر البتہ ایمان لاتا ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا آنحضرت ﷺ یا اللہ تعالیٰ پر اپنے مرنے سے پہلے یعنی وقت زہوق روح کے اور اس معنی کا یہی مطلب علماء سمجھے ہیں۔ حافظ فتح الباری میں نقلاً عن النووی لکھتے ہیں۔ ”وهذا المذهب اظهر لان الاوّل يخص الكتابى الذى يدرك نزول عيسى وظاهر القرآن عمومه فى كل كتابى فى زمن نزول عيسى وقبله انتهى“ اور ایسا ہی قسطلانی نے لکھا ہے۔ فتح البیان میں ہے۔ ”وقال الزجاج هذا القول بعيد لعموم قوله تعالى وان من اهل الكتاب والذين يبقون يومئذ يعنى عند نزوله شرذمة قليلة منهم تفسير مظهرى ميں ہے۔ وكيف يصح هذا التاويل مع ان كلمة ان من اهل الكتاب شامل للموجودين فى زمن النبى ﷺ سواء كان هذا الحكم خاصا بهم او لا فان حقيقة الكلام للحال ولاوجه لان يرادبه فريق من اهل الكتاب يوجدون حين نزول عيسىٰ علیہ فالتاويل الصحيح هوا الاوّل انتهى“ اور قاعدہ مذکورہ بے شک ان معانی کے ابطال کے لئے کافی ہے رہا ابطال اس معنی کا باعتبار دوسرے مطلب کے جو غیر ظاہر ہے اور اس احتمال کا جو مرزا قادیانی نے بعد کو پیدا کیا۔ سو وہ اس تقریر سے ہوتا ہے جو مقدمہ اور تحریر چہارم میں مذکور ہے۔ بلکہ وہ تقریر سب احتمالات عقلیہ کے ابطال کے لئے کافی ہے۔

وبه قال جماعة من السلف وهو الظاهر لانه تقدم ذكر عيسىٰ وذهب كثير من التابعين فمن بعدهم الى ان المراد قبل موت عيسى كماروى عن ابن عباس قبل هذا انتهى ملخصاً “ فتح الباری میں ہے۔ ”ونقله عن اكثر اهل العلم ورجحه

١١٣

ابن جریر وغیره انتهی ”جعل حاشیہ جلالین میں الى الارض لا يبقى يهودى ولا نصرانى ولا احـ وانه عبد الله وكلمته انتهی جامع البیان مـ نزول عند قيام الساعة فيصير الملل واحدة میں ہے۔ ”قوله تعالى وان من اهل الكتاب الـ عيسى اخرجه الحاكم عن ابن عباس انتهى

کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تسلیم کرتے ہیں تو حیات توضیح المرام اور ازالۃ الاوہام کی خطا ثابت ہوتی ہے۔ مگر احد الامرین واجب ہے یا توضیح المرام اور ازالۃ الاوہام اور اگر دونوں میں سے ایک بھی نہ کریں گے تو یہ علامت

وفات ہونا تسلیم کر لیا۔ مرزا قادیانی نے ان وجوہ کے بـ اس لئے گریز کی ہے کہ اس میں پہلے ملہم ہونا ثابت مرزا قادیانی کے پاس کچھ نہیں ہے۔ مرزا قادیانی اس اختیار نہیں کر سکتے ہیں۔ ہر شق پر ان پر سخت الزام آتـ ہے تو تحریر فرماویں۔ ورنہ مسیح کاذب تصور کئے جائیں کھلا ہے۔ زہوق روح سے پہلے توبہ کر لیں اور دعویٰ جاویں۔ ”وما علينا الا البلاغ والا راه فاعـ ہو سکے تو یہ بھی ان کو اختیار ہے کہ اپنے شہداء وانصا مرزا قادیانی کی پردہ دری و کشف حقیقت کے لئے کا

قانون قدرت و آیات قرآن کریم سے حاصل نہیں و آیات قرآن کریم کی بناء پر اس یقین پر کیوں مجبور

ہوگئی۔ الحمد للہ علی ذلک ! سخت بے غیرتی و بے حیائی

٥

صفحہ ١٢٥

ابن جریر وغیرہ انتھی ”جمل حاشیہ جلالین میں ہے۔” قال عطاء اذا نزل عیسیٰ الیٰ الارض لا یبقی یھودی ولا نصرانی ولا احد یعبد غیر اللہ الا آمن بعیسیٰ وانہ عبداللہ وکلمتہ انتھت جامع البیان میں ھے۔ ای قبل موت عیسیٰ بعد نزول عند قیام الساعة فیصیر الملل واحدة وھی ملة الاسلام“ بحر محیط اکلیل میں ہے۔ ”قولہ تعالیٰ وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ فیہ نزول عیسیٰ اخرجہ الحکم عن ابن عباس انتھی “

کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تسلیم کرتے ہیں تو حیات ثابت ہوتی ہے اور اگر نہیں تسلیم کرتے تو توضیح المرام اور ازالۃ الاوہام کی خطا ثابت ہوتی ہے۔ مگر یہ دیانت کے خلاف ہے۔ مرزا قادیانی پر احدالامرین واجب ہے یا توضیح المرام اور ازالۃ الاوہام کی خطا کا اقرار کریں یا حیات کو تسلیم کریں اور اگر دونوں میں سے ایک بھی نہ کریں گے تو یہ علامت ہے ان کے مسیح کاذب ہونے کی۔

وفات ہونا تسلیم کرلیا۔ مرزا قادیانی نے ان وجوہ کے جواب سے خاص کر وجہ دوم کے جواب سے اس لئے گریز کی ہے کہ اس میں پہلے ملہم ہونا ثابت کرنا پڑتا ہے اور اس کے اثبات کے لئے مرزا قادیانی کے پاس کچھ نہیں ہے۔ مرزا قادیانی اس وجہ میں ایسے بند کئے گئے ہیں کہ کوئی شق اختیار نہیں کر سکتے ہیں۔ ہر شق پر ان پر سخت الزام آتا ہے۔ مرزا قادیانی کے پاس اگر کچھ جواب ہے تو تحریر فرمادیں۔ ورنہ مسیح کاذب تصور کئے جائیں گے۔ اگر کچھ جواب نہیں تو ابھی دروازہ توبہ کا کھلا ہے۔ زہوق روح سے پہلے توبہ کر لیں اور دعویٰ مسیح موعود والہامات کاذبہ سے دست بردار ہو جاویں۔ ”وما علینا الا البلاغ والا راہ فاعلا “ خود مرزا قادیانی سے اگر اس کا جواب نہ ہو سکے تو یہ بھی ان کو اختیار ہے کہ اپنے شہداء وانصار کو جمع کر لیں۔ میرے نزدیک یہی ایک وجہ مرزا قادیانی کی پردہ دری و کشف حقیقت کے لئے کافی ہے۔

قانون قدرت و آیات قرآن کریم سے حاصل نہیں ہوا تھا تو دوسروں کو آپ صرف قانون قدرت و آیات قرآن کریم کی بناء پر اس یقین پر کیوں مجبور کرتے ہیں۔

ہوگئی۔ الحمد للہ علیٰ ذلک! سخت بے غیرتی و بے حیائی کی بات ہے کہ ایسے سخت الزام کا کچھ جواب نہ

١١٥

صفحہ ١١٦

دیا جاوے۔ اگر مرزا قادیانی اور ان کے اتباع کے پاس کچھ جواب ہے تو دیں۔ ورنہ اپنے دعاوی باطلہ سے رجوع کریں۔ ابھی باب توبہ مفتوح ہے۔ ولا اراہم فاعلین!

ہمارے معنی کے مخالف ہیں اور قرآت ابی بن کعب یہ سب ضعیف و بلا سند ہیں۔ اس لئے ان کی بناء پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا ہے۔ علاوہ اس کے خالص استبعاد بھی وہاں ہو سکتا ہے۔

نہیں۔ کیونکہ دیگر معانی تو ہم نے دلیل سے باطل کر دیئے۔

دیا تو اب اس آیت کے قطعیۃ الدلالۃ ہونے میں کیا شک رہا۔

دیا تو اب آیت کے قطعیۃ الدلالۃ ہونے میں کیا شک رہا۔

باطل کر کے دکھلا دیا تو اب آیت کے قطعیۃ الدلالۃ ہونے میں کیا شبہ رہا۔

ظاہر ہوتا ہے۔

موتہ کا عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ فتذکر!

ہی نہیں ہے۔

کذب پر میں، آپ اور آپ کے سب اتباع کے لئے اشتہار دیتا ہوں کہ اگر قرآن مجید یا حدیث صحیح میں سوائے احادیث نزول عیسیٰ ابن مریم کے ابن مریم کا لفظ ایسا نکال دیں کہ وہاں عیسیٰ بن مریم مراد نہ ہو سکے اور یقیناً مثیل عیسیٰ مراد ہو تو میں آپ کے دعویٰ مسیح موعود ہونے کو تسلیم کر لوں گا۔ ورنہ آپ کو اس دعویٰ سے توبہ کرنی لازم ہوگی۔

فلیراجع الیہما!

PDF 128

خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

بیان

للناس

حضرت مولانا عبدالمجید دہلوی ؒ

صفحہ ١٢٩

اعوذ بالله السميع العليم من وسوسة الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم! الحمد لله الذى شرفنا بالعلم الراسخ وانزل فى محكم كتابه والراسخون فى العلم يقولون أمنا به كل من عند ربنا وما يذكر الا اولو الالباب وامرنا بقوله المجيد ما أتكم الرسول فخذوه وما نهكم عنه فانتهوا واتقوا الله ان الله شديد العقاب وان تنازعتم فى شئ فردوه الى الله والرسول ان كنتم تؤمنون بالله واليوم الأخر ذلك خير واحسن تاويلا وعرفنا باالدين الناسخ وعلمنا حقائق الاخبار ودقائق الاحكام وما كان لمؤمن ولا مؤمنة اذا قضى الله ورسوله امراً ان يكون لهم الخيرة من امرهم ومن يعص الله ورسوله فقد ضل ضللا مبينا ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما، وافازنا من طبقة الانام بفضله التام نعمه الكاملة التي ذكرها فى كتابه المبين اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا، وصلى الله تعالىٰ علٰى خير عبادہ وسيد البشر الذي ارسل الى الناس كافة بشيراً ونذيرا، ونضره ببشرىٰ قوله انا فتحنا لك فتحاً مبينا ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر ويتم نعمته عليك ويهديك صراطاً مستقيما، وينصرك الله نصراً عزيزاً وعلىٰ اله الاطهار الذين يؤفون بالنذر ويخافون يوماً كان شره مستطيراً ويطعمون الطعام علٰى حبه مسكيناً ويتيما واسيراً واصحابه الذين امنوا وهاجروا وجاهدوا فى سبيل الله باموالهم وانفسهم اعظم درجة عندالله واولئك هم الفائزون يبشرهم ربهم برحمة منه ورضوان وجنة لهم فيها نعيم مقيم خالدين فيها ابدا!

یعنی سب تعریف اس ذات پاک کی ہے جس نے ہم کو علم راسخ بخشا اور اپنی کتاب محکم میں نازل فرمایا کہ جو علم میں راسخ ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اس کے ساتھ ایمان لائے۔ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے اس سے عقلمند ہی نصیحت پکڑتے ہیں اور اپنے کلام بزرگ میں ہم کو اس بات کی ہدایت کی کہ جو کچھ رسول تم کو دے اس کو لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو

٢

اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اگر اور رسول کی طرف پھیرو۔ اگر اللہ اور قیامت پر ایمان دین ناسخ کی معرفت دی اور اس کے حقائق دقائق سے نہیں کہ جب اللہ اور رسول کوئی حکم فرمادے تو کسی طر رسول کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہ ہوا۔ محمد ﷺ تم م ہے اللہ کا اور ختم کرنے والا نبیوں کا اور اللہ ہر چیز جان سے مشرف فرمایا۔ چنانچہ کتاب مبارک میں ارشاد ہو اور اپنی نعمت کو پورا اور تمہارے لئے دین اسلام کو پ مخلوق سے بہتر پر رحمت کرے۔ جس کو تمام جہان ڈرانے والا اور جس کو اس بشارت سے خورسند فرما پچھلے گناہ بخشے اور اپنی نعمت تم پر پوری کی اور سیدھا جو نذروں کو پورا کرتے اور قیامت کے دن سے ڈ قیدی کو کھانا کھلاتے تھے اور اس کے اصحاب پر جو مالوں اور جانوں سے جہاد کیا وہ لوگ اللہ کے نزدی اللہ ان کو اپنی رحمت اور رضامندی اور بہشتوں کی ہمیشہ کی۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

اما بعد! اگر چہ انسان کی ابتداء ایک ن حقیقی نے اس نطفہ ذلیل کو اپنی صنعت کاملہ ۔ خلق أدم على صورة الرحمن “ اور تامہ سے وہ عزم اور ارادہ عنایت فرمایا کہ اس بنایا۔ لیکن اس میں چونکہ کوئی ذاتی قوت نہیں اپنی حقیقت اور صانع حقیقی کی قدرت کاملہ ا عنایت پر بھروسہ کر کے کسی میدان میں قدم ب زيدنكم “ اور جب چلتے چلتے کچھ گھمنڈ آ ہے، گرایا جاتا ہے۔ کیا کرایا سب گنواتا ہے

صفحہ ١٢٩

اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اگر تم میں کسی امر میں جھگڑا واقع ہو تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف پھیرو۔ اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو، بہتر اور ٹھیک کام یہی ہے اور ہم کو دین ناسخ کی معرفت دی اور اس کے حقائق دقائق سے آگاہ فرمایا۔ کسی مؤمن مرد اور عورت کو لائق نہیں کہ جب اللہ اور رسول کوئی حکم فرمادے تو کسی طرح کی چون و چرا کریں اور جس نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہ ہوا۔ محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں۔ لیکن رسول ہے اللہ کا اور ختم کرنے والا نبیوں کا اور اللہ ہر چیز جانتا ہے اور ہم کو اپنے پورے فضل اور کامل نعمت سے مشرف فرمایا۔ چنانچہ کتاب مبارک میں ارشاد ہوتا ہے کہ آج کے دن میں نے تمہارا دین کامل اور اپنی نعمت کو پورا اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا اور اللہ تعالیٰ، سب کے سردار اور ساری مخلوق سے بہتر پر رحمت کرے۔ جس کو تمام جہان پر رسول کر کے بھیجا۔ بشارت سنانے والا اور ڈرانے والا اور جس کو اس بشارت سے خورسند فرمایا کہ ہم نے تم کو فتح ظاہرہ دی اور تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخشے اور اپنی نعمت تم پر پوری کی اور سیدھا راستہ بتایا اور پوری مدد کی اور اس کی آل پاک پر جو نذروں کو پورا کرتے اور قیامت کے دن سے ڈرتے تھے اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے تھے اور اس کے اصحاب پر جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا وہ لوگ اللہ کے نزدیک بڑے درجے والے ہیں اور وہی مراد کو پہنچے، اللہ ان کو اپنی رحمت اور رضامندی اور بہشتوں کی بشارت دیتا ہے۔ جس میں ان کے لئے نعمت ہے ہمیشہ کی۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

اما بعد! اگرچہ انسان کی ابتداء ایک نطفہ ناپاک ہے اور آخر ایک مشت خاک، مگر صانع حقیقی نے اس نطفۂ ذلیل کو اپنی صنعت کاملہ سے ایسا بنایا ہے کہ یہ اس کا نمونہ کہلایا۔ ”ان اللہ خلق آدم علی صورة الرحمن“ اور اس بے ارادہ اور بے حس مشت خاک کو اپنی قدرت تامہ سے وہ عزم اور ارادہ عنایت فرمایا کہ اس نے اپنی ترقی کی حد سے بھی کہیں بڑھ کے خیال جمایا۔ لیکن اس میں چونکہ کوئی ذاتی قوت نہیں ہے۔ صرف عنایت ہی عنایت ہے۔ لہٰذا جب تک اپنی حقیقت اور صانع حقیقی کی قدرت کاملہ اور منعم کے انعامِ عام پر نظر رکھتا ہے اور محض اس کی عنایت پر بھروسہ کر کے کسی میدان میں قدم بڑھاتا ہے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ”لَئِن شکرتم لا زیدنکم“ اور جب چلتے چلتے کچھ گھمنڈ آگیا تو خودی کا پردہ چھا گیا۔ وہیں سے اوندھے منہ آتا ہے، گرایا جاتا ہے۔ کیا کرایا سب گنواتا ہے۔ ”ولئن کفرتم ان عذابی لشدید“ اسی واسطے

٣

صفحہ ١٣١

ایک مقام اس کا اعلیٰ علیین ہے اور دوسرا اسفل السافلین ۔ ”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب“ چونکہ مجھے اس بیان میں اختصار مدنظر ہے۔ اس لئے نظائر وامثال سے تو عذر ہے۔ زمانہ کی تاریخ پر جس کی نظر غائر ہے۔ اس پر بخوبی ظاہر ہے کہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں اس کی بے شمار مثالیں مل سکتی ہیں۔ انسان کی حالت ہی کچھ اس ڈھب کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت و توفیق صبر وقناعت میں اس کی رفیق نہ ہو تو کسی ترقی پر اس کو بس نہیں ہوتی اور اپنے آپے میں نہیں سماتا۔ بادشاہوں پر خروج کرنے اور بادشاہ بننے کا خیال تو عام لوگوں میں رہا ہے اور رہتا ہے۔ ولی، غوث، قطب، ابدال ہزاروں بنے۔ نبوت پر بھی بہت ہی لوگوں نے ہاتھ مارے، خدائی کے دعویٰ کئے، عیسیٰ اور محمد بننے کی حرص تو اس قدر لوگوں نے کی جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔

اسی کے قریب قریب مرزا غلام احمد قادیانی کا حال ہے کہ اوّل جناب ولایت کے مدعی ہوئے۔ پھر حضرت غوث الاعظم کی برابری کا خیال سمایا۔ پھر ان سے بلکہ تمام اولیاء اللہ سے جو اس وقت تک گزرے ہیں تفوق اور بڑائی کا اشتہار دیا کہ میں سب اعلیٰ اور اولیٰ ہوں۔ پھر کبھی مثیل آدم اور کبھی مثیل نوح، کبھی مثیل ابراہیم و یوسف اور کبھی مثیل موسیٰ و داؤد علیہم الصلوٰۃ والسلام ہوئے۔ یہاں تک کہ درجہ بدرجہ مدت تک مثیل عیسیٰ علیہ السلام رہے۔ اب حضرت کے خیال نے اور ترقی کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مار کر ان کے عہدہ پر ہاتھ بڑھایا اور مسیح موعود بن بیٹھے۔ لیکن یہ نہ سمجھے جس کو خدا نہ بنائے وہ کیا بن سکتا ہے۔

رباعی

دوں ہمت اگر بال زرے پیدا کرد
چوں مور برائے خود پرے پیدا کرد
کئی مرتبہ سفلہ فزاید اسباب
عیسیٰ نشود ہر کہ خرے پیدا کرد

یہ سب دعویٰ مرزا قادیانی کے اشتہارات ورسائل سے ظاہر ہیں۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٢٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧، توضیح مرام ص ١٨، ١٩، خزائن ج ٣ ص ٥٩، ٦٠، تشخص، فتح الاسلام ص ١٥ تا ١٩، خزائن ج ٣ ص ١١، ١٢ ملخص) چونکہ مرزا قادیانی ترکیب اور تدریج سے چلے ہیں۔ اس لئے فرماتے ہیں کہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ میرا نیا نہیں ہے۔ براہین احمدیہ میں اس کی تمہید میں کر چکا تھا۔ لوگ نہیں سمجھے

٤

تھے اب ازالہ میں ایک اور دعویٰ کی تمہید آپ نے ڈالی ہے خطاب سے مخاطب کر کے ظلی طور پر (اللہ تعالیٰ نے م الاصفیاء حضرت محمد ﷺ قرار دیا۔“

دیکھو (ازالہ اوہام ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ٢٢٨) م (یعنی مرزا قادیانی) کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے اسی کی طرف یہ اشارہ ہے۔“

”مبشراً برسول یأتی من بعد مرزا قادیانی ہی کا ذکر ہے)

دیکھو (ازالہ اوہام ص ٦٧٣، ٦٧٥، خزائن ج ٣ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحـ ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے۔ یعنی مرزا قادیانی ہی اور نئی تمہید ہے اور اس کے متعلق یہ کشف کہ ”تین شہر لیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان ۔“

(ازالہ اوہام

اور اسی کے متعلق یہ الہام اور اس قسم کے دیگر من القادیان“

مرزا قادیانی نے ایک کمال اور کیا ہے کہ م کیا۔ بلکہ اپنی اولاد کو بھی اس میں شریک کرنا چاہتے تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیش گوئی میں میرے پر ظا پیدا ہوگا۔ جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی راہ سیدھی کر دے گا۔ وہ اسیروں کو رستگاری بخشے گا ا رہائی دے گا۔”فرزند دل بند گرامی ارجم من السماء“ لیکن یہ عاجز (یعنی مرزا قادیانی) آیا کی مقدس کتابوں میں پائی جاتی ہے مسیح موعود کے نام

٥

صفحہ ١٣١

تھے اب ازالہ میں ایک اور دعویٰ کی تمہید آپ نے ڈالی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ”بار بار یا احمد کے خطاب سے مخاطب کر کے ظلی طور پر (اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو) مثیل سید الانبیاء و امام الاصفیاء حضرت مقدّس ﷺ قرار دیا۔“

دیکھو (ازالہ اوہام ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ١٢٨) میں فرماتے ہیں: ”اور اس آنے والے (یعنی مرزا قادیانی) کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی راہ سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے۔“

”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ (یعنی اس آیت میں مرزا قادیانی ہی کا ذکر ہے)

دیکھو (ازالہ اوہام ص ٤٧٣، ٤٧٥، خزائن ج ٣ ص ٣٦٣، ٣٦٤) میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت ”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علے الدین کلہ“ اسی مسیح ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے۔ یعنی مرزا قادیانی ہی کے حق میں ہے تو مرزا قادیانی کی یہ ایک اور نئی تمہید ہے اور اس کے متعلق یہ کشف کہ ”تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن مجید میں لیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ)

اور اسی کے متعلق یہ الہام اور اس قسم کے دیگر الہام ہیں۔ جیسے ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“

(ازالہ اوہام ص ٧٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٩)

مرزا قادیانی نے ایک کمال اور کیا ہے کہ صرف اپنے ہی حق میں ان مراتب کو تمام نہیں کیا۔ بلکہ اپنی اولاد کو بھی اس میں شریک کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں ۔ ”خدائے تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیش گوئی میں میرے پر ظاہر کیا ہے کہ میری ذریت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا۔ جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی۔ وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کردے گا۔ وہ اسیروں کو رستگاری بخشے گا اور ان کو جو شبہات کی زنجیروں میں مقید ہیں رہائی دے گا۔ ”فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الحق والعلاء کان اللّٰہ نزل من السماء“ لیکن یہ عاجز (یعنی مرزا قادیانی) ایک خاص پیش گوئی کے مطابق جو خدائے تعالیٰ کی مقدس کتابوں میں پائی جاتی ہے مسیح موعود کے نام پر آیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٥٥، ١٥٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

٥

صفحہ ١٣٣

مرزا قادیانی نے دعووں کو بذریعہ رسائل و اشتہارات بارہ سال کے عرصہ میں بہت کچھ شائع کیا۔ مگر ان کا ذکر خیر ملک پنجاب سے بہت ہی کم باہر نکلا۔ جب اس طرح کام نہ چلا تو مرزا قادیانی خود نکلے اور پنجاب کے بڑے بڑے شہروں میں دورہ کرنے لگے۔ گو پنجاب میں مرزا قادیانی کے کچھ لوگ معتقد ہیں۔ مگر باوجود کوشش بسیار اپنے مقصد کے حاصل کرنے میں مرزا قادیانی کا نمبر ناکامیابی کے بہت ہی قریب رہا اور ہے۔ ”وما تشاؤن الا ان یشاء اللہ“ شہر دہلی جس طرح ایک مدت بادشاہان سلف کا دارالخلافہ رہا ہے۔ اسی طرح بیت العلوم بھی اس کا نام ہے اور واقعی یہ وہ مقام ہے کہ بڑے بڑے دور دراز سفر طے کر کے لوگ صرف اس کو دیکھنے آتے ہیں اور جن علماء کی لیاقت علوم کی چار دانگ ہندوستان میں دھاک اور کمال ہنر وفنون کے تمام عالم میں دھوم ہے۔ وہ اسی خاک میں سوتے ہیں۔ مبارک یہ زمین جس میں رنگ برنگ کے گل پھول ہیں جو اپنے رنگ وبو سے عالم کو معطر کر گئے۔ حقیقت میں یہ وہ جگہ ہے جس کے در و دیوار سے یہ صدا آتی ہے۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“ اور جس کے ہر ہر برگ شجر پر یہ نظر آتا ہے۔ ”فانظروا یااھل الانظار“ ہندوستان میں جس قدر علوم کی خاص کر علم دین کی ندیاں جاری ہیں۔ اگر چشم غور سے دیکھو گے ان کا چشمہ ضرور دہلی کو پاؤ گے۔ مرزا قادیانی نے جس قدر اور جتنا پڑھا ہے۔ گل علی شاہ سے اور وہ بھی ایک مدت دہلی میں رہے اور جو کچھ پڑھا یہیں پڑھا۔ انہیں وجوہ سے مرزا قادیانی کو یہ خیال ہوا کہ اس نامور شہر میں چل کر چند روز ”هل من مناظر“ کا ڈنکا بترکیب بجائیے۔ اگر وہاں کچھ بھی کامیابی ہو گئی تو گویا مدینۃ المقصود کا فتح الباب ہے۔

یہ خیال مرزا قادیانی کو دہلی لے گیا۔ مگر افسوس کہ اس ارادہ میں وہ بالکل کامیاب نہ ہوئے اور گو انہوں نے دہلی میں پہلا اشتہار ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء کو بہت ہی بچ بچ کر بنام شیخ الکل جناب مولانا مولوی سید نذیر حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے دیا۔ جس کی عمر قریب سو برس کی ہے اور بسبب پیرانہ سالی کس طرح مرزا قادیانی کو یہ امید نہ تھی کہ وہ مناظرہ کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ مگر خلاف امید وہ بڑی مستعدی سے اپنی جوان ہمت کے ساتھ تیار ہو گئے۔ چنانچہ ان کے مطبوعہ خطوط سے ظاہر ہے۔

دوسری غلطی مرزا قادیانی سے یہ ہوئی جس کا ان کو ٦؍اکتوبر ١٨٩١ء کے اشتہار میں خود اقرار کرنا پڑا کہ ٢؍اکتوبر کے اشتہار میں مولوی ابومحمد عبدالحق صاحب کو بھی شریک کر دیا۔ جس کے

عوض مرزا قادیانی کو ان کے مکان پر جا کے بیحد خوشامد ک مرزا قادیانی کا پیچھا نہ چھوڑا۔ خوشامد کی ندامت روکن می بات جس قدر بناؤ بگڑتی ہی چلی جاتی ہے۔ کسی طرح ر نے چند حواریوں کو بھی بلا لیا اور کسی کے مشورہ یا اپنی رائے پر بے حد سب وشتم کرنا شروع کیا۔ ١٧؍اکتوبر ١٨٩١ء شریف کسی کو نہیں کہہ سکتا مگر واہ جناب مولانا صاحب آپ یہ ایک شعر لکھ دیا۔

دشنام خلق را نہ دہم
اینم کہ تلخ گیرم و شیر

مرزا قادیانی اور ان کے اتباع نے یہ پالیس واسطے شاید اختیار کی تھی اور اب تک اس کو نباہ رہے ہی وقعت کم ہو جاوے اور مرزا قادیانی کی ناکامی بدیہی اچھا سوجھا۔ مگر واقعی یہ ناکامی اتنی بڑی چیز ہے کہ مرزا ہے اور ہر فقرہ سے حسرت برس رہی ہے اور عاجز کے عام اہل دہلی پر اور خاص کر مولانا ممدوح پر تبرا کرنا ایک درجہ سب وشتم پر لا ڈالا۔

اور وہ یہ ہے۔

چوں خدا خواہد کہ
میلش اندر طعنہ

مرزا قادیانی نے بہت سے مسائل کو الجھا دیا ہے۔ ایک وفات حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما ال مسئلہ اوّل کی نسبت رسالہ الحق الصریح فی اثبات حیا سلمہ اللہ تعالیٰ نے بہت کافی ثبوت کے ساتھ لکھا رسالہ بھی احتساب کی اسی جلد میں شامل اشاعت ہے۔ اور مسیح موعود ہونے کی بحث مجم

صفحہ ١٣٣

عوض مرزا قادیانی کو ان کے مکان پر جا کے بیحد خوشامد کرنی پڑی۔ پھر بھی مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کا پیچھا نہ چھوڑا۔ خوشامد کی ندامت روکن میں پلے بندھی بات یہ ہے۔ بگڑنے والی بات جس قدر بناؤ بگڑتی ہی چلی جاتی ہے۔ کسی طرح بناؤ نہیں بنتی۔ نہیں بنتی۔ اب مرزا قادیانی نے چند حواریوں کو بھی بلا لیا اور کسی کے مشورہ یا اپنی رائے سے کل اہل دہلی خاص کر مولانا صاحب پر بے حد سب و شتم کرنا شروع کیا۔ ١٧ اکتوبر ١٨٩١ء کے اشتہار میں ایسے ٨٢ لفظ ہیں۔ جو کوئی شریف کسی کو نہیں کہہ سکتا مگر واہ جناب مولانا صاحب آپ کا تحمل کہ ان سب گالیوں کے جواب میں یہ ایک شعر لکھ دیا۔

دشنام خلق را نہ دہم جز دعا جواب
ابرم کہ تلخ گیرم و شیریں عوض دہم

مرزا قادیانی اور ان کے اتباع نے یہ پالیسی کہ اہل دہلی پر سب و شتم کیا جاوے۔ اس واسطے شاید اختیار کی تھی اور اب تک اس کو نباہ رہے ہیں کہ ان کے فرقے کی نظر میں اہل دہلی کی وقعت کم ہو جاوے اور مرزا قادیانی کی ناکامی بڑی چیز نہ دکھائی دے اور جہاں تک غور کرو یہ پہلو اچھا سوجھا۔ مگر واقعی یہ ناکامی اتنی بڑی چیز ہے کہ مرزا قادیانی کی ہر تحریر سے اس کا افسوس ٹپک رہا ہے اور ہر فقرہ سے حسرت برس رہی ہے اور عاجز کے خیال میں مرزا قادیانی اور ان کے اتباع کا عام اہل دہلی پر اور خاص کر مولانا ممدوح پر تبرا کرنا ایک حکمت الہیٰ کا تقاضا تھا۔ جس نے ان کو اس درجہ سب و شتم پر لا ڈالا۔

اور وہ یہ ہے۔

چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد
میلش اندر طعنۂ پاکان برد

مرزا قادیانی نے بہت سے مسائل کو الٹ پلٹ کیا ہے۔ مگر ان میں سے دو پر بہت زور دیا ہے۔ ایک وفات حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام، دوسرے مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا، مسئلہ اوّل کی نسبت رسالہ الحق الصریح فی اثبات حیات المسیح جس کا اوّل حصہ مولانا محمد بشیر صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے بہت کافی ثبوت کے ساتھ لکھا ہے۔ جو مطبع انصاری میں چھپ کر تیار ہو گیا (یہ رسالہ بھی احتساب کی اسی جلد میں شامل اشاعت ہے۔ فالحمدللہ) اور دوسرا حصہ مؤلفہ مولوی جمیل احمد زیر طبع ہے اور مسیح موعود ہونے کی بحث مجمل طور سے عاجز کے خط نمبر ٤ کے جواب الجواب

٧

صفحہ ٣٥

نمبر ٨ میں ملاحظہ ہو اور مفصل شفاءالناس (یہ کتاب بھی احتساب کی اسی جلد میں موجود ہے) جواب اعلام الناس میں ہے۔ جو عنقریب شائع ہونے والا ہے اور عاجز کی اس تحریر کا یہ باعث ہوا کہ جب مرزا قادیانی دہلی تشریف لائے تو عاجز ان کی خدمت میں گیا اور کمال عجز سے دوستانہ طور پر یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر جناب کو صرف تحقیق مسائل منظور ہے تو یہ عاجز حاضر ہے اور اگر مولانا ممدوح سے گفتگو کی خواہش ہے تو یہ امر بھی بہت آسان ہے۔ اشتہار وغیرہ دینے اور دھوم مچانے کی حاجت نہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی اصل غرض چونکہ سوائے شہرت کچھ نہ تھی۔ اس وجہ سے عاجز کی رائے منظور نہ ہوئی۔ کوئی بات نہ مانی اشتہار پر اشتہار دینے شروع کر دیئے اور اہل دہلی کی طرف سے اس کے جواب چھپے۔ آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ مرزا قادیانی کے ایک معتقد نے مثنوی دعوت دہلی لکھی جس کا جواب کسی نے ”صداقت دہلی“ لکھا ہے۔ یہ سب تحریریں مطبع انصاری دہلی میں ملتی ہیں۔ جس سے مفصل حال معلوم ہو سکتا ہے۔ اسی اثناء میں خاکسار نے نوٹس نمبر ١ لکھا اور اس میں مولوی محمد احسن صاحب (قادیانی) اور مولوی حکیم نورالدین صاحب (قادیانی) کو اس لئے مخاطب کیا کہ مرزا قادیانی کے مشن کے یہ دونوں صاحب اعلیٰ درجہ کے ممبر ہیں۔ مرزا قادیانی نے عاجز کے نوٹس کا کچھ جواب نہیں دیا۔ اسی خیال سے یہ عاجز بھوپال گیا اور احسن المناظرین صاحب سے جو تحریر ہوئی وہ آپ دیکھ ہی لوگے۔ بھوپال سے آکر عاجز بہ تقریب جلسہ انجمن حمایت الاسلام لاہور گیا اور وہاں نوٹس نمبر ٢ شائع کیا۔ اتفاقاً جناب مولوی حکیم نور الدین صاحب بھی لاہور میں آگئے اور نوٹس نمبر ٢ عاجز کا ان کو پہنچ گیا اور عاجز خود بھی ان کی خدمت میں کئی مرتبہ حاضر ہوا۔ مگر خوبی اتفاق سے ان کو فرصت بالکل نہ ہوئی جو گفتگو ہوتی۔ چنانچہ ایک روز زبدۃ الحکما جناب حکیم غلام نبی صاحب (قادیانی) کے مکان پر حکیم صاحب کی دعوت تھی۔ عاجز بھی بعد وقت اکل طعام وہاں حاضر ہوا۔ کرنیل عطاء اللہ خان صاحب (قادیانی) نے عاجز سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ مولوی صاحب کاغذی گھوڑے تو آپ نے بہت دوڑائے۔ ہم نے آپ کے نوٹس بھی دیکھے۔ اس وقت اتفاق سے آپ دونوں صاحب یہاں موجود ہیں۔ حکیم صاحب (قادیانی) سے کچھ گفتگو کیجئے۔

میں نے عرض کیا کہ جس بات کو میں حق جانتا ہوں اس کے بیان کرنے اور اس میں کلام کرنے سے مجھے کب تامل ہے۔ مگر حکیم صاحب کی اجازت ضرور ہے۔ آپ حکیم صاحب کو راضی کریں۔ مجھے کچھ عذر نہیں حکیم صاحب نے فرمایا کہ میں بھی مرزا قادیانی کے کلام کو حق جانتا ٨

ہوں اور میرا یہ اعتقاد ہے کہ ان کا کوئی ارشاد غلط نہیں فرصت ہے مجھے (نورالدین) فرصت نہیں اور نہ مجھے رہی ہیں۔ آپ لوگ تامل کریں اور طرفین کی تحریر میں بھی تامل نہیں ہے کہ حکیم صاحب نہایت درجہ مرزا قادیانی و مولوی محمد احسن کی کج اخلاقی اور درشتی اخلاق کی شکر گزاری بھی میرا ذمہ ہے۔ حکیم صاحب کمال مہربانی سے پیش آئے۔ جیسا کہ شرافت کا جیسا کہ دہلی میں مرزا قادیانی کی مجلس کا رنگ دیکھا حواریوں نے آوازے کسنے شروع کئے اور تبرے اور جو ذرا کوئی بولا، مجلس سے نکلوا دیا۔ چنانچہ مولوی برتی گئی وہ مرزا قادیانی کی مجلس کا ایک ادنیٰ نمونہ تھے جن کی زبان قابو سے باہر تھی۔ جہاں کوئی شریف اور انہوں نے قہقہہ اڑایا کہ ہم نے شرمندہ کر دیا۔ ان کو مل گیا۔

مجھے یاد آیا کہ بھوپال سے نواب مختار میں تشریف لائے تھے۔ انہوں نے مرزا قادیانی گیا۔ ان کے ہمراہ جناب حکیم حاتم علی صاحب بھی تھے۔ جس وقت یہ صاحبان مرزا قادیانی کے آوازے کسنے اور تبرے کرنے شروع کئے اور ان حیرت سے منہ دیکھ کر رہ گئے اور مجھے مفت شرمندگی کہ حضرت مورد عتاب تو اہل دہلی ہیں۔ یہ لوگ براہ مہربانی دو باتیں کر لیجئے۔ اس وقت جناب ہیں؟ مگر حواری اس وقت بھی خاموش نہ ہوئے۔ گیا۔ کبھی کوئی لفظ کسی سے ایسا نہ سنا جو باعث ملال مجلس میں کبھی کوئی گفتگو کسی کی زبان پر ایسی نہیں

صفحہ ١٣٥

ہوں اور میرا یہ اعتقاد ہے کہ ان کا کوئی ارشاد غلط نہیں ہے۔ مگر مولوی صاحب (عبدالمجید دہلوی) کو فرصت ہے مجھے (نورالدین) فرصت نہیں اور نہ میں تقریر کو پسند کرتا ہوں۔ جانبین سے تحریریں ہو رہی ہیں۔ آپ لوگ تامل کریں اور طرفین کی تحریروں کو ملاحظہ فرمائیں۔ عاجز کو اس امر کے اظہار میں بھی تامل نہیں ہے کہ حکیم صاحب نہایت درجہ وسیع الاخلاق اور لائق آدمی ہیں۔ جس طرح مرزا قادیانی ومولوی محمد احسن کی کج اخلاقی اور درشتی کا میں شاکی ہوں اسی طرح حکیم صاحب کے اخلاق کی شکر گزاری بھی میرا ذمہ ہے۔ حکیم صاحب عاجز سے اچھی طرح خندہ پیشانی سے ملے اور کمال مہربانی سے پیش آئے۔ جیسا کہ شرافت کا مقتضاء ہے اور ان کی مجلس کا رنگ بھی ایسا نہ تھا۔ جیسا کہ دہلی میں مرزا قادیانی کی مجلس کا رنگ دیکھا کہ جب کوئی ان کے پاس گیا ادھر ادھر سے حواریوں نے آوازے کسنے شروع کئے اور فقرے اڑانے لگے۔ جو شریف گیا، افسردہ ہی ہو کر آیا اور جو ذرا کوئی بولا، مجلس سے نکلوا دیا۔ چنانچہ مولوی محمد شفیع مطبع انصاری کے ساتھ جو بے تہذیبی برتی گئی وہ مرزا قادیانی کی مجلس کا ایک ادنیٰ نمونہ ہے۔ مرزا قادیانی کی مجلس میں کئی شخص تو ایسے تھے جن کی زبان قابو سے باہر تھی۔ جہاں کوئی شریف گیا اور ٹانگ لی، وہ اپنی شرافت سے چپ ہوا اور انہوں نے قہقہہ اڑایا کہ ہم نے شرمندہ کر دیا۔ آخر کار اس کا نتیجہ کسی قدر اپنے ہم پلہ لوگوں سے ان کو مل گیا۔

مجھے یاد آیا کہ بھوپال سے نواب ممتاز الدولہ مولوی سید عبدالحق خان صاحب انہیں ایام میں تشریف لائے تھے۔ انہوں نے مرزا قادیانی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ میں ان کو لے گیا۔ ان کے ہمراہ جناب حکیم حاتم علی صاحب رئیس آگرہ اور جناب منشی عبدالعزیز رئیس دھولپور بھی تھے۔ جس وقت یہ صاحبان مرزا قادیانی کے مکان پر پہنچے حواریوں نے اپنی عادت کے موافق آوازے کسنے اور فقرے کرنے شروع کئے اور ان کے سامنے ایسے ناملائم اور بے جا الفاظ کہے کہ وہ حیرت سے منہ دیکھ کر رہ گئے اور مجھے مفت شرمندہ ہونا پڑا۔ آخر میں نے مرزا قادیانی سے عرض کیا کہ حضرت مورد عتاب تو اہل دہلی ہیں۔ یہ لوگ تو مسافر آپ کی زیارت کو آئے ہیں۔ ان سے تو براہ مہربانی دو باتیں کر لیجئے۔ اس وقت جناب کو ہوش آیا اور فرمایا کہ کون ہیں۔ کہاں سے آئے ہیں؟ مگر حواری اس وقت بھی خاموش نہ ہوئے۔ میں کئی بار حکیم صاحب (نورالدین) کی مجلس میں گیا۔ کبھی کوئی لفظ کسی سے ایسا نہ سنا جو باعث ملال ہوتا۔ یا طبیعت کو ناگوار گزرتا۔ حکیم صاحب کی مجلس میں کبھی کوئی گفتگو کسی کی زبان پر ایسی نہیں آئی جس سے بوئے ملال آتی۔ عاجز کی رائے

٩

صفحہ ١٣٦

ناقص میں مرزا قادیانی کے مشن میں اگر کوئی آدمی ہے تو حکیم نورالدین صاحب ہیں اور اگر کوئی لائق گفتگو ہے تو حکیم صاحب۔ افسوس کہ ان کو فرصت نہ ملی۔ ورنہ گفتگو کا لطف آتا۔

چونکہ حکیم صاحب سے بھی بالفعل گفتگو کی امید قطع ہوئی۔ لہٰذا اس عاجز نے اپنے خطوں کو طبع کر دینا مناسب سمجھا۔ یا اللہ تیرا یہ عاجز بندہ نہایت عاجزی سے تیرے حضور میں بکمال ادب اس دل سے عرض کر رہا ہے جس کو تو دیکھ رہا ہے کہ میرے قلم و زبان سے وہ الفاظ نہ نکلیں جن سے مجھے تیرے سامنے شرمندہ ہونا پڑے۔ الٰہی مجھ کو تو اور تیری رضا مطلوب ہے۔ تو میری اس تحریر میں مدد کر ۔ آمین والله المستعان وعليه التكلان ، على كل امر به نستعين هو المستعان فنعم المعين!

نوٹس اتمام حجت نمبر: ١

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے معتمد مولوی حکیم نورالدین بھیروی اور مولوی محمد احسن امروہی وغیرہم کے نام خاکسار محمد عبدالمجید مالک مطبع انصاری دہلی کا نوٹس

مرزا قادیانی کے یہ دعوے ہیں:

کرتے کہ میں مسلمان اہل سنت والجماعت ہوں اور اہل سنت کی سب کتابوں کو مانتا ہوں۔

اور (٢٦؍ مارچ ١٨٩١ء ، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٠٣) تحریر فرماتے ہیں کہ: ”میرے مسیح موعود ہونے کا سارا قرآن مجید مصدق اور تمام احادیث صحیحہ اس کی صحت کی شاہد ہیں۔“

لہٰذا یہ عاجز بذریعہ نوٹس ہذا مرزا قادیانی اور ان کے اتباع کو اطلاع دیتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی کو اپنے دعوؤں کی صداقت پر کامل اطمینان ہے اور وہ جانتے ہیں کہ میں سچ کہتا ہوں تو بسم اللہ درکار خیر حاجتِ ہیچ استخارہ نیست۔ آپ تو فرماتے ہیں کہ: ”سارا قرآن میرے دعوؤں کا مصدق اور تمام احادیث صحیحہ شاہد ہیں۔“ میں عرض کرتا ہوں کہ اگر ایک آیت صریح الدلالت اور بتائید اس کے حدیث صحیح سے اپنے دعوؤں کو مجمع علماء میں بطریق اہل سنت والجماعت ثابت کردیں

١٠

صفحہ ١٣٧

گے تو میں مبلغ ایک ہزار روپیہ نقد ان کی خدمت میں پیش کروں گا اور ایک سال تک ہر روز بشرط صحت وحیات مرزا قادیانی کی صداقت کا اپنے وعظ میں اظہار کیا کروں گا اور جس ادب وعزت کے ساتھ مرزا قادیانی فرمائیں گے ان کے ساتھ گفتگو کی جائے گی۔ مرزا قادیانی اس ثبوت کے لئے مناظرہ کرنے کو تیار ہو جائیں۔ مکان اور پولیس کے انتظام اور اس کے آپ خود ذمہ دار ہو چکے ہیں اور اگر مرزا قادیانی ایک ہفتہ میں اس مناظرہ کے لئے تیار نہ ہوئے تو ضرور یقین کر لیا جائے گا کہ مرزا قادیانی خود اپنے دعوؤں کی صداقت پر مطمئن نہیں ہیں اور ان کا دل ان کی تکذیب کرتا ہے۔ فقط انعام بحالت پوری کرنے شرط کے مرزا غلام احمد قادیانی کو مبلغ ایک ہزار روپیہ نقد دیا جائے گا اور ایک سال ان کی خدمت کے لئے حاضر ہوں۔ اطلاعاً آپ کو اختیار دیا جاتا ہے کہ ایک ہفتہ کی میعاد میں کوئی تاریخ مقرر کر کے دو روز پہلے مجھے اطلاع نہ دی اور ثبوت کے لئے تیار نہ ہوئے تو آپ کے دعوے کی تکذیب کے لئے یہ کافی ثبوت ہے۔

١٣؍ ربیع الاول ١٣٠٩ھ ١٧؍ اکتوبر ١٨٩١ء راقم محمد عبدالمجید عفی عنہ مالک مطبع انصاری دہلی

خط نمبر: ١

از حقیر فقیر عبدالمجید بخدمت جناب مولوی محمد احسن صاحب زاد عنایتہ

بعد سلام کہ سنت الاسلام ہے۔ واضح رائے ہو کہ یہ نوٹس جو اس خط کی پشت پر ہے۔ آپ کے مرزا قادیانی نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا جو ان کے سرمایہ علم و حجت کی ایک کافی وافی دلیل ہے۔ چونکہ اس میں احقر کا خطاب آپ سے بھی ہے۔ لہٰذا بذریعہ اسی دستی تحریر کے آپ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ یہ مسافر دور دراز سفر طے کر کے آپ کے پاس با ارادہ طلب دلیل حاضر ہوا ہے۔ تم کو قسم ہے اس خدائے بزرگ و برتر کی جس نے تم کو پیدا کیا ہے۔ کہ اگر تمہارے علم میں تمہارے مسیحا کی صداقت پر کوئی دلیل شرعی ہے تو اسے میرے سامنے مجمع اہل اسلام میں بیان کر دیجئے۔ ہرگز نہ چھپائیے۔ ”ومن یکتمها فانه اثم قلبه “ اور ”الساكت عن الحق شيطان اخرس “ کی وعید کو خیال فرمائیے اور اگر آپ بغیر دلیل ان پر ایمان لائے ہیں تو یہ امر آخر ہے پھر عذر اور حیلہ کیا ضرور، صاف صاف فرما دیجئے۔ والسلام على من اتبع الهدى!

یکم جمادی الاول ١٣٠٩ھ ٣؍ دسمبر ١٨٩١ء

١١

PDF 139

جواب از ہیچمدان احقر الزمن سید محمد احسن بخدمت محبّ مکرم حضرت مولوی عبدالمجید صاحب

بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آنکہ ہیچمدان کو جو جناب نے اس نوٹس میں مخاطب فرمایا ہے۔ اس سے مجھ کو نہایت درجہ کا تعجب لاحق ہوا۔ کیونکہ احقر نے تو کسی تحریر میں اپنی جناب کو مخاطب نہیں کیا اور نہ احقر کسی امر کا مدعی، البتہ یہ اپنا شعار ہے کہ اپنے مؤمن بھائی کو غیبت وغیرہ سے یاد نہیں کرتا اور جملہ اپنے مؤمنین اخوان کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہے۔ ”لولا ظن المؤمنون والمؤمنات بانفسهم خيراً والغيبة اشد من الزنا“ ہاں البتہ مرزا قادیانی کو جو ہمہ تن تائید اسلام میں اپنے اوقات کو صرف کر رہے ہیں اور بعض صاحب جو ان کی تکفیر وتضلیل کرتے ہیں۔ احقر نے اپنے رسائل میں ان کی طرف سے ذب و دفع کیا ہے۔ اگر وہ ذب و دفع آپ کے نزدیک ایک اپنے مؤمن بھائی سے صحیح نہیں ہے تو آپ کو اختیار ہے اور طلب دلیل تو مدعی سے ہوا کرتی ہے۔ نہ حسن ظن رکھنے والے سے اگر آپ کو طلب دلیل منظور ہے تو خود مرزا قادیانی سے طلب فرمائیے۔ خاکسار کو مخاطب نہ کیجئے اور نہ میں آپ کا مخاطب ہوں۔

والسلام! خیر ختام یکم جمادی الاول ١٣٠٩ھ بمقام بھوپال

مکرر بندہ ہیچمدان کو جناب سے مباحثہ منظور ہے۔ فقط!

جواب الجواب

خط نمبر : ٢ ...... از مولانا عبدالمجید دہلوی، بنام محمد احسن قادیانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

زائل بہار حسن ہوئی خطِ یار سے
اس باغ میں خزاں نظر آئی بہار سے

از حقیر فقیر عبدالمجید! بخدمت جناب مولوی محمد احسن صاحب احسن المناظرین نزیل بھوپال زاد عنایتہ!

بعد سلام کے سنت الاسلام ہے۔ واضح رائے ہو کہ نامہ گرامی آن سامی وصول ہو کر باعث استعجاب ہوا، اور یہ استعجاب شاید اسی نہایت درجہ تعجب کا اثر ہے جو جناب کو لاحق ہوا اور

١٢

زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ جناب نے انکار مناظرہ بعد رد دلائل تعجب مجھے امید ہے کہ آپ اپنے قولہ ...... ”ہیچمدان کو جو جناب نے اس کا تعجب لاحق ہوا۔ کیونکہ احقر نے تو کسی تحریر مدعی ۔“

جواب ...... حضرت مولوی صاحب آپ ۔ رہا۔ لہذا یہ فقیر آپ کو یاد دلا کر امید کرتا ۔ فرمائیں گے۔

نزیل بھوپال مولوی محمد احسن

دعویٰ و خطاب عام ثابت ہے۔

کرتا ہے۔“

مری آہ و فغاں
نمک پڑ جاتا ہے

المناظرین) آ موجود ہوگا۔“

اے جناب احسن المناظر سے ہے اور تو ایک بینوا فقیر حقیر تجھے ا کروں گا خیر مگر الحمد للہ کہ میں مسلمان عام اہل اسلام سے ہے۔

صفحہ ١٣٩

زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ جناب نے انکار مناظرہ کا اوّل سبب یہی تعجب فرمایا باقی اس کے دلائل۔ لہٰذا بعد رد و دلائل تعجب مجھے امید ہے کہ آپ اپنے دعویٰ کے موافق مناظرہ کو ضرور تیار ہوں گے۔

قولہ...... ’’ہرچند ان کو جو جناب نے اس نوٹس میں مخاطب فرمایا ہے۔ اس سے مجھ کو نہایت درجہ کا تعجب لاحق ہوا۔ کیونکہ احقر نے تو کسی تحریر میں اپنے آپ کو مخاطب نہیں کیا اور نہ احقر کسی امر کا مدعی ۔‘‘

جواب ...... حضرت مولوی صاحب آپ نے دعویٰ بھی کیا ہے اور خطاب بھی ۔ شاید آپ کو یاد نہیں رہا۔ لہٰذا یہ فقیر آپ کو یاد دلا کر امید کرتا ہے کہ آپ حسب وعدہ اس عاجز مسافر کے حال پر توجہ فرمائیں گے۔

نزیل بھوپال مولوی محمد احسن صاحب احسن المناظرین کے وہ اقوال جن سے ان کا دعویٰ و خطاب عام ثابت ہے۔

کرتا ہے۔‘‘

(اعلام الناس حصہ اوّل ص٢)

(ایضاً حصہ دوم ص٩٢)

میری آہ و فغان سے بدمزہ نہ ہو تو اے گلرو
نمک پڑ جاتا ہے اک حسن گل میں شور بلبل سے‘‘

(ایضاً ص١٧)

المناظرین) آموجود ہوگا۔‘‘

(ایضاً ص١٣)

اے جناب احسن المناظرین صاحب اگر آپ یہ ارشاد فرمائیں کہ یہ خطاب میرا علماء سے ہے اور تو ایک بینوا فقیر حقیر تجھے اس سے کیا، تو علم سے دور، سلسلہ علماء سے مہجور ، تو میں عرض کروں گا خیر مگر الحمد للہ کہ میں مسلمان ہوں اور اہل اسلام کے سلسلہ میں شامل اور آپ کا خطاب عام اہل اسلام سے ہے۔

١٣

صفحہ ١٤١

ص ١٢ اور اگر جناب اس سے بھی انکار کریں تو نوع انسان میں تو سب ہی انسان شامل ہیں اور آپ کا خطاب بایں الفاظ ہے۔

(اعلام الناس حصہ اوّل ص ٥١)

تو مکدر نہ ہو تو عشق میں ہم
ایک آندھی ہیں خاک اڑانے کو

(ایضاً حصہ دوم ص ١٧)

جوئے شیر بھی میں ہی لایا تھا
میں ہی دشت میں تھا برہنہ پا
میں ہی کوہکن میں ہی قیس تھا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

(ایضاً ص ٤١)

ہاں! جناب احسن المناظرین صاحب مجھے بھی خوب یاد ہے۔ آپ سے بہت پہلے میری مرزا قادیانی سے ملاقات ہے۔ ان کی حقیقت تو میں خوب جانتا ہوں وہ تو کچھ بھی نہیں۔ واقعی جو کچھ ہیں وہ آپ ہی ہیں۔ پیران نمی پرند مریداں می پرانند پرانا مقولہ ہے۔ آپ سچ فرماتے ہیں۔ ”جوئے شیر بھی میں ہی لایا تھا ۔“

اور اسی واسطے یہ خاکسار بھی آپ ہی کے پاس حاضر ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ سے امید کامیابی ہے۔ ”عليه توكلت وهو حسبي“

وتحریر جس طرح پر آپ چاہیں اور جس مسئلہ میں منظور ہو آپ مجھ سے گفتگو ومناظرہ کر لیں۔“

(اعلام الناس حصہ دوم ص ٩٩)

١؎ کیونکہ آپ کے مرزا قادیانی نے تو یہ غضب ڈھایا ہے کہ کل اہل اسلام کو مشرک اور خارج از اسلام بتلا دیا اور آپ کا یہ حسن ظن کہ وہ جو کچھ فرمائیں سب ٹھیک درست ہے۔

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٢٩٠ وخزائن ج ٣ ص ٤٥٢)

١٤

کیوں جناب احسن المناظرین صاحب یہ آزادی اُس آسکیں؟ یا جو آپ کے اشتہاروں کو دیکھ کر طالب وجویا ہو کر خدمت میں حاضر ہو۔ اس میں اس کا بھی حصہ ہے؟ پیٹ بھروا آئے بھوکے کو کھدیڑنا یہ کیا انصاف ہے؟ افسوس کہ میں اس قدر دروازہ پر آؤں اور آپ گھر سے باہر نکلنے کی بھی تکلیف نہ فرمائیں میرے ان اقوال میں کہیں دعویٰ کا لفظ نہیں ہے تو میرا ہی قول جواب اس کا یہ ہے کہ آپ کی تحریر میں دعویٰ کا لفظ بھی موجود ہے

ہے۔“ حضرت احسن المناظرین صاحب میدان مناظرہ میں حا بندہ بیان فرمائیے اور کحل الجواہر کی ڈبیہ بھی کھولئے۔ یہ فقیر انہیں مشتاق ہو کر آیا ہے۔ دل آرزو مند کو ان ہند سے اور دیدۂ مشت ناانصافی نہیں تو کیا ہے؟ اب رہی یہ بات کہ آپ کا شعار کسی مؤ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے۔

قولہ...... ”البتہ یہ اپنا شعار ہے کہ کسی اپنے مؤمن بھائی کو غی اپنے مؤمنین اخوان کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہے۔“

جواب...... کیا جملہ اخوان میں مولوی عبدالحق صاحب نہیں فرماتے ہیں کہ: ”اگر ایک ہزار الہام کا دعویٰ کریں گے تو ہو سکتی۔“

اور اگر یہی حسن ظن ہے تو سرسید بھی تو مسلمان ہے اب میں آپ کے مسیح کے چند اقوال پیش کر کے آپ سے جو ہے۔

اقوال مرزاغلام احمد قادیانی مسیح احسن المناظرین

کم ہو جو حضرت مسیح کے وقت میں دن رات نفس پرستی میں کہ ایک کافر کا مؤمن ہو جانا تمہارے ایمان لانے سے زیادہ

(ازالہ اوہام ص

١٥

صفحہ ١٤١

کیوں جناب احسن المناظرین صاحب یہ آزادی انہیں کے واسطے ہے جو آپ تک نہ آسکیں؟ یا جو آپ کے اشتہاروں کو دیکھ کر طالب وجویا ہو کر دور دراز سفر طے کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہو۔ اس میں اس کا بھی حصہ ہے؟ پیٹ بھروں کی دعوت کا اشتہار دینا اور گھر پر آئے بھوکے کو کھدیڑنا یہ کیا انصاف ہے؟ افسوس کہ میں اس قدر دور دراز سفر طے کر کے آپ کے دروازہ پر آؤں اور آپ گھر سے باہر نکلنے کی بھی تکلیف نہ فرمائیں اور اگر آپ یہ ارشاد فرمائیں کہ میرے ان اقوال میں کہیں دعوٰی کا لفظ نہیں ہے تو میرا ہی قول صحیح ہے کہ نہ احقر کسی امر کا مدعی تو جواب اس کا یہ ہے کہ آپ کی تحریر میں دعوٰی کا لفظ بھی موجود ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

ہے۔“ حضرت احسن المناظرین صاحب میدان مناظرہ میں حسب اقرار خود تشریف لائیے اور وہ بینہ بیان فرمائیے اور کحل الجواہر کی ڈبیہ بھی کھولیے۔ یہ فقیر انہیں بینہ کا طالب اور اسی کحل الجواہر کا مشتاق ہو کر آیا ہے۔ دل آرزومند کو ان بینہ سے اور دیدۂ مشتاق کو اس کحل الجواہر سے محروم رکھنا ناانصافی نہیں تو کیا ہے؟ اب رہی یہ بات کہ آپ کا شعار کسی مؤمن بھائی کی غیبت کرنا نہیں ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے۔

قول...... ”البتہ یہ اپنا شعار ہے کہ کسی اپنے مؤمن بھائی کو غیبت وغیرہ سے یاد نہیں کرتا اور جملہ اپنے مؤمنین اخوان کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہے۔“

جواب...... کیا جملہ اخوان میں مولوی عبدالحق صاحب نہیں ہیں۔ جن کے الہام پر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ: ”اگر ایک ہزار الہام کا دعوٰی کریں گے تو بلا بینہ و برہان اس کی تصدیق نہیں ہوسکتی۔“

(اعلام الناس حصہ اوّل ص ٥١)

اور اگر یہی حسن ظن ہے تو سرسید بھی تو مسلمان ہے۔ اس کے ساتھ بدظنی کا کیا سبب۔ اب میں آپ کے مسیح کے چند اقوال پیش کر کے آپ سے جواب کا طالب ہوں کہ یہ کس کا شعار ہے۔

اقوال مرزا غلام احمد قادیانی مسیح احسن المناظرین مولوی محمد احسن امروہی

کم ہو جو حضرت مسیح کے وقت میں دن رات نفس پرستی میں لگے ہوئے تھے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایک کافر کا مؤمن ہو جانا تمہارے ایمان لانے سے زیادہ تر آسان ہے۔“

(ازالۃ اوہام حصہ اوّل ص ٦٥، خزائن ج ٣ ص ١٥٢ ملخص)

١٥

صفحہ ١٤٣

ہے۔ کیونکہ مسیح نے یہودیوں کے ان معزز بزرگوں کے حق میں جو قیصر کے دربار میں بڑی عزت کے ساتھ خاص رئیسوں میں بٹھائے جاتے تھے۔ نہایت غیر مہذب الفاظ استعمال کئے۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ١٠٩، خزائن ج ٣ ص ١٧٠ حاشیہ)

(ازالہ اوہام ص ١١٤، خزائن ج ٣ ص ١٠٩)

افسوس اب غیر قومیں کیا کہیں گی؟

غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ١١٥ حاشیہ)

پھر اس آیت کا بیان کر کے کہ ”اذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذنی فتنفخ فيها فتكون طيراً باذنی وتبراء الاكمه والابرص باذنی واذ تخرج الموتیٰ باذنی۔ الخ!“ احسن الناظرین صاحب آپ کے مسیح فرماتے ہیں۔

ہے۔ یہ سراسر مشرکانہ باتیں ہیں اور کفر سے بدتر۔

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٢٩٧، ٢٩٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢ ملخص حاشیہ)

کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا کام ہے جس میں کلوں کی ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٠٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥،٢٥٤)

(اسی کا نام حسن ظن ہے) پھر مسیح کے معجزات کی نسبت ایک نیا حسن ظن ہے اور وہ یہ ہے۔

مصلحت کے تھی۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ تھا۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨،٢٥٧)

١٦

جواب ...... کیوں حضرت احسن الناظرین صاحب؟ اس وقت تک کہ ١٣٠٩ھ ہیں۔ ہر طبقہ میں دس دس بیس بیس ن دیجئے۔ جن کا معاذ اللہ یہ عقیدہ ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام لکم کا یہ مطلب ہے کہ مسیح نجاری کی قوت سے چڑیاں بنا آپ نہ گنوا سکے تو پھر ان سب مسلمانوں کو بلاشبہ خارج از رکھنے والوں کو کافر اور مشرک سے بدتر سمجھنا کیسا شعار ہے بھائی مؤمن کی غیبت نہ کرنا ہے اور ایمان سے فرمائیے کہ آپ کا یہی اعتقاد تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے معجزے جن کا قرآن کی آیت مذکورہ بالا میں ذکر ہے۔

”کبرت كلمة تخرج من افواههم“ حضرت مولوی مسیح اپنے ایک اظہار میں جو ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا دستخط سے تحریر فرماتے ہیں کہ دس بارہ برس قبل میرا بھی یہی اعتقا دس بارہ سال سے میں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر پھر بجواب اس سوال کے کہ تم مقلد ہو یا غیر مقلد!

مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں۔ ”میرا مذہب کیسا شعار ہوا۔ اے جناب احسن الناظرین! آپ تو احس بھی فکر کیجئے اور بھولئے مت۔ دیکھئے حضرت عیسیٰ کون ہیں ومن المقربین “ اور ایسے مقرب کے حق میں آپ کے طور پر بھی ان الفاظ کے لکھنے سے میرا قلب کانپتا ہے تمام ازالہ ملاحظہ فرمایا ہوگا۔ کیوں حضرت اس بزرگ فرماتا ہے۔ آپ کے مسیح کا یہ فرمانا بے ادبی نہیں ہے۔

ایک منم کہ حسب
عیسیٰ کجاست تابہ نہن

(قصیدہ الہامیہ، ازا

١٧

صفحہ ١٤٣

جواب ...... کیوں حضرت احسن الناظرین صاحب؟ اس آیت کے وقت نزول سے لے کر اس وقت تک کہ ١٣٠٩ھ ہیں۔ ہر طبقہ میں دس دس بیس بیس نہیں تو دو دو چار چار تو ایسے مسلمان گنوا دیجئے۔ جن کا معاذ اللہ یہ عقیدہ ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام معاذ اللہ شعبدہ باز تھے اور آیت تخلق لکم کا یہ مطلب ہے کہ مسیح نجاری کی قوت سے چڑیاں بناتے تھے اور ان کا باپ یوسف تھا اور اگر آپ نہ گنوا سکے تو پھر ان سب مسلمانوں کو بلاشبہ خارج از دائرہ اسلام کہنا اور اس آیت پر اعتقاد رکھنے والوں کو کافر اور مشرک سے بدتر سمجھنا کیسا شعار ہے اور اسی کا نام حسن ظن ہے؟ یہی اپنے بھائی مؤمن کی غیبت نہ کرنا ہے اور ایمان سے فرمائیے کہ قبل از ایمان لانے ان مسیح قادیانی کے کیا آپ کا یہی اعتقاد تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے تھے اور وہ شعبدہ باز اور ان کے یہ معجزے جن کا قرآن کی آیت مذکورہ بالا میں ذکر ہے۔ مکروہ اور قابل نفرت ہیں۔ معاذ اللہ! ”کبرت کلمة تخرج من افواہہم“ حضرت مولوی صاحب آپ تو آپ، آپ کے قادیانی مسیح اپنے ایک اظہار میں جو ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا دستخط شدہ میرے پاس موجود ہے۔ اپنے ہاتھ سے تحریر فرماتے ہیں کہ دس بارہ برس قبل میرا بھی یہی اعتقاد اور خیال تھا جو سب مسلمانوں کا ہے۔ دس بارہ سال سے میں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر اعلان کئے ہوئے دو چار برس ہوئے اور پھر بجواب اس سوال کے کہ تم مقلد ہو یا غیر مقلد!

مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں۔ ”میرا مذہب بین بین ہے۔“ اب فرمائیے یہ کیا ہوا اور کیسا شعار ہوا۔ اے جناب احسن الناظرین! آپ تو احسن الناظرین بن گئے۔ ذرا حسن خاتمہ کا بھی فکر کیجئے اور بھولیئے مت۔ دیکھئے حضرت عیسیٰ کون ہیں۔ ”وجيهاً في الدنيا والآخرة ومن المقربین“ اور ایسے مقرب کے حق میں آپ اپنے مسیح کے اقوال ملاحظہ فرمائیے۔ حوالہ کے طور پر بھی ان الفاظ کے لکھنے سے میرا قلب کانپتا ہے۔ لکھا نہیں جاتا جو زیادہ لکھوں آپ نے تمام ازالہ ملاحظہ فرمایا ہوگا۔ کیوں حضرت اس بزرگ پیغمبر کے مقابلہ میں جس کو اللہ تعالیٰ وجیہ فرماتا ہے۔ آپ کے مسیح کا یہ فرمانا بے ادبی نہیں ہے۔

٨ ....... ؎

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بہ منبرم

(قصیدہ الہامیہ، ازالہ اوہام حصہ اول ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

١٧

صفحہ ١٤٤

قولہ ...... ”اور طلب دلیل تو مدعی سے ہوا کرتی ہے۔ نہ حسن ظن رکھنے والے سے۔ اگر آپ کو طلب دلیل منظور ہے تو خود مرزا قادیانی سے طلب فرمائیے۔ خاکسار کو مخاطب نہ کیجئے۔“

جواب ...... اب تو آپ کو بھی یاد آگیا ہوگا کہ آپ نے لکھا ہے کہ میرا دعویٰ بلاوجہ نہیں ہے اور آپ احسن الناظرین بھی ہیں۔ لہٰذا اب کوئی عذر آپ کو انعقاد جلسہ مناظرہ میں باقی نہیں رہا۔ مرزا قادیانی سے بھی دلیل طلب کی تھی۔ چنانچہ اس کا شاہد میرا یہی نوٹس ہے جو آپ کو بھیجا تھا اور میرے خطوط مطبوعہ ١٣، ١٨ اکتوبر ١٨٩١ء جن کے جواب میں مرزا قادیانی کا حال مطابق اس شعر کے ہے جو آپ نے اعلام الناس حصہ دوم ص ٢٨ میں لکھا ہے ؎

تیرا بیمار نہ سنبھلا جو سنبھالا لے کر
چپکے ہی بیٹھ رہے دم کو مسیحا لے کر

اب آپ بموجب اپنے وعدے کے جس کو مکرر میں یاد دلاتا ہوں۔ مناظرہ کے لئے میدان میں آئیے اور کوئی عذر و حیلہ نہ فرمائیے۔

قولہ ...... ”اگر مرزا قادیانی ایسی بحث کی طرف توجہ نہ فرماویں گے تو یہ خاکسار احسن الناظرین آموجود ہوگا۔“

(اعلام الناس حصہ دوم ص ١٣)

اب آپ تشریف لائیے مہربانی فرمائیے۔ یہ عاجز شکر گزار ہوگا۔

جاؤ تم تنہا کہیں ایسا تو ہو سکتا نہیں
اور نہ میں پہنچوں وہیں ایسا تو ہو سکتا نہیں

یاد کر لیجئے! والسلام علی من اتبع الہدیٰ!

خط نمبر: ٣ ...... بہ طلب مناظرہ وبتاکید جواب خط نمبر : ٢

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

اللہ تعالیٰ جل شانہ کی قسم دے کر احسن الناظرین مولوی محمد احسن صاحب امروہی نزیل بھوپال اور حکیم نور الدین صاحب بھیروی و مرزا غلام احمد قادیانی مصنوعی مسیح کی خدمات میں بحث کی درخواست۔

ندارد کسے باتو نا گفتہ کار
ولیکن چو گفتی دلیلی بیار

اے حضرات! آپ لوگوں نے دنیا میں شور ڈال دیا ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود اور

١٨

صفحہ ١٤٥

نبی ہیں کسی درجہ کے اور اہل اسلام کو دھوکہ میں ڈالنے کی غرض سے بڑے بڑے لمبے چوڑے اشتہار اور رسائل طبع کر کے ایک آفت برپا کر دی ہے اور شور مچا رکھا ہے کہ ہمارے دعوے پر قرآن و حدیث گواہ ہے اور جس کا جی چاہے ہم سے بحث و مناظرہ کر لے۔ جس کی وجہ سے ہزارہا مسلمانوں میں فتنہ برپا ہو گیا ہے۔ لہٰذا آپ پر فرض ہے کہ اس فقیر سے اس بات کا تصفیہ کر لیں۔ میں نے بار بار آپ کے مرزا قادیانی کو بھی لکھا اور کئی مرتبہ ان کی خدمت میں حاضر بھی ہوا اور آپ تینوں صاحبوں کے نام نوٹس بھی دیا اور اب اس قدر سفر دور دراز طے کر کے آپ کے پاس بھوپال میں حاضر ہوں اور آپ کو دو خط بھی لکھے۔ ایک ماہ کامل مجھے انتظار جواب میں یہاں بیٹھے ہوئے گزرا۔ مگر آپ نے جواب نہیں دیا۔ آپ کو چاہئے کہ اپنے دعوے اور تحریر کا خیال اور ”لــــــــــم تقولون مالا تفعلون“ پر غور کر کے بحث کو تیار ہو جائیے۔ میں آپ کو اس ذات وحدہ لا شریک تعالیٰ و تقدس کی قسم دیتا ہوں۔ جس نے آپ کو پیدا کر کے اپنی بے حد و بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا ہے کہ اگر آپ کا بھی مذہب ہے کہ قرآن مجید کی آیت صریحہ بینہ قطعیۃ الدلالت مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے پر اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہا السلام کا عہدۂ رسالت مرزا قادیانی کو مل جانے پر موجود ہیں اور اس کی تائید میں احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ اپنے منطوق سے شہادت دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آپ کو اپنے مؤمنانہ عقیدہ کو الوداع کہہ کر طریق اسلام سلف صالح سے سخت انکار کرنا پڑا ہے تو اسی خداوند کریم سے ڈر کر جس کی میں نے ابھی آپ کو قسم دی ہے۔ میرے ساتھ اظہار الحق بحث کیجئے۔ آپ کو اس بحث میں انشاء اللہ تعالیٰ کچھ بھی تکلیف نہ ہوگی۔ اگر آج کوئی عدالت کسی دنیوی مقدمہ میں آپ سے اظہار لینا چاہے تو آپ جس قدر وہ چاہے مبسوط بیان لکھوا سکتے ہیں۔ بلکہ ایک اطلاع سے بلا توقف تاریخ مقررہ پر عدالت میں حاضر ہو جاؤ گے اور بڑی شد و مد سے اظہار دو گے۔

اے حضرات! اپنے دنیوی کام آپ سب کرتے ہو نوکری پر ہر روز حاضر ہوتے ہو۔ آواز بلند ہے ظریف ہو، احسن المناظرین ہو، طاقتیں سب قائم ہیں۔ بقول مرزا قادیانی آپ فرشتہ ہو اور مرزا قادیانی کی مدد کو بقول ان کے ہزاروں فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ ہر وقت الہام ہوتا ہے اور ماشاء اللہ آپ لوگوں کو اپنے علم اور اپنے قرآن و حدیث دانی کا بھی بڑا دعویٰ ہے اور جو کہ آپ اور آپ کے مصنوعی مسیح کئی رسالے بھی اس باب میں لکھ چکے ہیں تو اس بحث میں کچھ فکر وسوچ کا کام بھی نہیں ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی حقیقی عدالت سے کیوں نہیں ڈرتے اور سچی شہادت کو

١٩

صفحہ ١٤٧

عام جلسہ میں کیوں نہیں ظاہر کرتے اور کیوں کچے عذر و بہانے اور غلط حیلے کر رہے ہو اور خاص آپ کا یہ عذر کہ بھوپال میں سرکار عالیہ دام اقبالہا کے بے جا تعصب کا خوف ہے۔ بالکل ہیچ ہے۔ حضرت! مجھے آپ کا وہ خط دیکھ کر کہ میں بحث کرنا نہیں چاہتا۔ مرزا قادیانی سے ان کے دعوے کی دلیل طلب کرو۔ بہت خوف آیا کہ آپ لوگوں کا کیا خیال ہے۔ آپ احسن المناظرین بن گئے۔ آدمی سے فرشتہ ہو گئے۔ غلام احمد کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عہدہ رسالت دلوادیا۔ امتی سے نبی بنا دیا۔ افسوس فتنہ ڈالنے کے لئے تو آگے اور اصلاح کے کاموں میں پیچھے ہٹتے ہو۔ جن کا نمک کھاتے ہو ان پر بے جا تعصب کا الزام لگاتے ہو۔ آپ ایمان سے تو کہو سرکار عالیہ دام شوکتہانے (اللہ تعالیٰ ان کے سایۂ عاطفت کو ہمیشہ ہمارے سر پر قائم رکھے) کبھی کسی اہل مذہب سے کوئی بے جا تعصب کیا ہے۔ جو آپ ہر ایک کے سامنے یہ غلط عذر کرتے ہو۔ حضور سرکار عالیہ دام سلطنتہا کی رعایا میں تو نصرانی اور ہنود سب آباد ہیں اور نوکر بھی ہیں۔ افسوس کہ وہ سرکار عالیہ کو متعصب نہ سمجھیں اور آپ مولوی کہلا کر بلکہ فرشتہ بن کر ناحق ان کی نسبت بے جا تعصب کے گمان فاسد کو اپنے دل میں رکھیں۔ آپ کے اس گمان پر افسوس۔ خدا سے ڈرو۔ اس منعمہ کی ناشکری نہ کرو جس کے الطاف خسروانہ اور کرم مادرانہ نے ایک عالم کو شکر گزار بنا رکھا ہے۔ ڈرو کہیں اس کفران نعمت کا عوض اسی عالم ہی میں نہ ہو جائے۔ ”من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ“

اے حضرات مولوی صاحب! یہ سرکار وہ عادلہ دوران اور حاتمہ زمان ہے جس کے حق میں حضرت شیخ سعدی شیرازی چھ سو برس پہلے یہ پیش گوئی فرما گئے ہیں گو حاسد کی سمجھ میں نہ آئے؎

سر سرفرازان و تاج مہان
بہ دوران عدلش بناز اے جہان
اگر از فتنہ آید کسے در پناہ
ندارد جز ایں کشور آرام گاہ
ندیدم چنیں گنج و ملک و سریر
کہ وقفست بر طفل و درویش و پیر
طلب گار خیر است امیدوار
خدایا امیدے کہ دارد برآر

٢٠

اے حضرات! آپ لوگوں کا دعویٰ کچھ چھو جہاں پر سبقت لے گئے۔ کوئی آپ میں سے نبی و مسیح و م احسن المناظرین رکھا۔ کیا خوب تمام دنیا کے عہدے آ کمال یہ کیا کہ پہلے ہی سے اپنے بعد اپنے بیٹے کو اپنا جا گوئیاں بھی گھڑ دیں۔ نعوذ باللہ!

شاید یہ سمجھے کہ میرے بعد نہیں معلوم خدا ا ”اعوذ بالله السمیع العلیم من وسوسة الش پر اگر آپ لوگوں کو خود بھی اطمینان ہے تو اپنی اس قو مناظرہ کر کے تمام خلق خدا کو فائدہ کیوں نہیں پہنچاتے۔ دھمکانے اور دھوکہ دینے کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ اہل علم کو اس سے خوف اور عبرت او خیر خواہی کرنی اور ان کو سنبھالنا چاہئے نہ کہ ان کے حقائ دھوکے میں ڈالنا۔ میں نے اچھی طرح تحقیق کیا۔ مرز کر اور یہ سمجھ کر کہ ان میں بعض عقائد بھی ہیں۔ ان لوگوں کا صاف اور صریح دھوکہ نہیں ہے کہ بڑے بڑ گفتگو میں ہر طرح کی آزادی دیتے ہیں۔ تقریراً و مناظرہ کرلو۔ کیونکہ مناظرہ اور مباحثہ تو ایک بہت بڑ اس سے ترقی علوم ہوتی ہے۔ مثل مشہور ہے کہ م بحث بالکل ہچکچارہے اور اشتہاروں میں انعام ہز ومناظرہ کے لئے طلب کرتا ہے تو گھر میں مہندی لگ المناظرین صاحب۔ یہ اشتہار صرف عوام ہی کے بیوقوف لوگ سمجھیں کہ حضرت سے کوئی مناظرہ نہیں ک کرنا چاہئے۔ آپ لوگوں کے دل میں کچھ اظہار ح جاتے اور مرزا قادیانی نے تو غضب یہ کیا کہ دہلی ۔ عکس خلاف واقع صریح صریح کذب و بہتان کے ٢١

صفحہ ١٤٧

اے حضرات! آپ لوگوں کا دعویٰ کچھ چھوٹا سا دعویٰ نہیں ہے۔ گویا آپ سارے جہاں پر سبقت لے گئے۔ کوئی آپ میں سے نبی و مسیح و ابن اللہ بنا۔ کوئی فرشتہ کسی نے اپنا خطاب احسن المناظرین رکھا۔ کیا خوب تمام دنیا کے عہدے آپ ہی بانٹ لئے اور مرزا قادیانی نے تو کمال یہ کیا کہ پہلے ہی سے اپنے بعد اپنے بیٹے کو اپنا نائب بھی بنا دیا اور اس کے حق میں پیشین گوئیاں بھی گھڑ دیں۔ نعوذباللہ!

شاید یہ سمجھے کہ میرے بعد نہیں معلوم خدا اس کو کیا بنائے۔ خود ہی جو کچھ چاہا بنا دیا۔ ”اعوذ بالله السميع العليم من وسوسة الشيطان الرجيم“ لیکن اپنے ان عہدوں پر اگر آپ لوگوں کو خود بھی اطمینان ہے تو اپنی اس قوت اور وسیع معلومات سے جلسۂ عام میں مناظرہ کر کے تمام خلق خدا کو فائدہ کیوں نہیں پہنچاتے۔ کیا یہ معلومات اور قوت صرف عوام ہی کے دھمکانے اور دھوکہ دینے کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ مسلمان جس نازک حالت میں آج کل مبتلا ہیں۔ اہل علم کو اس سے خوف اور عبرت اور مسلمانوں پر رحم کرنا چاہئے۔ ان کی سچی خیر خواہی کرنی اور ان کو سنبھالنا چاہئے نہ کہ ان کے عقلاء کے حق سے فائدہ اٹھانا اور ان کو مغالطہ اور دھوکے میں ڈالنا۔ میں نے اچھی طرح تحقیق کیا۔ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کی یہ ابتر حالت دیکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ ان میں بعض عقلاء بھی ہیں۔ ان کے حمق سے فائدہ اٹھانا چاہا ہے۔ کیا یہ آپ لوگوں کا صاف اور صریح دھوکہ نہیں ہے کہ بڑے بڑے اشتہار اور رسائل طبع اور مشتہر کر دیئے کہ ہم گفتگو میں ہر طرح کی آزادی دیتے ہیں۔ تقریراً و تحریراً جس مسئلہ میں منظور ہو ہم سے گفتگو اور مناظرہ کرلو۔ کیونکہ مناظرہ اور مباحثہ تو ایک بہت بڑا آلہ تحقیق علوم اور تعلیم مسائل عویصہ عوام کا ہے۔ اس سے ترقی علوم ہوتی ہے۔ مثل مشہور ہے کہ ملک بے سیاست اور مال بے تجارت اور علم بے بحث بالکل بیکار ہے اور اشتہاروں میں انعام بھی مقرر کر دیئے۔ مگر جب کوئی آپ کو بحث ومناظرہ کے لئے طلب کرتا ہے تو گھر میں مہندی لگا کر مائیوں بیٹھ جاتے ہو۔ کیوں جناب احسن المناظرین صاحب۔ یہ اشتہار صرف عوام ہی کے دیکھنے اور دکھانے اور سنانے کے لئے ہیں کہ بیوقوف لوگ سمجھیں کہ حضرت سے کوئی مناظرہ نہیں کر سکتا۔ یا کچھ خدا کا خوف کر کے اس پر عمل بھی کرنا چاہئے۔ آپ لوگوں کے دل میں کچھ اظہار حق کا خیال ہوتا تو ضرور مناظرہ کرنے کو تیار ہو جاتے اور مرزا قادیانی نے تو غضب یہ کیا کہ دہلی کے واقعہ کو جس کے ہزار ہا مسلمان گواہ ہیں بالکل عکس خلاف واقع صریح صریح کذب و بہتان کے ساتھ اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کیا ہے۔ ”لا حول

٢١

صفحہ ١٤٨

ولا قوة الا باللہ ” ذرا اپنے پیر بھائی محمد اسلم کا الحق صریحا ملاحظہ فرمائیے۔ یہ اچھا آپ کا حسن ظن ہے کہ ہزارہا مسلمانوں کے سامنے جو واقعہ گزرا ہو اس کو ایک شخص خلاف اور بالکل غلط لکھے اور ایک عالم سید محدث پر بہتان باندھے اور اس کو سینکڑوں گندی گالیاں دے۔ مگر آپ اپنے حسن ظن سے اس کو الہام سمجھے جائیں۔ اگرچہ مرزا قادیانی کی حقیقت بالکل کھل چکی ہے۔ مگر عاجز کو چونکہ تحقیق حق اور اظہار باطل منظور ہے۔ اس لئے بہ نظر اتمام حجت آپ کو بحث کے لئے بلاتا ہوں۔ جب ہر طرح کی حجت تمام ہو جائے گی تو آپ کے اعلام کا جواب اور آپ کے مصنوعی مسیح کے ازالہ کا ازالہ بفضلہ تعالیٰ تیار ہے وہ طبع کیا جائے گا۔ مگر بہتر ہے کہ آپ سے اوّل تصفیہ کر لیا جائے۔ واللہ باللہ مجھ کو اظہار حق کے سوا کوئی اور خیال نہیں ہے۔ مگر آپ اس طرف توجہ فرماتے ہی نہیں۔ ناحق مسلمانوں کا وہ وقت عزیز اور روپیہ اس ناکارہ جھگڑے میں صرف کراتے ہو۔ جو غیر قوموں کے رد میں صرف ہوتا۔ ” انا للہ وانا الیہ راجعون “

خیر اللہ تعالیٰ کافی ہے اور مسلمانوں کا وہی حامی و والی ہے۔ جو چاہیں آپ طبع کریں اور جو چاہیں چھاپیں اور مرزا قادیانی کو بنائیں۔ پہلے بھی بہت لوگ بہت کچھ بن چکے ہیں اور جو کچھ ان کا انجام ہوا اس سے بھی آپ بے خبر نہیں ہیں۔ مرزا قادیانی نے وقت اور موقع اور مسلمانوں کی ابتری کا حال دیکھ کر یہ ڈھنگ سوچا اور یہ رنگ جمایا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ جو اسلام اور اہل اسلام کا حافظ و ناصر ہے وہ اب بھی ویسا ہی قدرت والا ہے۔ جیسا ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ ” الان کما کان “ مگر حضرات! آپ خوب سمجھ لو کہ اگر آپ نے اس بارہ میں مناظرہ و مباحثہ نہ کیا تو ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر آپ اپنے خیال میں ٹھیک بھی کہتے ہو تو پوچھے جاؤ گے یا حضرت لب بام کی حالت ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ سفر آخرت نزدیک ہے۔ اگر حق جان کر اس کو چھپاؤ گے تو اب منتقم حقیقی کے اخذ شدید سے ہرگز نہ بچو گے۔ بھلا یہ کیسی ایمانداری ہے کہ مصنوعی طور پر مشتہر کر دیا اور اپنے ہم طریق لوگوں کو خبریں پہنچا دیں کہ مولوی محمد حسین مناظرہ نہ کر سکے۔ مولوی سلامت اللہ کو میں نے ساکت کر دیا۔ مولوی محمد بشیر کسی قدر میرے ہم خیال ہو گئے۔ میں نے تمام امصار و دیار کے علماء کو اشتہار دیا کوئی مقابل نہ آیا۔ حضرت حیا شعبہ ایمان ہے۔ اگر دیانت و راست بازی کا کچھ خیال ہوتا تو ایسے فرضی و مصنوعی دعوے آپ لوگ مطبوع و مشہور نہ کرتے اور اگر کئے بھی تھے تو ضرور مناظرہ کے لئے تیار ہو جاتے اور اظہار حق میں کوئی عذر و حیلہ نہ کرتے۔ پہلے صفائی اور راست بازی سے مناظرہ و بحث کر لیتے۔ اگر کامیاب ہو جاتے تو شہرت

٢٢

صفحہ ١٤٩

دیتے ۔ حضرت احسن الناظرین صاحب یہ عاجز اس قدر سفر کی دقت اٹھا کر صرف اسی غرض سے آیا ہے اور آپ کے مکان پر بھی حاضر ہوا اور آپ کے مرزا قادیانی اور دیگر آپ کے ہم طریق لوگوں کی گالیوں اور لعن طعن کی برداشت کر کے محض آپ سے بحث کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہوا ہے اور جب آپ سے حجت تمام کر چکے گا تو پنجاب میں آپ کے ہم مشرب جناب حکیم نورالدین صاحب کی خدمت میں جائے گا۔ اگر ان کا حال بھی ایسا ہی ہوگا جیسا کہ آپ کا اور مرزا قادیانی کا ہے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے رسائل کے رد کا طبع کرنا شروع کرے گا۔

اے حضرات! اگر آپ لوگ حق پر ہیں اور آپ کو اس بات کا واقعی طور پر یقین ہے کہ در حقیقت آپ کے مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں اور آپ لوگوں کا دعویٰ قرآن مجید کے آیات صریحہ قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ کے منطوق سے محقق اور ثابت شدہ امر ہے تو پھر ایسے رکیک عذر اور بہانے کر کے مناظرہ سے گریز کرنا کیسے بزدلی کی بات ہے۔ بسم اللہ! آئیے اور اپنا وہ عجیب ثبوت دکھلائیے۔ اگر آپ اس صورت میں کہ میں آپ کے مصنوعی مسیح اور ان کے حواریوں یا بقول مرزا قادیانی ان کے فرشتوں کو نوٹس دے کر ایک عالم میں مشتہر کر چکا ہوں۔ جس سے اچھی طرح یہ بات اشاعت پا چکی ہے کہ در حقیقت آپ کے مرزا قادیانی کا دعویٰ قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ سراسر قرآن وحدیث کے خلاف ہے اور جو شخص مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کا مدعی ہے وہ بالکل مفتری علی اللہ والرسول ہے۔ میدان میں آ کر مصنوعی مسیح کا کچھ ثبوت نہیں دیں گے۔ تو پھر آپ کس مرض کی دوا ہیں اور اپنا خطاب احسن الناظرین کیوں رکھا ہے۔ حضرت بحث کرنے کے لئے تشریف لائیے کہ میں بحث کے لئے تیار بیٹھا ہوں۔ آپ کیوں باوجود احسن الناظرین ہونے کے بحث کرنے سے کنارہ کرتے ہیں اور حق الامر کو چھپاتے ہیں اور حق کو اس کے ظہور سے روکتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ حق کھل جائے۔ آپ لوگوں کو ڈرنا چاہئے کہ آپ یصدون عن سبیل اللہ کے مصداق نہ ہو جائیں۔ کیونکہ جس حالت میں آپ کے مقابل آنے سے حق کھلتا ہے اور آپ مائیوں کوٹھری میں چھپے بیٹھے ہیں تو پھر آپ یصدون عن سبیل اللہ کے مصداق ہوئے یا کچھ اور ہوئے۔ بتائیے! آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور بحث کے میدان میں آکر یہ کوشش کریں کہ حق کھل جائے اور گریز وفرار اختیار نہ کریں اور یصدون عن سبیل اللہ کے مصداق نہ بنیں اور میں تو اے حضرات! اس عظیم الشان بحث کے لئے ہر وقت حاضر ہوں اور ہرگز آپ لوگوں کی طرح تخلف نہ کروں گا۔ لعنۃ اللہ علیٰ من تخلف وصد عن سبیل

٢٣

صفحہ ١٥٠

الله ”اب میں پھر آپ کو اور آپ کے مصنوعی مسیح یا نبی کو یا جو کچھ وہ بنے ہیں اور آپ کے تمام ہم مذہب اور ہم مشرب لوگوں کو بحث کے لئے بلاتا ہوں ۔ ” هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين وادعوا شهداء كم من دون الله ان كنتم صادقين فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا “ کا ڈنکا بجاتا ہوں۔ آپ جب تیار ہوں میں حاضر ہوں، دہلی، لاہور، بمبئی، کلکتہ جہاں بلاؤ آ جاؤں۔ آپ لوگ یقیناً یاد رکھیں کہ یہ آپ کا غلط اور سراسر غلط اور واقعی غلط خیال ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود یا کسی درجہ کے نبی ہیں۔ جس دن آپ یا آپ میں سے کوئی بحث کے لئے میرے سامنے آئے گا۔ اس دن انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے خیالات سب مبدل ہو جائیں گے اور سخت افسوس وندامت کے ساتھ آپ کو اپنے اس خیال سے رجوع کرنا پڑے گا۔ اگرچہ آپ کے مرزا قادیانی اور آپ ایک عرصہ سے اس وہم کو پکار رہے ہیں مگر سامنے آنے کے بعد آپ پر اپنے وہم کی حقیقت کھل جائے گی اور پھر آپ کو اپنا یہ خیال اور وہم سخت مذموم اور باعث رسوائی معلوم ہوگا۔ آپ کو شرم کرنی چاہئے کہ احسن الناظرین ہونے کا دعویٰ اور مناظرہ سے اس قدر اور اس درجہ گریز اور فرار ” لا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم “ اگر آپ کو اور آپ کے مرزا قادیانی کو کچھ شرم ہے تو اب بلا توقف بحث کے لئے میدان میں آجائیے۔

تا سیہ رو شود ہر کہ دروغش باشد

اگر آپ بحث کرنے کے لئے نہ آئے اور کوٹھری میں چھپے مائیوں بیٹھے رہے تو یاد رکھو کہ تمام ہندوستان و پنجاب میں بدنامی کے ساتھ آپ مشہور ہو جائیں گے اور آپ کے مرزا قادیانی کے مسیحائی اور آپ کے احسن الناظرین ہونے کی تمام رونق جاتی رہے گی۔ میں متعجب ہوں کہ آپ کیسے احسن الناظرین ہیں اور آپ کے مرزا قادیانی کیسے مسیح نبی ہیں۔ جن کو شرم نہیں۔ قرائن سے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ آپ ہی نے مرزا قادیانی کو اس غلط وہم میں دلیر کر دیا ہے اور پھر آپ ہی پیچھے ہٹے جاتے ہو اور آپ پر واضح رہے کہ کسی قدر درشت الفاظ جو اس خط میں تحریر ہوئے ہیں۔ یہ انموذج از بسیار آپ کے مرزا قادیانی کے الہامی الفاظ کا چربہ ہے اور جو جو گندے اور درشت الفاظ مرزا قادیانی نے استعمال کئے ہیں وہ تو پورے پورے نہ میری زبان سے نکل سکیں نہ قلم سے۔ کیونکہ سفہاء کی طرح سب و شتم میری فطرت کے مخالف ہے۔ یہ شیوہ تو آپ کے مرزا قادیانی اور ان کے معتقدوں ہی کے لئے موزوں ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کے فضل عمیم اور رحمت وسیع سے جوشِ نفسی سے محفوظ ہوں اور اس کی تصدیق میرے وہ مناظرے ہیں جو ہمیشہ

٢٤

صفحہ ١٥١

دہلی، لاہور، بمبئی، مدراس، لکھنؤ وغیرہ بڑے بڑے شہروں میں ہوئے ہیں اور بفضلہ تعالیٰ میرے پاس اس امر میں مخالفین کی شہادتیں موجود ہیں اور اس تحریر میں یہی میری ہر ایک لفظ کی صحت نیت پر بنا ہے۔ آپ کے جگانے کے لئے کسی قدر بلند آواز کی ضرورت پڑے۔ ورنہ مجھے مرزا قادیانی اور ان کی امت کی گالیوں پر نظر نہیں۔ ”کل یعمل علی شاکلتہ“

مجھے اس کا بھی اظہار کرنا ضرور ہے کہ اگر آپ کو مرزا قادیانی کی درشت کلامی اور سخت زبانی اور گالیوں کی بوچھاڑ کا یقین نہ ہو تو مرزا قادیانی کا اشتہار ١٧؍ اکتوبر ١٨٩١ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج١ ص ٢٤١ تا ٢٤٩ اور تقریر واجب الاعلان جلسہ بحث ٢٠؍ اکتوبر ١٨٩١ء، مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٠ تا ٢٦٤ کو ملاحظہ فرمائیں۔ بعد ملاحظہ آپ خود جان لیں گے کہ کس قدر مکروہ اور قابل نفرت الفاظ کا مرزا قادیانی نے استعمال کیا ہے اور یہ بھی روشن ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام بھی ان کے بھائی صاحب کی طرح لال بیگی الہام ہے۔ ”اعوذ برب الناس ، ملک الناس ، الہ الناس ، من شر الوسواس الخناس ، الذی یوسوس فی صدور الناس ، من الجنۃ والناس ، ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب“ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو بھی توبہ کی ہدایت نصیب کرے اور اپنے اور اپنے رسول کے خلاف سے بچائے۔ واللہ باللہ مجھے مرزا قادیانی کے حال پر افسوس اور بہت افسوس ہے۔

وہم باطل نے نکما کر دیا
ورنہ مرزا آدمی تھے کام کے

جو کہ آپ کو نظم سے ایک تعلق ہے۔ اس لئے آپ کے ایک بھائی کا تحفہ آپ کے مذاق کے موافق اس وقت بعد تھوڑی سی اصلاح کے پیش کرتا ہوں۔ گر قبول افتد؎

مرزا صاحب کج ادائے آپ کی اور یوں بے اعتنائی آپ کی
خلق کو دھوکہ میں ڈالا سراسر واہ طرز رہنمائی آپ کی
افتراء پر افتراء کرتے رہے بڑھ گئی ہرزہ سرائی آپ کی
سینہ صافوں کو مکدر کر دیا ہو چکی حق سے صفائی آپ کی
ہو سکے کب ابن مریم کے مثیل دیکھ لی ہم نے بڑائی آپ کی
آیت قرآن نہ لائے تم دلیل کھل گئی بس بے نوائی آپ کی
لاؤ گے جب تک نہ آیت یا حدیث کس طرح ہو گی رہائی آپ کی

٢٥

صفحہ ١٥٢
کر کے تاویلیں لکھو گے گر جواب
خوب ہو گی جگ ہنسائی آپ کی
بحث میں بنتے ہو مغضوب الغضب
بحث ہے گویا لڑائی آپ کی
مرزا صاحب لنگوٹا باندھئے
دیکھیں پھر زور آزمائی آپ کی
یوں الجھنا میرزا جی اچھا نہیں
کیا کرے گی ہاتھا پائی آپ کی
آپ سے ظاہر ہوا بغض وفساد
کوئی کیا مانے گواہی آپ کی
حامی دین شیخ کل کے سامنے
حق نے یوں عزت گھٹائی آپ کی
دلی والوں کے نہ آگے چل سکے
عیسویت اور خدائی آپ کی

والسلام علی من اتبع الہدیٰ!

فہرست کاغذات...... جو اس خط کے ساتھ خدمت عالی میں مرسل ہیں مطبوعہ مطبع انصاری دہلی

اگر مہربانی کر کے اپنے اعلام الناس کے تینوں حصے بھیج دیں بقیمت یا بے قیمت تو بعید از عنایت نہ ہو گا۔ آپ کا خادم عبدالمجید عفی عنہ۔ ٥/جمادی الاخری ١٣٠٩ھ، ٧/جنوری ١٨٩٢ء

از احقر الزمن: بخدمت فیض درجت حضرت مکرم بندہ محمد سردار حسین خان صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آنکہ جس قدر اشتہارات جناب والا نے سوائے خط قلمی اس احقر کو عطا فرمائے ہیں۔ وہ سب اس خاکسار کے پاس موجود ہیں۔ مگر بہ تعمیل امر جناب، ان کو لے کر رسید پیش کرتا ہوں۔ مورخہ ہفتم جمادی الثانی ١٣٠٩ھ محمد احسن مہتمم مصارف!

خط نمبر: ٣...... جواب الجواب خط نمبر: ٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم! ایک مدت سے جس کا انتظار دل کو تڑپا رہا تھا اور بے اختیار زبان پر یہ آ رہا تھا؎ ٢٦ ٤٠٠

صفحہ ١٥٣
دل تڑپتا ہے صبح وشام پڑا
یا الٰہی یہ کس سے کام پڑا

شکر اور صد ہزار شکر کہ وہ تمنا بر آئی۔ شاہد مقصود نے صورت دکھائی۔ یعنی جناب مولوی محمد احسن صاحب احسن المناظرین کا وہ مضمون جو جناب موصوف نے اس عاجز مسافر کے جواب میں لکھا ہے جناب سردار حسین خان صاحب بہادر کپتان ملکی کی معرفت احقر تک آیا۔ دل سے پڑھا۔ آنکھوں سے لگایا۔ ؂

ہزار شکر کہ خط صبح یار کا پہنچا
دل فسردہ کو مژدہ بہار کا پہنچا

میں مشکور ہوں کہ مولوی صاحب نے اس جواب سے خاکسار کی عزت بڑھادی۔ مگر ساتھ ہی نامہ بر نے یہ افسوس ناک خبر بھی سنادی کہ جناب موصوف مجھ سے ملنا نہیں چاہتے۔ گو میں نے بہت سمجھایا۔ مگر وہ کسی طرح ڈھب پر نہیں آتے۔ مناظرہ کی طرف توجہ نہیں فرماتے۔ یہ ظاہر ہے کہ اس عاجز مسافر نے اس سفر کا بار اسی لئے اٹھایا تھا اور یہاں تک آیا تھا مگر مولوی صاحب کو رحم نہ آیا۔ خیر یا قسمت یا نصیب ؂

یہ کہاں قسمت کہ کانوں سے سنوں وہ گفتگو
ہاں مگر قاصد ہو پیدا بعد بے حد جستجو
ہائے ناکامی رہے دل کی ہی دل میں آرزو
برمگردد قاصد از شرم جواب تلخ او
چوں پیام من برد شیریں کلام من برد

اور نہ صرف نامہ بر ہی نے یہ پیام سنایا بلکہ مولوی صاحب کے تمام مضمون کا حاصل بھی یہ ہی ہے۔ کیوں جناب مولوی صاحب باوجود دعوت کوئی کسی کو یوں صاف جواب دیتا ہے۔ کیا یہ اس عاجز مسافر پر صریح ظلم نہیں ہے۔

رحم ہرگز نہیں آتا تجھے ہم پر ظالم
دل ٹھہرتا نہیں ٹھہرتے کوئی کیونکر ظالم
تیری محفل سے چلے سخت مکدر ظالم
اے دل آزار جفا کیش ستمگر ظالم
لطف کن لطف کہ ایں بار چو رفتم رفتم

٢٦

صفحہ ١٥٤

ہر چند کہ مجھے اس کے جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ میں نے تو احسن المناظرین صاحب کو مناظرہ کے لئے طلب کیا تھا۔ جس کے وہ داعی تھے۔ انہوں نے اس سے صاف انکار کیا۔ دوسری بات قابل جواب یہ تھی کہ وہ اپنے مصنوعی مسیح کے مسیح موعود ہونے کا کچھ ثبوت دیتے۔ یہ بھی نہ کر سکے۔ تیسری بات یہ تھی کہ وہ ہر طبقہ میں دس دس بیس بیس نہیں تو دو دو چار چار تو ایسے مسلمان بتا اور گنوا دیتے جن کے خیالات اور اعتقادات ایسے ہی ہوتے جو مرزا قادیانی اور ان کے اتباع کے ہیں۔ مگر ان باتوں کا جواب ( قادیانی ) مولوی صاحب دے ہی نہیں سکتے۔ دیتے کیا ان کے پاس ہجو کے سوا جواب ہی کیا ہے۔

مدت سے اس کے ہم سخنی کی تھی آرزو
اب عین وصل ہے تو نہیں تاب گفتگو
اے جوش گریہ بس یہ ہی تھی آبرو
او میکند سوال و مرا در جواب او
از اضطراب دل نتواند سخن کند

اب رہی جناب احسن المناظرین صاحب کی بیجا تعلی اور لاف زنی۔ اس سے مجھے کیا۔

ابن مریم تو ہو نہیں سکتا
یوں مسیحا بنا کرے کوئی

لیکن مجھ سے چند احباب نے ذکر کیا کہ ( احسن قادیانی ) مولوی صاحب نے اس مضمون کو طبع کروایا ہے یا کروانا چاہتے ہیں۔ اس لئے ناظرین کو جواب کا انتظار ہوگا۔ بپاس خاطر انتظار ناظرین جواب الجواب لکھے دیتا ہوں اور ایک اس وجہ سے بھی کہ؎

گفتگو ہائے یار بھی دیدار سے کچھ کم نہیں
آرزوئے وصل وصل یار سے کچھ کم نہیں

مگر اس سے پہلے مجھے ناظرین کی خدمت میں اتنا عرض کر دینا ضرور ہے کہ مجھ سے مولوی صاحب کے ایک دوست نے فرمایا کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی بے مثل فاضل جامع جمیع علوم عقلیہ و نقلیہ ہیں۔ احسن المناظرین ان کا خطاب ہے۔ مولانا مولوی محمد بشیر صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے مقابل انہوں نے اپنے کس قدر علوم کا اظہار و افتخار کیا ہے۔ ایسا لائق و فائق بے عدیل و بے نظیر فاضل مجھ جیسے بے علم آدمی سے خطاب کرے۔ یہ کب ہو سکتا ہے؟

٢٨

صفحہ ١٥٥

جواب ...... یہ فخر وتعلی عنداللہ وعندالرسول ناپسند ہے۔ ان الله لا يحب كل مختال فخور اور اہل علم وعقل کے نزدیک مذموم اور مولوی صاحب فرضی مسیحوں میں بے مثل ہیں۔ نہ تمام اہل اسلام میں اور ان کا خطاب بھی شاید الہامی ہو۔ کسی نے ان کو یہ خطاب دیا نہیں۔ اپنے منہ آپ میاں مٹھو کی مثل صادق ہے اور عاجز تو سائل ہے۔ ”واما السائل فلا تنهر“ حکم خالق ہے اور مخاطب تو مولوی صاحب عاجز کو اپنا بنا چکے۔ مثل مشہور ہے۔ ساتھ کھا کے ذات پوچھنا فعل عبث ہے، اور یہ سچ ہے کہ عاجز کو جناب مولوی صاحب کا سا علم نہیں ہے۔ مگر مولوی صاحب کو بھی مولانا محمد بشیر صاحب کی ہمسری کا خیال غلط ہے۔ اس لئے کہ مدتوں مولانا موصوف سے استفادہ کرتے رہے ہیں۔ جس سے اگر سچ بولیں تو انکار نہیں کرسکتے۔ پس جن سے برسوں استفادہ کیا ہو آج ان کے مقابل ہمسری کیسی بلکہ تمردی کرنی کہ مجھ سے مولانا صاحب مناظرہ کی درخواست کرتے ہیں۔ کیسی شرم کی بات ہے۔ سچ فرمایا سعدیؒ نے ؎

کس نیاموخت علم تیر از من
کہ مرا عاقبت نشانہ نکرد

اور احسن المناظرین کی لیاقت کا حال تو بطور نمونہ یہ مجلہ اب ظاہر کئے دیتا ہے۔ کچھ مولانا صاحب کو تکلیف فرمانے کی ضرورت نہیں۔

گو کہ ہم صفحہ ہستی پہ تھے ایک حرف غلط
لیکن اٹھے بھی تو ایک نقش بٹھا کے اٹھے

مرزا غلام احمد قادیانی مصنوعی مسیح اور فرضی مسیحوں کے افضل الفضلاء

جناب مولوی محمد احسن صاحب احسن المناظرین امروہی کی

لیاقت علوم اور کمال فنون کے چند نمونے

از رسالہ الحق جلد اول نمبر ٥، ٥، پنجاب پریس سیالکوٹ

ہر چند جناب احسن المناظرین صاحب کی تحریر اس درجہ لیاقت سے بھری ہوئی ہے کہ اگر قرآن مجید کی کوئی آیت بھی آپ نے نقل کی ہے تو خوبی قسمت سے سہو کاتب اس میں بھی ہوگیا ہے ورنہ دوسری عبارتوں کا تو کیا ذکر اور فہم معانی اور مطالب میں ماشاء اللہ جو مخدوم والا کی ذہن کو رسائی ہے۔ اس کا حال تو بطریق مشتے نمونہ از خروارے اندکے از بسیارے ملاحظہ ہی فرما لیجئے۔

نقد ایمان سے ضد اس غارت گر دین کو پڑی
تجھ سے اے حسن خدا سمجھے یہ تو نے کیا کیا

٢٩

صفحہ ١٥٦

اول نمونہ اصول فقہ میں احسن المناظرین صاحب کی لیاقت کا کمال

(ص١٠٦) میں آپ نہایت فخر اور بے حد تعلی کے ساتھ فرماتے ہیں کہ: ”مولوی صاحب نے اس علم کی طرف بالکل توجہ نہیں فرمائی۔ اگرچہ احقر کا منصب مدعی کا نہیں ہے۔ لیکن اس غرض سے کہ مولوی صاحب اس طرف توجہ فرمائیں۔ کچھ عرض کرتا ہے کہ وفات عیسیٰ ابن مریم آیت ”انی متوفیک“ سے بروایت صحیح بخاری ابن عباس ”انی ممیتک“ کے بطور عبارت النص کے ثابت ہے۔“

پھر (ص١٠٧) میں فرماتے ہیں کہ: ”آیت ”انی متوفیک“ حسب روایت صحیح بخاری کی وفات عیسیٰ ابن مریم میں محکم ہے۔“ اس سے جناب احسن المناظرین کی لیاقت اور فن اصول فقہ میں یہ کمال ظاہر ہوا کہ آپ نے اس جگہ نص اور محکم کو جمع کر دیا ہے۔ حالانکہ علم اصول فقہ میں یہ دونوں قسمیں جدا جدا اور متباین ہیں۔ دیکھو مسلم الثبوت عبارت مسلّم ”النظم ان ظهر معناه فان لم یسبق له فهو الظاهر وإن سبق له فان احتمل التخصیص والتاویل فهو النص ویقال ایضاً لکل سمعی فان لم یحتمل فان احتمل النسخ فهو المفسر فهو مما لا شبهة فیه ولهذا یحرم التفسیر وبالرأی دون التاویل ویقال ایضا لکل مبین بقطع ولمبین بظنی مؤول وما لا یحتمل النسخ فهو المحکم“

اصول فقہ میں احسن المناظرین کی کمال لیاقت کا دوسرا نمونہ

(ص١٠٦) میں نہایت زور کے ساتھ آپ کی تحریر ہے کہ آیت: ”وإن من أهل الکتب کی دلالت اگر حیات مسیح بن مریم پر تسلیم کی جاوے تو یہ دلالت بطور اشارۃ النص کے ہے۔“

اور (ص١٠٧) میں لکھتے ہیں: ”اور بفرض تسلیم قبل موتہ حیات پر دلالت بھی کرے تو یہ دلالت واضح نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں ضمائر وغیرہ ذوالوجوہ ہیں اور روایتاً و درایتاً مفسرین کا ان میں بہت سا کچھ اختلاف ہے اور اس کو متشابہ کہتے ہیں۔“ واہ جناب احسن المناظرین صاحب یہ تو اصول فقہ میں جناب والا کی عجیب لیاقت اور نیا کمال ظاہر ہوا کہ اشارۃ النص اور متشابہ کو آپ نے جمع کر دیا۔ حالانکہ اتباع اشارۃ النص کا حرام نہیں ہے اور متشابہ کا اتباع مطلقاً حرام ہے۔ لقولہ سبحانہ وتعالیٰ ”فاما الذین فی قلوبهم زیغ فیتبعون ماتشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تاویله“ اور اس لیاقت پر یہ افتخار کہ جناب تحریر فرماتے ہیں کہ: ”اگر دیگر قواعد علم اصول کی طرف رجوع کی جائے تو مباحثہ چار پانچ سطروں میں ختم ہو سکتا ہے۔“ اے جناب ہو کیا سکتا ہے حضور کی طرف سے تو خاتمہ ہو گیا۔ بلکہ ساتھ ہی ساتھ جناب والا کی لیاقت بھی ختم ہو گئی۔

٣٠

صفحہ ١٥٧

فہم عالی کے کمال کا تیسرا نمونہ

آپ کے نزدیک جب آیت ”وان من اھل الکتاب“ حیات مسیح علیہ السلام پر دلالت کرنے میں متشابہ ہے تو نہ صرف مولانا محمد بشیر صاحب بلکہ وہ سب اکابر جنہوں نے اس آیت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام سمجھی ہے۔ جیسے ابو ہریرہؓ ابن عباسؓ وابو مالکؒ وحسن بصریؒ وقتادہؒ وعبدالرحمٰن بن زید بن اسلم اور ابن جریر وابن کثیر وغیرہ ہم یہ سب متشابہ کا اتباع کرنے والے ہوئے اور معاذ اللہ سب آپ کے نزدیک مرتکب حرام ٹھہرے۔ کیونکہ اتباع متشابہ کا بنص قطعی حرام ہے۔ ”لا حول ولا قوة الا بالله كبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذبا“

زدی آتش پے یک شیر ظالم نیستانے را
غرض دل بود بیجا سوختے ہر استخوانے را

اور جوشِ تعلّی میں جناب احسن المناظرین صاحب یہ بھی بھول گئے کہ ان کے مصنوعی مسیح نے بھی وفات عیسیٰ علیہ السلام پر اس آیت سے استدلال کیا ہے تو وہ ضرور ہی مرتکب حرام کے ٹھہر گئے۔ اس لئے کہ جو کچھ آپ نے فرمایا وہ ان کا مسلّم ہے۔

میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا

چوتھا نمونہ علم منطق میں احسن المناظرین کی لیاقت کا کمال

(ص١٠٣) میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ: ”اجتماع الضدین یا ارتفاع الضدین تو محالات سے ہے ۔“ (واضح ہو کہ مطبوعہ میں لفظ ارتفاع الضدین کا سہو کاتب سے رہ گیا ہے۔ مگر مولوی صاحب کے دستی خط میں موجود ہے اور وہ خط مولانا صاحب کے پاس ہے اور عبارت مطبوعہ بھی کہہ رہی ہے) اس سے علم منطق میں آپ کی لیاقت کا اندازہ اور کمال کا اظہار ہو گیا۔ اس لئے کہ اجتماع الضدین تو سب کے نزدیک محال ہے۔ مگر ارتفاع الضدین کسی کے نزدیک محال نہیں؟ دیکھو سواد و بیاض دونوں ضدین ہیں۔ مگر ارتفاع ان کا ممکن ہے۔ اس طرح پر کہ سواد ہو نہ بیاض بلکہ مثلاً حمرت ہو۔ البتہ ارتفاع النقیضین محال ہے۔ لیکن ارتفاع النقیضین اور ارتفاع الضدین میں فرق بیّن ہے۔ دونوں کو متحد ماننا آپ کے کمالِ تبحر کی دلیل ہے۔

پانچواں نمونہ

(ص١٠٧) میں آپ فرماتے ہیں کہ: ”مولوی صاحب نے اس مباحثہ میں علم منطق سے بھی کام نہیں لیا۔ ورنہ شکلِ اوّل بدیہی الانتاج سے ایک دو سطر میں فیصلہ ہو جاتا۔ مگر یاد رہے کہ

٣١

صفحہ ١٥٨

میں مدعی نہیں ہوں ( ڈرتے کیوں ہو ) بطور نمونہ کے تقریر اس کی یہ ہے۔ ”عیسیٰ ابن مریم کان نبیا من الناس ومات الناس حتى الانبیاء یعنی کلهم ماتوا فعيسى ابن مریم ایضاً مات “ مقدمہ صغری تو مسلم ہی ہے اور مقدمہ کبریٰ ایسا مشہور ہے کہ اطفال مکتب لفظ حتیٰ کہ مثال میں پڑھا کرتے ہیں۔ اس سے اور کوئی فیصلہ ہو یا نہ ہو۔ مگر آپ کی لیاقت کا تو فیصلہ ہو گیا اور آپ کا کمال منطقی خوب معلوم ہو گیا۔ کیونکہ صغریٰ کبریٰ پڑھنے والا بھی جانتا ہے کہ شکل اوّل کے انتاج کی شرط کلیۃ کبریٰ ہے اور ” ومات الناس كلهم “ عموماً کسی زمانہ میں اور خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت سے اب تک کبھی صادق نہیں آیا۔ کیونکہ حاصل اس کا یہ ہے۔

کل انسان قد مات فی الزمان الماضی

اور یہ قضیہ کاذب ہے اور اجتماع النقیضین بالبداہت باطل ہاں یہ کلیہ نفخ صور کے بعد جب سب انسان مر جائیں گے البتہ صادق آ جائے گا۔

چھٹا نمونہ علم بلاغت میں احسن المناظرین کی لیاقت کا کمال

(ص ١٠٨) میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ : ”اس علم کی طرف بھی مولوی صاحب نے رخ تک نہیں کیا۔ ورنہ بہت آسانی سے فیصلہ ہو سکتا تھا۔ مطول اور اس کے حواشی میں لکھا ہے۔“ بعد اس کے آپ نے مطول کی عبارات نقل کی ہیں۔ جن میں یہ ذکر ہے کہ مضارع سے کبھی دوام تجددی مراد ہوتا ہے اور دو مثالیں ان میں مذکور ہیں۔ اول الزاهد ليشرب ويصراب! دوسری مثال ” الله يستهز بهم ويمدهم “ پھر آپ فرماتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی نے حسب مقتضائے مقامات قرآن مجید میں مستقبل کے معنی دوام تجدد کے مراد لئے تو کون سا محذور لازم آیا۔ اس سے احسن المناظرین صاحب کی کمال لیاقت علم بلاغت میں ثابت ہو گئی کہ آپ کو یہ بھی خیال نہیں آیا کہ ان دونوں مثالوں میں جو دوام تجددی مراد لیا گیا ہے۔ ان میں نون ثقلیہ کہاں ہے؟ اور مرزا قادیانی قرآن مجید میں جہاں دوام تجددی مراد لیتے ہیں۔ وہاں نون ثقیلہ موجود ہے۔ ” فقياس احدهما على الآخر قياس مع الفارق “ علاوہ اس کے دوام تجددی کا مضارع کے لئے معنی حقیقی ہونا عبارات مذکورہ سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا ہے۔ غایت مافی الباب یہ ہے کہ یہ معنی مجازی ہوں ۔ جیسا کہ لفظ قد اس پر صاف دلالت کرتا ہے اور مجاز پر حمل جائز نہیں ہے۔ جب تک کہ قرینہ صارفہ حقیقت سے پایا جاوے۔ ومن یدعی فعليه البیان!

٣٢

صفحہ ١٥٩

ساتواں نمونہ زبان اردو میں احسن المناظرین کی لیاقت کا کمال

(ص١١٢) میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ : ”اردو میں لفظ ابھی کا جو خالص حال کے واسطے آتا ہے۔ مولوی صاحب نے اس کو ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحب میں ’یعنی ابھی جلاویں گے ۔‘ ہم اس کو خالص استقبال کے واسطے مقرر فرمایا ہے۔ جب اردو میں خدام والا کی لیاقت اس درجہ کمال پر پہنچی ہوئی ہے۔ تو فارسی اور عربی میں جو کچھ ارشاد ہو سب درست ہے۔ جناب من آپ کو یہ خیال نہیں رہا کہ گا اور گے اردو میں استقبال کی علامت ہے۔ اگر کبرسنی کی وجہ سے خیال نہیں رہا تو مصدر فیوض میں بحث فعل مستقبل ملاحظہ فرما لیجئے۔ رہا لفظ ”ابھی“ وہ حال اور استقبال قریب دونوں کے لئے آتا ہے۔ یہاں چونکہ علامت استقبال کی موجود ہے۔ اس لئے استقبال کے واسطے معین ہوا۔

آٹھواں نمونہ علم نحو میں احسن المناظرین کی لیاقت کا کمال

(ص ١١٤) میں آپ ارشاد فرماتے ہیں: ”اگر فقہ حدیث کی طرف مولوی صاحب توجہ فرماتے تو فیصلہ اس مباحثہ کا بہت آسان تھا۔ بیان اس کا یہ ہے کہ صاحب صحیح مسلم نے روایتاً و درایتاً اس امر کا فیصلہ کر دیا ہے۔ ”و امامکم منکم“ جو صحیحین کی حدیث میں واقع ہے۔ اس سے کوئی دوسرا امام سوائے ابن مریم کے مراد نہیں ہے۔ مگر یہ جملہ تو بطور صفت کے اسی ابن مریم کا وصف واقع ہوا ہے۔“

اس سے احسن الناظرین صاحب کی لیاقت کا کمال علم نحو میں ثابت ہوتا ہے۔ نحو میر پڑھنے والا بھی جانتا ہے کہ موصوف اور صفت کے درمیان میں واو عاطفہ نہیں آتا ہے اور یہاں ابن مریم اور ”امامکم منکم“ کے درمیان میں واو عاطفہ موجود ہے۔ شاید جناب کو شرح جامی کی اس عبارت سے دھوکہ ہوا۔ جہاں قیل کے لفظ سے لکھا ہے کہ واو کا آنا درمیان صفت و موصوف کے زمخشری نے تجویز کیا ہے۔ اگر واقعی آپ کی اس غلطی کا یہی سبب ہے تو آپ جس وقت اس بات کو پیش کریں گے اس کا جواب بھی انشاء اللہ تعالیٰ اس وقت سن لیں گے اور اگر ”و امامکم منکم“ کے جملے کو صفت ابن مریم کے قرار دیں تو اس پر علاوہ اعتراض مذکور ایک یہ بھی اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ابن مریم معرفہ ہے اور جملہ بحکم نکرہ کے ہوتا ہے۔ پس مطابقت درمیان صفت و موصوف کے نہ پائی گئی۔

٣٣

صفحہ ١٦١

نواں نمونہ علم قرأت میں احسن المناظرین کی لیاقت کا کمال

(ص ١١٠) میں آپ تحریر فرماتے ہیں: ”اس علم کی طرف مولوی صاحب نے بالکل توجہ نہیں فرمائی۔ ورنہ چند سطور میں فیصلہ ہو جاتا۔ اگر تسلیم کیا جاوے کہ قرأت مندرجہ مصحف ابی بن کعب بالکل قرآۃ شاذہ ہے تو قرأت مشہورہ کے لئے اس کے مبین اور مفسر ہونے میں کیا کلام ہے۔ یہ مسئلہ بھی قراء وغیرہ کے نزدیک مسلم ہے۔ اتقان وغیرہ میں لکھا ہے۔“ وقال ابو عبیدۃ فی فضائل القرآن ”سبحان اللہ! جناب احسن المناظرین صاحب کیا کہتے ہیں۔

چہ خوش گفت ست سعدی در زلیخا
الا یا ایہا الساقی ادر کاسا و ناولہا

حضرت اتقان میں قراء نے فضائل القرآن میں لکھا ہوگا۔ مگر اتقان کوئی قرأت کی کتاب نہیں ہے۔ بلکہ علم تفسیر کی کتاب ہے اور اس مسئلہ کو کہ قرآۃ شاذہ قرأت مشہور کے مبین ومفسر ہوتے ہے۔ علم قرأت کا مسئلہ قرار دینا محل نظر ہے۔ ہاں اگر مسئلہ علم تفسیر یا اصول فقہ کہا جائے تو مستبعد نہیں۔ مگر اس مسئلہ میں تو یہ بات عموماً غیر مسلم ہے کہ ہر قرأت شاذہ مبین ومفسر ہو سکے۔ کیونکہ اصول فقہ میں حکم قرأت شاذہ کا حکم خبر آحاد کا ہے۔ جن شروط سے خبر آحاد مبین ومفسر ہو سکتے ہے۔ انہیں شروط سے قرأت شاذہ بھی مبین ومفسر ہو سکتی ہے اور یہاں ان سب شروط کا تحقق غیر مسلم ہے اور ایک جماعت اہل تحقیق کی خلاف حنفیہ وغیرہ کے اس طرف گئی ہے کہ روایت شاذہ اگر بسند صحیح بھی ثابت ہو تو بھی مبین ومفسر نہیں ہو سکتی ہے۔

دسواں نمونہ علم نحو وعلم تفسیر میں احسن المناظرین کی لیاقت کا کمال

(ص ١١٦) میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ: ”انہیں کتابوں میں لکھا ہے کہ ”نون التاکید لا يؤكد الا مطلوبا والمطلوب لا يكون ماضيا ولا حالا ولا خبرا مستقبلاً “ اس سے ثابت ہوا کہ ”لیؤمنن قبل موتہ “ جملہ خبریہ نہیں ہے۔ بلکہ جملہ قسمیہ انشائیہ ہے۔ چنانچہ تفسیر بیضاوی وغیرہ میں واللہ کو پہلے لیؤمن کے مقدر مانا ہے اور جملہ قسمیہ انشائیہ ہی قرار دیا ہے اور جب کہ جملہ قسمیہ انشائیہ ہوا تو پیشین گوئی یعنی خبر مستقبل کیونکر ہو سکتا ہے۔ کجا جملہ خبریہ اور کجا جملہ انشائیہ۔“ اس سے آپ کا کمال اور لیاقت علم نحو اور علم تفسیر میں ظاہر ہوگئی۔

اما علم نحو

پس بیان اس کا یہ ہے کہ اس فن کی کتابوں میں جو یہ لکھا ہے کہ: ”نون التاکید لا

٣٤

يؤكد الا مطلوبا والمطلوب لا يكون ماضيا سے یہ غرض نہیں ہے کہ نون تاکید غیر مطلوب کی تاکید کے لئے آتا ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ وضع تو نون التا مطلوب کے تاکید کے لئے بھی بسبب دیگر وجوہ کے آت النون الا مطلوبا لان وضعه لتاكيد طلب الذهن والمطلوب لا يكون ماضيا ولا حال ہے۔ ”واما فی دلالۃ القسم علی الطلب وق ما يعمله مما هو ليس مطلوبه كقول م يقال الغالب ان يقسم المتكلم على ماهو زادہ حاشیہ بیضاوی میں لکھتا ہے۔ ”والمستقبل التاكيد بآخره الا بعد ان يدخل على القسم وان لم يكن فيه معنى الطلب مطلوب“ تمام کتب نحو میں غیر مطلوب کی تاکید کی م ”وقلت فی الخفیفہ والزمت فی مثبت القسم

اما علم تفسیر

پس بیان اس کا یہ ہے کہ اہل تفسیر نے ج پیشین گوئی نہیں فرماتے اور جس کو مولانا صاحب انشائیہ نہیں کہا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ اہل تفسیر نے انشائیہ قرار دیا ہے مراد اس سے ”واللہ لیؤمنن ”لیؤمنن قبل موتہ“ ہے جو جواب قسم ہے ا تمام کتب نحو سے ثابت ہے اور قرآن مجید اور سنت م المسجد الحرام “ اور ”ليستخلفنهم ف اعتراض اس تقریر پر بھی وارد ہو سکتا ہے کہ ضمیر قبل مو مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ کیونکہ اس تقریر پر بھی ا ہے اور سب سے بڑی قباحت اس اعتراض سے ی

٣٥

صفحہ ١٦١

يؤكد الا مطلوبا والمطلوب لا يكون ماضيا ولا حالا ولا خبرا مستقبلاً ” اس سے یہ غرض نہیں ہے کہ نون تاکید غیر مطلوب کی تاکید کے لئے نہیں آتا۔ صرف مطلوب کی تاکید کے لئے آتا ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ وضع تو نون التاکید کی مطلوب کی تاکید کے لئے ہے اور غیر مطلوب کے تاکید کے لئے بھی بسبب دیگر وجوہ کے آجاتا ہے۔ تکملہ میں ہے ”ای لا یؤکد النون الا مطلوبا لان وضعه لتاكيد طلب حصول شئ اما في الخارج اوفی الذهن والمطلوب لا يكون ماضيا ولا حالا ولا خبراً مستقبلاً“ اور یہی تکملہ میں ہے۔”واما في دلالة القسم على الطلب وفيه تأمل لان الانسان قد يقسم على ما يعمله مما هو ليس مطلوبہ كقول من اتی بكبيرة والله لا عاقبن الا ان يقال الغالب ان يقسم المتكلم على ما هو مطلوب وحمل بقية الباب علیه“ شیخ زادہ حاشیہ بیضاوی میں لکھتا ہے ۔ ”والمستقبل الذى هو خبر محض لا تلحق نون التاكيد باخره الا بعد ان يدخل على اوّل الفعل ما يدل على التاكيد كلام القسم وان لم يكن فيه معنى الطلب لان الغالب ان المتكلم يقسم على مطلوب“ تمام کتب نحو میں غیر مطلوب کی تاکید کی تین صورتیں لکھی ہیں۔ عبارت کافیہ کی یہ ہے۔ ”وقلّت فی النفی والزمت فى مثبت القسم وكثرت في مثل اما تفعلن“

اما علم تفسیر

پس بیان اس کا یہ ہے کہ اہل تفسیر نے جس جملہ کو انشائیہ کہا ہے۔ اس کو مولانا صاحب پیشین گوئی نہیں فرماتے اور جس کو مولانا صاحب پیشین گوئی فرماتے ہیں اس کو اہل تفسیر نے انشائیہ نہیں کہا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ اہل تفسیر نے ”لیؤمنن به قبل موتہ“ کو جو جملہ قسمیہ انشائیہ قرار دیا ہے مراد اس سے ”واللہ ليؤمنن به قبل موته“ ہے اور پیشین گوئی ظرف ”لیؤمنن قبل موتہ“ ہے جو جواب قسم ہے اور وہ جملہ خبریہ ہے اور قسم کا جواب جملہ خبریہ ہونا تمام کتب نحو سے ثابت ہے اور قرآن مجید اور سنت مطہرہ میں بہت واقع ہوا ہے۔ جیسے ”لتدخلنّ المسجد الحرام“ اور ”ليستخلفنهم في الارض“ وغیرہ وغیرہ اور علاوہ اس کے یہ اعتراض اس تقریر پر بھی وارد ہوسکتا ہے کہ ضمیر قبل موتہ کی طرف کتابی کے عائد کی جاوے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ کیونکہ اس تقریر پر بھی اہل تفسیر نے اس جملہ کو جملہ خبریہ انشائیہ ہی لکھا ہے اور سب سے بڑی قباحت اس اعتراض سے یہ پیش آئی کہ شیخ چلی کی طرح مرزا قادیانی کا تو

٣٥

صفحہ ١٦٢

بنا بنایا گھر ہی بگڑ گیا۔ واہ حضرت احسن المناظرین آپ نے اچھی مرزا قادیانی کی تائید کی۔ اس طرح آنکھیں بند کر کے منہ کھولا اور اعتراض کا گولہ اندھا دھند پھینکا کہ غریب مرزا قادیانی کی تمام بنی بنائی عمارت اڑ گئی۔ حضرت آپ کو کچھ خبر بھی ہے۔ یہ گولہ کہاں جا کے لگا، کیا ہوا ذرا آنکھیں کھولیئے۔ ملاحظہ فرمائیے۔ جس قدر پیشین گوئیاں قرآن مجید واحادیث شریف کے مؤکد بقسم ہیں۔ ان سب ہی پر آپ کا یہ اعتراض وارد ہوتا ہے اور آپ کے مسیح کے مسیحائی کی جو بنیاد ہے یعنی جس حدیث سے مرزا قادیانی نے اپنے مسیح موعود ہونے کا استدلال کیا ہے وہ یہ حدیث ہے۔ ”عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم “ پس اور تو جو کچھ ہوگا وہ ہوتا رہے گا۔ آپ مرزا قادیانی کا گھر تو سنبھالئے۔ ”فما ھو جوابکم فھو جوابنا“

گیارھواں نمونہ

(ص ١١٩) میں احسن المناظرین صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ: ”یہ جو بعض کتب نحو میں لکھا گیا ہے کہ زمانہ حال کا ایسا نہیں ہے کہ اس میں کوئی فعل واقع ہو سکے اور اس بناء پر مولوی صاحب نے زمانہ استقبال کی دو قسمیں کی ہیں۔ اوّل استقبال قریب دوم استقبال بعید ۔“ یہاں سے بھی احسن المناظرین صاحب کی لیاقت کا کمال علم نحو میں ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ زمانہ استقبال کی تقسیم جو استقبال قریب اور استقبال بعید کی طرف کی گئی ہے۔ اس سے حضرت یہ سمجھ گئے ہیں کہ زمانہ حال کا ایسا نہیں ہے کہ اس میں کوئی فعل واقع ہو سکے۔ حالانکہ تقسیم مذکور اس پر مبنی نہیں ہے۔ دیکھو عامہ نحات استقبال کی دو قسمیں کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ اس امر کے قائل نہیں ہیں کہ زمانہ حال کا ایسا نہیں ہے کہ اس میں کوئی فعل واقع ہو سکے۔ شرح جامی میں ہے۔ ”ودخول السین وسوف لدلالتھما لاوّل علی الاستقبال القریب والثانی علی الاستقبال البعید “ اور تمام بصریوں کا بھی مذہب ہے۔

بارھواں نمونہ لیاقت فہم و کمال علم احسن المناظرین

(ص ١٢١) میں آپ لکھتے ہیں کہ: ” ازہری وغیرہ نے تصریح میں تصریح کی ہے کہ لام تاکید کا حال کے واسطے آتا ہے۔ اب تسلیم کیا کہ فقط نون تاکید صرف استقبال کے واسطے ہے۔ لیکن جب کہ کسی صیغہ میں لام تاکید بھی ہو جو حال کے واسطے آتا ہے اور نون تاکید بھی ہو چنانچہ ”مانحن فیہ “ میں ہے تو وہاں پر خالص استقبال بالضرور ہونے کی کیا وجہ مانا کہ صرف نون

٣٦

صفحہ ١٦٣

تاکید استقبال کے واسطے نحو میں لکھا ہے۔ امر نہی استفہام تمنی عرض وغیرہ ان میں صرف نون تاکید ہوتا ہے۔ بغیر لام تاکید کے پس ان صیغوں میں صرف استقبال ضرور مراد ہو سکتا ہے۔ لیکن جس صیغہ میں لام تاکید بھی ہو اور نون تاکید بھی اس میں خالص ہونے استقبال کے کیا دلیل ہے۔“ یہاں تو حضرت احسن المناظرین صاحب نے کمال ہی لیاقت خرچ کر دی اور بالکل آپ نے قلعی کھول دی۔ اے حضرت! ذرا سمجھ کے بات کیا کیجئے۔ یہ تو فرمائیے کہ آپ نے کچھ اپنے استاد کی خدمت بھی کی تھی یا نہیں۔ چونکہ اس وقت جناب کو وطن کے جانب زیادہ خیال ہے اور شاید ادھر سے کچھ شیخ صاحب کی توجہ کا بھی اثر ہو۔ اس لئے یہ حال ہے۔ ورنہ جس کے ہاتھ میں کتاب ہو اور وہ ایسے بے تکے ہانکے یہ عقل سے بعید ہے۔ مولوی صاحب ”انتم تتلون الکتاب افلا تعقلون“ سچ کہو دیکھا سمجھا ہی نہیں۔ یا تجاهل عارفانہ کرتے ہو۔ کچھ ہی ہو اپنے گروہ میں احسن المناظرین تو بن گئے۔ اے مولوی صاحب ذرا خدا سے ڈرو۔ مسلمانوں کو دھوکہ مت دو۔

وعظ گوئی خود نیازی در عمل
چشم پوشی ہمچو شیطان دغل
دام اندازی برائے مردوزن
خویش را گوئی منم شیخ زمن

جناب مولوی صاحب جہاں یہ لکھا ہے کہ وہ نون تاکید جو امر نہی استفہام تمنی عرض میں آتا ہے وہ خالص استقبال کے لئے ہوتا ہے۔ وہیں تو یہ بھی لکھا ہے کہ جس صیغہ میں نون تاکید لام تاکید کے ساتھ جمع ہوتا ہے۔ وہ بھی خالص استقبال کے لئے ہوتا ہے۔ شرح جامی آپ کے پاس موجود ہے۔ ذرا تکلیف فرما کے ہاتھ میں لیجئے اور ملاحظہ فرمائیے غور سے نظر بھر کر دیکھئے۔ شاید حضور کی عینک پرانی ہوگئی ہے۔ عبارت شرح جامی ”تختص بالفعل المستقبل فی الامر والنهی واستفهام والتمنی والعرض والقسم نحو والله لا فعلن“ کیوں جناب مولوی صاحب والعرض تک تو جناب نے ملاحظہ فرمایا اور لفظ ”والقسم نحو والله لا فعلن“ پر دشمنوں کے نگاہ خطا کرگئی۔ یا یوں کہوں کہ دشمن مدعیوں کی آنکھوں پر اندھیری چھا گئی۔ اب تو تارے دکھائی دینے لگے۔ کیوں حضرت یہی تقویٰ اور دیانت اور اظہار حق وصواب ہے۔ اے مولوی صاحب اتق اللہ کیوں حضرات ناظرین! آپ نے احسن المناظرین صاحب کی حسن دیانت کو ملاحظہ فرمایا کیا اس جگہ میں صاف نہیں لکھا ہوا ہے کہ جیسا نون تاکید امر نہی استفہام عرض

٣٧

صفحہ ١٦٥

تمنی میں خاص مستقبل کے ساتھ ہے۔ ویسا ہی قسم میں بھی خاص مستقبل کے لئے ہے اور قسم کے بھی۔ وہی مثال لکھی ہے۔ جس میں نون تاکید لام تاکید کے ساتھ آیا ہے۔ کیا احسن المناظرین صاحب کا یہ ارشاد لا تقربوا الصلوٰۃ سے کچھ آگے بڑھا ہوا نہیں ہے اور یہاں فعل مستقبل سے مراد یقیناً وہ فعل ہے جو مقابلہ میں ماضی و حال کے آتا ہے۔ نہ فعل مضارع اور دلیل اس کی یہ ہے کہ حضرت احسن المناظرین صاحب خود اقرار کرتے ہیں کہ وہ نون تاکید جو امر نہی استفہام تمنی عرض میں ہوتا ہے۔ وہ صرف مستقبل کے لئے ہوتا ہے اور مراد مستقبل سے آپ نے بھی یہاں مقابل ماضی وحال کا لیا ہے۔ نہ مضارع اور انہیں چیزوں کے ساتھ قسم کا بھی ذکر ہے اور اس کے مثال میں نون ولام دونوں موجود ہیں۔ پس یہاں بھی مراد مستقبل سے مقابل ماضی و حال کا لینا چاہئے۔ نہ مضارع۔ علاوہ اس کے شرح جامی میں اس مقابلہ کی تصریح بھی موجود ہے۔ عبارت اس کی یہ ہے۔ ”وانما اختصت هذه النون بهذه المذكورات الدالة على الطلب دون الماضي والحال آہ“ اور ایسا ہی ازہری نے بھی لکھا ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے۔ ”لانهما تخلصان مدخولهما للاستقبال “ اور خوب سمجھ لیجئے اور سمجھے ہوئے تو ہو مگر چندراتے ہو کہ استقبال سے وہی استقبال مراد ہے۔ جو مقابلہ میں ماضی اور حال کے بولا جاتا ہے اور آپ کا یہ قول کس قدر محل افسوس ہے اور تعجب خیز ہے کہ باوجود مطالعہ ان کتب کے آپ یہ فرماتے ہیں کہ اگر مراد ازہری کی خالص زمانہ استقبال ہوتی تو کہتا ”وذلك ينا في المضی والحال“ مولوی صاحب آپ کا یہ فرمانا سخت حیرت اور نہایت عبرت کا مقام ہے۔ اگر واقعی آپ سمجھے اسی طرح ہیں تو حیرت ہے کہ آپ نے یہ کیا سمجھا اور کہاں پڑھا اور کس سے پڑھا اور عبرت اس لئے ہے کہ مصنوعی مسیح صاحب کا یہ کیسا اثر آپ پر پڑا کہ جو پڑھا لکھا تھا۔ اس کے سمجھنے میں بھی آپ کا فہم اس درجہ قاصر ہو گیا۔ ”انا لله وانا اليه راجعون“

وہ باتیں ہیں کہ جن کو دس دس گیارہ گیارہ برس کے بچے بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ مجھے شرم آتی ہے کہ یہ کہوں کہ یہ قول ہمارے قوم کے ایک مولوی صاحب کا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ احسن المناظرین کا ہے۔ مولوی صاحب آپ ضرور استغفار کا ورد زیادہ کیجئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگئے اور ”حبك لا الشئ يعمى ويصم“ کے ورد سے سنبھلئے اور اپنے پر طلبہ کو نہ ہنسوائیے۔

اے حضرت! کیا آپ واقعی اس قدر بھی نہیں سمجھتے کہ اس جگہ ازہری کا مقصود صرف اثبات اس امر کا ہے کہ یہ دونوں نون ماضی کی تاکید کے لئے نہیں آتے ہیں اور یہ مطلب صرف

٣٨

اس کہنے سے ”وذلك ينا في المضی“ حاصل ہو جا بڑھانے کی کچھ ضرورت نہیں۔ ہاں اگر اس کو یہ خبر ہوتی کہ مسیح اور ان کی امت میں ایسے عالی فہم احسن المناظرین پی اور محض بے فائدہ بات تھی۔ شاید اس طرف توجہ کرتا اگر ا مضائقہ نہ ہوتا اور صورت ہذا میں تو ادنیٰ استعداد والا بھی واسطے ملاحظہ طلباء کے پوری عبارت ازہری کی نقل کی جاتی ذرا مہربانی فرما کر اپنے عینک لگا لیجئے۔ عبارت ازہری ”و ومعناه مطلقا لانهما يخلصان مدخولهما للا اگر اس سے بھی اطمینان نہیں نہیں ہوا تو دوسری عبارت از

رخ پر تشریف لئے آئیے اور غور فرمائیے۔ عبارت از ہری ابن کثير لاقسم بيوم القيامة وقول الشاعر

يمينـــاً لا بـغــض
يـــزخــــرف قـــولاً وا

فـاقسم في الآية وابغض في الـ عليهما وانما لم يؤكدا بالنون لكونها تخلص الحال “ چونکہ اس جگہ مقصود صرف اثبات اس امر کا آتا ہے۔ اس لئے ”وذالك يـنـافی الـحـال “ کہا کے لانے سے آفتاب نیمروز کی طرح روشن وظاہر ہ مقابل ماضی وحال کا ہے۔ نہ مضارع۔ جیسا کہ جنا ہے۔ اگر واقعی احسن المناظرین سمجھے ہی نہیں تھے تو افس طریق لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے یوں چندراتی ہیں

فـان كـنـت لا تـدرى
وان كـنـت تـدری فــا

اور جناب نے عبدالحکیم کے تکملہ کا ذکر تو ا کی ہوگی۔ شاید بسبب تقاضائے سن نگاہ چوک گئی ہو تو

٣٩

صفحہ ١٦٥

اس کہنے سے ”وذلك ينافى المضي“ حاصل ہوجاتا ہے۔ ”والحال“ کے لفظ کو اس جگہ بڑھانے کی کچھ ضرورت نہیں۔ ہاں اگر اس کو یہ خبر ہوتی کہ چودھویں صدی میں ایک ایسے مصنوعی مسیح اور ان کی امت میں ایسے عالی فہم احسن الناظرین پیدا ہوں گے تو گو! بے ضرورت بلکہ زائد اور محض بے فائدہ بات تھی۔ شاید اس طرف توجہ کرتا اگر اپنے کلام میں زوائد کے عیب سے اس کو مضائقہ نہ ہوتا اور صورت ہذا میں تو ادنیٰ استعداد والا بھی سمجھتا ہے کہ زیادۃ الحال محض لغو ہے۔ واسطے ملاحظہ طلباء کے پوری عبارت ازہری کی نقل کی جاتی ہے۔ جناب احسن الناظرین صاحب ذرا مہربانی فرما کر اپنے عینک لگا لیجئے۔ عبارت ازہری ”ولا يؤكد بهما الماضي لفظا ومعنى مطلقا لانهما يخلصان مدخولهما للاستقبال وذلك لا ينافى المضي“ اگر اس سے بھی اطمینان نہیں ہوا تو دوسری عبارت ازہری کی اور ملاحظہ ہو۔ لیکن ذرا روشنی کے رخ پر تشریف لے آئیے اور غور فرمائیے۔ عبارت ازہری ”لو كان المضارع حالا كقراة ابن كثير لاقسم بيوم القيامة وقول الشاعر ؎

يمينا لا بغض كل امرئ
يزخرف قولا ولا يفعل

فأقسم في الآية وابغض في البيت معناهما الحال لدخول الام عليهما وانما لم يؤكدا بالنون لكونها تخلص الفعل للاستقبال ذلك بينا في الحال“ چونکہ اس جگہ مقصود صرف اثبات اس امر کا تھا کہ نون تاکید حال کی تاکید کے لئے نہیں آتا ہے۔ اس لئے ”وذلك ينافى الحال“ کہا۔ ماضی کا ذکر نہیں کیا۔ اب دونوں عبارتوں کے لانے سے آفتاب نیمروز کی طرح روشن و ظاہر ہو گیا کہ مراد مستقبل سے وہ مستقبل ہے جو مقابل ماضی و حال کا ہے۔ نہ مضارع۔ جیسا کہ جناب احسن الناظرین صاحب کا خیال محال ہے۔ اگر واقعی احسن الناظرین سمجھے ہی نہیں تھے تو افسوس۔ ذرا اگر سمجھ محض اپنے ہم مذہب اور ہم طریق لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے یوں چندراتی ہیں تو افسوس پر افسوس۔ بلکہ صد افسوس؎

فان كنت لا تدرى فتلك مصيبة
وان كنت تدرى فالمصيبة اعظم

اور جناب نے عبدالحکیم کے تکملہ کا ذکر تو اپنی تحریر میں فرمایا ہے اور یہ عبارت بھی ملاحظہ کی ہوگی۔ شاید بسبب تقاضائے سن نگاہ چوک گئی ہو تو مکرر اس طرف نظر لڑائیے۔ اے جناب حکیم

٣٩

صفحہ ١٦٦

نورالدین صاحب ذرا آپ بھی ملاحظہ فرمائیے گا۔ عبارت جملہ ”لان النون تخلص المضارع للاستقبال فكرهوا الجمع بين حرفين لمعنى واحد فى کلمۃ واحدۃ“ کیوں حضرات! ناظرین خاص کر جناب حکیم نور الدین کیا یہ عبارت صاف صاف اس پر دلالت نہیں کرتی کہ مراد استقبال سے مضارع نہیں ہے۔ ورنہ یہ عبارت ہی لغو ہوتی ہے۔ ضرور دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ جناب حکیم صاحب مولوی صاحب کا مطلب اگر صحیح ہو تو اس تقدیر پر اس عبارت کے یہ معنی ہوں گے۔ ”لان النون تخلص المضارع للمضارع وهذا الغو ای لغو“ جناب احسن الناظرین صاحب آپ جاتے کہاں ہیں اور لیجئے یہ مغنی کی عبارت بھی ملاحظہ فرمائیے۔ جناب حکیم صاحب براہ مہربانی آپ بھی ادھر توجہ فرمائیں۔ عبارت ”ولا يؤكد بهما الماضى مطلقا واما المضارع فان كان حالا لم يؤكد بهما وان كان مستقبلا اكد بهما وجوبا في نحو تالله لا كيدن اصنامكم“ ملاحظہ فرمایا یہ عبارت کیسی صاف دلالت کرتی ہے۔ اس پر کہ مراد مستقبل سے مضارع نہیں ہے۔ اس لئے کہ مقابل حال کا واقع ہوا ہے۔ اگر اس پر بھی تسلی نہ ہو تو شیخ زادہ کی عبارت بغور ملاحظہ فرمائیے کہ شیخ زادہ نے تو آپ کی ساری شیخی جو خلاف سیادت آپ سے عمل میں آئی تھی کرکری کردی۔ ہاں آپ نے اسی وجہ سے شاید شیخ جی کی طرف عنان عزیمت منعطف فرمائی ہے۔ مگر جناب مولوی صاحب جب آپ کے مصنوعی شیخ کی توجہ کچھ کام نہ آئی تو شیخ جی غریب کیا کریں گے۔ میرے نزدیک تو آپ امروہہ نہ جائیے توبہ کیجئے اور بیت اللہ شریف کو چلئے۔ ”ففرو الى الله انى لكم منه نذير مبین“ اگر یہ ارادہ ہو جائے تو خرچ راہ کا ذمہ دار عاجز ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ بشرط خلوص ارادت بہت بہتر ہے اور اس وقت تو یہ ملاحظہ فرمائیے کہ شیخ زادہ کیا کہتا ہے۔ عبارت شیخ زادہ: ”واختص بالمستقبل لان الطلب انما يتعلق بما لم يحصل وهو المستقبل بخلاف الحال والماضى لحصولهما“ افسوس کہ یہ سب عبارتیں مناظرہ میں نقل ہو چکی ہیں۔ مگر اس فہم کا کیا کیجئے۔

آپ جناب حکیم نورالدین سے مشورہ لے لیتے اور انہیں یہ مضمون دکھا دیتے تو ایسی ناسمجھی میرے خیال ناقص میں ان کے فہم سے دور ہے۔ آپ مرزا قادیانی و مولوی عبدالکریم صاحب و ٹونکی صاحب و شیخ صاحب وغیرہم کے بھروسہ پر مگن ہو گئے۔ حکیم صاحب کو یہ مضمون نہیں دکھایا اور اگر یہ سچ ہے تو اصل بات یہ ہے کہ مولوی عبد الکریم صاحب کی نگاہ پر کوئی عبارت یا

٤٠

صفحہ ١٦٧

کوئی لفظ نہ چڑھا تو وہ معذور ہیں۔ ان کا کیا قصور۔ شیخ صاحب ومرزا قادیانی بھی بے قصور ہیں۔ ان کی یہاں دال گلنی مشکل ہے۔ ہاں حضرت ٹونکی صاحب نے جان بوجھ کر آپ سب کو اپنے ساتھ گرالیا اور آپ کے مضمون کو اپنا سا بنالیا۔ خیر حضرت مفتی مامفتی آئندہ احتیاط چاہئے۔ لو جناب یہ دو خطائیں تو اس مسئلہ میں آپ کی ثابت ہو گئیں۔ اب تیسری خطاء سنئے۔ تا کہ امروہی کی وہ مثل پوری ہو جائے کہ ایک خطاء دو خطاء تیسری خطاء اور اس تیسری خطاء میں تو احسن المناظرین نے اپنی لیاقت کا پورا ہی کمال ظاہر فرما دیا۔ بیان اس کا مختصر یہ ہے کہ شرح جامی کی عبارت منقولہ سے یہ بات عموماً ثابت ہو چکی ہے کہ نون جو قسم میں آتا ہے تو وہ نون استقبال کے لئے خاص ہوتا ہے۔ جیسا کہ وہ نون جو امر ونہی واستفہام وتمنی وعرض میں آتا ہے استقبال کے لئے خاص ہوتا ہے اور مغنی کی عبارت سے خصوصاً یہ بات ثابت ہو گئی کہ قسم کے جواب مثبت میں استقبال شرط ہے اور اگر اس پر بھی تشفی خاطر نہ ہو تو مغنی کی ایک عبارت اور سن لیجئے۔ عبارت مغنی ”وتارة يجيئان وذلك فيما بقى نحو تالله لا كيدن اصنامكم“ اور اس کے تحت میں لکھتا ہے۔ ”اى بان كان مضارع مثبت ولم يفصل بينه وبين اللام فاصل ولم يرد فيه الحال بل الاستقبال ففى هذه الحالة تجب النون واللام عند الجمهور “ اب تصریح کی بھی ملاحظہ فرمائیے۔ ”واما المضارع فله حالات احدها ان يكون توكيده بهما اى لا بد منه وذلك اذا كان مثبتاً مستقبلا جوابا لقسم غير مفصول من لامه اى لام القسم بفاصل نحو تالله لا كيدن اصنامكم“ اس طرح ابن عقیل بھی شرح الفیہ میں لکھتے ہیں۔ ”اى تلحق نون التاكيد الفعل المضارع الواقع جواب قسم مثبتاً مستقبلاً ونحو والله لتضربن زيد فان لم يكن مثبتا لم يؤكد باالنون نحو والله لا تفعل كذا وكذا ان كان حالا نحو والله ليقوم زيد الان “ کیوں جناب احسن المناظرین صاحب آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ان سب علمائے نحات نے قسم کے جواب مثبت میں شرط استقبال کی لگائی ہے۔ اب آپ خلاف اس کے ان ائمہ کبار نحو میں سے کسی ایک سے بھی اس کا خلاف ثابت کر دکھائیے۔ جن کے نام نامی لے کر آپ نے بے حد تعلیٰ کر لی ہے اور بے انتہاء شیخی بگھاری ہے کہ اوّل تو مولوی صاحب نے اس مسئلہ کو ایسی کتابوں سے نقل فرمایا ہے کہ ان سے ہر ایک طالب علم نقل کر سکتا ہے۔ مولوی صاحب کو اس میں کوئی مابہ الامتیاز خصوصیت جیسا کہ ان کی شان عالی ہے۔ حاصل نہیں ہوئی۔ کاش اگر ائمہ کبار نحو میں مثل ٤١

صفحہ ١٦٩

زجاج جوہری سیرافی ابوعلی فارسی خلیل ابن احمد اخفش مبرد اصمعی کسائی سیبویہ مبرّد زمخشری وغیرہ ہے۔ کچھ اقوال اس بارہ میں نقل فرماتے تو یہ مباحثہ نحوی مولوی صاحب کا کسی قدر مابہ الامتیاز ہو جاتا۔ اگرچہ بمقابل مرزا قادیانی جیسے مؤید من اللہ کے ان ائمہ کے نقول اقوال بھی کچھ وقعت نہیں رکھتے۔ ملاحظہ فرماؤ۔ کتب قراء اگر میسر نہ ہوں تو مطالعہ کرو۔ کتب مولانا شاہ ولی اللہ صاحب اگر وہ بھی بالفعل نہ ملیں تو دیکھو فوز الکبیر۔

اب اگر آپ ان ائمہ کے اقوال سے خلاف ثابت نہ کر سکے اور ضرور نہ کر سکو گے اور آپ کیا، آپ کا تمام گروہ اور آپ کے مصنوی مسیح جو ملہم و موسوس من الجنہ والناس ہیں۔ سب مل کر بھی اس کا خلاف ثابت نہ کر سکو گے۔ تو پھر اس بے جا تعلی کر لینے اور مشیخت بگھارنے سے کیا حاصل ہوا۔ اے احسن الناظرین اگر فقط نام گنوا دینے سے کچھ فخر ہو تو ایک بچہ آپ سے دو چار نام زیادہ گنوا دے گا۔ پھر اس سے فائدہ اس کے خلاف ان ائمہ کے اقوال سے ثابت کر کے دکھاؤ۔ کوئی ایک قول تو ان ائمہ کا نقل کرو ورنہ خدا سے ڈرو اور اس تعلی سے توبہ کرو۔

ناظرین! اب یہ ناچیز آپ کو جناب احسن الناظرین کی ایک عجیب لیاقت اور کمال فہم اور غایت تبحر کا حال بتاتا ہے۔ چونکہ آپ علاوہ فہم عالی کے مؤید بالہام بھی ہیں۔ اس وجہ سے حضرت شرح جامی کی اس عبارت سے دھوکا کھا بیٹھے ہیں۔ جواب میں نقل کرتا ہوں۔ عبارت شرح جامی ''ولزمت ای نون التاکید فی مثبت القسم ای فی جوابه المثبت لان القسم محل التاکید'' مگر جناب احسن الناظرین حضور کے خیال میں یہ نہیں آیا کہ شرح جامی والے کو اس شرط کے لگانے سے اس وجہ سے غنا ہو گیا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ نون تاکید جو امر نہی استفہام تمنی عرض قسم میں آتا ہے وہ مستقبل کے ساتھ خاص ہے۔ اب فرمائیے کہ بعد اس تصریح کے شرط لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ مگر جناب مصنوی مسیح صاحب کی توجہ سے کچھ ایسے محو ہیں کہ جناب کو پیچھے کی کچھ خبر نہ آگے کی، پھر خدام والا کے فہم میں آئے تو کیونکر اور جناب نے جو عبارت تکملہ کی پیش کی ہے۔ اس سے بھی یہ شرط ثابت ہوتی ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی توجہ سے فرصت ہو تو ادھر توجہ ہو اور کچھ سمجھ میں آئے اے حضرات! اب آپ لوگوں کو علمی بحث و مباحثہ کو ترک کرنا چاہئے۔ ایک ہی کہے جاؤ کہ یوں ہی الہام ہوا ہے۔ کوئی مانو یا نہ مانو۔ اس کا جواب کوئی بھی نہ دے سکے گا۔ عبارت تکملہ ''وان كان مضارعاً اسبتقبالياً يلزمها اللام مع النون التاكيد ان دخلت اللام على نفس المضارع الانادر او لا يكتفى عن ٤٢

اللام بالنون الا فى ضرورة الشعر واذا يكتفى باللام نحو لئن متم او قتلتم لا حاليا يكون باللام من غير النون'' اب تو غا علمی اور کمال تدبر کا علم ہو گیا ہو گا۔ لہٰذا عاجز نہایت عج مگر ایسا نہیں کہ مصرعہ

غوطہ ڈبائی کھاتا پھرے

جناب مولوی صاحب یہ عاجز ہرگز حضور تو کوئی بات سمجھا دے۔

دیکھ چھوٹوں کو ہے
آسمان آنکھ کے تل میلا

خیر جناب آپ کو تو علم و فہم تبحر تدبر کے عاجز تو سوائے فضل و رحمت اپنے رب کریم کے اور ذات تعالیٰ و تقدس کی تاکید پر عاجزانہ طور پر یہ عرض کر

ناصحا دل میں تو اتنا تو
لاکھ نادان ہوئے کیا تجھ سے

آمد برسر مطلب

اب (قادیانی) مولوی (احسن امروہی بحول اللہ تعالیٰ و قوتہ! قول...... ''عذر تاخیر جواب عنایت نامہ۔'' اقول...... اگر چہ عذر بدتر از گناہ مشہور ہے۔ مگر آپ

اب تو یہ حال ہے کیا ہو
دل میں یہ خوف سمایا

قول...... ''آپ نے تمام شہر میں ۔'' اقول...... حضرت نہ میں نے جناب کی اہانت کی مگر آپ کے سامنے کسی آپ کے ہم خیال نے یہ ٤٣

صفحہ ١٦٩

اللام بالنون الا في ضرورة الشعر واذا لم يدخل اللام على نفس المضارع يكتفى باللام نحو لئن متم او قتلتم لالى الله تحشرون وان كان مضارعا حاليا يكون باللام من غير النون ”اب تو مخدوم والا کو خود بھی اپنے فہم کی رسائی اور لیاقت علمی اور کمال تدبر کا علم ہو گیا ہوگا۔ لہذا عاجز نہایت عجز سے عرض کرتا ہے کہ کچھ جواب عنایت ہو۔ مگر ایسا نہیں کہ مصرعہ

غوطہ ذقانی کھاتا پھرے جیسے تال میں

جناب مولوی صاحب یہ عاجز ہرگز حضور کے علم و تبحر کو نہیں پہنچ سکتا۔ مگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کوئی بات سمجھا دے۔

دیکھ چھوٹوں کو ہے خدا بڑائی دیتا
آسمان آنکھ کے تل میں ہے دکھائی دیتا

خیر جناب آپ کو تو علم و فہم تبحر تدبر کے علاوہ الہام پر بھی بہت بڑا گھمنڈ ہے۔ مگر یہ عاجز تو سوائے فضل و رحمت اپنے رب کریم کے اور کوئی پونجی اپنے پاس نہیں رکھتا اور خاص اس ذات تعالیٰ و تقدس کی تائید پر عاجزانہ طور پر یہ عرض کرتا ہے۔ اگر حضور کے خیال عالی میں آجائے۔

ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم
لاکھ نادان ہوئے کیا تجھ سے بھی نادان ہوں گے

آمدم برسر مطلب

اب (قادیانی) مولوی (احسن امروہی) صاحب کے خط کا جواب شروع ہوتا ہے۔ بحول اللہ تعالیٰ وقوۃ !

قولہ ...... ”عذر تاخیر جواب عنایت نامہ۔“ اقول ...... اگر چہ عذر بدتر از گناہ مشہور ہے۔ مگر آپ کے ارشاد کو دیکھ کر درگزر کروں۔ قبول ہے۔

اب تو یہ حال ہے کیا ہووے گا آگے آگے
دل میں یہ خوف سمایا ہے خدا خیر کرے

قولہ ...... ”آپ نے تمام شہر میں ۔“ اقول ...... حضرت نہ میں نے جناب کی اہانت کی، نہ آبرو ریزی، نہ اتہام لگایا، نہ افتراء باندھا۔ مگر آپ کے سامنے کسی آپ کے ہم خیال نے یہ افتراء پردازی کی ہو تو عجب نہیں اس کا علاج

٤٣

صفحہ ١٧٠

میرے پاس کچھ نہیں جولوگ مفتری علی اللہ والرسول ہیں۔ اگر عاجز پر افتراء کریں کیا عجب ہے۔

قیل ان الاله ذو ولد
قیل ان الرسول قد کہنا
مانجا الله والرسول معاً
من لسان الورى فكيف انا

ہاں اگر جناب کو تحقیق منظور ہے جامع مسجد میں جمعہ پڑھنے بعد نماز دریافت فرمائیے۔ اگر ہزاروں میں سے دو چار معتبر آدمی بھی آپ کے ارشاد کو درست کہدیں گے تو میں ملزم۔ آپ کو تشریف لانے میں کچھ عذر ہو تو اپنے کسی معتمد کو بھیج دیجئے وہ تحقیق کر لے۔ میں نے ایک لفظ بھی آپ کی نسبت اہانت کا نہیں کہا۔ ہاں اگر آپ کا ہر بات میں یہی طریق ہے کہ بلا تحقیق جو جس نے کہا مان لیا تو میری عرض جس کو میں بعد تحقیق منوانا چاہتا ہوں۔ آپ کب مانیں گے۔ مولوی صاحب! تحقیق کرو اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔

کس سے بگڑے ہو کس پہ غصہ ہے
کس پہ ہوتے ہو تم خفا صاحب
کس نے دیں تم کو گالیاں حضرت
کون کہتا ہے ناروا صاحب

بلا تحقیق یہ افتراء آپ کرتے ہیں یا میں؟ ہاں یہ بات بنا کر عاجز کو بدنام کرنا حضور کو منظور ہو تو کیجئے۔ ”واللہ المستعان علی ما تصفون“ قیامت قریب ہے اور قاضی خبیر وبصیر ”وافوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد“ میں آپ کو کچھ نہیں کہتا اور اس کا جواب کچھ نہیں دیتا۔

ہوں آپ کے کتنے ہی ستم اف نہ کریں گے
چپ بیٹھ کے ہم کھائیں گے غم اف نہ کریں گے
سر تک بھی اگر کاٹ کے پھینکو گے ہمارا
سچ کہتے ہیں واللہ کہ ہم اف نہ کریں گے

قولہ ...... ”تنبیہہ! مولوی صاحب نے جس قدر اشعار اردو لکھے ہیں وہ سب (میرے) اعلام الناس میں مندرج ہو چکے ہیں۔ احقر کو اس کے ساتھ کچھ فخر نہیں۔ یہاں پر مولوی صاحب کی ہمہ دانی جتانی منظور تھی۔ پس۔“

٤٤

صفحہ ١٧١

اقول ..... خیر ہوگئی حضرت کے وہ اشعار جن کو میں نے اپنے خط میں لکھا ہے آپ کے طبع زاد نہ تھے ورنہ سخت نالائق سمجھا جاتا اور شاید مجھ پر حق تلفی کا دعویٰ ہو جاتا اور ہمہ دانی تو عاجز کی اس پر کھل گئی کہ آپ کے اعلام الناس میں وہ اشعار مندرج تھے گو کسی کے تھے اور جناب کو بھی کوئی خاص حق ان کے مندرج کرنے کا ایسا حاصل نہ تھا جو اس عاجز کو نہیں اور یہ تو ماشاء اللہ اگر آپ سمجھ بھی گئے ہوں گے تو کیوں فرمانے لگے کہ اس میں رمز کیا تھی۔ جو وہی اشعار عاجز نے نقل کئے اور بعد نقل اکثر جگہ نشان بھی بتا دیا کہ اعلام الناس صفحہ فلاں اور پھر اس پر یہ فخریہ اظہار کہ احقر کو اس کے ساتھ فخر نہیں۔ اگر فخر نہ ہوتا تو اس کا ذکر ہی کیا ضرور؟ اور اس پر طرہ یہ کہ تنبیہہ کے ساتھ۔ مولوی صاحب یہ فخر و تعلی حضور کو مبارک۔

مولوی صاحب فرشتہ ہو تو ہو
آدمی ہونا بہت دشوار ہے

کیوں جناب مولوی صاحب اگر یہ قصور ہے تو جناب نے تاریخ قوم برامکہ کا نام ”اعلام الناس“ کیوں غصب کر لیا اور آپ کے مرزا قادیانی نے مولوی رحمت اللہ کی کتاب ”ازالہ اوہام“ کا نام کیوں چھین لیا اور آپ نے جو اشعار مناجات عربی لکھے ہیں وہ تو فرمائیے کس کے ہیں؟ اے جناب مولوی صاحب اس کا مجھے جواب تو دو کہ یہ کیا لکھا اور کیوں اپنے اور میرے وقت کا اس تحریر میں ناحق خون کیا۔ مولوی صاحب بات یہ ہے مصرعہ

آدمیت اور شئے ہے علم ہے کچھ اور چیز

قول ..... ”نامہ نامی ہمدست چند صاحبان اہل علم مع بعض صاحبان اہل قلم صادر ہوا۔“ اقول ..... جناب مولوی صاحب عاجز نے اہل علم کو جناب کی خدمت میں بھیجا اور نہ کسی اہل قلم کو اور نہ عاجز خود صاحب حشم جو اس کے پاس اہل علم واہل قلم ہوں۔ جناب مولوی نواب سید علی حسن خان صاحب زید مجدہم کے ایک خادم کو خط دے کر آپ کے پاس بھیجا تھا۔ جس کو آپ نے کسی حیثیت سے شاید اہل علم بنا دیا اور کسی حیثیت سے اہل قلم ، نہ وہ غریب اہل علم ، نہ صاحب علم ، ایسی باتوں میں وقت ضائع کرنا نہیں معلوم جناب کو کیوں پسند خاطر ہے؟ وہ بات بنا کر چند الزام عاجز پر گھڑ دیئے یہ بات کہہ کر چند طعن کر دیئے نہ اس سے کچھ فائدہ نہ اس سے کچھ حاصل۔ جناب کو چونکہ گھر میں زیادہ تشریف رکھنے کی عادت ہے۔ یہی علت اس طعنے دینے کی معلوم ہوتی ہے۔ مگر عاجز اس کا جواب جناب کو کیا دے کہ جناب بزرگ اور عاجز خرد اور اصل بات یہ ہے کہ طبیعت ہی اس کے مناسب نہیں۔

٤٥

صفحہ ١٧٣
ہم کہے دیتے ہیں زحمت خردہ ہے
دل تو حاضر ہے ولے افسردہ ہے

رہا یہ ارشاد جناب کا کہ : ”پھر اگر خلوت سے کام نہ چلے تو جلسہ جلوت بھی کیا جاتا۔ اس کے جواب میں عاجز پھر (اعلام الناس حصہ ٢ ص ٩٩، ١٠٠) کو پیش کرتا ہے اور بجواب شرط ضمانت پچاس روپے کی المضاعف جناب مولانا صاحب کے پاس نقد رکھوا دیتا ہے۔

میرے کہنے کا نہ باور ہو نوشتہ لے لو
ضامن انسان کی عوض چاہو فرشتہ لے لو

قولہ ....... ”مثل مشہور ہے۔ اول پند بعدہ بند۔“ اقول ....... حضرت کو اگر واقعی یہ منظور ہے کہ عاجز تنہا حاضر ہو کر کچھ عرض کرے تو اب کیا عجب ہے۔ جب اور جس وقت ارشاد ہو اور یہ دریافت بھی اس لئے ہے کہ عاجز نے کبھی ملنا چاہا تو حضور نے وقت ٹال دیا اور تحریر بھی فرمایا ہے کہ مجھے فرصت کم ہے۔ ورنہ بے تامل حاضر ہوتا۔

بگڑتے ہو کیوں اب بھی کہتا ہوں میں
عیاں صلح پھر کس کی چتون سے ہے

قولہ ....... ”تو جناب والا ان رسائل کا جواب شافی و کافی مشتہر فرماتے۔“ اقول ....... بہتر جناب اعلیٰ جواب تیار ہے۔ اب طبع بھی ہوا جاتا ہے۔ مگر عاجز نے یہ سنا ہوا تھا کہ ”تصنیف را مصنف نیکو کند بیاں“ اسی شوق میں یہاں چلا آیا اور اب تو آ گیا۔ اگر آپ مہربانی فرمائیں اور نامہربانی کو دل سے اٹھائیں عاجز نے پہلے بھی عرض کیا تھا اور اب مکرر عرض کرتا ہوں کہ کسی روز آپ تشریف لے آئیں یا عاجز کو بلا لیں۔ مگر جناب نے توجہ نہ فرمائی۔ یہ تو عاجز پر کمال نا مہربانی ہے۔ جیسے ہر طرح کی آزادی عطاء فرمانا کمال مہربانی تھی۔ افسوس یا وہ عنایت یا یہ عتاب۔

اس قدر تھا یا کرم یا ظلم رانی اس قدر
مہربانی اس قدر نامہربانی اس قدر

یا وہ عنایت اوروں ہی کے ساتھ مخصوص ہے اور عاجز اس سے محروم جناب مولوی صاحب ایسا نہ چاہیے جناب تو مسیح صاحب کے پیرو ہیں۔ جناب کو تو سب کو ایک آنکھ دیکھنا چاہئے نہ یہ کسی سے کچھ برتاؤ اور کسی سے کچھ۔

غیر نے باتیں جو کچھ کیں تو نے وہ سب مانیاں
اور ہم سے تیری اے لالہ یہ نافرمانیاں

٤٦

قولہ ....... ”جیسا کہ داب مناظرین دین کا ہے۔“ اقول ....... ہاں جناب مولوی صاحب دینداری اس کا نام خلق میں اپنے ایک مؤمن بھائی کو بدنام کرے۔ بلا تحقیق بنائے۔ دل کے بخار نکالے ہرگز تحقیق نہ کرے۔ سبحان اللہ عمل کرنا بھی جناب کا حصہ ہے۔ واقعی بات گھڑنے میں تو مـ

کیا لاجواب جوڑ خدا نے
جیسی ہے روح ویسے فرشتے بھی

قولہ ....... ”لہٰذا اس عاجز نے اپنے دل نیاز منزل کو بہت اقول ....... مولوی صاحب میں نہیں جانتا وہ کون سے جنا نے محض بے اصل خبریں سنا کر جناب کو اس قدر رنج میں ڈا باقی نہ رہے۔ اے جناب مولوی صاحب میں نے جس و چند مقام سنائے ہیں۔ خوب جتلا جتلا کر اول یہ کہہ دیا کہ یـ ایسا ہی کیا اور میں شرعی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ میں نے نہ کسی خلوت وجلوت میں کبھی لفظ کافر یا مشرک یا کوئی لفظ عبارت بھی گناہ ہے تو اس میں اول مرزا قادیانی کا حصہ ہـ عاجز تو پیچھے پیچھے ہے۔ مولوی صاحب غضب تو یہ ہے کـ ہو۔ جس طرح بے دیکھے، بے سنے، بغیر تحقیق مرزا قادیا ناراض ہو گئے۔ میں اس قدر سفر طے کر کے آیا خدا کے وا فرمائیں۔ اپنی کہیں میری سنیں۔

میرے قاصد سے ذرا میری
طبع کرنا پیچھے خط پہلے ز
داد میری جانفشانی کی نہیں
پر کروں جو کچھ بیاں میں جـ
جانتا ہوں میں کہ ہو خبروں ـ
پر کہوں میں بھی جو کچھ راز

٤٧

صفحہ ١٧٣

قولہ ...... ”جیسا کہ داب مناظرین دین کا ہے۔“

اقول ...... ہاں جناب مولوی صاحب دینداری اس کا نام ہے کہ اپنی طرف سے بہتان گھڑ کے خلق میں اپنے ایک مؤمن بھائی کو بدنام کرے۔ بلاتحقیق بدظن ہو جائے۔ گھر میں بیٹھا باتیں بنائے۔ دل کے بخار نکالے ہرگز تحقیق نہ کرے۔ سبحان اللہ۔ یہی تو داب مناظرین دین اور اس پر عمل کرنا بھی جناب کا حصہ ہے۔ واقعی بات گھڑنے میں تو مرزا قادیانی کا اور آپ کا جوڑ خوب ملا۔

کیا لاجواب جوڑ خدا نے ملائے ہیں
جیسی ہے روح ویسے فرشتے بھی پائے ہیں

قولہ ...... ”لہٰذا اس عاجز نے اپنے دل نیاز منزل کو بہت سا صبر کر کر سنبھالا اور تھاما۔“

اقول ...... مولوی صاحب میں نہیں جانتا وہ کون سے جناب کے دشمنوں کے بیری تھے۔ جنہوں نے محض بے اصل خبریں سنا کر جناب کو اس قدر رنج میں ڈالا کہ حضور کے دماغ میں حواس تحقیق ہی باقی نہ رہے۔ اے جناب مولوی صاحب میں نے جس وعظ میں ازالۃ الاوہام اور اعلام الناس کے چند مقام سنائے ہیں۔ خوب جتلا جتلا کر اوّل یہ کہہ دیا کہ میں اپنی طرف سے ایک لفظ نہ کہوں گا اور ایسا ہی کیا اور میں شرعی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ میں نے نہ جناب کو نہ جناب کے مسیح مرزا قادیانی کو کسی خلوت وجلوت میں کبھی لفظ کافر یا مشرک یا کوئی لفظ گندہ نہیں کہا اور نہ کہتا ہوں۔ ہاں اگر نقل عبارت بھی گناہ ہے تو اس میں اوّل مرزا قادیانی کا حصہ ہے۔ پھر جناب کا، بعد عاجز کا بہر صورت عاجز تو پیچھے پیچھے ہے۔ مولوی صاحب غضب تو یہ ہے کہ نہ مجھے بلاتے ہو نہ آپ تشریف لاتے ہو۔ جس طرح بے دیکھے، بے ملے، بغیر تحقیق مرزا قادیانی کے معتقد ہو گئے۔ اسی طرح عاجز سے ناراض ہوگئے۔ میں اس قدر سفر طے کر کے آیا خدا کے واسطے دو چار قدم کی تکلیف تو آپ بھی گوارا فرمائیں۔ اپنی کہیں میری سنیں۔

میرے قاصد سے ذرا میری کہانی سن تو لو
طبع کرنا پیچھے خط پہلے زبانی سن تو لو
داد میری جانفشانی کی نہیں دیتے نہ دو
پر کروں جو کچھ بیاں میں جانفشانی سن تو لو
جانتا ہوں میں کہ ہو غیروں کے تم بھی راز دار
پر کہوں میں بھی جو کچھ راز نہانی سن تو لو

٤٧

صفحہ ١٧٤

اور اگر بغیر طعنے مِنے سنے بلا تحقیق خفا ہونا ہے ہو لیجئے

گر تجھے قتل ہے منظور چل آ بسم اللہ
تیغ موجود ہے حاضر ہے گلا بسم اللہ
ہم تو حاضر ہیں نہ کرتے ہیں ترا حکم عدول
خون دل تو جو پلاتا ہے پلا بسم اللہ
سر نمی تابم زشمشیر حبیب
ہرچہ آید بر سر من یا نصیب

قولہ ....... ”جو دلائل جناب والا نے اس عاجز کے مدعی ہونے کے ایک اور ایک گیارہ تجویز فرمائے ہیں ان کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ خدام جناب کو فن مناظرہ میں بڑا دخل ہے ۔“

اقول ....... جناب مولوی صاحب حضور احسن المناظرین ہیں ۔ عاجز کی کیا لیاقت کہ جناب کے سامنے مناظرہ کا نام لے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ اوّل تو فرط تعلی اور افراط فخر سے درگاہ والا میں عاجز کے کلام کو وقعت ہی کہاں جو توجہ ہو ہاں کس بشنود یا نشنود من گفتگوئے میکنم کے طور پر محض بہ نیت اظہار حق عرض کئے دیتا ہوں ۔ آپ سنیں یا نہ سنیں

بات میری نہیں سنتے جو اکیلے مل کے
ایسے ہی ڈھب کی سناؤں کہ سنو اور سنو

دوسرے یہ کہ افراط محبت اور فرط غضب ایسی بلا ہے جس سے آدمی بدحواس بے بہرہ بلکہ گونگا اور بہرا ہو جاتا ہے۔ ”حبك الشئ يعمى ويصم“ اور جناب میں اس وقت یہ دونوں صفتیں موجود ہیں۔ جیسے مرزا قادیانی پر افراط محبت کی نظر ہے۔ ویسے ہی عاجز پر فرط غضب ،، ایسی حالت میں اگر خدام والا میری تحریر کو نہ سمجھے یا اپنے لکھے کو بھول گئے تو نہ مقام شکایت نہ محل استعجاب ۔ جناب کا مقام ہی یہ ٹھہرا۔ لہٰذا جناب کی اور اپنی تحریر کو دوبارہ نقل کر کے نہایت ہی عاجزی سے عرض کرتا ہوں کہ حواس کو درست کر کے دوبارہ ملاحظہ فرمائیے ۔ اگر طبیعت درست ہوئی تو جناب کو خود ہی ارشاد فرمانا ہو گا کہ میں اپنے جوابوں کو واپس لیتا ہوں اور ضرور مکرر جواب کی تکلیف کرنی ہوگی ۔ مگر معاف فرمائیے کہ اس مکرر تکلیف دہی میں عاجز کی کوئی خطا نہیں ۔ حضور کے حافظہ کی خطاء اور حواس کا قصور ہے ۔

یہ سراپا شوخی دزد حنا تھی میں نہ تھا

٤٨

صفحہ ١٧٥

نمبر ١: ...... احسن المناظرین صاحب کے خط کی اوّل عبارت۔ ”کیونکہ احقر نے تو کسی تحریر میں آپ کو مخاطب نہیں کیا اور نہ احقر کسی امر کا مدعی۔“

نمبر ٢: ...... عاجز کے دوسرے خط کی وہ سرخی جس کے تحت میں احسن المناظرین صاحب کے گیارہ قول نقل کئے ہیں اور جناب موصوف نے خطاب عام کے لفظ کو قصداً یا سہواً نظر انداز کر کے دعوٰی کا لفظ پکڑ لیا ہے۔

نزیل بھوپال مولوی محمد احسن صاحب احسن المناظرین کے وہ اقوال جن سے ان کا دعوٰی اور خطاب عام ثابت ہے۔

جناب مولوی صاحب اب حضور سمجھے اور یاد آیا کہ یہ ایک اور ایک گیارہ دلائل حضور کے مدعی ہونے کے نہ تھے۔ بلکہ ان سے جناب کا خطاب عام یاد دلایا تھا اور ثبوت دعوٰی میں تو لفظ دعوٰی کا موجود ہے۔ جس کا جناب کو بھی اقرار کرنا پڑا۔ شاید حضور دوبارہ بھی بھول گئے اور ابھی تو اور بھولیئے گا اور ضرور بھولیئے گا۔ کیونکہ دشمنوں کا حافظہ ہی صحیح نہیں رہا۔ جناب عالی بادام کا حریرہ پیجئے یا توبہ کیجئے اور توبہ کا لفظ عاجز نے بے ادبی کی راہ سے عرض نہیں کیا ہے۔ سوء حافظہ کا یہ بھی ایک علاج ہے۔ عاجز اپنے حق میں بھی کثرت استغفار کو بہتر جانتا ہے۔

شکوت الی وکیع سوء حفظی
فاوصانی الی ترک المعاصی
لان العلم فضل من الله
وفضل الله لا یعطے العاص

قولہ ...... ”لہٰذا وہ سب دلائل اس عاجز کے قلب و جگر میں مثل زخم کاری کے اثر کر گئے۔ اب ان زخموں کو اخفا کرتا رہتا ہوں اور کسی پر ظاہر نہیں کرتا۔ کیوں ظاہر نہیں کرتا۔ اس لئے ؎

نظر لگے نہ کہیں ان کے دست و بازو کو
یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں“

اقول ...... ناظرین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مولوی صاحب کس قدر مطلب سے الگ الگ عبث اور بے سود باتوں میں طول دیتے چلے جاتے ہیں اور چونکہ خدام والا کی یہ فطرت ہے۔ اسی لئے کچھ سوچ سمجھ کر عام جلسہ میں گفتگو سے انکار فرما دیا کہ مواجہ میں یہ بیکار طعن و طنز یہ اشارے یہ ٹھٹھول جناب کیونکر کر سکتے تھے۔

٤٩

صفحہ ١٧٧
ہر بات ان کی طعنہ و ہر اک سخن ہے رمز
ہر آن ہے کنایہ و ہر دم ٹھٹھولیاں

اور جناب کے احسن المناظرین ہونے کی حقیقت تو پہلے ہی کھل چکی ہے۔ اب مرد میدان بننا اور مواجہ میں گفتگو کے لئے آنا معلوم کیوں اس واسطے ؎

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
وہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں

قولہ ...... ”سب سے اول کوئی رسالہ صغیر یا کبیر فن مناظرہ کا مجتہد ان کو پڑھا دیا جاوے ۔“

اقول ...... اگرچہ مسافر اور کثیر الاشتغال ہوں ۔ مگر آپ کی درخواست منظور جناب مولوی صاحب کسی طرح ہو مجھے تو آپ سے ایک مرتبہ ملنا ہے۔ استاذی سے، شاگردی سے، دوستی سے، مہربانی سے، عنایت سے، اخلاق سے، کج اخلاقی سے ایک مرتبہ ملئے ۔ اگر جناب کا یہ خیال ہے۔ اسی طرح جب اور جس وقت جی چاہے بے تامل اور بے تکلف تشریف لائیے ؎

اس قدر آہ کیا عشق نے رنجور ہمیں
دیکھنا ایک نظر تم کو ہے منظور ہمیں

اس واسطے کہ ؎

خط جادہ ہوں یا میں نقش پا ہوں
غرض افتاد گان کا رہ نما ہوں

مگر میں خوب سمجھے ہوئے ہوں۔ یہ سب آپ کی باتیں ہیں۔ آپ کب تشریف لاتے ہیں ؎

نہ پہچانو مجھے گر آپ تو کیا
مگر میں آپ کو پہچانتا ہوں

قولہ ...... ”مگر شرط یہ ہے کہ شب کو مکان احقر پر آپ تشریف لایا کیجئے اور سب کو نہ لایا کیجئے۔ یعنی آپ تنہاء آویں بہ تن ہمہ نہ آویں۔“

اقول ...... مجھے ڈر ہے ؎

کہیں میری زبان نہ کھل جائے
اب وہ باتیں بہت بنانے لگے

٥٠

حضرت مولوی صاحب ذرا سنبھل اور سمجھ کر فرما

حوصلہ تنگ ہے یہاں بیہو
بس زبان کیجئے کوتاہ مجھ

جناب من! اگر یہ درخواست محض بوجہ امتحان بلانے میں جناب کو خلاف اس کے کوئی اور علت ہے۔ جس ہے تو اس عاجز کو معاف فرمایا جائے۔ ”لاحول ولا قو میں یہ خباثت بے محل اور بے موقع ہے۔

کچھ مناسب نہیں ہے
جی میں جو کچھ کہ اس

لیکن یہ عاجز کمال ادب اور نہایت عجز سے ع اگر جناب نے اب کبھی بے محل اپنی خو کھوئی تو یاد رہے کبھی نہ ہوگی ؎

ہم رونے پہ آ جاویں تو د
شبنم کی طرح سے ہمیں

مکرر عرض کرتا ہوں کہ آپ کی اس سفید ری

تو پیر شدی حافظ از
رندی و خرابی در عہد

قولہ ...... ”کیونکہ اگر اس جماعت فوج اور گروہ مو پر غالب ہو جاوے گا کہ ان کی اوج موج کو دیکھ کر مجھ

اقول ...... کیوں جناب مولوی صاحب ایک عاجز ڈرتے۔ ڈرو اس خدا سے جس کا یہ ارشاد ہے ”ما یل میں نہیں سمجھتا کہ اس گفتار سے کیا فائدہ۔ آپ کے کہ

وہ چال چلو جس سے
کچھ فرض یہی ہے کہ

اور اگر واقعی جناب پر کوئی خوف غالب

٥١

صفحہ ١٧٧

حضرت مولوی صاحب ذرا سنبھل اور سمجھ کر فرمائیے اور کوئی اور ہوتا تو یوں کہتا۔

حوصلہ تنگ ہے یہاں بیہودہ گوئی تاچند
بس زبان کھینچئے کوتاہ مجھے تاب نہیں

جناب من! اگر یہ درخواست محض بوجہ امتحان علم یا تعلم ہے تو یہ شرط خلاف ہے اور اگر بلانے میں جناب کو خلاف اس کے کوئی اور علت ہے۔ جس کے لئے شب اور تنہائی کی شرط ضروری ہے تو اس عاجز کو معاف فرمایا جائے۔ ”لاحول ولا قوۃ الا باللہ“ مولوی صاحب اس بحث میں یہ خباثت بے محل اور بے موقع ہے۔

کچھ مناسب نہیں ہے کیا کہئے
جی میں جو کچھ کہ اپنے آتی ہے

لیکن یہ عاجز کمال ادب اور نہایت عجز سے عرض کرتا ہے کہ آپ اس سے باز رہیں اور اگر جناب نے اب بھی بے محل اپنی ہجو کہلوائی تو یادرہے کہ پاس ولحاظ خردی وبزرگی ایک طرف پھر کمی نہ ہوگی۔

ہم رونے پہ آجاویں تو دریا ہی بہا دیں
شبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا

مکرر عرض کرتا ہوں کہ آپ کی اس سفید ریش پر یہ خباثت بے زیب ہے۔

تو پیر شدی حافظ از میکدہ بیرون آ
رندی و خراباتی در عہد شباب اولیٰ

قولہ..... ”کیونکہ اگر اس جماعت فوج اور گروہ موج کے ساتھ ورود ہوگا تو اس ناچیز پر اس قدر رعب غالب ہو جاوے گا کہ ان کی اوج موج کو دیکھ کر مجھ سے پڑھا بھی نہ جاوے گا۔“

اقول..... کیوں جناب مولوی صاحب ایک عاجز مسافر پر یہ باتیں بناتے ہو اور خدا سے نہیں ڈرتے۔ ڈرو اس خدا سے جس کا یہ ارشاد ہے ”ما یلفظ من قول الا لديه رقيب عتيد“ میں نہیں سمجھتا کہ اس گفتار سے کیا فائدہ۔ آپ کے سمجھ میں آیا ہے اور آپ کے جی میں کیا سمایا ہے۔

وہ چال چلو جس سے کہ دنیا رہے قائم
کچھ فرض یہی ہے کہ قیامت ہی بپا ہو

اور اگر واقعی جناب پر کوئی خوف غالب ہوگیا ہے تو یہ منجانب اللہ ہے۔ ”وقذف فی

٥١

صفحہ ١٧٨

قلوبهم الرعب“ ہیبت حق است ایں صاحب دق نیست اور اگر کوئی فوج بھی میرے ساتھ آپ کو دکھائی دیتی ہے اور آپ اس بیان میں سچے ہیں تو وہ ملائکہ منزلیں ہوں گے۔ جن کا واللہ عاجز کو علم نہیں ہے اور یہ عاجز ایک حقیر فقیر مسافر ہے نہ یہ مسکین صاحب اوج، نہ اس کے پاس فوج ظفر موج، ہاں سیف لسانی اور فوج حق بیانی نعمت خداداد ہے واللّٰہ الحمد ۔

دیکھ کر سیف زبانی میری
معترض دل میں کٹا کرتے ہیں

قولہ ...... ”تقریری مباحثہ ہیچمدان کو اب کسی سے منظور نہیں۔“

اقول ...... حضور میں کب اور کس دن یہ جرأت ہوئی تھی کہ کسی سے زبانی گفتگو کی ہو جواب ارشاد ہوا کہ منظور نہیں یہ نامنظوری تو حضور کے حق میں ازلی ابدی اور امر فطری ہے۔

قولہ ...... ” کیونکہ بسبب شیوع تعصبات نفسانیہ کی تہذیب بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ بلکہ منجر بتباغض و تحاسد ہو جاتا ہے۔ الیٰ من جرب المجرب فقد حلت بہ الندامۃ !“

اقول ...... ذرا اس وقت سچ بولئے گا حضور کو کب اور کہاں تقریری مباحثہ کا اتفاق ہوا؟ جو تجربہ کار ہوگئے۔ خاص کر اس اشتہار کے بعد جو (اعلام الناس حصہ ٢ ص ٩٩، ١٠٠) میں ہے۔ کبھی کسی مجمع میں گفتگو کا اتفاق ہوا ہو تو اس سے عاجز کو بھی مطلع فرما دیجئے کہ کہاں ایسا مجمع ہوا، اور کس سے جناب کی گفتگو ہوئی اور کیا خرابی اس میں پیش آئی؟ اور اس عاجز کو تو بار ہا یہ موقع پیش آیا ہے اور سال گزشتہ میں بھی چار ماہ تک ہفتہ وار پادری جی اے نصرانی صاحب سے گفتگو ہوتی رہی جو اپنے مذہب کا ایک جلیل القدر فاضل ہے اور ہر جلسہ میں تخمیناً تین چار ہزار آدمی ہوتے تھے اور اگرچہ یورپین افسر بھی دوستانہ طور پر گفتگو سننے کو کئی ایک آجاتے تھے۔ مگر پولیس وغیرہ کا کوئی انتظام نہ تھا اور کبھی کسی جلسے میں باہم مناظرہ کی بدمزگی تک نہ ہوئی۔ جھگڑا اور فساد تو کیسا؟ اور اسی طرح بمبئی اور مدراس وغیرہ بڑے بڑے شہروں بڑے بڑے مجمعوں میں عاجز کو گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ کبھی درشتی تک کی نوبت نہیں آئی اور فساد تو کیسا؟ ہاں آپ اپنی حالت کے موافق جو کچھ چاہیں خیال فرمالیں۔ مگر عاجز کا تجربہ تو اس کے خلاف ہے۔ جناب مولوی صاحب یہ تو باتیں ہیں صاف یہ ہے کہ کبھی جناب کو ایسا اتفاق ہی نہیں ہوا۔ ہمیشہ گھر میں بیٹھے باتیں بنایا کرتے ہو اس وقت یہ حیلے گھڑنے اور بہانے کرنے لگے۔

کیسے گلے رقیب کے کیا طعن اقربا
تیرا ہی دل نہ چاہے تو باتیں ہزار ہیں

٥٢

صفحہ ١٧٩

ناظرین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ احسن المناظرین صاحب کی تحریر کا بڑا حصہ صرف بے جا اور خلاف واقعہ اور غلط شکایت یا ظرافت میں اور بہت ہی کم نادرست اور مہمل مطلب میں ضائع ہوا ہے۔ اگر مجھ کو یہ خیال نہ ہوتا کہ اکثر احباب کو اس کے جواب کا انتظار ہوگا تو ہرگز اپنی اوقات عزیز کو اس بیکار اور بے سود تقریر کے جواب میں ضائع نہ کرتا۔ بات یہ ہے کہ لمبے چوڑے اشتہار دے کر عوام کو دام میں لانے کے لئے مرزا قادیانی کی یہ ایک چال ہے اور یہی طریقہ حضرت (احسن امروہی قادیانی) نے بھی اختیار کیا ہے۔ ورنہ کیسا مباحثہ تقریری اور کیسا تحریری تقریری کا تو حوصلہ ہی مشکل ہے اور تحریر کا حال بھی ظاہر ہے۔

اچھا کہاں تلک کوئی باتیں اٹھائے گا
ناصح تو خود غلط تری گفتار ہے غلط

قولہ ...... ”آگے رہا تحریری مباحثہ سو وہ بھی میں ان جناب سے کرنا نہیں چاہتا مولوی محمد حسین صاحب لاہوری احقر کے پورے مخاطب ہیں اور نیز مولانا محمد بشیر صاحب درخواست مکرر فرما رہے ہیں۔ لیکن یہ چنداں پورے طور پر راضی نہیں ہوا کچھ نیم راضی سا ہو گیا۔“

اقول ...... مولوی صاحب عاجز تو آپ کے اشتہار کے موافق تقریر مع تحریر کے لئے حاضر ہوا تھا یہ علم نہ ہوا کہ آپ کے اشتہار بھی مثل اشتہارات مرزا صاحب کے محض کاغذی گھوڑے ہیں۔ جو ہوا باندھنے کی غرض سے ہوا پر اڑا دیئے جاتے ہیں ورنہ مباحثہ سے آپ صاحبوں کو کیا کام۔ مگر یہ یاد رہے کہ آپ کا خطاب عام ثابت ہے اور یہ فرمانا آپ کا کہ پورے مخاطب اس کے مولوی محمد حسین صاحب ہیں۔ کون جان سکتا ہے آپ کی نیت کی کس کو خبر ہے؟ ہاں اس قدر عرض خدمت عالی میں ہے۔ اگر قبول ہو جائے کہ مولوی محمد حسین صاحب پر اس وجہ سے کہ وہ یہاں نہیں ہیں اور ان کا آنا بھی مشکل ہے پوری عنایت ہے، تو عاجز چونکہ حضور کے پاس حاضر و موجود ہے۔ ادھوری تو اس پر بھی عنایت ہونی چاہئے۔

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی

اور چونکہ مولانا محمد بشیر صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بھی یہاں تشریف رکھتے ہیں۔ اس لئے باوجود مکرر درخواست کے وہ بھی ناکام ہی رہتے معلوم ہوتے ہیں۔

نہ پہچانو مجھے گر آپ تو کیا
مگر میں آپ کو پہچانتا ہوں

٥٣

صفحہ ١٨١

اور مولوی محمد حسین صاحب پر بھی آپ کی عنایت تو ہے مگر ایسی

اب انہیں لکھتے ہو تم خط میں سراسر دشمن
جن کو لکھتے تھے سدا یار سراپا اخلاص

قولہ ...... ”بحکم آنکہ مان نہ مان میں تیرا مہمان۔ آپ اصرار ہی فرماتے ہیں۔“

اقول ...... مولوی صاحب مہمان بلایا ہوا پیچھے لگایا ہوا ہے اب آپ انکار کریں یا نہ مانیں تو یہ امر دیگر ہے۔ کیا آپ کا اشتہار نسبت علماء امصار و دیار نہیں ہے اور کیا آپ کے اعلام میں خطاب عام نہیں ہے۔ مصرع

انصاف کیجئے پوچھتے ہیں آپ ہی سے ہم

قولہ ...... ”کیا جنگ و جدل سب و شتم ہمز و لمز قتل ناحق کا نام مباحثہ ہے۔“

اقول ......

خیر ہے کس نے کہا شور قیامت تم کو
نالہ ہائے سحری دھوم مچاتے کیوں

مولوی صاحب! آپ کو اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہے۔ آپ میری طرف ایسے جرم کی نسبت کرتے ہوئے خدا سے نہیں ڈرتے۔ جس کا واللہ میں مکتسب و مرتکب نہیں ہوں۔ ”ان الذین یؤذون المؤمنین والمؤمنات بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوا بھتاناً واثماً مبینا“ کی وعید آپ کے دل سے بالکل نکل گئی ہے۔ اگر کسی نے آپ سے کہا ہے وہ آپ کا اور میرا دشمن جھوٹا ہے۔ آپ کو بھی بغیر تحقیق کے اس قدر خلاف واقع بیان کرنا بالکل نازیبا ہے۔

کہے جو عدو سچ نہ جانا کرو
عبث اب نہ مجھ سے بہانہ کرو

قولہ ...... ”جس امر سے احقر کو فراغت ہو چکی ہے پھر دوبارہ اس امر کے واسطے کیوں طلب کیا جاتا ہوں۔“

اقول ...... فراغت ہو چکی تھی تو آخر میں اشتہار کیوں دیئے۔ اس وقت سمجھے نہ تھے یا اس وقت بھول گئے۔ دوسری وجہ آپ کے بلانے کی یہ بھی ہے کہ تصنیف را مصنف نیکو کند بیان مولوی صاحب خود کردہ را علاجے نیست اگر جناب کی ایسی ہلکی طبیعت تھی۔ تو ہرگز اشتہار دینا نہ چاہئے تھا۔

ہم تو کہتے تھے نہ ہم راہ کسی کے لگ چل
اب بھلا ہم ہوئے رسوا سر بازار کہ تو

٥٤

قولہ ...... ”اگر آپ اعلام الناس کا جواب کسی سے تحری

اقول ...... یہ عادت تو آپ کے مرزا قادیانی کی ہے کہ تحریر کروایا کرتے ہیں اور عاجز کو تو جو کچھ آتا ہے خود ہی وجہ سے ایسا فرما دیا تو کچھ مضائقہ نہیں ہے۔

جب نہ ہووے آشنا کوئی
فی الحقیقت ہے حقیقت ہم

قولہ ...... ”جس بحث میں اس ہچمدان کی خطا ہو گی ا میں پورا دخل ہو وہ اس طرف کے ہوں اور دو اس طرف کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کو اس پر گواہ کرتا ہوں۔“ کفی باللہ

اقول ...... الحمد للہ! کہ آپ اس طرف آئے خدا کرے اور اگر واقعی یہ بات آپ نے سچ کہی ہے اور آپ کے ثالثوں کا نام بیان فرمائیے۔ اگر وہ ثالث بالخیر ہوں گے

اس حال کو پہنچے ترے قصے
راضی ہیں گر اعداء بھی

لیجئے اب بات بڑھائی کچھ ضرور نہیں۔ آپ

کیجئے اقرار کچھ ایسا کہ
یعنی آپس میں کسی ڈول

قولہ ...... ”حضرت مولوی صاحب اعلام الناس کا ہو جاوے گا اور پھر دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ یہ ہی تو مبا

اقول ...... حضرت احسن المناظرین صاحب آپ جواب تو تیار ہے۔ اگر وہ کافی نہ ہوا تو میں بھی حاضر ہ چاہئے۔ ثالثوں کے نام بتائیے اور ضرور بتائیے تاکہ جاہلین میں تاحیات جاری رہیں گے۔ اس سے کیا یہ جواب الجواب نہیں رہ سکتا۔ تصفیہ کی وہی صورت صورت عاجز کو بدل منظور ہے۔

٥٥

صفحہ ١٨١

قولہ ...... ”اگر آپ اعلام الناس کا جواب کسی سے تحریر کرائیں گے۔“ اقول ...... یہ عادت تو آپ کے مرزا قادیانی کی ہے کہ وہ آپ سے اور اپنے مریدوں سے بھی تحریر کروایا کرتے ہیں اور عاجز کو تو جو کچھ آتا ہے خود ہی تحریر کر دیتا ہے۔ مگر آپ نے ناواقفیت کی وجہ سے ایسا فرما دیا تو کچھ مضائقہ نہیں ہے۔

جب نہ ہووے آشنا کوئی حقیقت آشنا
فی الحقیقت بے حقیقت ہم نہوں تو کون ہو

قولہ ...... ”جس بحث میں اس ہیچمدان کی خطا ہو گی بعد تصفیہ ایسے ثالثوں کے جن کو علوم رسمیہ میں پورا دخل ہو وہ اس طرف کے ہوں اور وہ اس طرف کے۔ میں ضرور بالضرور اس خطا سے رجوع کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کو اس پر گواہ کرتا ہوں۔ کفی باللہ شہیداً“

اقول ...... الحمدللہ کہ آپ اس طرف آئے خدا کرے جو زبان سے کہا آپ کے دل میں بھی ہو اور اگر واقعی یہ بات آپ نے سچ کہی ہے اور آپ کے دل میں بھی ہے تو اپنے طرف کے دونوں ثالثوں کا نام بیان فرمائیے۔ اگر وہ ثالث بالخیر ہوں گے تو میں بھی انہیں پر حصر کر دوں گا۔

اس حال کو پہنچے ترے غصہ سے کہ اب ہم
راضی ہیں گر اعداء بھی کریں فیصلہ اپنا

لیجیے اب بات بڑھانی کچھ ضرور نہیں۔ آپ ثالثوں کے نام بتا دیجیے۔ مجھے منظور ہے۔

کیجیے اقرار کچھ ایسا کہ پھر انکار نہ ہو
یعنی آپس میں کسی ڈول کی تکرار نہ ہو

قولہ ...... ”حضرت مولوی صاحب اعلام الناس کا جواب دو اور ضرور جواب دو۔ یہی تو مباحثہ ہو جاوے گا اور پھر دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ یہ ہی تو مباحثہ ہے ۔ وگر ہیچ!“

اقول ...... حضرت احسن المناظرین صاحب آپ تو یہیں سے چوکڑی بھولے اعلام الناس کا جواب تو تیار ہے۔ اگر وہ کافی نہ ہوا تو میں بھی حاضر ہوں۔ مگر آپ کو تو اب ثالثوں ہی پر قائم رہنا چاہئے۔ ثالثوں کے نام بتائیے اور ضرور بتائیے تا کہ صورت تصفیہ کی ہو جائے اور تحریرات تو اب جانبین سے تاحیات جاری رہیں گے۔ اس سے کیا ہوتا ہے کوئی سوال بے جواب اور کوئی جواب بے جواب الجواب نہیں رہ سکتا۔ تصفیہ کی وہی صورت ہے جو جناب نے اوّل بیان فرمائی ہے اور یہ صورت عاجز کو بدل منظور ہے۔

٥٥

صفحہ ١٨٣
ایک دم عمر طبیعی ہے یہاں مثل حباب
رکھ مکدر بس اے یار نہ اتنا ہم کو

قولہ ...... "منبروں پر بیٹھ کر مجالس وعظ میں غیبت سب و شتم آبرو ریزی مؤمن مسلمان کی کرنے سے کچھ کامیابی نہ ہوگی۔"

اقول ...... یہ بات تو درحقیقت ٹھیک ہے۔ لیکن اس کی نسبت عاجز کی طرف غلط ہے۔ اگر ذرا بھی غور کیجئے گا تو جناب کو معلوم ہو جائے گا کہ اس کا مصداق کون ہے، عاجز یا جناب؟ کیونکہ میں بحلف عرض کر چکا ہوں مگر آپ بار بار یہ بیجا شکایت جو محض بہتان ہے کئے جاتے ہیں۔ اب اس کا فیصلہ انشاء اللہ تعالیٰ فیصلے کے دن ہو جائے گا۔ "تركت حسابى ليوم الحساب" مگر بہتر ہے کہ آپ غصہ سے درگزر کر کے کچھ عاجز کی بھی سنیں۔

پند گو اب تو ہی فرما کس کو سودا ہے یہ کون
اور کی سنتا نہیں اپنی ہی کہتا جائے ہے

قولہ ...... "اب چند گزارش دربارہ ادلہ یازدہ گانہ جناب کے مختصر مختصر عرض کرتا ہوں۔"

اقول ...... بہتر ہے عاجز بھی اسی کو پسند کرتا ہے۔

قولہ ...... "نمبر : ١، ٤ الفاظ اعلام اور دعوے میں مجملہ نسبت اربعہ سے کون سی نسبت ہے۔"

اقول ...... نمبر ١، ٤ بریں عقل و دانش بباید گریست۔ جناب مولوی صاحب اگر حضور گرہ کی نہیں رکھتے تو جواب کے وقت تھوڑی دیر کے لئے کسی سے ادھار ہی لے لیا کیجئے کہ دوسرے کی بات تو سمجھ میں آ جائے۔ عاجز نے اعلام اور دعوے میں کب نسبت مساوات و لفظ اعلام سے آپ کا دعویٰ ثابت کیا ہے۔ بلکہ نمبر ١، ٤ تک ثبوت خطاب عام میں نقل ہوئے ہیں اور وہ اظہر من الشمس ہے۔ نہ ثبوت دعویٰ میں۔ لہذا گزارش ہے کہ نمبر ١، ٢، ٣، ٤ واپس لے کر اپنے اوّل اور عاجز کے دوسرے خط کو دوبارہ ملاحظہ فرمائیے اور اب سوچ سمجھ کر جواب عنایت فرمائیے۔

قولہ ...... "یہ خطاب کس سے ہے آپ سے یا مولوی محمد حسین صاحب سے پھر اس میں دعویٰ کہاں ہے۔"

اقول ...... جب خطاب عام کا آپ اقرار کر چکے تو اس باب میں اب زیادہ گفتگو کی ضرورت نہیں۔ علاوہ اس کے احسن المناظرین ہونے کا تو آپ کا اقرار ہی ہے تو مولوی محمد حسین صاحب کی کیا خصوصیت ہے؟ جو جو بات حق آپ کے پاس آئے ، آپ کو اس کی طمانیت لازم ہے اور

٥٦

مدعی بنانے میں مجھے اور کسی قاعدے کے بتانے کی ضرو واسطے کافی ہے۔ دیکھو اشتہار مورخہ ١٧؍اکتوبر ١٨٩١ء کو بالکل سید نذیر حسین محدث کو مدعی بیان فرمایا ہے وہ جناب

قولہ ...... "نمبر ٦ تا ٩۔"

اقول ...... اس کو بھی تأمل کے ساتھ ملاحظہ فرمائیے اور اس خط کا جواب الجواب نمبر ٥ اچھی طرح ملاحظہ ہو۔ تکلیف فرمائیں گے اس میں عاجز کو زیادہ گزارش کی ضرو

قولہ ...... "مولوی محمد حسین کے خطاب میں عرض کیا تھ

اقول ...... ناظرین! اب میرے خط نمبر ٢ میں مولوی ص گزارش کو اور مولوی صاحب کے اس جواب کو مکرر مل صاحب کے جواب کو اس عاجز کی گزارش سے کچھ بھی ت صاحب کیا ارشاد فرماتے ہیں؟

قولہ ...... "لیکن بسبب اصرار بار بار کے جناب ک اعلام الناس کا تحریر کرائیں اور ضرور تحریر کرائیں۔"

اقول ...... حضرات ناظرین اب مولوی صاحب سے کریں اور عنقریب جواب اعلام الناس بھی شائع ہو فرماتے ہیں؟

قولہ ...... "لیکن جو کوئی صاحب بھوپال میں تشریف

اقول ...... مولوی صاحب نے پھر ڈیڑھ صفحہ اس م جواب میں سوا اس کے اور کچھ نہیں عرض کرتا۔ "والله صاحب جو لوگ آپ کی باتوں کو بلا تحقیق باور کر لیں کی ایک صورت دکھا دی۔ مگر جب یہ معاملہ علیم وخبیر جواب سوچ لیجئے۔ وہاں کیا جواب دو گے۔

برائی میں ہماری وہ ا
برا سمجھے برا سمجھے بر

٥٧

صفحہ ١٨٣

مدعی بنانے میں مجھے اور کسی قاعدے کے بتانے کی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی کا الہام آپ کے واسطے کافی ہے۔ دیکھو اشتہار مورخہ ١٧؍ اکتوبر ١٨٩١ء کو۔ پس جس قاعدہ سے مرزا قادیانی نے شیخ الکل سید نذیر حسین محدث کو مدعی بیان فرمایا ہے وہ جناب ملاحظہ کرلیں۔ یہی جواب کافی ہے۔

قولہ ...... ’’نمبر ٦ تا ٩۔‘‘

اقول ...... اس کو بھی تامل کے ساتھ ملاحظہ فرمائیے اور عاجز کے خطوط غور سے دیکھئے۔ خاص کر اس خط کا جواب الجواب نمبر ١٥ اچھی طرح ملاحظہ ہو۔ بعد ملاحظہ کے آپ خود دوبارہ جواب کی تکلیف فرمائیں گے اس میں عاجز کو زیادہ گزارش کی ضرورت نہیں۔

قولہ ...... ’’مولوی محمد حسین کے خطاب میں عرض کیا تھا۔ نہ کہ جناب کے۔‘‘

اقول ...... ناظرین! اب میرے خط نمبر ٢ میں مولوی صاحب کے فقرہ نمبر ١٠ کو اور میری اس جگہ کی گزارش کو اور مولوی صاحب کے اس جواب کو مکرر ملاحظہ فرما کر ذرا انصاف فرمائیں کہ مولوی صاحب کے جواب کو اس عاجز کی گزارش سے کچھ بھی تعلق ہے۔ عاجز کیا گزارش کرتا ہے مولوی صاحب کیا ارشاد فرماتے ہیں؟

قولہ ...... ’’لیکن بسبب اصرار بار بار کے جناب کو بھی پوری آزادی دی جاتی ہے کہ جواب اعلام الناس کا تحریر کرائیں اور ضرور تحریر کرائیں۔‘‘

اقول ...... حضرات ناظرین اب مولوی صاحب سے تو انصاف کی امید معلوم؟ آپ ہی انصاف کریں اور عنقریب جواب اعلام الناس بھی شائع ہوا جاتا ہے۔ پھر دیکھیں مولوی صاحب کیا فرماتے ہیں؟

قولہ ...... ’’لیکن جو کوئی صاحب بھوپال میں تشریف لاکر اس فقیر کی آبرو ریزی کریں۔‘‘

اقول ...... مولوی صاحب نے پھر ڈیڑھ صفحہ اس شکایت بے جا سے بھر دیا۔ مگر میں اس کے جواب میں سوا اس کے اور کچھ نہیں عرض کرتا۔ ’’واللّٰہ المستعان علی ماتصفون‘‘ مولوی صاحب جو لوگ آپ کی باتوں کو بلا تحقیق باور کرلیں گے۔ ان کے سامنے تو آپ نے انکار مناظرہ کی ایک صورت دکھا دی۔ مگر جب یہ معاملہ علیم و خبیر کے سامنے پیش ہوگا۔ وہاں کے واسطے بھی کوئی جواب سوچ لیجئے۔ وہاں کیا جواب دو گے۔

برائی میں ہماری وہ اگر اپنا بھلا سمجھے
برا سمجھے برا سمجھے برا سمجھے برا سمجھے

٥٧

صفحہ ١٨٥

قولہ ...... "باوجود ممانعت اپنی سرکار دامت اقبالہا کیونکر قدم رکھ سکتا ہوں۔"

اقول ...... مولوی صاحب جس سرکار عالیہ دامت حشمہا کا نمک کھاتے ہو اس پر یہ تعصب کی بے جا تہمت لگاتے ہوئے آپ کو خدا کا خوف نہیں آتا اور دروغ گویم بروئے تو لا حول ولا قوۃ الا باللہ سرکار عالیہ بھوپال دامت اقبالہا نے کب مجھ کو یا آپ کو ممانعت کی ہے اور کب ایسا ہو سکتا ہے کہ میں اس ریاست میں آزاد ہوں اور آپ نہیں؟ جس طرح تمام رعایا برٹش گورنمنٹ مذہبی معاملات میں آزاد ہے۔ اسی طرح تمام رعایا گورنمنٹ بھوپال لازال شمس العز والاقبال بھی آزاد ہے۔ در باب آزادی مذہب رعایا ملکہ انگلستان اور رعایا ملکہ بھوپال میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ آپ کا صاف اور صریح بہتان ہے۔ اپنی مخدومہ دامت ملکہا پر اگر سچے ہو تو تصدیق کراؤ۔ یہ ایک بے جا اور سراسر غلط الزام ہے۔ اس رحم دل منصف مزاج گورنمنٹ بھوپال پر جس کا ایک عالم شکر گزار ہے اور یہ فقیر عاجز بھی اس سرکار سراپا عدل و داد کا ہر دم شکر گزار اور دعا گو ہے۔

پس از صلوٰۃ وظائف بصد خشوع و خضوع دعا جناب الٰہی میں ہے یہ صبح ومسا
یہ مہر طے کرے جب تک منازل فلکی یہ ماہ اس سے کرے جب تلک کہ کسب ضیا
نماز تا کہ جماعت سے ہووئے مسجد میں زبانوں پر ہو رواں جب تلک کہ نام خدا
یہ سایہ قدِ پاک تو تا قیامت ہو بفرق جملہ رعایا خصوص برسرما

قولہ ...... "جناب من میں آپ سے ہارا اور پھر ہارا۔"

اقول ...... اے حضرت مولوی صاحب یہ مذہبی مذاکرہ ہے یا رندوں کا پھکڑ یا کلب گھر اس گفتگو میں ہار جیت کا کیا کام؟ مگر جناب کی عادت کہاں جائے جو بات دل میں بسی ہوئی ہے۔ زبان پر بھی آئے تو آئے۔

جو دل قمار خانہ میں بت سے لگا چکے وہ کعبتیں چھوڑ کے کعبہ کو جا چکے

قولہ ...... "میدانوں اور اکھاڑوں کی یادو تذکار جناب کے ہی خیال میں بسی ہوئی ہے۔"

اقول ...... ہاتھوں مہندی پیروں مہندی اپنے لچھن اوروں دیندی جناب عالی! جادو وہ جو سر پر بولے جس کے خیال میں بسی ہوتی ہے۔ اس کی زبان پر بھی آئے۔

قولہ ...... "دہلی میں ایسے میدان اور اکھڑے بہت کثرت سے ہو چکے ہیں۔"

اقول ...... حضرت مولوی صاحب دہلی کو امر وہے سے کیا نسبت وہاں کی پنہاریوں کی نقل اور ہجو

٥٨

کی مثل مشہور عالم ہے۔ آپ کا وہی وطن شریف ہے یا کوئی اور قادیان کے مقابل کیونکر نیک نام ہو کہ آج تک نہ کوئی فرشتہ بنا۔ (گو فرشتہ سیرت بہت ہوئے) نہ دہلی کے حق میں نازل ہوئی (دیکھو ازالہ اوہام حاشیہ ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٨٩) ہے۔ اس کے بعد امروہہ۔ کیونکہ وہاں شیخ سدو صاحب کا عاجز ہے۔ دہلی نے کیا قصور کیا جو اس پر عتاب ہو رہا ہے۔

بے وجہ عداوت کا سزا وار
اوروں پہ ہے کیوں ظلم گنہگار

قولہ ...... "اس دعوے کے لئے روپیوں کا پتہ ونشان

اقول ...... چونکہ جناب نے آگے تجارت کا ذکر کیا ہے خیال میں آ گیا۔ بنیا ہے۔ حضرت اگر اس بیان میں ۔ ہزار روپے تو مرزا قادیانی سے دلوا دیجئے کہ مجھے بھی د آدھے پونوں ہی پر معاملہ کرا دیجئے۔ انکا اشتہار میں نے کیوں خلق کی نظر میں سبک ہوتے ہو۔ خیر تو میں تم پر طعنے

قولہ ...... "یہ دس ہزار پانچ سو روپیہ ہو گیا۔ آپ کی فت اطمینان نہ ہو تو حضرت اقدس مرزا قادیانی تمسک لکھے رئیس اور تعلقہ دار اور حارث آدمی ہیں۔ کسی اپنی جائیداد

اقول ...... معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کو ایک رئیس اور ہیں اور اپنی طبیعت کے موافق عاجز کو بھی یہ لالچ دلاتے من وسوسۃ الشیطان الرجیم "جناب مرزا قادیانی کے ڈھونگ اور ڈھکوسلے ہیں۔ اگر آپ آپ اپنا اطمینان کر لیجئے۔ ورنہ پچھتائے گا وہاں سوال حکیم نور الدین کی عمر اور روزگار میں برکت دے کہ مبلغ سے مرزا قادیانی کی مدد کرتے ہیں۔ کیسا تعلقہ، کیسی ۔ حارث ہی کی سی باتیں ہیں۔ ذرا (ازالہ اوہام) کو ملاحظہ فر

٥٩

صفحہ ١٨٥

کی مثل مشہور عالم ہے۔ آپ کا وہی وطن شریف ہے یا قادیان زیادہ نیک نام ہے۔ دہلی امروہے اور قادیان کے مقابل کیونکر نیک نام ہو کہ آج تک نہ کوئی دہلی کا جاہل نبی بنا، نہ کوئی عالم اس کا فرشتہ بنا۔ (گو فرشتہ سیرت بہت ہوئے) نہ دہلی کے حق میں مثل قادیان کوئی آیت قرآن مجید میں نازل ہوئی (دیکھو ازالۃ اوہام حاشیہ ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٣٩ حاشیہ) واقع میں نیک نام تو اول قادیان ہے۔ اس کے بعد امروہہ۔ کیونکہ وہاں شیخ سدو صاحب کا مقام ہے۔ مگر جناب من سزاوار عتاب تو عاجز ہے۔ دہلی نے کیا قصور کیا جو اس پر عتاب ہورہا ہے۔

بے وجہ عداوت کا سزا دار تو میں ہوں
اوروں پہ ہے کیوں ظلم گنہگار تو میں ہوں

قولہ...... ”اس دعوے کے لئے دو بیٹیوں کا پتہ و نشان دے دیا گیا ہے۔“

اقول...... چونکہ جناب نے آگے تجارت کا ذکر کیا ہے۔ عاجز کو دو بیٹیوں کا شبہ ہوا خیر ہوئی کہ فوراً خیال میں آ گیا۔ بیٹوا ہے۔ حضرت اگر اس بیان میں سچے ہو تو قربان علی صاحب لکھنوی کے ایک ہزار روپے تو مرزا قادیانی سے دلوا دیجئے کہ مجھے بھی دس ہزار کی امید ہو۔ اگر پوری نہ دلواسکو آدھے پونوں ہی پر معاملہ کرا دیجئے۔ انکا اشتہار میں نے آپ کو بھیج دیا ہے۔ ورنہ اس بیجا تعلی سے کیوں خلق کی نظر میں سبک ہوتے ہو۔ غیر قومیں تم پر طعنے مارتی ہیں اور تمہیں شرم نہیں آتی۔

قولہ...... ”یہ دس ہزار پانچ سو روپیہ ہو گیا۔ آپ کی تجارت کی بھی بڑی ترقی ہو جائے گی اور اگر اطمینان نہ ہو تو حضرت اقدس مرزا قادیانی تمسک لکھنے کو بھی کہتے ہیں۔ تمسک لکھوا لیجئے وہ ایک رئیس اور تعلقہ دار اور حارث آدمی ہیں۔ کسی اپنی جائیداد کو مکفول کر دیں گے۔“

اقول...... معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کو ایک رئیس اور مالدار آدمی سمجھ کر آپ ان پر ایمان لائے ہیں اور اپنی طبیعت کے موافق عاجز کو بھی یہ لالچ دلاتے ہیں۔ ”اعوذ باللہ السمیع العلیم من وسوسۃ الشیطان الرجیم“ جناب من میں آپ کو مطلع کرتا ہوں کہ یہ سب مرزا قادیانی کے ڈھونگ اور ڈھکوسلے ہیں۔ اگر آپ سے مرزا قادیانی نے کوئی وعدہ کیا ہے تو آپ اپنا اطمینان کر لیجئے۔ ورنہ پچھتائیے گا وہاں سوائے چکنی چپڑی باتوں کے کچھ نہیں اللہ تعالیٰ حکیم نور الدین کی عمر اور روزگار میں برکت دے کہ مبلغ بیس روپے ماہوار کے علاوہ سیکڑوں روپے سے مرزا قادیانی کی مدد کرتے ہیں۔ کیسا تعلقہ، کیسی جاگیر، کہاں کے رئیس، کیسے حارث یہ سب حارث ہی کی سی باتیں ہیں۔ ذرا (ازالۃ اوہام) کو ملاحظہ فرمائیے مرزا قادیانی کیا لکھتے ہیں: ”حبی

٥٩

صفحہ ١٨٦

فی اللہ ”مولوی حکیم نور الدین بھیروی، مولوی صاحب ممدوح کا حال کسی قدر رسالہ فتح الاسلام میں لکھ آیا ہوں۔ لیکن ان کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے میں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کرسکوں۔ (ازالہ اوہام ص ٧٨٨، خزائن ج ٣ ص ٥٢٠) ”لیکن پھر بھی انہوں نے بارہ سو روپے نقد متفرق حاجتوں کے وقت اس سلسلہ کی تائید میں دیا اور اب میں روپے ماہواری دینا اپنے اوپر واجب کر لیا اور اس کے سوا اور بھی ان کی مالی خدمات ہیں جو طرح طرح کے رنگوں میں ان کا سلسلہ جاری ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٩٢٤، خزائن ج ٣ ص ٦٢٣) ”عالی ہمت دوستوں کی خدمت میں گذارش۔ چونکہ طبع کتاب (ازالہ اوہام) میں معمول سے زیادہ مصارف ہو گئے ہیں اور مالک مطبع اور کاتب کا حساب بے باق کرنے کے لئے روپے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا بخدمت جمیع مخلص دوستوں کے التماس ہے کہ حتی الوسع اس کتاب کی خریداری سے بہت جلد مدد دیں جو صاحب چند نسخے خرید سکتے ہیں۔ وہ بجائے ایک کے اس قدر نسخے خرید لیں۔ جس قدر ان کو خریدنے کی خدا داد مقدرت حاصل ہے اور اس جگہ اخویم مکرم مولوی حکیم نورالدین صاحب معالج ریاست جموں کی نئی امداد جو انہوں نے کئی نوٹ اس وقت بھیجے قابل اظہار ہے۔ خدا تعالیٰ ان کو جزاء خیر بخشے۔ ایسا ہی اخویم مکرم فضل دین صاحب بھیروی نے علاوہ اس تین سو روپے کے جو پہلے بھیجا تھا اب ایک سو روپے اور بھیج دیا۔“

مجھے اس امر پر اعتراض نہیں ہے کہ یہ لوگ مرزا قادیانی کو دیتے ہیں یا مرزا قادیانی ان سے کیوں لیتے ہیں۔ اس کا دینا ان کے اعتقاد کے موافق سعادت ہے۔ مگر مولوی صاحب کی تعلی اور لالچ دہی کا جواب ہے۔ دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ ازالہ اوہام کی کل لاگت تخمیناً چار سو کی ہے اور چار سو فضل دین سے آچکے اور حکیم نورالدین کے نوٹ علاوہ رہے اور فی جلد تین روپے اس کی قیمت رکھی ہے۔ جس کے حساب سے اکیس سو ہوئے۔ اب فرمائیے کہ یہ لالچی کون ہے؟ اور یہ کیسے رئیس اور تعلقہ دار مالدار ہیں؟ اگر اس ریاست پر یہ حال ہے تو اور تو میں کچھ نہیں کہتا۔ مگر آپ کے حال پر ’انا للہ وانا الیہ راجعون‘ پڑھتا ہوں۔

قولہ ...... ”پھر گزارش یہ ہے کہ احقر نے کون سے الہام کو بلا بینہ تسلیم کر لیا ہے۔“

اقول ...... گزارش یہ ہے کہ جناب نے مرزا قادیانی کے الہام کو جن بینہ سے تسلیم کیا ہے۔ مہربانی فرما کر ان کو بیان کر دیجئے اور براہین احمدیہ کے الہاموں کا حال اکثر تو ظاہر ہو گیا اور ظاہر

٦٠

صفحہ ١٨٧

ہوتا ہے اور عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ ظاہر ہو جائے گا اور تاویل بعید تو ہر شخص اپنے کلام کی کر لیتا ہے، اس میں مرزا قادیانی کی کیا خصوصیت ہے؟

قولہ ...... ”حسن ظن کی تعریف سے ہمچو ان کو آگاہ کیا جاوے۔“

اقول ...... مرزا قادیانی کو جو الہام ہو وہ صحیح اگرچہ قرآن وحدیث کے خلاف ہو۔ مرزا قادیانی کے مقابل خدا کا کلام ہو یا رسول کا اس کی تحریف کرنی، اس کا نام تاویل رکھنا، تمام مسلمانوں کو خلف سے سلف تک غلطی پر، بلکہ گمراہ جاننا مرزا قادیانی کی حمایت میں مسلمانوں کو جھوٹا سمجھنا یہی تعریف حسن ظن کی ہوگی۔

قولہ ...... ”چند اقوال مولانا اسماعیل شہید علیہ الرحمۃ الغفران کے تقویۃ الایمان سے نقل کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ جناب ان اقوال کی نسبت کیا فرماتے ہیں۔ نمبر ١ تا ٦۔ الیٰ قولہ یہ چند اقوال لکھے گئے اور بھی بہت ایسے اقوال تقویۃ الایمان میں ہیں۔“

اقول ...... آپ کے بہت سے برادر وہ سب اقوال بھی جو آپ نے چھوڑ دیئے ہیں، لکھ کر طبع کر چکے ہیں اور اس کے جواب بھی چھپ چکے ہیں۔ دیکھو اور عاجز کو ان اقوال و دیگر آپ کے برادران کے اقوال کے باب میں جو کچھ عرض کرنا تھا۔ وہ رسالہ ہدایت المومنین میں عرض کر چکا ہے۔ آپ اس کا جواب دیجئے اور ضرور دیجئے عاجز بھی جواب الجواب لکھے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

دوسری عرض اس بات میں یہ ہے کہ مولانا اسماعیل شہید علیہ الرحمۃ کو میں کسی درجہ کا بھی نبی نہیں جانتا اور نہ ان کے کلام کو انبیاء کی وحی کی طرح دخل شیطان سے منزہ مانتا ہوں اور آپ کا اعتقاد مرزا قادیانی کی نسبت یہی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی ارشاد فرماتے ہیں: ”عاجز اس امت پر محدث بامر اللہ ہے اور محدث بھی ایک نبی ہی ہوتا ہے اور اس کی وحی بھی انبیاء کی وحی کی طرح دخل شیطان سے منزہ ہوتی ہے۔“

(توضیح المرام ص ١٨، ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠ ملخص)

لہٰذا اس صورت میں مرزا قادیانی کا کلام آپ پر حجت ہے اور مولانا صاحب کا کلام عاجز پر حجت نہیں میں ان کے کلام کو مثل وحی اور وہ بھی مثل وحی انبیاء کے دخل شیطان سے منزہ ہرگز ہرگز نہیں مانتا بلکہ میرے اعتقاد میں مولانا غیر معصوم تھے اور ان کے کلام میں بھی غلطی کا امکان ہے۔

قولہ ...... ”اور صراط مستقیم میں لکھا ہے۔“

اقول ...... مرزائیا اور جو اقوال صوفیہ کے آپ نے نقل فرمائے ہیں وہ اور ان کے علاوہ اور بہت سے اقوال پادری فنڈر صاحب نے مفتاح الاسرار میں نقل کئے ہیں۔ آپ جواب مفتاح الاسرار کو

٦١

صفحہ ١٨٨

ملاحظہ فرما لیجئے اور اگر حوصلہ ہو تو اس کا جواب لکھئے۔ عاجز جواب الجواب لکھے گا ان شاء اللہ تعالیٰ!

قولہ ...... ”جو اقوال ثانیہ جناب نے مرزا قادیانی کے ازالہ سے نقل فرمائے ہیں۔ وہ یا تو جناب کی خوش فہمی ہے یا محض خلاف نفس الامر۔“

اقول ...... ناظرین مولوی صاحب کے اس قول کو ضرور یاد رکھیں (یا محض خلاف نفس الامر) اب اگر مولوی صاحب قصداً جھوٹ نہیں بولتے تو ان اقوال ثانیہ میں سے ایک تو خلاف نفس الامر بتلا دیں گے اور اگر ان میں سے ایک کو بھی مولوی صاحب خلاف نفس الامر نہ فرمائیں گے تو تمہید میں محض خلاف نفس الامر کہہ دینے سے مولوی صاحب کو اپنا جھوٹ بولنا خود قبول کرنا پڑے گا۔

قولہ ...... ”یہ خطاب نفسانی مولویوں اور خشک زاہدوں سے ہے جو آسمانی دروازوں کو بند کرنا چاہتے ہیں۔“

اقول ...... یہ اوّل ارشاد ہو کہ یہ عرض میری محض خلاف نفس الامر تو نہیں ہے۔ جب واقعی ہے تو مجھے کچھ جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ ہاں آپ جیسے خوش فہم لوگوں کے لئے کسی قدر تشریح کی ضرورت ہے۔ کیوں جناب مولوی صاحب وہ کون سے مولوی صاحبان ہیں۔ جن کی نسبت مرزا قادیانی ایسا فرماتے ہیں۔ وہی جو مرزا قادیانی کو کسی درجہ کا بھی نبی نہیں جانتے۔ وہی جو مرزا قادیانی کی وحی کو انبیاء علیہم السلام کی وحی کی طرح دخل شیطان سے منزہ نہیں مانتے۔ وہی جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی جسمی معراج کے غلط خیال میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کو شعبدہ نہیں کہتے۔ وہی جو مرزا قادیانی کو استعارہ کے طور پر مثلیت میں شریک نہیں سمجھتے اور نہ مرزا قادیانی کو ابن اللہ کہتے ہیں۔ وہی جو حضرت جبرائیل علیہ السلام کا حضور پاک ﷺ کے پاس آنا بموجب حدیث متفق علیہ بروایت عمر بن الخطابؓ مانتے ہیں اور ملائکہ کو ارواح کواکب نہیں جانتے۔ وہی جو لیلۃ القدر کو درحقیقت ایک رات مانتے ہیں اور آیت متضمن ذکر سجدہ آدم کو حضرت آدم ہی کے حق میں جانتے ہیں۔ وہی جو قادیان کی عزت مثل مکہ شریف اور مدینہ منورہ کے قبول نہیں کرتے۔ وہی جو مرزا قادیانی کو مسیح موعود نہیں کہتے۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے ابھی تک منتظر ہیں۔ وہی جو انگریزوں کو دجال نہیں کہتے بلکہ دجال کے حال کو بموجب احادیث صحیحہ کے مانتے ہیں اور ریل کو بموجب ارشاد مرزا قادیانی دجال کا گدھا نہیں کہتے۔ جس پر مرزا قادیانی اقدس سفر کیا کرتے ہیں۔ شاید انہیں عقائد کی وجہ سے مرزا قادیانی ان علماء کے حق میں فرماتے ہیں کہ: ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایک کافر مؤمن ہو جانا تمہارے ایمان لانے سے زیادہ تر آسان ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦ خزائن ج ٣ ص ١٠٥)

٦٢

اور آیت 'واذ تخلق من مرزا قادیانی نے صاف فرما ہی دیا کہ: ”ا ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٩٧، ٢٩٨ خزائن ج ٣ طبقہ میں دس دس بیس بیس نہیں تو دو دو چار چار اور ہم خیال ہوں تو ماسوا کو پھر دائرہ اسلام چار نام بھی ایسے نہیں بتا سکے اور نہ بتا سکتے ہو میں نہیں گزرا تو اس صورت میں مرزا قادیانی پڑے گا۔ نعوذ بالله منها ! اور پھر باوجو کہ: ”مرزا قادیانی نے تو کسی مسلمان کو کافر کیا۔ مولوی اسماعیل شہیدؒ نے مسلمانوں کو مش

آفرین باد تری
عشق کافر کا

قولہ ...... ”آپ کے وعظ میں تو کہیں اس

اقول ...... اگر سچے ہو تو تحقیق کراؤ۔ ورنہ ا علی الکاذبین“

قولہ ...... ”پھر اس پر طرہ یہ کہ خاص خاص

اقول ...... اگر سچے ہوتے تو خود آ کر یا کسی کی تصدیق کروا دیتے اور اب ہی مگر مرزا ق ثابت کئے دیتا ہوں۔ اگر ایمان ہے تو ش ١٧؍اکتوبر ١٨٩١ء) جس میں حضرت شیخ الکل اعلان (٢٣؍اکتوبر ١٨٩١ء) جس میں علاو ”سجلناه من عندنا“ کو بھی ملا رسالہ فتح الاسلام میں دیکھو کیا کیا لکھا ہے وغیرہم کی نسبت جو جو کچھ لکھا ہے اس صاحب یہی انصاف ہے۔ یہی حسن ظن ہے؟ ”کبر مقتاً عند الله ان تقولو

صفحہ ١٨٩

اور آیت ” واذ تخلق من الطین “ کے ماننے والوں کو تھوڑا سا ہیر پھیر کر کے مرزا قادیانی نے صاف فرما ہی دیا کہ : ”ایسے خیال رکھنے والے بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٩٨، ٢٩٧، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢ حاشیہ ) اسی واسطے تو عاجز نے عرض کیا تھا کہ ہر طبقہ میں دس دس بیس بیس نہیں تو دو دو چار چار تو ایسے مسلمان گنوا دیجئے جو مرزا قادیانی کے ہم اعتقاد اور ہم خیال ہوں تو ماسوا کو پھر دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ جناب تو دو چار نام بھی ایسے نہیں بتا سکے اور نہ بتا سکتے ہو۔ کیونکہ ایسے اعتقاد کا ایک مسلمان بھی اس تیرہ سو برس میں نہیں گزرا تو اس صورت میں مرزا قادیانی اور ان کے دو چار مخلصوں کے علاوہ سبھی کو کافر سمجھنا پڑے گا۔ نعوذ باللہ منہا! اور پھر باوجود اس کے کیسی سادگی سے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ : ”مرزا قادیانی نے تو کسی مسلمان کو کافر یا مشرک نہیں کہا اور ایک لفظ بھی دشنام کا استعمال نہیں کیا۔ مولوی اسماعیل شہیدؒ نے مسلمانوں کو مشرک لکھا ہے۔ تقویۃ الایمان کو دیکھو۔“

آفرین باد تری ہمت کو تراب شیدا
عشق کافر کا کیا آپ مسلمان رہا

قولہ ...... ”آپ کے وعظ میں تو کہیں اس سے زیادہ تر سخت الفاظ ہوتے ہیں ۔“

اقول ...... اگر سچے ہو تو تحقیق کراؤ۔ ورنہ اس قدر جواب میری طرف سے کافی ہے۔ ”لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین “

قولہ ...... ”پھر اس پر طرہ یہ کہ خاص خاص اشخاص کا نام لے کر ۔“

اقول ...... اگر سچے ہوتے تو خود آکر یا کسی معتمد کو بھیج کر جامع مسجد میں کسی معتبر کی گواہی سے اس کی تصدیق کروا دیتے اور اب سہی مگر مرزا قادیانی کا خاص خاص اشخاص کو نام لے کر برا کہنا تو میں ثابت کئے دیتا ہوں۔ اگر ایمان ہے تو شرماؤ گے۔ کیونکہ حیاء شعبہ ایمان ہے۔ دیکھو (اشتہار ١٧؍اکتوبر ١٨٩١ء) جس میں حضرت شیخ الکل کی نسبت لاف و گزاف بکا ہے اور دیکھو تقریر واجب اعلان (٢٣؍اکتوبر ١٨٩١ء) جس میں علاوہ درشتی کوئی دقیقہ کذب بھی اٹھا نہیں رکھا اور کتاب ”سجلناہ من عندنا“ کو بھی ملاحظہ فرما لیجئے اور مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھی کی نسبت رسالہ فتح الاسلام میں دیکھو کیا کیا لکھا ہے اور مولوی عبدالرحمن لکھو کے والے اور مولوی عبدالحق وغیرہم کی نسبت جو جو کچھ لکھا ہے اس سب حال سے آپ خبردار ہیں۔ کیوں جناب مولوی صاحب یہی انصاف ہے۔ یہی حسن ظن ہے۔ یہی داب مناظرین دین ہے۔ اسی کا نام تقویٰ ہے؟ ”کبر مقتاً عند اللّٰہ ان تقولوا ما لا تفعلون“

٦٣

صفحہ ١٩١

قولہ ...... ”بعض صاحبوں نے اس کے استغاثہ کا مجھ کو مشورہ دیا۔“ اقول ...... اگر اللہ تعالیٰ مجھ سے مواخذہ پر چھوڑتے تو اس قدر اس بے جا اور غلط شکایت میں اوراق سیاہ نہ کرتے۔ کیونکہ عند اللہ اگر وہ اقوال قابل مواخذہ ہیں تو بغیر آپ کی طول بیانی کے بھی اللہ تعالیٰ مواخذہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے بیان اور نیت سے واقف ہے۔ ہماری شکایت سے کچھ نہیں ہوتا اور وہ ارحم الرحمین مجھ پر اور آپ پر رحم فرمائے ورنہ ہر بات ہماری قابل مواخذہ ہے۔ ”وما ابرئ نفسی ان النفس لامارة بالسوء الا ما رحم ربی ان ربی لغفور رحیم“ مولوی صاحب اگر یہ ارشاد آپ کا سچ ہے تو بے شک مواخذہ کے قابل ہے اور اگر آپ نے گریز مناظرہ کے حیلہ کے لئے عاجز پر تہمت لگائی ہے تو میری حمایت کو اللہ تعالیٰ کافی ہے۔ آپ ضرور استغاثہ کریں۔ خرچ مجھ سے منگالیں ان شاء اللہ تعالیٰ بے حجت و تکرار پیش کروں گا اور عاجز تو کچھ عرض نہیں کر سکتا۔ جو کچھ آپ فرماتے ہیں اگرچہ یہ بالکل غلط ہے۔ مگر نہ اس کا استغاثہ کرنے کو دل چاہتا ہے نہ یہ منظور ہے کہ میری وجہ سے آپ اللہ تعالیٰ کے مواخذہ میں گرفتار ہوں یا کوئی کلمہ گو جو مجھ کو کچھ کہتا ہے یا کوئی بدسلوکی کرتا ہے میری یہ خواہش نہیں کہ یوم حساب میں اس سے مواخذہ ہو۔ اللہ تعالیٰ سب پر رحم فرمائے اور مجھ پر بھی اور اللہ کی حکمت ”لا ملئن جهنم“ پر میرا ایمان ضرور ہے۔ مگر دل نہیں چاہتا کہ ایک شخص بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہو۔ ”ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفرلهم فانك انت العزيز الحکیم“ اور کسی کے برا کہنے کا برا ماننا واقعی لونڈا پن ہے۔

گراز دشنام رنجی وشوی از مدح خوش طفلے
دلے مرد آزماں گردی کہ ہر دو گرددت یکساں

قولہ نمبر ٢: ”مولوی صاحب ذرا اللہ تعالیٰ سے بھی خوف کرنا چاہئے یہ تقریر تو کسی معترض کے اعتراض کی ہے۔ جو مرزا قادیانی نے واسطے جواب دینے کے ازالہ میں نقل کی ہے۔ نہ اس واسطے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت عیسیٰ بن مریم فی الحقیقت اس اعتراض کے مورد ہیں۔“ اقول ...... مولوی صاحب یہ نصیحت تو آپ کی بہت ہی پسندیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھ کو توفیق عنایت کرے۔ مگر یہ ارشاد آپ کا بالکل غلط ہے۔ یہ تقریر کسی معترض کے اعتراض کی نہیں ہے۔ اگر آپ کو کچھ بھی حمیت اسلام باقی ہے تو مرزا قادیانی سے دریافت کر کے اس کتاب اور معترض کا نام تحریر فرمائیے۔ ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا“ ٦٤

قولہ ...... ”اے مولوی صاحب اتق اللہ“ اقول ...... اے جناب احسن المناظرین صاحب اگر رسول سے شرم۔ تو اوّل اس معترض اور کتاب کا نام ب جناب کے کسی معترض نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ الس جو کچھ لام کاف جناب نے عاجز کے حق میں تحریر فرمای بخار نکالا ہے سب بجا اور درست ہے۔ ورنہ میرے طر قولہ ...... ”حضرت میں آپ سے ہارا اور پھر ہارا۔“ اقول ...... واہ جناب صدقے جائیے آپ کے معلم سے نکلتے ہیں۔ گویا پھول جھڑتے ہیں۔ میں سچ عرض ک یہ ٹھٹھول و ظرافت عاجز کو کچھ نہ ابھارتی ہے۔ نہ اشتع اور یہ جو کہیں کہیں عاجز کے قلم سے کوئی بات نکل گئی ۔ عاجز کو اس سے پہلے کبھی اس شکایت و ظرافت لکھنے کا ا

مردے کو جلاتی ہے ت
اعجاز کا اعجاز ہے

قولہ نمبر ٣ : یہ اعتراض بھی ”لا تقربوا الصلوٰۃ “ اقول ...... اے حضرات ناظرین بالتمکین! اللہ تعالیٰ جوئی کی توفیق دے اور میرے بھائی فرضی مسیحیوں کو بھ وہ حق و باطل میں تمیز کریں۔ بات یہ ہے کہ میرے خا فرضی مسیحیوں میں احسن المناظرین اور اپنے مسیح کی فہم نے قصور کیا کہ تفصیل کی ضرورت نہ سمجھا۔ مولوی تفصیل کئے دیتا ہوں اچھی طرح سن لیں۔ اے ناظ اعتراض کرتا یا کسی کو برا کہتا یا اس پر سب وشتم کرنا چا یہ ذریعہ گھڑ لیتے ہیں کہ اوّل کوئی اعتراض اس کی طر کر اس پر سب وشتم کرتے ہیں اور غرض اس سے یہ ہ کے کلام کی وقعت مرزا قادیانی سے یا مرزا قادیانی رہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی ١٧ اکتوبر ١٨٩١ء کو ایک ٦٥

صفحہ ١٩١

قولہ ...... ”اے مولوی صاحب اتق اللہ“ اقول ...... اے جناب احسن المناظرین صاحب اگر واقعی آپ کو قیامت پر ایمان ہے اور اللہ اور رسول سے شرم۔ تو اوّل اس معترض اور کتاب کا نام بحوالہ سنہ طبع و صفحہ بتا دیجئے۔ جس میں بقول جناب کے کسی معترض نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام پر یہ اعتراض کیا ہے۔ بعد صحیح نقل کے جو کچھ لام کاف جناب نے عاجز کے حق میں تحریر فرمایا ہے اور دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں اور بخار نکالا ہے سب بجا اور درست ہے۔ ورنہ میرے طرف سے بھی یہی جواب ہے کہ ”اتق اللہ“

قولہ ...... ”حضرت میں آپ سے ہارا اور پھر ہارا“ اقول ...... واہ جناب صدقے جائیے آپ کے معلم کے کہ اس سفید ریش پر کیا مناسب الفاظ منہ سے نکلتے ہیں۔ گویا پھول جھڑتے ہیں۔ میں صحیح عرض کرتا ہوں۔ جناب کے یہ جا و بے جا طعن، طنز یہ ٹھٹھول و ظرافت عاجز کو کچھ نہ ابھارتی ہے۔ نہ اشتعال کا سبب ہوتی ہے۔ پھر اس سے کیا فائدہ اور یہ جو کہیں کہیں عاجز کے قلم سے کوئی بات نکل گئی ہے۔ یہ جناب ہی کی تقریر کا اعجاز ہے۔ ورنہ عاجز کو اس سے پہلے کبھی اس شکایت و ظرافت لکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔

مردے کو جلاتی ہے تری تازگی تقریر
اعجاز کا اعجاز ہے تقریر کی تقریر

قولہ نمبر ٣: یہ اعتراض بھی ”لا تقربوا الصلوٰۃ“ سے آگے بڑھا ہوا ہے۔ اقول ...... اے حضرات ناظرین با تمکین! اللہ تعالیٰ مجھ کو اور آپ کو اپنی رحمت عام سے اپنی رضا جوئی کی توفیق دے اور میرے بھائی فرضی مسیحیوں کو بھی قلب سلیم اور دماغ روشن عنایت فرمائے کہ وہ حق و باطل میں تمیز کریں۔ بات یہ ہے کہ میرے مخاطب چونکہ ایک مولوی صاحب ہیں اور وہ بھی فرضی مسیحیوں میں احسن المناظرین اور اپنے مسیح کی تمام تصنیف دیکھے بھالے اس وجہ سے میرے فہم نے قصور کیا کہ تفصیل کی ضرورت نہ سمجھا۔ مولوی صاحب اب میں حضور کے ذہن کے موافق تفصیل کئے دیتا ہوں اچھی طرح سن لیں۔ اے ناظرین! اس گروہ کا یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی پر اعتراض کرنا یا کسی کو برا کہنا یا اس پر سب و شتم کرنا چاہتے ہیں تو اپنے دل کے بخار نکالنے کے لئے یہ ذریعہ گھڑ لیتے ہیں کہ اوّل کوئی اعتراض اس کی طرف سے اپنے اوپر گھڑتے ہیں۔ پھر دل کھول کر اس پر سب و شتم کرتے ہیں اور غرض اس سے یہ ہوتی ہے کہ سامعین کے دل میں اس شخص یا اس کے کلام کی وقعت مرزا قادیانی سے یا مرزا قادیانی کے کلام سے زیادہ نہ دکھائی دے یا بالکل جاتی رہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی ١٧؍ اکتوبر ١٨٩١ء کو ایک اشتہار حضرت شیخ الکل جناب مولانا سید محمد

٦٥

صفحہ ١٩٣

نذیر حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کی نسبت لکھا۔ مولانا صاحب نے ایک لفظ بھی سخت مرزا قادیانی کو اپنے کسی خط میں نہیں لکھا تھا۔ جن کی نقل آپ نے ملاحظہ کی ہوگی۔ خواہ مخواہ مولانا صاحب کی طرف سے اپنی نسبت چند بے جا باتیں تراش کر جناب موصوف پر سب و شتم سے اپنا اشتہار بھر دیا۔ پھر اس پر بھی صبر نہ کیا۔ ٢٣؍اکتوبر ١٨٩١ء کو ایک اور تقریر ان کی نسبت چھاپ دی جس سے مرزا قادیانی نے ان کی وقعت کو اپنے زعم باطل اور خیال فاسد میں خلق کے دل سے بالکل اٹھا دینا چاہا تا کہ مرزا قادیانی کے مقابل میں مولانا صاحب کی کسی تقریر یا تحریر یا کسی فتوے کا اثر نہ رہے۔ ایسا ہی جناب احسن الناظرین صاحب نے عاجز کے مقابل اس بہتان بندی اور افتراء پردازی سے خیال کر لیا ہے کہ نصف سے زائد مضمون حضرت کا رنگ برنگ سے اسی میں رنگا ہوا ہے۔

افسوس یہ بھول گئے۔ ” فللّٰہ العزة جمیعا “ اور ” وتعز من تشاء وتذل من تشاء “ اور ” فللّٰہ العزة ولرسولہ وللمؤمنین “ چونکہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے کلام و الہام کو مثل وحی انبیاء کے دخل شیطان سے منزہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس وجہ سے مرزا قادیانی نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ آپ مسیح موعود ہیں تو مثل مسیح کوئی معجزہ دکھلائیے۔ اس بناء پر چند اعتراض اپنے طرف سے تراش کر اپنے بیان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی ایسی صورت دکھائی ہے کہ وہ بالکل بے کار و بے وقعت معلوم ہوں۔ چنانچہ نتیجہ اپنی لمبی چوڑی تقریر کا یہی نکالا ہے کہ: ”یہ عاجز اگر مسیح کے اس فعل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو ان اعجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا اور یہ کام مسیح کے ایسے قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام خیال کرتے ہیں۔“ اس کی تفصیل عاجز آگے بیان کرتا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اسی طرح جب مرزا قادیانی نے اپنی اخلاقی حالت کو اچھا نہ پایا تو اپنے اوپر چند اعتراض فرضی گھڑ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایسے اعتراض کئے جن سے عیسیٰ علیہ السلام کی اس اخلاقی حالت پر جو قرآن مجید ان کی بیان فرماتا ہے۔ دھبہ لگ جائے اور بے وقعت معلوم ہو۔ اسی طرح جب اپنی وحی پر غور کی اور اچھا نہ دیکھا تو چند اعتراض فرضی اپنے اوپر کر کے قرآن مجید کے طرز بیان کی اپنے بیان میں ایسی صورت دکھائی کہ مرزا قادیانی کی وحی سے اس میں کوئی بہت زیادہ خوبصورتی اور عظمت نہ معلوم ہو۔ گویا یہ دکھایا ہے کہ جو اعتراض مرزا قادیانی کے الہام پر ہوتے ہیں۔ وہی قرآن مجید پر بھی ہوتے ہیں۔ نعوذ باللہ! اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلام پر بھی اور جو اعتراض مرزا قادیانی پر ہوتے ہیں وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی، اور معجزات تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مکروہ اور قابل نفرت مرزا قادیانی کی شان اس سے بالا وہ کیوں ایسے مکروہ کام کسی ٦٦

طرف توجہ فرمائیں۔ اب بعد اس تمہید کے عاجز مرزا اور مولوی صاحب کا جواب اور اپنا جواب الجواب پیش خوش فہمی یا نادانی عاجز کی ہے یا جناب احسن الناظرین مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”پہلی نکتہ چ مخالفین کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے۔“ دیکھو (از حقیقت میں یہ نکتہ چینی مرزا قادیانی کی نسبت کی گئی ہو قرآن مجید اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے کلام دیا۔ چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”اگر ہر ایک سخت اور اور ایذا رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے شریف گالیوں سے پر ہے۔“ (ازالہ اوہام حصہ اول ص نسبت مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”کسی نبی کے کلا جیسے انجیل میں ہیں۔“

حاصل یہ کہ (ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٧٢ میں نہیں بیان کر سکتا۔ مگر نمونے کے طور پر کچھ تھوڑا سا

مرزا قادیانی کے بعض اقوال بطور نمونہ

غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے ب کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن ہے....... ایسا ہی کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے بدتر ک آدمی کا نام لے کر یا اشارہ کے طور پر اس کو نشانہ بنا ہے۔ لیکن قرآن شریف میں بعض کا نام ابولہب او مشہور ہے ایسا ہی ولید مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ پ معلوم ہوتی ہیں۔ استعمال کئے ہیں۔“ (ازالہ اوہام پھر ارشاد فرماتے ہیں: ”اور اس جگہ ایک اختیار کر کے چاہا کہ ہم سے نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔ ا ٦٧

صفحہ ١٩٣

طرف توجہ فرمائیں۔ اب بعد اس تمہید کے عاجز مرزا قادیانی کے کلام کی تفصیل اور اپنے اعتراض اور مولوی صاحب کا جواب اور اپنا جواب الجواب پیش کر کے ناظرین سے انصاف چاہتا ہے کہ یہ خوش فہمی یا نادانی عاجز کی ہے یا جناب احسن المناظرین صاحب کی حسن لیاقت ہے؟

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”پہلی نکتہ چینی اس عاجز کی نسبت یہ کی گئی ہے کہ اپنے مخالفین کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے۔“ دیکھو (ازالہ اوہام حصہ اول ص ١٢، ١٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٨) حقیقت میں یہ نکتہ چینی مرزا قادیانی کی نسبت کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو۔ مگر مرزا قادیانی نے اس بناء پر قرآن مجید اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے کلام پر اعتراضوں کی بوچھاڑ کر دی اور جھاڑ باندھ دیا۔ چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”اگر ہر ایک سخت اور آزاردہ تقریر کو محض بوجہ اس کی مرارت اور تلخی اور ایذاء رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے۔“ (ازالہ اوہام حصہ اول ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٩) پھر انجیل شریف کی نسبت مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”کسی نبی کے کلام میں ایسے سخت اور آزاردہ الفاظ نہیں ہیں۔ جیسے انجیل میں ہیں۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ١٦، خزائن ج ٣ ص ١١٠)

حاصل یہ کہ (ازالہ اوہام حصہ اول ص ٢٦ تا ٣٦) تک برابر یہی مذکور ہے۔ جس میں سے کل تو میں نہیں بیان کر سکتا۔ مگر نمونے کے طور پر کچھ تھوڑا سا عرض کرنا بھی ضروری جانتا ہوں۔

مرزا قادیانی کے بعض اقوال بطور نمونہ

غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے۔ ...... ایسا ہی کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف نہ صرف حیوان بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے بدتر قرار دیتا ہے...... ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی خاص آدمی کا نام لے کر یا اشارہ کے طور پر اس کو نشانہ بنا کر گالی دینا زمانہ حال کی تہذیب کے خلاف ہے۔ لیکن قرآن شریف میں بعض کا نام ابولہب اور بعض کا کلب اور خنزیر رکھنا اور ابو جہل تو خود مشہور ہے ایسا ہی ولید مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں۔ استعمال کئے ہیں۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٢٥ تا ٢٧، خزائن ج ٣ ص ١١٥، ١١٦ ملخص)

پھر ارشاد فرماتے ہیں: ”اور اس جگہ ایک نہایت عمدہ لطیفہ یہ ہے کہ ولید مغیرہ نے نرمی اختیار کر کے چاہا کہ ہم سے نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔ اس کے جواب میں اس کے تمام پردے کھولے

٦٧

صفحہ ١٩٤

گئے۔

٭ (ازالہ اوہام حصہ اول حاشیہ ص ٢٩، ٣٠، خزائن ج ٣ ص ١١٧)

ناظرین! آپ کو یاد ہوگا کہ احسن المناظرین صاحب نے فرمایا تھا کہ یہ تو کسی معترض کی تقریر مرزا قادیانی نے جواب دینے کے لئے نقل کی ہے۔ اب میں عرض کرتا ہوں کہ مولوی صاحب اس کا نام بتلائیں کہ کس کافر نے کون سی کتاب میں یہ تقریر کی ہے۔ ہرگز مولوی صاحب نہ بتا سکیں گے تو اب اے ناظرین! آپ غور کریں کہ جناب احسن المناظرین نے یہ کیسا دھوکا دینا چاہا اور کتنا قبیح مغالطہ دیا ہے کہ جس کی ایک ذرہ اصل نہیں ہے۔ حضرات مرزا قادیانی نے اس لمبی چوڑی تقریر کا نتیجہ نکالا ہے کہ : ”یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مؤمنین سے مداہنہ کی امید مت رکھو۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول، خزائن ج ٣ ص ١١٧)

اس نتیجہ سے بھی صاف یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کسی معترض کی تقریر مرزا قادیانی نے نقل نہیں کی۔ اصل بات وہی ہے جو عاجز نے عرض کی ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ میرا کلام بھی مثل قرآن مجید بے مثل و بے مانند ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی پر جو نکتہ چینی کی گئی انہوں نے بتلا دیا کہ یہ اعتراض نعوذ باللہ قرآن شریف پر بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی ارشاد فرماتے ہیں: ”وہ حکمت جو میرے منہ سے نکلتی ہے اگر کوئی بھی اس کی مانند کہہ سکتا ہے تو سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں آیا۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٤٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٤)

یہ ارشاد مرزا قادیانی کا مقابل اس آیۂ کریمہ کے ہے۔ ”وان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ“ یہ دعویٰ مرزا قادیانی کا بالکل اس مصرع کے مطابق ہے مصرعہ

مینڈکی کو بھی لو زکام ہوا

اب چونکہ مرزا قادیانی مسیح موعود یا ان کا مثیل بننا چاہتے ہیں۔ تو اسی طرح اپنی طرف سے اپنے اوپر ایک اعتراض گھڑ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اخلاق اور کلام اور معجزات پر ایسے اعتراض کئے ہیں کہ جس سے یہ نتیجہ پیدا ہو کہ حضرت عیسیٰ میں کوئی ایسی اعجوبہ بات نہ تھی جو مرزا قادیانی میں نہیں ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی ارشاد فرماتے ہیں۔ ”مشابہت کے لئے مسیح کی پہلی زندگی کے معجزات جو طلب کئے جاتے ہیں اس بارہ میں میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ احیاء جسمانی کچھ چیز نہیں۔ احیاء روحانی کے لئے یہ عاجز آیا ہے اور اس کا ظہور ہوگا۔ ماسواء اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو محض افتراء کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٦، خزائن ج ٣ ص ١٠٥)

٦٨

صفحہ ١٩٥

پھر فرماتے ہیں کہ: ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے۔ مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں مرے گا۔“

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص٢، خزائن ج٣ ص١٠٤)

اب اسی اوّل نکتہ چینی کی بناء پر جو جو باتیں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بنائی ہیں۔ وہ ملاحظہ ہوں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اخلاق کی نسبت مرزا قادیانی کا بیان

”اس جگہ حضرت مسیح کی تہذیب اور اخلاقی حالت پر ایک سخت اعتراض وارد ہوتا ہے۔ کیونکہ متی ٢٣، باب میں وہ فرماتے ہیں کہ فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہوئے ہیں یعنی بڑے بزرگ ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ وہ لوگ یہودیوں کے مقتداء کہلاتے تھے اور قیصر کے دربار میں بڑی عزت کے ساتھ خاص رئیسوں میں بٹھائے جاتے تھے۔ پھر باوجود ان سب باتوں کے انہیں فقیہوں اور فریسیوں کو مخاطب کر کے حضرت مسیح نے نہایت غیر مہذب الفاظ استعمال کئے۔ بلکہ تعجب تو یہ ہے کہ ان یہودیوں کے معزز بزرگوں نے نہایت نرم اور مؤدبانہ الفاظ سے نِرا سر انکساری کے طور پر حضرت مسیح کی خدمت میں یوں عرض کی...... اور پھر اسی پر بس نہیں کی۔ بلکہ وہ ان معزز لوگوں کو ہمیشہ دشنام دہی کے طور پر یاد کرتے رہے۔“

(ازالہ اوہام ص٩ تا ١١ حاشیہ، خزائن ج٣ ص١٠٧، ١٠٨)

پھر لکھتے ہیں کہ: ”مسیح کا یہ کہنا سچ ہے کہ میں نیک نہیں ہوں۔“

(ازالہ اوہام ص١٢، خزائن ج٣ ص١٠٨)

پھر لکھتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح کی سخت زبانی تمام نبیوں سے بڑھی ہوئی ہے اور انجیل سے ثابت ہے کہ اس سخت کلامی کی وجہ سے کئی مرتبہ یہودیوں نے حضرت مسیح کے مارنے کے لئے پتھر اٹھائے اور سردار کاہن کی بے ادبی سے حضرت مسیح نے اپنے منہ پر طمانچے بھی کھائے۔“

(ازالہ اوہام حصہ اوّل حاشیہ ص١٦، خزائن ج٣ ص١١٠)

عاجز نے مرزا قادیانی کے ان تمام بیانات کی نسبت اپنے خط نمبر٢ میں صرف یہ لکھا ہے کہ افسوس اب غیر قومیں کیا کہیں گی۔ میری غرض ان الفاظ سے صرف اسی قدر ہے کہ جس رنگ سے مرزا قادیانی نے بیان فرمایا ہے۔ اس سے غیر قومیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ مثلاً ایک منکر قرآن کہہ سکتا ہے کہ قرآن مجید کی سخت بیانی کی نسبت مرزا قادیانی کا جو مسلمان ہیں یہ بیان ہے۔ یہودی کہہ سکتا ہے کہ ایک مسلمان کا مسیح کے معجزات اور ان کی اخلاقی حالت کی نسبت یہ بیان

٦٩

صفحہ ١٩٧

ہے۔ اب ناظرین غور فرما سکتے ہیں کہ اس قدر اس محل پر عاجز کا عرض کرنا بے جا ہے یا بجا اور مولوی صاحب کا اس موقع پر عاجز کی نسبت یہ غصہ اور طول کلامی درست ہے یا سراسر تحکم؟

قولہ ...... ”ایھا الناظرین ذرا ازالہ کو دیکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس مرزا قادیانی کیا لکھتے ہیں۔ واضح ہو کہ کوئی معترض حضرت اقدس مرزا قادیانی پر یہ اعتراض کرتا ہے کہ تمہارے کلام میں سب و شتم ہے۔ حضرت اقدس مرزا قادیانی اس کا جواب یہ دیتے ہیں ۔“

اقول ...... اے جناب احسن المناظرین ذرا ہوش میں آکر بات کرو۔ دوبارہ میرے خط نمبر ٢ کو ملاحظہ فرماؤ عاجز نے یہ کب لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کسی کے جواب میں نہیں لکھتے۔ میرا اعتراض تو مرزا قادیانی کی طرز ادا پر ہے۔ کیا جب کوئی ہم کو کہے کہ تم گالیاں بہت بکتے ہو تو معاذ اللہ ہم کو یہ جواب دینا زیبا ہے کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ”لاحول ولا قوۃ الا باللہ“ مجھے یاد آیا کہ دہلی میں ایک صاحب مطبع پر جو ابھی تک زندہ ہے۔ جس کا نام ظاہر کرنا میں نہیں چاہتا۔ لغت النساء کے چھاپنے پر مقدمہ فوجداری قائم ہوا۔ فرد جرم قرار داد لگائی گئی۔ بحث کے وقت اس بے حیا ملزم نے مجسٹریٹ کے روبرو آیہ حرث بیان کر کے کہا کہ قرآن میں بھی فرج اور آسنوں کا ذکر ہے۔ مجسٹریٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ سو روپے جرمانہ اصل جرم کی سزا میں، بیس روپے جرمانہ بابت اس جرم کے کہ ملزم نے ہمارے مواجہ میں قرآن شریف کی نسبت گستاخی کی۔

ناظرین ! اس نصرانی مجسٹریٹ کے انصاف کو ملاحظہ فرمائیے اور قادیانی مولوی صاحب کی دلیری کو کہ کس جوش کے ساتھ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر کوئی معترض اعتراض کرتا ہے کہ تمہارے کلام میں سب و شتم ہے۔ مرزا قادیانی یہ جواب دیتے ہیں کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے۔ استغفر اللہ ! خوش اعتقادی اور خوش فہمی احسن المناظرین کی کس حد تک پہنچی ہے۔ اے مولوی صاحب آپ کو کیا ہو گیا۔ آپ تو محی السنہ مشہور تھے۔

کمین میں ہے مؤمن وہ کافر صنم
بس اب پاسبانی دین ہو چکی

قولہ ...... نمبر ٤ : ”یہ بھی بجواب معترض کہا گیا ہے۔“

اقول ...... جوابہ مر آنفا۔

قولہ ...... نمبر ٥: ”میں آپ سے دریافت کرتا ہوں کہ جو شخص بحوالہ آیت ”انی اخلق لکم من الطین“ کے یہ اعتقاد رکھے ۔“

٧٠

اقول ...... مولوی صاحب بحوالہ آیت کسی مسلماں اپنا یا کسی کا بیان کیا ہو تو اس کا حوالہ صحیح دیجئے۔ یہ تو باتیں ہیں۔ کسی تاریخ ہی سے یہ ثابت کر دو کہ کبھی اعتقاد تھا۔ ورنہ ان گپوں کے لگانے سے کیا حاصل عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات پر حملہ کرنا ہے۔ اب بسیار۔ بات گھڑ لی جس کی کوئی اصل دنیا کے تمام انشاء اللہ تعالیٰ آپ قیامت تک نہ ثابت کر سکیں کریمہ پر اور معجزات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اعتر اسے مشرک اور خارج از دائرہ اسلام کہنا بھی غلط ہے۔ ایسے تو لاکھوں ہندوستان میں تھے اور اب بھ وطن شریف میں ہزاروں موجود ہیں اور اس پر بھی درجہ کا بھی نبی نہیں مانتا۔ ان کے کلام کو وحی بھی نہ منزہ سمجھوں پھر ان کا قول مجھ پر کیونکر حجت ہو سکتا فرماتے ہیں۔

ناظرین ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مرزا پر اور آیت قرآن پر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ماننے والے اور یہ معجزات جن کا اس آیت میں ف مرزا قادیانی کے مقابل کوئی شخص یہ آیت پیش نہ ک عاجز مولوی صاحب کے جواب الجواب نمبر ٦ مج مرزا قادیانی کا مطلب دیگر ہے۔ ”اللھم اھدنا ا قولہ ...... نمبر ٦: ”کیا مجازی طور پر اور عرفاً کسی ک کہ باپ کے لفظ سے حقیقی باپ مراد ہو ...... مرزا ق باپ لکھ دیا ہے۔“

اقول ...... آپ اس قدر تکلیف کیوں فرماتے ہ آپ کے مسیح کا اقرار میں نے نقل کیا ہے۔ وہ فر اعتقاد اور خیال تھا جو سب مسلمانوں کا ہے۔“

صفحہ ١٩٧

اقول...... مولوی صاحب بحوالہ آیت کسی مسلمان خاص کر کسی موحد نے کسی کتاب میں یہ اعتقاد اپنا یا کسی کا بیان کیا ہو تو اس کا حوالہ صحیح دیجئے۔ یہ تو آپ کی اور آپ کے مرزا قادیانی کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔ کسی تاریخ ہی سے یہ ثابت کر دو کہ کبھی کسی زمانہ میں موحدین کا بحوالہ اس آیت کے یہ اعتقاد تھا۔ ورنہ ان گپوں کے لگانے سے کیا حاصل۔ اصل مقصود آپ کے مرزا قادیانی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات پر حملہ کرنا ہے۔ اب کوئی بہانہ تو ضرور چاہئے۔ لہٰذا خوئے بدرا بہانہ بسیار۔ بات گھڑ لی جس کی کوئی اصل دنیا کے تمام اہل اسلام میں خاص کر موحدین کی ذات میں تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ قیامت تک نہ ثابت کر سکیں گے جب یہ بات غلط ہے تو آپ کا اس آیت کریمہ پر اور معجزات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اعتراض غلط بر غلط اور اس بناء پر مسلمانوں کو بحوالہ آیت مشرک اور خارج از دائرہ اسلام کہنا بھی غلط اور مولوی محمد اسماعیل شہیدؒ نے جن کو مشرک فرمایا ہے۔ ایسے تو لاکھوں ہندوستان میں تھے اور اب بھی ہیں۔ شیخ سدو کے ماننے والے تو آپ ہی کے وطن شریف میں ہزاروں موجود ہیں اور اس پر بھی میں عرض کر چکا ہوں کہ مولوی اسماعیل کو میں کسی درجہ کا بھی نبی نہیں جانتا۔ ان کے کلام کو وحی بھی نہیں سمجھتا۔ چہ جائیکہ اس وحی کو دخل شیطان سے منزہ سمجھوں پھر ان کا قول مجھ پر کیونکر حجت ہو سکتا ہے۔ آپ ناحق بار بار ان کے حوالہ کی تکلیف فرماتے ہیں۔

ناظرین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مرزا قادیانی نے خود ہی اعتراض گھڑ کے اہل اسلام پر اور آیت قرآن پر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات پر حملہ کر دیا۔ تاکہ یہ آیت اور اس کے ماننے والے اور یہ معجزات جن کا اس آیت میں ذکر ہے۔ سب بے وقعت معلوم ہونے لگیں اور مرزا قادیانی کے مقابل کوئی شخص یہ آیت پیش نہ کر سکے۔ چنانچہ اس کا جواب کسی قدر تفصیل سے عاجز مولوی صاحب کے جواب الجواب نمبر ٦ میں بیان کرتا ہے۔ یہاں اس قدر کافی ہے کہ مرزا قادیانی کا مطلب دیگر ہے۔ ”اللهم اهدنا الصراط المستقيم“

قولہ...... نمبر ٦:” کیا مجازی طور پر اور عرفاً کسی مربی کو باپ نہیں کہہ دیا کرتے۔ یہ کیا ضرور ہے کہ باپ کے لفظ سے حقیقی باپ مراد ہو...... مرزا قادیانی نے مجازاً یوسف نجار کو عیسیٰ علیہ السلام کا باپ لکھ دیا ہے۔“

اقول...... آپ اس قدر تکلیف کیوں فرماتے ہیں۔ میرے نمبر ٧ کو ملاحظہ فرما لیجئے۔ جس میں آپ کے مسیح کا اظہار میں نے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ:”دس بارہ برس پہلے میرا بھی یہی اعتقاد اور خیال تھا جو سب مسلمانوں کا ہے۔“

٧١

صفحہ ١٩٩

بس اب جناب مولوی صاحب آپ کو مرزا قادیانی کے دوسرے اقوال نقل کرنے اور زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ جواب کافی ہے جو مرزا قادیانی نے اپنے اظہار میں اپنے قلم سے لکھا ہے کہ دس بارہ برس پہلے یہی اعتقاد تھا۔ اب بدل گیا۔ اس میں کسی کو کیا زور ۔ کیونکہ ازالہ مرزا قادیانی کا اب تیار ہوا ہے اور ایک یہ بھی جواب ہے کہ نیچریوں، آریوں، یہودیوں وغیرہ کے سمجھانے کو یہ بات لکھ دی ہے کہ مسیح یوسف نجار کا بیٹا ہے اور کوئی مسلمان دریافت کرے تو کہہ دیا کہ مجازی طور پر لکھا ہے۔ دوسرے مقاموں میں دیکھ لو۔ چنانچہ خواجہ یوسف صاحب وکیل علی گڑھ سے ٢١؍ اکتوبر ١٨٩١ء کی شب کو جو زبانی گفتگو مرزا قادیانی کی ہوئی۔ اس کے سننے والے ابھی زندہ ہیں۔ لیجئے حضرت مولوی صاحب دو جواب تو میں نے بتا دیئے۔ اب حضور کو عاجز کے مقابل تو جواب لکھنے کی تکلیف اٹھانی عبث ہے۔ ہاں بہت سے بھولے ناواقف پیسے کے اندھے ایسے بھی ہوں گے جو آپ کے ان ابلہ فریب باتوں پر فریفہ ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وتوفیق سے بچائے۔

برا ہے عشق کا انجام یا رب
بچانا فتنہ آخر زمان سے

قولہ ....... ”آگے رہی بحث معجزات کی کہ فن نجاری میں بھی کوئی معجزہ واقع ہو سکتا ہے یا نہیں۔ سو گزارش یہ ہے کہ فن نجاری کوئی معیوب فن نہیں ہے۔“

اقول ....... عاجز نے تو معیوب نہیں لکھا بلکہ معنا یہ لکھا ہے کہ جو اسے معیوب سمجھے اور کسی کی عزت پر یہ لفظ کہہ کر داغ لگانا چاہے کہ فلاں بڑھئی کا لڑکا ہے۔ اس کی کیا عزت تو یہ کہنے والا خارج اس عقل و دین ہے۔ خاص کر اس صورت میں کہ وہ بڑھئی کا لڑکا ہو بھی نہیں تو اس شخص نے جھوٹ بھی بولا۔ یہ تو جناب کی عبارت اردو میں اور وہ بھی ایسی موٹی بات میں خوش فہمی ہے کہ آپ یہ فرماتے ہیں کہ فن نجاری معیوب نہیں۔

ناظرین! اب میں آپ کو مرزا قادیانی کی عبارت سناتا ہوں اور مولوی احسن صاحب کو اس اللہ تعالیٰ بزرگ اور برتر کی قسم دے کر جس کے قبضہ قدرت میں ہدایت وضلالت عزت وذلت ہے۔ یہ کہتا ہوں کہ میرے وہ الفاظ نقل کر کے بتائیں جن سے میں نے فن نجاری کے معیوب ہونے کے طرف اشارہ کیا ہو یا ان سے ضمناً یہ اشارہ پیدا ہوتا ہو۔ اگر مولوی صاحب نقل نہ کر سکے اور ضرور نقل نہیں کرسکیں گے تو آپ کو میری تمہید بالا کے یقین کرنے میں کوئی شبہ کا موقع نہ رہے گا اور اس گروہ کی عادت سے واقف ہو جاؤ گے اور میرے خط نمبر ٢ میں مرزا قادیانی کے فقرہ

٧٢

نمبر ٦ کو اور وہاں جو کچھ میں نے اپنی رائے لکھی ہو جواب اور عاجز کے جواب الجواب کو دیکھو اور انصاف

مسلمانوں ذرا

ہاں اب میں چند اعتراض کرتا ہوں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قو الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طير دیتا ہوں تم کو مٹی سے صورت جانور کی۔ پھر اس میں کے حکم سے۔﴾

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس قول کی ت

قولہ ...... ”ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید نہیں۔ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی ہ میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے کھلونے بہت بنتے ہیں اور یورپ اور امریکہ کے مل نکلتے آتے ہیں ....... ماسواہ اس کے یہ بھی قرین قیاس مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظ

(ازالہ اوہام حصہ او

(اب لہو ولعب کل معجزوں کی نسبت فرما

ناظرین! آپ نے سمجھا کہ اس تقریر ۔ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات جس کا وہ دعویٰ فرماتے اس طرف توجہ فرمائیں۔ کیونکہ اس لہو ولعب سے م اس سے بالا واعلیٰ ہے۔ اسی محل پر واسطے بے وق

مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”تاریخ سے ثابت ہے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں والے تھے۔“

اور اسی موقع پر مرزا قادیانی نے بھی تقر

٧٣

صفحہ ١٩٩

نمبر ٦ کو اور وہاں جو کچھ میں نے اپنی رائے لکھی ہو آپ خود ملاحظہ کرلو۔ پھر مولوی صاحب کے جواب اور عاجز کے جواب الجواب کو دیکھو اور انصاف کرو۔ مصرعہ

مسلمانوں ذرا کہنا خدا لگتی

ہاں اب میں چند اعتراض کرتا ہوں۔ مولوی صاحب ان اعتراضوں کو اٹھائیں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول یہ نقل فرمایا ہے۔ ”انی اخلق لکم من الطین کهیئة الطیر فانفخ فیہ فیکون طيراً باذن الله (آل عمران:٤٩)“﴿میں بنا دیتا ہوں تم کو مٹی سے صورت جانور کی۔ پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ ہو جائے اڑتا جانور اللہ کے حکم سے۔﴾

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس قول کی نسبت مرزا قادیانی کا عرفان یہ ہے۔

قولہ ...... ”ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید نہیں۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بکتے ہیں اور یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں کثرت سے ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے آتے ہیں ...... ماسواء اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔“

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٣٠٤، ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥، ٢٥٦ حاشیہ)

(اب لہو ولعب کل معجزوں کی نسبت فرمادیا)

ناظرین! آپ نے سمجھا کہ اس تقریر سے مرزا قادیانی کا مقصد صرف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات جس کا وہ دعویٰ فرماتے ہیں۔ اسی وقعت کے قابل نہیں کہ مرزا قادیانی اس طرف توجہ فرمائیں۔ کیونکہ اس لہو ولعب سے مرزا قادیانی کا کیا تعلق۔ مرزا قادیانی کی شان تو اس سے بالا و اعلیٰ ہے۔ اسی محل پر واسطے بے وقعت دکھانے ان معجزات کے ایک یہ تقریر بھی مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ حاشیہ)

اور اسی موقع پر مرزا قادیانی نے بھی تقریر اپنی غرض کے ثبوت میں گھڑ دی۔

٧٣

صفحہ ٢٠١

”حضرت مسیح بن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام در حقیقت ایک ایسا کام ہے کہ جس میں کلون کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤، ٢٥٥ حاشیہ)

حاصل ان تمام تقریروں کا مرزا قادیانی نے یہ نکالا ہے۔

”بہر حال مسیح کی یہ فریبی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں ہے۔ جیسا کہ عوام الناس خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا ہوں کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)

ناظرین! اب تو آپ کو راز دلی اور مقصد اصلی مرزا قادیانی کا معلوم ہو گیا۔ لو حضرت مولوی صاحب جب تو کوئی اعتراض میں نے نہیں کیا تھا۔ اب جناب کے دل بہلانے کے لئے کچھ اعتراض کرتا ہوں اور اب کے جواب الجواب میں ان شاء اللہ تعالیٰ پوری تفصیل کر دوں گا۔

خواہ کسی نیت سے کہے حضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنی کنیت ابو عیسیٰ مت رکھو۔ جب حضرت ﷺ اس قدر کو بھی منع کریں تو مرزا قادیانی کا مجازاً یہ کہنا اور آپ کا حمایت کرنا سب مردود ہے۔

کتاب وسنت سے ثابت کر دو۔ ورنہ خدا سے شرماؤ۔

ہیں کہ میں مٹی کی چڑیا اڑتی ہوئی بناتا ہوں۔ اگر کمہار کے کام سے زیادہ مشابہت کے سبب سے یہ الزام حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مرزا قادیانی لگاتے ہیں تو زیادہ بیوقوفی نہ ظاہر ہوتی۔ کجا نجاری اور کجا مٹی کا کام، قادیان یا امروہے۔ میں ایسے بڑھئی ہوں گے جو کمہار کا کام بھی جانتے ہوں اصل بات یہ ہے کہ دروغ گورا حافظہ نباشد۔

کے وقت شعبدہ بازی اور صنعتوں کا زور تھا۔ اگر سچے ہو تو اس تاریخ کا حوالہ مع سنہ طبع و صفحہ و سطر بتلا دو ورنہ افتراء ہے توبہ کرو۔

٧٤

یا شعبدہ اور نیرنجات کے ذریعہ بطور لہو و لعب حضرت غلط اور مخالف کتاب اللہ ہے۔ تمہارے مرزا قادیانی مرزا غلط کہتا ہے۔ مسیح کے معجزات میں جس قدر صو ہیں۔ عیسیٰ نہ صنعت و حرفت جانتا تھا نہ شعبدہ باز تھا بطور لہو ولعب یہ کام کرتا تھا۔ بلکہ بات اصل یہ ہے سے کرتا تھا اور وہ کیا کرتا تھا اور کیا کر سکتا تھا۔ جو خاص بندہ تھا۔ جسکو ہم نے سرفراز کیا اور اپنے خز خلاف کہتا ہے وہ ہمارا مخالف ہے اور جھوٹا ہے۔’ اذ

نعمتی علیک وعلى والدتك اذ ايدتـ وكهلا واذ علمتك الكتب والحكمة وا كهيئة الطير باذنى فتنفخ فيها فتكون باذني واذ تخرج الموتى باذنى وا بالبينت فقال الذين كفروا منهم ان هذا

جب کہے گا اللہ، اے عیسیٰ مریم کے، جب مدد کی میں نے تجھ کو روح پاک سے، تو کلام سکھائی میں نے تجھ کو کتاب اور سچی باتیں اور تور صورت میرے حکم سے پھر دم مارتا تو اس میں تو ہو پیٹ کے اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اور ج اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے (یعنی لایا تو جو ان میں کافر تھے کہنے لگے کہ اور کچھ نہیں یہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سحر ہیں۔ ذرا ا منهم ان هذا الا سحر مبین“ اور مرزا نسبت ایک یہ بھی رائے ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طر آسکیں۔“

٥

صفحہ ٢٠١

یا شعبدہ اور نیرنجات کے ذریعہ بطور لہو و لعب حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ معجزات دکھاتے تھے۔ بالکل غلط اور مخالف کتاب اللہ ہے۔ تمہارے مرزا قادیانی کی اس ساری تقریر کا اللہ تعالیٰ رد فرماتا ہے کہ مرزا غلط کہتا ہے۔ مسیح کے معجزات میں جس قدر صورتیں مرزا قادیانی نے بیان کی ہیں وہ سب غلط ہیں۔ عیسیٰ نہ صنعت و حرفت جانتا تھا نہ شعبدہ باز تھا اور نہ نیرنجات کے طور پر نہ مسمریزی طریق پر بطور لہو و لعب یہ کام کرتا تھا۔ بلکہ بات اصل یہ ہے کہ جو کچھ وہ کرتا تھا ہمارے فضل اور ہماری قوت سے کرتا تھا اور وہ کیا کرتا تھا اور کیا کر سکتا تھا۔ جو کچھ کرتے تھے ہم کرتے تھے۔ عیسیٰ ہمارا ایک خاص بندہ تھا۔ جسکو ہم نے سرفراز کیا اور اپنے خزانہ سے یہ نعمت عنایت کی جو کوئی اس کے کچھ خلاف کہتا ہے وہ ہمارا مخالف ہے اور جھوٹا ہے ۔” اذ قال اللہ یعیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المھد وکہلا واذ علمتک الکتب والحکمۃ والتورۃ والانجیل واذ تخلق من الطین کھیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیھا فتکون طیراً باذنی وتبری الاکمہ والابرص باذنی واذ تخرج الموتی باذنی واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتھم بالبینت فقال الذین کفروا منھم ان ھذا الا سحر مبین“

جب کہے گا اللہ ، اے عیسیٰ مریم کے بیٹے یاد کر میرا احسان اپنے اوپر اور اپنی ماں پر جب مدد کی میں نے تجھ کو روح پاک سے ، تو کلام کرتا لوگوں سے گود میں اور بڑی عمر میں اور جب سکھائی میں نے تجھ کو کتاب اور سچی باتیں اور توریت اور انجیل اور جب تو بناتا مٹی سے جانور کی صورت میرے حکم سے پھر دم مارتا تو اس میں تو ہو جاتا جانور میرے حکم سے اور چنگا کرتا ماں کے پیٹ کے اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اور جب تو نکال کھڑے کرتا مردے میرے حکم سے اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے (یعنی قتل کرنے نہ دیا) جب تو ان کے پاس نشانیاں لایا تو جو ان میں کافر تھے کہنے لگے کہ اور کچھ نہیں یہ تو جادو ہے صریح۔

اعتراض ششم..... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ ماسوا اس کے کوئی بات نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سحر ہیں۔ ذرا اچھی طرح پھر سن لو۔ ”فقال الذین کفروا منھم ان ھذا الا سحر مبین“ اور مرزا قادیانی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی نسبت ایک یہ بھی رائے ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ: ”ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل التّرب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦)

٧٥

صفحہ ٢٠٢

اب کان کھول کر سنئے کہ مسمریزم سحر کو کہتے ہیں۔ دیکھو طلسمات فرنگ و تاثیر الانظار و تاثیر القلوب کتب علم مسمریزم سب متفق ہیں کہ مسمریزم سحر ہے اور اس کے آلہ کا نام کرسٹل جادو ہے اور اس کی بہت اقسام ہیں اور بہت طریقے ہیں۔ اب کے جواب الجواب میں انشاء اللہ تعالیٰ تفصیل کروں گا۔ جناب احسن الناظرین صاحب مرزا قادیانی کی حمایت میں ہتھیار باندھئے اور اللہ و رسول سے لڑائی کی تیاری کیجئے۔ اب فقط باتوں سے مرزا قادیانی کی حمایت نہ ہوسکے گی۔

قولہ....... نمبر ٧: ”مولوی صاحب گستاخی معاف آپ کو حقیقت خوارق عادات کی معلوم ہی نہیں کہ کیا چیز ہیں۔“

اقول ....... مولوی صاحب معلوم کہاں سے ہوں نہ دہلی میں کوئی نبی بنا نہ کسی پر وحی آئی۔ ہاں اہل سنت کے علماء نے جو عقائد کی کتابیں لکھی ہیں شاید چھوٹی بڑی ٢٣ عاجز کی نظر سے گزری ہیں۔ ان میں جو کچھ لکھا تھا دیکھ لیا اور چھوٹی بڑی کوئی چالیس تفسیریں بھی عاجز کے پاس ہیں۔ ان میں بھی جہاں کہیں جس موقع پر جس تفسیر میں یہ بحث آگئی دیکھ لی۔ تفسیر کبیر میں تحت آیۃ ”یعلمون الناس السحر“ جو کچھ امام فخر الدین رازی نے خوارق عادات کا حال لکھا ہے یا اسی موقع پر فتح العزیز میں مولانا شاہ عبدالعزیزؒ نے لکھا ہے یا جو مدارک میں ”للسحر حقيقة عند اهل السنة كفرهم الله تعالیٰ “الیٰ آخرہ لکھا ہے۔ دیکھ لیا ان کے سوا سر مکتوم اور نیل وکوک وغیرہ بھی دیکھی ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی طرح نہ مجھ کو الہام ہوا نہ ایسا کشف ہوا۔ پھر حقیقت معلوم ہو تو کیونکر؎

تو نہ جانے عشق بازی اور ہم نادان ہوں
بے سمجھ کہتا ہے ناصح تو نے کیا جانا ہمیں

قولہ ....... ”تمام اکمل اولیاء اور صلحاء کے نزدیک خوارق عادات سواء کشوف اسرار شرعیہ والہامات عینیہ و مکالمات الہیہ کی بڑی نفرت کی چیز ہیں۔“

اقول ....... تصوف میں لمعات، رشحات، انہار اربعہ، فتوح الغیب، کشف المحجوب، مرآۃ الاسرار، در منظوم علم الکتاب، سرچشمۂ رحمت، سلسلۃ الذہب، فصوص، نصوص اور اکثر بزرگوں کے ملفوظات ومکتوبات وغیرہ۔ عاجز کی نظر سے گزری ہیں۔ مگر واقعی بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا الہام نرالی چیز ہے۔ افسوس کہ جناب نے بھی بہت ہی سا زور مارا۔ مگر کوئی عبارت ایسی پیش نہ کی جس سے مرزا قادیانی کے مضمون کی کچھ تائید ہوتی اور جو عبارت مجالس الابرار کی آپ نے لکھی ہے وہ نہ آپ کے لئے مفید اور نہ عاجز کے لئے مضر اور منصب امامت کی عبارت تو سراسر عاجز کے لئے مفید ہے۔ نہیں معلوم اس کی عبارت سے دو صفحے آپ نے کیوں بھر دیئے۔ حضرت آپ جواب

٧٦

صفحہ ٢٠٣

الجواب نمبر ٦ کو آپ دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا قادیانی پر جو اعتراض ہیں ان کو اٹھائیں۔ یہ ساری تقریر تو آپ کے لئے مفید اور عاجز کے لئے مضر اس وقت ہوتی اگر عاجز یہ کہتا کہ نبی کے لئے معجزہ اور ولی کے لئے کرامت لازمی اور ضروری چیز ہے۔ میں نے تو یہ عرض کیا ہے اور کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو شعبدہ کہنا یا یہ کہنا کہ وہ آلات و ادوات کے ذریعہ سے ایسے معجزے دکھاتے تھے جو خرق عادت نہ تھے اور یہ کہنا کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یہ معجزات مکروہ اور قابل نفرت نہ ہوتے تو یہ عاجز ان اعجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا قابل اعتراض ہے۔ آپ اکمل اولیاء یا صلحاء کے اقوال میں سے ایک قول بھی ایسا نقل کر دیتے جیسا مرزا قادیانی کا ارشاد ہے تو البتہ قابل التفات ہوتا۔ منصب امامت کی عبارت جو آپ نے نقل فرمائی ہے۔ اس کا مطلب تو صاف یہ ہے کہ افعال باستعانت ادوات و آلات ہوں۔ وہ خرق عادت میں داخل نہیں ہو سکتے اور یہ ظاہر ہے کہ جو افعال انبیاء علیہم السلام یا اولیاء رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے صادر ہوتے ہیں۔ اسی قسم کے بلکہ اس سے بھی اقویٰ واکمل ارباب سحر واصحاب طلسم سے بھی ممکن الوقوع ہیں۔ مگر ظہور ان کا مقبولین سے از قبیل خرق عادت ہے۔ اس لئے کہ ظہور ان کا بغیر ادوات و آلات محض بقدرت الہی بنابر تصدیق مقبولان بارگاہی ہوتا ہے اور ارباب سحر واصحاب طلسم کے وہ افعال بذریعہ ادوات و آلات ہوتے ہیں اور مرزا قادیانی کا یہی بیان ہے کہ وہ نجاری کرتے تھے۔ اس لئے بقوت نجاری یا کسی کل کے ذریعہ سے چڑیاں بنادی ہوں گی یا بطریق شعبدہ مسمریزم کی قوت سے ایسا کیا ہوگا تو اس عبارت سے آپ نے پورا پورا مرزا قادیانی کو ملزم ٹھہرا دیا اور میرے اعتراضوں کی تائید کر دی۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس عبارت کو بخیال ملاحظہ ناظرین میں بھی نقل کئے دیتا ہوں۔ وھو ھذا!

اما خرق عادت پس بیانش آنکہ حق جل وعلی بقدرت کاملہ خود بنابر تصدیق انبیاء علیہم السلام چیزے اظہار می فرماید کہ صدور آن چیز بہ نسبت ایشان ممتنع می نماید اگرچہ بہ نسبت دیگر کس ممتنع نباشد تفصیلش آنکہ وجود بعضے اشیاء بحسب عادت اللہ موقوف می باشد بر فراہم آمدن اسباب وادوات آن چیز پس کسے کہ ادوات و آلاتش حاصل میدارد صدور چیز مذکور از و خرق عادت نیست وکسی کہ ادوات مذکورہ حاصل نمی دارد البتہ صدور آن از و از قبیل خرق عادت ست مثلاً نوشتن بہ نسبت نویسندہ خرق عادت نیست و بہ نسبت امی خرق عادت ست و کشتن بسلاح خرق عادت نیست و مجرد ہمت و دعا خرق عادت است پس ازیں بیان واضح گشت کہ ایں معنی لازم نیست کہ ہر خرق عادت خارج از مطلق طاقت بشری باشد بلکہ ہمیں قدر لازم ست کہ بہ نسبت صاحب خارقہ صدور

٧٧

صفحہ ٢٠٤

آن خلاف عادت باشد بجہت فقدان ادوات و آلات پس بسا چیز است کہ ظہور آن از مقبولین حق از قبیل خرق عادت شمردہ می شود حالانکہ امثال ہمان افعال بلکہ اقوی واکمل از ان از ارباب سحر و اصحاب طلسم ممکن الوقوع باشد پس وقتی کہ بر حاضران واقعہ لا محالہ ثابت باشد کہ صاحب خارق مہارت در فن سحر و طلسم نمی دارد۔ پس لا بد صدور خارقہ مذکورہ علامت صدق او تواند بود ولہذا نزول مائدہ از معجزات حضرت مسیح شمردہ می شود بخلاف انچہ اہل سحر بسیاری از اشیاء نفیسہ از جنس میوہ و شیرینی باستعانت شیاطین حاضر می آرند و در دوستان و معتقدان خود افتخاری نماید چون معنی خرق عادت واضح گشت لا بد درین مقام تامل باید نمود کہ خرق عادت بچہ ایں ظاہر می گردد و چگونہ۔

ظاہر می گردد اما اوّل پس باید دانست کہ ظہور خوارق بالذات از اسباب ہدایت نیست گو کہ در حق بعضی سعداء اتفاقاً سبب ہدایت گردد و بلکہ ظہور آن بالذات برائے اتمام حجت واسکات مخالفین والزام مجادلین و تادیب گستاخان شوخ چشم و تخویف معاندان پر خشم است ”و مـا نـرسـل بـالایـات الا تخویفاً “ چہ پر ظاہر است کہ ہدایت عبارت است از نوری کہ از رحمت الہیہ در قلب سعید ازلی باراں صفت می ریزد کہ او را از محبت محبوب حقیقی واطاعت معبود حقیقی می انگیزد و حتیٰ کہ در محبت او جان و مال می بازد در اطاعت او مثل باد پا می تازد و ایں معنی از مشاہدہ ظہور خوارق کمتر حاصل می شود چہ شخصی کہ در مناظرہ و مجادلہ ملزم ولا جواب می شود در دل او محبت و اخلاص کمتر حادث می شود آری حیران و سرگردان و دست و پا گم کردہ ساکت می شود۔ پس ازیں بیان واضح شد کہ ظہور خوارق گاہ گاہ کافی ست و صدور آن ہر بار از لوازم ہدایت نیست و نیز واضح گشت کہ اگر از شخصی خوارق ظہور نمود کسی را از حاضران معنی ہدایت حاصل نگردید ایں باعث نقصان منصب او نمی تواند شد و اما آنکہ چگونہ حادث می شود پس بیانش آنکہ حق جل وعلیٰ بقدرت کاملہ خود در عالم تکوین تصرفی عجیب وغریب بناء تصدیق مقبولی از مقبولان خود می نماید نہ آنکہ قدرت صدور خرق عادت درو ایجاد می فرماید و او را با ظہار آن مامور می نماید حاشا وکلا قدرت تصرف در عالم تکوین از خواص قدرت ربانی است نہ از آثار قوت انسانی۔

قولہ ..... ”اور عملی اقتراب یا نری کاروائی کا ترجمہ جو جناب نے بین السطور میں شعبدہ لکھا ہے۔ یہ ایک محض افتراء بحت اور اتہام ہے۔ آپ پر لازم ہے کہ یا تو حضرت اقدس مرزا قادیانی کے کلام میں کسی جگہ یہ ثابت کریں۔ ورنہ ایسے افتراؤں سے کیا ہوتا ہے۔“

اقول ..... جناب مولوی صاحب یوں لکھنا چاہئے تھا کہ اگر ثابت نہ کیا تو تم پر افتراء و اتہام کا الزام عائد ہوگا۔ نہ یہ کہ بے تحقیق پہلے ہی سے ملزم ٹھہرا دیا۔ ہاں حضرت میں بھولا، تحقیق کرنا تو

٧٨

صفحہ ٢٠٥

جناب کے قاعدہ کے خلاف ہے۔ لیجئے مرزا قادیانی کے کلام سے ثبوت لیجئے۔ آپ تو ایسے بھولے بن جاتے ہو کہ گویا مرزا قادیانی کا کلام دیکھا ہی نہیں۔ خیر ملاحظہ فرمائیے۔ مرزا قادیانی کا قول ’’اب جاننا چاہئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔ وہ لوگ جو فرعون کے وقت میں مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے۔ جو سانپ بنا کر دکھلا دیتے تھے اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلا دیتے تھے۔ وہ حضرت مسیح کے وقت میں عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے ان کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لئے تھے۔..... سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدائے تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے سے کسی طور پر ایسا پرواز کرتا ہو۔ جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے۔ یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے۔ جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔‘‘

(ازالۃ الاوہام حصہ اول ص ٣٠٢، ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤، ٢٥٥ حاشیہ)

مولوی صاحب ذرا ان الفاظ کو عینک لگا کر دیکھئے گا۔ (کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے) اور پھر اس کی تصریح کو بھی غور فرمائیے گا۔ (حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو۔ جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے)

اب ذرا ازالہ کو خوب اوپر نیچے سے اچھی طرح دیکھ کر آپ ہی فرمادیجئے کہ اس سے زیادہ ثبوت کی ضرورت ہے؟

قولہ..... ’’اگر آپ نے ترب بالکسر پڑھا ہے تو اس کے معنی بھی ہرگز شعبدہ کے نہیں ہیں۔ لغت میں تو اس کے معنی ہمزاد و ہم عمر کے ہیں..... اگر لفظ الترب بالضم آپ نے پڑھا ہے تو اندریں صورت سب نزاع فیصل ہو گیا۔‘‘

اقول..... مولوی صاحب واقعی آپ ایسے ہی بھولے ہو۔ جیسے باتیں کر رہے ہو یا اس ناچیز کو بے حقیقت سمجھ کر یہ بھلاوا دیتے ہو یا ظرافت کرتے ہو۔ حضرت ازالۃ الاوہام آپ کے پاس ہے

٧٩

صفحہ ٢٠٧

مرزا قادیانی نے اس پر موٹے موٹے اعراب لگا دیے ہیں اور اس کے معنی بھی وہیں بتا دیئے ہیں ۔ اندریں صورت ان باتوں کی کیا ضرورت ہے۔ (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦ حاشیہ) پھر ملاحظہ فرما لیجئے ۔

قولہ ...... ”عوام الناس بلکہ بعض خواص اہل اسلام کے دلوں میں یہ اعتقاد راسخ ہے کہ حضرت مسیح کے معجزات حضرت خاتم النبیین افضل المرسلین ﷺ کے معجزات سے بڑھے ہوئے ہیں ۔“

اقول ...... ”ھٰذا بھتان عظیم“ اگر آپ سچے ہو تو بتاؤ کس نے لکھا ہے اور کہاں لکھا ہے اور اس کتاب کا نام کیا ہے۔ بتاؤ ورنہ خدا سے ڈرو۔

قولہ ...... ”اور نصاریٰ تو انہیں معجزات کے سبب حضرت مسیح کو صفات الوہیت میں شریک کرتے ہیں اور اس معنی کی رو سے ابن اللہ کہتے ہیں ۔“

اقول ...... یہ بھی غلط اور اگر نصاریٰ کا ایسا غلط خیال ہو بھی تو کیا اس کا یہ جواب ہے کہ حضرت عیسیٰ کے ان معجزات کی نفی کر دی جائے ۔

قولہ ...... ”اور تیسرا فرقہ نیچریہ اور آریہ سماج وغیرہ معجزات انبیاء علیہم السلام سے محض منکر ہے ۔“

اقول ...... تو ان کے انکار کی وجہ سے معجزات کو ایسا بیان کرے کہ ان کا اعجاز جاتا رہے تو سمجھانے کی خوبی کیا ہوئی ۔

قولہ ...... ”اگر حقیقت معجزات کو ایسا کشف فرما دیا جو سب کے گلے اتر جائے اور کوئی منکر بھی انکار نہ کر سکے تو کیا مظنہ طعن ہے ۔“

اقول ...... مرزا قادیانی نے حقیقت معجزات کو ان کے گلے کیا اتارا بلکہ ان کا انکار مرزا قادیانی کے گلے اتر گیا ۔

قولہ ...... ”اوّل آپ تقویۃ الایمان وغیرہ کا رد فرما لیجئے ۔“

اقول ...... کیوں حضرت یہ کیا سوجھی تقویۃ الایمان نے کیا قصور کیا ہے۔ پہلے آپ اس کے اقوال کو خلاف کتاب و سنت ثابت کر دیجئے۔ پھر رد کرنے کی درخواست کیجئے گا ۔

قولہ ...... نمبر ٨۔

اقول ...... اس نمبر کے جواب میں چونکہ عاجز کو کچھ بحث متعلق باحادیث شریف کرنی ہے۔ لہٰذا یہاں سے مولوی صاحب اس بحث کو گورکھ دھندا سمجھیں یا اپنے مذاق کے خلاف اور متوجہ ہوں یا نہ ہوں۔ مگر میں بخیال ادب آپ کے مذاق کے موافق عبارت لکھنے سے معذور ہوں معاف کیا جائے ۔

٨٠

قولہ ...... ”احادیث متفق علیہ سے اعلام حصص سابقہ آنے والا ہے وہ اس امت میں سے ایک امام ہوگا۔“

اقول ...... پہلے اس سے کہ آپ کا جواب لکھا جائے مباحثہ دہلی کے ص ١٦٩ کی عبارت نقل کرتا ہے۔ وہ ی ”پس ثابت ہوا کہ مخبر صادق نے یہ خبر د آنے والا ہے۔ وہی عیسیٰ بن مریم بنی اسرائیلی آوے گ خبر دی ہے۔ وہ مسیح آنے والا تم میں سے ایک ایسا اور معارف واسرار اور سنت رسول اللہ ﷺ کے بیان دق اس کی بحث واقع ہو چکی ۔“

بعد اس کے یہ عاجز عرض کرتا ہے کہ آپ ک

اوّل ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل پر آپ کا انکار اگر چہ بموجب الہام مرزا قادیانی کے ہو اور مرزا قادیانی کا یہ الہام کہ ان کے باپ یوسف تھے ک

دوم ...... جب آپ نے خود اقرار کر لیا کہ: ”مسیح انصاف کیجئے کہ غلام احمد ابن مریم نہیں ہو سکتا ۔

سوم ...... یہ کہ یہ دعویٰ آپ کا حصص سابقہ اعلام ۔ جواب حصص سابقہ سے آپ خود معلوم کر لیں گے جو خ تعالیٰ فانتظره!

چہارم ...... یہ کہ بفرض تسلیم اس امر کے کہ آنے و ثابت بھی کریں تو بھی یہ کہاں سے ثابت کر سکتے ہو ک مریم ۔ ہو سکتا ہے کہ عیسیٰ بن مریم ہو۔ بلکہ یہی متعین ہ سيظهر عنقريب“

اب رہا آپ لوگوں کا یہ کہنا کہ ان کا امام جیسا کہ القول الفصیح وازالہ اوہام میں ہے۔ تو یہ اعترا محمول ہے۔ اگر آپ قرآن مجید واحادیث شریف ک تکذیب نہ کیا کریں۔ ہرگز ہرگز شان نبوت میں امام ام

٨١

صفحہ ٢٠٧

قولہ ...... ”احادیث متفق علیہ سے اعلام حصص سابقہ میں ہم ثابت کرچکے ہیں کہ مسیح ابن مریم جو آنے والا ہے وہ اس امت میں سے ایک امام ہوگا۔“

اقول ...... پہلے اس سے کہ آپ کا جواب لکھا جائے۔ توضیح مطلوب کے لئے عاجز آپ کی نظر مباحثہ دہلی کے ص ١٦٩ کی عبارت نقل کرتا ہے۔ وھو ھذا!

”پس ثابت ہوا کہ مخبر صادق نے یہ خبر ہی نہیں دی کہ مسیح ابن مریم جو اس امت میں آنے والا ہے۔ وہی عیسیٰ بن مریم بنی اسرائیلی آوے گا۔ جو نبی ورسول بنی اسرائیل کا تھا۔ بلکہ یہ خبر دی ہے۔ وہ مسیح آنے والا تم میں سے ایک ایسا اور ایسا امام ہوگا اور اس کی امامت کتاب اللہ کے معارف واسرار اور سنت رسول اللہ ﷺ کے بیان دقائق وحقائق میں ہوگی۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں اس کی بحث واقع ہوچکی۔“

بعد اس کے یہ عاجز عرض کرتا ہے کہ آپ کی اس تقریر میں نظر ہے۔ بچند وجوہ۔

اول ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل پر نبی ہوئے تھے۔ دوبارہ بھی وہی آئیں گے۔ آپ کا انکار اگرچہ بموجب الہام مرزا قادیانی کے ہو۔ خلاف ہے قرآن مجید کے اور آپ کا خیال اور مرزا قادیانی کا یہ الہام کہ ان کے باپ یوسف تھے کتاب اللہ کے مقابل دونوں مردود ہیں۔

دوم ...... جب آپ نے خود اقرار کرلیا کہ: ”مسیح ابن مریم جو آنے والا ہے۔“ تو اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ غلام احمد ابن مریم نہیں ہوسکتا۔

سوم ...... یہ کہ یہ دعویٰ آپ کا حصص سابقہ اعلام سے ہرگز پایہ ثبوت کو نہیں پہنچا۔ چنانچہ معاینہ جواب حصص سابقہ سے آپ خود معلوم کرلیں گے جو عنقریب شائع ہونے والا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ فانتظرہ!

چہارم ...... یہ کہ بفرض تسلیم اس امر کے کہ آنے والا مسیح اس امت میں سے ایک امام آپ ثابت بھی کریں تو بھی یہ کہاں سے ثابت کرسکتے ہو کہ وہ مثیل عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ نہ خود عیسیٰ بن مریم۔ ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ بن مریم ہو۔ بلکہ یہی متعین ہے کہ خود ابن مریم ہوں گے۔ ”کما سیظھر عنقریب“

اب رہا آپ لوگوں کا یہ کہنا کہ ان کا امام اور امتی ہونا ان کی شان نبوت کا مٹانا ہے۔ جیسا کہ القول الفصیح وازالہ اوہام میں ہے۔ تو یہ اعتراض آپ کا قرآن وحدیث سے بے خبری پر محمول ہے۔ اگر آپ قرآن مجید واحادیث شریف کی طرف توجہ کریں تو ہرگز ایسی بے معنی اور بے تکی نہ ہانکا کریں۔ ہرگز ہرگز شان نبوت میں امام اور امتی ہونے سے فرق نہیں آسکتا نہ کہ منافی

٨١

صفحہ ٢٠٩

ہوتا شان نبوت کے، یہ تو آپ لوگوں کا سراسر جہل یا تجاہل ہے۔ امامت کا شان نبوت کے منافی نہ ہوتا تو اس لئے کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ کو علیہ الصلوٰۃ والسلام ”انی جاعلک للناس اماماً“ میں بتاؤں گا تجھ کو سب لوگوں کا امام۔

اور امتی ہونا شان نبوت کے اس لئے منافی نہیں ہے کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورۂ آل عمران میں: ”واذ اخذ الله میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمة ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه قال أأقررتم واخذتم علی ذلکم اصری قالوا اقررنا قال فاشهدوا وانا معکم من الشاهدین فمن تولّٰی بعد ذلک فاولٰئک هم الفاسقون“ اور جب لیا اللہ نے اقرار نبیوں کا کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم پھر آئے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچ بتا دے تمہارے پاس والے کو تو اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔ فرمایا کہ تم نے اقرار کیا اور اس شرط پر لیا میرا ذمہ بولے ہم نے اقرار کیا تو فرمایا تو اب شاہد رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ شاہد ہوں۔ پھر جو کوئی پھر جائے اس کے بعد تو وہی لوگ ہیں بے حکم۔

آپ نے بھی ضمیمہ مباحثہ دہلی میں ص ١٢٠ میں لکھا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا تو وہ مرتبہ ہے کہ تمام انبیاء کو بتاکید تمام حکم ہوا ہے اور ان سے اقرار و میثاق لیا گیا ہے کہ وہ سب حضرت ﷺ پر ایمان لاویں اور اس کے ثبوت میں یہی آیت آپ نے لکھی ہے۔ ”وعن جابر عن النبی ﷺ ولوکان موسیٰ حیا ما وسعه الا اتباعی رواه احمد والبیهقی فی شعب الایمان “ جابرؓ سے روایت ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا۔ اگر موسیٰ علیہ السلام میرے وقت میں زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ ہوتا۔

”وعن جابر عن النبی ﷺ ولوکان موسیٰ وادرک نبوتی لاتبعنی رواه الدارمی “ اگر موسیٰ علیہ السلام میری نبوت کا زمانہ پاتے تو میری اتباع کرتے۔

اور جب نص قرآنی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بحکم الٰہی اتباع حضرت خضر کہ وہ نبی نہ تھے کرنا ثابت ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگر خاتم النبیین کا اتباع کریں اور ان کے امتی ہو جاویں تو کیا محل استعجاب ہے بالجملہ بعد تسلیم اس تقریر کے جو آپ نے ضمیمہ اعلام الناس میں حدیث ”وامامکم منکم “ کے متعلق لکھی ہے۔ ثبوت اس امر کا مسلم ہے کہ مسیح موعود اس امت میں سے ایک امام ہوگا۔ مگر نہ یہ ہمارے لئے مضر ہے اور نہ مرزا قادیانی کے لئے مفید اور جو امر مرزا قادیانی کے لئے مفید اور ہمارے لئے مضر ہے۔ یعنی مسیح موعود کا نبی بنی اسرائیل نہ ہونا اور

٨٢

صرف اس امت میں سے ایک امام ہونا وہ تقریر ہذا ک

ہے۔ وہ اس امت میں سے ایک امام ہوگا۔ وہ صرف

عن نافع مولی ابی قتادة عن ابی هریرة منکم “ وارد ہے۔ پس ایراد لفظ احادیث متفق علیہ جائے کہ چونکہ یہ حدیث تین طرق سے مروی ہے طریق جس میں ابن اخی الزہری زہری سے روای ذئب زہری سے روایت کرتا ہے۔ چنانچہ یہ سب طرق کے اس حدیث پر اطلاق لفظ جمع درست ہوا ا

مضمون ایک ہے۔

طریق ابن اخی الزہری اور نہ طریق ابن ابی ذئب صحیح بخاری میں ۔

اگر کہا جاوے کہ ایک حدیث اور ہے

الزهری عن ابن المسیب انه سمع اباهر نفسی بیده لیوشکن ان ینزل فیکم ا میں لفظ ”اماما مقسطاً وحكماً عدلاً“ آیا ابن عیینہ متفق علیہ نہیں ہے۔ دوم لفظ منکم یہاں نہی

قولہ ...... ”اول تو یہ احتمال کسی ترکیب نحوی سے

اقول ...... آپ نے وجہ عدم صحت ترکیب نحوی میں نظر کی جاوے۔ اس وقت جو اس عاجز کے ذہ کہ ”وامامکم منکم“ میں اگر مراد امام رابطہ نہ پایا جائے گا۔ بخلاف اس کے کہ مراد اما موضع مضمر کے ہوگا۔ پس لفظ ”امامکم“ بجا

صفحہ ٢٠٩

صرف اس امت میں سے ایک امام ہونا وہ تقریر مذکور سے ثابت نہیں ہوتا ہے۔

پنجم ...... وہ حدیث جس سے آپ اپنے زعم میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ مسیح بن مریم جو آنے والا ہے، وہ اس امت میں سے ایک امام ہوگا۔ وہ صرف ایک حدیث ہے۔ یعنی ”حدیث الزہری عن نافع مولی ابی قتادة عن ابی ہریرة“ جس میں لفظ ”وامامکم منکم“ یا ”فامکم منکم“ وارد ہے۔ پس ایراد لفظ احادیث متفق علیہ کہ لفظ جمع ہے کوئی وجہ صحت نہیں رکھتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ چونکہ یہ حدیث تین طرق سے مروی ہے۔ ایک وہ جس میں یونس زہری سے دوسرا وہ طریق جس میں ابن اخی الزہری زہری سے روایت کرتا ہے۔ تیسرا وہ طریق جس میں ابن ابی ذئب زہری سے روایت کرتا ہے۔ چنانچہ یہ سب طرق صحیح مسلم میں مذکور ہیں۔ پس باعتبار تعدد طرق کے اس حدیث پر اطلاق لفظ جمع درست ہوا تو جواب اس کا سہ وجوہ ہے۔

اوّل ...... یہ کہ حدیث بدلتی ہے صحابی کے یا اصل مضمون کے بدلنے سے اور یہاں صحابی اور اصل مضمون ایک ہے۔

دوم ...... اس تاویل پر متفق علیہ کہنا صحیح نہیں ہوتا ہے۔ کیونکہ متفق علیہ صرف طریق یونس ہے نہ طریق ابن اخی الزہری اور نہ طریق ابن ابی ذئب یہ دونوں طریق تو صرف صحیح مسلم میں ہیں۔ نہ صحیح بخاری میں۔

سوم ...... دوسرے طریق میں لفظ ”منکم“ نہیں ہے۔ اس لئے وہ آپ کے لئے کچھ مفید نہیں ہے۔ اگر کہا جاوے کہ ایک حدیث اور ہے جس میں لفظ ”اماماً“ آیا ہے۔ یعنی ”حدیث الزہری عن ابن المسیب انہ سمع ابا ہریرة یقول قال رسول اللہﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم“ ابن عیینہ کی روایت میں اس حدیث میں لفظ ”اماماً مقسطاً وحکماً عدلاً“ آیا ہے کما فی صحیح مسلم تو جواب یہ ہے کہ اوّل تو روایت ابن عیینہ متفق علیہ نہیں ہے۔ دوم لفظ منکم یہاں نہیں ہے۔ جس سے آپ کا مدعا حاصل ہو۔

قولہ ...... ”اوّل تو یہ احتمال کسی ترکیب نحوی سے درست نہیں ہو سکتا۔“

اقول ...... آپ نے وجہ عدم صحت ترکیب نحوی کی ارشاد نہیں فرمائی۔ اس کو ارشاد کیجئے۔ تاکہ اس میں نظر کی جاوے۔ اس وقت جو اس عاجز کے ذہن میں وجہ آتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ یہ سمجھے ہیں کہ ”وامامکم منکم“ میں اگر مراد امام سے غیر مسیح بن مریم لیا جاوے گا تو حال ذوالحال میں رابطہ نہ پایا جائے گا۔ بخلاف اس کے کہ مراد امام سے مسیح بن مریم ہو تو اس صورت میں وضع مظہر کا موضع مضمر کے ہوگا۔ پس لفظ ”امامکم“ بجائے ”ھو“ کے تو رابطہ موجود ہوگا۔ اگر یہی وجہ ہے تو

٨٣

صفحہ ٢١٠

اس کا جواب سن لیجئے کہ یہ وجہ مبنی ہے۔ قواعد نحو سے ذہول پر حضرات نحو میں یہ مسئلہ لکھا ہے کہ جب جملہ اسمیہ حال واقع ہو تو رابطہ اس میں یا واو اور ضمیر دونوں ہوتے ہیں یا فقط واو اور فقط ضمیر کا رابطہ ہونا ضعیف ہے۔ یہاں اگرچہ ضمیر نہیں ہے۔ لیکن واو موجود ہے۔ اس کے شواہد بہت ہیں۔ حدیث جابر متفق علیہ میں ہے۔ ”کان یصلے الظہر بالہاجرة والعصر والشمس حیة “ اور اثر حضرت عمرؓ میں ہے۔ ”و الصبح والنجوم بادية مشتبكة رواہ مالك وعن ابی هريرة قال قالوا يا رسول اللہ متے وجبت لك النبوة قال وآدم بين الروح والجسد رواہ الترمذی “ اور اگر فرض کیا جاوے کہ ضمیر کا ہونا ضرور ہے تو بھی ترکیب درست ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ جملہ ”وامامکم منکم“ ابن مریم سے حال نہ ہو۔ بلکہ فیکم کی ضمیر مجرور سے حال ہو۔

قولہ ...... ”دوم صحیح مسلم میں اس احتمال کو باطل کر دیا ہے۔“

اقول ...... اس میں کلام ہے۔ بچند وجوہ

اول ...... یہ کہ مسلم کی روایت جن کو مبطل اس احتمال کا آپ نے تصور فرمایا ہے۔ وہ تین ہیں ایک روایت ابن عیینہ کی جس میں لفظ اماما مقسطا کا وارد ہوا ہے۔ دوسری روایت ابن اخی الزہری کی جس کا لفظ یہ ہے۔ ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم فامکم “ تیسری روایت ابن ابی ذئب کی جس کا لفظ یہ ہے۔ ”کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم فامکم منکم “ پہلی روایت میں یہ جرح ہے کہ سفیان بن عیینیہ نے دیگر ثقات کے خلاف ”اماماً“ کا لفظ زہری سے روایت کیا ہے۔ لیث ویونس وصالح بن کیسان کی روایت میں یہ لفظ نہیں ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم سے ظاہر ہے اور محمد بن ابی جعفر کی روایت میں بھی یہ لفظ نہیں ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے۔ ”ورواہ ابن مردویہ من طريق محمد بن ابی حفصة عن الزهری عن سعيد بن المسيب عن ابی هريرة قال قال رسول اللہ ﷺ يوشك ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا “ اور لیث نے غیر زہری یعنی سعید بن ابی سعید سے جو اس حدیث کی روایت کی ہے۔ اس میں بھی لفظ ”اماماً“ نہیں ہے۔ مسلم میں ہے۔ ”و حدثنيه قتيبة بن سعيد ثناليث عن سعيد بن ابی سعيد عن عطاء بن میناء عن ابی هريرة انه قال قال رسول اللہ ﷺ واللہ لینزلن ابن مريم حكما عدلًا “ رجال اس روایت کے رجال شیخین ہیں سفیان بن عیینیہ اگرچہ ثقات اعلام میں سے ہے۔ مگر مخطی ہے۔ بیس سے زیادہ حدیثوں میں خطا کی ہے۔ میزان میں ہے۔ ”قال احمد فرجعت فاذا ما اخطا فیہ - سفيان بن عيينة اكثر من عشرين ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ لفظ ”اماماً“ ہے۔ دوسری روایت میں دو جرحیں ہیں۔

اول ...... یہ کہ مسلم نے اس حدیث کو محمد بن کلام ہے۔ یہاں تک کہ بعض نے کذاب لکھا ليس بشئ وقال يحيى وابن المدينى ”ربما وهم “ دارقطنی وغیرہ نے اس کی تقریب میں لکھا ہے۔ یعنی صدوق صاحب ہیں یا تو اس راوی سے ہوتے ہیں یا ابن اخی الـ فالایا ہے۔ دوسرے بجائے اما مکم کے امکم کـ جرح اس سند میں یہ ہے کہ راوی اس میں ابن ہے۔ ذہبی میزان میں لکھتے ہیں۔ ”قال ابـ رواية الدارمى عن ابن معين ضـ اصحاب الزهرى مع اسامة بن زيد البارى میں لکھتے ہیں۔ ”ذکره محمد بـ اصحاب الزهرى مع محمد بن اسـ لا اصل لها احدها حديثه عن عمر بـ معافى الا المجاهرين ثانيها بهـ قريب موقوف ثالثها عن امرأ النبي ﷺ كان ياكل بكفه كلها مرسـ لم يتابع عليها كانه يعنى هذه “ او ہیں۔ جن میں یہ راوی واقع ہوا ہے اور ہر ایک ”وله عنده غير هذه مما توبع علـ توثیق بھی کی ہے۔ اعدل الاقوال اس کے با صدوق لہ اوہام عبارت مذکورہ سے واضح ہوا ساتھ یہ منفرد ہوا ہے۔ تین اوہام اس روایت

٨٤

صفحہ ٢١١

سفیان بن عینیة اكثر من عشرين حديثا“ اور خطا مخالفت ثقات اثبات سے ثابت ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ لفظ ”اماماً“ میں اس نے خطا کی ہے اور موضع استدلال یہی لفظ ہے۔ دوسری روایت میں دو جرحیں ہیں۔ اوّل ...... یہ کہ مسلم نے اس حدیث کو محمد بن حاتم بن میمون سے روایت کیا ہے۔ اس میں بہت کلام ہے۔ یہاں تک کہ بعض نے کذاب لکھا ہے۔ ذہبی میزان میں لکھتے ہیں: ”قال الفلاس لیس بشئ وقال یحیی وابن المدینی هوکذاب انتهی ملخصا“ تقریب میں ہے۔ ”ربما وهم “ دارقطنی وغیرہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ قولِ فیصل اس میں وہ ہے جو حافظ نے تقریب میں لکھا ہے۔ یعنی صدوق صاحب اوہام ہے۔ اس حدیث کی روایت میں جو تین اوہام ہیں یا تو اس راوی سے ہوئے ہیں یا ابن اخی الزہری سے وہ تین اوہام یہ ہیں۔ اوّل بجائے واو کے فا لایا ہے۔ دوسرے بجائے امامکم کے امکم کہا ہے۔ تیسرے لفظ منکم کو حذف کر دیا ہے۔ دوسری جرح اس سند میں یہ ہے کہ راوی اس میں ابن اخی الزہری ہے۔ نام اس کا محمد بن عبداللہ بن مسلم ہے۔ ذہبی میزان میں لکھتے ہیں۔ ”قال ابن معين وابو حاتم ليس بالقوى وفي رواية الدارمى عن ابن معين ضعيف وجعله محمد بن يحيى الذهلي في اصحاب الزهري مع اسامة بن زيد الليثي وابن اسحق وفليح “ حافظ مقدمہ فتح الباری میں لکھتے ہیں۔ ” ذکره محمد بن يحيى الذهلى في الطبقة الثانية من اصحاب الزهري مع محمد بن اسحق وفليح وقال انه وجدله ثلاثة احاديث لا اصل لها احدها حديثه عن عمر عن سالم عن ابى هريرة مرفوعا كل امتى معافى الا المجاهرين ثانيها بهذا الاسناد كان اذا خطب قال كل ماهوات قريب موقوف ثالثها عن امرأته ام الحجاج بنت الزهرى عن ابيها ان النبي ﷺ كان يا كل بكفه كلها مرسل وقال الساجي تفرد عن عمر باحاديث لم يتابع عليها كانه يعنى هذه “ اور حافظ نے مقدمہ میں تین احادیث بخاری کی ذکر کی ہیں۔ جن میں یہ راوی واقع ہوا ہے اور ہر ایک میں متابعت ثابت کی ہے اور اس کے بعد کہا ہے۔ ” وله عنده غير هذه مما توبع عليه موصولاً ومعلقاً “ اس کی ایک جماعت نے توثیق بھی کی ہے۔ اعدل الاقوال اس کے باب میں وہ ہے جو حافظ نے تقریب میں لکھا ہے۔۔ صدوق لہ اوہام عبارت مذکورہ سے واضح ہوا کہ تفرد اس کا مقبول نہیں ہے اور روایت مذکورہ کے ساتھ یہ متفرد ہوا ہے۔ تین اوہام اس روایت میں ہیں۔ ”كما مر آنفاً “ یہ تینوں اوہام یا تو اسی

٨٥

صفحہ ٢١٣

رواۃ اس کے ہیں یا محمد بن حاتم بن میمون کے غالباً بخاری اپنی صحیح میں اسی واسطے اس روایت کو نہیں لایا ہے۔

اور تیسری روایت میں یہ جرح ہے کہ اس کا راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابی ذئب زہری میں ضعیف ہے۔ ”قال الحافظ فى المقدمة قال ابن المدينى كانوا يوهنونه فى الزهرى وكذا وثقه احمد ولم يرضه فى الزهرى وحديثه عن الزهرى فى المتابعات“ اور یہاں زہری سے روایت کرتا ہے مخالف ثقات کے تو ثابت ہوا کہ اس سے اس روایت میں دو وہم ہوگئے ہیں۔

اوّل...... بجائے واو کے فا لایا ہے۔ دوم ”امامکم“ کی جگہ ”امکم“ کہا ہے۔ علاوہ اس کے ابن ابی ذئب کی روایت میں اضطراب ہے۔ ایک روایت میں ابن ابی ذئب نے بھی ”وامامکم منکم“ موافق جمہور کے کہا ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں بعد نقل روایت یونس کے لکھا ہے۔ ”وهكذا رواه الامام احمد عن عبدالرزاق عن معمر وعن عثمان بن عمر عن ابن ابى ذئب كلاهما عن الزهرى به“ اگر کوئی کہے کہ صحیح مسلم کی روایت میں وہم و خطاء کا ہونا محل استبعاد ہے تو جواب یہ ہے کہ وہم و خطاء تو بخاری میں بھی واقع ہوا ہے۔ یہ کچھ محل استبعاد نہیں۔ بخاری و مسلم کے رواۃ اعلیٰ درجہ کے ثقات ہیں۔ مگر وہم و خطاء سے معصوم نہیں ہیں اور ضابطہ وہم و خطاء کی شناخت کا یہی ہے کہ وہ روایت مخالف ہو جمہور ثقات اثبات کے۔

مخفی نہ رہے کہ روایت ”وامامکم منکم“ کو ان دونوں روایتوں پر ترجیح ہے۔

چند وجوہ!

اوّل...... یہ کہ لفظ متفق علیہ ہے۔ بخاری و مسلم دونوں نے روایت کیا ہے اور علماء نے اتفاق کیا ہے۔ اس پر کہ اصح الاحادیث اتفاقاً علیہ ہے۔

دوم...... یہ کہ یہاں زہری سے یونس روایت کرتا ہے اور یونس زہری میں اثبت الناس ہے۔ حافظ مقدمہ میں لکھتے ہیں۔ ”قال ابن ابى حاتم عن عباس الدورى قال قال ابن معين اثبت الناس فى الزهرى مالك ومعمر ويونس وعقيل وشعيب وقال عثمان الدارمى عن احمد بن صالح نحن لا نقدم على يونس فى الزهرى احدا قال وسمعت احمد بن حنبل يقول سمعت احاديث يونس عن الزهرى فوجدت الحديث الواحد ربما سمعه مراراً وكان الزهرى اذا قدم ايلة ينزل عليه وقال على بن المدينى عن ابن مهدى كان ابن المبارك يقول كتابه عن

٨٦

الزهرى صحيح قال ابن مهدى وكذا اقول“

سوم...... یہ کہ عقیل واوزاعی و معمر وابن ذئب نے ایک بخاری میں ہے۔ تابعہ عقیل والاوزاعی اور متابعت معمر او ثابت ہو چکی فتدبر!

وجہ دوم...... وجہ اس سے یہ ہے کہ تیسری روایت بـ ہیں کہ جس کی بنا پر مسیح بن مریم کے غیر کا امام ہونا ثابت کہ من بمعنی بعض کے ہے اور وہ ام کا فاعل واقع ہوا ہـ قائم ہونے لفظ منکم کے مقام اس کے محذوف ہے۔ جـ میں تاویل کی ہے۔ ”ای قام بعضکم او احد منـ نزدیک جائز نہیں ہے تو جواب یہ ہے کہ یہ عدم جواز ا مقام فاعل کے اور جب فاعل کے مقام پر کوئی چیز قا ضیاءیہ میں بحث تنازع میں ہے۔ ”دون الحذف سدشئ مسده“ اور یہ بھی ممکن ہے کہ لفظ ام مـ بالضم اسم ہو اور وہ بمعنی امام لغت میں آیا ہے۔ قاموس والشرعة والدين وبضم والنعمة والفيـ وتضم والطريقة والامامة والايتمام با والامام وجماعة ارسل اليهم رسول و فيها“ اور بھی قاموس میں ہے۔ ”وام كل شئ اصـ اسی میں ہے۔ ”وام القرى مكة لانها توسـ الناس یؤموا“ اور مؤید اس کی یہ بات ہے کہ بر تقـ بے ربط ہوتا ہے۔ اس وقت فصیح عبارت یہ تھی۔ ”کیـ فامکم“ اور یہ دونوں تاویلیں دوسری روایتـ روایت کے دوسرے میں بھی لفظ منکم مقدر مانا جا روایتوں کا بھی وہی ہوگا۔ جو ”امامکم منکم“ ـ معنی کا جس کے ابطال کے آپ درپے تھے۔ حا اس کی صحت کے وہ منافی امامت غیر عیسیٰ بن مریم کـ

٨٧

صفحہ ٢١٣

الزهرى صحيح قال ابن مهدى وكذا اقول“

سوم ...... یہ کہ عقیل و اوزاعی و معمر وابن ذئب نے ایک روایت میں یونس کی متابعت کی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے۔ تابعہ عقیل والاوزاعی اور متابعت معمر وابن ابی ذئب کی روایت امام احمد سے سابق ثابت ہو چکی فتدبر !

وجہ دوم ...... وجوہ اصل سے یہ ہے کہ تیسری روایت کے موافق ایسے معنی اس حدیث کے ہو سکتے ہیں کہ جس کی بنا پر مسیح بن مریم کے غیر کا امام ہونا ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس وقت ہم کہہ سکتے ہیں کہ من بمعنی بعض کے ہے اور وہ ام کا فاعل واقع ہوا ہے۔ یا من تبیین کا ہے اور فاعل اس کا بسبب قائم ہونے لفظ منکم کے مقام اس کے محذوف ہے۔ جیسا کہ جمہور نحاۃ نے ”قد كان من مطر“ میں تاویل کی ہے۔ ”ای قام بعضكم او احد منكم “ اگر کہا جاوے کہ حذف فاعل جمہور کے نزدیک جائز نہیں ہے تو جواب یہ ہے کہ یہ عدم جواز مقید ہے۔ ساتھ نہ قائم ہونے کسی شے کے مقام فاعل کے اور جب فاعل کے مقام پر کوئی چیز قائم ہو تو بالاتفاق حذف فاعل جائز ہے۔ فوائد ضیائیہ میں بحث تنازع میں ہے۔ ”دون الحذف لانه لا يجوز حذف الفاعل الا اذا سد شئ مسده “ اور یہ بھی ممکن ہے کہ لفظ ام اس روایت میں صیغہ فعل ماضی کا نہ ہو۔ بلکہ ام بالضم اسم ہو اور وہ بمعنی امام لغت میں آیا ہے۔ قاموس میں ہے۔ ”والامة بكسر الحالة والشرعة والدين وبضم النعمة والهيئة والشان وغضارة العيش والسنة وتضم والطريقة والامامة والايتمام بالامام وبالضم الرجل الجامع للخير والامام وجماعة ارسل اليهم رسول والجيل من كل حى والجنس كالام فیھا “ اور بھی قاموس میں ہے۔ ”وام كل شئ اصله وعماده وللقوم رئيسهم“ اور بھی اسی میں ہے۔ ”وام القرى مكة لانها توسطت الارض فيما زعموا ولا نها قبلة الناس يؤموا “ اور مؤید اس کی یہ بات ہے کہ بر تقدیر فعل ماضی لفظ منکم بعد امکم کے محض بے ربط ہوتا ہے۔ اس وقت فصیح عبارت یہ تھی۔ ”كيف انتم اذا نزل فيكم ابن مريم منكم فامکم “ اور یہ دونوں تاویلیں دوسری روایت میں بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لئے کہ بقرینہ تیسری روایت کے دوسرے میں بھی لفظ منکم مقدر مانا جائے گا۔ اب اس بیان کے موافق مطلب ان روایتوں کا بھی وہی ہوگا۔ جو ”امامكم منكم “ سے ظاہر ہے۔ پس ان روایتوں سے ابطال اس معنی کا جس کے ابطال کے آپ درپے تھے۔ حاصل نہ ہوا۔ رہی روایت ابن عینیہ کی سو بعد تسلیم اس کی صحت کے وہ منافی امامت غیر عیسیٰ بن مریم کے نہیں ہے۔ کیونکہ روایت ابن عینیہ میں جو لفظ

٨٧

صفحہ ٢١٤

”اماماً مقسطاً“ کا آیا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ بمعنی حکماً و عدلاً کے ہو اور لفظ حکماً و عدلاً اس کی تفسیر واقع ہوا ہو۔ جیسا کہ جمہور کی روایت میں ہے۔ پس امامت شرعی نماز وغیرہ میں تو غیر عیسیٰ کے لئے ہو اور حکومت و عدالت حضرت عیسیٰ کے لئے ہو اور اس میں کچھ محذور نہیں ہے۔ دیکھو آنحضرت ﷺ وحضرت ابوبکر صدیقؓ وحضرت عمرؓ وحضرت عثمانؓ وحضرت علیؓ کے زمانوں میں حکام عادلین تحت امام کے دوسرے ہوا کرتے تھے۔ مثلاً ایسا ہی حضرت امام مہدی کے زمانہ میں اصل امام حضرت مہدی ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام حکام عادلین میں سے ہوں اور مؤید اس کے ہیں۔ وہ احادیث صحیحہ جو دلالت کرتی ہیں۔ اس پر کہ خلافت وامامت مختص ہے۔ ساتھ قریش کے اور حدیث جابر بن عبداللہ جس کا ذکر عنقریب آتا ہے۔ جس میں یہ لفظ ہے۔ ”فیقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة“

وجہ سوم...... صحیح مسلم میں باب نزول عیسی ابن مریم علیہا السلام میں ایک حدیث اعلی درجہ کی ایسی صحیح موجود ہے کہ آپ کے معنی کو بالکل باطل کرتی ہے اور جو معنی جمہور کہتے ہیں۔ اس کی تعیین کرتی ہے۔ وہ یہ ہے۔ ”حدثنا الوليد بن شجاع وهارون بن عبدالله وحجاج بن الشاعر قالوا ثنا حجاج وهو ابن محمد عن ابن جريج اخبرني ابوالزبيرانه سمع جابر بن عبدالله يقول سمعت النبى ﷺ يقول لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيمة قال فينزل عيسى ابن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذا الامة“ جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے۔ وہ کہتے تھے سنا میں نے نبی ﷺ سے فرماتے تھے۔ ہمیشہ رہے گا ایک گروہ میری امت کا لڑنے والا۔ حق پر غالب قیامت تک فرمایا۔ پھر اتریں گے عیسیٰ ابن مریم تو کہے گا امیر مسلمانوں کا آئیے ہم کو نماز پڑھائیے۔ پس فرمائیں گے حضرت عیسیٰ نہیں بعض تمہارا تمہارے بعض پر امیر ہے۔ یہ بزرگی دی ہے اللہ نے اس امت کو۔ راوی اوّل اس کا ولید بن شجاع ہے۔ اس کی نسبت تقریب میں ہے۔ ”ثقة من العاشرة“ اس کی متابعت ہارون ابن عبداللہ نے کی ہے۔ اس کی نسبت تقریب میں ہے۔ ”ثقة من العاشرة“ کاشف میں ہے۔ ”ثقة“ خلاصہ اور اس کے حاشیہ میں ہے۔ ”وثقه الدار قطنى والنسائى“ یہ ایسا ثقہ ہے کہ کسی نے اس میں جرح نہیں کی۔ اسی لئے ذہبی نے میزان میں اسکا ذکر نہیں کیا اور دوسرا متابع اس کا حجاج بن ابی یعقوب یوسف بن حجاج الثقفی البغدادی المعروف بابن الشاعر ہے۔ اس کی نسبت تقریب میں ہے۔ ”ثقة حافظ“ میزان میں ہے۔ حجاج بن یوسف ابو محمد الثقفی بغدادی

٨٨

٥ ابن الشاعر مجمع مشہور حافظ روى عنه مسلم والقاسم ”ثقة“ ولید بن شجاع میں اگر تھوڑا سا کلام ہے مگر بن الشاعر نے جو ثقات میں سے ہیں یہاں اس کی متابعت کی ہے۔ حافظ مقدمہ میں لکھتے ہیں۔ ”اح ابو ايوب العقيلى فى الضعفاء بسب ماضره الاختلاط فان ابراهيم العرو يدخل عليه احدا بعد اختلاطه روى ل راوی عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج الاموی وكان يدلس ويرسل“ یہ راوی رجال یہاں اس نے اخبرنی کہا ہے۔ اس لئے علت تد گئی ہے۔ تقریب میں ہے۔ ”صدوق الا انه مشهور وثقه الجمهور“ اس میں بھی بعض مضر نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ”انه سمع جا شیخین میں سے ہے اور مؤید اس کی وہ دو حدیثیں کی یہ ہے۔ ”وعند احمد من حديث واذاهم بعيسى فيقال تقدم ياروح الله ناگاہ عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھیں گے۔ پس کہیں السلام فرمائیں گے چاہئے کہ تمہارا ہی امام آگے ہ ”ولا بن ماجة في حديث اب اى المسلمون ببيت المقدس وامامهم عيسى فرجع الامام ينكص ليتقدم عی تقدم فانها لك اقيمت وقال ابو الحس تواترت الاخبار بان المهدى من هذه ا مسلمان بیت المقدس میں ہوں گے اور ان کا اما علیہ السلام نازل ہوں گے تو امام پیچھے ہٹ جائیں پیچھے کھڑے ہو کر امام سے کہیں گے کہ تم ہی آگے

٩

صفحہ ٢١٥

ابن الشاعر حجۃ مشہور حافظ روی عنہ مسلم والقاضی المحاملی خلاصہ میں ہے۔ ’’قال ابن ابی حاتم ثقة‘‘ ولید بن شجاع میں اگر تھوڑا سا کلام ہے مگر وہ مضر نہیں۔ کیونکہ ہارون بن عبداللہ اور حجاج بن الشاعر نے جو ثقات میں سے ہیں یہاں اس کی متابعت کی ہے۔ دوسرا راوی حجاج بن محمد الاعور المصیصی ہے۔ حافظ مقدمہ میں لکھتے ہیں۔ ’’احد الاثبات اجمعوا علی توثیقه وذکره ابو ایوب العقیلی فی الضعفاء بسبب انه تغیر فی أخر عمره واختلط لکن ماضره الاختلاط فان ابراهیم العربی حکی ان یحییٰ بن معین منع ابنه ان یدخل علیه احدا بعد اختلاطه روی له الجماعة ‘‘ راوی رجال شیخین سے ہے۔ تیسرا راوی عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج الاموی ہے۔ تقریب میں ہے۔ ’’ثقة فقیه فاضل وکان یدلس ویرسل ‘‘ یہ راوی رجال شیخین سے ہے۔ اس میں علت تدلیس کی ہے۔ مگر یہاں اس نے اخبرنی کہا ہے۔ اس لئے علت تدلیس زائل ہوگئی۔ چوتھا راوی محمد بن مسلم ابوالزبیر مکی ہے۔ تقریب میں ہے۔ ’’صدوق الا انه یدلس ‘‘ مقدمہ میں ہے۔ ’’احد التابعین مشهور وثقه الجمهور ‘‘ اس میں بھی بعض نے تدلیس کا ذکر کیا ہے۔ لیکن تدلیس یہاں کچھ مضر نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ’’انه سمع جابر بن عبدالله ‘‘ کہا ہے۔ یہ راوی بھی رجال شیخین میں سے ہے اور مؤید اس کی وہ دو حدیثیں ہیں جن کا ذکر فتح الباری میں ہے۔ عبارت اس کی یہ ہے۔ ’’وعند احمد من حدیث جابر فی قصة الدجال ونزول عیسیٰ واذاهم بعیسیٰ فیقال تقدم یاروح الله فیقول لیقدم امامکم فلیصل بکم ‘‘ یعنی ناگاہ عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھیں گے۔ پس کہیں گے یا روح اللہ آپ آگے ہو جائیے تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے چاہئے کہ تمہارا ہی امام آگے ہو کر تم کو پڑھاوے۔

’’ولابن ماجة فی حدیث ابی امامة الطویل فی الدجال قال وکلهم ای المسلمون ببیت المقدس وامامهم رجل صالح قد تقدم لیصلی بهم اذ نزل عیسیٰ فرجع الامام ینکص لیتقدم عیسیٰ فیقف عیسیٰ بین کتفیه ثم یقول تقدم فانها لک اقیمت وقال ابو الحسن الخثعمی الامدی فی مناقب الشافعی تواترت الاخبار بان المهدی من هذه الامة وان عیسیٰ یصلی خلفه ‘‘ یعنی سب مسلمان بیت المقدس میں ہوں گے اور ان کا امام نماز پڑھانے کے لئے آگے ہوگا کہ ناگاہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو امام پیچھے ہٹ جائیں گے۔ تا کہ عیسیٰ علیہ آگے ہوں تو عیسیٰ، امام کے پیچھے کھڑے ہو کر امام سے کہیں گے کہ تم ہی آگے ہو۔ تمہارے ہی لئے اقامت ہوئی ہے۔ ابو ٨٩

صفحہ ٢١٦

الحسن خثعمی امدی نے مناقب شافعی میں لکھا ہے کہ حدیثیں اس باب میں حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں کہ مہدی اس امت سے ہوں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

میں کہتا ہوں کہ مسند احمد میں ایک حدیث عثمان بن ابی العاص سے مروی ہے۔ وہ بھی اس کی مؤید ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے۔ ”قال الامام احمد حدثنا یزید بن ہارون حدثنا حماد بن سلمة عن علی بن زید عن ابی نضرة قال اتینا عثمان بن ابی العاص فی یوم الجمعة لنعرض علیہ مصحفنا لنا علیٰ مصحفہ فلما حضرت الجمعة امرنا فاغتسلنا ثم اتانا بطیب فتطیبنا ثم جئنا المسجد فجلسنا الی رجل فحدثنا عن الدجال ثم جاء عثمان بن ابی العاص فقمنا الیہ فجلسنا فقال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول یکون للمسلمین ثلاثة امصار“ اس حدیث میں یہ لفظ ہے۔ ”فبیناھم کذلک اذ نادی مناد من السحر یا ایھا الناس اتلکم الغوث ثلاثا فیقول بعضھم لبعض ان ھذا الصوت رجل شبعان وینزل عیسیٰ بن مریم علیہ السلام عند صلوٰۃ الفجر فیقول لہ امیرھم یا روح اللہ تقدم صل فیقول ھذہ الامة امراء بعضھم علیٰ بعض فیتقدم امیرھم فیصلی حتی اذا قضیٰ صلاتہ اخذ عیسیٰ حربة فیذھب نحو الدجال“ یعنی عیسیٰ صبح کی نماز کے وقت نازل ہوں گے تو امیر مؤمنوں کا عیسیٰ سے کہے گا کہ یا روح اللہ آگے ہو کر نماز پڑھائیے تو عیسیٰ کہیں گے کہ یہی امت ایک دوسرے پر امیر ہے۔ پس امیر مؤمنوں کا آگے ہو کر نماز پڑھائے گا۔ یہاں تک کہ جب نماز پڑھا چکے گا تو عیسیٰ علیہ السلام ہتھیار لے کر دجال کی طرف جائیں گے۔

اس حدیث کے راوی بعض شیخین کی شرط پر ہیں اور بعض مسلم کی شرط پر سوائے علی بن زید بن جدعان کے کہ وہ رجال مسلم سے ہے۔ لیکن مسلم نے مقروناً بغیرہ اس سے روایت کی ہے۔ اس راوی کی اگرچہ بعض نے تضعیف کی ہے۔ مگر اکثر جلیل القدر نے جیسے منصور بن زاذان وحماد بن سلمة ویحییٰ وابو حاتم وترمذی و دار قطنی ویعقوب بن شیبہ وذہبی نے توثیق کر دی ہے۔ میزان میں ہے۔ ”وقال منصور بن زاذان لما مات الحسن البصری قلنا لعلی بن زید اجلس مجلسہ قال موسیٰ بن اسماعیل قلت لحماد بن سلمة زعم وھیب ان علی بن زید کان لا یحفظ قال ومن این کان وھیب یقدر علی مجالسة علی انما کان یجالسہ وجوہ الناس وروى عباس عن یحییٰ

٩٠

صفحہ ٢١٧

هو احب الى من ابن عقيل ومن عاصم بن عبدالله قال ابو حاتم يكتب حديثه هو احب الى من يزيد بن ابى زياد قال الترمذى صدوق وقال الدار قطنى لا يترك عندى فيه لين“

تہذیب میں ہے۔ ”قال یعقوب بن شیبۃ ثقۃ ذھبی ذکر من عرف بابیہ“ میں لکھتے ہیں۔ ”ابن جدعان من صغار التابعین ھو علی بن زید جدعان بصری صویلہ“ حافظ عبدالعظیم منذری ترغیب وترہیب میں لکھتے ہیں۔ ”وصحح الترمذی لہ حدیث ما فی السلام وحسن لہ غیر ما حدیث“ کاشف میں ہے۔ ”احد الحفاظ بالبصرۃ“ بالجملہ حدیث علی بن زید بن جدعان کی حسن ہے۔ علی شرط الترمذی خصوصاً تائید کے لئے کافی ہونے میں تو کلام نہیں۔

قولہ ....... ”اور متعدد اسانید سے فیصلہ قطعی کردیا کہ ”امامکم منکم“ اسی مسیح بن مریم کی صفت واقع ہوئی ہے۔ یا اس سے حال واقع ہوا ہے۔“

اقول ....... اس میں کلام ہے۔ بچند وجوہ!

اول....... یہ کہ ”امامکم منکم“ کو جو آپ صفت مسیح بن مریم کی لکھتے ہیں تو اس سے اگر یہ مطلب ہے کہ جملہ بن کر یہ صفت مسیح بن مریم کی واقع ہوا ہے تو صریح غلط ہے۔ کیونکہ ابن مریم معرفہ ہے اور جملہ حکم میں نکرہ کے ہوتا ہے۔ پس مطابقت موصوف وصفت کے درمیان نہ پائی گئی اور اگر یہ مطلب ہے کہ ”وامامکم منکم“ بغیر جملہ بنائے صفت واقع ہے تو اس میں یہ قباحت ہے کہ موصوف وصفت کے درمیان میں واؤ نہیں آتا ہے اور یہاں واؤ موجود ہے اور اگر آپ کو شرح جامی کی اس عبارت سے دھوکا ہوا ہے کہ جو اس نے قیل کے لفظ سے نقل کی ہے کہ زمخشری نے وقوع واؤ کا درمیان موصوف صفت کے تجویز کیا ہے تو اس کا جواب جب آپ اسے پیش کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس وقت ایسا دیا جائے گا جس سے آپ کو اپنے فہم کی غلطی کھل جائے گی۔

دوم....... ”امامکم منکم“ کا مسیح بن مریم سے حال ہونا اس پر موقوف نہیں ہے کہ مسیح بن مریم جو آنے والا ہے وہ اس امت میں سے ایک امام ہو۔ بلکہ ”امامکم منکم“ مسیح بن مریم سے اس وقت بھی حال ہو سکتا ہے کہ ”امامکم منکم“ میں جو امام ہے وہ سوائے مسیح ابن مریم کے کوئی اور ہو اور یہ شبہ کہ رابطہ یہاں نہیں ہے۔ اس کا جواب اوپر گزر چکا ہے۔

سوم....... آپ کے معنی پر جب امامکم منکم کو مسیح بن مریم سے حال کہا جائے گا تو صرف نص کا ظاہر سے لازم آئے گا۔ کیونکہ وضع مضمر موضع مظہر کا قائل ہونا پڑے گا۔ اس تقریر پر اصل عبارت

Wait, let me double check the last line: "اس تقریر پر اصل عبارت" or just "اس تقریر پر عبارت"? Looking closely at the image again: "اس تقریر پر اصل عبارت" Yes, the word "اصل" is there. My transcription in the block above had it correctly.

هو احب الى من ابن عقيل ومن عاصم بن عبدالله قال ابو حاتم يكتب حديثه هو احب الى من يزيد بن ابى زياد قال الترمذى صدوق وقال الدار قطنى لا يترك عندى فيه لين“

تہذیب میں ہے۔ ”قال یعقوب بن شیبۃ ثقۃ ذھبی ذکر من عرف بابیہ“ میں لکھتے ہیں۔ ”ابن جدعان من صغار التابعین ھو علی بن زید جدعان بصری صویلہ“ حافظ عبدالعظیم منذری ترغیب وترہیب میں لکھتے ہیں۔ ”وصحح الترمذی لہ حدیث ما فی السلام وحسن لہ غیر ما حدیث“ کاشف میں ہے۔ ”احد الحفاظ بالبصرۃ“ بالجملہ حدیث علی بن زید بن جدعان کی حسن ہے۔ علی شرط الترمذی خصوصاً تائید کے لئے کافی ہونے میں تو کلام نہیں۔

قولہ ....... ”اور متعدد اسانید سے فیصلہ قطعی کردیا کہ ”امامکم منکم“ اسی مسیح بن مریم کی صفت واقع ہوئی ہے۔ یا اس سے حال واقع ہوا ہے۔“

اقول ....... اس میں کلام ہے۔ بچند وجوہ!

اول....... یہ کہ ”امامکم منکم“ کو جو آپ صفت مسیح بن مریم کی لکھتے ہیں تو اس سے اگر یہ مطلب ہے کہ جملہ بن کر یہ صفت مسیح بن مریم کی واقع ہوا ہے تو صریح غلط ہے۔ کیونکہ ابن مریم معرفہ ہے اور جملہ حکم میں نکرہ کے ہوتا ہے۔ پس مطابقت موصوف وصفت کے درمیان نہ پائی گئی اور اگر یہ مطلب ہے کہ ”وامامکم منکم“ بغیر جملہ بنائے صفت واقع ہے تو اس میں یہ قباحت ہے کہ موصوف وصفت کے درمیان میں واؤ نہیں آتا ہے اور یہاں واؤ موجود ہے اور اگر آپ کو شرح جامی کی اس عبارت سے دھوکا ہوا ہے کہ جو اس نے قیل کے لفظ سے نقل کی ہے کہ زمخشری نے وقوع واؤ کا درمیان موصوف صفت کے تجویز کیا ہے تو اس کا جواب جب آپ اسے پیش کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس وقت ایسا دیا جائے گا جس سے آپ کو اپنے فہم کی غلطی کھل جائے گی۔

دوم....... ”امامکم منکم“ کا مسیح بن مریم سے حال ہونا اس پر موقوف نہیں ہے کہ مسیح بن مریم جو آنے والا ہے وہ اس امت میں سے ایک امام ہو۔ بلکہ ”امامکم منکم“ مسیح بن مریم سے اس وقت بھی حال ہو سکتا ہے کہ ”امامکم منکم“ میں جو امام ہے وہ سوائے مسیح ابن مریم کے کوئی اور ہو اور یہ شبہ کہ رابطہ یہاں نہیں ہے۔ اس کا جواب اوپر گزر چکا ہے۔

سوم....... آپ کے معنی پر جب امامکم منکم کو مسیح بن مریم سے حال کہا جائے گا تو صرف نص کا ظاہر سے لازم آئے گا۔ کیونکہ وضع مضمر موضع مظہر کا قائل ہونا پڑے گا۔ اس تقریر پر اصل عبارت

٩١

صفحہ ٢١٨

یوں ہونی چاہئے۔ وھومنکم ! اور وضع مظہر موضع مضمر کے خلاف ظاہر ہے اور صرف نص کا ظاہر سے بغیر صارف قطعی جائز نہیں ہے۔

چہارم ...... روایتوں میں مسلم کی ایسے معنی بھی ہو سکتے ہیں جس سے غیر مسیح بن مریم کا امام ہونا پایا جاتا ہے۔

پنجم ....... مسلم کی روایتوں میں وہم کا ہونا ہم نے ثابت کر دیا۔ وقد فصل انفا !

ششم ....... حدیث جابر جو مسلم میں ہے اور اعلیٰ درجہ کی صحیح ہے۔ اس نے فیصلہ کر دیا کہ امام غیر مسیح بن مریم ہوگا۔

قولہ ....... ”صحیح مسلم میں اسانید متعددہ سے ثابت کر دیا کہ امامکم منکم کے معنی یہ ہیں کہ فامکم منکم بكتاب ربكم تبارك وتعالى وسنة نبيكم!“

اقول ....... اس میں کلام ہے۔ بوجہ وجوہ!

اول ....... مسلم نے ایک سند کے بھی یہ معنی نہیں بیان کئے جو آپ نے لکھے ہیں آپ نے لفظ منکم زیادہ کر دیا ہے۔ لفظ مسلم کا یہ ہے۔ ”قال ابن ابی ذئب تدري ما امكم منكم قلت تخبرني قال فامكم بكتاب ربكم تبارك وتعالى وسنة نبيكمﷺ“ اس جگہ زیادت لفظ منکم خطاء بین ہے۔ کیونکہ ”بكتاب ربكم تبارك وتعالى وسنة نبيكم“ تفسیر منکم کی ہے۔ پس جمع بین المفسر والمفسر لازم آتا ہے۔ مطلب ابن ابی ذئب کا یہ ہے۔ ”امکم منكم“ کے معنی یہ کہ ابن مریم تمہاری امامت کرے گا۔ تم میں سے ہو کر یعنی تمہارے دین میں ہو کر نہ بحیثیت نبوت، اور تمہارے دین میں ہو کر امامت کرنے کے معنی یہی ہیں کہ کتاب وسنت کے ساتھ امامت کرے گا۔

دوم ....... مسلم نے معنی مذکور ایک سند سے بیان کئے ہیں۔ نہ اسانید متعددہ سے پس اطلاق لفظ جمع کا یہاں پر کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔

سوم ....... یہ معنی صرف ابن ابی ذئب کا جو ایک تبع تابعین سے ہے۔ فہم ہے۔ نہ حدیث مرفوع اور جب فہم صحابہ کا حجت نہیں ہے تو تبع تابعی کا فہم کس طرح حجت ہو سکتا ہے۔ خاص کر جب حدیث صحیح جابرؓ کی اس کی معارض موجود ہے۔

چہارم ....... بر تقدیر تسلیم اس معنی کے جو ابن ابی ذئب نے بیان کئے ہیں۔ بھی آپ کا مطلب حاصل نہیں ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ کا مدعا تو یہ ہے کہ ابن مریم جو نبی بنی اسرائیل تھے، نہیں آویں گے بلکہ امت محمدیہ میں سے ان کا ایک مثیل آوے گا اور ابن ابی ذئب کے معنی سے یہ ثابت ہوتا

٩٢

ہے کہ وہی ابن مریم جو نبی اسرائیل کے نبی تھے گے۔ بلکہ امت محمدیہ میں ہو کر تمہارے امام ہوں دونوں روایات کی صحت تسلیم کر لی جاوے تو بھی اس میں لفظ منکم کا نہیں ہے۔ جس پر مدار آپ کہ جس میں لفظ منکم کا ہے۔ اس سے بھی آپ روایت میں ہے۔ اس سے تو ظاہر غیر عیسیٰ کا امام جائز نہیں ہے اور یہاں کوئی صارف موجود نہیں۔ ایک احتمال ہم نے ایسا بیان کر دیا ہے۔ جس سے ہے۔ ”اذا جاء الاحتمال بطل الاستد سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امام ہونا ثابت ہو آپ کا مدعی (یعنی آنے والا مسیح خود ابن مریم نہیں

”کما مر تقریرہ“

قولہ ....... ”جب کہ صحیحین سے ثابت ہو چکا کہ ہوگا۔“

اقول ....... صحیحین سے یہ بات ہرگز ثابت نہیں عیسیٰ بن مریم نبی بنی اسرائیل ہے نہ کوئی اس کا مث حاجت نہیں ہے۔ کیونکہ بعض احادیث صحیحہ میں ابن میں عیسیٰ بن مریم کا لفظ واقع ہوا ہے اور بعض احادی وحدیث میں جب بولے جاتے ہیں تو ان سے سر ایک جگہ بھی مثیل مراد نہیں ہے۔ پس ظاہر نصوص قر کوئی پایا نہیں جاتا ہے۔ مگر تبرعاً زیادت اطمینان کـ طور پر ثابت ہے کہ آنے والا مسیح مرزا غلام احمد قادیا

دلیل اوّل ...... احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسیح آ قسطنطنیہ کے اور فتح قسطنطنیہ بعد ملحمہ کبریٰ کے وقت

”حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبـ سالم قال سمعت يعقوب بن عاصـ

٩٣

صفحہ ٢١٩

ہے کہ وہی ابن مریم جو بنی اسرائیل کے نبی تھے۔ آویں گے مگر بحیثیت نبی تم پر امامت نہ کریں گے۔ بلکہ امت محمدیہ میں ہو کر تمہارے امام ہوں گے۔ ”وشتان بینہما“ علاوہ اس کے اگر ان دونوں روایات کی صحت تسلیم کر لی جاوے تو بھی آپ کا مدعا اس سے حاصل نہیں ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں لفظ منکم کا نہیں ہے۔ جس پر مدار آپ کے دعوے کے اثبات کا ہے اور اوپر یہ بھی معلوم ہوا کہ جس میں لفظ منکم کا ہے۔ اس سے بھی آپ کا مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ امامکم منکم کا لفظ جس روایت میں ہے۔ اس سے تو ظاہر غیر عیسیٰ کا امام ہونا مراد ہے اور صرف عن الظاہر بغیر صارف کے جائز نہیں ہے اور یہاں کوئی صارف موجود نہیں ہے اور امامکم منکم جس میں ہے اس کے معنی میں ایک احتمال ہم نے ایسا بیان کر دیا ہے۔ جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امام ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے۔ ”اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال“ اور اگر وہ معنی بھی تسلیم کر لئے جائیں جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امام ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ ابن ابی ذئب نے کہا ہے تو بھی آپ کا مدعی (یعنی آنے والا مسیح خود ابن مریم نہیں ہے۔ بلکہ مثیل اس کا ہے ) ثابت نہیں ہوتا ہے ”کمامر تقریرہ“

قولہ ...... ”جب کہ صحیحین سے ثابت ہو چکا کہ آنے والا مسیح اس ہی امت میں سے ایک امام ہوگا۔“

اقول ...... صحیحین سے یہ بات ہرگز ثابت نہیں ہوتی۔ کمامر ! اب رہا یہ امر کہ آنے والا مسیح وہی عیسیٰ بن مریم نبی بنی اسرائیل ہے نہ کوئی اس کا مثیل۔ اگرچہ ہم کو اس پر دلیل قائم کرنے کی کچھ حاجت نہیں ہے۔ کیونکہ بعض احادیث صحیحہ میں ابن مریم کا لفظ واقع ہوا ہے اور بعض احادیث صحیحہ میں عیسیٰ بن مریم کا لفظ واقع ہوا ہے اور بعض احادیث صحیحہ میں مسیح بن مریم اور یہ تینوں الفاظ قرآن و حدیث میں جب بولے جاتے ہیں تو ان سے سب جگہ وہی مسیح نبی بنی اسرائیل مراد ہوتا ہے۔ ایک جگہ بھی مثیل مراد نہیں ہے۔ پس ظاہر نصوص قرآنیہ وحدیثیہ یہی ہے اور صارف اس ظاہر کے کوئی پایا نہیں جاتا ہے۔ مگر تبرعاً زیادت اطمینان کے لئے ہم لکھتے ہیں کہ احادیث صحیحہ سے صاف طور پر ثابت ہے کہ آنے والا مسیح مرزا غلام احمد قادیانی ہرگز نہیں ہو سکتا۔

دلیل اوّل...... احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسیح آنے والا بعد دجال کے آئے گا اور دجال بعد فتح قسطنطنیہ کے اور فتح قسطنطنیہ بعد ملحمہ کبریٰ کے ثبوت امر اوّل کی یہ حدیث مسلم کی ہے۔

”حدثنا عبید الله بن معاذ العنبری ثنا ابی ثنا شعبة عن النعمان بن سالم قال سمعت یعقوب بن عاصم ابن عروة بن مسعود الثقفی یقول

٩٣

صفحہ ٢٢١

سمعت عبدالله بن عمرو وجاء رجل فقال ما هذا الحديث الذي تحدث به تقول ان الساعة تقوم الى كذاو كذا فقال سبحان الله او لا اله الا الله او كلمة نحوهما لقد هممت ان لا احدث احدا شيئا ابدا انما قلت انكم سترون بعد قليل امرا عظيماً يحرق البيت ويكون ويكون ثم قال قال رسول الله ﷺ يخرج الدجال في امتي فيمكث اربعين لا ادرى اربعين يوما او اربعين شهراً او اربعين عاماً فيبعث الله تعالى عيسى بن مريم كأنه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه “ یعنی خروج دجال کے بعد اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا کہ عروہ بن مسعود کے شکل کے مشابہ ہوں گے اور دجال کو تلاش کر کے ہلاک کریں گے۔

اس حدیث کے سب رواة رجال شیخین ہیں۔ سوائے نعمان بن سالم طائفی ویعقوب بن عاصم بن عروہ ابن مسعود ثقفی کے اور یہ دونوں ایسے ثقہ ہیں کہ ان میں کوئی جرح نہیں۔ اسی لئے میزان میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ اس باب میں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے۔ بہت احادیث وارد ہیں۔

جامع ترمذی میں ہے۔ ”حدثنا قتيبة نا الليث عن ابن شهاب انه سمع عبيد الله بن عبدالله بن ثعلبة الانصارى يحدث عن عبدالرحمن بن يزيد الانصارى من بنى عمر وبن عوف قال سمعت عمى مجمع بن جارية الانصارى يقول سمعت رسول الله ﷺ يقول يقتل ابن مريم الدجال بباب لد فى الباب عن عمران بن حصين ونافع بن عتبة وابي برزة وحذيفة بن اسيد وابي هريرة وكيسان وعثمان بن ابى العاص وجابر وابى امامة وابن مسعود وعبدالله بن عمرو سمرة بن جندب والنواس بن سمعان وعمرو بن عوف وحذيفة بن يمان هذا حديث صحيح مثبت “ امام مسلم کی یہ حدیث ہے:

”عن عبدالله بن مسعود قال ان الساعة لا تقوم حتى لا يقسم ميراث ولا يفرح بغنيمة ثم قال عدو يجمعون لاهل الشام ويجمع لهم اهل الاسلام يعنى الروم فيتشرط المسلمون شرطة للموت لا ترجع الاغالبة فيقتتلون حتى يحجز بينهم الليل فيفئ هولاء وهؤلاء كل غير غالب وتفنى الشرطة ثم يتشرط المسلمون شرط للموت لا ترجع الاغالبة فيقتتلون حتى يحجز بينهم الليل فيفئ هؤلاء وهولاء كل غير غالب وتفنى الشرطة ثم ينشرط المسلمون ٩٤

شرطة للموت لا ترجع الاغالبة فيقتتلون حـ كل غير غالب وتفنى الشرطة فاذا كان الاسلام فيجعل الله الدبرة عليهم فيقتتلون مـ ليمر بجنباتهم فلا يخلفهم حتى يخر ميتتا يجدونه بقى منهم الا الرجل الواحد فبای غـ فبيناهم كذلك اذا سمعوا بباس هو اكبر من ذلـ قد خلفهم في ذراريهم فير فضون ما في ا فوارس طليعة قال رسول الله ﷺ انی لا والوان خيولهم هم خير فوارس او من خير فـ رواہ مسلم “

اس حدیث کے سب راوی علی شرط الشیخین ہیـ مسلم وابوداؤد ونسائی سے ہے۔ یہ ایسا ثقہ ہے کہ کسی نے میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ اس باب میں اور احادیث بھی مسـ کا ہے اور اس ترتیب پر کہ پہلے خروج ملحمہ ہے۔ پھر فتح قـ کی دال ہے۔ ”عن معاذ بن جبل قال قال رسو خراب يثرب وخراب يثرب خروج الملحمة و وفتح قسطنطنية خروج الدجال“ اس حدیث ۔

ان میں کوئی جرح نہیں ہے۔ اس لئے میزان میں ان کا ذ بن ثوبان عنسی کے کہ وہ مختلف فیہ ہے۔ ایک جماعت کثیـ ہے۔ ”وثقه دحيم وقال ابن معين ليس به باس وكان مجاب الدعوة وقال ابو حاتم ثقة و حسن الترمذى حديثه وقد وثق الفلاس ا وثقه ابن المدینی و حاکم الترمذی وغیرہ میں کہتا ہوں۔ ترنـ میں سے ایک یہ ہے۔

”حدثنا عبد الله بن عبد الرحـ ثوبان عن ابيه عن مكحول عن جبيـ ٩٥

صفحہ ٢٢١

شرطة للموت لا ترجع الاغالبة فيقتتلون حتى يمسوا فيضئ هؤلاء وهؤلاء كل غير غالب وتفنى الشرطة فاذا كان يوم الرابع نهد اليهم بقية أهل الاسلام فيجعل الله الدبرة عليهم فيقتتلون مقتلة لم ير مثلها حتى ان الطائر ليمر بجنباتهم فلا يخلفهم حتى يخر ميتا فيتعاد بنو الاب كانوا مائة فلا يجدونه بقى منهم الا الرجل الواحد فبای غنيمة يفرح اوای ميراث بقسيم فبيناهم كذلك اذا سمعوا بباس هو اكبر من ذلك فجاء هم الصريخ ان الدجال قد خلفهم فی ذراريهم فير فضون ما فی ايديهم ويقبلون فيبعثون عشر فوارس طليعة قال رسول اللہ ﷺ انی لا اعرف اسماء هم واسماء آبائهم والوان خيولهم هم خير فوارس او من خير فوارس على ظهر الارض يومئذ رواه مسلم“

اس حدیث کے سب راوی علی شرط الشیخین ہیں۔ سوائے ابوقلادہ عدوی کے کہ وہ رواۃ مسلم وابوداؤد ونسائی سے ہے۔ یہ ایسا ثقہ ہے کہ کسی نے اس میں جرح نہیں کی۔ اس لئے میزان میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ اس باب میں اور احادیث بھی مسلم میں موجود ہیں۔ بعض میں نام قسطنطنیہ کا ہے اور اس ترتیب پر کہ پہلے خروج ملحمہ ہے۔ پھر فتح قسطنطنیہ پھر خروج دجال یہ حدیث ابوداؤد کی دال ہے۔”عن معاذ بن جبل قال قال رسول اللہ ﷺ عمران بیت المقدس خراب یثرب وخراب یثرب خروج الملحمة وخروج الملحمة فتح قسطنطنية وفتح قسطنطنية خروج الدجال“ اس حدیث کے سب رجال اعلیٰ درجہ کے ثقات ہیں کہ ان میں کوئی جرح نہیں ہے۔ اس لئے میزان میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ سوائے عبدالرحمٰن بن ثابت بن ثوبان عنسی کے کہ وہ مختلف فیہ ہے۔ ایک جماعت کثیرہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ میزان میں ہے۔”وثقه دحيم وقال ابن معين ليس به باس وقال ابوداؤد كان فيه سلامة وكان مجاب الدعوة وقال ابو حاتم ثقة وقال صالح جزرة قدری صدوق حسن الترمذی حديثه وقد وثق الفلاس ابن ثوبان“ ترغیب ترہیب میں ہے۔ وثقہ ابن المدینی وصحح لہ الترمذی وغیرہ میں کہتا ہوں۔ ترمذی نے جن احادیث کی تصحیح کی ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے۔

”حدثنا عبدالله بن عبدالرحمن انا محمد بن يوسف عن ابن ثوبان عن ابيه عن مكحول عن جبير بن نفير ان عبادة بن الصامت

٩٥

صفحہ ٢٢٢

حدثهم ان رسول الله ﷺ قال ما على الارض مسلم يدعوا الله تعالى بدعوة الا آتاه الله اياها او صرف عنه من السوء مثلها ما لم يدع باثم او قطيعة رحم فقال رجل من القوم اذا تكثر قال الله اكثر وهذا حديث حسن غريب صحيح من هذا الوجه “ پس عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان کی حدیث ترمذی کے شرط پر ضرور صحیح ہے اور سوائے مکحول شامی کے کہ یہ بھی مختلف فیہ ہے۔ اس کی توثیق کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ رجال مسلم سے ہے اور اس کی غیر واحد نے توثیق کی ہے۔ میزان میں ہے۔ ” وثقه غير واحد وقال ابن سعد ضعفه جماعة قلت هو صاحب تدليس وقد رمى بالقدر فالله اعلم يروى بالارسال عن ابي وعبادة بن الصامت وعائشة وابي هريرة وروى عن واثلة وابي امامة وعدة وعنه ثور بن يزيد والاوزاعي لم يبلغنا ان احدا من التابعين تكلم في القدر الا الحسن ومكحول فكشفنا عن ذلك فاذا هو باطل “

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ مکحول میں تین جرحین ہیں۔ اوّل یہ کہ وہ مدلس ہے۔ دوم یہ کہ قدر کے ساتھ متہم کیا گیا ہے۔ سوم یہ کہ کثیر الارسال عن الصحابہ ہے۔ جرح اخیر تو اس حدیث میں ساقط ہے۔ اس لئے کہ یہاں صحابی سے روایت نہیں کرتا ہے۔ بلکہ جبیر بن نفیر سے اور جرح دوم یحییٰ بن معین واوزاعی کے کلام سے باطل ہو گئی۔ رہی جرح تدلیس پس یہ جرح سوائے میزان کے کسی کتاب میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ نہ تقریب میں نہ کاشف میں نہ خلاصہ میں۔

” حديث عباده بن الصامت فلا تفعلوا الا بفاتحة الكتاب فانه لا صلوة لمن لم يقراها “ میں مکحول واقع ہے اور وہ محمود بن الربیع کے ساتھ لفظ عن سے روایت کرتا ہے اور بخاری نے جزء القراءة میں اس کی تصحیح کی ہے۔ تلخیص الحبیر میں ہے۔ ” احمد والبخارى في جزء القرأة وصححه وابوداؤد والترمذى والدار قطني وابن حبان والحاكم والبيهقى من طريق ابن اسحاق حدثني مكحول عن محمود بن الربيع عن عبادة وتابعه زيد بن واقد وغيره عن مكحول “ بیہقی نے بھی تصحیح کی ہے۔ ” قال البيهقى ورواه ابراهيم بن سعد عن محمد بن اسحق فذكر فيه سماع ابن اسحق من مكحول فصار الحديث موصولا صحيحاً “ اہل حدیث اس حدیث میں علت تدلیس ابن اسحاق کی بیان کرتے ہیں اور اس کا جواب اس طرح دیتے ہیں کہ دوسری روایت میں تحدیث کی تصریح ہے۔ ایک بھی تدلیس مکحول کی بیان نہیں کرتا ہے۔ نیل

٩٦

صفحہ ٢٢٣

الأوطار میں ہے۔ ”ومحمد بن اسحق قد صرح بالتحديث فذهب مظنة تدليسه“ تخریج احادیث وسیط میں ہے۔ ”وهو حديث صحيح رواه ابوداؤد والترمذى ودارقطنی وابن حبان والحاكم والبيهقى من روایت عبادة الصامت قال الترمذی حسن وقال الدار قطنی اسناده حسن ورجاله ثقات وقال الخطابى اسناده جيد لا مطعن فيه وقال الحاكم اسناده مستقيم وقال البيهقى صحيح قلت ولا يضر كون عنعنة ابن اسحق فى بعض اسانيده فقد صرح فى بعضها بالتحديث فزال المحذور“ ترمذی نے حدیث مکحول کی تصحیح کی ہے۔ باب ”ماجاء في سجدتی السهو“ میں لکھتے ہیں: ”حدثنا محمد بن بشار نا محمد بن خالد بن عثمة نا ابراهيم بن سعد قال حدثنى محمد بن اسحق عن مكحول عن كريب عن ابن عباس عن عبدالرحمن بن عوف قال سمعت النبي ﷺ يقول اذا سها احدكم فى صلوته الحديث قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح“ جب کہ بخاری و ترمذی و بیہقی مکحول کا عنعنہ قبول کرتے ہیں اور حدیث عبادہ مذکور میں کوئی شخص تدلیس مکحول کو علت قرار نہیں دیتا ہے تو یہ امر اوّل دلیل ہے۔ اس پر کہ مکحول ان مدلسین میں سے نہیں ہے کہ جن کا عنعنہ معتبر نہ ہو اور یہ حدیث بھی ترتیب مذکور پر دال ہے۔ ”عن عبدالله بن بسر ان رسول الله ﷺ قال بين الملحمة وفتح المدينة ست سنين ويخرج الدجال فى السابعة رواه ابوداؤد وقال هذا اصح“ مخفی نہ رہے کہ شہر قسطنطنیہ ابھی تک بفضل اللہ تعالیٰ اہل اسلام کے قبضہ میں ہے۔ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کفار کے قبضہ میں آجائے گا۔ اس کے بعد ملحمہ کبریٰ واقع ہوگا۔ اس کے بعد فتح قسطنطنیہ ہوگی۔ اس کے بعد خروج دجال ہوگا۔ اس کے بعد مسیح موعود تشریف لائیں گے۔ مرزا قادیانی جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور ابھی تک وقائع مذکورہ وقوع میں نہیں آئے تو یہ امر اوّل دلیل ہے۔ مرزا قادیانی کے کاذب ہونے پر۔

دلیل اوّل، دوم، سوم، چہارم، پنجم، ششم حدیث نواس بن سمعان ہے جو صحیح مسلم میں مروی ہے۔

”وعن النواس بن سمعان قال ذكر رسول الله ﷺ الدجال وقال ان يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم وان يخرج ولست فيكم فامر حجيج نفسه والله خليفتى على كل مسلم انه شاب قطط عينه طافئة كانى اشبهه

٩٧

صفحہ ٢٢٥

بعبد العزى ابن قطن فمن ادركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف فانها جواركم من فتنته انه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا يا عباد الله فاثبتوا قلنا يا رسول الله وما لبثه فى الارض قال اربعون يوما يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر ايامه كايامكم قلنا يا رسول الله فذلك اليوم الذى كسنة ايكفينا فيه صلوة يوم قال لا اقدروا له قدره قلنا يارسول الله وما اسرعه فى الارض قال كالغيث استدبرته الريح فيأتى على القوم فيدعوهم فيؤمنون به فيأمر السماء فتمطر والارض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم اطول ماكانت ذرى واسبغه ضروعا وامده خواصر ثم يأتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايديهم شئ من اموالهم ويمر بالخربة فيقول لها اخرجي كنوزك فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل ثم يدعوا رجلا ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه يضحك فبينما هو كذلك اذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذا طأ طأ راسه قطر واذا رفعه تحدر منه مثل جمان كاللؤلؤ فلا يحل لكافر يجد من ريح نفسه الا مات نفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتل ثم يأتى عيسى قوم قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم فى الجنة فبينما هو كذلك اذ اوحى الله الى عيسى انى قد اخرجت عباداً لى لا يدان لاحد بقتالهم فحرز عبادى الى الطور ويبعث الله ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون فيمر اوائلهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيها ويمر أخرهم فيقول لقد كان بهذه مرة ماء ثم يسيرون حتى ينتهوا الى جبل الخمر وهو جبل بيت المقدس فيقولون لقد قتلنا من فى الارض هلم فلنقتل من فى السماء فيرمون بنشابهم الى السماء فيرد الله عليهم نشابهم مخضوبة دماً ويحصر نبى الله واصحابه حتى يكون راس الثور لا حدهم خيراً من مائة دينار لاحد كم اليوم فيرغب نبى الله عيسى واصحابه فيرسل الله عليهم النغف فى رقابهم فيصبحون فرسى

٩٨

كموت نفس واحدة ثم يهبط نبى الـ يجدون فى الارض موضع شبر الامـ عيسى واصحابه الى الله فيرسل الـ فتطرحهم حيث شاء الله وفى رواية تطـ من قسيهم ونشابهم وجعابهم سبع سنين مدر ولا وبر فيغسل الارض حتى يتركـ ثمرتك وردى بركتك فيومئذ تاكل العصـ ويبارك فى الرسل حتى ان اللقحة من الا من البقر لتكفى القبيلة من الناس واللقحـ فبيناهم كذلك اذ بعث الله ريحا طيبة فتـ كل مؤمن وكل مسلم ويبقى شرار الناس يـ تقوم الساعة رواه مسلم الا الرواية الثانيـ قوله سبع سنين رواه الترمذى “ نواس بن سمعانؓ سے روایت ہے کہ رسو اگر دجال نکلا اور میں تم لوگوں میں موجود ہوا تو تم سے شرسے بچاؤں گا اور اگر وہ نکلا اور میں تم لوگوں میں مو کو الزام دے گا اور حق تعالیٰ میرا خلیفہ اور نگہبان ہے بالوں والا ہے۔ اس کی آنکھ میں ٹینٹ ہے۔ گویا کہ میں قطن کے ساتھ (عبدالعزی نامی ایک کافر تھا) سو جو سورۂ کہف کے سرے کی آیتیں اس پر پڑھے۔ مقرر و تو خرابی ڈالے گا داہنے اور فساد اٹھائے گا بائیں اے خـ اصحاب بولے یا رسول الله اور کس قد حضرت ﷺ نے فرمایا چالیس دن ان میں سے ایک اور تیسرا دن جیسے ہفتہ اور باقی دن جیسے کہ یہی تمہارے سو وہ دن جو سال کے برابر ہوگا کیا ہم کو ایک ہی دن فرمایا کہ نہیں تم اندازہ کر لینا اس دن میں بقدر اس ۔

٩٩

صفحہ ٢٢٥

كموت نفس واحدة ثم يهبط نبي الله عيسى واصحابه الى الارض فلا يجدون فى الارض موضع شبر الاملاثه زهمهم ونتنهم فيرغب نبي الله عيسى واصحابه الى الله فيرسل الله طيرا كاعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله وفى رواية تطرحهم بالنهبل ويستوقد المسلمون من قسيهم ونشابهم وجعابهم سبع سنين ثم يرسل الله مطراً لا يكن منه بيت مدر ولا وبر فيغسل الارض حتى يتركها كالزلفة ثم يقال للارض انبتي ثمرتك وردى بركتك فيومئذ تاكل العصابة من الرمانة ويستظلون بقحفها ويبارك فى الرسل حتى ان اللقحة من الابل لتكفي الفئام من الناس واللقحة من البقر لتكفى القبيلة من الناس واللقحة من الغنم لتكفى الفخذ من الناس فبيناهم كذلك اذ بعث الله ريحا طيبة فتاخذهم تحت أباطهم فتقبض روح كل مؤمن وكل مسلم ويبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة رواه مسلم الا الرواية الثانية وهى قولهم تطرحهم بالنهبل الى قوله سبع سنين رواه الترمذى“

نواس بن سمعانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا۔ پھر فرمایا کہ اگر دجال نکلا اور میں تم لوگوں میں موجود ہوا تو تم سے پہلے میں اس کو الزام دوں گا اور تم کو اس کے شر سے بچاؤں گا اور اگر وہ نکلا اور میں تم لوگوں میں موجود نہ ہوا تو ہر مرد مسلمان اپنی طرف سے اس کو الزام دے گا اور حق تعالیٰ میرا خلیفہ اور نگہبان ہے ہر مسلمان پر۔ تحقیق دجال نوجوان گھنگر والے بالوں والا ہے۔ اس کی آنکھ میں ٹیٹ ہے۔ گویا کہ میں اس کی مشابہت دیتا ہوں۔ عبدالعزیٰ بن قطن کے ساتھ (عبدالعزیٰ نامی ایک کافر تھا) سو جو شخص کہ تم میں سے اس کو پاوے تو چاہئے کہ سورۂ کہف کے سرے کی آیتیں اس پر پڑھے۔ مقرر وہ نکلے گا شام اور عراق کے درمیان کی راہ سے تو خرابی ڈالے گا داہنے اور فساد اٹھائے گا بائیں اے خدا کے بندو ایمان پر ثابت رہو۔ اصحاب بولے یا رسول اللہ اور کس قدر اس کو زمین پر درنگی اور اقامت ہوگی۔ حضرت ﷺ نے فرمایا چالیس دن ان میں سے ایک دن تو سال کے برابر اور دوسرا دن جیسے مہینہ اور تیسرا دن جیسے ہفتہ اور باقی دن جیسے کہ یہی تمہارے دن ہیں۔ اصحاب بولے یا رسول اللہ ﷺ سو وہ دن جو سال کے برابر ہوگا کیا ہم کو ایک ہی دن کی نماز کفایت کرے گی۔ حضرت ﷺ نے فرمایا کہ نہیں تم اندازہ کر لینا اس دن میں بقدر اس کے۔ اصحاب بولے یا رسول اللہ ﷺ اس کی

٩٩

صفحہ ٢٢٦

شتاب روی زمین میں کیونکر ہوگی۔ حضرت ﷺ نے فرمایا جیسے وہ مینہ جس کو ہوا پیچھے سے اڑاتی ہے۔ سو وہ ایک قوم کے پاس آوے گا تو ان کو کفر کی طرف بلاوے گا۔ سو وہ اس کے ساتھ ایمان لاویں گے تو آسمان کو حکم کرے گا تو وہ پانی برساوے گا اور زمین کو حکم کرے گا تو وہ گھاس اگاوے گی تو شام کو ان کے مویشی آویں گے بنسبت سابق کے دراز کوہان ہو کر اور کشادہ تھن ہو کر اور کوکھیں خوب تن کر یعنی موٹے تازے ہو جاویں گے۔ پھر دجال دوسری قوم کے پاس آوے گا اور ان کو کفر کی طرف بلاوے گا۔ سو وہ اس کے قول کو رد کر دیں گے تو ان کی طرف سے ہٹ جائے گا تو ان پر قحط پڑے گا کہ ان کے ہاتھوں میں ان کے مالوں میں سے کچھ باقی نہ رہے گا اور دجال ویران زمین پر نکلے گا اور اس سے کہے گا کہ اے زمین اپنے خزانے نکال تو خزانے اس کے پیچھے پیچھے ہو لیں گے۔ جیسے شہد کی مکھیاں بڑی مکھی کے پیچھے ہو لیتی ہیں۔ پھر دجال ایک جوان مرد کو بلائے گا اور اس کو تلوار سے دو ٹکڑے کر ڈالے گا اور ٹکڑے تیر کے مسافت کے قدر دور جا پڑیں گے۔ پھر اس کو بلائے گا تو وہ جوان چہرہ دمکتا ہوا اور ہنستا اس کے سامنے آئے گا۔ پس دجال اسی حال میں ہو گا کہ ناگاہ اللہ تعالیٰ مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجے گا تو وہ دمشق کے شرقی منارہ کے پاس اتریں گے۔ زرد رنگین جوڑا پہنے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے جب وہ سر جھکاویں گے تو پسینا ٹپکے گا اور جب سر اٹھائیں گے تو ٹپکے گا مثل موتی کے یعنی بدن اور عرق کی شفافی اور صفائی کی وجہ سے موتی کی طرح چمکتا معلوم ہوگا۔ پس جس کافر کو ان کی سانس کی بھاپ لگے گی۔ وہ قطعی مر جاوے گا اور ان کا سانس ان کی نظر کے منتہی تک پہنچے گا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو تلاش کریں گے۔ یہاں تک کہ لد (کوہ شام) کے دروازے پر اس کو پاویں گے۔ پس اس کو قتل کریں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس وہ لوگ آویں گے۔ جن کو خدا نے دجال سے بچایا۔ سو شفقت سے ان کے چہروں کو سہلاویں گے اور ان کو بہشت کے درجات کی خوشخبری دیں گے۔ سو اسی حال میں ہوں گے کہ ناگاہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم دے گا کہ میں نے اپنے ایسے بندے نکالے ہیں کہ کسی کو ان سے لڑنے کی طاقت نہیں سو میرے بندوں کو کوہ طور کی طرف لے جا کر محفوظ رکھو اور اللہ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر ایک بلندی سے نکل پڑیں گے تو ان کے پہلے لوگ طبرستان کے دریا پر گزریں گے تو جتنا پانی اس میں ہوگا سب پی جاویں گے اور ان کے پچھلے لوگ جب وہاں آویں گے تو کہیں گے کبھی اس دریا میں بھی پانی تھا۔ پھر چلیں گے یہاں تک کہ اس پہاڑ پر پہنچیں گے جہاں درختوں کی کثرت ہے۔ یعنی بیت المقدس کا پہاڑ تو وہ کہیں گے۔ البتہ ہم زمین والوں کو تو قتل کر چکے۔ آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں تو

١٠٠

اپنے تیروں کو آسمان پر ماریں گے۔ سو خدا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب گھر سر افضل ہوگا۔ سو اشرفی سے آج تمہارے عیسیٰ علیہ السلام اور اس کے اصحاب دعا کر کی گردنوں میں کیڑا پیدا ہو گا تو صبح تک س عیسیٰ علیہ السلام اور اس کے اصحاب زمین سڑانڈ اور گندگی سے خالی نہ پاویں گے۔ یع کا پیغمبر عیسیٰ اور اس کے اصحاب خدا سے د گا۔ جیسے بڑے اونٹوں کی گردنیں سو وہ ان خدا کو منظور ہوگا۔ (اور ایک روایت میں ۔ پھینک دیں گے اور مسلمان ان کے کمانو جلائیں گے ) پھر خدا ایسا پانی برسائے گا ک ایسا صاف کر دے گا۔ جیسے حوض وغیرہ پھر دن ایک انار کو ایک جماعت کھائے گی اور دودھ میں اس قدر برکت ہو گی کہ دودھارا ایسی حالت میں ہوں گے کہ یکایک حق تع گی اور اثر کر جاوے گی تو ہر مؤمن اور ہر م جاویں گے۔ مرد عورت آپس میں گدھوں ہوگی۔ روایت کیا اس حدیث کو مسلم نے۔

١؎ اس حدیث کے تین راوی وعبد الرحمن بن جبیر بن نفیر و جبیر بن نفیر رو ثقہ ہیں کہ ان میں کوئی جرح نہیں ہے۔ اس نسبت میزان میں مرقوم ہے۔ ” ثقة مشه ثقة بعضهم يستنكر حديثه“ بہر ح

صفحہ ٢٢٧

اپنے تیروں کو آسمان پر ماریں گے۔ سو خدا ان کے تیروں کو خون آلودہ کر ڈالے گا اور خدا کا پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب گھرے رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان کے نزدیک بیل کا سر افضل ہوگا۔ سو اشرفی سے آج تمہارے نزدیک یعنی کھانے کی نہایت تنگی ہوگی۔ پھر خدا کا پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام اور اس کے اصحاب دعا کریں گے۔ سو خدا ان یاجوج ماجوج پر عذاب بھیجے گا۔ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا ہوگا تو صبح تک سب مرجاویں گے۔ ایک جان کا سا مرنا، پھر خدا کا پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام اور اس کے اصحاب زمین پر اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت برابر جگہ ان کی سڑاند اور گندگی سے خالی نہ پاویں گے۔ یعنی تمام زمین پر ان کی سڑی لاشیں پڑی ہوں گی۔ پھر خدا کا پیغمبر عیسیٰ اور اس کے اصحاب خدا سے دعا کریں گے۔ حق تعالیٰ یاجوج ماجوج پر پرند جانور بھیجے گا۔ جیسے بڑے اونٹوں کی گردنیں سو وہ ان کو اٹھا لے جاویں گے اور ان کو پھینک دیں گے۔ جہاں خدا کو منظور ہوگا۔ (اور ایک روایت میں ہے (یہ روایت ترمذی کی ہے) کہ مقام نہبل میں ان کو پھینک دیں گے اور مسلمان ان کے کمانوں اور تیروں اور ترکشوں سے سات برس تک آگ جلائیں گے) پھر خدا ایسا پانی برسائے گا کہ کوئی گھر مٹی کا اور اون کا باقی نہ رہے گا اور زمین کو دھو کر ایسا صاف کر دے گا۔ جیسے حوض وغیرہ پھر زمین کو حکم ہوگا کہ اپنے پھل اگا اور اپنی برکت دکھا تو اس دن ایک انار کو ایک جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے کو بنگلہ بنا کر اس کے سایہ میں بیٹھیں گے اور دودھ میں اس قدر برکت ہوگی کہ دودھار اونٹنی آدمیوں کے بڑے گروہ کو کفایت کرے گی۔ سو لوگ ایسی حالت میں ہوں گے کہ یکا یک حق تعالیٰ ایک پاک ہوا بھیجے گا کہ ان کے بغلوں کے نیچے لگے گی اور اثر کر جاوے گی تو ہر مؤمن اور ہر مسلم کی روح کو قبض کر لے گی اور شریر و بدذات لوگ باقی رہ جاویں گے۔ مرد عورت آپس میں گدھوں کی طرح علانیہ بدکاری کریں گے۔ سو ان پر قیامت قائم ہوگی۔ روایت کیا اس حدیث کو مسلمؒ نے۔

١؎ اس حدیث کے تین راوی علی شرط الشیخین ہیں اور تین رواۃ یعنی یحییٰ بن جابر الطائی وعبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر وجبیر بن نفیر رواۃ مسلم سے ہیں۔ ان میں سے یحییٰ وجبیر بن نفیر تو ایسے ثقہ ہیں کہ ان میں کوئی جرح نہیں ہے۔ اسی لئے میزان میں ان کا ذکر نہیں اور عبدالرحمٰن بن جبیر کی نسبت میزان میں مرقوم ہے۔ ”ثقة مشهور وثقه ابوذرعة والنسائی وقال ابن سعد ثقة بعضهم يستنكر حديثه“ بہر حال یہ حدیث اعلیٰ درجہ کی صحیح ہے۔ ١٠١

صفحہ ٢٢٨

ف ....... یہ حدیث چند وجوہ سے مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا باطل کرتی ہے۔

اول ....... یہ کہ حدیث سے صاف ثابت ہے کہ نزول مسیح موعود سے پہلے دجال آئے گا۔ جس کے وہ صفات ہوں گے جو اس حدیث اور دیگر احادیث میں مذکور ہوئے۔ ابھی تک دجال نہیں آیا اور مرزا قادیانی جو گروہ پادریان کو دجال کا مصداق بناتے ہیں۔ سو یہ صریح البطلان ہے۔ کیونکہ اس حدیث اور دوسری احادیث صحیحہ میں بصراحت موجود ہے کہ وہ دجال ایک مرد معین ہے۔ کافر یہودی ، جسیم سرخ جوان بہت گھنگروالے بال داہنی آنکھ کا کانا اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں۔ آنکھ اس کی ابھری گویا انگور ہے۔ عبدالعزیٰ بن قطن کے مشابہ اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں ک ف ر لکھا ہے۔ ہر مؤمن کاتب و غیر کاتب اس کو پڑھ لے گا۔ اس کے ساتھ جنت و دوزخ ہوگی۔ بانجھ ہوگا اس کے اولاد نہ ہوگی۔ مکہ مدینہ میں نہ داخل ہوگا۔ وہ کہے گا میں تمہارا رب ہوں اور رب کو نہ دیکھو گے۔ جب تک کہ نہ مرو گے۔ چالیس دن زمین میں رہے گا ایک دن ایک سال کے برابر اور ایک دن ایک ماہ کے برابر اور ایک دن ایک ہفتہ کے برابر اور باقی دن تمہارے دنوں کی طرح۔ چال اس کی ابر کی سی ہوگی۔ ایک قوم کے پاس آئے گا پھر ان کو بلائے گا تو وہ اس پر ایمان لائیں گے۔ پس حکم کرے گا آسمان کو تو آسمان مینہ برسائے گا اور حکم کرے گا زمین کو تو وہ اگائے گی پھر ان کے مویشی بہت موٹے اور بہت دودھ دینے والے اور سیر ہو جائیں گے۔ پھر آئے گا دوسری قوم کے پاس پھر ان کو بلائے گا تو وہ اس کی بات نہ مانیں گے تو پھر جائے گا وہ ان سے پھر ان پر مینہ کا برسنا موقوف ہو جائے گا اور زمین خشک ہو جائے گی۔ ان کے ہاتھ میں کچھ مال نہ رہے گا اور گزرے گا ویرانہ پر پھر اس سے کہے گا نکال اپنے خزانے پس خزانے پیچھے اس کے ہو جائیں گے۔ جیسا کہ شہد کی مکھیاں اپنے بادشاہ کے پیچھے چلتی ہیں۔ پھر بلائے گا ایک مرد جوان کو پھر تلوار سے اس کے دو ٹکڑے کر کے تیر کے نشانہ کے فاصلہ پر پھینک دے گا۔ پھر اس کو بلائے گا تو وہ زندہ ہو کر آئے گا کہ چہرہ اس کا روشن ہوگا۔ ہنستا ہوا۔ حدیث متفق علیہ میں ہے کہ اس کے پاس ایک مرد آئے گا اور وہ بہترین مردم ہوگا اور دجال سے کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک تو دجال ہے جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے ہم کو دی ہے۔ دجال لوگوں کو مخاطب کر کے کہے گا بھلا بتاؤ تو اگر میں اس کو مار ڈالوں پھر زندہ کروں تو میرے خدا ہونے میں تمہیں شک رہے گا۔ لوگ کہیں گے نہیں۔ پس مار ڈالے گا وہ اس کو پھر اس کو زندہ کرے گا۔ پھر وہ شخص کہے گا کہ اب تو مجھ کو تیرے دجال ہونے کی اور زیادہ بصیرت ہوگئی۔ پھر دجال اس کے قتل کا ارادہ کرے گا تو قتل نہ کر سکے گا۔ ان سب امور پر حدیث مذکور اور احادیث ذیل دلالت کرتی ہیں۔

١٠٢

عن انس ١؎ قال قال

الاعور الكذاب الا انه اعور وان

ر متفق عليه.

وعن عبدالله قال قال

الله تعالى ليس باعور وان المسيح

طافية متفق عليه.

وعن ابى هريرة قال قـ

الدجال ماحدث به نبى قومـ

فالتى يقول انها الجنة هى الـ

عليه.

وعن حذيفة عن النبى

مؤمن كاتب وغير كاتب.

وعن ابى سعيد الخـ

وهو محرم عليه ان يدخل

المدينة فيخرج اليه رجل وهو

انك الدجال الذى حدثنا رسـ

قتلت هذا ثم احييته هل تشـ

فيقول والله ما كنت فيك اشد بـ

يسلط عليه متفق عليه.

وعن ابى هريرة عن

المشرق همته المدينة حتى ينزل

وهنالك يهلك متفق عليه.

١؎ ان سب حدیثوں میں عـ

ضرورت نہ سمجھی۔

صفحہ ٢٤٩

”عن انسؓ قال قال رسول الله ﷺ ما من نبی الا قد انذر امته الا عور الكذاب الا انه اعور وان ربكم ليس باعور مكتوب بين عينيه ك ف ر متفق عليه.

وعن عبدالله قال قال رسول الله ﷺ ان الله لا يخفى عليكم ان الله تعالى ليس باعور وان المسيح الدجال اعور عين اليمنى كأن عينه عنبة طافئة متفق عليه.

وعن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ الا احدثكم حديثا عن الدجال ماحدث به نبی قومه انه اعور وانه يجئ معه بمثل الجنة والنار فالتى يقول انها الجنة هی النار وانى انذركم كما انذر به نوح قومه متفق عليه.

وعن حذيفة عن النبى ﷺ قال مكتوب بين عينيه كافر يقرأه كل مؤمن كاتب وغير كاتب.

وعن ابى سعيد الخدرى قال قال رسول الله ﷺ يأتى الدجال وهو محرم عليه ان يدخل نقاب المدينة فينزل بعض السباخ التى تلى المدينة فيخرج اليه رجل وهو خير الناس او من خيار الناس فيقول اشهد انك الدجال الذى حدثنا رسول الله ﷺ حديثه فيقول الدجال ارايتم ان قتلت هذا ثم احييته هل تشكون فى الامر فيقولون لا فيقتله ثم يحييه فيقول والله ماكنت فيك اشد بصيرة من اليوم فيريد الدجال ان يقتله فلا يسلط عليه متفق عليه.

وعن ابى هريرة عن رسول الله ﷺ قال ياتى المسيح من قبل المشرق همته المدينة حتى ينزل دبر احد ثم تصرف الملائكة وجهه قبل الشام وهنالك يهلك متفق عليه.

١؎ ان سب حدیثوں میں علامات دجال مذکورہ بالا کا بیان ہے۔ اس لئے ترجمہ کی ضرورت نہ سمجھی۔

١٠٣

صفحہ ٢٣٠

وفى حديث فاطمة بنت قيس فاذا فيه اعظم انسان ما رايناه قط خلقا وفيه فلا ادع قرية الا هبطتها فى اربعين ليلة غير مكة وطيبة هما محرمتان على كلتا هما رواه مسلم.

وفى حديث عبدالله بن عمر ان رسول الله ﷺ قال الحديث وفيه ثم اذا انا برجل جعد قطط اعور العين اليمنى كأن عينه عنبة طافئة كاشبه من رأيت من الناس بابن قطن واضعاً يديه على منكبى رجلين يطوف بالبيت فسالت من هذا فقالوا هذا المسيح الدجال متفق عليه.

وفى رواية قال فى الدجال رجل احمر جسيم.

وقال ابن شهاب واخبرني عمر بن ثابت الانصارى انه اخبره بعض اصحاب رسول الله ﷺ ان رسول الله ﷺ قال يوم حذر الناس الدجال انه مكتوب بين عينيه كافر يقرؤه من كره عمله أويقرؤه كل مؤمن وقال تعلموا انه لن يرى احد منكم ربه عزوجل حتى يموت رواه مسلم.

وفى حديث ابی سعيد قال صحبت ابن صائد الى مكة فقال لى اما لقيت من الناس يزعمون انى الدجال الست سمعت رسول الله ﷺ يقول انه لا يولد له قال قلت بلى قال فقد ولد لى اوليس سمعت رسول الله ﷺ يقول لا يدخل المدينة ولا مكة قلت بلى قال فقد ولدت بالمدينة وهذا انا اريد مكة رواه مسلم وفى رواية الم يقل نبي الله ﷺ انه يهودى وقد اسلمت وفى رواية اليس قد قال رسول الله ﷺ هو كافر وانا مسلم اوليس قد قال رسول الله ﷺ عقيم لا يولد له وقد تركت ولدى بالمدينة“

وجہ دوم...... حدیث ابن سمعان کے یہ الفاظ " اذ بعث الله المسيح بن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذا طاطأ راسه قطر واذا رفعه تحدر منه مثل جمان كاللؤلؤ فلا يحل لكافر يجد من ريح نفسه الا مات ونفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله " مرزا غلام احمد قادیانی کا مصداق مسیح بن مریم ہونا باطل کرتے ہیں۔

١٠٤

صفحہ ٢٣١

وجہ سوم....... اس حدیث مذکور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں خروج یاجوج و ماجوج بصفت خاصہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ بات بھی مرزا قادیانی کے زمانہ میں اب تک مفقود ہے اور نہ ان کے زمانہ میں اس کے وقوع کی امید ہے۔

وجہ چہارم...... اس حدیث میں چار مقام پر مسیح موعود کے لئے لفظ نبی اللہ کا آیا ہے۔ پس اگر اپنے آپ کو نبی اللہ کہتا ہے تو یہ مخالف ہے۔ آیہ کریمہ ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ اور حدیث ”وانا خاتم النبیین“ کہ یہ متفق علیہ ہے اور اگر اپنے آپ کو نبی اللہ نہیں کہتا تو مسیح موعود کا مصداق نہ ہوا۔

دلیل ہفتم، ہشتم، نہم ...... مرزا قادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے کی یہ حدیث ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے۔ ١؂ ”قال الامام احمد حدثنا عفان حدثنا همام انبانا قتادة عن عبدالرحمن عن ابی ھریرة ان النبی ﷺ قال الانبیاء اخوة العلات امهاتهم شتی ودینهم واحد وانی اولیٰ الناس بعیسٰی بن مریم لانہ لم یکن نبی بینی وبینہ وانہ نازل فاذا رایتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرة والبیاض علیہ ثوبان ممصران کأن راسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویدعوا الناس الی الاسلام ویهلک الله فی زمانہ الملل کلها الا الاسلام ویهلک الله فی زمانہ المسیح الدجال ثم تقع الامانة علی الارض حتی ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم ویلعب الصبیان بالحیات لا تضرهم فیمکث اربعین ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون وکذا رواہ ابوداؤد عن هدبة بن خالد عن همام بن یحیی انتهی وقال الحافظ فی فتح الباری رواہ ابوداؤد باسناد صحیح“

١؂ اس حدیث کے سب روات رجال صحیحین ہیں۔ سوائے عبدالرحمن ابن آدم کے کہ وہ ایسا ثقہ ہے کہ کسی نے اس میں جرح نہیں کی۔ اسی لئے میزان میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ اور قتادہ ابن دعامہ اگرچہ وہ مدلس ہے۔ لیکن اس سے سب اصحاب صحاح نے احتجاج کیا ہے۔ میزان میں ہے۔ احتج بہ اصحاب الصحاح ولا سیما اذا قال حدثنا اور حافظ نے فتح الباری میں اس حدیث ابی داؤد کو صحیح کہا ہے۔

١٠٥

صفحہ ٢٣٢

ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ تحقیق نبی ﷺ نے فرمایا کہ سب انبیاء علاقی بھائی ہیں کہ ان کی مائیں یعنی فروعی احکام ان کے مختلف ہیں اور اصل دین ان کا ایک ہی ہے۔ یعنی توحید و ایمانیات ودعوت الی الحق میں متفق ہیں اور میں قریب تر ہوں۔ عیسیٰ بن مریم کے اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں اور بے شک وہ اترنے والے ہیں۔ جب تم ان کو دیکھو تو ان کی پہچان یہ ہے کہ ایک مرد میانہ قد گندم گون رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہے۔ گویا ان کے سر سے قطرے ٹپکتے ہوں گے۔ اگرچہ تری نہیں پہنچی پس صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو ہلاک کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں گے اور اللہ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے سب مذاہب کو نیست و نابود کردے گا اور اللہ ان کے ہی زمانہ میں مسیح دجال کو ہلاک کرے گا تو کل زمین میں امن ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ شیر اونٹ کے ساتھ اور چیتا گائے کے ساتھ اور بھیڑیا بکری کے ساتھ مل کر ایک جگہ چریں گے اور لڑکے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے تو ان کو کچھ گزند نہیں پہنچائیں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس برس کی (عمر) میں وفات پائیں گے اور ان پر مسلمان جنازے کی نماز پڑھیں گے۔ یہ حدیث بجمیع وجوہ سے علاوہ وجوہ مذکورہ کے مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا باطل کرتی ہے۔

علیہ السلام ہیں۔ جن کے اور ہمارے حضرت ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔ نہ کوئی مثیل۔

مرزا قادیانی کے زمانہ میں دوسرے مذاہب بھی بڑے شدومد کے ساتھ موجود ہیں۔

بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ سانپ ان کو ضرر نہ پہنچائیں گے۔ مرزا قادیانی کے زمانہ میں یہ امر مفقود ہے۔

جبلة بن سحیم عن مؤثر بن غفارة عن ابن مسعود عن رسول الله ﷺ قال لقیت لیلة اسری بی ابراهیم و موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام فتذاکروا امر الساعة فردوا امرہم الی ابراهیم فقال لا علم لی بہا فردوا امرہم الی موسیٰ فقال لا علم لی بہا فردوا امرہم الی عیسیٰ قال اما وجبتہا فلا یعلم بہا احد الا الله وفیما عہد الی ربی عزوجل ان الدجال خارج ومعی قضیبان فاذا

١٠٦

صفحہ ٢٣٣

رآنى ذاب كما يذوب الرصاص الحديث وفيه ففيما عهد الى ربي عزوجل ان ذلك اذا كان كذلك ان الساعة كالحامل المتم لا يدرى اهلها متى تفاجئهم بولا دها ليلا او نهارا رواه ابن ماجه عن محمد بن بشار عن زيد ابن هارون عن العوام بن حوشب به نحوه

ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ شب معراج میں ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے میری ملاقات ہوئی تو قیام قیامت کا ذکر آگیا کہ کب ہوگی۔ سب نے اس سوال کو ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ مجھ کو قیامت کے وقت کا کچھ علم نہیں۔ پھر اس سوال کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر پیش کیا تو انہوں نے بھی کہا کہ اس کا مجھ کو کچھ علم نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر پیش کیا تو انہوں نے کہا کہ قیامت کا عین وقت وقوع تو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ لیکن اللہ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے اور میرے ہاتھ میں دو چھڑیاں ہوں گی۔ پس جب وہ مجھ کو دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا۔ جیسے سیسا پگھلتا ہے۔ آخر حدیث تک اور اس میں یہ بھی ہے کہ مجھ سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ جب یہ واقعات ہو چکیں گے تب قیامت ایسی جلدی آئے گی۔ جیسے پورے دنوں کی حاملہ کہ اس کے گھر والے نہیں جانتے ہیں کہ رات یا دن کو کس وقت ناگاہ بچہ پیدا ہو جائے گا۔

اس حدیث کے سب رجال رجال شیخین ہیں۔ سوائے مبشر بن غفارہ کے کہ وہ ایسا ثقہ ہے کہ اس میں کوئی جرح نہیں ہے۔ اس لئے میزان میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ ہاں ایک علت اس میں ہے وہ یہ ہے کہ ھشیم مدلس ہے اور یہاں عن کے ساتھ روایت کی ہے۔ لیکن چونکہ متابع اس کا یزید بن ہارون موجود ہے۔ اس لئے تدلیس کچھ ضرر نہیں کرتی ہے۔ اس حدیث سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح جو آنے والے ہیں وہ وہی عیسیٰ نبی بنی اسرائیل ہیں نہ کوئی مثیل ان کا۔

دلیل یازدہم.... ”عن ابی هریرة قال قال رسول اللهﷺ والذی نفسى بيده لیوشکن ان ينزل فيكم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال وحتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها متفق علیه“

ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو اس ذات پاک کی قسم ہے۔ جس کی قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ البتہ تحقیق عنقریب ابن مریم تم میں حاکم عادل ہو کر اتریں گے تو صلیب توڑیں گے اور خنزیر کو ہلاک کریں گے اور جزیہ کو اٹھا دیں گے اور مال کی کثرت

١٠٧

صفحہ ٢٣٥

ہوگی۔ یہاں تک کہ اس کو کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔

روایت کیا اس حدیث کو امام بخاری ومسلم نے اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے زمانے میں مال اس قدر کثرت سے ہوگا کہ کوئی قبول نہ کرے گا اور ایک سجدہ بہتر ہوگا دنیا و مافیہا سے یہ دونوں باتیں مرزا قادیانی کے زمانے میں اب تک پائی نہیں گئیں اور نہ ان کے زمانے میں پائی جانے کی امید ہے۔

ابو ہریرہؓ کی ایک متفق علیہ حدیث میں یہ لفظ ہے۔ ”وحتى يكثر فيكم المال فيفيض حتى يهم رب المال من يقبل صدقته وحتى يعرضه فيقول الذى يعرضه عليه لا ارب لی به “ مسلم کی ایک روایت کے یہ لفظ ہیں۔ ”لاتقوم الساعة حتى يكثر المال ويفيض حتى يخرج الرجل زكوة ماله فلا يجد احدا يقبلها“ مسلم کی دوسری روایت میں ہے۔ ”تقئ الارض افلا ذکبدها امثلا الاسطوانة من الذهب والفضة فيجئ القاتل فيقول فى هذا قتلت ويجئ القاطع فيقول فى هذا قطعت رحمى ويجئ السارق فيقول فى هذا قطعت يدى ثم يدعونه فلا يا خذون منها شيئا وان حارثة ابن وهب قال قال رسول الله ﷺ تصدقوا فانه یأتی علیکم زمان یمشے الرجل بصدقته فلا یجد من یقبلها یقول الرجل لوجئت بها بالامس لقبلتها فاما اليوم فلا حاجة لی بها متفق علیه“

یہ سب حدیثیں حدیث اوّل کی تفسیر واقع ہوئی ہیں۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے مریدوں کی یہ تاویلیں کہ علم کے خزانے بہیں گے یا مال سے وہ روپیہ مراد ہے جو مرزا قادیانی کے اشتہارات میں مذکور ہے کہ جو کوئی براہین احمدیہ یا سرمہ چشم آریہ وغیرہ وغیرہ کا جواب لکھے پر ان کو اس قدر روپیہ دیا جائے گا۔ کس قدر پوچ و لچر و بیہودہ ہیں۔

دلیل دوازدہم ...... مسلم کی ایک روایت میں یہ لفظ ہے۔ ”ولیترکن القلاص فلا یسعے علیها ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد“ اور (ابن مریم کے زمانے میں) جوان اونٹ چھوڑ دیئے جائیں گے۔ پس ان سے کوئی کام نہ لیا جائے گا اور کینہ اور بغض اور حسد نہ رہے گا۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود کے زمانے میں جوان اونٹ چھوڑ دیئے جاویں گے۔ نہ ان پر سواری کی جائے گی اور نہ کسی اور کام میں لگائے جائیں گے اور عداوت و بغض و حسد باقی نہ رہے گا۔ یہ بات مرزا قادیانی کے زمانے میں پائی نہیں جاتی ہے۔

دلیل سیزدہم ...... ابن سمعان کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے زمانے میں اس قدر

١٠٨

برکت ہوگی کہ ایک انار ایک جماعت کے لئے کافی جماعت سایہ لے گی اور دودھ میں اس قدر برکت ہو کافی ہوگی اور ایک گائے ایک بڑے قبیلہ کے لئے مرزا قادیانی کے زمانے میں ان میں سے کچھ بھی نہیں

قولہ ...... ”پس بموجب حکم ان سب مقدمات مسل

اقول ...... یہ سب مقدمات تو آپ کے تار عنکبوت وعدہ کے ثالث مقرر کر کے یا خود خوف خدا کر کے رجو

قولہ ...... ”پس بموجب اس تاویل صحیحہ اور تفسیر حق معلوم ہوتا ہے۔“

اقول ...... اب تو معلوم ہو گیا کہ وہ تاویل آپ کی غل اور بے ادبی رہا۔ بلکہ یہ دوسری گستاخی اور بے ادبی آ حصہ بھی ہو گیا اور عاجز نہایت درجہ فروتنی سے اپنے ک بندہ گندہ جان کر اور اللہ تعالیٰ نے جو احقر کو خبر دی ہے مولا کی خبر پر یقین کامل کر کے آپ کو بشارت سناتا ۔

حسین صاحب مدظلہم کی سب وشتم اور حضرت عیسیٰ عل ڈالا ہے اور جہاں تک اس عاجز کو اس کے مولا نے عل میں مبتلا ہووے اور جلد ہووے۔ والله غالب عل الهی تبت من كل المعاصی استغفرك وات هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت

تــــــــم

نوٹس منجانب خاکسار

اے مسلمانان ہر دیار و امصار اے میر پیارے رسول محبوب رب العالمین ﷺ کے پیارو قدر و منزلت کسی طرح کم نہیں ہو سکتی کہ تم کو اللہ تعا ہونے کے لئے پسند کر لیا اور اسی سبب سے گو تم کسی ہے۔ شیطان تمہارا اور تم شیطان کے دشمن ہی رہو

١٠٩

صفحہ ٢٣٥

برکت ہوگی کہ ایک انار ایک جماعت کے لئے کافی ہوگا اور اس کے چھلکے کے سایہ میں ایک جماعت سایہ لے گی اور دودھ میں اس قدر برکت ہوگی کہ ایک اونٹنی ایک بڑی جماعت کے لئے کافی ہوگی اور ایک گائے ایک بڑے قبیلہ کے لئے اور ایک بکری چھوٹے قبیلہ کے لئے اور مرزا قادیانی کے زمانے میں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔

قولہ...... ”پس بموجب ان سب مقدمات مسلمہ کے۔“

اقول...... یہ سب مقدمات تو آپ کے تار عنکبوت تھے۔ ہباء منثورا ہو گئے۔ اب بموجب اپنے وعدہ کے ثالث مقرر کر کے یا خود خوف خدا کر کے رجوع فرمائیے۔

قولہ...... ”پس بموجب اس تاویل صحیحہ اور تفسیر حقہ کے اس شعر کا مضمون بہت راست و درست معلوم ہوتا ہے۔“

اقول...... اب تو معلوم ہو گیا کہ وہ تاویل آپ کی غلط اور تفسیر مردود ہے تو مضمون شعر وہی گستاخی اور بے ادبی رہا۔ بلکہ یہ دوسری گستاخی اور بے ادبی آپ کی ثابت ہوگئی اور مرزا قادیانی کا اس میں حصہ بھی ہو گیا اور عاجز نہایت درجہ فروتنی سے اپنے کو اپنے خدا کا بہت کمزور اور ادنیٰ درجہ کا ذلیل بندہ گندہ جان کر اور اللہ تعالیٰ نے جو احقر کو خبر دی ہے۔ اس کا اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کر کے اور اپنے مولا کی خبر پر یقین کامل کر کے آپ کو بشارت سناتا ہے۔ کہ آپ کے فرضی مسیح کو مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب مدظلہم کی سب وشتم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس گستاخی کا عوض بہت جلد ملنے والا ہے اور جہاں تک اس عاجز کو اس کے مولا نے علم دیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ کسی سخت بلائے جسمی میں مبتلا ہووے اور جلد ہووے۔ واللہ غالب علی امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

الٰہی تبت من کل المعاصی استغفرک واتوب الیک ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب

تمـــــــــــــــت

نوٹس منجانب خاکسار

اے مسلمانان ہر دیار وامصار اے میرے دین اور وطن کے بھائیو! اے میرے پیارے رسول محبوب رب العالمین ﷺ کے پیارو گو تم کو کوئی کیسا ہی حقیر سمجھے۔ مگر تمہاری وہ قدر ومنزلت کسی طرح کم نہیں ہوسکتی کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخر الزمان پیغمبر ﷺ کی امت ہونے کے لئے پسند کر لیا اور اسی سبب سے گو تم کسی حال میں ہو۔ مگر جب تک تم میں یہ صفت باقی ہے۔ شیطان تمہارا اور تم شیطان کے دشمن ہی رہو گے اور یہی وجہ ظاہر اس بھید کی ہے کہ تم پر

١٠٩

صفحہ ٢٣٧

اندرونی اور بیرونی حملے ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ اے عزیزو! تم اکثر میرے حال اور مزاج سے واقف ہو۔ میں بھی تمہارا ایک ادنیٰ خادم ہوں اور میری خدمتوں سے بھی تم کسی نہ کسی قدر واقف ہو گے۔ تم مجھ کو پسند کرو یا ناپسند۔ مگر مجھ کو اپنی قوت و حال کے موافق اسلام واہل اسلام کی خدمت سے دریغ نہیں۔

یہ عرضداشت محض برائے ہمدردی اپنے برادران سابقہ بخدمت جناب مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کے سلسلہ کے تمام بھائیوں کے لئے لکھتا ہوں۔ خاص کر جن اصحاب سے میں اور مجھ سے وہ واقف ہیں۔ ان سے میرا خطاب خاص ہے۔ جیسے جناب حکیم نورالدین صاحب و مولوی محمد احسن صاحب و مولوی محمد ٹونکی صاحب و حافظ محمد یوسف صاحب و احباب لاہور وغیرہ اگر آپ صاحب میری اس درخواست کو حقیر جان کر توجہ نہ فرمائیں گے تو یہ امر آخر ہے۔ مگر ذرا بھی توجہ کریں تو اس کا جواب واجب ولازم ہے۔ جناب مرزا قادیانی کی تصنیفات میں سے میں نے براہین احمدیہ، فتح الاسلام، توضیح مرام، ازالۃ اوہام، اور مولوی محمد احسن صاحب (قادیانی) کے حصص اعلام الناس بما الحق دیکھے اور اس وقت میں میرے نزدیک مرزا قادیانی نے سخت غلطی کی اور بہت بے جا طور سے ایک پرانے جھگڑے کو جو مرچکا تھا۔ اسلام میں کھڑا کر دیا۔ جس سے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچنے کا خیال ہے اور فائدہ کچھ نہیں۔ اگرچہ مرزا قادیانی اور ان کے اتباع نے نہایت زور سے لکھا ہے کہ اسلام میں کسی نے آج تک مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ اس طرح نہیں کیا۔ جس طرح مرزا قادیانی نے کیا ہے مگر یہ فرمانا ان صاحبوں کا علم تاریخ سے غفلت کا سبب ہے اور الہام ہو تو وہ بھی غلط کیونکہ ایسا دعویٰ پہلے بھی کیا گیا ہے۔ بسبب کمی گنجائش کے صرف ایک نمونہ پیش کرتا ہوں۔ امام ابن تیمیہ کتاب بغیۃ المرتاد میں لکھتے ہیں۔ ”قال شيخ الاسلام ابن تيمية في كتابه بغية المرتاد في رد القائلين بالحلول والاتحاد مالفظه هذا لو قد كان عندنا بدمشق الشيخ المشهور الذى يقال له ابن هود وكان من اعظم من رأيناه من هؤلاء الاتحادية زهدا ومعرفة ورياضة وكان من اشد الناس تعظيماً لا بن سبعين ومفضلا له عنده على ابن عربى وغلامه ابن اسحق واكثر الناس من الكبار والصغار كانوا يطيعون أمره وكان أصحابه الخواص به يعتقدون فيه انه أعنى ابن هود المسيح بن مريم ويقولون أن أمه كان اسمها مريم وكانت نصرانية ويعتقدون قول النبى ﷺ ينزل فيكم ابن مريم هو هذا وان روحانية عيسى تنزل عليه وقد ناظرنى فى ذلك من

١١٠

كان افضل الناس عندهم اذ ذاك معرفة با في الزهد والتصوف وجرى لهم في ذلك م جرت بينى وبينهم حتى بينت لهم فس الواردية فى نزول المسيح وان ذلك الوص ماد خلوا فيه من القرمطة حتى ظهرت مبا من هذا الرجل لا يكون ولا يتم وان الله الاقسام والحمد لله رب العلمين“

ہمارے پاس شہر دمشق میں ایک بڑا شیخ م صوفیہ اتحادیہ یعنی وحدت وجودیہ جن کو ہم نے دیکھا ریاضت میں یگانہ روز تھا اور ابن سبعین کی بہت تعظیم اس کے غلام ابن اسحاق پر فضیلت دیتا تھا اور بہت ب اطاعت کرتے تھے اور اس کے مریدان خاص اس کے ابن مریم موجود ہے اور کہتے تھے اس کی ماں کا نام بھی م آنحضرت ﷺ کی کہ اترے گا تم میں ابن مریم علیہ ا ہے اور اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانیت نازل طرف سے اس بارہ میں اس شخص نے جو ان لوگوں م سب سے افضل تھا اور علاوہ اس کے زہد وتصوف میں ب کئی مباحثے اور مناظرے واقع ہوئے کہ ان سب کا ف میں نے ان کے دعوے کا بطلان ان احادیث صحیحہ س السلام میں آئی ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے و جو ابن ہود پر ٹھیک و درست نہیں آتے اور میں ن نیچریت) کی جس کو انہوں نے اپنے عقیدہ میں داخل دی۔ یہاں تک کہ میرا اور ان کا مباہلہ ٹھہرا اور میں ن کا تم انتظار کرتے ہو ہرگز ہرگز پوری نہ ہوں گی اور ن اور جھوٹا دعویٰ اس شیخ کا پورا نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے م وذلیل ہوئے) والحمد للہ رب العالمین۔

١١١

صفحہ ٢٣٧

كان افضل الناس عندهم اذ ذاك معرفة بالعلوم الفلسفية وغيرها مع دخوله فى الزهد والتصوف وجرى لهم فى ذلك مخاطبات ومناظرات يطول ذكرها جرت بينى وبينهم حتى بينت لهم فساد دعواهم بالاحاديث الصحيحة الواردة فى نزول المسيح وان ذلك الوصف لا ينطبق على هذا وبينت فساد ما دخلوا فيه من القرمطة حتى ظهرت مباهلتهم وحلفت لهم ان ما ينتظرونه من هذا الرجل لا يكون ولا يتم وان الله لا يتم امر هذا الشيخ فابر الله تلك الاقسام والحمد لله رب العلمين‘‘

ہمارے پاس شہر دمشق میں ایک بڑا شیخ مشہور تھا۔ جس کو ابن ہود کہتے تھے اور فرقہ صوفیہ اتحادیہ یعنی وحدت وجودیہ جن کو ہم نے دیکھا ان میں وہ ایک بڑا پرہیز گار اور معرفت اور ریاضت میں یگانہ روز تھا اور ابن سبعین کی بہت تعظیم کرتا اور اس کو اپنے زعم میں ابن عربی اور اس کے غلام ابن اسحاق پر فضیلت دیتا تھا اور بہت سے بڑے اور چھوٹے سب اس کے حکم کی اطاعت کرتے تھے اور اس کے مریدان خاص اس کے حق میں یہ اعتقاد کرتے تھے کہ ابن ہود مسیح ابن مریم موجود ہے اور کہتے تھے اس کی ماں کا نام بھی مریم ہے اور وہ نصرانیہ تھی اور نسبت حدیث آنحضرتﷺ کی کہ اترے گا تم میں ابن مریم علیہ السلام۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ وہ یہی ابن ہود ہے اور اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانیت نازل ہوتی ہے اور مجھ سے مناظرہ کیا۔ اس کی طرف سے اس بارہ میں اس شخص نے جو ان لوگوں کے نزدیک اس وقت میں فلسفہ وغیرہ میں سب سے افضل تھا اور علاوہ اس کے زہد وتصوف میں بھی دخل رکھتا تھا اور اس معاملہ میں ان سے کئی مباحثے اور مناظرے واقع ہوئے کہ ان سب کا ذکر کرنے سے طول ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ میں نے ان کے دعوے کا بطلان ان احادیث صحیحہ سے اچھی طرح بیان کر دیا۔ جو نزول عیسیٰ علیہ السلام میں آئی ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وہ وصف اور نشان اور علامات بیان کر دیئے۔ جو ابن ہود پر ٹھیک درست نہیں آتے اور میں نے ان کو فساد اور خرابی ان کے قرمطہ (یعنی نیچریت) کی جس کو انہوں نے اپنے عقیدہ میں داخل کر لیا تھا۔ وضاحت وصراحت سے بیان کر دی۔ یہاں تک کہ میرا اور ان کا مباہلہ ٹھہرا اور میں نے ان سے حلف اٹھا کر کہہ دیا کہ جن باتوں کا تم انتظار کرتے ہو ہرگز ہرگز پوری نہ ہوں گی اور نہ کچھ اس کا اچھا نتیجہ ظاہر ہوگا اور یہ ڈھکوسلا اور جھوٹا دعویٰ اس شیخ کا پورا نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے میری ان سب قسموں کو سچا کیا (اور وہ خوار وذلیل ہوئے) والحمد للہ رب العالمین۔

١١١

صفحہ ٢٣٨

پس یہ حملہ اسلام پر پہلے بھی لوگ کر چکے ہیں۔ مگر اسلام اور اہل اسلام نے فتح پائی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پاک سے اب پوری اور کامل امید ہے کہ اسلام کا بول بالا ہوگا اور اہل اسلام ضرور فتح یاب ہوں گے اور چند عرصہ کے بعد ابنِ ہود کی طرح مرزا قادیانی کو بھی لوگ بھول جائیں گے۔ مگر مرزا قادیانی سے چونکہ عاجز کی قدیم ملاقات ہے اور ان کے بعض اتباع سے بھی اس لئے اس عاجز کو یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کو توبہ نصیب کرے یا اللہ بطفیل اپنے حبیب سید المرسلین شفیع المذنبین ﷺ کے مرزا قادیانی کو تو صراط مستقیم پر لے آ اور اس نازک وقت میں مسلمانوں کو اس فتنہ سے نجات دے۔ آمین! اے میرے رب جلیل بے شک تیرا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے تو ضرور اپنی حکمت بالغہ سے ہمیشہ اپنے بندوں کو آزماتا رہا ہے۔ مگر اے ارحم الرحمین تو اپنے عام فضل اور وسیع رحمت اور رحمۃ للعالمین کی برکت سے ہم کو اس آزمائش سے معاف کر دے تو نے بے شک ہماری مدد کی اور کرتا ہے اور کرے گا مگر ہم آزمائش کے لائق نہیں۔

”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب“ جس وقت مرزا قادیانی دہلی میں آئے تھے اس وقت میں نے بہت چاہا کہ مرزا قادیانی دوستانہ طور پر گفتگو کر کے اس امر کا فیصلہ کریں۔ مگر مرزا قادیانی نے سوائے ناجائز عذر اور ترکیبی ٹال مٹول اور بے سود چالوں کے کوئی بات نہ کی باوجودیکہ میں بار بار ان کی خدمت میں گیا اور مکرر سہ کرر نوٹس بھی دیئے۔ مگر مرزا قادیانی کو گفتگو کی جرأت نہ ہوئی۔ ناچار ان کی خدمت کرنی پڑی۔ چنانچہ بفضلہ تعالیٰ وتقدس ان کے تمام رسائل کے جواب سے اہل اسلام سبکدوش ہوئے اور طبع ہونے بھی شروع ہو گئے۔ مگر قبل از اشاعت پھر اس کے ذریعہ سے تمام اتباع و معتقدین مرزا قادیانی کو اطلاع دی جاتی ہے کہ کوئی بھی تم میں ایسا ہے کہ باہمی گفتگو اخلاق کے ساتھ کچھ دنوں کر سکے یا ابنِ ہود کی طرح مرزا قادیانی کو مناظرہ یا مباہلہ پر آمادہ کرے۔

اليس منكم رجل رشيد !

قطعه تاریخ از نتائج طبع سرآمد شاعران محمد سردار خان صاحب کیفی دہلوی سلمہ اللہ الولی

آیا غلام احمد بن کر مسیح کاذب ہمیں بھی دکھائی آ کر تہذیب قادیانی
سننے کا ہزل و بطلان کفارہ تھا مناسب تھی واعظوں پہ واجب تعزیر قادیانی
اس وجہ سے جناب عبدالمجید صاحب اٹھے ادھر سے بہر تادیب قادیانی
لکھی کتاب رد میں جب اس کی یہ تو کیفی از روئے بحث بولا تکذیب قادیانی

١١٢

PDF 240

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

شفاء

للناس

حضرت مولانا محمد عبداللہ شاہ جہانپوری رحمہ اللہ

صفحہ ٢٤٠

بسم الله الرحمن الرحیم! الحمد لله الذی لا اله الا هو نحمده ونستعینه ونستغفره ونؤمن به ونتوکل عليه ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له واشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده ورسوله وان عيسى عبدالله ورسوله وكلمة القاها الى مريم وروح منه صلوة الله وسلامه عليهما وعلى جميع الانبياء والمرسلين وعلى عباده الصالحين ٠ اما بعد!

یہ عاجز احقر عباد اللہ عبد اللہ بن العالم الالمعی والفاضل التقی، جامع علوم نقلیہ وعقلیہ نیک سیرت ، محبّ سنت از بدعات مجتنب ، منعوت بافواہ الحاضر والغائب، ولی اللہ فیما احسب مفضل بفضل معنوی وصوری استادی مولوی محمد کفایت اللہ صاحب لازالت ظلال افاضاتہ علیٰ رؤسنا ممدودہ شاہجہانپوری خدمت میں اخوان مؤمنین کے عرض پرداز ہے کہ اس وقت میں ہوا پرستی اور احکام الٰہی کے بجالانے میں سستی ایسی آگئی ہے کہ بیان سے باہر اور تقویٰ اور دیانت سے دوری اور صدق وامانت سے مہجوری ایسی ہوگئی ہے کہ حد سے بڑھ کر اور شرور وفساد اور فتن وعناد کا ایسا دروازہ کھلا ہے کہ جس سے شیاطین جن کو چندان حاجت تکلیف اٹھانے کی نہ رہی اور ایسے دجل پیشہ اور تضلیل وتلبیس شیوہ لوگ ہونے لگے۔ جس سے ابلیس کو بھی راحت ہوگئی۔ دجالین پیدا ہوکر خلق اللہ کو گمراہ کرنے لگے دعاوی باطلہ کا دم بھرنے لگے۔ جھوٹی جھوٹی باتوں کو شائع کرنے لگے۔ یہ وہی وقت معلوم ہوتا ہے جس کی خبر مخبر صادق علیہ السلام نے پہلے ہی سے دی ہے: ”یکون فی آخر الزمان دجالون کذابون یأتونكم من الاحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا اباءكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم اخرجه مسلم عن ابی هریرة مرفوعا“ یعنی آخر زمانہ میں دجالین کذابین ہوں گے۔ تم کو ایسی باتیں سنائیں گے جو نہ کبھی تم نے سنیں نہ تمہارے باپ داداوں نے تو تم ان سے بچو کہیں۔ تم کو گمراہ نہ کردیں اور آفت میں نہ ڈال دیں۔ یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے اور ایک حدیث میں یوں فرمایا: ”سیکون فی امتی کذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبي بعدى (اخرجه ابوداؤد والترمذى وصححه ابن حبان كما في الفتح)“ یعنی میری امت میں تیس بڑے جھوٹے ہوں گے۔ ہر ایک اپنے آپ کو نبی کہے گا اور میں سب نبیوں کا پچھلا ہوں کوئی میرے بعد نبی نہیں۔ اس حدیث کو ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا اور ابن حبان نے اس حدیث ٢

صفحہ ٢٤١

کو صحیح کہا۔ چنانچہ اس وقت میری نظر سے ایک رسالہ ضالہ کا مقالہ مسمی ”باعلام الناس“ گزرا کہ از سر تا پا پُر از تضلیل ہے اور اس میں کلام رب الجلیل کی خوب ہی باطل تاویل اور اقوال نبوی کی پوری پوری تحریف و تبدیل ہے۔ صاحب رسالہ نے اس رسالہ کو تائید میں ایک پنجابی (مدعی) کے لکھا ہے۔ جس نے کلام اللہ اور کلام رسول کو تاویل فاسد اور تحریف باطل کرتے کرتے درجہ اہمال اور تعطیل کو پہنچا دیا اور اپنے آپ کو مسیح کا مثیل بنا لیا۔

پس وہ اپنے زعم میں مسیح بن مریم علیہ السلام کا مثیل ہے اور بحکم شرع ایسے شخص کو کہہ سکتے ہیں کہ دراصل دجال کا مثیل ہے۔ بلکہ یہ اس کے لئے ایک فخر اور معین بے عدیل ہے۔ کیونکہ جب رسول مقبول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اور تمام انبیاء سابقین نے ایک بڑے دجال سے تحذیر کی لوگوں کے دل میں اس سے پرہیز ڈلوادیا اور اہل اسلام کے دل میں اس کی طرف سے ایک نفرت قوی جم رہی تھی۔ اس کو اس شخص نے اس دجال موعود کا انکار کر کے نکال دیا اور لوگوں کے دل میں اپنی خوئے خناسی سے یہ ڈالا کہ وہ کوئی چیز نہیں۔ یہ صرف استعارات ہیں۔ جب وہ دجال موعود موافق فرمان ہمارے نبی آخر الزمان اور تمام انبیاء علیہم السلام کے خروج کرے گا اور اس شخص نے جو اس کا واقع میں بڑا حامی اور میر سامان کہ راستہ صاف کرنے کو اس کے لئے آیا ہے۔ فرمان انبیاء کے برعکس بتا کر وہ سب نفرت قلوب سے سلب کر لی تو اب اس کی تضلیل کا کچھ حاجب اور مانع نہ رہا۔ بلکہ اس کے انواع انواع کے دجل اور خوارق دیکھ کر لوگ بہت جلد تسلیم کر لیں گے۔ کیونکہ جو اللہ جل شانہ نے بلسان انبیاء کہ اس کے دجل کی حقیقت مومنین کے اوپر کھول دی تھی۔ اس کو اس شخص نے بھلا دی۔ پس یہ اصل میں مسیح دجال کا مثیل ہے اور حامی اس کی تضلیل کا۔ نہ عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کا مثیل بلکہ ان کا دشمن، اور ساعی ہے ان کی تذلیل کا اور مومنین کا عدو اور مجاہد ان کی تذلیل کا کیونکہ جس نزول کو شارع نے بالفاظ صریح و صحیح تاکید فرما دیا۔

١ جو تاویلیں کہ مرزا قادیانی نے قرآن وحدیث میں کیں۔ اگر وہ تاویلیں درست کہی جاویں تو کبھی قرآن وحدیث سے کوئی مسئلہ ثابت نہیں ہونے کا بلکہ سب بالکل مہمل اور بیکار ہو جاوے گا۔

٢ چنانچہ (ازالۃ اوہام حصہ اول ص ٢٣٧، خزائن ج ٣ ص ٢٢٠) میں لکھتے ہیں۔ ”اس سوال کا جواب ہم بجز اس صورت کے اور کسی طور سے دے نہیں سکتے کہ آخری زمانہ میں دجال موعود کا آنا سراسر غلط ہے۔“

٣

صفحہ ٢٤٣

اہل اسلام کو اس کا انکاری بنانے والا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت مومنوں کو ان کا منکر اور کافر بنانے ؂١ والا اور خاص ان کو کاذب ٹھہرانے والا اور مکذب بنانے والا اللهم احفظنا من شروره واهدنا واياه الى طريقك السوى فانك تهدى من تشاء وتضل من تشاء تو اس رسالہ میں اس کی تائید کے لئے نصوص کی تحریف و تمویہ کر کے لوگوں کو بہکانا شروع کیا تھا۔ پس اس عاجز نے بوجہ حمیت اسلامی کے اس کا جواب لکھنا شروع کیا۔ ”مستعينا بالله فانه ولى التوفيق وبيده ازمة التحقيق ونعوذ به من الزلة والضلالة ونساله الثبات على الحق واليه الهداية“

قولہ ...... وجود مرزا قادیانی کا الیٰ آخرہ۔

اقول ...... ممدوح وہی شخص ہے کہ اس کے افعال واقوال شریعت غراء کے موافق ہوں اور مطیع ہو۔ اللہ کا اور اس کے رسول کا نہ وہ کہ دجل پیشہ اور تضلیل شیوہ ہو اور مفتری ہو اللہ پر اور اس کے رسول پر۔ پس ایسی مدح کچھ فائدہ بخش نہیں۔ بلکہ موجب وبال ہے اور ایسا مادح لائق ہوا، اس فرمان نبوی کے ”اذا رأيتم المداحين فاحثوا في وجوههم التراب أخرجه مسلم وابوداؤد والترمذی “ اور مرتکب ہوئے اس کے ”اذا مدح الفاسق غضب الرب اخرجه البیهقی وابن عدی وابن ابی الدنيا وابويعلی“ اور امثلہا کے اور ممدوح جو کہ خوش ہوتے ہیں بمصداق اس وعید کے ہوئے ۔ ”لا تحسبن الذين يفرحون بما اتوا يحبون ان يحمدوا بمالم يفعلوا فلا تحسبنهم بمفازة من العذاب ولهم عذاب اليم“

قولہ ...... یہ دعویٰ میرا بلا بینہ نہیں بلکہ براہین احمدیہ سے ثابت وظاہر ہے۔ اگر کسی کے آنکھوں میں کچھ فتور ہو تو کحل الجواہر بھی حاضر ہے۔

اقول ...... براہین احمدیہ اور کحل الجواہر اب تمہارے مطلب فاسد کو مفید نہیں اور اس وقت تمہارے پیر کی حقیقت اور مجددیت کی دلیل نہیں۔ (خاص کر کہ یہ دعوے جو کئے گئے ہیں براہین احمدیہ کے خلاف ہیں اور اس میں جو اقرار کئے گئے نزول جسمانی حضرت مسیح کے معارض) کیونکہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ان الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر اخرجه البخاري“ یعنی

؂١ کیونکہ جب ان کے نزول کا انکار کیا تو جب وہ موافق فرمان شارع کے نزول فرماویں گے تو لوگوں کے دل میں جو بات جم جائے گی کہ اب ان کا نزول نہ ہوگا تو لامحالہ ان کو جھوٹا کہیں گے اور ان کا انکار کریں گے اور تکذیب کریں گے۔

٤

اللہ جل شانہ اس دین کی مدد بدکار آدمی سے بھی کرا حنین میں رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے واسطے سے ہے۔ جب کفار سے مقابلہ ہوا تو اس شخص نے کفار کے ساتھ لڑا تو ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ قتال کرتا ہے اور اس کے سبب سے زخمی بھی بہت ہ بات سے بعض آدمیوں کے دل میں شک آگیا اِ اس نے ایک تیر لے کر اس سے اپنے آپ کو قتل ک بات کی خبر کی تو آپ ﷺ نے ایک حدیث فرمائی ۔

تنبیہ

واضح رہے کہ ترجمہ عبارات کا تمام رس معنی کا لحاظ نہیں۔ کیونکہ اس میں یا تطویل زائد ہو واضح رہے کہ اپنی طرف سے بھی کوئی لفظ نہ بڑھایا جاوے گا۔ فقط )

حاصل مطلب یہ ہے کہ اگر کسی سے چاہئے کہ بس سب اس کی باتیں حق ہیں۔ جیسا ک دجالیت کی دلیل ہے کہ اوّل دجل اور دھوکے کے کام بڑا کر کے اور حمیت اسلامی کا نام کر کے اپن چنانچہ طریقہ دجال موعود اکبر کا بھی حدیث سے یہ عن النبي ﷺ انه قال الدجال ليس الدين فيتبع ويظهر فلا يزال حت فيتبع ويحث على ذلك ثم يدعى انه ن فيمكث بعد ذلك فيقول انا الله فتغش كافر فلا يخفى على كل مسلم الحديث الخ “ یعنی نبی صاحب نے فرمایا کہ دجال کی ب لوگوں کو دین کی طرف بلاوے گا تو لوگ اس کے

صفحہ ٢٤٣

اللہ جل شانہ اس دین کی مدد بدکار آدمی سے بھی کرالیتا ہے۔ قصہ ورود اس حدیث کا یہ ہے کہ غزوہ حنین میں رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے واسطے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا فرمایا کہ یہ اہل نار سے ہے۔ جب کفار سے مقاتلہ ہوا تو اس شخص نے مسلمانوں کی طرف سے بہت قتال کیا اور بہت کفار کے ساتھ لڑا تو ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ شخص تو بہت قتال کرتا ہے اور اس کے سبب سے زخمی بھی بہت ہو گیا اور اس کو آپ ﷺ نے دوزخی فرمایا۔ اس بات سے بعض آدمیوں کے دل میں شک آ گیا اتنے میں اسی شخص کو ایک زخم سے تکلیف ہوئی تو اس نے ایک تیر لے کر اس سے اپنے آپ کو قتل کر دیا تو لوگوں نے دوڑ کر رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی خبر کی تو آپ ﷺ نے ایک حدیث فرمائی ۔ جس کا ٹکڑا یہ حدیث ہے جو ذکر کی ۔

تنبیہہ

واضح رہے کہ ترجمہ عبارات کا تمام رسالہ میں حاصل معنی کے ساتھ کیا جاوے گا۔ لفظی معنی کا لحاظ نہیں۔ کیونکہ اس میں یا تطویل زائد ہوتی یا مطلب عوام کے سمجھ میں نہیں آتا۔ مگر یہ بھی واضح رہے کہ اپنی طرف سے بھی کوئی لفظ نہ بڑھایا جاوے گا۔ جو لفظوں سے نکلے گا اسی کا حاصل لکھا جاوے گا۔ فقط )

حاصل مطلب یہ ہے کہ اگر کسی سے اسلام کی مدد کا کام ہو جاوے تو یہ گمان نہ کرنا چاہئے کہ بس سب اس کی باتیں حق ہیں۔ جیسا کہ یہاں پر ہے۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ یہی اس کی دجالیت کی دلیل ہے کہ اول دجل اور دھوکے کے ساتھ مسلمانوں کو ان کی طبیعت کے موافق ایک کام بڑا کر کے اور حمیت اسلامی کا نام کر کے اپنی طرف گرویدہ کیا اور پھر اپنا مقصد اصلی کھولا۔ چنانچہ طریقہ دجال موعود اکبر کا بھی حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ ”عن عبداللہ بن عمر عن النبی ﷺ انه قال الدجال ليس به خفا يجئ قبل المشرق فيدعو الی الدين فيتبع ويظهر فلا يزال حتى يقدم الكوفة فيظهر الدين ويعمل به فيتبع ويحث على ذلك ثم يدعى انه نبى فيفزع من ذلك كل ذي لب ويفارقه فيمكث بعد ذالك فيقول انا الله فتغشى عينه وتقطع اذنه ويكتب بين عينه كافر فلا يخفى على كل مسلم الحديث اخرجه الطبراني بسند ضعيف كمافى الفتح“ یعنی نبی صاحب نے فرمایا کہ دجال کی بات پوشیدہ نہیں۔ مشرق کی جانب سے آوے گا تو لوگوں کو دین کی طرف بلاوے گا تو لوگ اس کے تابع ہو جاویں گے اور لوگوں کو دین کا شوق دلائے

٥

صفحہ ٢٤٤

گا۔ پیچھے نبوت کا دعویٰ کر بیٹھے گا تو سمجھ دار اس سے الگ ہو جاویں گے۔ پھر خدائی کا دعویٰ کرنے لگے گا تو اس کی آنکھ چھپ جائے گی اور کان کٹ جائیں گے اور دونوں آنکھوں کے درمیان میں کافر لکھ دیا جاوے گا تو کسی مسلمان پر چھپا نہ رہے گا۔ تمہارے یہاں بھی دعویٰ نبوۃ پر تو نوبت آگئی ہے۔ آگے دیکھئے۔

یار ما امسال دعویٰ نبوۃ کردہ است
سال دیگر گر خدا خواہد خدا خواہد شدن

دوسری وجہ براہین احمدیہ اور کحل الجواہر کی تمہارے مدعائے اصلی کے مفید نہ ہونے کی یہ بھی ہے کہ ایک شخص کی بعض بات حق ہونے سے اس کی سب باتوں کی حقیقت لازم نہیں آتی ہے۔ تیسری یہ کہ پہلے جو اس کو اچھا جانا گیا تھا تو اسی وجہ سے کہ اللہ رسول کے دین کی تائید کی بات کی تھی۔ پس جب قول رسول کی توہین اور قرآن وحدیث کی کہ جو بین الدلالۃ صحیح الثبوت بلکہ قطعی الثبوت تھے۔ تحریف کی، تو اس کو چھوڑ دینا چاہئے جو وجہ قبول کی تھی ویسی ہی وجہ عدم قبولیت کی بھی پیش آگئی۔ پھر ترجیح بلامرجح بلکہ ترجیح مرجوح کیوں 'اتبع الحق ولا تتبع الهوى خذما صفا ودع ما كدر'

قولہ ...... مولوی محمد حسین صاحب اشاعۃ السنہ نے اس وقت میں ۔ الخ! اقول ...... حاصل یہ ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب پہلے مرزا قادیانی کے بہت مداح تھے۔ بہ سبب رفع کسی قدر حجاب کے اور اب بڑے ان کے منکر مکذب ہو گئے۔ بسبب انواع حجب کے۔ چونکہ عبارت صاحب رسالہ کی طویل تھی اور اس کے نقل میں عسرت تھی اور بغیر نقل خلاصہ مطلب نہ کھلتا۔ لہذا حاصل بیان کر دیا۔ اب ان کی غرض اس قصہ کے نقل سے سنو۔

قولہ ...... میں نے یہ عبارات ان کے رسالہ کی اس واسطے نقل کئے ہیں کہ مرزا قادیانی کو ایک الہام یہ بھی ہوا تھا کہ ”جحدوا بہا واستیقنتہا انفسہم“ چنانچہ براہین احمدیہ میں یہ الہام بشرح وتفسیر مندرج ہے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ بعضے لوگ میری تصدیق کر کے بعد تصدیق بھی منکر ہو جاویں گے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کے پورے پورے مصداق بسبب عظمت شان اپنی کے مولوی صاحب ہی ہیں۔

اقول ...... تصدیق کے بعد منکر ہو جانے سے اگر یہ غرض ہے کہ اقرار کے بعد انکار کریں گے۔ تو یہ جو لفظ الہام میں بزعم مرزا ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں۔ کیونکہ جحد وابہا کے معنی تو یہ ہیں کہ باوجود ٦

صفحہ ٢٤٥

دل میں یقین ہونے کے انکار کریں گے۔ پس یہ اقرار کے بعد انکار کرنے کے معنی اگر مرزا قادیانی نے لئے ہیں تو وہ اپنے الہام کو نہیں سمجھے۔ یا تم نے یہ اس کے معنی لئے ہیں تو تم مرزا کے الہام کو نہیں سمجھے۔ کیونکہ جو الہام کے لفظ ہیں۔ بزعم مرزا اس کے معنی تو یہ ہیں دل میں یقین ہے اور ظاہر میں انکار ہے اور اگر تصدیق کے بعد منکر ہو جانے سے یہ غرض ہے کہ باوجود دل میں یقین ہونے کے انکار کریں گے تو تمہارا اس اقرار و انکار مولوی صاحب کو اس الہام کا مصداق بنانا بڑی نادانی کی دلیل ہے۔ کیونکہ یہ تم کو کیسے معلوم ہوا کہ اب حالت انکار میں مولوی صاحب کے دل میں مرزا کی حقیت کا یقین ہے اور پھر انکار کرتے ہیں۔

دوسرا فساد اس قول میں یہ ہے کہ مولوی صاحب کے اقرار کا زمانہ اور ہے اور انکار کا اور، اور الفاظ چاہتے ہیں اتحاد زمانہ کو کیونکہ ”واستيقنتها“ حال ہے۔ کما لا يخفی!

تیسرا یہ کہ الفاظ الہام صیغہ ماضی ہیں اور مولوی صاحب کا انکار مستقبل میں ہے۔ پس اس انکار کو مصداق بنانا صحیح نہ ہوگا۔ الا بالتاويل!

قولہ...... پس انکار الہام سے بھی ملہم ہونا مرزا قادیانی کا ثابت ہو گیا۔

اقول...... کیا خوب ثابت ہوگیا اور اس کے ساتھ تمہاری خوش فہمی بھی ثابت ہوگئی۔

قولہ...... جب سے مولوی محمد حسین صاحب نے مرزا قادیانی کی تکذیب شروع کی۔ بعد اس تصدیق کے جو نقل کی گئی۔ تب سے مولوی صاحب ممدوح کا وہ مرتبہ مقبولیت جو تمام اہل حدیث ہند کے دلوں میں تھا وہ اب نہیں رہا۔

اقول...... اس کو ہم افتراء کہہ سکتے ہیں۔ یہ کہا جائے تو بجا ہے کہ وقعت مولوی صاحب کی جب سے علماء کے نزدیک کم ہوئی جب انہوں نے بعض بعض رسائل و مسائل خلاف قرآن وحدیث واجماع امت کے لکھ کر شائع کئے تھے۔ چنانچہ یہ بات اہل علم پر پوشیدہ نہیں اور مسائل دینیہ کو موجودہ حالت کے مطابق کرنا چاہا تھا۔ چنانچہ اہل خبرت پر مخفی نہیں۔ ”فما ادعیتم کذب صریح واما فهاتوا برهانكم ان كنتم صادقین“ ہاں اگر یہ کہا جائے تو ٹھیک ہے کہ جب سے تم نے ان دعاوے باطلہ کی تصدیق کی اور دجل کی نصرت کی تو تمہاری جو کچھ مقبولیت تھی بالکل جاتی رہی۔ عوام اور اہل علم سب کے نزدیک۔

قولہ...... الحاصل اور بھی بہت سے علماء وفضلاء مرزا قادیانی کی ولایت اور محدث ہونے اور ملہم ہونے کی تصدیق فرماتے ہیں۔ بلکہ ان کے فیضان سے مستفید ومستفیض ہوتے ہیں۔ اگر ان

صفحہ ٢٤٦

سب کا کلام نقل کروں تو ایک دفتر طویل ہو جاوے۔ ان دو صاحبوں کا کلام اس واسطے نقل کیا ہے کہ یہ دونوں تلامذہ مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب مدظلہ العالی کے ہیں جو دریں زمانہ علوم ظاہر وباطنہ میں ہمارے مقتداء ہیں۔

اقول ..... وہ کون علماء وفضلاء ہیں جو مرزا قادیانی کے محدث وغیرہ ہونے کے قائل ہیں۔ وہ جو تم نے پیش کئے تو ایک تو رات دن ان کے رد میں مشغول رہتے ہیں اور دوسرے کے حال سے میں واقف نہیں کہ اب ان کا کیا عقیدہ ہے اور نہ آپ واقف ہیں۔ چنانچہ آپ نے یہ بات زبانی فرمائی۔ (جس کی خبر مجھ کو بہت معتبر طور سے ہے) کہ اب مجھ کو ان کی خبر نہیں کہ مرزا قادیانی کے بارہ میں اب ان کا کیا عقیدہ ہے۔ بہرحال ان قولوں سے جن کو تم نے نقل کیا اس وقت تمہارا مطلب دلی ثابت نہیں ہوتا اور یہ مدعین اب کے نہیں کہ تمہارے مفید مطلب ہوں۔ واضح رہے کہ صاحب رسالہ نے اس جگہ عوام کے لئے دھوکے کے ساتھ کام نکالا ہے کہ حضرت مولانا ومقتدانا شیخنا وشیخ الکل محی السنۃ قامع البدعۃ امام الوقت استاذی حاجی الحرمین مولانا مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی مدظلہ العالی کی تعریف کی کہ ان کے دو شاگردوں کے قول سے مرزا قادیانی کی مدح لکھی ہے اور اس کا اظہار کیا تاکہ عوام لوگ پھسلیں کہ ایسے بڑے عالم کے شاگرد یہ بات کہتے ہیں تو حق معلوم ہوتا ہے اور یہ خیال نہ کیا کہ اگر اسی شاگردی پر ہے تو اور جو ہزاروں مولانا ممدوح مدظلہ العالی کے شاگرد مخالف مرزا کے ہیں تو ان ہزاروں کا اعتبار نہ کیا جاوے گا اور ان دو کا کیا جاوے گا کہ ان سے بڑے بڑے اس کے رد میں مشغول ہیں۔ دوسرے ان دو میں کہ جو ان دیار میں مشاہیر سے ہیں وہ خود اس وقت بڑے مخالفین سے ہیں۔ تیسرے جو سب کے استاد ہیں ۔ انہیں سے پوچھ لو وہ کیا فرماتے ہیں۔ چوتھے کسی بڑے کے شاگرد سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ شاگرد سب باتوں میں مصیب ہو۔ پانچویں شاگردی اور استادی کو اس میں کچھ دخل نہیں۔ قرآن وحدیث دیکھنا چاہئے جو اس میں ہے وہی ٹھیک وحق ہے۔ باقی سب ہیچ۔ واللہ اعلم!

قولہ ..... اب یہ عاجز بخدمت ان علماء وفضلاء کے جو مرزا قادیانی کے مکذب ہیں اور ان کے وجود کو اسباب اضلال سے جانتے ہیں۔ بلکہ نوبت بایں رسید کہ الحاد وزندقہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ یہ استفسار کرتا ہے کہ مرزا قادیانی میں وہ کون سا امر الحاد وزندقہ کا ہے۔ بیان تو کیا جاوے۔

اقول ..... جو امور کہ مرزا قادیانی کے موجب زندقہ والحاد کے ہیں۔ ان کے تفصیلی بیان کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ یہ کیا کم الحاد ہے کہ اس دعویٰ مثیلیت میں قرآن وحدیث کی ایسی تاویل

٨

صفحہ ٢٤٧

تحریف کی کہ معطل و بیکار کر دیا اور صرف نصوص کا ظاہر لئے بغیر صارف صحیح و بے وجہ وجیہ الحاد ہے اور انہوں نے تو ایسا صرف کیا کہ صرف کا اس سے اوپر اور درجہ متصور نہیں۔ مگر چند اقوال وعقائد بطور تمثیل کے ان کی تحریرات سے بعینہ عبارات کے ساتھ (قطع نظر ان اقوال وعقائد سے کہ جو مجھ کو اخبار ثقات سے پہنچی ہیں) نقل کرتا ہوں کہ جس سے ناظرین خود غور کر سکتے ہیں اور اس وقت ان کے رد سے بخوف تطویل سکوت کیا۔ (ان کے رسائل کے جواب میں انشاء اللہ تعالیٰ جواب شافی ان کا ہو جاوے گا) ونیز مخالفت ان کی قرآن وحدیث سے ظاہر ہے۔ ایک عقیدہ ان کا یہ ہے کہ میں نبی ہوں اور نبوت مطلقاً ختم نہیں ہوئی۔ (توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) میں لکھتے ہیں۔ ”ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں۔ مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوۃ کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوتی ہے۔ اس پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوۃ مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔“

اور ص ١٩ میں کہا: ”ان النبی محدث والمحدث نبی باعتبار حصول نوع من انواع النبوۃ“ اور یہ پہلے کہہ چکے کہ میں محدث ہوں اور (توضیح المرام ص ٢٣ تا ٢٧) تک قابل دیکھنے کے ہیں۔ حقیقت ملائکہ میں کس قدر واہیات بھرے ہیں کہ کیا بیان کیا جاوے۔ عبارت طویل ہے۔ اس واسطے نقل نہیں کر سکا۔ بعض بعض مختصر جملوں کو بطور نمونہ کے ذکر کرتا ہوں۔

(توضیح المرام ص ٢٣، خزائن ج ٣ ص ٦٢) میں ملائکہ کے بارہ میں کہتے ہیں۔ ”اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کے اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں۔ یا نہایت سیدھے اور موحدانہ طریق سے ملائک اللہ کا ان کو لقب دیں۔“

٩

صفحہ ٢٤٨

اور (توضیح المرام ص ٣٨، خزائن ج ٣ ص ٧٠) میں لکھتے ہیں: ”انہیں نفوس کے پوشیدہ ہاتھ کے زور سے تمام ستارے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں اور جیسے خدا تعالیٰ تمام عالم کے لئے بطور جان کے ہے۔ ایسے ہی (مگر اس جگہ تشبیہ کامل مراد نہیں) وہ نفوس نورانیہ کواکب اور سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں۔“

اور (توضیح المرام ص ٦٧، خزائن ج ٣ ص ٨٥، ٨٦) میں یوں کہا: ”بلکہ ہر ایک فرشتہ علیحدہ علیحدہ کاموں کے انجام دینے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ دنیا میں جس قدر تم تغیرات وانقلاب دیکھتے ہو یا جو کچھ ممکن قوت سے خیر فعل میں آتا ہے یا جس قدر ارواح واجسام اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتے ہیں۔ ان سب پر تاثیرات سماویہ کام کر رہے ہیں اور کبھی ایک ہی فرشتہ مختلف طور کے استعدادوں پر مختلف طور کے اثر ڈالتا ہے۔“

غور کرو! یہ کن عقائد کفریہ کو جن کا رد بکلی قرآن وحدیث میں ہو چکا ہے۔ تعلیم کیا جاتا ہے اور کس دجل کے ساتھ مخلوق کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ اب بھی کچھ زندقہ والحاد میں شک رہ گیا۔ پھر اس کے بعد ایک طویل عبارت میں یہ بھی مضمون ادا کیا گیا ہے۔ تصریح کے ساتھ کہ کوئی فرشتہ بذات خود زمین پر نہیں آتا اور اپنے مقام سے جدا نہیں ہوتا۔ بلکہ صرف اس کی تاثیر نازل ہوتی اور اس کی عکسی تصویر انبیاء کے دل میں منقوش ہو جاتی ہے۔ دیکھو (توضیح المرام ص ٦٨، خزائن ج ٣ ص ٨٦، ٨٧، ٩٥) میں اور پھر ذات باری تعالیٰ کے ساتھ یہ کیا کم گستاخی ہے کہ گو جواز ہی سہی اپنے آپ کو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کے بیٹے کے ساتھ تعبیر کیا۔ چنانچہ (توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤) میں ہے: ”مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں یعنی ابن اللہ کہہ سکتے ہیں۔“ نعوذ باللہ من ذلك!

ایسے ہی (توضیح المرام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٢) میں تثلیث ثابت کی گئی ہے۔ عبارت طویلہ کے بعد کہا: ”اسی وجہ سے اس محبت کی بھری ہوئی روح کو خدا تعالیٰ کی روح سے جو منبع المحبت ہے استعارہ کے طور پر ابنیت کا علاقہ ہوتا ہے اور چونکہ روح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے۔“

بھلا یہ عقائد کفریہ کو در پردہ عوام میں پھیلانا ہے کہ نہیں اور یہ اسلام کے ساتھ کھلی دشمنی ہے کہ نہیں فانصف۔ پھر (فتح الاسلام ص ٥٤، خزائن ج ٣ ص ٣٢) میں لیلۃ القدر کو زمانہ ظلمانی بتایا ہے

١٠

٤٩

کہ اس سے رات مراد نہیں۔ یہ بھی قابل دید ہے بیان معنی آیت متضمن ہو کر سجدہ آدم علیہ السلام ا وہ بھی لائق غور ہے۔ بخوف طویل عبارت نہیں لکھی الامان اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور معجز بیان کیا جاوے۔

(ازالہ اوہام ص ٦، خزائن ج ٣ ص ١٠٥، ١٠٦ اشارہ نہ معلوم کہاں تک چلی گئی۔ بعض جگہ کے ا اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان کے حواشی س پر یا غلط فہمی کی وجہ سے کھڑے کئے گئے ہیں تو پیشگوئیوں پر جس قدر اعتراض وشکوک پیدا ہوتے پیش خبر یوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں کرتا اور پیش گوئیوں کا اس سے بھی زیادہ تر ابتر ح

پھر لکھتے ہیں: ”اور اس سے بھی زیادہ کی پیشین گوئیاں غلط نکلیں۔ اس قدر سچ نہیں نکل

اور (ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص

ایک منم کہ حس
عیسیٰ کجا است و

اور (ازالہ اوہام ص ١٥، خزائن ج ٣ ص تمام نبیوں سے بڑھی ہوئی ہے اور انجیل سے یہودیوں نے حضرت مسیح کے مارنے کے لئے چو اور اسی حصہ اوّل میں حضرت عیسیٰ ع مجید سے ثابت ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٢٩٥ تا ٣٢٦ بھرے ہیں اور ان سے انکار اور کیسی ہجو کی ہے کہ ج ٣ ص ٢٥٥) میں لکھتے ہیں: ”اور ایسا معجزہ دکھلا دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بن

صفحہ ٢٤٩

کہ اس سے رات مراد نہیں۔ یہ بھی قابل دید ہے اور جو (توضیح المرام ص٣٩، خزائن ج٣ ص٧٦) میں بیان معنی آیت متضمن ہو کر سجدۂ آدم علیہ السلام اپنے آپ کو مسجود و مخدوم ملائکہ ثابت کرنا چاہا ہے۔ وہ بھی لائق غور ہے۔ بخوف طویل عبارت نہیں نقل کی گئی۔ کیسے کیسے الحادیات بیان کئے ہیں کہ الامان اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور منقصت شان ان کی کتب میں تو اس قدر ہیں کہ کیا بیان کیا جاوے۔

(ازالہ اوہام ص٦، خزائن ج٣ ص١٠٥، ١٠٦) میں جو شروع کی ہے تو کہیں صراحۃً اور کہیں اشارہً نہ معلوم کہاں تک چلی گئی۔ بعض جگہ کے الفاظ کو لکھتا ہوں۔ ص٧٦ میں لکھتے ہیں: ”ماسوا اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان کے حواشی سے الگ کر کے دیکھا جاوے جو محض افتراء کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے کھڑے کئے گئے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا۔ بلکہ مسیح کے معجزات اور پیشگوئیوں پر جس قدر اعتراض وشکوک پیدا ہوتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کے رونق دور نہیں کرتا اور پیش گوئیوں کا اس سے بھی زیادہ تر ابتر ہے۔“

پھر لکھتے ہیں: ”اور اس سے بھی زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشین گوئیاں غلط نکلیں۔ اس قدر صحیح نہیں نکل سکیں۔“

(ایضاً)

اور (ازالہ اوہام ص١٥٨، خزائن ج٣ ص١٨٥) میں لکھتے ہیں:

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بمنبرم

اور (ازالہ اوہام ص١٥، خزائن ج٣ ص١٠٠) میں ہے۔ ”کیونکہ حضرت مسیح کی سخت زبانی تمام نبیوں سے بڑھی ہوئی ہے اور انجیل سے ثابت ہے کہ اس سخت کلامی کی وجہ سے کئی مرتبہ یہودیوں نے حضرت مسیح کے مارنے کے لئے پتھر اٹھائے۔“

اور اسی حصہ اوّل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے بارہ میں جو صریح کلام مجید سے ثابت ہیں۔ (ازالہ اوہام ص٢٩٥ تا ٣٢٢، خزائن ج٣ ص٢٥١ تا ٢٦٣) تک کس قدر خرافات بھرے ہیں اور ان سے انکار اور کیسی ہجو کی ہے کہ نقل کرتے شرم آتی ہے۔ (ازالہ اوہام ص٣٠٤، خزائن ج٣ ص٢٥٥) میں لکھتے ہیں: ”اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید نہیں۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم

١١

صفحہ ٢٥٠

بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں۔“

آگے (ازالہ اوہام ص ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥) میں لکھتے ہیں: ”ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز بطریق عمل الترب یعنی مسمریزم کے طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ہیں ۔“

اور (ازالہ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧) میں لکھتے ہیں: ”مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل اس قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا ۔“

اور (ازالہ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣) میں لکھتے ہیں: ”غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اس میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ۔“

مرزا قادیانی کے ان عقائد میں غور کر کے اہل حق سمجھ سکتے ہیں کہ حق پر کون ہے اور ان عقائد کا معتقد بد دین اور ملحد ہے کہ نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم!

قولہ...... (مصنف اعلام نے مولوی عبدالحق کا قول نقل کیا) مباہلہ ایک قسم کی قسم ہے اور یہ بھی ایک صورت فیصلہ کی ہے کہ دونوں طرف اپنی جان اور اولاد سے حاضر ہوں اور دعا کریں کہ جو کوئی ہم میں سے جھوٹا ہے۔ اس پر لعنت اور عذاب پڑے ”تعالوا ندع ابناء نا وابناء کم“ ان دنوں مرزا غلام احمد ساکن قادیان ضلع گرداسپور واقع پنجاب نے دعویٰ عیسیٰ ہونے کا کیا ہے اور جو آیتیں اور حدیثیں عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں وارد ہیں۔ ان کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا ہے۔

اقول...... (قول مؤلف اعلام الناس) ابھی تک مجھ کو یہ معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی نے اس درخواست مباہلہ کا کیا جواب دیا ہے۔ دو حال سے خالی نہیں یا تو بشرائط مفید طرفین مباہلہ کرنا منظور فرماویں گے۔ یا اس وجہ سے کہ میاں عبدالحق کو مباہلہ کرنے میں اثر تام اور نفع عام پہنچے منظور نہ اور نتیجہ معتد بہا اور نفع عام پیدا ہو کہ جس کا اثر ایک ا

اقول...... یہ امور جو تم نے مباہلہ کے واسطے بیا درصورت شق ثانی کیوں مباہلہ کے واسطے نہ کھڑ گئے اور درصورت شق اوّل یعنی یہ امور مباہلہ کے مقتضی ہے) تو اس پر دلائل شرعیہ سے دلیل لاؤ

”وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النـ جو کہتے ہو کہ جانب مخالف سے کوئی بڑا شخص ہو اسلام کو پہنچے۔ ورنہ ایسے مباہلوں کا ثمرہ مفید عام بڑے ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر ایسے آدمی بھـ رہنے والی نہیں۔ ادنیٰ ادنیٰ بات تو چھپتی نہیں اس نہ پڑے۔ یہ بات خلاف عقل ہے۔ اس قدر جـ اہل اسلام کو کسی صورت ممکنہ میں نظر نہیں آتا۔ با

دوسرے ! اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔

العلم فقل تعالوا ندع ابناء نا “ دیگـ بلواؤ سب کو یعنی جو کوئی اس میں جھگڑا کرے ا کوئی تخصیص والا۔ اللہ کے کلام کے مقابلہ سے

تیسرے! یہ کہ قصۂ وفد نجران کو دیـ پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے آیات جواباً پـ انکاری ہوئے۔ تب رسول اللہ ﷺ مباہلہ کے پوچھا کہ تم لوگ بہت بڑے آدمی ہو یا نہیں او نہیں۔ بلکہ روایات سے یہ بات معلوم ہوتی تھی کہ یہ لوگ نجران والوں کے بھی سردار و متـ بیہقی کی روایت میں اس طرح ہے کہ ”قال

صفحہ ٢٥١

فرماویں گے۔ یا اس وجہ سے کہ میاں عبدالحق کچھ ایسے اکابر اور مشاہیر میں سے نہیں۔ جن سے مباہلہ کرنے میں اثر تام اور نفع عام پہنچے منظور نہ فرماویں گے۔ تو پھر ایسے مباہلوں کا ثمرہ مفید عام اور نتیجہ معتد بہا اور نفع تمام کیا ہو کہ جس کا اثر ایک ملک ہند پر بھی نہ پڑے گا۔ الی آخر القول! اقول ...... یہ امور جو تم نے مباہلہ کے واسطے بیان کئے آیا یہ شرط ہیں۔ مباہلہ کے واسطے یا نہیں۔ در صورت شق ثانی کیوں مباہلہ کے واسطے نہ کھڑے ہوئے اور حق کو ( جو تمہاری زعم میں ہے ) چھپا گئے اور در صورت شق اول یعنی یہ امور مباہلہ کے شروط سے ہیں (اور تمہاری عبارت رسالہ کی اس کو مقتضی ہے ) تو اس پر دلائل شرعیہ سے دلیل لاؤ اور قرآن وحدیث سے ان کی شرطیہ کو بیان کرو۔ ”و ان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة“ اور یہ جو کہتے ہو کہ جانب مخالف سے کوئی بڑا شخص ہونا چاہئے کہ اس کی غالبی اور مغلوبی کا اثر تمام اہل اسلام کو پہنچے۔ ورنہ ایسے مباہلوں کا ثمرہ مفید عام اور نتیجہ معتد بہا کیا ہوگا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ کچھ بہت بڑے ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر ایسے آدمی بھی مباہلہ کریں گے تو ان کی غالبی مغلوبی ایسی مقصود رہنے والی نہیں۔ ادنیٰ ادنیٰ بات تو چھپتی نہیں اس قدر بڑی بات چھپ جائے اور لوگوں پر اس کا اثر نہ پڑے۔ یہ بات خلاف عقل ہے۔ اس قدر میں بھی فائدہ عام اور نتیجہ معتد بہا ہو سکتا ہے اور تمام اہل اسلام کو کسی صورت ممکنہ میں نظر نہیں آتا۔ یہ محض بہانہ ہے۔

دوسرے! اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ ”فمن حا جك فيه من بعد ماجاء ك من العلم فقل تعالوا ندع ابناء نا “ دیکھو اللہ تعالیٰ نے من کے ساتھ فرمایا جو عام ہے۔ اعلیٰ وادنیٰ سب کو یعنی جو کوئی اس میں جھگڑا کرے اس سے مباہلہ کرنا۔ پھر تم نے یہ خاص کیسے کر لیا۔ لاؤ کوئی مخصص والا۔ اللہ کے کلام کے مقابلہ سے ڈرو اور باز آؤ۔

تیسرے! یہ کہ قصہ وفد نجران کو دیکھو جب نصاریٰ نجران کے قاصد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے آیات جو دربارہ مسیح کے ہیں پڑھیں تو وہ لوگ اس کے ماننے سے انکاری ہوئے۔ تب رسول اللہ ﷺ مباہلہ کے واسطے تیار ہوئے اور نکلے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ نہ پوچھا کہ تم لوگ بہت بڑے آدمی ہو یا نہیں اور تمہارے ساتھ مباہلہ کا اثر تمام اہل عرب کو پہنچے گا یا نہیں۔ بلکہ روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی بھی خبر نہ تھی کہ یہ لوگ نجران والوں کے بھی سردار ومقتداء ہیں کہ نہیں اور تمام نصاریٰ کا ہونا تو کجا۔ چنانچہ بیہقی کی روایت میں اس طرح ہے کہ ”قال فتلقی شرجیل رسول الله ﷺ فقال له

١٣

صفحہ ٢٥٢

انى قد رأيت خيرا من ملاعنتك فقال وماهو فقال حكمك اليوم الى الليل وليلتك الى الصباح فمهما حكمت فينا فهو جائز فقال رسول الله ﷺ لعل وراءك احد يثرب عليك فقال شرحبيل سل صاحبى فسألهما فقالا ما يروا لوادى ولا يصدر الا عن راى شرحبيل فرجع رسول الله ﷺ فلم يلاعنهم "

دیکھو جب نبی علیہ السلام کو یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ سردار ہیں۔ تب آپ لوٹے اور اس کی بات کا اعتبار کیا تو معلوم ہوا کہ پہلے سے آپ اس کو نہ جانتے تھے۔ پس اگر بڑا آدمی شرط ہوتا تو کیوں آپ ﷺ پہلے سے مباہلہ کے واسطے مستعد ہو جاتے اور مباہلہ کے لئے نکل کھڑے ہوتے۔

چوتھے! یہ کہ تمہارے پیر اسی درخواست مباہلہ کے جواب میں کیا فرماتے ہیں۔ دیکھو اشتہار استدعا مباہلہ بار دیگر جو منجانب مولوی عبدالحق غزنوی ہے۔ مطبوعہ ١٧؍شعبان ١٣٠٨ھ کہ اس میں ان کا جواب بھی نقل کیا گیا ہے۔ عبدالحق کون ہے۔ کسی گروہ کا مقتداء یا مقتدی اور عبدالحق مباہلہ میں اکیلا ہے یا کوئی اور بھی اس کے ساتھ ہے۔ "بہر حال میں مباہلہ کے لئے مستعد کھڑا ہوں۔ مگر اس شرط پر کہ مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی اور مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی احمد اللہ امرتسری بالاتفاق یہ فتویٰ لکھ دیں کہ مسلمانوں کا آپس میں فیصلہ مباہلہ سے جائز ہے۔"

(خلاصہ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٠٨)

دیکھو تمہارے پیر کہیں جانب مخالف کے مباہلہ میں بڑے آدمی ہونے کی شرط لگاتے ہیں؟ وہ تو بہر حال مستعد اپنے آپ کو کہتے ہیں۔ چاہے عبدالحق مقتدی ہو یا مقتداء۔ اکیلے ہوں یا اور کسی کے ساتھ۔ اگر شرط ہوتا تو وہ یہ کیسے کہتے۔ مگر یہاں تو اندھا دھند ہے کچھ بولنا چاہئے۔ ٹھیک پڑے یا نہ پڑے۔ تیر تکہ برابر پڑے یا ان سے بھی دو ہاتھ اونچے، یہ تو یہ کہہ کے چھوٹے اور ان کے پیر بہانہ فتویٰ علماء ٹلاؤ کا لائے۔ یہ عجب بات ہے۔ جس وقت مسیح علیہ السلام کی گدی پر بیٹھے اور متصرف عالم کا روپ بنایا وغیرہا من الہامیات۔ تب کسی عالم سے فتویٰ نہ پوچھا۔ اب جب قلعی کھلنے لگی تو مولوی صاحبوں کو پکارنا شروع کیا۔ کیا جب مولوی محمد اسماعیل علی گڑھی سے مباہلہ طلب کیا تھا؟ اس وقت وہ مسلمان نہ تھے یا تم مسلمان نہ تھے۔

"واذا دعوا الى الله ورسوله اذا فريق منهم معرضون وان يكن لهم الحق ياتوا اليه مذعنين افى قلوبهم مرض ام ارتابوا"

اصل تو یہ ہے کہ خود بھی اپنے آپ کو دل میں سچا نہیں جانتے۔ کیونکہ اگر سچا اور حق پر ١٤ جانتے تو پھر مباہلہ میں (کہ جس میں ان کا اپنا مناظرہ میں) ایسے واہیات بہانے کیوں لاتے میدان میں نکل کھڑے ہوتے۔ نصاریٰ نجران چاہے زمین ٹل جائے۔ مگر مرزا قادیانی ہرگز المسلمین لکھتے۔ مگر اب بے سود ہے۔

قولہ ...... (قول الغزنوی سلمہ اللہ) جیسا کہ مریم اس حدیث سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا تو

اقول ...... (قول مؤلف اعلام الناس) مرزا تو بلکہ جن احادیث صحاح میں پیشین گوئی نزول ابن تاویل کرتے ہیں جو بموجب قواعد عربیہ کے نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ "یوم یأتی تاویلہ رسل ربنا بالحق" اب صحت تاویل بموجب بموجب محاورہ عرب کے معنی نزول من السماء عنصری و خاکی ہی ہو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ومنافع للناس" اب کوئی بیان کرے کہ حدید

اقول ...... وبالله التوفیق جب مرزا قادیانی خود شرعیہ کو کیوں بلا وجہ حقیقت سے صرف کرتے ہیں اور حقیقت کو بدل کر مجاز لاتے ہیں۔ مگر یہ وہ "یحرفون الكلم عن مواضعه ونسوا نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ "یوم یأتی تاویلہ تاویل بیان کی گئی ہے۔ اس کو سنو۔

واضح رہے کہ بلاشبہ نزول صفات ہے۔ جیسا کہ مجمع البحار میں ہے۔"النزول و اور قاضی بیضاویؒ لکھتے ہیں۔ "والانزال نقل يلحق المعانى بتوسط لحوقه الذوات"

صفحہ ٢٥٣

جانتے تو پھر مباہلہ میں (کہ جس میں ان کا اس قدر فائدہ تھا کہ نہ کسی وعظ میں متصور ہے نہ کسی مناظرہ میں) ایسے واہیات بہانے کیوں لاتے۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کی طرح مباہلہ کے نام سے میدان میں نکل کھڑے ہوتے۔ نصاریٰ نجران کی طرح کیوں بھاگتے یہ ہم خوب جانتے ہیں کہ چاہئے زمین ٹل جائے۔ مگر مرزا قادیانی ہرگز مباہلہ نہیں کریں گے۔ والا کچھ تحقیق مباہلہ بین المسلمین لکھتے۔ مگر اب بے سود ہے۔

قولہ..... (قول الغزنوی سلمہ اللہ) جیسا کہ حدیث صحیحین میں ہے۔ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم اس حدیث سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا تو ابن مریم نہیں۔

اقول..... (قول مؤلف اعلام الناس) مرزا قادیانی کب کہتے ہیں کہ میں حقیقتاً ابن مریم ہوں۔ بلکہ جن احادیث صحاح میں پیشین گوئی نزول ابن مریم کے نبی علیہ السلام نے فرمائی ہے۔ اس میں تاویل کرتے ہیں جو بموجب قواعد عربیہ کے صحیح معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ وہ تاویل ہے۔ جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ "یوم یأتی تاویلہ یقول الذین نسوہ من قبل قد جاءت رسل ربنا بالحق" اب صحت تاویل بموجب محاورہ عربیہ کے بیان کی جاتی ہے۔ واضح ہو کہ بموجب محاورہ عرب کے معنی نزول من السماء وغیرہ میں یہ کچھ ضرور نہیں کہ سماء سے نزول بجسم عنصری وخاکی ہی ہو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ "وانزلنا الحدید فیہ باس شدید ومنافع للناس" اب کوئی بیان کرے کہ حدید بوجود عنصری آسمان سے اتارا گیا ہے۔

اقول..... وباللہ التوفیق جب مرزا قادیانی خود کہتے ہیں کہ میں حقیقتاً ابن مریم نہیں تو پھر نصوص شرعیہ کو کیوں بلاوجہ حقیقت سے صرف کرتے ہیں اور اپنے آپ کو پیشین گوئیوں کا مصداق بناتے ہیں اور حقیقت کو بدل کر مجاز لاتے ہیں۔ مگر یہ وہی تبدیلی ہے۔ جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ "یحرفون الکلم عن مواضعہ ونسوا حظاً مما ذکروا" اور یہ وہ تاویل نہیں جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ "یوم یأتی تاویلہ" اس کو اس سے کیا نسبت ہے۔ اب جو صحت تاویل بیان کی گئی ہے۔ اس کو سنو۔

واضح رہے کہ بلاشبہ نزول صفات اجسام سے ہے اور اس میں جسم کے ساتھ ہونا پڑا ہوا ہے۔ جیسا کہ مجمع البحار میں ہے۔ "النزول والصعود والحركات من صفات الاجسام" اور قاضی بیضاویؒ لکھتے ہیں۔ "والانزال نقل الشئ من الاعلى الى الاسفل وهو انما يلحق المعانى بتوسط لحوقه الذوات الحاملة لها" تو جس وقت اس کی نسبت اجسام

١٥

صفحہ ٢٥٥

عنصریہ و خاکی کی طرف کی جاوے گی تو بلاشبہ اس کے معنی نزول بجسمہ العنصری و خاکی ہی کے ہوں گے۔ یہ بات ایسی ظاہر ہے کہ بیان کی چندان حاجت نہیں۔ چنانچہ موضع متنازع فیہ میں بھی ہے کہ نسبت نزول کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے تو اس جگہ پر یہی معنی ہوں گے کہ وہ اپنے شریف جسم عنصری کے ساتھ نزول فرمائیں گے تو معنی حقیقی نزول کے یہی ہوئے۔ علاوہ اس کے ایک بات اور سن لینے کے قابل ہے۔ وہ یہ کہ ظاہر بات ہے کہ نزول کے معنی اعلیٰ سے اسفل کی طرف نقل کے ہیں۔ (چنانچہ میں کسی کتاب لغت کو گمان نہیں کرتا کہ اس میں یہ معنی نہ ہوں۔ میں نے جہاں تک کتب لغت دیکھے سب میں یہ بات موجود پائی) پس جس وقت نزول کی نسبت کسی جسم کی طرف کی جاوے گی تو بے شک اس کے معنی اسی جسم کے نقل کے ہوں گے۔ مثلاً کہیں کہ اٹاری پر سے پتھر گرایا۔ کوٹھے پر سے زید اتر آیا آسمان سے اولے برسے تو سوائے اس کے اور کوئی معنی نہ ہوں گے کہ وہ اپنے جسم ذاتی عنصری کے ساتھ اوپر سے نیچے آئے۔ اصلی اور حقیقی معنی اس کے یہی ہوں گے۔ پھر واضح رہے کہ معنی حقیقی مقدم ہوتے ہیں اور معنی مجازی اسی وقت مراد ہوتے ہیں کہ جب معنی حقیقی سے تعذر ہو اور معنی حقیقی لینا ممکن نہ ہو اور بن نہ سکیں۔ یہ قاعدہ ایسا مسلم ہر اہل علم کا ہے اور مشہور ہے کہ جس میں کسی علم والے کو شک نہیں اور کسی زبان کا ادیب اس کا منکر نہیں۔ لہٰذا حاجت استشہاد کی نہیں۔ کتب فن معانی و البیان کی اور اصول کی اور ادب وغیرہ کے اس سے مملو ہیں۔ پس معنی حقیقی بنتے ہوئے معنی مجازی لینا نصوص شرعیہ کو تحریف کرنا ہے۔

حدیث مذکورہ بالا لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم (یعنی قریب ہے کہ تم میں ابن مریم نزول فرماویں گے) میں معنی حقیقی لینے سے کون مانع ہے کہ جس کے سبب سے معنی حقیقی چھوڑ کر باطل معنی مجازی لئے گئے۔ پھر دوسری روایت میں لفظ ہبوط کے ساتھ بھی وارد ہے۔ وہاں کس طرح پر تحریف کی صورت نکلے گی۔ بڑی جائے تعجب ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کس کثرت سے نزول اور کہیں ہبوط کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کا بیان فرمایا۔ اگر نبی صاحب کا یہی مقصود ہوتا جو مرزا قادیانی کا مطلب ہے تو کیا رسول اللہ پر ویسا لفظ فرمانا ایسا مشکل تھا اور اس کی تعبیر و تفسیر پر قادر نہ تھے کہ اس کثرت سے نزول و ہبوط کے لفظ کے ساتھ فرمایا جو صریح مرزا کے مطلب دلی کو مبطل ہے۔ میری غرض یہ نہیں کہ مجاز کوئی چیز نہیں اور استعمال مجاز کہیں ٹھیک نہیں۔ (کیونکہ بہت جگہ مجاز ہی احسن ہوتی اور حقیقت سے ابلغ ہوتی ہے کہ اس سے مناسبات لطیفہ پیدا کی جاتی ہیں۔ وغیرہا من الفوائد مگر جہاں کہیں حقیقت کا ارادہ متعذر ہو اور سامع کو فتنہ میں ڈالنے

١٦

والی نہ ہو اور مخل بالمقصود نہ ہو) بلکہ میری غرض یہ دلی کو فوت کر دے اور بالکل بے قرائن ہو اور ایسی ج مانع نہ ہو اور معنی مجازی دل میں لے کر بولے۔ بالک پر یہ کہ اکثر جب بولے تو اسی لفظ مجازی کے ساتھ بو اس کے مجاز کے اور معنی حقیقی کی طرف مضطر کرنے میں ہو کہ جس پر ایک جہاں کا دارو مدار ہے کہ شریع پھر ایک کارخانہ کا کارخانہ خیالات کا بنا کر کھڑا کر د عاقل ایسے مجاز کے استعمال کو پسند نہ کرے گا۔ یہ ع مجاز ہرگز کلام شارع میں نہیں ہو سکتے۔ حاشا و کلا شا اور تضلیل خلائق مقصود نہیں۔ وہ تو امت کی ہدایت عقدہ کھولنے کی جگہ چنانچہ یہ پیشین گوئی نزول عیسیٰ الفاظ روایات صحاح پر نظر کر کے معلوم کر سکتا ہے ک معنی ہیں اور نزول کے ارادہ معنی حقیقی سے کون ما آپ کو عیسیٰ موعود بنانے کو دل چاہتا ہے۔ اگر احاد تدبیر ہی سے کام نکالیں۔ ”اللہم احفظنا من اس جگہ دجل سے کام لیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ دھوکا دی حقیقت مجاز کو عام ہے۔ چند شواہد مجاز کے پیش کر ک و خاکی کے بھی نزول کا استعمال آیا ہے۔ (جس کی و بڑے دھوکا دینے کی بات کہی۔ کیونکہ وہ یہ بات تو ی مجازی کا بھی ہوتا ہے تو ان مثالوں سے یہ لازم ن چاہیں معنی مجازی لے لیا کریں۔ چاہے تعذر معنی ح یہ جو کہا کہ ”انزلنا الحدید“ میں اب کوئی بیا تو میں کہتا ہوں کہ کیا عجب ہے کہ اولاً اللہ تبارک و لفظ قرآن مجید اسی کی مقتضی ہیں اور مؤید اسی کا ہ حافظ ابن کثیر نے نقل کیا۔ ”عن ابن عباس ر

صفحہ ٢٥٥

والی نہ ہو اور مخل بالمقصود نہ ہو) بلکہ میری غرض یہ ہے کہ ایسے مجاز استعمال کرنا کہ مقصود اصلی اور مراد دلی کو فوت کر دے اور بالکل بے قرائن ہو اور ایسی جگہ استعمال میں لاوے کہ معنی حقیقی لینے سے کوئی مانع نہ ہو اور معنی مجازی دل میں لے کر بولے۔ بالکل قبیح ہے اور عقل ونقل کے خلاف اور طرفہ اس پر یہ کہ اکثر جب بولے تو اسی لفظ مجازی کے ساتھ بولے۔ بلکہ اور الفاظ دیگر بھی کہ جو مبائن ہوں۔ اس کے مجاز کے اور معنی حقیقی کی طرف مضطر کرنے والے ہوں اور طرہ اس پر یہ کہ ایسے بڑے امر میں ہو کہ جس پر ایک جہاں کا دارومدار ہے کہ شریعت کے اہم ارکان سے ہیں اور عقائد سے اور پھر ایک کارخانہ کا کارخانہ خیالات کا بنا کر کھڑا کر دے۔ ایسے مجاز کہیں کلام عاقل میں نہیں اور کوئی عاقل ایسے مجاز کے استعمال کو پسند نہ کرے گا۔ یہ مجاز کیا ہے۔ بلکہ دھوکا دہی اور فریب ہے۔ ایسے مجاز ہرگز کلام شارع میں نہیں ہو سکتے۔ حاشا و کلا شارع کو ہرگز دھوکا دہی اور فتنہ میں ڈالنا منظور نہیں اور تضلیل خلائق مقصود نہیں۔ وہ تو امت کی ہدایت کے واسطے ہے۔ نہ شعبدہ بازوں کے باطل عقیدہ گھڑنے کی جگہ چنانچہ یہ پیشین گوئی نزول عیسیٰ بن مریم کی ایسی ہی ہے۔ (چھوٹا طالب علم بھی الفاظ روایات صحاح پر نظر کر کے معلوم کر سکتا ہے) اگر میری یہ بات صحیح نہیں تو بتاؤ کہ ہبوط کے کیا معنی ہیں اور نزول کے ارادہ معنی حقیقی سے کون مانع ہے؟ اصل تو یہ ہے کہ مانع کوئی نہیں۔ اپنے آپ کو عیسیٰ موعود بنانے کو دل چاہتا ہے۔ اگر احادیث کا صریح انکار کریں تو کافر مطلق کہلاویں تو تدبیر ہی سے کام نکالیں۔ ”اللہم احفظنا من فتن الدجال وانصارہ “ مخفی نہ رہے کہ اس جگہ دجل سے کام لیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ دھوکا دہی عوام کے واسطے لفظ محاورہ عرب کا بول کر کہ جو حقیقت و مجاز کو عام ہے۔ چند شواہد مجاز کے پیش کر دیئے اور کہہ دیا کہ محاورہ عرب میں بغیر جسم عنصری و خاکی کے بھی نزول کا استعمال آیا ہے۔ (جس کی حقیقت آگے کھولی جاوے گی) حالانکہ یہ عوام کو بڑے دھوکا دینے کی بات کہی۔ کیونکہ وہ یہ بات تو خیال کریں گے کہ استعمال اگر ہے تو استعمال معنی مجازی کا بھی ہوتا ہے تو ان مثالوں سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر جگہ معنی مجازی ہو سکیں اور جہاں چاہیں معنی مجازی لے لیا کریں۔ چاہے تعذر معنی حقیقی کا ہو چاہے نہ ہو۔ نعوذ باللہ من شرور انفسنا اور یہ جو کہا کہ ”انزلنا الحدید “ میں اب کوئی بیان کرے کہ حدید بوجوہ عنصری آسمان سے اتارا گیا تو میں کہتا ہوں کہ کیا عجب ہے کہ اولاً اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوہے کو اوپر سے اتارا ہو۔ چنانچہ ظاہر لفظ قرآن مجید اسی کی مقتضیٰ ہیں اور مؤید اسی کا ہے جو ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے۔ جس کو حافظ ابن کثیر نے نقل کیا ۔ ”عن ابن عباس قال ثلاثۃ اشیاء نزلت مع آدم السندان

١٧

صفحہ ٥٧

والكلبتان والميقعة “یعنی المطر الخ ایساہی جامع البیان اور روضہ میں ہے۔ پس تمہارا استشہاد اس سے صحیح نہیں۔ دلالة استحالہ ثابت کرو۔ لوہے کا بجسدہ اوپر سے اترنے کا اور جب استحالہ ثابت کر دو گے تو ہم کہیں گے کہ بسبب استحالہ معنی حقیقی کے معنی مجازی مراد لئے گئے۔ پس تب بھی تمہارا مطلب ثابت نہ ہوگا۔ کیونکہ نزول بجسدہ ابن مریم کا محال نہیں۔ ولا نزول بجسدہ ابن مریم کا استحالہ ثابت کرو۔ اگر کہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے۔ جب وفات پا چکے تو جنت میں داخل ہو گئے۔ کیونکہ وہ برگزیدہ نبی تھے۔ ”قال الله تعالى قيل ادخل الجنة وادخلي جنتی“ اور جو جنت میں داخل ہوا وہ وہاں سے نہ نکلے گا۔ ”قال الله تعالى وماهم منها بمخرجین“ پس حضرت عیسیٰ کیونکر بذات خود دنیا میں آسکتے ہیں؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ ثبوت اس امر کا تین مقدموں پر موقوف ہے۔ اوّل! وفات عیسیٰ دوسرے! موت کے بعد ہی جنت میں داخل ہو جانا۔ تیسرے! اس دخول کے بعد پھر وہاں سے نکلنا نہیں۔ جب تک یہ تینوں مقدمے ثابت نہ ہوں۔ تب تک یہ مطلب ثابت نہیں ہوسکتا اور ایک مقدمہ کے انتفاء سے بھی مقصود کا انتفاء ہو جاوے گا تو میں کہتا ہوں کہ یہ تینوں مقدمے غیر صحیح اور باطل ہیں۔ عدم صحہ و بطلان مقدمہ اولیٰ کا تو رسالہ کے اختتام کے قریب انشاء اللہ تعالیٰ آوے گا اور صحیح نہ ہونا مقدمہ ثانی اور ثالث کا کئی وجوہ سے ہے۔

وجہ اوّل ! یہ ہے کہ قرآن وحدیث سے صاف طور پر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دخول جنت حشر کے بعد ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام مجید میں فرماتا ہے۔ ”ونفخ فی الصور فصعق من فی السمٰوت ومن فی الارض الیٰ قولہ تعالیٰ وسیق الذین اتقوا ربهم الی الجنة زمراً حتى اذا جاؤها وفتحت ابوابها وقال لهم خزنتها سلام علیکم طبتم فادخلوها خٰلدین “ اور فرمایا ”هل ینظرون الا الساعة ان تاتیهم بغتة وهم لا یشعرون الیٰ قوله تعالى ادخلوا الجنة انتم وازواجکم تحبرون“ اور فرمایا ”ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید الیٰ قوله تعالى ادخلوها بسلام ذلک یوم الخلود“ اور حدیث میں تو بہت کثرت سے اس کا بیان ہے اور ان میں بتصریح یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دخول جنت حشر کے روز ہوگا۔ پس ضرور ہے کہ قبل اس کے وہ جنت سے باہر ہوں۔ کیونکہ داخل کے واسطے پھر دخول کیسا اور یہ بات بہت ظاہر ہے۔ دیکھو شرح جامی میں بھی لکھ دیا ہے۔ ”فانه اذا قال الداخل فی البلد دخلت الدار لا یصح ان ١٨

يقول دخلت البلد“ تو یہ دو حال سے خالی نہیں پھر خروج ہو اور در صورت اوّل مقدمہ ثانی باطل ہوگیا۔ وهذا هو المطلوب!

وجہ ثانی ! یہ کہ میدان حشر میں سب انبیاء وموسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سب موجود ہوں گے۔ شفاعت میں بتصریح مذکور ہے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے بينهم بالحق وهم لا يظلمون“ اور فرمایا خافيه “ اگر دخول ان کا جنت میں ہو چکا ہے تو بطلان مقدمہ ثالث کا لازم آیا۔ وجہ ثالث! یہ کہ اگـ لازم آوے گا۔ قیامت میں خروج جنت سے اور خرو وماهم منها بمخرجین“ اور مستلزم ممتنع کا ممـ ہے۔ لہٰذا مقدمہ ثانی باطل ہو گیا۔

وجہ رابع ! یہ کہ سرور کائنات جناب حضر يقرع باب الجنة انا۔ اخرجه مسلم“ فاستفتح فيقول الخازن من انت فاقول قبلك اخرجه مسلم“ یعنی سب سے پہلے جو در کے دن جنت کے دروازہ پر آ کر دروازہ کھلواؤں گـ محمد تو وہ کہے گا آپ ﷺ ہی واسطے مجھ کو حکم ہوا ہے کـ اس سے معلوم ہوا کہ اس سے پہلے کسی کے واسطے

وجہ خامس ! یہ کہ شب معراج میں حضرت محمد مصطـ آسمان پر ملے اور کلام کیا۔ چنانچہ صحیح بخاری اور صحیـ نے اپنے نزول کا بھی ذکر کیا۔ چنانچہ احمد اور ابن آتا ہے) پھر رسول اللہ ﷺ تیسرے آسمان پر گئے ساتویں پر۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ جا کر جنت میں داخل موجود ہے۔ دیکھو حضرت عیسیٰ جنت میں نہ تھے بلکہ ١٩

صفحہ ٢٥٧

یقول دخلت البلد ”تو یہ دو حال سے خالی نہیں یا یہ کہ پہلے کبھی دخول ہوا ہی نہ ہو، یا ہوا ہو۔ مگر پھر خروج ہو اور در صورت اول مقدمہ ثانی باطل ہو گیا اور در صورت دوم مقدمہ ثالث باطل ہو گیا۔ وھذا ھو المطلوب!

وجہ ثانی! یہ کہ میدان حشر میں سب انبیاء، صلحاء حاضر ہوں گے۔ حضرت آدم اور ابراہیم وموسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سب موجود ہوں گے۔ چنانچہ بخاری اور مسلم کی طویل حدیث باب شفاعت میں بتصریح مذکور ہے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے ”وجیء بالنبیین والشہداء وقضے بینھم بالحق وھم لا یظلمون“ اور فرمایا ”یومئذ تعرضون لا تخفی منکم خافیہ“ اگر دخول ان کا جنت میں ہو چکا ہے تو پھر کیوں نکالے جاویں گے۔ اگر نکالے گئے تو بطلان مقدمہ ثالث کا لازم آیا۔ وجہ ثالث! یہ کہ اگر موت کے بعد ہی سے دخول جنت ہو جائے تو لازم آوے گا۔ قیامت میں خروج جنت سے اور خروج جنت سے ممتنع ہے۔ ”لقولہ تعالیٰ وماھم منھا بمخرجین“ اور مستلزم ممتنع کا ممتنع ہے۔ پس دخول جنت موت کے بعد ہی ممتنع ہے۔ لہٰذا مقدمہ ثانی باطل ہو گیا۔

وجہ رابع! یہ کہ سرور کائنات جناب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا۔ ”اول من یقرع باب الجنۃ انا۔ اخرجہ مسلم“ اور فرمایا ”اتی باب الجنۃ یوم القیامۃ فاستفتح فیقول الخازن من انت فاقول محمد فیقول بک امرت لا افتح لاحد قبلک اخرجہ مسلم“ یعنی سب سے پہلے جو دروازہ جنت کا کھٹکھٹائے گا وہ میں ہی ہوں۔ قیامت کے دن جنت کے دروازہ پر آکر دروازہ کھلواؤں گا تو اس کا داروغہ کہے گا تم کون ہو تو میں کہوں گا محمد تو وہ کہے گا آپ ﷺ ہی واسطے مجھ کو حکم ہوا ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے کسی کے لئے نہ کھولوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس سے پہلے کسی کے واسطے دخول جنت نہیں۔ پس مقدمہ ثانی بطل ہو گیا۔

وجہ خامس! یہ کہ شب معراج میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دوسرے آسمان پر ملے اور کلام کیا۔ چنانچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بتصریح موجود ہے اور عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے نزول کا بھی ذکر کیا۔ چنانچہ احمد اور ابن ماجہ کی صحیح روایت میں ہے۔ (جس کا ذکر آگے آتا ہے) پھر رسول اللہ ﷺ تیسرے آسمان پر گئے۔ پھر چوتھے آسمان پر ایسے ہی پانچویں، چھٹے، ساتویں پر۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ جاکر جنت میں داخل ہوئے۔ چنانچہ صحیحین و دیگر کتب حدیث میں موجود ہے۔ دیکھو حضرت عیسیٰ جنت میں نہ تھے بلکہ باہر تھے۔ وھذا ھو المطلوب!

١٩

صفحہ ٢٥٨

اور یہ جو کہا ”قیل ادخل الجنة“ تو اول تو یہ ایک شخص خاص کے واسطے خطاب ہے۔ یہ کوئی حکم عام نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واسطے یہ بات کیونکر اس سے ثابت ہوئی۔ دوسرے یہ کہ یہ شخص شہید کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ روایات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ اس واسطے کہ گو انبیاء شہداء سے افضل ہیں۔ مگر شہید کے واسطے خصوصیات بھی ہیں کہ دوسرے کے واسطے نہیں۔ ذرا سی بات ہے۔ دیکھو شہداء کو اموات کہنا ناجائز ہے۔ ”ولا تقولوا لمن يقتل فى سبيل الله اموات“ اور انبیاء کے اوپر اطلاق اموات کا جائز ہے۔ ”انك ميت وانهم ميتون“ اور ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افان مات“ پس اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دخول جنت کیونکر ثابت ہو سکتا ہے اور یہ جو کہا ”وادخلی جنتی“ تو سیاق و سباق کلام سے صاف طور پر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ حشر کے روز کا مقولہ ہے۔ ”كلا اذا دكت الارض دكا دكا“ سے پڑھ کر دیکھو۔ چنانچہ ابن عباسؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ پس اس آیت سے اور موت کے بعد دخول جنت سے کیا تعلق ہے اور اگر مان بھی لیں کہ یہ آیت اور ایسی ہی آیت سابق بعد موت کے دخول جنت پر دال ہیں تو میں کہتا ہوں کہ اس سے دخول خلدی جنت میں لازم نہیں آتا۔ یعنی اس سے مراد دخول خلدی نہیں بلکہ مراد دخول روحی ہے۔ نہ دخول جسدی کہ ہمیشہ رہنے کے واسطے داخل ہوں اور دلیل اس پر وہی منقولات مسطورہ بالا ہیں اور آیت ”وادخلی جنتی“ تو خود بھی اس بات کو کھلم کھلا کہہ رہی ہے۔ چنانچہ فرمایا ”يا ايتها النفس المطمئنة ارجعی الى ربك راضية مرضية فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی“ دیکھو خطاب خاص نفس کے ساتھ ہے اور اس بات کو احادیث بھی بتصریح بیان کر رہی ہیں۔ چنانچہ مالک اور احمد اور نسائی نے بسند صحیح کعب بن مالکؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ”انما نسمة المؤمن طائر يعلق فى شجر الجنة حتى يرجعه الله تعالى الى جسده يوم القيامة“ اور احمد طبرانی نے بسند حسن ام ہانیؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ”تكون النسم طيرا تعلق بالشجر حتى اذا كان يوم القيامة دخلت كل نفس فی جسدها“ ایسے ہی بہت سی روایات میں آیا تو ان روایات سے معلوم ہوا کہ اس وقت میں جو جنت میں داخل بھی ہوتا ہے تو وہ دخول روحی ہوتا ہے۔ نہ جسدی وہ تو قیامت ہی کے روز ہوگا کہ پھر وہاں سے نہ نکالے جاویں گے اور یہ بھی واضح رہے کہ ارواح مؤمنین کے رہنے کے واسطے برزخ میں اماکن مختلفہ روایات میں وارد ہیں۔ بعض روایات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ارواح مؤمنین کی ٢٠ جنت میں پھر کر عرش کے نیچے قنادیل لٹکتی ہیں۔ ہوتا ہے کہ ساتویں آسمان میں جمع ہوتی ہیں اور ملک شام میں واقع) آکر جمع ہوتی ہیں اور بعض اور بڑے بڑے ذی شان عالی مر میں آسمانوں پر موجود پائے۔ کوئی پہلے آسمان پر السلام دوسرے آسمان پر موجود تھے اور اگر فرضاً ہو جاتا ہے تب بھی ہم کہتے ہیں کہ خلود کو اللہ جل ”اما الذين سعدوا ففى الجنة خـ الا ماشاء ربك“ دیکھو خلود سے اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ سے نکال لیا۔ پس ہم کہتے ہیں کہ حضر مشیت اس بات کے ساتھ متعلق ہو چکی ہے کہ ان انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کہ اللہ تعا گا۔ مجھ کو دنیا میں اتارنے کا وعدہ دیا ہے۔ (یہ ا آگے آتا ہے) پھر بھلا اس میں کیا استبعاد ہے کـ رسول اللہ ﷺ شب معراج میں جنت کے اندر تشریف لے آئے اور دیکھو حضرت آدم علیہ الـ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے اتارے گئے تو اگر شجرہ وخو بہر حال کسی صورت سے مطلب صاحب رسالہ او سے استحالہ نزول ابن مریم کا بجسدہ العنصری پایـ کا ظاہر سے کیا جاتا ہے اور کس لئے معنی حقیقی چھو کیوں کھولا جاتا ہے اور الحاد کے طریقوں کو کیوں طریق حق کو اختیار کرو۔ ”افرأيت من اتخذ الـ اگر اللہ جل شانہ نے توفیق دی تو انشاء اللہ کسی تحر لوگوں کا اس دلیل پر بڑا مدار تھا۔ اس واسطے اس جگـ اسی طرح اور بھی ان کے دلائل کا جن کر بیشمار جگہ اپنی تحریرات میں لاتے ہیں۔ موقع ٢١

صفحہ ٢٥٩

جنت میں پھر کر عرش کے نیچے قنادیل لٹکتی ہیں۔ اس میں آ کر رہتی ہیں اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ساتویں آسمان میں جمع ہوتی ہیں اور بعض روایات میں ہے کہ زمین پر جابیہ میں (کہ ملک شام میں واقع ) آ کر جمع ہوتی ہیں اور بعض میں چاہ زمزم کا بھی آیا ہے۔ وغیرہا۔

اور بڑے بڑے ذی شان عالی مراتب نبی جناب رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں آسمانوں پر موجود پائے۔ کوئی پہلے آسمان پر کوئی دوسرے پر وقس علی ہذا دیکھو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسرے آسمان پر موجود تھے اور اگر فرضاً تسلیم بھی کرلیں کہ مرنے کے بعد سے دخول خلدی ہو جاتا ہے تب بھی ہم کہتے ہیں کہ خلود کو اللہ جل شانہ نے اپنی مشیت پر رکھا ہے۔ چنانچہ فرمایا اور ”اما الذین سعدوا ففی الجنة خالدین فیها مادامت السموات والارض الا ماشاء ربک“ دیکھو خلود سے اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت کا استثناء کیا ہے اور اپنے چاہنے کی قدر اس وعدہ سے نکال لیا۔ پس ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کے واسطے اللہ تعالیٰ چاہ چکا ہے اور اس کی مشیت اس بات کے ساتھ متعلق ہو چکی ہے کہ ان کو پھر دنیا میں بھیجے۔ چنانچہ شب معراج میں خود انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اخیر زمانہ میں جب دجال خروج کرے گا۔ مجھ کو دنیا میں اتارنے کا وعدہ دیا ہے۔ (یہ ایک صحیح حدیث کا مضمون ہے جس کا تفصیلی ذکر آگے آتا ہے ) پھر بھلا اس میں کیا استبعاد ہے اور کون سا محذور لازم آتا ہے۔ پھر دیکھو جناب رسول اللہ ﷺ شب معراج میں جنت کے اندر تشریف لے گئے۔ پھر وہاں سے نکل کر دنیا میں تشریف لے آئے اور دیکھو حضرت آدم علیہ السلام جنت میں داخل ہوئے اور اس میں رہ کر اللہ تعالیٰ کی مشیت سے اتارے گئے تو اگر مجرد دخول خروج جنت سے ممتنع ہوتا تو یہ کیسے باہر آتے۔ بہر حال کسی صورت سے مطلب صاحب رسالہ اور ان کے ہم خیالوں کا ثابت نہیں ہوتا اور کسی طور سے استحالہ نزول ابن مریم کا بحمدہ تعالیٰ پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا۔ پھر بلاوجہ کیوں صرف نصوص کا ظاہر طے کیا جاتا ہے اور کس لئے معنی حقیقی چھوڑ کر مجاز کو اختیار کیا جاتا ہے اور تحریف کا دروازہ کیوں کھولا جاتا ہے اور الحاد کے طریقوں کو کیوں رواج دیا جاتا ہے۔ اللہ جبار و قہار سے ڈرو اور طریق حق کو اختیار کرو۔ ”افرأیت من اتخذ الهه هواه“ اس جگہ اس بیان کو مختصر طور پر لکھ دیا۔ اگر اللہ جل شانہ نے توفیق دی تو انشاء اللہ کسی تحریر میں اس کی تفصیل کی جاوے گی۔ مگر چونکہ ان لوگوں کا اس دلیل پر بڑا مدار تھا۔ اس واسطے اس جگہ اس کا جواب لکھنا ضروری سمجھا۔

اسی طرح اور بھی ان کے دلائل کا جن پر فخر کرتے ہیں اور ان کو اپنے براہین قویہ سے سمجھ کر بیشمار جگہ اپنی تحریرات میں لاتے ہیں۔ موقع موقع پر اس رسالہ میں جواب باصواب لکھا

٢١

صفحہ ٢٦٠

جاوے گا۔ اگر چہ اس رسالہ مردود علیہ میں نہ موجود ہوتا۔ ناظرین کو فائدہ تامہ حاصل ہو۔ ”وعلی الله التوكل وبه الاعتصام“

قولہ ...... اور دیکھو ”یا بنی آدم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم وریشا“ کسی نے دیکھا ہے کہ پارچہ اور ملبوسات۔

اقول ...... معنی انزال کے یہاں پر وہی اتارنا جسم کے ساتھ ہیں۔ البتہ مجاز یہاں پر اسناد میں ہے۔ یعنی انزال کی نسبت حقیقی نہیں۔ مسبب کو بجائے سبب کے بول دیا کہ پانی ہے۔ مثلاً معنی یہ ہے کہ انھوں نے پیدائش لباس کے سببوں کو مثلا پانی ہے کہ بوجوہ عنصری اترتا ہے۔ پس لفظ اپنے معنی اصلی میں مستعمل ہوا۔ لہٰذا اس سے صاحب رسالہ کا استشہاد صحیح نہ ہوا اور اگر فرضاً مانیں بھی تو اسی وجہ سے کہ معنی حقیقی متعذر ہیں اور مستشہد لہ میں متعذر نہیں۔ کما مر۔ پس تب بھی استشہاد صحیح نہیں۔

قولہ ...... اور فرمایا ”قد انزلنا الیکم ذكراً رسولاً يتلوا علیکم آیات الله مبينات“ کیا آنحضرت ﷺ بوجود عنصری آسمان سے نازل ہوئے تھے۔

اقول ...... اس آیت سے استشہاد کے واسطے اولاً اس بات کا ثابت کرنا ضرور ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ ہیں ﷺ ہم کہتے ہیں مراد اس سے جبرائیل ہیں اور نسبت ”یتلوا“ کی ان کی طرف بلاواسطہ ہے یا بواسطہ محمد رسول اللہ ﷺ کے کہ ان کے پڑھنے کو جبرائیل کا پڑھنا کہہ دیا۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ”فاذا قراناه فاتبع قرآنه“ پس انزال اپنے حقیقی معنی میں مستعمل ہے اور تمہارا استشہاد صحیح نہ ہوا اور قرآن مجید بھی مراد ہوسکتا ہے اور اگر محمد رسول اللہ ﷺ کو مراد لیں۔ تب بھی انزال اپنے ہی معنی میں رہے گا۔ انزال کی نسبت ان کی طرف ترشیحا کی گئی۔ پس یہ مجاز نسبت میں ہے نہ لفظ انزال میں۔ فاین المدعی؟ اگر مجاز مانی بھی جاوے تو اس وجہ سے کہ حقیقت متعذر ہے اور شاہد لہ میں متعذر نہیں۔ کما مر۔ ”فلا تلبسوا الحق بالباطل“

قولہ ...... اور دیکھو حدیث میں ہے۔ ”انزل الدواء الذی انزل الداء“ کسی شفاء خانہ میں یا عطار کی دکان پر کوئی دوا کسی نے دیکھی کہ آسمان سے بوجود عنصری اتری ہو۔

اقول ...... اس میں بھی وہی وجوہ جواب کے جو پہلے ذکر کئے گئے۔ جاری ہیں کہ ظاہر ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ بہر حال مقصود صاحب رسالہ کا ثابت نہیں ہوتا۔

قولہ ...... اور فرمایا ”انزل الناس منازلہم“ اور آیا ہے کہ ”لما نزلت بنو قريظة“ اور آیا ہے ”خرج من مكة ونزل يثرب“

٢٢

اقول ...... چونکہ صاحب رسالہ نے ان تینوں بھی بیان جواب سے اعراض کرتے ہیں۔ اگر ظاہر سمجھ کے چھوڑتے ہیں۔

قولہ ...... اگر مرزا قادیانی نے نزول کے معنی سے مراد نزول من السماء بوجود عنصری نہیں

اقول ...... مرزا قادیانی نصوص شرعیہ کو اپنے م کر کے مصداق ”یحرفون الکلم ع يلحدون في آياتنا لا يخفون علينا ا يوم القيامة“

قولہ ...... اور لفظ ابن مریم کی نسبت یہ عرض بطور استعارہ کے فرمایا ہے۔ اب دریافت کیا جا عرب میں ابن اللیل کہتے ہیں۔ کیا چاند رات کا اگر کنیت بلفظ ابن کتب حدیث وغیرہ گی جو صرف بطور استعارہ کے کسی مناسبت کی و وہاں مراد ہو۔ اگر مرزا قادیانی نے بطور است بلا واسطہ آباء و مشائخ زمان کے اس کو علوم لدنی سلسلہ میں سلاسل اولیاء اللہ ماسبق سے اس کو ک اس کو دیئے گئے ہوں تو کون سا استحالہ لازم آیا ا

اقول ...... وبالله التوفيق لفظ ابن ک مرزا پر ابن مریم بغیر حذف و محل حذف کے کیونکہ اسی خبر کے بعض روایات میں تو لفظ عیسیٰ بعض میں لفظ مسیح عیسیٰ بن مریم کا آیا ہے۔ چ عیسیٰ ہے۔ جیسا مستدرک حاکم میں واقع ہے ”یفسر بعضها بعضاً“ پس ان الفاظ کو مر اور اگر تمہاری یہ غرض نہیں کہ بغیر حذف مانے م گا۔ پس اس وقت میں یہ استعارہ بیان کرنا باط

صفحہ ٢٦١

اقول...... چونکہ صاحب رسالہ نے ان تینوں شاہدوں سے وجہ استدلال کو بیان نہیں کیا۔ لہٰذا ہم بھی بیان جواب سے اعراض کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے ظہور کے سبب چھوڑ دیا تو ہم بھی جواب ظاہر سمجھ کے چھوڑتے ہیں۔

قولہ...... اگر مرزا قادیانی نے نزول کے معنی میں بموجب محاورہ کتاب وسنت کے یہ کہا کہ نزول سے مراد نزول من السماء بوجود عنصری نہیں تو کیا اور کیا الحاد ہے۔ بینوا توجروا!

اقول...... مرزا قادیانی نصوص شرعیہ کو اپنے معنی سے خلاف لغت وقواعد جمیع اہل عربیہ کے تحریف کر کے مصداق ”یحرفون الکلم عن مواضعہ“ کے ہوگئے اور فرمایا ”ان الذین یلحدون فی ایاتنا لا یخفون علینا افمن یلقی فی النار خیر ام من یأتی امناً یوم القیامۃ“

قولہ...... اور لفظ ابن مریم کی نسبت یہ عرض ہے کہ قرآن مجید میں متعدد جگہ مسافر کو ابن السبیل بطور استعارہ کے فرمایا ہے۔ اب دریافت کیا جاتا ہے کہ آیا مسافر راہ کا بیٹا ہوتا ہے۔ حقیقتاً یا چاند کو عرب میں ابن اللیل کہتے ہیں۔ کیا چاند رات کا بیٹا حقیقی ہوتا ہے۔

اگر کنیت بلفظ ابن کتب حدیث وغیرہ میں تفحص کی جاوے تو بہت کثرت سے ایسی نکلے گی جو صرف بطور استعارہ کے کسی مناسبت کی وجہ سے وہاں ابن کا لفظ لگا دیا ہوگا کہ نہ یہ کہ بیٹا حقیقی وہاں مراد ہو۔ اگر مرزا قادیانی نے بطور استعارہ لطیفہ کے ابن مریم سے ایسا شخص مراد لیا جو بلا واسطہ آباء ومشائخ زمان کے اس کو علوم لدنیہ حاصل ہوئے ہوں اور بغیر داخل ہونے کے کسی سلسلہ میں سلاسل اولیاء اللہ ماسبق سے اس کو کشوف والہامات ومعارف کتاب وسنت منجانب اللہ اس کو دیئے گئے ہوں تو کون سا استحالہ لازم آیا۔

اقول...... وباللہ التوفیق! لفظ ابن کا استعارہ بیان کرنے سے اگر آپ کی یہ غرض ہے کہ مرزا پر ابن مریم بغیر حذف ومثل حذف کے مانے ہوئے صادق آجائے تو یہ ہرگز ممکن نہیں۔ کیونکہ اسی خبر کے بعض روایات میں تو لفظ عیسیٰ بن مریم کا وارد ہے۔ جیسا کہ مسلم کی روایت ہے اور بعض میں لفظ مسیح عیسیٰ بن مریم کا آیا ہے۔ چنانچہ احمد کی روایت میں ہے اور بعض میں روح اللہ عیسیٰ ہے۔ جیسا مستدرک حاکم میں واقع ہے، اور بعض روایات میں لفظ نبی اللہ کا بھی وارد ہے۔ ”یفسر بعضہا بعضاً“ پس ان الفاظ کو مرزا قادیانی پر بغیر حذف مانے کیونکر صادق کر سکتے ہو اور اگر تمہاری یہ غرض نہیں کہ بغیر حذف مانے مرزا قادیانی پر صادق آتا ہے۔ بلکہ حذف کرنا پڑے گا۔ پس اس وقت میں یہ استعارہ بیان کرنا بالکل لغو ہے اور بے محل۔ کیونکہ جب حذف مانو گے تو

٢٣

صفحہ ٢٦٢

اس وقت ابن اپنی استعمال حقیقی ہی پر رہے گا نہ مجازی پر۔ جس کے لئے تم نے اپنی اس قدر علمیت صرف کی۔

دوسرے! یہ کہ ابن کا جو استعمال استعارہً ہوتا ہے تو اس طرح پر ہوا ہے کہ ابن کے مصداق کو اس کے مضاف الیہ کے ساتھ ایک مناسبت ہوتی ہے کہ جس کے سبب سے ابن فلان بول دیتے ہیں۔ مثلاً ابن السبیل کہ ابن کے مصداق یعنی مسافر کو اس کے مضاف الیہ یعنی سبیل کے ساتھ ایک مناسبت ہے۔ ایسی ہی ابن اللیل میں چاند کو رات کے ساتھ مناسبت ہے۔ جس کے سبب سے ابن السبیل وابن اللیل بول دیتے ہیں اور صاحب رسالہ نے جو وجہ مناسبت بیان کی یعنی (اگر مرزا قادیانی نے بطور استعارہ لطیفہ کے ابن مریم سے ایسا شخص مراد لیا ہو جو بلا واسطہ آیا) تو یہ وجہ مناسبت کی بقول ان کے، ساتھ ابن مریم کے ہے۔ نہ مصداق ابن کے ساتھ مریم کے۔

كما لا يخفى فتفكر فان فيه مافيه!

بہرصورت تمہارا مطلب فاسد بغیر حذف کے ثابت نہیں ہوا اور بغیر وجہ محذوف وغیرہ ماننا کس قدر نصوص شرعیہ کی تحریف ہے۔ اللہ قہار و جبار سے ڈرو۔ اگر ایسے ہی جہاں چاہیں حذف مان لیا کریں تو ہرگز کسی نص سے کوئی مسئلہ شرعیہ ثابت نہ ہو سکے گا۔ حتیٰ کہ توحید باری عزاسمہ اور رسالت رسول اللہ ﷺ کی بھی جو نصوص کہ دوبارہ نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وارد ہیں۔ ان سے اور اس مرزا سے بالکل مناسبت نہیں اور سرموے موافقت نہیں۔ بڑی بے حیائی کی بات ہے۔ ان کا اپنے آپ کو مصداق کہنا۔ اذا لم تستحی فاصنع ماشئت!

اگر کوئی دوسرا دعویٰ کر بیٹھے تو شاید کچھ چل بھی جاتا۔ ایسی کھلی بات کے چھوٹے مصداق بنے۔ ہر چند کہ انحصار ان احادیث کا جو دربارۂ نزول مسیح علیہ السلام و دجال کے وارد ہیں۔ محال عادی ہے۔ مگر میں یہاں پر چند احادیث واسطے افادۂ عوام کے مع حاصل ترجمہ کے لکھتا ہوں۔

حدیث اوّل

”اخرج البخارى ومسلم وابوداؤد والترمذى عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ والذی نفسی بیده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا ومافيها ثم يقول ابوهريرة اقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“

بخاری اور مسلم اور ابو داؤد اور ترمذی نے ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ

٢٤

صفحہ ٢٦٣

میں اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ بے شک قریب ہے کہ ابن مریم تم میں اتریں منصف حاکم ہوکر، تو صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو ماریں گے اور جزیہ کو اتاریں گے کہ یہاں تک کثرت ہو جاوے گی کہ اس کو کوئی قبول نہ کرے گا اور ایک سجدہ اس وقت میں دنیا وما فیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر ابو ہریرہؓ بولے اگر چاہو تو (قرآن سے اس بات کی تصدیق کے لئے) اس آیت کو پڑھ لو ”وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته“ ابو ہریرہؓ صحابی کی یہ غرض تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے نزول کا قصہ قرآن میں فرماتا ہے کہ جو فرقہ کتاب والوں میں ہے۔ سو اس پر یقین لاوے گا۔ اس کی موت سے پہلے، یعنی جب وہ نزول فرماویں گے۔ اس وقت اس پیشین کا ظہور ہوگا۔ ورنہ پہلے تو ہوا نہیں۔

حدیث دوم

”اخرج مسلم عن جابر قال قال رسول الله ﷺ لا تزال طائفة من امتی یقاتلون علی الحق ظاهرین الی یوم القيامة فينزل عیسیٰ بن مریم فیقول امیرهم تعال صل لنا فیقول الا ان بعضكم علی بعض امراء تكرمة الله تعالىٰ لهذه الامة“ صحیح مسلم میں جابرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ قتال کرتا رہے گا حق پر غالب رہیں گے۔ قیامت تک، پس عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اتریں گے۔ پس کہے گا حاکم ان کا آئیے نماز پڑھائیے تو وہ جواب میں فرماویں گے نہیں۔ تم ہی ایک دوسرے پر سردار ہو۔ اللہ تعالیٰ کی بزرگی دینے کے سبب سے اس امت کو۔

حدیث سوم

”اخرج ابوداؤد عن ابی هريرة مرفوعاً ليس بینی وبین عيسىٰ نبی وانه نازل، فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الی الحمرة والبياض ينزل بين ممصرتين كأن راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيقاتل الناس علی الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله فی زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك الله فی زمانه المسيح الدجال فيمكث فی الارض اربعين سنة ثم يتوفی فيصلی عليه المسلمون“ ابو داؤد میں ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں اور بے شک وہ اترنے والے ہیں سو ان کو پہچان لینا۔ میانہ قد، سرخی اور سفیدی کے درمیان اتریں گے دو رنگین کپڑوں میں گویا کہ ان کے

٢٥

صفحہ ٢٦٥

سر کے بال ٹپک رہیں۔ اگر چہ انہیں تری نہ پہنچی ہو تو لوگوں سے اسلام کے لئے لڑیں گے۔ سو صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو اٹھا دیں گے اور اللہ جل شانہ ان کے وقت میں سواء ملت اسلام کے سب ملتوں کو کھو دے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے وقت میں مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔ سو مسیح علیہ السلام زمین پر چالیس برس رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے تو ان پر مسلمان نماز پڑھیں گے۔ ایسے ہی امام احمدؒ نے بھی روایت کیا۔ مگر بعض لفظ کا فرق ہے۔ علامہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس حدیث کو صحیح الاسناد کہا۔ چنانچہ اکثر الفاظ اس حدیث کے بیان کئے اور کہا روى احمد وابوداؤد باسناد صحیح اور اس عاجز نے بھی جو رجال اسناد کی طرف مراجعت کی تو سب راوی اس کے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے راوی پائے۔ سواء عبدالرحمن بن آدم کے کہ وہ صرف مسلم کے رواۃ سے ہیں تو ان کا بھی ثقہ ہونا اور ثقاہت یقینی ہے۔

حدیث چہارم

"اخرج الحاكم فى المستدرك بلفظ ان روح الله عيسى نازل فيكم فاذا رأيتموه فاعرفوه فانه رجل مربوع الى الحمرة والبياض عليه ثوبان ممصران كأن راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويدعو الناس الى الاسلام فيهلك الله فى زمانه المسيح الدجال وتقع الامنة على اهل الارض حتى ترعى الاسود مع الابل والنمور مع البقر والذیاب مع الغنم ويلعب الصبيان مع الحيات فيمكث اربعين سنة ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون“ حاکم نے اپنی کتاب مستدرک میں ابو ہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ روح اللہ عیسیٰ تم میں نزول فرمانے والے ہیں۔ سو جب تم ان کو دیکھنا تو پہچان لینا۔ میانہ قد، سرخی وسفیدی کے درمیان ان پر دو کپڑے رنگین ہوں گے۔ گویا کہ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو۔ اگرچہ تری نہ پہنچی ہو۔ (یہ ان کی کمال نظافت و صفائی کا بیان ہے) تو چلیپا کو توڑیں گے۔ ( یہ وہ ہے جس کو نصاریٰ پوجتے ہیں) اور خنزیر کو (کہ شریعت محمدی میں سخت حرام ہے اور نصاریٰ کھاتے ہیں) ماریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور لوگوں کو دین اسلام کی طرف بلاویں گے تو ان کے وقت میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کرے گا اور اہل زمین میں امن ہو جاوے گا کہ سانپ اونٹ کے ساتھ چرنے لگیں گے اور چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیئے بھیڑ بکریوں کے ساتھ اور لڑکے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ سو زمین میں چالیس برس رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان پر نماز پڑھیں گے۔ ٢٦

حدیث پنجم

"اخرج احمد وابن ماجه و ولفظ احمد عن ابن مسعودؓ عن رسـ ابراهیم وموسی وعیسی علیهم السلام ابراهیم فقال لا علم لی بھا فردوا امرھـ هم الى عيسى فقال اما وجبتها فلا يـ عز وجل ان الدجال خارج ومعی الرصاص (ولفظ ابن ماجة مكان هذا فانزل فاقتله فيرجع الناس الى بلاد الحجر والشجر يقول يا مسلم ان تحـ ثم يرجع الناس الى بلادهم واوطانهم من كل حدب ينسلون فيطؤن بلاد يمرون على ماء الا شربوه قال ثم يـر فيهلكهم ويميتهم حتى تجوى ا المطر فيجترف اجساد هم حتى يـ عز وجل ان ذلك اذا كان كذلك ان السـ تفاجهُم بولادها ليلا او نهارا“ امام احمدا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات میں انہوں نے قیامت کا ذکر کیا۔ تو پہلے ابراہیم پر چـ نہیں۔ (یعنی کب واقع ہوگی) پھر موسیٰ علیہ السلا پھر عیسیٰ علیہ السلام پر چھوڑا تو عیسیٰ علیہ السلام نہیں جانتا اور اللہ جل شانہ نے مجھ سے وعدہ کیا گی۔ جب مجھ کو دیکھے گا تو سیسہ کی طرح پگھلنے علیہ السلام نے دجال کے نکلنے کا کہہ کر کہا کہ پھر مـ علیہ السلام نے کہ پس اللہ ہلاک کرے گا۔ اس کا کہیں گے کہ اے مسلمان میرے نیچے کافر چھپـ

صفحہ ٢٦٥

حدیث پنجم

”اخرج احمد وابن ماجه وصححه الحاكم (كما فى الفتح) وهذا اللفظ لاحمد عن ابن مسعودؓ عن رسول اللہ ﷺ قال لقيت ليلة اسری بی ابراهيم وموسىٰ وعيسىٰ عليهم السلام فتذاكروا امر الساعة فردوا امرهم الىٰ ابراهيم فقال لا علم لی بها فردوا امرهم الىٰ موسىٰ فقال لا علم بها فردوا امر هم الىٰ عيسىٰ فقال اما وجبتها فلا يعلم بها احد الا الله وفيما عهد الىٰ ربی عز وجل ان الدجال خارج ومعى قضيبان فاذا رآنی ذاب كما يذوب الرصاص (ولفظ ابن ماجة مكان هذا اللفظ هكذا) فذكر خروج الدجال قال فانزل فاقتله فيرجع الناس الىٰ بلادهم قال فيهلكه الله اذا رانى حتّىٰ ان الحجر والشجر يقول يا مسلم ان تحتی كافر فتعال فاقتله قال فيهلكهم الله ثم يرجع الناس الىٰ بلادهم واوطانهم فعند ذلك يخرج ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون فيطؤن بلادهم فلا يأتون على شئ الا اهلكوه ولا يمرون على ماء الا شربوه قال ثم يرجع الناس يشكونهم فادعو الله عليهم فيهلكهم ويميتهم حتى تجوى الارض من نتن ريحهم وينزل الله المطر فيجترف اجسادهم حتى يقذفهم فى البحر ففيما عهد الىٰ ربی عز وجل ان ذلك اذا كان كذلك ان الساعة كالحامل المتم لا يدرى اهلها متى تفاجئهم بولادها ليلا او نهارا“ امام احمد اور ابن ماجہ نے عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات میں میں ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملا تو انہوں نے قیامت کا ذکر کیا۔ تو پہلے ابراہیم پر چھوڑا سو ابراہیم علیہ السلام نے کہا مجھ کو اس کا علم نہیں ۔ (یعنی کب واقع ہوگی) پھر موسیٰ علیہ السلام پر چھوڑا تو انہوں نے کہا کہ مجھ کو اس کا علم نہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام پر چھوڑا تو عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ وقت وقوع کا تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور اللہ جل شانہ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ دجال نکلے گا اور میرے ساتھ دو قضیبیں ہوں گی۔ جب مجھ کو دیکھے گا تو سیسہ کی طرح پگھلنے لگے گا (اور ابن ماجہ کی روایت میں یہ ہے) کہ عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے نکلنے کا کہہ کر کہا کہ پھر میں اتروں گا تو اس کو قتل کروں گا۔ کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہ پس اللہ ہلاک کرے گا۔ اس کو جب مجھے دیکھے گا۔ یہاں تک کہ پتھر اور درخت کہیں گے کہ اے مسلمان میرے نیچے کافر چھپا ہوا ہے۔ سو آ کر اس کو قتل کرو تو اللہ سب کفار کو ٢٧

صفحہ ٢٦٦

ہلاک کر دے گا۔ پھر لوگ اپنی اپنی بستیوں اور گھروں کی طرف لوٹیں گے تو اب یاجوج و ماجوج نکلیں گے۔ وہ ہر اونچے سے پھسلتے آویں گے تو ان کی بستیوں کو روند دیں گے۔ سو جس چیز پر جاویں گے اس کو ہلاک کر دیں گے اور جس پانی پر گزریں گے اس کو پی جاویں گے تو پھر لوگ آکر ان کی شکایت کریں گے تو میں اللہ سے ان کے لئے بددعا کروں گا تو ان سب کو اللہ تعالیٰ ہلاک کر دے گا اور ان سب کو موت دے گا۔ یہاں تک کہ ان کی بدبو تمام زمین میں بھر جاوے گی۔ تو اللہ پانی برساوے گا۔ جس سے وہ تمام دریا میں بہ جاویں گے تو اللہ عزوجل کے اس وعدہ میں یہ ہے کہ جب ایسا حال ہوگا اس وقت قیامت کا حال ایسا ہوگا جیسے کہ پوری دنوں کی گابھن کہ معلوم نہیں ہوا کس وقت رات یا دن میں اچانک جن پڑے۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا اور اس عاجز نے بھی جو رواۃ اس حدیث کے دیکھے احمد اور ابن ماجہ دونوں کے تو سب راوی اس کے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے راوی پائے۔ سوا جبلہ بن سحیم کے اور مؤثر بن عفارہ کے کہ وہ دونوں بھی ثقہ ہیں۔ جیسا کہ خلاصہ اور تقریب میں ہے۔ واللہ اعلم!

حدیث ششم

"اخرج مسلم عن النواس بن سمعان قال ذكر رسول الله ﷺ الدجال فقال ان يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم وان يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه والله خليفتي على مسلم انه شباب قطط عينه طافية كاني اشبهه بعبد العزى بن قطن فمن ادركه منكم فليقرأ فواتح سورة الكهف وفى رواية فليقرأ عليه بفواتح سورة الكهف فانها جواركم من فتنته انه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وشمالا يا عباد الله فاثبتوا قلنا يا رسول الله وما لبثه فى الارض قال اربعون يوما يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر ايامه كايامكم قلنا يا رسول الله فذلك اليوم الذى كسنة ايكفينا فيه صلاة يوم قال لا اقدروا له قدره قلنا يارسول الله وما اسراعه فى الارض قال كالغيث استدبرته الريح فيأتى على القوم فيدعوهم فيؤمنون به فيأمر السماء فتمطر والارض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم اطول ماكانت ذرا واسبغه ضروعا وامده خواصر ثم ياتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايديهم شئ من اموالهم ويمر بالخربة فيقول لها اخرجي كنوزك فتتبعه كنوزها كيعا ٢٨

سيب النحل ثم يدعوه رجلا ممتلئا رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهـ الله المسيح بن مريم فينزل عنـ مهرودتين واضعا كفيه على اجنـ تحدر منه مثل جمان كاللؤلؤ فلا يـ ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بـ قوما قد عصمهم الله منه فيمسح عن فبينما هو كذلك اذاوحى الله عزو لا يدان لا حد بقتالهم فحرز عباد وهم من كل حدب ينسلون فيمر او ويمرا خرهم فيقول لقد كان بهذه مـ الخمر وهو جبل بيت المقدس فيقو فى السماء فيرمون بنشابهم الى الـ دماء يحصر نبى الله واصحابه حتى يـ دينار لا حدكم اليوم فيرغب نبى الـ عليهم النغف فى رقابهم فيصبحون الله عيسى واصحابه الى الارض لاملاه زهمهم ونتنهم فيرغب نبى ا طيرا كاعناق البخت فتحملهم فتط الا يكن منه بيت مدرولا وبرفيغـ للارض اخرجي ثمرك وردى بركـ الحديث الى قوله ويبقى شرار النا تقوم الساعة" صحیح مسلم میں نواس بن سمـ ذکر کیا۔ سو فرمایا۔ اگر میری موجودگی میں نکلا تو میں اس سے حجت کروں گا اور اگر میری عدم موجو دگی میں نکلا تو ہر شخص اپنے لئے جھگڑے گا اور میر بہت پیچیدہ بال آنکھ اس کی اٹھی ہوئی مجھ کو اس کی

صفحہ ٢٦٧

سيب النحل ثم يدعوه رجلا ممتليا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه يضحك فبينما هو كذالك اذبعث الله المسيح بن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ راسه قطر واذا رفعه تحدر منه مثل جمان كاللؤلؤ فلا يحل لكافر يجد من ريح نفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله ثم ياتى عيسى عليه السلام قوما قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم فى الجنة فبينما هو كذلك اذا وحى الله عز وجل الى عيسى انى قد اخرجت عباد الى لايدان لا حد بقتالهم فحرز عبادى الى الطور ويبعث الله ياجوج ماجوج وهم من كل حدب ينسلون فيمر اولهم على بحيرة طبرية فيشربون مافيها ويمر اخرهم فيقول لقد كان بهذه مرة ماء ثم يسيرون حتى ينتهوا الى جبل الخمر وهو جبل بيت المقدس فيقولون لقد قتلنا من فى الارض فلنقتل من فى السماء فيرمون بنشابهم الى السماء فيرد الله عليهم نشابهم مخضوبة دماء يحصر نبي الله واصحابه حتى يكون رأس الثور لاحدهم خيرا من مائة دينار لاحدكم اليوم فيرغب نبي الله عيسى واصحابه الى الله فيرسل الله عليهم النغف فى رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ثم يهبط نبي الله عيسى واصحابه الى الارض فلا يجدون فى الارض موضع شبراً لاملاه زهمهم ونتهم فيرغب نبي الله عيسى واصحابه الى الله فيرسل الله طيرا كاعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله ثم يرسل الله مطر الا يكن منه بيت مدر ولا وبر فيغسل الارض حتى يتركها كالزلفة ثم يقال للارض اخرجى ثمرتك وردى بركتك فيومئذ تاكل العصابة من الرمانة الحديث الى قوله ويبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة‘‘ صحیح مسلم میں نواس بن سمعانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے دجال کا ذکر کیا۔ سو فرمایا۔ اگر میری موجودگی میں نکلا تو میں تمہاری طرف سے جھگڑوں گا اور اگر میرے پیچھے نکلا تو ہر شخص اپنے لئے جھگڑے گا اور میرے بعد اللہ ہر مسلمان کا نگہبان ہے۔ وہ جوان ہوگا بہت پیچیدہ بال آنکھ اس کی اُٹھی ہوئی مجھ کو اس کی مشابہت عبدالعزی بن قطن کے سی لگتی ہے۔ سوجو ٢٩

صفحہ ٢٦٨

کوئی تم میں کا اس کو پاوے تو اس پر سورۂ کہف کا شروع پڑھے۔ اس کے سبب سے اس کے فتنے سے بچ رہے گا۔ وہ نکلے گا اس راستہ پر جو شام وعراق کے درمیان میں ہے تو اس کا فساد دائیں بائیں پھیل جائے گا۔ اے اللہ کے بندو اس وقت مضبوط رہنا۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ کب تک وہ رہے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا چالیس روز ایک دن مثل ایک برس کے ہوگا اور ایک دن مثل ایک مہینے کے اور ایک دن ہفتہ کی طرح اور باقی دن مثل اور تمہارے دنوں کے صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ جو دن سال کا سا ہوگا کیا اس میں ایک دن کی نماز کافی ہو جاوے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اندازہ کر لینا صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ زمین پر اس کا جلدی پھرنا کیونکر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا جیسے ابر کہ اس کو ہوا لے کر چلتی ہے تو آوے گا ایک گروہ پر اور ان کو اپنی طرف بلاوے گا۔ سو وہ اس کے تابع ہو جاویں گے تو وہ آسمان سے کہے گا۔ پس وہ برسنے لگے گا اور زمین سے کہے گا تو وہ اگے گی تو ان کے مواشی خوب موٹے ہو کر تھن پھولے رکھیں بھیڑیں چر کر لوٹیں گی۔ پھر ایک گروہ پر آوے گا اور ان کو اپنی طرف بلاوے گا تو وہ لوگ اس کی بات نہ مانیں گے۔ تب وہاں سے پھر جائے گا تو اس پر خشکی پڑ جائے گی اور بالکل خالی ہاتھ ہو جاویں گے اور وہ دجال اجڑی زمین پر گزرے گا تو اس سے کہے گا کہ اپنے خزانوں کو نکال تو سب خزانے نکل کر اس کے ساتھ ہو جاویں گے۔ جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کے ساتھ، پھر بلاوے گا ایک بھری جوانی والے کو تو اس کو تلوار سے مار کر دو ٹکڑے کر دے گا۔ ایک ایک ٹکڑا تیر کے نشانہ کی دوری پر جا پڑے گا۔ پھر اس کو بلاوے گا آ جاوے گا اور اس کا منہ چمکتا ہوگا۔ ہنستا سو وہ اس حالت میں ہوگا کہ اتنے میں اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا تو وہ اتریں گے سفید مینارہ کے نزدیک شرقی جانب دمشق کے دو رنگین کپڑوں میں۔ اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے دو فرشتوں کے بازؤں پر جب سر جھکائیں گے تو ٹپکے گا اور جب اٹھائیں گے تو اس سے موتی سے گریں گے۔ سو جس کافر کو ان کی سانس پہنچے گی مر جائے گا اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی تو وہ دجال کو تلاش کر کے باب لد میں پا کر قتل کر دیں گے۔ پھر عیسیٰ ان لوگوں کے پاس آویں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے دجال کے فتنہ سے بچایا تھا تو ان کے منہ پر ہاتھ پھیریں گے اور جنت کے ان کے درجات بیان کریں گے۔ اتنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اللہ تعالیٰ وحی بھیجے گا کہ میں نے ایسے بندوں کو نکالا ہے۔ جن کے ساتھ قتال کی کسی کو قوت نہیں تو میرے بندوں کو طور پر لے جا کر بچا اور بھیج دے گا اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو اور وہ ہر اونچے سے پھسلتے آویں گے تو گزرے گا آگے والا ان کا بحر طبریہ پر سو پی لے گا جو اس میں ہوگا اور پچھلا جو آوے گا تو کہے گا کہ اس میں کبھی پانی تھا پھر

٦٩ پھرتے پھرتے جبل خمر تک پہنچیں گے۔ یہ بیت ال ان کو تو ہم نے قتل کر لیا۔ اب آسمان والوں کو قتل ک تو اللہ تعالیٰ ان کے تیروں کو خون سے بھرا ہوا بھیجے گے۔ یہاں تک کہ ان کے نزدیک سری ایک بیل اللہ عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب اللہ سے د کہ سب کے سب ایک بارگی مر جاویں گے۔ پھر پر تو کہیں بالشت بھر جگہ یعنی یاجوج ماجوج زمین کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب اللہ س گردنیں اونٹوں کی سی ہوں گی تو وہ انہیں اٹھا کر بھیجے گا کہ جس سے کوئی مقام نہ بچے گا تو زمین کو کہ اپنے پھلوں کو نکال اور اپنی برکت لوٹ دے وقت ایک گروہ ایک انار سے کھا لے گا۔ (حدی بھیجے گا جس سے سب ایمان والے اٹھ جاویں ۔ آوے گی۔ یہ الفاظ صحیح مسلم کے بیان کئے گئے کچھ زائد تفصیل کے ساتھ ہے۔

حدیث ہفتم

"اخرج الحاكم عن ابی حكما واماما مقسطا وليسلكن فجاجا علي ولا ردن عليه" حاکم نے ابو ہریرہؓ سے عیسیٰ بیٹے مریم کے اتریں گے۔ حاکم اور انصاف عمرہ کرنے اور البتہ آویں گے میری قبر پر کہ سلا

حدیث ہشتم

"اخرج مسلم عن ابی هـ الساعة حتى ينزل الروم بالاعماق من خيار اهل الارض يومئذ فاذا تصـ

صفحہ ٢٦٩

پھرتے پھرتے جبل خمر تک پہنچیں گے۔ یہ بیت المقدس میں پہاڑ ہے تو کہیں گے زمین میں جو تھے ان کو تو ہم نے قتل کر لیا۔ اب آسمان والوں کو قتل کرنا چاہئے تو اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے تیروں کو خون سے بھرا ہوا پھیرے گا اور نبی اللہ اور ان کے اصحاب گھرے رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان کے نزدیک سری ایک بیل کی بہتر ہوگی۔ تمہارے نزدیک سو دینار سے تو نبی اللہ عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب اللہ سے دعا مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک مرض ڈالے گا کہ سب کے سب ایک بارگی مر جاویں گے۔ پھر نبی اللہ اور ان کے اصحاب نیچے اتریں گے۔ زمین پر تو کہیں بالشت بھر جگہ بھی یاجوج ماجوج کی گندگی اور بو سے خالی نہ پاویں گے تو اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ ایسے پرندے بھیجے گا جن کی گردنیں اونٹوں کی سی ہوں گی تو وہ انہیں اٹھا کر جہاں اللہ چاہے گا پھینک دیں گے۔ پھر اللہ پانی بھیجے گا کہ جس سے کوئی گھر نہ بچے گا تو زمین کو دھو کر آئینہ سا صاف کر دے گا۔ پھر زمین کو حکم ہوگا کہ اپنے پھلوں کو نکال اور اپنی برکت لوٹ دے۔ (یعنی پھر پہلے کی سی برکت آجاوے) تو اس وقت ایک گروہ ایک انار سے کھا لے گا۔ (حدیث میں برکت بیان کر کے پھر فرمایا کہ اللہ ایک ہوا بھیجے گا جس سے سب ایمان والے اٹھ جاویں گے) اور بدترین خلائق رہ جاویں تو انہی پر قیامت آوے گی۔

یہ الفاظ صحیح مسلم کے بیان کئے گئے اور ابن ماجہ اور ترمذی میں بھی اسی طرح ہے۔ بلکہ کچھ زائد تفصیل کے ساتھ ہے۔

حدیث ہفتم

"اخرج الحاكم عن أبى هريرة مرفوعا ليهبطن عيسى بن مريم حكما واماما مقسطا وليسلكن فجا حاجا او معتمرا وليأتين قبرى حتى يسلم على ولاردن عليه" حاکم نے ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بے شک عیسیٰ بیٹے مریم کے اتریں گے۔ حاکم اور انصاف والے پیشوا اور البتہ چلیں گے راستہ میں حج کرنے یا عمرہ کرنے اور البتہ آویں گے میری قبر پر کہ سلام کریں گے مجھ پر اور میں جواب اس کا دوں گا۔

حدیث ہشتم

"اخرج مسلم عن أبى هريرة قال قال رسول اللہ ﷺ لا تقوم الساعة حتى ينزل الروم بالاعماق او بدابق فيخرج اليهم جيش من المدينة من خيار اهل الارض يومئذ فاذا تصافوا قالت الروم خلو بيننا وبين الذين

٣١

صفحہ ٢٧٠

سبوا منا نقاتلهم فيقول المسلمون لا والله لا نخلی بینكم وبين اخواننا فيقاتلونهم فينهزم ثلث لا يتوب الله عليهم ابدا ويقتل ثلثهم افضل الشهداء عند الله ويفتح الثلث لا يفتنون ابدا يفتتحون قسطنطنیه فبينماهم يقسمون الغنائم قد علقوا سيوفهم بالزيتون اذ صاح فيهم الشيطان ان المسيح قد خلفكم فى اهليكم فيخرجون وذلك باطل فاذا جاؤ الشام خرج فبينماهم يعدون للقتال يسوون الصفوف اذا اقيمت الصلوة فينزل عيسى بن مريم فأمهم فاذا رآه عدوالله ذاب كما يذوب الملح فى الماء فلوتركه لانذاب حتى يهلك ولكن يقتله الله بيده فيريهم دمه فى حربة‘‘ صحیح مسلم میں ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت نہ آوے گی جب تک کہ رومی لوگ (یعنی نصاریٰ) اعماق یا دابق میں نہ اتریں تو ان کی طرف لشکر مدینہ سے نکلے گا۔ جو اپنے زمانہ کے بہترین لوگوں سے ہوں گے تو جب صف باندھیں گے (یعنی لڑائی کے واسطے) تو رومی کہیں گے کہ ہم میں کے جو لوگ قید کئے گئے ہیں۔ (یعنی غلام جو مسلمان ہو گئے ہیں) وہ ہم کو دو ہم ان سے لڑیں گے تو مسلمان کہیں گے کہ ہرگز ایسا نہیں ہوگا وہ ہمارے بھائی ہیں تو ان سے مقاتلہ ہوگا پس تہائی لوگ (مسلمانوں کے) بھاگ جاویں گے۔ کبھی ان کی طرف اللہ متوجہ نہ ہوگا اور تہائی شہید ہو جاویں گے۔ وہ اللہ کے نزدیک افضل الشہداء ہیں اور تہائی فتح کریں گے کبھی وہ لوگ فتنہ میں نہ پڑیں گے تو قسطنطنیہ کو فتح کر لیں گے۔ سو وہ غنیمتوں کو تقسیم کرتے ہوں گے کہ شیطان پکارے گا کہ مسیح (یعنی دجال) تمہاری اہل میں تمہارے پیچھے آگیا تو وہ نکلیں گے اور یہ بات شیطان کی جھوٹی ہوگی (کیونکہ مسیح دجال مدینہ میں نہ جاسکے گا) پس جب وہ شام میں آویں گے تو وہ نکلے گا تو جس وقت وہ قتال کے لئے تیار ہوں گے اور صفیں درست کرتے ہوں گے کہ نماز کے لئے تکبیر ہوگی پس عیسیٰ بن مریم نزول فرمائیں گے تو ان کے امام ہوں گے سو جب ان کو اللہ کا دشمن (یعنی دجال) دیکھے گا تو جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے گھلنے لگے گا۔ سو اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسے چھوڑ دیں تو گھلتے ہی گھلتے ہلاک ہو جاوے۔ مگر اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ سے اس کو قتل کروائے گا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا خون بھالے میں لگا ہوا لوگوں کو دکھاویں گے۔

حدیث نہم

’’اخرج الترمذى واحمد عن مجمع بن جارية عن رسول الله ﷺ قال يقتل ابن مريم الدجال بباب لد وقال الترمذى هذا حديث صحيح قال ٣٢ وفي الباب عن عمران بن حصين و اسيد وابي هريرة وكيسان وعثمان مسعود وعبدالله بن عمرو وسمرة بن عوف وحذيفة بن اليمان‘‘ امام رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابن مریم دجال کو صحیح ہے اور کہا کہ اس بارہ میں اتنے صحابہؓ اور ابی برزہ اور حذیفہ ابن اسید اور ابی ہریرہؓ و اور ابن مسعود اور عبداللہ بن عمرو اور سمرہ بن الیمان رضی اللہ عنہم اجمعین احادیث جو نزول سے ہیں کہ جو ان میں کے سہل الوصول اور موجو احادیث کو بطور نمونہ کے سنا دیا ناظرین منصفین اللہ ﷺ کیا کہتے ہیں اور متخیل مسیحہ کیسی کیسی تحر تاویل میں انکار کرتا ہے۔ اے اہل اسلام ایسے ہے۔ اس سے بچتے رہو۔ اپنے نبی رحمۃ کی کھلی ت تھے) چھوڑ کر دشمن دغا دینے والے کے تابع نہ ہو کہ کون اپنی عقل کو شرع کے تابع کرتا ہے اور کون ’’ربنا لا تزغ قلوبنا بعد ا انت الوهاب‘‘ علامہ شوکانی بعد نقل احادیث سقناه بالغ حدالتواتر كما لا يخفى ماسقناه فى هذا الجواب ان الاحادي والاحاديث الواردة فى الدجال متواتر متواترة فى هذا المقدار كفايه لمن له ہـ

قولہ...... اگر کہا جاوے کہ مرزا قادیانی اگر ایسـ قباحت نہ تھی۔ کلام رسول مقبول ﷺ میں انہوں نـ نہ ہوئی اور صرف مرزا قادیانی کو ہی سوجھی تو اس کا نے دی ہے۔ ان کی حقیقت اور پوری پوری ماہیت ٣٣

صفحہ ٢٧١

وفي الباب عن عمران بن حصين ونافع بن عيينة وابى برزة وحذيفة بن اسيد وابى هريرة وكيسان وعثمان بن ابى العاص وجابر وابى امامة وابن مسعود وعبدالله بن عمرو وسمرة بن جندب والنواس بن سمعان وعمرو بن عوف وحذيفة بن اليمان “ امام احمد اور ترمذی نے مجمع بن جاریہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابن مریم دجال کو باب لد میں قتل کریں گے۔ ترمذی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور کہا کہ اس بارہ میں اتنے صحابیوں سے روایت ہے۔ عمران بن حصین اور نافع بن عیینہ اور ابی برزہ اور حذیفہ ابن اسید اور ابی ہریرہ اور کیسان اور عثمان بن ابی العاص اور جابر اور ابی امامہ اور ابن مسعود اور عبداللہ ابن عمرو اور سمرہ بن جندب اور نواس بن سمعان اور عمرو بن عوف اور حذیفہ الیمانی رضی اللہ عنہم اجمعین احادیث جو نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں وارد ہیں۔ اس کثرت سے ہیں کہ جو ان میں کے سہل الوصول اور موجود ہیں ان کے لئے ایک بڑا دفتر چاہئے۔ ان چند احادیث کو بطور نمونہ کے سنا دیا ناظرین منصفین ان احادیث کو دیکھ کر غور کر سکتے ہیں کہ الفاظ رسول اللہ ﷺ کیا کہتے ہیں اور مدعی مسیح کیسی کیسی تحریف کرتا ہے اور کیسی صحیح صریح احادیث کا پیرایہ تاویل میں انکار کرتا ہے۔ اے اہل اسلام ایسے دعوے جھوٹے کرنے والا تم لوگوں کا نہانی دشمن ہے۔ اس سے بچتے رہو۔ اپنے نبی رحمت کی کھلی تعلیم کو (جو ان پڑھوں کی تعلیم کے لئے بھیجے گئے تھے) چھوڑ کر دشمن دغا دینے والے کے تابع نہ ہو یہ اللہ کی طرف سے جانچ کا وقت معلوم ہوتا ہے کہ کون اپنی عقل کو شرع کے تابع کرتا ہے اور کون شیطانی وسوسہ کی طرف جاتا ہے۔

”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب“ علامہ شوکانی بعد نقل احادیث کے اپنی کتاب توضیح میں کہتے ہیں۔ ” وجميع ما سقناه بالغ حد التواتر كما لا يخفى على من له فضل اطلاع فتقرر بجميع ماسقناه فى هذا الجواب ان الاحاديث الواردة فى المهدى المنتظر متواترة والاحاديث الواردة فى الدجال متواترة والاحاديث الواردة فى نزول عيسى متواترة فى هذا المقدار كفايه لمن له هدايه والله ولى التوفيق “

قولہ ..... اگر کہا جاوے کہ مرزا قادیانی اگر ایسا استعارہ اپنے کلام میں استعمال کرتے تو کوئی قباحت نہ تھی۔ کلام رسول مقبول ﷺ میں انہوں نے ایسی تاویل کی جو تمام علماء سلف وخلف کو معلوم نہ ہوئی اور صرف مرزا قادیانی کو ہی سوجھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ جتنے امور مستقبلہ کی خبر مخبر صادق نے دی ہے۔ ان کی حقیقت اور پوری پوری ماہیت جب تک کہ وہ واقع نہ ہولیں۔ صرف علوم ظاہر

٣٣

صفحہ ٢٧٢

سے معلوم نہیں ہو سکتی۔ البتہ ان پر ایمان لانا جیسا کہ ان کے الفاظ اور معانی ظاہرہ سے مفہوم ہوتا ہے۔ ضروری ہے اس کی چند نظیریں بطور شواہد کے میں پیش کرتا ہوں۔ تا کہ اصل مدعی ہر شخص منصف کے سمجھ میں آ جاوے اور اس مقدمہ کا ثبوت بھی اس سے ہو جاوے۔

اقول ..... ”بعون اللہ تعالیٰ“ صاحب رسالہ نے جو قائل کا جواب دیا اس کا حاصل یہ ہے کہ نزول ابن مریم کا ان امور مستقبلہ سے ہے کہ جن کی خبر مخبر صادق نے دی ہے اور جتنے امور مستقبلہ کی خبر مخبر صادق نے دی ان کی حقیقت اور پوری پوری ماہیت جب تک کہ وہ واقع نہ ہولیں صرف علوم ظاہرے نہیں معلوم ہو سکتی۔ پس نزول ابن مریم کی حقیقت اور پوری پوری ماہیت جب تک کہ واقع نہ ہولے صرف علوم ظاہرے معلوم نہیں ہو سکتی تو واضح رہے کہ اس کلام میں کئی وجوہ سے فساد ہے۔ اوّل یہ کہ کبریٰ قیاس مسلم نہیں۔ مطالب بالبرہان ہے۔ یعنی اس بات کا دعویٰ کہ جتنے امور مستقبلہ کی خبر مخبر صادق نے دی ہے۔ ان کی حقیقت بغیر وقوع کے علوم ظاہرے معلوم نہیں ہو سکتے۔ بغیر دلیل مسلم نہیں اس کی دلیل۔ بیان کرنا چاہئے اور جو شواہد بیان کئے تو اوّل تو وہ تمہارے مدعا کے موافق نہیں یا خود ان کے ثبوت میں کلام ہے۔ چنانچہ آگے انشاء اللہ ظاہر ہو جاوے گا۔ دوسرے یہ کہ بعض افراد پر حکم سے کل افراد پر وہ حکم لازم نہیں آتا۔ کما لا یخفیٰ کہ تمہارا یہ کلیہ، ٹھیک ہو جاوے۔ لہٰذا قیاس منتج نہ ہوگا۔ پس آپ کا مدعا بھی ثابت نہ ہوگا۔

دوسری وجہ فساد کی یہ ہے کہ حقیقت اور پوری پوری ماہیت معلوم نہ ہونے سے دو حال سے خالی نہیں۔ یا یہ غرض ہے کہ طریق وقوع کا علم حاصل نہیں ہوتا کہ جس طرح ظاہر الفاظ خبر کے مقتضی ہیں۔ اسی طرح واقع ہوگی یا دوسری طرح کہ قول مخبر ماؤل ہو یا یہ غرض ہے کہ اس کا علم تو ہو جاتا ہے۔ مگر اس کی صورت کما ہی اور پوری پوری حالت بعینہا جو ظہور میں آوے گی بتمامہا معلوم نہیں ہوتی۔ شق ثانی مسلم ہے کہ جہاں تک خبر نہیں دی گئی اس کی صورت تفصیلی کا حال کیونکر قبل وقوع معلوم ہو جاوے۔ مگر اس کی خصوصیت اخبار مستقبلہ کے ساتھ کیا ہے۔ بلکہ جو اخبار ماضیہ یا موجودہ غیر مشاہد ہیں وہ بھی ایسے ہیں۔ دوسرے یہ بات تمہارے مدعا اصلی کو بالکل مفید نہیں۔ کیونکہ اس سے تو اس قدر نکلتا ہے کہ نزول حضرت عیسیٰ روح اللہ نبی اللہ ابن مریم کی صورت کما ہی تفصیلی اور حالت بعینہا معلوم نہیں۔ جب تک کہ وقوع میں نہ آوے اور نزول ان کا بذات خود یقینی ہے نہ یہ کہ ان کے ذاتی نزول میں شک ہے اور درصورت شق اوّل یہ قاعدہ مسلم نہیں۔ کیونکہ جہاں پر الفاظ اخبار مستقبلہ کے باعتبار قواعد عربیہ کے متحمل کئی معانی کے ہیں۔ مثلاً کئی معنی میں مشترک ہیں اور کوئی قرینہ قوی مرجح نہیں یا کوئی مجاز اس لفظ میں ایسی مشہور ہو کہ قریب حقیقت کے ہو مثلاً طویل

٣٤

صفحہ ٢٧٣

البتہ کہ بمعنی تجلی کے مشہور ہے اور وہاں پر کوئی وجہ وجیہ اور سبب قوی اطلاق مجاز پر قائم ہو تو البتہ وہاں پر قبل وقوع علم یقینی حاصل نہیں ہوتا اور جہاں پر یہ بات نہیں بلکہ الفاظ قطعی الدلالۃ ہیں تو وہاں پر کوئی شک و شبہ نہیں۔ کیونکہ جب مخبر صادق نے ایسے الفاظ فرمائے کہ جن کی معنی میں کسی طرح کا شک اور کسی نوع کا احتمال نہیں۔ باعتبار قواعد عربیہ کے (جو محاورہ اہل زبان کو بتانے والی ہیں اور خادم ہیں۔ کتاب وسنت کے) پھر اس میں شک کرنا نادانی اور وسوسۂ شیطانی ہے۔ کیونکہ اگر مخبر صادق کو دوسرے معنی مقصود ہوتے تو جو الفاظ صاف قطعی الدلالۃ غیر معنی مقصود پر ہیں۔ ان کو بول کر خاص کر معظم امور میں کہ جن سے ایک فتنہ دین کا پیدا ہونا امت کو فتنہ میں ڈالنا ہے اور لوگوں کو حق کا منکر بنانا حاشا وکلا ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو یہ پیشین گوئی نزول نبی اللہ عیسیٰ ابن مریم علیہا السلام کی اسی قبیل سے ہے کہ کس کثرت سے شارع نے اور کیسی کیسی تفصيلوں اور تاکیدوں اور تشریحوں کے ساتھ صاف صاف الفاظ صریح الدلالۃ کے ساتھ بیان فرمادیا۔ (چنانچہ یہ بات الفاظ حدیث دیکھ کر کم استعداد آدمی پر بھی کھل سکتی ہے) اب اس میں شارع کا کیا قصور ہے۔

گر نہ بیند بروز شپر چشم چشمہ آفتاب را چہ گناہ

پس اس میں باب تحریف باطل اور تاویل فاسدہ کا کھولنا بڑی الحاد کی بات ہے۔ اللھم احفظنا منہ! پس قاعدہ موضوعہ تمہارے مقصود فاسد کو مفید نہ ہوا۔ تیسری وجہ فساد یہ ہے کہ جب قاعدہ یہ ٹھہرا کہ حقیقت پیشین گوئی کی قبل وقوع کے علوم ظاہر سے معلوم نہیں ہو سکتی تو تمہارے پیر جی جو اس پیشین گوئی کے معنی مثیل کے کرتے ہیں تو ہم اس کو کس طرح تسلیم کریں۔ کیونکہ جب قاعدہ یہ ٹھہرا کہ قبل وقوع کے پوری پوری حقیقت نہیں معلوم ہو سکتی تو پھر قطعا یہ کیسی تسلیم کی جاوے کہ اس کی معنی مثیل کے ہیں۔ اگر کہو کہ مرزا قادیانی اس کے مصداق ہو گئے اور پیشین گوئی واقع ہوگئی تو ہم کہیں گے کہ مرزا قادیانی کا اس پیشین گوئی کا مصداق ہونا موقوف ہے۔ اس پر کہ اس پیشین کے معنی مثیل کے ہیں اور یہ معنی معلوم ہونا موقوف ہیں۔ مرزا قادیانی کے مصداق ہونے پر۔ پس لازم آیا دور اور وہ باطل ہے اور ملزوم باطل کا باطل ہے۔ پس مرزا قادیانی کے یہ معنی کرنا یا تمہارا یہ قاعدہ باندھنا باطل ہے۔ اگر کہو کہ ہمارے پیر جی کو الہام اور علوم باطنیہ سے معلوم ہوا تو ہم کہیں گے کہ یہ ان کے الہامات اور بطنیات ان کے ہی واسطے ہیں۔ دوسروں پر حجت نہیں۔ اگر کہو خارجاً دوسرے طور سے مرزا قادیانی کا مصداق ہونا معلوم ہوا تو ہم کہیں گے۔ لاؤ وہ کیا ہے۔ بسبب امکان معنی حقیقی کے اور وسعت زمانی کے کہ واقع ہونا پیشین گوئی کا اپنے معنی اصلی میں خوب ممکن ہے۔ مجبوری نہیں کہ خواہ مخواہ معنی مجازی لئے جاویں۔ عاقل منصف کے لئے اس قدر

٣٥

صفحہ ٢٧٤

کافی ہے اور سمجھدار پر خوب ظاہر ہو گیا کہ منشاء وحی جو صاحب رسالہ کا تھا وہ باطل ہو گیا۔ اب چنداں ضرورت جواب شواہد کی نہ تھی۔ مگر اتماماً للحجۃ اور ایضاحاً للحق ہر ایک کو علیحدہ بیان کر کے جواب دیتا ہوں تو واضح رہے کہ غرض صاحب رسالہ کی ان شواہد کے بیان کرنے سے دو ہیں۔ ایک یہ کہ یہ قاعدہ ثابت ہو جاوے کہ پیشین گوئی کی حقیقت اور پوری پوری ماہیت قبل وقوع کے علاوہ ظاہر سے نہیں معلوم ہو سکتی۔ دوسرے یہ کہ اصل مدعا ہر شخص منصف کے سمجھ میں آ جاوے یعنی یہ بات معلوم ہو جاوے کہ اس پیشین گوئی نزول ابن مریم میں معنی حقیقی مراد نہیں۔ یہ دونوں باتیں ان کی عبارت سے ظاہر ہیں۔ مگر بسبب اجمال کے تفصیل کی ضرورت پڑی و نیز یاد رہے کہ ان ہی دو پر جواب شواہد میں بحث کی جاوے گی۔

قولہ ..... انجاح الحاجۃ شرح ابن ماجہ میں لکھا ہے کہ ”ان عثمان لما جمع المصاحف روى له ابوهريرة انه سمع النبى ﷺ يقول ان اشد امتى حبا لى قوم يأتون من بعدى يؤمنون بى ولم يرونى يعملون بما فى الورق قال ابوہریرة فقلت اى ورق حتى رأيت المصاحف ففرح بذلك عثمان واجاز اباهریرة بعشرة الاف درهم وقال انك لتحفظ علينا حديث نبينا “ دیکھو حضرت ابوہریرہ کو حقیقت اور ماہیت ورق معلوم نہ ہوئی۔

اقول ..... یہ روایت انجاح الحاجۃ شرح ابن ماجہ میں نہیں۔ اگر صاحب رسالہ (احسن قادیانی) انجاح الحاجۃ میں نکال دیں ابھی ہم ان کی علمیت کے قائل ہو جاویں۔ بلکہ یہ روایت مصباح الزجاجہ حاشیہ ابن ماجہ میں بیان نزول عیسیٰ علیہ السلام میں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ صاحب رسالہ رموز حواشی کی تمیز نہیں رکھتے۔ بھلا یہ رطب و یابس روایتیں مطلب کو کیونکر مفید ہو سکتی ہیں۔ اوّل قابل احتجاج ہونا روایت کا بیان کرتے پیچھے اس سے نتیجہ نکالتے۔ نتیجہ فرع ہے۔ روایت کا جب روایت کا ثبوت نہیں تو نتیجہ کا کیا ذکر صاحب مصباح الزجاجہ نے نہ مخرج روایت کا بیان کیا نہ خود سند بیان کی۔ پھر بے سند بات کیونکر قبول ہو سکتی ہے۔ ابھی ہم کو صحت روایت مسلّم نہیں تو دوسرے جواب کی کیا ضرورت۔ جب وہ روایت کا ثبوت دیں گے اس وقت ہم بھی جواب اس کا دیں گے۔

قولہ ..... ”عن ابی هریرة قال قال رسول اللہ ﷺ هلکة امتی علی یدی غلمة من قريش رواه البخاری “ باتفاق شارحین حدیث یہ پیشین گوئی واقع ہو چکی۔ مراد امت سے صحابہ اور اہل بیت ہیں اور مراد غلمہ قریش سے یزید اور عبداللہ بن زیاد وغیرہما ہیں۔ اب جو

٣٦

صفحہ ٢٧٥

مختص معنی غلمہ میں قریش کی حقیقی مراد لے اور لفظ امت سے جو معنی متعارف وہ مراد لئے جاویں تو اس کے نزدیک یہ پیشین گوئی اب تک واقع نہیں ہوئی۔

اقول ...... واضح رہے کہ صاحب رسالہ نے ان شواہد کو دو غرض سے بیان کیا۔ جیسا کہ اوپر ظاہر ہوا تو غرض اوّل (یعنی قبل وقوع کے حقیقت پیشین گوئی کی معلوم نہیں ہوتی) اس روایت سے ذرا بھی ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کا خلاف ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے یہ کہاں معلوم ہوا کہ اصحاب کو قبل وقوع کے اس کی حقیقت معلوم نہ تھی۔ بلکہ دیکھو ابو ہریرۃ کہتے ہیں۔ جو صحیح بخاری میں اسی روایت کے ساتھ موجود ہے۔ ”فقال ابو ھریرة لو شئت ان اقول بنی فلان وبنی فلان لفعلت“ یعنی ابو ہریرۃ بعد بیان اس حدیث کے کہتے تھے کہ اگر میں چاہوں تو بتادوں وہ فلانے اور فلانے کی اولاد ہیں اور ابن ابی شیبہ میں ہے۔ ”ان ابا ھریرة کان یمشی فی السوق ویقول اللھم لا تدرکنی سنة ستین ولا امارة الصبیان“ یعنی ابو ہریرۃ بازار میں چلتے ہوئے کہتے تھے اے اللہ میں سنہ ساٹھ تک نہ پہنچوں اور نہ لڑکوں کی امارت تک۔ ”قال الحافظ ابن حجر وفی ھذا اشارة الی ان اوّل الاغیلمة کان فی سنة ستین وھو کذالك فان یزید بن معاویة استخلف فیھا“ ان اقوال ابو ہریرۃ سے یہ بات کھل گئی کہ حقیقت پیشین گوئی کی ابو ہریرۃ کو پہلے سے معلوم تھی اور وہ اس کے مصداق و معنی سے قبل وقوع خوب واقف تھے۔ پس اس سے ہرگز یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ قبل وقوع حقیقت پیشین گوئی کی معلوم نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے خلاف ثابت ہوا کہ دیکھو قبل وقوع کے خوب معلوم تھی اور اس کی ماہیت سے پورے پورے طور پر واقف تھے۔ ثبوت غرض اوّل کا تو معلوم ہوا۔ اب غرض ثانی کا حال سنو۔ (یعنی اس پیشین گوئی میں مجاز ہونے سے نزول ابن مریم مجاز مانا جاوے) اقوال ابو ہریرۃ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جناب نبی کریم ﷺ نے بالتصریح ان کو حقیقت پیشین گوئی پر مطلع فرما دیا تھا۔ ورنہ وہ عالم الغیب تو تھے نہیں یہ بات کیسے کہتے کہ میں ہر ایک کا نام لے کر بتا سکتا ہوں۔ مگر ابو ہریرۃ نے مصلحت سے کلمہ مجمل کے ساتھ روایت کی۔ اب آپ بتائیے کب رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا کہ یہ جو ساری علامات اور تصریحات نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بیان کی گئی ہیں۔ ان سے یہ ظاہری معنی مراد نہیں ہیں۔ بلکہ مطلب دوسرا ہی ہے۔ پس یہ کیسا قیاس مع الفارق کرتے ہو۔ حاصل یہ کہ نبی صاحب نے مجاز غلمہ کے ساتھ تعبیر کے واسطے بولی۔ چونکہ اس میں ابہام دیکھا تو اپنی مراد سے مطلع فرما دیا۔ اس پیشین گوئی نزول عیسیٰ بن مریم میں اگر مجاز مراد ہوتی تو یہاں پر کہ اس سے زائد ابہام ہے۔ درصورت ارادہ مجاز کے کہ سب قرائن مقتضی

٣٧

صفحہ ٢٧٦

حقیقت کے ہیں۔ کیوں نہ مطلع فرما دیتے اور اپنی مراد سے کہ جس کا بغیر اطلاع سمجھنا موافق قواعد کے متعذر ہے۔ مفصل خبر دے دیتے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ اس پیشین گوئی نزول میں مجاز مراد نہیں۔ اس سے تو خلاف تمہارے مطلوب کے ثابت ہوا نہ موافق۔

دوسرے یہ کہ غلام کا استعمال ”جوان“ کے معنی میں کلام عرب میں بہت شائع و جاری ہے۔ ”قال فی مصباح المنیر وسمعتھم یقولون للکھل غلام وھو فاش فی کلامھم “ تم اپنی مجازات میں جو ہزاروں الفاظ حدیثیہ میں تحریف کرتے ہو ثابت کرو۔ شیوخ ان کے استعمال کا ان باطل معنی میں۔

تیسرے یہ کہ ہم کہتے ہیں کہ غلمہ اپنے حقیقی معنی میں مستعمل ہے۔ مراد غلمہ سے اولاد ہیں۔ امراء وقت کے، دیکھو فتح الباری میں ہے۔ ”الا ان یکون المراد بالاغیلمة اولاد بعض من استخلف فوقع الفساد بسببھم فنسب الیھم “ یہ ترجمہ باب کے شرح میں لکھا ہے اور آگے لفظ حدیث بخاری کی شرح میں لکھتے ہیں۔ ”قوله فاذا رایتم غلمانا...... الخ! ھذا یقوی الاحتمال الماضی وان المراد اولاد من استخلف منھم “ یعنی یہ لفظ روایت ”اذا رآھم غلمانا “ پچھلے احتمال کو قوی کرتے ہیں اور یہ کہ مراد غلمہ سے ان خلفاء کی اولاد ہے۔ تو اب پیشین گوئی اپنے معنی حقیقی ہی میں رہی اور لفظ غلمہ اپنے معنی اصلی میں مستعمل ہوا پھر تمہارا مطلب کدھر گیا۔ امت کے معنی متعارف بیان نہیں کئے گئے۔ نہ معلوم وہ کیا سمجھ بیٹھے ہیں۔ جس سے یہ گمراہی کا دروازہ کھولنا چاہا ہے۔ مگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خود بھی اس میں متردد تھے۔ لہٰذا زبان پر نہیں لائے۔ مگر اپنا پیشہ چھوڑا نہیں جاتا۔ واللہ اعلم!

قولہ ..... ”عن عائشة ان بعض ازواج النبی ﷺ قلن للنبی ﷺ اینا اسرع بک لحوقا قال اطولکن یدا فاخذوا قصبة یذرعونھا وكانت سودة اطولھن یدا فعلمنا بعدا انما کان طول یدھا الصدقة وكانت اسرعنا لحوقا به زینب وكانت تحب الصدقه متفق عليه ولفظه للبخاری“ مولوی محمد بشیر صاحب نے مجھ سے یہ حدیث بیان کر کے کہا کہ دیکھو اس پیشین گوئی کی تاویل قبل وقوع صحابہ کو معلوم نہ ہوئی۔

اقول ...... سلمنا کہ اس پیشین گوئی کی تاویل قبل وقوع کے ازواج کو معلوم نہ ہوئی۔ مگر طویل الید سخی کے معنی میں بھی مشہور ہے۔ دیکھو امام نووی لکھتے ہیں۔ ”قال اهل اللغة یقال فلان طويل اليد والباع اذا كان سمحاً جواداً وضده قصير اليد والباع “ اسی کے مثل ہے جو اللہ جل شانہ نے فرمایا۔ ”وقالت اليهود يد الله مغلولة غلت ایدیھم ولعنوا بما

٣٨

قالوا بل يداه مبسوطتان ينفق كيف يشاء “ اور انہوں نے شان نزول بھی اس طرح نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اپنے موقع میں گزر

الا بالوحي لـ وساغ ذلك لكونه ليـ البخاری “ پھر بھی لحاظ اس میں اس بات مشہور بھی ہیں نہ یہ کہ ایسی بے تکی بولیں جس صاحب رسالہ اور ان کے پیر نے اس پیشین ناجائز بنا کر اور تاویل باطل کر دیا اور ان حصـ بڑی دین کی بات جان کر طرح طرح سے تعـ فرما دیا تھا۔ ان کو بے جا تاویلیں اور فاسد مـ دیا۔ پس اس پیشین گوئی کو تمہارے مدعا اسـ بعض علماء کے جس میں ابھی ہم کو کلام باقی نـ جہاں موجب خرابی کا نہ ہو۔ ”قال فی المـ الحقيقة والمجاز بغير قرينة وهـ متنازع فیہ میں جو کچھ محذور ہے اہل علم پر مخفی واضح ہو گیا کہ فرمانا جامع علوم، حاوی فنون، مـ ہے۔ مگر صاحب رسالہ کے مطلب کو بالکل مـ ذکر کرنا عوام کو دھوکا دہی سے خالی نہیں۔ واللہ قولہ ..... میں کہتا ہوں۔ مسلک سلف صالـ

صفحہ ٢٧٧

قالوا بل يداه مبسوطتان ينفق كيف يشاء ”ابن عباس سے مروی ہے۔”مغلولة ای بخيلة “ اور انہوں نے شان نزول بھی اس آیت کا یہی کہا کہ یہود نے کہا تھا کہ اللہ بخیل ہے۔ خرچ نہیں کرسکتا۔ چنانچہ اپنے موقع میں مبین ہے اور فرمایا۔ ” ولا تجعل يدك مغلولة الى عنقك ولا يبسطها كل البسط “ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اسی معنی مشہور کے اعتبار سے فرمایا اور ازواج کا خیال دوسری طرف گیا۔ چونکہ یہ بات احکام تکلیفیہ میں سے نہ تھی اور اس کے عدم علم سے کوئی موجب فساد دینی کا نہ تھا۔ بلکہ ایسے امور سے کہ جن کے اظہار کو اللہ جل شانہ نے مناسب نہ سمجھا اور اس کی تفصیلی کیفیت سے کسی کو مطلع نہ فرمایا۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے بھی ایسے مجمل لفظ کے ساتھ فرمایا کہ وہ بات مبہم ہی رہے۔

اور زین بن منیر نے یوں کہا۔” لما كان السوال عن آجال مقدرة لا تتعلم الا بالوحي اجابهن بلفظ غير صريح وأحالهن على مالا يتبين الا بآخره وساغ ذلك لكونه ليس من الاحكام التكليفة انتهى من فتح الباري شرح البخارى “ پھر بھی لحاظ اس میں اس بات کا رکھا کہ ایسے لفظ کے ساتھ بولے کہ جو معنی مقصود میں مشہور بھی ہیں نہ یہ کہ ایسی بے تکی بولیں جس سے کلام فہم عقلاء سے خارج ہو جاوے۔ جیسا کہ صاحب رسالہ اور ان کے پیر نے اس پیشین گوئی نزول ابن مریم کو سیکڑوں الفاظ حدیثہ میں مجاز ناجائز بنا کر اور تاویل باطل کر دیا اور ان مخصصات کو جن کو شارع نے عقائد اور معظم امور اور ایک بڑی دین کی بات جان کر طرح طرح سے تصریح اور صاف صاف علامات کے ساتھ تصریح کر کے فرما دیا تھا۔ ان کو بے جا تاویلیں اور فاسد مجازیں بنا بنا کر کلام عقلاء و خطاب بلغاء سے خارج کر دیا۔ پس اس پیشین گوئی کو تمہارے مدعا اصلی سے کیا نسبت ہے۔ انتہاء درجہ یہ ہے (موافق رائے بعض علماء کے جس میں ابھی ہم کو کلام باقی ہے) کہ مجاز کا ایسی جگہ استعمال بلا قرینہ درست ہے۔ جہاں موجب خرابی کا نہ ہو۔” قال فى الفتح وفيه جواز اطلاق لفظ المشترك بين الحقيقة والمجاز بغير قرينة وهو لفظ اطولكن اذا لم يكن محذور “ اور موضع تنازع فیہ میں جو کچھ محذور ہے اہل علم پر مخفی نہیں اور کہیں کہیں یہ عاجز بھی تصریح کرتا جاتا ہے تو واضح ہو گیا کہ فرمانا جامع علوم، حاوی فنون، ناصر دین متین جناب مولوی محمد بشیر صاحب مدظلہ کا صحیح ہے۔ مگر صاحب رسالہ کے مطلب کو بالکل مفید نہیں اور صاحب رسالہ کا ان کے اس قول کو اس جگہ ذکر کرنا عوام کو دھوکا دہی سے خالی نہیں۔ واللہ اعلم!

قولہ........ میں کہتا ہوں۔ مسلک سلف صالح کا یہی تھا کہ قبل وقوع واقعہ کے کسی مسئلہ میں تدقیق

٣٩

صفحہ ٢٧٩

اور چھان بین نہیں کیا کرتے تھے۔ بلکہ اول مخاطب سائل محل وقوع دریافت کر کے جواب دیتے تھے۔ پس جب کہ امور احکامیہ کا یہ حال تھا تو پیشین گوئیوں مستقبلہ کی کرید کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بجز اس کے کہ ان کے الفاظ ظاہرہ پر ایمان لایا جاوے۔

اقول...... میں کہتا ہوں کہ مسلک سلف صالح کا یہی تھا کہ کسی نص شرعیہ میں تاویل بیجا کر کے اپنی ہوا و خواہش کے موافق نہ بناتے تھے۔ بلکہ جس بات کو محاورہ کے موافق کلام شارع سے پاتے تھے اس کے موافق عمل درآمد کرتے تھے۔ جب نصوص عملیہ میں یہ حال تھا تو جو نصوص عقائد کے ساتھ متعلق ہیں اور جن پر مدار دین کا ہے۔ ان میں تحریف کرنے کی ان کو کیا ضرورت تھی اور کیوں تحریف کر کے ملحد بنتے۔ بجز اس کے کہ الفاظ و معانی ظاہرہ جو ان سے مستفید ہوتے ہیں۔ ان پر ایمان لاویں۔ ”و من أضل ممن اتبع هواه بغير هدى من الله“

قوله...... ایضاً فرمایا اللہ تعالیٰ نے ”لقد صدق الله رسوله الرؤيا بالحق لتدخلن المسجد الحرام ان شاء الله“ اس آیت کی شان نزول میں لکھا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ ساتھ اصحاب کے آپ ﷺ مکہ کو تشریف لے گئے اور وہاں بفراغ خاطر عمرہ کیا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس پیشین گوئی کی تعیین وقت میں صحابہ کرامؓ سے بھی خطا واقع ہوئی اور آنحضرت ﷺ کی رائے عالی بھی اولاً صحابہ کرامؓ کے ہی موافق رہی۔ لیکن اصل حال یہ تھا کہ خواب بے شک سچا تھا۔ لیکن اس میں کچھ اسی سال کی تعیین نہ تھی۔

اقول...... بعون اللہ تعالیٰ آپ نے جو اس شاہد کو اس واسطے پیش کیا کہ قبل وقوع کے پیشین گوئی کی حقیقت نہیں معلوم ہوتی تو حقیقت نہ معلوم ہونے سے اگر آپ کی یہ غرض ہے کہ وقت وقوع معین طور پر نہیں معلوم ہوتا تو سلمنا اگر شارع و مخبر کی جانب سے تعیین وقت نہ ہوتی تو وقت معین کیونکر معلوم ہوسکتا ہے تو یہ مطلب آپ کے کچھ مفید نہیں۔ کیونکہ یہ قاعدہ آپ نے اس قائل کے جواب میں بیان کیا۔ جس کا اعتراض کہ وقت معین معلوم ہو گیا۔ نزول ابن مریم کا معنی نہ معلوم ہونے میں ہے نہ تعیین وقت میں ونیز آپ کے مقصد اصلی کو بھی مفید نہیں۔ اگر قیاس کرتے ہو معنی نہ معلوم ہونے کو وقت نہ معلوم ہونے پر تو یہ قیاس مع الفارق ہے۔ کیونکہ وقت نہ معلوم ہونے کی وجہ تو یہ ہے کہ مخبر صادق نے کوئی وقت معین نہیں کیا۔ بخلاف معنی کے جب الفاظ صریح المعنی قطعی الدلالۃ بتا دیئے تو پھر معنی میں کیا شک رہا اور اگر حقیقت نہ معلوم ہونے سے یہ غرض ہے کہ معنی اصلی معلوم نہیں ہوتے تو اس پیشین گوئی کو اس مطلب سے کچھ تعلق نہیں۔ کیونکہ یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ نفس معنی پیشین گوئی کو نہ جانتے تھے۔ بلکہ یہ پیشین گوئی تمہارے اس قاعدہ کو توڑتی ہے دو وجہ سے۔

٤٠

وجہ اول یہ کہ دیکھو اصحاب کو قبل وقوع سے مکہ کو جانا مراد ہے اور کچھ نہیں اسی بناء پر جب تفصیلی قصہ صحیح بخاری میں مذکور ہے) تو حضرت نے تو فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کو جاویں گے اور و ہاں طواف کریں گے قبل وقوع کے ظاہر جان لینے کو قبل وقوع کے

حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اس قصہ میں تقریر نبوی ﷺ سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے۔ پس یہ حدیث قاعدہ و مطلب صاحب کا اپنا شاہد بنانا بڑی جائے تعجب ہے۔

پھر واضح رہے کہ یہ کہنا صاحب رسالہ صحابہ کرامؓ کے ہی موافق رہی۔ جب تک کہ آپ اللہ ﷺ پر افتراء باندھنے میں داخل ہوگا۔ بھلا یہ ساتھ خطاء میں شریک تھے۔ دیکھو جی صاحب قول بخاری میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔ ”اولم فَنَطُوفَ بِہِ“ یعنی آپ ﷺ تو فرماتے تھے کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب میں ارشاد قلت لا قال فانك آتيه ومطوف به“ ( کہ اسی سال میں جاویں گے اور تم کہو کہ پہلے تو فرمایا اگر آپ کو بھی یہی خیال ہوتا تو فرما دیتے کہ پہلے

قولہ...... امام احمد اور ترمذی اور ابن ماجہ اور مشکوٰۃ شریف میں موجود ہے کہ جناب رسول اللہ اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا پھر اگر منافقین

صفحہ ٢٧٩

وجہ اوّل! یہ کہ دیکھو اصحاب کو قبل وقوع سے حقیقت پیشین گوئی کی معلوم ہو گئی تھی کہ اس سے مکہ کو جانا مراد ہے اور کچھ نہیں اسی بناء پر جب آئندہ سال کے واسطے مصالحت ہو گئی۔ (چنانچہ تفصیلی قصہ صحیح بخاری میں مذکور ہے) تو حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے تو فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کو جاویں گے اور وہیں خانہ کعبہ کو طواف کریں گے۔ دیکھو حضرت عمرؓ نے پیشین گوئی کے معنی میں بالکل شک نہیں کیا کہ شاید اس کی کچھ اور حقیقت ہو۔ بلکہ اس کی معنی میں یقین کر کے اور جزماً اس معنی کو مان کر اپنی نظر میں خلف وعدہ دیکھ کر عرض کیا۔

وجہ ثانی! یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے جواب میں یہ فرمایا کہ پیشین گوئی کی حقیقت قبل وقوع کے علوم ظاہرہ سے نہیں معلوم ہو سکتی ہے۔ تم ابھی کیوں اعتراض کرتے ہو۔ بلکہ ان کے جان لینے کو قبل وقوع کے مسلم رکھ کے فرمایا کہ میں نے یہ کہا تھا کہ اسی سال میں جاویں گے؟ تو حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ بس جانا ہوگا اور طواف بھی کریں گے۔ تو اس قصہ میں تقریر نبوی ﷺ سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ قبل وقوع کی حقیقت پیشین گوئی کی معلوم ہو جاتی ہے۔ پس یہ حدیث قاعدہ و مطلب صاحب رسالہ کو مبطل ہے نہ مثبت اس کو صاحب رسالہ کا اپنا شاہد بنانا بڑی جائے تعجب ہے۔

پھر واضح رہے کہ یہ کہنا صاحب رسالہ کا کہ آنحضرت ﷺ کی رائے عالی بھی اوّلاً صحابہ کرام کے ہی موافق رہی۔ جب تک کہ اس کا ثبوت کسی روایت صحیح سے نہ دیں۔ رسول اللہ ﷺ پر افتراء باندھنے میں داخل ہوگا۔ بھلا یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ نبی صاحب بھی صحابہ کے ساتھ خطاء میں شریک تھے۔ دیکھو نبی صاحب تو حضرت عمرؓ کے جواب میں فرماتے ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔ ”اولیس کنت تحدثنا انا سناتی البیت فنطوف به“ یعنی آپ ﷺ تو فرماتے تھے کہ ہم لوگ بیت اللہ جاویں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا۔ ”بلی فاخبرتك انا ناتيه العام قلت لا قال فانك آتيه ومطوف به“ دیکھو رسول اللہ تو فرماویں کہ میں نے یہ کب کہا تھا کہ اسی سال میں جاویں گے اور تم کہو کہ پہلے تو رسول اللہ ﷺ کی بھی یہی رائے تھی جو صحابہ کی تھی۔ اگر آپ کو بھی یہی خیال ہوتا تو فرما دیتے کہ پہلے میں بھی یہی سمجھا تھا۔ واللہ اعلم!

قولہ ....... امام احمد اور ترمذی اور ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے۔ مشکوٰۃ شریف میں موجود ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا کہ بے شک اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا پھر اگر منافقین چاہیں کہ وہ قمیص تم اتار دو تو تم مت اتاریو۔

٤١

صفحہ ٢٨٠

یہاں تک کہ مجھ سے ملاقات کرو۔ اس پیشین گوئی میں اگر قمیص کے معنی حقیقی مراد لئے جاویں تو یہ پیشین گوئی واقع نہیں ہوئی۔

اقول ...... اوّل الفاظ روایت کو نقل کرتا ہوں۔ جس سے تصرف صاحب رسالہ کا ظاہر ہوا۔ ابن ماجہ کے لفظ اس طرح ہیں۔ ”عن عائشة قالت قال رسول اللہ ﷺ یا عثمان ان ولاك الله هذا الامر يوما فارادك المنافقون ان تخلع قميصك الذی قمصك الله فلا تخلعه يقول ذلك ثلاث مرات“ اور لفظ ترمذی کے یوں ہیں۔ ”یا عثمان انه لعل الله يقمصك قميصا فان ارادوك على خلعه فلا تخلعه لهم“ تو واضح رہے کہ غرض اوّل صاحب رسالہ کی (کہ قبل وقوع حقیقت پیشین گوئی کی نہیں معلوم ہو سکتی) بالکل اس سے ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس سے یہ کہاں معلوم ہوا کہ حضرت عثمان کو قبل وقوع کے حقیقت پیشین گوئی کی معلوم نہ تھی۔ بلکہ اس کے خلاف پر ہم قرینہ سے بتاتے ہیں کہ ان کو معلوم تھی۔ چنانچہ ابن ماجہ میں اسی روایت کے بعد دوسری روایت میں حضرت عائشہ سے موجود ہے۔ ”فجاء عثمان فخلا به فجعل النبی ﷺ يکلمه ووجه عثمان يتغیر“ اور یہ ہے ”ان عثمان بن عفان قال یوم الدار ان رسول اللہ ﷺ عهد الی عهدا فانا صائر الیہ“ اور اس سب کو بیہقی نے بھی دلائل النبوۃ میں ذکر کیا اور بعض روایت کو ترمذی نے بھی ذکر کیا اور کہا ”ھذا حدیث حسن صحيح“ حاصل ترجمہ یہ کہ حضرت عثمان سے رسول اللہ ﷺ اپنے مرض میں خلوت میں کچھ فرماتے تھے اور حضرت عثمان کا چہرہ متغیر ہوتا جاتا تھا۔ جب حضرت عثمان کو منافقوں نے گھر میں محبوس کیا تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عہد کیا ہے تو میں ویسے ہی کروں گا۔ ابن ماجہ میں ہے۔ ”قال قیس كانوا يرونه ذلك الیوم“ قیس نے کہا لوگ وہ اسی دن کو سمجھتے تھے۔ مثل اس کے اور بھی روایتیں آئی ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان روایتوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عثمان اور دوسرے لوگ بھی پہلے سے اس کو خوب جانتے تھے۔ دور جانے کی کیا ضرورت ہے۔ اسی روایت کو دیکھو جس کو صاحب رسالہ اپنی دلیل قرار دیتے ہیں۔ اس میں رسول اللہ ﷺ نے ”ان ولاك الله هذا الامر“ فرما دیا تو پھر کیا شبہ رہ گیا۔ پس معلوم ہو گیا کہ اس شاہد سے غرض اوّل تو ثابت نہیں ہوئی۔ رہی غرض ثانی تو اس کو سنو۔ جب نبی ﷺ نے صاف لفظ ”ان ولاك الله هذا الامر“ فرما دیا تو اب مجاز لینے کی کیا ضرورت رہ گئی۔ فرما دیا کہ ادنیٰ درجہ اگر ایک کرتہ جو اللہ تم کو پہنائے وہ بھی اگر منافقین اتارنا چاہیں تو نہ دینا تو خلافت چھوڑنا تو بڑی بات ہے پس باوجود یکہ قمیص کے معنی حقیقی مراد لئے

٤٢

گئے۔ پیشین گوئی واضح ہو گئی تو یہ قول صاحب پیشین گوئی واقع نہ ہوگی) غلط ہے قطع نظر حسب ترجمہ صاحب رسالہ کے پیشین گوئی پ کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں قمیصیں پہنائیں۔ پھر نہیں قمیص کے معنی حقیقی لے کر پیشین گوئی کو تو فرماتے ”ان ولاك الله“ (ان ولاك الل ہے۔ آگے لکھتے ہیں۔ ”مگر باوجودیکہ الحق بالباطل وتكتمون الح قوله....... تحریراً طبعاً وقوعہ کے قبل ہم کہہ دیں کہ حضرت امام حسین کے بارے میں

اقول...... بعد تسلیم صحت نقل کے اس روایت ہے جب تک صحت روایت کو ثابت نہ کر لیں اہل علم نے احادیث ابن عساکر کو طبقہ رابعہ م اکثر موضوع وغیرہ ہوتی ہے۔ ”قال فی مصنفوها بعد قرون متطاولة جمع فی المجاميع والمسانید المختلفة يكتب حديثه المحدثون كك والضعفاء اوکانت من آثار الص او من كلام الحكماء والوعاظ خلطو اوکانت من محتملات القرآن صالحون لا يعرفون غوامض اوكانت معانی مفهومة من اشارات براسها عمدا اوكانت جملا شتى ف بنسق واحد مظنة هذه الاحادي عدى وكتب الخطيب وابي نع والدیلمی وکاد مسند الخوارزمی

صفحہ ٢٨١

گئے۔ پیشین گوئی واقع ہوگی تو یہ قول صاحب رسالہ کا (اگر قمیص کے معنی حقیقی مراد لئے جاویں پیشین گوئی واقع نہ ہوگی) غلط ہے قطع نظر اس سے موافق فہم صاحب رسالہ کے، میں کہتا ہوں حسب ترجمہ صاحب رسالہ کے پیشین گوئی تو اسی قدر ہے کہ اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا تو ایک کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں بیسیوں پہنائے۔ پھر آگے حکم فرمایا کہ اگر منافقین اتارنا چاہیں تو نہ اتارنا۔ پس قمیص کے معنی حقیقی لے کر پیشین گوئی کیوں نہ واقع ہوئی۔ پھر ہم کہتے ہیں۔ اگر مجاز مان بھی لیں تو قرینہ صارفہ کیسا قوی (یعنی ”ان ولاك الله هذا الامر“ اور دوسرے تصریحات) موجود ہے۔ آپ کوئی قرینہ صارفہ ضعیفہ ہی پیش کیجئے۔ پس یہ کیا قیاس مع الفارق ہے۔ ”ولا تلبسوا الحق بالباطل وتكتمواالحق“

قولہ ...... تحریر الشہادتین میں لکھا ہے کہ ابن عساکر نے محمد بن عمر بن حسن سے روایت کی ہے کہ ہم کربلا میں حضرت امام حسینؓ کے ساتھ تھے۔ سو انہوں نے سمرہ کو دیکھ کر فرمایا۔

اقول ...... بعد تسلیم صحت نقل کے اس روایت کا صحیح ہونا مسلم نہیں۔ صاحب رسالہ کا نفس استشہاد ہے جب تک صحت روایت کو ثابت نہ کر لیں صحیح نہیں، وجہ استشہاد پر تو نظر پیچھے کی جاوے گی۔ بلکہ اہل علم نے احادیث ابن عساکر کو طبقہ رابعہ سے خیال کیا ہے۔ جن کی اصلح روایت ضعیف محتمل اور اسوء موضوع وغیرہ ہوتی ہے۔ ”قال فى حجة البالغة والطبقة الرابعة كتب قصد مصنفوها بعد قرون متطاولة جمع مالم يوجد فى الطبقتين الاولين وكانت فى المجاميع والمسانيد المختفية فنوهوا بامرها وكانت على السنة من لم يكتب حديثه المحدثون ككثير من الوعاظ المتشدقين واهل الاهواء والضعفاء اوكانت من آثار الصحابة والتابعين اومن اخبار بنى اسرائيل اومن كلام الحكماء والوعاظ خلطها الرواة بحديث النبىﷺ سهوا او عمدا اوكانت من محتملات القرآن والحديث الصحيح فرواها بالمعنى قوم صالحون لا يعرفون غوامض الرواية فجعلوا المعانى احاديث مرفوعة اوكانت معانى مفهومة من اشارات الكتاب والسنة جعلوها احاديث مستندة براسها عمدا اوكانت جملا شتى فى احاديث مختلفة جعلوها حديثا واحدا بنسق واحد مظنة هذه الاحاديث كتاب الضعفاء لا بن حبان وكامل ابن عدى وكتب الخطيب وابى نعيم والجوزقانى وابن عساكر وابن النجار والديلمى وكاد مسند الخوارزمى يكون من هذه الطبقة واصلح هذه الطبقة

٤٣

صفحہ ٢٨٢

ماكان ضعيفا محتملا واسوءها ماكان موضوعا او مقلوباً شديد النكارة “ یعنی طبقہ رابعہ کی وہ کتابیں ہیں جن کے مصنفون نے بہت مدت کے بعد ان روایات کو جمع کرنا چاہا جو پہلے دو طبقوں میں نہ تھیں اور پوشیدہ تھیں۔ ایسے لوگوں کی زبانوں پر تھیں۔ جن کی روایات محدثین لکھتے بھی نہیں۔ جیسے بہت سارے واعظین ہوتے ہیں۔ بڑھا کر بات کہنے والے اور ہوا پرست اور غیر معتبر یا وہ روایتیں اقوال صحابہ تھیں۔ یا اقوال تابعین یا بنی اسرائیل کے اخبار یا عقلمندوں کا کلام یا واعظوں کا تو اس کو نبی صاحب کی حدیث کے ساتھ ملا دیا۔ دھوکے سے یا قصداً یا کوئی احتمالی معنی قرآن یا صحیح حدیث کے تھے یا کوئی اشارہ تھا کہ قرآن یا حدیث سے نکلتا تھا۔ اس کو حدیث بنا دیا یا مختلف مضمون کی حدیثیں تھیں۔ ان کو ایک کر دیا مظنہ اس طرح کی روایات کا ابن حبان کی کتاب الضعفا اور کامل ابن عدی اور کتب خطیب اور ابی نعیم اور جوزقانی اور ابن عساکر اور ابن نجار اور دیلمی میں ہے اور مسند خوارزمی بھی اسی کے قریب ہے اور اس طبقہ کی اصلح روایت وہ ہوتی ہے جو ضعیف محتمل ہوتی ہے اور بدتر وہ جو موضوع یا مقلوب بڑی منکر ہوتی ہے۔ راوی کتاب حجۃ اللہ میں ہے۔ ” واما الرابعة فالا شتغال بجمعها والاستنباط منها نوع تعمق من المتاخرين وان شئت الحق فطوائف المبتدعين من الرافضة والمعتزلة وغيرهم يتمكنون بادنی عناية ان يلخصوا منها شواهد مذاهبهم فالانتصار بها غیر صحیح فی معارك العلماء بالحديث والله اعلم “ یعنی طبقہ رابعہ کی روایتوں میں اشتغال اس کے جمع کرنے میں اور ان سے استنباط کرنے میں متاخرین کے اوپر بہت مشکل ہے اور حق یہ ہے کہ بدعتیوں کے فرقے جیسے رافضی ہیں۔ معتزلی ہیں۔ ان کے سوائے اور بدعتی ذرا موقع پا کر ان سے اپنے مذہب کا شواہد بنا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔ پس ایسی روایتوں سے مدد لینا علماء کے مقابلہ میں صحیح نہیں۔ چنانچہ یہ حضرت بھی انہیں میں ہیں۔ جب تک اثبات صحت روایت کا نہ کرو گے کامیاب نہ ہوگے۔ پس ابھی ہم کو دوسرے جوابات سے تطویل کی حاجت نہیں۔ واللہ اعلم!

قولہ ...... نسیم الریاض میں لکھا ہے۔ بیہقی اور طبرانی اور ابن حکیم جہنی نے ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ ایک گھر میں ہم دس آدمی تھے۔ جناب نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو تم میں سے پیچھے مرے گا نار میں ہوگا۔

اقول ...... اس میں بھی وہی جواب ہے۔ مستبعد اثبات مستشہد منہ کا ضرور ہے۔ مانع کے لئے اس قدر کافی ہے کہ یہ کتب ایسے نہیں۔ جن کی احادیث سب صحیح ہی ہوں۔ بلکہ طبقہ ثالثہ کی روایات

٤٤٣

سے ہے۔ جن کی روایتیں صحیح ، حسن ، ضعیف مغلوب ہر طرح کی ہوتی ہیں۔ چنانچہ حجت اول نفس ثبوت روایت بیان کرنا ضرور ہے۔

قولہ ...... تحریر الشہادتین میں لکھا ہے۔ ” ق

اقول ...... اس کا بھی وہی جواب ہے۔ جو ثبوت روایت کے وجہ استدلال میں نظر کی جا

قولہ ...... بیہقی نے عروہ اور سعید بن مسیب بن خلف سے کہا تھا کہ میں تجھے قتل کروں گا۔ ایک نیزہ مار دیا۔ ایک زخم پوست خراش لگا ک اور پھر بھاگ کر قریش میں جاملا۔ لوگوں نے سے راہ میں مکے کو پھرتے ہوئے واصل جہنم مقتول رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ ابی بن خلف معنی ظاہر قتل کے ہیں۔ وہ یہاں پر نہیں پائے

اقول ...... اس کا بھی وہی جواب سابق ہے معنی کیا سمجھے ہیں کہ کہتے ہیں کہ ظاہر معنی قتل زخم سے جو رسول اللہ ﷺ نے مارا تھا۔ وہ مر گا؟ اگر کچھ دیر لگ جائے جان نکلنے میں اور م گا؟ ” قال اللغة قتلة قتلا از هقت مقتول رسول اللہ کا ہے۔ دوسرے اخبار میں فافهم والله اعلم!

قولہ ...... ہدیہ مہدویہ میں لکھا ہے۔ جس کی کہ پندرہ سو برس کا تخمینہ قیامت کا کیا ہے۔ تمام محدثین سلف وخلف کا خیال بسبب غلط ف سے فنا تک سات ہزار برس کی ہے اور اس خی ظاہر نکلیں۔ اگر صعود نزول عیسیٰ بن مریم کا آ اہل کتاب کے ان کے ذہن نشین ہو گیا ہو تو ک

صفحہ ٢٨٣

سے ہے۔ جن کی روایتیں صحیح ، حسن ، ضعیف ، معروف ، غریب ، شاذ ، منکر ، خطا ، صواب ، ثابت ، مغلوب سبھی طرح کی ہوتی ہیں۔ چنانچہ حجۃ اللہ وغیرہ میں ہے۔ پس مستدل پر ایسی روایتوں میں اوّل نفس ثبوت روایت بیان کرنا ضرور ہے۔ والسلام !

قولہ ...... تحریر الشہادتین میں لکھا ہے۔ ”قال الحسین علیہ السلام انی سمعت ابی“

اقول ..... اس کا بھی وہی جواب ہے ۔ جو پہلے ذکر کیا بیان نفس ثبوت روایت ضرور ہے۔ بعد ثبوت روایت کے وجہ استدلال میں نظر کی جاوے گی ۔ ابھی تطویل کی ضرورت نہیں۔

قولہ ....... بیہقی نے عروہ اور سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ابی بن خلف سے کہا تھا کہ میں تجھے قتل کروں گا ۔ آپ نے اس کے حلق پر ایک جگہ زرہ سے خالی دیکھ کر ایک نیزہ مار دیا ۔ ایک زخم پوست خراش لگا کہ اس میں سے خون بھی نہ نکلا ۔ مگر گھوڑے سے گر پڑا اور پھر بھاگ کر قریش میں جا ملا ۔ لوگوں نے کہا تجھے کچھ اندیشہ کی بات نہیں ۔ لیکن بالآخر اسی زخم سے راہ میں مکے کو پھرتے ہوئے واصل جہنم ہوا اور ایک شخص کہتا ہے کہ اسے پانی مت دیجیو۔ یہ مقتول رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ ابی بن خلف ۔ اس پیچیدہ گورکھ کے لکھنے سے میری یہ غرض ہے کہ جو معنی ظاہر قتل کے ہیں۔ وہ یہاں پر نہیں پائے گئے ۔

اقول ..... اس کا بھی وہی جواب سابق ہے ۔ مگر بڑی جائے تعجب ہے کہ صاحب رسالہ قتل کے معنی کیا سمجھے ہیں کہ کہتے ہیں کہ ظاہر معنی قتل کے نہیں پائے گئے ۔ باوجودیکہ یہ خود لکھتے ہیں کہ اسی زخم سے جو رسول اللہ ﷺ نے مارا تھا ۔ وہ مرا کیا معا مارنے کے مرے، تب ہی اس کا قتل کہلاوے گا ؟ اگر کچھ دیر لگ جائے جان نکلنے میں اور مرے اسی کے مار کے سبب سے تو اس کا قتل نہ کہلاوے گا ؟ ”قال اللغۃ قتلہ قتلا ازھقت روحہ “ اور پھر قصہ ابن عمر میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ یہ مقتول رسول اللہ کا ہے ۔ دوسرے اخبار میں بھی اس شخص پر مقتول رسول اللہ کا اطلاق آیا ہے۔ فافہم واللہ اعلم !

قولہ ....... ہدیہ مہدویہ میں لکھا ہے۔ جس کی عبارت بعینہ نقل کی جاتی ہے۔ شیخ جلال الدینؒ نے کہ پندرہ سو برس کا تخمینہ قیامت کا کیا ہے ..... اس عبارت طویلہ کے نقل کرنے سے یہ غرض ہے کہ تمام محدثین سلف وخلف کا خیال بسبب غلط ہو جانے خیال اہل کتاب کے یہ تھا کہ عمر دنیا کی ابتداء سے فناتک سات ہزار برس کی ہے اور اس خیال غیر صحیح پر جو کچھ تفریعات کیں وہ سب خلاف نفس الامر نکلیں۔ اگر صعود نزول عیسیٰ بن مریم کا آسمان سے بوجوہ عصری بسبب غلط روایات و خیالات اہل کتاب کے ان کے ذہن نشین ہو گیا ہو تو کیا استبعاد ہے۔ لیکن اس خیال کی تصدیق متن احادیث

٤٥

صفحہ ٢٨٤

صحاح میں کہیں نہیں پائی جاتی اور نہ قرآن مجید سے یہ تصریح ثابت ہوتی ہے۔مؤلف!

مرزائی اعلام کا محدثین پر افتراء

اقول ...... وباللہ التوفیق ! یہ کہنا کہ ( تمام محدثین سلف وخلف کا یہ خیال تھا کہ عمر دنیا کی ابتداء فنا تک سات ہزار برس ہے) محدثین اراکین دین پر بڑا افتراء ہے۔ "هذا بهتان عظیم" تمام محدثین سلف وخلف سے تو کیا تم آدھوں سے ثابت کر دو کہ وہ اس کے قائل تھے۔ آدھوں سے نہیں تہائی ، چوتھائی سے ہم کہتے ہیں۔ دو تین ہی معتبر سے ”وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة “ ظاہر بات ہے کون اہل علم سے اس بات کو کہے گا کہ انتہائے عمر دنیا کی اور وقت معین قیامت کا معلوم ہو گیا۔ جس کو اللہ جل شانہ اپنے کلام پاک میں جا بجا بالتصریح بالتنصیص فرماتا ہے کہ سوائے ذات باری کے اور کسی کو اس کا علم نہیں۔ چنانچہ فرمایا۔ ”يسئلونك عن الساعة ايان مرسها قل انما علمها عند ربى لا يجليها لوقتها الا هو “تجھ سے پوچھتے ہیں۔ قیامت کس وقت ہے۔ اس کا ٹھہراؤ تو کہہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔ نہ ظاہر کرے گا اس کو اس کے وقت پر مگر وہی۔

اور فرمایا ”يسئلونك عن الساعة ايان مرسها فيم انت من ذكراها الى ربك منتهها “تجھ سے پوچھتے ہیں۔ قیامت کا ٹھہراؤ کس وقت ہے تو کس بات میں ہے۔ اس کے مذکور سے تیرے رب کی طرف ہے اس کی انتہاء۔ یعنی پوچھتے پوچھتے اس کی طرف پہنچنا ہے۔ بیچ میں سب پیغمبر ہیں۔

اور فرمایا ”يسئلك الناس عن الساعة قل انما علمها عند الله “ یعنی قیامت کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔

اور فرمایا ”ان الساعة آتية اكاد اخفيها “ بے شک قیامت آنے والی ہے۔ نزدیک ہے کہ میں چھپا ڈالوں اس کو۔

اور فرمایا ”الیہ یرد علم الساعة“ اللہ ہی کے طرف حوالہ کیا جاتا ہے علم قیامت کا۔

اور فرمایا ”ويقولون متى هذا الوعد انكنتم صادقين قل انما العلم عند الله وانما انا نذیر مبین“ اور کہتے ہیں کب ہے یہ وعدہ ( یعنی قیامت چنانچہ ماقبل کی آیت بتاتی ہے ) تو کہہ خبر تو ہے اللہ کے پاس اور میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں۔

٤٦

صفحہ ٢٨٥

اور فرمایا ”ان اللہ عندہ علم الساعۃ“ یعنی اللہ ہی کے پاس ہے علم قیامت کا۔ اور احادیث میں بیشمار جگہ موجود ہے۔ بطور مثال کہتا ہوں۔ فرمایا ”فی خمس لا یعلمهن الا اللہ“ اور فرمایا ”ماالمسئول عنها باعلم من السائل“ غرض کہ یہ بات ایسی ظاہر و مشہور ہے کہ جس سے نہ عالم منکر و بیخبر ہے نہ عامی، پھر کون محدث اس بات کو جزاً کہہ سکتا ہے۔ مگر صاحب رسالہ کے نزدیک تو تمام محدثین اور سلف منکر صریح کلام الٰہی اور مکذب تصریح نبوی کے ہو کر دنیا کی عمر حد معلومہ کے قائل ہو گئے۔ نعوذباللہ من ذلک!

پس تمام محدثین پر افتراء کر کے اس خیال کو مرزا قادیانی کے خیال کے ساتھ تشبیہ دینا اور محدثین پر افترائی خیال کو مرزا قادیانی کے خیال کا شاہد بنانا۔ بناء فاسد پر ہے۔ وهو کما تری!

دوسرے! اگر مانیں بھی کہ کوئی اس بات کا قائل ہو گیا ہو تو بھی تمہارے مطلب کے مفید نہ ہوگا۔ کیونکہ وہاں تو پہلے باعتبار قواعد شرعیہ کے بڑی باطل بات تھی۔ پیچھے حق معلوم ہوگیا۔ بخلاف تمہارے مطلب کے کہ پہلا خیال بالکل قواعد شرعیہ کے موافق ہے اور اس میں کوئی محال شرعی یا عقلی لازم نہیں آتا۔ پھر حقیقت کیوں مہجور ہوگی۔ پس یہ یعنی شے کو اپنے ضد کے ساتھ تشبیہ دے کر اور مخالف کو شاہد بنا کر ثابت کرنا کون سی عقل کی بات ہے۔ وہاں تو جو پہلا خیال فرض کیا گیا ہے قواعد شرعیہ کے بالکل خلاف ہے اور خیال پچھلا موافق اور یہاں جو پہلا خیال ہے یعنی نزول ذاتی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قواعد کے موافق ہے اور پچھلا یعنی جو تمہارے پیر اور تم معنی کرتے ہو بالکل مخالف۔ پس اس پر اس کو قیاس کرنا کیسا خلاف عقل ہے؟ اگر ایسے قیاسات صحیح ہوں تو چاہئے کہ اخبار مستقبلہ کے جہاں کہیں جو معنی کئے گئے ہیں۔ سب سے رجوع کر لینا چاہئے۔ اس پر قیاس کر کے ایسے ہی کسی نص شرعی میں کوئی نئے معنی ظاہر ہونے سے لازم آوے گا کہ جب نصوص کے جو معنی کئے گئے۔ چاہے عملی ہوں چاہے اعتقادی۔ سب سے رجوع کر لیا جاوے اور ایک جگہ پچھلے معنی غلط ہونے سے سب جگہ معانی غلط ٹھہرا دیئے جائیں۔

پس یہ شریعت کیا ہنسی کھیل ہو گئی؟ نعوذ باللہ من ذلک! کیا فرضاً اگر علماء کا خیال بسبب غلط خیالات اہل کتاب کے نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بوجود عنصری ہو گیا تو کیا رسول اللہ ﷺ کو بھی اہل کتاب نے بہکا دیا کہ انہوں نے فرما دیا کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ”لیس بینی وبین عیسٰی نبی وانه نازل“ یعنی میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ (یعنی

٤٧

صفحہ ٢٨٦

جن کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں) اترنے والے ہیں اور دوسری روایت صحیح میں اس طرح ہے ۔ ”الانبیاء اخوة لعلات امهاتهم شتی ودینهم واحد وانا اولی الناس بعیسیٰ بن مریم لانه لم یکن بینه وبینی نبی وانه نازل“ یعنی انبیاء باپ کی طرف سے بھائی ہوتے ہیں۔ مائیں (یعنی فروعات دین) ان کی مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہی ہوتا ہے اور میں اولی الناس ہوں۔ عیسیٰ بن مریم کے ساتھ۔ کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں اور بے شک وہ اترنے والے ہیں، اور بیشمار حدیثیں ہیں۔ جن میں نبی صاحب ﷺ نے نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصریح فرمائی ہے۔ چند احادیث اس عاجز نے بھی اوپر نقل کر کے سنادی ہیں اور نیز کیا اہل کتاب نے اپنے خیالوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی غلطی میں ڈال دیا اور بہکا دیا کہ وہ کہتے ہیں کہ میں قریب قیامت اتر کر دجال کو قتل کروں گا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا ہے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں موجود ہے کہ شب معراج میں ہمارے نبی صاحب ﷺ سے انہوں نے یہ بات کہی۔ چنانچہ اوپر گزر چکا۔ پس یہ کہنا کہ اس خیال کی تصریح متن احادیث صحاح میں کہیں نہیں پائی جاتی۔ کیسی نادانی کی بات ہے اور قرآن مجید سے بھی اس کا ثبوت اخیر رسالہ میں انشاء اللہ بیان کیا جاوے گا۔ ناظرین انشاء اللہ جان لیں گے کہ یہ قول صاحب رسالہ کا کہ قرآن وحدیث میں اس خیال کی تصریح نہیں محض افتراء ہے اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر۔ ”ان الذین یؤذون الله ورسوله لعنهم الله فی الدنیا والآخرة واعدلهم عذاباً مهیناً“

قولہ...... اندریں صورت لازم ہے کہ مرزا قادیانی کی تکذیب اس دعوے میں ہرگز نہ کی جاوے۔ کیونکہ ایسی حالت میں قاعدۂ تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں یوں مقرر فرمایا ہے۔ ”وقد جاءکم بالبینات من ربکم وان یک کاذباً فعلیه کذبه وان یک صادقاً یصبکم بعض الذی یعدکم ان الله لا یهدی من هو مسرف کذاب“

اللہ اور اس کے رسول پر افتراء

اقول...... وبالله التوفیق! واضح رہے کہ یہ اللہ جل شانہ نے موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے ایک شخص کے قول کی حکایت بیان فرمائی ہے۔ چونکہ صاحب رسالہ کو پوری نقل کرنا مضر تھا اس واسطے تھوڑی نقل کی۔ پوری آیت کریمہ یوں ہے۔ ”وقال رجل مؤمن من ال فرعون یکتم ایمانه اتقتلون رجلاً ان یقول ربی الله وقد جاءکم بالبینات من ربکم وان یک کاذباً فعلیه کذبه“ اور بولا ایک مرد ایماندار فرعون کے لوگوں میں سے جو چھپاتا تھا۔ اپنا ایمان کیا مارے ڈالتے ہو۔ ایک مرد کو اس پر کہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے

٤٨

صفحہ ٢٨٧

اور لایا ہے تمہارے پاس کھلی نشانیاں تمہارے رب کی اور اگر وہ جھوٹا ہو گا تو اس پر پڑے گا۔ اس کا جھوٹ اور اگر وہ سچا ہو تو تم پر پڑے گا کوئی وعدہ جو دیتا ہے بے شک اللہ راہ نہیں دیتا۔ اس کو جو ہوے بے لحاظ جھوٹا۔

اول! تو مرد مومن نے قتل سے منع کیا تھا۔ نہ تکذیب محض سے اگر تکذیب محض سے بھی منع کر دیا جاوے تو معجزہ کس طرح دیکھنے میں آوے۔ پس صاحب رسالہ کا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کی تکذیب اس دعویٰ میں ہرگز نہ کی جاوے اور اس پر یہ قاعدہ بیان کرنا تدلیس یا سوء فہمی سے خالی نہیں۔

دوسرے! یہ کہ آیت کریمہ میں تو یہ ہے کہ ”وقد جاء کم بالبینات من ربکم“ یعنی قاعدہ اس وقت کا ہے کہ مدعی دلائل ظاہرہ کے ساتھ آیا ہے اور تمہارے یہاں ظاہر کیا معنی کوئی غیر ظاہر دلیل بھی نظر نہیں آتی۔ خالی زبانی جمع خرچ ہے۔ مگر ہمارے پاس تمہارے دعاوی کے بطلان پر بینات ہیں۔ موقع پر انشاء اللہ بیان ہوں گے۔

تیسرے! یہ کہ تمہارے فہم کے موافق ان دجالین کے مقابلہ میں جن کی خبر نبی صاحبﷺ نے دی ہے کہ ہر ایک ان میں کا نبوت کا دعویٰ کرتا ہو گا اور مقابلہ میں دجال اکبر کے اس قاعدہ کا کیا جواب ہے۔ ”فما جوابکم فیھم فھو جوابنا فی مسیحکم“ مگر میرا گمان تو یہ ہے کہ تمہارے نزدیک یہ کوئی نہ ہوگا۔ اس واسطے کہ سب کے بدلے کے یک آگئی۔ واللہ اعلم!

قولہ ...... واضح رہے کہ اگر پیشین گوئیاں جن سے معنی ظاہری قطعاً مراد نہیں بلکہ استعارہ و کنایہ دوسرے معانی لطیفہ بطور استعارہ کے مراد ہیں۔ جمع کی جاویں تو ایک دفتر ہو جاوے۔ بالفعل انہیں دس پر اقتصار کیا گیا۔ وتلک عشرۃ کاملۃ!

وجہ اقتصار

اقول ...... واضح ہو کہ صاحب رسالہ نے یہ دس جو جمع کی ہیں۔ ان میں ایسے ایسے ہیں کہ درجہ اعتبار سے ساقط ہیں۔ پھر اور کیا جمع ہوں گے کہ درجہ اعتبار میں آویں۔ یہی دس جو بڑے زور شور سے لائی گئیں۔ ”کرماد اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف“ ہو گئیں۔ باوجود یکہ جواب میں خوف طول سے قصداً اختصار بہت کیا گیا۔ اللہ جل شانہ شاہد ہے اس بات کا، کہ اگر اس عاجز کو قلت فرصت اور عدم سامان کتب نہ ہوتا تو انشاء اللہ بہت تفصیل وزائد تحقیق کے ساتھ جواب لکھتا۔ بہر حال حق مغلوب نہیں ہو سکتا اور اللہ کے دین کا نور نہیں بجھ سکتا۔

٤٩

صفحہ ٢٨٨

قولہ ...... اب یہ غرض ہے کہ حدیث متنازع فیہ میں یہ پیشین گوئی بایں تاکیدات کیوں مذکور ہوئی ہے۔ ”والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مریم“ اوّل تاکید قسم کے ساتھ دوسرے لام تاکید اور نون ثقیلہ یہ خطاب نبی علیہ السلام کا کن لوگوں سے ہے۔ آیا صحابہ کرامؓ سے ہے۔ بالکل امت اجابت و نیز امت دعوت سے بہر دو شق تاکیدات لغو ہوئی جاتی ہیں۔ کیونکہ صحابہ کرامؓ اور امت اجابت تو مؤمنین کاملین ہیں۔ منکرین معاندین نہیں جو محتاج تاکید ہوں اور جب کہ نزول عیسیٰ بن مریم باوجود عنصری مراد ہے تو ایسا نزول من السماء جو شخص دیکھے گا وہ انکار کیونکر کر سکتا ہے۔ پس بہر دو صورت کلام مقتضاء حال کے مطابق نہ ہوا اور بلاغت وفصاحت سے عاری ہوا۔ کیونکہ ایسے تاکیدات تو خطاب میں کسی بڑے منکر معاند کے چاہئے تھیں۔

اقول ...... بعون اللہ تعالیٰ تاکیدات جو انکار کے جواب میں لائی جاتی ہیں تو یہ کچھ ضرور نہیں کہ انکار حقیقی ہو بلکہ بہت جگہ بسبب انکار حکمی کے تاکیدیں لائی جاتی ہیں اور غیر منکر کو قائم مقام منکر کے اور غیر سائل کو قائم مقام سائل کے حسب مقتضاء حال کے قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ تصریح اس کی علم معانی میں مذکور ہے اور نیز کلام فصحاء و بلغاء میں ہزاروں جگہ موجود ہے۔ چونکہ یہ قاعدہ مسلمہ ہے۔ حاجت مثال کی نہ تھی۔ مگر چند مثالیں ابلغ الکلام کلام الملك العلام سے بیان کرتا ہوں۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ”لئن اشركت ليحبطن عملك“ کیا رسول اللہ ﷺ کو اس میں شک تھا اور فرمایا حکایت قول ابلیس میں ”فبعزتك لا غوين...“ کیا نعوذ باللہ اس میں اللہ جل جلالہ کو کچھ انکار یا شک تھا کہ یہ تاکیدیں لائی گئیں اور فرمایا ”والضحى والليل اذا سجى ما ودعك ربك وما قلى وللآخرة خير لك من الاولى“ کیا رسول اللہ ﷺ کو جو مخاطب تھے اس میں انکار تھا۔ اس قدر تاکید قسم اور پھر لام کے ساتھ فرمایا۔

اور فرمایا ”والعاديت ضبحا فالموريت قدحاً الى قوله ان الانسان لربه لکنود“ انسان کے ناشکرے ہونے میں کس کو شک یا انکار ہے۔ بلکہ موافق معنی قرب کے اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ انسان خود بھی اس بات پر شاہد ہے۔ چنانچہ فرمایا ”وانه على ذالك لشهيد وانه لحب الخير شديد“ اور فرمایا ”لا اقسم بهذا البلد وانت حل بهذا البلد ووالد وما ولد لقد خلقنا الانسان فی کبد“ اس میں کس کو شک یا انکار ہے کہ اس قدر تاکیدات سے فرمایا گیا۔ اس طرح کی قسمیں اور تاکیدیں تو کلام مجید میں بکثرت وارد ہیں کہ ظاہر میں کوئی متردد یا انکاری نہیں۔ مگر غیر منکر کو منکر کے قائم مقام کر کے حسب مقتضاء حال فرمایا ہے اور فرمایا ”ولا تحزن عليهم ولا تك فى ضيق مما يمكرون ان الله مع الذين

٥٠

صفحہ ٢٨٩

اتقوا والذین هم محسنون“ کیا رسول اللہ کو جو مخاطب ہیں۔ اس میں انکار یا شک تھا۔ ایسے ہی ”وان لك لاجراً غیر ممنون وانك لعلى خلق عظیم“ اور ”انا اعطیناك الکوثر“ اور ”ولئن اتبعت اهواءهم من بعد ما جاءك من العلم انك اذا لمن الظالمین“ بھلا اس میں رسول اللہ ﷺ کے طرف شک یا انکار کا گمان ہو سکتا ہے۔ مثل اس کے اور بہت ہیں جمع کرنے کے لئے ایک بڑا دفتر چاہئے۔ حاصل کلام یہ کہ تاکیدوں کے واسطے انکار تحقیقی ضرور نہیں۔ بغیر حقیقی انکار کے بھی تاکیدات حسب مقتضائے حال آتی ہیں تو اس پیشین گوئی میں بھی اسی طرح ہے۔ چونکہ یہ ایک بات تعجب کی ہے اور خوارقِ عجیبہ سے لہٰذا متعجب کو بجائے منکر کے قرار دے کر خبر کو مؤکد بتاکیدات فرمایا۔

دوسرے! ہو سکتا ہے کہ اللہ حکیم وعلیم نے اپنے نبی کو تم جیسے منکروں کی خبر دے دی ہو کہ ایسے ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے اور میرا ظن یہی ہے کہ ضرور خبر دی گئی ہوگی۔ کیونکہ یہ تو بڑا فتنہ عظیم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اس فتنہ والے تک کی خبر دے دی۔ جس کے ساتھ تین سو آدمی ہوں ۔ قیامت تک جتنے ہوں اس کا نام اور اس کے باپ کا نام اور اس کے قبیلہ کا نام بتا دیا۔ چنانچہ ابوداؤد کی روایت میں ہے۔ ”عن حذيفة قال والله ما ادرى انسى اصحابى ام تناسوا والله ما ترك رسول الله ﷺ من قائد فتنة الى ان تنقضى الدنيا يبلغ من معه ثلثمائة فصاعداً الا قد سماه لنا باسمه واسم ابيه واسم قبيلة“ اس کا ذکر مجملاً انہی حضرت حذیفہؓ سے بخاری اور مسلم میں بھی ہے۔ پس نبی صاحب نے انہیں منکروں کے واسطے یہ تاکیدیں فرمائیں کہ ہرگز اس میں شک نہ کریں۔ پس فائدہ تاکید کا ظاہر ہو گیا اور تاکید لغو نہ ہوئی۔

نکتہ ہا ہست بسے محرم اسرار کجاست

قولہ...... ہاں بموجب مسلک مرزا قادیانی کے محمل ان تاکیدات کا بہت درست معلوم ہوتا ہے کہ وہ نزول ایسا ہوگا جس سے تم بسبب اپنے خیالات کے منکر ہوگے اور وہ عیسیٰ بن مریم بھی ایسا ہی ہوگا کہ تم اس کا انکار کرو گے۔

اقول...... یہ تو جب ہوتا کہ مثلاً عبارت حدیث کی اس طرح ہوتی۔ ”والذی نفسی بیده لیوشکن ان يخلق فیكم (یا مثل اس کے کوئی اور لفظ) مثیل ابن مریم“ اور یہاں تو کچھ اور ہی ہے۔ جو تمہارے مطلب کی بیخ کنی کرتی ہے اور پھر اس پر اکتفا نہیں۔ بلکہ اور تصریح آخر اور تشریح دیگر کے ساتھ کہ محال ہے صدق اس کا تمہارے مسیح پر پس مطلب حدیث کجا اور مقصد مرزا کجا اور فرمان نبوی کجا اور غرض مرزا کجا۔ ”فبینهما بعد المشرقین“

٥١

صفحہ ٢٩٠

قولہ ...... مگر نفس الامر میں وہ نزول ایسا ہی ہوگا۔ جیسا کہ ”قد انزلنا الیکم ذکراً رسولاً“ میں ہے۔

اقول ...... بلاشک ایسے ہی نزول ہوگا جو اس آیت میں ہے کہ مراد اس سے جبرائیل ہیں اور بیان اس آیت کا گزر چکا۔ فتذکر!

قولہ ...... اندریں صورت علاوہ بلاغت کلام کے ایک دوسری پیشین گوئی اشارۃً اور بھی پیدا ہوگئی اور قاعدہ کلیہ علم معانی کا کہ ”کل حکم مع منکر یجب توکیدہ“ بھی منقوض نہ ہوا۔

معانی دانی مؤلف اعلام الناس کی

اقول ...... یہ بلاغت اور یہ اشارہ دوسری پیشین گوئی کا تو جب ہوتا کہ وہ عبارت ہوتی جو ابھی ہم نے لکھی۔ ”واین هذا من ذلك“ مخفی نہیں کہ غرض صاحب رسالہ کی تو یہ ہے کہ تاکیدات کے واسطے ضرور ہے کہ خطاب ہو کسی منکر معاند کے ساتھ۔ نہ یہ کہ معاند کے مقابلہ میں تاکید ضرور ہے۔ پس اس عبارت قاعدہ کا لانا ”کل حکم مع منکر یجب توکیدہ“ موافق مطلوب نہ ہوگا۔ کیونکہ اس سے تو صرف اس قدر نکلتا ہے کہ حکم مع منکر کے واسطے تاکید ضرور ہے۔ نہ یہ کہ جہاں تاکید ہوگی تو کسی منکر ہی کے مقابلہ میں ہوگی۔ پس یہ قاعدہ کلیہ اس جگہ تو ویسے بھی نہیں ٹوٹا اس مطلوب کے لئے تو ایسی عبارت لانا چاہئے تھی۔ ”التوکید انما یکون مع المنکر“ یا مثل اس کے اگر کہا جاوے کہ حکم وجوب تاکید راجع ہے قید کی طرف، تو ہم کہیں گے کہ قطع نظر خلاف ظاہر کے اس سے عدم وجوب در حالت عدم انکار کے نکلے گا۔ نہ عدم استحسان یا عدم جواز بھی۔ پس بہرحال اس مطلب کے واسطے یہ اس عبارت قاعدہ کا لانا مفید طلب نہ ہوگا۔ بلکہ یہ ایک کھلی دلیل مؤلف اعلام الناس کے معنی دانی کی ہوئی۔

قولہ ...... دوسرے الفاظ صحیحین کے یہ ہیں کہ ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم “ ان الفاظ میں بھی استفہام تعجبی کا کوئی محل صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ لیکن بموجب مسلک مرزا قادیانی کے یہ استفہام تعجبی بھی اپنے محل پر ہے۔ جس کا جواب خود نبی کریم ﷺ نے اپنے کلام پاک میں دے دیا۔ ”وامامکم منکم“ جیسا کہ شرح بخاری میں لکھا ہے۔ او وضع المظہر موضع المضمر ! حاصل مطلب یہ ہے کہ ابن مریم تمہیں میں سے ہوگا۔

اقول ...... یہ استعمال لفظ استفہام کا واسطے تعظیم شان حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے تفخیم حال کے لئے ہے کہ کیا اچھا تم لوگوں کا اس وقت حال ہوگا اور وہ وقت کیا خوب ہوگا۔ چنانچہ دوسری احادیث میں تفصیل اس کی فرمادی کہ کیسی اسلام کو قوت اور مومنین کو عزت اور کفار کو ذلت اور کفر کی

٥٢

صفحہ ٢٩١

بیخ کنی اور ہلاکت ہو جاوے گی اور مال کی کثرت ایسی ہوگی کہ کسی کو اس کی حاجت نہ رہے گی اور آپس کا حسد اور کینہ اور عداوت سب جاتے رہیں گے۔ اس وقت اللہ ہی کی عبادت کی طرف رغبت ہوگی۔ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔ کوئی دوسرا اس وقت میں نہ پوجا جائے گا تو اس کلمہ استفہام میں ان خوبیوں کی طرف اشارہ ہے اور اس تعظیم و تفہیم کے لئے لایا گیا ہے۔

نکتہا ہست بسے محرم اسرار کجاست

تدلیس در معنی امامکم منکم کا ازالہ

پس یہ کہنا کہ اس کا کوئی محل صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ نادانی کی بات ہے۔ اس طرح کے استفہام کلام عرب میں بکثرت آتے ہیں۔ کہیں تحقیر کے لئے کہیں تعظیم کے لئے، اور علم معانی میں بھی اس کا بیان واضح موجود ہے اور یہ جو کہا کہ بموجب مسلک مرزا قادیانی کے یہ استفہام تجاہل بھی اپنے محل پر ہے۔ تو یہ تو جب ہو سکتا کہ الفاظ نبوی یوں ہوتے۔ ”کیف انتم اذا اتی فیکم یا ولد فیکم مثیل ابن مریم واین ھذا من ذالك“ واضح ہو کہ اس جگہ نفس استفہام تجاہل ہونا نہ ہوتا اور وضع مظہر موضع مضمر ہونا نہ ہونا ہمارے لئے کچھ مضر نہیں اور اس سے چنداں ہماری غرض اصلی متعلق نہیں۔ لہٰذا ہم اس کے صحیح ہونے نہ ہونے سے اعراض کر کے اور اس کی طول بحث کو چھوڑ کر اصل مطلب کی طرف رجوع کرتے ہیں تو واضح رہے کہ ان کے پیر نے امامکم منکم کے معنی یہ کئے کہ وہ تمہارا ایک امام ہوگا۔ جو تم میں سے پیدا ہوگا۔ دیکھو (توضیح المرام ص ١١، خزائن ج ٣ ص ٥٦) میں سو اسی کو ان صاحب نے اس طرح تعبیر کیا کہ وہ ابن مریم تمہیں میں سے ہوگا۔ چونکہ وہ فنونِ رسمیہ اور علوم آلیہ سے عاری ہیں۔ لہٰذا ان کو ایسے کھلے باطل معنی کرتے عار نہ آئی۔ مگر بہ نسبت ان کے پڑھے ہوئے ہیں تو ان کو صاف صاف کہتے شرم آئی۔ لہٰذا مطلب کو زبان دبا کر ادا کیا تو میں کہتا ہوں کہ امامکم منکم کے یہ معنی کرنا کہ وہ تم میں سے پیدا ہوگا۔ افتراء ہے رسول اللہ ﷺ پر، کیا منکم سے یہ لازم آتا ہے کہ تم میں سے پیدا ہوگا۔ استغفر اللہ! یہ کیسا طوفان ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”یا ایہا الذین آمنوا لا تتخذوا الیہود والنصاریٰ اولیاء بعضہم اولیاء بعض ومن یتولہم منکم فانہ منہم“ کیا اس کے یہی معنی ہیں کہ اے ایمان والو! نہ رفیق بناؤ یہود و نصاریٰ کو اور جو شخص تم میں سے ان کو رفیق بنائے تو وہ انہیں میں کا ہو جاوے گا اور جو فرمایا ”الم ترا الی الذین تولوا قوماً غضب الله علیہم ماہم منکم ولا منہم“ کیا اس سے یہی غرض ہے کہ وہ لوگ نہ تم میں سے ہیں نہ ان میں سے ہیں۔

٥٣

صفحہ ٢٩٢

اور فرمایا: ”و من يرتد منكم عن دينه“ کیا اس کے معنی یہی ہیں کہ جو تم میں کا کوئی مرتد ہو جاوے اور فرمایا۔ ”یا ایها الذین آمنوا لا تتخذوا بطانة من دونکم“ کیا اس کا مطلب یہی ہے کہ اے ایمان والو! اپنے غیر کسی کو بھیدی نہ بناؤ۔

اور فرمایا: ”و من يتولهم منكم فأولئك هم الظالمون“ کیا اس کے یہی معنی ہیں کہ جو تم میں کا کوئی ان کو رفیق بنائے تو وہ ظالم ہے۔ ایسے ہی اور بہت آیات ہیں اور احادیث میں بے شمار جگہ موجود ہے۔ پس بعد فرض تسلیم اس بات کے کہ اقامت مظہر کی موضع مضمر کی ہے یہی معنی ہوں گے کہ وہ تمہارے دین کے موافق عمل در آمد کریں گے۔ جیسا کہ ان آیات میں یہی معنی ہیں۔ چنانچہ متقدمین نے بھی ایسے الفاظ کے یہی معنی کئے ہیں۔

چنانچہ صحیح مسلم میں ہے۔ ”قال ابن ابی ذئب اتدری ما امامكم منكم قلت وتخبرنی قال فامكم بكتاب ربكم “ اور فتح الباری میں ہے۔ ”قال ابوذر الهروی حدثنا الجوزقى عن بعض المتقدمين قال معنی قوله وامامكم منكم یعنی یحکم بالقرآن لا بالانجیل قال الطیبی المعنى يؤمكم عیسى حال كونه فی دینکم“ قوله ........ شراح حدیث ان الفاظ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔ ” حكماً والمعنى انه ينزل حاكما بهذه الشريعة فيكسر الصليب والمقصود ابطال النصرانية والحكم بشرع الاسلام وكذا قوله ويقتل الخنزير ومعناه تحريم اقتنائه واكله واباحة قتله كذا قال الطيبي ويضع الحرب في رواية الكشميني ولجزية والمعنى ان الدين يصير واحد افلا يبقى احد من أهل الذمة يؤدى الجزیۃ “ حاصل مطلب یہ ہے کہ اس جگہ دو نسخے ہیں۔ اوّل اور اصل یضع الحرب اور دوسرا یضع الجزیۃ درصورت نسخہ اوّل کے مدعا نہایت واضح ہے کہ اس میں گنجائش تاویل کی نہیں ہے اور درصورت نسخہ دوم کہ اگرچہ تاویل بعید خلاف مقصود بعض نے کی ہے۔ لیکن وہ مقبول نہیں کہ مخالف نسخہ اوّل واصل کے ہے اور تفسیر کلام نبوی ایسی چاہئے کہ مصداق ہو۔ ”يفسر بعضها بعضاً“ کی اور دوسری خوبی اس معنی میں یہ بھی ہے کہ منسوخ ہونا احکام شرعیہ خاتم النبین کا بھی لازم نہیں آتا۔ بخلاف معنی دوسرے کے کہ وہ مستلزم ہے نسخ حکم جزیہ کو مگر بتاویل بعید۔

تحقیق یضع الحرب

بعون اللہ تعالیٰ اوّلاً میں کچھ ابتداء حال نزول عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کا بیان کرتا ہوں۔ جس سے ناظرین کو صاحب رسالہ کے مطلب باطل ہونے پر بصیرت ہو۔ تو واضح رہے کہ

٥٤

صفحہ ٢٩٣

ابوداؤد کی صحیح روایت میں (جس کو ہم اوپر لکھ چکے ہیں) یہ ہے۔ ”فیقاتل الناس علی الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله في زمانه الملل كلها الا الاسلام “ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول کے لوگوں سے اسلام پر لڑیں گے۔ صلیب کو توڑ دیں گے اور سور کو قتل کریں گے اور جزیہ کو چھوڑ دیں گے۔ (یعنی شریعت اسلام میں ان کے نزول سے قبل تک یہ حکم ہے کہ اہل کتاب اگر جزیہ دیں تو قبول کر لیا جاوے اور لڑائی ان سے موقوف رہے اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرماویں گے تو اس وقت جزیہ کا حکم نہیں رہے گا۔ ان کی لڑائی اسلام ہی سے رفع ہوگی۔ سوائے اسلام کے کچھ قبول نہ کریں گے۔ پس شعائر نصرانیہ کو بالکل کھو دیں گے۔ صلیب کو توڑ دیں گے۔ سور سخت حرام ہے۔ اس کو وہ برتتے ہیں۔ مار ڈالیں گے جب یہ ہوا تو) اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے وقت میں کوئی ملت سوائے ملت اسلام کے باقی نہ رہے گی۔

قتل دجال کی بحث

اور مسلم میں ہے ”فاذا رآه عدو الله ذاب کما یذوب الملح فی الماء فلو ترکه لانذاب حتی یهلك ولکن یقتله الله بیده “ یعنی جب عیسیٰ اتریں گے تو ان کو عدو اللہ (دجال) دیکھے گا تو جیسے نمک پانی میں پگھلتا ہے پگھلنے لگے گا۔ سو اگر عیسیٰ علیہ السلام اس کو چھوڑ دیں تو پگھل کر ہلاک ہو جاوے۔ لیکن اللہ تعالیٰ انہیں کے ہاتھ سے اسے قتل کراوے گا اور احمد اور ابن ماجہ کی صحیح حدیث میں ہے۔ (جس کو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں) ”فانزل فاقتله“

اور یہ بھی ہے ”قال فیهلکه الله اذا رآنی حتی ان الحجر والشجر یقول یا مسلم ان تحتی کافراً فتعال فاقتله قال فیهلکم الله “ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اتروں گا تو اس کو قتل کروں گا۔ سو اس پر میرے دیکھنے سے ہلاکت پڑے گی۔ یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی کہنے لگیں گے کہ اے مسلمان میری آڑ میں کافر ہے۔ اس کو آ کر قتل کر۔

اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے۔ (جس کے راوی سب رواۃ مسلم سے ہیں) ”وینزل عیسیٰ بن مریم علیه السلام عند صلوۃ الفجر فیقول اميرهم یا روح الله تقدم صل فیقول هذه الامة امراء بعضهم علی بعض فیتقدم اميرهم فيصلى حتی اذا قضی صلاته اخذ عیسیٰ حربة فیذهب نحو الدجال ذاب کما یذوب الرصاص فیضع حربة بین ثندوتہ فیقتله ویهزم اصحاب

٥٥

صفحہ ٢٩٥

فلیس یومئذ شئ یواری منھم احداً حتی ان الشجرۃ تقول یا مؤمن ھذا کافر ویقول الحجر یا مؤمن ھذا کافر '' یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام فجر کی نماز کے وقت اتریں گے تو مسلمانوں کا امیر کہے گا کہ آپ نماز پڑھائیے تو انکار کریں گے۔ فرماویں گے کہ اسی امت کے بعض بعض پر سردار ہیں۔ آخر ان کا امیر نماز پڑھائے گا۔ جب نماز سے فارغ ہوویں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو مارنے چلیں گے۔ باقی ترجمہ پہلی روایت کا سا ہے۔ اس حدیث میں اول رسول اللہ ﷺ نے دجال کا بیان کیا کہ اس کے ساتھ ستر ہزار آدمی ہوں گے۔ اکثر ان کے یہودی اور عورتیں ہوں گی اور یہ بیان فرمایا کہ مسلمانوں پر بہت تکلیف ہوگی اور بھوک کی سخت آفت پڑے گی۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ اتریں گے تو ایسا ایسا کریں گے اور ابن ماجہ میں ہے '' فقالت ام شريك بنت ابى الفكر يا رسول الله فاين العرب يومئذ قال هم قليل وجلهم يومئذ ببيت المقدس وامامهم رجل صالح قد تقدم يصلى بهم الصبح اذ نزل عيسى بن مريم عليه السلام فرجع ذلك الامام يمشى القهقرى ليتقدم عيسى عليه السلام فيضع عيسى يده بين كتفيه ثم يقول تقدم فصل فانها لك اقيمت فيصلى بهم امامهم فاذا انصرف قال عيسى افتحوا الباب فيفتح ووراءه الدجال معه سبعون الف يهودى كلهم ذوسيف محلى وتاج فاذا نظر اليه الدجال ذاب كما يذوب الملح فى الماء وينطلق هارباً فيقول عيسى ان لى فيك ضربة لن تسبقنى بها فيدركه عند باب لد الشرقى فيقتله ويهزم الله اليهود فلا يبقى شئ مما خلق الله يتوارى به يهودى الا انطق الله ذلك الشئ لا حجر ولا شجر ولا حائط ولا دابة الا الغرقدة فانها من شجرهم لا تنطق الا قال يا عبد الله المسلم هذا يهودى فتعال فاقتله'' اس کے بعد کچھ دجال کا بیان ہے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں فرمایا۔''وتكون الكلمة واحدة فلا يعبد الا الله وتضع الحرب اوزارها'' یعنی جب رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر فرمایا تو ام شریک نے پوچھا کہ اس وقت میں عرب کہاں ہوں گے تو فرمایا وہ بہت کم ہوں گے اور اکثر ان کے بیت المقدس میں ہوں گے اور ان کا سردار ایک صالح آدمی ہوگا۔ صبح کی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے گا کہ عیسیٰ مریم کے بیٹے اتریں گے تو یہ امام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امام کرنے کے لئے پیچھے ہٹے گا۔ تو وہ نہ مانیں گے ۔ آخر وہی سردار نماز پڑھائیں گے۔ جب نماز سے فراغت پاویں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماویں گے

٥٦

کہ یہ دروازہ کھول دو تو دروازہ کھول دیا جاوے گا ہزار یہودی ہوں گے تاج پہنے ہوئے ہر ایک کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دجال دیکھے گا تو پگھلنے لگے عیسیٰ علیہ السلام فرماویں گے مجھ کو تیرا مارنا ہے تو اس کردیں گے۔ پس شکست دے گا اللہ تعالیٰ یہود کو دیوار یا کسی جاندار کی آڑ میں ۔ سواء ایک خاردار در بندے مسلمان یہ یہودی ہے۔ اس کو آکر قتل کرو اور سب کا کلمہ ایک ہی ہوگا ۔ ماسواء اللہ کے اور کوئی نہ پو اور ابن جریر کی روایت میں ہے کہ ج ہیں۔ سواء دو شخصوں کے ایک عبدالرحمن بن آدم کہ وہ میں کلام نہیں ۔ دوسرے بشر بن معاذ کہ وہ بھی ثقہ ہیں الناس علی الاسلام'' (لفظ اس روایت کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں سے اسلام پر لڑیں گے تو واضح رہے کہ ان روایتوں سے یہ بات کے بعد مقابلہ کفار کے ساتھ اور قتل و حرب ضرور کرنا پھر سب ملتیں سواء ملت اسلام کے مٹادی جاویں گی او پھر کس سے حرب ہوگی اور کیوں حرب ہوگی ۔ لہٰذا ح تناقض سب جاتا رہے گا۔

تنبیہہ

ناظرین باانصاف ! ذرا غور سے ان الفا کیسی تصریح سے فرما دیا ہے۔ دیکھیں اس سے اور م آپ کو مصداق بنانا کیسی صحیح احادیث نبویہ کی تکذیب ہ جب یہ بیان بطور مقدمہ کے ناظرین کو س حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے ، تو واضح رہے کہ اور الفا بالکل مخالف ہیں اور کھلے طور پر اس کے مطلب کو باطل کرنے کی حاجت نہیں ۔ البتہ چونکہ صاحب رسالہ

٥٧

صفحہ ٢٩٥

کہ یہ دروازہ کھول دو تو دروازہ کھول دیا جاوے گا تو اس کے پیچھے دجال ہوگا۔ اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے تاج پہنے ہوئے ہر ایک کے پاس تلوار ہوگی۔ زیور پہنائے ہوئے تو جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دجال دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا نمک کی طرح اور بھاگنے لگے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماویں گے مجھ کو تیرا مارنا ہے تو اس سے بچ نہیں سکتا۔ سو باب لد پر پا کر اس کو قتل کردیں گے۔ پس شکست دے گا اللہ تعالیٰ یہود کو سو جہاں کہیں وہ چھپیں گے۔ پتھر یا درخت یا دیوار یا کسی جاندار کی آڑ میں۔ سواء ایک خاردار درخت کے تو وہ بول اٹھے گا کہ اے اللہ کے بندے مسلمان یہ یہودی ہے۔ اس کو آ کر قتل کرو اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کے وقت میں سب کا کلمہ ایک ہی ہوگا۔ سو سواء اللہ کے اور کوئی نہ پوجا جائے گا اور لڑائی اپنا اوزار رکھ دے گی۔

اور ابن جریر کی روایت میں ہے (کہ جس کے راوی سب رواۃ بخاری اور مسلم سے ہیں۔ سواء دو شخصوں کے ایک عبدالرحمٰن بن آدم کہ وہ صرف رواۃ مسلم سے ہیں تو ان کی بھی ثقاہت میں کلام نہیں۔ دوسرے بشر بن معاذ کہ وہ بھی ثقہ ہیں۔ چنانچہ خلاصہ وغیرہ میں ہے ) ’’یقاتل الناس علی الاسلام‘‘ (لفظ اس روایت کے مثل روایت ابی داؤد مسطورہ بالا کے ہیں) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں سے اسلام پر لڑیں گے۔

تو واضح رہے کہ ان روایتوں سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نزول کے بعد مقابلہ کفار کے ساتھ اور قتل وحرب ضرور کرنا ہوگا۔ گو ان کو چنداں تکلیف نہ اٹھانی پڑی۔ پھر سب ملتیں سواء ملت اسلام کے کھو دی جاویں گی اور اسی ایک ملت حقہ کا دور دورہ رہ جاوے گا۔ پھر کس سے حرب ہوگی اور کیوں حرب ہوگی۔ لہٰذا حرب اٹھ جاوے گی اور ان کے وقت میں تحاسد تباغض سب جاتا رہے گا۔

تنبیہہ

ناظرین با انصاف! ذرا غور سے ان الفاظ پیشین گوئی کو جن کو نبی صاحب ﷺ نے کیسی تصریح سے فرما دیا ہے۔ دیکھیں اس سے اور مرزا قادیانی سے کیا نسبت ہے۔ اس کا اپنے آپ کو مصداق بنانا کیسی صحیح احادیث نبویہ کی تکذیب ہے۔ والسلام!

جب یہ بیان بطور مقدمہ کے ناظرین کو سنا دیا گیا تو اب صاحب رسالہ کے اس قول کی حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے تو واضح رہے کہ اور الفاظ اس حدیث کے تو مرزا قادیانی کی غرض کے بالکل مخالف ہیں اور کھلے طور پر اس کے مطلب کو باطل کرتے ہیں۔ لہٰذا ان پر علیحدہ علیحدہ مجھ کو کلام کرنے کی حاجت نہیں۔ البتہ چونکہ صاحب رسالہ نے یضع الحرب اور یضع الجزیۃ میں کلام کیا اور

٥٧

صفحہ ٢٩٧

اپنے زعم میں اپنے مطلب کے موافق بنالیا تو اس واسطے یہ عاجز بھی ان میں کلام کر کے ان کو ان کے مطلب کے خلاف ہونا ظاہر کرتا ہے اور انہیں سے بطلان ان کے مقصد کا ثابت کرتا ہے۔ واللہ ولی التوفیق!

پوشیدہ نہ رہے کہ صاحب رسالہ نے اوّل اور اصل نسخہ یضع الحرب کو ٹھہرایا اور یضع الجزیہ کو غیر اصل اور خلاف اوّل تو میں کہتا ہوں کہ یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ اس کے لئے دلیل بیان کرنا چاہئے۔ مدعی پر ثبوت ہے شاید اس وجہ سے کہتے ہوں گے کہ بعض بخاری کے نسخوں میں ناسخ نے اس نسخہ کو حوض میں لکھا ہے اور دوسرے کو حاشیہ پر تو میں کہتا ہوں کہ اگر اسی پر اصل اور غیر اصل ہونا ہے تو جہاں حفص کی قرأت کے موافق کلام مجید مطبوع ہوا ہے اور دوسری قرأت ابوبکر وغیرہ کی حاشیہ پر لکھی ہیں تو چاہئے کہ حفص کی قرأت اصل ہو جاوے اور دوسرے ائمہ کی غیر اصل اور جہاں دوسرے کسی امام کی قرأت کے موافق مطبوع ہوا ہے تو وہ قرأت اصل ہو جاوے اور حفص اور دیگر ائمہ کی غیر اصل کہیں یہ بے اصل ہے اور کہیں وہ بے اصل ہے۔ یہ کیسا جہل ہے۔ دوسرے میں کہتا ہوں دیکھو بخاری مطبوعہ مصری کو کہ اس میں نسخہ یضع الجزیہ ہی کو حوض میں لیا ہے اور دیکھو علامہ قسطلانی نے اپنی شرح بخاری میں اپنے نسخہ کی کیسی تعریف کر کے اور اپنی اصل کو کیسا وثوق بیان کر کے یضع الجزیہ ہی کو اصل متن میں داخل کیا اور یضع الحرب کو پیچھے بیان کیا اور دیکھو صاحب مشکوٰۃ نے جس حدیث کو بخاری کی طرف نسبت کیا۔ اس میں نسخہ یضع الجزیہ ہی کو اختیار کیا اور مصابیح والے نے بھی اسی نسخہ کو لیا اور علامہ ابن کثیر نے بھی اپنی تفسیر میں جو بخاری کی حدیث کو نقل کیا تو اسی نسخہ کو اختیار کیا تو تمہارے قاعدہ کی رو سے اس کو ترجیح ہونی یا اس کو۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ دیکھو بروایت انہی صحابی ابوہریرہ کے اسی حدیث میں صحیح مسلم میں بلا احتمال نسخہ ثانی کے یضع الجزیہ ہے اور اس طرح ابوداؤد میں ہے اور اسی طرح ترمذی میں ہے۔ بلا نسخہ ثانی یضع الجزیہ ایسے ہی مستدرک حاکم میں ہے اور مسند احمد میں بھی یہی ہے اور ابن ماجہ میں بھی اسی طرح واقع ہے اور ابوداؤد کی دوسری روایت میں بھی یوں ہی ہے اور بہت روایات ہیں کہ جن میں بلا احتمال دوسرے نسخہ کے یضع الجزیہ وارد ہے۔ پھر ایک نسخہ کو دوسرے پر بلا مرجح ترجیح دینا اور ایک کو اصل اور دوسرے کو غیر اصل بلا دلیل کہنا حالانکہ اس کے خلاف پر اس قدر قرائن قائم ہوں اور ایسے شواہد موجود ہوں جہالت صریح یا تدلیس قبیح سے خالی نہیں اور یہ جو کہا کہ ”درصورت نسخہ اوّل کے مدعا نہایت واضح ہے۔“ تو میں کہتا ہوں کہ جس کو نسخہ اوّل کہا وہ یضع الحرب ہے۔ یعنی لڑائی اٹھا دیں گے۔ یہ دو حال سے خالی نہیں یا یہ کہ ابتداء ہی سے حرب و قتل کفار کریں ہی نہیں یا یہ کہ ابتداء میں

٥٨

حرب کریں۔ مگر پھر موقوف ہو جائے اور لڑائی نہ رہے

شق اوّل مسلم نہیں اس واسطے کہ مخالف بـ گئیں، اور تفسیر کلام نبوی ایسی چاہئے کہ مصداق ہو یـ تمہارے مدعا کے بالکل مخالف ہے کہ جس سے مقصـ درصورت نسخہ اوّل کے مدعا نہایت واضح ہے اس میں اور بھی کلام باقی ہے۔ بقصد اختصار چھوڑا گیا اور یـ بعید خلاف مقصود بعض نے کی ہے۔ تو یہ بنا فاسد کی فا اس پر بے اصل ہے۔ بلکہ مخالف اس کے برعکس کہہ سکتـ ”منسوخ ہونا احکام شرعیہ خاتم النبیین کا بھی لازم نہیں غرض ہے کہ نسخ من جانب خاتم النبیین ہی کے ہے تو ا ہو اور اگر یہ غرض کہ منجانب حضرت عیسیٰ علیہ السلام سـ نہیں۔ بلکہ یہ اسی شریعت کا حکم مقید بوقت ایک وقـ النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ اللہ کی طرف سے درآمد کرنے کو فرما دیا۔ اس کے بعد دوسرے پر۔ جب یـ اٹھ گیا۔ تو دوسرا جاری ہوا تو یہ انہیں کے طرف سے ہـ پس لازم غیر لازم اور مدعا باطل ہو گیا۔ ”قال فی ا عيسى الجزية مع انها مشروعة في هـ بنزول عيسى لمادل عليه هذا الخبر ولـ نبينا ﷺ هو المبين للنسخ بقوله هذا“ میں ہے۔ ”کما لا يخفى على واقف الفن“ فساد ہے۔

قادیانی مؤلف کی غلطیاں

اوّل ! یہ کہ بلاوجہ اور بغیر دلیل ایک نسخہ کـ حالانکہ جو غیر اصل ٹھہرایا گیا اس کی ترجیح کی اس قدر ٹھہرائے تو بجا ہے۔

دوسری ! یہ کہتا کہ درصورت نسخہ اوّل کے

٥٩

صفحہ ٢٩٧

حرب کریں۔ مگر پھر موقوف ہو جائے اور لڑائی نہ رہے۔

شق اوّل مسلم نہیں اس واسطے کہ مخالف ہے۔ ان روایات کے جو ابھی مقدمہ میں لکھی گئیں، اور تفسیر کلام نبوی ایسی چاہئے کہ مصداق ہو یفسر بعضہ بعضا کی اور شق ثانی تمہارے مدعا کے بالکل مخالف ہے کہ جس سے مقصد دلی جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔ پس یہ کہنا کہ درصورت نسخہ اوّل کے مدعا نہایت واضح ہے اس میں گنجائش تاویل کی نہیں بالکل غلط ہے۔ اس میں اور بھی کلام باقی ہے۔ بقصد اختصار چھوڑا گیا اور یہ جو کہا کہ درصورت نسخہ دوم کے اگرچہ تاویل بعید خلاف مقصود بعض نے کی ہے۔ تو یہ بنا فاسد کی فاسد پر ہے۔ جب اصل اصل نہ رہا تو تفرع اس پر بے اصل ہے۔ بلکہ مخالف اس کے برعکس کہہ سکتا ہے۔ ”کما لا یخفی“ اور یہ جو کہا کہ: ”منسوخ ہونا احکام شرعیہ خاتم النبیین کا بھی لازم نہیں آتا ہے۔“ تو میں کہتا ہوں کہ اگر نسخ سے یہ غرض ہے کہ نسخ من جانب خاتم النبیین ہی کے ہے تو اس میں کوئی محذور نہیں کہ جس سے بچنا ضرور ہو اور اگر یہ غرض کہ منجانب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہے تو یہ غلط ہے۔ کیونکہ وہ اس کے ناسخ نہیں۔ بلکہ یہ اسی شریعت کا حکم مقید موقت ایک وقت معین تک ہے۔ یعنی شارع نے کہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ہیں۔ اللہ کی طرف سے انہوں نے ایک وقت تک اس حکم پر عمل درآمد کرنے کو فرما دیا۔ اس کے بعد دوسرے پر۔ جب وہ وقت آ گیا اور مدت پوری ہوگئی تو پہلا حکم اٹھ گیا۔ تو دوسرا جاری ہوا تو یہ انہیں کے طرف سے ہوا نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے۔ پس لازم غیر لازم اور مدعا باطل ہو گیا۔ ”قال فی الفتح قال النووى ومعنى وضع عيسى الجزية مع انها مشروعة فى هذه الشريعة أن مشروعيتها مقيدة بنزول عيسى لما دل عليه هذا الخبر وليس عيسى بناسخ لحكم الجزية بل نبينا ﷺ هو المبين للنسخ بقوله هذا“ اسی طرح اور بھی شروح بخاری و مسلم دیگر سنن میں ہے۔ ”کما لا یخفى على واقف الفن“ پس اس کلام صاحب رسالہ میں کئی وجوہ سے فساد ہے۔

قادیانی مؤلف کی غلطیاں

اوّل! یہ کہ بلاوجہ اور بغیر دلیل ایک نسخہ کو اوّل اور اصل اور ایک کو غیر اصل ٹھہرایا۔ حالانکہ جو غیر اصل ٹھہرایا گیا اس کی ترجیح کی اس قدر وجوہ موجود ہیں کہ کہنے والا اگر اسی کو اصل ٹھہرائے تو بجا ہے۔

دوسری! یہ کہنا کہ درصورت نسخہ اوّل کے مدعا نہایت واضح ہے کہ جس میں گنجائش

٥٩

صفحہ ٢٩٨

تاویل کی نہیں۔ حالانکہ وہ ان کے مدعا کے بالکل خلاف ہے۔ تیسری! یہ کہ اس رفع حکم جزیہ کو نسخ ممنوع سمجھا۔ حالانکہ ایسا نہیں۔ چنانچہ اوپر ظاہر ہوا یہ وہ ہیں جو اوپر مفصلاً بیان ہوچکیں۔ علاوہ اس کے اور بھی بہت سی وجہیں فساد اس کلام کی ہیں جو بوجہ عجلت کے چھوڑی گئیں۔ واللہ اعلم!

اس عاجز نے جہاں تک ہوسکا اس رسالہ میں علم استدلالی اور طریق احتجاجی سے کام لیا اور علم تقلیدی اور اقوال ناس سے حجت نہیں پکڑی۔ مگر چونکہ اس جگہ صاحب رسالہ نے اقوال شراح نقل کئے۔ لہٰذا یہ عاجز بھی نقل کرتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صاحب رسالہ اپنی طرف سے تخلیط اور تدلیس کا موقع دیکھتے رہتے ہیں۔ اسی واسطے بغیر وجہ کے نام کتاب کا جس سے لیتے ہیں۔ نہیں لیتے۔ کیونکہ اگر نام لے دیں گے تو ناظرین پر ان کا ملایا ہوا جلدی کھل جائے گا۔ لہٰذا نام کتاب کا نہ لو۔ کوئی کہاں تک ڈھونڈے گا۔ پس کید کسی پر نہ کھلے گا اور جو کچھ اس میں کتر بیونت ہوگی کسی پر ظاہر نہ ہوگی۔ اگر یہ بات نہیں تو کیوں نہیں۔ جہاں پر کسی کتاب سے نقل کرتے۔ اس کا نام لے دیتے۔ ان الفاظ کی شرح میں حافظ ابن حجر فتح الباری شرح بخاری میں لکھتے ہیں: ”حکما ای حاکما والمعنی انہ ینزل حاکما بھذہ الشریعۃ فان ھذہ الشریعۃ باقیۃ لاتنسخ بل یکون عیسیٰ حاکما من حکام ھذہ الامۃ...... واللطبرانی من حدیث عبداللہ بن مغفل ینزل عیسیٰ بن مریم مصدقا بمحمد علی ملۃ قولہ فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ای یبطل دین النصرانیۃ بان یکسر الصلیب حقیقۃ ویبطل ماتزعمہ النصاریٰ من تعظیمہ ویستفاد منہ تحریم اقتناء الخنزیر وتحریم اکلہ...... ویستفاد منہ ایضا تغیر المنکرات وکسر الۃ الباطل...... قولہ ویضع الحرب فی روایۃ الکشمیھنی الجزیۃ والمعنی ان الدین یصیر واحد افلا یبقی احد من اھل الذمۃ یؤدی الجزیۃ وقیل معناہ ان المال یکثر حتی لا یبقی من یمکن صرف مال الجزیۃ لہ فتترک الجزیۃ استغناء عنھا وقال عیاض یحتمل ان یکون المراد بوضع الجزیۃ تقریرھا علی الکفار من غیر محاباۃ ویکون کثیرۃ المال بسبب ذلک وتعقبہ النووی وقال الصواب ان عیسیٰ لا یقبل الا الاسلام قلت ویؤیدہ ان عند احمد من وجہ آخر عن ابی ھریرۃ وتکون الدعویٰ واحدۃ قال ابن بطال وانما قبلناھا قبل نزول عیسیٰ للحاجۃ الی المال بخلاف زمن عیسیٰ فانہ لا

٦٠

یحتاج فیہ الی المال فان المال فی یقال ان مشروعیۃ قبولھما من الکتاب وتعلیقھم بشرع قدیـ الشریعۃ بنزولہ عیسیٰ مختصر اسی کے مثل اور شراح باطل اور ایسا مطلب فاسد نہ تھا۔ صاحب رسالہ کا حاصل نہیں ہوتا۔ پس زیادہ مند نہیں۔ یہ عبارت بطور نمونہ کے نقل کردی کیفیت کو جو کہ جناب عالم جامع خلق وکرم مـ مدظلہ العالی کے ساتھ ہوا تھا۔ لکھا اور کچھ اور مناظرہ سے واقف نہیں اور نیز اس میں بحث اس سے اعراض کیا البتہ عالم حقانی جناب مولـ جن کی روبکاری میں باقرار صاحب رسالہ بـ وبراہین سے غلبہ کس کو رہا اور کلمات طعن و صاحب موصوف نے جواب میں تحریر فرمایا وبراہین سے غلبہ مولوی سلامت اللہ کو تھا اور کـ سے زیادہ تھے۔“ قولہ ...... (قول الغزنوی) اور صحیح مسلم کی حد عـنـد الـمـنـارۃ البیضاء شرقی دمشـ صریحہ جو دربارہ عیسیٰ کے وارد ہیں۔ ان کے

صفحہ ٢٩٩

يحتاج فيه الى المال فان المال فى زمنه يكثر حتى لا يقبله احد ويحتمل ان يقال ان مشروعية قبولهما من اليهود والنصارى لما فى أيديهم من شبهة الكتاب وتعلقهم بشرع قديم بزعمهم فاذا نزل عيسى عليه السلام زالت الشبهة بحصول معاينته فيصيرون كعبدة الاوثان فى انقطاع حجتهم وانكشاف امرهم فناسب ان يعاملوا معاملتهم فى عدم قبول الجزية منهم هكذا ذكر بعض مشائخنا احتمالا والله اعلم“

اور قسطلانی میں يضع الجزية کی شرح میں لکھا ہے۔ ”يـضـع الجـزيـة عـن اهـل الكتاب لا نه لا يقبل الا الاسلام وليس عيسى بناسخ لحكم الجزية بل نبيناﷺ هو المبين للنسخ بهذا فعدم قبولها هو من هذه الشريعة لكنه مقيد بنـزول عـيسـى ولا بي ذر عـن الـحـمـوى والمستملى ويضع الحرب بـدل الجزيـة “

مختصر اُسی کے مثل اور شراح نے بھی لکھا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ کسی کا سلف سے خلف تک یہ اعتقاد باطل اور ایسا مطلب فاسد نہ تھا۔ بلکہ جو لکھتے ہیں تو ایسے ہی لکھتے ہیں۔ جس سے مطلب اصل صاحب رسالہ کا حاصل نہیں ہوتا۔ پس زیادہ تر عبارات شروح نقل کر کے رسالہ کو طویل کرنا فائدہ مند نہیں۔ یہ عبارت بطور نمونہ کے نقل کر دی۔ اس کے بعد صاحب رسالہ نے اپنے مناظرہ کی کیفیت کو جو کہ جناب عالم جامع خلق و کرم عامل بالسنۃ قامع البدعۃ مولوی محمد سلامت اللہ صاحب مدظلہ العالی کے ساتھ ہوا تھا۔ لکھا اور کچھ اور بھی اس کے متعلق بیان کیا۔ چونکہ میں پوری کیفیت مناظرہ سے واقف نہیں اور نیز اس میں بحث کر کے رسالہ کو زائد طول دینا مناسب نہیں سمجھتا۔ لہٰذا اس سے اعراض کیا البتہ عالم حقانی جناب مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی مدظلہ سے سوال کیا (کہ جن کی روبکاری میں باقرار صاحب رسالہ کے واقع ہوا) کہ اس گفتگو میں حق پر کون تھا اور حجج و براہین سے غلبہ کس کو رہا اور کلمات طعن و تشنیع کس کے طرف سے زائد تھے تو جناب مولوی صاحب موصوف نے جواب میں تحریر فرمایا کہ: ”حق پر مولوی سلامت اللہ صاحب تھے اور حجج و براہین سے غلبہ مولوی سلامت اللہ کو تھا اور کلمات طعن و تشنیع مولوی محمد احسن صاحب کے طرف سے زیادہ تھے۔“

قوله...... (قول الغزنوی) اور صحیح مسلم کی حدیث ’اذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عـنـد المـنـارة البـيضـاء شرقی دمشق“ یہ مشتے نمونہ از خروار ہے۔ ساری احادیث صحیحہ صریحہ جو دربارہ عیسیٰ کے وارد ہیں۔ ان کے لکھنے کی یہاں گنجائش نہیں اور ادنیٰ طالب علم حدیث

٦١

صفحہ ٣٠٠

ان سے واقف ہے اور اسی طرح مرزا قادیانی دجال سے وہی لوگ مراد لیتے ہیں جو حق سے کانے اور مرزا قادیانی سے منکر ہیں۔

اقول ...... (قول مؤلف اعلام الناس) مجھ کو نہیں معلوم کہ مرزا قادیانی اس کا کیا جواب دیویں گے۔ مگر یہ ہیچمدان اس قدر کہتا ہے کہ اس حدیث کی تاویل کا وقت ابھی نہیں آیا یہ کیا ضروری ہے کہ ساری باتیں ایک ہی وقت میں واقع ہو جاویں۔ الیٰ آخر قولہ!

اقول ...... بتوفیق اللہ تعالیٰ! واضح رہے کہ یہ حدیث مولوی عبدالحق غزنوی نے ذکر کی یہ ٹکڑا ہے۔ اس حدیث طویل کا جس کو پہلے میں ذکر کر چکا ہوں۔ حاصل مضمون اس کا یہ ہے کہ دجال موعود انہی حالات کے ساتھ جو پہلی حدیث سے ذکر کئے گئے۔ آکر بہت فساد ڈال چکے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت مسیح علیہ السلام بیٹے مریم کو بھیجے گا تو وہ سفید منارہ کے پاس سے اتریں گے۔ جو شرقی جانب دمشق کے ہے۔ سو وہ اس دجال کو قتل کریں گے۔ الیٰ آخرہ تو یہ حالات نزول سے پہلے کے ہیں اور خاص وقت نزول کے پس صاحب رسالہ کے اس قول کے کیا معنی کہ اس حدیث کی تاویل کا وقت ابھی نہیں آیا اور مسیح آگئے۔ یہ عجب بات ہے۔

بریں عقل و دانش بباید گریست

جب حالات نزول کے قبل کے ہیں کہ اوّل دجال نکل کر ایسا ایسا شور و فساد پھیلائے گا اور مؤمنوں کو ایسا ایسا ستائے گا۔ اس کے بعد فلاں فلاں جگہ پر عیسیٰ بن مریم نزول فرماویں گے۔ اس اس کیفیت کے ساتھ تو پھر یہ کہنا کہ وہی عیسیٰ تو آگئے۔ مگر ابھی ان باتوں کا وقت نہیں آیا۔ بڑی عقل کی بات ہے۔ اگر کوئی ایسی صفت و کیفیت ہوتی کہ کسی ایسے وقت کے ساتھ مقید نہ ہوتی تو یہ بات کہنا بادی النظر میں قرین قیاس بھی ہوتا اور یہاں تو محال ہے۔ دوبارہ اگر مسیح تمہارے آویں اور پہلے یہ صفتیں ہو جاویں۔ تب یہ بات کہہ سکتے ہو۔ پس ان مثالوں پر جو تم نے بیان کیں۔ بحث کرنے کی کچھ حاجت نہ رہی۔ اس سے ان کو کیا نسبت ہے اور یہ جو کہا یہ تمام مہدی یا عیسیٰ کے وقت میں ہوگا تو وہ کون سے عیسیٰ ہیں اور کون مہدی ہیں۔

قولہ ...... اور واضح ہو کہ محل نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مختلف وارد ہوا ہے۔ ”قال الحافظ ابن کثیر وقد ورد فی بعض الاحادیث ان عیسیٰ علیہ السلام ینزل بیت المقدس وفى رواية بالاردن وفي رواية بمعسکر المسلمین فالله اعلم“ دیکھو حافظ ابن کثیر بسبب تعارض روایات محل نزول کے اس کی تاویل کو حوالہ بعلم الہیٰ کرتے ہیں۔ الخ!

٦٢

صفحہ ٣٠١

اقول ...... صاحب رسالہ نے اس قول ابن کثیر کو مصباح الزجاجہ سے نقل کیا۔ مگر افسوس ہے کہ مطلب کی بات کہ جس میں تعارض حدیث نبوی میں ثابت ہو نقل کر لی اور جس کے بعد صاحب مصباح الزجاجہ یعنی علامہ سیوطی نے ان روایات میں تطبیق دی۔ اس کو چھوڑ دیا۔ وہ یہ ہے۔ ”قلت حدیث نزولہ بیت المقدس عند ابن ماجہ وهو عندی ارجح ولا ینافی سائر الروایات لان بیت المقدس هو شرقی دمشق وهو عسکر المسلمین اذ ذالک والاردن اسم الکورۃ کما فی الصحاح وبیت المقدس داخل فیہ فاتفقت الروایات فان لم یکن فی بیت المقدس الان منارۃ بیضاء فلا بد ان تحدث قبل نزولہ“ ایسے ہی علامہ شیخ علی عزیزی نے بھی کہا۔ پھر تعارض کہاں رہا۔ تم کو چاہئے تھا کہ یا تو علامہ جلال الدین سیوطی کی تطبیق بین الاحادیث کو باطل کر کے پھر تعارض کو ثابت رکھتے اور اپنے مقصد دلی کو پہنچتے۔ یا اقرار تطبیق اور بیان توافق کرتے۔ یہ بڑی بددیانتی کی بات ہے کہ حدیث نبوی کا تعارض بیان کر کے چھوڑ دینا اور باوجود تطبیق ہونے کے کہ سامنے موجود ہے۔ اس سے منہ موڑ جانا۔ اگر کسی شخص کو تطبیق معلوم نہ ہوئی تو اس سے نفی نفس الامر کی یا دوسرے کے علم کی لازم نہیں آتی۔ واللہ اعلم!

قولہ ...... ایسی پیشین گوئیوں میں اسلم طریقہ یہی ہے کہ جس قدر علم بالظن کو احادیث آحاد مفید ہوں۔ اس قدر اعتقاد رکھنا چاہئے۔ باقی تفاصیل کا حوالہ بعلم الٰہی رکھنا چاہئے اور اس کی تاویل کا انتظار کرنا چاہئے۔ جیسا کہ حافظ ابن کثیر نے کیا۔

اقول ...... آپ نے اس پر کہاں عمل کیا۔ جس قدر علم بالظن کو احادیث مفید ہوں۔ اس قدر اعتقاد رکھنا کیا معنی۔ اس کی ایسی ایسی باطل تاویلیں اور کھلی تحریفیں کیں کہ نصوص شرعیہ کو کلام عقلاء سے ہی نہیں رکھا۔ بلکہ مجانین کا کلام کر دیا۔ ”يا ايها الذين آمنوا لم تقولون مالا تفعلون كبر مقتا عند الله ان تقولوا ما لا تفعلون“

قولہ ...... اب یہ دریافت کیا جاتا ہے کہ یہ جو عوام میں مشہور ہے اور اکثر علماء کا بھی خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ منارہ سفید دمشق کے اوپر بوجود عنصری آسمان سے اتریں گے۔ یہ خیال کن الفاظ سے پیدا ہوا۔ الخ!

اقول ...... آسمان سے بوجود عنصری اترنا تو بالتفصیل والتحقیق اوپر دلائل واحادیث سے ثابت کر دیا گیا۔ اب اعادہ کی ضرورت نہیں۔ البتہ منارہ کے اوپر اترنا اس کا بار ثبوت اس کے مدعی پر ہے۔ واللہ اعلم!

صفحہ ٣٠٣

قولہ …… اور ”واضعا کفیه علی اجنحته ملکین“ اگر یہ بیان ہے کیفیت اترنے ان کے کا تو بڑی مشکل یہ ہے کہ جو شخص اوپر سے نیچے کو کسی چیز کے سہارے سے اترتا ہے۔ وہ اس شان سے نہیں اترتا۔ الخ!

اقول …… اس میں باقی اور کیفیت کی تو نفی نہیں کہ جس سے تم یہ کہنے لگے۔ دوسرے کہہ سکتے ہیں کہ جیسے ان کے اور خوارق عادات اور دوسروں سے ممتاز صفات وحالات ہیں۔ بے باپ کے پیدا ہونا مردوں کو زندہ کرنا اور مادر زاد اندھوں کو اچھا کرنا۔ بچے پن میں گود کے اندر کلام کرنا۔ غیر مشاہد موجود حالات کی خبر دینا اور بہت سی ہیں۔ ایسے ہی ایک یہ بھی ہے۔ واللہ اعلم!

قولہ …… اور پھر اس حدیث کے کیا معنی ہیں کہ ”ان الملائکة لتضع اجنحتها لطالب العلم“ پس جو معنی اس کے ہیں وہی معنی اس کے بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ تا کہ سب تکلفات سے خلاص ہو۔ چنانچہ لکھا ہے مجمع البحار میں ”وقیل هو بمعنی التواضع تعظیما لحقه“ بلکہ اصل معنی اجنحہ ملائکہ کے وہی معلوم ہوتے ہیں۔ جو زبدہ شرح شفا میں لکھتے ہیں: ”اجنحة الملائکة لیست کما یتوهم من اجنحة الطیر ولکنها صفات ملائکة“ یہاں پر ملائکہ کے بازوؤں سے صفات اور قوائے ملکیہ مراد ہیں اور قیاس نہ کرنا چاہئے۔ ان کو پرندوں کے بازوؤں پر اس لئے کہ پرندوں کے سوائے دو کے یا تین یا چار سے زائد بازو نہیں ہوتے ہیں۔ چہ جائیکہ چھ سو بازو ہوں۔ ہاں البتہ بموجب مسلک محدثین کے بازو ملائکہ کے واسطے ثابت کرنا ضروری ہے۔ لیکن ان کی کیفیت کے بیان کرنے سے باز رہنا چاہئے۔

اقول …… اس حدیث سے اور اس حدیث سے جو مثال میں لائی گئی۔ کیا نسبت ہے اہل علم کے نزدیک اس محاورہ ”وضعت یدی علی اجنحة“ اور اس محاورہ ”وضعت اجنحتی لفلان“ میں بڑا فرق ہے۔ دوسرے ہم کہتے ہیں۔ کہ اس کی یعنی ”واضعا کفیه“ کے وہی معنی ہیں۔ جو اس کے ہیں۔ چنانچہ مجمع البحار میں ہے۔ ”ان الملائکة لتضع اجنحتها لطالب العلم ای تفرشها لتکون تحت اقدامه اذا مشی وقیل معناه بسط الجناح لتحمله علیها وتبلغه حیث یرید“ اور دوسری جگہ کہا ”الملائکة لتضع اجنحتها لطالب العلم لتکون وطائه اذا مشی“ غرض یہ کہ معنی حقیقی مراد ہیں کہ فرشتے اپنی جناح کو طالب علم کے لئے فرش کر کے بچھا دیتے ہیں کہ اس کے پیروں کے نیچے پڑتے ہیں۔ اور طالب علم ان جناح پر چلتا پھرتا ہے تو ایسے ہی یہاں پر مراد ہے۔ پھر صاحب مجمع البحار قیل کر کے لکھتے ہیں۔ ”وقیل بمعنی التواضع تعظیما لحقه وقیل اراد بوضع الاجنحة

٦٤

نزولهم عند المجالس وترک الطیران وقیل جگہ اوّل وہی معنی بیان کئے جو اصلی معنی ہیں کہ اپنے پر بچھا لئے کہ اس کا فرش ہو جاوے۔ پھر اس کے بعد قیل کر کے دوسرے معنی بیان کئے ہیں۔

قولہ …… اور لا یمکن کرامت اور معجزہ حضرت کا ہمیشہ سے میں پایا جاوے۔ اندریں صورت نہ جہاد کی ضرورت رہیگی پھر باوجود اس معجزہ کے محاصرہ کیا جانا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیونکر ہوگا۔ جو اسی حدیث میں مذکور ہے۔ پس معلوم ہوا دوسرے معنی مراد ہیں۔ وہ بیان کئے جاویں۔ لیکن وہ معنی معترضہ ہوں گے کہ ان کے برکات انفاس سے تمام مخالفین اس مصداق ہو رہے ہیں۔ الیٰ آخر القول!

اقول …… بطلان شق آخر تردید کا نہ بیان کیا۔ پھر کس طرح (یہ معنی تو ہرگز مراد نہیں) کیا مخالف کو مجاز اختیار شق ثانی کا نہیں دوسرے یہ کہ بلاشبہ ان کی ریح نفس ایسی ہی ہے وغیرہ کے قتل دجال و جہاد کریں گے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے یذوب الملح فی الماء فلوترکه لا نذاب حتی فیريهم دمه فی حربة “ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو پگھلنے لگے گا۔ جیسا کہ نمک پانی میں پگھلتا ہے۔ سو اگر وہ ہو جاوے۔ لیکن وہ اسے قتل کر کے اس کا خون اپنے حربہ طرح امام احمد کی بھی روایت میں اور ایسے ہی ابن ماجہ کی بھی

٦٥

صفحہ ٣٠٤

نزولهم عند المجالس وترك الطيران وقيل اراد به اظلالهم بها " تو دیکھو دونوں جگہ اوّل وہی معنی بیان کئے جو اصلی معنی ہیں کہ اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ طالب علم کے روندنے کے لئے کہ اس کا فرش ہو جاوے۔ پھر اس کے بعد قیل کے ساتھ دوسرے معنی بیان کئے۔ مگر صاحب رسالہ کو اس سے کچھ کام نہیں۔ چاہے ضعیف ہو چاہے باطل۔ پھر چاہے سرقہ کریں چاہے تدلیس۔ مطلب بنانا چاہئے۔ پس جو اس حدیث کے اصلی معنی ہیں۔ وہی اس کے بھی تو خیال کرنا چاہئے کہ خلاصی تکلفات سے اس معنی صریح میں ہے یا ان تاویلات میں کہ جن میں صاحب رسالہ خلاصی بتاتے ہیں اور حق مذہب محدثین کا ہے نہ یہ کہ ہر شئے میں تاویلات باردہ کرنا۔ چنانچہ اس کی تحقیق اپنے موقع پر پوری موجود ہے۔ مگر یہاں تو تکلف کا نام خلاصی اور خلاصی کا نام تکلف اور حق کا نام باطل اور باطل کا نام حق ہے۔ "الشیئ یعمی ویصم"

قولہ ....... اور "لا يحل لكافر يجد من ريح نفسه الا مات " سے کیا مراد ہے۔ آیا یہ کرامت اور معجزہ حضرت کا ہمیشہ رہے گا کہ جب آپ کا دم اور سانس باہر کو آوے تو یہ معجزہ ہر نفس میں پایا جاوے۔ اندریں صورت نہ جہاد کی ضرورت رہی اور نہ قتل کرنے دجال کی حاجت ہے اور پھر باوجود اس معجزہ کے محاصرہ کیا جانا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اور ان کے یاروں کا کوہ طور میں کیونکر ہوگا۔ جو اسی حدیث میں مذکور ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ معنی تو ہرگز مراد نہیں ہیں۔ کوئی دوسرے معنی مراد ہیں۔ وہ بیان کئے جاویں۔ لیکن وہ معنی دوسرے آپ کو مفید اور مرزا قادیانی کو مضر نہ ہوں گے کہ ان کے برکات انفاس سے تمام مخالفین اسلام " قل موتوا بغیظکم " کے مصداق ہو رہے ہیں۔ الیٰ آخر القول !

اقول ....... بطلان شق آخر تردید کا نہ بیان کیا۔ پھر کس طرح یہ نتیجہ نکال لیا۔ (کہ پس معلوم ہوا کہ یہ معنی تو ہرگز مراد نہیں) کیا مخالف کو مجاز اختیار شق ثانی کا نہیں۔ پھر تمہارا نتیجہ کدھر جائے گا۔

دوسرے یہ کہ بلا شبہ ان کی ریح نفس ایسی ہی ہوگی۔ مگر بسبب مصالح تحصیل فضیلت وغیرہ کے قتل دجال و جہاد کریں گے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے۔ "فاذا رآه عدو الله ذاب كما يذوب الملح في الماء فلوتركه لا نذاب حتى يهلك ولكن يقتله الله بيده فيريهم دمه في حربة " یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب عدو اللہ (کہ دجال ہے) دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا۔ جیسا کہ نمک پانی میں پگھلتا ہے۔ سو اگر وہ اسے چھوڑ دیں تو بے شک گھل کر ہلاک ہو جاوے۔ لیکن وہ اسے قتل کر کے اس کا خون اپنے حربہ میں لگا ہوا لوگوں کو دکھاویں گے۔ اسی طرح امام احمد کی بھی روایت میں اور ایسے ہی ابن ماجہ کی بھی روایت میں ہے۔ چنانچہ ہم سب کے

٦٥

صفحہ ٣٠٤

لفظ لکھ چکے ہیں تو معلوم ہوا کہ بے قتل کے بھی دجال اور اس کے ہمراہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سامنا نہیں کر سکتے اور ویسے ہی سامنے آنے سے ہلاک ہو جاتے۔ مگر وہ قتل و جہاد کی فضیلت کو نہ چھوڑیں گے۔ رہے یاجوج و ماجوج تو کسی کو سوائے ذات باری کے کمال ذاتی نہیں۔ یہ اللہ کا دیا معجزہ تھا۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے چاہا دیا جس وقت چاہا لے لیا۔ بلکہ یہ ہونا تو ضروری ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ۔ ” ان حقاً على الله ان لا يرتفع شئ من الدنيا الا وضعه اخرجه البخاري“ پس اس سے تمہارے گرو مسیح موعود نہیں ہوئے جاتے کہ جو ایسے عقائد و مسائل کو شائع کرتے ہیں۔ جن سے ابلیس اور اس کے ذریات خوشی مناتے ہیں اور آرام پاتے ہیں۔ بلکہ یہ معنی ایسے اباطیل دعاوی کا استیصال و بیخ کنی کرتے ہیں۔

پھر واضح رہے کہ موت کے معنی جو حقیقی ہیں۔ ایسے مشہور ہیں کہ بیان و نقل سند کی حاجت نہیں۔ دور جانے کی کیا ضروت ہے۔ انہی کے گرو۔ (ازالہ اوہام حصہ اول ص ٢٢٧، خزائن ج ٣ ص ٢٧٢) میں بیان وفات مسیح میں لکھتے ہیں ۔ ”اور موت حقیقی ایک کامل موت ہے۔“ پھر کیا شک باقی رہ گیا اور مجمع البحار کی جو عبارت نقل کی گئی تو وہ صاف کہہ رہی اور کھلے طور سے بتا رہی ہے کہ معنی متعارف کے علاوہ یہ معانی مجازی ہیں۔ پس حدیث ” لا يحل لكافر يجد من ريح نفسه الا مات“ میں وہی موت حقیقی مراد ہے۔ نہ کوئی دوسرے مجازی معنی۔ کیونکہ حقیقت سے کون صارف ہے کہ مجاز کے تکلفات و تاویلات کو اختیار کیا جاوے۔

دوسرے یہ کہ اور روایتیں صاف صاف بیان کرہی ہیں اور بتصریح بتارہی ہیں کہ موت سے سوائے معنی متعارف حقیقی کے کوئی دوسرے معنی مجازی مراد نہیں۔ چنانچہ بعض ان روایت سے اس مختصر رسالہ میں بھی کئی جگہ ذکر کئے گئے ہیں اور بہت کتب حدیث میں موجود ہیں۔ جس کو منظور ہو دیکھ لے۔ واللہ اعلم !

قولہ ...... بے شک دجال کے حق میں احادیث صحیحہ کثرت سے وارد ہیں۔ مرزا قادیانی ان احادیث صحیحہ کے ہرگز منکر نہیں ہیں۔

اقول ....... احادیث صحیحہ صریحہ الدلالۃ سے یہ بات ثابت ہے کہ دجال اخیر زمانہ میں خروج کرے گا۔ اگر مرزا قادیانی اس کے منکر نہیں تو پھر (ازالہ اوہام حصہ اول ص ٢٢٧، خزائن ج ٣ ص ٢٢٠) میں یہ کیسے لکھتے ہیں : ”آخری زمانہ میں دجال معہود کا آنا سراسر غلط ہے۔“ میں تعجب کرتا ہوں کہ انکار کس چیز کا نام ہے۔ دوسرے ہم کہتے ہیں کہ ہم نے مانا کہ مرزا قادیانی ان حدیثوں صحیحہ کے منکر نہیں تو انہیں احادیث صحیحہ میں تو یہ بھی ہے کہ پہلے دجال ان اوصاف و حالات کے ساتھ خروج

٦٦

٥

کر کے اپنا کام کرے گا۔ اس کے بعد مسیح بن مر ثابت کر چکے ) تو پھر تمہارے مسیح کیوں دجال سے عجب بات ہے۔ اب ہم کو معلوم ہو گیا کہ بے شک گرو مرزا قادیانی نے اپنی عادت کے موافق صحیح یہ مروی ہے اور ان کے مسیح موعود ہونے کو جڑ سے حملے سے اس کا ضعف لوگوں کے دل میں ڈالے ج ٣ ص ٢٠٩، ٢١٠) میں لکھتے ہیں ۔ ” یہ وہ حدیث ہے جس کو ضعیف سمجھ کر بمجرد اٹھتے ہی امام محمد اسماعیل

یہ بات ایسی کہی کہ جس سے صاف کیونکہ معلوم ہوا کہ انہوں نے اس حدیث تو ممکن ہے کہ یہ حدیث ان کو نہ پہنچی ہو۔ چنانچہ ضعیف و صحیح سمجھنا کیسا۔ دوسرے محض طمع میں نہ دا جانتے ہوں۔ ورنہ ثابت کرو کہ انہوں نے کہا کہ م ضعیف ہیں۔ بلکہ ان سے تو یہ منقول ہے کہ میں بسبب خوف طول کے داخل نہیں کیا۔ چنانچہ سہارنپوری میں بھی موجود ہے۔ وروى عنہ (اى عو قال ما ادخلت فى كتاب الجامع الام الطول“ پھر اگر اس اختلاف کی طرف رجوع ک ہے تو اس کی بھی تحقیق ان شاء اللہ ہم کسی موقع پر لکھ

اور پھر طرفہ یہ کہ چونکہ بیچارے اس رکھتے کہ امام بخاری کا نام کیا ہے۔ بسبب نادا اسماعیل رکھ دیا۔ حالانکہ ان کا نام صرف محمد ہے کاتب کی غلطی کا بھی گمان نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس حضرت اسماعیل بخاری کا یہی مذہب تھا۔“

اور اسی صفحہ کے سطر ٢ میں لکھا کہ: ”امام

صفحہ ٣٠٥

کر کے اپنا کام کرے گا۔ اس کے بعد مسیح بن مریم نزول فرماویں گے۔ (چنانچہ یہ بات ہم اوپر ثابت کرچکے) تو پھر تمہارے مسیح کیوں دجال سے پہلے خروج کر کے مسیحیت کا دم بھرنے لگے۔ یہ عجب بات ہے۔ اب ہم کو معلوم ہو گیا کہ بے شک یہ مثیل مسیح ہیں۔ یہاں پر مجھ کو یاد آیا کہ ان کے گرو مرزا قادیانی نے اپنی عادت کے موافق صحیح مسلم کے اس حدیث طویل کو جو نواس بن سمعان سے مروی ہے اور ان کے مسیح موعود ہونے کو جڑ سے اکھیڑ دیتی ہے۔ ضعیف کرنا شروع کیا اور حکمت عملی سے اس کا ضعف لوگوں کے دل میں ڈالنے لگے۔ چنانچہ (ازالہ اوہام حصہ اول ص ٢٢٠، خزائن ج ٣ ص ٢٠٩، ٢١٠) میں لکھتے ہیں: ”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔ جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔“

یہ بات ایسی کہی کہ جس سے ساری رونق عیسائیہ اور زینت مسیحیہ کی جاتی رہی۔ بھلا یہ کیونکر معلوم ہوا کہ انہوں نے اس حدیث کو ضعیف سمجھا۔ اس سے کہتے ہو کہ اپنی صحیح میں نہیں لائے تو ممکن ہے کہ یہ حدیث ان کو نہ پہنچی ہو۔ چنانچہ یہ بات اہل علم وواقف فن حدیث پر مخفی نہیں۔ پس ضعیف وصحیح سمجھنا کیسا۔ دوسرے محض صحیح میں نہ داخل کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس کو ضعیف جانتے ہوں۔ ورنہ ثابت کرو کہ انہوں نے کہا کہ جو احادیث میں نے اس صحیح میں داخل نہیں کیں وہ ضعیف ہیں۔ بلکہ ان سے تو یہ منقول ہے کہ میں نے بہت سی احادیث صحیحہ کو چھوڑ دیا اور اس صحیح میں بسبب خوف طول کے داخل نہیں کیا۔ چنانچہ مقدمہ صحیح بخاری مؤلفہ مولوی احمد علی صاحب سہارنپوری میں بھی موجود ہے۔ مروی عنہ ”(ای عن الامام محمد بن اسماعيل البخارى) قال ما ادخلت في كتاب الجامع الا ما صح وتركت كثيراً من الصحاح لحال الطول“ پھر اگر اس اختلاف کی طرف رجوع کیا جاوے جو درمیان امام بخاری اور امام مسلم کے ہے تو اس کی بھی تحقیق ان شاء اللہ ہم کسی موقع پر لکھیں گے۔

اور پھر طرفہ تر یہ کہ چونکہ بیچارے اس فن سے بے بہرہ اور ناآشنا ہیں تو یہ بھی خبر نہیں رکھتے کہ امام بخاری کا نام کیا ہے۔ بسبب نادانی کے رواج وقت پر قیاس کر کے ان کا نام محمد اسماعیل رکھ دیا۔ حالانکہ ان کا نام صرف محمد ہے اور اسماعیل ان کے باپ کا نام ہے۔ اس میں کاتب کی غلطی کا بھی گمان نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اسی کتاب میں ص ٩٦ سطر ٥ میں لکھتے ہیں: ”دراصل حضرت اسماعیل بخاری کا یہی مذہب تھا۔“

اور اسی صفحہ کے سطر ٢ میں لکھا کہ: ”امام محمد اسماعیل صاحب جو اپنی صحیح بخاری۔“

٦٧

صفحہ ٣٠٦

اور ص ٤٣ میں لکھا: ”امام محمد اسماعیل صاحب بخاری نے اس بارہ میں اشارہ تک نہیں کیا۔“ اور ص ٥١٨ میں فرمایا: ”یعنی حضرت محمد اسماعیل صاحب صحیح بخاری اور حضرت امام مسلم صاحب صحیح مسلم اپنے صحیفوں ۔“

یہ عبارت اور بھی مضحکہ صبیان ہے اور ان کی لیاقت کی دلیل اور پھر اسی کتاب میں نہیں۔ بلکہ اپنے پہلے رسائل میں ایسے لکھ چکے ہیں اور عجب ہے کہ کسی چیلے نے ان کو اس سے آگاہ بھی نہیں کیا۔ شاید اس میں بھی کچھ سوچ رکھا ہوگا۔

قولہ ...... اوّل تو تعدد دجاجلہ کی نسبت احادیث صحیحہ صریحہ بہت وارد ہیں۔ کسی میں تعداد ان کی ثلاثین اور کسی میں قریباً من ثلاثین ۔

اقول ...... مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے جو دجال کا ذکر کیا تو یہ وہی دجال ہے۔ جس کے بارہ میں حدیث میں الدجال کا لفظ وارد ہے۔ جس کے بارہ میں تمہارے مسیح اشتہار دے چکے ہیں کہ جہاں کہیں بخاری مسلم میں الدجال کا لفظ وارد ہے۔ اس سے دجال معہود ہی مراد ہے۔ کوئی دوسرا دجال مراد نہیں۔ پھر تمہارا اس کے مقابلہ میں ان دجاجلہ کو ذکر کرنا بڑی خوش فہمی اور اپنے مسیح کی مذہب دانی کی دلیل ہے۔ یہی یاد رہ گیا۔ سب بھول گئے ۔ ”حفظت شيئا وغابت عنك اشياء “ دوسرے ہم کو ان دجاجلہ کی بحث سے کچھ غرض نہیں۔ ہم کو تو دجال اکبر کی بحث مقصود ہے۔ جو قبل نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے خروج کر کے فساد مچائے گا۔ وہ کہاں گیا یہ تمہارے مسیح نے کیوں پہلے سے خروج کر دیا۔

قولہ ...... آگے رہا دجال اکبر سو اس کے بارہ میں خود صحیح مسلم وغیرہ میں اس قدر اختلاف ہے کہ تلفیق و توفیق نہایت دشوار ہے۔ اب آپ کہیں کہ ان روایات مختلفہ کے آپ کیونکر توفیق وتطبیق کریں گے۔ اگر قاعدہ ”اذا تعارضا تساقطا “ کا مدنظر رہے گا۔ تو احمال و ترک احادیث کثیرہ کا لازم آوے گا اور اگر کوئی وجہ جامع ایسی پیدا کی جاوے گی جو سب پر اعمال ہو جاوے اور احمال لازم نہ آوے تو وہی مسلک مرزا قادیانی کا اختیار کرنا پڑے گا۔ الی آخر القول!

اقول ...... تطبیق و توفیق اللہ کے فضل سے کچھ بھی مشکل نہیں۔ دیکھو شراح حدیث نے کیسی خوبی کے ساتھ تلفیق وتوفیق دے دی ہے اور آپ نے خود بھی شیخ عبدالحق مترجم مشکوٰۃ سے نقل کر دی تو پھر کیسی جامع نقل آئے اور تمہارے پیر جی کا مسلک کدھر گیا۔ اس سے تو ان کا مسلک باطل ہوا نہ ثابت۔ پھر اختیار کرنا کیسا ۔فافہم واتعظ!

٦٨

صفحہ ٣٠٧

قولہ...... ”ای قول الغزنوی“ اور دونوں آنکھوں کے درمیان ”ک ف ر“ یعنی کفر لکھا ہوا ہوگا۔ اقول...... ”ای قول المرزائی“ اس باب میں بھی احادیث صحیحہ مختلف ہیں۔ بعض میں تو وہی ہے جو گزرا اور بعض میں ان سب روایتوں کی تطبیق کی وجہ یہی ہے کہ اس کی پیشانی تقدیر میں کفر ازلی لکھا ہوگا۔ جو دور نہ ہوسکے گا۔ جس کو مؤمن اپنی فراست صادقہ سے پہچانے گا۔ الیٰ آخر القول!

اقول...... نص شرعی بین الدلالۃ کو ظاہر معنی سے کیوں پھیرا جاتا ہے۔ کیا اس کو تحریف نہیں کہیں گے اور اس بات کا تو صاحب رسالہ نے خود بھی آگے چل کر اقرار کیا کہ یہ معنی جو صفات دجال میں لکھے گئے حقیقی نہیں تو پھر بلاوجہ یہ مجازات کیوں اختیار کئے جاتے ہیں۔ میں الفاظ روایات کو نقل کرتا ہوں۔ جن سے منصف پر خوب واضح ہو جائے گا کہ یہ معنی کرنا صاحب رسالہ کا بالکل غیر صحیح ہے۔ صحیح بخاری میں ہے۔ ”و ان بین عینیہ مکتوب کافر“

اور صحیح مسلم میں اس طرح ہے۔ ”الدجال مکتوب بین عینیہ ک ف ر ای کافر“ اور ایک روایت میں یوں ہے۔ ”مکتوب بین عینیہ کافر ثم تھجاھا ک ف ر یقراہ کل مسلم“ اور ترمذی کی روایت میں ہے: ”یقراہ کل من کرہ عملہ“ اور احمد کی روایت میں ہے: ”یقرأہ الامی والکاتب“

اور ابن ماجہ کی روایت میں اس طرح ہے۔ ”یقرأہ کل مؤمن کاتب وغیر کاتب“ اور احمد کی دوسری روایت میں ہے۔ ”مکتوب بین عینیہ کافر مھجاۃ“ غور کا مقام ہے کہ ان الفاظ روایت سے وہ معنی مفہوم ہوتے ہیں۔ جو صاحب رسالہ نے لکھے یا کتابت وقرأۃ حقیقی علامہ نووی نے کہا۔ ”الصحیح الذی علیہ المحققون ان ہذہ الکتابۃ علی ظاہرھا وانھا کتابۃ حقیقۃ جعلھا اللہ علامۃ من جملۃ العلامات القاطعۃ بکذب الدجال فیظھر المؤمن علیھا ویخفیھا علی من اراد شقاوتہ“

اور حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں لکھتے ہیں۔ ”وقولہ یقرأہ کل مؤمن کاتب وغیر کاتب اخبار بالحقیقۃ وذلک ان الادراک فی البصر یخلقہ اللہ للعبد کیف شاء ومتی شاء فھذا یراہ المؤمن بعین بصرہ وان کان لا یعرف الکتابۃ ولا یراہ الکافر ولو کان یعرف الکتابۃ لان ذلک الزمان تنخرق فیہ العادات فی ذلک“

اور لکھتے ہیں۔ ”ولا یلزم من قولہ یقرأہ کل مؤمن کاتب وغیر کاتب ان

٦٩

صفحہ ٣٠٨

لا تكون الكتابة حقيقة " اور یہ جو امثلہ دیئے گئے ہیں۔ تو ان میں اور مثل لہ میں بڑا فرق ہے۔ عاقل پر مخفی نہیں۔ تفصیل بخوف طویل چھوڑ دی گئی۔ قولہ ...... ”اے الغزنوی“ اس کے ساتھ دوزخ اور بہشت ہوگی۔ اقول...... (المرقاة في اصح الكتب بعد كتاب الله) میں تو یوں لکھا ہے۔ ”فيجئ معه بتمثال الجنة والنار“ اور دوسرے نسخہ میں ”بمثال الجنة والنار “ اگر باقی روایات کو روایات بخاری پر محمول کرتے ہو تو فیہا آپ کو کچھ مفید نہیں اور مرزا قادیانی کو کچھ مضر نہیں اور اگر صحیح بخاری کی روایت کو تسلیم نہیں کرتے تو ان روایات مختلفہ میں وجہ توفیق کیا ہوگی۔ بینوا توجروا! کسی روایت میں تو ہے کہ اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہوگی اور کسی روایت میں ہے۔ ”یجئ معه بمثل الجنة والنار“ اقول ...... بتوفیق اللہ تعالی تعجب ہے کہ تمثال کی صورت میں مرزا قادیانی کے کیوں نہیں مضر ہے۔ یہ تو حال ہے اس دجال کا جو عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے پہلے خروج کر کے پھرے گا تو ہم نے فرض کیا کہ مثال ہی جنت و نار کی مراد ہے تو وہ کون ہے جو مثال جنت و نار کی لے کر پھرا۔ جس کے قتل کرنے کو تمہارے پیر جی آئے۔ اب وجہ تطبیق و توفیق سنو۔ فاقول بتوفیق اللہ تعالیٰ دجال کے ساتھ جنت و نار بذات خود ہوں گے۔ کوئی ان کی خیالی صورت یا محض مثالی حالت مراد نہیں۔ چنانچہ تصریحات نبویہ بہ تصریح اس کو بتاتی ہیں۔ دیکھو صحیح مسلم میں ہے۔ ”معه جنته وناره فناره جنة وجنته نار“ اور صحیح بخاری کے باب ما ذکر عن بنی اسرائیل میں ہے۔ ”ان مع الدجال اذا خرج ماء ونار فاما التى يرى الناس انها النار فماء بارد واما التى يرى الناس انه ماء بارد فنار تحرق فمن ادرك منكم فليقع في الذي يرى انها نار فانه عذب بارد“ اور صحیح بخاری کی کتاب الفتن میں ہے۔ ”ان معه ماء وناراً فناره ماء بارد وماء ه نار “ اور احمد اور طبرانی کی روایت میں اس طرح وارد ہے۔ ”معه واديان احدهما جنة والآخر نار فناره جنة وجنته نار “ اور ابن ماجہ کی روایت میں یوں ہے۔ ”وان من فتنته ان معه جنة وناراً فناره جنة وجنته نار فمن ابتلى بناره فليستغث بالله وليقرا فواتح الكهف فتكون عليه بردا وسلاما كما كانت النار على ابراهيم“ ٧٠

٣٠٩ ان روایات سے یہ بات کھل گئی کہ دجا بخاری کی کتاب الانبیاء میں ہے۔ ”وانه يجي انها الجنة هي النار“ تو یہ اس وجہ سے فرمایا کہ کافرین کے لئے ہے۔ وہی سے فرمایا

اس دوسری ہوگی اور جو جنت ہے تو وہ مثالی صورت نار کی ہوگی۔ ایسے ہی جو جنت مراد صورت جنت کی ہوگی۔ اس وجہ سے اس کو مثال کے ساتھ نہ ہوگی۔ دلیل اس پر یہ ہے کہ اسی حدیث يقول انها الجنة هى النار “ تو دیکھو اس طرح عکس کو خیال کرلو۔ دوسری دلیل اس پر یہ وجنت فرمایا۔ پھر اس میں بغیر اس معنی کے قر مسلم کی روایت میں صاف ہے۔ ”قال الله تعا معه نهر ان يجريان احد هما رأى ا تأجج “ اسی کے مؤید اور بھی الفاظ روایت آئے یہی ہیں کہ اس کے ساتھ واقعی نار وجنت ہوگی کتاب اللہ ہی میں متعد د جگہ خود نار و ماء کے لفظ مو قولہ ...... اور پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس اپنے وقت پر ایسا ہی دجال پیدا ہو جاوے۔ پائی جائیں۔ ٧١

صفحہ ٣٠٩

ان روایات سے یہ بات کھل گئی کہ دجال کے ساتھ واقعی جنت و نار ہو گی اور یہ جو صحیح بخاری کی کتاب الانبیاء میں ہے۔ ”وانه يجئ معه بمثال الجنة والنار فالتى يقول انها الجنة هى النار“ تو یہ اس وجہ سے فرمایا کہ یہ جنت و نار کہ دجال کے ساتھ ہوگی یہ وہ جنت و نار جو موعود مومنین و کافرین کے لئے ہے۔ وہی خاص نہ ہوگی۔ بلکہ یہ اس معہود کی ایک مثال ہوگی۔ اسی واسطے جہاں پر مثال کے لفظ سے فرمایا تو جنت و نار کو الف لام عہدی کے ساتھ فرمایا اور جہاں پر بغیر لفظ مثال کے وارد ہوا تو بغیر الف ولام کے ہے۔ بلکہ اس میں بعض جگہ اس کی طرف نسبت کی یعنی جنۃ و نارہ کر کے فرمایا کہ یہ جنت و نار کہ اس کے ساتھ ہوں گے۔ یہ اسی کے ہیں یہ وہ موعود نہیں ما حصل سب روایات کا یہ ہوا کہ اس کے ساتھ جنت و نار ہو گی۔ کہ مثل ہو گی۔ اس جنت و نار موعود کے نہ وہی خاص فاتفقت الروایات ۔

دوسری وجہ لفظ تمثال یا مثال فرمانے کی یہ ہے کہ جو نار ہے صورت میں وہ جنت کے ہوگی اور جو جنت ہے تو وہ صورت میں نار کے ہوگی۔ تو جو نار ہوگی وہ واقع میں نار نہ ہوگی ۔ بلکہ ایک مثالی صورت نار کی ہو گی۔ ایسے ہی جو جنت نظر آوے گی۔ وہ واقع میں نار نہ ہو گی۔ بلکہ ایک مثالی صورت جنت کی ہوگی۔ اس وجہ سے اس کو مثال الجنة والنار فرمادیا نہ یہ کہ واقع میں جنت و نار اس کے ساتھ نہ ہوگی۔ دلیل اس پر یہ ہے کہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ”فالتی يقول انها الجنة هى النار“ تو دیکھو اس کو قطعی طور پر آپ نے نار فرمایا۔ نہ یہ کہ مثال اسی طرح عکس کو خیال کر لو۔ دوسری دلیل اس پر یہ ہے کہ دوسرے احادیث صحیحہ میں بکثرت اسی کو نار و جنت فرمایا۔ پھر اس میں بغیر اس معنی کے لئے لازم آوے گا۔ ابطال بہت احادیث کا۔ تیسرے مسلم کی روایت میں صاف ہے۔ ”قال رسول الله ﷺ لانا اعلم بما مع الدجال منه معه نهران يجريان احدهما رأى العين ماء ابيض والآخر رأى العين نار تأجج“ اس کے مؤید اور بھی الفاظ روایت آئے ہیں تو معلوم ہو گیا کہ ان احادیث کے اصل معنی یہی ہیں کہ اس کے ساتھ واقعی نار وجنت ہو گی نہ کوئی محض تصویر یا مثالی حالت اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہی میں متعدد جگہ خود نار و ماء کے لفظ موجود ہیں۔ پھر کیوں نہیں تسلیم کرتے ۔ قوله ...... اور پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس میں کیا استحالہ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر آسان ہے کہ اپنے وقت پر ایسا ہی دجال پیدا ہو جاوے۔ جس میں یہ سارے صفات بطور حقیقت کے بھی پائی جائیں۔

٧١

صفحہ ٣١٠

اقول ...... بڑی جائے تعجب ہے۔ یہ حال تو اس دجال کا ہے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے پہلے نکلے گا اور تمہارے مسیح پہلے ہی نکل پڑے۔ پھر اب اس کے کیا معنی کہ اپنے وقت پر ایسا دجال پیدا ہو جاوے۔ یہ وقت جو گزرا کیا اب پھر عود کرے گا۔ آپ کے مسیح کے لئے سبحان اللہ کیا کہئے۔ تمہارے مسیح یہاں پر چوک گئے۔ اگر کسی فریب سے پہلے آپ گم ہو کر دجال کا کام لے لیتے پھر آپ بھی تشریف لے آتے تو شاید کچھ بات بنانے کو جگہ مل جاتی۔ مگر حق تو پھر بھی نہیں چھپتا۔

تنبیہ

اس قول صاحب رسالہ میں اعتراف ہے۔ اس بات کا کہ یہ معانی جو صفات دجال میں کئے یہ مجازی تاویلات تھیں۔ نہ حقیقی معانی تو میں کہتا ہوں کیا وجہ ہے کہ معنی حقیقی چھوڑ کر معنی مجازی لئے گئے۔ کیا اس کو تحریف نہیں کہتے۔ کیا تمہارے پیر جی نے صرف نصوص ظاہر سے منع نہیں کیا۔ دیکھو ازالۃ اوہام کو یہ کلمہ حق انہیں پر حجت تمام کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کے منہ سے نکلوا دیا۔

قول ...... اور مرزا قادیانی نے جو معنی دجال کے لکھے ہیں۔ اس کے مصداق وہی ہیں جو زمانہ حال میں پیشہ دجل رکھتے ہیں اور ان کی کثرت احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہے۔ کما مر!

اقول ...... ان دجاجلہ کی بحث سے کیا غرض ہے وہ دجال کیا ہوا جس کو تمہارے گرو جی مارنے آئے ہیں۔ اصل تو یہ ہے کہ اگر دجال کو مارنے کو آئے ہوں تو بتائیں جو اسی کا راستہ صاف کرنے کو آئے وہ کیا بنائے۔ البتہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پائیں تو ان کے ساتھ جو کر سکیں کریں۔ کیونکہ وہ ان کے مقصد اصلی اور مراد دلی سفلیہ میں خلل انداز ٹھہریں گے اور زبانی تو اب بھی نہ چھوڑا اور اس زمانہ کے دجل پیشوں کو ان دجاجلہ کا جو حدیث میں وارد ہیں۔ مصداق بنانا نادانی کی بات معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ جب مسیح آگئے اور دجال مسیح سے پہلے خروج کرے گا اور یہ دجال اخیر ہوگا۔ ان سب دجاجلہ کا پھر اب بموجب تمہارے عقیدہ کے کہاں ان دجاجلہ کا وقت رہا۔ کیونکہ وہ دجاجلہ تو دجال اکبر سے پہلے ہوں گے۔ چنانچہ حدیث میں ہے۔ ”ولا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم الاعور الدجال اخرجه احمد والطبرى واصله عند الترمذي وصححه كمافى الفتح “ یعنی قیامت سے پہلے تیس دجال جھوٹے نکلیں گے۔ ان کے اخیر میں وہ دجال اعور نکلے گا۔ پس جب کہ بموجب عقیدہ صاحب رسالہ کے اس دجال اعور کا بھی زمانہ ہو گیا تو اب ان دجاجلہ کا اس وقت میں ہونا اور اس وقت کے دجل پیشوں کو ان دجاجلہ کا مصداق بنانے کے کیا معنی۔ واللہ اعلم!

٧٢

١١

قوله ...... ”قول الغزنوی“ اور زمین پر چالیس اور دوسرا دن ایک مہینہ کے برابر اور تیسرا ہفتہ کے بر اقول ...... (قول مؤلف الاعلام) اس باب ہے جو گزرا اور دوسری روایت بروایت صحیح مسلم یہا اربعين لا ادرى اربعين يوما او اربعین شرح السنہ کی جو مشکوٰۃ شریف میں موجود ہے۔ ” شراح حدیث نے تطبیق اس کی یوں لکھی ہے کہ مرا فساد ڈالنے کے اور اس سے مطلق ٹھہرنا یا باعتبار ط ہوگا اور باعتبار جلدی گزر جانے کے کم ہوگا۔ حتیٰ ک ان روایات میں کیونکر تطبیق کر سکتے ہیں۔

اقول ...... معنی حدیث کے وہی ہیں جو لفظ حد استعارہ اور مجاز چنانچہ ظاہر لفظ حدیث کے بتاتے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے دجال کے وقت کے ”یا رسول الله کیف نصلے فی تلک الا كما نقدر ونها فی هذه الايام الطوال “ پر انکار نہ فرمایا کہ یہ مطلب نہیں کہ مقدار دن کی ہو۔ بلکہ ارشاد فرمایا کہ جیسا ان بڑے دنوں میں میں اس سے اظہر من الشمس ظاہر ہو گیا کہ اس میں نہیں۔ پھر دیکھو سنن ابن ماجہ میں ہے کہ رسول ”و آخر ایامه كالشررة يصبح احدكم حتی یمسی “ اس سے کالشمس فی نصف النہا بڑھنے کے کوئی دوسرے معنی مراد نہیں۔ کما لا یخ جس میں عدم علم تعین ہے۔ وہ معارض اس حدیث غیر علم علم کے معارض نہیں۔ علم عدم علم پر حجت ہے مقابلہ اس کا حدیث مسلم کے ساتھ اور تساوی ظا جب اس کو حدیث مسلم کے ساتھ مساواۃ ومقابلہ ب

٣

صفحہ ٣١١

قولہ......”قول الغزنوی“ اور زمین پر چالیس دن ٹھہرے گا۔ پہلا دن برس دن کے برابر ہوگا اور دوسرا دن ایک مہینہ کے برابر اور تیسرا ہفتہ کے برابر اور باقی ایام مثل ان دنوں کے ہوں گے۔

اقول...... (قول مؤلف الاعلام) اس باب میں بھی احادیث صحیحہ مختلف ہیں۔ بعض میں تو وہ ہے جو گزرا اور دوسری روایت بروایت صحیح مسلم یہ ہے۔ ”یخرج الدجال فی امتی فیمکث اربعین لا ادری اربعین یوما او اربعین شهرا او اربعین عاما“ اور تیسری روایت شرح السنۃ کی جو مشکوٰۃ شریف میں موجود ہے۔ ”عن اسماء بنت یزید بن السکن۔ الخ!“ شراح حدیث نے تطبیق اس کی یوں لکھی ہے کہ مراد اول سے ٹھہرنا اس کا ہے۔ ساتھ فتنہ اور خلل اور فساد ڈالنے کے اور اس سے مطلق ٹھہرنا یا باعتبار شدت کے ایک دن مانند ایک برس کے دراز معلوم ہوگا اور باعتبار جلدی گزر جانے کے کم ہوگا۔ حتیٰ کہ ایک دن مانند ایک ساعت کے ہوگا۔ مگر آپ ان روایات میں کیونکر تطبیق کر سکتے ہیں۔

اقول...... معنی حدیث کے وہی ہیں جو لفظ حدیث کہتے ہیں کہ بڑا ہونا دنوں کا مراد ہے نہ کوئی استعارہ اور مجاز چنانچہ ظاہر لفظ حدیث کے بتاتے ہیں۔ اسی کا مؤید ہے۔ جو سنن ابن ماجہ میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے دجال کے وقت کے ایام کا چھوٹا ہونا بیان فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا۔ ”یا رسول اللہ کیف نصلی فی تلک الایام القصار قال تقدرون فیھا الصلوۃ کما تقدرونھا فی ھذہ الایام الطوال“ تو دیکھو جی صاحب نے ایام قصار کی نماز کا پوچھنے پر انکار نہ فرمایا کہ یہ مطلب نہیں کہ مقدار دن کی چھوٹی بڑی ہو جاوے گی۔ تم کیوں نماز کا پوچھتے ہو۔ بلکہ ارشاد فرمایا کہ جیسا ان بڑے دنوں میں حساب کرنا پڑے گا۔ ایسے ہی ان چھوٹے دنوں میں اس سے اظہر من الشمس ظاہر ہو گیا کہ اس میں کوئی دوسرے معنی دنوں کے بڑھنے گھٹنے کی مراد نہیں۔ پھر دیکھو سنن ابن ماجہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایام قصار کے باب میں فرمایا۔ ”وآخر ایامہ کالشررۃ یصبح احدکم علی باب المدینۃ فلا یبلغ بابھا الآخر حتی یمسی“ اس سے کالشمس فی نصف النہار کھل گیا کہ طول وقصر سے مراد سوائے مقدار گھٹنے بڑھنے کے کوئی دوسرے معنی مراد نہیں۔ کما لا یخفی ! اب تطبیق روایات کی سنو کہ مسلم کی حدیث جس میں عدم علم تعیین ہے۔ وہ معارض اس حدیث کی جس میں تعیین ایام کی کر دی نہیں ہو سکتی کیونکہ غیر علم علم کے معارض نہیں۔ علم عدم علم پر حجت ہے۔ کما ھو ظاہر، رہی حدیث شرح السنۃ کی تو پہلے مقابلہ اس کا حدیث مسلم کے ساتھ اور تساوی ثابت کرتے کہ تعارض متحقق ہوتا۔ پھر تطبیق پوچھتے جب اس کو حدیث مسلم کے ساتھ مساواۃ ومقابلہ ہی نہیں۔ پھر تطبیق کی کیا ضرورت ہے۔

٧٣

صفحہ ٣١٣

دوسرے یہ دجال کے وقت میں جیسے اور خوارق ہوں گے ایسے ہی یہ بھی ہو گا کہ کبھی دن طویل ہو جاویں گے اور کبھی قصیر اور کبھی مثل ان ایام کے۔ چنانچہ روایت ابن ماجہ کی بتصریح اس کو بتاتی ہے۔ ”تقدرون فيها الصلوٰة كما تقدرون فى هذه الايام الطوال“ یعنی جیسے ایام طوال میں اندازہ کرنا پڑے گا۔ ایسے ہی ایام قصار میں بھی کرنا ہو گا تو معلوم ہوا کہ اس کے وقت میں یہ دونوں قسم کے دن ہوں گے۔ پس کچھ تعارض نہ رہا۔ واللہ اعلم!

قولہ ...... بہر حال جواب مخبر صادق ﷺ کا در جواب سوال صحابہ کرام کے ”اتكفينا فيه صلوٰة يوم قال لا اقدروا له قدره“ کیسا مطابق واقع ہوا۔ یعنی جب صحابہ کرام نے عرض کیا کہ جب ایک دن برابر ایک برس کے ہو گا تو اس میں نماز ایک دن کی کافی نہ ہوگی۔ تب آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ”لا“ یعنی یہ بات نہیں کہ تم سمجھے ہو کہ دن کی مقدار بڑھ جائے گی۔ الخ!

اقول ...... یہاں پر تو اپنے پیر جی سے بھی بڑھ گئے۔ وہ تو بیچارے یہاں پر سیدھے طور پر ترجمہ کر گئے۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٢١٥ و خزائن ج ٣ ص ٢٠٧) میں۔ ”ہم نے عرض کیا کہ ان لمبے دنوں میں ایک دن کی نماز پڑھنا کافی ہوگا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نماز کے وقتوں کی مقدار پر اندازہ کر لینا۔“

پھر لکھتے ہیں کہ: ”آنحضرت ﷺ نے بلحاظ وسعت قدرت الہی کے کشفی امر کو مطابق سوال سائل کے ظاہر پر محمول کر کے جواب دیا۔“ میں کہتا ہوں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا اگر یہی مطلب ہوتا کہ مقدار دن کی بھی رہے گی تو پھر یہ کیوں فرماتے۔ ”اقدر والـه قـدره“ پھر کیا حاجت قدر کی رہ گئی۔“

اور دوسرے دیکھو ابن ماجہ کی روایت میں ہے۔ ”قلنــا يـــا رسـول الله فذلك اليوم الذى كسنة تكفينا فيه صلوة يوم قال فاقدرواله قدره“ اب یہاں تمہارا مطلب کدھر جائے گا۔ والله اعلم بالصواب!

قولہ ...... اى قول الغزنوی اور زمین پر ایسا تیز چلے گا جیسا بادل کہ جس کے پیچھے ہوا ہو پوری پوری احادیث کے بیان کے واسطے بڑا دفتر چاہئے۔ اقول (المرزائی ) اس میں آپ کو کیا استبعاد ہے۔ ریل گاڑی موجود ہو گئی ہے۔ الخ! چند عرصہ میں تمام دنیا میں پھیل جاوے گی۔

اقول ...... یہ عجب جواب ہے یہ کیفیت تو اس دجال کی ہے جو نزول عیسیٰ علیہ السلام سے خروج کرے گا تو اب ریل کا ہونا یا آئندہ کو پھیلنا آپ کے کیا مفید ہے۔ غایة مافی الباب یہی ریل

٧٤

دجال کے واسطے راحلہ ہو جاوے۔ جب خروج تمہارے مسیح تو دجال سے پہلے ہی ریل پر سوار ہوئے ”وزين لهم والشيطان اعمـ الهم“

قولہ ...... سلف صالحین کا ہے کہ پہلے قرنوں میں جو پیشـ اس وقت گواہان عادل موجود رہتے تھے۔ حضرت نسيئه فازداد الذين كفروا كفر الـ عرفة متفق عليه کوئی شخص مؤید من اللہ ان ہیں۔ ”یا حسرة على العباد

اقول ...... افسوس صد افسوس ہے کہ سچے پیرو میں آتا تھا تو سلف صالح اس پیشین گوئی کا مصداق کے ہو بہو واقع نہ ہو ہرگز اس کو مصداق بنانے کے جائے کام نہ لیتے تھے۔ چنانچہ حضرت خدیجہؓ کا قول ہوئے کو خیال سے اترنے کے بعد دیکھتا ہے تو یـ آدمی کی اس صورت حاصلہ کے ساتھ ہوتی ہے۔ مفہوم ہوتی تھی۔ اس کے موافق جب کوئی واقعہ ہمارے نبی صاحب نے فرمایا۔ مگر اس وقت میں تخلیط باطل اور خلل اندازی کے ہدایت نبوی ﷺ کرنے لگتا ہے تو اس کے بھی لوگ پیرو ہونے لگتے ہو جاتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ یہ تو نصوص نبویہ العباد ماياتيهم من رسول الا كانوا به کہیں قیامت کے دن یہ کہنا نہ پڑے۔ ”یــا ویـلـ اضلنى عن الذكر بعد اذجاء نى وكان ا

قولہ ...... ادھر تو علماء نے مذہب ظاہر پرستی ا

٧٥

صفحہ ٣١٣

دجال کے واسطے راحلہ ہو جاوے۔ جب خروج کرے پھر عیسیٰ علیہ السلام نزول فرماویں۔ مگر تمہارے مسیح تو دجال سے پہلے ہی ریل پر سوار ہونے لگے۔ نعوذ بالله!

"وزين لهم الشيطان اعمالهم فصدهم عن السبيل فهم لا يهتدون"

قولہ ...... افسوس ہے کہ پہلے قرنوں میں جو پیشین گوئی حضرت کی واقع ہوتی تھی۔ سلف صالح اس واقع کو اس کا مصداق قرار دیتے تھے۔ حضرت خدیجہؓ فرماتی ہیں: ”ليكون منه الشئ قد نسيته فاراه فاذكره كما يذكر الرجل وجه الرجل اذا غاب عنه ثم اذا رآه عرفه متفق عليه‘‘ اب یہ حال ہے کہ جو پیشین گوئی مخبر صادق کی ہو بہو واقع ہو جاتی ہے اور کوئی شخص مؤید من اللہ اس کے تصدیق کے درپے ہوتا ہے تو علماء زمن اس کی تکذیب کرتے رہتے ہیں۔ ”یا حسرة على العباد ماياتيهم من رسول الا كانوا به يستهزؤن“

اقول ...... افسوس صد افسوس ہے کہ پہلے قرنوں میں جب کوئی واقعہ پیشین گوئی کے موافق ظہور میں آتا تھا تو سلف صالح اس پیشین گوئی کا مصداق سمجھ لیتے تھے اور جب تک وہ واقعہ فرمان نبوی کے ہو بہو واقع نہ ہو ہرگز اس کو مصداق بنانے کے لئے فرمان نبوی میں تحریف باطل اور تاویل بے جا سے کام نہ لیتے تھے۔ چنانچہ حضرت خدیجہ کا قول اس پر دال ہے کہ جیسے کوئی کسی آدمی پہچانے ہوئے کو خیال سے اترنے کے بعد دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے۔ بسبب پوری موافقت کے کہ اس آدمی کی اس صورت حاصلہ کے ساتھ ہوتی ہے۔ ایسے ہی فرمان نبوی سے کہ ایک صورت و کیفیت مفہوم ہوتی تھی۔ اس کے موافق جب کوئی واقعہ دیکھتے تھے تو جان لیتے تھے کہ یہ وہی ہے جو ہمارے نبی صاحب نے فرمایا۔ مگر اس وقت میں یہ حال ہے کہ اگر کوئی دجال پیشہ تلبیس شیوہ واسطے تخلیط باطل اور خلل اندازی کے ہدایت نبوی میں ان کے تصریحات میں تاویل فاسد وتحریف کرنے لگتا ہے تو اس کے بھی لوگ پیرو ہونے لگتے ہیں۔ بلکہ اس کی تائید میں دل و جان سے حاضر ہو جاتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ یہ تو نصوص نبویہ کے ساتھ استہزاء ہے۔ ”يا حسرة على العباد ماياتيهم من رسول الا كانوا به يستهزؤن“ اس غفور رحیم کے سامنے توبہ کرو۔ کہیں قیامت کے دن یہ کہنا نہ پڑے۔ ”ياويلتى ليتنى لم اتخذ فلانا خليلاً لقد اضلنى عن الذكر بعد اذ جاء نى وكان الشيطان للانسان خذولاً“

قولہ ...... ادھر تو علماء نے مذہب ظاہر پرستی اختیار کر لیا ہے اور ادھر مخالفین اسلام نے اپنی

٧٥

صفحہ ٣١٤

اپنی عقل ناقص کی پرستش، نہ کسی مذہب کے پابند ہیں نہ کسی کتاب کے پیرو مخالفین تو ایسی پیشین گوئیوں کو کیوں تسلیم کرنے لگے۔ لیکن موافقین بھی نہ مانیں گے۔ جب تک کہ ایسا گدھا حقیقی نہ پیدا ہو۔

اقول...... اگر ظاہر پرستی کے معنی سوائے اتباع ظاہر قرآن وحدیث کے کوئی اور مراد رکھے ہیں تو یہ تمہارا افتراء ہے علماء پر ”والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ما اكتسبوا فقد احتملوا بهتاناً واثماً مبينا “ اور اگر ظاہر پرستی سے یہی مراد ہے کہ جو قرآن وحدیث کی نص ظاہر مقتضی ہوتی ہے۔ اس پر عمل و عقیدہ رکھتے ہیں تو بے شک یہ ہمارا عین ایمان اور اسلام کی یہی بات ہے اور جو اس پر طعن کرے اور اس سے منکر ہو وہ خارج عن ربقۃ الاسلام ہے۔ یہ بھی ایک آسمانی نشان ہے کہ تمہاری یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ جو باتیں عین ایمان تھیں۔ ان پر طعن کرنے لگے اور جس پر اسلام کی بناء ہے اس کو برائی سے یاد کرنے لگے۔ تصریحات شرعیہ پر اعتقاد رکھنے کو بیوقوفی ٹھہرایا۔ کیا جو مخالفین اسلام کی صفت بیان کرتے ہو اس کو آپ نے اور آپ کے ہم خیالوں نے اب اختیار نہیں کرلیا۔ کیا اپنی عقل ناقص سے کتاب وسنت کی بات کو نہیں رد کرنے لگے۔ کیا قرآن وحدیث کی تفصیلی باتوں کو محض عقلیات سے مردود نہیں ٹھہراتے کہ وہ عقلیات بھی خلاف عقل ہیں۔ ان کا عقلیات سے نامزد کرنا ٹھیک نہیں۔ بلکہ ان کا نام تو ہوائے شیطانی مناسب ہے کیا تمہارے پیر جی جب مناظرہ میں کسی قاعدہ ادبی یا اصولی سے قائل کئے جاتے ہیں تو یہ نہیں کہہ دیتے کہ ہم اس کو نہیں مانتے۔ کیا یہ قاعدے کچھ گھر کی گھڑنت ہیں۔ پھر نہ کسی مذہب کے پابند، نہ کسی کتاب کے پیرو ہوئے کہ نہیں یہ باتیں جو میں نے لکھیں کچھ جھوٹ نہیں۔ اگر کوئی صاحب اس کا ثبوت مانگیں تو میں انشاء اللہ بحوالہ صفحہ و سطر ان لوگوں کی تحریرات سے دے سکتا ہوں۔

قولہ...... بے شک اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے۔ ”آمَنَّا بِاللّٰهِ اِنَّه عَلیٰ کُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ“

اقول...... تو پھر کیوں تاویلات باردہ وتوجیہات فاسدہ سے نصوص شرعیہ بگاڑتے ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے نبی علیہ السلام کو سچا کرے گا۔

قولہ...... مگر گذارش یہ ہے کہ ایسے کھلے کھلے نشان جب کسی نبی صادق کو بھی نہیں دیئے گئے تو دجال کو جو رسالت کا دعویٰ کاذب کرے گا کیونکر دیئے جائیں گے اور اگر دیئے جاویں تو نعوذ باللہ اس کا گدھا ناقۃ اللہ سے بھی بڑھ گیا اور تخت سلیمان بھی اس کے روبرو ناچیز رہا۔ نعوذ باللہ من ذلك!

٧٦

صفحہ ٣١٥

حالانکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی یہ دعا مقبول ہو چکی ہے۔ ”وهب لی ملکاً لا ینبغی لا حد من بعدی ایھا الناس“ یہ استعارات ہیں جیسے کہ شواہد میں مذکور ہو چکا۔

اقول...... واضح رہے کہ بعض خوارج اور معتزلہ اور جہمّیہ نے دجال کے وجود کا انکار کیا اور بعض ان میں جو دجال کے قائل ہوئے تو کہنے لگے کہ یہ اوصاف اس کے جو احادیث میں بیان ہوئے ہیں یہ خیالی باتیں ہیں۔ حقیقتاً مراد نہیں اور وجہ اس کی یہ بیان کی کہ اگر یہ خوارق واقع میں ہوں تو پھر انبیاء کے معجزات پر کیونکر اعتماد ہو سکتا ہے اور نبوۃ حقہ اور دعویٰ نبوۃ باطلہ میں تمیز کیسی ہوگی تو وہی اعتراض صاحب رسالہ بھی لائے۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی حکمت سے عنوان بدل کر ظاہر کیا جواب اس کا یہ ہے کہ اگر یہ غرض ہے کہ بغیر دعویٰ نبوت کے بھی خوارق عادات منع ہیں تو یہ دعویٰ باطل ہے اور بہ بداہت یہ مقولہ فاسد ہے۔ کیونکہ دیکھو عمل سفلی والے کیا کچھ کر دکھاتے ہیں اور کیسی سچی خبریں ایک لمحہ میں دور دور کی بتا دیتے ہیں۔ یہ نظر بند نہیں۔ نظر بند دوسرے ہوتے ہیں اور جادوگر اور ایسے ہی کفار جو ریاضت کرتے ہیں کیسے کیسے خوارق دکھاتے ہیں کہ معجزات انبیاء سے کم نظر نہیں آتے۔ مگر یہاں دعویٰ نبوت نہیں۔ پس کچھ التباس اور باعث حرج نہیں اور اگر یہ غرض ہے کہ حالت دعویٰ نبوت کاذبہ میں یہ خوارق منع ہیں تو آپ کو اس کا ثبوت دینا چاہئے کہ دجال سے یہ خوارق حالت دعویٰ نبوت میں سرزد ہوں گے۔ تب یہ مدعا ثابت ہوگا۔ المدعیٰ مطالب بالبرہان ہر چند بعض روایت سے کہ جو متکلم فیہا بھی ہیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ پہلے دعویٰ نبوت بھی کرے گا پھر الوہیت مگر یہ کسی میں نہیں پایا گیا کہ یہ خوارق دعویٰ نبوت میں سرزد ہوں گے۔ چند صحاح احادیث سے اس کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے۔ ”انه اعور وان الله لیس باعور “ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے۔ ”الا انه اعور وان ربکم لیس باعور وان بین عینیه مكتوب كافر “ اور بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث میں ہے۔ ”ان الله لا يخفى عليكم ان الله تعالى ليس باعور وان المسيح الدجال اعور عین الیمنی “ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے۔ ”فان التبس عليكم فاعلموا ان ربكم ليس باعور “ غرض یہ کہ فرمادیا اگر اس کے خوارق دیکھ کر دھوکا پڑے تو طریقہ تمیز کا یہ ہے کہ وہ تو آنکھ کا عیب دار ہوگا اور اللہ تعالٰی عیب سے پاک ہے اس سے معلوم ہوا کہ الوہیت کے دعوے میں خوارق دکھلائے گا۔ جس کے واسطے ہمارے نبی صاحب نے تصریح فرمادی کہ اس کے خوارق پر نہ جانا ایک یہ ظاہری عیب اس کی الوہیت کو مانع ہے۔ اگر دعویٰ نبوت میں دکھاتا تو موجب التباس

٧٧

صفحہ ٣١٧

ہو تو نبی الرحمۃ اس کا بھی جواب تعلیم فرما دیتے۔ اسی جواب پر اقتصار سے یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ خوارق اس کے دعوٰی الوہیت میں ظاہر ہوں گے نہ دعوٰی نبوت میں۔ ”كما لا يخفی علی من له فهم سلیم“ اگر اس سے زیادہ تر تفصیل چاہو تو مسلم کی حدیث طویل جو بروایت ابو سعید خدریؓ کے ہے۔ جس میں دجال کے لوگ ایک شخص سے کہیں گے کہ تو ہمارے رب پر ایمان نہیں لاتا اور دجال اسی مسلمان کو چیرے گا۔ دیکھو ابن ماجہ میں ہے۔ ”وان من فتنته ان يقول للاعرابي ارايت ان بعثت لك اباك وامك اتشهد اني ربك “ حاصل یہ کہ یہ روایات قرینہ ہیں۔ اس بات پر کہ یہ خوارق دعوٰی الہٰیہ میں دکھائے گا نہ دعوٰی نبوت میں اور جس کو اس کا دعوٰی ہو کہ دعوٰی نبوت میں دکھائے گا تو اس پر اس کا بار ثبوت ہے اور دعوٰی الوہیت میں یہ خوارق کچھ مضر اور موجب التباس نہیں۔ کیونکہ جب اپنے میں ایسے ظاہر عیوب و نقصان ہیں تو چاہے کتنے خوارق دکھائے اللہ کیسے ہو سکتا ہے جو اپنے کو چنگا نہ کر سکا۔ وہ الہ کیسا؟ پس یہ اعتراض بعض خوارج اور معتزلہ اور جہمہ اور ان کے پیرو صاحب رسالہ (احسن قادیانی) اور ان کے ہم مذہبوں کو بیکار ہو گیا اور یہ جو کہا کہ جب کسی نبی صادق کو نہیں دیئے گئے تو دجال کو کیوں دیئے جاویں گے تو اس پر کوئی دلیل نہ بیان کی۔ اس کے منع پر وہی دلیل تھی جو پہلے ہم دوسرے فرق باطلہ سے نقل کر کے بحمد اللہ جواب شافی دے چکے اور جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا ذکر کیا تو سلیمان علیہ السلام کے ملک سے اور اس سے کیا نسبت ہے۔ ذرا سی بات ہے کہ وہ جہاں چاہتے تھے۔ ہوا ان کو لے کر پہنچتی تھی۔ دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”فسخر ناله الريح تجری بامره رخاء حيث اصاب “ اور مسیح دجال بغیر اس حیلے کہ مکہ مدینہ میں جاوے۔ ہرگز نہ جا سکے گا۔ دیکھو متفق علیہ حدیث میں ہے۔ ”يأتی الدجال وهو محرم عليه ان يدخل نقاب المدينة “ اور دوسری متفق علیہ روایت میں ہے۔ ”یاتی المسيح من قبل المشرق همته المدينة حتى ينزل دبر احد ثم تصرف الملائكة وجهه “ اور بخاری کی روایت میں ہے۔ ”لا يد خل المدينة رعب المسيح الدجال لها يومئذ سبعة ابواب على كل باب ملکان “ اور مسلم کی روایت میں ہے: ” فلا ادع قرية الا اهبطها فی اربعين ليلة غیر مكة وطيبة هما محرمتان علی كلما اردت ان ادخل واحدا منهما استقبلنی ملك بيده السيف صلتا “ پس حضرت سلیمان علیہ السلام سے اور اس سے کیا نسبت ہے۔ دوسرے ان کے شیاطین اور جن سب تابع تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”والشياطين كل بناء ٧٨

وغواص واخرین مقرنين فى الاصفاد “ پھر دیکھو ہے۔ ”هذا عطائنا فامنن اوامسك بغیر حساب “ پھر سلیمان علیہ السلام کی مقبول دعا کا کیا خلاف لازم آیا۔ سبحان اللہ نئی سوجھتی ہیں۔ اچھے اس کے مجدد ہوئے۔

ایھا الناس! یہ بات واضح ہو گئی کہ جس قدر نصوص السنة کے وارد ہیں اور جتنے تصریحات نبویہ مسیح دجال کے باب میں ہیں اور سب سے مراد وہی معنی ہیں کہ جن پر وہ صریحۃ الدلالۃ ہیں کوئی استعارہ نہیں۔ اس میں بلاوجہ مجاز ماننا بالکل تحریف اور موجب التباس ہے جیسا کہ گزر چکا۔ چونکہ ہمارا مقصد اصلی اسی بات کو ثابت کرنا تھا وہ ثابت ہو گئی۔ لہٰذا اب جو آگے تاویل لیلۃ القدر کی (کہ جو قادیانی نے کی ہے) اس میں بحث کر کے رسالہ کو طول دینا مناسب نہ سمجھا۔ علیحدہ رسالہ میں مفصلاً انشاء اللہ بیان کیا جاوے گا۔

بحث و شرائط مباہلہ

قولہ ..... اس شخص کو مسئلہ مباہلہ بھی نہیں معلوم کہ مباہلہ کسے کہتے ہیں اور کیا شرائط اس کے کتاب وسنت میں آئے ہیں۔ لہٰذا واسطے آگاہی مخاطب یہاں لکھی جاتی ہیں۔ ”قال فی الجمل وقع البحث قدس سره جواز المباهله بعد النبی ﷺ المستنبطة من الكتاب والسنة والآثار وكلام الائمة لا تجوز الا فى امر مهم شرعاً وقع فيه اشتباه والمطالبة بالمباهلة فيشترط كونها بعد اقامة الحجة و النصح والانذار وعدم نفع ذلك ومساس الضرورة

قولہ ..... اگر کوئی شخص کہے کہ مرزا قادیانی نے خود مولویوں کو مباہلہ کے لئے رسالہ فتح اسلام میں طلب کیا ہے۔ الخ ! تو جواب اس کا یہ ہے کہ پہلے گفتگو زبانی اور بالمواجہ بمقام علی گڑھ مولوی اسماعیل صاحب کے اعتراض کا جواب شافی دے چکے ہیں۔ معہذا مولوی اسماعیل نے افتراء کیا کہ ان کے یہاں آلات رصد اور نجوم کے موجود ہیں ٧٩

صفحہ ٣١٧

وغواص وآخرین مقرنین فی الاصفاد ”پھر دیکھو ان کے واسطے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ۔”ہذا عطاؤنا فامنن او امسک بغیر حساب“ بھلا دجال کو اس سے کیا نسبت ہے؟ پھر سلیمان علیہ السلام کی مقبول دعا کا کیا خلاف لازم آیا۔ سبحان اللہ! کیسی کیسی باتیں ابطال حق کے لئے سوجھتی ہیں۔ اچھے اس کے مجدد ہوئے۔

ایھا الناس! یہ بات واضح ہوگئی کہ جس قدر نصوص کہ دربارۂ نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وارد ہیں اور جتنے تصریحات نبویہ مسیح دجال کے باب میں آئی ہیں۔ سب اپنی حقیقت پر ہیں اور سب سے مراد وہی معنی ہیں کہ جن پر وہ صریحۃ الدلالۃ اور بین المراد ہیں۔ نہ کوئی مجاز ہے نہ کوئی استعارہ۔ اس میں بلاوجہ مجاز ماننا بالکل تحریف اور موجب الحاد ہے۔ جیسا شواہد میں بالتفصیل گزر چکا۔ چونکہ ہمارا مقصد اصلی اسی بات کو ثابت کرنا تھا تو بہ بحمد اللہ وحسن توفیقہ خوب مفصلاً ثابت ہوگئی۔ لہٰذا اب جو آگے تاویل لیلۃ القدر کی (کہ جو ان کے پیر نے کی ہے) بیان کی اس میں بحث کر کے رسالہ کو طول دینا مناسب نہ سمجھا۔ انہیں کے رسائل کے جواب میں اس میں کلام مفصلاً انشاء اللہ کیا جاوے گا۔

بحث شرائط مباہلہ

قولہ ...... اس شخص کو مسئلہ مباہلہ بھی نہیں معلوم کہ مباہلہ کس وقت میں ہونا چاہئے اور کیا کیا شرائط اس کے کتاب وسنت میں آئے ہیں۔ لہٰذا واسطے آگاہی مسلمانوں کے وہ شرائط تفسیر فتح البیان سے لکھی جاتی ہیں۔”قال فی الجمل وقع البحث عند شیخنا العلامہ الدوانی قدس سرہ جواز المباہلہ بعد النبی ﷺ فکتب رسالہ فی شروطھا المستنبطہ من الکتاب والسنہ وآثار وکلام الائمہ وحاصل کلامہ فیھا انھا لا تجوز الا فی امر مھم شرعاً وقع فیہ اشتباہ وعناد ولا یتیسر رفعہ الا بالمباہلہ فیشترط کونھا بعد اقامہ الحجہ والسعی فی ازالہ الشبہہ وتقدیم النصح والانذار وعدم نفع ذلک ومساس الضرورہ الیھا انتھی“

قولہ ...... اگر کوئی شخص کہے کہ مرزا قادیانی نے خود مولوی اسماعیل صاحب ساکن علی گڑھ کو واسطے مباہلہ کے رسالہ فتح اسلام میں طلب کیا ہے۔ الخ ! تو جواب اس کا یہ ہے کہ مرزا قادیانی سے اوّلاً گفتگو زبانی اور بالمواجہ بمقام علی گڑھ مولوی اسماعیل صاحب سے ہو چکی ہے اور مرزا قادیانی ان کے اعتراض کا جواب شافی دے چکے ہیں۔ معہذا مولوی اسماعیل صاحب نے مرزا قادیانی پر یہ افتراء کیا کہ ان کے یہاں آلات رصد اور نجوم کے موجود ہیں۔ اس کے ذریعہ سے یہ اخبارات

٧٩

صفحہ ٣١٨

بیان کرتے ہیں۔ الخ ! جب مرزا قادیانی نے بعد ایک مدت کے مجبور ہو کر درخواست مباہلہ کی ہے۔ اب تم غور کرو کہ درخواست مرزا قادیانی دربارہ مباہلہ مولوی اسماعیل صاحب سے کیسی مطابق شرائط ہوئے کہ اس میں ایک شرط بھی فوت ہونے نہیں پائی۔ بخلاف درخواست مباہلہ مولوی عبدالحق صاحب کی کہ اس میں ایک شرط مباہلہ بھی نہیں پائی جاتی۔ بلکہ خلاف سنت ہے۔ اسی واسطے مرزا قادیانی بار بار اصرار فرماتے ہیں کہ اولاً ایک جلسہ علماء کا منعقد ہو۔ الخ ! مرزا قادیانی نے یہ اشتہار بھی دیا ہے کہ جب تک تیسرا رسالہ ازالہ اوہام طبع ہو کر شائع نہ ہو لے تب تک کوئی صاحب علم مخالفانہ تحریر نہ کریں۔ واللہ در من قال !

کار مردان روشنی و گرمی است

الیٰ آخر القول!

اقول ...... بحول اللہ تعالیٰ وتوفیقہ ! واضح رہے کہ مرزا قادیانی نے جو جناب مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھی سے درخواست مباہلہ کی تھی تو اسی بات پر کہ انہوں نے بنقل ایک ثقہ کے یہ کہا کہ مرزا قادیانی کے پاس آلات نجوم ہیں وہ ان کے ذریعہ سے کام لیتے ہیں۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی اپنے رسالہ (فتح اسلام ص ٣٨، خزائن ج ٣ ص ٢٤) میں مولوی صاحب موصوف کے اس قول کے جواب میں سید احمد عرب جن کو میں ثقہ جانتا ہوں۔ وہ مجھ سے بلا واسطہ بیان کرتے تھے کہ میں نے دو ماہ تک ان کے پاس (یعنی مرزا قادیانی کے پاس) ان کے معتقدین خاص کے زمرہ میں رہ کر بنظر تجسس و امتحان ہر یک وقت خاص پر حاضر رہ کر جانچا تو معلوم ہوا کہ در حقیقت ان کے پاس آلات نجوم ہیں۔ وہ ان سے کام لیتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ”اقول تعالوا ندع اباء نا وابناء كم ونساء نا ونساء كم وانفسنا وانفسكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله علی الکاذبین “ میرے طرف سے در حقیقت یہی جواب ہے۔

مرزا کے علی گڑھ آنے کی تفصیل

مزید براں واضح رہے کہ چونکہ صاحب رسالہ نے اس جگہ مولوی صاحب موصوف کے ساتھ مرزا قادیانی کی گفتگو اور مغلوب کرنے کا ذکر کیا تو مجھ کو ضرور ہوا کہ پہلے اس کی واقعی کیفیت سے مطلع ہو کر قول صاحب رسالہ پر بحث کروں تو میں نے مولوی اسماعیل صاحب مدظلہ علی گڑھی کو لکھا کہ آپ کے ساتھ جو کچھ گفتگو مرزا قادیانی نے کی ہے۔ واقعی طور پر کل سے مطلع فرماویں تو مولوی صاحب موصوف نے خط کسی دوسرے کے نامزد کر کے بقصد طبع تیار کر کے رکھے تھے۔ میرے خط کے پہنچتے ہی مجھ کو روانہ کر دیے۔ چونکہ وہ بیان بہت طویل ہے۔ کیونکہ سب اوّل

٨٠

صفحہ ٣١٩

سے آخر تک مرزا قادیانی کے علی گڑھ میں آنے کا انہوں نے تفصیل بیان کیا ہے۔ لہٰذا میں اس میں سے کچھ لکھتا ہوں۔ انہیں الفاظ کے ساتھ بعینہ نقل کرتا ہوں۔ کوئی حرف اپنی طرف سے زائد نہ کروں گا اور نیز کسی بیان کو شروع کر کے ناقص نہ کروں گا۔ چونکہ تسوید اس کی غیر کی جانب سے کی ہے۔ لہٰذا ہر جگہ مولوی صاحب موصوف بصیغہ غائب مذکور ہیں تو کیفیت تشریف آوری مرزا قادیانی کی علی گڑھ میں لکھ کر لکھتے ہیں۔ ”مولوی صاحب بھی خبر پا کر فوراً مرزا قادیانی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عجیب شوق و ذوق کے ساتھ مرزا قادیانی سے ملاقات کی مگر مولوی صاحب کی ادراک صحیح نے ہر چند مرزا قادیانی کی زیارت میں مضمون ”اذا اراد ذکر اللّٰہ“ کو تلاش کیا۔ مگر ہرگز اس کا نشان نہ پایا۔ زبان فیض ترجمان کو بھی افادہ فیوض ربانی میں قاصر پایا تو مجبور ہو کر مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کی رونق افروزی اس دیار میں گویا نعمت غیر مترقبہ ہے۔ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ کچھ آپ کے افادات سے مستفید ہوں۔ آپ کسی عام جلسہ میں کچھ مطالب توحید کچھ اسرار رسالت بیان فرمادیں۔ مرزا قادیانی نے اس کو قبول فرمایا اور قریب تھا کہ اس کی بابت منادی عام کی جاوے کہ اسی اثناء میں مرزا قادیانی کا عنایت نامہ مولوی صاحب کے پاس آیا۔ مرزا قادیانی نے اس میں یہ تحریر فرمایا تھا کہ مجھے آج صبح کی نماز میں میرے خدا نے منع کیا ہے کہ میں کچھ بیان کروں۔ مجھ کو اشارہ بمنع کا ہوا ہے۔ اس وقت مولوی صاحب اور تمام مشتاقان فیض و استفادہ کو نہایت صدمہ ہوا۔ اس عرصہ میں جوق جوق مردمان شہر مرزا قادیانی کی خدمت میں حصول برکات کے واسطے حاضر ہوئے۔ مگر جو آیا اس نے کہا کہ مرزا قادیانی نے اہل بدعت سے ان کی حسب تمنا گفتگو کی اور دوسرے جلسہ میں اہل سنت سے ان کی مرضی کے موافق باتیں کیں۔ تیسرے جلسہ میں اہل تشیع کو راضی رکھا۔ چوتھے جلسہ میں کچھ اور ہی فرمایا۔ مولوی صاحب نے اس کو بھی سکوت سے ٹال دیا۔ اس کے بعد یہ مرحلہ پیش آیا کہ مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کی دعوت کی اور جلسہ دعوت میں مرزا قادیانی کے انگریزی الہامات کا کچھ ذکر آ گیا۔ مولوی صاحب نے مرزا قادیانی سے عرض کیا کہ الہام کو بحق ملہم اس وجہ سے حجت سمجھا جاتا ہے کہ ملہم واسطہ کا محتاج نہیں ہوتا اور جب ایسی زبان میں الہام ہو جس کو ملہم نہ جانتا ہو تو لامحالہ ایسی زبان سے مراد الٰہی کے سمجھنے میں ملہم بھی محتاج واسطہ کا ہوگا۔ اس تقدیر پر ملہم اور غیر ملہم دونوں کے حق میں یہ الہام بنظر احتیاج الی الواسطہ برابر ہو جاوے گا اور احتیاج واسطہ میں یہ مشکل محتمل ہے کہ بعض اوقات اگر واسطہ غیر معتبر ہو یا مخالف معاند ہو اور الہام کی مراد کو بالکل خلاف منشاء ربانی سمجھا جاوے تو اس صورت میں بجائے ہدایت کے یہ الہام ٨١

صفحہ ٣٢٠

اسباب ضلالت میں سے ہو جاوے۔ پس اوّل تو پہلے ہی یہ اطمینان نہیں کہ الہام ربانی اور وسوسہ شیطانی میں آسانی سے فرق ممکن ہو اور جب یہ احتمال پیش آگیا اور ملہم خود ہی مراد الٰہی سمجھنے میں معذور ہو گیا تو بالکل ہی یہ الہامات بیکار ہو گئے۔ یہ خلاصہ اس بات کا ہے جو مرزا قادیانی سے جلسہ دعوت میں ہوئے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے غالباً حالت سکر میں یہ فرمایا کہ بعض عوام الناس کو خواب میں دوسری زبان کی دعائیں تلقین کی جاتی ہیں۔ جس کے معنی وہ نہیں جانتے۔ مولوی صاحب اس جواب سے اور بھی زیادہ متحیر ہوئے اور اسی پر کلام ختم کیا اور یہ سمجھا کہ یہ جواب بھی کچھ کم الہام سے نہیں ہے۔ اس کے بعد روز جمعہ واقع ہوا۔ مولوی صاحب نے مرزا قادیانی سے تواضع امامت کی نہیں کی۔ اس کے سبب سے مرزا قادیانی کو سخت پیچ و تاب ہوا اور غالباً اسی غیظ وغضب میں مرزا قادیانی نے نماز ادا فرمائی جو درحقیقت ادا نہیں ہوئی اور جس کو مرزا قادیانی نے خود بھی لکھا ہے کہ ہماری نماز نہیں ہوئی۔ جس کا اصل منشاء یہ تھا جو بیان کیا گیا۔ نماز کے بعد مرزا قادیانی مولوی صاحب کے مکان پر آئے۔ اس وقت اتفاق سے اسی جلسہ میں کنور محمد عبد العلی خان صاحب خلف رئیس چھتاری بھی موجود تھے۔ مرزا قادیانی سے ان کی ملاقات کرائی گئی۔ مگر اس وقت ان کو دیکھ کر مرزا قادیانی کا تغیر احوال قابل دید تھا نہ قابل شنید۔ مرزا قادیانی فوراً پریشان ہو کر مولوی صاحب کو علیحدہ لے گئے اور مضطربانہ فرمایا کہ ان کو مجھ سے بیعت کرا دو۔ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ خود درخواست کرنا اور اس عجلت کے ساتھ کچھ مناسب نہیں ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہ خود مرید ہو جاویں گے۔ مرزا قادیانی نے مولوی صاحب کو خارج مطالب سمجھا اور رخصت ہو گئے۔ مولوی صاحب دوسرے روز کنور محمد عبد العلی خان صاحب کو ہمراہ لے کر مرزا قادیانی کی خدمت میں اس غرض سے حاضر ہوئے کہ اس وقت مرزا قادیانی سے سرسری ملاقات ہوئی تھی۔ اب ملاقات خاص میں کچھ بات چیت تفصیلی ہو گی۔ مگر مرزا قادیانی پھر فوراً رئیس مذکور کو علیحدہ مکان میں لے گئے اور مولوی صاحب سے مخفی ان سے کہا کہ تم کو خدا کا حکم ہے کہ مجھ سے بیعت ہو جاؤ۔ رئیس مذکور نے اس وقت بہ لطائف الحیل اس کو ٹال دیا اور مرزا قادیانی اور رئیس مذکور دونوں باہر آئے۔ مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کے چہرہ پر کچھ آثار تعنت اور رئیس مذکور کے چہرہ پر کچھ آثار تبسم تکذیب آمیز پائے۔ رئیس مذکور نے علیحدہ ہو کر مولوی صاحب سے خفت آمیز ہنسی کے ساتھ کہا کہ مرزا قادیانی تو بیعت ہو جانے کو فرماتے تھے۔ مولوی صاحب کو نہایت ندامت اس وجہ سے ہوئی کہ اہل اللہ کی خفت اسلام کی تفضیح ہے۔ پھر اس کے بعد مولوی صاحب مرزا قادیانی سے نہیں ملے اور وقت رخصت جو چندہ پچاس چالیس روپے کا مرزا قادیانی کے ٨٢

صفحہ ٣٢١

واسطے مسلمانوں کے مولوی تفضل حسین صاحب نے کیا مولوی صاحب شریک نہ ہوئے اور سنئے۔

سمند ناز پر ایک اور تازیانہ ہوا

یعنی ڈاکٹر جمال الدین صاحب جو بشہر علی گڑھ گئے اور مولوی صاحب سے ملاقات کی اور مرزا قادیانی کے حالات دریافت کئے۔ مولوی صاحب نے جو کچھ دیکھا مقتضائے الدین النصیحۃ سے صاف صاف کہہ دیا اور جو سستی نماز اور اتباع سنت میں مشاہدہ کی تھی۔ اس کا ذکر کیا۔ چنانچہ ایک مرتبہ مرزا قادیانی جلسہ میں لوگوں کی طرف متوجہ تھے اور عصر کی نماز فوت ہوا چاہتی تھی کہ ان کے خادم نے کہا نماز تو پڑھ لیجئے وقت جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے فرمایا کہ کیا ابھی نماز نہیں پڑھی۔ اس نے کہا نہیں پڑھی۔ تو مرزا قادیانی نے اٹھ کر بہت تنگ وقت میں نماز ادا کی جو نمونہ نقرۃ الغراب تھی۔ تو کیا یہ بھی رخصت سفر میں داخل تھا۔ غرضیکہ یہ سب باتیں مولوی صاحب نے ڈاکٹر صاحب سے بیان کر دیں اور مرزا قادیانی کے الہامات کا حال مولوی صاحب سے ایک ثقہ شخص مولوی سید احمد عرب نے بیان کیا تھا کہ میں نے دو مہینے قادیان میں رہ کر اس شخص کے مخفی حالات دریافت کئے ہیں۔ یہ شخص رمال اور رمالانہ پیشین گوئیاں بذریعہ آلات نجوم کے نکالا کرتا ہے۔ اسی کا نام الہام رکھ لیا ہے۔ یہ شخص پرہیز کے لائق ہے۔ یہ بھی مولوی صاحب نے ڈاکٹر صاحب سے کہہ دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے واپس ہو کر یہ قصہ اور بندگان الٰہی سے بیان کیا جب مرزا قادیانی کو اس کا پتہ لگا تو مولوی صاحب اول کافر بہ ٹھہرے۔ یہ تفصیل ہے اس قصہ کی جو علی گڑھ میں پیش آیا۔ ”انتهی ما قصدت نقله من خط مرسله مولوی محمد اسماعیل مدظله“ جب یہ ہدیہ ناظرین ہو چکا تو میں کہتا ہوں کہ کہنا صاحب رسالہ (احسن قادیانی) کا کہ درخواست مرزا قادیانی دربارہ مباہلہ مولوی اسماعیل صاحب سے کیسے مطابق شرائط ہوئے کہ اس میں ایک شرط بھی فوت نہ ہوئی۔ بخلاف درخواست مباہلہ عبدالحق صاحب کے کہ اس میں ایک شرط مباہلہ بھی نہیں پائی جاتی۔ بالکل غلط ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ اوّل تو یہ شرائط جو فتح البیان سے نقل کیں۔ ہم لوگ اہل حدیث پر حجت نہیں خود ہی تصریح کر دی ہے کہ کتاب وسنت وآثار واقوال سب ہی لکھے گئے ہیں۔ پھر ہم پر کیا الزام ہے۔ آپ کوئی شرائط کتاب وسنت سے ثابت کر کے مخالف پر جتاتے تو خیر الزام تھا۔ دوسرے بتقدیر تسلیم ہم کہتے ہیں کہ درخواست مباہلہ مرزا کی بالکل ان شرائط کے مخالف ہے اور مولوی عبدالحق کی بالکل موافق، تفصیل اس کی یہ ہے کہ ان شرائط میں کی پہلی شرط یہ ہے۔ ”لا تجوز الا فی امر مہم شرعاً“ تو مرزا قادیانی نے اس بات پر درخواست مباہلہ کی کہ میرے الہامات آلات نجوم کے ذریعہ سے نہیں۔ بھلا یہ

٨٣

صفحہ ٣٢٢

بات کون سی مہمات شرع سے ہے۔ مہمات سے ہونا دوسری بات ہے۔ شرعی ہونا ثابت کرو یہ کون سی مہمات دین سے بات ہے کہ مرزا قادیانی کی یہ کاروائیاں آلات نجوم کے ذریعہ سے نہیں۔ اگر کہو کہ اس سے یہ لازم آوے گا اور وہ لازم آوے گا تو ایسی تو جس بات کو چاہو کیسی چھوٹی ہو کفر تک نوبت پہنچا دو ہاں ایک بات کہو گے کہ ان کو تو مسیح موعود بننا ہے۔ اگر ایسا نہ کریں تو جڑ ہی نہ اکھڑ جاوے تو ہم کہیں گے۔ کیا خوب اصل مطلب پر تو درخواست مباہلہ خلاف ٹھہرائے جاوے اور اس کی لین ڈوری پر موافق وہی رخ ٹھہرا اور درخواست مباہلہ مولوی عبدالحق صاحب کو دیکھو۔ کسی امر مہم شرعی پر ہے کہ جس کے انقلاب سے ایک تختہ دین کا انقلاب ہے۔ اس مسئلہ کا امر مہم شرعی ہونا تو اظہر من الشمس ہے۔ پس واضح ہو گیا کہ درخواست مباہلہ مولوی عبدالحق صاحب کی اس شرط کی خوب موافق ہے اور درخواست مرزا قادیانی کی مخالف ایسے ہی ”وقع فيه اشتباه وعناد“ درخواست مرزا قادیانی میں امر مہم شرعاً ہے ہی نہیں۔ تو پھر اس کی یہ صفت مقید کجا جب مطلق کا عدم ہے تو مقید کا وجود کیسے ہوگا اور مرزا قادیانی کے اس دعوے میں جس پر درخواست مولوی غزنوی نے کی ہے۔ جو کچھ عوام میں اشتباہ وعناد واقع ہوا وہ ظاہر ہے۔ پس اس کے بھی مخالف ہونا مرزا قادیانی کا اور موافق ہونا مولوی عبدالحق غزنوی کا ظاہر ہو گیا اور ان میں کی ایک شرط یہ ہے۔ ”فلا یتیسر رفعہ الا بالمباہلۃ“ تو درخواست مرزا قادیانی کی بالکل اس کے مخالف ہے۔ کیونکہ وہ ایسی بات پر نہیں کہ بغیر مباہلہ کے اس کا رفع نہ ہو سکے۔ دیکھو خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ اسی جگہ جہاں درخواست مباہلہ تحریر ہے اور جب کہ میں ابھی تک زندہ موجود ہوں۔ اس حالت میں مولوی صاحب دو ماہ تک آپ ہی رہ کر دیکھ لیں۔ کسی دوسرے عربی عجمی کے توسط کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تو ایسی بات ہے کہ جس میں چنداں مناظرہ ومباحثہ کی بھی ضرورت نہیں۔ مشاہدات سے ہے دیکھ لینے سے سب عدم وجود کھل سکتا ہے۔ مباہلہ کو اس سے کیا تعلق ہے اور درخواست مولوی عبدالحق صاحب کی ایسے امر میں ہے کہ بلاشبہ اس کا رفع پورے طور پر بغیر مباہلہ کے متصور نہیں۔ کیونکہ جو اللہ قہار و جبار سے ایسے نصوص بین الدلالۃ میں تحریف کرتے نہ ڈرے اور شرم نہ آئے تو مناظرہ مباحثہ کیا اس کو نفع دے گا۔ چنانچہ ابھی عرصہ تقریباً پندرہ بیس روز کا ہوا کہ دہلی میں مناظرہ جو کہ عالم ربانی جناب مولانا مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی سے واقع ہوا۔ بجز گریز کے اور کچھ نہ سوجھا اور مناظرہ کے بیچ سے باوجود پکے عہد و پیمان اور کن کن شرائط کے چل دئیے۔ (جس کی تفصیل مولوی صاحب موصوف خود ہی شائع کرنے والے ہیں) کہ جس سے شان مسیحیت کا تو کیا ذکر ہے۔ شان مومنیہ کو بھی بٹا لگ گیا۔ پھر کیا مناظرہ مفید ہوا اور کون سا اس ٨٤

صفحہ ٣٢٣

سے کام نکلا۔ اگر مباہلہ کرتے تو اب تک فیصلہ ہوچکتا اور عوام و خواص سب پر حق کھل جاتا۔ اس بات کو مولوی عبدالحق صاحب خود بھی اشتہار درخواست مباہلہ ثانی میں لکھتے ہیں۔ جو مطبوعہ ١٧ شعبان ١٣٠٨ھ ہے: ”اور میرا مطلب یہ ہے کہ جھگڑا طے ہو جاوے اور حق باطل سے جدا ہو۔ کیونکہ تحریر کا سلسلہ تو منقطع نہیں ہو سکتا۔ قلم دوات کاغذ روشنائی بہت ہے اور ملک آزادی کا ہے۔ جس کا جو جی چاہے بک سکتا ہے۔ خصوصاً جس کو خدا کا خوف اور آنکھوں میں حیا کی بوند نہ ہو وہ ایک جہاں کو درہم برہم کر سکتا ہے۔“ تو ظاہر ہو گیا کہ درخواست مرزا قادیانی اس شرط کے بھی بالکل مخالف ہے اور درخواست مولوی عبدالحق صاحب کی بالکل موافق اور ان میں سے ایک شرط یہ ہے۔ ”فیشترط کونها بعد اقامة الحجة“ اوّل تو اقامۃ حجۃ مثبت اور مدعی پر ہوا کرتی ہے اور مولوی عبدالحق صاحب نافی ہیں۔ چنانچہ ان کے اشتہار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ درخواست اس پر ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں اور بادی النظر میں مرزا قادیانی بھی اپنی درخواست میں نافی ہیں۔ پس یہ شرط خارج از بحث ہے۔ پس اس سے مولوی عبدالحق صاحب کے اوپر کچھ الزام نہیں۔

دوسرے اگر اقامۃ حجۃ کی یہ معنی ہیں کہ کوئی مجلس مناظرہ کی منعقد کرنا ضرور ہے اور تحریریں جانبین کی سنائی جائیں تو اوّل تو اقامۃ حجۃ کی یہی معنی نہیں۔ دوسرے مرزا قادیانی نے مولوی علی گڑھی صاحب سے جس پر درخواست مباہلہ کی اس میں کب مناظرہ کیا اور وہ جو دو ایک بات ہوئیں۔ (جس کو ہم اوپر مفصلاً لکھ چکے ہیں) تو وہ نفس غیر زبان میں الہام ہونے پر تھیں۔ کچھ آلات نجوم یا خاص مرزا قادیانی کے ملہم ہونے پر بحث نہ تھی۔ ایسے تو مولوی عبدالحق صاحب بھی مرزا قادیانی سے توہین انبیاء کے بارہ میں گفتگو کر چکے تھے۔ چنانچہ ان کے اشتہار ثانی میں مذکور ہے تو مرزا قادیانی اس شرط کے خلاف ہیں۔ پہلے ہی سبقت کر چکے تو پھر مولوی عبدالحق صاحب پر کیا الزام ہے اور اگر اقامۃ حجۃ سے یہ غرض ہے کہ اپنی حجۃ بیان کر دے اور دلیل کو قائم کر دے تو مولوی عبدالحق صاحب نے اپنی حجت حدیث صحیحین اور دیگر حدیث مسلم سے جو صحیح الثبوت قطعی الدلالۃ ہیں ثابت کر دی۔ پس تب بھی ان کے ذمہ کچھ الزام نہ رہا اور شرط فوت نہ ہونے پائی۔

تیسرے مخفی نہیں کہ مرزا قادیانی نے جو درخواست مباہلہ کی کی تھی تو اس سے محض نفی مراد نہ تھی کہ آلات نجوم کے ذریعہ سے کاروائی نہیں۔ بلکہ غرض یہ تھی کہ واقعی الہام ہے کہ آلات نجوم کے ذریعہ سے نہیں اور جو مولوی عبدالحق صاحب نے درخواست مباہلہ کی تو وہ محض نفی اس

٨٥

صفحہ ٣٢٥

بات کی ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں نہ اثبات کسی شے پر کیونکہ اثبات نفس اتیان مسیح کا بھی تو در حقیقت مرزا قادیانی ہی کے ذمہ ہے۔ اس واسطے کہ بغیر اس کے ان کا مقصد دلی اور غرض اصلی ثابت نہیں ہو سکتا۔ پس مولوی عبدالحق صاحب کو تو محض نفی مفید مطلب ہے اور مرزا قادیانی کو مولوی اسماعیل صاحب کے مقابلہ میں محض نفی مضر مطلب اور معدم غرض ٹھرے گی۔ پس ان کو نفی شے مع اثبات شے دیگر کرنا ضرور ہے۔ لہذا مرزا قادیانی پر بار ثبوت ہوا اور اقامۃ حجۃ ضرور پڑی۔ بخلاف مولوی عبدالحق صاحب کے کہ وہ محض نافی ہیں۔ ان پر اقامۃ حجۃ نہیں باوجود اس کے انہوں نے حجت قائم کر دی اور اگر مان بھی لیں کہ مولوی عبدالحق صاحب پر بھی بار ثبوت ہے۔ تب بھی انہوں نے اپنی حجت قائم کر دی اور مرزا قادیانی نے جس کا ان پر بار ثبوت تھا۔ اس پر کوئی حجت قائم نہ کی۔ پس اس شرط کے بھی مرزا مخالف رہے اور مولوی عبدالحق صاحب موافق فافهم فانه عجيب والله اعلم اور ان میں سے یہ بھی ہے۔ ”والسعي في ازالة الشبهة وتقديم النصح والانذار الخ“ اس پر بھی مرزا قادیانی نے عمل نہ کیا اور مولوی عبدالحق صاحب نے کلمات نصائح اور اشعار اور الہامات کے ساتھ بھی طور سے کہہ سنایا کہ پھر بھی اگر نہ مانو تو مباہلہ کے واسطے موجود ہو۔ چنانچہ ان کا اشتہار اس سے پر ہے۔ جس کو منظور ہو دیکھ لے۔

اب ناظرین کو خوب معلوم ہو گیا ہوگا کہ درخواست مرزا قادیانی کی شرائط مسلمہ صاحب رسالہ کے کیسی مخالف ہے اور خلاف سنت اور درخواست مولوی عبدالحق صاحب کی بالکل موافق اور مطابق سنت اور ازالہ اوہام کا تو خالی بہانہ تھا۔ آخر دیکھو جب شائع ہوا تو اس سے کیا ہوا۔ سواء اس کے کہ الحادیات اور زائد شائع ہوئیں۔ ناظرین غور فرماویں کہ اگر مرزا ایسے دعوے میں سچے ہوتے تو ہرگز اعراض نہ کرتے۔ کیونکہ مباہلہ کے برابر نہ کسی تقریر میں نفع متصور ہے نہ تحریر میں مگر گھر ہی کے شیر ہیں۔ میدان میں آویں تو حقیقت کھلے سچ ہے۔

کار مرداں روشنی و گرمی است
کار دوں حیلہ و بے شرمی است

جب تمہارا کام ایسا کچا ہے تو خلق اللہ کو کیوں بہکاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔

ہست آخر یک خدا کارت
نہ کسے یاور و نہ کس یارت

قولہ ...... البتہ گمراہ وہی ہے جو کوئی درخواست مباہلہ خلاف کتاب وسنت کے کرتا ہے اور مسلمانوں کو تیر لعنت کا نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

٨٦

اقول ...... بے شک جیسے آپ کے پیر اور ان کے ہم خیال مباہلہ کر کے مسلمانوں کو تیر لعنت کا نشانہ بنانا چاہا۔ چنانچہ ثابت کر دکھایا۔ واللہ اعلم !

قولہ ...... حسب اشتہار مرزا قادیانی کے کیوں نہیں۔ ایک مسلمانوں کو خلاف کتاب وسنت تیر ملامت ولعنت کا نشانہ بنا

اقول ...... دہلی میں جب جلسہ علما کا منعقد ہوا تو مناظرہ دیئے۔ اپنی شرائط کے موافق کیوں نہ بحث کی نہ مباہلہ پر ما کو کیوں بہکاتے ہو۔ مسلمانوں کو سیدھی راہ سے بھٹکانا شیوہ

قولہ ...... آگے رہی یہ بات کہ صحابہ کرام بھی ان احادیث یوم الثنین ٢٦ / جمادی الاخریٰ ١٣٠٨ھ تک آپ لوگوں یا کا آپ کے ذمہ ہے۔ بہ نقل صحیح تمام صحابہ سے ثابت کیج یہ کہا ہو۔ ینزل بوجود عنصری من السماء اور ثانیاً یہ عرض ہ ماہیت ۔ الخ !

اقول ...... بعون اللہ تعالیٰ حدیث کا مطلب سمجھنا فرع ہ صحابہ سے اس حدیث کا یہی مطلب جو اہل سنت والجما نہیں۔ بلکہ بروقت مطالبہ کے انہیں سے ثابت کر دینا کافی کا ثبوت ہے تو مخفی نہیں کہ جو مطلب ایسا ہے کہ جس پر دوسرے معنی صحیح کا نہیں۔ پھر اہل زبان کی طرف بغیر ان ہے کہ وہ ایسے صریح معنی کو چھوڑ کر ایسا مطلب سمجھے ہ لفظوں سے اس مطلب کو نکال نہیں سکتا اور کوئی اہل علم قو اس مطلب کو ان الفاظ کے ساتھ چسپیدہ نہیں کر سکتا۔ اگر صحابہ دیکھ کر تسکین حاصل کرلو۔ چنانچہ انہیں آثار میں ہ اور ابن مسعود کے آثار کی طرف شوکانی نے بھی اشارہ صحابہ اور تابعین سے آثار نقل کئے ہیں اور بعضوں کے ابن عباسؓ اور ابو ہریرہؓ اور قتادہ اور عبدالرحمن بن زید بن ذکر کیا۔ ”واللہ انہ لحی الآن ولكن اذا نزل

٨٧

صفحہ ٣٢٥

اقول....... بے شک جیسے آپ کے پیر اور ان کے ہم خیال کہ خلاف کتاب وسنت کے درخواست مباہلہ کر کے مسلمانوں کو تیر لعنت کا نشانہ بنانا چاہا۔ چنانچہ آپ کے مسلمات کے موافق ہم نے ثابت کر دکھایا۔ واللہ اعلم!

قولہ....... حسب اشتہار مرزا قادیانی کے کیوں نہیں۔ ایک جلسہ علماء کا منعقد کیا جاتا ہے۔ الیٰ قولہ مسلمانوں کو خلاف کتاب وسنت تیر ملامت ولعنت کا نشانہ بنانا رفاض کا کام ہے۔

اقول....... دہلی میں جب جلسہ علما کا منعقد ہوا تو مناظرہ کے اندر سے کیوں شرائط توڑ کر چل دیئے۔ اپنی شرائط کے موافق کیوں نہ بحث کی نہ مباہلہ پر مضبوط، نہ بحث میں قائم، تو پھر مسلمانوں کو کیوں بہکاتے ہو۔ مسلمانوں کو سیدھی راہ سے بھٹکانا شیطانوں ، دجالوں کا کام ہے۔

قولہ....... آگے رہی یہ بات کہ صحابہ کرام بھی ان احادیث کا مطلب وہی سمجھے ہوئے تھے۔ جو یوم الاثنین ٢٦؍ جمادی الاخریٰ ١٣٠٨ھ تک آپ لوگوں کے خیال میں ہے۔ سو اوّلاً تو ثبوت اس کا آپ کے ذمہ ہے۔ بہ نقل صحیح تمام صحابہ سے ثابت کیجئے کہ سب نے نزول عیسیٰ ہی کے نسبت یہ کہا ہو۔ ینزل بوجودہ عنصری من السماء اور ثانیاً یہ عرض ہے کہ قبل از وقوع ہر ایک پیشین گوئی کی ماہیت۔ الخ!

اقول....... بعون اللہ تعالیٰ حدیث کا مطلب سمجھنا فرع ہے نفس حدیث معلوم ہونے کے۔ پس کل صحابہ سے اس حدیث کا یہی مطلب جو اہل سنت والجماعت سمجھے ہوئے ہیں۔ ثابت کرنا ضرور نہیں۔ بلکہ بروقت مطالبہ کے انہیں سے ثابت کر دینا کافی ہے۔ جن سے اس نفس احادیث کے علم کا ثبوت ہے تو مخفی نہیں کہ جو مطلب ایسا ہے کہ جس پر لفظ حدیث صریح الدلالۃ ہیں اور احتمال دوسرے معنی صحیح کا نہیں۔ پھر اہل زبان کی طرف بغیر ان کے خلاف تصریح کے یہ کیونکر گمان ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے صریح معنی کو چھوڑ کر ایسا مطلب سمجھے ہوں جو کوئی اہل زبان و غیر اہل زبان ان لفظوں سے اس مطلب کو نکال نہیں سکتا اور کوئی اہل علم قواعد سے جو محاورہ اہل زبان کے مبین ہیں۔ اس مطلب کو ان الفاظ کے ساتھ چسپید نہیں کر سکتا۔ اگر اس پر بھی نہ سمجھو تو کتب حدیث میں آثار صحابہ دیکھ کر تسکین حاصل کرلو۔ چنانچہ انہیں آثار میں سے ابو ہریرہ اور عبداللہ بن عمر اور ابن عباس اور ابن مسعود کے آثار کی طرف شوکانی نے بھی اشارہ کیا ہے اور حافظ ابن کثیر نے بھی بہت سے صحابہ اور تابعین سے آثار نقل کئے ہیں اور بعضوں کے نام لے کر چھوڑ دیئے۔ چنانچہ ان میں سے ابن عباسؓ اور ابو ہریرہؓ اور قتادہ اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہیں۔ وغیرہم اور حسن بصری کا یہ قول ذکر کیا ۔ ”واللہ انہ لحی الآن ولكن اذا نزل آمنوا به اجمعون“ اور ایسے ہی حافظ

٨٧

صفحہ ٣٢٧

ابن حجر نے بھی ذکر کیا۔ ان کے اقوال نہ سہی تو رسول ﷺ نے کیسا صاف فرما دیا۔ ”الانبیاء اخوة لعلات امهاتهم شتى ودينهم واحد انا اولى الناس بعيسى بن مريم لانه لم يكن بينه وبينى نبى وانه نازل“ اور ایسے ہی خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنے نزول کو شب معراج میں رسول اللہ ﷺ سے کہا۔ (جیسا کہ حدیث صحیح سے میں اوپر لکھ چکا ہوں) پھر اب کیا شک رہ گیا ہے یہ لفظ ینزل بوجود عنصری تو یہ جہالت آمیز لفظ وہ اہل لسان نہیں استعمال میں لاتے تھے اور جو کہ ثانیاً عرض ہے۔ اس کی تحقیق بحمد اللہ اوپر گزر چکی۔ فتذکر!

قولہ ...... ترجمے میں شاہ مولانا ولی اللہ صاحب تحریر فرماتے ہیں۔ الخ!

اقول ...... یہ فائدہ شاہ صاحب نے تحت اس آیہ کریمہ ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبى الا اذا تمنى القى الشيطان فى امنية“ کے لکھا ہے۔ آیت شریف سے مطابق کر کے دیکھو ہرگز مفید مطلب نہ پاؤ گے۔ ورنہ ہم ہی کسی وقت مفصلاً بیان کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

قولہ ...... قبل از وقوع پیشین گوئی کی صحابہ کرام سے لے کر آج تک سب لوگ مکلف اس امر کے ہیں کہ ظاہر پر ایمان لاویں اور تاویل اس کی حوالہ علم الٰہی کریں اور جب وہ پیشین گوئی کس طرح پر واقع ہو۔ بشرطیکہ تاویل صحیح سے ہو نہ تاویل فاسد سے تو اس کی تصدیق کریں نہ تکذیب۔

اقول ...... پھر آپ نے کیوں وقوع اس پیشین گوئی کا تسلیم کر لیا۔ یہاں تو تاویل فاسد کیا صریح تحریف ہے۔ چنانچہ یہ بات اہل علم کے نزدیک بہت ظاہر ہے اور اس عاجز کی بھی تحریر سے خوب واضح ہو گیا۔ ”يا ايها الذين آمنوا لما تقولون مالا تفعلون كبر مقتا عند الله ان تقولوا مالا تفعلون“ مگر میں تو ایسا جانتا ہوں کہ یہ لفظ صرف چالاکی سے لکھا ہے۔ اگر اصل مسلک یہی ہوتا تو ایسی تحریف باطلہ اور تاویلات فاسدہ کے مصدق ومعاون کیوں بنتے۔ ”يقولون بافواههم ماليس فى قلوبهم“ اور یہ جو حدیث منام رسول اللہ کی لکھی تو اس میں ہم نے کوئی بات آپ کے مفید مطلب نہیں پائی۔ اگر ہو تو بیان کرو تا اس میں نظر کریں۔ اب آگے مولوی عبدالحق صاحب کے الہامات کو ان پر الٹنا ہے۔ چونکہ یہ بحث چنداں مفید مطلب اور قابل اعتماد نہیں۔ لہذا ہم نے اس میں تفصیلی جواب سے اعراض کیا۔ مگر اس قدر کہتے ہیں کہ ہماری تحریر سے یہ بات کھل گئی اور خوب واضح ہوگئی کہ کون مخالف کتاب وسنت ہے اور کس نے طریقہ سلف صالح کو چھوڑا اور کون ملحد اور محرف کتاب وسنت بنا۔ پس کون مصداق ”من شذ شذ فی النار“ اور ”سيصلى ناراً ذات لهب“ کا ہوا اور ”فلا تهنوا وتدعوا الى السلم وانتم الاعلون“ کا مشار الیہ کون ہے اور اس سے کس بات کے طرف اشارہ ہے۔ فافہم واللہ اعلم!

٨٨

قولہ ...... ایہا الناس! واضح ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ الـ آسمان سے بوجود عنصری جو ہمارے خیالوں میں بسا ہوا نہیں ہوتا اور نہ قرآن مجید میں کہیں پایا جاتا ہے بلکہ انجیل شبہ واقعہ کا بلکلی رد کر دیا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ ”يا عيسى آخر الاية“ دیکھو لفظ متوفی کو اوّل ارشاد فرمایا اور لفظ را

نزول مسیح قرآن وسنت کی روشنی میں

اقول ...... وبالله التوفيق وبيده ازمة التحقیق علیہ السلام کا صعود اولی آسمان پر اور نزول آخری آسمان رسول اللہ ﷺ سے اور خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بـ بالتصریح والتفصیل باحادیث صحیحہ کثیرہ ہے جن کو محدثین ہے کہ جن میں شبہ اور تاویل بیجا موجب ضلالت اور الحاد ہے۔ ”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه“ ہے۔ جس کے طرف ضمیر قتلوہ کی راجع ہے اور یہ بات قطعی ضمیر روح کے طرف نہیں۔ لہٰذا رفعہ کی ضمیر بھی روح کـ روح مراد نہیں۔ پس رفع جسمی ہی مراد ٹھہرا۔ فثبت المـ ورافعك الى“ اس کا بیان آگے آتا ہے اور بیان صعـ بعد تسلیم دو مقدموں کے جس قدر نصوص کہ نزول پر دلالت ہیں اور اس مطلوب میں بین المراد ہیں۔ مقدمہ اوّل یہ مقدمہ ثانی یہ کہ نزول سے سوائے نزول ذاتی وجسمی کے کو بدیہی الثبوت اور بلا ریب مسلم ہے اور مقدمہ ثانی کو پہـ ثابت کر چکے پس جن احادیث سے نزول ان کا ثابت ہو کیونکہ جب وہ بذات خود آسمان سے اتریں گے اور پہلے وہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ وهذا هو الصعود وهو الـ ثانیاً یہ کہ اثر ابن عباس جس کو بسند صحیح ابن ابـ کثیر نے ذکر کیا۔ ”عن ابن عباس قال لما ارا خرج على اصحابه وفى البيت اثنا عشر ر

٨٩

صفحہ ٣٢٧

قولہ ...... ایھا الناس! واضح ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صعود اولیٰ آسمان پر اور نزول اخریٰ آسمان سے بوجوہ عنصری جو ہمارے خیالوں میں بسا ہوا ہے۔ وہ کسی حدیث مرفوع صحیح سے ثابت نہیں ہوتا اور نہ قرآن مجید میں کہیں پایا جاتا ہے بلکہ اعجاز نظام یعنی کلام اللہ الملک العلام نے اس شبہ واقعہ کا بالکلی رد کر دیا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ ”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی الی آخر الایۃ“ دیکھو لفظ متوفی کو اوّل ارشاد فرمایا اور لفظ رافعک کو بعد اس کے۔

نزول مسیح ، قرآن وسنت کی روشنی میں

اقول ...... وباللہ التوفیق وبیدہ ازمۃ التحقیق ایھا الناس ! واضح ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صعود اولیٰ آسمان پر اور نزول آخری آسمان سے بوجوہ عنصری جو سلف صالح سے بلکہ رسول اللہ ﷺ سے اور خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہم تک خیالوں میں بسا ہوا چلا آتا ہے۔ بالتصریح والتفصیل احادیث صحیحہ کثیرہ سے جن کو محدثین نے متواتر کہا اور آیات متعددہ سے ثابت ہے کہ جن میں شبہ اور تاویل بیجا موجب ضلالت اور الحاد ہے۔ صعود کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ “ ظاہر ہے کہ رفعہ کی ضمیر اسی کے طرف راجع ہے۔ جس کے طرف ضمیر قتلوہ کی راجع ہے اور یہ بات مخفی نہیں کہ قتل روح کا نہیں ہوتا۔ پس قتلوہ کی ضمیر روح کے طرف نہیں۔ لہٰذا رفعہ کی ضمیر بھی روح کے طرف نہیں تو معلوم ہوا کہ اس سے رفع روح مراد نہیں۔ پس رفع جسمی ہی مراد ٹھہرا۔ فثبت المطلوب اور فرماتا ہے۔ ”انی متوفیک ورافعک الی “ اس کا بیان آگے آتا ہے اور بیان صعود کا احادیث سے سنو تو اوّلاً واضح رہے کہ بعد تسلیم دو مقدموں کے جس قدر نصوص کہ نزول پر دلالت کرتی ہیں۔ وہی صعود پر بھی دلالت کرتی ہیں اور اس مطلوب میں بین المراد ہیں۔ مقدمہ اوّل یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پہلے زمین پر تھے۔ مقدمہ ثانی یہ کہ نزول سے سوائے نزول ذاتی و جسمی کے کوئی دوسرا مطلب مراد نہیں تو مقدمہ اوّل تو بدیہی الثبوت اور بلاریب مسلم ہے اور مقدمہ ثانی کو پہلے ہی ہم بحمد اللہ وحسن توفیقہ خوب مفصل ثابت کر چکے پس جن احادیث سے نزول ان کا ثابت ہوا انہیں سے ان کا صعود بھی ثابت ہو گیا۔ کیونکہ جب وہ بذات خود آسمان سے اتریں گے اور پہلے اس سے زمین پر تھے تو لامحالہ قبل اس کے وہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ وھذا ھو الصعود وھو المطلوب!

ثانیاً یہ کہ اثر ابن عباس جس کو بسند صحیح ابن ابی حاتم نے روایت کیا۔ چنانچہ حافظ ابن کثیر نے ذکر کیا۔ ”عن ابن عباس قال لما اراد اللہ ان یرفع عیسیٰ الی السماء خرج علی اصحابہ وفی البیت اثنا عشر رجلا من الحواریین یعنی فخرج

٨٩

صفحہ ٣٢٨

عليهم من عين في البيت ورأسه يقطر ماء فقال ان منكم من يكفر بي اثنا عشر مرة بعد ان آمن بي قال ثم قال ايكم يلقى عليه شبهي فيقتل مكاني ويكون معي في درجتي فقام شاب من احدثهم سناً فقال اجلس ثم اعاد عليهم فقام ذلك الشاب فقال اجلس ثم اعاد عليهم فقام الشاب فقال انا فقال هو انت ذاك فالقى عليه شبه عيسى ورفع عيسى من روزنة في البيت الى السماء قال وجاء الطلب من اليهود فاخذوا الشبيه فقتلوه ثم صلبوه“ ابن عباس سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانا چاہا تو وہ اپنے اصحاب کے پاس آئے اور گھر میں حواریوں میں بارہ آدمی تھے۔ یعنی گھر میں چشمہ تھا۔ اس میں سے نکلے اور ان کے سر سے پانی ٹپکتا تھا تو فرمایا تم میں سے ایسے ہیں کہ میرے اوپر ایمان لانے کے بعد میرے ساتھ بار بار کفر کریں گے۔ ابن عباس نے کہا پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میں سے ایسا کون ہے کہ میرا ہم شکل ہو جانا اختیار کرلے کہ میری جگہ قتل کیا جاوے۔ (یعنی یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنا چاہتے تھے تو ان کی جگہ پر قتل ہو جاوے اور وہ دھوکے میں رہیں) اور وہ میرے درجہ میں ساتھ رہے تو ان میں کا نو عمر کھڑا ہوا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے فرمایا کہ تو بیٹھ جا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام نے وہی بات ان لوگوں سے کہی تو وہی جوان پھر کھڑا ہوگیا تو فرمایا کہ تو بیٹھ جا تو پھر وہی بات ان لوگوں سے کہی تو پھر وہی جوان اٹھ کھڑا ہوا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کام کا تو ہی ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مشابہت اس پر پڑ گئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گھر میں روشندان تھا۔ اس سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ ابن عباس نے کہا اور یہود کے تلاشی لوگ آئے تو انہوں نے اسی ہم شکل کو پکڑ لیا۔ سو اس کو قتل کر دیا اور سولی پر چڑھا دیا۔ حافظ ابن کثیر نے اس روایت کی سند کے بارہ میں کہا۔ ہذا اسناد صحیح الی ابن عباس پوشیدہ نہ رہے کہ یہ صحیح السند اثر حکم میں حدیث مرفوع کے ہے۔ کیونکہ ایسے صحابی کا قول ہے کہ اہل کتاب سے نہیں لیتے۔ چنانچہ یہ بات اپنے موقع پر مذکور ہے اور قاعدہ مسلمہ ہے کہ جو ایسے صحابی کا ایسا اثر ہو کہ جس میں رائے کو دخل نہ ہو تو وہ حکم میں حدیث مرفوع کے ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس میں رائے کو بالکل دخل نہیں۔ بھلا ایسا قصہ کون اپنی رائے سے کہہ سکتا ہے اور سچا متقی آدمی ایسا حال بغیر دوسرے واقف سے سنے۔ اپنی طرف سے کیونکر بیان کر سکتا ہے۔ پس ابن عباس کا کہنا حکماً رسول اللہ ﷺ ہی کا فرمانا ہے۔ اس سے بھی بالتصریح والتوضیح صعود آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ثابت ہو گیا۔ واللہ اعلم!

٩٠

صفحہ ٣٢٩

اور ان کے نزول کے بارہ میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ ”وان من أهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ اور احادیث در باب نزول کے تو اس قدر وارد ہیں کہ ان کا انحصار متعذر ہے۔ ان میں سے چند احادیث صحیحہ صریحہ ہم اوپر بیان بھی کر چکے۔ پس واضح ہو گیا کہ بہت سی احادیث اور آیات سے صعود الی آسمان پر اور نزول آخری زمانہ میں بوجود عنصری ثابت ہے۔ لہٰذا یہ کہنا صاحب رسالہ کا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صعود الی آسمان پر محض افتراء ہے۔ اللہ پر اور اس کے رسول پر ”ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله فى الدنيا والآخرة واعد لهم عذاباً اليما“ نعوذ بالله من ذلك!

رہی یہ بات کہ صاحب رسالہ اس آیت کریمہ ”يا عيسىٰ انی متوفيك ورافعك الیٰ“ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فوت ہو جانے پر استدلال کرتے ہیں تو اس کا جواب سنو تو واضح رہے کہ ظاہر کتب لغت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ لفظ توفی دو معنی میں مشترک ہے اور کلام عرب میں استعمال اس لفظ کا دو معنی میں جاری ہے۔ ایک بمعنی استیفاء یعنی پورا لینا دوسرے موت مصباح المنیر میں ہے۔ ”توفيته واستوفيته بمعنى وتوفاه الله أماته“ صحاح جوہری میں بھی اسی طرح ہے اور قاموس میں بھی ایسے ہی موجود ہے اور جامع البیان میں ہے۔ ”التوفى اخذ الشئ وافياً“ اور تفسیر فتح البیان میں ہے۔ ”التوفى يستعمل فى اخذ الشئ وافياً اى كاملا.“ تو معلوم ہوا کہ توفی کے دو معنی آتے ہیں۔ ایک استیفاء، دوسرے موت، استیفاء کے معنی بھی سمجھ لو۔ مجمع البحار میں ہے۔ ”واستوفیت حقى ای اخذته تاما“ اور غیاث اللغات میں ہے۔ استیفاء تمام را فرو گرفتن و تمام گرفتن حق از منتخب و کنز و صراح ابھی تو توفی یہاں پر معنی اول میں مستعمل ہے۔ معنی یہ ہوئے۔ اے عیسیٰ میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور اٹھانے والا ہوں۔ یعنی میں تجھ کو مع جسم و جان سب لے کر اٹھالوں گا۔ اب یہاں پر نہ تقدیم لفظ کی ضرورت ہے نہ تاخیر کی آیت بے تکلف اپنی معنی دیتی ہے۔ ممات مسیح کو اس سے کچھ تعلق نہیں۔ بلکہ ان کی حیات پر دال اور ان کے صعود جسمی کی دلیل ہے اور اس معنی کی ترجیح کے واسطے بہت قرائن ہیں کہ معنی موت کے نہیں بنتے۔

اوّل یہ کہ آیت ”بل رفعه الله اليه“ یہی بتاتی ہے۔ دوسرے اور آیت کہ حیات پر دال ہیں۔ اسی کے مقتضی ہیں۔ جیسے ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ تیسرے اثر ابن عباس کہ حکم میں حدیث مرفوع کے ہے اور بسند صحیح ثابت جو اوپر مذکور ہوا اسی کا مبین اور مصرح ہے۔ چوتھے ظاہر احادیث نزول کی اسی معنی کو چاہتی ہیں۔ پانچویں ”اذ قال

٩١

صفحہ ٣٣٠

اللہ“ جس کا ظرف ہے۔ یعنی مکر اللہ وہ اسی معنی کا مقتضی ہے نہ موت کا۔ کیونکہ حامی اپنے دوست کو اس وقت میں کہ دشمن اس پر حملہ کیا چاہتے ہوں اور اس کے قتل کے درپے ہوں۔ ان کے مقابلہ میں اپنے طرف سے موت کی خبر سنادی تو یہ بات ہرگز باعث تسکین نہ ہوئی اور حمایت نہ ٹھہرے گی۔ ظاہر ہے موت سے طبیعت انسانی کسی کی ہو نبی کی یا ولی کی متنفر ہوتی ہے۔ احادیث میں انبیاء کے قصص کو پڑھ دیکھو۔ زیادہ نہیں تو موسیٰ علیہ السلام کے قصہ کو دیکھ لو۔ اگر کہا جاوے کہ پھر رافعک بیکار ہو جاوے گا تو میں کہتا ہوں۔ رافعک رافع ہے ابہام متوفیک کو، کیونکہ استیفاء عام ہے۔ استیفاء برفع الی السماء وبغیر رفع کو تو رافعک نے اس احتمال غیر مقصود کو دور کر دیا۔ ایسے ہی صرف رافعک بھی محتمل غیر مقصود معنی کا تھا۔ لہٰذا دونوں ہی لفظ کا فرمانا ضرور تھا۔ پس کوئی کلمہ کلام بلاغت نظام کا بیکار اور خالی فائدہ سے نہیں۔ پس یہ آیت کریمہ کھلی دلیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صعود اور رفع جسمانی کی ہے۔ اب میں اُسی معنی کے چند اقوال مفسرین نقل کرنا چاہتا ہوں۔ تاکہ معلوم ہو جاوے کہ بھلے لوگوں نے بھی ایسے معنی کئے ہیں۔ تفسیر جامع البیان میں ہے۔ ”او متوفيك من الدنيا وليس بوفاة موت اى قابضك من الارض لم ينالوا منك شيئا من توفیت مالی “ اور جمل حاشیہ جلالین میں ہے۔ ”فيه وجهان اظهرهما ان الكلام على ظاهره من غير ادعا تقديم وتاخير فيه بمعنى انى مستوفى اجلك ومؤخرك وعاصمك من ان يقتلك الكفار الى ان تموت حتف انفك من غير ان تقتل بايدى الكفار ورافعك الى سمائى “ اور تفسیر انوار التنزیل میں ہے۔ ”ای مستوفی اجلك ومؤخرك الى اجلك المسمى عاصما اياك من قتلهم او قابضك من الارض من توفيت مالی“ ایسے ہی تفسیر کشاف میں ہے اور اگر متوفیک کے معنی ممیتک مان بھی لیں تو اس سے تقدیم موت کی رفع پر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ واو سے ترتیب مستفاد نہیں ہوتی۔ ابوالبقاء نے کہا۔ ”الواو فى قوله ورافعك لا تفيد الترتيب لانها لمطلق الجمع فلا فرق بين التقديم والتاخير “ پس تب بھی ممات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس سے ثابت نہ ہوئی۔ لہٰذا یہ کہنا صاحب رسالہ کا کہ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اوّل ہوئی اور رفع بعد کو دعویٰ بلا دلیل اور ادعاء خلاف منشاء قرآنی ہے۔ کیونکہ اگر وہاں یہ ترتیب مراد ہوتی تو کسی لفظ ترتیبی کے ساتھ فرمایا جاتا۔ ”واين هذا من ذاك“ اور ترتیب کلمات قرآنی مستلزم ترتیب زمانی کو نہیں کہ جو نظم مقدم ہے۔ وہ وقوع میں بھی مقدم ہو۔ ”و من ادعى فعليه البيان “ پس اگر مان بھی لیں کہ توفی کے معنی یہاں پر موت کے ہیں۔ تب بھی ممات مسیح اس سے ٩٢

صفحہ ٣٣١

کیونکر ثابت ہوسکتی ہے۔ قتادہ وغیرہ نے اس آیت کریمہ کے معنی میں کہا ہے۔ ”انی رافعك الیّ ومتوفيك یعنی بعد ذالك“ چنانچہ حافظ ابن کثیر اور علامہ سیوطیؒ نے اس کو نقل کیا ہے۔ یہ تقدیم و تاخیر باعث نقصان فصاحت و بلاغت نہیں۔ چنانچہ بہت جگہ کلام بلاغت نظام میں موجود ہے کہ نظم میں مقدم ہے اور معنی میں مؤخر و بالعکس چند مثالیں آیات کریمہ سے ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ فرمایا اللہ جل وعلا نے ”ولو لا کلمة سبقت من ربك لکان لزاماً واجل مسمی “ قتادہؓ نے کہا۔ ”هذا من تقاديم الكلام تقول لو لا كلمة واجل مسمى لكان لزاما “ اور فرمایا ”انزل علی عبده الکتاب ولم یجعل له عوجاً قیما “ قتادہ نے کہا۔ ”هذا من التقديم والتاخير انزل على عبده الكتاب قيما ولم يجعل له عوجا“ اور فرمایا۔ ”واذ قتلتم نفساً فاداراتم فیها “ بغوی نے کہا۔ ”هذا اوّل القصة وان كان مؤخرا في التلاوة “ اور فرمایا۔ ”فلا تعجبك اموالهم ولا اولادهم انما يريد الله ليعذبهم في الحيوة الدنيا“ قتادہؓ نے کہا۔ ”هذا من تقاديم الكلام نقول لا تعجبك اموالهم ولا اولادهم في الحيوة الدنيا انما يريد الله ان يعذبهم في الآخرة“ قس علی ھذہ!

میری یہ غرض نہیں کہ یہ تقدیم و تاخیر خالی نفع سے ہے۔ بلکہ سب میں خوبیاں رکھی گئی ہیں۔ بعض بعض کا بیان تفاسیر میں بھی موجود ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے محض فضل و کرم سے ایک وجہ وجیہہ میرے ذہن میں اس آیت کریمہ ”انی متوفيك ورافعك “ میں تقدیم و تاخیر کی آئی ہے۔ کسی مصلحت سے اس وقت نہیں لکھی۔ کسی دوسری تحریر میں انشاء اللہ لکھی جاوے گی۔ واللہ اعلم وعلمہ احکم!

قولہ...... پھر اب اور دوسری آیت کو دیکھو۔ ”اذا قال الله يا عيسى اانت قلت للناس “ ظاہر ہے کہ قال صیغہ ماضی ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ معاملہ وقت نزول آیت سے زمانہ ماضی کا ہے۔

اقول...... بتوفیق اللہ تعالیٰ وتائیدہ اولاً تقریر استدلال صاحب رسالہ کی بیان کرتا ہوں۔ آیت ”فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیهم “ سے ممات مسیح نکالتے ہیں۔ بنا استدلال کی دو مقدموں پر ہے۔ اوّل یہ کہ توفی بمعنی موت کے ہے۔ دوسرے یہ کہ سوال و جواب نزول آیت سے زمانہ ماضی میں ہوا ہے۔ یہ قیامت کا قصہ نہیں۔ اس ثانی مقدمہ پر دلیلیں بیان کیں۔ پہلے یہ کہ صیغہ ماضی ہے اور اذ کے ساتھ ہے جو مخصوص ماضی کے ساتھ ہے۔ دوسری دلیل یہ کہ اگر یہ قصہ قیامت مانا جائے تو اگر توفیتنی کے معنی امتی کے ہیں تو جو زمانہ درمیان صعود و نزول کے ہے وہ داخل

٩٣

صفحہ ٣٣

نہ ہوگا اور اگر توفیتنی کے ہیں تو وہ خلاف محاورہ ولغت ہے اور پھر نزول بعد جب وفات ہوئی۔ وہ زمانہ داخل نہ ہوا۔ پس جواب ناقص رہا۔ جواب میں یہ عاجز عرض کرتا ہے کہ مقدمۂ اولیٰ کہ توفی کے معنی اس جگہ موت کے ہیں۔ مسلم نہیں بلکہ معنی توفیتنی کے استیفیتنی کے ہیں۔ جس کو ہم پہلے لغت سے ثابت کر چکے ہیں اور قرائن مسطورہ بالا یہاں پر بھی قائم ہیں۔ تقریب جب ہی تمام ہوگی کہ جو معنی خلاف مقصود ہیں۔ ان کا تعذر ثابت کرو اور یہاں اس کے خلاف پر قرائن موجود ہیں۔ پس دلیل تام نہ ہوئی اور اس سے ممات مسیح ثابت نہ ہوئی۔ بلکہ اس سے ان کی حیات نکلتی ہے۔ چاہے یہ قصہ رفع کے بعد کا کہا جاوے یا روز قیامت کا اور مقدمہ ثانی بھی مسلم نہیں اور یہ جو کہا کہ صیغہ ماضی اور اذ ہے تو صیغہ ماضی اور اذ سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ قصہ قیامت کا نہیں۔ کیونکہ کلام مجید میں بہت جگہ حالات قیامت کا ذکر اذ اور صیغہ ماضی کے ساتھ آیا ہے۔ چند آیات تمثیلاً لکھتا ہوں۔ فرمایا اللہ جل شانہ نے ”اذ تبرء الذین اتبعوا من الذین اتبعوا ورأوا العذاب وتقطعت بهم الاسباب وقال الذین“ اس آیت میں چار جگہ صیغہ ماضی اور اذ واقع ہے اور فرمایا۔ ”ونادیٰ اصحاب الجنة اصحاب النار“ اور فرمایا۔ ”ونادیٰ اصحاب الجنة ان سلام علیکم“ اور فرمایا ”ونادیٰ اصحاب الاعراف رجالاً“ اس رکوع میں چار جگہ صیغہ ماضی بمعنی مستقبل وارد ہے اور فرمایا ”وبرزوا لله جميعاً فقال الضعفاء“ اس آیت میں تین جگہ وارد ہے اور فرمایا۔ ”ولوتریٰ اذ وقفوا علىٰ ربهم قال اليس ھذا بالحق قالوا بلیٰ وربنا قال فذوقوا“ اس آیت میں چار جگہ وارد ہے اور فرمایا ”ونادوا یا مالك لیقض علينا ربك قال انکم ماکثون“ اور فرمایا۔ ”ولوتریٰ اذ وقفوا على النار فقالوا“ اور فرمایا۔ ”ونفخ في الصور فصعق من في السموات“ اس رکوع میں آٹھ جگہ صیغہ ماضی بمعنی مضارع ہے۔ اور فرمایا ”وسیق الذین کفروا الیٰ جهنم زمراً“ اس رکوع میں بھی متعدد جگہ واقع ہے۔ حاصل یہ کہ کلام مجید میں یہ بات بہت شائع ہے کہ حالات قیامت اور کیفیات آخرت کو کہ جو زمانہ مستقبل کے ساتھ متعلق ہیں۔ ان کو ماضی کے صیغوں اور ماضی کے لفظوں کے ساتھ بسبب تحقق وقوع، حکایت حال کے ذکر کیا ہے اور بہت جگہ یہ بات سیاق و سباق سے پہچانی جاتی ہے۔ چنانچہ اس آیت میں بھی ”یوم یجمع الله الرسل فیقول ماذا اجبتم“ سے پڑھ کر دیکھو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ قیامت کا قصہ ہے۔ پس یہ دلیل صاحب رسالہ کی ان کو مفید نہ ہوئی اور ان کی تقریب ناتمام رہ گئی اور ناتمامی دلیل ثانی کا بیان سنو تو ہم کہتے ہیں کہ توفیتنی کے معنی استیفیتنی کے ہیں۔ (یعنی شق ثانی کو اختیار کیا) اور توفی کے معنی استیفاء کے

٩٤

پہلے ہم لغت سے ثابت کر چکے ہیں اور یہ جو کہا نہ ہوا۔ تو واضح رہے کہ اللہ جل شانہ کی طرف س سوال نہیں بلکہ سوال تو اس قدر ہے کہ تم نے کیا تھا۔ یہ سوال کفار کے کہ جو حضرت عیسیٰ اور ان ک ہوگا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا جواب کیو والا ہوں کہ تو سب عیبوں سے پاک ہے جو ایس میں ایسی نالائق بات کیسے ان کو تعلیم کرتا۔ دوس بات کا حکم کرتا تو تو ضرور اس سے واقف ہوتا۔ ت تو نے مجھ کو حکم فرمایا تھا کہ اے لوگو! اس کو پوجو میں ان میں موجود تھا تو ان کی خبر رکھتا تھا اور جب یہ کہ میری موجودگی میں تو تیرے سواء اور کسی ک ناموجودگی میں جو کچھ انہوں نے کیا وہ تو ہی جا جو چاہا سو کیا۔ اگر میری مرضی اور کہنے سے ہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر موجود تھے۔؟ شروع ہوا۔ پھر جب نزول فرماویں گے تب بھ

چنانچہ تفصیل اس کی احادیث میں بہت ٹھیک اور خوب کامل رہا۔ پس دلیل ثانی ک زمانہ کا ذکر جس میں کفار مسیح ومریم کی عبادت ک کہ مقصود انہیں کا سنانا ہے اور اس قلیل زمانہ کا ذ

تیسرے ہو سکتا ہے کہ وہ اس زما جگہ مصلحت سے چھوڑ دیا ہو بہر صورت جواب دلیل بھی صاحب رسالہ کی باطل ہو گئی اور اس مخالف اس کے قصہ قیامت ہونے پر سیاق و س

دوسری وجہ یہ بیان کر سکتا ہے کہ ا ضرورت ہے۔ یہ پوچھنا تو دوسروں ہی کے اور مریم کو خدا بنا رکھا ان کے رسوا کرنے کے ل

صفحہ ٣٣٣

پہلے ہم لغت سے ثابت کر چکے ہیں اور یہ جو کہا کہ نزول کے بعد جب وفات ہوئی۔ وہ زمانہ داخل نہ ہوا۔ تو واضح رہے کہ اللہ جل شانہ کی طرف سے کچھ ان کے سوانح عمری اور ان کی سرگزشت کا سوال نہیں بلکہ سوال تو اس قدر ہے کہ تم نے کیا لوگوں کو اپنی اور اپنی ماں کی عبادت کے واسطے کہا تھا۔ یہ سوال کفار کے کہ جو حضرت عیسیٰ اور ان کی ماں کو پوجتے ہیں۔ ان کے رسوا کرنے کے لئے ہوگا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا جواب کئی طور پر دیں گے۔ اوّل یہ کہ میں تو تیری پاکی بولنے والا ہوں کہ تو سب عیبوں سے پاک ہے جو ایسا ہو۔ اس کا کوئی شریک کیونکر ہو سکتا ہے۔ پھر بھلا میں ایسی نالائق بات کیسے ان کو تعلیم کرتا۔ دوسرے یہ کہ تو تو علام الغیوب ہے۔ اگر میں ان کو ایسی بات کا حکم کرتا تو تو ضرور اس سے واقف ہوتا۔ تیسرے تصریح ہے کہ میں نے تو وہی کہا تھا جو کہنے کا تو نے مجھ کو حکم فرمایا تھا کہ اے لوگو! اس کو پوجو جو ہم سب کا پروردگار ہے۔ چوتھے یہ کہ جب تک میں ان میں موجود تھا تو ان کی خبر رکھتا تھا اور جب تو نے مجھ کو لے لیا تو تو ہی ان کا نگہبان رہا۔ غرض یہ کہ میری موجودگی میں تو تیرے سواء اور کسی کی میری یا میری ماں کی پرستش نہ کرنے پائی۔ میری ناموجودگی میں جو کچھ انہوں نے کیا وہ تو ہی جانے میں اس کو کیا جانوں۔ میرے پیچھے انہوں نے جو چاہا سو کیا۔ اگر میری مرضی اور کہنے سے ہوتا تو میرے سامنے بھی کیا جاتا۔ چنانچہ جب اوّل حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر موجود تھے۔ تب بھی ان کی پرستش کوئی نہ کرتا تھا یہ تو سب پیچھے شروع ہوا۔ پھر جب نزول فرماویں گے تب بھی سواء رب العالمین کے غیر کی عبادت نہ رہے گی۔

چنانچہ تفصیل اس کی احادیث میں موجود ہے۔ پس جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بہت ٹھیک اور خوب کامل رہا۔ پس دلیل ثانی بھی صاحب رسالہ کی فاسد ہو گئی۔ دوسرے یہ کہ معظم زمانہ کا ذکر جس میں کفار مسیح و مریم کی عبادت کرتے تھے۔ ذکر کر دیں گے کیونکہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مقصود انہیں کا سنانا ہے اور اس قلیل زمانہ کا ذکر چونکہ مفید مقصود نہیں ۔ چھوڑ دیں گے۔ فلا محذور!

تیسرے ہو سکتا ہے کہ وہ اس زمانہ کا بھی ذکر کریں۔ اللہ جل شانہ نے اس کا ذکر اس جگہ مصلحت سے چھوڑ دیا ہو بہر صورت جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ناقص نہ ہوا۔ پس دوسری دلیل بھی صاحب رسالہ کی باطل ہو گئی اور اس آیت کے قصہ قیامت ہونے کا کوئی مانع نہ رہا۔ بلکہ مخالف اس کے قصہ قیامت ہونے پر سیاق و سباق کو قرینہ قائم کر سکتا ہے۔

دوسری وجہ یہ بیان کر سکتا ہے کہ اللہ علیم و خبیر کو تو سب چیز کی خبر ہے اس کو پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ پوچھنا تو دوسروں ہی کے سنانے کے واسطے ہے۔ وہ کفار ہیں جنہوں نے عیسیٰ اور مریم کو خدا بنا رکھا ان کے رسوا کرنے کے لئے پوچھا جاوے گا۔ کہ ان کا معبود جن کی تابعداری کا

٩٥

صفحہ ٣٣٥

دم بھرتے تھے۔ وہی ان سے منکر ہو جاویں تو یہ قیامت ہی کا روز ہوگا۔ جس دن اولین و آخرین سب جمع ہوں گے۔ چنانچہ مؤید اس کی وہ حدیث ہے۔ جس کو ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ اور ابن عساکر نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے۔ ”عن ابی موسٰی قال قال رسول الله ﷺ اذا كان يوم القيامة يدعى بالانبياء وامهاتهم ثم يدعى بعيسى فيذكره نعمته عليه فيقر بها فيقول يا عيسى بن مريم اذكر نعمتي عليك الاية ثم يقول أأنت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله فينكر ان يكون قال ذلك فيؤتى بالنصارى فيسئلون فيقولون نعم هو امرنا بذلك فيطول شعر عيسى حتى ياخذ كل ملك من الملائكة بشعرة من شعر راسه وجسده فيحاثيهم من يدى الله مقدار الف عام حتى يوقع عليهم الحجة“ اور قتادہ وغیرہ سے بھی اس آیت میں قیامت کے دن کا قصہ ہونا منقول ہے۔ پس اس آیت سے ممات مسیح پر استدلال کرنا بالکل باطل ہوگیا۔ واللہ اعلم وعلمه اتم!

قولہ ..... اگر کوئی کہے کہ پھر اس آیت کے کیا معنی ہوں گے کہ ”ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتہ“ تو جواب اس کا یہ ہے کہ ضمیر قبل موتہ میں راجع طرف کتابی کے ہے۔ اس واسطے کہ دوسری قرأت میں یوں آیا ہے جو بیضاوی وغیرہ میں لکھی ”الا ليؤمنن به قبل موتهم بضم النون“ پس تفسیر آیت ایسی چاہئے جو موافق ہو قرأت دوسری کے نہ ایسی تفسیر جو مخالف۔ الخ!

اقول ..... مستعينا بالله جل وعلا آپ کے پیر جی (توضیح مرام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ٥٤) میں لکھتے ہیں۔ اگر چہ حضرت مسیح کے بہشت میں داخل ہونے کا بتصریح کہیں ذکر نہیں۔ لیکن ان کے وفات پا جانے کا تین جگہ ذکر ہے۔ اس کے حاشیہ میں تین آیتوں میں سے ایک یہ آیت بھی لکھی ہے۔ ”وان من اهل الكتاب“ اور (ازالہ اوہام ص ٣٨٥، خزائن ج ٣ ص ٢٩٩) میں اسی آیت کے ذکر میں لکھتے ہیں: ”غرض قرآن شریف میں تین جگہ مسیح کا فوت ہو جانا بیان کیا گیا ہے۔“

اور اسی (ازالہ اوہام ص ٦٠٣ ، خزائن ج ٣ ص ٤٢٥) میں لکھتے ہیں۔ چوتھی آیت جو مسیح کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ وہ یہ آیت ہے۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتہ“ تو دیکھو آپ کے پیر جی نے ارجاع ضمیر موتہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے طرف ثابت رکھ کر لفظ میں نسبت موت کی ان کے طرف دیکھ کر اس سے موت مسیح ثابت کر لی۔ جب انہوں نے ممات مسیح کی اس آیت سے ثابت کی اور اس آیت کو ممات مسیح پر دال بتایا تو اس وقت ”قرأت ٩٦

قبل موتهم“ کیوں پس پشت ڈالی گئی اور اس موافق ہو قرأت دوسری کی نہ ایسی جو مخالف ہو، کہ اذا فريق منهم معرضون وان يكن لهم مرض ام ارتابو “ ہم کہتے ہیں جس وجہ سے مرزا واسطے خاص رکھا ہے۔ پھر اس سے ممات مسیح نکالی خاص رکھ کر قطعی طور پر اس آیت سے حیات مسیح ع صورت میں معنی آیت کے کہ جن پر آیت صریح ال کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے اب تک تمام اہل کتاب ایمان نہیں لائے۔ پس قطعی ط تک نہیں مرے اور ہماری طرف سے قرأت ”قبل م مرزا قادیانی کی طرف سے ان کے اثبات مطلوب می اثبات وفات اس آیت سے بنابر نافہمی صریح یا تحریف اور محاورہ عربیہ پر پس بنا بر مقدمہ مسلمہ مرزا قادیانی الدلالات ہے۔ حیات مسیح پر۔ وھذا ھو المطلوب

قولہ ..... اب میں اس آخر حصہ اول کو مزین کرتا ہ جو حدیثوں سے معلوم ہوتے ہیں۔ حلیہ تو اس کا صحیح ا کے بال گھونگروالے نہیں اور کانوں تک لٹکتے ہیں۔

اقول ..... میں پوچھتا ہوں کہ یہ صفات جو آپ ن ہونے کو بالاستقلال ثابت کرتا ہے۔ یا دوسرے اوصا باطل ہے والا لازم آوے گا کہ ہر وقت میں ہزاروں م بال کانوں تک لٹکتے اس وقت ہزاروں کے نکلیں گے شق ثانی کل اوصف کے جو قرآن وحدیث میں بتائے شق ثانی باطل ہے۔ بوجہ مسطور وغیرہ من الوجوہ

پس متعین ہوا کہ تمام اوصاف کے انتفاء ہے تو جب تک کہ سب اوصاف کا مصداق نہ بنا دیں ہوں کہ مرزا قادیانی کو ان سب اوصاف کا جو مخبر صا ٩٧

صفحہ ٣٣٥

قبل موتہم ‘‘ کیوں پس پشت ڈالی گئی اور اس وقت یہ قاعدہ کہ (تفسیر آیت ایسی چاہئے جو موافق ہو قرأت دوسری کی نہ ایسی جو مخالف ہو ) کدھر گیا تھا۔ ”واذ ادعوا الی الله ورسولہ اذا فریق منہم معرضون وان یکن لہم الحق یاتوا الیہ مذعنین افی قلوبہم مرض ام ارتابو ‘‘ ہم کہتے ہیں جس وجہ سے مرزا قادیانی نے موتہ کی ضمیر کو عیسیٰ علیہ السلام کے واسطے خاص رکھا ہے۔ پھر اس سے ممات مسیح نکالی اسی وجہ سے موتہ کی ضمیر کو ہم بھی عیسیٰ کے واسطے خاص رکھ کر قطعی طور پر اس آیت سے حیات مسیح ثابت کرتے ہیں۔ بیان اس کا یہ ہے کہ اس صورت میں معنی آیت کے کہ جن پر آیت صریح الدلالۃ بین المراد ہے یہ ہوں گے کہ تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ایمان لے آویں گے اور یہ بات قطعی ہے کہ اب تک تمام اہل کتاب ایمان نہیں لائے۔ پس قطعی طور پر معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک نہیں مرے اور ہماری طرف سے قرأت ”قبل موتہم وامثالہا ‘‘ کا وہی جواب ہے۔ جو مرزا قادیانی کی طرف سے ان کے اثبات مطلوب میں اس کا جواب ہے۔ مگر فرق اس قدر ہے کہ اثبات وفات اس آیت سے بنابر نافہمی صریح یا تحریف وقیح کے ہے اور اثبات حیات دلالت اصلیہ اور محاورہ عربیہ پر پس بنابر مقدمہ مسلمہ مرزا قادیانی کے کہ ان کی دلیل کا جز ہے۔ یہ آیت قطعی الدلالت ہے۔ حیات مسیح پر۔ وہذا ہو المطلوب فافہم واتبع الحق ولا تبتغ الہویٰ!

قولہ ..... اب میں اس آخر حصہ اوّل کو مزین کرتا ہوں۔ ساتھ بعض صفات اس مسیح الزمان کے جو حدیثوں سے معلوم ہوتے ہیں۔ حلیہ تو اس کا صحیح بخاری میں لکھا ہے۔ وہ گندم گون ہے اور اس کے بال گھونگروالے نہیں اور کانوں تک لٹکتے ہیں۔

اقول ..... میں پوچھتا ہوں کہ یہ صفات جو آپ نے بیان کئے آیا ہر ایک ان میں کا مسیح موعود ہونے کو بالاستقلال ثابت کرتا ہے۔ یا دوسرے اوصاف کے انضمام کی بھی ضرورت ہے۔ شق اوّل باطل ہے والا لازم آوے گا کہ ہر وقت میں ہزاروں مسیح موعود ہوں۔ مثلاً گندم گوں غیر گھونگر والے بال کانوں تک لٹکتے اس وقت ہزاروں کے نکلیں گے کیا یہ سب مسیح موعود ہو جاویں گے؟ درصورت شق ثانی کل اوصاف کے جو قرآن وحدیث میں بتائے گئے ہیں۔ انضمام کی ضرورت ہے یا بعض کی شق ثانی باطل ہے۔ بوجہ مسطور وغیرہ من الوجوہ کما لا یخفی!

پس متعین ہوا کہ تمام اوصاف کے انضمام کی اور سب کے مصداق بنانے کی ضرورت ہے تو جب تک کہ سب اوصاف کا مصداق نہ بناویں۔ ہرگز مطلب ثابت نہیں ہوسکتا تو میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کو ان سب اوصاف کا جو مخبر صادق نے بتائے ہیں۔ مصداق بنانا ہرگز ممکن

٩٧

صفحہ ٣٣٦

نہیں ۔ کیونکہ انہیں اوصاف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسیح موعود کے نزول سے پہلے دجال خروج کر کے روئے زمین پر فساد پھیلائے گا اور یہ یہاں اب ممکن نہیں اور ایسے ہی بہت سے علامات اور صفات ہم احادیث صحیحہ سے اوپر مفصلاً بیان کر چکے ہیں کہ ان کا مصداق بننا مرزا قادیانی کو ہرگز ممکن نہیں۔ پس یہ صفات کہ صاحب رسالہ نے بیان کئے۔ ہرگز مفید مطلب اور فائدہ بخش مدعا نہ ہوں گے۔ لہٰذا مجھ کو ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ جواب لکھنے کی حاجت نہ تھی۔ مگر ایضاً حباً للحق واتماما للحجة ہر ایک کا جواب لکھتا ہوں۔

قولہ ..... نسب اس کا صحیح مسلم وغیرہ میں لکھا ہے۔ ”لوکان العلم معلقاً بالثريا لناله رجل من ابناء فارس“

اقول ...... یہ صفت اگر مسیح موعود ہونے کے لئے لکھی ہے تو یہ بات ہرگز مسیح موعود کے صفات سے نہیں ظاہر ہے کہ یہ فارس کے صفات سے ہے اور مسیح علیہ السلام فارس سے نہیں۔ پھر اس سے اور مدعا سے کیا نسبت اور اگر کسی دوسری غرض سے لکھی ہے تو اس سے ہم کو اس جگہ غرض نہیں۔ مگر اس جگہ لکھنا بے موقع ہونے سے خالی نہیں۔

قولہ ..... ایک مرد مسلمان ہوگا اور مسلمانوں میں پیدا ہوگا۔

اقول ...... یہ بات ہرگز مسیح موعود کی صفات سے نہیں بھلا یہ کون سی آیت یا حدیث سے معلوم ہوا کہ وہ مسیح موعود مسلمانوں میں پیدا ہوں گے۔ ایسی باتیں کرنا کیسا صریح افتراء ہے۔ اللہ پر اور اس کے رسول پر۔ومن اظلم ممن افترى على الله كذباً!

اشتہار

مخفی نہ رہے کہ صاحب رسالہ نے اعلام الناس حصہ ثانی کے ص ٩٢ میں اپنی حکمت عملی سے اس بات کا اشتہار دیا کہ جو کوئی صعود ونزول عیسیٰ بن مریم کو بوجود عنصری کسی حدیث صحیح مرفوع متصل صریح الدلالة سے نصاً ثابت کردے تو میں فی حدیث اس کو بیس روپے حق المحنت دوں گا تو ناظرین پر واضح رہے کہ اس عاجز نے کس خوبی کے ساتھ آیات متعددہ اور احادیث کثیرہ متواترہ سے صعود اور نزول حضرت عیسیٰ بن مریم کو بوجود عنصری ثابت کر دکھایا۔ بس مؤلف اعلام الناس کا صدق اور حق پسندی اور طلب راہ حق اسی سے ظاہر ہو سکتا ہے۔ اب میں بذریعہ اشتہار مؤلف اعلام اور ان کے پیرو اور ان کے تمام ہم خیالوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ جو کوئی ان میں کا کسی آیت یا حدیث صحیح مرفوع صریح الدلالة سے نصاً اس بات کو ثابت کر دیں کہ مسیح موعود مسلمانوں میں پیدا ہوں گے اور مسیح موعود وہی مسیح بن مریم علیہما السلام نہیں تو میں اس کو چالیس روپے حق المحنت دوں گا

٩٨

٣٣٧ اور میرا یہ اقرار بہت سچا اور صحیح سمجھا جاوے۔والسلام!

قولہ ..... اور صفت اس کی یہ کہ باطل کرے گا ۔ دین نص

اقول ...... تحقیق اس کی روایات کی اوپر گزر چکی ۔

قولہ ...... اگر کوئی کہے کہ قتل خنزیر اور کسر صلیب کی جو

جواب اس کا یہ ہے کہ یہ معنی صرف ہم نے ہی نہیں کئے ۔

اقول ...... شروح بخاری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس باطل کریں گے اور کسر صلیب اور قتل خنزیر استعارہ کے بلاوجہ پھیرنا تو انہیں کا کام ہے۔ جن کو نہ اللہ کا ڈر ہے یہ ہے کہ اس قتل خنزیر اور کسر صلیب سے مقصود ابطال مٹا دیں گے۔ دیکھو فتح الباری میں ہے۔ فیکسر الص دین النصرانیة بان یکسر الصلیب حقیق نسبت ہے۔

قولہ ...... بھلا کوئی بتلاوے تو کہ حضرت آدم علیہ السلا نبی نے یہ پیشہ اختیار کیا ہے کہ خنزیروں کا شکار کھیلتا پھر خلاف ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیونکر خنزیروں کا

اقول ...... یہ کہنا کہ یہ بات عادتاً تمام انبیاء کے خلاف کسی نبی نے اس کو نہیں کیا اور یہ بات ثابت نہیں غایۃ ما کرنا منقول نہیں تو عدم نقل سے یہ لازم نہیں آتا کہ واقع عادتاً تمام انبیاء کے خلاف ہے) صحیح اور ثابت نہیں تو جو گے) وہ بھی صحیح اور ثابت نہیں۔ وهو المطلوب!

دوسرے میں کہتا ہوں کہ مقدم اور تالی میں لے کر کسی نبی کے نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ پھر کو ہے۔ ”لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجاً“ یعن راہ بنائی اور ظاہر ہے کہ بعض بعض نبی بعض صفت و حکم م حکم وصفت نہ ہوئی۔ چنانچہ بخاری اور مسلم کی متفق علیہ

٩٩

صفحہ ٣٣٧

اور میرا یہ اقرار بہت سچا اور صحیح سمجھا جاوے۔ والسلام!

قولہ ....... اور صفت اس کی یہ کہ باطل کرے گا۔ دین نصرانیہ ۔

اقول ....... تحقیق اس کی روایات کی اوپر گزر چکی۔

قولہ ....... اگر کوئی کہے کہ قتل خنزیر اور کسر صلیب کی جو تم نے یہ معنی کئے تو یہ خلاف ظاہر ہیں۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ یہ معنی صرف ہم نے ہی نہیں کئے۔ شروح بخاری کو دیکھو۔

اقول ....... شروح بخاری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس قول نبوی کے معنی یہ ہیں کہ نصرانیت کو باطل کریں گے اور کسر صلیب اور قتل خنزیر استعارہ کے طور پر بولا گیا ہے۔ ایسی نص کو ظاہر سے بلاوجہ پھیرنا تو انہیں کا کام ہے۔ جن کو نہ اللہ کا ڈر ہے نہ لوگوں کی شرم بلکہ شراح بخاری کی غرض یہ ہے کہ اس قتل خنزیر اور کسر صلیب سے مقصود ابطال نصرانیہ ہوگی اور وہ یہ کر کے نصرانیہ کو مٹا دیں گے۔ دیکھو فتح الباری میں ہے۔ فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ای یبطل دین النصرانية بان یکسر الصلیب حقيقةً پس اس سے اور آپ کے مسیح سے کیا نسبت ہے۔

قولہ ....... بھلا کوئی بتلاوے تو کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت خاتم النبیین تک کسی نبی نے یہ پیشہ اختیار کیا ہے کہ خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے۔ جب یہ بات عادتاً تمام انبیاء کے خلاف ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیونکر خنزیروں کا شکار کریں گے۔

اقول ....... یہ کہنا کہ یہ بات عادتاً تمام انبیاء کے خلاف ہے جب صحیح ہو کہ یہ بات ثابت کرو کہ کسی نبی نے اس کو نہیں کیا اور یہ بات ثابت نہیں غایۃ ما فی الباب یہ کہا جاوے کہ کسی نبی سے اس کا کرنا منقول نہیں تو عدم نقل سے یہ لازم نہیں آتا کہ واقع میں کیا نہ ہو۔ پس جب یہ بات (کہ یہ عادتاً تمام انبیاء کے خلاف ہے) صحیح اور ثابت نہیں تو جو اس پر تفریع کی (کہ پھر عیسیٰ کیونکر کریں گے) وہ بھی صحیح اور ثابت نہیں۔ وهو المطلوب!

دوسرے میں کہتا ہوں کہ مقدم اور تالی میں ملازمت نہیں کیونکہ آدم علیہ السلام سے لے کر کسی نبی کے نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ پھر کوئی نبی اس کو نہ کر سکے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔”لکل جعلنا منکم شرعة ومنها جاً“ یعنی ہم نے ہر ایک نبی کے لئے ایک دستور اور راہ بنائی اور ظاہر ہے کہ بعض نبی بعض صفت وحکم میں مخصوص ہوئے کہ دوسرے کے واسطے وہ حکم وصفت نہ ہوئی۔ چنانچہ بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث میں ہے کہ غنیمت خاص ہمارے

٩٩

صفحہ ٣٣٩

حضرت خاتم النبیین کے وقت میں حلال ہوئی کہ پہلے کسی کے واسطے حلال نہ تھی۔ ایسے ہی آپ کی ہی خاص شریعت میں تمام زمین جائے نماز ہو گئی کہ جہاں چاہیں نماز پڑھ سکتے ہیں اور زمین پر تیمم مشروع ہوا کہ پہلے کسی کے واسطے یہ بات نہیں ہوئی تھی اور جناب خاتم النبیین کے واسطے یہ بھی بات خاص ہوئی کہ آپ تمام لوگوں کے طرف رسول کر کے بھیجے گئے اور پہلے نبی کسی خاص قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے۔ ایسے ہی اور بات بہت سی باتیں کہ احادیث کے مطالعہ سے ظاہر ہوتی ہیں تو اگر آدم علیہ السلام سے لے کر کسی نبی نے قتل خنزیر نہ کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے۔ تو کون سا محذور لازم آتا ہے۔

تیسرے صاحب رسالہ کا مقدمہ مسلمہ ہے کہ مسیح موعود ایک حاکم ہوں گے۔ حکام شریعت خاتم النبیین سے اور موافق شریعت محمدی کے عمل درآمد کریں گے تو میں کہتا ہوں کہ قتل خنزیر بھی ایک حکم ہے۔ احکام شریعت خاتم النبیین سے کہ مقید ہے ایک وقت خاص کے ساتھ وہ وقت نزول ابن مریم کا ہے اور اس پر دلیل یہی حدیث ”یقتل الخنزیر“ ہے۔ پس حضرت عیسیٰ کو اس پر عمل درآمد کرنا ضرور ہوگا۔ چاہے کسی نبی کی عادت کے موافق ہو چاہے مخالف ان کو اس سے کیا کام ان کو تو احکام شریعت محمدی کا بجا لانا ہے۔ پس یہ کہنا کہ جب یہ بات عادتاً تمام انبیاء کے خلاف ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیونکر کریں گے غیر صحیح ہے۔ کما لا یخفی!

چوتھے کیا رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو نہ مروایا تھا اور عام طور پر کتے مارے گئے۔ پھر خنزیروں میں کون سا استبعاد ہے۔ مگر اصلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جو لوگ سچے مسیح کے جھوٹے تابعدار ہوئے انہیں کو خنزیر محبوب رہے تو جن کی اصل ہی جھوٹی ہے یعنی ان کے مسیح ہی جھوٹے ہیں تو ان کو تو اور بھی احب ہوں گے۔ پھر بھلا ان کے مارنے کی راہ کیوں نکالنے دیں گئے اور ایسی سبیل کیوں تجویز ہونے دیں گے۔ جس سے خنازیر قتل ہوں۔ مگر وہ کچھ کریں اللہ تعالیٰ تو اپنے نبی کی پیش گوئیوں کو ضرور ہی سچا کرے گا۔ گو منکرین کیسے ہی ہاتھ پیر چلائیں۔ یہاں پر یہ بھی بات قابل دید وغور ہے کہ اب کہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ احادیث صحیحہ کے صریح مضامین پر کھلے کھلے طعن کرنے لگے۔ کہتے ہیں حضرت عیسیٰ کیونکر خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے۔ سبحان اللہ ! یہ کیسی دیانت ہے۔ ”نعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یهده الله فلا مضل له ومن یضلل فلا هادی له“

قولہ ...... ان کے وقت میں ایسے عوائق شرعیہ پیش آویں گے کہ جہاد ظاہری کا وقت نہ ہووے گا۔

١٠٠

اقول ..... کیا یہ محض افترائی دعویٰ نہیں ہے۔ بھلا یہ کون کے وقت میں ایسے عوائق شرعیہ پیش آویں گے۔ کیا ایسی ؟ میں وعید ”لعنة الله علی الکاذبین“ میں داخل نہیں کا کفار سے قتال و جہاد کرنا احادیث سے اوپر ثابت کر چکا

قولہ ...... چھٹی صفت اس کی یہ کہ لوگوں کو مال کے طر پڑھو اس حدیث کو ”لیدعون الی المال فلا یقبله احـ معنی یہ بھی ہیں جو ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔ اس مسیح وا مندرجہ براہین احمدیہ تمام دنیا کے اطراف میں مشتہر کیا ہے

اقول ...... سوائے جواب مذکورہ بالا کے میں کہتا ہوں کہ بخاری اور مسلم کی متفق علیہ روایت میں اس طرح ہے۔ ” احد“ یعنی مال کی کثرت ہوگی کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے۔ ”ویعطی المال حتی لا یقبل“ یعنی لوگوں کو یہا نہ ملے گا۔ ناظرین! ذرا غور فرماویں کہ صاحب رسالہ۔ ہو سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ حاصل روایات کا تو یہ ہے کہ جس تو مال کی بہت کثرت ہو جاوے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ الـ کسی کو حاجت نہ رہے گی اور کوئی قبول نہ کرے گا اور یہا اوروں سے مانگ رہے ہیں۔ دیکھو

قولہ ...... ساتواں وصف اس کا یہ ہے کہ شحناء اور تحاسـ گا۔ اس صفت کا بھی شروع ہو چلا ہے۔ جو لوگ اس مسیح یہ صفات ذمیمہ نہیں پائے جاتے۔

اقول ...... علاوہ جواب سابق کے میں کہتا ہوں کہ صحیح مسـ والتباغض والتحاسد “ اور روایت مستدرک ”وتقع الامنة علی اهل الارض حتی تر البقر والذباب مع الغنم ویلعب الصبیان م

١٠١

صفحہ ٣٤٩

اقول ...... کیا یہ محض افترائی دعویٰ نہیں ہے۔ بھلا یہ کون سی آیت یا حدیث سے معلوم ہوا کہ ان کے وقت میں ایسے عوائق شرعیہ پیش آویں گے۔ کیا ایسی جھوٹی باتیں بنانے والا خاص کر امور دینیہ میں وعید ”لعنة الله على الكاذبين“ میں داخل نہیں اور میں ابتداء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کفار سے قتال و جہاد کرنا احادیث سے اوپر ثابت کر چکا ہوں۔ فتدبر

قولہ ...... چھٹی صفت اس کی یہ کہ لوگوں کو مال کی طرف بلاوے گا اور کوئی قبول نہ کرے گا۔ پڑھو اس حدیث کو ”لیدعون الی المال فلا یقبله احد“ تم سمجھے اس کے کیا معنی ہیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں جو ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔ اس مسیح وقت نے اوّل تو دس ہزار روپے کا اشتہار مندرجہ براہین احمدیہ تمام دنیا کے اطراف میں مشتہر کیا ہے۔

اقول ...... سوائے جواب مذکورہ بالا کے میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کے ہرگز یہ معنی نہیں۔ دیکھو بخاری اور مسلم کی متفق علیہ روایت میں اس طرح ہے۔ ”ویفیض المال حتی لا یقبله احد“ یعنی مال کی کثرت ہوگی کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا اور احمد کی روایت میں یوں وارد ہے۔ ”ویعطی المال حتی لا یقبل“ یعنی لوگوں کو یہاں تک مال دیں گے کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ملے گا۔ ناظرین ! ذرا غور فرماویں کہ صاحب رسالہ نے جو معنی لکھے بھلا الفاظ نبویہ کے یہ معنی ہو سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ حاصل روایات کا تو یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو مال کی بہت کثرت ہو جاوے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو اس قدر مال دیں گے کہ پھر کسی کو حاجت نہ رہے گی اور کوئی قبول نہ کرے گا اور یہاں بھلا اس کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ خود ہی مسیح اوروں سے مانگ رہے ہیں۔ دیکھو

(فتح الاسلام ص ٥٠، ٥١، خزائن ج ٣ ص ٣٠)

قولہ ...... ساتواں وصف اس کا یہ ہے کہ شحناء اور تحاسد اور تباغض اس کے سبب سے جاتا رہے گا۔ اس صفت کا بھی شروع ہو چلا ہے۔ جو لوگ اس مسیح وقت سے حسن ارادت رکھتے ہیں ان میں یہ صفات ذمیمہ نہیں پائے جاتے۔

اقول ...... علاوہ جواب سابق کے میں کہتا ہوں کہ صحیح مسلم کا لفظ یہ ہے۔ ”ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد“ اور بروایت مستدرک حاکم یہ مضمون اس طرح ادا کیا گیا ہے۔ ”وتقع الامنة على اهل الارض حتى ترعى الاسود مع الابل والنمر مع البقر والذیاب مع الغنم ویلعب الصبیان مع الحیات“ یعنی زمین والوں میں امن

١٠١

صفحہ ٣٤١

ہو جاوے گی کہ سانپ اور اونٹ ایک جگہ چریں گے اور چیتے بقر کے ساتھ اور بھیڑیے غنم کے ساتھ اور لڑکے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ تو واضح رہے کہ یہ عداوت اور تحاسد اور تباغض کا لوگوں سے اٹھ جانا تو جب ہی ہوگا کہ سب لوگ ایک ملت ہو جاویں گے اور مال کی ایسی کثرت ہوگی کہ کوئی کسی کا محتاج نہ ہوگا۔ پھر کوئی کسی سے کیوں حسد وبغض وعداوت و جھگڑا کرے گا۔ لہذا تمام لوگوں میں امن ہو جاوے گا۔ پس اس سے اور جو صاحب رسالہ نے رفع عداوت وغیرہ بیان کیا ہے۔ کیا نسبت ہے اور ایسے تو قاعدہ کی بات ہے کہ جب چند لوگ کسی ایک مسلک حق یا باطل پر متفق ہوتے ہیں تو شروع شروع ان میں اتفاق اور محبت ہو ہی جاتی ہے۔ پھر قادیانی سے کیا ہوا۔ ”فاتعظوا“ اس صفت کا وقوع جب ہی ہوگا کہ تمام لوگ ایک ملت ہو جاویں اور تحاسد اور تباغض جاتا رہے۔ واللہ اعلم!

قولہ ...... حضرت عالی سیدنا ومولانا ﷺ بطور پیشین گوئی کے فرما چکے ہیں کہ اس امت پر ایک زمانہ ۔الخ! تب فارس کے اصل میں سے ایک ایمان ۔الخ! کا۔

اقول ...... حاصل کلام یہ کہ مرزا قادیانی نے (فتح الاسلام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٩) میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بطور پیشین گوئی کے فرما چکے ہیں کہ جب میری امت سخت درجہ کی یہودیوں کے ساتھ مشابہت پیدا کرلے گی۔ تب فارس کے اصل میں سے ایک ایمان کا تعلیم دینے والا پیدا ہوگا۔ تو میں کہتا ہوں کون سی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کسی روایت سے اس کا ثبوت پہنچا دیں۔ ”والا وعید من کذب علی متعمداً فلیتبوء مقعده من النار“ میں داخل ہوں گے اور یہ بھی ایک ان کی دلیل مسیحیت ہو جاوے گی۔ن

قولہ ...... واں نشان اس کا یہ ہے کہ کوئی مخالف اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا اور اس کے مقابلہ سے ہر مخالف پر موت سی آجاتی ہے۔ صدق رسول الکریم ”فلا يحل لكافر يجد من ريح نفسه الا مات“

اقول ...... قطع نظر جواب مسطور الصدر کے یہ غرض ہے کہ ابھی عرصہ میں پچیس روز کا ہوا کہ دہلی کے مناظرہ میں جناب عالم اکمل مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی مدظلہ کے مقابلہ سے کون بھاگتا نظر آیا۔ افسوس پہلے سے ایسے عہد وشرائط کئے تھے تو اپنے آپ کو قیدی ہی کر کے تین روز ٹھہرا لیتے راتے رات بھاگنے کی کیوں رسوائی اٹھاتے۔ اب یہاں کس پر موت پڑی؟ سچ ہے۔ ”الحق يعلو ولا يعلى“ ١٠٢

تنبیہہ

اب یہاں پر تو تمام مخالفین کو کافر بنادیا اور جب یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں سے مباہلہ کیسے کریں۔ یہ شان مسلمانی کو بھی دھبا لگا دیا۔

واضح رہے کہ تحقیق لا يحل لكافر يجد کی

قولہ ...... دسویں علامت مابہ الامتیاز اصیل مسیح اور اس مثیل نہیں کیا تھا اور نہ اس کے کوئی اولاد ہوئی تھی اور مثیل مسیح نے اس کے لئے اولاد یہ نشان بھی اس میں بخوبی موجود ہے۔

اقول ...... یہ دعویٰ محض باطل ہے۔ بھلا یہ کہاں ہے کہ یہ علامت اور بعض حدیثوں میں نکاح کرنے کا جو ذکر ہے تو اس طرح گے۔ چنانچہ لفظ حدیث یہ ہے۔ ”ان عیسی اذ ذاك يتزوج معلوم ہوئی کہ وہی مسیح اب نکاح کریں گے۔ جنہوں نے امتیاز کس میں باقی آگے جو کچھ آخر رسالہ تک لکھا۔ اس حاجت نہیں۔ الحمدلله والمنة کہ اس وقت میں کہ اچھی اعلام الناس کے مختصر جواب سے فارغ ہو گیا۔

ایک خواب

ناظرین اگر نظر غور اور انصاف سے اس رسالہ جان لیں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ دعویٰ بحکم بالکل خلاف وفاسد ہیں اور جو شخص ایسے عقائد اور مسائل گیا۔ اس جگہ پر مجھ کو اپنے ایک خواب کا بیان کرنا مناسب اہل اسلام کے نزدیک مسلم ہے کہ جھوٹ بولنا سخت گناہ ہے اور خاص کر خواب جھوٹے بنا کر کہنا کہ قیامت کے روز وہ جواب وعیدوں پر واقف ہو کر جھوٹے خواب بنا کر کہنے پر ہرگز جرات کہ اس بیان خواب میں میں جھوٹ نہیں بولنے کا اور میرا واضح رہے کہ جب میں نے اس فتنہ کا حال سنا اور ان لوگوں مدت تک مجھ کو مطلق اس کی اطلاع نہ تھی۔ فی الحال مجھ کو اس ١٠٣

صفحہ ٣٤١

تنبیہہ

اب یہاں پر تو تمام مخالفین کو کافر بنا دیا اور جب مخالفین درخواست مباہلہ کرتے ہیں تو یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں سے مباہلہ کیسے کریں۔ سبحان اللہ! کیسی دیانت ہے کہ جس نے شان مسلمانی کو بھی دھبا لگا دیا۔ واضح رہے کہ تحقیق لا یحل لکافر یجد کی اوپر بیان ہو چکی ہے۔

قولہ ..... دسویں علامت مابہ الامتیاز اصیل مسیح اور اس مثیل مسیح میں یہ ہے کہ اصل مسیح نے نکاح نہیں کیا تھا اور نہ اس کے کوئی اولاد ہوئی تھی اور مثیل مسیح نکاح بھی کرے گا اور پیدا کی جاوے گی اس کے لئے اولاد یہ نشان بھی اس میں بخوبی موجود ہے۔

اقول ..... یہ دعویٰ محض باطل ہے۔ بھلا یہ کہاں ہے کہ یہ بات مسیح اور مثیل مسیح میں مابہ الامتیاز ہے اور بعض حدیثوں میں نکاح کرنے کا جو ذکر ہے تو اس طرح پر ہے کہ اس وقت میں مسیح نکاح کریں گے۔ چنانچہ لفظ حدیث یہ ہے۔ ”ان عیسیٰ اذ ذاک یتزوج“ اس سے صاف طور پر یہ بات معلوم ہوئی کہ وہی مسیح اب نکاح کریں گے۔ جنہوں نے پہلے نکاح نہ کیا تھا۔ اشتباہ ہی نہیں تو پھر امتیاز کس میں باقی آگے جو کچھ آخر رسالہ تک لکھا۔ اس کا جواب اوپر مفصلاً گزر چکا۔ اعادہ کی حاجت نہیں۔ الحمدلله والمنة کہ اس وقت میں کہ اخیر ربیع الآخر ١٣٠٩ھ تیرہ سو نو ہے۔ رسالہ اعلام الناس کے مختصر جواب سے فارغ ہو گیا۔

ایک خواب

ناظرین اگر نظر غور اور انصاف سے اس رسالہ کو ملاحظہ فرمادیں گے تو یقیناً اس بات کو جان لیں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ دعاوی بحکم شرع محض باطل اور قرآن وحدیث کے بالکل خلاف و فاسد ہیں اور جو شخص ایسے عقائد اور مسائل کا معتقد ہوا۔ بلاشبہ وہ چاہ ضلالت میں پڑ گیا۔ اس جگہ پر مجھ کو اپنے ایک خواب کا بیان کرنا مناسب معلوم ہوا تو اوّلاً واضح رہے کہ یہ بات تمام اہل اسلام کے نزدیک مسلّم ہے کہ جھوٹ بولنا سخت گناہ ہے اور پھر دین کی بات میں کہ اور بھی زائد اور خاص کر خواب جھوٹے بنا کر کہنا کہ قیامت کے روز دو جو میں گرہ لگانے کا حکم ہوگا پس مسلمان ان وعیدوں پر واقف ہو کر جھوٹے خواب بنا کر کہنے پر ہرگز جرات نہیں کر سکتا۔ یہ اس واسطے میں نے لکھا کہ اس بیان خواب میں میں جھوٹ نہیں بولنے کا اور میری طرف ہرگز اُس کا گمان نہ کیا جاوے تو واضح رہے کہ جب میں نے اس فتنہ کا حال سنا اور ان لوگوں کی تحریرات نظر سے گزریں (اور ایک مدت تک مجھ کو مطلق اس کی اطلاع نہ تھی۔ فی الحال مجھ کو اس کی پوری کیفیت کھلی۔ اسی واسطے جواب

١٠٣

صفحہ ٣٤٣

اعلام الناس میں دیر ہوئی۔ ولا جس وقت اعلام الناس شائع ہوئی تھی اگر مجھ کو اطلاع ہو جاتی تو ذات باری سے امید تھی کہ اسی وقت اس کا جواب تیار ہو جاتا) خیر میں اپنے ہادی مطلق سے مرزا قادیانی کے بارہ میں راہ صواب کی طلب کیا کرتا تھا اور اپنے ہادی حق سے دعا کیا کرتا تھا کہ اس بارہ میں مجھ کو طریق حق دکھا اور اس پر مضبوط رکھ اور ہر طالب حق کو ایسا ہی چاہئے۔ ایک روز میں نے قنوت وتر میں بھی اس کی دعا مانگی اور سو گیا تو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں ایک جگہ مسجد کے پاس کھڑا ہوں۔ مسجد کے احاطہ کے اندر اتنے میں کچھ شور سا ہوا کہ مرزا آتے ہیں۔ جب مرزا میرے قریب پہنچے تو میں نے دیکھا کہ ان کے ساتھ پانچ چھ آدمی ہیں اور ان کا بائیاں ہاتھ ایک شخص پکڑے ہوئے ہے اور وہ لوگ کچھ تعظیم کے طور پر مرزا قادیانی کے ساتھ نہیں چلتے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی کسی مجرم کو لئے جاتا ہے اور مرزا قادیانی کے اوپر بھی ایک حالت گھبراہٹ کی معلوم ہوتی تھی۔ آخر ان لوگوں نے قبلہ رو کر کے ایک جگہ کھڑا کر دیا۔ جب ذرا آگے بڑھ کر میں نے مرزا قادیانی کو دیکھا تو ننگا سر اور دونوں آنکھیں اس کی چپڑی پائیں۔ آنکھیں ایسی چپٹی ہوئی ہیں کہ چہرے کے طرف دیکھنے سے نفرت ہوتی ہے۔ ان دونوں آنکھوں میں ایک آنکھ بہت ذرا سی کھلتی ہے۔ غالباً وہ دائیں آنکھ ہے۔ (اتنی بات میں کہ کھلنے والی آنکھ کہ جو بہت ذرا سی کھلتی ہے۔ جاگنے کے بعد مجھ کو شک ہو گیا کہ آیا دائیں تھی یا بائیں اور غالب یہ ہے کہ دائیں تھی) جب میں نے ان کی آنکھوں کا یہ حال دیکھا تو اسی وقت خواب کے اندر میرے دل میں یہ گذرا کہ یہ شخص اپنے آپ کو مسیح موعود کہتا ہے۔ حالانکہ اس میں اوصاف جو دجال موعود کی احادیث میں مذکور ہیں پائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد میں جاگ اٹھا۔ ”والحمد للہ علی ذالك“ یہ خواب قابل غور اور جائے عبرت ہے اور کیوں نہ ہو۔ اس واسطے کہ بالکل موافق کتاب وسنت کے ہے بیان اس کا یہ ہے کہ یہ بات یقینی ہے کہ مرزا مسیح موعود اور اس امر کے مامور من اللہ نہیں اور ظاہر ہے کہ جو شخص کہ اللہ کی طرف سے مبعوث اور مامور من اللہ نہ ہو۔ اور پھر اس کا دعویٰ کرے اور اللہ تعالیٰ کے اوپر طرح طرح کی افترا کی باتیں جوڑے تو اس سے بڑھ کے کون ظالم ہے۔ ”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا او قال اوحی الیٰ ولم یوح الیہ شئ“ اور اہل اسلام کو طریقہ حق سے بہکا کر صریح باطل عقائد و مسائل کی تعلیم کرے تو وہ دجال صفت اور ابلیس سیرت نہیں تو کون ہے۔ یہ بات کہ مرزا قادیانی مسیح نہیں ہوسکتے۔ میرے اس رسالہ سے بفضلہ تعالیٰ پورے طور پر کھل گئی اور متفرق مقاموں میں اس بات کے لئے نشانات بھی بیان کر دیئے۔ مگر اب اس اخیر رسالہ میں اس بات پر دو چار دلیلیں کہ جو اپنے مطلوب کو یقینی طور پر ثابت کرتے ہوں۔

١٠٤

قادیانیوں سے دس سوالات

بطور خلاصہ کے لکھتا ہوں تاکہ اور بھی زیادہ

اور اوصاف کے ساتھ جن کو احادیث صحیحہ متواترہ نے مق فساد جہاں میں نہ برپا کرلے۔ ہرگز مسیح موعود نہیں آسکتے ذکر کی گئیں۔ ان میں سے حدیث پنجم اور حدیث ششم د کہ اب تک اس صفت کے دجال نے خروج نہیں کیا ، آسکتا۔ پس قطعاً یہ بات معلوم ہوگئی کہ مرزا مسیح موعود نہیں

نہ لڑیں۔ پھر تہائی ان مدینہ والوں میں کے بھاگ جائیں پھر شیطان غنیمت تقسیم کرتے وقت ان کو چیخ دجال کے نہ فرماویں گے۔ دیکھو حدیث ہشتم کو اور ظاہر ہے کہ یہ موعود آسکتے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی کیونکر مسیح موعود ہو سک

مسلمان کی ہوگی اور ان میں جو حاکم ہوگا وہ حضرت مسی گا۔ دیکھو حدیث دوم اور ہشتم کو اور اظہر ہے کہ یہ بات ہوگئے؟

دیکھو حدیث ہشتم کو اور یہاں تو اس کا ذکر ہی کیا ہے۔ طرح مسیح موعود ہو گئے؟

گئی ہے اور پھر اس کی ہیئت مخصوصہ بھی بتلادی کہ دو رنگین کپڑے پہنے ہوئے نزول فرماویں گے۔ دیکھو ح سے بھلا کیا نسبت ہے۔ پھر کیونکر مسیح موعود بن بیٹھے؟

اللہ کا ان پر بولا گیا ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ک

١٠٥

صفحہ ٣٤٣

قادیانیوں سے دس سوالات

بطور خلاصہ کے لکھتا ہوں تا کہ اور بھی زیادہ تر ناظرین طالبین حق کو فائدہ حاصل ہو۔

دلیل اوّل! یہ کہ قبل نزول مسیح موعود کے خروج دجال کا ضروری ہے۔ جب تک دجال انہیں حالات اور اوصاف کے ساتھ جن کو احادیث صحیحہ متواترہ نے مفصلاً بیان کر دیا ہے۔ خروج نہ کر لے اور اپنا فساد جہاں میں نہ برپا کرلے۔ ہرگز مسیح موعود نہیں آسکتے۔ چنانچہ جو احادیث کہ ابتداء رسالہ میں ذکر کی گئیں۔ ان میں سے حدیث پنجم اور حدیث ششم اور حدیث ہشتم کو دیکھو اور یہ بات قطعی ہے کہ اب تک اس صفت کے دجال نے خروج نہیں کیا۔ لہٰذا اس وقت تک کوئی مسیح موعود ہو کر نہیں آسکتا۔ پس قطعاً یہ بات معلوم ہوئی کہ مرزا مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ وهو المطلوب!

دلیل دوم! یہ کہ جب تک رومی دابق یا اعماق میں آ کر مدینہ کے اسلامی لشکر کے ساتھ نہ لڑیں۔ پھر تہائی ان مدینہ والوں میں کے بھاگ جائیں اور تہائی شہید ہوں اور تہائی فتح کرلیں۔ پھر شیطان غنیمت تقسیم کرتے وقت ان کو مسیح دجال کے نکلنے کی خبر سنادے۔ تب تک مسیح موعود نزول نہ فرمادیں گے۔ دیکھو حدیث ہشتم کو اور ظاہر ہے کہ یہ واقعہ اب تک نہیں ہوا۔ پس ابھی کیسے مسیح موعود آ سکتے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی کیونکر مسیح موعود ہو سکتے ہیں۔

دلیل سوم! یہ کہ مسیح موعود ایسی قوم میں نزول فرماویں گے کہ جن میں حکومت وامارت مسلمان کی ہوگی اور ان میں جو حاکم ہوگا وہ حضرت مسیح علیہ السلام سے امامت کے واسطے بھی کہے گا۔ دیکھو حدیث دوم اور ہشتم کو اور اظہر ہے کہ یہ بات یہاں نہیں پھر مرزا قادیانی کیونکر مسیح موعود ہو گئے؟

دلیل چہارم! یہ کہ مسیح موعود ایسی قوم میں نازل ہوں گے کہ جو جہاد کرتے ہوں گے۔ دیکھو حدیث ہشتم کو اور یہاں تو اس کا ذکر ہی کیا ہے۔ بلکہ غائب اور خلاف مسلک ہے۔ پھر بھلا کس طرح مسیح موعود ہو گئے؟

دلیل پنجم! یہ کہ مسیح موعود کا نزول ہوگا۔ چنانچہ تمام احادیث میں یہ بات تفصیلاً بیان کی گئی ہے اور پھر اس کی ہیئت مخصوصہ بھی بتادی کہ دو فرشتوں کے بازؤوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دو رنگین کپڑے پہنے ہوئے نزول فرماویں گے۔ دیکھو حدیث سوم اور چہارم اور ششم کو اور یہاں اس سے بھلا کیا نسبت ہے۔ پھر کیونکر مسیح موعود بن بیٹھے؟

دلیل ششم! یہ کہ مسیح موعود نبی ہوں گے۔ دیکھو حدیث ششم کو کہ اس میں چار جگہ لفظ نبی اللہ کا ان پر بولا گیا ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کا کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ "مـــا کـــان

١٠٥

صفحہ ٣٤٥

محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ اور جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ”لا نبي بعدي“ پس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کا کوئی مسیح موعود نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا مرزا قادیانی ہرگز مسیح موعود نہیں ہوسکتے۔ وھو المطلوب!

واضح رہے کہ نبی کے جو یہاں پر معنی ہیں وہی وہاں پر بھی ہیں جو حقیقت شرعیہ ایک جگہ مراد ہے وہی دوسری جگہ بھی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک جگہ تو اپنی غرض کے لئے اور معنی مراد لو اور دوسری جگہ کچھ اور صرف نص کا حقیقت سے بلا صارف الحاد و تحریف ہے۔ ”فاتقوا الله“

دلیل ہفتم ! یہ کہ مسیح موعود نزول کے بعد کفار سے مقاتلہ اور جہاد کریں گے اور دجال معہود کو ماریں گے۔ دیکھو حدیث سوم اور پنجم اور ششم اور ہشتم اور نہم کو اور یہ بات یضع الحرب کے معنی میں بھی مفصلاً بیان ہو چکی ہے اور یہاں تو اس سے بکلی انکار ہے۔ پھر بھلا کس طور سے مسیح موعود ہوسکتے ہیں؟

دلیل ہشتم ! یہ کہ مسیح موعود کا نام عیسیٰ مسیح اور ان کی ماں کا نام مریم ہے۔ دیکھو احادیث مسطورہ بالا کو اور تمام احادیث اس بارہ کی اس بات کو تصریحاً بیان کرتی ہیں اور اظہر ہے کہ نہ مرزا قادیانی کا نام عیسیٰ مسیح ہے اور نہ ان کی ماں کا نام مریم ہے۔ پھر مرزا قادیانی کس طرح مسیح موعود ہوسکتے ہیں؟

دلیل نہم! یہ کہ عقیدہ مسلمہ ہے کہ مسیح موعود ہادی حق اور متبع شریعت محمد ہوں گے۔ پس جو شخص کہ عقائد کفریہ کا رواج دینے والا، مسائل زندیقیہ کا تعلیم کرنے والا انبیاء کی شان میں کلمات اہانت بکنے والا اور معجزات کو جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں اپنے انعامات اور احسانات میں شمار کیا ہے۔ ان کو سحر اور اپنے نزدیک مکروہ ٹھہرانے والا اور قرآن وحدیث میں کھلی کھلی تحریف کرنے والا ہو کہ موجب الحاد ہے۔ کیونکر مسیح موعود ہوسکتا ہے؟ ان باتوں کا ثبوت میں ابتداء رسالہ میں بحوالہ کتاب وصفحہ بیان کر چکا ہوں۔

دلیل دہم ! یہ کہ مسیح موعود سے وہی خاص عیسیٰ بن مریم حقیقی نبی جن پر انجیل نازل ہوئی جو بنی اسرائیل کی طرف نبی کر کے بھیجے گئے تھے مراد ہیں اور یہ بات تمام احادیث سے ثابت ہوتی ہے۔ دیکھو حدیث سوم اور پنجم کو کہ جس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے قطعی تصریح کر دی ہے کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمادیں گے اور خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے محمد رسول اللہ سے شب معراج میں تصریح کر دی۔ قرب قیامت کے ذکر میں کہ دجال نکلے گا تو میں اتروں گا اور اس کو قتل کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا مجھ سے عہد ہے۔ دیکھو اب یہاں کیسی اظہر تشریح موجود ہے کہ مسیح موعود ١٠٦

وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر ان نصوص میں مثیل اور پوری کتاب سنت سے مخالفت اور اللہ و رسول سے لڑ کرو۔ اللہ جل شانہ نے اپنے رسول امین کی زبان سے تصریح اور کس کس تشریح سے فرمادیا کہ جس سے مرزا قاد نزدیک اس میں ان کا نام ہی لانا ناروا ہے۔ اے مسل اسلام کے نصیحت کرتا ہوں کہ اگر آپ لوگ بنظر انصاف فی النہار ظاہر ہو جاوے گا کہ بحکم شرع شریف مرزا قاد فاسد ہیں اور ایسے عقائد و مسائل صرف شیطانی دھوکے معتقد ہوا۔ بلاشبہ وہ قید دجالی اور جال شیطانی میں پھنس مرضی چاہئے و اتقوا ایسے عقائد و مسائل سے بہت بچتے رہ مخبر صادق نے خبر دی ہے کہ دجال کذاب مدعی نبوت خروج میں یہ کہنا پڑے کہ ”یلیتنی اتخذت مع الرسول فلانا خلیلا لقد اضلنی عن الذکر بعد اذ خذولاً“ ہر مسلمان کو رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر ع فلم یغیرہ یوشک ان یعمہم اللہ بعقا وصححه.“ یعنی جب لوگ خلاف شرع بات دیکھ کر سب پر اپنا عذاب بھیج دے گا اور ترمذی کی ایک روایت کھا کر کہتا ہوں۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سے بچانا والا تم پر اللہ ایسا عذاب بھیجے گا کہ اگر دعا مانگو گ بھائیو! ہم سب لوگوں کو چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ کی اس ہوں۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ”من رأی م یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فقلبہ اخ منکر کو دیکھے تو چاہئے کہ اس کو ہاتھ سے مٹا دے۔ اگر اس اگر یہ بھی نہ کر سکے تو دل سے ہی برا سمجھے۔ ہر شخص کو بقد سعی اور کوشش چاہئے۔ اہل علم کو چاہئے کہ اپنے علم سے کے زور سے اعانت حق میں مشغول ہوں۔ اس مادہ کی آ ١٠٧

صفحہ ٣٤٥

وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر ان نصوص میں مثیل مسیح ماننا صریح بے ایمانی اور کھلی بے حیائی اور پوری کتاب سنت سے مخالفت اور اللہ و رسول سے لڑائی نہیں تو کیا ہے؟ اے اہل اسلام ذرا غور کرو۔ اللہ جل شانہ نے اپنے رسول امین کی زبان سے نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو کیسی کیسی تصریح اور کس کس تشریح سے فرمادیا کہ جس سے مرزا قادیانی کی نسبت کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ میرے نزدیک اس میں ان کا نام ہی لانا ناروا ہے۔ اے مسلمان بھائیو! میں تم کو محض بسبب ہمدردی اس لئے نصیحت کرتا ہوں کہ اگر آپ لوگ بنظر انصاف اس رسالہ کو دیکھیں گے تو آپ پر کالشمس فی النہار ظاہر ہو جاوے گا کہ بحکم شرع شریف مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ دعاوی محض باطل اور فاسد ہیں اور ایسے عقائد و مسائل صرف شیطانی دھوکے اور وساوس ابلیسی ہیں۔ جو ان باتوں کا معتقد ہوا۔ بلاشبہ وہ قید دجالی اور جال شیطانی میں پھنس گیا۔ اے حق کے طالبو اور اپنے مولیٰ کی مرضی چاہنے والو! ایسے عقائد و مسائل سے بہت بچتے رہو۔ یہ وہی وقت معلوم ہوتا ہے۔ جس کی خبر مخبر صادق نے دی ہے کہ دجال کذاب مدعی نبوت خروج کریں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ روز قیامت میں یہ کہنا پڑے ”یلیتنی اتخذت مع الرسول سبیلاً یا ویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا لقد اضلنی عن الذکر بعد اذ جاء نی وکان الشیطان للانسان خذولاً“ ہر مسلمان کو رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر عمل چاہئے۔ ”ان الناس اذا راؤ منکر فلم یغیرہ یوشک ان یعمھم اللہ بعقابہ اخرجہ ابن ماجہ والترمذی وصححہ“ یعنی جب لوگ خلاف شرع بات دیکھ کر نہ مٹادیں گے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنا عذاب بھیج دے گا اور ترمذی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ میں اس ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم لوگوں کو بھلائی کی وصیت کرنا اور برائی سے بچانا ورنہ تم پر اللہ ایسا عذاب بھیجے گا کہ اگر دعا مانگو گے تو تمہاری دعا بھی قبول نہ ہوگی۔ تو اے بھائیو! ہم سب لوگوں کو چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ کی اس وعید سے ڈر کر منکر کے مٹانے میں مشغول ہوں۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ”من رأی منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فقلبہ اخرجہ الشیخان“ یعنی تم میں جو کوئی کسی منکر کو دیکھے تو چاہئے کہ اس کو ہاتھ سے مٹادے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے مٹاوے اگر یہ بھی نہ کرسکے تو دل سے ہی برا سمجھے۔ ہر شخص کو بقدر اپنی استطاعت اور ہمت کے کار خیر میں سعی اور کوشش چاہئے۔ اہل علم کو چاہئے کہ اپنے علم سے کام لیں۔ مالداروں کو چاہئے کہ اپنے زر کے زور سے اعانت حق میں مشغول ہوں۔ اس مادہ کی کتابیں جو علماء تالیف کرتے ہیں۔ ان کی طبع

١٠٧

صفحہ ٣٤٦

میں مدد کریں کہ وہ بھی اس کے ثواب جزیل میں شریک ہوں۔ ”وان تتولوا يستبدل قوماً غیرکم ثم لا يكونوا امثالكم ياايها الذين أمنو كونوا انصار الله و آخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمين والصلوٰة والسلام على خاتم النبيين وآله وصحبه اجمعين وجميع المسلمين برحمتك يا ارحم الراحمين ٠ الحمد لله والمنة “ کہ رسالہ شفاء للناس جواب شافی و کافی رسالہ اعلام الناس کا تمام ہوا۔

عذر

اپنے پرانے محبّ اور مشفق جناب مولوی محمد احسن صاحب امروہی ( قادیانی ) مؤلف اعلام الناس کی خدمت میں عرض پرداز ہوں کہ میرا اس تحریر میں اگر کوئی کلمہ ناملائم طبع ہو تو یہ محض بوجہ حمیت اسلامی اور جوش ایمان کے نکلا۔ لہٰذا مجھ کو معذور سمجھیں ۔ واسال الله ان يهدینی وایاكم الى طریقه المستقیم !

المعتذر

مؤلف شفاء للناس احقر تلامذہ امام همام حجة الله بین الانام علم العلماء العظام بقية السلف الكرام موضع حجة الملة والاسلام المفسر المحدث الفقيه شيخ الانام حضرت مولانا سید محمدنذیر حسین صاحب لازالت شموس فيوضه طالعة الى يوم القيام ۔

تقریظ من جانب مولوی حافظ عبدالوہاب صاحب مدظلہ

الحمد لوليه والصلوٰة علی نبیه اما بعد! میں نے اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک بغور سنا۔ اپنے باب میں اس رسالہ کو بہت پورا اور اعلام الناس کا جواب کافی و شافی پایا۔ اگر اس کو بنظر غور دیکھا جاوے تو اس میں اعلام الناس کے لفظ لفظ کا جواب ہے۔ مگر چونکہ مؤلف زاد فضلہ ودام فیضہ نے قصداً اختصار کا بہت کیا۔ اس واسطے حاجت اس رسالہ کے مطالعہ میں نظر غور کی ہے اور زیادہ تر اس کی خوبی جب ظاہر ہو سکتی ہے کہ اوّل اعلام الناس کو دیکھے۔ اس کے بعد اس کو دیکھنے میں اس کے ہر بات کا جواب خیال کرتا جاوے اور جو صاحب اس رسالہ کا مطالعہ کریں تو مناسب ہے کہ اوّل سے آخر تک دیکھیں۔ کیونکہ اس کا بیان ایک دوسرے سے متعلق اور منسلک ہے۔ پس جب تک کہ پورا نہ دیکھا جاوے کیفیت پوری نہیں معلوم ہو سکتی ۔ والحمدلله الذي بنعمة تتم الصالحات والسلام على سید الموجودات !

١٠٨

PDF 348

اَنا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لَا نَبِىَّ بَعْدِى

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

النصر المبين

فی

رد اقوال الجاهلين

حضرت مولانا دوست محمد خانؒ

صفحہ ٣٤٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ! نحمده ونصلي على نبيه ورسوله خاتم النبيين محمد وآله واصحابه اجمعين ! ١٩؍ جولائی ١٨٩٥ء کو مولوی احمد علی صاحب جو بغرض وصول چندہ پہاڑ پر مقیم تھے۔ ڈہرہ دون میں تشریف لائے تھے اور ٢٠؍ جولائی ١٨٩٥ء کو مولوی احسن قادیانی سہارنپور سے پیر جی خدا بخش صاحب کے مکان پر تشریف لائے۔ ٢١؍ جولائی ١٨٩٥ء بوقت ٤؍ بجے شام کے یہ خاکسار ومحمد حنیف خلف خدا بخش صاحب واحمد حسین ملازم وجناب مولوی احمد علی صاحب اوپر دوکان پیر جی صاحب کے بیٹھے ہوئے تھے کہ مولوی احسن قادیانی، پیر جی صاحب کے مکان سے دوکان پر تشریف لائے اور السلام علیکم وعلیٰ من لدیکم ! مولوی احمد علی صاحب سے ہوا اور بیٹھ گئے اور ادھر ادھر کی گفتگو ہوتی رہی کہ مولوی احسن قادیانی نے مولوی احمد علی صاحب سے دریافت کیا کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی سے ملے ہیں یا نہیں۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ میں حمایت الاسلام امرتسر میں گیا تھا۔ مرزا قادیانی بھی وہاں تشریف رکھتے تھے۔ مگر میری ملاقات نہیں ہوئی۔ اگلے روز مرزا قادیانی لدھیانہ تشریف لے گئے تھے۔ بجواب اس کے مولوی احسن قادیانی نے کہا کہ مرزا قادیانی قابل ملاقات ہیں۔ ضرور ملئے۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ میرا ارادہ ضرور ملنے کا ہے اور پیر جی خدا بخش صاحب نے یہی وعدہ قادیان چلنے کا کیا تھا۔ ابھی تک اتفاق نہیں ہوا اور محمد حنیف کی طرف متوجہ ہو کر یہ بھی فرمایا کہ تم بھی قادیان چلو اور میں بھی چلوں گا۔ مجھے بھی مرزا قادیانی سے ملنا ہے۔ کیونکہ اکثر شبہات جو ان کی تصنیف پر ہیں وہ ان کو سناؤں گا اور ان سے جواب لوں گا۔ بجواب اس کے مولوی احسن قادیانی نے دریافت کیا وہ شبہ آپ کے پاس لکھے ہوئے ہیں تو مجھے بھی دکھلائیے۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ میرے پاس یہاں لکھے ہوئے تو نہیں ہیں۔ لیکن مجھے زبانی یاد ہیں۔ اگر آپ سننا چاہیں تو سنا سکتا ہوں۔ بجواب اس کے مولوی احسن قادیانی نے کہا کہ میں شائق ہوں سنائیے۔ شاید یہی کچھ طے ہو جاوے۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ اوّل شبہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حمامۃ البشریٰ میں تحریر فرمایا ہے کہ طلوع الشمس من مغربھا ہو چکا ہے۔ بلکہ اور علامات قیامت اور خروج دجال اور دابۃ الارض وغیرہ بھی گذر چکے ہیں۔ اب جو مرزا قادیانی لوگوں کو اپنی طرف بلاتے ہیں اور دعوتِ اسلام کرتے ہیں تو از روئے حدیث صحیح مسلم

٢

کہ روایت ہے۔ ابو ہریرہؓ سے کہ فرمایا محمد رسول الله ﷺ قال لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها امن الناس كلهم اجمعون تكن آمنت من قبل او كسبت فى ايمانها خ اس کے ظاہر ہونے کے بعد جو لوگ ایمان لاویں گے ان کا ایمان ہرگز معتبر نہ سمجھا جاوے گا۔ کیونکہ وہ ایک علامت کبریٰ کو دیکھ کر مرزا قادیانی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ ان کو ایمان لانے کا شبہ تھا کہ بطور سوال کے مولوی احسن قادیانی کے روبر و احمد صاحب ومولوی دوست محمد صاحب تشریف لے آئے تھے بجواب اس کے مولوی احسن قادیانی نے کہا کہ آپ کا شبہ کوئی شبہ نہیں کہ کوئی اس کا جواب بسہولت دے اور دوسری حمامۃ البشریٰ میں جہاں تک مجھ کو یاد ہوتا ہے یہ نہیں لکھا کہ طلوع الشمس یہ حدیث بھی تاوقتیکہ صحیح مسلم میں نہ دیکھی جائے۔ مطلقاً نہ دیکھا جاوے۔ اس وقت تک میں تسلیم نہیں کروں گا۔ ب کتاب موجود تھی اور حمامۃ البشریٰ مولوی خلیل الرحمٰن صاحب کے پاس نے اسی وقت صحیح مسلم، محمد حنیف سے لے کر مولوی احسن کو دی اور ترجمہ کیا کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ طلوع الشمس لاویں گے ان کو ایمان نفع نہ دے گا اور وہ ایمان معتبر نہ ہ وگا بجواب اس کے مولوی احسن قادیانی نے ف رمایا هريرةؓ قال قال رسول الله ﷺ ثلث اذا خ رجن آمنت من قبل او كسبت فى ايمانها خيرا طلوع ودابة الارض‘‘ کہ جس کے یہ معنی ہیں کہ ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ تین باتیں جب ظاہر ہو جاویں تو اس وقت کسی کو ای مان پہلے سے ایمان نہ لایا یا نیک کام نہیں کیا۔ ایک تو نکلنا آ فتاب کا دوسرا دجال کا نکلنا تیسرا دابۃ الارض کا نکلنا اور مولوی احسن قادیانی

٣

صفحہ ٣٤٩

کہ روایت ہے۔ ابو ہریرہؓ سے کہ فرمایا محمد رسول اللہ ﷺ نے۔ ”عن ابي هريرة ان رسول الله ﷺ قال لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها فاذا طلعت الشمس من مغربها امن الناس كلهم اجمعون فيومئذ لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن أمنت من قبل او كسبت في ايمانها خيراً “کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ طلوع الشمس من مغربہا کے بعد جو لوگ ایمان لاویں گے ان کو ایمان نفع نہ دے گا اور وہ ایمان معتبر نہ سمجھا جاوے گا۔ کیونکہ وہ ایک علامت کبریٰ کو دیکھ کر ایمان لائے ہیں۔ اب وہ لوگ جو مرزا قادیانی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ ان کو ایمان کب نفع دے گا۔ یہ مولوی احمد علی صاحب کا شبہ تھا کہ بطور سوال کے مولوی احسن قادیانی کے رو برو ظاہر کیا گیا کہ اسی عرصہ میں مولوی مرید احمد صاحب و مولوی دوست محمد صاحب تشریف لے آئے اور ان کے رو برو یہی شبہ ظاہر کیا گیا۔

بجواب اس کے مولوی احسن قادیانی نے کہا کہ آپ کا شبہ بہت عمدہ اور فاضلانہ اور عالمانہ ہے۔ البتہ شبہ نہیں کہ کوئی اس کا جواب بسہولت دے اور دوسری رہی یہ بات کہ مرزا قادیانی نے حمامتہ البشریٰ میں جہاں تک مجھ کو یاد ہوتا ہے یہ نہیں لکھا کہ طلوع الشمس من مغربہا کا گذر جانا لکھا ہو اور یہ حدیث بھی تاوقتیکہ صحیح مسلم میں نہ دیکھی جائے۔ وطلوع الشمس من مغربہا حمامتہ البشریٰ میں نہ دیکھا جاوے۔ اس وقت تک میں تسلیم نہیں کروں گا۔ چنانچہ صحیح مسلم پیر جی صاحب کے دکان میں موجود تھی اور حمامتہ البشریٰ مولوی خلیل الرحمن صاحب کے پاس موجود تھی۔ مولوی احمد علی صاحب نے اسی وقت صحیح مسلم مجھ ضعیف سے لے کر مولوی احسن قادیانی کو حدیث دکھلائی اور پڑھی۔

اور ترجمہ کیا کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ طلوع الشمس من مغربہا کے بعد جو لوگ ایمان لاویں گے ان کو ایمان نفع نہ دے گا اور وہ ایمان معتبر نہ سمجھا جاوے گا۔

بجواب اس کے مولوی احسن قادیانی نے دوسری یہ حدیث پیش کی کہ : ”عن ابی هريرة قال قال رسول الله ﷺ ثلث اذا خرجن لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن أمنت من قبل او كسبت في ايمانها خيرا طلوع الشمس من مغربها والدجال ودابة الارض“ کہ جس کے یہ معنی ہیں کہ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین باتیں جب ظاہر ہو جاویں تو اس وقت کسی کو ایمان لانے سے فائدہ عائد نہ ہوگا اور اس کو جو پہلے سے ایمان نہ لایا یا نیک کام نہیں کیا۔ ایک تو نکلنا آفتاب کا جدھر سے ڈوبتا ہے۔ دوسرا دجال کا نکلنا تیسرا دابۃ الارض کا نکلنا اور مولوی احسن قادیانی نے یہ بھی کہا کہ مسیح اور خروج دجال کے زمانہ ٣

صفحہ ٣٥١

اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ جلسہ مسجد م بات کا چرچہ کئی روز سے تھا۔ بہت لوگ مشتاق تھے کہ دوست محمد معہ چند ولائتیوں کے اور نی مگر سے مولوی خل صاحب انہار و منشی خلیل الرحمان صاحب و دیگر صاحبان و دیگر چند صاحبان غرضیکہ ایک مجمع کثیر مسجد میں جمع ہو کتاب (حمامتہ البشریٰ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠٢) میں مرز ان هذه الانباء قد تمت كلها ووقعت كما كا الشقاق ولكن الناس ماعرفوها وكانوا دجال ودابۃ الارض و طلوع الشمس من مغربھا ہو چکا اور حدیث ”عن أبي هريرة ان رسول الله ﷺ الشمس من مغربها فاذا طلعت الشمس من فيومئذ لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن خیرا“ صحیح مسلم میں دکھلائی کہ جس کا مطلب یہ ہے دے گا۔ مولوی احسن قادیانی نے تسلیم کیا اب مولوی ا الشمس من مغربھا کے ایمان نفع دے گا۔ آیات قرآنی کسی مستند کتاب سے اس کا جواب پیش کریں۔ ان س یا اور کسی کا ہرگز نہیں مانا جاوے گا۔

بیضاوی شریف اور قرآن مجید موجود ہے کہ اس حدیث کے یہ معنی نہیں جو مولوی صاحب سمجھ مراد نہیں ہے۔ جیسا کہ عام سمجھ رہے ہیں۔ اس کا مط پھیل رہا تھا وہاں آفتاب اسلام چمک رہا ہے۔ یع ہیں۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرما مرزا قادیانی قد تمت کلھا کے ساتھ حمامتہ البشریٰ میں مغربھا بھی آچکا ہے اور یہ آپ نے کہا کہ تم اس کا م اس حدیث کا جو کچھ اور ترجمہ ہو کیجئے گا اور مجھ کو سمجھا ٥

صفحہ ٣٥١

اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ جلسہ مسجد میں بہتر ہے۔ عام ہونا چاہئے۔ چونکہ اس بات کا چرچہ کئی روز سے تھا۔ بہت لوگ مشتاق تھے کرن پور سے مولوی مرید احمد صاحب و مولوی دوست محمد معہ چند ولایتیوں کے اور نی نگر سے مولوی خلیل الرحمٰن و مولوی الہ دیا صاحب و ضلع دار صاحب انہار و منشی خلیل الرحمان صاحب و دیگر صاحبان و پلٹن بازار سے حافظ محمد شریف صاحب و دیگر چند صاحبان غرضیکہ ایک مجمع کثیر مسجد میں جمع ہوا۔ مولوی احمد علی صاحب نے یہ فرمایا کہ کتاب (حمامتہ البشریٰ ص ٨٣ خزائن ج ٧ ص ٣٠٢) میں مرزا قادیانی نے یہ عبارت لکھی ہے ۔ ”فاعلم ان هذه الانباء قد تمت كلها ووقعت كما كان في الاثار المنتقاة المدونه عن الثقات ولكن الناس ماعرفوها وكانوا غفلین“کہ جس کے معنی یہ ہیں کہ خروج دجال و دابۃ الارض وطلوع الشمس من مغربہا ہو چکا اور مولوی احسن قادیانی کو دکھلائے گئے اور یہ حدیث ”عن ابي هريرة ان رسول الله ﷺ قال لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربہا فاذا طلعت الشمس من مغربہا امن الناس كلهم اجمعون فيومئذ لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن أمنت من قبل او کسبت في ايمانها خیرا“ صحیح مسلم میں دکھلائی کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ بعد طلوع الشمس من مغربہا کے ایمان نفع نہ دے گا۔ مولوی احسن قادیانی نے تسلیم کیا اب مولوی احسن قادیانی اس کے ثبوت میں کہ بعد طلوع الشمس من مغربہا کے ایمان نفع دے گا۔ آیات قرآنی یا صحیح مسلم یا صحیح بخاری یا بیضاوی شریف یا کسی مستند کتاب سے اس کا جواب پیش کریں۔ ان کے مقابلہ میں کسی کا قول خواہ مرزا قادیانی کا ہو یا اور کسی کا ہر گز نہیں مانا جاوے گا۔

بیضاوی شریف اور قرآن مجید موجود ہے۔ بجواب اس کے مولوی احسن قادیانی نے کہا کہ اس حدیث کے یہ معنی نہیں جو مولوی صاحب سمجھ رہے ہیں۔ طلوع الشمس من مغربہا سے یہ شمس مراد نہیں ہے۔ جیسا کہ عام سمجھ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ممالک مغربی میں جو ظلمات کفر پھیل رہا تھا وہاں آفتاب اسلام چمک رہا ہے۔ یعنی لیور پول وغیرہ میں لوگ ایمان لے آئے ہیں۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ آپ آفتاب کے کچھ ہی معنی سمجھئے۔ جب مرزا قادیانی قد تمت کلھا کے ساتھ حمامتہ البشریٰ میں تحریر فرما چکے ہیں تو اس میں طلوع الشمس من مغربہا بھی آچکا ہے اور یہ آپ نے کہا کہ تم اس کا ترجمہ نہیں سمجھے تو مولانا صاحب مہربانی کر کے اس حدیث کا جو کچھ اور ترجمہ ہو کیجئے گا اور مجھ کو سمجھا دیجئے۔ مولوی احسن قادیانی نے ترجمہ نہیں کیا

٥

صفحہ ٥٣

اور اس امر کو تقریر میں ڈال دیا کہ جس سے سمع خراشی سامعین ہوتا تھا۔ بعد ازاں مولوی احسن قادیانی نے یہ حدیث پڑھ کر ”عن جابر بن عبدالله حلف بالله تعالى ان ابن صياد هو الدجال وانه سمع عمر يحلف بالله على ذالك عن النبي ﷺ فلم ينكره النبي ﷺ وروى ابوداؤد باسناد صحيح عن ابن عمر انه كان يقول والله ما اشك ان ابن صياد هو المسيح الدجال“ جس کا یہ ترجمہ ہے ۔ تحقیق جابر بیٹے عبداللہ نے اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ حلف کر کے کہا کہ یہ بات بہت تحقیق ہے کہ ابن صیاد ہی دجال ہے اور انہوں نے سنا کہ حضرت عمرؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول مقبول ﷺ کے روبرو حلفیہ کہا کرتے تھے کہ ابن صیاد ہی دجال ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس کا کچھ انکار نہیں کیا اور ابو داؤد نے اسناد صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ابن صیاد کے دجال ہونے میں کچھ بھی شک نہیں کرتا۔ اس صورت میں آپ کے شبہ کی تقریر کے بموجب جو اعتراض مرزا قادیانی پر وارد ہوتا ہے۔ اس سے بہت ہی بڑھ کر ان اجلہ صحابہ پر وارد ہوتا ہے اور بطور وعظ کے اپنی کلام کو اس قدر طول دیا کہ جس سے مطلب اصلی تلف ہو جاوے۔

بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے یہ حدیث پڑھی۔ ”یخرج الدجال ويرى الناس الجنة والنار والخزائن التى تتبع وتطلع الشمس من مغربها كما اخبر عنها رسول الله ﷺ “ کہ جس کے معنی یہ ہیں کہ نکلے دجال اور لوگ دیکھیں کہ اس کے ساتھ جنت اور نار ہے اور خزانے جو اس کے پیچھے ہولیں اور طلوع کرے آفتاب اپنی چھپنے کی جگہ سے جیسے اس سے خبر دی رسول اللہ ﷺ نے ۔ پس ابن صیاد میں یہ نشانیاں نہیں پائی گئیں۔ مولوی احسن قادیانی اپنی تقریر کو طول دیتے جاتے تھے اور مولوی احمد علی صاحب ان کو بار بار روکتے تھے کہ معاذ اللہ منہا آپ اجلہ صحابہ کی نسبت ایسے کلمہ کہتے ہیں اور آپ تقریر کو اس قدر کیوں طول دیتے ہیں اور مدعا اصلی کیوں بیان نہیں کرتے اور صاف طور سے اس کا جواب کسی معتبر کتاب یا قرآن مجید یا بیضاوی شریف میں کیوں نہیں دکھلاتے؟ اپنے وعدہ کے مطابق کہ بیضاوی شریف میں دکھلا دوں گا کہ طلوع الشمس من مغربھا کے بعد بھی ایمان نفع دے گا اور معتبر ہوگا۔ مگر وہاں وہی مرغی کی ایک ٹانگ تھی۔ نہ کسی معتبر کتاب سے اور نہ کلام مجید سے اور نہ بیضاوی شریف میں دکھلاتے تھے اور بار بار یہ کہتے تھے کہ میں اس کا جواب پچاس حدیثوں اور قرآن شریف میں دکھلا دوں گا اور بوجہ خشک لبی کے بار بار پانی پینے کو مانگتے تھے اور منہ سے جھاگ آتی تھی۔ لیکن ٦

تقریر اور وعظ کے بعد دکھلانے کا وعدہ کیا جاتا حاضرین جلسہ خوب قہقہ اڑاتے تھے مولوی احم کرتے ہیں؟ پچاس حدیثیں آپ پیش کرنا چاہ ہوں کہ صحیح مسلم یا صحیح بخاری یا بیضاوی شریف ایمان نفع دے گا بہت دیر کے بعد مولوی احسن قا میں تحریر فرماتے ہیں کہ طلوع الشمس من مغربھا ک الشمس من مغربھا کے دوسرے معنی نہ ہوں۔ بجو طلوع الشمس من مغربھا کا ہو چکنا حمامۃ البشریٰ فرمائی ہے۔ اس کتاب ازالہ سے بحث نہیں ہے کر چکا ہوں کہ حدیث نبوی کے مقابلہ میں کسی ک کرتے ہیں تو یہ کتاب ازالہ اوہام ، حمامۃ البشریٰ مولوی احسن قادیانی نہ کوئی حدیث اور نہ آیا بموجب اپنے وعدہ کے دکھلایا۔ ہر چند مولوی احم فرمایا کہ آپ پچاس حدیثیں پیش کرنے کو کہتے تقریر تمام ہو چکی تھی اور حاضرین جلسہ سمجھ چکے تھے اور چپکے چپکے ادھر ادھر کرتے تھے۔ مگر جلسہ بعد نماز عصر کے پھر جلسہ مسجد وہانوالہ میں ہو کر تھا اور اکثر صاحبان غیر مذہب بھی وہاں موجو البشریٰ پر بذریعہ صحیح مسلم کے کہ جس طرح از مرزا قادیانی کا مدعا اس کتاب کے کہ جس میں ک الانباء قدتمت كلها ووقعت كملكا ولكن الناس ما عرفوها وكانوا غفل حدیث نبوی جو اس کا خلاف ظاہر کر رہی ہے آپ بھی کریں کہ صحیح مسلم وصحیح بخاری وکلام مجید آپ کا وعدہ ہے کہ بیضاوی شریف میں دکھلا

صفحہ ٣٥٣

تقریر اور وعظ کے بعد دکھلانے کا وعدہ کیا جاتا تھا۔ اس وقت دکھلانے پر مصر تھا۔ اس بات پر حاضرین جلسہ خوب قہقہہ اڑاتے تھے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ آپ دفع الوقتی کیوں کرتے ہیں؟ پچاس حدیثیں آپ پیش کرنا چاہتے ہیں میں صرف ایک حدیث کے لئے عرض کرتا ہوں کہ صحیح مسلم یا صحیح بخاری یا بیضاوی شریف میں دکھلایئے کہ بعد طلوع الشمس من مغربھا کے ایمان نفع دے گا بہت دیر کے بعد مولوی احسن قادیانی نے کہا مرزا قادیانی اپنی کتاب ازالۃ اوہام میں تحریر فرماتے ہیں کہ طلوع الشمس من مغربھا مجھے خواب میں دکھلایا گیا اور میں نہیں کہتا کہ طلوع الشمس من مغربھا کے دوسرے معنی نہ ہوں۔ بجواب اسی کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ طلوع الشمس من مغربھا کا ہو چکنا حمامۃ البشریٰ میں تحریر ہے کہ جو کتاب ازالۃ اوہام سے بعد کو تحریر فرمائی ہے۔ اس کتاب ازالہ سے بحث نہیں ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ میں پیشتر ہی عرض کر چکا ہوں کہ حدیث نبوی کے مقابلہ میں کسی کا قول نہیں مانا جاوے گا اور اگر آپ یہی قول پیش کرتے ہیں تو یہ کتاب ازالۃ اوہام، حمامۃ البشریٰ سے پیشتر کی تصنیف ہے۔ مغرب کا وقت آ گیا۔ مولوی احسن قادیانی نہ کوئی حدیث اور نہ آیات قرآنی پیش کر سکے اور نہ بیضاوی شریف میں بموجب اپنے وعدہ کے دکھلایا۔ ہر چند مولوی خلیل الرحمٰن صاحب اور مولوی مرید احمد صاحب نے فرمایا کہ آپ پچاس حدیثیں پیش کرنے کو کہتے ہیں۔ ان میں سے ایک پیش کر دیجئے۔ مگر توبہ گو تقریر تمام ہو چکی تھی اور حاضرین جلسہ سمجھ چکے تھے کہ مولوی احسن قادیانی اس کا جواب نہیں دے سکے اور کنبہ کنبہ ادھر ادھر کرتے تھے۔ مگر جلسہ پھر کل پر منحصر رکھا گیا۔ مورخہ ٢٤؍ جولائی ١٨٩٥ء کو بعد نماز عصر کے پھر جلسہ مسجد وبامانوالہ میں ہو کر مباحثہ شروع ہوا اور اس روز اوّل روز سے زیادہ مجمع تھا اور اکثر صاحبان غیر مذہب بھی وہاں موجود تھے۔ مولوی احمد علی صاحب نے اعتراض حمامۃ البشریٰ پر بذریعہ صحیح مسلم کے کہ جس طرح اوّل پیش کی تھی پیش کی اور فرمایا کہ جیسے میں نے قول مرزا قادیانی کا معہ اس کتاب کے کہ جس میں یہی عبارت لکھی ہوئی ہے۔ ”فـاعلم ان هذه الانباء قد تمت كلها ووقعت كما كان في الآثار المنتقاة المدونة عن الثقاة ولكن الناس ما عرفوها وكانوا غفلين“ (حمامۃ البشریٰ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠٢) و نیز حدیث نبوی جو اس کا خلاف ظاہر کر رہی ہے۔ یہ صحیح مسلم کی حدیث مذکورہ بالا پیش کر دی۔ ایسا ہی آپ بھی کریں کہ صحیح مسلم وصحیح بخاری و کلام مجید و یا کسی مستند کتاب معتبر سے یا بیضاوی سے جیسا کہ آپ کا وعدہ ہے کہ بیضاوی شریف میں دکھلاووں گا۔ دیگر صاحب اور مولوی مرید احمد صاحب

٧

صفحہ ٣٥٥

شاہد ہیں کہ آپ نے فرمایا تھا کہ بعد طلوع الشمس من مغربھا کے ایمان معتبر ہوگا۔ جواب اس کے مولوی احسن قادیانی نے کہا کہ میں نے ایک خط مولوی احمد علی صاحب کے پاس پیش کرنے کو منشی مظفر علی کی درخواست سے آج ٢٤؍ جولائی ١٨٩٥ء کو لکھا تھا کہ جس کا یہ مضمون ہے کہ ایک گھنٹہ آپ اس عاجز کو مرحمت فرماویں اور ایک گھنٹہ آپ کے واسطے ہے اور اس وقت بھی مولوی احمد علی صاحب نیز حاضرین جلسہ سے بھی عرض کیا جاتا ہے کہ مجھ کو ایک گھنٹہ بیان کرنے کے لئے اجازت کیوں نہیں ملتی ہے۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب فرمایا کہ میں آپ کی زبانی گفتگو ہرگز ہرگز نہیں مانوں گا۔ جب تک آپ کسی معتبر کتاب سے نہ دکھاویں گے کہ طلوع الشمس من مغربھا کے بعد بھی ایمان نفع دے گا اور جو آپ ایک گھنٹہ مہلت چاہتے ہیں تو بیان شروع کیجئے۔ مولوی احسن قادیانی نے الحمد شریف پڑھنی شروع کی اور الحمد شریف کی تفسیر بیان کرنی شروع کردی۔

بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ وعظ سے مناظرہ کو کیا نسبت۔ اگر آپ کو وعظ فرمانا ہے تو اور موقعہ ومحل ہے۔ اگر آپ مجھے وعظ سنانا چاہتے ہیں تو اور کسی موقع پر سنائیے گا۔ میں ایک گھنٹہ کی جگہ چار گھنٹہ سنوں گا اور اگر ایک گھنٹہ کی مہلت چاہتے ہیں تو اس وقت منظور کی جاوے گی جب آپ یہ جملہ ضبط تحریر کردیں کہ بعد گذرنے ایک گھنٹہ کے بیضاوی شریف میں حدیث مذکورہ کا خلاف دکھلا دوں گا۔ بیضاوی شریف موجود ہے۔ مولوی احسن قادیانی اس بات کو منظور تو نہیں کرتے تھے۔ مگر اس وقت بغیر منظور کے کوئی چارہ نہ تھا۔ یہ جملہ ایک گھنٹہ کے بعد بیضاوی شریف میں دکھلادوں گا کہ خروج دجال وطلوع الشمس من مغربھا کے بعد بھی ایمان معتبر ہوگا اور نفع دے گا۔ مگر دستخط نہیں کرتے تھے اور جب دستخط پر زور دیا گیا تو کہا ماشاء اللہ! میں یہ کب کہتا تھا کہ طلوع الشمس من مغربھا کے بعد ایمان نفع دے گا۔ اس وقت مولوی مرید احمد شہادت میں پیش کئے گئے۔ مولوی صاحب نے شہادت دی بعد اس کے پھر مولوی احسن قادیانی سے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ آپ اوّل اس ضبط تحریر پر دستخط کردیں اس وقت جو چاہیں تقریر کریں اور بعد ایک گھنٹہ کے بیضاوی شریف میں خلاف حدیث نبوی کے دکھادیں کہ بعد طلوع الشمس من مغربھا کے ایمان نفع دے گا۔ چونکہ اب ان کا آپ انکار کرتے ہیں۔ لیکن مولوی احسن قادیانی نے دستخط نہیں کئے اور صاف انکار کردیا۔ اس پر سب حاضرین جلسہ ایک دم اٹھ کھڑے ہوئے اور کرامت اللہ خان نے ایک خلعت معہ دیگر پارچہ ہاے پوشاک جو ایک کشتی میں اپنی ہمراہ اس غرض سے لائے تھے کہ جو صاحب غالب آئیں گے پہناویں گے اور اس وقت تک کسی کو اس کا حال

٨

معلوم نہیں تھا۔ مولوی احمد علی صاحب کو پہنا دیئے۔ اس پ فرمانا شروع کردیا اور مولوی احسن قادیانی ایک گوشہ مسجد می جلسہ وعظ برخاست ہوا اور ہر دو مولوی صاحب ہم بغل ہ تعریف وعظ کی۔

٢٥؍ جولائی ١٨٩٥ء کو کسی قسم کی ہر دو جانب س گفتگو نہیں ہوئی۔ صرف مولوی احسن قادیانی نے ٢٤؍ جولائی ک نام ایک خط دوبارہ جلسہ منعقد ہونے کی غرض سے لکھا ج کو پیر جی صاحب کے مکان پر بلا کر دیا کہ مولوی احمد علی ک مضمون تھا۔

خط محمد احسن قاد

بسم اللّٰہ الرحمٰن ال نحمدہ ونصلی علیٰ رس محب مکرم حضرت مولوی احمد علی صاحب ۔ ا نیاز بھی عرض کیا گیا کہ ایک گھنٹہ آپ عاجز کو مرحمت فر حسب شرائط میں نے بلا دخل درمیان سخن ، ضبط تحریر و مح آپ کے شبہ پیش کردہ میں گفتگو ہو جاوے۔ لیکن آپ ن آج پھر عرض کیا جاتا ہے کہ ان شرائط کو جو عند العقل وا منعقد فرمالیجئے۔ والسلام! مور کمترین تحریر مذکورہ بالا لے کر مولوی احمد ع میں پہنچا۔ مولوی صاحب نے خط کو ملاحظہ فرما کر جوا منشی خدا بخش صاحب بھی مولوی احمد علی صاحب کے پ مولوی احسن قادیانی نے صرف وہی گفتگو شروع کی ج نہیں ہوئی۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب ن دیتے ہیں اور کبھی وعظ کہنا شروع کردیتے ہیں۔ منا اسی شبہ کو تحریر مرزا قادیانی میں اور خلاف تحریر مرزا ق

٩

صفحہ ٣٥٥

معلوم نہیں تھا۔ مولوی احمد علی صاحب کو پہنا دیئے۔ اس کے بعد مولوی احمد علی صاحب نے وعظ فرمانا شروع کر دیا اور مولوی احسن قادیانی ایک گوشہ مسجد میں جا بیٹھے۔ نماز مغرب کا وقت ہوا۔ جلسہ وعظ برخاست ہوا اور ہر دو مولوی صاحب ہم بغل ہو کر ملے اور مولوی احسن قادیانی نے تعریف وعظ کی۔

٢٥ جولائی ١٨٩٥ء کو کسی قسم کی ہر دو جانب سے مسئلہ متنازعہ میں تین بجے شام تک گفتگو نہیں ہوئی۔ صرف مولوی احسن قادیانی نے ٢٤ جولائی ١٨٩٥ء کو مولوی احمد علی صاحب کے نام ایک خط دوبارہ جلسہ منعقد ہونے کی غرض سے لکھا اور وقت ٤ بجے شام کے اس خاکسار کو پیر جی صاحب کے مکان پر بلا کر دیا کہ مولوی احمد علی صاحب کے پاس لے جاؤ۔ جس کا یہ مضمون تھا۔

خط محمد احسن قادیانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

محب مکرم حضرت مولوی احمد علی صاحب۔ بروز تاریخ ٢٤؍ جولائی ١٨٩٥ء ذریعہ رقعہ نیاز بھی عرض کیا گیا کہ ایک گھنٹہ آپ عاجز کو مرحمت فرماویں اور ایک گھنٹہ جناب کے واسطے اور حسب شرائط میں نے بلا دخل درمیان سخن، ضبط تقریر وتحریر وسکوت دیگر صاحبان حاضرین از طرفین آپ کے شبہ پیش کردہ میں گفتگو ہو جاوے۔ لیکن آپ نے دیروز ہرگز اس کو قبول نہ فرمایا اتمام للحجۃ آج پھر عرض کیا جاتا ہے کہ ان شرائط کو جو عندالعقل والنقل ضروریات سے ہیں۔ قبول فرما کر جلسہ منعقد فرما لیجئے۔ والسلام! مورخہ ٢٥؍ جولائی ١٨٩٥ء، الراقم محمد احسن

کمترین تحریر مذکورہ بالا لے کر مولوی احمد علی صاحب کی خدمت میں مسجد پلٹن بازار میں پہنچا۔ مولوی صاحب نے خط کو ملاحظہ فرما کر جواب لکھنے کو تیار تھے کہ مولوی احسن قادیانی و پیر جی خدا بخش صاحب بھی مولوی احمد علی صاحب کے پاس آگئے۔ بدیں وجہ جواب خط ملتوی رہا۔ مولوی احسن قادیانی نے صرف وہی گفتگو شروع کی کہ مولوی صاحب کیوں ایک گھنٹہ کی اجازت نہیں دیتے۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ آپ کبھی الحمد پڑھنی شروع کر دیتے ہیں اور کبھی وعظ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ مناظرہ میں وعظ سے کیا تعلق ہے؟ جیسا میں نے اپنے شبہ کو تحریر مرزا قادیانی میں اور خلاف تحریر مرزا قادیانی کو حدیث نبوی میں دکھلا دیا۔ ایسا ہی

٩

صفحہ ٣٥٧

خلاف اس حدیث نبوی کے کوئی حدیث آپ دکھلا دیتے۔ مولوی خلیل الرحمن بھی مسجد میں نماز عصر پڑھ رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہو کر وہ بھی تشریف لے آئے۔ مولوی احسن قادیانی نے مولوی خلیل الرحمن کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ آپ لوگ اجازت ایک گھنٹہ کی کیوں نہیں دیتے ہیں اور رہی یہ بات کہ الحمد شریف پڑھنے اور وعظ کہنے سے جو روکتے ہیں تو میں سو دفعہ الحمد شریف پڑھوں گا یا تو تحریری یا تقریری مباحثہ منعقد کیا جاوے۔ اس وقت حدیثیں پیش کروں گا۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ اوّل یہ وعدہ ہو چکا تھا کہ تحریر اور تقریری مباحثہ طول نہیں ہوگا۔ جیسے میں نے حدیث نبوی اور تحریر مرزا قادیانی دکھا دی۔ اسی طرح خلاف حدیث نبوی کے کوئی حدیث آپ دکھا دیں۔ اس وقت دوبارہ جلسہ منعقد ہو سکتا ہے۔ اسی درمیان میں مولوی خلیل الرحمن سے مولوی احسن قادیانی نے فرمایا۔ چونکہ آپ سے اس شبہ کے بارہ میں میری خط و کتابت پیشتر ہو چکی ہے۔ اس گفتگو کا آپ ہی فیصلہ کیجئے۔ چنانچہ اس وقت سے تحریری گفتگو مولوی خلیل الرحمن سے کہ جس کا پرچہ علیحدہ تحریر ہوگا۔ شروع ہوئے۔ تیسرا سوال مولوی خلیل الرحمن صاحب نے تحریر فرمایا تھا کہ وقت نماز مغرب ہوا اور حاضرین برخاست ہوئے اور مولوی خلیل الرحمن صاحب نے سوال لکھ کر مولوی احسن قادیانی کو دے دیا اور فرمایا کہ اب وقت جواب لکھنے کا نہیں رہا۔ مکان پر لیتے جائیے۔ جواب لکھ کر بھیج دیجئے گا۔ مورخہ ٢٥ جولائی ١٨٩٥ء

٢٦ جولائی ١٨٩٥ء کو بجواب خط مولوی احسن قادیانی کے مولوی احمد علی صاحب نے خط لکھا کہ جس کا مضمون ذیل میں درج ہے قاصد اسے لے کر مولوی احسن قادیانی کے پاس گیا کچھ جواب نہیں دیا واپس چلا آیا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

مکرم بندہ مولوی احسن قادیانی السلام علیکم! بجواب آپ کے خط کے عرض ہے کہ آنجناب نے جو دو روز کے جلسہ میں تقریر فرمائی اس کا حسن و قبح تمام حاضرین جلسہ پر ظاہر ہو گیا۔ جس امر کا آپ نے وعدہ فرمایا تھا اس کو آپ نے پورا نہیں کیا۔ یعنی حدیث شریف یا قرآن مجید سے یہ ثابت نہیں فرمایا کہ بعد طلوع الشمس من مغربہا کے بھی ایمان نفع دے گا۔ وعظ فرمانا شروع کر دیا کہ جس سے عام لوگوں کے خیال مطلب اصلی سے ہٹ جاویں اور شام ہو جاوے۔ مولانا صاحب وعظ اپنے محل پر مناسب ہے نہ کہ ہر جگہ پھر جو امر چند جملوں سے طے ہو سکتا ہو اسے طول دینے سے کیا فائدہ۔ یعنی سوال دیگر جواب دیگر۔ میں ہر طرح اس وقت بھی تیار تھا اور اب بھی ہمہ

١٠

تن موجود ہوں۔ آپ شوق سے دو گھنٹہ وعظ فرمائیے یا حد کہ بعد ختم ہونے اپنے وقت کے (بموجب اپنی وعدہ کے بعد طلوع الشمس من مغربہا کے ایمان نافع ہوگا اور میں ہر ط ہو حاضر ہوں۔ مورخہ ٢٦

نوٹ: مولانا صاحب حدیث پیش کرینگے دوست محمد خان۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے افترا پردازی کی حق میر عباس علی صاحب صوفی لدھیانوی کہ جو م جنہیں بفضل اللہ تعالیٰ نے عرصہ ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بیعت کی بناوٹ دور ہو جاتی ہے۔ ”قل جاء الحق وزھق اللہ تعالیٰ اپنی کلام پاک میں فرماتا ہے۔ ”ان الشیطان شیطان بہکاتا ہے اور عالموں کے فرمانے کو مردمان بھو ہے۔ ”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا الوہاب“ میر عباس علی صاحب صوفی نے ایک قص ہے۔ جو ذیل میں درج ہے۔ ناظرین پڑھ کر حظ وافر ا

قصیدہ در رد قادیانی از میر عباس علی ل

مرزا صاحب میں دل سے معتقد تھا آپ کا
ہوں مرید خاص حضرت سب سے پہلا آپ کا
برخلاف حق اطاعت آپ کی کیونکر کروں
کیا خبر تھی ہو کے رد نیچری کے مدعی
یوں کہیں گے معجزات انبیاء کو مسریزم
مجھ کو ہے مکروہ ورنہ کم نہیں عیسیٰ سے میں
حضرت عیسیٰ جلالی طور پر آئیں گے پر
عیسیٰ موعود بن بیٹھیں گے آخر آپ ہی

١١

صفحہ ٣٥٧

تن موجود ہوں۔ آپ شوق سے دو گھنٹہ وعظ فرمائیے یا حدیث شریف پڑھئے۔ مگر مجھے یہ تحریر دیجئے کہ بعد ختم ہوتے اپنے وقت کے (بموجب اپنی وعدہ کے) بیضاوی شریف میں دکھلا دوں گا کہ بعد طلوع الشمس من مغربہا کے ایمان نافع ہوگا اور میں ہر طرح تیار ہوں۔ جس وقت جہاں ارشاد ہو حاضر ہوں۔ مورخہ ٢٦ جولائی ١٨٩٥ء، الراقم محمد احمد علی

نوٹ: مولانا صاحب حدیث پیش کریئے ورنہ یہ دھبہ ٹالے نہ ٹلے گا۔ بقلم دوست محمد خان۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے افترا پردازی کی حسرت ناک نامرادی

میر عباس علی صاحب صوفی لدھیانوی کہ جو مرزا غلام احمد قادیانی کے مرید خاص تھے۔ اللہ تعالیٰ نے عرصہ ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیعت سے نجات دی۔ یہ سچ ہے کہ بہ مقابلہ سچائی کے بناوٹ دور ہو جاتی ہے۔ ”قل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا“ اللہ تعالیٰ اپنی کلام پاک میں فرماتا ہے۔ ”ان الشیطان لکم عدو مبین“ جہاں تک ممکن ہے شیطان بہکاتا ہے اور عالموں کے فرمانے کو مردمان بہت کم سنتے ہیں۔ کیونکہ شیطان در پے ایمان ہے۔ ”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب“ میر عباس علی صاحب صوفی نے ایک قصیدہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت تحریر فرمایا ہے۔ جو ذیل میں درج ہے۔ ناظرین پڑھ کر حظ وافر اٹھائیں گے۔

قصیدہ در رد قادیانی از میر عباس علی لدھیانوی (سابق قادیانی)

مرزا صاحب میں دل سے معتقد تھا آپ کا حسن ظن سے محض میں نے ہاتھ پکڑا آپ کا
ہوں مرید خاص حضرت سب سے پہلا آپ کا جانتے ہیں سب تعلق تھا جو میرا آپ کا
برخلاف حق اطاعت آپ کی کیونکر کروں گرچہ حضرت جان و دل سے تھا میں شیدا آپ کا
کیا خبر تھی ہو کے رد نیچری کے مدعی نیچریت کی طرف ہوگا تقاضا آپ کا
یوں کہیں گے معجزات انبیاء کو مسمریزم اور ہوگا ان پر پھر ایسا تبرا آپ کا
مجھ کو ہے مکروہ ورنہ کم نہیں عیسیٰ سے میں پھل ہوئے کھٹے نہ جن پر ہاتھ پہنچا آپ کا
حضرت عیسیٰ جلالی طور پر آئیں گے پر ہم نہ تھے آگاہ کہ ہے یہ محض دھوکا آپ کا
عیسیٰ موعود بن بیٹھیں گے آخر آپ ہی ہو گی بیماری مبارک زر و جوڑا آپ کا

١١

صفحہ ٣٥٨
اس جناب پاک کو سولی پہ بھی لٹکائیں گے برخلاف قول حق اٹھے گا غوغا آپ کا
جوش تصلیب واہانت بہر عیسیٰ اس قدر فرض منصب ہے یہی دنیا میں گویا آپ کا
ابن مریم یوسف نجار کا بیٹا ہوا دیدۂ دل ہو گیا سرے سے اعمیٰ آپ کا
آپ نے باندھا ہے صدیقہ پہ بہتان عظیم ہے بجا گر قول ہو انا قتلنا آپ کا
لمبی لمبی سن کے تقریر مزخرف کیا کریں نیچری کے کارخانہ سے ہے سودا آپ کا
نیچریت کھل چکی ہے آپ کی تحریر سے ہے عبث باتیں بنانا اور مکرنا آپ کا
مار کر اللہ نے زندہ ہزاروں کر دیئے مانیں اب ہم فیصلہ قرآن کا یا آپ کا
اولیاء سے خرق عادت ہے نبی کا معجزہ خود نشان آسمانی پر وہ دعوٰی آپ کا
کہہ دے اسلامی عقائد کو سرے سے خیر باد واہ وا اونچی دکان پکوان پھیکا آپ کا
گرچہ ہے مشہور مضمون میں بہر مقدار اک مدت اب ہوا اقرار سے انکار ہے بیجا آپ کا
شب نہیں وہ اک زمانہ رات کا ہم رنگ ہے نیچریت نے ڈبویا ہائے بیڑا آپ کا
قادیان کو حضرت اقدس بناتے ہیں دمشق ہے منارہ اس میں بیت الذکر اچھا آپ کا
نوبت تجدید و تحدیث آپ کی منظور ہے اب نبوت کے لئے بجتا ہے ڈنکا آپ کا
نام جزوی ہے ولیکن کچھ کمی رکھی نہیں ہے وحی وحی رسل الہام جیسا آپ کا
عام لوگوں اور نبی میں فرق ہے جزوی کیا ہو گیا عالم پہ اب سب راز افشان آپ کا
مرسل یزداں لقب ہے نوح کی کشتی ہیں آپ اس بھنور میں دعوٰی تجدید ڈوبا آپ کا
نام استغفار واقبال خطا اس میں نہیں میں نے مجموعہ رسائل کا جو دیکھا آپ کا
بڑھ گئے تحدیث میں فاروقِ اعظم سے بھی آپ یہ مزاج میرزائی خوب بگڑا آپ کا
حسن ظن کرتے ہوئے مجھ کو برس گزرے بہت راستی پر ایک بھی دعوٰی نہ پایا آپ کا
خلق طیر عیسوی کو شرک کہتے ہیں جناب کیا ہوا وہ غیب کی باتیں بتانا آپ کا
موت عیسیٰ پہ استہزاء مسلمانوں کے ساتھ کس جگہ سے لایا چھینٹے سرخ رویا آپ کا
عالموں اور صوفیوں کو آپ نے لکھوائے خط اپنی شہرت تھی فقط مطلوب ومنشاء آپ کا
دیکھ لی آنکھوں سے میں نے آپ کی بحث توحید کیوں بغل میں رہ گیا آخر کار پرچہ آپ کا
عرض کی گھر پر یہ میں نے چاہئے ایفائے عہد ہو گیا دل عہد سے بے وجہ ٹیڑھا آپ کا
کی بخاری کے حوالے سے حدیث غرض نقل نکلا آخر علم کا دعوٰی بھی جھوٹا آپ کا

١٢

علم ظاہر کی بھی قلعی عام جلسہ میں کھلی
کیوں نہ کی لاہور میں پھر بحث عبداللہ سے
شرط نور الدین جموں میں نشان کے واسطے
صادق آیا طالب و مطلوب دونوں میں ضعیف
قادیاں کو چلتے چلتے جانب دلی چلے
میں نے روکا انتظام قادیان چل کر کرو
طشت از بام آپ ہونے کے لئے دلی گئے
سعی ہو مشکور ان کی اہل دین خوش کر دیئے
آپ نے جو راہ پکڑی وہ بھی دوڑی ساتھ ساتھ
تھے کہاں پر زور حملے آپ کے اور کیا ہوا
کس لئے بھاگے وہاں سے شب کو چھپ کر علی الصباح
یاد ہوگا آپ نے لکھا تھا جو خط میں مجھے
ان کا اطمینان کر دو ورنہ بدظن ہوئے جاتے ہیں لوگ
پوچھیں کیا اوروں سے کہئے آپ انصاف سے
میں نے جب درخواست کی آخر بطرز صوفیاء
شور تھا ہم زور باطن سے کریں گے فیصلہ
آپ کی ہستی ہی کیا ہے قادیان آئے کوئی
حسن وخوبی کہئے کیا ہے ظاہری یا باطنی
راہ دین میں مقتداء میں نے بنایا تھا تمہیں
مرزائی نیچری ہیں نیچری یہ
سارے عالم میں کروں گا خوب ہی مٹی خراب
حق تعالیٰ آپ کو پھر لائے راہ راست پر
جو اسی پر ہو چکا لیکن اگر ہٹ دھرمی
حضرت صوفی خدا کا شکر کیجئے بچ گئے
صفحہ ٣٥٩
علم ظاہر کی بھی قلعی عام جلسہ میں کھلی زور باطن بھی ہوا آخر نکما آپ کا
کیوں نہ کی لاہور میں پھر بحث عبداللہ سے کیا اڑایا دوست نادانوں نے خاکہ آپ کا
شرط نورالدین جموں میں نشان کے واسطے کر گئے منہ خوب ہی عالم میں کالا آپ کا
صادق آیا طالب و مطلوب دونوں ہیں ضعیف اب بھی گر طالب ہو کوئی دل کا اندھا آپ کا
قادیاں کو چلتے چلتے جانب دلی چلے خوب ہے معلوم وہ جانا تھا کیسا آپ کا
میں نے روکا انتظام قادیان چل کر کرو بس نہ تھا کچھ ہاتھ کہ فتنہ یہ نکلا آپ کا
طشت از بام آپ ہونے کے لئے دلی گئے قدرت حق سے ہوا طے جلد جھگڑا آپ کا
سعی ہو مشکور ان کی اہل دین خوش کر دیئے کیا دکھایا اہل دلی نے تماشا آپ کا
آپ نے جو راہ پکڑی وہ بھی دوڑی ساتھ ساتھ عذر یا حیلہ کوئی باقی نہ چھوڑا آپ کا
تھے کہاں پر زور جملے آپ کے اور کیا ہوا وہ نشان آسمانی ہے مسیحا آپ کا
کس لئے بھاگے وہاں سے شب کو چھپکلی کی طرح پہرہ چوکی جب کہ تھا ہر وقت برپا آپ کا
یاد ہوگا آپ نے لکھا تھا جو خط میں مجھے مر گیا جس وقت عموئیل بیٹا آپ کا
ان کا اطمینان کر دیں بدظن ہوئے جاتے ہیں لوگ میں نے حسن ظن سے پھر سکہ بٹھایا آپ کا
پوچھیں کیا اوروں سے کہیئے آپ انصاف سے پہلے کیا اقوال تھے اب حال ہے کیا آپ کا
میں نے جب درخواست کی آخر بطرز صوفیا رنگ چہرہ ہو گیا دہشت سے پیلا آپ کا
شور تھا ہم زور باطن سے کریں گے فیصلہ نکلا مذہب وقت پر اس میں بھی ڈھیلا آپ کا
آپ کی ہستی ہے کیا جو قادیان آئے کوئی کھل گیا ہے سب پہ راز دین و دنیا آپ کا
حسن وخوبی کہئے کیا ہے ظاہری یا باطنی سال بھر تک کوئی رہا نہ پتا آپ کا
راہ دین میں مقتداء میں نے بنایا تھا تمہیں یاد رکھئے اب بھی چھوڑوں گا نہ پیچھا آپ کا
مرزائی نیچری ہیں نرے نیچری کوچہ و برزن میں پیٹوں گا ڈھنڈورا آپ کا
سارے عالم میں کروں گا خوب ہی مٹی خراب ہے ابھی کیا نام روشن اور ہی ہوگا آپ کا
حق تعالیٰ آپ کو پھر لائے راہ راست پر پھر بنائے مجھ کو دولت خواہ سچا آپ کا
حواشی پر ہو چکا جن کا اثر بجف القلم دور ہو ایمان والوں سے یہ فتنہ آپ کا
حضرت صوفی خدا کا شکر کیجئے بچ گئے ہر دو عالم میں رہے اللہ مولیٰ آپ کا
صفحہ ٣٦٠

نقل پرچہ تصدیقی مطابق اصل کے ہے۔ تحریر مناظرہ کو جملہ ناظرین تصدیق کرتے ہیں کہ واقع متعلقہ مسئلہ متنازعہ فیہا کے ہے اور دستخط ذیل میں کرتے ہیں:

مولوی اللہ دیا حافظ محمد ایوب حافظ شریف خان مولوی محمد عاشق مولوی دوست محمد مولوی سید احمد منشی کرامت اللہ خان منشی محمد حنیف حافظ عبداللہ حافظ احمد منشی عبدالکریم حافظ سراج الدین منشی محمود خان حافظ علم الدین منشی نظیر حسین منشی عبدالرحمن منشی محمد حسین حافظ محمد حسین منشی منظور احمد عبدالغفور خان منشی رحمت اللہ منشی مظفر حسین سید فدا حسین سید ولایت حسین حافظ ضابطہ خان پیر جی نور محمد نور بخش شاہ جی عبدالغنی محمود خان سوداگر حافظ عبدالرحمن منشی حسن محمد عمار منشی حسن احمد عمار منشی ظفر حسین منشی مقبول احمد منشی احمد حسن منشی محمد حسین منشی شیخ گل محمد منشی عبدالقادر منشی محمد بخش منشی رحمت اللہ مولوی حاجی عبدالکریم ملا مولا بخش حافظ حلیم الدین منشی علی احمد منشی مولا بخش منشی ابراہیم خان منشی خلیل الرحمن منشی عبدالقیوم منشی محمد یعقوب خان منشی عبدالاحد خان مرزا کریم بیگ منشی عبدالرزاق منشی عاشق علی حافظ محمد یعقوب

مورخہ ٢٦ جولائی ١٨٩٥ء کو مولوی احمد علی صاحب نے جو خط بنام مولوی محمد احسن صاحب روانہ کیا تھا۔ کچھ جواب نہیں دیا ہے۔ ١٠ اگست ١٨٩٥ء

اعلان

جملہ اہل اسلام کو مژدہ و بشارت ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے حواری مولوی محمد احسن مدعی طلوع الشمس من مغربھا کو کہتے ہیں کہ ہو چکا اور پھر کہتے ہیں کہ ایمان نفع دے گا۔ یہ حدیث صحیح مسلم کے مطابق کہ جو مناظرہ مندرجہ ہذا میں پیش کردہ جناب مولوی احمد علی صاحب ہے۔ ہرگز بعد طلوع الشمس من مغربھا کے ایمان لانا نفع نہیں دے گا اور نہ معتبر ہو سکتا ہے۔ ان کے عقائد باطلہ کے رد میں یہ مناظرہ غور طلب ہے کہ وہ کوئی حدیث خلاف حدیث نبوی کے پیش نہیں کر سکے اور اس فتنہ سے اپنے آپ کو اور جملہ مومنین کو بچاویں۔

المشتہر ! دوست محمد خان عفی عنہ!

١٤

PDF 362

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

رقيمة

الاخلاص

حضرت مولانا دوست محمد خانؒ

صفحہ ٣٦٣

٣٦٢

رقیمۃ الاخلاص

وان جندنا لھم لغالبون

مراسلات فیما بین حضرت مولانا خلیل الرحمن صاحب

ومولوی احسن قادیانی واقع دہرہ دون

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

پرچہ نمبر: ١...... مولانا خلیل الرحمن (تقریر سوال) بعد طلوع شمس کی جانب سے مغرب سے جیسے کہ احادیث صحیحہ میں بیان ہے کسی کافر کا ایمان لانا عند اللہ اگر مقبول ہو سکتا ہے تو قرآن یا حدیث سے عبارت کو منقول فرمایا جاوے۔ سائل خلیل الرحمن!

پرچہ نمبر: ١...... از مولوی محمد احسن امروہی قادیانی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

بعد طلوع ہو چکنے شمس کے اپنے مغرب سے کسی کافر کا ایمان لانا ہرگز مقبول نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ سائل صاحب فرماتے ہیں، ہمارا اس پر ایمان ہے۔ الراقم محمد احسن، مورخہ ٢٥/ جولائی ١٨٩٥ء

پرچہ نمبر: ٢...... از مولانا خلیل الرحمن در صورت تسلیم اس امر کے کہ بعد طلوع الشمس کے کسی کافر کا ایمان عند اللہ مقبول نہیں ہونے کا، تو مرزا قادیانی کا تحریر فرمانا کہ کل آیات کبریٰ پوری ہو چکیں اور واقع ہو چکیں۔ جیسے کہ (حمامۃ البشریٰ ص ٨٣) کے اندر جواب کے تقریر میں مذکور ہے کہ یہ سب چیزیں جیسے کہ صحیح اخبار میں ثابت ہیں واقع ہوچکی۔ جس میں طلوع الشمس من مغربھا کا بھی بیان ہے۔ آپ کے نزدیک مسلم ہے یا نہیں؟ الراقم خلیل الرحمن!

پرچہ نمبر: ٣...... از محمد احسن قادیانی الجواب وبہ نستعین! حضرت اقدس مرزا صاحب نے کسی اپنی تصنیف میں نہیں تحریر فرمایا کہ طلوع الشمس من مغربھا جو علامت کبریٰ وجود قیامت کی ہے۔ وہ پوری ہوچکی اور سائل صاحب کو جو یہ شبہہ حضرت مرزا صاحب کی عبارت حمامہ سے پیدا ہوا ہے وہ محض خلاف ہے۔ کیونکہ ٢

٣٦٣ مرزا صاحب نے ایک معترض کا قول بطور اعتراض کے نقل مثل خروج یاجوج وماجوج اور طلوع الشمس من مغربھا وغیرہ جب کہ امارات مقدمہ مسیح واقع نہیں ہوئیں تو مرزا صاحب معترض کی غلطی ہے کہ طلوع الشمس من مغربھا کو مسیح کے ہے۔ پس معترض کے قول کی غلطی مرزا قادیانی پر عائد نہیں قول میں کہیں نہیں فرمایا کہ طلوع الشمس من مغربھا ہوچکی جواب میں یوں تحریر فرماتے ہیں کہ ”فاعلم ان ھذا من آخرہ“ ظاہر ہے کہ الف لام لفظ الانباء جو عہد کا ہے خواہ خارجی اور استغراقی مانیں۔ جیسے کچھ آپ اس لام کی نسبت ہے جو متنازعہ فیہا مقدمات مسیح سے ہیں۔ یعنی وہ علامات ان نشانیوں کا ذکر ہے جو متصل قیامت کے باتصال حقیقی اور لفظ ہذہ اسم اشارہ متوسط سے وہی خبریں مراد ہو سکتی دیگر علامات متصلہ قیامت کیونکہ ان میں تو بحث ہی نہیں خود سائل صاحب سمجھ سکتے ہیں۔ کیونکہ حضرت مرزا صاحب شرح اور بسط فرمائی ہے اس میں اور علامات مقدمہ مسیح من مغربھا کی نسبت ایک حرف تک نہیں لکھا اور آیا مرزا صاحب نے معترض کو کیوں نہیں یہ تنبیہ کی، کہ تو اس اپنے اعتراض میں کیوں اس کو ذکر کیا۔ کیونکہ وہ علامت کہ حضرت مرزا صاحب مثل معلمین اطفال کے کوئی اغلاط واقع ہوں ان سب کو تعلیم فرمایا کریں۔ ہاں جو سے پہلے واقع ہونی چاہئیں۔ ان کا بیان فرما دیا ہے باقی سے وہ جملہ اور کل پیشین گوئیاں جو مسیح سے پہلے ہو لام عہد کا اور اشارہ متوسط ہذہ دلالت کرتا ہے اور جو اسرار اور معارف کے بیان کیں جو مسیح سے پہلے ہو کہیں ذکر نہیں کیا۔ یہ اعتراض قلت تدبر سے پیدا جاوے تو کبھی یہ شبہ پیدا نہ ہو۔ مورخہ ٣

صفحہ ٣٦٤

مرزا صاحب نے ایک معترض کا قول بطور اعتراض کے نقل فرماتے ہیں کہ مسیح موعود کی جو نشانیاں مثل خروج یاجوج و ماجوج اور طلوع الشمس من مغربہا وغیرہ ہے وہ تو ابھی واقع ہوئی ہی نہیں۔ پھر جب کہ امارات مقدمہ مسیح واقع نہیں ہوئیں تو مرزا صاحب مسیح موعود کیونکر ہو سکتے ہیں۔ پس یہ معترض کی غلطی ہے کہ طلوع الشمس من مغربہا کو مسیح کے پہلے اور مقدم سمجھ کر اس نے اعتراض کیا ہے۔ پس معترض کے قول کی غلطی مرزا قادیانی پر عائد نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ مرزا صاحب نے تو اپنے قول میں کہیں نہیں فرمایا کہ طلوع الشمس من مغربہا ہو چکا۔ ہاں مرزا صاحب اس اعتراض کے جواب میں یوں تحریر فرماتے ہیں کہ ”فاعلم ان ھذہ الانباء قد تمت کلھا و وقعت الی آخرہ“ ظاہر ہے کہ الف لام لفظ الانباء جو عہد کا ہے خواہ وہ عہد ذہنی آپ اس کو تسلیم کریں یا عہد خارجی اور استغراقی مانیں۔ جیسے کچھ آپ اس لام کی نسبت فرمادیں اور نیز چونکہ ذکر انہیں نشانوں کا ہے جو متنازعہ فیہا مقدمات مسیح سے ہیں۔ یعنی وہ علامات جو مسیح سے پہلے واقع ہونی ضرور ہیں نہ ان نشانیوں کا ذکر ہے جو متصل قیامت کے اتصال حقیقی واقع ہوں گے تو مراد الانباء معرف بلام اور لفظ ہذہ اسم اشارہ متوسط سے وہی خبریں مراد ہو سکتی ہیں جو کہ امارات مقدمہ مسیح کی ہوویں۔ نہ دیگر علامات متصلہ قیامت کیونکہ ان میں تو بحث ہی نہیں ہے اور اسی مطلب کو بہت تائید کے ساتھ خود سائل صاحب سمجھ سکتے ہیں۔ کیونکہ حضرت مرزا صاحب نے جواب تفصیلی اسی سوال میں جو شرح اور بسط فرمائی ہے اس میں اور علامات مقدمہ مسیح کا وقوع تو بیان کیا ہے۔ لیکن طلوع الشمس من مغربہا کی نسبت ایک حرف تک نہیں لکھا اور اگر کہا جاوے کہ جواب تفصیلی میں حضرت مرزا صاحب نے معترض کو کیوں نہیں یہ تنبیہ کی کہ تو نے یہ علامت مسیح سے مقدم کیوں گردانی اور اپنے اعتراض میں کیوں اس کو ذکر کیا۔ کیونکہ وہ علامت مسیح سے پہلے انتہاء کو نہیں پہنچ چکی تو واضح ہو کہ حضرت مرزا صاحب مثل معلمین اطفال کے کوئی ملاجی نہیں ہیں کہ معترض کے قول میں جو جو اغلاط واقع ہوں ان سب کو تصحیح فرمایا کریں۔ ہاں جو امور متنازعہ فیہا میں یعنی وہ نشانیاں جو مسیح سے پہلے واقع ہونی چاہئیں۔ ان کا بیان فرما دیا ہے۔ مرتبہ اجمال میں اس طرح پر کہ الف لام عہد سے وہ جملہ اور کل پیشین گوئیاں جو مسیح سے پہلے ہونی چاہئیں ذکر فرمائیں۔ جس کی طرف الف لام عہد کا اور اشارہ متوسط ہذہ دلالت کرتا ہے اور جواب تفصیلی میں بھی وہی پیشین گوئیاں معہ اپنے اسرار اور معارف کے بیان کیں جو مسیح سے پہلے ہونی ضرور تھیں۔ لیکن طلوع الشمس من مغربہا کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ یہ اعتراض قلت تدبر سے پیدا ہوا ہے کہ اگر بنظر امعان نظر و انصاف دیکھا جاوے تو کبھی یہ شبہ پیدا نہ ہو۔ مورخہ ٢٥ جولائی ١٨٩٥ء الراقم محمد احسن (قادیانی) ٣

صفحہ ٣٦٥

پرچہ نمبر: ٣...... از مولانا خلیل الرحمٰن

براہ نوازش اس بات کا ثبوت کہ مرزا قادیانی نے طلوع الشمس من مغربھا کا واقع ہو چکنا بیان نہیں کیا ہے تو ہذہ الانباء قد تمت کلھا کہنے سے وہ کون سے اخبار مراد ہیں۔ جو اشارہ کے ساتھ ص ٨٣ حمامہ میں عبارت کے ساتھ مرحمت فرمائے۔ راقم الحروف خلیل الرحمٰن مورخہ ٢٥ جولائی ١٨٩٥ء

پرچہ نمبر: ٣...... از محمد احسن قادیانی

الجواب بید مستعین! اے مولوی صاحب عاجز کو آپ کا مبلغ علم معلوم ہو گیا۔ اصول علم مناظرہ وغیرہ کے آداب کے بیان کرنے کی اب مجھ کو کچھ ضرورت ہی نہیں۔ کیونکہ مخاطب کو جملہ علوم مستحضر نہیں دو سہ کلمات عرض کیے دیتا ہوں۔ اے مولوی صاحب! آپ مجھ سے معدوم کا وجود و ثبوت کیوں طلب فرماتے ہیں۔ یہ تو تکلیف مالا یطاق ہے۔ ”لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا“ جب کہ آپ کسی مضمون کے وجود کی صورت میں ہے۔ اعتراض قائم کر سکتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ وہ مضمون یعنی طلوع الشمس من مغربھا کا واقع ہو چکنا کہیں مرزا صاحب نے تحریر نہیں فرمایا جو نیا اعتراض ہے تو پھر فرمائیے کہ بنا اعتراض کا دکھانا معترض کا کام ہے۔ یا مجیب کا میں کیونکر اس مضمون کو جو مرزا قادیانی نے اپنے کسی رسالہ میں نہیں لکھا ہے۔ دکھلا سکتا ہوں اگر آپ اعتراض کرتے ہیں تو آپ پر فرض ہے کہ نقل عبارت کر کے اوّل بنا اعتراض قائم فرماویں اور مرزا قادیانی کی کتابوں میں اس نباء کا وجود پیدا کریں اور پھر اعتراض کریں ورنہ آپ کا اعتراض ہباء منثورا ہو گیا اور میں تو عرض کر چکا کہ لفظ الانباء میں الف لام عہد کا موجود ہے اور لفظ ہذہ اسم اشارہ متوسط بھی جس سے مراد وہی امارات ہیں جن کو مسیح سے پہلے ہونا ضروری ہے اور اسم اشارہ متوسط اسی واسطے لایا گیا ہے کہ امارات صغریٰ اور طلوع الشمس من مغربھا کے درمیان میں لیکن مسیح سے پہلے جو امارات ہیں وہ پوری ہو چکی اب میں آپ کے خطاب میں اور کیا عرض کر سکتا ہوں کہ کلموا الناس علیٰ قدر عقولھم وارد ہے۔ اگر آپ کو اس بارہ میں مفصلاً نظر کرنا ہو تو رقیمہ الوداد کو جس میں مولوی احمد علی صاحب کے شبہ کا تار و پود اکھاڑا گیا ہے۔ ملاحظہ فرماویں معانی الفاظ سے ہی مفہوم ہوا کرتی ہیں جو معنی عاجز نے لکھے اس کے الفاظ بھی آپ کی خدمت میں پیش کر دیئے۔ اگر اب بھی آپ کا شبہ رفع نہ ہوا تو یہ قصور فہم آپ کا ہے۔ زیادہ حد ادب! الراقم محمد احسن مقام دہرہ دون ٢٥ جولائی ١٨٩٥ء

٢٠

پرچہ نمبر: ٤...... از مولانا خلیل الرحمٰن

ایھا المولا نا معلوم رہے کہ حسب ارشاد باری تعالیٰ سے ہی نہیں ہے۔ پر افسوس یہ ہے کہ جن صاحبوں کو زعم ام کام میں نہ لا سکے۔ ان پر فرض تھا کہ سچ پر گواہی دینے سے ولو علی انفسھم او الوالدین ”اس پر نظر کر کے حق کو

شکستہ قدح گر بہ
نیاورد خواہد بہائی

جب کہ قرآن وحدیث سے مرزا قادیانی کے سے کب درست ہو سکتے ہیں۔

مشک آنست کہ خود ببوید نہ

علم مناظرہ کے اصول آپ بیان فرماتے تو اب جو تحریر نہیں کہ تو کون سی محولہ جواب میں خیالی کی جائی مطابق آیہ شریف ”الا تطغوا فی المیزان واقیـ ہوئی بیان فرماتے ۔ انصاف تو کیجئے آپ کا جواب میں ہے اور یہ کہ طلوع الشمس من مغربھا کا واقع ہو چکنا کہیں الزامی عذر ہے اور بنا اعتراض کا نہ دکھلانا تو صرف آپ کی تحریر کے وقت یہ کہہ کر کہ حمامہ کی عبارت جب کہ طر ہے۔ مجھ کو متنازع فیہ عبارت کے پیش کرنے سے روک د ہیں تو انشاء اللہ تعالیٰ اس تقریر کے خاتمہ پر گذارش کر دیا جوابوں کے ساتھ شامل و محفوظ رکھے گا۔ تاکہ جناب کے آپ نے بیان میں لام الانباء کے لام حوالہ قلم کئے ہیں اعتماد پر سائل کے حق میں ملامت کی طرف متوجہ ہوئے شخص کون ہے جو نہیں جانتا کہ بیان کے موقع میں خا امارات کبریٰ جن کی تفصیل اعتراض کی تقریر اور (جو معترض کی خام خیالی کے ہو اور واقع میں نہ ہو۔ خواہ مطا

٩٥

صفحہ ٣٦٥

پرچہ نمبر: ٤ ...... از مولانا خلیل الرحمن

ایہا المولانا معلوم رہے کہ حسب ارشاد باری وفوق کل ذی علم علیم کے یہاں فخر علمی پہلے سے ہی نہیں ہے۔ پر افسوس یہ ہے کہ جن صاحبوں کو زعم اعلم الناس ہونے کا ہے وہ اپنے مبلغ علم کو کام میں نہ لا سکے۔ ان پر فرض تھا کہ سچ پر گواہی دینے سے نہ شرماتے۔ "کما قال الله تعالیٰ ولو على انفسکم اوالوالدین" اس پر نظر کر کے حق گوئی سے منہ نہ پھیرتے۔ اے مخدوم!

شکستہ قدح گر بہ بندند چست
نیاورد خواہد بہائی درست

جب کہ قرآن وحدیث سے مرزا قادیانی کے اقوال شکستہ ہیں تو آپ کے تکلفات سے کب درست ہو سکتے ہیں۔

مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید

علم مناظرہ کے اصول آپ بیان فرماتے تو کیا عنداللہ آپ کا جواب مقبول ہوتا اور اب جو تحریر ہمیں ملی تو کون سی محولہ جواب میں خیالی کی جاتی ہے۔ مجھ کو امید تھی کہ بخاری کی تفسیر کے مطابق آیہ شریف "الا تطغوا فی المیزان واقیموا الوزن بالقسط" کی بات چھپی ہوئی بیان فرماتے۔ انصاف تو کیجئے آپ کا جواب میں یہ عذر کہ شے معدوم کیوں طلب کی جاتی ہے اور یہ کہ طلوع الشمس من مغربہا کا واقع ہو چکنا کہیں مرزا قادیانی نے تحریر نہیں فرمایا۔ کوئی نفس الامری عذر ہے اور بنا اعتراض کا نہ دکھلانا تو صرف آپ کے ارشاد سے تھا۔ کیونکہ آپ نے سوال کی تحریر کے وقت یہ کہہ کر کہ حمامہ کی عبارت جب کہ طرفین کو معلوم ہے تو لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھ کو متنازع فیہ عبارت کے پیش کرنے سے روک دیا۔ اب جو آپ اس کی نقل طلب فرماتے ہیں تو انشاء اللہ تعالیٰ اس تقریر کے خاتمہ پر گذارش کر دیا جاوے گا۔ اب اس کو بجنسہ ان سوال اور جوابوں کے ساتھ شامل و محفوظ رکھوں گا۔ تاکہ جناب کے جواب سب ہباء منثورا ہی رہیں اور جو کہ آپ نے بیان میں لام الابتداء کے احکام حوالہ قلم کئے ہیں اور سوال دوئم کے جواب میں اس لام کے اعتماد پر سائل کے حق میں ملامت کی طرف متوجہ ہوئے۔ اے مخدوم اصطلاحات علمیہ سے واقف شخص کون ہے جو نہیں جانتا کہ بیان کے موقع میں خاموشی بیان کا فائدہ دیا کرتی ہے۔ پس وہ امارات کبریٰ جن کے تفصیل اعتراض کی تقریر اور (حمامہ ص ٨٣) میں موجود ہے۔ خواہ از راہ معترض کی خام خیالی کے ہو اور واقع میں نہ ہو۔ خواہ مطابق واقع کے ہووے جب کہ مرزا قادیانی

٥

صفحہ ٣٦٧

نے اصلاً ان کی علامات خاصہ نزول مسیح موعود کے واسطے ہونے پر انکار نہ کیا اور بے ساختہ جواب میں کہہ دیا کہ سب خبریں بے شک تمام ہو چکیں تو آپ کا یہ فرمانا کب معتبر ہو سکتا ہے کہ طلوع الشمس من مغربہا کا واقع ہو چکنا کہیں مرزا قادیانی نے تحریر نہیں فرمایا۔ کیونکہ اولاً! بلا انکار کے مرزا قادیانی نے معترض کی تقریر اعتراض کو اپنی تصنیف میں درج کیا۔ یہ خود دلالت کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک مسیح موعود کے نزول کے لئے پہلے سے ظہور یاجوج و ماجوج اور دابۃ الارض اور دجال کا مع اپنی نشانیوں کے اور طلوع آفتاب کا اپنے چھپنے کی جگہ سے ہونا تحریری مسلم ہے۔

ثانیاً! جواب میں اشارہ کر کے انہیں مذکورہ بالا خبروں کی جانب یہ کہنا کہ وہ سب خبریں بے شک پوری ہو چکیں جو صریح اقرار پر دلالت کرتا ہے۔

ثالثاً! اس پر یوں زور دینا کہ ایسے واقع ہو چکے جیسے کہ چیدہ خبروں میں ثقہ لوگوں سے جمع ہوئیں ہیں۔

رابعاً! اس پر ترقی اس طور پر دینا کہ لوگوں نے ان علامات کے پورے ہو چکتے کو نہ پہچانا اور بے خبر رہے۔

خامساً! پھر یوں ہی تائید کرنا کہ جو بڑے نشان ہیں وہ بجز استعارات اور مجازات کے نہیں واقع ہوتے اور ظاہر طور پر ہرگز نہ جلوہ گر ہوتے یا کہ ہو سکتے ہیں۔

سادساً! اس کو چند آیات قرآنی سے یوں مؤید کرنا کہ پوشیدہ اور بے خبری کی حالت میں ہی بڑے نشانوں کا واقع ہونا ثابت ہوتا ہے۔

سابعاً! امارات کبریٰ اگر ظاہر اور حقیقت میں جلوہ گر ہوں تو اس پر منع تفصیلی کرنا اور ان میں طلوع الشمس من مغربہا کو شمار کر کے اس طرح بتلانا کہ ” کما أخبر عنها رسول اللہ ﷺ “ پس کیا یہ سب ثبوت مرزا قادیانی کی انگلیوں نے تحریر نہیں کئے جو آپ حمامہ کے اندر ان کے وجود کا انکار کرتے ہیں ایہا المولانا شے بدیہی الثبوت پر عدم موجودگی کا ادعا کرنا آپ کے تہی مبلغ علم کا مقتضا ہے۔ افسوس کیونکر آپ کو جرأت ہوئی کہ مرزا قادیانی جو طلوع الشمس من مغربہا کے واقع ہو چکنے پر زور دے کر بیان کر چکے۔ اس کے عدم وجود ہونے کو آپ سنادیں اور نیز اپنے دوسرے جواب میں بے سود تکلف کی طرف مائل ہو کر یوں لکھیں کہ مرزا قادیانی نے جو (حمامہ ص ٨٣) کے اعتراض کی تقریر پر کچھ انکار نہیں کیا۔ اس کی وجہ عدم ضرورت ہے اور یہ کہ مرزا قادیانی مکتب کے معلمون کی طرح اطفال کے میاں جی تو نہیں کہ معترض کے قول میں جو جو اغلاط واقع ہوں۔ ان سب کو تسلیم فرمایا کریں۔ مولانا آپ کا یہ عذر تو ایسا ہے جس کو عذر بدتر از گناہ کہا

٦

جاوے تو بجا ہے اے حضرت بہتر یوں ہے کہ آپ اب الا الف قامت ہو جائے اور امر واضح ہووے کہ اس رقيمة الـ تار و پود شکستہ رقيمة الوداد پر کچھ التفات کرنے کی احتیاج نہیں البلاغ المبين وأخر دعونا ان الحمد لله رب العـ سيد المرسلين محمد وعلى آله واصحابه اجـ یہ ملاحظہ فرمائیے۔ الراقم خلیل

" ومن اعتراضاتهم انهم قالوا ان ا قرب القيامة وظهور اماراتها يعنى ظهور والدجال الذى تسير معه الجنة والنار وطلو شيي من هذا العلامات فمن این جاء المسـ اخرى وكيف يطمئن القلب على هذا وكيف يمـ فاعلم ان هذه الانباء قد تمت كلها وقعت كمـ عن الثقاة ولكن الناس ما عرفوها وكانوا عز وجل اعن ولا يزال الذين كفرو في مرية للمرية والامارات الظاهرة الناطقة الدا وانما تظهر ايات نظريه التى يحتاج الى ا الاستعارات والا فكيف يمكن ان تنفع ايمـ عين الناس وفى يده حربة وينزل الملئكة دابة عجيبة وتكلم الناس ان الدين عـ وماجوج بصورهم الغريبة واذ انهم العـ الناس بين اذنيه سبعون باعاويخرج الدجـ الخزائن التي يتبعه وتطلع الشمس من مغر ويسمع الخلق اصواتاً متواترة عن السـ يبقى الشك والشبهة فى قلوب الكافرين وا ان هذه كلها استعارات وما اراد الله بـ بنور القلب ومن يكون من الضالين"

٧

صفحہ ٣٦٧

جاوے تو بجا ہے اے حضرت بہتر یوں ہے کہ آپ اب اوہام کے حلقہ سے آزاد ہو کر سیدھے راہ پر الف قامت ہو جائے اور امر واضح ہووے کہ اس رقیمۃ الاخلاص کو ملحوظ رکھنے کے بعد آپ کے تار و پود شکستہ رقیمۃ الوداد پر کچھ التفات کرنے کی احتیاج نہیں رہی ہے۔ ” وما علينا الا البلاغ المبين وأخر دعونا ان الحمد لله رب العلمين والصلوٰة والسلام على سيد المرسلين محمد وعلى آله واصحابه اجمعين “ اور حمامہ کی مطولہ عبارت یہ ہے ملاحظہ فرمائیے ۔ الراقم خلیل الرحمن ۔مورخہ ٢٦؍ جولائی ١٨٩٥ء

”ومن اعتراضاتهم انهم قالوا ان المسيح الموعود لاياتى الا عند قرب القيامة وظهور اماراتها يعنى ظهور ياجوج وماجوج ودابة الارض والدجال الذى تسير معه الجنة والنار وطلوع الشمس من مغربها وما ظهر شئے من هذه العلامات فمن اين جاء المسيح الموعود مع عدم مجئ آيات اخرى وكيف يطمئن القلب على هذا وكيف يحصل الثلج واليقين اما الجواب فاعلم ان هذه الانباء قد تمت كلها وقعت كما كان في الآثار المنتقاة المدونه عن الثقاة ولكن الناس ما عرفوها وكانوا غافلين ..... ايضاً فثبت من قوله عزوجل اعن ولا يزال الذين كفرو في مرية منه ان العلامات القطعية المزيلة للمرية والامارات الظاهرة الناطقة الدالة على قرب القيامة لا تظهر ابداً وانما تظهر آيات نظريه التى يحتاج الى التاويلات ولا تظهر الا فى حلل الاستعارات والا فكيف يمكن ان تفتح ابواب اسماء وينزل منها عيسى اما عين الناس وفى يده حربة وينزل الملئكة معه وتنشق الارض وتخرج منها دابة عجيبة ويكلم الناس ان الدين عند الله الاسلام ويخرج ياجوج وماجوج بصورهم الغريبة واذانهم الطويلة ويخرج حمار الدجال ويرى الناس بين اذنيه سبعون باعا ويخرج الدجال ويرى الناس الجنة والنار معه الخزائن التى يتبعه وتطلع الشمس من مغربها كما اخبر عنها رسول الله ﷺ ويسمع الخلق اصواتاً متواترة عن السماء ان المهدى خليفة الله وما ذالك يبقى الشك والشبهة فى قلوب الكافرين ولاجل ذلك كتبت في كتبى غير مرة ان هذه كلها استعارات وما اراد الله بها الا ابتلاء الناس ليعلم من يعرفها بنور القلب ومن يكون من الضالين “

(حمامة البشرىٰ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠٢، ٣٠٣)

٧

صفحہ ٣٦٩

اور معترضون کی باتوں سے ہے کہ انہوں نے کہا بے شک مسیح موعود آئے گا۔ مگر جب ہے کہ قیامت کے نزدیک اور اس کی بڑی نشانیوں کا ظہور ہوگا۔ یعنی ظہور یاجوج و ماجوج و دابۃ الارض اور دجال کے جس کے ساتھ جنت اور نار چلتے ہوں گے اور طلوع ہونے سورج کے اس کے چھپنے کی جگہ سے۔ حالانکہ ان علامات سے کوئی شے نہیں ظاہر ہوئی تو مسیح موعود کہاں سے آگیا؟ باوجود دوسرے نشان نہ آنے کے اور کیونکر دل اطمینان اس پر پاوے اور کیسی ٹھنڈک اور یقین حاصل ہووے۔ پس جواب معلوم رہے کہ بلاشک یہ خبریں البتہ سب تمام ہو چکیں اور واقع اس طور پر ہوئیں جیسے حدیثوں میں ثقہ سے جمع شدہ تھیں۔ ولیکن لوگوں نے نہ پہچانا اور بے خبر رہے۔...... پس ثابت ہوا قول اس بزرگ غالب سے اور ہمیشہ کافر اس سے شک میں رہیں گے۔

یہ کہ بلاشبہ نشانیاں قطعیہ جو شبہ مٹاویں اور نشانات ظاہری جو صریح دلالت قیامت کے قرب پر کریں کبھی نہیں ظاہر ہوتی۔ اس کے سوائے نہیں کہ فکری طور سے نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں جو تاویلات کی طرف ظاہر ہوں اور نہیں ظاہر ہوتیں مگر پیرایہ استعارات میں۔ ورنہ کیونکر ہو سکتا ہے۔ اگر کھولے جاویں آسمان کے دروازے اور ان سے عیسیٰ لوگوں کی آنکھوں کے آگے اتریں اور اپنے ہاتھ میں حربہ لئے ہوں اور ان کے ساتھ جیسے اتریں اور زمین پھٹے اور اس میں سے دابہ عجیبہ نکلے جو لوگوں سے کہے کہ بیشک مقبول دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے اور نکلے یاجوج و ماجوج اپنی عجیب صورتوں اور لمبے کانوں کے ساتھ اور نکلے گدھا دجال کا اور لوگ دیکھیں کہ اس کے دونوں کانوں کے درمیان فاصلہ ستر ہاتھ کا ہو اور نکلے دجال اور لوگ دیکھیں کہ اس کے ساتھ جنت اور نار ہے اور خزانے جو اس کے پیچھے ہولیتے ہوں اور طلوع کرے آفتاب اپنے چھپنے کی جگہ سے جیسے کہ اس سے خبر دی رسول اللہ ﷺ نے اور لوگ آواز پے در پے آسمان سے سنیں کہ بیشک مہدی اللہ کا نائب ہے اور باوجود اس کے شک وشبہ کافروں کے دلوں میں باقی رہے اور اس وجہ سے میں نے اپنی کتابوں میں کتنی ہی دفعہ لکھا کہ بے شک یہ سب استعارات ہیں اور ان سے اللہ تعالیٰ نے نہیں ارادہ کیا۔ مگر ان کی آزمائش تا کہ دیکھے کون ان کو دل کی نور سے پہچانتا ہے اور کون بہکے ہوؤں سے ہوتا ہے۔

مورخہ ٢٦ جولائی ١٨٩٥ء از خلیل الرحمٰن

پرچہ نمبر:٤....... از محمد احسن قادیانی:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ! نحمده ونصلى على رسوله الكريم ! "هذه معارضه بقلب جوابكم . فان كان قولكم صواباً فهذا

٨

صوابکم" ان جاہلوں کو ہست و فعل و ماندابازی آ ارشاد و فوق کل ذی علم علیم کی یہاں تو فخر علمی پہلے سے کو زعم اعلم الناس ہونے کا ہے وہ اپنے مبلغ علم کو کا دینے سے نہ شرماتے۔ کما قال الله تعالى ول کہ حق گوئی سے منہ نہ پھیرتے اے مخدوم

شکستہ قدح گر بہ
نیاحہ و خواہد

جب کہ قرآن وحدیث سے مرزا قاد تکلفات سے کب شکستہ ہو سکتے ہیں۔

مشک انست کہ خود ببوید

علم مناظرہ کے اصول اگر عاجز بیان کر اب جو تحریر نہیں کئے تو کون سی کمی محولہ جواب میں تفسیر کے مطابق آیت شریف 'الا تطغوا فی بات سچی ہوئی۔ بیان فرماتے۔ انصاف تو کیجئے کہ طلب کی جاتی ہے اور یہ کہ (طلوع شمس من مغر نہیں فرمایا کیا نفس الامری عذر ہے۔ اس عبارت ہی نہیں ہوسکتا۔ خواہ خاتمہ پر آپ اس کو نقل فرما دیں لہٰذا آپ اس کو بجز ان سوال وجوابوں کے ساتھ سب ہباء منثورا ہی رہیں اور جو کہ آپ نے بیان سوال دوم کے جواب الجواب میں اس لام کے طرف متوجہ ہوئے۔ اے مخدوم اصطلاحات علمیہ کے موقع میں یہ الف لام بہت سے مطلبوں کے جن کی تفصیل اعتراض کی تقریر اور حمامہ ص ٨٣ خام خیالی ہوں اور واقع میں نہ ہوں۔ خواہ مطابقت انہیں علامات خاصہ نزول مسیح موعود کی بحث منظور خبریں جو مسیح سے مقدم ہیں بے شک تمام ہو چکیں

صفحہ ٣٦٩

صوابکم“ ایں جاہل کو ہست وفعل و ماند ابازمی آید تا انبار اصدا ایہا المولانا معلوم رہے کہ حسب ارشاد وفوق کل ذی علم علیم کی یہاں تو تبحر علمی پہلے سے ہی نہیں ہے اور افسوس یہ ہے کہ جن صاحبوں کو زعم اعلم الناس ہونے کا ہے وہ اپنے مبلغ علم کو کام میں نہ لاسکے۔ ان پر فرض تھا کہ سچ پر گواہی دینے سے نہ شرماتے۔ ”کما قال اللہ تعالیٰ ولو علی انفسہم اوالوالدین“ اس پر نظر کر کر حق گوئی سے منہ نہ پھیرتے اے مخدوم

شکستہ قدح گر بہ بندند چست
نیابد و خواہد بہائے درست

جب کہ قرآن وحدیث سے مرزا قادیانی کے اقوال مؤید ومبرہن ہیں تو آپ کے تکلفات سے کب شکستہ ہو سکتے ہیں۔

مشک آنست کہ خود ببوید نہ آنکہ عطار بگوید

علم مناظرہ کے اصول اگر عاجز بیان کرتا تو بھی انشاء اللہ عند اللہ جواب مقبول ہوتا اور اب جو تحریر نہیں کئے تو کون سی کمی محولہ جواب میں خیال کی جاتی ہے۔ مجھ کو امید ہے کہ بخاری کی تفسیر کے مطابق آیت شریف ”الا تطغوا فی المیزان واقیموا الوزن بالقسط“ کی بات سچی ہوئی۔ بیان فرماتے۔ انصاف تو کیجئے کہ عاجز کے جواب میں یہ عذر کہ شے معدوم کیوں طلب کی جاتی ہے اور یہ کہ (طلوع الشمس من مغربہا کا واقع ہو چکنا) کہیں مرزا قادیانی نے تحریر نہیں فرمایا کیا نفس الامری عذر ہے۔ اس عبارت حمامہ سے جو آپ نے نقل فرمائی۔ اعتراض قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ خواہ خاتمہ پر آپ اس کو نقل فرما دیں یا اوّل میں۔ یہی تو وجہ ہے کہ خاتمہ ٹھیک نہیں۔ لہٰذا آپ اس کو بجز ان سوال وجوابوں کے ساتھ شامل و محفوظ رکھئے گا۔ تا کہ جناب کے شبہات سب ہباء منثورا ہی رہیں اور جو کہ آپ نے بیان میں الف لام الانباء کے الام حوالہ قلم کئے ہیں اور سوال دوم کے جواب الجواب میں اس لام کے عدم اعتماد پر مجیب سائل کے حق میں ملامت کی طرف متوجہ ہوئے۔ اے مخدوم اصطلاحات علمیہ سے واقف شخص کون ہے جو نہیں جانتا کہ بیان کے موقع میں یہ الف لام بہت سے مطلبوں کے بیان کا فائدہ دیا کرتا ہے۔ پس وہ امارات کبریٰ جن کی تفصیل اعتراض کی تقریر اور حمامہ ص ٨٣ میں موجود ہے۔ خواہ وہ امارات از راہ معترض کی خام خیالی ہوں اور واقع میں نہ ہوں۔ خواہ مطابق واقع کے ہوویں۔ لیکن جب کہ مرزا قادیانی کو انہیں علامات خاصہ نزول مسیح موعود کی بحث منظور ہے اور بے ساختہ جواب میں کہہ دیا ہے کہ سب خبریں جو مسیح سے مقدم ہیں بے شک تمام ہو چکیں۔ جس کی طرف الف لام دلالت کرتا ہے تو آپ

٩

صفحہ ٣٧١

کا یہ فرمانا کب معتبر ہو سکتا ہے کہ طلوع الشمس من مغربھا کا واقع ہو چکنا مرزا قادیانی نے تحریر فرمایا ہے۔ کیونکہ اولاً معترض کا اعتراض ہی یہ ہے کہ امارات مسیح ابھی نہیں واقع ہوئیں۔ اگر چہ اپنی بے علمی سے طلوع الشمس من مغربھا کو بھی علامت مقدمہ مسیح اس نے شمار کیا ہے۔ یہ امر خود دلالت کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک مسیح موعود کے نزول کے لئے پہلے سے ظہور یاجوج وماجوج اور دابۃ الارض اور دجال کا معہ اپنی کل نشانیوں کے ہونا مسلم ہے۔ جس طرح سے کہ وہ واقع ہوئیں اور طلوع الشمس من مغربھا مسیح موعود کی مقدم نشانی ہی نہیں جو وہ بھی پہلے واقع ہولے۔

ثانیاً! اس میں اشارہ متوسطہ سے اشارہ کرنا انہیں مذکورہ بالا خبروں کے لئے ہے کہ جو امارات مسیح ہیں اور وہ وہی درمیانی اور متوسطہ بھی ہیں اور یہ سب خبریں پوری ہوچکی ہیں۔ یہ دلالات صریحہ ہیں۔ تعجب ہے کہ آپ جیسے فہیم کے فہم میں نہیں آئیں۔

ثالثاً! اس پر یوں زور دینا کہ یہ سب ایسے واقع ہوچکے جیسا کہ چیدہ خبریں ثقہ لوگوں سے جمع ہوئیں ہیں۔ کیونکہ کسی چیدہ خبر میں جو ثقات سے مروی ہو یہ وارد نہیں ہوا۔ طلوع الشمس من مغربھا بھی مسیح کے مقدم ایک امارت ہوئے گی۔ ”ومن ادعی فعلیه البیان“

رابعاً! اس پر ترقی اس طور سے دینا کہ لوگوں نے ان علامات کے پورے ہوچکنے کو نہ پہچانا اور بے خبر رہے۔ کیونکہ طلوع الشمس من مغربھا جو وجود قیامت تک متصل ہوگا اس کو سب پہچان لیویں گے۔ کیونکہ سب ایمان لے آویں گے اور وہ ایمان نفع نہ دیوے گا۔ لیکن ابھی تک سب کفار کب ایمان لائے ہیں اور اگر کشفی طلوع شمس من مغرب سے اب شروع ہوچکا ہے تو وہ بطور استعارہ کے ہے نہ حقیقی۔ ”کما فی ازالۃ الاوھام خامساً“ پھر یوں تائید کرنا کہ جو بڑے نشان ہیں مگر وہی جو مسیح کے مقدم ہوں تو وہ بکثرت استعارات اور مجازات کے نہیں واقع ہوتے اور اگر ظاہری طور پر ہوویں تو پھر سب لوگ ایمان لے آویں اور وہ ایمان نفع بھی نہ دیوے۔ لاکن زمانہ مسیح کا بالاتفاق دارالتکلیف ہے نہ دارالجزاء اور مولوی احمد علی صاحب کا خلاف اس میں معتبر نہیں کہ ان کو ہم نے حمامۃ الوداد میں بخوبی منقوش کردیا ہے۔ سادساً پھر اس کو چند در چند آیات قرآنی سے یوں مؤید کرنا کہ پوشیدہ اور بے خبری کی حالت میں ہی بڑی نشانیوں کا قبل قیامت واقع ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اگر مسیح کے وقت میں بھی طلوع الشمس من مغربھا اپنے ظاہری معنوں پر واقع ہوتا تو پھر ایمان واسلام کب قبول ہو۔ کیونکہ شروع قیامت تو اس وقت طلوع شمس من مغربھا سے ہو جاوے گا نہ مسیح کے وقت سے۔

١٠

سابعاً! امارات کبریٰ پر اگر ظاہر اور حقیقت میں طلوع الشمس من مغربھا کو شمار کر کے اس طرح پر سنت اللہ تعالیٰ (یعنی ظاہری طور پر) مسیح کے وقت میں تھ ایمان قبول نہ ہو۔ لیکن مسیح کے وقت میں تو ایمان واسل وقت میں طلوع الشمس من مغربھا حقیقی طور پر واقع ہو ممالک مغربی سے ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا زمانہ بھی ہنوز برھنت علیه فی رقیمة الوداد“ ایہا المولانا ا مبلغ علم کا مقتضا ہے۔ افسوس کیونکر آپ کو جرات ہوئ کے نہ واقع ہوچکنے کے بعد دیگر بیان کرچکے۔ پھر ہمچو جب کہ مرزا قادیانی نے طلوع الشمس من مغربھا کا ع دیا اگر مع ہذا پھر بھی کسی معترض ذکی صاحب کے مرزا صاحب معلمان اطفال کی طرح نہیں ہیں کہ باو عذر قوی ہے کہ بغیر قبول ہوئے آپ کو چارہ ہی نہیں ر کے حلقہ میں پورے پورے داخل ہو کر مرزا قادیانی ک الہام میں لکھے گئے ہیں تصدیق فرمادیں اور اپن کلام کے چیدہ کر کر بتوضیح وادب اسلام کے ساتھ پیش زمانہ فقد مات میتة جاھلیة“ پیش نہ آجاو رکھنے کے بعد بھی آپ کو کچھ شبہ باقی ہے تو پھر رقیمہ کرانے اس کے آپ کے جملہ شبہات متعلقہ مسئلہ کے طبع تک آپ انتظار کریں اور واضح ہو کہ جب ت آئندہ مثل سابق کے جواب وسوال لکھنا ہوگا اور ب جاوے گا۔ ”وما علینا الا البلاغ المبین ول والصلوٰة والسلام على سید المرسلی حمامہ کی عبارت میرے مطلوبہ نہیں تھی۔ کیونکہ وہ ف الرا

صفحہ ٣٧١

سابعاً! امارات کبریٰ پر اگر ظاہر اور حقیقت جلوہ گر ہوں تو اس پر منع تفصیلی کرنا اور ان میں طلوع الشمس من مغربھا کو شمار کر کے اس طرح پر جتلانا ”کما اخبر عنھا رسول اللہ ﷺ“ (یعنی ظاہری طور پر) مسیح کے وقت میں نہیں واقع ہوسکتا۔ کیونکہ اندر ایں صورت پھر ایمان قبول نہ ہو۔ لیکن مسیح کے وقت میں تو ایمان واسلام مقبول ہے تو ہرگز نہیں ہوسکتا کہ مسیح کے وقت میں طلوع الشمس من مغربھا حقیقی طور پر واقع ہو۔ ہاں بطور استعارہ یعنی طلوع شمس اسلام ممالک مغربی سے ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کا زمانہ بھی ہزارہا دو ہزار برس یا کم وبیش ہو سکتا ہے۔ ”کما برھنت علیہ فی رقیمۃ الوداد “ ایہا المولانا شے معدوم کا بدیہی الثبوت کہہ دینا آپ کے مبلغ علم کا مقتضا ہے۔ افسوس کیونکر آپ کو جرأت ہوئی کہ مرزا قادیانی جو طلوع الشمس من مغربھا کے نہ واقع ہو چکنے کے بعد دیگر بیان کر چکے۔ پھر بھی اس کے واقع ہو چکنے کو آپ سنا دیں اور نیز جب کہ مرزا قادیانی نے طلوع الشمس من مغربھا کا بیان ان تصریحات اور توضیحات کے ساتھ کر دیا اگر مع ہذا پھر بھی کسی معترض ذکی صاحب کے سمجھ میں نہ آوے تو پھر یہ عذر کہ حضرت مرزا صاحب معلمان اطفال کی طرح نہیں ہے کہ بار بار کسی معترض ذکی کو سبق یاد کرایا کریں۔ کیا عذر قوی ہے کہ بغیر قبول ہوئے آپ کو چارہ ہی نہیں۔ اے حضرت بہتر یوں ہے کہ اب آپ اسلام کے حلقہ میں پورے پورے داخل ہوکر مرزا قادیانی کے اسلام پر آئیں اس لام کو خصوصاً جو بیان الف لام میں لکھے گئے ہیں تصدیق فرماویں اور اپنے الف قامت کو اس لام اسلام کی روبرو مثل لام کے خمیدہ کرکر بتواضع وادب اسلام کے ساتھ پیش آویں۔ تاکہ ”وعید من لم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃ جاہلیۃ “ پیش نہ آجاوے اور واضح ہو کہ اس رقیمۃ الاخلاص کے ملحوظ رکھنے کے بعد بھی آپ کو کچھ شبہ باقی ہے تو پھر رقیمۃ الوداد کا پیالہ آپ سے نہ ٹلے گا اور بعد طبع کرانے اس کے آپ کے جملہ شبہات متعلقہ مسئلہ متنازعہ کا تار وپود ادھڑ دیا جاوے گا۔ لہٰذا اس کے طبع تک آپ انتظار کریں اور واضح ہو کہ جب قرار داد کے جلسہ میں بیٹھ کر آپ کو اور عاجز کو آئندہ مثل سابق کے جواب وسوال لکھنا ہوگا اور آپ کا خانہ ساز جواب مقبول نہ ہوگا اور نہ لیا جاوے گا۔ ”وما علینا الا البلاغ المبین وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد وآلہ واصحابہ اجمعین “ اور حمامہ کی عبارت میرے مطلوبہ نہیں تھی۔ کیونکہ وہ عاجز کے پاس موجود ہے۔

الراقم : محمد احسن امروہی۔ مورخہ ٢٧؍ جولائی ١٨٩٥ء

١١

صفحہ ٣٧٣

پرچہ نمبر: ٥...... از مولانا خلیل الرحمن

الجواب

”هذا دفع المعارضة لرفع المناقضة“ مخدوماً آپ کا مکتوب جواب پہنچا اور کیفیت مرقومہ سے مطلع کیا۔ فرمائیے تو کب تک آپ حق پذیری اور انصاف گزینی کی طرف سے منقلب رہیں گے۔ اگر مرزائی طریقہ میں راہ صواب سے پلٹ جانے کو ہی صواب مان رکھا ہے تو آپ کو ہی مبارک رہے۔ نہان کے ماند آن رازے کزو سازند محفلھا۔ مرزا قادیانی کا قول امارات کبرٰی معہ طلوع شمس من مغربھا کے واقع ہو چکنے کی بابت جو حمامہ ص ٨٣ میں موجود ہے اور آپ اس عبارت کو اس سوال و جواب کی تقریر میں درج کرنے کے لئے مخاطب کئے گئے ہیں۔ اے مولانا وہ ایسا مصرح نہیں ہے کہ اس میں سے آپ کے طلوع شمس من مغربھا مستثنیٰ کرنے کو بمقابلہ مرزا قادیانی کی تصریح کے وقعت ہو سکے اور الانباء کے لام کے حلقہ میں گو کتنے ہی آپ الجھے رہیں اور ہذہ سے جو اشارہ میں کلیۃً وہ خبریں کہ اعتراض کی تقریر میں مذکور نہیں متعین ہوئیں اس سے گریز اس طرف کریں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک معترض کے قول میں طلوع شمس من مغربھا واقع ہو چکنے کی بابت کوئی اقرار نہیں ہے اور نہ آپ کا یہ فرمانا مفید ہو سکتا ہے کہ طلوع شمس من مغربھا جب کہ احادیث میں نزول مسیح موعود کے واسطے علامت نہیں بیان ہوئی تو کیونکر مرزا قادیانی اس کو معترض کے قول کے موافق علامت مان لیتے۔ کیونکہ عبارت جو حمامہ کی ہے۔ وہ ہرگز آپ کے اس توجیہ کو جگہ نہیں دیتی ہے۔ جیسا کہ ناظرین پر مخفی نہیں ہے۔ اے حضرت کہ برہان قوی باید و معنوی۔ نہ رگہائے گردن بحجت قوی۔ گو آپ مرزائی ہیں لیکن بحث شدہ مسئلہ میں مرزا قادیانی کے خیالات سے آپ کے خیال کہیں پرے ہیں۔ چنانچہ جوابوں سے ناظرین پر پوشیدہ نہیں ہے کہ آپ ص ٨٣ حمامہ والی مرزا قادیانی کی تقریر کو محرف کرتے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے حمامہ کے اندر جو کہ پچھلے تصانیف سے ہے کہیں دعویٰ نہیں کیا کہ طلوع شمس من مغربھا یا خروج دجال موعود یا خروج دابۃ الارض موصوف سے ظاہر عبارت احادیث کے مطابق طلوع و خروج مراد ہے جو قیامت سے باتصال حقیقی واقع ہوگا۔ ”ومن ادعی بوجودہ فعليه البيان“ البتہ اس کی نفی بھی ظاہری طور پر احادیث مظہرہ کے مطلب نہ ہونے کا ثبوت تحریر کیا ہے۔ چنانچہ بار بار اس کا مقام آپ کو یاد دلایا گیا اور آپ نے اپنی تحریر میں طریق مذکور کو پیش کیا ہے۔ چنانچہ آفتاب کی بابت آپ کا مرزا قادیانی کے خلاف تو ان ہی سوالوں کے جواب میں موجود ہے اور نیز طلوع شمس میں معہ خروج دجال دابۃ الارض کے ١٢

اس پرچہ میں ہے۔ جو مورخہ بست و چہارم رمضان سنہ غلط میں غلطی کی ہے کہ بجائے ٢٨ یا ٢٩ جولائی کے ٢٧ جولائی ہے وہ آپ کے پاس ٢٨ جولائی ١٨٩٥ء کو پہنچا تھا۔ ”عبـ مغربها والدجال ودابة الارض اعنى الآيات الـ نفسًا ايمانها كما فى المسلم هي التي تكون مقـ والصادق تحقیقی“ پھر طرفہ ماجری یہ ہے بہت کہـ میں باوجود غرض کے اعتراض کو غلط مان لینے کے طلوع شمـ و ماجوج و دابۃ الارض و نزول مسیح کے لئے پہلے سے ہو ئـ ہیں۔ اجی حضرت وہ حدیث پیش تو کیجئے جس میں بیان ہو کہ ظہور یاجوج و دابۃ الارض ہے۔ لیکن اگر آپ اس طرح اعتراض کی تقریر میں سے نزول مسیح موعود کے لئے مرزا قاد ظہور یاجوج و ماجوج و دابۃ الارض کا ہونا مسلم ہے طلوع شمـ کلیت قد تمت کلھا سے روشن اور یہ کہ آپ جو طلوع شمس من اور جس قدر آپ نے الانباء کے لام کے دائرہ میں گردشیں زور لگائے۔ سب کے سب بے سود ہیں۔

اب میں اس تقریر کو اسی قدر تحریر پر ختم کرتا ہو بات کس کی طرف ہے اور یہ معلوم کریں گے کہ ان تحریرات کے شامل رہنے سے آپ کی تاویلات کس قدر رکیک ہیں بـ مکان کے اندر بیٹھ کر جواب نویسی کا آغاز تو خود آپ سے ہـ مدنظر تھی تو گھر میں بیٹھ کر جواب مت لکھا ہوتا۔ اس احقر نـ تو کیا خطاء کی۔ ”آتامرون الناس بالبر وتنسـ تقولوا ما لا تفعلون“ نیز التماس ہے کہ خواہ آپ کـ تصنیف کردہ کو طبع کرا دیں یا اس رقیمۃ الاخلاص کی تحریر کـ توقف تحریر کے طبع میں کریں اور کوئی تبدیلی اور کچھ کمی وبیشی نـ الحمدلله رب العلمين والصلوة والسلام واصحابه اجمعين“ الر ١٣

صفحہ ٣٧٣

اس پرچہ میں ہے۔ جو مورخہ بست و چہارم رمضان سنہ غلط میں تحریر کیا جیسا کہ اب کی دفعہ تاریخ میں غلطی کی ہے کہ بجائے ٢٨ یا ٢٩ جولائی کے ٢٧ جولائی لکھی ہے۔ حالانکہ جس پرچہ کا جواب ہے وہ آپ کے پاس ٢٨ جولائی ١٨٩٥ء کو پہنچا تھا۔ ”عبارتـه هكذا فطلوع الشمس من مغربها والدجال ودابة الارض اعنى الايات الثلاث التى اذا اخرجن لا ينفع نفسا ايمانها كما فى المسلم هى التى تكون متصلاً بالقيامة باتصال حقيقى والتصاق تحقيقى“ پھر طرفہ ماجرا یہ ہے تعجب کہ آپ اپنی مقلوب جواب کی پہلی صورت میں باوجود غرض کے اعتراض کو غلط مان لینے کے طلوع شمس من مغربہا کے سوا یعنے ظہور یاجوج وماجوج ودابۃ الارض ونزول مسیح کے لئے پہلے سے ہونے کو مرزا قادیانی کے نزدیک مسلم مانتے ہیں۔ اجی حضرت وہ حدیث پیش تو کیجئے جس میں بیان ہوا ہو کہ نزول مسیح کے لئے پہلے علامات سے ظہور یاجوج ودابۃ الارض ہے۔ لیکن اگر آپ اس طرح کی حدیث پیش نہ کر سکے تو معترض کے اعتراض کی تقریر میں سے نزول مسیح موعود کے لئے مرزا قادیانی کے نزدیک جملہ علامات کے جیسے ظہور یاجوج وماجوج ودابۃ الارض کا ہونا مسلم ہے طلوع شمس من مغربہا کا وقوع مسلم ہے جیسے کہ کلیت قد تمت کلمتہا سے روشن اور یہ کہ آپ جو طلوع شمس من مغربہا کو استثناء کرتے ہیں۔ فضول ہے اور جس قدر آپ نے الابناء کے لام کے دائرہ میں گردشیں کھا کر استثناء کرنے طلوع الشمس میں زور لگائے۔ سب کے سب بے سود ہیں۔

اب میں اس تقریر کو اسی قدر تحریر پر ختم کرتا ہوں۔ اہل انصاف خود پرکھ لیویں کہ حق بات کس کی طرف ہے اور یہ معلوم کریں گے کہ ان تحریرات کے ساتھ حمامۃ کی وہ عبارت مع ترجمہ کے شامل رہنے سے آپ کی تاویلات کس قدر رکیک ہیں۔ براہ نوازش اس کو علیحدہ نہ فرمایئے گا اور مکان کے اندر بیٹھ کر جواب نویسی کا آغاز تو خود آپ سے ہی ہوا ہے۔ اگر بالمواجہ و بالشافہ ہی تحریر مدنظر تھی تو گھر میں بیٹھ کر جواب مت لکھا ہوتا۔ اس احقر نے آپ کا جواب اگر اپنے مکان پر لکھ دیا تو کیا خطا کی۔ ”اتـامـرون النـاس بالبر وتنسون انفسكم كبر مقتا عند الله ان تقولوا ما لا تفعلون“ نیز التماس ہے کہ خواہ آپ کسی خلاف واقع کے رقیمۃ الوداد کج بحثانہ کی تصنیف کردہ کو طبع کرا دیں یا اس رقیمۃ الاخلاص کی تحریرات کو چھپوادیں تا اختتام گفتگو اس تحریر کے توقف تحریر کے طبع میں کریں اور کوئی تبدیلی اور کچھ کمی وبیشی نہ فرمائیں۔ ”واخـــر دعـــوانـــا ان الحمدلله رب العلمین والصلوة والسلام على رسوله محمد وعلى آله واصحابه اجمعين“ الراقم : خلیل الرحمٰن مورخہ ٢٩ جولائی ١٨٩٥ء

١٣

صفحہ ٣٧٤

پرچہ نمبر: ٦.......از مولانا خلیل الرحمن

حامداً ومصلیا ومسلماً ! مخدوم ومکرم مولانا صاحب بعد از سلام مسنون، معروض آنکہ میرا جوابی پرچہ جو جناب کی نظر سے گزر چکا ہے اور اس کو آپ کی خدمت میں گئے ہوئے دن بھی آج تیسرا ہے۔ غالب ہے کہ محقق طور سے عبارت میری ہر سہ امر مطلوبہ کی آپ نقل فرما چکے ہوں گے۔ یعنی ایک یہ کہ مرزا قادیانی نے حمامہ کے اندر جو پچھلی تصانیف سے ہے اور بلاد عرب تک بھی گئی ہے۔ کس مقام پر تحریر کیا ہے کہ احادیث صحیحہ میں جو طلوع الشمس من مغربہا آیات کبریٰ میں سے قرب قیامت کے لئے بیان ہوا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ طلوع ظاہری طور پر اسی آفتاب کے لئے آئندہ زمانہ میں ہووے گا۔ دوسری یہ عبارت کہ طلوع آفتاب کا مغرب کی جانب سے جو ہو گا وہ قیامت کے قریب بانفصال حقیقی ہوگا۔ تیسری عبارت ان احادیث صحیحہ کی جن میں بیان ہوا ہے کہ مسیح موعود کے لئے علامت پہلے نزول سے ظہور یاجوج و ماجوج ودابۃ الارض کا ہے۔ تاکہ معلوم ہووے کہ بحث شدہ مسئلہ میں آپ کا اور مرزا قادیانی کا ایک مسلک اور بیان ہے اور یہ کہ آپ نے جو شق اول میں دعویٰ کیا ہے وہ درست اور ثابت ہے۔ الراقم : خلیل الرحمٰن مورخہ یکم اگست ١٨٩٥ء

پرچہ نمبر: ٧.......از مولانا خلیل الرحمن

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ! جناب مخدوم ومکرم سید مولوی محمد احسن تسلیم مسنون کے بعد گذارش ہے آج ماہ اگست ١٨٩٥ء کی بارہویں تاریخ میں آپ کا مرسلہ رقعہ ردی الطلب جواب پہنچا۔ حضرت من اگرچہ بات تو یوں ہے کہ یہ مشتے کہ پس از جنگ یاد آید بر کلہ خود باید زد۔ جب کہ آپ علانیہ مجلس عام میں زک پا چکے اور آپ کا منہ کالا تانبہ بن گیا۔ چنانچہ حاضرین جلسہ برابر دیکھتے تھے کہ بار بار پانی کے گھونٹ پی پی کر اپنی خشک لبی مٹاتے تھے اور پھر وہ ہی حالت ہو جاتی تھی۔ آج اختراعی دجالی بیانات لکھ کر طبع کر کے طالب جواب بنتے ہیں۔ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد۔ اجی حضرت! اُس قصہ کو بھی جانے دیجئے۔ پہلے یا اپنی عجز اور لاجواب رہ جانے کا میرے سابقہ سوالات مرسلہ کے جواب کا اقرار لکھ بھیجئے یا تحریری محققانہ جواب بثبوت ان ہر سہ امور کا عنایت کیجئے۔ یعنی:

مرزا قادیانی نے کس مقام پر تحریر کیا ہے کہ آیات کبریٰ میں سے قرب قیامت کے لئے جو احادیث ١٤

٥ صحیحہ میں طلوع شمس من مغربہا بیان ہوا ہے ۔ اس آفتاب کے لئے آئندہ زمانہ میں ہووے گا تا کہ

ہو کہ آفتاب کا طلوع مغرب کی طرف سے جو ہو حقیقی ہوگا، ۔ تا کہ معلوم ہو کہ آپ کا ادعاء العضو

نزول سے ظہور یا جوج و ماجوج اور دابۃ الارض کا کی تقریر درست ہے؟ اور کیسے مرزا قادیانی کے آپ اپنے جوابات کے اندر مدعی ہیں اور بوجہ شبہ نے یہ غلط بیانی کر کے واپس کر دیا کہ بالمشافہ تحر شرط تحریر سوال و جواب کے وقت مقرر نہیں ہوئی ہوئی ۔ لہٰذا اگر شرط یہی تھی تو خلف وعدہ کے آسا شرط فوت ہوئی تو مشروط کی جو آپ کے خیال م کی وجہ آپ کے اوپر ہی عائد رہی۔ بالجملہ جب آ واقع سے فراغت پا کر سائل ہونے کا منصب م معرفت مولوی احمد علی سے اپنے رقعہ ردی کا ج کے طوفان یا آپ کے خاص اپنی نیرنگی بیان سے مقرر ہو جائیں گے۔ پاتے ہیں۔ الراقم: خلیل الر

عبارت منصفانہ بنام محمد احسن قادیانی

ایہا المولانا مولوی محمد احسن صاحب آپ کے اور جناب مولوی احمد علی صاحب کے بارہ میں آپ نے پیر جی خدا بخش صاحب کی دکا نے آپ کے طالب ہونے پر بالمواجہ منشی محمد ح فرمایا تھا کہ بموجب حدیث نبوی کے بعد طلوع معتبر ہوگا۔ آپ چونکہ مرزا قادیانی الشمس من م دعوت اسلام کے لئے بلاتے ہیں۔ بموجب ح

صفحہ ٣٧٥

صحیحہ میں طلوع شمس من مغربھا بیان ہوا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ طلوع ظاہری طور پر اسی آفتاب کے لئے آئندہ زمانہ میں ہووے گا تا کہ ثابت ہو کہ آپ کا استثناء باطل نہیں ہے۔

ہو کہ آفتاب کا طلوع مغرب کی طرف سے جو ہوے گا وہ قیامت کے قریب باتصال حقیقی والصاق تحقیقی ہوگا۔ تا کہ معلوم ہو کہ آپ کا ادعاء المنقول بمالا یرضے بہ القائل نہیں ہے۔

نزول سے ظہور یاجوج و ماجوج اور دابۃ الارض کا ہے۔ تا کہ ثابت ہووے کہ کیونکر آپ کی شق اوّل کی تقریر درست ہے؟ اور کیسے مرزا قادیانی کے اقوال احادیث صحیحہ سے منطبق ہیں۔ جس کے آپ اپنے جوابات کے اندر مدعی ہیں اور بوجہ شہادت صحیحہ پیش نہ کر سکنے کے مطالبہ کا میرا پرچہ آپ نے یہ غلط بیانی کرکے واپس کر دیا کہ بالمشافہ تحریر کی شرط ہو چکی تھی۔ لہٰذا واپس ہے۔ حالانکہ کوئی شرط تحریر سوال و جواب کے وقت مقرر نہیں ہوئی۔ بلکہ گھر بیٹھ کر جواب نویسی کی ابتداء آپ سے ہوئی۔ لہٰذا اگر شرط یہی تھی تو خلف وعدہ کے آپ ہی مرتکب ہوئے اور جب آپ کی طرف سے شرط فوت ہوئی تو مشروط کی جو آپ کے خیال میں ہے مجھے رعایت کچھ لازم نہ ہوئی۔ پس الزام کی وجہ آپ کے اوپر ہی عائد رہی۔ بالجملہ جب آپ اس بحث سے کہ میرے اور آپ کے درمیان واقع ہے فراغت پا کر سائل ہونے کا منصب حاصل کر لیویں۔ اس وقت خواہ مجھ سے خواہ میری معرفت مولوی احمد علی سے اپنے رقعہ ہذا کا جواب طلب کیجئے پھر دیکھئے بطعنہ زنی مرزا قادیانی کے طوفان یا آپ کے خاص اپنی نیرنگی بیان سے کیسا کامل جواب حسب ان شرائط کے جو آئندہ مقرر ہو جائیں گے۔ پاتے ہیں۔ الراقم: خلیل الرحمٰن امروہی دوازدہم ١٢؍ اگست ١٨٩٥ء

عبارت منصفانہ بنام محمد احسن قادیانی

ایھا المولانا مولوی محمد احسن صاحب۔ السلام علیکم! کیوں حضرت جو مناظرہ فی مابین آپ کے اور جناب مولوی احمد علی صاحب کے ہوا تھا۔ آپ کو یاد ہے کہ طلوع شمس من مغربھا کے بارہ میں آپ نے پیر جی خدا بخش صاحب کی دکان پر جب کہ اثنائے مباحثہ جناب مولوی احمد علی صاحب نے آپ کے طالب ہونے پر بالمواجہہ منشی محمد حنیف صاحب خلف پیر جی خدا بخش صاحب ظاہر فرمایا تھا کہ بموجب حدیث نبوی کے بعد طلوع شمس من مغربھا کے ایمان لانا نفع نہیں دے گا اور نہ معتبر ہوگا۔ آپ چونکہ مرزا قادیانی الشمس من مغربھا کا گزر جانا حمامہ میں تحریر فرماتے ہیں اور پھر دعوت اسلام کے لئے بلاتے ہیں۔ بموجب حدیث مذکور ان کا ایمان کب نفع دے گا کہ آپ نے

١٥

صفحہ ٣٧٦

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

نصرة الـ

فی

رد القول

حضرت مولانا خلیل

نہیں فرمایا تھا کہ بعد طلوع شمس من مغربہا کے ایمان نفع دے گا اور معتبر ہوگا اور ہم بیضاوی سے ثابت کریں گے اور دکھلادیں گے باوجود روز جلسہ منعقد رہنے کے آپ نہ دکھلا سکے اور احمد شریف کا وعظ اختیار فرمایا۔ اب آپ کی اس مناظرہ میں اس طرح کروٹ لینا کہ اقرار کرلیا گیا کہ بعد طلوع الشمس من مغربہا کے ایمان نفع نہیں دے گا۔ اس سے آپ کی صاف ہٹ دھرمی بایں اس جلسہ کے پائی جاتی ہے۔ ناظرین بعد ملاحظہ ہر دو مناظرہ معلوم کر سکتے ہیں کہ عقائد باطلہ پر کون ہے۔

(دوست محمد خاں عفی عنہ)

قابل غور عبارت

٢٩؍ جولائی ١٨٩٥ء کو مولوی خلیل الرحمٰن صاحب نے جواب الجواب خط مولوی محمد احسن کے نام تحریر فرما کر روانہ فرمایا تھا۔ دوروز پیشتر جواب نہ دے کر یکم؍ اگست ١٨٩٥ء کو ایک خط بطور یاد دہانی و طلبی جواب نامہ اوّل کے تحریر فرما کر مولوی محمد احسن کے پاس روانہ فرمایا۔ جس کو نہیں لیا زبانی عذر کر کے واپس کر دیا۔ وہی نامہ ٥؍ اگست ١٨٩٥ء کو پھر معرفت منشی حسن محمد مختار مولوی محمد احسن کے پاس بھیجا گیا۔ پھر نہیں لیا۔ لفافہ بعبارت ذیل لکھ کر واپس کر دیا۔ ”یہ خط گھر میں بیٹھ کر لکھا گیا ہے۔ لہٰذا خلاف شرط مسلمہ ہے۔ بالمشافہ جو کچھ گفتگو ہو وہ لکھی جاوے۔ جیسا کہ قرارداد ہے۔ لہٰذا واپس ہے۔ ٥؍ اگست ١٨٩٥ء احقر احسن“ اگر چہ لینے سے عذر مولوی محمد احسن قادیانی کا نا قابل اعتبار ہے۔ کیونکہ وقت تحریر سوال و جواب کے کوئی شرط بالمشافہ تحریر کی نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ گھر پر بیٹھ کر مباحثہ کے مندرجہ سوال نمبر ٣ کی جواب نویسی کی ابتداء مولوی محمد احسن سے ہوئی اور پھر عذر یہ کہ خانہ ساز تحریر کو نہیں مانوں گا۔ اگر بالمشافہ تحریر مناظرہ مد نظر تھا تو نامہ رکھ کر یہ جواب لکھ دینا چاہئے تھا کہ بالمشافہ تحریر کے لئے جلسہ فلاں تاریخ اور فلاں جگہ منعقد کیا جائے۔ آپ تشریف لاویں۔ واپس کرنا نامہ کا اگر بغور دیکھا جاوے تو تاویلات اور استعارات غلط ہیں اور پھر اس پر طرہ یہ کہ ایک پرچہ اختراعی و جعلی بیانات لکھ کر اور طبع کرا کر طالب جواب بنے۔ چہ دلاورست دزدے کہ بکف چراغ دارد۔ ١٢؍ اگست ١٨٩٥ء کو مولوی خلیل الرحمٰن صاحب نے ایک نامہ پھر مولوی محمد احسن قادیانی کے پاس بھیجا تھا۔ کہ ہنوز جواب ندارد ناظرین پرچہ طبع شدہ مولوی محمد احسن قادیانی و نیز ہر دو مباحثہ تحریر شدہ در جواب پرچہ طبع شدہ کو ملاحظہ فرما کر معلوم کر سکتے ہیں کہ تحریر باطلہ کا مرتکب کون ہے۔ مورخہ ٢٤؍ اگست ١٨٩٥ء راقم دوست محمد خان

تمت ...... تمام شد

١٢

PDF 378

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

نصرة الحق

فی

رد القول الزاهق

حضرت مولانا خلیل الرحمن بھوپالی ؒ

صفحہ ٣٧٩

جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا

رساله نصرة الحق فى رد القول الزاهق

فى رد سواء السبيل

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ولا تلبسوا الحق بالباطل وتكتموا الحق وانتم تعلمون الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله محمد وآله واصحابه اجمعين ، اما بعد!

کمترین آل عباس خلیل الرحمٰن ”نحمده الله بالغفران“ عرض کرتا ہے کہ راقم الحروف کے ہم وطن مولوی محمد احسن متبع قادیانی کا جواب باصواب دینے کا زبانی دعویٰ جب دہرہ کے قیام میں مقابلہ مولوی احمد علی مدرس مدرسہ سہارنپور کے کچھ پایہ ثبوت کو نہ پہنچا جس کے باعث مجمع عام میں شرمندہ ہونا پڑا تو بعد میں انہوں نے دو کاروائیاں کیں۔ ایک اس نیاز مند سے تحریری گفتگو، اس میں بھی آخر لاچار ولا جواب رہے۔ چنانچہ میری تحریر ”رقیمۃ الاخلاص“ سے ناظرین معلوم کر سکتے ہیں۔ دوئم ایک فرضی تحریر بنام ”سوء السبیل“ چھپوا کر شائع کی تا کہ جو لوگ ان کے کھوٹے احوال کو بھلا اور کھرا جانتے ہیں اور اس سے نکل نہ جاویں اور ناواقف اشخاص آپ کو فتح مند سمجھیں۔ لیکن در حقیقت اس میں بھی خام خیالی سے کام لیا ہے۔ چنانچہ میری اس تحریر ”نصرت الحق“ سے واضح ہوگا اور اس کا چھپا ہوا ایک نسخہ میرے پاس ہے جو مولوی محمد احسن قادیانی نے بھیجا ہے۔ جس کی عبارت ذیل میں درج ہے۔”لہذا لاعلاء كلمة الله “جواب لکھا گیا۔”والله ولی التوفیق “ نقل عبارت مولوی محمد احسن قادیانی جو پیشانی پر اپنے رسالہ کے انہوں نے لکھی تھی۔ ”مولوی خلیل الرحمٰن یا خود اس کا جواب شائع کرو۔ مولوی احمد علی صاحب سے جواب بغرض اشاعت تا کہ ناظرین کو عذر کرنے کا موقع ملے۔“

٢

الجواب

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ حامداً ومصلياً

(وضع) ہمارے مولانا صاحب نے جو روایت سے جس میں بعد طلوع شمس من مغرب کے کو بیان فرما کر شبہ کو تقریر فرمایا۔ افسوس کہ اس کے بعد ش دور) فرما دیا ہے۔ جس کو عاجز سابق بیان کر چکا ہے هريرة قال قال رسول الله ﷺ ثلث اذا خ امنت من قبل اوکسبت فى ايمانها خير ودابة الارض “

(رفع) اے مجیب صاحب کوئی شخص تو وق نبی نہیں سمجھتے ہیں۔ سچ ہے ؎

چوں غرض آمد
صد حجاب از دل

حضرت من جب آپ پہلے یہ ظاہر کر چ کیا بحوالہ حدیث صحیح مسلم وغیرہ (اور یہاں اقرار چکا ہے (تو محض اتہام ہے کہ حدیث مذکور کو مولوی حضرت مولوی صاحب موصوف نے تو پہلے ہی جس سامنے پیش کیا تھا۔ آپ کو جتلادیا تھا کہ میرے دو اس دم کی پوری تقریر سے واضح ہے۔ جسے مشی دو چھوڑ دیا ہے۔ پس مولانا کا اس حدیث کو نظر اند متصل والی کے ذریعہ سے دوسرا مطالبہ پیش کیا کہ عائد ہے کیونکہ اولاً جب آپ حدیث مذکور پیش ک اس کو بیان سے چھوڑ دینا مان لیا جاوے۔ خیال

صفحہ ٣٧٩

الجواب

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حامداً ومصلياً ومسلماً

(وضع) ہمارے مولانا صاحب نے جو حدیث مسلم کے یعنی حضرت ابی ہریرہؓ کی روایت سے جس میں بعد طلوع شمس من مغرب کے کفار کے ایمان کی عدم قبولیت بیان ہوئی ہے۔ بیان فرما کر شبہ کو تقریر فرمایا۔ افسوس کہ اس کے بعد متصل کے حدیث کو نظر انداز (یعنی خیال سے دور) فرما دیا ہے۔ جس کو عاجز سابق بیان کر چکا ہے اور اب بھی بیان کرتا ہے۔ ”عن ابی هريرة قال قال رسول الله ﷺ ثلث اذا خرجن لا ينفع نفساً ايمانها لم تكن آمنت من قبل اوكسبت في ايمانها خيرا طلوع الشمس من مغربها والدجال ودابة الارض“

(رفع) اے مجیب صاحب کوئی شخص تو دوسرے کی بات نہیں سمجھا کرتا۔ آپ اپنی بات ہی نہیں سمجھتے ہیں۔ سچ ہے ؎

چوں غرض آمد ہنر پوشیدہ شد
صد حجاب از دل بسوی دیدہ شد

حضرت من جب آپ پہلے یہ ظاہر کر چکے کہ الزامی جواب عاجز نے جو اس وقت عرض کیا بحوالہ حدیث صحیح مسلم وغیرہ (اور یہاں اقرار کر کے کہتے ہیں کہ) جس کو عاجز سابق بیان کر چکا ہے (تو محض اتہام ہے کہ حدیث مذکور کو مولوی احمد علی صاحب نے نظر انداز فرما دیا ہے) اجی حضرت مولوی صاحب موصوف نے تو پہلے ہی جس وقت آپ نے اس حدیث ابی ہریرہؓ کو ان کے سامنے پیش کیا تھا۔ آپ کو جتلا دیا تھا کہ میرے دوسرے سوال کے لئے یہ حدیث حجت ہے چنانچہ اس دم کی پوری تقریر سے واضح ہے۔ جسے منشی دوست محمد خان نے تحریر کیا ہے اور آپ نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ پس مولانا کا اس حدیث کو نظر انداز فرمانا کیا معنی ہیں۔ آپ سے تو اس حدیث متصل والی کے ذریعہ سے دوسرا مطالبہ پیش کیا گیا ہے۔ لہٰذا نظر انداز کا الزام تو آپ کی طرف ہی عائد ہے کیونکہ اولاً جب آپ حدیث مذکور پیش کر چکے کے مقر ہیں تو گو آپ کے زعم کے موافق اس کو بیان سے چھوڑ دینا مان لیا جاوے۔ خیال سے دور کرنا مولوی صاحب کا ثابت نہیں ہوتا۔

٣

صفحہ ٣٨١

ثانیاً! جب مولوی صاحب آپ کو جتلا چکے کہ حدیث مذکور کے ساتھ مرزا قادیانی سے میرا دوسرا سوال ہے۔ ثالثاً! آپ کی یہ مطبوعہ کتب خانہ کی تصنیف آپ کی توصیف ظاہر کرتی ہے کہ آپ عمداً نظر سے احادیث کے مضامین کو چھوڑتے ہیں۔ اسی حدیث کا ترجمہ آپ نے ایک تو درود شریف میں اصل کے مطابق نہیں کیا۔ قطع برید طبعی سے صلی اللہ چھوڑ دیا۔ دوسری ”اوکسبت فی ایمانها خیراً“ کا ترجمہ غلط کر دیا اور ایمان کو ترک کیا۔ حالانکہ کہنا چاہئے تھا کہ یا ایمان میں بہتری حاصل نہ کی۔ رابعاً! آپ کی نسبت نظر اندازی کو عمداً سے اور قطع برید کو طبعی سے میں نے مفید بیان کیا ہے۔ اس پر آپ اور آپ کے ہمدرد برا نہ مانیں۔ کیونکہ ایک اور بھید کی بات اس جگہ میں ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ دیکھئے پہلے جو میرے اور آپ کے مابین خط و کتابت ہوتی تھی۔ اسے حدیث ابی ہریرہؓ کے پیش کرنے پر جسے یہاں الزامی وقت میں آپ لکھتے ہیں۔ چنانچہ میرے پاس اب تک وہ تحریر موجود ہے۔ یعنی ”فطلوع الشمس من مغربها والدجال دابة الارض اعنی الایات الثلاث التى اذا خرجن لا ينفع نفساً ايمانها كما فى المسلم التى تكون متصلاً بالقيامة باتصال حقيقى والصاق تحقيقى لا التى تكون فى زمن المسيح والمهدى“ (اے غیر الموعودین) ”ولا نكذبها قط وننكرها وهب نقول ان الايمان لا يقبل معها كما قال تعالى يوم يأتى بعض آيات ربك لا ينفع نفسا ايمانها“

پس نکلنا اپنی چھپنے کی جگہ سے آفتاب اور دجال اور دابۃ الارض یعنی ان تین نشانیوں کا کہ جب وہ ظاہر ہوں گی تو کسی شخص کو (یعنی کافر کو) اس کا ایمان نفع نہ دے گا۔ جیسے کہ مسلم میں ہے وہ تین نشان ہیں جو قیامت سے متصل باتصال حقیقی اور پیوستہ تحقیقی ہوں گی نہ کہ وہ جو زمانہ مسیح اور مہدی (یعنی غیر موعود) کی اور ہم ہرگز ہرگز نہیں جھٹلاتے ہیں اور نہ انکار کرتے ہیں اور ہاں ہم کہتے ہیں کہ بیشک ایمان معہ ان کے قبول نہیں ہونے کا جیسے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جب آوے بعض نشانیوں سے تیرے پروردگار کے تو کسی شخص (یعنی غیر مؤمن) کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا۔ انتھی!

باوجود اس بات کو تسلیم کر چکنے کے کہ حسب حدیث مسلم کے جب آفتاب کا طلوع اس کے غروب گاہ سے اور دجال موعود اور دابۃ الارض موصوف کا خروج ہوگا اور یہ خروج قیامت سے قریب ہوگا۔ تو بیشک وہ شبہ بہت یہ ہے کہ کسی کافر کا ایمان مقبول نہیں ہونے کا گو آپ اپنی سادہ

٤

رائے سے ان ہر سہ امور کے ظہور موعود کو قیامت س قیامت سے باتصال حقیقی ہونا عقل اور نقل کے خ کے مقابلہ میں حدیث مذکور کا مفہوم آپ ظاہر کر ہوا کہ حدیث مذکور کا مفہوم آپ نے ہی نظر انداز ہوا۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“

(اطلاع) اس مقام پر چند امور غور طلب

چکے ہیں کہ حدیث مسلم پیش کردہ کے موافق بیشک آفتاب کی طلوع ہونے اور دجال موعود اور دابۃ ال قبول نہ ہوگا تو ان کو اس اپنی شہادت سے پھر جانے کہ شہادت ایسے طور پر دیویں جس کی اپنے دل میں چنانچہ سورہ منافقین میں بیان ہوا کہ اے محمدﷺ کہ ہم گواہی دیتے ہیں۔ بے شک تو اللہ کا رسول اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔ کیونکہ ان

بقرینہ اسباب کے جو کہا ہے کہ قیامت سے متصل طلوع اس کے چھپنے کی جگہ سے ہے تو اس پہلو بد اتصال حقیقی محض غلط اور قلت تدبر سے بیان کیا متصل کسی سے ہے۔ ہرگز جس سے جو متصل ہے حرکت جسے پانی بہا کر لے جائے۔ لیکن مغرب اتصال نہیں۔ ثابت ہوتا ہے جیسے کہ کسی چیز کی حرک کہ آسمان کے کنارہ سے آفتاب کا نکلنا اور دن کا ہ نے اپنی تحریر میں طلوع آفتاب میں مغرب اور خرو تشریحاً سب کو ایک حکم کے ساتھ مقید اور جمع کیا۔ ی خرجو لا ينفع نفساً ايمانها“

صفحہ ٣٨١

رائے سے ان ہر سہ امور کے ظہور موعود کو قیامت سے متصل باتصال حقیقی سمجھے۔ حالانکہ ان کا ظہور قیامت سے باتصال حقیقی ہونا عقل اور نقل کے خلاف ہے۔ تو بھی منکرانہ مولوی احمد علی صاحب کے مقابلہ میں حدیث مذکور کا مفہوم آپ ظاہر کرتے ہیں اور اس پر اصرار کرتے ہیں تو بیشک واضح ہوا کہ حدیث مذکور کا مفہوم آپ نے ہی نظر انداز کیا اور یہ آپ کا فعل عمداً اور طبعی قطع و برید سے ہوا۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“

(اطلاع) اس مقام پر چند امور غور طلب ہیں۔

چکے ہیں کہ حدیث مسلم پیش کردہ کے موافق بیشک وہ آیات ثلث یعنی اپنے چھپنے کی جگہ سے آفتاب کے طلوع ہونے اور دجال موعود اور دابۃ الارض موصوف کی خروج پر ہرگز کسی کافر کا ایمان قبول نہ ہو گا تو ان کو اس اپنی شہادت سے پھر جانے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ مسلمانوں کا شیوہ ہے کہ شہادت ایسے طور پر دیویں جس کے اپنے دل میں معتقد نہ ہوں۔ بلکہ یہ خصلت منافقین کی ہے۔ چنانچہ سورہ منافقین میں بیان ہوا کہ اے محمدﷺ۔ جب تیرے پاس منافق آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں۔ بے شک تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ البتہ تو اس کا رسول ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔ کیونکہ ان کا دل زبان کے ساتھ موافقت نہیں رکھتا۔

بقرینہ اسباب کے جو کہا ہے کہ قیامت سے متصل باتصال حقیقی غرض شہادت میں صرف آفتاب کا طلوع اس کے چھپنے کی جگہ سے ہے تو اس پہلو بدلنے کی بھی ان کو گنجائش نہیں ہے۔ اس لئے کہ اتصال حقیقی محض غلط اور قلت تدبر سے بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ اتصال حقیقی میں ضرور ہے کہ جو متصل کسی سے ہے۔ ہرگز جس سے جو متصل ہے ان کے درمیان فاصلہ نہ ہووے۔ جیسے خس و خاشاک کی حرکت جسے پانی بہا کر لے جائے۔ لیکن مغرب سے آفتاب کے طلوع ہونے کے ساتھ ایسا اتصال نہیں۔ ثابت ہوتا ہے جیسے کہ کسی چیز کی حرکت پانی بہا لے جانے والی کے ساتھ ہوتی ہے یا کہ آسمان کے کنارہ سے آفتاب کا نکلنا اور دن کا ہونا بلا فاصلہ ہے اور اس لئے کہ انہوں نے اپنی تحریر میں طلوع آفتاب من مغرب اور خروج دجال اور دابۃ الارض ہر ایک بیان کر کے پھر تصریحاً سب کو ایک حکم کے ساتھ مقید اور جمع کیا۔ چنانچہ کہا کہ ”اعنی الآیات الثلاث التی اذا خرجوا لا ينفع نفساً ايمانها“

٥

صفحہ ٣٨٣

والمهدی“ یعنی نہ وہ نشانات جو مسیح اور مہدی کی زمانہ میں ہوں تو اس سے واضح ہوا کہ مولوی محمد احسن قادیانی کے نزدیک مسلم ہو چکا ہے کہ درحقیقت مرزا قادیانی موعود مسیح اور مہدی نہیں نہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ احادیث نبوی کے مطابق ہے جو اپنے زمانہ میں دجال دابۃ الارض کے خروج موعود کا وجود بڑے شدومد سے بیان کیا اور مغرب سے طلوع ہو چکنا۔ سنایا ہے۔ اس واسطے میں نے خطوط وحدانی میں ناظرین کے واسطے جتلا دیا ہے (ای غیر الموعودین) کیونکہ بقول مولوی محمد احسن قادیانی کی حدیث مسلم کے موافق بغیر انکار اور تکذیب کے مقر ہوا کہ حسب موعود اپنے چھپنے کی جگہ سے آفتاب کا طلوع اور معہود دجال اور دابۃ الارض کا خروج ہووے گا تو نص قرآنی ”يوم یاتی بعض آیات ربک“ کے مطابق کسی کافر کو مقبول ایمان نصیب نہ ہوگا اور کوئی شخص اپنے ایمان میں بہتری حاصل نہ کر سکے گا۔ کیونکہ جب شئے پائی جاتی ہے تو اس کے لوازم بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ مثلاً ایمان کے وقت کا ختم ہو چکنا ان نشانیوں مذکورہ کے ظہور پر تو یقیناً ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کو موعود مسیح و مہدی ہونے کا مرتبہ حاصل نہیں ہے۔ دجال معہود کے ظاہر ہو چکنے پر مسیح موعود کا نزول ثابت اور ہمارے اور مرزائیوں کے نزدیک مسلم ہے۔

”خروج دجال النصارى وان وقع الان ایضا وتسلم انه علامة كبرى للقيامة لا صغرى ولكن هذا الخروج ليس كخروجهم متصلاً بالقيامة“ ترجمہ اور نصاریٰ دجال کا خروج اگر چہ اس وقت بھی واقع ہوا اور ہم مانتے ہیں کہ وہ البتہ قیامت کے لئے بڑی علامت ہے۔ چھوٹی نہیں ہے۔ لیکن یہ نکلنا ایسا نہیں ہے جیسے کہ ان کا نکلنا قیامت سے متصل ہوگا اور اسی قیاس پر دابۃ الارض ضرور ہے کہ قیامت قائم ہونے کے نزدیک صادر ہوگا۔ جیسے کہ قرآن میں آیا ہے۔

صاحب مان چکے کہ اس کا ہم انکار نہیں کرتے اور اس کو ہم نہیں جھٹلاتے ہیں اور ہاں ہم کہتے ہیں کہ ان نشانیوں کے ساتھ ایمان مقبول نہیں ہونے کا اور یہ کہ موعود ظہور ان علامتوں کا ابھی تک نہیں ہوا ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ اپنی اس قدر تشریح کو اگر نظر انداز کریں اور ابن صیاد کے لئے جن روایات میں دجال ہونا بیان ہوا ہے ان کو اس حدیث کے معارض ٹھہرا دیں اور لکھیں کہ جب ابن

٦

صیاد کا وجود درصورت اس کو دجال کہا جائے کہ ایمان کی حا کے ہلاک کرنے کو نزول عیسیٰ خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ایما صاف ظاہر ہوگا کہ وہ انصاف اور حق کے راہ سے ہٹے ہو کیونکہ ابن صیاد کا ظہور اور وجود اگر اس کے موعود دجال ہو اس کو ہلاک اور دفع کرنے کے لئے موعود مسیح ابن مریم کا سوائے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے تمام روئے زمین کے ہو جاتے۔ لیکن نہ تمام روئے زمین کے باشندے اس کے نزول اس کو ہلاک اور دفع کرنے کے لئے واقع ہوا تو ہر واسطے بقائے وقت ایمان کے قبولیت کے مماثل زمانہ سے جن روایات میں دجال ہونا ابن صیاد کے حق میں آیا ہے کرنے سے ہے جو دجال موعود کے حالات سے مشابہ رہ ظاہر ہے جو ترمذی میں بیان ہوئی۔ یعنی اس نے کہا کہ فرما اور ماں کے تینتیس برس تک بچہ نہیں پیدا ہونے کا پھر ان چیز زیادہ اور فائدہ کی چیز کم رکھتا ہوگا۔ اس کی آنکھیں رسول اللہ ﷺ نے دجال کے ماں باپ کی صورت بتلائی کے بدن میں گوشت کچھ یوں ہی ہوگا اور ناک پرند کی چو پستان بہت موٹے اور لمبے رکھتی ہوگی۔ ابو بکرؓ نے کہا کہ میں زبیر بن عوام کو ساتھ لے کر گیا۔ حتیٰ کہ اس کے والد رسول اللہ ﷺ کی صفت بتلائی ہوئی ان میں تھی۔ ہم نے وہ دونوں بولے کہ تینتیس برس ہم اس حالت میں رہے ایک لڑکا پیدا ہوا۔ بھینگا نقصان کی چیز زیادہ اور فائدہ کی اس کا دل نہیں سوتا۔ کہا راوی نے پھر ہم نکلے ان کے اوڑھے ہوئے۔ دھوپ میں لیٹا ہوا ہے اور کچھ کھسر پس نے کیا کہا تھا۔ (یعنی اس کے والدین سے) ہم نے اس نے کہا کہ ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں میرا دل نہیں

٧

صفحہ ٣٨٣

صیاد کا وجود درصورت اس کو دجال کہا جائے کہ ایمان کی حد نہ ہوا تو موعود دجال کا خروج ہی جس کے ہلاک کرنے کو نزول عیسیٰ خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ایمان کی قبولیت کے لئے حد نہیں ہو سکتا تو صاف ظاہر ہو گا کہ وہ انصاف اور حق کی راہ سے ہٹے اور بناوٹی مسیح کے طرفدار ہوتے ہیں۔ کیونکہ ابن صیاد کا ظہور اور وجود اگر اس کے موعود دجال ہی ہونے سے واقع ہوتا تو ضرور ہوتا۔ تو اس کو ہلاک اور دفع کرنے کے لئے موعود مسیح ابن مریم کا نزول اب تک کب کا واقع ہو چکتا اور سوائے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے تمام روئے زمین کے باشندے خاص اس کے فتنہ سے آزمائے جاتے۔ لیکن نہ تمام روئے زمین کے باشندے اس کے فتنہ سے آزمائے گئے اور نہ مسیح موعود کا نزول اس کو ہلاک اور دفع کرنے کے لئے واقع ہوا تو ہرگز نہیں ہو سکتا ہے کہ دجال موعود کا خروج واسطے بقائے وقت ایمان کی قبولیت کے مماثل زمانہ سے ظہور ابن صیاد کے ہو۔ نہ۔ بلکہ متعین ہوا جن روایات میں دجال ہونا ابن صیاد کے حق میں آیا ہے وہ اس کے بعض ابتدائی حالات پر نظر کرنے سے ہے جو دجال موعود کے حالات سے تشابہ رکھتے تھے۔ جیسے کہ ابی بکرہ کی روایت سے ظاہر ہے جو ترمذی میں بیان ہوئی۔ یعنی اس نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ دجال کے باپ اور ماں کے تینتیس برس تک بچہ نہیں پیدا ہوا پھر ان کے ایک لڑکا پیدا ہو گا۔ بھینگا۔ نقصان کی چیز زیادہ اور فائدہ کی چیز کم رکھتا ہو گا۔ اس کی آنکھیں سوویں گی اور اس کا دل جاگتا ہو گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے دجال کے ماں باپ کی صورت بتلائی۔ چنانچہ فرمایا کہ اس کا باپ لمبی قد کا جس کے بدن میں گوشت کچھ یوں ہی ہو گا اور ناک پرند کی چونچ سی ہوگی اور اس کی ماں ایک عورت پستان بہت موٹے اور لمبے رکھتی ہوگی۔ ابو بکرہ نے کہا کہ مدینہ میں میں نے ایک لڑکا کو سنا۔ پس میں زبیر بن عوام کو ساتھ لے کر گیا۔ حتیٰ کہ اس کے والدین کے پاس ہم داخل ہوئے تو اتفاق سے رسول اللہ ﷺ کی صفت بتلائی ہوئی ان میں تھی۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ تمہارے کوئی لڑکا ہے سو وہ دونوں بولے کہ تینتیس برس ہم اس حالت میں رہے کہ ہمارے بچہ نہیں ہوتا تھا۔ پھر ہمارے ایک لڑکا پیدا ہوا۔ بھینگا نقصان کی چیز زیادہ اور فائدہ کی چیز کم رکھتا اس کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا۔ کہا راوی نے پھر ہم نکلے ان کے پاس سے تو اتفاق سے وہ لڑکا ایک چادر اوڑھے ہوئے۔ دھوپ میں لیٹا ہوا ہے اور کچھ کھسر پھسر کرتا ہے۔ پھر اس نے سر کھولا اور بولا کہ تم نے کیا کہا تھا۔ (یعنی اس کے والدین سے) ہم نے جواب دیا کہ تو نے کیا سن لیا جو ہم نے کہا۔ اس نے کہا کہ ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں میرا دل نہیں سوتا۔

٧

صفحہ ٣٨٥

وضع ...... یہ امر مسلم فریقین ہے کہ زمانہ دجال اور حضرت مسیح کا ایک ہے۔

رفع ...... یہ اتحاد زمانی جو نہایت قلیل عرصہ کے لئے مابین مسیح الدجال اور مسیح ابن مریم احادیث سے لے کر پیش کی ہے۔ ہرگز اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتی کہ اس وقت میں عنداللہ کفار کا ایمان قبول ہوگا تا وقتیکہ نص قطعی کو مجیب صاحب اپنے مدعا کے ثبوت پر پیش نہ کریں۔ کیونکہ جو حدیث یہاں پر مجیب صاحب نے لکھی ہے اس سے اصل مدعا کو کچھ تائید نہیں ہے۔ اس لئے کہ بحث اس بارہ میں نہیں قائم ہوئی کہ کچھ وقت باہم دجال اور عیسیٰ موعود کی متحد ہی نہیں ہے۔ علیٰ ہذا وہ اتحاد زمانی جو امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے لئے آپ سناتے ہیں۔ آپ کے مدعا کو مثبت نہیں ہے۔

وضع ...... پس اس حدیث مسلم کی بموجب جس کے راوی ابو ہریرہؓ ہیں زمانہ مسیح ومہدی میں ہی آپ کی تقریر شبہ کے بموجب کسی نفس کو ایمان نفع نہ دیوے گا۔ پھر جس مسیح ومہدی کا آپ کو انتظار ہے۔ ان کی بھی جملہ کوششیں اور سعیان دربارہ دعوت اسلام و ایمان بالکل لغو اور بے کار ہو گئیں۔

رفع ...... تقریر شبہ کی بابت اے حضرت آپ تو پہلے کہہ چکے تھے کہ مولوی احمد علی صاحب نے وہ حدیث ابی ہریرہؓ والی جس میں تین علامتوں کا ظہور بیان ہوا ہے۔ افسوس ہے کہ نظر انداز کر دی جن کا یہ نتیجہ ٹھہرتا ہے کہ شبہ کی تقریر صرف اس پر تھی کہ آپ نے مغرب سے آفتاب کے طلوع کرنے پر بموجب اوّل کی حدیث ابی ہریرہؓ کی کسی کافر کا ایمان قبول نہ ہوگا اور یہاں تین علامتوں والی حدیث کو شبہ کی تقریر آپ جتلا رہے ہیں۔ فرمائیے تو آپ کے متناقض جواب کی بد رنگی ظاہر ہو رہی ہے۔

شادم کہ از رقیبان دہن کشان گذشتے
گو مشت خاک ماہم برباد رفتہ باشد

اے مولانا اب فرمائیے کہ آپ اپنے پہلے قول کو مانتے ہیں جہاں نظر اندازی پر افسوس لکھا ہے تو آپ کے یہ اتحاد زمانے کی سب تقریر غلط ہو گئی یا کہ شبہ کی تقریر میں حضرت ابی ہریرہؓ کی وہ تین علامتوں والی حدیث تسلیم کرتے ہیں تو آپ کا پہلا افسوس آپ ہی کے اوپر عائد ہوا اور جب کہ دجال موعود کے خروج سے زمانہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ٹکر جائے اور امام مہدی کے قافلہ میں دجال کے خروج کرنے کی دھوم مچ جائے۔ اسی وقت میں ایمان مقبول ہونے کفار کے بابت تا وقتیکہ آپ نص قطعی نہ پیش کریں گے۔ صحیح مسلم کی حدیث نبوی جو حضرت ابو ہریرہؓ سے منقول

٨

ہوئی۔ ساقط الاعتبار نہیں ہو سکتی۔ بلکہ ایمان کی تحدید صادق اور ابن مریم موعود کی آمد اور کوشش وسعیان ج نصرت اور تائید کے واسطے نہ ماننا اور کفار کی حمیت پ سرگرمی ہے۔ نعوذ باللہ منہ! اے مولانا غیر موعود عیسیٰ دے چکے ہیں۔ یعنی آپ اپنی عربی اقراری تحریر یاد آپ اپنے اس فہم نادرست کو واپس لیجئے کہ رسول اللہ نکالتے ہیں۔ ”نعوذ باللہ من شر الوسواس

وضع ...... جو جواب اپنی مسیح ومہدی و منتظر کا عنایت

رفع ...... حضرت مسیح موعود ومہدی موصوف ج نبویﷺ میں مؤمنین کو سنایا گیا ہے وہ تو آپ ک السلام کو خدا تعالیٰ اس لئے بھیجے گا کہ اس سے م ذلت پہنچے اور ان کے شرور کو دفع کریں۔ ”واللہ الکافرین“ کا مضمون صدہا جگہ قرآن وحدیث میں بیان ہوا کہ طلوع الشمس من مغربھا کے یا کسی کے ہونے پر یا کہ یاجوج وماجوج کے دنیا میں مؤمنین قبض ہو چکیں گے۔ کفار کا ایمان مقبول ہو گا کے مقبول ایمان ہونے کی بابت آیات قرآنی کس لئے اپنے قیاس کو قرآنی آیات ٹھہراتے ہی کہا گیا کہ ان مخصوصہ اوقات میں کسی کافر کا ایم حاصل کرے گا۔ ہاں قرآن وحدیث میں بے ش بیان موجود ہے۔ فرمایا خدا تعالیٰ نے ”یوم یأت لم تکن آمنت من قبل او کسبت فی سے واضح ہوا کہ وہ نشانیاں رب کی جن میں ب نہیں ہو سکتا وغیرہ ! وہ تین چیزیں ہیں یعنی ایک خروج اور دابۃ الارض موصوف کا ظہور وہ سورۃ

صفحہ ٣٨٥

ہوئی۔ ساقط الاعتبار نہیں ہوسکتی۔ بلکہ ایمان کی تجدید بیان کرنے میں محکم مانی جائے گی اور مہدی صادق اور ابن مریم موعود کی آمد اور کوشش وسعی ان جن کے ہم منتظر ہیں۔ آپ کا ان نومؤمنین کی نصرت اور تائید کے واسطے نہ ماننا اور کفار کی حمیت میں زور لگائے رہنا یہ کیسی آپ کی بے اصل سرگرمی ہے۔ نعوذ باللہ منہ! اے مولانا غیر موعود عیسیٰ کی طرفداری چھوڑی۔ جس کی ہم پہلے اطلاع دے چکے ہیں۔ یعنی آپ اپنی عربی اقراری تحریر یاد کر کے صحیح مسلم کی حدیث سے منہ نہ موڑیے اور آپ اپنے اس فہم نادرست کو واپس لیجئے کہ رسول اللہ ﷺ کے وجود باجود سے ایمان کی تجدید کی خبر نکالتے ہیں۔ ”نعوذ بااللہ من شرالوسواس الخناس“

وضع....... جو جواب اپنی کج بحثی ومغالطہ کا عنایت فرماویں۔

رفع....... حضرت مسیح موعود ومہدی موصوف جن کا انتظار اور ان کی بعثت کا اظہار احادیث نبوی ﷺ میں مؤمنین کو سنایا گیا ہے وہ تو آپ کو بتلا دیا گیا ہے کہ مہدی اور عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو خدا تعالیٰ اس لئے بھیجے گا کہ اس سے مؤمنین بندوں کو نصرت وتائید ہووے اور کفار کو ذلت پہنچے اور ان کے شرور کو دفع کریں۔ ”واللہ ولی المؤمنین وان اللہ مخزی الکافرین“ کا مضمون صد ہا جگہ قرآن وحدیث میں موجود ہے پر کہیں ایک جگہ بھی نہ قرآن کریم میں بیان ہوا کہ طلوع الشمس من مغربہا کے یا کہ خروج دجال موعود کی یا ظہور دابۃ الارض موصوف کے ہونے پر یا کہ یاجوج و ماجوج کے دنیا میں پھیل کر سطوت پا جانے کے بعد جب کہ ارواح مؤمنین قبض ہو چکیں گی۔ کفار کا ایمان مقبول ہوگا۔ اگر آپ اس خاص خاص اوقات کے اندر کفار کے مقبول ایمان ہونے کی بابت آیات قرآنی اپنے پاس رکھتے ہیں تو کیوں نہیں پیش کرتے اور کس لئے اپنے قیاس کو قرآنی آیات ٹھہراتے ہیں۔ ”نعوذ باللہ منہ“ اور نہ احادیث نبویہ میں کہا گیا کہ ان مخصوصہ اوقات میں کسی کافر کا ایمان نفع دیوے گا یا اپنے ایمان میں کوئی شخص بہتری حاصل کرے گا۔ ہاں قرآن وحدیث میں ہے تو آپ کا اور آپ کے جعلی مسیح کا زعم غلط کر دینے والا بیان موجود ہے۔ فرمایا خدا تعالیٰ نے ”یوم یأتی بعض آیات ربک لا ینفع نفساً ایمانھا لم تکن آمنت من قبل او کسبت فی ایمانھا خیراً “ اور حضرت ابی ہریرۃؓ کی حدیث سے واضح ہوا کہ وہ نشانیاں رب کی جن میں سے ایک ہے کہ ظہور سے کفار کو ایمان مقبول نصیب نہیں ہو سکتا وغیرہا وہ تین چیزیں ہیں یعنی اپنی چھپنے کی جگہ سے آفتاب کا طلوع اور دجال موعود کا خروج اور دابۃ الارض موصوف کا ظہور وہ سورہ نمل میں ارشاد ہوا۔ ”واذا وقع القول علیھم “

٩

صفحہ ٣٨٦

یعنی جب کفار پر حجت الٰہی قائم ہو جاوے گی۔ ’اخرجنا لہم دابۃ الارض‘ ”ہم ان کے لئے دابۃ الارض کو نکالیں گے ’تکلمہم ان الناس کانوا بایتینا لا یوقنون‘ ”ان سے کہے گا کہ تحقیق لوگ ہماری آیتوں کا یقین نہیں کرتے تھے اور سورۂ انبیاء میں فرمایا۔ ”حتی اذا فتحت یاجوج وماجوج وہم من کل حدب ینسلون“ یعنی جو تین چیزیں اوپر بیان ہوئیں اور جمع عطفی کے لئے بوسیلہ واؤ کے ذکر ہوئیں ایک یہ کہ جو شخص بحالت ایماندار ہونے کے نیکیوں سے عمل میں لاوے تو اس کی کوشش مشکور ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کو خدا تعالیٰ اس کے اعمالنامہ کے اندر درج کرتا ہے۔

تیسری یہ کہ خدا تعالیٰ نے جس بستی کو ہلاک کیا ان کے رجوع کی حرمت ان کے وقت کا ختم ہو چکنا اس پر ہے کہ یاجوج وماجوج کشادگی پاویں اور وہ ہر ایک بلندی پر پھیل جاویں۔ اب دیکھ لیجئے کہ جس مہدی و مسیح کا انتظار ہے ان کی آمد کس قدر مطابق توعدہ الٰہی سے ہے جو فرمایا۔ ”انا لننصر رسولنا والذین آمنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشہاد“ ترجمہ البتہ ہم بے شک اپنے پیغمبروں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے مدد دیتے ہیں درمیان زندگی یعنی دنیا کے اور اس دن کہ گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے پھر اپنے مرزا قادیانی غیر موعود مسیح ومدعی مہدی کے نشان دیکھئے کہ انہوں نے امت محمدیہ کے مومنین میں کیسے پھوٹ ڈالے اور الہامات کاذبہ سنا سنا کر کیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے ذلت پائی۔ اس پر بھی مرزائیوں کو عبرت نہ ہو تو وہ جانے سچ ہے۔

ظلم کی ٹہنی سدا پھلتی نہیں
ناؤ کاغذ کی کہیں چلتی نہیں

وضع....... پھر صحیح مسلم کی حدیثوں میں یہ بھی موجود ہے۔

رفع....... اے مولانا آپ کے استدلال کا ابطال پہلے گزر گیا ہے۔ یعنی تا وقتیکہ آپ ابن صیاد کے زمانہ میں مسیح موعود کا نزول اس کے ہلاک کر چکنے کے واسطے ثبوت کے ساتھ پیش نہ کر چکیں گے۔ ابن صیاد کا دجال موعود ہونا ہرگز نہیں ثابت ہوتا ہے اور یہ بات پہلے بھی کہی گئی ہے۔ اب پھر جتلائی جاتی ہے کہ ابن صیاد کے حق میں دجال کہے جانے کا سبب یہ ہے کہ جب حدیث ابی بکرہ کی ابن صیاد میں دجال کی طرح بعض صفات مشترک تھیں جن کے اوپر نظر کر کے اور اس کی ابتدائی کیفیت دیکھ کر اس وجہ سے کہ وہ کسی قدر صفات موعود دجال کے ساتھ متصف تھا۔ اس کے دجال

١٠

صفحہ ٣٨٧

ہونے پر بعض صحابہ نے باہم مذکور کیا اور حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت عمرؓ نے ابن صیاد کو حلف کر کے دجال کہا یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ”والله ما اشك ان ابن صیاد هو المسیح الدجال“ یعنی میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ابن صیاد کے دجال ہونے میں شک نہیں کرتا ہوں اور مسلمات سے ہے کہ اگر چہ بعضے امور میں حضرت عمر کے موافق اللہ تعالیٰ نے وحی پہنچی۔ لیکن یہ بات ہرگز اس کو مستلزم نہیں ہے کہ ہر ایک ان کی رائے یا کہ ہر ایک ان کا قول خدا تعالیٰ کی وحی کے منطبق ہوتا تھا۔ ”ومن ادعى فعليه البیان“ اور یہ بھی یقینی امر ہے کہ آئندہ کی خبر بغیر خدا تعالیٰ کے بتلائے کوئی نہیں جانتا ہے۔ چنانچہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا۔ ”وما تدری نفس ماذا تکسب غدا“ پس مذکور بالا وجوہات سے روشن ہے کہ نہ جابر بن عبداللہؓ اور حضرت عمرؓ یا کہ دوسرے صحابہ کا ابن صیاد کو دجال کہنا اور خیال کرنا غلط ہے اور نہ ابن صیاد کا موعود دجال ہونا ثابت ہے۔ پس یہ نری سفسطہ کی باتیں ہیں۔ جو مولوی محمد احسن قادیانی نے ابن صیاد کی روایات کو قلم بند کیا کہ ”ان جابر بن عبداللہ حلف بالله تعالى ان ابن صیاد هو الدجال وانه سمع عمر يحلف بالله على ذلك عند النبی ﷺ وروى ابوداؤد باسناد صحيح عن ابن عمر انه كان يقول والله ما اشك ان ابن صياد هو المسیح الدجال“ اور یہ خیال بھی مولانا کا غلط ہے جو وہ سوچتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے جب رسول اللہ ﷺ کے سامنے حلف کر کے ابن صیاد کو دجال کہا اور آنحضرت ﷺ نے اس وقت سکوت فرمایا تو اس سے ابن صیاد کا موعود دجال ہونا مقرر ثابت ہوا۔ کیونکہ دوسری احادیث میں مصرح ہو چکا ہے کہ حضرت عمرؓ نے آنحضرت ﷺ سے اپنے زعم کے موافق ابن صیاد کو قتل کر ڈالنے کی اجازت مانگی تو جواب یہ ملا کہ ابن صیاد اگر وہی موعود دجال ہے تو اس کے قتل کرنے پر تم قابو نہ پاؤ گے اور جو ابن صیاد موعود دجال نہیں ہے تو اس کا قتل بے جا ہے۔ پس جب آنحضرت ﷺ کے نزدیک ابن صیاد کا موعود دجال ہونا محقق نہ ہوا تو حضرت عمرؓ کے حلف کرنے اور ابن صیاد کے دجال کہنے پر سکوت فرمانا آنحضرت ﷺ کا محض اسی وجہ سے ہوا کہ دجال کی کچھ صفات ابن صیاد میں موجود تھیں۔ فقط نہ یہ کہ درحقیقت وہ دجال موعود تھا اور کیونکر وہ دجال موعود ٹھہر سکتا ہے۔ جب کہ بعد میں وہ اسلام لایا اور مکہ معظمہ بلکہ مدینہ منورہ کے باشندوں میں سے ایک شخص تھا۔ حالانکہ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ کہا میں نے سنا فرماتے ہوئے نبی ﷺ کو وفات سے ایک مہینہ پہلے کہ تم مجھ سے قیامت کا وقت پوچھتے ہو اور بجز اس کے نہیں کہ اس کا علم خدا کے پاس ہے

١١

صفحہ ٣٨٩

اور میں اللہ کی قسم کے ساتھ کہتا ہوں کہ انہیں میں سے زمین پر کوئی سانس لینے والا شخص (یعنی آج) کہ اس پر سو برس آویں اور وہ اس وقت تک جیتا رہے یہ روایت بھی صحیح مسلم کی ہے تو کیا قبل آمد مسیح موعود کے ابن صیاد بموجب حدیث نبی کے سو برس کے اندر مر نہ چکا؟

الحاصل جب تحقیق ہو چکا کہ ابن صیاد دجال موعود نہیں تھا تو اس کا وجود اور ظہور کوئی بھی مولوی محمد احسن قادیانی کے واسطے نہ جواب کے صلاحیت رکھتا ہے اور نہ اس سے مولوی احمد علی کے پیش کردہ شبہ پر کچھ اعتراض عائد ہوتا ہے۔ اب مجیب صاحب اپنے تمسکات کو دیکھیں کیسے کمزور کی اور قادیانی کے لئے کچھ بھی فائدہ مند نہ ہوئے۔

وضع ...... آپ کے شبہ کی تقریر کے بموجب جو اعتراض مرزا قادیانی پر وارد ہوتا ہے اس سے بہت ہی بڑھ کر ان اجلہ صحابہؓ پر وارد ہوتا ہے۔

رفع ...... واہ مولانا اسی فہم کے بھروسہ پر مجیب بننے کا حوصلہ کرتے تھے اور اپنے ارادہ باطل کے سوا لسبیل کو سواء السبیل سے نامزد کرتے تھے۔ اجی حضرت جو شبہ مولوی احمد علی صاحب نے پیش کیا ہے اس سے ہرگز نہ کسی صحابی پر اعتراض وارد ہے اور نہ بزرگان دین میں سے کسی پر۔

گرت چشم خدا بینی ببخشد
نہ بینی ہیچ کس عاجز تر از خویش

اب فرمائیے! آپ کا اور آپ کے مرزا قادیانی کا غلط بیان میں کیا حال ہے۔ اعتراض کے ورود سے کوئی مخلص نہیں ہے۔

للہ الحمد ہرانچہ کہ خاطر می خواست
آخر آمد پس پردہ تقدیر پدید

وضع ...... اور مرزا قادیانی کی عبارت حمامۃ البشریٰ پر آپ نے بالکل غور نہیں فرمایا۔ اگر غور فرماتے تو ایسا شبہ ہرگز پیدا نہ ہوتا۔

رفع ...... مولانا جانچ کر دیکھیے تو آپ پر واضح ہو کہ آپ حمامہ کے مضمون سے کہاں تک بچے ہیں۔ عبارت کیا ہے اور آپ کیا کہتے ہیں۔

وضع ...... کیونکہ مرزا قادیانی نے معترض کے قول میں تو البتہ طلوع الشمس کو مجملہ دیگر امارات مسیح کے ذکر کیا ہے۔

رفع ...... یہ بات آپ کی بے اصل ہے۔ بلکہ یہ آپ کا قول اس امر کو مستلزم ہے کہ یا تو آپ اور ١٢

آپ کے مرزا قادیانی دونوں شخص مسیح موعود کے علامات بوجھ کر عمداً غلط کی راہ ناپتے ہیں۔ کیونکہ کسی اسلامی ک علامت ہے کہ ان کے نزول سے پہلے آفتاب اپنی مغر کا ظہور ہوگا یا دابۃ الارض خروج کرے گا۔ تاکہ مرزا شخص معترض ہوتا اور اس کے جواب دینے کی طرف ت کے مسیح موعود کے لئے نزول سے پہلے نشان مقرر نہ ہو معترض کے اس کے جواب میں بولے۔ "فاعلم کما کانت فی الآثار" تو جان کہ تحقیق لئے سب ہو چکیں جیسے احادیث میں ہیں۔

اور آپ لا طائل تکلفات سے گو حمامہ کی اعتراض وارد ہوا طلوع الشمس من مغربہا کو مستثنیٰ ٹھہر اور لام عہد کا لفظ الانباء میں موجود ہونے سے مرزا قاد مسیح سے متقدم علامات میں اس آپ کے کمزور توجیہا دے کر آپ سے پوچھا کہ وہ کون سی علامات متوسطہ لیتے ہیں تو جواب میں یاجوج و ماجوج اور دابۃ الارض شہادت راقم الحروف نے جب طلب کی تو پیش کر ایسا دم سادھا جیسا کہا کرتے ہیں کہ فلانے کو س مرزا قادیانی کا معترض کے قول کے موافق ان چیزو کے ساتھ تسلیم کر لینا اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہ شخص مسیح موعود کے علامات متقدم کی پہچاننے سے نعوذ باللہ منہ!

وضع ...... اس کے آگے مرزا قادیانی مفصل طور ہیں کہ فلاں پیشین گوئی رسول مقبول ﷺ کی اس ط

رفع ...... اے مولانا غتربود نہ کیجئے اور "لا ت خیال کر کے گھٹا گھٹو کر بات لکھ دیجئے کون در پے

صفحہ ٣٨٩

آپ کے مرزا قادیانی دونوں شخص مسیح موعود کے علامات متقدم کے پہچاننے سے بے خبر ہیں یا جان بوجھ کر عمداً غلط کی راہ ناپتے ہیں۔ کیونکہ کسی اسلامی کتاب میں نہیں بیان ہوا کہ مسیح موعود کی یہ علامت ہے کہ ان کے نزول سے پہلے آفتاب اپنی مغرب سے طلوع کرے گا یا کہ یاجوج وماجوج کا ظہور ہوگا یا دابۃ الارض خروج کرے گا۔ تاکہ مرزا قادیانی پر ان چیزوں کی عدم ظہور سے کوئی شخص معترض ہوتا اور اس کے جواب دینے کی طرف توجہ کی جاتی اور جب باوجود ان تینوں چیزوں کے مسیح موعود کے لئے نزول سے پہلے نشان مقرر نہ ہونے کے مرزا قادیانی بجائے تردید کرنے زعم معترض کے اس کے جواب میں بولے۔ ”فاعلم ان هذه الانباء قد تمت كلها ووقعت كما كانت فی الآثار“ تو جان کہ تحقیق یہ سب خبریں البتہ کل تمام ہوچکیں اور واقع اس طور ہو چکیں جیسے احادیث میں ہیں۔

اور آپ لاطائل تکلفات سے گو حامد کی عبارت میں سے جب کہ مرزا قادیانی پر سخت اعتراض وارد ہوا طلوع الشمس من مغربھا کو مستثنیٰ ٹھہرا کر کہنے لگے کہ ہذہ ! اشارہ متوسط کے ساتھ اور لام عہد کا لفظ الانباء میں موجود ہونے سے مرزا قادیانی کے مراد علاوہ طلوع الشمس من مغربھا کی مسیح سے متقدم علامات میں اس آپ کے کمزور توجیہ پر جب راقم الحروف نے چند مرتبہ تحریری زور دے کر آپ سے پوچھا کہ وہ کون سی علامات متوسط ہیں۔ جن کے آپ ”ھذه الانباء“ سے مراد لیتے ہیں تو جواب میں یاجوج و ماجوج اور دابۃ الارض کا ظہور آپ نے لکھا۔ اس پر کسی حدیث کی شہادت راقم الحروف نے جب طلب کی تو پیش کرنے سے درماندہ رہ کر جواب نویسی کی طرف سے ایسا دم سادھا جیسا کہا کرتے ہیں کہ فلانے کو سانپ سونگھ گیا۔ پس آپ کا یہ لاچار رہنا اور مرزا قادیانی کا معترض کے قول کے موافق ان چیزوں کو نزول مسیح سے پہلے علامات کے طور پر وقوع کے ساتھ تسلیم کر لینا اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ یا تو آپ اور آپ کے مرزا قادیانی دونوں شخص مسیح موعود کے علامات متقدم کے پہچاننے سے بے خبر ہیں یا جان بوجھ کر غلطی کی راہ چلتے ہیں۔

نعوذ باللہ منہ!

وضع ...... اس کے آگے مرزا قادیانی مفصل طور پر جواب تفصیل سے دیتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ فلاں پیشین گوئی رسول ﷺ کی اس طرح واقع ہوچکی اور فلاں اس طرح پر۔

رفع ...... اے مولانا غتربود نہ کیجئے اور ”لا تقربو الصلوٰۃ “ کا طور نہ لیجئے۔ اگر آپ یہ خیال کر کے گھٹا بڑھا کر بات لکھ دیجئے کون در پے سراغ ہوتا ہے تو یہاں آپ کی چالا کی نہ چلے گی۔

١٣

صفحہ ٣٩١

کتاب دیکھو کہ کلام مفصل میں پہلے قیامت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا طور بتلایا ہے اور قیامت کی جو بڑی نشانیاں ہیں ان کی بابت بڑی مضبوطی سے کہا کہ وہ بجز استعارات کے اور محاورات کے کبھی ظاہر نہیں ہوتی ہیں اور اپنی ظاہری صورت پر ہرگز ظاہر نہیں ہوں گے اور اسی دعوٰی کے توثیق میں کلام کو خوب طول دیا ہے۔

وضع ...... لیکن اس تفصیلی جواب میں طلوع الشمس من مغربھا کی نسبت ایک حرف تک تحریر نہیں فرمایا کہ یہ بھی پوری ہو چکی۔

رفع ...... مجیب صاحب نے یہاں طبیعت کے نہایت سادگی سے کام لیا ہے یا یوں سمجھئے کہ بغرض تحریف بیان مرزائی کے ص ٨٣، ٨٤ حمامہ کی عبارت کو چھپایا ہے۔ یہ کتاب کچھ ایسی عنقاء صفت نہیں کہ مقام تحریف شدہ کو اس میں سے نکال کر کوئی سمجھدار شخص دیکھ نہ سکے یا کہ کسی دوسرے کی معرفت سے پڑھوا کر سمجھ نہ سکے۔ کیا جہاں میں سب مرزائی اور بزغش کے مانند آدمی ہیں جو مولوی محمد احسن قادیانی کے غلط بیانی پر کہہ نہ لیویں گے اور زہر خندہ یا کہ سر جھکا لینے کے ساتھ اس پر فخر یا کہ سکوت کریں گے۔ اے مولانا چشم عبرت کھولئے اور جواب کی تفصیل ص ٨٣، ٨٤ کو حمامہ کے اندر دیکھئے کہ پہلے یہ قاعدہ کلیہ آپ دیکھیں گے۔ مرزا قادیانی نے بیان کیا کہ جو قیامت کی بڑی نشانیاں ہیں وہ بجز استعاروں اور مجازات کے جلوہ پذیر نہیں ہیں اور ظاہری صورت پر ہرگز کبھی نمودار نہیں ہونے کی پھر ان قیامت کے نشانات کو جن کے واقع ہو چکنے کا کلیت کے ساتھ دعوٰی کیا ہے۔ انہیں کی تفصیل کرتے ہوئے اور ظاہری طور پر ان کے وقوع مراد لینے پر اعتراض کرتے ہوئے (حمامۃ البشریٰ ص ٨٤، خزائن ج ٧ ص ٣٠٢) میں جگہ طلوع الشمس من مغربھا کا ذکر کیا ہے۔ ایک چوتھی سطر میں ان لفظوں کے ساتھ کہ ”طلوع الشمس من مغربها كما اخبر عنها رسول الله ﷺ“

دوسری بارھویں سطر میں اس قدر توضیح اگر آپ کے نزدیک بمقدار ایک حرف کے شمار نہیں ہوتی تو یوں کہئے کہ بیان مرزا قادیانی نے کسی نشان کی بجز دابۃ الارض کے تفصیل ہی نہیں کی اور وہ یہی احادیث نبوی سے مطابق نہ ہونے کے سبب اور قرآن شریف کے مخالف پائے جانے کے سبب محض غلط ہے۔ چنانچہ سابقہ واضح کیا گیا۔

وضع ...... اور مرزا قادیانی نے طلوع الشمس من مغربھا کو مسیح موعود کی امارات اور مقدمات میں سے کہیں نہیں شمار کیا۔

١٤

رفع ...... مولانا آپ کی ابلہ فریب تقریر مردود ہوچ اس کا قائل نہیں ہے کہ طلوع الشمس من مغربھا مسیح ک نہیں ہے کہ مسیح موعود کے نزول کے مقدم علامت ”فق حدب ينسلون “ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی حمامہ ص ایسے ہی ظہور کے قائل ہیں۔ علیٰ ہذا محدثین میں س دابۃ الارض کا ظہور واسطے مسیح موعود کے نزول سے حق آپ کے مرزا قادیانی نے دلیل کے اس بارہ میں مد تاریخ غلط والی شق اوّل میں جس کا ثبوت آپ سے م ہے۔ دونوں امور صریح اس پر گواہ ہیں کہ آپ اور مرز کہ احادیث نبوی کے تابع ۔ پس کیونکر باور ہو سکے ک پہلی امارات شمار کرنے سے اس بناء پر مستثنٰی بناتا ہ علامت مقدم اصح نہیں کہا ہے۔

وضع ...... اور مرزا قادیانی پر یہ کب ضرور ہے کہ ج معلموں کے ان کو پڑھانے بیٹھتے۔

رفع ...... آپ کا یہ عذر محض واہی اطفال ہرزہ گرد دابۃ الارض جو کسی حدیث صحیح میں نزول مسیح کے لی حال میں کہ آپ مان چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کے ن اور حمامہ کی عبارت میں ”هذه الانباء“ کے اشار مقصود و بالاشارہ اپنی تحریر میں جو غلط تاریخ کے سات اور آپ لغویات کے پیرو ثابت ہوئے۔ اس صور کہ قد تمت کلہا کے ساتھ جتلانے سے دیگر لغویات جو اس کا مستثنٰی ہونا بیان نہیں کیا اس کی وجہ عدم ضر ہے اور چونکہ (حمامہ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠١) می بات ہے۔ کیونکہ جیسے کسی حدیث میں نہیں آیا نز ظہور اور دابۃ الارض کا خروج ہے۔ لہٰذا بحیثیت سفید لکھیں خواہ سفاہت سے بیان کنندہ اس کو آپ

٥

صفحہ ٣٩١

رفع....... مولانا آپ کی ابلہ فریب تقریر مردود ہو چکی اور جیسے کوئی عالم معتبر سلف خلف میں سے اس کا قائل نہیں ہے کہ طلوع الشمس من مغربہا مسیح سے مقدم ہو چکے گا۔ ایسے ہی اس کا بھی قائل نہیں ہے کہ مسیح موعود کے نزول کے مقدم علامت ’’فتحت یاجوج وماجوج وھم من کل حدب ینسلون‘‘ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی حمامہ ص ٢٩ حاشیہ سطر ١٢ سے ١٤ تک میں ان کے لئے ایسے ہی ظہور کے قائل ہیں۔ علیٰ ہذا محدثین میں سے کسی نے صحیح حدیث نہیں بیان کی۔ جس میں دابۃ الارض کا ظہور واسطے مسیح موعود کے نزول سے متقدم علامت ہونے کا مذکور کیا ہو۔ ہاں آپ اور آپ کے مرزا قادیانی بے دلیل کے اس بارہ میں مدعی ہوئے دیکھو۔ رقیمۃ الاخلاص کے اندر اپنی تاریخ غلط والی شق اوّل میں جس کا ثبوت آپ سے طلب کیا گیا ہے اور ہنوز اس کا جواب ندارد ہی ہے۔ دونوں امور صریح اس پر گواہ ہیں کہ آپ اور مرزا قادیانی دونوں ہوائے نفسانی کے پیرو ہیں نہ کہ احادیث نبوی کے تابع۔ پس کیونکر باور ہو سکے کہ طلوع الشمس من مغربہا کو نزول مسیح کے لئے پہلی امارات شمار کرنے سے اس بناء پر مستثنیٰ ماننا ہے کہ اس کو کسی عالم نے سلف وخلف میں سے علامت مقدم مسیح نہیں کہا ہے۔

وضع....... اور مرزا قادیانی پر یہ کب ضرور ہے کہ ہر لغویات معترض پر توجہ فرما کر مثل مدرسوں اور معلموں کے ان کو پڑھانے بیٹھتے۔

رفع....... آپ کا یہ عذر محض واہی اطفال ہرزہ گرد کا سا ہے۔ کیونکہ ظہور یاجوج وماجوج اور خروج دابۃ الارض جو کسی حدیث صحیح میں نزول مسیح کے لئے مقدم علامات سے بیان نہیں ہوئی ہیں۔ جس حال میں کہ آپ مان چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک آپ کا نزول سے مقدم ہو چکنا مسلم ہے اور حمامہ کی عبارت میں ”هذه الانباء“ کے اشارہ متوسط اور الف لام عہد سے انہیں کو معہود اور مقصود و بالاشارہ اپنی تحریر میں جو غلط تاریخ کے ساتھ لکھی ہے آپ تسلیم کر چکے ہیں تو مرزا قادیانی اور آپ لغویات کے پیرو ثابت ہوئے۔ اس صورت میں آپ کا طلوع الشمس من مغربہا کو جب کہ قدمت کلّہا کے ساتھ جتلانے سے دیگر لغویات میں شامل ہے۔ مستثنیٰ کرنا اور مرزا قادیانی نے جو اس کا مستثنیٰ ہونا بیان نہیں کیا اس کی وجہ عدم ضرورت کہنا سراسر لغو اور بے سمجھ اطفال کا سا بہانہ ہے اور چونکہ (حمامہ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠٢) میں اعتراض والی عبارت مرزا قادیانی کی بناوٹی بات ہے۔ کیونکہ جیسے کسی حدیث میں نہیں آیا نزول مسیح کے لئے پہلی علامت یاجوج وماجوج کا ظہور اور دابۃ الارض کا خروج ہے۔ لہذا بحیثیت ایجاد تقریر اعتراض کی مرزا قادیانی کو آپ خواہ سفیہ لکھیں خواہ سفاہت سے بیان کنندہ اس کو آپ کا ذہن جانے اور مرزا قادیانی کا ذہن و سخن۔

١٥

صفحہ ٣٩٣

سے وقت دو گھنٹہ کا لیجئے۔ لیکن پہلے یہ وعدہ کر لیجئے کہ بعبا کتاب میں عبارت اپنے پہلے وعدہ کے مطابق دکھلا دیں گے۔ نیز مہدی ومسیح کا جو زمانہ دجال کے زمانہ سے مل جاوے گا فضول نہ ہوگا۔ تو اس شرط کی ایفاء کرنے پر نہ جمے اور صرف مبا کرتے رہے۔ لیکن یوں بلا ایفائے وعدہ کیوں اجازت د پانے سے پوری ندامت اٹھائی جب گھر پہنچے تو الٹ پلٹ کر سچ ہے غلط بیانی کے پاؤں کم ہوتے ہیں۔ آپ کی یہ تحریر ! آ اے مولانا " ولا تقف ما ليس لك به علم ان الس كان عنه مسئولا ولا تمش فى الارض مرحا ا الجبال طولا كل ذلك كان سيئة عند ربك مكرو

وضع ...... دونه خرط القتاد ۔

رفع ...... شاباش مولانا مرزا قادیانی کی مفروضہ معنی کو بھ ہی منہ سے خرط القتاد نکلا ۔ واقعی زعم مرزا بجز خیال شیخ چلی ک

وضع ...... " ايها الناظرين " ایسے بے باکانہ تکذیب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ حضرت اقدس نے ص ٨٤ حمامۃ البشری مغربہا قبل مسیح نہیں ہو سکتا ۔

رفع ...... اے مولانا گھبرائیے نہیں ناظرین ابھی دیکھ اور ان کی بابت نکتہ چینی کیسے چسپاں ہے کہ انگوٹھی کا نگین جاتا ہے کہ آپ نے بے جا تعصب میں سرگرم ہو کر عبار

وضع ...... دیکھو اس عبارت کو ۔

رفع ...... اجی حضرت عبارت تو دیکھئے۔ فرمائیے ! ہ کہاں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ طلوع الشمس من مغرب

راست گفتند یکہ

افسوس! کیسی دروغ گوئی اپنے تہہ دل س جاتی ہے اور آپ کی غلط بیانی کی قلعی کھلی جاتی ہے۔

١٧

صفحہ ٣٩٣

سے وقت دوگھنٹہ کا لیجئے۔ لیکن پہلے یہ وعدہ کر لیجئے کہ بعد ختم وعظ کے بیضاوی یا کسی حدیث کی کتاب میں عبارت اپنے پہلے وعدہ کے مطابق دکھلاویں گے کہ طلوع الشمس من مغربھا کے بعد اور نیز مہدی ومسیح کا جو زمانہ دجال کے زمانہ سے مل جاوے اور ٹکرا جائے اس میں کفار کا ایمان لانا فضول نہ ہوگا۔ تو اس شرط کی ایفاء کرنے پر نہ جمے اور صرف بیان وعظ ہی کے واسطے اجازت طلب کرتے رہے۔ لیکن یوں بلا ایفائے وعدہ کیوں اجازت آپ کو ملنے لگی تھی۔ آخر آپ نے زک پانے سے پوری ندامت اٹھائی جب گھر پہنچے تو الٹ پلٹ کر تقریر شائع کرنے کے لئے بنائی۔ مگر سچ ہے غلط بیانی کے پاؤں کم ہوتے ہیں۔ آپ کی یہ تحریر بھی غلط بیانیوں سے مرتب ثابت ہوئی۔

اے مولانا ”ولا تقف ما ليس لك به علم ان السمع والبصر والفؤاد كل اولئك كان عنه مسئولا ولا تمش فى الارض مرحا انك لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولا كل ذلك كان سيئة عند ربك مكروها“

وضع ...... دونہ خبط القتاد۔

رفع ...... شاباش مولانا مرزا قادیانی کی مفروضہ معنی کی بابت جو ظاہری طور پر نہیں ہیں آپ کے ہی منہ سے خبط القتاد نکلا۔ واقعی زعم مرزا بے خیال بیخ سے مناسب ہے۔

وضع ...... ”ايها الناظرین“ ایسے بے جا نکتہ چینیوں سے حضرت اقدس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ حضرت اقدس نے ص ٨٤ حمامہ میں خود تصریح فرمادی ہے کہ طلوع الشمس من مغربھا قبل مسیح نہیں ہوسکتا۔

رفع ...... اے مولانا گھبرائیے نہیں ناظرین ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر اعتراض کا ورود اور ان کی بابت نکتہ چینی کیسے چسپاں ہے کہ انکو شئے کا ننگ ہونا ان کی صفت کہنی چاہئے اور ابھی کھل جاتا ہے کہ آپ نے بے جا تعصب میں سرگرم ہو کر عبارت ص ٨٤ میں کیسی تحریف کر رکھی ہیں۔

وضع ...... دیکھو اس عبارت کو۔

رفع ...... اجی حضرت عبارت تو دیکھئے۔ فرمائیے تو جس عبارت کو آپ نے لکھا ہے اس میں کہاں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ طلوع الشمس من مغربھا قبل مسیح نہیں ہوسکتا۔

راست گفتند یک روبند لوج

افسوس! کیسے دروغ گوئی اپنے تہہ دل میں جما رکھی ہے۔ لیجئے! اصل عبارت محولہ لکھی جاتی ہے اور آپ کی غلط بیانی کی قلعی کھلی جاتی ہے۔

١٧

صفحہ ٣٩٥

”ولا جل ذلك كتبت في كتبي غير مرة ان هذه كلها استعارات وما اراد الله بها الا ابتلاء الناس ليعلم من يعرفها بنور القلب ومن يكون من الضالين ولو فرضنا انها تظهر بصورها الظاهرة فلاشك ان من ثمراتها الضرورية ان يرتفع الشك واشبة والمرية“

(حمامة البشریٰ، خزائن ج ٧ ص ٣٠٢، خزائن ج ٨ ص ٣٠٤)

اور اس لئے میں نے اپنی کتابوں میں کئی مرتبہ لکھا کہ بے شک یہ کل استعارے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان سے نہیں ارادہ کیا مگر آزمائش آدمیوں کی تاکہ معلوم کرے کون ان کو دل کے نور سے پہچانتا ہے اور کون بھٹکنے والوں سے ہوتا ہے اور اگر ہم فرض کرلیتے کہ البتہ وہ اپنی ظاہری صورتوں سے ظاہر ہوں گے تو بے شک تو اس فرض کرلینے کا ضروری نتیجہ یہ ہے کہ اٹھ جاوے شک اور شبہ اور کھٹکا۔

”من قلوب الناس كما يرتفع فى يوم القيمة فاذا زالت الشكوك ورفعت الحجب فاى فرق بقى بعد انكشاف هذه العلامات المهيبة الغريبة فى تلك الايام و فى يوم القيمة انظر ايها العاقل انه اذا رأى الناس رجلاً نازلا من السماء وفى يده حربة ومعه ملئكة الذين كانوا غائبين من بدء الدنيا وكان الناس ليشكون فى وجودهم فنزلوا وشهدوا ان الرسول حق وكذلك سمع الناس صوت الله من السماء ان المهدى خليفة الله وقروا لفظ الكافر فى جبهة الدجال ورؤا ان الشمس قد طلعت من المغرب تشقت الارض وخرجت منها دابة الارض التى قدمه فى الارض وراسه تمس السماء وسمت المؤمن والكافر وكتب ما بين عينهم مؤمن اوكافر وشهدت باعلى صوتها بان الاسلام حق وحصحص الحق وبرق من كل جهة وتبينت انوار صدق الاسلام حتى شهد البهائم واسباع والعقارب على صدقه فكيف يمكن ان يبقى كافر على وجه الارض بعد رؤية هذه الايات العظيمة او يبقى شك فى الله وفى يوم الساعة فان العلوم الحسية البديهية شئے يقبله كافر ومؤمن ولا يختلف فيه احد من الذين اعطوا قوى الانسانية مثلاً اذا كان النهار موجوداً والشمس طالعة والناس مستيقظين فلا ينكره احد من الكافرين والمؤمنين

١٨

فكذالك اذا رفعت الحجب كلها وتواترت الشـ المخفيات وتنزلت الملئكة وسمعت اصو تلك الايام وبين يوم القيامة واى مفر بقى الكفار كلهم فى تلك الايام ولا يبقى لهم شك غير مرة ان الكفار يبقون على كفرهم الى يوم فى الساعة حتى تاتيهم الساعة بغتة وهم لا واضحة على ان العلامات القطعية التى لا لا تظهر ابداً ولا تجليها الله بحيث ترتفع الـ

آدمیوں کے دلوں سے جیسے کہ اٹھ جائے شکوک اور اٹھ گئے پردے تو کیا فرق باقی رہا (یعنی باہـ جانے ان نشانیوں دہشت ناک عجیب کے ان دنوں مـ قیامت کے دن میں اے عقلمند غور کرلے یہ کہ جب آ ہوئے اور ایک حربہ اس کے ہاتھ میں ہو اور اس کے سـ رہے اور لوگ ان کے ہونے میں شک رکھتے تھے۔ سو اور علیٰ ہذا اگر آدمی خدا تعالیٰ کی آواز آسمان سے سنیں کـ لفظ کافر دجال کی پیشانی میں پڑھیں اور دیکھیں کہ سـ زمین پھٹے اور اس سے دابۃ الارض نکلا۔ جو کہ قدم اسـ نشان لگا دے مؤمن اور کافر کے کہ ان کی آنکھوں دیویں اپنی نہایت اونچی آواز سے کہ بیشک اسلام سچ اور اسلام کے صداقت کی روشنیاں واضح ہوئیں یـ درندوں اور بچھوؤں نے گواہی دی تو کیونکر ہو سکے کہ کوئی کافر باقی رہے۔ یا کہ خدا میں اور قیامت مـ یہ ظاہری ایسی چیز ہیں کہ ان کو کافر اور مؤمن قبول کرتـ اختلاف نہیں کرتا ہے۔ جن کو انسانی قویٰ دیئے گئے

١٩

صفحہ ٣٩٥

فكذالك اذا رفعت الحجب كلها وتواترت الشهادات وتظاهرت الايات وظهرت المخفيات وتنزلت الملئكة وسمعت اصوات السماء فاى تفاوت بقيت بين تلك الايام وبين يوم القيامة واى مفر بقى للمنكرين فلزم من ذلك ان يسلم الكفار كلهم فى تلك الايام ولا يبقى لهم شك فى الساعة ولكن القرآن قد قال غير مرة ان لكفار يبقون على كفرهم الى يوم القيمة يبقون فى مريتهم وشكهم فى الساعة حتى تاتيهم الساعة بغتة وهم لا يشعرون ولفظ البغتة تدل بدالة واضحة على ان العلامات القطعية التى لا تبقى شك بعد على وقوع القيامة لا تظهر ابداً ولا تجليها الله بحيث ترتفع الحجب كلها"

(حمامۃ البشریٰ ص ٨٤، خزائن ج ٧ ص ٣٠٤، ٣٠٥)

آدمیوں کے دلوں سے جیسے کہ اٹھ جائے گا قیامت کے دن میں سو جب مٹ گئے شکوک اور اٹھ گئے پردے تو کیا فرق باقی رہا (یعنی بابت شک دل سے اٹھ جانے کے) بعد کھل جانے ان نشانیوں دہشت ناک عجیب کے ان دنوں میں (یعنی علامتوں کے زمانہ ظہور میں) اور قیامت کے دن میں اے عقلمند غور کرلے یہ کہ جب آدمی دیکھیں ایک شخص کو آسمان سے اترتے ہوئے اور ایک حربہ اس کے ہاتھ میں ہو اور اس کے ساتھ فرشتے ہوں جو کہ ابتداء دنیا سے غائب رہے اور لوگ ان کے ہونے میں شک رکھتے تھے۔ سو وہ اتر کر گواہی دیویں کہ تحقیق یہ رسول سچا ہے اور علیٰ ہذا اگر آدمی خدا تعالیٰ کی آواز آسمان سے سنیں کہ بیشک مہدی خدا تعالیٰ کا نائب ہے اور لفظ کافر کا دجال کی پیشانی میں پڑھیں اور دیکھیں کہ بے شک آفتاب مغرب سے طلوع کر چکا اور زمین پھٹے اور اس سے دابۃ الارض نکلا۔ جو کہ قدم اس کے زمین میں اور سر کا لگے آسمانوں کو اور نشان لگا دے مؤمن اور کافر کے کہ ان کی آنکھوں کے درمیان کہ مؤمن ہے یا کافر اور گواہی دیویں اپنی نہایت اونچی آواز سے کہ بیشک اسلام سچ ہے اور حق ظاہر ہوا اور ہر سمت سے چمک گیا اور اسلام کی صداقت کی روشنیاں واضح ہوئیں۔ یہاں تک کہ اس کی سچائی پر چوپایوں اور درندوں اور بچھوؤں نے گواہی دی تو کیونکر ہوسکے کہ زمین کے اوپر بعد ان بڑے نشانیوں کے دیکھ لینے کے کافر باقی رہے۔ یا کہ خدا میں اور قیامت کے دن میں شک رہ جاوے۔ کیونکہ علوم محسوس وظاہری ایسی چیز ہیں کہ ان کو کافر اور مؤمن قبول کرتا ہے اور ان میں ایسے لوگوں میں سے کوئی شخص اختلاف نہیں کرتا ہے۔ جن کو انسانی قوٰی دیئے گئے ہیں۔ بھلا جب کہ دن موجود اور سورج نکلا ہوا

١٩

صفحہ ٣٩٦

ہے اور لوگ جاگتے ہیں تو کوئی کفار اور مومنین میں سے اس کا منکر نہیں ہوتا ۔ سو اس طرح جب تمام پردے اٹھ گئے اور پے در پے گواہیاں ہوئیں اور نشانیاں ظاہر ہو چکیں اور پوشیدہ چیزیں کھل گئیں اور فرشتہ اترے اور آسمان سے آوازیں سنیں تو کون سا فرق باقی رہا درمیان ان دنوں (یعنی معلومات میں ان علامات کے دنوں ) اور درمیان قیامت کے دن کے (یعنی معلومات قیامت کے دن کے ) اور منکروں کے واسطے بھاگنے کی کون سی جگہ باقی رہی۔ پس اس (یعنی علم حسی بدیہی) سے یہ لازم ہوا کہ ان دنوں یعنی علامات کبریٰ ظاہر ہونے کے زمانہ میں کل کفار مسلمان ہو جاویں اور ان کو قیامت میں کچھ شک باقی نہ رہے۔ لیکن قرآن نے البتہ کئی مرتبہ کہا کہ بیشک کفار اپنے کفر پر قیامت کے دن تک رہیں گے اور اپنے شک وشبہ میں قیامت کی بابت رہیں گے۔ یہاں تک چپ چپاتے قیامت اوپر انکے آجاوے گی اور نہ تمیز کریں گے اور لفظ البغتہ دلالت واضح سے اس پر دلالت کرتا ہے کہ تحقیق علامتیں قطعیہ کہ ان کے بعد قیامت کے واقع ہونے پر شک باقی نہ رہے۔ کبھی نہیں ظاہر ہونگی اور ان کو اللہ تعالیٰ اس طرح ظاہر نہ کرے گا کہ حجاب تمام اٹھ جاویں۔

نوٹ: اس کل تقریر کا حاصل جو حمامہ کے ص ٨٤ میں ہے اور مولوی محمد احسن قادیانی نے برخلاف مرزا قادیانی کی مراد کے اور الٹا مطلب لکھا ہے۔ یہ ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیاں ہرگز ہرگز ظاہری طور پر نہیں ہونگی۔

لیجئے مولانا اب تو حمامہ ص ٨٤ کی عبارت آپ کی منقولہ عبارت والا حصہ بیان اوّل وآخر و درمیان کے جسے اپنے لوگوں کو غلطی میں ڈالنے کی غرض سے حذف کر کے لکھا تھا وہ کافی طور پر لکھ دیئے گئے۔ فرمائیے اور دکھلائیے مرزا قادیانی نے کہاں اور وہ کون سا فقرہ ہے۔ جس میں بیان ہوا کہ طلوع الشمس من مغربہا قبل مسیح نہیں ہو سکتا۔

ناظرین ! مرزا قادیانی کی عبارت دیکھ کر بخوبی جان لیویں گے کہ مرزا قادیانی بار بار یہ جتلاتے رہے ہیں کہ طلوع الشمس من مغربہا اور نزول مسیح وغیرہ جتنے قیامت کے بڑے نشان ہیں۔ ہرگز ہرگز ان میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے۔ جس کی واقع ہوچکنے کا پورا علم لوگوں کو ہوسکے اور یقین سے قیامت کی بابت اس کا قریب العہد ہونا جان جائیں۔ کیونکہ قرآن شریف میں قیامت کی آمد بغتۃ کے ساتھ یعنی چپ چپاتے بیان ہوئی ہیں اور ص ٨٣ میں یہ بھی کہا ہے کہ آیت ” ولا یزال الذین کفروا فی مریۃ “ سے۔ جس کے یہ معنی ہوئے کہ کفار قیامت کی آمد تک ہمیشہ شک میں رہیں گے۔ ثابت ہوا کہ قیامت کی بڑی نشانی کبھی ظاہری صورت پر ظاہر نہیں ہو سکتی اور

٢٠

یہ سب تفصیل اس بارہ میں کی گئی ہے کہ اعتراض ا من مغربہا وغیرہ نہیں ہو چکا۔ تو مسیح موعود کہاں سے کبریٰ قیامت کے تمام ہوچکنے کی بابت سنایا تھا ا میں ہے تو یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان نشانات کے ظ مولوی محمد احسن قادیانی کے یہ دعویٰ سب غلط ثابت

نزول مسیح سے مقدم ہیں۔

مرزا قادیانی نے مراد لئے ہیں۔

مغربہا قبل مسیح نہیں ہو سکتا۔ علیٰ ہذا باقی دعویٰ پر م ہوئی کہ حمامہ ص ٨٣، ٨٤ کی عبارت کو چشم عبرت سے دیکھتا تو خود ہی اس شعر میں جتا دیا؎

آنکھیں اگر موندی ہیں
اس میں قصور کیا ہ

تشریح فرماچکے ہیں۔

مرزا قادیانی نے کشفی طور پر خواب میں جانب آپ کو شہر لنڈن میں اسلامی وعظ کہتے ہوئے فیض انگ ....... ن تک پہنچنا سنائی۔ دوسری یہ کہ اس نہیں کہ طلوع الشمس من مغربہا کے کوئی اور بھی کہ مرزا قادیانی بالکل طلوع الشمس من مغربہا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اولاً اس لئے کہ ازالہ پہلے کے تص

صفحہ ٣٩٧

یہ سب تفصیل اس بارہ میں کی گئی ہے کہ اعتراض کی عبارت میں جو کہا گیا تھا کہ جب طلوع الشمس من مغربہا وغیرہ نہیں ہو چکا۔ تو مسیح موعود کہاں سے آ گیا اور اس کے جواب میں ان سب نشانات کبریٰ قیامت کے تمام ہو چکنے کی بابت سنایا تھا کہ یہ سب ویسے ہی واقع ہو چکے جیسے کہ حدیث میں ہے تو یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان نشانات کے مقامی لوگوں نے نہ پہچانے اور غافل رہے۔ لہٰذا مولوی محمد احسن قادیانی کے یہ دعویٰ سب غلط ثابت ہوئے جو انہوں نے کہا۔

نزول مسیح سے مقدم ہیں۔

مرزا قادیانی نے مراد لئے ہیں۔

مغربہا قبل مسیح نہیں ہو سکتا۔ علیٰ ہٰذا باقی دعویٰ پر مولوی محمد احسن قادیانی کو اپنی غلط بیانی کی خبر تو جب ہوئی کہ حمامہ ص٨٣،٨٤ کی عبارت کو چشم عبرت کھول کر دیکھیں لیکن انہوں نے تو اپنا خواب غفلت میں ہونا خود ہی اس شعر میں جتلا دیا۔

آنکھیں اگر موندی ہیں تو پھر دن بھی رات ہے
اس میں قصور کیا ہے بھلا آفتاب کا

تصریح فرما چکے ہیں۔

مرزا قادیانی نے کشفی طور پر خواب میں جانب مغرب سے آفتاب اور آفتاب کا طلوع اور اپنے آپ کو شہر لنڈن میں اسلامی وعظ کہتے ہوئے منبر پر تیتروں کے سامنے دیکھا اور اس کی تعبیر اپنا فیض انگلستان تک پہنچنا سنائی۔ دوسری یہ کہ اس میں کہا ہے کہ یادرہے کہ مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ طلوع الشمس من مغربہا کے کوئی اور بھی معنی ہوں۔ تاکہ مولوی محمد احسن قادیانی دکھلا دیں کہ مرزا قادیانی بالکل طلوع الشمس من مغربہا نہیں کہتے ہیں۔ لیکن مولوی صاحب کا یہ استدلال بھی ٹھیک نہیں ہے۔

اولاً اس لئے کہ ازالہ پہلے کی تصنیف ہے اور حمامہ اس سے بہت عرصہ بعد کی۔ پس

٢١

صفحہ ٣٩٨

ازالۃ الاوہام کی عبارت سے دلیل پیش کرنی غلط کاروائی ہے۔ کیونکہ یہ کیا ضرور ہے کہ مرزا قادیانی کو حمامہ کی تصنیف کرنے تک طلوع الشمس من مغربھا کے کچھ اور معنی نہ کھلے ہوں۔ خصوصاً جب کہ بطریق اعتراض و جواب کے وہ کلیتاً اور احادیث سے مطابقت طلوع الشمس من مغربھا واقع ہو چکنے کو حمامہ کے اندر لکھ چکے اور تاویل معنی کسی غیر پر استہزاء کر چکے۔

ثانیاً اس واسطے کہ احادیث میں جو قیامت کی نشانیوں سے آفتاب طلوع ہونے کی بابت مذکور ہے تو اس کے چھپنے کی جگہ سے طلوع بیان ہوا ہے۔ چنانچہ من مغربھا کا لفظ صریح موجود ہے۔ یوں نہیں وارد ہوا کہ طلوع الشمس من المغرب تا کہ صرف مغرب سے ملک مغرب معنی ہوتے اور چشم پوشی کرتے ہوئے مرزا قادیانی اپنے آپ کو آفتاب مانتے اور اپنی تصانیف کو اس کی شعاع جانتے۔ پس جب کہ حدیث میں جو لفظ تھا کہ اپنے چھپنے کی جگہ سے طلوع آفتاب جس سے ظاہر ہے کہ اسی محسوس آفتاب کا طلوع نبی ﷺ کے نزدیک مراد ہے تو اس سے صاف ثابت ہے کہ ازالہ میں طلوع الشمس کے بابت جو رؤیا کشفی طور پر دیکھنا بیان کیا ہے محض غلط ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ کی حدیث کے مطابق نہیں ہے۔ پس وہ غلط قول جس سے بحث ہی واقع نہیں ہے۔ مولوی محمد احسن قادیانی کا اس کو یہاں پیش کرنا لاطائل ہے۔

ثالثاً حمامہ ص ٨٣ میں جن پیشین گوئی یعنی قیامت کے بڑے نشانات پورے ہو چکنے کو اور حسب بیان احادیث ان کی واقع ہو چکنے کا دعویٰ کر کے ان کے جان لینے سے بے خبر رہ جانے کی جو تفصیل کی ہے۔ ان سب کے شمول میں نام لے کر طلوع الشمس من مغربھا کو بھی لکھا ہے۔ چنانچہ ناظرین عبارت منقولہ ص ٨٤ حمامہ سے ہی خود دیکھ سکتے ہیں۔ پس اس سے بخوبی ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک جیسے دوسرے نشانوں کے پورے ہو چکنے سے لوگ غافل رہے۔ ایسے ہی آفتاب کے طلوع من مغربھا ہو چکنے سے لوگ غافل رہے۔

رابعاً ص ٨٤ حمامہ کے اندر جو ان علامتوں کے کلیۃً واقع ہو چکنے کی بابت بیان کیا ہے۔ نہ صرف ان کے ساتھ طلوع الشمس من مغربھا کو گنا ہے۔ بلکہ اس طرح پر زور دے کر کہا ہے کہ کما خبر عنھا رسول اللہ ﷺ ، یعنی جس طور پر کہ طلوع آفتاب سے رسول اللہ ﷺ نے خبر دی۔

وضع ...... قبل قیامت جب تک عالم دنیا کا نظام موجود ہے یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اس دار تکلیف میں کسی شخص کا ایمان قبول نہ ہووے۔

٢٢

صفحہ ٣٩٩

رفع...... اے مولانا جو آپ چاہتے ہیں اپنی رائے خطا نا جائز اجتہادی سے لکھ دیتے ہیں۔ اجی ! حضرت فرمائے تو آپ کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ جب تک نظام عالم دنیا موجود ہے تو ہر کسی کا ایمان ضرور مقبول ہے۔ دیکھئے قرآن کریم آپ کے زعم کو توڑتا ہے۔ فرمایا ’’ان الذين كفروا بعد ايمانهم ثم ازدادوا كفرا لن تقبل توبتهم واولئك هم الضالون‘‘ تحقیق جن لوگوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان کے پھر زیادہ کیا کفر کو ہرگز نہ قبول ہوگی ان کی توبہ اور وہ لوگ گمراہ ہیں۔

اب غور کیجئے کہ اس آیت میں باری تعالیٰ نے جن کفار کے عدم قبولیت توبہ کی بابت ذکر کیا یہ عدم قبولیت ان کی توبہ کی عالم دنیا کے نظام موجود رہنے کی حالت میں ہے یا نہیں اور اسی دار تکلیف میں ان کا ایمان مردود ہے یا نہیں۔ اگر اس عدم قبولیت توبہ کو بعد از مرگ پر آپ محمول کریں تو یہ بھی غلط ہے۔ چنانچہ اس آیت مذکور سے جو اگلی آیت ہے مردہ کفار کی توبہ مقبول نہ ہونے کا اس میں بیان ہے۔

وضع...... کہ مخالف نصوص قطعیہ ہے کما سیاتی۔

رفع...... ہم دیکھیں کہ کون سی نص آپ کے پاس ہے۔

وضع...... البتہ قیامت میں جب زمانہ طلوع الشمس کا ہو چکے گا اور متصل اس کے قیامت بھی شروع ہو جاوے گی تو البتہ البتہ اس وقت ایمان کسی کا جو پہلے سے مؤمن نہیں ہے قبول نہ ہوگا۔

رفع...... دیکھ لیجئے مولانا یہ وہی آپ کی بات ہے منجملہ ان باتوں کے جس پر آپ کو رقیمۃ الاخلاص میں کہا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کے خیالات سے آپ کے خیال کہیں پرے ہیں۔ اجی ! حضرت حمامہ کے اندر کہاں بیان ہوا ہے کہ قیامت سے متصل جب آفتاب کا طلوع ہو جاوے تو اس وقت ایمان کسی کا جو پہلے سے مؤمن نہیں ہے قبول نہ ہوگا تا کہ آپ کا اور قادیانی صاحب کا ایک مسلک ٹھہرے۔ جن کی حمایت ناجائز میں قرآن حدیث کے بیانات بھی آپ نہیں مانتے ہیں اور یاد رکھئے کہ حمامہ کی عبارت سے کسی مقام سے بھی آپ کبھی یہ بات نہیں دکھلا سکتے ہیں۔ جہاں قادیانی نے یہ کہا ہو کہ آئندہ زمانہ میں اپنے مغرب سے آفتاب متصل بالقیامت طلوع کرنے والا ہے اس کے طلوع کر چکنے پر کسی کافر کا ایمان قبول نہ ہوگا اور حمامہ کی عبارت سے اس طلوع آفتاب کا اپنے ظاہری صورت پر قیامت سے قریب ہو سکنے پر قادیانی کا اقرار بھی دکھلانا آپ کے لئے ناممکن ہے۔ چنانچہ یہ دونوں باتیں چند مرتبہ سابق میں آپ کو سنائی گئیں۔ جن کے ثبوت پیش

٢٣

صفحہ ٤٠٠

کرنے سے آپ عاجز ہیں۔ نہ رقیمۃ الاخلاص تحریر ہونے کے وقت جواب دے سکے، نہ اب جواب مطلوب پیش کرسکتے ہیں۔ اگر اس پر آپ کہیں کہ ہم قرآن وحدیث سے توضیح اپنے دعویٰ کی پیش کریں تو قادیانی صاحب نے جو کچھ بیان کیا ہے جس کی بار بار تصریح گذری اس کے ناحق ہونے کا اقرار کر کے راہ راست پر آجائیے۔ ورنہ قادیانی ملا صاحب کو گوشمالی کر کے آپ کو ان کی مسجد ضرار و تفریق کے مخالف کرنے پر یہ مضمون قول سعدی کا سنائیں گے۔

ترا تیشہ دادم کہ ہیزم شکن
نگفتم کہ دیوار مسجد بکن

وضع....... کیونکہ امور ایمانیہ میں کسی قدر اخفا کا ہونا بھی بہت ضروریات سے ہے۔ الی قولہ ہمیں وجہ علامات کبریٰ زمانہ مسیح کے اپنی ظاہری معنوں پر محمول نہیں ہوسکتے ۔ میں ورنہ مسیح کی تصدیق میں خفا نہ رہے۔

رفع....... امور ایمانیہ میں پوشیدگی بعد ظہور ان امور کے ماننے محض مرزائی تخیلات ہیں ان کے ظاہر ہوچکنے کے پیچھے کچھ ضرورت ان کے خفا کی نہیں ہے۔ کیونکہ علامت نہیں ہے۔ مگر پہچاننے کے واسطے اور وہ بڑی نہیں کی گئی۔ مگر زیادہ پہچان کا فائدہ دینے کے واسطے پس جو شے کہ بڑی نشانی کسی شے کی پہچان کے واسطے کر کے خدا تعالیٰ دنیا میں بظاہر کرے تو ممکن نہیں کہ اس بڑی نشانی کو خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس بڑے نشان ظاہر ہوچکنے کا پورا علم دیکھنے والوں کو نہ ہووے۔ کیونکہ نشان کا بڑا ہونا بڑی حجت قائم ہونے کا اگر فائدہ نہ دیوے تو اس کو بڑی علامت کہنا غلط ہے۔ لہٰذا قیامت تک بڑے نشانات کا مثل طلوع الشمس من مغربہا اور خروج دجال اور دابۃ الارض کے کھلا ہوا اور آشکارا ظاہر ہونا ضرور ہے تا کہ کفار پر کامل حجت قائم ہووے۔ اگر چہ اس پر بھی کفار اپنے کفر پر رہیں۔ مثلاً عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ جو شخص دنیا میں پیدا ہوا ایک نہ ایک دن وہ ضرور مرتا ہے تو بھی لوگ امور دنیا میں بڑی امیدیں رکھتے ہیں ۔ 'انك لا تهدى من احببت' خود اس پر شاہد ہے کہ بجز ہدایت بخشے خدا تعالیٰ کے کوئی شخص ہدایت یافتہ نہیں ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر قیامت کے بڑے نشان محسوس طور پر کفار کے سامنے پیش ہوں۔ جب کہ خدا تعالیٰ انہیں ایمان کی قبولیت اور ہدایت نہ بخشے تو ان سے اولاً مومن ہونے کی امید نہیں ہے۔

ثانیاً یہ کہ ان پر وعید الٰہی قائم ہوچکنے کے وقت ظاہر ہونے سے ان کا ایمان مقبول نہیں۔ پس ایمان کی حلاوت انہیں کیوں حاصل ہونے لگی ہے۔ اس لئے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ آیت

٢٤

صفحہ ٤٠١

قرآنی ”ولا يزال الذين كفروا في مرية من لقائه“ اور نیز آیت ”ولا يزال الذين كفروا في مرية منه حتى تاتيهم الساعة بغتة وهم لا يشعرون“ وغیرہ سے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ کفار خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے اور قیامت یا کہ عذاب چپ چپاتے آنے تک درحالیکہ وہ تمیز نہ کرتے ہوں گے۔ شک وشبہ میں رہیں گے۔ لازم نہیں آتا ہے کہ قیامت کی بڑی علامتیں اپنی ظاہری صورت پر جلوہ گر نہ ہوں۔ کیونکہ بے عمل کے علم جیسے محال نہیں ہے۔ ویسے مشاہدہ بغیر یقین کے ممکن الوقوع ہے۔ مثل شق القمر کے پیغمبر خدا ﷺ سے، اور ناقہ کشی صالح علیہ السلام اور مردوں کو زندہ کرنے عیسیٰ بن مریم علیہا السلام سے فی البد یہی دیکھنے پر بھی بد نصیب کفار ایمان نہ لائے۔ تکذیب کرتے رہے یا منافق ہوئے۔ چنانچہ سورہ منافقوں وغیرہ سے ظاہر ہے اور جس حالت میں کہ جاننے والا شخص جاہلوں کی طرح اطوار رکھے تو بے شعور گنا جاتا ہے۔

چودانا ہمچونادان گشته غرق ست
ز دانائی بنادانی چه فرق ست

لہٰذا کفار وهم لا يشعرون کے مصداق بنے۔ الحاصل جب ثابت ہوا کہ قیامت کی علامات کبریٰ اپنی ظاہری صورت پر جلوہ گر ہونے والی لا محالہ ہیں تو قادیانی کے استنباط لغو اور مولوی محمد احسن قادیانی کے استدلال غلط ہیں اور قائل کا یہ کہنا کہ علامات کبریٰ زمانہ مسیح کے اپنے ظاہری معنوں پر محمول نہیں ہوسکتیں۔ ورنہ مسیح کی تصدیق میں خفاء نہ رہے۔ سراسر وہی قول ہے۔

وضع ..... بسبب عدم ایفائے شرط مسلم کے۔ رفع ..... اس لایعنی کلام کا جواب پہلے گزر چکا ہے۔ وضع ..... الحاصل جو معنی حدیث مسلم کے آپ نے سمجھے ہیں وہ مخالف قرآنی آیتوں اور حدیثوں کے ہیں۔ رفع ..... اے مولانا آپ کا بے دلیل دعویٰ یہ بھی غلط ہے۔ چنانچہ جب وہ آیات اور حدیث کہ ان کو آپ پوچھ رہے ہیں۔ پیش کریں گے۔ آپ کو ان کا حال جتلا دیا جاوے گا۔ وضع ..... جس سے تمام کبار امت اور عوام خواص کا ایمان بے کار ہوا جاتا ہے۔ رفع ..... مجیب نے اسی مضمون کو دجال و ابن صیاد کے بیان میں بھی لکھا ہے۔ لیکن کوتاہ فہمی کے

٢٥

صفحہ ٤٠٣

ساتھ قلم گھسنے کے سوا اس کا نتیجہ نہیں دکھلایا۔ اے مولانا آپ کا پہلا زعم تو ٹوٹ گیا اور یہ دعوٰی بے سروپا بھی آپ کا عنقریب ٹوٹ جائے گا۔

وضع ...... اب میں بقدر پانچ چار صفحوں کے یہ عرض کرتا ہوں۔ رفع ...... یہاں پر قادیانی صاحب کے اسی کشفی رؤیا ازالہ ص ٥١٥، ٥١٦ والے کو پھر اس بارہ میں مجیب صاحب نے بیان کیا ہے کہ اس کی بطالت کو صداقت کے مانند جاننا چاہے۔ لیکن ناظرین پر مخفی نہیں ہے کہ بطالت صداقت کے مانند ہرگز نہیں ہوتی ہے۔ مجیب صاحب اس جگہ پر نیچری تفسیر یعنی سید احمد خان کی رائے سے لے کر اس قصہ کو قرآن شریف کے اندر ٢٤ رکوع سورہ بقرہ میں مردے کو زندہ کر کے دکھلانے کی بابت خدا تعالیٰ نے سنایا ہے۔ خواب کا قصہ مانا ہے۔ حالانکہ معتبر تفاسیر میں مخالف نیچری تفسیر ہے۔ لہٰذا قادیانی کی کشفی رؤیا کی تاویل لغو تاویل ہے اور یہ پہلے بتلایا گیا ہے کہ اگر احادیث نبوی میں طلوع الشمس من المغرب ہوتا تو کچھ قادیانی تاویل کو موقع اپنے زور دینے کا ملتا۔ لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے احادیث میں رسول اللہ ﷺ کے جو الفاظ قیامت کی نشانی طلوع الشمس کی بابت وارد ہیں ان میں من مغربھا آیا ہے جس سے واضح ہے کہ قادیانی اور مولوی محمد احسن قادیانی دونوں غلط رؤیا میں رہ رہے ہیں۔ اگر جاگتے ہوتے تو یہ نہ بڑاتے۔

وضع ...... عاجز نے ترقی کر کے عرض کیا تھا کہ طلوع الشمس تو بہ موجب احادیث اصح الصحاح کے اوّل الآیات ہے۔ جس کے معنی آپ نے مجھ کو نہ کہنے دیئے۔ وہ یہ ہیں۔ رفع ...... اے مولانا بار بار آپ کو کہا گیا کہ آپ کے خیالات قادیانی کے خیالات سے کہیں پرے ہیں۔ اجی حضرت! آپ قادیانی کے مسلک سے جو حمامہ کے اندر مصرح ہے پہلے اتفاق پیدا کیجئے تب ان معانی کو جو یہاں بیان کئے ہیں ذکر کیجئے۔ تاکہ آپ کی کچھ بات باقاعدہ بنے۔ ”مذبذبین بین ذلک لا الی ھولاء ولا الی ھولاء“ کا طور آپ ہی برت رہے ہیں کہ کبھی مرزائی بنتے ہیں کبھی اہلحدیث کی طرف جھکتے ہیں اس تردد کی حالت میں کب تلک پڑے رہیں گے۔ جواب آپ سے جو طلب کیا گیا ہے اس میں دریافت طلب مولوی احمد علی صاحب کی جانب سے صرف یہ بات ہے کہ آپ ان اعتراضوں کو جو قادیانی صاحب پر وارد کئے گئے حدیثوں سے حسب مسلمات قادیانی صاحب کے اٹھا دیں اور یہ امر طلب نہیں کیا ہے کہ مسئلہ بحث شدہ میں آپ اپنی رائے محض لکھیں۔ خواہ قادیانی صاحب کے مسلمات سے ربط اس کو حاصل ہو یا کہ نہ ہو۔

٢٦

پس طلوع الشمس من مغربھا کے اوّل الآیات ہونے کی مطلب کے حوالہ قلم کی اور مع اقرار اس بات کے کہ طلوع الشـ لیکن اس کے متصل جب کہ مؤمنین دنیا میں نہ رہیں گے کے کشفی رؤیا موعودہ طلوع الشمس من مغربھا کا مصداق طلوع الشمس من مغربھا جسمانی طور پر ہی کسی وقت ہو بشرح بالا قول قیامت کے پہلے جسمانی طور پر کسی وقت طـ کی بابت حجت ہے قادیانی صاحب کے طرف سے جو بیان کو قادیانی صاحب کے حمامہ والے ص ٨٣، ٨٤ کے کر قادیانی ملا جی کو آپ یہ سبق پڑھاتے ہیں۔ از روئے چہ می سراید۔ اعتبار نہ ہو تو لفظ بغتۃ کی تشریح دیکھئے۔

وضع ...... اور جب تک کہ نظام دنیا کا قائم ہے آنحضـ آمد اور مفید ہے۔ رفع ...... لیکن اس شرط پر کہ ایمان لانے کے وقت بن جائے جو کہ اسلامی و ایمانی نفع اور فائدہ چاہتا ہے نظام دنیا قائم رہے یا نہ رہے۔ کفار میں سے کسی کو ایـ فرمایا سورہ انعام میں ”یوم یأتی بعض آیـ آمنت من قبل اوکسبت فی ایمانها خـ ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ ثلث اذا آمنت من قبل اوکسبت فی ایمانها خیـ الدجال ودابة الارض رواه مسلم“ ترمـ کے خلاف پر جو کچھ شبہات مولوی محمد احسن قادیا ہاں اور معلوم رہے کہ جو حکم نصوص قرآنی اور حدیـ اس کے مقابل میں غیر منصوص حکم نہ آیت قرآنی نہ حدیث رسول ربانی ﷺ سے۔ سو یہ مذکور بالا کی نص ہے کہ دنیا کی موجودگی ہی میں ایک دن آوے گا

صفحہ ٤٠٣

پس طلوع الشمس من مغربھا کے اوّل الآیات ہونے کی جو توجیہ آپ نے حسب تصریح حاشیہ ابن ماجہ کے حوالہ قلم کی اور مع اقرار اس بات کے کہ طلوع الشمس من مغربھا قبل قیامت کے ہی ہے۔ لیکن اس کے متصل جب کہ مؤمنین دنیا میں نہ رہیں گے اور مع تسلیم اس امر کے کہ قادیانی صاحب کے کشفی رؤیا موعودہ طلوع الشمس من مغربھا کا مصداق نہیں ہے۔ یہ بھی آپ نے لکھا کہ لیکن طلوع الشمس من مغربھا جسمانی طور پر ہی کسی وقت میں واقع ہو یہ آپ کی توجیہ مذکور اور اقرار مشرح بالا قول قیامت کے پہلے جسمانی طور پر کسی وقت میں طلوع الشمس من مغربھا واقع بالامکان کی بابت جب ہی قادیانی صاحب کے طرف سے جواب ہونے کے لائق ہے کہ آپ کے اس بیان کو قادیانی صاحب کے حمامہ والے ص ٨٣،٨٤ سے مطابق ہو ورنہ آپ کے ان جوابوں کو سن کر قادیانی ملا جی آپ کو سبق پڑھاتے ہیں۔ از روئے عتاب کہیں گے کہ من چہ مے گویم و طنبورہ چہ می سراید۔ اعتبار نہ ہو تو لفظ بغتۃ کی تشریح دیکھئے۔

وضع ...... اور جب تک کہ نظام دنیا کا قائم ہے آنحضرتﷺ کا دین اسلام اور ایمان ضرور نافع اور مفید ہے۔

رفع ...... لیکن اس شرط پر کہ ایمان لانے کے وقت ختم ہو چکنے سے پہلے وہ شخص مسلم اور مؤمن بن جائے جو کہ اسلامی و ایمانی نفع اور فائدہ چاہتا ہے اور جب ایمان لانے کا وقت ختم ہو چکا پھر نظام دنیا قائم رہے یا نہ رہے۔ کفار میں سے کسی کو ایمان لانا مفید نہیں ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا سورہ انعام میں يوم يأتی بعض آيات ربک لا ينفع نفساً ايمانها لم تکن آمنت من قبل او کسبت فی ايمانها خيراً اور رسول اللہﷺ نے فرمایا عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہﷺ ثلث اذا خرجن لا ينفع نفساً ايمانها لم تکن آمنت من قبل او کسبت فی ايمانها خيراً طلوع الشمس من مغربھا و خروج الدجال و دابة الارض رواہ مسلم ترجمہ آیت اور حدیث صحیح کا پہلے گزر چکا ہے اور ان کے خلاف پر جو کچھ شبہات مولوی محمد احسن قادیانی کے تھے وہ سب رد ہوئے ہیں۔ یہاں پر اتنی بات اور معلوم رہے کہ جو حکم نصوص قرآنی اور حدیث رسول ربانیﷺ سے بالتفصیل بیان ہوچکے اس کے مقابل میں غیر منصوص حکم نہ آیت قرآنی سے کسی شخص کا پیش کیا ہوا حجت ہو سکتا ہے اور نہ حدیث رسول ربانیﷺ سے۔ سو یہ مذکور بالا کی آیت اور حدیث اس بات کا صریح ثبوت سناتے ہیں کہ دنیا کی موجودگی ہی میں ایک دن آوے گا۔ جس میں کفار کا ایمان لانا مقبول نہ ہوگا اور وہ

٢٧

صفحہ ٤٠٤

دن وہ ہے جب کہ آیات میں سے کوئی نشانی آوے اور صحیح مسلم کے اندر بروایت ابی ہریرہؓ ان نشانوں کی توضیح اپنے چھپنے کی جگہ سے آفتاب طلوع ہونے اور دجال کے خروج کرنے اور دابۃ الارض کے نکلنے کے ساتھ بیان ہوئی۔ پس مولوی محمد احسن قادیانی ان مخصوصہ اوقات میں کفار کے ایمان قبول ہونے کی بابت جب تک ایسی ہی صریح نصوص قرآنی وحدیث صحیح سے پیش نہ کریں ان کا جواب ہرگز نہ صحیح ہو سکتا ہے نہ مقبول۔

وضع ...... اور سب طرح کی نصرت اور رحمت اللہ کی شامل حال مؤمنین کے رہے گی۔

رفع ...... اے مولانا جو لوگ ایمان کی تجدید کے وقت سے پہلے مؤمنین مخلصین لہ الدین ہوئے آپ ان کے واسطے دنیا میں نفع ایمانی اور نصرت یزدانی شامل حال سناتے ہیں۔ ان کے لئے تو دنیا اور آخرت دونوں جگہ میں فیضان الٰہی لامتناہی پہنچنے کی بشارتیں قرآن وحدیث میں بھری ہوئی ہیں اور ان کے واسطے نصرت پہنچنے کو نظام دنیا کے قائم رہنے اور نہ رہنے کی کسی کی بھی شرط نہیں ہے۔ انہیں آیات میں سے ایک یہ آیت ہے جو آپ خارج از بحث لکھ رہے ہیں۔

وضع ...... ایسا کوئی زمانہ اس دنیا میں ہوتے ہوئے نظام دنیا کے بلا رویت عذاب نہیں آ سکتا کہ مذہب محمدی دین اسلام کا بیکار ہو جاوے اور ایمان نفع نہ دیوے۔

رفع ...... اے مولانا مذہب محمدی و دین اسلام کا کارآمد رہنا اور مؤمنین کے واسطے ہر زمانہ میں ایمان سے نفع پہنچنا شے دیگر ہے اور کفار کو تا بقائے دنیا ایمان لانے کی مہلت اور قیامت قائم ہونے کی اتصال حقیقی تک ایمان ان سے مقبول ہونے کی بشارت شے دیگر آپ بلا موافقت باہمی مقیس اور مقیس علیہ کے کہاں ذہن دوڑا رہے ہیں۔ یاد رکھئے کہ آپ کفار کے لئے ایمان نافع کا دائمی وقت ہرگز قرآن وحدیث سے پیش نہیں کر سکتے ہیں۔

وضع ...... فرمایا اللہ تعالیٰ نے ”انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشهاد“ تحقیق البتہ ہم مدد دیتے ہیں پیغمبروں اپنوں کو اور جو لوگ کہ ایمان لائے بیچ زندگانی دنیا کے اور اس روز کہ کھڑے ہوں گے گواہی دینے والے۔

رفع ...... مجیب صاحب اس آیت کو اپنے اس مدعا کے ثبوت میں لکھتے ہیں کہ نظام دنیا باقی رہنے تک کوئی وقت ایسا نہیں ہے کہ کوئی کافر ایمان لاوے تو اس کا ایمان مقبول نہ ہو۔ اے مولانا فرمائیے تو اس آیت میں کہاں اور کس لفظ میں بیان ہوا ہے کہ دنیا کے نظام باقی رہنے تک کافروں کا ایمان لانا مقبول ہے۔ کیا یہ بات روشن تر نہیں ہے۔ ”ویوم یقوم الاشهاد“ کا عطف

٢٨

صفحہ ٤٠٥

”فی الحیوٰۃ الدنیا“ کے اوپر ہے اور یہ دونوں یعنی معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر فعل ”لننصر“ کے ظرف زمان ہوئے ہیں اور امنوا کے لئے یہ ظرف نہیں بیان ہوئی۔ بلکہ ”آمنوا الا“ بلاذکر ظرف کے اسم موصول ”الذین“ کا صلہ فعلیہ ہے۔ پس جب یہ بات روشن تر ہے اور از روئے قواعد علم نحو کے مسلمات سے ہے کہ بغیر معطوف کے معطوف علیہ کلام کے اندر نہ ظرف ہوسکتا ہے نہ فاعل یا کسی طرح کا مفعول وغیرہ۔ نہ مبتداء ہوسکتا ہے۔ نہ خبر نہ صفت وغیرہ ولہٰذا متعین ہوا کہ ظرف مخصوص لننصر کی ہی واسطے مذکور ہے فقط۔ ورنہ لازم آئے گا کہ بعد از مرگ بھی کفار کا ایمان مولوی محمد احسن قادیانی مقبول مانیں۔ حالانکہ یہ صورت نص قرآنی کے خلاف ہے۔ ”ولیست التوبۃ للذین یعملون السیئات حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الان ولا الذین یموتون وھم کفار“ یعنی فرمایا خدا تعالیٰ نے توبہ نہیں مقبول ان لوگوں کی جو گناہوں کو کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ آئے ان میں سے ایک کو موت تو کہنے لگا اب البتہ میں تائب ہوا اور نہ ان لوگوں کی جو مرتے ہیں کفر کی حالت میں۔

بالجملہ جب متعین ہوا کہ آیت مذکورہ بالا میں جو ظرف یعنی فی الحیوٰۃ الدنیا واقع ہے۔ وہ لننصر ہی کے لئے مذکور ہوا ہے۔ تو ثابت ہوا کہ نصرت الٰہی مرحمت ہوئی۔ جو آیت میں سنائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کے اور ان لوگوں کے واسطے ہے جو کہ ایمان کی قبولیت کے وقت ختم ہوچکنے سے پہلے مؤمنین صالحین ہوویں اور یہاں سے بخوبی واضح ہوا کہ قادیانی کے بیان پر جس قدر مولوی احمد علی صاحب نے اعتراض کیا نہایت صحیح اور قوی ہے اور مولوی محمد احسن صاحب اس کے دفعہ کرنے میں مجمع عام مسلمین کے سامنے لاچار رہے ہی تھے۔ آپ نے رقیمۃ الودی...... کج بحثانہ کی تصنیف کردہ میں بھی سوء فہمی کے اندر تحریر کرتے ہوئے درماندگی میں رہے۔ فتدبر وان کان امر۔

وضع ...... بڑی حد اصرار سے کہنے لگے کہ ہاں بالضرور مسیح ومہدی کے وقت میں بھی ایمان و اسلام مقبول نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ زمانہ دجال کا ہے۔

رفع ...... اے مولانا عجب خلاف واقع کے آپ کی تحریر ہے۔ حضرت من جو اعتراض قادیانی پر وارد کیا گیا تھا۔ مولوی احمد علی صاحب پر اس کا یا اس سے بدرجہا بڑھ کر پلٹتا تو صرف آپ کا زبانی جمع خرچ ہے۔ حاضرین جلسہ آپ کی تقریر بے دلیل کی کیفیت بخوبی دیکھ چکے ہیں۔ فرمائیے تو کون سی حدیث یا کہ قرآنی آیت مولوی احمد علی صاحب کے سامنے اپنے مدعا کے ثبوت یا اعتراض

٢٩

صفحہ ٤٠٧

جو قادیانی پر کیا گیا تھا اس سے بدر جہا اعتراض بڑھ کر مولوی احمد علی صاحب کے اوپر وارد ہونے کی مظہر آپ نے بیان کی تھی۔ اجی حضرت! جب آپ مدعی ہوئے کہ مسیح اور مہدی کے زمانہ میں ایمان واسلام معتبر ہونے کی بابت سو حدیثیں میں پیش کردوں گا اور اس پر مولوی احمد علی صاحب نے آپ کو کہا کہ جو زمانہ مسیح ومہدی زمانہ خروج دجال سے مطابق ہو جاوے اور ٹکرا جاوے اس میں کفار کے ایمان واسلام معتبر ہونے کو ظاہر کرنے والی ایک ہی قرآنی آیت کسی تفسیر سلف یا تفسیر بیضاوی میں جو یہ موجود ہے یا کوئی معتبر حدیث کسی حدیث کی کتاب سے دکھلا دیجئے۔ لیکن آپ ہرگز نہ دکھلا سکے اور اس جلسہ سے ندامت کے ساتھ زک پا کر جھنجلاتے ہوئے علیحدہ ایک گوشہ میں جا بیٹھے اور مولوی احمد علی صاحب نے وعظ سنایا اور کون حاضرین جلسہ سے اس وقت نہیں جان گیا تھا کہ مولوی محمد احسن قادیانی کا سارا دعویٰ ہیچ ہو گیا۔ جب مباحثہ میں یہ صورت مذکور واقع ہوئی تھی تو قائل کا یہ قول بالکل غلط واضح ہوا کہ مولوی احمد علی صاحب نے جب دیکھا کہ ان پر بدر جہا بڑھ کر وہ اعتراض وارد ہوا جو مرزا قادیانی پر سوء فہم سے وارد ہوتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ ”فاتق الله ايها المولانا ولا تكن من الغاوين“

دفع ...... فرمایا اللہ تعالیٰ نے ”انما التوبة على الله للذين يعملون السوء بجهالة ثم يتوبون من قريب فاولئك يتوب الله عليهم وكان الله عليماً حكيما الی ماقال“ بحکم اس آیت کریمہ کے ہرگز نہیں ہو سکتا کہ دنیا میں بحالت موجودگی نظام دنیا کے یعنی رویت عذاب دنیا کے کوئی کافر جو صدق دل سے ایمان لاوے اور کفر و شرک سے توبہ کرے محض اس کی توبہ قبول نہ ہووے خواہ زمانہ توبہ کا زمانہ مسیح کا ہو یا مہدی یا دجال کا۔

رفع ...... کسی حدیث سے ہرگز نہیں ثابت ہوتا ہے کہ دجال کے نکلنے کے زمانہ میں کوئی شخص صدق دل سے ایمان لاوے گا اور کفر و شرک سے توبہ کرے گا۔ اس کے سواء یہ حکم جو اس آیت سے مجیب صاحب نے لکھا ہرگز ٹھیک نہیں۔ محض تحکم و توہم ہے اور نص قرآنی کے خلاف ہے۔

اوّلاً اس لئے کہ گفتگو خاص دربارہ ایمان کے قبولیت ہونے کے کفار میں ہے۔ گنہگار مؤمنین کی توبہ کے باب میں نہیں ہے اور یہ آیت خاص دربارہ کفار کے ایمان و توبہ مقبول ہونے کے بیان میں نہیں۔ بلکہ الفاظ کی دلالت اور کلام کا طرز یہ چاہتا ہے کہ گنہگار مؤمنین کی توبہ کے بابت اس آیت میں اس طرح فرمایا کہ سوا اس کے نہیں کہ توبہ مقبول خدا تعالیٰ کے نزدیک واسطے ان لوگوں کے ہے جو گناہ کو نادانی سے کرتے ہیں پھر جلدی توبہ کرتے ہیں سو یہ لوگ ہیں جن پر

٣٠

خدا رجوع ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا مقتضی ہے۔ کیونکہ مؤمنین کی شان گناہ سے نفرت ہوتا ہے۔ چنانچہ اسی مطلب کو خدا تعالیٰ نے سورۂ فرمایا ہے۔ ”واذا جاءك الذين يؤمنون بايا نفسه الرحمة انه من عمل منكم سوء غفور رحيم“ ترجمہ اور جب آویں تیرے پا ساتھ پس کہہ دو سلامتی ہو تم پر مقرر کیا تمہارے رب میں سے بدی کرے نادانی کے ساتھ پھر توبہ کرے کرنے والا رحم کرنے والا ہے اور یہ بات ظاہر ہ کفار نہیں ہیں۔

ثانیاً! اس لئے کہ دوسری آیت میں جو کفار “ ظاہر ہے کہ اس کا عطف ”ولیست ا سنانے والی ہے۔ اس کو ہرگز لازم نہیں ہے کہ اگر زمانہ دجال سے ٹکراتے ہوئے زمانہ مسیح و مہدی م بسلطان مبین“

ثالثاً! یہ قول بھی مولوی محمد احسن کا موجودگی نظام دنیا کی الخ اور پہلے بھی اس زعم پہلے خدا تعالیٰ نے فرمایا ”ان الذين كفرو توبتهم واولئك هم الضالون ان الذ احدهم مل الارض ذهباً ولو افتد نصرين“ تحقیق جن لوگوں نے کفر کیا بعد ہوگی ان کی توبہ یعنی اسی نظام دنیا کی موجودگی م اور مر گئے اس حالت میں کہ وہ کفار ہیں تو ہرگز اگر چہ اس کے ساتھ بہت دیوے وہ لوگ ہیں لئے مددگار نہیں ہے۔ اس پہلی آیت سے صا

صفحہ ٤٠٧

خدا رجوع ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا حکمت والا ہے۔ خصوصاً لفظ بجہالة اسی بات کو مقتضی ہے۔ کیونکہ مومنین کی شان گناہ سے نفرت ہے اور ان سے گناہ سرزد ہونا بیشتر نادانی سے ہوتا ہے۔ چنانچہ اسی مطلب کو خدا تعالیٰ نے سورۃ انعام کے اس آیت میں توضیح کے ساتھ یوں فرمایا ہے۔ ”واذا جاءك الذين يؤمنون بايتنا فقل سلام عليكم كتب ربكم على نفسه الرحمة انه من عمل منكم سوء بجهالة ثم تاب من بعده واصلح فانه غفور رحيم“ ترجمہ اور جب آویں تیرے پاس وہ لوگ جو ایماندار ہیں۔ ہمارے آیتوں کے ساتھ پس کہہ دو سلامتی ہو تم پر مقرر کیا تمہارے رب نے اپنے اوپر رحم کرنے کو یہ کہ تحقیق جو کوئی تم میں سے بدی کرے نادانی کے ساتھ پھر توبہ کرے اس کے بعد اور درستی کر لیوے تو البتہ وہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ مؤمنین کے برابر انعام اور رحمت پانے میں کفار نہیں ہیں۔

ثانیاً! اس لئے کہ دوسری آیت میں جو بیان ہوا ”ولا الذين يموتون وهم كفار“ ظاہر ہے کہ اس کا عطف ”ولیست التوبة“ پر ہے۔ پس یہ آیت توبہ کی عدم قبولیت سنانے والی ہے۔ اس کو ہرگز لازم نہیں ہے کہ اگر مرتے وقت کسی کی توبہ قبول نہیں ہوتی تو اس کی توبہ زمانہ دجال سے ٹکراتے ہوئے زمانہ مسیح و مہدی میں قبول ہووے۔ ”لولا ياتون عليهم بسلطان بیّن“

ثالثاً! یہ قول بھی مولوی محمد احسن کا غلط ہے کہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ دنیا میں بحالت موجودگی نظام دنیا کی الخ اور پہلے بھی اس زعم کی غلطی بیان ہوئی۔ دیکھئے پارہ لن تنالو سے دو آیت پہلے خدا تعالیٰ نے فرمایا ”ان الذين كفروا بعد ايمانهم ثم ازدادوا كفرا لن تقبل توبتهم واولئك هم الضالون ان الذين كفروا وماتوا وهم كفار فلن يقبل من احدهم مل الارض ذهبا ولو افتدى به اولئك لهم عذاب الیم وما لهم من نصرين“ تحقیق جن لوگوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان لانے کے پھر کفر کو زیادہ کیا ہرگز قبول نہ ہوگی ان کی توبہ یعنی اسی نظام دنیا کی موجودگی میں اور وہ لوگ گمراہ ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے کفر کیا اور مر گئے اس حالت میں کہ وہ کفار ہیں تو ہرگز قبول نہ ہوگا ان میں سے کسی سے زمین بھرا ہوا سونا۔ اگر چہ اس کے ساتھ بہت دیوے وہ لوگ ہیں کہ ان کے لئے عذاب دردناک ہے اور کوئی ان کے لئے مددگار نہیں ہے۔ اس پہلی آیت سے صاف ظاہر ہے کہ بعض کفار تائب کی توبہ ہرگز قبول نہیں

٣١

صفحہ ٤٠٨

ہے اور نظام دنیا کی موجودگی ان کی توبہ کو کچھ مفید نہیں ہے اور ”اولئک ہم الضالون“ اس مطلب کو قوی کرتا ہے کیونکہ نہایت سخت وہی گمراہ ہیں کہ ابقائے نظام دنیا میں وہ توبہ کریں۔ لیکن توبہ قبول نہ ہووے اور آیت جو دوسری ہے وہ کفار کی حالت بعد از مرگ کی سناتی ہے۔

دفع ...... ایضاً فرمایا خدا تعالیٰ نے ”ولو امن اهل الكتاب لكان خيراً لهم“ فرمایا الله تعالیٰ نے ”فاستجاب لهم ربهم انى لا اضيع عمل عامل منكم من ذكر او انثى“

رفع ...... ناظرین بخوبی جان سکتے ہیں کہ ان دونوں آیتوں میں مطلقاً اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ خروج دجال کے زمانہ میں کفار کا ایمان مقبول ہوگا۔ قادیانی صاحب کے بزعمش صفت چیلوں کو خوش کرنے کے لئے محض سادہ لوحی سے مولوی محمد احسن قادیانی نے بحث شدہ مسئلہ سے قطع نظر کر کے یہ آیتیں گنتی دکھلانے کے طور پر لکھ دی ہیں۔ کیونکہ پہلی آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ اگر اہل کتاب ایمان لاتے تو البتہ ان کے واسطے بہتر ہوتا۔ یعنی ان کے لئے بہتری جو نہیں ہے سو ان کے ایمان نہ لانے سے ہے۔ یہ کلام ایسا ہی بیان ہوا ہے۔ جیسے فرمایا ”لو كان فيهما الهة الا الله لفسدتا“ یعنی آسمان وزمین کے اندر اگر بجز خدا کے واقعی معبود ہوتے تو البتہ آسمان وزمین تلف ہو جاتی۔ پس جیسے آسمان وزمین کا قیامت سے پہلے برباد نہ ہو چکنا مشرکین پر اس بات کی حجت ہے کہ وہ جو ماسوا خدا تعالیٰ کے اپنے زعم میں دوسرے معبود مانتے ہیں۔ وہ غلط خیال ہے۔ ایسے ہی یہود و نصاریٰ میں بہتری نہ ہونا کہ وہ ”مغضوب عليهم“ اور ”ضالین“ بتلائے گے۔ اس بات کی حجت ہے کہ وہ جو اپنے آپ کو خدا پر ایمان لانے والا جانتے ہیں اور اپنے تخیلات کے ساتھ انہوں نے یہ سمجھا کہ ”لن يدخل الجنة الا من كان هودا او نصارى“ یعنی بہشت میں ہرگز داخل نہ ہوگا مگر وہی جو یہود ہے یا نصرانی۔ بات تو یہ تھی کہ جیسے تشریح گذری آیت ”ولو امن اهل الكتاب“ میں خدا تعالیٰ نے اہل کتاب کی بغاوت اور بے ایمانی کی حالت سنائی ہے۔ لیکن عجیب صاحب فہم نارسا بزعم خود آیت مذکور کو دلیل اس بات کی ٹھہراتے ہیں کہ دجال کے زمانہ میں کفار کا ایمان مقبول ہوگا۔ اے مولانا ؎

آدمی عقل باید در بدن
ورنہ جان در کالبد دارد حمار

سمجھ کر بات کہیے اپنے قیاسات جیب میں ہی رکھیئے اور دوسری آیت یعنی ”فاستجاب لهم“ میں اس طرح فرمایا کہ مؤمنین صالحین نے جو دعائیں مانگیں جن کی تفصیل

٣٢

صفحہ ٤٠٩

آیات بالا سورۃ آل عمران کے پچھلے رکوع میں بیان ہوئے ان کے لئے وہ دعائیں ان کے رب نے قبول کیں کہ البتہ میں ضائع نہ کروں گا عمل کام کرنے والے کا تم میں سے خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ پس ناظرین غور کریں کہ وہ کون سا لفظ اس آیت میں آیا ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہووے کہ دجال کے زمانہ میں کفار فجار کو ایمان نصیب ہووے گا۔

بہت مغرور تھا وہ شوخ اور بھرتا تھا ہوقین
مسیلمہ کی صفت نکلیں سبھی اس کے وہ قونطین

دفع ....... ایضاً فرمایا اللہ تعالیٰ نے ”یایھا الذین اوتوا الکتاب آمنوا بما نزلنا مصدقاً لما معکم من قبل ان نطمس وجوهاً فنردها علٰی ادبارھا“

رفع ....... اس آیت میں بھی کوئی لفظ ایسا مذکور نہیں ہوا جس میں دلالت ہو کہ دجال کے زمانہ میں کفار کا ایمان قبول ہوگا۔ بلکہ قبولیت کی نفی اگر دیکھئے تو ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ آیت شریف کا ترجمہ یہ ہوا کہ اے وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے نازل کیا تصدیق کرتے ہوئے اس کلام کی جو تمہارے پاس ہے اس کے پہلے جو ہم چہروں کا مسخ کریں گے یعنی بدل ڈالیں گے پس ہم ان کو الٹا پھیریں گے ظاہر ہے کہ کفار کے واسطے قیامت کا دن دوزخ میں داخل ہونے کا ہے اور ان کو نامراد پیچھے واپس کرنے اور مسخ کرنے کا وقت دنیا میں قیامت سے پہلے ہی اور خود عربی خط میں آپ بھی جو لکھ چکے ہیں اس بارہ میں وہ آپ کے اوپر حجت ہونے کو کافی ہے۔ عبارت ہٰذا۔ ”یقع القيامة علٰی الاشرار والاشقیاء“ یعنی قیامت شریروں اور ہدایت سے محروموں پر واقع ہوگی اور جب فرمایا اللہ تعالیٰ نے ”من قبل ان نطمس وجوهاً“ چہروں کو بدل ڈالنے سے پہلے کہ الٹے پھیرے جاویں تو واضح ہوا کہ کفار کی دنیا میں اس حالت کی واقع ہو جانے سے تنبیہ کی ہے۔ جو سورہ بقرہ کے شروع میں فرمائی۔ ”ختم اللہ علٰی قلوبھم وعلٰی سمعھم وعلٰی ابصارھم غشاوة “ مہر کر دی خدا نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر دہ ہے۔ کیونکہ جب یہ کیفیت کسی کی ہو جاتی ہے تو ”حقت عليه كلمة العذاب“ کے یعنی اس پر عذاب کا قول ثابت ہو چکا۔ تحت میں آ جاتا ہے۔ چنانچہ ساتھ ہی فرمایا۔ ”ولھم عذاب عظیم “ ان کے واسطے بڑا عذاب ہے اور کیوں نہ ہو دنیا کے اندر ہی والی وہ حالت اس لئے کہ جس آیت کو مجیب صاحب لکھ رہے ہیں اس کا ٹکڑا یہ ہے۔ ”او نلعنھم کما لعنا اصحاب السبت “ یعنی یا ہم ان اہل کتاب کو ملعون کریں پورا بدل ڈالیں جیسے ہم

٣٣

صفحہ ٤١٠

نے اصحاب سبت کو ملعون کیا۔ یعنی فرمایا ”كونوا قردة خاسئين “ ہو جاؤ بندر نامراد ۔ چنانچہ زمانہ آنحضرت ﷺ میں بے ایمانی کی حیثیت سے بندر کی موافق کفار فساق ہوئے۔ سورۂ یونس رکوع ٤ میں ہے۔ ”كذلك حقت كلمة ربك على الذين فسقوا انهم لا يؤمنون“ اسی طرح ثابت ہوئی بات تیرے رب کی ان لوگوں پر جنہوں نے بے راہی کی کہ تحقیق وہ ایمان دار نہ ہویں گے۔ بالجملہ جب وہ آیت جو مولوی محمد احسن قادیانی نے لکھی ہے۔ اس میں نظام دنیا کے باقی رہتے ہوئے حال میں مسخ ہو جانے کی حالت سے پہلے ایمان لانے کی طرف اہل کتاب کو مخاطب کیا گیا ہے اور آیت مذکورہ سے ظاہر ہے کہ وہ مسخ دجال کے زمانہ سے پہلے واقع ہونا ممنوع نہیں ہے تو مولانا مذکور کا استدلال آیت سے بھی باطل ہے۔

دفع ...... ”ومن يعمل من الصلحت من ذكر او انثى وهو مؤمن“ ايضاً ”ما يفعل الله بعذابكم ان شكرتم وآمنتم “ ان دونوں آیات کو بھی مسئلہ بحث شدہ سے نہ کوئی تعلق ہے نہ دجال کے نکلنے کے زمانہ میں ایمان مقبول ہونے کا کچھ ثبوت کیونکہ ان دونوں آیتوں میں خدا تعالیٰ نے جو بہشت میں داخل ہونے کے بشارت اور عذاب الہی سے حفاظت جن لوگوں کے واسطے فرمائی ہے سو وہ لوگ ہیں جو کہ صالحین مومنین ہیں اور شکر گذار ایمان کے ساتھ ہیں۔ ان پر دجال کے زمانہ کے کفار کو قیاس مولوی محمد احسن قادیانی کا کرنا محض نا انصافی ہے۔ ”مثل الفريقين كالاعمى والاصم والبصير والسميع هل يستويان مثلاً افلا تذكرون “ اے مولانا غور تو کیجئے۔ دجال کے زمانہ کے کفار ایمان سے اندھے بہرے لوگ کیونکر ایمان کے نور سے بینائی اور ہدایت الہی کی گوش شنوا رکھنے والوں کے برابر ہو سکتے ہیں۔ ”نعوذ بالله من ذلك “ آپ اپنے ان ہی کمزور خیالات پر نازاں ہو کر فرما رہے تھے کہ مولوی احمد علی صاحب کے اعتراض بزرگان و صالحان کے مانے ہوئے عقیدہ سے مخالف ہیں۔ اجی حضرت خوب سمجھ لیجئے کہ آپ منصوص قرآنی اور حدیث رسول ﷺ کے خلاف پر مصر ہیں اور مولوی احمد علی صاحب پر آپ ناحق الٹا الزام لگاتے ہیں۔ امید ہے کہ اگر آپ منصف بنیں گے تو اپنے حسب حال اس مصرع کا ورد کریں گے ۔

میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا

اور آپ کے مصاحب سدا جو وبمالو کف افسوس ملتے رہیں گے۔

وضع ...... بڑا تعجب ہے کہ باوجود ہونے ایسے نصوص قطعیہ کے مولوی صاحب کو اصرار ہے کہ مسیح اور دجال کے زمانہ میں ایمان نفع نہ دے گا۔

٣٤

صفحہ ٤١١

رفع....... مجیب صاحب کا عجب زہر خندۂ تعجب ہے۔ ایک آیت اور حدیث تو اب تک ایسی پیش نہیں کی جس کو اسباب سے کچھ بھی لگاؤ ہوے کہ جو زمانہ موعود مسیح کا دجال کے زمانہ سے منطبق ہونے والا ہے۔ اس میں کسی کافر کا ایمان خدا تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہووے گا۔ پھر نصوص قطعیہ تو کہاں پیش کر سکتے۔

ترسم نرسی بکعبہ اے اعرابی
کین راہ کہ تو میروی بترکستان ست

وضع....... جب تک دنیا میں قرآن مجید موجود ہے، الیٰ قولہ ہر ایک کافر کا ایمان و اسلام بھی مقبول ہوگا۔

رفع....... مجیب کا دعویٰ مذکور محض کذب وافتراء ہے۔ کیونکہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ”ولقد ذرئنا لجهنم كثيراً من الجن والانس لهم قلوب لا يفقهون بها ولهم اعين لا يبصرون بها ولهم اذان لا يسمعون بها اولئك كالانعام بل هم اضل اولئك هم الغافلون“ البتہ ہم نے جہنم کے واسطے پیدا کئے کتنے ہی جن اور انسان سے کہ ان کے دل ہیں جن سے نہیں سمجھتے ہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے نہیں دیکھتے ہیں اور ان کے کان ہیں جن سے نہیں سنتے ہیں۔ وہی لوگ ہیں جو غافل ہیں۔ ”ان الذين حقت عليهم كلمت ربك لا يؤمنون ولو جاءتهم كل آية حتى يروا العذاب الاليم“ تحقیق جن لوگوں پر مقرر ہو چکی بات تیرے رب کی وہ ایمان نہ لائیں گے۔ اگرچہ آجائیں ان کے پاس کل نشانیاں یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں۔ اے باخبر ناظرین دیکھ لیجئے جب کہ دوزخ کے واسطے جو لوگ یا جنات پیدا کئے گئے۔ وغیرہ وغیرہ۔ قرآن مجید سے صراحتاً ثابت ہیں تو کب ہو سکتا ہے کہ ایسے لوگوں کا خدا تعالیٰ کے نزدیک ایمان مقبول ہوگا تاکہ مولوی محمد احسن قادیانی جو کہتے ہیں کہ جب تک قرآن مجید موجود ہے اور اس میں آیتیں محفوظ ہیں۔ ہر ایک کافر کا ایمان و اسلام بھی مقبول ہوگا اور نیز جن لوگوں پر عدم ایمان کی بات خدا تعالیٰ ثابت کر چکا کیونکر مانا جا سکتا ہے کہ وہ مؤمن و مسلم سچے ہوئیں گے۔ اعاذنا الله من تلك الهفوات التي اخذها المجيب المذكور وعصمنا من كل الكفريات كما عصم الله منها عباده الشكور۔

وضع....... پس میں نے حدیث کی۔

رفع....... مولوی محمد احسن قادیانی نے جو یہ تقریر بطور اپنی تحریر کے نتیجہ کے لکھی ہے۔ محض بے کار وغلط ہے اور اس کا جواب مفصلاً گذر چکا ہے اور جن کشفی معنوں کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ بھی مردود

٣٥

صفحہ ٤١٢

ہو چکے ہیں اور کیونکر نہ رد ہو جاتے۔ اس لئے کہ قادیانی کے رؤیا میں طلوع مغرب سے آفتاب کا جو ہو دو حال سے خالی نہیں یا یہ کہ برخلاف حدیث نبوی ﷺ کی مراد کے ہوئے تو جیسے وہ قیامت کے آثار سے نہیں ویسے کچھ فخر کی بھی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ قادیانی صاحب نے اپنے آپ کو لندن میں نصاریٰ کے منبر پر پایا جو اہل اسلام کی وعظ گوئی کی نشست گاہ سے نہیں ہے۔ البتہ نصاریٰ کے یہاں دستر خوان کی زیب اس کے بغیر ہرگز نہیں ہوتی ہے۔ جس کا خلاصہ صحیح طور پر یہ ہوا کہ اسلامی باتوں کے پیرایہ میں کھانے پینے کی سبیل قادیانی صاحب نے اپنی تصانیف کے ذریعہ سے قائم کی ہے اور تیتر اور بٹیر کے دورنگی لقمہ سے میل رکھتی ہوئی دوغلے آدمی ان باتوں پر کان لگاتے ہیں۔

خطا میکند مرد تفسیر دان
کہ علم و ادب مے فروشند بنان

اور اگر طلوع الشمس من مغربہا جو پیغمبر خدا ﷺ کی حدیث میں بیان ہوا۔ اسی خاص قرب قیامت کی علامت کا واقع ہو چکنا بہ فرض محال اس طور تسلیم کر لیا جاوے کہ اس سے مراد یہ ہے جسے قادیانی صاحب نے کشفی الہام کر کے بیان کیا تو ضرور ہوا کہ قادیانی کا وعظ و پند نہ کسی کافر کے حق میں مفید ہے نہ کسی مؤمن کے بلکہ مؤمنین پر واجب ہے کہ قادیانی کے دام سے کنارہ کر کے قرآن وحدیث کو حسب تفسیر دیگر علمائے صالحین کی مضبوطی سے اپنا ہادی واجب الاتباع مانتے رہیں اور اسی کے اوپر عمل کرنے میں مضبوط رہیں۔ پس مولوی محمد احسن قادیانی کی تمام خامہ فرسائی لغو ہے اور انہوں نے قادیانی کے رؤیا کشفی میں جو کچھ رویا ہے سب اکارت ہے اور ان کا یہ قول بھی محض غلط ہے کہ جب شمس اپنی مغرب سے طلوع ہو چکے گا یعنی اس کے طلوع کا زمانہ جس قدر علم الٰہی میں اس کے مقدار ہو گزر چکے تب البتہ سب ایمان لے آویں گے۔ کیونکہ حضرت ابی ہریرہؓ کی حدیث جو پیش کی گئی جو کہ قرآنی آیت سورۂ انعام والی کی تفسیر میں ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یوم انقضیٰ یا کہ یوم مضیٰ یا کہ اذا جاء بعض آیات کے مثل ماضی کی صیغوں سے نہیں فرمایا ہے تا کہ کسی طرح پر دلالت سے مولوی محمد احسن قادیانی کو اپنی اس تاویل کی صحت کا موقع مل سکے کہ جب طلوع الشمس من مغربہا کا زمانہ گزر چکے۔ تب البتہ سب لوگ ایمان لے آویں گے۔ بلکہ یوں فرمایا ہے کہ ”یوم یاتی بعض آیات ربک“ جس دن آوے تیرے پروردگار کے نشانیوں سے بعضی مثلاً اپنے چھپنے کی جگہ سے آفتاب کا نکلنا جس میں مضارع کے صیغہ کو لانے سے باری تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ طلوع الشمس من مغربہا کی پائی جاتی ہے۔ کفار جو ایمان لاویں گے ان

٣٦

کے ایمان لانے

الفاظ موجود ہے ۔ ”ظرف اذا کانت“

کہ سورج طلوع کئے ہوئے موجود ہے۔ اس

جو وقت بیان ہوا ہے وہ اپنی چھپنے کی جگہ سے

مولوی محمد احسن قادیانی کے غلط فہمی کے موافق

وضع ۔۔۔۔۔۔ اور اگر کوئی تھوڑا زمانہ عیسیٰ یا حضرت

مولوی صاحب کے ایسا ہو کہ اس زمانہ میں ایما

الاسلام حضرت امام مہدی اور مسیح کی بالکل لغو و

رفع ۔۔۔۔۔۔ اے مولانا ابھی آپ بھی نہیں سم

گے اور عیسیٰ علیہ السلام کس واسطے آسمان سے ن

دعویٰ جلی

ناز خود پر ۔

یاد رکھئے کہ ان دونوں بزرگوارو

نصرت اور کفار کے ذلت ہے بیشک اس سے

بھی انشاء اللہ واضح کیا جاوے گا۔

صفحہ ٤١٤

کو ایمان نفع نہ دے گا۔ کیونکہ ایمان بالغیب نہ رہا۔ لہٰذا طلوع الشمس من مغربہا کے زمانہ کا گذر چکنا ہر کفار کے ایمان لانے کے واسطے معین نہیں ہوسکتا ہے۔ اے مولانا کلام کے محاورہ میں آپ کی تبدیلی کرنی ہرگز مقبول نہ ہوگی۔ ”یوم تاتی السماء بدخان مبین یغشی الناس“ یعنی جس دن آسمان دھواں ظاہر کرے گا لوگ بیہوش ہوویں گے۔ کیا آپ اس کے یہ معنی سمجھ رہے ہیں کہ دخان کا زمانہ گذرجانے کے بعد میں لوگ بیہوش ہوویں گے۔ ”استغفر اللہ“ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”یوم نقول لجہنم ھل امتلئت وتقول ھل من مزید“ سے آپ یوں خیال کرتے ہیں کہ جب دوزخ سے خدا تعالیٰ فرمادے گا کہ آیا تو بھر گئی ہے تو اس دن دوزخ چپ کئے رہے گی۔ اگلے دن جب قیامت کا روز ہوچکے گا تب دوزخ کہے گی آیا کچھ اور زیادہ ہے۔ ”نعوذ باللہ من ذلک“ الحاصل جب معلوم ہوچکا کہ آیت قرآنی میں مضارع کا صیغہ موجود ہے۔ جس کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث ہے تو اس میں جو بیان کہ ”آمن الناس کلہم اجمعون“ کا وہی وقت ہے جوکہا گیا ہے کہ ”فاذا طلعت الشمس من مغربھا“ پس جیسے ”النہار موجود“ کا ظرف اذاکانت الشمس طالعۃ یعنی اس وقت میں دن موجود ہے جب کہ سورج طلوع کئے ہوئے موجود ہے۔ ایسی ہی اس حدیث میں کل آدمیوں کے ایمان لانے کا جو وقت بیان ہوا ہے وہ اپنی چھپنے کی جگہ سے آفتاب کے طلوع کئے ہوئے اور موجودگی کا ہے۔ نہ مولوی محمد احسن قادیانی کے غلط فہمی کے موافق۔ ”واحفظ منی لعلک تذکر و تخشی“

وضع....... اور اگر کوئی پہلو ازمانہ عیسیٰ یا حضرت مہدی کا بالکل زمانہ ان کا بہ موجب قول حضرت مولوی صاحب کے ایسا ہو کہ اس زمانہ میں ایمان واسلام لانا کفار کا بیکار ہوجائے تو پھر دعوت الی الاسلام حضرت امام مہدی اور مسیح کی بالکل لغو اور بیکار ہوجائے گی۔ الشیٔ اذاخلیٰ من مقصودہ۔

رفع....... اے مولانا ابھی آپ بھی نہیں سمجھے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کس لئے ظہور کریں گے اور عیسیٰ علیہ السلام کس واسطے آسمان سے نزول فرماویں گے۔

ز دعویٰ تہی آئی تا بر شوی
نواز خود پر تنے ان تہی مبروے

یاد رکھے کہ ان دونوں بزرگواروں کے ظہور ونزول سے مقصود الٰہی دین اسلام کے نصرت اور کفار کے ذلت ہے بیشک اس سے خالی ہونا ممنوع ہے۔ چنانچہ سابقہ مذکور ہوا اور آئندہ بھی انشاء اللہ واضح کیا جاوے گا۔

٣٧

صفحہ ٤١٤

وضع...... حالانکہ حدیث صحاح سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسلام کی طرف دعوت کریں گے اور ان کے زمانہ میں بہت لوگ اسلام میں داخل ہوں گے۔

رفع...... اے مولانا سوال از آسمان اور جواب از ریسمان کا طریق اختیار نہ کیجئے۔ گفتگو جس بارہ میں تھی اس کا جواب دیجئے۔ آپ سے پہلے بھی بار بار مجمع عام میں کہا گیا اور اب پھر گوش گزار کیا جاتا ہے کہ آپ چن کر کے صرف ایک ہی ایسی جید حدیث پیش کر دیجئے جس میں تصریح ہو کہ حضرت مہدی و حضرت مسیح کا جو زمانہ خروج دجال سے منطبق ہوگا یا کہ جس وقت دابۃ الارض ظہور کرے گا۔ یا کہ جب اپنے چھپنے کی جگہ سے آفتاب نکلے گا ان اوقات میں کس کافر کا ایمان مقبول ہوگا۔ لیکن کوئی حدیث آپ نے پیش نہ کی۔ بلکہ یہ بھی آپ سے نہ ہوسکا کہ اوقات مذکورہ میں کفار کو حضرت مہدی و حضرت عیسیٰ کا ایمان و اسلام کی دعوت کرنے پر دلالت کرنے والے حدیث سناتے یا قرآن شریف کی کسی تفسیر میں دکھلاتے جو علماء اسلام کے نزدیک معتبر ہے اور بڑی جانفشانیوں کے بعد آپ نے لکھا ہے تو فتح الباری سے حافظ کا قول جس میں ہرگز نہیں کہا گیا کہ دجال کے زمانہ میں کفار کو حضرت عیسیٰ دعوت اسلام کریں گے اور علیٰ ہذا جو عبارت تفسیر بیضاوی سے نقل کی اس میں بھی نہیں بیان ہوا کہ دجال کے زمانہ میں حضرت عیسیٰ کفار کو ایمان کی طرف بلاویں گے۔ اب اگر کہئے کہ حافظ نے جو بحوالہ حدیث حضرت ابی ہریرہؓ یہ بیان کیا کہ ”یدعوا الناس الی الاسلام“ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول کے لوگوں کو دعوت اسلام کریں گے اور خدا تعالیٰ بجز اسلام کے سب ملتوں کو ہلاک کر دے گا۔ وغیرہ یا تفسیر بیضاوی میں جو بیان ہوا ۔ ”انه اذا نزل من السماء امن به اهل الملل جميعاً“ تحقیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو سب مذاہب کے تمام لوگ ایمان لے آویں گے۔ وغیرہ سو اس کے دو جواب ہیں۔

اولاً وہی پہلی بات کہ مولوی احمد علی صاحب نے جو آپ سے جواب طلب کیا اس بارہ میں کہ آپ ثابت کریں خروج دجال کے خاص زمانہ میں کفار کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دعوت اسلام کریں گے اور اس مخصوص وقت میں ان سے عنداللہ ایمان قبول ہونا کسی نص شرعی سے بتلا دیں۔ کیونکہ عام کے وجود سے خاص کا موجود ہونا ضروری نہیں۔ مثلاً حیوان کے موجود ہونے کو ناطق کا موجود ہونا ضروری و لازم نہیں ہے۔ نہ یہ کہ اس خاص وقت کے اندر قبولیت ایمان کی بابت ثبوت دینے سے پہلو بدل کر دوسرے اوقات غیر بحث شدہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے

٣٨

صفحہ ٤١٥

دعوت اسلام کرنے کی بابت کوئی سند پیش کریں جو کہ قادیانی صاحب کے زمانہ سے مطابق نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے زعم کے موافق یہ زمانہ دجال موعود کے فتنہ کا ہے۔ جیسے کہ حمامۃ ص ٤٤ کے حاشیہ اور دیگر مقامات میں مذکور ہے یا یہ کہ مؤمنین سابقین کے مقبول الایمان ہونے پر کفار کے ایمان کی قبولیت قیاس کر کے سنادیں۔

ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا
سخن کہیے تو سمجھ کر کے بولے
ترازو عقل کی پہلے تو تولے

ثانیاً بقول مشہور نظم سعدیؒ ۔

تو بر اوج فلک چہ دانی چیست
چون ندانی کہ در سرائے تو کیست

یہ روایات جن کو آپ نے حوالہ قلم کیا ذرا حمامہ کے اندر بھی دیکھئے۔ قادیانی صاحب کب باور کرتے ہیں اور جب قادیانی صاحب نے ان روایات کو قبول نہ کیا تو مجیب صاحب آپ کا اس عبارت کے پیش کرنے سے مدعا تو کیا ثابت ہوتا۔ آپ کو اور ندامت کھینچنا پڑ گیا۔ کیونکہ یہ روایات دو حال سے خالی نہیں یا یہ کہ آپ کے نزدیک غلط ہیں تو آپ کا ان روایات کے موافق خود تمسک اپنے عقیدہ کی صحت کا غلط ہوا۔ اس لئے کہ جو شخص کسی غلط بات سے اپنے عقیدہ کے موافقت بتلا کر اس کو تمسک سمجھے وہ محض غلطی میں گرفتار ہے اور یا یہ کہ آپ کے نزدیک یہ روایت معتبر نہیں تو نتیجہ یہ ٹھہرا کہ قادیانی صاحب نے جو اپنے دعویٰ مسیحیت کی بابت لکھا وہ سب غلط ہے اور اس کا آپ کے اوپر اظہار مقصود ہے۔ کیونکہ حضرت ابی ہریرہؓ کی روایت سے جو قول حافظ کا منقول ہے اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”تقع الامنۃ“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایسا امن واقع ہوگا کہ شتر کے ساتھ شیر چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور بیضاوی کے قول میں یہ بیان ہوا ”ولا یبقی احد من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ“ یعنی اہل کتاب میں سے کوئی بھی حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے بغیر نہ رہے گا۔ چنانچہ قادیانی صاحب نے جب دیکھا کہ ان روایات کو اگر مان لیا جاوے تو اپنے موعود مسیح ہونے کا دعویٰ صریح غلط پڑتا ہے۔ لہٰذا ان روایتوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

٣٩

صفحہ ٤١٧

(حمامة البشریٰ ص ٤٦، خزائن ج ٧ ص ٢٣٩) پر ہے : ” ثم اذا نظرنا نظرا اخرى تأملنا في قولهم وعقيدتهم واتفاق ندوتهم على ان الموجودين زمان نزول المسيح يدخلون في دين الاسلام كلهم ولا تبقى نفس واحدة منهم منكرة للاسلام وتهلك الملل كلها الا اسلام فما وجدنا هذه العقيدة موافقة لتعليم القرآن بل وجدناها مخالفة لقول رب العالمين فان القرآن يعلم بتعليم واضح ويشهد بصوت عال على ان اليهود وانصارى يبقون الى يوم القيمة كما قال عزوجل واغرينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيامة ...... واعلم ان حديث هلاك الملل صحيح ولكن اخطاء العلماء في فهمه وما فهموا من هلاك اهل الاديان فهو ليس بصحيح بل المعنى الصحيح هو الذى يشير اليه القرآن في آية هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله فقد اشار فى هذه الآية على غلبه دين الاسلام على كل مذهب ودين وانت تعلم ان ديناً اذا صار مغلوباً مقهوراً فهو نوع من هلاك اهله بسلطان مبين “

(حمامة البشریٰ ص ٤٧، خزائن ج ٧ ص ٢٤٠) پر ہے : ” واما ماروى في البخاري عن ابي هريرة فى هذا الباب فلا تحسبه شيئاً يتوجه اليه وعندنا كتاب الله “

(حمامة البشریٰ ص ٤٧، ٤٨، خزائن ج ٧ ص ٢٤١) پر ہے : ”قد اختلف اهل التفسير في مرجع ضمير به فقال بعضهم ان هذا الضمير الذى يوجد في آية ليؤمنن به راجع الى نبينا ﷺ وهذا ارجح الاقوال وقال بعضهم انه راجع الى القرآن وقال بعضهم انه راجع الى الله تعالى وقيل انه راجع الى عيسى وهذا قول ضعيف ما التفت اليه احد من المحققين “ پھر جب ہم نے دیکھا نظر ثانی کر کے اور تامل کیا درمیان ان کے قول اور عقیدہ اور اتفاق ان کی ہم کلامی کے اس پر کہ تحقیق جو لوگ موجود ہوں گے نزول مسیح کے وقت میں وہ کل دین اسلام کے اندر داخل ہو جائیں گے اور ایسا کوئی ایک بھی ان میں سے نہ بچے گا کہ اسلام کا منکر ہوے اور تمام ان کے مذاہب جز اسلام کے ہلاک ہو جاویں گے۔ سو ہم نے اس عقیدہ کو تعلیم قرآن کے موافق نہیں پایا۔ بلکہ ہم نے اس کو رب العالمین کے قول سے مخالف پایا۔ کیونکہ قرآن واضح تعلیم کے ساتھ سکھلاتا اور بلند آواز کے ساتھ ٤٠

اس پر گواہی دیتا ہے کہ البتہ یہود اور نصاریٰ باقی رہ نے کہ ہم نے خیال ڈال دیا ہے۔ ان کے آپس میں اور معلوم ہوئے کہ البتہ حدیث مذاہب کے ہلاک ہ میں غلطی کی اور جو کچھ وہ سمجھے اہل ادیان کے ہلاک کی ہیں کہ ان کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے۔ درمیان بھیجا ہدایت اور دین حق کے ساتھ تا کہ اس کو غالب ک آیت میں دین اسلام کا غلبہ ہر ایک مذہب اور د مغلوب اور پست ہوا تو وہ ایک قسم کی ہلاکت اس ص ٤٧) پر ہے : ” لیکن جو بخاری میں ابی ہریرہؓ سے ایسی چیز مت گمان کر کہ اس کی طرف توجہ کی جاوے ص ٤٧، ٤٨ میں ہے کہ البتہ ان اہل تفسیر نے یہ ب میں سے کسی نے کہا کہ تحقیق یہ ضمیر جو کہ پائی جاتی ہ ہے۔ ہمارے نبی ﷺ کی طرف اور یہ قول نہایت البتہ قرآن کی طرف پڑتی ہے اور کہا گیا کہ البتہ وہ کہ اس کی جانب کوئی محققین سے نہیں متوجہ ہوا۔

لیجیے! مولانا آپ جو قادیانی کے ولی والجماعت کے اقوال سے دلیل لائے تھے اور ا ”و ان من اهل الكتاب ليؤمنن به“ م صاحب نے قبول نہیں کیا۔ بلکہ ان پر جرح کر ک مولوی احمد علی صاحب نے قادیانی صاحب کے نے رقیمۃ الاخلاص میں جو کچھ آپ کی خدمت اور آپ کے توجیہات قلت تدبر سے یا مرزا د حدیث تحریر فرمائی ہے کہ ”لا يزال طائفة من ولا يضرهم من خالفهم حتى تاتيهم اہل حق کا گروہ اللہ تعالیٰ کا بول بالا کرنے کے

صفحہ ٤١٧

اس پر گواہی دیتا ہے کہ البتہ یہود اور نصاریٰ باقی رہیں گے۔ قیامت کے دن تک فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ ہم نے خیال ڈال دیا ہے۔ ان کے آپس میں عداوت اور بغض کا قیامت کے دن تک ایضاً اور معلوم ہوا کہ البتہ حدیث مذاہب کے ہلاک ہونے کی صحیح ہے۔ لیکن علماء نے اس کے سمجھنے میں غلطی کی اور جو کچھ وہ سمجھے اہل ادیان کے ہلاک کی بابت سو وہ صحیح نہیں ہے۔ بلکہ صحیح معنی وہ ایسے ہیں کہ ان کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے۔ درمیان اس آیت کے کہ خدا وہ ہے جس نے اپنا رسول بھیجا ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کردے ہر ایک دین پر۔ پس البتہ اشارہ کیا اس آیت میں دین اسلام کا غلبہ ہر ایک مذہب اور دین پر اور تو جانتا ہے کہ بیشک کوئی دین جب مغلوب اور پست ہوا تو وہ ایک قسم کی ہلاکت اس دین والوں کی ہے روشن دلیل سے۔ (ایضاً ص ٤٧) پر ہے: ”لیکن جو بخاری میں ابی ہریرہؓ سے اس باب میں روایت کیا گیا ہے۔ پس تو اس کو ایسی چیز مت گمان کر کہ اس کی طرف توجہ کی جاوے۔ حالانکہ ہمارے پاس کتاب اللہ ہے۔ ایضاً ص ٤٧، ٤٨ میں ہے کہ البتہ ان اہل تفسیر نے بہ کے ضمیر کے مرجع میں اختلاف کیا ہے۔ پس ان میں سے کسی نے کہا کہ تحقیق یہ ضمیر جو کہ پائی جاتی ہے درمیان آیت ”لیؤمنن بہ“ کی پھرتی ہے۔ ہمارے نبیﷺ کی طرف اور یہ قول نہایت زبردست ہے اور ان میں سے بعضے نے کہا کہ وہ البتہ قرآن کی طرف پھرتی ہے اور کہا گیا کہ البتہ وہ عیسیٰ کی طرف پھرتی ہے اور یہ ایسا کمزور قول ہے کہ اس کی جانب کوئی محققین سے نہیں متوجہ ہوا۔

لیجئے! مولانا آپ جو قادیانی کے دلی حامی بن کر ان کی حمایت میں علمائے اہل سنت والجماعت کے اقوال سے دلیل لائے تھے اور اس مقام پر اور نیز جو کچھ اگلی سطروں میں آیت ”وان من اهل الکتاب ليؤمنن بہ“ سے جو آپ تمسک پکڑتے ہیں خود آپ کے مرشد صاحب نے قبول نہیں کیا۔ بلکہ ان پر جرح کر دی فرمائیے اب بھی آپ کو معلوم ہوا کہ نہیں کہ مولوی احمد علی صاحب نے قادیانی صاحب کے باب میں جو کچھ اعتراض کیا اور اس راقم الحروف نے رقیمۃ الاخلاص میں جو کچھ آپ کی خدمت میں گذارش کیا وہ واقعی درست اور بجائے خود حق ہیں اور آپ کے توجیہات قلت تدبر سے یا مرزائی مسلک سے باطل ہے۔ اب آگے جو آپ نے حدیث تحریر فرمائی ہے کہ ”لا يزال طائفة من امتى يقاتلون على امر الله قاهرين لعدوہم ولا يضرهم من خالفهم حتى تاتيهم الساعة“ بجز اس کے نہیں کہ امت محمدیہ میں سے اہل حق کا گروہ اللہ تعالیٰ کا بول بالا کرنے کے لئے مخالفین پر ہمیشہ مقاتلہ کے ساتھ غالب رہے گا

٤١

صفحہ ٤١٨

اور قیامت کے آنے تک ان اہل حق کے دین میں مخالفین اسلام رخنہ انداز نہیں ہو سکتے ہیں۔ سو اس کو کب لازم ہے کہ دجال موعود کے زمانہ میں کفار اسلام کو قبول کر لیویں گے اور ہر ایک مقاتلہ کب کہ اسلام کے اندر کفار کو داخل ہی کرنے کے واسطے ہو۔ امام مہدی صاحب کے معرفت سے ہو خواہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معرفت سے اگر یہ امر لازم یا ضروری ہوتا تو مقہورین ومخالفین نہ رہتے۔ جن کا وجود قاہرین اور مخالف سے ظاہر ہے۔ ہاں البتہ اہل حق جب مقاتلہ علی امر اللہ کریں تو بے شک اللہ تعالیٰ کا بول بالا ہی کرنے کے لئے ہوگا اور ان کو فی سبیل اللہ سعی کا اجر برابر ملتا رہے گا۔ جیسے کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ’’ ومن یعمل من الصالحات وھو مؤمن فلا کفران لسعیہ وانا لہ کاتبون “ سو اس بارہ میں بحث ہی واقع نہیں ہوئی ہے چنانچہ سابقاً جتلایا گیا اور یہاں بھی واضح کیا جاتا ہے کہ اے مولانا آپ اپنے قیاس کو تو بالائے طاق رکھئے۔ کسی نص قرآنی وحدیث رسول ربانی ﷺ سے شہادت پیش کیجئے کہ طلوع الشمس من مغربھا اور خروج دابۃ الارض اور عین فتنہ دجال کے زمانہ میں کفار سے ایمان مقبول ہوگا۔ لیکن اس کا ثبوت اگر آپ کے پاس ہوتا تو پیش ہی کیوں نہ کرتے۔ کس لئے غیر مبحث باتوں کو دلیل میں لاتے۔ کیونکہ اگر مولوی احمد علی صاحب کا اعتراض اس طور پر ہوتا جس میں کہا جاتا کہ ظہور پر آیات ثلاث مذکورہ سے کل یا بعض کے اہل اسلام صلحاء اور مقبول الایمان قانعین علی امر اللہ کا ایمان ضائع ہو جاوے گا یا ان کے لئے مساعی جمیل پر کچھ اجر عنداللہ مترتب نہ ہوگا یا یوں کہا جاتا کہ فتنہ دجال کے زمانہ سے لے کر پھر اگر چہ دجال مقتول ہوچکے۔ خواہ زمانہ مہدی علیہ السلام کا ہو۔ خواہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عہد کبھی کسی کافر کا ایمان لانا قبول نہ ہوگا۔ اگرچہ ہنوز دابۃ الارض موصوف کا ظہور اور طلوع الشمس من مغربھا کا وقوع نہ ہوا ہو تو البتہ مولوی احمد علی صاحب کا اعتراض جو قادیانی کے بابت ہوا ہے غلط رہتا اور جمہور علماء اسلام کے مسلمات سے مخالف ٹھہرتا اس صورت میں آپ کا جواب بوئے صداقت رکھتا لیکن جب کہ آپ کا جواب بحث شدہ امر سے خارج ہے اور اس بات کے اوپر کہ زمانہ میں دجال موعود کے کفار کا ایمان مقبول ہوگا۔ قرآن وحدیث سے کوئی نص آپ نہیں لا سکتے۔ وغیرہ وغیرہ تو جتنے کچھ مقاصد آپ کے اور قادیانی صاحب کے مسلمات پر واقع ہیں۔ سب کے سب قائم وثابت ہیں اور مرزا قادیانی کے توابع کا زمرہ مع اپنے معلم قادیانی کے باطل عقیدہ پر مصر ہے۔ اے مولانا کیا آپ اس بات کو باور نہیں کر سکتے کہ بعض آیات دوسری بعض آیات کی تفسیر بھی ہوتی ہیں اور بعض احادیث کی توضیح بھی کرتی ہیں۔ پس کون سا محال لازم ہے۔

٤٢

صفحہ ٤١٩

اگر حضرت ابی ہریرہؓ کی دونوں حدیثیں جن کے ساتھ بحث واقع ہوئی اور آیت ”يوم يأتی بعض آيات ربك لا ينفع نفساً ايمانها لم تكن أمنت من قبل اوكسبت فى ايمانها خيراً“ اور آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به“ باہم اس طور سے موافق کی جاویں کہ طلوع الشمس من مغربہا اور خروج دابۃ الارض کے ہونے پر کفار کے حق میں ایمان کی محرومی آئندہ ہمیشہ کے لئے ہے اور فتنہ دجال کے وقت میں ایمان سے کفار کے لئے محرومی معین بوقت خاص یعنی جب ہی تک رہی کہ دجال اپنے خروج کے بعد قتل کیا جاوے اور کفار اس کو مانے ہوئے ہویں۔ کیونکہ آیت ”واذا وقع القول عليهم اخرجنا لهم دابة الارض“ کے بموجب ظاہر ہے کہ موعودہ دابۃ الارض کا ظہور کفار پر وعید الٰہی لازم ہوچکنے کے بعد ہوگا اور اپنی تحریرات میں حسب آیت ”يوم يأتی بعض آيات ربك“ کے آپ مان ہی چکے ہیں کہ طلوع الشمس من مغربہا کے واقع ہونے پر کبھی کفار کا ایمان قبول نہیں ہونے کا اور عبداللہ ابن عمرو کی روایت سے جو صحیح مسلم کے اندر ہے کہ کہا ”سمعت رسول اللہ ﷺ يقول اوّل الايات خروجاً“ یعنی دلالت یقینی کے ساتھ قرب قیامت پر ”طلوع الشمس من مغربها وخروج الدابة على الناس ضحى وايهما كانت قبل صاحبها فالاخرى علىٰ اثرها قريباً“ سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے ہوئے ازروئے نکلنے کے پہلے نشانیوں کے آفتاب کا نکلنا اس کے چھپنے کی جگہ سے ہے اور دابہ کا لوگوں کے سامنے چاشت کے وقت نکلنا اور جونشانی دونوں میں سے اپنے ساتھ والی کے پہلے ہوگی تو دوسری اس کے قدموں پر قریب ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ علم اس بات کا ان دونوں میں پہلے کون سی نشانی واقع ہوگی۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک ہے۔ پس اگر چہ ایسے وقت میں بموجب حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث کے جیسے مولوی احمد علی صاحب نے پیش کیا۔ کفار ایمان لاویں گے پر نفع نہ دے گا اور بروز قیامت وہ ایسے گروہ میں سے ہوں گے جو بیان ہوا۔ ”وقال الرسول يا رب ان قومى اتخذوا هذا القرآن مهجورا“ پس اس صورت میں جیسا کفار کا ایمان ہوا ویسی ہی رسول کی ان پر گواہی ہوئی اور حسب حدیث حضرت ابوہریرہؓ ”والی ثلث اذ اخرجن“ کے کفار ایسے فاسق بنے رہیں جیسا کہ سورۂ یونس والی آیت سے گذشتہ مقام پر کفار کی حالت راقم الحروف نے بیان کی۔ یہاں تک کہ ان کو موت کی غرغرہ کی حالت پہنچ جاوے اور ”یروا العذاب“ کی کیفیت میں ہوتے ہوئے ”مثل فرعون“ کے اخیر حالت میں ایمان لے آویں۔ لیکن قبول نہ ہووے۔ لہٰذا یہ فریق بھی ٤٣

صفحہ ٤٢١

قساوت قلبی کے ساتھ فریق اوّل کے قسم سے بدنصیبی میں گرفتار ہوا اور جب فتنہ دجال کا وقت نکل گیا اور کفار نے فسق کو طلوع الشمس من مغربہا اور خروج دابہ سے پہلے ترک کیا اور سچے دل سے ایمان لائے تو البتہ اسلام کے اندر داخل ہونے کے لائق ہوئے۔ اس صورت میں ہر آیت قرآنی اور جملہ روایات احادیث پیش کردہ باہم متفق ہیں۔ اے مولانا ہر سخن وقتے ہر نکتہ مکانے دارد۔

” خذ منی ولو علیٰ رغم انف قادیانی ، والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ “

تمت

بسم اللہ الرحمن الرحیم کلام سعداللہ لدھیانویؒ

یا رب نہ غرور خوش بیانی پر ہے کچھ فخر نہ دل میں نکتہ دانی پر ہے
موجود جو کچھ ہے سب ہے تیری بخشش جو آس ہے تیری مہربانی پر ہے
یہ آنکھ جو فیض آسمانی پر ہو امید خدا کی مہربانی پر ہو
کاغذ کا یہ صفحہ ہو سپر میرے لئے خامہ میرا حربہ قادیانی پر ہو

دجال قادیانی کی فضیحت اور اس کے چیلوں کو نصیحت

سعدی سے خفا نہ قادیانی ہونا دور از راہ بغض و بدگمانی ہونا
سچ کہتا ہوں سن کے آگ مت بن ظالم لازم تجھے شرم سے ہے پانی ہونا
جفار ہے یا تو قادیانی رمال مدت سے سمجھ چکے ہیں تیری ہم چال
یہ علم ہے روسیاہ تجھ کو کرتا دشنام ہمیں نہ دے مثیل دجال
قادیانی رافضی بے پیر ہے کفر اس کی آج کل جاگیر ہے
یوں صحابے کا محقر ہے خبیث ہے فقط بکواس بانی حدیث
اس نے مشرک کر دیئے سارے سلف ہائے کیا پیدا ہوا ہے ناخلف
کہتا ہے عیسیٰ کا وہ خلق طیور شرک ہے ذات خدا میں بے قصور
یہ خیال مشرکانہ ہے فقط اور وہ احیاء موتی ہے غلط
مردہ زندہ ہو نہیں سکتا کبھی ہیں غلط بیہودہ تفسیریں سبھی
ابن مریم کو چڑھایا دار پر جو مناسب ہو وہ اس مکار پر
کچھ یہودی بھی ہے گر کچھ رافضی کچھ ہے نصرانی بطور عارضی
قائل الوہیت عیسیٰ ہوا حامی تثلیث چوں ترسا ہوا

٤٤

تا کہ الوہیت کا لے خود بھی مقام رنگ چوں گرگٹ بدلنا دمبدم
خارجی بھی ہے کہ مہدی بن گیا گاہ محدث گاہ مجدد بن گیا
مہدی و عیسیٰ سے کیا ہونا ملول اس کے سودے کی شکایت ہے درست
بدمعاش اب نیک از حد بن گئے عیسیٰ دوران بنے دجال ہیں
مدعی مسند پیغمبری مرسل یزداں مریدوں کا ہے یہ
قادیان کو خود بناتا ہے دمشق ہیں یزیدی طبع لوگ اور خود یزید
یہ خبر ہے سرور عالم نے دی جب دوبارہ اس جہان پر آئیں گے
قادیانی فتنہ گر کہتا ہے یوں مجھ پے وحی آتی ہے مثل انبیاء
حق سے جو حکم انبیاء کو آئے ہیں لیکن اس عاجز کی پیشین گوئیاں
مرگ عبداللہ آتھم کا فساد قادیانی کی تباہی کر گئے
لیکن یہ بے شرم باز آتا نہیں مارا اس پر میں نے اک ثاقب شہاب
اور گیڈر نامہ اک شائع کیا لیکن از مرزا صدائے برنخواست
اور پنجابی میں دو سی حرفیاں جب ہوا رولے کا ہنگامہ بپا
صفحہ ٤٢١
تا کہ اہمیت کمالے خود بھی مقام کس قدر ظالم ہوا ہے بد لگام
رنگ چوں گرگٹ بدلتا دمبدم بھانڈ بھی دنیا میں ہوں گے ایسے کم
خارجی بھی ہے کہ مہدی بن گیا ذات کا چنگیز خانی میرزا
گاہ محدث گاہ مجدد بن گیا نیچری کا اب مقلد بن گیا
مہدی و عیسیٰ سے کیا ہونا ملول بن گیا دجال خود احمد رسول
اس کے سودے کی شکایت ہے درست شعر دو موزوں کئے ہیں خوب چست
بدمعاش اب نیک از حد بن گئے بو مسلم آج احمد بن گئے
عیسیٰ دوران بنے دجال ہیں ہر طرف مارے انہوں نے جال ہیں
مدعی مسند پیغمبری اصل میں دجال ہے یہ نیچری
مرسل یزداں مریدوں کا ہے یہ دشمن جانی سعیدوں کا ہے یہ
قادیان کو خود بتاتا ہے دمشق ہے ریاست قادیان کا دل میں عشق
ہیں یزیدی طبع لوگ اور خود یزید دشمن جان حسین و بو سعید
یہ خبر ہے سرور عالم نے دی قاتل دجال ہیں عیسیٰ نبی
جب دوبارہ اس جہان پر آئیں گے دین کی خدمت بجا پھر لائیں گے
قادیانی فتنہ گر کہتا ہے یوں میں وہی عیسیٰ نبی اللہ ہوں
مجھ پہ وحی آتی ہے مثل انبیاء وحی میں میری نہیں دخل خطا
حق سے جو حکم انبیاء کو آئے ہیں انبیاء نے ان میں دھوکے کھائے ہیں
لیکن اس عاجز کی پیشین گوئیاں ہیں نکلتی سر بسر حسب بیان
مرگ عبداللہ آتھم کا فساد اور وہ سلطان کا جینا بامراد
قادیانی کی ہنسائی کر گئے خوب روشن روسیاہی کر گئے
لیکن یہ بے شرم باز آتا نہیں اپنے دعووں سے شرماتا نہیں
مارا اس پر میں نے اک ثاقب شہاب آج تک اس سے رہا یہ لاجواب
اور گیدڑ نامہ اک شائع کیا اشتہار اس کی شغالی کا دیا
لیکن از مرزا صدائے برنخواست شد مسلم کان مثال دی بجاست
اور پنجابی میں سی حرفیاں جس میں دجالی کا تھا اس کے بیاں
جب ہوا رولے کا ہنگامہ بپا اتہام قادیانی بھی چھپا

٤٥

صفحہ ٤٢٣
آتھم وسلطان کا جو قصہ ہوا نظم پنجابی میں کچھ حصہ ہوا
اس میں حقوق چھپی دجالیاں آریو پوپو کی جو تھی رمالیاں
وہ ستمبر کی چھٹی کے اشتہار پھر وہ اکتوبر میں ہشتم کی پکار
قادیانی سخت کھسیا نہ ہوا رنج میں غصے سے دیوانہ ہوا
بادہ گوئی پر دلیری کی بہت تھا تو گیدڑ لیکن شیری کی بہت
گالیاں لکھ لکھ کے بھیجیں بر ملا حامد واقبال کا بھی منہ چلا
ایک ہی تف سن کے حامد بچ گیا اور بد اقبال نے پیچھا دیا
گرچہ مسکین یہ اب اک اور ہے جس کا مسکن غالباً سنور ہے
نام سے معلوم ہوتا ہے وہی الغرض چیلا ہے اک کوئی سہی
دل میں سازش آریہ سے ہے اسے ہو گئی ہے ہضم ان کی قے اسے
رافضی کی روح آئی دانہ کہا ہے تناسخ اعتقاد آریا
بن کے اس جاہل نے شاعر کیا لیا قادیانی کا اس پر کہا لیا
ہندو ہندو کو بھی کہتا نابلد کہا گیا یوں پائے ہندو بے خرد
کچھ نہیں چیلے گرو کو آگہی بے محل تشدید ہے اک الٰہی
منع یا تشدید لایا بے شعور قادیانی جس طرح لفظ غیور
گوست بنیا بولتا ہے جائے گوشت یاجولاہا دوست کو کہتا ہے دوشت
تہمت تقلید شخصی دی مجھے طنز ہندوزادہ کہہ کر کے مجھے
پائے جامہ دھوتی مگزی ہینگ وال دیکھئے رائیں کی ہے کیا بول چال
ہجو گوئی کا لگایا اتہام کام جو مرزائیوں کا ہے مدام
میں حقیقت اپنی کرتا ہوں عیاں سنئے گوشِ دل سے یہ سچا بیاں
میں میرے ماں باپ ہندو تھے سبھی میں نے پائی کفر سے آزادگی
رحمت حق نے نکالا کفر سے بن کے ہادی دور ڈالا کفر سے
بحرایمان میں شناور کر دیا تھا ضعیف اس نے تناور کر دیا
بحر ایمان میں ہوا گھر سے غریب نیک بختوں نے کیا مجھ کو قریب
میں تھا عائل مجھ کو حق نے زر دیا سالک راہ ہدایت کر دیا
خوش لباس کفر سے چھوٹا بدن جامہ شرعی ہوا ملبوس تن

٤٦

عقل کی میزان عطاء کی پھر مجھے
پاک کھانے بخشے کھانے کے لئے
اہلِ عزت بن گئے سب میرے دوست
میرا دل اسلام پر قائم کیا
اہلِ بدعت سے کیا بیزار دل
صالحوں سے دل میں الفت دی مجھے
اولیاء رحمن کے بندہ جو ہیں
ہیں جو شیطان اولیاء شیطان کے
وہ کہیں اس کو تعصب یا حسد
میرے مولا تو صحیح ادراک دے
جو خطا نسیان ہو تو کر دے معاف
نوکری اچھی ملی عزت ملی
اور جو حاجت ہو یارب کر عطاء
میں نہ منشی ہوں نہ کوئی مولوی
وآنچہ از افضال رب اکرم ست
برزبان ست آنچہ ازالقائے حق
ورنہ میں کیا اور میری سعی کیا
دور رکھے حق غرور وکبر سے
لاتزغ یا رب قلبی شد دعا
حق نے جب بیٹے کو مؤمن کر دیا
قصہ آزر بہت مشہور ہے
انت ربی انت حسبی انت نور
بالکے دجال کے اوپر جفاہ
اس سے دنیا میں نہیں ہے عیب کچھ
حیف ہے الغوازادہ ہو جو
کچھ بھی شرمندہ نہ ہو وہ بدزبان

٤٧

صفحہ ٤٢٣
عقل کی میزان عطاء کی پھر مجھے
دے نہ دھوکا تا کوئی کافر مجھے
پاک کھانے بخشے کھانے کے لئے
دال ہیں جو چیز پر ساتھی دے
اہل عزت بن گئے سب میرے دوست
ایں ہمہ فضل وعطاء لطف اوست
میرا دل اسلام پر قائم کیا
اور عقیدہ اہل سنت کا دیا
اہل بدعت سے کیا بیزار دل
راہ سنت میں ہوا بیدار دل
صالحوں سے دل میں الفت دی مجھے
دی نہ صحبت اہل بدعت کی مجھے
اولیاء رحمن کے بندہ جو ہیں
جان و دل سے خاک پا ان کا ہوں میں
ہیں جو شیطان اولیاء شیطان کے
سخت بغض وکینہ ہے ان سے مجھے
وہ کہیں اس کو تعصب یا حسد
تا بہ مقدور ان کو میں کرتا ہوں رد
میرے مولا تو صحیح ادراک دے
سعى مشکور اور نیت پاک دے
جو خطائیاں ہو تو کر دے معاف
اہل ایمان سے رہوں میں سینہ صاف
نوکری اچھی ملی عزت ملی
مل گئیں ساری مرادات دلی
اور جو حاجت ہو یارب کر عطاء
بے نہایت ہے تیری سب پر عطاء
میں نہ منشی ہوں نہ کوئی مولوی
تیری رحمت سے ملی ہمت قوی
وانچہ از افضال رب اکرم ست
علم الانسان مالم یعلم ست
بر زبان ست آنچه از القائے حق
شد ہمہ تحدیث نعمہائے حق
ورنہ میں کیا اور میری سعی کیا
رحمت ربی کا ہے سب آسرا
دور رکھے حق غرور وتکبر سے
خود پسندی میں نہ عاجز دل پھنسے
لا تزغ یا رب قلبی شد دعا
صبر وتقویٰ دارم از حق مدعا
حق نے جب بیٹے کو مؤمن کر دیا
کیا ضرر دے کفر اسے ماں باپ کا
قصہ آزر بہت مشہور ہے
اور ابی طالب مذکور ہے
انت ربی انت حسبی انت نور
سیدی لا تحزنی یوم النشور
بالکے دجال کے اوپر جفاء
مجھ پہ ہندو زادگی کا طعن کیا
اس سے دنیا میں نہیں ہے عیب کچھ
تو بتا دے کہ کہیں ہے عیب کچھ
حیف ہے بغوا زادہ ہو جو
یوں نسب میں اپنی افتادہ ہو جو
کچھ بھی شرمندہ نہ ہو وہ بدزبان
بلکہ دے لوگوں کو الٹی گالیاں

٤٧

صفحہ ٤٤٤
غور کر اس میں یہ کیا انصاف ہے گالیاں خود شیوہ اجلاف ہے
ظاہری اعمال سے کیا بن سکے ہوں عقائد ہی اگر کفار کے
سب عمل اسلام کے کرتا قبول لیکن بنتا خود نبی احمد رسول
لفظ جزئی سے اسے پھر ٹالنا کفر کو درپردہ اپنے پالنا
دعویٰ میں ہوا انبیاء سے ہمسری بلکہ ان سے بھی دکھانا برتری
گر نہیں یہ کفر پھر ہے کفر کیا کر نہ یوں بدنام نام اولیاء
کس ولی حق نے یہ دعویٰ کیا وحی میں ہوں میں مثال انبیاء
انبیاء کی گو غلط جائے خبر ہے غلط سے پاک یہ عاجز مگر
مخبر صادق نے ہے فرما دیا میں ہوں ختم مرسلین وانبیاء
میری جانب سے اُٹھے صبح شام اس پر اس کی آل پر میرا سلام
بعد میرے اب نبی کوئی نہیں جو کرے دعویٰ ہے جھوٹا بالیقیں
تیس دجالوں کے آنے کی خبر دے گیا وہ ہادی جن و بشر
ہوں گے اپنے زعم میں وہ سب نبی یہ نشانی ہے ہر ایک دجال کی
قادیانی کا ہے صاف اس میں بیاں مدعی ہوں میں رسول غیب داں
ذکر جن کا سورۂ جن کے اخیر غیب کے بارے میں کرتا ہے خبیر
پھر محدث بھی کہاتا ہے وہاں فن دجالی دکھایا ہے وہاں
اہل ایمان جب کہ ایسا حال ہو قادیانی پھر نہ کیوں دجال ہو
گر ہو اس میں شک وہ پڑھتا ہے نماز تم کو دھوکا دیتا ہے یوں حیلہ ساز
اس کے دھوکے میں نہ ہرگز آؤ تم سن کے وہ فتویٰ نہ کچھ گھبراؤ تم
کیا منافق تھے نہ پڑھتے برملا تو رسول اللہ ہے یا مصطفےٰ
کیا نمازیں ساتھ وہ پڑھتے نہ تھے جنگ میں ہمراہ کیا چڑھتے نہ تھے
حق نے فرمایا ہے بیشک تو رسول پر ہے جھوٹوں کی شہادت نا قبول
آڑ میں ایمان کے بے ایمان ہیں یہ ان سے بچ بدخواہ دین وجان ہیں یہ
آؤ اب مرزائیوں عیسائیو! یعنی ان تثلیثیوں کے بھائیو
باز آؤ چھوڑو اس دجال کو جہنم میں ڈالو اس ضال کو
اس سے پہلے کیا مسلمان تھے نہ تم لگ گئی ہے کون سی اب اور دم

٤٨

ہاں یہ سیکھے ہو کہ عیسیٰ مر گیا
نیچری نے یہ سکھایا بیشتر
میں ہوں عیسیٰ اس قدر اعجاز ہے
قادیانی نے فقط اپنے لئے
قادیانی مہدی وعیسیٰ ہے اب
یحیی الموتی کو علم سے
معجزے عیسیٰ کے عجل سامری
پھر کبھی کہتے ہو تھا تنویمی عمل
وحی کو سمجھے یہ ختم الانبیاء
دابہ ہے کیا چیز ہے دجال کیا
ہندوؤں عیسائیوں کا رو بہ
فی الحقیقت اب کسی میں جان نہیں
کس لئے کوئی نئی تصنیف ہو
فتنہ ترسا فساد آر
گر دل بینا ہے کافی ہے نو
بت شکن کا خلعت زیبا ہے خو
خلعت شش پارچہ بخشا مجھ
شوکت اسلام ہے اس میں عیا
پھر ہے سوط اللہ بھی عمدہ کتا
الغرض ایسے رسالے ہیں بہ
حق کی تائیدی مقالے ہیں بہ
اور کچھ حاجت نہیں تحریر ک
کافر ان کو پڑھ کے ایمان لاتے ہ
کفر کی ظلمت میں جو گھیرے ک
تھے جو شبپر چشم دن میں وہ لا
قادیانی کی کتابیں دیکھ ک
صفحہ ٤٤٥
ہاں یہ سیکھے ہو کہ عیسیٰ مر گیا
دست اعداء سے وہ سولی پر گیا
نیچری نے یہ سکھایا بیشتر
قادیانی کا ہے اس میں کیا ہنر
میں ہوں عیسیٰ اس قدر دیوانہ ہے
فی الحقیقت نیچری استاد ہے
قادیانی نے فقط اپنے لئے
مہدی وعیسیٰ کے ہیں دعوے کئے
قادیانی مہدی وعیسیٰ ہے اب
کہتے ہو سید مغل کو ہے غضب
بچہ افتراء کو قلم سے
مہد صدیقہ میں تم رکھنے لگے
معجزے عیسیٰ کے عجل سامری
یوسف نجار کی کاری گری
پھر کبھی کہتے ہو تھا تربی عمل
کشف عیسیٰ میں رہا اکثر خلل
وحی کو سمجھے نہ ختم الانبیاء
قادیانی نے وہ اب ظاہر کیا
دابہ ہے کیا چیز ہے دجال کیا
ہندوؤں عیسائیوں کا رد بہت
چھپ کے شائع ہوچکا ہے حد بہت
فی الحقیقت اب کسی میں جان نہیں
کوئی بسمل سا تڑپتا ہے کہیں
کس لئے کوئی نئی تصنیف ہو
کیوں بھلا بے فائدہ تکلیف ہو
فتنہ ترسا فساد آریا
عالمانِ دین نے رد کر دیا
گر دل بینا ہے کافی ہے نوید
کھل گئے ہیں مذہب ترسا کے بھید
بت شکن کا خلعت زیبا ہے خوب
مذہب ہندو کا مراۃ العیوب
خلعت شش پارچہ بخشا عجیب
ہو سکا ہرگز نہ پھر ہندو مجیب
شوکت اسلام ہے اس میں عیاں
اور بیاں ہیں دین حق کی خوبیاں
پھر ہے سوط اللہ بھی عمدہ کتاب
فتنہ اندر من کا سد باب
الغرض ایسے رسالے ہیں بہت
دین باطل کے ازالے میں بہت
حق کی تائیدی مقالے ہیں بہت
باغ جنت کے قبالے ہیں بہت
اور کچھ حاجت نہیں تحریر کی
طبع میں ہاں چاہئے کچھ زیر کی
کافر ان کو پڑھ کے ایمان لاتے ہیں
دین حق کے جلوے ان میں پاتے ہیں
کفر کی ظلمت میں جو گھبرا گئے
امت ختم رسل میں آگئے
تھے جو شبکور چشم ہیں وہ لاعلاج
ہاں نہیں رکھی ازل سے احتیاج
قادیانی کی کتابیں دیکھ کر
کون کافر آیا راہ راست پر

٤٩

صفحہ ٤٢٧
گر کوئی ہو تو نشان دیجئے کہیں جب نہیں انصاف سے کہہ دو نہیں
بلکہ کچھ دیندار کافر ہوگئے صدق دل سے قادیان میں جو گئے
جس نے مانے ہیں دعاوی اس کے سچ لگ گیا اس کفر کی کرنے وہ پچ
بعض بھولے بھالے احمق پس گئے مثل خر دلدل میں جا کر دھنس گئے
کرتے ہیں تاویل ان اقوال کی کیا حمایت کرتے ہیں دجال کی
مدعی سست اور شاہد چست ہیں کس قدر تحقیق حق میں سست ہیں
کہتے ہیں مرزا کو کافر مت کہو حق کو سوچو مشفق من چپ رہو
بیوقوفی کا ہے ان کے کیا علاج ہم تو سمجھے اس مرض کو لاعلاج
راج پور کے ایک فدوی ہیں کلن قادیانی سے لگائے ہے لگن
دور ہی سے بھیجتے ہیں نذر بھینٹ قادیانی کا رہے خالی نہ پیٹ
بعض جاہل امر دین سے بے خبر کہتے ہیں خذ ما صفا دع ماکدر
قادیانی کے ہیں پیچھے جا رہے ہیں نجاست میں سے حلوا کھا رہے
اور پھر کہتے ہیں ہم محتاط ہیں راہ دین میں جانب اوساط ہیں
یہ نہ سمجھے کھا گئے ناپاک وہ احتیاط اس میں ہے کرتے خاک وہ
قادیانی فتنہ نوزائیدہ ہے کام اس مکار کا پیچیدہ ہے
سب پہ لازم اس کی سرکوبی ہوئی حسب طاقت ہے جو حق نے دی ہوئی
عالم اس کے کفر کو ظاہر کریں عام کی غمخواری اور خاطر کریں
تا کہ اس کے داؤ میں آئیں نہ لوگ پھیلے اس کے کفر و بدعت کا نہ روگ
ہو مہارت جن کو فن شعر میں دین کی تائید چون حسان کریں
نظم میں لکھیں جو ان کا حال ہو جس سے کشف سیرت دجال ہو
چاہیئے لیکن زبان بھی عام فہم مٹ سکیں لوگوں کی جس سے شک و وہم
نظم ایسی نیزہ ہے دجال پر ناگہانی مرگ ہے محتال پر
ہوش اڑ جائیں سنے جب برملا اپنے اسرار خفیہ کا پتا
نیچری بھی اس پر پیٹیں تالیاں واہ مرزا آپ کی رمالیاں
کوچہ و بازار میں ہوں شادیاں وہ کتا دیکھو مسیح قادیاں
راستوں پر ہوں یہ خوش الحانیاں کھل گئی جھوٹے کی بے ایمانیاں

٥٠

قادیانی وائے بر ناکامیاں
قادیانی پر ہیں کیا بیدادیاں
ہر طرف سے جب سنے اس شور کو
شروع بکواس پر باندھی کمر
ایسا بکواسی کوئی احمق نہیں
ہے جو ہامی حاکم نے کل داد
راہ دین میں شاعری بھی ہے ہنر
ہے غرض دجال کی پردہ دری
ہجو گوئی سے اسے کیا واسطہ
کفر صادق ہو چکا دجال سے
ہم جو دیتے ہیں حوالہ دیکھ لو
اب بھلا توضیح کی توضیح کیا
ان کی تاویلات ہیں سب چونچلے
آئینے میں نقش ہے دجال کا
دخل یاں تقلید کا مطلق نہیں
بے سند مانیں نہ کوئی بات ہم
بوحنیفہ شافعی مالک تمام
بو حنیفہ کو نہیں ہم چھوڑتے
ہم وصیت پر ہیں ان کے کاربند
رکھتے ہیں پیش نظر قول امام
جب نہ ہو معلوم کوئی مسئلہ
دیجئے حضرت ازراہ صدق و صفا
جب کہ دل میں ہوتی ہے صادق طلب
اگر نہیں ملتے تو پھر اس سے سہی
جس جگہ اجمال ہے قرآن میں
کچھ معانی میں تردد ہو جہاں
صفحہ ٤٢٧
قادیانی وائے بر ناکامیت برو سلطان زوجہ الہامیت
قادیانی پر ہیں کیا بیدادیاں
ہر طرف سے جب سنے اس شور کو قادیانی سر بسر مبہوت ہو
سر دنی بکواس پر باندھی کمر سب پہ ظاہر ہو کہ ہے جھوٹا فچر
ایسا بکواسی ولی حق نہیں جس کو شرم واتقاء مطلق نہیں
ہے جو ہاجی ہائم فے کل واد منزل شیطان ہے پاپی نامراد
راہ دین میں شاعری بھی ہے ہنر افتخار دین حق ہے سر بسر
ہے غرض دجال کی پردہ دری جس سے ہو اظہار کذب مفتری
ہجو گوئی سے اسے کیا واسطہ ہے فقط تائید دین کا واسطہ
کفر صادق ہو چکا دجال سے بے سند کافر نہیں کہتے اسے
ہم جو دیتے ہیں حوالہ دیکھ لو فتح وتوضیح وازالہ دیکھ لو
اب بھلا توضیح کی توضیح کیا شک رہا کیا جب ازالہ ہوچکا
ان کی تاویلات ہیں سب چوچلے ان میں دعوٰی ہو چکے کھلم کھلے
آئینے میں نقش ہے دجال کا بن کے اندھا ہوگیا تو بالکا
دخل یاں تقلید کا مطلق نہیں مسلک اپنا غیر راہ حق نہیں
بے سند مانیں نہ کوئی بات ہم دل سے ہیں مشتاق تحقیقات ہم
بوحنیفہ شافعی مالک تمام اور احمد ہیں سبھی دین کے امام
بو حنیفہ کو نہیں ہم چھوڑتے فقہ سے ہرگز نہیں منہ موڑتے
ہم وصیت پر ہیں ان کے کاربند ویسے کرتے ہیں طریق ان کا پسند
رکھتے ہیں پیش نظر قول امام فاضربوا اور اترکوا قولی مدام
جب نہ ہو معلوم کوئی مسئلہ عالموں سے پوچھتے ہیں برملا
دیجئے حضرت ازرہ صدق وصفا کوئی آیت یا حدیث مصطفیٰ
جب کہ دل میں ہوتی ہے صادق طلب مدعا بھی مل ہی جاتا جب نہ تب
اگر نہیں اس سے تو پھر اس سے سہی بند کچھ حاجت نہیں اب تک رہی
جس جگہ اجمال ہے قرآن میں شرح ملتی ہے حدیثوں میں ہمیں
کچھ معانی میں تردد ہو جہاں ہے حدیث مصطفےٰ قاضی وہاں

٥١

صفحہ ٤٢٨

غزل

شرح قرآن ہے حدیث مصطفےٰ نور ایمان ہے حدیث مصطفےٰ
مومنوں کے واسطے قرآن کے ساتھ فضل رحمٰن ہے حدیث مصطفےٰ
مصطفےٰ کو مثل قرآن جو ملا وہ میری جان ہے حدیث مصطفےٰ
جنت الفردوس ہے قرآن ہمیں باغ رضوان ہے حدیث مصطفےٰ
بے خزاں رہتے ہیں اس کے فصل و باب کیا گلستان ہے حدیث مصطفےٰ
دین کے بھوکو چلے آؤ ادھر دین کا خوان ہے حدیث مصطفےٰ
حق نے یسرنا کہا قرآن کو کیوں کہ آسان ہے حدیث مصطفےٰ
خوانِ نعمت ہائے قرآن جب بچھے وان نمک دان ہے حدیث مصطفےٰ
مصطفےٰ جو حکم دیں مانو اسے حق کا فرمان ہے حدیث مصطفےٰ
اہل بدعت گر کمی بیشی کریں اس کی میزان ہے حدیث مصطفےٰ
نیچری مرزائیوں پر لا کلام سخت تاوان ہے حدیث مصطفےٰ
بھرو نیچری مرزائیاں تیز برہان ہے حدیث مصطفےٰ
آؤ سعدی سے سنو مرزائیو شکل قرآن ہے حدیث مصطفےٰ

......................................................................

قادیانی کے مریدو بالکو فیصلہ لو ہو گیا اب مت بکو
ہم نے مانا قادیانی کو مسیح آئے گا عیسیٰ سے پہلے جو مسیح
یہ مثیل اس کا ہے گو اصلی نہیں پر تمہارا بند نہ بھی ہو کہیں
اب تو خوش ہو جاؤ جھگڑا طے کرو بس نہ اتنا شور و غل بے جا کرو
لو یہاں اب ختم کرتا ہوں کلام طالبو راہِ ہدایت پر سلام

عبارتِ منصفانہ

"بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذا ھو زاہق ولکم الویل مما تصفون" ہم بھیج مارتے ہیں سچ کو جھوٹ پر پھر وہ اس کا سر پھوڑتا ہے پھر وہ فنا ہوتا ہے اور تم کو خرابی ہے ان باتوں سے جو بناتی ہو بیک۔

"ان اللہ یدافع عن الذین اٰمنوا ان اللہ لا یحب کل خوان کفورا" اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے دغا بازوں کو اٹھاوے گا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آتا کوئی دغا باز ناشکر۔

٥٣

صفحہ ١١٦

مرزا قادیانی اور ان کے حواری مولوی محمد احسن قادیانی نے اپنی سوء اسبیل میں شاگردی سید احمد نیچری کی اختیار کی ہے۔ اگر چہ طرز بیان جدا ہے بقول شخصے ؎

اگر چہ قندیل سخن کو مڑھ دیا تو کیا ہوا
ٹھاٹھ میں تو ہیں وہی اگلے برس کی تیلیاں

سوء اسبیل کے دیکھنے سے جہاں تک خیال کیا جاتا ہے۔ مولوی احمد علی کا اصل اعتراض اٹھا نہیں بلکہ اور مضبوط ہوگیا ہے۔ جب یہ کہہ دیا کہ مرزا قادیانی طلوع الشمس من مغربھا کے حقیقی طور پر ابھی وقوع کے اقراری نہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرلیا کہ نفع ایمان وغیرہ کا قصہ حقیقی وقوع سے متعلق ہے جو قیامت سے قریب واقع ہوگا تو لازمی طور پر مولوی محمد احسن قادیانی کو ماننا پڑے گا کہ حقیقتاً بھی کبھی ہوگا اور لا ینفع نفساً ایمانھا اس وقوع سے متعلق ہوگا جب مرزا قادیانی کا کلام سے مشابہت ہے کہ طلوع الشمس من مغربھا واقع ہوچکا ہے تو ضرور مولوی محمد احسن قادیانی کو ماننا چاہئے کہ ایمان اور توبہ وغیرہ اب غیر نافع ہے۔ جس قدر اب تک معلوم ہوچکا ہے۔ اس سے میں خیال کرتا ہوں کہ عمدہ جواب مولوی محمد احسن قادیانی سے ادا نہیں ہوا۔ یہ رائے صرف میری ہی نہیں ہے بلکہ یہ فیصلہ میرے بڑے بھائی مخدوم جناب حافظ محمد یعقوب خان صاحب کہ جو عرصہ سے مرزا قادیانی کے معتقد ہیں اپنے خط مورخہ ٧ اگست ١٨٩٥ء میں کہ جو منشی محمد حنیف کے نام چھپرے روانہ فرمایا ہے۔ عبارت ذیل تحریر فرماتے ہیں۔ کیوں نہ تحریر فرمائیں کہ ان کو مدنظر طلب حق ہے۔ ”وھو ھذا“

مباحثہ کی کیفیت یہ ہے کہ اوّل تو حافظ محمد شریف خان نے مجھے خبر دی تھی پھر محمد حسین مظلوم نے بہت مفصل کیفیت لکھی۔ پھر دوست محمد خان نے کچھ مختصر خبر دی۔ پھر آپ کی طرف سے کچھ خبریں پہنچی۔ چھپا ہوا مباحثہ پہنچا مجھے آپ کی رائے سے اتفاق ہے۔ کیونکہ میں خیال کرتا ہوں کہ ان کا اصل اعتراض اٹھا نہیں بلکہ اور مضبوط ہوگیا ہے۔ جب یہ کہہ دیا کہ مرزا قادیانی طلوع الشمس من مغربھا کے حقیقی طور پر ابھی وقوع کے اقراری نہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرلیا کہ نفع ایمان وغیرہ قصہ حقیقی وقوع سے متعلق ہے تو لازمی طور پر یہ ماننا پڑے گا کہ حقیقتاً بھی کبھی واقع ہوگا اور ”لا ينفع نفساً ايمانها“ اس وقوع سے متعلق ہوگا اور جس قدر اب تک معلوم ہوچکا ہے اس سے میں خیال کرتا ہوں کہ عمدہ جواب ادا نہیں ہوا۔ ناظرین ہر دو مباحثہ و جواب سوء اسبیل بلکہ خود سوء اسبیل کو ملاحظہ فرما کر معلوم کرسکتے ہیں کہ میری یہ ١٨ اگست ١٨٩٥ء تحریر درست ہے یا نادرست ہے۔ فقط والسلام! دوست محمد خان عفی عنہ

صفحہ ٤٣٠

اس خاکسار نے معرفت مولوی عبدالرشید پانی پتی جو آج کل دہرہ میں رونق افروز ہیں ۔ استفتاء ذریعہ خط جناب قاری ومحدث مولانا حضرت عبدالرحمن صاحب پانی پتی دریافت کیا ۔ جس کا مضمون یہ ہے کہ قادیانی اور ہم لوگوں کے گروہ حنفیہ کے عالموں میں باہمی مباحثہ اس امر میں تھا کہ بعد طلوع الشمس من مغربہا ایمان نفع نہیں دے گا اور خروج دجال دابۃ الارض اور طلوع الشمس من مغربہا کے وقت بھی ایمان لانا نفع نہ دے گا۔ بحکم لا ینفع نفسا ایمانھا کے عالم حنفی بھی فرماتے تھے کہ اس وقت ایمان نفع نہ دے گا اور عالم قادیانی کہتے ہیں کہ ایمان نفع دے گا۔ از راہ عنایت آپ جوابی کارڈ پر جواب مرحمت فرماویں کہ اس وقت ایمان نفع دے گا تو ہر دو حدیث کے کیا معنی ہوں گے اور یہ جواب منشی دوست محمد خان کے پاس مرحمت ہو ۔ فقط والسلام !

الراقم : عبدالرشید عفی عنہ، مورخہ ١٣ اگست ١٨٩٥ء

الجواب ....... مشفق مہربان مولوی عبدالرشید سلمہ

بعد سلام مسنون آنکہ آیت ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن“ ایمان لانا اہل کتاب کا قبل موت کے ثابت ہوتا ہے اور محتضر سب عالم آخرت کو دیکھ لیتا ہے تو اس کا ایمان بعد دیکھنے عذاب کے ہوا اور ایمان بالغیب نہ ہوا اور نافع اور مقبول ایمان بالغیب ہوتا ہے نہ بعد دیکھنے کے جیسا کہ آیت ”قل یوم الفتح لا ینفع الذین کفروا ايمانهم“ میں مراد یوم فتح سے قیامت ہے اور قیامت کے کافروں کا ایمان اور یقین بعد دیکھنے امور آخرت کے ہے وہ نافع نہ ہوگا۔ ایمان ہونے سے نافع ہونا لازم نہیں آتا۔ نافع ایمان اختیاری ہوتا ہے نہ اضطراری اور بعض آیات رب یعنی خروج دجال و طلوع الشمس من مغربہا کے بعد اور خروج دابہ کے بعد اضطراری بعد معائنہ کے ہوگا جو نافع نہیں ہوتا نہ ایمان اختیار اور بالغیب جو مقبول اور نافع ہوتا ہے۔ اگرچہ بعد مشاہدہ ان آیات کے مومنین کی توبہ گناہوں سے مقبول ہو اور جب نفع نہ دیا اور قبول نہ ہوا تو گویا وہ ایمان ہی نہیں ہے۔ پس سب آیتوں اور حدیثوں کی تطبیق خوب ظاہر ہوگئی۔

الراقم: حضرت مولانا عبدالرحمن بقلم مولوی عبدالسلام از پانی پت مورخہ ٥ ربیع الاول سنہ ١٣١٣ھ

٥٢

PDF 432

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

اعلاء الحق الصریح

بتکذیب المسیح

حضرت مولانا محمد اسماعیل علی گڑھیؒ

صفحہ ٤٣٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

تعارف

مرزا قادیانی نے ١٨٩١ء میں فتح اسلام وتوضیح مرام نامی رسائل قلم کئے اور ان کے حواری مولوی محمد احسن امروہی قادیانی نے تائید مرزا میں ”اعلام الناس“ نامی کتاب رقم کی تو علی گڑھ کے مولانا محمد اسماعیل مرحوم نے ان کے رد میں ایک کتاب ”اعلاء الحق الصریح بتکذیب المسیح“ تحریر فرمائی۔ اس کتاب پر مولانا لطف اللہ علی گڑھی، میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی، شیخ حسین بن محسن یمانی، مولانا محمد بشیر سہسوانی، مولانا محمد، مولانا سلامت اللہ جیراجپوری، ملا محمد صدیق پشاوری، مولانا عبدالجبار عمر پوری نے تقاریظ تحریر فرمائیں۔ اس کتاب اور اس پر موجود تقاریظ سے معلوم ہوتا ہے کہ متفقہ فتویٰ تکفیر مرزا کے سامنے آنے سے قبل بھی مذکورہ بزرگ رد قادیانیت میں سرگرم تھے۔

یاد رہے کہ یہ وہی کتاب ہے جس کے متعلق مرزا قادیانی کا کہنا تھا کہ : ” اس میں مولانا اسماعیل نے ان سے یک طرفہ مباہلہ کیا تھا اور اس مباہلے کی وجہ سے مولانا اسماعیل اس کی زندگی میں ہلاک ہو گئے ۔“ جیسا کہ مرزا قادیانی اپنی موت سے ایک سال پہلے شائع ہونے والی کتاب میں لکھتے ہیں: ”الذین باہلوا وماتوا بعد المباہلة منہم الرجل المسمی بالمولوی غلام دستگیر القصوری ومنہم الرجل المسمی بالمولوی چراغ الدین الجمونی ومنہم الرجل المسمی بالمولوی عبدالرحمن محی الدین اللکوکی ومنہم الرجل المسمی بالمولوی اسماعیل علی گرہی“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٦)

اور اسی حقیقت الوحی میں لکھتے ہیں: ” مولوی اسماعیل باشندہ خاص علی گڑھ وہ شخص تھا جو سب سے پہلے عداوت پر کمر بستہ ہوا اور جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ فتح اسلام میں لکھا ہے۔ اس نے لوگوں میں میری نسبت یہ شہرت دی کہ یہ شخص رمل اور نجوم سے پیش گوئیاں بتلاتا ہے اور اس کے پاس آلات نجوم کے ہیں۔ میں نے اس کی نسبت ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ کہا اور خدا تعالیٰ کا عذاب اس کے لئے چاہا۔ جیسا کہ رسالہ فتح اسلام کے لکھنے کے وقت اس کی زندگی میں ہی میں نے یہ شائع کیا تھا اور یہ لکھا تھا۔ ”تعالوا ندع ابناء نا وابناء کم ونساء نا ونساءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتہل فنجعل لعنة اللہ علی الکاذبین“ چنانچہ

٢

صفحہ ٤٣٣

قریباً ایک برس اس مباہلہ پر گزرا ہوگا کہ وہ یک دفعہ کسی ناگہانی بیماری میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا (یعنی مباہلہ مرزا قادیانی نے یک طرفہ کیا تھا۔ نیز فتح اسلام ١٣٠٨ھ میں شائع ہوئی۔ مولوی اسماعیل صاحب شوال ١٣١١ھ مطابق مئی ١٨٩٤ء میں، یعنی مرزا قادیانی کے مزعومہ مباہلہ کے تین سال بعد، فوت ہوئے۔ مرزا قادیانی نے ایک اور تین کا کوئی فرق ملحوظ خاطر نہیں رکھا یا تو وہ حساب میں کمزور تھے، یا جان بوجھ کر غلط بیانی کر رہے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ مباہلہ ہو تو اس کا اثر ایک سال کے اندر ظاہر ہونا چاہئے۔ تین سال کے عرصے کو قریباً ایک سال قرار دینے کا مقصد ناظرین وقارئین کو یہ بتانا تھا کہ فریق مخالف کی موت مہلت مقررہ کے اندر واقع ہوئی ہے۔ یہ بات ہم علی سبیل التنزل لکھ رہے ہیں۔ ورنہ ہمارے نزدیک تو ان دونوں کا مباہلہ انعقاد ہی نہیں ہوا) اور اس نے اپنی کتاب میں جو میرے مقابل پر اور میرے رد میں شائع کی تھی یہ لکھا تھا کہ جاء الحق وزہق الباطل۔ پس خدا نے لوگوں پر ظاہر کر دیا کہ حق کون سا ہے جو قائم رہا اور باطل کون سا تھا جو بھاگ گیا۔ قریباً سولہ برس ہو گئے کہ وہ اس مباہلہ کے بعد فوت ہوا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٢٩، ٣٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٢، ٣٤٣)

(حقیقت الوحی مئی ١٩٠٧ء میں شائع ہوئی۔ اس کی اشاعت سے سولہ برس قبل ١٨٩١ء ہوتا ہے۔ جب کہ مولوی اسماعیل صاحب ١٨٩١ء میں نہیں بلکہ ١٨٩٤ء میں فوت ہوئے اور مولوی اسماعیل کی اعلاء الحق الصریح ٤٤ صفحات پر شائع ہوئی تھی۔ اس کی ایک ایک سطر غور سے پڑھ لیجئے۔ اس میں جاء الحق وزہق الباطل کے الفاظ موجود ہی نہیں ہیں۔ گویا یہ بھی مرزا قادیانی کا جھوٹ ہے) حاشیہ میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”مولوی اسماعیل نے اپنے ایک رسالہ میں میری موت کے لئے بددعا کی تھی۔ پھر بعد اس بددعا کے جلد مر گیا اور اس کی بددعا اسی پر پڑ گئی۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٢)

(اور رسالہ ’اعلاء الحق الصریح بتکذیب مثیل المسیح‘ ١٣٠٩ھ، ١٨٩١ء کا طبع شدہ موجود ہے۔ اس میں کہیں مباہلے کی طرف اشارہ بھی نہیں اور اگر مباہلہ ہوا بھی ہو تو مرزا قادیانی اثر کے لئے ایک سال کی مدت مقرر کرتے تھے۔ جب کہ یہاں رسالہ شائع ہونے اور مولوی اسماعیل صاحب کی وفات کے درمیان دو سال کا وقفہ ہے)

اس دعوٰی کی حقیقت پر بحث کرتے ہوئے مولانا ثناء اللہ امرتسری فرماتے ہیں: ”مرزا قادیانی نے جو اپنا علم کلام ایجاد کیا تھا اس میں ایک طریق استدلال یہ تھا کہ کوئی مخالف مر جاتا تو آپ فوراً اس کی بابت لکھ دیتے کہ ہم سے جھوٹا (پہلے) مر جائے گا۔ چنانچہ وہ جھوٹا تھا۔ اس

٣

صفحہ ٤٣٥

لئے وہ (مجھ مرزا سے پہلے) مر گیا۔ اس لئے وہ جھوٹا تھا اور میں سچا ہوں۔“

مولانا (اسماعیل علی گڑھی) مرحوم اہل حدیث میں بڑے ذی اقتدار عالم اور رئیس تھے۔ مرزا قادیانی نے ١٣٠٨ھ میں دعویٰ مسیحیت کیا تو مرحوم نے فوراً ١٣٠٩ھ میں ان کی تردید میں ایک رسالہ لکھا۔ جس کا نام ہے: ”إعلاء الحق الصریح بتکذیب مثیل المسیح“ اس کتاب کا جواب مرزا قادیانی کی طرف سے ہم نے نہیں دیکھا۔ مولانا محمد اسماعیل علی گڑھی مرحوم شوال ١٣١١ھ مطابق مئی ١٨٩٤ء میں فوت ہوئے۔ رحمۃ اللہ ! یعنی کتاب کی اشاعت کے دو سال بعد مرزا قادیانی نے اپنے جدید علم کلام سے جھٹ لکھ دیا۔ مولوی اسماعیل نے صفائی سے خدا تعالیٰ کے روبرو یہ درخواست کی کہ : ”ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ مر جائے۔ سو خدا نے اس کو بھی اس جہان سے جلد تر رخصت کر دیا۔“

(اشتہار انعامی پانچ سو روپیہ ص ٧)

ہم نے مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ مولوی اسماعیل صاحب کی عبارت کا حوالہ بتائیے۔ مرزا قادیانی نے ثبوت نہ دیا۔ حال ہی میں (یعنی ١٩٢٤ء میں) کسی معترض نے مولانا علی گڑھی کی بابت یہ سوال کیا تو (مرزائیوں کے اخبار) پیغام صلح لاہور (٣ ستمبر ١٩٢٤ء) نے لکھا۔

”رہا مولوی محمد اسماعیل علی گڑھی کا معاملہ یہ صرف آپ جیسے مولویوں کی بددیانتی اور ناخداترسی کا نتیجہ ہے کہ ان کی کتاب کے وہ الفاظ اور وہ بددعا جو ان کی موت کا باعث ہوئی۔ آج ہمارے سامنے نہیں۔ کیونکہ کتاب ابھی زیر طبع تھی کہ مولوی اسماعیل مر گیا۔ اس کی موت کے بعد مولویوں نے اس خیال سے کہ وہ الفاظ مرزا قادیانی کی صداقت کے لئے ایک زبردست گواہ کا کام دیں گے۔ انہیں کتاب سے نکال دیا۔ اصل کتاب کو ایک احمدی، عبداللہ سنوری نے دیکھا تھا۔ جن کی شہادت کی بناء پر مرزا قادیانی نے حقیقت الوحی میں لکھا کہ: ”مولوی اسماعیل نے اپنے ایک رسالہ میں میری موت کے لئے بددعا کی تھی۔ پھر بعد اس بددعا کے جلد مر گیا اور اس کی بددعا اسی پر پڑگئی۔“

(مولانا ثناء اللہ فرماتے ہیں) کوئی قادیانی مسیح کے حواریوں سے پوچھے کہ تمہارے اس بیان کا ثبوت کچھ ہے؟ جس کو تم نے بددیانت مولویوں کی طرف منسوب کر کے اپنی اور اپنے قافلہ سالار کی غلط بیانی کو مٹانا چاہا؟ او ظالمو! کب تک نادانوں کی آنکھوں میں خاک ڈالو گے۔ یہ کتنا جھوٹ ہے جو تم نے لکھا ہے کہ کتاب ابھی زیر طبع تھی کہ مولوی اسماعیل مر گیا؟ ٤

کیا تم سمجھتے ہو کہ مرحوم (مولانا اسماعیل) (امرتسر) چشم خود دیکھ لو۔ اس پر سن طباعت ١٣٠٩ھ موجود نہیں ہے۔ تاہم ١٣٠٩ھ کی مطبوعہ یہ کتاب بہ سنٹرل لائبریری بہاولپور میں اصل کتاب اور عکسی کا اس کی فوٹو کاپی موجود ہے۔ فقیر مرتب ) اور مرحوم (مو ہو تو مرحوم کے صاحبزادہ کی تحریر دیکھ لو۔ یعنی دو سال آدمی نہ تھے۔ علی گڑھ میں عالمانہ اور رئیسانہ حیثیت موتی مسجد کے متولی خاندان سے مرحوم کی تاریخ وفا ظاہر کرنا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے غلط لکھا ہے۔ بال ہو، تو پیش کرو۔ مگر یاد رہے کہ مرزا قادیانی نے ٨ کتاب شائع نہیں ہو سکتی۔“ (ا

الغرض مولانا اسماعیل کی کوئی کتاب ان وفات کے بعد ہوئی ہو۔ نہ کوئی ایسا غیر مطبوعہ مسود مرزا قادیانی یک طرفہ مباہلہ کیا ہو۔

مطبع انصاری دہلی سے باہتمام مولوی ع ہو کر مرزا قادیانی کی تکذیب پر بین شہادت پیش صورت میں قارئین کی نذر کی جا رہی ہے۔ (اس ملاحظہ فرمائیے۔

إعلاء الحق الصريح بتكذيب م

”بسم الله الرحمن الرحيم ونجانا من الغواية والضلالة والفساد النبي الامي وآله الامجاد واصحابه الم اس زمانہ پر شور و شر میں جو ضعفِ دی تذلیل و تضحیک اس کی اعداء دین کر رہے تھے او مشاہدہ و منتظر تھی۔ وہی کیا کم تھی جو ایک اور صدمہ

صفحہ ٤٣٥

کیا تم سمجھتے ہو کہ مرحوم (مولانا اسماعیل) کی کتاب نایاب ہو گئی؟ سنو دفتر اہل حدیث (امرتسر) بچشم خود دیکھ لو۔ اس پر سن طباعت ١٣٠٩ھ لکھا ہے۔ (نہ دفتر اہل حدیث امرتسر تو اب موجود نہیں ہے۔ تاہم ١٣٠٩ھ کی مطبوعہ یہ کتاب جامعہ سلفیہ بنارس کی لائبریری اور اسی طرح سنٹرل لائبریری بہاولپور میں اصل کتاب اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں اس کی فوٹو کاپی موجود ہے۔ فقیر مرتب) اور مرحوم (مولانا اسماعیل علی گڑھی) کی تاریخ وفات درکار ہو تو مرحوم کے صاحبزادہ کی تحریر دیکھ لو۔ یعنی دو سال بعد وفات ہوئی۔ نیز مولانا مرحوم کوئی معمولی آدمی نہ تھے۔ علی گڑھ میں عالمانہ اور رئیسانہ حیثیت رکھتے تھے۔ اب بھی آپ لوگ علی گڑھ جا کر موتی مسجد کے متولی خاندان سے مرحوم کی تاریخ وفات معلوم کر سکتے ہیں۔ مگر اس تحقیق کے بعد یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے غلط لکھا ہے۔ ہاں ١٣٠٩ھ سے پہلے کی کوئی مطبوعہ کتاب ان کی ہو، تو پیش کرو۔ مگر یاد رہے کہ مرزا قادیانی نے ١٣٠٨ھ میں دعویٰ کیا۔ دعویٰ سے پہلے تردیدی کتاب شائع نہیں ہو سکتی۔“

(اخبار اہل حدیث امرتسر مورخہ ١٨؍ ستمبر ١٩٤٢ء ص ٢، ٥)

الغرض مولانا اسماعیل کی کوئی کتاب ایسی موجود نہیں ہے جس کی اشاعت اول ان کی وفات کے بعد ہوئی ہو۔ نہ کوئی ایسا غیر مطبوعہ مسودہ کہیں موجود ہے۔ جس میں مولانا نے بقول مرزا قادیانی یک طرفہ مباہلہ کیا ہو۔

مطبع انصاری دہلی سے باہتمام مولوی عبدالمجید دہلوی، ١٣٠٩ھ میں ٤٤ صفحات پر شائع ہو کر مرزا قادیانی کی تکذیب پر بین شہادت پیش کرنے والی یہ کتاب اعلاء الحق الصریح مکمل صورت میں قارئین کی نذر کی جارہی ہے۔ (اب احتساب قادیانیت کی جلد ہذا میں۔ مرتب!) ملاحظہ فرمائیے۔

(ڈاکٹر بہاء الدین)

اعلاء الحق الصریح بتکذیب مثیل المسیح

”بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠ الحمدللہ الذی ھدانا سبیل الرشاد ونجانا من الغوایۃ والضلالۃ والفساد والصلوٰۃ والسلام علی سیدنا محمد النبی الامی وآلہ الامجاد واصحابہ المتقین“

اس زمانہ پر شور و شر میں جو ضعف و ناتوانی اسلام کو مخالفین کے حملوں سے تھی اور جو تذلیل و تضحیک اس کی اعداء دین کر رہے تھے اور جو پستی اس کو اپنے اعوان و انصار کی قلت سے مشاہدہ و متصور تھی۔ وہی کیا کم تھی جو ایک اور صدمہ اس کو خود اپنے ہی موافق اور مؤید گروہ سے نصیب

٥

PDF 437

ہوا۔ یعنی جو حضرت اس کے حامی و مددگار تھے وہی اس کے تہ و بالا کرنے کا علم ہاتھ میں لے کر کھڑے ہو گئے۔ ایسی حالت میں کیا وہ دل جن میں ذرا بھی محبت اسلام سے ہے اس کے دیکھنے اور سننے سے دردمند نہ ہوں گے کہ آج یہ اسلام خود ان مقدس نما مسلمانوں کی ایسی حرکات کی بدولت جو فی الواقع اضحوکۂ طفلاں ہیں۔ برباد ہوا چاہتا ہے اور جو تفضیح اور شکست اس کی ان بزرگوار مسلمانوں کے ہاتھ سے ہو رہی ہے وہ اس کے لئے بڑی بھاری مصیبت ہونے والی ہے۔

”انا للہ وانا الیہ راجعون“

دیکھو ان دنوں مرزا غلام احمد قادیانی نے علی الاعلان نبوت یعنی عیسویت کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے اوپر نزول وحی اور نزول ملائکہ کا اشتہار دیا ہے اور جس عیسیٰ بن مریم کے نزول کی بشارت ہمارے نبی آخرالزمان خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے دی ہے اور جس پر کتاب اللہ اور کتاب الرسول ناطق ہے۔ اس سے صریح انکار کیا ہے اور نصوص کتاب وسنت کو بالکل مصروف عن الظاہر مانا ہے۔ لیلۃ القدر کے ایک متبرک رات ہونے سے بالکل انکار کیا ہے اور علی الاستعارہ اس سے ظلمانی زمانہ مراد لیا ہے۔ دجال سے گروہ منکرین عیسویت خود مراد لیا ہے اور عیسیٰ بن مریم موعود و مبشر سے مثیل عیسیٰ بن مریم مراد لے کر اپنے آپ کو اصلی مسیح موعود قرار دیا ہے اور پھر یہ بھی اقرار کیا ہے کہ مجھ کو اس سے انکار نہیں ہے کہ کوئی دوسرا بھی مسیح ہو، جو آئندہ نازل ہو۔ لیکن وہ میری ذریت میں سے ہوگا۔ اعاذنا اللہ من کل ذلک!

پس اے مسلمانو! ہر چند کہ ایسے واقعات کا پیش آنا فی نفسہ تو کچھ حیرت کی بات نہیں۔ کیونکہ درحقیقت ایسے حوادث کا حدوث ہمارے نبی آخرالزمان کی پیش گوئیوں کے موافق قبل قیام الساعۃ ضرور ہے اور اس لحاظ سے ایسے واقعات کا پیش آنا اہل نظر کی نظر میں اپنے سچے نبی کی زیادہ تصدیق کا باعث ہے۔ مگر افسوس البتہ صرف اسی قدر ہے کہ ایسے امور انہیں لوگوں سے دیکھنے میں آویں جو اعلیٰ درجہ کے مقدس مسلمان اور پرلے درجہ کے حامی اسلام کہلاویں۔ ہمارے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ ہمارے نبی پاک کی اس سچی پیش گوئی کا ظہور ہے۔

”لا تقوم الساعة حتى تخرج ثلاثون دجالا كلهم يزعم انه رسول اللہ رواہ ابوداؤد“

”وايضا قال رسول الله ﷺ سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى رواه ابوداؤد

والترمذی“ نہ قائم ہوگی قیامت جب سے یہ کہے گا کہ میں رسول ہوں خدا کا۔ روا کہ میری امت میں آئندہ تیس جھوٹے پیا میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی ن پس یہ پیش گوئی ہم کو بتا رہی ہ کہ ان ”مفضی الی تکذیب نبین ایسے شرور اور فتن باعث تضحیک اسلام ہ اسلام کی سمجھیں گے اور سمجھنا کیا معنی ۔ آج کے زمانہ میں لیورپول کے اسلام کا چمکارہ ظلمت کے زمانہ میں صدہا شپر چشموں کی بڑے قبائل کفر کا کفر کی تیرگی سے نکل کر پر جوش دریا کا امنڈنا، ظاہراً کسی اور محرک پیارے نبی محمد ﷺ کی ایسی پیش گوئیوں ک ہے اور مقروں کی جلی ایمانی کو بڑھاتا چلا دین کی ایسی کوششوں کے اسلامی روشنی کا برس کے بعد ہو بہو ظاہر ہونا، بڑے بڑے شیریں ثمر ہے کہ وہ بلا تحریک غیرے اسل ایسے کذاب اپنے دعویٰ باطل سے اپنے ع آخرالزمان کی زیادت تصدیق کا باعث حوادث کے ظہور سے نہیں گھبرا سکتے۔ بلکہ کامل یقین ہے کہ ایسی اکاذیب اور ادعاء اور اس کے پرجوش دریا کے بہاؤ کو ایسے شپر چشم کی خیرہ گی نقصان نہ پہنچا سکے گی ۔

ایک دوسری پیش گوئی فرمائی ہے جو ہماری ”قال رسول الله ﷺ يضرهم من خالفهم حتى يأتى ا

صفحہ ٤٣٧

والترمذی) ”نہ قائم ہوگی قیامت جب تک کہ تیس دجال ظاہر نہ ہولیں گے اور ہر ایک ان میں سے یہ کہے گا کہ میں رسول ہوں خدا کا۔ روایت کیا اس کو ابوداؤد نے ، اور فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ میری امت میں آئندہ تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس کو ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا۔

پس یہ پیش گوئی ہم کو بتا رہی ہے کہ ایسے دعوؤں کا ہونا لابد ہے اور اس میں تخلف کا گمان مفضی الی تکذیب نبینا محمد رسول اللہ ﷺ ہے اور گو بزعم اہل باطل ایسے شرور اور فتن باعث تضحیک اسلام سمجھے جاتے ہوں۔ مگر ارباب نظر اسی کو بشارت کاملہ ترقی اسلام کی سمجھیں گے اور سمجھنا کیا معنی۔ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کی اس سستی اور ضعف کے زمانہ میں لیور پول کے اسلام کا چمکارہ، یورپ کی سوسائٹیوں میں اسلام کی خوبیوں کا نعرہ، ایسی ظلمت کے زمانہ میں صدہا بستہ چشموں کی آنکھوں کا اسلامی نور کی چکا چوند سے خیرہ ہونا، بڑے بڑے قبائل کفر کا کفر کی تیرگی سے نکل کر اسلامی روشنی میں آجانا، افریقہ کے کنارہ پر اسلام کے پر جوش دریا کا امنڈنا، ظاہراً کسی اور محرک کی تحریک کا نتیجہ نہیں ہے۔ بلکہ صرف ہمارے سچے اور پیارے نبی محمد ﷺ کی ایسی پیش گوئیوں ہی کا پورا پورا ظہور ہے جو منکروں سے اقرار کراتا چلا جاتا ہے اور مقروں کی تجلی ایمانی کو بڑھاتا چلا جاتا ہے اور باوجود اسلام کی ایسی مخالفتوں کے اور اعداء دین کی ایسی کوششوں کے اسلامی روشنی کا مکدر نہ ہونا اور ہمارے سچے نبی کی پیش گوئیوں کا تیرہ سو برس کے بعد ہو بہو ظاہر ہونا، بڑے بڑے تیرہ دلوں کو حسن و جمال کا جلوہ دکھا رہا ہے۔ جس کا یہی شیریں ثمر ہے کہ وہ بلا تحریک غیرے اسلام کے زمرہ میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں اور جب ایسے کذاب اپنے دعوٰی باطل سے اپنے کو رسوا کرتے ہیں تو وہی دعوٰی ان کی رسوائی اور ہمارے نبی آخرالزمان کی زیادت تصدیق کا باعث ہوتا ہے۔ پس جو اہل اللہ کامل الایمان ہیں وہ ہرگز ایسے حوادث کے ظہور سے نہیں گھبرا سکتے۔ بلکہ ان کی استقامت اور زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے اور ان کو کامل یقین ہے کہ ایسی اکاذیب اور ادعاء باطل سے اسلام کی چمک دمک میں کچھ خلل نہیں آوے گا اور اس کے پر جوش دریا کے بہاؤ کو ایسے قاذورات نہیں روک سکیں گے اور اس کی لمعات و برق کو کبھی شپر چشم کی تیرگی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ کیونکہ اس کی نصرت کے واسطے بھی ہمارے سچے نبی نے ایک دوسری پیش گوئی فرمائی ہے جو ہماری بڑی تسلی اور اطمینان کا باعث ہے۔

”قال رسول اللہ ﷺ لا تزال طائفة من امتی ظاہرین علی الحق لا یضرہم من خالفهم حتی یأتی امر اللہ رواہ ابوداؤد“

٧

صفحہ ٤٣٨

”قال رسول الله ﷺ يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتاويل الجاهلين رواه رزين“

اس کے تحت میں ملا علی قاری لکھتا ہے: ”قوله ينفون عنه جملة حالية اى طاردين عن هذا العلم“

”قوله تحريف الغالين، اى المبتدعة الذين يتجاوزون في كتاب الله وسنة رسوله عن المعنى المراد فيحرفون عن جهته“

”قوله انتحال المبطلين الانتحال ادعاء قول او شعر يكون قائله غيره بانتسابه الى نفسه وهو ههنا كناية عن الكذب والمعنى ان المبطل اذا اتخذ قولاً من علمنا ليستدل به على باطله او اعتزى اليه مالم يكن منه نفوا عن هذا العلم ونزهوه عما ينتحله“

”قوله تاويل الجاهلين، اى معنى القرآن والحديث الى ماليس بصواب“

پس یہ پیش گوئی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی مسلمانوں کے واسطے بشریٰ (بشارت) ہے اور ان کے دلوں کے لئے سکینہ اور تسلی ہے اور اس بات سے کہ کسی جاہل کی تاویل اور کسی محرف کی تحریف اور کسی مبطل کا انتحال اور کسی مبطل کے اکاذیب اور اباطیل خدا تعالیٰ کے دین کو بدلنے اور خدا و رسول کی مراد کو اپنے ہوائے نفسانی کے تابع بنانے میں کبھی کارآمد نہ ہوں گے۔ بلکہ خدا کا دین بموجب ”انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون“ ایسے خلل اندازوں کی خلل اندازی سے ہمیشہ محفوظ رہے گا اور ایسی تلبیسات کی مدافعت میں ہمیشہ اس کے بندوں کا ایک گروہ کمر بستہ رہے گا۔ جس کو کسی کی مخالفت اور عداوت ضرر نہ پہنچائے۔ بلاشبہ اگر ہمارا خدائے برحق اپنے دین کی حفاظت کا آپ ذمہ نہ فرماتا اور اس کے خالص ومخلص بندے اس کی ہدایت کے سبب دین پر پوری جان فدائی نہ کرتے تو ہرگز یہ دین قیامت تک باقی نہ رہتا اور کسی طرح اہل فریب کی تلبیسات سے اس کو امن نہ ہوتا۔ لیکن چونکہ خدا خود حافظ اپنے دین کا ہے اور اس کے رسول پاک نے ایک سچی ترازو دین کی جانچ تول کے واسطے اپنے فرمانبرداروں کو عطاء فرمائی ہے تو اب ہم کو متاعِ کاسد اور ناقص کے جانچنے میں کچھ مشکل نہیں ہے۔ وہ ترازو ہمارا قرآن وحدیث ہے۔ جس کے ساتھ تمسک کرنے میں دین کی گمراہی سے ہم کو ہمیشہ امن مل سکتا ہے۔

٨

”قال رسول الله ﷺ تر كتاب الله وسنة رسوله“

اس ترازو کا حامل وہی گروہ اہل ح پس اب جس خداع کا جی چاہے وہ متاع ک ترازو میں تولیں گے۔ اگر ہم برابر پاویں گے بموجب اس کو اسی پر رد کریں گے۔ چنانچہ ا دعویٰ عیسویت کو اور انکار نزول عیسیٰ بن مریم ک کے لائق ثابت ہوئی۔ پس ہم ان کے ایسے ط

مرزا قادیانی اور ان کے حواریین اوّل یہ انتظام فرمایا ہے کہ وہ خدا کی مراد کو اس وہ لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ ہمیشہ استعاروں س سے ایک کا نام دوسروں پر وارد کر دیتا ہے۔“

لیکن اہل نظر خوب جانتے ہیں کہ کر لیں اور نصوص شریعت کو ’علی ظواهر عیسیٰ بن مریم کے نزول سے انکار کر سکتے ہ غافل ہیں کہ ہماری شریعت غرا نے ایسے فریب عقیدہ راسخہ اور اجماعی مسئلہ ہو چکا ہے کہ نصوص عنها صارف قطعی!

قال العلامة التفتازاني ف والسنة تحمل على ظواهرها مال التي تشعر بظواهرها بالجهة و الظواهر الى معان يدعيها اه لادعائهم ان النصوص ليست عل الا المعلم وقصدهم بذلك نفى الشر

”الحاد اى ميل وعدول ع تكذيبا للنبى ﷺ فيما علم مجيئه ب

صفحہ ٤٣٩

”قال رسول الله ﷺ ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بهما کتاب الله وسنة رسوله“

اس ترازو کا حال وہی گروہ اہل حق کا ہے جس کو کسی کی مخالفت کچھ مضرت نہ کرے گی۔ پس اب جس خُداع کا جی چاہے وہ متاع کاسد کو ہمارے دین میں پیش کرے۔ ہم اس کو اسی ترازو میں تولیں گے۔ اگر ہم برابر پاویں گے تو قبول کریں گے۔ ورنہ کالائے بد بریش خاوند کے بموجب اس کو اسی پر رد کریں گے۔ چنانچہ اسی ترازو میں ہم نے مرزا قادیانی کے دعوئی نبوت اور دعویٰ عیسویت کو اور انکار نزول عیسیٰ بن مریم کو بھی تولا۔ تو ہم کو ان کی یہ متاع کاسد انہیں پر رد کرنے کے لائق ثابت ہوئی۔ پس ہم ان کے ایسے ملحدانہ دعوئی کو انہیں پر رد کرتے ہیں۔

مرزا قادیانی اور ان کے حواریین نے اس بے سروپا دعوئی کے سرسبز کرنے کے واسطے اوّل یہ انتظام فرمایا ہے کہ وہ خدا کی مراد کو استعارات و کنایات میں ہونا تجویز فرماتے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ ہمیشہ استعاروں سے کام لیتا ہے اور طبع اور خاصیت اور استعداد کے لحاظ سے ایک کا نام دوسروں پر وارد کر دیتا ہے۔“

لیکن اہل نظر خوب جانتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی اور ان کے حواری یہ تجویز پہلے سے نہ کر لیں اور نصوص شریعت کو ”علی ظواهرها“ باقی نہ رکھیں تو وہ نہ مثیل مسیح بن سکتے ہیں اور نہ عیسیٰ بن مریم کے نزول سے انکار کر سکتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی اور ان کے حواری شاید اس سے غافل ہیں کہ ہماری شریعت غرّا نے ایسے فریب کا بھی پہلے ہی سے انتظام کر دیا ہے اور اہل حق کا یہ عقیدہ راسخہ اور اجماعی مسئلہ ہو چکا ہے کہ نصوص شریعت محمول علی ظواہر ہیں۔ ما لم یصرف عنها صارف قطعی!

قال العلامة التفتازانی فی شرح العقائد ”والنصوص من الکتاب والسنة تحمل علی ظواهرها مالم یصرف عنها دلیل قطعی کما فی الآیات التی تشعر بظواهرها بالجهة والجسمیة ونحو ذلک والعدول عنها ای عن الظواهر الی معان یدعیها اهل الباطن وهم الملاحدة وسموا الباطنیة لادعائهم ان النصوص لیست علی ظواهرها بل لها معان باطنیة لا یعرفها الا المعلم وقصدهم بذلک نفی الشریعة بالکلیة“

”الحاد ای میل وعدول عن الاسلام واتصال والتصاق بکفر لکونه تکذیبا للنبی ﷺ فیما علم مجیئه به بالضرورة“

٩

صفحہ ٤٤٠

”وأما ما ذهب اليه بعض المحققين من ان النصوص مصروفة على ظواهرها ومع ذلك فيها اشارات خفية الى دقائق تنكشف على ارباب السلوك يمكن التطبيق بينهما وبين الظواهر المرادة فهو من كمال الايمان ومحض العرفان“

”وأيضا ففي رد النصوص بان ينكر الاحكام التي دلت عليها النصوص القطعية من الكتاب والسنة كحشر الاجساد مثلاً كفر“

اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ اہل سنت والجماعت کے عقائد حقہ میں سے یہ بات ہے کہ نصوص کتاب وسنت محمول علی ظواہر ہیں اور دقائق ارباب سلوک اور حقائق اہل باطن وہاں تک مقبول ہیں۔ جہاں تک کہ موافق ظاہر نص کے ہوں اور جو دقائق مبطل احکام شرعیہ ہوں وہ مقبول نہیں ہیں۔ بلکہ وہ عدول اور میل عن الشریعۃ ہے۔ جس سے اصل مقصود نفی الشریعۃ بالکلیہ ہوتا ہے تو اب مرزا قادیانی کا یہ زعم باطل کہ خدا کی مراد ہمیشہ کنایات میں ہوتی ہے۔ کس قدر بے وقعت اور کیسا افتراء ہے اور وہ کنایات اور استعارات اور بے سروپا تاویلات جو بعض جاہل متصوفہ سے ثابت ہیں۔ اہل حق کے نزدیک ان کا حکم تحریف سے زائد نہیں ہے جو ہمیشہ اہل دین کے نزدیک مردود مانے گئے ہیں۔ چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطی اتقان میں لکھتا ہے: ”وأما كلام الصوفية في القرآن فليس بتفسير“ قال ابن الصلاح في فتاويه وجدت عن الامام ابى الحسن الواحدى المفسر انه قال صنف ابو عبد الرحمن السلمى حقائق التفسير فان كان قد اعتقد ان ذلك تفسير فقد كفر قال ابن الصلاح وأنا اقول الظن بمن يوثق به منهم اذا قال شيئا انه لم يذكره تفسيرا ولا ذهب به مذهب الشرح للكلمة فانه لو كان كذلك كانوا قد سلكوا مسلك الباطنية وأيضا قال فيه قال الله تعالى ان الذين يلحدون في آياتنا لا يخفون علينا قال ابن عباس هو ان يوضع الكلام في غير موضعه اخرجه ابن ابى حاتم“

اور باعث ایسی تفاسیر پر اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ یا تو بعض لوگ کسی غرض فاسد کے واسطے پہلے سے اپنے زعم باطل میں ایک معنی گھڑ لیتے ہیں اور پھر اپنے خیال اور اعتقاد کے موافق الفاظ قرآن واحادیث کا اس پر حمل کرتے ہیں اور تاویلات فاسدہ اور باطلہ سے ان الفاظ کو زبردستی اپنے معانی مزعومہ پہناتے ہیں اور یا کبھی بعض جاہل تفسیر اور تاویل نصوص میں اسی امر کا

١٧

صفحہ ٤٤١

مطلق لحاظ نہیں کرتے کہ یہ کس کا کلام ہے اور کون اس کے ساتھ متکلم ہے اور یہ کس پر اتارا گیا ہے اور کون اس کے ساتھ مخاطب ہے۔ بلکہ وہ نصوص قرآن وحدیث کے صرف وہ معنی لیتے ہیں جو ایک متکلم بلغت عرب بلا لحاظ کسی اور امر کے صرف محاورہ لسانی کے موافق ترجمہ کر سکتا ہے۔ عام اس سے کہ وہ مراد الہی کے مخالف ہو یا موافق ۔ پس جو لوگ اپنے معانی مزعومہ اور عقائد مخترعہ کے موافق نصوص کتاب وسنت کے الفاظ کو تاویلات فاسدہ سے اپنی مراد کا مؤید بناتے ہیں۔ ان کو مراد الہی کے موافق یا مخالف ہونے کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔ جن کی ایسی ہی تاویلات فاسدہ سے شریعت میں رخنہ پیدا ہوتا ہے اور امن جاتا رہتا ہے اور جو لوگ ترجمہ نصوص شرعیہ صرف محاورہ لسانی اور صحت قواعد عربیت پر قانع ہوتے ہیں اور معانی نصوص میں اتباع سلف کو چھوڑ دیتے ہیں اور جو مراد الہی بیان شارع ﷺ اور صحابہ رسول سے ثابت ہو چکی ہے۔ اس کی پیروی نہیں کرتے۔ ان کے لفظی ترجمہ اور ایک بازاری شخص کے کلام کی یکساں حالت ہو جاتی ہے۔ جس کے سبب سے خدا ورسول جیسے متکلم کے کلام کی شان اور عوام الناس کے کلام کی حالت برابر ٹھہر جاتی ہے۔ پس ایسی تاویلات باطلہ کب خطا اور انکار سے خالی ہو سکتی ہے۔ اسی ضرورت سے نصوص قرآن وحدیث میں اتباع سلف صالح ہم پر واجب کیا گیا ہے جو اعلم بالتفسیر اور اعلم بمعانی النصوص اور اعلم ان امور حقہ کے تھے جو ہمارے نبی صادق ﷺ ہماری طرف لے کر آئے اور جو امین شریعت اور اعلم باسباب نزول اور اعلم بشان المتکلم اور اعلم بشان المنزل علیہ والمخاطب تھے۔ وہی امین لوگ محل تاویل وغیرہ کو خوب جانتے تھے۔ بناء علیہ جو لوگ اس باب میں اتباع سلف صالح کو چھوڑ کر مراد الہی کو اپنے مزعومات کے موافق بنانے میں کوشش کریں بلاشبہ وہ دائرہ کفر وابتداع سے کسی طرح باہر نہیں ہو سکتے ۔ چنانچہ اسی تفصیل کے متعلق سیوطی نے لکھا ہے: ”قوم اعتقدوا معاني ثم ارادوا حمل الفاظ القرآن عليها والثاني قوم فسروا القرآن بمجرد ما يسوغ ان يريده من كان من الناطقين بلغة العرب من غير نظر الى المتكلم بالقرآن والمنزل عليه والمخاطب به فالاولون راعوا المعنى الذى رأوه من غير نظر الى ما يستحقه الفاظ القرآن من الدلالة والبيان والآخرون راعوا مجرد اللفظ وما يجوز ان يريد به العربى من غير نظر الى ما يصلح للمتكلم وسياق الكلام . ثم هؤلاء كثيراً ما يغلطون فى احتمال اللفظ لذلك المعنى في اللغة في صحة المعنى الذى فسروا به القرآن كَما يغلط في ذلك الآخرون وان كان نظر الاولين الى المعنى اسبق ونظر الآخرين الى اللفظ اسبق ١١

صفحہ ٤٤٢

الاولون صنفان تارة يسلبون عن لفظ القرآن ما دل عليه واريد به وتارة يحملونه على ما لم يدل عليه ولم يرد به وفى كلا الامرين قد يكون ما قصدوا نفيه واثباته من المعنى باطلا فيكون خطاء وهم فى الدليل والمدلول وقد يكون حقاً فيكون خطاء وهم فى الدليل لا فى المدلول فالذين اخطاء وا فيهما مثل طوائف من اهل البدع اعتقدوا مذاهب باطلة وعمدوا الى القرآن فتاولوه على رأيهم وليس لهم سلف من الصحابة والتابعين لا فى رأيهم ولا فى تفسيرهم“

پھر بعد اس کے لکھتا ہے:” وفى الجملة من عدل عن مذاهب الصحابة والتابعين وتفسيرهم الى ما يخالف ذلك كان مخطئًا فى ذلك بل مبتدعا لانهم كانوا اعلم بتفسيره ومعانيه كما انهم اعلم بالحق الذى بعث الله به رسوله واما الذين اخطاؤا فى الدليل لا فى المدلول فمثل كثير من الصوفية والوعاظ والفقهاء يفسرون القرآن بمعان صحيحة فى نفسها لكن القرآن لا يدل عليها مثل كثير مما ذكره السلمى فى الحقائق فان كان فيما ذكروه معانى باطلة دخل فى القسم الاول انتهى كلام ابن تيميه ملخصاً وهو نفيس جدا ٠ انتهى!“

بعض علماء کو اس مقام پر ایک شبہ ہوا ہے کہ اگر تفسیر نصوص میں صرف مذاہب صحابہ پر اکتفا واجب ہو اور استنباطات مفسرین و مجتہدین سب تفسیر بالرائے میں داخل ہوں تو حدیث لکل آیۃ ظہر وبطن کے کیا معنی ہوں گے اور نطاق تفسیر نہایت تنگ ہو جاوے گا اور اسی شبہ کی وجہ سے مطلقاً جواز تفسیر بالرائے پر کلام غزالی وغیرہ سے استدلال کیا ہے اور ایک طویل عبارت کی نقل میں اپنے وقت کو صرف فرمایا ہے۔ حالانکہ یہ ایک بڑی غلطی غزالی کی مراد سمجھنے میں ان سے ہوئی ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ کس قسم کے نصوص محمول علی ظواہر ہیں اور ان میں تاویل باطل ہے اور مؤول معذور نہیں ہے اور کس قسم کے نصوص میں ایسے استنباطات کی اجازت ہے جو مخالف نصوص ظاہرہ نہ ہوں اور اس میں معذور مانا گیا ہے۔ دیکھو اس کی تصریح سیوطی، تفسیر بالرائے کی تفصیل کے متعلق کرتا ہے۔

”الثالث علوم علمها الله نبيه مما اودع كتابه من المعانى الجلية والخفية وامره بتعليمها وهذا يقسم الى قسمين قسم لا يجوز الكلام فيه

١٢

صفحہ ٤٤٣

الا بطريق السمع وهو اسباب النزول والناسخ والمنسوخ والقرأت واللغات وقصص الامم الماضية واخبار ماهو كائن من الحوادث والحشر والمعاد“ پس امام غزالی کے اس کلام سے اگر ان امور میں جو مبنی علی السماع نہیں ہیں۔ جواز نظر واستدلال ثابت ہوا تو کیا اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جن نصوص کو نظر اور رائے سے علاقہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ محض مبنی علی السماع ہیں اور سلف صالح سے ان کے محمول علی ظواہر پر ہونے کی تصریح اور اجماع ہو چکا ہے اور جن کی مراد کو خود شارع ﷺ نے ظاہر فرما دیا ہے اور وہ جملہ ضروریات اور اعتقادیات اسلام کے ٹھہر چکے ہیں۔ ان میں بھی عقلی ڈھکوسلہ چل سکتا ہے۔ ہرگز نہیں اور چونکہ نزول عیسیٰ ابن مریم اور خروج دجال وغیرہ اشراط ساعت اور ”ماهو كائن من الحوادث“ میں داخل ہیں اور ان میں رائے کو کچھ دخل نہیں ہے اور یہ سب امور محض مبنی علی السماع ہیں تو ایسے امور کو امور قیاسیہ کے ساتھ خلط فرما کر بعض اعلام کا ان میں رائے لگانا اور خلاف تصریح سلف صالح تحریف نصوص کرنا دیانت کے بالکل خلاف ہے اور غزالی کے کلام کا اس مطلب کے واسطے نقل کرنا محض فضول اور لغو ہے اور جب ان تمام تصریحات سے ثابت ہو گیا کہ جو تفسیر منصوصات شرعیہ کے مخالف اور سلف صالح کے خلاف ہو اور جس تفسیر میں مذاہب صحابہ سے عدول ہو اور جن امور میں کسی کو رائے لگانے کی اجازت شارع سے نہیں ہے۔ ان میں رائے لگائی جاوے وہی درحقیقت تفسیر بالرائے ہے۔ جو فی الواقع تفسیر نہیں ہے بلکہ تحریف ہے۔ جیسے کہ مرزا قادیانی کی لیلۃ القدر کی تفسیر جو انہوں نے ظلماتی زمانہ کے ساتھ کی ہے جو سراسر تحریف کلام ربانی اور ابطال مراد الہی ہے۔ ہمارے شارع ﷺ نے تو ہم کو لیلۃ القدر کی حقیقت ایک اعلیٰ درجہ کا نورانی زمانہ بتایا ہے اور مرزا قادیانی اس کو ظلماتی زمانہ فرماتے ہیں۔ ہمارے رب کریم نے اس کو لیلہ مبارکہ ارشاد فرمایا ہے اور مرزا قادیانی اس کو بدتر زمانہ ثابت کرتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے اس بابرکت زمانہ کے شوق میں اپنی عمریں ختم کر دیں اور مرزا قادیانی اس کو قابل حذر وقت تجویز کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک وہ ایک ظلماتی زمانہ کا نام ہے۔ جس میں برکات ایمانی منقطع ہو کر فیضان ربانی سے حرمان ہو اور جس کے بعد خداوند کریم کو کسی ایسی روشنی کے بھیجنے کی ضرورت ہو۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا وجود باجود ہے۔ اعاذنا اللہ من ذلك الارتداد!

اگر ہم ان تمام روایات اور احادیث صحیحہ کو جو لیلۃ القدر کے فضائل اور اس کی تفسیر کے متعلق ہیں نقل کریں تو طولانی رسالہ ہو جاوے۔ ہم کو تحیر مرزا قادیانی کے بعض حواریین سے بھی ہے کہ انہوں نے بمقتضائے ”حبك الشئ يعمی ويصم“ مرزا قادیانی کی عیسویت اور نبوت

١٤

صفحہ ٤٤٤

قبول فرما کر سفارت کاذبہ میں بہت عجلت فرمائی اور ہمارے نبی پاک کے سلام کو کہاں کا حکم تھا اور کہاں پہنچا دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

چنانچہ ان میں سے بعض حضرات نے مولوی عبدالحق (غزنوی) امرتسری کے اشتہار کے مقابلہ میں بجواب حدیث "لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم" لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کب کہتے ہیں کہ میں حقیقتاً ابن مریم ہوں۔ بلکہ جن احادیث صحاح میں پیش گوئی نزول عیسیٰ بن مریم کی نبی ﷺ نے فرمائی ہے۔ اس میں وہ تاویل کرتے ہیں جو بموجب قواعد عربیہ کے صحیح معلوم ہوتی ہے۔

پس ان حضرت کی تصریح سے بخوبی واضح ہے کہ جن احادیث میں نزول عیسیٰ بن مریم کی پیش گوئی نبی ﷺ سے وارد ہے۔ گو وہ احادیث صحیح تو ہیں۔ مگر مرزا قادیانی ان کو مصروف عن الظاہر ٹھہرا کر اس کی ایسی تاویل فرماتے ہیں۔ جو صرف بموجب قواعد عربیہ کے صحیح ہے اور چونکہ انہوں نے ان کے مصروف عن الظاہر ہونے کے واسطے کسی صارف شرعی کا ذکر نہیں کیا اور جواز تاویل کے واسطے صرف اس قدر کافی سمجھا ہے کہ وہ قواعد عربیہ کے موافق ہو۔ گو وہ مخالف اصول شریعت ہو تو اس تقدیر پر کیا اب ہر ملحد کو گنجائش نہیں ہے کہ وہ نصوص قرآن وحدیث کے جو معنی چاہے بموجب قواعد عربیہ گھڑ ڈالے۔ جیسا کہ "اتموا الصیام الی اللیل" کی تفسیر میں ایک شخص کہہ سکتا ہے۔ "ای اتموا الامساك عن الاكل حتى تاكلوا افراخ الحبارى لان المراد بالليل هو افراخ الحبارى"

اور اگر یہ باطل ہے تو آپ کا مزعوم بھی باطل ہے۔ کیونکہ قواعد عربیت کے مطابق دونوں صحیح ہیں اور اصول شریعت کے دونوں خلاف ہیں۔

یا جس طرح بعض روافض نے آیہ "مرج البحرین یلتقیان بینہما برزخ لا یبغیان یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان" کی تفسیر میں لکھا ہے۔ بحرین سے علی و فاطمہ مراد ہیں اور لولو اور مرجان سے حسن اور حسین مراد ہیں اور اس تفسیر میں قواعد عربیت کے مطابق کوئی نقصان نہیں۔ کیونکہ باب تشبیہ واستعارہ واسع ہے اور مرزا قادیانی اور ان کے حواری مراد الہی کو ہمیشہ استعارات و کنایات میں مانتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ روافض کی یہ تفسیر الحاد ہو اور مرزا قادیانی کی تفسیر عین مراد ہو۔ حالانکہ وہی جلال الدین ایسی تفسیر کی نسبت لکھتا ہے: "واما التاویل المخالف للآية والشرع فمحظور لانه تاویل الجاهلين مثل تاويل الروافض قوله تعالى مرج البحرين یلتقیان ، انهما علىّ وفاطمة يخرج منهما

١٤

صفحہ ٤٤٥

اللؤلؤ والمرجان الحسن والحسين اعاذنا الله من ذالك“ اور زیادہ تعجب یہ ہے کہ وہ اس تاویل باطل کو مصداق ”يوم يأتی تاويله“ فرماتے ہیں اور مراد الہی کو اپنے مزعوم باطل کے موافق اعتقاد کرتے ہیں اور ہمارے سلف کا اس بارہ میں عقیدہ یہ ہے۔ ”ولو قال المراد كذا ولم يسمع فيه شيئا فلا يحل له وهو الذى نهى عنه“

پس اگر ان کے پاس سوائے اختراع عقلی کے اور کچھ ذخیرہ سماع و نقل کا اس بارہ میں ہے تو وہ ہم کو کیوں محروم کرتے ہیں۔ ورنہ ان کو ضرور لحاظ چاہئے کہ ایک روز خدا تعالیٰ کے روبرو مقام ہوگا۔

انہیں علام نے بڑی شدومد سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ لفظ نزول سے نزول بجسم عنصری مراد لینا کچھ ضرور نہیں ہے اور اس کے چند امثلہ بیان کرنے میں تطویل لاطائل فرمائی ہے۔ حالانکہ ضرورت کا کسی نے دعویٰ نہیں کیا اور یہ کوئی نہیں کہتا کہ لفظ نزول سے مراد ہمیشہ نزول بجسم عنصری ہی ہوا کرتا ہے۔ بلکہ یہ دعویٰ ہے کہ لفظ نزول منافی نزول جسم عنصری نہیں ہے۔ بلکہ نزول جسد عنصری کو بھی شامل ہے اور جہاں بضرورت تصریح شارع ﷺ مراد نزول سے نزول بجسم عنصری ثابت ہوا ہو۔ وہاں اس کا ترک کرنا من غیر دلیل شرعی باطل ہے۔ جیسے کہ نزول عیسیٰ بن مریم جس پر نصوص شریعت ناطق ہیں جو جمہور اہل سنت کا عقیدہ حقہ ہے اور جس کے انکار کی کوئی وجہ کسی مدعی کے پاس نہیں ہے۔ پس مرزا قادیانی اور ان کے حواری کس ضرورت سے اس کے مخالف ہیں اور یہ سب تو اس تقدیر پر ہے۔ جس کو ہم بقول حواری ایسی تاویلات کو قواعد عربیہ کے موافق بھی مان لیں۔ حالانکہ یہ قواعد عربیت کے بھی بالکل خلاف ہے۔ اس واسطے کہ قواعد عربیت کے موافق معنی حقیقی اصل ہیں اور تا وقتیکہ تعذر حقیقت ثابت نہ ہو۔ ”صيرورت الی المجاز “ باطل ہے اور ان حضرت حواری نے تعذر حقیقت ہنوز ثابت نہیں فرمایا تو صرف امکان مجاز ان کو مفید نہیں ہو سکتا۔

پس اب بجواب سوال انہیں علام کے لکھا جاتا ہے کہ جب حدیث صحیح میں لفظ ابن مریم وارد ہے اور ابن مریم کے حقیقی معنی مثیل مسیح کے نہیں ہیں اور لفظ نزول شامل نزول جسدی کو بھی ہے اور نصوص شریعت اس کی تعیین پر ناطق ہیں اور موافق عقیدہ اہل سنت کے وہ محمول علی ظواہرہا ہیں اور صرف (پھیرنا) ان نصوص کا من غیر دلیل شرعی، جائز نہیں ہے۔ تو مرزا قادیانی کے قصور کے واسطے یہی کافی ہے کہ انہوں نے خلاف نصوص شریعت، نزول جسدی عیسیٰ ابن مریم سے انکار کیا

١٥

صفحہ ٤٤٦

اور عیسیٰ ابن مریم سے مثیل عیسیٰ مراد لے کر مخالف قواعد عربیت ترک حقیقت اور ارتکاب مجاز کیا اور اس سے زیادہ دین میں کیا قصور ہو سکتا ہے۔

”وفي العقائد: وصرف النصوص عن الظاهر والعدول عنها الحاد“

یہ حضرات یہ نہیں سمجھتے کہ وقوع وصحت استعارہ کلام عرب میں بحسب قواعد عربیت اور چیز ہے اور جواز استعارہ نصوص شرعیہ میں بغیر اعتماد نقل شارع کے اور چیز ہے اور جو شخص نصوص شرعیہ کے صرف عن الظاہر من غیر دلیل شرعی کا مانع ہو اس کے واسطے ان حواریین کا کلام اور لاطائل امثلہ تشبیہ واستعارہ ایک فسانہ نہیں ہے تو کیا ہے۔

اب ہم اصل مطلب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور چونکہ اصل مخاطب ہمارے مرزا قادیانی ہیں۔ اس لئے ہم ان حضرات کے خیالات کی نسبت اس موقع پر اس سے زیادہ اور کچھ کہنا نہیں چاہتے اور چونکہ درحقیقت مدار عیسویت مرزا قادیانی اور حواریت حواریین صرف اس ڈھکوسلہ پر ہے کہ نصوص شرعیہ مصروف عن الظاہر ہیں اور تمام خرافات کی بناء اسی بناء فاسد پر ہے کہ خدا کی اور اس کے رسول کی مراد ہمیشہ استعارات و کنایات میں ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ہمیشہ ضرورت ہے کہ ہم صرف اس بحث کو اوّل ختم کرلیں۔

پس یہ تو بخوبی ثابت ہو گیا کہ اہل سنت والجماعت کے عقائد حقہ کے موافق نصوص شرعیہ محمول علی ظواہرہا ہیں۔ مالم یصرف عنھا صارف شرعی اور خدا کی مراد کا ہمیشہ استعارات وکنایات میں ماننا ابطال شریعت بالکلیہ ہے۔ بایں لحاظ کسی مدعی کی رائے فاسد اور تاویل باطل سے صرف نصوص عن الظاہر جائز نہیں ہو سکتا۔ مگر ایک احتمال باقی ہے وہ یہ کہ مرزا قادیانی کے الہامات کو صارف شرعی اعتقاد کیا جاوے اور بر بناء الہام ان نصوص ظاہرہ اجماعیہ کو مصروف عن الظاہر مانا جائے۔ پس یہ زعم بھی ان کا باطل محض ہے۔ کیونکہ الہام غیر النبی ، حجۃ شرعیہ نہیں ہے اور بعض کے نزدیک جو الہام غیر النبی صرف بحق ملہم حجۃ ظنیہ مانا گیا ہے۔ وہ بھی بشرط موافقت شرع ہے۔

”قال شارح المنار فى مقام تقسيم الوحى، الثالث ما تبدى لقلبه بلا شبهة بالهام من الله تعالى بان اراه بنور من عنده وهو المسمى بالالهام ويشترك فيه الاولياء ايضا وان كان الهامهم يحتمل الخطاء والصواب وايضا فيه والهام الاولياء، حجة فى حق انفسهم ان وافق الشريعة ولم يتعد الى غيرهم وايضا فى التوضيح الثالث ما تبدى لقلبه بلا شبهة بالهام من الله تعالى بان اراه بنور الله من عنده كما قال الله تعالى لتحكم بين

١٦

صفحہ ٤٤٧

الناس بما اراك الله وكل ذلك حجة بخلاف الهام الاولياء فانه لا يكون حجة على غيرهم“

ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ الہام غیر النبی ، حجت ملزمہ علی الغیر نہیں ہے اور خود ملہم کے حق میں بھی حجت ظنیہ، بشرط موافقت شرع ہے اور چونکہ مرزا قادیانی کے الہامات بالکل خلاف شرع ہیں اور ان میں اس قدر بھی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ مرزا قادیانی کے لئے بھی حجت ظنیہ ہوسکیں۔ تو اب یہ زعم کہ ایسے الہامات نصوص شرعیہ کے ردوابطال کے واسطے کافی ہوں گے یا ان کے ذریعہ سے صرف النصوص عن الظاہر جائز ہوگا۔ باطل محض ہے اور درحقیقت یہ رد واباء نصوص کا ہے جو قطعاً الحاد اور عدول عن الاسلام ہے۔

غرض کہ جب یہ محقق ہو گیا کہ نصوص کتاب وسنت محمول علی ظواہر ہیں۔ مالم یصرف عنہا دلیل قطعی اور نیز یہ ثابت ہو گیا کہ ایسے الہامات جو بیش از وسوسہ نہیں ہیں۔ دلیل شرعی نہیں ہوسکتے ۔ جو صارف نصوص ہوسکیں اور خدا کی مراد اگر ہمیشہ استعارات وکنایات میں مانی جائے تو ظاہر شریعت باطل ومتروک ہو جائے گی تو اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول سے قطعاً انکار کرنا اور عیسیٰ ابن مریم سے مثیل عیسیٰ ابن مریم مراد لے کر خود دعویٰ نبوت وعیسویت کرنا انکار امر منصوص ہے اور وہ الحاد ہے۔ اہل حق کا یہ عقیدہ ہے کہ نزول عیسیٰ بن مریم اشراط ساعۃ میں سے ہے۔ (چنانچہ حدیث صحیح مسلم میں پیغمبر ﷺ نے قیامت کی دس نشانیاں بیان فرمائیں اور ان میں نزول عیسیٰ بن مریم کا بھی ذکر فرمایا) اور فيما اخبر به النبي ﷺ وفيما علم مجيئه بالضرورة میں داخل ہے۔ پس اس سے انکار کرنا تكذيب النبي فيما اخبر به وفيما علم مجيئه به بالضرورة ہے۔ چنانچہ علامہ تفتازانی شرح عقائد میں لکھتا ہے:

”وما اخبر به النبي ﷺ من اشراط الساعة من خروج الدجال ودابة الارض وياجوج وماجوج ونزول عيسى ابن مريم وطلوع الشمس من مغربها حق“

بخاری اور مسلم میں نزول عیسیٰ ابن مریم کی بابت جو روایت ہے وہ یہ ہے: ”عن ابي هريرة رض قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها ثم يقول

١٧

صفحہ ٤٤٨

.ابو هریره فاقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته، متفق عليه وفي مسلم عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ لينزلن ابن مريم حكماً عدلاً فليكسرن الصليب وليقتلن الخنزير وليضعن الجزية وليتركن القلاص فلا يسعى اليها وليذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد وليدعون الى المال فلا يقبله احد“

ایسے نصوص صریحہ کے بعد ہر وہ شخص جو دین کی آنکھ رکھتا ہو۔ سمجھ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کا عیسیٰ ابن مریم کے نزول سے انکار اہل حق کے عقیدہ کے خلاف اور بلاشبہ تكذيب النبى فيما علم مجيئه به بالضرورة میں داخل ہے اور ان کا یہ الہام اوہام شیطانی کے قبیل سے ہے اور ایسی نصوص صریحہ کا انکار جو حکم متواترات میں ہیں۔ کمال جسارت اسلام میں ہے۔ شوکانی رسالہ توضیح میں ان احادیث کے نقل کے بعد جو نزول عیسیٰ ابن مریم کے متعلق ہیں۔ لکھتا ہے:

”فهذه تسعة وعشرون حديثاً تنضم اليها احاديث آخر ذكر فيها نزول عيسى منها ما هو مذكور في احاديث دجال ومنها ما هو مذكور في احاديث المنتظر وتنضم الى ذلك ايضاً الآثار الواردة عن الصحابة فلها حكم الرفع اذ لا مجال للاجتهاد في ذلك فمنها عن ابي هريره عند ابن ابي شيبه ومنها عنه ايضا ذكره في كنز العمال، ومنها عنه ايضا ذكره فيها ومنها عن ابن عباس ذكره في الكنز ومنها عنه ايضا ذكره فيه ومنها عن عبدالله ابن عمر ذكره ابن ابی شیبه ومنها عن ابن مسعود ذكره في كنز العمال وجمع ما سلفناه بالغ حد التواتر كما لا يخفى على من له فضل اطلاع“

مرزا قادیانی کا یہ اعتقاد بھی اہل حق کے عقیدہ کے خلاف ہے کہ وہ تعدد مسیح کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ میں اس بات سے بھی انکار نہیں کرتا کہ کوئی اور بھی مسیح ہو۔ حالانکہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا الف الف صلوة وتحیۃ صرف ایک ہی مسیح کا وجود ہم کو بتاتی ہے اور اس کے اصول ہرگز تعدد مسیح کو مقتضی نہیں ہیں۔ بلکہ مقتضی کیا معنی، تعدد ان کے منافی ہے۔ کیونکہ اگر ایک اور بھی مسیح مرزا قادیانی کے عقیدہ کے موافق محتمل ہو تو ان شقوق سے خالی نہ ہوگا کہ:

١٨

صفحہ ٤٤٩

اور یہ سب شقوق باطل ہیں۔

احتمال اوّل یعنی یہ کہ مرزا قادیانی اور وہ دونوں نبی ہوں۔ اس لئے باطل اور کفر ہے کہ انکار ختم رسالت کو مستلزم ہے اور آیۃ ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ اور حدیث ”انا خاتم النبيين لا نبي بعدي“ کے بالکل منافی ہے۔

اور احتمال ثانی اس لئے باطل ہے کہ اگر دونوں نبی نہ ہوں تو سلب النبوۃ عن المسیح موعود لازم آئے گا۔ حالانکہ یہ عقیدہ اہل حق کے خلاف ہے۔ چنانچہ حجۃ الکرامۃ میں ابن ابی ذئب سے منقول ہے۔

”فهو رسول ونبي كريم على حاله لا كما يظن بعض الناس انه ياتى واحدا من هذه الامة بدون نبوة ورسالة وجهل انهما لا تزولان بالموت فكيف بمن هو حى“

چنانچہ یہی عقیدہ تمام اہل حق کا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم بعد نزول بھی رسول ہوں گے۔ جیسے کہ وہ قبل الرفع رسول تھے اور جیسا کہ بعض جہلاء نے خیال کیا ہے کہ وہ بعد نزول احد من الناس ہوں گے ایسا نہ ہوگا۔

احتمال ثالث، یعنی یہ کہ مرزا قادیانی نبی ہوں اور وہ نبی نہ ہو۔ یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ وہ پھر مسیح موعود نہ ہوگا۔ مسیح موعود کو تو نبوت لازم ہے اور جب مرزا ”نعوذ بالله من ذلك“ نبی ہوں اور وہ نبی نہ ہو تو وہ مسیح نہ ہوگا اور مسیح غیر موعود کا نزول باطل ہے۔ پھر مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ مجھے اس سے انکار نہیں ہے کہ اور بھی کوئی مسیح ہو۔ بجز فریب کے اور کیا ہوگا؟

اب شق رابع رہی۔ یعنی یہ کہ مرزا قادیانی نبی نہ ہوں اور وہ مسیح مستقل نبی ہو اور پھر مرزا قادیانی کو اس وقت اصلی مسیح موعود مانا جاوے۔ یہ بھی صریح باطل ہے۔ کیونکہ مسیح موعود کو تو نبوت لازم ہے اور جب مرزا قادیانی نبی نہ ہوں گے تو آنے والے یعنی مسیح موعود کیوں کر ہوں گے۔ گو وہ اپنے کو مثیل سے تعبیر کریں۔ مگر جب موعود کہیں گے تو اصل آپ ہی بن جاویں گے۔

مرزا قادیانی پر یہ بھی کھول دیا گیا کہ مسیح ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ وہ فوت ہو گیا اس کی روح بہشت میں سیر کر رہی ہے۔ اس پر دوبارہ موت طاری نہ ہوگی۔ پس وہ ہرگز نازل نہ ہوگا۔

١٩

صفحہ ٤٥٠

مگر ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی پر یہ کھول دیا گیا ہے تو سبیل شریعت اسلام ان پر ضرور مسدود کر دی گئی ہے جو نزول عیسیٰ بن مریم پر ناطق ہے اور جس میں یہ مصرح ہے کہ عیسیٰ ابن مریم فوت نہیں ہوا۔ بلکہ زندہ اٹھا لیا گیا ہے۔ تفسیر ابو السعود میں تحت قولہ تعالیٰ ”انی متوفيك ورافعك الیٰ“ لکھا ہے۔ ”قوله انى متوفيك اى مستوفى اجلك ومؤخرك الى اجلك المسمى عاصماً لك من قتلهم او قابضك من الارض من توفيت مالى او متوفيك نائما اذ روى انه رفع نائما وقيل مميتك فى وقتك بعد النزول من السماء ورافعك الآن او مميتك من الشهوات العائقة عن العروج الى عالم الملكوت وقيل اماته الله سبع ساعات ثم رفعه الى السماء واليه ذهبت النصارى قال القرطبى والصحيح ان الله تعالى رفعه من غير وفات ولا نوم كما قال الحسن وابن زيد وهو اختيار الطبرى وهو الصحيح عن ابن عباس“ صاحب بیضاوی لکھتا ہے: ”ای مستوفی اجلك ومؤخرك الى اجلك المسمى عاصماً اياك من قتلهم“ فخر رازی کبیر میں لکھتا ہے: ”معنى قوله تعالى انى متوفيك اى متمم عمرك ثم اتوفاك فلا اتركهم حتى يقتلوك بل انا رافعك الى سمائى ومقربك الى ملائكتى واصونك عن ان يتمكنوا من قتلك وهذا تاويل حسن“

اس کے بعد لکھتا ہے: ”الوجه الرابع فى تاويل الآية ان الواو فى قوله تعالى متوفيك ورافعك الى تفيد الترتيب فالآية تدل على انه تعالى يفعل به هذه الفعال فاما كيف ومتى يفعل فالامر فيه موقوف على الدليل وقد ثبت بالدليل انه حى ورد الخبر عن النبى ﷺ انه سينزل ويقتل الدجال ثم انه تعالى يتوفاه بعد ذلك“

اس کے بعد ایک اور توجیہ لکھی ہے۔ چنانچہ کہتا ہے: ”التوفى هو اخذ الشئ وافيا ولما علم الله تعالى ان من الناس من يخطر بباله ان الذى رفعه الله هو روحه لا جسده ذكر هذا الكلام ليدل على انه عليه الصلوة والسلام رفع بتمامه الى السماء بروحه وجسده ويدل على صحته هذا التاويل قوله تعالى ولا يضرونك من شئ“

٢٠

کمالین حاشیہ جلالین میں يقال وفانى فلان دراهم بالموت وبالاصعاد فقـ البخارى قال ابن عباس متو من السماء ورافعك الآن“

دیکھو مفسرین کی ان تما ہے کہ عیسیٰ ابن مریم زندہ ہیں اور مـ مرزا قادیانی کو خود عیسیٰ بننے کے وا اسلام کے اس ضروری عقیدہ کو اپنے نے ایک نیا قاعدہ اسلام میں ایسا ا ملتی۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ عیسیٰ موجود طاری نہیں ہو سکتی۔ لیکن اس خرافات ہے کہ جو ایک بار بہشت بریں میں مشکل ہوگی کہ ہمارے نبی پاک مـ داخل ہونا شرعاً ممتنع ہوگا۔ ورنہ بو بہشت بریں میں داخل ہو کر دنیا ہے؟ کیونکہ جس طرح آنحضرت دنیا میں آگئے۔ عیسیٰ موعود بھی قبل سبب دخول اور زمان قیام میں دونـ دخول الجنة “ ہے اور وہ بہر کہ جس پر ایک بار موت طاری ہو بھی کوئی اصل شرعی نہیں ہے۔ بلکہ قرية وهى خاوية على عرو مأة عام ثم بعثه“ اور قصہ اصحاب حزیـ

صفحہ ٤٥١

کمالین حاشیہ جلالین میں اس مقام کے متعلق لکھا ہے: ”التوفی هو القبض يقال وفانى فلان دراهمى واوفانى وتوفيتها منه غير أن القبض يكون بالموت وبالاصعاد فقوله رافعك الى من غير موت تعيين للمراد وفى البخارى قال ابن عباس متوفيك اى مميتك معناه فى وقت موتك بعد النزول من السماء ورافعك الآن“

دیکھو مفسرین کی ان تمام تصریحات اور تعیین مراد سے کالشّمس فی نصف النہار ثابت ہے کہ عیسیٰ ابن مریم زندہ ہیں اور متوفیک کے معنی متم عمرک اور مستوفی اجلک کے ہیں۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی کو خود عیسیٰ بننے کے واسطے ضرورت ہے کہ وہ عیسیٰ موعود کے نزول سے انکار کرے اور اسلام کے اس ضروری عقیدہ کو اپنے افتراء کے ذریعے باطل قرار دے۔ پس اسی ضرورت سے اس نے ایک نیا قاعدہ اسلام میں ایسا اختراع کیا ہے۔ جس کی کوئی اصل ہم کو شریعت محمدیہ سے نہیں ملتی۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ عیسیٰ موعود تو بہشت بریں میں داخل ہوچکے ہیں۔ اب ان پر دوبارہ موت طاری نہیں ہوسکتی۔ لیکن اس خرافات کا کوئی مطلب ہرگز ہم نہیں سمجھتے۔ کیونکہ اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ جو ایک بار بہشت بریں میں کسی طرح داخل ہو گیا۔ پھر وہ وہاں سے نکل ہی نہیں سکتا۔ تو یہ مشکل ہوگی کہ ہمارے نبی پاک حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا شب معراج میں بہشت بریں میں داخل ہونا شرعاً ممتنع ہوگا۔ ورنہ بعد دخول جنت وہ پھر دنیا میں کس طرح لوٹ کر آتے اور اگر وہ بہشت بریں میں داخل ہوکر دنیا میں آسکے تو عیسیٰ موعود کا پھر نازل ہونا کیونکر شرعاً مستبعد ہو سکتا ہے؟ کیونکہ جس طرح آنحضرت ﷺ قبل الاجل، بطریق سیر، بہشت بریں میں داخل ہوکر پھر دنیا میں آگئے۔ عیسیٰ موعود بھی قبل الاجل ایک زمان معین تک بہشت میں رہ کر پھر آسکتے ہیں۔ گو سبب دخول اور زمان قیام میں دونوں کے فی الجملہ اختلاف ہو۔ مدعا تو ”نزول فی الدنیا بعد دخول الجنة“ ہے اور وہ بہرکیف عقلاً اور شرعاً ثابت ہے اور اگر مرزا قادیانی کا مطلب یہ ہے کہ جس پر ایک بار موت طاری ہوگئی ہو۔ اس پر دوبارہ موت طاری ہونا مستحیل ہے تو اس کے لئے بھی کوئی اصل شرعی نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ابطال صریح کے واسطہ آیت: ”کالذی مرّ علی قرية وهى خاوية على عروشها قال انّى يحيى هذه الله بعد موتها فاماته الله مأة عام ثم بعثه“

اور قصہ اصحاب حزقیل کما قال اللہ تعالیٰ!

٢١

صفحہ ٤٥٢

”الم ترالى الذين خرجوا من ديارهم وهم الوف حذر الموت فقال لهم الله موتوا ثم احياهم“

اور بہت سے معجزات انبیاء اور خود اعجاز عیسوی کافی وافی ہیں اور جب کہ دوبارہ موت کا طاری ہونا کسی طرح پر خلاف اصول شریعت نہیں تھا تو اسی بناء پر صاحب فتح الباری لکھتا ہے کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ کی موت ”قبل الرفع“ کے قائل ہیں۔ اگر ان کا یہ قول ضعیف بھی مان لیا جائے تو کوئی استحاله نہیں ہے۔ بلکہ وہ بعد نزول پھر فوت ہوسکتا ہے۔ چنانچہ عبارت اس کی یہ ہے:

”وعلى هذا فاذا نزل الى الأرض ومضت المدة المقدرة يموت ثانياً“

تو اب مرزا قادیانی کے اس اصل فاسد کے واسطے کہ عیسیٰ تو ایک بار فوت ہو گیا۔ اس کی روح بہشت بریں میں سیر کر رہی ہے۔ اس پر دوبارہ موت طاری نہ ہوگی۔ کون سی اصل شرعی ہے۔ ہم تو کہہ سکتے ہیں کہ اگر خلاف جمہور ہم آپ کے اس زعم باطل کو بھی تسلیم کر لیں کہ عیسیٰ موعود فوت ہو چکا۔ تا ہم وہ ضرور نازل ہوگا اور خدا اپنا وعدہ پورا کرے گا اور وہ دوسری بار فوت ہو جاوے گا تو بجز اس کے کہ مرزا قادیانی کو عیسیٰ بننے کا موقع نہ ملے گا اور کیا حرج لازم آوے گا اور اگر مرزا قادیانی کا یہ مطلب ہے کہ جو شخص ایک بار اپنی اجل معین فی الدنیا کو پورا کر کے بہشت بریں میں داخل ہو گیا۔ وہ بہشت بریں سے اس طرح نہ نکالا جاوے گا کہ پھر وہ اس میں داخل نہ ہو سکے اور اس پر وعدہ الٰہی کے موافق دوسری بار موت بھی طاری نہ ہوگی تو یہ مسلم ہے۔ مگر عیسیٰ موعود پر اجل معین فی الدنیا پورا ہونے کے بعد کب موت طاری ہوئی ہے اور وہ ”بعد اتمام الاجل فی الدنیا“ کب بہشت میں داخل ہوئے ہیں جو ان کا بہشت سے آنا مستحیل ہو۔ بلکہ اس کی اجل تو ہنوز باقی ہے تو اب اس کا ”نزول فی الدنیا“ اور ”خروج من الجنة“ اس طرح نہ ہوا کہ وہ بہشت میں نہ جاسکے۔ بلکہ وہ اپنی باقی ماندہ اجل کو پورا کر کے بعد وفات پھر، جنت میں داخل ہوگا اور اس کے بعد کبھی پھر نہ نکالا جائے گا۔ مگر ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ بعض بطال اپنے زعم میں پہلے سے ایک غرض فاسد قرار دے کر اصول شریعت کو اپنے زعم باطل کا تابع بنایا کرتے ہیں جو انہیں پر رد کے لائق ہوتی ہے اور اس کو تحریف شریعت کہا جاتا ہے۔

اب بڑا استدلال مرزا قادیانی کا عبداللہ بن عباس کی اس تفسیر سے ہے جو بخاری میں ابن عباس سے منقول ہے۔ ”متوفيك اى مميتك“ مگر ہم اس کے معنی اور بخاری کی مراد کو پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ابن عباس کی تفسیر لفظ ”متوفيك“ کی لفظ ”مميتك“ کے ساتھ ہرگز اس پر دال نہیں ہے کہ وہ قبل النزول عیسیٰ بن مریم کی موت کا قائل ہے۔ بلکہ اپنے وقت پر موت کا قائل

٢٢

”وإذ قتلتم نفساً... الخ“ اور ان حضرت حواری نفساً فادارأتم فيها أموكم (اور سورۃ قاف میں) وعاد وفرعون واخوان لو بعد ذکر فرمایا ہے اور جس کو قرآن ۔ اور فرعون لوط کے بعد دیکھو سورہ اع خلفاء من بعد عاد وبوأك ہوئے ہیں اور لوط، ابراہیم کے ز محاورہ قرآنی اور ترتیب زمانی برا۔

صفحہ ٤٥٣

ہے اور اگر فرضاً اس سے منقول بھی ہو تو ابوسعود کی تفسیر کے موافق بناء بر اصح الروایتین ابن عباسؓ کا مذہب یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ رفع من غیر موت کا قائل ہے اور اس کی تفسیر کی صحیح توجیہ یہ ہے۔ ”اى مميتك عند اجلك المسمى بعد النزول من السماء ورافعك الآن“ تو اب مرزا قادیانی کا اس ضعیف بنیاد پر عیسیٰ ابن مریم کے نزول سے انکار کرنا اور ایسے حکم منصوص سے اباء کرنا اور عیسیٰ بن مریم کی موت کا قائل ہو کر نصاریٰ کے مذہب کی تائید کرنا، قانون شریعت اسلامیہ کے بالکل خلاف ہے۔

اس مقام پر (مرزا قادیانی کے) بعض حواریین نے لکھا ہے کہ اگر خدا کی مراد یہ مانی جاوے کہ اوّل عیسیٰ بجسم عنصری اٹھائے جاویں گے۔ اس کے بعد وفات پاویں گے تو خدا کے کلام میں بلاغت نہیں رہتی۔ کیونکہ اس تقدیر پر یوں کہنا مناسب تھا۔ ”يا عيسى انى رافعك بجسمك العنصرى ثم متوفيك الخ“

اور نقصان بلاغت کا منشاء غالباً یہ سمجھا ہے کہ رفع اوّل واقع ہوگا اور موت اس کے بعد ہوگی تو گویا ترتیب واقعات اور قصہ میں تقدیم و تاخیر لازم آوے گی۔ پس ان حضرت حواری نے بلاغت صرف قصوں کی ترتیب کا نام سمجھا ہے اور نعوذ باللہ اگر اسی کا نام بلاغت ہو تو تمام قرآن پاک میں شاید بلاغت نہ رہے۔ کیونکہ یہ ترتیب قصص وامثال میں کہیں ملحوظ نہیں ہے۔ دیکھو سورۃ بقرہ میں اوّل ارشاد ہے۔ ”ان الله يأمركم ان تذبحوا بقرة“ اور آخر میں مذکور ہے: ”واذ قتلتم نفساً الخ“ اور ان حضرت حواری کی بلاغت مخترعہ چاہتی ہے کہ خدا یوں فرماتا: ”واذ قتلتم نفساً فادارأتم فيها امركم الله تعالى ان تذبحوا بقرة“

(اور سورۃ قاف میں ہے۔ كذبت قبلهم قوم نوح واصحاب الرس وثمود وعاد وفرعون واخوان لوط اس جگہ اللہ نے عاد کو ثمود کے بعد اور اخوان لوط کو فرعون کے بعد ذکر فرمایا ہے اور جس کو قرآن سے کچھ بھی لگاؤ ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ثمود، عاد کے بعد ہوئے ہیں اور فرعون لوط کے بعد دیکھو سورہ اعراف اور عنکبوت میں یہ دو آیتیں ہیں۔ ”واذكروا اذ جعلكم خلفاء من بعد عاد وبوأكم فى الارض“ ان میں صریح ذکر ہے کہ ثمود بعد عاد کے ہوئے ہیں اور لوط، ابراہیم کے زمانہ میں اور موسیٰ اور فرعون، ابراہیم کے بعد ہوئے ہیں تو اب محاورہ قرآنی اور ترتیب زمانی برائے حجت قادیانی باطل ولا یعنی ہوگئی)

٢٣

صفحہ ٤٥٤

پس بیان فرماویں کہ اس بے ترتیبی سے کس قدر بلاغت میں نقصان لازم آتا ہے۔ ”أعاذنا اللہ من ذلک“ وہ نہیں سمجھتے کہ بلاغت عبارت ہے۔ کلام کے مطابق مقتضیٰ حال ہونے سے، اور چونکہ اس مقام پر پروردگار عالم کو رد زعم یہود مدنظر تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل سے دھمکاتے تھے اور حضرت عیسیٰ کی تسلی خدا تعالیٰ کو ملحوظ تھی۔ تو ارشاد فرمایا کہ: ”یٰعیسیٰ انی متوفیک“ یعنی اے عیسیٰ تو اپنی اجل معین کو پورا کرے گا اور معمول کی موت سے مرے گا۔ یہود کو دسترس نہ ہوگی کہ وہ تجھ کو قتل کرسکیں اور اس اجل معین کے پورے ہونے تک ہم تجھ کو زمین سے اٹھالیں گے اور ان کے کید وایذاء سے محفوظ رکھیں گے۔ پس اب حواری صاحب خدا تعالیٰ کے کلام میں دخل دینے کے واسطے ذرا اپنی قابلیت کا تو اندازہ فرمالیں۔ دیکھو عبارت فتح الباری بھی اسی مدعا پر دال ہے۔ ”قال العلماء الحکمۃ فی نزول عیسیٰ دون غیرہ من الانبیاء الرد علی الیہود فی زعمھم انھم قتلوہ فبین اللہ تعالیٰ کذبھم وانہ الذی یقتلھم“ علامہ رازیؒ لکھتا ہے: ”معنی قولہ تعالیٰ انی متوفیک ای متمم عمرک فح اتوفاک فلا اترکھم حتی یقتلوک بل انا رافعک الی سمائی ومقربک بملئکتی واصونک عن ان یتمکنوا من قتلک وھذا تاویل حسن“ اس مقام پر (مرزا قادیانی کے) بعض حوارین نے حضرت ابوہریرہؓ کے اس استشہاد پر جو انہوں نے آیت ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ“ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی نسبت کیا ہے۔ جرح فرمائی ہے اور ضمیر ”قبل موتہ“ کا مرجع ”کتابی“ کو سمجھا۔ حالانکہ ابوہریرہؓ کا استشہاد اس وقت صحیح ہوتا ہے۔ جب کہ اس ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں۔ پس حضرت ابوہریرہؓ قائل ہوئے کہ ”کتابی“ اس کا مرجع نہیں ہے اور یہی مذہب حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کا ہے۔ چنانچہ فتح الباری میں اسی استشہاد کے متعلق لکھا ہے: ”ھکذا عبارتہ وقولہ فی الآیۃ وان یمعنی ما ای لایبقی احد من اھل الکتاب وھم الیہود والنصاریٰ اذا نزل عیسیٰ الا آمن بہ وھذا مصیر من ابی ھریرۃ الی ان الضمیر فی قولہ الا لیؤمنن بہ وکذلک فی قولہ قبل موتہ یعود علی عیسیٰ ای الا لیؤمنن بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ وبھذا جزم ابن عباس فیما رواہ جریر من طریق سعید بن جبیر عنہ باسناد صحیح ومن ٢٤

٥ طریق ابی رجاء عن الحسن قال قبل اذا نزل آمنوا بہ اجمعون ونقلہ وغیرہ“ پس اب اہل حق خیال کریں کہ اگر لوگ اعلم بمعانی القرآن تھے اور جن کی تفسیر ا احتمال نہیں ہے تو کیا ہے؟ ”وھل ھذا الا بلاء مبین و اللہ وبین اصحاب القادیانی اعاذنا ال باللہ“ اور سنئے حضرت قادیانی نے ملائک بھی دبی زبان سے اس کا اقرار فرما کر تحریر فرمایا اور عقلی تائید اس کی یوں فرمائی ہے کہ پرندوں ک ”کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم ان یق اللہ پاک صاف اپنے کلام میں ارش والارض جاعل الملائکۃ رسلا او الخلق مایشاء“ اس کلام سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملا اور چار پر والے اور اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ جس قد صحیح مسلم میں ہے۔ چھ سو پروں والے فرشتے بھی ہیں سے زیادہ ناممکن ہے۔ ”وھل ھذا الاخلا تعالی اعاذنا اللہ من ذلک“ حضرت حواری نے نیچر کے حکم کے یا چار بازو ہو سکیں۔ حالانکہ نیچر کے موافق بھی ایک چھوٹا سا جانور غیر پرندہ، جس کو ہزار پایا ک کیسی صاف رفتار چلتا ہے۔ اسی طرح اگر بن

صفحہ ٤٥٥

طریق ابی رجاء عن الحسن قال قبل موت عیسیٰ والله انه الآن لحی ولكن اذا نزل آمنوا به اجمعون ونقله عن اكثر اهل العلم ورجحه ابن جریر وغيره“

پس اب اہل حق خیال کریں کہ اگر یہ عدول عن مذہب الصحابہ نہیں ہے تو کیا ہے اور جو لوگ اعلم بمعانی القرآن تھے اور جن کی تفسیر ایسے امور میں واجب الاتباع ہے۔ ان کی تفسیر کا رد و ابطال نہیں ہے تو کیا ہے؟

”وهل هذا الا بلاء مبين وهذا خلاف بين اصحاب محمد رسول الله وبين اصحاب القادياني اعاذنا الله من ذلك التهانى ولا حول ولا قوة الا بالله“

اور سنئے حضرت قادیانی نے ملائکہ کے وجود سے انکار کیا ہے اور ان کے حوارین نے بھی دبی زبان سے اسی کا اقرار فرما کر تحریر فرمایا ہے کہ ملائکہ کے بازوؤں سے قوائے ملکیہ مراد ہیں اور عقلی تائید اس کی یوں فرمائی ہے کہ پرندوں کے سوائے دو بازو کے تین یا چار بازو نہیں ہوتے۔

”كبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذباً“

اللہ پاک صاف اپنے کلام میں ارشاد فرماتا ہے: ”الحمد لله فاطر السماوات والارض جاعل الملائكة رسلا اولیٰ اجنحة مثنى وثلاث ورباع يزيد في الخلق ما يشاء“

اس کلام سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ پروں والے ہیں۔ دو پر والے اور تین پر والے اور چار پر والے اور اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ جس قدر چاہے اور زیادہ کرے۔ جس کی تصدیق احادیث صحیحہ میں ہے۔ چھ سو پروں والے فرشتہ بھی ہیں اور ان حواری صاحب کا نیچر فرماتا ہے کہ دو پروں سے زیادہ ناممکن ہے۔ ”وهل هذا الا خلاف بين حوارى القادياني وبين الله تعالیٰ اعاذنا الله من ذلك“

حضرت حواری نے نیچر کے حکم کے موافق اس امر کو مستبعد سمجھا ہے کہ ایک پرند کے تین یا چار بازو ہوسکیں۔ حالانکہ نیچر کے موافق بھی وہ مستبعد نہیں ہے۔ کیونکہ ان حضرت حواری نے ایک چھوٹا سا جانور غیر پرند، جس کو ہزار پایا کہتے ہیں۔ ضرور دیکھا ہوگا۔ دیکھو وہ ہزار پاؤں سے کیسی صاف رفتار چلتا ہے۔ اسی طرح اگر ہزار پر کا طائر خدا ایسا بنا دے۔ جو ہزار پروں سے اسی

٢٥

صفحہ ٤٥٦

طرح اڑ سکے۔ جس طرح ہزار پاؤں سے ہزار پایا چلتا ہے۔ تو کیا خدا کی قدرت سے بعید ہے۔

باقی زبدہ کی تحریر پر غرہ ہونا اہل علم کا کام نہیں۔ کیا ضرورت عقلی یا نقلی داعی ہے جو ہم ”صرف النصوص عن الظاهر“ کے قائل ہوں اور مذاہب صحابہ سے عدول کر کے الحاد اختیار کریں۔

حواری مذکور نے اس لفظ حدیث پر بہت تعجب کیا ہے۔ ” واضعا كفيه على اجنحة ملكين“ اور وہ فرماتے ہیں کہ اوپر سے اترنے والا پروں پر ہتھیلیاں کیونکر ٹیک سکتا ہے اور پھر فرماتے ہیں کہ حدیث ”لتضع اجنحتها لطالب العلم“ کے پھر کیا معنی ہوں گے۔ اس کے بعد فرماتے ہیں۔ مجمع البحار میں ہے۔ ”قيل هو بمعنى التواضع تعظيما لحقه“ اور اس سے یہ ثابت کیا ہے کہ جو معنی تواضع کے یہاں ہیں۔ وہی معنی تواضع کے حدیث ”واضعاً كفيه على اجنحة الملكين“ میں ہوں گے۔ ”فيا اسفاه على ضيعة العلم واهليها“ اے

حضرات اہل حق ذرا خیال فرمائیے کہ معنی لفظ اجنحہ کے تواضع کے ہیں تو حدیث نزول عیسیٰ ابن مریم میں ”واضعا كفيه على اجنحة الملائكة“ کے یہ معنی ہوئے کہ حضرت عیسیٰ فرشتوں کی تواضع پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے اور وہ شاید اہل مذاق کے اس محاورہ کے موافق ہو کہ فلاں شخص اپنی شرم پر ہاتھ رکھ کر آیا اور اس تقدیر پر بے چارے صاحب مجمع البحار کے کلام سے استشہاد کی کیا ضرورت ہوئی۔ کیونکہ وہ تو ”وضع اجنحة“ کے معنی تواضع کے بیان کرتا ہے۔ ”اجنحة“ کا محاورہ نہیں بیان کرتا اور ”وضع اجنحة“ بمعنی ”تواضع وخفض اجنحة“ بمعنی ”العجز“ عین محاورہ ہے۔ ”کما فی مجمع البحار وكما قال الله تعالى واخفض لهما جناح الذل“ اور اگر مراد حواری صاحب کی یہ ہے کہ ”وضع اجنحة“ بمعنی التواضع ہے تو حدیث نزول عیسیٰ میں ”وضع اجنحة“ کہاں ہے جو تواضع مراد ہو۔ وہاں تو ” وضع الكف على الاجنحة“ ہے جو خلاف تواضع تسلط علی الغیر ہے۔ پھر تواضع کے کیا معنی ہوں گے؟ اور اگر یہ مراد ہے کہ ”وضع الكف على اجنحة الملائكة“ کے معنی بھی تواضع کے ہیں۔ تو اس کے استشہاد کے واسطے کوئی اور محاورہ نقل کیجئے جو مدعا ثابت ہو۔ مجمع البحار میں اس کا کہیں نشان نہیں اور اگر یہ مراد ہے کہ جہاں لفظ ”اجنحة“ دیکھ لیا۔ وہیں تواضع کے معنی سمجھ لئے کلام کے سیاق و سباق سے کچھ بحث نہیں تو اس فہم عالی کا کیا جواب ہے یہ علوم لدنیہ وہبیہ جو صرف حواریین قادیانی کا حصہ ہے۔ مسجد کے ملاں نرے خدا و رسول کے فرمانبردار اس کو کیا جانیں۔

اب ہم ان واقعات کو دیکھتے ہیں جو اصلی مسیح ابن مریم کے نزول کے وقت ہونے

٢٦

صفحہ ٤٥٧

چاہئیں اور جن کی تصریح من غیر ریب ومریہ ہمارے شارع سے ثابت ہے۔ چنانچہ سب سے بڑا واقعہ جو عیسیٰ ابن مریم کے زمانہ میں ہوگا۔ قتل دجال ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں نواس بن سمعان سے مروی ہے:

”قال ذكر رسول الله ﷺ الدجال فقال ان يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم وان يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه والله خليفتى على كل مسلم، انه شاب قطط عينه طافئة كانى اشبهه بعبد العزى بن قطن فمن ادركه منكم فليقرأ فواتح سورة الكهف وفى رواية فليقرأ بفواتح سورة الكهف فانها جواركم من فتنته انه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالاً يا عباد الله فاثبتوا قلنا يا رسول الله وما لبثه فى الارض؟ قال: اربعون يوما يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر ايامه كايامكم قلنا يا رسول الله فذالك اليوم الذى كسنة اتكفينا فيه صلوة يوم؟ قال لا اقدروا اله قدره قلنا يا رسول الله وما اسرعه فى الارض؟ قال كالغيث استدبرته الريح فيأتى على القوم فيدعوهم فيؤمنون به ويستجيبون له فيأمر السماء فتمطر والارض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم اطول ما كانت ذرى واسبغه ضروعاً وامده خواصر ثم يأتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايديهم شئ من اموالهم ويمر بالخربة فيقول لها: اخرجي كنوزك فتتبعه كنوزها كيعاسيب النخل ثم يدعوا رجلاً ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه ويضحك فبينما هو كذلك اذ بعث الله المسيح بن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ رأسه قطر، واذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ فلا يحل لكافر يجد من ريح نفسه الا مات ونفسه منتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد (فيقتله ثم يأتى عيسى ابن مريم) قوم قد عصمهم الله منه فيمسح على وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم فى الجنة فبينما هو كذلك اذ اوحى الله الى عيسى عليه السلام انى قد اخرجت عباد الى لا يدان لا احد بقتالهم فحرز عبادى الى الطور ويبعث الله يأجوج

٢٧

صفحہ ٤٥٨

وماجوج وهم من كل حدب ينسلون فيمر اوائلهم على بحيرة طبرية فيشربون مافيها ويمر آخرهم فيقولون لقد كان بهذه مرة ماء ويحصر نبى الله عيسى واصحابه حتى يكون رأس الثور لاحدهم خير من مأة دينار لاحدكم اليوم فيرغب نبى الله عيسى واصحابه فيرسل (الله) عليهم النغف فى رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ثم يهبط نبى الله عيسى عليه السلام واصحابه الى الارض فلا يجدون فى الارض موضع شبر الا ملاه زهمهم ونتنهم فيرغب نبى الله عيسى عليه السلام واصحابه الى الله فيرسل الله طيراً كاعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله ثم يرسل الله مطراً لا يكن منه بيت مدر ولا وبر فيغسل الارض حتى يتركها كالزلفة ثم يقال للارض أنبتى ثمرتك وردى بركتك فيومئذ تأكل العصابة من الرمانة ويستظلون بقحفها ويبارك فى الرسل حتى أن اللقحة من الابل لتكفى الفئام من الناس واللقحة من البقر لتكفى القبيلة من الناس واللقحة من الغنم لتكفى الفخذ من الناس فبينماهم كذلك اذا بعث الله ريحاً طيبة فتأخذهم تحت اباطهم فتقبض روح كل مؤمن وكل مسلم ويبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة“

(قاضی محمد سلیمان منصور پوری غایۃ المرام میں بتاتے ہیں کہ اس حدیث کے آدھے حصے کا ترجمہ مرزا قادیانی نے بھی اپنے ازالہ اوہام میں کیا ہے۔ مگر ترجمہ کرتے کرتے بھی بہت ایچ پیچ ڈالے ہیں۔ ایک فقرہ کا ترجمہ کیا اور دو تین ورق غیر مربوط لکھ ڈالے۔ پھر اس طرح تا کہ اصل حدیث کا مطلب ناظرین کی سمجھ میں ذرا نہ آئے۔ غرض اس حدیث کے آدھے حصے کے ترجمہ کو صفحہ ٢٠٣ سے ٢٣٨ تک طول دیا ہے اور پھر تمام حدیث کے مضامین کی نسبت لکھا ہے کہ وہ عقل و شرع سے مخالف پڑے ہوئے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ اسی ضمن میں جو بعض الفاظ ایسے آ گئے ہیں جن کی تاویل آپ کر سکتے ہیں۔ ان کی تاویل جھٹ کر کے اپنے آپ کو مصداق صحیح ان کا بنا لیا ہے۔ مثلاً زرد کپڑوں سے مراد بیمار ہونا، دمشق سے مراد قادیان بتلانا دم کی بھاپ سے قاطع حجتیں مراد لینا۔ دو فرشتوں سے مراد علوم عقلی ونقلی بیان کرنا، منارۃ شرقی سے مراد اپنی مسجد کے منارہ کو ٹھہرانا اور اس کے ساتھ (اپنی) ایک الہامی عبارت کا جوڑ دینا ”انا انزلناه قريباً من القاديان بطرف شرقى عند المنارة البيضاء“ (ازالہ اوہام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ١٣٩)

٢٨

د نوريت يرد بعضه بعضاً (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے دے گا۔ اس وقت مسیح موعود نازل ہوگا اور ہوتا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوگا۔ قاد اس کا شرقی دمشق عند منارۃ البیضاء ہوگا او ہوئے۔ ”بین مهروذتین“ ”نزول ابن مریم اور خروج دجال کی خبر پر مشتمل مرزا قادیانی نہیں ہے اور نزول مسیح موعو اخبار کی نسبت بالغ حد التواتر لکھا ہے۔ ”قال الشوكاني في

صفحہ ٤٥٩

لیکن جہاں تاویل سے بالکل ہی رہ گئے۔ اس کا ترجمہ بھی چھوڑ دیا یا چپ سادھ کر خاموشی اختیار کر لی ناظرین اس حدیث کے ترجمہ کو ازالۃ الاوہام میں دیکھیں اور جو کچھ مرزا قادیانی کے دل پر اس حدیث کے مضامین سے گزرتی ہے اس کا اندازہ کریں۔ حدیث ایک ہی ہے۔ اس حدیث کو ایک جگہ بالکل صحیح مانتے ہیں اور اپنی بشارت اس میں سے نکالتے ہیں۔ اسی کے ایک حصہ کی نسبت ایسا سکوت ہے۔ گویا حدیث میں اس عبارت کے ہونے کا علم و خبر تک بھی نہیں۔ اسی حدیث کے ایک حصہ کی نسبت ایسے غیظ و غضب سے بھر جاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی پر وضعی حدیث بنانے کا اتہام لگانے لگتے ہیں اور چیخ اٹھتے ہیں کہ اس کا بانی مبانی نواس بن سمعان ہے۔ یہ سب کچھ لکھ کر جب بھول جاتے ہیں۔ تو اسی حدیث کے مطالب سمجھنے کے واسطے حکیم نور الدین کا درخواست کرنا اور خود بارگاہ الٰہی میں ملتجی ہونا اور کشفی طور پر الفاظ حدیث کے معانی کا اپنے اوپر ظاہر ہو جانا، تحریر کرتے ہیں۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ حضرت! اگر اس حدیث کے مضامین عقل و شرع کے خلاف تھے۔ اگر اس کا بانی مبانی نواس بن سمعان ہی تھا۔ اگر بخاری نے اس کو موضوع سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ اگر آپ کی تحقیق میں یہ حدیث مسلم شریف کی دوسری حدیثوں سے بھی بالکل منافی و مبائن تھی۔ تو پھر آپ نے حکیم نور الدین صاحب کو بھی یہی جواب کیوں نہ دے دیا اور خدا نے بھی کیوں اس کے معنی نہ بتلائے اور یہ نہ کہہ دیا کہ اس کے مضامین تو عقل شرع کے خلاف اور شرک سے بھرے ہوئے اور الوہیت کے تمام اقتدار ایک دجال خبیث کو دینے والے ہیں۔ اللہ اکبر! اس تحریر ”یرد بعضہ بعضا“ پر بھی لوگ خیال کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی بڑے انشاء نگار ہیں۔ بہاء )

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دجال خروج کرنے کے بعد اپنا فساد شروع کر دے گا۔ اس وقت مسیح موعود نازل ہوگا اور اس کو تلاش کر کے عند باب لد قتل کرے گا اور نیز یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوگا۔ قادیان میں نہیں پیدا ہوگا اور نیز یہ معلوم ہوتا ہے کہ محل نزول اس کا شرقی دمشق عند منارة البیضاء ہوگا اور نیز معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملائکہ کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے۔ ”بین مھروذتین“ نزول فرمائے گا اور اسی کی مثل کئی اور روایات ہیں جو نزول عیسیٰ ابن مریم اور خروج دجال کی خبر پر مشتمل ہیں اور جن میں مصرح ہے کہ دجال سے مراد گروہ منکرین مرزا قادیانی نہیں ہے اور نزول مسیح موعود خروج دجال کے بعد ہوگا۔ چنانچہ شوکانی نے خروج دجال کی اخبار کی نسبت بالغ حد التواتر لکھا ہے۔

”قال الشوكاني في التوضيح واما الاحاديث الواردة في الدجال ٢٩

صفحہ ٤٦٠

فالذی انکره منها مائة حدیث“

اس کے بعد احادیث کو نقل کر کے لکھتا ہے:”ولنقتصر على هذا المقدار فليس المراد الا بيان كون احاديث خروج الدجال متواترة والتواتر يحصل بالبعض مما سلفناه وقد بقيت احاديث وآثار عن جماعة من الصحابة تركنا ذكرها ووقفنا على هذه المائة الحديث التي اشرنا اليها والى من خرجها“

اسی طرح بعض روایات میں عیسیٰ موعود کا حلیہ بھی مذکور ہے:عن ابی هریره عن النبی ﷺ قال ليس بينی وبینه (یعنی عیسیٰ) نبی وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض بين ممصرتين كأن رأسه يقطر وان لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله في زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك المسيح الدجال فيمكث فى الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلی علیه المسلمون . رواه ابوداود (باسناد صحیح فتح الباری)

چنانچہ اس روایت سے ہم کو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کا حلیہ بھی ہمارے شارع کی طرف سے متعین ہے اور اس کے بعض وہ کام بھی خاص فرمائے گئے ہیں جو وہ دنیا میں کرے گا اور مرزا قادیانی کا نہ وہ حلیہ ہے نہ وہ کام مرزا قادیانی سے ظہور میں آئے ہیں۔ نہ ہنوز دنیا سے مذاہب باطلہ کا بمقابلہ اسلام کے زوال ہوا ہے۔ بلکہ برخلاف اس کے آریہ مذہب کی ترقی خود مرزا قادیانی کی عنایت کی ہوئی ہے تو اب ایسی حالت میں مرزا قادیانی نے کیوں بے وقت اور بے محل نزول فرمایا۔

اور ایک دوسرا واقعہ جو سچے مسیح موعود اور جھوٹے مسیح کے درمیان امتیاز کرنے کی عمدہ علامت ہے۔ یہ ہے کہ سچے مسیح موعود کے نزول سے مہدی منتظر کا ظہور ہوگا اور وہ عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے وقت دنیا میں موجود ہوگا اور امامت کی تواضع کرے گا اور عیسیٰ ابن مریم ”تکرمة لهذه الامة “ اس تواضع کو قبول نہ فرمائیں گے۔ بلکہ خود مہدی کا اقتداء کریں گے۔

عن ابی هریرة قال قال رسول الله ﷺ كیف انتم اذا نزل ابن مریم فيكم وامامكم منكم . رواه البخاری

٣٠

صفحہ ٤٦١

اُس کے تحت میں شیخ نے لکھا ہے: ”قولہ وامامکم منکم ای من قریش وهو المهدی غلیه السلام ای عیسیٰ یقتدی به تکرمة لهذه الامة“

حضرت جابرؓ سے مروی ہے۔ صحیح مسلم میں: ”قال قال رسول اللہ ﷺ لا تزال طائفة من امتی یقاتلون علی الحق ظاهرین الی یوم القیامة قال فینزل عیسیٰ بن مریم فیقول امیرهم تعال صل لنا فیقول لا ان بعضکم علی بعض امراء تکرمة الله هذه الامة“

اور سنن ابوداؤد میں ہے: ”قال لولم یبق من الدنیا الایوم قال زائدة لطول الله ذلک الیوم حتیٰ یبعث رجلاً منی اومن اهل بیتی یواطی اسمه اسمی واسم ابیه اسم ابی (وسکت عنه)“

اور جامع ترمذی میں ہے: ”عن عبداللہ بن عمر قال قال رسول اللہ ﷺ لا یذهب الدنیا حتی یملک العرب رجل من اهل بیتی یواطی اسمه اسمی وقال هذا حدیث حسن صحیح “

ان روایات کی نسبت شیخ نے لمعات میں لکھا ہے: ”قد تظاهرت الاحادیث البالغة حد التواتر معنی فی کون المهدی من ولد فاطمة وقدورد فی بعض الاحادیث کونه اولاد الحسن وبعضها من اولاد الحسین سلام الله علیهم اجمعین وقدورد فی الاحادیث الغریبة انه من ولد عباس وقال الشیخ الهیثمی ولا منافاة بینهما اذلا مانع من اجتماع الولادات فی شخص من جهات مختلفة“

علامہ شوکانی نے تو ضیح میں لکھا ہے: ”وقد ورد السوال عن بعض الاعلام عن الاحادیث الواردة فی هؤلاء هل هی متواترة ام لا، فاقول اما الاحادیث الواردة فی المهدی فالذی امکن الوقوف علیها خمسون حدیثاً“

اور پھر نقل احادیث کے بعد لکھتا ہے: ”فهذه الاحادیث الواردة فی المهدی خمسون حدیثاً فیها الصحیح والحسن والضعیف المنجبر وهی متواترة بلا شبهة بل یصدق وصف التواتر علی مادونها علی جمیع الاصطلاحات المجردة فی الاصول والی ههنا انتهی الکلام علی الاحادیث الواردة فی

صفحہ ٤٦٢

المهدى واما الآثار من الصحابة المصرحة بالمهدى فهى كثيرة انتهى من حجج الكرامة“

مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں مہدی منتظر کا بھی وجود نہیں ہے۔ جس سے کچھ شبہ ہوتا کہ مرزا قادیانی ہی شاید آنے والے مسیح ہوں۔ پس جب کہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں خروج دجال کا نشان نہیں ہے اور مہدی منتظر کا پتہ نہیں ہے۔ بجائے اس کے کہ ادیان باطلہ دنیا سے جاتے رہیں۔ شباب کفر اور ترقی ادیان باطلہ ہے اور بجائے اس کے کہ آپ کا نزول شرقی دمشق میں آسمان سے ہوتا۔ قادیان میں خروج ہوا ہے (مگر شاید قادیان کو قافیہ آسمان کا سمجھ کر کافی سمجھا ہو۔ بلبل ہمیں کہ قافیہ گل بود بس ست) پھر ہم کیونکر مرزا قادیانی کو مسیح موعود تسلیم کر لیں جو آثار ہم کو اخبار صحیحہ سے مسیح موعود کے معلوم ہوئے ہیں۔ وہ تو یہ ہیں کہ مسیح موعود عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ جس کی نسبت ہمارے مخبر صادق ﷺ نے قسم کے ساتھ یہ فرمایا ہے۔ ”والله لينزلن فيكم ابن مريم“

(بعض علماء نے اس مقام پر لکھا ہے کہ جب کوئی منکر نہ تھا تو اس تاکید کی کیا ضرورت تھی۔ پس ہمارے نزدیک وہ یہی ضرورت تھی کہ غالباً آنحضرت ﷺ کو بالوحی معلوم تھا کہ آئندہ منکر ایسے پیدا ہوں گے کہ جو عیسیٰ ابن مریم کے رفع بجسدہ اور نزول بجسدہ سے انکار کریں گے اور ان منکرین کے مقابلہ میں تاکید ضرور ہوگی۔ گو بظاہر وہ امت اجابت میں ہوں۔ ”وهذا على زعمهم“ ورنہ تخصیص امت اجابت کے کیا معنی خطاب مخصوص امت اجابت کے واسطے نہیں ہے۔ تمام قوم یہود منکر موجود تھے اور اب بھی بعض یہود اور بعض مثیل یہود موجود ہیں جو امت میں شامل ہیں۔ چنانچہ فخر الدین رازی لکھتا ہے۔ ”ولما علم الله تعالى ان من الناس من يخطر بباله ان الذى رفعه الله هو روحه لا جسده ذكر هذا الكلام ليدل على انه عليه الصلوة والسلام رفع بتمامه الى السماء بروحه وبجسده“ پس جب خدا تعالیٰ ایسے منکروں کو جانتا تھا تو اس نے اپنے رسول کو بھی ضرور بتایا ہوگا)

اور نیز عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں سوائے اسلام کے کوئی ملت باقی نہ رہے گی اور بغض وحسد جاتا رہے گا۔ نصرانیت کو وہ باطل کرے گا اور اقتناء خنزیر کو حرام کرے گا اور جزیہ کو ساقط کرے گا اور سوائے اسلام یا سیف کے دوسری بات قبول نہ کرے گا۔ دعوت اس کی قہری ہوگی۔ مہدی منتظر کا اقتداء کرے گا اور دجال کو عند باب لد قتل کرے گا اور یاجوج و ماجوج کے قتل کرنے

٣٢

صفحہ ٤٦٤

کے واسطے اس پر وحی نازل ہوگی اور وہ بھی اسی کے ہاتھ سے قتل ہوں گے۔ اگر شہد کا دریا بہانے کا قصد کرے گا تو بہادے گا۔ کافر علی سبیل الاعجاز اس کے سانس سے ہلاک ہوں گے اور سانس اس کا اس کے منتہاء بصر تک پہنچے گا اور اس کے زمانہ میں مال و دولت اس قدر ہوگا کہ اگر متصدق چاہے گا کہ کوئی اس کا صدقہ قبول کرے تو اس کو صدقہ کا لینے والا میسر نہ ہوگا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم اس کو دیکھو تو پہچان لینا کہ وہ رجل مربوع بین البیاض والحمرۃ ہوگا نہ کہ وہ ایک ڈھنگا ہوگا۔ پس جب کہ یہ روایات صحیحہ اور احادیث نبویہ حقہ تو ہم کو مسیح موعود کے یہ نشان بتاتے ہوں جو ہم نے مشتے نمونہ از خروارے بیان کئے اور مرزا قادیانی میں ان میں سے کوئی نشان بھی نہ ہو تو پھر مرزا قادیانی ہرگز مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ ہمارے نزدیک وہ بلاشبہ مسیح کاذب ہیں۔

مگر مرزا قادیانی اپنے مسیح صادق ہونے کی یہ علامت بیان فرماتے ہیں کہ چونکہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا تو وہ اب دنیا میں ہرگز نہیں آوے گا۔ پس میں ہی مسیح ہوں اور جو منکر وفات عیسیٰ ابن مریم ہو۔ وہ ثابت کرے۔

پس اول تو ہم اس التزام ہی کو نہیں سمجھتے کہ وفات مسیح اگر مسلم بھی ہو تو مرزا قادیانی ہی کیوں مسیح ہوں۔ دوسرے منکر وفات سے ثبوت کیوں طلب کیا جاتا ہے؟ در حقیقت اثبات وفات تو مرزا قادیانی کے ذمہ ہے جو اس کے مدعی ہیں اور اگر بطور معارضہ مرزا قادیانی کا یہ خیال ہو تو تم لوگ مدعی حیات عیسیٰ بن مریم ہو۔ اس لئے ثبوت حیات تمہارے ذمہ ہے۔ تو یہ مرزا قادیانی کی بڑی غلط فہمی ہے۔ کیونکہ جمہور مسلمین کسی حیات جدید کے مدعی یا مثبت نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا تو یہ عقیدہ ہے کہ وہی اصل حیات جو عیسیٰ علیہ السلام کو دنیا میں ان کے پیدا ہونے کے ساتھ دی گئی اور جو مسلمہ مرزا قادیانی ہے۔ تا وقتیکہ اس کا کوئی رافع ثابت نہ ہو اور وفات طاری کا کوئی مثبت نہ ہو۔ اس وقت تک وہی حیات علیٰ حالہ باقی ہے اور باقی رہے گی۔ اس وقت تک جب تک کہ اس حیات کا کوئی رافع اور وفات طاری کا کوئی مثبت نہ ملے۔ پس بریں تقدیر جمہور مسلمین تو مثبت حیات جدید نہیں ہوئے۔ بلکہ مرزا قادیانی ہی وفات طاری کے مدعی ہوئے۔ پس یہ معارضہ بالقلب کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا اور اثبات وفات انہیں کے ذمہ ہوا۔ چنانچہ اسی وجہ سے مرزا قادیانی نے اثبات وفات میں دو طرز اختیار بھی کئے ہیں۔ ایک عقلی ، دوسرا نقلی ۔

دلیل عقلی تو ان کی یہ ہے کہ ہر انسان اپنی عمر طبعی پر پہنچ کر مر جاتا ہے۔ اس لئے عیسیٰ علیہ السلام بھی عمر طبعی کو پہنچ کر زندہ نہیں رہ سکتے ۔ ضرور مر گئے ہوں گے۔ مگر اس دلیل کا اتمام اس امر پر

٣٣

صفحہ ٤٦٤

موقوف ہے کہ مرزا قادیانی اوّل تو عمر طبعی کی کوئی حد عقلاً و نقلاً ثابت فرماویں۔ ودونہ خرط القتاد! کیونکہ ممکن ہے کہ علی اختلاف الطبائع عمر طبعی کم و بیش ہو۔ جیسا کہ امم سابقہ میں پایا جاتا ہے اور کمی بیشی کی کوئی حد نہیں۔ پس عقلاً تو کسی طرح ناممکن نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ ہوں اور نقلاً بھی حضرت نوح علیہ السلام کی عمر طبعی ساڑھے نو سو برس کی قرآن پاک سے ثابت ہے۔ ”فلبث فیھم الف سنة الا خمسین عاماً“ تو کیا عجب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی عمر طبعی ساڑھے نو ہزار برس کی ہو اور وہ بعد اس عمر کے انتقال فرماویں اور اگر مرزا قادیانی کے نزدیک ان دونوں صورتوں میں کوئی استحالة عقلی یا نقلی ہو تو بیان فرماویں۔

اور دلیل نقلی مرزا قادیانی کی جو مایہ افتخار ہے یہ آیت ہے: ”فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم“

وہ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے باقرار عیسیٰ علیہ السلام وفات ثابت ہوتی ہے اور توفی کے اصلی معنی موت کے ہی ہیں۔ پس اگر ہم علی حسب زعم باطل مرزا قادیانی توفی کے معنی موت ہی کے لیں اور عیسیٰ علیہ السلام کا یہ اقرار بھی موت ہی کا ہو۔ تو مرزا قادیانی فرماویں کہ یہ اقرار کب واقع ہوگا اور رسل الٰہی سے سوال و جواب متعلقہ معاد کب ہوگا؟ اور وہ بفحوائے آیہ کریمہ: ”یوم یجمع الله الرسل فیقول ماذا اجبتم یوم ینفع الصادقین صدقھم“

قیامت کے روز ہوگا تو یہ کیا مرزا قادیانی کے مفید ہے؟ اس کے تو سب قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے وفات پاویں گے اور قیامت کے روز وفات کا یہ اقرار صحیح ہوگا۔ مگر اس وفات کے ثبوت سے مرزا قادیانی کا کچھ مطلب برآر نہیں ہوسکتا۔ اگر جمہور مسلمین کا یہ دعویٰ ہوتا کہ نہ عیسیٰ اب مرے۔ نہ آئندہ مریں گے۔ بلکہ یوں ہی اہل حشر کے ساتھ شامل ہو جاویں گے۔ تو مرزا قادیانی کا یہ مہمل خیال کچھ مفید ہو سکتا تھا اور جب وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے قبل وفات پاویں گے۔ (چنانچہ حدیث نزول عیسیٰ بن مریم میں بھی صریح موجود ہے۔ ثم یتوفی ) اور قیامت کے روز وفات کا اقرار کریں گے تو مرزا قادیانی کے اس استدلال کی وقعت علماء کے نزدیک تو کیا۔ جہلاء کے نزدیک بھی واضح ولائح ہے اور یہ سب اس زعم کی بناء پر ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک توفی کے اصل معنی موت ہی کے ہیں۔ حالانکہ یہ صریح جہل ہے۔ توفی کے اصل معنی باعتبار وضع کے: ”اخذ الشئ وقبض الشئ وافیا“ کے ہیں اور چونکہ موت میں بھی قبض روح ہوتا ہے۔ اس لئے موت پر بھی ”توفی“ کا اطلاق کیا جاتا ہے جو ایک فرد ”توفی“ ہے۔

٣٤

صفحہ ٤٦٥

صاحب بیضاوی لکھتا ہے: ”التوفی اخذ الشئ وافیا الموت نوع منه (اور قسطلانی اور جمل میں بھی یہی لکھا ہے)۔“ صاحب کمالین لکھتا ہے: ”التوفی هو القبض یقال توفیت دراہمى منه ای قبضت“

صاحب قاموس لکھتا ہے: ”اوفی فلانا حقه اعطاه وافیا کوفاه فاستوفاه وتوفاه“

اور جب کہ ثابت ہو گیا کہ توفی کے معنی قبض الشیء وافیا کے ہیں تو اب اس آیت کریمہ کا یہ مطلب ہوگا: ”فلما توفیتنی ای قبضتنی من الدنیا“

اور پھر اس کا یہ ترجمہ کر لیجئے کہ اے خداوند کریم جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو اس وقت صرف تیری نگہبانی میں ہوں گے اور جب تک میں ان کے پاس رہا میں بھی ان کی نگہبانی کرتا رہا۔ تو اس تقدیر پر بھی مرزا قادیانی کا استدلال اس آیت سے بالکل لغو ہو گیا۔

مرزا قادیانی نے وفات عیسوی پر اس آیت سے بھی استدلال فرمایا ہے۔ ”اذ قال الله یعیسی انی متوفیک ورافعک الیٰ“ کیونکہ مرزا قادیانی تو جہاں لفظ توفی دیکھ لیں گے موت ہی سمجھ لیں گے اور خدا معلوم ”وتوفی کل نفس ماکسبت“ کے کیا معنی کرتے ہوں گے۔ مگر مرزا قادیانی کو بہت شرمانا چاہئے کہ لفظ ”متوفیک“ استقبال کے واسطے ہے۔ اس لئے اس آیت سے وعدہ وفات ثابت ہوتا ہے۔ وقوع وفات پر اس کی کوئی دلالت نہیں اور اگر آپ کو یہ خلجان پیدا ہو کہ لفظ ”رافعک“ بھی تو استقبال کے واسطے ہے۔ پس وقوع رفع پر کیوں کر دلالت ہوگی۔ تو یہ مسلم ہے۔ بلاشبہ اس آیت سے وعدہ رفع ہی ثابت ہوتا ہے نہ کہ وقوع رفع۔ مگر وقوع رفع پر یہ دوسری نص ناطق ہے: ”وما قتلوه یقیناً بل رفعه الله الیه“

تو اب یہ ثابت ہوا ہے کہ آیت ”اذ قال الله یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ“ میں جو اللہ پاک نے عیسیٰ علیہ السلام سے دو وعدہ فرمائے تھے۔ ایک وفات معمول سے مارنے کا۔ دوسرا رفع الیٰ السماء کا، اس میں سے رفع کا وعدہ تو پورا ہو گیا۔ جس کی اس نے خود خبر دی اور دوسرے کے ایفاء کے لئے اس نے آئندہ کوئی وقت موعود فرمایا اور غیر معمول کی موت سے محفوظ رہنے پر اس نے یہ نص ناطق نازل فرمائی۔ ”وماقتلوه وما صلبوه ولکن شبه لهم“ پس اب جو نص مرزا قادیانی کے پاس نہ عیسیٰ علیہ السلام کی معمول کی موت سے مرنے کی رہی۔ نہ غیر معمولی موت سے مرنے کی اور اصل حیات مسلمہ مرزا قادیانی ہے۔ جس کا کوئی رافع اب تک ثابت نہیں ہوا اور رفع جسمانی پر ”بل رفعه الله“ نص ناطق موجود ہے تو پھر

٣٥

صفحہ ٤٦٦

مرزا قادیانی کے تمام خیالات فاسدہ کا کیا سر و پا ہے؟ ”من يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلا هادي له“

مرزا قادیانی کو ایک یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ آیت: ”بل رفعه الله“ سے رفع جسمانی مراد نہیں ہے۔ مگر وہ اپنی نافہمی سے یہ نہیں سمجھتے کہ اگر اس رفع سے یہاں رفع روحانی مراد ہو تو کلام الٰہی میں بل رفعہ اللہ کے اضراب کے کیا معنی ہوں گے۔ کیونکہ رفع روحانی تو قتل اور صلب میں بھی ہوتا ہے۔ صرف معمول کی موت کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے جو یہ کہا جاوے کہ قتل وصلب واقع نہیں ہوا۔ جس میں رفع روح نہیں ہوتا۔ بلکہ معمول کی موت سے مرنا ثابت ہوتا ہے جس میں رفع روح ہو اسی واسطے صاحب بیضاوی لکھتا ہے: ”فیہ رد وانکار لقتلہ واثبات لرفعہ“

پس مرزا قادیانی رفع روحانی کی تقدیر پر رد و انکار قتل واثبات رفع فرماویں تاکہ یہ اضراب صحیح ہو۔ (اور سیاق و الفاظ قرآنی بھی بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسی کے رفع کی خبر دی ہے۔ جس کو یہود پکڑ کر قتل کرنا چاہتے تھے اور وہ جسم عنصری مع الروح تھا۔ نہ صرف روح اور نہ فقط جسم ۔ دیکھو لا یحب اللہ کا دوسرا رکوع) فودونہ خبط العشواء!

ہاں البتہ اگر مرزا قادیانی رفع روحانی کی تخصیص معمول کی موت کے ساتھ ثابت کر دیں تو مضائقہ نہ ہوگا اور اگر وہ رفع جسمانی کو خدا کی ہدایت کے موافق مان لیں تو پھر اضراب بالکل صحیح ہوگا اور یہ مطلب ہوگا کہ تمہارا زعم قتل وصلب عیسیٰ کا باطل ہے۔ وہ تو صحیح وسالم جسد کے ساتھ اٹھالیا گیا۔

مرزا قادیانی کے پاس ایک اور دلیل قطعی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ سو برس کے دورہ میں جو شخص علیٰ وجہ الارض ہے۔ وہ زندہ نہ رہے گا۔ حضرت عیسیٰ بھی حسب فرمان آنحضرت ﷺ ضرور اس دورہ میں تمام ہوگئے ہوں گے۔

پس مرزا قادیانی کے اس زعم کے بموجب ثابت ہوتا ہے کہ یا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ارشاد کے وقت تک ”علی وجہ الارض“ موجود تھے۔ اس وجہ سے وہ اس عموم میں شامل ہوگئے اور اس صورت میں باعتراف مرزا قادیانی ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک تو ثابت ہوگئی اور عمر طبعی مزعومہ مرزا قادیانی سے تجاوز ثابت ہوگیا۔ کیونکہ اب تو اس ارشاد کے سو برس بعد تک بھی مرزا قادیانی کو انکار کی گنجائش نہیں رہی اور یا مرزا قادیانی یہ سمجھے ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہی عہد میں پیدا ہو کر ان کے مرنے سے پہلے فرمایا تھا۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مرنا لازم ہوگیا اور ان دونوں

٣٦

صورتوں میں مرزا قادیانی کے خیالا جمہور اہل علم کے نزدیک حضرت عیسیٰ شامل ہو سکتے ہیں تو ”من على و ”على وجه الارض“ نہ تھے۔ ب

مرزا قادیانی بطور سخریہ ی بجسدہ العنصری آسمان پر موجود ہول ضرورت ہوتی ہوگی۔

پس اس کے جواب میں بجسدہ العنصری مخلوق ہو کر جنت میں کرنے کے واسطے وہاں پائخانہ و غسل عیسیٰ بھی گزارا کرلیں گے اور اگر مرز نیچر ہے تو مزید براں ہے۔ ہم اسی السلام کو جنت کے قیام کے زمانہ میں تھا اور جنتی جسم چھین لیا گیا تھا تو بھی لئے اور جسم حسب سنت آدم علیہ استدلال میں تو کچھ شبہ نہیں رہتا۔ ا

مرزا قادیانی فرماتے ہی کے نزدیک وہ جو آسمان ہے۔ ان ک نیچے اور کبھی اوپر گردش میں رہتے ہو زمین متحرک ہے۔ ان کے نزدیک اوپر ہوتی ہوں گی۔ نعوذ بالله زندگی بسر کرتے ہوں۔

اس سے معلوم ہوتا ہ معراج بھی ثابت نہیں۔ کیونک آنحضرت ﷺ کو بھی اس وقت یہ وشہ اور بود و باش کا تو راستہ ہی بند ہ

صفحہ ٤٦٧

صورتوں میں مرزا قادیانی کے خیالات عجیبہ سے ان کی مجددیت اور مجتہدیت کا ثبوت ہوتا ہے۔ جمہور اہل علم کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ارشاد کے عموم میں شامل ہی نہیں ہو سکتے۔ اگر شامل ہو سکتے ہیں تو ”من على وجه الارض“ شامل ہو سکتے ہیں اور حضرت عیسیٰ تو اس وقت ”على وجه الارض“ نہ تھے۔ بلکہ ”على السماء“ تھے۔

مرزا قادیانی بطور سخریہ بشریعت وتضحیک اہل شریعت فرماتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ بجسدہ العنصری آسمان پر موجود ہوں گے تو وہاں ان کو پاخانہ اور غسلخانہ اور باورچی خانہ کی بھی ضرورت ہوتی ہوگی۔

پس اس کے جواب میں ہم کو اس قدر لکھنا کافی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام جب بجسدہ العنصری مخلوق ہو کر جنت میں رکھے گئے تھے تو انہوں نے ان تمام ضرورتوں کے رفع کرنے کے واسطے وہاں پاخانہ، غسل خانہ، باورچی خانہ وغیرہ سب بنوایا ہوگا۔ اسی میں حضرت عیسیٰ بھی گزارا کرلیں گے اور اگر مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ بھی خلاف نیچر ہے تو مزید براں ہے۔ ہم اسی کا اقرار چاہتے ہیں اور اگر ان کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کو جنت کے قیام کے زمانہ میں کوئی اور جسم عطاء ہوا تھا اور دنیا میں آنے کو کوئی اور جسم دیا گیا تھا اور جنتی جسم چھین لیا گیا تھا تو بھی کچھ مشکل نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی وہاں کے لئے نیا جسم حسب سنت آدم علیہ السلام پہنایا گیا ہوگا۔ مگر بہرکیف مرزا قادیانی کی لغویت استدلال میں تو کچھ شبہ نہیں رہتا۔ اعاذنا الله من كل ذلك!

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر رہتے ہوں گے تو جن لوگوں کے نزدیک وجود آسمان مسلم ہے۔ ان کے نزدیک وہ متحرک بھی ہوگا اور اس تقدیر پر عیسیٰ علیہ السلام کبھی نیچے اور کبھی اوپر گردش میں رہتے ہوں گے۔ (اس کا معارضہ کوئی یوں کر سکتا ہے کہ جن کے نزدیک زمین متحرک ہے۔ ان کے نزدیک مرزا قادیانی بھی گردش میں ہوں گے اور کبھی سر نیچے اور ٹانگیں اوپر ہوتی ہوں گی۔ نعوذ بالله من هذه الهفوات والخرافات ) اور بڑی تکلیف سے زندگی بسر کرتے ہوں گے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک وجود آسمان اور آنحضرت ﷺ کی معراج بھی ثابت نہیں۔ کیونکہ جب آنحضرت ﷺ آسمانوں پر گزرے ہوں گے تو آنحضرت ﷺ کو بھی اس وقت یہی دقت آسمان پر قدم رکھتے ہی پیش آئی ہوگی اور ملائکہ کی آمد وشد اور بود و باش کا تو راستہ ہی بند ہوگا۔ استغفر اللہ! اے میرے رب کریم جب تیرے نبی پاک

٣٧

صفحہ ٤٦٨

کی شریعت اور تیرے دین کی ایسی تضحیک کی جاوے تو سوائے اس کے کہ تو ہی اپنے دین کا حامی ہو تیرے عاجز بندے کیا کر سکتے ہیں۔

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ یاجوج ماجوج کروڑوں آدمی اگر دنیا کے پردے پر ہوتے تو کیا ان کا حال ایسی تحقیقات کے وقت میں معلوم نہ ہوتا جیسا کہ یہ وقت ہے۔ جس میں امریکہ کا حال معلوم ہو گیا۔

پس عرض ہے کہ امریکہ بھی تو بہت پہلے سے دنیا میں موجود تھا۔ اب صرف چار سو برس سے اس کا حال معلوم ہوا ہے۔ پس اگر دنیا میں کسی چیز کا ہونا فوراً اس کے معلوم ہو جانے کو بھی مستلزم ہے۔ تو پہلے سے یہ امریکہ کے محقق کہاں مر گئے تھے۔ جن کو آدھی دنیا کی اب تک خبر نہ ہوئی اور اگر امریکہ کے بتدریج ایک زمانہ کے بعد معلوم ہو جانے میں کچھ حرج نہیں تو ایمان لاؤ کہ جیسے امریکہ کا حال تم کو باوجود موجود ہونے کے اب معلوم ہوا ہے۔ اسی طرح ایک دن یاجوج ماجوج بھی نکل آویں گے اور جس طرح قبل از علم امریکہ کے، نادان لوگوں کے نزدیک اس کا وجود مستبعد تھا۔ اسی طرح ایک زمانہ موعود تک یاجوج وماجوج کا وجود بھی دین کے اندھوں کو مستبعد معلوم ہوتا ہو تو کیا عجب ہے۔

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ مجھ کو الہام نے بتایا ہے کہ یاجوج وماجوج سے مراد انگریز اور روس کی قومیں ہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ ”طلوع الشمس من مغربها “ کے معنی یہ ہیں کہ مغربی سلطنتیں نور ایمانی سے منور ہو کر ترقی پاویں گی۔

کیونکہ مرزا قادیانی نے لندن کے ممبر پر خواب میں خطبہ پڑھا ہے۔ جس سے ان کو معلوم ہوا ہے کہ جو قومیں یاجوج وماجوج ہیں آخر کار وہ بھی مسلمان ہو جاویں گی۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک قوم یاجوج وماجوج کا خاتمہ بھی اسلام پر ہوگا۔

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”دابۃ الارض“ سے مراد گروہ علماء ہے جو کسی کو کافر کسی کو مسلمان بناتے ہیں۔

اور یہ تو مسلمہ اہل اسلام ہے کہ دابۃ الارض موجود جس پر اسلام کی مہر لگا دے گا وہ مسلمان ہوگا اور جس پر کفر کی مہر لگا دے گا وہ کافر ہوگا۔ تو اب انصافاً باعتراف مرزا قادیانی فیصلہ ہو گیا کہ مرزا قادیانی کی نسبت مرزا قادیانی کی مجوزہ دابۃ الارض نے جب کفر کا فتویٰ لگا دیا اور دابۃ الارض گروہ علماء کی مہر آپ کی نسبت ہو گئی تو آپ کے لئے تو قیامت ہو گئی اور آپ کی عیسویت تو ختم ہو گئی۔ کیونکہ مسیح موعود کی نسبت دابۃ الارض کفر کا فتویٰ نہ دے گا اور مرزا قادیانی کو یہ بھی

٤٨

بتایا گیا ہو کہ دابۃ الارض الٰہی بھی نعوذ باللہ فرمائیے کہ آپ نے وہ کیا چیز چھوڑی ہے۔ ج

واضح ہو کہ مرزا قادیانی نہ جنت ، قصہ آدم کے، نہ قیامت کے، نہ حشر اجساد ک تفصیل ہم بشرط فرصت انشاء اللہ ازالۃ الاوہ منکر ہو اور کہے ”لا اله الا الله محمد ر اشہد انك لرسول اللہ میں شہادت د

اب اخیر پر ہم یہ لکھتے ہیں کہ ہمار صلوٰة وتحية “ مرزا قادیانی کو مسیح موعود نے ہم کو بتائے وہ وہی ہیں جو پیشینہ نمونہ ازخ کا الہام اور ان کے حواریین کا اجتہاد بمقابلہ کہ مسیح ابن مریم ہرگز نازل نہ ہوگا اور مراد م ایک بھی نشان موافق اخبار مخبر صادق کے ن شیطانی اور ایسے اجتہاد کو کفر اور ارتداد کہیں مراد مسیح موعود سے مثیل مسیح موعود ہے۔ تو جو بطریق تواتر کتب حدیث اور روایات سلف اس مثیل میں ہوں گے تو مرزا قادیانی میں اور چونکہ وہ اوصاف و آثار ان میں نہیں پا ہنوز مہدی کا ظہور ہوا ہے۔ نہ دجال کا خرو زوال ہے۔ نہ مال کی کثرت ہے۔ یہاں

فی الواقع برعکس ہذا تمام زندگی کا گزر بسر بجز کاسہء گدائی ہے۔ جس میں مرزا قادیان اور جس میں پہلے اور بہت سے صدقہ کے مسلمان صدقہ سے میری مدد نہ کریں گے ہنوز سواری تک کا بندوبست نہیں ہوا) پھر نہیں ہے۔ آپ کے زمان بابرکت میں ک

صفحہ ٤٦٩

بتایا گیا ہو کہ دابۃ الارض الٰہی بھی نعوذ باللہ بددیانت ہوگا اور جھوٹے فتوے لگاوے گا تو ارشاد فرمائیے کہ آپ اب وہ کیا چیز چھوڑی ہے۔ جس کا نام ہم اسلام رکھیں اور آپ کو مسلمان کہیں۔ واضح ہو کہ مرزا قادیانی نہ جنت کے قائل ہیں، نہ دوزخ کے، نہ آدم کے، نہ حوا کے، نہ قصہ آدم کے، نہ قیامت کے، نہ حشر اجساد کے، نہ معراج کے، نہ ملائکہ کے، نہ معجزات کے جس کی تفصیل ہم بشرط فرصت انشاء اللہ ازالۃ الاوہام کے رد میں کریں گے۔ پس اب جو شخص کہ خدا کا منکر ہو اور کہے ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ اس کی شہادت ایسی ہے۔ جیسے قالوا نشہد انك لرسول اللہ میں شہادت ہے۔

اب اخیر پر ہم یہ لکھتے ہیں کہ ہماری شریعت محمدیہؐ علی صاحبہا الف الف صلوٰۃ وتحیۃ “ مرزا قادیانی کو مسیح موعود تو کیا مسلمان بھی نہیں مانتی اور جو آثار ہمارے نبی ﷺ نے ہم کو بتائے وہ وہی ہیں جو بمشت نمونہ از خروارے بروایات صحیحہ نقل کئے گئے ہیں۔ مرزا قادیانی کا الہام اور ان کے حواریین کا اجتہاد بمقابلہ ان روایات صحیحہ محمولہ علی ظواہرہا کے ہم کو یہ بتاتا ہے کہ مسیح ابن مریم ہرگز نازل نہ ہوگا اور مراد مسیح موعود سے مثیل موعود ہے اور وہ میں ہوں۔ گو مجھ میں ایک بھی نشان موافق اخبار مخبر صادق کے نہ پایا جاتا ہو۔ تو ہم بجز اس کے کہ ایسے الہام کو وسوسہ شیطانی اور ایسے اجتہاد کو کفر اور ارتداد کہیں اور کچھ نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ اگر ہم یہ بھی فرض کریں کہ مراد مسیح موعود سے مثیل مسیح موعود ہے۔ تو جو اوصاف اور آثار اس مثیل کے کالشمس فی نصف النہار بطریق تواتر کتب حدیث اور روایات سنت سے ثابت ہوتے ہیں۔ پھر وہ کس میں ہوں گے۔ اگر اس مثیل میں ہوں گے تو مرزا قادیانی میں ضرور ہونے چاہئیں جو مثیل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور چونکہ وہ اوصاف و آثار ان میں نہیں پائے جاتے۔ اس لئے وہ مثیل مسیح بھی نہیں ہو سکتے۔ نہ ہنوز مہدی کا ظہور ہوا ہے۔ نہ دجال کا خروج ہوا ہے۔ نہ بغض وکینہ رفع ہوا ہے۔ نہ ادیان باطلہ کا زوال ہے۔ نہ مال کی کثرت ہے۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی کا رسالہ جس کا نام فتح الاسلام ہے۔ فی الواقع برعکس نہند نام زنگی کافور کے موافق شکست اسلام ہونے کے لائق ہے۔ خود مرزا قادیانی کا کاسۂ گدائی ہے۔ جس میں مرزا قادیانی نے تمام دنیا کے مسلمانوں سے خود ہی صدقہ مانگا ہے اور جس میں پہلے اور بہت سے صدقہ کے وصول ہونے کا بھی اقرار کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ اگر مسلمان صدقہ سے میری مدد نہ کریں گے تو یہ کام نہ چلے گا (اور حقیقت میں کیونکر چل سکتا ہے۔ ہنوز سواری تک کا بندوبست نہیں ہوا) پھر آپ کیسے مثیل مسیح ہیں کہ آپ کو خود تو صدقہ سے غنا ہی نہیں ہے۔ آپ کے زمان بابرکت میں کیا اس کی امید ہو گی کہ کوئی اور صدقہ قبول کرنے کے لئے

٣٩

صفحہ ٤٧٠

میسر نہ ہو۔ یا وہ مثل ہے۔

مژدہ باد اے مرگ، عیسیٰ آپ ہی بیمار ہے

یا یوں کہو!

اگر گدا پیش رو لشکر اسلام بود
کافر از بیم توقع برود تا در چین

سبحان اللہ! ایسے اوصاف اور ان آثار کے ساتھ دعویٰ عیسویت آپ ہی کا کام ہے۔ مسیح موعود کی دعوت تو قہری ہوگی۔ یعنی سوائے اسلام یا سیف کے دوسری بات کی گنجائش ہی باقی نہ رہے گی اور مرزا قادیانی کی دعوت ایسی بے کسی کے ساتھ ہے کہ سننے والوں کو بھی رحم آتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ: مسیح جو آنے والا تھا وہ یہی ہے چاہو تو قبول کرو۔

پس مرزا قادیانی کیسے آنے والے مسیح ہیں کہ جن کا قبول کرنا چاہنے والوں کے اختیار میں دیا گیا۔ مسیح موعود کی تو یہ شان ہوگی کہ کوئی چاہے یا نہ چاہے وہ بذریعہ سیف کے قبول کراوے گا۔ پس ایسے مجبور مسیح کو تو ہم قبول نہیں کرتے۔

واضح ہو کہ ہم نے اس تحریر کے ذریعہ سے مجملاً یہ ”من رأی منكم منكراً فاستطاع ان يغيره بيده فليغيره بيده فان لم يستطع بيده فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وذلك ادنى الايمان“

صرف مرزا قادیانی کے اس دعویٰ منکر کو رد کیا ہے اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ان کے دھوکے سے بچایا ہے اور ہم نے بہت زیادہ تفصیل اشراط ساعۃ اور نزول ابن مریم اور ظہور مہدی اور خروج دجال اور عدم وفات عیسیٰ بن مریم قبل نزول اور حمل النصوص علی ظواہرہا اور حجیت الہام کے نسبت نہیں کی۔ بلکہ صرف بطور نشان بعض روایات کے نقل پر اکتفا کیا ہے۔ تا کہ عام لوگوں کی نظر میں عیسیٰ صادق اور کاذب میں امتیاز کے واسطے کافی ہو اور اگر ہم استیعاب کے ساتھ نقل روایات کا قصد کرتے اور ان کے مالہ وماعلیہ کا بسط کرنا چاہتے تو غالباً ایک کتاب ضخیم تیار ہو جاتی۔ لیکن چونکہ ہم کو صرف ضرورت اسی قدر تھی نظر بریں ہم نے ”وما علينا الا البلاغ المبين “ پر کفایت کی۔”وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين“

اعلاء الحق الصریح پر مولانا اسماعیل علی گڑھی کے ہم عصر علماء کی تقریظات

عليه ولا ياتيه الباطل من خلفه ولا من بين يديه رقمه" محمد لطف الله!

٤٠

كما لا يخفى على اهل العدل والك

كذب دعوى مرزا غلام احمد المد الرد عليه واطلعت على هذا ال ريع والله يهدى من يشاء الى صر

احمد القاديانى الذى ادعى ان عي الاحاديث نزول مثيل عيسى خرج بهذا الاعتقاد الزائغ من الضالة المبتدعه وانه ضال عبارات اعلام الناس تاليف ال كاتب الحروف موافق لمرزا في ناصريه قانا بفضل الله تعالى شر

الكتاب والاحاديث الصحاح وسلك مسلك الخلف اهل الزي المدعو محمد ۔ حماه الله بفضله المؤبدا

الشيخ القاديانى من دعاويه الم يجب الاعراض عنه"

. ولا شك ان القاديانى خالف غير سبيل الاسلام والمؤم الهدى ويتبع غير سبيل الم

صفحہ ٤٧١

☆...... ”الحق لا يتجاوز عما فى هذه الرسالة فماذا بعد الحق الا الضلال كما لا يخفى على اهل العدل والكمال“ سید محمد نذیر حسین !

☆...... ”لا يخفى على كل ذى عقل سليم الماشي على الهدى المستقيم كذب دعوى مرزا غلام احمد المدعى انه مثيل عيسىٰ وقد حررت وريقات فى الرد عليه واطلعت على هذا التحرير الآن فاذا هو الحق الصريح وما عداه ريح والله يهدى من يشاء الى صراط مستقيم“ الراقم: شیخ حسین عرب !

☆...... ”لاريب فى ان مافى هذه الرسالة من نقض اباطيل مرزا غلام احمد القاديانى الذى ادعى ان عيسىٰ لا ينزل وان المراد بنزول ابن مريم فى الاحاديث نزول مثيل عيسىٰ وانه هو مصداقه حق وفى ان مرزا المذكور خرج بهذا الاعتقاد الزائغ من طائفة اهل السنة والجماعة ودخل فى الفرق الضالة المبتدعه وانه ضال مضل مبتدع فاسق وليعلم ان مايتوهم من عبارات اعلام الناس تاليف المولوى محمد احسن مهتمم المصارف من ان كاتب الحروف موافق لمرزا فى هذه الاباطيل او معتقده او ناصره او ناصر ناصريه فانا بفضل الله تعالىٰ برىء منه والله على ما نقول وكيل“ كتبه محمد بشیر (سهسوانی) عفی عنہ !

☆...... ”لاشبة فى ان ما فى هذه الرسالة حق صراح وان القاديانى خالف الكتاب والاحاديث الصحاح وضل عن طريق السلف اهل العدل والصلاح وسلك مسلك الخلف اهل الزيغ والضلال“ كتبه الراجی رحمتہ ربه الاحد العبد الضعیف المدعو محمد ۔ حامده الله بفضله الماجد !

☆...... ”لاريب فى ان ماكتب فى هذه الرسالة فهو حق وان ما ادعاه الشيخ القاديانى من دعاويه المشهورة فهو كفر والحاد وخروج عن الاسلام يجب الاعراض عنه“ كتبه: سلامت اللہ عفی عنہ

☆...... ”لا شبة فى ان هذه الرسالة من نقض اباطيل القاديانى فهو حق ولا شك ان القاديانى خالف الله فى دعاويه الباطلة وشاقق رسوله واتبع غير سبيل الاسلام والمؤمنين ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدىٰ ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ماتولى ونصله جهنم وساءت

٤١

صفحہ ٤٧٢

مصیراً“ العبد محمد صدیق پشاوری بمہر خود!

☆...... ”لاشك ان المرزا القادیانی قد اظهر فی رسائله اساس الضلالة وعیون الجهالة (توضیح المرام وفتح الاسلام، وازالة الاوهام) عقائد کفریه ومقالات بدعیة خرج بها عن اتباع السنن والاسلام وتبع فیها الفلاسفة والآریه والنصاری والملاحدة الباطنیة اللئام ولقد رد علیه بعضها فی هذه الرسالة الفاضل الجلیل الحبر النبیل اخی وحبی المولوی محمد اسماعیل مدظلهم الله الجلیل وافی فیه بما یروی الخلیل ویشفی العلیل فلله دره وعلی الله اجره هذه جملة کلامی فی القادیانی واعتقادی وبه ثقتی وعلیه اعتمادی ومن شاء تفصیل المقال فلیراجع رسالتی اشاعة السنة التی طبعت فی الجال یجدوا ان شاء الله جامعة لرد جمیع مقالات القادیانی ومزخرفاته الاقاصی والادانی والله یقول الحق وهو یهدی السبیل ومن یضلله فما له من ولی ولا دلیل۔“ نمقہ ابو سعید محمد حسین عفا اللہ عنہ

☆...... ”لاشک ان المرزا القادیانی قد عارض الحق الصریح وانکر ضروریات الدین واجماع السلف الصالحین واتی بشئ شنیع وقبیح فهو ضال مفسد ملحد زندیق خارج عن جماعة اهل الایمان والتصدیق کانما خرّ من السماء فتخطفه الطیر اوتهوی به الریح فی مکان سحیق لا ینبغی للمسلمین ان یجالسوا امثال هذا الرجل لان فیه نوع اعانة وتاید للباطل وقد قال تعالی تعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان وقد نزل علیکم فی الکتاب ان اذا سمعتم آیات الله“ عبد الجبار عمر پوری عفی عنہ!

☆...... ”لاریب ان ما فی هذه الرسالة حق مستبین وان القادیانی خالف جمیع اهل الاسلام والدین واختار سبیل الملحدین وانحاز عن طریق السلف الصالحین وکتبه مشحونة بتحریف الغالین وانتحال المبطلین وتاویل الجاهلین فنفاها المؤلف سلمه الله تعالی وابطلها بنصوص القرآن المبین واحادیث خاتم النبیین ﷺ فجزاه الله خیر الجزاء عنا وعن جمیع المسلمین“ کتبہ الراجی محمد حمایت اللہ عفی عنہ

٤٢

بسم الله الرحمن الرحیم

نحمده ونصلی علی رسوله الکریم

الفتح

الرد علی

جناب شیخ حسین

PDF 474

ى الضلالة ام) عقائد وتتبع فيها ند رد عليه ى المولوى شفى العليل ، وبه ثقتى لسنة التى القاديانى سبيل ومن الله عنه ريح وانكر وقبيح فهو ديق كانما ، لا ينبغى يد للباطل والعدوان ى عفی عنہ ! انى خالف عن طريق المبطلين س القرآن عن جميع اللہ عفی عنہ

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سچے مسلمان کا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں

الفتح الربانى

فى

الرد على القاديانى

جناب شیخ حسین بن محسن انصاری یمنی ؒ

صفحہ ٤٧٤

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد لله موهن كيد الكاذبين وقاطع اعناق الملحدين بالحجج والبراهين...... واشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له...... واشهد ان محمداً عبده ورسوله...... صلى الله وسلم عليه وعلى آله الطيبين الطاهرين واصحابه وبعد.......

فانه حدث من بعض الملحدين فى الدين قول مخالف لنص القرآن المبين والاحاديث المتواترة عن الرسول الامين وهو انكار حياة عيسى بن مريم عليه وعلى سائر الانبياء صلوة رب العالمين وانه لم يرفع بجسمه الشريف بل بروحه وانه لا ينزل الى الارض بذاته بل مثاله فاردت ايراد آيات قرآنية واحاديث متواترة نبويه ترد قول هذا المفترى المضل المبين لتكون رادعة له ولمن سولت له نفسه الامارة بالسوء صحة دعوى هذا الجاهل واتباع فاسد رأيه وزوره الظاهر المستبين

فأقول وبالله استعين وعليه اتوكل فى الهداية الى الصواب واليقين لا يخفى على كل عالم منصف ان نزول عيسى عليه السلام الى الارض حكماً مقسطاً بذاته الشريفة ثابت بالكتاب والسنة واتفاق اهل السنة وانه الآن حى فى السماء لم يمت بيقين

اما لكتاب فقال الله تعالى فى كتابه المبين رداً على اليهود المغضوب عليهم الزاعمين انهم قتلوا عيسى بن مريم وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه ففى هذه الآية اخبرنا الله ان الذى اراد اليهود قتله واخذه هو عيسى بجسمه العنصرى لا غير رفعه الله اليه ولم يظفروا منه بشئ وبرفع جسده حياً فسره ابن عباس كما ثبت عنه باسناد صحيح فثبت بهذا انه عليه الصلوة رفع حياً ويدل على ماذكرناه الاحاديث الصحيحة المتواترة الآتية المصرحة بنزوله بذاته الشريفة التى لا تحتمل التاويل

وقال تعالى: ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته، اى قبل موت عيسى كما قال ابن عباس وابو هريرة وغيرهما من السلف وهو الظاهر

٢

صفحہ ٤٧٥

كما فى تفسير ابن كثير وفتح القدير للشوكانی وبه قال المنكر القاديانى فى التوضيح فثبت ان عيسى لم يمت بل يموت فى آخر الزمان يؤمن به كل اهل الكتاب وقد ذكر الله فى كتابه العزيز ان نزوله الى الارض من علامات الساعة قال الله تعالى: وانه لعلم للساعة. وقال الحافظ ابن كثير فى تفسيره الصحيح ان الضمير عائد الى عيسى فان السياق فى ذكره وان المراد نزوله قبل يوم القيامة كما قال تعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته، اى قبل موت عيسى ثم يوم القيامة يكون عليهم شهيداً ويؤيد هذا المعنى القراءة وانه لعلم للساعة يعنى بفتح العين واللام اى امارة ودليل على وقوع الساعة وقال مجاهد وانه لعلم للساعة اى آية للساعة خروج عيسى بن مريم قبل يوم القيامة وهكذا روى عن ابى هريرة وابن عباس وابى العالية وابى مالك وعكرمة والحسن وقتادة والضحاك وغيرهم وتواترت الاخبار عن رسول الله ﷺ انه اخبر بنزول عيسى قبل يوم القيامة اماماً عادلاً وحكماً مقسطاً

وقال الامام الشوكانی فى تفسيره: وقال مجاهد والضحاك والسدى وقتادة ان المراد عيسى وان خروجه اى نزوله مما يعلم به قيام الساعة اى فربما لكونه شرطاً من اشراطها لان الله سبحانه وتعالى ينزله من السماء الى الارض قبل يوم القيامة كما ان خروج الدجال من اعلام الساعة وهذا اولى وقال ابن عباس اى خروج عيسى قبل يوم القيامة واخرجه الحاكم وابن مردويه مرفوعاً عن ابى هريرة قرأ الجمهور لعلم للساعة بصيغة المصدر جعل المسيح علماً للساعة مبالغة لما يحصل من العلم بحصولها عند نزوله وقرأ جماعة من الصحابة بفتح العين واللام اى خروجه علم من اعلامها وشرط من شروطها وقرئ للعلم بلامين مع فتح العين واللام اى للعلامة التى يعرف بها قيام الساعة

وفى صحيح مسلم من حديث حذيفه قال اطلع النبى ﷺ علينا ونحن نتذاكر. فقال ماتذكرون۔ قالوا نذكر الساعة۔ فقال انها لن تقوم حتى

٣

صفحہ ٤٧٦

تروا قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى بن مريم ـ الحديث ففي هذه الروايات المذكورة المرفوعة والموقوفة دلالة ظاهرة على أن المراد بالعلم للساعة نزول عيسى لا وجوده فقط كما يزعمه هذا الكاذب وان الضمير يرجع الى عيسى لا الى القرآن كما زعم هو ايضاً وغيره فهذه الروايات ترد كل قول خالفها فظاهر الآيات القرآنية ان المراد نزول عيسى عليه السلام وبذاته الشريفة وانه حى لم يمت لاكما يقول هذا المفترى الكذاب ويدل على ذلك الاحاديث الصحيحة الصريحة المتواتره اخرج الامام مسلم بن الحجاج في صحيحه من حديث أبى هريرة قال رسول الله والله لينزلن عيسى بن مريم حكماً عادلاً فيكسرن الصليب وليقتلن الخنزير وليضعن الجزية وليتركن القلاص فلا يسعى عليها ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد وليدعون الى المال فلا يقبله احد.

واخرج الشيخان وابوداؤد والترمذى من حديث ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً مقسطاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها ثم يقول أبوهريرة واقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته.

وقال الحافظ السيوطى فى الاكليل قوله تعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ـ فيه نزول عيسى بن مريم أخرجه الحاكم عن ابن عباس وأخرجه احمد من حديث ابى هريرة مرفوعاً ينزل عيسى بن مريم فيقتل الخنزير ويمحى الصليب ويعطى المال حتى لا يقبل ويضع الجزية قال ثم تلا ابوهريرة وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته. ففي هذه الرواية دلالة ظاهرة ان الضمير في قبل موته يعود على عيسى ومعناها وما من اهل الكتاب احد يكون فى زمن نزول عيسى الا امن بعيسى وانه عبد

٤

الله وابن أمته ويدل على هذا انه مريم حكماً عادلاً الحديث كما بذاته وجسمه الشريف وهو حى

واخرج مسلم من حد طائفة من امتى ظاهرين على الـ فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقو هذه الامة. وأخرج مسلم من حد مريم فيكم فأمكم.

وعن أبى هريرة مرفـ الحافظ أبن حجر فى فتح البا نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه ر ممصرتين كأن رأسه يقطرو الصليب ويقتل الخنزير ويضع فيمكث في الارض اربعين سنة ثـ

. وأخرج الامام أحمد من وثقه احمد وجماعة وبقية رجـ مريم ان ينزل حكماً مقسطاً فيقـ واحدة فاقرؤه من رسول اللهﷺ باسنادين رجالهما رجال الـ طال بي عمر ان القى عيسى بن مـ السلام.

واخرج الحاكم من حديـ مريم حكماً واماماً مقسطاً وليـ حتى يسلم ولاردن عليه.

وغير ذلك من الاحاديـ

صفحہ ١٧٧

الله وابن امته ويدل على هذا انه ﷺ اقسم بقوله الشريف والله لينزلن ابن مريم حكماً عادلاً الحديث كما تقدم قسماً مؤكداً مصرحاً بان المراد نزوله بذاته وجسمه الشريف وهو حى.

واخرج مسلم من حديث جابر قال قال رسول الله ﷺ لا تزال طائفة من امتى ظاهرين على الحق الى يوم القيامة فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة. واخرج مسلم من حديث ابى هريرة بلفظ كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم فامكم.

وعن ابى هريرة مرفوعاً عند ابى داؤد باسناد صحيح كما قاله الحافظ ابن حجر فى فتح البارى بلفظ ليس بينى وبين عيسى نبى وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض ينزل بين ممصرتين كأن رأسه يقطر وان لم يصبه بلل فيقاتل على الاسلام ويدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله فى زمان المسيح الدجال فيمكث فى الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون.

. واخرج الامام احمد من حديث ابى سعيد باسناد فيه كثير بن زيد وثقه احمد وجماعة وبقية رجاله رجال الصحيح بلفظ يوشك المسيح بن مريم ان ينزل حكماً مقسطاً فيقتل الخنزير ويكسر الصليب وتكون الدعوة واحدة فاقرؤه من رسول الله ﷺ وبعضه فى الصحيح واخرج الامام احمد باسنادين رجالهما رجال الصحيح من حديث ابى هريرة انى لا رجو ان طال بى عمر ان القى عيسى بن مريم فان عجل بى موت فمن لقيه فليقرأ منى السلام.

واخرج الحاكم من حديث ابى هريرة ايضاً بلفظ ليهبطن عيسى بن مريم حكماً واماماً مقسطاً وليسلكن فجاجا حاجاً او معتمراً وليأتين قبرى حتى يسلم ولاردن عليه.

وغير ذلك من الاحاديث المتواترة الصريحة فى نزوله الى الارض

٥

صفحہ ٤٧٨

بذاته الشريفة التي لا تحتمل التاويل وفي صحيح مسلم ايضاً من حديث عبدالله بن عمرو بن العاص قال قال رسول الله ﷺ يخرج الدجال في امتى فيمكث اربعين لا ادرى اربعين يوماً او شهراً او اربعين عاماً فيبعث الله عيسى بن مريم كأنه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه الحديث۔

قال الامام النووى فى شرح مسلم قوله فيبعث الله عيسى بن مريم اى ينزله من السماء حكماً بشرعنا۔ قال القاضي عياض نزول عيسى وقتله الدجال حق وصحيح عند اهل السنة للاحاديث الصحيحة وليس في العقل ولا فى الشرع ما يبطله فوجب اثباته۔

وانكر ذلك بعض المعتزلة والجهمية ومن وافقهم وزعموا ان هذا الاحاديث مردودة بقوله تعالى وخاتم النبيين وبقوله ﷺ لا نبى بعدى وباجماع المسلمين انه لا نبى بعد نبيناﷺ وان شريعته موبدة الى يوم القيامة لا تنسخ وهذا استدلال فاسد لانه ليس المراد بنزول عيسى انه ينزل نبياً بشرع ينسخ شرعنا وليس فى هذه الاحاديث ولا فى غيرها شئ من ذلك بل صحت هذه الاحاديث هنا وما سبق فى كتاب الايمان وغيرها من ان عيسى ينزل حكماً مقسطاً يحكم بشرعنا ويحيى من امور شرعنا ما هجره الناس۔

وقال الامام الشوكاني في رسالته المسمى بالتوضيح في تواتر ما جاء في الاحاديث فى المهدى والدجال والمسيح قد ورد فى نزول عيسى من الاحاديث تسعة وعشرون حديثاً وما ذكرناه فى هذه الرسالة من الاحاديث هو من رسالته المذكورة والحاصل ان هذه الدعوى من هذا الرجل بان عيسى قد مات فتنة عظيمة فى الدين ونزغة شيطانية من ابليس العدو اللعين ليهلك من هلك عن بينة ويحيى من حى عن بينة نسال الله السلامة من ذلك وان يوفقنا السلوك انهج المسالك۔

وقال الحافظ ابن حجر فى فتح البارى تواترت الاخبار بان المهدى من هذه الامة وان عيسى يصلى خلفه۔ والمقرر عند ائمة الحديث

٦

صفحہ ٤٧٩

والاصول والفقه ان رد الاحادیث المتواترة وعدم قبولها کفر.

قال العلامة احمد بن محمد القشاشی بضم القاف المدنی فی منظومته فی العقائد والراد لما تواتر الحدیث مبتدع وطبعه خبیث فهو کرد لمحکم التنزیل ورده کفر لدی العلیم.

قال تلمیذه العلامة الشیخ ابراهیم بن حسن الکردی المدنی فی شرحها فالمراد ای لما دل علیه الحدیث اذا تواتر مبتدع وطبعه خبیث حیث لم یقبل الحق لان الطیب یقبل الحق ولا یرده فهو ای رد الحدیث المتواتر کرد القرآن لکونه قطعی الدلالة وما علم من الدین بالضرورة لان التواتر یفید العلم الضروری بان هذا هو المراد من تلک الاحادیث.

ولا شک ولا ریب ان هذا المدعی مرزا القادیانی مبتدع وطبعه خبیث حیث لم یقبل الحق وماذا بعد الحق الا الضلال نسأل الله السلامة من ذلک وان یوفقنا طریق الصواب ویجنبنا ما نستوجب به العقاب.

واما استدلاله بقوله تعالی انی متوفیک ورافعک الی الخ فلا دلیل له فی ذلک لان ظاهر الآیة کما قاله العلامة الکرخی ان الکلام علی حاله من غیر ادعاء تقدیم وتاخیر ومعنی الآیة انی متوفیک ای اخذک وافیا ای مستوفی اجلک ومؤخرک وعاصمک من ان یقتلک الکفار الی ان تموت حتف انفک من غیر ان تقتل ورافعک الی سمائی وذلک لان التوفی یستعمل فی اخذ الشئ وافیا ای کاملاً والموت نوع منه والمعنی المتبادر من الآیة الموافق للاحادیث الصحیحة هو الاخذ وافیا لا الموت وانما احتاج اکثر المحققین من المفسرین الی تفسیر المتوفی بالاخذ وافیا ای کاملاً لا النوع المراد منه الموت لما صح فی الاخبار عن النبی ﷺ من نزوله وقتله الدجال وکذلک ایضاً معنی قوله فلما توفیتنی ای اخذتنی وافیاً الی السماء.

وقال الشوکانی فی تفسیره فتح القدیر تحت قوله متوفیک قال الفراء فی الکلام تقدیم وتاخیر. تقدیره انی رافعک ومطهرک من الذین کفروا ومتوفیک بعد انزالک من السماء وقال ابوزید قابضک وقال فی الکشاف

٧

صفحہ ٤٨٠

مستوفی اجلک ومعناه انی عاصمک من ان یقتلک الکفار ومؤخر اجلک الی اجل کتبته لک وممیتک حتف انفک لا قتلاً بایدیهم وانما اختار المفسرون الی تاویل الوفاة بما ذکر لان الصحیح ان الله رفعه الی السماء من غیر وفاة کما رجحه کثیر من المفسرین واختاره ابن جریر الطبری ووجهه ذلک انه قد صح فی الاخبار عن النبی ﷺ نزوله وقتل الدجال وقیل المراد بالوفاة هنا النوم ومثله وهو الذی یتوفاکم باللیل ای ینیمکم وبه قال کثیرون۔ انتھی بلفظه!

وقال فی قوله تعالیٰ فلما توفیتنی قیل هذا یدل علی ان الله توفاه قبل ان یرفعه ولیس بشئ لان الاخبار قد تظاهرت بانه لم یمت وانه باق فی السماء علی الحیاة التی کان علیها فی الدنیا حتی ینزل الی الارض آخر الزمان وانما المعنی فلما رفعتنی الی السماء قیل ان الوفاة فی کتاب الله جاءت علی ثلاثة اوجه:

بمعنی الموت ومنه قوله تعالیٰ الله یتوفی الانفس حین موتها۔ وبمعنی النوم، ومنه قوله تعالیٰ وهو الذی یتوفاکم باللیل ای ینیمکم وبمعنی الرفع ومنه قوله تعالیٰ فلما توفیتنی۔ انتھی بلفظ!

وقال الحافظ ابن حجر فی فتح الباری الصحیح ان عیسیٰ رفع وهو حی۔ انتھی!

فمن زعم ان عیسیٰ لیس بحی وانه قدمات وانه لا ینزل من السماء الی الارض قبل یوم القیامة بذاته الشریفه فهو ضال مضل مخالف لکتاب الله وسنة رسول الله ﷺ المتواتره واتفاق اهل السنة فماذا بعد الحق الا الضلال۔ فالواجب علی کل مسلم ان یبین للناس ضلال هذا الرجل المفتری المدعی ان المسیح قدمات وانه لا ینزل من السماء الی الارض وانه مثیل عیسیٰ۔ بل عیسیٰ حی فی السماء لم یمت وینزل فی آخر الزمان بذاته الشریفة ویصلی خلف المهدی ویقتل الدجال ومما یؤید کذب هذا المفتری ان نزول عیسیٰ لا یکون الا بعد وجود المهدی والدجال وهذا یدعی انه مثیل

ى ولا وجود للمهدى ولا وفى صحيح مسلم ولا المنارة البيضاء وانه ضال مضل. وايضاً فقد قال رسو الحمرة والبياض وانه يصبه بلل وانه بنزوله تذهب المال فلا يقبله احد وانه وجود لهذه الاوصاف الشـ عيسى ومما يدل على كذبه رواية مسلم الآتية ودعاوى العقلية الواهية التي ليست مثيل المسيح لم يرد فى

عيسى دعاويه كلها له من هاد وفى الفتاوى رحمه الله عن حياة عيسى و ولا يشرب ملازم للتسبيح كـ وقال العلامة القـ الانوار سئل شيخنا الاجـ السماء فاجاب بانه ينزل عـ ذكر ياجوج وماجوج فاو حد بقتالهم فحرز عبادى

صفحہ ٤٨١

عيسى ولا وجود للمهدى ولا للدجال۔

وفى صحيح مسلم ان عيسى ينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق ولا المنارة البيضاء ببلدة القاديانى ولا منارته فهذا صريح فى كذبه وافتراءه وانه ضال مضل۔

وايضاً فقد قال رسول الله ﷺ فى وصف عيسى بانه رجل مربوع الى الحمرة والبياض وانه ينزل بين ممصرتين كأن رأسه يقطر وان لم يصبه بلل وانه بنزوله تذهب الشحناء والتباغض والتحاسد وانه يدعوا الى المال فلا يقبله احد وانه يحثوا المال حثوا وانه يقاتل على الاسلام ولا وجود لهذه الاوصاف الشريفة المذكورة فى هذا الرجل المدعى انه مثيل عيسى ومما يدل على كذبه وافترائه ان عيسى يوحى اليه كما تدل على ذلك رواية مسلم الآتية ودعاوى هذا المفترى كلها اما بالالهام الكاذبة او الدعاوى العقلية الواهية التى ليست من شأن من يوحى اليه ومما يؤيد كذبه ان لفظ مثيل المسيح لم يرد فى كتاب الله ولا فى سنة رسول الله ولا فى لسان الصحابة والسلف والخلف بل هو قول محدث احدثه من اضله الله وختم على سمعه وقلبه وجعل على بصره غشاوة فمن يهديه من بعد الله. ومنها ان عيسى لا اب له وهذا له اب وجد وليس فيه من الصفات ما يصح دعواه بل دعاويه كلها اكاذيب واهية تدل على ضلاله وفساد رأيه ومن يضلل الله فما له من هاد وفى الفتاوى الحافظ جلال الدين السيوطى الحديثية وقد سئل رحمه الله عن حياة عيسى ومقره فاجاب بانه حى فى السماء الثانية لا يأكل ولا يشرب ملازم للتسبيح كالملائكة. انتهى!

وقال العلامة الشيخ حسن العدوى المالكى فى كتابه مشارق الانوار سئل شيخنا الاجهورى هل ينزل جبريل على عيسى بعد نزوله من السماء فاجاب بانه ينزل عليه جبريل كما فى حديث مسلم من قوله ﷺ فى ذكر ياجوج وماجوج فاوحى الله الى عيسى انى قد اخرجت عباداً لا يد لا حد بقتالهم فحرز عبادى الى الطور الحديث. فانه ظاهر فى نزول جبريل

٩

صفحہ ٤٨٢

اليه واما ما فى حديث الوفاة من قوله هذا آخر وطأتى فى الارض فضعيف.

ومن جملة ضلال هذا الرجل انه يزعم انه ملهم من الله وان الالهام حجة من الحجج القاهرة مقام الدلائل الشرعية ومراده بذلك التوصل الى صحة دعواه انه مثيل المسيح وهو فى ذلك كاذب ضال مضل مخالفا الاقوال اهل السنة والجماعة فان هذه الدعوى منه من الامانى الكاذبة وقد قال معاوية اياكم والامانى التى تضل اهلها كما فى الصحيح البخارى وقال تعالى: ومنهم اميون لا يعلمون الكتاب الا امانى وان هم الا يظنون. والالهام ليس بحجة شرعية يستدل به على اثبات حكم او نفيه كما هو مقرر عند ائمة الحديث والاصول والفقه.

قال الحافظ ابن حجر فى فتح البارى ان المحدث منهم اى من هذه الامة اذا تحقق وجود الالهام منه لا يحكم بما وقع له بل لا بد من عرضه على القرآن فان وافقه او وافق السنة عمل به والا تركه وهذا وان جاز ان يقع لكنه نادر لا يكون الا ممن كان امره مبينا على اتباع الكتاب والسنة.

وهذا الكاذب المفترى المدعى ان عيسى قد مات وانه مثيله وان ملهم فالهاماته التى يدعيها ليست من الالهامات التى توافق الكتاب والسنة ولا حاله مبنيا على اتباع الكتاب والسنة بل الكتاب والسنة دالان على حياة عيسى وانه ينزل الى الارض فى آخر الزمان حكماً مقسطاً كما ثبت فى الاحاديث الصحيحة المتواترة المروية عن رسول الله ﷺ ولفظ مثيل عيسى لم يرد فى كتاب الله ولا فى سنة رسول الله ﷺ ولا فى لسان الصحابة والسلف والخلف بل هو قول محدث وكل محدث بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة فى النار فالهامه المخالف لما ثبت فى الكتاب والسنة واقوال السلف والخلف واهل السنة من الالهامات الشيطانية والشهوات النفسانية اعاذنا الله من ذلك. آمين!

ولقد صدق رسول الله ﷺ حيث قال ما ضل قوم بعد هدى كانوا عليه الا اوتو الجدل اخرجه الامام احمد فى مسنده (حدثنا عبدالواحد

١٠

الحداد حدثنا شهاب بن خراش امامة قال قال رسول الله ما ضل تلا هذه الآية. ما ضربوه لك حديث نمبر ٢١١٤٣) والترمـ وفى مثل دعوى هذا الكاذب الـ هم قوم خصمون فالواجب علـ المؤمنين زجر هذا المفترى الـ الشديد الرادع عن دعاويه وهجره وترك مودته لله عزوجـ بالله واليوم الآخر يوادون من او اخوانهم او عشيرتهم اولئك ، وما استدلاله بدلايـ على خير البرية او بغير السنة ا الامن اتبع هواه واضله الله وخـ ما ظهر للحقير اسير القـ المعرفة والتمكين فان كان مـ ومن الشيطان واستغفر الله الوكيل ولا حول ولاقوة الا بـ محمد وآله وصحبه وسلم. وكا عشرين من شهر ربيع الثانـ شرفها افضل الصلوة وازكـ بالتماس بعض الاحبة منى ذلك

ثم بعد الفراغ من تحـ ايضاً يتعلق بحال هذا الـ الاعلام الهادين الى نهج خير

صفحہ ٤٨٣

الحداد حدثنا شهاب بن خراش عن حجاج بن دينار عن ابى غالب عن ابى امامة قال قال رسول الله ما ضل قوم بعد هدى كانوا عليه الا اوتوا الجدل ثم تلا هذه الاية. ما ضربوه لك الا جدلا بل هم قوم خصمون مسند احمد حديث نمبر ٢١١٤٣) والترمذى وابن ماجه والحاكم من حديث ابى امامة وفى مثل دعوى هذا الكاذب الفاجر انزل الله عزوجل فى كتابه العزيز. بل هم قوم خصمون فالواجب على كل من له قدرة من علماء المسلمين وحكام المؤمنين زجر هذا المفترى الكاذب عن دعاويه الكاذبة وتعزيره والتعزير الشديد الرادع عن دعاويه الواهية وتعزير من اعانه او نصره او قواه وهجره وترك مودته لله عزوجل كما قال الله عزوجل: لتجد قوماً يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسوله ولو كانوا آباء هم او ابناء هم او اخوانهم او عشيرتهم اولئك كتب فى قلوبهم الايمان...... الآيه (مجادله:٢٢) ، وما استدلاله بدلائل عقلية عن سنن...... او بغير الكتاب المنزل على خير البرية او بغير السنة الصحيحة النقية المرضية فلا يلتفت الى ذلك الا من اتبع هواه وضله الله وخذله وغواه وفى هوة الضلالة القاه وارده هذا ما ظهر للحقير اسير القصور والتقصير من كلام الائمه المحققين اهل المعرفة والتمكين فان كان صواباً فمن الله والحمد لله وان كان خطأ فمنى ومن الشيطان واستغفر الله والحمد لله رب العالمين وحسبنا الله ونعم الوكيل ولا قوة الا بالله العلى العظيم وصلى الله على خير خلقه محمد وآله وصحبه وسلم. وكان الفراغ من تحرير هذه الرسالة يوم الاثنين عشرين من شهر ربيع الثانى ١٣٠٨هـ المبارك من الهجرة النبوية على صاحبها افضل الصلوة وازكى التسليم والتحية فى بلدة بوفال (بهوپال) بالتماس بعض الاحبة منى ذلك وان كنت اهلا لما هنالك.

ثم بعد الفراغ من تحرير هذه الرسالة ورد على الحقير سوال آخر ايضاً يتعلق بحال هذا الرجل المفترى الكاذب ولفظه: ما قول العلماء الاعلام الهادين الى نهج خير الانام فى القاديانى وصنيعه بالوحيين اعنى ١١

صفحہ ٤٨٤

الكتاب والسنة وصرفه النصوص الشرعية عن ظاهرها بما تهواه نفسه الغوية هل تحريفه لذلك من جنس تحريف المذموم المشابه لتحريف اليهود الذين يحرفون الكلم عن مواضعه ام لا؟ افيدونا جزيتم خير.

فاجبت بقولى بسم الله الرحمن الرحيم ..... بالله استعين بالتوفيق لا صابة الصواب. اعلم وفقنا الله للصواب ان الله سبحانه وتعالى ذم اليهود فى كتابه العزيز فقال تعالى:

يحرفون الكلم عن مواضعه ونسوا حظاً مما ذكروا به.

ولا تزال تطلع على خائنة منهم، وتحريف هذا الرجل المسئول عن حاله للآيات القرآنيه والاحاديث النبوية وصرف النصوص عن ظاهرها من جنس تحريف اليهود بلا شك ولا ريب. قال الامام ابن القيم فى اغاثة اللهفان وقد اختلف فى التوراة التى بايدى اليهود هل هي مبدلة ام التبديل وقع فى التاويل دون التنزيل على ثلاثه اقوال فقالت طائفة كلها أو اكثرها مبدلة وغلا بعضهم حتى قال يجوز الاستنجاء بها وقالت طائفة من أئمة الحديث والفقه والكلام انما وقع التبديل فى التاويل قال البخارى فى صحيحه يحرفون يزيلون الكلم عن مواضعه وليس احد يزيل لفظ كتاب من كتب الله ولكنهم يتاولونه على غير تاويله وهو اختيار الرازى ايضاً وسمعت شيخنا يقول وقع النزاع بين الفضلاء فاجاز هذا المذهب وهى غيره فانكر عليه فاظهر خمسة عشر نقلا به.

المقصود والغرض من نقلنا الكلام ابن القيم المذكور ان التحريف على مذهب البخارى ومن وافقه يصدق على تاويله على غير معناه الموضوع له شرعا فهذا المفترى قد شابه اليهود بتحريف معانى الآيات القرآنيه والاحاديث النبويه على غير معناها منها شرعا فمن زعم ان فعل هذا الرجل المفترى ليس من التحريف المشابه لليهود على ما نقله ابن القيم فهو مثله ضال مضل ومن يضلل الله فماله من هاد.

ختمنا الله بالايمان. ثم بعد الفراغ من تحرير هذه الرسالة المباركة

١٢

صفحہ ٤٨٥

انشاء الله وقفت على واقعة ذكرها الامام شيخ الاسلام ابو العباس تقي الدين احمد بن عبد الحليم بن تيميه في رسالته المسمى بغية المرتاد في الرد على المتفلسفة والقرامطه والباطنيه اهل الالحاد من القائلين بالحلول والاتحاد، ولفظها وقد كان عندنا بدمشق الشيخ المشهور الذي يقال له ابن هود وكان من اعظم من رأيناه من هؤلاء الاتحادية زهداً ومعرفة ورياضة وكان من اشد الناس تعظيماً لابن سبعين ومفضلاً له عنده على ابن عربي وغلامه ابن اسحق واكفر الناس من الكبار والصغار كانوا يطيعون امره وكان اصحابه الخواص به يعتقدون فيه انه اعنى ابن هود المسيح بن مريم ويقولون ان امه اسمها مريم وكانت نصرانية ويعتقدون ان قول النبي ﷺ ينزل فيكم ابن مريم هذا وان روحانية عيسى تنزل عليه وقد ناظرني في ذلك من كان افضل الناس عندهم اذ ذاك معرفة بالعلوم الفلسفية وغيرها مع دخوله في الزهد والتصوف وجرى لهم في ذلك مخاطبات ومناظرات يطول ذكرها۔ جرت بيني وبينهم حتى بينت لهم فساد دعواهم بالاحاديث الصحيحة الواردة في نزول عيسى المسيح وان ذلك الوصف لا ينطبق على هذا الرجل وبينت لهم فساد ما دخلوا فيه من القرمطة حتى اظهرت مباهلتهم وحلفت لهم ان ما ينتظرونه من هذا الرجل لا يكون ولا يتم وان الله لا يتم امر هذا الشيخ فابر الله تلك الاقسام والحمد لله رب العالمين هذا مع تعظيمهم لي وبمعرفتى عندهم والا فهم يعتقدون ان سائر الناس محجوبون بحال حقيقتهم وغوامضهم وان الناس عندهم كالبهائم۔

المقصود من نقل متن هذه الحوالة وفيها تائيد لما حررت في رسالتى من الاحاديث الصحيحة الواردة في نزول عيسى وان الاوصاف المذكورة فيها في وصف عيسى لا ينطبق على هذا المدعى الفاجر مرزا القاديانى ولله الحمد على ذلك۔

ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب وصل على خير خلقه محمد وآله وصحبه اجمعين!

١٣

صفحہ ٤٨٦

الفتح الربانی

(اردو ترجمہ)

حمد وصلوٰۃ کے بعد شیخ حسین بن محسن انصاری یمانی لکھتے ہیں کہ دین میں کج روی کرنے والے بعض لوگوں نے مخالف نصوص قرآن اور احادیث متواترہ کے یہ مذہب نکالا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم مرچکے ہیں اور یہ کہ وہ اپنے جسم مبارک کے ساتھ زمین سے نہیں اٹھائے گئے۔ بلکہ روح کے ساتھ اور یہ کہ وہ بذاتہ زمین کی طرف ہرگز نہیں آئیں گے۔ بلکہ ان کا ایک مثیل یعنی ہم شکل آوے گا۔ اس لئے میں نے چاہا کہ آیات قرآنیہ اور احادیث متواترہ ایک جگہ جمع کردوں۔ جو اس مفتری اور گمراہ کن کے مذہب کو رد کرتی ہیں۔ تاکہ اس کو اور جس کو نفس امارہ نے اس جاہل کا دعویٰ درست اور صحیح کر دکھایا ہے اس دعویٰ باطل سے ہٹادے اور اس کی رائے فاسد اور ظاہر باہر جھوٹ کی پیروی سے باز رکھے۔

سو میں کہتا ہوں اور اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں اور اسی پر بھروسہ کرتا ہوں۔ اس میں کہ وہ مجھے غلطی سے محفوظ کر کے یقینی اور صحیح بات پر قائم رکھے۔ ہر عالم منصف پر مخفی نہ رہے کہ عیسیٰ کا زمین کی طرف اترنا اپنے جسم عنصری کے ساتھ حاکم عادل ہو کر قرآن اور حدیث سے باجماع اہل سنت ثابت ہے اور یہ کہ وہ اب بھی آسمان میں زندہ ہیں اور یقیناً ہرگز نہیں مرے۔ سو قرآن شریف کے دلائل یہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ یہودیوں کے رد میں جن کا یہ زعم تھا کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو مار ڈالا۔ فرماتا ہے نہیں قتل کیا انہوں نے یقیناً بلکہ اس کو اللہ نے اپنی طرف اٹھالیا۔ سو اس آیت میں اللہ نے ہم کو اس بات کی خبر دی ہے کہ یہود جس کو پکڑنا اور مار ڈالنا چاہتے تھے اور وہ جسم عنصری تھا نہ غیر۔ اس کو اللہ نے اپنی طرف اٹھالیا اور یہود ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اس آیت میں رفع جسمانی کی تفسیر خود ابن عباسؓ نے کی ہے۔ جیسا کہ (تفاسیر میں) ان سے باسناد صحیح ثابت ہے۔ پس اس آیت وتفسیر ابن عباسؓ اور ہماری تقریر سے ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ اٹھائے گئے۔ اور اس پر دلالت کرتی ہیں احادیث صحیحہ متواترہ جو آگے آئیں گی۔ جن میں نزول ذاتی کی صراحت ہے اور تاویل کی گنجائش ہی نہیں۔

اور اللہ فرماتا ہے۔ ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ“ یعنی سب اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔ یہ تفسیر ابن عباسؓ

١٤

صفحہ ٤٨٧

وابوہریرہؓ ودیگر سلف سے باسناد صحیح ثابت ہے اور یہی ظاہر ہے جیسا کہ تفسیر ابن کثیر اور شوکانی میں اس کو ظاہر کیا ہے اور منکر قادیانی نے بھی توضیح المرام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ضمیر پھیری ہے۔ پس اس آیت سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے۔ بلکہ آخر زمانہ میں بعد نزول کے۔ جب سب اہل کتاب ان پر ایمان لاویں گے انتقال کریں گے۔

اور اللہ نے اپنی کتاب میں ان کے نزول کو علامت قیامت فرمایا۔ ”وانہ لعلم للساعة“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قرب قیامت کی علامت ہے۔ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف عائد ہے۔ کیونکہ سیاق انہیں کے ذکر میں ہے اور مراد اس سے ان کا نزول ہے۔ قیامت سے پہلے جیسا کہ دوسری جگہ اللہ نے فرمایا۔ سب اہل کتاب ان کے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔ پھر قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے اور شاہد اس تفسیر کا قرأت ’لـعـلـم للساعة‘ بفتح عین و لام ہے۔ مجاہد بھی اس کی تفسیر یہی کرتے ہیں کہ خروج عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے نشان قیامت ہے اور یہی مروی ہے۔ ابوہریرہؓ وابن عباسؓ وابوعالیہ وابومالک عکرمہ وحسن وقتادہ وضحاک وغیرہم سے اور احادیث نبویہ بھی متواتر آئی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ حاکم وعادل ہوکر۔

امام شوکانی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مجاہدؒ اور ضحاکؒ اور سدیؒ اور قتادہؒ کہتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قرب قیامت کا نشان ہے۔ کیونکہ وہ علامات قیامت سے ایک علامت ہیں کہ اللہ ان کو قیامت سے پہلے آسمان سے زمین کی طرف نازل کرے گا۔ جیسا کہ خروج دجال بھی قیامت کا ایک نشان ہے اور یہی تفسیر لائق قبول ہے اور ابن عباسؓ نے بھی اس کی تفسیر خروج عیسیٰ قبل از قیامت کے ساتھ کی ہے اور اس کو حاکم وابن مردویہؒ نے ابوہریرہؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ جمہور نے علم بصیغہ مصدر پڑھا ہے۔ یعنی مسیح کے نزول کے وقت قرب قیامت کا علم ہو جائے گا تو مبالغۃً عیسیٰ کو خود علم فرمایا۔

اور ایک جماعت صحابہ نے عَلَم بفتح عین ولام پڑھا ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول علامات قیامت سے ایک علامت ہے اور نزول کے علامت قیامت ہونے پر۔ حدیث صحیح مسلم بھی دال ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم پر ظاہر ہوئے اور ہم کچھ تذکرہ کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا تم کیا تذکرہ کرتے ہو۔ ہم نے عرض کیا کہ قیامت کا۔ فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ

١٥

صفحہ ٤٨٨

دس نشان نہ دیکھ لو گے۔ دخان، دجال، دابۃ، طلوع آفتاب از مغرب، نزول عیسیٰ بن مریم۔ الخ! پس ان روایات مرفوعہ موقوفہ سے ثابت ہوا کہ مراد علامت سے ان کا نزول ہے نہ ان کا پیدا ہونا۔ جیسا کہ مدعی کاذب سمجھا ہے اور یہی ثابت ہوا کہ ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے نہ طرف قرآن کے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی وغیرہ نے گمان کیا ہے۔ اور روایات مذکورہ ہر قول مخالف کو رد کرتی ہیں۔ پس ظاہر آیات قرآنیہ کا یہی ہے کہ اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بذاتہ الشریف ہے اور یہ کہ وہ زندہ ہیں مرے نہیں۔ بخلاف اس مفتری کذاب کے قول کے۔

اور احادیث صحیحہ متواترہ بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ چنانچہ مسلم میں ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اللہ کی بے شک عیسیٰ بن مریم حاکم عادل ہو کر نازل ہوں گے۔ پھر صلیب توڑ دیں گے اور خنزیروں کو ہلاک کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور حاملہ اونٹنی چھوڑی پھرے گی اور کوئی اس کو نہ پکڑے گا اور آپس کا کینہ اور بغض اور حسد جاتا رہے گا اور مال کو باوجود بلائے جانے کے کوئی قبول نہ کرے گا۔

اور بخاری ومسلم و ابو داؤد اور ترمذی نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ قسم ہے مجھ کو اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بیشک ابن مریم تم میں نازل ہوں گے حاکم عادل ہو کر۔ پس صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو ہلاک کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور مال بہت ہوگا۔ یہاں تک کہ اس کو کوئی قبول نہ کرے گا۔ الخ! پھر حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ (قرآن مجید میں بھی اس کی شہادت موجود ہے) چاہو تو پڑھو کہ سب اہل کتاب عیسیٰ کے مرنے سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔

اور سیوطی نے تفسیر اکلیل میں تحت آیت ”وان من اھل الکتاب“ یوں لکھا ہے کہ اس میں دلیل ہے۔ نزول عیسیٰ بن مریم کی۔ اس کو حاکم نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے اور امام احمدؒ نے ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بن مریم نازل ہوں گے تو خنزیر کو ہلاک کر دیں گے اور صلیب کو مٹا دیں گے۔ پھر ابو ہریرہؓ نے یہ آیت پڑھی سب اہل کتاب عیسیٰ کے مرنے سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔

پس اس روایت میں صریح دلالت ہے کہ ”قبل موتہ“ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور معنی اس کے یہ ہیں کہ سب اہل کتاب نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عہد مبارک

١٦

صفحہ ٤٨٩

میں ان پر ایمان لے آویں گے اور اس پر کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کی بندی مریم کے بیٹے ہیں اور اس پر دال ہے۔ حضرت ﷺ کا قسم کھانا نہایت تاکید اور صراحت کے ساتھ کہ مراد نزول ذات مع جسم شریف ہے اور وہ زندہ ہیں۔ مسلم نے روایت کی ہے۔ جابرؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت سے ہمیشہ ایک گروہ حق پر رہے گا قیامت تک۔ پس اتریں گے عیسیٰ بن مریم تو کہے گا۔ امیر ان کا کہ آیئے نماز پڑھایئے۔ پس کہیں گے کہ میں نہیں پڑھاتا۔ بلکہ بعض تمہارا تم پر امیر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ عزت بخشی ہے۔

اور مسلم نے حضرت ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ تمہارا کیا حال ہوگا۔ جب ابن مریم تم میں نازل ہوگا۔ پھر وہ تمہارا پیشوا ہوگا اور ابو داؤد میں ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں اور بے شک وہ اترنے والے ہیں۔ جب تم ان کو دیکھو تو ان کی پہچان یہ ہے کہ ایک مرد ہیں۔ میانہ قد، گندم گوں، گیروے کپڑے پہنے ہوئے اتریں گے۔ گویا ان کا سر ٹپکتا ہوگا۔ اگرچہ اس کو تری نہیں پہنچی۔ پس اسلام کے قبول پر جنگ کریں گے اور صلیب توڑ دیں گے اور خنزیر کو ہلاک کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور اسلام کے سوا کل مذاہب کو اللہ مٹا دے گا اور مسیح دجال بھی ان کے زمانہ میں ہلاک ہوگا۔ پس زمین پر چالیس برس رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے تو مسلمان ان پر جنازہ پڑھیں گے۔

اور امام احمدؒ نے ابو سعیدؓ سے مرفوعاً روایت کی ہے جس کے کل راوی صحیح کے ہیں۔ سوائے کثیر بن زید کے کہ اس کو بھی احمد اور ایک جماعت نے ثقہ کیا ہے۔ لفظ حدیث کے یہ ہیں کہ عنقریب مسیح بن مریم نازل ہوں گے۔ حاکم عادل ہو کر۔ پس خنزیر کو ہلاک کریں گے اور صلیب کو توڑ دیں گے اور دعوت اسلام کی ایک ہی ہوگی۔ پس جب وہ نازل ہوں گے تو رسول اللہ ﷺ کا سلام ان کو کہہ دینا اور بعض الفاظ اس کے صحیح میں بھی ہیں اور امام احمدؒ نے دو اسناد سے کہ جن کے کل راوی صحیح کے ہیں۔ ابوہریرہؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ اگر میری عمر دراز ہوئی تو امید رکھتا ہوں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے ملاقات ہوگی اور اگر مجھے جلد موت آگئی تو جو کوئی ان سے ملاقات کرے ان سے میرا سلام کہہ دے اور حاکم کے لفظ یہ ہیں کہ بے شک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے حاکم اور امام عادل ہو کر اور حج یا عمرہ کرتے ہوئے۔ پہاڑوں کے دروں میں چلیں گے اور میری قبر پر مجھ کو سلام کہیں گے اور میں سلام کا جواب دوں گا۔ یہ اور

١٧

صفحہ ٤٩٠

ان کے مانند بہت سی احادیث متواترہ مروی ہیں جو نزول ذاتی میں صریح ہیں۔ تاویل کی گنجائش نہیں رکھتیں اور صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں دجال نکلے گا۔ پس زمین میں چالیس دن رہے گا (راوی کو یاد نہیں رہا کہ چالیس دن یا ماہ یا برس) پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا، شکل ان کی عروہ بن مسعودؓ کے مانند ہو گی۔ پس دجال کو ہلاک کریں گے۔ الخ۔ امام نوویؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ بھیجے گا اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو یعنی آسمان سے اتارے گا۔ ہماری شرع کے مطابق حاکم کر کے۔ قاضی عیاضؒ نے کہا کہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا اور ان کا دجال کو قتل کرنا بدلیل احادیث صحیحہ اہل سنت کے نزدیک حق اور صحیح ہے اور شرع اور عقل دونوں میں اس کے بطلان کی کوئی دلیل نہیں تو اس کا قبول کرنا واجب ہوا۔

اور بعض معتزلہ اور جہمیہ اور ان کے موافقین نے اس کا انکار کیا ہے اور گمان کیا کہ یہ حدیثیں مردود ہیں۔ اللہ کے اس قول ”وخاتم النبیین“ سے اور آنحضرتﷺ کے قول ”لا نبی بعدی“ سے اور مسلمانوں کے اجماع سے کہ ہمارے نبی کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس سے کہ ہمارے نبی کی شریعت قیامت تک ہے۔ منسوخ نہیں ہو گی۔

یہ دلیل ان کی فاسد ہے۔ اس لئے کہ نزول سے یہ مراد نہیں کہ وہ اتریں گے نبی ہو کر ساتھ ایسی شرع کے جو ہماری شریعت کی ناسخ ہو اور نہ کسی حدیث میں آیا ہے۔ بلکہ اس باب کی حدیثیں اور کتاب الایمان کی اور اس کے سوا اور حدیثیں صحیح وارد ہوئی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام حاکم عادل نازل ہوں گے اور ہماری شریعت کے ساتھ حکم کریں گے اور لوگوں نے جو ہماری شرع کی باتیں چھوڑ دی ہیں ان کو زندہ کریں گے۔

امام شوکانیؒ اپنے رسالہ ”التوضیح فی تواتر ماجاء فی المهدی والدجال و المسیح“ میں لکھتے ہیں کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام میں ١٩ حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔ پھر ان کو لکھا اور اس رسالہ کی حدیثیں اسی رسالہ سے ہم نے ذکر کی ہیں۔ حاصل یہ کہ اس شخص کا یہ دعویٰ کرنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔ دین میں ایک فسادِ عظیم برپا کرنا اور ابلیس لعین کا وسوسہ اور بہکانا ہے۔

اور حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ حدیثیں متواتر آئی ہیں کہ مہدی اس امت سے ہوگا اور عیسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

١٨

صفحہ ٤٩١

اور آئمہ حدیث، اصول وفقہ، کے نزدیک مقرر ہو چکا ہے کہ احادیث متواترہ کا رد کرنا اور قبول نہ کرنا کفر ہے علامہ احمد بن محمد قشاشی اپنے منظومہ عقائد میں کہتے ہیں کہ حدیث متواتر کا رد کرنے والا مبتدع اور خبیث الطبع ہے حدیث متواتر کا رد کرنا آیت محکمہ کا رد کرنا ہے اور علیم کے نزدیک کفر ہے۔ اور ان کے شاگرد شیخ ابراہیم بن حسن کردی بھی اس کی شرح میں یہی کہتے ہیں کہ خبیث الطبع اس لئے ہے کہ طبع پاکیزہ حق کو قبول کرتی ہے اور قرآن کی طرح متواتر احادیث میں بھی علم یقینی ہوتا ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اس مدعی مرزا قادیانی کی بدعت اور طبع بھی خبیث ہے جب کہ حق کو قبول نہ کیا اور حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا ہے اللہ اس سے محفوظ رکھے اور طریق صواب کی توفیق دے اور مستوجب عذاب سے بچاوے۔

اور اس کا استدلال کرنا آیت ”انی متوفیک“ سے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر، سو اس پر کوئی دلیل نہیں کیونکہ ظاہر آیت کے معنی بقول کرخی کے بغیر تقدیم و تاخیر کے یہ ہیں کہ میں تجھ کو بھر پور لینے والا ہوں۔ یعنی لوگوں کے قتل کرنے سے محفوظ کر کے تیری اجل کو پورا کرنے والا اور مؤخر کرنیوالا ہوں اور تجھ کو آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں اور یہ اس لئے کہ توفی کے معنی شئی کو بھر پور لینے کے ہیں اور موت اس کی ایک نوع ہے اور احادیث صحیحہ کے موافق متبادر معنی آیت کے بھی بھر پور لینے کے ہیں۔ نہ اس کے ایک نوع یعنی موت کے اور مفسرین نے اصلی معنی کو اس واسطے اختیار کیا ہے کہ احادیث صحیحہ میں ان کا نزول اور دجال کا قتل کرنا وغیرہ (دلائل حیات) وارد ہیں اور یہی معنی ہیں۔ ”فلما توفیتنی“ کے یعنی جب تو نے مجھ کو بھر پور آسمان کی طرف اٹھا لیا۔

اور امام شوکانی اپنی تفسیر فتح القدیر میں فرماتے ہیں کہ فراء نے کہا اس کلام میں (از روئے معنی کے) تقدیم و تاخیر ہے۔ معنی یہ ہوئے کہ میں تجھ کو اٹھانے والا ہوں اور کافروں سے صاف و پاک کرنے والا ہوں اور مارنے والا ہوں تجھ کو آسمان سے اتار کر اور ابوزید نے کہا یعنی تجھ کو (بھر پور) قبض کرنے والا ہوں اور کشاف میں ہے کہ تیری اجل کو جہاں تک کہ میں نے لکھا ہے پورا کر دونگا یعنی تجھ کو کفار قتل نہ کرسکیں گے تیری اصلی موت سے تجھ کو مارونگا، نہ ان کے ہاتھوں سے۔

اور مفسرین نے اس کے یہ معنی اختیار کئے ہیں اس لئے کہ صحیح یہ ہے کہ اللہ نے ان کو بغیر وفات کے اٹھا لیا جیسا کہ اس کو بہت مفسرین نے ترجیح دی ہے اور ابن جریر طبری نے اس کو

١٩

صفحہ ٤٩٢

اختیار کیا ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ حدیثوں میں ان کا نزول اور دجال کا قتل کرنا صحیح ہو چکا ہے اور بعض نے وفات کے معنی نیند کے لئے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تم کو رات میں وفات دیتا ہے۔ یعنی سلاتا ہے اور بہت مفسرین یہی معنی نیند کے کرتے ہیں۔ انتہی ماقال الشوکانی!

اور آیت فلما توفیتنی میں فرماتے ہیں کہ بعض نے کہا کہ اللہ نے ان کو آسمان پر (زندہ) اٹھانے سے پہلے (تین یا سات ساعت) مارا تھا اور یہ قول باطل ہے۔ اس لئے کہ احادیث سے ظاہر ہو چکا ہے کہ وہ نہیں مرے اور آسمان پر اس زندگی کے ساتھ، جو دنیا میں تھی، زندہ ہیں۔ یہاں تک کہ آخر زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور آیت کے معنی یہی ہیں کہ جب تو نے مجھ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ چنانچہ بعض نے کہا وفات، کلام اللہ میں تین معنوں پر آئی ہے۔ ایک بمعنی موت جیسا کہ اللہ کے اس قول میں اللہ یتوفی الانفس حین موتھا دوم بمعنی نیند جیسے اللہ کے اس قول میں ھو الذی یتوفکم باللیل یعنی تم کو سلاتا ہے۔ سوم بمعنی رفع جیسا کہ اللہ کے اس قول میں فلما توفیتنی یعنی تو نے مجھ کو اٹھا لیا۔ اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ اٹھائے گئے۔ انتہی!

پس جو کوئی یہ گمان کرے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں ہیں مر گئے ہیں اور قیامت سے پہلے آسمان سے زمین کی طرف اپنی ذات بابرکات سے نہیں اتریں گے تو وہ گمراہ ہے۔ گمراہ کرنے والا، اور کتاب اللہ وسنت متواترہ اور اجماع اہل سنت کا مخالف ہے اور حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا ہے۔ پس جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مسیح وفات پاچکے اور وہ آسمان سے زمین کی طرف نہیں اتریں گے اور دعویٰ کرتا ہے کہ میں مثیل عیسیٰ ہوں۔ (جس کا تم کو وعدہ دیا گیا ہے) ایسا شخص مفتری ہے۔ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اس کی گمراہی کو لوگوں پر ظاہر کرے۔ بلکہ یہ اعتقاد رکھیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں مرے نہیں اور آخر زمانہ میں اپنی ذات بابرکات کے ساتھ نازل ہوں گے اور مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور اس مفتری کے کذب پر یہ بات بھی تائید کرتی ہے کہ نزول عیسیٰ کا بعد وجود مہدی اور دجال کے ہوگا اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں مثیل عیسیٰ ہوں۔ (جس کا تم کو وعدہ دیا گیا) حالانکہ مہدی اور دجال ابھی تک نہیں ہوئے۔

اور مسلم میں حدیث ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے سفید منارہ جانب شرق پر نازل

٢٠

صفحہ ٤٩٣

ہوں گے اور شہر دمشق اور اس کا سفید منارہ قادیان اور اس کا منارہ نہیں اور یہ اس کے کذب اور افتراء اور گمراہی پر صریح دلیل ہے۔

نیز رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کے اوصاف میں یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ ایک مرد ہیں۔ میانہ قد، گندم گوں، گیروے کپڑے پہنے ہوئے اتریں گے۔ گویا کہ سر ان کا ٹپکتا ہے اگرچہ ان کو تری نہیں پہنچی، اور یہ وصف کہ ان کے زمانہ میں آپس کے کینے اور بغض وحسد جاتے رہیں گے اور وہ مال کی طرف بلائیں گے تو اس کو کوئی قبول نہیں کرے گا اور مال کو کیں بھر کر دیں گے اور یہ وصف کہ وہ اسلام کے لئے قتال کریں گے اور ان اوصاف شریفہ مذکورہ کا اس شخص مدعی مثیلیت مسیح میں وجود ہی نہیں اور اس کے کذب وافتراء پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ عیسیٰ پر وحی نازل ہوا کرے گی۔ جیسا کہ حدیث مسلم آئندہ دلالت کرتی ہے اور دعوائے اس مفتری کے الہامات کاذبہ یا عقلیہ واہیہ ہیں جو ان کی شان سے نہیں ہیں۔ جن پر وحی آتی ہے۔

اور اس کے کذب پر یہ بات بھی دال ہے کہ مثیل مسیح کا لفظ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور محاورہ صحابہؓ اور سلف وخلف میں کہیں نہیں آیا۔ بلکہ یہ قول بدعت ہے۔ اس کو نکالا ہے۔ اس شخص نے جس کو اللہ نے گمراہ کیا اور کان اور دل پر مہر لگائی اور آنکھ پر پردہ ڈالا ہے۔ پس اللہ کے بعد اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے۔ اس کے علامات کذب سے یہ بھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہیں اور اس کا باپ دادا موجود ہیں۔

غرض کہ اس میں ایسے صفات نہیں ہیں جو اس کے دعویٰ کی تصدیق کریں۔ بلکہ اس کے کل دعویٰ جھوٹے ہیں جو اس کی گمراہی اور کوتاہی عقل اور فساد رائے پر دلالت کرتے ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔

سیوطیؒ کے فتاویٰ حدیثیہ میں ہے کہ سیوطی سے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رہنے کی جگہ کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ دوسرے آسمان پر زندہ ہیں اور نہ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں۔ فرشتوں کی طرح ہمیشہ تسبیح پڑھتے ہیں۔

شیخ حسن عدوی مالکی اپنی کتاب مشارق الانوار میں فرماتے ہیں کہ ہمارے شیخ اجہوری سوال کئے گئے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان سے نازل ہوں گے یا نہیں؟ تو جواب دیا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ان پر نازل ہوں گے۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں ذکر یاجوج ماجوج میں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ پھر اللہ عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کرے گا کہ میں

٢١

صفحہ ٤٩٤

نے ایسے بندے ظاہر کئے ہیں۔ جن کے ساتھ جنگ کی کسی کو طاقت نہیں۔ پس میرے بندوں کو کوہ طور پر لے جاؤ۔ الخ ! پس یہ حدیث نزول جبریل علیہ السلام میں دلیل ظاہر ہے اور حدیث وفات میں جبریل علیہ السلام کا یہ قول کہ یہ آنا میرا زمین میں آخری ہے۔ سو یہ حدیث ضعیف ہے۔ اور مجملہ اس کی گمراہی کے اس کا یہ دعویٰ ہے کہ میں اللہ کی طرف سے ملہم ہوں اور الہام حجت ہے۔ قائم مقام دلائل شرعیہ کے، اور اس کی غرض اس سے اپنے اس دعویٰ کو صحیح کرنا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔ حالانکہ وہ اس میں کاذب اور اہل سنت و جماعت کے مخالف ہے۔ کیونکہ یہ کل دعویٰ اس کے خیالات کاذبہ اور اٹکلیں ہیں اور صحیح بخاری میں ہے کہ معاویہؓ نے فرمایا کہ بچو خیالات اور اٹکلوں سے جو لوگوں کو گمراہ کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض یہود ان پڑھ ہیں۔ کتاب کو نہیں جانتے۔ مگر اپنی آرزوئیں اور ان کے پاس نہیں ۔ مگر اٹکل اور الہام حجت شرعیہ نہیں ہے۔ جس سے اثبات یا نفی کسی حکم کی ہو سکے۔ جیسا کہ آئمہ حدیث واصول وفقہ کے نزدیک مقرر ہے۔ حافظ ابن حجرؒ جو فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ اس امت کے محدث کا الہام جب متحقق ہو تو اس سے کسی امر کے اثبات یا نفی کا حکم نہیں لگا سکتے۔ بلکہ اس کو قرآن وحدیث پر پیش کرنا ضروری ہے۔ اگر ان کے موافق ہو تو عمل کرے۔ ورنہ ترک کرے اور وقوع اس کا اگر چہ ممکن ہے۔ لیکن نادر ہے اور وہ بھی اس شخص کو جس کے کام کتاب وسنت پر مبنی ہوں۔ انتہیٰ !

اور یہ مفتری وفات عیسیٰ علیہ السلام اور مثیل مسیح اور ملہم ہونے کا مدعی ہے۔ اس کے الہامات کتاب وسنت کے موافق نہیں ہیں اور نہ اس کے کام کتاب وسنت پر مبنی ہیں۔ بلکہ کتاب وسنت حیات عیسیٰ علیہ السلام پر دلالت کرتی ہیں اور اس پر کہ وہ آخر زمانہ میں زمین کی طرف حاکم عادل ہو کر نازل ہوں گے۔

اور لفظ مثیل عیسیٰ کتاب وسنت میں وارد نہیں ہوا اور نہ صحابہ اور سلف وخلف سے ثابت ہے۔ بلکہ یہ قول محدث ہے اور ہر محدث بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پس یہ الہام اس کا جو کتاب اور سنت اور اقوال سلف وخلف اور کل اہل سنت کے مخالف ہے۔ الہامات شیطانیہ اور خواہش ہائے نفسانیہ ہے۔

اور رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا ہے کہ جو لوگ ہدایت کے بعد گمراہ ہو جاتے ہیں۔ جھگڑالو ہو جاتے ہیں۔ روایت کیا اس حدیث کو احمد اور ترمذی وغیرہ نے ابو امامہ سے، اور حق میں مثل دعویٰ اس کاذب فاجر کے اللہ نے اپنی کتاب میں یہ آیت نازل فرمائی ہے۔ یہ لوگ جھگڑالو

٢٢

صفحہ ٤٩٥

ہیں ۔ پس علماء مسلمین اور حکام مومنین سے جو قدرت رکھتا ہے۔ اس پر واجب ہے اس مفتری کاذب کو ان جھوٹے دعوؤں سے منع کرنا اور ادب دینا جس سے وہ رک جائے اور ادب دینا اس کو جو اس کی مدد کرے اور اس کو اور اس کی دوستی کو اللہ کے واسطے چھوڑ دیں۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے کہ مؤمنوں کو اللہ ورسول کے دشمنوں کا دوست نہ پاؤ گے۔ اگر چہ ان کے باپ یا بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں اور دلائل عقلیہ یا کتاب وسنت کے ماسواء سے جو اس نے استدلال کیا۔ سو اس کی طرف کوئی التفات نہیں کرتا۔ مگر جو نفسانیت کا تابع اور چاہ ضلالت میں پڑا ہو۔

یہ اس فقیر نے کلام آئمہ محققین اہل معرفت وتمکین سے جو ظاہر ہوا لکھا ہے۔ پس صواب اللہ کی طرف سے ہے اور خطا میری اور شیطان کی طرف سے ہے۔ یہ رسالہ دوشنبہ ٢٠ ربیع الثانی ١٣٠٨ھ کو بھوپال میں مکمل ہوا۔ بعد فراغ تحریر ہذا میرے پاس یہ سوال آیا جو اس مفتری کاذب کے بارے میں ہے۔

کیا فرماتے ہیں۔ علمائے دین، مرزا غلام احمد قادیانی کے حق میں اور جو قرآن وحدیث کو اس نے ظاہر سے پھیرا ہے۔ کیا یہ تحریف مذموم یہودیوں کی سی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا!

تو میں نے جواب دیا۔ واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں یہود کی مذمت یوں فرمائی ہے۔ (ترجمہ) یہود کلام الٰہی کو اس کے ٹھکانوں سے پھیرتے ہیں اور بھول گئے ایک فائدہ لینا۔ اس نصیحت سے جو ان کو تھی اور ہمیشہ تو خبر پاتا ہے ان کے دغا کی۔ اور اس شخص مسئول عنہ کی تحریف اور اس کے نصوص کو ظاہر سے پھیرنا بلا شک یہود کی سی تحریف ہے۔ امام ابن قیمؒ، اغاثۃ اللہفان میں فرماتے ہیں کہ اس میں اختلاف ہے کہ توریت جو یہود کے پاس ہے۔ اس میں تحریف لفظی ہے یا معنوی۔ اس میں تین قول ہیں۔ ایک طائفہ نے کہا ہے کہ کل یا اکثر مبدل ہے اور بعض نے غلو کیا کہ اس کے ساتھ استنجاء جائز ہے۔ ایک گروہ نے آئمہ حدیث وفقہ وکلام نے یہ کہا کہ تبدیلی فقط تاویل میں واقع ہوئی ہے۔ امام بخاری اپنی صحیح میں ”یحرفون“ کی تفسیر یوں کرتے ہیں کہ دور کرتے ہیں کلام کو اس کے ٹھکانے سے، اور لفظ کتاب کو کتب اللہ سے کوئی زائل نہیں کرتا۔ لیکن اس کی بے جا تاویل کرتے ہیں اور رازی نے یہی اختیار کیا ہے اور میں نے اپنے شیخ (ابن تیمیہؒ) سے سنا وہ کہتے تھے۔ فضلاء کے درمیان اس میں نزاع واقع ہوئی ہے۔ پس اس قول کو صحیح اور غیر کو ضعیف کہا۔ پس اس پر ان کا انکار کیا گیا تو اس نے پندرہ نقلیں اس بارہ میں پیش کیں۔

٢٣

صفحہ ٤٩٦

میرا مقصود اور غرض اس کلام ابن قیمؒ سے یہ ہے کہ بموجب مذہب بخاری وغیرہ کے یہ مفتری بھی تحریف معنوی آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ میں یہود کے مشابہ ہے اور جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اس کی تاویل یہود کی سی تاویل معنوی نہیں ہے۔ پس وہ بھی مثل اس کے گمراہ ہے۔ گمراہ کرنے والا اور جس کو اللہ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔

پھر بعد فراغ اس تحریر کے میں ایک واقعہ پر مطلع ہوا۔ جس کو ابن تیمیہؒ نے اپنے رسالہ ”بغية المرتاد في الرد على المتفلسفة والقرامطة والباطنية اهل الالحاد من القائلين بالحلول والاتحاد“ میں ذکر کیا ہے کہ ہمارے پاس شہر دمشق میں ایک بڑا شیخ مشہور تھا۔ جس کو ابن ہود کہتے تھے اور جن وحدت وجودیوں کو ہم نے دیکھا ہے۔ وہ ان سب میں زہد و معرفت و ریاضت میں بہت بڑا تھا اور ابن سبعین کی بہت تعظیم کرتا تھا اور ان کو ابن عربی اور اس کے غلام ابن اسحاق پر بھی فضیلت دیتا تھا اور بہت سے بڑے اور چھوٹے اس کے حکم کی اطاعت کرتے تھے اور اس کے مریدان خاص اس کے حق میں یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ ابن ہود، مسیح ابن مریم ہے اور کہتے تھے کہ اس کی ماں کا نام بھی مریم ہے اور وہ نصرانیہ تھی اور نسبت حدیث رسول کی کہ تم میں ابن مریم اترے گا تو ان کا عقیدہ تھا کہ وہ یہی ابن ہود ہے اور اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانیت نازل ہوئی اور مناظرہ کیا مجھ سے اس بارہ میں اس شخص نے جو ان لوگوں کے نزدیک اس وقت فلسفہ وغیرہ میں سب سے افضل تھا۔ علاوہ اس کے زہد و تصوف میں بھی دخل رکھتا تھا اور اس معاملہ میں ان سے کئی گفتگوئیں اور مناظرے واقع ہوئے کہ ان سب کے ذکر کرنے سے طول ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ میں نے ان کے دعویٰ کا بطلان ان احادیث صحیحہ سے اچھی طرح بیان کر دیا۔ جو نزول عیسیٰ میں آئی ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وہ اوصاف بیان کئے جو ابن ہود پر مطابق نہیں آتے اور میں نے خرابی ان کی قرمطہ کی جس میں وہ داخل ہو گئے تھے۔ وضاحت سے بیان کر دی۔ یہاں تک کہ میرا ان کا مباہلہ ٹھہرا اور میں نے ان سے حلف اٹھا کر کہہ دیا کہ جن باتوں کا تم انتظار کرتے ہو ہرگز پوری نہ ہوں گی اور اللہ اس شیخ کا یہ ڈھکوسلا پورا نہیں کرے۔ سو اللہ نے میری ان سب قسموں کو سچا کیا اور اللہ کا شکر ہے۔ یہ بھی اس واسطے ہوا کہ میں ان کے نزدیک معظم تھا اور مجھ کو خوب جانتے تھے۔ ورنہ وہ تو یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ سب لوگ ان کی حقیقت اور باریک بھیدوں سے محجوب ہیں اور لوگ ان کے نزدیک مثل چوپایوں کے ہیں۔ انتھی!

اس حکایت میں میری اس تحریر کی پوری تائید ہے کہ اوصاف عیسیٰ علیہ السلام کے ابن ہود کی طرح مرزا قادیانی پر مطابق نہیں آتے۔ ولله الحمد على ذلك!

٢٤

PDF 498

اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی دجال

کا

استیصال

حضرت مولانا محمد سعد اللہ لدھیانویؒ

صفحہ ٤٩٨

قادیانی دجال کا استیصال !

(حصہ نثر)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

ایک مسلمان اور قادیانی میں سوال و جواب کیونکر ہوسکتے ہیں؟

مسلمان ...... قادیانی صاحب اپنا دعویٰ اپنی زبان سے بیان کرو۔

قادیانی ...... میں محدث (بفتح دال مشدد) ہوں۔ مجھے اللہ نے اس صدی کا مجدد بنایا ہے۔ میرے نام غلام احمد قادیانی کے اعداد پورے ١٣٠٠ اس پر شاہد ہیں کہ میں تیرہویں صدی کے انجام اور چودھویں صدی کے آغاز پر مجدد ہوں۔

مسلمان ...... صرف نام سے اعداد کا نکلنا مجدد ہونے کی دلیل نہیں۔ کیا معلوم آپ اس وقت کے کیا ہیں۔ اگر حساب ابجد سے کوئی دعویٰ مدلل ہوسکتا ہے تو گزارش ہے کہ آپ کے لئے یہ پورا جملہ جس کے اعداد بھی پورے ہیں، بہت درست ہوگا۔ ”غلام احمد قادیانی دجال ہے۔“ سامعین ! واہ وا! واہ وا! جزاک اللہ ! اس مبتداء کی خبر کیسی برجستہ نکالی ہے۔

قادیانی ...... صرف یہی ایک دلیل نہیں۔ بڑی دلیل میری وحی، الہام ہے جو اللہ پاک کی طرف سے مجھ پر بارش کی طرح برستا ہے۔ من می زیم بوحی خدائے کہ بامن ست پیغام اوست چوں نفس روح پرورم ۔

مسلمان ...... انبیاء ورسل علیہم السلام کے سوا کسی کا وحی والہام قطعی نہیں ہوسکتا۔ ممکن ہے ان کے ماسواء کو اس میں کبھی نفسانی، گاہ شیطانی آمیزش سے دھوکا ہو جائے۔

قادیانی ...... چونکہ میں محدث ہوں۔ میری وحی والہام بھی آمیزش شیطان سے پاک ہے۔

مسلمان ...... اس پر کوئی دلیل شرعی؟ قرآن وحدیث میں تو محدث کو یہ رتبہ نہیں دیا کہ قرآن میں محدث کا نام بھی نہیں۔

( قادیانی کا ایک اعرج مرید جو آتھم کی جنگ بحث میں قادیانی کا معاون تھا )

جھٹ قرآن شریف کھول کر سورۃ انبیاء کی آیت ”مَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ ذِکْرٍ مِّنْ رَّبِّہِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَهُمْ يَلْعَبُوْنَ“ پر انگلی رکھ کر سامنے کردی ۔ ( قادیانی آنکھ کے اشارے

٢

صفحہ ٤٩٩

سے گھورتا ہی رہ گیا) دیکھ تو یہ قرآن کی آیت ہے یا نہیں؟ مسلمان...... کسی قدر حیران ہو کر میاں دیکھوں کہیں جلد باندھتے وقت کوئی کسی کی تحریر تو بیچ میں نہ باندھ دی ہو۔ (دیکھ کر ) بھئی واہ! اس لفظ کی حرکات پر تو نظر کر لیتے۔ محض حروف ہی دیکھ کر بول اٹھے۔ (اس لفظ کا ترجمہ نیچے لکھا ہوا دیکھتے واعظ اسی خوبی پر بنے ہو۔ قادیانی کی قرآن فہمی پر ناز اس لیاقت سے کیا کرتے ہو کہ مرزا قادیانی کے برابر قرآن کوئی نہیں سمجھتا۔ شرم کرو)

قادیانی...... جھنجلا کر ! نہیں نہیں تم ادھر دیکھو۔ صحیح بخاری میں سورۂ حج کی آیت یوں بھی لکھی ہے۔ ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبی ولا محدث الا اذا تمنی القی الشیطان“ یعنی رسول اور نبی اور محدث کا بھی الہام ، جب اس میں شیطان دخل دیتا ہے تو وہ خلل شیطان سے پاک کیا جاتا ہے۔

مسلمان...... قطع نظر اس سے کہ آئیت شریف میں وحی والہام میں دخل کا ذکر ہی نہیں۔ صرف تمنائے ولی، نبی ورسول کا ذکر ہے۔ یہ تو بتاؤ ” فبای حدیث بعده یؤمنون“ کی تفسیر جو تم نے کی تھی کہ قرآن کے بعد کوئی حدیث قابل تسلیم نہیں اور اشتہار مورخہ یکم اگست ١٨٩١ء میں آپ کا یہ دعویٰ کہ ”قرآن کریم کے اخبار اور قصص اور واقعات ماضیہ پر نسخ وزیادت ہرگز جائز نہیں۔“ (مجموعہ اشتہارات ج١ ص ٢٢٩) یہاں یہ دعویٰ بالکل ردی ہو گیا۔ اب اس بخاری کی روایت (جو ایک صحابی کا قول ہے۔ حدیث نبوی بھی نہیں ) قبول کر کے قرآن میں لفظ بڑھانا بھی جائز کر لیا اور صحیح بخاری، وہی جس کی احادیث معراج نبوی کے تعارض اور عدم وفا وحافظہ روایت جناب (مرزا قادیانی) نے اپنے ازالے کے آخیر میں بامداد کتب روافض لکھے ہیں۔ سچ ہے صاحب غرض دیوانہ بود!

قادیانی...... کھسیانا سا ہو کر ! ہائے اس کمبخت نے وہ اشتہار کہاں سے دیکھ لیا۔ میں نے تو دفع الوقتی کے لئے یہ ڈھکوسلا بنایا تھا کہ کسی طرح ابن مریم کا زندہ ہونا اور مکرر آنا لوگوں کے خیال میں مشتبہ ہو جائے۔ لیکن جواب ندارد۔ ندامت نے پانی پانی کر دیا۔ دل ہی دل میں پیچ تاب کھا گیا۔

قادیانی کا شاگرد خاص ہم اعور و ہم اعرج

حضرت اقدس (مرزا قادیانی) اس جاہل سے آپ کیا مغز خراطی فرماتے ہیں اور کہیں ضعف دماغ ہو جائے گا۔ جانے بھی دو۔

مسلمان...... مسیح صاحب! جب آپ محدث ہیں تو نبی بھی ہیں۔ (توضیح المرام ص ١٩، خزائن ج ٣

٣

صفحہ ٥٠٠

ص ٦٠) المحدث نبی والنبی محدث۔ یعنی محدث نبی ہے اور نبی محدث ہے۔ اب یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ میں محدث تو ہوں۔ لیکن نبی نہیں۔ یہ فقرہ کہیں مستی میں نکل گیا تھا؟

قادیانی ..... بڑی جلدی سے طیش میں آکر من ہستم رسول و نیاوردہ ام کتاب۔

(ازالہ اوہام ص ٧٨١، خزائن ج ٣ ص ١٨٥)

مسلمان ...... جس کتاب میں یہ مصرعہ درج ہے اس کے عنوان پر حضور (مرزا قادیانی) مرسل یزدانی بنے بیٹھے ہیں (ٹائیٹل پیج ازالہ، خزائن ج ٣ ص ١٠١) اور پھر اس کے (ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) پر جناب عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کی بشارت ”رسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ کے مصداق خود بدولت بنے ہوئے ہیں۔ یہ دھوکہ وہ کھائے جس نے آپ کے رسالہ ازالہ نہ دیکھے ہوں۔ ورنہ دیکھنے والا آپ کا دھوکا کب کھاتا ہے۔ محدث ہونے کے مدعی فی الحال ہو۔ محدث اور نبی کو ایک ہی مانتے ہو۔ وحی والہام میں انبیاء کی ہمسری بلکہ بعض مکاشفات میں ان سے بڑھ کر ہونے کے مدعی ہو۔ خصوصاً ختم الرسل سے بھی دجال، دابة الارض، یاجوج ماجوج کی کیفیت سمجھنے میں زیادہ قابلیت رکھتے ہو۔ اب ادعائے نبوت میں کیا کسر ہے۔ ”انا النبی لا کذب“ نہ لکھا، یوں کہہ دیا۔ میں محدث ہوں والمحدث نبی اور یہ تو فرماؤ کہ رسول و نبی اور عامہ خلائق میں بجز وحی کس بات کا فرق ہے؟ بظاہر ”انما انا بشر مثلکم“ سے ثابت ہے کہ کچھ فرق نہیں۔ بجز یوحی الیٰ، سو اس وحی میں آپ ان برگزیدوں سے کسی طرح کم نہیں رہتے۔ آپ کے مکاشفات اور سمجھ حضرت عیسیٰ روح اللہ اور محمد رسول اللہ علیہا السلام سے بڑھ کر ہیں؟ آپ کے سامنے حضرت عیسیٰ کے معجزات یوں ہی کھیل تماشہ، لہو ولعب، سامری جادوگر کا بچھڑا۔ پھر یہ سب آپ کے نزدیک قابل نفرت۔ باوجو دان سب باتوں کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ نبی اللہ ہونے دیں اور اپنے لئے باوجود کمالات نبوت سے خالی رہنا گوارا کرتے ہوں ممکن نہیں۔ یہ انکار از نبوت محض دھوکا ہے۔ ناصر مرید بر ملا دعائیں کر رہے ہیں۔ اپنے مرسل کی مدد کرائے خدا، حضور کا ازالہ برسرعنوان بزبان حال پکار رہا ہے۔

توئی مامور رحمان قادیانی مرسل یزداں توئی مرزا غلام احمد از اولاد جمشخان
نذیرے آمدی از جانب حق اندریں دنیا نکردندت قبول وحق کند صدق ترا تاباں
تو نورے آمدی سر تا بپا زانوار بیگم نباشد والد روحانیت زانجا کسے انساں
ترا بایست دعوائے نبوت بر ملا کردن چہ حاصل زیں چنیں روباہ بازی ہائے اے ناداں

٤

صفحہ ٥٠١
تو شیر نیستان عیثانی آمدی ز اوّل شغالے بودی وشیرے شدی از خم صباغاں
چہ باک اندر چنیں عہدے کہ ہر کس دارد آزادی نبوت جرم تعزیزی نباشد نزد قانون داں
مترس از شور وغوغائے مسلماناں کہ در اسلام قلندر چوں تو بسیار و نمی ترسد کسے زیشاں
رسول احمد نبی اللہ و مرسل چوں بخود گفتی رسولے نیستم گفتن بود کفر از تو در ایماں
مجدد ہم محدث بودی و حارث شدی آخر نبی مرسل جری اللہ مسیح ومہدی دوراں
مکن کفران نعمتہا مگو مرسل نیم ہرگز نبوت را رسالت را مدار اے بے خرد پنہاں
زچند الہام و وحیت یازده صفحات شد مشحوں چرا گفتی نیاوردم کتابے از حق سبحاں
سراج خود بکن روشن کتاب مستبیں بنما بہ جفر ورمل خود خود را رسول غیب داں گرداں
بتائید بہیہ بہر کے دام طمع گستر کسے را در حق دختر زمرگ ناگہاں ترساں
اگر باشد بہ زوجے شاد کام آں دختر نیکو پس از سی ماہ روئے خود سیہ کن درغم ہجراں
بگو آں زن کہ زو بکہا الہامش آوردم بوجہ رضائے من کنوں در قبضہ سلطاں
الا اے قادیانی حق شنو از سعدی ناصح کہ الہام تو شد ز اعلام نفس و وحیت از شیطاں

اصل یوں ہے کہ مضمون سب تحریروں میں ادا ہو چکا ہے۔ مریدوں کے ذہن نشین کر دیا گیا ہے۔ اب ”لا الہ الا اللہ“ کے ساتھ قادیانی رسول اللہ لگانا باقی ہے۔ بڈھا آتھم کرسچن تیرے پندرہ ماہ رونے سے بھی نہ مرا۔ پر نہ مرا۔ سلطان محمد اڑھائی برس گزار کر خدا کے فضل سے زندہ ہے۔ عموائیل بشیر جو جہان کو روشن کرنے آیا تھا۔ تیرے گھر میں اندھیرا کر گیا۔ ان پے در پے کی مصیبتوں نے تجھ کو ادھر کی سوجھنے نہ دی۔ ورنہ اب تک کلمہ شہادت میں نبی کی ترمیم ہو گئی ہوتی۔ جناب رسول خداﷺ نے جو قبل از قیامت قریباً تیس کذاب دجالوں کے آنے کی خبر دی ہے۔ ان کا نشان یہی فرمایا ہے کہ وہ سب اپنے آپ کو رسول سمجھتے ہوں گے۔

یعنی یہ ضرور نہیں کہ اپنے آپ کو ہر جگہ صاف طور پر رسول اللہ کہیں بھی۔ خدا تعالیٰ کے غیب پر مطلع ہونے کے لئے اس آیت ”عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احد الا من ارتضیٰ من رسول “ میں بھی رسول بن کر تجھ کو بجز روسیائی اور کچھ نہ ملا۔

(صفحہ آخر کرامات)

چھ ستمبر اور ١٨؍اکتوبر ١٨٩٤ء کے دن تجھ پر وہ لعنت برسی کہ اگر تو توبہ نہ کرے۔ تا قیامت تجھ سے علیحدہ نہ ہوگی۔ ورنہ از روئے احادیث جس عیسیٰ کا مکرر آنا ثابت ہے۔ اس کا نبی اللہ ہونا ضروری ہے۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ ”لا نبی بعدی“ کی حدیث صاف کہہ رہی

٥

صفحہ ٥٠٢

ہے۔ میرے بعد نبی ہونے والا کوئی نہیں۔ اب اگر وحی عیسیٰ نبی اللہ جو چھ سو برس پہلے نبوت ادا کر چکے ہیں۔ آجائیں تو حدیث کے ساتھ کوئی تعارض نہ ہوگا۔ لیکن اگر کوئی اور شخص عیسیٰ نبی اللہ بن کر آئے تو ”لا نبی بعدی“ غلط ہو جائے گی۔ یہ شخص تو عیسیٰ موعود بنتا ہے۔ اس لئے نبی اللہ ضرور ہوا اور اس عیسیٰ کے لئے تو کیا کسی کے لئے بھی جزئی نبوت کا تذکرہ کہیں نہیں فرمایا گیا، نبوت، نبوت ہے۔ جزئی اور کلی تیرے اختراعی لفظ ہیں۔ ان کو اپنے گھر رکھ چھوڑ۔ جب تو سب اوصاف نبوت اپنے لئے تجویز کرتا ہے تو کم کس بات میں رہا؟ اس بات کا نام لے۔ یہ ایسی مثال ہے جیسے کوئی شیطان کہے کہ میں زمین و آسمان کا خالق ہوں۔ سب کا رازق ہوں۔ سب کی موت وحیات میرے ہاتھ میں ہے۔ لیکن میں اللہ نہیں ہوں۔ یونہی جزئی الوہیت مجھ میں ہے۔

قادیانی ...... سلطان محمد سے اب میری تکذیب کرا دو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے۔ وہ ابھی عذاب کے قابل نہیں ہوا۔

مسلمان ...... او بے حیا، بے شرم، بد بخت! بتا تو سہی سلطان محمد جو تیری الہامی زوجہ کو شرعی بیوی بنائے بیٹھا ہے اور اس سے صاحب اولاد بھی ہو گیا ہے۔ تیری کس بات کی تصدیق کرتا ہے؟ خبیث ڈوب مر۔ اس کے اس تصرف پر بھی تو اس کو اپنا مکذب نہیں سمجھتا۔ لعنت اس بے حیائی پر۔ ہاں البتہ وہ تیری بے حیائی کی تصدیق ضرور کرتا ہے۔

قادیانی ...... دیکھو ایسی سخت کلامی نہ کرو۔ تم گالیاں دیتے ہو، بہتان لگاتے ہو۔ اگر تم باز نہ آئے تو ابھی تمہارے حق میں ایک سخت منذر الہام نازل کردوں گا۔

مسلمان ...... جناب فرمائیے جو گالی یا بہتان سرزد ہوا ہو وہ فرمائیے۔ کیا از روئے الہام ”زوجنکہا“ نو دس برس سے وہ عورت آپ کی الہامی زوجہ نہیں ہو چکی۔ کیا اب وہ پانچ برس سے عزیز سلطان محمد کے گھر میں صاحب اولاد نہیں؟

قادیانی ...... گو یہ سب کچھ درست ہے۔ لیکن تم ہم کو کیوں سناتے ہو۔ یہ ذکر سن سن کر ہماری روح سلب ہوئی جاتی ہے۔ کیا تم کو اس میں مزہ آتا ہے۔ بس ہم سے سخت کلامی نہ کرو۔

مسلمان ...... نہیں۔ مسیح قادیانی، یہ سخت کلامی حکمت سے خالی نہیں۔ خفتہ دل اس سے بیدار ہوتے ہیں۔ (ازالہ ص ٣٢٩، خزائن ج ٣ ص ١١٧، ١١٨) واشگاف اور علانیہ اپنے کفر و کینہ کو بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ خواب غفلت سے اس ٹھوکر کے ساتھ بیدار ہو جاتے ہیں۔ اس رسالت ونبوت کے خیال نے تجھ کو مسلمانوں کے نزدیک دجال ثابت کر دیا اور اس سے تو رسول اللہ کی پیش گوئی کا مصداق بن گیا اور قریباً تیس دجالوں میں سے ایک شمار ہوا۔

٦

صفحہ ٥٠٣

سب مسلمان یونہی کہیں گے جب تک تو جیتے جی صاف طور پر ان خیالات سے اپنی توبہ شائع نہ کردے۔ باقی رہا۔ صلیب مسیح و مرگ مسیح کا قصہ اس کو واقف مسلمان سب جانتے ہیں کہ تو نے یہ سید احمد خاں نیچری علی گڑھی کی تفسیر سے چرایا ہے اور نور الدین تیرے بظاہر مرید نے تجھ کو سکھایا ہے۔ البتہ تو نے اس میں خود مسیح و عیسیٰ بننے کے لئے کہیں کہیں کچھ بڑھایا ہے اور نیا لباس پہنایا ہے۔ خدا تعالیٰ تو قرآن میں فرمائے۔ ”ما صلبوہ“ یعنی یہودیوں نے عیسیٰ کو سولی نہیں چڑھایا اور تو کہے چڑھایا تو سولی پر جان نہیں نکلی تھی۔ یہ صرف اس لئے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی روایت غلط نہ ہو جائے اور علی گڑھی کی وحی جو بذریعہ نور الدین بھیروی تجھ پر نازل ہوئی ہے۔ آسمانی وحی سے جو بذریعہ جبرائیل امین محمد رسول اللہ پر اتری تھی رد نہ ہو جائے۔ ورنہ کوئی ضرورت اس نفی صلیب کے مقابل اثبات صلیب کی نہ تھی۔ آج تک مسلمانوں میں سے کسی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سولی پر لٹکنا بمقابلہ ما صلبوہ نہیں مانا۔ نیچری ناخلفوں کے سوا۔

رہا حضرت عیسیٰ کو تیرا مردہ کہنا اور ان کے بذات خود دوبارہ آنے سے انکار کرنا۔ اپنی اسی سڑی بسی بودی براہین کو دیکھ لے۔ جس سے تو نے مسلمانوں کو فریب دیا ہے۔ تیرا صاف اقرار موجود ہے کہ میں ظلی طور پر راہ صاف کرنے آیا ہوں۔ حضرت عیسیٰ قرب قیامت میں جلال کے ساتھ تشریف لائیں گے۔ یہ وہی براہین ہے جو تو نے اللہ کی طرف سے ملہم و مامور ہو کر لکھی تھی۔ صحیح بخاری میں ”انہ لعلم للساعۃ“ (بے شک وہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے لئے ایک نشان ہیں۔ قیامت میں ان کا پھر آنا ہوگا) کی تفسیر حضرت ابو ہریرہؓ سے منقول ہے۔ جس بخاری کی شہادت سے تو اپنے تئیں محدث بناتا ہے۔ اہل سنت کے لئے تو ایک کافی سند ہے۔ لیکن نیچری اس کو کیوں تسلیم کرنے لگے؟ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔ تفسیر ابن کثیر دیکھ لے۔ ان روایتوں کے سامنے تیرے الہام کو کون پوچھے؟

قادیانی...... کھسیانا ہو کر۔ بس اب زیادہ بک بک نہ کرو۔ اگر کچھ حوصلہ ہے تو سب مسلمان مولوی میرے ساتھ مباہلہ کر لیں۔ مسلمان...... مسیح قادیانی غضب کرتا ہے۔ مرگ آتھم کی پیش گوئی سے چار پانچ روز پہلے امرتسر میں عبدالحق کے ساتھ تیرا مباہلہ ہی ہوا تھا یا کچھ اور؟ قادیانی...... ہاں مباہلہ ہی تھا۔

٧

صفحہ ٥٠٤

مسلمان ....... پھر اور مباہلہ کیسا؟ بار بار مباہلہ کیا؟ اب دیکھتا جا کیا کیا ہوتا ہے۔ کوئی پیش گوئی کر پھر دیکھ مزہ۔ نو سال مقررہ گزر چکے اب عمانوئیل ضرور پیدا ہو چکا ہوگا ؟ ان لڑکوں کو وہیں سے کسی کو مقرر کر دو کہ فلاں وہ عمانوئیل بشیر ہے۔ لیکن گھر میں سے پہلے اجازت لے لینا۔ پہلے کی طرح دنگہ فساد نہ ہوتا پھرے۔

قادیانی ...... یہ مولوی مجھ کو کافر ، دجال ، کذاب ، ملعون ، دوزخی کہنے سے باز نہیں آتے۔

مسلمان ...... عبدالحق باز آ گیا؟

قادیانی ...... نہیں باز تو وہ بھی نہیں آیا۔ وہ بڑا سخت دل ہے۔ میں نے اس کے حق میں کوئی بددعا نہیں کی تھی۔ (انجام آتھم) پہلے سے بھی تیز ہو گیا۔

مسلمان ....... ارے بے شرم ! تو کتا بے حیا ہے۔ مباہلے میں اگر بددعا نہیں کی تھی تو کیا دعائے عافیت مانگی تھی؟ کمبخت ! پھر کہے گا سخت کلامی کرتا ہے۔

قادیانی ................. میں نے جھوٹے پر لعنت کی تھی اور کوئی بددعا نہیں کی تھی۔

مسلمان ....... عبد الحق تیرے نزدیک سچا تھا یا جھوٹا ؟

قادیانی ...... ہاں تھا تو جھوٹا ہی۔

مسلمان ....... تو پھر تیرے مباہلے نے اس کا کیا بگاڑ دیا کہ تو اب اوروں کو دھمکاتا ہے۔

قادیانی ....... اگر میں اللہ پر جھوٹ باندھتا ہوں تو اللہ مجھ کو جلدی سے ہلاک کیوں نہیں کر دیتا۔ خدا فرماتا ہے۔ ”فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا“ مجھ سے بڑھ کر کون ظالم ہے؟ خدا مجھ کو بیس برس سے مہلت دے رہا ہے۔ اس کی غیرت کیا کہتی ہے۔

مسلمان ....... اس کی غیرت تو کہتی ہے کہ ابھی تجھ کو نیست کر دے۔ لیکن یا تو رحمت سفارش کر رہی ہے یا غضب دھکے دے رہا ہے کہ تو اچھی طرح کامل طور سے قابل سزا ہو جائے۔ ”املی لھم ان کیدی متین“ پڑھ کر دیکھ لے۔ دیر گیر و سخت گیر ومردترا۔ اگر تو سچا ہے تو تیرے مقابلے والے سب سے بڑھ کر ظالم ہیں۔ باقی حصہ آیت جس کو تو دانستہ حذف کر گیا ہے۔ ”او کذب بآیاتہ“ صاف کہہ رہا ہے۔ اب تو بتا کہ تیرے مقابلے والے جلد کیوں نہیں ہلاک ہو جاتے ؟ اور تو کہتا ہے پادریوں کا دجل سب سے بڑا ہے۔ یہی دجال اکبر ہیں ایسا دجل کرتے ہیں۔ جس سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے ۔ اب تو بتا ڈیڑھ ہزار برس سے زیادہ گزر گیا۔ زمین و آسمان تو اس طرح قائم ہیں اور پادری روز بروز دنیاوی حیثیت سے ترقی پر ہیں۔

٨

صفحہ ٥٠٥

تیرے دجال اکبر جب ہلاک نہ ہوئے پھر اگر تجھ کو یہ بیس برس مہلت مل گئی۔ تو کیا ہوا کمبخت تو رسول ہی بنا ہے۔ فرعون نے خدا بن کر کتنی مہلت پائی تھی اور اس عیش میں تھا کہ اس کے خاکروب تجھ سے اچھے ہوں گے۔ دور کیوں جائیں ابلیس لعین جو تیرا ملہم اور رسول ساز ہے اور ایسے سب ظلموں کا منبع، اس کو قیامت تک کی مہلت ملی ہوئی ہے تو بیس پچیس برس کی مہلت سے غرور میں آ گیا۔ یہ تیری بے شرمی ہے۔ جو مہلت مہلت کہہ رہا ہے۔ جو پیشین گوئیاں تو نے اپنے معیار صدق و کذب قرار دی تھیں۔ وہ جھوٹی ہوچکیں اور تمام جہاں نے اس کو نصف النہار کی طرح دیکھ لیا۔ بجز چند کور چشموں کے جنہوں نے آفتاب کی روشنی بھی نہیں دیکھی۔ کوٹلے اور لدھیانہ میں تیرے مرید معتقد بھی بن گئے ہیں کہ ہاں پیش گوئی حسب بیان پوری نہیں ہوئی۔ اب پیچھے سے تو خواہ کتنے ہی پرزے اڑائے۔ تیری ذلت کافی و وافی ہوچکی۔ تیری رگ گردن قطع ہوچکی۔ اب تو اس فضیحت میں خواہ اور بیس سال تڑپتا رہ ایک مسلمان سے مباہلہ کرکے تیری یہ نوبت ہوئی ہے۔ اب اور کیا چاہتا ہے۔

قادیانی...... بس میں تو اور مولویوں سے ضرور مباہلہ کروں گا۔ کم سے کم دس ہی سامنے آجائیں۔ برس روز کے اندر ہلاک ہوں گے۔

مسلمان...... بے حیا تیری چالاکیاں ہم خوب سمجھتے ہیں۔ برس روز تو یوں گزر جائے گا۔ ممکن ہے کہ اس میں سے بعض کی اجل مسمی ہی آجائے۔ کسی کو کوئی اور تکلیف باذن الٰہی پہنچ جائے۔ اس کو تو اپنی طرف منسوب کرے کہ یہ ہمارے مباہلے کا اثر ہے اور جن کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ ان پر یہ تعلی شیطانی۔ یہ الزام لگادے کہ دل میں مجھ سے ڈر گئے تھے۔ اس لئے خدا نے عذاب روک لیا۔ تیرا گذشتہ قصہ آتھم سب کو یاد ہے۔ پھر تو ان کو قسمیں دے اور اس طرح دو چار برس اور گزر جائیں۔ آخر تجھے بھی مرنا ہے۔ اگر جلدی مرگیا تو چلو فیصلہ ہوا۔ مرتے کی ٹانگ کون پکڑے گا کہ حضور مخنث ذرا دیکھتے جاؤ کیا ہوتا ہے؟ اور اگر جیتا رہا تو پھر کوئی اور حیلہ سہی۔ آخر اوروں نے بھی مرنا ہے۔ جب کوئی مرگیا تو کہہ دیا۔ دیکھو مرا یا نہ مرا؟ تیری بیحیائی کے مقابلے میں گزارہ مشکل۔ فرو ماند آواز چنگ از دہل تغلیب کند میر بر بوئے گل۔ تیری دروغگوئی کی کوئی حد نہیں۔ مباحثہ لدھیانہ میں جھوٹ بولا کہ بخاری میں یہ حدیث ہے کہ قرآن سے حدیث کی تصدیق کیا کرو۔ جب کہا گیا کہ بخاری میں دکھا اور ہزار روپے لے۔ خبیث تو اٹھ کے بھاگ گیا۔ اس میں امام بخاری پر اتہام لگایا۔ جناب رسول اللہ پر بہتان باندھا۔ لیکن شرمندہ نہ ہوا۔ تیری روسیاہی کو سارا جہاں دیکھ چکا

٩

صفحہ ٥٠٦

ہے۔ ٦؍ ستمبر ١٨٩٣ء کو تیرا منہ کالا ہو کر گلے میں لعنتوں کا ہار ایسا پڑا تھا کہ اگر اس کو تیری جنگ مقدس کا فوٹو کہیں تو بہت مناسب ہے۔ جا بے غیرت، بے حیا چپ ہو کے بیٹھ۔ کچھ شرم کر روٹی کے لئے اور فن اور فریب تھوڑے ہیں۔ تیرے ہم پیشہ بہت سے ہیں۔ جفار بے شمار ہیں۔ جوتشی پنڈت بکثرت ہیں کیا ایسے دعاوی کئے۔ بغیر ان کو روٹی نہیں ملتی۔ ایسی گیدڑ بھبکیاں کسی مشرک کو سنایا کر۔ مسلمان تو اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ’قل لن تصیبنا الا ما کتب اللہ لنا ھو مولٰنا وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون‘ ”ہمیں تو وہی پہنچے گا، جو ہمارے لئے اللہ نے لکھ رکھا ہے۔ وہی اللہ ہمارا مالک ہے اور اللہ ہی پر ایمان والوں کو بھروسا رکھنا چاہئے۔

قادیانی...... مجھے تیرے حق میں ابھی ایک بڑا خوفناک الہام ہوا ہے۔

مسلمان...... بھٹ تیرے الہام کی...... ایسے الہام کو اپنے سیاہ نامہ میں لکھ رکھ۔ تو تو کہتا ہے میں جمالی طور پر آیا ہوں۔ تجھ میں یہ جلال کہاں سے آ گیا۔ شاید تو جلاد ہے۔ جا اپنی غذا پیٹ بھر کر کھا اور میں پڑھتا ہوں۔ ”حسبی اللہ ونعم الوکیل“

قادیانی دجال کا استیصال!

(حصہ نظم)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

رباعی نمبر:١

ابن مریم کا محتقر بہ حسودی ہے تو
ناقۃ اللہ کا بدخواہ ثمودی ہے تو
قادیانی تیرا عیسیٰ کو چڑھانا سولی
سن کے کہتے ہیں مسلمان کہ یہودی ہے تو

رباعی نمبر:٢

نہ مرا آتھم ترسا بہ سہ ماہ و یک سال
پانچواں سال ہے سلطان کو بھی اے رمال
قادیانی تیرا منہ کر گیا کالا وہ بشیر
بن کے اب مرسل یزداں تو ہوا ہے دجال
قادیانی نہ شکوہ کر نہ گلہ
تھا یہی قلم ناصری کا صلہ

١٠

صفحہ ٥٠٧

پڑا تھا کہ اگر اس کو تیری جنگ پ ہو کے بیٹھے۔ کچھ شرم کر روٹی ہیں ۔ بخار بے شمار ہیں ۔ جوشی یسی گیدڑ بھبکیاں کسی مشرک کو ما كتب الله لنا هو مولانا ے لئے اللہ نے لکھ رکھا ہے۔

-

ش لکھ رکھ ۔ تو تو کہتا ہے میں ہے۔ جا اپنی غذا پیٹ بھر کر کھا

عی نمبر :٢

ز سایہ سہ ماہ و یک سال
ہے سلطان کو بھی اے رمال
نہ کر گیا کالا وہ بشیر
ل یزداں تو ہوا ہے دجال

نظم نمبر :١

حضرت حق میں تحیات و درود مصطفےٰ پر اس کے تسلیم و درود
حمد حق نعت رسول حق کے بعد عرض کرتا اہل ایمان سے ہے سعد
صاف فرماتے ہیں ختم المرسلین میرے بعد اب ہو نبی کوئی نہیں
ہاں قریباً تیس دجال آئیں گے جو رسول اللہ نبی کہلائیں گے
قادیانی مرسل یزداں بنا واہ کیا دجال بے سامان بنا
دیکھو اس کاذب کی توضیح مرام خود محدث بن کے کرتا ہے کلام
جو محدث ہو وہ ہوتا ہے نبی ہے محدث بھی وہی جو شی نبی
معجزات ابن مریم سے نفور پھر مثیل ان کا بنے کاذب کفور
خود ہی عیسیٰ کی بشارت بن گیا مرسل از راہ شرارت بن گیا
دیکھ کر چلتا ہوا یہ چال اسے اہل دین نے لکھ دیا دجال اسے
قادیانی بن چکا دجال جب خر نہ کیوں پائے مرید اس کا لقب
پیٹھ پر جس کی یہ رہتا ہے سوار مل کے ستر ہاتھ کی باندھیں قطار
آگے آگے چیلا اک احمق چلے ہر طرف سے آئے آواز بلے
قادیانی چیلی اک بولی ہے اور اس کی ہے پردہ نشینی جائے غور
ناصر مرزا ہے بکواسی لعین خواہ بے نصرت بنے سفلہ کمین
جانتا ہوں خوب میں اس کو یہی قادیانی پر تھا پہلے نکتہ چین
قبضہ اس کے گھر ہی پر کرنے کو تھا قادیانی حیلہ گر کا نور دین
تھا لگاتا اس کو بیماری کا عیب یوں کہہ اس کی شاخ بار آور نہیں
اور ہمارے پاس تھا یہ پیٹتا فتنہ دجال ہے یہ بالیقین
قادیانی کے یہی رکھتا تھا نام بو مسیلمہ اور دجال لعین
جب وہ تھا مخاطب سوئے ہشیار پور اس کے دل میں بھر رہا تھا جوش کین
آبرو کھووے نہ بیچاروں کی ہائے اس کے مکر میں آ کے وہ در نشین

١١

صفحہ ٥٠٨
اس کو جب سلطان محمد لے گیا قادیانی رہ گیا اندر بھبن
اس لئے ہے اب یہ دلجمعی کے تھا قادیان میں ہو کے بیٹھا جاگزین
نام کو اپنے چھپاتی خوب ہے حسن چھپ چھپ کر دکھاتی خوب ہے
چھپ کے پردے میں ہیں کیا نخرے کئے مادۂ خر کے دولتی دیکھئے
منہ دکھانے سے ہے کیوں کرتی حذر ہے یہ خنثیٰ خواصوں میں مگر
خیر خواہ خلق بن کر آئی ہے نظم اک میراثیانہ گائی ہے
اس حیا والی کے ہے کیا حسب حال جفت کنجد گر کے کولہو کی مثال
قول اسی کا اس پہ صادق آگیا اب کسی کو کیا کہے گی بے حیا
کلمہ پڑھنے کے لئے تھی جو زبان اس سے بکنے لگ گئی خود گالیاں
لفظ ٹھیک اس سے نہیں ہوتا ادا کر سکے گی یہ شہادت کیا ادا
نغمہ خوانی سے کب وہ گدھی جس کو ہو تعلیم والقوافیہ کی
کادیانی کے سڑاند جب سنے خاص چیلی کیوں نہ پیٹے سر دھنے
کافروں نے ہزل قول فصل کو خبث باطن سے کہا تھا دیکھ لو
کادیانی چیلی اب کہہ دے اگر جعل میری نظم کو بھی کیا ضرر
کر کے الزاموں سے کاذب کو بری پھر دکھاتی گر یہ اپنی شاعری
دیکھنے والے سمجھتے کچھ بجا اس سیہ کاری سے اس نے کیا لیا
یہ سگ وخر، جی میں جو آئے کہے دیکھ دیکھ آئینے میں نالاں رہے
بھونکتی ہے اپنی صورت دیکھ کر ہے نظر آتا گہے سگ گاہ خر
سن کے حال عفت التقوا کہہ رہی اوروں کو ہے یوں دوغلا
کھایا ہوگا اس نے مغز استاد باؤلاپن اس کا اب آتا ہے یاد
سب قیاس اس کے ہیں اپنی ذات پر کوئی کیوں گھبرائے ایسی بات پر
کچھ نہیں اوباش کے کہنے کا رنج اور نہ اس خفاش کے کہنے کا رنج
بکتی مثل زناں مردوں کو ہے اور بلاتی پھر جواں مردوں کو ہے
مر نہیں چکتا کہیں کہتی ہے گاہ کوئی کوڑھی ہو گا پھر بھرتی ہے آہ!
منہ پہ برقع اور بنی گمنام ہے اس پہ پھر دیتی صدائے عام ہے

١٢

ہر مخالف کو صدا دیتے ہیں ہم
اس لڑائی کے لئے تیار ہو
منہ چھپائے مثل زن اور جنگجو
تف ہے تجھ پر اور تیرے اس شور پر
کادیانی جو تیرا استاد ہے
ہے فراری ہو چکا جیسے ہو چور
اس نے امرتسر میں منہ کی کھائی ہے
خود گلے میں ہے رسہ ڈلوا چکا
اپنے منہ سے خود ہے لعنت پا چکا
بحث میں عیسائیوں کے سامنے
قوم ترسا کے مقابل ہو کے یہ
پھر مسلمانوں کو بلوانے لگا
حمد ہے سب حق رب العالمین
خارج از اسلام اگر پہلے ہی سے
ہوتی بدنامی بہت اسلام کی
شکر ہے اس خالق علام کا
کہہ دو دونوں عیسائی ذلیل
ایک بولا میں نشان دکھاؤں گا
دوسرے پر بھی لگا الزام خوب
کیا کتا ہے سینہ دشمن پہ سانپ
مرزا سلطان محمد کی خبر
گرچہ اس قصے کو پنجم سال ہے
پر نہ چیلوں نے کبھی اتنا کہا
کچھ حیا اس سے نہیں بے شرم کو
یہ نہ بولے اور دیکھے صبح وشام
صفحہ ٥٠٩
ہر مخالف کو صدا دیتے ہیں ہم ہر مکفر کو ندا دیتے ہیں ہم
اس لڑائی کے لئے تیار ہو صدق دل سے عازم پیکار ہو
منہ چھپائے مثل زن اور جنگجو اور پکارے یوں جواں مردوں کو تو
تف ہے تجھ پر اور تیرے اس شور پر ہے تیری بکواس یہ کس زور پر
قادیانی جو تیرا استاد ہے لدھیانہ دلی اس کو یاد ہے
ہے فراری ہو چکا جیسے ہو چور وہ نہیں بھولے گا اس کو تابگور
اس نے امرتسر میں منہ کی کھائی ہے روز افزوں جس سے ذلت پائی ہے
خود گلے میں ہے رسہ ڈلوا چکا اور سیاہی منہ پہ ہے ملوا چکا
اپنے منہ سے خود ہے لعنت پا چکا ہاویئے میں اپنے پاؤں دبا چکا
بحث میں عیسائیوں کے سامنے کیا دکھایا تھا نشان ناکام نے
قوم ترسا کے مقابل ہو کے یہ مایۂ عزّت رہا ہے کھو کے یہ
پھر مسلمانوں کو بلوانے لگا شاید اب پھر سر ہے کھجلانے لگا
حمد ہے بحق رب العالمین جس نے اس شر بچائے اہل دین
خارج از اسلام اگر پہلے ہی سے کر نہ چکتے عالمان دین اسے
ہوتی بدنامی بہت اسلام کی جو غرض اصلی تھی اس خود کام کی
شکر ہے اس خالق علام کا ہے محافظ آپ وہ اسلام کا
کہنہ و نو دونوں عیسائی ذلیل ہو گئے جس سے نکالی وہ سبیل
ایک بولا میں نشان دکھلاؤں گا آئے جب بیمار عاجز رہ گیا
دوسرے پر بھی لگا الزام خوب کھل گئے اس کے بھی ایمانی عیوب
لوٹتا ہے سینہ دشمن پہ سانپ مر گیا دشمن یہیں کانپ کانپ
مرزا سلطان محمد کی خبر عرصہ سی ماہ میں جائے گا مر
گرچہ اس قصے کو پنجم سال ہے اب تک اپنے گھر میں وہ خوشحال ہے
پر نہ چیلوں نے کبھی اتنا کہا کیا ہوا الہام زوّجنکھا
کچھ حیا آتی نہیں بے شرم کو غیر کے گھر میں وہ زوجہ شاد ہو
یہ نہ بولے اور دیکھے صبح و شام شرع میں اس بے حیا کا کیا ہے نام

١٣

صفحہ ٥١٠
قادیانی سیمیائی کا ہے پیر پیٹتے ہیں چلیپا یہ چیلے لکیر
روتے ہیں آتھم کے مرنے کے لئے اور وہ سلطان خواہ عشرت سے جئے
آتھم آتھم پیٹتے ہیں بے حیا نام تک لیتے نہیں سلطان کا
قادیانی تو تو تھا دجال ایک تیری یہ چیلی بھی دجالہ ہے لیک
واہ کیا دجال کی دجالہ ہے بلکہ سچ پوچھو تو اس کی خالہ ہے
وہ ہے اک رمال یہ رمالہ ہے اس سے کچھ بڑھ کر بنی قتالہ ہے
ہے بخاری اور عبداللہ کا نام لے رہی یہ تاکہ دھوکہ کھائیں عام
ابن قیم ابن تیمیہ کا ذکر سن کے دھوکہ کھائیں گے بے فکر
سن کے ان ناموں کو سمجھیں گے عوام قائل ان باتوں کے ہوں گے یہ امام
مردہ وہ عیسیٰ کو ہوں گے جانتے اور مصلوبیت ان کی مانتے
اب نہ خود عیسیٰ مکرر آئیں گے ہو چکے مدفون کیونکر آئیں گے
اب جو آئے گا فقط ہو گا مثیل قادیانی ایک کذاب ذلیل
قادیان کا رہنے والا ایک مغول نسل سے اٹھا اک بو الفضول
بن کے آئے گا پیمبر خود غرض زرد جوڑا منہ پہ زردی مرض
نورے اور حنو کے کندھوں پر سوار یہ فرشتے ہوں گے اس کے نابکار
کہہ گیا ایسا ہے کب کوئی بزرگ خود ہے گھڑتا قادیانی کہنہ گرگ
ہے بزرگوں پر لگاتا اتہام نیچری سید کا ناشکرا غلام
اس کی تحریروں سے ثابت ہو چکا قادیانی ہے ولی شیطان کا
پھر یہ چیلی ہے ولی کہتے اسے جس کو نفرت فعل روح اللہ سے
دیکھئے بچھیا ہے مادہ خری معجزے عیسیٰ کے عجل سامری
مدعی ہے وحی اور الہام کا مثل ذات مرسلین وانبیاء
مصطفےٰ کے بعد جو اپنے تئیں مرسل یزداں لکھے ہے وہ لعین
نظم کے آخر میں ہے یہ دعا اپنے مرسل کی مدد کرے خدا
صاف ناطق ہے کہ وہ دجال ہے خود نبی بننے کی یہ سب چال ہے
ہاں ولی ہے تو ولی شیطان کا دیں کا دشمن راہزن ایمان کا

١٤

سن اری او بے حیا دجالہ
ایک سو چالیس ازالہ دیکھ لے
یہ مسیحا کے پھر آنے کا یقین
اس خبر سے پہلے دین ناقص نہ تھا
یعنی اس عیسیٰ ابن مریم کا نزول
کوئی اس نقال کو مانے نہ گا
عالموں سے تو یہ لڑنا چھوڑ دے
کیوں تجھے شیطان اکساتا ہے بول
مرسل یزداں جسے کہتا ہے تو
کفر بالطاغوت وایمان باللہ
قادیانی بالیقین طاغوت ہے

مناجات

اے خدا ایمان پہ قائم رکھ ہمیں
فتنہ دجال سے دیجیو امان
جتنے ہوں دجال یا دجالہ
ہم کو یاں دل شاد رکھ آباد رکھ
عافیت سے رکھ ہمیں دارین میں
دین پر قائم رہیں جب تک جئیں
کچھ نہ ابلیس لعین کا بس چلے
قبر میں مثل عروس نو
جب چلیں اٹھ کر تو شاد و مسرور
جنت الفردوس میں منزل ہو
آمین
صفحہ ٥١١
سن اری او بے حیا دجالچی کہتا ہے خود کادیانی لالچی
ایک سو چالیس ازالہ دیکھ لے اپنے باوا کا قبالہ دیکھ لے
یہ مسیحا کے پھر آنے کا یقین کچھ نہیں ہے جزو ایمان رکن دین
اس خبر سے پہلے دین ناقص نہ تھا بعد اس کے کچھ نہ کامل ہو گیا
یعنی اس عیسیٰ ابن مریم کا نزول دین و ایمان میں عقیدہ ہے فضول
کوئی اس نقال کو مانے نہ گر طعن ارے دجالچی اس پر نہ کر
عالموں سے تو یہ لڑنا چھوڑ دے حق کے آگے یوں اکڑنا چھوڑ دے
کیوں تجھے شیطان اکساتا ہے یوں راست اپنا تجھ پہ ظن لاتا ہے یوں
مرسل یزداں جسے کہتا ہے تو ہے یہ شیطان کادیانی زشت خو
کفر بالطاغوت و ایمان باخدا لازم وملزوم ہیں اے پر جفا
کادیانی بالیقین طاغوت ہے اس سے جو بیعت کرے وہ اوت ہے

مناجات بحضرت قاضی الحاجات

اے خدا ایمان پہ قائم رکھ ہمیں مصطفیٰ کی راہ پہ دائم رکھ ہمیں
فتنۂ دجال سے دیجئو امان سب سے بڑھ کر ہم پہ تو ہے مہربان
جتنے ہوں دجال یا دجالچے ان کی زد سے دین اور دنیا بچے
ہم کو یاں دل شاد رکھ آباد رکھ اپنے فرمانوں کا تو منقاد رکھ
عافیت سے رکھ ہمیں دارین میں دے مرادیں دین و دنیا کی ہمیں
دین پر قائم رہیں جب تک جئیں وقت رحلت کاسہ وحدت پئیں
کچھ نہ ابلیس لعین کا بس چلے تیری رحمت سے ہوں طے سب مرحلے
قبر میں مثل عروس تو سلا وقت محشر مہربانی سے بلا
جب چلیں اٹھ کر تو شاد و سرخرو تجھ سے ہم راضی ہوں یا رب ہم سے تو
جنت الفردوس میں منزل ملے دور ہو جائیں سبھی شکوے گلے

آمیــــــــــــــــــــــــــــن!

١٥

صفحہ ٥١٢

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

نظم نمبر: ٢٠

قادیانی کے سب ستائش خر
اس مسدس کو سن کے ہیں ششدر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

زندہ ہیں ابن مریم با رفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
ہے ثابت سند سے عمار کی زبانی قبل از قیامت آنا عیسیٰ کا بار ثانی
چالیس سال آ کر ہو اور زندگانی ہو جائے ان کے آگے دجال گل کے پانی
زندہ ہیں ابن مریم با رفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
ممتاز خلق میں ہیں صدیقہ ان کی ماں ہے عیسیٰ کی یہ فضیلت قرآن میں بیان ہے
ہیں چوتھے آسمان پر ان کا وہ اب مکان ہے منزل دمشق ہوگا اور منتظر جہان ہے
زندہ ہیں ابن مریم با رفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
معلوم سب کو ہے کیا تھی عمر نوح و آدم ختم الرسلؐ ہیں افضل پھر یہ بھی ہے مسلم
کیا ہے کمال و نقصان ہو عمر بیش یا کم زندہ ہیں ابن مریم زندہ ہیں ابن مریم
زندہ ہیں ابن مریم با رفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
جب انہ لعلم للساعة آچکا ہے اور ابن مریم اس میں مرجع ضمیر کا ہے
قول ابوہریرہؓ تشریح مدعا ہے اب بار ثانی آنے میں شک و شبہ کیا ہے
زندہ ہیں ابن مریم با رفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی

١٦

قرآن میں...... وان من اھل الکتب نہ
یا ہے اس کے آگے پھر قبل موتہ
زندہ ہیں ا
سولی نہیں چڑ
سب دہلوی محدث ہیں ترجموں میں لکھ
ان قادیانیوں کے سب ادعا ہیں جھو
زندہ ہیں ا
سولی نہیں چڑ
مذکور قد خلت میں کب ہے کسی کا م
معنی اذا خلوا کا بھید مر گئے نہ ک
زندہ ہیں ا
سولی نہیں چڑ
دجال قادیانی نے جال اک بچھ
نفس لم تمت کے حق میں تو نی
زندہ ہیں ا
سولی نہیں چڑ
خود بھی منتظر تھا عیسیٰ بنا نہ تھا ج
عیسیٰ اور مہدی سے آپ ہو مق
زندہ ہیں ا
سولی نہیں چڑ
بلبل نے کیا گلستان میں نغمے ہیں سنا
الو کے زیر سایہ کوئی کبھی نہ آ
زندہ ہیں ا
سولی نہیں چڑ
صفحہ ٥١٣
قرآن میں...... وان من اہل الکتاب دیکھو مستقبل مؤکد سمجھو لیؤمنن کو
آیت ہے اس کے آگے پھر قبل موتہ جو عیسیٰ کے زندہ ہونے پر ہیں گواہیاں دو
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
سب دہلوی محدث ہیں ترجموں میں لکھتے حسب بیان بالا معنی ان آیتوں کے
ان قادیانیوں کے سب ادّعا ہیں جھوٹے بدظن ہیں انبیاء سے اور صالح سلف سے
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
مذکور قد خلت میں کب ہے کسی کا مرنا معنی خلا کا ہے بس ایک جا سے ہو گزرنا
معنی اذا خلوا کا جب مرگئے نہ کرنا ہاں دیکھ سنت اللہ کو مارنے سے ڈرنا
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
دجال قادیانی نے جال اک بچھایا ہے معنی توفی مرنا فقط اڑایا
نفس لم تمت کے حق میں توفی آیا تقریر بے سروپا میں اس کو ہے چھپایا
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
خود بھی منتظر تھا عیسیٰ بنا نہ تھا جب اٹکل کے مارنے میں اس کا فقط ہے مطلب
عیسیٰ اور مہدی سے آپ ہو ملقب اہل الغرض کی باتیں دانا ہیں مانتے کب
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
بلبل نے کیا گلستان میں نغمے ہیں سنائے معدوم ہی ہے کیوں دنیا سے ہو نہ جائے
الو کے زیر سایہ کوئی کبھی نہ آئے اس زاغ قادیانی نے پڑھ کر سب بھلائے
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی

١٧

صفحہ ٥١٤

FC

کہتا تھا میں مجدد ہوں سیزدہ صد آخر بنا نبی اور مرسل رسول احمد
خود بن کے عیسیٰ ان کو کہتا ہے شوخ مرتد مر کر ہوا وہ مٹی اب کیسی اس کی آمد
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
مرزا بطور خفیہ چیلا ہے نیچری کا مرگ وصلیب عیسیٰ یہ سب اسی سے سیکھا
البتہ اس سے بڑھ کر بن بیٹھا آپ عیسیٰ وہ پیر پر شکم تھا چیلا تھا پر یہ بھوکا
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
زردار ہے وہ بڈھا اور یہ دیوالیا ہے وہ پینشنر اور اس نے ریزائن دے دیا ہے
نقد اس کا سودی اس نے مزرع گرو کیا ہے پر وعدہ کتب سے عالم کو ٹھگ لیا ہے
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
کہتا تھا تین سو جز میری کتاب ہوگی پینتیس جز پھر لی دس پچیس قیمت اس کی
تھا اک سراج فرضی سادہ دلوں کی ٹھگی روغن پیا بہت سا وہ شمع پھر ٹپکی
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
پاپڑ ہیں قادیانی نے ہر طرح کے بیلے الہام و وحی و قانون کیا کیا نہ کھیل کھیلے
ناصر معاون اس کے اٹھے ہیں چند چیلے گھبرا نہ مومن ان کے تو دیکھ دیکھ میلے
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
عیسیٰ سے معجزوں میں یہ سفلہ ہے منافر اسلامیوں نے اس کو ثابت کیا ہے کافر
اپنے ہی اعتقادوں پر گر مرا تو کافر کس منہ سے ہوگا حاضر پیش خدائے غافر
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی

١٨

صفحہ ٥١٥
مرزائیوں نے ہر سو اک شور ہے مچایا عیسیٰ یہودیوں نے سولی پہ تھا چڑھایا
قرآن اس کی حق سے تکذیب کرنے آیا نفی صلیب کر کے رفعت کو ہے جتایا
زندہ ہیں ابن مریم با رفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے کادیانی
ان نو مسیحوں کو انجیل بھی دکھاؤ عیسیٰ حواریوں سے کہتے ہیں جو سناؤ
تم مثل برق مجھ کو آتا فلک سے پاؤ جھوٹوں کو دشت و حجرہ میں ڈھونڈنے نہ جاؤ
زندہ ہیں ابن مریم با رفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے کادیانی
میں ہوں مسیح کہہ کر جھوٹے بہت سے آئیں جھوٹی کرامتیں اور کچھ شعبدے دکھائیں
بس ہو تو راستکاروں کو بھی کچھ بہکائیں کر فضل یا الٰہی رکھ دور یہ بلائیں
زندہ ہیں ابن مریم با رفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے کادیانی
لکھتے ہیں ابن قیم نونیہ دیکھو ان کا معراج مصطفےٰ کو سوئے فلک ہوا تھا
ہیں چڑھ چکے ادھر ہی کو پہلے ان سے عیسیٰ ہاتھوں سے جن کے ہو گئی ٹکڑے صلیب ترسا
زندہ ہیں ابن مریم با رفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے کادیانی
کیاد کادیانی دیکھو یہ کیا ہے بکتا سولی سے عیسیٰ اترا تھا آدھ موا سسکتا
موت اس کو آ گئی پھر اب آ نہیں وہ سکتا مکار خود غرض ہے کیا جعل ساز یکتا
زندہ ہیں ابن مریم با رفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے کادیانی
ہے مجمع بحار الانوار میں یہ مظہر عیسیٰ کی لم یمت پر ہے اتفاق اکثر
ہیں اور ایک سو پھر پینتیس پر نظر کر وہ بات لم یمت کے آگے ہے مات منکر
زندہ ہیں ابن مریم با رفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے کادیانی

١٩

صفحہ ٥١٦
ہیں ساتھ مصطفےٰ کے دو صاحبان عالی
دو چاند ایک سورج جل تھل تک دیکھ بھالی
عیسیٰ کے واسطے وہاں چوتھی جگہ ہے خالی
جیتے کو مردہ کہنا بے شک ہے ایک گالی
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
کہتا ہے یوں ازالہ دجال مفتری کا
عیسیٰ کا معجزہ تھا گوسالہ سامری کا
تھا صرف معجزہ یہ کھیل اک فسوں گری کا
کالا کرے خدا منہ مکار نیچری کا
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
الہام و وحی مرزا مانند انبیاء ہے
صاف انکشاف اس کا شیطان سے بھی سوا ہے
من نیستم رسول اک دھوکا نہیں تو کیا ہے
مرزائیو تمہاری عقلوں کو کیا ہوا ہے
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
جب کذب و کفر برسیں مکار کی قلم سے
بچتے نہ ہوں نبی جن کی بدگوئی و ستم سے
کیا بدھ مت جین سے نہ آریہ دھرم سے
خائف ہیں بافراست سب اس کے پیچ و خم سے
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
ان کفریات سے ہو جب تک نہ آپ تائب
کیا فائدہ جتانا کفار کے معائب
عیسیٰ نہ بن سکے گا ہرگز بقول صائب
ثابت ہوا شریعت میں خاسر اور خائب
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
سلطان محمد پٹی نے کیا غضب کیا ہے
وہ جام وصل پی کر مرزا کا خون پیا ہے
اب پیشین گوئیوں نے منہ اس کا سی دیا ہے
اللہ نے جس کو جتنی دی زندگی جیا ہے
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی

٢٠

صفحہ ٥١٧
مشہور ہو کے برسوں مرزا غلام احمد بننے لگا رسول اب سرکش بنام احمد
عیسیٰ ہوں جب نصیر دین ہمام احمد کہتا جو ان کو دیکھے سعدی سلام احمد
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی
سعدی کلیہ مسدس سب کو پسند ہوگا مرزائیان منصف کو سود مند ہوگا
شائع بہ شش جہت یہ ترجیع بند ہوگا تا گنبد چہارم نعرہ بلند ہوگا
زندہ ہیں ابن مریم بارفع آسمانی
سولی نہیں چڑھے وہ جھوٹا ہے قادیانی

نظم نمبر:٣

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

جناب رسالت مآب کی پیش گوئی

اہل ایمان ہے یہ قول حضرت خیر الورا ہادی و غمخوار امت شافع روز جزا
احمد مرسل حبیب حق امام المرسلین باعث تکوین موجودات و ختم الانبیاء
اس گھڑی سے پہلے جھوٹے تیس دجال آئیں گے ہو رسول اللہ بننا جن کا اصلی مدعا
یاد رکھو تم نبوت ختم مجھ پر ہو چکی اب نبی مرسل نہ میرے بعد کوئی آئے گا
اک گروہ ایسا رہے گا میری امت میں ملہم لوم لائم کا نہ جن کے دل میں ڈر ہوگا ذرا
آمر معروف ہوں گے حق سے نصرت پائیں گے راہ حق میں راستی پر پاؤں رکھیں گے جما
اس روش پر آج تک گزرے ہیں تیرہ سو برس مخبر صادق نے جو فرما دیا ہوتا رہا
اس جہاں سے جب ہوئی رحلت رسول اللہ کی ہو گئے دجال اسود اور مسیلمہ برملا
یہ مسیلمہ جس کا امت میں لقب کذاب ہے تھی نبوت اس کی بہر علت خمر و زنا
عہد میں صدیق اکبرؓ کے کیا خالدؓ نے قتل اور اسود ہاتھ سے فیروز کے تھا مارا گیا
شعبدہ بازی کا پھیلایا تھا اس نے دام خوب اس کو سجدہ کرتا تھا اس کی سواری کا گدھا
قرمطی تھا اک ابوطاہر بعہد مقتدر سنگ اسود لے گیا کعبے سے وہ کر کے جدا
عیسیٰ اک کہتا تھا مدثر ہے میرا ہی لقب غالب آیا شام پر مقتول بھی واں ہی ہوا

٢١

صفحہ ٥١٩
اک محمد بن علی کہتا تھا میں بھی ہوں خدا مردہ زندہ کرتا ہوں انجام سولی پر چڑھا
ایک کہتا تھا کہ مجھ میں اتری ہے روح علی ہے میری بیوی میں روح فاطمہ خیر النسا
ایک شخص اپنے تئیں کہتا تھا میں جبرائیل ہوں بن کے سید چھٹ گیا جب دست حاکم سے پٹا
ایک کہتا تھا کہ میں ہوں لا نبی حسب حدیث نام اس نے کر لیا تھا پہلے ہی مشہور لا
ایک عورت تھی جو کہتی تھی ہوئی نفی نبی میں نبیہ ہوں نبیہ سے نہیں جائز ابا
زہر کھائی تھی مقنع نے ہوا تھا قید جب ماہ نخشب کا یہی صناع تھا کانا عطا
اک خلیل اللہ ابراہیم کہلاتا رہا نوح صاحب فلک اک تھا مدعی طوفان کا
اک سورہ اک نے کوثر کے مقابل میں گھڑی چڑھ کے سولی پر عجب عود و عمود اس کو ملا
عیسیٰ موعود میں ہوں مدعی تھا ابن عود قادیانی ہی تھا گویا یہ دمشقی مسخرا
ابن تیمیہؒ نے اس پر ہوں خدا کی رحمتیں جس طرح سے چاہئے خوار و ذلیل اس کو کیا
قادیانی کے لئے ہے ابن تیمیہؒ حسین مرحبا اے حامیِ دین پیمبر مرحبا
حق رکھے تجھ کو سلامت باکرامت دیر تک مومنوں کے سر پہ ہو سایہ ترا ظل ہما
تیری حق گوئی کو روکے لوم لائم کس طرح حق سے تو منصور ہے پاتا ہے تائید خدا
اہل ایمان کو بچایا فتنہ دجال سے کر دیا سب دور کفر قادیانی کا خفا
نیچری مکفول سرسید کا ناشکرا غلام فارسی الاصل بن کر مہدی سید بنا
عیسیٰ مریم ہوا آلان قوا کی نسل ہیں جس کی عفت کا ہے مظہر روضہ صدق و صفا
شامت اعمال سے ہیں چند چیلے بن گئے سب نے رکھا طاق نسیان میں جو کچھ لکھا پڑھا
چند کجادیں رخ آورند سوئے قادیاں دام دجالی نہادند ابلہاں چندرا
اس صدی کا میں مجدد ہوں کہا یوں چندر پال پھر محدث بن کے جوڑا اس پہ اور اک افتراء
جو نبی ہے وہ محدث ہے محدث ہے نبی وحی اور الہام میں دونوں کا ہے اک مرتبہ
وحی والہامات ہر دو دخل شیطان سے ہیں پاک خود اسے توضیح میں ہے خوب واضح کر چکا
من پیمبر نیستم لکھنا ہے اک دھوکا فقط قادیانی! ہے تیری پیغمبری میں کسر کیا
حق نے کہلایا نبی سے انما یوحی الیٰ دیکھ قرآن میں بشر سب انبیاء تھے مثلنا
انبیاء میں اور لوگوں میں نہیں جز وحی فرق قادیانی تو ہی کہہ دے ہو جو کچھ اس کے سوا

٢٢

غیب کا اظہار بھی غیر از رسل ہوتا نہیں
اس لئے تبلیغ میں معصوم بھی رہتے ہیں وہ
پھر خطا پر بھی کبھی رہنے دئے جاتے نہیں
سوء قضا سے بچائے جاتے ہیں وہ مخلصین
یاد کر اپنی وہ تفسیر اخیر مرسلات
سورۂ حج میں نبی آیا ہے یا لفظ رسول
انبیاء میں اور اپنے میں دکھا کر کے تمیز
جس کی عیسیٰ نے خبر دی میں ہوں وہ احمد رسول
تیرا ابنیت کا دعویٰ بھی سراسر کفر ہے
ان میں بھی فرزند صلبی تو کوئی کہتا نہیں
ہے نصاریٰ سے تیرا جنگِ سخت کس لئے
معجزات انبیاء کو تو کہے لہو ولعب
کہتا ہے اعجاز عیسیٰ کھیل بازی تھی فقط
مرسل یزدان مسیح وقت بننے کے لئے
ہو گیا ثابت براہین سے کہ ہے تو مفت خور
وہ براہین چار جلدوں تک چلی پینتیس جز
کہہ دیا بس ہے یہی کافی ہدایت کے لئے
وہ شب قدر مبارک اور عیسیٰ کا نزول
مدعی تھا تو براہین میں کہ عیسیٰ آئیں گے
ان کو اب سولی پہ لٹکاتا ہے تو اے بے ادب
بہر ذلت دست اعداء میں پھنساتا ہی نہیں
کیا یہی اسرار معارف میں ہے کامل دستگاہ
قابل ایمان نہیں ہے بعد قرآن جو حدیث
ہیں عبث تیری کتابیں اور رسالے اشتہار
صفحہ ٥١٩
ہوں انجام سولی پر چڑھا
میں روح فاطمہ خیر النسا
گیا جب دست حاکم سے چھٹا
کر لیا تھا پہلے ہی مشہور لا
تقیہ سے نہیں جائز ابا
کجا صناع تھا کانا عطا
ملک اک تھا مدعی طوفان کا
پر عجب عود و نمود اس کو ملا
تھا گویا یہ دمشقی سخرا
چاہئے خوار و ذلیل اس کو کیا
حامی دین پیمبر مرحبا
سر پہ ہو سایہ ترا ظل ہما
نور ہے پاتا ہے تائید خدا
دور کفر قادیانی کا خفا
بن کر مہدی سید بنا
کا ہے مظہر روضہ صدق و صفا
طاق نسیان میں جو کچھ لکھا پڑھا
نہادند ابلہاں چند را
کے جوڑا اس پہ ادراک افترا
میں دونوں کا ہے اک مرتبہ
میں ہے خوب واضح کر چکا
تیری پیغمبری میں کسر کیا
ں بشر سب انبیاء تھے مبتلا
کہہ دے ہو جو کچھ اس کے سوا
غیب کا اظہار بھی غیر از رسل ہوتا نہیں وحی سے ممتاز ہیں مرسل بہ حصر انما
اس لئے تبلیغ میں معصوم بھی رہتے ہیں وہ کیونکہ ان کی پیروی میں منحصر ہے اقتداء
پھر خطا پر بھی کبھی رہنے دئے جاتے نہیں ان کو ہر دم حضرت سبحان سے آتی ہے ندا
سوء و فحشا سے بچائے جاتے ہیں وہ مخلصین حضرت یوسف کے حق میں دیکھ لو لا ان راء
یاد کر اپنی وہ تفسیر اخیر مرسلات بعد از قرآن حدیثوں کی طرف ہرگز نہ جا
سورۂ حج میں نبی آیا ہے یا لفظ رسول قادیانی خود غرض لفظ محدث مت بڑھا
انبیاء میں اور اپنے میں دکھا کر کے تمیز محض خدعت ہے پیمبر مسیلم کہنا ترا
جس کی عیسیٰ نے خبر دی میں ہوں وہ احمد رسول ہے ازالے میں تیرے چھ سو تہتر پر لکھا
تیرا الوہیت کا دعویٰ بھی سراسر کفر ہے کیا نصارا کی ہے ابن اللہ کہنے میں خطا
ان میں بھی فرزند صلبی تو کوئی کہتا نہیں حق نے کیوں اس بات پر نکیر کی ان کی بھلا
ہے نصاریٰ سے تیرا جنگ عبث کس لئے استعاروں کا ہے استعمال تو بھی مانتا
معجزات انبیاء کو تو کہے لہو ولعب بلکہ ان پر شعبدہ بازی کا بہتان عظما
کہتا ہے اعجاز عیسیٰ کھیل بازی تھی فقط سامری کا جس طرح سے سحر وہ گوسالہ سا
مرسل یزدان مسیح وقت بننے کے لئے اہلِ دین میں تو نے اے منحوس ڈالا تفرقہ
ہو گیا ثابت براہین سے کہ ہے تو مفت خور دے کے وعدہ تین سو جز کا ہزاروں کھا گیا
وہ براہین چار جلدوں تک چلی پینتیس جز اور آخر میں مسلمانوں کو دی تو نے دغا
کہہ دیا بس ہے یہی کافی ہدایت کے لئے اس سخن سازی پہ تیرا میر ناصر ہے گوا
وہ شب قدر مبارک اور عیسیٰ کا نزول فتح سے تیری براہین ہو گئی مثل ہبا
مدعی تھا تو براہین میں کہ عیسیٰ آئیں گے نیچری کے چیلے اب کہتا ہے ان کو مرگیا
ان کو اب سولی پہ لٹکاتا ہے تو اے بے ادب حق نے جن کے حق میں کی نفی صلیب اشقیا
بہر ذلت دست اعداء میں پھنساتا ہی نہیں کافروں سے کرتا ہے تطہیر جن کی کبریا
کیا یہی اسرار معارف میں ہے کامل دستگاہ ساتھ قرآن کے نہ مانے تو حدیثِ مصطفٰے
قابل ایمان نہیں ہے بعد قرآن جو حدیث تو نے قول مصطفےٰ کو اس میں داخل کر دیا
ہیں عبث تیری کتابیں اور رسالے اشتہار کون کافر تیری تصنیفات سے مؤمن ہوا

٢٣

صفحہ ٥٢٠
تحفہ و خلعت ہدیہ اور سوطہ اللہ دیکھ سیکڑوں ان سے ہوئے ہیں سالک راہ ہدا
تیری تصنیفات سے مومن بھی کافر ہو گئے سمجھے تیرا وحی اور الہام مثل انبیاء
لگ گئے کہنے وہ سب عیسیٰ نبی اللہ تجھے مرسل یزداں کا تجھ کو کر دیا ٹائٹل عطا
شامت آئی تیری عبدالحق سے ہو کر مبتہل وقت پر کیا قدرت حق سے ترا خاکہ اڑا
آتھم و سلطان نے تجھ کو روسیاہی دی عجیب لعنتوں کا سخت رسا تیری گردن میں پڑا
چھ ستمبر شور تھا صورت پہ تیری چار سو کیا عجیب جنگ مقدس کا ہے فوٹو واہ وا
جب مہینہ بعد اکتوبر کی آئی آٹھویں حضرت سلطان سے دیوثی کا ڈپلوما ملا
مرگ عموائیل تازہ ان کے جینے سے ہوئی تیری بیت الفکر میں ماتم ہوا برپا نیا
گزری وہ مدت سوا سال اور اڑھائی سال کی گزری نو سال اور نہ عموائیل کا نکلا پتا
کیا تیرے ابلیس ملہم نے کیا تجھ کو ذلیل مشتہر کروا دیا الہام زوّجتکھا
خانہ سلطان محمد بیگ آباد اس سے ہے اور ہے تو حسرت بھری آنکھوں سے کاذب دیکھتا
پیش گوئی سے تیری معیار صدق و کذب تھی تیرا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا بے امترا
سیزدہ صد نام سے اپنے نکالے فائدہ بے خبر جملہ نہ پورا کر سکے گا مبتداء
اس سے کچھ ثابت نہیں ہوتا کہ مرزا کون ہے یعنی اک دجال ہے یا ہے مجدد رہنما
گر غلام قادیانی کو کہیں دجال ہے اس میں تیرہ سو ہیں پورے جملہ ہے پورا ادا
ہیں اگر اعداد ابجد مثبت دعویٰ کہیں ہو گیا دجال ثابت قادیانی میرزا
قول عیسیٰ دیکھ لو انجیل میں منقول ہے بادلوں میں سے مثال برق میں پھر آؤں گا
از حسنؓ ابن کثیر آوردہ الحکم رافع ان عیسیٰ لم یمت قول رسول مجتبیٰ
زندہ ہیں عیسیٰ ابن مریم اور وہی پھر آئیں گے وہ کجا یہ قادیانی فتنہ گر جھوٹا کجا
یا الہی شر سے اس دجال کے دیجیو امان اور اس دجال کے شر سے جو ہے اس کا بڑا
فتنہ موت و حیات وحشت و تنگی گور اور دوزخ کا عذاب ان سب سے تو ہم کو بچا
یا الہی حاملان عرش بھی آمین کہیں ہم زبان اہل ایمان سن کے سعدی کی دعا

لدهیانے میں ایک عاجز نے پردے میں بیٹھ کر دجال کی حمایت کی تھی۔ اس کو انہی دنوں میں انعام دیا گیا۔

٢٤

صفحہ ٥٢١
ارے محجوب بالکل خام عاجز بہ فن شاعری ناکام عاجز
میری معجز کلامی دیکھ لے تو مقابل میں ہے تیرا نام عاجز
بنا تو حامی دجال افسوس ارے کمبخت نافرجام عاجز
حمایت تجھ کو ایک کافر کی سوجھی کیا شیطان نے کیا الہام عاجز
تیرا مرزا ہے اک دجال جس کے عیاں ہیں کفر اور آثام عاجز
ملی دجال کی تجھ کو محبت برائی کو دی واصمام عاجز
مسلمان کہہ رہے ہیں ہر طرف سے ہے بے شک دشمن اسلام عاجز
تیری بے جا حمایت کے صلے میں ملا ہے یہ تجھے انعام عاجز
بقول عالم و قاضی و مفتی ہوا ہے اشتہار عام عاجز
اے کافر غلام قادیانی پھنسے ہیں اس کے زیر دام عاجز
وہ تنبیہات صرف اظہار حق ہیں نہیں ہر گز کوئی دشنام عاجز
یہ ہے نام بزرگان سے تفاول ہے بیہودہ تیرا الزام عاجز
ارے نو مسلمی بھی عیب ہے کچھ نہ کوئے جہل میں رکھ گام عاجز
شہادت دین کی فضل خدا سے رہوں دیتا میں تا انجام عاجز
مسلمانوں سے ہو مجھ کو محبت نہ ہوں دجال کے جو رام عاجز
خلیل اللہ سے اف لکم سن میری حجت کا دیکھ اتمام عاجز
تبرأ منہ توبہ میں ہے مذکور نہیں یہ رفض پر اقدام عاجز
صحیح آیا نہ تجھ کو نام وہاب ارے او ذاکر اصنام عاجز
یہ کلمہ ہے غلط تیری زبان پر نہ بن بدمست پی کر جام عاجز
جو پھر تو نے زبان ناحق ہلائی تو ہوگا تیرا خوب افحام عاجز
پھنسائی تو نے ناحق ٹانگ اس میں یہاں تیرا بھلا کیا کام عاجز
جو پوچھیں کیوں ہے عیسیٰ قادیانی رہے تو وقت استفہام عاجز
اگر ہے کچھ سمجھ یا شرم تجھ کو یہ ہے کافی پے افہام عاجز
نہیں دجال سے ڈرتے مسلمان تجھے ہے جس سے استسلام عاجز
نہ پھنستے جال میں دجال کے تم جو سنتے سعد کا پیغام عاجز

٢٥

صفحہ ٥٢٢

نظم نمبر : ٤٠ ....... افہام و تنبیہ بہ مرزائیاں سفیہ

مرزائیو کیا کہتا ہے اسلام تمہارا، گر تم ہو مسلمان
عیسیٰ پر ہے کیوں سحر کا الزام تمہارا، کیا ہے یہی ایمان
اس امت مرحومہ کو اندھی جو بنائے، غصے میں اڑائے
صد حیف وہ مرزا ہے دلارام تمہارا، اے فرقہ ناداں
تم صاف لگے لکھنے اسے مرسل یزداں، مامور ز رحمٰن
شاہد ہے یہ گنجینہ اوہام تمہارا، دیکھو سرعنوان
کہتے ہو رسل کو عمل الترب کا عامل، ناقص تھے نہ کامل
دشنام سے کچھ کم نہیں یہ کام تمہارا، شیطان کے اخوان
جب لم یمت آیا ہو حدیث نبوی میں، کیا اور سند دیں
معنا ہی توفی ہے بہت خام تمہارا، موجود ہے فرقان
تم ما صلبوا کو صلبوا سمجھو غضب ہے، کیا تم سے عجب ہے
مانے نہ اگر لم یمت الہام تمہارا، کاین نیست بقرآں
وہ روح خدا لائیں گے تشریف مکرر، ہے یونہی مقدر
کرتے حسن بصری ہیں الہام تمہارا، خوش ان سے ہو یزداں
زور اس پہ ہے سولی پہ چڑھ گیا عیسیٰ، اب آئے گا پھر کیا
بس ورد یہی ہے سحر و شام تمہارا، حیف ازراہ طعناں
کافر تھے کہا کرتے ابھی لادے، قیامت بروقت ندامت
عیسیٰ کو اتارے یہ پیغام تمہارا، جب ہوتے ہو حیراں
شب پانچ ستمبر کی سال نود و چار، دوڑی خبر تار
تھا قادیاں میں دیدنی کہرام تمہارا، ہر ایک تھا نالاں
دی روسیاہی آتھم وسلطان نے تم کو، دجال کے چیلو
شیوہ ہوا ہر بات میں دشنام تمہارا، تہذیب کے قرباں
تم داڑھیاں منڈوا کے بھی کچھ باز نہ آئے، جوہر یہ دکھائے
کیا ہوتا ہے دیکھیں ابھی انجام تمہارا، اے بے سروساماں

٢٦

صفحہ ٥٢٣
سلطان سے کہو پونچھ دے آ کر وہی آنسو، دیکھو یہ رویہ
روتا ہی پڑا مہدی ناکام تمہارا، بایاس فراواں
دی جفر نے مرزا کو دغا رمل نے دھوکا، کس بھاڑ میں جھوکا
اب آ گیا سورج بلب بام تمہارا، کچھ دم کی ہو مہماں
ثابت ہوا دجال احادیث سے بے شک، بازعم نبوت
پھر کیوں نہ ہو دجالچی اب نام تمہارا، اے زمرہ غیلاں
مست ہے بدعت ہو مخالف ہو سلف سے، برعکس خلف سے
بھر سکتا ہے کوثر سے کہاں جام تمہارا، تائب نہ ہو گریاں
کچھ نظم تم اسلامیوں کی نذر تھے لائے، پرچے تھے چھپائے
سعدی کی طرف سے ہے یہ انعام تمہارا، یوں ہے وہ غزلخواں

نظم نمبر: ٥

تیر باراں بہ سینہ دجال ساختش ہمچو صورت غربال
خدائم اندر پناہ دارد عمر دجال قادیانی کنم بحق استخارہ ہر دم کہ ایں بلا نیست ناگہانی
نعوذ باللہ من شرور الغلام فی الکفر مثل دجال منافقانہ کند باسلام و دین حق دعویٰ لسانی
نخست بودہ غلام احمد کنوں عقوق از غلامیش کرد بگفت احمد منم رسولے کہ کردہ عیسیٰ گہر فشانی
محدثم گفت ابتداء با مرویں گشت محدث آخر رسید تا کفر منزل وے با انبیا کرد بدگمانی
کہ معجزات مسیح شد شعبدات ولہو ولعب سراسر من و خیالات روح پرور دعواندہ شبہائے فانی
ہمیں ست باعث کہ در دلم شد معجزات مسیح نفرت وگرنہ از وے نبودے کم بفضل خلاق ومہربانی
ہمیں بقولش کہ مو بمو منکشف نہ گردید بر پیمبر زحال یاجوج و دابہ ہم ز اعور وایں خر دجالی
منم کہ امروز کاشفم از حقیقت ایں ہمہ خبرہا چرا کیں کار شد مفوض بہر کہ باشد مثیل وثانی
مکاشفات مسیح والہام انبیاء غلط بگوید کہ پیش گوئی خویش را نیز پے نبردند در معانی
بہ چار صد عاکفان جعلی نبوت حق عطا نموده بکذب شان بازگشت قائل نفاق تا کہ بود نہانی
بسوئی الوہیت حق آید باستعارہ شریک عیسیٰ باتخاذ ولد نماید بقوم تثلیث ہمعنانی
مثیل عیسیٰ وافضل از وے کہ گوید اکنوں کجاست عیسیٰ قدم نہد تا بہ منبر من ببیں چہ عجب ست سرگردانی
یکی زامرد بہ یک زہیرہ دو حامیاش فرشت گانش مریض ممرور تن پوش ست دائم از رنگ زعفرانی

٢٧

PDF 525
مسیح موعود مہدی وقت فارسی اصل و حارث آمد نہ از عراق است و نے ز مدین نہ از حجاز اینجا نگردانی
نہ مادرے وی بتول ومریم نہ منزل او دمشق شامی تفرج روضتہ الصفا کن کہ حال او ھو انجوانی
زنسل چنگیز خان سفاک کاصل او شد چینی اگر چہ شد قادیانش مسکن زکید ہا گشتہ قادیانی
بقول وے قادیان گورداسپور جائے یزیدیاں شد ہمہ رئیس یزید طبعاں ازیں سخن در عجب نمائی
چو قادیانش دمشق گردد رئیس آنجا یزید باشد نہ آن یزیدی کہ فاسقے بود بل بالحاد و کفر بانی
گہے مثیل مسیح گردد بفریب زعم و اکسارس نشان مہدی گہے فرازد سیاستش مہر حکمرانی
ہمہ بہ تحریر او بیابی ہر آنچہ گفتم اگر بجوئی مبالغہ نیست در کلامم کہ آمدہ رسم شاعرانی
ز نیچری دیگری خواندہ حرف مرگ وصلیب عیسیٰ بر قصه تجدید دین شدست ابلیس ہماں بانی مبانی
الا کہ مغرور گشتہ بر حیات ہشتاد سالہ خویش مفرت از عذاب نبود ہزار ہا سالہ زندگانی
رسول و مرسل مسیح و مہدی نبی ہماں چو دگر نبی ہم از مخالف ہم از موافق ہزار ہا نقد می ستانی
ہنوز برہان تست ناقص یکی نشان ز سہ صد براہیں بہ ہند بال و پرت شکستہ حمامہ سوئے عرب پرانی
توئی کہ گفتی جلال عیسیٰ نزول خواہد نمود آخر بطور ظل آمدی و اکنوں کہ از وے افضل گہے ہمانی
شکستہ است میخ و رسن بروز بوضوح تو مبرہن شد است اوہام بر تو غالب کہ نیچری صاحب نشانی
تراست انکار روز محشر بہ نص قاطع ز قرآن چگونہ تاویلہایش کردے پئے مریداں بخوش بیانی
ہمیں چسپاں مذہب سلف را عیاں بہ باطل رہ نمودی قولہ متوفی آمد ز خالق از بہر چوں تو جانی
مباش بیباک در راہ دیں چنیں مکن مکن چو جہلا متاع دنیائے دوں نہ ارزد جوی بہ آں عیش جاودانی
نزول رحمت بیدل ز خواندن درود بر مصطفےٰ دانش ز سجدہ و حمد حق بہ سعدی ست سر بلندی و تر زبانی

تمت ! ١١/ رمضان ١٣١٤ھ مطابق ١٣/ فروری ١٨٩٧ء

تبصره !

اعوذ بالله من الشيطان الرجيم ....... بسم الله الرحمن الرحيم ويوم القيمة ترى الذين كذبوا على الله وجوههم مسوده

یک قاطع نسل و یک مسیحائے زماں یک مہتر لال بیگیاں دوراں
افتد چوگذر بہ قادیانت گا ہے ایں خانہ تمام آفتابست بخواں

٢٨

کذب کی عادت دیکھنا روز قیامت دل آزاری نہ بے حیا کیا جھوٹ کے اے اہل اسلام ! اے معزز بھا پھر سر اٹھایا ہے اور اس کے چیلے ابولہب فریب قادیانی نے زمانہ ابتداء میں کسی قدر عربی تعل و جفر میں بھی دخل رکھتے تھے۔ اس نے یہا لے گیا تھا۔ عدالت ضلع سیالکوٹ میں محررا قانون کے لئے سرکھپایا۔ آخر امتحان مختارکا ظالم کی خاطر بہت پھرا۔ جب کچھ نہ بنا تو ا لال بیگ دوسرا چوہڑوں کا پیر بنا ہوا ہے ) ا کی چیز سمجھا کہ چلو ہم مسلمانوں ہی کو کھائیں مثالیں اکثر شہروں میں موجود ہیں کہ نوکریا لے کر پیر بن بیٹھے ) اس رمال نے گیارہ با اللہ ہی آسمان سے اترا ہے ) کی پیشین گوئی سے نہایت شرمندہ ہوا اور بات بنائی کہ میں اور دیگر قوموں نے اس کی بہت ہنسی اڑائی مدت معلومہ کے بعد ایک دفعہ لڑکا ہی پیدا دیکھو جیسا کہ ہم کہتے تھے۔ اسی طرح سے کیونکہ ہم نے جس طرح سے کہا تھا لڑکا پید وقت کہا تھا۔ اگر اب کے نہیں تو اگلے حمل حمل کا نام بھی نہیں لیا تھا۔ اہل اسلام پھر بھی چپ رہے ہیں۔ ایک یہ بھی سہی۔ لیکن غیرت الہی ۔ میں ملا دیا۔ پھر تو مخالفوں نے ایسی کی کہ

صفحہ ٥٢٥
کذب کی عادتیں جو اللہ پر ڈالے ہوئے
دیکھنا روز قیامت ان کے منہ کالے ہوئے
رمل و جفاری نہ چھوڑیں گو اٹھائیں ذلتیں
بے حیا کیا جھوٹ کے سانچے میں ہیں ڈھالے ہوئے

اے اہل اسلام! اے معزز برادران دینی آپ دیکھتے ہیں کہ آج کل فتنہ قادیانی نے پھر سر اٹھایا ہے اور اس کے چیلے ابلہ فریب تحریروں سے ناواقفوں کو حیران کر رہے ہیں۔ اس قادیانی نے زمانہ ابتداء میں کسی قدر عربی تعلیم پائی۔ چونکہ اس کے استاذ ملک شاہ اور گل شاہ علم رمل وجفر میں بھی دخل رکھتے تھے۔ اس نے یہ علوم بھی سیکھے۔ ایک فالنامہ لدھیانہ سے بھی نقل کرا کے لے گیا تھا۔ عدالت ضلع سیالکوٹ میں محرری اختیار کی۔ جب وہاں نہ جمی، تو استعفاء دیا اور امتحان قانون کے لئے سر کھپایا۔ آخر امتحان مختاری میں فیل ہوا۔ (اخبار وزیر ہند سیالکوٹ ماہ ستمبر ١٨٩٢ء) پیٹ ظالم کی خاطر بہت پھرا۔ جب کچھ نہ بنا تو آخر اپنے رشتہ دار بھائیوں کو دیکھ کر (کہ ایک بھنگیوں کا لال بیگ دوسرا چماروں کا پیر بنا ہوا ہے) اس نے بھی سلسلہ پیری و مریدی ہی میں پاؤں رکھنا فخر کی چیز سمجھا کہ چلو ہم مسلمانوں ہی کو کھائیں گے۔ بہانہ وحی و الہام بازیاں کریں گے۔ (اس کی مثالیں اکثر شہروں میں موجود ہیں کہ نوکری سے دق آئے تو کسی کے مرید بنے۔ اس سے خلافت لے کر پیر بن بیٹھے) اس رمال نے گیارہ بارہ سال ہوئے ایک پسر (ہمہ صفت موصوف حتیٰ کہ گویا اللہ ہی آسمان سے اترا ہے) کی پیشین گوئی کی تھی۔ لیکن اس وقت پیدا ہوئی تو دختر نکلی۔ اپنی رمالی سے نہایت شرمندہ ہوا اور بات بنائی کہ میں نے اسی حمل سے لڑکا ہونا نہیں کہا تھا۔ اکثر اہل اسلام اور دیگر قوموں نے اس کی بہت ہنسی اڑائی۔ خیر حسب معمول گھر میں پھر امید ہوئی تو خاموش رہا۔

مدت معلومہ کے بعد ایک دفعہ لڑکا ہی پیدا ہو گیا تو فوراً ایک پرچہ خوشخبری چھاپ کر شائع کر دیا کہ دیکھو جیسا کہ ہم کہتے تھے۔ اسی طرح سے لڑکا پیدا ہوا ہے مخالفین کو یہ پیشین گوئی ماننی پڑے گی۔ کیونکہ ہم نے جس طرح سے کہا تھا لڑکا پیدا ہو گیا۔ محض جھوٹ ایک اور بولا کہ ہم نے پہلے حمل کے وقت کہا تھا۔ اگر اب کے نہیں تو اگلے حمل میں ضرور پیدا ہوگا۔ حالانکہ پہلے حمل کے وقت آئندہ حمل کا نام بھی نہیں لیا تھا۔

اہل اسلام پھر بھی چپ رہے کہ پڑا بکے ہمیں کیا۔ ایسے رمال ارذل الو ہزاروں پھرتے ہیں۔ ایک یہ بھی سہی۔ لیکن غیرت الٰہی نے برس روز کے اندر ہی اندر ”اس کے گویا اللہ“ کو خاک میں ملا دیا۔ پھر تو مخالفوں نے ایسی کی کہ قادیانی کو اس کے سامنے مرگ پسر کا صدمہ بھی ہلکا نظر

٢٩

صفحہ ٥٢٦

آیا۔ اس وقت تک اس مکار نے اسلام کی مخالفت نہیں کی تھی۔ بلکہ اسلام کا مؤید بن کر دکھلاتا تھا۔ اس لئے مسلمان حتی الوسع اس کی تائید کرتے تھے۔ اس وقت کچھ رویا پٹا۔ حیلے بہانے کئے۔ کبھی کہا دو بیٹوں کی خوشخبری ہم کو ملی تھی ایک تو یہ مرنے والا اور ایک وہ جس نے گویا اللہ ہی بن کر آسمان سے اترنا تھا۔ کہیں لکھ دیا کہ نو سال کے اندر اندر ضرور پیدا ہوگا اور یہ گپ لگائی کہ مدت حمل نو سال بھی ہوتی ہے ہم نے غلطی سے اسی جانور کو وہ لڑکا سمجھ لیا۔ خیر جوں توں کر کے وقت ٹالا۔

براہین احمدیہ جس کے تین سو جز ہونے کی خبر دی تھی۔ وہ پینتیس جز میں ختم ہو گئی اور پیشگی قیمت کسی سے پانچ روپیہ کسی سے دس، کسی سے پچیس لے کر کھا گیا۔ آخر میر ناصر اس کے خسر شریف کی زبانی معلوم ہوا کہ آگے اور مضمون ہی نہیں ہے۔ باقی کی جزیں بطن شاعر ہیں۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ آگے ایک ورق بھی نہیں ہے تم کیا انتظار کر رہے ہو۔ آخر دیکھا تو واقع میں یہی سچ نکلا۔ (کیوں نہ ہو گھر کا بھیدی جو تھا) سراج منیر ایک پیش گوئیوں کی کتاب مشہور کی جس کے خرچ طبع کے لئے سینکڑوں روپے چندہ کروا کے بادام روغن چڑھا گیا۔ لیکن وہ سراج ذرا بھی نہ ٹمٹمایا۔ وزیر پٹیالہ اور سید احمد خاں جیسے معزز لوگوں کو پیش گوئی کی دھمکیاں دیں۔ لیکن انہوں نے اس کے بکواس کی پرواہ بھی نہ کی۔ اس وقت اس کا دعویٰ صرف یہ تھا کہ میں براہین احمدیہ الہام سے مامور ہو کر لکھتا ہوں اور میں اس صدی کا مجدد ہوں۔ محدث ہوں۔ مجھے الہام ہوتا ہے۔ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل بن کر آیا ہوں۔ غرض اس کے ایسے دعاوی بھی مسلمانوں نے برداشت کئے اور ممکن سمجھا کہ شاید اب نہیں تو آخر کبھی نہ کبھی کوئی کام اسلام کی تائید میں اس سے صادر ہوگا۔

یہ غضب ہوا کہ سید احمد خاں نیچری نے اپنی تفسیر القرآن میں لکھ دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے سولی چڑھا دیا۔ پھر وہ اپنی موت سے کہیں مر گئے اور دفن ہوئے۔ ان کے معجزے خلق طیر وغیرہ سب بچوں کے کھیل تھے۔ جیسے بچے مٹی کے جانور چڑیا وغیرہ بنا کر کہا کرتے ہیں۔ آہاہا! میری چڑیا اڑی یونہی حضرت عیسیٰ بچپن میں کیا کرتے تھے۔ بڈھے نیچری کو اس میں ذاتی غرض تو تھی نہیں۔ اسے نہ عیسیٰ بننا تھا نہ الہامی وہ نیچری بات کہہ کر آگے چل دیا۔ قادیانی کے مصاحب خاص نور الدین بھیروی نے اس مضمون کو اپنے پیرو مرشد (اسی قادیانی کے سامنے پیش کیا کہ حضرت اقدس بہت چوکے سید احمد کو خوب سوجھی تو قادیانی پیر نے کہا۔ نہیں اس نے محنت کی اور کھائیں گے ہم۔ اب کیا بگڑا ہے اچھا ہوا عیسیٰ مر گیا۔ اب ہم خود عیسیٰ بن کر دکھاتے ہیں۔ مصالحہ لگانا ہم کو خوب آتا ہے۔ وہ تو الہام کا مدعی نہ تھا اور ہم ملہم بھی ہیں۔ تقریر وہ بے سروپا کریں گے کہ پڑھنے والا پڑھتے پڑھتے بھول جائے۔ جہاں کچھ نہ بن سکے گا الہام کا ڈنکا ایسا لگائیں گے کہ اگر

٣٠

صفحہ ٥٢٧

غیر نہیں تو چیلے چانٹے تو سجدے میں پڑ جائیں گے۔ لیکن ابھی جلدی نہیں چاہئے۔ لوگ سمجھیں گے سید احمد خاں کا مضمون چرا لیا۔ آخر کچھ عرصے کے بعد فتح اسلام جو اس کی توضیح مرام تھی۔ لکھ ڈالی اور پھر ایک کچی اینٹ رسالہ اوہام بنا کر رکھ دیا۔ اس میں مرسل یزدانی ، رسول احمد ، بشارت عیسیٰ نبی اللہ سب کچھ بن بیٹھا اور حضرت عیسیٰ کے سولی چڑھانے اور مارنے پر وہ زور مارا کہ یہود کمبخت نے بھی کیا کیا ہوگا۔ قرآن کے ماصلبوہ کی صاف تکذیب کر دی اور لکھ دیا کہ عیسیٰ کو یہودیوں نے ضرور سولی پر چڑھا دیا۔ میخیں لگائی گئیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی ہو چکی اور توفی کے معنی صرف مرنا ہی ہیں۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے۔ پھر نہیں آسکتے۔ میں تھا تو قائم مقام مثیل اب اسامی خالی ہوگئی اور بجائے متوفی مستقل عیسیٰ ہو گیا۔ خدا نے فرما دیا۔ ”جـعـلـنـاك المسیح ابن مریم“ جو اسی عیسیٰ کے منتظر ہیں وہ اس کو ابھی آسمان سے اتار کر دکھائیں۔ (رسول خدا سے مشرکین عرب کا کہنا اگر تو سچا ہے ابھی قیامت لا کر دکھا دے۔ اسی کی مثال ہے) معجزات عیسوی کو بازی طفلاں اس کا حقیقی پیر و مرشد کہہ ہی چکا تھا۔ اس نے اس پر مصالحہ یہ لگایا کہ مسمریزم یا سحر سامری کا گوسالہ تھا۔ مجھ کو اس سے بالطبع نفرت ہے۔ ورنہ ایسی شعبدہ بازیوں میں میں عیسیٰ سے کم نہ تھا۔ چلو چھٹی پائی کوئی یہ بھی نہ کہہ سکے کہ اگر مسیح ابن مریم تم ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ۔ اپنے لئے تو ایسا کن اور اقتداری خوارق تجویز کرتا ہے کہ الٰہی کام اس سے صادر ہو سکیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات جو باذن اللہ ہوئے ہیں شرک باری ٹھہرا کر ان سے منکر ہو جاتا ہے۔ علماء نے بہت سمجھایا خصوصاً حضرت ابوسعید محمد حسین بٹالوی سلمہ اللہ القوی جو پہلے اس پر حسن ظن بھی رکھتے تھے اور دربارہ براہین احمدیہ اس کی تعریف بھی کر چکے تھے کہ میاں جانے دو، باز آجاؤ۔ حد سے نہ بڑھو۔ لیکن یہ اسامی ایسی کب تھی ہر چند کہا کہ یا تو بٹالہ میں میرے مکان پر آؤ اور تنہاء گفتگو کر کے تصفیہ کرلو یا مجھے بلاؤ۔ میں قادیان میں حاضر ہوں گا۔ وہاں بات چیت کرلو۔ اس روباہ منش نے ایک نہ مانی۔ آخر لدھیانہ، دہلی، لاہور، سیالکوٹ، کپور تھلہ وغیرہ میں جو ذلت اٹھائی۔ مفصل ہمارے رسالہ انہزام قادیانی میں دیکھو۔ میر عباس علی مرحوم جو اس وقت اس کے اخص مریدین میں سے تھے۔ اس کے مکر کو سمجھ گئے اور علی الاعلان اس سے اپنی تبریٰ ظاہر کردی اور یہ وہ مرید تھے جن کے حق میں اس کذاب دجال کو یہ الہام ہوا تھا کہ: ”اصلـه ثابت وفرعه في السماء“ یعنی اس کی جڑ قائم ہے اور شاخ آسمان میں۔ اس آسمانی شاخ والے نے دجال کی وہ مٹی خراب کی کہ ایک جہاں جانتا ہے۔ (اچھی طرح مٹی پلید کر کے چھوڑی) مکار آخر قادیان میں جا گھسا۔ کچھ عرصہ وہاں بیٹھا رہا۔ پھر امرتسر میں عیسائیوں کے ساتھ بحث کی

٣١

صفحہ ٥٢٨

اٹھائی۔ بحث تو جو تھی سو تھی۔ اپنے حریف عبداللہ آتھم پیر فرتوت کو دیکھ کر رمال کا رمل پیٹ میں گدگدایا اس کے مرنے کی پیش گوئی ہانک دی۔ لکھ دیا کہ اگر آتھم پندرہ ماہ کے اندر اندر مر کر ہاویہ میں نہ جا پڑے تو قادیانی کا منہ کالا کر کے رسہ گلے میں ڈالو۔ خواہ سولی دو، لعنت بازی کرو۔ مریدوں معتقدوں نے عیسائیوں سے شرطیں لگائیں کہ داڑھی منڈوالیں گے۔ اگر اختتام ٥ ستمبر ١٨٩ء سے پہلے آتھم نہ مر گیا۔ آخر ٦ ستمبر کو عیسائی شوخ استرہ لے کر جو موجود ہوئے کہ آتھم تو زندہ ہے۔ آؤ میاں داڑھی صاف کروالو۔ لیکن مکان میں داڑھی والے کی صفائی تھی۔ ایام مباحثہ میں عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کیا تھا۔ جس کی یہ شامت قادیانی کو بھگتنی پڑی۔ ایک مہینہ بعد ١٨ اکتوبر کو ایک اور آسمانی کوڑا پشت قادیانی پر برسا یعنی مرزا سلطان محمد بیگ (جس نے احمد بیگ ہوشیار پوری کی دختر نیک اختر سے نکاح کر لیا تھا اور قادیانی کا نکاح بذریعہ الہام شیطانی بالفاظ زوجنکھا یعنی ہم نے تیرا نکاح اس عورت سے کر دیا۔ اس سے کئی برس پہلے ہو چکا تھا) کی مدت سی ماہہ بخیر وعافیت پوری ہوگئی۔ قادیانی کہتا تھا کہ اڑھائی سال کے اندر اندر یہ مر جائے گا۔ وہ عورت بیوہ ہو کر مجھ کو پھر ملے گی۔ ان ذلتوں ندامتوں کو چھپانے کے لئے مکار نے عربی کتابیں لکھ لکھ کر یہ دعویٰ کیا کہ مولوی لوگ اگر میرے برابر ہیں تو عربی میں رسالے لکھیں اور لوگوں کا خیال ادھر لگانا چاہا۔ بڈھے آتھم نے آخر مرنا ہی تھا۔ ”كل نفس ذائقة الموت“ دو برس اور پورے کر کے مر گیا تو اس رمال نے پھر شور مچایا کہ دیکھا آتھم مرا یا نہ مرا۔ ہم کہتے نہ تھے کہ آخر مرے گا۔ (مر اے بے حیا۔ اب وہ کبھی مرتا ہی نہ؟) مولوی میرے ساتھ مباہلہ کر لیں۔ ورنہ مجھ کو دجال کافر کہنے سے باز آجائیں۔ اگر مباہلہ کریں گے تو برس روز کے اندر سب پر عذاب آئے گا۔ کوئی اندھا کوئی کوڑھی ہوگا۔ کوئی مر جائے گا۔ غرض یہ سال بھر تو گزر جائے گا۔ پھر کچھ اور سہی پنجابی مثل مشہور ہے۔ موہنا او موہنا اگے کی کہو ہنا بہن کی کہو ہنا۔ فرعون نے کہا تھا کہ ہامان ایک برج بناؤ میں موسیٰ کے خدا کو اوپر چڑھ کے دیکھ آؤں۔ غرض یہ تھی کہ مکان بنے تک تو لوگ میرے معتقد رہیں گے۔ یہی چال دجال کی ہے۔ ایک نہ ایک بات کھڑی کر لیتا ہے اور اس کے سہارے سے مریدوں کو دم دلاسہ دیئے جاتا ہے۔ اس سال میں اگر کسی پر کوئی مصیبت بقضائے الہیٰ آگئی تو کہوں گا میرے مباہلے کا اثر ہے اور جو سلامت رہے ان کو کہوں گا دل میں ڈر گئے۔ اگر نہیں ڈرے تو قسم کھائیں سال دو سال پھر یوں نکل جائیں گے۔ اتنے عرصہ میں کوئی اور صورت سہی۔

قادیانیو! عقل کے اندھو! یہ ہے تمہارا مثیل مسیح دجال تم جس کو ملہم مامور مرسل یزدانی وغیرہ بنائے بیٹھے ہو۔ جس کے عیسیٰ بنانے کے لئے جناب عیسیٰ علیہ السلام کو مارنے کے درپے ٣٢

صفحہ ٥٢٩

ہوئے۔ سولی پر چڑھائے ہو یہ نہیں جانتے۔

کس نیاید بزیر سایۂ بوم
ور ہما از جہاں شود معدوم

تم کو اس نے بجز اس کے اور وظیفہ نہیں سکھایا۔ عیسیٰ سولی پر چڑھ گیا۔ دفن ہوا۔ مرزا جیو! عیسیٰ سولی پر چڑھ گیا تمہارا وظیفہ باطنی ہے، اور مرگیا۔ دفن ہوا۔ وظیفہ ظاہری، وظیفہ ظاہری میں لفظ توفی کے محتمل المعانی ہونے سے کسی قدر بظاہر ہاتھ مارنے کو جگہ مل گئی تو ظاہر چلا رہے ہو۔ لیکن وظیفہ باطنی میں ماصلبوہ کی نفی سے تمہارے سب منصوبے نیست و نابود ہورہے ہیں۔ اندر ہی اندر دل پر ضربیں لگارہے ہو۔ آخر اسی طرح سے مرد ہو گے۔ اگر تم کو تھوڑی سی حرف شناسی بھی ہوتی تو سمجھ لیتے کہ جس طرح سے قادیانی ماصلبوہ میں بپاس خاطر یہود و نصاریٰ تحریف لفظی سے باز نہیں آیا۔ لفظ انی متوفیک کی تحریف معنوی سے کب رک سکتا ہے۔ قرآن میں موجود ہے۔ ”اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا“ یعنی اللہ لے لیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت اور جو نہیں مرے اس کو اس کی نیند میں۔ تیس آیتوں کا شور مچاتے ہو۔ اس ایک آیت کو دیکھ لو تم پر کیسی پھٹکار ڈال رہی ہے۔ باقی اسی پر سمجھ لو۔ یہاں لفظ توفی کا معنی ایک جان کا لے لینا ہے۔ خواہ موت سے ہو خواہ نیند میں۔

وفات دینا مارنا ہرگز نہیں۔ قادیانی کو جب الہام ہوا تھا کہ یا عیسیٰ (قادیانی) انی متوفیک تو مکار نے ترجمہ یوں کیا ہے۔ اے عیسیٰ میں تجھے پورا اجر دوں گا یا مار دوں گا۔ اب حضرت عیسیٰ کے لئے صرف مارنا ہی معنی ہو گئے۔ کیونکہ اس وقت مثیل ہی بننا مقصود تھا اور اب اصل عیسیٰ موعود۔

ز اہل غرض تاختن نشنوی
مبادا کہ روزے پشیمان شوی

مرزا جیو! تم تو متوفیک کے معنی ممیتک کہتے ہو اور قادیانی (ازالہ اوہام ص٩٣٣، خزائن ج٣ ص٦٢١) میں موت کے معنی سلانا اور بیہوش کرنا بھی مانتا ہے۔ پس معنی آیت یوں ہو گئے کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو سلا کر اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ خدا کے لئے آنکھیں کھولو اور دیدہ و دانستہ اندھے نہ بنو۔ کیا غضب ہے کہ اوروں کے حق میں تو موت کا لفظ بہ معنی نیند، بیہوشی وغیرہ ضروری سمجھو۔ لیکن حضرت عیسیٰ کے لئے محض مار ڈالنا۔ (ازالہ اوہام ص٩٤١، خزائن ج٣ ص٦٠٥) میں تمہارا باوا لکھتا ہے کہ: ”اگر کوئی موت اور اماتت کی جگہ جو نیند اور بیہوشی وغیرہ کے معنوں میں بھی آیا

صفحہ ٥٣٠

ہے ۔ توفی کا لفظ کہیں دکھاوے۔ اس کو بلا توقف ہزار روپیہ دیا جائے گا ۔‘ اور کہیں تو کیا قرآن میں ہی دکھا دیا ۔ ” وهو الذی یتوفکم بالیل ویعلم ماجرحتم بالنهار ثم یبعثکم فيه “ یعنی اور وہ اللہ ایسا ہے جو رات کے وقت تمہاری توفی کرتا ہے اور تمہارے دن کے کام جانتا ہے۔ پھر تم کو دن میں اٹھا کھڑا کرتا ہے۔ اس قادیانی بے شرم نے دینا دلانا تو کیا تھا شرمندہ بھی نہ ہوا، اور وہی مرغی کی ایک ٹانگ بکے جاتا ہے ۔ یہاں توفی کے معنی بہت واضح طور پر قرآن کریم ہی نے بتا دیئے کہ سلانا ہیں۔ موت کے حقیقی معنی مرنا ہیں ۔ نیند بیہوشی پر لفظ مجازا بولا جاتا ہے اور توفی کے معنی روح کو بدن سے الگ کرنے کے ہوئے ۔ خواہ نیند میں خواہ موت سے اس کے معنی محض مار ہی ڈالنا قادیانی کذاب کا افتراء ہے ۔ لغت میں توفی کے معنی پورا پورا لے لینا بھی ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں آنحضرت ﷺ بخطاب یہود یہ حدیث منقول ہے ۔ ”ان عیسى لم يمت وهو راجع الیكم قبل یوم القیامة “ بے شک حضرت عیسیٰ نہیں مرے اور قیامت سے پہلے تمہاری طرف واپس آنے والے ہیں ۔ خدا تعالیٰ نے صاف طور پر یہود کی تکذیب کر دی ہے کہ انہوں نے نہ حضرت عیسیٰ کو قتل کیا ہے اور نہ سولی ہی دیا ہے۔ بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اب یہاں یہ حجت کرنا کہ مع الجسد العنصری اٹھا لیا۔ کہاں کی محض حماقت ہے۔ یہود مسیح عیسیٰ بن مریم کو مع الجسد سولی پر لٹکانے کے مدعی تھے یا محض روح کو؟ پس جس کو سولی پر لٹکانے کے مدعی تھے خدا نے اسی کو اٹھا لیا ہے ۔ قرآن میں کہیں نہیں آیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس مع الجسد العنصری آئے تھے یا حضرت یونس علیہ السلام کو جسد عنصری والی مچھلی نے مع الجسد العنصری نگل لیا تھا۔ جب تک یہ لفظ جسد عنصری نہ ہو کیا کسی شخص کو جسد عنصری سمیت چلا گیا یا مر گیا یا ڈوب گیا یا اوپر چڑھ گیا نہ سمجھنا چاہئے؟ خدا ایسے مغالطوں سے بچائے کہ جو معنی ١٣٠٠ برس بلکہ ١٩٠٠ برس سے سمجھے چلے آتے ہیں۔ آج ایک فریبی خود غرض کے کہنے سے چھوڑ کر حضرت عیسیٰ کو یہود کے پنجے میں پھنسایا جائے اور سولی پر لٹکایا جائے۔ معاذ اللہ!

پندرہ سو روپیہ لینے کے لئے کسی چھپڑی میں منہ دھلوالو۔ چونکہ حضرت عیسیٰ کو بحالت نوم اٹھایا گیا تھا۔ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حق میں توفیتنی عرض کریں گے اور خاتم الانبیاء اپنے لئے حالت موت وارد ہونے کی وجہ سے قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لفظ من بعدی کے معنی من بعد موتی یعنی میرے پیچھے کرتا ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو آ کر ” بئسما خلفتموني من بعدی “ فرمایا تھا۔ وہاں کیا کہے گا۔ اے قوم! تم نے میرے مرے پیچھے بری خلافت ادا کی۔ خدا اس قادیانی کا اور منہ کالا کرے۔ مجمع البحار الانوار میں ٣٤

جہاں امام مالک کا ایک قول عیسیٰ مرگئے جس کو قادیانی تسلیم نہیں کرتا ۔ کیا امام آدھے میں زور کہاں سے آ گیا ؟ کل صحابہ اور تابعین بلکہ بھی انکار ہے اور جناب عائشہ صدیقہ (کذا !) حضرت عیسیٰ کے آسمان پر بمعنائے موت ہونے کی بابت لکھا ۔ دوبارہ جلال کے ساتھ تشریف لائیں نیچری تعلیم اور شامت خود غرضی نے صاحب لدھیانوی کا بحث کے لئے بن مریم بن ہی چکا تھا۔ اس کا بیت لوگوں کا مارا ہوا ہے۔ حج بھی فرض اور عیسویت کا نشان بھی ظاہر ہوتا اور الکاذبین کہنے کو بھی اچھا موقع تھا۔ بہت ہوتا ۔ سو پچاس چابک لگ جا جیسا کہ جناب عمر فاروق کے سام تھی۔ ہم تو کہتے ہیں اگر مولوی صا کہ قادیانی مثیل مسیح دجال ہے۔ کیو گوئی ہی سہی۔

بے محل کس لئے یہ آپ بھلا
کب یہ ثابت ہوا لوگوں کے بر
ہوتی نقارہ خالق ہے زب
ہوتے سب حال سے اپنے ہیں با
آج کل مرسل یزدانی ہو جس
صفحہ ٥٣١

جہاں امام مالک کا ایک قول عیسیٰ مر گیا جب کہ وہاں ان کے ایام زندگی بھی پینتیس برس لکھے ہیں۔ جس کو قادیانی تسلیم نہیں کرتا۔ کیا امام مالک کا قول آدھا ہی قابل تسلیم ہے۔ اگر آدھا ضعیف ہے تو آدھے میں زور کہاں سے آگیا؟

کل صحابہ اور تابعین بلکہ کل فرق اہل اسلام (بجز نیچری معتزلہ جن کو معراج نبوی سے بھی انکار ہے اور جناب عائشہ صدیقہ کو بھی۔ ایسوں ہی نے منکر لکھا ہے۔ حاشا جنابها عن ذلك!) حضرت عیسیٰ کے آسمان پر جانے اور پھر آنے کے قائل ہیں۔ اگر کہیں کوئی قول توفی کے بمعنائے موت ہونے کی بابت لکھا ہے تو یہ ساتھ ہی لکھا ہے کہ پھر زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے اور دوبارہ جلال کے ساتھ تشریف لائیں گے۔ قادیانی کا اقرار مندرجہ براہین اسی تعلیم کا نتیجہ تھا۔ لیکن نیچری تعلیم اور شامت خودغرضی نے اس کو پاگل کر دیا۔ اب بے تکی ہانکتا ہے۔ مولوی عبدالعزیز صاحب لدھیانوی کا بحث کے لئے کہنا کہ مکہ معظمہ میں کریں گے۔ تھا تو ٹھیک کیونکہ قادیانی مسیح بن مریم بن ہی چکا تھا۔ اس کا بیت اللہ میں جانا از روئے حدیث نبوی ضروری تھا اور روپیہ بہت لوگوں کا مارا ہوا ہے۔ حج بھی فرض ہوگا۔ ایک پنتھ دو کاج۔ مولوی صاحب سے بحث بھی ہو جاتی اور عیسویت کا نشان بھی ظاہر ہوتا اور بیت اللہ میں اگر ضرورت پڑتی دامن پاک پکڑ کر لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہنے کو بھی اچھا موقع تھا۔ زندگی اسی سال مقرر ہو ہی چکی تھی۔ اس کا اندیشہ ہی نہ تھا۔ بہت ہوتا۔ سو پچاس چابک لگ جاتے۔ شاید دجالی خرمستی نکل جاتی اور توبہ ہی نصیب ہو جاتی۔ جیسا کہ جناب عمر فاروق کے سامنے صبیغ اسلمی ایسے ہی متنبی کو سر میں چابک کھا کر توبہ نصیب ہوگئی تھی۔ ہم تو کہتے ہیں اگر مولوی صاحب اب بھی مانتے ہوں تو مرزا فوراً چلنے کی ٹھہرائے اور یاد رکھو کہ قادیانی مثیل مسیح دجال ہے۔ کبھی حرمین کے قریب نہ جائے گا اور نہ جا سکے گا۔ یہ ایک پیشین گوئی ہی سہی۔

نظم

بے محل کس لئے یہ آپ برا کہتے ہیں ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں
کب یہ ثابت ہوا لوگوں کے برا کہنے سے وہ سب اچھے ہیں جنہیں لوگ برا کہتے ہیں
صوت نقارہ خالق ہے زباں مخلوق تم نہ برا کہو سب جس کو بجا کہتے ہیں
ہوتے سب حال سے اپنے ہیں برے یا اچھے تم ہی کچھ ٹھیک کہو ہم جو خطا کہتے ہیں
آج کل مرسل یزدانی ہو جس خر کا لقب نہیں کہتے اسے دجال تو کیا کہتے ہیں؟

٣٥

صفحہ ٥٣٢

اب چار کامل علامتوں کی سن لو۔ پیش از وقوع بشارتیں اور خوشخبریاں اس کی گواہی عموائیل بشیر دے ہی گیا ہے۔ لوگ ابھی بھولے نہیں سلطان محمد زندہ موجود ہے۔ قادیانی دلہا بنا بنایا بھی بیٹھا رہ گیا۔ تبلیغ کے لئے امور غیبیہ کی اطلاع رسول کے سوا کسی اور کو دی ہی نہیں جاتی۔ قادیانی کے رسول بننے کی یہی تو ایک چال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وماكان الله ليطلعكم على الغيب ولكن الله يجتبى من رسله من يشاء“ یعنی اللہ ایسا نہیں کہ تم سب کو غیب کی اطلاع دے دے۔ لیکن وہ اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے اس بات کے لئے چن لیتا ہے۔ ”عالم الغيب فلا يظهر على غيبه احدا الا من ارتضى من رسول“ یعنی وہ اللہ عالم الغیب ہے اپنے غیب پر کسی کو اطلاع نہیں دیتا۔ مگر جس رسول کو اس کے لئے پسند کرے۔ یہ اطلاع امور غیبیہ رسالت کا دعویٰ ہی دعویٰ رسالت ہے۔ قادیانی کو جو اور امور غیبیہ پر اطلاع ہوئی سب غلط نکلی۔ جس سے بجز روسیاہی و ندامت کچھ حاصل نہ ہوا۔ دعاؤں کا قبول ہونا واقعات بتلا رہے ہیں۔ کون سی دعا قبول ہوتی ہے۔ بشیر نہ جیا، آتھم نہ مرا، سلطان جیتا جاگتا قادیانی کو جلا رہا ہے۔ قرآنی دقائق جو قادیانی پر کھلے ہیں سب وحی جلی گڑھی کا فیض ہے یا اپنی خود غرضی کا فساد اور بہت سا الحاد و دجل مولوی محمد حسین نے (اشعۃ السنۃ ج ٧ نمبر ١١ ص ٣٣٥) میں صاف لکھ دیا ہے کہ: ”ہم بجز الہام رسول کسی کے الہام کے قائل نہیں۔ ہم صرف کتاب اللہ اور سنت کے پیرو ہیں۔ غیر نبی کے الہام کو کوئی حجت و دلیل نہیں جانتے۔“

مولانا نے قادیانی کا ملہم من اللہ ہونا اس کے اس ایمان کی وجہ سے ممکن تصور کیا تھا جو (براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ص ٥٩٣) پر اس منافق نے ”ھو الذی ارسل رسوله بالهدى ودین الحق ليظهره على الدين کله “ کی تفسیر میں یوں ظاہر کیا تھا۔ ”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

مولانا محمد حسین کو اس کے ارتداد کی کیا خبر تھی کہ آخر یہ کمبخت مرتد ہو جائے گا اور حضرت عیسیٰ کو مار کر خود ہی عیسیٰ موعود بن بیٹھے گا۔ تمہارے قادیانی کی عربی دانی (اشاعۃ السنۃ نمبر ١٢ ج ١٥) میں خوب ظاہر کی گئی ہے۔ لیکن تمہارے ماتھے کی پھوٹ کہیں تم دیکھ نہیں سکتے۔ یہ بات خوب یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کوئی شخص کسی مولوی کے فتویٰ اور حکم سے کافر نہیں ہو جاتا۔ اپنے عمل واعتقاد سے ہوتا ہے۔ مثلاً خاتم الانبیاء کے بعد مرسل یزدانی کہلائے۔ صفائی کشف میں انبیاء سے اپنے لئے

٣٦

زیادتی دکھائے کہ نبی کے معجزات کو سحر سام لائے۔ ”انا انزلناہ قریباً من الـ ہو جائے۔ یا رسول اللہ کی صحیح وثابت سنتوں اڑائے۔ یا سلف صالحین کی توہین کرے۔ و عیسیٰ بن سکتا ہے۔ ہمارے یہ صاحب نظر نے ”والله يهدي من يشاء الى صراط م وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الو

قادیانی اور ایک نصرانی کی گفتگو میں

نصرانی...... جو یسوع مسیح خدا کا اکلوتا بیٹا ہمار مدفون رہا۔ پھر آسمان کو چلا گیا۔ پھر بادلوں میں

قادیانی ...... اس میں شک نہیں کہ یہودیوں ۔ پکارتا رہا۔ کچھ پیش نہ چلی۔ آخر ادھ موا اتارا قبر معلوم ہے۔ ملعون رہنے کی بابت اس مس معجزوں کے حق میں لہو ولعب شعبدات ودجل کوئی تو مجھے گستاخ کہتا ہے۔ کوئی اس گستاخی نے نکالا ہے کہ ملعون بھی کہہ سکوں اور شاید مس رہا جہنمی بھی ہوا۔ تم اس کو اکلوتا بیٹا کیوں کہتے ایسا ہی استحقاق اہمیت میں بھی رکھتا ہوں۔ یـ ہے۔ چونکہ اب میں اس کا قائم مقام بن کر آیـ اس کے ہاتھ سے کوئی مردہ زندہ ہوا نہ وہ اب آگیا۔ اس بھید کو نہ خود عیسیٰ سمجھے نہ خود پیغمبر عر عیسیٰ آئے گا۔ اصل بات کوئی نہ سمجھا آنا تھا خواہ نہ مانو۔

مسلمان ...... قادیانی سے مخاطب ہو کر ! او دجال

صفحہ ٥٣٣

زیادتی دکھائے کہ نبی کے معجزات کو سحر سامری ولہو ولعب بتائے۔ خدا تعالیٰ سے اپنا رشتہ ابنیت ملائے۔ ”انا انزلناه قريباً من القادیان“ جیسے فقرے قرآن میں (قریباً نصف پر) بڑھائے۔ یا رسول اللہ کی صحیح وثابت سنتوں سے دیدہ و دانستہ کترائے۔ بعض سنتوں کو ٹھٹھے میں اڑائے۔ یا سلف صالحین کی توہین کرے۔ وغیرہ ذلک! اور نہ بعض احمقوں کی تصدیق سے کوئی خر عیسیٰ بن سکتا ہے۔ نمائے بہ صاحب نظرے گوہر خود را۔ عیسیٰ نتواں گشت بہ تصدیق خرے چند۔ ”والله يهدي من يشاء الى صراط مستقيم ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب، آمين“ الراقم : محمد سعد اللہ عفی عنہ مدرس ایم۔ بی سکول لدھیانہ ماہ رمضان ١٣١٣ھ ، فروری ١٨٩٦ء

قادیانی اور ایک نصرانی کی گفتگو میں ایک مسلمان کی ثالثی

نصرانی ..... جو یسوع مسیح خدا کا اکلوتا بیٹا ہمارے گناہوں کی خاطر سولی پر چڑھ گیا۔ دفن ہوا تین دن مدفون رہا۔ پھر آسمان کو چلا گیا۔ پھر بادلوں میں سے مثل برق دوبارہ آئے گا۔

قادیانی ..... اس میں شک نہیں کہ یہودیوں نے اس کو سولی پر چڑھایا۔ میخیں لگائیں۔ وہ ایلی ایلی پکارتا رہا۔ کچھ پیش نہ چلی۔ آخر ادھ موا اتارا گیا۔ پھر کچھ عرصے کے بعد مر کر قبر میں جا پڑا۔ مجھے وہ قبر معلوم ہے۔ ملعون رہنے کی بابت اس مسلمان کے سامنے کچھ کہنا ذرا مشکل ہے۔ اس کے معجزوں کے حق میں لہو ولعب شعبدات و عجل سامری کہہ کر اس قوم سے اب تک پیچھا نہیں چھٹا۔ کوئی تو مجھے گستاخ کہتا ہے۔ کوئی اس گستاخی کے باعث کافر بناتا ہے۔ ہاں ایک اور طریق میں نے نکالا ہے کہ ملعون بھی کہہ سکوں اور شاید مسلمانوں کو برا نہ لگے۔ تمہارا یسوع بے شک ملعون بھی رہا جہنمی بھی ہوا۔ تم اس کو اکلوتا بیٹا کیوں کہتے ہو۔ میں اس کے برابر کا بھائی ہوں۔ بطور استعارہ ایسا ہی استحقاق ابنیت میں بھی رکھتا ہوں۔ بلکہ مجھے اس مستعار باپ نے مسیح ابن مریم ہی بنادیا ہے۔ چونکہ اب میں اس کا قائم مقام بن کر آیا ہوں۔ لہٰذا وہ نہیں آسکتا۔ وہ مر گیا قبر میں جا پڑا۔ نہ اس کے ہاتھ سے کوئی مردہ زندہ ہوا نہ وہ اب زندہ ہوسکتا ہے۔ دوبارہ آنا میرا ہی تھا۔ سو میں آگیا۔ اس بھید کو نہ خود عیسیٰ سمجھا نہ خود پیغمبر عربی۔ عیسیٰ نے کہہ دیا۔ میں آؤں گا پھر عربی نے کہہ دیا عیسیٰ آئے گا۔ اصل بات کوئی نہ سمجھا آنا تھا ایک قادیانی مغل بچے نے سو یہ عاجز آ گیا۔ خواہ مانو خواہ نہ مانو۔

مسلمان ...... قادیانی سے مخاطب ہو کر ! او دجال کے پیش خیمے اللہ تبارک وتعالیٰ ان نصاریٰ اور یہود کو

٣٧

صفحہ ٥٣٤

صلیب کے بارے میں جھوٹا فرما چکا۔ قرآن میں ماصلبوہ فرما کر صلیب کی نفی کر دی۔ ابن اللہ کہنے والوں کو گمراہوں میں شمار کیا تو پھر بھی ان جھوٹوں کی تصدیق کرتا ہے۔ قادیانی...... ارے کیا قرآن قرآن لئے پھرتا ہے تو قرآن کو کیا جانے۔ تجھے ماصلبوہ کی حقیقت کیا معلوم ہے۔ میں نے بذریعہ الہام معلوم کر لیا کہ یہاں ”ما“ یوں لگا ہوا ہے۔ اصل میں صلبوہ ہے۔ بقول کریم بخش ساکن جمال پور حسب کشف سائیں گلاب شاہ” میں قرآن کی غلطیاں نکالنے آیا ہوں ۔’’انا انزلناہ قریباً من القادیان ‘‘ جو قرآن شریف کے دائیں صفحے میں قریب نصف کے الہامی عبارت موجود تھی۔ اب کسی قرآن میں نہیں ملتی۔ شاید قادیان کا نام عداوۃً نکال دیا گیا تا کہ ان مکے اور مدینے کی طرح اعزاز کے ساتھ یہ نام قرآن میں درج نہ رہے۔ ایسی خرابیاں واقع ہوئی ہیں تو میں بھیجا گیا ہوں۔ دابۃ الارض، یاجوج و ماجوج، دجالی فتنہ، دجال کی حقیقت و اصل کیفیت اس قرآن کے لانے والے پر بھی نہ کھلی۔

مسلمان ...... ارے کمبخت ! اب تو تیرا نفاق خوب پھوٹ نکلا بے شرم۔ اب بھی تجھ میں جرات ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کہے؟ رسول اللہ تو فرماتے ہیں۔ یدفن معی فی قبری۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام میرے ساتھ دفن ہوں گے۔ (جیسا شیخینؓ ) اور تو کہے ان کی قبر شام میں ہے۔ وجود قبر کے بارے میں تو نصاریٰ کا مصدق بنا اور ان کے دوبارہ آنے میں ( جس کی تصدیق اسلام میں ہو چکی ہے) تو نصاریٰ کا مکذب ہے۔ وجہ یہی ہے کہ تجھے خود عیسیٰ بننا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ مسلمان تو ایک خونی مہدی اور خونی مسیح کے منتظر ہیں۔ کبھی خود ہی کہتا ہے۔ ممکن ہے کہ عاجز ہی جلال واقبال کے ساتھ بھی (مسیح) آئے اور ممکن ہے کہ اوّل وہ دمشق میں ہی نازل ہو (اے دروغ گو دیکھو ازالہ اوہام ص٢٩٥،خزائن ج ٣ ص ٢٥١) تیرا حافظہ ٹھیک نہیں۔ بس مسلمان اسی عیسیٰ کے منتظر ہیں وہ خونی نہیں۔ دائم المرض کنگال مفت خور دغا باز مسیح کو کیا کریں۔ حضرت عیسیٰ کو سخت سست کہنے کا کیا ڈھنگ نکالا ہے۔ اے بدزبان کیا مسلمانوں کا عیسیٰ کوئی اور شخص ہے اور نصاریٰ کا یسوع کوئی اور۔ کمبخت! توبہ کر باز آ۔ فقط

رباعی:

مرزائیو چیلے جو بنایا تم کو
دجال نے کیا ورد سکھایا تم کو
عیسیٰ سولی پہ چڑھ گیا دفن ہوا
ڈر ما صلبوہ سے نہ آیا تم کو

٣٨

دوس

حرفیا

(چودھویں صدی

حضرت مولانا محمد سع

PDF 536

انا خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

دو سہ

حرفیاں

(چودھویں صدی کا جھوٹا مسیح)

حضرت مولانا محمد سعد اللہ لدھیانویؒ

صفحہ ٥٣٦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

حامداً ومصلياً

”قالوا معذرة الی ربکم ولعلھم یتقون (اعراف)“ وہ بولے (ہم نصیحت کرتے ہیں) تمہارے رب کے سامنے عذر کرنے کے واسطے اور شاید وہ (نافرمانی سے) بچ رہیں۔

ایہ عذر ہے اپنے رب اگے کسے نال جھگڑا نہیں جنگ نائیں
راہ کفر ولوں بھلا بچے کوئی حق آکھنے تھیں دلا سنگ نائیں
ایہ بھی یاد رکھیں باجھوں سخت رگڑے کدی دور ہوندا ڈوہنگا زنگ نائیں
بھارے مسہلاں دیتیاں باج سعدی جاندی دیر دی بلغمی کھنگ نائیں
لا تبتغی الجاہلین پڑھیں پیارے برا کہن تاں ہوئیں دل تنگ نائیں
حق اللہ دے واسطے رہیں کہندا جڑا اس بن کسے تھوں منگ نائیں
سچی گل ہے تلخ الحق مر شفا چاہئے تاں گھٹ چا بھرئیے
ہوے کوئی ناں غرض جے ناصحا بدی دور کرن تھیں اوس نوں مت ڈریے
پیر ہووے یا سکے ماں باپ ہوون جھوٹھ وچ ناں کسے دا پاس کریئے
طلب حق دی رکھئے وانگ سعدی مگر مومناں صادقاں لگ رہیئے
کھوہ وچ پیا مثیل مسیح محدث ولی مجدد
نبی بنے نوں کتھے پھوکن اہل حدیث مقلد
مرزائیو! اج حقو حق سنو انصاف کماؤ
مرزے نوں ناں احمد مرسل نبی رسول بناؤ
اہل اسلام نوں چھڈ کے مرزا تساں خلیل بنایا
پچھو تا سو دھوکا دیسی اوہ جد ویلا آیا
ربا عاجزی کریں قبول ساڈی لبھا کچھ ناں بجز ہوا سانوں
تو ہیں آپ حکیم طبیب داتا ساڈے درد دی دئیں دوا سانوں

٢

صفحہ ٥٣٧
دنیا وچ بھلیائیاں دئیں ربا پھر وچ فردوس دے جا سانوں
موت زندگی دے سارے فتنیاں تھیں ربا فضل دے نال بچا سانوں
ربا میں ظلوم جہول بندی ساڈی عقدے بھل خطاء سانوں
جیہے بھار چکائے توں اگلیاں توں اوہو جیئے ناں بھار چکا سانوں
ساڈے زور تھیں ودھ جے بھار ہووے اس بوجھ نال کدی دبا سانوں
عفو مغفرت رحم چا کریں مولا اوپر دشمناں مدد فرماء سانوں
فتنہ شر دجال دا سخت بھارا ایس ابتلاء وچ ناں پا سانوں
وچ امن رکھیں فتنے قبر دے تھیں تتی اگ دی بھاہ نہ لا سانوں
وچ قبر دے جد نکیرین آون توئیں سب جواب سکھلا سانوں
نال امن امان دے حشر تائیں نویں دلہن وانگ سوا سانوں
اسرافیل نوں جد تیرا حکم ہووے پھوک مار کے توئیں جگا سانوں
سدن والا جد نیڑے توں ہاک مارے حشر گاہ ول لئے بُلا سانوں
دھپ سخت جاں کڈن تے آن لگے اوس حوض دا جام پلا سانوں
تیرا مصطفےٰ ہے جتھے آپ ساقی اوہدے ساتھیاں وچ رلا سانوں
سنے آل اولاد از واج نبی پل صراط تھیں پار لنگھا سانوں
جیہڑے ایتھے اگے پچھے وچھڑے ہاں اوتھے وچ فردوس ملا سانوں

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

(پہلی سہ حرفی)

چودھویں صدی دا جھوٹا مسیح

الف اللہ دی آس نگاہ جیا اوہدے فضل دا واسطا پا جیا
تیرا مصطفےٰ اے پیشوا جیا لکھ لکھ سلام پہنچا جیا
نالے آل اصحاب رلاء جیا لازم اوہنا دا اے اقتداء جیا
جھوٹھے عیسیٰ دی گل سنا جیا بھانویں برا منے جیہا جیا

٣

صفحہ ٥٣٩

بے بہت خبراں نبی دیاں نیں اللہ پاک نے ہے خبردار کیتا پھیر اپنا فضل عظیم کر کے جن انس دا اوہنوں سردار کیتا ساڈا دکھ اوہنوں بڑا بھار لگے ساڈی جیہاندا کیہا غمخوار کیتا فتنے شر مسیح دجال کولوں امت اپنی نوں ہوشیار کیتا

تے تریہہ (٣٠) دجالاں دی خبر دتی جھوٹھے نبی کہاوندے آوینگے امت رہے ہوشیار فریباں تھیں ایہہ بہت فساد مچاوینگے امت وچہ گروہ اک رہے ایسا سدا جھوٹھیاں تے فتح پاوینگے اللہ باجھ نہ کسے تھیں ڈرن گے اوہ حق کہن تے نہیں شرماوینگے

ٹے ٹالتی نال یقین رکھیں غیب خوان بات اک اوکھڑی اے کہیا نبی کریم سرتاج نبیاں عیسیٰ آؤناں وار پھر دوجڑی اے اللہ پاک نے جنہاں تے فضل کیتا پراوہناں نوں ایہہ گل سوکھڑی اے پچھے مہدی دے پڑھے نماز آ کے شان امت محمدی دی بڑی اے

جیم جدوں عیسیٰ دوجی وار آوے دوناں فرشتیاں دے رکھ ہتھ کھنبے آوے شرقی منارے دمشق اتے مارے سوراں تے ہور صلیب بھنے پھڑے کانے دجال مرجانے نوں باب لد تے رب دا حکم منے جھوٹا عیسیٰ اک اٹھیا قادیانی لگے مگر لنگڑے کانے دلوں انھے

ہے حال اوہدا سن کن دھر کے خالی رحم توں وانگ یہود ہویا لگ پیا عیسیٰ دے مارنے نوں ابراہیم تے جیویں نمرود ہویا جھوٹھ لاوندا تائیں مجدد آکھے مکتوبات وچہ کہے موجود ہویا تیرے آون دی اتھے خبر لکھی جھوٹھ بول کے ہور مردود ہویا

خے خدا دا خوف کر مرزیا اوئے لغویات دا کی تینوں ہتھ آیا دیکھ لئی تفسیر اس نیچری دی اتھوں چک مضمون توں ایہہ چرایا معنے باطنی توں کیہڑے گھروں کڈھے جھوٹھ نیچری دے جاکے پیچ لڑایا تیرے چیلے کیوں نہیں پڑتال کردے اکھاں اگے ہے کی اندھیر چھایا

٤

دال دولت عرفان قرآن والی لئی تن قرن دے نبی خبر والے خبر اللہ پاک جے آپ ناں کرے راکھی کو سدا اللہ دا فضل توں منگ سعدی دعا

ذال ذرا انصاف ہن منصفاں نوں و نالے مہدی اے آپ امام بن دا دعو اک مغل بچیا عیسیٰ بن لگا دیکھ نبی اپنے آپ نوں جاندا اے جھو

رے راز نیاز اس گال دا ہن اصل عیسیٰ مر گیا آکھدا قادیانی ایتھے ایویں لکھیا اے بڑھے نیچری نے مرزا دیکھ حدیث نزول والی لگا کہن

زے زور لا کے کوشش مکر والی استعارے سب لفظ بنا دتے مڑ الو پھیر پڑ مگر تقلید لگے جو من لیا معصوم اک قادیانی ا

سین سنگ نہ آوندی جنھاں نوں مونہوں ظاہر کہن پیغمبری ختم ہوئی دلوں مرزا نبی اے وحی الہام دلوں من مغز چھٹیا اے عیسیٰ نوں خاطر س

شین شور پایا ابن صیاد نے جیـ ایتھے قادیاں چوں بڑا زاہد آیا رو شیخ ابن تیمیہ نے رحمہ اللہ قادیانی دی گل کچھ نویں ناہیں

٥

صفحہ ٥٣٩
دال دولت عرفان قرآن والی لبھے راہ حدیث والیاں توں
تن قرن دے نبی خیر والے خیر ملے اوہناں مگر چلیاں توں
اللہ پاک جے آپ ناں کرے راکھی کون بچے شیطان دے ہلیاں توں
سدا اللہ دا فضل توں منگ سعدی دور رکھے اوہ راہاں کولیاں توں
ذال ذرا انصاف ہن منصفاں نوں دینا چاہئے رب دا پاس کر کے
نالے مہد اے آپ امام بن دا ڈبا حرص وانگوں سور داس کر کے
اک مغل بچیا عیسیٰ بنن لگا ویکھو دین دا ستیاناس کر کے
نبی اپنے آپ نوں جاندا اے جھوٹھے وحی الہام دا پاس کر کے
رے راز نیاز اس گل دا ہن اصل اصول میں کھول سناؤندا ہاں
عیسیٰ مر گیا آکھدا قادیانی ایس کوڑ دی وجہ جتاؤندا ہاں
ایویں لکھیا اے بڈھے نیچری نے او اوہدی تفسیر وکھاؤندا ہاں
مرزا دیکھ حدیث نزول والی لگا کہن ہن میں اوہدی تھاؤندا ہاں
زے زور لا کے کوشش مکر والی عیسیٰ مارن دے وچہ لادتی
استعارے سب لفظ بنا دتے مورکھ عاماں دی سمجھ بھلا دتی
الو پھیر مڑ مگر تقلید لگے جو کجھ لکھی سی عقل گوا دتی
من لیا معصوم اک قادیانی انھی امت مرحومہ بنا دتی
سین سنگ نہ آوندی جنھاں نوں موہوں آکھدے جھکدے مول نائیں
ظاہر کہن پیغمبری ختم ہوئی دلوں مندے ایہہ مجہول نائیں
مرزا نبی اے وحی الہام ولوں ہن صاف پئے کہن فضول نائیں
مغز پھٹیا اے عیسیٰ بنن خاطر سچا علم نکات دا مول نائیں
شین شور پایا ابن ہود نے بی اگے وچہ دمشق دے پیاریا جی
موحدیاں چوں وڈا زاہد اہا روپ عیسیٰ دا اوہنے بی دھاریا جی
شیخ ابن تیمیہ نے رحمہ اللہ اوہدا جھوٹھ فریب نتاریا جی
قادیانی دی گل کجھ نویں نائیں دیکھ دیکھ کے جال پساریا جی

٥

صفحہ ٥٤١
صاد صبر دے نال ہن بیٹھ پیا کن کھول کے بات سن عاشقاں دی
اللہ والیاں نبی دے تابعدار مومن کاملاں لائقاں فائقاں دی
گواہی اپنی جاندے گل چنگی بھاویں گھیری ہوئی ہووے فاسقاں دی
موسیٰ نبی یہودیاں من لیتا ایتھے ضد ہے خود نالائقاں دی
ضاد ضد جے کجھ تینوں مول نائیں نال عین انصاف پڑھ پھیر میاں
نفی قتل صلیب بل رفعہ اللہ قرآن کھول کھاں کریں نہ دیر میاں
قتلوں سولیوں عیسیٰ بچا لیا اوپر چک لیا فضلوں گھیر میاں
پھر آوناں عیسیٰ دا گل سچی مومن جاندے ناں ول پھیر میاں
طے طالباں صادقاں روکیا عیسیٰ مر گیا نیچری بولیا جاں
سولی چاڑیا عیسیٰ یہودیاں نے اہدے نال ایہ کفر بی تولیا جاں
خوب اٹھیا ساڑ مجددی دا گند نیچری دیں وچ گھولیا جاں
عیسیٰ مار دے مگر پیا مرزا ہتھ دین ایمان تھیں دھولیا جاں
ظے ظالم ایڈے ایڈے کوڑ دھندے کدے چک تحریف قرآن مارے
کہے لیلۃ القدر ناں رات کوئی الف شہر دا نواں ای گیان مارے
نبیاں پاس فرشتہ نہ کدے آوے جھوٹھا وحی خدائی دی شان مارے
سارے ملک تھاؤں تھائیں جڑے ہوئے عزرائیل اوتھے بیٹھا جان مارے
عین عجب غرور نے پٹ دتا کہے ایہ امت ساری ہوئی انھی
متوفی آیا پہلوں رافعک دے اوتھے اپنے منوں ترتیب منی
ذبح بقر پہلوں پچھوں اذقلتم قادیانیا کہی ترتیب بھنی
کہیں واو ترتیب دے واسطے اوہ تیری لغو اے سب تقریر ظنی
غین غور دے نال قرآن پڑھتوں قصے ناریاں تے جنت والیا ندے
حشر نشر دے بعد اے نار جنت مگر لگ ناں نیچری چالیا ندے
اللہ وچہ قرآن ہے رد کردا تیری فتح توضیح از الیاندے
مردے سار نائیں دارالخلد ملدا پھٹ تیریاں جھوٹھ حوالیا ندے

٦

جے فکر کرو تسیں چھیڑیا اودے ا
اہدے حال مقال نوں خوب دیکھو
گل اوس اوتھے والی کرو نائیں زندہ
حیلہ سازیاں اہدیاں صاف دیکھو مو
قاف قہر پوئے تینوں قادیانی
رد کرن حدیث رسولدی نوں آیہ
عیسیٰ رب بنایا عیسایان نے موہ
تیری جیہا مکار شیطان ہویا کدوں
کاف کانیاں کوڑھیاں ٹھگیاں توں نا
دکھ درد تے مصیبت آن لگی
نور ظاہری باطنی دور ہویا ہا
کالس باطنی بی ہوئی جمع اندر و
لام لج نائیں تینوں اک رتی
بھلاں کتھے ہے اوہ بشیر تیرا
عیسیٰ جسم دے نال ناں چڑھن دیا
وچہ آپنے اوس ازالہ دی ج
میم مولوی شرع دی خادمانوں تو
بھنگ گھوٹ داہڑی صفا چٹ کر
وحی اپنی وچ دخل شیطان کولوں دے
اجے اہل سنت بنیں قسم کھا کر
نون نال تحقیق توں کدوں کیتا
پیشگوئی رسول مقبولدی نے
تینوں خبر نئیں استنبول اتے قسط
نسل علی دی وچوں امام مہدی
صفحہ ٥٤١
فے فکر کرو تسیں چیلیو اودے اکھاں مل لئو تے کھولو کن نالے
اہدے حال مقال نوں خوب دیکھو چھڈ دیو پیغمبری ظن نالے
گل اوس اتو والی کرو نائیں بندہ آپ سمجھے رنڈی رن نالے
حیلہ سازیاں اہدیاں صاف دیکھو مونہوں شور پاؤں دھن دھن نالے
قاف قہر پوئے تینوں قادیانی کیکر زہر کفران دی ونڈ دائیں
رد کرن حدیث رسولدی نوں آیت آیت قرآن دی بھنڈ دائیں
عیسیٰ رب بنایا عیسایاں نے موت اوسدی جان دی ڈنڈ پائیں
تیرے جیہاندا رب شیطان ہویا کیوں ناں موت شیطان دی منگ دائیں
کاف کانیاں کوڑھیاں پیاں تینوں نال کوڑھ دے کھاج بی ہون لگی
دکھ درد تے مصیبت آن لگی لگی دین ایمان دی ہون ٹھگی
نور ظاہری باطنی دور ہویا ہائے ہائے کی رب دی مار وگی
کالس ظاہری بی ہوئی جمع اندر دل سیاہ ہوئے اکھ ہوئے بگی
لام لج نائیں تینوں اک رتی پیش گوئی تیں کدوں صحیح کیتی
بھلاں کٹھے ہے اوہ بشیر تیرا جیدی شان دی آہی توضیح کیتی
عیسیٰ جسم دے نال ناں چڑھن دی توں گھڑی نص اوہنال ھجو کیتی
وچہ آپنے اوس ازالہ دی جھوٹھی طول طویل تشریح کیتی
میم مولوی شرح دی خادماں نوں توں بی کہیں ملوانے قلندرا اوئے
بھنگ گھوٹ داہڑی صفا چٹ کر کے کسے خانے بیٹھ چھندرا اوئے
وحی اپنی دخل شیطان کولوں دسے پاک تیرے جیہا چندرا اوئے
اجے اہل سنت بنیں قسم کھا کر بڑے طعناں دیا پھندرا اوئے
نون نال تحقیق توں کدوں کیتا ثابت عیسیٰ ہن نہیں آونا ئیں
پیشگوئی رسول مقبولدی تے پورا اپنے تے گھٹاونا ئیں
تینوں خبر نئیں استنبول اتے قبضہ کافراں نے اجے پاونا ئیں
نسل علیؓ دی وچوں امام مہدیؑ مسلماناں دا تاج سہاونا ئیں
٧
صفحہ ٥١٦
واؤ ولی شیطان دے سب جھوٹھے جیہڑے گل کہندے قسم کھاء کہندے
میں ہاں نوح خلیل مثیل عیسیٰ منوں اپنے آپ بناء کہندے
جھوٹھ موٹھ کتاب خداء اندر رائے اپنی نال ملاء کہندے
راسخ قدم نہ آوندے داؤ اندر بن کے رہنا لا تزوغ چاء کہندے
ہے ہاریا دلی دے وچ مرزا جدوں چھپن دی کوئی ناں جا پائی
باہر شرم دا ماریا نکلے ناں نال رن دے کھیل دا لک مچائی
اوتھوں رات نوں اٹھیا لک چھپکے لوکاں ستیاں تے فرصت ہتھ آئی
جدوں آیا پٹیالے الحق ہوراں اک عام جلسے وچ گت بنائی
لام لاہور دے وچ جا کے پھر بحث دا شور مچایا جی
جدوں تنگ کیتا بوسعید ہوراں سیالکوٹ نوں اٹھ کے دھایا جی
اتھے بولیا تاں سیالکوٹیاں نے بو سعید نوں سد بلایا جی
بچ بھجیا تاں جھوٹھ مٹھ تریا کوچ والا الہام سنایا جی
ہمزہ اصل دجال اجے آؤناں ایں ایہہ مثیل مسیح دا آن پہنچا
لوکو دیکھنا وقت ہے ابتلاء دا بدعت کفر والا لیکے خوان پہنچا
اج ہور اک چودھویں صدی اندر دیکھو کرن تحریف قرآن پہنچا
کلمہ اشہد میرزا کادیانی کانے کوڑھیاں تائیں سکھلان پہنچا
یے یار اسلام دیا ساتھیاں اوئے میرے نال آکھیں بار بار آمیں
مرزا وچ گمراہی دے دور پہنچا اللہ راہ پاوے کہے ہزار آمیں
پڑھے پھیر اشتہار البتہ اونوں کرے رفع یدین جہار آمیں
وارے جائیے راہ اسلام اوتے اچے ہتھ کر کے کہیں یار آمیں

دوسری سی حرفی

الف اللہ دی حمد ثناء کر کے اہدے نبی تے بھیج درود میاں
جیدے حکم تے چابیاں مڑن پچھوں ملے وچہ بہشت خلود میاں

٨

اوہدے واسطے اللہ تھوں بچ
نبی عرب والا تیرا پیشوائے
ب بدعتاں دل نہ مول جائیں
نبی کیہا قیامتوں اگے اگے
نبی کہن گے اپنے آپ تائیں
اک کادیان وچہ دجال ہویا
ت تمام امت اوہدے بہا
کہے نبی ناں سمجھدے پیش گو
مینوں کشف وچہ دیکھ کے آ
عیسیٰ سولی چڑھیا مر کے خاک ہو
ٹ ثبوت جے موت دا کوئی ن
رات والی توفی دا ذکر سن ک
دغا بازنوں کوئی نہ گل آوے
منوں گھڑے الہام اسرار دسدے
ج جدوں جواب نہ کچھ آوے
اللہ پاک نے اوہ مثیل ع
بھاویں بیٹھ کے اٹھ نہ سکدا ہا
رن اک انو کھڑی لئے و
ح حکم خدائی دا ہویا مینوں
نافرمان نہ ایہوچہ سئی کرونے
گئی سال دی جنتری رن ہ
اک کم دے وچہ دوکاج ہو
خ خیال کریو ایہ پیش گوئی د
اک تہک کے ٹوبے توں آؤ ت
صفحہ ٥٤٣
اوہدے واسطے اللہ تھوں پنج واری روز منگ مقام محمود میاں
نبی عرب والا تیرا پیشوائے جانیں اللہ نوں اک معبود میاں
ب بدعتاں دل نہ مول جائیں بدعت والیا ندے مندے حال ہوسن
نبی کیہا قیامتوں اگے اگے تیہہ کذاب دجال ہوسن
نبی کہن گے اپنے آپ تائیں جھوٹھے دلاں داے یہ خیال ہوسن
اک قادیان وچہ دجال ہویا اہدی جہی جھوٹھی مثال خال ہوسن
ت تمام امت اوہدے بہانے اپنی غلط فہم رسول بنادتے
کہے نبی ناں سمجھدے پیش گوئی اینویں لوکاں نوں لفظ سنا دتے
مینوں کشف وچہ دیکھ کے آکھ دتا عیسیٰ آؤ گا لوک بہکا دتے
عیسیٰ سولی چڑھیا مر کے خاک ہویا جھگڑا اے ایس امت وچ پادتے
ث ثبوت جے موت دا کوئی منگے اگوں لفظ توفی دا جھٹ بولے
قرآن والی توفی دا ذکر سن کے کرے جھوٹھ دا پوتلا بلبولے
دغا بازنوں کوئی نہ گل آوے پیا دین وچہ نیچری گند گھولے
منوں گھڑے الہام اسرار دے جی کھول کے جھوٹھ طوفان تولے
ج جدوں جواب نہ کچھ آوے کہے ضعف دماغ نے ماریا میں
اللہ پاک نے اوہ مثیل عیسیٰ جوڑا زرد پہنا اوتاریا میں
بھاویں بیٹھ کے اٹھ نہ سکدا ہاں تاں بھی کم مریداں دا ساریا میں
رن اک انوکھڑی لیا دتی نور دین ڈبا ہویا تاریا میں
ح حکم خدائی دا ہویا مینوں احمد بیگ دی دھی جو منگدا ہاں
نافرمان تے ایہو جہی بدی کردے رن پتراں توں جدائی منگدا ہاں
گئی سال دی جنتری رن بڈھی طالب دوستوں نوں پلنگدا ناں
اک کم دے وچہ دوکاج ہوندے سودا بگڑا درشنی منگدا ناں
خ خیال کریو ایہ پیش گوئی وحی والے نوں غرض زمین دی اے
اک ٹھگ کے ٹوبے نوں آؤ آخر لگی پیاس جنہوں پانی پیندی اے
PDF 545
طمع دھمکیاں ایہہ نویں رن خاطر کیوں مسیح نصرت ایہودین دی اے
اوپر ہیٹھ تیرا دونویں کھل گئے اوتوں رنگ وچوں تھالی ٹین دی اے
د دس کہاں جھوٹھیا پایا اوئے جیدا توں مثیل کہاوندا ایں
تیری وانگ دنیا وچہ رہا سی اوہ نالے توں پتر کہدی سداوندا ایں
بھانڈا بھن چکا تیرا میر ناصر گلاں ایڈیاں کاہنوں بناوندا ایں
ہوچکیا فیصلہ آسمانی کیہڑا فیصلہ ہور سناوندا ایں
ذ، ذرا نہ خوف دل وچ تیرے دشمن پاک رسول دے قول تائیں
جھوٹھ موٹھ کریں دعوے ایڈا وچے بھل گیا کیڑا کیدے بولدا ایں
بنیں پت حجازی خدا دا توں ماریا ہویا شیطان دے دھوکائیں
دعویٰ بحث دا وڈیاں نال کر کے جدوں وقت آوے پیا بھجا ہوندا ایں
ر، رب دیاں قدرتاں دیکھ لے توں وچہ لودیانے کیہا خوار ہویا
مرزا صاحب نال توں گیا دلی دھی مرگئی سخت لاچار ہویا
اوتھے عالماں نے جدوں گھیر لیا بحث واسطے پھیر تیار ہویا
وچہ چاندنی محل دے دیکھنے نوں جمع آدمی چار ہزار ہویا
ز، زور رئیس سب لا تھکے سارا بحث والا انتظام کر کے
بھیجے لین سواری بی نال دتی حیلہ ساز جھوٹا کویں گھروں سر کے
شیخ کل نذیر حسین حضرت بیٹھے منتظر بحث دا دھیان دھر کے
کیتا جھوٹھ بہانڑا جھوٹھڑے نے گھروں پیر نہ چکیا مول ڈر کے
س، ساریاں لوکاں نے جان لیا مرزا گفتگو کرن تھیں بھجدا اے
کچا وعدیاندا جھوٹا دعویاندا خالی ڈھول وانگوں اینویں گجدا اے
اوتھے جاں تے جان دا خوف مینوں دسو ایہ حیلہ کیہڑے پجدا اے
اعتقاد گندے ڈاڈھاں ماردے وہن داؤ بازیاں نال ہن کجدا اے
ش، شرع دی گل نوں کر ے ٹھٹھے اتوں ولی بندا وچوں نیچری اے
کھان پین وغیرہ دی کی صورت اوتھے عیسیٰ دا جسم بے عنصری اے

١٠

لوٹ پوٹ راہندا جو ڈسدا
شب قدر تئیں اصلوں رہ
ص، صاف انکار اے
عیسیٰ آؤ جلال دینال
ہو کے ملہم نامور جو
براہین تائید اسلام دی
ض، ضعف آیا براہین
پہلوں عیسیٰ سی جدوں
خبر جنہاں بزرگان دی
اصل گل دجال دا پ
ط، طمع تے حرص نے
جدوں مدعی ہویا مجدد
احتیاط والا پاسا حکیم
ظاہر وچہ مسکین سی وانگ
ظ، ظلم کیتا ایس حد
دیکھو وچ قرآن ما یغنی
شاعر مومناں باجھ نی ک
کتے خوب مسیح بنائے
ع، عالماں تائیں یہود دی
کہے رب عیسائیاں دامن و
نفی قتل صلیب بل رفعہ
کون سمجھدا اے رفع پایا
غ، غضب پوے تینوں مرز
ظاہر کریں حمایت اسلامیا
صفحہ ٥٤٥
لوٹ پوٹ راہندا جو ڈسدا ہوندا گردش وچہ جے ایہ چرخ چنبری اے
شب قدر تئیں اصلوں رات ڈٹھی مکہ کے وچہ دتی بلی مکری اے
ص، صاف انکار اے فتح اندر براہین دی گل مردود ہوئی
عیسیٰ آیا جلال دے نال آخر اوہ ساری تفسیر نابود ہوئی
ہو کے ملہم نامور جو لکھیا سی اج اوہ تحریر بے سود ہوئی
براہین تائید اسلام دی سی چوتھی جلد تے آن مسدود ہوئی
ض، ضعف آیا براہین تائیں جدوں فتح توضیح الہام ہویا
پہلوں عیسیٰ سی جدوں ازالہ آیا اوہو ضرور مہدی امام ہویا
خبر جنہاں بزرگاں دی آویندی ایہو سمجھاندا قائم مقام ہویا
اصل گل دجال دا پیش خیمہ وچہ قادیاں ایہ غلام ہویا
ط، طمع تے حرص نے پٹ دتا ظاہر وچ خاصا مسلمان آیا
جدوں مدعی ہویا مجددی دا مسلماں نوں نیک گمان آیا
احتیاط والا پاسا تکدے سن ظن وچہ نہ کچھ نقصان آیا
ظاہر وچہ مسکین سی وانگ بلی دلوں گھات دا لائے سامان آیا
ظ، ظلم کیتا ایس حد تائیں ظالم مدعی ہویا پیغمبری دا
دیکھو وچہ قرآن ماینبغی لہ جوڑ وحی دے نال کی شاعری دا
شاعر مومناں بلکہ فی کل واد وحی والیاں نوں کم منذر پیدا
کنے خوب مسیح بنائے اپنے دوکھ دور کیتا قیدی اعور پیدا
ع، عالماں تائیں یہود دسے لک بنھ کے عیسیٰ دے مارنے نوں
کہے رب عیسائیاں دا مرن دیو اوہدے تھاؤں میں ہاں کم سارنے نوں
نفی قتل صلیب بل رفعہ اللہ مینوں پٹھیو ہے نبی چتارنے نوں
کون سمجھدا اے رفع پایا اوئے سولی چاڑھ ادھ مویا اوتارنے نوں
غ، غضب پوے تینوں مرزیا اوئے مسلماں دے نال کی دغا بازی
ظاہر کریں حمایت اسلامیاں دی عیسیٰ نبی اتے کریں ترکتازی
||
صفحہ ٥٤٦
اوہنوں کدے ترکھان دا پت دَسیں اوہدے معجزے کہیں نیرنگ سازی
جے میں چاہاں عیسیٰ نالوں گھٹ نائیں مینوں ہے مکروہ ایہہ کھیل بازی
ف، فن وچہ اپنے ہیں پورا لاہ دتی اے شرم دی سروں لوئی
داکھیں ہتھ نہ پہنچیا تھوہ کوڑی تیری مرزیا ایہو مثال ہوئی
مذہب سلف دا آہا کتاب سنت چھڈ تریاق نوں زہر پیوے کوئی
جاکے شیعاں کولوں حوالات منگیں کریں صحیح بخاری دی عیب جوئی
ق، قدر توں اپنی سمجھ مرزا خیال والے الہام سناؤندا ئیں
ظاہر کریں ایمان منافقانہ دھوکے وچہ عوام نوں پاؤندا ئیں
نالے کہیں محدث نبی ہوندا الٰہی محدث اکھواؤندا ئیں
نبیاں نال رلایا محدثاں نوں جھوٹھی نبوت دا شور مچاؤندا ئیں
ک، کذب تیرا حدوں لنگھ گیا مکتوبات دے وچہ کی گل تیری
تیرے چیلے ہوئے انھے اکھیاں تھیں کیہ دتی ہے اوہناں نوں بھوت پھیری
کدے کہن عیسیٰ تینوں کدے مہدی چھا گئی اکھاں اگے کیہی انھیری
بہت جاندے ہن تیرا حال وچوں بھولے بھالے دیکھیں ذرا قلم میری
ل، لوبھ ہنکار نوں چھڈ دے توں مسلماناں وچوں صاف بن جاہ مرزا
دلوں رکھدا بغض چنگیز خانی مسلماناں نوں ناں ستاہ مرزا
تیرے جیسے جھوٹے ہوندے سخت اظلم خوف اللہ دا ناں بھلا مرزا
تیرے بھلے دے واسطے کہے سعدی باز آ مرزا باز آ مرزا
م، مغل کہ فارسی نسل ہوئے ایڈے جھوٹے طوفان کیوں جوڑنا ئیں
نبی کیہا سی اوہ مسلماں تائیں توں تاں جھوٹھے تارے مرزا توڑ نائیں
خبر صاف اے عیسیٰ دے آون دی استعاریاں نال مروڑنا ئیں
ساہ لین نوں نہیں جگاء اوپر پیا نیچری گند نچوڑنا ئیں
ن، نبی کیہا نہیں مویا عیسیٰ اوہنے پھر دوجی وار آؤنائیں
کرسی قتل دجال صلیب بھنے آ کے سوراں دا کھوج مکاؤنائیں

١٢

گھراں وچہ پالن جیہڑے کھان
کریں مسخری چیلیاں وچہ
وہ وقت نہیں آیا اڑنیا
حشر آؤنائیں حشر آؤنائیں
ایہہ شبہے ہن کافراں ملحداں
بدھے وقت اوپر سارے کم ہـ
وہ ہلاک ہوئے تیرے جھٹـ
لوکاں وچہ مشہور اے انـ
ابراہیمؑ ہاں نوحؑ ہاں علیؓ
بدی تیکھوں بیوقوف کما
لا لائق سب تیری دیکھـ
مسلمان آئے تیرے داؤ
سودا مک چُکا لوک ٹھگـ
آکے فتح توضیح ازالے
وہ استعارے تیرے مرزیا
کوئی بنھ رستہ استعاریا
مغز کڑھیا شرع دا وانگـ
سلف صالحین دا مگر چھڈ
ی، یاوری اللہ دی راتـ
پکی کریں توحید خدائی د
اوس کانے دے فتنوں دور
قلم واہ اللہ دے راہ

اہل سنت والجماعت دـ اللہ پاک نوں اک معبوـ اوہنوں خالق جان تے

صفحہ ٥٤٧
گھراں وچہ پالن جیہڑے کھان والے گندے کم تھیں اوہناں ہٹاؤنا ئیں
کریں مسخری چیلیاں وچہ بہکے لے کے ناؤں شکار ہساؤنا ئیں
و، وقت نہیں آیا اوہنیدا دیر ہون توں کدے گھبراؤنا ئیں
حشر آؤنا ئیں حشر آؤنا ئیں دیر ہوئی دل وچہ شک لیاؤنا ئیں
ایہہ شبہے ہن کافراں ملحداں دے ایہناں دھوکیاں دے مگر جاؤنا ئیں
بدھے وقت اوپر سارے کم ہوندے اللہ پاک اتے تہمتیں پاؤنا ئیں
ہ، ہلاک ہوئے تیرے جھے جھوٹے جھوٹے رب رسول کہا گئے
لوکاں وچہ مشہور اے اج تائیں اک بخشی چند بنا گئے
ابراہیم ہاں نوح ہاں علی ہاں میں کئی تیری وانگوں شور پاہ گئے
بدی نتیجوں بیہود کما گئے۔ بیجے اپنے دا پھل کھاہ گئے
لا، لائقنی سب تیری دیکھ چکے براہین سی دھوکہیدی اک ٹٹی
مسلمان آئے تیرے داؤ اندر دساں دساں روپیاں دی بھری چٹی
سودا بک چکا لوک ٹھگ لئے گھر جاڑیا چک لئی ہٹی
آکھے فتح مسیح ازالے لڑنے رہی سہی تیری مٹی ہور پٹی
ء، استعارے تیرے مرزیا اوئے تینوں دین ایمان تھیں پٹ گئے
کوئی بنھ رستہ استعاریاں دا ایویں باطنی بی گلے گھٹ گئے
مغز کڈھیا شرع دا وانگ تیرے روزہ ہور نماز سب چٹ گئے
سلف صالحین دا مگر چھڈ نائیں پونجی آخرت دی اوھو کھٹ گئے
ی، یاد کر اللہ دی رات دنے پل پل گھڑی گھڑی منگ سعدی
پکی کریں توحید خدائی دی نوں چلیں شرع دے راہ نسنگ سعدی
اوس کانے دے فتنوں دور رہیں چھوئے اگ نوں ناں ترا انگ سعدی
قلم واہ اللہ دے راہ اندر دیکھ دیکھ دشمن رہن دنگ سعدی

اہل سنت والجماعت دے عقائد دا بیان وصیت دے طور اتے

اللہ پاک نوں اک معبود جانیں جیدی خلق ہے زمین آسمان پیارے
اوہنوں حاکم جان تے قہر والا نالے سمجھ رحیم رحمن پیارے

١٣

صفحہ ٥٤٨
اوہدے سخت عذاب دا خوف رکھیں تے ظاہری چھڈ عصیان پیارے
نا امید نہ رحمتوں کدی ہوئیں عفو مغفرت دا رکھیں دھیان پیارے
سورج لہندیوں چڑھے نا جدوں تائیں بوہا توبہ دا کھلا ہر آن پیارے
کوئی عمل ہووے نیت پاک رکھیں کریں نال ایمان احسان پیارے
لیکے آدموں عرب دے نبی تائیں سبہاں پیاریاں نوں سچے جان پیارے
اللہ ولوں توریت زبور آئی حق من انجیل فرقان پیارے
بندے اللہ دے پاک فرشتیاں تے رکھیں صدق دے نال ایمان پیارے
رکھ پاک یقین قیامت اتے عمل سب ایس بن رائیگان پیارے
نیکی بدی تقدیر خدائی دی اے ایس وچ کچھ شک نہ آن پیارے
آؤن قبر دے وچ نکیر منکر ہوندا بندیاں دا امتحان پیارے
عیسیٰ پھیر قیامتوں اگے آوے اس گھڑی دا ایہہ نشان پیارے
من لین یہود عیسائی اوہنوں کڈھے کانے دجال دی جان پیارے
عیسیٰ مقتدی مہدی امام ہووے ایڈی ایس امت دی ہے شان پیارے
پہلاں ہور بی کئی دجال آون دیکھ دیکھ نہ ہوئیں حیران پیارے
دنیا وچ جان بدعتی کرن جھگڑے تکڑا پھڑیں حدیث قرآن پیارے
جدوں نبی دا قول صحیح لبھے کریں اس تے جان قربان پیارے
نئیں اوہ مومن جیہڑا جاندا ہے میرے سامنے مال تے جان پیارے
اکھاں دل دیاں دے اگے سدا رکھیں نبی صاحب دا ایہہ فرمان پیارے
پچھیں مسئلہ دین دا عالماں توں جہدی گل وچ ہوویں انجان پیارے
نبی باج نہ کسی دی ہور منیں ٹکڑے ہون بھاویں استخوان پیارے
ابوبکرؓ تے عمرؓ عثمانؓ حیدرؓ جانیں دین دے چار ارکان پیارے
بڑے مجتہد دین دے وچ مالکؒ احمدؒ شافعیؒ ہور نعمانؒ پیارے
اوہناں باجھ بی مجتہد بہت ہوئے سمجھ دین دی کیتی آسان پیارے
سبھاں دین وچ سعی مشکور کیتی حق اہناں دے سنگ رضوان پیارے

١٤

صفحہ ٥٤٩
نفع مومناں مردیاں تائیں دیوے دعا خیر خالص پن دان پیارے
سکھیں دین جا کے کسی متقی تھیں مریں پاک ہو کے مسلمان پیارے
سدا وچ دنیا نہیں رہیا کوئی جاناں اک دن وانگ مہمان پیارے
منگیں رحم تے مغفرت رب کولوں سعدی واسطے نیک سامان پیارے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ!

سہ حرفی ارڑ پوپو

جیہڑے مدح گو کہن مرزیا نئیں ایہے خوشامدی یار تیرے
تینوں جھڑک ملامتاں کرنوالے اوہو مرزیا ہن دوست دار تیرے
نورا حسو مبارکا لنگا حمودویو یار ہن ایہ پنج چار تیرے
گھٹ ہو گئے وانگ عباس علی خیر خواہ دردی غمخوار تیرے
الف ارڑپوپو اک قادیانی پیش گوئیاں دے تیر چلاوندا اے
پیش گوئی دے باج نہ گل کوئی نویں نویں الہام سناوندا اے
پت جنہاں کہے تاں دہی جمے دوجے حمل دی پھیر ٹھہراؤندا اے
اوہ پت موعود بھی جم مریا پھیر اکدے دو بناؤندا اے
ب، بہت ذلیل تے خوار ہویا نواں سالاں دی ہور تاریخ پائی
ایس گل نوں بھی باراں سال گزرے واری اس موعودی نئیں آئی
جلسے وچ ہاری اک ہور بازی آتھم نال جد مرن دی شرط لائی
سعدی دیکھ سلطان دی زندگی نے پائی سر وچ دیوث دے کھیہہ چھپائی
ت، تاڑ گئے تینوں سمجھ والے مرزا جعفر یا اک رمال ہیں توں
ٹھگیں احمقاں گٹھ دے چوریاں نوں کیہا پاؤندا مکر دا جال ہیں توں
بنیں کٹک ہٹاں کالے منہ والے کدی لیاؤندا کدے بال ہیں توں
مومن جاندے چودھویں صدی اندر اوہناں تیہاں چوں اک دجال ہیں توں
ث، ثابتی نال ایمان والے تینوں مرزیا بہت سمجھاء چکے
حیلے بازیاں نال توں رہا بچدا بحث گفتگو دل ہلاء چکے

١٥

PDF 551
سیالکوٹ، لاہور، پٹالہ دلی تیرے منہ سارے کھیہ پاو چکے
لودیانوں بھی تینوں کہے سعدی بھرے جلسے دے وچ بھجاو چکے
ج، جم کے گھر مسلمان دے اوئے مسلماناں دا توں مددگار بنیاں
مسلماناں نے نیک گمان کیتا خاصہ اچھا تیرا کار بار بنیاں
تیرے خوب رسالڑے بکن لگے چنگا کتب فروش تجار بنیاں
سعدی کہے او مرزیا غضب کیتیو نورے کانے دا توں کاہنوں یار بنیاں
ح، حوصلے سب تیرے پست ہوئے براہین سراج منیر والے
اوہناں دناں تھوں تیری ہواء بگڑی جدوں ہوئے الہام بشیر والے
پہلوں کڑی جمی پھیر حمل اوہ جدوں مویاتاں عذر تعبیر والے
اوہ سب خوشخبریاں کھسکر گیاں چھٹکے رکھ ایہ ورق تقریر والے
خ، خاص مرید عباس علی وچ صوفیاں نیک نہاد بندہ
اللہ فضل کیتا اوہدے حال اتے تیرے دام تھیں ہویا آزاد بندہ
جڑاں پکیاں شاخ آسمان اندر پٹ گیا اوہ تیری بنیاد بندہ
اللہ پاک اگے کرے عرض سعدی رہے وچ بہشت اوہ شاد بندہ
د، دماں دا کچھ وساہ نائیں آہ مونہہ اسلام ول موڑ مرزا
بنیں نبی رسول مسیح مہدی ایڈ جھوٹھ طوفان نہ جوڑ مرزا
تینوں رہا ناں خوف عذاب دا اوئے ناں بہشت دی ہے کچھ لوڑ مرزا
اگے بہت دجال مکار گزرے توں ہیں سبھناں دا عرق نچوڑ مرزا
ذ، ذرہ نہ خوف حیاء تینوں ایویں گلیں گڈر سیں شیر ہیں توں
جھوٹھا اپنے منہ تھیں آپ ہوویں سچا بنیں پھر ایڈ دلیر ہیں توں
سروسری تڑا تڑی پیندیاں تے مارا تیکی بولدا پھیر ہیں توں
بے حیاء ہویا سور کوئی سب تھیں ودھ مرزا سواه میر ہیں توں
ر، راستی سچ دے دشمناں اوئے کدی بھلکے سچ بی بولیا کر
بیت فکر تیرا بیت کفر ہویا راہ دین ایمان دا ٹولیا کر

١٦

کلا بیٹھ اندر گوشے ہو ناد
سعدی کہے او مرزیا مرن
زور والے کدھر گئے
تیرے دل وچ زعم پیغمبری
جتھے کال منگیں اوتھے ساں
جنہوں رنج دیویں اوہنوں فخ
س، سارے جہان دے د
مدد کروں گا دین اسلام
کیتی اہل اسلام نے مدد ت
کھا پی ستوں دیکھے زور
ش، شرم حیاء دی لاہ چ
کتھوں کڈھ لیایا منڈیاں جلیاں
تیرے کفر نے عمل برباد ک
سعدی کہے ازالہ اوہام
ص، صاف ثابت ہویا کا
اوہدی موت دا ہن اش
سعدی مدتاں تھیں تینوں
رن پت چھڈے نویں د
ض، ضال مضل ہو گیا
اس بڈھے نے آکھیا
سعدی ایس رسالیاں وچ
دعوے وحی الہام دے
ط، طول تقریر نوں ایڈ
رولا پایا ماری مت چ
صفحہ ٥٥١
کلا بیٹھ اندر گوشے ہو نادم خوف اللہ دے تھیں کدے رولیا کر
سعدی کہے او مرزیا مرن آخر ایڈے ایڈے توں کفر ناں تو لیا کر
زور والے کدھر گئے حملے کدھر گئی اوہ مدد شیطان والی
تیرے دل وچ زعم پیغمبری دا تدے دین ایمان تھیں ہویا خالی
جتھے کال منگیں اوتھے سال ہووے جتھے سال منگیں ہووے قحط سالی
جنہوں رنج دیویں اوہنوں خوشی لبھے ہریا بھریا چاہیں سک جائے ڈالی
س، سارے جہان دے دغے بازا کدھر گئے اوہ قول قرار تیرے
مدد کروں گا دین اسلام دی میں مسلمان ہوون مددگار میرے
کیتی اہل اسلام نے مدد تیری لگن نت وچ قادیان نویں ڈیرے
کھا پی ستوں دیکھے زور سعدی براہین خاطر لوگ پان پھیرے
ش، شرم حیاء دی لاہ چادر کڈھے فتح توضیح رسالڑے اوئے
کتھوں کڈھ لیایا لیراں جلیاں توں پہلوں جھلکدے آہے دوشالڑے اوئے
تیرے کفر نے عمل برباد کیتے لکھ رہا ناں نیکی دے پالڑے اوئے
سعدی کہے ازالہ ایمان دا ہن ایہہ تیرے آئینے ازالڑے اوئے
ص، صاف ثابت ہویا کفر تیرا عیسیٰ نبی نوں جد سولی چاہڑیا توں
اوہدی موت دا ہن اشتہار دتا براہین دا ورق اوہ پاڑیا توں
سعدی مدتاں تھیں تینوں کہے مرزا کاہنوں آپنا آپ او جاڑیا توں
رن پت چھڈے نویں ویاہ خاطر کی کی دھمکیاں دتیاں لاڑیا توں
ض، ضال مضل ہوگیا مرزا مگر لگ علی گڑھی نیچری دے
اس بڈھے نے آکھیا پہچاندے کھیل آہے اعجاز پیغمبری دے
سعدی ایس رسالیاں وچہ لکھے اوہ معجزے شعبدے سامری دے
دعوے وحی الہام دے وچہ ظالم کرے نال پیغمبراں ہمسری دے
ط، طول تقریر نوں ایڈ دیوے جھوٹھ موٹھ دا اک طومار بنھے
رولا پاہ ماری مت چیلیاں دی اکھیں پاہ گھٹا کر لئے انھے

١٧

صفحہ ٥٥٢
قادیانی دے مگر قطار چلے اک دوجے دے رکھ ہتھ کندھے
سعدی کہے انھیاں کھوہ اگے انھیاں عقل والے باجھ کون بنے
ظ، ظلم دی حد نہ رہی کوئی بنیا بیٹھا پت خدا دا اے
ایس ساک وچ عیسیٰ نوں کرے ساجھی کی ڈھنگ دیکھو بیحیا دا اے
چٹے مورکھاں نوں کہہ کے استعارہ جہڑا کم اس قوم ترسا دا اے
اصل وچ کتاباں کولوں مرزا لفظ سکھیا نحن ابناء دا اے
ع، عاق بیٹے زن طلاق دتی احمد بیگ دی دھی بیاہونے نوں
ڈھائی سال اندر رنڈی ہوونے دا گھڑیا اک الہام ڈراونے نوں
کئی سال غریب نہ کسے بیاہی بری رسم دا شگن مناونے نوں
زوجہ نال الہام بنا بیٹھا جگ وچ کوتک وکھاونے نوں
غ، غیرت وشرم دے دشمنا اوئے زوجکہا ہویا الہام تینوں
دیکھ نال تقدیر خدائی دی دے چھڈ گئی اوہ کیا ناکام تینوں
کدھر گئی تزویج تجویز تیری کیتا نفس نے کیہا بدنام تینوں
شاباش تینوں سلطان محمد اوئے برکت مند ہووے دلارام تینوں
ف، فکر کر مرزائیا آخرت دی طمع عیش دنیاوی نے پٹیا توں
مسلمان بنیا رہندا سدھا پدھرا بن کے لوڑ پوپو کی کھٹیا توں
پہلوں مدعی آہا مجددی دا ٹھوٹھا نیچری دا آخر چٹیا توں
عیسیٰ بنن خاطر کہیں زرد چادر زردی مرض دی ہٹیا کٹیا توں
ق، قہر پوے تینوں قادیانی گل عالماں دی نہیں مندا توں
اہل علم نوں کہیں بدذات کھوتے ..... کریں حکم سب نوں حسن ظن دا توں
جہڑی گل دا لوکاں نوں حکم دیویں آپے اوس نوں نہیں پہلوں مندا توں
دین وچ خسران مبین پایا کامل ہیں دجالی دے فن دا توں
ک، کید تیرے جدوں ہوئے ظاہر کیہا عالماں نے تینوں قادیانی
وچوں جلسیاں دے نٹھ جائیں لکھیں گھر بیٹھ کر فیصلے آسمانی

١٨

صفحہ ٥٥٣
دیویں آپ اعلان مباہلے دا جدوں کوئی سدے تیری مرے نانی
نال دین اسلام دے دشمن ہے اوہو رسم قدیم چنگیز خانی
ل، لج تینوں نئیں آوندی اوئے عبدالحق دے توں ہتھ دیکھ چکا
پھیر کہیں مباہلہ کرو کوئی توں نیڑے حیا دے نئیں ڈہکا
آتھم آگے الہام دے گپ لاکے کھادا غضب الٰہی دا کیہا مکا
سعدی کہے کیوں مرزیا دلوں تیرے اڈ خوف خدائی دا گیا اکا
م، مال حرام دے کھان خاطر پاک نبیاں نوں نال رلاوندا ایں
کیہا مال ہووے کتوں لبھ جاوے ٹوکر اپنا بھیج منگاوندا ایں
عطر کسبی دا جھوٹھیا ظالماں اوئے عیسیٰ نبیؑ دے کپڑیں لاوندا ایں
بنیا آپ مثیل نہ اوہناں دا توں اوہناں تائیں مثیل بناؤندا ایں
ن، نک وڈھاکے جیوندا ایں منہ کج ذرہ کچھ شرم کراوے
اک وار ہوشیار پور جا مرزا چبھی مار کے چوہ وچ ڈب مراوے
چھڈا یہ رمالیاں ہو تائب غیب داں اللہ کولوں اک ڈراوئے
پند سعدی دی خالی ہے غرض کولوں برخوردار بن سوچ کر کن دھراوئے
ورثیوں پت محروم کر کے زمین رن دے ناں ویں رہن کیتی
سچ دس کھاں ایہ کاہدا قرض چڑھیا ایڈی کی سختی تیرے نال بیتی
کیہے بھسم کتاباں دے سیکڑے تیں کہی غضب دی مرزیا بھنگ پیتی
پتاں والی نے کی قصور کیتا نویں ویاہ دی بری جے نئیں سیتی
ہ، ہور ناں معرفت ہوئی حاصل ایس باجھ دجال دے کھوتیا اوئے
عیسیٰ مر گیا مرگیا کریں نت میں علی گڑھی بڑھے دیا طوطیا اوئے
عیسیٰ بندیاں شرم نہ آئی تینوں التقوا وادی دیا پوتیا اوئے
سعدی کہے ناں موت بن گل تیری وچ بحر مردار منہ دھوتیا اوئے
ل، لائق ایسا جمیاں توں سارے سلف تے شرک دا عیب دھریا
کہے خلق طیور احیاء موتی جنہے کہیا اوس نے شرک کریا

١٩

صفحہ ٥٥٤
عیسیٰ نال کیوں دشمنی ایڈی تینوں سولی چاڑھیں تے کہیں ناکام مریا
کاف نوں میرا کاف نون ربی آپ لکھن لگا ذرہ نہیں ڈریا
آتھم عیسائی جداں مریا آکھیں ایس دے دل وچہ خوف آیا
جدوں اوس نے کیہا میں نہیں ڈریا اگوں قسم انعام تے زور پایا
پٹی والا رقیب جد رہا زندہ چنڈاں مرزیا آپنے منہ لایا
کوئی قسم نہ کچھ انعام اوسنوں جھوٹے دل وچ خوف دا پیا سایا
یہ یار تیرے کرن خوار جہاں تینوں نبی رسول بنایا اے
جو کچھ بکیں اوہ کرن تصدیق تیری تیرا حق طغیاں ودہایا اے
سعدی شکر جناب خدائی دی نوں دھیان جاگیاں نہ ادھر آیا اے
موری وحی الہام دی بند کیتی ڈاٹ قلم دا ٹھوک کے لایا اے

لطیفہ

روپ عیسا کا ہاں بھرا تو نے
کام دجال کا کیا تو نے
تو نے جیسا کہا سنا ویسا
ہے مثل سچ جیسے کو تیسا
بہت ہیں یوں تو رمال ارڑپوپو ہے بڑھ کر سب سے دجال ارڑپوپو
عجب یہ مرسل یزدان بنا ہے نحوست شیوہ بدفال ارڑپوپو
نشان و معجزات اس کے سنے ہیں کتابوں سے نکال ارڑپوپو
ولادت کے ہیں یا مرنے کے اخبار اڑاتا ہے جو ہر سال ارڑپوپو
کہا جب ہوگا لڑکا آئی لڑکی ہوا ایسا کہ بدحال ارڑپوپو
حیات خصم یا موت پسر کو سکا ہر گز نہ کچھ ٹال ارڑپوپو
خداوند عالم ہے نگہبان نہ بیکا کر سکے بال ارڑپوپو
بشیر ادبار تجھ کو دے گیا ہے مگر توں خواب اقبال ارڑپوپو
نہ یوں سعدی کو دھمکا قادیانی
سمجھتا ہوں تری چال ارڑپوپو

٢٠

صفحہ ٥٥٥
فتنہ مرزا نے کر کے یہ برپا اسم پنج آب با مسمیٰ کیا
نیک آں ذات کو یک آبی شد تف برآں کس کہ پنج آبی شد
مرزا بھی تو کرتا ہے دعویٰ کہ میں ہوں پارسی نسل والا
اس میں نکتہ یہ اس نے ہے رکھا پانچ میں اک تو پارسی ہوگا
تو بھی مادر سے ذات پوچھ تو لے اس پہیلی کی اس سے بوجھ تو لے
ذات اپنی تو پہلے ٹھیک تو کر پھر کسی کی صفت پہ کچھ نظر
اف رے کاذب دروغ کے پتلے سب بیانات تیرے ہیں جھوٹے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

مرزا قادیانی کے قرآن پر ایمان کی حقیقت سوال و جواب کے پیرایہ میں

مسلمان ...... قادیانی صاحب! آپ قرآن کریم کو مانتے ہیں؟

قادیانی ...... مانتے ہیں۔

مسلمان ...... اہل اسلام کے عرف میں لفظ قرآن کتنے معانی پر بولا جاتا ہے۔

قادیانی ...... تین معانی پر۔ نقوش اور الفاظ اور معانی۔

مسلمان ...... قرآن مجید کس کا کلام ہے۔

قادیانی ...... اللہ تعالیٰ کا۔

مسلمان ...... اللہ تعالیٰ نے کیا اتارا تھا نقوش یا الفاظ یا معانی یا تینوں یا ان تین میں سے کون سے دو۔

قادیانی ...... الفاظ اور معانی اتارے تھے۔

مسلمان ...... الفاظ کے اتارنے کے کیا معنی ہیں اور معانی کے اتارنے سے کیا مراد ہے۔

قادیانی ...... الفاظ کے اتارنے کے معنی الفاظ کا سنانا اور پڑھا دینا اور معانی کے اتارنے سے مراد معانی کا سمجھا دینا۔

مسلمان ...... اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بلا واسطہ قرآن پڑھا اور سمجھا دیا تھا یا بالواسطہ

قادیانی ...... بالواسطہ۔

مسلمان ...... وہ واسطہ کون ہے۔

قادیانی ...... روح القدس۔

٢١

صفحہ ٥٥٦

مسلمان ...... روح القدس کس چیز کا نام ہے۔

قادیانی ...... ایک درجہ کی محبت خدا کا نام ہے۔

مسلمان ...... قادیانی صاحب آپ نے یہ جواب بسلامتی حواس دیا ہے؟

قادیانی ...... ہم اہل اسلام کے عقائد کے منافی نہیں کہتے۔ جبرائیل ایک ایسی آسمانی روح کا نام ہے جس کا سورج سے ایسا شدید تعلق ہے جس کے سبب سے اس روح کا آفتاب سے جدا ہوکر زمین پر آنا ناممکن اور محال ہے۔

مسلمان ...... جناب! پھر ایسی مقید روح کے وحی لے کر آنے کے کیا معنی۔

قادیانی ...... وحی ایک خاص درجہ کی محبت خدا کو کہتے ہیں اور اس روح کے آنے سے یہ مراد ہے کہ جس طرح سورج کی گرمی اور روشنی ہر چیز کی استعداد کے موافق فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح یہ روح فائدہ پہنچاتی ہے اور ہر انسان کے دماغ اور دل پر اس کا اثر اور عکس پڑتا ہے اور میرا یہاں تک ایمان ہے کہ پاگل اور زانیہ عین حالت زنا میں بھی اپنے حصہ کا یہ اثر پالیتے ہیں۔

مسلمان ...... اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو سارا قرآن بخوبی سمجھا دیا تھا یا کسی بات کے سمجھانے میں کچھ کسر باقی رہ گئی اور محمدﷺ نے سارا قرآن بخوبی سمجھ لیا تھا یا کسی بات کے سمجھنے میں غلطی بھی واقع ہوئی۔

قادیانی ...... بعض باتیں اللہ تعالیٰ بھی بخوبی نہیں سمجھا سکا اور محمدﷺ سے بھی بعض باتوں کے سمجھنے میں غلطی واقع ہوئی۔

مسلمان ...... جب بعض قرآن کے سمجھنے میں غلطی واقع ہونے کا آپ اعتراف کر چکے تو باقی کے سمجھنے میں بھی وقوع غلطی کا احتمال پیدا ہوگیا۔ لہٰذا سارا قرآن پایہ اعتبار سے ساقط ہوا۔

مسلمان ...... جتنا اور جیسا کچھ قرآن اللہ تعالیٰ کے سمجھانے سے مرزا قادیانی نے سمجھا تھا وہ کسی کو سمجھا بھی گئے یا وہ بھی ساتھ ہی لے کر راہی عالم بقا ہوئے؟

قادیانی ...... یہ نماز وغیرہ جس پر تعامل پایا جاتا ہے قرین قیاس ہے کہ آپ کی تعلیم سے ہو۔ باقی پیش گوئیوں کے سمجھنے کے بارے میں ”جب خود انبیاء سے امکان غلطی ہے تو پھر امت کا کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٤١، خزائن ج ٣ ص ١٧٢)

مسلمان ...... آپ حدیث کو مانتے ہیں؟

قادیانی ...... ”ایک شرط سے مانتا ہوں۔ حدیث کا وہ حصہ جو اخبار اور مواعید اور قصص اور

٢٢٠

مخالفت گزشتہ سے متعلق ہے اس شرط سے معارض نہ ہو۔“

مرزا قادیانی کی اس نئی روشنی کا ماح

قرآن شریف محمدﷺ کا اپنا اللہ تعالیٰ کی محبت کا نہایت درجہ کا جوش پیدا آفتاب سے ایسا شدید تعلق ہے جس کے س اور عکس حضرت کے دل پر ہمیشہ پڑتا رہا۔ ا کے خلاف واقعہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ک مطلب خود بھی نہیں سمجھتے تھے۔

تنبیہ: یہ شخص اصل میں بانی نیچ ریب مما نزلنا علی عبدنا ‘‘ صاف اچھی نہیں ہے اور ثبوت مثل دیگر قویٰ انسانی قرآن جو کچھ ہے سب پیغمبر کے دل ہی د شخص نے چرا کر لکھ دی ہے۔ مگر اپنے منص دیکھ کر بھی۔

تنبیہ: یہ شخص الفاظ وہی بولتا مراد رکھتا ہے۔ اس کے قرآن کریم کو م ایمانیات پر اس کا ایمان سمجھ لو۔ مثلاً:

مسلمان ...... آپ خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں ی

قادیانی ...... مانتے ہیں۔

مسلمان ...... کس طور پر مانتے ہو جس طور کیا ہے؟

قادیانی ...... جس طور پر خدا تعالیٰ نے خود ق

مسلمان ...... خدائے تعالیٰ نے وہ طور پر آ

قادیانی ...... بالواسطہ۔

مسلمان ...... وہ واسطہ کیا ہے؟

صفحہ ٥٥٧

واقعات گذشتہ سے متعلق ہے اس شرط سے قبول کیا جائے گا کہ قرآن کریم کے اخبار وغیرہ سے معارض نہ ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ٨٦٢، خزائن ج ٣ ص ٥٧٠، ٥٧١)

مرزا قادیانی کی اس نئی روشنی کا ماحصل

قرآن شریف محمد ﷺ کا اپنا کلام ہے نہ اللہ تعالیٰ کا۔ حضرت ﷺ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا نہایت درجہ کا جوش پیدا ہوا اور ایک ایسی روح آسمانی مجوزہ قادیانی کا جس کا آفتاب سے ایسا شدید تعلق ہے جس کے سبب سے وہاں سے چھوٹنا محال ہے۔ نہایت درجہ کا اثر اور عکس حضرت کے دل پر ہمیشہ پڑتا رہا۔ اسی واسطے حضرت ﷺ نے قرآن شریف خود تالیف کر کے خلاف واقعہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا اور اس میں ایسی آیتیں بھی درج کردیں جن کا صحیح مطلب خود بھی نہیں سمجھتے تھے۔

تنبیہ : یہ شخص اصل میں بانی نیچر کا چور چیلہ ہے۔ اس نے زیر آیت ”وان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا“ صاف لفظوں میں لکھ دیا ہے کہ خدا تعالیٰ اور پیغمبر ﷺ میں کوئی ایلچی نہیں ہے اور نبوت مثل دیگر قوی انسانی کے ایک فطرتی چیز ہے اور نبوت اور وحی اور جبرائیل اور قرآن جو کچھ ہے سب پیغمبر کے دل ہی دل میں سے ہے۔ باہر سے کچھ نہیں آیا۔ وہی بات اس شخص نے چرا کر لکھ دی ہے۔ مگر اپنے منصب تلبیس کی کاروائی کے بعد اصل عبارت اسی طرح رہنے دی دیکھو صفحہ ٣٧٢۔

تنبیہ : یہ شخص الفاظ وہی بولتا ہے جو اہل اسلام بولا کرتے ہیں۔ مگر معانی ان کے اور مراد رکھتا ہے۔ اس کے قرآن کریم کو ماننے کی حقیقت تو خوب کھل چکی ہے۔ اسی طرح دیگر ایمانیات پر اس کا ایمان سمجھ لو۔ مثلاً :

مسلمان ...... آپ خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں؟ کادیانی ...... مانتے ہیں۔ مسلمان ...... کس طور پر مانتے ہو جس طور پر آپ کا جی چاہے۔ یا جس طور پر خدا تعالیٰ نے خود تعلیم کیا ہے؟ کادیانی ...... جس طور پر خدا تعالیٰ نے خود تعلیم کیا ہے۔ مسلمان ...... خدائے تعالیٰ نے وہ طور پر آپ کو بلا واسطہ تعلیم کیا ہے یا بالواسطہ؟ کادیانی ...... بالواسطہ۔ مسلمان ...... وہ واسطہ کیا ہے؟

٢٣

صفحہ ٥٥٨

قادیانی...... وحی۔ مسلمان...... کس کی وحی ۔ کیا وہ وحی جو آپ پر نازل ہوتی ہے یا جو محمد ﷺ پر نازل ہوتی تھی۔ قادیانی...... جو محمد ﷺ پر نازل ہوتی تھی؟ مسلمان...... اس وحی کے نازل ہونے کے کیا معنی ہیں؟ قادیانی...... ایک درجہ کی محبت یا روح مذکور کا اثر اور عکس یا مثلاً۔ مسلمان...... آپ رسول اللہ ﷺ کو مانتے ہیں؟ قادیانی...... مانتے ہیں۔ مسلمان...... رسول کس کو کہتے ہیں؟ قادیانی...... جس کو وحی آتی ہے۔ مسلمان...... وحی کس کو کہتے ہیں؟ قادیانی...... ایک درجہ کی محبت کو یا روح مذکور کے اثر اور عکس کو۔ مسلمان...... یہ محبت اور اثر اور عکس غیر رسول پر بھی پڑتا ہے یا نہیں؟ قادیانی...... حسب استعداد سب کے دل پر پڑتا ہے۔ بلکہ میرا یہاں تک ایمان ہے کہ پاگل اور زانیہ پر عین حالت زنا میں (جب...... ہوئی ہو) بھی ضرور پڑتا ہے۔ مسلمان...... جناب آپ کا ایمان آپ ہی کو مبارک ہو۔ آپ کے حریف سعدی نے کیا خوب کہا ہے۔ ”ویوم القیمۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجوہہم مسودۃ“

کذب کی عادت ہیں جو اللہ پر ڈالے ہوئے
دیکھنا روز قیامت ان کے منہ کالے ہوئے
دین جفا ہی نہ چھوڑیں گو اٹھائیں ذلتیں
بے حیا کیا جھوٹ کے سانچے میں ہیں ڈھالے ہوئے

سارے جہان کے جھوٹے مسیحوں کی تردید کا بے مثال نغمہ

ہند کا عیسیٰ جھوٹا ہے قید سے کانا چھوٹا ہے
کالا کاگ کلوٹا ہے باغ فتن کا بوٹا ہے
قہر غضب کا ٹوٹا ہے ہائے نصیبا پھوٹا ہے
حشر نے ماتھا کوٹا ہے کفر نے دین کو لوٹا ہے

٢٤

جھوٹا ہے بھئی جھوٹا
ڈھول بجا بھئی ڈھول
کب ہے جھوٹ کا خول
خالی کنوئیں میں ڈول
لنڈن لیور پول
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا
بول بھلا بھئی بول
دورں بجتا ڈھول
تجھ سے مسیح کول
لال کنوئی کھول
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا
مکر کی گٹھڑی کھولی
پاس کذاب کی جھولی
خاص مریدوں کی ٹولی
جٹ ہے کوئی تتولی
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا
منکر ختم رسالت
ظاہر دشمن حضرت
بانی فسق وبدعت
جاہل ہے یہ بڑی مت
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا
ترتر ترتر ترتر
یہاں نہ چلے گی کچھ
دور پرے چل ہٹ کے
صفحہ ٥٥٩
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
ڈھول بجا بھئی ڈھول بجا پنچوں کا ہے بول بجا
کب ہے جھوٹ کا پول بجا بحث میں ٹال مٹول بجا
خالی کنوئیں میں ڈول بجا دلی سے تا کول
لنڈن لیور پول بجا کہتا ہے لڑکوں کا غول
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
بول بھلا بھئی بول بھلا کانے کا ہے خول بھلا
دورن بجتا ڈھول بھلا کونے بہتر ڈول بھلا
تجھ سے مسیح کول بھلا نکلا ہے یہ جھول بھلا
لال کٹوری کھٹول بھلا جھوٹے کا کیا مول بھلا
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
مکر کی گٹھڑی کھولی ہے ہولی ہے بھئی ہولی ہے
پاس کتاب کی جھولی ہے ہولی ہے بھئی ہولی ہے
خاص مریدوں کی ٹولی ہے ہولی ہے بھئی ہولی ہے
جٹ ہے کوئی ٹھولی ہے ہولی ہے بھئی ہولی ہے
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
منکر ختم رسالت کا یعنی مہر نبوت کا
ظاہر دشمن حضرت کا مصحف رب عزت کا
بانی فسق و بدعت کا طالب ہے پھر جنت کا
جاہل ہے یہ پانی پت کا جاٹ ہے گویا سنپت کا
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
تڑتڑ تڑتڑ تڑتڑ تڑ بات سمجھ یا بھاڑ میں پڑ
یہاں نہ چلے گی کچھ بڑبڑ دلی ہے یہ یا پٹ پڑ
دور پرے چل ہٹ کے سڑ گھر میں بیٹھا پائے گڑ

٢٥

پر نازل ہوتی تھی۔

تک ایمان ہے کہ پاگل اور ظریف سعدی نے کیا خوب کہا

مسودہ “

ے ہوئے
ہوئے
دتیں
ے ہوئے

بے مثال نغمہ

کانا چھونا ہے
کا بوٹا ہے
سا پھوٹا ہے
دین کو لوٹنا ہے
صفحہ ٦١
مثل مسیح بنا مگر شیر کجاؤ کجا گیدڑ
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
بحث ہے تیری لاطائل تجھ کو سمجھیں گے لائل
قائل ہو گا کیا قائل جھوٹے ہیں تیرے سب قائل
تو ہے نبوت پر مائل چپ ہے پیش ہر سائل
تیغ فسق سے ہے گھائل کفر کا پردہ ہے حائل
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
بحث سے دیکھو بھاگ چلا باغ سے کالا کاگ چلا
بن سے بڑھا ناگ چلا کھیت سے بتھوے کا ساگ چلا
علم سے موڑ کے باگ چلا بحر سے ٹوٹ کے جھاگ چلا
بھاگ چلا بے بھاگ چلا سچ کا ستارہ جاگ چلا
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
کب ہے تو موعود مسیح یہ دعویٰ ہے کذب صریح
ورنہ بحث میں کر تنقیح تا ہو مطلب کی توضیح
کانے کے نام کی پڑھ تسبیح کر نہ مسیح کی ہجو ملیح
ہے یہ بے شک فعل قبیح کاذب ہے یہ مسیح ذبیح
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
ہند میں نکلا ہے دجال جس کی چال میں ہے بھونچال
جس کے چیلے ہیں جہال جس کی برکت سے ہے کال
خوب بچھایا مکر کا جال ظاہر ہے مخلوق پہ حال
جھوٹی ہے سب قیل وقال بچے بچے کا ہے خیال
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
در در در در در در در چل دے یہاں جاہل نر
نغمہ میں تیری تال نہ سر جھوٹ کے باندھے تو نے گر

٢٦

عبد درہم کب ہے حر
کانا باقی کر کر کر
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے
شہرت حسب مطلوب ہوئی
بدعت جب مرغوب ہوئی
جدت جب محبوب ہوئی
تم سے خودی منسوب ہوئی
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے
بات ہے تیری جھمیلے کی
کھالے پھلیاں کیلے کی
کر تیاری ٹھیلے کی
کانی ہے جو کریلے کی
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے
پیغمبر کی یہ سچ ہے بات
ہیں وہ دشمن مخلوقات
شاید تابع ہیں جنات
وہم سے کیونکر ہوگی نجات
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے
کلمہ پڑھ کے توبہ کر
باطن پر کر لیجئے نظر
شکل بشر ہو پر ہو بقر
موت ہے سر پر موت سے ڈر
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے

اب دام مکر کسی اور جا بچھایئے

صفحہ ٥٦١
عبد درہم کب ہے حر نقد دیں کا کیسہ بر
کانا باتی کر کر کر سچ کہتے ہیں حق ہے مر
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
شہرت حسب مطلوب ہوئی حکمت سب مسلوب ہوئی
بدعت جب مرغوب ہوئی سنت سب محجوب ہوئی
جدت جب محبوب ہوئی لطف سب معتوب ہوئی
تم سے خودی منسوب ہوئی خوب ہوئی بھئی خوب ہوئی
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
بات ہے تیری حیلے کی ہمت طاقت ڈھیلے کی
کھالے پھلیاں کیلے کی چیز ہے دلی کے میلے کی
کر تیاری ٹھیلے کی ٹانگ پکڑ لے چیلے کی
کانی ہے جو کریلے کی دو کوڑی کم دھیلے کی
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
پیغمبر کی یہ سچ ہے بات تیس ہیں سب دجال صفات
ہیں وہ دشمن مخلوقات یعنی مضل جملہ جہات
شاید تابع ہیں جنات کرتے ہیں جن سے معلومات
وہم سے کیونکر ہوگی نجات ہے شیطان کے ہاتھ میں ہات
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
کلمہ پڑھ کے توبہ کر تیری کہانی ہے گھر گھر
باطن پر کر لیجئے نظر مہر ضلالت ہے دل پر
شکل بشر ہو پر ہو بشر کرتا ہے عقبیٰ کا سفر
موت ہے سر پر موت سے ڈر ورنہ کہے گا یوں مسٹر
جھوٹا ہے بھئی جھوٹا ہے جھوٹے کا دعویٰ ٹوٹا ہے
اب دام مکر کسی اور جا بچھایئے بس ہو چکی نماز مصلےٰ اٹھایئے

تمت

٢٧

صفحہ ٥٦٢

حاشیہ جات

پڑھنے سے پیدا ہوتی ہیں اور جس مراد سے لفظ بولے جاتے ہیں۔ اس مراد کو ان لفظوں کے معانی کہتے ہیں۔

مشابہت رکھتے ہیں وہ کیا شے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک عمومی خاصیت ہے جو ہم دونوں کے روحانی قویٰ میں ایک خاص طور پر رکھی گئی ہے۔ جس کے سلسلہ کی ایک طرف نیچے کو اور ایک طرف اوپر کو جاتی ہے۔ نیچے کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی دلسوزی اور غمخواری خلق اللہ ہے جو داعی الی اللہ اور اس کے مستعد شاگردوں میں ایک نہایت مضبوط تعلق اور جوڑ بخش کر نورانی قوت کو جو داعی الی اللہ کے نقش پاک میں موجود ہے۔ ان تمام سرسبز شاخوں میں پھیلاتی ہے۔ اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت قوی ایمان سے ملی ہوئی ہے جو اوّل بندہ کے دل میں بارادہ الٰہی پیدا ہو کر رب قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر ان دونوں محبتوں کے ملنے سے جو درحقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہیں ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الٰہی محبت کی چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کو پکڑ لیتی ہے۔ ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے۔ جس کا نام روح القدس ہے۔“

(توضیح المرام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٢)

”دوسرا درجہ محبت کا وہ ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ جس میں دونوں محبتوں کے ملنے سے آتش محبت الٰہی لوح قلب انسان کو اس قدر گرم کر دیتی ہے کہ اس میں آگ کی صورت پر ایک چمک پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن اس چمک میں کسی قسم کا اشتعال یا بھڑک نہیں ہوتی۔ فقط ایک چمک ہوتی ہے جس کو روح القدس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔“

(توضیح المرام ص ٢٣، خزائن ج ٣ ص ٦٣)

ہے مرکب وہ جہل میں ایسا جیسے کیچڑ میں پھنس گیا بھینسا
دل ہے مرزا کا یا وہ پتھر ہے ہے زباں مونہہ میں یا وہ اخگر ہے
وہ مسافر بشکل انسان تھا لیک باطن میں پورا شیطان تھا
کیسے عیسیٰ اور اس کے چیلے ہیں پیٹ بھرنے کے سب جمیلے ہیں
واہ کیا نام اس نے پایا ہے جس سے شیطان بھی مسکرایا ہے

٢٨

صفحہ ٥٦٣

سے ”اس جگہ اس بات کا بیان کرنا بھی بے موقعہ نہ ہوگا کہ جو کچھ ہم نے روح القدس اور روح الامین وغیرہ کی تعبیر کی ہے یہ درحقیقت ان عقائد سے جو اہل اسلام ملائک کی نسبت رکھتے ہیں منافی نہیں ہے۔ کیونکہ محققین اہل اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٢٩، ٣٠، خزائن ج ٣ ص ٦٦)

”پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اس کی گرمی و روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر ایک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کے اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا نہایت سیدھے اور موحدانہ طریق سے ملائک اللہ کا لقب دیں۔“

(توضیح المرام ص ٣٢، ٣٣، خزائن ج ٣ ص ٦٧ ، ٦٨)

”مثلاً جبرائیل جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیر (سورج) سے تعلق رکھتا ہے اس کو کئی قسم کی خدمات سپرد ہیں۔ انہیں خدمات کے موافق جو اس نیر سے لئے جاتے ہیں۔ سو وہ فرشتہ اگرچہ ہر ایک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے جو وحی الٰہی سے مشرف کیا گیا ہو۔ (نزول کی اصل کیفیت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے نہ واقعی طور پر یاد رکھنی چاہئے) لیکن اس کے نزول کی تاثیرات کا دائرہ مختلف استعدادوں اور مختلف ظرف کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی یا بڑی بڑی شکلوں پر تقسیم ہو جاتا ہے۔“

(توضیح المرام ص ٦٨، خزائن ج ٣ ص ٨٦)

”اور جبرائیلی نور کا چھیالیسواں حصہ تمام جہانوں میں پھیلا ہوا ہے۔ جس سے کوئی فاسق اور فاجر اور پرلے درجہ کا بدکار بھی باہر نہیں بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے۔ جس کی تمام جوانی بدکاری ہی میں گذری ہے۔ کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بسر و آشنا بہر کا مصداق ہوتی ہے کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ جبرائیلی نور آفتاب کی طرح جو اس کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ تمام معمورہ عالم پر حسب استعداد ان کا اثر ڈال رہا ہے اور کوئی نفس بشر دنیا میں ایسا نہیں کہ بالکل تاریک ہو۔ کم سے کم ایک ذرہ سی محبت وطن اصلی اور محبوب اصلی کی ادنیٰ سے ادنیٰ سرشت میں بھی ہے۔ اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ تمام بنی آدم پر یہاں تک کہ ان کی مجانین پر بھی کسی قدر جبرائیل کا اثر ہوتا اور فی الواقعہ ہے بھی۔“

(توضیح المرام ص ٨٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)

٢٩

صفحہ ٥٦٤

جاتی ہے۔ اس کو روح امین کے نام سے بولتے ہیں۔ کیونکہ یہ ہر یک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر یک غبار سے خالی ہے اور اس کا نام شدید القویٰ بھی ہے۔ کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے۔ جس سے قویٰ تر وحی متصور نہیں اور اس کا نام ذوالافق الاعلیٰ بھی ہے۔ کیونکہ یہ وحی الہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے! اور اس کو رای مارای کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اور گمان اور وہم سے باہر ہے اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسان کامل ہے جس پر تمام سلسلہ انسانیہ کا ختم ہو گیا ہے۔“

(توضیح المرام ص ٢٥، ٢٦ ، خزائن ج ٣ ص ٦٣، ٦٤)

حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابتہ الارض کی ماہیت کماہی ہی ظاہر نہ فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور امور متشاکلہ کی طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے اجمالی طور پر سمجھا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں اور ایسے امور میں اگر وقت ظہور کچھ جزئیات غیر معلومہ ظاہر ہو جاویں تو شان نبوت پر کچھ جائے حرف نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

لمبے ہاتھ کا لفظ نکلا تھا۔ بلکہ لمبے ہاتھ کے حقیقی اور ظاہری معنی مراد ہونے پر تو تصدیق نبوی بھی ہو چکی تھی۔ کیونکہ آنحضرتﷺ کے روبرو ہی سرکنڈہ کے ساتھ ہاتھ ناپے گئے تھے اور سودہ کے ہاتھ سب سے لمبے نکلے تھے اور یہی قرار پایا تھا کہ سب سے پہلے سودہ فوت ہوگی۔ کیونکہ آنحضرتﷺ ہاتھوں کے ناپتے دیکھ کر بھی منع نہیں فرمایا تھا۔ جس سے اجماعی طور پر سودہ کی وفات تمام بیویوں سے پہلے یقین کی گئی ۔ لیکن آخر کار ظاہری معنی صحیح نہ نکلے۔ جس سے ثابت ہوا کہ اس پیش گوئی کی اصل حقیقت آنحضرتﷺ کو بھی معلوم نہیں تھی۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٣٥، خزائن ج ٣ ص ٤٩٦)

بولتے تھے جن کا صحیح مطلب خود بھی نہ سمجھتے تھے۔ جیسے ”اطولکن یدا“ منہ سے بولا تو سہی مگر فوت ہونے تک اس کا صحیح مطلب نہیں سمجھ سکے۔

٣٠

PDF 566

خاتم النبیین لا نبی بعدي

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا

نظم حقانی

مسمّٰی بہ سرائر قادیانی

حضرت مولانا محمد سعد اللہ لدھیانویؒ

صفحہ ٥٦٦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اور ایمان والے شاعر بدلہ ’’وانتصروا من بعد ما ظلموا‘‘ لیتے ہیں جب ان پر ظالم ظلم کرتا ہے۔

نظم حقانی مس بہ سرائر کادیانی

یا رب نہ غرور خوش بیانی پر ہو کچھ فخر نہ دل میں نکتہ دانی پر ہو
موجود جو کچھ ہو تیری بخشش سمجھوں جو آس ہو تیری مہربانی پر ہو
یہ آنکھ جو فیض آسمانی پر ہو امید خدا کی مہربانی پر ہو
کاغذ کا یہ صفحہ ہو سپر میرے لئے خامہ مرا حربہ کادیانی پر ہو
دجال کے حق میں گو فضیحت ہے یہ چیلوں کے لئے مگر نصیحت ہے یہ
سچ بات سے کیوں ہو کادیانی کو رنج کچھ ہجو نہیں اس کی مدحت ہے یہ
سعدی سے خفا نہ کادیانی ہونا دور ازرہ بغض و بدگمانی ہونا
سچ کہتا ہوں سن کے آگ مت بن ظالم لازم تجھے شرم سے ہے پانی ہونا
جفار ہے یا تو کادیانی رمال مدت سے سمجھ چکے ہیں تیری ہم چال
یہ پیشہ ہے روسیاہ تجھ کو کرتا دشنام ہمیں نہ دے مثیل الدجال
تاثیر ہوئی یہ کادیانی تیری چیلوں نے جو سیکھی بدزبانی تیری
سعدی کو غرض نہیں اذیٰ سے ان کی اس کو تو فقط ہے گت بنانی تیری

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کادیانی رافضی بے پیر ہے کفر اس کی آج کل جاگیر ہے
کرتا اصحاب نبی پر اتہام کل سلف پر اس کا بدظنی ہے کام
لکھتا ہے نواسؓ کے حق میں خبیث ہے وہ بانی مبانی حدیث
جس میں ہے ذکر نزول عیسوی قاتل دجال یک چشم غوی
تھی نہ کچھ گنجائش تاویل یاں کھول دی طعن صحابی پر زبان
کادیانی کی سنو! اک اور لاف ہے یہ مرویات دیگر سے خلاف

٢

صفحہ ٥٦٧
پھر کبھی کہتا ہے تھا یہ کشف و خواب تجھ سے حق سمجھے ارے خانہ خراب
رافضی نے رفض کے حیلے کئے کچھ بخاری میں تعارض بھر دیئے
راویوں پر کی یہ ظالم نے جفا حافظے کو ان کے لکھا بے وفا
جو روایات آئی ہیں معراج میں پر تعارض کہتا ہے ظالم انہیں
خود نہ تھی تحقیق کی توفیق کچھ عالموں سے بھی نہ کی تحقیق کچھ
رافضی انوار میں جو لکھ گیا نقل وہ اس رافضی نے کر دیا
کہتا ہے گزرے ہیں مشرک سب سلف ہائے کیا پیدا ہوا یہ ناخلف
حضرت عیسیٰ کا وہ خلق طیور شرک ہے ذات خدا میں بے قصور
یہ خیال مشرکانہ ہے فقط یہ تو کیا احیائے موتی ہے غلط
مردہ زندہ ہو نہیں سکتا کبھی ہیں غلط بیہودہ تفسیریں سبھی
کہتا ہے عیسیٰ چڑھے تھے دار پر جو مناسب ہو وہ اس مکار پر
حق تو قرآن میں کرے نفی صلیب یہ کہے سولی پہ لٹکا وہ غریب
رفعت تطہیر بخشے حق اسے دے یہ دشمن دیں یہ احمق اسے
کچھ یہودی بھی ہے گر کچھ رافضی کچھ ہے نصرانی بطور عارضی
قائل ابنیت عیسیٰ ہوا بانی تثلیث چوں ترسا ہوا
تاکہ ابنیت کا لے خود بھی مقام کس قدر ظالم ہوا ہے بدلگام
خارجی بھی ہے کہ مہدی بن گیا میرزا چنگیز خانی ذات کا
مثل حربا رنگ بدلے دمبدم بھانڈ بھی دُنیا میں ہوں گے ایسے کم
کھینچا آخر عیسویت نے وہ طول بن گیا دجال خود احمد رسول
مدعی مسند پیغمبری اصل میں دجال ہے نیچری
مرسل یزدان مریدوں کا ہے یہ دشمن جانی سعیدوں کا ہے یہ
قادیاں کو خود بناتا ہے دمشق ہے ریاست قادیاں کی دل میں عشق
لوگ ہیں انکے یزیدی یہ یزید دشمن جان حسینؓ و بوسعید
یہ خبر ہے سرور عالمؐ نے دی قاتل دجال ہیں عیسیٰ نبی
جب دوبارہ اس جہان میں آئیں گے دین کی خدمت بجا یہ لائیں گے

٣

صفحہ ٥٦٩
قادیانی فتنہ گر کہتا ہے یوں میں وہی عیسیٰ نبی اللہ ہوں
مجھ پہ وحی آتی ہے مثل انبیاء وحی میں میری نہیں دخل خطا
حق سے جو حکم انبیاء کو آئے ہیں انبیاء نے ان میں دھوکے کھائے ہیں
لیکن اس عاجز کی پیشین گوئیاں ہیں نکلتی سر بسر حسب بیان
مرگ عموائیل آتھم کا فساد اور وہ سلطان کا جینا بامراد
قادیانی کی تباہی کر گئے خوب روشن روسیاہی کر گئے
لیک یہ بے شرم باز آتا نہیں اپنے ان دعووں سے شرماتا نہیں
دیتا ہے دجال ابھی دھوکا ہمیں طفل موعود آئے گا نو سال میں
نو برس بھی ہو چکے ہیں اب تمام پر نہ آیا طفل عموائیل نام
گرچہ ہیں دو تین اب موجود بھی ہے فلاں وہ یوں نہیں کہتا کبھی
مارا اس پر میں نے ایک ثاقب شہاب لا سکا یہ سامنے جس کے نہ تاب
ایک گیڈڑ نامہ پھر شائع کیا اشتہار اس اک شغالی کا دیا
لیکن از کاذب صدائے برخاست شد مسلّم کاں مثل بروئے بجاست
اور پنجابی میں دو سی حرفیاں جن میں دجالی کا اس کی تھا بیان
جب ہوا دلی کا ہنگامہ بپا انہزام قادیانی بھی چھپا
آتھم وسلطان کا جب قصہ ہوا اس کا تھوتھو میں پھر حصہ ہوا
اس کی شائع ہوگئیں دجالیاں سراسر مکاریاں رمالیاں
وہ ستمبر کی چھٹی کے اشتہار پھر وہ اکتوبر میں ہشتم کی پکار
قادیانی سخت کھسیانا ہوا غیظ اور غصے سے دیوانا ہوا
یاوہ گوئی پر دلیری کی بہت تھا تو گیڈڑ لیک شیری کی بہت
آتھم وسلطان گو زندہ رہیں پر مسلمان مجھ کو سچا ہی کہیں
گالیاں لکھ لکھ کر بھیجیں برملا حامد واقبال کا بھی منہ چلا
ایک ہی تف سن کے حامد بجھ گیا اس کے بد اقبال نے پیچھا دیا
مگر اک مسخرہ اٹھا اور ہے جس کا مسکن غالباً سنور ہے
نام سے معلوم ہوتا ہے دعی الغرض چیلا ہے اک کوئی سہی

٤

دل میں سازش آریا سے ہے اسے
رافضی کی روح آئی ورنہ کیا
یہ تناسخ ان کا ہے مانا ہوا
بن کے اس جاہل نے شاعر کیا لیا
ہندو ہندو کو ہے کہتا نابلد
منع بالتشدید لایا بے شعور
دیکھ لو چیلے گرو کا ایک حال
گو تشدید آئے نظم کے لئے
گوست بنیا بولتا ہے جائے گوشت
یا ہوا ہے قافیہ چھوٹے کا تنگ
پائجامہ دھوتی ککڑی ہینگ دال
اب گیا ہے بھول اس آواز کو
مولیاں لیلو اری کچھ گاجریں
ساگ لے پالک کا تازہ ساگ لے
بیر لیلو بیر بچوں کے لئے
تو تو رونگا دینے میں، دل تنگ ہے
پہنا پاجامہ وہ لہنگا کیا ہوا
جامنیں لو جامنیں سنور کی
رہتی ہے بڑیوں کی حاجت گانوں میں
ہینگ کی پڑیا اک اس میں ڈال دے
بن کے پٹواری بھلا بیٹھا تمام
کرتے اور ٹوپی پہ چھینٹے ڈال کے
ایک عورت بھی نہ وہ تجھ کو ملی
ہے کہاں وہ وعدہ صبر جمیل
آرزو وہ خاک ہی ہو کر رہی

٥

صفحہ ٥٦٩
دل میں سازش آریا سے ہے اسے ہو گئی ہے ہضم ان کی قے اسے
رافضی کی روح آئی ورنہ کیا ہے تناسخ اعتقاد آریا
یہ تناسخ ان کا ہے مانا ہوا لو یہ مرزائی بھی دیوانہ ہوا
بن کے اس جاہل نے شاعر کیا لیا قادیانی کا سراپا کھا لیا
ہندو ہندو کو ہے کہتا نابلد کھا گیا یوں پائے ہندو بے خرد
منع بالتشدید لایا بے شعور قادیانی جس طرح لفظ غیور
دیکھ لو چیلے گرو کا ایک حال کیا مشدد بولنے میں ہے کمال
کہ تشدید آئے نظم کے لئے شاعری ضرور کرنی چاہئے
گوست بنیا بولتا ہے بجائے گوشت یا جولا ہا دوست کو کہتا ہے دوشت
یا ہوا ہے قافیہ جھوٹے کا تنگ یوں نکالا شاعری کا تازہ ڈھنگ
پائجامہ دھوتی تکڑی ہینگ دال دیکھئے رائیں کی ہے کیا بول چال
اب گیا ہے بھول اس آواز کو ٹوکرے میں سبزیوں کے ساز کو
مولیاں لیلو اری کچھ گاجریں دفع ہو مردار باسی کیا کریں
ساگ لے پالک کا تازہ ساگ لے تازہ کچھ اوپر ہے اور باسی تلے
بیر لیلو بیر بچوں کے لئے تول میں گیہوں سے ہیں آدھے دیئے
تو تو رونگا دینے میں دل تنگ ہے اور تکڑی میں تیری پاسنگ ہے
پہنا پاجامہ وہ لہنگا کیا ہوا جھاڑیوں میں پھٹ گیا لہنگا بوا
جامنیں لو جامنیں سنور کی دیکھی اور کھائی نہ ہوں اس طور کی
رہتی ہے بڑیوں کی حاجت گانوں میں لالہ بڑیوں کا مصالح دے ہمیں
ہنگ کی پڑیا اک اس میں ڈال دے اور کالے ماش کی کچھ دال دے
بن کے پٹواری بھلا بیٹھا تمام رہ گئے ہیں یاد کچھ چیزوں کے نام
کرتے اور ٹوپی پہ چھینٹے ڈال کے کیا ملا او باکے دجال کے
ایک عورت بھی نہ وہ تجھ کو ملی پر نہ آیا تیرا منشاء دلی
ہے کہاں وہ وعدہ صبر جمیل تھی جو تیرے وصل پر کامل دلیل
آرزو وہ خاک ہی ہو کر رہی بات کیا دجال نے سچی کہی

٥

صفحہ ٥٧١
یعنی اس کو اور ہی اک لے گیا داغ حرماں تیرے دل کو دے گیا
پیش دستی یاد تھی سلطان کی آرزو تھی خاک وخوں میں مل چکی
فال بینی دیکھیئے دجال کی کھینچ دی تصویر اپنے حال کی
جال میں دجال کے تو پھنس گیا مثل خر دلدل کے اندر دھنس گیا
ہم تجھے سمجھا چکے اس وقت بھی تو نہ سمجھا پر نہ سمجھا اے غبی
عرش پر رکھے تو سرخی کی دوات سو نکالے رفعت عیسیٰ میں بات
کیا وہاں کھاتا ہے کیا پیتا ہے وہ کیا پہنتا کس طرح جیتا ہے وہ
خوان اس کے سامنے چنتا ہے کون کون سیتا کپڑے اور بنتا ہے کون
قادیانی سے نہ پوچھے تو مگر واں وہ سرخی کس نے رکھ دی گھول کر
انگلیوں کو لگ گئی جس کی تری دیکھتی ہے جس کو چشم عنصری
رنگ ان کپڑوں پہ ایسا چڑھ گیا آساں پر کیوں نہ عیسیٰ چڑھ گیا
تف تعصب پر تیرے او روث خر کینہ عیسیٰ پہ کیوں باندھی کمر
چار سو کیوں غل مچایا بے حیا دار پر عیسیٰ چڑھا پھر مر گیا
کیوں ہے تائید نصاریٰ اور یہود کیوں تنا ہے کفر کا یہ تاروپود
حق کہے اس کو نہیں سولی دیا بلکہ اس کا رفع ہم نے کر لیا
حق کرے تطہیر سے دل جن کا شاد تو انہیں سولی چڑھائے نامراد
جانب حق رفعت ان کی ہو چکی تو کہے میخ اس کے ہاتھوں میں ٹھکی
گربہ سنور کی دیکھو یہ گھات بے محل بیہودہ بالکل واہیات
تہمت تقلید شخصی دی مجھے طنز ہندو زادہ کہہ کر کی مجھے
ہجو گوئی کا لگایا اتہام اصل میں اس کے گرو کا ہے جو کام
میں حقیقت اپنی کرتا ہوں بیان تا ہو سب پر اصل کیفیت عیاں
ہاں مرے ما باپ ہندو تھے کبھی میں نے پائی کفر سے آزادی
رحمت حق نے نکالا کفر سے بن کے ہادی دور ڈالا کفر سے
مل گیا اوستاد ہمنام رسول میرے مولیٰ سعی کر اس کی قبول
جنت الفردوس میں جگہ دے اسے قرب پیغمبر میں ماوا دے اسے

٦

ہے اثر اس کی فقط تعلیم کا
بوستاں سعدی شیراز میں
مصلح الدین سعدی شیراز پر
لکھ گیا اک شعر میں وہ نیک ذات
سعدیا ممکن نہیں راہ صفا
حق نے دی توفیق پھر جیسی جسے
مہملات کفر سے نفرت ہوئی
بہر ایمان میں ہوا گھر سے غریب
میں تھا عائل مجھ کو حق نے زر دیا
دین ودنیا میں عطاء کی منفعت
اس لباس کفر سے چھوٹا بدن
عقل کی میزان عطاء کی پھر مجھے
پاک کھانے بخشے کھانے کے لئے
اہل عزت بن گئے سب میرے دوست
میرا دل اسلام پر قائم کیا
اہل بدعت سے کیا بیزار دل
صالحوں سے دل میں الفت دے مجھے
اولیاء رحمن کے بندے جو ہیں
ہے جناب حق سے ہر دم التجا
ہیں جو شیطان اولیاء شیطان کے
وہ کہیں اس کو تعصب یا حسد
میرے مولا تو صحیح ادراک دے
جو خطا نسیان ہو تو کر دے معاف
کر گناہوں سے مرے تو درگذر
مجھ سے رد قادیانی کر قبول
صفحہ ٥٧١
ہے اثر اس کی فقط تعلیم کا دل میں ایمان میرے قائم ہوگیا
بوستاں سعدی شیراز میں گلشن توحید دکھلایا ہمیں
مصلح الدین سعدی شیراز پر رحمتیں اللہ کی شام و سحر
لکھ گیا اک شعر میں وہ نیک ذات قاعدہ کلیہ اک بہر نجات
سعد یا ممکن نہیں راہ صفا چل سکیں جز پیروی مصطفٰے
حق نے دی توفیق پھر جیسی مجھے بھر لیا دامن گل توحید سے
مزبلات کفر سے نفرت ہوئی اور آخر ایک دن ہجرت ہوئی
بہر ایمان میں ہوا گھر سے غریب نیک بختوں نے کیا مجھ کو قریب
میں تھا عائل مجھ کو حق نے زر دیا سالک راہ ہدایت کر دیا
دین ودنیا میں عطاء کی منفعت فضل سے بخشے مراحم اور سعہ
اس لباس کفر سے چھوٹا بدن جامہ شرعی ہوا ملبوس تن
عقل کی میزان عطاء کی پھر مجھے تا نہ دے دھوکا کوئی کافر مجھے
پاک کھانے بخشے کھانے کے لئے دال ہوں جو خیر پر ساتھی دیئے
اہل عزت بن گئے سب میرے دوست وایں ہمہ فضل وعطا ولطف اوست
میرا دل اسلام پر قائم کیا اور مذہب اہل سنت کا دیا
اہل بدعت سے کیا بیزار دل راہ سنت میں ہوا ہشیار دل
صالحوں سے دل میں الفت دے مجھے دی نہ صحبت اہل بدعت کی مجھے
اولیاء رحمٰن کے بندے جو ہیں جان و دل سے خاکپا ان کا ہوں میں
ہے جناب حق سے ہر دم التجا حشر بھی ہمراہ انہیں کے ہو مرا
ہیں جو شیطان اولیاء شیطان کے سخت بغض وکینہ ہے ان سے مجھے
وہ کہیں اس کو تعصب یا حسد تا بمقدور ان کو میں کرتا ہوں رد
میرے مولا تو صحیح ادراک دے سعی مشکور اور نیت پاک دے
جو خطا نسیان ہو تو کر دے معاف اہل ایمان سے رہوں میں سینہ صاف
کر گناہوں سے مرے تو درگزر عفو کر اے میرے مولیٰ عفو کر
مجھ سے رد قادیانی کر قبول ہوں مرادات دلی میری حصول

٧

صفحہ ٥٧٢
نوکری اچھی ملی عزت ملی مل گئیں ساری مرادات دلی
اور جو حاجت ہو یا رب کر عطا بے نہایت ہے تیری سب پر عطاء
میں نہ منشی ہوں نہ کوئی مولوی فضل سے تیرے مگر ہے دل قوی
تیرا عاجز بندہ سعد اللہ ہوں تیری رحمت سے سعیدوں میں رہوں
وانچہ از افضال رب اکرم است علم الانسان ما لم یعلم ست
برزبانم آمد از القائے حق میکنم تحدیث نعمت ہائے حق
من چہ چیزم نیز سعی من چہ چیز شد ہمہ از رحمت رب عزیز
دور رکھے حق غرور و کبر سے خود پسندی میں نہ عاجز دل پھنسے
صدق وتقویٰ دارم از حق مدعا لا تزغ یا رب قلبی شد دعا
قصد آزر بہت مشہور ہے اور انی ذاہب مذکور ہے
ہے دعا لا تحزنی یوم النشور اے مرے ہادی مرے رب غفور
حق نے جب بیٹے کو مؤمن کر دیا کیا ضرر دے کفر اسے ماباپ کا
بالکے دجال کے او پرجفا مجھ پہ ہندو زادگی کا طعن کیا
اس سے عقبیٰ میں نہیں ہے عیب کچھ اور نہ دنیا میں کہیں ہے عیب کچھ
ہے غضب التقوا زادہ ہو جو یوں نسب میں اپنی افتادہ ہو جو
فال ناموں سے کرے بدگمانیاں اور دے لوگوں کو فاحش گالیاں
ابن مریم عیسیٰ موعود ہو آل احمد مہدی معہود ہو
جانے ایسے پر جفا کو تو ولی وقتِ قسمت عقل کچھ تو نے نہ لی
یاد رکھ یہ بات بالکل صاف ہے گالیاں خود شیوہ اجلاف ہے
حضرت عیسیٰ نے اک دن وقت سیر تھا کہا خنزیر سے اذہب بخیر
چور کو چوری میں مشغول دیکھ کر بد گمانی کی تھی اپنی آنکھ پر
ظاہری اعمال سے کیا بن سکے گر عقائد دل میں ہوں کفار کے
سب عمل اسلام کے کرنا قبول لیک بننا خود نبی مرسل رسول
لفظ جزئی سے اسے پھر ٹالنا کفر کو درپردہ اپنے پالنا
وحی میں ہو انبیاء سے ہمسری بلکہ ان سے بھی دکھانا برتری

٨

٣

گر نہیں یہ کفر پھر ہے کفر کیا
کس ولی حق نے یہ دعویٰ کیا
انبیاء کی گو غلط جائے خبر
مخبر صادق نے ہے فرمایا
بعد میرے اب نبی کوئی نہیں
تیس دجالوں کے آنے کی خبر
ہوں گے اپنے زعم میں یہ سب نبی
قادیانی کا ہے صاف اس میں بیان
ذکر جس کا سورۂ جن کے اخیر
گو محدث یہ بڑھاتا ہے وہاں
خوب ثابت اور مبرہن ہوگیا
اس کے سودے کی شکایت ہے بجا
شعر اس مضمون کے ہیں موزوں کئے
بدمعاش اب نیک از حد بن گئے
عیسیٰ دوراں بنے دجال ہیں
کچھ نہ صحبت میں اثر نہ بات میں
اور کہیں تصنیف کے ہیں اشتہار
پیشگی قیمت مگر لیتے ہیں وہ
قیمتیں کھا کر نہیں لیتے ڈکار
اپنی تعریفوں سے بھرتے ہیں کتاب
سیکڑوں کرتے ہیں گو وعدے خلاف
بات کو ہوتی ہے گنجائش بہت
مہدی وقت ہے کوئی مشہور
نہ عیاں اس میں عیسوی برکت
آفریں اے میر ناصر آفریں
صفحہ ٥٧٣
گر نہیں یہ کفر پھر ہے کفر کیا کر نہ یوں بدنام نام اولیاء
کس ولی حق نے یہ دعویٰ کیا وحی میں ہوں میں مثال انبیاء
انبیاء کی گو غلط جائے خبر ہے غلط سے پاک یہ عاجز مگر
مخبر صادق نے یہ فرمایا میں ہوں ختم مرسلین وانبیاء
بعد میرے اب نبی کوئی نہیں جو کرے دعویٰ ہے جھوٹا بالیقین
تیس دجالوں کے آنے کی خبر دے گیا وہ ہادی جن وبشر
ہوں گے اپنے زعم میں یہ سب نبی یہ علامت ہے ہر ایک دجال کی
قادیانی کا ہے صاف اس میں بیان متنبی ہوں میں رسول غیب دان
ذکر جس کا سورۂ جن کے اخیر غیب بارے میں کرتا ہے خبیر
گو محدث یہ بڑھاتا ہے وہاں فن دجالی دکھاتا ہے وہاں
خوب ثابت اور مبرہن ہوگیا اب ہے دجالی میں اسکی کسر کیا
اس کے فتنے کی شکایت ہے بجا ہاتھ سے ہے اس کے روتا برملا
شعر اس مضمون کے ہیں موزوں کئے چند ان میں سے نمونہ دیکھئے
بدمعاش اب نیک از حد بن گئے بو مسیلم آج احمد بن گئے
عیسیٰ دوراں بنے دجال ہیں ہر طرف مارے انہوں نے جال ہیں
کچھ نہ صحبت میں اثر نہ بات میں ڈالتے ہیں ہم کو وہ آفات میں
اور کہیں تصنیف کے ہیں اشتہار بے عمل لوگوں نے کیا ہے روزگار
پیشگی قیمت مگر لیتے ہیں وہ خلق کو اس طرح دم دیتے ہیں وہ
قیمتیں کھا کر نہیں لیتے ڈکار جیسے آتا تھا کہیں ان کا ادھار
اپنی تعریفوں سے بھرتے ہیں کتاب آیت قرآن ہیں گویا ان کے خواب
سیکڑوں کرتے ہیں گو وعدے خلاف کم نہیں ہوتے مگر لاف وگزاف
بات کو ہوتی ہے گنجائش بہت حیلہ سازی میں ہے آسائش بہت
مہدی وقت ہے کوئی مشہور کوئی بنتا ہے عیسیٰ دوراں
نہ عیاں اس میں عیسوی برکت نہ ہدایت کا اس میں نام ونشاں
آفریں اے میر ناصر آفریں اپنے دیں کا حق ہے خیر الناصریں

٩

صفحہ ٥٧٤
پردہ در دجال کا تجھ کو کیا کام اپنے دیں کا تجھ سے لے لیا
ہوتا اس سے یہ ترا رشتہ نہ گر کون یوں ہو سکتا اس کا پردہ در
تو ہی تھا جو راز کو افشاء کرے کام اس خالق کے ہیں حکمت بھرے
تجھ سے بڑھ کر گھر کا بھیدی ہے کہاں ہے تیرا سچی شہادت پر بیان
سب تجھے معلوم گھر کا حال ہے جانتا دجال کی تو چال ہے
خاص خلوت کے تجھے معلوم راز اپنی معلومات پر تھا تجھ کو ناز
ہے بہت تیرا ذریعہ معتبر اندرونی تجھ کو ملتی ہے خبر
کیونکہ صاحب جن کا ٹیلی گرام برق سے بھی کچھ سوا دیتا ہے کام
تو ہے خود حال براہین جانتا ہم نے خود تجھ سے سنا اس کا پتا
تین سو جز کی براہین جھوٹ ہے کچھ نہیں لکھا یہ تین جھوٹ ہے
جلد چہارم کے سوا اب کچھ نہیں چاہئے زر اور مطلب کچھ نہیں
قیمت اس کی پانچ دس پچیس ہیں دیکھ لو گن کر یہ جز پینتیس ہیں
کر کے اللہ کے حوالے یہ کتاب کیا ٹکا سا دے دیا تم کو جواب
دیکھ لو جلد چہارم کا اخیر مال مردم اب اسے مارا ہے شیر
جلد پنجم کا کوئی وعدہ نہیں بس یہی کافی ہے اب بہر یقین
شرط باندھ کر برملا کہتا ہوں آج سچا ہے مرزا تو دکھلائے سراج
کھا گیا لے لے کے اس پر سیکڑے اس طمع پر کس طرح پوری پڑے
بیع کیا معدوم کی کر لی حلال زر کمانے میں ہے یہ صاحب کمال
عیب ذاتی بھی بیاں کرتا تھا تو بے دھڑک سب پر عیاں کرتا تھا تو
تھے ہٹاتے یار تو ہٹتا نہ تھا ایسے رشتہ پر بھی کچھ کٹتا نہ تھا
نور دین سے بھی تھی بدظنی تجھے ماجرا طرفہ سنایا تھا مجھے
نسخہائے باہ کے قصے ہیں یاد روغن بادام کا وہ ازدیاد
اہل ایمان جب کہ ایسا حال ہو قادیانی کیوں نہ پھر دجال ہو
پڑھ کے ظاہر میں تشہد اور نماز تم کو دھوکہ دیتا ہے یوں حقہ باز
اس کے دھوکوں میں نہ ہرگز آؤ تم سن کے وہ فتویٰ نہ کچھ گھبراؤ تم

١٠

یا منافق تھے نہ کہتے ہو
کیا نمازیں ساتھ وہ پڑھتے نہ تھے
حق نے فرمایا ہے بیشک تو رسو
آڑ میں ایمان کے بے ایمان ہیں
آؤ اب عیسائیو مرزا
باز آؤ چھوڑو اس دجال
اس سے پہلے کیا مسلماں تھے نہ
ہاں یہ سیکھے ہو کہ عیسیٰ مر
قادیانی کا ہے اس میں کیا
میں ہوں عیسیٰ اس قدر ایجاد
اس نے جو اعلام سے حاصل
کہتے ہو سید مغل کو ہے غصہ
بچہ القوا ظلم
معجزے عیسیٰ کے عجل سام
پھر کبھی کہتے ہو تھا تربی
وحی کو سمجھے نہ ختم الا
دابہ کیا چیز ہے دجال
ہندوؤں عیسائیوں کا رد ہو
فی الحقیقت اب کس میں جان نہ
لایزالون آیا ہے قرآن
پھر ولو شئنا لا تینا بھی
ہے مخالف گر کوئی لکھتا کتا
کس لئے کوئی نئی تصنیف
فتنہ ترسا فساد
صفحہ ٥٧٥
کیا منافق تھے نہ کہتے برملا تو رسول اللہ ہے یا مصطفیٰ
کیا نمازیں ساتھ وہ پڑھتے نہ تھے جنگ کو ہمراہ کیا چڑھتے نہ تھے
حق نے فرمایا ہے بیشک تو رسول پر ہے جھوٹوں کی شہادت ناقبول
آڑ میں ایمان کے بے ایمان ہیں یہ ان سے بچ بدخواہ دین و جاں ہیں یہ
آؤ اب عیسائیو مرزائیو یعنی ان ٹھگیوں کے بھائیو
باز آؤ چھوڑو اس دجال کو فال میں رمال کو اے بالکو
اس سے پہلے کیا مسلماں تھے نہ تم لگ گئی ہے کون سی اب اور دم
ہاں یہ سیکھے ہو کہ عیسیٰ مرگیا ہاتھ سے اعداء کے سولی پر گیا
قادیانی کا ہے اس میں کیا ہنر نیچری نے یہ سکھایا پیشتر
میں ہوں عیسیٰ اس قدر ایجاد ہے اصل میں وہ نیچری استاد ہے
اس نے جو اعلام سے حاصل کیا نیچری نے خود بخود وہ پالیا
کہتے ہو سید مغل کو ہے غضب قادیانی مہدی و عیسیٰ ہے اب
بچہ اٹھوا ظلم سے مہد صدقہ میں تم رکھنے لگے
معجزے عیسیٰ کے عجل سامری یوسف نجار کی کاری گری
پھر کبھی کہتے ہو تھا مسمری عمل کشف عیسیٰ میں رہا اکثر خلل
وحی کو سمجھے نہ ختم الانبیاء قادیانی نے وہ اب ظاہر کیا
دابہ کیا چیز ہے دجال کیا کیا گدھا اس کا ہے اس کی چال کیا
ہندوؤں عیسائیوں کا رد بہت چھپ کے شائع ہو چکا بے حد بہت
فی الحقیقت اب کس میں جان نہیں کوئی بسمل سا تڑپتا ہے کہیں
لایزالون آیا ہے قرآن میں یوں رہے گا اختلاف ادیان میں
پھر ولو شئنا لا تینا بھی ہے بات حق القول منی میں ہے طے
ہے مخالف گر کوئی لکھتا کتاب اب بھی ملتا ہے اسے مفحم جواب
کس لئے کوئی نئی تصنیف ہو اور کیوں بے فائدہ تکلیف ہو
فتنۂ ترسا فساد آریا عالماں دیں نے باطل کر دیا

11

صفحہ ٥٧٦
گر ہے شوق بحث استفسار دیکھ شوکت اسلام کا اظہار دیکھ
گر دل بینا ہے کافی ہے نوید کھل گئے ہیں مذہب ترسا کے بھید
تحفۃ الہند اک صحیفہ ہے عجب قوم ہندو کی ہدایت کا سبب
بت شکن کا خلعت زیبا ہے خوب مذہب ہندو کا مرآۃ العیوب
اس میں ہے اسلام کا دل جوئیاں ہیں مبرہن دین حق کی خوبیاں
خلعت شش پارچہ بخشا عجیب ہو گیا نادم خجل ہندو غریب
اور سوط اللہ ہے عمدہ کتاب فتنہ اندر منی کا سد باب
الغرض ایسے رسالے ہیں بہت دین باطل کے ازالہ ہیں بہت
حق کے تائیدی مقالے ہیں بہت باغ جنت کے قبالے ہیں بہت
اور کچھ حاجت نہیں تحریر کی طبع ہیں ہاں چاہئے کچھ زر کی
کافر ان کو پڑھ کے ایمان لاتے ہیں دین حق کے جلوے ان میں پاتے ہیں
کفر کی ظلمت سے جو گھبرا گئے امت ختم الرسل میں آگئے
تھے جو شپر چشم ہیں وہ لاعلاج واں نہیں رکھی ازل سے احتیاج
قادیانی کی کتابیں دیکھ کر کون کافر آیا راہ راست پر
گر کوئی ہو تو نشاں دے دو کہیں کیا نشاں دو گے کہیں کوئی نہیں
بلکہ کچھ دیندار کافر ہو گئے صدق دل سے قادیاں میں جو گئے
جس نے مانا ہیں دعاوی اس کی سچ لگ گیا اس کفر کے کرنے وہ مچ
پھنس گئے کچھ بھولے بھالے جال میں پڑ گئے ہیں فتنہ دجال میں
جب دیا جاتا ہے کچھ الزام انہیں سوجھتے ہیں کیسے عذر خام انہیں
کرتے ہیں تاویل ان اقوال کی یوں حمایت کرتے ہیں دجال کی
قادیانی مدعی اس بات کا ہے ہماری وحی معصوم از خطا
دخل سے شیطان کے بالکل ہے پاک ایسے جھوٹے مفتری کے منہ میں خاک
پیش گوئی ہی مری معیار ہے اور اسی پر باربار اصرار ہے
اور چیلوں کی ادھر سے ہے پکار پیش گوئی پر نہیں دارومدار

١٢

کر غلط نکلے تو نکلے کیا ہو
کیا بیاں ہے سورہ زلزال کا
وہ قیامت کا بیان سب جھوٹ ہے
ہے جو فی التکویر تعطیل عشار
یہ نئی تفسیر اس کی خوب ہے
حضرت اقدس کی یہ تجدید ہے
اور جو نشر صحف کا ہے بیاں
نور واحسن دو ملک ہیں اس کے ساتھ
آسماں سے اترے ہیں لے کر اسے
حضرت اقدس مسیحائے زماں
اس نے دونوں کو بنایا ہے ملک
ہو گیا ان کا یہی اب ماجرا
کیا مثل آئی ہے یہ ان پر درست
کہتے ہیں مرزا کو کافر مت کہو
بے وقوفی کا ہو ان کی کیا علاج
راجپور کے ایک ہیں فدوی کلیم
دور ہی سے بھیجتے ہیں نذر بھی
بعض جاہل امر دیں سے بے خبر
قادیانی کے ہیں پیچھے جا رہے
اور پھر کہتے ہیں ہم محتاط ہیں
احتیاط اس میں بھلا کیا خاک ہے
قادیانی فتنہ نوزائیدہ ہے
چاہئے ہر ایک کو اس سے حذر
سب پہ لازم اس کی سرکوبی ہے
صفحہ ٥٧٧
گر غلط نکلے تو نکلے کیا ہوا ہم تو ہیں قرآں سمجھنے پر فدا
کیا بیاں ہے سورہ زلزال کا بن گیا نقشہ زمان حال کا
وہ قیامت کا بیان سب جھوٹ ہے ہے جو تفسیروں میں ہاں سب جھوٹ ہے
ہے جو فی التکویر تعطیل عشار اس کا باعث ہے یہ دجالی حمار
یہ نئی تفسیر اس کی خوب ہے جو پرانی ہے وہ سب معیوب ہے
حضرت افض کی یہ تجدید ہے واہ کیا الحاد کی تائید ہے
اور جو نشر صحف کا ہے بیاں ڈاکخانوں کے ہیں یہ چٹھی رساں
نور و احسن دو ملک ہیں اس کے ساتھ بازؤں پر جن کے رکھتا ہے یہ ہاتھ
آسماں سے اترے ہیں لے کر اسے ہیں بٹھاتے عرش و کرسی پر اسے
حضرت اقدس مسیحائے زمان مرسل یزدانی و کہف الامان
اس نے دونوں کو بنایا ہے ملک وہ کراتے ہیں اسے سیر فلک
ہو گیا ان کا یہی اب ماجرا من ترا حاجی بگوئم تو مرا
کیا مثل آئی ہے یہ ان پر درست مدعی ہے سست اور شاہد ہیں چست
کہتے ہیں مرزا کو کافر مت کہو حق کو سوچو اور مشفق چپ رہو
بے وقوفی کا ہو ان کی کیا علاج یہ جہالت کا مرض ہے لاعلاج
رامپور کے ایک ہیں فدوی کلن قادیانی کا نہ سمجھے مکر و فن
دور ہی سے بھیجتے ہیں نذر بھینٹ قادیانی کا کہیں بھر جائے پیٹ
بعض جاہل امر دیں سے بے خبر کہتے ہیں خذ ما صفاء دع ما کدر
قادیانی کے ہیں پیچھے جا رہے ہیں نجاست میں سے حلوا کھا رہے
اور پھر کہتے ہیں ہم محتاط ہیں راہ دیں میں جانب اوسط ہیں
احتیاط اس میں بھلا کیا خاک کی پاک میں کچھ کھا گئے ناپاک بھی
قادیانی فتنہ نوزائیدہ ہے کام اس مکار کا پیچیدہ ہے
چاہئے ہر ایک کو اس سے حذر دین سے ہیں جو خصوصاً بے خبر
سب پہ لازم اس کی سرکوبی ہوئی حسب طاقت حق نے ہے جو دی ہوئی

١٣

صفحہ ٥٧٨
عالم اس کے کفر کو ظاہر کریں کچھ نہ گیدڑ بھبکی اس کی سے ڈریں
تاکہ اس کے داؤ میں آئیں نہ لوگ پھیلے اس کے کفر و بدعت کا نہ روگ
جن کو فن شعر میں ہو دسترس غیرت دینی سے بھی رکھتے ہوں مس
مثل حسّاں ہوں مؤید دیں کے حق سے وہ مورد بنیں تحسین کے
نظم میں لکھ دیں جو اس کا حال ہو جس سے کشف سیرت دجال ہو
چاہئے لیکن زباں بھی عام فہم مٹ سکیں لوگوں کے جس سے شک و وہم
ہاتھ سے ہرگز نہ جائے راستی ہو قلم گویا عصائے راستی
فخر کی اس میں طلب مطلق نہ ہو مدعا غیر از رضائے حق نہ ہو
نظم ایسی نیزہ ہی دجال پر ناگہانی مرگ ہے محتال پر
ہوش اڑ جائیں سنے جب برملا اپنے اسرار خفیہ کا پتا
نیچری بھی اس پر پیٹیں تالیاں واہ مرزا آپ کی رمالیاں
کوچہ وبازار میں ہوں شادیاں وہ کٹا دیکھو مسیح قادیاں
راستوں پر ہوں یہ خوش الحانیاں کھل گئیں جھوٹے کی بے ایمانیاں
قادیانی وائے بر ناکامیت برد سلطاں زوجۂ الہامیت
قادیانی پیٹ بیٹھا ہاتھ پاؤں اب مبارک ہو گیا منحوس گاؤں
گھر میں سلطاں کے مبارک بادیاں ہائے تجھ پر ہیں یہ کیا بیدادیاں
ہر طرف سے جب سنے اس شور کو قادیانی سر بسر مبہوت ہو
گالیاں دے اہل ایمان کو تمام سب کو لکھے بد نسب نسل حرام
سر دھنے بکواس پر باندھی کمر سب پہ ظاہر ہو کہ ہے جھوٹا لچر
ایسا بکواسی ولی حق نہیں جس کو شرم واتقاء مطلق نہیں
منہ پہ ہیں بازاریوں کی گالیاں یہ مسیحا کی بد استقلالیاں
ہے جو ہاجی ہائم فی کل واد منزل شیطان ہے پاجی نامراد
راہ دیں میں شاعری بھی ہے ہنر انتصار دین حق ہے سر بسر
ہے غرض دجال کی پردہ دری جس سے ہو اظہار کذب مفتری

١٤

ہے یہ سب تائید دین کا واسطہ
کفر صادر ہو چکا دجال سے
ہم جو دیتے ہیں حوالہ دیکھ لو
اب بھلا توضیح کی توضیح کیا
آئینہ میں نقش ہیں دجال کے
اب یہ تاویلات ہیں سب جو بکے
گر رہا اس پر مہر کافر مرتد
اشتہار توبہ ہو یوں مشتہر
دخل یہاں تقلید کا مطلق نہیں
دل سے ہیں مشتاق تحقیقات ہم
بوحنیفہ شافعی مالک امام
بوحنیفہ کو نہیں ہم چھوڑتے
ہم وصیت پر ہیں ان کی کاربند
رکھتے ہیں پیش نظر قول امام
گر نہ ہو معلوم کوئی مسئلہ
پوچھتے ہیں کوئی آیت یا حدیث
جس جگہ اجمال ہے قرآن میں
اہل سنت کا یہ مذہب ہے تمام
کچھ معانی میں تردد ہو جہاں

نام قول اک غزل ا

شرح فرقاں ہے حدیث مصطفی
مومنوں کے واسطے قرآں کے ساتھ
مصطفی کو مثل قرآں جو نہ
صفحہ ٥٧٩
ہجو گوئی سے اسے کیا واسطا ہے یہ سب تائید دین کا واسطا
بے سند کافر نہیں کہتے اسے کفر صادر ہو چکا دجال سے
فتح وتوضیح وازالہ دیکھ لو ہم جو دیتے ہیں حوالہ دیکھ لو
وہم کیا پھر جب ازالہ ہوچکا اب بھلا توضیح کی توضیح کیا
بن کے اندھے ہو گئے تم بالکے آئینہ میں نقش ہیں دجال کے
ادعا سارے ہیں وہ کھلم کھلے اب یہ تاویلات ہیں سب جو چلے
ہو مسلماں ان سے گر توبہ کرے گر رہا اس پر مصر کافر مرے
دعویٰ اب ایسے کبھی ہوں گے نہ پھر اشتہار توبہ ہو یوں مشتہر
مسلک اپنا غیر راہ حق نہیں دخل یہاں تقلید کا مطلق نہیں
بے سند مانیں نہ کوئی بات ہم دل سے ہیں مشتاق تحقیقات ہم
اور احمد رہبر دیں ہیں تمام ابوحنیفہ شافعی مالک امام
فہم سے ہرگز نہیں منہ موڑتے ابوحنیفہ کو نہیں ہم چھوڑتے
ہے ہمیشہ ہم کو را ان کی پسند ہم وصیت پر ہیں ان کی کاربند
عالموں سے پوچھتے ہیں برملا رکھتے ہیں پیش نظر قول امام
دیں کی ہے قرآں نہایت یا حدیث گر نہ ہو معلوم کوئی مسئلہ
شرح ملتی ہے حدیثوں سے ہمیں پوچھتے ہیں کوئی آیت یا حدیث
تابع راہ ہدایت پر سلام جس جگہ اجمال ہے قرآن میں
ہے حدیث مصطفیٰ قاضی وہاں اہل سنت کا یہ مذہب ہے تمام
کچھ معانی میں تردد ہو جہاں
نام قول مصطفیٰ تو نے لیا
اک غزل اس پر سنا دے سعدیا
نور عرفاں ہے حدیث مصطفیٰ شرح فرقاں ہے حدیث مصطفیٰ
فضل رحمان ہے حدیث مصطفیٰ مؤمنوں کے واسطے قرآن کے ساتھ
وہ مری جاں ہے حدیث مصطفیٰ مصطفیٰ کو مثل قرآن جو ملا

١٥

صفحہ ٥٨٠
جس سے تبیین کلام اللہ ہو بس وہ تبیان ہے حدیث مصطفیٰ
جنت الفردوس ہے قرآن ہمیں باغ رضواں ہے حدیث مصطفیٰ
بے خزاں رہتے ہیں اس کے فصل و باب کیا گلستاں ہے حدیث مصطفیٰ
دین کے بھوکو چلے آؤ ادھر دین کا خواں ہے حدیث مصطفیٰ
کشتہ بدع و ضلالت کے لئے آب حیواں ہے حدیث مصطفیٰ
حق نے یسرنا کہا قرآن کو کیوں؟ کہ آساں ہے حدیث مصطفیٰ
خوان نعمت ہائے قرآن جب بچھے واں نمکداں ہے حدیث مصطفیٰ
اہل دیں تمثیل قرآں کے لئے ساز و ساماں ہے حدیث مصطفیٰ
مصطفیٰ جو حکم دیں مانو اسے حق کا فرماں ہے حدیث مصطفیٰ
منت عظمیٰ ہے قرآن عظیم اور احساں ہے حدیث مصطفیٰ
اہل بدعت گر کمی بیشی کریں بہر میزاں ہے حدیث مصطفیٰ
نیچری مرزائیوں کے واسطے سخت تاواں ہے حدیث مصطفیٰ
لا وربک تابہ تسلیماً پڑھو شرط ایماں ہے حدیث مصطفیٰ
بہر قطع حجت مرزائیاں اپنی برہان ہے حدیث مصطفیٰ
اہل بدعت کیوں نہ ہوں ہیبت زدہ اپنا سلطاں ہے حدیث مصطفیٰ
آؤ سعدی سے سنو مرزائیو
مثل قرآن ہے حدیث مصطفیٰ

تمت!

رباعی

مرسل تو تجھے بنائیں چیلے چانٹے تو کفر کے اشتہار ہم پر بانٹے
تیری وہ مثل ہے قادیانی دجال الٹا چور اٹھ کے محتسب کو ڈانٹے
ثابت تو ہوا ہے قادیانی دجال چھپ سکتی نہیں ہم سے تیری کوئی چال
بہروپیا بن کے دے نہ دھوکا ہم کو یہ مانا کہ اس فن میں ہے تو اہل کمال

١٦

صفحہ ٥٨١

قادیانی کی درخواست بحضور گورنمنٹ پر مختصر ریمارک

اے صاحبان دانش! کیا یہ ممکن ہے کہ قادیانی تو انبیاء علیہم السلام کی توہین کر کے الہامات و مکاشفات وغیرہ میں ان سے بڑھ کر ہونے کا مدعی ہو کر جناب ابن مریم علیہم السلام کے معجزات کو شعبدہ بازی اور کھیل بلکہ سامری جادوگر کا گوسالہ لکھ کر جناب خاتم النبوۃ علیہ السلام والتحیۃ کے لئے دجال اور اس کے گدھے اور یاجوج موجوج کی کیفیت تامہ کا فہم ناممکن اور اپنے لئے ممکن بلکہ ضروری سمجھ کر اس آخری وقت میں نبی اللہ (گو کامل نہ سہی گھٹیا ہی سہی) و مرسل یزدانی بن کر بھی مؤمن بلکہ مہدی و مسیح موعود بن جائے اور کافہ اہل اسلام ایسے دجال کے کسی کام میں (جس کی علت غائی اسی دجال کا کوئی نفع ہو) بلحاظ مصالح دینی و دنیاوی اس کے شریک نہ ہوں تو کافر دجال وغیرہ ہو جائیں۔ حاشا و کلا! قادیانی اپنے کفر و الحاد اور خود غرض ہونے کی وجہ سے جانتا ہے کہ مسلمان میری باتوں کا تو اعتبار کریں گے ہی نہیں۔ کوئی نیا دھندا شروع کرو۔ اگر وہ شریک نہ ہوں تو ان کو دھوکا دے کر تم شریک نہیں ہوتے تو میں تم کو کافر دجال وغیرہ مشہور کروں گا۔ اس بات کو بھول گیا کہ منافقوں کو ان کی شہادت ایمانی پر خدائے تعالیٰ نے کیا انعام دیا ہے جو آنحضرت ﷺ کو کہتے تھے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے۔ اللہ سبحانہ نے فرمایا کہ بات تو سچ ہے کہ تو اس کا رسول ہے۔ لیکن یہ منافق جھوٹے ہیں۔ یعنی جو کچھ زبان سے کہتے ہیں۔ وہ ان کے دل میں نہیں مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے یہ شہادت ادا کرتے ہیں۔ مسیلمہ نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ اپنے بعد نبوت میرے نام کر دو۔ میں آپ کا مددگار بن جاتا ہوں۔ تم میری نبوت کی تصدیق کر دو۔ میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں۔ یہی حال اس دجال قادیانی کا ہے۔ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ برحق ہیں۔ لیکن باب نبوت بالکل بند نہیں ہوا۔ نبوت مجھے بھی مل گئی ہے۔ اگرچہ ظلی اور بروزی کی پچڑیں بھی مضبوطی کے لئے لگاتا ہے۔ لیکن اپنی تعریف میں انبیاء سے سرمو فرق نہیں رکھتا۔

اب کہتا ہے کہ میں دفعہ ٢٩٨ تعزیرات ہند کی ترمیم کی درخواست محض اعلاء کلمہ دین اسلام اور حمایت عزت حضرت خیر الانام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے چاہتا ہوں اور یہ وہی منافقانہ ادعا ہے۔ اگر صدق دل سے ہوتا تو قادیانی پہلے اپنے ان کفریات سے تائب ہونے کا اعلان کرتا اور اہل اسلام کو اپنے اسلام سے مطمئن بناتا تو مسلمان اس کو اسلام کا خیر خواہ سمجھ کر کوئی رائے و مشورہ دیتے۔ اب تو سب مسلمان یہی کہیں گے کہ قادیانی تو تو جھوٹا ہے۔ تیری کتابوں میں وہ

١٧

صفحہ ٥٨٢

کفریات اور دعویٰ ترمیم دفعہ تعزیرات۔ قادیانی نے توہین، بدگوئی، بے سند الزام دینے سے کسی کو نہیں چھوڑا۔ کیا اہل اسلام کیا غیر اسلام دشنام دہی اور بدتہذیبی میں مخالفان اسلام سے دو قدم بڑھ کر ہے۔ درشت کلامی وسخن سازی کو اپنے لئے تو کمال ہنر سمجھتا ہے اور غیروں کے لئے عیب۔

ایک شخص نے اپنے حقیقی بھائی کو ماں کی گالی دے کر اپنے بچاؤ کے لئے یہ توجیہہ کی کہ میں نے اس حیثیت سے گالی دی ہے۔ جس کی حیثیت سے اس کی ماں ہے نہ کہ جس حیثیت سے میری۔ اسی طرح قادیانی کہتا ہے کہ جس عیسیٰ کو برا بھلا میں کہتا ہوں وہ نصاریٰ کا عیسیٰ ہے نہ کہ مسلمانوں کا، یہ بدزبانی کا نرالا منطقی ڈھنگ ہے۔ کسی کو ایک خاص حیثیت کے لحاظ سے گالی دے لینا ایک اور بندہ خدا کے حق میں لکھتا ہے کہ شاید وہ لڑکا پیٹ ہی میں ہضم ہو گیا اور یا اس کے گھر لڑکی پیدا ہوئی۔ اس روسیاہی کی وجہ سے اشتہار نہ دیا۔ اس دجال قادیانی کی بے غیرتی دیکھو اپنے بشیر مبشر عمانوئیل کی (جس سے نو سال بھی گزر گئے۔ اب تک سر نہیں نکالا شاید وہیں تحصیل کمالات میں لگا ہوا ہے) جگہ دختر نکل آنے کی روسیاہی کو ایسا بھلا دیا۔ گویا اس جانہار نے بے وقت خلاف توقع علیٰ رغم انف دجال پیدا ہو کر اس کا منہ کالا کیا ہی نہ تھا۔

ایسے منہ پھٹ بدلگام ناعاقبت اندیش کو ساتھ لے کر اس غرض کے لئے کہ لوگوں کی بدگوئی سے بچایا جائے۔ گورنمنٹ میں جانا خود ملزم بننا ہے۔ چواز قومے یکے بیدانشی کرد۔ نہ کہ را منزلت ماند نہ مہرا۔ سبھی کو دھتکار ملے گی قادیانی کا کیا بگڑے گا بقول پنجابی۔

چھتی پتیاں اک لتھ گئی سہی

الگ کھڑا ہو کر صاف کہہ دے گا۔ میرا تم پر کچھ زور نہ تھا۔ میں نے تو تم کو بلایا ہی تھا۔ سو تم نے مان لیا (نہ مانتے) اب مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ فقط !

واہ رے بہروپئے کیا کیا بنا
دیکھ پھر تیرے لئے کیا کیا بنا
قادیانی تو عجب صورت کا آدم بن گیا تھا مثیل اب آپ ہی عیسیٰ ابن مریم بن گیا
معجزوں سے ان کے نفرت کام میں ناکام وہ پھر مثیل ان کا تو کیسے پھونک کر قم بن گیا
فرض سمجھا ان کو سولی پر چڑھانا مارنا کیوں تو بدخواہ رسول پاک مکرم بن گیا
مدعی الوہیت حق کا ہوا از راہ ظلم کیا نصارا قوم کا ہم راز وہمدم بن گیا
مرسل یزدانی و مامور رحمانی بنا ظلم اے ظالم کیا وہ جس سے اظلم بن گیا
حسن ظن سے تجھ کو سمجھا تھا مجدد بعض نے ہائے اب تو ہادی راہ جہنم بن گیا

١٨

صفحہ ٥٨٣
تو تو کہتا تھا میں ہوں موسیٰ و داؤد و خلیل زال دنیا کے لئے افسوس بلعم بن گیا
ہے غضب بوذر الغفار کی آل میں کس طرح آلِ علی مہدیِ عالم بن گیا
جس کو تھا عیسیٰ نے من بعدی اسمہ احمد کہا اے غلامِ عاق تو خود وہ معظّم بن گیا
قابل دید اس کی بے شرمی ہے اے اہل نظر تھا تو گیدڑ خم میں گر کر کیسا ضیغم بن گیا
فن رمالی و کذب قادیانی پر گواہ قصہ سلطان و عموائیل و آتھم بن گیا
آتھم فرتوت کے جینے سے مرگِ طفل سے روسیہ مرزا سراپا صورتِ غم بن گیا
مہرِ عالم تاب یعنی وہ بشیر ناتواں جلد ان آنکھوں سے اڑ جانے میں شبنم بن گیا
قادیاں میں نغمۂ الہام زوّجتکہا جورِ سلطانی سے آخر شورِ ماتم بن گیا
شہر دلی میں بنے جب میرزا حیرت مسیح قادیانی میرزا حیران و ابکم بن گیا
اے قلم اسفندیار قادیانی کے لئے فضل حق سے تو بھی اچھا تیر رستم بن گیا
قیل مقالی میں ہو کر قادیانی اس قدر مصلحِ قانون و آئینِ مسلم بن گیا
گوشہ عزلت میں کر کے یاد تعزیراتِ ہند دیکھئے کیسا محدث کیسا ملہم بن گیا
خامہ سعدی ہے میلِ سرمۂ اہل بصر قادیانی کے لئے البتہ ارقم بن گیا

قادیانی چباشد

قادیانی چہ سخت جاں شدہ بہر تیغ قلم فساں شدہ
قادیانیت اگر دمشق بود تو یزیدے بہ قادیاں شدہ
بہ حسینِ بٹالوی زانرو بہ سر کینہ وزیاں شدہ
آں محمد نشاں و مہدی بہ بحقش تند و بدزباں شدہ
میکند کار عیسیٰ موعود کہ تو دجال بدعتاں شدہ
بہ علی گڑھ زبحث اسماعیل زار و بیمار و ناتواں شدہ
نیز در لودھیانہ پیش حسین لاجواب آمدہ دواں شدہ
ہم بہ دہلی زمیرزا حیرت متحیر دروں نہاں شدہ
طبلِ ہَل مِن مبارز زدہ فیل در وقت امتحاں شدہ
جلسۂ بحث چوں بپا گردید موردِ مرگ ناگہاں شدہ
بیں کہ از ریل واژگونہ خویش چہ رسول و چہ غیب داں شدہ

١٩

صفحہ ٥٨٤
بہ حیات رقیب و مرگ پسر مشتہر کاذب جہاں شدہ
برہ عشق دختر ہشیار شصت سالہ چہ نوجواں شدہ
شوہرش را ز مرگ ترسانی بہ مواعید جاں ستاں شدہ
مکر از مرگ خویش اے مغرور بے غم و فکر در اماں شدہ
طعن بیوہ بہ عہد حق بزنی خود پے بیوۂ رواں شدہ
گویندت ملہم تو زوجتک تو چو اغیار برکراں شدہ
ہست آں زوجہ در بر سلطاں قادیانی خزاں شدہ
گوئیش زندہ مرگیا ہوگا اے مسیحا چہ خوش بیاں شدہ
قضیے ہمچو آتھم مدعی بہ رقیب ایں چہ مہرباں شدہ
بہ غم زندہ ماندن آتھم سر بسر چرم و استخواں شدہ
بہ صلیب وبہ روسیائی خویش از حیاتش تو در گماں شدہ
گشتہ آگہ ازیں کس وناکس بہ ستمبر چہ نوحہ خواں شدہ
نوبہ نو حیلہا برانگیزی گرچہ زاں کہنہ داستاں شدہ
ایں بود بر حالت تو گواہ کہ بدشنام ترجماں شدہ
قادیانی بخواں کفر و ضلال تو بہ دجال ایماں شدہ
ما ز ناصر شنیدہ ایم کہ تو بہ دغلہاش مہماں شدہ
آں براہیں ترا خفیف نمود چندے از بہر زرگراں شدہ
گویند اندر عدم سراج منیر کہ تو بے نور چوں دخاں شدہ
لقب تو بجا بود حارث نہ ازاں رو کہ مرزباں شدہ
بلکہ بودی بہ راستاں معدود بہ کجی دور ز آستاں شدہ
حارثے بودۂ بگلخن دیں سرا پا خارج از جناں شدہ
ست بچن آریہ دھرم خوانی بہ یک و نیم شادماں شدہ
گشت بابائے تو گرونانک بہر سکھاں خلف عیاں شدہ
تائے تو بے نام وبے نشاں کہ زوے قائل خارق و نشاں شدہ
انبیاء مردہ ست در نظرت تیر کفار را کماں شدہ
عبدالرب کو رسول کجا بہ رسالت چہ بدگماں شدہ

٢٠

گفته بودی مسیح می آ
چند روزے بکید و زور و فری
پس بہ تقلید نیچری امر
سردارش کشی بقول ب
میکنی نفی نص باصلہا
شد خداع تو باسلماں
معجز آں چو عجل پندار
اے ستم گار افضل از عیسی
برملا برسر ازالہ خویش
پیروان تو اعور و اعمی
وہ چہ مہردوتین پوشید
آں ملازم کتب فروش ت
حیف کز بہر جیفۂ د
شاہد اینک کتب فروشی تس
ہاں بیائید اے خریدارا
مرحبا نو
بہر دجال

تذکرہ

یہی ہے بندگی کا یہی راز دی
عجب ریا سے پاک ہو نیت بحکم شر
تقویٰ رب اگر تیرے اعمال میں ن
جو راہ حق میں دے سر تسلیم کو ج
دیدار حق نعیم مقیم آگ سے اما
مر جائیو پر دامن احمد نہ چھوڑی
صفحہ ٥٨٥
کاذب جہاں شدہ
سالہ چہ نوجواں شدہ
ید جاں ستاں شدہ
و فکر دراماں شدہ
پے بیوہ رواں شدہ
اغیار برکراں شدہ
حیراں شدہ
تا چہ خوش بیاں شدہ
ایں چہ مہرباں شدہ
چرم واستخواں شدہ
ش تو در ضماں شدہ
چہ نوحہ خواں شدہ
اں کہنہ داستاں شدہ
دشنام ترجماں شدہ
جال ایماں شدہ
ہاش مہماں شدہ
از بہر زرگراں شدہ
نور چوں دخاں شدہ
روکہ مرزباں شدہ
دوزخ آستاں شدہ
رج از جناں شدہ
و نیم شادماں شدہ
ں خلف عیاں شدہ
خارق ونشاں شدہ
غار را کماں شدہ
ت چہ بدگماں شدہ
گفته بودی مسیح می آید زاں بدیں صاحب مکاں شدہ
چند روزے بکید و زور وفریب خوش بیاں بودہ کامراں شدہ
پس بہ تقلید نیچری امروز منکر از رفع آسماں شدہ
بردارش کشی بقول یہود باز سوئے اجل کشاں شدہ
میکنی نفی نص مصلوبہ خصم قرآن ببیں چساں شدہ
شد خداع تو با مسلماں ہم صفیر یہودیاں شدہ
معجزاتش چو عجل پنداری مفتخر زوی ازاں شدہ
اے ستم گار افضل از عیسیٰ بکرامات وعزوشاں شدہ
برملا برسر ازالہ خویش مرسل خالق یگاں شدہ
پیروان تو اعور واعرج اے خوشا عیسیٰ زماں شدہ
وہ چہ مہر ویقین پوشیدی کز مرض ہمچو زعفراں شدہ
آں ملازم کتب فروش مسیح ہمہ اے دوں پے دوناں شدہ
حیف کز بہر جیفہ دنیا تارک عیش جاوداں شدہ
شاہد ایک کتب فروشی تست در پے گرمی دکاں شدہ
ہاں بیائید اے خریداراں زانکہ افسردہ وے دکاں شدہ
مرحبا نوک خامہ سعدی
بہر دجال چوں سناں شدہ

تذکیر نفس وتبشیر روح

بندے ہے بندگی کا یہی راز دیکھنا اعمال پر نہ کیجیو کہیں ناز دیکھنا
عجب وریا سے پاک ہو نیت بحکم شرع کرنے لگے جو کچھ دم آغاز دیکھنا
تقویٰ رب اگر تیرے اعمال میں ہوا بہر دخول باب جناں باز دیکھنا
جو راہ حق میں دے سر تسلیم کو جھکا دونوں جہاں میں اس کو سرفراز دیکھنا
دیدار حق نعیم مقیم آگ سے امان جنت میں چل ظہور فقد فاز دیکھنا
مر جائیو پر دامن احمد نہ چھوڑیئو یہ امتحاں ہے عاشق جانباز دیکھنا

٢١

صفحہ ٥٨٦
اس کے سوا نہ عرش پہ کوئی پہنچ سکا کیا انبیاء حق میں ہے ممتاز دیکھنا
دو ٹکڑے چاند ہوگیا انگلی کے سامنے اس مہوش کا چرخ پہ اعجاز دیکھنا
تیغ کلام سے ہے مسخر کیا جہاں میرے حبیب پاک کا انداز دیکھنا
سجدے میں سر ہے لب پہ ہے یارب امتی غمخواری شفاعت دمساز دیکھنا
زیر لوائے حمد ہیں آدم سے تا مسیح اس فخر کل کا حشر میں اعزاز دیکھنا
ہجراں میں جل رہا ہوں امید وصال پر یہ سوز دیکھنا یہ مرا ساز دیکھنا
توحید حق ہے راس عبادات سعدیا
ہو جائے اس میں کوئی نہ انباز دیکھنا

تتمیمہ بہر سفیہہ

آتا نہیں ستم سے ابھی باز دیکھنا دجال قادیاں کی تگ وتاز دیکھنا
دس لے کے پیشگی دے پینتیس جز فقط وعدہ تھا تین سو کا یہ دمباز دیکھنا
تھیں پیش گوئیاں جو سراج منیر کی کھا پی کے نقد ان میں اب ایجاز دیکھنا
رسن گلے میں آتھم وسلطان نے کس دیا ہے بند پیش گوئی کی آواز دیکھنا
کھولی دکان ست بچن و آریا دھرم اہل نفاق کی طمع وآز دیکھنا
کہہ رہا تھا اتریں گے عیسیٰ جلال سے اور آج اہل دیں پہ ہے غماز دیکھنا
عیسیٰ سے آپ بنتا ہے افضل علانیہ اور ان کے معجزوں پہ ہے لماز دیکھنا
”مسمریزم کہتا ہے کہ عجل سامری دجال کیا ہے توہین اعجاز دیکھنا
کہتا ہے شرک معجزہ عیسوی کو خر کیا طعنہ زن سلف پہ ہے طناز دیکھنا
پیرو ہے نیچری کا صلیب مسیح میں کرتا مجددی پہ ہے پھر ناز دیکھنا
ہو فتنہ گر حمامہ دجال کچھ اگر فتوائے بوسعید کا شہباز دیکھنا
آمادہ مخبری پہ ہے اسلامیوں کی اب گرتا ہے کیسے ویل میں ہماز دیکھنا
اعلان عام کرتا ہے سعدی خیر خواہ دجال قادیاں ہے سخن ساز دیکھنا

تــــــــــمت!

محمد سعد اللہ عفی عنہ، مدرس ایم۔ بی ہائی سکول لدھیانہ مورخہ ٢٣؍ شعبان ١٣١٣ھ

٢٢

PDF 588

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَانَبِيَّ بَعْدِيْ

حملہ آسمانی

دربارہ شکست قادیانی

حضرت مولانا محمد سعد اللہ لدھیانویؒ

صفحہ ٥٨٨

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ہر عام و خاص پر واضح ہے کہ امرتسر کے مباحثہ میں جو نئے عیسائی مرزائیوں اور پرانے عیسائی پادریوں کے درمیان ہوا تھا اور کسی کو طرفین میں سے کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ آخری وقت مرزا قادیانی نے مسٹر عبداللہ آتھم پادری کے بارے میں ایک ڈینگ ہانک دی کہ: ”یہ شخص پندرہ مہینہ کے اندر اندر ضرور ہی مر جائے گا اور اس کے نہ مرنے کی صورت میں خود ہی یہ اقرار کیا کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسا ڈالا جاوے۔ مجھے سولی پر لٹکایا جاوے۔ پھانسی دیا جاوے۔ تمام شیطانوں، بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ لعنتی قرار دیا جاوے۔ میں ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔“

(جنگ مقدس ص ٢١٠، ٢١١ خزائن ج ٦ ص ٢٩٢، ٢٩٣)

اور اپنے مخالفین سے کہتا رہا کہ میری تکفیر کی اشاعت میں جلدی نہ کرو۔ اس پیش گوئی کے آخری فیصلہ تک انتظار کرو کہ یہ پیش گوئی میری تصدیق و تکذیب کے لئے خوب معیار ہے اور ادھر سے اپنے حواری اور جان نثار مریدوں کو دم دلاسہ دیتا رہا۔ دیکھو استقلال سے رہو تسلی کرو۔ مخالفین سے مت ڈرو۔ ٥؍ ستمبر ١٨٩٤ء کا سورج نہیں چھپ سکتا۔ جب تک آتھم نہ مرے۔ نماز عصر سے غروب تک کا وقت ہے خواہ دراز کیوں نہ کیا جاوے۔ یہ پیش گوئی ضرور اپنا کام کرے گی۔ تمام زمانہ مجھ پر ایمان لائے گا۔ ”ان المسیح الذی یرقبونه والمهدی المسعود الذی تنتظرونه“ (تذکرہ ص ٢٥٧ طبع چہارم) یعنی میں وہ مسیح ہوں جس کی تشریف آوری کے تم مشتاق تھے اور میں وہ مہدی ہوں۔ جس کے لئے عرصہ سے تم انتظار کر رہے تھے۔ شروع ستمبر میں اکثر مریدان جان نثار اور معتقدان نمک خوار قادیان میں جمع ہو گئے۔ خود اور اپنے مریدوں سے چلے کھنچوائے اور خاص خاص وقتوں میں دعاؤں کے تیر پھینکتے رہے۔ مگر چونکہ سچے خداوند کریم کو جعلی مسیح اور اس کے گروہ کا ذلیل کرنا منظور تھا اور یہ سیاہ دن دکھانا مدنظر تھا۔ کوئی تیر دعا کارگر نہ ہو سکا اور نشانہ مراد تک نہ پہنچا۔ الغرض ٥؍ ستمبر ١٨٩٤ء کو جو آخری روز موعود تھا۔ آفتاب غروب ہوا اور میعادی گھنٹہ انجام کو پہنچا۔ اسی حالت میں عبداللہ آتھم کے نہ مرنے کا مژدہ آیا۔ سنتے ہی مرزائیان حاضرین محفل قادیانی پر ظلمت اور سیاہی پھیل گئی اور دیوانے ہو گئے۔ دیکھتے ہی جناب مسیح کاذب

٢

صفحہ ٥٨٩

مہدی مکذوب قادیانی اپنے بیت الفکر میں جو اس کے گھر میں ایک کوٹھڑی کا نام ہے۔ جس میں تنہا بیٹھ کر الہام بازی ہوتی ہے۔ تشریف لے گئے اور جھٹ ایک خام الہام گھڑ کر لائے۔ تمام حاضرین کو سنایا اور فرمایا کہ میں اس الہام کو طبع کرانے کے لئے بھیجتا ہوں۔ تاکہ غائبین کے لئے موجب تسلی ہو۔ بعض لوگ جو سمجھدار تھے وہیں بول اٹھے کہ حضرت جانے دیجئے ۔ صبر کیجئے۔ اب ان بے تکے ڈھکوسلوں سے کیا ہوتا ہے اور ایسی سوکھی سڑی زطوں کو کون پوچھتا ہے۔ غرض وہ الہام طبع ہو کر ٩ ستمبر ١٨٩٣ء کو شائع ہوا۔ جس کے عنوان سے ناظرین خود ہی صدق و کذب کا پیمانہ لگا سکتے ہیں۔ وہ یہ ہے: ”مجھے خدا تعالیٰ نے اپنے خاص الہام سے جتلا دیا کہ انہوں نے عظمت اسلام کا خوف اور ہم اور غم اپنے دل میں ڈال کر کسی قدر حق کی طرف رجوع کیا۔“

(انوار الاسلام ص الف، خزائن ج ٩ ص ٥٦)

وعدہ موت میں تاخیر ہوئی۔..... وہی کریم خدا ہے جس نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ: ”من یعمل مثقال ذرة خیرا یرہ“ یعنی جو شخص ایک ذرہ بھر بھی نیک کام کرے...... سو مسٹر آتھم نے اسلامی شرط کے موافق کسی قدر اسلامی سچائی کی طرف جھکنے سے اپنا اجر پالیا۔ ہاں جب پھر بیباکی اور سخت گوئی کی طرف میل کرے گا۔

(انوار الاسلام ص الف، خزائن ج ٩ ص ٥٦)

(نوٹ: مرزا قادیانی کی عبارت اس کی کتاب انوار الاسلام ص ١ تا ص ٨ تک کا مصنف نے خلاصہ درج کیا ہے جو یہ ہے۔ مرتب!)

اگر ہم جھوٹ بولتے ہیں تو آتھم ہم کو اپنے گھر بلا کر ہمارے سامنے تین دفعہ کہہ دے کہ اس پندرہ ماہ کے عرصے میں مجھ کو اس پیش گوئی سے ذرا خوف نہیں آیا اور عظمت اسلام نے ایک لحظہ بھی میرے دل کو نہیں پکڑا۔ تو ایک برس کے اندر اندر مجھ پر ذلت کی موت آجائے۔ ہم اس اقرار پر فوراً ہزار روپیہ دے دیں گے اور جو لوگ عیسائی میرے مباحثہ میں مقابل تھے ان میں سے ایک مرگیا اور فلاں بیمار ہوا اور فلاں کو رنج پہنچا۔ وغیرہ وغیرہ! ہمارے یہ ثبوت دیکھ کر بھی اگر کوئی مولوی جو عیسائی مذہب کا مددگار ہے ہم کو جھوٹا سمجھے تو آتھم کو اس ہزار روپیہ کے لئے آمادہ کرے ورنہ وہ محض اوباش، بازاری بدمعاش اور بدفطرت کاذب مولود ناجائز حلال زادوں کے خلاف کرنے والا ہے۔ چونکہ آتھم کے مرنے کی پیش گوئی بہت کمزور اور مشکوک ہو گئی تھی کہ لوگ کہنے لگے مرنا کیا نئی بات ہے۔ بڑھا ہے مرزا جادو کرنا جانتا ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے آتھم کا

٣

صفحہ ٥٩٠

دل حق کی طرف پھیر کر موت سے بچا لیا۔ انتہی ملخصاً!

(ضمیمہ انوار الاسلام ص ٨ حاشیہ بحوالہ خ ج ٩ ص ٥٥ تا ٦٢)

اے نام تو حرز بہر جان و دل من وے احمد تو چوں خبیر آب و گل من
فضل تو اگر نہ رہنمائی کردے فردوس بریں کجا شدے منزل من
آں ہادی لا نبی بعدی فرمود مولاش بہ خاتم النبیین بستود
دجال بود ہر آنکہ امروز نبی ست دجل ست ہمیں کہ لفظ جزئی افزود
سعدیا چندانکہ می دانی بگو حق نشاید گفتن الا آشکار
نکند عیب من الا سنگدل نشنود قول من الا بختیار
رفتیم بقادیان کلیسا دیدیم بیمار ترین خلق عیسا دیدیم
کافر شدہ مدعی الوہیت حق گردش بمسجد چند ترسا دیدیم
یک قاطع نسل و یک مسیحائے زماں یک مہتر لال بیگیاں دوراں
افتد چو گزر بقادیانیت گاہی ایں خانہ تمام آفت ست بخواں
نصیحت کسے سود مند آیدش کہ گفتار سعدی پسند آیدش

نظم

نصیحت سنو ایک مرزائیو نئے قادیانی مسیحائیو
سنو غور سے اس کو اک بار تم تفکر کرو مل کے دو چار تم
ہوئے دام تزویر میں کیوں اسیر سمجھنے لگے قادیانی کو پیر
نہ عیسیٰ ہے یہ اور نہ ان کا مثیل توجہ سے دیکھو یہ روشن دلیل
نہیں بلکہ یہ اک مسلمان بھی حدیثیں ١١ پڑھو اور قرآن ١٢ بھی
ہے نفرت ١٣ اسے ان کے اعجاز سے لکھا ان کو اک شعبدہ باز ہے
تھے گوسالہ ١٤ وش معجزے آپ کے ہدایت میں نمبر نہ کچھ پاسکے
بنا آپ یزداں کا مرسل ١٥ رسول ١٦ ہے وحی نبوت ١٧ کا ہر دم نزول
سنا اور دیکھا ہے تم نے یہ سب مگر ہے تمہارا تجاہل غضب
سمجھتے ہو اب بھی مسلماں اسے دیا اپنا سب دین و ایمان اسے

٤

مسیحائے موعود ہرگز نہیں
کوئی جوتشی یا کہ رمال ہے
اوڑا دے رمل باز ایسا اُسے
وہ ہو پست ہمت تو ہوگا ضرور
عجب کیا کہ سن کر خبر موت کی
طبائع کا یہ حال مشہور ہے
کہ بیماریِ وہم ہے لاعلاج
جو آتھم کہیں سیر کرتا پھرے
پڑا اس پہ کیا رعب اسلام کا
کسی اپنے چیلے سے مروا نہ دے
اگر حق سے ڈرتا تو کیوں بھاگتا
اسے جھوٹا ہر فرد کہتا ہے صاف
جو وہ ذرۂ خیر سے قاصر ہے
کیا اس نے کب حق کی جانب رجوع
بجز مرزا کون اس کا گواہ
یہ درپردہ دشمن ہے اسلام کا
یہ کرتا ہے بدنام اسلام کو
ہو جب جھوٹا اپنی ہی تحریر ١٨ سے
کہ ہو خوب تضحیک اسلام کی
اگر نکلے جھوٹ اس کی کوئی خبر
برس اور مہلت بہانے ہیں سب
وہ آخر میں لکھے ہیں جو تین سال
نہ آتھم وہ الفاظ منہ سے بکا
تم اس کی نہ بیجا حمایت کرو
صفحہ ٥٩١
مسیحائے موعود ہرگز نہیں یہ دجال ہے اک گدھا بالیقین
کوئی جوتشی یا کہ رمال ہو نجومی ہو یا صاحب فال ہو
اڑا دے اٹکل باز ایسا اگر کسی کے برے یا بھلے کی خبر
وہ ہو پست ہمت تو ہوگا ضرور طبیعت کو کچھ رنج یا کچھ سرور
عجب کیا کہ سن کر خبر موت کی رہا ہی ہو بے چین آتھم کا جی
طبائع کا یہ حال مشہور ہے کتابوں میں بھی اس کا مذکور ہے
کہ بیمارئی وہم ہے لاعلاج نہیں پاس لقمان کے اس کا علاج
جو آتھم کہیں سیر کرتا رہا فقط کید سے اس کے ڈرتا رہا
پڑا اس پہ کیا رعب اسلام کا جو کچھ خوف تھا قادیانی کا تھا
کسی اپنے چیلے سے مروا نہ دے کہیں سازش زہر کروا نہ دے
اگر حق سے ڈرتا تو کیوں بھاگتا خدا سے کہیں چھپتا پھرتا تھا کیا؟
اسے جھوٹا جھوٹا مادہ کہتا ہے صاف گناہ اس کا کیونکر ہوا یہ معاف
جو وہ ذرہ خیر سے بچ گیا مرا کیوں نہ جب اس نے یہ شر کیا
کیا اس نے کب حق کی جانب رجوع ہوا دل میں کب اس کے پیدا خشوع
بجز میرزا کون اس کا گواہ اور اس میرزا سے خدا کی پناہ
یہ درپردہ دشمن ہے اسلام کا نہیں خوف حق اس کے دل میں ذرا
یہ کرتا ہے بدنام اسلام کو سمجھتا ہے فخر اپنے اس کام کو
ہو جب جھوٹا اپنی ہی تحریر سے ہنسنے لگے لغو تقریر سے
کہ ہو خوب تضحیک اسلام کی ہے مطلوب شہرت اسے نام کی
اگر نکلے جھوٹ اس کی کوئی دلیل تو اسلام کے صدق میں کیا خلل
بحث اور مہلت بہانے ہیں سب یہ دجال کے کارخانے ہیں سب
وہ آخر میں لکھے ہیں جو تین دن نہیں وہ بھی لکھے کسی شرط بن
نہ آتھم وہ الفاظ منہ سے کہے نہ دجال پر اس کا کچھ حق رہے
تم اس کی نہ بیجا حمایت کرو نہ اب اس کی تصدیق کا دم بھرو

٥

صفحہ ٥٩٢
کہ اس میں ہے توہین اسلام کی کرو شرم اسلام کے نام کی
اہانت سے تم دیں کی ڈرتے نہیں کہ تکذیب کاذب کی کرتے نہیں
پڑا ہو جو بدنام اسلام ہو ولے قادیانی نکو نام ہو
یہ ہے قول سعدی شیراز کا تمہارے لئے بوستان میں لکھا
ہمی میردت عیسی از لاغری تو در بند آنی کہ خر پروری

آٹھ اکتوبر ١٨٩٤ء کا دن

قادیانیوں کے لئے بڑا ذلت کا دن ہے۔ اس لئے سلطان محمد بیگ کی شادی محمدی بیگم سے ٧؍اپریل ١٨٩٢ء کو ہوئی۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ سلطان اڑھائی سال یعنی ٧؍اکتوبر ١٨٩٤ء تک مر جائے گا۔ وہ نہ مرا۔ مرزا قادیانی جھوٹا ہوا۔ ٨؍اکتوبر ١٨٩٤ء کے حوالہ سے مولانا سعد اللہ نے یہ نظم لکھی۔

قادیانی کی بد اقبالی اور تاریخ خاتمہ دجالی
آئی ہے بن کے عجب آٹھویں اکتوبر کی قادیانی پہ غضب آٹھویں اکتوبر کی
روسیاہ ہو گیا دجال دوبارہ دیکھو ہے عیاں قدرت رب آٹھویں اکتوبر کی
ہے یہ کذاب کہ شاہد ہے ستمبر کی چھٹی اور پھر اس کے عقب آٹھویں اکتوبر کی
ہو گئی تیری مسیحائی سراسر ابتر کٹ گئی تیری ذنب آٹھویں اکتوبر کی
ہوتا کیوں رسوا مباہل جو نہ عبدالحق سے تیری ذلت کا سبب آٹھویں اکتوبر کی
گھر میں شادی سے نہیں پاؤں زمیں پر لگتا تجھ پہ ہے قتل کی شب آٹھویں اکتوبر کی
بعض کے دل میں رہی تیس مہینے تشویش منتظر تھے کہ ہو کب آٹھویں اکتوبر کی
لو مبارک تمہیں سلطان محمد عشرت فضل مولیٰ سے ہے اب آٹھویں اکتوبر کی
ہوئے ہوشیار پور و پٹی و راولپنڈی منزل عیش و طرب آٹھویں اکتوبر کی
قادیانی نے ستایا تو بہت لیک ہوئے دور سب رنج و تعب آٹھویں اکتوبر کی
ہوئے کافور جو کچھ چیلے رہے تھے باقی جلوہ گر ہو گئی جب آٹھویں اکتوبر کی
قادیانی کی زباں کٹ گئی اپنے منہ سے ہو گیا مہر بلب آٹھویں اکتوبر کی
ارے مرزائیو نا دانو زباں بند کرو اب ہے کیا شور و شغب آٹھویں اکتوبر کی

٦

نہ کرو دین کی توہین سکھاتی ہے تمہیں
قادیانی کو ہوا روسیاہی کا موجب
قادیانی کو دعا دیجئے رہے خوار و ذلیل
ن کے سعدی
شوق سے کی

تنبیہ ثالث

بدل کر یہ لکھتا ہوں

نہ دے دشنام زشت اقوال مرزا
مسیلمہ٢٥ اور مقنع انبوہ دلا
ہوا معلوم تاریخ سلف سے
ارے اسلام کے دشمن منافق
کہاں وہ مہدئے آل محمد
کہاں عیسیٰ یفیض المال والے
مسیح و مہدی موعود مت بن
سبکی کو اپنی ہم سے مت چھپا یوں
کمینہ مرسل یزداں بنا تو
گناہ یہ سب گناہوں سے ہے بھاری
اٹھائے انتظار وحی میں گر
یہ منہ مانگی تجھے نعمت ملی ہے
اگر عیسائیوں نے رحم کھایا
رخ پر نور پر اپنے لگا لے
سیاہی سے نہ ڈر رسا کھنچے گا
صفحہ ٥٩٣
نہ کرو دین کی توہیں سکھاتی ہے تمہیں
دین کا پاس ادب آٹھویں اکتوبر کی
کادیانی کو ہوا روسیاہی کا موجب
ہند سے تا عرب آٹھویں اکتوبر کی
کادیانی کو دعا دیجئے رہے خوار وذلیل
مل کے آمین کہیں سب آٹھویں اکتوبر کی
سن کے سعدی سے تبرّی کی چٹھی یاروں نے
شوق سے کی ہے طلب آٹھویں اکتوبر کی

المشتہران: مسلمانان کوٹلہ مالیر، ١٠؍اکتوبر ١٨٩٣ء

تنبیہ ثالث

بدل کر قافیہ تنبیہ ثالث
یہ لکھتا ہوں کہ ہو بیدار مرزا
نہ دے دشنام زشت اقوال مرزا
گریباں میں ذرا منہ ڈال مرزا
مسیلمہ٢٥ اور مقنع اسود ولا
کئی اور ایسے ہی دجال مرزا
ہوا معلوم تاریخ سلف سے
بہت گزرے ہیں تیرے خال مرزا
ارے اسلام کے دشمن منافق
ارے سماع اور اکال مرزا
کہاں وہ مہدئے آل محمد
کہاں اُلّو کی آل مرزا
کہاں عیسیٰ بفیض المال والے
کہاں مفلس گدا کنگال مرزا
مسیح ومہدی موعود مت بن
ارے او مسخرے نقال مرزا
سگی کو اپنی ہم سے مت چھپا یوں
پہن کر شیر کی تو کھال مرزا
کمینہ مرسل یزداں بنا تو
ہوئے پیرو تیرے جہال مرزا
گناہ یہ سب گناہوں سے ہے بھاری
بنا ہے جس کا تو حمال مرزا
اٹھائے انتظار وحی میں سر
ترے منہ میں گرے پیکال مرزا
یہ منہ مانگی تجھے لعنت ملی ہے
نہ لے لعنت سے منہ پر ڈھال مرزا
اگر عیسائیوں نے رحم کھایا
سخن کو تو تو اپنے پال مرزا
رخ پر نور پر اپنے لگا لے
ذرا سا چونا اور ہڑتال مرزا
سیاہی سے نہ ڈر رسا کھینچے گا
تو ہو جائے گا مکھڑا لال مرزا
صفحہ ٥٩٤
براہین کے لکھے کھا کھا کے تو نے پھلائے خوب اپنے گال مرزا
رسالوں کا بہت سے نام لے کر کیا اپنا پرایا مال مرزا
ملائے خاک میں فخر و فصاحت ترے سودوں نے اے دلال مرزا
تری ہنڈیا میں وہ بادام روغن ہے خود کامی پہ تیری دال مرزا
طلاق و عاق یوں بے جرم کرنا ترا ہی کام ہے بدفال مرزا
لگی ہے اس قدر فکر زن نو کہ اب بھاتی نہیں وہ زال مرزا
طمع دی دھمکیاں بھی دیں کہ ہو جائیں ترے ہوشیار پور سسرال مرزا
عمل جو ہو سکے تو نے کئے پر ہوا ان کا نہ بیکا بال مرزا
اڑھائی سال سے سلطان محمد ہے چست و چاک و خوش احوال مرزا
ترے اس کوسنے سے کم نہ ہوں گے مقرر ہو چکیں آجال مرزا
ہوئے ہیں تین میں سے دو تو پورے ترے بطلان کے مکیال مرزا
دم آخر نہ مر گئی پیش گوئی خریدا جان کا جنجال مرزا
ملک شہ اور گل شہ تیرے استاد تھا اک جفار اک رمال مرزا
ہوا ظاہر کہ بیت الفکر میں ہیں سدا تیرے یہی اشغال مرزا
یقیناً خود غرض خود کام ہے تو یہ کہتے ہیں تیرے افعال مرزا
نہ کہہ تو اپنی ان خود کامیوں کو خدا کے ہیں یہ سب اعمال مرزا
جو دیکھے بھائیوں کے جید و مہتر ترے منہ سے بھی ٹپکی رال مرزا
کیا تو نے خلاف اہل اسلام بیان سورۂ زلزال مرزا
سلف کی ساری تفسیریں غلط ہیں خیالی ہیں سبھی بھونچال مرزا
نبی کے معجزے ہیں کھیل بازی نہ ہے جبریل نے میکال مرزا
مسیحائی کو تیری خوب جانچا عقائد کی بھی کی پڑتال مرزا
یہ کیا الٹی مسیحائی ہے تیری ارے بے شرم او بطال مرزا
جدھر جاتا ہے تو آتی ہے آگے نحوست بھر استقلال مرزا
مخالف کی ہو تیرے عمر لمبی ترے مطلوب کو لے کال مرزا

٨

خدا کی پیش گوئی کہہ نہ
مرا آتھم نہ اب تک او
نہ اس عرصے میں وہ ایما
رجوع قلب کیسا بن
تری تذلیل اور حیثیت
اور اس سے ہو گئی غفراں
نہ ذکر قوم یونس کر کہ
ترے الہام جھوٹے ہو چکے
نہیں الہام ہیں اضغاث
ہیں ختم مرسلان حق
رسول و مرسل شیطان ہے
چلے گا اب نہ تیرا کوئی
کمال بے حیائی کا نشا
نصاریٰ کے مقابل میں
اگر اب کے بھی مارے تو میں
تو گر کر چاروں شانے چت
شغال و بوم و طباخہ کے
نکل آئیں پرانی گڈڑیا
دکھا کر کچھ دنوں تائید
کہ اوہام و وساوس میں
سلف سے تا خلف کوئی
مسلماں سب ہیں عیسائی
ہے تو چنگیز خان کی یاد
کہاں تک کینہ چنگی
صفحہ ٥٩٥
خدا کی پیش گوئی کہہ نہ اس کو ارادے پر ہے وہ فعال مرزا
مرا آتھم نہ اب تک اور گزرا مہینے تین اوپر سال مرزا
نہ اس عرصے میں وہ ایمان لایا بس اب بک بک نہ کر قتال مرزا
رجوع قلب کیسا بن گیا وہ نصاریٰ کا گرو گھنٹال مرزا
تری تذلیل اور تثلیث بازی جو ہے کچھ خیر کا مثقال مرزا
اور اس سے ہو گئی غفران آتھم چلو سب اس کے تم دنبال مرزا
نہ ذکر قوم یونس کر کہ یونس تھے ان کے غایت الآمال مرزا
ترے الہام جھوٹے ہو چکے ہیں بہ ماضی وزمان حال مرزا
نہیں الہام ہیں اضغاث احلام ہے شیطان کر رہا انزال مرزا
ہیں ختم مرسلان حق محمدؐ بعہد حال واستقبال مرزا
رسول ومرسل شیطان ہے گر تو مسلّم ہے ترا ارسال مرزا
چلے گا اب نہ تیرا کوئی افسوں گلے گی اب نہ تیری دال مرزا
کمال بے حیائی کا نشان ہے بظاہر تیرا استقلال مرزا
نصاریٰ کے مقابل میں گرا تو وہی تیرا بھی دیکھا حال مرزا
اگر اب کے بھی مارے تو میں جانوں پڑا کہتا تھا اک بقال مرزا
تو گر کر چاروں شانے چت زمیں پر ندامت کو رہا ہے ٹال مرزا
شغال وبوم وطباخہ کے قصے ہوئیں شائع تیری امثال مرزا
نکل آئیں پرانی گدڑیاں بس وہ مانگے کے تھے رنگین شال مرزا
دکھا کر کچھ دنوں تائید اسلام چلا پھر اپنی الٹی چال مرزا
کہ اوہام ووساوس میں بتوضیح کیا اسلام کا ابطال مرزا
سلف سے تاخلف کوئی نہ چھوڑا کیا ہر ایک کو پامال مرزا
مسلماں سب ہیں عیسائی یہودی ترے مذہب میں اب اے ضال مرزا
ہے تو چنگیز خان کی یادگار ایک ہلاکو کا پسر - قتال مرزا
کہاں تک کینہ چنگیز خانی مسلمانوں سے اے ختّال مرزا

٩

صفحہ ٥٩٦
وہ بیت الفکر بیت الکفر تیرا ہے ضرب کفر کی ٹکسال مرزا
شکست قادیانی فتح اسلام ہے دینداروں کی قیل وقال مرزا
بہت خوش دیکھ کر ہیں فتح اسلام مسلمانان بااقبال مرزا
ستمبر کی چھٹی تاریخ پرچے بٹے چوں عیدیئے اطفال مرزا
کہ عبدالحق نے مارا وہ مباہل بزعم خود نبی تمثال مرزا
غضب کے تیر برسے ہر طرف سے ترا سینہ ہوا غربال مرزا
تری آنکھوں سے غم کا خون برسا جگر اور دل ہوئے سیال مرزا
ذلیل ایسا ہوا تو یہ خدا کے مسلمانوں پہ ہیں افضال مرزا
اگر مر جاتا اس عرصے میں آتھم یہ تھا اک موجب اضلال مرزا
ترے چیلے ہوئے ہیں بہرے اندھے دلوں پر لگ گئے اقفال مرزا
مریض دائمی تو قطب مزمن یہ لنگ اعور ترے ابدال مرزا
انہیں میں سیالکوٹی ایک شاعر تری مجلس کا ہے قوال مرزا
ترے آہنگ بے آہنگ سن کر لگاتا ہے عجب سرتال مرزا
بنایا اس کو تو نے اپنا حامد لیا سانچے میں اپنے ڈھال مرزا
ترا خادم ہوا حامد سے خامد غلامی کا لگا کر خال مرزا
لگا ہے بولنے پیچھے سے اک اور ١ یہ مدبر کون بد اقبال مرزا
بنے دجالچے دو چار خاصے تری تصویر بالاجمال مرزا
ارے خامد ترا حارث خلیفہ ہے شیطان آدمی تمثال مرزا
بڑھی دل میں تیرے بے حد شرارت خدا کا دیکھ کر امہال مرزا
جو تو نے سرکشی اسلام میں کی ہوا یوں تیرا استیصال مرزا
نبی سمجھیں نہ اپنی پیش گوئی یہ کیا اسلام ہے چنڈال مرزا
قفس میں سے لگے اڑنے پرانے نئے مت ڈھونڈھ اٹھا لے جال مرزا
نفاق اب چھوڑ آنکھیں کھول کر دیکھ سلاسل اور وہ اغلال مرزا
نہ ہو بے باک یوں مرنا ہے آخر ہے گھڑیاں گن رہا گھڑیال مرزا

١٠

صفحہ ٥٩٨
قلم کو روک لے سعدی کہ اس وقت ہے غمگین و پر اضمحلال مرزا
رقیب قادیانی خوب جیتے جگر خوں حضرت اقدس ہیں پیتے
بد اقبال اور خامہ سیالکوٹی رہیں دائم جگر کے زخم سیتے
یہ جماعت اے غلام قادیانی آپ کی چاہتی ہے خوب مل کر خاک اڑانی آپ کی
دشمن دانا ہی اچھا سچ ہے ناداں دوست سے مدح کے پیرائے میں کیا خاک چھانی آپ کی
اعتقادات مسائل میں نہیں کچھ گفتگو گالیاں ہم کو ہیں یا ہے مدح خوانی آپ کی
آپ کے چیلے ہمیں کوسا کریں کچھ غم نہیں ہم پہ لازم ہے فقط درگت بنانی آپ کی
اس صدی میں آپ ہیں دجال کاذب بالیقین یہ نبوت ہے بڑی پکی نشانی آپ کی
دین کے چور آپ جیسے کم ہوئے ہیں آج تک رشکِ دزداں ہوگئی ہے پاسبانی آپ کی
حضرت خناس دجال زماں کیا حال ہے موت سے بدتر ہوئی ہے زندگانی آپ کی
آپ جس کو موت دیں بڑھ جائے اس کی زندگی جلد مر جائے ہو جس پر مہربانی آپ کی
موت پر موت آپ کو دی آتھم و سلطان نے اہل دوزخ سے ہے بڑھ کر سخت جانی آپ کی
ہم نے جھوٹی بات یا گالی نہیں لکھی کوئی آپ کے ہیں لفظ یا بیتی کہانی آپ کی
نثر میں جو کچھ مکائد اور عقائد تھے رقم نظم میں کر دی ہے ہم نے ترجمانی آپ کی
کہتے ہو پیری میں اب اسلام والے سب ہیں کور دعویٰ اسلام میں گزری جوانی آپ کی
کیا نہ تھے القا کے تین نورانی پسر کیا نہ تھی وہ پاک دادی خواہ نانی آپ کی
مہدیئے آلِ محمد بنتے ہیں سید جناب کیا غلط ہے کچھ نسب چنگیز خانی آپ کی
معجزات عیسوی کیا قابلِ نفرت نہیں کیا نہیں یاں سحر فرعونی بمعنی آپ کی
مرسلِ یزداں نہیں کیا آپ یا احمد رسول ہے بہ عنوان ازالہ حکمرانی آپ کی
سیالکوٹی خادموں کے اب بھی مرسل ہیں جناب عذر بدتر از گناہ ہیں سب زبانی آپ کی
آپ پر لعنت ملامت جس قدر ہم سے ہوئی حارثِ پنجاب ہم نے شرط مانی آپ کی
زندہ ہے سلطان محمد اور گزرے تیس ماہ حضرت کاذب کہاں ہے لن ترانی آپ کی

١١

صفحہ ٥٩٨
باکرہ آئے گی ورنہ بیوہ ہوکر آئے گی
دھمکی انا رادّوها تھی ڈرانی آپ کی
اب یہ کہتے دل میں ڈر کر ہم سے اس نے دی طلاق
بن سکے جس سے وہ زوجہ بار ثانی آپ کی
نفی استماع کیجئے کہئے ناقابل اسے
حیلہ بازی بے حیائی ہے پرانی آپ کی
عام مجمع میں قسم دینے پہ پھر اصرار ہو
گر کرے تکذیب سے قطع لسانی آپ کی
گر نتیجے کی شہادت پیش ہو مانیں نہ آپ
گزری ہے التواء الامانی آپ کی
جب سے عیسیٰ بن کے آئے ساتھ آئی آپ کے
زرد یہ ردائے زعفرانی آپ کی
کر گیا ہلکا بشیر اچھی طرح سے آپ کو
آتھم وسلطاں نے کھودی سرگرانی آپ کی
حافظ وناصر اگر ہو جان کا مولیٰ کریم
کیا ضرر پہنچا سکے نقصاں رسانی آپ کی
اہلِ دیں لا یخلف المیعاد سے ہیں جانتے
سر بسر الحاد ہے طرز معانی آپ کی
دن نویں دسویں مہینے کا چھٹا اور آٹھواں
ذلیل ہونے کی ہے تاریخ امتحانی آپ کی
تار ٹوٹا ہو کہیں تو لگ سکے پیوند اسے
کیا بنے جب سر بسر ٹوٹی ہو تانی آپ کی
انہدام قادیانی کا نہ لکھا کچھ جواب
دیکھتے ہم بھی طبیعت کی روانی آپ کی
فتح اسلام وشکست قادیانی پر ہوئی
زشت تر از صد خاموشی خوش بیانی آپ کی
آپ کی تکذیب کا پھل دے گئی ہے آپ کو
اصل ثابت اور فرع آسمانی آپ کی
ہے حرامی جو مغل سے فارسی سید بنے
آپ کو ہے خوار کرتی نکتہ دانی آپ کی
خدمت اسلام سعدی کو یہ حق نے کی عطا
کھول کر لوگوں کو دجالی دکھائی آپ کی

حاشیہ جات

١؎ قولہ الہام سے جتلادیا۔ الخ! سنیے! جائے غور ہے کہ خدا نے تو تمہارے مسیح کو رجوع بحق کی اطلاع دی اور ادھر آتھم بدستور تمہارے مسیح کی تکذیب کر رہا ہے۔ اگر کسی قدر رجوع بحق وعدہ موت کو ٹال دیتا ہے تو آتھم کی موت سے ہاتھ دھوئے۔ کیونکہ تمہارے مسیح نے اس کو نہ مرنے کا ایک نسخہ مجرب بتا دیا ہے۔ جب قادیانی اس کے مرنے کی پیش گوئی کرے گا تو وہ قریب ختم میعاد کے رجوع بحق کی گولی نوش کر کے وعدہ موت سے بچ جایا کرے گا۔ پس معلوم ہوا کہ یہ اطلاع ہمارے خداوند کریم کی طرف سے نہیں۔ بلکہ قادیانی کے مہربان شیطان نے یہ سبق

١٢

پڑھایا ہے کہ چل بچہ کوئی اور ر رنگ ہو کر دارین کی سیاہی سے ب مستحق ہے تو خود مسلمانوں سے گ ہنستے ہیں کہ بے حیا باش ہر چہ خوا

٢؎ قولہ وعدہ موت ب احتمال باطل ہیں۔ کیونکہ وقت مو ہے۔ ”واذا جاء اجلهم لا ی کے لئے مقرر ہے۔ اس میں کبھی ت احکام الہی میں بھی نسخ کو گنجائش نہی

٣؎ قولہ نیک کام کر ک ایک ذرہ بھر بھی بد کام کرے وہ ا کہ اس سے اس کا سزا یافتہ ہونا ث سے کہ میں مسیح ہوں اور مسیح بن مری یہ ایک ایسا برا کام ہے کہ جس ن مرزا قادیانی کو تمام زمانہ میں رسوا ک ہو رہی تھی۔ صاف جھوٹی نکلی اور ک درجہ اچھا ہے۔ ہم مکرر یاد دلاتے ہ مرنے کی دلیل تراش ہو سکتی ہے تو ز مفہوم ہو سکتی ہے۔

٤؎ قولہ کسی قدر اسلا قانون شرعی سے یہ ثابت نہیں کہ ک اسلام کسی کے مرنے یا نہ مرنے کا ذ ورنہ لازم آتا ہے کہ بزعم خود مسیح کا ک فانی سے انتقال نہ کرے۔ بلکہ ہمیش

صفحہ ٥٩٩

پڑھایا ہے کہ چل بچہ کوئی اور رنگ بدل لے۔ جہاں میں احمق بہت ہیں کہ تیرے رنگ سے ہم رنگ ہو کر دارین کی سیاہی سے روسیاہ کیا کریں گے اور اگر کسی قدر رجوع بحق موت سے بچانے کا مستحق ہے تو خود مسلمانوں سے کوئی بھی نہ مرنا چاہئے۔ قادیانی کی اس نادانی پر تمام کفار ہنود وغیرہ ہنستے ہیں کہ بے حیا باش ہر چہ خواہی کن ۔ اس نازک زمانہ میں کون پوچھتا ہے۔

احتمال باطل ہیں۔ کیونکہ وقت موت سے قبل مرنا یا وقت مقرر سے تاخیر ہونا حکم الہی کے برخلاف ہے۔ ”واذا جاء اجلهم لا يستأخرون ساعة ولا يستقدمون“ یعنی جو وقت موت کے لئے مقرر ہے۔ اس میں کبھی تقدیم اور تاخیر نہیں ہو سکتی۔ شاید قادیانی کو اپنا اصلی مذہب کہ احکام الہی میں بھی نسخ کو گنجائش نہیں ۔ فراموش ہو گیا ہے۔ دروغ گورا حافظ نباشد !

ایک ذرہ بھر بھی بد کام کرے وہ اس کی سزا پائے گا۔ اس آیت کو قادیانی نے اس لئے ذکر نہیں کیا کہ اس سے اس کا سزا یافتہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اپنے جھوٹے دعویٰ کی وجہ سے کہ میں مسیح ہوں اور مسیح بن مریم انتقال کر چکے ہیں۔ وہ دوبارہ دنیا میں ہرگز نہیں آئیں گے۔ تو یہ ایک ایسا برا کام ہے کہ جس کی کوئی نظیر نہیں۔ خداوند کریم نے اس بدعملی کی شامت سے مرزا قادیانی کو تمام زمانہ میں رسوا کیا اور پوری پوری سزا دکھائی کہ وہ پیش گوئی جو کہ ہر طرف مشتہر ہو رہی تھی۔ صاف جھوٹی نکلی اور ہر طرف بدنامی کا اشتہار پھرا۔ افسوس ایسی زندگانی سے مرنا کئی درجہ اچھا ہے۔ ہم مکرر یاد دلاتے ہیں کہ پہلی آیت کی رو سے بقول قادیانی جب عبداللہ آتھم کے نہ مرنے کی دلیل تراش ہو سکتی ہے تو دوسری آیت سے خود مرزا قادیانی کے ذلیل ہونے کی کافی دلیل مفہوم ہو سکتی ہے۔

قانون شرعی سے یہ ثابت نہیں کہ کسی قدر اسلام قبول کرنے سے موت کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ اسلام کسی کے مرنے یا نہ مرنے کا ضامن نہیں۔ ہاں عذاب اخروی سے بچانا اسلام کا کام ہے۔ ورنہ لازم آتا ہے کہ بزعم خود مسیح قادیانی جو کہ معدن الحسنات والبرکات ہونے کا دم مارتا ہے۔ عالم فانی سے انتقال نہ کرے۔ بلکہ ہمیشہ کرسی نشین زندگانی ہو کر محافل فتن اور مفاسد کو گرم رکھے۔

١٣

صفحہ ٦٠٠

٥ قولہ بیباکی اور گستاخی ۔ الخ ! سچ ہے کہ بحکم: ”کل نفس ذائقة الموت“ ضرور ہی مرے گا۔ اس وقت قادیانی بول اٹھے گا کہ میری پیش گوئی کے سبب سے مرا ہے۔ مگر یہ سراسر ابلہ فریبی اور دھوکہ بازی ہے۔ کیونکہ اس میں مرزا قادیانی کی کچھ خصوصیت نہیں۔ ایسی پیش گوئی ہر کوئی کر سکتا ہے کہ فلاں شخص جب گستاخی اور بے ادبی کرے گا تو ضرور مرے گا اور دو چار اشتہار اس مضمون کے اطراف واکناف میں شائع کئے جاویں کہ فلاں شخص کی بھی سزائے موت مقرر ہو چکی ہے۔ پھر جب وہ مرجاوے اسی وقت سچ پن کا دعویٰ ہو سکتا ہے۔ الغرض ایسی پیش گوئیوں کی رو سے تو ہزاروں لوگ مسیح اور مہدی ہونے کے مستحق ہیں۔

٦ قولہ اگر میں جھوٹ بولتا ہوں۔ الخ!

(انوارالاسلام ص ٢ خزائن ج ٩ ص ٥٧)

سبحان اللہ! قادیانی کو اب تک اپنی راست بازی اور نیک نیتی کا خیال چلا جاتا ہے اور افتراء سازی اور دروغ گوئی کا خمار سر سے نہیں اترا۔ ذرا ہوش میں آئیے اور خیالات فاسدہ سے ہاتھ دھوئیے کہ اس بوڑھے پرانے مسیحی (آتھم) نے آپ کی جھوٹی نئی مسیحیت کے پاش پاش کرنے کے لئے اخباروں اور اشتہاروں کے ذریعہ سے آپ کی تکذیب اور بدنامی کو تمام عالم میں مشتہر کر دیا۔

٧ قولہ دل کو نہیں پکڑا۔ الخ!

(انوارالاسلام ص ٢ خزائن ج ٩ ص ٥٧)

بے شک اسلام کی عظمت کا ایسے شخصوں کے دلوں کا پکڑنا تیرہ سو برس سے مسلم ہے کہ اسلام نے کل مسلمانوں کو اطلاع دے دی کہ یہ اہل کتاب نصاریٰ اور یہودی قرآن کریم اور نبی مکرم ﷺ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے ہیں اور اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں۔ لیکن دشمنی اور عناد سے نہیں مانتے اور ایمان نہیں لاتے۔ یہی وجہ تھی کہ جب نصاریٰ کو مباہلے کے لئے بلایا گیا تو نبی علیہ السلام اور اہل بیت کرام کے مقابلے میں لعنتہ اللہ علی الکاذبین کہنے پر ان کا حوصلہ نہ ہوسکا اور بھاگ نکلے۔ یہ بڑی صاف دلیل ہے کہ وہ اپنے عقائد باطلہ کو دل سے صحیح نہ سمجھتے تھے اور اسلامی عظمت نے ان کے دل پکڑے ہوئے تھے۔ لیکن دل میں اس طرح سے حق کی طرف رجوع کرنا اور عقائد باطلہ کو غلط سمجھنا کسی طرح سے عمل نیک نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یہ نہایت درجہ کی بیباکی اور سرکشی ہے۔ یہ تو کاذب قادیانی کا کام ہے کہ اس کا نام رجوع بحق رکھے اور اس پر خیرا یرہ کو پڑھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ خیرا یرہ قادیانی کو یاد نہیں آتا۔ حالانکہ آتھم میں

١٤

صفحہ ٦٠١

ہزاروں طرح کے شرور خصوصاً تثلیث باری موجود تھی تو معلوم ہوا کہ یہ دونوں آیتیں تقسیم ہو کر آئی ہیں۔ پہلے آتھم کے بارے میں اور دوسری خود قادیانی کی شان میں ۔

(انوار الاسلام ص ب ، خزائن ج ٩ ص ٥٧)

ہم جانتے ہیں کہ اپنے اس جھوٹے دعویٰ کی وجہ سے بہت کچھ کمایا ہے۔ مگر بہتر ہے کہ مسکینوں اور محتاجوں کو کھلائیں یا کوئی مسجد اور تالاب وغیرہ بنوائیں۔ ناحق ایک ہزار روپیہ کا بدرہ کھو کر زیادہ بدنامی اور روسیاہی نہ کرائیں۔ یکے نقصان مایہ دگر شماتت ہمسایہ کا مضمون شاید گلستان میں پڑھا ہوگا۔ ملحوظ رکھیں۔

(انوار الاسلام ص ب، خزائن ج ٩ ص ٥٧)

یہ تو پرانے عیسائیوں کا حال ہے۔ اب ذرا اپنے نئے مسیحوں اور مرزائیوں کی فہرست کا ملاحظہ کیجئے کہ انہوں نے اس پندرہ ماہ کے اندر کیا کیا صدمے اٹھائے۔ آپ کے پیارے مہربان مولوی نورالدین کا بیٹا اسی میعاد کے اندر مرا اور آپ کے دو نئے مسیحی مرزائی جو کہ بہت عرصہ سے جان نثار مرید تھے پرانے عیسائیوں نے خونخوار نہنگ کی طرح نگل لئے اور جن جن کی خاطر آپ نے مباحثہ کیا تھا۔ انہوں نے جناب کو جھوٹا کذاب مفتری سمجھ کر اپنے اسلام قدیمی سے بھی ہاتھ دھو لیا اور آپ نے سخت بیماریوں کے صدمے اٹھائے۔ جیسا کہ علاج کرانے کے لئے لاہور میں جانا آپ کا ایک پختہ مرزائی کے خطوط سے ثابت ہے۔

(انوار الاسلام ص و، خزائن ج ٩ ص ٦٠، ٦١)

یہ بھنگیوں جیسی گالیاں شاید بھائی امام الدین لال بیگی سے ورثہ پایا ہے۔ سو ایسے کلمات قبیحہ کی نسبت ہم کو اپنی طرف سے کچھ جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ انشاء اللہ اب خود بخود اوروں کی طرف سے بھی صاف صاف گالیاں مزیدار جناب کی جناب میں نذر ہوں گی۔

از یار یک اشارہ و از ما بسر دویدن ۔ لوگ تھوڑی سی بے تہذیبی کے منتظر تھے۔ اب دیکھئے بے تہذیبی کے بڑے بڑے طومار تر کی بترکی ہفتہ وار خدمت میں ارسال ہوتے رہیں گے۔

(انوار الاسلام ص و، خزائن ج ٩ ص ٦٢)

قادیانی کے فرضی خدا نے مخالفوں کے اعتراض کو تسلیم کر کے آتھم سے موت کو ٹال دیا اور یہ نہ سمجھا کہ میرے نئے پیارے مسیح کو مخالفین بہت ستائیں گے اور سخت سخت اعتراضات بنائیں گے اور

١٥

صفحہ ٦٠٢

ہر طرف سے ندامت اور ملامت کے تیر برسائیں گے۔ اگر اس پیش گوئی کو صادق کر دیتا تو ہزاروں نادان آپ کے مطیع فرمان ہو جاتے اور پرانے مرید علم الیقین سے ترقی کر کے عین الیقین کے مدارج حاصل کرتے۔ اگر آپ سچے ملہم ہوتے تو آپ کو یہ بات بھی الہام سے معلوم ہو جاتی کہ آتھم کی موت لوگوں کے اعتراضوں سے مشکوک اور کمزور ہو گئی ہے تو قبل اختتام میعاد کے یہ شائع کرتے کہ فلاں پیش گوئی فلاں تاریخ سے تبدیل ہو گئی اور چیف کورٹ کے مقدمات کی طرح اس کی تاریخ بڑھ گئی ہے تو شاید کوئی نادان اس کو قبول کر لیتا۔ اب چونکہ آتھم کی موت کی تاریخ سے کئی دن زیادہ گزر لئے اور فیصلہ قطعی ہو لیا تو آپ نے یہ الہامی اشتہار جو کہ سراسر دروغ گوئی اور افتراء سے مالا مال ہے۔ شائع کیا اب ایسی پوچ باتوں کو کون سنتا ہے اور بے اصل عذروں سے کیا ہو سکتا ہے۔ افسوس کہ آپ نے الہام کو بدنام کیا۔ تمام لوگ ہنستے ہیں۔ اگر ایسی چیز کا نام الہام ہے کہ جس کے کبھی کسی موقع میں صداقت نہیں پائی گئی تو اب کہئے دروغ اور افتراء کس چیز کا نام ہے۔ بہتر ہے کہ سجع پن اور الہام بازی سے توبہ کر کے اسلام قدیم کو سرسبز کریں۔ آمین! راقم خیرخواہ اسلام بندہ محمود گنجوی عفی عنہ، اقبال طالبعلم سکاچ مشن کالج سیالکوٹ! اب معلوم ہوا کہ نئے مسیح دجال قادیانی کا پتا سہا بھی آپ نے لے رکھا ہے۔ آپ کی نظم میں بھنگیوں کے تلازمات اس بات کے شاہد ہیں کہ آپ بھنگیوں کے چچا پیر یعنی امام الدین لال بیگی کے اخ مکرم غلام دجال قادیانی کے چیلے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے گندے تلازمات آپ کے دماغ سے برآمد ہوئے۔ بیشک تاثیر اسی کو کہتے ہیں۔ چونکہ اسی چچا پیر کا قصہ مخدوم سعدی سلمہ اللہ کی نظم میں ہے۔ اسی لئے ہر بیت آپ کی نظر میں خاک روب بیت الخلاء اور اشعار گوہ بے بہا ہیں۔ ہر شعر میں اسی بھنگیوں کے چچا پیر کا نام مرزا موجود ہے۔ جو آپ کو بیت الخلاء اور گوہ بے بہا دکھائی دیتا ہے۔ چونکہ ان اشعار سے قادیانی پر ایک موت وارد ہو گئی ہے۔ اس لئے ہر اک شعر کو بغیر یا کے موتی کہنا بھی بجا ہے خود ہے آپ کا مصرع

دین اور ایمان کی دم میں واہ نمدہ دے دیا

بیشک آپ کے دین اور ایمان کی دم میں (جو مرزا قادیانی ہے) ایسا نمدہ دیا ہے کہ کہیں رجم کی رے کہیں موت کا میم ہے اور اب لعنت کا طوق آپ کے اس مرشد پر خواہ فرمائشی لگائیں خواہ آزمائشی قادیانی ایسا ڈھیٹ ہے کہ لات تک نہیں ہلائے گا اور اس نمدے سے اور بھی بیباک ہو گیا ہے۔ ناظرین کو یاد رہے کہ قادیانی کے عذر توڑنے کے لئے اس کے اس الہامی اشتہار کا ١٦

کچھ مختصر جواب نیچے کے فوٹو میں لکھا گیا۔ راقم: خیر

رسول گمان کرتا ہوگا۔

ان کو سولی نہیں چڑھایا۔ قادیانی نیم یہودی و نیم فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین ہیں۔ ک یعنی قادیانی جیسے اب بھی اتنے نبی نکل سکتے ہیں

کہتا ہے۔ ”اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل کم نہ رہتا۔“ ملخصاً!

کا گوسالہ۔ ملخصاً

میں قائم کرنے میں حضرت عیسیٰ کا نمبر ایسا کم

ہے۔“

خوفناک حالت اور وہہم و سراسیمگی سے شہر ب

۔ اس سے یہ ثابت نہ ہو گا کہ اس

صفحہ ٦٠٣

کچھ مختصر جواب نیچے کے فوٹو میں لکھا گیا۔

راقم: خیر خواہ اسلام، بندہ محمود گنجوی عفی عنہ حال وارد کوٹلہ مالیر

رسول گمان کرتا ہوگا۔

ان کو سولی نہیں چڑھایا۔ قادیانی نیم یہودی ونیم نصرانی کہتا ہے۔ سولی پر ضرور چڑھایا تھا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین ہیں۔ قادیانی کہتا ہے کہ بالکل باب نبوت مسدود نہیں ہوا۔ یعنی قادیانی جیسے اب بھی بنام نبی نکل سکتے ہیں۔

کہتا ہے۔ ”اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو ان اعجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“ ملخصاً!

کا گوسالہ۔ ملخصاً

میں قائم کرنے میں حضرت عیسیٰ کا نمبر ایسا کم رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔“

ہے۔“

خوفناک حالت اور وہم و سراسیمگی سے شہر بشہر بھاگتا پھرا۔

اس سے یہ ثابت نہ ہوگا کہ اس نے اس کا مذہب بھی سچ مان لیا ہے۔

١٧

صفحہ ٦٠٢

وغیرہ کا منظور کرنا۔

تین دن کی مہلت دیں گے۔ دجال کیسے فریب کی تقریر لکھتا ہے۔ یاد رکھے مسلمان ایسے فریبوں میں نہیں آتے۔ عیسائیوں نے تو حضرت عیسیٰ کو معبود مانا ہے۔ وہ تو کیا کریں گے۔ انبیاء علیہم السلام بھی بغیر اطلاع خداوندی کوئی دعویٰ نہیں کر سکتے۔ آتھم قادیانی جیسا ڈھیٹ نہیں ہو سکتا کہ جو کچھ چاہے کر دے۔ پھر جھوٹا ہو کر بھی جھوٹا نہ ہو۔

ہے۔ شائقین وہاں دیکھیں۔

نہ ہوگا اور قادیانی کا گزارہ مانگ کھانے پر ہے۔

شرع اسلام نکاح کیا ہے اور قادیانی نے اس کو اڑھائی سال کے اندر مرنے کی دھمکی دی ہے اور اس کو بھی مرگ آتھم کی طرح اپنے معیار صدق و کذب بتایا ہے۔ یہ اڑھائی سال بھی پورے ہوچکے۔

ہیں۔ قابل دید ہیں۔

١٨

حقو

حضرت مولانا مح

PDF 606

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

حقوق

حضرت مولانا محمد سعد اللہ لدھیانویؒ

صفحہ ٦٠٦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

مرزا کہ بدین گشت لقب دجالش
صد شکر کہ حق نمود استیصالش
قد خاب من افتری بیان حالش
وان حال بہ قطع قادیانی سالش

حقوق

نکھیڑا ہویا ہن کی جھوٹھے بولن
ہن ڈاڈھے بے شرم جے اس تھیں پچھے بی مونہہ کھولن

اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم! ”اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ (يونس)“

جادوگراں نوں حضرت موسیٰ آکھیا حشر دھاڑے کم فسادیاں دے نوں اللہ پاک نہ راس اتارے جد حق دیکھیا جادوگر ایمان لیائے آہے عبدالحق دے آگے ڈھیٹھا مرزا جتاں ڈاہے

”قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ (يونس)“

نبی نوں رب فرمایا جیہڑے جھوٹھ اللہ پر لاون آکھ نہ بھجسن اوہ الزاموں اتے مراد نہ پاون اٹکل رملیاں دی بی کدی کداہیں سچ ہو جاوے مرزا جھوٹھ اللہ پر لاوے کدی مراد نہ پاوے

”وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهَهُمْ مُّسْوَدَّة (الزمر)“

حشر دھاڑے دیکھ لوینگا توں اکھیں دیکھیں والے اللہ اوپر جھوٹھ جو بولن منہ انہاں دے کالے غضب الٰہی ہن بی وقت ضرورت جد کدی آوے ایہاں جیہاں دا ایتھے بی منہ کالا کر دکھلاوے مرزے نالوں ودھ کسے دا منہ کالا کد ہویا منہ کالا گل رسا اپنے موہوں من کھلویا

”وَلَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ (سجده)“

بدکاراں نوں اسیں چکھاساں دنیا وچ عذابوں وڈے عذاب تھیں کدے بھلا جے مڑن اس کم خرابوں ربا فضل کرم تھیں دیہہ سعد اللہ نوں توفیقاں سعی مبارک تے مشکور جو رد کرے زندیقاں نیت خالص قسمت کرتیں چنگے عمل کماوے بخش ایمان جو بدیاں نوں بھی نیکیاں کر دکھلاوے

٢

دوہاں جہاناں وچ بھلیائیاں دئیں بار خدایا

”وَقَالُوْا كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ

کافر کہن دوزخ وچ جے حق اسیں سندے سمجھدے مرزائیو اج حقوق سنو انصاف کماؤ کھوہ وچ پیا مثیل مسیح محدث ولی مجدد اہلِ اسلام نوں چھڈ کے مرزا تاں خلیل بنایا

بِسْمِ اللّٰهِ الـ

اللہ پاک نوں سراہاں منگاں اوہدیاں پناہاں جاواں نبی دے قربان جیہڑا لیایا ہے قرآن وچ قادیاں دجال کتھے مکر والا جال عیسیٰ نبی آپ بنے پیش گوئیاں اوتے تنے نور دین ہے مشیر کیتا مرزے نوں اسیر دھوکھا کھان مسلمان پڑھے ظاہراً قرآن دیکھو ذات دا مغل دیوے دعویاں نوں طول اک بھائی لال بیگ اک کھریاں دے تیگ

صفحہ ٦٠٧
دوہاں جہاناں وچ بھلیائیاں دئیں بار خدایا اتھے اوتھے رحمت داتاں رکھیں سر پر سایا

"وقالوا لو كنا نسمع او نعقل ما كنا في أصحاب السعير (ملك)"

کافر کہن دوزخ وچ جے حق اسیں سندے سمجھدے نہ ہن دوزخیاں وچ بندے نال اس آگ دے بھجدے
مرزائیو اج حق نوں سنو انصاف کماؤ مرزے نوں ناں احمد مرسل نبی رسول بناؤ
کھوہ وچ پیا مثیل مسیح محدث ولی مجدد نبی بنے نوں کتے بھوکن اہل حدیث مقلد
اہل اسلام نوں چھڈ کے مرزا تاں خلیل بنایا پچھتاسو دھوکھا دیسی اوہ جدوں یاد آیا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

الله پاک نوں سراہاں یاری اسے دی میں چاہاں
منگاں اوہدیاں پناہاں کراں اوسی نوں سجود میں
جاواں نبی دے قربان مناں اوسے دا فرمان
جیہڑا لیایا ہے قرآن بھیجاں اوس تے درود میں
وچ قادیاں دجال اک اٹھیا رمال
کڈھے مکر والا جال عیسیٰ مارنے دا شوق ہے
عیسیٰ نبی آپ بنے سمجھو کجھ مہدی سنے
پیش گوئیاں اوتے تنے گل لعنتاں دا طوق ہے
نور دین ہے مشیر اوتوں چیلا وچوں پیر
کیتا مرزے نوں اسیر گل پایا پھاہا نیچری
دھوکھا کھان مسلمان جیہڑے دین تھیں انجان
پڑھے ظاہراً قرآن اندر گئی آہا نیچری
دیکھو ذات دا مغل بنے احمد رسول
دیوے دعویاں نوں طول زور کفر وچ لاوندا
اک بھائی لال بیگ چٹے چوڑھیاں دی دیگ
اک کھریاں دے نیگ مرضی اپنی چڑھاوندا

٣

صفحہ ٦٠٩
لائی گپ قادیانی الہام دی نشانی ایہہ نشان آسمانی میری دیکھو پیش گوئی ہے
ڈھائی سال درمیان مر جاسی سلطان سوا برس دا نشان موت آتھم دی ہوئی ہے
کہے کر کے پیش گوئی لوکو جے ایہہ جھوٹھ ہوئی کہو جھوٹا سب کوئی رسا میرے گل پائیو
سولی رکھیو تیار نالے دیجیو پھٹکار میری ایہو ہے معیار کالس ایس منہ لائیو
سچ سیانیاں نے کیہا شک کسی نوں نہ رہیا قادیانی ایہا جیہا ارڑپوپو ٹھگ جگ ہے
پتر جے سناوے وہی جے اتے آوے کسے موت تھیں ڈراوے سوئے بیٹھ راہ دا ٹھگ ہے
دابے عالماں نوں دے اپنے آپ بنے نبی پھیر فتویاں تھیں نسے جیہڑی جھوٹھیاں دی چال ہے
کھلی اہدی سب ٹھگی قلم عالماں دی وگی سلیمانی مہر لگی قادیانی دجال ہے
سعدی اللہ دا احسان اوہ وڈا مہربان رکھ لئے مسلمان اہدے کفر والے پھندیوں
کیتا اہدا منہ کالا دتی لعنتاں دی مالا کرے اجے بی جے ٹالا بھلا ایس کموں گندیوں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

بر بست چو قادیانی الہامے چند بازار نمود گرم ایامے چند
کارش ہمہ غش و ہر متاعش کاسد بدنام کنندۂ نکونامے چند

٤

چوں سوئے مال قد خاب من افترا
سلطان بمراد خویش گمنام نشان

وهو الفتاح

ونصلی علی رسوله الکریم

حمد اللہ نوں جس نے سرجیا دھرتی انبر تائیں نالے اوس دے آل ازواج اصحاباں تابعداراں
احمد مرسل ختم نبیاں سب قوماں دا ہادی ختم نبیاں آیا رحمت فضل ہدایت کارن
ویریاں نوں اوس بھائی بنایا ویر وکھودہ ونجائے ہر دم کریئے اللہ پاک دی نعمت دا شکراناں
جس نے سچیاں خبراں دتیاں غیباں کنوں ڈرایا جو کوئی اوسدیاں خبراں منے اوہ نصیباں والا
آکھیس ایہہ گھڑی تھیں پہلوں جھوٹھے نبی کئی آون جھوٹے کئی مسیح آون گے عیسیٰ خبر سنائی
دجالاں دی بڑی نشانی اج نبوت دعوا ایسے جھوٹے نبی کئی ہو گزرے ہن اج تائیں
قادیاں وچ اونہاں دا بھائی اج کل ہور اک آیا آکھے میں ہاں آیا اوہ بشارت عیسیٰ والی
ناؤں غلام احمد پورے سال پنجاہ سدا کے دیکھو قدرت رب دی نالے آپ مسیح سدایا
آپے کیہا نہ بھکتی پاؤ سمجھو اہل ایمانو میرے جھوٹھے تے سچ دی لوکو ہوئی ایہہ کسوٹی

٥

صفحہ ٦٠٩
چوں سوئے مال قادیانی بینی
قدخاب من افتری عیانی بینی
سلطان بمراد خویش وآنهم زنده
گمنام نشان آسمانی بینی

وهو الفتاح العليم

ونصلى على رسوله الكريم وآله الفخيم!

حمد اللہ نوں جس نے سرجیا دھرتی انبر تائیں لکھ صلوۃ سلام محمدؐ پاک پیمبر تائیں
نالے اوس دے آل ازواج اصحاباں تابعداراں ہور رسولاں نبیاں اوتے کہاں سلام ہزاراں
احمد مرسل ختم نبیاں سب قوماں دا ہادی اوہ بشارت روح اللہ دی دعا خلیل اللہ دی
ختم نبیاں آیا رحمت فضل ہدایت کارن رب نے بھیجا خاص بہانا اوہ ڈبدیاں نوں تارن
ویریاں نوں اوس بھائی بنایا ویر وکھودہ ونجائے اگدے ٹوئے اندر ڈگدے باہوں پکڑ بچائے
ہر دم کرے اللہ پاک دی نعمت دا شکراناں نبی رؤف رحیم اوس بھیجا کارن اہل ایماناں
جس نے سچیاں خبراں دتیاں غیباں کنوں ڈرایا سختیاں ویلے دین تے ثابت قدم رہن فرمایا
جو کوئی اوسدیاں خبراں منے اوہ نصیباں والا عربی ہندی رومی روسی گورا خواہی کالا
آکھیس ایں گھڑی تھیں پہلوں جھوٹھے تیہہ اک آون نبی نہیں کوئی میرے پیچھے پر اوہ نبی کہاون
جھوٹے کئی مسیح آون گے عیسیٰ خبر سنائی آخر میں آسمانوں آواں نال جلال خدائی
دجالاں دی بڑی نشانی اج نبوت دعوا کھانی کئی قسماں ہن سب دھوکے مکر بھراوا
ایسے جھوٹے نبی کئی ہو گزرے ہن اج تائیں خوار ہلاک اوہناں نوں کیتا آخر اللہ سائیں
قادیاں وچ اوہناں دا بھائی اج کل ہور اک آیا پیش گوئیاں رمالاں والیاں کر کر شور مچایا
آکھے میں ہاں آیا اوہ بشارت عیسیٰ والی سبھ دجالاں نالوں ودھ کے کیتی اس دجالی
ناؤں غلام احمد پورے سال پنجاہ سدا کے احمد آپ رسول اوہ بنیا ظالم آخر آ کے
دیکھو قدرت رب دی نالے آپ مسیح سدایا عیسیٰ نبی دا اوہ فرمودہ کہیا صادق آیا
آپے کیہا نہ چھپتی پاؤ سمجھو اہل ایمانو مرن جے میاں سلطان تے آکھو مینوں جھوٹھا جانو
میرے جھوٹھ تے سچ دی لوکو ہوئی ایہہ کسوٹی رنڈی تیہہ ماہاں دے وچ سلطان دی ہوسی وٹی

٥

صفحہ ٦١٠
آتھم نے مرجانا سوابرس تھیں اگے اگے چابکیاں مارن شرطاں لاویں چیلے احمق ڈھگے
سنت رب دی کدی نہ بدلی ہن بی ہوئی اوویں منہ کالا دجال دا ہویا زندہ رہے اوہ دوویں
اپنی آپ کسوٹی اوپر خوب گیا آزمایا اللہ پاک نے فضل کیتا اس صدمیوں دین بچایا
جے کتے ہندی موت انہاں دی لکھی تے ادھر جاندے ایہ دجال خدا بن بہندا جاہل دھوکھا کھاندے
وانگ دو پہرے ظاہر ہویا ہن اس دا منہ کالا چیلیاں دی بی اکھاں اگوں لیہ گیا دھند تے جالا
بعضے دل دے انھے اکھاں میچیں بیٹھے در تے دور گئے گمراہی وچ اینجھے مول نہ پرتے
کھول حقیقت اس دی تینوں سچو سچ سناواں کھریاں سچو بڑیاں ہی بی دیکھی کیتی ریس بھرلاں
دتا مسلماناں نوں دھوکھا مونہوں کلمہ کہہ کے نوکری چھٹی فیل ہویا مختاری اڈے وچ بہکے
پہلوں کیا مجدد ہاں میں پھر محدث بنیا بنیا آخر مرسل نبی ہلاکو خاں دا جنیا
عیسی بنیا مہدی بنیا حارث بنیا آپے الوہیت دے دعوے ظالم وچ کتاباں چھاپے
جس نوں کرے ہدایت اللہ سدھے راہ اوہ چلدا جس نوں اوہ توفیق نہ دیوے گمراہی وچ گلدا
سنجے سویرے رات دو پہرے شکر اللہ دا کرے منکر جے بچے اس دا فضل عذابوں اس ویل ڈریئے
وعدہ وعید اوں دے سب سچے کوئی خلاف نجاوے جو ہر شے پر حاضر ناظر اوہ کڈ غلطی کھاوے
نال گل اوس دی بدلے ناں اوہ ظالم بندیاں اتے اس دے اگے جھگڑ نہ سکن کافر بھاگاں تے
بھیجے کدے عذاب نصیحت کارن نافرماناں ڈر کے عبرت پکڑن ہوون شامل اہل ایماناں
بھیجے جدوں ہلاک کرن نوں پھیر عذاب نہ موڑے بہاویں اوہ ایمان لیاون وچ سمندر بوڑے
رحمت ویلے رحم کرے تے سختی وقت عذاباں جس تھیں بدلا لینا چاہے جھٹتی کرے حساباں
غیرت والا رب ہے تیرا کرے عذاب اوہ جھبدے بھانویں رحم اتے غفران بی ہن بے انت اس ربدے
بندیاں تھیں جد چاہے وعدے پورے کرن ہمیشہ اس تھیں وعد خلافی دا پھر کڑھووے اندیشہ
نیکاں نوں انعام ہے بریاں اوپر جیہڑی سختی در گزرن اس سختی تھیں ہے نیکاں دی بختی
بے اندیشہ ہوندا حضرت موسیٰ کدی نہ دبندے ناں فرعون نوں دیکھ کے پچھے نال دلیری کہندے
میرے نال ہے میرا رب ہدایت مینوں کرسی یعنی مینوں خوف نہیں کچھ دشمن آپے مرسی
کہن منافق وعدیاں اندر اللہ دھوکھا کردا مومن آکھن سچا وعدہ رب تے پیغمبر دا
مرزا آکھے وعدیاں دیوچ شرطاں رب لگوے اوس دا وعدہ ظاہر باطن اک جہاناں ہووے
مومن آکھن ایہاں گلاں جھوٹے دلی کردے اندر کچھ تے باہر کچھ سناون رکھن پردے

٦

گل کرن وچ کہڑا سچا ودھ کے اللہ نالوں
کافر اس کول رسول اوہناندے کھلے نشان لیاون
ویکھیا جدوں عذاب اساڈا ڈردے مارے روون
پر اوں ویلے دیکھ کے ایمان نفع نہ دتا کوئی
ٹھٹھے باز تے کافر آخر آکے ٹوٹا پاون
جد تک وعدہ کرے نہ اللہ دیوے ڈھل سبھاویں
اہل کتاباں دی تحریفاں پچھے مرزا
ڈہن لگا وچ سمندر جد فرعون
سنیا ہوسی ملیا اوں دم کیہا جواب اس
بال کھنڈیاں تے مٹی بھریاندی گل خطانہ جاوے
یونس نبی نے قوم اپنی نوں خبر عذاب سـ
نبی نوں اللہ سچا کیتا اوہناں عذاب ٹـ
نبی اوہناندیاں خبراں پچھے بیٹھا اندر جـ
پہلاں اتنی خبر اوہ سچے دلوں ایمان لیا
اللہ قسم نیاں آکھیا ایساناں ہو جـ
کافر دکھ جے دیہن تاں بی بری دعاناں کـ
اللہ چاہے کرے عذاب تے چاہے موڑ لیا
موسیٰ جدوں دعا کیتی فرعونیاں حق عذا
حامی کیتی خامی آتھم قبطیاں نال
مرزے نوں اوہ جھوٹھا آکھے اول تھیں ہن تـ
انبر سر تھیں نٹھدا کیوں جے اللہ کولوں
ڈر خونی مرزائیاں دے تھیں گھر دھیاناں
گھڑی نہ اگے پچھے ہووے موت نہ ٹلے کـ
نوح نبی دے پت پہاڑیں چڑھ کے لیاں
جیکر ہوندا امر اللہ دا آتھم کدی نـ
صفحہ ٦١١
گل کرن وچ کہڑا سچا ودھ کے اللہ نالوں ماضی استقبال اوہ جانے واقف سب دے حالوں
کافراں کول رسول اونہاندے کھلے نشان لیائے اپنی عقل اوتے اوہ بھلے کفر دے بدلے پائے
دیکھیا جدوں عذاب اساڈا ڈر دے مارے روئے اللہ واحد منیا کفر تے شرکوں منکر ہوئے
پر اوس ویلے دیکھ کے اُن نفع نہ دتا کوئی اپنے بندیاں نال سدا ایہ سنت ربدی ہوئی
ٹھٹھے باز تے کافر آخر آکے ٹوٹا پاون وعدہ پہنچیا نفع نہ دیوے روون تے پچھتاون
جد تیک وعدہ کرے نہ اللہ دیوے ڈھل سمجھاوے پر جد وعدہ کردا گھڑی نہ اگے پچھے پاوے
اہل کتاباں دی تحریفاں پچھے مرزا لگا اللہ نوں پچھان نہ سکیا عقلوں خارج ڈھگا
ڈبن لگا وچ سمندر جد فرعون الایا اسرائیلیاں دے رب اوتے میں ایمان لیایا
سنیا ہوسی ملیا اوس دم کیہا جواب اس فانی ہن ایمان تے پہلوں مفسد کیتی نافرمانی
بال کھنڈیاں تے مٹی بھریا کدی گل خطا نہ جاوے قسم جے کھان اللہ دی اللہ اوویں کر دکھلاوے
یونس نبی نے قوم اپنی نوں خبر عذاب سنائی اللہ ولوں حکم نہ آیا نبی شتابی پائی
نبی نوں اللہ سچا کیتا اونہاں عذاب وکھلایا قوم ایمان لیائی خوف اونہاندے دل وچ آیا
نبی اونہاندیاں خبراں پچھے بیٹھا اندر جنگل جھوٹھا ہو کے بن میں کیونکر جاواں پھیر اونہانول
پر نال اتنی خبر اوہ سچے دلوں ایمان لیائے اللہ مینوں سچا کیتا دکھوں اوہ بچائے
اللہ ختم نبی نوں آکھیا ایسا ناں ہو جائیں جگر رکھیں ہمت والیاں وانگوں صبر کمائیں
کافر دکھ جے دین تاں بی بری دعاناں منگیں میرے کم وچ دخل نہ دئیں اپنی حد نہ ٹپیں
اللہ چاہے کرے عذاب تے چاہے موڑا پاوے کافر بے شک ظالم ہن پر ہوی جو اوہ بھاوے
موسیٰ جدوں دعا کیتی فرعونیاں حق عذابوں ٹلیا اوہ عذاب تے مہلت مل گئی پاک جنابوں
حامی کیتی خامی آتھم قبطیاں نال رلایا اس نے کڈوں دعا کروائی کد مڑتے دل آیا
مرزے نوں اوہ جھوٹھا آکھے اول تھیں ہن تائیں اللہ تھوں کد ڈردا پھریا ہوریں ہوریں جائیں
انبر سرتھیں نٹھدا کیوں جے اللہ کولوں ڈردا ہے اک اللہ لدیانے فیروز پور انبر سر دا
ڈر خونی مرزائیاں دے تھیں گھر دھیاندے آیا اپنی آپ حفاظت کیتی چوکی پہرہ لایا
گھڑی نہ اگے پچھے ہووے موت نہ ٹلے کدائیں سچ مچ موت جے آئی ہووے دیوے کون پناہیں
نوح نبی دے پت پہاڑیں چڑھ کے لئیاں پنہاں امر اللہ دیوں بچ ناں سکیا لائیاں لکھاں داہاں
جیگر ہوندا امر اللہ دا آتھم کد بچ سکدا شہر بشہریں ملکیں دیسیں بھانویں لک لک تھکدا
صفحہ ٦١٣
قبطیاں نال ہلاکت وعدہ موسیٰ نے کد کریا مرزے والیاں انہاں سزاؤں دا کد ذمہ بھریا
ڈرا اللہ تھیں ایسی تہمت نبیاں سر ناں لاتوں من گھڑتی تفسیراں کرنے تھیں جاہل باز آتوں
تیرے مرزے آکھیا آتھم مر کے ہاویئے پیسی میرا ایس مقابلہ کیتا ٹھیک سزا ایہہ لے سی
نہیں تاں میرا کالا منہ کر رسا گل وچ پاؤ رستے وچ کھڑیسو مینوں پھیر صلیب چڑھاؤ
قسماں کھا کے آخر آکھیا ہونا ایہہ ضروری زمین آسمان ٹلن پر ہوی بات اللہ دی پوری
جے میں جھوٹا نکلاں پائیو ودھ ودھ کے تسیں گالاں میرے جھوٹھ تے سچ دیاں ایہو پیش گوئیاں مثالاں
دل وچ ڈریا اوہ ہن مرزا لاوے جھوٹھ بہانے یونس نبی دی قوم دا ایمان ساری خلقت جانے
آتھم اوہو جیہا مسیحی کد ایمان لیایا کس کافر نے لکھ ایمانوں دس نفع اٹھایا
دل وچ جیڑھا کرے یقین تے آکھ چھڈے سائیں ہے اوہ بے ایمان نہ ہوی اوس نجات کدائیں
سورۃ نمل رکوع پہلے آخر رب فرمایا ساڈے کھلے نشاناں تائیں کافراں سحر بنایا
ظاہر منکر ہوئے تے دل وچ سن یقین لیائے بے انصافی خودی تکبر کر کے باز نہ آئے
بے ایماناں جدوں فساد شرارت شوخی کیتی دیکھ توں آخر نال اوہناں دے سہی کیہی بیتی
مرزے سوا برس وچ لائی حد آتھم دا مرنا جے آتھم ناں مرے تاں مرزے دامنہ کالا کرنا
اللہ پاک دی قدرت دیکھو آتھم اجے نہ مریا ناں ایمان لیایا ناحق دل رجوع اوس کریا
دل وچ جے کچھ ڈریا ہوندا مرزے دے گھر جاندا مرزے نوں پی ٹکڑا دیندا بیٹھا پینشن کھاندا
چھ تاریخ ستمبر دی کیوں انبرسر وچ آ کے پادریاں دا سنگی بندا پوندا اس دے خاکے
انبرسری مرزائی آکھن آتھم لد سدھایا ایہہ تاں پادریاں نے ربڑ دا پتلا کتوں منگایا
آتھم کیتا اگلے دن مرزائیاں نوں شرمندہ گڈی چڑھ کے ہوکا دیوے دیکھو میں ہاں زندہ
مرزے نے وی کیوں ناں دسیا جد اوہ دل وچ ڈریا آخر وقت الہام بنایا جد دیکھیا ناں مریا
آخر وچ کراماتاں دے لکھیا کھلم کھلا سوا برس وچ مرسی آتھم عمر شرطی عبداللہ
ہاویہ دی تے رجوع بحق دی اوتھے شرط نہ کوئی بڈھے دے مرنے دی اس نوں صاف بشارت ہوئی
اکھاں اس دیاں کھل گیاں تے اطمینان وی ہویا عربی وچ ایہہ دعوٰی لکھ کے عاماں کنوں لکویا
کوئی آکھے حضرت نے کد تاں ہیں آتھم ملایا ہاویہ لکھی سزا ہے دعوٰی موت دا کد فرمایا
رجوع بحق دی دیکھو شرط الہامی آکھے کوئی اوہ ایمان لیایا دلوچ رحمت ربدی ہوئی
حامی نے تفہیم بنائی دی اپنی خامی لعنت حصے خاطر بنیا ایہہ مرزے دا حامی

٨

آخر تائیں مری مری کہندے رہے ایہہ سارے صاف کہن تاویل دا اس وچ دخل نہیں ہے کوئی
چھ تاریخ نوں جس دم آیا تار ہے آتھم زندہ چوتھے دن جد مرزے ولوں اک دو ورقی آئی
کہ نہ چھپیا حضرت ہمت بد دلیے تھیں اڑ جاندی رب تھیں آہے بیڈر تسیں تے یا بیزار بشیروں
اگے نوں وی اوہ کد مریا موت آئی ڈر جاسی اگے سوا برس کی کھوہیا ہن جیڑا کھوہ لینا
منہ تساڈا کالا کرسی پھر ایہہ سنت ربدی ایہہ تاں گلاں ہویاں حضرت پر کی کیتا جاوے
ہور اک گپ کراماتاں وچ اس جھوٹے نے لائی آکھیا مینوں ملو کڑی نہیں تاں ہو کے رنڈی
ڈھائی سال نہ رہو سہاگن جے کتے ہور ویاہی رن تے پتراں نے جد چاہیا احمد بیگ مر جاوے
احمد بیگ نے دھی سلطان محمد نال ویاہی مرزے آکھیا ایہہ میرے الہام دی ہے سیاہی
ہن میرا کم لوکاں اوتے کد گجھا رہ جاوے ایہہ کد جائز رب دعا اک ملحد کافر دی نوں
اللہ ظاہر کرے کسے پر اپنا غیب نہ مولے جس نوں بھیجے خلق سدھارن دی کرنے نوں کوشش
اہل ایمانوں دیکھو اہدی چوری ثابت ہوئی اللہ پاک دی رحمت دے ایہہ مدعی بڈھے وارے
بے شک ایسے وقت دعا اک کافر ملحد والی بندیاں تائیں ہتھ کرم دا دے کے آپ بچایا
جیہڑے بھولے بھالے نکلے چنگلاں دے جالوں
صفحہ ٦١٣
آخر تائیں مرسی مرسی کہندے رہے ایہ سارے نال عیسائیاں داڑھی شرطاں لاون رب دے مارے
صاف کہن تاویل داس وچ دخل نہیں ہے کوئی حضرت اقدس کولوں پچھیا خوب تسلی ہوئی
چھ تاریخ نوں جس دم آیا تار ہے آتھم زندہ پھر گئی تار گلاں پر سب دے ہر اک سی شرمندہ
چوتھے دن جد مرزے ولوں اک دو ورقی آئی آتھم دلوچ ڈریا تاں ناں مریا گل بنائی
کسنہ پچھیا حضرت موت جے ڈریاں تھیں مڑ جاندی ڈر کے تاں نہ موڑی کیوں جد موت بشیر بھاندی
رب تھیں آپے بھید دسی تے یا بیزار بشیروں آتھم چنگا رہا تاں تھیں چکیاں ناں تدبیروں
اگے نوں بی اوہ کد مریا موت آئی ڈر جاسی استغفاراں کر کے موتوں جھٹ خلاصی پاسی
اگے سوا برس کی کھوہیا ہن جیہڑا کھوہ لینا آتھم موت دا نسخہ جانے بھل اس نوں بچ رہنا
منہ تساڈا کالا کرسی پھیر ایہ سنت رہدی رب دے ذمے جھوٹھ ہولاون پے سی مار غضب دی
ایہ تاں گلاں ہویاں حضرت پر کی کیتا جاوے موت اک گھڑی نہ اگے پچھے ہوندی رب فرماوے
ہور اک گپ کراماتاں وچ اس جھوٹے نے لائی احمد بیگ دی دھی دا قصہ جانے اک لوکائی
آکھیا مینوں منکوحہ نہیں تاں ہو کے رہدی جد اوہ لالچ وچ نہ آیا ایس مچائی بھنڈی
ڈھائی سال نہ رہو سہاگن جے کتے ہور ویاہی جاہل ڈر گے اس بدشگنیوں برساں کسے نہ چاھی
رن تے پتراں نے جد چاہیا ہووے ساک ہو جائے حضرت اقدس رن طلاقی پتر عاق بنائے
احمد بیگ نے دھی سلطان محمد نال ویاہی موت جو آئی چار مہینے مگروں ہویا راہی
مرزے آکھیا ایہ میرے الہام دا حصہ ہویا تنوں برساں دے اندر اندر دیکھو سوہرا مویا
ہن میرا کم لوکاں اوتے کد اکارہ جاوے جس دی خاطر دونہہ جاناں نوں اللہ مار گواوے
ایہ کد جائز رب سنے دعا اک ملحد کافر دی نوں کرے قبول دعا مقبولاں بندیاں والی وانگوں
اللہ ظاہر کرے کسے پر اپنا غیب نہ مولے باجھوں کسے رسول دے جسوں کرے پسند قبولے
جس نوں بھیجے خلق سدھارن دی کرنے نوں کوشش نبیاں اتے محدثاں والی اوپر دیکھے پوشش
اہل ایماناں ویکھو اہدی چوری ثابت ہوئی اہل نفاقاں وانگوں کہے رسول نہیں وچ میں کوئی
اللہ پاک دی رحمت دے ایہہ مدعی ماردے نعرے وڈے بول منافق دے کیا ظاہر اولٹے مارے
بے شک ایہے وقت دعا اک کافر ملحد والی رب حکیم تاں حکمت کیتی رکھی اثروں خالی
بندیاں تائیں ہتھ کرم دا دے کے آپ بچایا سچ مچ بعضیاں ڈبدیاں دا تیں بیڑا بنے لایا
جیہڑے بھولے بھالے ٹھگے جنہاں دے جالوں اونہاں پر بھی کر کے فضل بچائیں شر دجالوں

٩

صفحہ ٦١٤
اجے نہ مینوں کافر آکھن اوتے چھبتی پاؤ میرے جھوٹھ تے سچ دی سارے ایہہ معیار بناؤ
لوگو بس مراد مری ہن اللہ پوری کرسی ڈھائیاں برساندے اندر سلطان محمد مرسی
جائے سکونت جس دی ہے منحوسہ قریہ فٹی دسے نہ وسدی شالا اجڑ جاوے ایہہ کپتی
کھڑا الہام اُڈیکاں اندر اٹھ برس میں گالے ویاہ لے گئے الہامی زوجہ میری فٹی دالے
وڈی فتح محمدی کیتی دیکھ اس دی ہوشیاری بیت الفکر نے مرزائیوں بخشی ذلت خواری
پئی نحوست تیرے اوپر رو رو وقت گزاریں فالاں کھولیں دن تے راتیں جفر تے رمل وچاریں
فٹی نوں منحوس کہیں پر تینوں شرم نہ آوے ظالم آکھیں تاں بی تیرے مونہوں کجے بہاوے
ظالم ظالم مونہوں آکھیں نالے ماریں دھاہاں لٹ لیا اس جڑ پٹی نے کر کے لمیاں باہاں
چیلے تیرے باہوں پکڑ پکڑ آکھن حضرت اقدس جان دیہو اس حرص نوں بیٹھو کر کے صبر چلو بس
تو آکھیں ہن صبر نشانی دیوتاں دی ایہا ایسے خاطر آکھے میں خود جھگا چوڑ کرایا
رن طلاق تے پتر عاق میں ناتہ بھن کے کیتے اوس پرانے بڈھے ہتھوں زہر پیالے پیتے
مومن ایہہ دیوثی والا متھے داغ نہ لاوے ہے دیوث جو اس فریادوں مینوں کوئی ہٹاوے
زوجک الہام ہویا جد تینوں ملہم ولوں دیکھیں قابض غیر نہ بولیں ہیں دیوث اس گلوں
احمد بیگ دے مرنے نے کی تیرا کم سواریا زوجہ تیری وسے کسے دے بے شرماں ہتیاریا
چار ہزار انعام توں دیویں آکھیں قسم کھاویں ولحکم اہل الانجیل دی آیت نوں بھل جاویں
نبی قسم دی وچ انجیل دے عیسیٰ تھیں فرمائی بیشک ہے معذور نہ کھاوے قسم جے اک عیسائی
ہاں دی ہاں تے نہیں دی نہیں لکھی اوس صاف مقررہ ہاں عیسائی مائل ول اسلام نہ ہویا ذرہ
توں جانیں اوہ قسم نہ کھاسی اسنوں دیویں قسماں ہے سلطان محمدی ہیبت کیوں الہامی کھسماں
رن سمہالیں بیٹھا اوتوں لب ناں مول ہلاویں جیوندے جی اوہ مرگیا ہوسی چیلیاں نوں پرچانویں
جیوندے جی جے مر گیا ہوندا کد اولاداں جندا رہندا تیرا خادم بن کے چھڈ چھڈ کے دھندا
دل وچ ڈریا اوسنوں آکھیں شرم نہ تینوں آوے تیرا کالا منہ کرن نوں اوہ اولاد دکھاوے
شرم چہ سگی باشد تاخود جانب مرزا آید لعنت بروئے ازہر سو بارید کہ بماند شاید
لے اپنے منہ منگی لعنت ہن تاں جھوٹھا ہویا زندہ ہے سلطان محمد جیوندے جی توں مویا
زن خاوندوں جدی کراون جادوگر ہتیارے اس نوں کوئی بگاڑ نہ سکے جس نوں رب سوارے
مرزیا دین اسلام دے اندر جدتیں ایہہ پھٹ پائی عبدالحق دے نال مباہل ہویا شامت آئی

١٠

ایہہ موافق سنت رب دی فتح ہوئی
نویں مسیحی آکھن نقلی عیسیٰ غا
نویں مسیحیاں نال پرانے عیسائیاں
لعنت اتے خجالت پائی موت آ
اس دی بحث دا اک نتیجہ ظاہر ہو
دین دے اندر اس دجال نے کیتے جیہڑے
خاطر جہناں دی امبر سر وچ بخش دے
مرزے دا اک خاص مقرب سالا
ہن ایہہ اوسنوں دلدا کھوٹا تے بد ظن
دیکھن والے جانن گھر مرزے دے آ
چیلا کوئی کدے نہ بچے اپنے اس و
بیت مبارک وچ کی کری خیانت
کیہڑا کافر مومن ہویا اس دے دیک
عیسیٰ ہن ساناں اوپر کی پہنے کی
سن سن ہسن مول نہ پچھن چیلے کر
اک سنوری چیلے دی تساں ٹوپی چھی
چیلیاں دے وچ اوہ تبرک سخی نال
وچ لاہور دے سعدی نال اس چیلے
چیلا آکھے ایہہ کرامت توں کیوں م
توں ہیں بھولا بھالا مرزے کوئی
یا کسے پٹوری راہوں چھٹے گڑ دے س
چیلا آکھے توں ناں منیں ہیں منکر
ابو سعید ہوراں نے آکھیا چھڈ اس جھگڑ
اس چیلے نوں پچھیا میں جے قادیاں تیں
بیت الفکر دے اندر مرزا قادیانی آ
صفحہ ٦١٥
ایہہ موافق سنت رب دی فتح ہوئی اسلامی تیں خود اپنے ہتھوں پائی بدنامی ناکامی
نویں مسیحی آکھن نقلی عیسیٰ غالب آسی ایہہ نہ جانن بھس مسیحی اپنے ہی سر پاسی
نویں مسیحیاں نال پرانے عیسائیاں دا دنگا حکمت رب دی دیکھو کر گیا دوہاندا ڈھینگا چنگا
لعنت اتے خجالت پائی موت اتے بیماری دوہاں باطل فرقیاں اتے آئی ذلت خواری
اس دی بحث دا اک نتیجہ ظاہر ہور سناواں نور ہدایت جھوٹے عیسیٰ مہدی دا دکھلاواں
دین دے اندر اس دجال نے کیتے جیہڑے ولچھاوے پادریاں دے اگے یوسف چیلے تے اوہ پاوے
خاطر جنہاں دی امبرسر وچ بڑے جلسے لاوے فیض اجیہا جاری کیتا اوہو روڑھ گواوے
مرزے دا اک خاص مقرب سالا ماسی جایا نواں مسیحی فرقہ چھڈ پرانیاں دی دل دکھایا
ہن ایہہ اوہنوں ولدا کھوٹا تے بدچلن بتاوے پر بدچلنی اس دی کوئی لکھ کے ناں دکھلاوے
دیکھن والے جانن گھر مرزے دے آہا رہندا اللہ جانے ہن کیوں ہے بدچلن اوہنوں ایہہ کہندا
چیلا کوئی کدے نہ پچھے اپنے اس رہبر تھیں جد بدچلنی اس دی دیکھی کڈھیا کیوں ناں گھر تھیں
بیت مبارک وچ کیہڑی خیانت پھر کمانی جے اوہ لکھن مناسب ناہیں دسو کچھ زبانی
کیہڑا کافر مومن ہویا اس دے دیکھ رسالے اس ملحد نے بعضے مومن شکاں دیوچ گالے
عیسیٰ بن سماناں اوپر کد پہنچے کی کھاوے کپڑے اسدے کون بنے تے کھانا کون پکاوے
سن سن حسن سوال نہ پچھن چیلے کرماں پیٹے کس نے قلم گھڑی کس گھولے اوہ سرخی دے چھٹے
اک سنوری چیلے دی تاں ٹوپی چھنٹ بنائی حضرت عرش دے اوتے نال دوات اوہ کتھوں آئی
چیلیاں دے وچ اوہ تبرک شیخی نال دکھاوے خلوت اندر بیٹھی چاچی دا احوال سناوے
وچ لاہور دے سعدی نال اس چیلے لایا جھگڑا ابو سعید نے طال بقاء کیہا انت نبیڑا
چیلا آکھے ایہہ کرامت توں کیوں مندا ناہیں میں آکھاں ایہہ گل نہ منن قابل تیرے تائیں
توں ہیں بھولا بھالا مرزے کوئی مکر بنایا تینوں کلا دکھائی تازہ شعبدہ اک دکھایا
یا کسے موری راہوں چھپے کمرے ساتھی سنے یا مڑکھے تھیں گلے ہوئے ایہہ پرانے چھنے
چیلا آکھے توناں منیں ہیں منکر اولیاواں کوئی نہ کوئی ڈمچر ڈھائیں جیہڑی گل لیاواں
ابوسعید ہوراں نے آکھیا چھڈ جھگڑے تائیں ایہہ کرامت ہور مریداں تائیں جاہ منائیں
اس چیلے نوں پچھیا میں جد قادیاں تھیں توں آیا قادیاں دی کچھ خبر سنا خاں چیلے ذکر سنایا
بیت الفکر دے اندر مرزا قادیانی آپے ستے مینوں لایا مٹھیاں بھرن تے چٹی چادر اوتے
صفحہ ٦١٦
تختے بند تے پکھے والا باہروں پکھا کھچے مزاجی نوں ہوئی حضوری رب دی نیند وچے
چادر اوتے چھتے لال اچانک نظری آئے میری ٹوپ کرتے اوپر بی اونویں ومیائے
میں حیران تاں بولے حضرت چادر موہوں لاہی مسل مکمل اک مقدمے دی میں کیتی آہی
دستخطاں دی خاطر وچہ حضوری دے اوہ آندی اللہ پاک نے جھاڑی قلم ایہہ سرخی ہے چھٹیاندی
مجلس وچ جد چھیڑیا ایہہ قصہ پچھیا میں لدیانے گل نہ میرے نال کرے تے لاوے عذر بہانے
تیرے نال کلام نہ کرساں توں بندہ نفسانی کتھے رفعت عیسیٰ دے وچ چھیڑی ایہہ کہانی
مڑ ناں چھیڑیا اس قصے نوں کیتے ٹال مٹولے اکثر چیلے اوہدے ایسے گونگے انھے بولے
پر انکار بی کرناں سکیا ہیبت ایسی چھائی مجلس وچ ہویا شرمندہ منہ خشکی سر چھائی
سعدی گل ہن آون تھیں بی کر جاوے اوہ ٹالا بھانویں سدو بیٹھے جویں اڈانوں ٹھن والا
اپنی حدوں لنگھ کے جیہڑا باہر پیر پسارے ناجائز پیدائش اوس دی پھٹک پوے ہتیارے
اس مرزائی نوں مسیحی ٹولے لعنت والے لعنت رب دی آپ قبولی بے غیرت منہ کالے
آپے کہن ٹل گئی موت آزمائش ساڈی کارن نالے رولا ضروری آکھن نالے فتح پکارن
آتھم نوں ایہہ ٹولی مڑ مڑ قسم کھاون مرزے والی بے شرمی تھیں باز اجے تاں آون
رولا ضروری تے ازمائش فتح نمایاں نالے موہوں کہندے نال شرماون دیون جھوٹھ حوالے
فتح مبین دے وعدے آکھن کدی تاں آتھم مری کدے نہ کدے تاں مرسی بھئی کدی تاں جہانوں ٹری
ہے مشہور درخت کدے بے شرم دے اگیا آہا خوش ہو بولیا بیٹھن گے ہن چھانوں یارا ہاہا
فتح مبین اسلامیاں نوں رب دتی کھلم کھلی نویں پرانے عیسائیاں پر قہر انھیری جھلی
فتح دے شور آوازے عالم اندر اٹھ کھلوئے لنگڑے لولے انھے ڈورے بہتے چنگے ہوئے
پر تاں پاسا پرتیا اونہاں بخت جنہاندے ستے سگوں وعد خلافی تہمت لائی اللہ اتے
ناؤں نبی توحید اتے قرآن دا موہوں بکے اس دجال نے عیسیٰ بننا چاہیا بحث وچ پکے
پنج مئی دے جلسے اندر مرزے نے لکھوایا ڈپٹی صاحب سدھا فیصلہ عقل مری وچ آیا
سیانوں عقل نوں قبر دے نیڑے حیا آن بڑھاپے منگ دعا نشان دکھائے منن ایہہ سیاپے
قاصد ہاں نشان دکھاون وقت جلسے وچ مقابل سب سزاواں سر پر جھلن دے میں ہوساں قائل
کھا کے قسماں مرزے دعویٰ نبیاں والا کریا جیوں بیماراں نوں جد ویکھیا عیسیٰ بن کے ڈریا
عیسائیاں نے انھے لنگڑے گونگے تن لیاندے آکھیا مرزا صاحب عیسیٰ بنو انہاں دکھیاندے

١٢

صفحہ ٦١٧
کہا ہویا اگوں لگا دین جواب الزامی پادری کچے ہوئے نالے کھلی اس دی خامی
پادریاں دی اکھ دے اندر پھولا اٹھ دکھایا اپنی اُمی اکھ دا اس نوں کوئی جواب نہ آیا
ثابت ہویا پادریاں وچ خوبی ناہیں کوئی مرزے دی بی اکھ ویکھ لی انہی ثابت ہوئی
اہلِ اسلام دا جے تاں ہوندا اوہ فتویٰ تکفیری مرزے دی اس خجلت دے وچہ ہوندے سارے تقصیری
خیر جزا فتویٰ دے ابوسعید خدا تھیں پاوے اس دجال دے مکر شناعت وچہ جو کھول دکھاوے
ربا اہل اسلام نوں فتنوں دجلوں ایس بچایا اپنے فضل کرم دا رکھیں ابو سعید تے سایا
فتنیاں تھیں اوہ آپ بچے تے سبھوں نال بچاوے سوہنا اجر قیامت دے دن تیرے فضلوں پاوے
عربی وچ دجال نے لکھ کے چھاپے کچھ رسالے امی نبی بنن دی کوشش کیتی اس منہ کالے
جیہڑی عربی پڑھیا اوہی لکھ کے ایس دکھائی طالب علم رہا کچھ مدت جانے سب لوکائی
عربی ہے پنجابی اروی کچی جیہے کچالو تلے پکوڑے وچ وچ قلم دے پاکے پتے آلو
عیباں بھری عبارت تے مضمون بڑے الحادی اسود اتے مسیلمہ دی بی بھنی اس استادی
فارسی اردو لکھ نہ سکے عربی لکھ کی جانے عربی دا بی فاضل بندا جاہل زور دھگانے
اک قصیدہ فارسی اس نے لکھیا سی الہامی خوب ازالہ اوسدا ہویا ظاہر ہوئی خامی
جو غیور غیور نوں آکھے کلمہ ٹھیک نہ بولے حیف ہے ایس بے شرم اتے الہامی لب پے کھولے
بیت دا جو قافیہ نصرت ملت نال لیاوے یثرب رادادنہ فضیلت را ایہہ فارسی آوے
جسدا ملہم ایہہ نہ جانے کس تھیں بنھا موتی ایسے جاہل نے ناحق الہام دی چکی جھوٹی
سرے براہین اک رباعی تاریخی چھپوائی تیجے مصرع دے وچ ہے اک وادھو پھکڑائی
چوبیس وزن رباعی دے اوہ کتے نہ تلہا پورا دیکھو شاعر نویں دا ہویا قادیاں وچ ظہورا
بے استادا ان گھڑ کہندے ناموزوں طبیعت شاعر بن بن بیٹھے نالے ملہم وچ شریعت
شعراں وچ الہام ایوں ہووے جو گل کدے نہ ہوئی شعر دا اج تک دعویدار نہ ہویا ملہم کوئی
ما علمناہ الشعر آیا دیکھو وصف نبی دا نہیں ایہہ فن نبی دے لائق مثنوی غزل قصیدہ
اس فن وچ متنبی جیہے آخر نادم ہوئے مرزے ورگے جاہل ہن متنبی اٹھ کھلوئے
اندر شعر شعور نہ اس نوں وچوں خالی کھيسا بے اوستادا فخر کرے تے بن بن بیٹھے عیسا
ظاہر دے وچہ آپ بنے ہے پیرا بے اوستادا ناں کچھ شرم جہانوں اسنوں ناں کچھ خوف خدا دا
آکھے اپنا باپ نہیں روحانی لکھے دلیلاں عیسا لیا یوحنا تھیں بپتسمہ وچ انجیلاں

١٣

صفحہ ٦١٨
اس عیسیٰ دا بھی یوحنا ہے اک گلوٹھ والا سید احمد نیچراں دا پیر علی گڑھ والا
اس بپتسما پایا اس دی تہذیبوں تفسیروں پیٹ بھرن دی خاطر ودھیا چیلا اپنے پیروں
ایہ غلام سداوے اوس دا ہے اوہ اس دا آقا وچ الہام جدا ہواوں تھیں کھادا ایس تڑاقا
وچ الہام جدا ہور سبنیں گلیں اوس دا ساتھی دیکھو یارو پونچھل پھس گئی لنگھ گیا سارا ہاتھی
اس تھیں سکھیا اکثر ایہ تاویلاں تے تسویلاں موت تے سولی عیسیٰ دی ہور حل الصلب دلیلاں
تیز مصالحہ لگا اس نوں بن بیٹھا الہامی پیر الہاموں منکر چیلا کردا نمک حرامی
جے چاہیں تشریح اشاعت سنت دے وچہ دیکھیں اللہ پاک ہدایت کرے تے رحمت تیرے لیکھیں
ارحم نوں لکھے جوارتم نال علیمم لا کے وقت دعا دے لفظ لقوی نوں فی قومی آکھے
اپنے حق وچ لعنت لفظ علی لیا کے پائی جاہل اس پر بھلن آکھن عربی رب سکھائی
درج اشاعت سنت وچ ہن اسدیاں یہ تفصیلاں جے تحقیق دا شوق ہے تینوں اوتھے دیکھ دلیلاں
مرزے دی اک دیکھ کرامت گدھیاں پیر بنایا ہے مشہور کرامت بلی موتی مینہہ برسایا
حجت ڈنگر لائی رکھیا کاواں دانائوں حمامہ گڈر مور بنے ناں ہرگز دیکھو گیدڑ نامہ
سر غلافے وچ بی اپنا شرغلاف مچایا ہر گلے دجال نوں عیسیٰ مہدی بننا آیا
مرزے دا نورانی حبشی جیوں کافور سداوے پنج پکوڑے تل کے پنجہ لقماناں شرماوے
اندر وڑ کے وچ رسالیاں عربی لکھ لکھ چھاپی کوئی کی جانے آپ لکھی یا کسی دی کیتی کاپی
جے الہامی دعویٰ ہے اک مجلس اندر آوے جو مضمون اردو وچہ دیئے عربی لکھ دکھاوے
شاہد عدل کرامت دے سلطان تے آتھم ہوئے ڈھائی برساں رویا پٹیا پر ایہ دونوں موئے
دجالا در پھٹے منہ ہن چھڈ کرامت دعوے تینوں کیوں الہامی زوجہ ولوں شرم نہ آوے
جدوں اشاعت اندر شائع ہوئے سوال پچاسی پے گئی اس ازلی دجال دے گل لعنت دی پھاسی
اونہاں سوالاں دا جد اس نوں کوئی جواب نہ آیا جھوٹھا ہو کے لعنت دا خود گل وچہ رسا پایا
ہے دجال یہودیاں وچوں آیا وچ حدیثاں عیسیٰ ایس چڑھایا سولی آکھیا جہاں خبیثاں
مرزا آکھے بے شک عیسیٰ سولی پر لٹکایا منکر ایتھوں مصلبوہ جو وچ قرآن دے آیا
اوس کانے دجال دا ہویا ایہ مثیل اس گلے چیلے اسدے ہوئے یہودی جو اس پچھے چلے
ہور تعجب دیکھو ایہ نصرانیاں ول بی مائل اپنی نالے عیسیٰ دی الوہیت دا ہے قائل
وچ ستمبر تے اکتوبر اسلامی تحریراں مرزائیاں دے گل وچ پئیاں لعنت دیاں زنجیراں

١٤

صفحہ ٦١٩
پادریاں نوں بی تنبیہاں قدر مناسب ہویاں ناحق جہناں کیتیاں دین اسلام اوتے بدگوئیاں
ایہ مرزائی ٹولی لعنت ماری اُکھاں پھٹی اہل اسلام نوں کہے یہودی احمق عقل نکھٹی
کدے کہندے نیم عیسائی مرزے نوں نال مندے آتھم کہن نہ مریا حامی عیسایاں دے بندے
جائز پیدائش دے آہے جیکر ایہ مرزائی اوہ حمایت عیسائیاں دی کیوں نال کڈھ دکھائی
کوئی عبارت کوئی فقرہ کڈ کے نقل دکھاون وجہ حمایت دی وچ اوسدے کوئی کہہ سمجھاون
مرزے دی تکذیبوں جیکر کہن حمایت ہوئی ایہ تکذیب حمایت ہے اسلامی تے حق گوئی
اللہ پاک دی رحمت دا ہے ایہہ سب کچھ شکراناں منہہ دجال دا کالا کیتا خاطر اہل ایماناں
کردے ہن سب شکر زبانوں دلوں رسالیاں اندر پنڈی تے لاہور بٹالا کوٹ سیال جلندر
پٹی تے ہوشیار پورہ دلی گنگوہ انبالہ غزنی لکھو کے لودھیانہ امبرسر پٹیالہ
کدھرے رسول دے بندے وچ قرآن حدیثاں اکدھر کانیاں لنگڑیاں دا دجالی ٹول خبیثاں
کیونکر خوار نہ ہووے مرزا غضب ربی جد آوے تر کی ہوئی تمام کوئی دجالی پیش نہ جاوے
قسمت مارے ہن بی آکھن مہدی عیسیٰ آیا نور خدا دا ظاہر ہویا رحمت جھنڈا لایا
آکھن اہل اسلام نوں جے ایہ عیسیٰ نہیں تاں یارو کرو دعا آسمانوں عیسیٰ اپنا تسیں اتارو
جد تک جھوٹھے کئی مسیح نہ دنیا وچ آجاون حضرت عیسیٰ نبی نزول آسمانوں کد فرماون
آ کر کانا اوہ مسیح فریبی جس دن اٹھے پیارا نبی اس کانے نوں آ لد دے نیڑے کٹھے
سچیاں خبراں دتیاں مخبر صادق نے فرمایا دیکھو کھول صحیح حدیثاں دیوچ ایویں آیا
حضرت عیسیٰ تیس بی وچ انجیل دے آیاں نقلاں بنے بنایا اک مسیح نوں عیسیٰ بعض بے عقلاں
قادیاں دے وچ جمیا جایا نسل ولوں چنگیزی وچ اسلام اس تیغوں کیتی اس قلموں خونریزی
عیسیٰ دی اس عمر وڈی وچ دجل کیتا مکاراں ثابت ہوئی کہن فضیلت اُوپر شاہ ابراراں
نوح نبی دی عمر نہ پچھے جاہل چیلا کوئی نبی دی عمر تریٹھ تیری اسی کیونکر ہوئی
وڈی عمر نشان فضیلت دھوکھا ہے دجالی رہڑ پڑھسن جاہل چیلے دین ایمانوں خالی
ویل ہلاکت انہاں نوں ناں کھوہ سمجھے نا کھاتا دھن مبارک اونہاں جہناں ایہ دجال پچھاتا
اوّل آخر حمد اللہ نوں دن تے رات ہزاراں پھیر سلام درود نبی دی خاطر نذر گزاراں
یارب تیریاں انعاماں دا شکر ادا تاں ہووے عاجز سعدی کدے تائیں موتی نظم پرووے
پیدا کیتا پھیر انسان بنایا بخشیا ایماں عزت نعمت دتا سب کچھ فضلوں رب رحماں

١٥

صفحہ ٦٢٠
ثابت قدم ایمان اسلام دے اوپر مینوں رکھیں ذریت وچ کریں درستی دیویں ٹھنڈک اکھیں
قبر عذابوں دوزخ بھاہوں کر کے فضل بچائیں مرن جیون دے فتنیاں ولوں امن امان لنگھائیں
فتنے شر مسیح دجالوں بخشیں آپ پناہاں اندر دنیا دین دے ہر دم تیری رحمت چاہاں
امت پاک نبی دے سر پر فضل دا سایہ پائیں اگلیاں پچھلیاں ساریاں اوپر رحمت جھڑیاں لائیں
اس امت مرحومہ نوں جو انّھی کہے ستاوے تائب ہو کے جے نال مرے تاں مردا دوزخ جاوے
جہڑا کہے یہودیاں عیسیٰ سولی چک چڑھایا اوسنوں مر گیا کہے بنے خود مریم پاک دا جایا
خچراں دے نال دکھاوے ظاہر بے اتفاقی انہاں دے وچ عظمت دین خدا دی رہی نہ باقی
یعنی وانگ کتاباں گدھے اوتے لدے آنے قصے عیسیٰ دے وچ مرشد اوہو گدھے بنائے
مرزے عیسیٰ بنن لگے نے سچ کراوہو دکھایا اپنی غرض کے احمق نے گدھے نوں باپ بنایا
ختم نبیاں نوں جو آکھے سمجھن تھیں ناقابل اوس دجال تے بن مریم دی کشف حقیقت کامل
خر دجال اتے یاجوج دی کیفیت ناں سمجھی تاں اوس دابے دی ماہیت صاف کسے نہ بجھی
جتھے تائیں سمجھ انسانی قوت دے وچ آیا وحی الٰہی نے اجمالی طور اوپر سمجھایا
ڈونگھی تہ اس غیب دی جے ناں سمجھ سکے پیغمبر کچھ تعجب نہیں تے ناں کچھ نقص نبوت اندر
میرے اوپر واضح ہویاں ہن اوہ سب تاویلاں ولوں گھڑے الہام بناوے دعویٰ سنے دلیلاں
آکھے معجزے عیسیٰ دے نوں سامری والا بچھا عیسیٰ نالوں اپنے تائیں سمجھے افضل اچھا
سوراں قتل تے سولی بھنن سکے پڑپڑے خلق طیور باذن خدا نوں شرک کمینہ دسے
اتھے کن نوں آکھے تیرا کن جو خطا نہ جاوے یارب ایسا ظالم ہر دم ذلت خواری پاوے
غبیاں وانگوں بے الہام تے وحی دے اندر کامل مرہم کل ممزق وچ کر اسنوں شامل
انا انزلناہ قریباً قادیان ول اتارے درج کرے قرآن وچ سمجھے خواب اندر حکم ہمارے
قادیان عزت وچ مدینے مکے نال رلائیاں امی بن بن بیٹھے آپ دہائی تیری سائیاں
آکھے عیسیٰ نبی جے آیا وحی بی اوسنوں آسی اس قرآن دے نال کتاب الہامی ہور بناسی
اس دجال نوں شرم نہ آوے وحی دا مینہ برساوے لیکن حضرت عیسیٰ نبی دی وحی نہ اسنوں بھاوے
اس دی سب الہامی نظم تے نثر جے کرئیے اکٹھی ہولی ہولی جھوکے اسنوں تپتی ہووے بھٹھی
مرتضیٰ اتے رسول بنے خود غیبی خبراں دے مگروں جھوٹھا نکلے گلوچ لعنت خواری رسے
معجزیاں تھیں کرے کراہت عمل الترب بناوے لومڑی آکھے داکھ نوں کھٹی اوہ اپڑیا ناں جاوے

١٦

ایسا جھوٹھا ایسی خواری دیوچ جم جـ
جیکر تائب ہووے جھوٹے مکرانے
اہل العلم نوں اس دجال دانوں سر کوب
اردو دے وچ مرزے دی گت کیتیاں خو
اردو دیوچ گڈڑنامہ ہور شہاب
چھیے ستمبر اٹھ اکتوبر سال چورانوے
اسلامی تاریخ صفر پنج اٹھ ربیع
ایہہ پنجابی نظم لکھی ہے میں پنجابیاں
مرزے دی تحریراں بعضے اگے نوں ہے
ربا کریں قبول تے بخشیں بھلیاں تائیں
ساڈے دل وی رکھیں سدھے جدتیں رـ
سعدی تیرا عاجز بندہ ہردم رہے
دوہاں جہاناں دے وچ عزت دنیا دین
تینوں حمد درود نبی نوں آغازیـ

ربنا تقبل

فرش زمیں بچھایا تیں بن تھماں چھت
تری قدرت دے
رنگ برنگا فرش زمیں چنیا دستر
سب دا خالق نال اندازے سب دا رزق
کوئی شریک نہ تیرا اونچی شان اتھیں تیری
ایسا شاہنشاہ نہ رکھیں ڈیوڑھی ناں د
فضل کرم بے اوڑک تیرے کی کی گناں
میں اک بندہ عیبیں بھریا عاجز تے نـ
صفحہ ٦٢١
ایسا جھوٹھا ایسی خواری دیوچ جم جم جیوے جد تک جیوے منہ کالا تے نیلے پیر سدیوے
جیکر تائب ہووے چھڈے مکراتے دجالی ربا توں تواب ہیں سب تھیں تیری شان نرالی
اہل العلم نوں اس دجال واتوں سرکوب بنائیں اہل ایماناں دئیں تسلی کریں قبول دعائیں
اردو دے وچ مرزے دی گت بہتیاں خوب بنائی خاص اشاعت سنت نے کل کیتی حق ادائی
اردو دیوچ گدڑ نامہ ہور شہاب ثاقب کادیانی ٹھگی ہار پنجابی وچ مسیح کاذب
چھے ستمبر اٹھ اکتوبر سال چورانوے والے اس مرزے دی ذلت کارن پرچے چھپے رسالے
اسلامی تاریخ صفر پنج اٹھ ربیع الثانی تیراں سو باراں وچ جھوٹھا اپنی ہویا زبانی
ایہ پنجابی نظم لکھی ہے میں پنجابیاں کارن تاں مرزائی عاماں ول اگاہاں ہتھ نہ مارن
مرزے دی تحریراں بعضے اگے نوں جے پڑھسن اس دے ردی انشاء اللہ نظراں دیوچہ چڑھسن
ربا کریں قبول تے بخشیں بھلیاں تائیں ہدایت تیرے فضل کرم دی نہیوں کوئی حد نہایت
ساڈے دل بی رکھیں سیدھے جد تیں راہ دکھایا رحمت بخشیں خاص الخاص اسانوں بار خدایا
سعدی تیرا عاجز بندہ ہردم رہے سوالی عفو تے عافیہ اسنوں بخشیں دینی جانی مالی
دوہاں جہاناں دے وچ عزت دنیا دین سجاوے تیری یاد رہے ہر ویلے ہور دھیان نہ آوے
تینوں حمد درود نبی نوں آغازیں انجامیں آمیں آمیں کہن فرشتے میں بی آکھاں آمیں

مناجات

ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم!

فرش زمیں بچھایا تیں بن تھماں چھت آسماں ربا قدرت نال اوپائے سارے جن ملک انسان ربا
تری قدرت دے قربان ربا تیری رحمت دے قربان ربا
رنگ برنگا فرش زمینی چنیا دسترخوان ربا سورج چند آسمانی چھت وچ رکھے روشندان ربا
سب داخالق نال اندازے سب دارزق رسان ربا بعضاں تائیں دوزخ روزی بعضاں خلد جنان ربا
کوئی شریک نہ تیرا اوچی اتھیں تیری شان ربا ناں کوئی تیرا کم صلاحتوں صاحب سلطان ربا
ایسا شاہنشاہ نہ رکھیں ڈیوڑھی ناں دربان ربا عرضاں ہردم سنیں قبولیں سائل کل جہان ربا
فضل کرم بے اوڑک تیرے کی کی گناں احسان ربا نیکی بدی سمجھائی بخشیاں اکھاں کن زبان ربا
میں اک بندہ عیب بھریا عاجز تے نادان ربا مولا پاک توں بخشیں قدرت والا جانی جان ربا

١٧

صفحہ ٦٢٢
تیں مینوں پیدا کیتا بخشا پھیر ایمان ربا فضلوں اپنے ذمے لایا میرا پین تے کھان ربا
چنگا کریں بیماریاں مینوں توں داتا رحمن ربا موتوں پچھے زندہ کرسیں محشر دے میدان ربا
دن انصاف دے تھتھوں چاہاں بخش خطائیں میریاں ربا نیکاں وچ رلائیں مینوں دئیں چنگے سامان ربا
پچھ گچھ ویلے جاری رکھیں میری صدق لسان ربا فضلوں کریں توں مینوں وارث نعمت باغ مکان ربا
آخر ویلے دلوچ میرے ہووے تیرا دھیان ربا کلمہ طیب منہ چوں نکلے جد میں لگاں جان ربا
آء تسلی والی جندڑی ہووے تیرا فرمان ربا توں ہوویں خوش اس جندڑی تھیں تھتھوں خوش ایہہ جان ربا
تیرے بندیاں نال بہشتیں لاواں ڈیرا آن ربا زن فرزنداں چھوٹیاں وڈیاں سنے تیرے مہمان ربا
جتھے اعلیٰ نعمت ہے دیدار تیرا سبحان ربا ٹھنڈیاں چھانواں نہراں میوے حوراں تے غلمان ربا
خوار قیامت وچ نہ مینوں کریں تے ناں حیران ربا مال اولاد نہ کم آوے جتھے کوئی پوریاں پان ربا
ایتھے اوتھے پاک نبی دا چھڈاں ناں دامان ربا حسرت دے دن کرے شفاعت میری ایہہ قرآن ربا
رکھیں پرے عذاب جہنم ایہہ برا تاوان ربا شر دجالوں قبر عذابوں لنگھاں وچ امان ربا
قلب سلیم اوہ بخش جو تیرے پاس پوے پروان ربا مینوں مان ہے فضل تیرے دا رکھیں میرا مان ربا
تیری رحمت نال ہمیشہ سعدی نیک گمان ربا توں بندیاں دے ظن پوجاویں مشکل کریں اسان ربا
بھیج صلوٰۃ سلام محمدؐ پاک اوتے ہر آن ربا آل اصحاباں تابعاں سب پر رحمت تے رضوان ربا
تیری قدرت توں قربان ربا تیری رحمت توں قربان ربا

تـــــــمـــــــت

حاشیہ جات

١٨

اللہ دے غضب دا سوٹا ابدی ننگ پر بـ قلوبہم دا مصداق بندا ہے۔ تے شرماوـ ہے کادیانی اپنے (ازالہ اوہـ الارض ایہ مولوی لوگ ہیں۔ جیہڑےـ شریعت دی خدمت وچ لگے ہوئے نـ موسیٰ علیہ السلام دا عصا ہوؤ مومناں وـ بے ایماناں دامنہ کالا کرو۔ سو بقول مرـ کے فتوے پر مہر لا دتی۔ مرزا ضرور بے ـ

فریب دتا۔ کسے گل وچ نبیاں نالوںـ افضل بندا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٦٤٨، خـ

اپنی اس شیطنت دا کڈھیا ہے اور فخرـ احمد بن بیٹھا۔ خدا اس کادیانی داہور ـ

پینڈیاں ہن۔

ملدے۔

بہانے کری اوہ سلطان محمد پی والا شـ

صفحہ ٦٢٣
ں اپنے ذمے لایا میرا یقین تے کھان ربا
ں پچھے زندہ کرسیں محشر دے میدان ربا
وچ رلائیں مینوں دئیں چنگے سامان ربا
ں کریں توں مینوں وارث نعمت باغ مکان ربا
ھم مناں چوفیریوں جد میں لگاں جان ربا
ویں بخش اس جنڈی تھیں ہتھوں خوش بیجان ربا
رنداں چھٹیاں وڈیاں سنے تیرے مہمان ربا
یاں چھانوں نہراں میوے حوراں تے غلمان ربا
ولا د نہ رل کے جتھے کوئی پوریاں پان ربا
ت دے دن کرے شفاعت میری ایہ قرآن ربا
بالوں قبر عذابوں لنگھاں وچ امان ربا
مان ہے فضل تیرے دا رکھیں میرا مان ربا
ندیاں دے تل چوبچویں مشکل کریں اسان ربا
صحاباں تابعاں سب پر رحمت تے رضوان ربا
رحمت دے قربان ربا

ص ٦٤٣۔ میاں دالال بیگ بنیا۔ جس نے بہت دین گیا۔ آوے دا آوا ہی اوت گیا۔ دی فرضی الہامی زوجہ دا اصلی شوہر۔ لیکن آؤندا ہے تاں منڈے کہا کر دے اں دی تنگی دیکھ کے ایہ کہاوت مشہور ہوگئی ت کر کے نہیں کیتی۔ مرزے نوں دلیری دوع کردتے۔ فلانا مر جاؤ فلانے نے دی اں نوں روشن کرن والا ہے۔ وغیر ذلک!

اللہ دے غضب دا سوٹا اہدی ٹنگ پر ہمیشہ لگدا ہے۔ تے ایہ دجال ہور سخت دل ہوندا ہے۔ فَقَسَت قُلُوبُھم دا مصداق بندا ہے۔ تے شرماندا نہیں۔

الارض ایہ مولوی لوگ ہیں۔ جیہڑے اسلام دے منکراں نوں لاجواب کر دے ہن تے جان دل نال شریعت دی خدمت وچ لگے ہوئے ہن۔ تے حدیث وچ آیا ہے۔ اس دابۃ الارض دے ہتھ وچ موسیٰ علیہ السلام دا عصا ہوؤ مومناں دے منہ پر نورانی نشانی لاؤ تے حضرت سلیمان دی انگوٹھی نال بے ایماناں دا منہ کالا کرو۔ سو بقول مرزے دے جد اس دابۃ الارض نے مرزے نوں بے ایمان ٹھہرا کے فتوے پر مہر لا دتی۔ مرزا ضرور بے ایمان ہے۔ تاں ہن اس سلیمانی مہر تے نٹھدا ہے۔

٨۔ انجیل متی باب ٢٤ تا درس ٢٦۔ رسالہ درہ اسلام ج ١ نمبر ٥۔

فریب دتا۔ کسے گل وچ نبیاں نالوں اپنے آپ نوں گھٹ نہیں دسدا۔ بلکہ عیسیٰ علیہ السلام نالوں افضل بندا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٦٤٨، ٧٠١، خزائن ج ٣ ص ٤٥١ تا ٤٧٨ ملخص) تے اس دا رو دیکھو۔

(اشاعۃ السنہ ج ١٣ نمبر ٦ ص ١٨١)

١٠۔ (ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)

اپنی اس شیطنت دا کڈھیا ہے اور فخر کیتا اے کہ ایس ناں دا آدمی دنیا وچ کوئی نہیں۔ پھیر آپے اوہ احمد بن بیٹھا۔ خدا اس قادیانی دا ہور منہ کالا کرے۔

١٢۔ دیکھو پہلا صفحہ سطر ٨، ٩۔

١٣۔ دیکھو اخبار وزیر ہند سیالکوٹ ج ١١ نمبر ٤٨ ص ٥ کالم ٣۔

پیندیاں ہن۔

١٥۔ والله سريع الحساب

ٹلدے۔

بہانے کرسی اوہ سلطان محمد پٹی والا شالا جیوے۔ مرزے نوں دیوث بناوے وسل پیالے پیوے۔

١٩

صفحہ ٦٢٣

اوہ سمجھدے ہن کیہا کچھ تے ہویا کچھ ۔اتے ایمان والے کہندے ہن صدق اللہ و رسولہ ۔کیونکہ اوہ اوصاف دیکھدے ہن۔ جو کچھ اللہ نے کیہا اوہو ہویا۔ مرزا ایہا جیہا منافق ہے۔ کہندا ہے اہدی عادت ہی ایہو ایں ہے۔ یا کافراں نال ہلاکت دا وعدہ کر کے پھر گیا تے نبیاں نوں شرمندے کرایا۔ ہن میرے نال ایہ نویں خواری نہیں ہوئی۔

پچھتایا۔

اس دی دھی دا ساک منگیا۔ آیا پر اوہ ایس لالچ وچ ناں آیا۔

(ازالہ ص ٧٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٥)

ہوئی دا نکاح ہور جگہ کراون لگے ہو۔ میں صبر نہیں کر سکدا۔ میں کتے دیوث ہاں؟ ہن اوہ منگی ہوئی اس دی زوجہ بن چکی۔ کیونکہ اس نوں زوج کہا دا الہام بی فیصلہ آسمانی وچ ہو چکا ہے۔ یعنی اسیں ایس تیویں نال تینوں ویاہ تائیں اوہ محمد دی ویاہی ہوئی سلطان محمد دے گھر اولا دوالی بی ہو گئی۔ مرزے نوں اپنی دیوثی تے شرم نہیں آؤندی۔ کہندا ہے سلطان محمد اللہ تھیں ڈر گیا ہے تاہیں نہیں مریا۔ اس کر کے میری الہامی زوجہ نوں سامبھی بیٹھا ہے۔ خیر اک نہ اک دن تاں چھڈے گا۔ پھر مینوں اوہ زوجہ ملے گی۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٢١)

٢٠

ہے غریبانہ۔ بھائیو! ایہ اردو دی مٹی خراب سے نازل کیا ہے کہ تو لوگوں کو کہ جو ظلت گنواری بولی ہے۔ تاتے کہ داؤ موٹھو کے ہو

جائے تعجب مدار۔

پرستاران میت را۔ پچھے اگے قافیہ یارانو کسور ہے ہور مصرع دیکھو۔ مگر مدفون یثرب اس قصیدے وچ بہت لیایا ہے۔ اے کہند جانداتے یثرب دا ناؤں مدینہ چنگا ہوندا۔

تا گوہر شود پیدا۔ ایتھے مدد نال تار لا کے یہو گیا۔ نویں تحقیقات نال ثابت ہو گیا کہ مع پیشیں جاندا ہے۔ یا مرزانوں تحقیقات نوں

بھی یا غفور نکلی۔ وہ واہ وزن اس دا یہ مفعول زیادہ ہن۔

گدڑ دی طرح نیل دیے مٹ وچ ڈگ کے

صفحہ ٦٢٥

ہے غریبانہ۔ بھائیو! ایہہ اردو دی مٹی خراب ہے۔ ص ٥٤٠، خزائن ج ١ ص ٦٤٨۔ تیرے پر اس غرض سے نازل کیا ہے کہ تو لوگوں کو کہ جو ظلمت میں پڑے ہوئے ہیں۔ تجھ پر دی جگہ تیرے پر مولانا گنواری بولی ہے۔ تا تے کہ داد مجٹھو کے ہوئے ہن۔

شرقی عجب مدار۔

پرستاران میت را۔ پچھے آگے قافیہ بات را نصرت را موجود ہے جاہل اتنا نہیں جاندا۔ میت دی ی مکسور ہے ہور مصرع دیکھو۔ مگر مدفون یثرب رانداند ایں فضیلت را۔ جاہل اس طرح دے را۔ اس قصیدے وچ بہت لیایا ہے۔ اے کہند ایہہ مدفون مدینہ جو نہ سمجھد ایں فضیلت را۔ را دا تکرار نکل جاندا تے یثرب دا نالوں مدینہ چنگا ہوندا۔

تا گوہر شود پیدا۔ ایتھے مدّونال تار لا کے بیہود گوئی کیتی ہے۔ البتہ ایہناں فائدہ ضرور ہویا جو کتا بن گیا۔ نویں تحقیقات نال ثابت ہو گیا کہ موتی قطرہ تھیں نہیں ہندا۔ مرزے دا ملہم اوہو پرانی لکیر پیٹدا جاندا ہے۔ یا مرزا نوں تحقیقات نوں غلط ثابت کرے۔

بھی یا غفور نکلی۔ واہ واہ وزن اس دا : مفعول مفاعلن مفاعلین فاع اس پہلے مصرعے وچ دو حرف زیادہ ہن۔

گدڑ دی طرح نیل دے مٹ وچ ڈگ کے مور بن بن بہندا ہے۔

٢١

صفحہ ٦٢٦

والا پنجہ ہے۔ کسے شیعے تے سنی دھوکہ ہے۔ امام مہدی نال علی مرتضیٰ دا پنجہ ہوؤ گا۔

اس نال بحث نہیں کردے۔ اس نوں تاں سب مسلماناں نے دین تھیں خارج من لیا ہے۔ تے جد مرزے دی گپ الٹ گئی تاں بعضے نادان پادریاں نے اسلام اوپر طعن کیتا۔ دیکھو مسلماناں دا الہامی بزرگ جھوٹھا نکلیا۔ اس واسطے انہاں پادریاں نوں بی مسلماناں نے تنبیہہ کیتی۔

قیمت ٩ پائی ہے۔ محمد سعد اللہ مدرس ہائی سکول لودہانہ مؤلف کولوں یا اللہ بخش ومولا بخش کتب فروشاں بساطی بازار لدھیانہ کولوں مل سکدے ہن۔

کئی مثالاں الواں تے چمگدڑاں تے اک شوخ بھٹیاری دیاں مرزے دے حسب حال درج کیتیاں ہن۔

لکھی ہے۔

ناؤں چودھویں صدی دا جھوٹھا مسیح ہے۔

٢٢

PDF 628

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

الالهام الصحيح

فی

اثبات حیات المسیح

حضرت مولانا غلام رسول نقشبندی حنفی امرتسری ؒ

صفحہ ٦٢٨

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله الذى هدى لمن الى هداه مال وهاد وارشد الى فهم الحقائق لمن فى تحقيق الحق اشتد واد واشاد بذكر من جاد بالوصول الى الدقائق القرآنيه وفى رضاه رجا ومن خاض فى أياته خوض من لم ينب اليه فهو ممن اناب اليه صاد وعن سبيله صاد وفى بواد الحيرة كالحمار الجيدى حاد وذيد عن خطيرة قدسه اشد الذياد ومن تنحى بسواده عن سواد عباده الصالحين فهو احرى بان يسود وجهه بالسواد لا بان يسود اوساد ومن عاد لعصيانه من اى عاد كان كما اعتاد عاد فقد عاد الى شر معاد والصلوة والسلام الاتمان الاكملان على حبيبه وصفيه محمدﷺ سيد الانبياء والاولياء من الاقطاب والاوتاد الذى تخضع دون سرادقات دولته القياصرة والاكاسرة وكل منهم فى جنابه تاد وانقاد ومن تكبر واعرض عنه وصاد وعن استماع مواعظه اصفاد فقد اباده الله فباد وكاد ان يرتاد دار البوار يوم التناد وعلى أله وصحبه الذين هم خزنة اسرار الدين المتين وباتباعهم ساد من ساد وبشقاقهم وخلافهم زاغ عن الصراط السوى من زاغ ووقع فى الالحاد وفسد قلبه اشد الفساد كفساد طعام داد وبعد فيقول الراجى للترقى الى اوج القبول محمد غلام رسول الحنفى المجددى النورى القاسمى حفظه الله عن شر كل لئيم غبى وغوى انه لما كثر الضلال والطغيان والبغى والعدوان فى هذا الزمان من اجل الذى خرج من قاديان وادعى انه المسيح الموعود به الاتى اخر الزمان وانه مات نبى الله عيسى بن مريم على نبينا عليه السلام مادام الملوان وتعاقب القمران وانه لم يرفع بجسده الى الخضراء فلا ينزل الى الغبراء واظهر عقائد الزنادقة ومكائد الملاحدة جل مطلبه ومطالب من يحذوه حذو النعل بالنعل الافساد فى البلاد وجل ماربهم افشاء التزندق واشاعة العقائد الخبيثة الكفرية بين العباد واذاعة الارتداد يدعون انهم هم المهتدون والحال انهم عن الصراط ٢

لناكبون وانهم الذين أمنو ماتوا على ذلك فهم فى جهنـ ويقال لهم الم تكن آياتى تـ الصلحين خنعا وبخسـ يسبون العلماء ويبغضون ا تفضيح الأمرين الناهين ا فهم لا يميزون بين القشر يفرقون بين الشمال واليمين الظلم وضلال مبين الا يظن ما رايت وانتهى الفساد الـ وخلص الاحباب أن أظهر عيسىﷺ حين ما رفعه الله من غير تعرض لذكر الاثـ القاديانى واتباعه لا يعـ عقائدهم الفاسدة الكاسد المسئلة الأولى ولعدم الـ المتداولة والافتاء للمستفتيـ امثال هذه الخرافات ولكرة كفريات صرفة وارتداد اد من شرور هذه الطائفة الباغـ تارة بانصراف البال الى فى الالتفات الى الزور الصـ ومع ذلك لم يتركوا لى عذراً التمسوا وانجحت مأمولهـ وسميتها بالالهام الصـ

صفحہ ٦٢٩

لناكبون وانهم الذين أمنوا ثم كفروا فطبع على قلوبهم فهم لا يفقهون فان ماتوا على ذلك فهم فى جهنم خلدون تلفح وجوههم النار وهم فيها كالحون ويقال لهم الم تكن آياتى تتلى عليكم فكنتم بها تكذبون يخنعون بالسلف الصلحين خنعا ويتحسبون انهم يحسنون صنعا ونحن بين اظهر قوم يسبون العلماء ويبغضون الفضلاء صناعتهم السب والشتم والطغيان وفى تفضيح الآمرين الناهين اطالة اللسان ليس لهم من العقل سهم ولا بالدين فهم لا يميزون بين القشر وبين اللباب ولا بين الدر وبين التراب ولا يفرقون بين الشمال واليمين ولا بين الشيخ والجنين فهم حائرون فى اودية الظلم وضلال مبين الا يعلمون ان لعنة الله على الظالمين ولما بلغ الامر الى ما رايت وانتهى الفساد الى ما تلوت ودريت التمس من بعض الاحباب وخلص الاصحاب ان اظهر فساد دلائل القاديانى على دعواه من موت عيسى عليه السلام حين ما رفعه الله اليه واثبت حيوته بالآيات القرآنية واكتفى بها من غير تعرض لذكر الاحاديث النبوية على صاحبها الف الف تحيه لان القاديانى واتباعه لا يعتقدونها ولا يدينون بها ومن غير تعرض لسائر عقائدهم الفاسدة الكاسدة والمزخرفات الواهية لعدم اشتهارها كاشتهار المسئلة الاولى ولعدم الفراغ لكثرة الاشتغال بمطالعة الكتب السالفة المتداولة والافتاء للمستفتين وتعليم الطلبة ولتنفر الطبيعة عن التوجه الى امثال هذه الخرافات ولكرهتها الالتفات عن اشباه هذه المزخرفات التى هى كفريات صرفة وارتدادات محضة اعاذنا الله تعالى واعاذ سائر المسلمين من شرور هذه الطائفة الباغية الملاحدة خذلهم الله عليحده فاعتذرت منهم تارة بانصراف البال الى كثرة الاشغال وتارة بالتنفر عن صرف الاوقات فى الالتفات الى الزور الصريح من هذا المقال فقدمت رجلا واخرت اخرى ومع ذلك لم يتركوا لى عذرا وحكموا به على جبرا فاجبت مسئولهم حسب ما التمسوا وانجحت مامولهم على ما اقترحوا فكتبت هذه الوريقة المختصرة وسميتها بالالهام الصحيح فى اثبات حيوة المسيح وذكرت فيها دلائل ٣

صفحہ ٦٣٠

القاديانى مهذبة ومنقحة اولاً ثم ازحتها ثانياً فوضح الحق الصريح وبطل ما كان يعمل الكائد والمكيدون فكبكبوا ونكسوا على رؤسهم هم والغاون وجنود ابليس اجمعون فها انا اشرع فى المقصود متمسكا بحبل الله الودود واقول ان الكائد استدل على موت عيسى عليه السلام بقوله تعالى وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افائن مات اوقتل انقلبتم على اعقابكم تقرير استدلاله وتهذيبه ان خلت بمعنى ماتت والرسل جمع معرف بلام الاستغراق فلذا فرع عليه افائن مات الخ اذ لو لم يكن الخلوا بمعنى الموت اولم تكن الرسل جمعا مستغرقا لما صح التفريع اذ صحته موقوفة على اندراج نبينا صلى الله عليه وسلم فى لفظ الرسل المذكور قطعاً وذلك بالاستغراق وكذا صحته موقوفة على كون الخلوا بمعنى الموت اذ على تقدير التغاير وعموم الخلوا من الموت يلزم تفريع الاخص على الاعم مع ان التفريع يتعقب استلزام ما يتفرع عليه للمتفرع ومن المعلوم عدم استلزام الاعم للاخص فالتفريع الواقع فى قوله تعالى يستدعى تحقق كلا الامرين من كون الخلوا بمعنى الموت ومن كون الجمع مستغرقا وبعد كلتا المقدمتين يقال ان المسيح رسول وكل رسول مات وينتج هذا القياس المؤلف من المقدمتين القطعيتين ان المسيح مات وهو المطلوب والدليل على الصغرى قوله تعالى ورسولاً الى بنى اسرائيل وقوله تعالى ما المسيح بن مريم الا رسول وامثالهما من الآيات وتسليم جميع الفرق الاسلامية برسالته عليه السلام والدليل على الكبرى المقدمتان الممهدتان المذكورتان لانه متى كان الخلوا بمعنى الموت وقد اسند الى الرسل وثبت كونه جمعاً فيندرج فيه المسيح عليه السلام قطعاً فيلزم ثبوت الموت له فى ضمن الكبرى فثبت ما بصدده الكيديون ويزاح بمنع كلتا المقدمتين وبمنع لزوم استحالة عدم صحة التفريع على تقدير ارتفاع كليتهما او احدهما حقيقة كما فهموا وزعموا وبكونها مشترك الورود مطلقاً بحسب الظاهر سلمت المقدمتان كلتاهما اومنعتا وسند المنع الاول ان الخلوا هو المضى كما فسره ارباب اللغة م

واطالة الكلام بالنقل من كتب اللغـ بمطالعتها ولم يفسر احد من اربا اللغوية انما هى المضى لاغير كيـ فى قوله عزوجل واذا خلوا الى شـ الى بعض وعدم ارادة موتهم بهـ وقوله وقد خلت من قبلكم سنن وقوله عزوجل كلوا واشربوا هنيئا بمـ يراد بخلوا السنن والايام موتهـ فتفسير الخلوا بالموت تحريف والخلوا يشمل على الانتقال المكا من الاعلى الى الاسفل ويسمى ذلـ ذلك رفعاً او من القدام الى الخلـ الذى هو القتل واطلاق الخلوا على الموت بلا جو ولئن سلم الاستغراق فان ثبوت الاعم كالمـ اما كنوع الرسل مثلاً لا يستلزم ثبو لكل فرد فرد من ذلك النوع كمـ على تفسيره بالموت دون المضى مزيف بان المتفرع فى الحقيقـ الارتداد على تقدير فقدان وجو الرسالة وتبليغ الاحكام الالهية و خلت اى مضت من قبله الرسل فالدين المتين واظهر بينكم الشرع المـ بالاجماع) او ادريس او بالموت كـ صاح به الشيطان واستقر فى قـ ومطابقة لتقدير الله تعالى وقـ

صفحہ ٦٣١

واطالة الكلام بالنقل من كتب اللغة لا يليق بهذا المختصر ولتيسر الاستغناء بمطالعتها ولم يفسر احد من ارباب اللغة لفظ الخلو بالموت فعلم ان حقيقته اللغوية انما هى المضى لا غير كيف لا وقد تأيد باسناد الخلوا الى المنافقين فى قوله عز وجل واذا خلوا الى شياطينهم وفى قوله تعالى واذا خلا بعضهم الى بعض وعدم ارادة موتهم بهذا اللفظ ظاهر واسند الخلوا الى السنن وقيل وقد خلت من قبلكم سنن والى الايام كما فى سورة الحاقة فى قوله عز وجل كلوا واشربوا هنيئا بما اسلفتم فى الايام الخالية ولا يتصور ان يراد بخلوا السنن والايام موتها بل مضيها وهذا ظاهر لا يخفى على احد فتفسير الخلوا باالموت تحريف له بالاخص والاخفى فان الموت نوع منه والخلوا يشمل على الانتقال المكانى بجميع اصنافه سواء كان ذلك الانتقال من الاعلى الى الاسفل ويسمى ذلك خفضا او من الاسفل الى الاعلى ويسمى ذلك رفعاً او من القدام الى الخلف او بالعكس ويشمل على الموت بالجرح الذى هو القتل وعلى الموت بلا جرح فلا يلزم موت المسيح عليه السلام وان سلم الاستغراق فان ثبوت الاعم كالخلوا مثلاً وان كان لكل فرد فرد من نوع ما كنوع الرسل مثلاً لا يستلزم ثبوت كل ما يندرج فيه من انواع ذلك الاعم لكل فرد فرد من ذلك النوع كما لا يخفى على من له ادنى دراية والتمسك على تفسيره بالموت دون المضى بلزوم استحالة تفرع الاخص على الاعم مزيف بان المتفرع فى الحقيقة انما هو استبعاد الانقلاب وانكار جواز الارتداد على تقدير فقدان وجود الرسل ﷺ من بين اظهر القوم بعد اداء الرسالة وتبليغ الاحكام الالهية وكان تقدير الكلام وما محمد الا رسول قد خلت اى مضت من قبله الرسل فهل يجوز لكم الارتداد بعد ما اقام لكم الدين المتين واظهر بينكم الشرع المبين ان نقل بالرفع كما رفع عيسى (هذا بالاجماع) او ادريس او بالموت كما حكمنا به فى سابق علمنا او بالقتل كما صاح به الشيطان واستقر فى قلوبكم والتصريح بالثانى موافقة للواقع ومطابقة لتقدير الله تعالى وذكر الثالث وان لم يطابق الواقع والتقدير

٥

صفحہ ٦٣٢

مراعاة لزعمهم وتوسيعا لنفى جواز الارتداد على كلا الشقين وان كان هذا الثالث مزعوما محضاً وجهلا مركبا الا انه لما كان قوى الاحتمال وكثر وقوعه بين الانبياء السابقين كما دل عليه قوله عزوجل يقتلون النبيين بغير الحق فكان ذكره ضروريا وعدم التصريح بالاول وان كان مقدراً مراداً لانتفاء ما يوجب ذكره من الموجبات المذكورة لظهور عدم توافقه القضاء والواقع ولعدم استقراره فى قلوبهم وشذوذ تقدمه فظهر ان المتفرع فى الحقية هو نفى جواز الارتداد على تقدير أحد الشقوق الثلاثة المصدرة وذلك الامر الدائر بين الثلاثة مساو للخلوا بمعنى المضى فلا يلزم تفريع الاخص على الاعم على تقدير كون المعنى الحقيقى مراداً من لفظ الخلو بل يلزم تفريع أحد المساويين على الآخر وهذا جائز كما يقال رأيت زيداً انه جسم نام حساس متحرك بالارادة مدرك للكلى والجزئى فيفرع على هذا المفصل انه انسان ولا ارتياب فى تساوى هذا المجمل وذلك المفصل وفى صحة تفريع أحدهما على الآخر والامران اللذان حكمنا بمسا واتهما وكون احدهما متفرعاً والآخر متفرعا عليه هو ثبوت خلو كل رسول ونفى جواز الارتداد على تقدير تحقق واحد من الشقوق فان النسب انما تقتضى المفهومين مطلقاً اعم من ان يكونا وجوديين او سلبيين او يكون احدهما وجوديا والآخر سلبياً ولا يلزم توافقهما فى الثبوت او العدم والدليل على لزوم ذلك النفى للخلوا ان المقصود من البعثة وارسال الرسل التشريع مطلقاً وتعيين الطريقة الموصلة الى الله تعالى لا التشريع الى زمان وجود الرسول بين اظهر قومه ولم يخل زمان من الرسل وذا باطل باتفاق من أهل الملل فوضح بطلان زعم لزوم استحالة تفريع الاخص على الاعم على فرض ارادة المضى من الخلوا واما استدلال الصديق اكبر على موت سيدنا محمد ﷺ بهذه الآية فليس موضع استشهاده فى هذه الآية كلمة خلت بل قوله تعالى افائن مات لما انكر الفاروق العادل موته ﷺ وقال ما مات رسول الله ﷺ ولا يموت وكان ذلك جزعا منه بامتناع موته ﷺ فرد الصديق ذلك ٢

صفحہ ٦٣٣

الامتناع بقوله تعالى أفائن مات فان مدخول ان بحسب أصل الوضع لا يكون الا من الامور التى يجوز تقررها ويمكن وجودها لا من الامور التى تابى عن التكون والتقرر وهذا واضح على من طالع بحث معانى الحروف فاذا ثبت جواز تقرر الموت عليه ﷺ ارتفع الامتناع الذى هو نقيضه ويدل على كون موضع استشهاد سيدنا الصديق أكبر قوله تعالى أفائن مات لا كلمة خلت قرأته حين الاستدلال قول الله عزوجل انك ميت وانهم ميتون. وتقرير ازاحة استدلالهم بمنع المقدمة القائلة ان كل جمع عرف باللام فهو مستغرق للافراد كلها بان يقال ان هذه المقدمة ممنوعة كيف لا وقد صرح المحققون بذلك فى اسفارهم الا ترى الى قوله عزوجل واذ قالت الملئكة يا مريم ان الله يبشرك الآية والى قوله تبارك وتعالى واذ قالت الملائكة يا مريم ان الله اصطفاك الآية فقد ذكرت صيغة الملائكة وهى جمع معرف باللام ولم يرد الاستغراق وقال تعالى فسجد الملائكة كلهم اجمعون فلو كان كل جمع محلى باللام مستغرقاً لكان ذكر كلهم مستدركا ولو اردنا ان نجمع الامثلة المثبتة لنقيض المقدمة الممنوعة لجمعنا دفاتر كبيرة ولكن العاقل الحازم يكفيه ماذكرنا من البيان والجاهل الهائم النائم لا يستيقظ بضرب السنان ومنع تلك المقدمة يودى الى منع الكبرى الكلية من مقدمتى القياس الفاسد الكاسد للقاديانى فلانتفاء شرط الانتاج لا ينتج ذلك القياس قوله ان المسيح مات واما قولنا ان استحالة عدم صحة التفريع على منع الاستغراق غير وارد فى الحقيقة لان المراد من قوله تعالى وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل ان محمد ﷺ ليس الا بشرا رسولا وجنس الرسل قد خلا ومن المعلوم ان ما وقع وثبت لبعض افراد الجنس بالنظر الى ذاته وماهيته يمكن ان يثبت لسائر افراده فالثابت للبعض بالنظر الى ماهيته كما يستلزم امكان الثبوت لذلك البعض يستلزم امكانه لباقى الافراد فهذه المهملة اعنى قد خلت من قبله الرسل وان كانت بالنظر الى الفعل والاطلاق بمنزلة الجزئية غير صالحة لكبروية الشكل الاول الا انها بما تستلزم من الممكنة الكلية ٧

صفحہ ٦٣٤

صالحة لها فغاية ما يتجه القياس على هذا أن المسيح ميت بالامكان بان يقال المسيح رسول وجنس الرسل قد خلا بالفعل والاطلاق وقد عرفت انه يلزمه قولنا كل رسول خال وميت بالامكان فهذا القول اللازم يجعل كبرى منضمة الى الصغرى فينتج النتيجة المذكورة فصح التفريع ولم يلزم الاستحالة العقلية ولا المحذور الشرعى من ثبوت موته عليه السلام فى الزمان الماضى لكونه مخالفاً لظاهر القرآن والاحاديث واجماع الامة وهذا مع منع كون لفظ الرسل جمعاً مستغرقاً فاذا لم يثبت مطلوب الكيديين على تقدير منع احدى المقدمتين فقط فعدم ثبوت مطلوبهم على تقدير منعهما معاً اجلى واولى وهذا ظاهر لمن له ادنى دراية وما قلنا من اشتراك ورود عدم صحة التفريع ظاهراً على تقدير تسليم المقدمتين ايضاً كما على منعهما فلان صيغة الرسل وان سلمت انها مستغرقة وسلم ان الخلوا بمعنى الموت لا تستغرق نبينا محمد ﷺ لان الكلام وقع فى خلو الرسل قبله عليه وعليهم السلام ومن الضروريات ان خلوهم قبله معناه انهم سابقون عليه فى وصف الخلو وهو لاحق بهم فى ذلك الوصف وهذا السبق واللحوق زمانيان اللذان لا يجتمع فيهما القبل والبعد ولا البعد والقبل فحين كون الرسل واجدين لوصف الخلو كان نبينا ﷺ فاقدا له اذ لو كان مثلهم فى ذلك الحين للزم فى قوله تعالى قد خلت من قبله الرسل الاخبار بقبلية الشئ على نفسه ومع فقد انه عليه السلام ذلك الوصف وتحلى سائر الرسل به كان مستعداً له يمكن له ان يخلو كما خلوا فاذا ثبت كونه عليه السلام فاقداً لوصف الخلو حين خلت الرسل فلم يندرج فى تلك الرسل الخالية حين فقدان ذلك الوصف ويلزم على عدم اندراجه ﷺ بالنظر الى ذلك الوصف فيهم عدم صحة التفريع بحسب الظاهر لانه اذا لم يكن مندرجاً فى جملتهم فكيف يتعدى الحكم منهم اليه فان التعدى فرع الاندراج وعدم المتفرع عليه يوجب عدم المتفرع فلم يجدهم تخصيص الخلوا بالموت ولا إدعاء الاستغراق كيف والتمسك بالحشيش لا ينفع الغريق فما يجيبون به ٨

صفحہ ٦٣٥

عما ورد عليهم نجيب بمثله مع فضلنا عليهم بما اجبنا ولايمكن لهم التشبث بجوابنا لدلالته على مايعم مدعاهم نقيض مناهم فان امكان شئ كما يقارن ثبوته يقارن عدمه وثبوت الاعم من المطلوب غير نافع للمعلل وان نفع المانع السائل واختفاء هذه القاعدة عليهم من كمال جهلهم ونهاية حمقهم مع كونها في غاية الانكشاف وغاية الظهور من لم يجعل الله له نوراً فماله من نور على انه لودل قوله تعالى وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل على موت ما عدانبينا صلّى الله عليه وسلّم من الرسل جميعهم لدل قوله تعالى ما المسيح بن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل على موت ما عدا نبي الله عيسى عليه السلام من الرسل جميعهم يندرج في ذلك العام المحكوم عليهم بالموت نبينا صلّى الله عليه وسلّم وهذا محال فان نزوله لم يكن الافي حياته وهذا المحال لم ينشاء الا من تسليم استغراق الرسل في الآية الاولى فيكون محالاً لان ما يلزم منه المحال محال البتة فاذا لم يثبت اندراج المسيح عليه السلام تحت الاكبر الموقوف على تسليم الاستغراق المستلزم للمحذور والمحال الشرعى لم تصدق النتيجة في استدلالهم العاطل اللاطائل والآية الثانية تدل دلالة صريحة على حيوة المسيح بن مريم حين نزولها اذلو كان من الميتين في ذلك الحين لقال تعالى ما السميح بن مريم الا رسول قد خلا مع الرسل اوقال تعالى قد خلا وقد خلت الرسل اوقال عزوجل قد خلا كما خلت الرسل اوا كتفى بقوله قد خلت الرسل ولم يقل وقد خلت من قبله الرسل وهذا بناء على انحصار الجمع المعرف باللام في الاحاطة والشمول كما زعم الكائد ومقلدوه المكيدون فالتقييد بقوله من قبله صريح فيما قلنا ودلالة هذه الآية على حيوة المسيح لا تتوقف على استغراق الرسل ليلزم ذلك المحذور من ثبوت الموت للنبى صلّى الله عليه وسلّم حين نزول تلك الآية بل يكفى فيها كون الرسل جنساً فيقال في توجيهها ان جنس الرسل وانكان تحققه في الموارد الخاصة قد خلا من قبل المسيح والمسيح وان لم يخل الى الآن فسيخلو كما خلت الرسل جنسهم فيكون مفادها ان الموت سنة على نبينا عليه السلام ولم ٩

صفحہ ٦٣٦

يوجد الى الان ولكنه سيموت كما ان مفاد الاية. الاولى نفى موت نبينا ﷺ فيما مضى وترتيبه له فيما ياتى ومتى دلت هذه على حيوة المسيح عليه السلام فلو دلت تلك على موته كما تخيل وتخيلوا لزم الاختلاف بين هذين القولين جل قائلهما والقول بوقوع الاختلاف فى القرآن حكم بوقوع ما حكم الله بامتناعه وهذا كفر قال الله عز وجل ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الكفرون والدال على امتناع الاختلاف فى القرآن قوله تعالى ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا فبطلت ارادة استغراق الرسل وعمومه والدليل على ان الحيوة والموت مختلفان ان الموت ان فسر بعدم الحس والحركة عما من شانه كلاهما فيقابل الحيوة بتقابل العدم والملكة وان بانحياز الروح عن البدن وهو الحق الثابت بالنصوص الشرعية والنصوص العقلية فبينهما تضاد وكل منهما اختلاف فاستقر على غرض التحقيق ماقلنا من حيوة المسيح عليه السلام فى الازمنة الماضية وموته فيما ياتى وهذا ما ذهب اليه الاسلاميون باجمعهم بخلاف النصارى القائلين بوقوع موته ثم احيائه ورفعه بجسده وبخلاف من هم اسؤ حالاً واشر مآلاً وهم الكائد القاديانى والمكيدون القائلون بوقوع موته وبعدم رفعه الجسدى

ثم استدل الكائد القاديانى على مطلوبه بقوله تعالى وما جعلناهم جسداً لا ياكلون الطعام وما كانوا خالدين وتهذيب استدلاله انه لو كان المسيح عليه السلام حيا فى السماء لزم كونه جسدا لا ياكل الطعام وكونه خالدا وقد نفى الله تعالى ذلك فان مفاد الاية سلب كلى اى لاشئ من الرسل بجسد لا يأكل ولا احد منهم بخالد ومن المقرر ان تحقق الحكم الشخصى مناقض للسلب الكلى والدليل على كون المفاد سلبا كليا قوله تبارك وتعالى وما جعلنا لبشر من قبلك الخلد افائن مت فهم الخلدون فانه صريح فى السلب الكلى فاذا ثبت الرفع والسلب كليا بالنص ارتفع الحكم الشخصى المستلزم للايجاب الجزئى المناقض لذلك السلب المدلول بالنص فان

١٠

صفحہ ٦٣٧

احد المتناقضين لا يجامع النقيض الآخر كما لا يرتفع معه وهذا بديهى اقول بتوفيق الله وحسن توفيقه ان في قوله تعالى وما جعلناهم جسداً الخ! انما ورد النفى على الجعل المولف المتخلل بين المفعولين ومفعوله الثانى المجعول اليه هو قوله جسداً لا ياكلون الخ! فمدخول النفى هو الجعل المقيد بهذه القيود وظاهر ان المقيد ولو بالف قيد لا يتصور تحققه الا بتحقق كل من تلك القيود والقيود التى ههنا هى تاليف الجعل وكون المجعول اليه جسداً مع تقييده بعدم اكل الطعام فلا بد لتحقق هذا المقيد من تحقق تلك القيود الثلثة بخلاف الانتفاء فانه يتصور بانتفاء جزأى جزء كان ولا يتوقف على انتفاء جميع الاجزاء فينتفى ذلك المدخول للنفى بوقوع غير الجعل موقعه وبانتفاء تاليفه بان يتعلق الجعل المفرد باحد المفعولين اما بالاوّل فقط واما بالثانى فحسب وبرفع خصوص المجعول اليه ووضع امر اخر في محله وبانتفاء قيد عدم الاكل ولو سلم تحقق كل قيد ماعدا مافرض انتفائه وبانتفاء مجموع القيود بمعنى انتفاء كل قيد وبانتفاء المقيد اعنى ذاتا ما مع تسليم القيود باسرها فهذه المواد والمواقع ليست الا بالامكان لا بالفعل والاطلاق الا رفع القيد الاخير فانه واقع بالفعل ومراد بقوله تعالى وما جعلناهم جسداً وتحقق ماعدا ذلك القيد مسلم بل مثبت بالبراهين النقلية والعقلية القطعيتين وعدم الاكل الذي هو امر عدمی متصور بوجهين بعدم اكل شئ ما اعم من ان يكون طعاماً اوغيره وبعدم اكل الطعام خاصة وان وجد معه اكل غير الطعام وعدم ذلك الانتفاء الذي اضيف الى الامر العدمى انما يتحقق بتحقق نقيض ما اضيف اليه الانتفاء فيستلزم انتفاء ذلك العدم الذى هو في قوة السالبة ثبوت الاكل الذى هو في قوة الموجبة المحصلة اذ عموم الاولى من الثانية انما هو بامكان تحققها بعدم الموضوع وعدم امكان تحققها حين عدمه لضرورة استدعائها وجود الموضوع ومن البديهيات ان الموضوع فيما نحن فيه موجود وقد تقرر في مدارك العقلاء التلازم بين السالبة السالبة وبين الموجبة المحصلة عند

١١

صفحہ ٦٣٨

وجود الموضوع فلزم من قوله تعالى وما جعلناهم جسداً لا يأكلون الطعام الذى هو بمنزلة السالبة السالبة تحقق قضية موجبة محصلة اعنى كل رسول ياكل الطعام فيقال لمن يدعى به على اثبات موت المسيح بن مريم ان نسبة الاكل الى كل رسول فى هذه القضية هل هى بالضرورة بحسب الذات او بحسب الوصف اوفى وقت ما اوفى وقت معين او بحسب الدوام ذاتا او وصفا او بالاطلاق اوبالامكان مع قيد اللادوام فى ماعدا الاوّل والخامس او مع قيد اللاضرورة فى ماعدا الاوّل فقط على رأى اوفى ماعدا الخامس ايضاً كما على رأى اخر وان لم يكن بعض التراكيب منها متعارفاً او لا يعتبر قيد الاضرورة ولا قيد اللادوام الاوّل والخامس بديهى البطلان لوجود نقيض كل منها وهو امكان عدم الاكل للاوّل واطلاقه للخامس وكذا الثانى والسادس لعدم مدخلية وصف الرسالة فى ضرورة الاكل او دوامه كما لا مدخل فيهما لمعنون ذلك الوصف وكذا لا تكون ضرورية بحسب الوقت مطلقاً لا بحسب وقت ما ولا بحسب وقت معين لان غاية الامر ان يكون الا كل ضرورياً بشرط الجوع والجوع لما لم يكن واجباً فى وقت مالم يكن المشروط به ضرورياً فى وقت ما كما صرح به فى كتب المنطق من ان الكتابة ليست بضرورية فى حين من الاحيان فما ظنك بالمشروط بها والضرورة بشرط الشئ غير الضرورة فى وقت ذلك الشئ والاوّل لا يستلزم الثانى كما فى تحرك الاصابع بشرط الكتابة فان التحرك بشرطها ضرورى وليس فى وقتها بضرورى فكذلك ضرورة الاكل بشرط الجوع امر وضرورته فى وقت الجوع امر آخر لا تلازم بينهما فضلاً عن الاتحاد فاذا لم يكن الاكل ضرورياً فى وقت مالم تكن القضية وقتية مطلقة ولا منتشرة مطلقة فلم يكن وقتية ولا منتشرة لاستيجاب انتفاء الاعم انتفاء الاخص وكون الاكل ضرورياً بشرط الجوع لا يقتضى ان تكون القضية مشروطة ايضاً اذا لمشروطة ما يوجد فيه الضرورة بشرط الوصف العنوانى لا بشرط اى وصف كان ومن الظاهر ان الوصف العنوانى فى القضية انما هو وصف

١٢

صفحہ ٦٣٩

الرسالة دون وصف الجوع فلم يبق الا ان يكون بالاطلاق او الامكان مع قيد اللادوام او اللاضرورة او بدونه والاول من كل منهما متعين بدليل قوله تعالى وما ارسلنا قبلك من المرسلين الا انهم لياكلون الطعام ويمشون فى الاسواق فيكون وجودية احد جزئيها ثابت بهذه الآية وثانيهما بما مر من البيان وهى وان كانت مستلزمة لما عداها لكنها لكونها اخص احق بالاعتبار وينحل الى قولنا كل رسول ياكل الطعام بالفعل ولا شئ من الرسول ياكل الطعام بالفعل وهذه القضية لا تناقض ما ذهب اليه الاسلاميون لانه يصدق قولنا المسيح بن مريم اكل للطعام بالفعل وليس باكل بالفعل وما قررنا قبل من ان الجوع ليس بضرورى لان الجوع خلوا الباطن واقتضاء الطبيعة بدل ما يتحلل منه وذلك فرع التحلل ولا ارتياب فى تنوع مراتب التحلل باختلاف الاسباب الداخلية والخارجية ولا تحديد لمراتبه فالتحلل الذى فى مرتبة ناقصة غير التحلل الذى فوقه يجوز سلب كل منهما عن الآخر و كذلك يقال فى جميع مراتبه ان كل مرتبة عيناها فهى مسلوبة عما تحتها وعما فوقها من المراتب وهما مسلوبان عنها فهذا حكم اجمالى على كل مرتبة بامكان سلبها عن جميع المراتب الاخر كامكان سلب المراتب الاخر عن تلك المرتبة وهذا فرع امكان السلب فى نفس الامر اذ سلب مرتبة معينة فى مرتبة اخرى سلب مقيد والسلب فى نفس الامر اعم من ان يكون ذلك السلب مقيداً بكونه فى مرتبة اخرى اولاً سلب مطلق ولا ريب فى ان امكان المقيد فرع امكان المطلق ومتاخر عنه واذا كان الامر كذلك امكن سلب التحلل راساً فامكن انتفاء الجوع اصلا مع بقاء الشخص بل حكم الله تعالى بتحقق انتفاء الجوع فى القرآن ولم يكتف بمحض امكانه وقال وعز من قائل مخاطباً لآدم ان لك الا تجوع فيها ولا تعرى وانك لا تظمئو فيها ولا تضحى وليس ذلك الا لعدم التحلل كما ان عدم الضحى لعدم الشمس وحمله على عدم دوام الجوع او على عدم اشتداده غير صحيح والاصح حمل جميع الافعال المدخولة بحرف النفى على نفى دوامها او عدم اشتدادها وامثال هذا لا تصح

١٣٠

صفحہ ٦٤٠

ولا تستقيم الا لوجود ضرورة داعية واى ضرورة احوجنا الى صرف اللفظ عن الظاهر وحمله على غير الظاهر بحيث لا ينتقل اليه الذهن اصلا والتمسك على وجود تلك الضرورة بقوله وقلنا يادم اسكن انت وزوجك الجنة وكلا منها رغدا حيث شئتما ولا تقربا هذه الشجرة فتكونا من الظالمين غير مستقيم فان اطلاق الاكل واباحته لهما لا يقتضى الجوع اذكما ان الفواكه فى الدنيا لا توكل الاحصول اللذة لالدفع الجوع كذا طعام الجنة ولا افتقار اليه لحصول بدل التحلل ودفع الجوع بل لاجوع ولا تحلل وانما يكون اكله لحصول اللذة فقط فان لم تقنع بما قلنا فطالع التيسير والوجيز وكيف لامع انه قد تاكد وتايد بما صح ان فى الجنة باباً يقال له الريان من دخل شرب ومن شرب لا يظما ابداً ولا فرق بين الجوع والظمأ فكمالا امتناع فى عدم التعطش لا امتناع فى عدم الجوع ولا يرد على ماقلنا من انه اذا امكن سلب التحلل امكن انتفاء الجوع انه احتجاج بلادليل اذانتفاء العلة لا يستلزم انتفاء المعلول بدليل ماتقرر عند الاصوليين من جواز تعدد العلل على معلول واحد فلايلزم انتفاء المعلول بانتفاء واحد منها لجواز تحققه بتحقق علة اخرى منها كعدم صحة الاحتجاج على الحكم بان زيدا لم يمت بانتفاء واحد من علل الموت كما يقال لا نه لم يسقط من اعلى الجبل فهذا الاستدلال غير صحيح اذالموت كما يتحقق بالسقوط من اعلى الجبل كذلك به من اعلى سطح البيت ومن فوق الشجرة الطويلة وبضرب من السيف والحجر وامثاله وبنحو امراض يستصعب احصائها فبانتفاء واحد منها كيف يجزم بانتفاء الموت اصلا لامكان تحققه بتحقق واحد أخر من تلك الانواع وعدم وروده لان التحقيق ان المعلول اذا انحصر فى العلة وتكون العلة لازمة له وهى مفسرة فى كتب القوم بما لولاه لامتنع الحكم والمعلوم فانتفائها يستلزم انتفاء المعلول اذلا يتصور تعدد العلل بهذا المعنى حتى يمكن عند انتفاء احدهما ثبوته باخرى منها فاذا لم يجز تعدد العلة وانحصر المعلول الواحد فى العلة الواحدة اللازمة له فلو تحقق المعلول مع

١٤

صفحہ ٦٣١

ارتفاع العلة بهذا المعنى لزم تحقق الملزوم بدون اللازم فالاستدلال على عدم المعلول بانتفاء العلة بهذا المعنى استدلال بانتفاء اللازم على انتفاء الملزوم ولا ريب فى صحته والتحلل بالنسبة الى الجوع كذلك لا نه المتوقف عليه الجوع بمعنى لولاه لامتنع لا بمعنى الامر المصحح لدخول الفاء فيصح الاستدلال على امكان انتفاء الجوع بامكان انتفاء التحلل نعم الجوع علة للاكل بالمعنى الاخير ولذا لايلزم من انتفاء الجوع انتفاء الاكل لجواز تحققه بدونه بعلة غير الجوع كاستحصال اللذة وقصد علاج ونحوه وهذا واضح على من له ادنى تامل

واستدل ايضاً ببعض هذه الآية وهو قوله تعالى وما كانوا خلدين وبقوله تعالى وما جعلنا لبشر من قبلك الخلد افائن مت فهم الخلدون وتحرير استدلاله هذا انه لوكان المسيح عليه السلام حياً لزم ان يكون خالداً وقد نفى الله الخلود عن كل افراد البشر فى هاتين الآيتين وجوابه ان الخلود المنفى فى كلتا الآيتين هو الخلود بمعنى دوام الحيوة فى الدنيا لا بمعنى طول العمر بل لا حقيقه للخلود الا دوام الحيوة كما لايخفى على من هو ماهر فى معانى اللغة ومفاهيم نظم القرآن قال تعالى فى حق اهل الجنة اولئك اصحاب الجنة هم فيها خلدون وفى حق الكفار اولئك اصحاب النار هم فيها خلدون وعلى هذا فمعنى الآيتين نفى دوام الحيوة فى الدنيا لفرد من افراد البشر وهو نقيض الدائمة المطلقة الموجبة الجزئية اعنى قولنا بعض البشر حى دائما وهذه قضية كاذبة قطعا ويلازم ذلك النقيض الصريح قولنا لاشئ من البشر بحى بالفعل وهى قضية صادقة لصدق ملزومها الثابت بقول الله عز وجل المذكور لاستلزام تحقق الملزوم تحقق الازم فهذه المطلقة العامة السالبة لاتستوجب موت المسيح فى الزمان الماضى خاصة اذ لا اختصاص للاطلاق العام بزمان دون زمان بل تقتضى موته فى الجملة والمسلمون باجمعهم قائلون بوقوع موته فى مبادى الساعة فمالزم وثبت بالآيتين غير مناقض ولا مناف لاعتقاد كون المسيح حياً الآن

١٥

صفحہ ٦٣٢

وما ينافى لذلك الاعتقاد الصحيح الحق الصريح من دوام الحيوة فى الدنيا وعدم الموت عدماً مؤبداً غير ثابت بالآيتين فالثابت غير محال والمحال غير ثابت وحمل الخلود فى الآيتين على معنى طول العمر مجازاً لا يصح اذ حمل اللفظ على المعنى المجازى بغير قرينة صارفة عن معناه الموضوع له غير جائز اذ ليس للعمر حد معين حتى يصح حمله عليه والقول بان العمر الطبعى مائة وعشرون قول مشهور لا يوجد عليه دليل لا نقلى ولا عقلى والمشاهدة شاهدة عادلة والنقول متعاضدة بوجود الذين تجاوزوا من مائة وعشرين فى السلف والخلف ولولا خوف الاطالة لاوردت بعد ما استقريت الاترى انه قد صرح محققوا الاطباء بعدم وجود الدليل على هذا القول المشهور وكذا لم يوجد دليل شرعى عليه بل ورد الدليل على خلافه قال تعالى فى حق نوح فلبث فيهم الف سنة الا خمسين عاماً فحمله على ماحمله المكابر يفضى الى التناقض بين الآيتين وبين قوله تعالى المار آنفاً فى حق نوح عليه السلام فهل هذا الا سفاهة وجهالة او زندقة وضلالة اعاذنا الله تعالى من سفاهة السفهاء وجهالة الجهلاء وادخلنا فى زمرة العلماء العاملين وجعلنا من الائمة المتقين الهادين المهديين بجاه خير النبيين وآله وصحبه اجمعين

واستدل ايضاً بقوله تعالى ومنكم من يتوفى ومنكم من يرد الى ارذل العمر لكيلا يعلم بعد علم شيئاً وتقريبه ان هذا التقسيم حاصر لجميع افراد البشر كحصر الزوج والفرد لجميع افراد العدد بحيث لا يجتمع وصفا التوفى والرد الى ارذل العمر فى فرد من البشر ولا يخلو فرد من كليهما كما لا يجتمع الزوج والفرد فى عدد ولا يخلو العدد من كليهما فالقضية منفصلة حقيقية فاذا لم يمت المسيح ولم يعرضه ارذل العمر لزم ارتفاع كلا جزئى الحقيقة وذا غير ممكن فهذا المحال انما لزم من فرض عدم موته فيكون باطلاً فيثبت نقيضه وهو موت المسيح فذلك هو المطلوب والجواب انه يمكن التقسيم بين ظاهر مفهومى من يتوفى ومن يرد لان من يرد بحسب

١٦

صفحہ ٦٤٣

مفهومه يندرج فى من يتوفى لانه اخص منه فان من يرد الى ارذل العمر لا محالة يدركه التوفى والتوفى متحقق بدون الرد ايضاً كما هو معه فالمتوفى اعم ممن يرد وتقسيم الشئ الى نفسه والى ما هو اخص منه غير صحيح بل غير متصور لانه عبارة عن جعل الشئ الواحد بالوحدة المبهمة متعدداً بضم قيود متعددة مختلفة فان كانت القسمة اعتبارية كتقسيم كل ماهية الى حصصها وافرادها الاعتبارية يكون التقييد بها داخلاً فى عنواناتها دون الحقائق والمعنونات والقيود غير داخلة اصلاً لا فى هذه ولا فى تلك وان كانت حقيقة فاما بالمقومات المحصلة والفصول المنوعة فيكون القيود داخلة فى المعنونات وان بالعوارض المخصصة فالقيود داخلة فى العنوانات دون المعنونات وظاهر ان الانسان لو كان منقسماً الى المتوفى والى من يرد لكان انقسامه بهذين الوصفين انقسام الشئ بالعوارض المخصصة المميزة لبداهة خروج وصفى التوفى والرد عن الانسان والتميز لقسم انما يحصل بوصف يختص بذلك القسم ولا يوجد فى قسميه والتوفى ليس كذلك لتحققه فيما زعمه المستدل قسيماً للمتوفى ايضاً فاذا انتفى الاختصاص والتمييز انتفى التقسيم وان تاملت حق التامل تيقنت بالتقسيم بين من يتوفى من غير ان تعرضه حالة الرد وبين من يتوفى من عروضها ويدور حينئذ المتوفى مطلقاً المتلازم للانسان بين قسميه كما يدور الحيوان المنقسم الى قسميه من الناطق وغير الناطق فمحل التقسيم ومورد القسمة هو المتوفى مطلقاً والقسمان اللذان ينقسم اليهما هما المتوفى المعروض للرد والمتوفى الذى ليس كذلك فهذا التقسيم صحيح وحاصر وبحصر المتوفى المطلق اللازم ينحصر الانسان الملزوم ولا يلزم التنافى بين القول بعدم مضى موت المسيح عليه السلام وبين ذلك الحصر لكفاية القول بوقوع موته فى الآتى لصحة ذلك الحصر وهو عليه السلام داخل فى الشق الاوّل من الحصر وليس من لوازم دخوله فيه مضى موته البتة فان الشق الاوّل مذكور بصيغة المضارع دون صيغة الماضى ولعل المستدل

١٧

PDF 645

الكائد اشتبه عليه لفظ يتوفى المضارع المجهول بصيغة توفى الماضى المجهول فتفوه بما تفوه ولم يأت بشئ معقول نعم انما يلزم ابطال الحصر لوقيل بتأبيد حيوته وخلوده فى الدنيا فحينئذ لا رتفع كلا الشقين ولو جد قسم أخر من الانسان لم يوجد فيه التوفى مطلقاً فكان محلاً لان يورد عليه بانه اما ان يوجد فى ذلك القسم الخارج من القسمين الذى فرض مؤبداً ومخلداً مطلق التوفى وهذا مع كونه بديهى الاستحالة لتنافى ابدية الحيوة والتوفى يقتضى ابطال الحصر لوجود المقسم بدون ما انقسم اليه من القسمين واما ان لا يوجد فيه بسبب انتفاء جميع موارده وارتفاع ما انحصر فيه وهذا يفضى الى القول بعدم لزوم التوفى للانسان وذلك باطل بدليل قوله تعالى كل نفس ذائقة الموت واما الى القول بجواز حصر اللازم فى شئ بدون حصر الملزوم فى ذلك الشئ وهو ايضاً باطل للزوم انفكاك اللازم عن الملزوم وهذه المحالات انما هى لازمة على القول بتأبيد حيوته عليه السلام فيكون باطلاً ولا تلزم للقول بطول حياته مع وقوع موته فى المستقبل وبينهما بون بعيد

وعد ذلك الكائد هذه الاستدلات من الاستدلال بالعمومات ثم استدل على زعمه بالخصوصات منها حديث المعراج الدال على ملاقات نبينا ﷺ مع ابنى الخالة يحيى وعيسى عليهما السلام فى السماء الثانية وتنقيحه انه لم لم يكن ميتا لما اجتمع عيسى مع الاموات من النبيين فى مقار ارواحهم اقول ان هذا الاستدلال مما يضحك عليه البله والصبيان فانه لوكان الاجتماع معهم يستلزم موت من يجتمع معهم لزم كون نبينا ﷺ ميتا حين اجتماعه معهم وهل هذا الا خبط او جنون ولو ادعى طول اجتماعهما وكون الاجتماع الكذائى سبباً للاتحاد بينهما فى وصف الموت وان هذا النوع من الاجتماع لم يوجد لنبينا ﷺ مع ارواح النبيين فلا يلزم كونه مثلهم بخلاف عيسى ويحيى عليهما السلام فانهما معاً مستقران فى تلك السماء فيلزم ان تكون حال احدهما كحال الأخر يقال منعنا المقدمتين من

١٨

كون السماء الثانية مقر الكلي تحاد حالتى المجتمعين وسن الله ﷺ مع نبى الله يحيى كو السماء بل يجوز ان تكون ملاقا بان يكون مقرهم العليين و السموت المختلفة من مقرهم الاح بامثال اجسادهم وكل ذلك ممكن السلام يصلى فى قبره فامروا بال قيل ان هذا القول قول بعروج عليه السلام عروج عينى واقعى المثل رويته بالمثال فان روي بعض الاشياء انفسها وبعضها معاملة الاسراء ذهاباً ايابا وفرق يلزم المحذور وبهذا وضح انه ل كون كليهما مقيمين فيها فضلا زعمه وسند المنع الثانى ظاه يستلزم اتحاد المتمكنين فى الاو

ومن دلائله الخاصة وقوله عزوجل فلما توفيتنى جهلة الناس وايقاعهم فى ال الكريمين لايدلان على مزعومه ا الوفاء ومن الاصول المقرر معتبر فى جميع تصاريفه اعتبار الجزء فى الكل الاترى ا عند العقل والاضافة بين ا

صفحہ ٦٤٥

كون السماء الثانية مقر لكليهما ومن كون هذا النوع من الاجتماع علة لا تحاد حالتی المجتمعين وسند المنع الاوّل انه لا يلزم من ملاقات رسول الله صلى الله عليه وسلم مع نبی الله يحيى كون يحيى عليه السلام مستقرا مقيما فى تلك السماء بل يجوز ان تكون ملاقاتهما كملاقاته مع جميع الانبياء فى الاقصى بان يكون مقرهم العليين وأمروا بالذهاب الى المسجد الاقصى او الى السموت المختلفة من مقرهم الاصلى باجسادهم بعينها او بارواحهم بالتمثل بامثال اجسادهم وكل ذلك ممكن اويكون مقرهم القبور كما رئی موسى عليه السلام يصلى فى قبره فأمروا بالذهاب الى الاقصى اوالى السموت كذلك فان قيل ان هذا القول قول بعروجه صلى الله عليه وسلم بالعروج المثالى قلت كلا فان عروجه عليه السلام عروج عينى واقعى بجسده الطاهر الاشرف ولايلزم من رويته المثل رويته بالمثال فان رويته الاشياء فى ليلة المعراج تنوعت فقد راى بعض الاشياء انفسها وبعضها بامثالها كما يظهر لمن طالع ماورد فى بيان معاملة الاسراء ذهاباً ايابا وفرق بين كون المثال مرئيا وبين كونه رايا فلم يلزم المحذور وبهذا وضح انه لا يلزم من اجتماع المسيح ويحيى فى السماء كون كليهما مقيمين فيها فضلا عن كونهما مشاركين فى وصف الموت كما زعمه وسند المنع الثانى ظاهر فان اتحاد المكان ولو على سبيل القرار لا يستلزم اتحاد المتمكنين فى الاوصاف كلها فتامل يظهرلك حقيقة ماقلنا

ومن دلائله الخاصة على حسب زعمه قوله تعالى اني متوفيك وقوله عزوجل فلما توفيتنى وما هذا فى الحقيقة الا تمويه للباطل وايهام جهلة الناس وايقاعهم فى الضلالة والحيرة وازاحته ان هذين القولين الكريمين لا يدلان على مزعومه اذ التوفى عبارة عن اخذ الشئ وايفائه ومادته الوفاء ومن الاصول المقررة والقواعد المسلمة ان أصل الماخذ بمفهومه معتبر فى جميع تصاريفه وان اختلف الصيغ والابواب واعتباره فيها اعتبار الجزء فى الكل الاترى الى لفظ العلم فان معناه حصول صورة الشئ عنـد الـعـقـل والاضـافة بين العالم والمعلوم او نسبة ذات اضافة كذائية ١٩

صفحہ ٦٤٦

أو الصورة الحاصلة أو الحالة الادراكية أو تحصل صورة الشئ على حسب تنوع آرائهم وهذا المعنى يكون داخلاً فى معانى جميع ما اخذ من لفظ العلم سواء كان ذلك الماخوذ من تصريفات المجرد اوالمزيد فان علم مثلاً بصيغة الماضى المعلوم معناه انه حصل للفاعل صورة الشئ المعلوم فى الزمان الماضى وهذا على الاصطلاح الاوّل او حصلت له الاضافة بينه وبين ماعلمه وهذا على التفسير الثانى وقس على ما مثلناك به باقى الاصطلاحات فباشتمال مفهوم علم الماضى على مفهوم المصدر ونسبة الى الفاعل والزمان يكون مفهومه كلاً ومفهوم المصدر جزاً ففيه التركيب من ثلثة اجزاء وكون النسبة الى الفاعل والزمان جزئين عام فى جميع مااشتق من المصدر المجرد اواشتق من الماخوذ من ذلك المجرد من الافعال ولا يلزم ان يكون كل مااشتق من ذلك المجرد او مااخذ منه اواشتق من الماخوذ منه سواء كان فعلا اوغيره كذلك فان من مشتقات العلم العالم والنسبة الى الزمان لاتوجد فيه ومن الماخوذ منه الاعلام وكلتا النسبتين لاتوجدان فيه لانسبة الفاعل ولا نسبة الزمان بل فيه مفهوم الاصل المجرد وما اقتضاه خصوص هذا الباب الذى بذاك تعدى الان الى مالم يتعد اليه فى صورته الاصلية لمادته ففيهما التركيب من جزئين ومن المشتقات من الماخوذ منه اعلم بصيغة الماضى ايضاً مثلاً ففيه التركيب من اربعة اجزاء اثنان منهما الجزء ان اللذان تضمنهما الاعلام من مفهوم المصدر المجرد ومن خصوص مقتضى الباب ولاخران هما النسبتان المذكورتان ففى التوفى لكونه ماخوذاً من الوفاء احتواء على معنى الوفاء باعتبار كونه ماخذاً له وعلى الاخذ باعتبار خصوص الباب وفى مااشتق من التوفى من الصيغ الدالة على الزمان كتوفيت مثلاً احتواء على اربعة اجزاء ومن الصيغ الغير الدالة على الزمان كصيغة المتوفى انطواء على ثلثة اجزاء لعدم اشتمالها على الزمان فاحاطة كل صيغة من هذه الصيغ المشتقة على مفهوم أصل الماخوذ سواء كان تركيب معناها من تلك الاجزاء تركيباً حقيقيا كما هو المشهور او تركيباً تحليليا كما

٢٠

صفحہ ٦٤٧

هو الحق الحقيق بالتامل الدقيق احاطة الكل على الجزء وان كانت هذه الاحاطة على الاحتمال الثانى الراجح يؤول الى الاحاطة بمعنى صحة انتزاع الجزء التحليلى من الكل كذلك فاذن المعنى الذى يراد من التوفى او مما اشتق منه فهو على تقدير كونه مجردا عن معنى الوفاء لا يكون معنى حقيقيا للفظ التوفى او المشتق منه لان التجريد عن بعض اجزاء الموضوع له تجريد عن كله والا يلزم تحقق الكل مع انتفاء الجزء او تحقق ما هو فى حكم الكل مع انتفاء ما هو فى حكم جزئه وذا باطل بالبداهة فاذا لم يكن ذلك المعنى المراد معنى حقيقيا لذلك اللفظ لابد ان يكون معنى مجازياً اذ اللفظ المستعمل فى المعنى لا يخلو عن الحقيقة والمجاز ولا يختص ذلك الحكم بارتفاع مفهوم الماخذ فحسب بل يحكم بالمجازية فى كل صيغة بانتفاء كل جزء اى جزء كان من الاجزاء المعتبرة فى تلك الصيغة سواء كان دخول ذلك الجزء فيها بالوضع الشخصى او بالوضع النوعى يمثل الاول باللبنات فى الجدران والثانى بدخول جزء المشتق فى المشتق فان وضع المشتقات وضع نوعى كما يقال كل لفظ على وزن مفعول فهو يدل على من وقع عليه الفعل فاذا لم يكن بد لكون المعنى حقيقياً حال كونه مركبا من تحقق كل جزء من اجزائه ويكفى فى ارتفاعه وتحقق المعنى المجازى انتفاء واحد من تلك الاجزاء لانه كما ينتفى الكل بانتفاء جميع الاجزاء ينتفى بواحد منها وذلك ظاهر وهذا التحقيق يدل دلالة واضحة بينة على ان المتوفى هو الاخذ بالوفاء والتمام وذلك معناه الحقيقى لتحقق جميع ما لا بد منه للمعنى الحقيقى بهذا اللفظ من مدلول الوفاء والاخذ ونسبة الى الفاعل ففى قوله تعالى خطابا لعيسى بن مريم عليه السلام يعيسى انى متوفيك ورافعك يكون معناه على الحقيقة ان يا عيسى انى أخذك بالكلية وبالتمام وكذا المراد فى قوله تعالى حكاية عنه فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم هو الاخذ بالتمام وذا لا يوجد الا فى الرفع الجسدى لانحصار الاخذ بتمامه فى هذا الرفع دون الرفع الروحى لانه اخذه ببعضه دون كله فاطلاق التوفى مع

٢١

صفحہ ٦٤٨

كونه محمولا على الحقيقة على الرفع الروحى غير جائز نعم لو اريد بالتوفى اخذ الشئ مجرداً عن معنى الوفاء والتمام بان يكون عدم الوفاء ماخوذا فيه او بان لا يكون الوفاء معتبراً فيه سواء قارنه او لم يقارنه واعتبار عدم الوفاء يغاير عدم اعتبار الوفاء فحينئذ يصح اطلاقه على الرفع الروحى لكن على الاول يكون اطلاقه عليه من قبيل اطلاق الكل على الجزء وعلى الثانى من قبيل عموم المجاز والفرق بين اعتبار عدم الشئ وبين عدم اعتبار ذلك الشئ انما هو بالخصوص والعموم وكل من هذين الاطلاقين اطلاق مجازى لا يصار اليه الا بقرينة صارفة عن ارادة معناه الحقيقى الاصلى والقرينة غير موجودة فلا بد من ان يحمل على الحقيقة دون المجاز ومن المعلوم ان مدار كون اللفظ حقيقة ومجازاً انما هو الوضع مطلقاً اعم من ان يكون الوضع وضعاً شخصياً او وضعاً نوعياً فان استعمل اللفظ في المعنى الموضوع له الشخصى او النوعى كان حقيقة والا كان مجازاً والمشتقات لتركبها من مادة وهيئة موضوعتين اولهما بالوضع الشخصى وثانيتهما بالوضع النوعى تكون دلالتها على معنى اصل المبده بمادتها بالوضع الشخصى وعلى مفهومها التركيبى بوضعها النوعى ولكونها مركبة بهذه الصفة لا بد لكونها حقيقة من تحقق كلا الوضعين ولا يكفيها في كونها حقيقة تحقق احدهما فقط بخلاف مجازيتها فانها تتصور بانحاء ثلثة بانتفاء الوضع الشخصى فقط كمجازية الناطق في معنى الدال بصرف لفظ النطق الموضوع بالوضع الشخصى عن معناه الحقيقى الى معنى الدلالة وبانتفاء الوضع النوعى فقط كاطلاق لفظ القائلة على المقولة مع بقاء اصل المعنى المصدرى وبانتفاء كليهما كما لو اطلق الناطق واريد به المدلول فلفظ متوفيك او لفظ توفيتني ان حمل على معنى الاخذ بالتمام الذي لا يكون الا برفع الروح والجسد يكون حقيقة لتحقق مدار الحقيقة من كلا الوضعين وان حمل على معنى لم يندرج فيه معنى الاخذ بالتمام سواء جرد عنه بان يكون عدمه قيدا للاخذ او بان يرسل الاخذ ولم يعتبر معه قيد التمام وجد ٢٢

فيه التمام او لم يوجد الشخصى ومن المقررات غير جائز فتعين المصـ معنى الاماتة وجعل الـ لو اريد بتبادره في هذا يوجد في القرآن في بغير قرينة وان اريد به هي تبادره مع الفراء عن حقيقة فلم يصح تقسيم الـ على هذا التقدير وانمـ الاماتة فانما وقع مع القـ تعالى ثم يتوفهن المـ يتوفكم ملك الموت انفسهم وفي تتوفهم المـ توفته رسلنا وفي ربنـ تعالى فكيف اذا توفتهـ في الاول وفي الباقية للارواح قرينة صارفـ بالابرار وفي قوله عزوجـ وفي فامانرينك بعض الـ انما يعتبر في احد المـ الانتقال التدريجي فـ ولاريب ان الحيوة معـ متصور فيعتبر عدمه يتوفون منكم ويذر

صفحہ ٦٣٩

قيد التمام اولم يوجد يكون مجازاً لصرفه عن معناه الموضوع له بالوضع الشخصى ومن المقررات والمسلمات ان المصير الى المجاز بلا قرينة صارفة غير جائز فتعين المصير الى الحمل على الحقيقة ودعوى تبادر التوفى فى معنى الاماتة وجعل التبادر قرينة لكونه حقيقة فى الاماتة غير مسلم لانه لو اريد بتبادره فى هذا المعنى التبادر مع عدم القرينة فذلك اول النزاع ولم يوجد فى القرآن فى موضع من موارد هذا اللفظ استعماله فى هذا المعنى بغير قرينة وان اريد به التبادر مع القرينة فذاك مسلم ولكن علامة الحقيقة هى تبادره مع العراء عن القرينة لا مع انضمامها والا يكون كل مجاز مستعمل حقيقة فلم يصح تقسيم اللفظ الى الحقيقة والمجاز لعدم امكان وجود المجاز على هذا التقدير وانما ادعينا ان لفظ التوفى حيث وقع فى القرآن بمعنى الاماتة فانما وقع مع القرينة لا بدونها فان حمل التوفى على الموت فى قوله تعالى حتى يتوفهن الموت بقرينة اسناده الى الموت وفى قوله عز وجل قل يتوفكم ملك الموت الذى وكل بكم وفى ان الذين توفهم الملئكة ظالمى انفسهم وفى تتوفهم الملئكة ظالمى انفسهم وفى تتوفهم الملئكة طيبين وفى توفته رسلنا وفى رسلنا يتوفنهم وفى يتوفى الذين كفروا الملئكة وفى قوله تعالى فكيف اذا توفتهم الملئكة يضربون وجوههم اسناده الى الملك الموكل فى الاول وفى الباقية من اقواله الشريفة اسناده الى الملئكة القابضة للارواح قرينة صارفة وفى قوله عز وجل وتوفنا مع الابرار سوال المعية بالابرار وفى قوله عز وجل توفنا مسلمين سوال حسن الخاتمة قرينة كذلك وفى فاما نرينك بعض الذى نعدهم او نتوفينك فالينا يرجعون قرينة التقابل اذ ما يعتبر فى احد المتقابلين يعتبر عدماً فى المتقابل الآخر كما اعتبر الانتقال التدريجى فى الحركة وجوداً وعدمه فى ضدها اعنى السكون ولا ريب ان الحيوة معتبرة فى نرينك اذ الارائة بدون حيوة الرائى غير متصور فيعتبر عدمها فى مقابله وهو نتوفينك وفى قوله تعالى والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجاً يتربصن بانفسهن اربعة اشهر وعشراً ٢٣

صفحہ ٦٥٠

قرينتان احدهما ويذرون ازواجاً والاخرى يتربصن وكذا فى قوله تعالى والذين يتوفون منكم يذرون ازواجاً وصية لازواجهم الآية قرينتان اولهما هى اولهما فى الآية السابقة وثانيتهما لزوم الوصية وكذا التقابل فى ومنكم من يتوفى وقيد حين موتها فى قوله تعالى الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها قرينة على المعنى المجازى وفى هذه الآية الاماتة والانامة كلتاهما مرادتان لا بطريق الجمع بين الحقيقة والمجاز لما تقرر من امتناعه فى الاصول ولانه ليس شئ من الاماتة والانامة معنى حقيقيا للفظ التوفى حتى يلزم ذلك من اجتماعه مع الآخر ولا بطريق عموم المجاز كما فى قول القائل لا يضع قدمه فى دار فلان فانه يحنث سواء دخل من غير وضع القدم كما اذا دخل راكبا او مع الوضع كما اذا دخل ماشيا حافيا وسواء دخل فى الدار المملوكة لفلان او الدار المستعارة والمستاجرة لفلان ولا يخصص هذا القول بمعناه الحقيقى حتى ينحصر حنثه فى الدخول حافياً وفى الدخول فى الدار المملوكة لفلان ولا بالمعنى المجازى حتى ينحصر حنثه فى الدخول فى غير الدار المملوكة لفلان وفى الدخول غير حاف بل يعم بالدخول مطلقا فى دار فلان بان كانت مسكونة له سواء كانت تلك السكونة بالملك او بالعارية او الاجارة وليس ذلك الا على سبيل ارادة معنى اعم يشتمل على المعنى الحقيقى والمجازى كليهما وهذا هو عموم المجاز وارادة كلتيهما لا بهذا الطريق لعدم اعتبار معنى عام يشتمل على المعنى الحقيقى من الاخذ بالكلية والاخذ بالبعضية فاذن كونهما مرادتين ليس الا من حيث ارادة الاخذ بالبعضية بان يراد بالتوفى سلب تعلق الروح بالبدن تعلقا يوجب الادراك الاحساسى او تعلقا يوجب الحيوة فان كان الاوّل مسلوبا بدون الثانى فهذا هو الانامة وان كان الثانى ومن لوازمه كونه متضمنا لسلب الاوّل فهذا هو الاماتة ودوران ذلك التعلق بين الاحساس وبين الحيوة ليس كدوران الشئ بين النقيضين بل كدورانه بين أمرين يكون احدهما اخص والآخر اعم ولذا امتنع وجود التعلق الاوّل بدون الثانى ٤٢

صفحہ ٦٥١

ويقال وجوباً كل حساس حى بدون عكس كلى فلا تنافى فى اجتماع الاحساس والحيوة فى الحيوان بل فى ارتفاعهما عنه وتضمن رفع التعلق الثانى لرفع التعلق الاوّل لا يقتضى نفى سماع الموات اذسماعهم الذى نحن مثبتوه هو بمعنى ادراك ارواحهم وذلك ثابت بالادلة القطعية لامجال لا حدفى انكاره وهذا لا يرتفع فى ضمن ارتفاع الحيوة وما يرتفع فى ضمن ارتفاعها وهو السماع العادى الذى لا يمكن الابقوة جسمانية عصبانية ولا يقول احد بتحققه مع انتفاء الحيوة فالسماع الثابت بالادلة الشرعية والعقلية غير مرتفع وماهو مرتفع غير ثابت وبهذا يظهران التقابل الذى بين الموت والحيوة هو التقابل بالتضاد لكون كليهما وجوديين فان كون الحيوة امراً وجودياً ظاهر واما الموت فلانه اثر للاماتة والا ماتة لماكانت عبارة عن قطع تعلق الروح بالبدن وايقاع الفصل بينهما وتخريب البدن كان الموت الذى هو مطاوعها عبارة عن انقطاع ذلك التعلق والانفصال والتخريب وكل ذلك وجودى ويدل على كونه وجودياً قوله تعالى خلق الموت والحيوة لان الموت لوكان عدمياً لما تعلق به الخلق اذلايقال للعدمى انه مخلوق فان الخلق هو الجعل والايجاد وعدمية عدم الحيوة عدما ثابتاً اللازم للموت لا تصير الموت عدمياً لظهور عدم استلزم عدمية اللازم عدمية الملزوم الاترى الى الفلك فانه ملزوم لعدم السكون عند الفلاسفة ولايلزم يكون لازمه هذا عدميا كون الفلك عدميا ونظائره اكثر من ان تحصر وهذا ماقلنا من ان التوفى ليس حقيقة فى الاماتة لان الاماتة لايوجد فيها الاخذ بالتمام بل الاخذ فى الجملة بخلع صورة نوعية عن الجسم الحيوانى ولبس اخرى منها وبفصل الروح عن البدن فباعتبار وجوب حمل اللفظ على الحقيقة يكون قوله عزوجل يعيسى انى متوفيك دليلا لنا لا له ويؤيده العطف بقوله ورافعك الى اذ المراد به الرفع الجسمانى والافما وجه تخصيصه بعيسى عليه السلام لعموم الرفع الروحانى لكل مؤمن وحمله على هذا الرفع العام مستدلاً بقوله عزوجل يرفع الله الذين امنوا منكم والذين اوتوا العلم درجات غير صحيح لان المذكور فى تلك الآية هو رفع المسيح ٢٥

صفحہ ٦٥٢

نفسه وفى هذه الآية رفع الدرجات ولايخفى الفرق بين رفع الشئ نفسه بين رفع درجاته كما هو بين قولك رفعت زيداً وبين رفعت زيداً ثوبه اوبيته اوشياء أخر مما يتعلق به ومع ثبوت التغاير بين الرفعين لا يتم التقريب فعلى هذا يقال ان من نودى وخوطب بالضمائر هو عيسى عليه السلام فيكون المنادى والمتوفى والمرفوع والمطهر من الكفرة وفائق الاتباع اياه عليه السلام فيتركب القياس من الشكل الاوّل من ان عيسى هو المصداق للمتوفى المفهوم من الآية والمصداق له هو المصداق لصيغة من وقع عليه فعل الرفع فينتج ان عيسى هو المصداق للمرفوع وهذا عين ما ادعيناه من ان المرفوع هو شخصه لاروحه فقط وايضا لو كان روح عيسى مرفوعاً دون جسده الاطهر لوقع جسده فى ايدى الكفرة ولحصل مرادهم ولا هانوه فلم يصح قوله تعالى ومطهرك من الذين كفروا فان الاماتة ليس تخليصاً وتطهير من الاعداء بل تحصيلاً لمرادهم وايصالهم الى مناهم وغاية متمناهم فهل يصح لمن له فهم مستقيم وعقل سليم ان يفهم من الرفع فى هذه الآية الرفع الروحانى فوهل لا يعد ذلك المستنبط من ارباب الجهالة ولعمري ان هذا الشئ عجيب يتعجب منه كل لبيب

واستدل ايضاً بقوله تعالى قولهم انا قتلنا المسيح بن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وأن الذين اختلفوا فيه لفي شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما. وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيداً حيث حمل الرفع على الرفع الروحانى وقال برجوع الضمير المجرور المتصل بالباء فى قوله تعالى ليؤمنن به الى كونهم شاكين غير متيقنين بكون عيسى مقتولاً مصلوباً وبرجوع الضمير المتصل بقوله موته الى الكتابى ثم وجهه بتوجهين آخرين وحكم على كليهما بالصحة والصواب الاوّل ان لفظ الايمان مقدر فى قوله تعالى قبل موته اى قبل الايمان بموته فيكون معنى الآية ان كل كتابي يؤمن بان قتل عيسى مشكوك فيه قبل ان يؤمن بموته الطبعى الذى وقع فى الزمان الماضى والتوجيه

٢٦

الثانى ان كل كتابي كان يـ وليس قتله الاعلى سبيل الشـ قبل ان مات عليه السلام وا مات كانوا شاكين فى قتله و مات يوقنون بمشكوكية قـ الاوّل على التوجيه الاوّل فـ غير صحيح اذالكلام وقعـ قصر القلب وهذا مشروط تـ بعكس ما يعتقد مثل مقامـ والقعود متنافيان واشتر اولاصله ومن ان يكون التنافـ على حسب تعدد الاراء وانمـ اليه على نحو قصر القلب لا الله تعالى بعكس مازعموا من بين وصفى القتل والرفع وذلـ اذمنافاة الرفع حال الحيوة ايـ الى تنبيه فضلا عن دليل واما ا الرفع مع القتل لا يتحقق التنـ ان من قتل في سبيل الله فهـ فحينئذ يجب اجتماعهما ومع ثبـ ايضاً ارتفع التنافى رأساً فلم يـ الكلام نزل رداً لزعم اهل الكتا تنافى وصفى القتل والرفع بالـ ان يقر بعدم وجوب التنافـ للقواعد العربية وبالجملة لابـ من الخروج عن العربية فايهمـ

صفحہ ٥٣

الثانى ان كل كتابى كان يؤمن يعلم قطعاً بانهم شاكون فى قتل عيسى وليس قتله الا على سبيل الشك والظن وذلك اى ايمانهم بكونهم شاكين كان قبل ان مات عليه السلام والحاصل انهم والحال ان عيسى حى اى قبل ان مات كانوا شاكين فى قتله ولم يكن حصل لهم قطع لقتله بل كانوا قبل ان مات يوقنون بمشكوكية قتله وفى هذا الاستدلال انظار شتى اما النظر الاوّل على التوجيه الاوّل فلان حمل الرفع فى الآية على الرفع الروحانى غير صحيح اذ الكلام وقع بطريق قصر الموصوف على الصفة على نحو قصر القلب وهذا مشروط تنافى فى الوصفين كما اذا خاطب المتكلم رجلا بعكس ما يعتقد مثل ما قام زيد بل قعد لمن يظن بقيامه وظاهر ان القيام والقعود متنافيان واشتراط التنافى اعم من ان يكون شرطا لحسنه او لاصله ومن ان يكون التنافى تنافيا فى نفس الامر او فى اعتقاد المخاطب على حسب تعدد الاراء وانما كان قوله تعالى وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه على نحو قصر القلب لانهم كانوا يدعون ان عيسى مقتول فخاطبهم الله تعالى بعكس ما زعموا من انه مرفوع لا مقتول كما زعمتم فيجب التنافى بين وصفى القتل والرفع وذلك لا يتصور الا اذا كان مرفوعاً حال كونه حياً اذ منافاة الرفع حال الحيوة اى الرفع الجسمانى للقتل ظاهر بديهى لا يحتاج الى تنبيه فضلا عن دليل واما اذا كان الرفع رفعا روحانيا فلوجوب اجتماع الرفع مع القتل لا يتحقق التنافى بين الرفع والقتل لان كل احد يعلم قطعا ان من قتل فى سبيل الله فهو مرفوع بالرفع الروحانى باجماع المذاهب فحينئذ يجب اجتماعهما ومع ثبوت الاجتماع النفس الامرى بل والاعتقادى ايضاً ارتفع التنافى راساً فلم يصح القصر او لم يحسن فاما ان يقر بكون هذا الكلام نزل رداً لزعم اهل الكتاب فيلزمه الاقرار بكونه قصر القلب ووجوب تنافى وصفى القتل والرفع باحد الوجهين ويكون الرفع رفعاً جسمانياً واما ان يقر بعدم وجوب التنافى بين الوصفين فى قصر القلب وهذا هدم للقواعد العربية وبالجملة لا بد له اما من القول برفعه عليه السلام حياً واما من الخروج عن العربية فايهما شاء فليختر والنظر الثانى ان ارجاع الضمير

٢٧

صفحہ ٦٥٤

الاوّل الی مشکوکیۃ قتل عیسیٰ دون عیسیٰ لیس باولیٰ من ارجاعہ الیہ فاختیارہ علیہ مع لزوم مخالفۃ السلف والخلف ترجیح بلا مرجح بل ترجیح للمرجوح وهذا افحش من ذلک مع انہ یکون المعنیٰ علی هذا ان کل کتابی یؤمن بان المسیح مشکوک القتل وان قتلہ لیس بقطعی کما اوضحہ بنفسہ وهذا المعنی لا یستقیم لان اتیانهم بمضمون قتل عیسیٰ فی عنوان الجملۃ الاسمیۃ وتاکیدہ بان صریح فی کونهم مذعنین بقتلہ ولذا رد اللہ عزوجل ادعائهم هذا بقولہ عزوجل وما قتلوہ یقیناً اذ لو لم یکن لهم الاذعان لکفی فی ردهم وما قتلوہ ولم یزد علیہ قید یقیناً فالقول بانهم لم یکونوا مذعنین بل کانوا شاکین فی قتلہ قول بالغاء قید یقیناً فی قولہ تعالیٰ وما قتلوہ یقیناً لخلوہ عن الفائدۃ علی هذا التقدیر وادعاء ان قید یقیناً قید للقتل المنفی فی وما قتلوہ فیکون النفی وارداً علی القتل المقید بهذا القید والنفی علی هذہ الوتیرۃ کما یتحقق ویصح بانتفاء القید کذلک یصح بانتفاء المقید والقید کلیهما وههنا کذلک فان القتل مع التیقن منتف لا ینفعہ ولا ینجیہ من لزوم الغاء القید لکفایۃ نفی اصل القتل فی ردهم مع انہ یخالف القاعدۃ الاکثریۃ من ان النفی الوارد علی المقید یتوجہ الی القید فحسب علی انہ لم یوجد دلیل علی انهم قالوا بهذہ الجملۃ من غیر صمیم القلب کما وجد علی کون قول المنافقین لرسول اللہﷺ نشهد انک لرسول اللہ من غیر صمیم القلب فکیف یصح ان هذا القول منهم مع کونهم شاکین من قبیل اظهار خلاف ما کانوا علیہ لئلا یتوجہ ایراد لزوم الالغاء علی القائل المستدل بل وجد الدلیل علی انهم کانوا بقتلہ مذعنین کما یدل علیہ صریح عبارۃ القرآن ان النصارٰی قدیماً وحدیثاً یدعون بذلک ویدعون الناس الی الایمان بذلک ویزعمون ان وقوعہ لہ علیہ السلام کان کفارۃ لذنوب امتہ مع انہ کان ذلک مکتوباً فی انجیلهم وان کان بطریق التحریف لکنهم لایمانهم بالانجیل وزعمهم عدم التحریف فیہ کیف یجوز ویمکن منهم الشک فی قتل عیسیٰ علیہ السلام ومع وجود هذا الدلیل لا یتصور ان ینسب الی جمیعهم الشک فی قتلہ وقول اللہ عزوجل وان الذین اختلفوا لفی شک منہ مالهم بذلک من علم

٢٨

صفحہ ٦٥٥

الاتباع الظن مؤل بان المراد بالشك ليس ما يتساوى طرفاه كما اصطلح عليه المنطقيون بل المراد من الشك المذكور ما يقابل العلم ومن العلم الحكم الجازم الثابت المطابق لنفس الامر وعلى هذا لا تنافى بين شكهم واذعانهم فى قتل عيسى عليه السلام فيكون معناه وان الذين اختلفوا لفى شك منه اى لفى حكم غير مطابق للواقع وان كان حكمهم بذلك حكماً جازماً ولكن لعدم مطابقته لنفس الامر لا يعد علماً بل شكا وليس لهم بذلك علم اذ لا بد فيه من المطابقة فى نفس الامر فهم انما يتبعون الظن اى الحكم الغير المطابق لنفس الامر فيكون مآل الشك والظن واحداً ولو اريد بالمعنى المصطلح لاهل المعقول لم يتحد مصداقهما المتباين بينهما لوجوب رجحان احد طرفى الظن اى الطرف الموافق وعدمه مطلقا فى الشك وهذا ظاهر واطلاق الشك والريب على غير المعنى المصطلح لهم مما يقابل العلم اليقينى شائع وفى القرآن واقع قال عزوجل وان كنتم فى ريب مما نزلنا على عبدنا اطلق الريب على انكارهم وقولهم الجازم بانه كلام البشر وبانه شعر او كهانة يدل على ذلك قوله تعالى فلا اقسم بما تبصرون وما لا تبصرون انه لقول رسول كريم وما هو بقول شاعر قليلاً ما تؤمنون ولا بقول كاهن قليلاً ما تذكرون تنزيل من رب العلمين فلو كانوا شاكين فى كونه كلام الله تعالى بالشك المصطلح لما وقعت هذه التاكيدات من كون الجملة اسمية وتاكيدها بان وبالقسم فهذه دلالة بينة على شدة انكارهم لكونه كلام الله تعالى البالغ الى حد الجزم بانه كلام غير الله وكذا اطلاق الظن عليه قال تعالى ان يتبعون الا الظن وان هم الا يخرصون وخلاصة الاشكال الذى ورد عليه على تقدير ارجاع الضمير الاوّل الى الشك اما لزوم الغاء القيد فى الآية واما حمل قولهم انا قتلنا المسيح بن مريم على خلاف الظاهر مع وجود ما يوجب حمله على الظاهر فمن التزم الاوّل فقد تكابر وان الثانى فقد تحامر فايهما شاء فليختر وثالث الانظار ان فى هذا التوجيه تكلفا بحيث لا يتبادر الذهن الى رجوع الضمير الى ما ادعى رجوعه اليه مع انتشار الضمير وذلك مخل لكمال فصاحة القرآن والرابع ان المعنى على هذا التقدير يؤل الى انهم يصدقون

٢٩

صفحہ ٢٥٦

بمشكوكية قتله ولما كان الشك والمشكوكية متحدين لزم كون التصديق متعلقا بالشك الذى هو تصور سواء اريد بالشك مفهومه العنواني او مصداقه لان كلا منهما تصور لا محالة وسواء اريد بالتصديق الادراك الاذعاني الذى هو من جنس الادراك او الحالة الادراكية الاذعانية التي هي من لواحق الادراك وتعلقه بالتصور مطلقاً باطل كما تقرر في مقره ولكن تعلقه بالشك حال كون التصديق من جنس الادراك افحش من تعلقه به على تقدير كونه من لواحقه لانه على هذا يكون الشك معلوماً والتصديق ادراكاً وعلماً به وقد ثبت بالبرهان عندهم اتحاد العلم بمعنى الصورة العلمية بالمعلوم فلزم اتحاد التصديق والشك مع انهما متباينان والنظر الخامس ان الشك المصطلح عبارة عن التردد بين طرفي النسبة من الوجود والعدم على التساوى اى ادراك النسبة مع تجويز طرفيها من غير اذعان باحد جانبيها فالمعنى الذى اراد الكائد من ان اهل الكتاب يؤمنون بشكهم فى قتل عيسى قبل الايمان بموته الطبعي يرجع الى ان شكهم فى قتله حاصل من غير اذعان بموته الطبعي لان من لوازم القبلية ان لا يوجد البعد حين حدوث القبل ولان الشك في قتل الشخص مع الايمان بموته الطبعي مما يستحيل ولا خفاء ايضاً فى ان لقتله عليه السلام طرفين وجوده وعدمه فاذا كان مشكوكا يجب ان لا يذعن باحد جانبيه مطلقاً ولا بما يندرج في ذلك الجانب وظاهر ان الموت الطبعي يندرج فى عدم القتل اندراج الاخص تحت الاعم لشموله الحيوة والموت الطبعى كليهما فتجريد الشك في قتله من الاذعان بموته الطبعى من اجلى البديهيات لان تساوى طرفي الشك مع رجحان احدهما غير ممكن وهذا مما يعلم كل من له ادنى فهم فلوكان مراد هذه الآية ما قاله فاى علم حصل بنزولها واى فائدة من فوائد الخبر ترتبت عليها فتدبر على ان حملك هذه الآية على ماحملت قول بان هذه الآية مبنية لبعض اجزاء الماهي للشك وهذا كانه ادعاء ان القرآن يبين المعاني المصطلحة للقوم كما ان الكافية والشافية والتهذيب وامثالها كذلك فهل يتفوه به عاقل واما على التوجيه الثانى فيرد عليه ماعدا الخامس من ٣٠

الانظار المذكورة كلها عن فرد فرد من افراد شئ الشئ في تلك الصفة و سواء كان مقدراً او ملف الشئ فى المنافى للو الحصرين نوعا حصر الموصوف بالانحصار جميع ماعداه وبالانح ماعداه فقط ومن المع الكلى كليا وفى الآية ا بالنسبة الى وصف الكفر الكفر عن جميعهم واثبا ذلك النقيض يجب ص كتابي يؤمن به فهذه قض وان من اهل الكتاب الا يكون معناه كل كتابي يؤ قطع النظر عن لزوم حمل الثقيلة من معنى الاس الموجودين في زمانه قبل للموجودين منهم قبل ن وجود من لم يوجد حال ن وفيه تجويز لمعية النقيض على الماضى من غير داع م تصويبه كلا المعنيين ونس باطل لا محالة اذ التوج خلاف القاعدة من اجتم

صفحہ ٦٥٧

الانظار المذكورة كلها ويرد عليه خاصة ايضاً ان سلب الاوصاف بتمامها عن فرد فرد من افراد شئ ثم اثبات صفة معينة لها كما يقتضى انحصار ذلك الشئ فى تلك الصفة وهذا انحصار حقيقى كذلك سلب وصف معين عنها سواء كان مقدراً او ملفوظاً ثم اثبات منافى ذلك الوصف يقتضى انحصار الشئ فى المنافى للوصف المسلوب وهذا انحصار اضافى وكلا هذين الحصرين نوعا حصر الموصوف فى الصفة واما انحصار الصفة فى الموصوف بالانحصار الحقيقى فبوجودها فى الموصوف وانتفائها عن جميع ماعداه وبالانحصار الاضافى فبوجودها فيه وانتفائها عن بعض ماعداه فقط ومن المعلوم بالبداهة صدق المحصور فيه على المحصور الكلى كليا وفى الآية انحصار اضافى لانحصار اهل الكتاب فى الايمان بالنسبة الى وصف الكفر دون سائر الاوصاف فلكون المراد من الآية سلب الكفر عن جميعهم واثبات نقيضه من الايمان لجميعهم كذلك وحصرهم فى ذلك النقيض يجب صدق الايمان على الكتابى صدقاً كليا بان يقال كل كتابى يؤمن به فهذه قضية موجبة محصورة كلية فاذا حمل قوله عزوجل وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته على ما حمله فى هذا التوجيه يكون معناه كل كتابى يؤمن بمشكوكية قتله عليه السلام قبل ان مات ومع قطع النظر عن لزوم حمل المضارع على الماضى والاغماض عن مفاد النون الثقيلة من معنى الاستقبال اما ان يخص هذا الحكم ببعض اهل الكتاب الموجودين فى زمانه قبل رفعه وهذا مناف للقاعدة المارة آنفا واما ان يعم للموجودين منهم قبل رفعه وبعده الى يوم القيامة وهذا يؤدى الى تجويز وجود من لم يوجد حال عدم وجوده لامتناع تقرر الصفة بدون موصوفها وفيه تجويز لمعية النقيضين وكذا يرد عليه ان حمل موته الذى هو مصدر على الماضى من غير داع مخصص تكلف لا يرتضيه ارباب الفهوم ويرد على تصويبه كلا المعنيين ونسبة كلا منهما الى الكشف والالهام ان احد المعنين باطل لا محالة اذ التوجيه الثانى قوى الاحتمال فى الخصوص لاهونية خلاف القاعدة من اجتماع النقيضين والاول لا يتمشى فيه سوى العموم

٣١

صفحہ ٦٥٨

والعموم والخصوص مما يتغايران فان سلم التوجيه الاول انتفى التوجيه الثانى وان الثانى ارتفع الاول فاحد الكشفين لو فرض بالهام من الرحمن يكون الاخر بالهام من الشيطان اذ لو كان كلاهما بالهام الله تعالى لما وقع التخالف بينهما فالحق ان كلا الكشفين من الكشوف الكاذبة الشيطانية لا من الكشوف الصادقة الرحمانية والا لم يرد على كل منهما نقوض شرعية قاطعة وايرادات عقلية ساطعة فالذى من شانه امثال هذه الدعاوى ومن خصائله انه اذا اخذ بالقرآن تمسك بالانجيل واذا الزم بالانجيل رجع الى القرآن واذا بهما تشبث بالعقل وان بكل منها تذيل بالكشف والالهام فان طولب بدليل يدل على صدق كشفه تبهت وتحير وتنكس او هو مثيل للمريض مرض الموت ليس بحى فيرجى ولا ميت فيلقى او نظير للنعامة اذا استطير تباعر واذا استحمل نظائر فاقول بفضل الله تعالى ان المعنى الصحيح للاية المذكورة الذى لا يرد عليه شئ من تلك الانظار هو انهم قالوا انا متيقنون بقتل المسيح بن مريم فردهم الله عز وجل بانهم ما قتلوه وما صلبوه فكيف يتصور تيقنهم بقتله لانه لا بد للعلم اليقينى من مطابقة لنفس الامر واذا لم توجد المطابقة لم يتحقق التيقن بقتله فحكمهم بهذا النحو من القطع وادعاء اليقين مع انتفاء العلم اليقينى به شبهة صرفة وجهل مركب يفسر بالحكم الغير المطابق الثابت فى نفس الامر فهم فى شك منه اى فى حكم لم يطابق الواقع وليسوا على اليقين بل هم يتبعون الظن والجهل المركب لانهم ما قتلوه اى انتفى قتله انتفاء يقيناً بان يكون قوله يقينا قيداً للنفى لا للمنفى بل رفعه الله اليه بالرفع الذى ينافى القتل وهو الرفع الجسمانى دون الرفع الروحانى لا ينافى القتل بل يجامعه فى نفس الامر و فى اعتقاد المخاطب وكان الله عزيزاً لا يعجزه شئ عن رفعه مع جسده حكيما فى صنع رفع وليس احد من اهل الكتاب الا ليؤمنن به اى بعيسى قبل موته اى قبل موت عيسى سواء كان ايمانه نافعا له كالايمان فى حالة غير الباس او لم يكن نافعا له كايمانه فى حالة الباس والايمان فى غير حالة الباس اعم من ان يكون قبل نزول عيسى او حين نزوله فهذا المعنى قد ٣٢

صفحہ ٦٥٩

روعيت فيه صيغة المضارع والنون الثقيلة التى تدل على استقبالية مدخولها بالاجماع من اهل اللغة ولم يرد عليه شئ من النقوض فالذى ذكرناه من المعنى هو المحكوم عليه بالصحة الصافى عن شوائب الايرادات كاف لدفع الاشكالات يؤمن به المنصف المناظر وان اعرض عنه الجاهل المجادل المكابر

واستدل ايضا بطريق الالزام على اهل السلام القائلين بحيوة المسيح عليه السلام بان كل من يؤمن بوجود السموت يؤمن بتحركها على الاستدارة فلو كان عليه السلام على السماء للزم بتحركها تحركه فلم تتعين له جهة الفوق بل على هذا قد يصير تحتا وقد يصير فوقا فلا يتعين له النزول ايضاً اذ النزول لايكون الا من الفوق وايضاً يلزم كونه فى الاضطراب وعدم القرار دائما مادام هو فى السماء وهذا نوع من العذاب وجوابه ان جهة الفوق تطلق حقيقة على منتهى الخط الطولانى من جانب رأس الانسان بالطبع من محدب فلك الافلاك وجهة التحت على منتهى ذلك الخط مما يلى رجليه من مركز العالم وهاتان الجهتان لاتتبدلان عوض ويطلق الفوق والتحت على الحدود التى بين المركز وبين المحدب ايضا لكن اطلاقا اضافيا لا حقيقيا وكل من هذه الحدود المتوسطة يمكن اتصافه بكلا الوصفين من الفوقية والتحتية مثلاً محدب فلك القمر متصف بالفوقية بالاضافة الى مقعره وما عداه من الحدود المتقاربة الى المركز ومتصف بالتحتية بالنسبة الى سائر الافلاك فهذا الحد المعين فوق وتحت لكن بوجهين والحاصل ان كل حدين فرضا بين المركز وبين محدب الفلك الاعلى فما كان منهما اقرب الى المركز وابعد من المحدب فهو تحت وما بالعكس فهو فوق بخلاف الحقيقيتين فان ما يتصف منهما بالفوقية لايمكن ان يتصف بالتحتية وما يتصف بالتحتية لا يمكن اتصافه بالفوقية لان محدب الفلك الاعلى محدب دائما ومركز العالم مركز دائما لا تغير ولا تبدل فيهما وعلى هذا يقال ان المسيح عليه السلام لما كان فى السماء الثانية فلاريب فى انه ابعد من المركز واقرب الى المحدب بالنسبة الى من هو على ٣٣

صفحہ ٢٦٠

وجه الارض فيكون فوق من هم على الارض وان سلمنا تحركه بتحرك السموت فلا يلزم عدم تعين جهة الفوق له عليه السلام بل مادام هو في السماء متصف بالفوقية بالنسبة الى سكان الارض جميعاً فاذا اراد الله تعالى نزوله انتقل من مقره السماوى من محدب السماء الثانية بحيث يتزائد البعد فيما بينه وبين محدب فلك الافلاك انا فانا من البعد الذى كان بينهما ويتناقص كذالك البعد فيما بينه وبين مركز العالم من البعد الذى كان حيث هو فى مقره الى ان يصل الى سطح الارض وانت تعلم ان الحركة من المحدب الاعلى او مما يقربه الى جانب مركز العوالم هو النزول كما ان الحركة من جانب ذلك المركز الى جانب ذلك المحدب هو العروج فلم يلزم من تحركه بتحرك السموت على الاستدارة عدم تعين النزول له وايضاً لا يلزم من تحركه بتحرك السموت كونه مضطرباً وفى نوع من العذاب الا ترى الى الذى ذهب اليه اهل الهيئة اليوم من الافرنج ان الشمس فى وسط الكواكب التى تدور حولها وقالوا انها ليس لها حركة حول الارض بل للارض حركة حولها وان الارض احدى السيارات عندهم وهى عطارد والزهرة والارض والمريخ وسنة وقال بعضهم ان الارض هى التى تتحرك هذه الحركة السريعة اليومية من المغرب الى المشرق وبسببها ترى الكواكب طالعة وغاربة لانها اذا تحركت كذلك وكانت الكواكب ساكنة او متحركة الى تلك الجهة ايضاً لكن بحركة ابطاء من حركتها ظهر لنا فى كل ساعة من الكواكب ما كانت محتجبة بحدبة الارض فى جانب المشرق واحتجبت عنا بحدبتها فى جانب المغرب ما كانت ظاهرة لنا فيتخيل ان الارض ساكنة وان الكواكب هى متحركة بتلك الحركة السريعة الى خلاف الجهة التى تتحرك الارض اليها كما يتخيل ان السفينة الجارية فى الماء ساكنة مع كون الماء متحركاً الى خلاف جهة السفينة وهذا القول وان كان مردوداً بان الارض ذات مبدء ميل مستقيم طبعا كما يظهر من اجزائها المنفصلة فيمتنع ان تتحرك على الاستدارة وبانها لو كانت كذلك لما وصلت الطيور الى ما توجهت اليه من جهة المشرق عند طيرانها من المغرب الى المشرق وان

٣٤

صفحہ ٦٦١

كانت المسافة التي بين مبدء مسير الطيور وبين منتها مسافة قليلة الا بعد مضى اكثر من يوم وليلة وبانه على هذا كان يجب ان يتخيل جميع ما فى الجو من الطيور متحركاً الى جانب المغرب سواء كان ذلك الطائر متحركاً بحركة نفسه الارادية الى المشرق او المغرب وذلك لبطوء سير الطيور وسرعة حركة الارض وبوجوه اخرى تركنا ذكرها وبقوله تعالى شانه والقى فى الارض رواسى ان تميد بكم وبقوله الكريم ام من جعل الارض قراراً وجعل خلالها انهارا وجعل لها رواسى الآية فمع بطلان هذا القول نقول انهم مع كونهم عقلا لم يجزموا ببطلان مذهبه هذا بظهور استلزامه عذاب من هو على الارض ولم يورد عليهم احد ممن يخالفهم من المسلمين وسائر اهل المعقول هذا الايراد نعم اوهام العامة الجهلة الذين لاحظ لهم من العلوم العقلية تتزلزل بامثال هذا وكل هذا على تقدير تسليم حركة فلك الافلاك على الاستدارة ثم بتسليم حركة سائر الافلاك بتحريكه اياها ولنا ان نمنع حركة فلك الافلاك المعبر بالعرش فى لسان الشرع على الاستدارة لانه لم يوجد فى الشرع دليل قطعى يوجب الظن بذلك فضلاً عن ان يوجب العلم القطعى كيف ولم يثبت ذلك فى خبر قوى بل ولا ضعيف ان العرش يتحرك على الاستدارة ويحرك ما تحته من الافلاك بل قد ثبت فى أخبار صحيحة ان له قوائم وهذا بظاهره يابى ان يكون الفلك الذى يصفونه على ما يصفونه ولا يابى ما صح من انه مقبب كالخيمة وقد ورد انه يحمل اليوم العرش اربعة من الملئكة وثمانية منهم يوم القيامة قال عز وجل ويحمل عرش ربك فوقهم يومئذ ثمانية اى يوم القيامة على هذا كيف يستقيم كون الفلك متحركا بالحركة المستديرة وما ورد فى القرآن انما هو سير الكواكب كما قال تعالى لا الشمس ينبغى لها ان تدرك القمر ولا الليل سابق النهار وكل فى فلك يسبحون وقال كل يجرى الى اجل مسمى وقال ما اعظم شانه فلا اقسم بالخنس الجوار الكنس وفسر بالنجوم الخمسة زحل والمشترى والمريخ والزهرة وعطارد ولئن سلم كون ذلك الفلك متحركا فلا نسلم انه يلزم بتحركه تحرك سائر الافلاك لان الشرع لم يرد باتصال الافلاك فيما ٣٥

صفحہ ٢٢٢

بينها بل ورد على انفصالها كما يظهر لمن تتبع الاحاديث ولم يثبت كونها كروية بل ورد ان الارض بالنسبة الى السماء الدنيا كحلقة فى فلاة وهكذا سماء الدنيا بالنسبة الى السماء الثانية والثانية بالنسبة الى الثالثة وهكذا والكل من الكرسى وماتحته بالنسبة الى العرش كحلقة فى فلاة وظاهر انها لوكانت كروية لما صح هذا التمثيل واذا لم يثبت كروية الافلاك لم يثبت حركتها على الاستدارة ولما لم يثبت الاتصال فيما بين الافلاك فمع تسليم تحرك فلك الافلاك لا يلزم تحرك ماتحته من الافلاك بل عرفت ان نفس حركة الفلك الاعلى ايضاً لم تثبت فلم يرد مازعمه المستدل بطريق الالزام تقليداً للاوهام العامة وحاصل كلامنا هذا كله ورد منوع متعاقبة مترتبة على استدلاله بانا لا نسلم كون الفلك الاعلى متحركا ولئن سلم فلانسلم انه متحرك على الاستدارة ولئن سلمناه فلانسلم ان بتحركه يلزم تحرك باقى الافلاك لتوقفه على اتصالها والاتصال فلا يلزم تحركها حتى يتحقق مزعومه ولئن سلم كل ذلك فلزوم المحذورات الثلث من عدم تعين جهة الفوق له وعدم تعين النزول له وكونه فى العذاب الدائمى ممنوع مطلوب دليله وانى له ذلك وقد عرفته مفصلاً وتأمل فيه بالنظر الصائب يظهرلك مبلغ انكشافه فى علم الهيئة ودركه فى القواعد الهندسية لينكشف لك حقيقة دعواه من المجددية والمحدثية وتقوله المفترى فى ادعاء المسيحية واعترض على العلماء الاسلامية على قولهم بان الفلسفة القديمة تشهد بان الجسم العنصرى للانسان لا يمكن ان يبلغ الى الطبقة الزمهريرة وبان اهل فلسفة اليوم قد حققوا بتوسط الصعود على بعض الجبال ان اهوية رؤس تلك الجبال مضرة منافية لصحة البدن بحيث لا يمكن ان يبقى حيا حين وصوله فى تلك الاهوية فاتفاق سوابق الفلاسفة ولواحقهم على ذلك يحيل ارتفاع المسيح عليه السلام الى السماء اذ لا بد لارتفاعه اليها من الوصول الى الطبقة الزمهريرة ونفوذه فيها فى اثناء الصعود الى السماء والوصول الى تلك الطبقة لما كان غير ممكن امتنع صعوده الى السماء لاستلزام عدم امكان المعد لعدم المكان المعد له ولايخفى عليك ان كل ذلك سفسطة

٣٢

صفحہ ٦٦٣

ع الاحاديث ولم يثبت كونها الدنيا كحلقة فى فلاة وهكذا ية بالنسبة الى الثالثة وهكذا ، كحلقه فى فلاة وظاهر انها ثبت كروية الافلاك لم يثبت فيما بين الافلاك فمع تسليم الافلاك بل عرفت ان نفس عمه المستدل بطريق الالزام ه ورد منوع متعاقبة مترتبة حركا ولئن سلم فلانسلم انه ن بتحركه يلزم تحرك باقى لا يلزم تحركها حتى يتحقق ت الثلث من عدم تعين جهة ذاب الدائمى ممنوع مطلوب نيه بالنظر الصائب يظهرلك اعد الهند سية لينكشف لك لمفترى فى ادعاء المسيحية الفلسفة القديمة تشهد بان لطبقة الزمهريرة وبان اهل عض الجبال ان اهوية رؤس ، لا يمكن ان يبقى حيا حين ة ولواحقهم على ذلك يحيل لا رتفاعه اليها من الوصول ود الى السماء والوصول الى ه الى السماء لا سلتزام عدم ، عليك ان كل ذلك سفسطة

وتزيين للباطل وتمويه للفاسد العاطل لا يستتر وهنه على اللبيب العاقل فان ماترتّب عليه امتناع صعوده عليه السلام من عدم امكان وصول البدن الانسانى الى الطبقة الزمهريرة معللا بمنافاتها لحيوة الانسان غير مسلم لان عدم امكانه اليها يتوقف على عدة امورمنها استواء جميع اجزاء الطبقة فى هذه الكيفية المضرة وهذا ممنوع لابد له من دليل بل باعتبار اختلاف نسبة اوضاع الشمس الى العوالم العنصرية يشهد الوجدان بخلافه ومنها كونها ثابتة لتلك الطبقة فى مرتبة ذاتها ثبوت الذاتيات للذات بحيث يستحيل انسلاخ تلك الكيفية عن هذه الطبقة فى مرتبة ذاتها وهو ايضاً ممنوع فان نسبة الكيفية الى الطبقة لوكانت بهذه المثابة لكانت ذاتية لها وقد ثبت فى مقرها ان لا تشكيك فى الماهية ولا فى ذاتياتها والتشكيك فى المتكيفات انما يكون بالشدة والضعف ومن المعلوم بالبداهة العقلية ان تلك الكيفية تشتد وتضعف حسب مسامتة الشمس كما فى النهار وعدم مسامتتها كما فى الليل ولاختلاف اجزاء الطبقة فيها صيفا وشتاء وشمالا وجنوباً فاختلافها كذلك ادل دليل ينفى كونها ذاتية لها واما كونها لا زمة لتلك الطبقة فذلك اما باعتبار ذاتها واصلها وهى نفس البرودة وظاهر انها لا تنافى لحية الانسان واما باعتبار مرتبة معينة من مراتبها المنافية لها فهى غير متعينة بعد وبعد تسليم تعينها فدوامه غير مسلم فاين اللزوم ولئن سلم اللزوم فذلك اللزوم عادى لا عقلى يمتنع انفكاكه عن ملزومه كما يمتنع انفكاك الزوجية عن الاثنين واللازم العادى يجوز انفكاكه عن ملزومه كلزوم السكر للخمر فانه لازم عادى للخمر ولذا ينفك عن الخمر بالملح وبالخل والحرارة للنار كذلك لازم عادى ولذا خاطبها الله تعالى فى حق ابراهيم عليه السلام بقوله عزوجل قلنا ياناركونى برداً وسلاماً على ابراهيم فانقادت وتبردت كما اخبر به عزوجل فما كان جواب قومه الا ان قالوا اقتلوه او حرقوه فانجه الله من النار كيف ولو كانت الحرارة لازمة لها باللزوم الذاتى لانتفت النار بزوال الحرارة وذكر المؤرخون ان النار تبردت على ابى مسلم الخولانى حين امر الاسود العنسى بنار عظيمة حتى

٣٤

صفحہ ٢٦٤

اشتعلت وتوقدت فامر بالقاء ابى مسلم فيها فالقى فلم تضره النار فاذا كان حال الحرارة بالنسبة الى النار كذلك مع ان حرارتها بذاتها فما بال البرودة بالنسبة الى الطبقة الزمهريرية من الهواء مع كون برودتها بالتبع وبالعرض لان عنصر الهواء بحسب ذاتها حار رطب كما هو محرر فى كتب الطب ولما لم تكن الكيفية ذاتية لها ولا لازماً عقلياً يمتنع انفكاكها عنها فجاز انفكاكها عنها حين صعود المسيح عليه السلام الى السماء لامكان وجود ما يقتضى كسر سورة البرودة عن مسيره من تلك الطبقة من مجاورة الادخنة الغليظة المشتعلة التى ترى منها صور مختلفة كالنيازك والرماح والحيوانات ذى القرون وغيرها سواء كانت الادخنة المشتعلة ممتدة متصلة بالارض التى تسمى بالحريق او غير متصلة بها فلم يمتنع صعوده عليه السلام الى السماء من اجل البرودة المفرطة التى فى تلك الطبقة الكائنة فى مسافة ذهابه اليها ومنع حرارة كرة النار لمسيره اليها كذلك لما عرفت من ان الحرارة للنار لازم عادى يجوز انفكاكها عنها ولو أبينا ومن الامور المتعددة التى قلنا بتوقف عدم امكان وصول البدن الانسانى الى الطبقة الزمهريرية عليها استقرار البدن واقامته فيها مدة يتأثر فيها ببرودتها ومن الضروريات ان استقرار البدن فيها غير لازم للذهاب الى السماء المتضمن للوصول اليها لان الذهاب الى السماء انما يكون اما بالانتقال الدفعى او التدريجى وكل منهما لا يستلزم الاستقرار فى مسافة الانتقال حتى يتأثر البدن فى مسيره بكيفية متضادة لصحته وظاهر ان احد المتضادين بالذات مع كونه اشد انفعالا واسرع تاثراً من الضد الآخر يشترط لتاثره منه الاجتماع بينهما مدة يتحقق فيها تاثير احدهما فى الآخر وتاثر الآخر به فالامران اللذان ليس بينهما التضاد بالذات بل بالتبع اولى بان يشترط لتاثر احدهما بالآخر الاجتماع فيما بينهما فى زمان معتد به وعلى هذا يقال ان مزاج بدن المسيح عليه السلام وان كان ينافيه هواء الطبقة الزمهريرية لكن لما يلزم لذهابه وصعوده الى السماء الاستقرار فى تلك الطبقة سواء كان فى الواقع انتقاله وذهابه بطريق الدفع او بطريق الحركة يلزم تضرره المشروط بالاستقرار ٣٨

صفحہ ٢٦٥

لعدم لزوم شرطه فلم يمتنع صعوده الى السماء ولم يلزم عدم امكان المعد حتي يتفرع عليه عدم امكان المعد له كما زعمه الا ترى انك اذا نفذت يدك فى الشعلة واسرعت في تنفيذ واخراجها منها لا تتاثر يدك بحرارتها وكذا ان اوقدت نارا عظيمة بحيث يشتد ويرتفع شعلتها ورميت السهم من القوس الى هدف تحول تلك النار بينك وبين الهدف فهو حين نفوذه فى الشعلة مع كونه من الخشب لا يتاثر من حرارتها وذلك لسرعة خروج اليد والسهم وذهابهما منها وعدم الاستقرار وهذا على تقدير منع محض الاستقرار مع تسليم الامرين الاولين من كون كيفية البرودة ذاتية او لازماً عقليا ومن كون جميع اجزاء الطبقة متساوى الكيفية البردية فكيف اذا انتفى كل من هذه الامور الموقوف عليها اعتراضه واستلزم انتفاء الموقوف عليه لانتفاء الموقوف من المعلومات بالضرورة

واستدل ايضاً بقوله تعالى فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون وتقريبه ان فى الآية تقديم الجار والمجرور المتعلق بالفعل اعنى تحيون وذلك لافادة الحصر فيؤل معناه الى انه لا حيوة لاحد من بنى أدم الا فى الارض فلو كان المسيح عليه السلام حياً فى السماء للزم بطلان هذا الحصر المستفاد من قول الله عز وجل فالاذعان بقوله تعالى وفيها تحيون لا يجتمع مع القول بكونه حياً فى السماء فلابد من القول بكونه ميتا كسائر الانبياء عليهم السلام وكونه مرفوعاً بالرفع الروحانى دون الجسدى اقول بتوفيق الله عز وجل حصر التقديم فى افادة الانحصار مخدوش بل التقديم قد يكون لاغراض أخر كرعاية القوافى والفواصل واهتمام البيان وامثالهما فيحتمل التقديم فى الآية توافق الفواصل فلم تتعين افادة الحصر ولئن سلمنا ذلك فباعتبار الاكثر لا باعتبار الكل ولو باعتبار الكل ايضاً فبخصوص الحيوة فى عالم الناسوت الذى هو محل الكون والفساد دون الحيوة المطلقة التى من جملتها الحيوة السماوية اذ لو تعلق الانحصار بالحيوة مطلقا انتقض بحيوة اصحاب الجنة فى الجنة وبحيوة اهل النار فى النار ولابد لاعتبار الحيوة الناسوتية ايضاً من التقييد بغالب الاحوال

٣٩

صفحہ ٦٦٦

والا انتقض بمن سار فى الهواء بواسطة الطيران على طريق خرق العادة كما وقع لبعض الكبراء او بواسطة الركوب على البابور الدخانى الهوائى كما شاهده كثير من ابناء الزمان فلامنافاة حينئذ بين التصديق بقوله تعالى المذكور وبين التصديق بكون المسيح بن مريم حياً فى السماء كما لايخفى على من له ادنى تأمل

ومن استدلالاته المزخرفة الواهية ان لوكان عيسى حياً فى السماء ونازلاً قبيل قيام الساعة فلايخلوا اما ان يكون حين نزوله معزولاً عن وصف الرسالة وفى مثل هذا النزول تنزيل لشانه وتحقير لمكانه ولايليق ذلك بشان الرسل اوينزل وهو رسول متصف بوصف الرسالة كما كان قبل رفعه الى السماء وهذا يخالف قول الله عزوجل فى حق نبينا المطهر المكرم ﷺ وشرف وعظم ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين الآية وخاتمهم من لا يكون بعده نبى كما قال عليه الصلوة والسلام لا نبى بعدى فاذا لم يكن بعده نبى فكيف ينزل عيسى وهو رسول نبى وجوابه بالنقض بان ماعدا النبى ﷺ من الانبياء كلهم حال كونهم فى البرزخ بعد بعث نبينا ﷺ اوحال مايكونون فى عالم المعاد هل هم معزولون عن وصف الرسالة اوالنبوة وفى هذا تحقير لهم ولايناسب ذلك لعلو حالهم وقد تقرر فى كتب العقائد ان الانبياء بعد انتقالهم من دار الدنيا لا يعزلون عن مناصب النبوة بل صرح فى بعضها بتكفير من قال هذه الجملة اوهل هم متصفون بوصف النبوة وهذا يخالف قول الله ولكن رسول الله وخاتم النبيين لان خاتميته تقتضى ان لايكون بعده نبى فكيف يصح ان يكونوا موصوفين بالنبوة بعد كون نبينا ﷺ مبعوثاً وكيف لايعزلون عن منصب النبوة فى المعاد فما هو جوابك عن هذا النقض الوارد فهو جوابنا عن اعتراضك المزخرف والحل ان المسيح عليه السلام حين تمكنه فى السماء وحين نزوله وكذاهو وسائر الانبياء فى البرزخ وفى المعاد متصفون بوصف النبوة والرسالة غير معزولين عن مناصبهم وقول الناقص ان هذا يخالف قول الله عزوجل ماكان محمد الاية غير متوجه اذا ٤٥

صفحہ ٦٦٧

النبیﷺ أخر الانبياء بعثاً بمعنى انه اوتى النبوة بعد ما اوتيها سائر النبيين عليهم من الصلوة اتمها ومن التسليمات اكملها وليس باخرهم بقاء ابمعنى ان كلهم مما عداهﷺ وعليهم بعد ارساله صاروا معزولين عن مناصب نبواتهم ورسالاتهم ولامنافاة بين كونهﷺ خاتم النبيين وأخرهم وبين بقاء نبواتهم ورسالاتهم لان المعية بين الشيئين بقاء لا ينافى بعدية احدهما واولية الآخر حدوثا كما ترى فى البناء والبناء وفى الابن والاب فان حدوث البناء بعد حدوث البناء وحدوث الابن بعد حدوث الاب مع تحقق المعية بينهما بقاء وامثلته كثيرة لا تحصى ثم اكد ذلك المعترض هذا الاعتراض المزخرف فى موضع أخر من كتابه بان المسيح لو كان حياً فى السماء منتظرا نزوله الى الارض فاذا نزل والحال انه لا يعرف العربية فيحتاج الى علم القرآن ولا يتيسر له ذلك لعدم معرفته العربية ويتعسر له التعلم فى تلك الحالة لشيخوخته فيحتاج الى ان ينزل عليه كتاب جديد بلسانه فيقرء الناس كتابه ويقرء فى صلوته من ذلك الكتاب ويعلم الناس الكلمة بلسانه وفى هذا استيصال لدين الاسلام اقول متمسكا بلا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم ومستعيذا بالله من الشيطن الضال المضل الرجيم ان كل ذلك سفسطة من سفسطاته ولا ادرى انه كيف حصل له العلم اليقينى بان المسيح لم يكن يعرف العربية مع كون العبرية كثير التوافق كالفنجابية والاردوية فهل يتعسر لمن يعرف احدى اللغتين معرفة اللغة الاخرى منهما فانا نشاهد الذين يعرفون السنة مختلفة يقدرون على اداء مضامينهم بلغات متنوعة اليس فى نفسه آية انه مع كونه من خطة ما يعرف لغتها ويعرف اللغة الفارسية فاى شئ اعجز المسيح من تعلمه العربية اما بتعليم الله تعالى أو بتعليم معلم من البشر لسبق التقدير الازلى على كونه مجددا لهذا الدين ولم يعجز الكائد عن معرفة اكثر من لغة واحدة فباى شئ يتيسر ذلك لغير النبى ولم يتيسر للنبى الذى تكلم حال كونه صبيا وقال انى عبدالله أتانى الكتاب وجعلنى نبياً مباركاً ولو سلم عدم علمه العربية قبل رفعه الى السماء فمن اين جزم بانه لم يتعلم فى الملكوت

٤١

صفحہ ٦٦٨

ولئن سلم عدم تعلمه هناك فمن اين له انه لا يمكن له او لا يتيسر له العلم بها حين نزولها فمن علم الاسماء كلها لآدم وعلم نبينا المكرم علم ما لم يعلم يعلم المسيح بن مريم وليس ذلك على الله بعزيز اما قرع صماخ اذنه ان صاحب القوة القدسية تصير النظريات كلها بديهية عنده وهذا مجمع عليه عند اهل المعقول فكيف يستبعد ذلك ولم يستبعد هذا ولئن سلمنا استبعاده او استحالته فلا نسلم ان تبليغ احكام الشريعة وتفهيم معانى القرآن وتأديته مفاهيم كلمات التوحيد بلغة غير العرب تبديل للاسلام ونسخ للاحكام واستيصال للدين المتين لانه لو كان كذلك للزم كون المسلمين كلهم من غير العرب مبدلاً للاسلام وللزم كون القائل بما انه يؤدى العقائد ومعانى القرآن وكلمات التوحيد حسب ما يرتضيه بالهندية مبدلاً للاسلام ومعرضاً عنه وتوجب ان من ايقن بان الله عز وجل متصف بصفاته الكمالية التي دلت عليها النصوص وواحد لا يماثله شئ ولا يشبهه احد لا في ذاته ولا في صفاته وان اكرم الموجودات واشرف المخلوقات سيدنا محمداً النبى صلى الله عليه وسلم العربى الهاشمى صادق في دعواه ان ما جاء به من عند الله تعالى وتلفظ بهذه المعتقدات الحقة الثابتة بلغة يعرفها من غير العربية ودام على هذا التيقن والاقرار ومات على ذلك لا يكون مؤمناً فهل هذا الا نفى لعموم دعوة القرآن واثبات لخصوص رسالة رسول الانس والجان وقد قال تعالى وتبارك تبارك الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعلمين نذيراً وقال عز وجل وما ارسلناك الا رحمة للعالمين وقال وعز من قائل وما ارسلناك الا كافة للناس وامره الله تعالى بقوله يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً افلم يعلم انه كما ان انكار اصل نبوة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم كفر كذلك انكار عموم نبوته صلى الله عليه وسلم كفر لكون كل منهما متساوى الاقدام فى رد النصوص القطعية

وايضاً استدل على عدم كونه فى السماء بقوله تعالى واوصانى بالصلوة والزكوة ما دمت حياً وبراً بوالدتى وتحريره بانه لو كان حياً للزم كونه ماموراً فى السماء باداء الزكوة وباحسان والدته وظاهر ان امتثاله بهذين الامرين وهو فى السماء غير متصور والجواب ان المراد بالزكوة ههنا ٤٢

صفحہ ٦٦٩

معناها الحقيقى وهى الطهارة دون معناها المنقول الفقهى المعرف فى كتب الفقه كما اريد بقوله تعالى ومن تزكى فانما يتزكى لنفسه وبقوله تعالى فاردنا ان يبدلهما ربهما خيراً منه زكوة واقرب رحماً وبقوله تعالى عبس وتولى ان جاءه الاعمى وما يدريك لعله يزكى اويذكر فتنفعه الذكرى اما من استغنى فانت له تصدى وما عليك الايزكى وبقوله عز وجل قد افلح من زكها وبقوله تبارك وسيجنبها الاتقى الذى يؤتى ماله يتزكى وبغير ذلك من الايات وعلى هذا فعدم تصور امتثاله بهذا الامر خفى غاية الخفاء وتصوره ظاهر كمال الظهور وان خفى على من عمى عمى المبتدع الفجور واما لزومه ايتمار المسيح عليه السلام ببراوالدته حال كونه فى السماء بهذه الاية فغير ظاهر لان قوله تعالى براً بوالدتى ليس معطوفاً على مدخول الجار المتعلق بقوله اوصانى حتى يلزم ذلك اذلو كان كذلك لكان مجروراً مثل معطوفه ولم يكن منصوباً ولقرء قوله براً بكسر الباء لا بفتحها لئلا يلزم كون من يقوم به البر ماموراً به كما ان الصلوة والزكوة مامور بهما مع كونه بديهى البطلان لضرورة ان ما يؤمر به اوينهى عنه انما هو الافعال دون الذوات فاجماع القراء على فتحها يابى كل الاباء عن كونه معطوفا على ذلك المدخول والا لا حتيج لتصحيح الكلام والاحتراز عن المحذور المذكور الى تكلف حمل الصفة المشبهة على المصدر مع ان الضرورة غير داعية الى هذا التكلف لامكان تصحيح ذلك الكلام من غير تكلف بعطف براً على قوله نبياً فيكونان مفعولين بقوله تعالى وجعلنى من قبيل عطف المفرد على المفرد وبعطف جعلنى المقدر قبل قوله براً على قوله وجعلنى الملفوظ صريحاً فيكون من قبيل عطف الجملة على الجملة وتمام الاية قال انى عبدالله اتانى الكتاب وجعلنى نبياً مباركاً اين ماكنت واوصانى بالصلوة والزكوة مادمت حياً وبراً بوالدتى وعلى هذا التوجيه الصحيح الخالى عن المحذور والتكلف لم يلزم توجه هذا الامر اليه عليه السلام وجوب امتثاله به حال كونه فى السماء ايضاً على انا وان سلمنا التوجيه الذى ذكره ذلك وقطع النظر عن لزوم المحذور والتكلف فلا نسلم ان ايتماره بهذا الامر فى تلك

٤٣

صفحہ ٦٧٠

الحال غير متصور اذ البر كما هو متصور فى زمان حياة البار والمبرور اليه كليهما كذلك يتصور فى زمان ممات المبرور اليه بالاستغفار له واهداء ثواب الطاعات اليه فجزم المستدل بعدم امكان بر المسيح عليه السلام بوالدته فى تلك الحالة جزم فى غير محله وجملة المرام وخلاصة الكلام ان المسيح رسول الله حى الى الآن ومرفوع الى السماء بجسده وهذه المسئلة ثابتة بالدلائل من الآيات القرآنية والاحاديث النبوية واجماع الامة المحمدية على صاحبها الوف صلوة وتسليمات والآيات الدالة عليها قول الله تبارك وتعالى ما المسيح بن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل وقوله جل وعلا واذ قال الله يا عيسى انى متوفيك ورافعك الىّ قوله تعالى وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وقوله الكريم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته وتقرير دلالة هذه الآيات على حيوة مر باكمل وجهه واحسن تفصيل ومنها قول الله عز برهانه لقد كفر الذين قالوا ان الله هو المسيح بن مريم قل فمن يملك من الله شيئا ان اراد ان يهلك المسيح بن مريم وامه ومن فى الارض جميعاً وتقرير الدلالة ان كلمة ان الداخلة على كلمة اراد من ادوات الشرط التى وضعت لوقوع الجزاء بوقوع الشرط فى المستقبل والشرط ههنا ارادة اهلاك المسيح والجزاء انتفاء قدرة الدفع لغير الله المدلول عليه التزاماً بقوله تعالى فمن يملك من الله شيئا فان الاستفهام قائم مقام النفى ونفى الملك من الله شيئا على تقدير ارادة الله تعالى اهلاكه يوجب ويستلزم انتفاء القدرة لاحد غير الله عن دفع اهلاكه على ذلك التقدير فيجب كون كليهما اى الاهلاك وانتفاء القدرة متوقعى الوجود فى المستقبل والا لزم خلاف وضع كلمة ان وتوقع وجودهما فى الآتى لايمكن الا اذا كان المسيح عليه السلام حياً حين نزول هذه الآية لانه لو لم يكن حياً فى ذلك الحين وكان وقوع موته فى الزمان الماضى بالنسبة الى ذلك الحين لادت الآية معنى توقع ارادة اهلاك الهالك وازالة الزائل وامتناعه غير خفى كامتناع ايجاد الموجود وتحصيل الحاصل وحمل الكلام لضرورة تصحيح المعنى على حكاية حال حيوته فى الدنيا مع كونه حقيقة فى الاستقبال او استعمال ٤٤

صفحہ ٦٧١

كلمة ان فى معنى لو الدالة على انتفاء الجزاء بانتفاء الشرط فى الماضى رجوع الى المجاز من غير قرينة وقوله عز وجل وامه ومن فى الارض ليس نصاً فى المعطوفية على قوله المسيح بن مريم ليصلح قرينة على ذلك الحمل او الاستعمال لانه يحتمل ان يكون مفعولاً لفعل مقدر وهو لفظ يساوى ويكون جملة حالية فيؤل حاصل معنى الآية الى ان الله قادر على ان يهلك المسيح بن مريم والحال انه يساوى امه ومن فى الارض فى عدم الالوهية فكما ان الله قادر على مريم ومن عداهم فكذلك هو قادر على المسيح لاستواء كلهم فى نفى الالوهية بل ان حكم بتعين هذا الاحتمال بالارادة لكان اجدر و احرى لان المقصود بهذه الآية رد قولهم ان الله هو المسيح بن مريم وذا لا يكون الا بايقاع المساوات بين المسيح وبين امه ومن الارض فى انتفاء وصف الالوهية وثبوت وصف العبودية ومع هذا كيف يصح كونه عطفا وقرينة لصرف الكلام عن حقيقته على ان فى اختيار استعمال كلمة ان بمعنى لو مع قطع النظر عن لزوم المحذور ثبوت المدعى من حيات عيسى عليه السلام اظهر واجلى لانه على هذا يؤل الى ان الله تعالى لم يرد اهلاكه عليه السلام فى الزمان الماضى وهذا هو المطلوب الذى نحن بصدده فيقال ان حملت كلمة ان على معناها الحقيقى الوضعى فالدليل ثابت ومدلولنا متحقق وان على معنى لو الذى هو معناها المجازى فالمدعى على هذا التقدير ايضاً ثابت وعلى كل تقدير فالآية دليل لنا وشاهد على حيوة عيسى عليه السلام كما لا يخفى على من له ادنى دراية واما الاجماع على حياته الى الآن فلعدم وجود النقل فى كتاب من كتب الشريعة على خلافها من لدن زمان الصحابة الى يومنا هذا اذ لو لم يكن الاجماع منعقداً على حيوة وكان القول بمماته مذهباً لاحد من المسلمين لنقله الناقلون ولم يطبقوا على عدم نقله وتفسير حبر الامة ابن عباس قوله عز وجل انى متوفيك بقوله انى مميتك ليس نصاً فى مضى اماتته لان اسم الفاعل لكونه اسماً لا اختصاص له بزمان دون زمان كما يدل عليه ما حدوا الاسم به وما رواه النسائى وابن ابى حاتم عن ابن عباس لما اراد الله ان يرفع عيسى خرج على اصحابه وفى ٤٥

صفحہ ٦٧٢

البيت اثنا عشر رجلاً فقال ان منكم من يكفر بى من بعد ان أمن ثم قال ايكم يلقى شبهى فيقتل مكانى فيكون له الجنة فقال شاب احدثهم سنا فقال انا فقال اجلس ثم اعاد فعاد فقال اجلس ثم اعاد فعاد الثالثة قال فصلب بعد ان رفع عيسى الى السماء وجاء الطلب من اليهود فاخذوا الشاب اهـ كما بين وما نقل عن وهب فغير مستند ولئن سلمنا استناده فلا يضر اجماع المسلمين لاحتمال انه نقل ذلك من اهل الكتاب ويؤيد هذا الاحتمال نسبة محمد بن اسحاق وصاحب الوجيز والبيضاوي القول بوقوع موته الى النصارى وانه قال فى الوجيز حيوة المسيح مما اجمع عليه المسلمون واخبر الحافظ ابن القيم والفاضل الكهنوى نقلاً عنه بتحقق اجماع المسلمين كلهم على حياته عليه السلام فلم يبق للمنقول عن وهب محمل سوى ذلك الاحتمال ولئن تاملت فى رسائل الكائد الكاديانى ما وجدت دليلاً لا شرعياً ولا عقلياً بيده على ما ادعاه ووجدت اقوى دلائله ما لا يعده اولو العقول دلائل بل استبعادات عادية واستيحاشات بعدم مؤانسة كما هو داب ارباب الجهالات من عد الاستبعاد استدلالاً كاستدلال بعض كفرة ايام الجاهلية باستبعاد احياء العظام وهى رميم وقد اخبر منه الله الحميد فى كتابه المجيد حيث قال عز وجل اولم ير الانسان انا خلقناه من نطفة فاذا هو خصيم مبين وضرب لنا مثلاً ونسى خلقه قال من يحي العظام وهى رميم وكاستدلال بعضهم كما حكى الله تعالى اجعل الالهة الها واحداً ان هذا لشئ عجاب وكثير من هذه الامثال مذكور فى كتابه المستطاب وقد حصل الفراغ من تحرير هذه الرسالة النافعة سنة الف وثلثمائة واحدى عشر ١٣١١هـ من الهجرة النبوية على صاحبها الوف الوف صلوة وتحية والمرجو من المطالعين لها ان لا ينسونى من ادعيتهم فى خلص اوقاتهم بالعافية والانسلاك بمسلك اهل السنة والاختتام بحسن الخاتمة وليكن اختتام الرسالة بهذا الكلام وعلى الله التوكل وبه الاعتصام واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين وصلى الله على خليفته وخير خليقته محمد وآله وصحبه وعشيرته ومن تبعهم الى يوم الدين اجمعين.

٤٦

آ صـ حضرت مـ

PDF 674

ر بي من بعد ان أمن ثم قال ایکم فقال شاب احدثهم سنا فقال انا عاد فعاد الثالثة قال فصلب بعد يهود فاخذوا الشاب ا ھ کمالین سلمنا استناده فلا يضر اجماع لكتاب ويؤيد هذا الاحتمال نسبة يضاوى القول بوقوع موته الى لمسيح مما اجمع عليه المسلمون کهنوى نقلا عنه بتحقق اجماع لم يبق للمنقول عن وهب محمل لكائد الكادياني ما وجدت دليلاً ووجدت اقوى دلائله مالا يعده تيحاشات بعدم موانسة كما هو لا لا كاستدلال بعض كفرة ايام يم وقد اخبر عنه الله الحميد فى ان انا خلقناه من نطفة فاذا هو قال من يحي العظام وهي رميم ل الآلهة الها واحداً ان هذا لشئ ه المستطاب وقد حصل الفراغ ثلثمائة واحدى عشر ١٣١١ھ من وف صلوة وتحية والمرجو من هم فى خلوص اوقاتهم بالعافية بحسن الخاتمة وليكن اختتام لاعتصام وأخر دعوانا ان الحمد خير خليقته محمد وآله وصحبه

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فاتح قادیانیت شیخ الاسلام والمسلمین لاثانی عبقری

شاگرد مناظر اسلام حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری

آفتاب

صداقت

حضرت مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی امرتسری رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ٦٧٤

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

(نوٹ: ”الہام الصحیح فی حیات المسیح“ کے اردو ترجمہ کا نام ”آفتاب صداقت“ ہے جو یہ ہے)

سب تعریفیں ثابت ہیں خاص پروردگار کو، کہ جس نے راستہ دکھایا اس کو، کہ جس نے اس کی راہ نمائی کی جانب میلان کیا اور وہ رہنمائی کی اس نے حقائق کی سمجھنے کی طرف اس شخص کو جو حق کی تحقیق میں مضبوط اور قوی ہوا اور دقائق قرآنیہ میں کامل الوصول اور اس کی رضا مندی میں جان نثار کرنے والے کا مرتبہ بلند کیا۔ جس نے اس کی آیات میں خوض کیا مانند ان کے خوض کہ جنہوں نے خدا کی طرف رجوع نہیں کیا پس وہ شخص ان لوگوں میں سے ہے کہ جنہوں نے خدا کی جانب رجوع کیا ہے، سرکش اور متکبر ہے خدا کی راہ سے مانع ہے حیرت گمراہی کی میدانوں میں وحشی گدھے کی طرح دوڑ پڑا ہوا ہے۔ خداوند تعالیٰ کی پاک بارگاہ سے مردود ہوا۔ جس شخص نے اپنے آپ کو خدا کے نیک بندوں کے جم غفیر سے الگ کیا اور وہ روسیاہی کا مستحق ہے سرداری کے قابل نہیں۔ جو شخص گناہوں پر خوگر ہوا گو کسی قوم سے ہو جیسا کہ خوگر ہوئی تھی قوم عاد۔ پس بلاشبہ برے انجام کی طرف لوٹا۔ اکمل اتم درود و سلام ہو جو خداوند تعالیٰ کے برگزیدہ پیارے پر جن کا اسم شریف محمدؐ ہے جو سردار ہیں انبیاء اولیاء کے اقطاب۔ اوتاد میں سے وہ نبی کہ جن کی سلطنت کے پردوں کے نیچے شہنشاہ عاجزی کرتے ہیں۔ ہر ایک نے ان میں سے ان کی جناب میں نرمی کی جس نے ان سے منہ پھرا اور متکبرانہ ناز کیا۔ جو ان کی نصائح کے سننے ، غصہ سے پھولا، بلاشک اس کو اللہ نے ہلاک کر ڈالا، پس ہلاک ہوا۔ قریب ہے کہ جہنم میں قیامت کے دن گریگا۔ درود و سلام ہو آپ کی قوم اور یاروں پر جو محکم دین کے اسرار کے خزانچی ہیں۔ انہی کی تابعداری سے سرداروں نے سرداری پائی۔ ان کے خلاف کرنے سے جو کجرو راہِ مستقیم سے پھرا انہی کے خلاف سے ہے۔ باہمیں سب الحاد میں گرفتار ہوا کرم خوردہ طعام کی طرح اس کا دل فاسد ہوا۔ بعد حمد وصلوٰۃ کے فرماتے ہیں جو اُمیدوار ہیں قبولیت کی بلندی پر چڑھنے کے جن کا نام نامی محمد غلام رسول ہے۔ مذہباً حنفی طریقۃً نقشبندی، مجددی، نوری عرفاً اور نسبتاً قاسمی ہیں۔

بچاوے ان کو پاک پروردگار ہر لئیم کند فہم کج عقل اور بہکے ہوئے کے شر سے، کہ جب کہ گمراہی، حق سے تجاوز، گردن کشی، ظلم اس زمانہ میں بسبب اس کے جو قادیان سے ظاہر ہوا ہے۔

٢

صفحہ ٦٧٥

زیادہ ہوا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ جس مسیح علیہ السلام کی آمد کا آخری زمانہ میں وعدہ دیا گیا ہے وہ میں ہوں۔ دعویٰ کیا اس نے کہ مسیح علیہ السلام مر چکے ہیں۔ نہ وہ بجسدہ آسمان پر چڑھائے گئے ہیں۔ اس لئے وہ زمین پر بھی نہیں اتریں گے۔ اس نے برے عقائد ظاہر کئے۔ نہیں ہے باک اس کو ان لوگوں کے جو اس کے مخالف ہیں۔ مانند مطابقت نعل کے نعل کے ساتھ مفقود۔ مگر آبادیوں میں بگاڑ، فساد ڈالنا، تزندق پھیلانا، پلید کفریہ عقائد کا درمیان بندگانِ خدا شائع کرنا ان کے اعلیٰ مطالب ہیں۔ مع ہذا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ہدایت یاب ہیں۔ حالانکہ وہ سیدھی راہ سے برگشتہ ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان لائے، انہوں نے پھر کفر کیا۔ پس خداوند تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے۔ جس سے وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ اس عقیدہ پر اگر وہ مر گئے تو وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے مونہوں کو آگ جلا دے گی۔ اس میں ترش رو رہیں گے۔ کہا جائے گا ان سے کیا تم پر نہیں پڑھی گئی تھیں ہماری آیتیں پس تھے تم ان کو جھٹلاتے۔ بدگمانی سلف صالحین کی نسبت کرتے ہیں۔ پھر گمان کرتے ہیں کہ ہم یہ کام اچھا کرتے ہیں۔ ہم ایسی قوم کے درمیان ہیں کہ سب عوام اور بعض فضلاء جن کا پیشہ ہے سب و شتم، طغیان ان کا حرفہ ہے۔ ان لوگوں کے حق میں جو نیکی کا امر، برائی سے منع کرتے ہیں۔ فضیحت کرنے کے لئے زبان درازی کرنا ان کا کام ہے نہ تو ان کو عقل سے حصہ، نہ دین کی سمجھ ہے۔ پوست، مغز، موتی، مٹی میں امتیاز نہیں کرتے۔ صحیح و سقیم و غث و ثمین میں فرق نہیں کر سکتے۔ ظلم، ظاہر گمراہی کے میدانوں میں وہ حیران ہیں۔ کیا نہیں جانتے کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔ جب کہ اس درجہ پر فساد پہنچا تو ہم سے بعض محبوں، دوستوں نے التماس کی کہ ہم قادیانی کے دلائل کا جو اس نے اپنے دعوے (کہ مسیح علیہ السلام مر گئے ہیں اور صرف ان کی روح مرفوع ہوئی ہے) پر پیش کئے ہیں۔ فاسد ہونا ظاہر کریں۔ ہم ان کی حیات آیات فرقانیہ کے ساتھ ہی صرف استدلال کر کے ثابت کریں اور احادیث نبوی ﷺ کو اس کے ثابت کرنے کے لئے نقل نہ کریں گے۔ اس لئے کہ دراصل قادیانی اور اس کے متبعین حدیث کو مانتے نہیں ہیں۔ بغیر اس کے کہ ہم بجز اس عقیدہ کے اس کے اور عقائد فاسدہ اور ملمعات واہیہ کی جانب التفات کریں۔ کیونکہ وہ عقائد اس قدر مشہور نہیں ہوئے۔ جیسا کہ پہلا مسئلہ شہرت پا گیا ہے۔ چونکہ ہم کو بسبب اس کے کہ ہم کو کتب متداولہ قدیمہ کا مطالعہ، افتاء و تعلیم کا بہت شغل ہے۔ فراغت نہیں ہے۔ نیز ہماری طبیعت قادیانی و امثالہ کے خرافات کی جانب توجہ کرنے سے متنفر ہے ۔ ایسے بیہودہ کلمات کی طرف (جو کفریات اور ارتدادات صریحہ ہیں) ملتفت ہونے کو مکروہ سمجھتی ٣

صفحہ ٦٧٦

ہے۔ ہم کو اور باقی مسلمانوں کو سرکش ملحد طائفہ کے ضرر سے خداوند تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔ اس واسطے ہم نے ملتمسین سے عذر بیان کئے۔ اوّلاً کہ ہم بہت اشغال میں مصروف ہیں۔ ثانیاً کہ ہم ایسے کلمات کی طرف جو صریح جھوٹ ہیں۔ التفات نہیں چاہتے ہیں۔

پس ہم ایک پاؤں کو آگے بڑھاتے دوسرے کو پیچھے ہٹاتے تا بوجود اس کے ملتمسین نے کوئی عذر مسموع نہیں کیا۔ انہوں نے ہم کو حیات مسیح علیہ السلام کو ثابت کرنے پر مجبور کیا۔ لہٰذا ہم نے ان کے سوال کو قبول کیا۔ جس طرز پر کہ انہوں نے التماس کیا تھا۔ ہم نے ان کی امید براری کی جس طریق پر انہوں نے چاہا تھا۔ یہ چند ورقہ مختصر طور پر ہم نے لکھے۔ اس کتاب کا نام ”الالهام الصحيح فی اثبات حیات المسیح“ رکھا۔

اوّل....... ہم نے قادیانی کے دلائل کی حتی الوسع اصلاح اور تہذیب اور اچھی تنقیح کی بعدازاں اس کے دلائل کی تردید، تکذیب عمدہ طور پر لکھی۔ پس صریح طور پر حق واضح ہوا۔ مکاروں، فریب زدوں کا کام باطل ہوا۔ لہٰذا وہ لوگ اور ان کے گروہ جو کجرو ہے۔ شیطان کے لشکر ہیں۔ تمام سرنگوں ہوئے۔ خبردار ہو کہ ہم پروردگار کی مہربانی پر بھروسہ کر کے مطلب شروع کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر اس آیت مبارکہ سے استدلال کرتے ہیں۔ ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم (آل عمران: ١٤٤)“ نہیں ہیں حضرت محمد ﷺ مگر اللہ کے فرستادہ بلاشبہ آپ سے پہلے پیغمبر گزرے ہیں۔ کیا اگر آنحضرت ﷺ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم دین اسلام سے پھر جاؤ گے۔ ؎

قادیانی کی استدلال کی تقریر اور اصلاح یوں ہے کہ تحقیق خلت کا معنی ”مرگئے“ ہیں۔ الرسل کا لفظ الف لام استغراقی کے ساتھ معرف ہے۔ اسی واسطے اس پر افائن مات متفرع ہوا۔ کیونکہ اگر خلو کا معنی موت نہ لیا جائے یا الرسل جمع مستغرق نہ ہو تو افائن مات کا اس پر متفرع ہونا صحیح نہیں ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ اس تفریع کی صحت آنحضرت ﷺ کے الرسل میں داخل ہونے پر موقوف ہے۔ اس میں شبہ نہیں اور ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کا لفظ الرسل میں داخل ہونا تب ہی درست ہوگا جب کہ الرسل کا الف لام استغراقی ہوگا۔ ایسا ہی اس تفریع کی صحت اس پر موقوف ہے کہ خلو بمعنی موت ہو۔ اس لئے کہ اگر موت اور خلو کے درمیان غیریت سمجھیں۔ خلو کو موت سے عام لے لیں تو خاص کی تفریع عام پر لازم آوے گی۔ حالانکہ یہ غلط ہے کیا معلوم نہیں کہ تفریع تب ہی

٤

صفحہ ٦٧٧

درست ہوتی ہے کہ جب متفرع علیہ کو متفرع لازم ہو۔ ”لا غیر“ پر ظاہر ہے کہ خاص عام کو لازم نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ جو تفریع کلام الٰہی میں واقع ہے۔ اس کے لئے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک خلو بمعنی موت ہو۔

دوم...... الرسل کا جمع مستغرق ہونا۔ ان ہر دو مقدمتین سے ایک کو شکل اوّل کا صغریٰ دوسرے کو کبریٰ بنائیں گے۔ شکل یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام بے شک رسول ہیں۔ ہر رسول مر گئے ہیں۔ اب اس شکل سے جو دو یقینی مقدمتین سے مؤلف ہے۔ یہ نتیجہ نکلے گا کہ بے شک مسیح علیہ السلام مرگئے۔ یہی مطلوب تھا۔ صغریٰ پر دلیل یہ کلام الٰہی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف فرستادہ ہیں۔ نیز یہ کلام ربانی جس کا معنی یہ ہے کہ نہیں ہیں مسیح بن مریم علیہما السلام ۔ مگر خداوند تعالیٰ کے فرستادہ ان کی مانند اور آیات بھی ہیں۔ جن سے مسیح علیہ السلام کا رسول ہونا ثابت ہوتا ہے اور آپ کا رسول ہونا کل اہل اسلام کے اجماع سے ثابت ہے۔ کبریٰ کے لئے دلیل وہ دو مقدمہ ہیں۔ جن کی تمہید اور اصلاح ہو چکی ہے۔ کیونکہ جب خلو بمعنی موت ہوا اور اس کی نسبت الرسل کی جانب کی گئی اور الرسل کا جمع ہونا ثابت ہوا۔ تو مسیح علیہ السلام کا الرسل میں داخل ہونا یقیناً سمجھنا پڑے گا۔ جب ہی مسیح علیہ السلام کی موت کا کبریٰ کے ضمن میں ثابت ہونا لازم آوے گا۔ پس قادیانی کا مطلب پایہ ثبوت تک پہنچا۔ اس استدلال کی تردید وازالہ یوں ہے کہ یہ دونوں مقدمہ جو کبریٰ کے لئے تھے۔ دلیل بنائے گئے ہیں۔ مسلم نہیں ہیں۔ عدم صحت تفریع کا استحالہ اس صورت میں کہ دونوں مقدمہ یا ایک نہ پایا جائے۔ نیز مسلم نہیں ہم اس استدلال کو اس طرح پر بھی توڑیں گے کہ یہ استحالہ بہر حال لازم آوے گا۔ خواہ وہ دونوں مقدمہ مان لئے جائیں یا نہ۔ اب پہلے منع کی سند سنتے جائیں کہ خلو کا معنی گزرنا ہے۔ چنانچہ کتب لغات میں خلو کی یہی تفسیر موجود ہے۔ ہم ان کی نقلیں اس واسطے پیش نہیں کرتے کہ وہ باعث طول ہے اور یہ کتاب مختصر ہے۔ نیز جس کو علم سے کچھ تھوڑا بھی مس ہو وہ یہی کتب لغات کا ملاحظہ کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو ضرور کہہ دیں گے کہ خلو کا معنی کسی اہل لغت نے موت نہیں لکھا ہے۔ پس اس سے معلوم ہو گیا کہ اصلی اور حقیقی معنی خلو کا بجز گزرنے کے اور کچھ نہیں ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو۔ حالانکہ یہ مرجح ہے۔ اس سے کہ قرآن شریف میں خلو کو منافقین کی طرف اس آیت میں نسبت کی گئی ہے۔

اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ جب منافقین اپنے شیاطین کے پاس گزرتے اور جاتے ہیں۔ اس طرح پر خلو کو قرآن شریف میں سنن کی طرف نسبت کی گئی ہے۔ دیکھو اس آیت کا

٥

صفحہ ٦٧٨

مضمون یہ ہے کہ تم سے پہلے سنن گزرے ہیں اور دوسری آیت میں دونوں کی طرف ان کو نسبت ہے۔ دیکھو سورۃ الحاقہ میں ارشاد ہے کہ کھاؤ، پیو، بسبب اس کے کہ تم نے گزرے ہوئے دنوں میں آخرت کے لئے آگے ہی نیک اعمال کئے ہوئے تھے۔ پس قرآن سے بھی ثابت ہوا ہے کہ خلو کا معنی موت نہیں ہے۔ بلکہ اس کا معنی گزرنا اور جانا ہے۔ لہٰذا اب متصور نہیں ہے کہ خلو کا معنی موت لیا جائے۔ بلکہ بالضرور اس کے معنی گزرنا ہے اور جانا ہے۔ جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ پس خلو کو موت کے ساتھ تفسیر کرنا یہ بعینہ اخص کے ساتھ تعریف کرنا ہے۔ اس لئے کہ موت خلو کا ایک قسم ہے۔ گزرنا ہر ایک قسم کے انتقال مکانی پر صادق آتا ہے۔ اگر بلندی سے پستی کی جانب انتقال ہو تو اس گزرنے کا نام خفض ۔ اگر پستی سے بلندی کی طرف انتقال ہو تو اس گزرنے کا نام رفع ہے۔ یا قدام سے خلف کی جانب یا برعکس اس کے ہو، سب کو شامل ہے۔ موت کی ہر قسم کو خواہ جرح سے یا بلا جرح ہو۔ پس گو ہم الرسل کے جمع مستغرق ہونے کو مان بھی لیں تو بھی مسیح علیہ السلام کا مرجانا لازم نہیں آتا۔ کیونکہ خلو اور گزرنا جو ایک عام چیز ہے گو نوع رسول کے ہر ہر فرد کو ثابت ہے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس امر عام کا ہر ہر قسم بھی نوع رسول کے ہر ہر فرد کو ثابت ہو۔ رہی یہ بات کہ اگر خلو کی تفسیر موت سے نہ کی جائے تو اخص کی تفریع اعم پر لازم آوے گی۔ نیز مردود ہے۔ اس واسطہ کہ انقلاب کا بعید سمجھنا اور ارتداد کے جواز کا انکار دراصل متفرع ہے۔ مگر آنحضرت ﷺ کی قوم کے درمیان بعد اداء رسالت موجود نہ ہونے کی تقدیر پر۔

پس ماحصل اس آیت کا یہ ہوا کہ نہیں ہیں آنحضرت ﷺ مگر اللہ کے رسول بلاشبہ آپ سے پہلے رسول گزرے ہیں۔ پھر کیا جائز ہے تمہارے لئے دین سے پھر جانا۔ اگر وہ قتل کئے جاویں اس طرح پر کہ آسمان پر اٹھالئے جائیں جیسا کہ مسیح علیہ السلام (یہ بات بالاجماع ثابت ہے) یا جس طرح ادریس علیہ السلام آسمان پر چڑھائے گئے یا اگر آپ کا انتقال موت سے ہو چنانچہ یہی ان کی نسبت علم ازلی میں مقرر تھا یا آپ کا انتقال شہادت سے ہو۔ چنانچہ اس قسم کی آواز شیطان نے دی تھی اور تم نے اس پر یقین کرلیا تھا۔ ہاں یہ بات ضرور البیان ہے کہ آیت میں موت اور قتل کا صریح ذکر کیا گیا ہے نہ رفع کا سو واضح رہے کہ موت کی تصریح کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہی آپ کے حق میں تقدیر اللہ اور واقع کے مطابق تھی۔ قتل کی تصریح صرف ان کے زعم فاسد کی رعایت سے ہے۔ نیز تاکہ وہ دونوں تقدیر پر (موت اور قتل) سمجھ جائیں کہ دین سے پھر جانا ناجائز ہے آپ کا مقتول ہونا۔ گو ان کا زعم ہی زعم تھا لیکن چونکہ انبیاء سابقین بہت سے مقتول ہو چکے تھے (دیکھو

٦

صفحہ ٦٧٩

خداوند فرماتا ہے کہ انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیا ہے) تو رسول کے حق میں بھی یہ گمان قوت پکڑ گیا تھا۔ اس لئے آیت مذکورہ میں قتل کا ذکر کرنا ضروری تھا۔ رہا یہ کہ رفع کا ذکر نہیں ہوا باوجودیکہ کہ عبارت میں مقصود ہے۔ سو واضح ہو کہ اس کی تصریح بچند وجہ ضروری نہیں تھی۔

قتل، رفع“ جواز الارتداد کا انکار ہی متفرع ہے۔ لا غیر! اس میں شک نہیں ہے کہ انتقال جو تینوں میں دائر ہے خلو کے ساتھ (جب اس کا حقیقی معنی گزرنا ہو) مساوی ہے اس لئے اب استحالہ لازم نہیں آیا۔ وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں ایک مساوی کی دوسرے مساوی پر تفریع ہوگی اور یہ جائز ہے نہ اخص کی تفریع عام پر جو ناجائز ہے۔ دیکھو کہتے ہیں کہ ہم نے زید کو نشوونما پانے والا بالارادہ حرکت کرنے والا کلیات و جزئیات کا ادراک کرنے والا جسم پایا ہے۔ پس اس پر تفریعاً کہہ سکتے ہیں کہ وہ انسان ہے کیونکہ وہ مفصل اور یہ مجمل (انسان) آپس میں مساوی ہیں۔ جن میں سے ہم نے ایک کو متفرع اور دوسرے کو متفرع علیہ کہا ہے وہ یہ دو ہیں ”ہر رسول کا گزرنا ہر ایک تقدیر پر جواز الارتداد کی نفی“ سبب یہ ہے کہ نسبتوں کے لئے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ دونوں وجودی یا دونوں عدمی یا ایک وجودی اور دوسری عدمی ہو۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ دونوں عدمی یا دونوں وجودی ہوں۔ باقی ماندہ کہ ارتداد کی نفی خلو بمعنی گزرنے کو کس طرح پر لازم ہے تو اس پر یہ دلیل ہے کہ اللہ جل شانہ نے پیغمبروں کو صرف اس واسطے مبعوث فرمایا ہے کہ تا مطلقاً شریعت کو بیان کریں اور طریقہ کو جو اللہ تک پہنچانے والا ہے، معین کر دیں۔ اس واسطے مبعوث نہیں فرمایا کہ وہ اسی زمانہ تک شریعت کو ظاہر کریں کہ جب تک کہ وہ قوم کے درمیان موجود رہیں ورنہ لازم آوے گا کہ کوئی زمانہ بھی رسول سے خالی نہ ہو۔ حالانکہ یہ صریحاً اور بالاتفاق باطل ہے۔

اس سے واضح ہو گیا ہے کہ اخص کی تفریع عام پر (گو خلو سے گزرنا ہی مراد ہو) لازم نہیں آتی۔ ہاں یہ جو حضرت صدیق اکبرؓ نے جناب آنحضرت ﷺ کی موت پر آیت مذکورہ دلیل کے طور پر پیش فرمائی ہے انہوں نے تو لفظ خلت (گزرے اور گئے) سے مدعا ثابت نہیں کیا۔ بلکہ ”افائن مات“ (کیا پس اگر رسول کریم ﷺ مر جائیں) سے استدلال فرمایا ہے۔ سبب یہی ہے کہ حضرت فاروق اعظمؓ نے بعد موت رسول اکرم ﷺ کے فرمایا تھا کہ آپ نہیں مرے اور نہ

٧

صفحہ ٦٨٠

مریں گے اور یہ اس خیال سے فرمایا تھا کہ رسول کریم ﷺ کی موت جائز نہیں اور غیر ممکن ہے اس لئے حضرت صدیق نے آپ کے اس خیال کو اٹھانے کے لئے اس آیت کو پڑھ کر افائن مات سے استدلال فرمایا۔ وہ اس طرح ہے کہ دراصل مدخول ”ان“ کا وہ ہوتا ہے کہ جس کا پایا جانا واقع میں ممکن اور جائز ہو لا غیر۔ چنانچہ یہ بات ان لوگوں پر واضح ہے جو بحث معانی حروف پر آگاہ ہیں پس جبکہ رسول کریم ﷺ کے واسطے موت کا ہونا ممکن اور جائز ہوا تو حضرت فاروق اعظم کا خیال جو اس کے ناممکن ہونے پر جما ہوا تھا بالکل اٹھ گیا۔ یہ بات کہ صدیق اکبر نے ”افائن مات“ سے استدلال فرمایا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس موقع پر حضرت صدیق اکبر نے یہ آیت بھی پڑھی تھی۔ جس کا مضمون یہ ہے کہ : ”اے رسول اکرم ﷺ تم اور وہ موت کا مزہ چکھنے والے ہیں۔“ ان کا یہ قول ہر جمع جو معرف باللام ہو وہ تمام افراد کو شامل ہوتا ہے۔ مسلم نہیں ہے۔ چنانچہ یہی محققین کی کتابوں میں مصرح ہے۔ اس کی تائید قرآن مجید میں ہے۔ ان آیات کا ماحصل یہ ہے کہ کہا فرشتوں نے مریم علیہا السلام سے کہ اے مریم خداوند تعالیٰ بلاشبہ تم کو خوشخبری دیتا ہے۔ مریم (علیہا السلام) سے فرشتوں نے کہا کہ اے مریم خداوند تعالیٰ نے تجھ کو برگزیدہ کیا ہے۔

اب دیکھو کہ ان آیات میں ملائکہ کا لفظ جمع اور معرف ہے۔ مع ہذا تمام فرشتے مراد نہیں ہیں۔ ہمارے مدعا کو یوں بھی تائید ملتی ہے کہ حق سبحانہ فرماتا ہے کہ آدم علیہ السلام کو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ اس میں بھی لفظ ”الملئکۃ“ سے تمام فرشتے مراد نہیں لئے گئے۔ بلکہ یہ فائدہ لفظ ”کل“ اور ”اجمعون“ نے دیا ہے۔ ورنہ یہ لفظ بے فائدہ ٹھہریں گے۔ العیاذ باللہ!

ایسے ہی بہت قرآنی مثالیں ہیں کہ جن سے مخالف کے برخلاف جمع معرف باللام استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن چونکہ ان سب کا ذکر کرنا طول کا باعث ہے۔ اسی پر اکتفاء کیا۔ نیز عاقل کو اتنا ہی کافی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے۔ جب یہ مقدمہ غیر مسلم ہوا تو شکل مذکور کے کبریٰ کی کلیت بھی غیر مسلم ٹھہری۔ پس یہ نتیجہ کہ ”مسیح علیہ السلام مر گئے“ اس سے حاصل نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ شکل اوّل میں کبریٰ کی کلیت شرط ہے۔ اور کلیت تو جاتی رہی۔ لہٰذا نتیجہ جو مشروط ہے وہ بھی جاتا رہا۔ اس پر یہ جو ہم نے کہا ہے کہ اگر الف لام استغراقی نہ لیا جاوے تو دراصل تفریع کا جائز ہونا لازم نہیں آوے گا۔ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ جس آیت کا یہ مضمون ہے کہ نہیں ہیں آنحضرت ﷺ مگر خداوند تعالیٰ کے رسول بلاشبہ آپ سے پہلے گزر گئے رسول۔ اس سے یہ مراد ہے کہ آنحضرت ﷺ صرف خدا کے مقرب بندے اور سچے رسول ہیں۔

٨

صفحہ ٦٨١

اس میں شک نہیں کہ پیغمبروں کی جنس گزری اور گئی ہے۔ ظاہر ہے جو چیز (مثلاً موت) جنس کے بعض افراد کو باعتبار ذات کے ثابت ہو اس کا باقی افراد کو بھی ثابت ہونا جائز ہے۔ پس جیسا کہ اس چیز کا ثبوت بعض افراد کے لئے ملزوم الامکان ہے۔ ویسے ہی باقی افراد کے لئے واقع میں یہ مہملہ اگر چہ بمنزلہ جزئیہ ہے ؎١ اس لئے شکل اوّل کا کبریٰ نہیں بن سکتا۔ (کیونکہ اس میں کبریٰ کی کلیت شرط ہے) لیکن اس مہملہ کو ممکنہ کلیہ لازم ہے۔ اس واسطے وہ کبریٰ بن سکتا ہے۔ جیسا کہ کہہ دیں کہ مسیح علیہ السلام رسول ہیں اور بلاشبہ جنس رسول بالفعل گزر گئی۔ پھر ممکنہ کلیہ کو جو اس مہملہ کو لازم ہے۔ کبریٰ بنائیں گے۔ پس شکل اوّل حاصل ہوگی۔ دیکھو مسیح علیہ السلام رسول ہیں۔ ہر رسول بالامکان میت ہے۔ اس لئے یہ شکل یہ نتیجہ دے گی کہ مسیح علیہ السلام بالامکان میت ہے۔ پس اس صورت میں نہ تو تفریع درست ہوئی اور نہ کوئی محال عقلی اور شرعی عائد ہوا۔ (یعنی مسیح علیہ السلام کا مرنا جو قرآن واحادیث واجماع سے مخالف ہے)

اب دیکھئے کہ صرف ایک ہی مقدمہ کے تسلیم نہ کرنے کی حالت میں یہ کیفیت ہوئی تو پھر جس حالت میں دونوں مقدموں کو تسلیم نہ رکھیں گے تو قادیانی کے مدعا کا کہاں ٹھکانا ہے۔ چنانچہ جن لوگوں کو کچھ بھی سمجھ ہے وہ بھی اس بات کو جانتے ہیں۔ ہاں یہ بھی یاد رہے کہ ہم پہلے یہ بھی بیان کر آئے ہیں کہ اگر دونوں مقدموں کو (الف لام کا استغراقی ہونا اور خلو کا بمعنی موت ہونا) مان بھی لیں تو پس ظاہراً تفریع کی عدم صحت کا الزام نہیں جاتا۔ جیسا کہ دونوں مقدموں کے تسلیم نہ کرنے کی تقدیر پر نہیں جاتا۔ سو اس لئے کہا جاتا ہے کہ الرسل کا لفظ گو ہم اس کو جمع مستغرق اور خلو کو بمعنی موت ہی لیں۔ ہمارے سردار حضرت محمد ﷺ کو شامل نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس کلام ربانی ”قد خلت من قبله“ میں آپ سے پہلے رسولوں کا خلو بیان کیا گیا ہے اور یہ بھی ہے کہ ان کا خلو آپ سے پہلے بہمیں معنی ہے کہ وہ آپ پر وصف خلو میں سبقت لے گئے ہیں۔ آپ ان سے اس وصف میں متاخر ہیں۔ ظاہر تر ہے کہ ان کی پیش دستی اور آپ کا تاخر یہ دونوں زمانی ہیں۔ پس متقدم متاخر کے ساتھ موصوف نہ ہوتے تھے۔ اس وقت میں رسول اکرم ﷺ اس وصف کے ساتھ موصوف نہیں تھے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر ہم مان لیں کہ رسول کریم ﷺ بھی ان پیغمبروں کے ساتھ خلو سے موصوف ہو چکے تھے تو بریں تقدیر لازم آوے گا کہ آیت میں ایک چیز کے اپنے آپ پر مقدم ہونے کی خبر دی گئی ہو۔ حالانکہ نادان تک اس کے بطلان کو جانتے ہیں۔ البتہ جب یہ اعتقاد کر لیں کہ جس زمانہ میں اور پیغمبروں کو خلو عارض ہو گیا تھا اس وقت جناب رسالت مآب ﷺ کو یہ وصف

٩

صفحہ ٦٨٢

لاحق نہیں تھا تو بلاشبہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے لئے خلود اور گزرنا ممکن تھا۔ جیسا کہ اور انبیاء گزرے اور گئے بنا براں کہہ سکتے ہیں کہ جب یہ ثابت ہوا کہ رسول کریم ﷺ اس زمانہ میں دوسرے انبیاء اس میں وصف خلو سے موصوف ہو گئے تھے۔ خلو کے ساتھ موصوف نہیں ہوئے تھے تو پھر یہ ضرور تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ رسل ماضیہ میں (اس سبب سے کہ وہ اس وصف سے خالی تھے ) داخل نہیں ہوئے۔ پس جس حالت میں یہ ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ انبیاء سابقین میں داخل نہیں تو ظاہراً تفریع کی عدم صحت کا پھر بھی اقرار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ تو ان میں داخل ہی نہیں ہوئے ہیں۔ پھر کیونکر خلو کا حکم جو ان پر لگایا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی طرف منتقل ہوگا۔ آخر یہ تو صریح الفہم بات ہے کہ انتقال موقوف اور داخل ہونا موقوف علیہ ہے۔ پس جہاں پر موقوف علیہ ہی نہیں پایا گیا ہو موقوف کیسے پایا جاوے گا۔ لہٰذا قادیانیوں کو خلو کا صرف موت ہی میں مستعمل سمجھنا الرسل کو جمع مستغرق ٹھہرالینا بالکل نافع نہیں ہے۔ کیا غریق کو گھاس کو چنگل مارنا کچھ فائدہ دیتا ہی نہیں۔

اب ہم کہتے ہیں کہ جو قادیانی اس الزام کے دفعیہ میں پیش کریں گے۔ وہی ہماری طرف سے بھی حاضر ہے۔ مگر مع ہذا ہمارا ہی پلہ بھاری ہے۔ کیونکہ ہم تو ماسوا اس کے بھی جواب دے چکے ہیں۔ چنانچہ ماسبق سے ظاہر ہے۔ شاید قادیانی ہمارے ہی جواب کو اپنی طرف سے بھی جواب سمجھ لیں۔ لیکن یہ تو ان کے لئے نافع نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارا جواب ایسی چیز پر دلالت کرتا ہے جو قادیانیوں کے مدعا اور نقیض کو شامل ہے۔ کیا دیکھتے نہیں کہ کسی چیز کا امکان جیسا کہ اس چیز کے وجود کو مقارن ہے۔ ویسے ہی اس کے عدم کو مقارن ہے۔ پر بدیہی ہے کہ مدعا اور غیر مدعا کو جو ثابت ہوا اس کا پایا جانا گو نافع اور تسلیم نہ کرنے والے سائل کو نافع ہو۔ مگر دلیل پیش کرنے والے کو ہرگز نافع نہیں ہے۔ یہ قاعدہ بالکل مسلمات سے ہے اور ظاہر ہے گو قادیانیوں پر ان کی کم علمی سے پوشیدہ ہو۔ اس سے علاوہ اور لیجئے کہ اگر مان لیں کہ وہ آیت جس کا مفاد یہ ہے کہ: ”نہیں ہے محمد ﷺ مگر خداوند تعالیٰ کا رسول بلاشبہ آپ ﷺ سے پہلے پیغمبر گزرے اور گئے۔“ اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ﷺ کے ماسوا جتنے بھی رسول تھے وہ سب مر گئے ہیں تو اس صورت میں وہ آیت جس کا معنی یہ ہے کہ: ”نہیں مسیح بن مریم علیہما السلام مگر خداوند تعالیٰ کا رسول بلاشبہ ان سے پہلے پیغمبر گزرے۔“ چاہے کہ اس پر دلالت کرے کہ مسیح علیہ السلام کے سوا جتنے رسول ہیں سب مر گئے ہیں۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔ اس لئے کہ مسیح علیہ السلام کے ماسوا رسولوں میں ہمارے ١٠

صفحہ ٦٨٣

سردار فخر موجودات ﷺ بھی داخل ہیں تو اس سے لازم آوے گا کہ آنحضرت ﷺ بھی اس آیت کے اترنے سے پہلے مر گئے ہوں اور یہ صریح جھوٹ ہے۔ اس لئے کہ یہ آیت آپ کی حیات میں نازل ہوئی ہے۔ لہٰذا الف لام کا استغراقی لے لینا بھی محال ہوا۔ وجہ یہ ہے کہ جس کے مان لینے سے کوئی محال لازم آوے۔ اس کا ماننا بھی محال ہوتا ہے۔ اس لئے یہ نتیجہ کہ: ”مسیح علیہ السلام مر گئے ہیں۔“ صادق نہیں ہے۔ لو جی! اس کا صدق اس صورت میں تھا کہ اگر مسیح علیہ السلام اس میں مندرج ہوتے۔ لیکن وہ تو مندرج نہیں ہیں۔ سبب یہ ہے کہ ان کا اندراج الف لام کے استغراقی ہونے پر موقوف ہے اور وہ خود ہی باطل ہے۔ پس نتیجہ مذکور بھی کاذب ہوا۔

نیز دوسری آیت (جس کا معنی ابھی بیان کیا گیا ہے) صراحۃً مسیح علیہ السلام کے (آیت کے نازل ہونے کے وقت) زندہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ دیکھو اگر مسیح علیہ السلام اس آیت کے نازل ہونے کے وقت اموات میں داخل ہوتے تو خداوند تعالیٰ کو یوں فرمانا چاہئے تھا کہ نہیں ہیں مسیح علیہ السلام مگر خدا کے رسول۔

بلاشبہ رسولوں کے ساتھ ہی مر گئے ہیں۔ یا بلاشبہ مسیح علیہ السلام مر گیا۔ درحالیکہ اور رسول مر گئے۔ یا بلاشبہ مسیح علیہ السلام مر گئے۔ جیسے کہ اور رسول مر گئے۔ یا بلاشبہ رسول مر گئے اور نہ فرماتا بلاشبہ مسیح علیہ السلام سے پہلے رسول مر گئے۔ مگر یہ سب کچھ اس تقدیر پر ہے کہ جب الرسل کا جمع مستغرق مراد رکھ لیں۔ جیسا کہ قادیانی اور اس کے مقتدی کا گمان فاسد ہے۔ پس خلو کو من قبلہ (آپ سے پہلے) سے مقید کر دینا۔ اسی لئے ہے جو ہم بیان کر آئے ہیں۔ رہی یہ بات کہ یہ آیت مسیح علیہ السلام کی حیات پر تب ہی دلالت کرے گی جب کہ الف لام استغراقی لیں۔ اس سے مسیح علیہ السلام کی موت آیت کے نازل ہونے کے وقت پر لازم آوے گی۔ سو یہ غلط ہے۔ کیونکہ لفظ الرسل سے جنسِ رسول مراد ہے۔ اس لئے اس کی توجیہ یوں ہوگی کہ: ”جنسِ رسول کسی زمانہ میں اس کا وجود ہو۔“ گو مسیح علیہ السلام اب تک نہیں مرے۔ مسیح علیہ السلام سے پیشتر مر گیا۔ لیکن مسیح علیہ السلام بھی اس جنس کی طرح مریں گے۔ بناء علیہ اس آیت کا ماحصل یہ ہوگا کہ مسیح علیہ السلام اگرچہ اب تک نہیں مرے ہیں۔ مگر آخر مریں گے یہ ایسا ہوا جیسا کہ پہلی آیت سے ہمارے نبی ﷺ کے انتقال کے زمانہ ماضی میں نفی اور آئندہ انتظار ثابت ہوا تھا۔ اب اگر باوجود اس کے کہ اس آیت نے مسیح علیہ السلام کی حیات پر دلالت کی ہے۔ اس آیت سے ان کی موت سمجھ لیں گے تو بھی بداہتاً قرآن میں تخالف اور تعارض پایا جاوے گا۔ حالانکہ ایسے امر کا قائل کافر ہے۔

١١

صفحہ ٦٨٤

اس لئے ماننا پڑے گا کہ الرسل کا الف لام استغراقی نہیں ہے۔ شاید اس موقعہ پر کوئی شخص یہ کہہ دے کہ چونکہ موت اور حیات آپس میں مخالفت نہیں رکھتی ہیں تو اگر ایک آیت سے زندگی دوسری آیت سے موت مراد رکھ لیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ سو واضح رہے کہ یہ بات مضحکہ خیز ہے۔ سبب یہ ہے کہ اگر موت کے معنی اس چیز کا عدم حساس ہونا کہ اس کی شان سے حساس ہونا ہے۔ مقصود ہے تو موت وحیات میں بطور تقابل عدم وملکہ کے تخالف ہوگا۔ اگر موت کے معنی بدن سے روح کا جدا ہونا ہے۔ چنانچہ یہی نصوص شرعیہ عقلیہ سے ثابت ہے۔ پس موت وحیات میں تضاد ہوگا اور بہر صورت دونوں میں مخالفت پائی جائے گی۔

لہٰذا مسیح علیہ السلام کا زمانہ ماضی میں نہ مرنا اور آئندہ میں ان کی موت کا واقع ہونا ثابت ہوا اور یہ بھی تمام معتبر اہل اسلام کا عقیدہ ہے۔ البتہ نصاریٰ اور قادیانی اس رائے میں مخالف ہیں۔ نصاریٰ تو کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام مر کر زندہ ہوا اور آسمان پر چڑھا۔ قادیانی کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام مر گئے اور آسمان پر بجسدہ نہیں چڑھائے گئے۔

پھر قادیانی مسیح علیہ السلام کے مرجانے پر اور آیت کو پیش کرتے ہیں۔ اس کا مضمون یہ ہے کہ: ”نہیں بنایا ہم نے پیغمبروں کے بدنوں کو کہ وہ کھانے پینے کی طرف محتاج نہ ہوں اور نہ ہمیشہ رہنے والے۔“ لیکن ہم پہلے اس کے استدلال کی اصلاح کریں گے اور پھر جواب دیں گے۔ قادیانی کا استدلال کہ اگر مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ بھی مان لئے جائیں تو بالضرور کہنا پڑے گا کہ وہ ایسے بنائے گئے ہیں کہ وہ طعام کی طرف محتاج نہیں ہیں۔ ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں۔ حالانکہ خداوند تعالیٰ نے آیت میں ان دونوں باتوں کے برخلاف ارشاد فرمایا ہے۔ کیونکہ محصل آیت کا یہ ہے کہ نہیں کوئی ایک جسد رسولوں کے اجساد میں سے کہ وہ طعام کی طرف محتاج نہ ہو۔ نہیں کوئی ایک بھی ان میں سے کہ ہمیشہ زندہ رہے۔ ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کا اب تک زندہ ہونا جو گویا غلو سے عبارت ہے۔ ان کے حق میں کہنا کہ وہ وہاں پر کھانے پینے سے فارغ ہیں۔ یہ ایک ایسا حکم ہے کہ صراحۃً اس سالبہ کلیہ (نہیں کوئی جسد۔ الخ) سے مخالف ہے۔

اس سلب کلی پر یہ دلیل ہے کہ خداوند تعالیٰ ایک آیت میں فرماتا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم نے آپ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشگی نہیں دی ہے۔ کیا اگر آپ مرجائیں گے تو وہ (کافر) ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ پس اس آیت سے صاف سلب کلی ثابت ہوا۔ اس سے یہ بھی لازم آیا ہے کہ یہ موجبہ جزئیہ (کہ بعض آدمی جیسے کہ مسیح علیہ السلام فلانے وقت سے اب تک یا فلاں

١٢

صفحہ ٦٨٥

وقت زندہ ہے) باطل ہو سبب یہ ہے کہ یہ اس سالبہ کلیہ کی نقیض ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب ایک شے متحقق ہو تو اس کی نقیض کاذب اور غیر متحقق ہو۔ ورنہ اجتماع النقیض لازم آئے گا۔ حالانکہ یہ باطل ہے۔ جیسا کہ دونوں نقیضوں کا متحقق نہ ہونا باطل ہے۔ الجواب کہ آیت مذکورہ میں حرف نفی (ما) کا وارد ہوا ہے۔ وہ تو جعل بسیط پر وارد نہیں ہوا ہے۔ بلکہ جعل مؤلف پر جس کے لوازم سے ہے کہ وہ دو مفعولوں کے درمیان پایا جائے۔ ایک کا نام مجعول (بنایا گیا) دوسرے کا نام مجعول الیہ (جو کچھ بنایا گیا ہو ) ہے۔ دیکھو اس آیت میں انبیاء مجعول اور جسد جو بغیر طعام کے فاسد ہوتا ہے مجعول الیہ ہے۔

پس یہاں پر نفی ایسے جعل اور بنانے پر وارد ہوئی ہے جو مقید ہے۔ پر بدیہی ہے کہ مقید گو اس کے ساتھ ہزار قیدیں لگی ہوئی ہوں۔ تب تک نہیں پایا جاتا جب تک کہ ہر ایک قید نہ پائی جائے۔ اب یہاں تو تین قیدیں ہیں۔ ایک جعل کا مرکب ہونا، دوم جسد کا مجعول الیہ ہونا۔ سوم عدم الاکل کی قید۔ لہذا یہ جعل جو ان قیود سے مقید ہے۔ جب ہی متحقق ہو گا کہ یہ سب قیود پائے جائیں۔ البتہ کسی مرکب چیز کا معدوم ہو جانا اس کے تمام اجزاء کے نابود ہو جانے پر موقوف نہیں۔ بلکہ اس میں اگر ایک چیز بھی نابود ہو جاوے تو اس چیز کا عدم پایا گیا۔ اس سے یہ بھی سمجھا ہو گا کہ اگر بجائے جعل مؤلف کے جو مقید ہے اور ہی چیز فرض کی جائے یا اس کا مرکب ہونا اوڑا دیویں۔ یا ایں طور کہ صرف پہلے مفعول کے ساتھ یا دوسرے کے ساتھ فقط متعلق ہونا مان لیں۔ یا جسد کے مقام پر اور ہی کوئی مفعول قرار دیں یا تمام قیود کا تحقق مان لیں ۔ مگر عدم الاکل یا تمام قیود یا مطلق شے کا (باجود مان لینے تمام قیود کے ) نابود ہونا۔ فرض کر لیں تو بہر حال مقید بھی معدوم ہوگا۔ لیکن یہ سب مفہومات صرف ممکن ہی ممکن ہیں۔ واقع میں ان میں سے کوئی بھی متحقق نہیں ہے۔ البتہ ان میں سے عدم الاکل کا منتفی ہونا گو ممکن ہے۔ واقعی بھی ہے۔ ماسوا اس کے جتنے ہیں ان کا واقع میں پایا جانا دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثابت ہے۔ اس لئے ان کے عدمات واقعی نہیں ہیں۔ جب یہ سن لیا تو اس کا علم بھی ضروری ہے کہ قید عدم الاکل کا پایا جانا دو طرح پر ہے کہ یا کوئی چیز (خواہ طعام ہو یا اور کچھ ہو ) نہ کھائی جائے یا خاص کر طعام ہی نہ کھایا جائے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ عدم الاکل کا نہ پایا جانا تب ہی متحقق ہوگا۔ جب کہ کھانا متحقق ہوگا۔ پس عدم الاکل کے نہ پائے جانے کو جو سالبہ ہے ۔ موجبہ محصلہ لازم ہوا۔ اگرچہ یہ ملازمہ موضوع کے موجود ہوتے ہی ہوتی ہے۔ لیکن یہاں تو موضوع (انبیاء علیہم السلام ) امر واقعی ہے۔ پھر کیا دونوں متحقق نہیں ہوں گے ضرور ہوں

١٣

صفحہ ٦٨٦

گے۔ اس لئے ضرور تسلیم کرنا پڑے گا کہ آیت مذکورہ ”وما جعلناہم“ سے جو سالبہ کلیہ ہے۔ قضیہ موجبہ محصلہ لازم آتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہر رسول طعام کھاتا ہے۔ اب قادیانی سے مستفسر ہے کہ اس قضیہ موجبہ میں اکل اور کھانا جو ہر رسول کو ثابت ہے تو یہ ان کے لئے ان کی ذات کی طرف نظر کر کے ضروری الثبوت ہے۔ یا باعتبار کسی وصف کے لئے یا ضروری الثبوت غیر معین یا معین وقت میں ہے یا یہ کہ وہ ذات کے اعتبار سے یا وصف کی جہت سے دائمی الثبوت ہے۔ یا تین زمانوں میں سے کسی زمانہ میں ثابت ہے۔ یا یوں کہو کہ اس کا ثبوت ان کے لئے ممکن ہے۔ خواہ مع قید اللادوام جیسا کہ اوّل اور پانچویں کے ماسوا میں خواہ مع قید اللاضرورة جیسا کہ اوّل کے ماسواء میں بنا بر ایک رائے کے یا پانچویں کے ماسوا میں بھی ”عند البعض يا لاضرورة ولادوام“ کی قید کہیں بھی تسلیم نہ کریں۔ بہر حال یہ ظاہر ہے کہ ضروریہ (یعنی ہر رسول کی ذات کو طعام کا کھانا بالضرور ثابت ہے) اور دائمہ (یعنی ہر رسول کے لئے اکل الطعام دائما ثابت ہے) باطل ہے۔ کیونکہ ضروریہ مطلقہ کی نقیض جو ممکنہ عامہ ہے۔ متحقق ہے۔ پس لازم ہوا کہ ضروریہ باطل ہو ورنہ اجتماع النقیضین پایا جائے گا۔ اسی طرح پر دائمہ کی نقیض مطلقہ عامہ متحقق ہے۔ چنانچہ کہہ دیں کہ بعض اوقات میں رسول طعام نہیں کھاتے ہیں۔ اب اس مطلقہ عامہ کو کون باطل کہہ سکتا ہے۔ یہ تو صریح صادق ہے۔ اس لئے دائمہ کاذب ہوا نہیں تو ویسے بھی اجتماع النقیضین لازم آئے گا۔ جیسا کہ گزرا۔ ایسا ہی دوسرا اور چھٹا باطل ہے۔ اس لئے کہ وصف رسالت ہرگز ضرورت یا دوام اکل کو نہیں چاہتا ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس اکل الطعام رسول کے واسطے مطلق وقت میں کوئی وقت ہو اور خاص ایک وقت میں ضروری الثبوت نہیں ہے۔ آخر یہی تو کہو گے کہ اکل الطعام بشرطیکہ بھوک متحقق ہو ضروری ہے۔ لیکن یہ تو ظاہر ہے کہ بھوکا خود ضروری الوجود نہیں ہے۔ پھر طعام کا کھانا جو اس کا مشروط ہے وہ کیسے ضروری ہوگا۔ کیا دیکھتے نہیں کہ جب کہہ دیں کہ زید کی انگلیاں لکھنے کی حالت میں متحرک ہیں۔ اس میں لکھنا چونکہ خود کسی وقت میں ضروری الثبوت نہیں ہے تو جس کے لئے یہ شرط ہے وہ بھی کتابت کے وقت میں ضروری ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کتابت چونکہ کسی وقت ضروری نہیں ہے اور منجملہ اوقات وہ وقت بھی ہے جس میں کتابت متحقق ہے۔ پس وہ جب آپ ہی اس وقت میں ضروری نہیں ہے تو انگلیوں کا ہلنا کتابت کے وقت میں کب ضروری ہوگا۔ ویسے کھانا گو بشرط الجوع (بھوکا) ضروری ہے۔ مگر بھوک کے وقت میں ضروری نہیں۔ چنانچہ ابھی ہم بیان کر آئے ہیں۔ شاید کہو گے کہ جب یہ مانا گیا کہ طعام کا کھانا بشرطیکہ بھوک لگی ١٤

ہو۔ ضروری ہے تو یہ قول جسے قضیہ مشروط کہتے طعام کا کھانا ضروری ہے۔ حالانکہ تمہارے آئے گا۔ سبب یہ ہے کہ یہ مشروط نہیں بن سکتا کیا معلوم نہیں ہے کہ مشروطہ میں وصف کے ہو کہ جس کے ذریعے سے موصوف وصف اور عنوان رسول کا لفظ ہے۔ نہ بھوکا کا ہے۔ بنا بریں ماننا پڑے گا کہ قضیہ مذکورہ لگاویں یا نہ۔

ہاں مطلقہ اور ممکنہ عامہ اس آیت اکرم ﷺ آپ سے پہلے جتنے رسول تھے وہ کیونکہ اس آیت کا ماحصل یہی ہے کہ وہ رسو پھرتے تھے نہ یہ کہ ہر ہر وقت میں جیسا کہ ہر ہے۔ ایسا ہی طعام کے کھانے کا ان کے لئے لادوام کی قید لگا دیں گے تو یہ قضیہ وجودیہ دوسری یعنی لا دوام کا مفہوم ہماری سابقہ البتہ اس وجودیہ کو بسبب اس ہے۔ لیکن چونکہ یہ خاص ہے اور خاص زیادہ لئے اس کی دو جزو لے کر قضیہ بنائیں گے۔ نہ۔ دیکھو ہر رسول بعض اوقات میں طعام کھا کھاتا۔ اب غور سے دیکھو کہ یہ قضیہ ہرگز عق علیہ السلام بعض اوقات میں طعام کھاتے تھے ہے۔ اچھا صاحب یہ جو ہم بیان کر آئے ہیں ہے کہ درونی اور برونی اسباب کے سبب اجزا کہتے ہیں۔ پس جب یہ گھٹنا متحقق ہوگا تو بھوک گھٹنے کے اسباب مختلف ہوں گے تو بالضرور بھوکا

صفحہ ٦٨٧

ہو۔ ضروری ہے تو یہ قول جسے قضیہ مشروطہ کہتے ہیں صادق آئے گا کہ ہر رسول کے لئے بشرط الجوع طعام کا کھانا ضروری ہے۔ حالانکہ تمہارے لئے مضر ہے۔ سو واضح رہے کہ مشروطہ ہرگز صادق نہیں آئے گا۔ سبب یہ ہے کہ یہ مشروطہ نہیں بن سکتا۔

کیا معلوم نہیں ہے کہ مشروطہ میں یہ بات لازمی ہے کہ ضرورت بشرط اسی عنوان اور وصف کے ہو کہ جس کے ذریعے سے موصوف پر حکم لگایا گیا ہو۔ پس ظاہر ہے کہ قضیہ مذکورہ میں وصف اور عنوان رسول کا لفظ ہے۔ نہ بھوکا کا، پھر کہو کہ صورت مذکورہ میں وہ کیسا مشروطہ بن سکتا ہے۔ بنابریں ماننا پڑے گا کہ قضیہ مذکورہ مطلقہ یا ممکنہ عامہ ہے۔ خواہ لا دوام ولاضرورۃ کی قید لگاویں یا نہ۔

ہاں مطلقہ اور ممکنہ عامہ اس آیت سے مستفاد ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ یا رسول اکرم ﷺ آپ سے پہلے جتنے رسول تھے وہ طعام کھاتے، بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے۔ کیونکہ اس آیت کا ماحصل یہی ہے کہ وہ رسول کسی نہ کسی زمانہ میں کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے نہ یہ کہ ہر ہر وقت میں جیسا کہ ہر ہر وقت میں چلتے پھرتے نہیں تھے اور یہی مطلقہ عامہ ہے۔ ایسا ہی طعام کے کھانے کا ان کے لئے امکان ثابت ہوا۔ پس جب کہ اس مطلقہ اور ممکنہ کو لا دوام کی قید لگادیں گے تو یہ قضیہ وجودیہ لادائمہ ہوا کہ اس کی پہلی جز آیت مذکورہ سے ثابت ہوئی اور دوسری یعنی لا دوام کا مفہوم ہماری سابق تقریر سے پایۂ ثبوت تک پہنچی۔

البتہ اس وجودیہ کو بسبب اس کے کہ یہ ایک مقید اور خاص چیز ہے۔ ضروریہ وغیرہ لازم ہے۔ لیکن چونکہ یہ خاص ہے اور خاص زیادہ تر قابل اعتبار ہوتا ہے تو وجودیہ ہی معتبر ٹھہرے گا۔ اس لئے اس کی دو جزو لے کر قضیہ بنائیں گے۔ پھر دیکھیں کہ وہ اسلامیوں کے عقیدہ سے مخالف ہے یا نہ۔ دیکھو ہر رسول بعض اوقات میں طعام کھاتے ہیں اور کوئی رسول بعض اوقات میں طعام نہیں کھاتا۔ اب غور سے دیکھو کہ یہ قضیہ ہرگز عقیدہ اسلامی کی مخالفت نہیں رکھتا۔ کیونکہ یہ قضیہ کہ مسیح علیہ السلام بعض اوقات میں طعام کھاتے تھے اور بعض اوقات میں نہیں کھاتے تھے۔ یہی صادق ہے۔ اچھا صاحب یہ جو ہم بیان کر آئے ہیں کہ بھوک ضروری الثبوت نہیں ہے۔ سو اس کی دلیل یہ ہے کہ درونی اور برونی اسباب کے سبب اجزاء گھٹتے ہیں۔ ان کے بدلے اجزاء کے چاہنے کو بھوک کہتے ہیں۔ پس جب یہ گھٹنا متحقق ہوگا تو بھوک بھی متحقق ہوگی۔ پھر بدیہی ہے کہ جب تحلل یعنی گھٹنے کے اسباب مختلف ہوں گے تو بالضرور تحلل کے درجہ بھی مختلف ہو جائیں گے۔ مگر یہ بھی ظاہر

١٨

صفحہ ٦٨٨

ہے کہ تخلل کے درجہ بے شمار ہیں۔ پس بظاہر ایں کہ کہیں ادنیٰ اور کہیں اعلیٰ ہے۔ ہر ایک دوسرے سے سلب کیا جاسکتا ہے اور کہہ سکتے ہیں کہ ادنیٰ تخلل نہیں ہے اور اعلیٰ ادنیٰ نہیں ہے۔ غرض کہ جس مرتبہ اور درجہ کو مدنظر رکھیں اس سے جو ادنیٰ ہے یا اعلیٰ اسے اس درجہ معینہ سے مسلوب کرنا جائز ہے۔ ویسے ہی ان دونوں کو اس معین درجہ سے رفع کرسکتے ہیں تو گو یہ اجمالاً حکم لگایا گیا ہے کہ ہر ہر درجہ کا اپنے ماسوا سب درجات سے مسلوب ہونا ممکن ہے۔ جیسا کہ باقی درجات کا سلب اس درجہ سے ممکن ہے۔

اب واضح ہو گیا کہ یہ سلب مقید ہے۔ جب یہ ممکن ہوا تو صاف ثابت ہوا کہ واقع میں بھی سلب ممکن میں ہے۔ وہ کیوں مطلق ہو سو اس کی وجہ یہ ہے کہ سلب واقعی میں کسی درجہ میں متحقق ہونے کا لحاظ نہیں ہے۔ لیکن سب کے ممکن ہونے سے یہ لازم آیا کہ تخلل کا سرے سے ہی مسلوب ہونا ممکن ہوا۔ پس بھوک کا سلب بھی سرے سے ممکن ٹھہرا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ بھوک خود ضروری الثبوت نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے تھے۔ ہاں یہ گمان نہ کرنا چاہئے کہ تخلل کا سلب ممکن ہی ممکن ہے۔ نہیں بلکہ خداوند تعالیٰ کے کلام سے اس کا وقوع بھی ثابت ہے۔ آیت میں خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے آدم تجھ کو بہشت میں نہ بھوک لگے گی اور نہ تم اس میں برہنہ ہوگے اور نہ تجھ کو پیاس لگے گی اور نہ تم اس میں چاشت کا وقت دیکھو گے۔ بھوک کا ان کو بہشت میں عارض نہ ہونا اس لئے تھا کہ وہاں تخلل نہیں تھا۔ جیسا کہ چاشت کا وقت آفتاب کے نہ ہونے کے سبب نہیں تھا۔ اگر اس کے جواب میں کہیں گے کہ اس سے مقصود یہ ہے کہ ہر ہر وقت میں بھوک نہیں لگے گی یا سخت بھوک نہیں عارض ہوگی۔

سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غلط ہے۔ ورنہ چاہئے جہاں کہیں حرف نفی داخل ہوا ہو۔ وہاں پر ایسا ہی مراد ہو۔ حالانکہ اس قسم کی تجویز تب تک صحیح نہیں ہے جب تک کہ کوئی ضرورت نہ ہو۔ پھر یہاں پر کہئے کہ کون سی ضرورت درپیش ہے کہ ظاہر معنی چھوڑ کر ایک ایسے معنی مراد رکھ لیں کہ اس کی طرف ذہن کا انتقال بھی نہیں ہوتا۔ اگر ضرورت یوں ثابت کریں کہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے آدم تم اور تمہاری بی بی بہشت میں رہو اور اس میں فلانے درخت کے سوا جس درخت کا پھل کھانا چاہو گے کھاؤ تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ بہشت میں بھی بھوک عارض ہوتی ہے۔ لہٰذا جہاں پر بھوک کی نفی کی گئی ہے۔ وہاں سخت بھوک یا دائمی بھوک مراد رکھ لینا چاہئے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں صرف آدم و حوا کے لئے بہشت میں کھانا مباح اور جائز کر دیا گیا

١٦

صفحہ ٦٨٩

ہے اور اس سے بھوک کا اس میں متحقق ہونا لازم نہیں آیا ہے۔ اس واسطے کہ یہ ایسا ہے جیسا کہ دنیا میں میوہ جات استلذاذ کے لئے کھائے جاتے ہیں نہ بھوک کے لئے ویسے بھی بہشت میں جو طعام کھانے کی اجازت دی گئی ہے اور دی جائے گی۔ وہ تو صرف تلذذ کے واسطے ہے۔ اس پر بھی اگر اے مخالف قانع نہیں تو تفسیر تیسیر اور وجیز کا مطالعہ کر ایسا کیوں نہ ہو کہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ بہشت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کا نام ریّان ہے۔ اس میں سے جو داخل ہوگا پیئے گا اور جو پیئے گا پھر کبھی اس کو پیاس نہیں لگے گی۔ ظاہر ہے کہ پیاس اور بھوک میں کچھ فرق نہیں ہے۔ پس جیسا کہ پیاس کا نہ ہونا ممکن ہوا۔ اسی طرح پر بھوک کا نہ ہونا بھی جائز ٹھہرا۔

سوال یہ جو تم نے کہا ہے کہ جب تحلل کا سلب ممکن ہوا تو بھوک کا عدم بھی ممکن ٹھہرا۔ یہ تو ایسی ایک بات ہے کہ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ علت کے نہ پائے جانے سے معلول کا نہ پایا جانا لازم نہیں ہوتا۔ پھر کیسے آپ کہتے ہیں کہ تحلل کے غیر متحقق ہونے سے بھوک کا غیر متحقق ہونا جائز ہے۔ کیوں درست نہیں کہ بھوک کے لئے اور ہی کوئی علت ہو۔ جس کے تحقق سے اس کا بھی تحقق لازم ہو۔ کیا زید کا نہ مرنا اگر یوں ثابت کرنا چاہیں کہ وہ پہاڑ پر سے گر کر نہیں مرا، صحیح ہوگا۔ کیونکہ زید کا مرنا چھت یا درخت پر سے گرنے سے بھی متحقق ہوسکتا ہے۔ علیٰ ہذا القیاس! مرنے کے لئے اور اسباب بھی ہیں۔ جن کے عارض ہونے سے زید مر سکتا ہے۔ پھر اگر ان اسباب میں سے ایک سبب نہ پایا جاوے گا تو کیا زید کا مرنا جائز نہیں ہوگا۔ بلکہ ہوگا ویسے ہی وہ حکم جو آپ لگا چکے ہیں صحیح نہیں ہے۔ الجواب علت دو طرح پر ہے۔ ایک یہ کہ اگر علت متحقق نہ ہو تو معلول ہرگز متحقق نہیں ہوگا۔ سو اس صورت میں معلول کا اس علت کے بدون پایا جانا ہرگز جائز نہیں۔ کیونکہ بایں معنی علتیں دو تین نہیں ہوسکتیں۔

پس جب کہ اس علت کا تعدد اور تکثر جائز نہیں ہے تو معلول اس میں منحصر ہوگا اور علت اس کو لازم ہوگی۔ اس لئے کہ اگر معلول اس علت کے بغیر پایا جائے گا تو ملزوم کا لازم کے بغیر پایا جانا متحقق ہوگا۔ حالانکہ یہ باطل ہے۔ لہٰذا ہمارا یہ قول کہ: ”بھوک نہیں ہے۔ کیونکہ تحلل نہیں ہے۔“ صحیح ہوا۔ کیونکہ تحلل بایں معنی کہ: ”وہ اگر نہ متحقق ہو تو بھوک بھی متحقق نہیں ہوگی۔“ بھوک کے لئے علت ہے۔ تحلل بھوک کے واسطے علت بایں معنی نہیں ہے کہ وہ جس وقت پایا جاوے گا تو بھوک بھی متحقق ہوگی۔ (یعنی بمعنی اذا وجد فوجد) اس لئے یہ استدلال کہ: ”بھوک کا غیر متحقق ہونا ممکن ہے۔ کیونکہ تحلل کا عدم جائز ہے۔“ درست ہوگا۔ البتہ بھوک کا کھانے کے واسطے بمعنی دافع لدخول الغذاء

١٧

صفحہ ٦٩٠

(اس کا معنی وہی ہے جو ابھی گزرا) علت اور سبب ہے۔ کیونکہ کھانا بھوک کے بغیر بھی متحقق ہو سکتا ہے۔ کیا دیکھتے نہیں کہ لذت یا کسی علاج کے واسطے بھی کھاتے پیتے ہیں۔ قادیانی اس استدلال کو بھی پیش کرتے ہیں کہ خداوند عزاسمہ فرماتا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے نہیں تھے۔ نیز کہ ہم نے یا رسول اللہ ﷺ آپ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشگی نہیں دی ہے۔ کیا اگر آپ مر جائیں تو آپ کے مخالف ہمیشہ رہیں گے۔

اس استدلال کی توضیح وتنقیح اس طرح پر ہے کہ مسیح علیہ السلام اگر اب تک زندہ ہوتے تو ان کا ہمیشہ زندہ ہونا لازم آئے گا۔ حالانکہ خداوند تعالیٰ نے صاف ظاہر فرمایا ہے کہ کسی کو ہمیشگی نہیں ہے۔ الجواب دونوں آیتوں میں جو ہمیشگی کی نفی کی گئی ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ طویل العمر بھی نہیں بنایا گیا۔ بلکہ دراصل اس کا معنی تو یہ ہے کہ کوئی ابدالآباد خدا کی طرح زندہ نہ رہے گا۔ اگر اے مخالف اس پر آگاہی نہیں ہے تو کتب لغات مفاہیم قرآن کو غور سے دیکھو۔ دیکھتے نہیں کہ قرآن شریف میں بہشتیوں کے حق میں فرمایا ہے کہ وہ بہشت میں خالدین اور ہمیشہ رہیں گے۔ دوزخیوں کے حق میں ارشاد ہے کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ لہٰذا دونوں آیتوں میں جو خلود ہمیشگی مذکور ہے اس کے معنی دوام ہیں۔ پس اگر نفی ہے تو دوام کی ہے لا غیر!

(یعنی نہیں کوئی ایک بھی آدمیوں میں سے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے ) دائمہ موجبہ جزئیہ مطلقہ کی نقیض ہے۔ (وہ یہ ہے کہ بعض آدمی دائمًا زندہ ہیں) لیکن یہ قضیہ کاذب ہے۔ اس لئے کہ اس کی نقیض کہ : ”نہیں ہے کوئی بشر بالفعل زندہ“ صادق ہے۔ کیونکہ اس کا ملزوم (یعنی نہیں ہے کوئی ایک بھی آدمیوں میں سے ۔ الخ) جو قرآن سے ثابت ہو حق ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ملزوم کے متحقق ہونے کو لازم کا تحقق ضروری ہے۔

پس یہ مطلقہ عامہ سالبہ کہ نہیں ہے کوئی بشر بالفعل (تین زمانوں میں کسی زمانہ میں) زندہ مسیح علیہ السلام کی موت کو زمانہ گذشتہ میں مستلزم نہیں ہے۔ کیونکہ جس چیز کا پایا جانا تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانہ میں معتبر ہو تو اس کا خاص ماضی یا خاص مضارع میں متحقق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ یوں ضروری ہے کہ وہ (جیسے موت مسیح کا) کسی نہ کسی زمانہ میں وجود ضروری ہے۔ خواہ استقبال میں ہی ہو۔ ماضی میں تو ضروری نہیں ہے۔ پر ظاہر ہے کہ اہل اسلام سلفاً وخلفاً اس کے قائل ہیں کہ مسیح علیہ السلام بعد نزول قرب قیامت کے مریں گے۔ اب یہ قرآن سے بالکل مخالف نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن سے تو دوام الحیوٰۃ کی نفی ثابت ہے۔ جو ہمارا اعتقاد اور باقی اسلامیوں کا

١٨

صفحہ ٦٩١

عقیدہ ہے۔ اس کے منافی نہیں ہے۔ بناء علیہ ہم کہتے ہیں جو ثابت ہوا وہ محال نہیں۔ جو محال ہے وہ ثابت نہیں۔ سوال دونوں آیتوں میں خلود کا معنی طول بقاء بطور مجاز کے ہے۔ جواب یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ اس لفظ کا وضعی اور حقیقی معنی سے چھوڑ کر غیر حقیقی میں مستعمل کرنا تب ہی جائز ہوگا کہ کوئی قرینہ جو حقیقی میں استعمال کرنے سے روکتا ہو، پایا جاوے۔ لیکن قرینہ تو موجود نہیں ہے۔

البتہ اگر عمر کے واسطے کوئی معین حد ہوتی تو بیشک یہ قرینہ تھا۔ مگر وہ بھی معین نہیں ہے۔ پہلے ماسواء اس بات پر کہ عمر طبعی ایک سو بیس برس ہے۔ غرہ نہ ہو جاؤ یہ تو ایک مشہور سی بات تحقیق سے مخالف ہے۔ اس پر نہ تو نقلی نہ عقلی دلیل ہے۔ نیز مشاہدہ کے برخلاف ہے۔ کئی لوگ ایسے پائے گئے ہیں اور پائے جاتے ہیں جو اس عمر سے متجاوز ہو کر مرتے ہیں۔ خود اطباء نے بھی تصریح کی ہے۔ اس مشہور بات پر کوئی بھی دلیل نہیں ہے۔ خاص کر شرع شریف سے تو صاف صاف ثابت ہے کہ یہ عمر طبعی نہیں ہے۔ دیکھو قرآن شریف میں نوح علیہ السلام کی نسبت ارشاد ہوا ہے کہ نوح قوم کے درمیان ساڑھے نو سو برس تک رہے ہیں۔ مع ہذا اگر قادیانی وہ معنی لیں گے تو قرآن شریف میں تناقض ثابت ہوگا۔ حالانکہ یہ باطل ہے۔ خداوند تعالیٰ ہم کو گمراہوں کی گمراہی، زندیقوں کی زندیقی سے اپنی پناہ میں رکھے۔ صالحین کے زمرہ میں داخل کرے۔ پروردگار ہم کو ہادی، ہدایت یاب مقتداؤں سے بطفیل اپنے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ کی آل واصحاب کے بناوے۔ قادیانی اپنے مدعا کے ثابت کرنے کے لئے یوں بھی دلیل پیش کرتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض تم میں سے اے بنی آدم ایسے ہیں کہ وہ ارذل عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی مارے جاتے ہیں۔ بعض ایسے بھی ہیں کہ ان کو ہم ارذل العمر تک پہنچاتے ہیں۔ پھر پیر فرتوت بناتے ہیں۔ ایسا کہ وہ سیکھے سکھائے کو بھول جاتا ہے۔ اس استدلال کی اصلاح اس طرح پر ہے کہ جس طرح جفت اور طاق عدد کے افراد کو حاصر ہے۔ ویسے ہی مرجانا۔ ارذل العمر تک پہنچنا تمام افراد انسان کو حاصر ہے۔ پس جیسے کہ عدد کے افراد میں جفت وطاق جمع نہیں ہوتا نہ دونوں سے خالی ہوتے ہیں۔ ویسے ہی افراد انسان ان دونوں سے نہ تو خالی ہو سکتے ہیں اور نہ یہ دونوں ان میں اکٹھے پائے جاسکتے ہیں۔ پس یہ ایک قضیہ منفصلہ حقیقیہ ہوا۔ اب بھی اگر تم کہو گے کہ مسیح علیہ السلام نہ تو مر گئے ہیں اور نہ ارذل العمر ان کو عارض ہو گئی ہے تو بدیہیۃً ان دونوں کا افراد انسان کی بعض سے ارتفاع لازم آوے گا۔ حالانکہ دونوں کا مرتفع ہونا باطل ہے۔ چونکہ یہ امر محال مسیح علیہ السلام کی زندگی کے فرض کرنے سے لازم آیا تو مفروض بھی محال ہوا۔ جب زندگی محال ہوئی تو اس کی نقیض (یعنی ان کا مرنا) ثابت ہوئی۔ یہی مقصود تھا۔

١٩

صفحہ ٦٩٢

الجواب! من يتوفی (بمعنی جو شخص مارا جاتا ہے) اور من یرد (یعنی جو شخص ارذل العمر تک پہنچایا جاتا ہے) کے ظاہر معنی کے طرف لحاظ کر کے یہ تقسیم درست نہیں ہے۔ سبب یہ ہے کہ: ”جو ارذل العمر کی طرف مردود ہوتا ہے وہ باعتبار اپنے معنی کے من یتوفی میں داخل ہے۔ کیونکہ وہ خاص اور یہ عام ہے۔ کیا یہ معلوم نہیں ہے کہ جو ارذل العمر تک پہنچتا ہے اس کو بھی موت لاحق ہوتی ہے اور ہر موت اس کے بغیر بھی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ یہ بات اسی آیت سے ثابت ہے۔ پس متوفی جب کہ من یرد سے عام ہوا تو یہ تقسیم اس لئے درست نہیں ہے کہ یہ ایک چیز کو اپنے آپ اور اخص پر بانٹنا ہے۔“ حالانکہ تقسیم جب ہی درست ہوتی ہے کہ اقسام مقسم سے مغائرت رکھتی ہو۔ نہ کہ ایک قسم عین مقسم ہو اور دوسرا غیر۔ بلکہ ایسی تقسیم متصور بھی نہیں ہے۔ اس لئے کہ تقسیم کے یہ معنی ہیں کہ ایک چیز کو بلا اس کے کہ اس میں خصوصیہ اور عموم کا لحاظ کریں۔ لے کر اس کو مختلف قیدیں لگائی جائیں۔ پھر اگر یہ تقسیم اعتباری ہے تو مضاف الیہ یا صفت وغیرہ کے ساتھ عبارت میں تقیید داخل ہوگی۔ معنوی سے خارج جیسے مطلق سیاہی کو جب پتھر کی یا گھوڑے کی یا حبشی کی سیاہی کی طرف مقسم کریں یا تقسیم واقع ہوگی۔ لیکن یہ تب ہوگی کہ ماہیت کو فصول کے ساتھ تقسیم کریں گے۔ مگر اس صورت میں فصل کی قید معنوی میں داخل ہوگی۔ جیسے کہ حیوان کو ناطق یا ناہق سے مقید کریں۔ قید مع مقید پر انسانیہ یا حماریہ کا حکم لگاویئے۔ یا اگر ماہیت کو عوارض سے مقید کر کے تقسیم کریں۔ قید کو معنوں میں داخل سمجھیں۔

چنانچہ لکھنے والا انسان۔ غیر کاتب انسان پس صورت اولیٰ میں حیوان انسان۔ حمار کہلائے گا۔ دوسری صورت میں زید اور عمرو وغیرہ کہلائے گا۔ یہی تقسیم ہے۔ جب یہ سمجھ گئے تو یہ بھی سمجھ لیں کہ انسان کو اگر متوفی بمن یرد کی طرف تقسیم کریں گے تو یہ تقسیم ایسے عوارض کے ساتھ ہو گی۔ جو الگ قسم اور خاص بنانے والے ہیں۔ کیونکہ جو چیز کہ حقیقت سے خارج ہو وہ عرض ہے۔ پس چونکہ توفی اور ردیہ دونوں انسان کی حقیقت سے خارج ہیں عوارض ہیں۔ لیکن تقسیم میں جو یہ بات ضروری ہے کہ اقسام آپس میں غیریت رکھتے ہوں اور ہر ایک جب ہی ممتاز ہوگا کہ ایک کا وصف دوسرے میں تحقق نہ ہو۔ حالانکہ توفی ایسا نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ وصف من یرد میں بھی متحقق ہوتا ہے۔ پس اس وصف کی ایک چیز کے ساتھ کیا خصوصیت رہی۔ کیا تمیز دے سکتا ہے۔ لہٰذا قادیانی نے جس کو تقسیم سمجھا تھا وہ تقسیم ہی نہیں ہے۔ ہاں بلاشبہ اگر مطلق من یتوفی کو لے کر یہ دو قسم کر ڈالیں تو صحیح ہے۔ چنانچہ کہیں ایک من یتوفی وہ ہے کہ جس کو رد کی حالت عارض نہیں ہوتی۔ ٢٠

صفحہ ٦٩٣

دوسرا وہ ہے کہ جس کو یہ حالت عارض ہوتی ہے۔ البتہ اس طریق پر متوفی دونوں میں مشترک ہوگا۔ اب جس طرح کہ حیوان کل مقسم ہے۔ حیوان ناطق ہے۔ حیوان ناہق ہے۔ اس کے دو قسم ہیں۔ ویسے ہی مطلق متوفی محل تقسیم ہے اور متوفی جس میں ردی حالت کا عارض نہ ہونا معتبر ہے اور متوفی کہ جس میں اس حالت کا عارض ہونا ملحوظ ہے۔ اس کے دو قسم ہوں گے۔ مطلق متوفی کے جو لازم ہے۔ محصور ہونے سے انسان کا جو ملزوم ہے۔ محصور ہونا تحقق ہوا۔ رہی یہ بات کہ مسیح علیہ السلام کا اگر زمانہ ماضی میں نہ مرنا ہی مانا جائے تو یہ اس حصر سے منافی ہے۔ سو یہ غلط ہے۔ کیونکہ مسیح علیہ السلام پہلی شق (یعنی متوفی سوا اس کے کہ اس کو ردی حالت عارض نہ ہو) میں داخل ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کا زمانہ ماضی میں نہ مرنا منافی حصر نہیں ہے۔ اس لئے کہ حصر صحت کے واسطے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ زمانہ مستقبل میں مرجائیں۔ حصر کے لوازم سے یہ تو نہیں ہے کہ وہ زمانہ ماضی میں مرگئے ہوں۔ کیا دیکھتے نہیں کہ شق اوّل بصیغہ مضارع مجہول آیت میں بیان کی گئی ہے۔ نہ بصیغہ ماضی مجہول۔ شاید قادیانی مضارع و ماضی میں فرق نہیں کرتے ہیں۔ اس واسطے جو کچھ خیال میں آیا لکھ مارا۔ بیشک اگر مسیح علیہ السلام کا دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنا مانا جاتا تو یہ حصر سے منافی تھا۔ وجہ یہ ہے کہ پھر تیسری قسم کا انسان جس میں مطلقاً توفی نہیں تھا ماننا پڑتا۔

پس بریں تقدیر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس قسم کے انسان میں مطلق توفی پایا جاتا ہے یا نہ۔ اگر پایا جاتا ہے تو یہ باطل ہے۔ کیونکہ ابدیت ایک تو منافی موت ہے۔ دوم اس صورت میں حصر باطل ہوتا ہے۔ اس واسطے اس صورت میں مقسم کا ان دونوں قسموں کے بغیر جن کی طرف اس کو تقسیم کی گئی تھی موجود ہونا لازم آئے گا۔ اگر انسان میں مطلق توفی متحقق نہیں ہے۔ اس سبب کہ وہاں پر اس کا محل جن میں منحصر تھا پائے نہیں جاتے تو اس سے دو محالوں میں سے ایک محال لازم ہوگا۔ یا یہ کہ توفی انسان کو لازم نہیں۔ حالانکہ یہ باطل ہے۔ اس لئے کہ خداوند فرماتا ہے کہ ہر ایک نفس موت کا مزہ چکھے گا یا لازم آئے گا کہ ایک لازمی امر کسی چیز میں منحصر ہو اور ملزوم اس میں منحصر نہ ہو۔ یہ بھی محال ہے۔ کیونکہ اس صورت میں لازم کا ملزوم سے جدا ہونا ظاہر ہے۔ حالانکہ یہ بھی باطل ہے۔ اب چونکہ یہ سب محالات اس صورت پر عائد ہوتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کا ہمیشہ زندہ رہنا مان لیا جائے تو یہ بھی باطل ہوا۔ لیکن یہ محالات جس تقدیر پر کہ مسیح علیہ السلام کے لئے طول بقا۔ مستقبل میں مرجانا مراد لیں تو عائد نہیں ہوتے۔ اب تک قادیانی عبارات کے عموم سے استدلال کرتے تھے۔ اب اپنے مدعا کے لئے حدیث معراج پیش کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس

٢١

صفحہ ٦٩٤

حدیث میں مذکور ہے کہ رسول کریم ﷺ نے دوسرے آسمان پر مسیح یحییٰ علیہم السلام سے ملاقات کی تنقیح الاستدلال اگر مسیح علیہ السلام مرے نہ ہوتے تو یحییٰ علیہ السلام کے ساتھ جو اموات میں داخل ہیں کیوں مجتمع ہوتے۔

الجواب! کہ یہ قول بالکل لچر ہے۔ کیا اگر اموات کے ساتھ مجتمع ہونا مصاحب کے میت ہونے کو بھی چاہتا تو رسول کریم ﷺ جو معراج کی رات میں اموات کے ساتھ مجتمع ہوئے تھے تو وہ بھی اس حالت میں میت ہی تھے۔ آپ کو کیا مر کر معراج ہوا تھا۔ زہے دانش!

شاید قادیانی یوں بھی کہہ دیں کہ مدت دراز تک میت کے ساتھ مجتمع ہونا یہ اس کو چاہتا ہے کہ ہم صحبت بھی میت ہو۔ سو یہ بھی غلط ہے۔ اوّلاً کہ جائز ہے کہ یحییٰ علیہ السلام کا دوسرا آسمان مقرر نہ ہو۔ بلکہ اس خاص وقت میں ان کو دوسرے آسمان پر مستقر ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ جیسا کہ رسول کریم ﷺ کو حضرات انبیاء علیہم السلام سے مسجد اقصیٰ میں یا آسمانوں پر خواہ ارواح متمثل تھے یا بمعہ اجساد بعینہا ملاقات ہوئی تھی۔ حالانکہ ان کے ارواح اعلیٰ علیین تھے۔ یہ سب ممکنات سے ہے۔ یا یہ کہ ان کا دراصل مقر قبور ہی ہیں۔ (چنانچہ حدیث میں آچکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا گیا ہے) لیکن ان کو اس وقت آسمان پر یا مسجد اقصیٰ میں جانے کا حکم دیا گیا تھا۔

سوال یہ تو ہمارا عین مدعا ہے کہ معراج مثالی ہے۔

الجواب! آپ کے معراج کو مثالی جان لینا ہی غلط ہے۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کا یہ معراج جسد عنصری لطیف کے ساتھ تھا نہ مثالی اور کشفی طور پر کیونکہ صحیح احادیث میں جو حالات آمد و رفت کے حالت میں مذکور ہیں ان سے صراحۃً معلوم ہوتا ہے کہ یہ جسمانی معراج تھا۔ ہاں مثال کو دیکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ انہوں نے مثال کے ساتھ ہی دیکھا ہو۔ مثال کا مرئی ہونا اور ہے اور رائی ہونا اور ہے۔ کیا دیکھتے نہیں کہ آپ نے معراج کی حالت میں کئی چیزوں کی مثال کو اور کئی چیزوں کے عین کو ملاحظہ فرمایا ہے۔ چنانچہ احادیث صحیحہ کے پڑھنے سے معلوم ہوگا۔ لہٰذا کوئی محال عائد نہیں ہو سکتا۔ اس سے بخوبی واضح ہو گیا ہے کہ مسیح علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام کے دوسرے آسمان پر مجتمع ہونے سے دونوں صاحبوں کا آسمان دوم پر مقیم ہونا ضروری نہیں ہے۔ پھر یہ کب لازم آسکتا ہے کہ جیسے یحییٰ علیہ السلام میت تھے، ویسے ہی مسیح علیہ السلام بھی ہونے چاہئے۔ ثانیاً گو دو شخص ایک ہی مکان میں دائمی طور پر مقیم بھی ہوں تو کیا اس سے ان دونوں کا ہر ہر وصف میں یکساں ہونا لازم ہے۔ ہرگز نہیں جیسا کہ ظاہر ہے۔ قادیانی اپنے گمان فاسد سے اس آیت کو بھی

٢٢

صفحہ ٦٩٥

اپنے مدعا کے لئے دلیل سمجھتے ہیں کہ اس آیت ”انی متوفیک“ اور دوسری آیت ”فلما توفیتنی“ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسیح (علیہ السلام) میں تیرا متوفی ہوں۔ جب تو نے مجھ کو توفی دی۔ لیکن دراصل یہ استدلال محض طمع بے علموں کو ورطہ ضلالت میں ڈالنے کے لئے کافی ہے۔ خیر بہر حال ہم اس کی تردید کریں گے وہ یوں ہے کہ توفی کا معنی لغۃً کسی چیز پر پورے طور پر قبضہ کرنا ہے۔ اس کا مادہ (یعنی جس سے یہ لفظ لیا گیا ہے اور اس کو ماخذ بھی کہتے ہیں) وفا ہے۔ پر قاعدہ مقررہ مسلمہ ہے کہ ماخذ کا معنی ماخوذ کے تمام گردانوں میں معتبر ہوتا ہے۔ گو ان کی صورتیں اور صیغہ مختلف ہوں۔ ماخذ کا معنی ماخوذ میں اس طرز پر داخل ہوتا ہے۔ جیسے کہ جز کل میں داخل ہوتی ہے۔ دیکھو علم کا لفظ (خواہ اس کا معنی عند العقل شے کی صورت کا حاصل ہونا ہو۔ یا عالم و معلوم کے درمیان نسبت ہونا خواہ کہ ایک اضافت والی چیز ہے یا صورت حاصلہ یا دانش ہے۔ یا شئی کی صورت کا حاصل کرنا وغیرہ) گو کسی معنی سے اس کو لو۔ وہ ضرور اس کے ماخوذ میں پایا جائے گا۔ وہ ماخوذ ابواب مجردہ سے ہو یا مزیدہ سے۔ مثلاً علم (جان لیا اس نے) ماضی معلوم کے ساتھ اس کا معنی پہلی اصطلاح کے موافق یہ ہے کہ فلانے نے فلانی چیز کی صورت زمانہ گزشتہ میں اپنی عقل میں حاضر کی۔ دوسری اصطلاح کے مطابق فلانے کو اپنے آپ کے اور معلوم کے درمیان ایک نسبت (عالمية معلومية) حاصل ہوگئی ہے۔ اسی طرح پر اوروں میں جاری کرو۔ تا ہر ایک میں وہی پائیں گے جو ہم بیان کر آئے ہیں۔ پس جب کہ علم کا لفظ جو صیغہ ماضی معلوم ہے۔ اپنے مصدر اور ماخذ پر بھی شامل ہوا تو اس میں تین جزؤں کی ترکیب ہوگی۔ ایک مصدر، دوم زمانہ، سوم فاعل کی طرف نسبت۔ لیکن یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ یہ دو جز ہیں۔ ایک نسبت دوم زمانہ ہر ایک میں خواہ مصدر مجرد سے لیا گیا ہو یا اس سے جو اس مجرد سے لیا گیا ہے۔ ماخوذ متحقق ہوں گے۔ البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک ماخوذ میں پایا جاوے۔ نہیں بلکہ افعال میں نہ غیر میں۔ دیکھو علم سے عالم ماخوذ ہے۔ مگر اس میں فاعل کی طرف نسبت ہے اور نہ زمانے کے جانب۔ ہاں اتنا تو ہے کہ اس کا ماخذ یعنی علم اس میں موجود ہے۔ ایسا ہی اعلام (سکھانا) جو اسی علم سے ماخوذ ہے۔ اس میں نہ تو فاعل کی طرف نسبت ہے اور نہ زمانہ کی جانب۔ ہاں اس کا ماخذ اس میں موجود ہے۔ نیز اس میں باب افعال کا مقتضاء جس لئے یہ متعدی ہوا۔ (حالانکہ اس کے مآخذ میں یہ نہیں ہے) پایا جاتا ہے۔ لہٰذا اس میں دو جزو متحقق ہیں۔ اعلام سے جو علم سے لیا گیا ہے۔ اعلم بصیغہ ماضی معلوم مشتق ہے۔ اس لئے اس میں چار جز ہیں۔ ایک علم جو مصدر ہے۔ دوم باب افعال کا مقتضا۔ سوم فاعل کی طرف ٢٣

صفحہ ٦٩٦

نسبت ۔ چہارم زمان ۔ جب یہ ثابت ہوا تو پھر ضرور ماننا پڑے گا کہ توفی کے معنی میں وفا داخل ہے۔ کیونکہ وہ وفا سے ماخوذ ہے۔ نیز اقرار کرنا پڑے گا کہ باب تفعل کا مقتضاء جو اخذ ( بمعنی لے لینا ) ہے۔ اس میں معتبر ہے۔ پس جو الفاظ توفی سے ماخوذ ہیں۔ بشرطیکہ وہ زمانہ پر دلالت کرتے ہیں۔ چار چیزوں پر شامل ہوں گے۔ جیسا کہ توفیت (پورا لے لیا میں نے ) اور جو زمانہ پر دلالت نہیں کرتے ہیں ان کی تین جزئیں ہوں گی۔ دیکھو متوفّی اس لئے کہ اس میں زمانہ معتبر نہیں ہے۔ مختصر اً کہ جو جو صیغہ کسی مصدر سے لیا گیا ہو۔ اس میں یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ماخذ و مصدر پر شامل ہو۔ گو اس ترکیب کو حقیقی کہیں یا اعتباری۔ ہاں یہ تو ماننا ہی پڑتا ہے کہ اگر اس ترکیب کو تحلیلی کہیں گے۔ حق بھی یہی ہے تو شمول کا معنی یہی ہوگا کہ اس جزو اعتباری کا اس اعتباری کل سے اعتبار کر لینا جائز ہے۔

پس اگر توفی کا معنی وفا کو چھوڑ کر لئے جائیں گے تو یہ حقیقی نہیں ہوگا۔ اس واسطے کہ موضوع لہ بعض اجزاء کو الگ کر دینے سے کل ہی سے تخلیہ لازم آتا ہی نہیں تو باوجود انتفاء جزو کے کل کا تحقق چاہئے۔ (یہ اس صورت میں ہے کہ ترکیب حقیقی ہو) یا لازم آوے گا کہ جو حکماً کل ہے وہ حکمی جز کے بغیر متحقق ہو۔ حالانکہ یہ باطل ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ وہ مجازی معنی ہوگا۔ آخر یہ تو ظاہر ہے کہ لفظ کا استعمال یا حقیقتاً یا مجازاً ہوتا ہے۔ لیکن یہ خیال نہ کرنا کہ ماخذ ہی صرف معتبر نہ ہوگا ۔ تب ہی مجازی ہوگا۔ نہیں بلکہ کوئی جزو ہو۔ جب کہ اس کا انتفاء مان لیں گے۔ وہ مجازی ہی ہوگا۔ خواہ اس جز کا دخول وضع شخصی یا وضع نوعی کے ذریعہ سے ہو۔ پہلے کی مثال اینٹ کا دیوار میں داخل ہونا۔ دوسرے کی مثال ”مشتق کی جزو کا اس میں داخل ہونا۔ کیونکہ یہ دخول بوضع نوعی ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ہر لفظ جو مفعول کے وزن پر ہو وہ اس پر دلالت کرے گا کہ جس پر فعل واقع ہوا ہو۔ لہٰذا حقیقی معنی جب کہ مرکب ہو وہ تاوقتیکہ آپس میں تمام اجزاء متحقق نہ ہولیں۔ حقیقی نہیں کہلائے گا۔ اس کے مرتفع ہو جانے، مجازی بننے کے لئے ایک جزو کا بھی انتفاء کافی ہے۔ کیونکہ کل کا انتفاء جیسے کہ تمام اجزاء کے منتفی اور معدوم ہو جانے سے ہو جاتا ہے۔ ویسے ہی اس کا انتفاء کسی ایک جزو کے نابود ہو جانے سے ہوتا ہے۔“

اب دیکھو کہ یہ تحقیق سابق واضح طور پر اس پر دلالت کرتی ہے کہ متوفی کا معنی پورے طور پر لینے والا ہے۔ لاغیر ! یہی متوفی کا حقیقی معنی ہے۔ کیوں نہ ہو کہ جس کے حقیقی ہونے کو ضرورت ہے وہ پایا گیا ہے۔ وہ یہ ہیں۔ ایک وفا۔ دوم لے لینا۔ سوم فاعل کی طرف نسبت ۔ پس

٢٤

صفحہ ٦٩٧

آیت ”یعیسیٰ انی متوفیک“ جس کا مضمون یہ ہے کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تیرا متوفی اور اپنی طرف تیرا اٹھا لے جانے والا ہوں کہ اے مسیح میں تجھ کو پورے طور پر لینے والا ہوں۔ ایسا ہی آیت ”فلما توفیتنی الآیۃ“ سے بھی پورا اور تمام کا لے لینا مراد ہے۔ لیکن مسیح علیہ السلام پر جو پورا اور تمام مقبوض ہونا۔ صادق آئے گا۔ تب ہی ہے کہ وہ بجسدہ اٹھائے گئے ہوں۔ نہ اگر ان کی روح ہی صرف اٹھائی گئی ہو۔ اس لئے کہ خالی روح کا اٹھایا جانا تو تمام پر قبضہ نہیں۔ بلکہ ایک حصہ پر قبضہ ہوا۔ پھر باایں ہمہ اگر کہو گے کہ توفی کا اطلاق رفع روحی پر حقیقی ہے تو یہ ناجائز ہے۔ ہاں اگر یوں کہہ دیں کہ توفی کا معنی لے لینا ہے۔ مگر اس طرح پر کہ وفا سے مجرد ہے۔ خواہ یوں کہ وفا کا عدم اس میں اعتبار کیا گیا ہے۔ یا وفا اس میں معتبر نہیں۔ پھر وفا اس کو کبھی مقارن ہو یا کبھی مقارن نہ ہوتا ہو۔ وفا کے عدم کا اعتبار ایک چیز ہے۔ وفا کے اعتبار کا عدم اور چیز ہے۔ بناء بر ایں توفی کا اطلاق رفع روحی پر صحیح ہوگا۔ مگر اس پہلی صورت میں کل کا اطلاق جز پر ہوا۔ دوسری صورت میں عموم مجاز ہوگا۔ رہی یہ بات کہ کسی چیز کے عدم کے اعتبار اور اس چیز کے اعتبار کے عدم میں کیا فرق ہے۔ سو یہ فرق ہے کہ پہلا خاص دوسرا عام ہے۔ جزو جو کچھ ہے سو ہے۔ مگر اس میں شبہ نہیں کہ دونوں تقدیر پر یہ معنی مجازی ہے۔ نہ حقیقی لیکن مجازی لے لینا تو تب ہی جائز ہوتا ہے کہ جب کوئی ایسا قرینہ موجود ہو کہ اس کے ہوتے حقیقی لینا جائز نہ ہو۔ ہاں یہاں اس قسم کا کوئی قرینہ نہیں ہے۔ پھر کہو کہ یہ مجازی لے لینا کیونکر درست ہوگا۔ لہٰذا حقیقی ہی مراد لینا لازم ہوا نہ مجازی۔ یہ ظاہر ہے کہ حقیقی ومجازی کا مدار وضع ہے۔ خواہ وہ نوعی ہو یا شخصی بہرحال لفظ کو جب ان دونوں میں کسی وضعی معنی میں استعمال کریں گے تو وہ حقیقی استعمال ہوگا۔ ورنہ مجازاً ہوگا۔ پس مشتقات جو ایسے مادہ اور ہیئت ترکیبی سے کہ ان میں سے پہلا بوضع شخصی موضوع ہے۔

دوسرا بوضع نوعی مرکب ہیں۔ بسبب اس ترکیب کے مبداء پر باعتبار مادہ بوضع شخصی اور معنی ترکیبی پر بوضع نوعی دال ہیں۔ نیز جب اس طرز پر ہوں گے تو استعمال حقیقی اسی صورت میں ہوگا کہ دونوں وضع متحقق ہوں۔ نہ صرف ایک ہی متحقق ہو تو پھر بھی حقیقی ہی ہوگا۔ البتہ مجاز تین صورتوں میں پایا جا سکتا ہے۔ ایک جب کہ وضع شخصی نہ رہے۔ دیکھو ناطق اس کے مبداء کا موضوع لہ دراصل بوضع شخصی ادراک کلیات و جزئیات ہے۔ جب اس سے دال مراد لیں گے تو یہ استعمال مجازی ہوگا۔ ایسا ہی جب وضع نوعی کو اٹھا دیں۔ دیکھو قاتلہ جب کہ اس سے مقتولہ مقصود ہو۔ گو اس میں قتل جو اس کا مصدر ہے۔ اپنے اصل معنی پر دال ہے۔ مگر باعتبار اس کے کہ اس میں وضع نوعی

٢٥

صفحہ ٦٩٨

منتفی ہوا ہے مجازی ہوگا۔ اگر دونوں کو اٹھا دیں نیز مجازی ہوگا۔ دیکھو ناطق سے جس حالت میں مدلول مراد رکھ لیں گے۔ کیونکہ ناطق ”مدلول“ کے لئے نہ تو بوضع نوعی اور نہ بوضع شخصی موضوع ہے۔ اس لئے مستفسر ہے کہ لفظ متوفیک توفیتنی ان کو کسی معنی پر محمول کریں گے تو کون سا معنی ان سے مراد لیں گے۔ اگر پوری طور پر لے لینا مراد ہے تو یہ روح وجسد دونوں کے اٹھائے جانے کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ استعمال حقیقی ہوگا۔ کیونکہ حقیقت کا مدار وضع شخصی اور نوعی پر ہے۔ سو وہ پایا گیا ہے۔ اگر اس میں اخذ کو مراد رکھیں گے اور تمامیت کی قید مجرد سمجھیں گے۔ خواہ یوں کہ اخذ کے لئے تمامیت کا عدم قید ہے۔ یا مہمل طور پر لیں گے۔ یعنی اس کے ساتھ تمامیت کی قید لگی ہو یا نہ تو ان صورتوں میں یہ استعمال مجازی ہوگا۔ اس لئے کہ ان تقدیروں پر لفظ کا موضوع لہ بوضع شخصی سے ہٹانا متحقق ہوگا۔ لیکن یہ بات مسلمات سے ہے کہ حقیقی معنی کو قرینہ صارفہ کے بغیر چھوڑ کر مجازی کو اختیار کرنا نا جائز ہے اور قرینہ یہاں پر موجود نہیں ہے۔

پس لامحالہ حقیقی معنی ہی لینا پڑے گا۔ ہاں یہ جو تم کہتے ہو۔ متوفی سے مارنا ہی سریع الفہم ہے۔ سریع الفہم ہونا ہی قرینہ ہے۔ نیز مسلم نہیں ہے اس لئے کہ یا تو کہو گے کہ توفی سے بلاقرینہ مارنا۔ مرنا متبادر ہے۔ سو یہ تو پہلا ہی جھگڑا ہے۔ قرآن شریف میں تو کہیں بھی توفی اور متوفی کا لفظ مرنے مارنے میں بلاقرینہ مستعمل نہیں ہوا ہے۔ یا کہو گے کہ نہیں توفی اور متوفی سے مرنا۔ مارنا بمعہ قرینہ متبادر ہے۔ البتہ یہ مانا۔ لیکن حقیقی کی نشانی تو یہ ہے کہ وہ بلاقرینہ ہی متبادر ہو نہ بمعہ قرینہ۔ ورنہ سب مجازات حقیقی ہی بن جائیں گے۔ لہٰذا لفظ کی تقسیم حقیقت و مجاز کی طرف صحیح نہ ہوگی۔ کیونکہ بنا بر ایں مذہب کے تو مجاز ممکن بھی نہیں ہے۔ بیشک یہ ہمارا دعویٰ کہ قرآن شریف میں کہیں بھی توفی کا لفظ بلاقرینہ موت میں مستعمل نہیں کیا گیا ہے۔ ثبوت طلب ہے۔ لیکن ثبوت تو موجود ہے۔ دیکھو یہ آیت ”یتوفھن الموت“ یعنی وہ مرتے ہیں لیکن یہاں موت کا قرینہ موجود ہے وہ یہ ہے کہ توفی کو موت کی طرف اسناد کی گئی ہے۔ نیز اور بھی بہت سی آیتیں ہیں کہ جن میں توفی سے موت ہی مراد ہے۔ مگر ہر ایک میں موت کا قرینہ موجود ہے۔ دیکھو ”یتوفکم الموت ان الذين توفهم الملائكة تتوفهم الملائكة يتوفهم الملائكة طيبين توفته رسلنا رسلنا يتوفونهم يتوفى الذين كفروا والملائكة فكيف اذاتوفهم الملائکۃ“ یعنی تم کو ملک الموت موت کا مزہ چکھا دے گا۔ وہ لوگ کہ ”ملائکۃ الموت“ نے ان کو موت کا مزہ چکھایا۔ موت کا ذائقہ ان کو ”ملائکۃ الموت“ چکھائیں گے۔ ان کو ملائکۃ

٢٦

صفحہ ٦٩٩

الموت پاکیزگی کی حالت میں موت کا مزہ دکھائیں گے۔ ہمارے فرستادوں نے ان کو مارا۔ ہمارے فرستادہ یعنی ملک الموت ان کو ماریں گے۔ کافروں کو ملائکۃ الموت ماریں گے۔ کیا ہوگا۔ جس وقت کہ ان کو ملائکۃ الموت ماریں گے۔ اب دیکھو ان سب آیتوں میں بلا قرینہ توفی سے موت نہیں لی گئی۔ دیکھئے قرائن پہلی آیت میں ملک الموت کی طرف توفی مسند ہے اور یہی قرینہ ہے اور باقیوں میں قابض ارواح فرشتوں کی طرف توفی کو اسناد ہے اور یہی قرینہ موت ہے۔ ایسا ہی اس آیت میں ”وتوفنا مع الابرار“ جس کا معنی یہ ہے کہ ہم کو مار کر نیکوں کے زمرہ میں داخل کر اس میں ابرار کے ساتھ کی التجا قرینہ موت ہے۔ آیت ”توفنا مسلمین“ کہ اے خداوند تعالیٰ ہم کو اسلام پر مارنا۔ میں حسن خاتمہ کا سوال قرینہ موت ہے۔ آیت ”فاما نرینک بعض الذی نعدہم او نتوفینک فالینا یرجعون (مؤمن:٧٧)“ یعنی یا رسول اکرم ﷺ یا تو ہم آپ کو وہ بعض امور کہ جن کا ہم کافروں کو وعدہ دیتے ہیں دکھا دیں گے یا موت کا ذائقہ آپ کو چکھائیں گے۔ پھر ہماری طرف لوٹیں گے۔ اس میں مقابلہ قرینہ ہے۔ کیونکہ اگر ایک میں متقابلین میں سے کسی چیز کا وجود معتبر ہو تو دوسرے میں اس چیز کا عدم معتبر ہوتا ہے۔ کیا جانتے نہیں کہ حرکت میں جو سکون کی ضد ہے۔ بتدریج منتقل ہونا معتبر ہے اور اس کی ضد میں یعنی سکون میں اس انتقال کا عدم معتبر ہے۔ پس چونکہ آیت مذکورہ میں دکھانے (ارائت) کا مقابل نتوفینک (ہم تجھ کو ماریں گے) مقرر کیا گیا ہے۔ ارائت میں زندگی کا وجود معتبر ہے تو بالضرار اس کے مقابل یعنی نتوفینک میں اس زندگی کا عدم معتبر ہو ورنہ تقابل کیسا ہوگا۔ یہی قرینہ موت ہے۔ اسی طرح پر آیات ذیل میں قرائن موجود ہیں۔ دیکھو ”والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ لازواجہم البقرہ:٢٤٠“

”والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسہن اربعۃ اشہر و عشراً (بقرہ:٢٣٤)“ یعنی جو لوگ تم میں سے بیویاں چھوڑ مریں تو وہ بیویاں چار مہینہ اور دس دن عدت الموت کاٹیں۔ جو لوگ تم میں سے بیویاں چھوڑ مریں تو ان پر ازواج کے لئے وصیت کرنا لازم ہے۔ اب دیکھئے دوسری میں موت کے دو قرینہ ہیں۔ ایک بیویوں کو چھوڑنا دوم عدت الموت کا کاٹنا۔ پہلی میں بھی دو قرینہ ہیں۔ ایک بیویوں کو چھوڑ مرنا دوسرا وصیت کا لازم ہونا۔ آیت ”ومنکم من یتوفی“ میں بھی تقابل قرینہ ہے۔ رہی آیت ”اللہ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا (الزمر:٤٢)“ یعنی خداوند ارواحوں کو موت کے

٢٧

صفحہ ٧٠٠

وقت میں لے لیتا ہے۔ ملخصاً اس میں جس موتا قرینہ ہے۔ یادرکھو کہ اس آیت میں مارنا، سلانا، دونوں مراد ہیں۔ مگر نہ اس طرح پر کہ اس سے حقیقی و مجازی دونوں اکٹھے مراد لئے جائیں۔ کیونکہ حقیقت و مجاز کا اجتماع ناجائز ہے۔ دیکھو کتب اصول وغیرہ۔ دوم اس لئے بھی یہاں پر جمع نہیں ہے کہ مارنا یا سلانا اس میں سے کوئی ایک بھی توفی کا حقیقی معنی نہیں ہے۔ اس واسطے یہ جمع لازم نہیں آتا اور نہ توفی سے مارنا اور سلانا عموم مجاز کے طور پر مراد ہے۔ جیسا کہ کوئی شخص قسم کھاوے کہ میں فلاں مکان میں اپنا قدم نہیں رکھوں گا۔ اب یہ شخص خواہ گھوڑے پر چڑھ کر اس میں داخل ہو یا اس طرح پر جیسا کہ کہا تھا یا وہ مکان اسی کا ملک ہو۔ یا کرایہ پر یا استعارہ کے طور پر ہو۔ بہرحال حانث ہوگا۔ یہ قول حقیقی معنی کے ساتھ خصوصیت نہیں رکھتا ہے۔

پس اس کا حانث ہونا اسی پر موقوف نہیں ہوگا کہ وہ گھر فلاں کا مملوک ہی ہو اور اس میں ننگے پاؤں ہی داخل ہو۔ بلکہ بہرحال حانث ہی ہوگا۔ ایسا ہی اس کا قول مجازی معنی کے ساتھ خصوصیت نہیں رکھتا ہے۔ تا کہ کہا جاتا کہ وہ جب فلانے کے غیر مملوک مکان میں یا جوتا پہن کے ہی یا سواری پر ہی چڑھ کر داخل ہوگا۔ تو حانث ہوگا۔ نہیں تو نہیں۔ بلکہ بہرحال حانث ہوگا۔ خواہ حقیقی معنی پایا جائے یا مجازی۔ چنانچہ گزرا آیت مذکور میں توفی سے سلانا۔ مارنا جب کہ بطریق عموم مجاز بھی نہیں تو لامحالہ اس سے کچھ لے لینا مراد ہوگا۔ مثلاً جب توفی سے سلانا مقصود ہو تو اس صورت میں کہیں گے کہ روح کے تعلق سے جو بدن حساس تھا وہ تعلق مسلوب کیا گیا تو بلاشبہ یہی سلانا ہے اور اگر توفی سے مارنا مراد ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہے تو یوں کہیں گے کہ روح کے تعلق سے جو بدن زندہ تھا وہ تعلق اس سے سلب کیا گیا ہے۔ اُس صورت میں بلاشک اس کو مارنا کہا جائے گا۔ ہاں دوسرے میں حس کا سلب بھی معتبر ہے۔ جیسا کہ زندگی کا کما مر لیکن یہ خیال رکھنا کہ یہ تعلق حس اور زندگی کے درمیان بطور لزوم دائر ہے۔ جس طرح کہ کوئی امر خاص و عام کے درمیان مردد ہوتا ہے۔ یہ نہ سمجھنا کہ یہ تردد اس طرز پر ہے کہ جس طرح پر شے نقیضین کے درمیان مردد ہے۔ اس لئے وہ تعلق جس سے احساس کا وجود ہوتا ہے۔ دوسرے تعلق کے بغیر (یعنی وہ تعلق کہ جس سے زندگی ہوتی ہے) موجود نہیں ہوتا۔ پس یوں کہنا کہ ہر حساس زندہ ہے۔ صادق ہے اور یہ کہنا کہ ہر زندہ حساس ہے غلط ہے۔ کیونکہ بعض زندہ (جیسے سوئے ہوئے) حساس نہیں ہیں۔

سوال...... آپ کی تقریر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مردہ میں حس باقی نہیں رہتی ہے۔ اس لئے لازم آیا کہ وہ سنتے بھی نہیں؟

٢٨

جواب...... ہماری تقریر سے مردہ روحانی ہے۔ چنانچہ ادلہ قاطعہ شرعیہ ہے۔ البتہ مرنے کے ضمن میں وہ لیکن اس طرز پر کہ مردہ بقوة حسا نہیں۔ جو ثابت ہے وہ ناپید نہیں۔

اس تقریر سے یہ بھی ظ مقابلہ ہے۔ اس لئے کہ یہ دونوں و سو وہ بھی وجودی ہے۔ دلیل یہ کہ زندگی ہوتی ہے۔ اٹھا دیا جائے۔ ا یہ بلاشبہ وجودی ہے۔ نیز اس کے ب نے موت کو پیدا کیا ہے۔ یہ صریح عدمی ہوتی تو خداوند تعالیٰ کا فعل اس پیدا کیا گیا ہے، نہیں۔ کیونکہ پیدا ک

سوال...... کیوں جائز نہیں کہ ہے۔ پس اس کا عدمی ہونا موت

جواب...... کہ یہ استلزام غلط معدوم نہیں ہے۔ علی ہذا القیاس ا

پس ثابت ہوا کہ آیت مذکورہ میں کہ مار دینے میں پورے طور پر۔ الگ کر کے اٹھائی جاتی ہے اور یہ ک بصورت عدم قرینہ حقیقی معنی پر محمول الآیة (آل عمران: ٥٥) ”یا دلیل ہونے کو ’رافعک الی‘ کا جسمانی مراد ہے۔ ورنہ خاص کر ک میں ان کی روح کا مرفوع ہونا بیان

صفحہ ٧٠١

جواب...... ہماری تقریر سے مردوں کا نہ سننا ثابت نہیں ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کا سننا بمعنی ادراک روحانی ہے۔ چنانچہ ادلہ قاطعہ شرعیہ سے ثابت ہوا ہے۔ اس قسم کا سماع مرنے سے مرتفع نہیں ہوتا ہے۔ البتہ مرنے کے ضمن میں وہ سماع جو قوت جسمانیہ کے ذریعہ سے ہے۔ مرتفع ہو جاتا ہے۔ لیکن اس طرز پر کہ مردہ بقوۃ جسمانی سنتے ہیں۔ کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ لہذا جو مرتفع ہے وہ ثابت نہیں۔ جو ثابت ہے وہ تائید نہیں۔

اس تقریر سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ موت وحیات کے درمیان ضدیت کے طور پر مقابلہ ہے۔ اس لئے کہ یہ دونوں وجودی ہیں۔ حیات کا وجودی ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔ رہی موت سو وہ بھی وجودی ہے۔ دلیل یہ کہ مارنا اسی کو کہتے ہیں کہ بدن سے روح کا تعلق جس سے بدن کی زندگی ہوتی ہے۔ اٹھا دیا جائے۔ اس کا اثر لازم مرنا ہے۔ چونکہ مرنا اس تعلق کا منقطع ہونا ہے۔ تو یہ بلاشبہ وجودی ہے۔ نیز اس کے وجودی ہونے پر یہ دلیل ہے کہ باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم نے موت کو پیدا کیا ہے۔ یہ صریح طور پر دلالت کرتی ہے کہ یہ وجودی ہے۔ اس لئے کہ موت اگر عدمی ہوتی تو خداوند تعالیٰ کا فعل اس کے ساتھ کیونکر متعلق ہوتا۔ کیا کبھی کہا جاتا ہے کہ فلاں امر عدمی پیدا کیا گیا ہے، نہیں۔ کیونکہ پیدا کرنے کا معنی موجود کر دینا ہے۔

سوال...... کیوں جائز نہیں کہ باعتبار لازم کے عدمی ہو۔ کیا دیکھتے نہیں کہ عدم الحیاۃ اس کو لازم ہے۔ پس اس کا عدمی ہونا موت کے عدمی ہونے کو مستلزم ہے۔

جواب...... کہ یہ استلزام غلط ہے۔ دیکھو عدم السکون آسمان کو عند الفلاسفہ لازم ہے۔ آسمان معدوم نہیں ہے۔ علیٰ ہذا القیاس اور بھی بہت مواقع ہیں کہ لازم کی عدمیت ملزوم کی عدمیت کو نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ آیت مذکورہ میں جو توفی ہے وہ مارنے میں حقیقی طور پر مستعمل نہیں ہے۔ اس لئے کہ مار دینے میں پورے طور پر لے لینا نہیں پایا جاتا ہے۔ بلکہ مار دینے میں صرف بدن سے روح الگ کر کے اٹھائی جاتی ہے اور یہ گویا ایک حصے کا لے لینا ہے۔ نہ پوری شے کا لے لینا۔ لیکن لفظ کا بصورت عدم قرینہ حقیقی معنی پر محمول کرنا۔ جب کہ واجب ہوا تو آیت ”یا عیسی انی متوفیک الآیۃ (آل عمران:٥٥)“ ہمارے لئے دلیل ہوئی نہ قادیانیوں کے لئے۔ اس کا ہمارے لئے دلیل ہونے کو ”رافعك الی“ کا اس پر معطوف ہونا قوت بخشتا ہے۔ اس لئے کہ اس رفع سے رفع جسمانی مراد ہے۔ ورنہ خاص کر مسیح علیہ السلام سے کیا اس رفع روحی کو خصوصیت تھی جو اس آیت میں ان کی روح کا مرفوع ہونا بیان کیا جاتا ہے۔

٢٩

صفحہ ٧٠٢

سوال...... چونکہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا ایمانداروں، اہل علم کے درجات کو (مرفوع) بلند کرتا ہے تو اس سے سمجھا جاتا ہے کہ خود ایماندار اور اہل علم مرفوع نہیں ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کے درجات مرفوع اور بلند کئے جاتے ہیں۔ پس رفع مسیح علیہ السلام سے بھی خود مسیح علیہ السلام کا رفع مراد نہیں ہے۔ بلکہ رفع روحی۔

جواب...... دلیل مفید مطلب نہیں ہے۔ کیونکہ آیت سابقہ میں خود مسیح علیہ السلام کا رفع مذکور ہے اور اس آیت میں رفع درجات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ رفع درجات اور خود شے کے مرفوع ہونے میں غیریت ہے۔ اس لئے رفع درجات سے رفع غیر جسمانی ثابت نہیں ہوگا۔ دیکھو کہا جاتا ہے کہ میں نے زید کو اٹھا لیا ہے۔ یا میں نے زید کا کپڑا یا اور کچھ جس کا زید کے ساتھ تعلق ہو اٹھا لیا ہے۔ اب اس صورت میں زید کے کپڑے کے اٹھائے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہاں پر بھی خود زید کا رفع مراد نہ ہو۔ بلکہ کپڑے کا مثلاً اس لئے کہ خود شے کا رفع اور ہے۔ اس کے متعلق کا اور ہے۔ بناء علیہ ثابت ہوا کہ آیت: ”یا عیسی انی متوفیک (آل عمران:٥٥)“ میں منادیٰ اور ممتاز کا مرجع خود مسیح علیہ السلام ہے۔ نہ خالی روح جب مسیح علیہ السلام ہی منادیٰ اور مرجع ہوئے تو متوفی، مرفوع، مطہر، فائق الاتباع بھی آپ ہی ٹھہرے۔ نہ صرف روح۔ اب ہم اس سے پہلی شکل بنائیں گے۔ مسیح علیہ السلام پر بھی متوفی کا مفہوم صادق آتا ہے۔ جس پر یہ صادق ہے اور یہ بعینہ وہی ہے جو ہم دعویٰ کرتے ہیں۔

دوسری دلیل اگر مسیح علیہ السلام کی صرف روح ہی مرفوع ہوئی ہوتی تو آپ کافروں کے ہاتھوں سے کیسے بری اور مطہر ٹھہرتے۔ بلکہ جسد لطیف تو کافروں کے ہی اختیار میں رہتا اور کافروں کا مقصود یہی تھا۔ حالانکہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسیح علیہ السلام ہم تجھ کو کافروں کے اختیار سے الگ اور پاک کر دیں گے۔ پس اگر خالی روح مرفوع ہوئی ہو تو باری تعالیٰ کا یہ ارشاد کیسا درست ہوگا۔ لہٰذا رفع روحی غلط ٹھہرا اور مسیح علیہ السلام بجسدہ مرفوع ہونا ثابت ہوا۔ کیونکہ جب بجسدہ رفع مراد لیں گے تو مسیح علیہ السلام بلاشبہ بالکل کافروں کے اختیار سے نکل گئے اور پاک ہو گئے۔ اس لئے آیت مذکورہ سے رفع روحی مراد رکھ لینا بے علمی اور عجیب تر ہے۔

قادیانی اس آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے مسیح ابن مریم رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے نہ تو ان کو قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا۔ ہاں شبہ میں ڈالے گئے ہیں۔ جن لوگوں نے اختلاف کیا

٣٠

صفحہ ٧٠٣

وہ البتہ ان کے قتل کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو اس پر یقین حاصل نہیں ہے۔ صرف خلاف واقع کی تابعداری کرتے ہیں۔ مسیح علیہ السلام کو انہوں نے قتل نہیں کیا۔ بلکہ خداوند تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ نہیں ہے کوئی بھی ٤ اہل کتاب میں سے۔ مگر کہ اس پر ایمان لائے گا۔ اس کے مرنے سے پہلے وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔ طریقہ استدلال قادیانی پہلی آیت میں رفع روحی مراد رکھتا ہے۔ اس کا بیان ہے کہ اہل کتاب کا مسیح علیہ السلام کے مقتول مصلوب ہونے میں شاک ہونا ہی ضمیر بہ کا مرجع ہے۔ موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔ اس کے بعد دو توجیہیں کرتا ہے۔ پہلی کہ قبل موتہ میں ایمان کا لفظ مقدر ہے۔ اس تقدیر پر آیت کا معنی یہ ہوا کہ ہر ایک کتابی مسیح علیہ السلام کی طبعی موت پر جو ماضی میں واقع ہو چکی ہے۔ ایمان لانے سے پہلے آپ کے مشکوک القتل ہونے پر ایمان رکھتا ہے۔

دوسری توجیہہ کہ ہر ایک کتابی یقیناً جانتا ہے کہ ہم مسیح علیہ السلام کے مقتول ہونے کے بارے میں شک میں ہیں۔ اس شک پر ان کا ایمان مسیح علیہ السلام کے مرنے سے پہلے تھا۔ گویا مسیح علیہ السلام ابھی زندہ ہی تھے کہ ان کو آپ کے مقتول ہونے میں شک تھا اور وہ آپ کے مرنے سے پہلے ہی اپنے اس شک پر یقین رکھتے تھے۔ اب دیکھئے کہ استدلال پر کتنے اعتراض وارد ہوتے ہیں۔

اولاً کہ رفع سے روحانی مراد لینا غلط ہے۔ اس لئے کہ اس آیت میں مسیح علیہ السلام وصف مرفوعیت میں بطور قلب اور عکس کے محصور کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن اس حصر اور قصر کے لئے اوصاف کی منافات شرط ہے۔ مثلاً ایک شخص اعتقاد رکھتا ہے کہ زید قائم ہے۔ دوسرے نے اس سے مخاطب ہو کر کہہ دیا کہ زید قائم نہیں بلکہ بیٹھا ہے۔ پس دیکھئے یہاں پر متکلم نے ایسا بیان کیا ہے کہ وہ مخاطب کے عقیدہ کا قلب اور الٹ ہے۔ ظاہر ہے کہ کھڑا ہونا، بیٹھنا یہ دو صفتیں آپس میں منافات، غیریت رکھتی ہیں۔ بے شک یہ منافات عام طور پر لی جاتی ہیں۔ خواہ قصر وحصر کی بہتری کے لئے یا نفس حصر کے لئے شرط ہو۔ نیز واقع میں منافات ہو یا اعتقاد میں۔ رہی یہ بات کہ وہ آیت کہ جس کا مضمون یہ ہے کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو یقیناً قتل نہیں کیا۔ بلکہ خداوند تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ بطور قصر قلب کے فرمائی گئی ہے۔ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب دعویٰ کرتے تھے کہ مسیح علیہ السلام قتل کئے گئے ہیں تو خداوند تعالیٰ نے ان سے ان کے گمان کے

٣١

صفحہ ٧٠٤

برعکس فرمایا کہ مسیح علیہ السلام تو صرف مرفوع ہوئے ہیں۔ قتل نہیں ہوئے۔ اب ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کو وصف مرفوعیت میں قصر حصر کیا گیا ہے۔ مگر قلب اور عکس کے طور پر۔ پس ضرور ہوا کہ قتل اور رفع میں منافات ہو۔ لیکن یہ منافات جب ہی متصور ہے کہ مسیح علیہ السلام بجسدہ مرفوع ہوئے ہوں۔ کیونکہ رفع بجسدہ بداہۃً منافی قتل ہے۔ مگر جب رفع سے روحانی رفع مراد لیں گے۔ جیسا کہ قادیانی کا بیان ہے تو وہ قتل سے منافی نہیں ہے۔ کیا دیکھتے نہیں کہ جو شخص خدا کی راہ میں قتل کیا جاتا ہے تو اس کی روح مرفوع ہوتی ہے۔ پس جب کہ قتل کی حالت میں رفع روحانی پایا گیا ہے تو منافات کہاں رہی۔ جس حالت میں یہ دونوں واقع میں بلکہ عقیدہ میں بھی مجتمع ہوئے تو منافات سرے سے ہی اڑ گئی۔ بنا براں آیت میں جو قصر کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ خود قصر ہی غلط ہوگا یا بہتر نہیں ٹھہرے گا۔ نعوذ باللہ منہ!

لہٰذا قادیانی پر دو باتوں میں سے ایک کا اقرار کرنا لازم ہے۔ یا تو کہے گا کہ آیت اہل کتاب کی تردید کرتی ہے۔ لیکن اس صورت میں قصر القلب قتل، رفع میں منافات کا اقرار کرنا ہوگا۔ پس مسیح علیہ السلام کا بجسدہ مرفوع ہونا بھی ماننا پڑے گا۔ یا کہہ دے گا کہ قصر القلب میں وصفین کے درمیان منافات کا ہونا ضروری نہیں۔ مگر اس صورت میں کلام عربی کے قواعد کا ہدم اور ان کے برخلاف پر ہونا لازم آوے گا۔

مختصراً قادیانی کو اس سے گریز نہیں ہو سکتا۔ یا تو مسیح علیہ السلام کے بجسدہ مرفوع ہونے پر ایمان لانا پڑے گا۔ یا قواعد عربیت سے منحرف ہوگا۔ پس دو میں سے جسے چاہے اختیار کرے۔ دوسرا اعتراض معہ پہلی ضمیر کا مفعول بہ القتل کو راجع کرنے سے اس ضمیر کا خود مسیح علیہ السلام کی جانب پھرنے سے اولیٰ نہیں ہے۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ پھر مفعول بہ کو مرجع بنانا باوجود اس کے کہ سلف خلف کے برخلاف ترجیح بلا مرجح بلکہ ضعیف کو ترجیح دینا ہے۔ یہ ترجیح پہلی ترجیح سے بدتر ہے۔ مع ہذا آیت کا معنی اس تقدیر پر یوں ہوگا کہ ہر ایک کتابی ایمان رکھتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کا مقتول ہونا مشکوک فیہ ہے۔ ان کا مقتول ہونا یقینی نہیں ہے۔ چنانچہ قادیانی اس بات کو خود واضح کر رہا ہے۔ حالانکہ یہ معنی درست نہیں ہیں۔ کیونکہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کا مقتول ہونا جملہ اسمیہ کے لباس میں بیان کیا ہے اور پھر اس کو موکد بھی کر دیا ہے۔ پس یہ صراحۃً اس پر دال ہے کہ وہ مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے پر اذعان کر بیٹھے ہیں۔ آخر اس لئے تو خداوند تعالیٰ نے ان کی تردید کی کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو یقیناً قتل نہیں کیا۔ اجی اگر ان کو مسیح علیہ السلام کے قتل ہو جانے پر ٣٢

اذعان نہ ہوتا تو خداوند تعالیٰ ات قید نہ بڑھاتے۔ پس یہ کہنا کہ ق کہ قرآن شریف میں یقیناً کی

اچھا صاحب اگر ی ہے تو گویا یہ نفی قتل مقید پر وارد ہو ہے۔ ویسے ہی قید و مقید دونوں یقینی قتل منتفی ہے۔ اس لے کہتے ہیں کہ باوجود ان کی ترا قادیانی کو اس قید کے لغو ہونے

تو وہ نفی صرف قید کی طرف متو

علاوہ براں یہ کی (النساء:١٥٧) ”بل رفعہ الل موجود ہے۔ اس آیت کا م آپ بلاشبہ خداوند تعالیٰ کے پڑے ہوئے ہیں۔ اپنے عق قبولیت کے قابل ہے۔ البتہ تو ندارد ہے۔ اس لئے قادیا وہ لوگ مسیح علیہ السلام کے مق شاہد عدل ہے۔

ہونے پر ایمان لاؤ اور یہ اس کیا گیا ہے۔

حال یہ ہے کہ

صفحہ ٧٠٥

اذعان نہ ہوتا تو خداوند تعالیٰ اتنا ہی فرما دیتے کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو قتل نہیں کیا اور یقیناً کی قید نہ بڑھاتے۔ پس یہ کہنا کہ ان کو یقین واذعان نہیں ہے۔ یہ صاف طور پر اس بات کا اقرار ہے کہ قرآن شریف میں یقیناً کی قید لغو ہے۔ نعوذ باللہ منہ!

اچھا صاحب اگر یہ دعویٰ کریں گے کہ اس آیت میں جو یقینی مذکور ہے وہ تو منفی قتل کی قید ہے تو گویا یہ نفی قتل مقید پر وارد ہوئی ہے۔ پس یہ نفی جیسے کہ قید کے اٹھ جانے سے منتفی ہوتی ہے۔ ویسے ہی قید ومقید دونوں کے اٹھ جانے سے منتفی ہو جاتی ہے۔ یہاں ایسا ہی ہے۔ کیونکہ یقینی قتل منتفی ہے۔ اس لئے آیت کا معنی یوں ہوگا کہ ان کا متیقن قتل نہیں پایا گیا ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ باوجود ان تنزلاتیوں کے یقیناً کی قید کا فائدہ مند ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ پھر بھی قادیانی کو اس قید کے لغو ہونے کا مقر بننا پڑے گا۔

اولاً ...... ان کی تردید کے لئے نفس قتل اور بلا قیدی کی نفی کافی تھی۔

دوم ...... یہ بات اکثری قاعدہ سے مخالف ہے۔ وہ قاعدہ یہ ہے کہ نفی جب مقید پر وارد ہوتی ہے تو وہ نفی صرف قید کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔

علاوہ براں یہ کسی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے یہ جملہ ”انا قتلنا المسیح“ (النساء: ١٥٧) ”بلا اذعان ہی کہہ دیا ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں بلا اذعان کہہ دینے پر دلیل موجود ہے۔ اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ منافقین کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں یا محمدﷺ کہ آپ بلاشبہ خداوند تعالیٰ کے رسول ہیں۔ پس یہ دعویٰ کرنا کہ اہل کتاب نے باوجود یہ کہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اپنے عقیدہ سے مخالفانہ کہہ دیا ہے۔ مسیح علیہ السلام کو قتل کیا ہے۔ کیسے بلا دلیل قبولیت کے قابل ہے۔ البتہ اگر اس پر کوئی دلیل ہوتی تو یقیناً کی قید کا لغو ہونا لازم نہ آتا۔ مگر دلیل تو ندارد ہے۔ اس لئے قادیانی لغو ہونے کے الزام سے نہیں بچتے۔ ہاں اس پر تو دلیل موجود ہے کہ وہ لوگ مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے پر اذعان کر بیٹھے ہیں۔ دیکھو قرآن کی عبارت ہی پہلے شاہد عدل ہے۔

دوم ...... نصاریٰ اور فرقوں کو اسی بات کی طرف بلاتے ہیں کہ آؤ مسیح علیہ السلام کے مقتول ہونے پر ایمان لاؤ اور یہ اس گمان سے کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام امت کے گناہوں کے بدلہ قتل کیا گیا ہے۔

حال یہ ہے کہ یہ بات ان کی انجیل میں بھی لکھی ہوئی ہے۔ گو تحریف کے طور پر ہی

٣٣

صفحہ ٧٠٦

ہو۔ لیکن وہ اس پر اس لئے اذعان کر بیٹھے ہیں کہ وہ انجیل کو بلا تحریف مانتے ہیں۔ مع ہذا یہ کہنا کہ مسیح علیہ السلام کے قتل ہو جانے پر اذعان نہیں رکھتے ہیں کہ صریح بہتان ہے۔ باوجود اس روشن دلیل کے سب کی طرف شک کو منسوخ کرنا کیونکر متصور ہے۔ شاید ایسے لوگوں کو اس آیت سے (جس کا مضمون یہ ہے کہ وہ لوگ کہ مختلف ہوئے۔ البتہ قتل کے بارے میں شک میں ہیں۔ نہیں ان کو اس پر اذعان مگر ظن کی تابعداری کرتے ہیں ) وہم پیدا ہو گیا ہوگا۔ سو واضح رہے کہ شک جو اس آیت میں مذکور ہے وہ منطقیوں کے طور پر نہیں ہے۔ منطقی تو شک اس کو کہتے ہیں کہ جس کے دونوں جانب برابر ہوں٢؎ ۔ بلکہ شک سے آیت میں ضد علم مراد ہے۔ جس کے حکم جازم مطابق واقع کہتے ہیں۔

مختصراً کہ شک سے ضد یقینی مطلوب ہے۔ پس اس لحاظ سے مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے کے بارہ میں ان کے شک کنندہ اور متیقن ہونے میں منافات نہیں ہے۔ بریں تقدیر آیت کا معنی یوں ہوگا کہ وہ لوگ جو مختلف ہوئے۔ البتہ قتل کے بارے میں شک میں ہیں۔ یعنی البتہ وہ ایسے خیال میں گرفتار ہیں کہ جو خلاف واقع ہے۔ گو وہ لوگ یہ حکم بزعم خود قطعاً و جزماً لگاتے ہیں۔ لیکن چونکہ وہ دراصل مطابق واقع نہیں۔ علم ویقین نہیں ہے۔ بلکہ شک ہے۔ کیونکہ یقین کے لئے یہ ضروری ہے کہ مطابق واقع ہو۔

پس بلاشبہ وہ ظن کے تابعدار ہیں۔ یعنی اس خیال اور حکم کے تابعدار ہیں جو واقع کے مطابق نہیں۔ اس لئے شک اور ظن کا مآل اور مرجع ایک ہی ہوا۔ اگر شک وظن کو منطقیوں کی اصطلاح کے موافق لیں گے تو ان دونوں کا مصداق ایک نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ان کے نزدیک ظنّ وہ خیال ہے کہ طرف موافق قوی ہے اور شک میں ان کے نزدیک مطلقاً رجحان نہ چاہئے۔ چنانچہ ظاہر ہے۔ رہی بات کہ قرآن شریف میں کہیں بھی شک کا معنی برخلاف منطقین کے لیا گیا ہے۔ سو واضح ہو کہ قرآن مجید میں یہ بات موجود ہے۔ دیکھو خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم لوگ قرآن کے بارے میں ریب یعنی انکار میں پڑ گئے ہو۔ الخ !

اب دیکھو کہ اس آیت میں جو ریب بمعنی شک ہے۔ ان کے انکار ان کے حکم بالجزم پر کہ یہ خدا کا کلام نہیں ہے۔ بلکہ کسی بشر کا ہے۔ شعر، کہانت ہے۔ اطلاق کیا گیا ہے۔ اس پر خداوند تعالیٰ کا کلام دلالت کرتا ہے کہ ہم ان چیزوں کی قسم کھاتے ہیں۔ جنہیں تم دیکھتے ہو اور جنہیں تم نہیں دیکھتے ہو کہ قرآن فرشتہ جبرئیل کے منہ سے نکلا ہے۔ کسی بشر کا کلام، شاعر کا کلام

٣٢

صفحہ ٧٠٧

نہیں ہے۔ تھوڑے ہی لوگ ایمان لاتے ہیں اور نہ یہ کاہن کا کلام ہے۔ تھوڑے ہی لوگ ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔ یہ قرآن منزل من اللہ ہے۔ اس آیت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اگر قرآن کے کلام الہی ہونے میں شک کنندہ بایں معنی ہوتے کہ جو شک کا معنی منطقی کرتے ہیں تو خداوند یہ تاکیدیں ایراد نہ فرماتا۔

پہلی کہ جملہ اسمیہ بیان فرمایا۔ دوم ان کو ذکر کیا۔ سوم قسم۔ پس بلاشبہ یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ ان کا انکار قرآن شریف کے کلام الہی ہونے سے اس حد تک پہنچا ہے کہ انہوں نے یقین کرلیا ہے کہ یہ غیر اللہ کا کلام ہے۔ اسی طرح پر ظن کا بھی اسی خیال پر جو خلاف واقع ہو اطلاق کیا ہوا ہے۔ دیکھئے وہ آیت جس کا ماحصل یہ ہے کہ وہ صرف ظن کی تابعداری کرتے ہیں اور وہ صرف جھوٹے ہیں۔ غرضیکہ اعتراض مذکور کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر پہلی ضمیر کو شک کی طرف پھیریں گے تو یا قید کا لغو ہونا لازم آئے گا۔ یا یوں کہنا پڑے گا کہ یہ آیت جس کا معنی یہ ہے کہ وہ اعتقاد کر بیٹھے ہیں کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کو قتل کر ڈالا ہے۔ اپنے ظاہر معنی پر محمول نہیں۔ حالانکہ ظاہر پر محمول ہونے کا بھی موجب موجود ہے۔ پس جو لوگ پہلی کا التزام کریں گے تو یہ کفر ہے۔ اگر دوسرے کو اختیار کریں گے تو یہ نادانی ہے۔ اب ان دونوں میں سے جس کو چاہیں اختیار کرلیں۔ تیسرا اعتراض کہ یہ توجیہ تکلف محض ہے۔ کیونکہ جس کی طرف تم ضمیر کو راجع کرتے ہو یہ رجوع ہرگز متبادر نہیں ہے۔ نیز اس قسم کے ارجاع سے انتشار ضمائر لازم آتا ہے۔ قرآن شریف میں انتشار ضمائر کا قائل ہونا یہ تو محض پر از فصاحت قرآن کو بٹہ لگانا ہے۔ چنانچہ ظاہر ہے اور جب یہ سب کچھ باطل ہوا تو ہمارا مدعا ثابت ہوا۔ چوتھی بحث کہ جب اس طرح پر ضمیر کا مرجع مانا جائے تو آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اہل کتاب مسیح علیہ السلام کی مقتولیت کے مشکوک ہونے پر تصدیق رکھتے ہیں اور شک ومشکوکیت چونکہ ایک ہی بات ہے تو تصدیق کا شک سے تعلق پکڑنا لازم آتا ہے۔ یہ شک جو ایک قسم کا تصور ہی ہے۔ اس کے لفظ کا مفہوم ہی شک سے مراد رکھ لیں۔ یا جس پر وہ شک صادق آتا ہے وہی مقصود رکھیں۔ اس لئے کہ شک کا معنی اور اس کا مصداق دونوں تصور ہی ہیں۔ عام اس سے کہ تصدیق علم یقینی جو مطلق ادراک و تصور کا قسم ہے۔ مقصود ہو یا وہ حالت کہ بعد ادراک کے پیدا ہوتی ہے جسے دانش کہتے ہیں۔ مطلوب ہو لیکن تصدیق کا بہر حال تصور یعنی شک سے متعلق ہونا باطل ہے۔ چنانچہ یہ بات ثابت ہے۔ ہاں تصدیق کا شک سے اس صورت میں متعلق ہونا کہ تصدیق جنس تصور سے مان لیں بہت غث ہے۔ بہ نسبت اس صورت کے کہ تصدیق کو بمعنی دانش لیں۔ وجہ یہ ہے

٣٥

صفحہ ٧٠٨

کہ جب تصدیق کو تصور کی ہی قسم سمجھ کر شک سے متعلق جان لیں تو شک معلوم بن جائے گا اور پھر تصدیق کو بہ نسبت شک کے علم قرار دینا پڑے گا۔ حالانکہ دلیل سے ثابت ہے کہ علم تصور و صورت علمیہ کے معنی سے معلوم کے ساتھ متحد ہوتا ہے۔

لہٰذا لازم آیا کہ تصدیق اور شک ایک ہی بات ہو۔ حالانکہ یہ صریح غلط ہے۔ کیوں غلط نہ ہو کہ تصدیق و شک آپس میں غیریت رکھتے ہیں۔ پانچویں بحث کہ شک اصطلاحی جب ہی متحقق ہو گا کہ نسبت کے طرفین میں تردد ہو۔ یعنی یہ ایسا ہے یا ایسا لیکن دونوں میں سے کسی جانب کو ترجیح نہ ہو۔ بلکہ طرفین کی تجویز برابر ہو۔ پس قادیانی کی یہ تفسیر کہ اہل کتاب مشکوکیت قتل پر مسیح علیہ السلام کے طبعی مرنے سے پہلے ایمان رکھتے ہیں۔ اس طرف کو راجح ہو گی کہ اہل کتاب کا اس قسم کا شک بغیر اس کے کہ ان کو مسیح علیہ السلام کی طبعی موت پر یقین ہونا موجود تھا۔ کیونکہ تقدم کے لوازم سے ہے کہ ما بعد مقدم پیدا ہونے کے زمانہ میں موجود نہ ہو۔ نیز جب ایک شخص کی طبعی موت پر یقین ہو تو اس کے مقتول ہو جانے میں شک کا ہونا محالات میں سے ہے۔ ظاہر تر ہے کہ مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے کے دو جانب ہیں۔ ایک کہ قتل نہیں ہوئے۔ دوم کہ قتل ہو گئے ہیں۔ پس جب کہ آپ کا قتل ہو جانا مشکوک ہے تو واجب ہوگا کہ نہ اس پر کہ وہ قتل ہو گئے ہیں اور نہ اس پر کہ وہ قتل نہیں ہوئے۔ یقین ہو اور نیز اس پر جو عدم القتل میں مندرج ہے۔ یقین نہ ہو۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ طبعی موت عدم القتل میں مندرج ہے۔ ہاں یہ اندراج ایسا ہے کہ خاص عام میں مندرج ہوتا ہے۔ اس لئے کہ عدم القتل جیسے کہ زندگی کو شامل ہے۔ ایسے ہی طبعی موت کو شامل ہے۔ لہٰذا لازم ہوا کہ جس صورت میں کہ مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے میں شک ہو تو آپ کی طبعی موت پر یقین نہ ہو اور یہ بالکل بدیہی ہے۔ کیونکہ شک کے لئے جانبین کی تجویز کا برابر ہونا ضروری ہے اور مع ہذا ایک جانب پر یعنی عدم القتل پر یقین کرنا محال ہے۔ چنانچہ کم درایت پر بھی مخفی نہیں ہے۔

بنا بر ایں اگر آیت سے ہی وہی مراد ہے جو قادیانی سمجھتے ہیں تو کہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے کیا فائدہ ہوا۔ اس جز پر کون سے عوائد مرتب ہوئے۔ علاوہ براں اگر اس آیت کو قادیانی کی ہی مراد پر محمول کریں تو اس سے لازم آئے گا کہ اس آیت نے شک کی ماہیت کے بعض اجزاء بیان کئے ہیں۔ لیکن یہ اس بات کا دعویٰ ہے کہ قرآن نے وہ معانی بیان کئے ہیں جو قوم کے مصطلح ہیں۔

٣٦

صفحہ ٧٠٩

پس اس صورت میں لازم آئے گا کہ قرآن بھی کافیہ، شافیہ تہذیب کی مانند ایک کتاب ہے۔ حالانکہ اس امر کا کوئی عقلمند قائل نہیں ہے۔ اسی پر قادیانی کی دوسری توجیہ سو اس پر بھی پانچویں بحث کے سوا سب ابحاث و خدشہ وارد ہوتے ہیں۔ البتہ اس دوسری توجیہ پر خاصہ یہ بحث وارد ہے۔ وہ یوں ہے کہ تمام اوصاف کا سلب کسی شے کے ہر ہر فرد سے کر دینا۔ پھر خاص صفت ان کے واسطے ثابت کرنا۔ جیسا کہ اس سے لازم آتا ہے کہ وہ افراد موصوفہ اسی صفت میں منحصر ہو جائیں۔

اسی طرح پر ان افراد سے خاص صفت کا سلب کر دینا خواہ وہ صفت ملفوظ نہ ہو مقدر ہی ہو۔ بعد ازاں کوئی ایسی صفت جو مسلوب سے منافی ہو۔ ان افراد کو ثابت کرنا اس کو چاہتا ہے کہ وہ موصوف اس مسلوب کے منافی میں منحصر ہو پہلے کا نام حصر حقیقی، دوسرے کا نام حصر اضافی ہے۔ لیکن یہ دونوں موصوف کے صفت میں منحصر ہونے کے لئے دو قسم ہیں۔ اسی پر صفت کا موصوف میں بطور انحصار حقیقی کے سو اس واسطے کہ وہ صفت صرف اسی موصوف میں متحقق ہے نہ غیر میں۔ صفت کا موصوف میں بطور انحصار اضافی کے منحصر ہونا سو اس لئے ہے کہ وہ صفت تو اس موصوف میں پائی جاتی ہے۔ لیکن اس کے کل اغیار سے منفک نہیں ہوتی۔ بلکہ بعض میں پائی جاتی ہے اور بعض میں نہیں۔ پس چونکہ بعض ہی کی طرف نسبت کر کے منحصر ہے تو یہ حصر اضافی اور نسبتی ہوا۔ پر ظاہر ہے کہ جس میں کوئی چیز منحصر ہو وہ اس پر جو اس میں کلیتہ منحصر ہے، کلی طور پر صادق آتا ہے۔

اب دیکھئے کہ آیت (جس کا مضمون یہ ہے کہ نہیں ہے کوئی ایک بھی اہل کتاب میں سے مگر وہ ایمان لائے گا) میں اہل کتاب صفت ایمان میں منحصر کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن یہ انحصار صفت کفر کی طرف نسبت کر کے ہے نہ اور اوصاف کے لحاظ سے۔ پس مراد الآیۃ صفت الکفر کا تمام اہل کتاب سے مسلوب ہونا۔ سب کے لئے صفت الایمان کا ثابت ہونا ہے۔ لا غیر!

اس سے صاف طور پر واضح ہو گیا ہے کہ یہ انحصار اضافی ہے۔ کیونکہ اہل کتاب جو صفت ایمان میں منحصر کر دیئے گئے ہیں۔ تو صرف ایک صفت محض کی طرف نسبت کر کے اوصاف کے لحاظ سے۔ لہذا مفاد الآیۃ یوں ہوا کہ سب اہل کتاب ایمان میں نہ کفر میں منحصر ہوں گے اور صفات ان میں پائی جائیں یا نہ۔ پس سب اہل کتاب سے وصف کفر جو مقدر ہے مسلوب کر دیا گیا۔ اس کا منافی یعنی ایمان سب کو ثابت کر دیا گیا ہے۔ جب یہ سمجھ گئے کہ تمام اہل کتاب صفت ایمان میں منحصر ہوں گے تو لازم آئے گا کہ صفت ایمان تمام کتابیوں پر صادق آنا چاہئے۔ جیسا کہ

٤٧

صفحہ ٧١٠

کہہ دیں کہ ہر ایک کتابی اس پر ایمان لائے گا۔ اس لئے یہ قضیہ موجبہ محصورہ کلیہ بنا۔ جب کہ ہم آیت مذکورہ سے وہ مراد رکھ لیں جو قادیانی بیان کرتے ہیں تو اس تقدیر پر یہ معنی ہوگا کہ سب اہل کتاب مسیح علیہ السلام کے قتل کی مشکوکیت پر ان کے مرنے سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔ حالانکہ یہ معنی مردود ہے۔ گو ہم اس سے قطع نظر کریں کہ اس طرز پر صیغہ مضارع کا ماضی پر محمول کرنا لازم آتا ہے۔ اس سے بھی اغماض کریں کہ نون تاکید ثقیلہ معنی استقبال کو چاہتا ہے۔ مگر اور طرز پر جو اعتراض وارد ہوتا ہے وہ بالتصریح بیان کریں گے۔ وہ یہ ہے کہ یہ حکم خاص ان ہی بعض اہل کتاب کے لئے ہے جو مسیح علیہ السلام کے زمانہ اور آپ کی مرفوعیت سے پہلے موجود تھے۔ لیکن یہ تو قاعدہ مذکورہ مسلمہ سے مخالف ہے۔ کیونکہ قاعدہ سے لازم آیا تھا کہ یہ حکم کل کتابیوں کے واسطے ہے۔ نہ بعض کے واسطے۔ یا یہ کہو گے کہ یہ عام اہل کتاب کے لئے ہے۔ یعنی جو آپ کے زمانہ میں آپ کی مرفوعیت سے پہلے موجود تھے اور وہ جو اس کے بعد قیامت تک موجود ہوتے جائیں گے۔ مگر اس سے تو پھر اور ہی محال لازم آئے گا۔ اس لئے کہ اب یہ تجویز کرنا پڑے گا کہ ایک چیز جو موجود نہیں وہ موجود ہونے کی حالت میں موجود ہو۔

اجی! جب تم مسیح علیہ السلام کے مرجانے کے قائل ہو اور ادھر آیت کے معنی یہ ہوئے کہ مسیح علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ہی تمام کتابی ایمان لا چکے ہیں تو صاف لازم آیا کہ جو اس زمانہ میں موجود نہیں تھے موجود ہوں۔ آخر جب سب کے لئے موت مسیح علیہ السلام سے پہلے ہی صفت الایمان ثابت کیا گیا تو اس صفت کا موصوف بھی تب ہی موجود ہونا چاہئے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ صفت بغیر موصوف کے متحقق ہو۔ یہ تجویز گویا اجتماع الضدین کو جائز کر دینا ہے۔ نیز اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ یہاں مصدر کو بلا موجب ماضی پر محمول کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ یہ محاورہ صاحبان فہم کے ناپسند ہے۔ رہی یہ بات کہ مستدل دو معنوں کو اپنے منہ سے اچھا کہتا ہے اور دونوں کو اپنے کشوف سے مؤید کرتا ہے۔

سو واضح رہے کہ بالضرور دو معنوں میں سے ایک تو بالکل باطل ہے۔ سبب یہ ہے کہ دوسری توجیہ اور معنی میں زیادہ تر خصوص کا ہی احتمال ہے۔ کیونکہ اگر عموم لیا جائے تو اجتماع النقیضین لازم آتا ہے۔ چنانچہ گزرا پہلی توجیہ میں خالی عموم ہی ہے اور ظاہر ہے کہ عموم وخصوص یہ دونوں آپس میں متغائر ہیں۔ پس اگر پہلی توجیہ کو تسلیم کریں گے تو بالضرور دوسری ندارد ہے۔ اگر دوسری کو مان لیں گے تو لامحالہ پہلی مردود ہے۔ اب کہئے کہ اگر کشف کو الہام رحمانی سے ہی فرض کرلیں

٣٨

صفحہ ٧١١

گے تو دوسرا بداہتہ شیطانی ہوگا۔ اس لئے کہ اگر دونوں الہام اللہ سے ہوتے تو ان میں تخالف نہ ہونا چاہئے تھا۔ لہٰذا حق یہی ہے کہ یہ دونوں ہی رحمانی نہیں ہیں۔ ورنہ کیوں ان دونوں پر شرعیہ اور عقلیہ اعتراضات ساطعہ قاطعہ وارد ہوتے۔ لامحالہ ایسے مدعیوں کے خصائل سے یہ بات سامنے ہے کہ اگر ان کے مقابلہ پر قرآن پیش کرتے ہیں تو انجیل طلب کرتے ہیں۔ جب انجیل سامنے رکھتے ہیں تو قرآن طلب کرتے ہیں۔ جب یہ دونوں پیش کئے جاویں تو عقل کے طالب ہوتے ہیں۔ پھر عقل بھی اگر پیش کی جاوے تو کشف لے بیٹھتے ہیں۔ تو پھر جب اس کشف پر دلیل طلب کی جاتی ہے تو سرنگوں متحیر ہو جاتے ہیں۔ غرضیکہ وہ لوگ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔ ہر ایک دربار سے ان کو دھکے ملتے ہیں۔ یا یوں کہئے کہ یہ لوگ شتر مرغ کے مثیل ہیں۔ اس پر جب بوجھ ڈالنا چاہیں تو اڑنے والا پرندہ بن بیٹھتا ہے۔ اگر اسے اڑانا چاہیں تو اونٹ کہلاتا ہے۔ یا یوں کہ ایسے لوگ اس مریض کے مثیل ہیں۔ جسے مرض الموت نے گرفتار کیا ہو نہ وہ زندہ ہو اور نہ وہ مردہ ہے اور کسی نبی کے مثیل نہیں ہیں۔ خیر جو ہیں سو ہیں۔ ہم کو اس سے کیا غرض ہے۔ ہاں ہم اب یہ بیان کریں گے کہ جس طرح پر کہ ہم اور سلف وخلف آیت ”انا قتلنا المسیح (النساء:١٥٧)“ سے سمجھتے ہیں۔ اس طرز پر اعتراضات مذکورہ میں سے ایک اعتراض بھی وارد نہیں ہوتا۔ وہ یوں ہے کہ اہل کتاب نے کہا ہے کہ ہم مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے پر یقین رکھتے ہیں۔ سو اللہ عزوجل نے ان کی تردید فرمائی کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو نہ تو قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا۔ پس کیونکر مسیح علیہ السلام کے قتل ہو جانے پر ان کو یقین کر بیٹھنا متصور ہے۔ اس لئے کہ علم یقینی کے لئے تو یہ ضروری ہے کہ واقع سے مطابق ہو کیا ہو سکتا ہے کہ واقع سے تخالف ہو اور پھر بھی یقینی ہو۔ ہرگز نہیں۔ لہٰذا ان کا یہ دعویٰ کہ ہم قتل کے بارے میں متیقن ہیں۔ باوجودیکہ دراصل ان کو یقین حاصل نہیں ہے۔ بلاشبہ جہل مرکب ہے۔ کیونکہ جہل مرکب کا معنی یہی ہے کہ خلاف واقع ایک حکم لگایا جائے۔ پس وہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ یعنی ایسے حکم میں کہ وہ خلاف واقع ہے۔ نہیں ان کو یقین حاصل۔ بلکہ ظن اور جہل مرکب کے تابعدار ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ یعنی قتل کا نہ پایا جانا یقینی ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ یقیناً نفی ”ما“ کی مفید ہے نہ نفی ”قتلوہ“ کی۔ ”بل رفعہ اللہ“ بلکہ خداوند عزاسمہ نے مسیح علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ لیکن وہ اٹھا لینا کہ وہ ”بجسدہ“ منافی قتل ہے نہ وہ کہ اس کا منافی نہیں۔ یعنی رفع روحی۔ کیونکہ رفع روحانی واقع اور اعتقاد مخاطب میں قتل کے ساتھ مجتمع ہوتا ہے۔ ٣٩

صفحہ ٧١٢

"وكان الله عزيزاً حكيماً" خداوند تعالیٰ کو مسیح علیہ السلام کے جسدہ مرفوع کرنے سے کوئی چیز عاجز کرنے والی نہیں۔ ”حکیماً“ خدا حکمت والا ہے رفع کے کام میں۔ نہیں کوئی ایک بھی ”من اهل الكتاب الاليؤمنن به“ اہل کتاب میں سے اگر مسیح علیہ السلام پر ایمان لائیں گے۔ ان کے مرجانے سے پہلے ہی خواہ وہ ایمان ان کے لئے نافع ہی ہو۔ جیسا کہ حالت حیات میں یا نافع نہ ہو۔ جیسا کہ حالت مرگ میں اور یہ ایمان کہ جو مرگ کی حالت میں نہیں وہ اس سے عام ہے کہ مسیح علیہ السلام کے اترنے سے پہلے ہو یا ان کے اترنے کے بعد ہو۔ پس اس معنی میں غور کرو کہ اس میں بہر حال ایمان کی حفاظت ہے۔ دیکھو ایک تو صیغہ مضارع اپنے ہی معنی پر رہا۔ نون ثقیلہ جو مدخول کے استقبال پر بالاجماع دلالت کرتا ہے اپنے ہی طور پر رہا۔ اس معنی پر اعتراضات سابقہ میں سے کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ ”كـمـا هـو الـظـاهـر بـالـتـامـل الصادق“ لہٰذا جو معنی ہم نے بیان کئے ہیں اسی کو صحیح کہنا زیبا ہے اور اس کے برخلاف الہامات وکشوف کو کھنڈروں پر دے مارنا لازم ہے۔ یہی معنی تمام اشکالات کے دور کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس پر بالضرور منصف مزاج ایمان لائے گا۔ گو کوئی بے انصاف اور بے محل جھگڑالو اس سے انحراف کرے۔ قادیانی کا اور بھی استدلال التزام کے طور پر ہے کہ ہر ایک جو آسمان کے موجود ہونے پر ایمان رکھتا ہے اس کا یہ عقیدہ ہے کہ آسمان کی حرکت استدارت پر ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کو اگر آسمان پر زندہ مان لیں گے تو واضح طور پر لازم آئے گا کہ مسیح علیہ السلام بھی آسمان کی حرکت سے متحرک ہوں۔ پس ان کا فوق اور اوپر ہونا متعین نہیں ہوگا۔ یا یوں کہئے کہ ان کے لئے جہت فوق معین نہیں ٹھہرے گا۔ بلکہ اس تقدیر پر مسیح علیہ السلام کا کبھی نیچے اور کبھی اوپر ہونا ثابت ہوگا۔ لہٰذا نزول بھی معین نہیں ہوگا۔ کیونکہ نزول فوق سے ہوتا ہے اور فوق ہی جب معین نہیں تو نزول کا کہاں ٹھکانا ہے۔ نیز اس صورت میں مسیح علیہ السلام کا جب تک کہ آسمان پر ہیں عذاب میں اور اضطراب میں گرفتار ہونا لازم آئے گا۔

جواب...... واضح رہے کہ یہ استدلال موٹی اور سرسری نظر والوں کو جلدی جھپ لے گی۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے قابو زیادہ تر اسی قسم کے لوگ آئے ہیں۔ لیکن جو نیک بخت باریک بین ہیں وہ ایسے استدلالات کو کوڑی سے بھی نہیں خریدتے۔

تقریراً الجواب کہ دراصل فوق کا اطلاق اس لمبے خط کے جو انسان کے سر کی طرف جس وقت کہ طبعی طور پر کھڑا ہو یا بیٹھا ہو کھینچا جائے۔ منتہی پر کیا جاتا ہے۔ وہ فلک الافلاک یعنی عرش کا

٤٠

طرف بالا ہے رہا جہت (نیچے کی طرف) پاؤں کے تلے سے کھینچا جائے اور وہی مر حقیقی کہلاتی ہیں۔ فوق و تحت کا اطلاق افلا کے مابین بھی کیا جاتا ہے۔ مگر یہ اطلاق فوقیہ و تحتیہ سے موصوف ہوتے ہیں۔ چ کا وہ طرف جو نیچے کو ہے بہ نسبت مذکورہ ہیں وہ باقی افلاک کی نسبت تحت ہیں۔ ا سے فوق اور دوسرے اعتبار (باقی افلاک مرکز عالم اور فلک الافلاک کے مابین فر فلک الافلاک کی طرف بالا سے زیادہ م جہتیں ان کے برخلاف ہیں۔ کیونکہ تحت ہے وہ ہرگز فوق نہیں ہو سکتا۔ وجہ عالم دائماً مرکز ہی ہے۔ نہ ان میں تغیر السلام چونکہ دوسرے آسمان پر ہیں تو نسبت فلک الافلاک سے طرف بالا باشندوں سے فوق ہوں گے۔ گو ان جائے۔ اب دیکھئے کہ جہت فوق معین باشندگان زمین سے فوق ہی کہلائیں گ تو یوں ہوگا کہ مسیح علیہ السلام دوسرے دائماً ان کا فلک الافلاک کے طرف بالا سے تباعد ہوتا جائے گا۔ یہاں تک کہ یہ بات معلومات سے ہے کہ فلک الا ہے حرکت کرنے کو نزول کہتے ہیں ن حرکت کرنے کا نام عروج ہے۔ پس آسمانوں کے استدلال

صفحہ ٧١٣

طرف بالا ہے رہا جہت (نیچے کی طرف) اس کا اطلاق اس خط کے منتہے پر ہوتا ہے کہ انسان کے پاؤں کے تلے سے کھینچا جائے اور وہی مرکز عالم ہے۔ یہ دو جہتیں کبھی متبدل نہیں ہوتی ہیں۔ لہٰذا حقیقی کہلاتی ہیں۔ فوق وتحت کا اطلاق ان اطراف پر جو کہ مرکز عالم اور فلک الافلاک کی طرف بالا کے مابین ہیں کیا جاتا ہے۔ مگر یہ اطلاق اضافی کہلاتا ہے۔ ہر ایک ان متوسط اطراف میں سے فوقیہ وتحتیہ سے موصوف ہوتے ہیں۔ مثلاً کہہ دیں کہ آسمان دنیا کا سطح بالا فوق ہے اور اسی آسمان کا وہ طرف جو نیچے کو ہے بہ نسبت مذکور کے تحت ہے۔ ماسوا اس کے جتنے نزدیک نزدیک اطراف ہیں وہ باقی افلاک کی نسبت تحت ہیں۔ اس لئے یہ معین طرف ایک اعتبار (نیچے طرف کی نسبت) سے فوق اور دوسرے اعتبار (باقی افلاک کی نسبت) سے تحت ہوا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جو دو طرف مرکز عالم اور فلک الافلاک کے مابین فرض کئے جاویں ان میں سے جو مرکز سے زیادہ تر قریب اور فلک الافلاک کی طرف بالا سے زیادہ تر بعید ہوگا وہ تحت ہے اور اس کے برعکس فوق ہے۔ حقیقی دو جہتیں ان کے برخلاف ہیں۔ کیونکہ جو ان میں سے فوق کہلاتا ہے وہ ہرگز تحت نہیں بن سکتا اور جو تحت ہے وہ ہرگز فوق نہیں ہو سکتا۔ وجہ یہ ہے کہ فلک الافلاک کا طرف اعلیٰ ہمیشہ اعلیٰ ہے اور مرکز عالم دائماً مرکز ہی ہے۔ نہ ان میں تغیر اور نہ تبدل ہوتا ہے۔ پس بنابریں کہا جاسکتا ہے کہ مسیح علیہ السلام چونکہ دوسرے آسمان پر ہیں تو وہ بہ نسبت مرکز کے زیادہ تر بعید ہیں۔ زمین کے باشندوں کی نسبت فلک الافلاک سے طرف بالا سے زیادہ تر قریب ہیں۔ لہٰذا مسیح علیہ السلام زمین کے باشندوں سے فوق ہوں گے۔ گو ان کا متحرک ہونا آسمانوں کے متحرک ہونے سے تسلیم کر لیا جائے۔ اب دیکھئے کہ جہت فوق معین ہوا۔ بلکہ جب تک کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر ہیں تب تک باشندگان زمین سے فوق ہی کہلائیں گے۔ پھر جب کہ خداوند تعالیٰ ان کے نزول کا ارادہ فرمائے گا تو یوں ہوگا کہ مسیح علیہ السلام دوسرے آسمان کی طرف بالا پر سے حرکت کریں گے۔ یہاں تک آناً فاناً ان کا فلک الافلاک کے طرف بالا سے بہ نسبت سابق بعد بڑھتا جائے گا اور وہ بعد جو ان کو مرکز سے تھا کم ہوتا جائے گا۔ یہاں تک کہ زمین کی سطح پر آ ٹھہریں گے اور اسی کو نزول کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ بات معلومات سے ہے کہ فلک الافلاک کی طرف بالا یا اس طرف پر سے جو مرکز سے نزدیک ہے حرکت کرنے کو نزول کہتے ہیں۔ جیسا کہ مرکز عالم سے فلک الافلاک کی طرف بالا کی طرف حرکت کرنے کا نام عروج ہے۔

پس آسمانوں کے استدارت پر متحرک ہونے سے نزول کا غیر معین ہونا لازم نہیں آتا۔

٤١

صفحہ ٧١٤

نہ ان کا آسمانوں کے متحرک ہونے کی وجہ سے اضطراب و عذاب میں ہونا ضروری ہوا۔ کیا دیکھتے نہیں کہ زمانہ حال کے ہیئت والے اور انگریزی ڈاکٹروں کا یہ مذہب ہے کہ آفتاب جو ستاروں کے درمیان ہے اور وہ اس کے گردا گرد پھرتے ہیں۔ ان کی حرکت کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ زمین کے گردا گرد نہیں پھرتے ہیں۔ بلکہ زمین ہی ان کے گردا گرد پھرتی ہے۔ کہتے ہیں کہ زمین بھی ان سیارات میں سے ایک سیارہ ہے۔ وہ سیارے یہ ہیں: عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، دستہ۔ ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ سریعہ حرکت ہے جو مغرب سے مشرق کی طرف دن بھر میں ہوتی ہے۔ زمین ہی کی حرکت ہے۔ اس لئے ستارہ کبھی طالع کبھی چھپے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ کیونکہ زمین مغرب سے مشرق کی جانب حرکت کرتی ہے اور ستارے ساکن ہوتے ہیں یا وہ بھی مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ لیکن زمین کی حرکت سے ان کی حرکت بہت ہی بطی ہے تو ہم ہر ساعت ان ستاروں کو دیکھتے ہیں جو ہماری نظروں سے مشرق میں ہمیشہ پہلے غائب ہوتے تھے۔ ہماری نظروں سے وہ ستارے جو ہم کو نظر آرہے تھے۔ مغرب میں ہماری نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں۔ اسی سبب ہم کو خیال آتا ہے کہ زمین ساکن ہے اور ستارے بھی حرکت سریعہ مشرق سے مغرب کی طرف کرتے ہیں۔ جیسا کہ کشتی دریا میں چلتی ہے اور پانی جس طرف کو متحرک ہوتا۔ کشتی اس کے مخالف طرف کو جاتی ہے تو خیال کیا جاتا ہے کہ کشتی معہذا ساکن ہے۔ یہ مذہب (یعنی زمین کا متحرک ہونا) گو مردود ہے۔ مگر بات تو یہ ہے کہ جو لوگ اس مذہب کے پابند ہیں یا ان کی باتوں کو پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کیا یہ نہیں سوچا تھا کہ اس طرح پر تمام باشندگان زمین مبتلائے عذاب ٹھہریں گے پھر اگر باشندگان زمین کو اس سے معذب ہونا لازم آتا ہے تو وہ کیوں اسی دلیل سے اس مذہب کو باطل نہیں سمجھتے۔ معہذا کسی ایک مسلمان نے اور کسی نہ کسی دوسرے فلسفی نے ان کے اس مذہب کو بہ ایں دلیل باطل کیا۔ البتہ عوام الناس کو بگاڑنے کے لئے یہ آسان ہے۔ عقلمند تو اس عذاب کی دلیل کو پسند نہیں کرتے۔ رہی یہ بات کہ زمین کا متحرک ہونا یہ ایک مردود بات ہے۔ سو اس کی وجوہ اور ہیں نہ وجہ عذاب۔

وجہ اوّل کہ زمین میں طبعاً حرکت مستقیمہ کے میلان کا مبداء موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ مستقیمہ اور مستدیرہ آپس میں مغائر ہیں۔ کیونکہ مستدیرہ تو وہ حرکت ہے جو کہ گولائی پر ہو۔ مستقیمہ وہ حرکت ہے کہ ایک سیدھے خط پر ہو اور یہ بات کہ اس میں میلان مستقیمہ ہو۔ اسی سے ثابت ہے کہ جب ہم زمین کے اجزا لے لیں اور ان کو پھینکیں تو وہ خط مستقیم پر ہی حرکت کرتے ہیں۔ لہٰذا ٤٢

صفحہ ٧١٥

زمین کا استدارت پر متحرک ہونا مسلم نہیں ہے۔

دوسری وجہ کہ اگر اس طرح پر وہ متحرک ہوتی تو چاہئے تھا کہ جب جانور مغرب کی طرف دوڑتا ہو تو وہ مشرق کی طرف جاتا وہ منزل مقصود پر نہ پہنچتا۔ مگر بعد گزرنے دن اور رات کے اکثر حصہ کے گو جس جگہ سے اس نے سیر شروع کی تھی اس سے مقصود تک تھوڑی ہی مسافت ہو۔ حالانکہ واقع میں اس کے برخلاف معاملہ ہے۔

تیسری وجہ کہ اسی صورت میں چاہئے تھا کہ جتنے جانور زمین و آسمان کے مابین ہیں ان کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا کہ وہ مغرب کی طرف حرکت کر رہے ہیں۔ خواہ وہ بالارادہ آپ ہی مشرق یا مغرب کی طرف متحرک ہوں۔ اس لئے کہ زمین کی حرکت سریعہ مانی گئی۔ جانوروں کی حرکت بطی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس اور وجوہ بھی ہیں۔ جن سے کہ یہ مذہب باطل ہوتا ہے۔ مگر خوف طول اور خلاف مقصود ہونے کی وجہ سے وہ مذکور نہیں ہوئے اور یہ بھی وجہ ہے کہ قرآن شریف میں بھی زمین کا ساکن ہونا بیان کیا گیا ہے۔ دیکھو خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے زمین کو میخیں ٹھوک دیں۔ تم کو متحرک نہ کرے۔ کس نے خدا کے سوا زمین کو ساکن اور فرش بنایا اور اس میں نہریں جاری کیں۔ اس کے پہاڑوں کو میخوں کے قائم مقام بنایا۔ ان سب آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین ساکن ہے۔ لیکن اب تک جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے فلک الافلاک کے استدارت پر متحرک ہونا اور اس کی تحریک سے باقی آسمانوں کا متحرک ہونا مان کر بیان کیا ہے۔ اب ہم اس کے مطابق جواب دیتے ہیں کہ جو شرعاً ثابت ہے وہ یوں ہے کہ شرعاً فلک الافلاک وغیرہ ہرگز متحرک نہیں ہیں۔ اس لئے کہ نہ قرآن سے ثابت ہے کہ عرش متحرک ہے اور نہ کسی صحیح یا ضعیف حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ بلکہ صحیح احادیث میں آیا ہے کہ عرش کے لئے پائے ہیں۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ متحرک نہیں ہے اور اس سے وہ حدیث کہ جس میں آیا ہے کہ عرش خیمہ کی طرح قبہ دار ہے۔ انکاری نہیں ہے۔ آچکا ہے کہ خداوند کا عرش بالفعل چار فرشتوں نے اٹھا رکھا ہے۔ دیکھو کہ قرآن شریف میں ہے کہ قیامت کے دن کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔ پس اب فلک الافلاک کا متحرک ہونا باوجود ان اخبار اور آیات کے کب ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں ہاں قرآن میں ستاروں کی حرکت کا بے شک ذکر ہے۔ دیکھو خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ آفتاب چاند کو نہیں پکڑ سکتا اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ ہر ایک کیا آفتاب اور کیا چاند اور دوسرے ستارے آسمان میں سیر کرتے ہیں۔ فرمایا کہ ہر ایک ان میں سے ایک وقت معین تک سیر کرتا رہے گا۔ فرمایا ہے کہ قسم کھاتا ہوں ان پانچ ستاروں کی جو پیچھے ہٹ جاتے۔ سیدھے چلنے اور غائب ہو جانے والے ہیں

٤٣

صفحہ ٧١٦

اور وہ ستارے یہ ہیں۔ زحل، مشتری، مریخ، زہرہ، عطارد۔ اگر مان بھی لیں کہ فلک الافلاک متحرک ہے۔ لیکن یہ ہم تسلیم نہیں کریں گے کہ باقی آسمان اس کی تحریک سے متحرک ہیں۔ اس لئے کہ یہ اس صورت میں لازم تھا کہ اگر شرعاً آسمانوں کا ملاپ آپس میں ثابت ہوتا ہے۔ لیکن ملاپ تو ثابت نہیں ہے۔ بلکہ شرعاً ثابت ہے کہ آسمان آپس میں دور دراز فاصلہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ احادیث وغیرہ کے دیکھنے سے ظاہر ہوگا۔ نیز آسمانوں کی کرویت بھی شرع سے ثابت نہیں ہے۔ بلکہ شرع سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین آسمان دنیا کے مقابلہ پر ایسی ہے کہ جیسے کسی میدان میں حلقہ پڑا ہو۔ اسی طرح آسمان دنیا دوسرے آسمان اور دوسرا تیسرے آسمان کی نسبت ہے۔ باقی علیٰ ھذا القیاس!

سب آسمان کرسی کے اور کرسی معہ ماتحت کے فلک الافلاک کے سامنے اس حلقہ کی مانند ہے جو میدان میں پڑا ہو۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اگر آسمان کروی ہوتے تو یہ تمثیل صحیح نہ ہوتی۔ اس لئے ماننا پڑے گا کہ وہ کروی نہیں ہیں۔ پس جب کہ کرویت نہ رہی۔ تو خود حرکت مستدیرہ بھی جاتی رہی۔ کیونکہ مستدیرہ حرکت سے تو وہ وہی متحرک ہوتا ہے کہ جو کروی ہو۔ لا غیر!

جب کہ آسمانوں کے مابین اتصال ثابت نہ ہو تو اگر ہم فلک الافلاک کا متحرک ہونا مان بھی لیں گے تو اس کے متحرک ہونے سے اس کے ماتحت آسمانوں کو متحرک ہونا لازم نہیں آئے گا۔ بلکہ تم جان چکے ہو کہ فلک الافلاک متحرک بھی نہیں۔ بنابراں جو کچھ قادیانی نے الزام کے طور پر استدلال عام خیالات کی تقلید سے پیش کیا تھا۔ ہرگز پیش ہونے کے قابل نہیں ہے اور سر بسر مردود ہے۔ ہماری ساری تقریر کا ماحصل یہ ہے کہ ہم ان کے استدلال پر گوناگوں پے در پے تر تیب دار اعتراضات وارد کرتے ہیں۔ بایں طور کہ اوّلاً فلک الافلاک کا متحرک ہونا نہیں مانتے ہیں۔ اگر یہ مان لیں گے تو پھر اس کا استدارت پر متحرک ہونا نہیں مسلم ہے۔ اس کو بھی اگر مان لیں تو پھر یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اس کی تحریک سے باقی آسمان بھی متحرک ہیں۔ کیونکہ یہ بات آسمانوں کے آپس میں متصل ہونے پر موقوف ہے۔ لیکن وہ تو متصل ہی نہیں۔ پس اس کی تحریک سے ان کا متحرک ہونا بھی لازم نہیں آتا۔ اگر ہم یہ سب کچھ تسلیم کریں تو ہمارا یہ کہنا کہ نہ جہت الفوق اور نہ نزول متعین ہوتا ہے اور اس صورت میں مسیح علیہ السلام کا عذاب دائمی میں مبتلا ہونا لازم آیا ہے، غلط ہے۔ ان تینوں محذورات کو ممنوع سمجھتے ہیں۔ ان کے لئے دلیل طلب کرتے ہیں۔ مگر دلیل کہاں یہ تو یوں ہی تعلّق ہے۔ ہم نے جو کچھ مفصل طور پر بیان کیا ہے۔ وہ معلوم ہو ہی گیا ہے۔ اس میں ناظرین خوب تامل کریں۔ تاکہ قادیانی کی ہیئت دانی اور ہندسہ فہمی وغیرہ علوم کے

٤٤

صفحہ ٧١٧

حالات معلوم ہوں۔ ان کے مہدیت و مسیحیت کے دعویٰ کی بناوٹ روشن ہو۔ قادیانی علماء اسلام پر اس طور پر بھی اعتراض کرتا ہے کہ پرانے فلسفہ سے ثابت ہوتا ہے کہ انسانی جسم کو طبقہ زمہریریہ تک ہرگز رسائی نہیں۔ زمانہ حال کے فلاسفہ نے بھی تحقیق یوں کر لیا ہے کہ وہ بعض پہاڑوں پر چڑھے وہاں پر جا کر معلوم کیا کہ ان کی چوٹیوں پر اس درجہ کی ہوا ہے کہ وہ انسانی جسم کو سلامت رہنے نہیں دیتی۔ بلکہ اتنی بلندی پر پہنچ کر ہرگز زندہ نہیں رہ سکتا۔ پس متقدمین اور متاخرین کے اتفاق سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام ہرگز آسمان پر نہ چڑھے ہوں۔ کیونکہ راستہ پر اس قدر سردی ہے کہ آدمی وہاں پہنچتے ہی مر جائے گا۔ لہٰذا آسمان تک مسیح علیہ السلام کی رسائی ہرگز متصور نہیں۔ پس جب کہ طبقہ زمہریریہ تک پہنچنا ہی غیر ممکن ہے تو آسمان پر پہنچنا بھی غیر ممکن ٹھہرا۔ اس لئے کہ جب معد ہی ممکن نہیں تو معدلہ کیسے ممکن ہوگا۔ (معد اس کو کہتے ہیں کہ جس کا عدم بعد الوجود متاخر کے لئے سبب ہو۔ جیسے پہلا قدم دوسرے قدم کے لئے)

جواب…… یہ ساری تقریر ہی معترض کی گویا باطل کو زینت دینا ہے۔ تانبے کو سونے کا پانی چڑھا کر سونے کے بھاؤ بیچنا ہے۔ لیکن ایسی بناوٹ دانشمندوں سے کب پوشیدہ رہتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ طبقہ زمہریریہ تک بدن انسانوں کا وصول ممکن ہے اور اس کا ممکن نہ ہونا ہرگز مسلم نہیں۔ پس مسیح علیہ السلام کا آسمان پر چڑھنا بھی ممتنع نہیں ہوا۔ رہی یہ بات کہ انسان کا وصول کیوں ناممکن نہیں۔ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ناممکن ہونا چند امور پر موقوف ہے۔ ایک یہ کہ طبقہ زمہریریہ کے تمام اجزاء اس ضرر رسانی کی کیفیت میں برابر ہوں۔ لیکن ہم اس برابری کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس کے لئے تو کوئی دلیل چاہئے۔ بلکہ اگر اس بات کا لحاظ کریں کہ آفتاب کی محاذات کو عنصریات وعناصر کی طرف گونا گوں نسبتیں ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ طبقہ زمہریریہ کے اجزاء کی سردی برابر نہیں۔ دوم یہ کہ وہ سردی طبقہ زمہریریہ کی ذات میں داخل ہو۔ جیسے کہ ذاتیات ذات میں داخل ہوتے ہیں۔ اس طرز پر کہ وہ سردی اس کے مرتبہ ذات سے ہرگز جدا نہیں ہو سکتی۔ مگر یہ بھی مسلم نہیں۔ کیونکہ اگر یہ سردی اس کے ذاتیات سے ہوتی تو چاہئے تھا کہ وہ کبھی شدت اور کبھی ضعف کے ساتھ موصوف نہ ہو۔ حالانکہ وہ اس طرز پر موصوف ہوتی ہے۔ جب ایسی ہوتی تو ذاتی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ذات و ذاتیات میں تشکیک نہیں۔ لیکن طبقہ زمہریریہ تو مشکک ہے۔ کیونکہ مشکک ہونا یہی ہے۔ کبھی شدت اور کبھی ضعف سے موصوف ہو۔ پس ظاہر ہے کہ وہ طبقہ کبھی ضعیف ہوتا ہے۔ چنانچہ جب آفتاب طبقہ کی سمت پر ہو۔ جیسا کہ دن میں اور کبھی وہ شدید البرد ہوتا ہے۔ یہ اس صورت میں کہ آفتاب اس کے ساتھ مسامتت نہ رکھتا ہو۔

٤٥

صفحہ ٧١٨

جیسا کہ رات میں نیز اس میں تشکیک اس وجہ سے بھی ہے کہ گرمیوں اور جاڑے میں بلکہ جنوب اور شمال میں اس کے اجزاء سردی میں برابر نہیں ہوتے۔ کیا جیسے کہ گرمیوں میں اس میں سردی ہوتی ہے۔ ویسے ہی جاڑے میں ہوتی ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ جاڑے میں شدید اور گرمیوں میں ضعیف ہوتی ہے۔ پس اس قسم کا اختلاف صریح طور پر اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کیفیت اس طبقہ کے ذاتیات میں سے نہیں ہے۔ اسی پر اس کیفیت کا طبقہ مذکورہ کے لوازم سے ہونا سو یہ اس طرح پر ہوگا کہ اس کیفیت کا اصل اور نفس (یعنی بلا شدت و بلا ضعف) اس کو لازم ہو۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ اصل برودت انسانی بدن سے منافات نہیں رکھتی اور نہ انسان کو جان سے مار دیتی ہے۔ یا کہو گے کہ نہیں ہم تو اصل برودت کو لازم نہیں کہتے۔ بلکہ اس کے ایک خاص درجہ کو لازم سمجھتے ہیں۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مرتبہ اور درجہ ابھی تک معین نہیں ہوا اور اگر ہم اس خاص درجہ کا ہونا بھی تسلیم کر لیں۔ لیکن یہ ہم تسلیم نہیں کرتے کہ وہ بھی اس طبقہ سے جدا نہیں ہوتا۔ پھر لزوم کہاں رہا۔ اچھا بھئی لزوم بھی مانا۔ لیکن مستفسر ہے کہ وہ لزوم عادی ہے یا عقلی۔ عقلی تو نہیں ہے۔ اجی! عقلی کے تو یہی معنی ہیں کہ اپنے ملزوم کو کبھی جدا نہ ہو۔ جیسا کہ دو کے واسطے جفت ہونا لازم ہے اور یہ زوجیت کا وصف اس سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔ عادی لازم کا اپنے معروض سے جدا ہونا جائز ہے۔ دیکھو سکر شراب کے لئے عادی لازم ہے۔ اسی لئے اگر اس میں نمک یا سرکہ ڈال دیا جائے تو سکر زائل ہوگا۔ حرارت آگ کے واسطے عادتا لازم ہے۔ اس لئے خداوند تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں آگ سے خطاب فرمایا کہ اے آگ! تو خنک سرد ہو۔ ابراہیم علیہ السلام کے لئے پس وہ آگ سرد ہو گئی۔ چنانچہ اس کی خود حق سبحانہ خبر دیتے ہیں کہ پھر بھی ابراہیم علیہ السلام کو قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا کہ ابراہیم علیہ السلام کو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو۔

پس خداوند تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے بچا لیا۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حرارت جو ایک عادی لازم تھی وہ آگ سے جدا ہو گئی تھی۔ کیوں نہ ہو۔ اگر یہ لازم ہوتی تو چاہئے تھا کہ حرارت معدوم ہوتے ہی آگ بھی معدوم ہو جاتی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ معتبر مورخین نے بیان کیا ہے کہ مسلمۃ الکذاب نے ابی مسلم خولانی کے جلا دینے کا حکم دیا تھا۔ اس لئے قوم نے ان کو آتش سوزاں میں ڈال دیا۔ مگر وہ نہ جلے۔ آگ سرد ہو گئی تھی۔

اب دیکھئے یہاں بھی حرارت آگ سے جدا ہو گئی تھی۔ پس جب کہ آگ سے حرارت کو باوجود یکہ وہ آگ کی ذات کو عارض ہے۔ یہ نسبت ہے تو سردی کا بہ نسبت طبقہ زمہریریہ کے جو ہوا کا ایک مرتبہ ہے باوجود اس کے کہ وہ بالعرض سرد ہے۔ کیا حال ہونا چاہئے کیا معلوم نہیں کہ

٤٦

صفحہ ٧١٩

عنصر ہوا بذاتہا گرم تر ہے۔ دیکھو کتب طب۔ چونکہ سردی نہ اس کی ذاتی ہے نہ لازم عقلی تو اس کا اس سے جدا ہونا کیسے ناروا ٹھہرے گا۔ لہٰذا ہر وقت صعود مسیح علیہ السلام کے سردی کا نابود ہونا جائز ہوا۔ اس لئے کہ ممکن ہے کہ صعود کے وقت میں وہ چیزیں موجود ہو گئی ہوں جو سردی کی تیزی کو دور کرنے والی ہیں۔ جیسے کہ غلیظ دھویں اور اس کے پاس ہی جل کر روشن ہوئے ہوں۔ چنانچہ بسا اوقات وہی دھویں جل کر نیزوں کی شکل اور سینگ والے حیوان وغیرہ کی ہیئت میں دکھلائی دیتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ اتنے لمبے ہوں کہ وہ زمین سے متصل ہو جائیں۔ بلکہ کبھی متصل بھی ہو ہی جاتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں اس کا نام حریق ہے اور کبھی زمین سے متصل نہیں ہوتے۔ پس چونکہ ایسے اسباب کا جو سردی کی تیزی کو دور کر دیتے ہیں۔ مہیا ہونا ممکن ہوا تو مسیح علیہ السلام کا آسمان پر چڑھنا بھی ممکن ہوا۔ شاید اب کہو گے کہ طبقہ زمہریہ سے اوپر ایک اور طبقہ ہے جو جلانے والا ہے تو مسیح علیہ السلام اس سے بچ کر کس طرح آسمان پر چڑھ گئے۔ تو واضح ہو کہ یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ حرارت آگ کے لئے ایک عادی لازم ہے۔ اس لئے اس کا کرہ نار سے جدا ہونا جائز ہے۔ گو یہ جدائی آنی ہو۔ برودت کے لازم عقلی یا ذاتی ہونے کو ہم تسلیم کر کے اور طرز پر بھی جواب دیتے ہیں۔ وہ یوں ہے کہ طبقہ زمہریہ کے اثر کرنے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ انسان اس طبقہ میں اتنا زمانہ قرار پذیر ہو کہ وہ آپس میں اثر کر سکے۔ لیکن ظاہر ہے کہ آسمان پر انسان کے پہنچنے کے لئے اس طبقہ میں استقرار لازم نہیں۔ کیونکہ آسمان پر جانا بطور انتقال دفعی ہے یا حرکت سے اور یہ دونوں اس مسافت میں استقرار کو مستلزم نہیں ہیں۔

پس بدن انسانی بھی اس مسافت میں صحت کی مزاحم کیفیت سے متاثر نہیں ہوگا۔ چونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ دو امر جو بلاواسطہ آپس میں ضدیت رکھتے ہوں۔ باوجود اس کے کہ متضادین زیادہ اور جلدی ایک دوسرے سے اثر کو قبول کرتے ہیں۔ تاثر تب ہی ہو سکتا ہے کہ وہ دونوں ضدیں کسی ایسے زمانہ میں مجتمع ہوں کہ اتنے زیادہ میں وہ ایک دوسرے میں تاثیر کر سکیں۔ تو بلاشبہ یہ بات منکشف ہو گئی کہ جن دو چیزوں میں تضاد بالذات نہیں۔ بلکہ بالتبع ہو تو ان کی تاثیر و تاثر کے لئے بھی ان کا آپس میں اتنے زمانہ میں مجتمع ہونا کہ اس میں اثر کر سکیں شرط ہے۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ بدن مسیح علیہ السلام کی مزاج کو گو طبقہ کی ہوا مخالف تھی۔ لیکن ان کے صعود کو چونکہ طبقہ میں استقرار ضروری نہیں تھا تو ان کا ضرر پذیر ہونا (جس کے لئے استقرار شرط ہے) لازم نہیں آتا۔ کیونکہ ضرر پذیر ہونے کی شرط لازمی نہیں ہے۔ لہٰذا آپ کا آسمان پر چڑھنا ناممکن نہیں ٹھہرا۔ خواہ فی الواقع آپ کا صعود دفعی طور پر ہو یا حرکت کے طور پر۔ نیز صعود کا غیر ممکن ہونا لازم نہیں آیا۔

٤٧

صفحہ ٧٢٠

پس اب مقولہ (صعود) کا غیر ممکن ہونا اس پر متفرع نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ قادیانی کا زعم ہے۔ کیا دیکھتے نہیں کہ جب تم آگ کے شعلہ کے بیچ میں سے سرعت اور جلدی سے اپنے ہاتھ کو پار کریں اور نکالیں تو تمہارا ہاتھ متضرر نہیں ہوگا۔ اس کو آگ کی حرارت اثر نہیں کرے گی۔ ایسا ہی اگر تم بہت سی آگ روشن کرو۔ یہاں تک کہ وہ بخوبی مشتعل ہو تو اس کے بیچ میں سے اگر تیر کسی نشان پر ماریں گے اور چلائیں گے تو وہ تیر باوجود اس کے کہ لکڑی کا ہے نہیں جلے گا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہاتھ اس میں سے جلدی سے نکل گیا ہے اور اس میں قرار پذیر نہیں ہوا۔ متنبہ ہو جاؤ۔ سن لو کہ محض استقرار کی ممنوعیت کی تقدیر پر باوجود آنکہ برودت کا طبقہ زمہریریہ کے لئے ذاتی اور لازمی عقلی ہونا بدیہی کا اس کے تمام اجزاء میں برابر ہونا مان لیا گیا۔ تو جواب دیا گیا ہے۔ پس خود ہی سمجھ لو کہ قادیانی کا اعتراض جن تمام امور پر موقوف ہے وہی سب کے سب جب مرتفع ہوں تو کہاں ٹھکانا ہوگا۔ آخر یہ تو معلومات سے ہے کہ جب موقوف علیہ ہی نابود ہو تو موقوف بھی بالضرور معدوم ہونا چاہئے۔ قادیانی اپنے دعویٰ کے لئے اس آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ زمین پر ہی زندہ رہو گے اور وہیں مر جاؤ گے اور وہیں سے زندہ ہو کر محشور کئے جاؤ گے۔ اس کے استدلال کا طریقہ اور تہذیب یوں ہے کہ آیت میں جار ومجرور ”فيها، منها“ جو فعل ”تحيون، تموتون، تخرجون“ کے ساتھ متعلق ہے مقدم کیا گیا ہے اور یہ تقدیم حصر کا فائدہ دیتی ہے۔ اس لئے آیت کا معنی یہ ہوا کہ زندگی نہیں کسی ایک انسان کے لئے مگر زمین ہی پر نہ اور کہیں۔ پس اگر مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہوں گے تو اس حصر کا باطل ہونا ضروری ٹھہرے گا۔ لہٰذا ہم مسیح علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے پر اور پھر اس آیت کے مضمون پر کیسے اذعان کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ماننا پڑتا ہے کہ مسیح علیہ السلام زندہ نہیں ہیں۔ بلکہ مسیح علیہ السلام بھی ویسے ہی مر گئے ہیں۔ جیسے کہ اور حضرات انبیاء علیہم السلام مر چکے ہیں۔ ویسے ہی وہ بھی اور ان کی روح مرفوع ہوئی ہے۔ نہ بجسدہ!

جواب ..... تقدیم کا افادہ حصر ہی میں منحصر نہیں ہے۔ کیونکہ اس کا مقدم کر لینا دوسرے اغراض کے لئے بھی ہوتا ہے۔ جیسے کہ قافیوں اور فاصلوں کی رعایت سے اور کبھی بیان کے اہتمام کے لئے بھی جار ومجرور کا تقدیم ہوتا ہے۔ وغیرہ!

پس آیت مذکورہ میں جو جار ومجرور کا تقدیم ہے فاصلوں کی موافقت کے لئے بھی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس تقدیم کا صرف حصر کے واسطے ہی ہونا متعین نہیں ہوا۔ اگر مان بھی لیں کہ یہ تقدیم صرف حصر کے ہی واسطے ہے تو بریں تقدیر ہو سکتا ہے کہ یہ خطاب اکثر بنی آدم کے لئے ہو نہ کل ٤٨

صفحہ ٧٢١

کے لئے اگر اسے باعتبار کل کے بھی لیں گے تو ہم اس کے قائل ہیں کہ یہ اسی حیات سے خاص ہے جو عالم کون وفساد میں ہے۔ نہ یہ کہ اس سے مطلق حیات مراد ہے۔ جس کے افراد سے سماوی زندگی بھی ہے۔ اس لئے کہ اگر یہ انحصار مطلق حیات سے متعلق ہوتا تو چاہئے تھا کہ اس آیت کا مفہوم بہشتیوں اور دوزخیوں کی ابدالآباد زندگی کے ساتھ منقوض ہو۔ آخر یہ تو ظاہر ہے کہ وہ زندگی بھی مطلق زندگی میں مندرج ہے۔ نیز جب کہ ہم آیت سے عالم کون وفساد کی زندگی مراد رکھ لیں گے تو اس میں اکثر احوال کی بھی قید لگانی چاہئے۔ ورنہ یہ بھی منقوض ہوگا۔ وہ یوں ہے کہ اسی عالم میں بعض احوال میں بعضے انسان صرف زمین ہی کے اوپر تمام زندگی بسر نہیں کرتے۔ بلکہ بعض کاملین نے خرق عادت کے طور پر یہی کچھ حصہ زندگی کا اسی عالم میں طیران کی حالت میں بسر کیا ہے۔ حالانکہ اس حالت میں وہ زمین پر نہیں تھے۔ لیکن ایسے لوگ چونکہ خرق عادات وکرامت کو نہیں مانتے ہیں تو ان کے لئے ان کی رائیوں کے موافق تمثیل دیں گے۔ وہ یہ ہے کہ بعض لوگ غبارہ پر بیٹھ کر جو کی سیر کرتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے ہم زمانوں نے اس تماشا کو دیکھ لیا ہے۔

اب دیکھئے کہ ایسے جو میں حصہ عمر کا بسر کرتے ہیں۔ نہ زمین پر۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ آیت مذکورہ پر یقین کر لینے اور مسیح علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے کے تسلیم کرنے میں کوئی منافات نہیں آتی۔ چنانچہ تامل سے ظاہر ہے۔ قادیانی کی استدلال یہ بھی ہے کہ اگر مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہوں اور وہی پھر اتریں گے تو یا تو نزول کے وقت وصف رسالت سے معزول ہوں گے۔ حالانکہ یہ ان کی تحقیر اور ہتک ہے یا تو اس وصف کے ساتھ موصوف ہوتے ہی اتریں گے۔ جیسے کہ رفع سے پیشتر رسول تھے۔ لیکن قرآن میں ہمارے سید مولا حضرت رسول اکرمﷺ کی شان میں فرمایا گیا ہے کہ: ”نہیں ہیں محمدﷺ ہمارے مردوں میں سے کسی ایک کے باپ۔ لیکن وہ خدا تعالیٰ کے رسول ہیں۔ پیغمبروں کے خاتم ہیں۔“

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی از سر نو مبعوث نہیں ہوگا۔ چنانچہ حدیث میں بھی آیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی از سر نو مبعوث نہیں ہوگا۔ پس جب کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں تو مسیح علیہ السلام نبوت کی حالت میں کیسے نازل ہو سکتے ہیں۔ پس یہ عقیدہ کہ مسیح نبی ہوتے اتریں گے۔ صاف طور پر اس آیت سے مخالف ہے۔

جواب....... پہلے ہم اجمالاً نقض کریں گے بایں طور کہ ہمارے آنحضرتﷺ کے بعد جتنے پیغمبر تھے۔ وہ تمام عالم برزخ رسول کریمﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد وصف نبوت سے موصوف تھے یا عالم آخرت میں موصوف ہوں گے یا نہ اگر کہدیں گے کہ معزول ہیں یا معزول ہوں گے تو

٤٩

صفحہ ٧٢٢

یہ صاف سب پیغمبروں کی ہتک ہے اور نہ یہ ان کی عالی شان سے مناسب ہے۔ بھلا ایسا کیونکر ہو۔ کتب عقائد میں یہ ثابت ہو چکی ہے کہ انبیاء علیہم السلام بعد الانتقال ہرگز اپنے مناصب سے معزول نہیں ہوتے۔ بلکہ بعض نے صراحۃً لکھا ہے کہ جو شخص اس عزل کا قائل ہوگا وہ کافر ہے۔ اس لئے ماننا پڑے گا کہ وہ دونوں عالموں میں وصف رسالت و نبوت کے ساتھ موصوف ہوتے ہیں۔ مگر یہ بات قادیانی کی طرز پر آیت سے مخالف ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک آیت سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد کسی نبی کو نبوت و رسالت کی صفت ثابت نہیں ہونی چاہئے۔ کہ رسول کریم ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد کسی نبی کو نبوت و رسالت کی صفت ثابت نہیں ہونی چاہئے۔ پس وہ پیغمبر عالم برزخ میں رسالت و نبوت سے کیسے موصوف ہو سکتے ہیں اور کیوں نہیں عالم آخرت میں ان سے عہدہ رسالت و نبوت کا چھینا گیا ہوگا۔ آخر وہ وقت بھی تو رسول کریم ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد ہی ہے۔ پس جو کچھ قادیانی جواب دے گا وہی ہماری طرف سے بھی جواب ہے۔

ثانیاً ہم تفصیلی نقض پیش کریں گے۔ وہ یوں ہے کہ مسیح علیہ السلام جس وقت کہ وہ آسمان پر مستقر ہیں اور جس زمانہ میں اتریں گے اسی طرح پر باقی انبیاء اللہ عالم برزخ میں اور آخرت میں بالضرور رسالت و نبوت کے ساتھ موصوف ہیں اور ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ یہ عقیدہ آیت (جس کا مضمون مختصر یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں) سے مخالف ہے سو ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ بعثاً آخر الانبیاء ہیں۔ بایں معنی کہ وہ بعد از آں کہ باقی انبیاء علیہم السلام نبوت دیئے گئے ہیں۔ نبوت عنایت کئے گئے اور آپ بقاء نبوت میں ان سے متاخر نہیں ہیں۔ یعنی آپ کے خاتم النبیین ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اور پیغمبروں سے پیغمبری چھینی گئی۔ آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے ، ان سے متاخر ہونے ۔ ان پیغمبروں کی رسالت و نبوت باقی رہنے میں کچھ منافات نہیں ہے۔ کیونکہ دو چیزوں کے بقاء میں معیت ایک کی بعدیت۔ دوسرے کی حدوثاً اولیت کی مغائر نہیں ہے۔

دیکھو عمارت اور معمار۔ بیٹا، باپ اس لئے کہ عمارت معمار کے موجود ہونے کے بعد موجود ہوتی ہے۔ بیٹا، باپ کے موجود ہونے کے بعد موجود ہوتا ہے۔ معہذا عمارت، معمار، بیٹا، باپ بقا میں معیت رکھتے ہیں۔ دوسری مثالیں بھی ہیں۔ لیکن اتنی ہی مثالوں پر کفایت کی گئی۔ پھر اس قادیانی نے اپنے اس اعتراض کو دوسرے مقام پر اپنی کتاب میں تائید کی ہے کہ اگر مسیح علیہ السلام آسمان پر نزول کے لئے منتظر ہیں تو جس وقت اتریں گے تو اس وقت تو وہ عربی نہیں جانتے ٥٠ ہوں گے۔ لہٰذا علم القرآن کی طرف محتاج عربی جانتے ہی نہیں اور کسی سے تعلیم پا میں ہوں گے۔ لہٰذا لازم ہوا کہ ان پر کو دیں اور نماز میں پڑھیں۔ لوگوں کو اپنی ن گویا جڑ سے اکھاڑنا ہے۔ ہم "لاحول" کے "اعوذ باللہ من الشیطان ا ہیں کہ یہ سب کچھ باطل ہے۔ معلوم نہیں السلام عربی نہیں جانتے۔ حالانکہ عربی ب اردو زبان ایک دوسرے سے بہت کچھ ہے۔ ہرگز نہیں۔ پس قادیانی کا یہ کہنا نہیں ہوا ہے کہ جو لوگ مختلف زبانیں سکتے ہیں۔ امی! اپنے ہی آپ کی طرف یہ کس منہ سے کہہ دیا کہ مسیح علیہ السلام کہ خداوند تعالیٰ نے ان کو ازل میں ع عاجز ہوں گے۔ کیا وہ نبی عاجز ہوا اور

مسیح علیہ السلام پر یہ دشوار ہیں کہ جن کے حق میں قرآن شریف ب خدا کا بندہ ہوں۔ خداوند تعالیٰ نے مجھ مسیح علیہ السلام کی یہ گفتگو سن صبا میں درکنار رہنے دو ) تعلیم سے بھی عاجز ہو

اچھا مان لیا کہ مرفوع ہو یقین کہاں سے حاصل ہوا کہ مسیح علیہ ا میں بھی ان کو یہ علم نہیں دیا گیا ہے۔ کیو لئے ممکن یا آسان نہیں۔ بھلے مانسو! د ہمارے سردار محمد ﷺ کو کس نے باوجو ان کو عنایت کیا وہی مسیح علیہ السلام کو عنا

صفحہ ٧٢٣

ہوں گے۔ لہٰذا علم القرآن کی طرف محتاج ہوں گے اور یہ تو ان کے لئے آسان نہیں ہے۔ کیونکہ وہ عربی جانتے ہی نہیں اور کسی سے تعلیم پانا بھی ان کے واسطے مشکل ہے۔ اس وقت وہ سن شیوخت میں ہوں گے۔ لہٰذا لازم ہوا کہ ان پر کوئی نئی کتاب انہی کی زبان میں نازل ہو تاکہ لوگوں کو تعلیم دیں اور نماز میں پڑھیں۔ لوگوں کو اپنی زبان میں ہی کلمہ توحید کی تعلیم دیں۔ حالانکہ یہ دین اسلام کو گویا جڑ سے اکھاڑنا ہے۔ ہم ”لاحول ولا قوة الا بالله العلی العظیم“ سے تمسک کر کے ”اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم الضال والمضل“ پڑھ کر اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ سب کچھ باطل ہے۔ معلوم نہیں ہوتا کہ قادیانی کو یہ علم یقینی کہاں سے حاصل ہوا کہ مسیح علیہ السلام عربی نہیں جانتے۔ حالانکہ عربی اور عبرانی زبان آپس میں بہت موافق ہے۔ جیسے کہ پنجابی، اردو زبان ایک دوسرے سے بہت کچھ موافق ہے۔ اب کہیئے کہ پنجابی دان پر اردو کا جان لینا دشوار ہے۔ ہرگز نہیں۔ پس قادیانی کا یہ کہنا کہ مسیح علیہ السلام پر عربی کا علم دشوار ہے مردود ہے۔ کیا دیکھا نہیں ہوا ہے کہ جو لوگ مختلف زبانیں جانتے ہیں وہ ان کے مضامین کو مختلف زبانوں میں ادا کر سکتے ہیں۔ اجی! اپنے ہی آپ کی طرف خیال کیجئے کہ جو خود پنجابی ہے اور فارسی کو جانتا ہے۔ پس یہ کس منہ سے کہہ دیا کہ مسیح علیہ السلام تعلیم عربی سے (خواہ تعلیم اللہ ہو یا تعلیم البشر سے۔ اس لئے کہ خداوند تعالیٰ نے ان کو ازل میں ہی دین محمدی ﷺ کا مجدد بنا رکھا ہے) عاجز ہوں گے کیا وہ نبی عاجز ہوں گے۔ کیا وہ نبی عاجز ہو اور قادیانی عاجز نہ ہو۔ سبحان اللہ!

مسیح علیہ السلام پر یہ دشوار اور قادیانی کے لئے آسان۔ حالانکہ مسیح علیہ السلام وہ پیغمبر ہیں کہ جن کے حق میں قرآن شریف میں آیا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے سن صبا میں یہ گفتگو کی کہ میں خدا کا بندہ ہوں۔ خداوند تعالیٰ نے مجھ کو کتاب دی۔ اس نے مجھ کو نبی مبارک بنایا۔ اب دیکھئے کہ مسیح علیہ السلام کی یہ گفتگو سن صبا میں تھی اور قادیانی کہتے ہیں کہ جب اتریں گے (اور باتیں تو درکنار رہنے دو) تعلیم سے بھی عاجز ہوں گے۔ نعوذ باللہ منہ!

اچھا مان لیا کہ مرفوع ہونے سے پہلے آپ عربی نہیں جانتے تھے۔ لیکن قادیانی کو یہ یقین کہاں سے حاصل ہوا کہ مسیح علیہ السلام کو عالم ملکوت میں یہ علم نہیں دیا گیا۔ یہ بھی مانا کہ ملکوت میں بھی ان کو یہ علم نہیں دیا گیا ہے۔ لیکن یہ خبر اس کو کہاں سے ملی ہے کہ علم عربی مسیح علیہ السلام کے لئے ممکن یا آسان نہیں۔ بھلے مانسو آدم علیہ السلام کو کس نے تمام چیزوں کے نام سکھلائے تھے۔ ہمارے سردار محمد ﷺ کو کس نے باوجود امی ہونے کے بے کنار دریائی علوم عنایت کیا تھا۔ جس نے ان کو عنایت کیا وہی مسیح علیہ السلام کو عنایت کرے گا۔

٥١

صفحہ ٧٢٤

اجی! قادیانی کے کانوں کو اس خبر کی ہوا کی چوٹ نے نہیں کھڑکایا ہے کہ صاحب قوت قدسیہ کے سامنے نظریات بھی بدیہی ہو جاتے ہیں۔ یہ بات اہل معقول کے نزدیک متفق علیہ ہے۔ پس کیسے مسیح علیہ السلام کا عربی کو جان لینا بعید سمجھا جائے اور وہ بعید نہیں سمجھا گیا۔ اگر اس کے بعید ہونے کو ہم تسلیم بھی کر لیں۔ لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ معانی قرآن کا سمجھنا۔ کلمات توحیدیہ کے معانی کو ادا کرنا عربی کے بغیر دوسری زبان میں اسلام کو بدل ڈالنا ہے۔ احکام کو منسوخ کر دینا ہے۔ دین اسلام کو جڑ سے اکھاڑنا ہے۔ جیسا کہ قادیانی کہتے ہیں کہ اس لئے کہ اگر ایسا ہوتا تو لازم آتا کہ مسلمان اہل عرب کے سوا سب کے سب اسلام کو بدل ڈالنے والے ہوں۔ بلکہ خود قادیانی جو عقائد اور معانی قرآن، معانی کلمات توحیدیہ کو اردو میں جیسے کہ اس کو پسند آتے ہیں ادا کرتے ہیں۔ نیز محرف اسلام ہوں۔

اجی! قادیانی کی تقریر سے تو لازم آتا ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کی توحید ذاتی وصفاتی، جناب سید و مولا حضرت رسول کریم ﷺ کی رسالت اور اس پر جو آپ خدا سے احکام لائے ہیں ایمان رکھتا ہے۔ اس کو فارسی، کشمیری، اردو، پنجابی میں بیان کرتا ہو، باوجود اس کے کہ اسی عقیدہ اور بیان پر مر بھی گیا ہو مسلمان نہ ہوا۔ العیاذ باللہ!

پس کیا یہ رسول اکرم ﷺ کی رسالت کے عموم اور قرآن کی دعوت عامہ سے انکار نہیں ہوا۔ بلکہ انکار ہے۔ حالانکہ وہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ پاک پروردگار وہ قادر مطلق ہے کہ اس نے اپنے خاص بندہ پر قرآن کو نازل فرمایا تا کہ وہ تمام عالموں کے لئے ڈرانے والا ہو۔ نیز فرماتا ہے کہ ہم نے تجھ کو یا رسول اللہ ﷺ نہیں مبعوث فرمایا۔ مگر تمام عالموں کے واسطے رحمت۔ نہیں بھیجا ہم نے تجھ کو مگر تمام لوگوں کی طرف (خواہ عربی ہوں یا ترکی یا فارسی وغیرہ) نیز فرمایا کہ یا محمدﷺ تم کہہ دو کہ میں تمہارے سب لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ کیا یہ معلوم نہیں جیسے کہ آپ کی خود پیغمبری سے انکار کرنا کفر ہے۔ ویسے ہی آپ کی عموم نبوت سے منکر ہو جانا کفر ہے۔ کیونکہ جس طرح کہ اصل نبوت سے انکاری ہونا نصوص قطعیہ کو رد کرنا ہے۔ اسی طرح عموم نبوت سے انکاری ہونا نصوص قطعیہ سے لڑائی اور مقابلہ ہے۔ قادیانی مسیح علیہ السلام کے آسمان پر زندہ نہ ہونے کے لئے یوں بھی استدلال کرتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے بیان کیا کہ خداوند عزاسمہ نے مجھ کو نماز ، زکوٰۃ کا جب تک کہ میں زندہ ہوں حکم دیا ہے۔ خداوند تعالیٰ نے مجھ کو اپنی والدہ سے نیکی کنندہ بنایا ہے۔ استدلال اس طرح پر کرتے ہیں کہ اگر مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہوتے تو بلاشبہ ادائے صلوٰۃ، زکوٰۃ والدہ سے احسان کرنے کے ساتھ مامور ہونے چاہئے۔

٥٢

صفحہ ٧٢٥

حالانکہ آسمان پر ہوتے نہ تو زکوٰۃ ادا ہو سکتی ہے اور نہ والدہ سے نیکی کر سکتے ہیں۔ پس حکم الٰہی کا خلاف لازم آئے گا۔

جواب ...... یہاں پر زکوٰۃ مالی کی زکوٰۃ مراد نہیں ہے۔ بلکہ طہارت جو اس کا حقیقی معنی مراد ہے نہ اور کچھ جیسا کہ اس آیت میں جس کا مضمون یہ ہے کہ جو پاک ہوا وہ اپنے آپ کے لئے پاک ہوتا ہے۔ ان کے خدا نے اس بات کا ارادہ کیا کہ اس کے بدلے ایسی اولاد دے کہ پاکیزگی میں، صلہ رحمی میں بہتر ہو۔ نیز رسول کریم ﷺ نے ترش روئی کی جس وقت آپ کی خدمت میں نابینا حاضر ہوا۔ کس چیز نے آپ کو یا رسول اللہ ﷺ جتلایا۔ شاید کہ وہ پاک ہو جاتا، یا نصیحت قبول کرتا۔ پس اس کو نصیحت نفع دیتی۔ اس پر جو دولت مند ہوتا ہے۔ آپ اس کی طرف ہی التفات کرتے ہیں۔ آپ اس کے ذمہ دار نہیں کہ اگر وہ پاک نہ ہو۔ بلاشبہ اس شخص نے خلاصی پائی کہ جس نے اپنے آپ کو پاک کیا ہے۔ قریب ہے کہ اس سے ہٹایا جائے گا۔ وہ شخص جو پرہیزگار ہے۔ مال کو خدا کی راہ میں اس لئے خرچ کرتا ہے کہ وہ پاک ہو جائے۔ وغیرہ!

اب دیکھو ان آیات میں زکوٰۃ کا معنی بجز تزکیہ نفس کے اور کچھ نہیں ہے۔ ویسے ہی مسیح علیہ السلام کو بھی تزکیہ نفس کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ ہر جگہ ہو سکتا ہے۔ زمین پر ہو یا آسمان پر۔ پھر کہئے کہ ان کے آسمان پر ہونے سے خلاف حکم الٰہی کیسا لازم آیا۔ چنانچہ ظاہر ہے گو ان لوگوں پر جو مبتدعین اور فاجرین کی طرح بصارت نہیں رکھتے ہیں۔ پوشیدہ ہو رہی ہے یہ بات کہ مسیح علیہ السلام کو گو آسمان پر ہی مستقر مان لئے جائیں۔ والدہ سے احسان نہیں کر سکتے اور اس میں خلاف حکم الٰہی لازم آتا ہے۔ سو واضح ہو کہ یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ یہ اس صورت میں لازم آتا کہ اگر بَرّاً صلوٰۃ پر جو اوصانی سے متعلق ہے معطوف ہوتا ہے۔ کیونکہ اس تقدیر پر یہ معنی ہوتا کہ مجھ کو خداوند تعالیٰ نے نماز کا اور والدہ سے نیکی کرنے کا حکم دیا ہے۔ جب تک کہ میں زندہ رہوں۔ لیکن بَرّاً تو اس مجرور پر معطوف ہی نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر اس پر معطوف ہوتا تو بَرّاً منصوب نہ ہوتا۔ بلکہ مجرور ہوتا اور بِرّ پڑھا جاتا۔ نیز بَرّاً کی ’با‘ کو زیر دی جاتی نہ زبر اگر بِرّ ہوتا تو اس کا معنی خالی نیکی ہوگا۔ نہ نیکی کنندہ کیونکہ نیکی کنندہ تو بَرّاً کا معنی ہے۔ پس چاہئے تھا کہ بِرّ پڑھا جاتا نہ بَرّاً۔ ورنہ لازم آئے گا۔ مامور بہ مسیح علیہ السلام ہوں کہ جن کے ساتھ ’بِرّ‘ قائم ہے۔ جیسا کہ نماز، زکوٰۃ مامور بہما ہیں۔ حالانکہ مامور بہ فعل ہوتا ہے نہ ذات۔ اس لئے کہ ذات کا مامور بہا ہونا صریح باطل ہے۔ پھر کہئے کہ قرآن شریف میں بَرّاً (بنصب با ورا) قدیم الایام سے کیوں لکھا چلا آیا ہے۔ کیوں ہمیشہ بَرّاً پڑھا جاتا ہے۔ پس قراء کا اجماع بَرّاً پر اس کے صلوٰۃ پر معطوف ہونے سے انکاری ہے۔

٥٣

صفحہ ٧٢٦

ہاں اگر بَرّاً کو باوجودیکہ منصوب المراد الباء ہے۔ مجرور پر معطوف سمجھیں گے تو اس میں یہ قباحت ہے کہ اعتراض سابق کے دور کرنے کے لئے صفت مشبہ بمعنی مصدر لینا پڑے گا۔ بایں طور کہ بَرّاً جو بمعنی نیکی کنندہ اور صفت مشبہ ہے۔ (جیسا حسن) اس کا معنی بِرّ ہے۔ یعنی نیکی۔ حالانکہ یہ ایسی بناوٹ ہے کہ اس کا داعی بھی موجود نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بَرّاً کو نَبِیاً پر معطوف کر کے اصلی معنی (نیکی کرنے والا) میں مستعمل کرنا جائز ہے۔ اب کون سی ضرورت در پیش ہے۔ جس کے لئے وہ چھوڑا جائے۔ جاننا چاہئے کہ جب ہم بَرّاً کو نَبِیاً پر عطف کریں۔ چنانچہ قرآن میں بھی ایسا ہی ہے تو جعلنی کے دو مفعول ٹھہرے۔ ایک نَبِیاً دوسرا بَرّاً اور یہ عطف مفرد کے مفرد پر عطف کرنے کے طرز پر ہوگا اور اگر بَرّاً سے پہلے بھی ’جعلنی‘ مقدر مانا جائے اور یہ ’جعلنی‘ پہلے صریح ’جعلنی‘ پر معطوف کردیں۔ تو یہ عطف جملہ کے جملہ پر عطف کر دینے کے طریق پر ہوا۔ پوری آیت کا مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ میں خدا کا خاص بندہ ہوں۔ اس نے مجھ کو انجیل عنایت فرمائی ہے۔ مجھ کو نبی مبارک کہیں پر ہوں بنایا۔ اس نے مجھ کو نماز زکوٰۃ کا جب تک کہ زندہ رہوں حکم دیا ہے اور اس نے مجھ کو اپنی والدہ پر نیکی کنندہ بنایا ہے۔ پس وہ توجیہ جو ہم بیان کر آئے ہیں تکلف اعتراض سے بری ہے اور اس توجیہہ پر بنا کر کے مسیح علیہ السلام کا آسمان پر ہوتے ہوئے بھی اپنی والدہ سے نیکی کرنے کے ساتھ مامور ہونا لازم نہیں آتا۔ کیونکہ بقرینہ تقدیر ما دمت حَیّاً (جب تک کہ زندہ ہوں) کی قید اگر ہے تو صلوٰۃ زکوٰۃ کی فرضیت کے واسطے ہے نہ بَرّاً کے لئے۔ اگر ہم قادیانی کی توجیہ کو ہی مان لیں گو اعتراض تکلف مذکورین سے قطع نظر کرلیں تو پھر اس بات کو کہ مسیح علیہ السلام کا آسمان پر ہوتے ہوئے والدہ سے بَرّ ہونا متصور تسلیم نہیں کریں گے۔ کیونکہ احسان جیسا کہ نیکی کنندہ اور نیکی کردہ شدہ کی حیات میں متصور ہے۔ ویسے ہی جس زمانہ میں نیکی کا مستحق مرگیا ہو۔ اس پر احسان کرنا متصور ہے۔ کیا اس کے لئے استغفار اور دعائے ترقی درجات اور ثواب پہنچانا احسان نہیں۔ بے شک احسان ہے۔ لیکن یہ تو آسمان پر ہوتے بھی خواہ مستحق زندہ ہو یا مردہ متصور ہے۔ لہذا قادیانیوں کا یہ حکم بالجزم کہ آسمان پر ہوتے ہوئے احسان متصور نہیں۔ کیسا ہی محال ہے۔

خلاصہ کلام کہ مسیح علیہ السلام خدا کے رسول اب تک زندہ ہیں اور آسمان پر بجسدہ موجود ہیں۔ سبب یہ ہے کہ یہی بات قرآن شریف (جیسا کہ بیان ہو چکا ہے) اور احادیث میں اور اتفاق امت سے ثابت بھی ہے۔ آیات تو یہ ہیں: ”مَا الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (المائدہ:٧٥)“

٥٤

صفحہ ٧٢٧

”اذ قال الله يا عيسى اني متوفيك ورافعك الىّ (آل عمران:٥٥)“ ”ماقتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه (النساء:١٥٧)“ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (النساء:١٥٩)“

اب رہا ان کا ترجمہ سو وہ مذکور ہو چکا ہے۔ نیز استدلال کا طریقہ ہم بیان کر آئے ہیں۔

مگر اب اور ہی ایک استدلال پیش کریں گے کہ جس سے مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا ثابت ہوگا۔ وہ یوں ہے کہ خداوند عزاسمہ فرماتا ہے کہ بلاشبہ ان لوگوں نے کفر کیا ہے کہ جنہوں نے کہہ دیا ہے کہ خدا وہی مسیح علیہ السلام ہے۔ کیا اگر خداوند تعالیٰ مسیح علیہ السلام کے مار ڈالنے، ہلاک کر دینے کا ارادہ کرے گا۔ بی بی مریمؑ تمام باشندگان زمین کا تو کون اپنے آپ پر مختار ہے۔ کون اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔ پس جب کہ مسیح علیہ السلام وغیرہ میں ہلاکت کی دفعیہ کی قدرت نہیں اور نہ خود مختار ہیں تو وہ خدا کیسے بن سکتے ہیں۔ یہ آیت مسیح علیہ السلام کی حیات پر یوں دلالت کرتی ہے کہ ان کا لفظ جو ارادہ پر داخل ہوا ہے۔ حرف شرط سے ہے اور وہ جزا کے مستقبل میں وقوع کے لئے موضوع ہے۔ اس سبب سے کہ شرط مستقبل میں واقع ہے۔ ظاہر ہے کہ شرط ہلاک مسیح علیہ السلام کا ارادہ ہے۔ جزا ہلاکت کے دفعیہ پر غیر اللہ کا قادر نہ ہونا۔ گویا جزا ”فمن يملك“ کا مدلول التزامی ہے۔ مدلول التزاماً اس لئے ہے کہ یہ استفہام انکاری ہے اور وہ قائم مقام نفی کے ہوتا ہے۔ برتقدیر اس کے کہ خداوند تعالیٰ کسی کے ہلاک کا ارادہ کرے۔ غیر اللہ سے ملک کا منتفی اور نابود ہونا بالضرور اس کو چاہتا ہے کہ کوئی ایک بھی ماسویٰ اللہ ہلاک کے دفعیہ پر قادر نہ ہو اور یہی جزا ہے۔ لہٰذا واجب ہوا کہ شرط۔ جزا (یعنی ہلاک کا ارادہ غیر اللہ سے قدرت کا منتفی ہونے) کا مستقبل میں موجود ہو جانا متوقع اور مامول ہو۔ ورنہ لفظ ان کے وضع سے مخالفت ہوگی۔ حالانکہ یہ باطل ہے۔ لیکن ان دونوں کے زمانہ مستقبل میں متوقع الوجود ہونے سے لازم آتا ہے کہ یہ آیت جب کہ رسول کریمﷺ پر نازل ہوئی تھی۔ تو مسیح علیہ السلام بھی اس وقت زندہ ہوں۔ کیونکہ اگر فرض کر لیں کہ مسیح علیہ السلام اس زمانہ میں زندہ نہیں تھے۔ بلکہ رسول کریمﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی مر گئے ہوئے تھے تو اس تقدیر پر ہلاک شدہ کے ہلاک کا ارادہ متوقع ٹھہرے گا اور یہ باطل ہے۔

اجی! یہ تو ایسا ہوا کہ کہا جائے کہ خداوند تعالیٰ موجود کو موجود کرے گا یا نابود کو نابود کرے گا۔ حالانکہ یہ تحصیل حاصل ہے اور وہ محال ہے۔

سوال...... اس آیت میں اس حالت سے کہ مسیح علیہ السلام اپنی قوم کے درمیان زمین پر زندہ تھے۔ حکایت ہے۔ لہٰذا اس آیت سے مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا ثابت نہیں ہوگا۔

٥٥

صفحہ ٧٢٨

جواب ..... اولاً کہ اِن دراصل مفید استقبال ہے تو یہ تمہارا قول مخالف اصل اور وضع ہوا جو باطل ہے۔ دوم اصلی کے معنی چھوڑ دینا تب ہی جائز ہوتا ہے کہ کوئی قرینہ صارفہ موجود ہو اور وہ بھی موجود نہیں ہے۔ پس یہ مجاز کو سوائے ضرورت مراد رکھ لینا ہے۔ حالانکہ یہ بھی باطل ہے۔

سوال ..... جائز ہے ”اِن“ بمعنی ”لو“ ہو۔ جس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ شرط چونکہ ماضی میں نابود ہے تو جزا بھی نابود ہے۔

جواب ..... اس میں بھی خلاف وضع، مجاز کا اختیار کرنا، بلا قرینہ لازم آتا ہے۔ لہذا یہ بھی باطل ہے۔ شاید اب یہ کہو گے کہ چونکہ اس آیت میں بی بی مریمؑ کے مارنے کا بھی ذکر ہے اور وہ زمانہ ماضی مر چکی ہیں تو یہی اس بات کا قرینہ ہے کہ آیت حالت حیات سے حکایت ہے۔ مگر یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ صریحاً اس کا مسیح بن مریم علیہما السلام پر معطوف ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے۔ ہاں اگر ایسا ہوتا تو حالت مذکور سے حکایت ہو سکتی تھی یا بمعنی ”لو“ لینے کا قرینہ بن سکتا تھا۔ لیکن ایسا تو نہیں ہے۔ اس لئے یہ حمل یا استعمال صحیح نہیں ٹھہرا۔ وجہ یہ ہے کہ جائز ہے کہ ”امہ“ (مسیح علیہ السلام کی والدہ) فعل مقدر کا مفعول ہو۔ یہ بمعنی فعل مساوی (برابر ہے) اور اسے جملہ حالیہ کہتے ہیں۔ پس آیت کا ماحصل یہ ہوگا کہ خداوند تعالیٰ مسیح علیہ السلام کے مارنے، ہلاک کر دینے پر درحالیکہ مسیح علیہ السلام اپنی والدہ اور تمام باشندگان زمین کے ساتھ خدا نہ ہونے میں مساوی اور برابر ہے۔ قادر ہے پس جیسے کہ خداوند تعالیٰ مریم وغیرہ کے ہلاک پر قادر ہے۔ ویسے ہی مسیح علیہ السلام کے ہلاک پر قدرت رکھتا ہے مساوات اُس واسطے ہے کہ نہ مسیح علیہ السلام اور نہ مریم علیہما السلام وغیرہ خدا ہیں۔ بلکہ قابل ترجیح ہے کہ ”امہ“ کو یساوی کا مفعول سمجھیں اور آیت کا معنی وہی ہے جو ہم بیان کرتے ہیں۔ سبب یہ ہے کہ اس آیت کا مقصود یہ ہے کہ جو لوگ مسیح علیہ السلام کو خدا بتلاتے ہیں ان کی تردید ہو اور تو کچھ مقصود نہیں۔ لیکن یہ مطلب جب ہی اس آیت سے حاصل ہوگا کہ مسیح علیہ السلام کو مریم علیہا السلام وغیرہ سے خدا نہ ہونے میں مساوات ہو۔ اب چونکہ یہ مطلب ایسی تقریر پر موقوف ہے جو کہ ہم بیان کرتے ہیں تو اسی تفسیر کو قبول کرنا واجب ہوا۔ پھر معہذا کیسا ”امہ“ کا معطوف و قرینہ ہونا صحیح ہوگا۔ بنا بر آں اس آیت سے مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا ثابت ہوا۔ نیز اگر ”ان“ کو بمعنی ”لو“ لیں گے تو ہمارے مفید مطلب ہے۔ وجہ یہ ہے کہ گو ہم اعتراض سابق سے قطع نظر بھی کر کے ”ان“ کو بمعنی ”لو“ لیں گے تو آیت کا یہ معنی ہوگا کہ خدا نے زمانہ ماضی میں مسیح علیہ السلام کے ہلاک کا ارادہ نہیں کیا۔ پس اس سے صاف لازم آتا ہے کہ مسیح علیہ السلام مرے

٥٦

صفحہ ٧٢٩

بھی نہیں ہیں۔ آخر جب خداوند تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو ہلاک کر دینے کا زمانہ گزشتہ میں ارادہ ہی نہیں کیا تو مسیح علیہ السلام کیسے مرے۔ لہٰذا اس توجیہ سے بھی ہمارا ہی مطلب ثابت ہوا۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ اگر ان حقیقی اور وضعی معنی مراد لیں گے تو دلیل متحقق ہے۔ مگر پھر ہمارا مقصود حاصل ہے۔ قادیانیوں کا نہیں۔ اگر ”ان“ سے ”لو“ کا معنی لیں گے تو اس تقدیر پر بھی ہمارا ہی دعویٰ ثابت ہے نہ قادیانیوں کا۔

غرض کہ بہر تقدیر آیت ہمارے لئے حجت ہے ان کے لئے نہیں۔ چنانچہ یہ بات ادنیٰ تفکر پر بھی روشن ہے۔ اب امت محمد ﷺ کا اجماع لو۔ اجماع سے بھی ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام اب تک زندہ ہیں۔ اگر یہ بات اجماعی نہیں ہے تو پھر کیوں زمانہ صحابہؓ سے اب تک مسیح علیہ السلام کی وفات شرعی کتابوں میں منقول نہیں ہے۔

اجی! اگر کسی صحابی یا کسی تابعین یا تبع تابعین یا دوسرے اکابر امت کا یہ اعتقاد کہ مسیح علیہ السلام مر چکا اور زندہ نہیں ہے۔ ہوتا تو ناقلین اس عقیدہ کو کتابوں میں کیوں نہ نقل کرتے اور اگر یہ کسی کا مذہب ہوتا تو ناقلین بیک زبان اجماعاً کیوں لکھتے کہ مسیح علیہ السلام کا اب تک زندہ ہونا متفق علیہ اور اجماعی ہے۔ ہاں یوں بھی کہنا کہ حضرت ابن عباسؓ ”انی متوفیک“ کا ”انی ممیتک“ (میں تیرا مارنے والا ہوں) معنی کرتے ہیں۔ قادیانیوں کے لئے مفید مطلب نہیں۔ کیونکہ یہ تفسیر بالصریح مسیح علیہ السلام کے زمانہ گزشتہ میں مر جانے پر دلالت نہیں کرتی۔ کیونکہ ”ممیتک“ اسم فاعل ہے نہ کہ فعل اور اسم کو ماضی یا غیر ماضی زمانہ سے خصوصیت نہیں ہے۔ جیسا کہ اسم کی تعریف سے ظاہر ہے۔ نیز یہ اس حدیث سے ثابت ہے کہ جس کو امام نسائی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے۔ اس حدیث کا مضمون یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے جب مسیح علیہ السلام کے مرفوع کرنے کا ارادہ فرمایا تو مسیح علیہ السلام ایک مکان میں تشریف لائے۔ اس موقع پر اس مکان میں اور بھی بارہ شخص تھے۔ اس وقت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میں سے بعض لوگ ایمان کے بعد کافر ہو جائیں گے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ تم میں سے اگر کوئی اس بات کو قبول کرے کہ اس کی شکل گویا میری شکل کی مانند ہو جائے اور میرے بدلہ صلیب پر چڑھا دیا جائے تو وہ بہشت میں داخل ہوگا۔ ان میں سے ایک شخص نے جو جوان تھا اس بات کو قبول کیا۔ غرضیکہ مسیح علیہ السلام نے اسے تین بار بٹھایا اور تین ہی بار دریافت فرمایا اور اس نے ہر دفعہ قبول کیا۔

٥٧

صفحہ ٧٣٠

ابن عباس فرماتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کو بجسدہ آسمان پر چڑھایا گیا اور اس شخص کو یہودیوں نے اس گمان سے کہ مسیح علیہ السلام یہی ہے۔ صلیب پر چڑھا کر مار دیا۔ اب دیکھئے کہ اس روایت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابن عباس مسیح علیہ السلام کے بجسدہ مرفوع ہونے کے قائل ہیں۔ اب رہی یہ بکواس سو جس کی خواہش ہو کرتا جائے منع کون کرتا ہے۔

سوال..... حضرت وہب فرماتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کچھ عرصہ مر گئے تھے۔ پس اجماع کہاں ثابت ہوا۔

جواب...... اولاً کہ یہ قول سنداً بیان نہیں کیا گیا۔ دوم اگر مان بھی لیں کہ یہ قول مستند ہے تو جائز ہے کہ یہ اہل کتاب سے لیا گیا ہو۔ چنانچہ یہی مؤید ہوتا ہے۔ اس سے کہ محمد بن اسحاق اور بیضاوی اور صاحب وجیز نے اس قول کو نصاریٰ کی طرف منسوب کیا ہے۔ بھلا ایسا کیوں نہ ہو وجیز میں لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے اب تک زندہ ہونے کے بارے میں اجماع ہے۔ حافظ ابن قیم اور فاضل لکھنوی نقلاً بیان کرتے ہیں کہ کل مسلمانوں کا مسیح علیہ السلام کے زندہ ہونے پر اتفاق ہے۔ لہٰذا وہب کی نقل کے واسطے اور کوئی محمل ماسوا اس کے جو ہم بیان کر آئے ہیں نہیں ہے۔

اے ناظرین! اگر آپ قادیانی کے رسائل کو غور سے دیکھیں گے تو واضح ہو جائے گا کہ قادیانی کے پاس نہ تو شرعی اور نہ عقلی دلیل ہے۔ صرف یہی دیکھیں گے کہ اس کی دلیل بجز اس کے کہ یہ خلاف عادت ہے یا بعید ہے اور کچھ نہیں۔ یہی اس کا بھاری تمسک ہے۔ لیکن یہ داب ان لوگوں کا ہے کہ جن کو علم نہیں ہے۔ یہ ایسا ہے کہ جس طرح زمانہ جاہلیت میں کفار بوسیدہ ہڈیوں کے زندہ ہونے کو (قیامت کو) بعید اور محال جانتے تھے۔ چنانچہ خداوند تعالیٰ اس کی قرآن میں خبر دیتے ہیں کہ انسان نہیں سوچتا ہے کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ اب وہ ظاہر جھگڑالو بن گیا ہے اور وہ مثال بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول گیا ہے۔ یہ انسان کہتا ہے کہ خدا عزاسمہ قیامت کو بوسیدہ ہڈیوں کو کیسے پیدا کرے گا۔ یعنی کافروں کا اس کو بعید سمجھنا بالکل باطل ہے۔ کیونکہ جس حالت میں کہ انسان کو منی سے پیدا کرتا ہے تو وہ ہڈیوں کو زندہ کیوں نہیں کر سکتا۔ ہڈی تو از قطرہ منی انسانیہ کی طرف اقرب ہے۔ اسی طرح پر کافروں کے استبعاد سے قرآن شریف میں یوں خبر دی گئی ہے کہ کافروں نے کہا ہے کہ معبود کا ایک ہی ہونا عجیب ہے۔ غرض کہ اسی طرح پر قرآن شریف میں کافروں کے استبعادات بیان فرمائے گئے ہیں۔ مگر خوف طول سے تھوڑے پر بس کی گئی۔

٥٨

فائدہ

قادیانیوں اور نیچر پسندوں اس کو جو ان کی عقل سے بعید ہو۔ مگر بر عریض و طویل رکھتے ہیں۔ اپنی عالی ہمتی سے دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ جو محال اور ہے اور نادر الوقوع اور ہے۔ کے نزدیک ایسے امورات کا خداوند تعالٰی امورات کے پیدا کرنے میں عاجز عقل کی غلطی سے مبرا ہے تو پھر سے مطابق عقل بنانا چاہتے ہیں حضرت مصنف فرماتے ہیں کہ بلاشبہ میں ہم فارغ ہوئے۔ اب ناظرین وامثالہ سے یاد کرتے رہیں۔ اسی کلام ہے۔ آخری ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ قادیانی بہترین خلق اور ان کی قوم، اولاد، یار

واسطے صرف قرآن کی آیات کے ساتھ

صاحب نے انہیں کچھ تبدل و تغیر دے لیا۔ ہاں انا مسیح کا دعویٰ بھی اس پر زیاد

جملہ کہہ دیتے ہیں۔

فرمایا ہے۔ اس سے اس کی طرف اش ہے۔ مگر ہم اس کے بدلہ اس کی دلیل ک

صفحہ ٧٣١

فائدہ

قادیانیوں اور نیچر پسندوں نے دراصل محال اس کو بھی سمجھ لیا ہے جو نادرالوقوع ہو۔ نیز اس کو جو ان کی عقل سے بعید ہو۔ مگر بڑا تعجب ہوتا ہے کہ ڈیل ڈول تو پنجاب سے فرانس تک عریض و طویل رکھتے ہیں۔ اپنی عالی فہمی پر تو اتنے نازاں ہیں کہ علماء و فضلاء اسلام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ محال کس چڑیا کا نام ہے۔ بھلے مانس یہ امتیاز نہیں رکھتے کہ محال اور ہے اور نادرالوقوع اور ہے۔ رہی عقل سو اگر ان کی عقل سے بعید ہے تو اہل اسلام کی عقل کے نزدیک ایسے امورات کا خداوند تعالیٰ سے ظہور بالکل آسان ہے اور وہ قادر مطلق ہرگز ایسے امورات کے پیدا کرنے میں عاجز نہیں ہے۔ گو ان کی عقل اسے عاجز سمجھ رکھے۔ نیز انسان کی عقل کیا غلطی سے مبرا ہے تو پھر وہ کیوں اپنی عقلوں پر بھروسہ کر کے نقول قطعیہ کو تاویلات رکیکہ سے مطابق عقل بنانا چاہتے ہیں۔ کیا ایک امر یقینی کو غیر یقینی پر محمول کرنا داب دانشمندی ہے۔ انتہاء!

حضرت مصنف فرماتے ہیں کہ بلاشبہ اس کتاب کے لکھنے سے جو لوگوں کے لئے نافع ہے۔ ١٣١١ھ میں ہم فارغ ہوئے۔ اب ناظرین سے التماس ہے اپنے خاص وقتوں میں ہم کو دعائے حسن خاتمہ وامثالہ سے یاد کرتے رہیں۔ اسی کلام سے اس کتاب کا اختتام بھی ہوا۔ خداوند تعالیٰ ہی پر بھروسہ ہے۔ آخری ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ تمام حمد خاص خداوند تعالیٰ کو ثابت ہیں۔ خداوند اپنے حبیب ﷺ بہترین خلق اور ان کی قوم، اولاد، یار وغیرہ پر رحمت نازل فرمائے۔

حاشیہ جات

١؎ کیونکہ اگر احادیث رسول اکرم ﷺ کا بھی ذکر فرماتے تو زیادہ ہی طول ہو جاتا۔ اس واسطے صرف قرآن کی آیات کے ساتھ مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا ثابت فرمایا۔

٢؎ واضح رہے کہ دراصل ایسے مسائل کے بانی اور مجتہد سرسید صاحب ہیں۔ مگر قادیانی صاحب نے انہیں کچھ تبدل و تغیر دے کر ظاہر کیا اور اپنا ہی اختراع جتا کر ان کی شہرت سے حصہ لیا۔ ہاں اتباع کا دعویٰ بھی اس پر زیادہ کیا۔

٣؎ عرب کا محاورہ ہے کہ جب کسی کام کا کرنا کبھی چاہتے ہیں اور کبھی نہیں چاہتے۔ تو یہ جملہ کہہ دیتے ہیں۔

٤؎ جہاں کہیں حضرت مصنف علام مدظلہم نے تہذیب کا ذکر قادیانی کے استدلال میں فرمایا ہے۔ اس سے اس کی طرف اشارت ہے۔ قادیانی کو دلیل پیش کرنے کا ڈھب نہیں آیا ہے۔ مگر ہم اس کے بدلہ اس کی دلیل کو سنواریں گے۔

٥٩

صفحہ ٧٣٢

جمع مستغرق ہونا یہ معنی ہے کہ اس سے تمام پیغمبر آدم علیہ السلام سے جناب رسول اکرمﷺ تک مراد رکھ لئے جائیں۔

مصنف علام نے اس طرف اشارہ فرمادیا۔

صدیق اکبر استدلال فرماتے ہیں تو لازم آتا ہے کہ دعویٰ خاص اور دلیل عام ہو۔ حالانکہ یہ باطل ہے عام اس لئے کہ خلو کا معنی لغۃ وہ ہے جو موت اور غیر موت کو شامل ہے۔

ہوگا کہ یہ حکم تمام افراد پر ہے اور نہ یوں ہوگا کہ یہ حکم بعض افراد پر ہے۔ چونکہ قد خلت من قبلہ میں بھی نہ تو تمام افراد رسول اور نہ بعض افراد رسول کو حکم لگایا گیا ہے تو حضرت استاد مصنف علام مدظلہم نے اس کو قضیہ مہملہ فرمایا۔

ہے کہ خداوند تعالیٰ نے اشیاء کی ماہیّتوں کو دراصل بنایا ہے اور وجود تبعیت کے طور پر خود بخود ہی عارض ہوا ہے۔ مثال لوہار تلوار کو بناتا ہے اور تیزی خود بخود موجود ہو جاتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ نہیں بلکہ بنانے کے یہ معنی ہیں کہ خداوند تعالیٰ ماہیات کو موجود کر دیتا ہے۔ پس بریں تقدیر جعل اور بنانے کے لئے دو مفعولوں کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ جہاں پر یہ حضرت مصنف علام مدظلہم نے جعل مؤلف فرمادیا ہے۔ وہ ہرگز جعل بسیط نہیں ہے۔

تو یوں کہیں گے کہ ایسا نہیں ہے تو صریح لازم آئے گا کہ زید نے طعام کھایا ہے۔ غرضیکہ جہاں نفی پر نفی داخل ہو وہ سالبہ سالبہ ہے۔ جہاں زید کے لئے کھانا ثابت کیا گیا ہو وہ موجبہ محصلہ کہلائے گا۔

میں کسی زمانے میں حکم لگایا گیا ہو۔ جیسا کہ کہہ دیں زید کہ کسی زمانہ میں کاتب ہے۔ ممکنہ عامہ وہ ہے جہاں پر جانب مخالف کی ضرورت سلب کر دی گئی ہو۔ چنانچہ کہیں زید بالا مکان عالم ہے۔ یعنی زید کا عالم ہونا ضروری نہیں ہے۔ پس قضیہ مذکورہ یوں ہوگا کہ ہر رسول کے لئے طعام کا کھانا جائز ہے۔ نہ کھانا ضروری نہیں ہے۔ مطلقہ عامہ ہوا۔

صادق نہیں آوے گی۔ بلکہ پھر تو یوں کہ معلول متحقق ہوسکتا ہے۔

لئے علت ہے۔ کیا معنی کہ اگرچہ تام اور عقم بھی نہ رکھے جائیں تو بھی قائم رہے

بااعتبار اکثر کے ہے۔ ورنہ یہ حدیث مطلب اور حدیث سے بھی ثابت ہو چکے ہیں۔

گا۔ اب اس میں یہ ضروری ہے کہ خ کہ نہ وہ ہو۔ یہ ہٰذا بناء علیٰ قول اکثر

لیکر ایک یہ قید لگادیں کہ اپنے معنی ہوئے تو یہ کلمہ اسم کہلاتا ہے۔ اگر اپنے مفہوم ہو تو یہ فعل کہلاتا ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس کلمہ مقسم ہے اور یہ تینوں اس کی قسم ہیں

بذات خود زمین پر ہی تھے۔ مگر کشف دیئے گئے۔ چنانچہ ان کے بڑے خل ہے کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ بھی

٢٠

صفحہ ٧٣٣

جائز ہے۔ نہ کھانا ضروری نہیں ہے۔ پس یہ ممکن ہوا ہر رسول کسی زمانہ میں طعام کھاتا ہے۔ یہ مطلقہ عامہ ہوا۔

صادق نہیں آوے گی۔ بلکہ پھر تو یوں کہنا پڑے گا کہ اس علت کے غیر محقق ہونے کی حالت میں معلول محقق ہوسکتا ہے۔

لئے علت ہے۔ کیا معنی کہ اگر یہ خاص رکن ہوں گے تو چھت قائم رہے گی۔ اگر ان کے قائم مقام اور تھم بھی رکھے جائیں تو بھی قائم رہے گی۔

باعتبار اکثر کے ہے۔ ورنہ یہ حدیث واقع اور مشاہدات کے خلاف ہوگی۔ نیز اس حدیث کا یہی مطلب اور حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم اس کی تحقیق بعض ابواب انوار محمدی میں کر چکے ہیں۔

گا۔ اب اس میں یہ ضروری ہے کہ نہ تو یہ کہ زید پہلے ہی مرے اور ارذل العمر تک بھی پہنچے اور نہ یہ کہ نہ وہ ہو نہ یہ۔ ہذا بناء علیٰ قول القادیانی۔

لیکر ایک یہ قید لگا دیں کہ اپنے معنی پر بالاستقلال دلالت کرے اور کوئی زمانہ اس سے مفہوم نہ ہو تو یہ کلمہ اسم کہلاتا ہے۔ اگر اپنے معنی پر بالاستقلال دلالت کرے۔ مگر اس سے کوئی زمانہ بھی مفہوم ہو تو یہ فعل کہلاتا ہے۔ علیٰ ہذا القیاس اور ایک قید لگانے سے وہ حرف کہلاتا ہے۔ اب دیکھو کہ کلمہ مقسم ہے اور یہ تینوں اس کی قسم ہیں۔ مگر یہ قسم مختلف قیود لگانے سے حاصل ہووے۔

بذات خود زمین پر ہی تھے۔ مگر کشف کے طور پر آپ پر مسجد اقصیٰ آسمانوں کے حالات ظاہر کر دیئے گئے۔ چنانچہ ان کے بڑے خلیفہ نے ایک اشتہار میں جس کا نام مولوی احسن امروہی ہے لکھا ہے کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی بھی اس کے مطابق لکھتے ہیں۔ لیکن جب حجۃ اللہ البالغہ کا یہ مقام

٦١

صفحہ ٧٣٤

دیکھا گیا تو فی الحقیقت شاہ صاحب کا اور ہی مطلب ہے۔ جو ہرگز خلاف عقیدہ قدیمہ نہیں۔ گو اس خلیفہ نے اپنے زعم میں اور ہی کچھ اپنے مطلب کے موافق سمجھا ہوا تھا۔ سبحان اللہ! اگر ایسے منصف ہوں تو سب متقدمین ومتاخرین کو بدنام کر ڈالیں گے۔ پھر غضب یہ ہے کہ قادیانی لکھتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو جسم کثیف کے ساتھ معراج نہیں ہوا۔ نعوذ باللہ منہ دیکھئے کہ یہ ادب ہے اور دعویٰ مجددیت کا۔

٢٠۔ شاید کوئی کہہ دے گا کہ اسم فاعل میں تو زمانہ ضروری ہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ ضروری اس موقعہ پر ہے کہ جب عامل ہو نہ مطلقاً یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ آیت ”انـــــــــــــی متوفیک“ میں جو متوفی ہے اس میں زمانہ معتبر ہے۔ کیونکہ یہ یہاں پر عامل ہے۔ اس لئے کہ متوفی کاف خطاب کی مضاف ہے اور کاف محلاً مجرور ہے نہ یہ کہ متوفی کا مفعول ہے۔

٢١۔ وضع کا معنی یہ ہے کہ ایک لفظ یا شے کو کسی مفہوم کے واسطے معین کر دینا۔ رہا یہ کہ شخصی کیا ہو اور نوعی کیا۔ سو واضح ہو کہ شخصی میں وضع اور موضوع لہ دونوں خاص ہوتے ہیں۔ جیسا کہ زید کا لفظ ذات زید کے لئے موضوع بھی ہے۔ اب اس میں وضع اور موضوع بھی خاص ہیں۔ پس یہ وضع شخصی ہو یا لفظ دیوار کا خاص ایک دیوار کے لئے موضوع ہے۔ یہ بھی شخصی ہوگا اور اینٹ کا دیوار میں داخل ہونا بھی اسی شخصی وضع کے ذریعہ سے ہو۔ کیونکہ وہ دیوار میں جزء کی طرح داخل ہے اور وہ دیوار موضوع لہ بوضع شخصی ہے۔ وضع نوعی وہ ہے جو حضرت مصنف علام مدظلہم نے خود بالتصریح فرما دیا ہے۔ غرضیکہ جس طرز پر جناب فرماتے ہیں۔ اس طریق پر جب وضع ہو تو وہ نوعی کہلاتا ہے۔

٢٢۔ عموم مجاز اس کو کہتے ہیں کہ لفظ سے ایک ایسا معنی مراد لیا جائے کہ وہ حقیقی اور مجازی کو شامل ہو۔ جیسا کہ حضرت مصنف تقدس مآب مدظلہم نے فرمایا ہے کہ اس کو وفا مقارن ہو یا نہ ہو۔ اب جہاں پر مقارن ہوگا وہ حقیقی اور جہاں پر مقارن نہیں ہوگا۔ وہ مجازی کہلائے گا۔ تو یہی عموم کا معنی ہے۔

٢٣۔ دیکھو متوفی مشتق ہے اس کا اصل ماخذ وفا ہے اور یہ لفظ تو اپنے معنی پر بوضع شخصی دال ہے۔ رہی ہیئت جو حروف کے آپس میں مل جانے سے پیدا ہوگئی ہے۔ وہ اپنے معنی مرکب پر بوضع نوعی دال ہے۔ جیسا کہ کہیں کہ ہر لفظ جو مفتعل کے وزن پر ہو وہ تین چیزوں کے مجموعہ پر دال ہوگا۔ ایک ماخذ دوم باب کا اقتضاء سوم نسبت الفاعل ظاہر ہے کہ متوفی کا یہی مجموعہ ہے۔ مفتعل کے وزن پر بھی ہے۔

٢٤ بعض لوگ حنفیوں پر اع

محققین حنفیہ میں سے فرماتے ہیں کہ مردہ ق

ہو۔ حضرت مصنف فضیلت مآب نے اس

منکر نہیں ہیں۔ بلکہ قوت جسمانیہ سے سننے

٢٥ قادیانی صاحب یہ عجیب

٢٦ جیسے کہ زید کے قائم ہو

خیال ہو اور کسی جانب کو ترجیح نہ ہو۔ اسے ش

٢٧ چنانچہ ایک شخص زید کے

ہونے کا بھی اس کو ضعیف سا گمان ہے۔ ا

٢٨ جب انسان کا مثلاً علم حاص

ذہن نشین ہوتی ہے۔ پس اس صورت کو صو

٢٩ کون و فساد کا معنی یہ ہے

چنانچہ پانی جب کہ ہوا بن جاتا ہے تو وہ صور

٣٠ شاید بعض لوگ یہ کہہ دی

میں کہہ دیں گے کہ مسیح علیہ السلام بھی مس

”فماهو جوابكم فهو جوابنا“ مخ

٣١ قادیانی کو اس حدیث س

گی۔ دعویٰ مسیحیت پر چست و چالاک کر

دعوے کو ہوتے یہ معلوم نہیں ہوا کہ یہ حدیث

میں بیان کر چکے ہیں۔

٣٢ حدیث میں آیا ہے کہ تر

نہیں آتا کہ وہ ناسخ دین محمدی ﷺ ہوں۔

ہے۔ ہاں یہ تو ضرور ہے کہ یہ حکم اس زما

چنانچہ ہم انوار محمدی کی بعض ابواب میں بخو

٣٣ حضرت مصنف علام

بیہودہ اعتراض کا اور بھی جواب ہے۔ و

٦٢

صفحہ ٧٣٥

محققین حنفیہ میں سے فرماتے ہیں کہ مردہ نہیں سنتے ہیں تو اے حنفیو! تم کیوں سماع موتی کے قائل ہو۔ حضرت مصنف فضیلت مآب نے اس کو بھی رد کیا کہ صاحب فتح وغیرہ مطلقاً سماع موتی کے منکر نہیں ہیں۔ بلکہ قوت جسمانیہ سے سننے کے منکر ہیں نہ کہ ادراک روحانی سے بھی انکاری ہیں۔

خیال ہو اور کسی جانب کو ترجیح نہ ہو۔ اسے منطقی شک کہا کرتے ہیں۔

ہونے کا بھی اس کو ضعیف سا گمان ہے۔ اس کو منطقین ظن کہتے ہیں۔

ذہن نشین ہوتی ہے۔ پس اس صورت کو صورت علمیہ کہتے ہیں۔

چنانچہ پانی جب کہ ہوا بن جاتا ہے تو وہ صورت مائیہ کو چھوڑ کر صورت ہوائیہ کو قبول کر لیتا ہے۔

میں کہہ دیں گے کہ مسیح علیہ السلام بھی مستثنیٰ ہے۔ اس سے حضرت مولانا صاحب مدظلہم کا یہ فرمودہ ”فما هو جوابكم فهو جوابنا“ خوب ذہن نشین ہوگا۔

گی۔ دعویٰ مسیحیت پر چست و چالاک کر دیا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ ان کو اتنے عریض وطویل دعوے کے ہوتے یہ معلوم نہیں ہوا کہ یہ حدیث ہی صحیح نہیں ہے۔ چنانچہ ہم انوار محمدی کے بعض ابواب میں بیان کر چکے ہیں۔

نہیں آتا کہ وہ ناسخ دین محمدی ﷺ ہوں گے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ حکم بھی دراصل احکام محمدیہ ﷺ سے ہے۔ ہاں یہ تو ضرور ہے کہ یہ حکم اس زمانہ کے واسطے ہے کہ جب مسیح علیہ السلام اتریں گے۔ چنانچہ ہم انوار محمدی کے بعض ابواب میں بخوبی اس بات کا فیصلہ دے چکے ہیں۔

بیہودہ اعتراض کا اور بھی جواب ہے۔ وہ یہ ہے کہ زکوٰۃ مالی جب ہی فرض ہوتی ہے کہ مالک

٦٣

صفحہ ٧٣٦

نصاب بھی ہو۔ پس چونکہ اہل اسلام اس کے کہ مسیح علیہ السلام تجارت یا خوراک کے لئے مال آسمان پر لیں گے۔ قائل نہیں ہیں اور نہ یہ ثابت ہے۔ لہٰذا مسیح علیہ السلام پر آسمان پر زکوٰۃ بھی فرض نہیں ہے۔

مبارکاً‘ کے لئے بھی قید نہیں ہو سکتا۔ ورنہ لازم آئے گا کہ مسیح علیہ السلام بعد الموت نہ نبی ہوں اور نہ مبارک العیاذ باللہ! یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر مادمت حیا براً کی قید بھی مان لیں تو حاضر ہونا خاص خدمت کے لئے شرط ہے۔ دیکھو مسیح علیہ السلام یا اور کوئی خدمت خاصہ کے ساتھ تب ہی مامور ہے کہ جب کہ حاضر خدمت ہو۔ اس لئے اگر بیٹا سفر میں اور والدین یا ایک ان میں سے مقیم ہو تو خاص خدمت اسی ضروری سفر میں فرض نہیں ہو سکتی۔ ورنہ چاہئے تھا کہ مسیح علیہ السلام جس حالت میں تبلیغ کے لئے مسافر اور والدہ سے جدا ہوتے تھے اس خاص خدمت کی ترک سے گنہگار ہوتے۔ نعوذ باللہ منہ! یا تو ثابت کر دیں کہ مسیح علیہ السلام والدہ سے کہیں بھی زمین پر ہوتے جدا نہیں ہوئے تو تاہم کچھ بن پڑے گا۔ لیکن اس کا ثبوت کہاں ہے۔

کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام مر گئے۔ سو واضح ہو کہ یہ محض دھوکا ہے۔ کیونکہ وہب یہ کہہ کر کہ مسیح علیہ السلام اتنی مدت اموات میں داخل ہوئے ساتھ ہی کہتے کہ وہ پھر زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گئے۔ اب کہئے کہ وہب کس طرح اجماع سے مخالف ہوئے۔ بلکہ وہ بھی اس بات کے قائل ہوئے کہ مسیح علیہ السلام اب تک زندہ ہے۔ پس اجماع کورانہ نہیں بلکہ فہم ہی کورانہ ہے۔

عباسؓ کی مراد یہ ہو کہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تجھ کو اے مسیح علیہ السلام بعد از رفع قریب قیامت بعد النزول ماروں گا۔ مترجم کہتا ہے کہ یہی حق ہے۔ کیا دیکھتے نہیں کہ ابن عباسؓ مسیح علیہ السلام کے اب تک زندہ ہونے کے قائل ہیں نہ دیکھو ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ ابن جریر نے سعید بن جبیر کی طریق سے ابن عباسؓ سے صحیح السند روایت کی ہے کہ جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ابن عباسؓ مسیح علیہ السلام کے تا قریب قیامت زندہ ہونے کے قائل ہیں۔ جس کو تفصیل کا شوق ہو وہ تحقیق کرے۔ اب اگر متوفیک سے وہی معنی سمجھا جاوے کہ جس کی طرف حضرت مصنف نے ارشاد فرمائی ہو تو سچ کہو کہ ابن عباسؓ کے اقوال میں تناقض نہیں ہوگا۔ ہاں ضرور ہوگا۔

٦٤