رَدِّ قادیانیت
رسائل
حضرت مولانا انوار اللہ خان حیدرآبادیؒ
احتسابِ قادیانیت
جلد ٢١
عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّۃ
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122
ردّ قادیانیت
رسائل
حضرت مولانا انوار اللہ خان حیدر آبادیؒ
احتساب قادیانیت
٢١
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بسم الله الرحمن الرحيم -------------------- احتساب قادیانیت جلد ٢١ -------------------- مولانا انوار اللہ خان حیدرآبادیؒ -------------------- ٦٠٠ -------------------- ٢٥٠ ت: -------------------- فروری ٢٠٠٨ء -------------------- ناصر زین پریس لاہور -------------------- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صدر دفتر حضوری باغ روڈ ملتان
فہرست
افادة الافہام جلد اول ص۔ ٧ فادة الافہام جلد دوم ص۔ ٢٦٥ انوار الحق: ص۔ ٥٠٩
بسم الله الرحمن الرحيم
عرض مرتب
الحمدلله وكفى وسلام علىٰ عباده الذين اصطفى اما بعد!
قارئین! لیجئے ”احتساب قادیانیت“ کی اکیسویں جلد پیش خدمت ہے۔ یہ جلد حضرت مولانا انوار اللہ خان حیدرآبادیؒ کی رد قادیانیت پر کتب کے مجموعہ پر مشتمل ہے۔ نزھۃ الخواطر نامی کتاب کئی جلدوں پر مشتمل حضرت مولانا سید عبدالحیؒ نے عربی میں تالیف کی تھی۔
جو سنین کی ترتیب سے پہلی صدی سے چودہ صدیوں تک برصغیر کے علماء کے جستہ جستہ حالات پر مشتمل ہے۔ اس کی بعض جلدوں کا اردو میں بھی ترجمہ ہوا۔ نزھۃ الخواطر کی آٹھویں جلد کا ترجمہ مولانا انوار الحق قاسمی نے کیا اور اس کا نام رکھا۔ ”چودھویں صدی کے علماء برصغیر“ اس میں مولانا انوار اللہ خان حیدرآبادیؒ ہمارے ممدوح کے حالات یہ درج ہیں۔
”محترم فاضل علامہ انوار اللہ بن شجاع الدین بن قاضی سراج الدین عمری حنفی حیدرآبادی، مشہور علماء میں سے تھے۔ ٤؍ جمادی الثانی ١٢٦٤ھ قندھار میں پیدا ہوئے۔ جو کہ ارض دکن کے ناندیڑ علاقہ کی ایک بڑی آبادی تھی۔ اس بستی میں رہ کر قرآن مجید حفظ کیا اور اپنے علاقہ کے اساتذہ کرام کے علاوہ شیخ عبد الحلیم انصاری لکھنویؒ سے درسی کتابیں پڑھیں۔ پھر ان کے صاحبزادہ شیخ عبد الحی لکھنویؒ سے حیدرآباد شہر میں تابع رہے۔ علم تفسیر شیخ عبد اللہ یمنیؒ سے پڑھی اور تصوف وسلوک میں ان کے والد سے حصول سبق کے بعد اجازت حاصل کی اور دوسرے بہت سے علوم وفنون میں عالم بنے اور حکومت سے وظیفہ حاصل کیا۔ لیکن تھوڑے عرصہ کے بعد اسے قلیل سمجھا۔ ١٢٩٤ھ میں حج کو روانہ ہو گئے اور شیخ کبیر الحاج امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے ملاقات کی اور ان سے بیعت حاصل کی اور آخر میں اجازت حاصل کر لی۔ ١٢٩٥ھ میں صاحب دکن کے خاص استاد بنائے گئے۔ جن کا نام محبوب علی خانؒ جو چھٹے نظام تھے، ١٣٠١ھ میں خان بہادر کا لقب دیا گیا تھا۔ دوسری مرتبہ حج مبارک ادا کیا اور ١٣٠٥ھ میں تیسری بار حج ادا کیا۔ پھر مدینہ منورہ میں تین سال تک اقامت کی ١٣٠٨ھ میں حیدرآباد واپس لوٹ آئے اور ولی عہد امیر عثمان علی خانؒ کے معلم مقرر کئے گئے۔ صاحب دکن امیر محبوب علی خانؒ کا ١٣٢٩ھ میں انتقال ہوا اور امیر عثمان علی
خان ساتویں نظام بنائے گئے تو انہوں نے مولانا کو صدارت اور احتساب کا عہدہ بخشا اور یہ واقعہ ١٣٣٠ھ کا ہے۔ ١٣٣٢ھ میں وزارت اوقاف کا بھی عہدہ بخشا، اور ان کا لقب نواب فضیلت جنگ رکھا گیا۔ اس طرح انہیں بڑی وجاہت اور مسائل شرعیہ اور امور دینیہ میں پورا پورا اختیار مل گیا اور بہت سی اصلاحات قائم کیں۔ جن سے اپنے ملک اور اس کے باشندوں کو بڑا فائدہ پہنچایا۔ یہ اپنے زمانہ کے تمام عقلی اور نقلی علوم میں تنہا مالک بن گئے۔ بہت عبادت گزار اور ہمیشہ ہی پڑھانے اور ذکر و اذکار اور کتابوں کے مطالعہ اور تصنیف میں مشغول رہتے۔ بدعتوں اور خواہشمندوں کے بڑے سخت مخالف تھے۔ ١٢٩٣ھ میں حیدرآباد شہر میں انہوں نے ایک نظامیہ مدرسہ کی بنیاد رکھی اور تالیف و تصنیف کے کام میں اشاعۃ العلوم کے نام سے ایک علمی ادارہ کی بنیاد رکھی۔ آپ لامبے قد اور مونڈھوں اور سینوں کے چوڑے مضبوط اور قوی مردوں میں سے تھے۔ رنگ کے سپید لیکن سرخی مائل۔ بڑی آنکھوں اور گھنی ڈاڑھی والے، اپنے کھانے اور لباس کے معاملہ میں کم تکلف کرتے، آخر زندگی تک بدنی ریاضت میں پابندی کرنے والے تھے۔ اپنی آمدنی مال و تنخواہ کے بارے میں بہت پرہیزگار، بہت ہی بردبار اور تواضع کے مالک تھے۔ بیماروں کی عیادت کرتے اور جنازوں میں حاضر ہوتے۔ بہت ہی انعام و نیکی کرنے والے، نہ تو اپنا مال جمع رکھتے اور نہ ہی اس کا اہتمام کرتے، زبان کے بڑے پاکیزہ، بری اور خراب باتوں سے بہت دور تھے۔ فتوحات مکیہ کو مغرب سے نصف شب تک روزانہ پڑھا کرتے۔ شیخ محی الدین ابن عربیؒ کے بڑے معتقدین میں سے تھے۔ اپنی آخری زندگی میں علمی اشغال میں اپنی ساری رات گزارتے، نماز فجر کے بعد کافی دن چڑھے تک سوتے، نادر کتابوں کے جمع کرنے کے بڑے شوقین تھے۔ تصنیفات: (١)...... افادۃ الافہام (٢)...... کتاب العقل (٣)...... حقیقۃ الفقہ (٤)...... انوار احمدی (٥)...... مقاصد اسلام۔ یہ تمام کتابیں اردو میں تھیں۔ اس کے علاوہ دوسری تالیفات تھیں۔ آپ کا انتقال ١٣٣٦ھ جمادی الثانی میں ہوا۔ مدرسہ نظامیہ جن کی خود بنیاد رکھی تھی اس میں دفن کئے گئے۔
(چودھویں صدی کے علماء برصغیر ص ١٤٢ تا ١٤٣)
حضرت مولانا انوار اللہ خان حیدرآبادیؒ کی کتاب افادۃ الافہام دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب رد قادیانیت پر ہے۔ مرزا قادیانی ملعون کی کتاب ازالہ اوہام کے جواب میں مرزا قادیانی کی زندگی میں یہ لکھی گئی۔
ہر چند کہ مولانا سید عبدالحئی صاحب نے نزہۃ الخواطر میں مصنف مرحوم کی کتاب ”انوار الحق“ کا تذکرہ نہیں کیا۔ لیکن یہ کتاب بھی مرزا قادیانی کے قادیانی مرید حسن علی کے مطبوعہ لیکچر کے جواب میں تحریر کی گئی۔
مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء مطابق ٢٤ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ کو فی النار والسقر ہوا۔ جب کہ افادۃ الافہام بار دوم ١٤٢٥ھ میں شائع ہوئی۔ آج سے اٹھارہ سال قبل ١٩٩٠ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ایک کتاب ”قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت“ شائع کی تھی۔ اس میں کتاب افادۃ الافہام کا تعارف شائع کیا گیا تھا۔ جو یہ ہے۔
”نام: افادۃ الافہام (٢ جلد) مصنف: مولانا محمد انوار اللہ خان صفحات: ٧٣٧ سن اشاعت: ١٤٢٥ھ (اردو)
مرزا قادیانی کی ایک کتاب کا نام ازالہ اوہام ہے۔ لیکن حقیقت میں اوہام باطلہ کا بدترین مرقع وخزانہ ہے۔ امت محمدیہ کے متعدد حضرات نے اس کا جواب لکھا۔ قاضی سلیمان منصور پوریؒ نے غایۃ المرام وتائید الاسلام، قاضی فضل احمدؒ نے کلمہ فضل رحمانی اور مولانا محمد انوار اللہ خانؒ نے افادۃ الافہام لکھی۔ افادۃ الافہام کی بڑے سائز کی دو جلدیں ہیں۔ پہلی جلد ٤٧٦ صفحات اور دوسری جلد ٣٦٠ صفحات پر مشتمل ہیں۔ جلد دوم کے آخر میں سن تصنیف اس شعر سے لیا گیا ہے۔
قادیانی کا رد خوش اسلوب
ہے معمیٰ یہ اس کا سال طبع
ہوئی تردید اہل باطل خوب (١٣٢٥ھ)
رد قادیانیت پر کام کرنے والے حضرات دونوں جلدوں کے صرف انڈکس ہی پڑھ لیں تو بھڑک اٹھیں گے کہ شاید ہی مرزائیت کا پھیلایا ہوا کوئی ایسا ”وہم“ ہو جس کا اس کتاب میں جواب موجود نہ ہو۔ مرزا قادیانی کے اوہام باطلہ کا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیا گیا ہے۔ جگہ جگہ مرزا قادیانی کو اس کی اپنی تحریروں کی زنجیر میں جکڑا گیا ہے۔ تحریر میں کہیں تلخی نام کی کوئی چیز آپ کو نہ ملے گی۔ دلائل گرم، الفاظ نرم کا حسین وجمیل مرقع ہے۔ اللہ رب العزت کی کروڑوں رحمتیں ہوں مصنف مرحوم پر جنہوں نے مرزا قادیانی کو چاروں شانوں چت کیا ہے۔
مصنف موصوف صوبہ جات دکن کے مذہبی امور کے صدرالصدور (چیف جسٹس) جہاندیدہ عالم دین، دینی، دنیوی علوم کے حامل تھے۔ مرزا قادیانی کی تردید میں قدرت کا عطیہ تھے۔ کتاب کو لکھے ہوئے ایک صدی بیتنے کو ہے۔ اس کے بعد اس عنوان پر کئی کتابیں لکھی گئیں۔ مگر یہ حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے۔"
(قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت ص ٨٠)
غرض احتساب قادیانیت کی اکیسویں جلد (جلد ہذا) میں مولانا انوار اللہ خان حیدرآبادیؒ کی یہ تین کتابیں شامل اشاعت ہیں۔
- ١....... افادة الافہام حصہ اول
- ٢....... " حصہ دوم
- ٣....... انوار الحق
اس کے علاوہ مفاتیح الاعلام بھی ایک کتاب ہے۔ یہ مستقل تصنیف نہیں۔ بلکہ افادة الافہام کی فہرست کو جو پہلے ایڈیشن میں کتاب کے ساتھ شائع ہوئی علیحدہ مفاتیح الاعلام کے نام سے شائع کیا گیا۔ ہمارے پیش نظر چونکہ صرف نایاب کتابوں کو محفوظ کرنا ہے۔ فہرستوں کی ترتیب آنے والی نسلوں میں سے جسے اللہ تعالیٰ توفیق دے اس کے لئے یہ کام چھوڑ رکھا ہے۔ اس لئے مفاتیح الاعلام کو شامل نہیں کیا۔
برا ہو جہالت مآبی کا کہ بعض لوگوں نے ”ہدیہ عثمانیہ وصحیفہ انواریہ“ کو بھی مولانا انوار اللہ خانؒ کی تصانیف میں شامل کرلیا۔ حالانکہ یہ کتاب حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کی ہے جو احتساب قادیانیت میں مولانا مونگیریؒ کے دیگر مجموعہ کتب کے ساتھ ہم شائع کرنے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں۔ افادة الافہام کی طبع دوم ١٣٢٥ھ میں ہوئی۔ اب طبع سوم محرم الحرام ١٤٢٩ھ میں ہورہی ہے۔ ایک سو چار سال بعد اس کتاب کی اشاعت پر ہمارے دل کس خوشی سے معمور ہوں گے اور اس پر ہمیں کس طرح اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے امید ہے کہ قارئین اس کا احساس فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس خدمت کو شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!
محتاج دعا: فقیر اللہ وسایا یکم محرم الحرام ١٤٢٩ھ (١١ جنوری ٢٠٠٨ء)
خاتم النبیین لا نبی بعدی
افادۃ الافہام
حصہ اوّل
حضرت مولانا انوار اللہ خانؒ
بسم الله الرحمن الرحیم!
الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على سيدنا محمد واله واصحابه اجمعين!
اما بعد! مسلمانوں کا خیر خواہ محمد انوار اللہ ابن مولانا مولوی حافظ ابو محمد شجاع الدین صاحب قندھاری دکنی اہل اسلام کی خدمت میں گزارش کرتا ہے کہ یہ امر پوشیدہ نہیں کہ جب تک آنحضرت ﷺ اس عالم میں تشریف فرما تھے۔ فیضان صحبت اور غلبۂ روحانیت کی وجہ سے تمام اہل اسلام عقائد دینیہ میں خودرائی سے مبرا اور خودغرضی سے معرا تھے اور اطاعت وانقیاد کا مادہ ان میں ایسا متمکن اور راسخ تھا کہ مخالفت خدا اور رسول کے خیال کا بھی وہاں گزر نہ تھا۔ پھر جب حضرت بعد تکمیل دین تشریف فرمائے عالم جاودانی ہوئے۔ بعض طبائع میں بمقتضائے جبلت خودسری کا خیال پیدا ہوا اور عقل خود پسند پر جو قوت ایمانی کا دباؤ تھا کم ہونے لگا اور دوسرے اقوام کے علوم اپنے سبز باغ مسلمانوں کو دکھلانے لگے اور ادھر امتداد زمانے کی وجہ سے خلافت نبوت کی قوت میں بھی کسی قدر ضعف آ گیا۔ جس سے وحدت قہری کا شیرازہ بکھر گیا۔ غرض اس قسم کے اسباب سے جدت پسند طبائع نے مخالفت کی بنیاد ڈالی۔ کسی نے اہل حق پر عدم تدین کا الزام لگا کر کمال تقویٰ کی راہ اختیار کی جو صرف نمائش تھی اور درحقیقت وہ کمال درجے کا فسق تھا۔ جیسے خوارج کہ جنگ باہمی وغیرہ شبہات کی وجہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور جملہ صحابہ کی تکفیر کر کے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہو گئے اور بعضوں نے امامت کے مسئلہ پر زور دے کر اس جماعت سے مخالفت کی۔ جس سے اور ایک جدا فریق قائم ہو گیا۔ کسی نے مسئلہ تنزیہ میں وہ غلو کیا کہ صفات الہیہ کا انکار ہی کر دیا اور اس جماعت سے علیحدگی اختیار کر کے ایک فرقہ بنام معتزلہ اپنے ساتھ کر لیا۔ بعضوں نے مسئلہ جبر و قدر میں افراط وتفریط کر کے دو فرقے اس جماعت سے علیحدہ بنا لئے۔
الغرض اس جماعت حقہ سے بہت سے لوگ علیحدہ ہو کر جدا گانہ اسماء کے ساتھ موسوم ہوتے گئے ۔ پھر جو جو فرقے علیحدہ ہوتے گئے عقل سے کام لے کر نئے نئے مسائل تراشتے اور ان کو اپنا مذہب قرار دیتے گئے۔ جس کی وجہ سے بکثرت مذاہب ہو گئے۔ لیکن ان تمام انقلابات
کے وقت وہ جماعت کثیرہ جو ابتدائے اسلام سے قائم ہوئی تھی انہیں اعتقادات پر قائم رہی۔ جو ان کو وراثۃً آباؤ اجداد سے پہنچے تھے۔ انہوں نے عقل کو نقل کے تابع کر کے قرآن وحدیث کو اپنا مقتدا بنا رکھا اور تمام اعتقادات میں قدم بقدم صحابہ کی پیروی کرتے رہے۔
یہ جماعت وہی ہے جو اہل سنت وجماعت کے نام سے اب تک مشہور ہے اور جہاں آنحضرتﷺ نے اپنی امت کے تفرقے کا ذکر فرمایا۔ وہاں اس جماعت کو اس خوبی اور خوش اسلوبی کے ساتھ یاد کیا کہ ہر شخص کو اس میں شریک ہونے کی آرزو ہوتی ہے۔ مگر صرف آرزو سے کیا ہوگا۔ وہاں تو یہ شرط لگی ہوئی ہے کہ آنحضرتﷺ اور صحابہ کے طریقے پر رہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے ۔ ”عن عبدالله بن عمر قال قال رسول اللهﷺ وتفترق امتى على ثلث وسبعين ملة كلهم فى النار الا ملة واحدة قالوا من هى يارسول الله قال ما انا عليه واصحابى (رواه الترمذى وفى رواية احمد و ابى داؤد عن معاوية ثنتان وسبعون فى النار واحدة فى الجنة كذا فى المشكوة ص ٣٠، باب الاعتصام بالكتاب والسنة)“
یوں تو ہر مذہب والے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم بھی صحابہ کے پیرو ہیں اور احادیث ہمارے ہاں بھی موجود ہیں۔ مگر تحقیق کرنے سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ سوائے اہل سنت و جماعت کے یہ بات کسی کو حاصل نہیں۔ فن رجال کی صدہا کتابیں موجود ہیں جن سے ظاہر ہے کہ علمائے اہل سنت نے جرح و تعدیل رواۃ اور تحقیق احادیث و آثار صحابہ میں کس قدر جانفشانیاں کیں۔ جن کی وجہ سے کسی مفتری بے دین کی بات کو فروغ ہونے نہ پایا اور احادیث و آثار ان کی سعی سے اب تک محفوظ رہے۔ اس امر کا اہتمام جس قدر علمائے اہل سنت وجماعت نے کیا ہے اس کی نظیر نہ امم سابقہ میں مل سکتی ہے نہ کسی دوسرے مذہب میں یہ اہتمام اور خاص توجہ بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ سوائے اہل سنت و جماعت کے کوئی مذہب ناجی اور مصداق اس حدیث کا نہیں ہو سکتا۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اہل سنت وجماعت کے سوا گو تمام فرق اسلامیہ نے مسائل اعتقادیہ میں عقل کو دخل دے کر بہت سے نصوص میں اس قدر تاویلیں کیں کہ ان کو بیکار ٹھہرا دیا۔ مگر ان میں کسی مقتدائے مذہب نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ سب اپنے آپ کو صرف امتی آنحضرتﷺ کے کہتے رہے۔ اسی وجہ سے کل مذاہب حضرت ہی کی امت میں شمار کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت نے بھی امتی کا لفظ ان کی نسبت فرما دیا ہے۔ بخلاف ان
٨ بسم الله الرحمن الرحيم له رب العلمین والصلوة والسلام علی سیدنا محمد واله مسلمانوں کا خیرخواہ محمد انوار اللہ ابن مولانا مولوی حافظ ابو محمد شجاع الدین اسلام کی خدمت میں گزارش کرتا ہے کہ یہ امر پوشیدہ نہیں کہ جب تک میں تشریف فرما تھے۔ فیضانِ صحبت اور غلبۂ روحانیت کی وجہ سے تمام اہل الیٰ سے مبرا اور خود غرضی سے منزہ تھے اور اطاعت وانقیاد کا مادہ ان میں الفتِ خدا ورسول کے خیال کا بھی وہاں گزر نہ تھا۔ پھر جب حضرت بعد ئے عالم جاودانی ہوئے۔ بعض طبائع میں بمقتضائے جبلت خود سری کا ند پر جو قوت ایمانی کا دباؤ تھا کم ہونے لگا اور دوسرے اقوام کے علوم دکھلانے لگے اور ادھر امتداد زمانے کی وجہ سے خلافتِ نبوت کی قوت ہا۔ جس سے وحدتِ قہری کا شیرازہ بکھر گیا۔ غرض اس قسم کے اسباب الفت کی بنیاد ڈالی۔ کسی نے اہل حق پر عدمِ تدین کا الزام لگا کر کمال ف نمائش تھی اور در حقیقت وہ کمال درجے کا فسق تھا۔ جیسے خوارج کہ وجہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور جملہ صحابہ کی تکفیر کر کے مسلمانوں کی اور بعضوں نے امامت کے مسئلہ پر زور دے کر اس جماعت سے جدا فریق قائم ہو گیا۔ کسی نے مسئلہ تنزیہ میں وہ غلو کیا کہ صفاتِ الہیہ ت سے علیحدگی اختیار کر کے ایک فرقہ بنام معتزلہ اپنے ساتھ کر لیا۔ افراط و تفریط کر کے دو فرقے اس جماعت سے علیحدہ بنالئے۔ ت حقہ سے بہت سے لوگ علیحدہ ہو کر جداگانہ اسماء کے ساتھ موسوم علیحدہ ہوتے گئے عقل سے کام لے کر نئے نئے مسائل تراشتے اور ۔ جس کی وجہ سے بکثرت مذاہب ہو گئے۔ لیکن ان تمام انقلابات
کے بعض لوگ ایسے بھی پیدا ہوئے کہ ان کی غرض صرف مقتدا بننے کی رہی ہر چند آنحضرت ﷺ کی نبوت کو بھی تسلیم کرتے تھے۔ مگر اس کے ساتھ اپنی نبوت کو بھی لگا دیا کرتے۔ چنانچہ مسیلمہ کذاب وغیرہ باوجود یہ کہ حضرت کی نبوت کے قائل تھے۔ جیسا کہ کتب احادیث و تواریخ سے ظاہر ہے مگر خود بھی نبوت کا دعویٰ کرتے تھے اور چونکہ نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ اس وجہ سے وہ کذاب کے نام سے موسوم ہوئے اور صحابہؓ وغیرہ ہم نے ان سے جہاد کر کے ان کو مخذول کیا اور ان کا یہ دعویٰ کہ ہم نبی ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرتے ہیں۔ کچھ مفید نہیں ہوا۔ جب اس قسم کے لوگوں کی ابتداء حضرت ہی کے زمانے سے ہو چکی تو پھر کیونکر ہو سکتا تھا کہ وہ سلسلہ منقطع ہو۔ اس لئے کہ جوں جوں حضرت کے زمانے میں دوری ہوتی ہے۔ خرابیاں اور بڑھتی جاتی ہیں۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اس لئے حضرت نے پہلے ہی فرما دیا کہ قیامت تک اس نبوت کاذبہ کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس کے ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو لوگ نبوت کا دعویٰ کریں گے ۔ فی الحقیقت وہ دجال جھوٹے ہیں ان کو نبوت سے کوئی تعلق نہیں ۔ جیسا کہ (بخاری شریف ج ١ ص ٥٠٩، باب علامات النبوۃ فی الاسلام) کی اس روایت سے ظاہر ہے۔ ”عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ لا تقوم الساعة حتٰی یبعث دجالون کذابون قریب من ثلثین کلھم یزعم انه رسول اللہ“ اس سے ظاہر ہے کہ ان تیس دجالوں کے امتی آنحضرت ﷺ کے امتی نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ دجالوں کا امتی ہونا قرین قیاس نہیں۔ پھر جب ان کے نبی ، حضرت کے امتی نہ ہوں تو ان کے امتی ، حضرت کے امتی کیونکر ہو سکیں۔
غرض جو مذہب نیا نکلتا ہے اس میں داخل ہونے کے وقت نبی ﷺ کے امتیوں کو اتنا تو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ بہتر (٧٢) مذہب سے خارج نہ ہوں ۔ جن پر حضرت کے امتی ہونے کا اطلاق کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ مذاہب گو ناریہ ہوں ۔ مگر مخلد فی النار نہیں اور جو ان سے بھی خارج ہو اس میں داخل ہونا تو ابد الآباد کے لئے اپنی تباہی اور ہلاکت کا سامان کرنا ہے۔
اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ جب کوئی نیا مذہب نکلتا ہے تو لوگ اس کی طرف فقط مائل ہی نہیں بلکہ صدق دل سے اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ مسیلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو تھوڑی مدت میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی فراہم ہو گئے اور اس خوش اعتقادی کے ساتھ کہ جان دینے پر مستعد، چنانچہ لڑائیوں میں بہت سے مارے بھی گئے ۔ حالانکہ سوائے
طاقت لسانی کے جو کچھ فقرے گھڑ لیتا تھا کوئی دلیل نبوت کی اس کے نزدیک نہ تھی۔ بلکہ معجزے کی غرض سے جو کچھ کرتا اس کا خلاف ظہور میں آتا۔ مگر وہ کور باطن اس کا کلمہ پڑھتے اور باوجود یہ کہ آنحضرت ﷺ کے ہزار ہا معجزات اظہر من الشمس تھے۔ مگر ان کے اعتقادوں کو کوئی جنبش نہ ہوتی۔ اسی طرح اب تک یہی کیفیت دیکھی جاتی ہے کہ نئی بات اور نئے مذہب کی طرف طبیعتیں بہت مائل ہیں۔ چنانچہ فی زمانہ بھی ایک نیا مذہب نکلا ہے۔ جس کو مرزا غلام احمد قادیانی نے ایجاد کیا ہے اور لوگ اس کی طرف مائل ہوئے جاتے ہیں۔
ایک زمانے تک مرزا قادیانی کی نسبت مختلف افواہیں سنی گئیں کوئی کہتا تھا کہ ان کو مجددیت کا دعویٰ ہے کوئی کہتا تھا کہ مہدویت کا بھی دعویٰ ہے۔ کوئی کہتا تھا کہ عیسیٰ موعود بھی اپنے آپ کو کہتے ہیں۔ ان پریشان خبروں سے طبیعت کو کسی قدر پریشانی تو تھی۔ مگر اس وجہ سے کہ آخری زمانے کا مقتضیٰ یہی ہے کہ اس قسم کی نئی نئی باتیں پیدا ہوں طبیعت اس کی تحقیق کی طرف مائل نہ تھی۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے بطور ابلاغ پیام ایک اشتہار مجھ کو دکھلایا۔ جس میں ان کو نہ ماننے والوں کی تکفیر تک تھی۔ اس وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ آخر اس مذہب کی حقیقت کیا ہے ان کی کسی کتاب سے معلوم کرنا چاہئے۔ چنانچہ تلاش کرنے سے مرزا قادیانی کی تصنیف ”ازالۃ الاوہام“ ملی اور سرسری طور پر اس کو دیکھا گیا۔ مگر مرزا قادیانی کے فحوائے کلام سے معلوم ہوا کہ جب تک یہ کتاب پوری نہ دیکھی جائے ان کے مذہب کی حقیقت اور ان کا مقصود معلوم نہ ہوگا۔ اس لئے اول سے آخر تک اس کو پھر دیکھا اس سے کئی باتیں معلوم ہوئیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ مرزا قادیانی بڑے عالی خاندان شخص ہیں۔ مختصر حال ان کے خاندان کا یہ ہے کہ ان کے جد اعلیٰ بابر بادشاہ کے وقت جو چغتائی سلطنت کا مورث اعلیٰ تھا۔ سمرقند میں ایک جماعت کثیرہ لے کر دہلی آئے اور بہت سے دیہات بطور جاگیر ان کو دیئے گئے۔ آپ نے وہاں بہت بڑا قلعہ تیار کیا اور ایک ہزار فوج سوار اور پیادے کے ساتھ وہاں رہتے تھے۔ جب چغتائی سلطنت کمزور ہوئی۔ آپ نے ایک ملک پر قبضہ کرلیا اور توپخانہ وغیرہ فراہم کر کے بطور طوائف الملوک مستقل رئیس ہو گئے۔ مرزا گل محمد صاحب جو مرزا قادیانی کے پردادا ہیں انہوں نے سکھوں سے بڑے بڑے مقابلے کئے اور تن تنہا ہزار ہزار سکھوں کے مقابلے میں کامیاب ہوئے۔ مگر مسلمانوں کی بدقسمتی تھی کہ باوجود یہ کہ انہوں نے بہت کچھ کوششیں کیں کہ ایک وسیع ملک فتح کر کے اس کو دارالاسلام بنا دیں مگر نہ ہو سکا۔ پھر ان کے فرزند مرزا عطاء محمد صاحب کے عہد ریاست میں سوائے قادیان اور چند دیہات کے تمام ملک قبضے سے نکل گیا اور آخر سکھوں کے جبر وتعدی سے اپنا مستقر بھی ان کو چھوڑنا پڑا۔ کئی روز کے
بعد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب (مرزا قادیانی) کے والد دوبارہ قادیان میں جابسے اور گورنمنٹ برطانیہ کی جانب سے حصہ جدی سے قادیان اور تین گاؤں ان کو ملے اور گورنر کے دربار میں ان کی نہایت عزت تھی۔ چنانچہ ان کی دربار میں ان کو کرسی ملتی تھی اور غدر میں پچاس گھوڑے اپنی ذات سے خرید کر کے اور اچھے اچھے سوار مہیا کر کے پچاس سوار سے گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام بلکہ صاحبان ڈپٹی کمشنر اور کمشنر ان کے مکان پر آتے تھے۔ پھر ان تاریخی واقعات کو بیان کر کے مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ یہ خاندان ایک معزز خاندان ہے۔ جو شاہان سلف کے زمانے سے آج تک کسی قدر عزت موجود رکھتا ہے۔
اس تقریر سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی ایک اولوالعزم شخص خاندان سلطنت سے ہیں اور صرف ایک ہی پشت گذری ہے جو یہ دولت ہاتھ سے جاتی رہی۔ جس کی کمال درجے کی حسرت ہونی ایک لازمہ بشری ہے۔ چونکہ مقتضا فطانت ذاتی کا یہی تھا کہ مجد مؤثل کی تجدید ہو اس لئے ایک نئی سلطنت کی انہوں نے بنیاد ڈالی۔
یہ بات قابل تسلیم ہے کہ شاہی خاندان کے خیالات خصوصاً ایسی حالت میں کہ طبیعت ذی وقار ہو اور ذہن کی رسائی بھی ضرورت سے زیادہ ہو کبھی گوارا نہیں کر سکتی کہ آدمی حالت موجود پر قناعت کرے۔ (بخاری شریف ج١ ص٤١٢، باب هل يرشد المسلم اهل الكتاب او يعلمهم الكتاب) میں مروی ہے کہ جب ہدایت نامہ آنحضرت ﷺ کا ہرقل پادشاہ روم کو پہنچا تو اس نے ابوسفیان وغیرہ کو جو وہاں موجود تھے۔ بلا کر حضرت کے بہت سے حالات دریافت کئے۔ منجملہ ان کے ایک یہ بھی سوال تھا کہ آپ کے اجداد میں کوئی بادشاہ بھی گذرا ہے۔ انہوں نے کہا نہیں تو اس نے کہا میں یقین کرتا ہوں کہ وہ نبی ہیں۔ کیونکہ اگر ان کے اجداد میں کوئی بادشاہ ہوتا تو یہ خیال کیا جاتا کہ اسلاف کی دولت زائل شدہ کے وہ طالب ہیں۔ یہ روایت بخاری میں کئی جگہ مذکور ہے۔
ازالۃ الاوہام جو ہزاروں صفحوں میں لکھی گئی ہے۔ اس میں صرف ایک ہی بحث ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور یہ خدمت میرے اتباع خصوصاً اولاد میں ہمیشہ رہے گی اور کل مباحث اس میں صرف اسی دعویٰ کے تمہیدات ولوازم ورفع موانع میں ہیں۔ اس کتاب کے دیکھنے سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کی پرزور طولانی تقریروں کا اثر بعض کمزور خوش اعتقادوں کی طبیعتوں پر ضرور پڑے گا۔ اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ چند مباحث جن پر مرزا قادیانی کی عیسویت کا مدار ہے لکھے جائیں۔ تاکہ اہل اسلام پر یہ منکشف ہو جائے کہ اس بات میں مرزا قادیانی نہ صرف مسلمانوں
سے بلکہ اسلام سے مخالفت کر رہے ہیں۔
قبل بیان مقصود مرزا قادیانی کے ابتدائی خیالات تھوڑے سے لکھے جاتے ہیں۔ جو قابل غور و توجہ ہیں۔ مرزا قادیانی جو کام کر رہے ہیں یہ کوئی نیا کام نہیں بلکہ ابتدائے نشو و نما سے وہ ان کے پیش نظر ہے۔ چنانچہ (براہین احمدیہ ص ٩٥، خزائن ج ١ ص ٨٥) میں لکھتے ہیں ۔
بخواندم زہر ملتے دفترے بدیدم زہر قوم دانشورے
ہم از کودکی سوئے ایں تاختم دریں شغل خود را بینداختم
جوانی ہمہ اندریں باختم دل از غیر ایں کار پرداختم
اور اس میں لکھتے ہیں ”میں سچ کہتا ہوں کہ اس تالیف سے پہلے ایک بڑی تحقیقات کی گئی اور ہر ایک مذہب کی کتاب دیانت اور امانت اور خوض و تدبر سے دیکھی گئی تھی ۔“
اس سے ظاہر ہے کہ لڑکپن سے مرزا قادیانی کو یہی شغل رہا کہ تمام مذاہب باطلہ کے اقوال و احوال پر انہوں نے نظر ڈالی اور تمام کتابوں کے مضامین کو ازبر کیا اور عقلاء کے تدابیر و ایجادات و اختراعات میں غور و فکر کر کے ایک ایسا ملکہ بہم پہنچایا کہ کسی بات میں رکنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ پوری عمر ان کی اسی کام میں صرف ہوئی اور جس طرح اولیاء اللہ دل غیر خدا سے خالی کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنا دل غیر باطل یعنی حق سے خالی کیا۔ جس پر ان کا مصرعۂ موزون ذیل میں شہادت دے رہا ہے۔
پھر یہ ادعاء کہ مرزا قادیانی نے ایک مدت دراز تک خلوت نشین رہ کر تصفیہ باطن حاصل کیا۔ چنانچہ فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول وغیرہ مقامات کے حاصل ہونے کا دعویٰ خود بھی متعدد مقامات اور تصنیفات میں کرتے ہیں۔ ان تقریروں سے ظاہر ہے کہ وہ خلاف واقع ہے۔ اس لئے کہ جب پوری عمر مذاہب باطلہ کی کتابیں دیکھنے اور نئے دین کے اختراع کرنے میں گذری تو توجہ الی اللہ کا وقت ہی کب ملا اور ظاہر ہے کہ جب ایسے نقوش متضادہ لوح خاطر پر منقش اور مرتکز ہوں تو ممکن نہیں کہ تصفیہ قلب ہو سکے۔ جیسا کہ اولیاء اللہ کے کتب سے ظاہر ہے اور جب تک تصفیہ قلب نہ ہو قلب محل الہام و تجلیات نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ احیاء العلوم اور فتوح الغیب وغیرہ کتب قوم سے ظاہر ہے۔ غرض مرزا قادیانی عمر بھر اسی اختراعی مذہب کے الٹ پھیر میں لگے رہے۔ جس کا نقشہ براہین احمدیہ میں تیار کیا اور اب اس میں رنگ آمیزیاں کر رہے ہیں۔
انہوں نے نئی بنیاد اس طرح ڈالی کہ ایک کتاب مسمی بہ ”براہین احمدیہ علی حقیقت کتاب اللہ والنبوۃ المحمدیہ“ لکھی۔ جس کے نام سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف اور نبی کریم ﷺ کی نبوت کی حقیقت اس میں ثابت کی گئی اور اس کتاب کی ضرورت اس وجہ سے ثابت کی ”اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ عقل کو بری طور پر استعمال کرنے سے بہتوں کی مٹی پلید ہو رہی ہے..... ہمارے زمانے کی نئی روشنی (خاک برفرق ایں روشنی) نوآموزوں کی روحانی قوتوں کو افسردہ کر رہی ہے۔ ان کے دلوں میں بجائے خدا کی تعظیم کے اپنی تعظیم سما گئی ہے اور بجائے خدا کی ہدایت کے آپ ہی ہادی بن بیٹھے ہیں..... سوفسطائی تقریروں نے نوآموزوں کے طبائع میں طرح طرح کی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں..... ان کی طبیعتوں میں وہ بڑھتی جاتی ہیں اور وہ سعادت جو سادگی اور غربت اور صفائی باطنی میں ہے۔ ان کے مغرور دلوں سے جاتی رہی جن جن خیالات کو وہ سیکھے ہیں..... وہ اکثر ایسے ہیں جن سے لامذہبی کے وساوس پیدا کرنے والا اثر ان کے دلوں پر پڑ جاتا ہے..... اور فلسفی طبیعت کے آدمی بنتے ہیں..... اور نیز عیسائی دین ترقی کر رہا ہے۔ چنانچہ پادری ہنٹر صاحب نے لکھا ہے کہ ستائیس ہزار سے پانچ لاکھ تک شمار عیسائیوں کا ہندوستان میں پہنچ گیا ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ جو فساد دین کی بے خبری سے پھیلا ہے۔ اس کی اصلاح اشاعت علم دین ہی پر موقوف ہے۔ سو اسی مطلب کو پورا کرنے کے لئے ہم نے کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا ہے۔ جس سے ہمیشہ کے مجادلات کا خاتمہ فتح عظیم کے ساتھ ہو جائے گا۔ یہ کتاب طالبین حق کو ایک بشارت اور منکران اسلام پر حجت ہے۔“
(اشتہار ضروری ملحقہ براہین احمدیہ ص د تا ہ، خزائن ج ١ ص ٦٦ تا ٦٩)
اور براہین احمدیہ میں ایک اشتہار اس مضمون کا دیا کہ ”میں جو مصنف اس کتاب براہین احمدیہ کا ہوں۔ یہ اشتہار اپنی طرف سے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ بمقابلہ جمیع ارباب مذاہب اور ملت کے جو حقانیت قرآن مجید اور نبوت محمد مصطفیٰ ﷺ سے منکر ہیں۔ اتماماً للحجۃ شائع کر کے اقرار کرتا ہوں کہ اگر کوئی بحسب شرائط مندرجہ اس کو رد کرے تو اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبضہ و دخل دے دوں گا۔“
(دیباچہ براہین احمدیہ ص ١٧ تا ٢٤، خزائن ج ١ ص ٢٤ تا ٢٨)
ان تحریرات کے ظاہر کو دیکھ کر کون مسلمان ہوگا۔ جو مرزا قادیانی پر جان فدا کرنے کو آمادہ نہ ہو جائے۔
اور قرآن شریف کی بھی بہت سی تعریفیں اس میں کی ہیں۔ چنانچہ (براہین احمدیہ ص ١١٠ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ١٠١) میں لکھتے ہیں کہ ”قرآن شریف کی تعلیم بھی انتہائی درجے پر نازل ہوئی۔ پس انہیں معنوں سے شریعت فرقان مختتم اور مکمل ٹھہری اور پہلی شریعتیں ناقص رہیں اور قرآن
شریف کے لئے اب یہ ضرورت درپیش نہیں کہ اس کے بعد اور کتاب بھی آئے کیونکہ کمال کے بعد اور کوئی درجہ باقی نہیں ۔“ اور (براہین احمدیہ ص ٢١٥ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٣٨) میں لکھتے ہیں کہ ”وحی رسالت بحجت عدم ضرورت منقطع ہے۔“ اور ( براہین احمدیہ ص ١١٠ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ١٠٢) میں لکھتے ہیں کہ ” قرآن کا محرف اور مبدل ہونا محال ہے۔ کیونکہ لاکھوں مسلمان اس کے حافظ ہیں۔ ہزارہا اس کی تفاسیر ہیں پانچ وقت اس کی آیتیں نمازوں میں پڑھی جاتی ہیں ۔“ اور نبی کریم ﷺ کی مدح میں لکھتے ہیں۔ ” پس ثابت ہوا کہ آنحضرت فی الحقیقت خاتم الرسل ہیں ۔“
(براہین احمدیہ ص ١١١ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ١٠٣)
اور ( براہین احمدیہ ص ٥٠٨ ، خزائن ج ١ ص ٦٠٦ ) میں لکھتے ہیں۔ ” جو اخلاق فاضلہ خاتم الانبیاء ﷺ کا قرآن میں ذکر ہے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہزار ہا درجے بڑھ کر ہے ۔“
اور (براہین احمدیہ ص ٣٠١ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٣٤٩) میں لکھتے ہیں ۔ ” ہاں ان (نعمتوں ) کے حصول میں خاتم الرسل اور فخر الرسل کی بدرجہ کامل محبت بھی شرط ہے۔ تب بعد محبت نبی اللہ کے انسان ان نوروں سے بقدر استعداد خود حصہ پالیتا ہے“ پھر مسلمانوں کی بھی بہت کچھ تعریفیں کی ہیں۔ چنانچہ ( براہین احمدیہ ص ١١١ حاشیہ ، خزائن ج ١ ص ١٠٣، ١٠٢) میں لکھتے ہیں ۔ ”مسلمانوں کا پھر شرک اختیار کرنا اس جہت سے ممتنعات سے ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس بارے میں بھی پیشین گوئی کر کے یہ فرما دیا ہے ۔ ما یبدأ الباطل وما یعید ...... جب ان ایام میں کہ مسلمانوں کی تعداد بھی قلیل تھی تعلیم توحید میں کچھ تزلزل واقع نہیں ہوا بلکہ روز بروز ترقی ہوتی گئی تو اب کہ جماعت اس موحد قوم کی تیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ ہے۔ کیونکر تزلزل ممکن ہے ۔“ اور لکھتے ہیں کہ ”عیسائی لوگ آسانی سے دوسرے مذہبوں کو ناممکنات ظاہر کر کے ان کے پیروؤں کو مذہب سے ہٹا سکتے ہیں ۔مگر محمدیوں کے ساتھ ایسا کرنا ان کے لئے ٹیڑھی کھیر ہے۔“
اہل اسلام نے جب دیکھا کہ مرزا قادیانی اسلام کے ایسے خیر خواہ ہیں کہ اپنی جائیداد تک راہ خدا میں مکفول کر دی اور ایسی کتاب لکھی کہ جس کا جواب کسی دوسرے دین والے سے نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ان کے معتقد ہو گئے ۔
اگرچہ اس کتاب کو لاجواب بنانے والی شروط کی جکڑ بندیاں ہیں۔ جن کو علماء جانتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ہمارے دلائل کو نمبر وار توڑے اور اس پر تین منصف مقبولہ فریقین بالاتفاق یہ رائے ظاہر کر دیں کہ ایفائے شرط جیسا کہ چاہئے تھا۔ ظہور میں آ گیا اور اپنی کتاب کے دلائل معقولہ جیسے ہم نے پیش کئے پیش کریں یا اس کا عکس ورنہ بصراحت تحریر کرنا ہوگا کہ بوجہ ناکامل یا غیر معقول
ہونے کتاب کے اس شق کے پورا کرنے سے مجبور اور معذور رہے۔ پھر اس میں اقسام کے صنف بیان کئے اور یہ شرط لگائی کہ ہر صنف میں نصف یا ربع دلائل پیش کرنا ہوگا۔ غرض ایسے قیود و شروط اس میں لگائے کہ پینسٹھ صفحے کا اشتہار ہو گیا۔ ان شروط کے دیکھنے کے بعد ممکن نہیں کہ کوئی شخص جو طمع انعام اس کے رد کا ارادہ کر سکے۔ اسی بھروسہ پر انہوں نے جائیداد مکفول کر کے مفت کرم داشتن کا مضمون پورا کیا۔ مگر جاہلوں میں تو نام آوری ہو گئی کہ مرزا قادیانی نے ایسی کتاب لکھی کہ آج تک نہیں لکھی گئی۔ اس لئے کہ غالباً کسی کتاب کے جواب پر اتنا انعام مقرر نہ ہوا ہوگا۔ مرزا قادیانی نے ایسے اعلیٰ درجے کی یہ تدبیر نکالی کہ جس کا جواب نہیں۔ تمام مسلمانوں میں ان کی اور ان کی کتاب کی ایسی مقبولیت ہو گئی کہ تین چار روپیہ کی قیمتی کتاب کو پچیس پچیس روپیہ دے کر لوگوں نے لے لیا اور امراء نے جو بطور انعام یا طبع کتاب کے لئے دیا وہ علیحدہ ہے۔
ہر چند مرزا قادیانی نے تصریح کی یہ کتاب صرف قرآن شریف اور نبی کریم ﷺ کی نبوت ثابت کرنے کی غرض سے لکھی گئی۔ مگر بحث نفس الہام اور مطلق نبوت کی چھیڑ دی۔ گویا روئے سخن آریہ اور برہمو سماج کی طرف ہے۔ جو منکر الہام و نبوت ہیں اور یہ ثابت کیا کہ عقل سے کچھ کام چل نہیں سکتا۔ جب تک وحی الٰہی نہ ہو، نہ واقعات گذشتہ معلوم ہو سکتے ہیں۔ نہ کیفیت حشر وغیرہ نہ مباحث الٰہیات پھر یہ ثابت کیا کہ وحی قطعی چیز ہے۔ جس کا انکار ہو نہیں سکتا اور اس پر زور دیا کہ وحی اور الہام ایک ہی چیز ہے اور اس کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہوا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں ”کیا سرمایہ خدا کا خرچ ہو گیا۔ یا اس کے منہ پر مہر لگ گئی یا الہام بھیجنے سے عاجز ہو گیا“ اور رسالت میں بھی عام طور پر گفتگو کی کہ ”وہ ہر شخص کو مل نہیں سکتی بلکہ حسب قابلیت بعض افراد کو ملا کرتی ہے ۔“ دیکھئے ابتدائی دعویٰ اثبات نبوت خاصہ اور کلام خاص یعنی قرآن شریف کا تھا اور ثابت یہ کیا کہ خاص خاص لوگوں کو نبوت ملا کرتی ہے اور ہمیشہ کے لئے وحی کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ چنانچہ اسی بناء پر اب ان کو یہ دعویٰ ہے کہ خدا نے مجھے رسول اور نبی بنا کر بھیجا ہے اور اپنے پر جو وحی ہوا کرتی ہے اور وہ لوگوں پر حجت ہے۔ یہ اسی تخم کا پھل ہے جو براہین میں بویا گیا تھا۔ پھر بہت سے الہام اس میں ذکر کئے ان میں بعض خوش کن جیسے ”وقت نزدیک رسید کہ پائے محمدیاں بر مینار بلند محکم افتاد“ اور بعض غرض کتاب سے بے تعلق جیسے ”یا عیسی انی متوفیک و رافعک الی ٠ وکذلک مننا علی یوسف لنصرف عنہ السوء یا احمد انا اعطیناک الکوثر ٠ محمد رسول اللہ والذین معہ الآیہ انا فتحنالک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر“ (براہین احمدیہ ملخص ص ٢٣٨ تا ٢٤٢، خزائن ج ١ ص ٢٦٥، ٢٦٨)
اس شق کے پورا کرنے سے مجبور اور معذور رہے۔ پھر اس میں اقسام کے صنف لگائی کہ ہر صنف میں نصف یا ربع دلائل پیش کرنا ہوگا۔ غرض ایسے قیود و شروط پینسٹھ صفحے کا اشتہار ہو گیا۔ ان شروط کے دیکھنے کے بعد ممکن نہیں کہ کوئی شخص کے رد کا ارادہ کر سکے۔ اسی بھروسہ پر انہوں نے جائیداد مکفول کر کے مفت کی مہم مار کیا۔ مگر جاہلوں میں تو نام آوری ہوگئی کہ مرزا قادیانی نے ایسی کتاب لکھی کہ چھا گئی۔ اس لئے کہ غالباً کسی کتاب کے جواب پر اتنا انعام مقرر نہ ہوا ہوگا۔ سے اعلیٰ درجے کی یہ تدبیر نکالی کہ جس کا جواب نہیں۔ تمام مسلمانوں میں ان کی ایسی مقبولیت ہوگئی کہ تین چار روپیہ کی قیمتی کتاب کو پچیس پچیس روپیہ دے کر نے امراء نے جو بطور انعام یا طبع کتاب کے لئے دیا وہ علیحدہ ہے۔ مرزا قادیانی نے تصریح کی یہ کتاب صرف قرآن شریف اور نبی کریم ﷺ کی کی غرض سے لکھی گئی۔ مگر بحث نفس الہام اور مطلق نبوت کی چھیڑ دی۔ گویا آریہ سماج کی طرف ہے۔ جو منکر الہام ونبوت ہیں اور یہ ثابت کیا کہ عقل سے ۔ جب تک وحی الٰہی نہ ہو، نہ واقعات گذشتہ معلوم ہو سکتے ہیں۔ نہ کیفیت حشر و نشر۔ پھر یہ ثابت کیا کہ وحی قطعی چیز ہے۔ جس کا انکار ہو نہیں سکتا اور اس پر زور دینا ہی چیز ہے اور اس کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہوا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں مسخ ہو گیا۔ یا اس کے منہ پر مہر لگ گئی یا الہام بھیجنے سے عاجز ہو گیا‘‘ اور طور پر گفتگو کی کہ ”وہ ہر شخص کو مل نہیں سکتی بلکہ حسب قابلیت بعض افراد کو ملا ابتدائی دعویٰ اثبات نبوت خاصہ اور کلام خاص یعنی قرآن شریف کا تھا اور ص لوگوں کو نبوت ملا کرتی ہے اور ہمیشہ کے لئے وحی کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ ن کو یہ دعویٰ ہے کہ خدا نے مجھے رسول اور نبی بنا کر بھیجا ہے اور اپنے پر جو وحی ل پر حجت ہے۔ یہ اسی تخم کا پھل ہے جو براہین میں بویا گیا تھا۔ پھر بہت نکے ان میں بعض خوش کن جملے’وقتِ نزدیک رسید کہ پائے محمدیاں بر مینار رض کتاب سے بے تعلق جیسے’یا عیسی انی متوفیک ورافعک نا علی یوسف لنصرف عنہ السوء یا احمد انا اعطیناک سول الله والذین معه الآیه انا فتحنالك فتحا مبينا ليغفرلك بك وما تاخر‘ (براہین احمدیہ ص ٢٣٨ تا ٢٤٢ ، خزائن ج١ ص٢٦٥، ٢٦٨)
اور جس نبی کا نام الہام میں ذکر کیا ترجمے میں لکھا کہ اس سے مراد میں ہوں۔ چونکہ مرزا قادیانی نے آریہ وغیرہ کو مخاطب کیا تھا۔ اس لئے علماء نے خیال کیا کہ اسلام کی جانب سے اس وقت وہ برسر مقابلہ ہیں اور مبارزت کے وقت حریف پر رعب ہونے کی غرض سے اپنے افتخار اور الحرب خدعۃ کے لحاظ سے خلافِ واقع بھی کچھ بیان کرنا شرعاً وعقلاً جائز ہے۔ اگر ان تدابیر سے خصم پر غلبہ ہو جائے اور وہ نفس الہام کو مان لے اور قرآن پر ایمان لائے تو ایک بڑا مقصود حاصل ہو جائے گا۔ رہی افراط وتفریط جو مرزا قادیانی کے کلام میں ہے اس کی اصلاح ہو رہے گی اور نیز مرزا قادیانی نے یہ طریقہ بھی اس میں اختیار کیا کہ الہاموں میں خوب ہی اپنی تعلیاں کر کے آخر میں لکھ دیا کہ یہ سب ہمارے نبی کریم ﷺ کے طفیل اور عنایت اور اتباع کے سبب سے ہے۔ جس سے مسلمانوں نے یہ خیال کر لیا کہ جب اتباع کی وجہ سے ایسے کمالات حاصل ہو سکتے ہیں تو خود آنحضرت ﷺ کے کمالات کس درجے کے ہوں گے۔ غرض اس قسم کے اسباب سے کسی کو ان کے رد کی طرف توجہ نہ ہوئی اور انہوں نے دل کھول کے الہام لکھ ڈالے اور اپنے الہامی کارخانے کی بنیاد بخوبی قائم کر لی۔ اگرچہ یا عیسیٰ انی متوفیک کے الہام سے انہوں نے اپنا مقصود ظاہر کر دیا تھا کہ خدا نے مجھے عیسیٰ کہہ کر پکارا مگر لوگوں کو دھوکا یہ ہوا کہ محمد رسول اللہ وغیرہ بھی الہاموں میں شریک ہیں اور اس کے معنی خود وہ بیان کرتے ہیں کہ ان سے مشیتِ عامہ مراد ہے۔ جیسے علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل میں ہے۔ پھر جب ان کو دعویٰ ہی نہیں تو جواب کی کیا ضرورت۔ ظاہری عبارتوں کو فضول یا لغو سمجھ کر علماء نے التفات نہ کیا۔
ہر چند براہین احمدیہ میں سب کچھ کہہ گئے۔ مگر اس ہوشیاری کے ساتھ کہ کسی کو رد کرنے کا موقعہ ہی نہ ملے اور عیسویت کے دعوے سے تو ایسی تبری کی کہ کسی کے خیال میں بھی نہ آئے کہ آئندہ وہ اس کا دعویٰ کریں گے۔ چنانچہ (براہین احمدیہ ص ٥٠٥، ٥٠٦ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦٠١ ، ٦٠٢) میں لکھتے ہیں۔ الہام ” عسی ربکم ان یرحمكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين حصيرا “ خدا تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریقِ رفق اور نرمی اور لطف واحسان کو قبول نہیں کریں گے اور حقِ محض جو دلائلِ واضحہ اور آیاتِ بیّنہ سے کھل گیا ہے۔ اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی
آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالت کے ساتھ دنیا میں اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کریں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی سے نیست و نابود کر دے گا اور یہ زمانہ اس زمانے کے لئے بطور ارہاص کے واقع ہوا ہے۔ یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ اتمام حجت کرے گا۔ اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق واحسان سے اتمام حجت کر رہا ہے۔“
مرزا قادیانی نے اس الہام کے معنی میں صاف وصریح طور پر یہ بتلا دیا کہ عیسیٰ موعود آئندہ آنے والے ہیں اور میں عیسیٰ موعود نہیں ہوں۔ بلکہ بطور پیش خیمہ ہوں اور ان کی سواری نہایت کروفر سے آئے گی اور گمراہی کو وہ بالکل نیست و نابود کر دیں گے۔ اب دیکھئے کہ براہین احمدیہ میں کیسے حزم واحتیاط سے کام لیا اور کس طرح پہلو بچا بچا کر گفتگو کی کہ کسی کو پتا ہی نہ لگے کہ آئندہ وہ کیا کرنے والے ہیں۔ پھر جب وہ کتاب تمام ہوگئی اور خالی الذہن علماء نے اس کی توثیق بھی کی اور بہت سے مسلمانوں نے ان کو اپنا مقتداء مان لیا۔ جس سے پورا اطمینان ان کو ہو گیا اور رقم کافی اس کتاب کی بدولت مل گئی۔ اس وقت آریہ وغیرہ کو چھوڑ کر مسلمانوں پر الٹ پڑے اور ان کو پکڑ لیا کہ تم سب نے میری کتاب کی توثیق کی ہے اور مجھے عیسیٰ موعود مان لیا ہے۔ اب اگر انکار کرو گے تو تم سب کافر ملعون بے دین دوزخی ہو۔ اس وقت مسلمانوں کی آنکھ کھلی کہ یہ کیا ہو گیا۔ ہم نے تو براہین احمدیہ کو یہ سمجھا تھا کہ اس سے کافر مسلمان ہوں گے۔ نئی روشنی والے فلسفہ کی ظلمت سے نکل کر اپنے قدیم دین کی تصدیق کریں گے۔ مگر وہ تو مسلمانوں ہی کو کافر بنانے لگی۔
ہماری وہ ساری خوشیاں اور انتظار کہ کفار پر حجت قائم ہو گئی۔ اب وہ مسلمان ہوئے جاتے ہیں اور پادری مسلمان ہو کر گورنمنٹ پر اثر ڈالتے ہیں سب خاک میں مل گئے۔ ہزار ہا روپیہ برباد گئے شیخ چلی سمجھے گئے اور ہوا یہ کہ الٹے ہم ہی کافر بنائے گئے۔ کیا اتنا روپیہ ہم نے اس واسطے خرچ کیا تھا کہ کافر بنائے جائیں۔ مگر اب کیا ہوتا ہے یہ مرزا قادیانی کا عقلی معجزہ تھا۔ جو بغیر اثر کئے رہ نہیں سکتا۔ کیونکہ آئندہ یہ بات معلوم ہوگی کہ عقلی معجزات کیسے قوی الاثر اور کم مدت میں پرزور اثر ڈالتے ہیں۔
کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں ت مسیح علیہ السلام نہایت جلالت کے ساتھ دنیا میں اتریں گے اور تمام راہوں اور شاک سے صاف کریں گے اور کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا اور جلال تخم کو اپنی تجلی سے نیست و نابود کر دے گا اور یہ زمانہ اس زمانے کے لئے بطور ہوا ہے۔ یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ اتمام حجت کرے گا۔ اب مالی طور پر یعنی رفق و احسان سے اتمام حجت کر رہا ہے۔“
قادیانی نے اس الہام کے معنی میں صاف و صریح طور پر یہ بتلا دیا کہ عیسیٰ موعود لے ہیں اور میں عیسیٰ موعود نہیں ہوں۔ بلکہ بطور پیش خیمہ ہوں اور ان کی سواری نے کی اور گمراہی کو وہ بالکل نیست و نابود کر دیں گے۔ اب دیکھئے کہ براہین واحتیاط سے کام لیا اور کس طرح پہلو بچا بچا کر گفتگو کی کہ کسی کو پتا ہی نہ لگے نے والے ہیں۔ پھر جب وہ کتاب تمام ہوگئی اور خالی الذہن علماء نے اس بہت سے مسلمانوں نے ان کو اپنا مقتداء مان لیا۔ جس سے پورا اطمینان ان اس کتاب کی بدولت مل گئی۔ اس وقت آریہ وغیرہ کو چھوڑ کر مسلمانوں پر پکڑ لیا کہ تم سب نے میری کتاب کی توثیق کی ہے اور مجھے عیسیٰ موعود مان لیا روگے تو تم سب کافر ملعون بے دین دوزخی ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کی ر ہم نے تو براہین احمدیہ کو یہ سمجھا تھا کہ اس سے کافر مسلمان ہوں گے۔ کی ظلمت سے نکال کر اپنے قدیم دین کی تصدیق کریں گے۔ مگر وہ تو نے لگی۔
ری خوشیاں اور انتظار کہ کفار پر حجت قائم ہو گئی۔ اب وہ مسلمان ہوئے لمان ہو کر گورنمنٹ پر اثر ڈالیں گے سب خاک میں مل گئے۔ ہزار ہا تھے گئے اور ہوا یہ کہ الٹے ہم ہی کافر بنائے گئے۔ کیا اتنا روپیہ ہم نے اس تائے جائیں۔ مگر اب کیا ہوتا ہے یہ مرزا قادیانی کا عقلی معجزہ تھا۔ جو بغیر آئندہ یہ بات معلوم ہوگی کہ عقلی معجزات کیسے قوی الاثر اور کم مدت میں
جب مسلمانوں نے مرزا قادیانی سے پوچھا کہ حضرت آپ تو براہین احمدیہ میں تمام انبیاء کے مثیل تھے۔ جن میں ایک عیسیٰ بھی ہیں اور اس کی تصریح بھی کی تھی کہ وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جس میں عیسیٰ علیہ السلام بڑی شان وشوکت سے تشریف فرما ہوں گے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کے مثیل وغیرہ ہونے کی تخصیص کیسی تو اس کے جواب میں (ازالۃ الاوہام ص ٢٦١، خزائن ج ٣ ص ٢٣١) میں فرماتے ہیں کہ ”براہین احمدیہ میں صاف طور پر اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ یہ عاجز روحانی طور پر وہی مسیح ہے۔ جس کی اللہ و رسول نے پہلے سے خبر دے رکھی ہے۔ ہاں اس بات کا انکار نہیں کہ شاید پیش گویوں کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے کوئی مسیح موعود بھی آئندہ پیدا ہو۔ مگر فرق اس وقت کے بیان میں اور براہین احمدیہ کے بیان میں صرف اس قدر ہے کہ اس وقت بمباعث اجمال الہام کے اور نہ معلوم ہونے ہر ایک پہلو کے اجمالی طور پر لکھا گیا تھا اور اب مفصل طور پر لکھا گیا ۔“
براہین کے الہام میں اجمال یہ تھا کہ مسیح علیہ السلام خود آ کر گمراہی کے تخم کو نیست و نابود کر دیں گے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسیح مر گئے اب نہ وہ آئیں گے اور نہ گمراہی کو مٹائیں گے اور ان کی جگہ میں مسیح موعود ہوں۔ اس اجمال و تفصیل کا سمجھنا بھی ہر کسی کا کام نہیں۔ کیونکہ اجمال و تفصیل میں مطلب دونوں کا ایک ہی ہوا کرتا ہے اور یہاں تباین و تناقض ہے اور نیز (ازالۃ الاوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٦، ١٩٧) میں لکھتے ہیں۔ ”میں نے براہین میں جو کچھ مسیح ابن مریم کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر لکھا ہے وہ صرف ایک مشہور عقیدے کے لحاظ سے ہے۔ جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں۔ سو ظاہر اعتقاد کے لحاظ سے میں نے براہین میں لکھ دیا تھا کہ میں صرف مثیل موعود ہوں۔ یہ بیان جو براہین میں درج ہو چکا ہے۔ صرف اس سرسری پیروی کی وجہ سے تھا۔ جو ملہم کو قبل از انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے لازم ہے۔ کیونکہ جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے ۔“
آپ نے دیکھ لیا کہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں ایک خاص الہام وان عدتم عدنا کا اس غرض سے بیان کیا تھا کہ اگر مرزا قادیانی کی بات لوگ نہ مانیں تو جب عیسیٰ علیہ السلام جلالی طور پر آئیں گے تو وہ لوگ معذب ہوں گے۔ معتقدین نے اس کو یہی سمجھا تھا کہ مثل دوسری
وحیوں کے مرزا قادیانی پر یہ وحی بھی ہوئی ہے۔ کیونکہ اس وقت انہوں نے کوئی اشتباہ اس میں بیان نہیں کیا اور نہ یہ فرمایا تھا کہ میں اپنی طرف سے مقلدانہ بیان کرتا ہوں اور ازالۃ الاوہام میں فرماتے ہیں کہ وہ ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے میں نے لکھا تھا۔ یعنی وہ الہام و وحی نہ تھی۔ اگر فی الواقع وہ وحی تھی تو جو دعویٰ مرزا قادیانی اب کر رہے ہیں کہ عیسیٰ مر گئے اور میں ہی مسیح موعود ہوں۔ اس سے لازم آتا ہے کہ وہ اپنے خدا کی تکذیب کر رہے ہیں۔ جس نے پہلے وحی بھیجی تھی اور نیز ان کا یہ کہنا کہ میں نے اپنی طرف سے لکھ دیا تھا جھوٹ ثابت ہوگا۔ حالانکہ جھوٹ کہنے کو انہوں نے شرک لکھا ہے اور نیز یہ کہنا کہ ملہم اپنی خودی سے کچھ کہہ نہیں سکتا خلاف واقع ہے۔ اس لئے کہ ازالہ کی تقریر سے ثابت ہے کہ وہ الہام اپنی خودی سے بنالیا تھا اور اگر فی الواقع وہ الہام نہ تھا تو براہین احمدیہ میں اس کو الہاموں میں داخل کرنا خلاف واقع اور اس کے الہام ہونے کا دعویٰ جھوٹا تھا۔ غرض ان دونوں کتابوں سے ایک کتاب جھوٹی ضرور ثابت ہوتی ہے اور علیٰ سبیل البدلیت دونوں کتابیں ساقط الاعتبار ہوگئیں۔ جس سے مرزا قادیانی کے کل دعاویٰ قطعاً بے اعتبار ہو گئے۔
الحاصل جو ازالۃ الاوہام میں لکھتے ہیں کہ مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر جو براہین میں لکھا تھا وہ مشہور اعتقاد کے لحاظ سے تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ براہین میں یہ لحاظ رکھا گیا تھا کہ کوئی ایسی بات نہ لکھی جائے۔ جس سے لوگوں کو توحش ہو اور مقصود فوت ہو جائے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کی بہت سی تعریفیں بھی کیں کہ قیامت تک وہ مشرک اور گمراہ نہیں ہو سکتے۔ تا کہ اس قسم کی ابلہ فریب چالوں سے جب وہ پورے طور سے اپنے دام میں آجائیں گے اور اپنے نامزد ہونے کی وجہ سے زوجیت متحقق ہو جائے گی تو خود ان کو دوسری طرف جانے سے حیا مانع ہوگی۔ کیونکہ (براہین احمدیہ ص ٤٩٧ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٠) میں یہ الہام لکھتے ہیں کہ ”یا احمد اسکن انت وزوجك الجنة “ یعنی اے احمد تو اور جو شخص تیرا تابع ہو رفیق ہے جنت میں۔ انتہی!
مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں سوائے عیسویت کے اور بہت سے امور کی بنیادیں ڈالیں جو مختصراً یہاں لکھی جاتی ہیں۔
- ١...... اپنی ضرورت اس الہام سے ففهمناها سلیمان (براہین احمدیہ ص ٥٦٢،
خزائن ج ١ ص ٦٧٠) جس کا مطلب یہ بتلایا کہ طریقہ حال کے لوگوں پر مشتبہ ہو گیا ہے اس عاجز سے پوچھ لیں۔
ابھی (براہین ص ١١٠ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ١٠١ وغیرہ) کی عبارتوں سے معلوم ہوا کہ شریعت
قادیانی پر یہ وحی بھی ہوئی ہے۔ کیونکہ اس وقت انہوں نے کوئی اشتباہ اس میں نہ یہ فرمایا تھا کہ میں اپنی طرف سے مقلدانہ بیان کرتا ہوں اور ازالۃ الاوہام میں ، ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے میں نے لکھا تھا۔ یعنی وہ الہام وحی نہ تھی۔ اگر فی جو دعویٰ مرزا قادیانی اب کر رہے ہیں کہ عیسیٰ مر گئے اور میں ہی مسیح موعود ہوں۔ ہے کہ وہ اپنے خدا کی تکذیب کر رہے ہیں۔ جس نے پہلے وحی بھیجی تھی اور نیز ان نے اپنی طرف سے لکھ دیا تھا جھوٹ ثابت ہوگا۔ حالانکہ جھوٹ کہنے کو انہوں نے یہ کہنا کہ ملہم اپنی خودی سے کچھ کہہ نہیں سکتا خلافِ واقع ہے۔ اس لئے کہ ازالہ ہے کہ وہ الہام اپنی خودی سے بنالیا تھا اور اگر فی الواقع وہ الہام نہ تھا تو براہین اموں میں داخل کرنا خلاف واقع اور اس کے الہام ہونے کا دعویٰ جھوٹا تھا۔ وں سے ایک کتاب جھوٹی ضرور ثابت ہوتی ہے اور علیٰ سبیل البدلیت دونوں ہوگئیں۔ جس سے مرزا قادیانی کے کل دعاویٰ قطعاً بے اعتبار ہوگئے۔ ازالۃ الاوہام میں لکھتے ہیں کہ مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر جو براہین تقاد کے لحاظ سے تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ براہین میں یہ لحاظ رکھا گیا تھا کہ جائے۔ جس سے لوگوں کو توحش ہو اور مقصود فوت ہو جائے۔ اسی وجہ سے نہیں بھی کیں کہ قیامت تک وہ مشرک اور گمراہ نہیں ہو سکتے۔ تا کہ اس قسم سے جب وہ پورے طور سے اپنے دام میں آ جائیں گے اور اپنے نامزد ت متحقق ہو جائے گی تو خود ان کو دوسری طرف جانے سے حیا مانع ہوگی۔ ٤ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٠) میں یہ الہام لکھتے ہیں کہ ”یا احمد اسکن یعنی اے احمد تو اور جو شخص تیرا تابع ہو رفیق ہے جنت میں۔ انتہیٰ ! نے براہین احمدیہ میں سوائے عیسویت کے اور بہت سے امور کی بنیادیں تی ہیں۔
ضرورت اس الہام سے ففهمناها سلیمان (براہین احمدیہ ص ٥٦٢، طلب یہ بتلایا کہ طریقہ حال کے لوگوں پر مشتبہ ہو گیا ہے اس عاجز سے
١ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ١٠١ وغیرہ) کی عبارتوں سے یہ معلوم ہوا کہ شریعت
فرقانی مختتم اور مکمل ہے۔ کسی نئے الہام کی ضرورت نہیں اور مسلمان قیامت تک گمراہ اور متزلزل نہیں ہو سکتے۔ پھر مرزا قادیانی کی کیا ضرورت قرآن وحدیث سے جو طریقہ معلوم ہوا وہ تو ظاہر ہے۔ اب نیا طریقہ سوائے اس کے کہ مرزا قادیانی اپنی طرف سے ٹھہرائیں اور کیا ہو سکتا ہے۔ اگر وہ طریقہ دین سے خارج ہوگا تو باطل ہے اور اگر داخل ہوگا تو بہتر مذہب میں سے کوئی ایک مذہب ہوگا۔ پھر مرزا قادیانی کے اس طریقے کو بتلانے کی ضرورت ہی کیا اور اس مدت میں سوا ایک مسئلہ عیسویت یا اس کے لوازم و مناسبات کے کوئی تصنیف دیکھنے میں ہی نہ آئی۔ جس سے معلوم ہو کہ مقصود عیسویت سے کیا ہے اور اس میں کون سی تحقیقات کی گئی۔
- ٢...... وحی کا اپنے پر مستقل طور سے اترنا اس الہام سے ”قل انما انا بشر
مثلکم یوحى الی“ (براہین احمدیہ ص ٥١١ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦١١) یعنی اللہ نے فرمایا کہ کہو مجھ پر وحی اترتی ہے۔
- ٣...... جو وحی اترتی ہے اس کو امت میں رواج دینا اس الہام سے ”واتل
علیهم ما اوحی الیک من ربك “ (براہین احمدیہ ص ٢٣٣ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٦٨، ٢٦٧) یعنی تجھ پر جو وحی تیرے رب کی طرف سے اترتی ہے۔ وہ ان کو پڑھ کر سنایا کر۔ مرزا قادیانی کی موت کا انتظار ہے مرتے ہی ان کے خلیفہ تمام وحی متلو کو جمع کر کے فرمائیں گے کہ جس طرح قرآن محمد ﷺ کی وفات کے بعد جمع ہوا۔ اسی طرح یہ نیا قرآن ان کے بعد جمع کیا گیا اور اس کا منکر کافر ہے۔ مسیلمہ کذاب چونکہ قتل کیا گیا اور اس کی امت بھی مقتول ومخذول ہوئی۔ اس لئے اس کا قرآن جس کو اس کی امت نے قبول کر لیا تھا باقی نہ رہا مگر مرزا قادیانی کا قرآن تعجب نہیں کہ باقی رہ جائے۔
- ٤...... اپنا کعبہ جدا اس الہام سے ”فاتخذوا من مقام ابرهيم مصلى“
(براہین احمدیہ ص ٥٦١ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٧٠) اور اس الہام سے ”الم نجعل لك سهولة كل امر ببيت الفكر وبيت الذكر و من دخله كان آمنا “(براہین احمدیہ ص ٥٥٨ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٦) یعنی جو ان کے گھر میں داخل ہو وہ امن والا ہے اور وہ مقام ابراہیم ہے۔ اس کو مصلیٰ بناؤ یہ دونوں آیتیں کعبہ کی شان میں اتری ہیں۔
اس الہام میں سہولت کا جو ذکر ہے درست ہے اس سے بڑھ کر کیا سہولت ہوگی کہ صدہا ہزار ہا روپے صرف کر کے سفر کی مشقتیں اٹھا کر مکہ شریف کو جانا پڑتا تھا۔ جب مرزا قادیانی کا
گھر ہی کعبہ ٹھہر گیا تو وہ سب مشقتیں جاتی رہیں اور صرف زرکثیر کی ضرورت نہ رہی اسی وجہ سے نہ مرزا قادیانی نے حج کیا نہ اب اس کی ضرورت ہے اور ان کی امت کو یہ سہولت ہوگئی کہ دسمبر کی تعطیل میں جو معمولاً مجمع مریدوں کا قادیان میں ہوتا ہے۔ وہی اجتماع حج ہو اور دسمبر ذی الحجہ قرار پایا جائے۔ ابرہہ ؎١ کے کعبہ کو وہ بات نصیب نہ ہوئی جو مرزا قادیانی کے کعبہ کو حاصل ہے اس لئے کہ وہ ایک ایسے زمانے میں بنا تھا کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت شریفہ اور ظہور حق کا زمانہ بہت قریب تھا۔ اس وجہ سے وہ تباہ ہوا مرزا قادیانی کا کعبہ ایسے زمانے میں بنا ہے کہ اس سے قیامت قریب ہے۔ جس کے آثار و علامات میں ایسے چیزوں کا وقوع ضروری ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کعبہ دیر پا رہے گا۔
- ……٥ خلافت الہی جو آدم علیہ السلام کو دی گئی تھی۔ اپنے لئے مقرر ہونا ذیل کے
الہاموں سے ثابت کرتے ہیں یا آدم اسکن انت وزوجك الجنة (براہین احمدیہ ص ٤٩٧ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٠) اور (ازالۃ الاوہام ص ٢٥٥، خزائن ج ٣ ص ٢٣٣) میں لکھتے ہیں کہ وہ آدم جس کا نام ابن مریم بھی ہے بغیر وسیلے ہاتھوں کے پیدا کیا جائے گا۔ اسی کی طرف وہ الہام اشارہ کر رہا ہے۔ جو براہین میں درج ہوچکا ہے۔ اردت ان استخلف فخلقت آدم!
(براہین احمدیہ ص ٤٩٢، خزائن ج ١ ص ٥٨٥)
- ……٦ اپنے اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت اس الہام سے اعمل ماشئت
فانى قد غفرت لك (براہین احمدیہ ص ٥٦١، خزائن ج ١ ص ٦٦٨) یعنی اب جو جی چاہے کر تیری سب گناہوں کی مغفرت میں نے کردی۔
(بخاری شریف ج ٢ ص ٩٧١) میں یہ حدیث موجود ہے کہ قیامت کے روز جب اہل محشر بغرض شفاعت انبیاء کے پاس جائیں گے تو وہ سب اپنے اپنے گناہوں کا ذکر کرکے کہیں گے کہ
؎١ ابرہہ بادشاہ حبشہ کے اس نائب کا نام ہے۔ جس نے خانہ کعبہ کی پرستش سے حسد کر کے یمن میں ایک بت خانہ بنوایا۔ جس کا نام القلیس رکھا۔ بہت کچھ اس نے اس کی پرستش لوگوں سے کرانی چاہی۔ لیکن کسی نے بھی اس کی پوجا نہ کی۔ آخر کار خانہ خدا کے ڈھانے کی غرض سے ہاتھیوں کی ان گنت فوج بھیجی۔ جب وہ خدا کے گھر کے پاس پہنچی تو خدا کے حکم سے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ امنڈ آئے اور ان پر کنکریوں کا مینہ برسایا۔ جو کنکری جس آدمی یا ہاتھی کے سر پہنچی وہ وہیں سرد ہو گیا۔
آج محمدﷺ کا کام ہے۔ اس لئے کہ ان کی ضرورت مرزا قادیانی کو بہت تھی اس کیں، داؤ پیچ کئے، عہد شکنی کی، دھوکے دی کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ جیسے رسالہ ’الہاما بھی متفرق مقام سے معلوم ہوگا۔ باوجو کوئی فرق نہ آیا۔ اس لئے کہ ان کے گنا
- ……٧ ان کے امتی جہن
وزوجك الجنة نفخت فيك من خزائن ج ١ ص ٥٩٠، ٥٩١) یعنی اے احم روح اپنی طرف سے پھونک دی اور ر امت کو کس قدر خوشی ہوگی کہ وہ ام المو عیش کرے گی۔ اگر چہ ظاہر الہام سے ان کو حکم ہے۔ مگر چونکہ یہ سنا نہیں گیا لئے اس کا حکم مطلب یہی ہوگا کہ اس بھی ہے کہ اس عالم میں قلب ماہیت وعدوں سے ہوا کرتی ہیں۔
- ……٨ ان کی امت پ
وانت فيهم “(براہین احمدیہ ص ٥١٤، خ رحمة للعالمين “(براہین احمدیہ ص رحمت بھیجی اور تو جس قوم میں ہے اس
- ……٩ مسیح کا اپنی ا
وزوجك الجنة “(براہین احمدیہ ص میں رہو اور اس اجمال کی تفصیل (ازا ”اس مسیح کو بھی یاد رکھو جو اس عاجز ک اس عاجز کو براہین میں مریم کے نام پر ہونے والا نہیں ہے۔ یہ سلسلہ ان
آج محمد ﷺ کا کام ہے۔ اس لئے کہ ان کے گناہوں کی مغفرت پہلے سے ہو چکی ہے۔ اس الہام کی ضرورت مرزا قادیانی کو بہت تھی اس لئے کہ پیشین گوئیوں میں انہوں نے بہت سی بدعنوانیاں کیں، داؤ پیچ کئے، عہد شکنی کی، دھوکے دیئے، جھوٹ کہے، افتراء کیا، جھوٹی قسمیں کھائیں۔ غرض کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ جیسے رسالہ ”الہامات مرزا“ میں مذکور ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ اس کتاب میں بھی متفرق مقام سے معلوم ہوگا۔ باوجود ان حالات کے مرزا قادیانی کے امتیوں کے اعتقاد میں کوئی فرق نہ آیا۔ اس لئے کہ ان کے گناہوں کی مغفرت تو پہلے ہی ہو چکی ہے۔
- ٧....... ان کے امتی جنتی ہونا اس الہام سے ”یا احمد اسکن انت
وزوجك الجنة نفخت فيك من لدنى روح الصدق“ (براہین احمدیہ ص٣٩٧، ٣٩٨، خزائن ج١ ص ٥٩٠، ٥٩١) یعنی اے احمد تو اور تیری زوجہ جنت میں رہو میں نے تجھ میں صدق کی روح اپنی طرف سے پھونک دی اور روح سے مراد تابع اور رفیق بتلایا۔ اب مرزا قادیانی کی امت کو کس قدر خوشی ہوگی کہ وہ ام المومنین کے مقام میں ہو کر مرزا قادیانی کے ساتھ جنت میں عیش کرے گی۔ اگر چہ ظاہر الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی باغ میں اپنی زوجہ کے ساتھ رہنے کا ان کو حکم ہے۔ مگر چونکہ یہ سنا نہیں گیا کہ کسی باغ میں وہ اپنے امت کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس لئے اس کا حکم مطلب یہی ہوگا کہ اس عالم میں ساری امت کے ساتھ جنت میں رہیں اور ممکن بھی ہے کہ اس عالم میں قلب ماہیت ہو کر مرد عورتیں بن جائیں۔ غرض حوصلہ افزائیاں ایسے ہی وعدوں سے ہوا کرتی ہیں۔
- ٨....... ان کی امت پر عذاب نہ ہونا اس الہام سے ”ماكان الله ليعذبهم
وانت فيهم“ (براہین احمدیہ ص ٥١٤، خزائن ج١ ص٦١٣) اور اس الہام سے ”وما ارسلناك الا رحمة للعالمين“ (براہین احمدیہ ص ٥٠٦، خزائن ج١ ص ٦٠٢) یعنی ہم نے تجھ کو عالمین کے واسطے رحمت بھیجی اور تو جس قوم میں ہے اس پر اللہ عذاب نہ کرے گا۔
- ٩....... مسیح کا اپنی اولاد میں ہونا اس الہام سے ”يا مريم اسکن انت
وزوجك الجنة“ (براہین احمدیہ ص ٤٩٧، خزائن ج١ ص ٥٩٠) یعنی اے مریم تو اور تیرا زوج جنت میں رہو اور اس اجمال کی تفصیل (ازالۃ الاوہام ص ٤١٨، خزائن ج٣ ص ٣١٨) میں یوں کرتے ہیں کہ ”اس مسیح کو بھی یاد رکھو جو اس عاجز کی ذات میں ہے۔ جس کا نام ابن مریم رکھا گیا ہے۔ کیونکہ اس عاجز کو براہین میں مریم کے نام سے بھی پکارا گیا ۔“ مقصود یہ کہ مسیحیت کا خاتمہ مرزا قادیانی پر ہونے والا نہیں ہے۔ یہ سلسلہ ان کی ذریت میں بھی جاری رہے گا۔ بلکہ مرزا قادیانی کی تقریر
سے تو ظاہر ہے کہ مسیح موعود ان کی اولاد ہی میں ہوگا۔ کیونکہ (ازالۃ الاوہام ص ٦٦١، خزائن ج ٣ ص ٤٣١) میں لکھتے ہیں کہ ”اس بات کا انکار نہیں کہ شاید پیش گوئیوں کے ظاہر معنی کے لحاظ سے مسیح موعود آئندہ پیدا ہو۔“ یہ مضمون کہ ذریت میں ان کے کوئی مسیح ہوگا۔ الہام کے اشارۃ النص سے نکالا گیا کہ جب مرزا قادیانی مریم ہوئے تو ابن مریم بھی کوئی ضرور ہوگا۔ یعنی مرزا قادیانی کا لڑکا اور عبارۃ النص سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی جنت میں کبھی مریم بنے رہیں گے اور کبھی آدم یعنی مرد اور عورت اور امت کبھی زوج ہوگی۔ کبھی زوجہ اس لئے کہ وہ زوج سے مراد تابع اور رفیق فرماتے ہیں۔ اگر چہ اس کا سمجھنا مشکل ہے۔ لیکن بہر حال دونوں صورتیں ان کی امت کے لئے بشارت سے خالی نہیں۔
جب براہین احمدیہ میں لوگوں نے یہ الہام دیکھا ہو گا کہ حق تعالیٰ ان کو یا مریم فرماتا ہے تو کسی کو یہ خیال نہ آیا ہوگا کہ مرزا قادیانی آئندہ چل کے اس الہام سے سلسلہ عیسائیوں کا قائم کر لیں گے۔ غرض کسی نے اس کو مہمل سمجھا ہوگا اور کسی نے کسی قسم کی تاویل کرلی ہوگی۔ مگر مرزا قادیانی نے اس وقت اپنے دل کا بھید اور مقصود نہیں بتایا۔ اسی طرح اور الہاموں کا بھی حال سمجھ لیا جائے۔ مگر مرزا قادیانی نے ان تمام الہاموں کے مجموعے کو عیسویت کا دعویٰ کر کے ازالۃ الاوہام میں پیش کر دیا کہ وہ سب اہل اسلام کے مقبولہ ہیں۔
ان تمام کارروائیوں کے بعد کیا عقلاً پھر یہ بات پوشیدہ رہے گی کہ براہین احمدیہ کس غرض سے تصنیف کی گئی تھی۔ علانیہ کہا جاتا ہے کہ وحی مستقل، کعبہ مستقل، خلافت الٰہی مستقل، مغفرت جملہ معاصی حاصل، ساری امت اپنی جنتی، غرض جتنے امور کلیہ مرغوبہ پیش نظر تھے سب اس میں طے کر دیئے گئے۔ ایک مدت تک مرزا قادیانی چپ چاپ طبیعتوں کا اندازہ کرتے ہوئے ہوشیاری سے قدم جماتے جاتے تھے اور ادھر لوگ اس غفلت میں کہ آخر الہام بھی مرتاض لوگوں پر ہوا ہی کرتے ہیں اور اس کا ظاہری معنوں پر حمل کرنا بھی ضروری نہیں۔ ممکن ہے کہ خواب کی سی کوئی تعبیر لی جائے۔ مگر مرزا قادیانی نے نبوت کے دعوے کے ساتھ جب وہ تمام دعوے شروع کر دیئے اس وقت لوگ چونکے اور جن کو خاتم النبیین ﷺ کے ساتھ تعلق باقی رکھنا منظور تھا وہ علیحدہ ہو گئے۔ یہی وجہ تھی کہ علماء نے جب تک دین کا فائدہ خیال کرتے تھے مصلحتاً ان کے الہاموں کی تکذیب نہیں کی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ١٩١، خزائن ج ٣ ص ١٩٢، ١٩٣) میں لکھتے ہیں۔ ”تعجب ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ان تمام الہاموں کی اگر چہ ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر تصدیق کر چکے اور بدل و جان مان چکے ..... مگر ان کو بھی منکرانہ جوش دل میں
اٹھتا ہے۔“ تعجب کی کوئی بات نہیں اس وقت یہ خیال جما ہوا تھا کہ مرزا قادیانی سچ مچ مسلمانوں کی طرف سے کفار کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس لئے ان الہاموں کو مصلحتاً دائرہ امکان میں داخل کر دیا۔ مگر وہ امکان ایسا ہے جیسے کروڑ سر کا آدمی پیدا ہونا ممکن ہے۔ جس کا بدل و جان ماننا ممکن نہیں۔ پھر جب مرزا قادیانی کا حال معلوم ہو گیا کہ مسلمانوں کے بلکہ اسلام کے دشمن ہیں۔ اس لئے ان کو بھی مثل تمام مسلمانوں کے انکار کا جوش پیدا ہو گیا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی کیا وجہ کہ باوجود ان تمام دعوؤں کے مرزا قادیانی نے نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں کیا اور اپنی نبوت ورسالت کو ظلی بتاتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ یقین کیونکر کیا جائے کہ استقلال کا دعویٰ ان کے پیش نظر نہیں ہے۔ براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانے میں بھی تو کوئی دعویٰ نہ تھا۔ صرف تمہیدی تمہید تھی۔ مگر جب موقع مل گیا تو وہ سب تمہیدات دعوؤں کی شکل میں آگئے۔ اسی طرح بحسب ضرورت باقی دعوے بھی وقتاً فوقتاً ظہور میں آتے جائیں گے اور اس پر قرینہ بھی موجود ہے کہ ان تمام دعوؤں میں کہیں بھی طفیلت کا نام نہیں لیا گیا۔ چونکہ مقصود کامیابی ہے سو وہ لفظ طفیلیت کی بدولت ہو رہی ہے۔ اگر مستقل نبوت کا دعویٰ کریں تو اندیشہ لگا ہوا ہے کہ کہیں کل تمہیدات اور بنی بنائی بات بگڑ نہ جائے۔ کیونکہ اس پر کوئی مسلمان راضی نہ ہوگا کہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد کوئی مستقل نبی ہو اور بظاہر یہ بھی ممکن نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرے فرقے والا ان کی نبوت کی تصدیق کرے۔ اس لئے کہ ایک مدت دراز سے اشتہارات اور کتب شائع کر رہے ہیں۔ مگر اب تک کوئی عیسائی یا ہندو قادیانی بنا نہیں گیا۔ یہ تو آخری زمانے والے مسلمانوں ہی کی قسمت ہے۔ جو جوق جوق کھنچے جاتے ہیں۔
غرض جب انہوں نے دیکھا کہ ایک بنی بنائی امت صرف لفظ ظلی اور طفیلی کہہ دینے سے اپنی امت ہو جاتی ہے تو اس لفظ کے کہنے سے کیا نقصان بلکہ اس قسم کے اور کئی الفاظ کہہ دیئے جائیں تو بھی کیا قباحت۔ اسی وجہ سے (ازالۃ الاوہام ص ١٣٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٠) میں لکھتے ہیں کہ ”ایک لفظ قرآن کا کم وزائد نہیں ہو سکتا۔“ اور (ازالۃ الاوہام ص ١٣٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٠) میں لکھتے ہیں کہ ”کوئی ایسا الہام نہیں ہو سکتا جس سے قرآن میں تغیر ہو۔“ اسی قسم کی اور عبارتیں بھی ہیں جن سے کمال درجے کا تدین نمایاں ہے۔ مگر چونکہ اغراض ذاتی ثابت کرنے میں اکثر قرآن وحدیث کی مخالفت کی ضرورت پڑتی تھی۔ اس لئے یہ قاعدہ قرار دیا جو (ازالۃ الاوہام ص ١٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٧١) میں لکھا ہے کہ ”کشف سے معانی قرآن نئے طور سے کھلتے ہیں تو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔“
اب قرآن میں کمی و زیادتی کی ضرورت ہی کیا ۔ آسان طریقہ نکل آیا کہ جو آیت قرآنی اپنے مقصود کے مخالف ہو اس کے معنی کشف سے بحسب ضرورت گھڑ لئے اور قرآن بلا کم و زیادت اپنی جگہ رکھا رہا۔ جیسے ایک جعلی نبی کو ”حرمت علیکم المیتة والدم ولحم الخنزیر (مائده: ٣)“ میں کشف سے معلوم ہوا تھا کہ میتہ اور دم وغیرہ پڑھنے سے مراد چند معین اشخاص تھے۔ جن کے لئے حرمت کا لفظ استعمال کیا گیا۔ مردار اور سور اور خون وغیرہ سے اس آیت کو کیا تعلق ۔ یہ سب چیزیں حلال طیب ہیں ۔ دیکھئے ابھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٦) میں لکھتے ہیں کہ ”یہ بیان جو براہین میں درج ہو چکا ہے اس سرسری پیروی کی وجہ سے تھا جو ملہم کو قبل انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے لازم ہے۔“
آثار مرویہ کے مضامین جو مرزا قادیانی نے براہین میں لکھے ہیں اور اس کی ابھی نقل کی گئی۔ یہی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نہایت جلالت کے ساتھ دنیا میں اتریں گے اور الہام سے ان کو معلوم ہوا کہ وہ مر گئے ۔ اب نہ اتریں گے اور آثار نبویہ سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام آ کر کج اور ناراست کا نام و نشان دنیا میں باقی نہ رکھیں گے اور الہام ہوا کہ ایسا نہ ہوگا۔ بلکہ عیسیٰ یعنی مرزا قادیانی ایسے داؤ پیچ کریں گے کہ انکا سمجھنا مشکل ہوگا۔
آثار نبویہ میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی سے نیست و نابود کر دے گا اور الہام یہ ہوا کہ ایسا نہ ہوگا۔ بلکہ کروڑ ہا مسلمان جو موجود ہیں وہ بھی کافر ہو جائیں گے۔ جب نبی کے ارشاد اور امتی کے الہام میں اس قدر فرق ہو کہ نبی ﷺ جس چیز کے وجود کی خبر دیں۔ الہام اس کا عدم ثابت کرے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ نبی کی تکذیب الہام سے درست ہے۔ پھر جب تکذیب درست ہو تو تنسیخ کون سی بڑی بات ہے۔ بہر حال مرزا قادیانی کے الہام معمولی نہیں نبوت کے رنگ میں ہیں رفتہ رفتہ بہت کچھ رنگ لانے والے ہیں۔
غرض اس قسم کے قاعدے اسی غرض سے قرار دیئے کہ مطلب برآری میں کوئی رکاوٹ نہ رہے اور خوش کن الفاظ بھی اپنی جگہ قائم رہیں۔ پھر اگر پابندیوں سے کوئی مجبوری واقع ہو اور موقع مل جائے تو ان خوش کن الفاظ کو ہٹا دینا کون سی بڑی بات ہے۔ دیکھ لیجئے (ازالۃ الاوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) میں لکھتے ہیں کہ ”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری و کذاب ہے۔“ اور نیز (ازالۃ الاوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٦، ١٩٧) میں لکھتے ہیں کہ ”میں نے براہین احمدیہ میں جو کچھ مسیح ابن مریم کے دوبارہ دنیا
میں آنے کا ذکر لکھا ہے ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے لکھا ہے۔“ اور (ازالۃ الاوہام ص ٤١٤، خزائن ج ٣ ص ٣١٤، ٣١٥) میں لکھتے ہیں کہ ”یہ بات بہ بداہت ثابت ہے کہ ابن مریم سے وہ ابن مریم رسول اللہ مراد نہیں ہے جو فوت ہو چکا ہے اور فوت شدہ جماعت میں جا ملا اور خدائے تعالیٰ کی حکمت عجیب پر بھی نظر ڈالو کہ اس نے آج سے قریباً دس برس پہلے اس عاجز کا نام عیسیٰ رکھا اور بتوفیق وفضل براہین میں چھپوا کر ایک عالم میں اس نام کو مشہور کر دیا اور ایک مدت دراز کے بعد اپنے خاص الہام سے ظاہر فرمایا کہ یہ وہی عیسیٰ ہے جس کے آنے کا وعدہ تھا۔ برابر دس برس تک لوگ اس نام کو براہین میں پڑھتے رہے۔ خدائے تعالیٰ نے دس برس تک اس دوسرے الہام کو جو پہلے الہام کے لئے بطور تشریح تھا پوشیدہ رکھا۔“
اس کا مطلب ظاہر ہے کہ دس برس پیشتر اس کی تمہید کی تھی اور نیز (ازالۃ الاوہام ص ٥٦١، ٥٦٢، خزائن ج ٣ ص ٤٠٦) میں لکھتے ہیں کہ ”اس نے (خدا تعالیٰ) مجھے بھیجا اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔ چنانچہ اس کا الہام یہ ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدے کے موافق تو آیا ہے وكان وعداللہ مفعولا“
آپ نے دیکھ لیا کہ ابتداء میں تمہیدا کہا گیا تھا کہ میں مثیل مسیح ہوں اور مسیح علیہ السلام بڑی شان وشوکت سے خود تشریف لانے والے ہیں۔ اس سے کسی کو خیال بھی نہ ہوا کہ مرزا قادیانی کو مسیحائی کا دعویٰ ہے اور خصوصاً ایسی حالت میں کہ وہ خود (ازالۃ الاوہام ص ٢٥٩، خزائن ج ٣ ص ٢٣٠) میں لکھتے ہیں کہ ”مثیل کہنا ایسا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے علمائے امتی کا نبیاء بنی اسرائیل“ اس کے بعد یہ الہام کتاب میں درج کر دیا کہ تو عیسیٰ ہے اس پر بھی لوگوں نے چنداں توجہ نہ کی کہ الہاموں کے اصلی و لفظی معنی لینے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد یہ الہام ہو گیا کہ عیسیٰ اب کہاں وہ تو مر گئے۔ مسیح موعود تو ہی ہے اور لکھتے ہیں۔
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بہ منبرم
(ازالۃ الاوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
اور تلافی مافات اس طور سے کی گئی کہ عیسیٰ کا دوبارہ آنا ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے لکھا گیا تھا اور خدا کی قدرت ہے کہ اس آخری الہام سے دس برس پہلے خدا نے آپ کا نام عیسیٰ رکھ کر مشہور کر دیا تھا۔ اسی طرح جب ظل اور طفیل وغیرہ الفاظ کو ہٹانا منظور ہوگا تو ایک الہام ہو
جائے گا کہ ہم نے تجھے مستقل نبی کر دیا۔ اس وقت اگر پرانے خیال والا کوئی معترض چون و چرا کرے تو کمال غیظ وغضب سے فرمائیں گے کہ تو بھی عجب بیوقوف ہے۔ ارے میاں خدا سے بالمشافہ بات کرنے والا جس پر وحی بھی اترتی ہو اور اس کو خدا نے اپنا خلیفہ بھی بنا دیا اور تمام قدرت اس کے قبضے میں دے دی کہ جو چاہے کن کہہ کر کر ڈالے کہیں طفیلی ہو سکتا ہے۔ یہ الفاظ ہم نے صرف ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے سرسری پیروی کے طور پر لکھ دیئے تھے اور اس حکمت عجیبہ پر نظر ڈالو کہ بیس پچیس برس پہلے خدا نے اس عاجز کو تمام فضائل مذکورہ مستقل طور پر دے کر عالم میں مشہور کر دیا تھا۔ دیکھتے ہو کہیں ان فضائل میں ظلی اور طفیلی کا نام بھی ہے۔
مرزا قادیانی کو اپنی عیسویت جو ابتداء سے پیش نظر تھی اس کے ثابت کرنے میں کیسی کیسی کارروائیاں کرنی پڑیں۔ ابتدا یوں کی گئی کہ حدیث شریف میں وارد ہے۔ علمائے امتی کانبیاء بنی اسرائیل اس لئے میں تمام انبیاء کا مثیل ہوں اور چونکہ اس میں کوئی خصوصیت ان کی نہ تھی۔ اس لئے کہ تمام علماء اس بشارت میں شریک تھے۔ اس وجہ سے خدا کی طرف سے پیام پہنچایا گیا کہ خاص طور پر فلاں فلاں نبی کے مثیل مرزا قادیانی ہیں۔ چنانچہ وہ آیتیں الہام میں پیش کی گئیں۔ جن میں انبیاء کے نام تھے۔ جیسا ففھمناھا سلیمان اور یا عیسی انی متوفیک وغیرہ اور ان کے ترجمے میں لکھ دیا کہ اس سے مراد عاجز ہے۔ یہ کارروائی اس خیال سے کی گئی کہ عقلاء اس زور دار حکم کو ہرگز رد نہ کریں گے۔ پہلے تو آیت قرآنی اور اس پر الہام ربانی اور جہلاء جب ان آیتوں کو قرآن میں دیکھ لیں گے اور اس کے الہامی معنی سمجھ لیں گے تو ان کو کامل یقین ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی اس پائے کے شخص ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے پہلے ہی سے ان کی خبریں قرآن میں دے رکھی ہیں۔ کیونکہ جاہلوں کو ایسی باتوں کا یقین اکثر ہو جایا کرتا ہے۔ چنانچہ کسی گاؤں کا واقعہ ہے کہ وہاں ایک ہندو زمیندار تھا۔ جس کا نام ابا تھا اور تعظیماً اس کو لوگ اباجی کہتے تھے۔ ایک معمر اور عقلمند شخص ہونے کی وجہ سے اس کی وقعت رعایا کے دل میں جمی ہوئی تھی۔ اتفاقاً کوئی مولوی صاحب اس گاؤں میں گئے ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ حضرت ہمارے ابا جی کا بھی نام آپ کے قرآن میں ہے۔ مولوی صاحب نے کہا ہاں موجود ہے۔ ابی واستکبر وکان من الکافرین اور اتفاقاً وہ کمبخت کانا بھی تھا یہ سنتے ہی وہاں کے لوگوں کو بڑا فخر ہو گیا کہ ہمارے کانے ابا جی کا ذکر مسلمانوں کے قرآن میں بھی موجود ہے۔
ان الہاموں میں یہ خاص طریقہ اس غرض سے اختیار کیا گیا کہ جاہلوں میں شور شغب ہو کہ مرزا قادیانی کا ذکر قرآن میں موجود ہے اور یہ بھی غرض تھی کہ علماء کی نظروں میں یا عیسیٰ والا
الہام دوسرے الہاموں میں چھپا رہے اور کسی کو اس طرف توجہ نہ ہو کہ یا عیسیٰ کہہ کر مرزا قادیانی کو خدا کا خطاب کرنا کیسا۔ پھر بتدریج خاص مثیل عیسیٰ ہونے کا دعویٰ شروع کیا۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) میں لکھتے ہیں کہ ”آٹھ سال سے برابر شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔“ اور اس میں لکھتے ہیں کہ ”اس عاجز کو اللہ تعالیٰ نے آدم صفی اللہ کا مثیل قرار دیا اور کسی کو علماء میں سے اس بات پر ذرا رنج دل میں نہیں گذرا اور پھر مثیل نوح اور مثیل یوسف اور مثیل داؤد اور مثیل ابراہیم علیہم السلام قرار دیا۔ یہاں تک نوبت پہنچی کہ بار بار یا احمد کے خطاب سے مخاطب کر کے ظلی طور پر مثیل سید الانبیاءﷺ قرار دیا۔ تو بھی کوئی جوش وخروش میں نہیں آیا اور جب خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو عیسیٰ یا مثیل عیسیٰ کر کے پکارا تو سب غضب میں آگئے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٢٥٣، ٢٥٤، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧، ٢٢٨)
یہ بات قرین قیاس نہیں ہے کیونکہ یہ الہام براہین میں لکھا جا چکا ہے۔ اس وقت تو لوگ مرزا قادیانی کو اپنے جیسے مسلمان سمجھتے تھے۔ یہ غضب اس وقت آیا کہ انہوں نے مسلمانوں سے خارج ہو کر دوسری راہ لی اور سب کو چھوڑ کر عیسویت کی تخصیص کی اور جس وقت وہ الہام براہین میں لکھا تھا۔ اس وقت جو نہیں پوچھا کہ اس تخصیص کی کیا وجہ؟ اس کی وجہ یہی تھی کہ مرزا قادیانی سے یہ توقع کسی کو نہ تھی کہ مسلمانوں ہی کو کافر بنائیں گے۔ کیونکہ اس وقت وہ مسلمانوں کی طرف سے کافروں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ غرض اس وقت صرف مثیل مسیح کہا گیا تھا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ مسیح آنے والے بھی ہیں یا مر گئے۔ چونکہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں باور کرا دیا تھا کہ مسیح بڑی شان وشوکت سے آئیں گے اور میں بطور پیش خیمہ ہوں۔ اس وجہ سے مسیح علیہ السلام کی موت کی طرف کسی کی توجہ ہونے کا کوئی منشاء ہی نہ تھا۔ اس کے بعد مثیل مسیح موعود بڑھایا گیا۔ جس سے دیکھنے میں تو یہ بات ہو کہ مسیح موعود کے مثیل ہیں اور در باطن تمہید اس کی تھی کہ لفظ موعود صفت مثیل کی قرار دی جائے۔ چنانچہ معتقدین میں سینہ بسینہ یہ بات رواج پا گئی۔ اس کے بعد لفظ مسیح کو ہٹا کر مثیل موعود کہہ دیا اور اس کے ساتھ الہام کی جوڑ لگا دی کہ مسیح جو نبی تھے وہ مر گئے اور ان کی جگہ میں آیا ہوں اور مثیل موعود میں ہوں اور جتنے آیات واحادیث میں صراحۃً عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا ذکر ہے۔ کہہ دیا کہ اس سے میں ہی مراد ہوں۔ پھر صرف اپنے آپ ہی پر مسیحیت کو ختم نہیں کیا۔ بلکہ انہیں پہلے الہاموں کی بناء پر یہ سلسلہ اپنی اولاد میں بھی قائم کر دیا اور اس کی دلیل یہ بیان کی کہ میرا نام براہین میں مریم بھی خدا نے رکھا ہے۔ اس لئے ابن مریم ضرور میری اولاد میں ہوگا اور وہ الہام جو براہین میں بے تکے سے معلوم ہوتے تھے کیونکہ مقصود اس کتاب کا صرف کفار کا
مقابلہ تھا۔ اس میں اس قسم کے الہاموں سے کیا تعلق وہ الہام اتنی مدت کے بعد اب کام آگئے اور وہ غرض پوری ہوئی جو براہین احمدیہ کی تصنیف سے تھی۔
یہاں وہ عبارت بھی قابل دید ہے جو مرزا قادیانی نے علماء کے نام سے معذرتی نیاز نامہ میں لکھا ہے۔ جو (ازالۃ الاوہام ص ١٩٠، ١٩١ خزائن ج ٣ ص ١٩٢) میں درج ہے۔ ”اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ...... آٹھ سال سے برابر شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں ...... اور یہ میری طرف سے کوئی نئی بات ظہور میں نہیں آئی کہ میں نے اپنے رسالوں میں اپنے تئیں وہ موعود ٹھہرایا ہے۔ جس کے آنے کا قرآن شریف میں اجمالاً اور احادیث میں تصریحاً بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ میں تو پہلے بھی براہین میں بتصریح لکھ چکا ہوں کہ میں وہی مثیل موعود ہوں۔ جس کے آنے کی خبر روحانی طور پر قرآن اور احادیث نبویہ میں پہلے سے وارد ہو چکی ہے۔“ اس عبارت پر غور کیا جائے کہ اس سے عیسیٰ علیہ السلام کا آئندہ آنا ثابت ہوتا ہے یا مرزا قادیانی کا جانشین قرار پانا۔ مرزا قادیانی نے اس عبارت میں صنعت تناقض کام میں لایا ہے۔ جس کا حال عنقریب معلوم ہوگا۔ مولویوں کو اس میں یہ سمجھانا کہ آٹھ سال سے میں اپنے کو فقط مثیل مسیح کہہ رہا ہوں اور یہ کہ موعود یعنی مسیح موعود کا مثیل ہوں۔ کوئی نئی بات نہیں نکالی کہ وہ موعود اپنے تئیں ٹھہرایا کہ جس کے آنے کا ذکر قرآن وحدیث میں ہے وہ تو اپنے وقت پر آئیں گے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے۔
اور اسی عبارت سے معتقدین کو یہ سمجھایا کہ میں وہی مثیل ہوں جو موعود ہے اور آٹھ سال سے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کر رہا ہوں اور یہ بات کہ اپنے تئیں وہ موعود ٹھہرایا جس کا ذکر قرآن وحدیث میں ہے کوئی نئی بات نہیں نکالی قدیم سے یہی کہہ رہا ہوں کہ میں مثیل موعود ہوں۔ میرے ہی آنے کا وعدہ قرآن وحدیث میں ہے۔
اب غور کیا جائے کہ مرزا قادیانی نے اس مسئلے میں کس قدر داؤ پیچ کئے۔ اس پر یہ ارشاد ہوتا ہے کہ مولوی لوگ لومڑی کی طرح داؤ پیچ کیا کرتے ہیں۔ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو لومڑی کتنی ہی مسن ہو مرزا قادیانی کو نہیں پہنچ سکتی۔
اہل سنت والجماعت بقول مرزا قادیانی لکیر کے فقیر ہیں۔ جو کچھ نبی ﷺ نے فرمایا ہے اس حد سے وہ خارج نہیں ہو سکتے۔ دیکھئے عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت کے قریب آنے کی تصریح متعدد حدیثوں میں فرمائی ہے کہ آنے والے وہی عیسیٰ ابن مریم ہیں جو روح اللہ اور نبی اللہ تھے۔ اس میں کہیں مثیل کا نام بھی نہیں۔ یہی اعتقاد تمام امت کا ابتداء سے آج تک ہے۔ جس پر
ہزاروں کتابیں گواہ ہیں۔ اب اس میں داؤ پیچ کی اہل سنت والجماعت کو ضرورت ہی کیا۔
مرزا قادیانی کی تقریر سے بھی معلوم ہوا کہ مسیح موعود جس پر حدیث کی پیش گوئیاں صادق آئیں گی وہ مرزا قادیانی کی اولاد میں ہوگا۔ جس کے مثیل مرزا قادیانی ہیں۔ جب موعود وہ ہوا تو مرزا قادیانی کا موعود ہونا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ حدیث شریف میں صرف ایک مسیح موعود ہیں۔ اگر مثلیت کی وجہ سے خود موعود ہونا چاہتے ہیں تو اولاد اس سے محروم ہو جاتی ہے۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی نے مہر پدری سے لفظ موعود اپنے فرزند کو ہبہ کر دیا ہے تو اب اس ہبے میں عود کرنا ان کی شان سے بعید ہے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ خود ہی اس سے دست بردار ہو جائیں۔ یا یوں کہیے کہ جناب مرزا قادیانی نے اپنے مضامین موعودیت کو براہین میں اس طرح سے روا رکھا تھا کہ آخر عمر میں اس دعویٰ کا انتقال اپنی نسل کے لئے کر جائیں اور چونکہ اب مرزا قادیانی کی عمر آخر ہے۔ لہٰذا یہ دعویٰ بصراحت لکھا گیا ہے کہ ان کی اولاد میں مسیح موعود پیدا ہوگا۔
براہین احمدیہ میں جو مرزا قادیانی نے وعدہ کیا تھا کہ نئی روشنی والوں اور پادریوں وغیرہ مذاہب باطلہ پر یہ کتاب حجت ہوگی اور اس سے ہمیشہ کے لئے مجادلات کا خاتمہ فتح عظیم کے ساتھ ہو جائے گا۔ چنانچہ اسی بات پر لوگوں نے زرخطیر اس پر صرف کیا۔ جس کا حال اوپر معلوم ہوا۔ افسوس ہے کہ یہ وعدہ غلط ثابت ہوا۔ اس لئے کہ اس کتاب سے نہ کوئی نیچر راہ راست پر آیا نہ پادری وغیرہ مسلمان ہوئے۔ بلکہ برخلاف اس کے بیس کروڑ سے زیادہ مسلمان جن کی نسبت خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کی ہے کہ قیامت تک وہ گمراہ نہ ہوں گے۔ مشرک اور کافر قرار پائے۔ چنانچہ الحکم میں وہ لکھتے ہیں کہ جو کوئی میری نبوت کی تکذیب کرے یا اس میں تردد کرے۔ اس کے پیچھے نماز پڑھنی میری جماعت پر حرام اور قطعی حرام ہے۔ کیونکہ وہ ہلاک شدہ قوم اور مردہ یعنی کافر ہے۔
(ملخص مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ١٨)
الغرض تحریر سابق سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں کمال درجے کی عیاری سے جو اسرار پوشیدہ رکھے تھے وہ بظاہر مرزا قادیانی کے مقصود کے خلاف تھے۔ مگر جب انہوں نے دیکھا کہ ضرورت کے موافق روپیہ اور ہم خیال لوگ جمع ہو گئے تو وہ اس وقت ان اسرار کے ظاہر کرنے کی طرف متوجہ ہوئے اور ایک کتاب تخمیناً ساٹھ جزو کی لکھی۔ جس کا نام ”ازالۃ الاوہام“ رکھا۔ اس نام سے ظاہر ہے کہ اس میں ان خیالات کا دفینہ ہے۔ جو مصلحتاً ان کی عیسویت کے مخالف اس میں درج کئے گئے تھے اور اس پوری کتاب میں صرف اسی بحث پر زور دیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ چونکہ ان کا مسیح موعود ہونا دو باتوں پر موقوف تھا۔ ایک عیسیٰ علیہ السلام کی
موت کا ثبوت دوسرے ان کا خدا کی طرف سے مامور ہونا۔ شق ثانی کی تمہید براہین میں مذکور ہے۔ جس کا حال کسی قدر معلوم ہوا۔ اگر اس نظر سے وہ کتاب دیکھی جائے جس کی خبر ہم دے رہے ہیں۔ تو بحسب فہم و نزاکت طبع معلوم ہوگا کہ کسی قدر داؤ پیچ مرزا قادیانی نے اس میں کئے اور امور کلیہ کو اس میں طے کر دیا۔ مثلاً اگلے لوگوں کے برابر ہم ہو سکتے ہیں۔ الہام حجت ہے سلسلہ الہام کا ہمیشہ جاری ہے۔ وحی بحسب ضرورت نازل ہوتی ہے۔ الہام و وحی ایک ہیں۔ الہام قطعی ہوتا ہے۔ الہام کی قابلیت شرط ہے۔ پھر اپنے الہام درج کئے جن سے چند یہاں درج کئے جاتے ہیں۔ ”قل جاء الحق وزھق الباطل“
(حقیقت الوحی ص ٧٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٣)
”الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ“
(حقیقت الوحی ص ٧١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤)
”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی“
(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
”یحمدک اللہ من عرشہ ویحمدک ویصلی وما کان اللہ معذبھم وانت فیھم . انی معک وکن معی . یا عیسیٰ انی متوفیک“
(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
”انا فتحنالک فتحا مبینا“
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
”ولوکان الایمان بالثریا لنالہ انار اللہ برھانہ“
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
”یا احمد یرفع اللہ ذکرک ویتم نعمتہ علیک فی الدنیا والآخرۃ“
(حقیقت الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)
”یا ایھا المدثر قم فانذر“
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص ٢٣٢ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٦٧)
نوٹ! مذکورہ تمام الہامات براہین احمدیہ کی مختلف مواضع پر بھی درج ہیں۔
اور جو معجزات انبیاء علیہم السلام کے قرآن وحدیث میں منقول ہیں سب کو گستاخانہ طور پر کہانیاں قرار دے کر عقلی معجزات کی ضرورت بتائی اور لکھا کہ میں نہ آتا تو جہان میں اندھیرا ہو جاتا۔ میرے متبعین کو غلبہ قیامت تک ہے۔ وغیر ذلک اور شق اوّل یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت کی بحث ازالۃ الاوہام میں کر کے اپنی عیسویت کو جمایا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ دیکھو یا عیسیٰ کا مجھ کو خطاب ہوا تھا اور میں رسول بھی ہوں اور خدا نے ہدایت کے لئے مجھے بھیجا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اب رہی یہ بات کہ
دوسرے ان کا خدا کی طرف سے مامور ہونا۔ شق ثانی کی تمہید براہین میں مذکور کی قدر معلوم ہوا۔ اگر اس نظر سے وہ کتاب دیکھی جائے جس کی خبر ہم دے سب فہم و نزاکت طبع معلوم ہوگا کہ کسی قدر داؤ پیچ مرزا قادیانی نے اس میں کئے میں طے کر دیا۔ مثلاً اگلے لوگوں کے برابر ہم ہو سکتے ہیں۔ الہام حجت ہے سلسلۂ نا ہے۔ وحی بحسب ضرورت نازل ہوتی ہے۔ الہام و وحی ایک ہیں۔ الہام قطعی قابلیت شرط ہے۔ پھر اپنے الہام درج کئے جن سے چند یہاں درج کئے جاتے
(حقیقۃ الوحی ص ٧٠ ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٣)
حق وزهق الباطل“ ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“
(حقیقۃ الوحی ص ٧١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤)
ن كنتم تحبون الله فاتبعوني“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
دك الله من عرشه ويحمدك ويصلى وما كان الله معذبهم معك وكن معى ، يا عيسى اني متوفيك“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
عنالك فتحا مبينا“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
ن الايمان بالثريا لنا له انار الله برهانه“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
يرفع الله ذكرك ويتم نعمته عليك في الدنيا والآخرة“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)
مدثرقم فانذر“ ( براہین احمدیہ حصہ سوم ص ٢٤٢ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٦٧) تمام الہامات براہین احمدیہ کی مختلف مواضع پر بھی درج ہیں۔ انبیاء علیہم السلام کے قرآن وحدیث میں منقول ہیں سب کو گستاخانہ طور ت کی ضرورت بتائی اور لکھا کہ میں نہ آتا تو جہان میں اندھیرا ہو جاتا۔ ہتک ہے۔ وغیر ذلک اور شق اوّل یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت کی بحث بی عیسویت کو جمایا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ دیکھو یا عیسیٰ کا مجھ کو خطاب ہوا تھا ندائے ہدایت کے لئے مجھے بھیجا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اب رہی یہ بات کہ
احادیث وغیرہ سے عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمانوں پر جانا ثابت ہے۔ تو ان میں تاویل کر ڈالی بلکہ ساقط الاعتبار کر دیا اور تفسیروں کی نسبت یہ لکھ دیا کہ بیہودہ خیالات ہیں اور لکھا کہ کوئی شخص زندہ آسمانوں پر جا نہیں سکتا اور اسی بناء پر نبی ﷺ کے معراج جسمانی کا انکار ہی کر دیا اور جو احادیث صحیحہ اس باب میں وارد ہیں۔ ان کی تغلیط کی اور ”اذقال الله يا عيسى اني متوفيك ورافعك (آل عمران : ٥٥)“ سے یہ استدلال کیا کہ خدا تعالیٰ نے ان کی خبر دی تھی کہ تم مرنے والے ہو اور تم کو میں اٹھانے والا ہوں۔ چونکہ اس آیت میں پہلے ان کی وفات کا ذکر ہے۔ اس سے ثابت کیا کہ وفات پہلے ہوئی اور اس کو نظر انداز کیا کہ واؤ ترتیب کے لئے ہے۔ حالانکہ کئی آیتوں سے ثابت ہے کہ واؤ سے جو عطف ہوتا ہے اس میں ترتیب نہیں ہوتی۔ اسی بناء پر ابن عباسؓ سے جو روایت ہے کہ اس آیہ شریفہ میں معنی تقدیم و تاخیر ہے۔ اس کی نسبت کہا کہ انہوں نے اپنے لئے خدا کی استادی کا منصب قرار دیا۔ پھر اپنے زعم میں عیسیٰ علیہ السلام کو میت قرار دے کر لکھا کہ کسی مرے ہوئے کو خدا نے زندہ کیا ہی نہیں۔ حالانکہ متعدد واقعات میں ہزار ہا مردوں کا زندہ ہونا قرآن شریف سے ثابت ہے۔ سب میں تاویلیں کر کے ان کا انکار کر دیا اور جس قدر احادیث اس باب میں وارد ہیں۔ سب کو غلط ٹھہرایا پھر اس مسئلے میں یہاں تک ترقی کی کہ قیامت میں بھی عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر آنا غیر ممکن بتایا اور حشر اجساد سے صاف انکار کر دیا اور دجال اور امام مہدی کے باب میں جتنی حدیثیں وارد ہیں سب کی تکذیب کی۔
غرض کہ اپنے مقاصد میں جس آیت یا حدیث کو حارج دیکھا سب کی تکذیب یا تحریف کر ڈالی۔ ان کے سوا اور بہت سے مباحث ہیں جن کا ذکر موجب تطویل ہے۔ حاصل یہ کہ براہین احمدیہ اور ازالۃ الاوہام کو خاص اپنی عیسویت اور نبوت ثابت کرنے کی غرض سے لکھا۔ جیسا کہ الہامات مذکورۂ بالا سے ثابت ہے۔
نبوت کی آرزو ابتداء میں مسیلمہ کذاب کو ہوئی۔ اس کے بعد اکثر عقلاء کو ہوئی اور چونکہ آیہ شریفہ خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی ان کی تکذیب کرتی تھی۔ اس کے جواب کے لئے بہت سی تدبیریں سوچی گئیں۔ بعضوں نے معنی میں تصرف کیا۔ بعضوں نے یہ تدبیر کی کہ لا نبی بعدی کے بعد الا ان یشاء اللہ روایت میں زیادہ کر دیا مگر کسی کی چلی نہیں گو بعض بے دینوں نے مان لیا۔ مگر عموماً اہل اسلام ان کی تکذیب ہی کرتے رہے۔ مرزا قادیانی نے دیکھا کہ اس زمانے میں روایت کی بھی ضرورت نہیں۔ اپنی جرات سے لا نبی بعدی کے بعد الا نبی ظلی بڑھا دیا۔ کیونکہ وہ ظلی نبوت کو مع جمیع لوازم حقیقتہً جائز رکھتے
ہیں اور خوش اعتقادوں نے اس پر بھی آمنا وصدقنا کہہ دیا۔
قرائن قویہ سے یہ بات ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کو نبوت مستقلہ کا دعویٰ ہے۔ مگر یہ خوف بھی لگا ہوا ہے کہ کہیں کوئی مسلمان پکڑ لے کہ وہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ تو رہائی مشکل ہوگی۔ اس لئے انہوں نے فرار کی یہ راہ نکالی کہ ظلی کہہ کر چھوٹ جائیں گے اور یہی عقلاء کا طریقہ بھی ہے کہ ”قدم الخروج قبل الولوج“ کو ہمیشہ پیش نظر رکھا کرتے ہیں۔ بلکہ کتب لغت اور تفاسیر میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ بعض ہوشیار جانوروں کا بھی اس پر عمل ہے۔ چنانچہ جنگلی چوہے کی عادت ہے کہ جس زمین میں گھر بناتا ہے اس میں ایک سوراخ ایسا بھی بنا رکھتا ہے کہ اگر کوئی آفت آئے تو اس راہ سے نکل جائے۔ اس احتیاطی راستے کو عرب نافقا کہتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی اس قسم کے عقلاء پیدا ہوگئے تھے کہ ظاہری موافقت اہل اسلام کو جان بچانے کی راہ بنارکھی تھی۔ حق تعالیٰ نے ایسے عقلاء کا نام منافق رکھا۔ جن کی نسبت ارشاد ہے۔ ”ان المنافقين في الدرك الاسفل من النار (نساء:١٤٥)“ یعنی منافق کفار سے بھی بدتر ہیں۔ جن کا ٹھکانا دوزخ کے نیچے کے طبقے میں ہے۔
جس طرح نبوت کے دعوے میں مرزا قادیانی نے گریز کا طریقہ نکال لیا اسی طرح ہر موقع پر نکال لیا کرتے ہیں۔ چنانچہ تمام فضائل سید الکونین ﷺ کو اپنے پر چسپاں کرکے گریز کا یہ طریقہ نکالا کہ بطور ظلی وہ سب فضیلتیں حق تعالیٰ نے ان کو دے دیں۔ اور نیز دعویٰ کیا کہ ہر قسم کے معجزات وخوارق عادات میں دکھلا سکتا ہوں اور گریز کا طریقہ یہ نکالا کہ طلب کرنے والے کا نہایت خوش اعتقاد اور طالب حق ہونا شرط ہے۔ اگر ذرا بھی اعتقاد میں فرق آجائے تو کوئی خارق عادت ظاہر نہیں ہوسکتی۔ پیش گوئیوں میں بھی یہی کیا چنانچہ آتھم صاحب والی پیش گوئی میں لکھا کہ وہ اتنی مدت میں مرجائے گا۔ بشرطیکہ رجوع الی الحق نہ کرے اور جب مدت معینہ میں وہ نہیں مرا تو کہہ دیا کہ اس نے رجوع الی الحق کی تھی۔ حالانکہ ان کو اس کا انکار ہے۔ اگر ان کی کتابیں دیکھی جائیں تو اس کی نظائر بہت مل سکتی ہیں۔
مرزا قادیانی نے جتنے فضائل کے دعوے کئے ہیں کہ میں محدث ہوں، امام زمان ہوں، حارث ہوں، جو امام مہدی کے زمانے میں ان کی تائید کے لئے نکلے گا اور جس کی تائید تمام مسلمانوں پر واجب ہوگی۔ امام مہدی ہوں، عیسیٰ موعود ہوں، خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ میں نبی ہوں مجھ پر سچی وحی اترتی ہے۔ خدا بے پردہ ہوکر مجھ سے باتیں کرتا ہے۔ بلکہ ٹھٹھے کرتا ہے۔ خدا کی اولاد کے برابر ہوں۔ میری تکذیب کی وجہ سے طاعون خدا نے بھیجا۔ میرا منکر کافر ہے وغیرہ
وغیرہ۔ یہ سب ایسی باتیں ہیں کہ کسی کو خبر نہیں ہو سکتی کہ مرزا قادیانی سچ کہہ رہے ہیں یا جھوٹ۔ ہر فاسق خبر دے سکتا ہے کہ خدا نے مجھ سے یہ فرمایا، دیکھ لیجئے جن جن جھوٹوں نے نبوت کا دعویٰ کیا سب کے دعوے اس قسم کے ہوا کرتے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ میرا سینہ شق کر کے فرشتے نے علم لدنی سے اس کو بھر دیا۔ کوئی کہتا تھا کہ خدا نے مجھے یابنی یعنی اے میرے پیارے لڑکے کہا، کوئی کہتا تھا کہ میں عیسیٰ، مہدی، یحییٰ، زکریا، محمد ابن حنفیہ، جبریل اور روح القدس وغیرہ ہوں۔ ایسے امور میں اندرونی مقابلے پر کوئی مطلع نہیں ہو سکتا۔ ممکن ہے کہ ان کو شیطان کا مشاہدہ ہوتا ہو اور اس کو انہوں نے خدا سمجھ لیا ہو۔ جیسا کہ بعض بزرگواروں کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے۔ جن کا حال آئندہ معلوم ہوگا اور شیطان کا وحی کرنا بھی اس آیہ شریفہ سے ثابت ہے۔ ”وكذلك جعلنا لكل نبي عدواً شياطين الانس والجن يوحى بعضهم الى بعض (انعام:١١٢)“ تعجب نہیں کہ شیطان نے وحی ان پر ٹھٹھے سے اتاری ہو کہ تم سب کچھ ہو یہاں تک کہ یہ بھی کہہ دیا کہ ”اِن امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون “ یعنی تم جو کچھ پیدا کرنا چاہو تو کن کہہ دیا کرو تو وہ چیز فوراً وجود میں آجائے گی۔ مرزا قادیانی کو اس وحی کے بعد حق تھا کہ ملہم سے کہہ دیتے کہ حضرت میں نے براہین احمدیہ کس محنت سے لکھی اور اس کے صلے میں کیسی دقتوں سے روپیہ جمع کیا۔ لوگوں کی خوشامدیں کیں، برا بھلا کہا، عار دلائی۔ لوگوں نے میرے اس وعدے کے بھروسے پر مدد دی کہ نیچر اور جملہ فرق باطلہ پر اب فتح عظیم ہو جاتی ہے۔ میں کفار سے کہتے کہتے تھک گیا کہ مسلمان ہو جاؤ۔ مگر اب تک کوئی مسلمان نہ ہوا۔ میرے ہزارہا کن بیکار گئے اور جارہے ہیں۔ ایسا کن آپ ہی کو مبارک، میری تائید اسی قدر ہو تو کافی ہے کہ جو وعدے میں نے براہین میں کئے تھے جن پر تمام مسلمان فریفتہ ہو گئے تھے وہی پورے کرا دیئے جائیں۔
غرض ادنیٰ تامل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے کل دعوے مجرد ہیں۔ جن کے ساتھ کوئی دلیل نہیں جیسے اور دنیا داروں کی عادت ہے کہ جب دیکھتے ہیں کہ بغیر اس قسم کے دعووں کے کام نہیں نکلتا تو جھوٹ سچ کہہ کر کام نکال لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی یہی کام کیا کہ اپنی خوب سی تعلیاں کیں اور براہین احمدیہ میں وعدے کئے کہ نیچروں سے مقابلہ کرتا ہوں۔ پادریوں کو قائل کرتا ہوں۔ آریہ وغیرہ کو الزام دیتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ مگر ایفاء ایک کا بھی نہ ہوا اور اس ذریعے سے مسلمانوں سے ایک رقم خطیر حاصل کر لی۔ جس کے دینے پر وہ ہرگز راضی نہیں۔ کیا جن لوگوں نے روپیہ دیا تھا۔ اب وہ اس بات پر فخر کر سکتے ہیں کہ ہمارا روپیہ ایسے کام میں صرف ہوا کہ تمام روئے زمین کے مسلمان اس کی بدولت کافر بنائے جارہے ہیں۔ کیا ان کو یہ ندامت نہ
ہوگی کہ مرزا قادیانی نے ہمیں احمق بنا کر اس قدر روپیہ ہم سے لے لیا اور ایسے کام میں لگایا کہ ہمارے ہی دین کی بیخ کنی ہو رہی ہے۔ کیا اب وہ اس بات پر افسوس نہیں کرتے کہ اگر ذرا بھی ہمیں معلوم ہوتا کہ اس کارروائی کا انجام یہ ہونے والا ہے تو اس وقت اس کا وہ چند روپیہ مخالفت میں صرف کرتے تا کہ وہ آتش فتنہ اس قدر بھڑکنے ہی نہ پاتی۔
حق تعالیٰ فرماتا ہے ”یا ایها الذین آمنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارة عن تراض منکم (نساء:٢٩)“ ﴿ یعنی اے مسلمانو! ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔ ہاں تراضی طرفین سے تجارت میں اگر مال لیا جائے تو مضائقہ نہیں۔﴾
مرزا قادیانی براہین احمدیہ کی تصنیف اور طبع کے زمانے میں بخوبی جانتے تھے کہ یہ ایسا خنجر بنایا گیا ہے کہ جب بے دردی سے مسلمانوں کے گلوں پر چلایا جائے گا تو باپ کو بیٹے سے بھائی کو بھائی سے جورو کو شوہر سے جدا کر دے گا۔ ایک دوسرے کا جانی دشمن اور خون کا پیاسا ہو جائے گا۔ مسلمانوں میں ایک تہلکہ عظیم برپا ہوگا۔ جس سے مخالفوں کو اقسام کے مواقع ہاتھ آجائیں گے۔ مسلمانوں کی حالت دیکھ کر وہ خوش ہوں گے۔ بغلیں بجائیں گے، ناچیں گے کہ یہ قوم ایک زمانے تک خانہ جنگیوں سے فرصت نہیں پاسکتی۔ اگرچہ پہلی مخالفتیں بھی بہت تھیں۔ مگر امتداد زمانہ کی وجہ سے ان کا احساس کم ہو گیا تھا۔ اس نئی مخالفت کے پرانے ہونے کو ایک مدت دراز درکار ہے۔
الحاصل اس نئی مخالفت نے تمام مسلمانوں کو ایک ایسے تہلکے میں ڈال دیا ہے کہ الامان علاوہ شماتت اعداء کے اس خانہ جنگی نے مخالفین اسلام کو پورا موقع دے دیا ہے کہ بے فکری سے اپنی کامیابیوں میں کوشش کریں کہ کیا اس تفرقہ انداز بلائے ناگہانی کے مول لینے پر کوئی مسلمان راضی ہوسکتا ہے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ مال مسلمانوں کی رضامندی سے انہوں نے حاصل کیا تھا؟۔ پھر باوجود اس کے کہ خدائے تعالیٰ نے ایسا مال لینے سے منع کر دیا ہے۔ دھوکا دے کر جو مال مسلمانوں سے انہوں نے لیا اس کا خدا کو کیا جواب دیں گے؟۔ اب ہم ان کے تقدس کو کتنا ہی مانیں۔ مگر اس کا کیا علاج کہ ان کی کارروائیاں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے بد نیتی سے فتنہ انگیزی کی مسلمانوں میں تفرقہ ڈالا ۔ جھوٹ کے مرتکب ہوئے، بیوفائی، خیانت، وعدہ خلافی، نمک حرامی اور خدا اور رسول کی مخالفت کی۔ دھوکا دیا، داؤ پیچ سے ناجائز طور پر مسلمانوں کا مال بٹورا۔
ناظرین! یہاں یہ خیال نہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی جو الفاظ علماء ومشائخین کی شان میں
استعمال کیا کرتے ہیں۔ ہم نے ان کا جواب دیا۔ کیونکہ ہم نے کوئی لفظ غصے کی حالت میں نہیں کہا۔ صرف مسلمانوں کو ان کے حالات معلوم کرانے کی ضرورت تھی کہ ان کی کارروائیوں پر مطلع ہوں۔ پھر ان کی کارروائیاں جو الفاظ پیش کر رہی ہیں اگر وہ بے موقع ہیں اور ان کی جگہ دوسرے الفاظ مل سکتے ہیں تو ہمیں بھی اس میں کلام نہیں۔ غرض ہم نے یہ سب ٹھنڈے دل سے لکھا۔ جس کو مرزا قادیانی بھی جائز رکھتے ہیں۔ بخلاف ان کے کہ وہ غصے کی حالت میں جو جی چاہتا ہے کہہ جاتے ہیں۔ جیسا کہ ان الفاظ سے ظاہر ہے جو علماء ومشائخین کی شان میں تحریر فرماتے ہیں۔ پلید، دجال، خفاش، لومڑی، کتے، گدھے، خنزیر سے زیادہ پلید، چوہڑے، چمار، غول الاغوال، روسیاہ، دشمن قرآن، منافق، نمک حرام وغیرہ وغیرہ۔ جو عصائے موسیٰ میں ان کی تصانیف سے نقل کر کے بلحاظ حروف تہجی ایک طولانی فہرست مرتب کی ہے اور ہم نے جو لکھا اس کی اجازت مرزا قادیانی کی تحریر سے بھی ثابت ہے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ١٤، ١٣، ٢٠، ٢٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٩ تا ١١٤) میں تحریر فرماتے ہیں۔ ”جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو دشنام نہیں ہے۔..... دشنام اور سب وشتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے ..... اور ہر ایک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پوری پوری طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچا دیوے ..... اور تلخ الفاظ جو اظہار حق کے لئے ضروری ہیں اور اپنے ساتھ اپنا ثبوت رکھتے ہیں وہ ہر ایک مخالف کو صاف صاف سنا دینا نہ صرف جائز بلکہ واجبات وقت سے ہے تا مداہنہ میں مبتلا نہ ہو جائے۔“
یوں تو بحسب اقتضائے زمانہ ہزار ہا مسلمان نیچری کرستان آریہ وغیرہ بنے اور بنتے جا رہے ہیں۔ ہر شخص اپنی ذات کا مختار ہے۔ ہمیں اس میں کلام نہیں خود حق تعالیٰ فرماتا ہے ”من شاء فلیؤمن ومن شاء فليكفر انا اعتدنا للظالمين ناراً (كهف:٢٩)“ ﴿یعنی جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کافر ہو جائے۔ ہم نے ظالموں کے لئے آتش دوزخ تیار کر رکھی ہے۔﴾ مگر چونکہ مسلمان خوش اعتقادی سے مرزا قادیانی کو عیسیٰ موعود اور نبی وغیرہ سمجھ کر ان کے اتباع میں خدا اور رسول کی خوشنودی خیال کرتے ہیں۔ اس لئے بمصداق الدین النصیحۃ صرف خیر خواہی سے مرزا قادیانی کے حالات اور خیالات جو ان کی تصانیف میں موجود ہیں ظاہر کر دینے کی ضرورت ہوئی۔ اس پر بھی اگر وہ نیا دین ہی قبول کرنا چاہیں تو ہمارا کوئی نقصان نہیں وما علینا الا البلاغ!
مرزا قادیانی کو چونکہ نبوت کا دعویٰ ہے اور معجزات اس کے لوازم ہیں۔ ان کو فکر ہوئی
کہ باتیں بنانی تو آسان ہیں۔ طبیعت خداداد سے بہت سے حقائق و معارف تراش لئے جائیں گے۔ مگر خوارق عادات دکھلانا مشکل کام ہے۔ کیونکہ وہ خاص خدائے تعالیٰ کی رضامندی اور مدد پر موقوف ہے۔ اس لئے ان کو اس مسئلے میں بڑا ہی زور لگانا پڑا۔ دیکھا کہ الہام کا طریقہ بہت آسان ہے۔ جب وہ ثابت ہو جائے گا تو پھر کیا ہے۔ بات بات میں الہام و وحی اتار لی جائے گی۔ اس لئے براہین احمدیہ میں الہام کی ایک وسیع بحث کی۔ اگرچہ بظاہر وہ مخالفین اسلام کے مقابلے میں تھی اس لئے کہ وہاں صرف وحی اور نبوت ثابت کرنا ظاہراً منظور تھا۔ مگر ایسا بین بین طریقہ اختیار کیا کہ عام طور پر الہام ثابت ہو جائے اور اہل اسلام اس کا انکار بھی نہ کر سکیں۔ پھر اپنے الہامات پیش کئے اور الہامی پیش گوئیوں کا دروازہ کھول دیا گیا اور ان میں ایسی ایسی تدبیریں عمل میں لائی گئیں کہ انہیں کا حصہ تھا۔ چنانچہ مسٹر آتھم وغیرہ کی پیش گوئیوں سے ظاہر ہے۔ مرزا قادیانی باوجود یہ کہ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر معجزات سے متعلق ان کی عجیب تقریریں ہیں۔ (ازالۃ الاوہام ص ٢٩٦ تا ٢٩٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥١، ٢٥٢ حاشیہ) میں عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات بیان کر کے لکھتے ہیں کہ ”ان تمام اوہام باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جن میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہیں اور یہ معنی کرنا کہ گویا خدا تعالیٰ نے اپنے ارادے اور اذن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خالقیت میں شریک کر رکھا تھا صریح الحاد اور سخت بے ایمانی ہے۔ کیونکہ اگر خدا تعالیٰ اپنی صفات خاصہ الوہیت بھی دوسروں کو دے سکتا ہے ...... تو وہ بلاشبہ اپنی ساری صفتیں خدائی کی ایک بندے کو دے کر پورا خدا بنا سکتا ہے۔ پس اس صورت میں مخلوق پرستوں کے کل مذاہب سچے ٹھہر جائیں گے ۔“ یہ حملہ ان لوگوں پر ہے جن کا ایمان اس آیت شریفہ پر ہے۔ ورسولاً الیٰ بنی اسرائیل انی قد جئتکم بآیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ وابری الاکمہ والا برص واحی الموتیٰ باذن اللہ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذالک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین (آل عمران:٤٩) ”اور یعنی عیسیٰ بن مریم ہمارے پیغمبر ہوں گے۔ جن کو ہم بنی اسرائیل کی طرف بھیجیں گے اور وہ ان سے کہیں گے کہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانیاں یعنی معجزات لے کر آیا ہوں کہ میں پرندے کی شکل کا سا بناؤں پھر اس میں پھونک ماروں اور وہ خدا کے حکم سے اڑنے لگے اور خدا کے حکم سے مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا اور مردوں کو زندہ کر دوں اور جو کچھ تم کھایا کرو اور جو کچھ تم گھروں میں سینت رکھا ہے تم کو بتا دوں بے شک اس بیان میں نشان ہے تمہارے لئے ۔ اگر تم ایمان والے ہو ۔ ﴾
یہ خبر حق تعالیٰ نے مریمؑ تھی۔ جس کا حال بیان کر کے حق تعالیٰ والے ہیں اور یہ ظاہر بھی ہے کہ جن کو مرزا قادیانی جیسے شخص اس اہل اسلام کو اس کا پورا پورا یقین مرزا قادیانی نے (براہین احمدیہ ص ٨٦ کسی امر کے بارے میں خبر دینا دلیل مخبر صادق ہونا ثابت کر چکا ہے۔“ کہی تھی ورنہ وہ تو قرآن کی خبروں لانے کو شرک و الحاد سمجھتے ہیں۔ انہ ظاہر ہے کہ بے ایمان اس کی تصد تھا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنا مرزا قادیانی بھی اسی دھوکے میں مرزا قادیانی مسلمانوں پر جو شرک ہیں۔ دیکھئے (براہین احمدیہ ص ١١١، اختیار کرنا اس جہت سے ممتنعا فرما دیا ہے کہ ما یبدع البا مسلمانوں نے اختیار کیا ہے شر چکے ہیں۔ نعوذ باللہ بقول مرزا لحاظ سے اس کی کچھ پروا نہ کی اور (ازالۃ الاوہام تضرع سے معجزہ مانگتے ہیں ۔ کی قدرت ہوتی ہے۔“ اور ہے کہ اناجیل اربعہ کے د ذریعے سے ہر گز نہیں اور قر پرندوں کے بنانے کے وق
آسان ہیں۔ طبیعت خداداد سے بہت سے حقائق ومعارف تراش لئے نا عادات دکھلانا مشکل کام ہے۔ کیونکہ وہ خاص خدائے تعالیٰ کی رضامندی اس لئے ان کو اس مسئلے میں بڑا ہی زور لگانا پڑا۔ دیکھا کہ الہام کا طریقہ ب وہ ثابت ہو جائے گا تو پھر کیا ہے۔ بات بات میں الہام و وحی اتار لی اہین احمدیہ میں الہام کی ایک وسیع بحث کی۔ اگرچہ بظاہر وہ مخالفین اسلام لئے کہ وہاں صرف وحی اور نبوت ثابت کرنا ظاہر منظور تھا۔ مگر ایسا بین بین طور پر الہام ثابت ہو جائے اور اہل اسلام اس کا انکار بھی نہ کر سکیں۔ پھر اور الہامی پیش گوئیوں کا دروازہ کھول دیا گیا اور ان میں ایسی ایسی تدبیریں نہیں کا حصہ تھا۔ چنانچہ مسٹر آتھم وغیرہ کی پیش گوئیوں سے ظاہر ہے۔ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر معجزات سے متعلق ان کی عجیب تقریریں ٢٩٩ تا ٣٠٢ خزائن ج ٣ ص ٢٥١، ٢٥٢ حاشیہ) میں عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ان تمام اوہام باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جن میں ایسا لکھا ہے ذریعہ معنی کرتا کہ گویا خدا تعالیٰ نے اپنے ارادے اور اذن سے حضرت عیسیٰ شریک کر رکھا تھا صریح الحاد اور سخت بے ایمانی ہے۔ کیونکہ اگر خدا تعالیٰ بھی دوسروں کو دے سکتا ہے ...... تو وہ بلاشبہ اپنی ساری صفتیں خدائی کی خدا بنا سکتا ہے۔ پس اس صورت میں مخلوق پرستوں کے کل مذاہب سچے ن لوگوں پر ہے جن کا ایمان اس آیت شریفہ پر ہے۔ ”ورسولا الی د جئتكم ببيئة من ربكم اني اخلق لكم من الطين كهيئة فيكون طيراً باذن الله وابرى الاكمه والابرص واحي انبئكم بما تاكلون وما تدخرون في بيوتكم ان في ذالك ؤمنين (آل عمران:٤٩)“ ﴿یہ یعنی عیسیٰ بن مریم ہمارے پیغمبر رائیل کی طرف بھیجیں گے اور وہ ان سے کہیں گے کہ میں تمہارے یا یعنی معجزات لے کر آیا ہوں کہ میں پرندے کی شکل کا سا بناؤں پھر م خدا کے حکم سے اڑنے لگے اور خدا کے حکم سے مادر زاد اندھوں اور وں کو زندہ کردوں اور جو کچھ تم کھایا کرو اور جو کچھ تم گھروں میں سینت اس بیان میں نشان ہے تمہارے لئے۔ اگر تم ایمان والے ہو۔﴾
یہ خبر حق تعالیٰ نے مریم علیہا السلام کو عیسیٰ علیہ السلام کے پیدا ہونے سے پیشتر دی تھی ۔ جس کا حال بیان کر کے حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نشانی انہیں لوگوں کے واسطے ہے۔ جو ایمان والے ہیں اور یہ ظاہر بھی ہے کہ جن کو خدا کی خبروں پر ایمان نہ ہو ان کو یہ بیان کیا مفید ہوگا۔
مرزا قادیانی جیسے شخص اس کو نہیں مانتے تو کفار اس کی کیونکر تصدیق کر سکیں۔ مگر الحمد للہ اہل اسلام کو اس کا پورا پورا یقین ہے اور مرزا قادیانی کی تشکیک سے وہ زائل نہیں ہو سکتا۔
مرزا قادیانی نے (براہین احمدیہ ص ١٨٦ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٠٢) میں لکھا ہے۔ ”لیکن قرآن شریف کا کسی امر کے بارے میں خبر دینا دلیل قطعی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ دلائل کاملہ سے اپنا منجانب اللہ اور مخبر صادق ہونا ثابت کر چکا ہے۔“ شاید مرزا قادیانی نے یہ بات آریہ وغیرہ کے مقابلے میں مصلحتاً کہی تھی ورنہ وہ تو قرآن کی خبروں کو دلیل قطعی تو کہاں دلیل ظنی بھی نہیں سمجھتے۔ بلکہ اس پر ایمان لانے کو شرک والحاد سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ خدائے تعالیٰ کے ارشاد سے صاف ظاہر ہے کہ بے ایمان اس کی تصدیق نہ کریں گے۔ حیرت ہے کہ جس طرح ابلیس نے دھوکا کھایا تھا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنا شرک ہے۔ کیونکہ مسجودیت خاص صفت باری تعالیٰ کی ہے۔ مرزا قادیانی بھی اسی دھوکے میں پڑ گئے کہ ایسی قدرت عیسیٰ علیہ السلام میں خیال کرنا شرک ہے۔ مرزا قادیانی مسلمانوں پر جو شرک کا الزام لگا رہے ہیں در پردہ وہ خدا تعالیٰ پر لاعلمی کا الزام لگا رہے ہیں۔ دیکھئے (براہین احمدیہ ص ١١١ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ١٠٢) میں وہ لکھتے ہیں کہ ”مسلمانوں کا پھر شرک اختیار کرنا اس جہت سے ممتنعات سے ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس بارے میں پیشین گوئی کر کے فرما دیا ہے کہ ما يبدع الباطل وما يعيد‘ ادنیٰ تامل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اگر یہ عقیدہ جو مسلمانوں نے اختیار کیا ہے شرک ہے تو خدائے تعالیٰ کی پیش گوئی جس کی تصدیق مرزا قادیانی کر چکے ہیں۔ نعوذ باللہ بقول مرزا قادیانی جھوٹی ہوئی جاتی ہے۔ مگر انہوں نے اپنی ذاتی غرض کے لحاظ سے اس کی کچھ پروا نہ کی اور صحابہ تک کے کل مسلمانوں پر شرک کا الزام لگا دیا۔
اور (ازالۃ الاوہام ص ٣١٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٦٠) میں وہ لکھتے ہیں کہ ”نبی لوگ دعا اور تضرع سے معجزہ مانگتے ہیں۔ معجزہ نمائی کی ایسی قدرت نہیں رکھتے۔ جیسا کہ انسان کو ہاتھ پیر ہلانے کی قدرت ہوتی ہے۔“ اور نیز (ازالۃ الاوہام ص ٣٢٠، ٣٢١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣) میں یہ بھی لکھا ہے کہ ”اناجیل اربعہ کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھاتا تھا وہ دعا کے ذریعے سے ہرگز نہیں اور قرآن شریف میں بھی کسی جگہ یہ ذکر نہیں کہ مسیح بیماروں کے چنگا کرنے یا پرندوں کے بنانے کے وقت دعا کرتا تھا۔ بلکہ وہ اپنی روح کے ذریعے سے جس کو روح القدس
کے فیضان سے برکت بخشی گئی تھی۔ ایسے ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا۔ چنانچہ جس نے کبھی اپنی عمر میں غور سے انجیل پڑھی ہوگی وہ ہمارے اس بیان کی بعینہ تمام تصدیق کرے گا اور قرآن شریف کی آیات بھی بآواز بلند یہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اس کو طاقت بخشی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر ایک فرد بشر کی فطرت میں مودع ہے۔ مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔ چنانچہ اس بات کا تجربہ اس زمانے میں ہو رہا ہے۔ مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے۔ جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا۔ جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم ومفلوج ومبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔ لیکن بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہ تھا۔‘‘
دعا کا ذکر نہ ہونے سے مرزا قادیانی جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ عجائب جس کا ذکر حق تعالیٰ بطور اعجاز بیان فرماتا ہے وہ معجزات نہ تھے تو اس لحاظ سے فطرتی قوت بھی ثابت نہ کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ اس کا بھی ذکر اس آیہ شریفہ میں نہیں ہے۔ پھر اپنی رائے سے ایک غیر مذکور چیز کو ثابت کرنا اور خدائے تعالیٰ کی خبر کو نہ ماننا کس قسم کی بات ہے۔ اگر معجزے کے لئے یہ شرط ہے کہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ کر وقت خاص میں دعا کی جائے اور اس کی قبولیت کے لئے حضار مجلس آمین آمین اس وقت تک کہتے رہیں کہ آثار اجابت ظاہر ہو جائیں تو اس آیہ شریفہ میں دعا کرنا بھی باقتضاء النص مقدر سمجھا جا سکتا ہے۔ جس کو اصول الشاشی پڑھا ہوا شخص بھی جانتا ہے۔
پھر اگر وہ کام فطرتی طور پر ہوتے تھے تو ان پر ایمان لانے کی کیا ضرورت مثلاً اگر کہا جائے کہ ایک نجار صندوق میں قفل نصب کرتا ہے یا کسی کے ذریعے سے فلاں کام کرتا ہے تو کیا اس قسم کی خبر کی نسبت یہ کہا جائے گا کہ تم اس پر ایمان لاؤ ہرگز نہیں۔ حالانکہ یہاں حق تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ جو لوگ ہماری باتوں پر ایمان لاتے ہیں وہ اس کو آیت یعنی نشانی قدرت کی سمجھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کے کلام پر ایمان لانا منظور نہیں۔ جب ہی تو حیلے اور بہانے ہو رہے ہیں۔ ورنہ وہ خود (براہین احمدیہ ص ٣٩٥ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٥٨٨، ٥٨٩) میں لکھتے ہیں۔
’’واصل تام کو مجمع الاضداد ہونا پڑا کہ وہ کامل طور پر رو بخدا بھی ہو اور پھر کامل طور پر رو بخلق بھی۔ پس وہ ان دونوں قوسوں، الوہیت اور انسانیت میں ایک وتر کی طرح واقع ہے۔ جو دونوں سے تعلق کامل رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔ جب کامل تزکیہ کے ذریعے سے انسان کامل سیر الی اللہ سے سیر
فی اللہ کے ساتھ متحقق ہو جائے اور اپنی ہستی ناچیز سے بالکل ناپدید ہو کر اور غرق دریائے بیچون وچگون ہو کر ایک جدید ہستی پیدا کرے۔ جس میں بیگانگی اور دوئی اور جہل اور نادانی نہیں ہے اور صبغتہ اللہ کے پاک رنگ سے کامل رنگینی میسر ہے ۔‘ اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی خود اپنے ذاتی تجربے کی خبر دیتے ہیں کہ اولیاء اللہ وقت واحد میں رو بخلق و رو بخدا ہوتے ہیں اور یہ باتفاق جمیع اہل اسلام مسلم ہے کہ انبیاء کا رتبہ بہ نسبت اولیاء اللہ کے بدرجہا بڑھا ہوا ہے۔ تو اسی نسبت سے ان کی حضوری بھی اولیاء کی حضوری سے بڑھی ہوئی ہوگی اور ظاہر ہے کہ اس حضوری میں درخواست واجابت فوراً ہو سکتی ہے۔ پھر جب حق تعالیٰ ان معجزات کی خبر دیتا ہے تو اتنا تو حسن ظن کر لیتے کہ جس طرح ہم نے کسی مقام میں لکھا ہے کہ وقت واحد میں ہم رو بحق اور رو بخلق رہتے ہیں۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام بھی ہوں گے۔ مگر اس تحریر کے وقت وہ بات مرزا قادیانی کے حافظے سے نکل گئی۔ اگر واقع میں ان کی ایسی حالت ہوتی تو بھول نہ جاتے۔ اب غور کیا جائے کہ آپ تو انبیاء کے ساتھ بھی حسن ظن نہیں رکھتے اور شکایت یہ کہ اپنی نبوت کا حسن ظن نہیں کیا جاتا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام کو تقرب الٰہی میں اپنے برابر بھی نہیں سمجھتے۔
مرزا قادیانی کی تقریر کا ماحصل یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا دعا کرنا ثابت نہیں۔ باوجود اس کے یہ عجائبات صادر ہوتے تھے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ بغیر دعا کے خلاف عقل معجزات ان سے کیونکر صادر ہو گئے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ وہ معجزات انہیں کے اقتداری افعال ٹھہرائے جائیں اور مرزا قادیانی اس پر اس قدر اڑے ہیں کہ کتنی ہی حدیثیں جو اس باب میں وارد ہیں سنائے ایک نہیں سنتے۔ دیکھ لیجئے کہ تمام تفاسیر و کتب احادیث پر ان کی پوری نظر ہے اور وہ بآواز بلند سنا رہے ہیں کہ وہ معجزات خدا کے اذن اور حکم و اجازت سے تھے اور ان کی ذاتی قدرت کو اس میں کوئی دخل نہ تھا۔ مگر ان کی سمجھ میں نہیں آتا نہ وہ کسی کی سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں کہ جب حق تعالیٰ نے ان کے معجزوں کی خبر دی ہے تو ضرور اس کا وقوع ایسے طور پر ہوا ہے کہ اس پر ایمان لانے میں کوئی شرک نہیں۔ مثلاً یوں سمجھا جائے کہ حق تعالیٰ کو ان کی نبوت دلوں میں متمکن کرنا اور جو نہ مانیں ان پر حجت قائم کرنا منظور تھا۔ اس لئے ان کے دعوے کے وقت خود حق تعالیٰ ان چیزوں کو وجود بخش دیتا تھا تو کسی قسم کا شرک لازم نہیں آتا۔ اب دیکھئے کہ باوجود یہ کہ آیت قرآنیہ کے معنی پورے طور پر بن جاتے ہیں۔ مگر صرف اس غرض سے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے ثابت ہوں تو اپنی مساوات فوت ہو جاتی ہے۔ قرآن کے معنی بگاڑ رہے ہیں جس سے حق تعالیٰ پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ایسی بات قرآن میں بیان کی جس سے لوگ
مشرک ہو گئے۔ نعوذ بالله من ذلك! مسلمانوں کو لازم ہے کہ ایسی ہٹ دھرمیوں سے بہت احتراز کیا کریں۔ کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”قالوا لوکنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحاب السعیر (ملک : ١٠)“ یعنی فرشتوں کے سوال کے جواب میں دوزخی کہیں گے کہ اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو اہل دوزخ میں نہ ہوتے ۔﴾
مرزا قادیانی عبارت مذکورہ بالا میں لکھتے ہیں کہ ”قرآن شریف کی آیات بھی با آواز بلند پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اس کو طاقت بخشی گئی تھی ۔“ ہم بھی تو اسی آواز کو سن کر ایمان لائے ہیں کہ احیائے موتی اور ابراء اکمہ وابرص وغیرہ عجائب اس قوت سے کرتے تھے جو ان کو حق تعالیٰ نے بخشی تھی۔ یہ کس نے کہا تھا کہ وہ اپنی ذاتی اور فطرتی قوت سے جو ہر فرد بشر میں رکھی ہے یہ کام کرتے تھے۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ وہ عام فطرتی طاقت سے کام لیتے تھے۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا۔ اگر یہی بات ہے تو مرزا قادیانی میں بھی وہ فطرتی طاقت جو ہر فرد بشر میں مودع ہے موجود ہے۔ میدان میں آ کر دعویٰ ” وابرئ الاکمہ والابرص واحیی الموتی باذن اللہ (آل عمران:٤٩)“ وغیرہ کا کریں اور جس طرح حق تعالیٰ کی اخبار سے ہمیں اس کی تصدیق ہو گئی ہے اسی طرح اپنے دعوے کی بھی تصدیق کرادیں۔ مگر یہ ان کی حد امکان سے خارج ہے یہ کاغذ کے سفید چہرے کو سیاہی سے زینت دینا نہیں ہے کہ قلم اٹھایا اور چند صفحے لکھ ڈالے۔ یہاں نہ قلم کی ضرورت ہے نہ زبان آوری کی حاجت ۔ ادھر کن باذن اللہ منہ سے نکلا ادھر جو چاہا فوراً وجود میں آگیا۔
مرزا قادیانی جو لکھتے ہیں کہ ”خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر فرد بشر کی فطرت میں مودع ہے۔ مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں ۔“ سویہ افترائے محض ہے۔ ممکن نہیں کہ اس دعوے پر کوئی آیت پیش کریں ۔”ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً او کذب بآیاتہ انہ لا یفلح الظالمون (انعام:٢١)“
(براہین احمدیہ ص ٣٣٥ تا ٣٣٧، خزائن ج ١ ص ٥٢٠ تا ٥٢٣) میں انجیل یوحنا سے نقل کیا ہے کہ اور شلیم میں باب الضان کے پاس ایک حوض ہے...... اس کے پانچ اسباب ہیں۔ ان میں ناتوانوں اور اندھوں اور لنگڑوں اور پژمردوں کی ایک بڑی بھیڑ پڑی تھی جو پانی کے ہلنے کی منتظر تھی۔ کیونکہ ایک فرشتہ بعض وقت اس حوض میں اتر کر پانی کو ہلاتا تھا۔ پانی کے ہلنے کے بعد جو کوئی کہ پہلے اس میں اترتا کیسی ہی بیماری کیوں نہ ہو اس سے چنگا ہو جاتا تھا ۔“
اور نیز (براہین احم عجیب الصفات کے وجود پر خ ہیں جو کسی طرح اٹھ نہیں سکتے۔ اور (ازالة الاوہام ص اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ مرزا ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آ تاخیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ مرزا قادیانی خود ا لکھتے ہیں کہ ”انجیل بوجہ محرف نصیب ہے۔ بلکہ الٰہی شان تو دانشمند متکلم کے کلام میں ہونی خدا کی ہدایت کو خدا کے نور کو کے رہزنی کا ایک پکا ذریعہ ۔ ایک دنیا کا کس نے خون کیا۔ ساری انجیل الہامی طور پر نہیں آ اب دیکھئے کہ جز ہیں۔ انہی کتابوں سے ایک ا عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ان کی نبوت کا ذکر جو قرآن ا بغیر میں ہوا کرتی ہے۔ اس ۔ میں خوب ہی زور لگایا۔ مگر حق تعالیٰ فرما مثل ما اوتى رسل الله صغار عند الله وعذاب
نعوذ بالله من ذلك! مسلمانوں کو لازم ہے کہ ایسی ہٹ دھرمیـوں سے بچیں۔ کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”قالوا لوکنا نسمع او نعقل ما كنا باصحاب السعير (ملک: ١٠)“ (یعنی فرشتوں کے سوال کے جواب میں دوزخی ہم سنتے یا سمجھتے تو اہل دوزخ میں نہ ہوتے۔)
”قنا عذاب النار (آل عمران: ١٩١)“
قادیانی عبارت مذکورہ بالا میں لکھتے ہیں کہ ”قرآن شریف کی آیات بھی باآواز مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اس کو طاقت بخشتی گئی تھی۔“ ہم بھی تو اسی آواز کو کہتے ہیں کہ احیائے موتیٰ اور ابراء اکمہ وابرص وغیرہ عجائب اس قوت سے کرتے تھے۔ یہ کس نے کہا تھا کہ وہ اپنی ذاتی اور فطرتی قوت سے جو ہر فرد کام کرتے تھے۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ وہ عام فطرتی طاقت سے کام لیتے معلوم ہوا۔ اگر یہی بات ہے تو مرزا قادیانی میں بھی وہ فطرتی طاقت جو ہر فرد بشر موجود ہے۔ میدان میں آکر دعویٰ ”وابرى الاكمه والابرص واحيى الله (آل عمران: ٤٩)“ وغیرہ کا کریں اور جس طرح حق تعالیٰ کی اخبار سے ثابت ہو گئی ہے اسی طرح اپنے دعوے کی بھی تصدیق کرادیں۔ مگر یہ ان کی حد سے باہر ہے۔ یہ کاغذ کے سفید چہرے کو سیاہی سے زینت دینا نہیں ہے کہ قلم اٹھایا اور چند سطریں لکھ دیں۔ نہ قلم کی ضرورت ہے نہ زبان آوری کی حاجت۔ ادھر کن باذن اللہ منہ سے وجود میں آ گیا۔
قادیانی جو لکھتے ہیں کہ ”خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی بشر کی فطرت میں مودع ہے۔ مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔“ سو یہ ممکن نہیں کہ اس دعوے پر کوئی آیت پیش کریں۔ ”و من اظلم ممن افتریٰ كذب بآياته انه لا يفلح الظالمون (انعام: ٢١)“
(ازالہ ص ٣٢٥ تا ٣٢٧، خزائن ج ٣ ص ٥٢٤ تا ٥٢٥) میں انجیل یوحنا سے نقل کیا ہے کہ ”بیت حسدا نامی یروشلم میں ایک حوض ہے۔ ..... اس کے پانچ اسباب ہیں۔ ان میں اور لنگڑوں اور پژمردوں کی ایک بڑی بھیڑ پڑی تھی جو پانی کے ہلنے کی منتظر بعض وقت اس حوض میں اتر کر پانی کو ہلاتا تھا۔ پانی کے ہلنے کے بعد جو کوئی کیسی ہی بیماری کیوں نہ ہو اس سے چنگا ہو جاتا تھا۔“
اور نیز (براہین احمدیہ ص ٤٥٤، خزائن ج ١ ص ٥٤٣) میں لکھتے ہیں۔ ”بلا ریب اس حوض عجیب الصفات کے وجود پر خیال کرنے سے مسیح کی حالت پر بہت سے اعتراضات عائد ہوتے ہیں جو کسی طرح اٹھ نہیں سکتے۔“
اور (ازالۃ الاوہام ص ٣٢٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣) میں لکھتے ہیں کہ ”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب (یعنی مسمریزم تھا) جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہرحال یہ معجزہ صرف کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ فتدبر فانه نكتة جليلة ما يلقيها الا ذوحظ عظيم“
مرزا قادیانی خود ہی (براہین احمدیہ ص ٣٣٠ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٣٩٣، ٣٩٤) میں لکھتے ہیں کہ ”انجیل بوجہ محرف اور مبدل ہو جانے کے ان نشانوں سے بالکل بے بہرہ اور بے نصیب ہے۔ بلکہ الٰہی شان تو ایک طرف ہے۔ معمولی راستے اور صداقت کہ جو ایک منصف اور دانشمند متکلم کے کلام میں ہونی چاہئے۔ انجیل کو نصیب نہیں کم بخت مخلوق پرستوں نے خدا کے کلام کو خدا کی ہدایت کو خدا کے نور کو اپنے ظلمانی خیالات سے ایسا ملا دیا کہ اب وہ کتاب بجائے رہبری کے رہزنی کا ایک پکا ذریعہ ہے۔ ایک عالم کو کس نے توحید سے برگشتہ کیا۔ اسی مصنوعی انجیل نے ایک دنیا کا کس نے خون کیا۔ انہیں تالیفات اربعہ نے ..... عیسائیوں کے محققین کو خود اقرار ہے کہ ساری انجیل الہامی طور پر نہیں لکھی گئی۔“
اب دیکھئے کہ جن کتابوں کو محرف مبدل ظلمانی خیال اور باعث گمراہی خود ہی بتاتے ہیں۔ انہی کتابوں سے ایک قصہ نقل کر کے قرآن میں شبہات پیدا کر رہے ہیں کہ قرآن میں جو عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مذکور ہیں ان کا مدار اس حوض پر تھا جس کا ذکر اناجیل محرفہ میں ہے اور ان کی نبوت کا ذکر جو قرآن میں ہے اور جو منشائے معجزات ہے وہ ایک فطرتی قوت تھی۔ جو ہر فرد بشر میں ہوا کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے مساوی کر دینے میں خوب ہی زور لگایا۔
مگر حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”واذ جاء تهم آية قالوا لن نؤمـن حتى نؤتى مثل ما اوتی رسل الله الله اعلم حيث يجعل رسالته سيصيب الذين اجرموا صغار عند الله وعذاب شديد بما كانوا يمكرون (انعام: ١٢٤)“ (یعنی جب ان
کے پاس کوئی آیت قرآنی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز نہ مانیں گے۔ جب تک وہ خبر نہ دی جائے جو رسولوں کو دی گئی۔ اللہ اس مقام کو بہتر جانتا ہے۔ جس کو رسالت کے لئے خاص کرتا ہے۔ جو لوگ خود پسند ہیں گناہگار ہیں۔ ان کو عنقریب اللہ کے ہاں ذلت و رسوائی اور بڑا سخت عذاب ان کے فتنہ انگیزیوں کے سبب پہنچے گا۔ حاصل یہ کہ جو لوگ انبیاء کی خصوصیات اور مراتب کو دیکھ کر نبوت کی تمنا کرتے ہیں۔ دنیا میں رسوا اور آخرت میں عذاب شدید کے مستحق ہوتے ہیں۔ جس کو خدا کے کلام پر پورا ایمان اور تھوڑی سی بھی عقل ہو ممکن نہیں کہ کسی نبی کی برابری کا دعویٰ کرے۔
یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ جب ایسا حوض عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھا کہ مایوس العلاج امراض والوں کو صرف اس میں ایک غوطہ لگانے سے شفا ہو جاتی تھی تو تمام روئے زمین کے بیمار وہاں جمع رہتے ہوں گے تو پانچ اساروں میں ان کی گنجائش کیونکر ہوتی ہوگی اور جب یہ یقین تھا کہ جو پہلے حوض میں کودے اسی کو صحت ہوتی ہے تو ہر شخص یہی چاہتا ہوگا کہ سبقت کر کے سردست صحت حاصل کر لے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ ہر شخص دوسرے سے کہے کہ تم صحت پا کر جلدی سے چلے جاؤ اور ہم اس فرشتے کے انتظار میں یہاں سڑتے پڑے رہیں گے اور ان پانچ اساروں میں کس قدر گھتم گھتھا سا اور خانہ جنگیاں ہوتی ہوں گی۔ کتنے تو اسی بھیڑ میں دم گھٹ گھٹ کر مرتے ہوں گے اور کتنے پانی میں گر کر ڈوبے جاتے ہوں گے اور کتنوں کا زد و کوب سے خون ہوتا ہوگا۔ پھر اس فرشتے کے اترنے کا وقت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کا ہمیشہ جمگھٹا رہتا ہی ہوگا۔ جس سے ہوا میں عفونت اور سمیت پیدا ہو کر صدہا آدمی مرتے ہی ہوں گے۔ غرض کوئی عاقل قبول نہیں کر سکتا کہ ایک غیر معین شخص کی صحت کے واسطے صدہا موتیں گوارا کی جاتی ہوں گی۔ پھر اس فرشتے کو اتنا بخل یا آدمیوں سے عداوت کیوں تھی کہ کبھی کبھی پانی میں اتر کر ہلا دیتا تھا۔ اگر گھنٹے یا آدھ گھنٹے پر پانی میں اترا کرتا تو کیا اس کو سردی ہو جاتی یا فالج وغیرہ کا مادہ پیدا ہو جاتا اور اس کی کیا وجہ کہ جو مریض سب سے پہلے اس میں کودے وہی شفایاب ہو جائے۔ اگر کوئی اس میں زہر ملا مادہ تھا تو ہر طرف تھا کیونکہ کوئی ایک جگہ معین نہ تھی جس سے شفا متعلق ہو۔
الغرض عقل کی رو سے یہ بات ہرگز سمجھ میں نہیں آتی کہ ایسے حوض کا کہیں بھی دنیا میں وجود ہوا ہو۔ مرزا قادیانی نے انجیل پر ایمان لا کر قرآن پر اس حوض سے ایسے ایسے اعتراضات قائم کر دیئے جن کی نسبت فرماتے ہیں کہ ”وہ اعتراضات اٹھ نہیں سکتے۔“ مگر افسوس ہے کہ قرآن پر ایمان لا کر یہ نہ فرمایا کہ حق تعالیٰ نے جو معجزات عیسیٰ علیہ السلام کو دیئے تھے وہ ایسے نہ تھے کہ ان میں ایسے معنوی قصوں سے کسی قسم کا شبہ واقع ہو۔ اس لئے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”واتینا
آنی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز نہ مانیں گے۔ جب تک وہ خبر نہ دی جائے اللہ اس مقام کو بہتر جانتا ہے۔ جس کو رسالت کے لئے خاص کرتا ہے۔ جو بکار ہیں۔ ان کو عنقریب اللہ کے ہاں ذلت ورسوائی اور بڑا سخت عذاب ان سبب پہنچے گا۔ حاصل یہ کہ جو لوگ انبیاء کی خصوصیات اور مراتب کو دیکھ کر یں ۔ دنیا میں رسوا اور آخرت میں عذاب شدید کے مستحق ہوتے ہیں۔ جس کو ان اور تھوڑی سی بھی عقل ہو ممکن نہیں کہ کسی نبی کی برابری کا دعویٰ کرے۔ بات قابل توجہ ہے کہ جب ایسا حوض عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھا کہ والوں کو صرف اس میں ایک غوطہ لگانے سے شفا ہو جاتی تھی تو تمام روئے ج رہتے ہوں گے تو پانچ اساروں میں ان کی گنجائش کیونکر ہوتی ہوگی اور جب وض میں کودے اسی کو صحت ہوتی ہے تو ہر شخص یہی چاہتا ہوگا کہ سبقت کر کے رلے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ ہر شخص دوسرے سے کہے کہ تم صحت پاکر جلدی سے شتے کے انتظار میں یہاں سڑتے پڑے رہیں گے اور ان پانچ اساروں میں اور خانہ جنگیاں ہوتی ہوں گی۔ کتنے تو اسی بھیڑ میں دم گھٹ گھٹ کر مرتے میں گرا کر ڈبوئے جاتے ہوں گے اور کتنوں کا زدوکوب سے خون ہوتا ہوگا۔ نے کا وقت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کا ہمیشہ جمگھٹا رہتا ہی ہوگا۔ ت اور سمیت پیدا ہو کر صدہا آدمی مرتے ہی ہوں گے۔ غرض کوئی عاقل قبول محض شخص کی صحت کے واسطے صدہا موتیں گوارا کی جاتی ہوں گی۔ پھر اس میوں سے عداوت کیوں تھی کہ کبھی بھی پانی میں اتر کر ہلا دیتا تھا۔ اگر گھنٹے یا ترا کرتا تو کیا اس کو سردی ہو جاتی یا فالج وغیرہ کا مادہ پیدا ہو جاتا اور اس کی کیا سے پہلے اس میں کودے وہی شفایاب ہو جائے۔ اگر کوئی اس میں زہر ملا مادہ کوئی ایک جگہ معین نہ تھی جس سے شفا متعلق ہو۔
ا کی رو سے یہ بات ہرگز سمجھ میں نہیں آتی کہ ایسے حوض کا کہیں بھی دنیا میں ائی نے انجیل پر ایمان لا کر قرآن پر اس حوض سے ایسے ایسے اعتراضات ت فرماتے ہیں کہ ”وہ اعتراضات اٹھ نہیں سکتے۔“ مگر افسوس ہے کہ قرآن کہ حق تعالیٰ نے جو معجزات عیسیٰ علیہ السلام کو دیئے تھے وہ ایسے نہ تھے کہ ان سے کسی قسم کا شبہ واقع ہو۔ اس لئے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ”و اتینـــــا
عیسی ابن مریم البینات (بقرہ:٢٥٣) ”اور عیسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کھلے کھلے معجزے دیئے تھے جن میں کوئی شک وشبہ ممکن نہ تھا۔“
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٣١١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨،٢٥٩) میں لکھتے ہیں کہ ”حضرت مسیح کے عمل الترب (یعنی مسمریزم) سے وہ مردے جو زندہ ہوتے یعنی وہ قریب الموت آدمی جو گویا نئے سرے سے زندہ ہو جاتے تھے۔ وہ بلا توقف چند منٹ میں مرجاتے تھے۔ کیونکہ بذریعہ عمل الترب روح کی گرمی اور زندگی صرف عارضی طور پر ان میں پیدا ہو جاتی تھی۔“ قرآن شریف میں صاف طور پر ’واحی الموتی باذن اللہ (آل عمران:٤٩) “ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”کوئی مردہ انہوں نے زندہ نہیں کیا۔ بلکہ جیسے قریب الموت شخص کو جواہر مہرہ وغیرہ سے چند منٹ کے لئے گرمی آجاتی ہے۔ اس طرح عیسیٰ علیہ السلام بھی چند منٹ کے لئے قریب الموت شخص کو کسی قسم کی گرمی پہنچا دیا کرتے تھے۔“ مگر اس کا ذکر نہ قرآن میں، نہ حدیث میں، نہ اب تک کوئی مسلمان اس کا قائل ہوا۔ بلکہ مسیح کا نام اسلام میں احیاء اموات اور شفائے بیماروں کے باب میں ایسا مشہور اور ضرب المثل ہے۔ جیسے حاتم کا نام جود وسخا میں، قرآن وحدیث سے مرزا قادیانی کو وہیں تک تعلق ہے کہ اپنا مطلب بنے اور جب کوئی بات ان کی مرضی اور مقصود کے خلاف نکلی تو پھر نہ قرآن کو مانیں نہ حدیث کو، کیا نبی ﷺ نے اس آیت کے یہی معنی سمجھے ہوں گے کہ وہ مسمریزم سے حرکت دیا کرتے تھے۔ مسمریزم کو نکلے تو سو برس بھی نہیں ہوئے۔ چنانچہ فن مسمریزم کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ”یورپ وسطی میں راس نامی ایک بڑا دریا ہے۔ جس کے کنارے پر چھوٹا سا قصبہ سیلٹین نامی مشہور ہے۔ اس قصبے میں ٥ مئی ١٧٣٤ء میں ایک مشہور ڈاکٹر جس کا نام انٹونی مسمر تھا پیدا ہوا اور اس نے اپنی بے حد کوششوں سے اس فن کو ایجاد کیا۔ چنانچہ اس کے نام سے مسمریزم مشہور ہوا۔“ اب مرزا قادیانی کے اس قول کو بھی یاد کر لیجئے جو فرمایا تھا کہ قرآن کا ایک لفظ کم وزائد نہیں ہو سکتا۔ دیکھ لیجئے قرآن کے کل الفاظ اپنی جگہ رکھے رہے اور مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا خاتمہ کر دیا۔
غرض مرزا قادیانی نے جو معنی اس آیت شریفہ کے تراشے ہیں وہ ایسے ہیں جیسے ابو منصور نے ”حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر (مائدہ:٣)“ کے معنی تراشے تھے۔ مسلمانوں کو ان کی پیروی میں سخت ضرر اخروی ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ان الـــذیـــن یحادون اللہ ورسولہ کبتوا کما کبت الذین من قبلہم (مجادله:٥)“ یعنی جولوگ خدا اور رسول کی مخالفت کرتے ہیں خوار وذلیل ہوں گے۔ جیسے وہ لوگ ذلیل ہوئے جو ان سے
پہلے تھے اور ارشاد ہے۔ ”ومن يشاقق الرسول من بعد ماتبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيراً (نساء:١١٥)“ یعنی جو مخالفت کرے رسول اللہ کی جب کھل گئی اس پر راہ ہدایت اور مسلمانوں کے رستے کے سوا دوسرا رستہ چلے تو جو رستہ اس نے اختیار کرلیا ہے ہم اس کو وہی رستہ چلائے جائیں گے اور آخر کار اس کو جہنم میں داخل کردیں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔
ادنیٰ تامل سے یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ اس آیت شریفہ میں کمال درجے کی تخویف ہے اس لئے کہ اس سے ظاہر ہے کہ جو شخص نیا طریقہ ایجاد یا اختیار کرے اس سے توفیق الٰہی مسدود اور منقطع ہوجاتی ہے اور صراطِ مستقیم سے علیحدہ کرکے حق تعالیٰ اس کو ایسے رستے پر چلاتا ہے جو سیدھا جہنم میں نکلے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آج کل کے مسلمانوں میں جو فتور و قصور عمل ہوگیا ہے وہی طریقہ اختیار کیا جائے۔ بلکہ مقصود یہ ہے کہ کتب اہل سنت و جماعت میں جو طریقہ عمل و اعتقاد کا مذکور ہے وہ اختیار کیا جائے۔
مرزا قادیانی کو اس کا بڑا ہی غم ہے کہ نیچری قرآن وحدیث کو نہیں مانتے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٥٥٥، خزائن ج ٣ ص ٣٩٩) میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”حال کے نیچری جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت قال اللہ وقال الرسول کی باقی نہیں رہی۔“ مگر مشکل یہ ہے کہ اگر وہ مرزا قادیانی کی اس قسم کی تقریریں کہیں سن لیں تو یہ کہنے کو مستعد ہوجائیں گے کہ مرزا قادیانی کے دل میں بھی عظمت نہیں۔ جب ہی تو خدا اور رسول جن کی عظمت بیان کی جاتی ہے وہ ان کی توہین کرتے ہیں اور اپنی ذاتی غرض کے مقابلے میں نہ خدا کی بات مانتے ہیں نہ رسول کی۔ آپ نے دیکھ لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے جن کو متعدد مقاموں میں حق تعالیٰ نے ذکر فرمایا ان کو آیاتِ بینات کہا۔ مرزا قادیانی نے ان کے ابطال میں کیسی کیسی باتیں بنائیں۔ ان کو مشرکانہ خیال قرار دیا اور کہا کہ وہ معمولی طاقت بشری سے صادر ہوتے ہیں اور حواس کی وجہ سے وہ مشتبہ ہوگئے تھے اور مسمریزم کے وہ زہراثر جو تھے۔ آب از سرگزشت چہ یک نیزہ و چہ یکدست!
اور اس معجزے میں بھی مرزا قادیانی کو کلام ہے۔ جو اس آیت شریفہ میں مذکور ہے۔ ”واذ قتلتم نفساً فادارأتم فيها والله مخرج ما كنتم تكتمون فقلنا اضربوه ببعضها كذالك يحيى الله الموتى ويريكم آياته لعلكم تعقلون (بقرہ:٧٢،٧٣)“ یعنی اے بنی اسرائیل جب تم نے ایک شخص کو مار ڈالا اور لگے اس کے بارے میں جھگڑنے اور جو تم چھپاتے تھے۔ اللہ کو اس کا پردہ فاش کرنا منظور تھا۔ پس ہم نے کہا کہ
گائے کے گوشت کا کوئی ٹکڑا مردے کو مارو۔ اسی طرح جیسے وہ مردہ زندہ ہوا۔ اللہ مردوں کو جلائے گا اور اللہ تم کو نشانیاں دکھلاتا ہے کہ تم سمجھو کہ قیامت کا ہونا برحق ہے۔﴾
(تفسیر درمنثور ج ١ ص ٧٩ وابن جریر ج ١ ص ٣٥٧، ٣٥٨) وغیرہ معتبر تفاسیر میں ابن عباسؓ اور دیگر صحابہؓ و تابعین کی متعدد روایتوں سے یہ واقعہ منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بڑا مالدار شخص تھا اس کو کسی نے قتل کر کے دوسرے قبیلے میں ڈال دیا اس غرض سے کہ قاتل کا پتہ نہ لگے۔ اس قتل سے قبیلوں میں سخت خصومتیں اور فساد پھیلا، عقلاء نے کہا کہ خدا کے رسول موسیٰ علیہ السلام اس وقت موجود ہیں ان سے دریافت کر لو اصل واقعہ ابھی معلوم ہو جاتا ہے۔ جب موسیٰ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے ایک گائے لانے کو کہا وہ لوگ اس کی تعمیل نہ کر کے فضول باتیں پوچھنے لگے کہ وہ کیسی ہونی چاہئے۔ اس کا رنگ روپ وغیرہ کس قسم کا ہو۔ غرض جن اوصاف کی گائے بیان کی گئی زر خطیر صرف کر کے اس کو خریدا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا اس کو ذبح کر کے ایک ٹکڑا اس کا مقتول پر مارو وہ زندہ ہو جائے گا پھر جو چاہو اسی سے پوچھ لو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور وہ شخص زندہ ہوا اور قاتل کا نام بیان کر کے مر گیا۔ یہ خلاصہ قرآن وحدیث کا ہے۔ مرزا قادیانی نے یہ خیال کیا کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت بھی کر دی جائے تو یہ احتمال پیش ہوگا کہ ممکن ہے کہ زمین پر اترنے سے پہلے وہ زندہ کئے جائیں۔ اس احتمال کو رد کرنے کی غرض سے تمام قرآن پر انہوں نے نظر ڈالی اور جن جن آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ خدائے تعالیٰ نے مردوں کو زندہ کیا۔ ان سب میں تاویل کر کے اپنی مرضی اور غرض کے مطابق قرآن بنالیا۔ چنانچہ اس آیت کو اس طرح رد کرتے ہیں۔ (ازالۃ الاوہام ص ٤٤٩، خزائن ج ٣ ص ٥٠٤) میں فرماتے ہیں کہ ”ایسے قصوں میں قرآن شریف کی کسی عبارت سے نہیں نکلتا کہ فی الحقیقت کوئی مردہ زندہ ہو گیا تھا اور واقعی طور پر کسی قالب میں جان پڑگئی تھی۔ بلکہ اس آیت پر بنظر غور کرنے سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے خون کر کے چھپا دیا تھا۔ سو خدا تعالیٰ نے اصل مجرم کے پکڑنے کے لئے یہ تدبیر سمجھائی تھی کہ تم ایک گائے ذبح کر کے اس کی بوٹیاں اس لاش پر مارو اور وہ تمام اشخاص جن پر شبہ ہے ان بوٹیوں کو نوبت بہ نوبت اس لاش پر ماریں تب اصل خونی کے ہاتھ سے جب لاش پر بوٹی لگے گی تو اس لاش سے ایسی حرکتیں صادر ہوں گی جس سے خونی پکڑا جائے...... اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق عمل الترب یعنی مسمریزم کا ایک شعبہ تھا۔ جس کے بعض خواص میں سے یہ بھی ہے کہ جمادات یا مردہ حیوانات میں ایک حرکت مشابہ بحرکت حیوانات پیدا ہو کر اس سے بعض مشتبہ اور مجہول امور کا پتا لگ سکتا ہے۔“
مرزا قادیانی جو کہتے ہیں کہ کسی عبارت سے زندہ ہونا نہیں نکلتا کیا یہ کافی نہیں کہ حق تعالیٰ تمام قصہ بیان کر کے فرماتا ہے۔ ’كذالك يحيى الله الموتى‘ جس کا مطلب ظاہر ہے کہ جیسے یہ وہ شخص زندہ ہوا اسی طرح حق تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا۔ مرزا قادیانی کے قول پر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جیسے بوٹی مارنے سے اس کے حرکت ہوئی ویسے ہی خدا مردوں کو زندہ کرے گا یعنی قالب میں جان پڑے گی۔ چونکہ مرزا قادیانی حشر اجساد کے قائل نہیں اس لئے یہ بات ان کے مذہب پر ٹھیک نہیں اترتی۔
آیت موصوفہ سے اسی قدر معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں پر دو باتوں کی فرمائش کی تھی۔ ایک گائے کو ذبح کرنا۔ دوسری اس کی بوٹی مقتول پر مارنا، بقول مرزا قادیانی تیسری تدبیر یہ بھی بتائی گئی کہ قاتل مسمریزم کی مشاقی بھی حاصل کرے۔ چونکہ وہ بغیر سیکھنے کے نہیں آتی اس لئے ضرور موسیٰ علیہ السلام نے قاتل کو بلا کر مسمریزم کا طریقہ سمجھا دیا ہوگا کہ اس طرح سے بوٹی مارو تو لاش حرکت کرے گی۔ جس سے تم گرفتار ہو جاؤ گے اور قاتل نے بھی اس کو بطیب خاطر قبول کر کے مسمریزم میں مشاقی حاصل کر لی کیونکہ بغیر مشاقی کے مسمریزم کا عمل پورا نہیں ہوتا۔ چنانچہ مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص٣١٢ حاشیہ، خزائن ج٣ص٢٥٩ ملخص) میں لکھتے ہیں کہ ”عمل الترب یعنی مسمریزم میں مسیح بھی کسی درجے تک مشق رکھتے تھے ۔“ یہ بات غور طلب ہے کہ ایسا عمدہ طریقہ قاتل کے گرفتار کرنے کا اس مقام پر قرآن میں کیوں بیان نہیں کیا گیا۔ جہاں بوٹی مارنے کا ذکر ہے مسمریزم کا ذکر بھی ہو جاتا اور اس سے بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ پولیس کو قاتل کے گرفتار کرنے میں بڑی مدد ملتی اور بہت سے بے جرم رہائی پاتے۔ اب تو مسمریزم شائع بھی ہے۔ اگر مرزا قادیانی گورنمنٹ کو یہ رائے دیں تو مرزا قادیانی کی بڑی نام آوری ہوگی۔ یہ بھی مرزا قادیانی کی قرآن و معارف دانی ہے۔ جس کے بے نظیر ہونے کا فخر ہے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص٦٣٦، خزائن ج٣ص٤٤٣) میں فرماتے ہیں کہ ”خدائے تعالیٰ کی عنایت خاصہ میں سے ایک یہ بھی مجھ پر ہے کہ اس نے علم حقائق معارف قرآنی مجھ کو عطاء کیا ہے اور ظاہر ہے کہ مطہرین کی علامتوں سے یہ بھی ایک عظیم الشان علامت ہے کہ علم معارف قرآن حاصل ہو۔ کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ لا يمسه الا المطهرون“ انبیاء کے معجزات مبینہ قرآن کی حقیقت جو مرزا قادیانی پر کھلی وہ مسمریزمی عمل تھا۔ فی الحقیقت آنحضرت ﷺ کے زمانے سے آج تک کسی پر نہ کھلی۔ مگر ظاہر میں تو یہی سمجھیں گے کہ نصاریٰ کو یہ کام کرتے دیکھ کر آپ نے قیاس جما لیا۔ اگر مسمریزم کے خود موجد ہوتے تو کسی قدر اس خیال
قادیانی جو کہتے ہیں کہ کسی عبارت سے زندہ ہونا نہیں کھلتا کیا یہ کافی نہیں کہ حق بیان کر کے فرماتا ہے۔ ”کذالك يحيى الله الموتى “ جس کا مطلب ظاہر ہے زندہ ہوا اسی طرح حق تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا۔ مرزا قادیانی کے قول پر اس بات کی دلیل ہے کہ جیسے بوٹی مارنے سے اس کے حرکت ہوئی ویسے ہی خدا مردوں کو زندہ قالب میں جان پڑے گی۔ چونکہ مرزا قادیانی حشر اجساد کے قائل نہیں اس لئے یہ تاویل یہ ٹھیک نہیں اترتی۔
آیت موصوفہ سے اسی قدر معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں پر یہ تدبیر بتائی گئی تھی۔ ایک گائے کو ذبح کرنا۔ دوسری اس کی بوٹی مقتول پر مارنا ، بقول کیا تدبیر یہ بھی بتائی گئی کہ قاتل مسمریزم کی مشاقی بھی حاصل کرے۔ چونکہ وہ مبتدی تھا اس لئے ضرور موسیٰ علیہ السلام نے قاتل کو بلا کر مسمریزم کا طریقہ سمجھا دیا ہوگا کہ اس سے بوٹی مارو تو لاش حرکت کرے گی۔ جس سے تم گرفتار ہو جاؤ گے اور قاتل نے یہ بے خطر قبول کر کے مسمریزم میں مشاقی حاصل کر لی کیونکہ بغیر مشاقی کے اثر نہیں ہوتا۔ چنانچہ مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٣١٢ حاشیہ ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٩ میں لکھتے ہیں کہ ”عمل الترب یعنی مسمریزم میں مسیح بھی کسی درجے تک مشق رکھتے تھے۔“
حیرت ہے کہ ایسا عمدہ طریقہ قاتل کے گرفتار کرنے کا اس مقام پر قرآن میں کیوں چھوڑا گیا جہاں بوٹی مارنے کا ذکر ہے مسمریزم کا ذکر بھی ہو جاتا اور اس سے بہت بڑا فائدہ اس کو قاتل کے گرفتار کرنے میں بڑی مدد ملتی اور بہت سے بے جرم رہائی پاتے اور وقت ضائع بھی بچے۔ اگر مرزا قادیانی گورنمنٹ کو یہ رائے دیں تو مرزا قادیانی کی بڑی قدر ہوگی۔ یہ بھی مرزا قادیانی کی قرآن و معارف دانی ہے۔ جس کے بے نظیر ہونے کا چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٦٣٦ ، خزائن ج ٣ ص ٤٤٣) میں فرماتے ہیں کہ ”خدا نے ان اسرار میں سے ایک یہ بھی مجھ پر کھلا ہے کہ اس نے علم حقائق معارف قرآنی مجھ کو عطا کیا ہے کہ مطہرین کی علامتوں سے یہ بھی ایک عظیم الشان علامت ہے کہ علم قرآن عطا ہو۔ کیو نکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔ لا يمسه الا المطهرون “ انبیاء کے معجزات کی حقیقت جو مرزا قادیانی پر کھلی وہ مسمریزی عمل تھا۔ فی الحقیقت یہ حقیقت زمانے سے آج تک کسی پر نہ کھلی ۔ مگر ظاہر میں تو یہی سمجھیں گے کہ نصاریٰ کو دیکھ کر آپ نے قیاس جما لیا۔ اگر مسمریزم کے خود موجد ہوتے تو کسی قدر اس خیال
کی گنجائش تھی کہ آپ کے کشف والہام کو اس میں دخل ہے۔ اب اس الہام کا افتخار حاصل ہے تو مسمر صاحب کو ہے جو کل مسمریزی خیالوں کے استاد ہیں۔
مرزا قادیانی کو اس باب میں جو الہام ہوا ہے وہ وہی الہام ہے جو مسمر صاحب کو ہوا تھا۔ البتہ اس قدر فرق ہے کہ وہ اس کے موجد ہونے کی وجہ سے نیک نام ہوئے اور مرزا قادیانی اس بات کے موجد ہیں کہ اس کو انبیاء کے معجزات قرار دیں۔ اب ایسا الہام جو ابتداء ایسے دل پر ہوا تھا۔ جو تثلیث کی نجاست میں ملوث نہ تھا۔ کیونکر اس قابل سمجھا جاسکے کہ پاک دلوں کو مکدر اور نجس کرے اور اس یقین کے بعد کیا کوئی مسلمان ”لا يمسه الا المطهرون “ والے پاکیزہ دلوں کو اس کا اثر کرنا خیال کر سکتا ہے یہ الہام ” مشتے نمونہ از خروارے“ ہے۔ جس سے اور الہاموں کا حال بھی اہل فراست سمجھ سکتے ہیں۔
اگرچہ مرزا قادیانی نے مسمریزم پر معجزے کا قیاس اس قرینے اور اٹکل سے کیا ہے کہ مسمریزم کا عمل ہے ہر شخص نہیں کر سکتا اور ایسا شخص لوگوں میں ممتاز بھی ہو جاتا ہے۔ مگر ایسے اٹکلوں اور قیاسوں سے ہمارا دین مانع ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”قتل الخراصون الذین هم فی غمرة ساهون (الذريت: ١٠ ، ١١) “ مارے گئے اٹکل دوڑانے والے وہ جو غفلت میں بھولے ہوئے ہیں۔
اور خود بھی (ازالۃ الاوہام ص ٧٤٥ ، خزائن ج ٣ ص ٥٠١) میں لکھتے ہیں کہ ” ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خدائے تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بچاوے۔“
آپ خود غور فرمائیں کہ حق تعالیٰ اکابر انبیاء کے معجزات کی خبریں دے کر ان کی فضیلت اپنے کلام پاک میں بیان فرماتا ہے۔ ان معجزات کو مسمریزم قرار دینا کیا یہ نئے معنی نہیں ہیں اور بقول آپ کے یہی تو الحاد ہے۔ یہ امر پوشیدہ نہیں کہ حق تعالیٰ نے جن انبیاء کے معجزے قرآن شریف میں بیان کئے اس کا مطلب یہی ہے کہ اپنی غیبی تائیدیں دے کر ان سے ایسے ایسے افعال عجیبہ صادر کرائے جن کا صدور دوسروں سے ممکن نہیں اور یہ غیبی تائیدیں ان حضرات کی عظمت اور علوشان پر دال ہیں۔ مگر مرزا قادیانی جہاں تک ہو سکتا ہے مسمریزم میں ان کو داخل کر کے ان کی توہین اور تذلیل کرتے ہیں۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٣٠٩ حاشیہ ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧ ، ٢٥٨) میں لکھتے ہیں۔ ”یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل (مسمریزم ) ایسا قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا ۔“
مرزا قادیانی کے اس قول پر کہ میں بھی اگر چاہتا تو عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات دکھلاتا۔ عمیر تیان کا قول یاد آتا ہے جس کو ابن حزمؒ نے (ملل ونحل ج٣ ص١٢٠) میں لکھا ہے کہ ”عمیر تیان نے کوفے میں نبوت کا دعویٰ کر کے بہت سے لوگوں کو فراہم کر لیا تھا۔ جب اپنے اصحاب میں بیٹھتا تو اکثر کہتا کہ اگر میں چاہوں تو اس گھاس کو ابھی سونا بنا دوں۔ آخر خالد بن عبداللہ قسری نے اس کو قتل کیا“ غرض مرزا قادیانی کی تقریر سے ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء جو معجزات دکھلاتے تھے وہ دراصل عمل مسمریزم تھا۔ جو مکروہ اور قابل نفرت ہے۔ یہاں یہ امر محتاج بیان نہیں کہ جو لوگ ایسے قبیح کام کر کے ان کو معجزہ من جانب اللہ بتائیں وہ کس قسم کے آدمی سمجھے جائیں گے۔ حالانکہ حق تعالیٰ ان کی فضیلت کی تصریح فرماتا ہے۔ ”تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض منهم من كلم الله ورفع بعضهم درجات واتينا عيسىٰ ابن مريم البينات وايدناه بروح القدس (بقرہ:٢٥٣)“ ﴿وہ سب رسول فضیلت دی ہم نے ایک کو دوسرے سے اللہ نے بعضوں سے کلام کیا اور بعضوں کے درجے بلند کئے اور دیں ہم نے عیسیٰ بن مریم کو نشانیاں صریح اور قوت دی ہم نے روح القدس سے۔﴾
اب اس کلام کے سننے کے بعد بھی کیا کسی مسلمان کو جرأت ہو سکتی ہے کہ ان معزز حضرات میں سے کسی کی توہین وتذلیل کرے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”وللّٰه العزة ولرسوله وللمؤمنين ولكن المنافقين لا يعلمون (منافقون:٨)“ ﴿یعنی اللہ کو عزت ہے اور اس کے رسول کو اور مسلمانوں کو لیکن یہ بات منافق لوگ نہیں جانتے۔﴾
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص١٤٩، خزائن ج٣ ص١٧٠) میں فرماتے ہیں۔ ”افسوس ہماری قوم میں ایسے لوگ بہت ہیں جو بعض حقائق ومعارف قرآنیہ اور دقائق آثار نبویہ کو جو اپنے وقت پر بذریعہ کشف والہام زیادہ تر صفائی سے کھلتے ہیں۔ محرمات اور بدعات ہی میں داخل کر لیتے ہیں“ خود ہی غور فرمائیں کہ جب حقائق قرآنیہ یہ ہوں کہ حق کی حقیقت باطل یعنی معجزے کی حقیقت مسمریزم اور عزت کی حقیقت ذلت اور نبی معزز کی حقیقت ذلیل وغیرہ ثابت ہو رہی تو تھوڑی الٹ پلٹ میں اسلام کی حقیقت کفر اور کفر کی حقیقت اسلام ثابت ہو جائے تو کیا دیر لگے گی اور تعجب نہیں کہ اسی قسم کا خیال پختہ بھی ہو گیا ہو۔
افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو جس قدر مسمریزم سے حسن اعتقادی اور اس پر وثوق ہے۔ خدائے تعالیٰ کی قدرت پر نہیں۔ اگر عقل کی راہ سے بھی دیکھا جائے تو خدائے تعالیٰ کا اس مردے کو زندہ کرنا جس قدر اطمینان بخش ہے مسمریزم کی بد نما کارروائی سے نہیں ہو سکتا۔ مگر
مرزا قادیانی کی عقل اسی کی مقتضی ہوئی۔ سرسید احمد خاں صاحب بھی اس مردے کے زندہ ہونے کو نہیں مانتے۔ چنانچہ (تفسیر القرآن ص ١٢٥، ١٢٦ حصہ اوّل) میں لکھتے ہیں کہ ”بنی اسرائیل میں ایک شخص مارا گیا تھا اور قاتل معلوم نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں یہ بات ڈالی کہ سب لوگ جو موجود ہیں اور انہیں میں قاتل ہے۔ مقتول کے اعضا سے مقتول کو مارے جو لوگ درحقیقت قاتل نہیں وہ بسبب یقین اپنی بے جرمی کے ایسا کرنے میں کچھ خوف نہ کریں گے۔ مگر اصل قاتل بسبب خوف اپنے جرم کے جو از روئے فطرت انسان کے دل میں اور بالتخصیص جہالت کے زمانے میں اس قسم کی باتوں سے ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کرنے کا اور اسی وقت معلوم ہو جائے گا اور وہی نشانیاں جو خدا نے انسان کی فطرت میں رکھی ہیں۔ لوگوں کو دیکھا دے گا۔“ خاں صاحب تو خدا کا نام ہم کا لیا کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں میں بھی اپنا نام رہے۔ اس لئے ان کا صفت احیائے موتیٰ سے انکار کرنا بے موقع نہیں۔ مگر مرزا قادیانی سے حیرت ہے کہ اس مسئلے میں وہ بھی ان کے ہم خیال ہو گئے اور صرف اتنی اصلاح کی کہ مردے کی حرکت مسمریزم کی وجہ سے تھی۔ خاں صاحب کی رائے مرزا قادیانی سے کم نہ تھی۔ مگر چونکہ وہ فن تاریخ میں مہارت رکھتے تھے ان کو معلوم تھا مسمریزم کا اس وقت وجود ہی نہ تھا۔ اس لئے اس رائے کو پسند نہیں کیا۔
مرزا قادیانی نے دیکھا کہ جو لوگ خلاف قرآن وحدیث حسن ظن سے اپنی بات کو مان لیں گے ان پر خلاف تاریخ مان لینا کیا دشوار ہے۔ غرض ان لوگوں نے قرآن کو کھلونا بنا لیا ہے۔ اس کی کچھ پروا نہیں کہ خدا کے کلام کو بگاڑنا اور اس کی مرضی کے خلاف تفسیر بالرائے کرنا مسلمان کا کام نہیں۔ اس سے یہ غرض کہ حسن ظن والے سمجھ جائیں کہ وہ تفسیر کرنا کس درجے کا گناہ ہے اور طرفہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی یہ بھی لکھتے ہیں کہ تفسیر بالرائے نہیں کرتے۔ اس آیت شریفہ میں بھی مرزا قادیانی کو کلام ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”واذ قال ابراهيم رب ارنی کیف تحيى الموتى قال اولم تؤمن قال بلی ولاكن ليطمئن قلبى قال فخذ اربعة من الطير فصرهن اليك ثم اجعل على كل جبل منهن جزاً ثم ادعهن ياتينك سعياً واعلم ان الله عزیز حکیم (بقرہ: ٢٦٠)“ ﴿اور جب کہا ابراہیم نے اے رب دکھا مجھ کو کیونکر جلائے گا تو مردے تو فرمایا کیا تم نے یقین نہیں کیا، کہا کیوں نہیں۔ لیکن اس واسطے کہ تسکین ہو میرے دل کو فرمایا تم پکڑو چار جانور اڑتے پھر ان کو ملاؤ اپنے ساتھ پھر ڈالو ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا پھر ان کو پکارو کہ وہ آئیں تمہارے پاس دوڑتے اور جان لو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے۔﴾
مقصود ان پرندوں کے بلانے سے یہ تھا کہ ابراہیم علیہ السلام کو اس بات میں پوری
شناخت ان کی ہو جائے اور زندہ ہونے کے بعد ان کی آواز پر دوڑ آئیں اور ابراہیم علیہ السلام کو شناخت کی وجہ سے دوسرے پرندوں کا اشتباہ نہ ہو۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ فصرھن کے معنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے ہیں۔ جیسا کہ (بخاری شریف ج٢ ص٦٥١، باب وقولہ واذقال ابراھیم الی رب ارنی کیف تحیی الموتی) میں ہے۔ فصرھن اے قطعھن (درمنثور ج١ ص٣٣٥) میں امام سیوطیؒ نے نقل کیا ہے۔ ”عن ابن عباسؓ فصرھن قال هی بالنبطية شققهن“ اور اسی میں یہ بھی عبارت ہے۔ ”عن ابن عباسؓ قال وضعهن على سبعة اجبل واخذ الرؤس فجعل ينظر الى القطرة تلقى القطرة والريشة تلقى الريشة حتى صرن احياء ليس لهن رؤس فجئن الى رؤسهن فدخلن فيها“ یعنی ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے ان پرندوں کے ٹکڑے کر کے سات پہاڑوں پر رکھ دیے اور سروں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ پھر قطرے سے قطرہ اور پر سے پر ملنے لگے۔ جس کو وہ دیکھ رہے تھے۔ یہاں تک وہ زندہ ہوگئے۔ اپنے اپنے سروں سے آملے۔ ان روایات کے بعد اس کا انکار نہیں ہو سکتا کہ ان چاروں پرندوں کی بوٹیاں پہاڑوں پر رکھی گئی تھیں۔ جو زندہ ہو کر ابراہیم علیہ السلام کے پکارنے پر آگئے اور انہوں نے ان کے زندہ ہونے کو بچشم خود دیکھ لیا اور سیاق آیت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ان کی درخواست یہ تھی کہ مردوں کو زندہ کرنے کی کیفیت دکھلائی جائے۔ رب ارنی کیف تحیی الموتی اس پر ارشاد ہوا کہ کیا تمہیں اس پر ایمان نہیں عرض کیا۔ ایمان تو ہے لیکن میں اس سے اپنی خلت کا اطمینان چاہتا ہوں کہ اگر میں فی الواقع خلیل ہوں تو یہ دعا مقبول ہو جائے۔ درحقیقت انہوں نے اس دعا کی اجابت کو اپنی خلت کی نشانی قرار دی تھی۔ نفس احیائے موتی سے چنداں تعلق نہ تھا۔ چنانچہ امام سیوطیؒ نے (درمنثور ج١ ص٣٣٤) میں لکھا ہے۔ ”عن ابن عباسؓ فی قوله ولكن ليطمئن قلبي يقول اعلم انك تجيبنى اذا دعوتك وتعطنى اذا اسألتك“ یعنی یہ اطمینان چاہتا ہوں کہ اگر خلت متحقق ہے تو میری دعا قبول ہوگی اور جو مانگوں گا وہ تو دے گا اور نیز (درمنثور ج١ ص٣٣٤) میں ہے۔ ”عن السدى يقول رب ارنى كيف تحيى الموتى حتى اعلم انى خليلك قال اولم تؤمن يقول تصدق بانى خليك قال بلىٰ ولكن ليطمئن قلبى بخلولتك“ یعنی احیائے موتی کی دعاء اس غرض سے کی کہ اس کے قبول ہونے سے خلت کا یقین ہو جائے ارشاد ہوا کیا اس کا یقین نہیں۔ عرض کی یقین تو ہے لیکن اطمینان چاہتا ہوں جو دعا کی قبولیت پر موقوف ہے۔ اب اس سوال و جواب اور دوسرے قرائن پر غور کرنے کے بعد عقل سے تھوڑا سا
بلائے اور زندہ ہونے کے بعد ان کی آواز پر دوڑا ئیں اور ابراہیم علیہ السلام کو دوسرے پرندوں کا اشتباہ نہ ہو۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ فصرھن کے معنی ٹکڑے کے ہیں۔ جیسا کہ (بخاری شریف ج٢ص٦٥١، باب و قوله واذقال ابراهیم تحیی الموتی) میں ہے۔ فصرهن اى قطعهن (درمنثور ج١ص٣٣٥) میں ہے۔ ”عن ابن عباس فصرهن قال هي بالنبطية شققهن“ ۔ ”عن ابن عباس قال وضعهن على سبعة اجبل فجعل ينظر الى القطرة تلقى القطرة والريشة تلقى الريشة ماء ليس لهن رؤس فجئن الى رؤسهن فدخلن فيها“ یعنی ابن ابراہیم علیہ السلام نے ان پرندوں کے ٹکڑے کر کے سات پہاڑوں پر رکھ ہاتھ میں لے لیا۔ پھر قطرے سے قطرہ اور پر سے پر ملنے لگے۔ جس کو وہ تک وہ زندہ ہوگئے۔ اپنے اپنے سروں سے آ ملے۔ ان روایات کے بعد کہ ان چاروں پرندوں کی بوٹیاں پہاڑوں پر رکھی گئی تھیں۔ جو زندہ ہو کر بلانے پر آگئے اور انہوں نے ان کے زندہ ہونے کو چشم خود دیکھ لیا اور سیاق معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ان کی درخواست یہ تھی کہ مردوں کو زندہ کرنے کی رب ارنی کیف تحیی الموتٰی اس پر ارشاد ہوا کہ کیا تمہیں اس پر ایمان تو ہے لیکن میں اس سے اپنی خلت کا اطمینان چاہتا ہوں کہ اگر میں فی دعا مقبول ہو جائے۔ درحقیقت انہوں نے اس دعا کی اجابت کو اپنی خلت کی احیائے موتیٰ سے چنداں تعلق نہ تھا۔ چنانچہ امام سیوطیؒ نے (درمنثور ج١ عن ابن عباس فی قوله ولكن ليطمئن قلبى يقول اعلم دعوتك وتعطنى اذا سألتك“ یعنی یہ اطمینان چاہتا ہوں کہ اگر خلت ہو گئی اور جو مانگوں گا وہ تو دے گا اور نیز (درمنثور ج١ص٣٣٤) میں ہے۔ قال رب ارنى كيف تحيى الموتى حتى اعلم انى خليلك قال مصدق بانى خليك قال بلى ولكن ليطمئن قلبى بخلولتك “ اس غرض سے کی کہ اس کے قبول ہونے سے خلت کا یقین ہو جائے ہیں ۔ عرض کی یقین تو ہے لیکن اطمینان چاہتا ہوں جو دعا کی قبولیت پر سوال و جواب اور دوسرے قرآئن پر غور کرنے کے بعد عقل سے تھوڑا سا
کام لیا جائے کہ باوجود قدرت کے خدائے تعالیٰ اپنے خلیل کو نشانی دکھلا کر مطمئن فرمایا ہو گا یا نہیں۔ ادنیٰ تامل سے معلوم ہو سکتا ہے نہ بحسب روایات اس کا انکار ہو سکتا ہے۔ نہ بحسب درایت۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ نہ کوئی پرندہ زندہ ہوا نہ خلیل اللہ کی دعا قبول ہوئی بلکہ دعا پر یہی حکم ہوا کہ مسمریزم کے ذریعے سے پرندوں کو اپنی طرف کھینچ لو تو معلوم ہو جائے گا کہ مردے بھی ایسے ہی زندہ ہوں گے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص٧٥٢، ٧٥٣، خزائن ج٣ص٥٠٦) میں لکھتے ہیں۔ ”یاد رکھنا چاہئے کہ جو قرآن میں چار پرندوں کا ذکر لکھا ہے کہ ان کو اجزاء متفرقہ یعنی جدا جدا کر کے چار پہاڑیوں پر چھوڑا گیا تھا اور پھر وہ بلانے سے آگئے تھے۔ یہ بھی عمل الترب (مسمریزم) کی طرف اشارہ ہے۔۔۔۔۔ ممکن ہے کہ انسان کی قوت مقناطیسی اس حد تک ترقی کرے کہ کسی پرند یا چرند کو صرف اپنی طرف کھینچ لے۔ فتدبر ولا تغفل“
اہلِ علم پر پوشیدہ نہیں کہ ”فخذ اربعة من الطیر“ میں جو فا ہے گویا تفریع اسی دعا پر ہے جو مردوں کو زندہ کرنے کے باب میں تھی۔ جس سے ظاہر ہے کہ وہ دعا قبول ہوئی اور پرندوں کو ذبح کرنے کا حکم ہوا ورنہ صرف ارشاد ہو جاتا کہ یہ دعا کیسی مردوں کو زندہ کرنا تو اس عالم میں نہیں ہو سکتا۔ بلکہ خلاف مرضی دعا ہوتی تو اس پر عتاب ہو جاتا جیسے دیدار الہٰی کی درخواست کرنے والوں پر عتاب ہوا تھا۔ جن پر بجلی گرائی گئی اور وہ جل کر ڈھیر ہوگئے۔ ”فقالوا ارنا الله جهرة فاخذتهم الصاعقة (نساء:١٥٣)“ غرض جب قرائن سے معلوم ہوا کہ دعاء احیائے موتیٰ قبول ہوئی تو اس کے بعد بجائے احیائے موتیٰ مسمریزم کا خیال کرنا گویا در پردہ یہ کہنا ہے کہ نعوذ باللہ حق تعالیٰ کو احیائے موتیٰ کی قدرت نہ تھی اور مسمریزم کے عمل کے بعد بھی ان کا مقصود جو خلت کی نشانی معلوم کرنا تھا۔ حاصل نہ ہوا کیونکہ نشانی تو احیاء تھی اور اس عمل سے جو معلوم ہوا اسی قدر تھا کہ انسان کے روحانی تصرف سے جانور بھی مسخر ہو جاتے ہیں۔ جس سے ان کی دعا کو کوئی تعلق نہیں اور اگر یہ غرض تھی کہ اس پر قیاس کریں کہ جیسے پرندے بلاتے ہی آ جائیں گے۔ روحوں کو بھی خدائے تعالیٰ ایسا ہی بلالے گا تو یہ مثال قائم کرنے کے لئے اس سے آسان طریقہ یہ تھا کہ کسی خادم کو پکارنے کا حکم ہو جاتا جو پرندوں سے بھی پہلے پکارتے ہی آ کھڑا ہوتا اور مسمریزم کی مشاقی حاصل کرنے کی زحمت جو ضرورت سے زیادہ تھی اٹھانی نہ پڑتی۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کو احیائے موتیٰ دیکھنے سے خواہ خلت کی نشانی معلوم کرنا منظور ہو یا مشاہدہ احیاء اس مسمریزم سے دونوں مقصود فوت ہیں اور ایمان بالغیب جو پہلے تھا وہی اس کے بعد بھی رہا نہ دعا سے کچھ فائدہ ہوا نہ اجابت دعا سے بلکہ بہت بڑا نقصان یہ لازم آتا ہے کہ خلت کا جو پہلے سے ایمان تھا۔ نعوذ باللہ وہ
بھی جاتا رہے اس لئے کہ باوجود قدرت کے جب اس کی نشانی نہیں دکھلائی جائے تو یہی یقین ہوگا کہ دراصل اس کا وجود نہیں۔ حالانکہ انبیاء اپنے اطمینان کے لئے جب کوئی نشانی طلب کرتے ہیں تو وہ ان کو دکھلائی جاتی ہے۔ چنانچہ زکریا علیہ السلام کے قصے سے ثابت ہے کہ ”قال رب انی يكون لي غلام وقد بلغني الكبر وامراتى عاقر قال كذلك الله يفعل ما يشاء قال رب اجعل لى آية قال آيتك ان لا تكلم الناس ثلثه ايام الا رمزا (آل عمران: ٤١،٤٠)“ حاصل یہ کہ جب فرشتوں نے زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری سنائی کہ آپ کو ایک فرزند ہوگا۔ جس کا نام یحییٰ ہے۔ عرض کی کہ اے رب مجھے کیونکر لڑکا ہوگا۔ ایسی حالت میں کہ میں بوڑھا ہوں اور میری بی بی بانجھ ہے۔ فرمایا خدائے تعالیٰ جو چاہے کر سکتا ہے۔ پھر عرض کی اے رب اس کی کوئی نشانی مقرر فرما۔ جس سے حمل کا وقت معلوم ہوجائے۔ ارشاد ہوا کہ تین روز تک تم لوگوں سے بات نہ کر سکو گے۔ سوائے اشارے کے ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ زکریا علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس سال کی تھی اور ان کی بی بی کی عمر اٹھانوے سال کی اس وجہ سے ان کو استبعاد ہوا کہ ایسی حالت میں کیونکر لڑکا ہوگا اور نشانی طلب کرنے کی ضرورت ہوئی اور نشانی جو قرار دی گئی تھی اس کا ظہور اس طرح سے ہوا کہ تین روز تک سوائے ذکر الٰہی کے اگر کوئی بات کرنا چاہے تو زبان رک جاتی۔ صرف ہاتھ یا پیر کے اشارے سے کوئی مطلب ظاہر کر سکتے تھے۔ غرض سنت الٰہی جاری ہے کہ انبیاء علیہم السلام جب کسی بات کے یقین یا اطمینان حاصل ہونے کے لئے کوئی نشانی طلب کرتے ہیں تو ان کو دکھلائی جاتی ہے۔ پھر خاص خلیل کو ان کے خلت کے متعلق نشانی باوجود طلب کرنے کے نہ بتلائی جانا ہرگز قرین قیاس نہیں اور یہ ایسا بودا خیال ہے کہ کوئی مسلمان جس کو خلت کے معنی معلوم ہوں اور قدرت الٰہی کو جانتا ہو۔ ہرگز اس طرف توجہ نہیں کر سکتا کہ مسمریزم سے وہاں کام لیا گیا۔ مرزا قادیانی کو صرف اتنا موقع مل گیا کہ آیت شریفہ ”فخذ اربعة من الطير فصرهن اليك ثم اجعل على كل جبل منهن جزاً (بقرہ: ٢٦٠)“ میں لفظ ذبح نہیں ہے۔ اس لئے ہر پرندے کو چار پرندوں کا جزو قرار دیا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر پہاڑ پر ان چار پرندوں کا ایک ایک جزو یعنی ایک ایک پرندہ چھوڑ دو۔ اہل فصاحت پر پوشیدہ نہیں کہ مرزا قادیانی ثم اجعل الخ کا جو مطلب بتاتے ہیں کہ وہ پرندے پہاڑوں میں جدا کر کے چھوڑ دو اس کے لئے تو یہ الفاظ ثم فرقھن فی الجبل کافی تھے۔ اس مطلب کے لئے ”ثم اجعل على كل جبل منهن جزاً“ کہنا قطع نظر فصاحت و بلاغت کے فوت ہو جانے سے مضمون بھی دوسرا ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ اگر یہ مضمون بیان کرنا ہو۔ (ہر
پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو) تو سوائے ثم اجعل علی کل جبل منهن جزءاً کہنے کے یہ مضمون ہرگز ادا نہ ہوسکے گا۔ پھر جب مرزا قادیانی والا مضمون دوسرے الفاظ میں ادا ہوسکتا ہے اور یہ مضمون سوائے الفاظ آیت شریفہ کے ادا نہیں ہوسکتا اور اسی مضمون کی تصدیق صحابہؓ خصوصاً ابن عباسؓ جیسے صحابی کے قول سے ہورہی ہے اور اس تصریح کے ساتھ کہ چار پرندوں کے ٹکڑے سات پہاڑوں پر رکھے گئے تھے تو اس کو چھوڑ کر ایسا مضمون نکالنا جس سے کلام پایۂ بلاغت وفصاحت سے گر جائے اور کلام الٰہی پر ایسا بدنما دھبہ لگے۔ جس کو کوئی مسلمان قبول نہیں کرسکتا۔ کس قدر جرأت کی بات ہے۔ اگر مرزا قادیانی مثلاً یہ کہنا چاہیں کہ چار شخص ہم نے معین کئے پھر ان میں سے ہر ایک کو ایک گاؤں بھیجا تو کیا یہ فرمائیں گے ثم ارسلت الی کل قریة منهم جزءاً میں سمجھتا ہوں کہ بجائے جزء کے واحداً فرمائیں گے۔ بشرطیکہ اس بحث کا تعلق معلوم نہ ہو۔ اس لئے کہ ایسے موقع میں جب کوئی پوری خبر بیان کرنا ہو تو جزء نہیں کہا جاتا۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”والنبیون من ربهم لا نفرق بین احد منهم (بقرہ:١٣٦)“ دیکھ لیجئے ایک نبی بقول مرزا قادیانی تمام انبیاء کا جزو ہے۔ مگر بین جزء منهم نہیں فرمایا یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جس معنی کے مرزا قادیانی قائل ہیں کہ واقع میں پرندے پہاڑوں پر چھوڑ دیئے گئے تھے۔ اس معنی پر تو قرآن شریف کی عبارت غلط ٹھہرتی ہے۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا پھر اسی پر اڑے رہنا ضمناً یہ دعویٰ ہے کہ اس مقام میں قرآن میں غلطی ہے۔
مرزا قادیانی اپنی عیسویت پر یہ استدلال بھی پیش کرتے ہیں کہ کریم بخش کی گواہی سے یہ ثابت ہے۔ (ازالة الاوہام ص٤٠٧، ٤٠٨، خزائن ج٣ ص٣٨١، ٣٨٢) میں کہ ”ایک بزرگ گلاب شاہ نام نے پیش گوئی کی تھی کہ عیسیٰ لدھیانے میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا“ اگر وہ بزرگ فی الحقیقت صاحب کشف تھے تو پیش گوئی ان کی صحیح نکلی۔ مگر مقام تردد یہ ہے کہ پھر انہوں نے عیسیٰ کیوں کہا۔ کہہ دیتے کہ ایک شخص ایسا کام کرے گا اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انہوں نے کشف میں مرزا قادیانی کا دعویٰ عیسویت بھی دیکھ لیا تھا۔ اس لئے عیسیٰ کہہ دیا۔ یعنی عیسیٰ ادعائی اور چونکہ قرآن میں غلطیاں نکالنا عیسیٰ موعود کی شان کے منافی ہے۔ اس لئے انہوں نے ضمناً یہ بھی کہہ دیا کہ اگرچہ عیسویت کے مدعی ہوں۔ مگر عیسیٰ نہیں ہوسکتے اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی مجلس میں لوگ کہیں کہ فلاں شخص شیر ہے اور ایک شخص کہے کہ شیر ایسا ہے کہ بکری سے ڈرتا ہے تو اس کا شیر کہنا اعتراف نہ سمجھا جائے گا۔ بلکہ وہ منافی صفت بیان کرنا اس بات پر دلیل ہوگا کہ اس صفت کا ابطال اس کو مقصود ہے۔
امام فخر الدین رازیؒ نے (تفسیر کبیر ج٣ ص٢٠٨،٢١٠، تحت آیت واتبعوا ما تتلوا الشياطين على ملك سليمان ) میں سحر کے کئی اقسام بیان کئے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک سحر اصحاب اوہام اور نفوس قویہ کا ذکر کیا ہے۔ اس کی کیفیت یہ ہے کہ آدمی جب قوت وہمیہ اور نفسانیہ بڑھانے میں کوشش کرتا ہے تو وہ قوتیں اس قدر بڑھتی ہیں کہ ان سے عجائبات صادر ہونے لگتے ہیں اور دوسری قسم استعانت بالارواح الارضیہ لکھا ہے۔ یعنی ارواح ارضیہ کی مدد سے امور عجیبہ ظاہر کئے جاتے ہیں۔ یہ بات بتواتر ثابت ہے کہ ساحر لوگ عملی تدابیر سے ارواح مناسبہ پر کچھ ایسا اثر ڈالتے ہیں کہ وہ مسخر اور فرمانبردار ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف ان من البيان لسحرا سے بھی اشارتاً یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جیسے سحر ارواح ارضیہ میں تاثیر کر کے ان کو مسخر کر لیتا ہے۔ ایسا ہی بعض بیان بھی اپنے پرزور اثر سے اپنا مسخر بنا لیتے ہیں۔ اس کی تصدیق کے لئے مرزا قادیانی کی تقریر پرتاثیر گواہ ناطق ہے۔ غرض سحر میں بعض ارواح پر نفسانی اثر ڈالا جاتا ہے۔ جس سے وہ مسخر ہو جاتی ہیں۔ پھر ان سے وہ وہ کام لئے جاتے ہیں جو بالکل غیر معمولی اور حیرت انگیز ہوتے ہیں۔ الحاصل سحر میں نفوس ساحرہ کی تاثیر بھی ہوتی ہے اور ارواح بھی اس سے مسخر ہوتی ہیں جو مسمریزم میں ہوا کرتا ہے۔ دیکھ لیجئے مسمریزم کی کتابوں میں وہی تدابیر بتلائی گئی ہیں کہ جن سے شخص معمول کی روح مسخر ہو جائے اور ایسے کام کرنے لگے جو غیر معمولی اور ظاہراً خارق عادات ہوں۔ اس سے ثابت ہے کہ مسمریزم ایک قسم کا سحر ہے۔ جس میں مسمر صاحب نے ترقی کر کے اس کو ایک مستقل فن سحر قرار دیا اور چونکہ وہ تعلیم وتعلم سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے وہ خوارق عادات کی حد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ چہ جائیکہ معجزے کا اس پر اطلاق ہو سکے۔ کیونکہ معجزہ تو خاص اس فعل کا نام ہے جو حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے کسی نبی کے ہاتھ پر اس غرض سے ظاہر کرے کہ سب عاجز ہوں اور کسی دوسرے کو اس پر قدرت نہ ہو۔ مرزا قادیانی ان چار پرندوں کے زندہ ہونے کو مسمریزی قوت بتلاتے ہیں اور نیز عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات جو قرآن شریف میں مذکور ہیں ان کو بھی مسمریزی عمل قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ حق تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے۔ ”انی قد جئتكم بآية من ربكم اني اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرئ الاكمه والابرص واحيى الموتى باذن الله (آل عمران:٤٩) “ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے یہ تھے کہ پرندے بنا کر ان میں پھونکتے۔ جس سے وہ زندہ ہو جاتے اور مادر زاد اندھوں کو بینا اور برص والوں کو اچھا کرتے اور مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ یہ تو حق تعالیٰ فرماتا ہے اور مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٣٠٨ تا ٣١٦
فخرالدین رازیؒ نے (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٠٨ ، ٢١٠ تحت آیت واتبعوا ما تتلوا على ملك سليمان ) میں سحر کے کئی اقسام بیان کئے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک سحر نفوس قویہ کا ذکر کیا ہے۔ اس کی کیفیت یہ ہے کہ آدمی جب قوت وہمیہ اور نفسانیہ کی مشق کرتا ہے تو وہ قوتیں اس قدر بڑھتی ہیں کہ ان سے عجائبات صادر ہونے لگتے ہیں۔ استعانت بالارواح الارضیہ لکھا ہے۔ یعنی ارواح ارضیہ کی مدد سے امور عجیبہ دکھانا۔ یہ بات بتواتر ثابت ہے کہ ساحر لوگ عملی تدابیر سے ارواح مناسبہ پر کچھ ایسا مسخر اور فرمانبردار ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف ان من البیان لسحرا سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جیسے سحر ارواح ارضیہ میں تاثیر کر کے ان کو مسخر کر لیتا ہے۔ انسان بھی اپنے پرزور اثر سے اپنا مسخر بنا لیتے ہیں۔ اس کی تصدیق کے لئے یہ تاثیر گواہ ناطق ہے۔ غرض سحر میں بعض ارواح پر نفسانی تاثیر ڈالی جاتی ہیں۔ پھر ان سے وہ وہ کام لئے جاتے ہیں جو بالکل غیر معمولی اور حیرت انگیز ہوتے ہیں۔ حاصل سحر میں نفوس ساحرہ کی تاثیر بھی ہوتی ہے اور ارواح بھی اس سے مسخر ہوتی ہیں۔ اب غور کرنا یہ ہے کہ دیکھ لیجئے مسمریزم کی کتابوں میں وہی تدابیر بتلائی گئی ہیں کہ جن کے کرنے سے نفس و روح مسخر ہو جائے اور ایسے کام کرنے لگے جو غیر معمولی اور ظاہراً خارق عادات ہوں۔ پس ثابت ہے کہ مسمریزم ایک قسم کا سحر ہے۔ جس میں مسمر صاحب نے ترقی کر کے سحر قرار دیا اور چونکہ وہ تعلیم و تعلم سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے وہ خوارق عادات اور معجزات نہیں کہلا سکتا۔ چہ جائیکہ معجزے کا اس پر اطلاق ہو سکے۔ کیونکہ معجزہ تو خاص طور پر فضل خداوندی ہے۔ حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے کسی نبی کے ہاتھ پر اس غرض سے ظاہر کرے کہ کسی دوسرے کو اس پر قدرت نہ ہو۔ مرزا قادیانی ان چار پرندوں کے زندہ کرنے کو بھی عمل مسمریزم بتلاتے ہیں اور نیز عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات جو قرآن شریف میں مذکور ہیں ان سب کو بھی عمل قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ حق تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے : انی قد جئتكم بآية من ربكم انى اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرئ الاکمه والابرص واحيى الموتى باذن الله (آل عمران : ٤٩) ”یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے یہ تھے کہ پرندے بنا کر ان میں پھونک مارتے اور وہ باذن اللہ زندہ ہو جاتے اور مادر زاد اندھوں کو بینا اور برص والوں کو اچھا کرتے اور مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔ یہ تو حق تعالیٰ فرماتا ہے اور مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٣٠٨ تا ٣١٩
حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٧ تا ٢٦٢) میں لکھتے ہیں۔ ”یہ بھی جاننا چاہئے کہ سلب امراض کرنا اپنی روح کی گرمی جماد میں ڈالنا در حقیقت یہ سب عمل الترب کی شاخیں ہیں۔ ہر ایک زمانے میں ایسے لوگ ہوتے رہتے ہیں اور اب بھی موجود ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعے سے سلب امراض کرتے رہتے ہیں اور مفلوج و نیز برص و دقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہتے ہیں اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔ حضرت مسیح کے عمل الترب سے وہ مردہ زندہ ہوتے تھے۔ یعنی وہ قریب الموت آدمی جو گویا نئے سرے سے زندہ ہو جاتے تھے وہ بلا توقف چند منٹ میں مر جاتے تھے۔“ (واقعی اور حقیقی حیات پیدا نہیں ہوتی تھی) بلکہ صرف ظلی اور مجازی اور جھوٹی حیات جو عمل الترب کے ذریعے سے پیدا ہو سکتی ہے ایک جھوٹی جھلک کی طرح ان میں نمودار ہو جاتی تھی۔ پس اگر اتنی بات ہے تو ہم اس کو پہلے تسلیم کر چکے ہیں۔ ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ عمل الترب کے ذریعے سے پھونک کے ہوا میں وہ قوت پیدا ہو جائے جو اس دخان میں پیدا ہوتی ہے۔ جس کی تحریک سے غبارہ اوپر چڑھتا ہے۔
اب اہل ایمان غور فرمائیں کہ عمل مسمریزم جو یقینی طور پر سحر ہے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اسی عمل کے ذریعے سے الیسع اور عیسیٰ علیہا السلام عجائبات دکھلا کر لوگوں کو مسخر کرتے تھے اور ابھی معلوم ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام نے جو پرندوں کو زندہ کیا تھا اور موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں جو مردہ زندہ ہوا تھا وہ سب مسمریزم ہی کے ذریعے سے تھا۔ جس کا مطلب صاف وصریح طور پر ظاہر ہے کہ یہ انبیاء اولوالعزم ساحر اور جادو گر تھے۔ نعوذ بالله من ذالك اب ہر شخص قرآن پڑھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ نبی کو ساحر کون لوگ کہا کرتے تھے۔ اس کی تصریح کی ہمیں ضرورت نہیں۔
غرض مرزا قادیانی جو معجزہ خارق عادت دیکھتے ہیں اس کو حتی الامکان مسمریزم میں داخل کر دیتے ہیں۔ جو ایک قسم کا سحر اور قوت بشری کے حد کے اندر ہے۔ اب مشکل یہ ہے کہ قرآن شریف سے ظاہر ہے کہ ہر زمانہ کے کفار معجزات کو سحر اور انبیاء کو ساحر کہا کرتے تھے۔ یہ کوئی نہیں کہتا تھا کہ خدائے تعالیٰ نے انبیاء کو ایک غیر معمولی قدرت دی ہے۔ جس سے ان خوارق عادات کا صدور صرف باذن الٰہی ہوتا ہے اور مرزا قادیانی بھی اسی کے قائل ہیں کہ ان معجزات کا صدور مسمریزی قوت انسانی سے ہوتا تھا۔ معلوم نہیں کہ ان دونوں مذہبوں میں مابہ الامتیاز کیا ہو گا۔ پھر اگر اسی مسمریزی قوت کے آثار معجزات تھے تو مسمریزم کے عمل کرنے والوں کو بھی انبیاء کہنا
چاہئے اور اگر معجزہ خاص اور مسمریزم عام ہے تو تصادق کے لحاظ سے نبی کو من وجہ نبی اور من وجہ ساحر کہنا پڑے گا۔ اس آیہ شریفہ میں مرزا قادیانی سے پہلے خان صاحب نے تفسیر میں بہت زور لگایا کہ ممکن نہیں کہ وہ پرندے خلاف فطرت زندہ ہوئے ہوں اور نہ کوئی عاقل ایسا سوال کر سکتا ہے کہ دنیا میں مردے کو زندہ کر دکھائے۔ بلکہ ابراہیم علیہ السلام نے درخواست کی کہ خواب میں یہ بات دکھلا دی جائے۔ چنانچہ ان کی درخواست منظور ہوئی اور خواب میں چار پرندوں کو زندہ ہوتے دیکھ لیا۔ مرزا قادیانی نے یہ ترمیم کی اس کو خواب پر محمول کرنے کی ضرورت نہیں۔ مسمریزم سے کام نکل سکتا ہے۔ جس سے مقصود بھی حاصل ہو جائے گا کہ معجزہ ثابت نہ ہوگا اور واقعہ کا بھی انکار نہ ہوگا۔ الحمد للہ مرزا قادیانی خدائے تعالیٰ کا بہت ادب کرتے ہیں ورنہ جیسے انبیاء کو ساحر قرار دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کے احیائے موتی وغیرہ معجزات کو مشرکانہ خیال بتایا ممکن تھا خدائے تعالیٰ کی نسبت بھی کچھ کہہ دیتے کہ ساحروں کے قصے بیان کر کے لوگوں کو نعوذ باللہ گمراہ کر رہا ہے بات یہ ہے کہ عقلاء کی عادت ہے کہ ایسی کوئی بات دل میں آئے تو کسی ایسے پیرایہ میں ظاہر کر دیا کرتے ہیں کہ الکنایۃ ابلغ من التصریح کی رو سے مقصود بھی حاصل ہو اور تصریح قبیح سے بھی احتراز ہو یہ تمام دقتیں اور خرابیاں اسی وجہ سے ہیں کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ ہے اور خارق عادات معجزہ ان سے ظہور میں آنا محال ہے۔ اس لئے وہ معجزات کی توہین کے درپے ہو گئے۔ چنانچہ براہین احمدیہ میں لکھتے ہیں کہ جو معجزات بظاہر صورت ان مکروں سے مشابہ ہیں گو کہ وہ سچے بھی ہوں۔ تب بھی محجوب الحقیقت اور ان کے ثبوت کے بارے میں بڑی بڑی دقتیں ہیں اور نیز (براہین احمدیہ ص ٤٢٨ تا ص ٤٣٥، خزائن ج ١ ص ٥١١ تا ٥٢٠) میں لکھتے ہیں۔ ”تمہید پنجم جس معجزے کو عقل شناخت کر کے اس کے منجانب اللہ ہونے پر گواہی دے وہ ان معجزات سے ہزار ہا درجہ افضل ہوتا ہے کہ جو صرف بطور کتھا یا قصے کے مد منقولات میں بیان کئے جاتے ہیں۔ اس ترجیح کے دو باعث ہیں ایک تو یہ کہ منقولی معجزات ہمارے لئے جو صدہا سال اس زمانہ سے پیچھے پیدا ہوئے ہیں۔ جب معجزات دکھلائے گئے تھے، مشہود اور محسوس کا حکم نہیں رکھتے اور اخبار منقولہ ہونے کے باعث سے وہ درجہ ان کو حاصل بھی نہیں ہو سکتا جو مشاہدات اور مرئیات کو حاصل ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جن لوگوں نے منقولی معجزات کو جو تصرف عقل سے بالاتر ہیں۔ مشاہدہ کیا ہے ان کے لئے بھی وہ تسلی تام کے موجب نہیں ٹھہر سکتی۔ کیونکہ بہت سے ایسے عجائبات بھی ہیں کہ ارباب شعبدہ بازی ان کو دکھلاتے پھرتے ہیں۔ گو وہ مکر و فریب ہی ہیں۔ مگر اب مخالف بداندیش پر کیونکر ثابت کر کے دکھا دیں کہ انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوئے ہیں۔ کسی نے سانپ بنا کر دکھلا دیا اور کسی
نے مردہ زندہ کر کے دکھلا دیا۔ اس یں۔ یہ مشکلات کچھ ہمارے زمانہ شکلات پیدا ہو گئی ہوں۔“ فی الحقیقت جو معجزات سے یہ ہوگا کہ محسوس ہونے کی وجہ ایسے ایسے معجزات دکھلاتے ہیں تو درجہ کے ہوں گے اور جتنے خلاف ہو جائے گی اور گویا ان سب کا میں اولیاء اللہ کی کرامات لوگوں رہا۔ جو لوگ اس امت مرحومہ میں کچھ ایسا یقین ہے کہ اگر کسی ضعیف تردد نہیں ہوتا۔ اس سے ظاہر کو اصلی معجزات کی تصدیق میں اور نئی روشنی والے جو عقلوں کی ہوں گے اور ادیان باطلہ پر حج کی کیا حالت ہوگی۔ پھر اس م بھی ہوں گے اور حدیث شریف پورے طور پر صادق آجائے کرامات دیکھ کر مشرف باسلام بزرگان دین کے تذکروں اور مگر مرزا قادیانی ہے وہ شعبدہ بازیاں ہوں کی تقریر خدانخواستہ اثر کر جا طبیعتوں میں آجائے گی۔ کے دفعیہ کی یہ تدبیر نکالی۔ ج جب انہوں نے نبوت کا د
نے مردہ زندہ کر کے دکھلا دیا۔ اس قسم کی دست بازیوں سے منزہ ہیں۔ جو شعبدہ باز لوگ کیا کرتے ہیں۔ یہ مشکلات کچھ ہمارے زمانہ ہی میں پیدا نہیں ہوئیں۔ بلکہ ممکن ہے کہ انہیں زمانوں میں یہ مشکلات پیدا ہو گئی ہوں ۔“
فی الحقیقت جو معجزات مشاہدہ و محسوس ہوں زیادہ تر مفید عام ہوں گے اور بڑا فائدہ ان سے یہ ہوگا کہ محسوس ہونے کی وجہ سے انبیائے سابقین کی تصدیق اور زیادہ ہوگی کہ جب امتی لوگ ایسے ایسے معجزات دکھلاتے ہیں تو ان کے نبی کے معجزات جو بالاصالت صادر ہوتے تھے ضرور اعلیٰ درجے کے ہوں گے اور جتنے خلاف عقل معجزات کتابوں میں لکھے ہیں سب کو مان لینے پر عقل مجبور ہو جائے گی اور گویا ان سب کا وقت واحد میں مشاہدہ ہو جائے گا۔ اسی وجہ سے جس جس زمانے میں اولیاء اللہ کی کرامات لوگوں نے رائے العین دیکھ لی ان کو وقوع معجزات میں ذرا بھی شک نہ رہا۔ جو لوگ اس امت مرحومہ میں اولیاء اللہ کے معتقد ہیں کرامات کے تواتر سے معجزات کا ان کو کچھ ایسا یقین ہے کہ اگر کسی ضعیف روایت سے بھی کوئی معجزہ ثابت ہو تو اس کے وقوع میں ذرا بھی تردد نہیں ہوتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس زمانے میں اگر معجزات صادر ہوں تو مسلمانوں کے اعتقاد کو اصلی معجزات کی تصدیق میں راسخ اور مستحکم کر دیں گے۔ جس سے نبوت پر ایمان مکمل ہو جائے گا اور نئی روشنی والے جو عقلوں کی اطاعت میں ایمان سے علیحدہ ہوئے جاتے ہیں دین سے خارج نہ ہوں گے اور ادیان باطلہ پر حجت قائم ہوگی کہ جس نبی کے تابع کا یہ حال ہو تو متبوع یعنی نبی ﷺ کی کیا حالت ہوگی۔ پھر اس مشاہدے کی بدولت جن کی طبیعت میں صلاحیت ہے وہ مشرف باسلام بھی ہوں گے اور حدیث شریف علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کا مضمون پورے پورے طور پر صادق آجائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوستان وغیرہ میں لاکھوں آدمی اولیاء اللہ کی کرامات دیکھ کر مشرف باسلام ہوتے گئے۔ جس سے دین کی روز افزوں ترقی ہوئی۔ جیسا کہ بزرگان دین کے تذکروں اور تواریخ سے واضح ہے۔
مگر مرزا قادیانی ان معجزات کو کتھا اور قصوں کے مد میں داخل کر کے فرماتے ہیں کہ ممکن ہے وہ شعبدہ بازیاں ہوں۔ مسلمان تو پہلے ہی سے ضعیف الاعتقاد ہو رہے تھے۔ اگر مرزا قادیانی کی تقریر خدانخواستہ اثر کر جائے تو رہا سہا ایمان بھی گاؤ خورد ہو جائے گا اور پوری پوری نیچریت طبیعتوں میں آجائے گی۔ مرزا قادیانی کو کس نے مجبور کیا تھا کہ خواہ مخواہ معجزے دکھلائے۔ جس کے دفعیہ کی یہ تدبیر نکالی۔ جس کا مقتضی یہ ہے کہ معجزے کل انبیاء کے بے اصل ٹھہر جائیں۔ ہاں جب انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ہر شخص کو بینہ اور نشانی طلب کرنے کی ضرورت ہوئی۔ کیونکہ
معجزہ نبوت کا لازمہ ہے۔ اگر فرمائیں کہ میں نے تو ظلی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ جو اولیاء اللہ کو حاصل ہے تو پوچھا جائے گا کہ وہ کون ولی ہے۔ جو ظلی نبوت کا دعویٰ کر کے بطور تحدی معجزے دکھلانے کو کھڑا ہو گیا تھا۔ جیسے کہ آپ معجزے اس غرض سے دکھلا رہے ہیں کہ نبوت ثابت ہو کسی تذکرے یا تاریخ میں بتلا دیں کہ فلاں ولی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں نبی اور رسول اللہ ہوں۔ خدا نے مجھے بھیجا ہے اور جو شخص مجھ پر ایمان نہ لائے وہ کافر اور دوزخی ہے اور اس کے پیچھے نماز درست نہیں اور میرے نام کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم کہا جائے اور میری بی بی کو ام المؤمنین کہو اور اس کے بعد یہ دعویٰ کیا ہو کہ میں معجزے بھی دکھلاتا ہوں۔
الحاصل ظلی نبوت اگر بمعنی ولایت لی جائے تو اس کے لئے معجزہ شرط نہیں۔ پھر معجزات دکھلانے کا دعویٰ ہی کیوں کیا اور اگر اس نبوت کا دعویٰ ہے جس کے لئے معجزہ شرط اور لازم ہے تو ان معجزات کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ ایسی کھلی کھلی نشانیاں ہوں کہ ہر شخص سمجھ جائے کہ ان کا تعلق خاص خدائے تعالیٰ کی قدرت سے ہے اور بداہتاً یہ معلوم ہو جائے کہ وہ امور آدمی کے اقتدار سے خارج ہیں۔ نہ مسمریزم کو ان میں دخل ہو نہ سحر کو ان سے تعلق نہ کاہنوں کی کہانت کو گنجائش ملے۔ جو پیش گوئیاں کرتے ہیں نہ عقل کا ان میں تصرف ہو۔
علامہ زرقانی نے (شرح مواہب اللدنیہ ج٣ص٢٧، فصل الوفد السابع) میں لکھا ہے کہ قبیلہ کندہ کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جس میں اسّی سوار تھے۔ انہوں نے بطور امتحان اپنی مٹھی میں ٹڈی رکھ لئے اور مٹھی بند کر کے کہا فرمائیے کہ اس میں کیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ یہ کام تو کاہنوں کا ہے اور کاہن و کہانت کا انجام دوزخ ہے۔ انہوں نے کہا پھر ہمیں کیونکر معلوم ہو کہ آپ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ حضور ﷺ نے وہیں پڑی ہوئی چند کنکریاں اٹھا کر فرمایا دیکھو یہ کنکریاں میری رسالت پر گواہی دیتی ہیں۔ چنانچہ ان کنکریوں سے تسبیح کی آواز انہوں نے اپنے کانوں سن لی اور وہ سب فوراً بول اٹھیں کہ ہم گواہی دیتی ہیں۔ بے شک آپ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ دیکھئے معجزہ اس کو کہتے ہیں کہ جس کے صدور میں سوائے قدرت الٰہی کے کسی اور چیز کا لگاؤ نہ ہو۔ نہ تصنع نہ شروط و قیود ہوں نہ پیچدار عبارتیں نہ ذو پہلو دار فقرے کہ جن سے موقع پر گریز کا رستہ ملے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے الہامات میں یہ سب باتیں ہوا کرتی ہیں۔
مرزا قادیانی کو عیسیٰ علیہ السلام کے تمام معجزات میں صرف ایک معجزہ پسند اور قابل تصدیق معلوم ہوا جو (براہین احمدیہ ص٤٦١ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج١ص٥٥٢) میں لکھا ہے۔ ”یہودا
معمہ ہے۔ اگر فرمائیں کہ میں نے تو ظلی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ جو اولیاء اللہ کو حاصل ہوگا کہ وہ کون ولی ہے۔ جو ظلی نبوت کا دعویٰ کر کے بطور تحدی معجزے دکھلانے کو جیسے کہ آپ معجزے اس غرض سے دکھلا رہے ہیں کہ نبوت ثابت ہو کسی تذکرے یا کہ فلاں ولی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں نبی اور رسول اللہ ہوں۔ خدا نے مجھے بھیجا پر ایمان نہ لائے وہ کافر اور دوزخی ہے اور اس کے پیچھے نماز درست نہیں اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جائے اور میری بی بی کو ام المومنین کہو اور اس کے بعد یہ معجزے بھی دکھلاتا ہوں۔ ظلی نبوت اگر بمعنی ولایت لی جائے تو اس کے لئے معجزہ شرط نہیں۔ پھر معجزات ں کیوں کیا اور اگر اس نبوت کا دعویٰ ہے جس کے لئے معجزہ شرط اور لازم ہے تو لئے یہ بھی شرط ہے کہ ایسی کھلی کھلی نشانیاں ہوں کہ ہر شخص سمجھ جائے کہ ان کا تعلق کی قدرت سے ہے اور بداہتاً یہ معلوم ہو جائے کہ وہ امور آدمی کے اقتدار سے نجوم کو ان میں دخل ہے نہ سحر کو ان سے تعلق نہ کاہنوں کی کہانت کو گنجائش ملے۔ سکتے ہیں نہ عقل کا ان میں تصرف ہو۔ زرقانی نے (شرح مواہب اللدنیہ ج ٣ ص ٢٧ فصل الوفد السابع) میں لکھا ہے کہ قبیلہ حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جس میں اسی سوار تھے۔ انہوں نے دست میں ٹڈی رکھ دیئے اور آنکھ بند کر کے کہا فرمائیے کہ اس میں کیا ہے۔ سبحان اللہ یہ کام تو کاہنوں کا ہے اور کاہن و کہانت کا انجام دوزخ ہے۔ تاکہ معلوم ہو کہ آپ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ حضور ﷺ نے وہیں سے اٹھا کر فرمایا دیکھو یہ کنکریاں میری رسالت پر گواہی دیتی ہیں۔ چنانچہ ان کی آواز انہوں نے اپنے کانوں سن لی اور وہ سب فوراً بول اٹھیں کہ ہم گواہی کہ آپ رسول اللہ ﷺ ہو۔ دیکھئے معجزہ اس کو کہتے ہیں کہ جس کے صدور میں کے کسی اور چیز کا لگاؤ ہے۔ نہ تصنع نہ شروط و قیود ہیں نہ پیچدار عبارتیں نہ وہ پہلو موقع پر گریز کا رستہ ملے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے الہامات میں یہ سب
قادیانی کو عیسیٰ علیہ السلام کے تمام معجزات میں صرف ایک معجزہ پسند اور قابل براہین احمدیہ ص ٤٦١ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٥٦) میں لکھا ہے۔ ”یہودا
اسکریوطی کی خراب نیت پر مسیح کا مطلع ہو جانا اس کا ایک معجزہ ہی تھا۔ جو اس نے اپنے شاگردوں اور صادق الاعتقاد لوگوں کو دکھلایا۔ اگر اس کے دوسرے سب عجیب کام باعث قصہ حوض اور بوجہ آیۂ مذکورہ بالا ’وما قدروا الله حق قدرہ‘ کے مخالف نظر میں قابل انکار اور محل اعتراض ٹھہر گئے اور اب بطور حجت مستعمل نہیں ہو سکتے۔ لیکن معجزہ مذکورہ بالا منصف مخالف کی نظر میں بھی ممکن ہے کہ ظہور میں آیا ہو۔“ معجزہ مذکورہ بالا کا اشارہ اس طرف ہے کہ ایک شخص نے عیسیٰ علیہ السلام سے نشانی طلب کی انہوں نے کہا کہ کوئی نشان دیا نہ جائے گا۔ اسی کی نسبت مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ وہ ظہور میں آیا ہو۔ جس معجزے کو خود قبول کرتے ہیں۔ اس کی نسبت فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ ظہور میں آیا ہو اس سے ظاہر ہے کہ دوسرے معجزات حیز امکان ہی سے خارج ہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ جتنے معجزات عیسیٰ علیہ السلام کے حق تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمائے ہیں۔ ان کا ظہور مرزا قادیانی کے نزدیک ممکن ہی نہیں۔ جب قرآن کی تصدیق میں یہ حال ہے تو حدیث واجماع کا کیا پوچھنا ہے۔ جن معجزات کی نسبت حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’وجاء تهم رسلهم بالبينات (یونس: ١٣)‘ یعنی انبیاء کھلے کھلے معجزے اپنی قوموں کو دکھلایا کرتے تھے۔ ایسے معجزے ممکن نہیں کہ مرزا قادیانی دکھلاسکیں۔ اس لئے کہ وہ قوت بشری کے امکان سے خارج ہیں اور مرزا قادیانی کو معجزے دکھلانے کی ضرورت ہے۔ اس لئے انہوں نے اصلی معجزات سے گریز کر کے یہ تدبیر نکال لی کہ معجزوں کی دو قسمیں کر دیں۔ ایک نقلی دوسری عقلی۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٣٠١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) میں لکھتے ہیں۔ ”دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارق عادت عقل کے ذریعے سے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو الہام الہی سے ملتی ہے۔ جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام کا وہ معجزہ جو صرح ممرد من قوارير ہے۔ جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا۔“ اور نیز (ازالۃ الاوہام ص ٣٠٤ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥) میں لکھتے ہیں کہ ”اس سے یہ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھلانا عقل سے بعید بھی نہیں۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں۔“ بلقیس کے اسلام کا واقعہ سورۂ نمل میں بشرح وبسط مذکور ہے۔ ہدہد کا نامہ لے جانا تخت کا ایک لمحے میں صدہا کوس سے آجانا۔ صرح ممرد من قوارير یعنی شیش محل اسی سے
متعلق ہیں۔ چونکہ کبوتر کی نامہ بری مشہور ہے۔ شاید ہدہد کا بھی اسی پر قیاس کیا جائے گا کہ اس کو بھی تعلیم دی گئی ہوگی۔ مگر ادنیٰ تامل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ تعلیم پذیر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ وہ وحشی الطبع ہے۔ قفس سے چھوٹتے ہی اڑ جاتا ہے اور پھر واپس آنے کی توقع نہیں اور کبوتر کتنا ہی دور اڑے اپنے مالک کے گھر آجاتا ہے۔ غرض ہدہد کے ذریعے نامہ و پیام کرنا ایک ایسا معجزہ تھا کہ انسانی قوت کو اس میں کچھ بھی دخل نہیں اور اس سے بڑھ کر تخت کے منگوانے کا معجزہ تھا۔ تفاسیر میں لکھا ہے کہ بلقیس کو تخت سے نہایت دل چسپی تھی۔ جب اس نے سلیمان علیہ السلام کی طرف جانے کا قصد کیا تو اس تخت شاہی کو ایک ایسے مکان میں رکھا جس میں سات حجرے در حجرے تھے۔ ساتویں حجرے میں اس کو رکھ کر تمام حجروں کو مقفل کر دیا تاکہ کسی کا گزر وہاں نہ ہو۔ پھر مزید احتیاط کے لئے پہرے چوکیاں اس مکان کی حفاظت کے لئے مقرر کئے۔ اب خیال کیجئے کہ جس تخت کے ساتھ ملکہ کو ایسی دلچسپی ہو اس میں کیسی کیسی خوردہ کاریاں اور صنعتیں نہ ہوں گی۔ یہی وجہ تھی کہ سلیمان علیہ السلام نے اس کی تمام ریاست واملاک سے صرف اسی تخت کو منتخب کر کے منگوالیا۔ تاکہ ان کا تعلق خاطر اس مرغوب ومحبوب چیز سے نہ رہے۔ چنانچہ مولانا روم فرماتے ہیں۔
ترک مال وملک کرد او آنچناں کہ ترک نام وننگ آں عاشقاں
ہیچ مال و ہیچ مخزن ہیچ رخت می دریغش نامد الا جز کہ تخت
پس سلیماں از وش آگاہ شد کز دل اوتا دل او راہ شد
دیداز دورش کہ آں تسلیم کیش تلخیش آمد فرفت آں تخت خویش
آں بزرگی تخت کز حدی فزود نقل کردن تخت را امکاں نبود
خوردہ کاری بود و تقطیعش خطر ہمچو اوصال بدن باہم دگر
پس سلیماں گفت گرچہ فی الاخبر سرد خواہد شد برد تاج وسریر
لیک خود با ایں ہمہ بر نقد حال جست باید تخت اورا انتقال
تانہ گردد خستہ ہنگام لقا کو دگانہ حاجتش گردد روا
پھر بلقیس کی اقامت کے لئے ایک محل بنوایا۔ جس کا فرش شیشے کا تھا اور اس کے تلے ایک حوض جس میں مچھلیاں چھوڑی ہوئی ان شفاف شیشوں سے نمایاں ہوتی تھیں۔ جب بلقیس آئیں تو سلیمان علیہ السلام نے کہا اھکذا عرشک یعنی کیا تمہارا بھی تخت ایسا ہی تھا۔ اس کے
جواب میں اس خیال سے کہ اتنا بڑا اپنا تخت اس مدت قلیل میں صحیح و سالم کیونکر پہنچ سکتا ہے۔ بادی النظر میں یہ کہہ تو دیا کہ کانه هو یعنی یہ ہو بہو ویسا ہی ہے۔ مگر سلیمان علیہ السلام کے سوال کو سوچا کہ اس سے عقل کا امتحان مقصود ہے اور تخت کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنا ہی تخت ہے۔ جو معجزے سے صحیح و سالم پہنچ گیا ہے اور فوراً کہہ دیں کہ ” واوتينا العلم من قبلها وكنا مسلمین“ یعنی ہم کو تو اس معجزے سے پہلے ہی آپ کا برگزیدہ خدا ہونا معلوم ہو گیا تھا اور تب ہی آپ کو مان گئے تھے۔ اس سوال و جواب کے بعد بلقیس سے کہا گیا کہ اس محل میں جاؤ انہوں نے وہاں پانی خیال کر کے پائنچے اٹھالئے ، کہا گیا اس کی ضرورت نہیں شیشے کا فرش ہے اس وقت انہوں نے کہا ” رب انی ظلمت نفسی واسلمت مع سليمان لله رب العالمين“ یعنی میں نے بے شک اپنے نفس پر ظلم کیا کہ ایسے جلیل القدر نبی کے پاس آنے میں تاخیر کی جن کی سلطنت ظاہری کا یہ حال کہ پرند چرند جنات تک تابع فرمان اور سلطنت باطنی کی وہ کیفیت کہ محال کو تصرف باطنی اور معجزے سے واقع کر دکھاتے ہیں اور شفقت اور عزت بخشی گئی۔ یہ صورت کہ ایسا بے مثل وبے نظیر مکان آنے سے پہلے تیار کر رکھا غرض اس معذرت کے بعد اپنے قدیم ایمان کو اسلمت مع سليمان لله رب العالمين کہہ کر سلیمان علیہ السلام کی تسکین کردی۔
اب دیکھئے کہ بلقیس کا ایمان تخت دیکھنے کے وقت قرآن شریف سے ثابت ہے۔ جس پر وکنا مسلمین گواہی دے رہا ہے اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ شیش محل کا عقلی معجزہ دیکھ کر انہوں نے ایمان لایا۔ افسوس کا مقام ہے کہ صرف اس غرض سے کہ کوئی عقلی معجزہ ثابت کر کے اپنے عقلی تدابیر کو معجزے قرار دیں اور نبی بن بیٹھیں ۔ قرآن میں تصرف کر رہے ہیں کہ واقعات کی شکل بدل کر تحریف اور تفسیر بالرائے کرتے ہیں۔ پھر جہاں خود کو ضرورت ہوتی ہے تو فرماتے ہیں۔ تفسیر بالرائے کرنا مسلمان کا کام نہیں۔ اب ان کو کیا کہنا چاہئے۔ اس سے بڑھ کر قرآن میں کیا تصرف ہوگا کہ حق تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے کے باب میں فيكون طيراً باذن الله فرماتا ہے کہ ان کی بنائی ہوئی چڑیاں پرندہ ہو جاتی تھیں اور وہ کہتے ہیں پرندہ نہیں ہوتی تھیں بلکہ جس مٹی سے وہ چڑیاں بناتے وہ اپنے حال پر رہتی تھیں یعنی پرند نہیں بنتی تھیں۔ کما مر !
مرزا قادیانی (براہین احمدیہ ص ١٥٩ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ١٦٦) میں جہاں وحی اور کتاب آسمانی کی ضرورت ثابت کرتے ہیں لکھتے ہیں کہ ” جو لوگ اپنی عقل کے زور سے خدا کی معرفت کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا یہ خیال ہے کہ ہم نے اپنی ہی عقل کے زور سے خدا کا پتا لگایا ہے اور ہمیں انسانوں کو ابتداء میں یہ خیال آیا کہ کوئی خدا مقرر کرنا چاہئے اور ہماری ہی کوششوں سے وہ گوشہ
گمنامی سے باہر نکلا وغیرہ پھر لکھتے ہیں کہ یہ اعتقاد بت پرستوں کے اعتقاد سے کچھ نہیں۔ جب عقل سے خدا کو پہچاننا بغیر وحی آسمانی کے بت پرستی سے کم نہ ہو تو عقل سے وحی الٰہی کو رد کرنے کا کیا حال ہونا چاہئے اور نیز (براہین احمدیہ ص ٤٠٨ حاشیہ نمبر ١١، خزائن ج ١ ص ٤٨٨) میں لکھتے ہیں ۔ ”پس اس صورت میں ہماری نہایت کم ظرفی اور سفاہت ہے کہ ہم اس اقل قلیل پیمانہ کے پیمانے سے خدا تعالیٰ کی غیر محدود حکمتوں اور قدرتوں کو ناپنے لگیں۔“
اور نیز (براہین احمدیہ ص ٢٩٠ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٣٢٧) میں لکھتے ہیں۔ ”اے لوگو! اس بات کے سمجھنے میں کچھ دقت نہیں کہ عقل انسانی مغیبات کے جاننے کا آلہ نہیں ہو سکتی۔“
فی الواقع یہ بات بدیہی ہے کہ زمانہ گذشتہ کے واقعات ہمارے حق میں مغیبات ہیں۔ جن میں عقل چل نہیں سکتی۔ پھر اس کو آلہ بنا کر قرآن کو رد کیوں کر رہے ہیں۔ شاید یہاں یہ کہا جائے گا کہ بذریعہ الہام معلوم ہوا کہ ان کے بنائے ہوئے پرندے طیر نہیں ہوتے تھے تو ہم کہیں گے کہ خدائے تعالیٰ ”فیکُون طیراً باذن الله (آل عمران:٤٩)“ فرماتا ہے اور ان کا الہام اس کی تکذیب کرتا ہے تو ایسا الہام بے شک شیطانی ہے۔ جس کے مرزا قادیانی بھی قائل ہیں۔
تقریر بالا سے معلوم ہوا کہ کلوں کا ایجاد کرنا شیشے کا فرش بچھانا مرزا قادیانی کے نزدیک معجزات سے ہیں جو نبوت پر دلیل ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے سلیمان اور عیسیٰ علیہما السلام کے معجزات سے ثابت کیا۔ اس صورت میں یہ کہنا پڑے گا کہ امریکا اور یورپ میں جتنی کلیں ایجاد کرنے والے ہیں وہ سب انبیاء ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کی کیا خصوصیت۔ شاید یہاں یہ کہا جائے گا کہ ہمیں الہام بھی ہوتا ہے سو یہ جواب نہیں ہو سکتا اس لئے کہ شہد کی مکھی کو بھی الہام بلکہ وحی ہوتی ہے۔ ”اوحٰی ربك الیٰ النحل (نحل: ٦٨)“ اور ہر فاسق و فاجر کو بھی الہام ہوتا ہے ”فالهمها فجورها وتقوٰها (شمس: ٨)“ جب بھی مرزا قادیانی کی خصوصیت نہ رہی۔
عقلی معجزات ثابت کرنے سے مرزا قادیانی کا مقصود یہی معلوم ہوتا ہے کہ جتنی کارروائیاں وہ کمال دانائی سے کر رہے ہیں جن کی تہ تک ہر کسی کی عقل نہیں پہنچ سکتی۔ معجزے سمجھے جائیں مثلاً براہین احمدیہ کو اس چالاکی اور حزم سے لکھا کہ بہت سے مولویوں نے اس کی تصدیق کر لی اور ان کو خبر تک نہ ہوئی کہ ہم کن باتوں کی تصدیق کر رہے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ وہی الہام جو براہین میں لکھے تھے ان کی تفسیر کر کے مولویوں کو کافر اور اپنے کو عیسیٰ موعود بنا لیا اور نیز پیش گوئیوں میں ایسے مفید شروط و قیود لگاتے ہیں کہ ہر پہلو پر کامیابی ہو۔ مثلاً مسٹر آتھم کی موت کی پیش گوئی کی
کہ اگر رجوع الی الحق نہ کرے تو اتنے سال میں مر جائے گا۔ جب اس مدت میں نہ مرا تو فرمایا کہ اس نے رجوع الی الحق ضرور کی تھی۔ اب وہ ہزار طرح سے کہے کہ میں نے رجوع الی الحق نہیں کی۔ مگر سب کا ایک ہی جواب کہ دشمن کی بات کا اعتبار ہی کیا۔
جحا کے حالات میں لکھا ہے کہ کسی دوست نے ان سے گدھا مانگا۔ انہوں نے عذر کیا کہ کوئی شخص لے گیا ہے یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ گدھا پکارا اور اس دوست نے کہا کہ حضرت گدھا تو گھر میں موجود ہے۔ جحا صاحب تھے بڑے ہوشیار فوراً جواب دے دیا کہ تم بھی عجیب آدمی ہو میں خود کہہ رہا ہوں کہ گدھا نہیں ہے اور تم گدھے کی بات کا اعتبار کرتے ہو کیا گدھے کی گواہی بھی قبول ہو سکتی ہے۔
الغرض جس کا حال آئندہ معلوم ہوگا اس کے واقعے سے ظاہر ہے کہ کس دانائی اور عقلی معجزے سے اس نے اپنی نبوت جمائی۔ جس پر لوگ ایمان بھی لائے ۔ مگر اسلام اس کو اسی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جو کسی کذاب مفتری حیلہ ساز کو دیکھنا چاہئے۔ اس قسم کی کارروائیوں کو معجزات تو کیا استدراج بھی نہیں سمجھ سکتے۔ غرض مرزا قادیانی کے عقلی معجزے معجزات ہی سمجھے جائیں تو جتنے جھوٹے نبیوں نے اس قسم کے معجزے دکھلائے ان کی نبوت کی بھی تصدیق کرنی پڑے گی۔ اس لئے کہ نبوت ملزوم ہے اور معجزات اس کے لازم مساوی، اور قاعدہ مسلم ہے کہ لازم مساوی کے وجود سے ملزوم کا وجود ہو جاتا ہے۔ غرض کہ ان معجزات کی تصدیق سے نبوت کی خود تصدیق ہو جائے گی۔ مگر جو شخص خاتم النبیین پر ایمان لایا ہو وہ ان کی نبوت کی تصدیق کو کفر جانتا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کے عقلی معجزے اعتبار کے قابل نہیں۔ مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٢٨١، خزائن ج ٣ ص ٢٤٤) میں لکھتے ہیں کہ ”یہی معجزہ آسمان سے اترنے کا ہمارے نبی ﷺ سے بھی مانگا گیا تھا اور اس وقت اس معجزے کے دکھلانے کی بھی ضرورت بہت تھی۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے انکار رسالت کرنے سے جہنم ابدی کی سزا تھی۔ مگر پھر بھی خدائے تعالیٰ نے یہ معجزہ نہ دکھلایا اور سائلوں کو صاف جواب ملا کہ اس دارالابتلاء میں ایسے کھلے کھلے معجزات خدائے تعالیٰ ہرگز نہیں دکھاتا۔ ایمان بالغیب کی صورت میں فرق نہ آئے۔“
مرزا قادیانی کی اس تقریر سے ظاہر ہے کہ کھلے کھلے معجزات حق تعالیٰ ہرگز نہیں دکھاتا۔ مگر حق تعالیٰ نے اس کا رد پہلے ہی فرما دیا۔ چنانچہ قرآن شریف میں انبیاء کے معجزات کی نسبت بکثرات ومرّات آیات بینات کا لفظ فرمایا ہے۔ جس کے معنی کھلے کھلے معجزات کے ہیں۔ یہاں مرزا قادیانی کو اس وجہ سے موقع ملا کہ کفار باوجود کھلے کھلے معجزات دیکھنے کے اقسام اقسام کے
معجزے طلب کرتے تھے۔ کوئی کہتا کہ زمین سے چشمے جاری کر دو تاکہ زراعت خوب ہونے لگے۔ کوئی کہتا کہ اپنے لئے بہت ہی شاداب باغ بنا لیجئے جس میں نہریں نخلستان انگور کی بیلیں وغیرہ بکثرت ہوں کوئی کہتا کہ ایک سونے کا گھر تیار کر دکھائے۔ کوئی کہتا کہ آسمان توڑ کر اس کا ایک ٹکڑا گرا کر دکھائے۔ کوئی کہتا کہ آسمان پر جا کر ایک کتاب ہمارے نام اتار لائے۔ اس قسم کے واہی فضول سوال ہر طرف سے ہونے لگے۔ جس سے حق تعالیٰ کا عتاب ان پر ہوا۔ اس پر مرزا قادیانی نے یہ بات جمائی کہ کھلے کھلے معجزات دکھلانے سے حق تعالیٰ انکار کرتا ہے۔ کیا شق القمر کھلی نشانی نہ تھی۔ جس کی مرزا قادیانی بھی (ازالۃ الاوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) میں تصدیق کرتے ہیں۔ یا جمادات و نباتات وحیوانات میں پورا پورا تصرف اس قابل نہ تھا کہ کھلی نشانی سمجھا جائے۔ معجزے کی حقیقت اگر سمجھ لی جائے تو معلوم ہوگا کہ کفار کے اس قسم کے سوالات کیسے فضول اور بے موقع تھے۔ بات یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ نے کسی نبی کو کسی قوم میں بھیجا تو ان کو چند نشانیاں ایسی دیں کہ جن کو تھوڑی بھی عقل اور طبیعت میں راستی تھی وہ مان گئے کہ بے شک یہ نشانیاں خدا ہی کی دی ہوئی ہیں۔ ممکن نہیں کہ کوئی مفتری اس قسم کا کام کر سکے۔ اس لئے وہ انبیاء کی تصدیق کرتے اور ان پر ایمان لاتے تھے۔ اس کی توضیح کے لئے ہم ایک مثال بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ خدائے تعالیٰ کے کارخانے کی کوئی مثال نہیں بن سکتی۔ مگر سمجھنے کے لئے ان مثالوں سے تائید ملتی ہے۔ یہ بات ہر شخص جانتا ہے اور اکثر اس کا تجربہ ہے کہ جب کسی کو اپنے مکان سے مثلاً کسی چیز کے منگانے کی ضرورت ہوتی ہے تو مالک مکان کسی اعتمادی شخص کے ہاتھ بطور نشانی کوئی ایسی چیز بھیجتا ہے کہ گھر والے جان لیں کہ وہ مالک مکان کی بھیجی ہوئی ہے۔ پھر وہ فرستادہ شخص جب وہ نشانی ان لوگوں کو دکھا دیتا ہے۔ وہ لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ مقصود مالک کا اس نشانی کے بھیجنے سے یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر فرستادہ شخص کو اپنا اعتمادی سمجھیں اور جو کچھ کہے مان لیں اور اس کی تعمیل کریں۔ اسی وجہ سے کیسی ہی بیش قیمت چیز وہ طلب کرے تو فوراً دے دیں گے اور اگر نہ دیں تو مالک مکان ان پر عتاب اور باز پرس کرے گا کہ میں نے خاص اپنی ایسی نشانی بھیجی تھی۔ جو تم اس کو جانتے تھے کہ وہ میری ہی بھیجی ہوئی ہے۔ پھر تم نے اس کو دیکھ کر میرے حکم کی تعمیل میں کیوں توقف کیا۔ اسی طرح اگر وہ لوگ اس بھیجی ہوئی نشانی پر کفایت نہ کر کے یہ کہیں کہ فلاں نشانی لے آ مثلاً مالک کی پگڑی اتار لا۔ پھر وہ بھی قابل عتاب ہوں گے اور مالک ان سے پوچھے گا کہ میں نے جو نشانی بھیجی تھی اس سے مقصود حاصل ہو گیا تھا کہ وہ شخص میرا ہی بھیجا ہوا ہے۔ پھر اس پر کفایت نہ کر کے میرے بھیجے ہوئے شخص کی توہین کیوں کی گئی اور اس مسخرگی کی کیا وجہ کہ فلاں نشانی اور فلاں
تے تھے۔ کوئی کہتا کہ زمین سے چشمے جاری کر دو تا کہ زراعت خوب ہونے لگے۔ چلے بہت ہی شاداب باغ بنا لیجئے جس میں نہریں نخلستان انگور کی بیلیں وغیرہ تا کہتا کہ ایک سونے کا گھر تیار کر دکھائے۔ کوئی کہتا کہ آسمان توڑ کر اس کا ایک ٹکڑا کوئی کہتا کہ آسمان پر جا کر ایک کتاب ہمارے نام اتار لائے۔ اس قسم کے واہی رف سے ہونے لگے۔ جس سے حق تعالیٰ کا عتاب ان پر ہوا۔ اس پر مرزا قادیانی کہ کھلے کھلے معجزات دکھلانے سے حق تعالیٰ انکار کرتا ہے۔ کیا شق القمر کھلی نشانی نہ اقادیانی بھی (ازالۃ الاوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) میں تصدیق کرتے ہیں۔ ت و حیوانات میں پورا پورا تصرف اس قابل نہ تھا کہ کھلی نشانی سمجھا جائے۔ اگر سمجھ لی جائے تو معلوم ہو گا کہ کفار کے اس قسم کے سوالات کیسے فضول اور بے ہے کہ جب خدائے تعالیٰ نے کسی نبی کو کسی قوم میں بھیجا تو ان کو چند نشانیاں وڑی بھی عقل اور طبیعت میں راستی تھی وہ مان گئے کہ بے شک یہ نشانیاں خدا ہی مکن نہیں کہ کوئی مفتری اس قسم کا کام کر سکے۔ اس لئے وہ انبیاء کی تصدیق مان لاتے تھے۔ اس کی توضیح کے لئے ہم ایک مثال بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ خانے کی کوئی مثال نہیں بن سکتی۔ مگر سمجھنے کے لئے ان مثالوں سے تائید ملتی جانتا ہے اور اکثر اس کا تجربہ ہے کہ جب کسی کو اپنے مکان سے مثلاً کسی چیز ت ہوتی ہے تو مالک مکان کسی اعتمادی شخص کے ہاتھ بطور نشانی کوئی ایسی چیز جان لیں کہ وہ مالک مکان کی بھیجی ہوئی ہے۔ پھر وہ فرستادہ شخص جب وہ ہتا ہے۔ وہ لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ مقصود مالک کا اس نشانی کے بھیجنے سے یہ تادہ شخص کو اپنا اعتمادی سمجھیں اور جو کچھ کہے مان لیں اور اس کی تعمیل کریں۔ قیمت چیز وہ طلب کرے تو فوراً دے دیں گے اور اگر نہ دیں تو مالک مکان کرے گا کہ میں نے خاص اپنی ایسی نشانی بھیجی تھی۔ جو تم اس کو جانتے تھے تا ہے۔ پھر تم نے اس کو دیکھ کر میرے حکم کی تعمیل میں کیوں توقف کیا۔ اسی لی ہوئی نشانی پر کفایت نہ کر کے یہ کہیں کہ فلاں نشانی لے آ مثلاً مالک کی جب بھی قابل عتاب ہوں گے اور مالک ان سے پوچھے گا کہ میں نے جو صود حاصل ہو گیا تھا کہ وہ شخص میرا ہی بھیجا ہوا ہے۔ پھر اس پر کفایت نہ کر س کی توہین کیوں کی گئی اور اس مخبر کی کیا وجہ کہ فلاں نشانی اور فلاں
نشانی لا۔ جس سے سراسر میری توہین کی گئی اور میرا فعل لغو ٹھہرایا گیا۔ ادنیٰ تامل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس سوال کا جواب ان بیہودہ سوال کرنے والوں سے کچھ نہ ہو سکے گا۔ ہاں اس نشانی میں یہ ضرور ہے کہ مالک کے ساتھ اس کو ایسی خصوصیت ہو کہ کسی جعلسازی کارروائی اور دغابازی کا اشتباہ نہ ہو سکے اور اگر مشتبہ نشانی کی تصدیق کر لیں جو کوئی شخص اپنی عقل سے بنا سکتا ہے۔ جب بھی قابل باز پرس ہوں گے۔ اس لئے کہ اکثر بدمعاش مشتبہ نشانیاں بتا کر لوگوں کو دھوکہ دیا کرتے ہیں اور بے وقوف ان کی تصدیق کر کے نقصان اٹھاتے ہیں۔
اب غور کیجئے کہ نبی کی نشانی کس قسم کی ہونی چاہئے۔ اگر بقول مرزا قادیانی عقلی تدبیر ہی معجزہ ہو۔ جیسے شیش محل وغیرہ تو کیا یہ سمجھا جائے گا کہ وہ خاص خدا کی دی ہوئی نشانی ہے۔ ہرگز نہیں وہ تو ہر شخص جس کو معمولی عقل سے کچھ زیادہ ہو بنا لے سکتا ہے۔
(شرح مواہب الدنیہ ج ٣ ص ٢١) میں علامہ زرقانی نے لکھا ہے کہ مسیلمہ کذاب نے ایک بار کسی تدبیر سے بوتل میں سالم انڈا داخل کر کے قوم کے روبرو پیش کیا کہ دیکھو معجزہ اسے کہتے ہیں۔ چونکہ وہ تدبیر کسی کو معلوم نہ تھی سب مان گئے اور اسی قسم کے اور عقلی معجزے دکھلاتا تھا۔ جن کو جہلاء آیات بینات سمجھتے تھے۔ چنانچہ علامہ زرقانی نے (شرح مواہب ج ٤ ص ٤٣) میں لکھا ہے کہ جب وہ مارا گیا ایک شاعر نے مرثیہ لکھا۔ جس کا مطلب یہ کہ اس نے کھلی کھلی نشانیاں مثل آفتاب ظاہر کیں۔ کما قال!
كم آية لك فيهم كالشمس تطلع من غمامه
کتاب العقائد میں لکھا ہے کہ بعض دوائیں ایسی بھی ہیں کہ اگر سوتے وقت اس کا بخور لیا جائے تو آئندہ کے واقعات معلوم ہوتے ہیں۔ چنانچہ جھوٹے مدعی اسی قسم کے تدابیر سے پیش گوئیاں کرتے ہیں۔
پولس کا عقلی ہی معجزہ تھا کہ سلطنت چھوڑ کر نصاریٰ میں درویشی ہیئت سے گیا اور ان کا معتمد علیہ بن کر خوش بیانی اور پرزور تقریروں سے ان کو ان کے قبلے سے منحرف کر دیا اور کل جانور حلال کر دیئے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو ان کا خدا ٹھہرا دیا۔
اَخْلَق اَخْرَس کا عقلی ہی معجزہ تھا کہ دس برس گنگا رہا اور ایک رات کسی تدبیر سے چہرے کو منور بنا کر قرآن نہایت تجوید سے پڑھا علیٰ رؤس الاشہاد یہ دعویٰ کیا کہ مجھ سے جاہل اور گونگے شخص کو نبوت ملی چنانچہ تمام کتب آسمانی مجھے یاد ہو گئے اور اب بفضلہ تعالیٰ عالم ہوں جو چاہے مناظرہ کر لے۔
FC
خوزستانی کا عقلی ہی معجزہ تھا کہ کوفے میں ایک مدت ریاضت شاقہ اٹھا کر اپنی پر زور تقریروں سے سب کا معتقد علیہ بن گیا اور آخر تقلید وغیرہ چھڑا کر من لم یعرف امام زمانہ کی حدیث پر زور دیا اور ایک شخص کو امام زمان بنا کر ایک عالم کو تباہ کیا۔
بہا فرید بن ماہ کا عقلی ہی معجزہ تھا کہ ایک مہین قمیص جو کسی نے ویسی دیکھی نہ تھی۔ پہن کر دعویٰ کیا کہ مجھے یہ خلعت خدا نے دی ہے اور اس کے ساتھ کئی الہام اور مکاشفات شریک کر کے نبی بن بیٹھا۔
محمد ابن تومرت کا عقلی ہی معجزہ تھا کہ ایک عالم کو جاہل پاگل بنا کر ساتھ رکھ لیا۔ پھر ایک مجمع کثیر میں اس کو عالم بنا دیا اور نجوم سے پیش گوئی کی جو سچی نکلی جس سے ہزارہا آدمی تک معتقد ہو گئے۔
فتوحات اسلامیہ میں ہے کہ ایک شخص نے مسیحیت اور دوسرے نے مہدویت کا دعویٰ ایک ہی زمانے میں کیا اور مسیح نے بہت سے عقلی معجزات دکھلائے۔ جس سے لوگ دونوں کے تابع ہو گئے۔
مغیرہ ابن سعید جس نے ایک فرقہ مغیریہ قائم کر لیا تھا۔ اس نے بھی عقلی ہی معجزات دکھلائے تھے جو از قسم نیرنجات و طلسمات تھے۔
مقنع نے چند عقلی معجزات دکھلا کر الوہیت کا دعویٰ کیا۔
ہربلغ کا عقلی ہی معجزہ تھا کہ اپنے گروہ سے متفق اللفظ کہلوا دیا کہ ہم ہر صبح و شام اپنے بزرگوں کو دیکھ لیا کرتے ہیں۔
احمد کیال کا عقلی ہی معجزہ تھا کہ قرآن کے معارف اور علوم انفس و آفاق بیان کر کے لوگوں کو تقریر میں بند کر دیتا تھا۔ جس کا دعویٰ تھا کہ اپنا سا مقرر کسی زمانے میں پایا نہیں گیا۔
فارس بن یحییٰ عقلی ہی معجزات سے عیسیٰ موعود بن گیا تھا۔
تفصیلی حالات ان لوگوں کے حسن ظن کی بحث میں لکھے گئے ہیں وہاں دیکھ لئے جائیں اس کے سوا عقلی معجزے بہت ہیں۔ کہاں تک لکھے جائیں۔ طالبین حق کے لئے اتنے ہی کافی ہو سکتے ہیں۔
مرزا قادیانی نے ایک رسالہ (موسوم باعجاز المسیح ص٢، خزائن ج١٨ ص٢) لکھ کر اعلان دیا ہے کہ ستر دن میں یہ کتاب میں نے لکھی اور سید مہر علی شاہ صاحب نہ لکھ سکے اس لئے یہ کتاب معجزہ ہے۔ چنانچہ اسی اشتہار میں لکھتے ہیں۔ ”یہی تو معجزہ ہے اور معجزہ کیا ہوتا ہے“۔ یہ کتاب اگر معمولی
خط سے لکھی جائے تو چار جزو سے زیادہ نہیں ہے۔ اس پر مرزا قادیانی کا اپنے مکان میں لکھنا مخالفین کو اس اشتباہ کا موقع دیتا ہے کہ خود نے لکھی ہے یا کسی اور سے لکھوائی ہے۔ چنانچہ خود اسی اعلان میں فرماتے ہیں کہ مخالفین کا خیال ہے کہ یہ اس شخص کا کام نہیں۔ کوئی اور پوشیدہ طور پر اس کو مدد دیتا ہے۔ ستر دن میں چار جزو کی کتاب لکھنا یا لکھوانا اگر معجزہ ہے تو باوجود قلت علم کے اس زمانے میں بھی ایسے معجزات بکثرت ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کسی ادیب کے سامنے بیٹھ کر قلم برداشتہ کوئی کتاب لکھ دیں تو بھی وہ معجزہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ منشی ایسے کام کیا ہی کرتے ہیں۔ چہ جائیکہ اتنی مدت میں ایک چھوٹا سا رسالہ لکھا جائے اور اس میں دوسرے کی مدد کا گمان بھی ہو تو وہ کیونکر معجزہ سمجھا جائے۔ اگر مرزا قادیانی کوئی اعلان جاری فرمائیں کہ اتنی ہی بڑی مسجع کتاب کوئی لکھ دے تو میں نبوت کے دعویٰ سے توبہ کرتا ہوں تو ملاحظہ فرمالیں کہ کتنے رسالے شائع ہو جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ستر دن کی مہلت اس چار جزو کے رسالے کے واسطے جو قرار دی تھی اور مقابلہ کے لئے شاہ صاحب وغیرہ کو بلوایا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ طبیعت آزمائی اور لیاقت نمائی اس سے مقصود تھی۔ کیونکہ سجعوں کی تلاش اور تک بندی وغیرہ کے لئے کتب لغت وغیرہ کی مراجعت ضرور ہے اور اگر شاہ صاحب نے فی الواقع باوجود اقرار کے اس مدت میں کوئی کتاب نہیں لکھی تو بے شک مرزا قادیانی کی ذکاوت طبع اور ممارست فن ادب ان سے زیادہ ثابت ہوگی۔ مگر اس سے نبوت کا ثبوت محال ہے۔ عبارت میں تکلف سے سجعوں کا فراہم کرنا اور صنائع و بدائع کا التزام زائد از ضرورت ہے۔ جو صرف طبیعت آزمائی اور لیاقت نمائی کی غرض سے ہوا کرتا ہے۔ نبوت سے اس کو کچھ تعلق نہیں بلکہ ایسے تکلفات مذموم سمجھے جاتے ہیں۔ (بخاری شریف ج ٢ ص ٨٥٧، باب الكهانة ) میں ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا ”كيف اغرم يا رسول الله من لا شرب ولا اكل ، ولا نطق ولا استهل ، فمثل ذلك يطل “ حضرت نے فرمایا انما هذا من اخوان الكهان یعنی یہ تو کاہنوں کا بھائی ہے۔ چونکہ اعجاز المسیح میں اس کا التزام کیا ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ ان کو اظہار لیاقت مقصود ہے۔ اس مقام میں مخالف فیضی کی تفسیر کو ضرور پیش کرے گا۔ جس کی نسبت مرزا قادیانی ( براہین احمدیہ ص ٢٧٥ تا ٢٧٦ حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٣٣٨، ٣٣٩) میں لکھا ہے کہ ”بے نقط عبارتوں کا لکھنا نہایت سہل اور آسان ہے اور کوئی ایسی صنعت نہیں ہے جس کا انجام دینا انسان پر سخت مشکل ہوا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے منشیوں نے اپنے عربی اور فارسی کے املاء میں اس قسم کی بے نقط عبارتیں لکھی ہیں اور اب بھی لکھتے ہیں۔ بلکہ بعض منشیوں کی ایسی بھی عبارتیں موجود ہیں جن کے تمام حروف نقطہ دار ہیں اور کوئی بے نقط حرف ان میں داخل نہیں۔“
جب ذکاوت طبع ہی دکھانا منظور تھا تو کاش ایسی تفسیر لکھ دیتے جس میں تمام حروف نقطہ دار ہوں۔ جس سے مرزا قادیانی کی ذکاوت کا حال بھی معلوم ہو جاتا کہ فیضی کے برابر ہے یا زائد اور تمام مخالفین مان لیتے کہ مرزا قادیانی ہمارے زمانے میں فخر روزگار ہیں۔ اس موقع میں ہم فیضی کو ضرور قابل تحسین کہیں گے کہ باوجود یہ کہ پورے قرآن کی ایسی تفسیر لکھی مگر نہ دعویٰ نبوت کیا نہ اس کو معجزہ قرار دیا اور مرزا قادیانی چار ہی جزو کا رسالہ اور وہ بھی ایسا کہ تقریباً نصف میں تو سب وشتم اور مدح و ذم وخود ستائی وغیرہ معمولی باتیں ہیں اور باقی نصف میں اکثر عیسویت سے متعلق مباحث ہیں جو ایک زمانے کی مشاقی اور مزاولت و ممارست سے مرزا قادیانی کو حفظ ہیں۔ ستر دن میں لکھ کر اس کو معجزہ قرار دیتے ہیں یہ زمانے کے انقلاب کا اثر ہے۔ اگر مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ رسالہ الہام سے لکھا گیا ہے۔ جیسا کہ اس عبارت اشتہار سے ظاہر ہے کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ حقیقت میں ایک اور ہے جو مجھے مدد دیتا ہے۔ لیکن وہ انسان نہیں بلکہ وہی قادر وتوانا ہے۔ جس کے آستانے پر ہمارا سر ہے۔“
(اعجاز المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢)
اس صورت میں مرزا قادیانی کے غلبہ کی آسان تدبیر یہ تھی کہ شاہ صاحب کو لکھ بھیجتے کہ آپ مع چند علماء اور ہم کسی جگہ جمع ہوں پھر آپ جس سورۃ کی تفسیر چاہیں لکھنے کی فرمائش کر دیں۔ ہم بلا تکلف مسجع اور بلیغ و فصیح الہامی عبارت متصل کہتے جائیں گے اور آپ لکھ لیا کریں۔ پھر جب مرزا قادیانی اسی طرح عبارت لکھوا دیتے تو کسی کو کلام کی گنجائش ہی نہ رہتی اور ایک ہی جلسے میں فیصلہ ہو جاتا اور ممکن ہے کہ اب بھی یہی تدبیر فرمائیں، کیونکہ خدا کی مدد تو ابھی منقطع نہ ہوئی ہوگی۔
مگر یادرہے کہ انشاء پردازی کیسی ہی بلاغت وفصاحت کے ساتھ بے نقط کیوں نہ ہو اگر اعلیٰ درجے تک ترقی کرجائے تو بھی متنبی بنا سکتی ہے۔ نبی نہیں بنا سکتی کیونکہ رسول کے ساتھ نشانی ایسی ہونی چاہئے کہ اس کو بھیجنے والے کے ساتھ خصوصیت ہو، تا کہ پرسش کے وقت کسی کو اس عذر کا موقع نہ ملے کہ الٰہی وہ نشانی جو ہمیں دکھلائی گئی تھی وہ تو ہم جیسے ہی آدمی نے اپنی عقل سے بنالی تھی۔ کوئی بات مافوق العادت نہ تھی جو انسان کی قدرت سے خارج ہو۔
نشانی طلب کرنا انسان کی جبلت میں داخل ہے۔ اسی وجہ سے جب کبھی خدا تعالیٰ نے کسی قوم میں رسول بھیجا اس کے ساتھ کوئی نشانی بھی ایسی دی جس سے پوری حجت قائم ہو جاتی تھی اور نہ ماننے والوں پر عذاب نازل ہوتا۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ذلک بانهم كانت تاتيهم رسلهم بالبينات فكفرو فاخذ هم الله انه قوى شديد العقاب (مؤمن ٢٢)“ یعنی ان لوگوں کو رسولوں نے کھلی کھلی نشانیاں دکھلائیں۔ پھر جب
ادت طبع ہی دکھانا منظور تھا تو کاش ایسی تفسیر لکھ دیتے جس میں تمام حروف سے مرزا قادیانی کی ذکاوت کا حال بھی معلوم ہو جاتا کہ فیضی کے برابر ہے یا مان لیتے کہ مرزا قادیانی ہمارے زمانے میں فخر روزگار ہیں۔ اس موقع میں ہم ہم کہیں گے کہ باوجود یہ کہ پورے قرآن کی ایسی تفسیر لکھی مگر نہ دعویٰ نبوت کیا اور مرزا قادیانی چار ہی جزو کا رسالہ اور وہ بھی ایسا کہ تقریباً نصف میں تو سب خودستائی وغیرہ معمولی باتیں ہیں اور باقی نصف میں اکثر عیسویت سے متعلق زمانے کی مشاقی اور مزاولت وممارست سے مرزا قادیانی کو حفظ ہیں۔ ستر دن قرار دیتے ہیں یہ زمانے کے انقلاب کا اثر ہے۔ اگر مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے سے لکھا گیا ہے۔ جیسا کہ اس عبارت اشتہار سے ظاہر ہے کہ ”میں گواہی دیتا ایک اور ہے جو مجھے مدد دیتا ہے۔ لیکن وہ انسان نہیں بلکہ وہی قادر و توانا ہے۔ پر ہمارا سر ہے۔“
(اعجاز المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢)
رت میں مرزا قادیانی کے غلبہ کی آسان تدبیر یہ تھی کہ شاہ صاحب کو لکھ بھیجتے کہ ہم کسی جگہ جمع ہوں پھر آپ جس سورۃ کی تفسیر چاہیں لکھنے کی فرمائش کر دیں۔ بلیغ و فصیح الہامی عبارت متصل کہتے جائیں گے اور آپ لکھ لیا کریں۔ پھر جب رج عبارت لکھوا دیتے تو کسی کو کلام کی گنجائش ہی نہ رہتی اور ایک ہی جلسے میں ہے کہ اب بھی یہی تدبیر فرمائیں، کیونکہ خدا کی مدد تو ابھی منقطع نہ ہوئی ہوگی۔ رہے کہ انشاء پردازی کیسی ہی بلاغت وفصاحت کے ساتھ بے نقط کیوں نہ ہو ترقی کر جائے تو بھی منتہیٰ بنا سکتی ہے۔ نبی نہیں بنا سکتی کیونکہ رسول کے ساتھ ہے کہ اس کو بھیجنے والے کے ساتھ خصوصیت ہوتا کہ ترسل کے وقت کسی کو اس کہ الٰہی وہ نشانی جو ہمیں دکھلائی گئی تھی وہ تو ہم جیسے ہی آدمی نے اپنی عقل سے مافوق العادت نہ تھی جو انسان کی قدرت سے خارج ہو۔
طلب کرنا انسان کے جبلت میں داخل ہے۔ اسی وجہ سے جب کبھی خدا تعالیٰ سول بھیجا اس کے ساتھ کوئی نشانی بھی ایسی دی جس سے پوری حجت قائم ، ماننے والوں پر عذاب نازل ہوتا۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے: ”ذلک تيهم رسلهم بالبينات فكفروا فاخذهم الله انه قوی شدید العقاب (مومن ٢٢)“ یعنی ان لوگوں کو رسولوں نے کھلی کھلی نشانیاں دکھلائیں۔ پھر جب
انہوں نے نہ مانا تو اللہ نے ان کو پکڑا اور اللہ قوی اور شدید العقاب ہے۔
اب دیکھئے کہ جن نشانیوں کے قبول نہ کرنے پر سخت مواخذہ ہو وہ کیسی کھلی خوارق العادات ہونی چاہئیں جس میں کسی قسم کی جعلسازی کا اشتباہ نہ ہو۔ اسی وجہ سے حق تعالیٰ رسولوں کو بھیجنے سے پہلے ان کو نشانیاں دیا کرتا تھا۔ چنانچہ اس آیت سے ظاہر ہے: ”اذهب انت واخوک بآیاتی (طہ:٤٢)“ یعنی اے موسیٰ تم اور تمہارے بھائی میری نشانیاں لے کر فرعون کی طرف جاؤ اور ان نشانیوں یعنی عصاء اور ید بیضاء کا امتحان پہلے ہی کرا دیا گیا۔ جیسا کہ قرآن شریف میں مذکور ہے۔ پھر جب فرعون کے پاس وہ گئے تو پہلے یہی کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے اس کی نشانیاں لے کر تیرے پاس آئے ہیں۔ ”قد جئناك بآية من ربك (طہ:٤٧)“ اور آخر یہی نشانیاں دیکھ کر ہزارہا جادوگر وغیرہ مسلمان ہو گئے اور جان کی کچھ پروا نہ کی۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے: ”قالوا لن نؤثرك على ماجائنا من البينات والذي فطرنا فاقض ماانت قاض (طہ:٧٢)“ نشانیاں اس قوت کی ہوتی ہیں کہ ایک ہی جلسے میں اجنبیوں کو ایسے مسخر کر لیا کہ جان دینے پر مستعد ہو گئے اور کل انبیاء کی نشانیاں ایسی ہی ہوں گی۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے: ”فلما جاء تهم آياتنا مبصرة قالوا هذا سحر مبین وجحدوا بها واستيقنتها انفسهم ظلما وعلوا (نمل:١٣، ١٤)“ یعنی جب ان کے پاس ہماری نشانیاں آئیں آنکھیں کھول دینے والی تو لگے کہنے یہ تو صریح جادو ہے۔ اور باوجود یہ کہ ان کے دل یقین کر چکے تھے۔ مگر انہوں نے ظلم اور سرکشی سے ان کو نہ مانا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگرچہ نشانیاں دیکھ کر کفار انکار تو کرتے تھے۔ مگر ان کے دل ان کی منجانب اللہ ہونے کا یقین کر لیتے تھے اور ظاہر ہے کہ جب تک وہ نشانیاں قدرت بشری سے خارج نہ ہوں کبھی اس قسم کا یقین نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے جہاں لفظ آیات کا استعمال قرآن شریف میں ہوا ہے ایسے ہی چیزوں میں ہوا جو قدرت بشری سے خارج ہیں۔ مثلاً ”ومن آياته الليل والنهار والشمس والقمر (حم السجده:٣٧)“ ”ومن آياته يريكم البرق (روم:٢٤)“ ”ومن آياته ان يرسل الرياح (روم ٤٦)“ وغیرہ ذلک ہرچند یہ نشانیاں خاص قدرت الٰہی پر دال ہیں اور انبیاء سے متعلق نشانیاں ان کی نبوت پر دال تھیں۔ لیکن حق تعالیٰ نے ان دونوں قسموں پر آیات ہی کا اطلاق فرمایا۔ اس لئے کہ دونوں کا صدور خاص قدرت الٰہی سے متعلق ہے۔ اسی وجہ سے کل آیات کا انکار قدرت الٰہی کے انکار کو مستلزم ہے اور عموماً آیات میں جھگڑنے والوں کی شان میں حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وما يجادل فی
آيات الله الا الذين كفروا (مؤمن:٤) ”یعنی اللہ کی نشانیوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ ”كذلك يضل الله من هو مسرف مرتاب الذين يجادلون فی آيات الله بغير سلطان اتاهم كبر مقتاً عندالله وعند الذين آمنوا كذلك يطبع الله علىٰ كل قلب متكبر جبار (مؤمن:٣٥،٣٤) “یعنی ایسا ہی گمراہ کرتا ہے اللہ ان لوگوں کو جو حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور شک میں پڑے ہوئے ہیں اور بغیر سند کے اللہ کی نشانیوں میں جھگڑتے ہیں۔ ان کو بڑی بیزاری ہے۔ اللہ کے ہاں اور ایمانداروں کے ہاں۔ اس طرح مہر کرتا ہے۔ اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر یہ بات یادرہے کہ مرزا قادیانی نشانیوں کے باب میں جو جھگڑتے ہیں ان کے پاس بھی کوئی سند نہیں۔ کیا ممکن ہے کہ حوض کا قصہ قرآن کے مقابلے میں سند بن سکے۔ ہرگز نہیں اور حق تعالیٰ فرماتا ہے۔” ان الذین يجادلون فی آيات الله بغير سلطان اتاهم ان فی صدورهم الا كبر ماهم ببالغيه فاستعذ بالله انه هوالسميع البصير (مؤمن:٥٦)“ یعنی جن لوگوں کے پاس کوئی سند تو نہیں اور ناحق خدا کی نشانیوں میں جھگڑے نکالتے ہیں۔ ان کے دلوں میں تو بس بڑائی کی ایک ایسی ہی ہوس سمائی ہے کہ وہ اپنی اس مراد کو کبھی پہنچنے والے نہیں۔ ان لوگوں کی شرارتوں سے خدا کی پناہ مانگتے رہو۔ بے شک وہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔
مرزا قادیانی میں ایسی بڑائی کی ہوس سمائی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے برابر کسی طرح بن جائیں۔ مسیحائی کے درجے تک تو ترقی ممکن نہیں۔ اس لئے ان کی تنقیص میں اپنا یہ مقصود حاصل کرنا چاہتے ہیں اور حق تعالیٰ فرماتا ہے۔” ويوم نحشر من كل امة فوجاً ممن يكذب باياتنا فهم يوزعون حتّىٰ اذا جاءو قال اكذبتم بآياتی ولم تحيطوا بها علماً ا ماذا كنتم تعملون (نمل:٨٤،٨٣)“ یعنی اور جس دن گھیر لائیں گے ہم ہر فرقے سے ایک گروہ کو جو جھٹلاتے تھے ہماری نشانیاں پھر ان کی مثلیں بنائی جائیں گی۔ یہاں تک کہ جب وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے تو خدا ان سے پوچھے گا کہ باوجود یہ کہ تم نے ہماری نشانیوں کو اچھی طرح سمجھا بھی نہ تھا کیا تم نے ان کو بے سمجھے جھٹلایا اور کیا کرتے رہے۔
اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی نے نشانیوں کی حقیقت سمجھی نہیں۔ جب ہی تو انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے خوارق عادات کا انکار ہی کر دیا اور حق تعالیٰ فرماتا ہے۔” والذین يسعون فی آياتنا معاجزين اولئك فی العذاب محضرون (سباء:٣٨)“ یعنی جو لوگ مخاصمانہ ہماری نشانیوں کے توڑنے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں وہ عذاب میں رکھے
الذين كفروا (مؤمن:٤) ”یعنی اللہ کی نشانیوں میں وہی لوگ جھگڑتے كذلك يضل الله من هو مسرف مرتاب الذين يجادلون في آيات الله بغير سلطان اتاهم كبر مقتاً عندالله وعند الذين آمنوا كذلك يطبع الله على كل قلب متكبر جبار (مؤمن:٣٤، ٣٥) ”یعنی ایسا ہی گمراہ کرتا ہے جو حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور شک میں پڑے ہوئے ہیں اور بغیر سند کے اللہ کی نشانیوں میں جھگڑتے ہیں۔ ان کو بڑی بیزاری ہے۔ اللہ کے ہاں اور ایمانداروں کے ہاں بھی۔ اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر یہ بات یاد رہے کہ مرزا قادیانی کی آیتوں میں جو جھگڑتے ہیں ان کے پاس بھی کوئی سند نہیں۔ کیا ممکن ہے کہ حوض کا قطرہ مقابلے میں سند بن سکے۔ ہرگز نہیں اور حق تعالیٰ فرماتا ہے۔” ان الذين يجادلون في آيات الله بغير سلطان اتاهم ان في صدورهم الا كبر ماهم ببالغيه فاستعذ بالله انه هوالسميع البصير (مؤمن:٥٦) ”یعنی جن لوگوں کے پاس کوئی سند نہیں اور ناحق خدا کی نشانیوں میں جھگڑے نکالتے ہیں۔ ان کے دلوں میں تو بس بڑائی کی ہوس سمائی ہے کہ وہ اپنی اس مراد کو کبھی پہنچنے والے نہیں۔ ان لوگوں کی شر سے خدا کی پناہ مانگتے رہو۔ بے شک وہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔ مرزا قادیانی میں ایسی بڑائی کی ہوس سمائی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے برابر کسی طرح بن جائیں۔ مگر اس درجے تک تو ترقی ممکن نہیں۔ اس لئے ان کی تنقیص میں اپنا یہ مقصود حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔” ويوم نحشر من كل امة فوجاً ممن يكذب بآياتنا فهم يوزعون حتى اذا جاءوا قال اكذبتم بآياتي ولم تحيطوا بها علماً أ ماذا كنتم تعملون (نمل:٨٣، ٨٤) ”یعنی اور جس دن گھیر لائیں گے ہم ہر فرقے سے ایک گروہ ان کا جو جھٹلاتے تھے ہماری نشانیاں پھر ان کی صفیں بنائیں جائیں گی۔ یہاں تک کہ جب وہ سب کے سب حاضر ہوں گے تو خدا ان سے پوچھے گا کہ باوجود یہ کہ تم نے ہماری نشانیوں کو اچھی طرح نہیں سمجھا تھا تو کیا تم نے ان کو بے سمجھے جھٹلایا اور کیا کرتے رہے۔ اس آیت میں کچھ شک نہیں کہ مرزا قادیانی نے نشانیوں کی حقیقت سمجھی نہیں۔ جب ہی تو انہوں نے انبیاء علیہم السلام کے خوارق عادات کا انکار ہی کر دیا اور حق تعالیٰ فرماتا ہے۔” والذين سعوا في آياتنا معاجزين اولئك في العذاب محضرون (سبا:٣٨) ”یعنی جو لوگ ہماری نشانیوں کے توڑنے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں وہ عذاب میں رکھے
جائیں گے۔ (ازالۃ الاوہام) کے دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مرزا قادیانی آیتوں کے توڑنے کے کیسے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ گویا انہوں نے اپنا کمال اسی میں سمجھ رکھا ہے۔ یہ نشانیوں میں جھگڑنے والوں کی خرابیاں تھیں۔ جن کو مرزا قادیانی بھی قرآن میں پڑھتے ہوں گے۔ مگر کچھ پروا نہیں کرتے اور جو لوگ ان پر ایمان لاتے ہیں ان کے لئے کیسی کیسی خوشخبریاں اور بشارتیں ہیں کہ نہ قیامت میں ان کو خوف ہوگا۔ نہ غم بلکہ اپنی بیبیوں کے ساتھ جنت میں جا کر اعلیٰ درجے کے عیش میں ہمیشہ رہیں گے۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔” يا عباد لا خوف عليكم ولا انتم تحزنون الذين آمنوا بآياتنا وكانوا مسلمين ، ادخلوا الجنة انتم وازواجكم تحبرون يطاف عليكم بصحاف من ذهب واكواب وفيها ماتشتهيه الانفس وتلذ الاعين وانتم فيها خالدون (زخرف:٦٨ تا ٧١) ”اب ہر شخص مختار ہے چاہے ایمان لا کر یہ دولت بے زوال حاصل کرے یا جھگڑے کر کے وہ عذاب ونکال حق تعالیٰ صاف فرماتا ہے۔” فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر (کہف:٢٩) “
اگر اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنا کر بھیجے اور نشانی دکھلانا اسی کے ذمہ کر دے کہ تو ہی اپنی عقل سے کوئی بات بنالے میں اپنی خاص قدرتی کوئی نشانی تجھے نہ دوں گا تو رسول کو عرض کرنے کا حق ہوگا کہ الٰہی کوئی بات عقل سے میں بنالوں تو آخر ان میں بھی عقلمند لوگ ہیں۔ اگر بھید کھل جائے یا ویسی ہی عقلی بات کوئی دوسرا بنا کر پیش کر دے تو صرف میری رسوائی نہ ہوگی۔ بلکہ تیری قدرت پر بھی الزام آئے گا کہ کیا خدا کوئی ایسی نشانی نہیں دکھلا سکتا تھا کہ آدمی کی قدرت سے خارج ہو اس سے تو رسالت کا مقصود ہی فوت ہو جائے گا۔
اب ہمارے نبی کریم ﷺ کے معجزات پر غور کیا جائے کہ ان کی کیسی کیسی کھلی قدرتی نشانیاں تھیں کہ عقل کے وہاں پر جلتے ہیں۔ جمادات، نباتات، حیوانات میں بلکہ عالم علوی تک تصرف کر دکھایا کہ ایک اشارے سے قمر کو شق فرما دیا کیا ممکن ہے کہ ایسی نشانیوں پر کوئی یہ الزام لگا سکے کہ حضرتؐ نے اپنی عقل سے کام لیا تھا۔ جب ایسی ایسی خارق العادت کھلی کھلی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی پھر اور نشانیاں کفار نے طلب کیں تو حکم الٰہی ہو گیا کہ بس اب ان سے کہہ دیا جائے کہ جو نشانیاں دی گئی تھیں وہ میں نے تمہیں دکھلادیں۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ تمہاری منہ بولی نشانیاں بھی دکھلایا کروں۔ البتہ ان کو اس قدر حق تھا کہ انصاف کی رو سے یہ شبہ پیش کرتے کہ جتنی نشانیاں دکھلائی گئیں ان کے آسمانی ہونے میں تأمل ہے۔ مگر ممکن نہ تھا کہ اس قسم کا شبہ پیش کرسکتے۔ ہاں بے ایمانی اور قصور عقل سے ساحر اور شاعر کہتے تھے۔ اس لئے کہ ان کی طبیعتوں
میں متمکن تھا کہ جو خلاف عقل کام ہو وہ سحر ہے۔ چنانچہ جب ان سے قیامت کا حال بیان کیا جاتا کہ تم مر کر پھر اٹھو گے تو یہی کہتے کہ یہ تو کھلے طور پر سحر ہے۔ ”ولئن قلت انكم مبعوثون من بعد الموت ليقولن الذين كفروا ان هذا الا سحر مبین (هود:٧)“ مگر یہ دعویٰ اس وقت قابل التفات ہوتا کہ کسی ساحر کو نظیرا پیش کر دیتے کہ شق القمر وغیرہ مافوق العادت کام اس نے کیا تھا یا کوئی ایسی کتاب پیش کر دیتے کہ فصاحت و بلاغت میں قرآن سے بڑھ کر یا برابر ہے۔ غرض صدہا خارق العادت نشانیاں دکھلانے کے بعد حضرت ﷺ کو کوئی ضرورت نہ تھی کہ ان کی فرمائشی نشانیاں بھی پیش کرتے۔
ہاں اس میں شک نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے معجزات وفات شریف تک جاری رہے۔ بلکہ اب تک جاری ہیں۔ مگر وہ کفار کے مقابلے میں اور برسبیل تحدی نہ تھے۔ چونکہ حضرت ﷺ کو تصرف فی الاکوان حاصل تھا۔ جس چیز سے چاہتے ایسا کام لیتے۔ جیسے خدمتگاروں سے لیا جاتا ہے۔ مثلاً جب میدان میں حاجت بشری کا تقاضا ہوتا تو درختوں کو کہلا بھیجتے وہ باہم ملکر مثل بیت الخلاء کے ہو جاتے۔ اسی طرح جب پانی کی ضرورت ہوتی تو خشک کنوئیں کو حکم ہو جاتا فوراً اس سے پانی ابلنے لگتا اور اس قسم کے صدہا بلکہ ہزارہا معجزے متصل وقوع میں آتے جن میں نہ کسی کا مقابلہ پیش نظر ہوتا نہ تحدی۔ چونکہ ان میں تحدی مقصود نہ تھی۔ اس لئے بعضوں نے ان خوارق کا نام معجزہ ہی نہیں رکھا کیونکہ یہ امور حضرت ﷺ کے حق میں ایسے معمولی تصرفات تھے۔ جیسے ہمارے تصرفات اپنے اعضاء و جوارح میں ہوتے ہیں۔ چنانچہ حکماء بھی اس بات کے قائل ہیں۔ جیسا کہ شیخؒ نے اشارات کے نمط تاسع میں لکھا ہے۔ ”والنبی متميز باستحقاق الطاعة الاختصاصه بالآيات تدل على انها من عندربه“ یعنی کمالات ذاتیہ کی وجہ سے نبی کو استحقاق حاصل ہوتا ہے کہ لوگ اس کی اطاعت کریں۔ جس کی وجہ سے وہ تمام عالم میں ممتاز ہوتا ہے۔ اس لئے کہ جو نشانیاں اس کو دی جاتی ہیں وہ یقیناً دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور وہ نشانیاں اسی کے ساتھ خصوصیت رکھتی ہیں۔ کوئی دوسرا وہ نشانیاں نہیں دکھلا سکتا۔
اور نیز شیخؒ نے اشارات کے نمط عاشر میں لکھا ہے۔ ”ولا يستبعد ان يكون لبعض النفوس ملكة يتعدى تاثيرها بدنها او يكون لقوتها كانها نفس ناطقة للعالم“ یعنی عقلاً یہ بعید نہیں کہ بعض نفوس کو ایسا ملکہ اور قوت حاصل ہو کہ بدن سے تجاوز ہو کر دوسری اشیاء پر اس کا اثر پڑے یا وہ نفس کمال قوت کی وجہ سے یہ درجہ رکھتا ہو کہ گویا تمام عالم کا نفس ناطقہ ہے اور اس میں ایسا تصرف کرے۔ جیسے دوسرے نفوس اپنے ابدان متعلقہ میں تصرف کرتے ہیں۔
یہاں مرزا قادیانی ضرور اعتراض کریں گے کہ یہ عقیدہ شرک فی التصرف ہے۔ جیسا کہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ خلق طیر وغیرہ میں کہا تھا مگر اس کا جواب یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے بعض صفات مختصہ اپنے بندوں کو بھی عطاء کئے ہیں۔ جیسا کہ سمع بصر علم قدرت ارادہ وغیرہ گو یہ صفات حق تعالیٰ میں علیٰ وجہ الکمال اور اصالۃً ہیں اور بندوں میں ناقص طور پر لیکن عطائے الٰہی ہونے کی وجہ سے آخر بندہ بھی سمیع و بصیر وغیرہ کہلاتا ہے۔ پھر ان میں بھی باہم تفاوت ہے۔ مثلاً کوئی بہت دور سے باریک چیز کو صاف دیکھتا ہے اور کوئی نزدیک سے موٹی چیز کو بھی پورے طور پر نہیں دیکھ سکتا۔ مگر بصیر دونوں کو کہیں گے۔ اسی طرح ہر شخص کو کچھ نہ کچھ تصرف بھی دیا گیا ہے۔ کسی کو اپنے گھر پر کسی کو محلے پر کسی کو شہر پر کسی کو ملک و اقلیم پر پھر تصرف بھی اقسام کے ہیں۔ کوئی اقلیم میں ایسا تصرف کرتا ہے جو دوسرا اپنے گھر میں بھی نہیں کر سکتا۔ پھر جیسے حکام ظاہر پر تصرف کرتے ہیں اسی طرح طبیب اور عامل آدمی کے باطن میں تصرف کرتے ہیں۔ جس کے آثار ظاہر جسم پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اسی طرح مسمریزم والا روح پر ایسا تصرف کرتا ہے کہ بعض معمول غیب کی خبریں دینے لگتا ہے اور ساحر ارواح خبیثہ پر تصرف کر کے نادر امور ظاہر کرتا ہے جو ان ارواح کے تحت تصرف ہیں۔ غرض حق تعالیٰ نے جس کو جس قدر قوت تصرف عطاء کی ہے وہ اپنے مقدورات میں اس کو پورے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اگر اختیاری تصرف مطلقاً شرک ہو تو کوئی شخص اس قسم کے شرک سے بچ نہ سکے گا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو کہ مخلوق کے کل تصرفات کا مدار حق تعالیٰ کی خلق پر ہے۔ ممکن نہیں کہ کوئی شخص اپنے تصرف سے کوئی چیز یا کوئی اثر پیدا کرلے۔ غایۃ الامر یہ ہے کہ عادت کی وجہ سے آدمی اپنا تصرف خیال کرتا ہے۔ حالانکہ در حقیقت وہ بھی تصرف الٰہی ہے۔ اس صورت میں کیا ہی خارق العادت تصرف فرض کیا جائے وہ تصرف الٰہی سے خارج نہیں ہو سکتا۔ بلکہ معمولی تصرفات مخلوق جب تصرف الٰہی سمجھے جائیں تو خارق العادت تصرف بطریق اولیٰ تصرف الٰہی سمجھا جائے گا۔ غرض مسلمانوں کے عقیدے میں جب یہ توحید جمی ہوئی ہے تو ان کے پاس شرک آنے ہی نہیں پاتا۔ البتہ جو لوگ مخلوق کو مستقل فی التصرف سمجھتے ہیں ان کے مشرک ہونے کے لئے خارق العادت تصرف کی کوئی ضرورت نہیں روزمرہ معمولی تصرفات ہی ان کو مشرک بنانے کے لئے کافی ہیں۔
اب ہم اس تصرف کا حال کسی قدر بیان کرتے ہیں۔ جس کو ہر شخص اپنے وجدان سے اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور یقیناً سمجھتا ہے کہ یہ کام میں نے اپنے ارادے اور قدرت سے کیا، یہ بات ظاہر ہے کہ جب آدمی کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے اس کام کا خیال آتا ہے۔ جس کو ہاجس
کہتے ہیں۔ قبل اس خیال کے آدمی اس سے غافل رہتا ہے۔ یعنی اس خیال کے آنے سے پہلے آدمی میں وہ خیال نہیں ہوسکتا ورنہ تقدم الشے علی نفسہ لازم آئے گا جو محال ہے۔ بسااوقات آدمی کسی کام میں مشغول رہتا ہے بلکہ چاہتا ہے کہ کوئی خیال نہ آئے۔ مگر وہ تو آہی جاتا ہے اور خبر تک نہیں ہوتی کہ کیونکر آگیا۔ پھر جب وہ نیا خیال آتا ہے تو پہلے سے جو خیال دل میں موجود رہتا ہے۔ اس کو ہٹا کر آپ اس کی جگہ قائم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ کبھی اس خیال کے اسباب ظاہراً موجود ہوتے ہیں۔ مثلاً کسی چیز کو دیکھنا یا سننا وغیرہ۔ مگر وہ خیال تو آخر عدم ہی سے وجود میں آکر نہانخانۂ دل میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وجود سے وجود میں آیا جو تحصیل حاصل اور محال ہے۔ پھر اس معدوم کو وجود دینا نہ شرعاً مخلوق سے ہو سکتا ہے نہ عقلاً۔ اگر اس ہاجس کا وجود آدمی کے اختیار میں ہو تو اوّل یہ لازم آئے گا کہ انسان بھی کسی معدوم شئے کو پیدا کرتا ہے۔ حالانکہ وہ بدیہی البطلان ہے اور قطع نظر اس کے اگر وہ اختیاری ہو تو ہر فعل اختیاری کے وجود سے پہلے اس کا علم پھر ایجاد کا ارادہ پھر عزم شرط ہے۔ حالانکہ ابھی معلوم ہوا کہ وہ یکا یک عدم سے وجود میں آتا ہے اور اگر اس کا علم و ارادہ پہلے سے موجود ہو تو اس میں بھی یہی کلام ہوگا کہ ان کا وجود ابتداً ہوا یا ان کا بھی پہلے سے علم وغیرہ تھا۔ یہاں تک کہ امور موجودہ واقعیہ میں تسلسل لازم آئے گا جو باطل ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ اس صورت خیالیہ کا وجود آدمی کے اقتدار و اختیار سے خارج اور خاص موجد حقیقی کے اختیار میں ہے۔ جس نے اس کو وجود عطاء کر کے آدمی کے دل میں جگہ دی اور اس کے تو حکماء بھی قائل ہیں کہ مؤثر حقیقی تمام اشیاء میں حق تعالیٰ ہے۔ جیسا کہ علامہ صدرالدین شیرازیؒ نے اسفار اربعہ میں لکھا ہے ”وقول المحققين منهم ان المؤثر في الجميع هو الله بالحقيقة“
الحاصل بدلائل یہ ثابت ہے کہ جو خیال آدمی کو آتا ہے اس کا خالق حق تعالیٰ ہی ہے۔ اس سے بڑھ کر کیا ہو کہ خود حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”واسروا قولكم اواجهروا به انه عليم بذات الصدور الا يعلم من خلق (ملك:١٣،١٤)“ یعنی خواہ تم آہستہ کوئی بات کہو یا با آواز بلند خدائے تعالیٰ تو اس بات کو بھی جانتا ہے جو سینوں میں چھپی ہوئی ہے۔ کیا ممکن ہے کہ جس نے اس کو پیدا کیا وہ نہ جانے اس سے ثابت ہے کہ دل میں بات کا پیدا کرنا خدا ہی کا کام ہے۔ مولانائے رومؒ فرماتے ہیں۔
دمبدم درمی رسد خیل خیال
در پئے ہم سوئے دل چوں میرسند
پھر اس خیال کا باقی رکھنا حق تعالیٰ ہی کا کام ہے۔ ممکن تھا کہ جیسے اس ہاجس کو خیال سابق کی جگہ قائم کیا تھا اس کی جگہ دوسرے خیال کو قائم کر دیتا۔ پھر احد الجانبین کی ترجیح بھی منجانب اللہ ہی ہے۔ اس لئے کہ حدیث نفس کے وقت جو منافع و مضار کی وجہ سے تردد تھا۔ اس کا منشاء ہم وعزم کی حالت میں بھی موجود ہے۔ باوجود اس کے عزم کی کیفیت جدیدہ کا ابتداً موجود ہونا بغیر موجد کے ممکن نہیں۔ غرض خیال کے ابتدائی وجود سے آخری درجہ عزم تک جتنے مدارج ہیں۔ یعنی ہاجس، خاطر، حدیث نفس، ہم اور عزم سب بخلق الٰہی ہیں۔ کسی درجے میں آدمی کے فعل کو دخل تام نہیں۔ پھر عزم سے متصل فعل شروع ہوتا ہے۔ اس کی کیفیت حکماء کے نزدیک یہ ہے جس کو شیخ نے قانون میں لکھا ہے کہ حرکت ارادی جو اعضاء سے متعلق ہے۔ اس کی تکمیل اس قوت سے ہوتی ہے جو دماغ سے بواسطہ اعصاب اعضاء میں پہنچتی ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ عضلات جو اعصاب و رباطات وغیرہ پر مشتمل ہیں۔ جب سمٹ جاتے ہیں تو وتر جو رباطات واعصاب سے ملتئم اور اعضاء میں نفوذ کئے ہوئے ہیں۔ کھنچ جاتا ہے۔ جس سے عضو کھنچ جاتا ہے اور جب عضلہ منبسط ہوتا ہے تو وتر ڈھیلا ہو جاتا ہے اور عضو دور ہو جاتا ہے۔ اس تقریر سے معلوم ہوا کہ جب نفس کسی ادراک کے بعد کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو عضلات کشش وغیرہ دیکھ کر کسی خاص وتر کے ذریعے سے جس عضو کو چاہتا ہے ایک خاص طور پر حرکت دیتا ہے۔
حکماء نے تصریح کر دی ہے کہ عضلات آدمی کے جسم میں پانچ سو انتیس اور اعصاب ستر ہیں۔ یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ نفس کو سر سے پاؤں تک جس عضو کو حرکت دینی ہو پانسو انتیس عضلات اور ستر اعصاب سے اس عضلہ اور اس عصب وغیرہ کو پہلے معین کرلے اور جو اس مقصود بالحرکت عضو سے متعلق ہے۔ کیونکہ جب تک وہ خاص عضلہ اور عصب وغیرہ معین نہ ہوا اور کیف ما اتفق حرکت دے تو بارہا ایسا اتفاق ہوگا کہ ہاتھ کو حرکت دینا چاہیں تو کبھی پاؤں، کبھی آنکھ وغیرہ حرکت کرنے لگیں گی اور عضلات و اعصاب وغیرہ کا معین کرنا اس بات پر موقوف ہے کہ پہلے تمام عضلات واعصاب وغیرہ کو معین طور پر جان لے کہ فلاں عصب اور وتر فلاں مقام سے جدا ہو کر فلاں انگلی تک مثلاً پہنچا ہے۔ اس کی مثال بعینہ ایسی ہے کہ جہاں کئی ایک تار اکٹھا ہوتے ہیں تو ان تمام تاروں میں سے اس تار کو معین کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اس مقام سے مختص ہو۔ جہاں خبر بھیجی جاتی ہے اس موقع میں عقلاء جس عضو کو چاہیں بکرات و مرات حرکت دے کر غور و تعمق
نظر سے کام لے کر اپنے وجدان کی طرف رجوع کریں کہ اس اختیاری حرکت کے وقت کوئی عضلہ یا وتر یا عصب کی طرف اپنے نفس کو توجہ بھی ہوتی ہے یا اندر کوئی عضلہ یا وتر وغیرہ بھی وجدان سے دکھائی دیتا ہے یا یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کو کھینچتے ہیں۔ جس سے وہ عضو کھنچتا ہے۔ ہم یقیناً کہتے ہیں کہ کوئی ان امور کی خبر اپنے وجدان سے ہرگز دے نہیں سکتا اور ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کسی کو اس کی بھی خبر نہیں کہ اعصاب وغیرہ کو حرکت میں دخل بھی ہے یا نہیں۔ ہاں اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم فلاں عضو کو حرکت دینا چاہتے ہیں۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ ادھر خاص قسم کی توجہ ہوئی اور ادھر اس کو حرکت ہو گئی۔ یہاں یہ کہنا بے موقع نہ ہوگا کہ عضلہ وغیرہ کو حرکت دینا بھی ہمارے اختیار سے خارج ہے۔ کیونکہ اختیاری حرکت ہوتی تو اس کا علم وارادہ ہوتا اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ عضو کی حرکت کا ارادہ بعینہ عضلہ وغیرہ کی حرکت کا ارادہ ہے۔ اس لئے کہ جب ہمارے وجدان ہی میں نہیں کہ عضلہ وغیرہ کوئی چیز بھی ہے تو پھر یہ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ اس کی حرکت کا ارادہ ہوا پھر جب بحسب تحقیق اطباء یہ ثابت ہے کہ بغیر عضلات وغیرہ کی حرکت کے کوئی عضو حرکت نہیں کر سکتا تو ضرور ہوا کہ وہی ملتفت الیہ بالذات ہوں۔ گو مقصود بالذات ان کی حرکت نہ ہو۔ حالانکہ ملتفت الیہ بالذات بھی عضو ہی کی حرکت ہے۔ یہ عموماً اعضاء کی حرکت اور افعال کا حال تھا۔ اب آنکھوں کے فعل کا حال سنئے کہ دیکھنے کے وقت حدقوں کو ایک مناسبت کے ساتھ پھیرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وجہ سے کہ جب تک خطوط شعاعی دونوں آنکھوں کے مرئی پر ایسے طور پر نہ ڈالے جائیں کہ جن کے باہم ملنے سے وہاں زاویہ پیدا ہو وہ شے ایک نظر نہ آئے گی۔ کیونکہ ہر ایک آنکھ مستقل طور پر دیکھتی ہے۔ اسی وجہ سے احول دو دیکھتا ہے پھر دونوں خط کے ملنے سے شئے مرئی پر جو زاویہ پیدا ہوتا ہے۔ جس قدر کشادہ ہو گا مرئی بڑی نظر آئے گی اور جس قدر تنگ ہو گا۔ چھوٹی نظر آئے گی اسی وجہ سے ہر چیز نزدیک سے بڑی اور دور سے چھوٹی نظر آتی ہے۔ اس کی تفصیل ہم نے کتاب العقل میں کسی قدر شرح وبسط سے لکھی ہے۔ یہاں صرف اسی قدر بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ جب مرئی کے ایک نظر آنے کا مدار خطوط شعاعی کے ملنے پر ہے تو مرئی جس قدر دور یا نزدیک ہوتی جائے گی۔ حدقہ کی وضع بدلتی جائے گی۔ یہاں تک کہ جب وہ بہت ہی نزدیک ہو جائے گی۔ تو حدقے ناک کی جانب قریب ہو جائیں گے اور بہت دور ہو تو کانوں کی جانب مائل ہوں گے۔ اب ہم دیکھنے والوں سے پوچھتے ہیں کہ ہر ایک گز یا ہاتھ کے فاصلے پر حدقے کو کس قدر مائل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کو اپنے وجدان میں سوچیں اور اگر وجدان یاری نہ دے تو کسی حکیم کی تقریر سے ثابت کریں کہ اس قدر فاصلے پر کوئی چیز ہو تو حدقوں کو اس وضع پر رکھنا چاہئے اور اس قدر فاصلے پر
اپنے وجدان کی طرف رجوع کریں کہ اس اختیاری حرکت کے وقت کوئی عضلہ رف اپنے نفس کو توجہ بھی ہوتی ہے یا اندر کوئی عضلہ یا وتر وغیرہ بھی وجدان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کو کھینچتے ہیں۔ جس سے وہ عضو کھنچتا ہے۔ ہم یقیناً کہتے کی خبر اپنے وجدان سے ہرگز دے نہیں سکتا اور ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کسی کو اس اعصاب وغیرہ کو حرکت میں دخل بھی ہے یا نہیں۔ ہاں اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم ہلنا چاہتے ہیں۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ ادھر خاص قسم کی توجہ ہوئی اور ادھر اس کو حرکت بے موقع نہ ہوگا کہ عضلہ وغیرہ کو حرکت دینا بھی ہمارے اختیار سے خارج ہے۔ ت ہوتی تو اس کا علم وارادہ ہوتا اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ عضو کی حرکت کا ارادہ بعینہ کا ارادہ ہے۔ اس لئے کہ جب ہمارے وجدان ہی میں نہیں کہ عضلہ وغیرہ کو کی کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ اس کی حرکت کا ارادہ ہوا پھر جب بحسب تحقیق اطباء یہ عضلات وغیرہ کی حرکت کے کوئی عضو حرکت نہیں کر سکتا تو ضرور ہوا کہ وہی ملتفت کو مقصود بالذات ان کی حرکت نہ ہو۔ حالانکہ ملتفت الیہ بالذات بھی عضو ہی کی اعضاء کی حرکت اور افعال کا حال تھا۔ اب آنکھوں کے فعل کا حال سنئے کہ وں کو ایک مناسبت کے ساتھ پھیرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وجہ سے کہ کی دونوں آنکھوں کے مرئی پر ایسے طور پر نہ ڈالے جائیں کہ جن کے باہم ملنے علیحدہ شئے ایک نظر نہ آئے گی۔ کیونکہ ہر ایک آنکھ مستقل طور پر دیکھتی ہے۔ اسی تا ہے پھر دونوں خط کے ملنے سے شئے مرئی پر جو زاویہ پیدا ہوتا ہے۔ جس قدر نظر آئے گی اور جس قدر تنگ ہوگا۔ چھوٹی نظر آئے گی اسی وجہ سے ہر چیز دور سے چھوٹی نظر آتی ہے۔ اس کی تفصیل ہم نے کتاب العقل میں کسی قدر ہے۔ یہاں صرف اسی قدر بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ جب مرئی کے ایک شعاعی کے ملنے پر ہے تو مرئی جس قدر دور یا نزدیک ہوتی جائے گی۔ حدقہ گا۔ یہاں تک کہ جب وہ بہت ہی نزدیک ہو جائے گی۔ تو حدقے ناک کی یں گے اور بہت دور ہو تو کانوں کی جانب مائل ہوں گے۔ اب ہم دیکھنے کہ ہر ایک گز یا ہاتھ کے فاصلے پر حدقے کو کس قدر مائل کرنے کی ضرورت اپنے وجدان میں سوچیں اور اگر وجدان یاری نہ دے تو کسی حکیم کی تقریر سے ر فاصلے پر کوئی چیز ہو تو حدقوں کو اس وضع پر رکھنا چاہئے اور اس قدر فاصلے پر
اتنی حرکت دینی چاہئے یہ بات یاد رہے کہ کوئی حکیم اس کا اندازہ ہر گز نہیں بتا سکتا۔ حالانکہ ہم جب کسی چیز کو دیکھنا چاہتے ہیں تو بغیر اس کے کہ ہم کو اس کا طریقہ معلوم ہو یہ سب کچھ ہو جاتا ہے۔ ادھر ہماری خاص توجہ ہوئی۔ ادھر حدقوں نے اپنے موقع پر آکر شست جمالی اور ہم کو خبر بھی نہ ہوئی کہ یہ کام کس نے کیا۔ علیٰ ہذا القیاس بات کرنے کے وقت حلق زبان وغیرہ کے عضلات کو کھینچنا اور ڈھیلے چھوڑنا اور مخرج پر جلد جلد لگانا بغیر اس علم کے کہ کہاں کون عضلہ کھینچا جاتا ہے اور ڈھیلا چھوڑا جاتا ہے اس پر دلیل واضح ہے کہ ہمارے اختیار کو اس میں کچھ دخل نہیں ادھر بات کی طرف توجہ خاص ہوئی اور ادھر زبان کی حرکت اور موقع موقع پر جہاں لگنا ہے۔ شروع ہو گیا اگر کہا جائے کہ یہ افعال طبیعت سے صادر ہوتے ہیں تو ہم کہیں گے کہ حکماء نے اس کی بھی تصریح کر دی ہے کہ طبیعت محض بے شعور ہے۔ پھر اس کو یہ خبر کیونکر ہوتی ہے کہ نفس فلاں قسم کا کام کرنا چاہتا ہے اور فلاں چیز کو دیکھنا چاہتا ہے اور وہ چیز اس قدر فاصلے پر ہے اور نفس نے فلاں عبارت کو پڑھنا چاہا اور اگر نفس طبیعت کو یہ سب بتا دیتا ہے تو اول تو یہ خلاف وجدان ہے اور اگر بالفرض تسلیم بھی کر لیا جائے تو خلاف تحقیق حکماء ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک نفس جزئیات مادیہ کا ادراک نہیں کر سکتا اور جتنے عضلات اور اوتار وغیرہ ہیں سب جزئیات مادیہ ہیں۔ پھر ان مادیات کا ادراک اس کو کیونکر ہو سکتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ آدمی کی قدرت یہ سب کام کر لیتی ہے تو ہم کہیں گے کہ قدرت ارادے کے تابع اور ارادہ علم کے تابع ہے۔ جب تک کسی چیز کا علم نہیں ہوتا اس کا ارادہ نہیں ہو سکتا اور جب تک ارادہ نہ ہو قدرت کچھ کر نہیں سکتی۔ کیونکہ بغیر ارادے کے اگر قدرت کام کرنے لگے تو چونکہ آدمی میں ہر کام کی قدرت ہے تو چاہئے کہ ہر کام ہر وقت ہونے لگے اور آدمی کو دم بھر کی فرصت نہ لینے دے۔ جس سے آدمی دیوانہ مشہور ہو جائے۔ پھر ارادہ بغیر علم کے نہیں ہوتا۔ ورنہ مجہول مطلق کی طرف طلب لازم آئے گی جو محال ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تحریک عضلات وغیرہ میں صرف قدرت بیکار ہے۔
اب یہاں یہ دیکھنا چاہئے کہ فعل کے وقت تحریک عضلات وغیرہ جو ہوتی ہے وہ خود بخود ہوتی ہے یا ہمارے ارادے سے یا خدائے تعالیٰ کے ارادے اور خلق سے چونکہ یہ ثابت ہے کہ کسی چیز کا وجود بغیر موجد کے نہیں ہو سکتا۔ اس لئے خود بخود عضلات وغیرہ کی حرکت باطل ہے اور تقریر سابق سے ثابت ہے کہ ہمارے ارادے سے بھی حرکت نہیں ہوتی تو وہی تیسری صورت باقی رہ گئی کہ حق تعالیٰ اعصاب وغیرہ میں حرکت پیدا کر دیتا ہے۔ یعنی خود حرکت دیتا ہے اور وہ کام وجود میں آ جاتا ہے اور یہی ہونا بھی چاہئے۔ اس لئے کہ وہ حرکت ممکن ہے اور ممکن کے احد الجانبین
کو ترجیح دے کر اس کو واجب بالغیر بنانا حق تعالیٰ ہی کا کام ہے۔ الحاصل فعل کے سلسلے میں ہاجس سے لے کر وقوع فعل تک کوئی درجہ ایسا نہیں نکلتا۔ کہ اس میں حق تعالیٰ کا تصرف نہ ہو۔ اس سے ثابت ہے کہ جس طرح آدمی کی ذات وصفات مخلوق الٰہی ہیں اس کے جملہ حرکات وسکنات وافعال بھی مخلوق الٰہی ہیں۔ جیسا کہ خود حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”واللہ خلقکم وما تعملون (صافات: ٩٦)“ اور حدیث شریف میں یہ دعا وارد ہے۔ ”اللہم ان قلوبنا وجوارحنا بیدک لم تملکنا منہا شیئاً فاذا فعلت ذلک بہما فکن انت ولیہما (کنز العمال ج ٢ ص ١٨٢، حدیث نمبر ٤٤٦٣)“ یعنی الٰہی ہمارے دل اور ہاتھ پاؤں وغیرہ جوارح تیرے ہاتھ میں ہیں۔ ان میں سے کسی کا مالک ہم کو تو نے نہیں بنایا۔ جب یہ معاملہ تو نے ہمارے ساتھ کیا تو اب تو ہی ہمارے کاموں کا ولی ہو جا۔ اس سے ظاہر ہے کہ ہمارے تصرف اور افعال جن کو ہم اپنے اختیار اور قدرت کا نتیجہ سمجھتے ہیں ان میں سوائے ایک توجہ خاص کے ہمارا کوئی دخل نہیں اور اس کا بھی مدار خدائے تعالیٰ کے ارادے اور خلق ہی پر ہے اور وہ توجہ انہیں اعضاء سے متعلق ہوتی ہے۔ جن کی حرکت سے ہمارے اغراض متعلق ہیں اور بعض اعضاء ہم میں ایسے بھی ہیں کہ کتنی ہی توجہ کیجئے متحرک نہیں ہوتے اور بعض کبھی متحرک ہوتے ہیں اور کبھی نہیں اور بعض کے لئے ایک حد مقرر ہے۔ اس سے زیادہ حرکت نہیں ہو سکتی۔ بہر حال جس قدر ضرورت تھی حق تعالیٰ نے ہمارے جسم پر ہم کو ایک قسم کا تصرف دیا۔ جس کی کیفیت اور حقیقت خود ہمیں معلوم نہیں۔ مگر اس بات کا یقین بھی ہوتا ہے کہ افعال ہمارے ہی اختیار سے وجود میں آتے ہیں۔ بلکہ اپنی دانست اور وجدان میں ایک قسم کی تکوین ہم اس کو سمجھتے ہیں۔
چونکہ حق تعالیٰ کو منظور تھا کہ اپنے رسول سب میں بحسب شرافت ذاتی ممتاز رہیں اور ان کا دباؤ دلوں پر پڑے۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ”وما نرسل بالآیات الا تخویفاً (بنی اسرائیل: ٥٩)“ اس لئے ان کو یہ نشانی دی گئی کہ عالم میں تصرف کریں اور تصرف کی وہی صورت کہ ادھر ان کی توجہ خاص ہوئی اور ادھر وقوع منجانب اللہ ہو گیا۔ جیسے ہمارے افعال اختیاری میں ہوا کرتا ہے۔ پھر جو مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٢٩٨ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢) میں لکھتے ہیں کہ ”اگر خدا تعالیٰ اپنے اذن اور ارادے سے اپنی خدائی کی صفتیں بندوں کو دے سکتا ہے۔ تو بلاشبہ وہ اپنی ساری صفتیں خدائی کی ایک بندے کو دے کر پورا خدا بنا سکتا ہے۔“ اس سے ظاہر ہے کہ ہر چند وہ مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے۔ مگر نہ ان کو مسلمانوں کے عقیدے کی خبر ہے نہ قرآن کی سمجھ اتنا بھی نہیں جانتے کہ نشانی دینا کسے کہتے ہیں اور خدا بنا دینا کیسا ہوتا ہے اور اگر جانتے ہیں تو خود
غرضی سے خدائے تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرنا جانتے ہیں۔ حق تعالیٰ صاف فرماتا ہے۔ ’’وآتینا عیسیٰ ابن مریم البینات (بقرہ: ٢٥٣)‘‘ یعنی عیسیٰ کو ہم نے کھلی کھلی نشانیاں دیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کسی کو ایسی نشانیاں دے ہی نہیں سکتا۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے وہ احیائے موتیٰ وغیرہ کیا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں یہ ممکن ہی نہیں۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے کسی رسول کی طاقت نہ تھی کہ بغیر ہمارے حکم کے کوئی معجزہ دکھائے۔ ’’وما کان لرسول ان یاتی بآیۃ الا باذن اللّٰہ (رعد: ٣٨)‘‘ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اپنی عقل کے زور سے وہ معجزے تراشتے تھے جو معمولی اور فطرتی طاقت تھی جس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا نے خاص طور پر ان کو کچھ نہیں دیا تھا۔ حالانکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’وآتینا ھم آیاتنا (حجر: ٨١)‘‘ غرض کہ مرزا قادیانی جو کہتے ہیں کہ اس قسم کے معجزے خدا تعالیٰ کسی کو دے ہی نہیں سکتا۔ کیسی بھاری بات ہے۔ ’’کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم ان یقولون الا کذبا‘‘ حالانکہ براہین احمدیہ میں لکھ چکے ہیں کہ قرآن کی سب خبریں صحیح ہیں اور ان کو نہ ماننا بے ایمانی ہے۔ چنانچہ اس کے (براہین احمدیہ ص ٢٨٩ حاشیہ نمبر ١١، خزائن ج ١ ص ٣٣٥) میں لکھتے ہیں ’’اور جب کہ اس عالم کا مورخ اور واقعہ نگار بجز خدا کے کلام کے کوئی اور نہیں ہو سکتا اور ہمارے یقین کا جہاز بغیر وجود واقعہ نگار کے تباہ ہوا جاتا ہے اور باوصف وساوس کی ایمان کی کشتی کو ورطۂ ہلاکت میں ڈالتی جاتی ہے تو اس صورت میں کون عاقل ہے کہ جو صرف عقل ناقص کی رہبری پر بھروسہ کر کے ایسے کلام کی ضرورت سے منہ پھیرے۔ جس پر اس کی جان کی سلامتی موقوف ہے۔‘‘ تقریر بالا سے ظاہر ہے کہ براہین میں اس قسم کی باتیں جو لکھی گئیں صرف زبانی اور مصلحتاً تھیں مرزا قادیانی کے دل میں ان کا کوئی اثر نہیں۔
انبیاء کا درجہ تو ارفع ہے اور ان کو خوارق عادات معجزات دکھلانے کی ضرورت بھی تھی۔ تصرف فی الاکوان تو اولیاء اللّٰہ کو بھی دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت غوث الثقلین (فتوح الغیب ص ٥٢) میں فرماتے ہیں۔ ’’وھنئت بالتوفیق والقدرۃ والامر النافذ علی النفس وغیرھا من الاشیاء والتکوین باذن اللّٰہ الاشیاء فی الدنیا قبل الاخریٰ‘‘ یعنی ولایت کے ایک درجے میں تمہارا حکم انفس و آفاق میں جاری ہونے لگے گا اور دنیا میں باذن خالق اشیاء تمہیں صفت تکوین دی جائے گی اور دوسرے مقام میں اسی کتاب کے (ص ٨١، ٩٤) میں فرماتے ہیں۔
’’ثم یرد علیک التکوین فتکون بالاذن الصریح لا غبار علیہ . قال تعالیٰ فی بعض کتبہ یا ابن آدم انا اللّٰہ لا الہ الا انا اقول للشیئ کن فیکون
واطعنى اجعلك تقول للشيئ كن فيكون وقد فعل ذلك بكثير من انبيائه وخصوصه من بنى آدم “ یعنی بعد اتباع شریعت اور طے مقامات مخصوصہ کے صفت تکوین تمہیں دی جائے گی اور کھلے طور پر تم حق تعالیٰ کے اذن سے اشیاء کو موجود کر سکو گے۔ حق تعالیٰ نے بعض کتب میں فرمایا ہے۔ اے ابن آدم میں اللہ ہوں۔ کوئی معبود میرے سوا نہیں۔ جب کسی شئے کو میں کن کہتا ہوں تو وہ موجود ہو جاتی ہے۔ تو میری اطاعت کر تو تیرے لئے بھی یہ قرار دوں گا کہ جب تو کسی شئے کو کن کہے تو وہ موجود ہو جائے گی اور یہ بات بہت سے انبیاء اور خاص خاص لوگوں کو بھی دی گئی۔ چونکہ مرزا قادیانی فتوح الغیب سے بھی استدلال کیا کرتے ہیں۔ اس لئے یہ عبارتیں اس سے نقل کی گئیں۔ اس کے سوا بزرگان دین کے اکثر تذکروں سے ثابت ہے کہ بہت سے اولیاء اللہ کو تصرف فی الاکوان دیا گیا اور برابر وہ تصرف کیا کرتے تھے۔ اگر وہ واقعات لکھے جائیں تو ایک ضخیم کتاب ہو جائے گی۔ قطع نظر اس کے مرزا قادیانی کو خود دعویٰ ہے کہ کن فیکون ان کو بھی دیا گیا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی خارق العادت تصرف طلب کیا جائے تو ضرور فرما دیں گے کہ وہ تو شرک ہے۔ جب قرآن کو ہم نے اس بات میں نہیں مانا تو خود اس کے کیونکر مرتکب ہو سکتے۔ اس سے ظاہر اور مبرہن ہو سکتا ہے کہ کن فیکون کا دعویٰ صرف لفظی اور نمائش کے لئے ہے۔ جس کے کوئی معنی نہیں اور جب یہ ثابت ہے کہ ان کو بے انتہا معجزوں کا دعویٰ ہے۔ مگر کن فیکون سے متعلق ایک بھی معجزہ انہوں نے نہیں دکھلایا تو مخالف کو ایک بہت بڑا قرینہ ہاتھ آ گیا کہ مرزا قادیانی کے جتنے معنوی دعویٰ مثلاً فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول وغیرہ ہیں۔ سب اسی قسم کے ہیں جو کتابوں سے دیکھ دیکھ کر لکھ لئے گئے ہیں۔
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٢٩٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥١) میں لکھتے ہیں کہ ”عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات متشابہات میں داخل ہیں ۔“ اس سے مقصود یہ کہ انکا اعتقاد کر نیکی ضرورت نہیں ۔ مگر دراصل یہ بات نہیں بلکہ جو امور خدائے تعالیٰ کی ذات وصفات سے متعلق قرآن میں ایسے ہیں۔ جن کا سمجھنا غیر ممکن یا دشوار ہے۔ ان پر ایمان لانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ حق تعالیٰ متشابہات کے باب میں فرماتا ہے۔ ” والراسخون فی العلم يقولون آمنا به (آل عمران:٧) “ مسئلہ استواء علی العرش میں سلف صالح سے مروی ہے کہ ”الاستواء معلوم والكيفية مجهولة والسوال بدعة “ یعنی نفس استواء بلا کیف پر ایمان لانا ضرور ہے۔ ابراء اکمہ و ابرص اور احیاء باذن اللہ وغیرہ معجزات میں کوئی ایسی بات نہیں جو سمجھ میں نہ آئے۔ جتنے بیمار طبیبوں کے علاج سے اچھے ہوتے ہیں۔ آخر باذن اللہ ہی اچھے ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح اکمہ
مجعلك تقول للشئ كن فيكون وقد فعل ذلك بكثير من انبيائه من بنى آدم“ یعنی بعد اتباع شریعت اور طے مقامات مخصوصہ کے صفت تکوین آگی اور کھلے طور پر تم حق تعالٰی کے اذن سے اشیاء کو موجود کر سکو گے۔ حق تعالٰی نے فرمایا ہے۔ اے ابن آدم میں اللہ ہوں۔ کوئی معبود میرے سوا نہیں۔ جب کسی شئے کو کہوں کہ تو ہو وہ موجود ہو جاتی ہے۔ تو میری اطاعت کر تو تیرے لئے بھی یہ قرار دوں گا کہ تو جس کو کہے تو وہ موجود ہو جائے گی اور یہ بات بہت سے انبیاء اور خاص خاص لوگوں میں ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی فتوح الغیب سے بھی استدلال کیا کرتے ہیں۔ اس لئے یہ عبارتیں نقل کی گئیں۔ اس کے سوا بزرگان دین کے اکثر تذکروں سے ثابت ہے کہ بہت سے تصرف فی الاکوان دیا گیا اور برابر وہ تصرف کیا کرتے تھے۔ اگر وہ واقعات لکھے جائیں تو ایک ضخیم کتاب ہو جائے گی۔ قطع نظر اس کے مرزا قادیانی کو خود دعویٰ ہے کہ کن فیکون دیا گیا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی خارق العادت تصرف طلب کیا جاوے تو کہیں گے کہ وہ تو شرک ہے۔ جب قرآن کو ہم نے اس بات میں نہیں مانا تو خود خدا کب ہو سکتے۔ اس سے ظاہر اور مبرہن ہو سکتا ہے کہ کن فیکون کا دعویٰ صرف لفظی معنے ہے۔ جس کے کوئی معنی نہیں اور جب یہ ثابت ہے کہ ان کو بے انتہا معجزوں کا دعویٰ ہے اور کن فیکون سے متعلق ایک بھی معجزہ انہوں نے نہیں دکھلایا تو مخالف کو ایک بہت بڑا حق ہے کہ مرزا قادیانی کے جتنے معنوی دعوے مثلاً فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول وغیرہ ہیں اسی قسم کے ہیں جو کتابوں سے دیکھ دیکھ کر لکھ لئے گئے ہیں۔
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٢٩٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥١) میں لکھتے ہیں کہ ”عیسٰی علیہ السلام کے معجزات بہت متشابہات میں داخل ہیں۔“ اس سے مقصود یہ کہ انکا اعتقاد کر نیکی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات نہیں بلکہ جو امور خدائے تعالٰی کی ذات وصفات سے متعلق قرآن میں آئے ہیں جن کا سمجھنا غیر ممکن یا دشوار ہے۔ ان پر ایمان لانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ حق تعالٰی ان سب میں فرماتا ہے۔’والراسخون فی العلم یقولون آمنا بہ (آل عمران : ٧) اور مسئلہ استواء علی العرش میں سلف صالح سے مروی ہے کہ ”الاستواء معلوم والكيف مجهولة والسوال بدعة “ یعنی نفس استواء بلا کیف پر ایمان لانا ضرور ہے۔ ابراء اکمہ اور احیاء باذن اللہ وغیرہ معجزات میں کوئی ایسی بات نہیں جو سمجھ میں نہ آئے۔ جتنے بیمار طبیب کے علاج سے اچھے ہوتے ہیں۔ آخر باذن اللہ ہی اچھے ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح اکمہ
اور ابرص بھی اچھے ہوتے تھے اور مسریزم سے تحریک ہوا کرتی ہے۔ رہ گیا جان ڈالنا سو وہ بھی کوئی بڑی بات نہیں۔ خدائے تعالٰی ہمیشہ اجسام میں جان ڈالتا ہی ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کو بھی انکار نہ ہوگا۔ البتہ اس قدر نئی بات ہوئی کہ عیسٰی علیہ السلام نے بھی قم باذن اللہ وغیرہ کہہ دیا ہوگا۔ پھر اس سے خدا کی قدرت میں کون سی نئی بات پیدا ہو گئی تھی کہ نعوذ باللہ صفت احیاء معطل ہو گئی یا ان مردوں میں صفت عصیان پیدا ہو گئی تھی کہ خدا کے اذن سے بھی ان کو جنبش نہ ہوئی۔ یہ اعتقاد مشرکوں کے اعتقاد سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ مشرک بھی خدائے تعالٰی کو خالق عالم اور متصرف سمجھتے ہیں۔”ولئن سالتهم من خلق السموات والارض ليقولن الله (لقمان: ٢٥)“ ”ولئن سالتهم من نزل من السماء ماء فاحيا به الارض بعد موتها ليقولن الله (عنکبوت: ٦٣)“
اب اس کے بعد قابل غور یہ بات ہے کہ مرزا قادیانی (ضرورة الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣) میں لکھتے ہیں کہ ”خدا تعالٰی کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرے سے اتار کر ان سے باتیں کرتا ہے اور بعض وقت غصے کرتا ہے۔“ کسی کو اس میں شبہ نہیں کہ وجہ اور ید وغیرہ متشابہات سے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کو اس کے سمجھنے بلکہ دیکھنے میں ذرا بھی تامل نہ ہوا اور عیسٰی علیہ السلام کے معجزات کو صحابہ کے زمانے سے اب تک کسی نے متشابہ نہیں کہا اور نہ کسی حدیث میں یہ مذکور ہے۔ نہ عقل ان کے سمجھنے سے قاصر ہے۔ ان کو خود غرضی سے متشابہ میں داخل کر رہے ہیں عجیب بات ہے۔
تمام روئے زمین پر جو اقوام بستے ہیں۔ ان میں تقریباً کل مسلمان، یہود، نصارٰی، بت پرست اور مجوس ہیں۔ یہ سب خوارق عادات کے قائل ہیں۔ چنانچہ ہر ایک اپنے اپنے پیشوایان قوم کے کارنامے عجیب وغریب بیان کرتے ہیں۔ جن کا وقوع آدمی کی عقل اور قدرت سے خارج ہے اور بن مانسوں کے جیسے تھوڑے لوگ ہوں گے۔ جو اس کے قائل نہیں۔ اگر فلاسفہ خوارق عادات کے قائل نہ ہوتے تو چنداں مستبعد نہ تھا۔ اس لئے کہ خلاف عقل اور خلاف طبیعت بات کو وہ جائز نہیں رکھتے مگر آخر عقلاء ہیں۔ دیکھا کہ معجزات انبیاء کا تواتر ثابت ہے اور تواتر سے جو علم حاصل ہوتا ہے۔ وہ بدیہی ہوتا ہے۔ جس کا انکار اعلیٰ درجے کی حماقت ہے اس لئے انہوں نے بڑے شدومد سے وقوع خوارق کو مدلل کیا۔ چنانچہ اشارات وغیرہ میں اس کے دلائل مذکور ہیں۔
اس آخری دور میں سرسید احمد خاں کسی مصلحت سے اسلام کی بیخ کنی کی طرف متوجہ
ہوئے اور یہ دعویٰ کیا کہ اسلام کوئی معین دین کا نام نہیں۔ بلکہ وہ مفہوم کلی ہے۔ جو ہر دین پر صادق آتا ہے۔ اس کے لئے نہ خدا کے ضرورت ہے نہ نبی کی۔ چنانچہ تہذیب الاخلاق میں لکھتے ہیں کہ ”جن لوگوں کی نسبت کہا جاتا ہے کہ خدا کے وجود کے بھی قائل نہیں ہیں۔ میں تو ان کو بھی مسلمان جانتا ہوں“ اور تفسیر میں لکھتے ہیں۔ ”ہزاروں شخص ہیں جنہوں نے مجنونوں کی حالت دیکھی ہوگی کہ وہ بغیر بولنے والے کے اپنے کانوں سے آواز سنتے ہیں۔ پیغمبر اپنی آنکھوں سے اپنے پاس کسی کو کھڑا ہوا باتیں کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ ہاں ان دونوں یعنی مجنون اور پیغمبر میں اتنا فرق ہے کہ پہلا مجنون ہے اور پچھلا پیغمبر گو کہ کافر پچھلے کو بھی مجنون بتاتے تھے۔ یعنی کسی پیغمبر کا وجود مان بھی لیا جائے تو وہ ایک دیوانے کا نام ہے کہ خشکی دماغ سے آوازیں سنتا ہے اور کسی خیالی شخص کو دیکھتا ہے۔ یعنی فرشتہ سمجھتا ہے۔ جس کی وجہ سے کافر اس کو مجنون سمجھتے تھے“ اور تہذیب الاخلاق میں لکھتے ہیں کہ ”انسان کے دین اور دنیا اور اخلاق اور تمدن اور معاشرت بلکہ زندگی کی حالت کو کرامت اور معجزے پر یقین یا اعتقاد رکھنے سے زیادہ خراب کرنے والی کوئی چیز نہیں ۔“ اس کی وجہ یہی ہے کہ جب آدمی خوارق عادات کو دیکھ لے تو اس کو خالق کے وجود پر فوراً یقین آجائے گا اور اس کے بعد نبوت یا ولایت پر اور جہاں نبوت اور ولایت دل میں جمی تو خاں صاحب کا منصوبہ بگڑ گیا۔ اس لئے انہوں نے خوارق کے نزدیک جانے سے روک دیا۔ جس قدر خدا اور رسول کو اثبات حق کے لئے معجزے کی ضرورت ہے۔ اسی قدر خاں صاحب کو اس سے نفرت اور وحشت ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کو بھی مثل خان صاحب کے نیا دین قائم کرنے کی ضرورت تھی۔ مگر نہ ایسے طور پر نہ خاں صاحب نے کیا کہ لوگوں کا دین تو بگاڑ دیا اور اپنا کوئی نفع نہیں نہ نبوت اپنے لئے تجویز کی نہ امامت بلکہ مرزا قادیانی نیا دین ایسے طور پر قائم کرتے ہیں کہ اپنے لئے منصب نبوت اور امامت، عیسویت وغیرہ مسلم ہو اور خاندان میں عیسویت مستمر رہے۔ اس لئے ان کو بھی معجزوں سے وحشت اور نفرت کی ضرورت ہوئی ورنہ اگر کوئی بمقتضائے جبلت انسانی نبوت کی نشانی طلب کرتے تو مشکل کا سامنا تھا۔ کیونکہ جیسے پیش گوئیوں میں کاہنوں وغیرہ کی طرح باتوں سے کام نکل آتا ہے۔ خوارق عادات میں نہیں نکل سکتا۔ اس لئے انہوں نے یہ تدبیر نکالی کہ معجزوں کے دو قسم کر دیئے۔ عقلی اور نقلی، نقلی جو قرآن وحدیث سے ثابت ہیں۔ ان کو کتھا اور قصوں کے ساتھ نامزد کر کے ساقط الاعتبار کر دیا اور جو معجزات قرآن شریف میں ہیں۔ ان میں دل کھول کر وہ بحثیں کیں کہ نہ کوئی پادری کر سکتا ہے نہ یہودی نہ ہندو نہ مجوسی۔ اس لئے کہ وہ بھی آخر خوارق عادات کے قائل ہیں۔ دلائل الزامیہ سے فوراً ان کا جواب ہو سکتا ہے۔ الغرض خوارق العادات میں ایک پہلو یہ اختیار کیا
بلکہ خاں صاحب کی طرح ان کے قلع و قـ میں انبیاء کی طاقت ایک معمولی طاقت تھـ کوئی نشانی ان کو ایسی نہیں دی گئی۔ جو د عادات انبیاء سے ظاہر ہو سکتے ہیں۔ مگـ چنانچہ (براہین احمدیہ ص ٣٦١ حاشیہ در حاشیہ نمبـ خوارق عادات کے ظہور کے لئے طالب آثار و علامات ہیں کہ کینہ اور مکارہ ورعـ ہدایت پانے کے کوئی نشان طلب کیا جا جائے ۔ تا خداوند کریم وہ بات ظاہر کر جائے ..... لیکن جو لوگ خدائے تعالیٰ کـ وہ شعبدہ بازوں کی طرح بازاروں اور مـ میں ہیں۔ بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کـ صابروں اور مخلصوں پر ارادت ضرب سـ حاصل یہ کہ جو شخص مرزا قـ ایمان لائے اور نہایت عقیدت واراد کہ دیکھے کب نشانی ظاہر ہوتی ہے تا کـ ہوگا اور جہاں کوئی شرط فوت ہوگئی یـ چاہتا ہے تو معجزہ مرزا قادیانی کے پا لیں۔ ہمیں طول کلامی کی ضرورت نہـ عقل سے ثابت ہے کہ نشانی اور معجـ کوئی ابتداءً رسالت کو تسلیم کر لے تو کریم ﷺ نے کسی کافر طالب معجـ کی طرح صدق کی ضرب لگائے بـ النفس ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا وہ مـ کیسی کھلی نشانی ظاہر کی جواب تک زبان وقلم سے جتنے کـ
کہ اسلام کوئی معین دین کا نام نہیں۔ بلکہ وہ مفہوم کلی ہے۔ جو ہر دین پر صادق لئے نہ خدا کی ضرورت ہے نہ نبی کی۔ چنانچہ تہذیب الاخلاق میں لکھتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ خدا کے وجود کے بھی قائل نہیں ہیں۔ میں تو ان کو بھی مسلمان س لکھتے ہیں۔ ”ہزاروں شخص ہیں جنہوں نے مجنونوں کی حالت دیکھی ہوگی کہ کے اپنے کانوں سے آواز سنتے ہیں۔ پیغمبر اپنی آنکھوں سے اپنے پاس کسی کو وا دیکھتے ہیں۔ ہاں ان دونوں یعنی مجنون اور پیغمبر میں اتنا فرق ہے کہ پہلا پیغمبر گو کہ کافر پچھلے کو بھی مجنون بتاتے تھے۔ یعنی کسی پیغمبر کا وجود مان بھی لیا نے کا نام ہے کہ خشکی دماغ سے آوازیں سنتا ہے اور کسی خیالی شخص کو دیکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے کافر اس کو مجنون سمجھتے تھے“ اور تہذیب الاخلاق میں لکھتے ین اور دنیا اور اخلاق اور تمدن اور معاشرت بلکہ زندگی کی حالت کو کرامت اور قا درکھنے سے زیادہ خراب کرنے والی کوئی چیز نہیں ۔“ اس کی وجہ یہی ہے کہ ات کو دیکھ لے تو اس کو خالق کے وجود پر فوراً یقین آجائے گا اور اس کے بعد جہاں نبوت اور ولایت دل میں جمی تو خاں صاحب کا منصوبہ بگڑ گیا۔ اس لئے نزدیک جانے سے روک دیا۔ جس قدر خدا اور رسول کو اثبات حق کے لئے ہے۔ اسی قدر خاں صاحب کو اس سے نفرت اور وحشت ہے۔ چونکہ ا خان صاحب کے نیا دین قائم کرنے کی ضرورت تھی۔ مگر نہ ایسے طور پر نہ یہ لوگوں کا دین تو بگاڑ دیا اور اپنا کوئی نفع نہیں نہ نبوت اپنے لئے تجویز کی نہ ا نیا دین ایسے طور پر قائم کرتے ہیں کہ اپنے لئے منصب نبوت اور امامت، در خاندان میں عیسویت مستمر رہے۔ اس لئے ان کو بھی معجزوں سے وحشت وئی ورنہ اگر کوئی بمقتضائے جبلت انسانی ثبوت کی نشانی طلب کرے تو جیسے پیش گوئیوں میں کاہنوں وغیرہ کی طرح باتوں سے کام نکل آتا ہے۔ نکل سکتا۔ اس لئے انہوں نے یہ تدبیر نکالی کہ معجزوں کے دو قسم کر دیئے۔ ہا وحدیث سے ثابت ہیں۔ ان کو کتھا اور قصوں کے ساتھ نامزد کر کے ساقط ت قرآن شریف میں ہیں۔ ان میں دل کھول کر وہ بحثیں کیں کہ نہ کوئی ی نہ ہندو نہ مجوسی ۔ اس لئے کہ وہ بھی آخر خوارق عادات کے قائل ہیں۔ ا کا جواب ہو سکتا ہے۔ الغرض خوارق العادات میں ایک پہلو یہ اختیار کیا
کہ خاں صاحب کی طرح ان کے قلع و قمع کی فکر کی اور اپنے زعم میں ثابت کر دیا کہ اظہار معجزات میں انبیاء کی طاقت ایک معمولی طاقت تھی جو عوام الناس میں بھی موجود ہے اور خدا کی طرف سے کوئی نشانی ان کو ایسی نہیں دی گئی۔ جو مافوق طاقت بشری ہو اور دوسرا پہلو یہ اختیار کیا کہ خوارق عادات انبیاء سے ظاہر ہو سکتے ہیں۔ مگر ہر کس و ناکس میں یہ صلاحیت نہیں کہ ان کو دیکھ سکے۔ چنانچہ (براہین احمدیہ ص ٣٦١ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣ و خزائن ج ١ ص ٥٥٢، ٥٥٣) میں لکھتے ہیں کہ معجزات اور خوارق عادات کے ظہور کے لئے طالب صدق اور اخلاص شرط ہے اور صدق واخلاص کے یہی آثار و علامات ہیں کہ کینہ اور مکارہ درمیان نہ ہو اور صبر اور ثبات اور غربت اور تذلل سے بہ نیت ہدایت پانے کے کوئی نشان طلب کیا جائے پھر اس نشان کے ظہور تک صبر اور ادب سے انتظار کیا جائے۔ تاخداوند کریم وہ بات ظاہر کرے۔ جس سے طالب صادق یقین کامل کے مرتبے تک پہنچ جائے ...... لیکن جو لوگ خدائے تعالیٰ کی طرف سے صاحب خوارق ہیں ان کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ شعبدہ بازوں کی طرح بازاروں اور مجالس میں تماشا دکھلاتے پھریں اور نہ یہ امور ان کے اختیار میں ہیں۔ بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کے پتھر میں آگ تو بلاشبہ ہے۔ لیکن صادقوں اور صابروں اور مخلصوں پر ارادت ضرب پر اس آگ کا ظہور اور بروز موقوف ہے۔“
حاصل یہ کہ جو شخص مرزا قادیانی سے ان کی نبوت کی نشانی طلب کرے وہ پہلے ان پر ایمان لائے اور نہایت عقیدت وارادت سے غریب و ذلیل ہو کر مؤدب بیٹھے پھر انتظار کرتا رہے کہ دیکھے کب نشانی ظاہر ہوتی ہے تاکہ میں ان پر ایمان لاؤں اس وقت خارق عادات معجزہ ظاہر ہوگا اور جہاں کوئی شرط فوت ہوگئی یا قرینے سے معلوم ہوا کہ اس شخص میں کینہ ہے یا مکابرہ کرنا چاہتا ہے تو معجزہ مرزا قادیانی کے پاس نہیں آسکتا۔ عقلاء اس تحریر کی شرح خود اپنے وجدان سے کر لیں۔ ہمیں طول کلامی کی ضرورت نہیں۔ ہاں اتنا تو کہنا ضرور ہے کہ قرآن وحدیث سے اور نیز عقل سے ثابت ہے کہ نشانی اور معجزے کی ضرورت مخالفت اور نہ ماننے کے وقت ہوتی ہے۔ اگر کوئی ابتداء رسالت کو تسلیم کرلے تو اس کے لئے نشانی کی ضرورت ہی کیا۔ یہ امر پوشیدہ نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے کسی کافر طالب معجزے سے یہ کبھی نہ فرمایا کہ پہلے تم ایمان لاؤ اور منتظر بیٹھے چقماق کی طرح صدق کی ضرب لگائے جاؤ۔ کبھی نہ کبھی کوئی نشانی دیکھ لوگے۔ فرعون کا واقعہ اظہر من الشمس ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا وہ کیسا جانی دشمن تھا۔ پھر اس کے مقابلے میں موسیٰ علیہ السلام نے کیسی کھلی نشانی ظاہر کی جواب تک بطور ضرب المثل لکل فرعون موسیٰ کہا جاتا ہے۔ زبان وقلم سے جتنے کام متعلق تھے مرزا قادیانی نے ان کو بخوبی انجام دیا۔ الہامات کا
سلسلہ متصل جاری رکھا۔ تالیف و تصنیف و اشاعت کی کمیٹیاں قائم کر دیں۔ مدرسے کی مستحکم بنیاد ڈال دی۔ عقلی معجزات ایسے دکھائے کہ جعلی نبوت کا نقشہ پیش کر دیا۔ جس کو لوگ مان گئے۔ مگر آخر اصلی اور نقلی کارخانے میں فرق ضروری ہے۔ اس لئے جس کو معجزہ کہتے ہیں وہ نہ دکھلا سکے اور وہ ان سے طلب کرنا بھی تکلیف مالا یطاق ہے۔ انہیں کی ہمت اور رسائی عقل ہے کہ اس باب میں بھی وہ برابر سوال و جواب کیے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گو سرسید احمد خان صاحب کو اقدمیت اور نئے دین کے بانی ہونے کی فضیلت حاصل ہے۔ لیکن ان کی عقل سے مرزا قادیانی کی عقل بدرجہا بڑھی ہوئی ہے۔ اس لئے کہ خاں صاحب نے اسلام کی ایسی تعلیم کی کہ کوئی فرد بشر اس سے خارج نہیں رہ سکتا۔ اس سے ان کو کچھ حاصل نہ ہوا اور مرزا قادیانی نے جو اسلام کو اپنی امت میں محدود کر دیا اس سے ان کی وہ توقیر ہوئی کہ ان کی تصویر مکانوں میں اس اعزاز اور آداب سے رکھی جاتی ہے کہ شاید کرشن جی کی تصویر کو برہمن کے گھر میں بھی وہ اعزاز نصیب ہو۔
خاں صاحب نے نبوت کو جنون قرار دینے سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔ مرزا قادیانی نبوت کا ایک زینہ بڑھا کر وہ ترقی کی کہ قیامت تک مسیحائی کے سلسلے کو اپنے خاندان میں محفوظ کر لیا۔
خاں صاحب معجزات کا انکار کر کے دونوں جہاں میں بے نصیب رہے۔ مرزا قادیانی نے عقلی معجزات ثابت کر کے لاکھوں روپے حاصل کر لئے۔ جس سے اعلیٰ درجے کے پیمانے پر مدرسے وغیرہ کے کام چلا رہے ہیں۔
نبوت کو عام فطرتی قوت دونوں نے قرار دیا۔ مگر خاں صاحب بجز اس کے کہ نبوت کھو کر گئے۔ ان کو ذاتی کچھ فائدہ نہ ہوا۔ بلکہ ان کی امت کے لوگ ان کے بھی مقلد نہ رہے۔ اپنی عقل کے مطابق رائے قائم کر لیتے ہیں اور مرزا قادیانی نے اس قوت کو قیود و شروط لگا کر ایسا جکڑ بند کر دیا کہ اس زمانے میں تو ان کے گھر سے نہیں نکل سکتی اور ان کی امت ان کی ایسی متبع ہے کہ ان کے کلام کے مقابلے میں خدا اور رسول کے کلام کو بھی نہیں مانتی۔
معجزات اور خوارق عادات کا جو انکار کیا جاتا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ دین اور کتب دینیہ سے لوگوں کو چنداں تعلق نہ رہا۔ ورنہ معجزات کا انکار ایک ایسی چیز کا انکار ہے کہ جس کا علم ضروری ہے۔ اس لئے کہ ہزار ہا صحابہ نے معجزے دیکھے۔ پھر انہوں نے اپنی اولاد اور شاگردوں سے ان کے حالات بیان کئے پھر وہ کتابوں میں درج ہوئے اور ہر زمانہ اور ہر طبقے کے لوگ اس کثرت سے ان کی گواہی دیتے آئے کہ ان سب کا اتفاق کر کے جھوٹ کہنا عقلاً محال ہے۔ اس وقت لاکھوں کتابیں موجود ہیں۔ جن میں معجزات و خوارق عادات کا ذکر ہے۔ مسلمان تو
اس تواتر کا انکار نہیں کر سکتے۔ ممکن ہے کہ دوسرے اقوام اس کا انکار کریں۔ مگر انصاف سے دیکھیں تو ان کو بھی انکار کا حق نہیں۔ اس لئے کہ اتنی کثرت کے بعد عقلاً بھی اس کا انکار نہیں ہو سکتا۔ دیکھئے ہندوؤں سے سنتے سنتے کرشن جی کے وجود کا یقین ہو ہی گیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کو کرشن جی بننے کی رغبت اسی تواتر کی وجہ سے ہوئی ورنہ صاف فرما دیتے کہ کرشن جی کیسا اس کا تو وجود ہی ثابت نہیں۔
اگر مسلمانوں کی کتابیں جھوٹی ٹھہر جائیں تو اپنے اسلاف کے حالات اور ان کے وجود کی خبر دینے والی کون سی چیز ہمارے ہاتھ میں رہے گی۔ کوئی ملت اور دین والا آدمی ایسا نظر نہ آئے گا۔ جو اپنی دینی کتابوں کو جھوٹی قرار دے کر اپنے کو اس دین کی طرف منسوب کرے۔
جو بات بتواتر پہنچتی ہے۔ اس کو یقین کر لینا آدمی کی فطرتی بات ہے۔ دیکھئے جب بچہ کئی شخصوں کی زبانی سن لیتا ہے۔ یہ تمہارا باپ ہے تو اس کو یقین ہو جاتا ہے۔ جس کے سبب عمر بھر اسے باپ سمجھتا اور کہتا ہے۔ اصل وجہ اس کی یہ ہے کہ آدمی کو حق تعالیٰ نے ایک صفت علم دی ہے۔ جس پر اس کا کمال موقوف ہے۔ علم سے مراد یہاں یقین ہے۔ اگر فرض کیا جائے کہ کسی شخص میں صفت یقین نہ ہو تو وہ پرلے درجے کا پاگل اور احمق ہوگا۔ اس لئے کہ جب اس کو کسی بات کا یقین ہی نہیں ہوتا تو یہ بھی یقین نہ ہوگا کہ میں آدمی ہوں اور نہ کھانے کو یقیناً کھانا سمجھے گا۔ جس سے بھوک دفع ہوتی ہے اور نہ پانی کو پانی اور نہ کسی مفید چیز کو مفید سمجھے گا نہ مضر کو مضر۔ غرض کہ کسی چیز کا یقین نہ ہونے کی وجہ سے اس کی زندگی جانوروں کی زندگی سے بھی بدتر ہوگی۔ اس لئے کہ آخر جانور اپنے فائدے کی چیز کو مفید سمجھ کر راغب ہوتے ہیں اور مضر کو مضر یقین کر کے اس سے دور ہوتے ہیں۔ الحاصل انسان کو یقین کی صفت ایسی دی گئی ہے کہ اسی کی بدولت ہر ایک کمال حاصل کرتا ہے۔ پھر یقین حاصل ہونے کے چند اسباب قرار دیئے گئے۔ وجدان، مشاہدہ، تجربہ وغیرہ دیکھئے جب آدمی کو بھوک یا پیاس لگتی ہے تو اس کا وجدان گواہی دیتا ہے۔ جس سے یقین ہو جاتا ہے کہ بھوک یا پیاس لگی ہے اور کھانے پینے کی فکر کرتا ہے۔ جس سے بقائے شخصی متعلق ہے۔ اسی طرح کسی کو دیکھنے یا اس کی آواز سننے سے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے۔ ایسا ہی چند بار کسی چیز کو آزمانے سے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ ایسی چیز ہے یا اس کی یہ خاصیت ہے۔ اسی طرح جب کوئی بات متعدد اشخاص اور مختلف ذرائع سے سنی جاتی ہے تو اس کے وجود کا یقین ہو جاتا ہے۔ کسی خبر کے سننے سے اکثر وہم کی کیفیت پہلے پیدا ہوتی ہے۔ پھر شک پھر ظن اس کے بعد یقین ہوتا ہے۔ اس مثال سے ان مدارج کی توضیح بخوبی ہوگی کہ جب کوئی شخص دور سے نظر آتا ہے تو پہلے وہم سا ہوتا ہے کہ وہ فلاں شخص ہے۔ مثلاً زید ہوگا پھر وہ جب کسی قدر قریب ہوتا ہے تو ایک شکی کیفیت پیدا
- ا۔ تالیف و تصنیف و اشاعت کی کمیٹیاں قائم کر دیں۔ مدرسے کی مستحکم بنیاد
ایسے دکھائے کہ جعلی نبوت کا نقشہ پیش کر دیا۔ جس کو لوگ مان گئے۔ مگر آخر میں فرق ضروری ہے۔ اس لئے جس کو معجزہ کہتے ہیں وہ نہ دکھلا سکے اور وہ ان ف مالا یطاق ہے۔ انہیں کی ہمت اور رسائی عقل ہے کہ اس باب میں بھی وہ جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گو سرسید احمد خان صاحب کو اقدمیت ہونے کی فضیلت حاصل ہے۔ لیکن ان کی عقل سے مرزا قادیانی کی عقل ۔ اس لئے کہ خاں صاحب نے اسلام کی ایسی تفہیم کی کہ کوئی فرد بشر اس سے ل سے ان کو کچھ حاصل نہ ہوا اور مرزا قادیانی نے جو اسلام کو اپنی امت میں کی وہ تو قہر ہوئی کہ ان کی تصویر مکانوں میں اس اعزاز اور آداب سے رکھی جی کی تصویر کو برہمن کے گھر میں بھی وہ اعزاز نصیب ہو۔
ب نے نبوت کو جنون قرار دینے سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔ مرزا قادیانی نبوت ترقی کی کہ قیامت تک مسیحائی کے سلسلے کو اپنے خاندان میں محفوظ کر لیا۔ ب معجزات کا انکار کر کے دونوں جہاں میں بے نصیب رہے۔ مرزا قادیانی کر کے لاکھوں روپے حاصل کر لئے۔ جس سے اعلیٰ درجے کے پیمانے پر چلا رہے ہیں۔
م فطرتی قوت دونوں نے قرار دیا۔ مگر خاں صاحب بجز اس کے کہ نبوت گھر کچھ فائدہ نہ ہوا۔ بلکہ ان کی امت کے لوگ ان کے بھی مقلد نہ رہے۔ اپنی ے قائم کر لیتے ہیں اور مرزا قادیانی نے اس قوت کو قیود و شروط لگا کر ایسا جکڑ میں تو ان کے گھر سے نہیں نکل سکتی اور ان کی امت ان کی ایسی متبع ہے کہ ان ں خدا اور رسول کے کلام کو بھی نہیں مانتی۔
ور خوارق عادات کا جو انکار کیا جاتا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ دین اور کو چنداں تعلق نہ رہا۔ ورنہ معجزات کا انکار ایک ایسی چیز کا انکار ہے کہ جس کا لئے کہ ہزار ہا صحابہ نے معجزے دیکھے۔ پھر انہوں نے اپنی اولاد اور حالات بیان کئے پھر وہ کتابوں میں درج ہوئے اور ہر زمانہ اور ہر طبقے کے ان کی گواہی دیتے آئے کہ ان سب کا اتفاق کر کے جھوٹ کہنا عقلاً محال کتابیں موجود ہیں۔ جن میں معجزات وخوارق عادات کا ذکر ہے۔ مسلمان تو
ہوتی ہے۔ یعنی زید ہونے اور نہ ہونے کے احتمال برابر برابر ہوں گے اور کسی ایک جانب کو غلبہ نہ ہوگا۔ پھر جب اور قریب ہو تو ایک جانب کو غلبہ ہو جائے گا کہ مثلاً وہ زید ہے۔ مگر ہنوز ایسا یقین نہیں کہ قسم کھا سکیں۔ پھر وہ جب اور نزدیک ہوا اور ایسے مقام تک پہنچا کہ بصارت نے پوری یاری دی اور جتنے احتمالات زید نہ ہونے کے تھے سب رفع ہو گئے۔ اس وقت ابتداء ایک ایسی اذعانی حالت دل میں پیدا ہوگی کہ بے اختیار کہہ اٹھے گا کہ واللہ یہ تو زید ہی ہے اور اس پر وہ آثار مرتب ہوں گے جو زید کے آنے پر مرتب ہونے والے تھے۔ مثلاً اگر دوست ہو تو استقبال کے لئے دوڑ پڑے گا اور دشمن ہو تو کچھ اور فکر کرے گا۔ بہرحال کیفیات قلبیہ ابتدائے رویت سے یقین کے پیدا ہونے تک وقتاً فوقتاً بدلتے رہیں گے اور آخر میں یقین کی کیفیت پیدا ہوگی۔
یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ اس کیفیت یقین پیدا ہونے میں اختیار کو کوئی دخل نہیں۔ اگر آدمی اس وقت خاص میں یہ چاہے بھی کہ یقین پیدا نہ ہو۔ جب بھی پیدا ہو ہی جائے گا۔ چنانچہ اس آیہ شریفہ سے بھی یہی ثابت ہے۔ ”فلما جاء تهم اياتنا مبصرة قالوا هذا سحر مبين وجحدوا بها واستيقنتها انفسهم (نمل: ١٤،١٣) یعنی معجزوں کو دیکھ کر گو وہ انکار کرتے تھے۔ مگر یقین ان کو ہو ہی جاتا تھا۔ اسی طرح جب کوئی واقعہ کی خبر آدمی سنتا ہے تو پہلے وہم اس واقعے کے وقوع کا ہوگا۔ پھر جیسے جیسے مختلف ذرائع سے وہ خبر پہنچتی جائے گی۔ شک اور ظن تک نوبت پہنچے گی اور آخر میں جب جانب مخالف کے احتمالات رفع ہو جائیں تو خود بخود یقین پیدا ہو جائے گا۔ جس کے حاصل ہونے پر انسان بالطبع مجبور ہے۔ اس کی توضیح کے لئے یہ مثال کافی ہو سکتی ہے کہ ان دنوں جب اہل اخبار نے جاپان اور روس کے جنگ کا حال لکھنا شروع کیا اور بالآخر جاپان کی فتح کی خبر دی تو جتنے مدارج یہاں ہم نے بیان کئے سب کا وجدان ناظرین اخبار کو ہو گیا ہوگا کہ ابتداء کسی ایک اخبار میں جب یہ کیفیت دیکھی گئی ہوگی تو وہم پھر بحسب تواتر اخبار شک اور ظن اور یقین ہو گیا ہوگا۔ اب جن لوگوں کو جاپان کی فتح کا یقین ہے۔ اگر ان سے کوئی نہ واقف شخص کہے کہ حضرت کہاں جاپان اور کہاں روس اتنی دور کی ریاستوں میں لڑائی کیسی۔ پھر جاپان کی حیثیت ہی کیا کہ روس سے مقابلہ کر سکے۔ جاپان بے چارہ چین کا ایک صوبہ ہے۔ خود چین روس کے مقابلے کی تاب نہ لا سکا اور بہت سا ملک اس کے حوالے کر دیا۔ روس کے کئی صوبے ایسے ہیں کہ جاپان ان کی برابری نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ جغرافیہ سے ثابت ہے۔ پھر یہ کیونکر تسلیم کیا جائے کہ جاپان نے اس عظیم الشان سلطنت روس کے ساتھ مقابلہ کیا اور فتح بھی پائی۔ عقل اس کو ہرگز قبول نہیں کر سکتی۔ رہی اخبار کی خبریں سو وہ سب محتمل صدق و کذب ہیں۔ بلکہ قرائن عقلیہ
سے کذب ہی کا پلہ بھاری ہے۔ پھر کوئی اخبار نویس اپنا چشم دید واقعہ بھی نہیں لکھتا۔ جس کو ایک گواہ قرار دیں۔ سامع کی گواہی کا اعتبار ہی کیا۔ ہر ایک اخبار دوسرے اخبار سے نقل کرتا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ سب اخباروں کا مدار ایک اخبار پر ہے۔ جس نے پہلے یہ خبر شائع کی تھی۔ معلوم نہیں اس نے کس مصلحت سے یا لوگوں کی عقل کے امتحان کی غرض سے یہ خبر شائع کی ہو اور اگر بذریعہ تار اس کو خبر پہنچی بھی ہو تو تار میں بھی وہی عقلی احتمالات قائم ہیں۔ الغرض ایسے ایسے قوی احتمالات عقلیہ اور شہادت جغرافیہ کے بعد ہم ہرگز یقین نہیں کر سکتے کہ جاپان اور روس میں جنگ ہوئی اور جاپان نے فتح پائی۔ اب ہم ناظرین اخبار سے پوچھتے ہیں کہ کیا ان احتمالات عقلیہ سے آپ کا وہ یقین جاتا رہے گا جو آپ نے زر خطیر خرچ کر کے بذریعہ اخبارات حاصل کیا تھا یا ان احتمالات کو آپ لغو اور اس کے قائل کو پاگل سمجھیں گے۔ میرا وجدان تو گواہی دیتا ہے کہ ناظرین اخبار پر ان احتمالات کا ہرگز اثر نہ پڑے گا اور وہ یہی جواب دیں گے کہ جیسے اخبار ابتدائی جنگ سے خاتمہ تک ہم نے دیکھے ہیں جس سے وقتاً فوقتاً قلبی کیفیتیں ہماری بدلتی بدلتی یقین کی کیفیت تک نوبت پہنچی۔ اگر آپ بھی دیکھتے تو ہرگز یہ احتمالات قائم نہ کر سکتے اور اس تواتر کے مقابلے میں آپ کی عقل خود مقہور ہو جاتی۔ اب اہل انصاف غور کریں کہ باوجود یہ کہ اخبار نویسوں کی نہ دیانت مسلم ہے نہ عدالت، صرف تواتر کی وجہ سے جب ان کی خبر کا یہ اثر ہو کہ عقل مقہور ہو جائے تو اہل اسلام کے نزدیک معجزات کی ہزارہا خبریں ایسے لوگوں کی جن کی دیانت و عدالت بھی ان کے نزدیک مسلم ہے۔ کس درجے قابل وثوق ہونی چاہئے۔ اب دیکھئے کہ جو شخص ان کتابوں کو نہ دیکھ کر احتمالات عقلیہ پیدا کرے اس کی بات کو مسلمان لغو سمجھیں گے یا قابل وقعت۔ جو لوگ اس مقام میں احتمالات عقلیہ پیدا کرتے ہیں ان کو معذور سمجھنا چاہئے۔ اس لئے کہ انہوں نے صرف خبر کے معنی کا تصور کر لیا کہ الخبر يحتمل الصدق والكذب اور ذرائع وصول خبر کی ان کو اطلاع ہی نہیں ہوئی۔ ورنہ ممکن نہ تھا کہ ان کو نظر انداز کر سکیں۔ جیسے جاپان کی فتح کی خبر کا حال معلوم ہوا۔ الحاصل جن کو اخبار معجزات کی کثرت ذرائع کا علم ہے گو ہر ایک معجزے کا تواتر ثابت نہ ہو۔ مگر نفس معجزات کے وقوع کا وہ انکار نہیں کر سکتے اور جس طرح مشاہدے سے یقینی علم ہوتا ہے اسی طرح تواتر سے وقوع معجزات کا ان کو علم ضروری ہوگا۔ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول کا مسئلہ اسلام میں ایسا ظاہر اور متفق علیہ ہے کہ ابتداء سے اب تک نہ علمائے ظاہر کو اس میں اختلاف ہے نہ اولیاء اللہ کو، قرآن و تفاسیر و احادیث وغیرہ کتب اسلامیہ اس کے ثبوت پر گواہ ہیں۔ مگر مرزا قادیانی باوجود اس تواتر کے اس کا انکار کرتے ہیں۔
ناظرین کرزن گزٹ پر ظاہر ہے کہ مرزا حیرت صاحب ایک زمانہ دراز سے مرزا قادیانی کا رد اس اخبار میں کیا کرتے تھے۔ مگر مرزا قادیانی پر اس کا کچھ اثر نہ تھا۔ آیات و احادیث و اقوال میں گفتگو اور رد و قدح برابر کرتے رہے۔ مرزا حیرت صاحب بھی تو آخر مرزا ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ یوں نہ مانیں گے اور عمر بھر باتیں بناتے جائیں گے اور ان کی کج بحثیوں سے لوگوں کے خیال میں یہ بات متمکن ہوتی جائے گی کہ مرزا قادیانی کو کوئی قائل نہیں کرسکتا۔ جس سے ان کی حقیقت کا گمان عموماً جاہلوں کو پیدا ہوگا اس لئے انہوں نے ایک ایسے مسئلے میں گفتگو شروع کی کہ عالم سے لے کر جاہل تک کسی کو اس میں اختلاف نہیں اور جس کی واقعیت کا اثر اسلامی دنیا میں یہاں تک ہے کہ ہر سال لاکھوں روپے صرف کئے جاتے ہیں اور اس تواتر کی وجہ سے ہندو بھی مسلمانوں کے ساتھ شریک ہو کر ہزارہا روپے نذر و نیاز میں صرف کرتے ہیں۔ یعنی حضرت امام حسین کی شہادت اور واقعہ کربلا کا انکار ہی کر دیا اور عقلی قرائن قائم کر کے بخاری وغیرہ کی معتبر احادیث کو رد کیا اور کل کتب سیر اور تواریخ میں کلام کر کے اس بات میں ان سب کو ساقط الاعتبار کر دیا۔ اب ہر چند علمائے شیعہ اور اہل سنت تواتر وغیرہ دلائل پیش کرتے ہیں۔ مگر وہ ایک کی نہیں مانتے اور کج بحثوں سے سب کا جواب دئے جاتے ہیں اور دعویٰ یہ ہے کہ ایک بڑی کتاب کا سامان فراہم کیا گیا ہے۔ اخبار کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو طریقہ انہوں نے اختیار کیا ہے کہ جس طرح مرزا قادیانی نصوص میں تاویلیں اور تواتر میں کلام کرتے ہیں اور عقل کے زور سے ہر موقع میں کچھ نہ کچھ گھڑ لیتے ہیں وہ بھی وہی کر رہے ہیں۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ جس طرح مرزا قادیانی کی چل گئی ان کی بھی چل جائے گی اور ان کی کتاب بھی مقصود پورا کرنے میں مرزا قادیانی کی ازالۃ الاوہام سے کم نہ ہوگی۔ چنانچہ ابھی سے بعضوں نے ہاں میں ہاں ملا دی اور ہم خیال پیدا ہونے لگے۔
قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا حیرت صاحب کو اس کتاب کے لکھنے سے یہ ثابت کرنا منظور ہے کہ جب آدمی کج بحثی پر آ جائے تو کیسی ہی روشن بلکہ اظہر من الشمس بات کیوں نہ ہو اس پر بھی وہم اور شک کی ظلمت ڈال سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ خدائے تعالیٰ ہی کے منکر ہیں برابر اہل حق کا مقابلہ کئے جاتے ہیں اور کوئی اثر براہین قاطعہ کا ان کے دلوں پر نہیں پڑتا۔
مرزا حیرت صاحب نے باوجود اس سخت مقابلے کے جو قادیانی صاحب کے ساتھ ان کو تھا کہ کوئی پرچہ ان کے اخبار کا ایسا نہیں نکلتا تھا۔ جس میں قادیانی صاحب پر سخت حملہ نہ ہوتا۔ یکبارگی ان کا تعاقب چھوڑ کر مسئلہ شہادت چھیڑ دیا اس میں یہ مصلحت ضرور ہے کہ اس بحث میں بھی
کرزن گزٹ پر ظاہر ہے کہ مرزا حیرت صاحب ایک زمانہ دراز سے اس اخبار میں کام کرتے تھے۔ مگر مرزا قادیانی پر اس کا کچھ اثر نہ تھا۔ آیات میں گفتگو اور رد و قدح برابر کرتے رہے۔ مرزا حیرت صاحب بھی تو آخر مرزا دیکھا کہ وہ یوں نہ مانیں گے اور عمر بھر باتیں بنائے جائیں گے اور ان کی کج کے خیال میں یہ بات متمکن ہوتی جائے گی کہ مرزا قادیانی کو کوئی قائل نہیں ان کی حقیقت کا گمان عموماً جاہلوں کو پیدا ہو گا اس لئے انہوں نے ایک ایسے طرح کی کہ عالم سے لے کر جاہل تک کسی کو اس میں اختلاف نہیں اور جس کی دنیا میں یہاں تک ہے کہ ہر سال لاکھوں روپے صرف کئے جاتے ہیں اور اس بھی مسلمانوں کے ساتھ شریک ہو کر ہزار ہا روپے نذر و نیاز میں صرف کرتے امام حسینؓ کی شہادت اور واقعہ کربلا کا انکار ہی کر دیا اور عقلی قرائن قائم کر کے احادیث کو رد کیا اور کل کتب سیر اور تواریخ میں کلام کر کے اس بات میں ان کار کر دیا۔ اب ہر چند علمائے شیعہ اور اہل سنت تواتر وغیرہ دلائل پیش کرتے نہیں مانتے اور کج بحثوں سے سب کا جواب دئے جاتے ہیں اور دعویٰ یہ ہے کہ سامان فراہم کیا گیا ہے۔ اخبار کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو طریقہ انہوں نے جس طرح مرزا قادیانی نصوص میں تاویلیں اور تواتر میں کلام کرتے ہیں اور ہر موقع میں کچھ نہ کچھ گھڑ لیتے ہیں وہ بھی وہی کر رہے ہیں۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی چل گئی ان کی بھی چل جائے گی اور ان کی کتاب بھی مقصود پورا قادیانی کی ازالۃ الاوہام سے کم نہ ہو گی۔ چنانچہ ابھی سے بعضوں کے دلوں میں خیال پیدا ہونے لگے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا حیرت صاحب کو اس کتاب کے لکھنے سے یہ ثابت جب آدمی کج بحثی پر آ جائے تو کیسی ہی روشن بلکہ اظہر من الشمس بات کیوں نہ پر شک کی ظلمت ڈال سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ خدائے تعالیٰ ہی کے منکر مقابلہ کئے جاتے ہیں اور کوئی اثر براہین قطعہ کا ان کے دلوں پر نہیں پڑتا۔ مرزا حیرت صاحب نے باوجود اس سخت مقابلے کے جو قادیانی صاحب کے ساتھ تھا ان کے اخبار کا ایسا نہیں نکلتا تھا۔ جس میں قادیانی صاحب پر سخت حملہ نہ ہوتا۔ سب چھوڑ کر مسئلہ شہادت چھیڑ دیا اس میں یہ مصلحت ضرور ہے کہ اس بحث میں بھی
روئے سخن قادیانی صاحب ہی کی طرف ہے کہ جس طرح آپ متفق علیہ مسئلہ کا انکار کرتے ہیں۔ ہم بھی اسی قسم کے بلکہ اس سے زیادہ تر روشن مسئلے کا انکار کرتے ہیں۔ اگر تیزی طبع کا کچھ دعویٰ ہے تو میدان میں آ کر چون و چرا کیجئے اور جواب لیجئے۔ مگر مرزا قادیانی باوجود اس خصومت کے جو ایک مدت سے چلی آ رہی ہے اور باوجود اس دعویٰ کے کہ میں حکم بن کر آیا ہوں اور ایسے امور کے فیصل کرنے کا مامور ہوں۔ تجاہل کر کے خاموش ہو گئے اور یہ غنیمت سمجھا کہ کسی طرح پیچھا تو چھوٹا مگر یاد رہے کہ اس مسئلہ شہادت کا اثر مرزا قادیانی کی کارروائیوں پر ضرور پڑے گا اور ادنیٰ عقل والے بھی سمجھ جائیں گے کہ دونوں مرزا ایک ہی قسم کا کام کر رہے ہیں اور جس طرح انکار شہادت عقلی احتمالوں کے پیدا کرنے سے کوئی عاقل کر نہیں سکتا۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا انکار عاقل مسلمان کی شان سے بعید ہے۔ ہم بھی اس مقام میں ایک سچی پیش گوئی کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو کتنا ہی اشتعال دیجئے وہ مرزا حیرت صاحب کا مقابلہ نہ کریں گے اور اگر بالفرض کیا بھی تو ممکن نہیں کہ کامیاب ہو سکیں گے۔
یہاں ایک دوسرا مسئلہ پیش نظر ہوتا ہے کہ تواتر جس کے بعد یقین کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کے لئے کتنے شخصوں کی خبر کی ضرورت ہے۔ سو اس کا تصفیہ خود ہر شخص کا وجدان کر سکتا ہے۔ اس لئے کہ یقینی کیفیت ایک وجدانی خبر ہے۔ اگر یہ قرار دیا جائے کہ مثلاً سو آدمیوں کی خبر سے یقین ہو جاتا ہے تو بعض مواقع ایسے بھی ہوں گے کہ سو تو کیا لاکھوں آدمیوں کی بات بھی قابل اعتبار نہ سمجھی جائے گی۔ مثلاً کوئی جھوٹا نبوت کا دعویٰ کر کے کسی بات کی خبر دے اور اس کے ہزارہا پیرو بھی وہی خبر دیں تو یقین تو کیا وہم بھی نہ ہوگا۔ دیکھ لیجئے مرزا قادیانی خبر دیتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ہے اور ان کے اتباع بھی لوگوں سے یہی کہتے ہیں۔ مگر اب تک کسی کو وہمی طور پر بھی اس کا تصور نہ ہوا۔ بہ خلاف اس کے مسلمانوں کو اپنے نبی کی خبر پر وہ یقین ہوتا ہے کہ اگر اس کے خلاف لاکھوں آدمی کہیں تو اس یقین پر ذرا بھی برا اثر پڑ نہیں سکتا۔ اسی طرح مسلمانوں کے نزدیک مسلم ہے کہ کل صحابہؓ عدول اور سچے تھے۔ اس وجہ سے مسلمان کو دو چار ہی صحابہؓ کا اتفاق کسی خبر پر معلوم ہو تو اس کے یقین کی کیفیت دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور منافق سو صحابیوں کی خبر کو بھی نہ مانے گا۔ الغرض اس یقین کی کیفیت پیدا ہونے کا مدار حسن ظن پر ہے۔ جس قدر مخبروں پر حسن ظن زیادہ ہو گا اذعائی کیفیت جلد پیدا ہو گی اور احتمالات عقلیہ جلد مقہور ہو جائیں گے اور جس قدر بدگمانی زیادہ ہو گی۔ اس قدر احتمالات عقلیہ زیادہ شورش کریں گے۔ دیکھ لیجئے مرزا قادیانی کو چونکہ اسلاف پر بالکل حسن ظن نہیں۔ اس لئے حدیث و تفسیر میں ایسے ایسے احتمالات عقلیہ پیدا کر
دیتے ہیں کہ اب تک کسی مسلمان کو نہیں سوجھے علیٰ ہذا القیاس خان صاحب کا بھی یہی حال ہے۔
اب مشکل یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کی ہدایت پر ہونے کی شناخت حق تعالیٰ نے یہ مقرر کی ہے کہ صحابہ کے سے اعتقاد ہم میں ہوں۔ چنانچہ ارشاد ہے ”فان اٰمنوا بمثل ما اٰمنتم بہ فقد اھتدوا (بقرہ:١٣٧)“ یعنی حق تعالیٰ صحابہ سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ اگر تمہاری طرح وہ لوگ بھی ان خبروں پر ایمان لائیں۔ یعنی کامل اعتقاد رکھیں تو وہ ہدایت پر ہیں۔ اب اگر احادیث ساقط الاعتبار کر دیئے جائیں تو کیونکر معلوم ہو کہ صحابہ کا اعتقاد کیا تھا۔ مثلاً تمامی کتب اسلامیہ سے ثابت ہے کہ صحابہ کا یہی اعتقاد تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قرب قیامت آسمان سے اتریں گے۔ جس کو ہر زمانے کے محدثین، فقہا، اولیاء اللہ اور جمیع علماء بیان کرتے اور اپنی تصنیفات میں لکھتے رہے۔ جس پر آج تک کل امت گواہی دے رہی ہے اور ایک روایت بھی کسی کتاب میں نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام مر کر مردوں میں جاملے۔ اس صورت میں اگر تمام کتب ساقط الاعتبار ہوں تو کیونکر معلوم ہو کہ اس مسئلے میں ہم صحابہ کے اعتقاد پر ہیں۔
مرزا قادیانی کی یہ خود غرضی کا نتیجہ ہے کہ تمام امت کے ساتھ بدظنی کی جا رہی ہے اور اس تواتر کو اتنی بھی وقعت نہیں دی گئی جو یورپ کے اخبار نویسوں کو دی جاتی ہے۔ جتنا ہندوؤں کے کہنے سے مرزا قادیانی کو کرشن جی پر اعتقاد ہے اس کا ہزارواں حصہ اس مسئلے پر نہیں۔ حالانکہ کروڑہا اکابر دین اور مسلمانوں کی شہادت سے ثابت ہے۔
اب مرزا قادیانی کے عقلی معجزات کا حال کسی قدر بیان کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے عقلی معجزات ثابت کرنے سے پہلے یہ تمہید کی کہ اس دارالابتلاء میں کھلے کھلے معجزات خدائے تعالیٰ ہرگز نہیں دکھاتا۔ تا ایمان بالغیب کی صورت میں فرق نہ آئے۔ جس کا مطلب ظاہر ہے کہ اگر کھلے کھلے معجزات ظاہر ہوں تو ایمان بالغیب جو مطلوب ہے۔ باقی نہ رہے گا۔ اس سے مقصود یہ کہ خود کھلے معجزات اس وجہ سے نہیں دکھاتے کہ کہیں لوگوں کے ایمان بالغیب میں فرق نہ آجائے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان و یقین کے درجے سے نکل کر عیاں کے درجے کو پہنچ جائیں گے۔ جو ایمان کے درجے سے بھی ارفع ہے۔ مگر براہین احمدیہ میں لکھتے ہیں کہ جو معجزات تصرف عملی سے بالا تر ہیں وہ محجوب الحقیقت ہیں اور شعبدہ بازیوں سے منزہ کرنا ان کا مشکل ہے۔ جیسا کہ اوپر معلوم ہوا یعنی وہ ایسے مشتبہ ہیں کہ ان کا یقین بھی نہیں ہوسکتا۔ اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کھلے معجزات میں بجائے اس کے کہ ایمان بالغیب میں فرق آئے۔ شعبدہ بازی کے اشتباہ کا ایک حجاب اور زیادہ ہوتا ہے۔ اب کون سی بات کو سچ سمجھیں۔ مرزا قادیانی خاطر جمع رکھیں کہ اگر کوئی کھلا معجزہ
دکھلائینگے تو کسی کے ایمان بالغیب میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ ہمت کر کے چند معجزے ایسے دکھلائیں کہ تصرف اور تدبیر عقلی سے بالاتر ہوں جیسے خود (ازالۃ الاوہام ص ٣٠١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤، ٢٥٣) میں تحریر فرماتے ہیں۔ ”معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو محض سماوی ہوتے ہیں۔ جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا۔ جیسے شق القمر جو ہمارے سید و مولیٰ ﷺ کا معجزہ تھا اور خدائے تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راست باز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس کو دکھایا تھا۔“ اگرچہ یہ کہ معجزہ شق القمر بھی مرزا قادیانی کی تحقیق مذکورہ کے موافق محجوب الحقیقت ہے۔ مگر اس سے اتنا تو معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ کی قدرت میں ایسے معجزات کا دکھانا ممکن ہے۔ جس سے راست بازوں کی عظمت ظاہر ہوا کرتی ہے۔ پھر مرزا قادیانی کی راست بازی کو کیا ہوا کہ کوئی ایسا معجزہ اب تک ان سے صادر نہ ہوا اور وہاں تو مرزا قادیانی ہی نہیں بلکہ بروزی طور پر نعوذ باللہ خود نبی کریم ﷺ تشریف فرما ہیں۔ تو پھر معجزہ شق القمر دوبارہ ہو جانا کوئی بڑی بات نہ تھی ہم نے اس کو بھی چھوڑا کم از کم اتنا تو ہوتا کہ کوئی زمینی خارق عادت دکھائی ہوتی۔ آخر یہ جو معجزے بتا رہے ہیں ان میں بھی اقسام کے کلام ہو رہے ہیں ویسے ہی ان میں بھی کلام ہوتے۔
عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو انہوں نے لکھا ہے کہ وہ فطرتی طاقت سے کام لے کر معجزے دکھاتے تھے۔ جو ہر فرد بشر میں موجود ہے۔ اس سے بھی یہی مقصود ہے کہ خود بھی اسی طاقت سے کام لے کر معجزے دکھاتے ہیں۔ اس صورت میں ضرور تھا کہ چند مادر زاد اندھے اور کوڑھیوں کو مثل عیسیٰ علیہ السلام کے چنگے کر دکھاتے اور اگر یہ فرماویں کہ جتنے لوگ قادیانی ہوگئے ہیں وہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی ہی تو تھے تو ہم اس کو نہ مانیں گے۔ اس لئے کہ وہ قبل قادیانی ہونے کے خدا اور رسول اور جملہ احکام قرآنیہ پر ایمان رکھتے تھے اور اگر اس ایمان کو بھی کفر بتائیں تو یہ کہنا صادق ہوگا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک اسلام کفر ہے۔
عقلی معجزات کا اختراع کرنا جو کسی نے نہ سنا ہوگا۔ پھر نقلی معجزات کی توہین اور عقلی معجزات کی فضیلت اور تحسین وغیرہ امور اس بات پر دلیل ہیں کہ مرزا قادیانی کی عقل معجزات دکھانے میں ید طولیٰ رکھتی ہے۔ کیوں نہ ہو کل عقلاء کا اتفاق ہے کہ جس عضو اور قوت سے جس قسم کا کام زیادہ لیا جائے اسی طرح اس میں زیادہ طاقت پیدا ہوتی ہے اور مرزا قادیانی براہین احمدیہ میں لکھتے ہیں کہ وہ لڑکپن سے اسی کام میں مصروف ہیں تو ان کی عقلی قوت کے بڑھ جانے میں کوئی تامل نہیں۔
عقلی معجزات کا نام سن کر عقلاء کی عقلوں کو ضرور یہ خیال پیدا ہو گا کہ مرزا قادیانی کی
عقل شاقی پیدا کر کے نبوت حاصل کرے تو کیا ہم اس قابل بھی نہیں کہ اس کے تراشیدہ معجزات کو سمجھ سکیں۔ اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی بہت بڑے عاقل ہیں۔ مگر عقلاء کا دستور اور مقتضائے عقل ہے کہ جب کوئی بڑا کام کرنا منظور ہوتا ہے تو اس میں کتب تواریخ و وقائع سے مدد لے کر پہلے علمی مواد حاصل کر لیتے ہیں۔ جس سے عمل میں آسانی ہوتی ہے۔ اگرچہ مرزا قادیانی ایک مدت دراز سے اسی طرف متوجہ ہیں۔ ان کی نظر عقلاء کی کارروائیوں اور اعجاز نمائیوں میں نہایت وسیع ہے۔ اس کا احاطہ ہم سے متعذر ہے۔ مگر با وجود کم فرصتی اور بے توجہی کے چند مثالیں جو ہمیں مل گئی ہیں وہ بیان کی جاتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوگا کہ مرزا قادیانی نے سابق کے عقلاء سے کیسی مسابقت کی اور انصاف سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ بعض امور میں انہیں کی عقل کے گھوڑے بڑھے رہے ۔
ابوریحان خوارزمیؒ نے ”الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ“ میں لکھا ہے کہ ”یوذآسف جو ملک طہمورث کے وقت میں ہندوستان میں آ کر نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور دراصل وہ ستارہ پرست تھا۔ اس نے ابراہیم علیہ السلام کی نسبت یہ تہمت لگائی کہ وہ ستارہ پرست تھے۔ اتفاقاً ان کے قلفہ میں برص نمودار ہوا۔ اس زمانے میں برص والے کو لوگ نجس سمجھ کر اس سے مخالطت نہیں کرتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے اپنے قلفہ کو قطع کر ڈالا۔ یعنی اپنی ختنہ کی، جب کسی بتخانے میں حسب عادت گئے تو کسی بت سے آواز آئی کہ اے ابراہیم تم ایک عیب کی وجہ سے ہمارے پاس چلے گئے تھے اور اب وہ عیب لے کر آئے ہو۔ چلو ہمارے پاس سے نکلو اور پھر یہاں کبھی نہ آنا یہ سن کر ان کو غصہ آیا اور اس بت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے اور مذہب بھی چھوڑ دیا۔ اس کے بعد ان کو اپنے فعل پر ندامت ہوئی اور چاہا کہ اپنے بیٹے کو مشتری کے لئے ذبح کریں۔ کیونکہ اس زمانے میں دستور تھا کہ ایسے مواقع میں اپنی اولاد کو ذبح کیا کرتے تھے۔ جب مشتری کو ان کی سچی توبہ کی صداقت معلوم ہو گئی تو ایک دنبہ ان کے فرزند کے عوض میں دے دیا۔“
اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی عیسیٰ علیہ السلام پر تہمت لگائی کہ مسمریزم سے وہ فریب الموت مردوں کو حرکت دیتے تھے۔ یعنی جادوگر تھے اور اپنے باپ نجار سے کلوں کی چڑیاں بنانا سیکھ لیا تھا اور تالاب کی مٹی میں خاصیت تھی۔ جس سے وہ چڑیاں بناتے اور کلوں کے ذریعے سے حرکت دیتے تھے اور کوڑہی وغیرہ کا اسی مٹی سے علاج کرتے تھے۔ تعجب نہیں کہ یوذآسف کی تقریر نے مرزا قادیانی کو اس طرف توجہ دلائی ہو کیونکہ ”سخن از پہلوئے سخن می خیزد“ اور اگر بغیر تقلید کے وہ خود انہیں کا اختراع ہے تو پھر کون کہہ سکتا ہے کہ ان کی طبیعت یوذآسف کی طبیعت سے کم
کے نبوت حاصل کرے تو کیا ہم اس قابل بھی نہیں کہ اس کے تراشیدہ اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی بہت بڑے عاقل ہیں۔ مگر عقلاء کا دستور ہے کہ یہ بڑا کام کرنا منظور ہوتا ہے تو اس میں کتب تواریخ و وقائع سے مدد داد حاصل کر لیتے ہیں۔ جس سے عمل میں آسانی ہوتی ہے۔ اگر چہ دت دراز سے اسی طرف متوجہ ہیں۔ ان کی نظر عقلاء کی کارروائیوں اور بہت وسیع ہے۔ اس کا احاطہ ہم سے متعذر ہے۔ مگر باوجو د کم فرصتی اور بے ا جو ہمیں مل گئی ہیں وہ بیان کی جاتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوگا کہ مرزا قادیانی سے کیسی مسابقت کی اور انصاف سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ بعض س کے گھوڑے بڑھے رہے۔
ان خوارزمی نے ”الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ“ میں لکھا ہے کہ بہمورث کے وقت میں ہندوستان میں آ کر نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور دراصل وہ ن نے ابراہیم علیہ السلام کی نسبت یہ تہمت لگائی کہ وہ ستارہ پرست تھے۔ اتفاقاً نمودار ہوا۔ اس زمانے میں برص والے کو لوگ نجس سمجھ کر اس سے مخالطت نہیں جہ سے انہوں نے اپنے غلفہ کو قطع کر ڈالا۔ یعنی اپنی ختنہ کی ، جب کسی بتخانے لئے تو کسی بت سے آواز آئی کہ اے ابراہیم تم ایک عیب کی وجہ سے ہمارے پاس وہ عیب لے کر آئے ہو۔ چلو ہمارے پاس سے نکلو اور پھر یہاں کبھی نہ آنا یہ ور اس بت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے اور مذہب بھی چھوڑ دیا۔ اس کے بعد ان ت ہوئی اور چاہا کہ اپنے بیٹے کو مشتری کے لئے ذبح کریں۔ کیونکہ اس زمانے ے مواقع میں اپنی اولاد کو ذبح کیا کرتے تھے۔ جب مشتری کو ان کی سچی توبہ کی تو ایک دنبہ ان کے فرزند کے عوض میں دے دیا۔“
ح مرزا قادیانی نے بھی عیسیٰ علیہ السلام پر تہمت لگائی کہ مسمریزم سے وہ فریب ت دیتے تھے۔ یعنی جادو گر تھے اور اپنے باپ نجار سے کلوں کی چڑیاں بنانا سیکھ مٹی میں خاصیت تھی۔ جس سے وہ چڑیاں بناتے اور کلوں کے ذریعے سے ور کوڑھی وغیرہ کا اسی مٹی سے علاج کرتے تھے۔ تعجب نہیں کہ یوذ آسف کی یائی کو اس طرف توجہ دلائی ہو کیونکہ ”سخن از پہلوئے سخن می خیز د“ اور اگر بغیر تقلید ختراع ہے تو پھر کون کہہ سکتا ہے کہ ان کی طبیعت یوذ آسف کی طبیعت سے کم
ہے۔ اسی طرح مسیح علیہ السلام کے سولی پر چڑھانے کا واقعہ انہوں نے اپنی طبیعت سے تراشا کہ ان کو یہود نے سولی پر چڑھایا اور مر گئے سمجھ کر شام سے پہلے اتار لیا۔ اتفاقاً اس وقت آندھی چلی اور گڑبڑ میں وہ بھاگ گئے اور اپنے وطن گلیل میں مرے اور پھر کشمیر میں آکر مرے۔ چنانچہ وہاں ان کی قبر موجود ہے۔ حالانکہ یہ قصہ نہ مسلمان کی کسی کتاب میں ہے نہ عیسائیوں کی کتاب میں۔ اسی طرح دجال وغیرہ کے حالات میں اپنی طبیعت سے واقعات اور اسباب تراشتے ہیں۔ اگر اہل علم ازالۃ الاوہام کو دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے زمانے میں مرزا قادیانی کی طبیعت یوذ آسف کی طبیعت سے اس باب میں کم نہیں۔ واقعات اور آیات واحادیث کے نئے نئے مضامین تراشنے میں ان کو کمال ہے۔ علماء کو عقلی لطف اٹھانے کے لئے یہ کتاب قابل دید ہے اور اگر بیچارے بے علم حسن ظن سے اس کو دیکھ لیں تو ضرور گمراہ ہو جائینگے۔ کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ جو شخص ابراہیم علیہ السلام کے اصل واقعات کو نہ جانتا ہو اور یوذ آسف کی تقریر مذکور کو حسن ظن سے دیکھ لے تو پھر اس کو اس بات کی تصدیق کرنے میں کہ ابراہیم علیہ السلام نعوذ باللہ مجوسی تھے۔ کون چیز مانع ہے۔ اس لئے بے علم اور نیم ملا کو مرزا قادیانی اور خان صاحب کی تصانیف کا دیکھنا سم قاتل سے بڑھ کر ہے۔
( تاریخ کامل ج ٢ ص ٢١٩ ، ٢٢٠، باب ذکر مسیلمہ واہل الیمامہ ) میں علامہ ابن اثیرؒ نے لکھا ہے کہ ”نہار الرجال بن عنفوہ ہجرت کر کے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور قرآن پڑھ کر اہل یمامہ کی تعلیم کے لئے گیا۔ جو سب مسلمان ہو گئے تھے۔ مسیلمہ کذاب نے اس کو کسی تدبیر سے اپنے موافق کر لیا اس نے اہل یمامہ میں یہ بات مشہور کی کہ نبی کریم ﷺ نے مسیلمہ کو اپنی نبوت میں شریک کر لیا ہے۔ چونکہ وہ لوگ نو مسلم اور دین کی حقیقت سے ناواقف تھے اور سب میں عالم بلکہ معلم وہی نہار تھا۔ پس انہوں نے حسن ظن سے اس کی تصدیق کر لی اور مسیلمہ کے تابع ہوگئے۔ چونکہ وہ ایک زبان آور متفنن شخص تھا۔ دعویٰ کیا کہ مجھ پر وحی اترتی ہے اور سجع عبارتیں یہ کہہ کر پیش کرتا کہ مجھ پر یہ وحی ہوئی ہے۔ چنانچہ ایک وحی اس کی یہ ہے کہ ”یا ضفدع بنت ضفدع نقی ماتنقین، اعلاک فی الماء واسفلک فی الطین لا الشارب تمنعین ولا الماء تکدرین “ اور ایک وحی اس کی یہ ہے۔ ”والمبدیات زرعا، والحاصدات حصدا، والذاریات قمحا، والطاحنات طحنا، والخابزات خبزا، والثاردات ثردا. واللاقمات لقما اہالۃ وسمنا لقد فضلتم علی اہل الوبر وما سبقکم اہل المدر، زیقکم فامنعوہ، والمعیی فادوہ والباغی فتاودہ “ علامہ خیر الدین افندی الآلوسیؒ نے ”الجواب الفسیح لما لفقہ عبدالمسیح “ میں عبدالمسیح نصرانی کا
قول نقل کیا ہے کہ اس کا پورا مصحف میں نے پڑھا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ایک مصحف ہی تصنیف کر ڈالا تھا اور دعویٰ یہ تھا کہ وہ الہامی کتاب ہے۔ غرض اس نے اس تدبیر سے بنی بنائی قوم یعنی مسلمانوں کو اپنے قبضے میں لے کر زبان آوری سے ان کا نبی بن بیٹھا اور کوئی شریعت نئی تجویز نہیں کی۔ بلکہ وہ سب پانچ وقت کی نمازیں پڑھا کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بھی معترف تھے۔
مرزا قادیانی نے بھی یہی کام کیا کہ پہلے مسلمانوں کو اپنے موافق بنانے کی یہ تدبیر نکالی کہ براہین احمدیہ مخالفین اسلام کے مقابلے میں تصنیف کی۔ جب معتقدوں کا اعتقاد راسخ ہوگیا تو بنی بنائی قوم کے نبی بن بیٹھے اور اعجاز مسیح لکھ کر معجزہ بھی ظاہر کر دیا۔ جیسے مسیلمہ کذاب نے مصحف لکھا تھا۔ (ضرورت الامام ص ٢٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٦) میں لکھتے ہیں کہ ”میں قرآن شریف کے معجزے کے ظل پر عربی بلاغت و فصاحت کا نشان دیا گیا ہوں۔ کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے۔“ یہی وجہ تھی کہ مسیلمہ کذاب کی فصاحت و بلاغت کو اس احمق قوم نے نشانی سمجھ لی۔ جس سے گمراہ اور ابدالآباد کے لئے دوزخی بن گئے اور نبی ﷺ کی نبوت کی تصدیق ان کے کچھ کام نہ آئی۔
مرزا قادیانی کی امت ہنوز اسی خیال میں ہے کہ ہم نبی ﷺ کی بھی تصدیق کرتے ہیں۔ اس لئے مسلمان ہیں۔ ذرا غور کریں کہ مسیلمہ کذاب کی امت بھی تو حضرت کی تصدیق کرتی تھی۔ مگر صدیق اکبرؓ نے اس کا کچھ اعتبار نہ کیا اور صحابہؓ نے حسب ارشاد نبی جو پہلے سے ہوچکا تھا جہاد کر کے ان سب کو قتل کر ڈالا۔ حق تعالیٰ نے آدمی کو وجدان بھی بڑی نعمت دی ہے۔ ذرا اس کی طرف توجہ کر کے دیکھیں کہ اگر یہ مرزا قادیانی کا واقعہ صحابہؓ کے زمانے میں وقوع میں آتا تو کیا یہ نبوت مسلم رہتی اور یہ ایمان کافی سمجھا جاتا۔
مسیلمہ کذاب کا مختصر حال جو مواہب اور اس کی شرح میں مذکور ہے۔ بمناسبت مقام لکھا جاتا ہے کہ ”اس کی عمر مرتے وقت ڈیڑھ سو برس کی تھی۔ اس حساب سے آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت اس کی عمر سوا سو برس کی تھی اور اس زمانے میں رحمن یمامہ مشہور تھا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے جب بسم الله الرحمن الرحیم ابتداءً پڑھا تو کسی نے کہا کہ اس میں تو مسیلمہ کا ذکر ہے وہ مدینہ طیبہ میں وفد بنی حنیفہ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوا۔ مگر ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی کہ آدھا ملک اپنے کو دیا جائے۔ جس سے حضرت ﷺ خفا ہوگئے پھر یمامہ آ کر نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ نامہ لکھا۔ ”من مسیلمة رسول الله الی محمد رسول الله ﷺ اما بعد فانی اشرکت معك فی الامر وان لنا
نصف الامر ولقريش نصف الامر “ حضرت ﷺ نے اس کے جواب میں لکھا۔ ”بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله الى مسيلمة الكذاب سلام على من اتبع الهدى اما بعد فان الارض لله يورثها من يشاء من عباده والعاقبة للمتقين “ (شرح مواہب اللدنیہ ج ٤ ص ٢٢٠ و ٢٢١ ، فصل الوفد الخامس ) “ علامہ برہان الدین وطواط نے (غرر الخصائص الواضحه ) میں لکھا ہے کہ حضرت صدیق اکبرؓ کی اوائل خلافت میں سجاح بنت سوید یربوعیہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ چونکہ یہ عورت نہایت فصیح تھی اور جو بات کہتی مسجع کہتی تھی۔ اس لئے اس کے مسجع اور پر زور تقریروں نے لوگوں کو مسخر کر لیا۔ چنانچہ کئی قبیلے عرب کے اس کے ساتھ ہو گئے۔ پھر اس نے بنی تمیم کا قصد کیا۔ چونکہ وہ بہت بڑا قبیلہ ہے۔ اس نے ان سے کہا کہ اگرچہ میں نبیہ ہوں۔ مگر عورت ہوں اگر تم مجھے تائید دو گے تو سلطنت اور امارت تم ہی میں رہے گی۔ انہوں نے قبول کیا ان دنوں مسیلمہ کذاب کی بھی شہرت تھی۔ سجاح نے کہا چلو اس کو آزمائیں گے۔ اگر فی الحقیقت نبی ہے تو مضائقہ نہیں۔ ورنہ اس کی قوم کو شرمندہ کرنا چاہئے اور ایک بڑی فوج لے کر روانہ ہوئی۔ جب مسیلمہ کو یہ حال معلوم ہوا تو گھبرایا اور تحائف و ہدایا بھیج کر امن کا خواستگار ہوا۔ جب اس نے امن دیا تو چالیس شخصوں کو لے کر اس کی طرف روانہ ہوا۔ قریب پہنچ کر اپنے رفقاء سے کہا کہ ایک عمدہ خیمہ اس کے لئے نصب کر کے بخور وغیرہ سے معطر کر دو۔ چنانچہ خیمہ آراستہ اور معطر کر کے اس کی دعوت کی گئی۔ جب وہ خیمے میں داخل ہوئی اور نبی ونبیہ کا اجتماع ہوا تو ادھر ادھر کی گفتگو اور موانست کے بعد سجاح نے پوچھا کہ تم پر کیا وحی ہوئی۔ مسیلمہ نے کہا ”الم تر کیف فعل ربك بالحبلی ٠ اخرج منها نسمة تسعى ٠ من بين صفاق وحشی “ کہا ، اس کے بعد کیا کہا ”ان الله خلق النساء افواجاً وجعل الرجال لهن ازواجا فنولج فيهن غرامیلنا ايلاجا ٠ ثم نخرجها اذا شئن اخراجا ٠ فينتجن لنا سخالاً نتاجا “ سجاح نے کہا اشهد انك نبي الله مسیلمہ نے کہا کیا تم مناسب سمجھتی ہو کہ تم سے نکاح ہو اور تمہاری اور ہماری فوج مل کر کل عرب کو فتح کرلے۔ کہا اچھا ساتھ ہی مسیلمہ نے یہ اشعار پڑھے۔
فان شئت ففى البيت وان شئت ففى المخدع
وان شئت سلقناك وان شئت على اربع
وان شئت بثلثيه وان شئت به اجمع
اس نے آخر فقرے کو پسند کر کے کہا یہ اجمع فهو للشمل اجمع صلی اللہ علیک مسیلمہ نے کہا مجھے بھی ایسی ہی وحی ہوئی ہے۔
جب بعد کامیابی کے سجاح اپنے مقام پر گئی لوگوں نے حال دریافت کیا، کہا کہ مسیلمہ برحق نبی ہے۔ اسی وجہ سے میں نے اس کے ساتھ نکاح کر لیا۔ لوگوں نے کہا کچھ مہر بھی دیا گیا۔ کہا نہیں ۔ کہا افسوس ہے تجھ جیسی عورت کا کچھ مہر مقرر نہ ہو ساتھ ہی سجاح لوٹی ، مسیلمہ نے کہا خیر تو ہے کہا مہر کے لئے آئی ہوں۔ کہا تمہارا موذن کون ہے۔ کہا حبیب ابن ربعی ۔ کہا اس کو بلاؤ۔ جب وہ آیا تو مسیلمہ نے کہا سجاح کے مہر میں تم سب لوگوں سے صبح اور عشاء کی نماز میں نے معاف کر دی۔ سب قوم میں پکار دو کہ محمد رسول اللہ نے جو پانچ نمازیں مقرر کی تھیں ان میں سے دو نمازیں مسیلمہ بن حبیب رسول اللہ نے معاف کردیں۔ چنانچہ بنی تمیم یہ دو نمازیں نہیں پڑھتے تھے۔
اس واقعہ سے ایک بات اور بھی معلوم ہوئی کہ درود اس زمانے میں سوائے انبیاء کے اور کسی کے نام کے ساتھ کہا نہیں جاتا تھا۔ اسی وجہ سے سجاح نے مسیلمہ کو صلی اللہ علیک اس وقت کہا۔ جب کہ اس کی نبوت کا اعتراف کیا۔
اب مرزا قادیانی کے نام پر صلی اللہ علیہ جو کہا جاتا ہے۔ وہ سجاح اور مسیلمہ کی سنت ہے۔ اس لئے کہ پہلے جس مدعی نبوت کے نام پر یہ جملہ کہا گیا مسیلمہ کذاب ہی تھا۔
علامہ زرقانی نے (شرح مواہب ج ٣ ص ٢٣) میں لکھا ہے کہ ” اسود عنسی جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور آنحضرت ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ اس کے روبرو سے ایک گدھا جا رہا تھا۔ اتفاقاً وہ گر گیا اس نے اس کو اپنا معجزہ قرار دیا۔ وہ اپنے کو سجدہ کرتا ہے۔ پھر جب وہ اٹھنے لگا تو کچھ کہہ دیا تا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اس کے حکم سے گدھا کھڑا ہو گیا ۔“
الغرض اتفاقی امور سے بھی عقلاء اعجاز نمائی کا کام لے لیتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے کئی مواقع میں ایسا ہی کیا۔ طاعون جب تک قادیان میں آیا نہ تھا۔ مرزا قادیانی نے اشتہار جاری کیا کہ انه اوی القری اور للکارا کہ کوئی ہے کہ ہماری طرح اپنے اپنے شہر کی بابت کہے۔ انه اوی القری اور لکھا کہ طاعون کا یہاں آنا کیسا۔ باہر سے طاعون زدہ کوئی آتا ہے تو اچھا ہو جاتا ہے۔
(دافع البلاء ص ٦ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
اور لکھا کہ قادیان محفوظ رہے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتیوں کے لئے نشان ہے۔
(دافع البلاء ص ١٠ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
پھر جب طاعون قادیان میں پہنچ گیا تو اخبار (بدر ١٦ مئی ١٩٠٣ء) میں شائع کرایا کہ
طاعون حضرت مسیح علیہ السلام کے الہام کے ماتحت اپنا کام برابر کر رہا ہے۔ دیکھئے عقلی معجزہ اسے کہتے ہیں کہ طاعون سے کھلے کھلے دو عقلی معجزے ظاہر ہو گئے۔
زلزلہ سے جوالا مکھی کا بتخانہ جب تباہ ہوا تو (الحکم نمبر ١٣ ج ٩ ص ١١، کالم نمبر ٤، ١٧ اپریل ١٩٠٥ء) میں فرماتے ہیں کہ ”ان بتوں کے گرنے پر خدا کے جری کو یہ وحی ہوئی جاء الحق وزھق الباطل جیسے کہ آنحضرت ﷺ نے فتح مکہ کے دن یہ آیت پڑھی۔ جب کہ وہ بت جو بیت اللہ میں رکھے تھے توڑ دیئے گئے۔ آج احمد قادیانی کے منہ سے خدا کی اس وحی کا پھر نزول ہوا۔“ فی الحقیقت مشہور آیت کا پڑھ دینا بھی عقلی معجزہ ہے۔ مرزا قادیانی ہی کا کام تھا کہ بر موقع کمال جرأت سے اپنے گھر بیٹھ کر وہ آیت پڑھ دی۔
(ازالۃ الاوہام ص ١٠٧، خزائن ج ٣ ص ١٥٨) میں لکھتے ہیں۔ ”جس زمانے میں آنحضرت ﷺ کا کوئی نائب دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو یہ تحریکیں ایک بڑی تیزی سے اپنا کام کرتی ہیں۔۔۔۔ اور اس نائب کا نیابت کا اختیار ملنے کے وقت تو وہ جنبش نہایت تیز ہو جاتی ہے۔“
اور دوسری جگہ لکھتا ہے کہ ”طبیعتوں اور دلوں اور دماغوں کو غایت درجے کی جنبش دی جائے گی۔۔۔۔۔۔ اور تمام انسانوں کے استعدادات مخفیہ کو بمنصہ ظہور لائیں گے اور جو کچھ ان کے اندر علوم وفنون کا فتح باب ہو جاتا ہے۔ صنعتیں کلیں ایجاد۔۔۔۔۔۔ اور نیکیوں کی قوتوں میں خارق عادت طور پر الہامات اور مکاشفات ہوتے ہیں۔“ (ازالۃ الاوہام ص ١١٤، ١١٥، خزائن ج ٣ ص ١٦٢ تا ١٦٣)
اور یہ سب اپنا حال بیان فرماتے ہیں۔ جو سیاق وسباق سے ظاہر ہے۔ غرض یہ کہ جتنی کلیں امریکہ اور یورپ میں ایجاد ہوئیں مرزا قادیانی کے ہی معجزات ہیں۔
(اربعین نمبر ٢ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٣٤٥) میں لکھتے ہیں کہ ”مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے لوگوں کے لئے ایک بھاری نشان ظاہر ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ تیرہ سو برس سے مکے سے مدینے جانے کے لئے اونٹوں کی سواری چلی آتی تھی اور ہر ایک سال کئی لاکھ اونٹ مکہ سے مدینہ سے مکہ کو جاتا تھا اور قرآن وحدیث میں بالاتفاق یہ پیش گوئی تھی کہ ایک وہ زمانہ آتا ہے کہ یہ اونٹ بے کار کئے جائیں گے اور کوئی ان پر سوار نہیں ہوگا۔ چنانچہ ’واذ العشار عطلت اور حدیث یترک القلاص فلا یسعی علیھا‘ اس کی گواہ ہے۔ پس یہ کس قدر بھاری پیش گوئی ہے جو حج کے زمانے کے لئے اور مسیح موعود کے ظہور کے لئے بطور علامت تھی جو ریل کی تیاری پر پوری ہو گئی
”فالحمد لله علی ذلک“
آیہ واذا العشار عطلت سورۃ اذا لشمس کورت میں ہے۔ (درمنثور ج ٦ ص ٣١٨) میں امام
سیوطیؒ نے یہ حدیث نقل کی ہے۔ ”واخرج احمد والترمذی وابن المنذر والحاکم وصححہ ابن مردویہ عن ابن عمرؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من سرہ ان ینظر الیٰ یوم القیامۃ کانہ رای عین فلیقرأ اذا الشمس کورت الحدیث“ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے جس کو یہ اچھا معلوم ہو کہ قیامت کو رائے العین دیکھ لے تو اذا الشمس کورت پڑھے۔ کیونکہ اس میں زمینی اور آسمانی انقلاب پورے مذکور ہیں کہ عشار یعنی گابھن اونٹنیاں جو عربوں کو نہایت مرغوب ہوا کرتی ہیں ان کی طرف کوئی توجہ نہ کرے گا۔ کل وحشی جانور اکٹھے ہو جائیں گے۔ یعنی چرندوں کو درندوں کا کچھ خوف نہ ہوگا۔ پہاڑ اڑ جائیں گے۔ سمندروں کا پانی خشک ہو جائے گا۔ تارے گر جائیں گے۔ آفتاب بے نور ہو جائے گا۔ آسمان خراب ہو جائیں گے۔ غرض اونٹنیوں کے معطل ہونے سے مقصود بیان ہول و پریشانی ہے۔ جو نفخ صور کے وقت قیامت کے قریب ہوگی۔ مرزا قادیانی نے یہ سمجھا کہ حجاز ریلوے کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو جائے گا۔ یہ دوسرا عقلی معجزہ ہے۔ مرزا قادیانی نے حجاز ریلوے سے جو یہ کام لیا کہ وہ اپنی نشانی ہے۔ اس سے زیادہ وہ اس سے کام لے بھی نہیں سکتے۔ اس لئے کہ حج کو جانا بھی ان کا عقلاً محال ہے۔ کیونکہ ازالۃ الاوہام میں وہ تصریح سے کہتے ہیں کہ ہندوستان بلکہ قادیان دارالامان ہے۔ پر اس دارالامن سے کسی دارالاسلام میں وہ کیونکر جاسکتے۔ تا کہ نوبت سواری کی پہنچے۔ غرض اس ریل کو اپنی سواری اگر تجویز فرماتے ہیں تو ایں خیالست و محالست کا مضمون صادق ہے اور اگر اونٹنیوں کا بے کار ہونا ہی علامت ان کے مسیح موعود ہونے کی ہے تو مارواڑ کی اونٹنیاں مرزا قادیانی کی عیسویت ثابت ہونے نہ دیں گی۔ اس لئے کہ باوجود ریل کے وہ اب تک بے کار نہیں ہوئیں پھر حجاز کی اونٹنیاں کیوں بے کار ہوں گی۔
(ازالۃ الاوہام ص ٧٢٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٨٩، ٤٩٠) میں لکھتے ہیں کہ ”آیت انا علیٰ ذھاب بہ لقادرون“ میں ١٨٥٧ء کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں ہندوستان میں ایک مفسدۂ عظیم ہو کر آثار باقیہ اسلامی سلطنت کے ملک ہند سے ناپدید ہو گئے تھے۔ کیونکہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل ١٢٧٤ ہیں اور ١٢٧٤ کے زمانہ کو جب عیسوی تاریخ میں دیکھنا چاہیں تو ١٨٥٧ء ہوتا ہے۔..... جس کی نسبت خدائے تعالیٰ آیت موصوفہ بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائے گا....... پر اس حکیم و علیم کا قرآن میں یہ فرمانا کہ ١٨٥٧ء عیسوی میں میرا کلام آسمان پر اٹھایا جائے گا۔ یہی معنی رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے۔ جیسا کہ مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔“ (نیز ازالۃ الاوہام ص ٦٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٥٥) میں لکھتے ہیں کہ
”حدیثوں میں یہ بات بوضاحت لکھی گئی ہے کہ مسیح موعود اس وقت دنیا میں آئے گا کہ جب علم قرآن زمین پر سے اٹھ جائے گا اور جہل شیوع پا جائے گا۔ یہ وہی زمانہ ہے جس کی طرف ایک حدیث میں اشارہ ہے۔ ”لوكان الايمان معلقاً عند الثريا لناله رجل من فارس“ یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا۔ جو کمال طغیان اس کا اس سن ہجری میں شروع ہوگا۔ جو آیت وانا علی ذهاب به لقادرون میں بحساب جمل مخفی ہے۔“
اس تقریر میں عقلی معجزہ مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ ١٢٧٤ھ سے قرآن کو غائب کر دیا۔ پھر ١٣٠٠ھ میں اسے ثریا سے اتار لایا۔ کیونکہ (ازالۃ الاوہام ص ١٨٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٩، ١٩٠) سے واضح ہے کہ مسیح کے ظہور کی تاریخ غلام احمد قادیانی (١٣٠٠ھ) ہے۔ مرزا قادیانی کو قرآن غائب کرنے کے لئے اچھا غدر کا موقع ہاتھ آگیا۔ مگر اس میں یہ کسر رہ گئی کہ غدر تو ہندوستان کے لوگوں نے کیا تھا۔ قرآن حرمین، عرب، روم، شام، بلخ، بخارا، افغانستان، چین وافریقہ وغیرہ سے کیوں اٹھا لیا گیا۔ مرزا قادیانی نے روئے زمین کو ہندوستان میں منحصر کر کے سب کو اس شعر کا مصداق سمجھا۔
زمین و آسمان او ہمانست
ورنہ کبھی یہ نہ فرماتے کہ غدر میں قرآن زمین سے اٹھا لیا گیا اور قرآن اگر ہندوستان سے اٹھا لیا گیا تھا تو دوسرے اسلامی ملکوں میں ضرور باقی تھا۔ پھر پچیس تیس سال تک کیا کوئی دوسرے ملک کا مسلمان ہندوستان میں آیا ہی نہیں یا کوئی ہندوستانی اس مدت میں حج کو ہی نہیں گیا۔ جو وہاں سے اپنے اور اپنے بھائیوں کی دین و دنیا کی بہبودیوں کا ذریعہ اور ایمان کا مدار وہاں سے لے آتا اور مرزا قادیانی کو ثریا سے اتار لانے کی زحمت نہ ہوتی اس بیان سے مقصود یہ ہے کہ جہاں اتفاقی امر میں مرزا قادیانی کو کسی قسم کا موقع مل جاتا ہے تو اس کو استدلال میں پیش کر دیتے ہیں اور کسی بات کی پروا نہیں کرتے۔ دیکھئے کس ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ خدا نے قرآن میں فرمایا کہ ١٨٥٧ء میں میرا کلام آسمان پر اٹھایا جائے گا تا کہ جاہلوں اور آمنا و صدقنا کہنے والوں کو یقین ہو کہ قرآن ہاتھ سے نکل ہی گیا تھا۔ اگر مرزا قادیانی نہ ہوتے تو کس سے یہ ہو سکتا کہ ثریا پر جا کر وہاں سے اسے لے آتا۔
علامہ جوہری نے (کتاب المقار) میں لکھا ہے کہ حجاز کے کسی شہر میں ایک شخص سے ملاقات ہوئی۔ جس کا نام سلیمان مغربی تھا۔ اس کی عجیب حالت دیکھی گئی کہ جو مہمان اس کے ہاں
جاتا۔ جس قسم کے کھانے کی خواہش کرتا غیب سے اس کا سامان ہو جاتا تھا۔ چنانچہ ہم آٹھ شخص اس کے ہاں گئے۔ ہر ایک نے ایک خاص قسم کے کھانے کی فرمائش کی شیخ اپنے خلوت خانے میں جا کر نماز اور دعا میں مشغول ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب باہر نکلا تو ہر ایک کی فرمائش موجود تھی۔ جس سے ہم حیران ہو گئے۔ جوہری لکھتے ہیں کہ میں نے اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس کی عورت شہر میں رہتی ہے۔ شیخ کو جو کچھ منگوانا ہوتا ہے۔ حجرے میں جا کر کل فرمائشیں لکھ کر کبوتر کے ذریعے سے اس کے پاس بھیج دیتا ہے اور وہ عورت سب چیزیں تیار کر کے فوراً بھیج دیتی ہے۔ اس عقلی معجزے سے لوگ اس کے بہت معتقد تھے۔ دور دور سے تحائف وہدایا اور زرخطیر اس کے پاس بھیجتے تھے۔ جس سے وہ نہایت مرفہ الحال تھا۔
اس قسم کے عقلی معجزات کی تکمیل آدمی اپنی ذات سے نہیں کر سکتا۔ کسی اعتمادی شخص کی تائید کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ یہ شیخ قانع اور خانہ نشین تھا۔ ایک عورت ہی کی تائید اس کے لئے کافی تھی اور جو لوگ بلند ہمت اور مرد میدان ہوتے ہیں اور ایک بڑے پیمانے پر کام چلانا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے کئی ہمراز مؤیدوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسا کہ ابن تومرت کے حال سے ظاہر ہے کہ ایک بڑی جماعت عقلا و علماء کی فراہم کر کے کام شروع کیا۔ ایک عبداللہ ونشریسی اس کو ایسا مل گیا تھا کہ اس کے سب کاموں کو اس سے فروغ ہو گیا اولاً اس کو دیوانہ بنا کر ساتھ رکھا۔ پھر جب ایک بڑے مجمع میں معجزے کی ضرورت ہوئی تو عقلی طور پر اس سے یہ کام لیا ۔ یا تو ہمیشہ دیوانہ اور کثیف قابل نفرت حالت میں رہتا تھا۔ یا نہایت فاخرہ عالمانہ لباس پہن کر مجمع میں آیا اور ایک پر تاثیر واقعہ بیان کیا کہ رات آسمان سے ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور میرا سینہ شق کر کے دل دھو کر قرآن اور موطا وغیرہ کتب حدیث و علوم سے بھر دیا۔ جب اس کا امتحان لیا گیا تو واقعی عالم ثابت ہوا۔ ابن تومرت یہ حالت دیکھتے ہی بے اختیار رونے لگا کہ کس منہ سے میں خدا کا شکر ادا کروں اس عاجز کی جماعت میں اس نے ایسے لوگوں کو بھی شریک کیا جس پر فرشتے آسمان سے اترتے ہیں اور جس طرح ہمارے سید ہمارے مولیٰ روحی فداہ سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کا سینہ مبارک شق کیا گیا تھا آج اس عاجز کی جماعت میں ایک ذلیل سے ذلیل شخص کا سینہ فرشتوں نے شق کر کے قرآن وحدیث اور تمامی علوم لدنیہ سے بھر دیا۔ یہ سب حضرت ہی کا طفیل ہے۔
اس معجزے کے دیکھنے کے بعد ہزاروں حمقاء معتقد اور جان دینے پر مستعد ہو گئے۔ مرزا قادیانی کی جماعت میں فاضل اجل حافظ حکیم مولوی نور الدین صاحب ایسے مدبر شخص ہیں کہ مرزا قادیانی کو ان پر ناز ہے اور ہونا بھی چاہئے۔
(ازالۃ الاوہام ص٧٧٨، خزائن ج٣
ص ٥٢١) میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”بہتیروں نے باوجود بیعت کے عہد بیعت فسخ کر دیا تھا اور بہتیرے سست اور مذبذب ہو گئے تھے۔ تب سب سے پہلے مولوی صاحب ممدوح حکیم نور الدین صاحب کا خط اس عاجز کے اس دعوے کی تصدیق میں کہ (میں ہی مسیح موعود ہوں) قادیان میں میرے پاس پہنچا۔ جس میں یہ فقرات درج تھے۔ آمنا وصدقنا فاکتبنا مع الشاہدین“ حکیم نور الدین صاحب جیسے فاضل شخص جب آمنا وصدقنا کہہ کر امتی بن جائیں تو پھر جاہلوں کی کیا کمی ہے۔ حکیم صاحب کے سوا مولوی عبدالکریم صاحب وغیرہ بھی اس کمیٹی کے معزز ارکان ہیں جن سے مرزا قادیانی کو بہت کچھ تائید ملی اور ملتی جاتی ہے۔ (ضرورت الامام ص ٢٩، خزائن ج ١٣ ص ٥٠٠) میں لکھتے ہیں۔ ”ایک جلیل الشان فاضل مولوی حکیم حافظ حاجی حرمین نور الدین صاحب جو گویا تمام جہان کی تفسیریں اپنے پاس رکھتے ہیں اور ایسا ہی ان کے دل میں ہزار ہا قرآنی معارف کا ذخیرہ ہے...... یہ لوگ دیوانے تو نہیں کہ انہوں نے مجھ سے بیعت کر لی اور دوسرے ملہموں کو چھوڑ دیا۔“ فی الحقیقت حکیم صاحب جامع الکمالات اور بڑے عقلمند شخص ہیں۔ مگر ونڈریمی سے زیادہ مرزا قادیانی کو مدد نہ دے سکے۔
مرزا قادیانی (براہین احمدیہ ص ٤٦٨ تا ٤٧٠ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٥٩ تا ٥٦١) میں لکھتے ہیں کہ ” ایک دفعہ روپے کی سخت ضرورت تھی ...... تو آریہ سماج کے چند آدمیوں کے روبرو دعا کی ...... اور الہام ہوا کہ دس دن کے بعد روپیہ آئے گا اور یہ بھی الہام اسی وقت ہوا کہ تم امرتسر بھی جاؤ گے...... چنانچہ دس دن کے بعد گیارھویں روز محمد افضل خان صاحب سپرنٹنڈنٹ بندوبست راولپنڈی نے ایک سو دس روپے بھیجے اور بیس روپے ایک اور جگہ سے آئے ...... سو یہ وہ عظیم الشان پیش گوئی ہے۔ جس کی مفصل حقیقت پر اس جگہ کے چند آریوں کو بخوبی اطلاع ہے۔ اگر قسم دی جائے تو سچی گواہی دیں گے۔“
انصاف سے دیکھا جائے تو مرزا قادیانی کی اس کارروائی میں ایک قسم کا اعجاز ہے۔ اگر چہ احتیاطاً دس روز کے بعد کی قید لگائی تھی۔ اس لحاظ سے کہ روپے کا معاملہ ہے۔ ممکن ہے کہ بھیجنے والے صاحب وقت مقررہ پر جو خط و کتابت وغیرہ ذرائع سے قرار دیا گیا ہو گا نہ بھیج سکیں۔ مگر ان پر آفرین ہے کہ برابر وقت معین پر بھیج دیا۔ جس سے عقلی پیش گوئی پوری ہوئی۔
(براہین احمدیہ ص ٤٧١ تا ٤٧٣، خزائن ج ١ ص ٥٦٢ تا ٥٦٣) میں لکھتے ہیں کہ ”نور احمد خاں صاحب الہام کے منکر تھے۔ ان سے کہا گیا کہ خداوند کریم کے حضور میں دعا کی جائے گی کچھ تعجب نہیں کہ وہ دعا بہ پایہ اجابت پہنچ کر کوئی ایسی پیش گوئی خداوند کریم ظاہر فرما دے۔ جس کو تم
بچشم خود دیکھ جاؤ۔ چنانچہ دعا کی گئی اور علی الصباح بنظر کشفی ایک خط دکھایا گیا جو ایک شخص نے ڈاک میں لدھیانہ بھیجا ہے۔ اس خط پر انگریزی زبان میں لکھا ہوا ہے۔ آئی ایم کوارلر اور عربی میں یہ لکھا ہے ہذا شاہد نزاع چونکہ یہ خاکسار انگریزی زبان سے کچھ واقفیت نہیں رکھتا اس جہت سے پہلے علی الصباح میاں نور احمد صاحب کو اس کشف اور الہام کی اطلاع دے کر انگریزی خوان سے اس انگریزی فقرے کے معنی دریافت کئے گئے تو معلوم ہو گیا کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ میں جھگڑنے والا ہوں۔ سو اس خط سے یقیناً یہ معلوم ہو گیا کہ کسی جھگڑے کے متعلق کوئی خط آنے والا ہے۔ شام کو ان کے روبرو پادری رجب علی کا خط آ گیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ اس عاجز کو ایک واقعہ میں گواہ ٹھہرایا ہے۔“
عقلی معجزے کے لوازم سے ہے کہ جو علوم جانتے ہیں ان کو ایسا چھپانا جیسا کہ کوئی راز کو چھپاتا ہے۔ دیکھئے ونشریسی اور اخرس وغیرہ نے کس عالی حوصلگی سے علم کو چھپایا جو آخر میں معجزے کا کام دیا۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی انگریزی دانی کو چھپاتے ہیں تا کہ ان الہامات میں جو اکثر انگریزی زبان میں ہوا کرتے ہیں۔ جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے معجزے کا کام دے۔ اہل دانش پر اس قسم کے معجزات سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ مرزا قادیانی کے لوگ ڈاک خانے میں اور دوسرے شہروں میں متعین ہیں کہ اس قسم کی خبروں کی تحقیق کر کے فوراً لکھ دیا کریں تا کہ معجزات کا رنگ نہ بگڑے۔
(براہین احمدیہ ص ٤٧٤ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٦٥) میں لکھتے ہیں ۔ ”از انجملہ ایک یہ ہے کہ ایک دفعہ فجر کے وقت الہام ہوا کہ آج حاجی ارباب محمد لشکر خان کے قرابتی کا روپیہ آتا ہے۔ یہ پیش گوئی بھی بدستور معمول اسی وقت چند آریوں کو بتلائی گئی اور یہ قرار پایا انہیں میں سے ڈاک کے وقت کوئی ڈاکخانے میں جاوے۔ چنانچہ ایک آریہ ملاوا مل نامی اس وقت ڈاکخانہ میں گیا اور یہ خبر لایا کہ ہوتی مردان سے دس روپیہ آئے ہیں۔“
فی الواقع روپیہ بھیجنے اور ڈاکخانے کی ایسے طور پر خبر رکھی کہ بھید نہ کھلنے پائے۔ ہر کسی کا کام نہیں۔ مرزا قادیانی نے عقلی اعجاز کر دکھایا ڈاکخانے والے کی کسی قدر استمالت کی ضرورت ہوئی ہو گی کہ خطوط تقسیم کرنے سے پہلے خبر دے دی یہی تو عقلی معجزات ہیں جو ہر کسی کا کام نہیں۔
(براہین احمدیہ ص ٤٧٦ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٦٨، ٥٦٧) میں لکھتے ہیں ۔ ”از انجملہ ایک یہ ہے کہ ایک دفعہ اپریل ١٨٨٣ء میں صبح کے وقت بیداری میں جہلم سے روپیہ روانہ ہونے کی اطلاع دی گئی اور اس بات سے اس جگہ آریوں کو جن سے بعض خود جا کر ڈاکخانے میں
خبر لیتے تھے۔ بخوبی اطلاع تھی کہ اس روپیہ کے روانہ ہونے کے بارے میں جہلم سے کوئی خط نہیں آیا تھا۔ کیونکہ یہ انتظام اس عاجز نے پہلے ہی سے کر رکھا تھا کہ جو کچھ ڈاکخانے سے خط وغیرہ آتا تھا۔ اس کو خود بعض آریہ ڈاکخانے سے لے آتے تھے اور ہر روز ہر ایک بات سے بخوبی مطلع رہتے تھے اور خود اب تک ڈاک خانہ کا ڈاک منشی بھی ایک ہندو ہی ہے۔ غرض جب یہ الہام ہوا تو ان دنوں میں ایک پنڈت کا بیٹا شام لال نامی جو ناگری اور فارسی دونوں میں لکھ سکتا تھا بطور روزنامہ نویس کے نوکر رکھا ہوا تھا اور بعض امور غیبیہ ظاہر ہوتے تھے۔ اس کے ہاتھ سے وہ ناگری اور فارسی خط میں قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے اور پھر شام لال مذکور کے اس پر دستخط کرائے جاتے تھے۔ چنانچہ یہ پیش گوئی بھی بدستور لکھائی گئی اور اس وقت کئی آریوں کو بھی خبر دی گئی اور ابھی پانچ روز نہیں گزرے تھے جو پینتالیس روپے کا منی آرڈر جہلم سے آ گیا اور جب حساب کیا گیا تو ٹھیک ٹھیک اسی دن منی آرڈر روانہ ہوا تھا۔ جس دن خداوند عالم الغیب نے اس کے روانہ ہونے کی خبر دی تھی۔“
مرزا قادیانی کا جہلم والے صاحب پر کس قدر وثوق ہوگا کہ خود تاریخ منی آرڈر بھیجنے کی قرار دی تھی۔ برابر اسی تاریخ انہوں نے بھیجا تا کہ معجزہ جھوٹا نہ ہو جائے۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ایسے معجزات کے لئے ایک کمیٹی کی ضرورت ہے۔ جو سب ہم خیال ہوں اور جہاں رہیں اپنے اپنے فرائض منصبی پورے ادا کرتے رہیں۔
اور یہ بھی (براہین احمدیہ ص ٢٧٧ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج١ ص ٥٦٨، ٥٦٩) میں ہے: ’’از انجملہ ایک یہ ہے کہ کچھ عرصہ ہوا کہ خواب میں دیکھا تھا کہ حیدرآباد سے نواب اقبال الدولہ صاحب کی طرف سے خط آیا ہے اور اس میں کسی قدر روپیہ دینے کا وعدہ لکھا ہے۔ یہ خواب بھی بدستور روزنامہ مذکورہ بالا میں اسی ہندو کے ہاتھ سے لکھائی گئی اور کئی آریوں کو اطلاع دی گئی پھر تھوڑے دنوں کے بعد حیدرآباد سے خط آ گیا اور نواب صاحب موصوف نے سو روپیہ بھیجا۔‘‘
ہمیں معلوم ہے کہ نواب صاحب صاحب کشف نہیں تھے۔ ایک مخیر شخص تھے کسی کی سعی پر انہوں نے اقرار کر لیا۔ جس کی خوش خبری متوسط نے دی اور مرزا قادیانی نے اس کو خواب و خیال سمجھ کر پیش گوئی کی مد میں لکھوا دیا جس کا ظہور معجزے کے رنگ میں ہوا۔ یہ سب اتفاق کی برکت ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
اہل دانش! اگر مرزا قادیانی کے معجزات کا موازنہ اور مقائسہ سلیمان مغربی کے معجزے
کے ساتھ کریں تو اس قسم کے معجزات میں اسی کا پلہ بھاری نظر آئے گا۔ اس لئے کہ اس نے سوائے اپنی بی بی کے کسی سے مدد نہیں لی اور ہزاروں روپے جمع کر کے مرجع خلائق بن گیا۔ البتہ مرزا قادیانی کے معجزے کسی ایک قسم میں منحصر نہیں۔ اس میں ان کو بے شک تفوق حاصل ہے۔
مگر اس قسم کے معجزات کو مرزا قادیانی جو عظیم الشان نشانیاں کہتے ہیں نازیبا ہے۔ اس لئے کہ اس قسم کے مغیبات کا دریافت کر لینا کئی طریقوں سے ہوا کرتا ہے۔ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ کچھ روپیہ صرف کر کے لوگ فراہم کر لئے جاتے ہیں۔ جو وقتاً فوقتاً خبر دیتے رہتے ہیں۔ افسران خفیہ پولیس اسی طریقے سے ہر شخص کے گھر کی بلکہ دل کی بات معلوم کر لیتے ہیں۔
کاہن لوگ بھی اس قسم کی خبریں دیتے ہیں۔ بلکہ وہ تو آئندہ کی خبریں بھی دیا کرتے ہیں۔ چنانچہ امام سیوطیؒ نے (خصائص کبریٰ) میں کئی روایتیں نقل کی ہیں۔ جن سے ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت سے پہلے سطیح اور شق وغیرہ کاہنوں نے مفصل خبریں دی تھیں کہ نبی آخر الزمان ﷺ قریب مبعوث ہونے والے ہیں جو بتوں کو توڑیں گے اور ملک فتح کریں گے۔
”مروج الذہب“ میں امام ابوالحسن مسعودیؒ نے لکھا ہے کہ کاہن لوگ جو غیب کی خبریں دیتے ہیں اس کے سبب میں اختلاف ہے۔ حکمائے یونان و روم کہتے ہیں کہ وہ لوگ نفوس کا تصفیہ کرتے ہیں۔ جس سے اسرار طبیعت کے منکشف ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ کل اشیاء کی صورتیں نفس کلی میں قائم ہیں۔ جن کے عکس نفوس مصفیٰ میں جلوہ گر ہوتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جنات ان کو خبر دے جاتے ہیں اور بعضوں کا قول ہے کہ اوضاع فلکیہ کو اس باب میں دخل تام ہے اور بعضوں کے نزدیک قوت اور صفائی طبیعت اور لطافت جس سے کہانت حاصل ہوتی ہے اور اکثر کا قول ہے اور احادیث سے بھی وہی ثابت ہوتا ہے کہ کوئی شیطان ان کے موافق ہوتا ہے جو اس قسم کی خبریں ان کو دیتا ہے۔ بہر حال اسباب کچھ ہی ہوں مگر سب کے نزدیک مسلم ہے کہ کاہن غیب کی خبریں دیا کرتے ہیں۔
عامل لوگ حاضرات کے ذریعے سے بھی ایسی خبریں معلوم کر لیتے ہیں۔ چنانچہ اس زمانے میں یہ لوگ بکثرت موجود ہیں۔
مسمریزم کے ذریعے سے بھی مغیبات پر اطلاع ہوا کرتی ہے۔ جس کو کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اس لئے کہ اس کی موجد مہذب قوم ہے اور اس کے تو مرزا قادیانی بھی قائل ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام مسمریزم ہی کے ذریعے سے عجائب دکھلاتے تھے۔ اگر چہ یہ وجہ بیان کر کے اس کی
مشاقی سے انکار کرتے ہیں کہ وہ کام قابل نفرت ہے۔ مگر عقلاً اس کو باور نہیں کر سکتے۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی نے اتنا بڑا دعویٰ مسیحائی اور مہدویت ومجددیت وغیرہ کا کیا ہے۔ ممکن نہیں کہ عملی معجزات دکھلانے کے لئے عملی کوئی ذریعہ پہلے سے تجویز نہ کر رکھا ہو اور یہ کام کچھ ایسا مشکل بھی نہیں، ہزار ہا آدمی اس کے واقف اور عامل موجود ہیں اور بہت سی کتابیں بھی اس فن میں تصنیف ہو چکی ہیں اور مرزا قادیانی ایک مدت تک گوشہ نشین اور خلوت گزین بھی رہ چکے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی مشابہت حاصل کرنے کی بھی ایک زمانے سے فکر ہو رہی ہے۔ پھر مسمریزم کی مشق سے کون سی چیز مانع ہے۔ رہا انکار سو مصلحت وقت کے لحاظ سے ایسے امور کی ضرورت ہوتی ہے۔ ”دروغ مصلحت آمیز بہ از راستی فتنہ انگیز“ پر عمل کرنا مقتضائے عقل ہے۔
بہر حال جب غیب کی خبروں پر اطلاع پانے کے متعدد ذریعے موجود ہیں اور انہیں ذرائع سے لوگ اس زمانے میں مطلع ہوا کرتے ہیں تو وہ حد طاقت بشری سے خارج نہ ہوا پھر وہ معجزہ کیونکر ہو سکتا تھا۔ معجزے کی حد میں یہ امر داخل ہے کہ قدرت بشری سے وہ کام خارج ہو۔ اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے اظہار معجزے کے وقت غیب کی خبر دینے سے انکار فرما کر وہ بات دکھلائی کہ امکان بشری سے خارج تھی۔
(غرائب القصص ابو العباس ص ١٧٧) میں لکھا ہے کہ ”ایک شخص نے کوفے میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ ابن عباسؓ نے سن کر فرمایا کہ اس سے کہا جائے کہ مادر زاد اندھے اور ابرص کو چنگا کرے اور جب تک یہ معجزہ وہ نہ دکھلائے اس کا دعویٰ مسموع نہیں ہو سکتا۔“ دیکھئے ترجمان القرآن جن کو علم وحکمت عطاء ہونے کی دعا نبی کریم ﷺ نے کی اور وہ مقبول بھی ہو گئے۔ جس کے مرزا قادیانی بھی معترف ہیں۔ انہوں نے کیسے مختصر جملے میں تصفیہ فرما دیا۔ اب جو حضرات ابن عباسؓ کو معتمد علیہ اور ان کی بات کو قابل اعتبار سمجھتے ہیں ان کے اس فیصلے پر راضی ہو کر مرزا قادیانی سے صاف کہہ دیں کہ جب تک مادر زاد اندھے اور کوڑھی جس کو ہم تجویز کریں آپ چنگا نہ کریں۔ آپ کا دعویٰ مسموع نہیں ہو سکتا۔
مرزا قادیانی کے معجزات میں وہ الہام بھی داخل ہیں جو موقع موقع پر ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً
- ١...... ”میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر ہو چکا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت
ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥٦١، خزائن ج ٣ ص ٤٠٢)
- ٢...... ”انا انزلناہ قریباً من القادیان جس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ
دمشق یعنی قادیان میں اترا ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٧٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٦)
- ٣...... ”کشف سے معلوم ہوا کہ غلام احمد قادیانی کے تیرہ سو عدد ہیں۔ یہی مسیح
ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٩٠،١٨٩)
- ٤...... ”اس عاجز کا نام آدم اور خلیفۃ اللہ رکھ کر اور انی جاعل فی الارض خلیفۃ
کے کھلے کھلے طور پر براہین احمدیہ میں بشارت دے کر لوگوں کو توجہ دلائی کہ تا اس خلیفۃ اللہ آدم کی اطاعت کریں اور اطاعت کرنے والی جماعت سے باہر نہ رہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٩٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٥)
- ٥...... ”قل انی امرت وانا اول المؤمنین ، واتانی مالم یوت
احداً من العالمین“
(ازالۃ الاوہام ص ٧٠٣، خزائن ج ٣ ص ٤٧٩)
- ٦...... ”قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله“
(ازالۃ الاوہام ص ٧٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٦)
- ٧...... ”قل یا ایها الکافرون انی من الصادقین“
(ازالۃ الاوہام ص ٨٥٥، خزائن ج ٣ ص ٥٦٥)
جن کا مطلب یہ ہوا کہ خدا نے عیسیٰ علیہ السلام کو مار کر مرزا قادیانی کو ان کی جگہ بجائے دمشق ، قادیان میں اتارا اور خلیفۃ اللہ آدم بنا کر بشارت ان کی براہین احمدیہ میں دے دی اور ان کو وہ فضائل دیئے جو عالم میں کسی کو نہیں دیئے اور ان کی اطاعت کرنے والا محبوب خدا ہے اور ان کا مخالف کافر ہے اور اس کے سوا یہ بھی فرماتے ہیں کہ خدا منہ سے پردہ اٹھا کر ان سے باتیں بلکہ ٹھٹھے کیا کرتا ہے۔
ادنیٰ تأمل سے معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ بیانات بھی معجزے نہیں ہو سکتے۔ اس لئے کہ ابھی معلوم ہوا کہ معجزہ وہ ہے جو طاقت بشری سے خارج ہو اور یہ بیانات طاقت بشری سے خارج نہیں۔ دیکھ لیجئے مسیلمہ کذاب سے لے کر آج تک جتنے جھوٹے نبی اور مدعیان امامت وعیسویت ومہدویت وکشفیت وشاہدیت ومحدثیت وغیرہ گزرے سب برابر کہا کرتے تھے کہ ہم پر وحی ہوتی ہے اور خدا سے باتیں کیا کرتے ہیں اور کسی کو تو خدا نے اپنا پیارا بیٹا بھی کہہ دیا۔ ان کی تعلیموں پر وہ حکایت صادق آتی ہے۔ جس کو مولانا رومؒ نے مثنوی میں لکھا ہے۔
اندراں خم کرد یک ساعت درنگ
پس برآمد پوستش رنگیں شدہ
کہ منم طاؤس علیین شدہ
دید خود را سرخ و سبز و بور و زرد
خویشتن را بر شغلاں عرضہ کرد
جملہ گفتند اے شغالک حال چیست
کہ ترا در سر نشاطی ملتویست
از نشاط از ما کرانہ کردۂ
ایں تکبر از کجا آوردۂ
یک شغالے پیش او شد کاے فلاں
شید کردی تا شدی از خوشدلاں
شید کردی تا منبر بر جہی
تا ز لاف ایں خلق را حسرت دہی
پس بکوشیدی ندیدی گرمیے
پس ز شید آوردۂ بے شرمیے
صدق و گرمی خود شعار اولیاست
باز بے شرمی پناہ ہر دغاست
کالتفات خلق سوئے خود کنند
کہ خوشیم و از دروں بس ناخوشند
غرض یہ کہ اپنے منہ سے وہ ہزار تعلیاں کریں مگر کیا کوئی عاقل ان کی تعلیوں کو معجزہ کہہ سکتا ہے۔ ہاں اس کو ہم مان لیں گے کہ بقول مرزا قادیانی وہ بھی ایک قسم کے عقلی معجزات ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ جب تک خدا کی طرف سے ان لوگوں کو پیام نہ پہنچائے جائیں یہ سادہ لوح ہماری بات کو نہ مانیں گے۔ اس لئے حسب ضرورت الہام بنا بنا کر ان کو خدا کی طرف سے سنایا اور قاعدے کی بات ہے کہ جہاں لاکھوں آدمی ہوں وہاں صدہا بلکہ ہزارہا ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کسی بات کی تحقیق سے ان کو کچھ غرض نہیں ہوتی۔ ایسی باتوں کو سچ مچ خدائے تعالیٰ کا ارشاد سمجھ کر مان لیتے ہیں۔
(غرر الخصائص) میں لکھا ہے کہ "ایک مولوی صاحب کسی بزرگوار کی ملاقات کو گئے دیکھا کہ قرآن شریف گود میں ہے اور زار زار رو رہے ہیں اور اشکوں سے قرآن کے اوراق تر ہیں۔ پوچھا یہ کیا حالت ہے۔ کہا میں نے اپنی لونڈیوں کے ساتھ چھاچھ کھائی تھی۔ جس سے خدا تعالیٰ منع فرماتا ہے۔ اب سوائے رونے کے اور کیا کرسکتا ہوں۔ کہا کس نے تمہیں اس سے منع کیا۔ کہا کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ "یسئلونک عن المحیض قل ھو اذًی فاعتزلوا النساء فی المحیض ولا تقربوھن (بقرہ:٢٢٢)" (اس آیت میں حائضہ عورتوں سے مقاربت منع کی گئی ہے۔ انہوں نے حیض کو مخیض بجائے محیض سمجھا۔ جس کے معنی چھاچھ کے ہیں) غرض وہ آیت سنا کر کہا کہ اب میری توبہ قبول ہونے کی کیا صورت ہے۔ مولوی صاحب نے ان کی حالت اور اصرار کو دیکھ کر کہا تضرع اور عاجزی سے توبہ کی جائے
تو قبول ہوتی ہے۔ سنتے ہی انہوں نے سر سے پگڑی اتارلی اور آستین چڑھا کر دست بدعا ہوئے اور یہ دعا کرنی شروع کی۔ ”اللهم انك تجد من ترحمه سواى ولا اجد من يعذبنى سواك“، یعنی یا اللہ تجھے رحم کرنے کے لئے بہت لوگ ملیں گے۔ لیکن مجھے عذاب کرنے والا تیرے سوا کوئی نہیں مل سکتا۔“
الحاصل اس قسم کی طبیعت والوں کو جب خدا کا پیام پہنچایا جائے اور اس کے ساتھ شعبدے اور نیرنجات وطلسمات اور کہانت ونجوم و مسمریزم وغیرہ سے کام لے کر ان کی کوتہ اندیش عقلیں مسخر کر لی جائیں تو پھر ان کے آمنا وصدقنا کہنے میں کیا تأمل۔ انہیں تدابیر سے ہر زمانے میں لاکھوں آدمیوں کو جعلسازوں نے پھانسا ویسی طبیعت اور خیال والے اب تک موجود ہیں اور اسلام میں جو زمانہ خیر القرون کا تھا۔ جب مسیلمہ کذاب واسود عنسی وغیرہ جعلسازوں کی چل گئی تو تیرہ سو برس کے بعد چل جانا کون سی بڑی بات ہے۔
اب یہ بات قابل غور ہے کہ مرزا قادیانی جو (ازالۃ الاوہام ص ١٤٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٥) میں لکھتے ہیں کہ ’ایک متدین عالم کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ الہام اور کشف کا نام سن کر چپ ہو جائے اور کبھی چون وچرا سے باز آ جائے ۔‘ اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک مسیلمہ کذاب وغیرہ کے الہام سن کر جو لوگ چپ رہے اور چون و چرانہ کئے وہ متدین تھے اور جو لوگ چون و چرا بلکہ ان کی سرکوبی کی وہ متدین نہ تھے۔ معاذ اللہ اس کا تو کوئی مسلمان قائل نہیں بلکہ جھوٹے نبیوں کے الہاموں کو رد کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
مرزا قادیانی (براہین احمدیہ ص ٢٣٨ تا ٢٣٨ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٥٩ تا ٢٦٣) میں اپنے پر الہام ہونے کی کیفیتیں نہایت دل چسپ بیان کرتے ہیں کہ ’وہ کامل روشنی کے ساتھ نازل ہوتا ہو اور بارش کی طرح متواتر برس کر اور اپنے نوروں کو قوی طور پر دکھلا کر ملہم کے دل کو کامل یقین سے پر کر دے اور مختلف تقریروں اور مختلف لفظوں میں اتر کر معنی اور مطلب کو بکلی کھول دے اور عبادت کو متشابہات میں سے بکل الوجوہ باہر کر دے اور متواتر دعاؤں اور سوال کے وقت خدا تعالیٰ ان معانی کا قطعی اور یقینی ہونا متواتر اجابتوں اور جوابوں کے ذریعے سے بوضاحت تمام بیان فرماوے۔ جب کوئی الہام اس حد تک پہنچ جائے تو وہ کامل النور اور قطعی اور یقینی ہے۔...... جب خدائے تعالیٰ اپنے بندے کو کسی امر غیبی پر بعد دعا اس بندہ کے یا خود بخود مطلع کرنا چاہتا ہے۔ تو یک دفعہ ایک بے ہوشی اور ربودگی اس پر طاری کر دیتا ہے۔ جس سے وہ بالکل اپنی ہستی کھویا جاتا ہے...... غرض بندہ جب حالت ربودگی سے جو غوطہ سے بہت مشابہ ہے باہر آتا ہے تو اپنے اندر
میں کچھ ایسا مشاہدہ کرتا ہے۔ جیسے ایک گونج پڑی ہوئی ہوتی ہے اور جب وہ گونج کچھ فرو ہوتی ہے تو ناگہاں اس کو اپنے اندر سے ایک موزوں اور لطیف اور لذیذ کلام محسوس ہو جاتا ہے اور یہ غوطہ ربودگی کا ایک نہایت عجیب امر ہے۔ جس کے عجائبات بیان کرنے کے لئے الفاظ کفایت نہیں کرتے۔ یہی حالت ہے۔ جس سے ایک دریا معرفت کا انسان پر کھل جاتا ہے۔۔۔۔۔ گویا اس عالم میں بندہ اپنے خدا کو دیکھ لیتا ہے۔۔۔۔۔ اور اپنے سوالوں کا جواب پاتا ہے۔ اس طرح کہ جیسے ایک انسان دوسرے انسان کا جواب دیتا ہے اور جواب نہایت فصیح اور لطیف الفاظوں میں بلکہ کبھی ایسی زبان میں ہوتا ہے کہ جس سے وہ بندہ نا آشنائے محض ہے اور کبھی امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے کہ جو مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہیں اور کبھی اس کے ذریعہ سے مواہب عظیمہ کی بشارت ملتی ہے اور منازل عالیہ کی خوش خبری سنائی جاتی ہے اور قرب حضرت باری کی مبارک بادی دی جاتی ہے اور کبھی دنیوی برکتوں کے بارے میں پیش گوئی ہوتی ہے۔ ان کلمات لطیفہ و بلیغہ کے سننے سے جو مخلوق کی قوتوں سے نہایت بلند اور اعلیٰ ہوتے ہیں سے جس قدر ذوق و معرفت حاصل ہوتی ہے اس کو وہی بندہ جانتا ہے۔ جس کو یہ نعمت عطاء ہوئی ہے۔“
اور (ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣) میں لکھتے ہیں کہ ”خدائے تعالیٰ کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرے سے اتار کر ان سے باتیں کرتا ہے اور بعض وقت غصے کرتا ہے۔“
غرض وحی اور الہام کے حالات مذکورہ کچھ تو احادیث سے اور کچھ صوفیہ کے کلام سے ماخوذ ہیں اور کچھ مرزا قادیانی کی ایجاد بھی ہے۔ ہمیں اس میں کلام نہیں کہ وحی اور الہام کے حالات ایک خاص قسم کے ہیں۔ جن کو اہل الہام جانتے ہیں۔ مگر کلام اس میں ہے کہ مرزا قادیانی کو بھی الہام ہوتا ہے یا نہیں اب تک انہوں نے اس دعویٰ پر کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ ممکن ہے کہ کسی قسم کی استغراقی حالت ان پر طاری ہوتی ہو۔ جس کو وہ بیخودی سمجھتے ہوں کیوں کہ انسان پر جو خیال غالب ہوتا ہے اس میں انہماک ہو جاتا ہے۔ جو لوگ کسی کام کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ ہر وقت اس کام کا خیال لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ خواب میں بھی وہی نظر آتا ہے۔ چنانچہ کسی بزرگ نے فرمایا ہے۔
ور بلبل بے قرار بلبل باشی
شاعروں کی حالت مشہور ہے کہ جب کوئی عمدہ مضمون ان کو سوجھتا ہے۔ تو وہ بیخود ہو جاتے ہیں اور دنیا ومافیہا سے ان کو خبر نہیں ہوتی اور بے اختیار وجد کرنے لگتے ہیں۔ چونکہ
مرزا قادیانی میں ایک مدت سے عیسویت کا خیال متمکن ہے اور اس کے لوازم کے اثبات کی فکر میں اکثر مستغرق اور منہمک رہتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ جب کوئی نیا مضمون اس استغراقی حالت میں ان کو سوجھتا ہو گا تو ایک ایسی حالت طاری ہوتی ہو گی ۔ جو کشف کے ساتھ مشابہ ہے۔ کیونکہ فکر کے دریا میں غوطہ لگانے کے بعد جو مضمون دستیاب ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی طرف کچھ ایسی توجہ رہتی ہے کہ کوئی دوسری چیز عالم خیال میں پیش نظر نہیں ہوتی اور دستیابی گوہر مقصود کا سرور اس کے دل پر ایسا محیط ہوتا ہے کہ بیخودی کی حالت طاری ہو جاتی ہے۔ اس استغراقی حالت میں چمکتے ہوئے گوہر مقصود کا پیش نظر رہنا اس بات کو باور کراتا ہے کہ اس مسئلے کا کشف ہو گیا۔ حالانکہ دراصل یہ ایک خیالی کشف ہوتا ہے۔ حالت واقعہ سے اس کو کوئی تعلق نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کا نفس لطیف ہو اور جس طرح کاہنوں کے کشف کا حال حکماء نے لکھا ہے ان کو بھی کشف ہوتا ہے اور بعض لوگوں کو ایسے بھی کشف ہوتے ہیں جو کسی شاعر نے لکھا ہے ۔
از متابکہ دل چو آئینہ ساخت آں لعیں را ہمیں کہ دید شناخت
بہ ملامت عتاب پیش گرفت برسرش زد بے دریغش گرفت
کہ چہا میکنی تو اے مردود شدہ از درگہ خدا مطرود
اے کہ گمراہ کردہ مردم را طوق اضلال حلقہ دم را
ایں ہمہ طاعت ورکوع وسجود بہر اغوائے خلق ومردم بود
ہم دریں جوش مشت برد بکار شد ازاں ضرب دست خود بیدار
چوں ترش رو ز خواب شیریں جست دید ریش خویش بدست خوداست
جنگ با دیو نفس آمد یاد خندہ زد بریش خود سر داد
اگرچہ شاعر نے اس حکایت میں کچھ شاعری سے بھی کام لیا ہوگا۔ مگر اس میں شک نہیں کہ شیطانی الہام بھی ہوا کرتے ہیں۔ جن کو واقعیت سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی تحریر سے بھی کشف والہام میں شیطان کی مداخلت ثابت ہے۔ جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص ٦٢٧، ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٨، ٤٣٩) میں لکھتے ہیں کہ ”میاں عبدالحق صاحب غزنوی اور مولوی محی الدین صاحب کو الہام ہوئے کہ مرزا قادیانی جہنمی ہیں اور کبھی اپنے الحاد اور کفر سے باز نہ آئیں گے اور ہدایت پذیر نہ ہوں گے ۔“ اس کے جواب میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”جب
انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے انکشاف کے لئے توجہ کرتا ہے خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی برا یا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے تو شیطان اس وقت اس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے۔ مگر وہ بلا توقف نکالا جاتا ہے۔ انجیل میں بھی لکھا ہے کہ شیطان اپنی شکل نوری فرشتوں کے ساتھ بدل کر بعض لوگوں کے پاس آ جاتا ہے اور نیز لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ دراصل وہ الہام ایک ناپاک روح کی طرف سے تھا۔ نوری فرشتے کی طرف سے نہیں تھا اور نبیوں نے دھوکا کھا کر ربانی سمجھا ۔“
مرزا قادیانی کے اعتراف سے یہ بات ثابت ہے کہ شیطان نوری شکل میں آتا ہے جس کی نبیوں کو بھی شناخت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ چار سو نبی دھوکا کھا کر جھوٹے ثابت ہوئے اور ان کو یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ وہ الہام ہے یا وسوسہ شیطانی۔ بقول مرزا قادیانی جب نبیوں کے الہاموں اور مشاہدے کا یہ حال ہو تو مرزا قادیانی کے الہام کس شمار و قطار میں اسی کا مؤید یہ واقعہ بھی ہے۔ جو نفحات الانس میں مولانا جامیؒ نے ابو محمد خفاف کے حال میں لکھا ہے کہ ایک جگہ مشائخ شیراز کا مجمع تھا۔ جس میں ابو محمد خفاف بھی تھے۔ گفتگو مشاہدے کے باب میں شروع ہوئی ہر ایک نے اپنے معلومات بیان کئے۔ ابو محمدؒ سب سنتے رہے اور اپنی تحقیق کچھ بیان نہیں کی۔ مولؒ بصاص نے کہا کچھ آپ بھی بیان فرمائیے۔ انہوں نے کہا یہ تحقیقات کافی ہیں۔ مولؒ نے اصرار کیا اس پر ابو محمدؒ نے کہا کہ یہ جس قدر گفتگو تھی حد علم میں تھی۔ حقیقت مشاہدے کی کچھ اور ہے اور وہ یہ ہے کہ حجاب منکشف ہو کر معائنہ ہو جائے۔ سب نے کہا یہ آپ کو کیونکر معلوم ہوا، کہا میں ایک بار تبوک میں نہایت مشقت اور فاقے کی حالت میں مناجات میں مشغول تھا کہ یکا یک حجاب اٹھ گیا۔ دیکھا کہ عرش پر حق تعالیٰ جلوہ افروز ہے میں دیکھتے ہی سجدے میں گرا اور عرض کیا کہ ”یا مولای ماھذا مکانی وموضعی منك “ یہ سن کر سب خاموش ہو گئے۔ مولؒ نے ان سے کہا کہ چلئے ایک بزرگ سے ملاقات کر آئیں اور ابن سعدانؒ محدث کے ہاں ان کو لے گئے۔ وہ نہایت تعظیم و تکریم سے پیش آئے۔ مولؒ نے ان سے کہا اے شیخ جو روایت آپ نے بیان کی تھی کہ ”قال النبی ﷺ ان للشیطان عرشا بین السماء والارض اذا اراد بعبد فتنة كشف له عنه “ ذرا سنائیے۔ شیخ نے بسند متصل وہ روایت سنائی جس
کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آسمان وزمین کے درمیان شیطان کا تخت ہے۔ جب خدائے تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے کہ کسی بندے کو فتنے میں ڈالے یعنی گمراہ کرے تو شیطان اس پر منکشف ہو جاتا ہے۔ ابو محمدؒ نے سن کر کہا کہ کچھ ایک بار اور پڑھئے شیخ نے اس کا اعادہ کیا۔ ابو محمدؒ روتے ہوئے بے اختیار اٹھے اور کئی روز غائب رہے۔ مولفؒ کہتے ہیں کہ جب ان سے ملاقات ہوئی میں نے پوچھا کہ اتنے روز سے آپ کہاں تھے۔ کہا اس کشف ومشاہدے کے وقت سے جتنی نمازیں پڑھی تھیں ان سب کی قضاء کی اس لئے کہ وہ سب شیطان کی پرستش تھی۔ پھر کہا کہ اب اس کی ضرورت ہے کہ جہاں اس کو دیکھ کر سجدہ کیا تھا۔ وہیں جاکر اس پر لعنت کروں۔ چنانچہ وہ چلے گئے اور پھر ان سے ملاقات نہ ہوئی۔
چونکہ ابو محمد خفافؒ سعید ازلی تھے۔ گو چند روز امتحاناً اس مہلک فتنہ میں مبتلا رہے۔ مگر جب حدیث شریف پہنچی تو فوراً متنبہ ہوگئے اور اس کشف وکشوف دونوں پر لعنت کی۔ مرزا قادیانی بے مثل اور معجزوں کے رویت الٰہی کو عقلی معجزہ اگر نہ بناتا اور فی الواقع اس قسم کا کشف ان کو ہوا کرتا ہو تو ضرور ہے کہ اس حدیث کے پہنچنے کے بعد مثل خفافؒ کے کشف و کشوف پر لعنت کریں۔ مگر بظاہر اس کی امید نہیں معلوم ہوتی۔
اب اہل انصاف غور کریں کہ جب مرزا قادیانی کے کشف والہام میں اتنے احتمالات موجود ہیں تو ان کے مخالفوں کو ان کشفوں اور الہاموں کے صحیح ماننے پر کونسی چیز مجبور کرسکتی ہے۔ پھر الہام بھی کیسے کہ کروڑہا مسلمانوں کے متواتر اخبار کے مخالف کیونکہ کوئی اعلیٰ درجے کا طبقہ امت مرحومہ کا ایسا نہیں جن کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ رہنا اور قیامت کے قریب ان کا آسمان سے اترنا ثابت نہ ہو۔ محدثین، فقہاء، اولیاء اللہ و غیرہم سب اس کے قائل اور اپنی مستند کتابوں میں اس کی تصریح کر چکے ہیں۔ برخلاف اس کے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اپنے کشف والہام سے اس کی غلطی ثابت ہے اور خدا نے مجھے عیسیٰ بنا کر بھیجا ہے۔ اس دعوے مجرد پر نہ کوئی گواہ ہے نہ حدیث میں اشارہ کہ قادیانی صاحب سے خدا بالمشافہ باتیں کرکے ان کو عیسیٰ بنا کر بھیجے گا۔
دس پانچ روپے کا کوئی کسی پر دعویٰ کرتا ہے تو اس خیال سے کہ وہ جھوٹا سمجھا جاتا ہے کہ شاید طمع نے اس کو اس دعوے پر برانگیختہ کیا ہوگا اور جب تک وہ گواہ ایسے پیش نہ کرے جو اپنے چشم دید واقعہ بیان کریں۔ اس کے دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ پھر مرزا قادیانی لاکھوں روپے جس دعوے کی بناء پر کما رہے ہیں۔ بغیر گواہ کے اس کی تصدیق کسی عقلی یا نقلی قاعدے سے ہو سکتی ہے۔
مرزا قادیانی جو لکھتے ہیں کہ خدا کسی قدر پردہ اپنے چہرے سے اتار کر ان سے باتیں کرتا ہے یہ بات اس حدیث صحیح کے صراحتاً مخالف ہے۔ ”عن ابی موسیٰ قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ لا ینام ...... حجابه النور لوکشفها لا حرقت سبحات وجهه ما انتهیٰ الیه بصره من خلقه (کنز العمال ج ١ ص ٢٢٦، حدیث نمبر ١١٣٩) “ یعنی خدائے تعالیٰ کا حجاب نور ہے۔ اگر اس کو اٹھا دے تو جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے۔ وہاں تک اس کے انوار سب کو جلا دیں گے۔ یہ حدیث (مسلم شریف ج ١ ص ٩٩، باب اثبات رویة المومنین فی الآخرة ربهم ) اور (ابن ماجہ ص ١٨، باب فیما انکرت الجهمیہ ) میں ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا وہ دعویٰ محض غلط ہے۔ اگرچہ مرزا قادیانی یہاں بھی یہی کہیں گے کہ بخاری نے یہ حدیث غلط سمجھ کر چھوڑ دی۔ مگر اہل اسلام سمجھ سکتے ہیں کہ کل محدثین و فقہاء اولیاء اللہ کا اجماع ہے کہ مسلم کی کل حدیثیں صحیح ہیں۔ اگر مرزا قادیانی اپنی دنیوی غرض کے لحاظ سے اس حدیث کو غلط سمجھیں تو چنداں بے موقع نہیں۔ اس لئے کہ ان کو اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔ مگر مسلمانوں کو اس سے کیا فائدہ۔ اگر دنیا ہی کا کچھ فائدہ ہوتا تو بھی ایک بات تھی کہ آخرت کا حصہ دنیا ہی میں مل جاتا۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ومن کان یرید حرث الدنیا نؤته منها وما له فی الآخرة من نصیب (الشوریٰ: ٢٠) “ بخلاف اس کے کہ اگر دنیوی فائدہ بھی نہ ہو تو خسر الدنیا والآخرہ کا مضمون صادق آجائے گا۔ جس کو کوئی عاقل پسند نہیں کر سکتا۔
اور حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ما کان لبشر ان یکلمه الله الا وحیاً او من وراء حجاب او یرسل رسولاً فیوحی باذنه ما یشاء انه علی حکیم (الشوریٰ: ٥١) “ یعنی کسی آدمی کی تاب نہیں کہ خدا اس سے دو بدو ہو کر کلام کرے۔ مگر الہام کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتے کو اس کے پاس بھیج دیتا ہے اور وہ خدا کے حکم سے جو اس کو منظور ہوتا ہے پہنچاتا ہے۔ بے شک خدا عالیشان حکمت والا ہے۔
مرزا قادیانی (ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣، ٤٨٤) میں امام الزمان کی چھٹی علامت میں لکھتے ہیں کہ ”امام الزمان کو ایسا الہام نہیں ہوتا کہ جیسے کلوخ انداز در پردہ ایک کلوخ پھینک جائے اور بھاگ جائے اور معلوم نہ ہو کہ وہ کون تھا اور کہاں گیا۔ بلکہ خدا تعالیٰ ان سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرے پر سے جو نور محض ہے اتار دیتا ہے اور یہ کیفیت دوسروں کو میسر نہیں آتی۔“ اور اس کے بعد (ضرورت الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥) میں لکھتے ہیں کہ ”میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا کے فضل سے وہ امام الزمان
میں ہوں اور مجھ میں خدائے تعالیٰ نے وہ تمام شرطیں اور تمام علامتیں جمع کی ہیں۔" اس کا مطلب ظاہر ہے کہ تمام اولیاء اللہ کے الہاموں میں خود ان کو یقین نہیں ہو سکتا کہ وہ خدا ہی کی طرف سے ہیں۔ کیونکہ کلوخ انداز جیسے کلوخ پھینک کر بھاگ جاتا ہے۔ ویسا ہی خدا بھی الہام دل میں ڈال کر علیحدہ ہو جاتا ہے اور ولی کو یہ خبر نہیں ہوتی کہ وہ کون تھا اور کہاں چلا گیا اور امام الزمان جو مرزا قادیانی ہیں ان کے الہام میں یہ بات نہیں ہوتی۔ بلکہ یقیناً معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ الہام کرنے والا خدا ہی ہے۔ اسی غرض سے خدا کسی قدر پردہ اپنے چہرے سے اتار دیتا ہے کہ مرزا قادیانی کو شک نہ پڑے کہ خدا کلام کر رہا ہے یا شیطان جس کا ماحصل یہ ہوا کہ دو بدو ان سے خدا ہم کلام ہوتا ہے۔
اب دیکھئے یہ افتراء ہے یا نہیں۔ آیت موصوفہ میں حق تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ ان تین صورتوں کے سوا حق تعالیٰ کے کلام کرنے کی کوئی صورت نہیں۔
ایک وحی جو دل میں ایک بات پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے اس آیت شریفہ سے معلوم ہوتا ہے۔ ”واوحی ربک الی النحل (نحل: ٦٨)“
دوسری پردے کے پیچھے سے جیسے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام ہوا۔ ہر چند موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت دیدار کی بہت خواہش کی مگر لن ترانی ہی کا ارشاد ہوتا رہا۔
تیسری بذریعہ فرشتہ جیسے آنحضرت ﷺ پر قرآن شریف نازل ہوا کرتا تھا۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ان تینوں قسموں سے جو خدائے تعالیٰ نے بیان کی ہیں کسی ایک قسم کا الہام ان کو نہیں ہوتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان کو رحمانی الہام نہیں ہوا کرتے۔ بلکہ شیطان ان کو اپنا چہرہ دکھلا کر الہام یعنی باتیں کیا کرتا ہے۔ جیسا کہ ابو محمد خفافؒ کے واقعہ سے ابھی معلوم ہوا اور مرزا قادیانی اس کو سچ مچ خدا سمجھ بیٹھے ہیں اور یہ قرین قیاس بھی ہے اس لئے کہ اس قسم کا نورانی چہرہ انہوں نے کبھی دیکھا نہ تھا اور نہ ہر شخص کو شیطان اپنا چہرہ دکھلاتا ہے۔ آخر شیطان کو دیکھنا بھی کوئی معمولی بات نہیں۔ اس کے لئے بھی ایک صلاحیت اور استعداد درکار ہے۔ جو عموماً نہیں ہوا کرتی اور پھر اندرونی تائیدیں بھی ان کو محسوس ہوئیں۔ غرض ان اسباب وقرائن سے ان کو دھوکا ہو گیا۔ خیر یہ سب صحیح مگر ان کا یہ کہنا کہ اس قسم کے الہام خدا ان پر کیا کرتا ہے۔ حق تعالیٰ پر افترائے محض ہے۔ کیونکہ ان کے اس دعوے کی تکذیب خود حق تعالیٰ کے ارشاد سے ہوگئی۔ اب اس کی تصدیق کلام الٰہی کی تکذیب ہے۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے اس کلام الٰہی کا ذرا بھی خیال نہ کیا۔ ”ومن اظلم ممن افتری علی الله کذبا او قال اوحی الی ولم یوح
الیہ شئی (انعام: ٩٣) ”یعنی اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر افتراء کرے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی اترتی ہے۔ حالانکہ اس پر کوئی وحی نہیں اتری۔“
اور حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ولا تحسبن الله غافلا عما یعمل الظالمون انما یؤخرہم لیوم تشخص فیہ الابصار (ابراهیم: ٤٢) ”یعنی خدا ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں۔ اس تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ ان کو اس دن تک کی مہلت دے رہا ہے کہ جب ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔“
کافروں کو حق تعالیٰ نے جابجا قرآن میں ظالم کہا۔ مگر اپنے پر افتراء کرنے والے کی نسبت ومن اظلم ممن افتریٰ فرمایا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی کافر کیسا ہی شقی ہو مفتری سے شقاوت میں بڑھ نہیں سکتا۔ اب ہم نہایت ٹھنڈے دل سے خیر خواہانہ لکھتے ہیں کہ جب نص قطعی سے ان کا مفتری ہونا اور حدیث بخاری شریف سے بوجہ دعویٰ نبوت ان کا دجال و کذاب ہونا ثابت ہو گیا تو دوسرے دعوے اور جمیع الہامات ان کے خود باطل ہو گئے۔ اس لئے کہ الہام ربانی کے لئے تقدس اور ولایت شرط ہے۔
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٧٣٩، خزائن ج ٣ ص ٤٩٨) میں لکھتے ہیں کہ ”ہمارا دعویٰ الہام الٰہی کی رو سے پیدا ہوا اور قرآن کریم کی شہادتوں سے چمکا اور احادیث صحیحہ کی مسلسل تائیدوں سے ہر ایک دیکھنے والی آنکھ کو نظر آیا۔“ تقریر بالا سے مرزا قادیانی کے الہاموں کا خیال معلوم ہو گیا کہ ان میں کوئی الہام الٰہی نہیں اور کلام الٰہی کی شہادتوں سے ثابت ہو گیا کہ وہ خدائے تعالیٰ پر افتراء کرتے ہیں اور احادیث صحیحہ ان کو دجال و کذاب ثابت کر رہے ہیں۔ اس لئے ان کا دعویٰ عیسویت جو الہام کی رو سے پیدا ہوا تھا۔ بالکل باطل ہو گیا اور انہوں نے جو الہاموں کا قلعہ بنا رکھا تھا بیت العنکبوت ثابت ہوا اور غبار کی طرح اڑ گیا۔ اس لئے کہ شیطانی الہام اعتبار کے قابل نہیں ہوتا۔
وحی چونکہ لازمہ نبوت ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کو اپنی ادعائی نبوت کے لئے وحی کا ثابت کرنا بھی ضروری تھا۔ اس لئے (براہین احمدیہ ص ٢٤٢ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٤٦) میں لکھتے ہیں کہ ”جن علامات الٰہیہ کا نام ہم وحی رکھتے ہیں انہیں کو علمائے اسلام اپنے عرف میں الہام بھی کہہ دیا کرتے ہیں ۔“ مقصود یہ کہ ہم نبی ہیں۔ اس لئے ہم پر وحی اترتی ہے۔ گو علمائے اسلام اس کو وحی نہ کہیں۔ مگر تقریر بالا سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کو الہام الٰہی بھی نہیں ہو سکتا۔ تا بوحی چہ رسد، ممکن کہ دوسری قسم کا الہام ہوتا ہو۔ مگر اس کو وحی نہیں کہہ سکتے۔
(براہین احمدیہ ص ٢٣٣ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٥٨، ٢٥٩) میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”خلاصہ کلام یہ ہے کہ الہام یقینی اور قطعی ایک واقعی صداقت ہے۔ جس کا وجود افراد کاملہ محمدیہ میں ثابت ہے۔“ افراد کاملہ کا الہام مرزا قادیانی کو کیا نفع دے گا۔ اگر الہام یقینی اور قطعی ہو تو بھی وہ انہیں لوگوں سے مختص ہوگا۔ جن پر الہام الٰہی ہوتا ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہر کس و ناکس یہ دعویٰ کرے کہ مجھ پر الہام ہوا کرتا ہے اس لئے وہ قطعی اور یقینی ہے۔
(ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣) میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”یہ قوت اور انکشاف اس لئے ان کے الہام کو دیا جاتا ہے کہ تا ان کے پاک الہام شیطانی الہامات سے مشتبہ نہ ہوں اور دوسروں پر حجت ہو سکیں۔“ بالفرض اگر انکشاف تام ہوتا بھی ہو تو معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی کا انکشاف دوسروں پر کیوں حجت ہوگا۔ اگر کوئی شخص کسی پر دعویٰ کرے کہ تم نے مجھ سے اتنا قرضہ لیا تھا اور مجھے خوب یاد ہے کہ فلاں مقام اور فلاں وقت تھا اور مجھ پر یہ معاملہ ایسا منکشف ہے کہ گویا میں اس وقت دیکھ رہا ہوں کیا اس کا یہ دعویٰ انکشاف ثبوت قرضہ کے لئے کافی اور مدعی علیہ پر حجت ہو سکتا ہے؟۔ مرزا قادیانی بھی اس کے قائل نہ ہوں گے۔ پھر مرزا قادیانی کا دعویٰ انکشاف اوروں پر کیوں حجت ہو۔ اب تک نہ کوئی اس بات کا قائل ہوا نہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کا الہام دوسرے پر حجت ہو۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اولیاء اللہ کا صدق و تدین اور دنیا و مافیہا سے بے تعلقی اور خود غرضیوں سے برأت پورے طور پر جب متحقق ہو جاتی ہے اور خوارق عادات بھی اس پر شہادت دیتے ہیں تو معتقدین بطور خود حسن ظن سے ان کے الہاموں کو مان لیتے ہیں۔ بشرطیکہ خلاف نصوص شرعیہ نہ ہوں۔ یہ کسی ولی نے نہیں کہا کہ میرا الہام تمام مسلمانوں پر حجت ہے اور جو نہ مانے وہ کافر ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ جب ”اليوم اكملت لكم دينكم (مائده : ٣)“ سے تکمیل دین ثابت ہو چکی اور حجت قائم ہو گئی تو پھر نئی حجت سے کیا غرض۔ اعتقاد اور عمل کے لئے کامل شدہ دین ہر مسلمان کے لئے کافی ہے اور جو بات اس سے زائد اور خارج ہو وہ خود فضول اور الحاد ہے۔ جس کا نہ ماننا ضروری ہے۔
مرزا قادیانی نے (ضرورت الامام ص ١٨، ١٩، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٩، ٤٩٠) میں سچے الہاموں کی دس علامتیں لکھی ہیں۔ جن کا ماحصل یہ ہے کہ ”وہ اس حالت میں ہوتا ہے کہ انسان کا دل گداز ہو کر خدا کی طرف بہتا ہے۔ اس کے ساتھ لذت و سرور ہوتا ہے۔ اس میں شوکت و بلندی ہوتی ہے۔ وہ خدا کی طاقتوں کا اثر اپنے میں رکھتا ہے۔ انسان کو نیک بناتا ہے۔ اس پر تمام اندرونی قوتیں گواہ ہو جاتی ہیں۔ وہ ایک آواز پر ختم نہیں ہوتا۔ اس سے انسان بزدل نہیں
ہوتا۔ علوم و معارف جاننے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ بہت برکتیں ہوتی ہیں ۔“ ملخصاً بمقتضائے ثبت العرش ثم انقش مرزا قادیانی کو ضروری تھا کہ پہلے اس کا ثبوت دیتے کہ ان کو الہام الٰہی بھی ہوا کرتا ہے۔
(براہین احمدیہ ص ٤٥٦ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج١ ص ٥٤٦) میں فرماتے ہیں کہ ”پیش گوئیوں سے مقصود بالذات اخبار غیبیہ نہیں ہوتیں۔ بلکہ مقصود بالذات یہ ہوتا ہے کہ تا یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہو جائے کہ وہ شخص مؤید من اللہ ہے۔۔۔ ان میں صرف یہی علامت نہیں کہ وہ پوشیدہ چیزیں بتلاتی ہیں۔ تا ان کا حال نجومیوں اور کاہنوں وغیرہ کے حال سے مشتبہ ہو جائے اور ما بہ الامتیاز باقی نہ رہے۔ بلکہ ان کے شامل حال ایک عظیم الشان نور ہوتا ہے۔“ جس کے مشاہدے کے سبب سے طالب صادق بدیہی طور پر ان کو شناخت کر سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیش گوئیاں الہام کے ساتھ مختص نہیں بلکہ کاہنوں وغیرہ کے ساتھ مشتبہ بنانے والی ہیں۔ اب رہا ایک عظیم الشان نور سو اس کے مشاہدے کے لئے طالب صادق شرط ہے۔ جس کو نظر نہ آئے گا وہ صادقوں سے نکال دیا جائے گا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ ظلمانی نور بھی بظاہر نور ہی ہوتا ہے۔ جس کی شناخت ہر کسی کا کام نہیں۔ خفافؒ جیسے شخص دھوکا کھا گئے تھے اور حضرت غوث الثقلینؒ کا حال مشہور ہے کہ ایام سلوک میں ایک ایسا نور آپ پر ظاہر ہوا کہ شب دیجور میں آفاق کو منور کر دیا۔ مگر آپ نے قرائن سے پہچان لیا کہ شیطانی نور ہے۔ چنانچہ لاحول پڑھتے ہی وہ ظلمت سے مبدل ہو گیا۔ اگر ایسا عظیم الشان نور کسی کے شامل حال ہو تو بیچارے طالب صادق کو بھی سوائے گمراہی کے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔
مسیلمہ کذاب پر لاکھ سے زیادہ آدمی ایمان لائے تھے۔ جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص٢٨٣، خزائن ج٣ ص٢٤٤) میں لکھتے ہیں ۔ ”سب کا یہی دعویٰ تھا کہ نور ہدایت درخشاں ہے۔ کوئی دیکھنے والا طالب صادق چاہئے۔ جتنے مدعیان نبوت تھے سب کا یہی دعویٰ تھا کہ بے ایمان لوگ اس نور کو دیکھ نہیں سکتے۔“ اب مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ ایک عظیم الشان نور ان کے شامل حال ہے۔ جس کو ان کا غیر معتقد دیکھ نہیں سکتا۔ کیونکر تسلیم کیا جائے مرزا قادیانی کے اس قسم کے ادعا اور بہت ہیں۔ چونکہ وہ اس سے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ اس لئے انہوں نے بہت سے رسالے لکھ ڈالے اور برابر لکھتے اور لکھواتے رہتے ہیں اور ہر وقت ایک نہ ایک نیا ایجاد ہوتا رہتا ہے۔ کہاں تک کوئی ان کا تعاقب کرے۔ ہم پر اس قدر واجب تھا کہ مسلمانوں کو ان کی کارروائیوں سے مطلع کر دیں۔ سو بحمد اللہ بطور مشتے نمونہ از خروارے اہل اسلام کے روبرو پیش کر دی گئیں۔ اگر طالبین حق اسی پر غور اور بکرات و مرات اس کو ملاحظہ فرمائیں تو امید
قوی ہے کہ مرزا قادیانی کا حال ان پر بخوبی منکشف اور ذہن نشین ہو جائے گا۔
اب ہم ان کی چند پیش گوئیاں بیان کرتے ہیں۔ اس میں غور کرنے سے مرزا قادیانی کی ذکاوت اور عقل کا حال معلوم ہو گا۔
عبداللہ آتھم کی پیش گوئی
مرزا قادیانی نے مسٹر عبداللہ آتھم پادری کے ساتھ مباحثہ کر کے فیصلہ اس بات پر قرار دیا کہ پندرہ مہینے میں اگر وہ نہ مرجائے تو مرزا قادیانی ہر سزا کے مستحق ہوں گے۔ چنانچہ ان کی تحریر یہ ہے کہ ”آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے۔ فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہیں دنوں مباحثے کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اس وقت جب پیش گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجھا کے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“
(جنگ مقدس ص ٢٠٩، ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩١، ٢٩٢)
فرماتے ہیں کہ ”میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کر لیتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے۔ یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصے میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے۔ تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دی جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا ضرور کرے گا، ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں۔ پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“
(جنگ مقدس ص ٢١٠، ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢، ٢٩٣)
ماحصل اس کا ظاہر ہے کہ اگر فریق مقابل یعنی عبداللہ آتھم پندرہ مہینے کے اندر رجوع الی الحق نہ کرے گا۔ یعنی ہم خیال مرزا قادیانی کا یا مسلمان نہ ہو گا تو مر جائے گا اور جہنم میں ڈالا جائے گا اور اگر ایسا نہ ہو تو مرزا قادیانی کا منہ کالا کیا جائے گا اور گلے میں رسہ ڈالا
جائے اور جو جی چاہے سزائیں دی جائیں۔ مرزا قادیانی کو اس پیشین گوئی پر جرأت اس وجہ سے ہوئی کہ انہوں نے دیکھا کہ مسٹر آتھم صاحب ایک بوڑھے شخص ہیں۔ پندرہ مہینے کی وسیع مدت میں خود ہی مر جائیں گے اور اس پر ان کو خوف دلانے کی غرض سے قسمیں کھا کر کہا کہ خدا کی طرف سے مجھے اطمینان دلایا گیا ہے اور اس اطمینان کو اس پیرائے میں ظاہر کیا کہ اگر خلاف ہو تو اپنے کو وہ سزائیں دی جائیں جو کوئی غیرت دار آدمی ان کو قبول نہیں کر سکتا۔ جب ایسا معزز مسن شخص ایسی سزائیں اپنے واسطے مقرر کرے تو خواہ مخواہ آدمی کو ایک قسم کا خیال پیدا ہو ہی جاتا ہے اور بڑھتے بڑھتے قوت واہمہ ایسی حرکات پر مجبور کرتی ہے جو بالکل خلاف عقل ہوں۔ اس کا انکار نہیں ہو سکتا کہ قوت واہمہ عقل پر غالب ہوا کرتی ہے۔ جس کی تصریح حکما نے بھی کی ہے اور تجربے اور مشاہدات بھی اس پر گواہ ہیں۔ آتھم صاحب اوّل تو بیچارے ضعیف جن کی طبیعت پیرانہ سری کی وجہ سے متحمل نہیں۔ اس پر عیسائی جن کے مذہب میں یہ مسلم ہو چکا ہے کہ خدا سے ایک آدمی رات بھر کشتی لڑتا رہا اور صبح تک ایک دوسرے کو گراتے رہے اور خدا سے سوائے اس کے کچھ نہ ہو سکا کہ صبح کے قریب کہا ارے اب تو پیچھا چھوڑ صبح ہو گئی۔ جن کے خدا پر ایک آدمی کا ایسا اثر ہو تو ان کی طبیعت پر پر زور تقریر کا اثر ہونا کون سی بڑی بات ہے۔ غرض مرزا قادیانی نے علاوہ پیرانہ سری کے بالائی تدابیر موت میں بھی کمی نہ کی اور اس مدت میں کئی دورے ہیضہ کے بھی ہوئے اور علاوہ کبر سنی کے ضعف اور نقص صحت بھی تھا۔ جیسا کہ (عصائے موسیٰ ص ٣٥) میں لکھا ہے باوجود اس کے کہ وہ نہ مرزا قادیانی کے ہم خیال ہوئے اور نہ مرے اور پندرہ مہینے پورے گذر گئے۔ اب لوگ اس انتظار میں ہیں کہ مرزا قادیانی ایفائے وعدہ فرمائیں گے اور کچھ اجازت دیں گے۔ مگر وہاں معاملہ ہی دگرگوں ہو گیا۔ بجائے اجازت کے وہ گالیاں دینے لگے۔ چنانچہ (سراج منیر ص ٥٢، خزائن ج ١٢ ص ٥٤) میں تحریر فرماتے ہیں۔ ”انہوں نے پشاور سے لے کر الہ آباد اور بمبئی اور کلکتہ اور دور دور کے شہروں تک نہایت شوخی سے ناچنا شروع کیا اور دین اسلام پر طعنے کئے اور یہ سب مولوی یہودی صفت اور اخبار والے ان کے ساتھ خوش خوش یہ ہاتھ میں ہاتھ ملائے ہوئے تھے۔ (انوار الاسلام ص ٦، خزائن ج ٩ ص ٢٧) میں فرماتے ہیں ۔ اے بے ایمانو لئیم عیسائیوں دجال کے ہمرایو اسلام کے دشمنو پیشین گوئی میں جو مندرج ہے کہ انقضائے مدت پر مرزا قادیانی کی عزت ہو گی۔ اگر حسب پیشین گوئی سچی عزت تھی تو بیچارے مولوی کیوں یہودی وغیرہ بنائے جا رہے ہیں۔ ختم مدت پر جو عزت وقوع میں آئی وہ تو یہی ہے جس پر مرزا قادیانی برافروختہ ہیں۔ اگر اس الہام کے رحمانی ہونے پر ان کو وثوق ہوتا تو
اس الہام میں عزت کا جو ذکر ہے اس سے مراد وہی عزت سمجھئے جو وقوع میں آگئی۔ جس کی مولوی لوگ تعمیل کر رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بھی وہ الہام رحمانی نہ تھا۔ اس کے سوا مرزا قادیانی ناحق مسلمانوں پر خفا ہیں۔ انہوں نے تو مسٹر آتھم کے معاملے میں پہلے ہی اپنے کشف و فراست سے دریافت کر کے اطلاع دے دی تھی کہ وہ پندرہ مہینے کے اندر ہرگز نہ مرے گا۔ چنانچہ (عصائے موسیٰ ص٤٤) میں لکھا ہے کہ اندھے حافظ صاحب نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ آتھم پندرہ مہینے میں ہرگز نہ مرے گا اور یہ بات مرزا قادیانی پر بھی پوشیدہ نہیں رہی۔ اس لئے کہ انہوں نے بذریعہ اشتہار اس مضمون کو شائع کر دیا تھا۔ تاکہ مرزا قادیانی کو اس عذر کا موقع نہ ملے کہ ہمیں کسی مسلمان صاحب کشف نے اطلاع نہیں کی کہ وہ نہ مرے گا اور مریدوں نے بھی خبردار ہوکر ان کو صلاح خیر دی کہ جب ایک مسلمان حافظ متقی اس شدومد سے بطور تحدی اعلان دے رہا ہے۔ تو اس کو مان لینا چاہئے۔ حافظ صاحب موصوف فی الواقع مقدس شخص ہیں۔ ان کا تقدس اس سے ظاہر ہے کہ (عصائے موسیٰ ص٤٢) میں لکھتے ہیں کہ وہ پہلے عیسائی تھے۔ خواب میں کوئی بات ایسی ان کو معلوم کرائی گئی کہ وہ عیسویت سے توبہ کرکے مسلمان ہوگئے۔ ایسے شخص کو واقعی الہام ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اگر مرزا قادیانی ان کے سچے الہام سے متنبہ ہوکر کسی حیلے سے اپنا دعویٰ واپس لیتے تو نہ نصاریٰ کو کامیابی ہوتی نہ مرزا قادیانی کی تضحیک نہ اسلام پر طعنے کسے جاتے۔ یہ موقع حافظ صاحب سے ممنون ہونے کا تھا۔ بجائے ممنونی کے ان کو گالیاں دی گئیں۔ چنانچہ (عصائے موسیٰ ص٤٣) میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کے مریدوں نے حافظ صاحب کو سختی سے مفتری کذاب وغیرہ وغیرہ کہا۔
اس کے سوا اور مسلمانوں نے بھی اس باب میں بہت کچھ گفت و شنید کی۔ مگر مرزا قادیانی اپنے دعوے سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹے۔ چنانچہ اسی (عصائے موسیٰ ص٤٢) میں لکھا ہے کہ عبداللہ آتھم والے الہام میں مرزا قادیانی کا خیال وہم ایک ہی پہلو یعنی اس کی موت کی طرف ہی رہا۔ چنانچہ فیروز پور میں حافظ محمد یوسف صاحب کے برادران کے استفسار پر آپ نے بھی فرمایا کہ اس میں کوئی تاویل نہ ہوگی ضرور یہی ہوگا۔ غرض مرزا قادیانی مسلمانوں کی جو شکایت کرتے ہیں اس موقع میں بے محل ہے۔ کیونکہ انہوں نے تو پوری خیر خواہی کی تھی چاہئے تھا کہ خود کردہ را چہ علاج کہہ کر خاموش ہوجاتے۔ البتہ خلاف شان اشعار اور اشتہارات وغیرہ مرزا قادیانی کی شکایت میں چھپوائے گئے تھے اور ان کی ناکامی پر تضحیک بھی کی گئی۔ جیسا کہ ان اشعار مطبوعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ جو (رسالۂ الہامات مرزا ص٣٢، ٣٣، الہامات مرزا بشمول احتساب
قادیانی ج ٨ ص ٤٢ تا ٤٤) میں لکھتے ہیں۔ کسی قدر اس میں زیادتی معلوم ہوتی ہے ان میں سے چند اشعار یہ ہیں۔ صائب
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند
ہوا بحث نصاریٰ میں بآخر مسیحائی کا یہ انجام مرزا
مہینے پندرہ بڑ چڑ کے گذرے ہے آتھم زندہ اے غلام مرزا
مسلمانوں سے تجھ کو واسطہ کیا پڑا کھلا نبی نام مرزا
غضب تھی تجھ پہ ستمگر چھٹی ستمبر کی نہ دیکھی تو نے نکل کر چھٹی ستمبر کی
ہے قادیانی بھی جھوٹا مرا نہیں آتھم یہ گونج اٹھا امرتسر چھٹی ستمبر کی
مسیح ومہدی کاذب نے منہ کی کھائی خوب یہ کہتی پھرتی ہے گھر گھر چھٹی ستمبر کی
بس ہوچکی نماز مصلے اٹھائیے
اس قسم کے اشعار ناشائستہ بکثرت شائع کئے گئے۔ مگر یہ کوئی چنداں برہم ہونے کے قابل بات نہ تھی۔ اگر مرزا قادیانی غور فرماتے اور تھوڑی دیر کے لئے حالت غضب سے علیحدہ ہو کر انصاف سے دیکھتے تو یہی اشعار پیرایہ حسن وصداقت میں دکھائی دیتے۔ مگر افسوس ہے کہ غصے نے جو ایک قوی شیطانی اثر ہے ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ ڈال دیا تھا۔
بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ مباحثہ جو پادریوں کے ساتھ کیا۔ اس وقت سے ان کے ذہنوں میں یہ بات جمادی کہ یہ مقابلہ اسلام اور عیسویت کا ہے اور یہی آخری فیصلہ ہے۔ جس کی خبر حق تعالیٰ نے بذریعہ الہام دی ہے کہ بحث کا خاتمہ اور اسلام کا غلبہ اس پیشین گوئی پر ہو جائے گا۔ پھر مرزا قادیانی اس پیشین گوئی کے جھوٹ ہونے پر بھی یہی کہتے رہے کہ دیکھو اسلام کی فتح ہوگئی۔ جس پر ایک عالم میں بحسب تصریح مرزا قادیانی تضحیک ہو رہی ہے۔ اگرچہ مرزا قادیانی اس میں بہت کچھ زور لگا کر تاویلیں کر رہے ہیں۔ مگر وہ اس سے زیادہ بد نما ہیں۔ اس موقع میں مسلمانوں کو ضرور تھا کہ مرزا قادیانی سے تبرا کریں اور پادریوں پر یہ بات منکشف کرادیں کہ ہمیں ان سے کوئی تعلق نہیں۔ دعوے نبوت وغیرہ کر کے وہ پہلے ہی سے دائرہ اسلام سے خارج ہو چکے ہیں۔ ان کا ہار دینا اسلام اور مسلمانوں پر کوئی اثر ڈال نہیں سکتا اور ان کے مقابلے میں ایک الہام
حافظ صاحب کا شائع کر کے دکھلا دیا کہ اسلامی سچے الہام ایسے ہوا کرتے ہیں کہ ان میں باتیں بنانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ صرف مقصود کی ایک بات کہ مسٹر آتھم پندرہ مہینے کے اندر ہرگز نہ مرے گا۔ نہ اس میں کوئی الہام ہے نہ تاویل۔ غرض اس تبصرے سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ اصل اسلام پر اس مباحثے اور الہام کا کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔ مرزا قادیانی کو بھی آخر اسلام کا دعویٰ ہے۔ اسلام کو اس الزام سے بری کرنے کے لئے اگر الہام کی بدعنوانی کو اپنی طرف منسوب کر لیتے تو کس قدر قابل تحسین ہوتے۔ ورنہ مسلمانوں کے تبرا ہی کو غنیمت سمجھ لیتے۔ جس سے اسلام تو اس کارروائی سے بری رہتا اور دراصل سچ بھی یہی ہے کہ مسلمانوں کو اس مباحثے میں دخل ہی کیا۔ وہ تو تماشا دیکھ رہے تھے کہ پرانی عیسویت مغلوب ہوتی ہے یا نئی مغلوب، جو ان کے لئے احدی الحسنیین حاصل ہے۔ اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی جو تحریر فرماتے ہیں کہ پشاور وغیرہ کے مسلمانوں نے اس ناکامی سے دین اسلام پر طعنے کسے۔ کیسی بے موقع بات ہے۔ انہوں نے تو نئی عیسویت پر طعنے کسے تھے کہ اس نوجوان عیسویت پر سال خوردہ انیس سو برس کی عمر والی عیسویت غالب ہوگئی۔ اگر بالفرض مرزا قادیانی اس پیشین گوئی میں صادق ٹھہرتے تو اس کا برا اثر پہلے مسلمانوں پر ڈالا جاتا۔ ان کو گالیاں دے دے کر اپنی عیسویت کی تصدیق پر مجبور کرتے اور بہت سے بھولے بھالے مسلمان غالباً مائل بھی ہو جاتے۔
مرزا قادیانی نے اس مباحثے میں جو الہامی طریقہ اختیار کر کے حیلوں سے کام لیا اور اس کو عقلی معجزہ بنانا چاہا۔ اس سے الہاموں کی سخت بے اعتباری ہوگئی اور طرفہ یہ ہے کہ اسی پر فخر فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ کی طرف سے وہ نشانی دی گئی ہے۔ اس سے تو وہی معمولی بحثیں اچھی تھیں۔ جن کی نسبت حقارت کے طور پر فرماتے ہیں۔ وہ تو اور لوگ بھی کر لیتے ہیں۔ اس لئے کہ ان بحثوں میں اسکات خصم تو ہو جاتا ہے۔ کیونکہ صد ہا کتابیں پادریوں کے رد میں موجود ہیں۔ وہی طے شدہ مباحث پیش کر دی جائیں تو کافی ہیں۔ اگر الہامی طریقہ اختیار کیا گیا تھا تو اس میں داؤ پیچ سخت معیوب اور شان الٰہی کے منافی ہے۔ وہ تو ایسا زبردست طریقہ ہوتا ہے کہ انسانی قدرت اور عقلی ادراک اس سے عاجز ہوتی ہے۔ دیکھئے جب کفار نے قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں کلام کیا تو آنحضرت ﷺ نے بااعلام الٰہی صاف وصریح الفاظ میں فرما دیا کہ تم بھی عرب کے فصحاء ہو۔ سب اکٹھے ہو کر ایک چھوٹی سی سورت اس کے مثل بنالاؤ اور ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ تم ہرگز نہ بنا سکو گے۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ”قل فاتوا بسورة من مثله وادعوا شهداء كم من دون الله ان كنتم صادقين فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار
(بقرہ:٢٤،٢٣) ”باوجود یہ کہ اس زمانے میں فصاحت و بلاغت کے بڑے بڑے دعوے والے موجود تھے۔ مگر سب مل کر بھی ایک چھوٹی سے سورت بھی نہ بنا سکے اور عار شرمندگی کو قبول کر لیا۔
اسی طرح یہود نے جب مقابلہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو اور ہرگز نہ کر سکو گے۔ ظاہر ہے کہ مقابلے کے وقت تمنا کر لینا کوئی بڑی بات نہ تھی۔ مگر خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ وہ مغلوب ہوں۔ اس لئے کسی یہودی سے نہ ہو سکا کہ پیش ہو کر تمنائے موت کرے۔ ”فتمنوا الموت ان كنتم صادقين ولن يتمنوه ابداً (بقرہ:٩٤،٩٥)“ پھر نصاریٰ کے مقابلے میں بھی ایسا ہی ہوا کہ مباہلے میں سب ہار گئے۔ جس کا حال آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ معلوم ہوگا۔ اب دیکھئے کہ عرب میں بڑے فرقے یہی تین تھے۔ ان کا مقابلہ جو باعلام الٰہی خاص طریقے پر کیا گیا۔ وہ کیسے کھلے الفاظوں میں تھا۔ نہ اس میں کوئی شرط تھی نہ تاویل نہ کسی کو یہ کہنے کی گنجائش کہ الفاظ کچھ ہیں اور مطلب کچھ لیا جاتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی کے الہام میں منجانب اللہ ہونے کا ذرا بھی شائبہ ہوتا تو کھلے الفاظ میں مسٹر آتھم سے کہہ دیتے کہ تو اگر میری تصدیق نہ کرے گا۔ تو مارا مارا پھرے گا اور وہ ضرور مارا مارا پھرتا۔ جس سے دیکھنے والوں کو قیل و قال کا موقع نہ ملتا۔ کیا الہام ایسے ہوا کرتے ہیں جن میں اقسام کے حیلے اور باتیں بنانے کی ضرورت ہو اور جب ان میں کلام کیا جائے تو گالیاں دینے کو مستعد چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”اس کا جواب یہ ہے اے بے ایمانوں، نیم عیسائیو، دجال کے ہمراہیوں، اسلام کے دشمنوں، کیا پیش گوئی کے دو پہلو نہیں تھے۔ پھر کیا آتھم صاحب نے دوسرا پہلو رجوع الی الحق کے احتمال کو اپنے افعال واقوال سے آپ قوی نہیں کر دیا وہ نہیں ڈرتے رہے۔“
(انوار الاسلام حاشیہ ص ٦، خزائن ج ٩ ص ٧٦)
مرزا قادیانی پر آتھم صاحب کا جب غلبہ ہوا تھا اس موقع میں اگر اس کی مکافات گالیوں سے کی جاتی اور دل کھول کے آتھم صاحب کو گالیاں دیتے تو ایک مناسبت کی بات تھی۔ مگر مرزا قادیانی نے ان کو چھوڑ کر تماشہ بینوں کے پیچھے پڑ گئے اور لگے گالیاں دینے اگر چہ یہ مشہور ہے کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے مگر عقلاء کی شان سے یہ بعید ہے۔ اگر مغلوب کو یہ حق دیا جائے کہ تماشہ بینوں کو گالیاں دے کر اپنا دل ٹھنڈا کرے تو ایسے موقعوں میں داد دینے والا کوئی نہ ملے گا۔ جو ابتدائی مقابلہ میں طرفین کا مطلوب ہوتا ہے۔
اب مرزا قادیانی کی اس کارروائی کو دیکھئے کہ عقل سے انہوں نے کس قدر کام لیا۔
اوّل تو ایک بوڑھے شخص ضعیف القوی کو تجویز کیا۔ اس پر ایک مدت وسیع پندرہ مہینے کی، پھر قسمیں کھا کر وہ دھمکیاں موت کی دی گئیں کہ قوی اور تندرست آدمی بھی مارے فکر کے بیمار اور قوت واہمہ
کا شکار ہو جائے۔ پھر جب وہ دل بہلانے کی غرض سے اور اس بدگمانی سے کہ کہیں خفیہ طور پر موت کی کارروائی نہ ہو، بھاگا بھاگا پھرا تو اسی کا نام رجوع الی الحق رکھ دیا۔ جو الہام میں شرط بتائی گئی۔ اگر مرزا قادیانی سے بھاگنے ہی کا نام رجوع الی الحق ہے تو پھر مرزا قادیانی اپنے سے بھاگنے والوں کو کافر اور ماننے والوں کو مومن کیوں فرماتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو معاملہ بالعکس ہونا چاہئے۔ جیسا کہ اس آیت شریفہ سے معلوم ہوتا ہے۔ ”ومن يكفر بالطاغوت ويؤمن بالله فقد استمسك بالعروة الوثقى“ (بقرہ:٢٥٦) غرض اس سے ظاہر ہے کہ عبارت الہامی میں یہ قصد پیش نظر رکھا گیا تھا کہ جب خواہ مخواہ ان تدابیر سے وہ گھر چھوڑ دے گا تو اس وقت یہ شرط کام دے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بجائے اس کے کہ آسمانی الہام سے فیصلہ قطعی اور واضح ہوتا اس شرط نے معاملہ کو ایسا پیچیدہ بنادیا کہ کامیابی کی امید ہی نہیں اور جو معنی کہ مرزا قادیانی بیان کر رہے ہیں کوئی سمجھ نہیں سکتا۔
اگر بقول مرزا قادیانی اس الہام کو آسمانی الہام فرض کریں تو اس سے بھی مرزا قادیانی کی فضیلت اور حقانیت ثابت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ اس کی عبارتوں سے ظاہر ہے۔
قولہ فی الالہام: ” جو فریق جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے ...... پندرہ مہینے میں ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی ۔“
(جنگ مقدس ص ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢، انوار الاسلام ص ١، خزائن ج ٩ ص ١)
مرزا قادیانی ہاویہ کے معنے دوزخ کے نہیں لیتے بلکہ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے پریشانی ہے۔ جس میں مسٹر آتھم مبتلا ہوا۔ اگرچہ آتھم کی پریشانی اس کے سفر کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی پریشانی باطن بھی کم نہ تھی۔ اس لئے کہ ان کو یہ خوف لگا ہوا تھا کہ اگر یہ پیشین گوئی صحیح نہ نکلے تو عمر بھر کا بنا بنایا معاملہ بگڑ جاتا ہے اور ذلت کی تو انتہا نہیں۔ کیونکہ خود ہی کا اقرار ہے کہ منہ کالا کیا جائے وغیرہ وغیرہ اور ظاہر ہے کہ غیور طبیعتوں کو جان سے زیادہ عزت ریزی کا خوف ہوتا ہے۔ خصوصاً ایسے موقع میں ایک طرف تمام پادری نظر لگائے ہوئے ہیں اور دوسری طرف تمام ہندوستان کے مسلمان ہمہ تن چشم و گوش ہیں کہ دیکھئے اس پیشین گوئی کا کیا حشر ہوتا ہے۔ پھر خوف صرف ذلت ہی کا نہیں بلکہ جان کا بھی خوف اسی الہام کے ایک گوشے میں دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ پھانسی کا دستاویز اقراری خصم کے ہاتھ میں موجود ہے۔ ہر چند مرزا قادیانی اس موقع میں اپنا اطمینان بیان کریں۔ مگر جب ہم دیکھتے ہیں کہ پیشین گوئی کا وجود نہیں ہوا تو سرے سے اس کے الہام ہونے میں شک پڑ گیا اور بغیر الہام کے آدمی کو ایسے موقعوں
میں اطمینانی حالت نصیب نہیں ہو سکتی ۔ رہا مجرد شرط کا سو اگر اس سے توقع کامیابی کی رکھی بھی جائے تو ایک ضعیف احتمال ہے۔ جس پر وثوق نہیں ہو سکتا اور یہ بات ظاہر ہے کہ جہاں احتمال ضرر جانی اور بے عزتی ہو تو فکر غالب ہو جایا کرتی ہے۔ چہ جائیکہ احتمال ضرر ہی غالب ہو ۔ غرض ان تمام قرائن سے عقل گواہی دیتی ہے کہ جس مدت میں آتھم صاحب پریشان رہے ۔ مرزا قادیانی بھی بمقتضائے الحرب سجال کے پریشانی باطنی میں کم نہ تھے اور لفظ ہاویہ دونوں پر منطبق ہے۔
قولہ فی الالہام: ”اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی ۔“
(انوار الاسلام ص ١، خزائن ج ٩ ص ١، جنگ مقدس ص ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)
اس کا ظہور مرزا قادیانی ہی کی تحریر سے ہو گیا اور یہ فقرہ تو خاص مرزا قادیانی سے تعلق رکھتا ہے۔ کیونکہ فریق مقابل اپنے کو کامیاب سمجھ رہا ہے اور خوش ہے اور مرزا قادیانی کو گالیاں دینے کی ضرورت ہوئی جو دلیل مغلوبیت ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ عقلی معجزات کبھی الٹ بھی جاتے ہیں۔ چنانچہ مسیلمہ کذاب کے معجزوں میں یہ بات ثابت ہے کہ اس نے کسی کی آنکھ میں آشوب دفع ہونے کی غرض سے آب دہن لگایا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ شخص اندھا ہی ہو گیا۔ اس کے سوا اور بھی نظائر ہیں کہ عقلی معجزات کا اثر منعکس ہو جاتا ہے۔
قولہ فی الالہام: ”جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ہوگی ۔“
(انوار الاسلام ص ١، خزائن ج ٩ ص ١، جنگ مقدس ص ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)
اگر چہ مرزا قادیانی اس وقت توحید کی جانب ہیں۔ مگر چونکہ مقصود اس سے صرف اپنی عیسویت کا اثبات ہے۔ اس جہت سے باطل اس پر محیط اور شامل ہو گیا۔ جیسا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خوارج کے استدلال کے جواب میں فرمایا تھا کہ کلمة حق اريد بها الباطل پھر جب مشاہدے سے ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کی کمال درجے کی ذلت ہوئی ۔ جس کا اظہار خود فرماتے ہیں تو بحسب قیاس استثنائی ان کا سچ پر ہونا بھی باطل ہو گیا۔ کیونکہ اگر سچ پر ہوتے تو اس الہام کے مطابق عزت ہوتی ۔ ادنیٰ تامل سے ناظرین پر منکشف ہوگا کہ مرزا قادیانی کا حق پر نہ ہونا انہیں کے الہام سے ثابت ہے۔
قولہ فی الالہام: ”اور اس وقت جب پیشین گوئی ظہور میں آئے گی ۔ بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“
(انوار الاسلام ص ١، خزائن ج ٩ ص ١، جنگ مقدس ص ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)
پیشین گوئی کا صدق وکذب پندرہ مہینے کے گزرنے پر منحصر تھا اور مشاہدے سے
ہزاروں بلکہ لاکھوں گواہوں سے اس کا کذب ظاہر ہو گیا۔ اس ظہور پیشین گوئی کے وقت بے شک بعض اندھے جن پر پورا حال مرزا قادیانی کا منکشف نہیں ہوا تھا اور ان کی طرف کھسکتے جارہے تھے۔ ضرور سوجاکھے ہو گئے اور حق کی راہ چلنے اور حق باتیں سننے لگے۔ کیونکہ حق پسند طبیعتوں کا خاصہ ہے کہ جب ایسی کھلی نشانی دیکھ لیتے ہیں تو حق کی جانب حرکت کرتے ہیں۔ چنانچہ (انجام آتھم کے ص ٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں خود تحریر فرماتے ہیں کہ ”اس پیشین گوئی کی وجہ سے بعض مرید برگشتہ ہو گئے۔“ یعنی اندھے سوجاکھے ہو گئے۔
قولہ فی الالہام: ”اگر یہ پیشین گوئی جھوٹ نکلے ...... تو میں ہر ایک سزا کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔“
(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
ظاہر ہے کہ اللہ جل شانہ نے ایسا ہی کیا کہ پیشین گوئی جھوٹ نکلی۔ عجیب خدائے تعالیٰ کی قدرت ہے کہ یہ الہام کس غرض سے بنایا گیا تھا اور انجام کس حسن وخوبی کے ساتھ ہوا؟۔
اب مرزا قادیانی کی توجیہات سنئے جو اس الہام سے متعلق ہیں۔ رسالہ الہامات مرزا مؤلفہ مولوی ابوالوفا ثناء اللہ صاحب میں (ضیاء الحق ص ١٢، ١٣، خزائن ج ٩ ص ٢٦٠، ٢٦١) اور (انوار الاسلام ملخص ص ٢٥، خزائن ج ٩ ص ٢٨) وغیرہ تحریرات مرزا قادیانی سے ان کے یہ اقوال منقول ہیں کہ: ”جو آتھم نے اپنی خوف زدہ ہونے کی حالت سے بڑی صفائی سے یہ ثبوت دے دیا ہے کہ وہ ضرور ان ایام میں پیشین گوئی کی عظمت سے ڈرتا رہا۔ ایک سخت غم نے اس کو گھیر لیا۔ وہ بھاگا پھرا اس لئے درحقیقت وہ ہاویہ میں رہا۔ مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ اس کے دامنگیر ہو گیا تھا اور اس کے دل پر وہ رنج و غم و بد حواسی وارد ہوئی جس کو آگ کے عذاب سے کم نہیں کہہ سکتے۔ یہی اصل ہاویہ تھا اور وہ درد اور دکھ کے ہاویہ میں ضرور گرا اور ہاویہ میں گرنے کا لفظ اس پر صادق آ گیا۔ اس کی یہ مثال ہوئی قیامت دیدہ ام پیش از قیامت اس پر وہ غم کے پہاڑ پڑے جو اس نے تمام زندگی میں ان کی نظیر نہیں دیکھی تھی۔ پس کیا یہ سچ نہیں کہ وہ ان تمام دنوں میں درحقیقت ہاویہ میں رہا۔“
مرزا قادیانی کا وہ الہام تھا تو یہ کشف ہے کہ اس کے دل کی حالت اور عمر بھر کے واقعات بیان فرما رہے ہیں۔ جن سے اس کو سراسر انکار ہے۔ اصل بات اتنی تھی کہ آتھم صاحب نے دیکھا کہ اپنی موت پر مرزا قادیانی کی کامیابی منحصر ہے۔ ممکن بلکہ اغلب ہے کہ مرزا قادیانی کے جان نثار مریدوں کی فوج اپنے پیر و مرشد کی کامیابی کی غرض سے اس مہم کے سر کرنے میں سعی کرے گی۔ اس لئے بمشورہ حزم واحتیاط انہوں نے ایک جگہ کی اقامت کو اس مدت معینہ میں
مناسب نہ سمجھا اور بطور تفریح جیسے مرفه الحال لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔ سیاحت اختیار کی جس کی بدولت نئے نئے شہر دیکھے۔ دعوتیں کھائیں، سیر و شکار کئے۔ جس سے السفر وسيلة الظفر کے معنی بھی صادق آگئے۔ مرزا قادیانی نے سفر کا نام دیکھ لیا اور شاعرانہ خیال سے صورت سفر قرار دے کر اس کو سچ مچ کا ہاویہ ہی ٹھہرایا اور یہ خیال نہیں کیا کہ امراء سلاطین لکھوکھا روپیہ دے کر یہ دولت حاصل کرتے ہیں۔ خصوصاً گورنمنٹ کے معززین اور پادریوں کے حق میں تو ہندوستان کا سفر گل گشت جنان سے کم نہیں ۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص٣٩٠، خزائن ج٣ص٣٦٣) میں خود تحریر فرماتے ہیں کہ ”یہ لوگ ایک قسم کی جنت اپنے ساتھ لئے پھرتے ہیں۔“ پھر ان کو دنیا میں ہاویہ سے کیا تعلق غرض مرزا قادیانی نے جس کو ہاویہ قرار دیا تھا وہ جنت ثابت ہوتی ہے۔
مرزا قادیانی نے اس الہام میں ہاویہ کا لفظ اس واسطے تجویز کیا تھا کہ قرآن شریف میں یہ لفظ وارد ہے اور اس کے معنی دوزخ کے ہیں۔ ”فامه هاويه ، وما ادراك ماهيه نار حاميه (قارعه:٩ تا ١١) “ اس سے غرض یہ کہ دعوے کی شان و شوکت اور الہام کا کر وفر اس سے نمایاں ہو کہ جو لفظ قرآن میں ایک سخت وعید میں استعمال کیا گیا ۔ وہی لفظ اس ہندی الہام میں ذکر فرمایا۔ مگر افسوس ہے کہ وہ صرف لفظ ہی تھا۔ اگر چہ پندرہ مہینے تک بجائے خود رکھا مگر اس کے بعد کمال مایوسی سے وہ لفظ یوں بدلا گیا کہ اس سے مراد فکر و تشویش لی گئی اول تو فکر و تشویش ہی میں کلام ہے۔ اس لئے کہ کسی کے دل کی کیفیت یقینی طور پر معلوم نہیں ہو سکتی اور اگر وہ تسلیم بھی کر لی جائے تو اس کا کیا ثبوت کہ الہام کے صدق کا اس کے دل پر اثر تھا۔ قرائن سے تو ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کے مریدوں کے خوف سے اس کو سفر کی ضرورت ہوئی۔
بہر حال مرزا قادیانی نے ایک ہی شق اختیار کی کہ اس کے دل پر اپنی پیش گوئی کا اثر ہوا تھا۔ چنانچہ (ضیاء الحق ص١٧، خزائن ج٩ص٢٦٥) میں لکھتے ہیں کہ: ”جس شخص کا خوف ایک مذہبی پیشین گوئی سے اس حد تک پہنچ جائے ...... کہ شہر شہر بھاگتا پھرے...... تو ایسا شخص بلاشبہ یقینی یا ظنی طور پر اس مذہب کا مصدق ہو گیا ہے۔ جس کی تائید میں پیش گوئی کی گئی تھی اور یہی معنی رجوع الی الحق کے ہیں ۔“
یہاں یہ امر غور کے قابل ہے کہ مرزا قادیانی خود تصدیق کرتے ہیں کہ یقینی طور پر اس کا رجوع الی الحق کرنا ثابت ہو گیا اور الہام مرقوم الصدر کا مضمون یہ تھا کہ اگر وہ حق کی طرف رجوع کرے تو ہاویہ میں گرایا نہ جائے گا۔ پھر جب الہام کے سنتے ہی اس پر خوف اور عظمت طاری ہو گئی تو الہام کے مطابق وہ ہاویہ کا مستحق نہ رہا۔ مگر مرزا قادیانی کی تحریر سے ابھی
معلوم ہوا کہ وہ ہاویہ میں ضرور گرایا گیا اور اس پر ہاویہ میں گرنے کا لفظ صادق آ گیا۔ جس کا ماحصل یہ ہوا کہ بحسب الہام اس کا حق کی طرف رجوع کرنا ثابت ہے۔ باوجود اس کے وہ ہاویہ میں گرایا گیا۔ جو خلافِ عادت الٰہی اور خلاف شرط الہام ہے۔ یہاں دو باتوں سے ایک بات ضرور ماننی پڑے گی کہ اگر الہام سچا ہے تو ہاویہ میں گرنا جھوٹ ہے اور اگر ہاویہ میں گرنا سچ ہے تو الہام جھوٹا ہے اور چونکہ ہاویہ میں گرائے جانے کی وہ تصدیق کرتے ہیں تو ثابت ہوا کہ الہام جھوٹا ہے۔ پھر اگر غیر معمولی کیفیت ان کو وجدانی طور پر معلوم ہوئی تھی۔ جس کو انہوں نے الہام سمجھا تھا تو اس کو الہام شیطانی ضرور کہا جائے گا۔ جس سے کل الہاموں کے دعوے ان کے جھوٹے ہو گئے اور اگر یہ الہام انہوں نے بنالیا تھا تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ انہوں نے خدائے تعالیٰ پر افتراء کیا ہے اور کوئی مسلمان خدا پر افتراء نہیں کر سکتا۔
مرزا قادیانی جو رجوع الی الحق کا الزام مسٹر آتھم کے ذمہ لگا رہے ہیں۔ اس کو وہ قبول نہیں کرتا۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ مجھ پر مرزا قادیانی کے الہام کا کچھ اثر نہ ہوا۔ بلکہ مریدوں کے خوف وغیرہ کی وجہ سے سفر کے اختیار کرنے کی ضرورت ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ وہ ضرور الہام ہی کا اثر تھا ورنہ یہی بات قسم کھا کر کہہ دی جائے۔ اس نے جواب دیا کہ ہمارے دین میں قسم کھانی جائز نہیں۔ جیسا کہ انجیل متی میں مصرح ہے وہ فرماتے ہیں۔ ”ایسے حیلے کام میں نہیں آتے قسم کھا کر نہ کہنا یہی ہماری کامیابی ہے۔ اس کا جواب ڈاکٹر کلارک نے دیا کہ ہم کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی مسلمان نہیں ہیں۔ اگر مسلمان ہیں تو مجمع عام میں سؤر کا گوشت کھائیں۔ اگر کہیں کہ سور کا گوشت مسلمانوں پر حرام ہے اس سے اسلام کا ثبوت کیسے تو ہم کہتے ہیں۔ اسی طرح بالاختیار حلف اٹھانا عیسائیوں کو منع ہے۔ پس جب آتھم پکا عیسائی ہے تو وہ اپنی عیسائیت کا ثبوت قسم سے نہیں دے سکتا۔ جس طرح آپ اپنے اسلام کا ثبوت سؤر کھا کر نہیں دے سکتے۔
(اشتہار ہنری کلارک مطبوعہ نیشنل پریس امرتسر)
مرزا قادیانی نے الہام میں جو شرط لگائی تھی کہ بشرطیکہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ اس میں یہی پیش نظر تھا کہ جب موت کی دھمکیوں سے وہ جان بچانے کی غرض سے اپنا مستقر چھوڑ دے گا تو اسی کا نام تاخیر، پیش گوئی اور رجوع الی الحق رکھا جائے گا اور جب وہ اس سے انکار کرے گا تو قسم کی فرمائش کی جائے گی اور چونکہ ان کے مذہب میں قسم درست نہیں۔ اس لئے وہ قسم کبھی نہ کھائے گا۔ اس وقت یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ آتھم کی قسم نہ کھانے سے ثابت ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔ یہاں تک تو عقلی منصوبے چل گئے۔ جو اعلیٰ درجے کے عقلی معجزے تھے۔ مگر
ڈاکٹر کلارک کے عقلی معجزے نے ان سب کو گاؤ خورد کر دیا اور مرزا قادیانی بھی اس کے تسلیم کرنے میں مجبور ہوئے اور یہ کوئی قابل استعجاب بات نہیں۔ عقلوں میں تفاوت ہوا ہی کرتا ہے۔ مگر قابل توجہ یہ بات ہے کہ اگر وہ الہام واقعی ہوتا تو کیا ڈاکٹر صاحب کی رائے اس میں بھی چل سکتی۔ ادنیٰ تامل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مدار الہامات کا خاص علم و قدرت الٰہی پر ہوتا ہے اور ممکن نہیں کہ کسی آدمی کی رائے اس پر غالب ہو سکے۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ الہام الٰہی نہ تھا۔
مرزا قادیانی جو آتھم کے خوف کا نام رجوع الی الحق رکھتے ہیں اس سے غرض یہ کہ پیشین گوئی یعنی موت کا وقوع اس کی وجہ سے نہیں ہوا۔ مگر ابھی معلوم ہوا کہ اس الہام میں جو ہاویہ میں گرنا مذکور ہے اس کا وقوع تو بحسب اقرار مرزا قادیانی ہو گیا اور یہ رجوع الی الحق کچھ کام نہ آیا۔ مرزا قادیانی اس رجوع سے دوسرا کام لینا چاہتے ہیں کہ الہام کی تشریح میں جو کہا گیا تھا کہ آتھم بہ سزائے موت ہاویہ میں ڈالا جائے گا اور نیز (اشتہار اتمام الحجۃ علی المنکرین ملحقہ ص ١٥، کرامات الصادقین، خزائن ج ٧ ص ١٦٣) میں لکھتے ہیں۔ ”ومنها ما وعدنی ربی اذ جادلنی رجل من المتنصرین الذی اسمه عبدالله آتھم ...... فاذ بشرنی ربی بعد دعوتی بموته الی خمسة عشر شهراً من یوم خاتمة البحث فاستیقظت وکنت من المطمئنین“ یعنی خود خدا نے مجھے بشارت دی کہ پندرہ مہینے میں آتھم مر جائے گا۔ غرض کہ حق تعالیٰ نے جو آتھم کی موت کی بشارت دی تھی وہ اس رجوع الی الحق سے ٹل گئی۔ مگر الہام کی بشارت صاف کہہ رہی ہے کہ اس کی موت ضروری تھی۔
ہر شخص جانتا ہے کہ رجوع کے معنی لوٹ جانے کے ہیں اور رجوع الی الحق اسی وقت صادق آتی ہے کہ باطل کو چھوڑ دیا جائے۔ چونکہ اس مباحثے میں حق وہی فرض کیا گیا تھا۔ جس پر مرزا قادیانی ہیں تو ضرور تھا کہ وہ مرزا قادیانی کا ہم خیال ہو جاتا۔ جس سے رجوع کے معنی صادق آتے۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس خوف کو بھی ایک درجہ رجوع کا دینا چاہئے۔ رجوع کا اس کو ایک درجہ دینا تو آسان ہے مگر مشکل یہ ہے کہ اس تمام مدت میں حق کے قبول کرنے کا ایک اثر بھی اس سے ظاہر نہ ہوا۔ بلکہ برخلاف اس کے مرزا قادیانی کو وہ دجال اور جھوٹا وغیرہ کہتا رہا۔ جیسا کہ رسالہ الہامات مرزا سے ظاہر ہے اور یہ پوشیدہ نہیں کہ جو شخص جان بوجھ کر حق کو قبول نہ کرے اور مخالفت کرتا رہے۔ وہ زیادہ تر سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ دیکھ لیجئے قرآن شریف سے ثابت ہے کہ کفار آنحضرت ﷺ کی نبوت کو یقینی طور پر جانتے تھے۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”یعرفونه کما یعرفون ابناء هم (بقرہ:١٤٦)“ مگر یہ معرفت باعث
زیادتی عقوبت ہوئی۔ ’’فلما جاء ھم ما عرفوا کفروا بہ فلعنۃ اللہ علی الکافرین (بقرہ:٨٩)‘‘ الحاصل اگر آتھم نے پیش گوئی کی عظمت اور اس کے منجانب اللہ ہونے کو معلوم کرلیا تھا تو اس کی سزا زیادہ اور بہت جلد ہونی چاہئے تھی۔ اگر مرزا قادیانی کے قابو میں آتھم صاحب آجاتے اور سزا دینے میں کوئی مانع نہ ہوتا تو کیا مرزا قادیانی باوجود ان کو دجال اور جھوٹا کہنے کے اس کو پندرہ مہینے مہلت لینے دیتے؟۔ ضرور یہ فرما کر فوراً سزائے موت دیتے کہ باوجود حق کی طرف رجوع ہونے کے اور میری اور میرے الہام کی تصدیق کرنے کے مجھ کو دجال اور جھوٹا بتا رہا ہے۔ الحاصل اس موقع میں ضرور تھا کہ جس طرح رجوع الی الحق نے اس کو ہاویہ سے نہ بچایا اسی طرح سزائے موت سے بھی نہ بچاتا۔
مرزا قادیانی نے اس رجوع الی الحق کو مانع سزائے موت قرار دیا۔ جیسا کہ (تریاق القلوب ص ١١، خزائن ج ١٥ ص ١٣٨) میں لکھتے ہیں کہ: ’’آتھم کی موت کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ جس میں یہ شرط تھی کہ اگر آتھم پندرہ مہینے کی میعاد میں حق کی طرف رجوع کر لیں گے تو موت سے بچ جائیں گے۔‘‘ اور (انوار الاسلام ص٢، خزائن ج ٩ ص ٢) وغیرہ میں ہے کہ ’’آتھم کی موت اس لئے نہیں ہوئی کہ اس نے رجوع حق کی طرف کیا تھا ۔‘‘ اور وہ رجوع الی الحق مانع دخول ہاویہ نہیں ہوئی۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا کہ وہ ہاویہ میں ضرور گرا۔ حالانکہ اصلی ہاویہ میں داخل ہونا بعد موت ہوگا۔ قبل نہیں ہوسکتا اور مرزا قادیانی کی تقریر سے بھی یہی ثابت ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ’’بسزائے موت داخل ہاویہ ہوگا۔‘‘ کیونکہ بسزائے موت داخل ہاویہ ہونا قبل موت ممکن نہیں۔ پھر اس کے کیا معنی کہ رجوع الی الحق سے موت تو ٹل گئی مگر ہاویہ میں گر گیا۔ اس کی مثال بعینہ ایسی ہے جیسے نہ ولایت ہے نہ نبوت۔ مگر وحی اور الہام ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ رجوع الی الحق نے موت سے تو بچالیا مگر ہاویہ سے نہ بچا سکا۔ اس رجوع کو ناقص کہیں یا کامل اس اعتبار سے کہ موت جیسی چیز کو جس کی نسبت حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’فاذا جاء اجلھم لایستأخرون ساعۃ ولا یستقدمون (اعراف:٣٤)‘‘ روک دینا اعلیٰ درجے کی کامل سمجھی جائے گی۔ مگر حیرت یہ ہے کہ ایسی رجوع کامل سزائے ہاویہ کو نہ روک سکی۔ جس سے مراد سفر اور پریشانی لی گئی۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک موت سے زیادہ سفر کی وقعت ہے۔ کیونکہ اس رجوع نے موت میں تصرف کر لیا مگر سفر میں نہ کر سکا۔
آیت موصوفہ : اذا جاء اجلھم سے یہ ظاہر ہے کہ موت وقت مقررہ سے نہ آگے آسکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے اور الہام مذکور کہہ رہا ہے کہ آتھم کی موت ٹل گئی اور مرزا قادیانی
تے (ازالۃ الاوہام ص ١٣٧،١ الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کر۔ ہے۔‘‘ اب مرزا قادیانی خو ممتنع ممکن نہیں وہ الہام جبر کہ وہ الہام شیطانی تھا۔ مرزا قادیانی جو حق کی طرف کیا تھا اور رجو طاری ہو گیا اور یہ خوف اسی پھرا، جس کی خبر مرزا قادیانی دیتے کہ آتھم رجوع الی ا دیتے کہ تم نے رجوع الی ہاویہ میں یعنی سفر میں رہو۔ اسی مدت میں ضرور مرے جائے کہ اس نے رجوع ا اور اگر وہ قول سچ سمجھا جا۔ تک مرزا قادیانی نے اس کرتے رہے کہ بوڑھا تو رجوع الی الحق کی وجہ سے یہاں یہ امر قا تو جس طرح آتھم کو رجو صاف کہہ دو کہ وہ رجوع سے بھی کہلواتا رہا کہ اس نہیں۔ نعوذ باللہ من اصل یہ ہے نگاہ نہیں پڑتی اور ہر با۔
نے (ازالۃ الاوہام ص ١٣٨،١٣٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٠) میں لکھا ہے۔ ”اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کی تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“ اب مرزا قادیانی خود ہی تصفیہ فرمائیں کہ جب خدائے تعالیٰ کی خبر کے برخلاف جس کی تنسیخ ممکن نہیں وہ الہام خبر دے رہا ہے تو اس کو کیا کہیں۔ اگر اور کچھ نہیں تو اتنا تو ضرور فرمائیں کہ وہ الہام شیطانی تھا۔
مرزا قادیانی جو فرماتے ہیں کہ آتھم کی موت اس لئے نہیں ہوئی کہ اس نے رجوع حق کی طرف کیا تھا اور رجوع الی الحق کے معنی ابھی معلوم ہوئے کہ پیشین گوئی کا خوف اس پر طاری ہو گیا اور یہ خوف اسی وقت طاری ہوا۔ جب مرزا قادیانی سے پیشین گوئی سن کر بھاگا بھاگا پھرا، جس کی خبر مرزا قادیانی کو فوراً ہو گئی تھی۔ اس صورت میں مرزا قادیانی کو ضرور تھا کہ یہ اعلان دیتے کہ آتھم رجوع الی الحق کر چکا ہے اب وہ پندرہ مہینوں میں نہ مرے گا اور اس کو صاف لکھ دیتے کہ تم نے رجوع الی الحق کر لی ہے۔ اس وجہ سے اب اس مدت میں ہرگز نہ مرو گے۔ ہاں ہاویہ میں یعنی سقر میں رہو گے۔ حالانکہ ابھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ وہ اسی مدت میں ضرور مرے گا اور اس میں کوئی تاویل نہ ہوگی۔ اب دیکھئے اگر ان کا یہ قول سچ سمجھا جائے کہ اس نے رجوع الی الحق کی ہے تو ان کا وہ قول کہ وہ ضرور مرے گا جھوٹا ثابت ہوتا ہے اور اگر وہ قول سچ سمجھا جائے تو قطع نظر خلاف واقعہ ہونے کے اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ پندرہ ماہ تک مرزا قادیانی نے اس کے بھاگتے پھرنے کا رجوع الی الحق نہیں سمجھا تھا۔ بلکہ یہی خیال کرتے رہے کہ بوڑھا تو ہے۔ اگر مر جائے تو کامیابی ہے۔ ورنہ اس وقت کہہ دیا جائے گا کہ رجوع الی الحق کی وجہ سے نہیں مرا۔
یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ جب اس الہام سے خدا کو مرزا قادیانی کی کامیابی مقصود تھی تو جس طرح آتھم کو رجوع الی الحق کی ہدایت کی تھی مرزا قادیانی کو یہ الہام کیوں نہیں ہو گیا کہ صاف کہہ دو کہ وہ رجوع کر چکا ہے۔ اب اس مدت میں نہ مرے گا۔ برخلاف اس کے مرزا قادیانی سے بھی کہلواتا رہا کہ اس مدت میں وہ ضرور مر جائے گا۔ کیا ایسے الہام خدائے تعالیٰ پر افتراء نہیں۔ نعوذ باللہ من شرور انفسنا!
اصل یہ ہے کہ جب کسی کی مقبولیت کسی قوم میں ہو جاتی ہے تو اس کی ایسی باتوں پر نگاہ نہیں پڑتی اور ہر بات چل جاتی ہے۔ آپ حضرات نے پولس مقدس کے حالات کتابوں
میں دیکھے ہوں گے کہ کیسی کیسی خلاف باتیں انہوں نے کیں۔ کل حرام چیزوں کو حلال کر دیا۔ قبلہ سے منحرف کیا۔ تثلیث کو ذہنوں میں جما دیا۔ مگر سب چل گئیں اور پھر بھی مقدس ہی رہے۔ پولس مقدس صاحب کی سحر بیانی اور تقدس کا کیا اثر ہوا۔ جو تقریباً انیس سو سال سے آج تک رو بہ ترقی ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ پولس صاحب پر ایسے تقدس کا خاتمہ نہیں ہوا۔ بلکہ ایسے مقدس حضرات سے زمانہ خالی نہیں رہتا۔ پولس صاحب نے تو عیسیٰ علیہ السلام کو ترقی دی تھی کہ ان کو خدا بنا دیا۔ مرزا قادیانی اپنی ترقی میں کسی کے محتاج نہیں۔ خود ہی عیسیٰ علیہ السلام بنے نبوت تک ترقی کر گئے اور اب کن فیکون میں اپنے خالق کے ساتھ اپنی شرکت بتا رہے ہیں اور ہر طرف سے آمنا و صدقنا کے نعرے خوش اعتقادوں کے بلند ہیں اور یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آتی کہ مرزا قادیانی کیا کر رہے ہیں۔ یہ اسی کمال تقدس کا اثر ہے۔ جو مدتوں کی خلوت نشینی اور گوشہ گزینی سے حاصل فرمایا تھا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عبارت الہام میں مذکور ہے کہ: ”جو فریق عمداً جھوٹ اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ پندرہ ماہ میں ہاویہ میں گرایا جائے گا۔“
(انوارالاسلام ص ١، خزائن ج ٩ ص ١)
اس الہام میں جانب مقابل فریق قرار دیا گیا۔ جو بمعنی گروہ اور جماعت ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف سے واضح ہے۔ ”فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر (شوریٰ:٧)“ اس سے بڑھ کر کیا ہو کہ کل جنتی ایک فریق اور کل دوزخی ایک فریق قرار دیئے گئے۔ چونکہ اس الہام میں صراحتاً مذکور ہے کہ جو فریق عمداً جھوٹ کہہ کر عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ اس لئے بمقتضائے الہام کل فریق عیسائی کا پندرہ ماہ میں ہاویہ میں گرنا ضرور تھا۔ اس لئے کہ کوئی عیسائی ایسا نہیں جو سہواً یا خطاءً عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنایا ہو۔ وہ تو جو کچھ کہتے ہیں عمداً کہتے ہیں۔ پھر جب وصف عامہ پر حکم مرتب ہو رہا ہے تو مرزا قادیانی کو کوئی حق نہیں کہ اس کلام میں جس کو کلام الہی بتلا رہے ہیں۔ تصرف کر کے لفظ فریق کو اس جماعت کے ساتھ خاص کریں۔ جو مباحثے میں شریک تھی۔ جیسا کہ (انوارالاسلام ص ٢، خزائن ج ٩ ص ٢ ملخص) میں لکھتے ہیں کہ: ”فریق سے مراد آتھم نہیں بلکہ وہ تمام جماعت ہے جو اس بحث میں اس کے معاون تھی۔“ مرزا قادیانی نے اس الہام کے بعد یہ نہیں کہا تھا کہ خدائے تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ فریق سے مراد خاص جماعت ہے اور نہ اس کی تخصیص الفاظ الہام سے معلوم ہوتی ہے۔ بلکہ اس میں عام طور پر ہے کہ جو فریق انسان کو خدا بنا رہا ہے اس کلام کی تحریف انہوں نے اس خیال سے کی ہے کہ کہیں اس کلام
سے گورنمنٹ کا پندرہ ماہ میں ہاویہ میں گرنا نہ سمجھا جائے۔ مگر جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ وہ کلام کلام الہامی نہ تھا۔ اس لئے کہ وہ فریق اس مدت میں ہاویہ میں نہیں گرا تو اس سے معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے کہا تھا کہ اس مدت میں کل عیسائی ہاویہ میں گرائے جائیں گے۔ مرزا قادیانی بظاہر گورنمنٹ کے خیر خواہ اپنے کو بتاتے ہیں۔ مگر ایسی منحوس باتوں سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف ظاہر داری ہے۔ خیر اس سے کوئی بحث نہیں کلام اس میں تھا کہ فریق کا لفظ جو متصف بصفت عامہ کیا گیا تھا۔ وہ صحیح نہیں۔ لیکن اس تعمیم میں یہ مصلحت پیش نظر ضرور تھی کہ اس مدت طویلہ میں کہیں تو کوئی عیسائی مرے گا۔ اس وقت یہ تعمیم کام دے گی اور فوراً اس الہام کے ذیل میں داخل کر لیا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ پادری رابٹ جو اس مباحثے میں شریک بھی نہ تھا۔ جب مر گیا اور اس کے دوست ڈاکٹر کلارک کو اس کا غم ہوا تو آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اس عرصے میں رابٹ ناگہاں مرگیا۔ جس کے مرنے سے ڈاکٹر کلارک کو جو اس کا دوست تھا صدمہ پہنچا۔ (دیکھو اشتہار الہامی ) اب یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ فریق سے مراد ایک جماعت ہے۔ جس کی نسبت مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے یعنی وہ فریق پندرہ ماہ کے عرصے میں بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر سزا کے لئے موجود ہوں۔
اس کا مطلب ظاہر ہے کہ کلارک وغیرہ کل جماعت اس مدت میں مرجاتی۔ حالانکہ اس میں سے کوئی نہیں مرا اور جو شخص مرا سو وہ ایک اجنبی شخص تھا۔ جو مباحثے میں شریک ہی نہ تھا۔ مگر مرزا قادیانی نے اس کی موت سے بھی اپنا کام نکالا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آتھم رجوع الی الحق کی وجہ سے بچ گیا تھا تو یہ پوری جماعت کیونکر بچی ان کا تو رجوع الی الحق ہونا بھی ثابت نہیں ہوا۔ شاید یہاں یہ فرمائیں گے کہ ان کا مباحثہ کرنا ہی رجوع الی الحق تھا۔ اگر چہ ردی کرنے کے لئے کیوں نہ ہو۔ آخر حق کی طرف رجوع تو متحقق ہوا۔ اس کو بھی رجوع کا ایک درجہ دینا چاہئے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ توجیہ بھی چل جائے گی۔ جیسے آتھم کے رجوع الی الحق کی توجیہ چل گئی تھی۔ مگر اہل انصاف سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کس قدر رکیک ہوگی۔ اس سے زیادہ حیرت انگیز یہ بات ہے کہ کلارک کے مقابلے میں مرزا قادیانی نے عین عدالت میں اقرار کیا کہ فریق سے مراد اس الہام میں صرف آتھم تھا۔ ڈاکٹر کلارک وغیرہ کو اس پیش گوئی سے کوئی تعلق نہیں۔ گویا بعدالت یہ اقرار فرماتے ہیں کہ رابٹ کی موت کے صدمے کی نسبت جو کہا گیا تھا وہ غلط تھا۔ دیکھئے فریق کی ابتداء کہاں سے تھی اور ہٹتے ہٹتے کہاں تک نوبت آپہنچی۔ دیکھئے اس الہام کا سلسلہ کس قدر طویل ہے کہ احاطہ بحث میں آ نہیں سکتا۔ پوری بحث اس کی مولوی ابو الوفا ثناء اللہ
صاحب نے الہامات مرزا میں لکھی ہے جو قابل دید ہے۔
تاریخ خمیس میں مواہب اللدنیہ وغیرہ سے لکھا ہے کہ ایک عورت نے مسیلمہ کذاب سے کہا کہ محمدﷺ کی دعاء سے کنوؤں میں پانی جوش مارتا ہے۔ آپ بھی ہمارے گلستان وغیرہ کے لئے دعاء کیجئے۔ کہا وہ کیا کرتے ہیں کہا ڈول میں کلی کرتے ہیں اور وہ پانی کنوئیں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس نے بھی ایسا ہی کیا مگر اثر یہ ہوا کہ جس قدر پانی موجود تھا وہ بھی سوکھ گیا۔ آنحضرت ﷺ کے آب دہن سے آشوب چشم اچھا ہو گیا تھا۔ اس نے بھی کسی آفت زدہ کی آنکھ میں تھوک لگایا اس کا اثر یہ ہوا کہ بصارت ہی زائل ہوگئی۔ ایک بار کسی کی بکری کے تھن پر اس غرض سے ہاتھ پھیرا کہ دودھ زیادہ ہو۔ اثر یہ ہوا کہ دودھ بالکل خشک ہی ہو گیا۔ بنی حنفیہ میں ایک کنواں کھودا گیا تھا۔ برکت کے لئے اس میں آب دہن اس کا ڈالا گیا۔ اثر یہ ہوا کہ پانی کنوئیں کا جو میٹھا تھا کڑوا ہو گیا۔ ایک عورت نے اس سے شکایت کی کہ میرے بہت سے لڑکے مر گئے اب صرف دو ہی رہ گئے ہیں۔ ان کی درازی عمر کے لئے دعاء کیجئے۔ چنانچہ چھوٹے لڑکے کی چالیس برس کی عمر مقرر کی۔ جب وہ گھر آئی تو بڑا لڑکا ایک کنوئیں میں گر کے مر گیا تھا اور چھوٹا جس کی عمر چالیس سال کی مقرر کی تھی حالت نزع میں پڑا تھا۔ غرض کہ اسی دن ان دونوں لڑکوں کا کام تمام ہو گیا۔ اسی قسم کے اور واقعات بھی لکھے ہیں۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ ایسے لوگوں کو مخذول کرتا ہے۔
(عصائے موسیٰ ص ٤٥) میں لکھا ہے کہ: ”بظاہر تو از روئے قانون قدرت ومشاہدہ واقعات اس کا میعاد مقررہ مرزا قادیانی کے اندر مرجانا عجائبات سے نہ تھا۔ بلکہ بلحاظ کبر سنی وضعف ونقص اور ان سب سے بڑھ کر مرزا قادیانی کی دھمکی موت سے خوف زدہ ہونے کی حالت میں بہت ہی اغلب تھا۔“ اور لکھا ہے کہ اس عرصے میں وباء کے بھی کئی دورے ہوئے باوجود ان تمام اسباب کے مسٹر آتھم اس مدت میں تو نہیں مرے ہاں اس کے بعد اور آٹھ ماہ زندہ رہے۔ اگر لا يستأخرون ساعة سے قطع نظر کیا جائے تو یہ آٹھ ماہ کی زندگی گویا اس الہام میں رخنہ اندازی کے لئے تھی اور یہ تو یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی کے الہامات کو وقعت دینا منظور الٰہی ہوتا تو بجائے پندرہ ماہ کے تیئس ماہ ان کی زبان سے کہلوا دیتا۔ اسی طرح جب مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی کہ قادیان میں طاعون نہ آئے گا تو اہل قادیان سمجھ گئے کہ اب طاعون کا آنا وہاں ضرور ہو گیا اور اسی وقت سے ان کو خوف پیدا ہو گیا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ طاعون سے قادیان کو سخت صدمہ پہنچا۔
لیکھ رام کی پیش گوئی
جس طرح آتھم کی موت کی ایک وسیع مدت مقرر کی گئی تھی۔ اس سے زیادہ مدت لیکھ
رام کی موت کے الہام میں مقرر کی گئی۔ چنانچہ (سراج منیر ص ١٢، خزائن ج ١٢ ص ١٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”لیکھرام کی نسبت یہ الہام ہوا کہ ’عجل جسدلہ خوار،لہ نصب وعذاب‘ اور اس کے بعد خدائے کریم نے یہ ظاہر کیا کہ...... یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں کی ہیں۔ عذاب شدید میں مبتلا کیا جائے گا...... اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصے میں آج تک تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر ہیبت الٰہی رکھتا ہو...... تو ہر ایک سزا بھگتنے کے لئے میں تیار ہوں۔“
اور یہ بھی الہام اس کی نسبت (اشتہار اتمام الحجۃ علی المکرین، کرامات الصادقین ص ١٥، خزائن ج ٧ ص ١٦٣) میں لکھا ہے۔ ”فبشرنی ربی بموته فی ست سنة“ چنانچہ وہ چھری سے مارا گیا۔ مرزا قادیانی نے ایک طولانی چھ سال کی مدت جو اس کی موت کے لئے مقرر کی تھی احتیاطاً تھی۔ ورنہ قرائن تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اتنی مدت اس کے لئے درکار نہیں۔ کیونکہ اس نے آنحضرت ﷺ کی شان میں سخت بے ادبیاں اور گستاخیاں کی ہیں۔ جس کی وجہ سے تقریباً چھ کروڑ صرف ہند کے مسلمانوں کا ایسا دل دکھایا کہ جس سے ان کو اپنی زندگی ناگوار ہوگئی اور اس کے جانی دشمن ہو گئے۔ کیا ممکن تھا کہ اتنی اسلامی فوج کے ہاتھ سے وہ بچ سکتا۔ کیا قیاس سے یہ دور ہے کہ ایک جماعت اس کو سزا دینے کی طرف متوجہ ہوئی ہو اور مرزا قادیانی بھی اس سے واقف ہوں۔ اہل فراست سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا شعر جو اس پیشین گوئی کے بعد اور اس کی موت سے پہلے لکھا ہے کیا کہہ رہا ہے۔ ”وبشرنی ربی وقال مبشراً، ستعرف یوم العید والعید اقرب“ (کرامات الصادقین ص ٢٤، خزائن ج ٧ ص ٩٦) غرض قطع نظر اس کے وہی قرینہ مذکورہ ایسا قوی اور قطعی ہے کہ ہر شخص اس پیشین گوئی پر جرات کر سکتا تھا۔ ایسی کھلی بات کے لئے الہام کی ضرورت نہیں اس قسم کی باتوں کا الہام ایسا ہے جیسے کوئی کسی سے کہے کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ تم کبھی نہ کبھی مرجاؤ گے۔
مرزا قادیانی نے ان معجزات کا طریقہ ڈاکٹروں سے حاصل کیا ہے۔ کیونکہ ایک زمانے سے ڈاکٹر وغیرہ مدبروں نے بیمے کا طریقہ ایجاد کر رکھا ہے کہ آدمی کی ایک عمر مشخص کر کے اس کو کہہ دیتے ہیں کہ تم اس مدت کے اندر نہ مرو گے اور اگر مر جاؤ گے تو اتنے ہزار روپے ہم تمہارے ورثاء کو دیں گے اور اس مدت میں کچھ ماہانہ ان سے لیا کرتے ہیں۔ پھر وہ قرائن خارجیہ وداخلیہ کو دیکھ کر اکثر کامیاب ہی ہوتے ہیں۔ چنانچہ اسی رقم کی آمدنی سے لکھوکھہا روپے پیدا کر
رہے ہیں۔ اگر ان کی یہ پیشین گوئی معجزہ نبوت قرار دی جائیں تو انبیاء کی کثرت ہو جائے گی اور مرزا قادیانی کی بھی خصوصیت باقی نہ رہے گی۔
مرزا قادیانی نے لیکھ رام کی نسبت جو خارق العادات اور ہیبت ناک موت کی پیشین گوئی کی اس کا منشاء یہی ہے کہ جب انہوں نے قرائن سے سمجھ لیا کہ وہ مارا جائے گا تو اسی کا نام ہیبت ناک اور خارق موت رکھ دیا۔ حالانکہ اس قسم کی صدہا موتیں ہوا کرتی ہیں۔
مرزا قادیانی کو پہلے الہام کے وقوع کا یقین نہ تھا اور کیونکر ہو سکتا۔ آئندہ کے منصوبے کبھی بگڑ بھی جاتے ہیں۔ اس لئے احتیاطاً دوسرا الہام ہو گیا اس غرض سے کہ اگر خارق عادت وہ موت نہ ہو یا نہ سمجھی جائے تو وہ دوسرا الہام کام میں آئے۔
پہلا الہام تو اس وجہ سے الہام نہیں سمجھا گیا کہ خارق عادت موت نہ ہوئی۔ مگر دوسرا الہام بھی ربانی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ اس کی عبارت میں ست ستعہ ہے۔ حالانکہ صحیح عبارت ست سنین ہے اور ممکن نہیں کہ خدائے تعالیٰ کے کلام میں غلطی ہو۔ (ضرورۃ الامام ص ٢٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٦) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”قرآن شریف کے معجزہ کے طور پر عربی بلاغت و فصاحت کا نشان دیا گیا ہو کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے۔“
اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی جو عبارت لکھیں گے وہ نہایت فصیح و بلیغ ہو گی اور الہام والی عبارت غلط ہو سکتی ہے؟۔ اب اگر وہ الہام ہے۔ یعنی خدا کی کہی ہوئی عبارت ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ مرزا قادیانی کو خدا سے زیادہ فصیح اور بلیغ ہونے کا دعویٰ ہے اور اگر الہام نہیں ہے تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی خود عبارت بنا کر اس کو الہام قرار دیتے ہیں۔ جو نہایت بد نما کارروائی ہے۔
اور اس سے مخالفین کو ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی کی اصلی حالت معلوم ہو گئی کہ گو وہ فاضل اور ذہین ہیں۔ مگر فن ادب میں مشاق نہیں۔
اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسالہ اعجاز المسیح کو مشتہر کر کے جو وہ دعوے کرتے ہیں کہ وہ اپنی تصنیف ہے۔ اب اس کی تصدیق کوئی نہ کر سکے گا۔ اس لئے کہ ایسی پر تکلف اور سجع عبارت جو اس قابل ہو کہ بطور اعجاز پیش کی جائے۔ (ست ستعہ) لکھنے والا شخص ہرگز نہیں لکھ سکتا۔ کسی عالم نے ان کو لکھ دیا ہے اور اس زمانے میں یہ کوئی بڑی بات نہیں دیکھ لیجئے کہ روپے کے لالچ سے کئی ایک مولوی پادری بن گئے۔ جن کے نام مشہور ہیں۔ وہ صاف کہتے ہیں الدنیا زور لا یصل الا بالزور!
محمدی بیگم والی پیش گوئی
مرزا قادیانی کی ایک پیش گوئی یہ بھی ہے جس کو اشتہار میں شائع کیا تھا کہ ”خدائے تعالیٰ قادر و حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ مرزا احمد بیگ کی دختر کلاں کے لئے سلسلہ جنبانی کرو۔ (یعنی اس لڑکی کو اپنے نکاح میں لاؤ) اور ان کو کہہ دے کہ ...... یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت ہے ...... اور اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا ...... اور یہ بھی معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے ...... کہ اس لڑکی کو انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧، ١٥٨)
مرزا قادیانی نے اس نکاح کی نسبت بڑا ہی زور لگایا اس سے بڑھ کر کیا ہو کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے پیام پہنچا دیا کہ اگر نکاح نہ کرو گے تو چناں ہوگا اور چنیں ہوگا۔ مگر اس بزرگ نے ایک نہ مانی اس کے بعد مرزا احمد بیگ صاحب کے نام خط لکھا کہ ”آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت غبار ہو لیکن خداوند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل بکلی صاف ہے ...... مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا اخیر فیصلہ قسم پر ہوتا ہے جب ایک مسلمان خدائے تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت دل صاف کر لیتا ہے۔ سو مجھے خدائے تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا ...... اب ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتے سے آپ انحراف نہ فرمائیں ...... اور آپ کو معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزارہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوگا۔ جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے ...... ہزاروں پادری منتظر ہیں کہ یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو ...... ہزارہا مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعاء کرتے ہیں۔ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا کرنے کے لئے معاون بنیں۔ تا کہ خدائے تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں ...... خدا آپ کے دل میں وہ بات ڈالے۔ جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔“
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣ تا ١٢٥)
مرزا قادیانی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے آسمان پر سے ان کو کہہ دیا کہ یہ عقد تمہارے ہی ساتھ ہوگا اور اس کی سلسلہ جنبانی کرو۔ معلوم نہیں باوجود اس کے پھر یوں اتنی عاجزی اور خوشامد کر رہے ہیں اور پادریوں کا کیوں خوف لگا ہوا ہے کہ ان کا پلہ بھاری ہو جائے گا۔
اب ان کی پریشانی کا حال اور سنئے۔ اپنے سمدھی مرزا علی شیر بیگ صاحب کے نام یہ خط لکھا۔ ”مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح تیسری تاریخ ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورے میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں ...... عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ و رسول کے دین کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے۔ ذلیل کیا جائے روسیاہ کیا جائے۔ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں ...... اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا، کیا میں چوہڑا چمار تھا۔ جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ ہے ...... میں نے خط لکھا کہ پرانا رشتہ مت توڑو، خدا سے خوف کرو، کسی نے جواب نہ دیا۔ بلکہ آپ کی بی بی نے کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بے شک وہ طلاق دے دیوے ہم راضی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ کہیں یہ شخص مرتا بھی نہیں ...... اب آپ کو لکھتا ہوں کہ اس وقت کو آپ سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائے اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کر دیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے ورنہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے تمامی رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو ایسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں نہ رکھے گا۔“
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٥، ١٢٦)
البتہ مرزا قادیانی کی اس بے کسی کی حالت میں ان کے سمدھی صاحب کو ضروری تھا کہ ان کی عاجزی پر رحم کھا کر ان کو سنبھال لیتے۔ مگر معلوم نہیں انہوں نے قصداً سختی اختیار کی یا یہ سمجھ لیا تھا کہ جب خدا نے خبر دی ہے کہ مرزا قادیانی کا نکاح اس لڑکی کے ساتھ ہوگا تو مداخلت کی ضرورت ہی کیا ضرور ہو رہے گا۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اس اظہار بے کسی اور عاجزی کے ساتھ اگر اتنا فرما دیتے کہ الہام کا ذکر برائے نام صرف دھمکی کے لئے تھا اب میں اس سے توبہ کرتا ہوں تو ضرور مرزا قادیانی کے صدق کا اثر ان کے دل پر پڑتا اور رحم آ جاتا اور تعجب نہیں کہ طرف ثانی بھی اس خیال سے کہ ایک بڑا شخص توبہ کر رہا ہے۔ اگر خدا کے واسطے نہیں تو اپنی بھلی ہی کے واسطے ضرور قبول کر لیتے۔ بہر حال مرزا قادیانی کا مقصود تو حاصل ہو جاتا۔
مرزا قادیانی لڑکی کے قرابت داروں کی شکایت کرتے ہیں کہ وہ خدا اور رسول کے دین کی کچھ پروا نہیں کرتے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو انہوں نے صرف خدا اور رسول ہی کی رضامندی اور دین کے واسطے یہ کام کیا۔ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ناحق کہہ دیا کہ مجھے اللہ
نے فرمایا کہ تمہارے نکاح میں وہ لڑکی آئے گی، تم سلسلہ جنبانی کرو۔ اس فقرے نے ان کو اس طرف توجہ دلائی کہ گورنمنٹ یا حکام کو جب کوئی بات منظور ہوتی ہے تو اس کے آثار ہی کچھ اور ہوتے ہیں کہ وہ کام بغیر پورا ہوئے رہ نہیں سکتا۔ چہ جائیکہ خالق عالم چاہے اور کسی کے دل پر اس کا کچھ اثر نہ ہو اور اثر ہو تو ایسا کہ وہ کام کبھی نہ بننے پائے۔ اگر خدائے تعالیٰ کو مرزا قادیانی کا نکاح منظور ہوتا تو کٹر سے کٹر مخالفین آ کر اپنی طرف سے پیام کرتے۔ دوسروں پر اثر ہونا تو درکنار خود مرزا قادیانی کے دل پر اس الہام کا کوئی اثر نہیں۔ عیسائی، ہندو اور دشمنوں کی طرف سے ان کو اپنی خواری ذلت اور روسیاہی کا کچھ ایسا تصور جما ہے کہ الہام تو کیا خدا بھی یاد نہیں آتا۔ قسمیں کھا کھا کر ایک ایک سے لجاجت اور عاجزی کر رہے ہیں کہ اس وقت کو سنبھال لو، اب ارباب دانش اپنے وجدان سے کام لیں کہ مرزا قادیانی جو لکھتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ بے پردہ ہو کر اس صفائی سے ایسے مکالمے کرتا ہے کہ دوسروں پر حجت قائم ہوسکے۔ کیا یہ بات صحیح ہوسکتی ہے کہ اگر اسی طرح ان کو الہام ہوا کرتے ہیں اور خود خدا سے سننے پر بھی ان کو اس قدر تردد رہا کرتا ہے تو پھر قرآن پر ان کو کیا ایمان اور تصدیق ہوگی؟۔ کیونکہ وہ تو صرف خبر ہے کچھ خدا سے انہوں نے سنا ہی نہیں اور اگر سنتے بھی تو کیا ہوتا، وہی تردد رہتا جو اس الہام میں ہے۔ غرض ان قرائن سے ان لوگوں نے یہ خیال کیا کہ یہ الہام خدائے تعالیٰ پر تہمت ہے اور خدا پر تہمت کرنے والے کی تائید اور جھوٹے نبی کی مدد باعث عذاب الٰہی ہے۔ اس لئے انہوں نے صرف دین داری کے لحاظ سے محض للہ ہی پر عمل کیا ورنہ دنیاداری کے لحاظ سے اس سے بہتر کوئی پیام نہ تھا۔ کیونکہ لاکھوں روپے کی جائیداد اور آمدنی کس کو نصیب ہوسکتی ہے۔ ان لوگوں پر ہزار آفرین ہے کہ اپنے خیال کے مطابق انہوں نے دنیا کے لحاظ سے دین کو برباد نہیں کیا۔ اس موقع میں ان کے دین کی شکایت بالکل بے موقع ہے۔
مرزا قادیانی نے سمدھی صاحب کی تحریر پر کفایت نہ کر کے سمدن صاحبہ کے نام بھی یہ خط لکھا کہ ”مجھ کو خبر پہنچی کہ چند روز میں مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے اور ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ ...... اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نورالدین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادے سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے ...... طلاق نامے کا یہ مضمون ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کے
ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آئے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا نکاح کسی اور سے ہو جائے عزت بی بی کو تین طلاق ہیں...... اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا اور پھر وہ میری میراث سے ایک دانہ نہیں پاسکتا...... مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خداے تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن نکاح ہوگا۔ اس دن عزت بی بی کا نکاح نہیں رہے گا۔‘‘
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٧، ١٢٨)
بے چاری سمدھن صاحبہ کی مصیبت کا حال بیان سے خارج ہے۔ اگر مرزا قادیانی کی سفارش کرتی ہیں تو غضب الٰہی کا خوف ہے۔ جس کا حال ابھی معلوم ہوا اور اگر نہیں کرتیں تو بیٹی بیوہ ہوئے جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ عورتوں پر لڑکیوں کے بے شوہر ہونے کا کس قدر غم ہوتا ہے۔ مگر سبحان اللہ کیسی ایماندار باخدا اور مستقل مزاج بی بی ہیں کہ خوف عذاب الٰہی کے مقابلے میں اپنی لڑکی کے بیوگی کا کچھ بھی خیال نہیں کیا اور صاف کہہ دیا کہ بے شک فضل احمد طلاق دے دے ہم راضی ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ صاحب کے خط میں لکھا ہے کہ رشتہ مت توڑو خدا سے خوف کرو۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے ساتھ ان کا کوئی ایسا رشتہ نہ تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی اس تحریر سے مستفاد ہے۔ کیا میں چوہڑا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار تھا۔ اگر کوئی قرابت ہوتی تو یہ مقام اس کی تصریح کا تھا کہ باوجود یہ کہ میں تمہارا بھانجا بھتیجا ہوں۔ پھر کیوں دریغ کیا جاتا ہے اور کوئی رشتہ نہ ہونے کی تصریح خود اسی خط میں موجود ہے کہ مرزا احمد بیگ کی ہمشیر نے صاف کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص (مرزا قادیانی) کیا بلا ہے۔ یہ شخص مرنا بھی نہیں۔ غرض کہ ایک فرضی رشتے کو توڑنے پر تو فرماتے ہیں کہ خدا سے خوف کرو اور اپنے فرزند کو صاف فرماتے ہیں کہ اپنی زوجہ کو طلاق مغلظہ دے دو۔ حالانکہ نفس طلاق کا ابغض الاشیاء ہونا احادیث سے ثابت ہے۔ اس پر طلاق مغلظہ بدعی جس کی قباحت احادیث صحاح میں مذکور ہے۔
حیرت یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اتنا بھی خیال نہ فرمایا کہ اس بے چاری کمسن لڑکی کی ماں کا کیا قصور تھا۔ اگر باوجود باپ کی موجودگی کے پھوپھی کو ولایت ہوتی تو یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ اقتداری کام میں قصور کیا گیا۔ مگر جب بھی ماں کے قصور کی سزا بیٹی کو دینا اور خوشدامن کا غصہ داماد پر نکال کر اس کو محروم الارث کر دینا نہ شرعاً جائز ہے۔ نہ عقلاً حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ولا تزر وا زرة وزر اخریٰ (زمر:٧)“
مرزا قادیانی نے اس فرضی قرابت کو توڑنے پر تو خوف الہی یاد دلایا اور خود کتنے واقعی رشتے توڑ رہے ہیں۔ زوجیت، مصاہرت، اہلیت اور نام کو بھی خوف الہی نہیں۔ حالانکہ نسبی رشتہ کسی طرح ٹوٹ نہیں سکتا۔ کیا زبان سے کہہ دینے سے جزئیت باطل ہو جائے گی۔ اگر ایسا ہی زبان سے کہہ دینا مفید ہوتا تو متمنی کو حصہ دلایا جاتا۔ حالانکہ حق تعالیٰ صاف فرماتا ہے۔ ”وما جعل ادعیاء کم ابناء کم ذلکم قولکم بافواهکم“ (عصائے موسیٰ ص ٢٣١، ٢٣٢) میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی اہلیہ ثانیہ کی خاطر شرعی وارثوں کو محروم الارث کرنے کے لئے جائیداد کو اس کے پاس رہن کر دیا ...... اور ایسا ہی پہلی اولاد دوسروں کو بلا دلیل شرعی عاق کر دیا۔ بی بی کی خاطر اور نفسانی خواہش سے قرآن کی مخالفت کرنا خدا پرستی سے کس قدر دور ہے۔ دیکھئے حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”للرجال نصيب مما ترك الوالدان (نساء:٧)“ یعنی ماں باپ کے ترکے میں لڑکوں کا ایک بڑا حصہ ہے اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ میرا لڑکا میری میراث سے ایک پیسہ اور ایک دانہ نہیں پا سکتا۔ اس پیرانہ سری میں مرزا قادیانی کو یہ کیونکر گوارا ہو کہ اگر اپنی دلہن نہ آئے تو اپنا لڑکا بھی ہر قسم کے عیش و عشرت سے ہمیشہ کے لئے محروم کر دیا جائے۔ بی بی سے دائمی مفارقت ہو۔ ماں باپ اور اولاد میں تفرقہ عظیم پڑے۔ کھانے کو ایک دانہ نہ ملے۔ خانہ بربادی ہو۔ کیا اولیاء اللہ قوائے شہوانیہ اور غضبانیہ کے ایسے مطیع ہوا کرتے ہیں۔ پھر اپنی بہو کی طرف سے ان کی والدہ کو مصیبت خیز خط لکھوایا ۔ ”اگر تم اپنے بھائی کو نہ سمجھاؤ گے تو مجھ پر طلاق ہوگی اور ہزار طرح کی رسوائی ہوگی ...... اور اس خط پر مرزا قادیانی نے یہ لکھا کہ اگر نکاح رک نہیں سکتا تو پھر بلا توقف اپنی لڑکی کے لئے کوئی قادیان سے آدمی بھیج دو تا کہ اس کو لے جائے۔“
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٨)
غرض کہ اس معاملے میں ضرورت سے زیادہ تدبیریں کی گئیں۔ احتمال مطلب براری پر خود نے متعدد خطوط لکھے اوروں سے لکھوائے، خوشامدیں کیں، مسجدوں میں دعائیں کرائیں، جو خدا کی طرف سے اپنا ذاتی سنا ہوا پیام پہنچایا کہ اس لڑکی کا نکاح اپنے ہی سے ہوگا اور اگر نہ ہوگا تو خاندان تباہ ہو جائے گا اور یہاں تک عاجزی کی کہ اگر یہ نکاح نہ ہو تو میں ذلیل ہوں گا۔ میرا منہ کالا ہوگا۔ عیسائی ہنسیں گے۔ ہندو خوش ہوں گے اور یہ بھی دھمکی دی کہ اللہ و رسول کے دین کی ذلت ہوگی۔ وغير ذلك! مگر کوئی تدبیر مفید نہ ہوئی اور آخر اس لڑکی کا نکاح مرزا سلطان بیگ کے ساتھ ہو ہی گیا۔ جس کو تیرہ چودہ سال کا عرصہ ہوتا ہے اور وہ اب تک صحیح و سالم موجود ہیں۔ چنانچہ (الہامات مرزا ص ٥٧، ٥٨، مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ٨٠) میں لکھا ہے کہ ”وہ مرزا قادیانی کے سینے پر مونگ دلتا ہوا زندہ ہے اور اسی طرح اپنی مخالفت پر جما ہوا ہے۔ ذات شریف پر پھبتی اور صلوتیں سناتا ہے۔“
اس کارروائی میں مریدوں پر عجیب مصیبت ہوگی۔ پیر کی نسبت تو یہ خیال کر ہی نہیں سکتے کہ بشارت الٰہی اور سلسلہ جنبانی کی خبر خدائے تعالیٰ کی طرف سے جھوٹ دی تھی۔ مرزا قادیانی تو اس جھوٹ سے بری ہو گئے۔ مگر اس کے ساتھ ہی خدائے تعالیٰ کی طرف ذہن منتقل ہوا ہوگا کہ اس کے کیا معنی کہ بشارت بھی دی اور طرف ثانی پر حکم بھی بھیج دیا اور اعلان شائع کرنے کی اجازت بھی ہو گئی۔ جس سے تمام عیسائی ہندو مسلمان ہمہ تن گوش ہو گئے کہ اب مبارک باد کے نعرے قادیان میں بلند ہوتے ہیں۔ مگر وہاں کیا تھا صدائے برخاست کا مضمون صادق آگیا اور طرفہ یہ کہ صرف سعی سے بڑے بڑے کام نکل آتے ہیں۔ یہاں سعی بلیغ سے بھی کچھ کام نہ نکلا اور وہ بشارت اور حکم بے کار گیا۔ عجیب گو مگو کی بات ہے۔ خدا اگر بشارت اور حکم نہ دیتا تو مرزا قادیانی کو اتنی پریشانی اٹھانی نہ پڑتی اور نہ اس قدر رسوائی ہوتی۔ اعلیٰ درجے کے مرید تو آخر کچھ بات بنا ہی لیتے ہوں گے۔ مگر ضعیف الایمان لوگوں کی تو مٹی خراب ہو گئی۔ معلوم نہیں کہ خدائے تعالیٰ کے اخبار میں کیسی کیسی بدگمانیوں کا موقع ان کو مل گیا ہوگا اور قرآن سے ایمان کس طرح ہٹ گیا ہوگا۔
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”مرزا سلطان بیگ الہامی مدت میں اس وجہ سے نہیں مرا کہ اور پیش گوئی کے بعض الہامات جو پہلے سے شائع ہو چکے تھے ان میں یہ شرط تھی کہ توبہ اور خوف کے وقت موت میں تاخیر ڈال دی جائے گی......اور اس واقعے میں بھی ایسا ہی ہوا کہ خوف اور توبہ اور نماز، روزہ میں عورتیں لگ گئیں اور مارے ڈر کے کلیجے کانپ اٹھے پس ضرور تھا کہ اس درجے کے خوف کے وقت خدا اپنی شرط کے موافق عمل کرتا سو وہ لوگ احمق کاذب ظالم ہیں جو کہتے ہیں کہ داماد کی نسبت پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ بدیہی طور پر حالت موجودہ کے موافق پوری ہوگئی اور دوسرے پہلو کا انتظار ہے۔“
(سراج منیر ص٣٣ حاشیہ، خزائن ج١٢ص٣٥)
مرزا سلطان بیگ کے موت کے انتظار میں بجائے ڈھائی تین سال کے چودہ پندرہ سال تو گزر گئے۔ اب اگر انتظار ہے تو صرف موت کا ہے۔ جیسے مرزا قادیانی کو اپنی موت کا بھی انتظار ہوگا۔ مگر اس میں پیش گوئی کے کسی پہلو کو دخل نہیں۔ یہاں کلام اس میں ہے کہ بدیہی طور پر یہ پیش گوئی پوری کیونکر ہوگئی۔ اس پیش گوئی میں تو مرزا قادیانی نے یہ شرط نہیں لگائی تھی کہ سلطان بیگ صاحب توبہ کریں گے تو میعادی موت ٹل جائے گی۔ البتہ آتھم کی موت میں یہ شرط تھی مگر یہ دونوں واقعے مستقل اور علیحدہ ہیں جن میں کوئی تعلق نہیں۔
مرزا قادیانی فرماتے ہیں جو پہلے الہامات میں شائع ہو چکا ہے وہی کافی ہے۔ یعنی آتھم والی شرط یہاں بھی معتبر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو پیش گوئی کسی کی موت پر مرزا قادیانی
کرتے ہیں۔ اگر وہ مدت مقررہ پر نہ مرے تو یہ سمجھا جائے کہ اس نے توبہ کر لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی ایسی پیش گوئیوں پر جرأت کیا کرتے ہیں۔ سنا جاتا تھا کہ کسی منجم نے اعلان دیا تھا کہ میں اپنی زوجہ کی تائید سے جو پیش گوئی کرتا ہوں وہ کبھی جھوٹ نہیں نکلتی۔ اس کا سر یہ تھا کہ مرد جو کہتا اس کے خلاف عورت کہتی۔ مثلاً اگر مرد کہتا کہ آج پانی برسے گا تو عورت کہتی نہیں برسے گا۔ غرض ایک کا قول ضرور صحیح نکلتا۔ مرزا قادیانی نے ایسی تدبیر نکالی کہ کسی دوسرے کی تائید کی بھی ضرورت نہ رہی۔ ایک پہلو ہمیشہ کے لئے بنا کر تیار کر دیا کہ مدت مقرر گذرتے ہی کہہ دیا جائے گا کہ توبہ کی وجہ سے وہ مدت ٹل گئی۔ خدا کا فضل ہے کہ بیمے والوں کو اس کی اطلاع نہ ہوئی۔ ورنہ وہ بھی یہ کہنے پر مستعد ہو جاتے کہ گناہوں کی وجہ سے معیادی مدت سے پہلے مرا جو بجائے خودکشی ہے۔ اس لئے اس کے ورثہ کو اب کوئی رقم دینے کی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی کی جرأت اور ڈھٹائی لطف اٹھانے کے قابل ہے کہ جس پیش گوئی کی نسبت خود فرماتے ہیں کہ ”دس لاکھ آدمی سے زیادہ ہوگا۔ جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ہزاروں پادری منتظر ہیں کہ یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو ہزار ہا مسلمان مساجد میں نماز کے بعد بصدق دل دعا کرتے ہیں۔“ ایسی عظیم الشان پیش گوئی کی مدت معینہ گذر جانے کے بعد فرماتے ہیں کہ وہ بدیہی طور پر پوری ہو گئی۔ اس لئے کہ آتھم کے جیسا انہوں نے بھی توبہ کر لی۔ اس لئے نہ مرے۔ دس لاکھ آدمیوں کے مقابلے میں ایسی بات کہنی معمولی غیرت وحیا والے کا کام نہیں۔ کاش مرزا قادیانی الہام کے وقت ملہم سے پوچھ لیتے کہ حضرت اگر آتھم والے الہام کے بعد جیسی رسوائی ہوئی اور بجائے اس کے کہ تصدیق کرنے والوں میں ترقی ہو بہت سے مرید مرتد ہو گئے۔ اگر اس پیش گوئی میں بھی وہی بات ہے تو میں اس الہام سے معافی چاہتا ہوں کسی میرے دشمن پر یہ الہام فرمایا جائے تاکہ اس کی رسوائی دیکھ کر میں خوش ہوں۔
یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ڈھائی سال کی مدت پیش گوئی میں کس لحاظ سے رکھی گئی۔ اگر واقع میں ان کی عمر اتنی ہی باقی تھی۔ جس کو کشف سے مرزا قادیانی نے معلوم کیا تھا تو یقیناً کشف کی غلطی ثابت ہوگئی اور توبہ اس میں کچھ مفید نہیں۔ اس لئے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”اذا جاء اجلہم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون (اعراف:٣٤)“ اور اگر مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے مقرر کی تھی تا معلوم ہو کہ لوگوں کی موت وحیات میں ان کو دخل ہے تو ڈھائی سال کی کیا ضرورت تھی۔ کہہ دیتے کہ ادھر نکاح ہوا اور ادھر دولہا مر گیا اور اگر خدا نے ہی خبر دی تھی تو ان کے خدا کی بے علمی اس سے ثابت ہوتی ہے۔ جب معجزہ اپنے نبی کا دکھانا منظور تھا تو مفصل خبر
دیتا کہ اگر وہ توبہ نہ کرے تو ڈھائی سال میں مرے گا اور کر لے تو دس یا بیس سال میں ، افسوس ہے۔ مرزا قادیانی اپنے ساتھ اپنے خدا کو بھی بدنام کر رہے ہیں۔ خاص طور پر غور کرنے کا یہاں یہ مقام ہے کہ مرزا قادیانی نے جو کھلے الفاظ میں کہہ دیا کہ ہمیں خدا کی قسم ہے کہ میں اس بات میں سچا ہوں کہ خدا نے مجھ سے فرمایا کہ مرزا احمد بیگ کی دختر سے میرا نکاح ہوگا اور اگر دوسرے کے ساتھ نکاح ہو تو ڈھائی سال تک شوہر اور تین سال تک اس کا والد فوت ہو جائے گا۔ پھر نہ مرزا قادیانی سے اس لڑکی کا نکاح ہوا نہ اس مدت معینہ میں دونوں کا انتقال ہوا۔ اب اس سے کیا سمجھا جائے کیا فی الحقیقت خدا نے ان کو یہ خبریں دی ہوں گی یا وہ مرزا قادیانی کی تراشی ہوئی ہیں۔ جب ہم خدائے تعالیٰ کی شان پر اور مرزا قادیانی کی کارروائیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو بمقابلہ اس کے کہ خدائے تعالیٰ پر جھوٹ اور بے علمی اور عجز کا الزام لگایا جائے ۔ مرزا قادیانی کی جانب صرف جھوٹ کا الزام لگانے میں کوئی حرج نہیں ۔ دیکھئے خصوصاً اس وجہ سے کہ انہوں نے عقلی معجزات کی ایک نئی مد قائم کی ہے۔ اس سے یہ امر بھی مبرہن ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے عقلی معجزات میں جھوٹ سے بھی مدد لی ہے اور صرف جھوٹ ہی ہوتی تو چنداں مضائقہ نہ تھا۔ غضب یہ ہے کہ جھوٹ کو قسم سے مؤکد بھی کرتے ہیں۔ جس سے سیدھے سادے مسلمان دھوکا کھا کر یقین کر لیں کہ وہ خبر بالکل صحیح ہے۔ جب تک مدت مذکورہ منقضی نہیں ہوئی تھی ہر شخص کا خیال تھا کہ جب ایسے معزز شخص جو ظاہراً مقدس بھی ہیں۔ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ خدا نے وہ مدت ٹھہرائی ہے تو ممکن بلکہ ضرور ہے کہ ایسا ہی ہوگا اور کسی کو مجال نہ تھی کہ چون و چرا کرے۔ کیونکہ خدا کے معاملے میں کون دخل دے سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ہندو پادری وغیرہ ساکت بلکہ اس فکر میں تھے کہ یہ پیش گوئی پوری ہو جائے تو اس کا کیا جواب ہوگا۔ غرض کہ ہزاروں آدمی تین سال تک سخت فکر میں حیران و پریشان رہے اور مرزا قادیانی اس مدت میں خوش تھے کہ تین برس تک تو عیسویت بغیر کھٹکے کے چل جائے گی۔ اس کے بعد اگر زندگی باقی رہے تو کوئی بات بنا لی جائے گی اور بے وقوفوں کو دھوکا دینا کون سی بڑی بات ہے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا کہ مدت گزرتے ہی فرما دیا کہ بھائیو ! ان لوگوں نے توبہ کر لی ہے اس لئے بچ گئے۔ خوش اعتقادوں نے یہ سن کر پھر دھوکا کھایا اور کسی نے اس کو نہ سمجھا۔ ورنہ دریافت کر لیتے کہ حضرت خدا نے آپ کے ذریعے سے حکم بھیجا تھا کہ اگر وہ آپ کے ساتھ نکاح نہ کر دیں تو تین سال میں ان کو سزائے موت ہوگی اور انہوں نے تین سال تک خدا کے حکم کو نہ مانا۔ یہاں تک کہ مدت بھی گزر گئی اور اس کے بعد اب تک اسی نافرمانی پر اڑے ہوئے ہیں کہ مرزا قادیانی کے خدا کی بات تو ہرگز نہ مانیں گے ۔ پھر انہوں نے توبہ ہی کیا کی ۔ اگر توبہ کرتے تو نکاح سابق کو فسخ کر
کے اپنے کئے پر نادم و پشیمان ہوتے اور آپ کے ساتھ نکاح کر دیتے۔
جس طرح مرزا قادیانی نے اس موقعے میں قسم کھائی۔ عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے باب میں بھی لکھا ہے کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے یہ کہہ دیا ہے کہ عیسیٰ مر گئے۔
اس قسم کے معاملات میں مرزا قادیانی کی قسموں کا حال پورے طور پر کھلنا نہ تھا۔ مگر خدا کی قدرت ایک معاملہ ایسا در پیش ہو گیا کہ بہ مجبوری ان کو ایسے امر میں قسم کھانے کی ضرورت ہوئی کہ جس سے تمام قسموں کی حقیقت کھل جائے۔ سوچا تو یہ تھا کہ یہ قسم کچھ کام کر جائے گی اور لوگ اس کا اعتبار کر کے نکاح کر دیں گے۔ مگر معاملہ ہی دگرگوں ہو گیا کہ وہی قسم وبال جان ہو گئی اور کل قسموں کا حال اس نے کھول دیا۔
ہر دین میں قسم ایک بھاری چیز سمجھی جاتی ہے کہ کوئی جاہل بھی جھوٹی قسم کھانے پر جرأت نہیں کرتا اور اس کو گناہ کبیرہ سمجھتا ہے اور ہمارے دین میں تو اس پر سخت وعیدیں وارد ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے ان کی کچھ پروا نہ کی۔ اب اہل انصاف سمجھ سکتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی کی قسموں کا یہ حال ہو تو ان کے تمام دعووں کا کیا حال ہوگا۔ ”عن عمران بن حصين قال قال رسول الله ﷺ من حلف علی یمین مصبورة كاذباً فليتبوأ مقعده من النار (ابو داؤد شریف ج ٢ ص ٧٥، باب التخلية والايمان الفاجرة) ”اليمين المصبورة هى اللازمة تصاحبها جهة الحكم كذا فی تیسیر الوصول“ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے جو جھوٹی قسم کھائے تو چاہئے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔
باوجود یہ کہ مرزا قادیانی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر قوائے نفسانیہ کی اصلاح ان کے اب تک نہ ہوئی۔ دیکھئے اپنے نکاح کے واسطے کتنے لوگوں سے قطع رحمی انہوں نے کی۔ حالانکہ اس باب میں یہ حدیثیں وارد ہیں۔ ”عن ابی هریرة قال قال رسول الله ﷺ الرحم شجنة من الرحمن فقال الله من وصلك وصلته ومن قطعك قطعته متفق علیه كذا فی المشکوٰة وعن جبير ابن مطعم قال قال رسول الله ﷺ لا يدخل الجنة قاطع رحم (متفق علیه کذا فی المشکوٰة، باب البر والصلة ص ٤١٩)“ یعنی جو شخص قطع رحمی کرے وہ جنت میں داخل نہ ہوگا اور خدائے تعالیٰ سے تعلقات اس کے قطع ہو جائیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر مرزا قادیانی کو کوئی تعلق حق تعالیٰ سے تھا بھی؟۔ تو اس کارروائی سے قطع ہو گیا اور یہ حدیث بہ آواز بلند کہہ رہی ہے کہ نبوت تو کیا ان کے ولایت بھی نہیں ہے بلکہ وہ جنت سے روک دیئے گئے۔
مرزا قادیانی نے غصے سے اپنی اولاد کو جو محروم الارث کر دیا۔ اس میں سراسر خدائے تعالیٰ کے کلام کی مخالفت کی حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثین (نساء: ١١)“ ”للرجال نصیب مما ترک الوالدان (نساء: ٧)“ دیکھئے حق تعالیٰ اولاد کا حصہ مقرر کر کے بلفظ وصیت ارشاد فرماتا ہے کہ حصہ ہر حصے دار کا دیا کرو۔ مگر مرزا قادیانی نے شاید یہ سمجھا کہ یوصیکم اللہ کا خطاب مسلمانوں کی طرف ہے اور خود مسلمان تو ہیں ہی نہیں۔ اس لئے اس خطاب سے خارج ہیں۔ کیونکہ نبوت کی طرف ترقی کر گئے ہیں۔ مگر یہ خیال ایک جہت سے صحیح نہیں اس لئے کہ جب ہمارے نبی کریم ﷺ کے امتی ہونے کا دعویٰ ہے تو اس خطاب میں بھی شریک ہونا چاہئے۔ مرزا قادیانی کی سمدھن کے بھائی صاحب نے حدیث شریف لبغض اللہ پر عمل کر کے مرزا قادیانی کو لڑکی نہیں دی۔ حالانکہ شرعاً ان کو اس کی ضرورت تھی۔ اس کا مواخذہ مرزا قادیانی نے اپنی بہو، بیٹے، سمدھن اور سمدھی سے ایسے طور پر کیا کہ ان کے عمر بھر کے لئے کافی ہے اور خدائے تعالیٰ کے اس ارشاد ”ولا تزر وازرة وزر اخری (زمر: ٧)“ کی کچھ پروا نہ کی۔ اب اہل انصاف غور کریں کہ کلام الٰہی کی ان کے نزدیک کچھ بھی وقعت ہے؟۔
جب مقتدائے قوم نے یہ طریقہ اختیار کیا تو امتیوں کا کیا حال ہو۔ ان کے استدلال کے لئے کافی ہے کہ ہمارے نبی غصے کی وجہ سے قرآن کو چھوڑ دیا کرتے ہیں۔ اب یہ کون پوچھتا ہے کہ مرزا قادیانی کا غصہ بجا تھا یا بے جا۔ جس کی وجہ سے قرآن چھوڑ دیا گیا اور ظاہر ہوا تو بے جا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اپنے نکاح کی وجہ سے فرزند محروم الارث کر دئیے گئے۔ جس سے بڑی دلیل ان کی امت کو یہ مل گئی کہ بے جا بات پر بھی غصہ آ جائے تو قرآن ترک کر دینا اور نیز قوائے شہوانیہ کے غلبے سے مرتکب گناہ کبیرہ یعنی قطع رحمی وغیرہ ہونا ایک مسنون طریقہ ہے۔ جس پر ان کے نبی کا عمل ہے۔ جب قرآن کا یہ حال ہو کہ غلبہ قوائے شہوانیہ وغضبانیہ سے متروک العمل ہو جائے تو حدیث کو کون پوچھے اس کی تو پہلے ہی سے مرزا قادیانی نے توہین کر دی ہے۔
اب دیکھئے اس الہام سے کتنے امور مستفاد ہیں۔ جھوٹ! خدا پر افتراء، قطع رحمی، ظلم کو قسم کے ساتھ مؤکد کرنا جھوٹی قسم کھانی، الہام بنا لینا، بے گناہ سے مواخذہ، طلاق بدعی کا حکم، وارث کو محروم الارث کر دیا وغیرہ۔ جب ایک پیشین گوئی میں اتنی کارروائیاں ہوں تو سمجھ سکتے ہیں کہ کل کا کیا حال ہوگا اور اپنی غرض کے لئے خدا کی طرف سے جھوٹا پیام پہنچانے میں تو ان کا رسول اللہ ہونا کس قدر بدیہی البطلان ہے۔
ا قادیانی نے غصے سے اپنی اولاد کو جو محروم الارث کر دیا۔ اس میں سراسر خدائے مخالفت کی حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”یوصیکم الله فی اولادکم للذکر مثل (نساء:١١)“ ”للرجال نصیب مما ترک الوالدان (نساء:٧)“ دیکھئے کا حصہ مقرر کر کے بلفظ وصیت ارشاد فرماتا ہے کہ حصہ ہر حصے دار کا دیا کرو۔ مگر شاید یہ سمجھا کہ یوصیکم الله کا خطاب مسلمانوں کی طرف ہے اور خود مسلمان تو ہے۔ اسلئے اس خطاب سے خارج ہیں۔ کیونکہ نبوت کی طرف ترقی کر گئے ہیں۔ مگر یہ سے صحیح نہیں اس لئے کہ جب ہمارے نبی کریم ﷺ کے امتی ہونے کا دعویٰ ہے تو کی شریک ہونا چاہئے۔ مرزا قادیانی کی سمدھن کے بھائی صاحب نے حدیث پر عمل کر کے مرزا قادیانی کو لڑکی نہیں دی۔ حالانکہ شرعاً ان کو اس کی ضرورت تھی۔ ا قادیانی نے اپنی بہو، بیٹے، سمدھن اور سمدھی سے ایسے طور پر کیا کہ ان کے عمر بھر اور خدائے تعالیٰ کے اس ارشاد ”و لا تزر وازرة وزر اخری (زمر:٧)“ اب اہل انصاف غور کریں کہ کلام الہی کی ان کے نزدیک کچھ بھی وقعت ہے؟۔ مقتدائے قوم نے یہ طریقہ اختیار کیا تو امتیوں کا کیا حال ہو۔ ان کے استدلال کہ ہمارے نبی غصے کی وجہ سے قرآن کو چھوڑ دیا کرتے ہیں۔ اب یہ کون پوچھتا کا غصہ بجا تھا یا بے جا۔ جس کی وجہ سے قرآن چھوڑ دیا گیا اور ظاہر ہوا تو بے کہ اپنے نکاح کی وجہ سے فرزند محروم الارث کر دیئے گئے۔ جس سے بڑی دلیل گئی کہ بے جا بات پر بھی غصہ آجائے تو قرآن ترک کر دینا اور نیز قوائے شہوانیہ گناہ کبیرہ یعنی قطع رحمی وغیرہ ہونا ایک مسنون طریقہ ہے۔ جس پر ان کے نبی کا آن کا یہ حال ہو کہ غلبہ قوائے شہوانیہ وغضبانیه سے متروک العمل ہو جائے تو اس کی تو پہلے ہی سے مرزا قادیانی نے توہین کر دی ہے۔ لئے اس الہام سے کتنے امور مستفاد ہیں۔ جھوٹ! خدا پر افتراء، قطع رحمی، ظلم کو نا، جھوٹی قسم کھانی، الہام بنالینا، بے گناہ سے مواخذہ، طلاق بدعی کا حکم، وارث وغیرہ۔ جب ایک پیشین گوئی میں اتنی کارروائیاں ہوں تو سمجھ سکتے ہیں کہ کل نی غرض کے لئے خدا کی طرف سے جھوٹا پیام پہنچانے میں تو ان کا رسول اللہ علان ہے۔
محمد حسین بٹالوی محمد بخش زٹلی کے متعلق پیش گوئی
مرزا قادیانی نے ایک پیشین گوئی مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی اور ملا محمد بخش صاحب مالک اخبار جعفر زٹلی اور مولوی ابوالحسن صاحب تبتی کی نسبت بھی کی تھی۔ ان کی عبارتیں (بالاختصار الہامات مرزا ص ٦٦، ٦٧، مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ٨٩، ٩٠) سے نقل کی جاتی ہیں۔
فرماتے ہیں کہ ”میں نے دعا کی ہے کہ الہی اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل اور جھوٹا اور مفتری ہوں جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے...... مجھ کو کذاب اور دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی وابوالحسن تبتی نے اشتہار میں...... میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر یعنی ١٥ نومبر ١٨٩٨ء سے ١٥ جنوری ١٩٠٠ء تک ذلت کی مار وارد کر...... ورنہ ان کو ذلت کی مار سے دنیا میں رسوا اور تباہ کر...... اور ضربت عليهم الذلة کا مصداق کر۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٠)
اور لکھتے ہیں یہ دعاء کے بعد اس کے جواب میں یہ الہام ہوا کہ ”ظالم کو ذلیل اور رسوا کروں گا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹے گا اور خدا ان پر عذاب کرے گا اور اللہ کی مار لوگوں کی مار سے سخت ہے۔...... یہ فیصلہ چونکہ الہام کی بناء پر ہے۔ اس لئے حق کے طالبوں کے لئے کھلا کھلا نشان ہو کر ہدایت کی راہ ان پر کھولے گا...... اب آسانی سے یہ مقدمہ مباہلے کے رنگ میں آ گیا۔ خدائے تعالیٰ سچوں کو فتح بخشے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٠، ٦١)
ماحصل اس پیش گوئی کا یہی ہوا کہ ان تینوں صاحبوں پر ایسی مار خدا کی پڑے گی۔ جس سے پورے طور پر وہ تباہ ہو جائیں گے اور رسوائی کا اور ذلت کا تو کچھ ٹھکانا ہی نہیں اور یہی قطعی فیصلہ منجانب اللہ ہوگا۔ جس کو کھلے طور پر سب معلوم کر لیں گے اور جھوٹے ظالم ممتاز ہو جائیں گے۔
پھر مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کو تاکید کی ”دیکھو میں نصیحت کرتا ہوں...... مخالفین جو کچھ کہیں تم صبر کرو جو عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر بطور گستاخی ارتکاب جرم کرتا ہے۔ اس کا جرم بہت سخت ہوتا ہے میں تمہیں کہتا ہوں...... کہ خدائے تعالیٰ کی عدالت کی توہین سے ڈرو اور نرمی اور تواضع اور تقویٰ اختیار کرو۔“
(ملخص مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٧، ٦٨)
غرض تیرہ مہینے تک مرزا قادیانی اپنے مریدوں کو لے کر عدالت الہی میں مؤدب کھڑے رہے۔ پہلے تو مرزا قادیانی کی دعاء جو بقول ان کے رد ہوتی ہی نہیں۔ اس پر خدا تعالیٰ کا تسکین بخش جواب الہامی جس کا مطلب یہ کہ مخالفین پر خدا کی مار اور سخت عذاب ہوگا اور وہ رسوا
ہوں گے۔ پھر یہ مقدمہ مباہلے کے رنگ میں بھی آگیا۔ جس سے جھوٹوں کی جماعت ضرور تباہ ہوتی ہے۔ پھر تیرہ مہینے تک مریدوں کے جم غفیر یعنی ہزاروں آدمی کے ساتھ عدالت الٰہی میں کھڑا رہنا جو بالطبع باعث رحم ہے۔ باوجود ان تمام اسباب کے قطعی تو کیا ظنی فیصلہ بھی نہ ہوا۔ بلکہ مقدمہ ہی خارج ہو گیا۔ کیونکہ جو حالت قبل مرافعہ تھی اب بھی وہی ہے۔ حالانکہ پیشین گوئی یہ تھی کہ جھوٹا ممتاز ہو جائے گا۔ یعنی مخالفین سزایاب ہوں گے۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب کو کئی ذلتیں ہوئیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ پیشین گوئی کا وقوع بھی ہو گیا۔
ایک ذلت یہ ہوئی کہ اس کی تکفیر پر علماء نے فتوے دیئے۔ مگر (الہامات مرزا ص ٧٩، مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ٩٣) میں لکھا ہے۔ ”بعد مشورہ حاشیہ نشینان مرزا قادیانی نے یہ تجویز قرار دی کہ ایک آدمی ناواقف علماء سے یہ فتوے حاصل کرے کہ حضرت مہدی کے منکر کا کیا حکم ہے۔ چنانچہ وہ شخص بڑی ہوشیاری یا مکاری سے علماء کے پاس پھر نکلا اور ہر ایک کے سامنے مرزا کی مذمت کرتا اور یہ ظاہر کرتا کہ میں افریقہ سے آیا ہوں۔ قادیانی کے مرید وہاں بھی ہو گئے ہیں۔ ان کی ہدایت کے لئے علماء کا فتویٰ ضروری ہے۔ اس پر علماء نے جو مناسب تھا۔ لکھا پس مرزا قادیانی نے جھٹ سے شائع کر دیا اور بجائے اپنے پر لگانے کے مولوی محمد حسین پر لگا دیا کہ اس نے بھی اشعۃ السنہ کے کسی پرچے میں مہدی موعود سے انکار کیا ہے۔ پس جس طرح اس نے مجھ پر مفتری لگوایا تھا اسی طرح اس پر لگایا۔ میری پیش گوئی کا صرف اتنا ہی مفہوم تھا۔“ یہ بات ظاہر ہے کہ اس تکفیر میں مرزا قادیانی بھی شریک ہیں۔ گویا اس مسئلے کے موجد وہی ہیں۔ ان کا قول ہے کہ سوائے مسیح موعود کے مہدی کوئی دوسرا شخص نہیں اس سے ظاہر ہے کہ مولوی صاحب ہی فقط اس ذلت کے مصداق نہیں۔ بلکہ اس میں مرزا قادیانی نے بھی بڑا حصہ لیا ہے۔ کیونکہ فتویٰ کے وقت مرزا قادیانی ہی علماء کے پیش نظر تھے اور مولوی صاحب کا تو نام بھی نہ تھا اور دوسری ذلت مرزا قادیانی کی یہ ہوئی کہ مکاری سے کام لیا گیا۔ جس سے عموماً آدمی ذلیل سمجھا جاتا ہے۔ غرض اس تکفیر کی ذلت میں مرزا قادیانی شریک اکبر ہیں۔ بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ظاہر ہے کہ جب تکفیر کے وقت مرزا قادیانی کے نام کی تصریح کی گئی تھی تو مرزا قادیانی مع جمیع اوصاف علماء کے پیش نظر ہو گئے تھے۔ اس لئے علماء کی نیت کے مطابق یہ تکفیر مرزا قادیانی ہی کی تھی۔ جس طرح ملک ملک میں متعدد ان کی تکفیر کے فتوے لکھے گئے۔ الغرض اس موقع میں تو مولوی صاحب کی کوئی ذلت نہ ہوئی۔ بلکہ مرزا قادیانی ہی کی ذلت ہوئی۔
مرزا قادیانی مولوی صاحب کی ایک ذلت یہ بیان کرتے ہیں کہ ”اس کو زمین ملی
زمیندار ہو گیا یہ ذلت ہے۔‘‘
(دیکھو مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١٥، اشتہار ٧ /دسمبر ١٨٩٩ء)
معلوم نہیں مرزا قادیانی نے یہ بات کس خیال میں لکھ دی۔ زمینداری تو ایک معزز اور ممتاز بنانے والی چیز تھی۔ جس سے خود مرزا قادیانی کو افتخار و عزت و امتیاز حاصل ہے۔ چنانچہ وہ حدیث جس میں یہ ذکر ہے کہ ایک شخص حارث اہل بیت کی تائید کرے گا۔
نقل کر کے (ازالۃ الاوہام حاشیہ، ص ٩٦، خزائن ج ٣ ص ١٤٨) میں لکھتے ہیں کہ ’’میں حارث ہوں بااعتبار آباء و اجداد کے پیشے کے افواہ عام میں یا اس گورنمنٹ کی نظر میں حارث یعنی ایک زمیندار کہلائے گا۔‘‘ پھر آگے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ کیوں حارث کہلائے گا۔ اس وجہ سے کہ وہ حراث ہوگا۔ یعنی ممیز زمینداروں میں سے ہو گا اور کھیتی کرنے والوں میں سے ایک معزز خاندان کا آدمی شمار کیا جائے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ مولوی صاحب کی عزت اور امتیاز اور بڑھ گیا۔ عصائے موسیٰ میں لکھا ہے کہ پیشتر مرزا قادیانی مولوی صاحب کو زمین کا نہ ملنا باعث ذلت بتلاتے تھے۔ یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ مرزا قادیانی کو حافظے نے یاری نہ دی۔ اس لئے کہیں انہوں نے زمینداری کو باعث فخر بنایا اور کہیں باعث ذلت۔ وہ یاد خوب رکھتے ہیں۔ مگر حسب موقع بات بنالیا کرتے ہیں۔ دیکھ لیجئے لکھ چکے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے وطن گلیل میں جا کر مرے۔ پھر جب کشمیر میں کوئی پرانی قبر نظر آ گئی تو کہہ دیا کہ عیسیٰ یہیں آ کر مرے اور جہاں اعتبار بڑھانے کی ضرورت ہوئی تو جھوٹ کی اس قدر توہین کی کہ اس کو شرک قرار دیا اور جہاں جھوٹ کی ضرورت ہوئی تو نہایت صفائی سے کہہ دیا کہ خدا نے مجھے ایسا کہا ہے اور خود کو بلکہ خدا کو جھوٹا ثابت کیا۔ غرض کہ مرزا قادیانی کی تقریر ازالۃ الاوہام سے ظاہر ہے کہ زمینداری نہایت ممیز اور باعث عزت ہے۔ پھر جب یہ عزت مولوی صاحب کو ملی تو بحسب پیش گوئی مذکورہ مرزا قادیانی کی ذلت ہو گئی اور یہی کھلی نشانی مولوی صاحب کی صداقت کی ہے۔ جس کو مرزا قادیانی نے بھی دیکھ لیا۔ مرزا قادیانی ایک ذلت ان کی یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’صاحب ڈپٹی کمشنر نے اس سے عہد لے لیا کہ آئندہ کو مجھے دجال قادیانی کافر وغیرہ نہ کہے گا۔ جس سے اس کی تمام کوشش مجھ کو برا کہنے اور کہلانے کی خاک میں مل گئی اور اس نے اپنے فتوے کو منسوخ کر دیا۔ یعنی اب وہ میرے حق میں کفر کا فتویٰ نہ دے گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩٩، ٢٠٠ ملخص)
(الہامات مرزا ص ٨٥، مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ٩٨، ٩٩) میں فیصلہ مطبوعہ سے مرزا قادیانی کا یہ اقرار نقل کیا ہے کہ ’’میں مولوی ابوسعید کی نسبت کوئی لفظ مثل دجال، کافر، کاذب بٹالوی نہیں لکھوں گا۔‘‘ ان دونوں اقرار ناموں میں کسی کا پلہ بھاری نہیں معلوم ہوتا قادیانی کا
معاوضہ بطالوی ہو گیا اور باقی الفاظ برابر برابر رہے۔ اس میں فقط مولوی صاحب کی ذلت نہ ہوئی۔ (الہامات مرزا ص٨٦، مشمولہ احتساب قادیانیت ج٨ص٩٩،١٠٠) میں لکھا ہے کہ ابھی تک مرزا کہے جاتے ہیں کہ اس مقدمے سے مولوی محمد حسین کی ذلت ہوئی کہ اس کا فتوے کفر منسوخ ہو گیا۔ یہ بھی غلط ہے۔ فتویٰ منسوخ نہیں ہوا۔ صرف مباحثے میں ایسے الفاظ دجال کافر وغیرہ بولنے سے دونوں فریقوں کو روکا گیا...... چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب اشاعۃ السنۃ میں لکھتے ہیں کہ مرزا نے اپنے اشتہار میں مضمون غلط اور خلاف واقعہ مشتہر کیا ہے کہ ابوسعید محمد حسین نے اس اقرارنامے پر دستخط کرکے اپنے فتوے کو منسوخ کیا ہے...... مرزا نے اس بیان میں مجھ پر مجسٹریٹ ضلع پر افتراء کیا اور پبلک کو دھوکا دیا۔ خاکسار بشمول تمام مسلمانوں کے جو مذہب باطل مرزا کے مخالف ہیں۔ مرزا کو اس کے عقائد باطلہ مخالف اسلام کے سبب سے ویسا ہی گمراہ جانتا ہے۔ جیسا کہ اس اقرارنامے پر دستخط کرنے سے پہلے جانتا تھا اور اس کے حق میں وہی فتویٰ دیتا ہے۔ جس کو ج١٣ اشاعۃ السنۃ میں مشتہر کرچکا ہے۔
مولوی صاحب کس جرأت کے ساتھ مرزا قادیانی کی تکفیر پر مصر ہیں اور ان کی غلط بیانی شائع کر رہے ہیں۔ اگر فتویٰ اقرارنامے سے منسوخ ہو جاتا تو اس تحریر کے شائع کرنے پر کبھی جرأت نہ کر سکتے۔ سمجھ دار کے لئے صرف یہی ایک مقدمہ مرزا قادیانی سے انکار پیدا کرنے کے لئے کافی ہے۔ کیا مسیح موعود کی یہ صفت ہو سکتی ہے کہ غلط بیانیاں کرکے پبلک کو دھوکا دے۔
مرزا قادیانی ایک ذلت مولوی صاحب کی یہ لکھتے ہیں کہ ”اس نے میرے ایک الہام پر اعتراض کیا کہ مجمع کا صلہ لام نہیں آتا۔ یعنی مجمع لہ کلام صحیح نہیں۔ حالانکہ فصحاء کے کلام میں لام آتا ہے۔ اس سے اس کی علمی بے عزتی ہوئی ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ص١٩٦ الملخص)
مولوی صاحب اس کا جواب دیتے ہیں کہ میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ قرآن میں مجمع کا صلہ من آیا ہے۔ ”قالوا اتعجبين من امر اللہ“ (الہامات مرزا ص٨٣ مشمولہ احتساب قادیانیت ج٨ص٩٧) اس کے بعد مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کی غلطیوں کی ایک طویل فہرست اشاعۃ السنۃ میں چھاپ دی۔ جس کا جواب اب تک مرزا قادیانی سے نہ ہوسکا۔ جیسا کہ الہامات مرزا و عصائے موسیٰ میں لکھا ہے۔ قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی غلطیاں بہت ہوں گی۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے آنتھم والے الہام میں لکھا ہے فی ست سنۃ جب تمیز کا یہ حال ہو تو اور غلطیاں بیشک بہت ہوئی ہوں گی۔ اگر اس فہرست میں سو غلطیاں ہوں گی تو مرزا قادیانی کی ذلت اور بے عزتی مولوی صاحب سے صدہا گنا زیادہ ہوئی۔ غرض یہاں بھی مرزا قادیانی ہی کی ذات کا نمبر بڑھا رہا۔
(الہامات مرزا ص ٨٤ مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ٩٨) میں مرزا قادیانی کے اقرار نامے کے اور فقرات بھی نقل کئے ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ ”میں خدا کے پاس اپیل (فریاد، درخواست) کرنے سے بھی اجتناب کروں گا۔“ پھر اس کی تعمیل بھی مرزا قادیانی نے کی چنانچہ اشتہار ٥ نومبر ١٨٩٩ء میں لکھتے ہیں۔ ”مجھے بارہا خدائے تعالیٰ مخاطب کر کے فرما چکا ہے کہ جب تو دعاء کرے تو میں تیری سنوں گا۔ سو میں نوح نبی کی طرح دونوں ہاتھ پھیلاتا ہوں اور کہتا ہوں۔ رب انی مغلوب مگر بغیر فانصر کے ...... میں اس وقت کسی شخص کے ظلم اور جور کا جناب الہی میں اپیل نہیں کرتا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٨١)
گورنمنٹ کسی ذلیل سے ذلیل شخص کو بھی دعاء کرنے سے نہیں روکتی۔ مگر مرزا قادیانی کے اقرار اور عمل سے ظاہر ہے کہ وہ کوئی بات خدائے تعالیٰ سے تنہائی میں بھی کہہ نہیں سکتے۔ کیونکہ جب خدا نے بارہا ان سے کہہ دیا کہ جب تو دعاء کرے تو میں تیری سنوں گا۔ اگر تنہائی میں وہ فانصر یعنی میری مدد کر کہہ دیتے تو فوراً مدد ہو جاتی۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ کا وعدہ جھوٹا کبھی نہیں ہو سکتا اور چونکہ اب تک مدد نہ ہوئی تو اس سے معلوم ہوا کہ تخلیہ میں بھی دعاء نہیں کر سکتے۔ اب اس سے بڑھ کر کیا ذلت ہو کہ مسلمان کفار چوہڑے چمار تک سب خدا سے مانگتے ہیں اور مرزا قادیانی مانگ نہیں سکتے۔ اہل انصاف اپنے وجدان سے سمجھ سکتے ہیں کہ کیا خدائے تعالیٰ نے ان کو بارہا یہ فرمایا ہوگا کہ جب تو دعاء کرے تو میں تیری سنوں گا۔ یہ بات اور ہے کہ خدائے تعالیٰ سمیع ہے ہر ایک کی بات سنتا ہے۔ جیسے مرزا قادیانی کی سنتا ہے۔ ویسے ہی مولوی صاحب کی بھی سنتا ہے۔ مگر اس میں کوئی خصوصیت نہ ہوئی۔ حالانکہ وہ تخصیص کے طور پر فرماتے ہیں کہ مجھے مخاطب کر کے فرما چکا ہے۔ اگر یہ تخصیص بھی اس قسم کی ہے کہ ہر شخص کلام الہی کا مخاطب ہے تو اس میں بھی ہمارا کلام نہیں۔ یہ سمجھا جائے گا کہ وہ صرف جاہلوں میں اپنی خصوصیت معلوم کرانے کے لئے ایسے موہوم الفاظ لکھا کرتے ہیں۔ کلام اس میں ہے کہ اگر وہ تخصیص صحیح ہے۔ جیسے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جب چاہتے ہیں۔ خدا سے بات کر لیتے ہیں اور خدا اپنے منہ سے پردہ اٹھا کر ان سے باتیں کیا کرتا ہے تو یہ دیکھنا چاہئے کہ باوجودیکہ وہ مولوی صاحب کے جانی دشمن ہیں۔ چنانچہ مکہ سے ان کی تکفیر کا فتویٰ حاصل کیا ان کے حق میں بددعائیں کیں کہ تیرہ مہینوں میں ان کو رسوا کر اور ضربت علیہم الذلۃ کا مصداق کر۔ پھر کیا وجہ ہے کہ کئی سال گزر گئے مگر وہ اپنی اصلی حالت پر ہیں۔ بلکہ زمینداری کے ملنے سے تو اور زیادہ خوش اور معزز ہیں۔ ایسے ہی دلائل سے اشعۃ السنہ میں مولوی صاحب نے ان کو کذاب، دجال، مفتری لکھا ہوگا۔ جس کی شکایت وہ خدا
سے کر کے ان کی ذلت کی دعاء مانگتے تھے اور اب تک اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ بلکہ انصاف سے دیکھا جائے تو تیرہ مہینے والی بددعا مرزا قادیانی ہی کے حق میں قبول ہوئی۔
نشان دکھانے کی پیش گوئی
ایک پیش گوئی یہ ہے جو (الہامات مرزا ص ٩٣، مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ١٠٦، ١٠٧) میں لکھی ہوئی ہے کہ ”مرزا قادیانی نے دعاء کے طور پر لکھا ہے۔ جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اے خدا اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ١٩٠٠ء سے اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک یعنی تین سال میں میرے لئے کوئی ایسا نشان دکھلا کہ جو انسان کے ہاتھوں سے بالا تر ہو۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٨)
گو یہ الفاظ دعائیہ ہیں مگر مرزا قادیانی اپنے (رسالہ اعجاز احمدی کے ص ٨٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٢) پر اس دعاء کو پیش گوئی قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ”ایک عظیم الشان نشان ہے۔ جس کو سلطان کہتے ہیں...... جو اپنی قبولیت اور روشنی کی وجہ سے دلوں پر قبضہ کر لے۔“
(اشتہار ٢٢؍اکتوبر ١٨٩٩ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٣)
پس جو تعریف مرزا قادیانی نے سلطان کی کی ہے وہی مرزا قادیانی کے اس مطلوبہ نشان کی ہے۔ جس کے نہ ہونے پر آپ فیصلہ دیتے ہیں کہ ”اگر تو (اے خدا) تین برس کے اندر دسمبر ١٩٠٢ء تک میری تائید میں اور میری تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلائے اور اپنے بندے کو ان لوگوں کی طرح رد کر دے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور فاسد ہیں۔ تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا۔ جو میرے پر لگائے جاتے ہیں...... میں نے اپنے لئے قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری دعاء قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٧)
اہل دانش سمجھ سکتے ہیں کہ جس پیش گوئی کے لئے تین سال کی مدت قرار دی گئی جس کی نشانی یہ قرار دی گئی کہ انسان کے ہاتھوں سے بالا تر ہو اور قبولیت اور روشنی کی وجہ سے دلوں پر قبضہ کر لے وہ کیسی ہونی چاہئے۔ کم سے کم اس میں اتنی بات تو ضرور ہے کہ مرزا قادیانی کی تدابیر کو اس میں دخل نہ ہو۔ مگر ایسا نہ ہو بلکہ مرزا قادیانی نے ایسی تدبیر کی کہ موضع مدہ ضلع امرتسر میں ان کے مریدوں نے بلوہ کر دیا۔ جس سے سنیوں کو مولوی ابوالوفا ثناء اللہ صاحب کو مناظرے کے لئے بلانے کی ضرورت ہوئی۔ مولوی صاحب کے وہاں پہنچتے ہی مرزا قادیانی نے ایک رسالہ اعجاز
احمدی جو نصف اردو اور نصف عربی نظم تھا۔ جس میں مولوی صاحب کی ہجو بھی تھی۔ ان کے پاس بھیج کر یہ کہلایا کہ اتنی ہی ضخامت کا رسالہ اردو اور عربی نظم پانچ روز میں بنا دیں اور اس نظم کا نام قصیدہ اعجاز یہ رکھ کر ایک اشتہار بھی اس مضمون کا جاری کیا کہ یہ اشتہار خدا تعالیٰ کے اس نشان کے اظہار کے لئے شائع کیا جاتا ہے جو اور نشانوں کی طرح ایک پیش گوئی کو پورا کرے گا۔ یعنی وہ نشان ہے جس کی بابت وعدہ تھا کہ دسمبر ١٩٠٢ء تک ظہور میں آ جائے گا۔ اب مولوی صاحب حیران ہیں کہ مرزا قادیانی نے کئی سال یا کئی ماہ میں جو قصیدہ اطمینانی حالت میں خود لکھا یا کسی سے لکھوایا ہے۔ اس کا جواب ایسی حالت میں کہ ہر طرح شور و شغب برپا ہے۔ ایک گاؤں میں جہاں نہ کوئی کتاب علم کی مل سکے نہ اور کسی قسم کی تائید کی امید اس قلیل مدت میں کیونکر لکھا جائے۔ اس پر بھی اپنی ذاتی لیاقت کے بھروسے پر لکھ بھیجا اور اخبار میں شائع کر دیا کہ آپ پہلے ایک مجلس میں اس قصیدۂ اعجاز یہ کو ان غلطیوں سے جو میں پیش کروں صاف کر دیں تو پھر میں آپ سے زانو بزانو بیٹھ کر عربی نویسی کروں گا۔ مگر مرزا قادیانی نے اس کا کچھ جواب نہ دیا۔
اگر غور کیا جائے تو مرزا قادیانی نے مولوی صاحب سے معجزہ طلب کیا تھا۔ اگر اس حالت میں حسب فرمائش مرزا قادیانی وہ قصیدہ لکھ دیتے تو ان کا بھی معجزہ سمجھا جاتا اور اس لحاظ سے مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کو ضرور ہوتا کہ مولوی صاحب کی بھی نبوت کے قائل ہو جائیں۔ کیونکہ معجزہ دکھلانا نبی کا کام ہے۔ چونکہ مولوی صاحب کو نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ اسی وجہ سے انہوں نے اس سے پہلو تہی کی ہو۔ پھر اگر قصیدے سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے تو اس کا کیا ثبوت کہ مرزا قادیانی ہی نے وہ لکھا۔ کیونکہ انہوں نے مولوی صاحب کی فرمائش پر ان کے روبرو تو لکھا ہی نہیں اور اگر تسلیم کیا جائے تو اس سے زیادہ بلیغ و فصیح لکھنے والے شعراء ہندوستان میں بکثرت موجود ہیں۔ ان سب کا اس نبوت میں حصہ ہے۔ حالانکہ نبوت کو شعر گوئی سے من وجہ منافات ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے نبی کریم ﷺ نے کبھی شعر نہیں کہا اور حق تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ”انه لقول رسول كريم وما هو بقول شاعر (حاقہ: ٤١،٤٠) “ یعنی قرآن، رسول کریم ﷺ کا قول ہے شاعر کا قول نہیں۔ مرزا قادیانی نے اس خیال سے کہ اگر نبوت کا ثبوت نہ ہو تو افتخار کے لئے شاعری بھی کچھ کم نہیں۔ ایک قصیدہ لکھ کر اپنے اتباع کو توجہ دلائی کہ بہر حال مولوی صاحب پر اپنے کو تفوق حاصل ہے۔ مگر یہ کوئی بات نہیں اس لئے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” الشعراء يتبعهم الغاوون (شعراء : ٢٢٤) “ یعنی شاعروں کا اتباع گمراہ کیا کرتے ہیں ۔ پھر لطف خاص یہ ہے کہ قصیدہ بھی ایسا کہا جو غلطیوں سے بھرا ہوا ہے۔ چنانچہ الہامات مرزا میں اس
کے اغلاط بالتفصیل مذکور ہیں۔ اگر مرزا قادیانی شروط و قیود بالا ہی کو اٹھا دیں تو اس وقت صدہا اس کے جواب لکھے جاسکتے ہیں۔ مولوی محمد یونس خاں صاحب رئیس دتاولی نے پیسہ اخبار میں مرزا قادیانی کے نام پر اعلان اسی زمانے میں دیا تھا۔ جس کا مضمون یہ ہے ”پیسہ اخبار مطبوعہ ٢٢؍نومبر ١٩٠٢ء میں ایک مضمون مرزا قادیانی کا دیکھنے میں آیا کہ وہ قصیدہ عربی لکھنے والے کو صرف بیس دن کی مہلت دیتے ہیں۔ پیسہ اخبار میں مضمون شائع کرایا ہے۔ جو ١٨؍نومبر کا لکھا ہوا، ٢٢؍نومبر کو شائع ہوا۔ ناظرین کے پاس بھیجنے کے واسطے بھی کچھ عرصہ چاہئے پھر اشعار کا بنانا بھی ایک وقت چاہتا ہے۔ لیجئے وقت ختم اور مرزا قادیانی کے داؤ پیچ کی جیت رہی۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو بھی اپنے دعاوی کی غلطی کا پورا یقین اور اپنی ہار کا خوف دامنگیر ہوتا ہے۔ اسی واسطے دور از کار شرائط پیش کیا کرتے ہیں۔ قرآن شریف کی جن آیات میں اس کا مثل طلب کیا گیا ہے۔ نہ کوئی تاریخ اس کے واسطے معین کی گئی ہے۔ نہ اشخاص بلکہ چھوٹی سورت لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی ایک قلیل مدت کی قید لگاتے ہیں۔ پھر تماشا یہ کہ وہ عربی قصیدہ چھاپ کر اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ اخبار میں شائع تک نہ کیا کہ کہیں ناظرین کو طبع آزمائی کا موقع نہ مل جائے۔ اس پر یہ فیاضی ہے کہ تمام علمائے ہند کو اذن عام دیا جاتا ہے کہ آپس میں مشورہ کر کے اس کا جواب لکھیں۔ حالانکہ ان لوگوں کی نگاہ سے ہنوز قصیدہ بھی نہیں گذرا اب میں بذریعہ تحریر ہذا مرزا قادیانی سے گذارش کرتا ہوں کہ آپ فوراً قصیدہ مذکورہ کو میرے نام روانہ فرمائیں یا اخبار میں شائع فرمائیں اور اپنے اعجاز کے زمانے کو ذرا سی وسعت بخشیں۔ جس دن وہ قصیدہ میرے پاس پہنچے گا اس سے بیس دن کے اندر انشاء اللہ تعالیٰ اس سے بہتر جواب آپ کی خدمت میں حاضر کیا جائے گا۔“ (پیسہ اخبار ١٤؍دسمبر ١٩٠٢ء) چاہئے تو تھا کہ مرزا قادیانی فوراً راقم مضمون کو کتاب مذکورہ بھیج دیتے۔ مگر جہاں تک ہمیں معلوم ہے آج تک وہ کتاب نہیں پہنچی۔
تقریر سابق سے معلوم ہوا کہ تین سال میں ظاہر ہونے والی قدرتی نشانی جو انسان کے ہاتھوں سے بالا تر ہو وہی ایک قصیدہ ہے۔ مگر اوّل تو وہ انسان کے ہاتھوں سے بالا تر نہیں۔ بلکہ خود نے لکھا ہے اور اس سے بہتر لکھنے کو اور علماء بھی مستعد ہیں۔ اس پر غلطیوں سے بھرا ہوا اس کے سوا مرزا قادیانی نے پیسہ اخبار مورخہ ١٢؍نومبر ١٩٠٢ء میں صاف لفظوں میں مشتہر کرایا تھا کہ ”دس سال سے میرا دعوٰی عربی اعجاز نمائی کا ہے۔“ جب دس سال سے یہ اعجاز حاصل ہے تو ظاہر ہے کہ تین سال والے اعلان میں ایک عظیم الشان نشانی کے لئے جو دعاء کی گئی تھی اور یہ کہا گیا تھا کہ اگر وہ
نشان نہ دکھلایا جائے تو میں اپنے کو ملعون وغیرہ سمجھوں گا۔ تو وہ نشان یہ قصیدۂ اعجازیہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ اعجاز جو پہلے سے حاصل تھا اس کی طلب ممکن نہیں۔ کیونکہ تحصیل حاصل محال ہے۔ غرض کہ کئی وجوہ سے یہ قصیدہ تو وہ مطلوبہ نشانی نہیں ہو سکتا اور اس کے سوا کوئی دوسری نشانی بھی اس مدت میں ظاہر نہ ہوئی۔ اگر ہوتی تو مرزا قادیانی خود اس کا حوالہ دیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ دعاء قبول نہیں ہوئی اور اس سے ثابت ہوا کہ حق تعالیٰ کو منظور وہی تھا جو مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ ”اگر تو کوئی نشانی میری تصدیق میں نہ دکھلائے تو میں تجھی کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اپنے لئے قطعی فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر میری دعاء قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور بے دین اور خائن ہوں (جیسا کہ مجھے سمجھا گیا) ظاہر ہو جائے۔“ سبحان اللہ! عجیب خدائے تعالیٰ کی قدرت ہے کہ مرزا قادیانی نے جو القاب اوروں کے لئے تجویز کئے تھے ان میں سے بڑے بڑے ان کی طرف کشاں کشاں رجوع کر گئے۔ پہلے یقین دلایا گیا جس کی وجہ سے لاکھوں آدمی ہمہ تن چشم و گوش ہو گئے۔ پھر بغیر کسی کے جبر کے خوشی سے اقرار کرایا گیا۔ پھر خدا کی اس پر گواہی لکھی گئی۔ صدق اللہ تعالیٰ ”ولا يحيق المكر السيئ الا باهله (فاطر:٤٣)“ اب مریدین راسخ الاعتقاد کو کون چیز مانع ہے کہ جن اوصاف والقاب کو مرزا قادیانی نے بطوع ورغبت اپنی شان میں استعمال فرمایا اور ویسا ہی اپنے کو سمجھنے کا وعدہ خدا تعالیٰ سے کیا جس کی منظوری بھی ہو گئی۔ ان کو مرزا قادیانی کی شان میں استعمال کریں اور ان کا مصداق ان کو سمجھیں۔
(الہامات مرزا ص ١٠٩، مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ١٢٢) میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے بذریعہ اشتہار یہ الہام مشتہر کرایا ”انه اوى القرية“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥ حاشیہ) جس سے اصلی مقصود یہ ہے کہ قادیان میں طاعون نہ آئے گا۔ اس کے بعد (رسالہ دافع البلاء ص ٥، ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦) میں تمام دنیا کے لوگوں کو للکارا کہ کوئی ہے کہ وہ بھی ہماری طرح اپنے اپنے شہر کی بابت کہے۔ ”انه اوى القرية“ یعنی یہ گاؤں طاعون سے محفوظ ہے اور لکھا کہ طاعون کا یہاں آنا کیسا باہر سے طاعون زدہ کوئی آتا ہے تو وہ اچھا ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد جب طاعون وہاں پہنچا تو اعلان جاری کیا کہ ”چونکہ آج کل مرض طاعون ہر ایک جگہ بہت زور سے ہے۔ اگرچہ قادیان میں نسبتاً آرام ہے۔ لیکن مریدوں کا اجتماع قرین مصلحت نہیں۔ اس لئے دسمبر کی تعطیلوں میں جیسا کہ پہلے اکثر احباب قادیان میں جمع ہو جایا کرتے تھے اب کی دفعہ اس اجتماع کو موقوف رکھیں اور اپنی اپنی جگہ پر خدا سے دعاء کرتے رہیں کہ وہ اس خطرناک ابتلاء سے ان کو اور ان کے اہل وعیال کو بچائے۔“
(اخبار البدر قادیان ج ١ نمبر ٨، ١٩؍ دسمبر ١٩٠٢ء)
فقرہ (نسبتاً آرام ہے) میں یہ صنعت کی گئی کہ لفظ آرام سے نمایاں تو یہ رہے کہ وہاں طاعون نہیں ہے۔ جس سے اس الہام کا صادق ہونا معلوم ہو جائے۔ مگر نسبتاً کے لفظ سے نکتہ شناس سمجھ جائیں کہ طاعون موجود ہے۔ اس لئے وہاں جانے سے رک جائیں۔ پھر جب چوہڑوں میں قادیان کے طاعون کی کثرت ہوئی تو فرمایا کہ الہام انه اوى القرية میں قادیان کا نام ہی نہیں اور قریہ قرا سے نکلا ہے۔ جس کے معنی جمع ہونے اور اکٹھے بیٹھ کر کھانے کے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو آپس میں مواکلت رکھتے ہیں اس میں ہندو اور چوہڑے داخل نہیں ہیں۔ (اخبار البدر) مطلب یہ ہوا کہ ہندو اور چوہڑے مل کر نہیں کھاتے ۔ حالانکہ لفظ قریہ سے مل کر کھانا سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے ان میں طاعون ہو تو الہام کے مخالف نہیں۔ مگر اس کا جواب کیا کہ (دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) میں فرماتے ہیں کہ ”خدا نے سبقت کر کے قادیان کا نام لے دیا ۔“ عجیب ملہم ہے کہ ابھی سبقت کر کے قادیان کا نام لے دیا تھا اور ابھی انکار کر دیا کہ الہام میں قادیان کا نام ہی نہیں۔ اللہ اللہ کیا سچ ہے۔ خدا کی شان ہے۔ کل ہی کا ذکر ہے کہ یوں کہا جاتا تھا اور شور مچایا جاتا تھا کہ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کی تختگاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
مگر آج یہ بات کھلی کہ قادیان کا نام ہی نہیں۔ قادیان کے رہنے والوں سے ہم نے خود سنا ہے کہ جس روز مرزا نے یہ پیش گوئی کی تو ہم سمجھ گئے تھے کہ خدا اس کی تکذیب کرنے کو قادیان میں ضرور طاعون بھیجے گا۔ سو ایسا ہی ہوا۔ اس کے بعد البدر قادیان میں جو مرزا قادیانی کا اخبار ہے۔ لکھا ہے کہ قادیان میں طاعون حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہام کے ماتحت اپنا کام برابر کر رہا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ طاعون اپنا پورا کام کر رہا ہے اور معتبر شہادتوں سے ثابت ہے کہ مارچ اور اپریل ١٩٠٤ء کے دو مہینوں میں ٣١٣ آدمی طاعون سے مرے۔ حالانکہ کل آبادی ٢٨٠٠ کی ہے اور سب لوگ ادھر ادھر بھاگ گئے اور تمام قصبہ ویران سنسان نظر آتا تھا۔
(آئینہ حق نما ص ٢٦٤)
آپ نے دیکھا کہ اس خلاف بیانی کی کوئی حد بھی ہے۔ پہلے تو قادیان رسول کی تخت گاہ ہونے کی وجہ سے طاعون کی مجال نہ تھی کہ اس میں قدم رکھے۔ بلکہ طاعون زدہ اس میں آ کر اچھے ہوتے تھے۔ پھر چوہڑوں کے مرنے سے وہی قادیان مسلمانوں کا نام ٹھہرا کہ وہ نہیں مریں گے۔ مگر اس کی وجہ معلوم نہیں ہوئی کہ مریدین وہاں آنے سے کیوں روکے گئے۔ مرزا قادیانی کا فرض تھا کہ ان کو اس آرام میں شریک کرتے جو تمام مسلمانوں کو تھا۔ بلکہ ایک
اعلان کل مریدوں میں جاری الامان میں چلے آئیں۔ پھر شکار طاعون ہو گئے تو وہی طاعو اپنا کام کرنے لگا۔ اب مرزا قا وہاں اچھے ہوتے حواریین کو اخبار البدر کے ایڈیٹر جنہوں کام کر رہا ہے۔ طعنہ طاعون طاعون سے کم نہیں۔ قدم بقدم کہ خداے تعالیٰ کی توہین کی ن آخر خدا کو مانتے ہیں اور سمیع ب لگا رہے ہیں۔ کیا کوئی مسلمان مرزا قادیانی سے کہا تھا کہ پورا مسلمان محفوظ رہیں گے۔ پھر ا کیسے طعنے کرتے ہوں گے کہ یہ کہ طاعون وہاں آئے گا یا نہیں اس کی حفاظت نہ کر سکا اور اتنا ایسا سکون کہ کہا کچھ اور کیا کچھ چشموں میں ذلیل وخوار کیا۔ غ بس ہے اور اسی پر قیاس جما سکے عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر ج فلاسفہ خدا پر ہنسیں گے۔ اہل ا دین کی برہمی کی پروا۔ ان کو صر تقریر سابق سے، الہام رکھا ہے۔ دیکھئے جب آ رسول ہے۔ طاعون کی کیا مجال کہے۔ انه اوى القرية پھر
اعلان کل مریدوں میں جاری کرتے کہ طاعون زدہ مقاموں کو چھوڑ کر مع اہل وعیال فوراً اس دار الامان میں چلے آئیں۔ پھر جب دو ہی مہینوں میں قریب آٹھویں حصے کے باشندگان قادیان شکار طاعون ہو گئے تو وہی طاعون جو وہاں قدم نہیں رکھ سکتا تھا۔ مرزا قادیانی کے ماتحت ہو کر برابر اپنا کام کرنے لگا۔ اب مرزا قادیانی کی یہ حالت ہے کہ بجائے اس کے کہ باہر کے آنے والے وہاں اچھے ہوتے حواریین کو نذر طاعون فرما رہے ہیں۔ چنانچہ اخبارات سے ظاہر ہے کہ خاص اخبار البدر کے ایڈیٹر جنہوں نے بڑے شدومد سے لکھا تھا کہ طاعون حضرت مسیح کے ماتحت ہو کر اپنا کام کر رہا ہے۔ طعمہ طاعون ہو گئے اور ہنوز اس کا دورہ ختم نہیں ہوا۔ اس الہام کی جولانی بھی طاعون سے کم نہیں۔ قدم بقدم طاعون کے ہمراہ ہے۔ اگر کوئی دہریہ اس قسم کی بات کہتا تو یہ سمجھ جاتا کہ خدائے تعالیٰ کی توہین کی تدبیر اس نے نکالی ہے۔ کمال حیرت کا مقام یہ ہے کہ مرزا قادیانی آخر خدا کو مانتے ہیں اور جمیع عیوب سے اس کو منزہ جانتے ہیں۔ باوجود اس کے ایسے الزام اس پر لگا رہے ہیں۔ کیا کوئی مسلمان اس الہام کی صحت کی رائے قائم کر سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے کہا تھا کہ پورا قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا اور اس کے بعد یہ کہا کہ نہیں صرف مسلمان محفوظ رہیں گے۔ پھر ہوا یہ کہ ہندو مسلمان دونوں ہلاک اور گاؤں تباہ ہو گیا۔ فلاسفہ اس پر کیسے ٹھٹھے کرتے ہوں گے کہ یہ لوگ جس کو خدا سمجھتے ہیں اس کی یہ حالت کہ اتنا بھی اس کو معلوم نہیں کہ طاعون وہاں آئے گا یا نہیں اور اتنی بھی اس کو قدرت نہیں کہ اپنی بات سچ کرنے کو طاعون سے اس کی حفاظت نہ کر سکا اور اتنا عاجز کہ ایک چھوٹے سے گاؤں کو بچانے کا وعدہ کر کے نہ بچا سکا اور ایسا تلون کہ کہا کچھ اور کیا کچھ اور۔ جس کو رسول بنا کر خود نے بھیجا اس کو جھوٹا ثابت کر کے ہم چشموں میں ذلیل و خوار کیا۔ غرض فلاسفہ کو خدا اور رسولوں سے انکار کرنے کے لئے بھی ایک حیلہ بس ہے اور اسی پر قیاس جما سکتے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی کو فلاسفہ کا اتنا خوف ہے کہ کہتے ہیں اگر عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا تسلیم کیا جائے تو فلاسفہ ہنسیں گے۔ یہاں یہ خیال نہیں فرمایا کہ فلاسفہ خدا پر ہنسیں گے۔ اہل انصاف سمجھ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو نہ کسی کی ہنسی سے کام ہے نہ دین کی برہمی کی پروا۔ ان کو صرف اپنی عیسویت سے کام ہے۔
تقریر سابق سے یہ بات ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے کسی بات کے سوجھ جانے کا نام الہام رکھا ہے۔ دیکھئے جب تک قادیان میں طاعون نہ تھا تو مضمون الہام یہ تھا کہ وہ تو تخت گاہ رسول ہے۔ طاعون کی کیا مجال کہ وہاں قدم رکھے اور کس وثوق سے کہا گیا کہ کوئی اپنے شہر کی بابت کہے۔ انہ اوی القرية پھر جب چوہڑے مرنے لگے تو قریہ قرا سے ماخوذ ہونا مضمون الہام ٹھہرا
اور یہ بھی اسی کا مضمون تھا کہ کہیں باہر سے آنے والے مر نہ جائیں۔ اور باعث طعنہ ادنہ ہوں اس لئے ان کو وہاں آنے سے روک دیا پھر جب عموماً ہندو مسلمان مرنے لگے اور اس قریہ کی ویرانی کی صورت بنی تو یہ ہوا کہ طاعون ماتحت الہام ہو کر اپنا کام کر رہا ہے۔ ادنیٰ تامل سے یہ بات معلوم ہو سکتی ہے کہ اس میں مرزا قادیانی کا کوئی قصور نہیں۔ کذب وافتراء وغیرہ قبائح اس زمانے میں ایسے عالمگیر ہو رہے ہیں کہ خود مرزا قادیانی کو اس کی شکایت ہے۔ اگر ایسے زمانے میں کوئی فرضی نبی بھی آئے تو بحسب اقتضائے زمانہ ضرور ہے کہ وہ انہیں اوصاف کے ساتھ متصف ہو۔ چنانچہ مستطرف میں لکھا ہے کہ معتصم باللہ کے زمانے میں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ جب گرفتار کیا گیا تو خلیفہ نے اس سے پوچھا کیا تو نبی ہے۔ کہا ہاں، کہا کس کی طرف تو بھیجا گیا ہے کہا آپ کی طرف کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ تو سفیہ اور احمق ہے، کہا درست ہے۔ جیسی قوم ہوتی ہے ویسا ہی نبی بھیجا جاتا ہے۔ خلیفہ اس لطیفے پر پھڑک گیا اور کچھ انعام دے کر اس کو چھوڑ دیا۔
مولانا ثناء اللہ کے قادیان نہ آنے کی پیش گوئی
اور ایک پیشین گوئی (الہامات مرزا ص ١١٥، مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ١٢٩) میں یہ لکھی ہوئی ہے کہ مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ٢٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) میں لکھتے ہیں کہ واضح رہے کہ ”مولوی ثناء اللہ کے ذریعے سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔ ایک یہ ہے کہ وہ تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہ آئیں گے اور سچی پیش گوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہوگی۔“
یہ پیشین گوئی بھی جھوٹی ثابت ہوئی۔ چنانچہ صرف پیش گوئی کی پڑتال اور تحقیق کے لئے مولوی ثناء اللہ قادیان گئے اور وہاں پہنچ کر مرزا قادیانی کے نام رقعہ لکھا۔ جس کا ماحاصل یہ ہے کہ آپ نے (اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٤٢) میں جو لکھا ہے کہ اگر مولوی ثناء اللہ سچے ہیں تو قادیان میں آ کر کسی پیش گوئی کو جھوٹی ثابت کریں اور ہر ایک پیش گوئی کے لئے ایک سو روپے انعام دیئے جائیں گے۔ جس کے پندرہ ہزار روپے ہوتے ہیں اور ایک لاکھ روپے مریدوں سے دلوایا جائے گا اور آمدورفت کا کرایہ علیحدہ اور نیز آپ نے لکھا ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا تھا کہ سب پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں۔ اس لئے ہم ان کو مدعو کرتے ہیں اور خدا کی قسم دیتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کے لئے قادیان میں آئیں۔ اس لئے میں اس وقت حاضر ہوں اور جناب کی دعوت قبول کرنے میں آج تک رمضان شریف مانع رہا ورنہ توقف نہ ہوتا ...... مجھے امید قوی ہے کہ آپ میری تفہیم میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں گے اور حسب وعدہ مجھے اجازت بخشیں گے کہ میں مجمع
میں آپ کی پیش گوئیوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کروں۔
(الہامات مرزا ص ١١٦ مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ١٣٠)
چونکہ مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو اپنا معجزہ قرار دیا اور مولوی صاحب کے وہاں پہنچ جانے سے اس کا اور اس کی وجہ سے نبوت کا ابطال ہو گیا۔ اس لئے مرزا قادیانی پر مولوی صاحب کی دعوت قبول کرنا نہایت شاق ہوا۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ ایک مہینے کے توقف کے باعث اس معجزے کے وقوع پر مبارک بادیاں بھی دی گئی تھیں۔ چنانچہ رسالہ فتح قادیان میں لکھا ہے کہ مرزائی یہاں تک بڑھ گئے کہ ١٠؍ دسمبر ١٩٠٢ء کے اخبار الحکم میں مولوی صاحب کے قادیان میں نہ پہنچنے کو معجزہ لکھ کر اپنے گرو گھنٹال کو مبارک بادیں دیں۔ انصاف کی بات تو یہ تھی کہ اس وقت جیسے مبارک بادی دی گئی تھی مولوی صاحب کے وہاں پہنچ جانے پر نبوت کو سلام اور خیر باد کہہ دیا جاتا۔ مگر افسوس ہے اتنی بڑی نشانی پر بھی متنبہ نہ ہوا۔ الغرض مرزا قادیانی اس رقعے کو دیکھتے ہی برہم ہوئے اور جواب لکھا کہ ’’اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک اور شبہات پیش گوئیوں کی نسبت رفع کریں تو آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی۔ مگر میں قسم کھا چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے مباحثات نہیں کروں گا۔ آپ کے رفع شکوک اور شیطانی وسوسوں کے دفع کرنے کی یہ صورت ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہیں ہوں گے اور آپ کی مجال نہ ہوگی کہ ایک کلمہ بھی زبان سے بول سکیں۔ صرف آپ مختصر ایک یا دو سطر حد تین سطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے اور میں بآواز بلند لوگوں کو سنا دوں گا کہ اس پیش گوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور یہ اس کا جواب ہے۔ تین گھنٹے میں تقریر کرتا رہوں گا اور ہر ایک گھنٹے پر آپ کو متنبہ کیا جائے گا کہ اگر تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کو بالکل منہ بند رکھنا ہوگا۔ جیسے صم بکم ! اگر آپ شرافت اور ایمان رکھتے ہیں تو قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جائیں۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا اور آپ کو بھی خدائے تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر آپ سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جائیں۔ اب ہم دونوں میں سے ان دونوں قسموں سے جو شخص انحراف کرے گا اس پر خدا کی لعنت ہے اور وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگی میں دیکھ لے۔ آمین ! سو میں اب دیکھوں گا کہ آپ سنتِ نبوی کے موافق اس قسم کو پوری کرتے ہیں یا قادیان سے نکلتے ہوئے اس لعنت کو ساتھ لئے جاتے ہیں۔‘‘
(الہامات مرزا ص ١١٩ تا ١٢١ ملخص، مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ١٣٠ تا ١٣٣)
مرزا قادیانی اس موقع میں جو کچھ فرمائیں تھوڑا ہے۔ اس لئے کہ مدعی نبوت جب کسی
بات کو اپنا معجزہ قرار دیتا ہے اور اس کا وقوع نہیں ہوتا تو اہل حق کے نزدیک وہ کاذب اور مفتری مسلم ہو جاتا ہے۔ گو باطل پسند طبائع کو کوئی جنبش نہ ہو جیسے ابھی معلوم ہوا کہ مسیلمہ کذاب جو کام دعویٰ سے کرتا اس کے خلاف وقوع میں آتا۔ با ایں ہمہ اس کے مریدوں کے مجمع میں کوئی کمی نہ ہوئی۔ بہرحال مرزا قادیانی کو اس موقع میں سخت ناکامی اور ذلت ہوئی۔ پھر اگر اتنا بھی نہ کہیں تو نفس کو کیونکر تسکین ہو۔
مرزا قادیانی اگر انصاف سے کام لیتے تو مولوی صاحب کو نہایت خوشی سے مناظرے کا موقع دیتے۔ کیونکہ پیش گوئیوں کا جب وقوع ہو چکا تھا تو ممکن نہیں کہ ان واقعات کی تکذیب کسی سے ہوسکے۔ مثلاً مرزا قادیانی نے کسی کی نسبت پیش گوئی کی کہ اتنی مدت میں فلاں شخص مر جائے گا اور فی الواقع وہ مر بھی گیا تو کیا ممکن ہے کہ دلائل سے اس کی موت کا ابطال ہو سکے۔ ایک جماعت گواہی کے لئے کھڑی ہو جاتی کہ ہم لوگ اس کے دفن میں شریک تھے۔ اسی طرح ہر پیش گوئی کی تصدیق گواہوں سے ہو جاتی۔ مرزا قادیانی کا اس موقع میں پہلو تہی کرنا صاف بتلا رہا ہے کہ جیسے مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ کسی پیش گوئی کا وقوع ہوا ہی نہیں وہی صحیح ہے۔
اب یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ مرزا قادیانی نے مولوی صاحب کو دعوت کس غرض سے دی تھی۔ یہ نہیں لکھا تھا کہ قادیان تشریف لائیں اور صدق دل سے آمنا وصدقنا کہہ کر اپنے مریدوں میں داخل ہو جائیں۔ جس کے صلے میں ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ اگر یہی بات پیش نظر تھی تو یوں فرماتے کہ آپ قادیان آ کر ہماری پیش گوئیوں کی تصدیق کرلیں تو ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے آپ کو انعام دیئے جائیں گے۔ حالانکہ برخلاف اس کے تحریر مذکور بالا میں مصرح ہے کہ اگر آپ قادیان میں آکر کسی پیش گوئی کو جھوٹی ثابت کریں تو ہر ایک پیش گوئی کے لئے ایک ایک سو روپے دیئے جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ مرزا قادیانی بھی سمجھتے ہوں گے کہ یہ روپیہ تصدیق کے صلے میں قرار دیا گیا تھا یا تکذیب کے صلے میں۔ پھر جب جھوٹ ثابت کرنے کے لئے دعوت دی گئی تھی تو معاملہ برابر کا ٹھہرا، اگر صدق ثابت کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے تین گھنٹے لئے تھے تو مولوی صاحب کو کذب ثابت کرنے کے لئے بھی اسی قدر مدت درکار تھی۔ پھر صم بکم بیٹھے رہنے سے کذب خود ہی کیونکر ثابت ہو سکتا تھا؟ مناسب تو یہ تھا کہ مرزا قادیانی صم بکم بیٹھ کر اپنا دعویٰ ثابت کرتے۔ کیونکہ مدعی نبوت اس خرق عادات کا اظہار ان کے ذمہ ہونا چاہئے تھا۔ مولوی صاحب تو مدعی نبوت تھے ہی نہیں۔ پھر یہ معجزہ ان سے کیوں طلب کیا گیا کہ حالت خاموشی میں اپنا دعویٰ ثابت کردیں۔ اگرچہ مرزا قادیانی نے فیاضی کی کہ اپنا منصب ان کو دیا مگر ان پر تو ظلم
ہو گیا۔ مرزا قادیانی اس قسم کے معاملات میں دل کھول کر فیاضی فرماتے ہیں۔ چنانچہ قسم تو آپ نے کھائی اور لعنت میں مولوی صاحب کو بھی شریک کرنا چاہا۔ انہوں نے کب قسم کھائی تھی جو پوری نہ کرتے تو قادیان سے نکلتے ہوئے لعنت کو ساتھ لے جاتے۔ انہوں نے اسی لحاظ سے قسم نہیں کھائی کہ کہیں وہ لعنت قادیان سے ان کے ساتھ چلی نہ جائے۔ البتہ مرزا قادیانی کو لعنت کا کچھ خوف نہیں۔ چنانچہ ابھی معلوم ہوا کہ انہوں نے خدا سے کہہ کر اپنے کو ملعون سمجھ لیا ہے۔
مرزا قادیانی نے فقط صم بکم رہنے ہی کا بار مولوی صاحب پر نہیں ڈالا۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں تو قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جائیں۔ اب اس کج دار و مریز کو دیکھئے کہ زبان نہ ہلائیں اور جھوٹ ثابت کردیں۔ یا آمنا وصدقنا کہہ دیں ورنہ نہ مسلمان رہ سکتے ہیں نہ شریف۔
مرزا قادیانی نے خوش اعتقادی سے مولوی صاحب کو شاید اپنے معتقدوں میں سمجھ لیا جو فرماتے ہیں کہ آپ سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جائیں اور اپنے شکوک و شبہات رفع کریں۔ حالانکہ وہ اس غرض سے آئے تھے کہ جو مرزا قادیانی کی تقریروں سے لوگ شک میں پڑ گئے تھے۔ اس کو اس طور پر رفع کریں کہ واقعات بتلا کر یہ ثابت کردیں کہ کسی پیش گوئی کا وقوع ہوا ہی نہیں۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی مولوی صاحب کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ کل پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں۔ اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کو ان کے کذب کا یقین تھا۔ پھر معلوم نہیں کہ کس بنیاد پر ان کی طرف شک منسوب کیا گیا۔
آپ نے دیکھ لیا کہ مولوی صاحب کے قادیان میں جانے کی پیش گوئی جھوٹی ہونے کا ایک بد نما اثر یہ بھی ہوا کہ مرزا قادیانی نے قسمیں دے کر مولوی صاحب کو جس کام کے لئے دعوت دی تھی اس سے بھی انکار کر گئے اور ایسی شرطیں لگائیں کہ مولوی صاحب کا مطلب فوت ہو جائے۔ اس پر بھی مولوی صاحب نے جواب لکھا کہ آپ کی بے انصافی کو بھی قبول کرتا ہوں کہ میں دو تین سطریں ہی لکھوں گا اور آپ بلا شک تین گھنٹے تک تقریر کریں۔ مگر اتنی اصلاح ہوگی کہ میں اپنی دو تین سطریں مجمع میں کھڑا ہو کر سنادوں گا اور ایک گھنٹے کے بعد پانچ منٹ نہایت دس منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کروں گا۔" یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مرزا قادیانی کے تین گھنٹوں کی فصیح و بلیغ تقریر کا جواب مولوی صاحب دس پانچ منٹ میں کیونکر دے سکتے اور اگر جواب دیتے بھی تو لوگ اس کو کیا سمجھ سکتے اور اس کا کیا اثر ہوتا اس میں شک نہیں کہ اگر مولوی صاحب دس پانچ منٹ میں مرزا قادیانی کا جھوٹ ثابت کر دیتے تو بلاشبہ ان کی کرامت اس سے ثابت ہوتی۔
مرزا قادیانی کو اسی کا خوف ہوا کہ کہیں وہ کرامت معجزے پر غالب نہ ہو جائے۔ اس لئے انہوں نے دس پانچ منٹ تقریر کرنے سے بھی انکار فرمادیا۔ اس خیال کرامت کا کس قدر اثر ہوا کہ مرزا قادیانی کی حالت ہی متغیر ہوگئی اور لگے کانپنے ۔ مگر اس رعب کی حالت کو غصے کی صورت میں بنا کر چھپا دیا ۔ چنانچہ حکیم محمد صدیق صاحب وغیرہ جو مولوی صاحب کا جواب مرزا قادیانی کے پاس لے گئے تھے قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی سنتے جاتے تھے اور بڑے غصے سے بدن پر رعشہ تھا اور دہان مبارک سے خوب گالیاں دیتے تھے اور کتا ، سور ، خنجر وغیرہ خاص خاص اسماء بتا کر فرماتے کہ ہم اس کو کبھی بولنے نہ دیں گے ۔ گدھے کی طرح لگام دے کر بٹھائیں گے ۔ اس کو کہہ دو کہ لعنت لے کر قادیان سے چلا جائے وغیرہ وغیرہ ۔ مرزا قادیانی کے قول وفعل کا اندازہ اس سے ہو گیا کہ خود ہی نے قسمیں دے کر ان کو دعوت دی اور جب وہ آگئے تو عین موقع بحث پر اس شدومد اور غیظ وغضب سے انکار کیا کہ حصول مقصود حیز امکان سے خارج ہو گیا ۔ کیا کوئی منصف مزاج شخص ان کی اس حرکت کو رضا مندی کی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے ۔
مرزا قادیانی نے دعوت دینے کے وقت یہ خیال کیا ہوگا کہ اتنی رقم کثیر کی شرط جب لگائی جائے گی تو مولوی صاحب پر رعب پڑ جائے گا ۔ کیونکہ عادت ہے کہ جس کو اپنے صدق اور قوت دلائل پر وثوق ہوتا ہے تو شرط میں بے دریغ روپیہ لگا دیتا ہے اور رعب کی وجہ سے جب وہ نہ آئیں گے تو تمام پیش گوئیاں اس اشتہاری دعوت کی وجہ سے ناواقف لوگوں کے ذہنوں میں وقعت پیدا کر لیں گی اور اسی خیال کے بھروسے انہوں نے یہ پیش گوئی کر ڈالی کہ وہ ہرگز ان پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے قادیان نہ آئیں گے اور یہ خیال اس قدر متمکن ہوا کہ یہ پیشین گوئی بھی معجزہ قرار دی گئی ۔ مگر چونکہ مولوی صاحب ان کے چالوں سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ کسی پیشین گوئی کا وقوع نہیں ہوا ۔ صرف سخن سازیوں سے کام لیا جارہا ہے ۔ اس لئے اس تخویف کی کچھ پروا نہ کر کے قادیان پہنچ گئے ۔ پھر کیا تھا مرزا قادیانی لگے منہ دیکھنے اور بدحواسی کی حالتیں جیسے جیسے ان کی یاس بڑھتی تھی ویسے ویسے ان کی زبان دراز ہوتی جاتی تھی ۔ کما قیل اذا یئس الانسان طال لسانہ اور کیوں نہ جب اتنی بڑی تخویف کا کچھ اثر نہ ہو تو صرف سخن سازیوں سے کیا کام نکل سکے ۔ آخر مولوی صاحب کو بھی وہ جانتے تھے کہ فاضل ہمہ ملک واقف ہیں ۔ کہاں تک ان کے مقابلے میں زبان یاری دے گی اور واقعات مساعدت کریں گے اور سوچا کہ اگر ان کا
دم مسیحائی نہ روکا جائے تو اپنی عیسویت کا خاتمہ ہے۔ اس لئے یہاں تک اس بات میں مبالغہ کیا کہ دو تین سطر جو اعتراض میں لکھی جائیں وہ بھی مولوی صاحب اپنی زبان سے نہ سنائیں۔ چنانچہ لکھا کہ آپ کا کام نہیں ہوگا کہ اس کو سنائیں۔ ہم خود پڑھ لیں گے مگر چاہئے کہ دو تین سطروں سے زیادہ نہ ہو۔ غرض مولوی صاحب کی کوئی درخواست قبول نہ ہوئی اور حواریین سے یہ لکھنے کو کہہ دیا کہ چونکہ مضامین تمہارے رقعے کے محض عناد اور تعصب آمیز تھے اور حضرت اقدس انجام آتھم میں قسم کھا چکے ہیں کہ مباحثے کی شان میں مخالفین سے کوئی تقریر نہ کریں گے اس لئے آپ کی درخواست ہرگز منظور نہیں ہے۔ والسلام جب اس قدر نازک دماغی تھی کہ دس پانچ منٹ کی تقریر کی درخواست محض عناد و تعصب آمیز سمجھی گئی تو معلوم نہیں کہ ابتدائی درخواست میں قادیان کو آنے اور پیش گوئیوں کی تحقیق کرنے کے کیا معنی رکھے گئے تھے۔
اب یہ بات بھی دیکھ لی جائے کہ مرزا قادیانی جو فرماتے ہیں کہ رسالہ انجام آتھم میں مباحثہ نہ کرنے پر قسم کھا چکے ہیں۔ اس کی پابندی کہاں تک ہوئی۔
(الہامات مرزا ص ١٤٢، مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ١٣٨) میں لکھا ہے کہ انجام آتھم سے چار سال بعد معیار الاخیار میں مرزا قادیانی نے یہ اشتہار شائع کیا کہ ”آپ لوگ اے علمائے اسلام اب بھی اس قاعدے کے موافق جو سچے نبیوں کی شناخت کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ قادیان سے کسی قریب مقام میں ایک مجلس مقرر کریں اور نیز واجب ہوگا کہ منصفانہ طور پر بحث کریں اور ان کا حق ہوگا کہ تین طور سے مجھ سے تسلی کر لیں۔ قرآن و حدیث کی رو سے عقل کی رو سے آسمانی
تائیدات اور خوارق و کرامت کی رو سے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠ ملخص)
اس میں تو مرزا قادیانی خود علماء سے مباحثہ کی درخواست کر رہے ہیں۔ پھر نہ یہ شرط ہے کہ دو سطروں سے زیادہ نہ لکھیں نہ یہ کہ صم بکم بیٹھے رہیں۔ بلکہ صاف لفظوں میں بحث کی اجازت دی گئی ہے۔ اس میں صراحتاً حلف کے توڑنے پر اقدام کیا گیا اور اگر خدا سے اس کی اجازت مل گئی تھی تو مولوی صاحب کا بھی مباحثہ بھی اسی اجازت میں شریک تھا۔ کیونکہ اشتہار معیار الاخیار والی درخواست مباحثے کے بعد مولوی صاحب مباحثے کے لئے گئے تھے۔ رہا منصفانہ مباحثہ سو یہ علم قبل از وقوع واقعہ کیونکر ہوا کہ مولوی صاحب منصفانہ مناظرہ نہ کریں گے۔ اگر کشف سے معلوم ہو گیا تھا تو اتمام حجت کے لئے صرف دو تین گھنٹے ان کی تقریر ایک مجمع میں سن لے جاتی اور اس کے بعد ثابت کیا جاتا کہ وہ تقریر ظالمانہ تھی۔ جس سے اہل مجمع خود انصاف کر لیتے کہ کون حق پر ہے۔
علماء ندوہ سے فرار
مرزا قادیانی کا مقصود اس قسم کے اشتہار سے یہی ہوا کرتا ہے کہ بالائی تدابیر سے کام نکال لیں۔ جن سے ناواقف معتقد ہو جائیں اور اگر کوئی مقابل ہو جائے تو پہلو تہی کرنے میں کون چیز مانع ہے۔ جیسا کہ مولوی صاحب کو دعوت دے کر پہلو تہی کر گئے۔ اسی طرح معیارالاخیار کے اشتہار کا بھی وہی حال ہوا۔ اب دیکھئے کہ اشتہار مذکور کے دیکھنے والوں کو کیونکر دھوکا نہ ہو۔ کس تصریح سے لکھتے ہیں کہ قرآن سے، حدیث سے، عقل سے، کرامتوں سے ہر طرح سے اپنا مدعا ثابت کرنے کو موجود ہیں۔ ایسے اعلان کے بعد ان کی حقانیت میں کس کو شبہ رہے گا۔ ہر جاہل یہی کہے گا کہ مرزا قادیانی قرآن وحدیث و کرامات سے اپنی عیسویت ثابت کرنے کو موجود ہیں اور کوئی مولوی مقابل نہیں ہوسکتا۔ مگر جب اس کا موقع آیا اور علماء مباحثہ پر آمادہ ہوئے تو وہ سب کالعدم اور نسیاً منسیاً ہو گیا۔ چنانچہ (الہامات مرزا ص ١٢٥، ١٢٦، مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ١٣٩، ١٤٠) میں لکھا ہے کہ اس اشتہار کے بعد جب ندوۃ العلماء کا جلسہ امرتسر میں ہوا تو علمائے موجودین جلسہ نے مرزا قادیانی کے نام خط لکھا کہ آپ کی تحریر کے مطابق ہم لوگ بحث کرنے کے لئے حاضر ہیں اور پہلے آپ کو اس کی اطلاع بھی ہو چکی ہے۔ اس لئے قلت وقت کا عذر بھی نہیں رہا اور آپ کو اپنے خیالات کی اشاعت اور تحقیق حق کا اس سے بہتر موقع نہ ملے گا اور یہ خط مرزا قادیانی کو پہنچ بھی گیا۔ چنانچہ ڈاک خانے کی رسید موجود ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے اس کا جواب نہ دیا۔
عقلاء سمجھ سکتے ہیں کہ اس شدومد کے اشتہار کے بعد مرزا قادیانی کا سکوت کیا کہہ رہا ہے۔ یہی کہہ رہا ہے کہ وہ لمبے چوڑے دعوے سب الفاظ ہی الفاظ تھے۔ نہ وہاں قرآن ہے نہ حدیث نہ عقل نہ کرامت۔ کیونکہ السکوت فی موضع البیان بیان اگر ان امور سے ایک خبر بھی مرزا قادیانی کے پاس ہوتی تو اتنے علماء اور ایسے کثیرالتعداد حاضرین جلسہ کے روبرو پیش کرنے کو ایک نعمت غیر مترقبہ سمجھتے اور اس موقع میں ایسا الزام اپنے ذمہ نہ لگا لیتے۔ جس سے غور کرنے والوں کے روبرو ایک مجموعہ بدعنوانیوں کا پیش ہو جاتا ہے۔
یوں تو مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں بہت ساری ہیں۔ مگر یہ جو مذکور ہوئیں بطور دعویٰ اور تحدی اور معجزے کے رنگ میں تھیں۔ جن پر مدار ان کی نبوت کا تھا اور الہاموں کی بنیاد پر یہاں تک زور دیا گیا تھا کہ اگر وہ صحیح نہ نکلیں تو مرزا قادیانی کاذب و دجال وملعون وغیرہ سمجھ لئے جائیں بلکہ سولی پر چڑھائے جائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان میں ایک بھی صحیح نہ نکلی۔ بلکہ مرزا قادیانی نے صرف حیلوں اور سخن سازیوں سے کام لیا۔
انبیاء علیہم السلام جب معجزات بتلاتے تو کیا کس کی مجال تھی کہ انکار کر سکے اور کیا ممکن ہے کہ محسوسات کا بھی انکار کیا جائے۔ مثلاً جس نے قمر کو شق ہوتے دیکھا اور کنکریوں کی تسبیح کانوں سے سن لی تو ان محسوسات کا کیونکر انکار کر سکتا تھا۔ اسی وجہ سے کفار یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ اس کارروائی میں دھوکا دیا گیا۔ بلکہ بے ساختہ کہتے کہ یہ تو سحر ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ اس کو خلاف عقل اور انسانی طاقت سے خارج سمجھتے تھے۔ اگر کہا جائے کہ کفار نبیوں کو کاذب بھی تو کہتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبوت کی شان ان کے اذہان میں بہت ارفع تھی۔ وہ آدمی کو اس قابل نہیں سمجھتے تھے کہ خدائے تعالیٰ اس کو اپنا رسول بنا کر بھیجے۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وقالوا ما انتم الا بشر مثلنا وما انزل الرحمٰن من شئی ان انتم الا تکذبون (یسین:١٥)“ چونکہ رسالت امر غیر محسوس ہے۔ اس لئے ان کو اس میں گفتگو کرنے کا موقع مل جاتا تھا اور باوجود معجزات و آیات بینات دیکھنے کے از راہ عناد رسالت کی تکذیب کرتے۔ ”وان یروا کل آیۃ لا یؤمنوا بھا (انعام:٢٥)“ ”لا یؤمنون بہ حتیٰ یروا العذاب الالیم (شعراء:٢٠١)“ لیکن ان میں جو اہل انصاف تھے آیات و معجزات دیکھنے کے بعد ضرور ایمان لاتے۔ غرض کہ نبوت صادقہ کے پہچاننے کا طریقہ بھی معجزات ہیں جو طاقت بشریہ سے خارج ہوں۔
اگر مرزا قادیانی کا کوئی دعویٰ خارق عادت اور طاقت بشریہ سے خارج ہوتا تو ان کے مخالف ان کو ساحر و کاہن کہتے۔ حالانکہ اس قسم کے القاب ان کے نہیں سنے گئے۔ البتہ علماء نے ان کو کاذب، مفتری، دجال وغیرہ وغیرہ القاب سے ذکر کیا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے صرف فطری طاقت سے کام لیا۔ بخلاف انبیاء علیہم السلام کے کہ وہ اپنی حول وقوت سے علیحدہ تھے۔ وہ صرف حق تعالیٰ کے حکم سے دعویٰ اور خارق عادت چیز کا وعدہ کر دیتے تھے اور خدا تعالیٰ ان کو سچا کرنے کے واسطے وہ دعویٰ اور وعدہ پورا فرما دیا کرتا۔ چنانچہ اس آیت شریفہ سے مستفاد ہے۔ ”وقالوا لولا نزل علیہ آیۃ من ربہ قل ان اللہ قادر علیٰ ان ینزل آیۃ (انعام:٣٧)“
تقریر سابق سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب اور علمائے ہند کے مقابلے میں مناظرے سے گریز کیا اور عبدالمجید صاحب مالک مطبع انصاری دہلی ”بیان للناس“ میں لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے ١٨٩١ء میں اشتہار دیا تھا کہ میرے مسیح موعود ہونے کا سارا قرآن مجید مصدق اور تمام احادیث صحیحہ اس کی صحت کے شاہد ہیں۔ اس پر مولوی صاحب نے
مرزا قادیانی کے نام نوٹس دیا کہ اگر آپ اپنے دعوے کو مجمع علماء میں ثابت کر دیں گے تو میں ایک ہزار روپیہ نقد آپ کی خدمت میں پیش کروں گا اور ایک سال ہر روز آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہوں۔ یہ نوٹس ١٣٠٩ھ میں دیا گیا۔ مگر اس کا کچھ جواب نہ دیا۔ حالانکہ یہ نوٹس انجام آتھم سے پہلے دی گئی تھی۔ اس وقت تو مرزا قادیانی نے مناظرہ نہ کرنے پر قسم بھی کھائی نہ تھی۔ کیونکہ انجام آتھم کی تاریخ الہامات مرزا میں ١٨٩٦ء لکھی ہے۔
مباہلہ مولانا عبدالحق
الحاصل کئی شہادتوں سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی نے علماء کے مقابلے میں آنے سے گریز کیا۔ اسی طرح مباہلے سے بھی گریز کیا۔ جیسا کہ اس تحریر سے ظاہر ہے جو (ازالۃ الاوہام ص ٦٣٨ تا ٦٣٩ ، خزائن ج ٣ ص ٤٤٣،٤٤٤) میں فرماتے ہیں۔ ”میاں عبدالحق صاحب نے مباہلے کی بھی درخواست کی تھی۔ لیکن اب تک میں نہیں سمجھتا کہ ایسے اختلافی مسائل میں جن کی وجہ سے کوئی فریق کافر یا ظالم نہیں ٹھہر سکتا۔ کیونکر مباہلہ جائز ہے۔ قرآن شریف سے ظاہر ہے کہ مباہلے میں دونوں فریق کا اس بات پر یقین چاہئے کہ فریق مخالف میرا کاذب ہے۔ یعنی عمداً سچائی سے روگرداں ہے مخطی نہیں ہے۔ تا ہر ایک فریق لعنت الله علی الکاذبین کہہ سکے۔ اب اگر میاں عبدالحق اپنے قصور فہم کی وجہ سے مجھے کاذب خیال کرتے ہیں لیکن میں انہیں کاذب نہیں کہتا۔ بلکہ مخطی جانتا ہوں اور مخطی مسلمان پر لعنت جائز نہیں۔ کیا بجائے لعنت الله علی الکاذبین کے یہ کہنا جائز ہے کہ لعنت الله علی المخطئین ۔ کوئی مجھے سمجھائے کہ اگر میں مباہلے میں فریق مخالف حق پر لعنت کروں تو کس طور سے کروں۔ اگر میں لعنت الله علی الکاذبین کہوں تو یہ صحیح نہیں کیونکہ میں اپنے مخالفین کو کاذب تو نہیں سمجھتا بلکہ ماؤل مخطی سمجھتا ہوں...... اگر مخطی سے مباہلہ اور ملاعنہ جائز ہوتا تو اسلام کے تمامی فرقے باہم اختلاف سے بھرے ہوئے ہیں۔ بیشک باہم مباہلہ و ملاعنہ کر سکتے تھے...... اور مباہلے میں جماعت کا ہونا بھی ضرور ہے۔ نص قرآن کریم جماعت کو ضروری ٹھہراتی ہے۔ لیکن میاں عبدالحق صاحب نے اب تک ظاہر نہیں کیا کہ مشاہیر علماء کی جماعت اس قدر میرے ساتھ ہے...... اور نساء وابناء بھی ہیں...... اور مباہلے میں یہ بھی ضرور ہے کہ اوّل ازالۂ شبہات کیا جائے۔ بجز اس صورت کے کاذب قرار دینے میں کوئی تامل اور شبہ کی جگہ باقی نہ ہو۔ لیکن میاں عبدالحق بحث مباحثہ کا تو نام تک نہیں لیتے ۔“
تفسیر درمنثور وابن جریر وغیرہ میں واقعہ مباہلے کی جو احادیث منقول ہیں۔ ان کا ماحصل یہ ہے کہ نجران کے چند نصاریٰ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا کہ عیسیٰ بن مریم کے بارے میں آپ کیا نہیں ۔ تم ٹھہرے رہو۔ جب مجھے معلـ شریف نازل ہوئی۔ ”ان مثل عیسیٰ كن فيكون الحق من ربك فلا ك من العلم فقل تعالوا نـ وانفسكم ثم نبتهل فنجعل لعـ مطلب اس کا یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلا کے اگر کوئی اس میں جھگڑے تو کہہ دو کریں کہ خدائے تعالیٰ جھوٹوں پر لعـ انہوں نے مسئلہ خلق عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ نے امام حسن اور امـ جب ان لوگوں نے حضرت کے جـ نے فرمایا اگر وہ مباہلہ کرتے تو ضرور حق تعالیٰ میاں عبدالحق طریقہ مسنونہ کو موقع پر یاد کر کے عمل باوجود لمبے چوڑے دعووں کے کہ خد کچھ مددنہ کی اور عین معرکے کے وقـ چند اسباب بیان فرماتے ہیں۔
- ١...... مباہلے میں
- ٢...... دونوں فریق
- ٣...... اختلافی مسـ
- ٤...... پہلے مباحثہ
امر اوّل کا ضروری نہ فرزندوں کو ساتھ لیا تھا اور کفار کی مـ حدیث سے ثابت ہے جو (بخاری رـ فضائل ابی عبیدہ بن الجراح) و (ترمذی
عیسیٰ بن مریم کے بارہ میں آپ کیا فرماتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا مجھے اس وقت تو کچھ معلوم نہیں، تم ٹھہرے رہو۔ جب مجھے معلوم کرایا جائے گا میں تم سے کہہ دوں گا۔ اس کے بعد یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔ ”ان مثل عيسى عندالله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون الحق من ربك فلا تكن من الممترين فمن حاجك فيه من بعد ما جاء ك من العلم فقل تعالوا ندع ابنائنا وابناءكم ونساءنا ونساءكم وانفسنا وانفسكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله على الكاذبين (آل عمران: ٥٩، ٦١)“ خلاصہ مطلب اس کا یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پیدائش میں مثل آدم علیہ السلام کے ہیں۔ یعنی بغیر باپ کے اگر کوئی اس میں جھگڑے تو کہہ دو کہ آؤ ہم تم اپنی اولاد اور عورتوں کو بلائیں اور عاجزی سے دعاء کریں کہ خدائے تعالیٰ جھوٹوں پر لعنت کرے۔ حضرت نے جب یہ آیت شریفہ ان کو سنائی تو انہوں نے مسئلہ خلق عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانا اور چلے گئے۔ دوسرے روز حسب آیہ شریفہ آنحضرت ﷺ نے امام حسن اور امام حسین اور فاطمہ زہرا علیہم السلام کو لے کر تشریف لائے۔ جب ان لوگوں نے حضرت کے جزم و صداقت کو دیکھا گھبرا گئے اور جزیہ دینا قبول کیا۔ حضرت نے فرمایا اگر وہ مباہلہ کرتے تو ضرور ہلاک ہو جاتے۔ ملخصاً!
حق تعالیٰ میاں عبدالحق صاحب کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے طریقہ مسنونہ کو موقع پر یاد کر کے عمل میں کیا۔ جس کی صداقت کا معنوی اثر یہ ہوا کہ مرزا قادیانی باوجود لمبے چوڑے دعووں کے کہ خدا سے دو بدو ہو کر باتیں کیا کرتے ہیں۔ ان کے خدا نے ان کی کچھ مدد نہ کی اور عین معرکہ کے وقت پیچھے ہٹ گئے۔ اگرچہ اصل سبب کچھ اور تھا لیکن بظاہر یہ چند اسباب بیان فرماتے ہیں۔
- ١...... مباہلے میں جماعت کا ہونا ضروری ہے۔
- ٢...... دونوں فریق کو یقین ہونا چاہئے کہ فریق مخالف میرا کاذب ہے۔
- ٣...... اختلافی مسائل میں مباہلہ جائز نہیں۔
- ٤...... پہلے مباحثہ اور ازالہ شبہات ضروری ہے۔
امر اوّل کا ضروری نہ ہونا اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صرف اپنے فرزندوں کو ساتھ لیا تھا اور کفار کی طرف دو ہی شخص تھے۔ جو اس وقت موجود تھے۔ چنانچہ اس حدیث سے ثابت ہے جو (بخاری ج ٢ ص ٦٢٩، باب قصۃ اہل نجران) اور (مسلم ج ٢ ص ٢٨٢، باب من فضائل ابی عبیدہ بن الجراح) و (ترمذی ج ٢ ص ٢١٦، باب مناقب ابی عبیدہ) نسائی وغیرہ میں ہے۔ ”ان
العاقب والسيد اتياه رسول الله ﷺ فاراد ان يلاعنها (الحديث كذا في الدر المنثور ج ٢ ص ٣٨) ”یعنی عاقب اور سید دو شخص تھے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے۔ جن سے مباہلہ کرنا حضرت نے چاہا تھا۔ اگر طرفین میں جماعت شرط ہوتی تو کم سے کم دس بیس صحابہ کو آپ ساتھ لیتے اور کفاروں سے بھی فرماتے کہ تمہارے بھی دس بیس علماء کو بلاؤ تاکہ میں مباہلہ کروں۔ تم صرف دو ہی شخص ہو۔ اس لئے میں مباہلہ کرنا نہیں چاہتا۔ جہاں آفتاب صداقت چمکتا ہوتا ہے۔ حیلوں کے تنگ وتاریک غاروں میں چھپے رہنا کب گوارا ہوتا ہے۔ اس کا تو مقتضائے ذاتی یہ ہے کہ کسی طرح بلند ہو کر خفاش طبیعتوں سے عرصۂ جہان کو خالی کردے۔ مقصود مباہلے سے یہی ہے کہ جھوٹے لوگ بددعاء اور لعنت کے خوف سے ہٹ دھرمی چھوڑ دیں اور سچے اپنی صداقت کی وجہ سے کامیاب ہوں۔ چونکہ آدمی کو اپنی اولاد اور خاندان کی تباہی کا صدمہ اپنی تباہی سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے ذکور واناث کو مباہلے میں ساتھ رکھنا حصول مقصود میں زیادہ تر موثر ہوگا۔ اسی وجہ سے حضرت نے صاحبزادی اور صاحبزادوں کو ہمراہ لیا اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نساء سے مراد یہاں لڑکیاں ہیں اور چونکہ حضرت کو یہ بات معلوم ہو گئی تھی کہ وہ لوگ جھوٹے ہیں۔ مباہلے پر ہرگز جرات نہ کر سکیں گے۔ اس وجہ سے ان کو یہ فرمایا بھی نہیں کہ تم بھی اپنی اولاد کو لے آؤ۔ غرض کہ جب انہوں نے حضرت کے جزم وصداقت کو دیکھا اور اپنی افتراء پردازی پر بھی نظر ڈالی تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ دوہری لعنت فریقین کی خالی نہ جائے گی۔ بہت سے خاندانوں کو تباہ کر دے گی۔ اس لئے وہ اس درخواست پر مجبور ہوئے کہ جس قدر روپیہ بطور جزیہ ہر سال کے لئے مقرر کیا جائے۔ منظور ہے اور پورے قبیلے کی طرف سے ادا کرنے کو ہم حاضر ہیں۔ مگر مباہلے سے معاف کئے جائیں۔ جیسا کہ اس قول سے واضح ہے۔ نعطيك ماسالتنا فابعث معنا ر جلا امینا (البخاری ج ٢ ص ٦٢٩، باب قصة اهل نجران والمسلم ج ٢ ص ٢٨٢، باب من فضائل ابی عبیدہ بن الجراح)“ اس سے ایک بات اور معلوم ہوئی کہ مباہلہ قطعی فیصلہ ہوتا ہے۔ اس لئے کہ جب وہ مقابلہ پر تیار نہ ہوئے تو خود ان کے دلوں نے انصاف کر لیا کہ ہم ہار گئے اور صلح پر مجبور ہو گئے۔ ورنہ انہوں نے ابتداء مباہلے کی کوئی درخواست یا معاہدہ نہیں کیا تھا۔ جس کے عدم ایفاء کے معاوضہ میں زرکثیر جزیہ کا اپنے ذمہ لیا۔ بلکہ حضرت نے ان سے مباہلے کو فرمایا تھا اگر مباہلہ فیصلہ نہ سمجھا جاتا تو وہ صاف کہہ دیتے کہ حضرت ہم نے کب اس کی درخواست کی تھی جو ہم پر یہ لازم کیا جا رہا ہے۔ غرض اس سے معلوم ہوا کہ دونوں فریقوں میں سے جو فریق مباہلہ چاہے دوسرے پر وہ لازم ہو جاتا ہے اور نہ کرنے کی صورت میں وہ جھوٹا سمجھا جائے گا۔ جیسے مدعی
علیہ کے انکار قسم سے مدعی کا حق ثا مرزا قادیانی کا جھوٹ پر ہونا ثابت ہو فریق مخالف میرا کاذب ہے سو وہ صرف سچے اور جھوٹے کی تمیز ہو جائے۔ اس ۔ (آل عمران: ٦١) ” سے ظاہر ہے ک میں ہوں یا میرا مخالف دونوں میں س دے۔ اس سے ظاہر ہے کہ جھوٹے پر ساتھ ایک مجمع کو گواہ کر کے خدائے ت کر دے۔ دوسری لعنت مقابل کی جا مقام میں فرماتے ہیں کہ سچے کی دعاء ض پر رعب غالب ہو جاتا ہے۔ جس سے ہے۔ اس کی تصدیق آیت لعان سے ب کی تہمت لگائے اور عورت اس سے ان ہے کہ پہلے مرد چار بار قسم کھا کر کہے ک جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ ا پانچویں بار کہے کہ اگر مرد سچا ہو تو مجھ پ کہ میں اس کو جھوٹا نہیں سمجھتی۔ شاید اس خیال کر لیا ہے۔ یا اس قسم کی کوئی اور با کہ لعان کرے یا مرد کی تصدیق کرے۔ میں مقرر کی گئی ہے کہ جھوٹا لعنت کے خ الغرض مباہلے میں جو لعنة الله ع مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اپنے مقابل پر لعنت ہے۔ پھر مقابل اس کے جواب کہ طرفین سے مار پیٹ ہو کر بجائے م دعاء ہوتی ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو م نہیں سمجھتے۔ اس پر معارف ودقائق کا
علیہ کے انکار قسم سے مدعی کا حق ثابت ہوجاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ انکار کی وجہ سے مرزا قادیانی کا جھوٹ پر ہونا ثابت ہو گیا اور یہ جو فرماتے ہیں کہ دونوں فریق کو یقین چاہئے کہ فریق مخالف میرا کاذب ہے سو وہ صرف حیلہ ہے۔ ابھی معلوم ہوا کہ مباہلے سے مقصود یہی ہے کہ سچے اور جھوٹے کی تمیز ہو جائے۔ اس لئے کہ ”ثم نبتهل فنجعل لعنة الله علی الکاذبين (آل عمران:٦١)“ سے ظاہر ہے کہ دونوں فریق کمال تضرع وزاری سے دعاء کریں کہ الٰہی خواہ میں ہوں یا میرا مخالف دونوں میں سے جو جھوٹا ہو اس پر تو لعنت کر اور اس کے خاندان کو تباہ کر دے۔ اس سے ظاہر ہے کہ جھوٹے پر دوہری لعنت ہوتی ہے۔ ایک وہ جو جان بوجھ کر تضرع کے ساتھ ایک مجمع کو گواہ کر کے خدائے تعالیٰ سے کہتا ہے کہ مجھ پر لعنت کر اور میرے خاندان کو تباہ کر دے۔ دوسری لعنت مقابل کی جانب سے جو صدق دل سے نکلتی ہے اور مرزا قادیانی بھی کئی مقام میں فرماتے ہیں کہ سچے کی دعاء ضرور قبول ہوتی ہے۔ غرض کہ اس دوہری لعنت سے جھوٹے پر رعب غالب ہو جاتا ہے۔ جس سے وہ جرأت نہیں کر سکتا اور سب لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ جھوٹا ہے۔ اس کی تصدیق آیت لعان سے بھی ہوتی ہے جو سورۂ نور میں ہے کہ جب مرد اپنی عورت پر زنا کی تہمت لگائے اور عورت اس سے انکار کرے تو لعان پر فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ پہلے مرد چار بار قسم کھا کر کہے کہ میں اس دعوے میں سچا ہوں اور پانچویں بار کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد عورت پر ضرور ہوتا ہے کہ وہ بھی چار بار قسم کھا کر پانچویں بار کہے کہ اگر مرد سچا ہو تو مجھ پر خدا کا غضب آئے۔ اس موقع میں اگر عورت یہ حیلہ کرے کہ میں اس کو جھوٹا نہیں سمجھتی۔ شاید اس کو اشتباہ ہو گیا ہے کہ تاریکی میں دوسری عورت کو دیکھ کر میرا خیال کر لیا ہے۔ یا اس قسم کی کوئی اور بات بتائی تو مقبول نہیں۔ بلکہ قید کی جائے گی۔ اس وقت تک کہ لعان کرے یا مرد کی تصدیق کر لے اس سے بھی معلوم ہوا کہ لعنت صرف اس غرض سے طرفین میں مقرر کی گئی ہے کہ جھوٹا لعنت کے خوف سے فریق مقابل کی تصدیق کر لے اور فیصلہ ہو جائے۔ الغرض مباہلے میں جو لعنة الله علیٰ الکاذبین کہا جاتا ہے۔ اس سے یہ مقصود نہیں جو مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اپنے مقابل کو جھوٹا سمجھ کر اس پر لعنت کرے اور یہ کہے کہ تو جھوٹا ہے۔ تجھ پر لعنت ہے۔ پھر مقابل اس کے جواب میں کہے تو جھوٹا ہے اور لعنت تجھ پر ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ طرفین سے مار پیٹ ہو کر بجائے مباہلہ مقاتلہ ہو جائے گا۔ جس سے شریعت روکتی ہے۔ بلکہ یہ دعاء ہوتی ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھی پر لعنت ہو۔ حیرت ہے مرزا قادیانی ایسی موٹی بات کو بھی نہیں سمجھتے۔ اس پر معارف ودقائق کا دعویٰ ہے۔ اب ہم اس بات پر بھی دلیل پیش کرتے ہیں کہ
مرزا قادیانی جو مباہلے سے ہٹ گئے اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ انہوں نے اپنے فریق مخالف کو کاذب نہیں سمجھا ان کے اقوال سے ظاہر ہے کہ وہ مخالفوں کو کیا سمجھتے ہیں۔ (عصائے موسیٰ ص ١٤٤ تا ١٤٦) میں ایک فہرست ان کی تصنیفات سے نقل کی ہے۔ جن الفاظ اور القاب سے مخالفین کو یاد کرتے ہیں منجملہ ان کے چند یہ ہیں۔ اول الکافرین، دشمن اللہ ورسول کے، بے ایمان، حق و راستی سے منحرف، جھوٹے کی نجاست کھائی، جھوٹ کا گوہ کھایا، زندیق، سچائی چھوڑنے کی لعنت انہیں پر برستی ہے، لعنت کی موت، منافق، ہامان، ہالکین، یہودی سیرت، علیم نعال، لعن اللہ الف الف مرۃ، مخالف اور مکذبون پر لعنت پڑی ہے جو دم نہیں مار سکتے۔ مکذبون کے دل پر خدا کی لعنت پس میں نے اشتہار دے دیا ہے جو شخص اس کے بعد سیدھے طریق سے میرے ساتھ معاملہ نہ کرے اور نہ تکذیب سے باز آئے وہ خدا کی لعنت اور فرشتوں کی لعنت اور تمام صلحا کی لعنت کے نیچے ہیں۔ اب دیکھئے کہ مخالفین کو جھوٹا سمجھا یا نہیں اور لعنت کا تو اشتہار ہی دے دیا۔ پھر مباہلے میں اس کے سوا اور کیا رکھا تھا۔ اس کے بعد مباہلے سے انکار کرنے کی وجہ سوائے اس کے اور کیا ہو سکتی ہے کہ دوہری لعنت سے گھبرا گئے۔ جس سے یک طرفہ فیصلہ ہو گیا۔ اب باتیں بنانے سے کیا ہوگا۔ جب مرزا قادیانی کا یہی خیال تھا کہ مباہلے میں فریق مقابل کو جھوٹا کہنا اور لعنت کرنا ہوتا ہے تو یہ دونوں کام تو ہمیشہ جاری ہیں۔ صرف ایک منٹ کے لئے تضییع اوقات ہی سمجھ کر مقابلے میں مباہلہ کر لیتے۔ اگر چہ طرفین سے قسما قسمی ہونے کی وجہ سے فیصلہ تو کیا ہوتا۔ مگر ان کے اتباع کو یہ کہنے کا موقع تو ملتا کہ مرزا قادیانی بھی مباہلے میں ٹلے نہیں رہے۔ اندرونی سزا وہ جس کے حصے میں ہوتی وقت پر ہو رہتی اور جو یہ (ازالۃ الاوہام ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢١) پر لکھتے ہیں کہ ”اب عقلمند سوچ سکتا ہے کہ اگر مباہلہ اور ملاعنہ کے بعد صاعقہ قہر الٰہی فرقۂ مبطلہ پر ضروری الوقوع ہے تو کیا اس کا بجز اس کے کوئی اور نتیجہ ہوگا کہ یک دفعہ خدائے تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ہلاک کر دے گا۔“
مرزا قادیانی کو اگر یہ خوف ہوتا تو کسی پر لعنت ہی نہ کرتے اور جب خود بھی لعنت بکثرت کرتے ہیں اور دوسرے بھی ان پر کیا کرتے ہیں۔ جس کی ان کو شکایت ہے تو اس صورت میں ملاعنہ خود ہی ہو گیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ فقط ملاعنہ سے دنیوی عذاب نہیں ہوتا اور حضرت ﷺ نے جو فرمایا کہ یہود مباہلہ کرتے تو ہلاک ہو جاتے وہ حضرت کا معجزہ تھا۔ البتہ مباہلے سے جھوٹے کے لئے عذاب فوری کا استحقاق ہو جاتا ہے اور اس کو دنیوی عذاب کا خوف بھی لگا رہتا ہے۔ اس لئے وہ مباہلہ پر راضی نہیں ہو سکتا۔
اس سے زیادہ لطف کی بات یہ ہے کہ جو فرماتے ہیں اگر مباہلہ کے وقت فریق مخالف
حق پر لعنت کروں تو کس طور سے کروں۔ مرزا قادیانی کو اب تک حق کے معنی کی طرف توجہ کرنے کا اتفاق ہی نہیں ہوا۔ حضرت! حق مقابل باطل ہے۔ اسی وجہ سے اہل اسلام کہتے ہیں کہ ہمارا دین حق ہے اور اس کے مخالف ادیان کو ادیان باطلہ کہتے ہیں۔ پھر جب آپ مخالفین کو مخالف حق فرما رہے ہیں۔ تو ان کو کاذب سمجھنے میں کیوں تامل کیا گیا اور طرفہ یہ کہ آپ کو الہام بھی ہو چکا ہے کہ جتنے ان کے منکر ہیں۔ سب کافر ہیں۔ جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص ٨٥٥، خزائن ج ٣ ص ٥٦٥) میں لکھتے ہیں یہ الہام مجھ کو ہوا ۔ ” و ان یتخذونک الا ھزوا اھذا الذی بعث اللہ قل یا ایھا الکفار انی من الصادقین یعنی وہ لوگ مجھے ٹھٹھا کرتے ہیں کہ کیا اسی کو اللہ نے بھیجا ہے۔ ان سے کہہ دے اے کافرو میں سچا ہوں ۔“ اب دیکھئے کہ جب اللہ نے ان سے کہہ دیا کہ تو سچا ہے اور مقابلے کے لوگ جھوٹے ہیں بلکہ کافر ہیں تو اب مباہلے میں کیا تامل تھا۔ پورا پورا سامان وہی ہو گیا جو آنحضرت ﷺ کے وقت ہوا تھا۔ حق تعالیٰ نے جب حضرت کو خبر دی فوراً مباہلے کے لئے میدان میں تشریف لے گئے۔ پھر مرزا قادیانی کو بھی تو خدا ہی نے خبر دی کہ وہ صادق ہیں اور ان کے مقابل کاذب بلکہ کافر ہیں تو بجائے سبقت کے یہ پسپائی کیسی۔ اگر اہل انصاف اسی ایک واقعہ کو پیش نظر کر لیں تو مرزا قادیانی کے جملہ دعاوی کے فیصلہ کے لئے کافی ہے۔ مشت نمونہ از خروارے۔
اس سے ظاہر ہے کہ قل یا ایھا الکفار والا الہام ان پر ہوا ہی نہیں۔ خلاصہ یہ کہ کوئی حیلہ بن نہیں سکتا اور جو حیلے بنا رہے ہیں وہ انکار مباہلے سے بھی زیادہ تر بد نما قابل شرم ہیں۔
اور یہ جو فرماتے ہیں کہ اختلافی مسائل میں مباہلہ جائز نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں فریقین کا استدلال قرآن و حدیث سے ہوتا ہے اور معانی محتملہ نصوص یا ضعف و قوت احادیث یا اختلاف طرق استدلال وغیرہ کی وجہ سے اختلاف جو پیدا ہوتا ہے اس کی وجہ سے کسی جانب قطعیت نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے مباہلے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ مرزا قادیانی کے ساتھ اختلاف ایسا نہیں ہے وہ جو اپنی عیسویت ثابت کرتے ہیں۔ ممکن نہیں کہ اس کا ذکر کہیں قرآن یا حدیث میں مل سکے اور جو علامات عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں۔ وہ مرزا قادیانی میں پائی نہیں جاتیں اور ان کی کارروائیوں سے مسلمانوں کو یقین کلی ہے کہ مثل اور جھوٹے نبیوں کے وہ بھی ایک مدعی نبوت ہیں اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ خدا نے مجھے الہاموں اور وحی سے بلکہ بے پردہ ہو کر بالمشافہ فرما دیا کہ تو خلیفۃ اللہ اور عیسیٰ موعود وغیرہ ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ ان کو بھی اپنے حق پر ہونے کا اور مخالفین کے باطل پر ہونے کا یقین کامل ہے۔ جب دونوں جانب اس بات کی قطعیت
اور یقین ہے کہ ہم حق پر ہیں اور ہمارا مخالف باطل پر ہے تو اب مباہلہ کرنے اور جھوٹے پر لعنت کرنے میں کیا تامل ہے۔ اگر یہ دعویٰ ان کا فی الواقع صحیح اور سچا تھا تو مباہلے کی درخواست پہلے ان کی جانب سے ہوتی۔ بلکہ بغیر مباہلے کے خود یہ کہتے کہ اگر اس دعویٰ میں میں جھوٹا ہوں تو خدا مجھ پر لعنت کرے۔ بخلاف اس کے عجیب بات یہ ہے کہ مخالفین تو مباہلے پر آمادہ ہیں اور مرزا قادیانی گریز کر رہے ہیں اور فرماتے کیا ہیں کہ میں ان کو کاذب نہیں سمجھتا۔ جس کا مطلب یہ ہوا میں جو کہتا ہوں جھوٹ ہے۔ کیونکہ جب مخالف کاذب نہ ہوں تو لامحالہ مرزا قادیانی کی طرف الزام کذب عائد ہوگا۔ غرض کہ مرزا قادیانی کے دعوے کا قیاس اختلافی مسائل پر ہو نہیں سکتا۔ یہاں یہ بھی غور کرلیا جائے کہ اگر بالفرض ابومنصور کشف کے ساتھ مرزا قادیانی کو مباہلہ کا اتفاق ہوتا اور وہ یہ کہتا کہ میں آپ کو کاذب نہیں سمجھتا، بلکہ مخطی سمجھتا ہوں۔ اس لئے مباہلہ نہیں کرتا تو کیا اس کا یہ قول صحیح ہوسکتا اور مرزا قادیانی منظور فرما لیتے۔ اس فرضی مثال کو بھی جانے دیجئے نصارائے نجران اگر آنحضرتﷺ کے مقابلے میں کہتے کہ ہم آپ کو کاذب نہیں سمجھتے۔ بلکہ مخطی سمجھے ہیں۔ اس لئے مباہلہ نہیں کرتے تو کیا ان کی بات چل جاتی آخر وہ بھی بڑے ہوشیار تھے۔ اگر ذرا بھی موقع پاتے تو لاکھوں روپیوں کا نقصان کیوں گوارا کرتے۔ بلکہ اگر یہ احتمال قابل پذیرائی ہوتا تو خود آنحضرتﷺ اپنی طرف سے ان کو فرما دیتے۔
الحاصل مباہلے میں نہ فریق مقابل کا لحاظ ہے نہ مسئلہ کی خصوصیت بلکہ مدار اس کا جزم پر ہے۔ جس کو کسی بات کا جزم ہوتا ہے۔ وہ مباہلے کے واسطے مستعد ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اس روایت سے ظاہر ہے جو (کنز العمال ج١١ ص٢٤، حدیث نمبر ٣٠٥٥٩) میں ہے۔ ”عن ابن عباس قال ودت انی وهولاء الذین یخالفونی فی الفریضة نجتمع فنضع ایدینا علی الرکن ثم نبتهل فنجعل لعنة الله علی الکاذبین“ یعنی ابن عباسؓ فرماتے ہیں مجھے خواہش ہے کہ میں اور وہ لوگ جو مسائل فرائض میں مخالفت کرتے ہیں۔ کعبہ کے پاس جمع ہوں اور رکن پر اپنے ہاتھ رکھ کر عاجزی سے دعاء کریں اور یہ کہیں کہ اللہ جھوٹوں پر لعنت کرے اور (روح المعانی ج٣ ص ١٦٨) میں آیت مباہلہ کی تفسیر میں یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ ابن عباسؓ نے کسی مسئلے میں ایک شخص کے ساتھ مباہلہ کیا اور آیت مباہلہ کو پڑھ کر کمال تضرع سے دعاء کی کہ جو جھوٹا ہے اس پر لعنت ہو اور عبداللہ ابن مسعودؓ کا مباہلہ بھی ثابت ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص٥٩٦، خزائن ج٣ ص٤٢٢) میں لکھتے ہیں کہ ”ابن مسعود نے جو مباہلے کی درخواست کی تھی وہ ایک معمولی آدمی تھا۔ اگر جزئی اختلاف میں مباہلے
کی درخواست کی تو سخت خطاء کی ۔” ابن مسعودؓ کی جلالت شان تمام صحابہ میں مسلم ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کی نسبت فرمایا کہ اگر بغیر مشورت کے کسی کو میں امیر کرتا تو ابن مسعودؓ کو کرتا۔ حضرت کے ساتھ ان کو وہ خصوصیت تھی کہ اہل بیت میں سمجھے جاتے تھے اور ان کا تبحر علمی اور کثرت روایت کتب حدیث واقوال محدثین سے ثابت ہے۔ جیسا کہ اصابہ فی احوال الصحابہ اور اسد الغابہ وغیرہ میں مذکور ہے۔ مرزا قادیانی ایسے جلیل القدر صحابی کی نسبت لکھتے ہیں کہ وہ ایک معمولی آدمی تھا۔ یعنی بے علم محض اسی لئے مسئلہ مباہلہ میں انہوں نے سخت خطاء کی۔ مرزا قادیانی نے جہاں ان کی خطاء کا ذکر کیا تھا کوئی روایت یا حدیث بھی لکھ دیتے کہ انہوں نے اس کے خلاف کیا تا کہ مرزا قادیانی کا مبلغ علم بھی معلوم ہو جاتا۔
الغرض جلیل القدر صحابہ کے عمل سے مرزا قادیانی کا وہ عذر بھی جاتا رہا کہ اختلافی مسائل میں مباہلہ جائز نہیں۔ مگر حیرت یہ ہے کہ مرزا قادیانی اس مسئلے کو اب تک اختلافی سمجھ رہے ہیں۔ نئی نبوت قائم کر لی۔ اس کے مخالفین کافر ٹھہرائے گئے مباینت ملت کا حکم قائم کر دیا گیا۔ اگر اس پر بھی اختلاف ہی سمجھا جائے تو مسیلمہ کذاب کی نبوت کو بھی اختلافی کہنا پڑے گا۔ حالانکہ کوئی مسلمان اس کا قائل نہیں۔ اب رہا یہ کہ مباہلے کے پہلے ازالۂ شبہات اور مباحثہ ضرور ہے۔ سو وہ بھی خلاف واقع ہے۔ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے نصارائے نجران سے نہ مباحثہ فرمایا نہ ازالۂ شبہات بلکہ ابتداء یہی ارشاد ہوا کہ اگر ہماری بات نہیں مانتے ہو تو مباہلہ کرو۔ جیسا کہ آیت شریفہ ”فان حاجوك فقل اسلمت (آل عمران:٢٠)‘‘ سے ظاہر ہے اور مباحثہ تو مرزا قادیانی کے ساتھ سالہائے سال سے جاری ہے۔ مناظرے سے تجاوز کر کے نوبت مکابرہ اور مجادلہ تک پہنچ گئی ہے۔ آخر نوبت بایں جا رسید کہ جناب عبدالحق صاحب نے جو فریق مقابل ہی کے ایک شخص ہیں۔ مباہلے پر فیصلہ قرار دیا اور بفضلہ تعالیٰ ان کی ہمت اور رعب صداقت سے فیصلہ ہو ہی گیا۔ الحمد لله على ذالك!
یہاں ایک بات اور بھی معلوم کر لی جائے کہ مرزا قادیانی کا جوش غضب فریق مقابل پر اور لعنت کی بوچھاڑ اور تکفیر وغیرہ کا حال ابھی معلوم ہوا اور مباہلے کے وقت کمال تہذیب اور دبی زبان سے جو فرمایا وہ بھی معلوم ہوا کہ میں فریق مقابل کو کاذب نہیں کہتا۔ اگر مباہلے میں ان پر لعنت کروں تو کس طرح کروں اس سے ظاہر ہے کہ جس قدر آپ نے مخالفین پر لعنت وغیرہ کی ہے۔ سب واپس لیا اس کا مسلمانوں کو شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ اب رہیں وہ حدیثیں جو لعنت اور تکفیر کے باب میں وارد ہیں سو وہ مرزا قادیانی اور خدائے تعالیٰ کا درمیانی معاملہ ہے۔ اس میں
ہمیں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ اگرچہ اس باب میں احادیث بکثرت وارد ہیں۔ مگر ہم صرف دو ہی اس غرض سے نقل کرتے ہیں کہ ہمارے احباب مرزا قادیانی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ ”عن ابن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ ایما رجل قال لاخيه كافر فقد بآبها احد هما “(بخاری ج ٢ ص ٩٠١، باب ما الكفر اخاه بغير تاويل فهو كما قال )اور(مسلم ج١ ص ٥٧، باب بيان حال ايمان من قال لاخيه المسلم ياكافر)میں ہے کہ فرمایا نبی ﷺ نے جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے تو وہ تکفیر ان دونوں سے کسی ایک کی ضرور ہو جاتی ہے۔ ”عن ابن عباسؓ قال قال رسول الله ﷺ انه من لعن شيئاً ليس له باهل رجعت اللعنة عليه (رواه الترمذى ج ٢ ص ١٩ ، باب ماجاء في اللعنة ، ابوداؤد ج ٢ ص ١٩٢ ، باب في اللعن ذكر هما في المشكوة)“ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے جو شخص کسی پر لعنت کرے۔ جس کا وہ مستحق نہیں تو لعنت اسی لعنت کرنے والے پر لوٹتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ لعنت و تکفیر اگر بے محل کی جائے تو لعنت کرنے والا بھی کافر اور ملعون ہو جاتا ہے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کہا گیا ہے۔
جب احادیث صحیحہ سے تکفیر اور لعنت کا لوٹنا بحسب اقرار مرزا قادیانی ثابت ہے تو دوسرے تمام الفاظ مندرجہ فہرست مذکورہ سب اس میں داخل ہیں۔ جیسا کہ عرب کا مقولہ ہے کہ كل الصيد في جوف الفراء!
الحاصل کئی واقعوں کی شہادت سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی بڑے بڑے معرکوں اور علماء کے مقابلے میں گریز کرتے رہے۔ حالانکہ نبی کی یہ شان نہیں کہ کسی کے مقابلے میں گریز کرجائے۔
گرچہ اس موقع میں آنحضرت ﷺ کے حالات کا لکھنا بالکل نامناسب تھا۔ لیکن الضرورات تبیح المحظورات پر عمل کر کے چند واقعات ہم نقل کرتے ہیں۔ جن کو امام سیوطیؒ نے خصائص کبریٰ میں کتب معتبرہ سے نقل کیا ہے۔ ان سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ جو کوئی کسی بدنیتی یا امتحان یا الزام کی غرض سے حضرت ﷺ کے روبرو آیا اس کا جواب پورے طور سے دیا گیا۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ آپ کسی کے مقابلے سے ہٹ گئے ہوں۔
- ١...... ایک بار بنی تمیم کے قبیلے کے خطیب و شاعر وغیرہ حسب عادت عرب
مقابلہ کی غرض سے حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب ان کے خطیب نے خطبہ پڑھا تو حضرت ﷺ نے ثابت بن قیسؓ کو حکم فرمایا کہ خطبہ پڑھیں اور جب ان کے شاعر نے اشعار پڑھے تو حضرت ﷺ نے حسان بن بحر و قافیہ میں جواب دیا۔ غرضیکہ ح دندان شکن جواب دیئے کہ مخالفین
- ٢...... ابی بن خلف
خاص اسی غرض سے آیا تھا کہ فقط حض جب وہ معرکے میں گھوڑے کو دو ہوں۔ حضرت ﷺ ان کو ہٹا کر خو جہنم ہو گیا۔
- ٣...... رکانہ نامی
ڈرتے تھے۔ اس نے حضرت ﷺ ہو جائیں تو دس بکریاں لا دوں گا۔ وعزیٰ نے میری مدد نہیں کی اور آپ چاہا آپ ﷺ نے فرمایا اس کی آپ ﷺ کے بلانے پر آ جائے تو درخت زمین چیرتا فوراً رو برو آ کھڑ
- ٤...... عامر بن طف
یہ مشورہ کر کے حضرت کے پاس آ اور اربد قتل کر ڈالے۔ چنانچہ عامر مشغول کیا اور اربد نے چاہا کہ تلو قربت میں اربد پر بجلی گری اور عام النار ہو گئے یہ باطنی مقابلہ تھا۔
- ٥...... ایک بار ابو
وقت نماز میں مشغول اور قرآن با آ معلوم ہوتا کہ آواز اپنے پیچھے کی جا ہر شخص نے بہت کوشش کی کہ آواز مایوس ہو کر لوٹ گئے۔ بہر حال کفار
پڑھے تو حضرت ﷺ نے حسان بن ثابت سے جواب دینے کو کہا۔ چنانچہ فی البدیہ انہوں نے اسی بحر وقافیہ میں جواب دیا۔ غرضیکہ حضرت ﷺ کی تائید باطنی سے اسلامی خطیب و شاعر نے ایسے دندان شکن جواب دیئے کہ مخالفین بھی مان گئے اور بے اختیار کہہ اٹھے کہ ان کو غیبی تائید ہے۔
- ٢...... ابی بن خلف جو ایک مشہور جوانمرد شخص تھا۔ بڑی تیاری سے غزوہ احد میں
خاص اسی غرض سے آیا تھا کہ فقط حضرت ﷺ ہی سے مقابلہ کرے۔ حضرت ﷺ یہ سن چکے تھے۔ جب وہ معرکہ میں گھوڑے کو دوڑا کر حضرت ﷺ کے قریب پہنچ گیا صحابہ نے چاہا کہ حائل ہوں۔ حضرت ﷺ ان کو ہٹا کر خود آگے بڑھے اور ایک نیزہ اس کو ایسا مارا کہ جس سے وہ واصل جہنم ہو گیا۔
- ٣...... رکانہ نام ایک پہلوان نہایت قوی اور زور آور تھا۔ جس سے تمام عرب
ڈرتے تھے۔ اس نے حضرت ﷺ سے کشتی کی درخواست کی اور یہ شرط ٹھہرائی کہ اگر آپ غالب ہو جائیں تو دس بکریاں لا دوں گا۔ حضرت ﷺ نے تین بار اس کو پچھاڑا ہر بار وہ یہی کہتا کہ لات وعزیٰ نے میری مدد نہیں کی اور آپ کے معبود نے آپ کی مدد کی۔ جب وہ حسب وعدہ بکریاں دینا چاہا آپ ﷺ نے فرمایا اس کی ضرورت نہیں اسلام قبول کر۔ اس نے کہا کہ فلاں درخت آپ ﷺ کے بلانے پر آجائے تو میں اسلام قبول کرلوں گا۔ چنانچہ آپ ﷺ کے اشارے پر وہ درخت زمین چیرتا فوراً رو برو آ کھڑا ہوا اور واپسی کے حکم پر اپنے مقام پر چلا گیا۔
- ٤...... عامر بن طفیل اور اربد بن قیس جو کسی قبیلے کے سردار اور جوانمرد لوگ تھے۔
یہ مشورہ کر کے حضرت کے پاس آئے کہ عامر حضرت کو علیحدہ لے جاکر باتوں میں مشغول کرے اور اربد قتل کر ڈالے۔ چنانچہ عامر نے تخلیہ کے بہانے سے حضرت کو علیحدہ لے جاکر باتوں میں مشغول کیا اور اربد نے چاہا کہ تلوار کھینچے۔ اس کا ہاتھ خشک ہو گیا پھر وہ دونوں چلے گئے اور اسی قربت میں اربد پر بجلی گری اور عامر کے حلق میں غدود پیدا ہوا۔ غرض تھوڑے عرصے میں دونوں فی النار ہو گئے یہ باطنی مقابلہ تھا۔
- ٥...... ایک بار ابو جہل وغیرہ کفار حضرت کو قتل کے ارادے سے آئے۔ آپ اس
وقت نماز میں مشغول اور قرآن با آواز بلند پڑھ رہے تھے۔ ہر شخص آواز کی طرف قصد کرتا۔ مگر یہ معلوم ہوتا کہ آواز اپنے پیچھے کی جانب ہے فوراً مڑ جاتا۔ جب بھی آواز پیچھے ہی معلوم ہوتی۔ غرض ہر شخص نے بہت کوشش کی کہ آواز کے مقابل ہو کر ہاتھ چلائے۔ مگر وہ موقع کسی کے ہاتھ نہ آیا آخر مایوس ہو کر لوٹ گئے۔ بہر حال کفار کا غلبہ نہ ہو سکا۔
- ٦...... ایک بار کفار اذیت رسانی کی غرض سے حضرت کے پاس آئے۔ جب
قریب پہنچے تو سب کے ہاتھ بغیر رسی کے گردنوں پر بندھ گئے۔
- ٧...... نضر بن حارث نے حضرتﷺ کو کسی جنگل میں تنہا پا کر چاہا کہ حملہ
کرے۔ فوراً چند شیر نمودار ہو گئے جن سے ڈر کر بھاگ گیا۔
- ٨...... ایک روز کفار نے حضرت پر حملہ کرنا چاہا۔ غیب سے ایسی سخت ہیبت ناک
آواز آئی کہ سب بے ہوش ہو گئے اور اتنی دیر پڑے رہے کہ حضرت باطمینان نماز سے فارغ ہو کر گھر تشریف لے گئے۔
اس قسم کے اور بہت سے واقعات ہیں۔ جن کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں۔ غرض کہ احادیث متعددہ سے بتواتر ثابت ہے کہ ہر موقع میں حق تعالیٰ اپنے نبی کریمﷺ کی تائید غیب سے فرماتا اور حضرت کو اس کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔ بخلاف اس کے مرزا قادیانی کے یہاں معاملہ بالعکس ہے کہ مخالفین کو وہ اعتراض کے مواقع غیبی تائید سے ہاتھ آ جاتے ہیں۔ جن کے جواب میں مرزا قادیانی کا دماغ یاری نہیں دیتا۔ آخر زبان سے کام لینے لگتے ہیں۔ ایسے مغلظات سناتے ہیں کہ الامان یہ امر پوشیدہ نہیں کہ آدمی گالیاں اسی وقت دیتا ہے۔ جب جواب دینے سے عاجز ہو جاتا ہے۔ اذا ئیس الانسان طال لسانہ!
مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں کا حال معلوم ہوا کہ کس قدر تدابیر عمل میں لائی گئیں۔ باوجود اس کے ان کو وہ ثابت بھی نہیں کر سکے۔ چنانچہ الہامات مرزا کے عنوان پر لکھا ہے کہ ”اس رسالے میں مرزا قادیانی کے الہاموں پر مفصل بحث کر کے ان کو محض غلط ثابت کیا گیا ہے۔ اس کے جواب کے لئے طبع اول پر مرزا قادیانی کو مبلغ پانچ سو روپیہ انعام تھا۔ طبع ثانی پر ہزار کیا گیا۔ اب طبع ثالث پر پورا مبلغ دو ہزار کیا جاتا ہے۔ اگر وہ ایک سال تک جواب دیں تو انعام مذکور ان کے پیش کیا جائے گا۔“ و ان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودها الناس والحجارة“
(الہامات مرزا ص ٢ طبع سوم)
واضح رہے کہ رسالہ مذکورہ میں وہی الہامات ہیں جو پیش گوئیوں سے متعلق ہیں۔ جن کے اثبات پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے بار بار انعام کا وعدہ کیا۔ مگر مرزا قادیانی ثابت نہ کر سکے۔ جس سے ظاہر ہے کہ وہ الہامی پیش گوئیاں صرف دعویٰ ہی دعویٰ تھیں وقوع ایک کا بھی نہیں ہوا۔
اب چند وہ پیشین گوئیاں بھی دیکھ لیجئے جو مناسب حال انبیاء ہیں۔ خصائص کبریٰ میں امام سیوطیؒ نے معتبر حدیثوں کی کتابوں سے جو روایتیں نقل کی ہیں۔ اختصار کے لئے ان کا ماحصل یہاں لکھا جاتا ہے۔
انبیاء کی پیش گوئیاں
- ١...... بدر کے
جب دیکھا گیا تو ہر شخص کی لاش و
- ٢...... عتبہ بن
ایسا ہی ہوا۔
- ٣...... غزوہ ا
چڑھائی کی حضرتﷺ نے ف جائیں گے۔ ایسا ہی ہوا کہ ایک اور اس بدحواسی سے بھاگے کہ کہ
- ٤...... حضرت
فرمایا وہ اس کو پہچانتے نہ تھے۔ ا سے تمہارے جسم پر بال کھڑے تھا۔ مگر اس کو دیکھتے ہی تھوڑی د کر اس کو قتل کر ڈالا۔
- ٥...... عبدالر
روانہ کیا اور فرمایا کہ تمہارے ہات ایسا ہی ہوا۔
- ٦...... خالد ب
حضرتﷺ نے ان کے آنے
- ٧...... عامر آ
ہیں۔ کسی نے کہا عامرؓ ہیں فرما ﷺ کا سمجھ کر عرض کیا کہ اور چ سفر میں وہ شہید ہو گئے۔
- ٨...... حضرت
ہوں گے اور یہ خبر اس وقت د صدیقؓ کے کوئی حضرت کا رفیق
انبیاء کی پیش گوئیاں
- .......١ بدر کے روز حضرت ﷺ نے سردار قریش کے گرنے کی جگہ بتلا دی تھی۔
جب دیکھا گیا تو ہر شخص کی لاش وہیں پڑی تھی۔ جہاں اس کے گرنے کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔
- .......٢ عقبہ بن ابی وقاص کی نسبت فرمایا کہ وہ ایک برس کے اندر کفر پر مرے گا۔
ایسا ہی ہوا۔
- .......٣ غزوہ احزاب میں تقریباً تمام ملک عرب کے قبائل نے مدینہ منورہ پر
چڑھائی کی حضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایک ایسی ہوا چلے گی کہ وہ سب پریشان ہوکر بھاگ جائیں گے۔ ایسا ہی ہوا کہ ایسی سخت ہوا چلی کہ ان کے خیمے اڑ گئے۔ کجاوے زمین میں دھنس گئے اور اس بدحواسی سے بھاگے کہ کسی کو کسی کی خبر نہ تھی۔
- .......٤ حضرت ﷺ نے ابن بیح کو قتل کرنے کے لئے عبداللہ ابن انیسؓ سے
فرمایا وہ اس کو پہچانتے نہ تھے۔ اس لئے نشانی پوچھی فرمایا کہ جب تم اس کو دیکھو گے ہیبت اور خوف سے تمہارے جسم پر بال کھڑے ہو جائیں گے وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر کسی کا خوف کبھی غالب نہیں ہوتا تھا۔ مگر اس کو دیکھتے ہی تھوڑی دیر وہ حالت طاری رہی جو حضرت ﷺ نے فرمایا تھا میں نے پہچان کر اس کو قتل کر ڈالا۔
- .......٥ عبدالرحمن بن عوفؓ کو کچھ لشکر کے ساتھ آپﷺ نے دومۃ الجندل کو
روانہ کیا اور فرمایا کہ تمہارے ہاتھ پر وہ ملک فتح ہوگا وہاں کے بادشاہ کی لڑکی کو تم نکاح کرلو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
- .......٦ خالد بن ولیدؓ اسلام لانے کے لئے جب مدینے کی طرف روانہ ہوئے
حضرت ﷺ نے ان کے آنے کے پہلے ہی خبر دے دی کہ وہ آرہے ہیں۔
- .......٧ عامرؓ ایک رات اشعار پڑھتے جارہے تھے۔ حضرت ﷺ نے پوچھا یہ کون
ہیں۔ کسی نے کہا عامرؓ ہیں فرمایا اللہ عامرؓ پر رحم کرے۔ یہ سنتے ہی بعض صحابہ نے مطلب حضرت ﷺ کا سمجھ کر عرض کیا کہ اور چند روز ان سے ہمیں فائدہ اٹھانے کیوں نہ دیا یا رسول اللہ غرض اسی سفر میں وہ شہید ہوگئے۔
- .......٨ حضرت ﷺ نے پہلے ہی خبر دی تھی کہ روم اور فارس اور یمن مفتوح
ہوں گے اور یہ خبر اس وقت دی تھی کہ سوائے حضرت خدیجہ کبریٰؓ اور علی کرم اللہ وجہہ اور ابوبکر صدیقؓ کے کوئی حضرت کا رفیق اور غمخوار نہ تھا۔
- ٩...... ایک بار حضرت ﷺ نے خالد بن ولید سے فرمایا کہ چار سو بیس سوار لے کر
جاؤ اور اکیدر دومۃ الجندل کو گرفتار کر کے لے آؤ۔ انہوں نے عرض کیا ایسے بڑے شخص کا مقابلہ اتنے لوگ کیونکر کریں گے۔ فرمایا وہ شکار کو نکلے گا اس وقت اس کو گرفتار کر لینا۔ جب وہ وہاں پہنچے گاو وحشی اس کے قلعہ کے نیچے آیا۔ جس کو دیکھ کر وہ چند ہمراہیوں کے ساتھ شکار کے قصد سے اترا اور گرفتار کر لیا گیا۔
- ١٠...... ایک سفر میں تمام لشکر پیاسا ہو گیا اور پانی نہ تھا۔ علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا
کہ اس طرف جاؤ فلاں مقام میں ایک عورت ملے گی جو پانی اونٹ پر لے جا رہی ہے۔ اس کو لے آؤ وہ روانہ ہوئے اسی مقام میں وہ عورت ملی۔ اس کو لے آئے اور اس پانی سے تمام لشکر سیراب ہوا اور وہ کم نہ ہوا اس معجزے سے اس عورت کا کل قبیلہ مسلمان ہو گیا۔
- ١١...... غزوہ موتہ کے لئے جو لشکر روانہ کیا گیا تھا اس پر حضرت ﷺ نے زید بن
حارثہ کو امیر بنا کر فرمایا کہ اگر وہ شہید ہوں تو جعفر ابن ابی طالب امیر بنائے جائیں اور اگر وہ بھی شہید ہوں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو مسلمان مختار ہیں جس کو چاہیں امیر قرار دیں۔ وہاں ایک یہود کا عالم بھی موجود تھا۔ حضرت ﷺ کا ارشاد سن کر کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو یہ لوگ ضرور قتل ہوں گے۔ پھر جس روز وہاں معرکہ جنگ تھا۔ حضرت ﷺ صحابہ کو برابر خبر دے رہے تھے کہ زید نے رایت لیا۔ ہر چند شیطان نے ان کے دل میں وسوسے ڈالے۔ مگر انہوں نے کچھ توجہ نہ کی اور شہید ہو گئے۔ پھر فرمایا کہ جعفر نے رایت لیا ان کے بھی دل میں شیطان نے وسوسے ڈالے۔ مگر انہوں نے بھی کچھ التفات نہ کیا اور شہید ہو گئے۔ پھر فرمایا عبداللہ نے رایت لیا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ پھر خالد بن ولید نے خود مختاری سے رایت لیا یہ کہہ کر حضرت ﷺ نے دعاء کی الٰہی وہ تیری ایک تلوار ہے تو ہی اس کو مدد دے گا۔ اسی روز سے ان کا نام سیف اللہ قرار پایا۔ اس روایت سے ظاہر ہے کہ مغیبات پر حضرت ﷺ کو ایسی اطلاع ہوتی تھی کہ خواہ وہ ماضی ہوں یا مستقبل پیش نظر ہو جاتے تھے۔
- ١٢...... کسی سفر میں حضرت ﷺ کی ناقہ گم ہو گئی۔ لوگ اس کی تلاش میں پھر
رہے تھے ایک منافق نے کسی مجلس میں کہا کہ خدا ان کو ناقہ کا پتہ کیوں نہیں دیتا۔ یہ کہہ کر حضرت ﷺ کی مجلس میں آ گیا حضرت ﷺ نے فرمایا ایک منافق کہتا ہے خدا ناقے کا پتا نہیں دیتا۔ جاؤ فلاں مقام میں وہ ہے۔ اس کی مہار کسی درخت میں اٹک گئی ہے۔ غرض اس کو وہاں سے لے آئے اور وہ منافق مسلمان ہو گیا۔
- ......١٣...... جویہ
میں اچھے دو اونٹ کسی پہاڑی ہیں جو فلاں مقام میں چھپاد
- ......١٤...... جم
کی خبر دی۔
- ......١٥...... شی
ارادہ کیا تو میں بھی اس غرض وے کہ حضرت ﷺ کو قتل کر معرکہ کارزار گرم ہوا اور حض پہنچاہی چاہتا تھا کہ ایک بر اور ساتھ ہی حضرت ﷺ نزدیک ہوا حضرت ﷺ دے وہ کہتے ہیں کہ اقسام برکت سے فوراً وہ سب دفع آگے کفار کو قتل کرتا جاتا تھا فتح کے بعد جب حضرت ﷺ بیان فرمایا۔ جس سے میں
اب اہل انصا یہ پیشین گوئیاں کیسی کھلی کھلی کی ضرورت ہے۔ اسی قس فرما دیئے ہیں۔ چنانچہ اس قدراً مقدوراً ) اور (مسلم قال قام فینا رسول القيامة الا حدث به حـ وانه ليكون منه الشـ اذا غاب عنه ثم اذرام
- ١٣....... جویریہ کا باپ اپنی لڑکی کے فدیہ کے واسطے چند اونٹ لے کر چلا راستے
میں اچھے دو اونٹ کسی پہاڑی میں چھپا دیئے۔ جب باقی اونٹ پیش کئے تو فرمایا۔ وہ دو اونٹ کہاں ہیں جو فلاں مقام میں چھپا دیئے گئے ہیں۔ یہ سن کر وہ مسلمان ہو گیا۔
- ١٤....... جب ستر صحابہ بئر معونہ پر شہید ہوئے اسی وقت حضرت نے ان کی شہادت
کی خبر دی۔
- ١٥....... شیبہ بن عثمانؓ کہتے ہیں کہ جب مکہ کو فتح کر کے حضرت ﷺ نے حنین کا
ارادہ کیا تو میں بھی اس غرض سے حضرت ﷺ کے ساتھ ہولیا کہ جب لڑائی کی گڑبڑ ہوگی تو دھوکا دے کر حضرت ﷺ کو قتل کرنے کا موقع مل جائے گا۔ جس سے اپنی بڑی نام آوری ہوگی۔ جب معرکہ کارزار گرم ہوا اور حضرت ﷺ دلدل سے اترے تو میں تلوار کھینچ کر حضرت ﷺ کے قریب پہنچا ہی چاہتا تھا کہ ایک برق سا آگ کا شعلہ سامنے آ گیا۔ جس سے میری آنکھیں جھپک گئیں اور ساتھ ہی حضرت ﷺ میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اے شیبہ میرے نزدیک آ جاؤ میں اور نزدیک ہوا حضرت ﷺ نے دست مبارک میرے سینے پر پھیر کر فرمایا اللہ اس کو شیطان سے پناہ دے وہ کہتے ہیں کہ اقسام کے برے خیال میرے دل میں جمے ہوئے تھے۔ مگر دست مبارک کی برکت سے فوراً وہ سب دفع ہوگئے اور حضرت کی ایسی محبت دل میں پیدا ہوگئی کہ حضرت کے آگے آگے کفار کو قتل کرتا جاتا تھا بخدا اگر اس وقت میرا باپ میرے سامنے آتا تو اس کو بھی مار ڈالتا۔ پھر فتح کے بعد جب حضرت ﷺ خیمہ مبارک میں تشریف فرما ہوئے تو میرا ایک ایک خیال مجھ سے بیان فرمایا۔ جس سے میں نے مغفرت چاہی اور حضرت نے غفر اللہ لک فرمایا۔
اب اہل انصاف ان احادیث میں جو بطور مشتے نمونہ از خروارے ہیں۔ غور فرمائیں کہ یہ پیشین گوئیاں کیسی کھلی کھلی ہیں۔ نہ ان میں کوئی شروط بچاؤ کے لئے ہیں نہ داؤ پیچ نہ بات بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی قسم کی پیشین گوئیوں میں حضرت نے قیامت تک کے واقعات بیان فرمادیئے ہیں۔ چنانچہ اس روایت سے واضح ہے جو (بخاری ج ٢ ص ٩٧٧، باب قولہ وكان امر الله قدراً مقدورا ) اور (مسلم ج ٢ ص ٣٩٠، کتاب الفتن و اشراط الساعة ) میں ہے۔ ”عن حذيفة قال قام فينا رسول الله ﷺ مقاما ماترك شيئًا يكون فى مقامه ذلك الى قيام القيامة الا حدث به حفظه من حفظه ونسيه من نسيه قد علمه اصحابى هولاء وانه ليكون منه الشى قد نسيته فاراه فاذكره كما يذكر الرجل وجه الرجل اذا غاب عنه ثم اذا راه عرفه “ یعنی یہ صحابہ جانتے ہیں کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے خطبہ
چڑھا اور قیامت تک جو ہونے والا ہے سب بیان فرما دیا۔ کسی نے اس کو یاد رکھا اور کوئی بھول گیا۔ بعض ایسے امور کا وقوع ہوتا ہے۔ جو خیال سے جاتے رہے ہیں۔ مگر دیکھتے ہی ان کا خیال آ جاتا ہے کہ حضرت اس کی خبر دے چکے ہیں۔ جیسے غائب جب سامنے آ جاتا ہے تو چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیا جاتا ہے۔ کتب احادیث و تواریخ دیکھنے سے اس کا انکار نہیں ہو سکتا کہ حضرت ﷺ نے جو پیشین گوئیاں کی ہیں اب تک ان کا ظہور برابر ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ اسی ایک پیشین گوئی کو دیکھ لیجئے جو دجالوں سے متعلق ہے۔ ”عن ابی ھریرة ان رسول الله ﷺ قال لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلثين كلهم يزعم انه رسول الله (رواه البخاری ج ١ ص ٥٠٩، باب علامات النبوة فى الاسلام)“ اور (ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧، باب ذكر الفتن ودلائله ) اور (ترمذی ج ٢ ص ٤٥، باب لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون ) میں ہے۔ ”سيكون في امتي كذابون كلهم يزعم انه نبی الله وانا خاتم النبيين لا نبي بعدی“ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی کہ تیس دجال جھوٹے نہ پیدا ہولیں۔ ان میں ہر ایک کا دعویٰ نبوت اور رسالت کا ہوگا۔ یاد رکھو کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔
دیکھئے اس پیش گوئی کا وقوع حضرت ﷺ ہی کے زمانے سے شروع ہو گیا اور بہت سے دجال اب تک نکلے۔ جنہوں نے رسالت کا دعویٰ کیا اور معلوم نہیں ابھی کتنے باقی ہیں۔ اب مرزا قادیانی جو رسالت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگر ان کی تصدیق کی جائے تو بخاری اور مسلم کی احادیث کی تکذیب ہوئی جاتی ہے۔ کیونکہ ان روایتوں میں صاف موجود ہے کہ حضرت کے بعد جو شخص رسالت کا دعویٰ کرے وہ دجال ہے۔ اب مرزا قادیانی ہی انصاف سے شرعی فیصلہ فرما دیں کہ مسلمانوں کو ان کے حق میں کیا اعتقاد رکھنا چاہئے۔ اگر یہ روایتیں صحاح کے سوا دوسری کتابوں میں ہوتیں تو یہ کہنے کو موقع مل سکتا کہ شاید یہ وہ احادیث صحیح نہ ہوں وہ تو بخاری اور مسلم وغیرہ میں ہیں۔ جن کی نسبت کل اہل سنت و جماعت کا یہ اعتقاد ہے۔ اصح الکتب بعد کتاب اللہ البخاری ثم مسلم اگر تھوڑی دیر کے لئے یہ کتابیں بے اعتبار سمجھی جائیں تو مرزا قادیانی کا دعویٰ عیسویت خود باطل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ عقلی تو ہے ہی نہیں کہ قیامت کے پہلے مسیح پیدا ہوگا اور نہ قرآن میں اس کی صراحت ہے تو ناگزیر احادیث پیش کرنے کی ضرورت ہوگی اور جب بخاری اور مسلم قابل اعتبار نہ ہوں تو وہ احادیث بھی موضوع اور جھوٹی سمجھی جائیں گی۔ پھر تیس دجالوں والی حدیث قطع نظر اس کے کہ بخاری و مسلم میں ہے۔ مرزا قادیانی کے اقرار کے موافق بھی صحیح ہے۔ اس لئے کہ وہ
فرماتے ہیں۔ جو حدیث قرآن کی تائید میں ہو وہ صحیح ہوتی ہے۔ اب دیکھئے کہ وہ حدیث آیت شریفہ خاتم النبیین کی تائید میں ہے۔ اس لئے بحسب اقرار مرزا قادیانی اس زمانے میں رسالت کا دعویٰ کرنے والا تیس دجالوں سے ایک دجال ضرور سمجھا جائے گا۔ غرضیکہ جس کو نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان ہوگا اور یہ حدیث سن لے گا کہ جو کوئی میرے بعد رسالت کا دعویٰ کرے وہ دجال و کذاب ہے تو ممکن نہیں کہ مرزا قادیانی کو رسول کہے اور پھر نبی آخر الزمان ﷺ کے امتی ہونے کا بھی دعویٰ کرے۔
ان پیشین گوئیوں کو دیکھئے کہ سوائے بیان واقعات کے کوئی اس قسم کی فضول بات نہیں۔ جو مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں میں ہوتی ہیں کہ اگر وہ صحیح نہ نکلیں تو اپنے پر لعنت ہے۔ منہ کالا کیا جائے اور پھانسی دی جائے اور اشتہار پر اشتہار دیا جا رہا ہے کہ وہ صحیح نکلی وہ صحیح نکلی اور کوئی جھوٹی ثابت کر دے تو لاکھ روپیہ دیں گے اور چیلنج دیتا پھرتا ہوگا۔ پھر جھوٹ ثابت کرنے کو کوئی جائے تو مغلظات سنائی جاتی ہیں اور مباحثے تک نوبت ہی نہیں پہنچتی اور ان پیشین گوئیوں کی تکذیب میں رسالہ لکھا گیا تو باوجود وعدہ انعام کے سالہائے سال گذر گئے۔ مگر جواب نہ ہوسکا۔ حالت تو یہ اور اس پر دعویٰ نبوت کا۔ مرزا قادیانی کو تمام معجزات میں سے ایک پیشین گوئی کا ایسا نسخہ ہاتھ لگ گیا ہے کہ ہر وقت پیشین گوئی کا کچھ نہ کچھ دھندا لگا رہتا ہے اور یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ حضرت معجزہ صرف پیشین گوئی کا نام نہیں۔ یہ کام تو ہر ملک کے منجم ہندو، نصاریٰ وغیرہم بھی ہمیشہ کیا کرتے ہیں۔ پھر جتنی پیشین گوئیاں بحسب اتفاق ان کی صحیح نکلتی ہیں۔ آپ کی صحیح نہیں نکلتیں اور اگر بالفرض اتنی صحیح نکلیں بھی تو منجموں پر بھی فضیلت ثابت نہیں ہو سکتی۔ چہ جائیکہ نبوت معجزہ تو وہ چیز ہے کہ اس کے مقابلے میں تمام مخلوق عاجز ہو جائے نہ نجوم اس کی ہمسری کر سکتا ہے نہ عقل وغیرہ۔
معجزات کا بیان
اب ہم چند معجزات یہاں بیان کرتے ہیں۔ جن سے ناظرین کو معلوم ہو جائے گا کہ معجزہ کیا چیز ہے۔
امام سیوطیؒ نے خاص نبی کریم ﷺ کے معجزات میں ایک کتاب بڑی بڑی تین جلدوں میں لکھی ہے۔ جس کا نام خصائص کبریٰ ہے۔ اس کے دیکھنے سے یہ بات ظاہر ہے کہ حضرت کے معجزات کی ابتداء ولادت شریف سے پہلے ہی ہو گئی تھی اور وہ سلسلہ انتقال شریف تک برابر جاری رہا اور اہل بصیرت کے نزدیک تو وہ سلسلہ اب تک بھی منقطع نہیں ہے۔ امتحان اور درخواست کے وقت معجزے کا ظاہر ہونا تو نبوت کا لازمہ ہی ہے۔ علاوہ اس کے جب حضرت کو عالم علوی یا سفلی
میں کسی چیز کی ضرورت متحقق ہوتی تو بلا تکلف اس میں تصرف فرماتے ۔ اس قسم کے چند واقعات ذیل میں خصائص کبریٰ سے لکھے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ کتاب چھپ گئی ہے۔ اس لئے احادیث کا ترجمہ لکھ دیا گیا۔ اگر کسی صاحب کو شک ہو تو وہ کتاب دیکھ لیں۔
- ١....... جب کبھی لشکر کو پانی کی ضرورت ہوئی۔ حضرت نے کبھی کسی ظرف میں
ہاتھ رکھ دیا جس سے پانی جوش مارنے لگا۔ کبھی خشک کنوئیں میں کلی کر دی۔ کبھی کوئی نشانی مثل تیر کے اس میں رکھوا دی۔ کبھی ایک آدھ مشک یا ڈولچی میں برائے نام تھوڑا سا پانی منگوا لیا۔ غرض کہ جس طرح چاہا تھوڑے سے پانی کو غیبی مدد سے اتنا کثیر بنا دیا کہ ہزار ہا آدمی اور جانور اس سے سیراب ہوئے اور کبھی فوراً ابر آکر لشکر پر کافی پانی برسا دیا۔ ایک صحابیؓ نے شکایت کی کہ اپنے کنوئیں میں کھاری پانی نکلا ہے۔ حضرت ﷺ نے تھوڑا پانی اس میں ڈالنے کو دیا۔ جس سے اس کا پانی ایسا میٹھا ہو گیا کہ ملک یمن میں اس کا نظیر نہ تھا۔ چونکہ عرب میں پانی کی بہت قلت ہے اس لئے پانی سے متعلق بہت معجزات ہیں۔
- ٢....... اسی طرح کھانے میں برکت ہونے کے واقعات بھی بکثرت ہیں۔ مثلاً
کبھی ایک روٹی جو ١ آدمی کو کفایت کر سکتی تھی دست مبارک کی برکت سے اسی (٨٠) شخصوں کو کافی ہوئی اور پھر بھی بچ رہی۔ کبھی ایک پیالہ دودھ ایک بڑی جماعت کے لئے کافی ہو گیا۔ عصیدہ کی ایک صحنک سے کل مسجد شریف کے نمازی سیر ہو گئے۔
- ٣....... ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ چند دانے کھجور کے میرے پاس تھے۔ حضرت ﷺ
نے اس پر ایک جماعت کثیر کی دعوت کی بعد فراغت کے جو بچ رہے میں نے ان کو اپنے توشہ دان میں اٹھا رکھے۔ ان میں ایسی برکت ہوئی کہ ہمیشہ کھاتا کھلاتا رہا۔ صرف راہِ خدا میں پچاس وسق دیئے۔ جس کے سیکڑوں من ہوتے ہیں۔
- ٤....... بار ہا حضرت ﷺ کے دست مبارک میں کنکریوں سے تسبیح اور رسالت کی
گواہی سنی گئی۔ ایک لکڑی کا حطم تھا۔ جس کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا کرتے۔ جب منبر خطبہ کے لئے تیار ہوا اور حضرت اس پر تشریف لے گئے وہ حطم بآواز بلند رونے لگا۔ جس کو تمام حضار مجلس نے سنا پھر جب حضرت نے اس کو تسکین دی تو چپ ہوا۔ حضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا وہ قابل ملامت نہیں ہر چیز کا میری مفارقت میں یہی حال ہوتا ہے۔
- ٥....... ایک بار حضرت ﷺ نے حضرت عباسؓ اور ان کی اولاد کے لئے دعا کی
اس وقت در و دیوار سے آمین کی آواز آرہی تھی۔
- ٦....... جنگ بدر اور ح
مٹھی خاک وہیں سے اٹھا کر کفار کی طر گویا ان کو اندھا بنا دیا۔
- ٧....... عکاشہؓ کی تلوار
دی وہ چمکتی ہوئی تیغ براں بن گئی۔ جس
- ٨....... لڑائیوں میں
واب دیا اور اچھی ہو گئی۔ کسی کے ہاتھ لگا دیا اور اچھے ہو گئے۔
- ٩....... عمار بن یاسرؓ ک
کر فرمایا ”یا نار کونی برداً و آگ عمار پر ایسی سرد ہو جا جیسے ابراھیم
- ١٠....... اسوط مہی جس
اس جرم میں آگ میں ڈال دیا کہ ح یہ صرف محبت کی برکت تھی۔
- ١١....... اندھیری را
کسی کی لکڑی روشن ہو جاتی۔ کسی کا پھر وہ شخص متفرق ہوتے تو ہر ایک ۔
- ١٢....... حضرت ﷺ
ہوتا تو درختوں کو فرماتے کہ ملائیں فرماتے اور وہ چلے جاتے۔
- ١٣....... بڑے بڑ
حضرت ﷺ کے دیکھتے ہی سجدے کرتے۔ اکثر اونٹ حضرت ﷺ حضرت ﷺ رفع شکایت فرما دیتے پانی نہ تھا۔ لوگ پریشان تھے کہ یکا تمام لشکر سیراب ہو گیا۔
- ٦....... جنگ بدر اور حنین میں جب آتش قتال گرم ہوئی تو حضرت ﷺ نے ایک
مٹھی خاک وہیں سے اٹھا کر کفار کی طرف پھینکی۔ اس نے یہ کام کیا کہ کل کفار کی آنکھوں میں جا کر گویا ان کو اندھا بنا دیا۔
- ٧....... عکاشہؓ کی تلوار جنگ بدر میں ٹوٹ گئی۔ حضرت ﷺ نے ایک لکڑی ان کو
دی وہ چمکتی ہوئی تیغ براں بن گئی۔ جس سے بہت سارے کفار کو انہوں نے قتل کیا۔
- ٨....... لڑائیوں میں یہ اتفاق تو بارہا ہوا کہ کسی کی آنکھ نکل پڑی ہتھیلی سے اس کو
داب دیا اور اچھی ہو گئی۔ کسی کے ہاتھ پیر ٹوٹ گئے یا زخمی ہوئے ان پر ہاتھ پھیر دیا یا آب دہن لگادیا اور اچھے ہوگئے۔
- ٩....... عمار بن یاسر کو کفار نے جلانا چاہا۔ حضرت ﷺ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیر
کر فرمایا ”یانار کونی برداً و سلاماً علیٰ عمار کما کنت علی ابراهیم“ یعنی اے آگ عمار پر ایسی سرد ہو جا جیسے ابراہیم علیہ السلام پر ہوئی تھی چنانچہ وہ محفوظ رہے۔
- ١٠....... اسود عنسی جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا جب صنعاء پر غالب ہوا تو ذوہیبؓ کو
اس جرم میں آگ میں ڈال دیا کہ حضرت ﷺ پر ایمان لائے تھے۔ مگر آگ کا ان پر کچھ اثر نہ ہوا یہ صرف محبت کی برکت تھی۔
- ١١....... اندھیری راتوں میں صحابہؓ حضرت ﷺ کے پاس سے مکانوں کو جاتے تو
کسی کی لکڑی روشن ہو جاتی۔ کسی کا کوڑا، کسی کی انگشت، کسی کے لئے آسمان سے روشنی اتر آتی۔ پھر وہ اشخاص متفرق ہوتے تو ہر ایک کے ساتھ روشنی علیحدہ ہو جاتی۔
- ١٢....... حضرت ﷺ کو جنگل میں حاجت بشری کی ضرورت ہوتی اور وہاں آسرا نہ
ہوتا تو درختوں کو فرماتے کہ مل جائیں۔ وہ مل جاتے پھر بعد فراغت ان کو اپنی اپنی جگہ جانے کا حکم فرماتے اور وہ چلے جاتے۔
- ١٣....... بڑے بڑے سرکش اور شریر اونٹ جو کسی کو پاس آنے نہ دیتے۔
حضرت ﷺ کے دیکھتے ہی سجدے میں گر جاتے اور حضرت ﷺ جو کچھ فرماتے اس کی تعمیل کرتے۔ اکثر اونٹ حضرت ﷺ کی خدمت میں آ کر اپنے مالکوں کی شکایت کرتے اور حضرت ﷺ رفع شکایت فرما دیتے نافع کہتے ہیں کہ حضرت ﷺ ایک ایسے مقام پر اترے جہاں پانی نہ تھا۔ لوگ پریشان تھے کہ یکا یک ایک بکری حضرت ﷺ کے پاس آ گئی جس کے دودھ سے تمام لشکر سیراب ہو گیا۔
- ١٤....... بارہا یہ اتفاق ہوا کہ دبلی دبلی اونٹنیاں اور بکریاں جن میں نام کو دودھ نہ
تھا۔ حضرت ﷺ کا دست مبارک لگتے ہی دودھ دینے لگیں۔
- ١٥....... سفینہؓ کہتے ہیں کہ میں کسی جنگل میں بھٹک کر راستے سے دور جا پڑا تھا
ناگہان ایک شیر مقابل ہو گیا۔ میں نے کہا اے شیر میں رسول اللہ ﷺ کا غلام ہوں یہ سنتے ہی وہ دم ہلانے لگا اور میرے ساتھ ہو لیا۔ یہاں تک کہ مجھے راستے پر پہنچا کر چلا گیا یہ صرف غلامی کا اثر تھا۔
- ١٦....... جابرؓ نے اپنی پلی ہوئی بکری ذبح کر کے حضرت ﷺ کی دعوت کی۔ تناول
طعام کے بعد آپ ﷺ نے اس کی ہڈیوں کو جمع کروا کے ان پر اپنا دست مبارک رکھ کر کچھ فرمایا فوراً وہ بکری زندہ ہو گئی۔
- ١٧....... ایک عورت نے حضرت ﷺ کی خدمت میں اپنا لڑکا لا کر کہا کہ جب سے
یہ پیدا ہوا ہے کبھی بات نہیں کی۔ حضرت ﷺ نے اس لڑکے سے فرمایا کہ میں کون ہوں۔ اس نے جواب دیا انت رسول اللہ ﷺ !
- ١٨....... ایک شخص اپنے مجنون لڑکے کو حضرت ﷺ کی خدمت میں لایا۔ آپ ﷺ
نے دست مبارک اس کے چہرے پر پھیرا اور دعاء کی فوراً اس کا جنون جاتا رہا اور دوسرے سے زیادہ عقلمند ہو گیا۔
- ١٩....... کسی مقام میں حضرت ﷺ تشریف لے جارہے تھے۔ صحابہ پر اسباب کا
اٹھانا بار ہو گیا۔ حضرت ﷺ نے ایک شخص سے کہا تم اٹھالو۔ انہوں نے بہت سا سامان اٹھانے کے لئے جمع کیا۔ حضرت ﷺ نے فرمایا تم سفینہ یعنی کشتی ہو۔ اس روز سے ان کا نام سفینہ ہو گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھ میں اتنی طاقت پیدا ہو گئی کہ چھ سات اونٹ کا بوجھ اٹھا لیتا ہوں اور کچھ بار نہیں ہوتا۔
- ٢٠....... حکم بن العاص نے مسخرگی سے حضرت ﷺ کو چڑانے کے لئے اپنا چہرہ
بگاڑا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ایسا ہی رہ مرنے تک اس کا چہرہ ویسے ہی بگڑا رہا۔
- ٢١....... ایک بار حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضرت کی خدمت میں مشغول تھے اور
قریب تھا کہ آفتاب غروب ہو جائے۔ حضرت نے آفتاب سے ٹھہرے رہنے کے لئے فرمایا تو وہ ایک ساعت تک اور ٹھہرا رہا۔ جس سے انہوں نے باطمینان نماز عصر ادا کی اور معجزہ شق القمر تو اظہر من الشمس ہے۔
روایت مذکورہ اور ان کے سوا احادیث کثیرہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے
تصرفات عناصر جمادات، نباتات کہ معجزات صرف مخالفین کے ایما کے کوئی ضرورت پیش آتی اور تعـ آنحضرت ﷺ نے کبھی یہ دعویٰ نہ مجھے دی ہے۔ اب مرزا قادیانی چاہتے ہیں حق تعالیٰ سے باتیں کـ سے پردہ بھی کرا دیتا ہے اور یہ بھی باوجود اس کے اس وقت تک ایک
(ازالۃ الاوہام ص ٨٠)
یہ کہا تھا کہ آسمانی نشان کی اپنی طـ بالا تر ثابت ہو خواہ وہ کوئی امر ہوا مرزا قادیانی کیوں گھبراتے ہیں تقرب ہوتا تو خدا سے پوچھ کر ڈ کن فیکون مل چکا ہے تو ہے۔ سب ابلہ فریبیاں ہیں اور ایسی بد نما تدابیر سے کام لیا کہ ا ہے کہ کوئی پیشین گوئی صحیح نہیں نکلی میں فلاں لفظ کے یہ معنی تھے اور خدا تعالیٰ سے اتنا تقرب حاصل سے کہا ہوتا کہ حضرت معجزات تو ہے اور علاوہ اس کے صفت کن اتنا بھی کام نہ نکلا کہ مخالفوں کو سا مجھے اس وقت صرف ایک بات آجائے کہ کسی کو اس میں کلام مکاری اور دجالی سے تو نجات ہـ الحاصل نبوت کی علا
تصرفات عناصر جمادات، نباتات، حیوانات سے لے کر اجرام سماویہ تک نافذ تھے اور یہ شرط نہ تھی کہ معجزات صرف مخالفین کے ایمان لانے کی غرض سے دکھلائے جائیں۔ بلکہ جب حضرت ﷺ کے کوئی ضرورت پیش آتی اور تصرف کرنا منظور ہوتا تو بلا تکلف تصرف فرماتے۔ باوجود اس کے آنحضرت ﷺ نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ خداے تعالیٰ نے اپنی خاص کن فیکون کی صفت مجھے دی ہے۔ اب مرزا قادیانی کو دیکھئے کہ نبوت کے دعوے کے ساتھ یہ بھی دعویٰ ہے کہ جب چاہتے ہیں حق تعالیٰ سے باتیں کر لیتے ہیں اور حق تعالیٰ ان کے سامنے ایسے طور پر آتا ہے کہ منہ سے پردہ بھی گرا دیتا ہے اور یہ بھی دعویٰ ہے کہ خاص صفت کن فیکون ان کو عطاء ہوئی ہے باوجود اس کے اس وقت تک ایک معجزہ بھی نہیں دکھلایا۔
(ازالۃ الاوہام ص٧٨٠، خزائن ج٣ص٥٢٢) میں لکھتے ہیں کہ ”میں نے ڈاکٹر صاحب کو یہ کہا تھا کہ آسمانی نشان کی اپنی طرف سے کوئی تعیین ضروری نہیں۔ بلکہ جو امر انسانی طاقتوں سے بالاتر ثابت ہو خواہ وہ کوئی امر ہو اسی کو آسمانی نشان سمجھ لینا چاہئے ۔“ معلوم نہیں تعیین معجزات سے مرزا قادیانی کیوں گھبراتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان کو خدا پر بھروسہ نہیں۔ اگر ذرا بھی تقرب ہوتا تو خدا سے پوچھ کر دعویٰ سے کہتے کہ تم جو چاہو میں باذن خالق کر سکتا ہوں اور جب کن فیکون مل چکا ہے تو پوچھنے کی بھی ضرورت نہ رہی۔ مگر یاد رہے کہ دراصل کچھ بھی نہیں ہے۔ سب ابلہ فریبیاں ہیں اور چند پیشین گوئیاں جو برائے نام بیان کی جاتی ہیں۔ ان میں بھی ایسی بدنما تدابیر سے کام لیا کہ کوئی عاقل اور متدین ان کو پسند نہ کرے گا۔ ہر طرف سے شور مچا ہے کہ کوئی پیشین گوئی صحیح نہیں نکلی اور آپ تاویل پر تاویل جمائے جاتے ہیں کہ فلاں پیشین گوئی میں فلاں لفظ کے یہ معنی تھے اور اس میں فلاں شرط لگی ہوئی تھی وغیرہ وغیرہ۔ حیرت ہے کہ جب خدا تعالیٰ سے اتنا تقرب حاصل ہے کہ جب چاہتے ہیں بلا حجاب بات کر لیتے ہیں تو کبھی تو اس سے کہا ہوتا کہ حضرت معجزات تو درکنار جو تدبیریں کرتا ہوں ان سے اور زیادہ رسوائی ہوتی جاتی ہے اور علاوہ اس کے صفت کن فیکون عطاء ہونے سے تو بدنامی اور بھی دو بالا ہوگئی اور اس سے اتنا بھی کام نہ نکلا کہ مخالفوں کو ساکت کردوں۔ اگر اسی کا نام کن فیکون ہے تو وہ آپ ہی کو مبارک مجھے اس وقت صرف ایک بات کی ضرورت ہے کہ کوئی ایسی بات مجھ سے دعویٰ سے ظہور میں آ جائے کہ کسی کو اس میں کلام کرنے کی گنجائش نہ رہے۔ اگر سحر کا الزام لگے تو قبول ہے۔ مگر مکاری اور دجالی سے تو نجات حاصل ہو۔
الحاصل نبوت کی علامت معجزہ ہے اور اسی کی تصدیق کے لئے پیشین گوئیوں کی فکر کی
گئی۔ مگر مسیح نہ نکلنے سے ثابت ہو گیا کہ خدائے تعالیٰ کے ساتھ ان کو کوئی خاص قسم کا غیر معمولی سچا تعلق نہیں۔ جس سے ظاہر ہے کہ وہ عیسیٰ موعود نہیں ہو سکتے۔ یہاں تک ان کے دعوؤں کا بیان تھا جو اپنی عیسویت پر انہوں نے پیش کیا ہے۔
قادیانی تحقیقات باعث شرم
اب ہم مرزا قادیانی کی چند تحقیقات بطور مشتے نمونہ از خروارے پیش کرتے ہیں۔ جن کے دیکھنے سے ان کی جرأت، بے باکی، خلاف بیانی، کلام میں تعارض کسی قدر معلوم ہو جائے۔
تحریر فرماتے ہیں کہ ”ہمارے بھائی مسلمان کسی ایسے زمانے سے کہ جب سے بہت سے عیسائی دین اسلام میں داخل ہوئے ہوں گے اور کچھ کچھ حضرت مسیح کی نسبت اپنے مشرکانہ خیال ساتھ لائے ہوں گے۔ اس بے جا عظمت دینے کے عادی ہو گئے ہوں گے۔“ کذا فی (ازالۃ الاوہام ص ٢٥٢، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧) مشرکانہ خیالات سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہے۔ جو صحیح صحیح احادیث سے ثابت ہے اور جن کی ابتداء صحابہ ہی کے زمانے سے ہو چکی ہے۔
اور لکھتے ہیں کہ ”اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال وغیرہ کی حقیقت...... موبمو منکشف نہ ہوئی ہو...... تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“ (ازالۃ الاوہام ص ٦٩٢، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
یہ الزام نبی ﷺ پر اس وجہ سے لگایا جا رہا ہے کہ احادیث نبویہ مسلمانوں کو مرزا قادیانی پر ایمان لانے سے روک رہی ہیں۔
درازی ایام زمانہ، دجال میں ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اس کی نسبت لکھتے ہیں ۔ ”یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ایسے امور میں جو عملی طور پر سکھلائے نہیں جاتے اور نہ ان کے جزئیات خفیہ سمجھائی جاتی ہیں۔ انبیاء سے بھی اجتہاد کے وقت امکان سہو و خطاء ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٨٧، ٦٨٨، خزائن ج ٣ ص ٤٧١)
مطلب یہ ہوا کہ افضل الانبیاء ﷺ نے اس بات میں خطاء کی ہے۔ جس پر مرزا قادیانی مطلع ہوئے۔ نعوذ باللہ من ذالک اور دوسرے مقام میں لکھتے ہیں کہ ”جب تک خدائے تعالیٰ نے خاص طور پر تمام مراتب کسی پیش گوئی کے آپ پر نہ کھولے تب تک آپ نے اس کی کسی شق خاص کا کبھی دعویٰ نہ کیا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣٠٦، خزائن ج ٣ ص ٢٦٠)
دیکھئے دونوں بیانوں میں کس قدر تعارض ہے۔ خود غرضی کی کچھ انتہاء بھی ہے جہاں کسی پیش گوئی سے نفع اٹھانا مقصود ہوا تو تعریف کر دی اور جو صراحتاً مخالف ہوئی کہہ دیا کہ نبی ﷺ نے اس میں خطاء کی معاذ اللہ لکھتے ہیں کہ ”خدا نے مجھے بھیجا اور میرے پر خاص الہام سے ظاہر کیا کہ
مسیح ابن مریم فوت ہوچکا ہے۔
(ازالۃ الاوہام ص ٥٦١، خزائن ج ٣ ص ٤٠٢)
مسیلمہ کذاب سے لے کر آج تک جتنے جھوٹے نبی گزرے ہیں۔ سب کا یہی دعویٰ تھا کہ خدا نے ہم کو بھیجا۔ مگر خاتم النبیین پر ایمان لانے والے ایسے نبیوں پر کب ایمان لا سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو تو الہام کا دعویٰ ہی دعویٰ ہے۔ اسحق اخرس نے تو اس کو مدلل بھی کر دکھایا۔ کتاب الملل میں علامہ جوزی نے لکھا ہے کہ یہ شخص مغربی تھا۔ تمام آسمانی کتابیں پڑھ کر اصفہان کے مدرسے میں آیا اور دس برس تک خاموش رہا۔ یہاں تک کہ گونگا مشہور ہو گیا۔ ایک رات اٹھ کر اہل مدرسہ کو جمع کر کے کہا کہ آج دو فرشتے میرے پاس آئے اور مجھ کو جگا کر میرے منہ میں ایک ایسی چیز ڈالی جو شہد سے زیادہ شیریں اور برف سے زیادہ سرد تھی۔ پھر مجھے نبوت دی۔ ہرچند میں کہتا رہا کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ مگر انہوں نے نہ مانا اور معجزہ یہ دیا کہ باوجود گونگا ہونے کے میں فصیح ہو گیا۔ پھر مجھے انہوں نے قرآن، توریت، انجیل اور زبور پڑھنے کو کہا۔ میں نے فوراً تمام کتابیں ان کو سنا دیں اور وہ مجھے یاد ہوگئیں۔ چنانچہ اب بھی پڑھ سکتا ہوں۔ اب جو شخص خدا پر اور محمد ﷺ پر اور مجھ پر ایمان لائے اس کو تو نجات ہے اور جو کوئی عذر کرے یاد رکھو کہ وہ محمد ﷺ پر بھی ایمان نہیں لایا۔ غرضیکہ یہ سن کر لاکھوں آدمی اس کے تابع ہوگئے اور اصفہان سے بصرہ اور عمان تک وہ قابض ہو گیا۔ چنانچہ اب تک اس کے اتباع موجود ہیں۔ غرضیکہ جھوٹوں کی عادت ہے کہ الہاموں کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہ کیا کرتے ہیں۔
اور لکھتے ہیں کہ ”جب تم مسیح کا مردوں میں داخل ہونا ثابت کر دو گے اور عیسائیوں کے دلوں میں نقش کر دو گے تو اس دن سمجھ لو کہ عیسائی مذہب آج دنیا سے رخصت ہوگیا۔ یقیناً سمجھ لو کہ جب تک ان کا خدا فوت نہ ہو ان کا مذہب بھی فوت نہیں ہوسکتا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥٦١، خزائن ج ٣ ص ٤٠٢)
ابلہ فریبوں کی کچھ انتہاء ہے۔ مرزا قادیانی یہ تدبیر اس غرض سے بتا رہے ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کی زبانوں سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت نکل آئے تو اس کے ساتھ ہی فرمائیں گے کہ لیجئے وہ تو مر گئے اور احادیث سے عیسیٰ کا آنا ثابت ہے۔ اب مجھی کو عیسیٰ سمجھ لو۔ مرزا قادیانی پچیس تیس برس سے یہی کہہ رہے ہیں کہ عیسیٰ مر گیا، مر گیا، مر گیا اور ان کے ساتھ بقول ان کے لاکھ آدمی یہی کہہ رہے ہیں مگر اب تک عیسائیوں کا مذہب فوت ہونا تو کجا اس کو جنبش تک نہ ہوئی۔ بلکہ عیسائی ہنستے ہیں کہ یہ بے وقوف کیسے ہیں۔ ہمارے رد کے ضمن میں اپنے دین کو بھی رد کر رہے ہیں۔ انہیں کے اقرار سے ان کے دین کی کتابیں بے اعتبار ہو رہی ہیں۔ پھر
جس دین کا مدار ایسی ساقط الاعتبار کتابوں پر ہو تو اس کے بے بنیاد ہونے میں کیا تامل ہے۔
عیسائی تو خود ہی قائل ہیں کہ عیسیٰ فوت ہو کر کفارہ ہو گئے۔ جس کی تصدیق مرزا قادیانی بھی کر رہے ہیں اور ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں کہ بے شک وہ فوت ہو گئے اور سولی پر بھی چڑھائے گئے۔ جس کی نفی خدائے تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ (نساء:١٥٧)“ پھر جب عیسائی خود ان کے فوت ہونے کے معترف ہیں تو وہ ان کے دلوں میں نقش ہونے میں کیا تامل رہا۔ بعد موت ان کا زندہ ہونا سو وہ آیت شریفہ ”وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ (آل عمران:١٦٩)“ سے استدلال کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں باوجود مخالفت قرآن وحدیث کے جس کے مرتکب مرزا قادیانی ہیں۔ اس طریقے سے عیسائیوں کا مقابلہ ہو نہیں سکتا۔ مرزا قادیانی کو عیسائیوں کے رو سے کوئی تعلق نہیں ان کو عیسیٰ کی موت سے صرف اس قدر نفع حاصل کرنا ہے کہ خود عیسیٰ بن جائیں۔ لکھتے ہیں کہ ”کہیں عیسائیوں کے خدا کو مرنے بھی دو کب تک اس کو حی لا یموت کہتے جاؤ گے کچھ انتہا بھی ہے ۔“
(ازالۃ الاوہام ص٤٦٩، خزائن ج٣ ص٣٥١)
ان کو حی لا یموت تو کسی نے بھی نہیں کہا۔ صرف انتظار اس کا ہے کہ کہیں تیس دجالوں کا دور جلد ختم ہو جائے اور اصلی دجال نکل آئے۔ اس کے بعد وہ تشریف لائیں گے اور اس کو قتل کر کے خود بھی انتقال کر جائیں گے۔ اگر انیس سو سال ہی کی حیات پر مرزا قادیانی حی لا یموت کا اطلاق کرتے ہیں تو ملائکہ کے لئے کون سا لفظ تجویز کریں گے۔ وہ تو لاکھوں سال سے زندہ ہیں۔ بہر حال حی لا یموت کا لفظ جاہلوں کو دھوکا دینے کے لئے اس مقام میں مرزا قادیانی نے چسپاں کر دیا۔
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر زندہ موجود رہنا اور قیامت کے قریب زمین پر اترنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے تو کہتے ہیں کہ ”راویوں کا تزکیہ نفس اور طہارت ثابت نہیں اور ان کی راست بازی اور خدا ترسی اور دیانت...... یا انکشاف تام ثابت نہیں...... کیوں جائز نہیں کہ انہوں نے عمداً یا سہواً بعض احادیث کی تبلیغ میں خطاء کی ۔“
(ازالۃ الاوہام ص٥٣٠، خزائن ج٣ ص٣٨٥)
اور نیز لکھتے ہیں کہ ”احادیث تو انسان کے دخل سے بھری ہوئی ہیں...... حدیثوں میں ضعف کے وجوہات اس قدر ہیں کہ ایک آدمی ادھر نظر ڈال کر ہمیشہ اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ ان
کو تقویت دینے کے لئے کم سے کم نص قرآنی کا کوئی اشارہ ہو۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥٢٩، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)
اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ ”اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں۔ واظن لا یغنی من الحق شیئاً“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٥٢، خزائن ج ٣ ص ٤٥٣)
حاصل ان تحریرات کا یہ ہوا کہ صحابہ اور راویوں نے عمداً یا سہواً احادیث حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام میں غلطی کی ہے اور احادیث صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہوں گی۔ جس سے کوئی حق بات ثابت نہیں ہوسکتی۔ پھر جب نیچریوں نے اسی قسم کی تقریروں سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی حدیثوں کو غلط ٹھہرا کر مرزا قادیانی کے دعووں کو فضول اور بے بنیاد ثابت کیا تو لکھتے ہیں کہ ”گو اجمالی طور پر قرآن اکمل واتم کتاب ہے۔ مگر ایک حصہ کثیرہ دین کا اور طریقہ عبادت وغیرہ ...... کا احادیث ہی سے ہم نے لیا ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥٥٦، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)
اور لکھتے ہیں کہ ”مسیح ابن مریم کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے باتفاق قبول کرلیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیر دینا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے جس کو خدا نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بہرہ اور حصہ نہیں دیا اور باعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی۔ اس لئے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو اس کو محال اور ممتنعات میں داخل کرتے ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)
اور لکھتے ہیں کہ ”سلف خلف کے لئے بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنے والی ذریت کو ماننی پڑتی ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣٢٥، خزائن ج ٣ ص ٢٩٣)
دیکھئے ابھی سب راوی بے اعتبار اور حدیثیں بے کار ہوگئی تھیں اور ابھی ان کی کایا پلٹ گئی اور انہیں پر دین کا مدار ٹھہر گیا۔ کیا اس قسم کی کارروائیوں سے عقلاء کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مرزا قادیانی کو قرآن وحدیث سے اسی قدر تعلق ہے کہ اپنا مطلب حاصل کریں اور جہاں مطلب برآری میں رکاوٹ ہوئی انہوں نے ان پر وار کردیا۔
مسلم شریف میں یہ حدیث مذکور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دمشق میں اتریں گے۔ اس کی نسبت لکھتے ہیں کہ ”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔ جس کو
ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ٢٠٩، ٢١٠)
اور دوسری جگہ کہتے ہیں کہ ”امام بخاری جیسے رئیس المحدثین کو یہ حدیث نہیں ملی کہ مسیح ابن مریم دمشق کے شرقی کنارے میں منارے کے پاس اتریں گے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٢٤١، خزائن ج ٣ ص ٢٢٢)
اب دیکھئے کہ مسلم کی حدیث پر تو یہ جرح ہوگئی ہے اور گلاب شاہ مجذوب کی حدیث پر وہ وثوق کہ معرکہ استدلال میں نہایت جرأت کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ جس کا حال معلوم ہوگا اور رسالہ (نشان آسمانی ص ٤، خزائن ج ٤ ص ٣٤٣) میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”ماسوا اس کے یعنی (گلاب شاہ کے) ایک اور پیش گوئی ہے جو ایک مرد باخدا نعمت اللہ نے جو ہندوستان میں اپنی ولایت اور اہل کشف ہونے کا شہرہ رکھتا ہے۔ اپنے ایک قصیدے میں لکھی ہے اور یہ بزرگ سات سو انچاس برس پہلے ہمارے زمانے سے گزر چکے ہیں وہ پیش گوئی یہ ہے۔
(نشان آسمانی ص ١٦، خزائن ج ٤ ص ٣٧٦)
یہ قصیدہ نہ بخاری میں ہے نہ اس کی کوئی ضعیف سے ضعیف سند مل سکتی ہے۔ جو مصنف تک پہنچے مگر اس پر اتنا وثوق ہے کہ مسلم شریف کی حدیث پر نہیں اور فرماتے ہیں کہ ”حضرت یحییٰ کے حق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لم نجعل لہ من قبل سمیا یعنی یحییٰ سے پہلے ہم نے کوئی اس کا مثیل دنیا میں نہیں بھیجا۔ جس کو باعتبار ان صفات کے یحییٰ کہا جائے یہ آیت ہماری تصدیق کے بیان کے لئے اشارۃ النص ہے۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اس جگہ آیت موصوفہ میں قبل کی شرط لگائی بعد کی نہیں لگائی۔ تا معلوم ہو کہ بعد میں بنی اسرائیل نبیوں کے آنے کا دروازہ کھلا ہے۔ جن کا نام خدائے تعالیٰ کے نزدیک وہی ہوگا جو ان نبیوں کا نام ہوگا۔ جن کے وہ مثیل ہیں۔ یعنی جو مثیل موسیٰ ہے اس کا نام موسیٰ ہوگا اور جو مثیل عیسیٰ ہے اس کا نام عیسیٰ ہوگا اور خدا تعالیٰ نے اس آیت میں سمی کہا مثیل نہیں کہا تا معلوم ہو کہ اللہ کا منشا یہ ہے کہ جو شخص کسی بنی اسرائیل نبی کا مثیل بن کر آئے گا وہ مثیل کے نام سے نہیں پکارا جائے گا۔ بلکہ بوجہ انطباق کلی اسی نام سے پکارا جائے گا۔ جس نبی کا وہ مثیل بن کر آئے گا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥٣٩، خزائن ج ٣ ص ٣٩٠)
مطلب اس کا یہ ہوا کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کو کوئی مثیل عیسیٰ نہ
پکارے بلکہ عیسیٰ پکارے۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ نے یحییٰ علیہ السلام کی نسبت فرمایا ہے کہ ان کا کوئی ہم نام نہیں۔ یعنی مثیل، پوری آیہ شریفہ یہ ہے۔ ”یا زکریا انا نبشرک بغلام اسمه یحییٰ لم نجعل له من قبل سمیاً (مریم:٧)“ یعنی جب زکریا علیہ السلام نے دعاء کی کہ الٰہی مجھے ایک لڑکا عنایت فرما تو ارشاد ہوا کہ اے زکریا ہم تمہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام ہم نے یحییٰ رکھا۔ اس کے پہلے ہم نے کسی کا نام یحییٰ نہیں رکھا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس نام کا کوئی اور شخص پہلے نہیں گزرا۔ کیونکہ اسمہ کے بعد لفظ سمیا صاف کہہ رہا ہے کہ ان کا ہم نام کوئی پیشتر نہ تھا اور اگر سمی کے معنی مثیل بھی لیں تو یہ مطلب ہوگا کہ ان کے پہلے ان کا مثیل نہ تھا۔ اگر مفہوم مخالف بھی لیا جائے تو اس قدر معلوم ہوگا۔ ان کے بعد ان کا ہم نام یا مثیل ہوگا۔ مرزا قادیانی نے اس سے یہ نکالا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا بھی مثیل ہوگا۔ لیکن یہ بات غور طلب ہے کہ مفہوم مخالف سے۔ اگر دروازہ کھلا تو یحییٰ کے مثیل کا کھلا، عیسیٰ کا مثیل اس سے کیسے نکل آیا۔ پھر اس حالت میں یحییٰ علیہ السلام کی نبوت کا ذکر ہی کب ہے۔ جس سے خیال کیا جائے کہ ان کا سا کوئی نبی ان کے بعد ہوگا۔ بلکہ عیسیٰ کا بھی مثیل ہوگا۔
دیکھئے یہاں تو اس قدر توسیع ہو رہی ہے کہ سمی کے حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی لئے جائیں۔ یعنی مثیل اور یحییٰ کا مثیل پیشتر نہ ہونے سے مطلب یہ کہ آئندہ ضرور ہوگا اور اس کا مطلب یہ کہ عیسیٰ کا بھی مثیل ہوگا اور مثیل ہی نہیں بلکہ سمی بھی ہوگا۔ جس سے ثابت ہو گیا کہ خود عیسیٰ ہیں۔ یہ سب من قبل سمیا سے نکلا۔ یہ سلسلہ ایسا ہوا جیسا کہ ایک نقل مشہور ہے کہ ایک صاحب نے کسی سے پوچھا کہ آپ کا کیا نام ہے۔ اس نے کہا مجھے حامی کہتے ہیں۔ کہا تم کتے ہو اس لئے کہ حامی اور خامی کی ایک شکل ہے اور خامی کمان ہوتی ہے اور کمان اور گمان کی ایک شکل ہے اور گمان شک کی معنی میں مستعمل ہے اور شک اور سگ کی ایک شکل ہے اور سگ کتے کو کہتے ہیں۔ غرض کہ چند وسائط سے اپنا مطلب ثابت کر دیا۔ الغرض من قبل سمیا میں اس قدر توسیع کی کہ کئی واسطوں کے بعد مطلب نکل آیا اور آیہ شریفہ ”انی متوفیک ورافعک (آل عمران:٥٥)“ میں اس وجہ سے کہ اپنا مقصود فوت ہوتا ہے۔ اس قدر تنگی اور تشدد کیا کہ گو توفی کے حقیقی معنی نیند کے ہوں۔ جیسا کہ آیہ شریفہ ”وهو الذی یتوفکم باللیل (انعام:٦٠)“ سے ظاہر ہے۔ مگر مشہور معنی یعنی موت ہی لئے جائیں اور ترتیب لفظی جو وفات اور رفع میں ہے۔ فوت نہ ہونے پائے گو قرآن سے ثابت ہے کہ واو ترتیب کے واسطے نہیں۔ جس کا حال معلوم ہوگا۔ اہل انصاف سمجھ سکتے ہیں کہ کس قدر خود غرضی سے کام لیا جا رہا ہے۔
اب ہم مرزا قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ اس آیہ شریفہ میں کیا فرمائے گا۔ ”وما كنت تتلوا من قبله من كتاب ولا تخطه بيمينك (عنكبوت:٤٨)“ یعنی اے پیغمبر ﷺ قرآن سے پہلے نہ تم کوئی کتاب پڑھتے تھے نہ اپنے داہنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے قبل کی شرط لگائی بعد کی نہیں لگائی۔ کیا یہاں بھی یہی فرمایا جائے گا کہ حضرت قرآن سے پہلے پڑھتے نہ تھے اور بعد پڑھنے لگے اور پہلے داہنے ہاتھ سے لکھتے نہ تھے بعد اس کے بھی لکھنے لگے۔ اگر اس کا یہی مطلب سمجھا جائے تو قرآن سے ثابت ہو جائے گا کہ حضرت پیشتر لکھنا ضرور جانتے تھے۔ لیکن بائیں ہاتھ سے اور اگر فرمائیں کہ اس آیت سے یہ معنی نہیں نکلتے تو من قبل سمیا سے وہ معنی کیونکر نکلیں گے؟۔ مرزا قادیانی جو تفاسیر واحادیث پر ہمیشہ حملے کیا کرتے ہیں۔ اس کا سبب یہی ہے کہ یہ دونوں قرآن میں اس قسم کے تصرفات کرنے سے ہمیشہ مزاحم ہوا کرتے ہیں اور طرفہ یہ ہے کہ نیچریوں کی شکایت میں لکھتے ہیں کہ ”جو بات ان کی عقل میں نہیں آتی۔ فی الفور اس سے منکر اور تاویلات رکیکہ شروع کر دیتے ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٥٢، خزائن ج ٣ ص ٤٥٤)
مرزا قادیانی کے تاویلات کا حال انشاء اللہ آئندہ تو بہت کچھ معلوم ہوگا۔ مگر سردست اسی کو دیکھ لیجئے کہ احادیث متواترہ اور اجماع سے جس کا ذکر خود بھی کرتے ہیں۔ ثابت ہے کہ وہ عیسیٰ اتریں گے جو ابن مریم اور مسیح اور روح اللہ اور نبی اللہ اور رسول اللہ تھے اور باوجود اس کے فرماتے ہیں کہ وہ میں ہی ہوں اور حق تعالیٰ فرماتا ہے ”واذ قال عيسى ابن مريم يا بنى اسرائيل انى رسول الله اليكم مصدقاً لما بين يدى من التوراة ومبشراً برسول ياتى من بعدى اسمه احمد (صف:٦)“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بشارت دی کہ میرے بعد ایک رسول آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ وہ رسول میں ہوں چنانچہ میرا نام احمد ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی بعثت کی تاریخ ١٣٠٠ھ اپنے نام نامی سے نکالی ہے۔ مگر اس میں جب تک غلام کے عدد نہ لئے جائیں سنہ نہیں نکلتا۔ پھر جب عیسیٰ بننے کے لئے غلام ہونے کی ضرورت ہوئی تو مقام احمدی میں جہاں فرشتوں کے پر جلتے ہیں وہ کیونکر پہنچ سکتے ہیں۔
اور لکھتے ہیں ”پھر مسیح کے بارے میں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ طبعی اور فلسفی لوگ اس خیال پر نہیں ہنسیں گے کہ جب کہ تیس یا چالیس ہزار فٹ تک زمین سے اوپر کی طرف جانا موت کا
موجب ہے۔ حضرت مسیح اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان تک کیونکر پہنچ گئے۔‘‘
(ازالۃ الاوہام ص١٤٦، ١٤٧، خزائن ج٣ ص١٧٤، ١٧٥)
خود ہی نیچریوں کی شکایت کرتے ہیں کہ جو بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی محالات میں داخل کرلیتے ہیں اور آپ بھی وہی کر رہے ہیں۔ فقط فلسفی نہیں بلکہ سارا عالم مرزا قادیانی کے الہام اور خدا سے باتیں کرنے پر قہقہے اڑاتا ہے۔ مگر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔
عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب پر چڑھ کر زخمی ہونا طب کی کتاب سے ثابت کرتے ہیں کہ مرہم عیسیٰ اسی واسطے بنایا گیا تھا۔
اور حق تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ وما صلبوہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو کسی نے سولی پر نہیں چڑھایا۔ اس کی کچھ پروا نہیں۔ سبحان اللہ! قرابادین سے قرآن کو رد کرتے ہیں۔ عیسائیوں کی کتابوں سے خود ہی نقل کرتے ہیں کہ عیسیٰ سولی پر مر گئے اور ان کی لاش دفن کی گئی اور جو قصہ خود نے تراشا ہے اس میں یہی ہے کہ سولی سے اتارنے کے بعد وہ گڑ بڑ میں بھاگ گئے۔ بہر حال ان مواقع میں کس نے ان پر رحم کھا کر مرہم لگایا اور کس ڈاکٹر خانے میں وہ زیر علاج رہے اور اگر خود ہی نے وہ نسخہ بنایا تھا تو وہ بھی کسی تاریخی کتاب سے لکھ دیتے۔ مگر ایسا نہ کیا اور بغیر کسی ثبوت کے قرآن کو رد کررہے ہیں۔
اور لکھتے ہیں ”فاسئلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون (نحل:٤٣)“ یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو۔ جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتاب کے واقعات پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہوجائے۔‘‘
(ازالۃ الاوہام ص٦١٦، خزائن ج٣ ص٤٣٣)
اور ان کتابوں کی توثیق اس طرح کی جاتی ہے کہ ”ہمارے امام المحدثین اسماعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص٢٧٣، خزائن ج٣ ص٢٣٨، ٢٣٩)
یہ اس موقع میں لکھا جہاں ان کو انجیل سے استدلال کرنا تھا اور جب یہ الزام دیا گیا کہ انجیلوں میں مصرح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تو وہی اہل الذکر جن سے واقعات سابقہ کا پوچھنا قرآن کی رو سے فرض ٹھہرایا تھا۔ مردود الشہادۃ قرار دیئے گئے۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”مسیح کا آسمان کی طرف اٹھائے جانا انجیل کی کسی الہامی عبارت سے ہرگز نہیں ثابت
ہوسکتا اور جنہوں نے اپنی اٹکل سے بغیر رویت کے کچھ لکھا ہے۔ ان کے بیانات میں علاوہ اس خرابی کے ان کا بیان چشم دید نہیں۔ اس قدر تعارض ہے کہ ایک ذرہ ہم ان میں سے شہادت کے طور پر نہیں لے سکتے۔“
(ازالۃ الاوہام ص٤٧٧، خزائن ج٣ص٣٥٦)
اور ضرورت الامام میں لکھتے ہیں کہ ’ایسی غلطیاں حواریین کی سرشت میں تھیں۔“
(ضرورت الامام ص١٥، خزائن ج١٣ص٤٨٥)
اور فرماتے ہیں کہ ”یہ انجیلیں حضرت مسیح کی انجیلیں نہیں ...... اسی وجہ سے باہمی اختلاف ہے۔“
(ضرورت الامام ص١٤، خزائن ج١٣ص٤٨٥)
لیجئے وہی کتابیں جن کی نسبت تحریف کا لفظ ناگوار تھا اور قرآن سے ثابت تھا کہ عیسائیوں سے پوچھا جائے کہ انجیلوں میں کیا لکھا ہے۔ انہیں کی نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مردود الشہادۃ اور غلط بیانوں کے خیالات ہیں۔ اس خود غرضی کی کوئی انتہاء بھی ہے جو جی چاہتا ہے قرآن کے معنی ٹھہرا لیتے ہیں۔
مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر یہ دلیل قائم کی ہے کہ قرآن شریف میں ”اذ قال الله یا عیسیٰ“ بصیغہ ماضی ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ نے ان سے مرتے ہی سوال کیا تھا۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص٦٠٢، خزائن ج٣ ص٤٢٥) میں لکھتے ہیں۔ ”تعجب کہ وہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرا بھی شرم نہیں کرتے۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت فلما توفیتنی سے پہلے یہ آیت ہے۔ ”واذ قال الله یا عیسیٰ ابن مریم ء انت قلت للناس“ اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے۔ جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا اور پھر ایسا ہی جو جواب حضرت عیسیٰ کی طرف سے ہے۔ یعنی فلما توفیتنی وہ بھی بصیغہ ماضی ہے۔“
اس کے بعد (الحکم نمبر ٢٢ ج٩ ص٧، مورخہ ٢٤؍ جون ١٩٠٥ء) میں طاعون کی پیش گوئی کی نسبت لکھتے ہیں کہ ”مجھے خدا کی طرف سے یہ وحی ہوئی عفت الدیار محلها ومقامها یعنی اس کا ایک حصہ مٹ جائے گا۔ جو عمارتین ہیں نابود ہو جائیں گی اس پر اعتراض ہوا کہ یہ مصرع لبید کا ہے۔ جس میں اس نے گذشتہ زمانے کی خبر دی ہے کہ خاص خاص مقامات ویران ہو گئے۔ اس کا جواب خود تحریر فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کافیه یا هدایۃ النحو بھی پڑھی ہوگی وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے۔ بلکہ ایسے مقامات میں جب کہ آنے والا واقعہ متکلم
کے نگاہ میں یقینی الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تا اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ونفخ فی الصور فاذاھم من اجداث الی ربھم ینسلون واذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ ...... ولوتری اذ وقفوا علی النار ، ولوتری اذ وقفوا علی ربھم وغیرہ“ اب معترض صاحب فرمائیں کہ کیا قرآنی آیات ماضی کے صیغے ہیں یا مضارع کے اور اگر ماضی کے صیغے ہیں تو ان کے معنی اس جگہ مضارع کے ہیں یا ماضی کے۔ جھوٹ بولنے کی سزا، تو اس قدر کافی ہے کہ آپ کا حملہ صرف میرے پر نہیں بلکہ یہ تو قرآن شریف پر بھی حملہ ہوگیا۔ گویا صرف ونحو جو آپ کو معلوم ہے۔ خدا کو معلوم نہیں اسی وجہ سے خدا نے جابجا غلطیاں کھائیں اور مضارع کی جگہ ماضی کو لکھ دیا۔“
(الحکم ج ٩ ص ٨ ، نمبر ٢٢، مورخہ ٢٤ جون ١٩٠٥ء)
مرزا قادیانی کو جب منظور ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کریں تو کہا کہ واذ قال عیسیٰ صیغہ ماضی ہے اور اذ خاص ماضی کے واسطے آتا ہے اور جب عفت الدیار پر اعتراض ہوا کہ ماضی کے معنی مضارع کے کیسے تو وہی واذ قال عیسیٰ وغیرہ کو پیش کر کے کہا کہ ہدایۃ النحو پڑھنے والے بھی جانتے ہیں کہ ماضی بمعنی مستقبل آتی ہے۔ ہمیں اس بات کی خوشی نہیں کہ دونوں تقریروں میں جو الفاظ مخالفین کے لئے تجویز کئے تھے وہ اب واپس ہوتے ہیں۔ بلکہ کمال افسوس سے ان کا طریقہ استدلال بتلانا منظور ہے کہ ایک ہی آیت کو ایسے دو موقعوں میں پیش کرتے ہیں کہ باہم مخالف ہوں۔ جن لوگوں نے عفت الدیار کے معنی کے مستقبل ہونے میں کلام کیا ان کی غرض یہ ہے کہ قائل یعنی لبید کی مراد اس مصرع میں ماضی ہے۔ جیسا کہ قرائن قویہ سے ظاہر ہے۔ پھر اس کی مراد کے مخالف کوئی معنی لینا توجیہ الکلام بما لا یرضی قائلہ ہے جو درست نہیں۔ اس پر فرماتے ہیں کہ ہدایۃ النحو پڑھنے والا بھی جانتا ہے کہ ماضی کے معنی مستقبل ہو سکتے ہیں۔ ہمیں اس مباحثے میں دست اندازی کی ضرورت نہیں۔ مگر اس تقریر سے یہ بات منکشف ہوگئی کہ مرزا قادیانی قرآن کے معنی قصدًا غلط کیا کرتے ہیں۔ اس لئے کہ جس وقت انہوں نے ”اذ قال اللہ یا عیسیٰ“ کے معنی یہ بیان کئے تھے کہ (قال صیغہ ماضی ہے اور اذ خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا قصہ تھا نہ مستقبل کا جس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا عیسیٰ سے پوچھ چکا تھا) اس وقت وہ ہدایۃ النحو پڑھ چکے تھے بلکہ فاضل اجل تھے پھر اذ قال کے معنی مستقبل لینے سے انکار کیوں کیا اس موقع میں یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ خطائے اجتہادی تھی۔ کیونکہ جو ایسی بدیہی بات ہو کہ ہدایۃ النحو پڑھنے والا بھی اس کو جانتا ہو وہ اجتہادی نہیں
ہو سکتی۔ اس سے ثابت ہے کہ باوجود اس کے کہ معنی مستقبل وہاں صادق ہیں۔ جس کی تصریح مفسرین نے کی ہے اور خود بھی جانتے ہیں۔ مگر قصداً اس کو بمعنی ماضی قرار دیا جو خلاف مراد الٰہی ہے۔ جس کے خود بھی معترف ہیں۔ یہ بات واضح رہے کہ مرزا قادیانی کا وہ استدلال کہ قرآن میں عیسیٰ علیہ السلام کا قول فلما توفیتنی بصیغہ ماضی ہے۔ جس سے ان کی وفات ثابت ہوتی ہے۔ عفت الدیار والی تقریر سے ساقط ہو گیا۔ کیونکہ وہ خود کہتے ہیں کہ یہ سوال و جواب عیسیٰ علیہ السلام سے آئندہ ہوں گے اور یہ ماضی بمعنی مستقبل نہ سمجھی جائے تو قرآن پر حملہ ہے۔
اور لکھتے ہیں کہ ”یہ سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)
گلیل شام کے ملک میں ہے۔ مگر ان کی قبر کشمیر میں بتلاتے ہیں۔ چنانچہ رسالہ عقائد مرزا میں رسالۃ الہدیٰ سے ان کا قول نقل کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ہے۔ حالانکہ وہاں کے علماء اور مشائخین اور معززین نے ایک محضر تیار کیا کہ نہ کسی تاریخ میں ہے نہ بزرگوں سے سنا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ہے اور جو مرزا قادیانی نے پرانی قبر تلاش کر کے نکالی ہے۔ وہ یوز آسف کی مشہور ہے۔ شیعہ لاشیں کربلائے معلےٰ میں لیجا کر دفن کرتے ہیں۔ اس غرض سے کہ متبرک مقام ہے۔ عیسیٰ کی لاش گلیل سے جو کشمیر میں لائی گئی۔ اس سے ظاہر ہے کہ شاید اس زمانے میں کشمیر بیت المقدس سے بھی زیادہ متبرک ہوگا۔ مگر کسی کتاب سے اس کا ثابت ہونا ضرور ہے اور (الحکم ج ٩ نمبر ٢٢ ص ٤، مورخہ ٢٤ جون ١٩٠٥ء) میں لکھتے ہیں کہ ”مسیح صلیب سے نجات پا کر اپنی طبعی موت سے بمقام کشمیر سری نگر مر گیا۔“ جب کشمیر کو آ جانا ثابت ہو جائے تو ایک بات باقی رہ جائے گی کہ اس زمانے میں کشمیر اور گلیل دونوں ایک تھے اور اس میں نصاریٰ کی شہادت کی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ ایسے امور میں بقول مرزا قادیانی وہی اہل الذکر ہیں۔ جن سے پوچھنے کی ضرورت فاسئلوا اهل الذکر کی رو سے ثابت ہے۔ بہرحال واقعات کے اختلاف بیان سے ثابت ہے کہ ان کے بیان کو اصل واقعات سے کوئی تعلق نہیں اور حکایت بغیر محکی عنہ کے ہوا کرتی ہے۔ جس کو اردو زبان میں جھوٹ کہتے ہیں۔ جب واقعات کی نسبت یہ بات متعدد مقام میں ثابت ہوگئی تو ان کے الہامات مطابق واقع کیوں سمجھے جائیں۔ آخر وہ بھی انہیں کے بیانات ہیں۔
اور لکھتے ہیں کہ ”ان سب میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ تمام الفاظ واسماء (عیسیٰ دمشق وغیرہ) ظاہر پر ہی محمول ہیں۔ بلکہ صرف صورت پیش گوئی پر ایمان لے آئے۔ پھر
اجماع کس بات پر ہے۔ ہاں تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔ سو اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اتار کر دکھلا دیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩)
اور تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح کے آنے کا اجماع یوں ثابت کیا گیا کہ ”شاہ ولی اللہ صاحب اور نواب صدیق حسن خاں صاحب کی رائے ہے کہ شاید کہ چودھویں صدی کے شروع میں مسیح علیہ السلام اتر آئیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ١٨٤، خزائن ج ٣ ص ١٨٩)
حالانکہ خود تصریح کرتے ہیں کہ اجماع کا ثابت کرنا بغیر تین چار سو صحابہ کے نام بیان کرنے سے نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ لکھتے ہیں ”صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں بھلا ہے تو کم سے کم تین چار سو صحابہ کا نام لیجئے۔ جو اس باب میں شہادت ادا کر گئے ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
افسوس ہے صحابہ کرام کی وقعت نواب صاحب سے کم سمجھی گئی۔ جب بنی تو یہ ضرورت ہوئی کہ جب تک سیکڑوں صحابہ بالاتفاق نہ کہیں اعتبار کے قابل نہیں اور یہاں دو ہی قولوں سے اجماع ہو گیا وہ بھی احتمالی کہ لفظ شائد سے ظاہر ہے۔
نبی ﷺ نے آنے والے مسیح علیہ السلام کی تعین ہر طرح سے کی ہے۔ عیسیٰ فرمایا، ابن مریم فرمایا، روح اللہ فرمایا، رسول اللہ اور نبی اللہ فرمایا، غرض تعین و تشخیص میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا پھر ان کے اترنے کا مقام معین فرمایا کہ دمشق ہے جو ایک شہر کا علم ہے اور ہر عالم و جاہل جانتا ہے کہ اعلام اور صفات شخصہ صرف تعین کے لئے ہیں۔ ایسی تعین کی نسبت مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”مسلمانوں نے اس کو لغو ٹھہرا دیا اور بے معنی الفاظ پر ایمان لے آئے۔“ مرزا قادیانی مسلمانوں کو اپنے پر قیاس کرتے ہیں۔ مگر یہ قیاس مع الفارق ہے۔ اس لئے کہ اس تعین کا لغو کرنا مرزا قادیانی کو مفید ہے۔ جس سے ان کی ذاتی غرض متعلق ہے۔ دوسرے مسلمانوں کو کیا ضرورت کہ اپنے نبی کی بات کو لغو ٹھہرا دیں۔
ایک مجذوب کا قول جس کے راوی صرف کریم بخش ہیں۔ نقل کرتے ہیں کہ ”کریم بخش کا اظہار ہے کہ گلاب شاہ مجذوب نے تیس سال کے پہلے کہا کہ اب عیسیٰ علیہ السلام جوان ہو گیا اور لدھیانے میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا...... انہوں نے پوچھا کہ عیسیٰ نبی اللہ تو آسمان پر اٹھائے گئے اور کعبہ پر اتریں گے۔ تب انہوں نے جواب دیا کہ ابن مریم نبی اللہ تو
مر گیا۔ اب وہ نہیں آئے گا۔ ہم نے اچھی طرح تحقیق کیا ہے کہ وہ مر گیا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٧٠٨، ٧٠٩، خزائن ج ٣ ص ٤٨٢)
اس روایت میں لطف خاص یہ ہے کہ اگر سلسلہ مجاذیب کہیں تو بجا ہے۔ راوی ایسے کہ عیسیٰ کو کعبہ پر اتار رہے ہیں اور جن سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ قرآن میں غلطیاں نکالے گا۔ معلوم نہیں کہ انہوں نے اپنی بڑ میں کیا کہہ دیا اور انہوں نے کیا سمجھا پہلے تو انہوں نے یہی کہا کہ قرآن میں غلطیاں نکالے گا۔ پھر جب دوبارہ پوچھا گیا تو تفسیروں کا نام بھی لے لیا۔ اب دیکھئے کہ نبی کریم ﷺ تو فرماتے ہیں کہ ابن مریم ، نبی اللہ ، روح اللہ زندہ ہیں اور زمین پر آئیں گے اور وہ مجذوب صاحب اپنی بڑ میں اس کے خلاف کہہ رہے ہیں۔ اب اہل اسلام خود ہی فیصلہ کر لیں کہ کون سی بات ایمان لانے کے قابل ہے اور مرزا قادیانی کو نبی ﷺ کے ارشادات سے کس قسم کا تعلق ہے۔
احادیث میں عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے کی حالت اس طرح وارد ہے کہ وہ دمشق میں مشرقی منار کے پاس دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھ کر اتریں گے۔ اس وقت ان پر زرد لباس ہوگا اور پسینہ چہرے سے ٹپکتا ہوگا۔ مرزا قادیانی کہتا ہے ”دمشق سے مراد قادیان ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ١٣٥، خزائن ج ٣ ص ١٦٨)
اور زرد لباس سے مراد یہ ہے کہ ”ان کی حالت صحت اچھی نہ ہوگی اور فرشتوں پر ہاتھ رکھنے سے یہ مقصود کہ ..... دو شخص ان کو مدد دیں گے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٢١٩، خزائن ج ٣ ص ٢٠٩)
جو امور ایسے تھے کہ مرزا قادیانی ان کو اپنے لئے ثابت نہیں کر سکتے تھے۔ مجبوری ان میں تاویل کی اور منار بنوا لینا چونکہ اختیاری امر تھا۔ اس لئے بکشادہ پیشانی اس کو قبول کیا بلکہ اپنا شعار قرار دیا۔ چنانچہ اخبار الحکم کے ہر پرچہ پر منار کا نقشہ کھنچا ہوتا ہے تا کہ معلوم ہو کہ یہ وہی نشانی ہے جو حدیث میں ہے کہ منارۂ دمشق کے پاس مسیح اتریں گے چنانچہ لکھتے بھی ہیں۔
چوں خود ز مشرق است تجلی نیرم
اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم
(ازالۃ الاوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
مرزا قادیانی نے اس موقع میں یہ خیال نہ کیا کہ حدیث میں تو منارۂ دمشق ہے۔ پھر
جب دمشق ندارد اور منار موجود ہو تو مسئلہ انیاب اغوال پیش نظر ہو جائے گا۔ غرضیکہ یہ طریقہ بد جو اختیار کیا گیا کہ ایک ہی حدیث تمام امور کی تاویلیں کی جائیں اور ایک چیز اپنے ہاتھ سے بنا کر اس کے ظاہری معنی لئے جائیں۔ لطف سے خالی نہیں۔
اور لکھتے ہیں کہ ”ہر ایک جگہ جو اصل مسیح ابن مریم کا حلیہ لکھا ہے۔ اس کے چہرے کو احمر بیان کیا ہے اور ہر ایک جگہ جو آنے والا مسیح کا حلیہ بقول آنحضرت ﷺ بیان فرمایا ہے اس کے چہرے کو گندم گوں ظاہر کیا ۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٩٠٠ خزائن ج ٣ ص ٥٩٢)
مرزا قادیانی بار بار ذکر کرتے ہیں کہ میں گندم رنگ ہوں۔ اس وجہ سے مسیح موعود ہوں۔ یہاں تک اس پر وثوق ہے کہ اس کو نظم میں بھی لکھا ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں۔
رنگم چو گندم است وبمو فرق بین است زانساں کہ آمدہ است در اخبار سرورم
ایں مقدم نہ جائے شکوک است والتباس سفید جدا کند ز مسیحائے احمرم
عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا واقعہ اسلام میں چونکہ ایک مہتم بالشان ہے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کے ذاتی اور اخلاقی اور مقامی وغیرہ علامات بکثرت بیان فرمائے ہیں۔ جن کا ذکر یہاں موجب تطویل ہے وہ سب کتب احادیث اور قیامت نامہ مولانا رفیع الدینؒ صاحب وغیرہ میں مذکور ہیں۔ غرضیکہ ان تمام علامتوں سے مرزا قادیانی نے ان دو علامتوں کو بلا تاویل قبول کیا۔ ایک اس وجہ سے کہ منارہ بنوا لینا آسان ہے۔ دوسری رنگ والی جو اتفاقاً صادق آگئی۔ باقی کل علامات شخصہ میں تاویلیں کیں۔ پھر رنگ والی حدیث میں یہ بھی مذکور نہیں کہ جب وہ اتریں گے تو ان کا رنگ گندی ہوگا۔ اس حدیث میں تو نزول کا ذکر ہی نہیں وہ تو ایک خواب کا واقعہ تھا۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے ان کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اس وقت ان کا رنگ گندمی تھا۔
جن علامات کا بیان کرنا مقصود بالذات ہے۔ وہ تو ماوّل ٹھہریں اور جو مقصود بالذات نہیں وہ محکم عجب حیرت انگیز بات ہے۔ اب مرزا قادیانی کی اس تقریر پر غور کیجئے کہ ”مشکل تو یہ ہے کہ روحانی کوچے میں علماء کو دخل ہی نہیں۔ یہودیوں کی طرح ہر ایک بات کو جسمانی قالب میں ڈھالتے جاتے ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٨٢ خزائن ج ٣ ص ١٤٥)
جیسے مرزا قادیانی نے رنگ اور منار کو جسمانی قالب میں ڈھالا ہے اور اگر اس کو
مطلب یہ ہے کہ ہر بات جسمانی قالب میں نہ ڈھالی جائے بلکہ جو اتفاقا منطبق ہوسکے منطبق کی جائے اور جو کہ منطبق نہ ہو۔ مجبوری اس کو روحانی بنالیں تو یہ طریقہ آسان تو ہے لیکن اس میں جھوٹوں کو بہت کامیابی ہوگی ۔
یہ طریقہ جو مرزا قادیانی نے اختیار کیا ہے اس میں ان کا بھی ضرر ہے۔ اس لئے کہ اگر خدا نخواستہ کوئی مفتری کذاب زبان دراز جس کا نام شیخ عیسیٰ ہو۔ دمشق کی مسجد کے منار پر دو لڑکوں کو لے جا کر دو زرد چادریں اوڑھے اور ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اترے اور یہ دعویٰ کرے کہ میرا نام بھی عیسیٰ ہے اور یہ دو معصوم فرشتہ خصال میرے ساتھ ہیں اور میرا رنگ بھی گندمی ہے اور خاص دمشق کی مسجد کے منار سے اترا بھی ہوں اور باقی علامات شخصہ مثل قتل دجال وغیرہ میں وہی تاویلیں کرے جو مرزا قادیانی کرتے ہیں تو اس میں ظاہری علامتیں بہ نسبت مرزا قادیانی کے زیادہ جمع ہونے سے ظاہر بین معتقد اس کی طرف ضرور جھک پڑیں گے ۔مگر اہل اسلام کیا صرف ایسے غیر مشخصہ علامتوں کو دیکھ کر اس کی ان بیہودہ باتوں کی تصدیق کر لیں گے ہرگز نہیں۔
اب رنگ کا بھی حال تھوڑا سا سن لیجئے۔ حدیث شریف میں عیسیٰ علیہ السلام کے رنگ کے باب میں لفظ آدم وارد ہے۔ (لسان العرب ج ١ ص ٩٧) میں لکھا ہے ۔” الآدم من الناس الاسمر “اور اسی میں لکھا ہے’وفى صفته ﷺ كان اسمر اللون وفى رواية ابيض مشربا بالحمرة (لسان العرب ج ٦ ص ٣٥٧) “یعنی آدم اسمر کو کہتے ہیں اور آنحضرت ﷺ اسمر اللون تھے اور ایک روایت سے ثابت ہے کہ حضرت کا رنگ گورا تھا۔ جس میں نہایت سرخی تھی ۔اس سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مثل آنحضرت ﷺ کے نہایت سرخ و سفید تھے۔ غرضیکہ اس تقریر سے احمر و آدم میں جو تعارض معلوم ہوتا ہے اٹھ جاتا ہے اور اگر تسلیم بھی کیا جائے کہ گندمی رنگ میں سرخی نہیں ہوتی بلکہ مائل بسیاہی ہوتا ہے تو اس کی وجہ نہایت ظاہر ہے ہر ذی علم جانتا ہے کہ چند میل پر آسمان کی جانب کرۂ زمہریر ہے ۔جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور کرۂ زمہریر پر سے ان کا گذر ہوگا تو رنگ میں کسی قدر سیاہی آجائے گی ۔کیونکہ تجربے سے ثابت ہے کہ سخت سرما میں سردی کی وجہ سے رنگ میں سیاہی آ جاتی ہے اور چونکہ آنے کے وقت کی علامتیں بتلانا منظور تھا۔ اس لئے یہ عارضی رنگ معلوم کرایا گیا۔ اس کے بعد جب رنگ اپنی اصلیت پر آجائے گا تو دوسری حدیث کی بھی تصدیق ہو جائے گی ۔مرزا قادیانی کبھی کہتے ہیں کہ میں مثیل عیسیٰ ہوں اور اس پر یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ علماء امتی کا نبیاء بنی اسرائیل حدیث میں وارد ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ میرا نام ہی حق تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم رکھ دیا۔
جیسے شیخ داؤد وغیرہ نام ہوا کرتے ہیں۔ مگر ان دونوں صورتوں میں نبوت ثابت نہیں ہوتی۔ حالانکہ آنے والے عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ نبی اور رسول تھے۔ اب اگر مرزا قادیانی نبوت کا بھی دعویٰ کرتے ہیں تو تیس دجالوں سے ایک دجال قرار پاتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر معلوم ہوا اور اگر نبوت کا انکار کرتے ہیں تو عیسیٰ موعود نہیں ہو سکتے۔ غرضیکہ اس مقام میں سخت مصیبت کا سامنا اور عجب پریشانی لاحق حال ہے۔ چنانچہ تحریرات ذیل سے معلوم ہوگا کہ کیسی کیسی کارسازیوں کی ضرورت پڑی۔
تحریر فرماتے ہیں ”یہ عاجز بار بار یہی کہتا ہے ...... کہ میں بھی تمہاری طرح ایک مسلمان ہوں اور ہم مسلمانوں کے لئے بجز قرآن کے کوئی کتاب نہیں ...... اور بجز جناب ختم المرسلین احمد عربی ﷺ کے کوئی ہادی اور مقتداء نہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص١٨٢، خزائن ج٣ ص١٨٨،١٨٧)
اور لکھتے ہیں کہ ”میں نہیں سمجھتا کہ میرے قبول کرنے میں نقصان دین کس وجہ سے ہوسکتا ہے۔ نقصان تو اس صورت میں ہوتا کہ اگر یہ عاجز برخلاف تعلیم اسلام کے کسی اور نئی تعلیم پر چلنے کے لئے انہیں مجبور کرتا۔“
(ازالۃ الاوہام ص١٨١، خزائن ج٣ ص١٨٧)
اور لکھتے ہیں کہ ”کسی نبی کا اپنے تئیں مثیل ٹھہرانا عند الشرع جائز ہے یا نہیں ...... سو ہم نماز میں اس دعاء کے مامور ہیں۔ ’اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم‘ یعنی اے خدا ہمیں ایسی ہدایت بخش کہ ہم آدم صفی اللہ ...... حتی کہ محمد ﷺ کے مثیل ہو جائیں۔ ...... اور علمائے ربانی کے لئے یہ خوشخبری ہے کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل۔“
(ازالۃ الاوہام ص٢٥٦،٢٦٠، خزائن ج٣ ص٢٢٩، ٢٣٠)
اور لکھتے ہیں کہ ”آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے کہ ایک صدی پر ایک مجدد کا آنا ضرور ہے۔ اب ہمارے علماء جو بظاہر اتباع حدیث کا دم بھرتے ہیں۔ انصاف سے بتلائیں کہ کس نے اس صدی پر خدائے تعالیٰ سے الہام پا کر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص١٥٤، خزائن ج٣ ص١٧٩،١٧٨)
اور لکھتے ہیں کہ ”الہام الٰہی و کشف صحیح ہمارا مؤید ہے ...... ایک متدین عالم کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ الہام اور کشف کا نام سن کر چپ ہو جائے اور لمبی چوڑی چون و چرا سے باز آجائے۔“
(ازالۃ الاوہام ص١٣٨، خزائن ج٣ ص١٧٥)
اور لکھتے ہیں کہ ”جنہوں نے اس عاجز کا مسیح موعود ہونا مان لیا ...... انہوں نے اپنے
بھائی پر حسن ظن کیا اور اس کو مفتری اور کذاب نہیں ٹھہرایا۔“
(ازالۃ الاوہام ص١٧٩، خزائن ج٣ ص١٨٦)
اور لکھتے ہیں کہ ”پھر میرے اس دعوے پر ایمان لانا جس کی الہام الٰہی پر بنیاد ہے۔ کون سے اندیشے کی جگہ ہے بفرض محال اگر میرا یہ کشف غلط ہے اور جو کچھ مجھے حکم ہو رہا ہے۔ اس کے سمجھنے میں دھوکا کھایا ہے تو ماننے والے کا اس میں ہرج ہی کیا۔“
(ازالۃ الاوہام ص١٨٢، خزائن ج٣ ص١٨٨)
اس قسم کی اور عبارتیں بھی بہت سی ہیں۔ جن سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی بھی مثل اور مسلمانوں کے ایک مسلمان ہیں۔ اگر دعویٰ ہے تو صرف مجددیت اور کشف والہام کا ہے اور اس میں بھی غلط فہمی کا احتمال بیان کرتے ہیں اور اگر مثیل عیسیٰ بھی ہیں تو اس حد تک جو دوسرے علمائے امت کو بھی مکاشفہ حاصل ہے اور درخواست اسی قدر ہے کہ حسن ظن کر کے مفتری اور کذاب نہ کہا جائے۔ غرض کہ یہاں تک کوئی ایسی بات نہیں جو مرزا قادیانی کو دوسرے امتیوں سے ممتاز کر دے۔ کیونکہ ہزارہا اہل کشف والہام ومجددین امت میں گزر چکے ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔ سب امتی کہلایا کئے۔ مرزا قادیانی ان تقریرات میں دجالیت سے اپنی برأت ثابت فرماتے ہیں کہ مجھے نبوت اور رسالت کا دعویٰ نہیں۔ جس سے بحسب حدیث دجال ہونا لازم آئے۔ اب رہی وہ حدیثیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے القاب نبی اللہ اور رسول اللہ ثابت کرتی ہیں۔ سو ان سے بھی انکار نہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”اب اگر مثالی طور پر مسیح یا ابن مریم کے لفظ سے کوئی امتی شخص مراد ہو جو محدثیت کا مرتبہ رکھتا ہو تو کوئی بھی خرابی لازم نہیں آتی۔ کیونکہ محدث من وجہ نبی بھی ہوتا ہے۔ مگر وہ ایسا نبی ہے جو نبوت محمدی کے چراغ سے روشنی حاصل کرتا ہے اور اپنی طرف سے براہ راست نہیں بلکہ اپنے نبی کے طفیل سے علم پاتا ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص٥٨٦، ٥٨٧، خزائن ج٣ ص٤١٦، ٤١٧)
اور لکھتے ہیں کہ ”اس حکیم مطلق نے اس عاجز کا نام آدم اور خلیفۃ اللہ رکھ کر اور انی جاعل فی الارض خلیفۃ کی کھلی کھلی طور پر براہین احمدیہ میں بشارت دے کر لوگوں کو توجہ دلائی کہ تا اس خلیفۃ اللہ آدم کی اطاعت کریں اور اطاعت کرنے والی جماعت سے باہر نہ رہیں اور ابلیس کی طرح ٹھوکر نہ کھائیں اور مَنْ شَذَّ شَذَّ فِی النَّارِ کی تہدید سے بچیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص٦٩٥، خزائن ج٣ ص٤٧٥)
اور عقائد مرزا میں مرزا قادیانی کا قول نقل کیا ہے کہ میں نبی اللہ اور رسول ہوں اور میرا منکر کافر ہے۔
عبارت سابقہ میں محدث کو نبی من وجہ قرار دیا تھا۔ چونکہ اس امت میں محدث بھی بہت سارے ہیں۔ خاص کر حضرت عمر کا محدث ہونا تو صراحتاً حدیث سے ثابت ہے۔ مگر انہوں نے کبھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ کبھی یہ کہا کہ خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ اس لئے اس طریقے سے اعراض کر کے یہ طریق اختیار کیا کہ خود خدا نے مجھے اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے اور براہین احمدیہ میں یہ اعلان دے دیا کہ جو مرزا قادیانی کی اطاعت نہ کرے وہ دوزخی ہے۔ اب اگر مرزا قادیانی سے پوچھا جائے کہ خاتم النبیین کے بعد خلافت الہی اور نبوت کیسی تو صاف فرمائیں گے کہ جاؤ خدا سے پوچھ لو کہ ایسا کیوں کیا۔ جیسا کہ فرمایا تھا کہ اگر میں عیسیٰ موعود نہیں ہوں تو جاؤ عیسیٰ کو آسمان سے اتار لاؤ، اب یہ کس سے ہو سکے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے اتارے یا خدا سے پوچھے اور یہ تو پہلے ہی کہہ دیا کہ عالم کو ضروری ہے کہ کشف کا نام سن کر چپ ہو جائے اور لمبی چوڑی چون و چرا سے باز آ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کے پیرو دم بخود ہیں نہ خدا سے پوچھ سکتے ہیں نہ چون و چرا کر سکتے ہیں۔ مگر اتنا تو پوچھنا ہوتا کہ کس قوم کے خدا نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں آپ کی بشارت دی۔ کیونکہ آسمانی کتابوں میں تو اس کا نام سنا نہیں جاتا۔
یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ مرزا قادیانی کا منکر کافر اور دوزخی کیوں ہے۔ محدثیت اور مجددیت وغیرہ تو ایسے امور نہیں کہ ان کے انکار سے آدمی کافر ہو جائے۔ کیونکہ ان امور کا نہ قرآن میں صراحتاً ذکر ہے نہ احادیث سے ثابت کہ مدعی محدثیت وغیرہ کا منکر کافر ہے۔ پھر جن احادیث میں ان امور کا ذکر ہے وہ احاد ہیں۔ جن کا منکر کافر نہیں ہوتا اور بقول مرزا قادیانی ”اگر احادیث صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں۔ والظن لا یغنی من الحق شیئاً “ (ازالۃ الاوہام ص ٦٥٤، خزائن ج٣ ص٤٥٢) یعنی اعتبار کے قابل نہیں اب رہا ان کی عیسویت کا انکار سو وہ بھی باعث کفر نہیں۔ اس لئے کہ اس کا ثبوت نہ عقلاً ممکن ہے نہ نقلاً ۔ کیونکہ کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ غلام احمد قادیانی کو خدا عیسیٰ بنا کر بھیجے گا چنانچہ خود تحریر فرماتے ہیں۔ ” یہ جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے۔ جو ہمارے ایمانیات کا جز یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔“
(ازالۃ الاوہام ص١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)
جب اصل نزول عیسیٰ کا مسئلہ ضروری نہ ہوا تو مرزا قادیانی کی فرضی عیسویت کا ایمان کیونکر ضروری ہو سکتا ہے۔ غرضیکہ ان میں سے کوئی بات ایسی ضروری نہیں کہ اس پر ایمان نہ لانے سے آدمی کافر اور دوزخی بن جائے اور مرزا قادیانی بھی اس کے مدعی نہیں۔ جیسا کہ عقیدہ نزول مسیح میں اس کی تصریح کردی۔ البتہ تمام اہل اسلام کے نزدیک مسلم ہے کہ جو شخص کسی نبی کا منکر ہو وہ
کافر اور دوزخی ہے۔ چنانچہ صفت ایمان سے ثابت ہے کہ رسل اور کتب الہی کا اقرار جزو ایمان ہے اور مرزا قادیانی (اخبار الحکم ج ٩ نمبر ١٣ ص ١، ١٧؍ اپریل ١٩٠٥ء) میں اپنی امت کو حکم دیتے ہیں کہ ”یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھ کو اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ مکفر یا مکذب، متردد کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔ کیونکہ زندہ مردے کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا۔“ اس سے ظاہر ہے کہ جو کوئی ان کی نبوت میں شک کرے وہ مردہ ہے۔ یعنی کافر اس لئے کہ نبی پر ایمان نہ لانے والوں کو حق تعالیٰ نے کئی جگہ قرآن میں مردہ فرمایا ہے اور خود مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ ”قرآن نے کافر کا نام بھی مردہ رکھا ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٣٠، خزائن ج ٣ ص ٤٣٥)
غرض کہ ان تحریرات سے اور نیز تصریحات سے ثابت ہے کہ وہ اپنے آپ کو نبی اور رسول کہتے ہیں۔ اسی بناء پر اپنے منکر اور متردد کو کافر اور دوزخی قرار دیتے ہیں۔ بہر حال احادیث میں جو نبوت عیسیٰ کا ذکر تھا اور مرزا قادیانی کی عیسویت میں کمی رہ گئی تھی۔ اس کی تکمیل انہوں نے یوں کر لی کہ خدا نے مجھے رسول اللہ اور نبی اللہ بنا کر بھیجا۔ اب رہ گیا ابن مریم اور روح اللہ سو الہام کے ذریعے سے خود مریم بن کر اپنے بیٹے کو ابن مریم بنا دیا اور خود نبی اللہ ہو گئے اور روح اللہ بننے کی کوئی تدبیر نہیں سوجھی۔ سو اس کے لئے مثیل والے الہام موجود ہیں۔ غرضیکہ عیسیٰ علیہ السلام کی تعین جو احادیث صحیحہ میں وارد ہے کہ عیسیٰ رسول اللہ، نبی اللہ، روح اللہ، ابن مریم اتریں گے۔ سب اپنے پر چسپاں کر کے عیسیٰ موعود ہو گئے اور اس کے ضمن میں نبوت اور رسالت مستقلہ بھی ثابت کر لی۔ اب اس کی بھی ضرورت نہیں کہ کوئی ان کو عیسیٰ کہے۔ اس لئے کہ نبوت سے بہتر عیسویت کا درجہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ اس امت میں عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی نہ آئیں گے۔ اسی وجہ سے اپنے منکر کو کافر کہہ دیا اور نزول عیسیٰ کے منکر کو کافر نہیں کہا۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا اور عیسیٰ کا درجہ اپنے بیٹے کو دے دیا۔ اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی دعوے نبوت وغیرہ کر کے عوام کے ذہن میں عیسویت کے زینے تک پہنچ گئے تھے۔ مگر احادیث نبویہ نے اس سے علیحدہ کر کے فوراً ان کو مخالفین عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمرے میں داخل کر دیا۔ چنانچہ بخاری وغیرہ کی احادیث صحیحہ صاف کہہ رہی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے وہ دجال اور کذاب ہے۔
کیا اب بھی مسلمانوں کو اس باب میں شبہ ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے جو لکھا ہے کہ ان کو نہ ماننے والا کافر اور دوزخی ہے۔ یہ بات صحیح اور مطابق واقع کے ہو سکتی ہے۔ اگر نبی ﷺ کی صحیح حدیثوں کا بھی دل پر کچھ اثر نہ ہو تو سوائے انا للہ پڑھنے کے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ البتہ اپنے
مسلمان بھائیوں سے اتنا تو ضرو رکھیں۔ ورنہ ہر زمانے میں بہکا قدس سرہ فرماتے ہیں۔ ہر یکے مید مرزا قادیانی تحریر جہاں تک ممکن ہے کم کر دیا جا خارج کر دیئے جائیں اور ا بیہودہ اور بے اصل وجہ کفر ک عیسائیوں سے بدتر ہیں۔“ مقام غور ہے کہ موا مدعیان نبوت کی دجالیت اور نبی ﷺ کے وارد ہیں۔ بلا کم و فیصلہ کر دیا کہ جو کوئی میری نبو ہے۔ پھر اس بیہودہ اور بے ا تو بھی وہ اس دائرہ کفر سے خا کافر اور دوزخی قرار دیا اور ا کفایت نہیں کرتے۔ بلکہ خدا ہیں۔ چنانچہ یہ الہام ہے۔ ”ق حتٰی حین“ یعنی خدا نے مرزا وقت تک انتظار کرو۔ اب م رہے گا۔ مرزا قادیانی مخالفین ہیں۔ چنانچہ ابھی معلوم ہوا کہ ہے تو مرزا قادیانی میدانِ مرزا قادیانی نے اس موقع پر
مسلمان بھائیوں سے اتنا تو ضرور کہیں گے کہ اپنے نبی کریم ﷺ کے ارشادات کو ہر وقت پیش نظر رکھیں۔ ورنہ ہر زمانے میں بہکانے والے اقسام کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں۔ چنانچہ مولانائے روم قدس سرہ فرماتے ہیں۔
مید مد در جاہلاں کہ عیسیم
مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ ”آج کل یہ کوشش ہو رہی ہے کہ مسلمانوں کو جہاں تک ممکن ہے کم کر دیا جائے اور بدسرشت مولویوں کے حکم اور فتوے سے دین اسلام سے خارج کر دیئے جائیں اور اگر ہزار وجہ اسلام کی پائی جائے تو اس سے چشم پوشی کر کے ایک بیہودہ اور بے اصل وجہ کفر کی نکال کر ان کو ایسا کافر ٹھہرا دیا جائے کہ گویا وہ ہندوؤں اور عیسائیوں سے بدتر ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥٩٤، ٥٩٥، خزائن ج ٣ ص ٤٢١)
مقام غور ہے کہ مولویوں نے جہاں تک ممکن تھا تحقیق کی جب دیکھا کہ صحیح صحیح حدیثیں مدعیان نبوت کی دجالیت اور کذابیت ثابت کر رہی ہیں تو مجبوراً جو احکام اور ارشادات اپنے نبی ﷺ کے وارد ہیں۔ بلا کم و کاست پیش کر دیئے۔ مگر مرزا قادیانی نے بلا تحقیق ایک ہی بات میں فیصلہ کر دیا کہ جو کوئی میری نبوت میں تردد کرے وہ کافر ہے۔ اس کے پیچھے نماز پڑھنا قطعی حرام ہے۔ پھر اس بیہودہ اور بے اصل وجہ کفر سے ہزاروں کیا جمیع وجوہ اسلام بھی کسی میں پائے جائیں تو بھی وہ اس دائرہ کفر سے خارج نہیں ہو سکتا۔ سوائے اپنی امت کے انہوں نے کل اہل اسلام کو کافر اور دوزخی قرار دیا اور اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ ان کی نماز صحیح ہو سکے۔ پھر اپنی ہی تکفیر پر کفایت نہیں کرتے۔ بلکہ خدا کی طرف سے بھی پیام پہنچا رہے ہیں کہ جتنے مسلمان ہیں سب کافر ہیں۔ چنانچہ یہ الہام ہے۔ ”قل یا ایہا الکفار انی من الصادقین فانتظرو اٰیاتی حتی حین“
(ازالۃ الاوہام ص ٨٥٥، خزائن ج ٣ ص ٥٦٥)
یعنی خدا نے مرزا قادیانی سے کہا تو کہہ اے کافرو! میں سچا ہوں میری نشانیوں کا ایک وقت تک انتظار کرو۔ اب مرزا قادیانی ہی انصاف سے فرمائیں کہ بدسرشتی میں نمبر کس کا بڑھا رہے گا۔ مرزا قادیانی مخالفین کی تکفیر بھی کرتے ہیں اور جہاں ضرورت ہوتی ہے انکار بھی کر جاتے ہیں۔ چنانچہ ابھی معلوم ہوا کہ جب بعض حضرات مباہلہ کرنے پر مستعد ہوئے کہ اگر دعویٰ عیسویت ہے تو مرزا قادیانی میدان میں نکلیں اور ہم بھی نکلتے ہیں اور ہر فریق جھوٹے پر لعنت کرے۔ مرزا قادیانی نے اس موقع میں صاف یہ کہہ دیا کہ میں اپنے مخالفین کو جھوٹا اور لعنتی ہرگز نہیں سمجھتا۔
اس قسم کی تحریرات مرزا قادیانی کی بہت ہیں۔ اگر وہ سب لکھی جائیں اور ان میں بحث کی جائے تو کئی جلدیں ہو جائیں گی۔ چونکہ اس کتاب میں ہمیں صرف اہل انصاف کو یہ دکھلانا منظور ہے کہ مرزا قادیانی کی کارروائیاں کس قسم کی ہوتی ہیں۔ سو بفضلہ تعالیٰ معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے کلام میں کس قدر تعارض اور نصوص کی مخالفت اور خود غرضیاں ہوا کرتی ہیں۔
مرزا قادیانی نے جو لکھا ہے کہ جنہوں نے مجھ کو مسیح موعود مان لیا ہے۔ انہوں نے اپنے بھائی پر حسن ظن کیا۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا اور سب کو حسن ظن کی ہدایت فرماتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”مکاشفات میں استعارات غالب ہیں اور حقیقت سے پھیرنے کے لئے الہام الٰہی قرینہ قویہ کا کام دے سکتا ہے اور آپ حسن ظن کے مامور ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٤٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣١٢)
فی الحقیقت مسلمانوں کے ساتھ حسن ظن کی ضرورت ہے۔ چنانچہ خود حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ان بعض الظن اثم . (حجرات: ١٢)“ مگر افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہمارے نبی ﷺ کی غلطیاں بیان کیں۔ جیسا کہ معلوم ہوگا اور حسن ظن سے ذرا بھی کام نہ لیا کہ افضل الانبیاء سے کیونکر غلطی ہو سکتی ہے۔ ضرور ہے کہ کوئی توجیہ ایسی ہوگی جس تک ہماری عقل نہیں پہنچ سکتی۔ اب اگر اہل اسلام مرزا قادیانی پر حسن ظن کر کے ان کے الہاموں کو صحیح مان لیں تو اپنے نبی کی غلطیوں کی تصدیق اور بہت سی حدیثوں کی تکذیب کرنی پڑتی ہے۔ جو حرام قطعی بلکہ مفضی الی الکفر ہے اور ظاہر ہے کہ مقدمة الحرام حرام اس لئے مرزا قادیانی پر حسن ظن حرام سمجھا جاتا ہے اور یہ بات بھی قابل تسلیم ہے کہ جتنے مدعیان نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد ہوئے ہیں۔ سب کو اسلام کا دعویٰ اور نبی کریم ﷺ کی تصدیق تھی۔ یہاں تک کہ مسیلمہ کذاب بھی حضرت کو نبی ہی سمجھتا تھا۔ جیسا کہ زادالمعاد میں ابن قیمؒ نے لکھا ہے۔ پھر اگر بقول مرزا قادیانی ان تمام مدعیوں پر حسن ظن کیا جاتا تو اب تک دین کی حقیقت ہی کچھ اور ہوگئی ہوتی۔ اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے ان سے بدگمان اور دور رہنے کے لئے تاکید فرمائی ہے۔ ”کمافی المشكوة عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ يكون فى آخر الزمان دجالون كذابون ياتونكم من الاحاديث بما لا تسمعوا انتم ولا آباؤكم فاياكم واياهم لايضلونكم ولا يفتنونكم (رواه مسلم ج ١ ص ١٠، باب النهي عن الرواية عن الضعفاء ولا حتياط فى تحملها) “ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے کہ آخر زمانے میں دجال اور جھوٹے پیدا ہوں گے۔ وہ لوگ ایسی باتیں کریں گے کہ نہ تم نے سنیں نہ تمہارے آباؤ اجداد نے۔ ان سے بچو اور ڈرتے رہو۔ کہیں
وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔
مولانا رومؒ فرماتے ہیں۔
پس بہر دستی نباید داد دست
عقائد مرزا میں ان کا قول (اشتہار دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) سے نقل کیا ہے کہ میں اللہ کی اولاد کے رتبے کا ہوں۔ میرا الہام ہے کہ ”انت منی بمنزلۃ اولادی“ اس کے دیکھنے سے ابتداءً تو بڑی پریشانی ہوئی کہ اللہ کی اولاد مرزا قادیانی نے کہاں سے ڈھونڈ نکالی اور کس کتاب سے معلوم کیا ہوگا۔ مگر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ خود قرآن میں اس کا ذکر ہے۔ ”وقالت اليهود والنصارىٰ نحن ابناء الله واحبآؤه قل فلم يعذبكم بذنوبكم (مائدہ:١٨)“ ”یعنی یہود و نصاریٰ کہتے ہیں ہم اللہ کی اولاد اور اس کے دوست ہیں۔ ان سے کہو جب ایسا ہے تو تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیتا ہے۔ غرض کہ اولاد کا ذکر تو معلوم ہوا مگر اس میں تأمل ہے کہ مرزا قادیانی کا رتبہ یہود و نصاریٰ کے رتبے کے برابر کیونکر ہو سکے گا۔ اگر دنیوی حیثیت سے دیکھئے تو مرزا قادیانی نہ ان کے سے مالدار ہیں نہ صاحب حکومت اور آخرت کے لحاظ سے بھی یقینی طور پر ہم رتبہ نہیں کہہ سکتے۔ کیونکر ممکن ہے کہ مرزا قادیانی ان خرافات سے توبہ کرلیں۔ یہاں یہ بات معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی اولاد ہی ممتنع الوجود ہے تو ان کا ہم رتبہ ہونا ثابت نہیں ہوسکتا تھا یہ الہام لغو جاتا تھا۔ اس لئے کسی اولاد فرضی کے تصور کی ضرورت ہوئی۔ ابن حزمؒ نے کتاب ملل ونحل میں اور ابن تیمیہؒ نے منہاج السنۃ میں لکھا ہے کہ ابو منصور عجلی جس کا لقب کسف تھا۔ اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اس دعویٰ کو اس طرح مدلل کیا تھا کہ ایک بار مجھے معراج ہوئی۔ جب میں آسمان پر گیا تو حق تعالیٰ نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا ”یا بنی اذهب فبلغ عنی“ یعنی اے میرے پیارے بیٹے جا اور لوگوں کو میرا پیام پہنچا۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ہر زمانے میں ہر قسم کی طبیعت کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔ بعضوں نے دیکھا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”قل ان كان للرحمٰن ولد فانا اول العابدین (زخرف: ٨١)“ یعنی کہو اے محمدﷺ کہ اگر خدا کا کوئی بیٹا ہو تو میں اس کی عبادت کرنے والوں میں پہلا شخص ہوں گا۔
ممکن ہے کہ وہ اس کی تلاش میں ہوں۔ پھر جب ابو منصور نے کہا کہ خدا نے مجھ کو یا بنی فرمایا تو انہوں نے اس کو نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر یہ خیال کیا ہوگا کہ آخر ہم اپنے بھائی پر حسن ظن کر
نے کے مامور بھی ہیں اور ایک اعلیٰ درجے کا شخص جو نبوت کا دعویٰ رکھتا ہے یہ کہہ رہا ہے تو ضرور مطابق واقع کے ہوگا۔ اس لئے اس کو مان لیا اور اس کے برابر اپنا رتبہ تصور کر لیا۔
مرزا قادیانی نے دیکھا کہ بیٹا کہنے میں جھگڑا پڑ جائے گا۔ مقصود محبت ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ اولاد کی محبت سے زیادہ کسی کے ساتھ محبت نہیں ہوا کرتی۔ اس لئے بمنزلہ اولاد بننا بہتر ہوگا اور پرستش جاری ہونے کے لئے اتنا بھی کافی ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ کو نعوذ باللہ حقیقی اولاد ہوتی تو ضرور قابل پرستش ہوتی۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا۔ مرزا قادیانی جو کہتے ہیں کہ میں اللہ کی اولاد کے رتبے کا ہوں اس سے ظاہر ہے کہ وہ اپنے کو مستحق عبادت بھی قرار دے رہے ہیں۔ کیونکہ ہر رتبے کے احکام معین ہوا کرتے ہیں۔ خدا کی اولاد کا رتبہ یہی ہے کہ مستحق عبادت ہو۔ جیسا کہ قرآن شریف سے ظاہر ہے جب مرزا قادیانی نعوذ باللہ خدا کے متبنی ٹھہرے تو کم از کم اتنا تو ضرور ہے کہ امت ان کی عبادت کرتی ہوگی۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو اس الہام کے بنانے کے وقت ذرا بھی شرم نہ آئی۔ اب کس طرح سمجھا جائے کہ مرزا قادیانی کو خدائے تعالیٰ پر اور روز جزا و سزا پر ایمان بھی ہے۔ پھر یہ دعویٰ تو پہلے ہی ہو چکا تھا کہ حق تعالیٰ سے بے تکلف بات چیت کر لیا کرتے ہیں۔ چنانچہ (ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣) میں لکھتے ہیں کہ ”جو لوگ امام الزمان ہوں...... خدائے تعالیٰ ان سے نہایت صفائی سے مکالمہ کرتا ہے اور ان کی دعاء کا جواب دیتا ہے اور بسا اوقات سوال اور جواب کا ایک سلسلہ منعقد ہو کر ایک ہی وقت میں سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب ایسی صفائی اور لذیذ اور فصیح الہام کے پیرایہ میں شروع ہوتا ہے کہ صاحب الہام خیال کرتا ہے کہ گویا وہ خدائے تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے...... خدائے تعالیٰ ان سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرے سے جو نور محض ہے اتار دیتا ہے...... اور وہ اپنے تئیں ایسا پاتے ہیں کہ گویا ان سے کوئی ٹھٹھا کر رہا ہے۔“ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ ”میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ وہ امام الزمان میں ہوں۔“
(ضرورت الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٤)
غرض کہ ٹھٹھا اور مزاح کی انبساطی حالت میں درخواست کر کے الہام بھی اتروا لیا کہ ”انت منی بمنزلة اولادی“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢ حاشیہ)
جس سے معتقدین کا حسن ظن اور دوبالا ہو گیا اور جب آیت موصوفہ یعنی ”قل ان کان للرحمن ولد“ قرآن شریف میں پڑھتے ہوں گے تو کیسی خوشی ہوتی ہوگی کہ ہمارے
مرزا قادیانی کو بھی یہ رتبہ حاصل ہے اور اسی خوشی میں معلوم نہیں کیسے کیسے خیالات پیدا ہوتے ہوں گے۔ جن کی تصریح کرنے پر زبان اٹھ نہیں سکتی۔ کم سے کم اتنا تو ضرور ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے رتبے سے ان کا مرتبہ بلندتر سمجھتے ہوں گے۔ جس کا لازمہ یہ ہے کہ اس نص قطعی سے ان کو مستحق عبادت سمجھ لیا ہوگا۔ کیونکہ اگر اس رتبے میں تأمل کیا تو الہام پر ایمان نہ ہوا اور جب الہام صحیح مان لیا گیا ہے تو ان کی پرستش لازم ہوگئی۔ ”نعوذ بالله من ذالك“ مگر مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ سے زیادہ کوئی محبوب رب العالمین نہیں ہوسکتا۔ باوجود اس کے نہ حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس قسم کی محبت بیان کی نہ آنحضرت ﷺ نے کبھی فرمایا۔ دیکھئے ابتدا کیا تھی اور انتہاء کہاں ہوئی اس کے بعد صرف انا ربکم الاعلیٰ کا دعویٰ باقی رہ گیا تھا۔ سو اس میں بھی یوں دخل دیا گیا کہ یہ الہام ہوا ”انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون“ جس کو (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) میں لکھا ہے۔ جس کا مطلب صاف ہے کہ وہ جو کچھ پیدا کرنا چاہیں صرف کن کہہ دینے سے وہ چیز پیدا ہو جائے گی۔ لیجئے خالقیت بھی مسلم ہوگئی۔ پہلے نبوت کی وجہ سے عیسویت کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی اب تو نبوت کی بھی ضرورت نہ رہی۔
حق تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے احیائے موتیٰ کی خبر قرآن شریف میں دیتا ہے۔ ”اني اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرى الاكمه والابرص وأحيى الموتى باذن الله (آل عمران:٤٩)“ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”وہ احیائے موتیٰ نہ تھا بلکہ قریبا لموت مردہ کو مسمریزم کے عمل سے چند منٹ کے لئے حرکت دے دیتے تھے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣١١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
اور لکھتے ہیں کہ ”یادرکھنا چاہئے کہ اگر یہ عاجز عمل مسمریزم کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣٠٩ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
یہ قدردانی خدائے تعالیٰ کے اس کلام کی ہوئی۔ جس پر ایمان لانا فرض ہے اور بغیر اس کے آدمی مسلمان ہی نہیں ہوسکتا اور اپنے ملہم پر اس قدر وثوق کہ اعلان اس مضمون کا دے دیا کہ میں بھی خالق ہوں کہ کن کہہ کر سب کچھ پیدا کر سکتا ہوں۔ حالانکہ قولہ تعالیٰ احیی الموتیٰ کے ابطال کی غرض سے لکھ چکے ہیں کہ ”خدائے تعالیٰ اپنی ہر ایک صفت میں وحدہ لاشریک ہے۔ اپنی صفات الوہیت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣١٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٩)
اور لکھتے ہیں کہ ”خدائے تعالیٰ اپنے اذن اور ارادے سے کسی شخص کو موت اور حیات اور ضرر اور نفع کا مالک نہیں بناتا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣١٥، خزائن ج ٣ ص ٢٦٠)
اور حق تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے پرندے بنانے کا معجزہ جو آیت موصوفہ میں فرماتا ہے اس کی حقیقت یوں بیان کرتے ہیں کہ ”کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدائے تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی کہ مٹی کا کھلونا کسی کل کے دہانے سے یا پھونک مارنے سے کسی طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤، ٢٥٥)
غرض کہ بقول مرزا قادیانی معاذ اللہ عیسیٰ علیہ السلام ایک بڑھئی کے لڑکے اور معمولی آدمی تھے اور اس فن میں بھی کامل نہ تھے کیونکہ لکھتے ہیں کہ ”امریکہ میں جو آج کل چڑیاں بنتی ہیں وہ بدرجہا ان کی چڑیوں سے بہتر ہوتی ہیں۔“ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) میں لکھتے ہیں: ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھا سکتا۔“ وجہ اس کی ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کو خالقیت کا بھی دعویٰ ہے کہ لفظ کن سے جو چاہتے ہیں پیدا کرتے ہیں نعوذ باللہ من ذالک اس سے تو ثابت ہو رہا ہے کہ ان کا روئے سخن صرف عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف نہیں ہے کیونکہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی نسبت بھی حق تعالیٰ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ یہ صفت خاصہ آپ کو بھی دی گئی اور نہ وہ کسی حدیث میں حضرت نے فرمایا ہے اس سے ثابت ہے کہ گو مرزا قادیانی زبانی غلامی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر درحقیقت معاذ اللہ افضلیت کا دعویٰ ہے۔
امام سیوطیؒ نے تفسیر (درمنثور ج ٢ ص ٣٧، ٣٨) میں متعدد روایات ذکر کئے ہیں کہ نصاریٰ نے یہ الزام دینا چاہا کہ عیسیٰ علیہ السلام جو بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں اس سے ثابت ہے کہ وہ خدا یا خدا کے بیٹے تھے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: ”ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون (آل عمران: ٥٩)“ یعنی اللہ کے ہاں جیسے آدم ویسے عیسیٰ مٹی سے پیدا کر کے کن فرمایا سو وہ پیدا ہو گئے۔ غرضیکہ بغیر باپ کے وہ پیدا کئے گئے۔ مگر یہود ان پر یہی الزام لگاتے رہے کہ بغیر باپ کے پیدا ہونا ممکن نہیں۔ اس آیت شریفہ میں حق
تعالیٰ نے ان کا بھی رد کر دیا کہ بغیر باپ کے پیدا کرنا قدرت الٰہی سے کچھ بعید نہیں اور اس کی نظیر بھی موجود ہے کہ آدم علیہ السلام اسی طرح پیدا ہوئے تھے۔ باوجود اس تصریح کے مرزا قادیانی یہی کہے جاتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے باپ بھی تھے اور دادا بھی، باپ کا ہونا تو ان کی تصریح سے ابھی معلوم ہوا کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ نجاری کا کام کرتے تھے اور دادا کا ہونا اس عبارت سے ظاہر ہے کہ ”مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح عقلی معجزہ دکھلایا۔“
(ازالۃ الاوہام ص٣٠٤، خزائن ج٣ ص٢٥٥)
اس میں شک نہیں کہ نص قطعی کے مقابلے کے لحاظ سے مرزا قادیانی اپنے کلام میں کوئی تاویل کرلیں گے۔ یا نص ہی کے معنی بدل دیں گے۔ مگر قرآن کے مخالف ان الفاظ کا استعمال کرنا کس قدر بدنما اور خلاف شان ایمان ہے۔ خصوصاً ایسے موقع میں کیا سمجھا جائے۔ جب کہ وہ اقسام کی توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کر رہے ہیں جیسا کہ ابھی معلوم ہوا۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”میں امام حسین کے ساتھ مشابہت رکھتا ہوں...... اور حسینی الفطرۃ ہوں۔“
(ازالۃ الاوہام ص١٦٨، خزائن ج٣ ص١٣٩)
اور لکھتے ہیں ”مجھے خدائے تعالیٰ نے آدم صفی اللہ اور نوح اور یوسف اور موسیٰ اور ابراہیم کا مثیل قرار دیا...... اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ بار بار احمد کے خطاب سے مخاطب کر کے ظلی طور پر مثیل محمدﷺ قرار دیا۔“
(ازالۃ الاوہام ص٢٥٣، خزائن ج٣ ص٢٢٧، ٢٢٨)
اور لکھتے ہیں کہ ”جب تم اشد سرکشیوں کی وجہ سے سیاست کے لائق ٹھہر جاؤ گے تو محمد بن عبداللہ ظہور کرے گا۔ جو مہدی ہے...... مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا نام محمد ابن عبداللہ ہوگا۔ کیونکہ آنحضرتﷺ کا مثیل بن کر آئے گا۔“
(ازالۃ الاوہام ص٥٧٢، خزائن ج٣ ص٤٠٩)
ان تقریروں میں سے اگرچہ حضرت امام حسینؓ کی مشابہت سے ابتداء کی گئی۔ جس سے یہی سمجھا گیا کہ عام طور پر مشابہت کا دعویٰ ہے۔ مگر در باطن ایک بڑے دعوے کی تمہید تھی کہ آنحضرتﷺ کے مثیل ہیں اور مثیل بھی وہ نہیں جس کو ہر شخص سمجھتا ہے۔ بلکہ خود حضرت ہی ہیں جو بروزی طور پر ظہور فرمائے ہیں۔ جیسا کہ (الحکم ج٩ نمبر ٢١ ص١، مورخہ ١٧؍ جون ١٩٠٥ء) میں جو قصیدہ انہوں نے مشتہر کیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ اس قصیدے کا عنوان بخط جلی لکھا ہے۔ ”پیام شوق بجناب رسالت مآب خاتم الانبیاء سید الاصفیاء فداہ ابی وامی صلعم از خاکسار ابو یوسف احمدی سیالکوٹی۔
کس کو تاب ہمسری ہے سید لولاک سے
تو نے دکھلایا بروزی طور سے اپنا جمال
قادیاں ہے جلوہ گر اب تیرے روئے پاک سے
غالباً مضمون بروز کسی مقام میں مرزا قادیانی نے بھی لکھا ہے۔ مگر چونکہ یہ اخبار مرزا قادیانی اپنی امت کی ہدایت کے واسطے جاری کرتے ہیں۔ اس لئے استدلال کے لئے وہی کافی ہے۔ چنانچہ اس شعر سے ظاہر ہے جو (الحکم ج ٩ نمبر ٢٢ ص ١١ مورخہ ٢٤ جون ١٩٠٥ء) میں لکھا ہے۔
اور انفاس مسیحا کا دہن ہے الحکم
مسئلہ بروز قدیم حکماء کا مسلک ہے۔ جس کو فی زماننا ہر شخص نہیں جانتا۔ چونکہ مرزا قادیانی نے اپنے وسیع معلومات سے اس کی تجدید کی ہے۔ اس لئے اولاً اس کا حال معلوم کرنے کی ضرورت ہے۔
شیخ بوعلی سینا نے شفا میں اور قطب الدین شیرازی نے شرح حکمة الاشراق میں لکھا ہے کہ بعض حکماء بروز و کمون کے قائل تھے۔ ان کا قول ہے کہ استحاله فی الکیف ممکن نہیں۔ یعنی مثلاً پانی گرم کیا جائے تو یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ اس کی برودت جاتی رہی اور بجائے اس کے اس میں کیفیت حرارت آگئی۔ اس لئے کہ حرارت و برودت وغیرہ کیفیات اولیہ محسوسہ عناصر کی صور نوعیہ ہیں اور ممکن نہیں کہ صور نوعیہ فنا ہونے پر بھی حقائق نوعیہ باقی رہیں۔ پھر پانی جو گرم ہو جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی میں حرارت بھی کامن یعنی پوشیدہ تھی۔ جب حرکت جو باعث حرارت ہے۔ اس کو لاحق ہو یا آگ اس سے متصل ہو تو وہ حرارت ظاہر ہو جاتی ہے جو اس میں کامن تھی۔ اصل یہ ہے کہ جتنے عناصر ہیں اس طور پر مخلوق ہوئے ہیں کہ ہر ایک میں تمام عناصر موجود ہیں۔ مثلاً پانی میں آگ بھی ہے اور ہوا اور خاک بھی ہے۔ نہ خالص پانی کہیں پایا جائے گا نہ خالص آگ وغیرہ ہاں یہ ضرور ہے کہ کسی میں پانی غالب ہے اور کسی میں ہوا وغیرہ۔ مثلاً پانی میں پانی غالب ہے اور ہوا وغیرہ مغلوب ہیں۔ پھر جب مغلوب عنصر کو قوت دینے والا عنصر اس کے ساتھ ملتا ہے تو مغلوب کو قوت ہو جاتی ہے اور سب پر وہی غالب ہو جاتا ہے اور محسوس ہونے لگتا ہے۔ غرضیکہ نہ پانی آگ ہوتا ہے نہ آگ پانی۔ بلکہ آگ کی قربت سے پانی میں جو آگ چھپی ہوئی ہے ظاہر ہو جاتی ہے اور باقی دوسرے عناصر اس سے متفرق ہو جاتے ہیں۔ اس مذہب کو شیخ
نے شفاء میں اور شیخ الاشراق نے حکمۃ الاشراق میں متعدد دلائل سے باطل کیا ہے۔ چونکہ ہماری غرض یہاں اس سے متعلق نہیں اس لئے ان دلائل کے ذکر کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ بلکہ یہاں یہ معلوم کرنا مقصود ہے کہ جو لوگ بروز کے قائل تھے وہ بھی بروز کو صرف عناصر ہی تک محدود رکھتے تھے اور وہ ہرگز اس کے قائل نہ تھے کہ ایک آدمی کے جسم میں دوسرے آدمی کا جسم بروز کرتا ہے اور غالباً مرزا قادیانی بھی یہاں بروز سے بروز جسمانی مراد نہ لیتے ہوں گے۔ بلکہ اس بروز کا مطلب یہی فرماتے ہوں گے کہ روح مبارک آنحضرت ﷺ کی بروز کی ہے۔ جس سے یہ صادق آجائے کہ قادیان میں آنحضرت ﷺ کا بروز ہوا ہے۔ جیسا کہ قصیدے میں مذکور ہے گو مرزا قادیانی نے اس کو بروز خیال کیا ہو۔ مگر درحقیقت یہ تناسخ ہے جس کا قائل فیثا غورث تھا۔ تاریخ فلاسفہ یونان جس کو عبداللہ بن حسین نے لغت فرنسوی سے عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ حکیم فیثا غورث اس بات کا قائل تھا کہ ارواح فنا نہیں ہوتیں۔ بلکہ ہوا میں پھرتی رہتی ہیں اور جب کوئی جسم مردہ پاتی ہیں فوراً اس میں گھس جاتی ہیں۔ پھر اس میں یہ پابندی بھی نہیں کہ انسان کی روح انسان ہی کے جسم میں داخل ہو۔ بلکہ گدھے کتے وغیرہ کے جسم میں بھی داخل ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح حیوانات کی روحیں انسانوں کے جسم میں بھی داخل ہو جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ کسی حیوان کے قتل کو جائز نہیں رکھتا تھا۔ قرائن قویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو ان خرافات پر آمادہ کرنے والا صرف ایک خیال تھا کہ اپنا تفوق سب پر ثابت کرے اور تعلی کا موقع اچھی طرح حاصل ہو۔ چنانچہ لکھا ہے کہ اس کا دعویٰ تھا کہ میری روح پہلے ایتھالیدس کے جسم میں تھی جو عطارد کا بیٹا تھا۔ جس کو اہل یونان اپنا معبود سمجھتے تھے اور یہ واقعہ بیان کیا کہ ایک روز عطارد نے اپنے بیٹے ایتھالیدس سے کہا کہ سوائے بقا و دوام کے جو جی چاہے مجھ سے مانگ لے اس نے یہ خواہش کی کہ میرا حافظہ ایسا قوی ہو جائے کہ جتنے واقعات زندگی میں اور موت کے بعد مجھ پر گزریں سب مجھ کو یاد رہیں۔ چنانچہ اس وقت سے اس کو یہ بات حاصل ہو گئی۔ پھر اس نے اس دعوے کی تصدیق پر چند واقعات بیان کئے کہ ایتھالیدس کی روح جب اس کے جسم سے نکلی تو اوقعدریدیہ کے جسم میں گئی اور شہر تروادہ کے محاصرے میں اس کو مینجلاس نے زخمی کیا۔ پھر اس کے جسم سے جب نکلی تو برہمونیوس کے جسم میں داخل ہوئی۔ پھر ایک صیاد کے جسم میں گئی جس کا نام یوروس تھا۔ اس کے بعد اس عاجز کے جسم میں بروز کی جس کو تم فیثا غورث کہتے ہو اور چند درمیانی واقعات اور بھی بیان کئے۔ غرض کہ خدا کی صاحب زادگی کا اعزاز حاصل کرنے کی وہ تدبیر نکالی کہ جس کا جواب نہیں اور حافظہ اور طبیعت خداداد تو اس کو پہلے ہی سے حاصل تھی۔ جس کے سبب سے شہرۂ آفاق ہو چکا تھا۔ سب نے حسن ظن کر کے اس
کی تصدیق کی۔ چونکہ اس زمانے میں الہام کا رواج نہ تھا۔ اس لئے اس کو تناسخ کا سلسلہ قائم کرنے اور ان خرافات کے تراشنے کی ضرورت ہوئی۔ ورنہ الہام کا ہتھکنڈا، اگر اس کے ہاتھ آتا تو اس بکھیڑے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ عطارد کی قسم کھا کر کہہ دیتا کہ مجھے الہام ہوا۔ بلکہ عطارد نے اپنے روشن چہرے سے پردہ ہٹا کر رو برو سے کہہ دیا کہ تو میرا بیٹا ہے اور نشانی یہ ہے کہ میں جو سنتا ہوں یاد رکھ لیتا ہوں اور نئے نئے ہندسے وغیرہ کے مسائل ایجاد کرتا ہوں۔ اگر اس کو نہیں مانتے ہو تو مقابلہ کر لو۔ غرض کہ اس دعوے کے بعد اس کی تعظیم وتکریم اور بھی بڑھ گئی دور دور سے لوگ اس کے پاس آتے اور اس کی شاگردی پر افتخار کرتے۔ یہاں تک کہ سعید وہ شخص سمجھا جاتا تھا جو اس کے نزدیک بیٹھے۔ چونکہ تعلیم میں خدا کے بیٹے کا بروز داخل تھا۔ اس لئے اس کے شاگردوں کے ذہن میں اس کی الوہیت متمکن تھی۔ اگر چہ اس نے عقل سے بہت سارے کام لئے۔ چنانچہ شکل عروس جو فن ہندسہ میں ایک مشہور اور مشکل شکل ہے اس کو اسی نے مدلل کیا۔ مگر معتقدوں کے اعتقاد بڑھانے کے لئے اور تدابیر کی بھی ضرورت ہوئی۔ چنانچہ ایک بار اس نے ایک چھوٹا سا حجرہ زمین کے اندر تیار کر کے ایک سال اپنے تئیں اس میں محبوس کیا اور یہ مشہور کیا کہ دوزخ کی سیر کو جاتا ہوں اور اپنی ماں سے کہہ دیا کہ جو کچھ نئے واقعات شہر میں ہوں ان کو تحقیق کر کے لکھ دیا کرے۔ ایک سال کے بعد جب اس حجرہ تنگ و تاریک سے نکلا جو فی الحقیقت اس کے حق میں دوزخ ہی تھا۔ تو ایسی حالت اس کی ہو گئی تھی کہ بمشکل پہچانا جاتا تھا۔ اسی حالت میں سب کو جمع کر کے دوزخ کے واقعات بیان کئے کہ اس میں ہریودس شاعر کو دیکھا کہ زنجیروں میں مقید اور مصلوب ہے اور ہومیرس کی روح کو دیکھا کہ ایک درخت پر لٹکی ہوئی ہے۔ جس کے ارد گرد اژدہے احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ اس قسم کے اور واقعات بیان کر کے کہا کہ اس مدت میں میں تم لوگوں سے بھی غافل نہ تھا۔ چنانچہ شہر کے تاریخ وار پورے واقعات بیان کر دیئے۔ جو ماں کی تحریر میں ایک بار دیکھ لیا تھا اب اس کشف کے بیان سے تو اور بھی عزت دوبالا ہو گئی۔ ایک بار کہیں کھیل کود کا مجمع تھا۔ اس میں چلا گیا۔ جب اس کے پاس معتقدین کا مجمع ہوا تو ایک خاص طور کی سیٹی دی۔ ساتھ ہی ایک گدھ ہوا سے اتر آیا۔ لوگوں کو اس سے نہایت تعجب ہوا جس سے اور زیادہ معتقد ہو گئے اور دراصل اس گدھ کو اس نے تعلیم دے رکھی تھی جس سے کسی کو اطلاع نہ تھی۔ یہ سب تدابیر اسی غرض سے تھیں کہ مافوق العادت امور معجزے کے رنگ میں پیش کر کے احمقوں میں امتیاز حاصل کیا جائے۔ ایسے ہی لوگوں کی شان میں حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ فاستخف قومه فاطاعوه انهم كانوا قوماً فاسقين (زخرف:٥٤) ”ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ عقلاء کیسی کیسی تدابیر اپنی
کامیابیوں کی سوچتے ہیں۔ جن کی تہ تک پہنچنا ہر کسی کا کام نہیں۔ دیکھ لیجئے یہ شخص کیسا مدبر اور مقرر ہو گا کہ یونان جیسے خطے کے عقلاء اور حکماء کو احمق بنا کر ان کے خدا کا بیٹا بلکہ خود خدا بن بیٹھا۔ یہی مسئلہ تناسخ و بروز تھا۔ جو اس کو ترقی کے اعلیٰ درجے کے زینے تک پہنچا دیا تھا۔ مرزا قادیانی چونکہ اعلیٰ درجے کے حاذق اور زمانے کے نبض شناس ہیں۔ تشخیص کر کے وہی نسخہ استعمال کیا جو ایک حاذق کے تجربے سے مفید ثابت ہو چکا ہے۔ اگر چہ کہ اس زمانے کے عقلاء نے اعلیٰ درجے کی طبیعتیں پائی تھیں۔ مگر فیضان کا سلسلہ منقطع نہیں۔ اہل کمال کے مثیل ہر زمانے میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ بلکہ انصاف سے دیکھا جائے تو جو صنعتیں اس زمانے میں ظہور پذیر ہیں اول زمانے سے بدرجہا بڑھی ہوئی ہیں۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اذکیاء کے ذہنوں کو متوجہ کرنے والی مقدمین کی کارروائیاں بطور مادہ پیش نظر ہیں اور قاعدے کی بات ہے کہ تلاحق افکار سے ایک ایسی بات پیدا ہو جاتی ہے جو موجد کو حاصل نہ تھی۔ دیکھئے فیثاغورث کو ایک سلسلہ گھڑنے کی ضرورت ہوئی کہ اس کی روح کئی جسموں میں ماری ماری پھری اور مرزا قادیانی کو اس کی بھی ضرورت نہ ہوئی۔ بلا واسطہ روح انہیں میں بروز کر گئی۔ اس کو عطارد کا بیٹا بننے میں کس قدر دشواریاں اٹھانی پڑی اور مرزا قادیانی صرف ایک ہی الہام سے بیٹے اپنے خدا کے بن گئے اس کو دوزخ کی سیر کا فخر حاصل کرنے کے لئے ایک برس دوزخ کا عذاب بھگتنا پڑا اور مرزا قادیانی آرام سے اپنی خواب گاہ میں بیٹھے ہوئے تمام افلاک کی سیر کر لیتے ہیں۔ بلکہ جب چاہتے ہیں خدا سے باتیں کر کے چلے آتے ہیں۔ اس کو معجزہ خارق العادت بتانے کے لئے گدھے کو تعلیم کی زحمت اٹھانی پڑی اور مرزا قادیانی کو خارق دکھلانے کی ضرورت ہی نہیں۔ بیٹھے بیٹھے عقلی معجزے گھڑ لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے دیکھا کہ نبوت کے دعوے میں مولوی پیچھا نہ چھوڑیں گے۔ حسب احادیث صحیحہ دجال و کذاب کہا کریں گے۔ اس لئے یہ تدبیر نکالی کہ خود نبی کریم ﷺ نے ان میں بروز کیا ہے۔ تاکہ جہاں حضرت کا نام سن کر دم نہ مار سکیں اس لئے کہ دجال و کذاب تو وہ ہو جو حضرت کے سوا کوئی دوسرا حضرت کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے۔ جب خود حضرت ہی وہ دعویٰ کر رہے ہیں تو اس لفظ کا محل نہ رہا۔ مگر یاد رہے کہ جب تک اس دعوے کو قرآن وحدیث سے وہ ثابت نہ کریں کوئی مسلمان ان کی ان ابلہ فریبیوں کو قابل توجہ نہیں سمجھ سکتا۔ کیونکہ ہمارے دین میں تناسخ بالکل باطل کر دیا گیا۔ مرزا قادیانی سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ حضرت آپ نے حمامة البشریٰ الی اہل مكة والصلحاء ام القریٰ میں تو یہ لکھ کر اہل مکہ وغیرہم کو اطمینان دلایا تھا کہ میں علماء سے جو مناظرہ کرتا ہوں وہ صرف نزول عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ میں ہے۔ اس کے سوا کسی مسئلے میں مجھے
اختلاف نہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں ”و اما ايمان قومنا وعلمائنا بالملئکۃ وغيرها من العقائد فلسنا نجادلهم فيه ولا نخطيهم فی ذلک وليس فی هذه العقائد عندنا الاالتسليم وانما نحن مناظرون فی امر نزول المسيح من السماء“
(حمامة البشریٰ ص ٢٤، خزائن ج ٧ ص ٢٠٥، ٢٠٦)
پھر یہ بروز و کمون اور دعوٰی نبوت وغیرہ کیسا؟۔ کیا یہ اعتقادی مسائل نہیں ہیں یا تمام مسلمانوں کے متفق علیہ یہ مسائل ہیں۔ مرزا قادیانی جھوٹ کو شرک کے برابر فرما چکے ہیں اور اس موقع میں یہ بھی نہیں فرمایا کہ جہاں دھوکا دینا مقصود ہو وہ جھوٹ نہیں ہوتا۔
یہ چند تحقیقات اور اجتہادات مرزا قادیانی کے اس غرض سے بیان کئے گئے کہ ان کی رفتار اور طبیعت کا اندازہ معلوم ہو جائے۔ العاقل تكفيه الاشارة (سنن دارمی ص ٣١) میں روایت ہے کہ صبیغ عراقی اکثر قرآن کی آیات میں پوچھا پاچھی کیا کرتا تھا۔ جب مصر کو گیا اور عمر وبن عاصؓ کو اس کا یہ حال معلوم ہوا تو اس کو اپنی عرضی کے ساتھ حراست میں دے کر حضرت عمرؓ کے پاس روانہ کیا۔ عمرؓ نے عرضی پڑھ کر چھڑیاں منگوائیں اور اس کو اتنا مارا کہ زندگی سے وہ مایوس ہو گیا۔ پھر بہت عجز و الحاح پر چھوڑا تو گیا مگر احکام جاری ہو گئے کہ کوئی مسلمان اس کو نزدیک نہ بیٹھنے دے۔ آخر جب اس نے توبہ کی اور اس کا یقین بھی ہوا تو اس وقت مجالست کی اجازت دی گئی۔ حضرت عمرؓ نے العاقل تكفيه الاشاره کے معنی عملی طور پر تمام مسلمانوں کو مشاہدہ کرا دیا کہ اس کی یہ پوچھا پاچھی اشارۃً کہہ رہی ہے کہ کبھی نہ کبھی کچھ نہ کچھ رنگ لانے والی ہے۔ اس لئے پیش از پیش ایسا بندوبست کیا کہ اس کے ہم خیالوں کا بھی ناطقہ بند ہو جائے۔ پھر کس کی مجال تھی کہ قرآن کے معنی میں دم مار سکے۔ افسوس ہے کہ اسلام کا ایک زمانہ وہ تھا کہ اشارات و امارات پر اہلِ اسلام چونک کر حزم و احتیاط کو کام میں لاتے تھے اور ایک زمانہ یہ ہے کہ سر پر نقارے بج رہے ہیں مگر جنبش نہیں اور حسنِ ظن کے خوابِ غفلت میں بے حس و حرکت ہیں۔ کیا عمرؓ کو حسنِ ظن کا مسئلہ معلوم نہ تھا۔ صبیغ عراقی نے تو نہ کوئی بات ایجاد کی تھی نہ نبوت وغیرہ کا دعویٰ کیا وہ تو صرف بعض آیات کے معانی پوچھا تھا۔ جس میں حسنِ ظن کو بڑی گنجائش تھی کہ نیک نیتی سے خدائے تعالیٰ کی مراد پر مطلع ہونا چاہتا ہے۔ جو ہر مسلمان کا مقصود دلی ہے۔ اب عقلا بصیرت سے کام لے کر غور فرما سکتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی کی یہ تحریرات عمرؓ کے زمانے میں پیش ہوتیں تو کیا کیا ہو جاتا۔ وہ زمانہ تو کچھ اور ہی تھا۔ مرزا قادیانی اس زمانے میں بھی اسلامی سلطنتوں سے نہایت خائف ہیں۔
یہاں تک کہ باوجود اس قدر دولت وثروت کے حج فرض کو بھی نہیں جاسکتے۔
حضرت عمرؓ سے صاف طور پر یہ روایت ہے کہ جو کوئی ایسے کاموں کا مرتکب ہو جن سے لوگوں کو بدگمانی کا موقع ملے تو بدگمانی کرنے والے قابل ملامت نہیں ہو سکتے ۔ جیسا کہ کنز العمال میں ہے ”عن عمر رضى الله عنه قال من تعرض للتهمة فلا يلو من اساء به الظن“ اور یہ تو قرآن شریف سے بھی ثابت ہے کہ بعض وقت نیک گمان بھی گناہ ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے ”يا ايها الذين آمنوا اجتنبوا كثيراً من الظن ان بعض الظن اثم (حجرات: ١٢)“ ”اے مسلمانو! بہت گمانوں سے بچتے رہو۔ کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔﴾
اس آیہ شریفہ میں حق تعالیٰ نے ظن سوء یعنی بدگمانی کی تخصیص نہیں کی بلکہ مطلقاً ظن فرمایا جو ظن خیر اور ظن سوء دونوں پر شامل ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ جیسے باوجود آثار وعلامات تدین کے بدگمانی درست نہیں۔ ویسے ہی تخریب وفساد دین کے آثار وعلامات کسی سے نمایاں ہونے پر حسن ظن جائز نہیں۔ اسی وجہ سے صبیغ عراقی پر حسن ظن نہیں کیا گیا اور حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”يا ايها الذين آمنوا ان جاءكم فاسق بنباء فتبينوا (حجرات:٦)“ ”یعنی اے مسلمانو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اچھی طرح اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ مفسرین نے اس آیت کی شان نزول یہ لکھی ہے کہ حارث ابن ضرار خزاعیؓ آنحضرت ﷺ سے وعدہ کر کے گئے کہ میں اپنے قبیلے کی زکوٰۃ جمع کر کے رکھتا ہوں ۔ حضرت کسی کو بھیج کر منگوالیں۔ حضرت نے ولید بن عقبہ کو بھیجا وہ راستے ہی سے واپس آکر یہ شکایت پیش کیا کہ حارث بجائے اس کے کہ مجھے مال زکوٰۃ دے ۔ میرے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ اس لئے میں جان بچا کر آگیا ہوں۔ اس پر صحابہؓ نے غالباً ولید پر حسن اور اس کی خبر کی تصدیق کر کے حضرت سے کچھ عرض کیا ہوگا۔ جس پر حضرت نے خالد بن ولید کو مع لشکر ان کی سرکوبی کے لئے بھیجا اور فرمایا ان کے قتل میں جلدی نہ کرنا ۔ چنانچہ خالدؓ نے وہاں جا کر مخفی طور پر خوب تحقیق کی جس سے ثابت ہو گیا کہ ان لوگوں کے اسلام میں کوئی اشتباہ نہیں۔ خالدؓ نے واپس آکر حقیقت حال بیان کی اور حارث بھی مال زکوٰۃ لے کر حاضر ہو گئے اور یہ آیت ان کی برأت میں نازل ہوئی اور ہمیشہ کے لئے یہ حکم ہو گیا کہ احتیاطی امور میں حسن ظن سے کام نہ لیا جائے۔ دیکھئے باوجود یہ کہ ولید صحابہؓ میں تھا اور معتمد علیہ سمجھا گیا۔ چنانچہ خود آنحضرت ﷺ نے اس کام کے لئے اس کا انتخاب فرمایا پھر ایسے شخص پر صحابہ نے اگر حسن ظن کیا تو کیا برا کیا تھا۔ مگر حق تعالیٰ نے اس کی بھی ممانعت فرما دی کہ گو بعض قرائن حسن ظن کے موجود ہوں مگر جب تک پوری تحقیق نہ کر لیجائے اسباب ظاہری قابل اعتبار نہیں۔ یہ بات یاد رکھنا چاہئے
کہ ہر چند صحابہ کل عدول اور اعلیٰ درجے کے متدین تھے مگر معصوم نہ تھے۔ حکمت الٰہی اسی کے مقتضی تھی کہ ان سے بھی اتفاقی طور پر اقسام کے گناہ صادر ہوں تاکہ تمام امت کو جو قیامت تک باقی رہنے والی ہے ہر ایک گناہ کا حکم عملی طور پر معلوم ہو جائے۔ اب یہاں اہل اسلام غور فرمائیں کہ جب صحابہ کی نسبت یہ حکم ہو گیا کہ ان کی خبر مجرد احتیاطی امور میں قابل حسن ظن نہیں تو کسی دوسرے کی مجرد خبر وہ بھی کسی کہ جسے اللہ نے اپنا رسول اور نبی بنا کر بھیجا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیونکر مانی جائے۔ شاید یہاں یہ شبہ ہو کہ حق تعالیٰ نے فاسق پر حسن ظن کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ نے ولید کو حسن ظن کے وقت فاسق نہیں سمجھا تھا۔ کیونکہ حسن ظن کے قرائن موجود تھے۔ پھر ان حضرات پر کیوں کر یہ بدگمانی کی جائے کہ باوجود فاسق سمجھنے کے اس پر حسن ظن کیا۔ البتہ فسق کا حال اس خبر کے بعد کھلا جس سے اس کا فاسق ہونا مسلم ہو گیا۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ کے افک کے معاملہ میں عبداللہ ابن سلول اور حسان ابن ثابت اور مسطح ابن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش لوگوں کو خبر دیتے پھرے۔ یہاں تک کہ یہ خبر مشہور ہو گئی۔ ہر چند صحابہ نے اس کی تصدیق نہیں کی مگر اس خیال سے کہ خبر دینے والے صحابہ ہیں۔ اس کی تکذیب بھی نہیں کی۔ اس پر حق تعالیٰ نے کمال عتاب سے فرمایا کہ خدا کا فضل تھا کہ تم لوگ بچ گئے ورنہ اس تکذیب نہ کرنے پر بڑا عذاب تم پر نازل ہوتا۔ ”ولولا فضل الله عليكم ورحمته فى الدنيا والآخرة لمسكم فيما افضتم فيه عذاب عظيم (نور:١٤)“ ﴿یعنی اگر تم مسلمانوں پر دنیا اور آخرت میں خدا کا فضل اور اس کا کرم نہ ہوتا تو جیسا تم نے اس (نالائق) بات کا چرچا کیا۔ اس میں تم پر کوئی بڑی آفت نازل ہو گئی ہوتی۔﴾
اور ارشاد ہوتا ہے کہ اس خبر کے سنتے ہی مسلمانوں کو لازم تھا کہ صاف کہہ دیتے کہ یہ خبر بالکل غلط اور بہتان ہے۔ ”ولولا اذ سمعتموه قلتم ما يكون لنا ان نتكلم بهذا سبحانك هذا بهتان عظيم . يعظكم الله ان تعودوا لمثله ابدا ان كنتم مؤمنين (نور ١٦،١٧)“ ﴿یعنی اور تم نے ایسی (نالائق) بات سنی تھی۔ (سننے کے ساتھ ہی) کیوں نہیں بول اٹھے کہ ہم کو ایسی بات منہ سے نکالنی زیبا نہیں۔ حاشا وکلا یہ تو بڑا بھاری بہتان ہے۔ خدا تم کو نصیحت کرتا ہے کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو پھر کبھی ایسا نہ کرنا۔﴾
صحابہ نے اس خبر کو مشہور کرنے والوں کی گو تصدیق نہ کی۔ مگر تکذیب نہ کرنا خود قرینہ ہے کہ مجردوں پر کسی قدر حسن ظن ضرور کیا تھا اور نہ تکذیب کرنے کو کون مانع تھا۔ اتنے ہی حسن ظن پر
عذاب عظیم کی تخویف کے مستحق ہو گئے۔ اگر حسن ظن سے تصدیق بھی کر لیتے تو معلوم نہیں کہ کس آفت کا سامنا ہوتا۔ اب غور کیا جائے کہ صدیقہؓ پر بہتان کرنا کیا خدائے تعالیٰ پر بہتان کرنے کے برابر ہو سکتا ہے ہرگز نہیں۔ پھر مرزا قادیانی جو کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے۔ جس سے حق تعالیٰ کا وہ ارشاد کہ ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین (احزاب:٤٠)“ ہے۔ خلاف واقع ٹھہرتا ہے کیا بہتان نہیں ہے اور ان پر حسن ظن کر کے اس بہتان عظیم کی تصدیق کرنا کس عذاب کا استحقاق حاصل کرنا ہے۔ حق تعالیٰ کس صراحت سے فرماتا ہے ”یعظکم الله ان تعودوا لمثلہ ابدا ان کنتم مؤمنین (نور:١٧)“ یعنی اگر تم ایمان رکھتے ہو تو پھر کبھی ایسا نہ کرنا مگر افسوس ہے کہ اس پر بھی عمل نہیں کیا جاتا۔ جس کی وجہ سے آفتوں پر آفتیں آتی جاتی ہیں۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”أولا یرون انہم یفتنون فی کل عام مرة او مرتین ثم لا یتوبون ولا ہم یذکرون (توبہ:١٢٦)“ ﴿یعنی کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک بار یا دو بار مبتلائے مصیبت ہوتے رہتے ہیں۔ اس پر بھی نہ تو توبہ ہی کرتے ہیں اور نہ نصیحت ہی پکڑتے ہیں۔﴾
مرزا قادیانی جو اکثر لکھتے ہیں کہ ان کے نہ ماننے کے سبب سے طاعون اور زلزلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سو اس کا تو ثبوت کسی طرح مل نہیں سکتا۔ مگر اس نص قطعی سے اشارۃ اس بات کا ثبوت مل سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے بہتان علیٰ اللہ کے ماننے کی وجہ سے یہ مصیبتیں آ رہی ہیں اور قاعدہ ہے کہ جب کسی قوم کے بداسلوبیوں کی وجہ سے عذاب آسمانی اترتا ہے تو وہ عام ہو جاتا ہے اور اس میں کسی کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے اور افک کے واقعہ میں حق تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا۔ ”لولا جاءوا علیہ باربعۃ شہداء فاذ لم یأتوا بالشہداء فأولئک عند الله ہم الکاذبون (نور:١٣)“ ﴿یعنی (جن لوگوں نے یہ طوفان اٹھا کھڑا کیا) اپنے بیان کے ثبوت پر چار گواہ کیوں نہ لائے۔ پھر جب گواہ نہ لا سکے تو خدا کے نزدیک (بس) یہی جھوٹے ہیں۔﴾
اس سے ظاہر ہے کہ ایسے دعووں پر معتبر گواہوں کی ضرورت ہے ورنہ قابل التفات نہیں۔ مرزا قادیانی دعوے نبوت پر جو مصنوعی گواہ پیش گوئیاں وغیرہ پیش کرتے ہیں۔ جو کاہن رمال نجومی بھی کیا کرتے ہیں۔ وہ اس قابل نہیں کہ اس معاملے میں گواہ سمجھے جائیں۔ کتاب ”التجلی کشف الاسرار“ میں لکھا ہے کہ بعض دوائیں ایسی بھی ہیں کہ اگر آدمی سونے کے وقت ان کا بخور لے تو آئندہ کے واقعات خواب میں معلوم ہوتے ہیں۔ جھوٹے دعوے کرنے والے
اس قسم کی تدابیر سے پیش گوئیاں کیا کرتے ہیں۔
قرآن وحدیث واجماع وغیرہ سے جو ثابت ہے کہ مدعی کچھ بھی دعوے کرے اس سے گواہ طلب کئے جائیں یہ امر ہمارے دعوے پر گواہ صادق ہے کہ کسی مدعی پر حسن ظن نہ کیا جائے۔ پھر جب خود دعویٰ اس قسم کا ہو کہ سرے سے دین ہی اس کو قبول نہیں کرتا تو حسن ظن وہاں کیونکر درست ہوگا۔ اس قسم کے دعووں پر نہ گواہ طلب کرنے کی حاجت ہے نہ ان کی گواہی مقبول ہو سکتی ہے۔ ان دعووں میں کیسی ہی طمع سازیاں کی جائیں بدگمانی واجب ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں۔ الحزم سوء الظن جس کا مضمون سعدی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے۔
کہ داند ہمہ خلق را کیسہ بر
اہل ایمان جانتے ہیں کہ ایمان کیسا دُرِّ بے بہا ہے۔ جب ایک پتھر کی حفاظت کے واسطے عقل عام بدظنی پر آمادہ کر دیتی ہے تو اس گوہر بے بہا کی حفاظت کے لئے کس قدر بدگمانی کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ ایمان ایک پتھر کے برابر بھی نہیں سمجھا گیا۔
دین میں بہتر فرقے جو ہو گئے جن کا ناری ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے سب کا وجود و بقا اسی حسن ظن ہی کی بدولت ہوا۔ اگر کسی بانیٔ مذہب پر حسن ظن نہ کیا جاتا تو نہ اوروں کے حوصلے بڑھتے نہ کسی کا خیال اس طرف متوجہ ہوتا۔
دیکھئے یہ حدیث صحیح ہے۔ ’’عن عرفجة قال سمعت رسول الله ﷺ یقول سیکون هنات وهنات فمن اراد ان یفرق امر هذه الامة وهو جمیع فاضربوه بالسیف کائناً من کان (رواہ مسلم ج١ ص١٢٨، باب حکم من فرق امر المسلمین وهو مجتمع) ‘‘ ﴿یعنی فرمایا نبی ﷺ نے کہ قریب ہے کہ شر و فساد ہوں گے سو یاد رکھو کہ جو کوئی اس امت کے اجتماعی حالت میں تفرقہ ڈالنا چاہے اس کو تلوار سے قتل کر ڈالو۔﴾
کیا اچھا ہو گا کہ اگلے زمانے کے لوگ تفرقہ اندازوں پر حسن ظن نہ کر کے جس طرح اس حدیث شریف نے قطعی فیصلہ کر دیا ہے ان کو قتل ہی کر ڈالتے۔ جس سے ان مذاہب باطلہ کا نام لینے والا ہی کوئی نہ رہتا اور تمام امت متفق اور ایک دوسرے کی معاون رہتی اور لاکھوں فرق باطلہ کے لوگ دوزخ سے محفوظ رہتے۔ الحاصل اس کا انکار نہیں ہو سکتا کہ بے موقع حسن ظن نے اسلام میں بڑی بڑی رخنہ اندازیاں کیں۔ مگر افسوس ہے کہ ہمارے برادرانِ دینی اب تک ہوشیار نہیں ہوئے اور اس مقولے پر غور نہ کیا۔ ’’من جرب المجرب حلت به الندامة (روح البیان
وروح المعانی) ”وغیرہ تفاسیر میں یہ روایت ہے۔“ عن الحسن البصرى قال كنا فى زمان الظن بالناس حرام وانت اليوم فى زمان اعمل واسكت وظن بالناس ماشئت “ یعنی ہم نے ایسا زمانہ بھی دیکھا ہے کہ بدگمانی اس وقت حرام تھی۔ اس لئے کہ عموماً صلحاء اور سب سے آثار خیر نمایاں تھے اور اب وہ زمانہ آ گیا کہ اپنی ذات سے عمل کر کے ساکت رہو اور جس پر جو چاہو گمان کرو۔ کیونکہ لوگوں سے ایسے ہی افعال صادر ہو رہے ہیں۔ جن سے بدگمانی کو موقع ملتا ہے۔ دیکھئے جب پہلی صدی کے اواخر کا یہ حال ہو تو چودہویں صدی کا کیا حال ہوگا۔ حسن بصریؒ کے قول سے مستفاد ہے کہ جس کا خبث باطن ظاہر ہونے لگے تو اس عالم میں اس کو اتنی سزا تو ضرور ہے کہ اس کے ساتھ بدگمانی کی جائے کسی شاعر نے لکھا ہے:۔
کہ دزد خانگی را شحنہ در بازار میگیرد
تاریخ دانوں پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ اس بے موقع حسن ظن ہی نے نصاریٰ کے دین کو تباہ کیا اور ایسی چشم بندی کی کہ انیس سو برس سے اب تک کسی کی آنکھ نہ کھلی۔ اس اجمال کی تفصیل اس واقعہ سے ظاہر ہے جو علامہ خیر الدین آفندی آلوسی نے (الجواب الفصیح ص ٣١٣) میں اسلامی اور نصاریٰ کی تواریخ سے نقل کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے بعد جب عیسائیوں کی حقانی پر اثر تقریریں یہود کے دلوں کو اپنی طرف مائل کرنے لگیں اور یہودی جوق جوق دین عیسائی قبول کر نے لگے تو پولس جو یہود کا بادشاہ تھا کل عیسائیوں کو شام کے ملک سے خارج کر دیا۔ مگر دیکھا کہ اس سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا اور عیسویت ویسی ہی ترقی پذیر ہے مجبور ہو کر اراکین دولت سے کہا کہ فتنہ روز افزوں ترقی کر رہا ہے اور اس کے فرو ہونے کی کوئی تدبیر نہیں بنتی۔ اب میں ایک رائے سوچا ہوں خواہ وہ اچھی ہو یا بری تم میری موافقت کرو۔ انہوں نے قبول کیا ان سے اس نے معاہدہ لے کر سلطنت سے علیحدہ ہو گیا اور عیسائیوں کا لباس پہن ان میں چلا گیا۔ وہ اس حالت میں اس کو دیکھتے ہی خدا کا شکر بجا لائے اور بہت کچھ آؤ بھگت کی۔ اس نے کہا کہ اکابر قوم کو جلد جمع کرو کہ میں کچھ ان سے کہنا چاہتا ہوں۔ سب فوراً جمع ہو گئے۔ اس وقت اس نے یہ تقریر کی کہ جب تم لوگوں کو میں نے شام سے نکال دیا مسیح نے مجھ پر لعنت کی اور میری سماعت بصارت عقل سب چھین لی۔ جس سے میں اندھا، بہرا، دیوانہ ہو گیا۔ اس حالت میں مجھے تنبہ اور یقین ہوا کہ بے شک سچا دین یہی ہے۔ جس پر تم ہو۔ بفضلہ تعالیٰ اپنے باطل دین اور دنیائے فانی کی سلطنت کو چھوڑ کر تمہاری رفاقت اور فقر وفاقے کو سعادت ابدی جانتا ہوں اور عہد کر لیا ہوں کہ بقیہ عمر
توریت کی تعلیم اور اہل حق کی صحبت میں بسر کروں۔ آپ صاحبوں سے میری اس قدر خواہش ہے کہ ایک چھوٹا سا گھر بنا دو جس میں عبادت کیا کروں اور اس میں بجائے بستر راکھ، بچھا دو میں نہیں چاہتا کہ عمر دوروزہ میں کسی قسم کی آسائش حاصل کروں یہ کہہ کر توریت کی تلاوت اور اس کی تعلیم میں مشغول ہو گیا۔ یہ امر پوشیدہ نہیں کہ اگر کسی بستی کا زمیندار ایسے حقانی پر جوش الہامی کلمات کہتا ہے اور حالت موجودہ بھی کسی قدر اس کی تصدیق کرتی ہو تو طبیعتوں میں ایک غیر معمولی جوش پیدا ہو جاتا ہے۔ چہ جائیکہ بادشاہ وقت سلطنت ترک کر کے زمرۂ فقراء میں داخل ہو جائے اور منشاء اس کا ایک زبردست الہام بیان کرے۔ جس نے تخت و تاج شاہی سے لباس فقر و بستر خاک پر قانع کر دیا اور حالت موجودہ بھی از سر تا پا اس کی تصدیق کر رہی ہو تو پھر اس زمرۂ فقراء میں کس کا دل ایسا ہوگا کہ جان و مال اس پر فدا کرنے پر آمادہ نہ ہو۔ غرض کہ عبادت خانہ فوراً تیار ہو گیا اور اس میں عزلت اختیار کی۔ دوسرے روز جب سب معتقدین جمع ہوئے تو دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ اثنائے تقریر و تعلیم میں کہا کہ ایک بات میرے خیال میں آتی ہے۔ اگر مناسب سمجھو تو قبول کرو۔ سب ہمہ تن گوش ہو گئے۔ کہا جتنی جہان کو روشنی کرنے والی چیزیں عالم غیب سے آتی ہیں وہ اللہ کے حکم سے آتی ہیں۔ کیا یہ بات سچ ہے۔ سب نے کہا ہاں یقیناً سچ ہے۔ کہا میں صبح و شام دیکھتا ہوں کہ آفتاب ماہتاب وغیرہ سب مشرق کی طرف سے نکلتے ہیں۔ اس لئے میری رائے میں قبلہ بنانے کے لائق مشرق سے بہتر کوئی سمت نہیں۔ نماز اس طرف پڑھنی چاہئے۔ سب نے بطیب خاطر آمنا و صدقنا کہہ کر بیت المقدس کو جو تمام انبیاء کا قبلہ تھا ایک ہی بات میں چھوڑ دیا۔ اس کے بعد وہ اپنے عبادت خانے میں چلا گیا اور دو روز تک نہیں نکلا۔ جس سے لوگوں کو سخت تشویش ہوئی۔ تیسرے روز جب معتقدین کا ہجوم ہوا۔ برآمد ہو کر تعلیم و تقریر شروع کی اثنائے تقریر میں کہا کہ مجھے ایک اور بات سوجھی ہے۔ سب تحقیق جدید سننے کے تو پہلے ہی سے مشتاق تھے۔ یہ مژدہ سن کر بسمع قبول متوجہ ہو گئے کہا کیا یہ بات سچ ہے کہ جب کوئی معزز شخص کسی معمولی آدمی کے پاس ہدیہ بھیجے اور وہ قبول نہ کرے تو اس کی کسر شان ہوتی ہے۔ سب نے کہا بے شک نہایت درجہ کسر شان ہے۔ کہا جتنی چیزیں زمین و آسمان میں ہیں خدائے تعالیٰ نے سب تمہارے ہی لئے بنائی ہیں۔ ایسے ہدیہ کو رد کر دینا یعنی بعض اشیاء کو حرام سمجھنا کیسی گستاخی ہے۔ عقیدت مندی یہی ہے کہ جتنے چھوٹے بڑے حیوانات ہیں سب کو شوق سے کھانا چاہئے۔ سب نے آمنا و صدقنا کہہ کر نہایت کشادہ دلی سے وہ بھی قبول کر لیا۔ اس کے بعد عبادت خانے سے تین دن تک نہیں نکلا۔ جس سے لوگوں کو سخت پریشانی اور ملاقات کا نہایت شوق ہوا۔ چوتھے روز دروازہ کھول کر مشتاقان دیدار کو
تسلی دی۔ پھر پوچھا کیا تم نے سنا ہے کہ کوئی آدمی مادر زاد اندھے کو بینا اور ابرص کو چنگا اور مردوں کو زندہ کیا ہے۔ لوگوں نے کہا ممکن نہیں۔ کہا دیکھو مسیح یہ سب کام کرتے تھے۔ اس لئے میں تو یہی کہوں گا کہ مسیح آدمی نہ تھا۔ خود اللہ تعالیٰ تھا۔ جو چند روز تم میں ظاہر ہو کر چھپ گیا۔ یہ سنتے ہی خوش اعتقادوں کے نعرے آمنا وصدقنا کے ہر طرف سے بلند ہوئے اور سوائے معدودے چند کے سب نے بالاتفاق کہہ دیا کہ بے شک مسیح آدمی نہ تھا۔ غرض تین ہی معرکوں میں اس نے میدان مار لیا اور سب کو خسر الدنیا والآخرۃ کا مصداق بنا کر ایک نئی سلطنت قائم کر لی۔ حیرت کا مقام یہ ہے کہ ان سادہ لوحوں نے یہ بھی نہ پوچھا کہ حضرت آپ کو عیسائی ہونے کا دعویٰ ہے۔ پھر یہ مخالف باتیں کیسی۔ آخر ہم بھی اپنے نبی کے کلام اور ان کے طریقے سے واقف ہیں۔ کبھی اس قسم کی بات ان سے نہیں سنی اور اگر یہ الہامات ہیں تو جس نبی کے امتی ہونے کا دعویٰ ہے اس کے طریقے کے مخالف الہام کیسے۔ بہرحال جدت پسند طبائع حسن ظن کر کے اس کے مکر وتزویر کے دام میں پھنس گئے۔ مگر ایک شخص کامل الایمان جس کا شمار ان لوگوں میں تھا۔ جس کو اس زمانے کی اصطلاح میں لکیر کے فقیر کہتے ہیں۔ اٹھ کھڑا ہوا اور سب کو مخاطب کر کے کہا تم پر خدا کی مار اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ یہ کمبخت تمہارا دین بگاڑنے کو آیا ہے۔ ہم نے خود مسیح علیہ السلام کو دیکھا ہے۔ کبھی ان سے اس قسم کی باتیں نہیں سنیں۔ مگر ایک شخص کی بات نقار خانے میں طوطی کی آواز تھی کسی نے نہ سنی۔ آخر وہ بزرگ اپنے چند رفقاء کو لے کر علیحدہ ہو گئے۔ نصاریٰ کو اس شخص پر حسن ظن اس قدر ہے کہ اب تک اس کو پولوس مقدس لکھتے ہیں۔ دیکھئے اسی حسن ظن کا اثر ہے کہ ان کو قطعی کافر بنا دیا۔ اس میں شک نہیں کہ اس کی ظاہری حالت قابل حسن ظن تھی۔ مگر اس قسم کے اقوال کے بعد ایسے شخص پر حسن ظن رکھنا کیا کسی نبی کی شریعت میں جائز ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ جس چیز کا انجام کفر ہو وہ اگر کفر نہیں تو گناہ کبیرہ تو ضرور ہو گی۔ اسی وجہ سے یہ قاعدہ مسلم ہے کہ مقدمۃ الحرام حرام ہر چند اس زمانے کے لوگوں نے دھوکا کھایا۔ مگر ادنیٰ تامل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب قوی تھا۔ اس لئے کہ انہوں نے دیکھا کہ بادشاہ وقت دین کا دشمن اپنے نبی کے معجزے سے ایمان ظاہر کر رہا ہے اور اس کی حالت بھی گواہی دے رہی ہے کہ جب تک باطنی نور کا اثر اس کے دل پر نہ ہوا ہو۔ ممکن نہیں کہ سلطنت چھوڑ کر فقر وفاقے کی مصیبتیں برداشت کر سکے۔ اس قسم کے مکروں پر مطلع ہونا سوائے اہل بصیرت کے ہر کسی کا کام نہیں۔ مگر حیرت یہ ہے کہ پولوس صاحب نے جن باتوں کے جمانے کے لئے سلطنت چھوڑ دی تھی۔ مرزا قادیانی اسی قسم کی باتوں کی بدولت ایک ایک قسم کی سلطنت حاصل کر رہے اور لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ اقتضائے زمانہ اسے کہتے ہیں کہ باوجود یہ کہ عقل
و فراست آج کل ترقی پر ہے اور قدیم لوگ بے وقوف سمجھے جاتے ہیں۔ مگر بہت سے عقلمندوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ مرزا قادیانی کیا کر رہے ہیں۔ اس کی نظیریں اسلامی دنیا میں بھی بہت سی موجود ہیں جو تاریخ دانوں پر پوشیدہ نہیں ہے۔
کتاب العقار میں علامہ جوہری نے لکھا ہے کہ سفاح کے زمانے میں ایک شخص جس کا نام اسحاق تھا۔ اصفہان میں آ کر سخت مفسدہ پردازیاں برپا کیں۔ یہ شخص مغرب کا رہنے والا تھا۔ اسی طرف وہ قرآن توریت وانجیل وزبور وغیرہ کتب آسمانی پڑھ کر جمیع علوم مروجہ کی تحصیل اور اکثر السنہ اور اقسام کے خطوط کی تکمیل کر کے اصفہان میں آیا اور دس برس تک ایک مدرسے میں مقیم رہا۔ اس مدت میں نہ کوئی کمال ظاہر کیا نہ کسی سے بات کی۔ یہاں تک کہ اخرس یعنی گونگا مشہور ہو گیا۔ مگر معرفت سب سے پیدا کر لی۔ پھر اس نے ایک رات ایک خاص قسم کا روغن تیار کر کے اپنے منہ پر ملا اور دو شمعیں خاص قسم کی روشن کیں۔ جن کی روشنی میں چہرے کا روغن ایسا چمکنے لگا کہ جس سے نگاہ خیرہ ہوتی تھی۔ پھر تین چیخیں ایسی ماریں کہ سب مدرسے کے لوگ چونک پڑے اور آپ نماز میں مشغول ہو کر نہایت تجوید اور عمدہ لہجے سے با آواز بلند قرآن پڑھنے لگا۔ مدرسین اور اعلیٰ درجے کے طلباء نے جب دیکھا کہ وہ گونگا نہایت فصیح ہو گیا اور چہرہ ایسا پر انوار ہے کہ نگاہ نہیں ٹھہر سکتی۔ تو اس قدرت خدا کے مشاہدے سے صدر مدرس تو بیہوش ہو گئے اور دوسرے لوگ سکتے کے عالم میں تھے۔ جب افاقہ ہوا تو صدر مدرس صاحب نے خیال کیا کہ یہ قدرت خدا کا نیا تماشا اگر عمائد بلد بھی دیکھیں تو اچھا ہوگا۔ مدرسے کے دروازے پر جب آئے تو وہ مقفل تھا۔ اور کلید مفقود کسی تدبیر سے باہر نکلے وہ آگے اور تمام فقہاء ان کے پیچھے پیچھے قاضی شہر کے مکان پر آئے وہ اس ہجوم اور چیخم چاخ سے بدحواس باہر نکل آئے اور اس عجیب و غریب واقعے کو سن کر وزیر کو اطلاع دی۔ غرض کہ تمام شہر میں اس رات ایک ہنگامہ تھا۔ ہر طرف سے جوق در جوق لوگ چلے آ رہے تھے کہ چلو قدرت خدا کا تماشا دیکھو۔ چنانچہ وزیر و قاضی وغیرہ معززین شہر مدرسے کے دروازے پر آئے دیکھا تو دروازہ بند ہے۔ کسی نے پکار کر کہا حضرت آپ کو اسی خدا کی قسم ہے۔ جس نے آپ کو یہ درجہ عطاء فرمایا۔ خدا کے لئے دروازہ کھولئے اور مشتاقان دیدار کو اپنے جمال باکمال سے مشرف فرمائے۔ اس نے کوئی تدبیر ایسی کی کہ قفل گر پڑے۔ مگر بظاہر بآواز بلند کہا اے قفلو کھل جاؤ۔ اس کی آواز کے ساتھ قفلوں کے گرنے کی آواز نے لوگوں کے دلوں پر عجیب قسم کی تاثیر کی کہ سب خائف وترسان ہو گئے اور دروازہ کھول کر کمال ادب سے روبرو جا بیٹھے۔ قاضی صاحب نے جرأت کر کے پوچھا کہ اس واقعہ حیرت انگیز سے تمام شہر گرداب اضطرار میں ہے۔ اگر اس کی حقیقت
بیان فرمائی جائے تو سب پر منت ہوگی۔ کہا چالیس روز سے مجھے کچھ آثار نمایاں ہورہے تھے۔ آخر یہاں تک نوبت پہنچی کہ اسرار خلق مجھ پر اعلانیہ منکشف ہو گئے تھے۔ مگر میں بیان نہیں کر سکتا تھا۔ آج رات ایک عجیب واقعہ دیکھا کہ دو فرشتے میرے پاس آئے۔ مجھ کو جگا کر انہوں نے نہلایا۔ اس کے بعد مجھ پر نبوتی سلام اس طور سے کہا کہ السلام علیک یا نبی اللہ مجھے خوف ہوا کہ معلوم نہیں اس میں کیا ابتلاء ہے۔ اس لئے جواب سلام میں میں پس و پیش کر رہا تھا کہ ان میں سے ایک نے مجھ سے کہا افتح فاک باسم اللہ الازلی یعنی بسم اللہ کہہ کر منہ تو کھولو۔ میں نے منہ کھول دیا اور دل میں باسم اللہ الازلی کو دوہراتا رہا۔ انہوں نے ایک سفید سی چیز میرے منہ میں رکھ دی۔ یہ تو معلوم نہیں کہ وہ چیز کیا تھی۔ مگر اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ برف سے زیادہ سرد اور شہد سے زیادہ شیریں اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھی۔ اس کی حلق سے نیچے اترتے ہی میری زبان گویا ہو گئی اور ابتداءً میری زبان سے یہی نکلا اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمداً رسول اللہ یہ سن کر فرشتوں نے کہا تم بھی رسول اللہ برحق ہو۔ میں نے کہا اے بزرگو ارے یہ کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا۔ اللہ نے تم کو نبی بنا کر اس قوم میں مبعوث کیا ہے۔ میں نے کہا یہ کیسی بات ہے۔ حق تعالیٰ نے تو ہمارے سید روحی فداہ محمد ﷺ کی نسبت خاتم النبیین فرما دیا ہے۔ انہوں نے کہا یہ سچ ہے۔ مگر محمد ﷺ ان انبیاء کے خاتم تھے۔ جن کی ملت اور شریعت دوسری تھی۔ تم اس ملت کے نبی ہو۔ یعنی تمہاری نبوت ظلی ہے مستقل نہیں۔ میں نے کہا مجھ سے تو یہ دعویٰ کبھی نہ ہو سکے گا اور نہ میری کوئی تصدیق کرے گا۔ کیونکہ میرے پاس کوئی معجزہ نہیں۔ انہوں نے کہا جس نے تمہیں گونگا پیدا کر کے ایک مدت کے بعد فصیح بنا دیا۔ وہ خود تمہاری تصدیق لوگوں کے دلوں میں ڈال دے گا۔ تمہیں اس سے کیا کام اور معجزات بھی لیجئے جتنی آسمانی کتابیں تمام انبیاء پر نازل ہوئیں۔ سب کا علم تمہیں دیا گیا اور کئی زبانیں اور کئی قسم کے خطوط تم کو عطاء کئے گئے۔ پھر انہوں نے کہا کہ قرآن پڑھ میں نے جس طرح نازل ہوا پڑھ کر ان کو سنا دیا۔ پھر انجیل پڑھوائی وہ بھی سنادی۔ پھر توریت و زبور و صحف پڑھنے کو کہا وہ بھی سنا دیئے اور ان کتابوں کا القاء جو میرے دل پر ہوا اس میں کوئی تصحیف تحریف اور اختلاف قرأت کی آمیزش نہیں تھی۔ بلکہ جس طرح منزل من اللہ ہوئی ہیں۔ بلا کم و بیش اسی طرح میرے دل میں ڈالی گئیں۔ جس کی تصدیق فرشتوں نے بھی کی۔ پھر ملائکہ نے کل کتب سماویہ مجھ سے سن کر کہا قم فانذر الناس یعنی اب اٹھو اور لوگوں کو خدا سے ڈراؤ یہ کہہ کر وہ چلے گئے اور میں نماز میں مشغول ہو گیا۔ اس وقت انوار و تجلیات جو میرے دل پر نازل ہو رہے تھے ان کا یہ عالم تھا کہ کچھ بیان نہیں کر سکتا۔ غالباً اس کے کسی قدر آثار چہرے پر بھی نمایاں
ہوگئے ہوں گے اور اب تک بھی محسوس ہوتے ہوں گے۔ یہ تو میری سرگزشت تھی۔ اب میں آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ جو شخص خدا پر اور محمدﷺ پر پھر مجھ پر ایمان لایا اس کو تو نجات ملی اور جس نے میری تکذیب کی اس نے محمدﷺ کی شریعت کو بھی معطل کر دیا اور وہ کافر ہے۔ اگرچہ علماء اور سمجھدار لوگوں نے اس کی تصدیق نہ کی ہوگی۔ لیکن پھر بھی ظاہر پرست اتنے اس کے مرید ہوگئے کہ سلطنت کا مقابلہ کر کے بصرہ وعمان وغیرہ تک قبضہ کر لیا۔ ہر چند آخر میں مارا گیا۔ لیکن اس کی امت اب تک عمان میں موجود ہے۔ اخرس کو دس بیس برس تو محنت کرنی پڑی مگر رائے بڑی پختہ تھی۔ آخر باطل قیاسوں سے نتیجہ خاطر خواہ نکال ہی لیا کہ ایک ہی رات میں حسن ظن کی روح ایسی پھونک دی کہ بات بات پر آمنا وصدقنا کی آواز بلند ہونے لگی۔ بقول مرزا قادیانی یہ عقلی معجزہ تھا اور کس زور کا تھا کہ ایک ہی رات میں اس نے اپنا سکہ جما لیا۔ دس برس گنگا رہنے کی مشقت اس کو اس وجہ سے اٹھانی پڑی کہ اس زمانے میں خارق العادت معجزے قابل اعتبار سمجھے جاتے تھے۔ مرزا قادیانی نے عقلی معجزے نکال کر اس مشقت کو بھی اٹھا دیا۔ اس نے الہام کی عزت ثابت کرنے کے لئے دس سال کی مشقت گوارا کی۔ مرزا قادیانی نے یہ مدت براہین احمدیہ کی تالیف اور اعتبار بڑھانے میں صرف کی۔ جس سے ان کے الہاموں کی عزت ہونے لگی۔
تاریخ دول اسلامیہ میں لکھا ہے کہ ایک شخص خوزستان سے سواد کوفہ میں آ کر ایک مدت تک ریاضت میں مشغول رہا۔ یہاں تک کہ کثرت صوم وصلوٰۃ وعبادات سے اقران ومعاصرین پر اس کی فوقیت مسلم ہوگئی۔ اس کے زہد وتقویٰ کا یہ عالم تھا کہ صرف بوریا بن کر گذر اوقات کرتا اور کسی سے کچھ نہ لیتا اور وعظ ونصائح کی پر زور تقریروں کی یہ کیفیت کہ سامعین کے دلوں کو ہلا دیتی۔ غرض کہ ہر طرح سے معتقدین کے دلوں پر جب پورا تسلط کر لیا اور حسن ظن کا اندازہ کر کے دیکھ لیا کہ اب ہر بات چل جائے گی۔ تو پہلے تمہیداً تقلید کا مسئلہ چھیڑا کہ دین میں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کے تسلیم کے بعد کہا کہ اجماع بھی کوئی چیز نہیں۔ پھر احادیث میں وہی کلام کیا جو آج کل ہو رہا ہے۔ جب اس پر بھی سب نے آمنا وصدقنا کہہ دیا تو بطور امتحان چند مسائل معمولی نماز وروزہ کے ایسے بیان کئے جو مخالف اجماع واحادیث تھے۔ معتقدین نے اسی پر عمل شروع کر دیا۔ اس امتحان کے بعد بطور راز کہا کہ دیکھو حدیث من لم یعرف امام زمانہ کی رو سے امام زمان کو معلوم کرنا نہایت ضروری امر ہے۔ مگر یاد رکھو کہ امام زمان کا خاندان نبوت اور اہل بیت سے ہونا ضروری ہے اور وہ قریب میں نکلنے والے ہیں۔ الحاصل ان کو امام زمان کا مشتاق بنا کر شام کو چلا گیا۔ وہاں بھی اسی تدبیر سے لوگوں کو امام زمان کا مشتاق
اور مسخر بنا دیا۔ جب ایک وسیع ملک امام زمان کا مشتاق اور منتظر ہو گیا تو اس کے قرابتداروں سے ایک شخص جس کا نام ذکرویہ یحییٰ تھا۔ اس نے اپنے آپ کو محمد بن عبداللہ ابن اسماعیل ابن امام جعفر صادق مشہور کر کے مہدویت کا دعویٰ کیا۔ لوگ تو منتظر ہی تھے اور دیکھا کہ نام بھی وہی ہے جو احادیث میں وارد ہے۔ ان کو مہدی موعود کا مل جانا ایک نعمت غیر مترقبہ تھا۔ غرض کہ حسن ظن والوں کا ایک لشکر عظیم جمع ہو گیا اور مہدی موعود صاحب نے اپنے معتقدین کو لوٹ کھسوٹ پر لگا دیا اور مکہ معظمہ میں اس قدر مسلمانوں کی خونریزی کی کہ کسی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ یہ وہی فتنہ قرامطہ ہے جس سے تواریخ کے جزو کے جزو سیاہ ہیں۔ دیکھ لیجئے اس فتنے کی بنیاد اسی حسن ظن پر تھی جو خوزستانی کے تقدس پر کیا گیا تھا۔ مرزا قادیانی کے تقدس کا اثر بھی کچھ کم نہیں۔ آپ کے جراحات جو التیام پذیر نہیں قرامطہ کے جراحات سنان سے کم نہیں۔ اگر وہاں جسمانی قتل تھا تو یہاں روحانی ہے۔ ”عن ابن مسعود وعبدالله بن عمر وثابت ابن ضحاك قالوا قال رسول اللہ ﷺ لعن المؤمن كقتله (رواه الطبرانی کبیر ج ٢ ص ٧٣، حدیث نمبر ١٣٣٠ وكنز العمال ج ٣ ص ٦١٦ حدیث نمبر ٨١٨٣) ”یعنی فرمایا نبی ﷺ نے مسلمان پر لعنت کرنا گویا اس کو قتل کرنا ہے۔“
اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی کا لشکر لعن مسلمانوں کو برابر قتل کر رہا ہے یا نہیں۔ چونکہ امام مہدی علیہ السلام کا قیامت کے قریب تشریف فرما ہونا تواتر کو پہنچ گیا ہے اور اسلام کے مسلمہ مسائل سے ہے۔ جس کی وجہ سے ہر زمانے میں لوگ مہدویت کا دعویٰ کرتے رہے۔ جس کا حال کتب تواریخ سے ظاہر ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ وہ اہل بیت سے ہوں گے اور ان کا نام محمد ابن عبداللہ ہوگا۔ اس لئے جن لوگوں نے مہدویت کا دعویٰ کیا ان کو اس کی بھی ضرورت ہوئی کہ اس نام ونسب کے ساتھ متصف ہوں۔ اسی وجہ سے خوزستانی مذکور نے ذکرویہ کا نام محمد بن عبداللہ بتلایا اور امام جعفر صادق کی اولاد میں اس کا ہونا بیان کیا۔ اگر مہدویت کے لئے اس نام ونسب کی ضرورت نہ سمجھی جاتی تو اس کو اس جھوٹ گھڑنے اور نسب سیادت میں داخل کر کے اس کو ملعون بنانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اس سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک مہدی کے لئے یہ نام ونسب لازم ہے۔
خوزستانی کو ذکرویہ کا نام ونسب بدلنے کا موقع مل گیا تھا۔ اس لئے کہ جن لوگوں کے روبرو اس کا حال بیان کیا تھا وہ اس کو جانتے نہ تھے۔ صرف حسن ظن سے اس کے بیان کی تصدیق کر لی تھی کہ واقع میں اس کا نام ونسب وہی ہوگا جو وہ کہہ رہا ہے۔ مرزا قادیانی کو نام ونسب بدلنے کا
موقع نہ ملا۔ اس لئے کہ قادیان کے لوگ ان کو جانتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے یہ تدبیر نکالی کہ احادیث میں جو نام و نسب امام مہدی علیہ السلام کا وارد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ نام غلام احمد ہو اور مرزا ہو۔ مگر مہدی ضرور ہیں۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٥٧٢، خزائن ج ٣ ص ٤٠٩) میں لکھتے ہیں کہ ”آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جب تم سرکشیوں کی وجہ سے سیاست کے لائق ہو جاؤ گے تو محمد بن عبداللہ ظہور کرے گا۔ جو مہدی ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں وعدے کہ محمد بن عبداللہ آئے گا یا عیسیٰ بن مریم آئے گا۔ دراصل اپنی مراد و مطلب میں ہم شکل ہیں۔ محمد ابن عبداللہ کے آنے سے مقصود یہ ہے کہ جب دنیا ایسی حالت میں ہو جائے گی جو اپنی درستی کے لئے سیاست کی محتاج ہوگی تو اس وقت کوئی شخص مثیل محمد ﷺ ہو کر ظاہر ہوگا اور یہ ضرور نہیں کہ درحقیقت نام محمد بن عبداللہ ہو۔ بلکہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک اس کا نام محمد ابن عبداللہ ہوگا۔ کیونکہ محمد ﷺ کا مثیل بن کر آئے گا۔“
یہ بھی غنیمت ہے کہ مرزا قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ جن حدیثوں میں مہدی کا وعدہ ہے اس میں ان کا نام محمد ابن عبداللہ ہے۔ اب ان حدیثوں کو دیکھئے جن میں مہدی علیہ السلام کے آنے کا وعدہ ہے۔ (کنز العمال ج ١٤ ص ٥٨٤، ٥٨٩) کی کتاب القیامت میں بکثرت روایات موجود ہیں۔ جن میں یہ الفاظ مذکور ہیں کہ ”قال النبی ﷺ ابشروا بالمهدی رجل من قریش من عترتی یواطی اسمه اسمی واسم ابیه اسم ابی مولده بالمدينة اکحل العينين، براق الثنایا فی وجهه خال “ وغیرہ یعنی تمہیں بشارت ہے کہ مہدی ایک شخص قبیلہ قریش سے میری عترت اور اہل بیت میں ہوں گے۔ ان کا نام میرے نام کے مطابق اور ان کے باپ کا نام میرے والد کے نام کے مطابق ہوگا۔ ان کی آنکھیں سرمگیں اور دانت چمکتے ہوئے ہوں گے اور چہرے پر ان کے ایک خال ہوگا۔ اور اس کے سوا اور بہت سی علامات احادیث میں مذکور ہیں۔ جو آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ لکھی جائیں گی۔ اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی نہ قریشی ہیں نہ سید نہ ان کا نام محمد بن عبداللہ ہے نہ اور علامتیں ان میں پائی جاتی ہیں باوجود اس کے کہے جاتے ہیں کہ میں مہدی موعود بھی ہوں اور ان سب علامات کو بالائے طاق رکھ کر کہتے ہیں کہ کسی بات کی ضرورت نہیں۔ مطلب ان احادیث کا یہی ہے کہ مہدی وہ شخص ہوگا جس کا نام غلام احمد قادیانی ہوگا اور مغلوں کی نسل سے ہوگا۔
مرزا قادیانی نے ناموں میں تصرف کرنے کا طریقہ ابومنصور سے سیکھا ہے۔ جس نے صلوٰۃ و صوم و حج و زکوٰۃ اور نیز میتہ اور خنزیر وغیرہ کو چند آدمیوں کے نام قرار دیئے تھے اور اس سے
مقصود اس کا یہ تھا کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ جو مشہور ہیں ان کی کوئی اصل نہیں اور نہ خمر وخنزیر وغیرہ حرام ہیں۔ الحاصل مرزا قادیانی کی کارروائیوں کی نظیریں بہت سی موجود ہیں۔
الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ میں علامہ ابوالریحان خوارزمیؒ نے لکھا ہے کہ دولت عباسیہ میں ایک شخص جس کا نام بہا فرید بن ماہ فروزین تھا۔ نیشاپور کی طرف نکلا اس کا ابتدائی حال یہ ہے کہ وہ سات برس تک غائب رہا۔ چین وغیرہ میں اوقات بسر کر کے واپسی کے وقت چین سے نہایت مہین اور نرم قمیص لایا جو مٹھی میں آ سکتی تھی اور رات کے وقت مجوس کے گورستان میں کسی بلند مقام پر چڑھ کر بیٹھ رہا۔ جہاں اس کے علاقے کی زمین تھی۔ صبح ایسے وقت اس مقام سے اترا کہ کسان جو اسی کا علاقہ دار تھا وہاں موجود تھا۔ وہ دیکھتے ہی متعجب ہو گیا کہ یہ بات کیا ہے۔ سات سال سے غائب رہ کر قبرستان سے لباس فاخرہ پہنے ہوئے نکلنا کیسا؟ اس نے اس کو تسکین دے کر کہا کہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اس مدت میں میں آسمان پر گیا ہوا تھا اور اب وہیں سے آ رہا ہوں۔ اس عرصے میں مجھے جنت اور دوزخ کی سیر بھی کرائی گئی اور خلعت بھی عنایت ہوا۔ جو زیب بدن ہے۔ خوب دیکھ ایسا کپڑا بھی دنیا میں کہیں بن سکتا ہے۔ کسان بے وقوف تو ہوا ہی کرتے ہیں۔ اس کی تصدیق کر لی اور اپنا چشم دید واقعہ لوگوں سے بیان کرنے لگا۔ یہاں تک کہ اور مجوسی اس کے معتقد ہو گئے۔ اس کے بعد اس نے نبوت کا دعویٰ کر کے کہا کہ مجھ پر وحی بھی اترا کرتی ہے اور نئے نئے احکام جاری کئے جس سے فتنہ عظیم برپا ہوا اور آخر ابومسلم نے اس کو قتل کر دیا۔
دیکھئے حالت ظاہری اور مافوق العادت قمیص پر حسن ظن کرنے کا کیسا اثر ہوا کہ نبوت اور وحی سب مسلم ہو گئیں۔ اب مرزا قادیانی جو اپنی بعض عقلی کارروائیاں پیش کر کے فرماتے ہیں کہ وہ مافوق العادت معجزات ہیں۔ کس طرح ایمان لانے کے قابل ہوں۔
مرزا قادیانی نے عقلی معجزات کو جو اپنے اجتہاد سے اصلی معجزات کی ایک قسم قرار دی ہے۔ غالباً اس کا منشاء اسی قسم کے معجزے ہیں۔ جو بہافریز جیسے لوگوں سے صادر ہوئے اور لوگوں میں ان کی بات بھی چل گئی۔ مگر ادنیٰ فہم والا سمجھ سکتا ہے کہ جیسے ان لوگوں کے معجزے عقلی تھے ویسے ہی وحی اور الہام بھی عقلی تھے۔ اس لئے کہ خرق عادت ایک ایسی چیز ہے کہ ساحروں سے بھی صادر ہوا کرتی ہے گو معجزے اور سحر میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ باوجود اس کے ممکن نہیں کہ کسی ساحر کو الہام ہو۔ پھر جب عقلی معجزے دکھانے والوں سے خوارق عادات بھی کھلے طور پر صادر نہیں ہو سکتے۔ جن کا درجہ الہام کے درجے سے بہت ہی پست ہے تو ان کو اعلیٰ
درجے کی خصوصیت وحی اور الہام سے کیونکر حاصل ہوسکتی ہے۔
اب غور کیا جائے کہ جس نے کئی سال کی مشقت گوارا کر کے مکر و فریب سے قمیص کو معجزہ قرار دیا ہو اس کی وحی کا کیا حال ہوگا۔ وہ یہ بھی کہتا ہوگا کہ میں خدا کو دیکھتا ہوں اس سے باتیں کرتا ہوں اس نے مجھے اپنا خلیفہ بنایا وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ ان باتوں کے بیان کرنے میں جھوٹوں کو کون چیز روکنے والی ہے۔ ایسے لوگوں کو دنیا کمانے کے لئے الہام سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں۔ نہ اس قدر مال ہے کہ تجارت کے ذریعہ سے لاکھوں روپے حاصل کرسکیں۔ نہ ایسی عقل ہے کہ کلیں ایجاد کریں۔ وہ چند سادہ لوگوں پر یہ افسون پڑھ دیتے ہیں کہ خدا کے پاس ہمارے ایسے ایسے مدارج ہیں اور یہ لوگ اس غرض سے کہ ہمارے بھی کچھ کام نکل آئیں گے۔ ان کے دام میں آ جاتے ہیں۔ جس سے خسر الدنیا و الآخرہ کا پورا پورا مضمون ان پر صادق آ جاتا ہے۔
یہ بات یاد رہے کہ جب کسی پر وحی کا اترنا یا الہام کا ہونا تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ حق نہیں رہتا کہ اس کے کسی الہام و وحی سے انکار کیا جائے۔ اس لئے مسلمانوں کو ضرور ہے کہ ہر کس و ناکس کے دعوے الہام و وحی کو تسلیم نہ کریں اور مدعیان الہام ہزار کہیں کہ ہمارا الہام حجت ہے ایک نہ مانیں اور صاف کہہ دیں کہ ہمارے دین میں الہام غیر پر حجت نہیں قرار دیا گیا۔ ہمارا دین ہمارے نبی ﷺ کے وقت ہی میں مکمل ہو گیا ہے۔ ہمارے لئے قرآن و حدیث اور وہ اقوال آئمہ جو مسائل اجتہادیہ ہیں اور جن کو انہوں نے قرآن وحدیث سے استنباط کرکے بیان فرمایا ہے وہ بہت کافی ہیں۔
فتوحات اسلامیہ میں شیخ دحلانؒ نے تاریخ کامل وغیرہ سے لکھا ہے کہ پانچویں صدی کے اوائل میں محمد ابن تومرت جس کا مولد و منشاء جبل سوس تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ میں سادات حسینیہ سے ہوں اور مہدی موعود بھی ہوں اور مافوق العادت امور دکھلا کر کامیاب ہو گیا لکھا ہے کہ یہ شخص امام غزالیؒ وغیرہ اکابر علماء سے تحصیل علوم کر کے رمل و نجوم میں بھی دستگاہ حاصل کی اور تدریس تعلیم میں مشغول ہوا۔ اس کا علم وزہد اور تقویٰ دیکھ کر شاگردوں اور مریدوں کا مجمع بڑھ گیا۔ ان میں بحسب مناسبت معنوی وطبعی عبدالمؤمن وعبداللہ ونشریسی وغیرہ اور چند اشخاص معتمد علیہ قرار پائے۔ عبداللہ ونشریسی سے جو بڑا فاضل شخص تھا ابن تومرت نے کہا کہ تم اپنے علوم کو چھپا کر رکھو۔ ایک روز ان سے معجزے کا کام لیا جائے گا۔ اس نے پیر کا منشاء معلوم کر کے اپنے آپ کو مادر زاد دیوانہ بنالیا۔ میلے کچیلے کپڑے پہن لئے اور ان پر تھوک بہتا ہوا کچھ ایسی حالت بنائی کہ کوئی نزدیک نہ آنے دے۔ چند روز کے بعد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوئے وہ سب
مراکش پہنچے دیکھا کہ عورتوں کی ایک جماعت خچروں پر سوار چلی جارہی ہے۔ ان پر ایسا بلوہ کیا اور خچروں کو مارا کہ ایک عورت جو امیر المسلمین کی بہن تھی گر پڑی۔ بادشاہ کو اطلاع ہوئی اور وہ سب بلائے گئے۔ پھر علماء سے مناظرہ ٹھہرا لیکن انہوں نے ان سب کو قائل کر دیا۔ اس کے بعد بادشاہ کی طرف متوجہ ہو کر ایسی مؤثر اور پر جوش تقریر کی کہ بے اختیار بادشاہ کے آنسو ٹپک پڑے۔ اس مجلس میں مالک بن وہب بھی موجود تھے۔ جو وزیر سلطنت اور عالم متدین تھے۔ انہوں نے بادشاہ سے کہا کہ آثار وقرائن سے میں دیکھ رہا ہوں کہ اس شخص کو امر بالمعروف سے کچھ تعلق نہیں۔ مقصود تو کچھ اور ہی معلوم ہوتا ہے۔ بہتر تو یہ ہے کہ اس کو قتل ہی کر ڈالا جائے۔ ورنہ دائم الحبس تو ضرور کر دیا جائے۔ چونکہ امیر المسلمین کو اس کی تقریر سے حسن ظن ہو چکا تھا اور حاضرین مجلس نے بھی کہا کہ بے چارہ فقیر کیا کر سکتا ہے اور جس نے بادشاہ کو اپنی تقریر سے رلا دیا اس کے ساتھ اسی مجلس میں اس قسم کا سلوک کرنا بالکل بے موقع ہے۔ اس لئے بادشاہ نے وزیر کی رائے کو بدظنی پر محمول کر کے اس کو کمال اعزاز سے رخصت کیا اور یہ بھی کہا کہ میرے لئے آپ دعائے خیر کیجئے۔ ابن تومرت اپنی فرودگاہ پر آکر اپنے مصاحبین سے کہا کہ جب تک مالک بن وہب ہے ہماری یہاں کچھ نہ چلے گی۔ اب یہاں رہنا ہمارے مفید نہیں۔ چنانچہ وہ سوس کی طرف چلا گیا۔ وہاں اس کی پر جوش تقریروں نے وہ اثر دکھایا کہ ہر طرف سے جوق جوق معتقدین کے آنے لگے۔ جب دیکھا کہ ایک معتدبہ اور کافی مجمع ہو گیا تو اثنائے تقریر میں کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہدی ایک ایسا شخص ہوگا کہ زمین کو عدل سے بھر دے گا اور اس کا مقام جہاں سے وہ نکلے گا مغرب اقصیٰ ہے۔ یہ سنتے ہی عبدالمومن وغیرہ دس شخص اٹھ کھڑے ہوئے کہ اس وقت وہ سب صفات مہدی آپ میں موجود ہیں اور ملک بھی مغرب اقصیٰ ہی ہے۔ اب آپ کے سوا اور کون مہدی ہو سکتا ہے۔ یہ کہہ کر جھٹ سے بیعت کر لی۔ پھر کیا تھا حسن ظن والے جوق جوق آتے اور بیعت کو نجات وفلاح دارین کا وسیلہ بنا کر جان بازی پر پروانہ وار مستعد ہو جاتے۔ غرض کہ ایک لشکر کثیر لڑنے مرنے والا تیار ہو گیا۔ جب یہ خبر بادشاہ کو پہنچی تو اس وقت اس کی آنکھ کھلی اور اس وزیر باتدبیر کی پیش بینی کے نظر انداز کرنے کا بہت کچھ پچھتایا۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ بہرحال اس کے مقابلے پر فوج کثیر روانہ کی گئی۔ مہدی چونکہ رمل و نجوم میں ماہر تھا پیش گوئی کی کہ فتح ہم ہی کو ہوگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بادشاہی فوج کو سخت ہزیمت ہوئی اور بہت سی غنیمت ان کے ہاتھ آئی۔ پھر تو حسن ظن اور مریدوں کے حوصلے اور بھی بڑھ گئے۔ ہمیشہ دو کم عمر نوجوان لڑکوں کو جنگ پر ابھارتا۔ مگر معمر اور تجربے کار لوگ اپنے اپنے متعلقین کو روکتے رہتے تھے۔ جس کی خبر وقتاً فوقتاً اس کو پہنچتی تھی۔ وہ سوچا کہ کبھی نہ
کبھی ان روکنے والوں سے ضرور ضرر پہنچے گا اور تعجب نہیں کہ یہ دشمن کے ہاتھ گرفتار کراویں۔ قرائن سے ان لوگوں کی فہرست مرتب کر کے صرف عبداللہ وشریسی کو اس سے مطلع کیا جس کو گونگا اور دیوانہ بنا رکھا تھا ایک روز اس سے کہا کہ اب تمہارے اظہار کمال کا وقت آگیا اور اس کو تدبیر بتادی۔ چنانچہ جب صبح کی نماز کے لئے مہدی مسجد میں آیا دیکھا کہ ایک شخص نہایت فاخرہ لباس پہنے محراب کے بازو میں کھڑا ہوا ہے۔ جس کی خوشبو سے مسجد مہک رہی ہے۔ پوچھا یہ کون ہے۔ کہا عذوی وشریسی ہے۔ کہا یہ حالت کیسی تم تو گونگے اور دیوانے تھے کہا درست ہے۔ لیکن آج رات عجیب اتفاق ہوا ایک فرشتہ آسمان سے میرے پاس اتر آیا اور میرا دل اولا شق کیا اور پھر دھو کر قرآن اور مؤطا وغیرہ کتب احادیث وعلوم سے بھر دیا۔ یہ سنتے ہی مہدی موعود رونے لگے کہ خدا کا شکر کس منہ اور کس زبان سے بیان کروں اوروں کو تو دعائیں مانگنے پر کچھ ملتا ہے۔ مگر اس عاجز کی سب خواہشیں بغیر دعاء کے وہ پوری کرتا ہے۔ اس عاجز کی جماعت میں خدا نے ایسے لوگوں کو بھی شریک کیا ہے جن پر فرشتے آسمان سے اترتے ہیں اور جس طرح ہمارے مولیٰ ہمارے سید روحی فداہ ﷺ کا سینہ مبارک شق کیا گیا تھا۔ اسی طرح اس عاجز کی جماعت میں ایک ذلیل سے ذلیل شخص کا دل فرشتوں نے شق کر کے قرآن وحدیث اور تمام علوم لدنیہ سے بھر دیا۔ غرض کہ گریہ کو پر اثر بنانے والی تقریریں کر کے اس فاضل حکیم الامۃ کی طرف توجہ کی اور کہا بھائی یہ باتیں ایسی نہیں جو بغیر تحقیق کے مان لی جائیں امتحان کی ضرورت ہے۔ چنانچہ مختلف مقامات سے قرآن پڑھنے کو کہا اس نے نہایت تجوید اور ترتیل سے سب سنائے۔ اسی طرح موطاء وغیرہ کتب کا امتحان لیا گیا سب میں کامیاب نکلا۔ لوگوں کو اس واقعہ سے یقین ہو گیا کہ یہ مافوق العادت بات بے شک معجزہ ہے۔ غرض کہ اس کارروائی سے حسن ظن والوں کا اعتقاد اور بھی ضرورت سے زیادہ بڑھ گئے۔ اس کے بعد اس فاضل وشریسی نے کہا کہ حضور کے طفیل سے حق تعالیٰ نے مجھے ایک بات اور عطاء کی ہے۔ پوچھا وہ کیا عرض کیا کہ ایک نور فدوی کے دل میں ایسا رکھ دیا ہے کہ جنتی اور دوزخی کو دیکھتے ہی پہچان لیتا ہوں اور اس نور کے عنایت کرتے وقت حق تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ اس متبرک جماعت میں دوزخیوں کا شریک رہنا نہایت بے موقع ہے۔ اب تم پہچان کر ایک ایک دوزخی کو قتل کر ڈالو اور چونکہ آدمی کے قتل کا معاملہ قابل احتیاط تھا۔ اس لئے حق تعالیٰ نے تین فرشتے میری تصدیق کے لئے اتارے ہیں۔ جو فلاں کنوئیں میں اس وقت موجود ہیں۔ یہ سنتے ہی مہدی موعود اس کنوئیں کی طرف چلے جو ایک وسیع میدان میں تھا اور مریدوں کا مجمع بھی ساتھ ہے اور ایسی حالت میں چلے جارہے ہیں کہ چہروں کا رنگ فق مردنی چھائی ہوئی ہے کہ دیکھئے آج کون دوزخ
کے ابدی عذاب میں جھونکا جاتا ہے اور دنیا میں ذلت سے قتل ہو کر ہمیشہ کے لئے ننگ خاندان ٹھہرتا ہے۔ ہر ایک کی آنکھیں ڈبڈبا رہی ہیں۔ زبان سے بات نہیں نکل سکتی۔ دل کا یہ عالم کہ یاس و ہراس سے گلا جاتا ہے۔ وہ میدان اس وقت عرصۂ قیامت بنا ہوا تھا کہ نہ باپ کو بیٹے کی خبر نہ بھائی کو بھائی کی ہر ایک نفسی نفسی کہہ رہا تھا اور ادھر تمام قبیلوں میں کہرام مچا ہوا ہے کہ دیکھئے کوئی مرد گھر کی آبادی کے لئے واپس بھی آتا ہے یا سب دوزخ ہی کو آباد کریں گے۔ غرض کہ مہدی موعود اس کنوئیں پر پہنچے اور ایک دوگانہ ادا کر کے ان ملائکہ سے جو کنوئیں کی تہ میں عالم کو تہ و بالا کرنیکی غرض سے اترے ہوئے تھے۔ با آواز بلند پوچھا کہ عبداللہ وشریسی کہتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس کو دوزخی اور جنتی کی شناخت دے کر حکم دیا ہے کہ دوزخی چن چن کے قتل کئے جائیں کیا یہ بات سچ ہے۔ وہ تینوں مصنوعی فرشتے تو مہدی صاحب کے راز دار تھے۔ جن کو پہلے سے وہ پٹی پڑھائی جا چکی تھی۔ فوراً پکار کر کہہ دیا کہ سچ ہے ! سچ ہے !! سچ ہے !!! مہدی صاحب نے دیکھا کہ اگر یہ عالم تحتانی کے فرشتے اوپر آجائیں تو افشائے راز کا اندیشہ ہے۔ اس لئے ان کو عالم بالا ہی میں بھیج دینا مناسب ہوگا۔ وشریسی وغیرہ کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ یہ کنواں مطہر ملائکہ کے نزول سے متبرک ہو گیا ہے۔ اگر یوں ہی چھوڑ دیا جائے تو مبادا کوئی نجاست اس میں گرے یا کسی قسم کی بے ادبی ہو جس سے قہر الہی کا اندیشہ ہے۔ اس لئے اس کو پاٹ دینا مناسب ہے۔ چنانچہ سب کی رائے سے وہ فوراً پاٹ دیا گیا جو چاہ بابل کی طرح ان بے گناہ مصنوعی فرشتوں کا ہمیشہ کے لئے محبس ٹھہرا۔ اس کے بعد دوزخیوں کے قتل کی کارروائی شروع ہوئی۔ وشریسی جو فہرست مذکور سے واقف تھا۔ میدان میں کھڑا ہو گیا۔ مشتبہین کو چن چن کر بائیں طرف اور موافقین کو دہنی طرف کر دیا تھا اور اصحاب الشمال فوراً قتل کئے جاتے تھے لکھا ہے کہ کئی روز تک یہ کارروائی جاری رہی۔ ہر روز قبیلے قبیلے کے لوگ بلائے جاتے اور ان میں سے دوزخی دوزخ میں پہنچا دیئے جاتے۔ چنانچہ ستر ہزار آدمی اس طرح مارے گئے۔ جب مشتبہ لوگوں سے میدان خالی ہو گیا تو خالص معتقدوں کو لے کر فتنہ و فساد اور ملک گیری میں مشغول ہوا اور دعویٰ مہدویت چوبیس برس تک کرتا رہا۔ پھر مرنے کے وقت عبدالمومن کو اپنا جانشین قرار دیا۔
اہل بصیرت کو اس واقعے سے کئی امور کا ثبوت مل سکتا ہے۔
- ١...... اس قسم کے مدعی لوگ جن کو مہدویت وغیرہ کا دعویٰ ہوتا ہے۔ پہلے سے
اپنے قابو کے مولویوں کو ہمراز و ہم خیال بنا رکھتے ہیں۔ جو سب سے پہلے آمنا وصدقنا کہہ کر اپنا مال نثار کر خوش اعتقادی کا اعلیٰ درجے کا ثبوت دیتے ہیں۔ جن کے تدین اور تقدس ظاہری
کے اعتماد پر غافل اور بھولے لوگ دام میں پھنس جاتے ہیں۔ جیسا کہ فاضل عبداللہ ونشریسی اور عبدالمومن وغیرہ علماء کی جماعت جو امر بالمعروف کے لئے نکلی تھی اس کی شاہد حال ہے۔ ہم حسن ظن سے کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی جماعت میں مولوی نورالدین صاحب جن کا لقب حکیم الامۃ ہے اور مولوی عبدالکریم صاحب وغیرہ افراد علم وفضل وخوش اعتقادی وغیرہ میں ونشریسی سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔
- ٢...... جھوٹوں پر بھی حسن ظن یہاں تک ہو سکتا ہے کہ ان کی تقریر خدا اور رسول کے
کلام سے بھی زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ دیکھئے ان لوگوں نے اپنے اپنے کنبے کے مسلمانوں کو یہودیوں کی طرح اپنے ہاتھوں سے قتل کر ڈالا۔ حالانکہ جعلی مہدی کو نہ ماننے والا کسی مذہب میں مرتد واجب القتل نہیں قرار پاسکتا۔ مرزا قادیانی بھی ایسا ہی اپنے منکروں کو کافر کہتے ہیں۔ ابن تومرت کو تو فقط مہدویت کا دعویٰ تھا۔ مرزا قادیانی تو مہدی بھی ہیں عیسیٰ بھی ہیں حارث بھی ہیں اور اور بھی کچھ ہیں۔
- ٣...... پیشین گوئیاں کرنے والے پہلے سے نجوم ورمل سیکھ رکھتے ہیں۔ جیسا کہ
اس مہدی کے حال میں معلوم ہوا تا کہ ان فنون کے ذریعہ سے موقع موقع پر پیش گوئیاں کر دی جائیں۔ اگر کوئی خبر صحیح نکلی تو معجزہ ہو گیا ورنہ تاویل کرنی کون سی بڑی بات ہے۔ جیسا کہ آتھم وغیرہ سے متعلق پیش گوئیوں میں مرزا قادیانی نے کی۔
- ٤...... مرزا قادیانی کا بڑا استدلال جس کو بار بار لکھتے ہیں یہ ہے کہ اگر میں جھوٹا
ہوتا تو اس قدر مہلت نہ ملتی۔ اس واقعے سے اس کا جواب بھی ہو گیا کہ مہدی مذکور کو چوبیس برس تک مہلت ملی اور مرزا قادیانی کے خروج کو اب تک چوبیس سال نہیں گزرے۔
- ٥...... مہدی مذکور نے مشتبہ لوگوں کے دوزخی ہونے پر آسمانی حکم پہنچایا تھا اور
اس کی تصدیق فرشتوں سے کرائی۔ مگر مرزا قادیانی نے دیکھا کہ اس تکلف کی بھی اس زمانے میں ضرورت نہیں۔ فقط الہام ہی پر کام چل سکتا ہے۔ کیونکہ اس زمانے میں حسن ظن کا مادہ پختہ ہو گیا ہے۔ اس لئے اس قسم کے تصنع کی ان کو ضرورت نہ ہوئی قل یا ایہا الکفار والے الہام سے خدا کا حکم پہنچا دیا کہ سب مسلمان کافر ہو گئے ۔نعوذ باللہ من ذالك!
- ٦...... اس مسیح مہدی موعود نے مشتبہ لوگوں کو قتل کر کے اپنی جماعت کو ممتاز کر لیا
تھا۔ مرزا قادیانی نے اپنی امت کے معابد مسلمانوں سے علیحدہ کر کے ان کو ممتاز کر لیا۔ اس مہدی نے مسلمانوں کو مار ڈالا تھا۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ وہ لوگ اللہ کے نزدیک مردے ہیں۔ ان
کے پیچھے نماز درست نہیں۔ مطلب یہ کہ اگر قتل نہیں کر سکتے تو کم سے کم وہ لوگ مردے تو سمجھ لئے جائیں۔ غرض کہ مرزا قادیانی نے حتی المقدور متقدمین کے طریقے سے انحراف نہ کیا۔
٧......... بے ایمان جعل سازوں کو معجزے قرار دیا کرتے ہیں۔ جیسے اب تومرت نے وشریسی سے کہا کہ تمہارے علم سے معجزے کا کام لیا جائے گا۔ مرزا قادیانی نے یہی سے عقلی معجزہ نکالا کہ ایسے بڑے مہدی نے ان کارروائیوں کا نام معجزہ رکھا۔
فتوحات اسلامیہ میں لکھا ہے کہ ١٠٧٢ھ میں ایک یہودی نے مسیح ہونے کا اور ایک مسلمان نے مہدویت کا دعویٰ کیا تھا۔ چونکہ یہود کی کتابوں میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے خبر دی ہے کہ ایک نبی پیدا ہوں گے جو خاتم الانبیاء ہیں اور ان کے اسلاف نے عیسیٰ اور ہمارے نبی کریم ﷺ کو نہ مانا اس لئے وہ اس نبی کے منتظر ہیں۔ اس یہودی کو دعویٰ عیسویت میں یہ پیش نظر تھا کہ یہودی نبی معہود سمجھ جائیں اور مسلمان مسیح موعود۔ چنانچہ مسلمانوں کو یہ سمجھایا کہ آنے والے عیسیٰ آخر بنی اسرائیل ہیں۔ اور میں بھی بنی اسرائیل ہوں اور اب تک کسی کا دعویٰ عیسویت ثابت نہ ہوا اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں عیسیٰ موعود ہوں۔ اس لئے میرا دعویٰ قابل تسلیم ہے اور یہود سے کہا کہ آخر ایک نبی کا آنا مسلم اور ضروری ہے۔ جس کی خبر موسیٰ علیہ السلام نے دی تھی اور مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے اور معجزات بھی مجھے دیئے گئے ہیں۔ چنانچہ بعض امور مافوق العادت از قسم طلسمات وغیرہ خوارق عادات ظاہر کرتا تھا اور نہایت وجیہ اور فصیح ہونے کی وجہ سے دور دور سے لوگ اس کے پاس آتے اور اس کی پرزور تقریریں ان پر جادو کا کام کرتیں۔ چنانچہ ایک مجمع کثیر معتقدوں کا اس کے ساتھ ہو گیا۔ جب وہ قسطنطنیہ جانا چاہا تو فتنہ کے خوف سے صدر اعظم نے حکم دیا کہ اس کو گرفتار کر لیا جائے۔ چنانچہ جہاز ہی میں گرفتار کیا گیا۔ مگر معتقدین کی یہ حالت تھی کہ جوق جوق آتے اور نذرانے دے دے کر قید خانے میں اس کی پابوسی کے لئے جانے کی اجازت حاصل کرتے۔ خلیفۃ المسلمین سلطان محمد نے اپنے روبرو اس کو بلوا کر کچھ پوچھا جس کا جواب ٹوٹی پھوٹی ترکی میں دیا۔ بادشاہ نے کہا مسیح وقت کو اتنا تو چاہئے کہ ہر زبان میں فصیح گفتگو کرے۔ پھر پوچھا بھلا کچھ عجائب اور خوارق عادات بھی تجھ سے صادر ہوتے ہیں۔ کہا کبھی کبھی۔ کہا تیری مسیحائی میں آزمانا چاہتا ہوں۔ یہ کہہ کر حکم دیا کہ اس کے کپڑے اتار لو۔ دیکھیں بندوق اس پر کام کرتی ہے یا نہیں۔ اگر سچا مسیح ہے تو اس کو کچھ نہ ہوگا۔ یہ سنتے ہی جھک گیا اور کمال عجز سے عرض کی کہ میرے خوارق عادات میں یہ قوت نہیں کہ گولی کے خرق وخرق سے مجھے بچاسکیں بادشاہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ جب دیکھا کہ نجات کی کوئی صورت نہیں اور مسیحائی نے
جواب دے دیا تو بادشاہ کے قدموں پر گر کر توبہ کی اور اسلام کی حقانیت کا اقرار کر کے صدق دل سے مسلمان ہو گیا۔ چنانچہ اس بزرگوار کے اسلام کا یہ اثر ہوا کہ صدہا یہود اس کی مدلل تقریروں سے مشرف باسلام ہوئے۔ اب مہدی صاحب کا حال سنئے وہ بھی قسمت کے مارے گرفتار ہو کر اسی بادشاہ کے پاس آئے۔ بادشاہ نے اسی قسم کے سوالات کئے جواب سے عاجز تو ہوا مگر توبہ کی توفیق نہ ہوئی۔ سعادت و شقاوت خدا کے ہاتھ ہے۔ یہودی کے حق میں تو دعویٰ عیسویت باعث نجات ہوا اور مسلمان کے لئے دعوئے مہدویت باعث ہلاک خدا کی قدرت ہے۔ اس واقعہ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی بڑا ہوشیار شخص تھا۔ اس نے یہ سوچا کہ بتواتر ثابت ہے کہ امام مہدی صاحب حکومت و فوج ہوں گے اور عیسیٰ علیہ السلام صرف دجال کے قتل کے واسطے آئیں گے اور چونکہ وہ بنی اسرائیل سے ہیں۔ اس مناسبت سے یہودی کا مسیح ہونا موزوں ہے۔ اگر داؤ چل گیا تو سلطنت اپنی ہے۔ یہودی کو اس وقت نکال دینا کون سی بڑی بات ہے۔ غرضیکہ احادیث کے لحاظ سے اس مہدی کو مسیح جعلی کی تلاش کی ضرورت ہوئی۔ تاکہ یہ کوئی نہ کہے کہ اگر آپ مہدی ہیں تو مسیح کہاں۔ مرزا قادیانی نے یہ جھگڑا ہی مٹا دیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود بھی میں ہوں اور مہدی موعود بھی میں ہی ہوں اور جو احادیث صحیحہ سے اور اجماع سے ثابت ہے کہ مسیح اور ہیں اور مہدی اور، سو وہ قابل اعتبار نہیں۔
اب اہل انصاف غور کر سکتے ہیں کہ خلیفۃ المسلمین کی بدگمانی مسلمانوں کے حق میں مفید ثابت ہوئی یا معتقدین کا حسن ظن۔
ابن تیمیہؒ نے منہاج السنۃ میں لکھا ہے کہ مغیرہ ابن سعید عجلی جس کی نبوت کا قائل فرقہ مغیریہ ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ میں اسم اعظم جانتا ہوں اور اس سے مردوں کو زندہ کر سکتا ہوں اور اقسام کے نیرنجات و طلسمات دکھا کر لوگوں کو اپنا معتقد بنالیا۔ کنایتاً اس کا دعویٰ تھا کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے۔
عبدالکریم شہرستانی نے ملل ونحل میں لکھا ہے کہ پہلے اس نے یہ دعویٰ کیا کہ میں امام زمان ہوں۔ اس کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور منجملہ ان تعلیمات کے مریدوں کو اس کی یہ تعلیم بھی تھی کہ حق تعالیٰ جو فرماتا ہے ۔ ”انا عرضنا الامانة علی السموات والارض والجبال فابین ان یحملنها واشفقن منها وحملها الانسان انه كان ظلوماً جهولاً (احزاب:٧٢)“ اس کا مطلب یہ ہے کہ امانت خدا تعالیٰ کی یہ تھی کہ علی ابن ابی طالبؓ کو امام نہ ہونے دینا یہ بات آسمان و زمین و جبال نے قبول نہ کی۔ پھر وہ امانت انسان پر عرض کی گئی تو عمرؓ
نے ابوبکر سے کہا کہ تم ان کو امام نہ ہونے دو اور میں تمہاری تائید میں موجود ہوں۔ اس شرط پر کہ مجھے اپنا خلیفہ بنانا انہوں نے قبول کیا۔ چنانچہ ان دونوں نے اس امانت کو اٹھا لیا۔ سو وہ بھی بات ہے جو حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وحملھا الانسان انه كان ظلوماً جهولاً“ یعنی وہ دونوں ظلوم وجہول ہیں۔ یہ اس کے معارف قرآنیہ تھے۔ جن پر اس کو اور اس کے مریدوں کو ناز تھا کہ کل تفاسیر اس قسم کے معارف سے خالی ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی بھی (ازالۃ الاوہام ص ٣١٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨، ٢٥٩) میں لکھتے ہیں کہ ”ابتدائے خلقت سے جس قدر آنحضرت ﷺ کے زمانہ بعثت تک مدت گذری تھی وہ تمام مدت سورۃ والعصر کے اعداد حروف میں بحساب قمری مندرج ہے۔“ یعنی چار ہزار سات سو چالیس برس اب بتلاؤ کہ یہ حقائق قرآنیہ اور یہ معارف حقہ کس تفسیر میں لکھے ہیں۔ اس کا یہ بھی قول تھا کہ ”حق تعالیٰ ایک نور کا پتلا آدمی کی صورت پر ہے۔ جس کے سر پر تاج چمک رہا ہے اور اس کے دل سے حکمت کے چشمے جاری ہیں۔ اس کے معتقدین کا حسن ظن اس کی نسبت اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ جب وہ خلافت بنی امیہ میں مارا گیا تو ان کو یقین تھا کہ وہ دوبارہ پھر زندہ ہو کر آئے گا۔“
یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ باوجود ان تمام خرافات کی تصریح کے صرف خدا کو دیکھنے کے باب میں کنائے سے کیوں کام لیا ہوگا۔ ہمارے مرزا قادیانی تو صاف فرماتے ہیں کہ خدا منہ سے پردہ ہٹا کر دیر تک ان سے باتیں کرتا رہتا ہے۔ وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ آخری زمانے کے جدت پسند مسلمانوں کو اس سے کچھ غرض نہیں کہ کوئی خدا سے باتیں کرے یا اس کا بیٹا بنے دل لگی کے لئے کوئی نئی بات ہونی چاہئے۔ کل جدید لذیذ
منہاج السنہ میں لکھا ہے کہ ابومنصور جو فرقہ منصوریہ کا بانی ہے۔ اس کی تعلیم میں یہ بات داخل تھی کہ رسالت کبھی منقطع نہیں ہوسکتی۔ رسول ہمیشہ مبعوث ہوتے رہیں گے۔ قرآن وحدیث میں جو جنت اور نار کا ذکر ہے وہ دو شخصوں کے نام ہیں اور اسی طرح میتہ، دم، لحم خنزیر اور میسر حرام نہیں۔ ان چیزوں سے تو ہمارے نفوس کی تقویت ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”لیس علی الذین آمنوا وعملوا الصالحات جناح فیما طعموا اذا ما اتقوا (مائدہ:٩٣)“ ایسی چیزوں کو خدا کیوں حرام کرنے لگا۔ دراصل یہ چند اشخاص کے نام ہیں جن کی محبت حرام کی گئی ہے۔ ”حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر (مائدہ:٣)“ اور کل فرائض کو اس نے ساقط کر کے کہا کہ صلوٰۃ، صوم، زکوٰۃ اور حج چند شخصوں کے نام تھے۔ جن کی محبت واجب ہے۔ غرض کہ کل تکلیفات شرعیہ کو ساقط کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ
جس کی عورت کو چاہتے وہ لوگ پکڑ لیتے اور کوئی منع نہیں کر سکتا تھا۔
اسلام میں رخنہ اندازیاں کرنے والے قرآن کو ضرور مان لیتے ہیں۔ تا کہ مسلمان لوگ سمجھ لیں کہ یہ بھی مسلمان ہیں۔ پھر اس حسن ظن کے بعد آہستہ آہستہ تفاسیر واحادیث کی بیخ کنی شروع کرتے ہیں۔ تاکہ قرآن میں تاویلات کر کے معنی بگاڑنے میں کوئی چیز مانع اور سدراہ نہ ہو۔ دیکھئے اس شخص نے تو آیات موصوفہ کے ماننے میں کچھ بھی تامل کیا۔ مگر اس ماننے سے نہ ماننا اس کا ہزار درجے اچھا تھا۔ کیونکہ انہیں نصوص قطعیہ سے اس نے استدلال کیا کہ نہ عبادت کوئی چیز ہے نہ مسلمان کسی بات کے مکلف ہیں۔ سب کو سرے سے مرفوع القلم بنا دیا۔ حسن ظن والوں کا کیا کہنا مسلمان تو کہلاتے ہیں مگر نبی کی وہ بات جس کو کروڑہا مسلمانوں نے مان لیا اس کے ماننے میں اقسام کے حیلے اور ایک ایسے شخص کی بات جس کا مسلمان ہونا بھی ثابت نہیں۔ اس کو آمنا وصدقنا کہہ کر فوراً مان لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی ہم لوگوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ لکیر کے فقیر ہیں۔ بے شک جو لکیر ہمارے نبی ﷺ نے کھینچ کر حق و باطل میں فرق کر دیا ہے ہم اسی لکیر پر اڑے ہوئے ہیں۔ ہمارا ایمان اس سے بڑھنے نہیں دیتا۔ مگر حیرت تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی بھی ایک لکیر کو پیٹ رہے ہیں جو ابومنصور وغیرہ رہزنان دین نے کھینچ دی تھی کہ حدیث وتفسیر کوئی چیز نہیں۔ ابھی تھوڑا زمانہ گزرا ہے کہ سید احمد خاں صاحب نے بھی بڑی شدومد سے لکھا تھا کہ حدیث وتفسیر قابل اعتبار نہیں۔ البتہ مرزا قادیانی نے ”ہر کہ آمد برآں مزید کرد“ کے لحاظ سے کچھ دلائل اور بڑھا دیئے ہوں گے۔ مگر لکیر کے فقیر ہونے کے دائرے سے وہ بھی خارج نہیں ہو سکتے۔ غرض کہ اس الزام میں جیسے ہم ویسے مرزا قادیانی۔ ہر ایک اپنی اپنی روحانی مناسبت سے مقلد ضرور ہے۔ ابومنصور نے تکالیف شرعیہ کے ساقط کرنے کی جو تدبیر نکالی تھی کہ صوم وصلوٰۃ اور میتہ وخنزیر وغیرہ اشخاص کے نام تھے۔ اس سے فقط فرقہ منصوریہ ہی منتفع نہیں بلکہ بعد والوں کو بھی اس سے بہت کچھ مدد ملی۔ چنانچہ سید احمد خاں صاحب اپنی تفسیر وغیرہ میں لکھتے ہیں کہ جبرائیل اس ملکہ اور قوت کا نام ہے جو انبیاء میں ہوتی ہیں۔ ملائکہ اور ابلیس وشیاطین آدمی کی اچھی بری قوتوں کے نام ہیں۔
آدم ابوالبشر: جن کا واقعہ قرآن میں مذکور ہے کوئی شخص خاص نہ تھے۔ بلکہ اس سے مراد بنی نوع انسانی ہے۔
جن: کوئی علیحدہ مخلوق نہیں بلکہ وحشی لوگوں کا نام ہے۔
نبی: دیوانوں کی ایک قسم کا نام ہے۔ جو تنہائی میں اپنے کانوں سے آواز سنتے ہیں اور کسی کو اپنے پاس کھڑا ہوا باتیں کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔
ہدہد: جس کو سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کے پاس بھیجا تھا۔ وہ آدمی تھا۔ جس کا نام ہدہد تھا۔ اسی طرح موقع موقع پر بحسب ضرورت الفاظ کے مصداق بدل دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے جب اقسام کے چندے اپنے معتقدین پر مقرر کئے مثلاً طبع کتب، خط و کتابت، اشاعت علوم، میناروں کی بناء مسجد کی تعمیر وغیرہ اور ماہوار اور ایک مشت چندے برابر وصول ہونے لگے۔ دیکھا کہ زکوٰۃ کی رقم مفت جاتی ہے۔ فرمایا کہ املاک وزیورات وغیرہ میں جن لوگوں پر فرض ہو ان کو سمجھنا چاہئے کہ اس وقت دین اسلام جیسا غریب یتیم بے کس ہے کوئی نہیں اور زکوٰۃ دینے میں جس قدر تہدید شرع میں وارد ہے وہ بھی ظاہر ہے۔ بس فرض ہے کہ زکوٰۃ کے روپے سے اپنی تصنیفات خرید کئے جائیں اور مفت تقسیم کئے جائیں۔ غرض کہ اسلام کا نام یتیم وغریب رکھ کر اپنے معتقدین کی ایک رقم معتدبہ پر استحقاق جما دیا۔ اگر مرزا قادیانی کا قول صحیح ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ ان کے مرید ہیں تو یہ رقم سالانہ ایک چھوٹے سے ملک کا محاصل ہے۔ مرزا قادیانی کو ناموں کی بدولت جس قدر نفع ہوا وہ نہ ابومنصور کو نصیب ہوا نہ سید احمد خاں صاحب کو مرزا قادیانی کو ابو منصور کی تدبیر نے سب سے زیادہ نفع دیا۔ اس لئے کہ ان کا مقصود اصلی صرف عیسیٰ موعود بننا ہے۔ جس کے ضمن میں سب منصوبے بن سکتے ہیں اور قرآن وحدیث سے عیسیٰ ابن مریم مسیح روح اللہ کا آنا ثابت ہے۔ جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص٥٤٤، خزائن ج٣ ص٣٩٢) میں لکھتے ہیں کہ ”مسیح ابن مریم کے آخری زمانے میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے“ اور نیز (ازالۃ الاوہام ص٥٥٧، خزائن ج٣ ص٤٠٠) میں لکھتے ہیں کہ ”مسیح ابن مریم کی پیش گوئی اوّل درجے کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے اور کتب صحاح میں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو نہیں۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل اس کی مصدق ہے۔“ غرض کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آنے پر خوب زور دیا کہ قرآن سے ثابت ہے۔ صحیح صحیح حدیثوں سے ثابت ہے انجیل سے ثابت ہے۔ ساری امت نے اس کو قبول کر لیا ہے۔ تواتر اس کا اس درجے کا ہے کہ اس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی کے نام والا اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اس لئے وہ ابومنصور کا مجرب نسخہ عمل میں لائے اور جتنے نام آنے والے عیسیٰ علیہ السلام کے احادیث میں وارد ہیں سب اپنے پر رکھ لئے۔ پھر اسی پر اکتفاء نہیں۔ آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ اور مہدی موعود، حارث، حراث، محدث، مجدد، امام زمان، خلیفۃ اللہ وغیرہ دس بیس نام واشتہ آید بکار کے لحاظ سے رکھ لئے اور قادیان کا نام دمشق اور علماء کا نام دابۃ الارض اور پادریوں کا نام دجال رکھ دیا اور ایک مقام میں لکھتے ہیں۔ دجال سے مراد با اقبال قومیں ہیں۔
الحاصل یہ نام کا کارخانہ کچھ ایسا جمایا کہ ابو منصور بھی زندہ ہوتا تو داد دیتا بلکہ رشک کرتا۔
تقریر سابق سے یہ بات ظاہر ہے کہ حمقاء کو دام میں پھانسنے کے واسطے سوائے اور تدابیر کے کسی امر کی ترغیب بھی مفید سمجھی جاتی ہے۔ جیسے عیسیٰ مغیرہ عجلی اور ابو منصور کو اسم اعظم کے تراشنے کی ضرورت ہوئی۔ جس سے ان کو بہت کچھ کامیابیاں ہوئیں۔ مرزا قادیانی نے اسم اعظم کا تو نام نہیں لیا۔ مگر استجابت دعاء کا ایسا نسخہ تجویز کیا کہ اس سے بھی زیادہ تر قوی الاثر ہے۔ اس لئے کہ اسم اعظم کی خاصیتیں محدود ہوں گی اور استجابت دعاء کی کوئی حد ہی نہیں۔ جب جی چاہا خدا سے تخلیہ کر کے روبرو سے حکم جاری کرالیا۔ اگر سلطنت چاہیں تو فوراً مل جائے۔ کیونکہ خدا سب کچھ دے سکتا ہے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ١١٨ حاشیہ ، خزائن ج ٣ ص ١٥٨) میں تحریر فرماتے ہیں ”جو اس عاجز کو دی گئی وہ استجابت دعاء بھی ہے ...... لیکن یہ قبولیت کی برکتیں صرف ان لوگوں پر اثر ڈالتی ہیں جو غایت درجے کے دوست یا غایت درجہ دشمن ہوں۔ جو شخص پورے اخلاص سے رجوع کرتا ہے ۔ یعنی ایسے اخلاص سے جس میں کسی قسم کا کھوٹ پوشیدہ نہیں۔ جس کا انجام بدظنی و بداعتقادی نہیں ...... وہ بے شک ان برکتوں کو دیکھ سکتا ہے اور ان سے حصہ پا سکتا ہے اور وہ بلاشبہ اس چشمے کو اپنی استعداد کے موافق شناخت کرلے گا۔ مگر جو خلوص کے ساتھ نہیں ڈھونڈے گا وہ اپنے قصور کی وجہ سے محروم رہے گا۔“
دنیا میں تو ہر شخص کو احتیاجیں لگی ہوئی ہیں اور یہی احتیاج آدمی کو کرستان اور بے ایمان بنادیتی ہے۔ اس وجہ سے مرزا قادیانی نے خیال کیا کہ استجابت دعاء کے دام میں پھنسنے والے بہت سے لوگ نکل آئیں گے۔ یہ بھی ان کا ایک عقلی معجزہ ہے اور ابو منصور کے معجزے سے کم نہیں۔ مگر یاد رہے کہ مرزا قادیانی دعاء تو کردیں گے لیکن جب قبول نہ ہوگی تو صاف اپنی برأت کر کے فرمادیں گے کہ میں کیا کروں اس میں تمہاری استعداد اور اخلاص کا قصور ہے۔ میں نے پہلے ہی کہہ دیا کہ ایسے پورے اخلاص سے آئیں کہ جس کا انجام بدظنی و بداعتقادی نہ ہو اگر اس وقت تمہارا اخلاص کامل بھی ہے تو انجام اس کا بدظنی اور بدگمانی معلوم ہوتا ہے۔ پہلے اس سے توبہ کرلو اور اخلاص کو خوب مستحکم کرو اور اس کا ثبوت عملی طور پر دو۔ یعنی پانچ قسم کا چندہ جو کھولا گیا ہے۔
- ١...... شاخ تالیف و تصنیف
- ٢...... شاخ اشاعت اشتہارات
- ٣...... صادرین و واردین کی مہمان داری
- ٤...... خط و کتابت
٥......... بیعت کرنے والوں کا سلسلہ
جس کا حال رسالہ فتح الاسلام میں لکھا گیا ہے اور اس کے سواء بنائے مدرسہ و خریدی اخبارات وغیرہ میں رقم نقد داخل کرو تو ممکن ہے کہ دعاء بھی قبول ہو جائے۔ مرزا قادیانی نے جو تخویف کی ہے کہ غایت درجے کے دشمن کے حق میں بھی بددعاء قبول ہوتی ہے بے شک یہ تدبیر عقلاً ضروری تھی تا کہ کم ہمت مخالفت نہ کر سکیں۔ مگر اس پر بالطبع یہ شبہ ہوتا ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی ابو الوفا صاحب اور بعض اہل اخبار ایک مدت سے مرزا قادیانی کے سخت دشمن ہیں۔ باوجود اس کے ان کی اچھی حالت ہے۔ اس قسم کا شبہ مسٹر آتھم کی پیش گوئی کے وقت بھی ہوا تھا۔ جس کا حال ابھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی تھی کہ پندرہ مہینے میں آتھم حق کی طرف رجوع نہ کرے گا تو مر جائے گا۔ پھر جب مدت منقضی ہو گئی اور وہ صحیح سالم قادیان موجود ہو گیا اور ہر طرف سے شورش ہوئی کہ پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی اس وقت مرزا قادیانی نے اس کا جواب دیا تھا کہ آتھم جھوٹ کہتا ہے کہ رجوع الی الحق اس نے نہیں کی۔ ضرور اس نے رجوع الی الحق کی جب ہی تو بچ گیا۔ اسی قسم کا جواب یہاں بھی دے دیں گے کہ مولوی محمد حسین صاحب وغیرہ غایت درجے کے دشمن نہیں بلکہ دوست اور خیر خواہ ہیں ورنہ اتنی کتابیں کیوں لکھتے۔ ان کی دانست میں تو ہدایت کرنا ہی مقصود ہے جو مقتضاء دوستی کا ہے۔ ہر چند جواب تو ہو جائے گا مگر اس سے یہ ثابت ہو گا کہ نہ مرزا قادیانی کا کوئی دشمن ہے نہ کسی کے حق میں بددعا ان کی قبول ہو سکتی ہے۔ صرف ڈرانے کے لئے وہ الہام بنایا گیا ہے جو عقلی معجزہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو اس قسم کی ترغیب نہیں دی۔ بلکہ صاف فرما دیا کہ امت کی سفارش کی دعاء آخرت پر منحصر رکھی گئی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے "عن انس عن النبى ﷺ قال لكل نبى سأل سؤلا او قال لكل نبى دعوة قدعا بها فاستجيب فجعلت دعوتى شفاعة لامتى يوم القيامة (بخاری ج ٢ ص ٩٣٢، باب ولكل نبى دعوة مستجابة)" ﴿یعنی فرمایا نبی ﷺ نے کہ ہر نبی نے جو مانگا وہ ان کو دیا گیا اور میرے لئے ایک دعاء خاص کی گئی ہے کہ شفاعت امت میں قبول ہے۔ میں نے اس کو قیامت کے لئے رکھ چھوڑا ہے۔﴾
اس سے ظاہر ہے کہ صحابہ کا ایمان کسی دنیوی غرض پر مبنی نہ تھا۔ ان کا یہ خیال تھا کہ ایمان لا کر حضرت سے ترقی دنیوی کی دعائیں کرائیں گے۔ ان کا مقصود ایمان سے صرف نفع اخروی تھا۔ جس کے لئے اس عظیم الشان دعاء کو حضرت نے رکھ چھوڑا ہے۔ اہل بصیرت
مرزا قادیانی کی ان کارروائیوں کو گہری نظر سے اگر دیکھیں تو حقیقت حال منکشف ہو سکتی ہے۔
ابن تیمیہ نے منہاج السنۃ میں لکھا ہے کہ بنان ابن سمعان تمیمی نے دعویٰ کیا تھا کہ میں اسم اعظم جانتا ہوں۔ جس کے ذریعے سے زہرہ کو بلا لیا کرتا ہوں۔ اس دعویٰ پر حسن ظن کر کے ایک جماعت کثیرہ اس کی تابع ہو گئی۔ فرقہ بنانیہ اسی کی طرف منسوب ہے۔ یہ لوگ اس کی نبوت کے قائل تھے۔
(ملل ونحل ج ١ ص ١٥٢) میں عبدالکریم شہرستانی نے لکھا ہے کہ بیان کا قول ہے کہ علی علیہ السلام میں ایک جزو الٰہی حلول کر کے ان کے جسد کے ساتھ متحد ہو گیا تھا۔ اسی قوت سے انہوں نے باب خیبر اکھاڑا تھا۔ اس نے حضرت امام باقر کو یہ خط لکھا کہ ”اسلم تسلم ویرتقی من سلم فانك لا تدري حيث يجعل الله النبوة“ یعنی تم میری نبوت پر ایمان لاؤ تو سلامت رہو گے اور ترقی کرو گے۔ تم نہیں جانتے کہ خدا کس کو نبی بناتا ہے۔ یہ خط عمر ابن عفیف امام کی خدمت میں لایا۔ آپ نے پڑھ کر اسے فرمایا کہ اسے نگل جا۔ چنانچہ وہ نگلا اور فوراً مر گیا۔ اس کے بعد بنان کو بھی خالد بن عبداللہ قسری نے قتل کیا۔ دیکھئے اس کی پرزور تقریریں اور اسم اعظم کی طمع نے ایک فرقے کو حسن ظن پر مجبور کر کے تباہ کیا۔ مدعیان نبوت کے کل دعوے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں کہ مجھے اسم اعظم یاد ہے۔ میں زہرہ کو بلا لیا کرتا ہوں اور چنیں ہوں اور چناں ہوں۔ مگر ظہور ایک کا بھی نہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں سچا ہوتا تو اسم اعظم سے کسی مردے کو زندہ کر کے یا زہرہ کو لوگوں کے روبرو بلا کر دکھا دیتا۔ اسی طرح اگر مرزا قادیانی کو اجابت دے دی گئی تھی تو دعاء کر کے کسی اندھے کو بینا کرتے یا اور کوئی خارق دکھا دیتے۔ مگر یہ کہاں ہو سکتا ہے یہ تو عقلی معجزے یعنی عقلی تدابیر ہیں۔ اگر چل گئیں تو کامیابی ہوئی ورنہ خیر۔ عقلاً ان کے کل الہاموں کو اسی پر قیاس کر سکتے ہیں۔
عبدالکریم شہرستانی نے (ملل ونحل ج ١ ص ١٥٣) میں لکھا ہے کہ مقنع نام ایک شخص تھا۔ چند مافوق العادت چیزوں کو دکھلا کر الوہیت کا دعویٰ کیا تھا۔ جب لوگوں کا حسن ظن اس کے ساتھ پختہ ہو گیا تو کل فرائض کو ترک کر دینے کا حکم دیا۔ حسن ظن تو ہو ہی چکا تھا۔ سب نے آمنا وصدقنا کہہ کر مان لیا اس کے گروہ کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ دین فقط امام زمان کی معرفت کا نام ہے۔
مرزا قادیانی کی توجہ جو حدیث من لم یعرف امام زمانہ کی طرف مبذول ہوئی۔ غالباً اس کا منشاء اسی فرقے کے اقوال ہوں گے۔ کیونکہ وہ بھی اپنے نہ ماننے والوں کی تکفیر کرتا ہے۔
(ملل ونحل ج ١ ص ١٧٩ تا ١٨١) میں عبد الکریم شہرستانی نے لکھا ہے کہ ابو الخطاب اسدی نے اپنے آپ کو حضرت امام جعفر صادق کے متبعین میں مشہور کر کے لوگوں کا اعتقاد امام کے ساتھ خوب مستحکم کیا اور یہ بات ذہنوں میں جمائی کہ امام زمان پہلے انبیاء ہوتے ہیں پھر آلہ ہو جاتے ہیں اور آلہیت نبوت میں نور ہے اور نبوت امامت میں نور ہے اور تعلیم میں یہ بات بھی داخل تھی کہ امام جعفر صادق اس زمانے کے آلہ ہیں یہ نہ سمجھو کہ جس صورت کو تم دیکھتے ہو وہی جعفر ہیں۔ وہ تو ایک لباس ہے جو اس عالم میں اترنے کے وقت خدا نے پہن لیا ہے۔ حضرت امام کو جب اس کے خرافات اور کفریات پر اطلاع ہوئی تو اس کو نکال دیا اور اس پر لعنت کر کے ان تمام اقوال سے اپنی برأت ظاہر کی۔ مگر اس کو امام سے تعلق ہی کیا تھا۔ اس کو تو ایک فرقہ اپنا نام زد کر کے ان کا مقتداء بننا منظور تھا۔ امام کی برأت کا اس پر کچھ اثر نہ ہوا اور اپنی کارروائیوں میں مشغول رہا۔ یہاں تک کہ منصور کے زمانے میں مارا گیا۔ اس کا قول تھا کہ میرے اصحاب میں ایسے بھی لوگ ہیں کہ جبرائیل ومیکائیل سے افضل ہیں اور قولہ تعالیٰ واوحی ربک الی النحل سے یہ بات ثابت کرتا تھا کہ ہر مسلمان پر وحی ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی امام زمان ہونے پر پہلے زور دے کر نبوت اور خالقیت تک ترقی کر گئے پھر وحی بھی اپنے لئے اتار لی۔
اس کے بعد فرقہ خطابیہ کئی فرقوں پر منقسم ہوا ایک معمریہ جس نے ابو الخطاب کے بعد معمر کو امام زمان تسلیم کیا اس کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کو فنا نہیں اور جنت و دوزخ کوئی چیز نہیں۔ اسی آسائش و مصیبت دنیوی کے وہ نام ہیں جو ہمیشہ دنیا میں ہوا کرتی ہیں اور زنا وغیرہ منہیات اور نماز وغیرہ عبادات کوئی چیز نہیں۔
اور ایک فرقہ ان میں بزنغیہ ہے۔ جس نے ابو الخطاب کے بعد بزنغ کو امام زمان تسلیم کیا تھا۔ اس پورے فرقے کا یہ دعویٰ تھا کہ ہم اپنے اپنے اموات کو ہر صبح وشام برابر معائنہ کیا کرتے ہیں۔ اسی طرح خطابیہ کی اور بھی شاخیں ہیں۔ ملخصاً اب دیکھئے ابو الخطاب پر اوائل میں حسن ظن کیا گیا تھا کہ ایک جلیل القدر امام کا معتقد اور منتسب ہے اس نے ان لوگوں کو کہاں پہنچا دیا۔ امام کو خدا کہنے لگے دوزخ و جنت کا انکار کر دیا تکالیف شرعیہ اٹھادی گئیں۔ پھر طرفہ یہ کہ خود امام عمر بھر اس سے برأت ظاہر کرتے رہے۔ مگر کسی نے نہ مانا۔ فرق باطلہ کی یہی علامت ہے کہ اپنے معتقد علیہ کے کلام کے مقابلہ میں اہل حق کی بلکہ خدا اور رسول کی بات بھی نہیں مانتے اور تاویل بلکہ رد کرنے پر مستعد ہو جاتے ہیں۔
مرزا قادیانی جو اپنے پر وحی اترنے کے قائل ہیں تعجب نہیں کہ اسی فرقہ کے اعتقاد نے انہیں اس پر جرأت دلائی ہو کیونکہ صحابہ بھی واوحی ربک الی النحل جانتے تھے۔ مگر کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم پر وحی آتی ہے۔
یہ بات توجہ طلب ہے کہ فرقہ بزغیہ جو ایک کثیر جماعت تھی۔ سب کی سب اپنے مرے ہوئے قرابتداروں کو ہر روز صبح وشام کیونکر دیکھ لیتی تھی۔ قرونِ ثلاثہ میں باوجود خیر القرون ہونے کے کسی نے یہ دعوے نہیں کیا اور نہ اب تک کسی فرقے کا ایسا دعویٰ سنا گیا۔ اہل بصیرت پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ہر قوم اپنی ترقی اور اپنے ہم مشربوں کی کثرت چاہتی ہے۔ خصوصاً جو فرقہ نیا نکلتا ہے اس کو تو ترقی کی اشد ضرورت ہے ورنہ ان کی بقاء محال ہو جائے۔ اسی وجہ سے ہر فرد ان میں جس قسم کا مذہبی کام کر سکتا ہے دل سے اس کی انجام دہی میں ساعی رہتا ہے اور جب اہل رائے ان میں کے کوئی نافع تدبیر سوچتے ہیں تو ہر شخص کا فرض ہو جاتا ہے کہ اس پر عمل کرے جیسا کہ مشاہدے سے ثابت ہے ان لوگوں نے دیکھا کہ کوئی بات ایسی بنائی جائے کہ لوگوں کو بالطبع اس کی رغبت ہو۔ اس لئے یہ تدبیر نکالی کہ جو صدق دل سے ہمارے مذہب میں داخل ہو اس کو یہ بات حاصل ہوگی۔ پھر سادہ لوحوں نے دیکھا کہ اتنی جماعت کثیرہ پر کیونکر بدظنی کی جائے اس لئے بہت لوگ اس میں داخل ہو گئے ہوں گے۔
غور کیجئے کہ جب دوسری تیسری صدی جس میں بہ نسبت چودھویں صدی کے تدین بدر جہا بڑھا ہوا تھا۔ اس کی ایسی نظائر پیش ہو جائیں تو اس زمانے کی کارروائیوں پر کس قدر بدظنی کی ضرورت ہے۔ اب غور کیا جائے کہ الحکم میں مرزا قادیانی کے مریدوں کے خواب خصوصاً امیر علی شاہ صاحب کے خواب جو چھپا کرتے ہیں۔ چنانچہ (الحکم نمبر ١٠، ج ٩ ص ٢، مورخہ ٢٣؍ مارچ ١٩٠٥ء) میں لکھا ہے کہ ”شاہ صاحب موصوف نبی ﷺ کو ہر روز خواب میں دیکھتے ہیں اور حضرت ہمیشہ فرمایا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی مامور من اللہ مسیح موعود صادق اور خلیفۃ اللہ ہیں ان کی تقلید فرض ہے۔“ چنانچہ ان کے الہامات کی کتاب چھپنے والی ہے۔ کیونکر قابل وثوق ہوں مرزا قادیانی کے تو چند ہی مریدوں نے خواب دیکھے ہوں گے۔ فرقۂ بزغیہ کے لوگ تو کل کے کل ہر روز صبح وشام اپنے اموات کا معائنہ کر لیا کرتے تھے۔
عبدالکریم شہرستانی نے (ملل ونحل ج ١ ص ١٨١ تا ١٨٢) میں لکھا ہے کہ احمد کیال نام ایک شخص تھا۔ ابتداء میں اہل بیت کی طرف لوگوں کو بلایا تھا۔ اس کے بعد یہ دعویٰ کیا کہ میں ہی امام
زمان ہوں۔ اس کے بعد ترقی کر کے کہا کہ میں قائم ہوں اور ان الفاظ کی تشریح یوں کی کہ جو شخص اس بات پر قادر ہو کہ عالم آفاق یعنی عالم علوی اور عالم انفس یعنی عالم سفلی کے مناہج بیان کرے اور انفس پر آفاق کی تطبیق کر سکے وہ امام ہے اور قائم وہ شخص ہے جو کل کو اپنی ذات میں ثابت کرے اور ہر ایک کلی کو اپنے معین جزئی شخص میں بیان کر سکے اور یہ بات یاد رکھو کہ اس قسم کا مقرر سوائے احمد کیال کے کسی زمانے میں نہیں پایا گیا۔ اس کی بہت سی تصانیف عربی فارسی زبان میں موجود ہیں۔
ایک تقریر اس کی یہ ہے کہ کل تین عالم ہیں۔ اعلیٰ، ادنیٰ، انسانی، عالم اعلیٰ میں پانچ مکان ہیں۔ مکان الاماکن یعنی عرش محیط جو بالکل خالی ہے نہ اس میں کوئی موجود رہتا ہے نہ اس کی کوئی روحانی تدبیر کرتا ہے۔ اس کے نیچے مکان نفس اعلیٰ اور اس کے نیچے مکان نفس ناطقہ اور اس کے نیچے مکان نفس حیوانیہ ہے۔ سب کے نیچے نفس انسانی کا مکان ہے۔ نفس انسانی نے چاہا کہ عالم نفس اعلیٰ تک چڑھے۔ چنانچہ حیوانیت اور ناطقیت کو اس نے قطع بھی کیا۔ مگر جب مکان نفس اعلیٰ کے قریب پہنچا تو تھک کر متحیر ہو گیا اور متعفن ہو کر اس کے اجزاء مستحیل ہو گئے۔ جس سے عالم سفلی میں گر پڑا۔ پھر اس عفونت اور استحالہ میں ایک مدت تک پڑا رہا۔ اس کے بعد نفس اعلیٰ نے اپنے انوار کا ایک جزو اس پر ڈالا جس سے اس عالم کی تراکیب حادث ہوئیں اور آسمان و زمین و مرکبات معادن نبات حیوان اور انسان پیدا ہوئے اور ان تراکیب میں کبھی خوشی کبھی غم کبھی سلامتی کبھی محنت واقع ہوئیں۔ یہاں تک کہ قائم ظاہر ہوا جو اس کو کمال تک پہنچا دے اور تراکیب منحل ہو جائیں اور متضادات باطل اور روحانی جسمانی پر غالب ہو جائے۔ جانتے ہو وہ قائم کون ہے یہی عاجز احمد کیال ہے۔ دیکھو اسم احمد ان چاروں عالموں کے مطابق ہے۔ الف مقابلے میں نفس اعلیٰ کے ہے اور حا نفس ناطقہ کے مقابل اور میم نفس حیوانیہ کے مقابل اور دال نفس انسانیہ کے مقابل ہے۔ پھر غور کرو کہ احمد کے چار حرف جیسے عوالم علویہ، روحانیہ کے مقابلے میں تھے۔ اسی طرح سفلی، جسمانی عالم کے مقابلے میں بھی وہ ہیں۔ الف انسان پر دلالت کرتا ہے اور حا حیوان پر اور میم طائر پر اور دال مچھلیوں پر اور حق تعالیٰ نے انسان کو احمد کی شکل پر پیدا کیا۔ قد الف دونوں ہاتھ حا اور پیٹ میم اور پاؤں دال کی شکل پر ہیں۔ انبیاء اگرچہ پیشوا ہیں مگر اہل تقلید کے پیشوا ہیں۔ جو مثل اندھوں کے ہیں اور قائم اہل بصیرت اور عقلمندوں کا پیش رو ہے۔
اس کے سوا اور بہت معارف و حقائق لکھے ہیں جن کا ذکر موجب تطویل ہے۔ اب دیکھئے جدت پسند طبائع خصوصاً ایسی حالت میں کہ ان معارف کے فہم وتصدیق سے اہل بصیرت
میں نام لکھا جائے کس قدر اس کی جانب مائل ہوئے ہوں گے اور کثرت تصانیف اور پرزور تقریروں نے ان کو کس درجے کے حسن ظن پر آمادہ کیا ہوگا کہ مقصود آفرینش اور تمام انبیاء سے افضل ہونا اس کا مان لیا۔ اگرچہ مرزا قادیانی بھی انا ولاغیری کے مقام میں ہیں اس لئے کہ کوئی شخص سوائے ان کے آدمیت، موسویت، عیسویت، مہدویت، محمدیت، مجددیت، محدثیت، امامت، خلافت کا جامع کسی زمانے میں نہیں پایا گیا۔ جیسا کہ احمد کیال کا دعویٰ تھا کہ کل کو اپنی ذات میں ثابت کرنے والا سوائے احمد کیال کے کسی زمانے میں نہیں پایا گیا مگر پھر بھی ضرورت کے وقت مثیلیت اور ظلیت کی پناہ میں آ جاتے ہیں۔ لیکن احمد کیال کبھی ہمت نہیں ہارا۔ اگر اس کے اور حالات سے قطع نظر کر کے دیکھا جائے تو بڑا ہی مقرر اور بلند ہمت دکھائی دے گا۔ اس نے دیکھا کہ امام مہدی، عیسیٰ، مجدد، محدث وغیرہ کا وجود تو دین میں ثابت ہی ہے ان کے مدعی بہت پیدا ہوئے اور ہوتے جائیں گے۔ طبیعت آزمائی اگر کرنا ہی ہے تو ایسی انوکھی بات میں کی جائے جس کا جواب نہ ہو۔ چنانچہ ایک بے اصل بنیاد قائم کی ایسی ڈالی کہ کسی نے سنا ہی نہیں۔ پھر اپنی پرزور تقریروں اور باوقعت تصنیفوں سے آمنا وصدقنا بہتوں سے کہلوا ہی لیا۔
اگرچہ احمد کیال کو معارف دانی کا بڑا دعویٰ تھا۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی بھی معارف کے ایجاد و اختراع میں کم نہیں۔ مرزا قادیانی کی ایک تقریر یہاں لکھی جاتی ہے جس سے موازنہ دونوں کی تقریروں کا ہو جائے گا۔
(ازالۃ الاوہام ص ١٠٥ تا ١١١، خزائن ج ٣ ص ١٦٠ تا ١٦٥) میں فرماتے ہیں کہ ”ہر نبی کے نزول کے وقت ایک لیلۃ القدر ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن سب سے بڑی لیلۃ القدر ہمارے نبی ﷺ کو دی گئی۔ اس کا دامن حضرت کے زمانے سے قیامت تک پھیلا ہوا ہے اور جو کچھ انسانوں کے دلی اور دماغی قویٰ کی جنبش حضرت کے زمانے سے آج تک ہو رہی ہے وہ لیلۃ القدر کی تاثیرات ہیں۔۔۔۔۔۔ اور جس زمانے میں حضرت کا نائب کوئی پیدا ہوتا ہے تو یہ تحریکیں ایک بڑی تیزی سے اپنا کام کرتی ہیں۔ بلکہ اس زمانے سے کہ وہ نائب رحم مادر میں آئے پوشیدہ طور پر انسانی قویٰ کچھ کچھ جنبش شروع کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔ اور اختیار ملنے کے وقت تو وہ جنبش نہایت تیز ہو جاتی ہے اور اس نائب کے نزول کے وقت جو لیلۃ القدر مقرر کی گئی ہے۔ وہ اس لیلۃ القدر کی ایک شاخ ہے۔۔۔۔۔۔ اس لیلۃ القدر کی بڑی شان ہے جیسا کہ اس کے حق میں یہ آیت ہے فیہا یفرق کل امر حکیم یعنی اس لیلۃ القدر کے زمانے میں جو قیامت تک ممتد ہے ہر ایک حکمت اور معرفت کی باتیں دنیا میں شائع
کر دی جائیں گی اور انواع و اقسام کے علوم غریبہ و فنون نادرہ و صناعات عجیبہ صفحہ عالم میں پھیلا دیئے جائیں گے۔ وہ انسانی قوٰی میں ان کی مختلف استعدادوں اور مختلف قسم کے امکانوں بسطت علم اور عقل میں جو کچھ لیاقتیں مخفی ہیں سب کو بمنصہ ظہور لایا جائے گا۔ لیکن یہ سب کچھ ان دنوں میں پرزور تحریکوں سے ہوتا رہے گا کہ جب کوئی نائب رسول ﷺ دنیا میں پیدا ہوگا......اور لیلۃ القدر میں بھی فرشتے اترتے ہیں۔ جن کے ذریعے سے دنیا میں نیکی کی طرف تحریکیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ ضلالت کی پرظلمت رات سے شروع کر کے طلوع صبح صداقت تک اسی کام میں لگے رہتے ہیں کہ مستعد دلوں کو سچائی کی طرف کھینچتے رہیں۔‘‘
’’یہ آخری لیلۃ القدر کا نشان ہے جس کی بنا ابھی سے ڈالی گئی ہے جس کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو بھیجا ہے اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا انت اشد مناسبۃ بعیسی ابن مریم واشبہ الناس بہ خلقاً وخلقاً وزماناً‘‘
(ازالۃ الاوہام ص ١٢٣،خزائن ج ٣ ص ١٢٥)
اور لکھتے ہیں کہ اب فرمائیے کہ یہ معارف حقہ کس تفسیر میں موجود ہیں۔ یہ تقریر کئی ورقوں میں ہے ماحصل اس کا یہ کہ انا انزلناہ فی لیلۃ القدر سے مرزا قادیانی کا نائب رسول ہونا ثابت ہے اور جتنی کلیں امریکہ وغیرہ میں اس زمانے میں نکلی ہیں۔ سب مرزا قادیانی کی وجہ سے نکلی ہیں۔
مرزا قادیانی کے معارف کسی تفسیر میں نہ ہونے سے یہ کیونکر ثابت ہوگا کہ وہ فی الواقع درج تفاسیر ہونے کے قابل بھی تھے۔ احمد کیال کے معارف تو مرزا قادیانی کی تصانیف میں بھی نہیں پائے جاتے تو کیا اس سے اس کی مجددانہ شان اس قابل سمجھی جائے گی کہ وہ کسی تفسیر میں لکھی جانے کے قابل تھی ہرگز نہیں۔ پھر مرزا قادیانی کے معارف کسی تفسیر میں ہونے کی کیا ضرورت۔
(ملل ونحل) میں شہرستانی نے لکھا ہے کہ فرقہ باطنیہ کا عقیدہ ہے کہ ہر ظاہر کے لئے باطن اور ہر تنزیل کے لئے تاویل ہے اس لئے وہ آیت کے ظاہری معانی کو چھوڑ کر اپنی مرضی کے مطابق ایک معنی گھڑ لیتے ہیں۔ ان کا قول ہے کہ نفس اور عقل اور طبائع کی تحریک سے افلاک متحرک ہوئے۔ اس طرح ہر زمانے میں نبی اور وصی کی تحریک سے نفوس اور اشخاص شرائع کے ساتھ متحرک ہوتے رہتے ہیں۔
مرزا قادیانی نے اس مضمون کو دوسرا لباس پہنا کر لیلۃ القدر اور نائب رسول کے
پیرائے میں ظاہر کیا۔ بات یہ ہے کہ جب کسی چیز کا مادہ اذکیا کے ہاتھ آ جاتا ہے تو مختلف صورتیں اس سے بنالینا ان پر دشوار نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے متقدمین کو متاخرین پر فضیلت ہوتی ہے کہ انہوں نے ہر قسم کا مادہ متاخرین کے لئے مہیا کر دیا ہے اور اسی میں لکھا ہے کہ کلمات اور آیات کے اعداد سے باطنیہ بہت کام لیتے تھے۔
مرزا قادیانی نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ١٨٦، خزائن ج ٣ ص ١٩٠) میں لکھتے ہیں کہ ”اس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ وہ سبحانہ تعالیٰ بعض اسرار اعداد حروف بھی میرے پر ظاہر کر دیتا ہے“ اور اسی کے (ص ٣١١، ٣١٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨، ٢٥٩) میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ”قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا مثلاً جو اس عاجز پر کھلا کہ ابتدائے خلقت آدم سے جس قدر آنحضرت ﷺ کے زمانہ بعثت تک مدت گزری تھی۔ وہ تمام مدت سورۂ والعصر کے اعداد حروف میں بحساب قمری مندرج ہے۔ یعنی چار ہزار سات سو چالیس اب بتاؤ کہ یہ دقائق قرآنیہ جس میں قرآن کا اعجاز نمایاں ہے کس تفسیر میں لکھے ہیں۔“ اہل انصاف غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے معارف جن کی بنیاد اختراعات باطنیہ پر ہے۔ اہل سنت و جماعت کی تفاسیر میں کیونکر ملیں گے۔ یہاں تو یہ التزام ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ظاہری معنی سے تجاوز نہ ہو۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی اپنی ضرورت کے وقت لکھتے ہیں کہ ”النصوص یحمل علی الظواھر ھا کما فی (الازالہ ص ٤٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣١٢) اس قسم کے معارف کا ذخیرہ باطنیہ کی کتابوں میں تلاش کرنا چاہئے۔ چونکہ اس فرقے نے جدت پسند طبائع کی تحسین وقدر دانی کی وجہ سے اس قدر ترقی کی ہے کہ اس کے بہت سے نام اور شاخیں ہو گئیں۔ چنانچہ ملل ونحل میں لکھا ہے کہ باطنیہ کے القاب بہت ہیں ہر ایک قوم میں اس کا جدا نام ہے۔ مثلاً عراق میں باطنیہ کو قرامطہ اور مزدکیہ کہتے ہیں اور خراسان میں تعلیمیہ اور ملحدہ اس وجہ سے ان کی تصانیف بھی بہت ہیں۔ تعجب نہیں کہ ذخیرہ احمد کیال کا مرزا قادیانی کے ہاتھ آیا ہو جب ہی تو ایسے انوکھے معارف لکھتے ہیں۔ کیونکہ من جد وجد، ملل ونحل میں لکھا ہے کہ باطنیہ موقع موقع پر فلاسفہ کے کلام سے بہت تائید لیا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ فرقہ بہتر فرق اسلامیہ سے خارج سمجھا جاتا ہے۔
(ملل ونحل ج ١ ص ١١٥ تا ١٦١) میں عبدالکریم شہرستانی نے لکھا ہے کہ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور معاویہؓ اپنی اپنی طرف سے حکم مقرر کئے تو عبداللہ بن وہب راسبی اور عبداللہ بن کوا
وغیرہ چند اشخاص نے کمال تقویٰ کی راہ سے کہا کہ حق تعالیٰ تو ان الحکم الا للہ فرماتا ہے اور تم لوگ آدمیوں کو حکم بناتے ہو اور یہ نکتہ چینیاں شروع کیں کہ علی کرم اللہ وجہہ نے فلاں لڑائی میں لوگوں کو قتل کیا اور ان کا مال بھی غنیمت بنایا اور ان کے عیال واطفال کو بھی قید کر لیا اور فلاں جنگ میں صرف مال لوٹا اور فلاں جنگ میں غنیمت بھی نہ لی۔ بہرحال وہ اس قابل نہیں کہ ان کا اتباع کیا جائے۔ دین میں امام کی کوئی ضرورت نہیں۔ عمل کے لئے قرآن وحدیث کافی ہیں اور اگر ایسی ہی ضرورت ہو تو مسلمان کسی اچھے متقی شخص کو دیکھ کر اپنا حاکم بنالیں وہی امام کہلائے گا۔ جس کی تائید مسلمانوں پر واجب ہوگی اور اگر وہ بھی عدل سے عدول کرے اور اس کی سیرت میں تغیر پیدا ہو تو وہ بھی معزول بلکہ قتل کر دیا جائے۔ الغرض ان کی دینداری و دیانتداری کی باتوں نے دلوں پر ایسا اثر ڈالا کہ کمال حسن ظن سے جوق جوق ان کے ہم خیال ہونے لگے اور سب نے اتفاق کیا کہ عبداللہ بن وہب کے ہاتھ پر بیعت کی جائے۔ چونکہ یہ شخص بڑا ہی عاقل تھا۔ جانتا تھا کہ آخر یہ دولت اپنے ہی گھر آنے والی ہے۔ اظہار تقدس و تدین کی غرض سے انکار کر کے یہ کہا کہ فلاں شخص اس کام کا اہل ہے۔ ہم سب کو چاہئے کہ اس کا اتباع کریں۔ لیکن لوگوں کا حسن ظن تو اسی پر تھا اس انکار سے اور بھی اعتقاد زیادہ ہوا جب خوب خوشامد اور الحاح کر لیا تو نہایت مجبوری ظاہر کر کے سب سے بیعت لی اور اس فرقہ باطنیہ کا سرگروہ بن بیٹھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جب اطلاع ہوئی کہ ان لوگوں کا استدلال آیۂ شریفہ ان الحکم الا للہ پر ہے تو فرمایا کہ کلمۃ حق اريد بها الباطل یعنی بات تو سچی ہے۔ مگر مقصود اس سے باطل ہے پھر ان کی سرکوبی کے لئے بذات خود نہروان تشریف لے گئے۔ جہاں وہ لوگ جمع تھے اس وقت ان کی بارہ ہزار کی جمعیت ہوگئی تھی لکھا ہے کہ سب کے سب ایسے متقی اور نمازی اور روزہ دار تھے کہ ان کی حالت کو دیکھ کر صحابہ رشک کرتے تھے۔ غرض اس روز وہ سب مارے گئے جس کی خبر خود آنحضورﷺ نے علی کرم اللہ وجہہ کو دی تھی۔ لیکن ان میں سے نو دس آدمی بچ گئے جو متفرق ہو کر عمان کرمان سجستان جزیرہ اور یمن کی طرف بھاگ گئے۔ اس قوم کا تقویٰ تو پہلے ہی سے مشہور ہو چکا تھا کہ وہ کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے اس لئے کہ ان کے عقائد میں یہ بات داخل تھی کہ جھوٹ وغیرہ کبائر کا مرتکب کافر مخلد فی النار ہے اور بعض تو اس کے بھی قائل تھے کہ مرتکب صغیرہ بھی مشرک ہے۔ غرض کہ حسن ظن نے پھر ازسرنو جوش کیا اور لوگ ان کی حالت ظاہری پر اپنا ایمان فدا کر کے معتقد اور مرید ہونے لگے۔ ہر وقت یہی ذکر کہ علیؓ، عثمانؓ اصحاب صفین اور اصحاب جمل چنان و چنین تھے۔ ان
کے سخن چینیوں سے صحابہ کبار کے مطاعن ہر ایک کے زباں زد ہو گئے اور یہ عادت ہے کہ کوئی متقی شخص کسی بڑے درجے کے بزرگ پر اعتراض اور طعن کرتا ہے تو جاہلوں کے نزدیک اس طعن کی وقعت اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے ان بھگوڑوں پر حسن ظن خوب ہی جما۔ جس سے ترقی اس شجرۂ خبیثہ کی یہاں تک ہوئی کہ کئی شاخیں اس کی نکلیں اور اب تک شاخ و برگ اور ٹہنیاں نکلتی جاتی ہیں۔ چنانچہ تھوڑے ہی عرصے میں نافع ابن ازرق کے ساتھ ایک مجمع کثیر ہو گیا اور تیس ہزار سے زیادہ سوار ہمراہ لے کر وہ بصرے سے اہواز تک قابض ہو گیا۔ اس فرقے کا اعتقاد تھا کہ آیہ شریفہ ”ومن الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله (بقرہ:٢٠٧)“ عبدالرحمن بن ملجم کی شان میں نازل ہوئی۔ اس فرقے نے علاوہ علی کرم اللہ وجہہ کی تکفیر کے حضرت عائشہؓ اور عثمانؓ وطلحہؓ وزبیرؓ وعبداللہ بن عباسؓ کی بھی تکفیر زیادہ کر دی تھی۔
الحاصل خوارج نے تقویٰ میں موشگافیاں اس قدر کیں کہ ادنیٰ جھوٹ اور اس پر اصرار بھی ان کے نزدیک شرک تھا اور بعضوں کا اعتقاد تھا کہ سورہ یوسف کلام الہی نہیں ہے۔ اس لئے کہ عشق کا قصہ بیان کرنا خدا کی شان سے بعید ہے اب دیکھئے کہ جس فرقے کا کلاب النار ہونا صراحتاً احادیث میں وارد ہے کمافی (کنز العمال ج ١١ ص ١٢٧ حدیث نمبر ٣٠٩٤٨) ”عن ابی امامۃ قال قال النبی ﷺ الخوارج کلاب النار“ کیا کوئی مسلمان ان کو متقی کہہ سکتا ہے ہرگز نہیں۔ در اصل جھوٹ کو شرک کہنا بھی ایک دھوکے کی ٹٹی تھی۔ ورنہ ابن ملجم قاتل علی کرم اللہ وجہہ کجا اور آیت شریفہ ”ومن الناس من یشری نفسه“ کی فضیلت کجا نہ ان میں کوئی صحابی تھا۔ جس کو اس آیت شریفہ کی شان نزول پر اطلاع ہو نہ کوئی روایت میں وارد ہے کہ ابن ملجم اس کا مصداق تھا باوجود اس کے وہ صاف کہتے تھے کہ آیت موصوفہ ابن ملجم کی شان میں اتری ہے۔ کس درجے کا جھوٹ اور خدا پر بہتان ہے۔ پھر جھوٹ کو شرک قرار دینا دھوکا دہی نہیں تو کیا ہے۔ جیسے مرزا قادیانی جھوٹ کو شرک قرار دیتے ہیں اور خود اس کے مرتکب ہیں۔ اسی پر قیاس ہو سکتا ہے کہ کل کارروائیاں ان کی اسی قسم کی تھیں۔ یہاں یہ بات بآسانی سمجھ میں آ سکتی ہے کہ جب صحابہ کے مجمع میں جعلی تقدس ظاہر کر کے انہوں نے اپنا کام نکال لیا تو تیرہ سو برس کے بعد چند اشخاص اتفاق کر کے اپنا کام نکالنا چاہیں تو کیا مشکل ہے۔
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٢٣٠، خزائن ج ٣ ص ٢١٥) میں مسلم شریف کی وہ حدیث جس میں دجال کا پانی برسانا اور مردے کو زندہ کرنا وغیرہ مذکور ہے۔ نقل کر کے لکھتے ہیں کہ
"ایسے پرشرک اعتقادات ان کے دلوں میں جمے ہوئے ہیں کہ ایک کافر حقیر کو الوہیت کا تخت و تاج سپرد کر رکھا ہے اور ایک انسان ضعیف البنیان کو اتنی عظمتوں اور قدرتوں میں خدا تعالیٰ کے برابر سمجھ لیا ہے۔"
مطلب اس کا ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ امام مسلم جن کے تدین پر اجماع امت ہے۔ انہوں نے یہ حدیث نقل کر کے تمام مسلمانوں کو مشرک بنا دیا۔ جس سے خود صرف مشرک ہی نہ بنے بلکہ مشرک بنانے والے اور نبی کریم ﷺ پر نعوذ باللہ شرک کا الزام لگانے والے ٹھہرے۔ کیونکہ اگر اس حدیث کے کوئی دوسرے معنی تھے تو ضرور تھا کہ اس معنی کی تصریح کر دیتے تاکہ مسلمان اس حدیث کو دیکھ کر مشرک نہ بنیں۔ پھر یہ روایت صرف مسلم ہی نے نہیں بلکہ اور بھی اکابر محدثین نے اس کو نقل کیا ہے۔ غرض کہ یہ محدثین اور ان کے بعد کے کل مسلمان لوگ تو مرزا قادیانی کے نزدیک قطعی مشرک ہیں اور چونکہ باتفاق محدثین مسلم کی اسنادیں کل صحیح ہیں اس لحاظ سے اس شرک کا سلسلہ بقول مرزا قادیانی صدر تک پہنچے گا۔ اس مسلک میں مرزا قادیانی کے مقتداء خوارج ہیں۔ جنہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور دیگر اکابر صحابہ کی تکفیر میں کوتاہی نہ کی اور یہ الزام لگایا کہ آدمیوں کو انہوں نے خدا کے برابر کر دیا جو صراحتاً شرک ہے اور طرفہ یہ ہے کہ (ازالۃ الاوہام ص٢٢٩، خزائن ج٣ ص٢١٥) میں لکھتے ہیں۔ "غرض جیسا کہ خدا تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ انما امره اذا اراد شیئا ان یقول له کن فیکون“ اسی طرح یہی کن فیکون سے بقول ان کے دجال سب کچھ کر دکھائے گا۔" مطلب یہ کہ کن فیکون اس کے لئے جائز رکھنا شرک ہے اور خود اس کا رتبہ اپنے لئے تجویز کرتے ہیں کہ مجھے بھی کن فیکون دیا گیا ہے۔
کتاب المختار میں لکھا ہے کہ معتز باللہ کے زمانے میں ایک شخص جس کا نام فارس بن یحییٰ تھا۔ مصر کے علاقے میں نبوت کا دعویٰ کر کے عیسیٰ علیہ السلام کا مسلک اختیار کیا تھا اس کا دعویٰ تھا کہ میں مردوں کو زندہ کر سکتا ہوں اور ابرص اور جذامی اور اندھوں کو شفا دے سکتا ہوں۔ چنانچہ طلسم وغیرہ تدابیر سے ایک مردے کو ظاہراً زندہ بھی کر دکھایا۔ اسی طرح برص وغیرہ میں بھی تدابیر سے کام لے کر بظاہر کامیاب ہو گیا۔ چنانچہ کتاب المختار میں اس کے نسخے اور تدابیر بھی لکھی ہیں۔
مثیل مسیح اس کو کہنا چاہئے جس نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ظاہراً ان کی نقل بھی پوری کر بتائی۔ چنانچہ اسی وجہ سے بہت لوگ اس کے معتقد ہوئے اور اس کے لئے ایک عبادت خانہ بنا دیا جو اب تک موجود ہے۔ مرزا قادیانی ایک زمانے سے مثیل مسیح بلکہ خود مسیح ہیں۔ مگر ایسا
بھی کوئی معجزہ نہ دکھایا لیکن اگر غور کیا جائے تو جو کام مرزا قادیانی کر رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ نادر ہے کہ باتوں ہی باتوں میں مسیح بن گئے۔
یہ چند واقعات حسن ظن کی خرابی کے جو مذکور ہوئے۔ مشتے نمونہ از خروارے ہیں۔ اگر تواریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس کے نظائر بہت مل سکتے ہیں اور یہ تو اجمالی نظر سے بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ تہتر اسلامی فرق باطلہ کا وجود احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور ہر فرقے کے جزئی اختلاف اگر دیکھے جائیں تو صدہا کی نوبت پہنچ جاتی ہے اور ادیان باطلہ کے فرقے تو بے انتہا ہیں اور ظاہر ہے کہ ہر مسئلہ باطلہ کا موجد ایک ہی ہوتا ہے۔ اگر ان موجدوں پر حسن ظن نہ کیا جاتا تو اتنے فرقے ہی کیوں ہوتے۔ ایک شخص کی بات نقار خانے میں طوطی کی آواز تھی۔ اگر حسن ظن والے ہاں میں ہاں نہ ملاتے تو اسے سنتا ہی کون تھا۔ اگر موجد کو اس پر بہت اصرار ہوتا تو اپنے ساتھ قبر میں لے جاتا۔ غرض کہ اس حسن ظن ہی نے جھوٹی نبوت اور امامت کو اس قابل بنایا کہ لوگوں کی توجہ اس طرف ہوئی۔ چنانچہ جہلاء جن کو معنوی مناسبت ان جعلی انبیاء اور اماموں کے ساتھ تھی۔ آمنا وصدقنا کہہ کر ان کو مقتداء بنالیا۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”كذالك قال الذين لا يعلمون مثل قولهم تشابهت قلوبهم (بقره:١١٨)“ اس سے ظاہر ہے کہ اہل باطل کے دل باہم متشابہ ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی کارروائیوں کو دیکھنے کے بعد کبھی شبہ نہیں رہ سکتا کہ وہ مدعیان نبوت کے قدم بقدم راہ طے کر رہے ہیں۔ جس کا منشاء ہی تشابہ قلبی ہے جن لوگوں نے جھوٹے دعوے کئے تھے وہ جہلاء نہ تھے۔ قرآن وحدیث کو خوب جانتے تھے مناظروں میں مستعد تھے آیات واحادیث وغیرہ سے اپنے بچاؤ کے پہلو نکال لیتے تھے۔ غرض کہ ان کا علم ہی اس تفرقہ اندازی کا باعث ہوا تھا ان کی حالت اس گروہ کی سی ہے۔ جس کی خبر حق تعالیٰ دیتا ہے۔ ”وما تفرقوا الا من بعد ماجاء هم العلم (شوریٰ:١٤)“ یعنی علم آنے کے بعد جدا جدا فرقے ہو گئے۔ مرزا قادیانی کے تبحر میں کوئی کلام نہیں۔ مگر یہ ضرور نہیں کہ علم ہمیشہ سیدھی راہ پر لے چلے۔ اسی وجہ سے مدعیان نبوت باوجود علم کے گمراہ ہوئے۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”واضله الله على علم (جاثیہ:٢٣)“ یعنی باوجود علم کے اللہ نے اسے گمراہ کیا۔ ان لوگوں کے مخالف مسلک کوئی آیت یا حدیث پیش کی جائے تو مثل یہود کے اس کی تاویل کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”يحرفون الكلم عن مواضعه (مائده:١٣)“ یعنی کلمات کو اصلی معنی سے پھیر دیتے ہیں۔ آپ نے دیکھ لیا کہ مرزا قادیانی آیتوں اور حدیثوں میں کیسی کیسی تاویلیں کرتے ہیں۔ جن کو
تحریف کہنے میں کوئی تامل نہیں ہوسکتا۔ اصل یہ ہے کہ ہوائے نفسانی نے ان لوگوں کو یہود کا مقلد بنادیا تھا اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ اصلی معنی کسی آیت کے بیان کئے جائیں تو قہقہے اڑاتے تھے۔ ”واذا علم من آیاتنا شیئاً اتخذہا ہزواً (جاثیہ:٩)“ یعنی جب جان لیتا ہے ہماری آیتوں میں سے کسی چیز کو تو ان کی ہنسی بناتا ہے۔
مرزا قادیانی نے یہ بھی کیا جیسا کہ عیسیٰ کے زندہ اٹھائے جانے پر استہزا کرتے ہیں کہ آسمانوں پر ان کے کھانے کا کیا انتظام ہوگا اور مطبخ اور پاخانہ بھی وہاں ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ اگرچہ دعویٰ ان لوگوں کو کمال ایمان کا تھا۔ کیونکہ نبی سے بڑھ کر کس کا ایمان ہوسکتا ہے۔ مگر وہ سب نمائش ہی نمائش تھی ممکن نہیں کہ خدا اور رسول پر ایمان لانے کے بعد کوئی امتی خلاف قرآن و حدیث نبوت کا دعوے کرے اس سے ظاہر ہے کہ منشاء اس قسم کے دعوؤں کا صرف ہوائے نفسانی ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”افرأیت من اتخذ الہہ ہواہ (جاثیہ:٢٣)“ یعنی کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود ٹھہرا لیا۔ اگر مرزا قادیانی خدا کو معبود سمجھتے تو جس طرح اس کے کلام قدیم میں وخاتم النبیین مذکور ہے۔ اس کی تصدیق کر کے آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ ہرگز نہ کرتے۔ طرفہ یہ کہ اس نص قطعی کے مقابلے میں بعضوں نے وہ اشعار پیش کئے جن کا مضمون یہ کہ شیخ اپنے مریدوں میں نبی ہوتا ہے۔ مقام غور ہے کہ مضامین شعریہ جن کی بنیاد مبالغوں اور استعارات پر ہے۔ قطعیات کے مقابلے میں پیش کئے جاتے ہیں۔ شعراء اپنے ممدوح کو مسیح دوران ارسطوئے زمان بایزید وقت وغیرہ لکھا کرتے ہیں۔ اس سے یہ کوئی نہیں سمجھتا کہ وہ فی الواقع مسیح اور بایزید ہے۔ اسی طرح شیخ کو بھی کسی نے نبی نہیں سمجھا ان لوگوں کی عادت ہے کہ باطل کو حق کے ساتھ ملتبس کردیا کرتے ہیں۔ جس سے حق تعالیٰ منع فرماتا ہے۔ ”ولا تلبسوا الحق بالباطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون (بقرہ:٤٢)“ یعنی حق کو باطل کے ساتھ خلط نہ کرو اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ اس کے نظائر مرزا قادیانی کے اقوال میں بکثرت موجود ہیں جن میں سے بعض اس کتاب میں بھی لکھے گئے ہیں۔
یہ لوگ قرآن و حدیث کے مقابل اپنے الہام اور وحی پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ بہت سے اقوال مرزا قادیانی کے اس قسم کے نقل کئے گئے حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً اوقال اوحیٰ الیّ ولم یوحی الیہ شئی (انعام:٩٣)“ یعنی اس سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا دعویٰ کرے کہ میری طرف وحی
آتی ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی صراحتاً دعویٰ کیا ہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔
یہ لوگ بحسب ضرورت باتیں بنا کر لکھ دیتے ہیں کہ یہ الہام اور وحی ہے جو اللہ نے بھیجی جیسا کہ یہود وغیرہ کیا کرتے تھے۔ جن کی نسبت حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”فويل للذين يكتبون الكتاب بايديهم ثم يقولون هذا من عند الله ليشتروا به ثمناً قليلاً فويل لهم مما كتبت ايديهم وويل لهم مما يكسبون (بقرہ:٧٩)“ یعنی خرابی ہے ان لوگوں کی جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھیں پھر لوگوں سے کہیں کہ یہ خدا کے ہاں سے اتری ہے تاکہ اس کے ذریعے سے تھوڑے سے دام حاصل کریں۔ پس افسوس ہے کہ ان پر انہوں نے اپنے ہاتھ سے لکھا۔ افسوس ہے ان پر کہ وہ ایسی کمائی کرتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ مقصود ان لوگوں کا بھی وحی والہام آسمانی پیش کرنے سے یہی ہے کہ لوگ معتقد ہو کر چندہ یک مشت یا ماہواری دیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی وحی کو ذریعہ بنا کر اقسام کے چندے وصول کر رہے ہیں۔
حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”و اذا قيل لهم آمنوا بما انزل الله قالوا نؤمن بما انزل علينا (بقرہ:٩١)“ یعنی جب ان سے کہا جاتا کہ جو خدائے تعالیٰ نے اتارا ہے اس پر ایمان لے آؤ تو جواب دیتے ہیں جو ہم پر اتارا گیا ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ دیکھ لیجئے حشر اجساد وغیرہ میں نصوص قطعیہ موجود ہیں۔ مگر اپنے الہام اور وحی کے مقابلے میں ان کو کچھ نہیں سمجھتے۔ ان کی بھی یہی حالت ہے جو اس سے ظاہر ہے کہ قرآن و حدیث کے مقابلے میں اپنی وحی پیش کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کی نسبت حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”افتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض فما جزاء من يفعل ذالك منكم الا خزى فى الحيوة الدنيا ويوم القيمة يردون الى اشد العذاب وما الله بغافل عما يعملون اولئك الذين اشتروا الحيوة الدنيا بالآخرة فلا يخفف عنهم العذاب ولاهم ينصرون (بقرہ:٨٦،٨٥)“ یعنی تم کیا کلام الہی کی بعض باتوں کو مانتے ہو اور بعض کو نہیں مانتے تو جو لوگ تم میں سے ایسا کریں ان کا یہی بدلہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان کی رسوائی ہو اور قیامت کے دن بڑے سخت عذاب کی طرف لوٹائے جائیں۔ یہی ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی مول لی۔ سو ان سے نہ عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ مدد کئے جائیں گے۔
یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم قرآن کو مانتے ہیں۔ محمد ﷺ کی نبوت کو
مانتے ہیں اور احادیث پر ہمارا ایمان ہے۔ مگر مقصود اس سے کچھ اور ہی ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”یحلفون باللہ انہم منکم وماھم منکم (توبہ:٥٦)“ یعنی وہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ وہ بھی تم ہی میں کے ہیں۔ یعنی مسلمان، حالانکہ وہ تم میں کے نہیں ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ لوگ اسی زمرے کے ہیں۔ جن کا ذکر اس آیت میں ہے مرزا قادیانی کی قسموں کا حال بھی اوپر معلوم ہوا۔
اس قسم کھانے سے ان کی یہ غرض ہوتی ہے کہ مسلمانوں میں جو ان سے عام ناراضی پھیلتی ہے وہ کم ہو جائے اس قسم کی کارروائیاں پہلے لوگوں نے بھی کی ہیں۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”یحلفون باللہ لکم لیرضوکم (توبہ:٦٢)“ یعنی تمہارے سامنے وہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو راضی کرلیں۔ قسمیں کھا کر ان کا یہ کہنا کہ ہم بھی تمہیں میں سے ہیں۔ یعنی مسلمان، فضول ہے۔ اس لئے کہ اگر ان کا ایمان پورے قرآن وحدیث پر ہوتا تو جھگڑا ہی کیا تھا اور نیا فرقہ بننے کی ضرورت ہی کیا تھی حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”فان آمنوا بمثل ما امنتم بہ فقد اھتدوا (بقرہ:١٣٧)“ یعنی اگر تمہاری طرح یہ لوگ بھی انہیں چیزوں پر ایمان لے آئے ہیں۔ جن پر تم ایمان لائے ہو تو بس راہ راست پر آگئے۔ اگر قرآن وحدیث پر مرزا قادیانی کا ایمان ہوتا تو تمام امت کی مخالفت کیوں کرتے اور سب کو مشرک کیوں بناتے۔
کبھی یہ لوگ دھمکیاں دیتے ہیں کہ دیکھو ہم انبیاء ہیں۔ ہماری سب باتیں خدا سن لیتا ہے ہمارے معاملے میں دخل نہ دو ورنہ چناں ہوگا اور چنیں ہوگا۔ جیسے مرزا قادیانی کی تقریروں میں ہوا ہے۔ اسی قسم کی دھمکیاں اگلے لوگ بھی دیا کرتے تھے۔ مگر حق تعالیٰ فرماتا ہے ان سے ہرگز مت ڈرو ”انما ذالکم الشیطان یخوف اولیائہ فلا تخافوھم وخافون ان کنتم مؤمنین (آل عمران:١٧٥)“ یعنی وہ شیطان ہے جو مسلمانوں کو ڈراتا ہے اپنے دوستوں سے سو تم ان سے ہرگز مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ اب مسلمانوں کو چاہئے کہ مرزا قادیانی کی دھمکیوں کا کچھ خوف نہ کریں۔
اور کبھی جھگڑے اور مناظرے کر کے مسلمانوں کو تنگ کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف سے ظاہر ہے ”الذین یجادلون فی آیات اللہ بغیر سلطان اتاھم کبر مقتاً عند اللہ وعند الذین آمنوا کذالک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار (مؤمن:٣٥)“ یعنی جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں بغیر ایسی سند کے جو ان کو پہنچی ہو ان کو
بڑی بے زاری ہے اللہ کے ہاں اور ایمانداروں کے ہاں اسی طرح مہر کرتا ہے۔ اللہ ہر متکبر اور سرکش کے دل پر بھی، معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی بلا دلیل کیسے کیسے جھگڑے پیدا کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اقسام کے وسوسے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ کس طرح آدمی متزلزل ہو جائے جیسا کہ اس آیہ شریفہ سے معلوم ہوتا ہے۔ ”الذی یوسوس فی صدور الناس من الجنۃ والناس (الناس:٥، ٦)“ مرزا قادیانی کے وسوسوں کا کس قدر اثر ہوا کہ جو لوگ قادیانی نہیں ہوئے وہ بھی عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں کلام کرنے لگے۔ جیسے مرزا حیرت کی تقریروں سے حضرت امام حسینؓ کی شہادت میں بعض ظاہر بین متزلزل ہو رہے ہیں۔
اگر ان سے کہا جائے کہ نبوت وغیرہ دعاوی کاذبہ کو چھوڑ دو اس لئے کہ اس سے فساد اور مسلمانوں میں تفرقہ پڑ جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس بات کے مامور ہیں کہ مسلمانوں کی اصلاح کریں۔ یہی حالت سابق کے لوگوں کی تھی جن کی خبر حق تعالیٰ دیتا ہے۔ ”واذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالوا انما نحن مصلحون الا انھم ھم المفسدون ولاکن لا یشعرون (بقرہ:١١، ١٢)“ یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ پھیلاؤ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرتے ہیں۔ سن رکھو وہی ہیں بگاڑنے والے پر نہیں سمجھتے۔ مرزا قادیانی سے کتنا ہی کہا جائے کہ حضرت آپ کی عیسویت نے مسلمانوں میں فساد عظیم برپا کر رکھا ہے کہ مناظروں سے نوبت جدال و قتال تک پہنچ گئی ہے وہ کام کیجئے کہ مسلمانوں کی جس سے ترقی ہو اور کل مسلمان اتفاق کر کے مخالفین کے حملوں سے اپنے دین کو بچائیں۔ مگر وہ سمجھتے ہی نہیں اور یہی فرماتے ہیں کہ میں اصلاح کے لئے آیا ہوں کیا مسلمانوں کی اصلاح یہی ہے کہ ان میں قتال و جدال رہے اور کفار بے فکری سے ان کی بیخ کنی کریں۔
اگر ان لوگوں کو خوف خدا اور آخرت پر ایمان ہوتا تو کبھی اس قسم کے دعاوی باطلہ نہ کرتے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”ومن الناس من یقول آمنا باللہ وبالیوم الآخر وماھم بمؤمنین یخادعون اللہ والذین آمنوا (بقرہ:٨، ٩)“ بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے۔ حالانکہ وہ ایمان نہیں لائے یہ لوگ (اپنے نزدیک) اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاچکے ہیں دھوکا دیتے ہیں۔
معلوم نہیں کہ ان کا خدا پر کیسا ایمان تھا کیا یہ نہ جانتے ہوں گے کہ خدائے تعالیٰ عالم الغیب ہے اور تمام خیالات فاسدہ پر مطلع ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ ”یعلم خائنۃ الاعین وما
تخفى الصدور (مؤمن:١٩)‘‘ یعنی خدا آنکھوں کی خیانت جانتا ہے اور ان بھیدوں کو بھی جانتا ہے جو سینوں میں پوشیدہ ہیں اور فرماتا ہے کہ ”ولا تحسبن الله غافلاً عما يعمل الظالمون (ابراهيم:٤٢)‘‘ یعنی اور ایسا نہ سمجھنا کہ خدا ان ظالموں کے اعمال سے غافل ہے اور ارشاد ہے ”ونملى لهم ان كيدى متين (القلم:٤٥)‘‘ یعنی ہم ان کو مہلت دیتے ہیں اور میرا کید مستحکم ہے۔ مرزا قادیانی جس وقت براہین احمدیہ لکھ رہے تھے تو مسلمانوں کے پیش نظر یہ ہو گیا تھا کہ وہ ہمہ تن دین کی تائید میں مشغول ہیں۔ مگر خدائے تعالیٰ ان کے ارادے کو خوب جانتا تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے اور اب بھی جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس سے بھی غافل نہیں۔ مگر مرزا قادیانی اس دھوکے میں پڑے ہیں کہ اگر یہ کام خلاف مرضی الٰہی ہوتا تو اس سے روک دیئے جاتے اور اس قدر مہلت نہ ملتی۔ یہی دھوکا ابن تومرت وغیرہ کا ہوا تھا۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی سے زیادہ ان کو مہلت ملی تھی اور اس مدت میں برابر مسلمانوں میں فتنہ و فساد کرتے رہے۔ مگر آخر کار طعمہ اجل ہو کر اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے۔
بات یہ ہے کہ جب شیطان کا غلبہ پورے طور سے ہو جاتا ہے تو آدمی خدا کو بھی بھول جاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے ”استحوذ عليهم الشيطان فانساهم ذكر الله (مجادله:١٩)‘‘ یعنی شیطان ان پر غالب آگیا ہے اور اس نے ان کو خدا کی یاد بھلادی۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ جب کامیابی ہو جاتی ہے اور لوگ بکثرت ان کے پیرو ہوتے جاتے ہیں تو گمراہی اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”واخوانهم يمدونهم فى الغى ثم لا يقصرون (اعراف:٢٠٢)‘‘ یعنی ان کے بھائی ان کو گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں اور کمی نہیں کرتے۔ اگر مرزا قادیانی کو ان کے ہم خیال لوگ تائید نہ دیتے تو یہاں تک نوبت ہی نہ آتی۔ مگر یادرہے کہ یہ تائید باعث زیادتی جرم ہے۔ جس سے سزا میں بھی سختی ہوگی ”انما نملى لهم ليزدادوا اثما ولهم عذاب مهين (آل عمران:١٧٨)‘‘ ہم ان لوگوں کو صرف اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ وہ اور زیادہ گناہ کریں اور آخر کار ان کو ذلت کا عذاب ہے۔
تشابہ قلبی یا حسن ظن وغیرہ سے جو لوگ ان لوگوں کے دباؤ میں آگئے ان پر یہ بات صادق آتی ہے جو حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”فاستخف قومه فاطاعوه انهم كانوا قوماً فاسقین (زخرف:٥٤)‘‘ یعنی پھر بے وقوف بنالیا اپنی قوم کو پھر اسی کا کہا مانا ان لوگوں نے بے شک وہ فاسق لوگ تھے۔
ان لوگوں کے روبرو ان کے مخالف مدعی کوئی آیت قرآنی پڑھی جائے تو اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ بلکہ اپنے الہامات اور وحی پر نازاں اور خوش رہتے ہیں۔ ان کی وہی حالت ہے جو حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ "فلما جاءتهم رسلهم بالبينات فرحوا بما عندهم من العلم (مؤمن: ٨٣)" یعنی جب رسول کھلی نشانیاں ان کے پاس لے آئے تو وہ اپنے علم ہی پر خوش رہے۔ کتنے ہی آیات و احادیث اس قوم پر پیش کئے جائیں وہ ایک نہیں مانتے اور اپنے ہی علم پر نازاں ہیں کہ مرزا قادیانی کا الہام ہی ٹھیک ہے۔
فائدہ: آیات قرآنیہ کا نزول اگرچہ خاص خاص مواقع میں ہوا ہے مگر علماء جانتے ہیں کہ العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص المعنی یعنی جو مواقع خاصہ نزول کے داعی ہوا کرتے تھے یا جن کے باب میں آیتیں نازل ہوئیں قرآن انہیں کے لئے خاص نہیں بلکہ جہاں جہاں منطبق ہو سکتا ہے وہ سب اس میں داخل ہیں۔ اس لحاظ سے مدعیان نبوت وغیرہ بھی ان آیات کے عموم سے خارج نہیں ہو سکتے۔
اب یہ بات معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسے فتنوں کے وقت مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔ پہلے یہ بات معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ حق تعالیٰ نے ایک مخفی راز پر مسلمانوں کو مطلع کر دیا کہ جو لوگ فتنہ انگیزیاں کرتے ہیں ان کو خدائے تعالیٰ نے اسی واسطے پیدا کیا کہ اس قسم کے کام کیا کریں اور انجام کار رسواء ہوں۔ چنانچہ فرماتا ہے "وكذالك جعلنا في كل قرية اكابر مجرميها ليمكروا فيها وما يمكرون الا بانفسهم وما يشعرون (انعام: ١٢٣)" یعنی اور ایسا ہی ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے فساق پیدا کئے تا کہ ان میں فتنہ انگیزیاں اور مکر کریں اور جتنی مکاریاں وہ کرتے ہیں اپنے حق میں کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے۔ اگر یہ آیت شریفہ نازل نہ ہوتی تو اس قسم کے لوگوں کو ترقی سے یہ خدشہ ضرور ہوتا کہ شاید یہ بھی مقبول بارگاہ ہوں۔ جن کو اس قسم کی تائید ہو رہی ہے۔ اس قسم کے لوگوں کی ترقیوں سے مسلمانوں کو یہ خیال چاہئے کہ ہماری ابتلاء اور آزمائش کے لئے حق تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے اور یہ تائید ان کی حقانیت پر دلیل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے "کلا نمد ھؤلاء و ھؤلاء من عطاء ربك وما كان عطاء ربك محظورا (بني اسرائيل: ٢٠)" یعنی طالب دنیا اور طالب آخرت ہر ایک کو ہم مدد دیتے ہیں۔ پروردگار کی بخشش بند نہیں۔ آنحضرت ﷺ کی ابتدائی ولادت با برکت سے آثار نبوت اور ارہاصات شروع تھے۔ اہل عرب عمر بھر حضرت کی صداقت وصدق دیکھا کئے۔ یہود اور نصاریٰ اور کاہنوں کے اخبار سے حضرت کی نبوت کا حال سنا کئے اور
وقتاً فوقتاً معجزات کا مشاہدہ کیا کئے۔ باوجود اس کے حضرت کی وفات کے وقت کل ایک لاکھ اشخاص مسلمان ہوئے اور مسیلمہ کذاب پر دو چار سال ہی میں لاکھ آدمی تک ایمان لائے۔ پھر کیا اس فوری ترقی سے مسیلمہ کی نبوت یا حقانیت ثابت ہو سکتی ہے۔ بات یہ ہے کہ باطل کا شیوع بہت جلد ہوتا ہے۔ خصوصاً اس آخری زمانے میں جو گویا فتنوں ہی کے واسطے موضوع ہے۔
حق تعالیٰ فرماتا ہے ”من كان يريد حرث الدنيا نؤته منها وماله فى الآخرة من نصيب (شوری:٢٠)“ یعنی جو کوئی دنیا کی کھیتی کا طالب ہو تو ہم بقدر مناسبت اس کو دنیا دیں گے۔ مگر پھر آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ لوگ الدنیا زور لا يحصل الا بالزور کو اپنا مقتداء بنا کر اقسام کے حیلے اور مکاریاں عمل میں لائے۔ جن سے دنیا کا پورا پورا حصہ حاصل کر لیا۔ مگر افسوس ہے ان پر جنہوں نے دوسروں کی دنیا کے واسطے اپنا دین برباد کیا۔ کیونکہ ہر ایک کے ہم خیال ہونے کے لئے کوئی کئی آیتوں اور احادیث کا ان کو انکار کرنا ضرور پڑا حالانکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”انما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله ثم لم يرتابوا (حجرات:١٥)“ یعنی اہل ایمان وہی لوگ ہیں جو خدا رسول پر ایمان لاتے ہیں پھر شک نہیں کرتے۔
مسلمانوں کے دلوں میں منجانب اللہ ایک قسم کی ایسی تسکین ہوتی ہے کہ مخالفین کی باتیں ان کو مشوش نہیں کرتیں۔ ”هو الذي انزل السكينة فى قلوب المؤمنين ليزدادوا ايمانا مع ايمانهم (فتح:٤)“ یعنی خدائے تعالیٰ نے مسلمانوں کے دل میں اطمینان اور تسکین اتاری تاکہ پہلے ایمان کے ساتھ اور ایمان زیادہ ہو۔
اہل ایمان اس بات کے مامور ہیں کہ اگر جعلی انبیاء وغیرہم مسلمانوں کو بہکا دیں تو بمقتضائے الدین النصیحہ ان کی خرابیوں پر متنبہ کر دیں اور جو نہ مانیں تو ان پر غم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ رحمۃ للعالمین ﷺ کفار کے ایمان نہ لانے پر باقتضائے رحمت طبعی بہت غم کھاتے تھے۔ جس پر حق تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ”لعلك باخع نفسك ان لا يكونوا مؤمنين (شعراء:٣)“ یعنی شاید کہ تم اے پیغمبر ﷺ اپنے کو ہلاک کر لوگے۔ اس پر کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ اور نیز ارشاد ہے کہ ”ولا يحزنك الذين يسارعون فى الكفر من الذين قالوا آمنا بافواههم ولم تومن قلوبهم (آل عمران:١٧٦) “ یعنی اے رسول خدا غم نہ کھاؤ ان پر جو کفر میں سعی کرتے ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں اپنے منہ سے کہ ہم مسلمان ہیں اور ان کے دل مسلمان نہیں۔
اور مسلمانوں کو ارشاد ہے ”یا ایھا الذین آمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم (مائدہ: ١٠٥)“ یعنی مسلمانو تم اپنی خبر رکھو جب تم راہ راست پر ہو تو کوئی بھی گمراہ ہوا کرے اس کا گمراہ ہونا تم کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
اور حدیث شریف میں ہے ”عن علیؓ قال قال رسول اللہ ﷺ لا تکرھوا الفتنة فی آخر الزمان فانھا تبیر المنافقین (ابونعیم، کذافی کنز العمال ج١١ ص ١٨٩ حدیث نمبر ٣١١٧٠)“ یعنی فرمایا نبی اکرم ﷺ نے کہ آخری زمانے میں فتنے کو برا نہ سمجھو اس لئے کہ وہ منافقوں کو ہلاک کرے گا۔ مطلب یہ کہ جن لوگوں کے دل میں پہلے ہی سے پورا ایمان نہیں کہ وہ فتنہ پردازوں کی تصدیق فوراً کر لیں گے اور ہلاک ہوں گے اور سچے مسلمان اپنے کمال ایمانی کی وجہ سے ان کے فتنوں سے محفوظ رہیں گے۔ چونکہ ایسے ایمان والوں کا مسلمانوں میں رہنا کچھ مفید نہیں بلکہ ان کا علیحدہ ہو جانا ہی بہتر ہے۔ اس لئے تخصیص کر کے آخری زمانے والے مسلمانوں کو ارشاد ہوا کہ اس زمانے میں فتنے کو مکروہ نہ سمجھو کیونکہ اس میں ایک بڑی مصلحت یہ ہے کہ خالص مسلمان ممتاز ہو جائیں گے۔
مرزا قادیانی براہین احمدیہ میں مسلمانوں کی بہت شکایت فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ایک لخت ان سے عجز و فروتنی اور حسن ظن اور محبت برادرانہ اٹھا لیا اور اسی کے (ص١٠٦، ١٠٧ حاشیہ نمبر ٧، خزائن ج١ ص٩٦، ٩٨) میں لکھتے ہیں: ”نیک ظنی انسان میں ایک فطرتی قوت ہے مثلاً یہ نیک ظنی ہی کی برکت ہے کہ چھوٹے بچے بہ آسانی بولنا اور باتیں کرنا سیکھ لیتے ہیں اور ماں باپ کو ماں باپ کر کے جانتے ہیں۔ اگر بدظنی کرتے تو کچھ بھی نہ سیکھتے اور دل میں کہتے کہ شاید ان سکھانے والوں کی کچھ اپنی غرض ہوگی اور آخر میں اس بدظنی سے گونگے رہ جاتے اور والدین کے والدین ہونے میں بھی شک کرتے۔ فی الحقیقت حسن ظن اصلاح تمدن کے لئے ایک بڑی دولت تھی۔ مگر افسوس ہے کہ اس کو زمانے کی رفتار اور مکاروں کی خود غرضیوں نے خاک میں ملا دیا۔ ہر زمانے کے بدمعاشوں کی کارروائیاں اور حسن ظن کرنے والوں کی تباہیوں نے مسلمانوں کو عبرت کا سبق پڑھایا۔ جس سے وہ الحزم سوء الظن پر عمل کرنے لگے“ اور اس کی تو خود مرزا قادیانی بھی اجازت دیتے ہیں۔ چنانچہ اسی کے (ص١٠٦، حاشیہ نمبر ٧، خزائن ج١ ص٩٦) میں لکھا ہے۔ ”نیک ظنی انسان میں فطرتی قوت ہے اور جب تک کوئی وجہ بدگمانی کی پیدا نہ ہو اس قوت کو استعمال میں لانا انسان کا طبعی خاصہ ہے۔“ اس سے ظاہر ہے کہ جب کوئی وجہ بدگمانی کی پیدا ہو جائے تو پھر نیک ظنی استعمال میں نہ لانا چاہئے۔ اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو بدگمانی کے کیسے کیسے موقع دیئے ہیں۔
جس طرح اور لوگوں نے نبوت، مہدویت، قائمیت، شاہدیت، کشفیت اور ولایت وغیرہ کے جھوٹے دعوے کر کے دنیوی وجاہت حاصل کی اور اپنے اغراض پورے کئے۔ مرزا قادیانی بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے تو ایک ہی ایک دعویٰ کیا تھا۔ مرزا قادیانی ایک دعویٰ پر قانع نہیں بلکہ فرماتے ہیں کہ میں مجدد ہوں، محدث ہوں، امام زمان ہوں، مہدی موعود ہوں، عیسیٰ موعود ہوں، خلیفۃ اللہ ہوں، حارث حراث ہوں، نبی ہوں، رسول اللہ ہوں، خدا کی اولاد کے برابر ہوں، تمام انبیاء کا مثیل وہمسر ہوں، بلکہ افضل ہوں۔ کن فیکون کا اقتدار رکھتا ہوں، مجھ پر سچی وحی آتی ہے۔ خدا اپنے چہرے سے پردہ اٹھا کر میرے ساتھ باتیں کرتا ہے۔ میرے معجزات انبیاء کے معجزات سے بڑھ کر ہیں۔ میری رسالت اور نبوت کا منکر اور میرے قول وفعل پر اعتراض کرنے والا کافر ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان دعوؤں سے اس قدر دنیوی وجاہت حاصل کی کہ اقسام کے چندے کر کے لاکھوں روپے حاصل کئے اور کر رہے ہیں۔
اب اور سنئے تفسیر وحدیث کی توہین کر کے ان کو ساقط الاعتبار کر دیا۔ قرآن میں اقسام کی تحریفات وتصرفات والحاد کئے۔ انبیاء کے الہامات کو جھوٹے کہے اور انبیائے اولوالعزم جیسے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو ساحر بتایا۔ سید المرسلین ﷺ کے فضائل خاصہ میں جو آیتیں نازل ہوئیں ان کو الہام کے ذریعہ سے اپنے پر چسپاں کر لیا۔ جیسے ”انا اعطیناک الکوثر“
(براہین احمدیہ ص٥١٧ حاشیہ، خزائن ج١ ص٦١٧)
”انا فتحنالک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تأخر“
(براہین احمدیہ ص٥١٥ حاشیہ، خزائن ج١ ص٦١٤، ٦١٥)
”وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین“
(براہین احمدیہ ص٥٠٦، خزائن ج١ ص٦٠٣)
”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً“
(براہین احمدیہ ص٥٠٥ حاشیہ، خزائن ج١ ص٦٠٠)
”دنیٰ فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ“
(براہین احمدیہ ص٤٩٣ حاشیہ، خزائن ج١ ص٥٨٦)
”یریدون ان یطفؤوا نور اللہ“
(براہین احمدیہ ص٥٥٩ حاشیہ، خزائن ج١ ص٦٦٧)
”الم نشرح لک صدرک“
(براہین احمدیہ ص٥٥٩ حاشیہ، خزائن ج١ ص٦٦٦)
”لا تخف انک انت الاعلیٰ“
(براہین احمدیہ ص٥٥١ حاشیہ، خزائن ج١ ص٦٥٨)
”کنتم خیر امة اخرجت للناس“
(براہین احمدیہ ص ٥٤٧ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦٥٤)
”انی فضلتک علی العالمین“
(براہین احمدیہ ص ٥١٩ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦٢٠)
”اذا جاء نصر اللہ“
(براہین احمدیہ ص ٥١٩ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦١٩)
”رفعنالک ذکرک انک علی صراط مستقیم وجیھا فی الدنیا والاخرة ومن المقربین“
(براہین احمدیہ ص ٥١٨ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦١٨)
”الیس اللہ بکاف عبدہ محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم“
(براہین احمدیہ ص ٥١٦ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦١٦)
”وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم“
(براہین احمدیہ ص ٥١٣ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦١٣)
”فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون“
(براہین احمدیہ ص ٤٨٣ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٥٧٥)
”جئنابک علی ھؤلا شہیدا“
(براہین احمدیہ ص ٥١١ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦١٠)
”فاتخذوا من مقام ابراھیم مصلی“
(براہین احمدیہ ص ٥٦٢ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦٧٠)
”قل یاایھا الکافرون لااعبد ماتعبدون“
(براہین احمدیہ ص ٥٠٩ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦٠٧)
”قل اعوذ برب الفلق“
(براہین احمدیہ ص ٥٠٧ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦٠٤)
”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ واللہ متم نورہ“
(براہین احمدیہ ص ٥٠٢ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٥٩٧)
”تمت کلمۃ ربک“
(تذکرہ ص ٦٧)
جو براہین احمدیہ میں مذکور ہیں اور جو آیات واحادیث ان کے مقصود کے مضر ہیں ان پر سخت حملے کئے۔
اہل اسلام اپنے اپنے ایمان کے مدارج کے موافق خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کیا اب بھی مرزا قادیانی کے ساتھ حسن ظن کیا جائے۔
تمت الحصة الاولى
خاتم النبیین لا نبی بعدی
مسجد آمنہ اہلسنت والجماعت (دیوبندی) نزد قبرستان نیو کراچی
افادۃ الافہام
حصہ دوم
حضرت مولانا انوار اللہ خانؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تقریر سابق سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اس لحاظ سے کہ خود معجزے نہیں دکھلا سکتے۔ عقلی معجزے اختراع کئے۔ جس کی وجہ سے ان کو حقیقی معجزات کی توہین کی ضرورت ہوئی اور ان معجزات کو ایک قسم کا سحر اور انبیاء کو ساحر قرار دیا اور خدائے تعالیٰ نے جو اپنے کلام قدیم میں ان کی تعریفیں کیں اور فضائل بیان کئے اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔ اسی طرح احادیث بھی چونکہ ان کے دعوؤں کو ثابت نہیں ہونے دیتے تھے۔ اس لئے مثل اور فرق باطلہ کے انہوں نے احادیث کو بھی ساقط الاعتبار بنانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٥٣٠، خزائن ج ٣ ص ٤٨٥) میں ایک طولانی تقریر کے بعد لکھتے ہیں۔ ”کیوں جائز نہیں ہے کہ انہوں (راویوں) نے عمداً یا سہواً بعض احادیث کی تبلیغ میں خطاء کی ہو ۔“ ہم یہاں تھوڑا سا حال احادیث کے اہتمام کا بیان کرتے ہیں جس سے خود معلوم ہو جائے گا کہ علماء رحمہم اللہ نے کس قدر جان فشانیاں کر کے سرمایہ حدیث ہمارے لئے فراہم اور محفوظ کر رکھا ہے اور وہ کس قدر قابل اعتبار ہے۔
امام نوویؒ نے (تقریب متن تدریب ج ٢ ص ٢٢٠) میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ تبلیغ احکام سے فارغ ہو کر عالم جاودانی کو جب تشریف لے گئے۔ اس وقت ایک لاکھ چودہ ہزار (١١٤٠٠٠) صحابہ موجود تھے۔ اہل اسلام پر صحابہ کی حالت پوشیدہ نہیں کہ اشاعت دین میں کیسے ساعی تھے۔ اس سے بڑھ کر کیا ہو کہ اس راہ میں جان دینا ان کے نزدیک پوری کامیابی اور سعادت ابدی تھی۔ جو ان کے کارناموں سے اظہر من الشمس ہے۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات جمی ہوئی تھی کہ ہمارا دین وہی ہے جو آنحضرت ﷺ نے ارشادات فرمائے ہیں اور اس حیثیت سے کہ یہ دین ناسخ ادیان ہے۔ سوائے قرآن واحادیث کے ان کو نہ کسی کتاب سے تعلق تھا نہ کسی علم سے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مقتضائے طبیعت انسانی ہے کہ جس قوم میں کوئی بزرگ جلیل القدر ہو اس کی ادنیٰ ادنیٰ بات اس قوم میں شہرت پاتی ہے۔ اسی وجہ سے سلاطین و امرائے نامدار کی ہر بات تمام ملک میں مشہور ہو جاتی ہے۔
جب عموماً یہ حال ہو تو سردار کونین ﷺ کے اقوال وافعال وحرکات وسکنات کو ان
عشاق جان باز نے اسلامی دنیا میں کیا کچھ شہرت نہ دی ہوگی۔ پھر جب حاضرین کو بار بار حکم ”وليبلغ الشاهد الغائب (بخاری ج ١ ص ٢١، باب ليبلغ العلم الشاهد الغائب)“ ہوا کرتا تھا۔ یعنی جو کچھ دیکھو اور سنو غائبوں کو پہنچا دیا کرو۔ اس حکم صریح نے تو ان حضرات پر اشاعت کو فرض ہی کر دیا۔ پھر اس زمانے میں سوائے قرآن وحدیث کے کوئی علم ہی نہ تھا اور علم کے فضائل میں جو احادیث بکثرت وارد ہیں۔ پوشیدہ نہیں جن سے ثابت ہے کہ وہ تمام عبادات بلکہ جہاد سے بھی افضل ہے، تو قیاس کیا جائے کہ وہ حضرات جو تحصیل کمالات اخروی پر جان دیتے تھے۔ تعلیم وتعلم قرآن وحدیث پر کس قدر حریص اور اس میں ساعی ہوں گے؟۔ الغرض متعدد قرائن قویہ سے ثابت ہے کہ اس زمانے میں احادیث نبویہ مثل قرآن متداول تھیں اور تقریباً پوری قوم ان کی حفاظت میں مصروف اور سرگرم تھی اور جہاں جہاں اسلام اپنی روز افزوں ترقیوں سے قدم بڑھاتا اور پہنچتا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ علم بھی پہلو بہ پہلو ترقی کرتا رہا اور نزدیک اور دور والے اس سحاب جاں بخش سے یکساں سیراب تھے۔ تقریباً ایک صدی تک ان اکابر دین کے سینے اس گنجینہ بے بہا کے صندوق بنے رہے۔ جب تابعین کا زمانہ صحابہ کے انوار و فیوض سے خالی ہو گیا تو یہ رائے قرار پائی کہ ان علوم نبویہ کی حفاظت کا طریقہ اب یہی ہے کہ قید کتابت میں لائے جائیں۔ چنانچہ اس وقت سے کتابیں تصنیف ہونے لگیں یہ زمانہ وہ تھا کہ غیر اقوام کے لوگ اسلام میں بہت کچھ داخل ہو چکے تھے اور مذاہب باطلہ کی بنیادیں پڑ چکی تھیں اور جس طرح خود غرض بے دینوں کی عادت ہے بہت سے شریر النفس اس تاک میں لگے ہوئے تھے کہ اگر کوئی داؤ چل جائے تو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد علیحدہ کر کے مقتداء بن بیٹھیں۔ چنانچہ بہت سے حمقا ان کے دام میں پھنس بھی گئے جس کا حال تواریخ سے ظاہر ہے اس لئے علماء نے یہ التزام واہتمام کیا کہ جب تک پورے طور سے راویوں کی دیانت وتقویٰ ثابت نہ ہو ان سے روایت نہ لی جائے اور اگر لاعلمی سے کوئی روایت بھی لی جائے تو جب کوئی بے دین ثابت ہو جائے اس کی کل روایتیں ساقط الاعتبار کر دی جائیں اور تحقیق کی یہ کیفیت کہ جب کوئی دو شخص ہم مشرب ملتے تو جرح وتعدیل ہی میں بحث رہتی اور اپنے اپنے تجربوں سے جو کچھ ثابت ہوتا ایک دوسرے کو خبر دے دیتے جس سے ایک بڑا فن رجال کا مدون ہوا۔ جس میں ہر راوی کی جرح وتعدیل سے متعلق چشم دید واقعات مذکور ہیں۔ غرض کہ اس تحقیق و تنقیح سے گو بعض صحیح روایتیں جو اس قسم کے لوگوں سے مروی تھیں متروک ہوگئیں۔ لیکن بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بنائی ہوئی روایتوں کی قلعی کھل گئی اور ساقط الاعتبار کر دی گئیں اور یہی
طریقہ علماء میں جاری رہا۔ اگر چہ ایسے لوگوں کی روایتیں متروک کر دی جاتی تھیں۔ مگر بعض روایات جو راوی کے غیر متدین ہونے پر دلیل تھیں۔ وہ زبان زد تھیں۔ مثلاً (تدریب الراوی ج١ ص٢٨٤) میں امام سیوطیؒ نے لکھا ہے کہ محمد ابن سعید شامی نے یہ روایت کی ”عن حميد عن انسؓ قال قال رسول الله ﷺ انا خاتم النبيين لا نبي بعدي الا ان يشاء الله“ چونکہ اس شخص کو نبوت کا دعویٰ کرنا منظور تھا۔ اس لئے اس نے اس حدیث میں الا ان یشاء اللہ بڑھا دیا اور اس کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر اس زمانے میں ایسی زیادتیاں اور داؤ پیچ کب چل سکتے تھے۔ آخر وہ سولی پر چڑھایا گیا اور اس کی روایتیں موضوعات میں شامل کی گئیں۔ اسی طرح وہ روایات جو قبل تحقیق کتابوں میں درج ہو چکی تھیں وہ باقی رہ گئی تھیں۔ ایسی احادیث کے لئے محدثینؒ نے خاص خاص کتابیں تصنیف کیں اور سب موضوعات کو ان میں داخل کر دیا۔ چنانچہ یہ بھی ایک فن جداگانہ مدون ہو گیا۔ فن اصول حدیث کے دیکھنے سے یہ بات مبرہن اور منکشف ہو جاتی ہے کہ اکابر محدثینؒ نے کیسی کیسی جان فشانیاں اور موشگافیاں کر کے آخری زمانے والوں کے لئے ان کے دین کا سرمایہ محفوظ رکھا ہے۔ ان کی محنت کا اندازہ اس روایت سے ہو سکتا ہے۔ جو (شرح اشباہ والنظائر ص ٣٩٧) میں منقول ہے۔ ”ذكر البزازي في المناقب عن الامام البخاري الرجل لا يصير محدثا كاملا الا ان يكتب اربعاً مع اربع كأربع مع اربع فى اربع عند اربع باربع على اربع عن اربع لاربع وهذه الرباعيات لا تتم الا باربع مع اربع فاذا تمت له كلها هانت عليه اربع وابتلى باربع فاذا صبر اكرمه الله تعالى فى الدنيا باربع واثابه فى الآخرة باربع اما الاولى فاخبار الرسول ﷺ وشرائعه واخبار الصحابة ومقاديرهم والتابعين واحوالهم وسائر العلماء وتواريخهم مع اربع اسماء رجالهم وكناهم وامكنتهم وازمنتهم كاربع التحميد مع الخطب والدعا مع التوسل والتسمية مع السورة والتكبير مع الصلوة مع اربع المسندات والمرسلات والموقوفات والمقطوعات فى اربع فى صغره فى ادراكه فى شبابه فى كهولته عند اربع عند شغله عند فراغه عند فقره عند غناه باربع بالجبال بالبحار بالبرارى بالبلدان على اربع على الحجارة على الاخزاف على الجلود على الاكتاف الى الوقت الذى يمكن نقلها الى الاوراق عن اربع عمن هو فوقه ودونه ومثله
وعن كتابة ابيه اذا علم انه خطه لاربع لوجه الله ورضاه وللعمل به ان وافق كتاب الله تعالى والنشرها بين طالبيها ولاحياء ذكره بعد موته ثم لا تتم له هذه الاشياء الا باربع من كسب العبد وهو معرفة الكتابة واللغة والصرف والنحو مع اربع من عطاء الله تعالى الصحة والقدر والحرص والحفظ فاذا تمت له هذه الاشياء هانت عليه اربع الاهل والولد المال والوطن وابتلى باربع بشماتة الاعداء ملامة الاصدقاء وطعن الجهال وحسد العلماء فاذا صبر اكرم الله تعالى فى الدنيا باربع بعز القناعة وهيبة النفس ولذة العلم وحيوة الابد واثابه فى الآخرة باربع بالشفاعة لمن اراد من اخوانه وبظل العرش حيث لا ظل الا ظله والشرب من الكوثر وجوار النبيين فى اعلى عليين فان لم يطق احتمال هذه المشاق فعليه بالفقه الذى يمكنه تعلمه“
حاصل اس کا یہ ہے کہ آدمی کامل محدث نہیں ہوسکتا۔ جب تک امور ذیل پر پورے طور سے واقف اور ماہر نہ ہو۔ آنحضرت ﷺ کے اخبار اور جو احکام حضرت نے مقرر فرمائے ہیں اور نیز صحابہ کے اخبار و حالات اور تابعین اور جمیع علماء کے احوال اور تواریخ اور ہر ایک کا نام اور کنیت اور وطن اور زمانہ اور احادیث کے اقسام کہ کون سی حدیث مسند ہے اور کون سی مرسل اور مقطوع اور موقوف وغیرہ ہے۔ اس کے سوا رسم الخط اور صرف و نحو اور لغت کا بھی ماہر ہو اور عمر بھر خالصا لوجہ اللہ اسی کام میں لگا رہے۔
فن رجال کے واقفین پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ جتنے اکابر محدثین تھے وہ سب ان صفات کے ساتھ متصف تھے اور یہ سب باتیں ان کو ازبر تھیں۔ اگرچہ بظاہر یہ امر کسی قدر مستبعد معلوم ہوتا ہے۔ مگر غور کرنے سے یہ استبعاد رفع ہو سکتا ہے۔ آخر قوت حافظہ کے مدارج ہیں۔ بعض حافظے ایسے بھی ہو سکتے ہیں کہ جو چیز انہوں نے دیکھی یا سنی وہ نقش الحجر ہو گئی۔ جیسے عکسی تصاویر میں ہوتا ہے اور اس کے نظائر من وجہ اس زمانے میں بھی موجود ہیں۔ مثلاً بعض وکلاء کو کل قانونی کتابیں ایسی ازبر ہوتی ہیں کہ جو مضمون پوچھئے اس کی دفعہ وغیرہ بتلا کر صدہا نظائر اور فیصلوں کے پورے پورے مضامین پیش کر دیتے ہیں۔ اصل سبب اس کا یہ ہے کہ حق تعالیٰ کو اس دین کی حفاظت منظور ہے۔ جو قولہ تعالیٰ وانا له لحافظون سے ظاہر ہے۔ اس لئے ایسے افراد منتخب روزگار پیدا کر کے ان سے یہ کام لیا۔ ان حضرات نے وہ وہ موشگافیاں کیں کہ فن
٥
حدیث ایک سو فنون پر مشتمل ہو گیا۔ جس کی تصریح امام سیوطیؒ نے تدریب الراوی میں کی ہے اور ان حضرات نے بفضلہ تعالیٰ ان میں اعلیٰ درجے کی ترقی کر کے ان سب کو کمال پر پہنچا دیا۔ اب اہلِ انصاف غور فرمائیں کہ کیا ان حضرات کے روبرو کسی کے داؤ پیچ اسلام میں چل سکتے تھے کیا ممکن ہے کہ کسی کی بنائی ہوئی حدیث ان کی غامض نظروں سے چھپ کر صحت کے پیرائے میں آسکتی تھی۔ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو ہمارے یہاں کی ضعیف حدیث دوسری ملتوں کی قوی اور صحیح روایتوں سے بدرجہا قوی ہوگی۔
آخر ما جیب تمنا تہی
مرزا قادیانی جو کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ راویوں نے عمداً یا سہواً خطاء کی ہوگی سو یہ ظاہراً درست ہے۔ کیونکہ امکان کا دائرہ ایسا وسیع ہے کہ جس چیز کا نہ کبھی وجود ہوا ہو نہ ہوگا۔ وہ بھی اس میں داخل ہے۔ مگر یہ بھی تو ممکن ہے کہ ان حضرات نے نہ عمداً خطاء کی ہو نہ سہواً۔ پھر اس کی کیا وجہ کہ خطاء کا امکان پیش کر کے وہ اکابر دین نشانہ ملامت بنائے جائیں۔ قرائنِ مذکورہ بالا پر نظر ڈالنے کے بعد یہ امر پوشیدہ نہیں رہ سکتا کہ ہزارہا اکابر دین اور متدین علماء نے جب فن حدیث کا اس قدر اہتمام کیا ہے تو صرف ایک خفیف سا احتمال اس قابل نہیں کہ اس کے مقابل پیش ہو سکے۔ یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ اکابر محدثین جنہوں نے نہ سلاطین و امراء کی صحبت اختیار کی۔ جس سے احتمال ہو کہ ان کی خاطر سے کوئی حدیث بنائی ہو نہ اشاعت علوم پر ماہوار یا کسی قسم کا چندہ مقرر کیا۔ جس سے خیال ہو کہ کثرت احادیث کی ضرورت سے کچھ حدیثیں بنائی ہوں۔ ان حضرات نے تو اشاعت علوم میں جان دینے میں بھی دریغ نہیں کیا۔ چنانچہ امام نسائیؒ کا حال مشہور و معروف ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فضائل کی حدیثیں شائع کرنے کی غرض سے شام تشریف لے گئے۔ جہاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی سخت عصبیت ہوا کرتی تھی اور جان کی کچھ پروا نہ کی۔ چنانچہ اسی جرم میں شہید کئے گئے۔ ایسے حضرات کی روایات میں تو اقسام کے احتمالات پیدا کئے جائیں اور مرزا قادیانی عیسویت اور وحی کی وجہ سے لاکھوں روپے حاصل کریں اور ان کی خبروں میں احتمال بھی قائم نہ کیا جائے عجیب بات ہے۔ اگر عقل سے تھوڑا بھی کام لیا جائے تو معاملہ بالعکس ثابت ہو جائے گا۔ فن اصول حدیث وفقہ میں یہ بحث نہایت مبسوط ہے کہ احادیث صحیحہ قابل تصدیق اور واجب العمل ہیں۔ انہیں احادیث پر اکثر مسائل فقہ کا دارو مدار ہے۔ اگر وہ بے اعتبار قرار دیئے جائیں تو تمام مذاہب
٦
درہم وبرہم ہو جائیں اور بے دینوں کو آیات قرآنیہ میں تصرف کا موقع ہاتھ آجائے گا۔ چنانچہ ملاحدہ نے یہی کام کیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جو چیز تواتر سے ثابت ہو اس کا علم یقینی اور ضروری ہوتا ہے اور احادیث غیر متواترہ کا علم ظنی ہے۔ مگر شریعت نے اس ظن غالب کو اعتبار کر لیا ہے۔ دیکھ لیجئے دو گواہوں کی خبر سے جملہ حقوق ثابت ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہی دو گواہوں کی گواہی سے مسلمان کا قتل قصاص میں مباح ہو جاتا ہے۔ اب دیکھئے کہ دو شخصوں کی خبر کسی طرح متواتر نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس سے صرف ظن غالب ہو جاتا ہے۔ باوجود اس کے شریعت نے اس کا اعتبار کر لیا ہے۔ اسی طرح ثبوت نسب صرف باپ کے اقرار پر ہو جاتا ہے۔ اگر اس کے لئے تواتر شرط ہو تو ممکن نہیں کہ کوئی شخص اپنے آباؤ اجداد کی میراث اور جائیداد کا مالک بنے۔ پھر باپ جو لڑکے کے نسب کا اقرار کرتا ہے اس کا مدار صرف ظن غالب پر ہے جو اپنی زوجہ کے بیان اور قرائن خارجیہ مثل عفت وغیرہ کے لحاظ سے اس کو حاصل ہوتا ہے۔ اگر اس ظن غالب کا اعتبار نہ کر کے کسی غیور شخص کے نسب میں ناشائستہ احتمال پیش کئے جائیں تو کیا ان احتمالوں کو وہ قابل تسلیم سمجھے گا یا کسی اور طریقے سے پیش آئے گا۔ جو دشنام کے جواب میں اختیار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جہاں قبلہ مشتبہ ہو جائے تو ظن غالب پر عمل لازم ہو جاتا ہے۔ گو وہ خلاف واقع ہو اور اسی طرف نماز صحیح بھی ہو جاتی ہے۔ اگر چہ سمت قبلہ کے خلاف پڑھی ہو۔ غرض کہ جو چیز ظن غالب سے ثابت ہوتی ہے۔ شرعاً عرفاً عقلاً قابل تصدیق سمجھی جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی جو احتمال ضعیف پیش کر کے احادیث کو بے اعتبار بنانا چاہتے ہیں اہل اسلام اس کو ہرگز جائز نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ یہ بات گویا فطرتی ہے کہ ہر قوم اپنے مقتداء اور پیشوا کی باتیں جو ان کے اسلاف نے ان تک پہنچائی ہیں ان کو قابل قبول اور ان کے مخالفین کتنے ہی احتمال پیدا کریں ان کو لغو سمجھتی ہے۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی کی کوئی بات نہ نصاریٰ میں فروغ پائی نہ آریہ وغیرہ میں۔ باوجود یہ کہ براہین احمدیہ میں انہوں نے اقسام کے احتمال ان کے مذاہب میں پیدا کر دیئے۔ پھر مسلمانوں پر یہ آفت کیوں آگئی کہ جس نے جیسا کہہ دیا اسی کی چل گئی اور ایسے شخص کے مقابلے میں کل اسلاف جن میں فقہا محدثین اور اولیاء اللہ شریک ہیں۔ سب جھوٹے سمجھے جائیں۔ مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٦٥٤، خزائن ج ٣ ص ٤٥٢) میں لکھتے ہیں کہ ”اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں۔ ”والظن لا یغنی من الحق شیئاً“ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت کفار کی شان میں ہے۔ ان کی عادت تھی کہ جب قیامت وغیرہ امور حقہ کا ذکر سنتے تو اس کے خلاف میں اٹکل کی
٧
باتیں بناتے تھے۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”واذا قیل ان وعد اللہ حق والساعة لا ریب فیھا قلتم ما ندری ما الساعة ان نظن الا ظنا وما نحن بمستیقنین (جاثیہ:٣٢)“ یعنی جب قیامت کا ذکر سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمیں اس کا ظن ہے۔ یقین نہیں ہے اور ارشاد ہے ”ان یتبعون الا ظن وان ہم الا یخرصون (انعام:١١٦)“ یعنی صرف وہ گمان پر چلتے ہیں اور وہ صرف اٹکل کی باتیں بناتے ہیں۔ اسی طرح اس آیت شریفہ میں بھی ارشاد ہے۔ ”وما یتبع اکثرہم الا ظنا ان الظن لا یغنی من الحق شیئاً (یونس:٣٦)“ یعنی اکثر کفار صرف گمان پر چلتے ہیں اور گمان حق کے مقابلے میں کام نہیں آتا۔ الحاصل جس گمان کی توہین ہو رہی ہے وہ وہی گمان ہے۔ جو آیات و احادیث کے خلاف میں عقل دوڑانے سے پیدا ہوتا ہے۔ جس کے مرتکب مرزا قادیانی ہو رہے ہیں۔ دیکھ لیجئے جہاں کوئی حدیث وہ اپنے مقصود کے مخالف پاتے ہیں اٹکل کی باتیں بنانے لگتے ہیں کہ ممکن ہے کہ راوی عمداً یا خطاء جھوٹ کہہ دیا ہوگا اور ممکن ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں وغیرہ اب اہل انصاف غور کریں کہ آیہ شریفہ ہمارے لئے مفید ہے یا ان کے لئے۔ اگر راویوں میں احتمالات پیدا کر کے احادیث بے اعتبار قرار دیئے جائیں تو دین کی کوئی بات ثابت نہ ہو سکے گی۔ دیکھ لیجئے نماز سے زیادہ کوئی حکم ضروری نہیں ہے۔ پھر نہ پانچ وقت کی نماز قرآن سے صراحتاً ثابت ہوتی ہے نہ اس کے ادا کرنے کا طریقہ۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ بعض لوگ خصوصاً مرزا قادیانی خوامخواہ احادیث کو مخالف قرآن قرار دے کر ان کو بے اعتبار کرنا چاہتے ہیں یہ ان کی کم فہمی ہے۔ اس لئے کہ اکابر علماء نے جب کسی حدیث کو صحیح مان لیا اگر وہ فی الواقع مخالف قرآن ہو تو یہ کہنا پڑے گا کہ ان کو قرآن کا علم نہ تھا۔ پھر ایسے لوگ جو قرآن ہی کو نہ جانیں وہ اکابر دین اور مقتداء کیونکر ہو سکتے تھے۔ بات یہ ہے کہ جو حدیث بظاہر مخالف قرآن معلوم ہو وہ ہمارے فہم کا قصور ہے۔ درحقیقت مخالفت ممکن نہیں۔ اسی وجہ سے مجتہدین کی دین میں ضرورت ہوئی جن کا کام یہ تھا کہ قرآن و حدیث کو تطبیق دے کر قول فیصل اور دونوں کا ماحصل بیان کر دیں۔ اس کی تصدیق اس سے بخوبی ہو سکتی ہے کہ آدمی جو فن پڑھتا ہے ہر سبق میں اقسام کے تعارض و تخالف اس کے ذہن میں آتے ہیں۔ مگر استاد کامل ان سب کا جواب دے کر تسکین کر دیتا ہے۔ اسی طرح مجتہدین کا بھی حال سمجھنا چاہئے۔
مرزا قادیانی نے احادیث کی توہین تو بہت کچھ کی۔ لیکن لطف خاص یہ ہے کہ خود ہی (ازالہ الاوہام ص ٥٥٦، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) میں یہ بھی فرماتے ہیں ”اب سمجھنا چاہئے کہ گو اجمالی طور
پر قرآن شریف اکمل و اتم کتاب ہے۔ مگر ایک حصہ کثیرہ دین کا اور طریقہ عبادات وغیرہ کا مفصل اور مبسوط طور پر احادیث سے ہم نے لیا ہے۔ ”ابھی احادیث کو ان الظن لا یغنی من الحق شیئاً کے تحت میں داخل کر کے غیر معتد بہ بنا دیا تھا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ جو حصہ کثیرہ دین کا احادیث سے ثابت ہے وہ لاشے محض ہے۔ اس تقریر میں احادیث کی وقعت جو بیان فرماتے ہیں وہ بھی ایک حکمت عملی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہوئی کہ نیچروں نے مرزا قادیانی کی مسیحائی کی بنیاد ہی کو زیر و زبر کر دیا۔
چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٥٥٥، خزائن ج ٣ ص ٣٩٩) میں لکھتے ہیں کہ ”حال کے نیچری جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت قال اللہ اور قال الرسول کی باقی نہیں رہی یہ بے اصل خیال پیش کرتے ہیں کہ جو مسیح ابن مریم کے آنے کی خبریں صحاح میں موجود ہیں۔ یہ تمام خبریں ہی غلط ہیں۔ شاید ان کا ایسی باتوں سے مطلب یہ ہے کہ تا اس عاجز کے اس دعوے کی تحقیر کر کے کسی طرح اس کو باطل ٹھہرایا جائے ۔“ چونکہ مرزا قادیانی کو عیسویت سے خاص قسم کی دل چسپی ہے اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت کا مدار احادیث کے ثبوت پر ہی تھا۔ اس لئے انہیں احادیث کی توثیق کی ضرورت ہوئی۔ ورنہ ان کو اس سے کیا تعلق۔ دیکھ لیجئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر جب کوئی حدیث نہ ملی تو انجیل موجودہ کو پیش کر دیا کہ اس سے ان کو سولی پر چڑھایا جانا ثابت ہے۔ پھر اس کی توثیق میں کہہ دیا کہ بخاری سے ثابت ہے کہ انجیل میں کوئی تحریف لفظی نہیں ہوئی۔ جس کا حال آئندہ معلوم ہوگا۔ اور اس کی کچھ پروا نہ کی کہ حق تعالیٰ بتصریح وما قتلوہ فرما رہا ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو کسی نے سولی پر نہیں چڑھایا۔ اب غور کیا جائے کہ جیسے مرزا قادیانی اپنی مضر حدیثوں کو رد کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ راویوں نے عمداً یا سہواً خطا کی ہوگی۔ اسی طرح نیچری بھی اس احتمال سے اپنی خواہش بھی پوری کریں گے۔ کیا وجہ کہ مرزا قادیانی تو اس احتمال سے نفع اٹھائیں اور نیچری اس سے روکے جائیں۔ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے باب میں جو حدیثیں وارد ہیں ان کی اس قدر توثیق کی کہ حد تواتر کو پہنچا دیا۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) میں فرماتے ہیں کہ ”یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے۔۔۔۔۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔“ دوسرے مقام میں (ازالۃ الاوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥،٢٥٤) میں لکھتے ہیں ”غرض یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اترے گا۔ نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔
٩
صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں بھلا اگر ہے تو کم سے کم تین سو یا چار سو صحابہ کا نام لیجئے جو اس بارے میں اپنی شہادت ادا کر گئے ہیں۔ ورنہ ایک یا دو آدمی کا نام اجماع رکھنا سخت بددیانتی ہے۔“ اس تقریر سے ظاہر ہے کہ جسم خاکی کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا ایک دو صحابہ کے قول سے ثابت ہے۔ جس کو اجماع نہیں کہہ سکتے اور اوپر کی تقریر سے ثابت ہے کہ کل صحابہ نے مسیح ابن مریم کے آنے پر اتفاق کیا ہے اور وہ اعلیٰ درجے کے تواتر کو پہنچ گیا ہے۔ چونکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ کل صحابہ کا اس مسئلہ میں اتفاق تھا اور مرزا قادیانی اس کو قبول نہیں کرتے تو ان کو چاہئے کہ کوئی ایسی روایت پیش کردیں کہ اس مسئلے میں صحابہ کے دو فرقے ہو گئے تھے۔ دو صحابی جسم کے ساتھ اترنے کے قائل تھے اور باقی کل صحابہ نے بغیر جسم کے روحانی طور پر اترنے کی تصریح کی ہے اور اگر کل نہیں تو جیسا کہ خود فرماتے ہیں تین سو یا چار سو صحابہ کا نام لیں اور جب تک یہ اختلاف ثابت نہ کیا جائے انہی صحابہ کی تصریح پر اجماع سکوتی کل صحابہ کا واجب التسلیم ہوگا۔ اگر اہل انصاف غور کریں تو یہی قول فیصل ہوسکتا ہے اور یہ بات یاد رہے کہ وہ ہرگز کسی صحابی کا یہ قول پیش نہیں کرسکتے کہ مسیح روحانی طور پر اتریں گے۔
مرزا قادیانی نے جو ابھی فرمایا ہے کہ ایک حصہ کثیر دین کا احادیث سے ثابت ہوتا ہے معلوم نہیں اس میں بخاری کی تخصیص کیوں نہیں کہ وہ تو اس حدیث کو قابل اعتبار نہیں سمجھتے جو بخاری میں نہیں ہوتی۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٢٣١، خزائن ج ٣ ص ٢٢٢) میں لکھتے ہیں کہ ”یہاں تک مضمون اس حدیث کا نادر اور قلیل الشہرت رہا کہ امام بخاری جیسے رئیس المحدثین کو یہ حدیث نہیں ملی کہ مسیح ابن مریم دمشق کے شرقی کنارے میں منارہ کے پاس اترے گا۔“ اور لکھتے ہیں ”یہ وہ حدیث جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔ جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا۔
(ازالۃ الاوہام ص ٢٢٠، خزائن ج ٣ ص ٢٠٩)
ان دونوں تقریروں سے ظاہر ہے کہ جو حدیث بخاری میں نہیں ہوتی ان کے نزدیک وہ حدیث ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو ضعیف جو قابل اعتبار نہیں۔ کیونکہ جو حدیث رئیس المحدثین کو نہ ملی ہو وہ دوسرے کسی محدث کو کہاں سے مل گئی اور اگر وہ حدیث ہو بھی تو اس کو ضعیف سمجھ کر انہوں نے اپنی صحیح میں داخل نہیں کیا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اعتبار کے قابل نہیں۔ اب مرزا قادیانی سے پوچھنا چاہئے کہ (ضرورت الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٢) میں آپ جو تحریر فرماتے ہیں کہ ”حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے امام کو شناخت نہ کرے اس کی موت جاہلیت کی
١٠
ہوتی ہے۔...... جاہلیت کی موت ایک ایسی جامع شقاوت ہے جس سے کوئی بدی اور بدبختی باہر نہیں...... اور وہ صحیح حدیث یہ ہے عن معاوية قال قال رسول الله ﷺ من مات بغير امام مات ميتة جاهلية كذافى مسند امام احمد والترمذى وابن خزيمة وابن حبان“ اور نیز (ضرورت الامام ص ٢٤ خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥) میں لکھتے ہیں کہ ”یاد رہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی، رسول، محدث، مجدد سب داخل ہیں۔ مگر جو لوگ ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کے لئے مامور نہیں ہوئے اور نہ وہ کمالات ان کو دیئے گئے وہ گو ولی ہوں یا ابدال امام الزمان نہیں کہلا سکتے...... میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ وہ امام الزمان میں ہوں۔“ حدیث موصوف تو بخاری میں نہیں ہے پھر وہ صحیح کیسے ہو گئی۔ اگر یہ روایت ہماری طرف سے پیش ہوتی تو مرزا قادیانی ضرور فرماتے کہ اس کا مطلب ظاہر ہے کہ جو شخص بغیر امام کے مرے وہ مردار موت مرا۔ اس لئے ہر مسلمان کو ضرور ہے کہ مرتے وقت امام کو لے مرے اور ظاہر ہے کہ قتل عمد شرعاً نا جائز ہے۔ اس سبب سے یہ حدیث موضوع ہے اور بڑی دلیل اس کے موضوع ہونے پر یہ ہے کہ اس کا مضمون یہاں تک نادر اور قلیل الشہرت رہا کہ امام بخاری جیسے رئیس المحدثین کو یہ حدیث نہ ملی اور اگر ملی ہو تو ضعیف سمجھ کر چھوڑ دیا۔ اب انصاف کیا جائے کہ ایسی حدیث کی خود اپنے استدلال میں کیوں پیش فرماتے ہیں اور اگر قابل استدلال سمجھتے ہیں تو مسلم کو دمشق والی حدیث نے کیا قصور کیا۔ حالانکہ مسلم کی روایتیں بنسبت مسند وغیرہ کے وثوق میں زیادہ ہیں۔ علاوہ اس کے کل احادیث کو ”ان ظن لا یغنی من الحق شیئاً“ میں داخل کر کے بے اعتبار کر دیا تھا۔ پھر ایسی حدیث سے آپ کا استدلال کرنا کیونکر صحیح ہوگا۔ پھر استدلال بھی کیسا کہ جو آپ کو امام زمان نہ مانے وہ کافر جہنمی ہے۔ کیونکہ شقاوت جامعہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے۔ اب دیکھئے جو سزا اس حدیث کے نہ ماننے پر تجویز کر رہے ہیں وہ اس قدر سخت ہے جو کامل قرآن کے نہ ماننے والے کی ہونی چاہئے۔ حالانکہ وہ حدیث انہیں کے اصول پر قابل اعتماد نہیں۔ پھر اگر اس حدیث میں ان کا نام مصرح ہوتا تو جب بھی ایک بات تھی گو اس وقت بھی مناظر کو گنجائش تھی کہ اس نام کے بہت لوگ موجود ہیں اور آئندہ بھی ہو سکتے ہیں۔ جب سرے سے اس میں ان کا ذکر ہی نہیں تو اب تو احتمال کو بھی گنجائش نہ رہی۔ باوجود اس کے اپنے منکر کی سزا دوزخ جو ٹھہرا رہے ہیں کیسی بے باکی ہے۔ بخلاف اس کے بخاری اور مسلم کی حدیثوں سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بتصریح فرما دیا ہے کہ عیسیٰ نبی اللہ بن مریم آخری زمانے میں آسمان سے دمشق میں اتریں گے اور یہ مجموعہ صفات سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے اور کسی پر صادق نہیں آتا۔ باوجود اس کے مرزا قادیانی یہ کہہ کر
١١
ٹال دیتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ بن مریم نبی اللہ رکھ دیا ہے۔ الحاصل مرزا قادیانی جب دیکھتے ہیں کہ کوئی حدیث اپنے دعوے کے مضر ہے تو کبھی یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ بخاری میں نہیں ہے۔ اس لئے قابل اعتبار نہیں اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ یہ صحیح بھی ہو تو اس سے ظن ثابت ہوگا اور اس کا اعتبار ہی کیا اور جب ان کو استدلال منظور ہوتا ہے تو بخاری ومسلم میں نہ بھی ہو تو وہ حدیث صحیح بھی ہو جاتی ہے اور خود اس کا مصداق بھی بن جاتے ہیں اور نہ ماننے والے کو جہنمی قرار دیتے ہیں۔ کیا کوئی متدین شخص اس قسم کی کارسازیاں اور ناجائز تصرفات احادیث نبویہ میں کر سکتا ہے۔ کیا ایسے قوی قوی قرائن دیکھنے کے بعد بھی عقل کو کسی قسم کی جنبش نہ ہوگی۔ آخر عقل بے کار نہیں پیدا کی گئی۔ مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٢٩٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥١) میں خود فرماتے ہیں ”اسلام اگرچہ خدائے تعالیٰ کو قادر مطلق بیان فرماتا ہے اور فرمودۂ خدا اور رسول کو عقل پر فوقیت دیتا ہے۔ مگر پھر بھی وہ عقل کو بے کار اور معطل ٹھہرانا نہیں چاہتا۔“ جب خدا اور رسول کے مقابلے میں عقل بے کار نہیں ہوتی تو اس عقل پر افسوس ہے کہ اس قسم کی کارسازیاں دیکھ کر بھی ساکت اور بے حس و حرکت رہے اور کوئی حکم نہ لگائے۔ مرزا قادیانی نے جو کہا تھا کہ ممکن ہے کہ حدیثوں کے راویوں نے عمداً یا سہواً خطا کی ہو یہ ان راویوں کی نسبت فرماتے ہیں۔ جن پر اکابر محدثین وفقہا نے اعتماد کیا ہے اور ایک جماعت کثیرہ نے تحقیق کر کے فن رجال میں ان کی توثیق کی ہے اور خود مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٣٧٤، خزائن ج ٣ ص ٢٩٣) میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”سلف خلف کے لئے بطور وکیل کے ہیں اور ان کی شہادت آنے والی ذریت کو ماننی پڑتی ہے ۔“ باوجود یہ کہ سلف نے ان راویوں کی توثیق کی ہے۔ مگر اقسام کے احتمالات پیدا کر کے ان کو نہیں مانتے۔ اب ان کی روایتوں کو دیکھئے (ازالۃ الاوہام ص ٧٠٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨٦) میں تحریر فرماتے ہیں۔ ” کریم بخش روایت کرتے ہیں کہ گلاب شاہ مجذوب نے تیس برس کے پہلے ...... مجھ کو کہا کہ عیسیٰ اب جوان ہو گیا ہے اور لدھیانے میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا ۔“
پھر کریم بخش کی تعدیل بہت سے گواہوں سے کی گئی جن میں خیراتی، بوٹا، کنہیا لال، مراری لال، روشن لال، کینیا مل وغیرہ ہیں اور ان کی گواہی یہ کہ کریم بخش کا کوئی جھوٹ کبھی ثابت نہ ہوا۔ دیکھئے قطع نظر گواہوں کی حیثیت کے ان کی گواہیوں سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ کریم بخش سچا آدمی تھا۔ اس لئے کہ انہوں نے یہی کہا کہ کبھی جھوٹ اس کا ثابت نہ ہوا۔ اعلیٰ درجے کے جھوٹے کی نسبت بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کا جھوٹ کبھی ثابت نہ ہو سکا۔ یعنی کمال درجے کا چالاک اور بے باک ہے کہ باوجود یکہ عمر بھر جھوٹ کہا۔ مگر اس کو ثابت ہونے نہ دیا۔
١٢
اسی وجہ سے کتب رجال میں توثیق کے محل میں یہ لکھتے ہیں کہ فلاں صدوق عدل لیس بکاذب وغیرہ جس سے جھوٹا نہ ہونا بتصریح معلوم ہوتا ہے۔ پھر اگر تسلیم بھی کر لیا جائے تو وہ راوی منفرد ہے۔ کوئی اس کا متابع نہیں اور روایت کی یہ کیفیت کہ ایک شخص مجذوب کا کلام جس کو خود خبر نہیں کہ بڑھ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ پھر اس حدیث کا مضمون کیسا کہ عیسیٰ قرآن میں غلطیاں نکالے گا۔ عجیب قسم کا سلسلہ قائم ہو گیا ہے۔ محدثین کے یہاں سلسلۃ الذہب مشہور ہے۔ معلوم نہیں کہ اس سلسلے کو اگر وہ دیکھیں تو کیا کہیں گے۔
اس روایت کے بعد (ازالۃ الاوہام ص ٧١٩، ٧٢٠، خزائن ج ٣ ص ٤٨٧ ملخص) میں لکھتے ہیں کہ ”مکاشفہ مذکورہ بالا کے موید ایک رؤیائے صالحہ ذیل میں بیان کی جاتی ہے۔ جس کو ایک بزرگ محمد نام خاص مکے کے رہنے والے عربی مکی نے دیکھا ہے کہ میں مشرق کی طرف کیا دیکھتا ہوں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتر آیا۔ پھر میری آنکھ کھل گئی اور میں نے دل میں کہا کہ انشاء اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام میری زندگی میں اتر آئے گا اور میں اس کو اپنی آنکھ سے دیکھ لوں گا۔“
یہ بزرگ علم سے بے بہرہ تھے۔ عیسیٰ کو خواب میں دیکھتے ہی سچ مچ عیسیٰ سمجھ لیا اور یہ خیال جما لیا کہ عیسیٰ اپنی زندگی میں اترے گا۔ یہ تو مرزا قادیانی بھی (ازالۃ الاوہام ص ٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٤٩) میں لکھتے ہیں کہ ”صدہا مرتبہ خوابوں میں مشاہدہ ہوتا ہے کہ ایک چیز نظر آتی ہے اور دراصل اس سے مراد کوئی دوسری چیز ہوتی ہے۔“
یوسف علیہ السلام کو جو تعبیر کا علم دیا گیا تھا اس سے بھی ظاہر ہے کہ جو خواب میں دیکھا جاتا ہے وہ تعبیر نہیں ہوتی۔ چنانچہ بادشاہ نے جو خواب دیکھا تھا کہ دبلی گایوں نے موٹی گایوں کو کھالیا۔ اس کی تعبیر قحط سالی دی گئی۔ جس سے ظاہر ہے کہ سنین قحط گایوں کی شکل میں دکھلائے گئے تھے۔ جن میں نہ صورتاً مماثلت ہے نہ اسماً۔ اسی طرح تعبیر کی معتبر کتابوں میں مصرح ہے کہ جو کوئی عیسیٰ علیہ السلام کو خواب میں دیکھے وہ دور دراز کا سفر کرے گا یا طبیب بنے گا یا اطاعت کی اس کو توفیق ہوگی۔ تعجب نہیں کہ اس خواب کے بعد مکی صاحب نے مرزا قادیانی کی زیارت کے شوق میں ہندوستان کے سفر دور دراز کی مشقت گوارا کی ہو۔ جس سے خواب کی تعبیر پوری ہو گئی ہوگی۔ غرض کہ اس خواب کی تعبیر کو نہ عیسیٰ سے تعلق ہے نہ مثیل عیسیٰ سے اگر یورپ کا سفر بھی انہوں نے کیا ہو تو جب بھی تعبیر پوری ہو گئی۔ بہرحال اول تو وہ خواب اور وہ بھی ایک مجہول اور جاہل شخص کا جس کو تعبیر کا علم نہیں پھر تعبیر اس کی حسب تصریح کتب فن ایسی کہ جس کو مرزا قادیانی کے مقصود سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر وہ وثوق کہ اپنے عیسیٰ موعود ہونے پر اس سے استدلال کیا جاتا ہے۔ عجیب بات
١٣
ہے کہ ہزار ہا کتب تفسیر وحدیث سے جو ثابت ہے وہ تو بالائے طاق رکھا رہے اور ایسی روایتوں کی بنیاد پر مرزا قادیانی کا نیا کارخانہ قائم ہو جائے کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ بجز اس کے کہ آخری زمانہ کا متفتنا کہا جائے۔
اور (ازالۃ الاوہام ص ٧٠٤، خزائن ج ٣ ص ٤٨٠ ملخص) میں لکھتے ہیں کہ ”محمد یعقوب صاحب نے میرے پاس بیان کیا کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم سے میں نے سنا ہے کہ آپ کی نسبت یعنی اس عاجز کی نسبت کہتے تھے کہ میرے بعد ایک عظیم الشان کام کے لئے وہ مامور کئے جائیں گے...... مجھے یاد نہیں کہ اس وقت کون کون موجود تھے۔ مگر میاں عبداللہ سنوری نے میرے پاس بیان کیا کہ میں اس تذکرے کے وقت موجود تھا اور میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے۔“ اس روایت کے راوی فقط یعقوب صاحب ہیں اور جس طرح کریم بخش کی توثیق کی گئی تھی۔ ان کی نہیں کی گئی اور روایت جو غزنوی صاحب سے ہے اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ان کو اس غیب کی خبر کس نے دی تھی یا مرزا قادیانی کی جودت طبع کو دیکھ کر اپنا قیاس انہوں نے ظاہر کیا تھا۔ پھر عظیم الشان کام کی تعیین بھی نہیں اور نہ لغت یا عرف میں اس کے معنی عیسویت کے ہیں۔ غور کرنے کی جگہ ہے کہ نبی کریم ﷺ عیسیٰ علیہ السلام کی تعیین ان متعدد الفاظ سے فرمارہے ہیں کہ وہ کسی دوسرے پر ہرگز صادق نہیں آسکتے۔ یعنی عیسیٰ ابن مریم روح اللہ مسیح آسمان سے اترینگے وہ تو قابل اعتبار نہ ہو اور غزنوی صاحب کا یہ کہہ دینا مرزا قادیانی ایک عظیم الشان کام کے مامور ہوں گے۔ عیسیٰ موعود ہونے کے لئے کافی ہو جائے۔ کس قدر جرات و بے باکی کی بات ہے جس کے دل میں نبی کریم ﷺ کی معمولی عظمت بھی ہو اس سے یہ کام ہرگز نہیں ہوسکتا۔
اب اہل انصاف سے ہم پوچھتے ہیں کہ جتنا وثوق واعتماد مرزا قادیانی کو الٰہی بخش اور یعقوب صاحب اور بوٹا اور کنہیا لال اور روشن لال اور شیامل پر ہے۔ کیا مسلمانوں کو امام مسلم ونسائی وغیرہ محدثین اور ان کے اساتذہ پر اتنا بھی نہ ہونا چاہئے۔
مرزا قادیانی تو ان لوگوں کی روایت اپنے استدلال میں پیش کریں اور ان کی امت اس کو مان لے اور اہل اسلام اکابر محدثین کی روایتیں پیش کریں اور وہ قابل وثوق نہ سمجھی جائیں۔ ہمیں مرزائیوں سے شکایت نہیں ان کو ضرور ہے کہ اپنے مقتداء کی بات مان لیں۔ کیونکہ ہر فرقے والے کا یہی فرض منصبی ہے۔ اگر شکایت ہے تو مسلمانوں سے ہے کہ وہ اپنے اسلاف کی بات نہ مان کر مرزا قادیانی کی طرف مائل ہوئے جاتے ہیں۔ چنانچہ مشہور ہے کہ لاکھ سے زیادہ مسلمان مرزائی ہوگئے اور برابر ہوئے جاتے ہیں۔ جس سے ان کو یہ لازم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے ہم
١٤
خیال ہو کر احادیث کو قابل اعتبار نہ سمجھیں ۔ مسلمانوں کو نصاریٰ وغیرہ سے عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ اپنے دین کی روایتوں پر وہ کس قدر وثوق رکھتے ہیں کہ کسی کی تشکیک و جرح کا ان پر اثر نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں بہت کچھ لکھا۔ مگر کسی نے اس کو قابل توجہ نہیں سمجھا اور بہت سے مسلمان ازالۃ الاوہام کو دیکھ کر اپنے اعتقادوں سے پھر گئے ۔ اگر پہلے ہی سے وہ لوگ برائے نام مسلمان تھے جن پر مرزا قادیانی کا افسوں کارگر ہو گیا تو ہمیں ان میں بھی کلام نہیں ۔ ایسے لوگوں کا دین اسلام سے خارج ہو جانا ہی اچھا ہے ۔ ہمارا روئے سخن ان حضرات کی طرف ہے جو لاعلمی سے مرزائی دین اختیار کر لیا ہے ۔ ان کو چاہئے کہ ان امور پر اطلاع ہونے کے بعد توبہ کر کے تجدید اسلام کریں۔ و ما علینا الا البلاغ !
مرزا قادیانی نے جس طرح احادیث کے ساقط الاعتبار کرنے کی فکر کی اس سے زیادہ تفسیروں کے وہ دشمن ہیں۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٢٢٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٩٢) میں لکھتے ہیں "کتاب الٰہی کی غلط تفسیروں نے انہیں (مولویوں) کو بہت خراب کیا ہے اور ان کے دلی اور دماغی قویٰ پر بہت برا اثر ان سے پڑا ہے۔ اس زمانے میں بلاشبہ کتاب الٰہی کے لئے ضرور ہے کہ اس کی ایک نئی اور صحیح تفسیر کی جائے۔ کیونکہ حال میں جن تفسیروں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ نہ اخلاقی حالت کو درست کر سکتی ہیں اور نہ ایمانی حالت پر اثر ڈالتی ہیں ۔ بلکہ فطرتی سعادت اور نیک روشی کے مزاحم ہو رہی ہیں ۔"
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٧٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠) میں لکھتے ہیں کہ "پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا ...... اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں ۔"
ابھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے احادیث میں رخنہ اندازی کی کیسی کیسی تدبیریں نکالیں ۔ کبھی کہتے ہیں کہ راویوں نے عمداً یا سہواً بعض احادیث کے پہنچانے میں خطا کی ہوگی کبھی کہتے ہیں کہ احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں ۔ و الظن لا یغنی من الحق شیئاً! اور کبھی کہتے ہیں کہ جو حدیث بخاری میں نہ ہو وہ ضعیف ہے قابل اعتبار نہیں۔
بخاری شریف میں کئی قسم کی حدیثیں مذکور ہیں ۔ آنحضرت ﷺ کے افعال و اقوال صحابہ کے اقوال و افعال اور تابعین وغیرہم کے افعال واقوال آنحضرت ﷺ کے اقوال کی حدیثیں بحذف مکررات اگر اس میں دیکھی جائیں تو دو تین ہزار سے زیادہ نہ ہوں گی۔ حالانکہ محدثین کی تصریح اور عقل کی رو سے اگر دیکھا جائے تو تئیس سال کی مدت نبوت میں لاکھوں باتیں
١٥
باقی ہوں گی جو کل حدیثیں ہیں۔ مرزا قادیانی نے سوائے ان دو تین ہزار حدیثوں کے جو بخاری میں ہیں سب کو ساقط الاعتبار کر دیا۔ پھر بخاری کی حدیثوں میں بھی یہ احتمال کہ راویوں نے خطا کی ہوگی اور معراج کی حدیثیں باوجودیکہ بخاری میں موجود ہیں۔ عقلی احتمالات سے سب کو رد کر دیا اور تمام حدیثوں میں یہ کلام کہ اگر وہ صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہوں گی۔ والظن لا یغنی من الحق شيئاً!
اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی نے احادیث میں کیسے کیسے رخنے ڈال دیئے اور ان کے مخالفین کو بھی دیکھ لیجئے کہ ان کا کیا دعویٰ ہے۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ معجزات، معراج، علامات قیامت، جسمانی حشر، نزول عیسیٰ علیہ السلام اور خروج دجال وغیرہ مباحث مختلف فیہ میں جس قدر احادیث وارد ہیں وہ قابل تسلیم ہیں اور مرزا قادیانی کسی کو نہیں مانتے۔ اب غور کیا جائے کہ اگر وہ چوہوں کا الہام صحیح ہے تو مرزا قادیانی چوہوں کی طرح حدیثوں کو کتر رہے ہیں یا اہل سنت؟۔ مرزا قادیانی کو الہاموں کا تو دعویٰ ہے مگر معنی نہیں سمجھتے۔
مرزا قادیانی نے جس طرح احادیث کے ساقط الاعتبار کرنے کی فکر کی اس سے زیادہ وہ تفسیروں کے دشمن ہیں۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٧٢٦، خزائن ج ٣ ص ٤٩٢) میں لکھتے ہیں۔ ”کتاب الٰہی کی غلط تفسیروں نے مولویوں کو بہت خراب کیا ہے۔ ان کے دلی اور دماغی قویٰ پر اثر ان سے پڑا ہے اس زمانے میں بلاشبہ کتاب الٰہی کے لئے ضرور ہے کہ ایک نئی اور صحیح تفسیر کی جائے کیونکہ حال میں جن تفسیروں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ نہ اخلاقی حالت کو درست کر سکتی ہیں نہ ایمانی حالت پر اثر ڈالتی ہیں۔ بلکہ فطرتی سعادت اور نیک روی کے مزاحم ہو رہی ہیں۔“
مرزا قادیانی تفسیروں پر نہایت خفا ہیں اور ان سے پہلے سرسید صاحب بھی بہت خفا تھے۔ چنانچہ تہذیب الاخلاق وغیرہ سے ظاہر ہے اور ان صاحبوں کی کوئی خصوصیت نہیں جتنے مذاہب باطلہ کے فرقے ہیں۔ سب کا یہی حال رہا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ تفاسیر میں کل احادیث واقوال صحابہ جو ہر آیت سے متعلق ہیں ان میں پیش نظر ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ان لوگوں کو نئی بات تراشنے کا موقع نہیں ملتا اور مل بھی گیا تو کوئی ایماندار اس کو نہیں مانتا۔ اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہر آیت قرآنی میں جو حق تعالیٰ کی اصل مراد ہے اس کو حضرت نبی کریم ﷺ ہی جانتے تھے۔ اس لئے کہ قرآن حضرت پر ہی نازل ہوا ہے اور چونکہ صحابہ ہمیشہ حاضر خدمت رہتے تھے۔ ان کو ہر آیت کے اترنے کا موقع اور شان نزول وغیرہ اسباب و قرائن معلوم رہتے تھے۔ جس سے مضمون و مقصود آیت کا خود سمجھ میں آ جاتا اور جب حضرت پڑھ کر سناتے تو جو غوامض معلوم نہ
١٦
ہوتے پوچھ لیتے تھے یا خود حضرت بیان فرما دیتے تھے۔ پھر حضرت کی مجلس مبارک میں بلکہ اس زمانے میں سوائے خدا کی باتوں کے کسی چیز کا ذکر ہی نہ تھا۔ خواہ کوئی دنیوی کام ہو یا دینی وقائع گزشتہ ہوں یا آئندہ سب کی تعلیم حق تعالیٰ اپنے کلام پاک سے فرما دیتا اگر کوئی اعتقاد یا عمل کسی کا خلاف مرضی الٰہی ہوتا تو فوراً وحی اتر آتی۔ چنانچہ صحابہ کہتے ہیں کہ جب تک آنحضرت ﷺ اس عالم میں تشریف رکھتے تھے ہم اپنی بیویوں سے معاشرت کرنے میں ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں ایسی بے موقع کوئی بات صادر نہ ہو۔ جس کے باب میں وحی اتر آئے اور قیامت تک مسلمانوں میں اس کا ذکر ہوتا رہے۔ الغرض علاوہ فہم قرآن کے ان کے حرکات سکنات اعمال، اخلاق، اعتقادات نیات کل مطابق قرآن شریف کے ہو گئے تھے اور فیضان صحبت نبوی اور روزمرہ کی مزاولت اور ممارست کی وجہ سے ان کو مضامین قرآنیہ کا ملکہ ہو گیا تھا اور ان کے سینے نور وحی سے منور تھے۔ ان کے دلوں میں قرآن ایسا سرایت کئے ہوئے تھا جیسے روح جسد میں، الحاصل مختلف اسباب اس بات پر گواہی دے رہے ہیں کہ اصل معانی قرآن کا علم صحابہ کو بخوبی حاصل تھا اور چونکہ تفسیر بالرائے کو وہ کفر سمجھتے تھے۔ اس وجہ سے یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ جن آیات کی تفسیریں صحابہ سے مروی ہیں وہی حق تعالیٰ کی مراد ہیں۔ اس کے خلاف کوئی ہندی پنجابی وغیرہ قرآن کی تفسیر کرے تو وہ خدائے تعالیٰ کی ہرگز مراد نہیں۔ پھر صحابہ کا کمال علم اور جوش طبیعت اور ترغیب ابلاغ اور ترہیب کتمان علم وغیرہ اسباب کا مقتضا یہی تھا کہ اسلامی دنیا آفتاب علم سے مثل نصف النہار روشن ہو جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جہاں تک اسلام کی روشنی پھیلتی گئی اس کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کی روشنی بھی پھیلتی جاتی تھی۔ چنانچہ تابعین صحابہ کے علوم سے مالا مال تھے اور ان کے علوم سے تبع تابعین وعلیٰ ہٰذہ القیاس۔ انہیں حضرات نے ان تمام علوم کو اپنی مفید تصانیف میں درج کر دیئے۔ جن کی بدولت ہم آخری زمانے والے بھی اپنے نبی کریم ﷺ کی صحبت معنوی سے محروم نہیں ہیں۔
ان حضرات کے جس قول کو دیکھئے ہزاروں تفاسیر وغیرہ کتب دینیہ میں موجود ہیں۔ مثلاً ابن عباسؓ کا کوئی قول کسی آیت سے متعلق دیکھا جائے تو ہزاروں کتابوں میں بعینہ وہ قول یا اس کا مضمون مل سکتا ہے۔ اسی طرح صحابہ کے کل اقوال اور احادیث ہزاروں کتابوں میں ملتی ہیں۔ جس سے بتواتر ان کا ثبوت ظاہر ہے۔ گو ابتداء میں یہ تواتر نہ تھا۔ مگر جب متدین اور معتمد علیہ اشخاص نے اپنی کتابوں میں ان احادیث و آثار کو ذکر کیا تو اس میں شک نہیں ہو سکتا کہ ان کو اس کے ثبوت کا یقین ضرور تھا۔ پھر جب ہزاروں معتمد علیہ علماء کا یقین ان روایات کے ثبوت پر ہم تک پہنچا تو ہمیں ان کے ثبوت میں شک کرنے کا کوئی موقع نہیں۔ جب تک یقینی طور پر ان کا غلط ہونا یا من
١٧
بجمیع الوجوہ نصوص قطعیہ کا معارض ہونا ثابت نہ ہو جائے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اور مولوی محمد حسین صاحب کا مناظرہ مسئلہ عرض الحدیث علی القرآن میں جو ہوا ہے اس سے ظاہر ہے کہ کسی معتبر عالم کا کتاب میں لکھ دینا مرزا قادیانی اعتماد کے لئے کافی سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص ٨٧، ٢٨٧، خزائن ج ٣ ص ٥٧٥) میں لکھتے ہیں کہ ”صاحب تلویح نے لکھا ہے کہ وہ حدیث یعنی عرض الحدیث علی القرآن بخاری میں موجود ہے۔ اب اس کے مقابلے میں یہ عذر پیش کرنا کہ نسخہ جات موجودہ بخاری جو ہند میں چھپ چکے ہیں ان میں یہ حدیث موجود نہیں سراسر نا سمجھی کا خیال ہے۔ جس حالت میں ایک سرگروہ مسلمانوں کا اپنی شہادت رویت سے اس حدیث کا بخاری میں ہونا بیان کرتا ہے تو صاحب تلویح کی شہادت بالکل ظنی نہیں ہو سکتی۔ پس آپ کی بے دلیل نفی بے سود ہے۔ اگر صاحب تلویح کاذب ہوتا تو اسی زمانے کے علماء کی زبان سے اس کی تشنیع کی جاتی اور اس سے جواب پوچھا جاتا اور جب کہ کوئی جواب پوچھا نہیں گیا تو یہ دوسری دلیل اس بات پر ہے کہ در حقیقت اس کی روایت صحیح تھی۔“
مقصود یہ کہ وہ حدیث گو اب بخاری میں نہ پائی جائے۔ مگر جب صاحب تلویح نے صحیح بخاری سے نقل کی ہے تو ثابت ہو گیا کہ وہ بخاری میں ضرور ہے۔ اب دیکھئے کہ ایک جماعت کثیرہ ایسے علماء کی جن کے سلسلۂ تلامذہ میں صاحب تلویح جیسے ہزاروں افراد منسلک ہیں۔ احادیث و آثار کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے تو ان کی اس شہادت کے مقابلے میں اگر کوئی دعویٰ نفی کرے تو کیونکر وہ قابل قبول ہوگا۔ اگر ان کی بات غلط ہوتی تو اس زمانے کے علماء ان کی تشنیع کرتے اور جب کہ کسی نے ان پر تشنیع نہیں کی تو اب مرزا قادیانی کا (ازالۃ الاوہام ص ٤٢٥، خزائن ج ٣ ص ٥٠١ ملخص) میں یہ لکھنا کہ ”لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے خود انہیں کے قول پر ہرگز قابل سماعت نہیں ہو سکتا۔“
الغرض ہر آیت کی تفسیر احادیث و آثار سے جب ہمیں بہ تواتر پہنچے اور یقین ہو گیا کہ وہی معنی حق تعالیٰ کی مراد ہیں تو ایمان داروں کا ایمان اس بات کو کیونکر گوارا کرے گا کہ کسی کے دل سے گھڑے ہوئے معنی کو مان کر عذاب اخروی کا مستحق بنے۔ کیونکہ جو معنی خلاف ان تفاسیر کے ہیں وہ قرآن کے معنی ہی نہیں۔ اس معنی کو مان کر قرآن کے اصل معنی پر ایمان نہ لانا قرآن کے ایک حصے کو چھوڑ دینا ہے۔ جس کی نسبت سخت وعید وارد ہے۔ ”أفتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض فما جزاء من يفعل ذلك منكم الا خزی فی الحیوۃ الدنيا ويوم القيامة يردون الى اشد العذاب وما الله بغافل عما تعملون (بقرة: ٨٥)“
١٨
﴿کیا تم ایمان لاتے ہو تھوڑی کتاب پر اور منکر ہوتے ہو تھوڑی کتاب سے۔ پھر جو کوئی تم میں سے ایسا کرے اس کی جزا یہی ہے کہ دنیا میں اس کی رسوائی ہو اور اس کو قیامت کے روز سخت سے سخت عذاب میں پہنچایا جائے اور اللہ بے خبر نہیں تمہارے کام سے۔﴾ اب دیکھئے کہ پورے قرآن پر ایمان لانے کی بجز اس کے اور کون سی صورت ہے کہ ہر آیت کے جو معنی آنحضرت ﷺ اور صحابہ سے مروی ہیں اس پر ایمان لائیں اور یہ بات بغیر کتب تفاسیر کے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس صورت میں کتب تفاسیر کی مسلمانوں میں کس قدر وقعت ہونی چاہئے اور حضرات مفسرین کے کس قدر شکر گزار ہونا چاہئے کہ قرآن کے اصلی معنی کی حفاظت کر کے مسلمانوں کو کیسی کیسی بلاؤں سے نجات دی بے ایمانی سے بچالیا۔ خود غرضوں کے داؤ پیچ سے امن میں رہنے کے لئے ایک مضبوط حصار کھینچ دی۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کے معنی میں کوئی شبہ ڈالے تو حدیث سے اس کو صاف کر لو۔ کیونکہ اہل حدیث جو مفسرین قرآن ہیں ان کو خوب جانتے ہیں۔ چنانچہ امام سیوطیؒ نے درمنثور میں دارمی سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ’’اخرج الدارمی عن عمر بن الخطاب قال انه سیاتیکم ناس یجادلونکم بشبھات القرآن فخذوھم بالسنن فان اصحاب السنن اعلم بکتاب اللہ (سنن دارمی ج ١ ص ٤٩)‘‘ یعنی عمرؓ نے فرمایا کہ قریب ہے تمہارے پاس لوگ آ کر قرآن کے شبہات میں جھگڑا کریں گے سو ان کو حدیثوں سے الزام دو۔ اس لئے کہ احادیث کو جاننے والے قرآن کو زیادہ جانتے ہیں۔
مفسرین نے یہی کام کیا کہ ہر آیت سے متعلق جو احادیث و آثار صحابہ ہیں سب کو ایک جگہ جمع کر دیا تا کہ اہل شبہات کو الزام دینے کا سامان اور سرمایہ مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے۔ جس سے مرزا قادیانی سخت ناراض ہیں۔ دراصل یہ حق تعالیٰ کا فضل اور اس وعدے کا ایفا ہے۔ جو اپنی کتاب مجید کی ہر طرح حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (حجر:٩)‘‘ یعنی ہم نے قرآن کو اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ اب دیکھئے کہ اگر تفاسیر نہ ہوتیں تو وہ معنی جو حق تعالیٰ کی مراد ہے کیونکر محفوظ رہتے اور ہزاروں بے دین اور دجال جن کے نکلنے کی خبریں آنحضرت ﷺ نے بار ہا دی ہیں۔ جو شبہات پیدا کر کے اپنے دل سے نئے نئے معنی گھڑ لیتے۔ ان سے بچنے کی کیا صورت ہوتی اور کون سی تدبیر قرآن کے اصل معنی سمجھنے کی تھی۔ جس کی نسبت ارشاد ہے۔ ’’انا انزلناہ قرآناً عربیا لعلکم تعقلون (یوسف:٢)‘‘ یعنی قرآن ہم نے عربی میں اتارا کہ تم سمجھو۔ غرض مفسرین من جانب اللہ اس کام پر مامور ہوئے کہ قرآن کے نظم و معنی کی پوری حفاظت کریں اور باطل اس میں کسی طرف سے آنے
١٩
نہ پائے۔ جیسا کہ ارشاد ہے ”لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد (حم السجده:٤٢)“ یعنی قرآن میں نہ روبرو سے باطل آسکتا ہے نہ پیچھے سے اگر تفاسیر نہ ہوتیں تو علاوہ دوسرے ملاحدہ کے خیالات کے جو سینکڑوں اب تک گزرے مسمریزم وغیرہ خرافات بھی قرآن میں داخل ہو جاتے۔ ہر چند لوگ بہت چاہتے ہیں کہ قرآن میں تغیر وتبدل کر دیں۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”يريدون ان يبدلوا كلام الله (الفتح:١٥)“ یعنی چاہتے ہیں وہ کہ قرآن کو بدل دیں۔ مگر کسی سے کیا ہو سکتا ہے تفاسیر نے اس سے سب کو روک دیا اور جب تک حق تعالیٰ کو منظور ہے ایسا ہی روکتی رہیں گی۔ اہل انصاف غور کریں کہ جو لوگ تفسیریں اپنے دل سے گھڑ کے پیش کرتے ہیں کیا ان کی نسبت یہ حسن ظن ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں۔ ان کا مقصود تو اعلانیہ یہی ہے کہ کلام الٰہی کو بدل کر ان کو بے ایمان بنادیں۔ اس دعوے کی توثیق اس سے بخوبی ہو سکتی ہے جو حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”حرمت عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير (مائده:٣)“ یعنی مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت تم پر حرام کیا گیا ہے۔ اگر کوئی اس کے یہ معنی سمجھے کہ میتہ اور دم اور لحم خنزیر چند آدمیوں کے نام تھے ان کی حرمت کا حکم اس آیت میں ہے اور یہ کہے کہ مردار اور خون اور گوشت خنزیر سے اس کو کوئی تعلق نہیں یہ سب چیزیں حلال ہیں۔ کیا کوئی مسلمان اس اعتقاد والے کو یہ سمجھے گا کہ اس کا ایمان اس آیت پر ہے ہرگز نہیں۔ ایسا شخص بے ایمان کس وجہ سے سمجھا جائے گا۔ اسی وجہ سے کہ وہ قسم کھا کر کہے کہ میں اس آیت کو کلام الٰہی سمجھتا ہوں کہ اس نے مخالفت ایسے معنی کی کی جو احادیث اور اقوال صحابہ اور اجماع امت سے ثابت ہیں۔ ورنہ ان الفاظ کے معنی قرآن میں کہیں نہیں جن کی مخالفت کا الزام اس پر لگایا جائے۔ غرض یہ بات قابل تسلیم ہے کہ جو معنی قرآن کی تفاسیر میں مذکور ہیں وہی ایمان لانے کے قابل ہیں اور جو معنی اس کے خلاف میں کوئی اپنی طرف سے تراش لے اس کو قبول کر لینا ایسا ہی ہے جیسا کہ ابو منصور نے اپنی جماعت کو سمجھا دیا تھا کہ میتہ وغیرہ کسی کے نام تھے۔ انہیں کی حرمت تھی۔ مردار اور خنزیر کے گوشت سے اس آیت کو کوئی تعلق نہیں وہ سب چیزیں حلال ہیں اور فرقہ منصوریہ کا یہی اعتقاد ہے۔ مسلمانو! اگر تم کو خدا اور رسول کی مراد پر ایمان لانا ہے تو اپنے اسلاف کی تفسیروں کو اپنا مقتداء بنا کر رکھو ورنہ ابو منصور کی طرح جس کا جو جی چاہے گا کہہ کر گمراہ کر دے گا اور تم کچھ نہ سمجھ سکو گے کہ ہم کون سی راہ چل رہے ہیں۔
یہاں یہ بھی سمجھنے کے لائق ہے کہ جو شخص چند آیتوں میں کسی غرض ذاتی کی وجہ سے تصرف کر کے ان کے معنی بدل ڈالے اور دوسری آیتوں کے ساتھ کوئی غرض متعلق نہ ہونے کی وجہ
٢٠
سے ان میں تصرف نہ کرے تو وہ اتفاقی سمجھا جائے گا۔ کیونکہ چند آیتوں کے معنی بدل دینا اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ اس کی طبیعت میں بے باکی اور جرات ہے۔ جب کبھی کسی آیت میں تصرف کرنے کی ضرورت ہوگی تو فوراً تصرف کرے گا۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ عدم تصرف بھی تصرف ہی کے حکم میں ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے کہ چند منافق باوجود حکم کے آنحضرت ﷺ کی ہمراہی میں نہ نکلے۔ ان کی نسبت حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ آئندہ ہمراہی کی درخواست بھی کریں تو فرما دیجئے کہ تم لوگ میرے ساتھ ہر گز نہ نکلو گے۔" فان رجعک الله الى طائفة منهم فاستاذنوك للخروج فقل لن تخرجوا معى ابداً (توبہ:٨٣) "وجہ اس کی یہی ہے کہ جب ایک بار ان کی بے باکی معلوم ہوگئی تو ہمیشہ کے لئے ان کا عدم امتثال ثابت ہو گیا۔ اب وہ کتنا ہی کہیں کہ ہم ہمراہ رکاب چلنے کو حاضر ہیں۔ ہرگز اعتبار کے لائق نہیں ہو سکتے۔ صدیق اکبرؓ کی خلافت میں بعض لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ حالانکہ نماز روزہ وغیرہ احکام شرعیہ کے قائل اور عامل تھے۔ مگر ان کا کچھ اعتبار نہ کیا اور صاف ان کے ارتداد کا حکم دے دیا۔
مرزا قادیانی نے صرف اپنی عیسویت کی غرض سے کئی ایک آیتوں کے معنی بدل دیئے۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ معلوم ہوگا تو اب ان کی وہ تفسیر کیونکر قابل اعتبار ہو سکتی ہے۔ جس کی نسبت لکھتے ہیں کہ بلاشبہ کتاب الٰہی کے لئے ضرور ہے کہ اس کی ایک نئی اور صحیح تفسیر کی جائے اور لکھتے ہیں کہ کتاب الٰہی کی غلط تفسیروں نے مولویوں کو خراب کیا ہے۔ اس نئی تفسیر میں احادیث واقوال صحابہ وغیرہم سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اس لئے کہ اگر یہ پرانی چیزیں بھی اس میں مذکور ہوں تو جدت پسند طبائع اس کو قبول نہ کریں گے اور پھر وہ نئی ہی کیا ہوئی اس سے ظاہر ہے کہ وہ تفسیر صرف ان کی رائے سے ہوگی۔ جس کی ممانعت ہے اور مرزا قادیانی بھی تفسیر بالرائے کو کفر بتاتے ہیں اور اگر تھوڑے احادیث واقوال لکھے جائیں اور تھوڑے نہ لکھے جائیں تو وہ ترجیح بلا مرجح ہوگی۔ پھر مرجح یہ ہوگا کہ مرزا قادیانی اپنی اغراض کو پوری کرنے کے لئے جن احادیث واقوال کو مناسب سمجھیں گے ذکر کریں گے اور جن کو مخالف سمجھیں گے ان کو عقل کے خلاف قرار دے کر رد کر دیں گے اور آیت کو تاویل کر کے اپنی طرف کھینچ لیں گے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ کلام الٰہی مرزا قادیانی کی غرض کے پیچھے پیچھے رہے۔ نعوذ باللہ من ذلک یہ نئی تفسیر جو اکثر احادیث و آثار کے خلاف میں ہوگی۔ مسلمانوں کے کس کام آسکتی ہے۔ اس کا تو منشا یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے نبی کریم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے آیات کی تفسیر کی ہے وہ غلط ہے۔ اس لئے اس
٢١
نئی تفسیر کی ضرورت ہوئی۔ پھر کیا مسلمان لوگ یہ مان لیں گے کہ اپنے نبی کی بات غلط ہے اور اگر مان لیں گے تو کیا پھر یہ دعویٰ بھی کریں گے کہ ہم امت محمدیہ میں ہیں۔ میری رائے میں کوئی مسلمان کتنا ہی گناہ گار ہو اتنا بھی ضعیف الاعتقاد نہ ہوگا۔
یہ بات پوشیدہ نہیں کہ جو لوگ احادیث و آثار کو ساقط الاعتبار کر کے صرف قرآن پر اپنے دعاوی کا مدار رکھتے ہیں اور اس کے معنی جو احادیث اور آثار سے ثابت ہیں بدل دیا کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ۔ " يريدون ان يبدلوا كلام الله (الفتح:١٥)“ یعنی وہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں اور جب قرآن ہی بدل دیا جائے اور احادیث متروک ہو جائیں تو ظاہر ہے کہ دین ہی بدل دیا گیا۔ کیونکہ دین وہی ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہوا تھا۔ ایسے لوگوں کی شان میں حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ "افغير دين الله يبغون (آل عمران:٨٣)“ یعنی کیا اللہ کے دین کے سوا کوئی دوسرا دین چاہتے ہیں وہ اور دوسرے دین کی خواہش کرنے والوں کی نسبت ارشاد ہوتا ہے۔ ” من يبتغ غير الاسلام ديناً فلن يقبل منه وهو في الآخرة من الخاسرين . كيف يهدي الله قوماً كفروا بعد ايمانهم وشهدوا ان الرسول حق وجاء هم البينات والله لا يهدي القوم الظالمين اولئك جزاؤهم ان عليهم لعنة الله والملئكة والناس اجمعين خالدين فيها لا يخفف عنهم العذاب ولاهم ينظرون (آل عمران : ٨٥ تا ٨٨)“ جو کوئی سوائے اسلام کے اور دین چاہے سو اس سے ہرگز قبول نہ ہوگا اور وہ لوگ آخرت میں نقصان پائیں گے۔ کیونکر ہدایت کرے گا اللہ ایسے لوگوں کو جو منکر ہو گئے۔ ایمان لا کر اور گواہی دی کہ رسول سچا ہے اور پہنچ چکیں ان کو نشانیاں اور اللہ ہدایت نہیں کرتا بے انصاف لوگوں کو ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی۔ پڑے رہیں گے اس میں ہلکا نہ ہوگا ان پر عذاب اور نہ ان کو مہلت ملے گی ۔
اس آیہ شریفہ میں سزائیں خاص ان لوگوں کی ہیں جو مسلمان کہلا کر دوسرا دین اختیار کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے برحق ہونے کی بھی گواہی دیتے ہیں۔ یہ بات برابر ان لوگوں پر صادق آتی ہے کہ قرآن کے معنی اپنی طرف سے بنا کر نیا دین نکالتے ہیں۔ الحاصل ادنیٰ تامل سے یہ بات معلوم ہو سکتی ہے کہ کتب تفاسیر کو چھوڑنے میں بڑی بڑی مصیبتوں کا سامنا ہے۔ صرف الدین النصیحۃ کے لحاظ سے یہ کہنے کی ضرورت ہوئی ۔ وما علينا الا البلاغ !
پہلا حملہ حدیث وتفسیر ہی پر تھا۔ جتنے ملاحدہ گذرے ہیں سب کا حملہ تفاسیر پر ہوا کیا
٢٢
کیونکہ ہر ایک مسئلہ ان کتابوں میں مختلف روایات سے وارد ہونے کی وجہ سے ایسا مصرح اور مفصل ہو جاتا ہے کہ کسی کو کوئی بات بتانے کا موقع نہیں مل سکتا۔ بخلاف اس کے ان کو چھوڑ کر صرف قرآن سے تمسک ہونے لگے تو ہر ایک کو تاویلات کی خوب گنجائش مل جاتی ہے۔ اسی وجہ سے نمازوں کی تعیین اور تعداد رکعات وغیرہ میں کمی زیادتی کی گنجائش ان لوگوں کو مل گئی تھی۔ اگر احادیث و تفاسیر پر ان کے اتباع کا اعتماد ہوتا تو اس کا موقع ہی نہ ملتا۔
حق تعالیٰ نے قرآن میں جو کچھ بیان فرمایا ہے گو مفصل ہے۔ مگر پھر بھی سب میں ایک قسم کا اجمال ہے۔ جس کی تفصیل آنحضرت ﷺ نے کی ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی اور کل امور قرآن شریف میں بالتفصیل بیان کئے جاتے تو ”ما اتاکم الرسول فخذوہ (الحشر:٧)“ یعنی جو کچھ رسول تم کو دیں اس کو لو فرمانے کی ضرورت ہی نہ رہتی۔ اس سے ظاہر ہے کہ قرآن نے حدیث کی جگہ چھوڑ رکھی ہے۔ چنانچہ امام سیوطیؒ نے درمنثور میں روایت کی ہے۔ ”واخرج ابن ابی حاتم من طریق مالک ابن انس عن ربیعة قال ان اللہ تبارک وتعالیٰ انزل الکتاب وترک فیہ موضع للسنة “یعنی حق تعالیٰ نے قرآن تو نازل فرمایا مگر حدیث کی جگہ چھوڑ رکھی ہے۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ جو لوگ حدیث و تفسیر سے مخالفت کرنا چاہتے ہیں ان کا مقصود یہی ہوتا ہے کہ آیات قرآنیہ کو ان کے معنی سے ہٹا کر دوسرے معنی پر منطبق کر دیں۔ اس کا نام الحاد ہے۔ کیونکہ معنی الحاد کے لغت میں مائل ہونے اور مائل کرنے اور حق سے عدول کرنے کے ہیں۔ جیسا کہ (لسان العرب ج١٢ ص ١٤٧) وغیرہ میں مصرح ہے اور امام سیوطیؒ نے درمنثور میں روایت کی ہے۔ ”اخرج ابن ابی حاتم عن ابن عباسؓ فی قولہ تعالیٰ ان الذین یلحدون فی آیاتنا قال ہو ان یوضع الکلام علی غیر موضع “یعنی ابن عباسؓ ان الذین یلحدون کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ الحاد کے معنی یہ ہیں کہ کلام کے اصلی معنی چھوڑ کر دوسرے معنی لئے جائیں اور نیز درمنثور میں ہے۔ ”واخرج احمدؒ فی الزھد عن عمر بن الخطابؓ قال ان ھذا القرآن کلام اللہ فضعوہ علی مواضعہ ولا تتبعوا فیہ اھواءکم “ یعنی یہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اس کو اس کے مواضع اور معانی پر رہنے دو اور اپنی خواہشوں کو اس میں دخل مت دو۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے معنی لینے میں اصل معنی کی تکذیب ہو جاتی ہے۔ چنانچہ درمنثور میں ہے ”واخرج عبدالرزاق وعبد بن حمید عن قتادةؒ قال الالحاد التکذیب “ اب دیکھئے کہ حق تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں فرماتا ہے۔ ”یحی الموتی
٢٤٣
باذن الله“ لغت میں احیاء کے معنی زندہ کرنے کے ہیں اور احادیث و آثار سے بھی وہی معنی ثابت ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مسمریزم سے قریب الموت بیماروں کو حرکت دیتے تھے۔ صرف یہ ایک ہی نہیں ہر جگہ وہ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ الغرض ان تمام روایات و آیات سے ثابت ہے کہ ایسے معنی آیہ شریفہ کے قرار دینا الحاد اور تکذیب قرآن ہے۔ جس کی نسبت حق تعالیٰ فرماتا ہے ۔” ان الذین یلحدون فی آیاتنا لا یخفون علینا افمن یلقی فی النار خیر ام من یاتی آمنا یوم القیمۃ (حم السجدۃ:٤٠)“ ﴿جو الحاد کرتے ہیں ہماری آیتوں میں وہ ہم سے چھپ نہیں سکتے۔ کیا جو ڈالا جائے گا دوزخ میں بہتر ہے یا وہ جو آئے گا امن سے قیامت کے دن۔﴾
یعنی الحاد کرنے والے خدائے تعالیٰ سے چھپ نہیں سکتے وہ قیامت کے روز دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ ہم صرف بلحاظ خیر خواہی کے آیات و احادیث کو پیش کر رہے ہیں۔ اس پر بھی اگر توجہ نہ فرمائیں تو مجبوری ہے۔ وما علینا الا البلاغ !
حق تعالیٰ فرماتا ہے۔” ومن اظلم ممن ذکر بآیات ربہ فاعرض عنھا ان من المجرمین منتقمون (السجدۃ:٢٢)“ ﴿اس سے زیادہ کون ظالم ہے جس کو آیات اس رب کی یاد دلائی جائیں تو ان سے منہ پھیر لیتا ہے۔ ہم گناہ گاروں سے بدلہ لینے والے ہیں۔﴾
الحاصل آیات قرآنیہ کے نئے معنی تراشنا ایک قسم کی تحریف وتبدیل ہے۔ جس کی نسبت سخت وعیدیں وارد ہیں اور اس تحریف کی حفاظت صرف کتب تفسیر سے متعلق ہے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی بھی (براہین احمدیہ ص١١٠ حاشیہ در حاشیہ نمبر٩، خزائن ج١ ص١٠٢ ملخص) میں لکھتے ہیں کہ ”قرآن شریف کی تعلیم کا محرف ومبدل ہونا اس لئے محال ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا حافظ ہے لاکھوں مسلمان اس کے حافظ ہیں ہزارہا اس کی تفسیریں ہیں ۔“
مرزا قادیانی کی تدین وانصاف سے توقع ہے کہ ہرگز اعراض نہ فرمائیں گے۔ اہل بصیرت پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ جو لوگ آیات قرآنی میں الحاد کرتے ہیں ان کی غرض یہی ہوتی ہے کہ جھگڑا کر کے اپنے تراشے ہوئے معنی کو ثابت کریں اور معنی حقیقی کو باطل کردیں۔ یہ کس قدر دیانت کے خلاف ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔” و جادلوا بالباطل لیدحضوا بہ الحق فاخذتھم فکیف کان عقاب (مؤمن:٥) “ ﴿اور مجادلہ کیا انہوں نے باطل کے ساتھ تاکہ ناچیز کردیں۔ حق کو پھر میں نے پکڑ لیا ان کو تو میرا عذاب کیسا تھا۔﴾
اور (درمنثور ج٥ ص٣٤٦) میں امام سیوطیؒ نے یہ روایت نقل کی ہے۔” عمن ابی
٢٤٢
ھریرة قال قال رسول الله ﷺ ان جدالا فی القرآن کفر“ یعنی قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ حق تعالیٰ اس بلا سے سب مسلمانوں کو بچاوے اور پورے قرآن پر ایمان نصیب کرے۔
اب مرزا قادیانی کے دلائل سنئے جو اپنی رسالت وعیسویت پر قائم کرتے ہیں۔ یہ امر کسی مسلمان پر پوشیدہ نہیں کہ رسالت اور نبوت کا درجہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک تمام مدارج سے اعلیٰ اور ارفع ہے اور جن بندگانِ خاص کو حق تعالیٰ نے اس خدمت کے لئے انتخاب فرمایا ہے ان کو اپنے فضل وکرم سے گناہوں سے محفوظ رکھ کر خلق میں ایسا نیک نام اور نیک رویہ رکھا کہ کوئی ان کو دیکھنے کے بعد کسی قسم کے رزائل کا الزام ان پر نہ لگا سکا۔ جو لوگوں کی نگاہ میں ان کو ذلیل وخفیف کرنے والے ہوں۔ مثلاً یہ کسی نبی کی نسبت الزام نہیں لگایا گیا کہ دغا باز جھوٹا، بدمعاش، مال مردم خوار وغیرہ ہے۔ یوں تو جتنے رزائل اور بد نما افعال ہیں۔ سب سے انبیاء معصوم اور محفوظ تھے۔ لیکن زیادہ تر اہتمام اس کا رہا کہ مال مردم خوار ہونے کا الزام نہ آنے پائے۔ کیونکہ یہ ایسی بری صفت ہے کہ بالطبع آدمی کو اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور ایسے آدمی کو کوئی اپنے پاس آنے نہیں دیتا۔ اسی وجہ سے حق تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم ﷺ پر اور آپ کے اہل بیت پر صدقہ اور زکوٰۃ پہلے ہی حرام فرما دیا۔ اس کے بعد عام حکم ہو گیا کہ ہر مسلمان جس کے پاس تھوڑا بھی مال ہو وہ صدقہ اور ضرورت سے کسی قدر زائد ہو تو وہ زکوٰۃ دیا کرے۔ ایسی حالت میں حضرت کو لوگوں کا مال عمومی مصالح کے لئے لینے میں کسی قسم کا اندیشہ نہ رہا۔ اسی وجہ سے خود بنفس نفیس صدقے مانگ لیتے اور فقراء اہل اسلام ویتامیٰ وغیرہ کے مصالح میں تقسیم فرما دیتے اور کسی کو اس وہم کا موقع ہی نہ ملتا کہ وہ رقم حضرت اپنے ذاتی اغراض میں صرف کرنے کے لئے وصول فرماتے ہوں گے اور حالت ظاہری بھی اسی کو ثابت کرتی تھی کہ حضرت کو اس مال سے کوئی ذاتی تعلق نہیں۔ کیونکہ فقر وفاقہ کی یہ کیفیت رہا کرتی تھی کہ دو دو مہینے چولہا نہیں سلگتا تھا۔ صرف چھوہاروں کے چند دانوں پر اوقات بسری ہوتی اور صدقات وغیرہ کا جس قدر مال آتا فقرا وغیرہ میں صرف ہو جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ وفات شریف کے وقت کسی قسم کا مال واسباب ومکان عالیشان ورثا کے لئے نہیں چھوڑا۔ ان تمام مشاہدات کے بعد کیا ممکن ہے کہ کسی قسم کی بدگمانی ہوسکے ہرگز نہیں۔ اگر مرزا قادیانی کو نبوت اور رسالت خدا کی طرف سے ملتی تو خدائے تعالیٰ ان کو بھی بد نما الزاموں سے محفوظ رکھتا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ جیسا کہ ان کی کارروائیوں سے ظاہر ہے۔
مولوی الہی بخش صاحب جو مرزا قادیانی کے قدیم دوست اور سالہا سال ان کے رفیق
٢٥
رہے۔ جن کو خود مرزا قادیانی نے متقی اور پرہیز گار فرمایا ہے۔ وہ اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں مرزا قادیانی کا حال لکھتے ہیں کہ ”وہ کیوڑا بید مشک کی بیسیوں بوتلیں منگایا کریں۔ مسافت دور دراز سے بصرف زرکثیر منگوا کر استعمال فرماتے ہیں۔ خس کی ٹٹیاں لگی رہتی ہیں اور برف ہر وقت مہیا رہتی ہے۔ مرغی انڈا، مشک، پلاؤ، زردہ، پشمینہ قالین لحاف وغیرہ میں مستغرق اور منہمک ہیں اور بادشاہوں کی طرح جائیداد و زیور، باغات، محل مکانات، مقبرے، منار گھنٹہ گھر (کلاک ٹاور) اور منار روشنی (لائٹ ٹاور) وغیرہ غریبوں کے مال سے ہزار ہا روپیہ خرچ کر کے اپنی تفریح اور یادگار بناتے ہیں۔ صرف ایک یادگاری منارۃ المسیح جس میں گھڑی جنگل میں وقت بتانے کو اور لالٹین روشنی بنانے کو لگائی جائے گی۔ تعمیر کرنے کے واسطے دس ہزار روپے چندے کے لئے اشتہارات شائع کئے گئے۔ یہ ترفہ اور فارغ البالی اور عیش وعشرت عموماً امرا کو بھی نصیب نہیں یہ سب عقلی نبوت کا طفیل ہے۔ جس کا حال ہم نے ابتدائے کتاب میں لکھا ہے۔“
جب عقلی معجزات مرزا قادیانی صد ہا تراشتے ہیں تو غور کیا جائے کہ خاص مال فراہم کرنے کی تدابیر کس قدر سوجھتی ہوں گی۔
(عصائے موسیٰ ص ٣٢٣ ملخص) میں لکھا ہے کہ ”مرزا قادیانی تصویریں اپنی اور اپنے اہل بیت کی اور خاص جماعت کی اقسام اقسام کی اترواتے ہیں اور اخباروں میں ان کی اشاعت اور خریداری کی ترغیب و تحریص ہوا کرتی ہے۔ جس سے لاکھوں کی آمدنی متصور ہے۔“ اس کے سوا ماہواری چندے اقسام کے مقرر ہیں۔ جن کا کچھ حال اوپر معلوم ہوا۔ اس کے سوا صاحب عصائے موسیٰ نے اپنے ذاتی معلومات جو اس میں لکھے ہیں وہ بھی قابل دید ہیں۔ (عصائے موسیٰ ص ٤٢٦) میں لکھا ہے کہ ”مرزا قادیانی غور فرمائیں کہ و اذاؤتمن خان میں جو روپیہ سراج منیر کا چودہ سو روپے کی لاگت والی براہین کی قیمت میں آیا اس کو دوسری جگہ اپنی خانگی ونفسانی حاجات میں خرچ کرنا داخل ہے یا نہ۔“
رسالہ سراج المنیر کے چندہ دینے والے و براہین کے خریدار کئی تو مر گئے اور بہت باقی بھی ہیں جو حسب وعدہ ہائے مرزا قادیانی ہر دو کتب کے منتظر و امیدوار ہیں۔ نیز وہ روپیہ جو مرزا قادیانی کے حساب میں آپ کو کہہ کر بایں غرض جمع کیا گیا تھا کہ جب رسالہ موعودہ برائے مسٹر الگزانڈر وب امریکہ والا تیار ہوگا تو اس روپیہ سے ترجمہ کرایا جائے گا۔ سو وہ رسالہ تو وعدہ وعید میں نابود ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی وہ روپیہ بھی خورد برد ہوا۔ پھر جو روپیہ مسجد کے واسطے جمع ہوا وہ کہاں
لے گا کراہ مونث : لوہے یا تانبے کا برتن جس میں پانی گرم کرتے ہیں۔
فی نے متقی اور پرہیز گار فرمایا ہے۔ وہ اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں ہا کہ ” وہ گھوڑا بگی وملک کی سی وزنی گاڑے رکھیں۔ مسافت دور دراز سے ے فرماتے ہیں۔ جس کی ٹٹیاں لگی رہتی ہیں اور برف ہر وقت مہیا رہتی ہ، زردہ، پشمینہ قالین لحاف وغیرہ میں مستغرق اور منہمک ہیں اور زیور، باغات، محل مکانات، مقبرے، منار، گھنٹہ گھر (کلاک ٹاور) اور غریبوں کے مال سے ہزارہا روپیہ خرچ کر کے اپنی تفریح اور یادگار ری منارۃ المسیح جس میں گھڑی جنگل میں وقت بتانے کو اور لالٹین تعمیر کرنے کے واسطے دس ہزار روپے چندے کے لئے اشتہارات مرغابی اور عیش وعشرت عموماً امرا کو بھی نصیب نہیں یہ سب عقلی ہم نے ابتدائے کتاب میں لکھا ہے ۔“ مرزا قادیانی صدہا تراشتے ہیں تو غور کیا جائے کہ خاص مال فراہم ہوں گی۔ ٤٣٤ ملخص) میں لکھا ہے کہ ”مرزا قادیانی تصویریں اپنی اور اپنے اہل وعیال کی اترواتے ہیں اور اخباروں میں ان کی اشاعت اور ا کرتی ہے۔ جس سے لاکھوں کی آمدنی متصور ہے۔“ اس کے سوا ہیں۔ جن کا کچھ حال اوپر معلوم ہوا۔ اس کے سوا صاحب عصائے حواشی میں لکھے ہیں وہ بھی قابل دید ہیں۔ (عصائے موسیٰ ص ٤٢٦) فرمائیں کہ واذا اؤتمن خان میں جو روپیہ سراج منیر کا چودہ سو نت میں آیا اس کو دوسری جگہ اپنی خانگی ونفسانی حاجات میں خرچ
ہ چندہ دینے والے و براہین کے خریدار کئی تو مر گئے اور بہت باقی رزا قادیانی ہر دو کتب کے منتظر وامیدوار ہیں۔ نیز وہ روپیہ جو یہ کہہ کر بایں غرض جمع کیا گیا تھا کہ جب رسالہ موعودہ برائے مسٹر تو اس روپیہ سے ترجمہ کرایا جائے گا۔ سو وہ رسالہ تو وعدہ وعید میں وپیہ بھی خورد برد ہوا۔ پھر جو روپیہ مسجد کے واسطے جمع ہوا وہ کہاں یا تانبے کا ...... جس میں پانی گرم کرتے ہیں۔ ٢٦
گیا۔ براہین کی نسبت شاید یہ عذر پیش کریں کہ ہم نے واپسی روپیہ کا اشتہار دے دیا ہے۔ اس لئے بری الذمہ ہو گئے۔ لیکن اس میں یہ غرض ہے کہ اولاً تو پہلے سے ایسی کوئی شرط نہ تھی۔ ثانیاً وہ اشتہار سب روپیہ دہندگان کے پاس کہاں بھیجا گیا ہے۔ فقط اپنے مریدین میں ہی اس کی اشاعت کافی سمجھی گئی تھی۔ ثالثاً اس اشتہار میں بھی ایسا فن حکمت وچالاکی کی کہ بے چارے مظلوم شرم ولحاظ خلق سے مطالبہ روپے کی جرات نہ کریں اور اگر کریں بھی تو مرزا قادیانی کے کسی معتبر کا سرٹیفیکٹ پیش کریں۔ ایک آشنا نے مجھ سے پوچھا کہ بقیہ براہین خدا جانے کب آئے۔ میں نے جواب دیا کہ اس کی بظاہر کوئی امید نہیں کیونکہ مرزا قادیانی اس کی قیمت واپس کرنے کا اشتہار دے چکے ہیں۔ وہ بولا کہ ہم کو تو خبر ہی نہیں ہوئی بھلا اب روپیہ مل جائے گا۔ میں نے کہا ہاں اگر آپ روپیہ دینے کا سرٹیفیکٹ دے دیں تب اس نے کہا کہ جس کی معرفت ہم نے روپیہ دے کر کتاب منگوائی ہے۔ وہ تو مر گیا فقط اسی پر دوسرے بے چارے خریداروں کا قیاس کر لینا چاہئے۔ پھر جن لوگوں نے براہین کے واسطے سینکڑوں روپے دیئے تھے وہ اشتہار ان کے پاس بھی نہیں پہنچا۔ اگر مرزا قادیانی کی نیت بخیر ہوتی تو جیسا کہ عاجز کو ایک دفعہ فرمایا تھا کہ ہم نے روپیہ دہندگان کے نام روپیہ کی کتاب کھولی ہے تو اس کو قائم رکھتے اور اس کے موافق سب کو روپیہ واپس دے دیتے۔ اگر کوئی لینے سے انکار کرتا تو پھر آپ کا مال تھا۔ رہا اول روپیہ دہندگان و خریداران کو حسب ضابطہ رسید بھی دی ہوتی تو اس کو پیش کر کے روپیہ وصول کر سکتے۔ یہ حق العباد تھا۔ اس بارے میں جس قدر سعی واہتمام ہوتا ثواب و عبادت میں داخل تھا۔ خیر یہ تو براہین کے روپیہ کا حال ہوا۔ باقی سراج منیر ومسٹر الیگزنڈر ویب والے روپیہ کا کیا عذر ہے۔ علی ہذا القیاس اور بہت رقوم جو کہیں کی کہیں خرچ ہوئیں یہ سب کیوں اذا اؤتمن خان میں داخل نہیں اذا عاہد غدر میں جو وعدے نسبت براہین احمدیہ جلد اوّل اعلان سرورق جلد اوّل ودوم میں ہیں کہ ضخامت سو جز سے زیادہ ہوگی۔ قیمت اوّل پانچ پھر دس پچیس اور اقرار کہ اس کی طبع میں آئندہ کبھی توقف نہیں ہوگا۔ جلد سوم کے سرورق پر فرمایا کہ اب کتاب تین سو جز تک پہنچ گئی ہے اور اخیر صفحے پر اس کی قیمت ایک سو روپیہ قرار دے کر فرمایا کہ اگر اس کے عوض ...... تا ...... روپیہ بھی مسلمان پیشگی نہ دیں تو پھر گویا کام کے انجام سے خود مانع ہوں گے۔ (اس فقرہ کی تحریر سے مرزا قادیانی کے اپنے رئیس اعظم صاحب جائیداد ہونے اور ہزارہا روپیوں کے اشتہارات دینے کی حقیقت وماہیت بھی خوب ظاہر ہوتی ہے کہ جو کچھ ملے پیشگی ملے) جلد چہارم میں آخر کار فرما دیا کہ اب اس کا متولی ظاہر وباطناً رب العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ ومقدار تک اس کو پہنچا دے اور سچ تو یہ ہے کہ جس ٢٧
قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام ظاہر کئے ہیں اتمام حجت کے لئے کافی ہیں۔ زندگی کا اعتبار نہیں وغیرہ ۔ افسوس راستی موجب رضائے خداست پر جس کا عاجز کو الہاماً ارشاد ہوا ہے خیال کر کے یہ نہ فرمایا کہ مصالحہ اندوختہ ختم ہو چکا ہے اور جو ہم نے تین سو دلائل کا قید تحریر میں آکر تیار ہونا لکھا تھا غلط تھا۔ اس لئے آئندہ تولیت سے دست بردار ہوتے ہیں اور روپیہ وصول شدہ حق العباد کی عباد اللہ سے معافی چاہتے ہیں۔ پھر وعدہ رسالہ سراج منیر جس کا چودہ سو روپیہ کے صرف سے طبع کا اعلان ١٣٠٤ھ سرورق شحنہ حق پر ہوا تھا۔ جس کے لئے کئی مقامات سے خاطر خواہ چندہ آ گیا تھا اور جس کی نسبت خاکسار نے جب مرزا قادیانی انبالہ میں تشریف رکھتے تھے بذریعہ خط وعدہ خلافی کی شکایت کی تھی تو مرزا قادیانی اس پر درہم برہم ہو کر خفا ہوئے تھے۔ یہ ١٨٨٦ء کا ذکر ہے۔ جب سرمہ چشم آریہ چھپا تھا اور اس کے سرورق پر اس کی قیمت ...... عام سے اور خاص ذی استطاعت سے جو بطور امداد دیں اس شرط وعدہ پر مقرر کی کہ سراج منیر اور براہین کے لئے اس قسم سے سرمایہ جمع ہو کر اس کے بعد رسالہ سراج منیر پھر اس کے بعد پنجم حصہ براہین احمدیہ چھپنا شروع ہوگا۔ پھر وعدہ اجزائے رسالہ ماہواری قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ آخر جون ١٨٨٧ء کی بیس تاریخ سے ماہ بماہ نکلا کرے گا۔ نیز رسالہ تجدید دین یا حجۃ القرآن پھر ٢٨؍ مئی ١٨٩٢ء جس کو سات برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ (نشان آسمانی ص ٤٢، ٤٣) میں ضروری گزارش با ہمت دوستوں کی خدمت میں امداد کے لئے کی اور اس کی سرخی ہاں اے مرداں بکوشید و برائے حق بجوشید لکھ کر فرمایا کہ پختہ ارادہ و خواہش ہے کہ اس رسالہ (نشان آسمانی و شہادت الملہمین) کے چھپنے کے بعد رسالہ دافع الوساوس طبع کرا کر شائع کیا جائے۔ سو آئینہ کمالات کا دوسرا نام دافع الوساوس رکھ کر مرزا قادیانی اس سے بری الذمہ ہو گئے اور بعد اس کے بلا توقف رسالہ حیات النبی وممات المسیح جو یورپ وامریکہ کے ملکوں میں بھی بھیجا جائے گا شائع اور اس کے بعد بلا توقف حصہ پنجم براہین احمدیہ جس کا دوسرا نام ضرورت قرآن رکھا گیا ہے۔ ایک مستقل کتاب کے طور پر (یہ مطلب ہے کہ اس کی قیمت علیحدہ ہوگی۔ براہین کی قیمت دینے والے اس پر اپنا حق قائم نہ سمجھیں) چھپنا شروع ہو۔ لیکن اس سلسلے کے قائم رکھنے کے لئے یہ احسن انتظام خیال کرتا ہوں کہ ہر ایک رسالہ جو میری طرف سے شائع ہو میرے ذی مقدرت دوست اس کی خریداری سے مجھ کو بدل و جان مدد دیں۔ پھر فرمایا اگر میری جماعت میں ایسے احباب ہوں جو بوجہ املاک واموال وزیورات وغیرہ کے زکوٰۃ فرض ہو تو ان کو سمجھنا چاہئے کہ اس وقت دین اسلام جیسا غریب اور یتیم اور بے کس کوئی نہیں اور زکوٰۃ دینے میں جس قدر تہدید شرع وارد ہے وہ بھی ظاہر ہے اور عنقریب ہے جو منکر زکوٰۃ ٢٨
کافر ہو جائے۔ پس فرض ہے جو اسی راہ میں اعانت اسلام میں زکوٰۃ دی جائے۔ زکوٰۃ میں کتابیں خریدی جائیں اور مفت تقسیم کی جائیں اور میری تالیفات بجز ان رسائل کے اور بھی ہیں جو نہایت مفید ہیں۔ جیسے رسالہ احکام القرآن اربعین فی علامات المقربین اور سراج منیر اور تفسیر کتاب عزیز۔ لیکن چونکہ کتاب براہین احمدیہ کا کام از بس ضروری ہے۔ اس لئے بشرط فرصت کوشش کی جائے گی کہ یہ رسائل بھی درمیان طبع ہو کر شائع ہو جائیں۔ آئندہ ہر ایک امر اللہ جل شانہ کی اختیار میں ہے۔
کیفیت جلسہ ٢٧/ دسمبر ١٨٩٢ء کے ص ٢٤ پر درخواست چندہ (قابل توجہ احباب) میں کہا کہ تین قسم کی جمعیت کی ہمیں سخت ضرورت ہے۔ جس پر ہمارے کام اشاعت حقانی معارف دین کا سارا مدار ہے۔ اول! دو پریس، دوم! ایک خوش خط کاپی نویس، سوم! کاغذات۔ ان تینوں مصارف کے لئے ٢٥٠ ماہواری کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ہر ایک دوست بہت جلد بلا توقف اس میں شریک ہو اور چندہ ہمیشہ ماہواری تاریخ مقررہ پر پہنچ جانا چاہئے۔ یہ تجویز ہوئی کہ بقیہ براہین اور ایک اخبار جاری ہو اور آئندہ حسب ضرورت وقتاً فوقتاً رسائل نکلتے رہیں۔ اب مرزا قادیانی نے عذر داری ٹیکس میں سالانہ آمدنی کا جس کے ...... سے کچھ زیادہ ماہوار ہوئی اقبال کیا ہے اور اوسط سالانہ آمدنی جو چار ہزار قبول کی ہے۔ اس کی ماہواری اوسط بھی ٣٣٣ سے کچھ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کی اپنی زمین و باغ وغیرہ کی آمدنی علیحدہ ہے، پریس بھی کئی موجود ہیں۔...... دوسری جو کتاب نکلتی ہے اس کی قیمت بھی اس قدر بڑھ کر ہوتی ہے کہ لاگت سے تگنا چوگنا منافع ہو۔ اب فرمائیں کہ یہ سب وعدے اس وعید اذا عاہد خلف میں کیوں داخل نہیں۔
اور اسی (عصائے موسیٰ ص ١٦٢) میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے طرح طرح کے اقرار مدار وعدے کر کے روپے قیمت کتب و قبولیت دعائے عطائے فرزند وغیرہ کے نام واعتبار پر پیشگی حاصل کر کے اپنے قبضے وتصرف میں لے آیا اور پھر وعدہ وغیرہ کو بالائے طاق رکھ کر پیچھے مریدین سے مشتہر کرادی کہ امام وقت و خلیفۃ اللہ کو بنیوں، بقالوں، تنگ دلوں، زر پرستوں کے حساب کتاب سے کیا کام ...... روپیہ حاصل کرنے کی یہ تدبیریں ہیں۔ دعا کی اجرت تک لی جاتی ہے اور زکوٰۃ جو حق فقرا ہے وہ بھی نہیں چھوڑی جاتی اور پیرایہ کس قدر خوش منظر کہ دین اسلام جیسا غریب اور یتیم اور بے کس کوئی نہیں۔ اس کے سوا ان کا جھوٹ کہنا داؤ پیچ، فتنہ انگیزی، خدائے تعالیٰ کی تکذیب اور اس پر افتراء، الحاد انبیاء علیہم السلام کی تنقیص شان اور ان کو ساحر قرار دینا اور ان پر اپنی فضیلت وغیرہ اور عصائے موسیٰ میں متعدد مقامات میں ثابت کئے گئے ہیں۔ جن کا ذکر اس کتاب
٢٩
میں بھی آ گیا ہے یہ امور ایسے ہیں کہ کوئی مسلمان ان کا مرتکب نہیں ہو سکتا اور اگر ہوا تو مسلمان نہیں سمجھا جاتا۔ اب اہل ایمان غور کریں کیا ممکن ہے کہ مرزا قادیانی ان تمام اوصاف کے جامع بھی ہوں اور تقرب الہی اور نبوت اور عیسویت کے ساتھ بھی متصف ہوں۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے تو مسیلمہ کذاب سے آج تک جتنے نبوت کے مدعی گزرے ہیں معاذ اللہ سب پر ایمان لانے کی ضرورت ہوگی۔ حالانکہ کوئی ایماندار اس کا قائل نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کے وہ دلائل جو اپنی نبوت اور عیسویت پر پیش کرتے ہیں ان کی طرف توجہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ رہی۔ مگر سرسری طور پر اگر ذکر کر لئے جائیں تو بے موقع بھی نہیں۔ ایک دلیل یہ ہے کہ کریم بخش نے کہا کہ گلاب شاہ مجذوب نے کہا تھا کہ مسیح لدھیانے میں آکر قرآن میں غلطیاں نکالے گا۔
محمد یعقوب نے کہا کہ عبداللہ صاحب غزنوی نے کہا کہ مرزا قادیانی عظیم الشان کام کے لئے مامور کئے جائیں گے۔
ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ مسیح آسمان سے اترا۔
پیشین گوئیاں، استجابت، فصاحت و بلاغت زبان عربی، عقلی معجزات ان دلائل کا حال اوپر معلوم ہو چکا ہے اعادے کی حاجت نہیں۔
اب مرزا قادیانی کی وہ دلائل پیش کی جاتی ہیں کہ جو مرزا قادیانی نے (ازالۃ الاوہام ص ٧٠٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨١) میں لکھا ہے۔ ایک دلیل یہ ہے جو ابھی معلوم ہوئی کہ کریم بخش نے گواہی دی کہ گلاب شاہ مجذوب نے خبر دی تھی کہ عیسیٰ جوان ہو گیا ہے۔ اب قرآن میں غلطیاں نکالے گا۔ (سبحان اللہ عیسیٰ اور قرآن میں غلطیاں نکالنا)
اور ایک دلیل یہ پیش کرتے ہیں جو (ازالۃ الاوہام ص ٦٩٢، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣ ملخص) میں ہے ”من جملہ ان علامات کے جو اس عاجز کے مسیح موعود ہونے کے بارے میں پائی جاتی ہیں۔ یہ ہے کہ مسیح اس وقت یہودیوں میں آیا تھا کہ جب توریت کا مغز اور بطن یہودیوں کے دلوں پر سے اٹھا لیا گیا تھا اور وہ زمانہ حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد تھا۔ جو مسیح یہودیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا تھا۔ ایسے ہی زمانے میں یہ عاجز آیا کہ جب قرآن کا مغز اور بطن مسلمانوں کے دلوں پر سے اٹھایا گیا ہے اور یہ زمانہ بھی حضرت مثیل موسیٰ کے زمانے سے اسی زمانے کے قریب قریب گزر چکا ہے جو حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کے درمیانی زمانہ تھا۔“
موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کے مابین جو مدت بتلائی جا رہی ہے اس سے غرض یہ ہے کہ موسیٰ سے چودہ سو برس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجنے کی ضرورت ہوئی تھی۔ اسی طرح مثیل موسیٰ یعنی
٣٠
نبی کریمﷺ سے اب تک اسی قدر مدت گذر گئی ہے۔ اس لئے مثیل عیسیٰ بھیجا گیا۔ یعنی خود مرزا قادیانی نے مسلم شریف کی روایت کو قابل اعتبار نہیں سمجھا تھا۔ اس وجہ سے کہ وہ بخاری میں نہیں جیسا کہ ابھی معلوم ہوا اور یہ روایت جو اپنی عیسویت کے استدلال میں پیش کرتے ہیں اس کا پتہ تو کسی موضوعات کی کتاب میں بھی نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو اس کا نام ضرور لکھتے۔ جس سے اتنا تو معلوم ہوتا کہ یہ بات مرزا قادیانی کی بتائی ہوئی نہیں ہے۔ یہ یاد رہے کہ مرزا قادیانی کسی حدیث کی کتاب سے یہ روایت ثابت نہیں کر سکتے اس لئے کہ محققین نے تصریح کی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی وفات سے عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت تک سترہ سو سولہ برس گزرے تھے۔ جیسا کہ تنبیہ الاذکیا فی قصص الانبیاء میں علامہ ظاہر بن صالح جزائری نے لکھا ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی میں اعلیٰ درجے کی جرأت ہے۔ کبھی کسی قسم کا خیال ان کو مانع نہیں ہوتا کہ میں نے مخالفوں کے مقابلے میں کیا کہا تھا اور اب کیا کہہ رہا ہوں اور لوگ کیا کہیں گے۔ یہ بھی مرزا قادیانی کا ایک عقلی معجزہ ہے کہ کوئی دوسرا یہ کام نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس کو ضرور شرم مانع ہو گی۔ جس کو مرزا قادیانی الحیاء یمنع الرزق کا مصداق قرار دیں گے۔ جب تک مرزا قادیانی اپنے اس بیان کو کسی کتاب سے مدلل نہ کریں یہی سمجھا جائے گا کہ انہوں نے اس مدت کو اپنے دل سے گھڑ لیا۔
حاصل ان کی تقریر کا یہ ہوا کہ موسیٰ اور عیسیٰ دونوں مستقل نبی اور ہمارے نبی کریمﷺ اور مرزا دونوں کے مثیل ہیں۔ یعنی مرزا عیسیٰ کے مثیل اور آنحضرتﷺ موسیٰ کے مثیل کیونکہ صاف لفظوں میں حضرت کو موسیٰ کا مثیل کہہ رہے ہیں۔ چونکہ مرزا مثیل ہونے کی وجہ سے اپنے کو ظلی اور مجازی نبی کہتے ہیں۔ اسی قیاس پر آنحضرتﷺ بھی ان کے نزدیک ظلی نبی ہوئے۔ مگر مسلمانوں کا اعتقاد ایسا نہیں وہ بحسب احادیث صحیحہ نبی کریمﷺ کو سید المرسلین سمجھتے ہیں۔ جن میں موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام وغیر ہما سب داخل ہیں۔ احادیث سے ثابت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آرزو اور دعائیں کرتے تھے کہ ہمارے نبی کریمﷺ کی امت میں داخل ہوں۔ چنانچہ امام سیوطیؒ نے خصائص کبریٰ ج ١ ص ٣٠، ٣٣ (میں کئی روایتیں بڑی بڑی نقل کی ہیں۔ چونکہ یہ کتاب چھپ گئی ہے اس لئے صرف محل استدلال نقل کیا جاتا ہے۔”اخرج ابو نعیم عن عبدالرحمن المعافری...... فلما عجب موسی من الخیر الذی اعطاہ اللہ محمد اوامتہ قال یالیتنی من امۃ احمد. واخرج ابو نعیم فی الحلیتہ عن انسؓ قال قال رسول اللہﷺ اوحی اللہ الی موسی نبی بنی اسرائیل انہ من لقینی وہو جاحد
٣١
باحمد ادخلته النار...... قال اجعلنى من امة ذلك النبى وفى رواية ابى هريرة قال يارب فاجعلنى من امة احمد “ اب مرزا قادیانی ہی غور فرمائیں کہ خود موسیٰ علیہ السلام ہمارے نبی ﷺ کے امتی ہونے کی آرزو کرتے تھے تو کسی یہودی کا قول اس کے خلاف میں کیونکر قابل توجہ ہو گا اور آیہ شریفہ ”واذ اخذ الله میثاق النبيين (آل عمران: ٨١)“ سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام گویا آنحضرت ﷺ کے نائب تھے۔ پھر حضرت کو کسی نبی کا مثیل اور ظلی نبی قرار دینا کیسی بے ادبی ہے۔
مسلمانو! مرزا قادیانی نے تمہارے نبی افضل الانبیاء علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کو موسیٰ کا مثیل قرار دیا۔ کیا اب بھی کسی اور مثیل سننے کا انتظار ہے کیا تمہارے اور تمہارے اسلاف کے کان ایسے ناملائم الفاظ سننے کے آشنا تھے۔ کب تک مرزا قادیانی کی ایسی باتیں سنا کرو گے توبہ کرو اگر نجات چاہتے ہو تو ان کی ایک نہ سنو اور اپنے اسلاف کا اتباع کرو۔
مسلمانوں اور یہود کی وجہ شبہ میں جو فرماتے ہیں کہ مغز اور بطن کلام الٰہی کا ان دونوں کے دلوں سے اٹھا لیا گیا ہے اس میں یہ کلام ہے کہ یہود کی شان میں حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”افکلما جاءكم رسول بما لا تهوى انفسكم استكبرتم ففريقاً كذبتم وفريقاً تقتلون (البقرۃ: ٨٧) “ جس سے ظاہر ہے کہ وہ انبیاء کی تکذیب اور ان کو قتل کیا کرتے تھے اور توریت وانجیل سے ثابت ہے کہ انہوں نے بیت المقدس کو ڈھایا اور قربانی کے مقام میں خنزیر ذبح کئے بت خانے آباد کئے اس کے سوا اور بہت سی ان کی خرابیاں ہیں۔ جن کا حال انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ معلوم ہوگا۔ بفضلہ تعالیٰ مسلمانوں میں ان باتوں سے ایک بھی نہیں پائی جاتی۔ مسجدیں آباد بلکہ ہمیشہ نئی نئی بنائی جاتی ہیں۔ حج کی وہی دھوم دھام ہے کہ ہر سال لاکھوں مسلمانوں کا مجمع ہوتا ہے رمضان شریف میں عبادت کی وہی گرم جوشیاں ہیں۔ غرض کہ شعار اسلام بفضلہ تعالیٰ ہندوستان میں بھی قائم ہیں۔ رہا یہ کہ بعض حظوظ نفسانی میں گرفتار اور بدعتوں میں مبتلا ہیں سو ان کی بھی یہ حالت ہے کہ جب قرآن وحدیث سنتے ہیں تو اپنے افعال اور تقصیر پر نادم ہوتے ہیں۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ بعض ایسے بھی ہیں کہ عمر بھر قرآن وحدیث سنتے اور پڑھتے ہیں۔ مگر کسی کی جادو بیانی کے اثر سے ضروریات دین کے اعتقادات سے پھر جاتے ہیں سو وہ لوگ اعتبار کے قابل نہیں۔ ایسے لوگ تو خود نبی کے وقت میں گمراہ اور مخالف ہو جاتے تھے ان کے حسب حال یہ شعر ہے۔
آں ہمہ شد گاؤ خورد از بانگ یک گوسالہ
٣٢
غرض کہ جس طرح یہود نے توریت کو چھوڑ دیا تھا مسلمانوں نے اب تک قرآن کو نہیں چھوڑا۔ البتہ مرزا قادیانی کی تعلیم سے اب اس کی بنیاد پڑ گئی ہے۔ جس کا حال انشاء اللہ تعالیٰ معلوم ہوگا کہ صدہا آیات قیامت اور احیائے اموات وغیرہ ابواب میں جو وارد ہیں ان کا ایمان اس تعلیم سے بعض لوگوں کے دلوں سے اٹھا لیا گیا ہے۔ مثلاً جب یہ مسلم ہو جائے کہ مرتے ہی آدمی ایک سوراخ کی راہ سے جنت میں یا دوزخ میں چلا جاتا ہے اور پھر وہاں سے نہیں نکلتا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں تو قیامت اور حشر اجساد کا خود ابطال ہو گیا۔
قرآن کا مغز اور بطن جو مرزا قادیانی فرماتے ہیں اگر اس سے وہی مراد ہے جو آنحضرت ﷺ نے فرمادیا ہے سو وہ بفضلہ تعالیٰ کتب تفسیر وحدیث میں بتمامہ محفوظ اور موجود ہے۔ مغز اور بطن جو کچھ پوشیدہ اور ادراک سے غائب ہے سب کچھ حضرت نے فرمادیا کیونکہ حضرت کو ان امور میں بخل نہ تھا۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وما ھو علی الغیب بضنین (التکویر:٢٤)“ یعنی آنحضرت ﷺ غیب کی باتیں بیان کرنے میں بخیلی نہیں کیا کرتے اور اشارات قرآنیہ کو جو بزرگان دین نے مجاہدات ومکاشفات کے بعد معلوم کیا ہے وہ بھی تفاسیر اور کتب تصوف میں موجود ہیں۔ غرض مسلمانوں کو ان کے نبی اور پیشوایان دین نے سب سے مستغنی کر دیا ہے۔ کسی کی من گھڑت باتوں سے ان کو کچھ کام نہیں اور اگر مغز وبطن کچھ اور ہے جو مرزا قادیانی پیش کرتے ہیں۔ سو اس کو قرآن سے کچھ تعلق نہیں۔ الحاصل مرزا قادیانی مسلمانوں کو یہودیوں کے برابر کر کے اپنی ضرورت جو بتلا رہے ہیں وہ خلاف واقع ہے۔ بلکہ معاملہ بالعکس کہ یہود کی اکثر صفات مرزا قادیانی میں موجود ہیں۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھائے گئے۔ مرزا قادیانی کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ یہود کا عقیدہ نحن ابناء اللہ ہے۔ مرزا قادیانی بھی اپنے کو خدا کے بیٹے کے برابر کہتے ہیں۔ یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو ساحر کہا تھا۔ مرزا قادیانی بھی یہی کہتے ہیں۔ جس طرح بولس صاحب نے جو یہودیوں کے بادشاہ تھے عیسائیوں کو ان کے قبلہ سے منحرف کر دیا۔ مرزا قادیانی بھی مسلمانوں کو ان کے قبلہ سے منحرف کرنا چاہتے ہیں۔
موسیٰ علیہ السلام کے بعد عیسیٰ علیہ السلام تک بہت سے نبی گزرے ہیں۔ مثلاً یوشع، شمویل، الیاس، الیسع، ارمیا، دانیال، داؤد، سلیمان، اور عزیر علیہم السلام وغیرہ پھر سب کو چھوڑ کر ہمارے نبی ﷺ کو جو مثیل موسیٰ بنا رہے ہیں اس کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوئی۔ اگر بت پرستی موقوف کرا کے توحید کی طرف بلانے میں تشبیہ ہے تو کل انبیاء اسی کام کے لئے تھے۔ اگر نادر معجزات کے
٣٤
لحاظ سے ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات اسی قسم کے تھے اور اگر بنی اسرائیل کی ہدایت کے خیال سے ہے تو داؤد اور سلیمان علیہما السلام نے ان کی بت پرستی بالکل موقوف کرادی تھی۔ غرض کوئی وجہ تخصیص کی معلوم نہ ہو گی۔ سو اس کے تیرہ سو برس کی جوڑ ملانا مقصود ہے۔ مگر افسوس ہے کہ اپنی غرض ذاتی کے واسطے سیدالمرسلین کی کسر شان کی کچھ پروانہ کی۔
اور ایک دلیل (ازالۃ الاوہام ص ٦٩٥، ٦٩٤، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤ تا ٤٧٥ ملخص) میں یہ لکھتے ہیں کہ ”روحانی طور پر عالم کون میں فساد وغیرہ وغیرہ امور ہوں گے۔ تب وہ آدم جس کا دوسرا نام ابن مریم بھی ہے۔ بغیر وسیلہ ہاتھوں کے پیدا کیا جائے گا۔ اسی کی طرف الہام اشارہ کر رہا ہے۔ جو براہین میں درج ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے۔ اردت ان استخلف فخلقت آدم...... ہر منصف کو ماننا پڑے گا کہ وہ آدم اور ابن مریم بھی عاجز ہے۔ کیونکہ ایسا دعویٰ اس عاجز سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا اور اس عاجز کا یہ دعویٰ دس برس سے پہلے شائع ہو رہا ہے اور براہین احمدیہ میں مدت سے چھپ چکا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کی نسبت فرمایا ہے کہ یہ آدم ہے...... اور اس نزاع کے وقت سے دس برس پہلے اس عاجز کا نام آدم اور عیسیٰ کہہ دیا...... اس حکیم مطلق نے اس عاجز کا نام آدم اور خلیفۃ اللہ رکھ کر انی جاعل فی الارض خلیفۃ کی کھلی کھلی طور پر براہین احمدیہ میں بشارت دے کر لوگوں کو توجہ دلائی کہ تا اس خلیفۃ اللہ آدم کی اطاعت کریں اور اطاعت کرنے والی جماعت سے باہر نہ رہیں اور ابلیس کی طرح ٹھوکر نہ کھائیں اور من شذ شذ فی النار کی تہدید سے بچیں۔“ اس تقریر سے کئی باتیں معلوم ہوئیں۔
- ......١ براہین احمدیہ کلام الٰہی ہے جس میں حق تعالیٰ نے ان کے خلیفہ ہونے کی
بشارت دی ہے۔
- ......٢ مرزا قادیانی نبی ہیں جن پر وہ کتاب نازل ہوئی۔
- ......٣ مرزا قادیانی آدم خلیفۃ اللہ ہیں۔
- ......٤ جو مخالفت کرے وہ گویا ابلیس اور دوزخی ہے۔
- ......٥ دس برس پہلے الہام شائع ہونے کی وجہ سے وہ قطعی ہو گیا۔
حق تعالیٰ نے تیرہ سو برس پہلے اپنے کلام قدیم میں یہ بات شائع کر دی کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (احزاب:٤٠)“ اب اس کے بعد کوئی دعویٰ نبوت کرے تو وہ مسیلمہ کذاب واسود عنسی وغیرہم کی قطار میں داخل ہے۔ جس کے جہنمی ہونے میں کسی کو شک
٣٤
نہیں ۔ کیونکہ ہمارے نبیﷺ نے فرمادیا ہے کہ قیامت سے پہلے بہت سے دجال نکلیں گے جو رسول ہونے کا دعویٰ کریں گے ۔ جیسا کہ (امام احمد ج٢ ص ٤٣٤، بخاری ج١ ص٥٠٩، مسلم ج٢ ص٣٩٧، ابوداؤد ج٢ ص١٢٧، ترمذی ج٢ ص٤٥) نے روایت کی ہے۔ ”عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہﷺ لا تقوم الساعة حتٰی یبعث دجالون کذابون قریبا من ثلثین کلھم یزعم انه رسول اللہ“
مرزا قادیانی کو کمالات و فضائل کے ساتھ کمال درجے کی دلچسپی ہے۔ وہ ہمیشہ تلاش میں لگے رہتے ہیں جہاں کوئی کمال پیش نظر ہو جاتا ہے ۔ بے دھڑک اس کا دعویٰ کر بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ ان تصریحات سے ظاہر ہے (ازالۃ الاوہام ص١٥٤، خزائن ج٣ ص١٧٨،١٧٩) میں لکھتے ہیں ”ہر صدی پر ایک مجدد کا آنا ضروری ہے...... بتلائیں کس نے اس صدی کے سر پر خدا سے الہام پا کر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے...... اگر یہ عاجز نہیں ہے تو پھر وہ کون آیا ہے ۔“ کس نے ایسا دعویٰ کیا ہے جیسا کہ اس عاجز نے...... اور (ازالۃ الاوہام ص١٤٧، خزائن ج٣ ص١٥٨) میں لکھتے ہیں ”جس زمانے میں آنحضرتﷺ کا کوئی نائب دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو یہ تحریکیں دلی اور دماغی بڑی تیزی سے اپنا کام کرتی ہیں اور اس نیابت کے اختیارات ملنے کے وقت تو وہ جنبش نہایت تیز ہو جاتی ہے۔ خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو بھیجا ہے یعنی نائب کر کے ۔“
اور (ازالۃ الاوہام ص٧٩، خزائن ج٣ ص١٤١ حاشیہ) میں لکھتے ہیں ”حدیث میں جو وارد ہے کہ حارث جو ایک شخص ماوراء النہر کا ہوگا۔ جو آل رسول کو تقویت دے گا ۔ جس کی امداد و نصرت ہر ایک مومن پر واجب ہوگی ۔ الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیش گوئی اور مسیح کے آنے کی پیش گوئی جو مسلمانوں کا امام ہوگا دراصل یہ دونوں پیش گوئیاں متحدالمضمون ہیں اور دونوں کا مصداق یہی عاجز ہے ۔“ نبیﷺ کو خدا تعالیٰ نے خبر دی کہ حارث امام مہدی کی تائید کو جائے گا۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔ جیسا کہ متعدد صحیح صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے ملہم نے ان کو خبر دی کہ یہ غلط ہے۔ حارث ، امام مہدی، عیسیٰ ایک ہی شخص ہے یہ ملہم خدا اور رسول کا مخالف ہے۔ جب ہی تو ایسا الہام کیا ۔ (ازالۃ الاوہام ص٤١٤، خزائن ج٣ ص٣١٥) میں لکھتے ہیں ”مسیح موعود جس کا آنا انجیل احادیث صحیحہ کی رو سے ضروری طور پر قرار پا چکا ہے وہ تو اپنے وقت پر اپنی نشانیوں کے ساتھ آ گیا ہے اور آج وعدہ پورا ہو گیا ۔“
اور نیز (ازالۃ الاوہام ص٦٤٨، خزائن ج٣ ص٤٥٠ ملخص) میں لکھتے ہیں ”خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو آدم صفی اللہ کا مثیل قرار دیا۔ پھر مثیل نوح کا پھر مثیل یوسف کا پھر مثیل داؤد کا پھر مثیل
٣٥
موسیٰ کا پھر مثیل ابراہیم کا قرار دیا اور بار بار احمد کے خطاب سے مخاطب کر کے ظلی طور پر محمد مصطفیٰ ﷺ قرار دیا ۔“
اور (ازالۃ الاوہام ص ٦٧٣ ، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) میں لکھتے ہیں کہ ”آیۂ شریفہ ’مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘ سے خود مراد ہیں۔“ رسالہ عقائد مرزا میں اشتہار معیار الاخیار (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٦٨ ملخص) سے مرزا قادیانی کا قول نقل کیا ہے۔ ”میں مہدی ہوں اور بعض نبیوں سے افضل ہوں۔“
اور اسی میں اشتہار (دافع البلاء ص ١٣ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) سے ان کا قول نقل کیا ہے ”میں امام حسین علیہ السلام سے افضل ہوں، اور اسی سے ان کا یہ بھی قول نقل کیا ہے۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے“ (دافع البلاء ص ٢٠ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) اور اسی سے ان کا یہ قول بھی نقل کیا ہے میں اللہ کی اولاد کے رتبے کا ہوں ۔ میرا الہام ہے کہ ”انت منی بمنزلۃ اولادی“ اور (الحکم ص ٦ مورخہ ١٠ مارچ ١٩٠٥ء) میں مرزا قادیانی کا الہام لکھا ہے۔ ”انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون“ یعنی تم جس چیز کو پیدا کرنا چاہو جب کن کہہ دو گے تو وہ پیدا ہو جائے گی ۔ (ملفوظات ج ٧ ص ٣١١) اور (توضیح المرام ص ١٨، ١٩ ، خزائن ج ٣ ص ٦٠) سے ان کا قول نقل کیا ہے میں اللہ کا نبی اور رسول ہوں اور (کشتی نوح ص ٦ ، خزائن ج ١٩ ص ٦) سے ان کا قول نقل کیا ہے۔ ”میرے معجزات انبیاء کے معجزات سے بڑھ کر ہیں۔“ (ازالۃ الاوہام ص ٤٥٠ ، خزائن ج ٣ ص ٣٣٩ ملخص) میں لکھتے ہیں۔ ”سچی وحی اپنے پر نازل ہوتی ہے۔“ (ضرورت الامام ص ١٣ ، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣ ملخص) میں لکھتے ہیں ”خدا تعالیٰ ان سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ چہرے سے اتار دیتا ہے اور نہایت صفائی سے مکالمہ کرتا ہے اور دیر تک سوال و جواب ہوتے رہتے ہیں اور یہ اس واسطے ہوتا ہے کہ ان کے الہام دوسروں پر حجت ہوں۔“ رسالہ عقائد مرزا میں ان کا قول نقل کیا ہے کہ طاعون ملک میں میری تکذیب کی وجہ سے خدا نے بھیجا ہے اور یہ بھی نقل کیا ہے کہ میرا منکر کافر اور مردہ ہے۔ اس کو ضرور مواخذہ ہوگا۔ اس قسم کی بہت سی باتیں ان کی تصانیف میں موجود ہیں اور اب تو آپ کرشن جی بھی ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ متعدد اخباروں سے ظاہر ہے۔ مرزا قادیانی عیسویت وغیرہ کا جو مرکب دعویٰ کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں (غرر الخصائص الواضحہ ص ١٧٥) میں علامہ واطواطؒ نے لکھا ہے کہ معتمد کی خلافت میں ایک شخص سواد کوفے میں نکلا تھا۔ جس کو کرمیعہ کہتے تھے یہ شخص پہلے نہایت زہد و عبادت کے ساتھ مشہور ہوا جب لوگ معتقد ہو گئے تو
٣٦
ان سے کہا کہ مسیح علیہ السلام نے آدمی کی صورت میں ظاہر ہو کر مجھ سے کہا کہ تو داعیہ ہے اور حجت ہے ناقہ ہے روح القدس ہے، یحییٰ بن زکریا ہے۔ پھر یہ دعویٰ کیا کہ میں مسیح ہوں، عیسیٰ ہوں، کلمہ ہوں، مہدی ہوں، محمد ابن الحنفیہ ہوں، جبریل ہوں، جب دس ہزار آدمی اس کے تابع ہوگئے تو ان میں سے بارہ شخصوں کا انتخاب کر کے کہا کہ تم میرے حواری ہو۔ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کے حواری تھے۔ مرزا قادیانی کو اس شخص کی رائے پسند آئی اور عقل کا مقتضا بھی یہی ہے کہ جب دس بیس دعوے کر دیئے جائیں گے تو کم سے کم ایک تو ضرور ثابت ہو جائے گا۔ پھر مقاصد حاصل کرنے کے لئے وہ ایک بھی کم نہیں کرمطیہ نے مرزا قادیانی کے اس دعوے کو بھی باطل کر دیا۔ جو فرماتے ہیں کہ سوائے میرے کسی مسلمان نے عیسیٰ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ الغرض آپ نے اس بات کا ٹھیکہ لے لیا ہے کہ کوئی فضیلت چھوٹنے نہ پائے اور کوئی فرقہ ہندوستان میں ایسا نہ رہے جس کے وہ مقتداء اور معبود نہ بنیں۔ مگر کسی فرقے پر ان کا افسوں نہ چلا۔ چونکہ مسلمانوں میں آج کل یہ صلاحیت بڑھی ہوئی ہے کہ ہر کسی کا افسوں ان پر اثر کر جاتا ہے۔ چنانچہ ہزاروں نیچر وغیرہ بن گئے اور بنتے جاتے ہیں۔ اس لئے رد نصاریٰ وغیرہ کو ذریعہ بنا کر ان کی طرف توجہ کی۔ چنانچہ کسی قدر کامیابی بھی حاصل کی اور جب روپیہ چندہ وغیرہ کا بخوبی آنے لگا تو ایک رسالہ بنام فتح الاسلام لکھا۔ جس کے نام سے ظاہر ہے کہ اسلام کو تو انہوں نے فتح کر لیا اس فتح سے بڑی غرض یہ تھی کہ روپیہ حاصل ہو اس لئے اپنی رعایا پر اقسام کے ٹیکس لگائے۔ جیسا کہ اوپر معلوم ہوا اور مالگذاری کا دستور العمل اسی میں شائع کیا۔ جس کا ایک فقرہ یہ ہے ”اسلام کے ذی مقدرت لوگو آپ لوگوں کو پہنچا دیتا ہوں۔ اپنی ساری دل اور ساری توجہ اور ساری اخلاص سے مدد کرنی چاہئے جو شخص اپنی حیثیت کے موافق کچھ ماہواری چندہ دینا چاہتا ہے وہ اس کو حق واجب اور دین لازم کی طرح سمجھ کر خود بخود ماہوار اپنی فکر سے ادا کرے“ اور ادائی میں سہل انگاری کو روا نہ رکھے اور جو شخص ایک مشت دینا چاہتا ہے وہ اسی طرح امداد کرے اور اس رسالے میں بڑی تاکید یہ کی گئی کہ کوئی اس کارروائی پر بدگمانی نہ کرے اور اخبار البدر میں شائع کرا دیا گیا جیسا کہ عقائد مرزا میں لکھا ہے کہ ان کے فعل پر اعتراض کرنا بھی کفر ہے۔ اب کسی کی مجال کہ کوئی اعتراض یا بدگمانی کر سکے۔ مگر یہ احتمال تھا کہ یہ روپیہ جس قدر وصول ہوتا ہے مرزا قادیانی کے تقدس اور دینداری کی وجہ سے ہے آئندہ لوگ ہاتھ روک لیں گے اور مقتضائے بشریت بھی تھا کہ اپنی اولاد کی کچھ فکر کی جائے۔ اس لئے اس کا بندوبست یوں کیا گیا۔ جو (ازالۃ الاوہام ص ١٥٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٠) میں الہام تحریر فرماتے ٣٧
ہیں ۔”خدائے تعالیٰ ایک قطعی اور یقینی پیش گوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ذریت سے ایک شخص پیدا ہو گا۔ جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہو گی وہ آسمان سے اترے گا۔“ اور اسی میں فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ”خدا تیرے مجد کو زیادہ کرے گا اور تیری ذریت کو بڑھائے گا اور من بعد تیرے خاندان کا تجھ سے ہی ابتداء قرار دیا جائے گا......جو شخص کعبہ کی بنیاد کو ایک حکمت الٰہی کا مسئلہ سمجھتا ہے وہ بڑا عقلمند ہے۔ کیونکہ اس کو اسرارِ ملکوتی سے حصہ ہے۔ ایک اولی العزم پیدا ہو گا وہ حسن اور احسان میں تیرا نظیر ہو گا وہ تیری نسل ہی سے ہو گا۔ فرزند دلبند گرامی وارجمند مظہر الحق والعُلا كان الله نزل من السماء“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٤٥‘ ٦٤٤ خزائن ج ٣ ص ٤٤٢)
اور دوسرے مقام (ازالۃ الاوہام ص ٤١٨) میں لکھتے ہیں ”اس مسیح کو بھی یاد رکھو جو اس عاجز کی ذریت میں سے ہے۔ جس کا نام ابن مریم بھی رکھا گیا ہے۔ کیونکہ اس عاجز کو براہین میں مریم کے نام سے بھی پکارا ہے۔“
اس سے ظاہر ہے کہ اگر مرزا قادیانی کو لاکھ روپیہ ماہواری چندہ ملتا تھا تو ان کے فرزند دلبند کو دو لاکھ سے کم نہ ملنا چاہئے۔ آخر باپ بیٹوں میں فرق ضرور ہے۔ مرزا قادیانی کی شان میں تو کان عیسیٰ نزل من السماء تھا صاحبزادے کی شان میں کان الله نزل من السماء ہے۔ الغرض جب دیکھا کہ چند اشخاص بطور رعایا رقم مالگذاری داخل کرنے لگے اسی کا نام فتح اسلام رکھ کر یہ خیال جمایا کہ یہ سلطنت تو اپنے اور اپنی اولاد کے لئے قائم ہو گئی۔ اب ہنود کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ چنانچہ ان میں جا کر دعویٰ کیا کہ میں کرشن جی ہوں۔ تعجب نہیں کہ اپنی پختہ تدابیر سے اس میں بھی کامیاب ہو جائیں۔ مگر بظاہر کسی قدر بعید معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ ابلیس مسلمانوں کا دشمن ہے۔ ہنود کا نہیں۔ ہمیں اس کا کچھ خیال نہیں کہ مرزا قادیانی کو اس قدر روپیہ کیوں ملتا ہے۔ اس لئے کہ آخر تدابیر کے نتائج حاصل ہوا ہی کرتے ہیں اور حق تعالیٰ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ چنانچہ ارشاد ہے ۔”ومن کان یرید حرث الدنیا نؤتہ منھا وما لہ فی الآخرۃ من نصیب (شوری: ٢٠) “مگر کلام دوسرے حصے میں ہے جو دین سے متعلق ہے۔ کیونکہ قابل اہتمام و غمواری ہے تو یہی حصہ ہے جس کا اثر ابداً لآباد رہنے والا ہے۔ اب ہم اہل انصاف کو توجہ دلاتے ہیں کہ مرزا قادیانی جو الہامات خلیفۃ اللہ وغیرہ ہونے کے بیان کرتے ہیں۔ باوجود ایسے قوی قوی قرائن کے کیا اب بھی قابل تصدیق سمجھے جائیں اور عقل بیکار کر دی جائے۔ اگر صرف مجددیت یا محدثیت کا دعویٰ ہوتا تو بھی مضائقہ نہ تھا۔ جب انہوں نے نبوت و رسالت کا
٣٨
دعویٰ کیا ہے تو اب اس حدیث شریف کو اہل اسلام مانیں جو بخاری اور مسلم وغیرہ سے ابھی نقل کی گئی کہ مدعی رسالت دجالوں سے ایک دجال ہے یا مرزا قادیانی کے یہ تمام دعوے اس کے خلاف میں مانے جائیں۔ ہر مسلمان کو اپنا ایمان عزیز ہے خود ہی فیصلہ کرلے۔
مرزا قادیانی نے دجال کے استدراج میں یہ کلام کیا اس سے تو اس کا کن فیکون کا رتبہ ثابت ہوتا ہے اور سوچا کہ ایسا بڑا رتبہ اس کو دیا جائے اور خود محروم رہ جائیں۔ تو ایک اعلیٰ درجے کا کمال فوت ہوئے جاتا ہے۔ بخیل کے لئے کرشن جی بتکلف بننے کی ضرورت ہوئی یہ مرتبہ تو مسلمانوں میں مسلم اور بنا بنایا ہے۔ اس لئے دعویٰ کیا کہ مرتبہ کن فیکون مجھ کو حاصل ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو (ازالۃ الاوہام ص ٢٢٨، خزائن ج ٣ ص ٢١٤، ٢١٥) میں یہ کیوں فرماتے۔ ”اگر ہم اس دمشقی حدیث کو (جو مسلم شریف میں ہے) اس کے ظاہری معنوں پر عمل کر کے اس کو صحیح اور فرمودہ خدا و رسول مان لیں تو ہمیں اس بات پر ایمان لانا ہوگا کہ فی الحقیقت دجال کو ایک قسم کی قوت خدائی دی جائے گی اور زمین و آسمان اس کا کہا مانیں گے اور خدائے تعالیٰ کی طرح فقط اس کے ارادے سے سب کچھ ہوتا جائے گا ...... غرض جیسا کہ خدائے تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ ”انما امره اذا اراد شيئاً ان يقول له كن فيكون “ اسی طرح وہ بھی کن فیکون سے سب کچھ کر دکھائے گا۔“
حاصل یہ کہ حدیث مسلم شریف جس میں دجال کے استدراج سے اس کا پانی برسانا اور زمین سے سبزیاں اگانا وغیرہ امور مذکور ہیں۔ غلط ہے اس لئے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ خالقیت میں خدا کا شریک ہو جائے گا۔ غور کیا جائے کہ مرزا قادیانی کو جب یہ بات حاصل ہوگئی کہ بحسب الہام ”انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون “ صرف لفظ کن کہہ کر سب کچھ پیدا کر سکتے ہیں تو بڑے دجال سے وہ چند امور جن کی تصریح نبی ﷺ نے بحسب اطلاع باری تعالیٰ کر دی ہے ظہور میں آئیں تو کون سے کفر و شرک کی بات ہوگی؟ ۔ ( بخاری شریف ج ١ص٤٧٠، باب قول الله عز وجل ولقد ارسلنا نوحاً الى قومه ، ج ٢ ص ١٠٥٥، باب ذكر الدجال كتاب الفتن ) میں یہ حدیث مذکور ہے کہ تمام انبیاء دجال کے فتنے سے ہمیشہ اپنی اپنی امت کو ڈرایا کرتے۔ جس سے ظاہر ہے کہ اس کا فتنہ معمولی نہ ہوگا۔ اگر اس قسم کی باتیں اس سے ظہور میں نہ آئیں تو اس سے خوف ہی کیا دنیا میں بڑے بڑے فتنے ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں۔ کسی سے انبیاء نے اپنی امتوں کو نہیں ڈرایا اور نہ آنحضرت ﷺ نے ان کے بیان کا اہتمام فرمایا۔ بخلاف فتنہ دجال کے کہ ہر نماز میں اس سے پناہ مانگنے کے لئے ارشاد فرمایا۔ الغرض بلحاظ فتنہ و آزمائش امور مذکورہ احادیث کا ظہور میں آنا مستبعد نہیں۔ بخلاف اس کے مرزا قادیانی جو یہ دعویٰ کرتے
٣٩
ہیں اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ بہر حال مرزا قادیانی نے جس لحاظ سے حدیث مسلم شریف کا انکار کر دیا تھا۔ اب ان کو اس الہام کے لحاظ سے بڑے دجال کی نسبت ان امور کا مان لینا ضروری ہوا۔ کیونکہ جب وہ خود مدعی ہیں کہ کن سے سب کچھ کر دکھاتا ہوں تو بڑا دجال بحسب احادیث صحیحہ کچھ کر دکھائے تو کیا تعجب۔ اس تقریر سے وہ تمام تقریریں باطل ہو گئیں۔ جو عیسیٰ علیہ السلام کے پرندوں کو زندہ کرنے کے باب میں لکھی ہیں۔ جن میں ایک یہ ہے جو (ازالۃ الاوہام ص ٢٩٧ ، خزائن ج ٣ ص ٢٥١، ٢٥٢ حاشیہ) میں لکھتے ہیں۔ ”جو آیات جن میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہیں اور ان کے یہ معنی کرنا کہ گویا خدائے تعالیٰ نے اپنے ارادے سے اور اذن سے حضرت عیسیٰ کو صفات خالقیت میں شریک کر رکھا تھا۔ صریح الحاد اور سخت بے ایمانی ہے۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ اپنی صفات خاصہ الوہیت کبھی دوسروں کو دے سکتا ہے تو اس سے اس کی خدائی باطل ہوتی ہے اور موحد صاحب کا یہ عذر کہ ہم ایسا اعتقاد تو نہیں رکھتے کہ اپنی ذاتی طاقت سے حضرت عیسیٰ خالق طیور تھے۔ بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ طاقت خدائے تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادے سے ان کو دے رکھی تھی اور اپنی مرضی سے ان کو اپنی خالقیت کا حصہ دار بنایا تھا اور اس کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے اپنا مثیل بنا دیوے قادر مطلق جو ہوا یہ سراسر مشرکانہ باتیں اور کفر سے بدتر ۔“
دیکھئے حق تعالیٰ نے اپنی خالقیت کے باب میں جو فرمایا ہے۔ ”انما امرہ اذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون (یسین: ٨٢)“ وہی پورا کلام مرزا قادیانی کے الہام میں ان کی شان میں کر دیا گیا۔ ”انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون “ یعنی خدا نے ان سے کہا کہ تم جو پیدا کرنا چاہو صرف کن کہہ دو گے تو وہ پیدا ہو جائے گا۔ حالانکہ پیدا کرنا خاص صفت الٰہی ہے جیسا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”ان ربک ھو الخلاق العلیم (الحجر: ٨٦)“ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو کسی مسلمان کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اپنی صفت خالقیت ان کو دے کر حصہ دار بنا دیا تھا۔ بلکہ عقیدہ یہ ہے کہ احیائے موتیٰ کا معجزہ جو ان کو دیا گیا تھا کبھی کبھی بحسب ضرورت ظاہر کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے۔ ”فتنفخ فیھا فتکون طیراً باذنی واذ تخرج الموتٰی باذنی (مائدہ: ١١٠)“ مگر مرزا قادیانی خالقیت کے حصہ دار اور اس کے مثیل بن بیٹھے ہیں اب تک صرف انبیاء کے مثیل کہلاتے تھے اب خدا کے مثیل ہونے کا دعویٰ ہے۔ حالانکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”لیس کمثلہ شئی (شوری: ١١)“ مرزا قادیانی مضامین قرآن کو مشرکانہ خیال بتاتے ہیں اور اس کی کچھ پروا نہیں کرتے کہ وہ خدائے تعالیٰ فرما رہا ہے۔ ابلیس نے اور کیا کیا تھا اس نے
٤٠
بھی تو یہی کیا تھا کہ غیر اللہ کے سجدے کو شرکانہ خیال سمجھا تھا۔ جس کی وجہ سے ملعون ابدی بنا افسوس ہے کہ مرزا قادیانی اوروں کو فرماتے ہیں۔ ابلیس کی طرح ٹھوکر نہ کھائیں اور خود اس کے ہم خیال ہیں۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ آیات قرآنیہ پر ایمان لانے کو الحاد اور سخت بے ایمانی اور مشرکانہ خیال اور کفر سے بدتر کہہ دیا اور آپ نعوذ باللہ خدا کے شریک بن رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر الحاد اور سخت بے ایمانی اور کفر سے بدتر اور کیا ہوگا۔ مجوس صرف دو خالق مانتے تھے مرزا قادیانی تو دوسرے خالق ہی بن گئے۔ نعوذ باللہ من ذالك!
اہل اسلام غور فرمائیں کہ کیا کوئی مسلمان ایسا دعویٰ کر سکتا ہے جو مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ ہمارے نبی ﷺ نے باوجود یکہ سید المرسلین اور افضل الخلائق ہیں۔ کبھی اس قسم کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ”انما انا بشر مثلکم“ فرماتے رہے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کا یہ الہام کیونکر قابل تسلیم ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی ایک نظیر تو پیش کریں کہ کس نے نبوت کا دعویٰ کے ساتھ کن فیکون کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ مگر مشکل تو یہ ہے کہ کسی کا دعویٰ نہ کرنا ہی ان کے لئے دلیل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اپنے مجددیت کو اسی طریقے سے انہوں نے ثابت کیا۔ (ازالۃ الاوہام ص ١٥٤، خزائن ج ٣ ص ١٧٨، ١٧٩) میں فرماتے ہیں ”آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے کہ ہر ایک صدی پر مجدد کا آنا ضروری ہے۔ اب ہمارے علماء جو بظاہر اتباع حدیث کا دم بھرتے ہیں۔ انصاف سے بتلادیں کہ کس نے اس صدی کے سر پر خدائے تعالیٰ سے الہام پا کر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے یوں تو ہمیشہ دین کی تجدید ہورہی ہے۔ مگر حدیث کا تو یہ منشاء ہے کہ وہ مجدد خدائے تعالیٰ کی طرف سے آئے گا۔ یعنی علوم لدنیہ و آیات سماویہ کے ساتھ اب بتلا دیں کہ اگر یہ عاجز حق پر نہیں ہے تو پھر وہ کون آیا۔ جس نے اس چودھویں صدی کے سر پر مجدد ہونے کا ایسا دعویٰ کیا۔ جیسا کہ اس عاجز نے کیا ۔“
اگر شیطان کسی کے سامنے ہو کر دعویٰ کرے کہ میں تیرا خدا ہوں مجھے سجدہ کر اور اس کی دلیل یہ بیان کرے کہ سوائے میرے کسی نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا تو کیا اس کی یہ دلیل قابل تسلیم ہو سکتی ہے۔ ہرگز نہیں مگر مرزا قادیانی کی تقریر سے ظاہر ہے کہ ان کو اس قسم کی دلیلوں پر وثوق ہے یہی وجہ ہے کہ جب شیطان ان کو اپنے چہرے سے کسی قدر پردہ اتار کر شیشے سے کہہ دیتا ہے کہ میں خدا ہوں اور کوئی دلیل بھی ایسی ہی بتا دیتا ہے تو ان کو یقین آجاتا ہے۔
حدیث موصوف سوائے ابوداؤد کے صحاح ستہ میں سے کسی کتاب میں نہیں اور بقول مرزا قادیانی یہ حدیث کسی کو نہ ملی یا موضوع یا ضعیف سمجھ کر بخاری ومسلم وغیرہ نے اس کو ترک کر دیا۔ جب مسلم کی متفق والی حدیث بخاری میں نہ ہونے کی وجہ سے بقول مرزا قادیانی قابل ٤١
معتبر نہ ہوئی تو اس کو تو مسلم نے بھی قبول نہیں کیا۔ بطریق اولیٰ قابل اعتبار نہ ہوگی۔ پھر ایسی حدیث استدلال میں کیوں پیش کی جاتی ہے۔ مرزا قادیانی نے اس حدیث کو نقل کیا نہ یہ لکھا کہ وہ کون سی کتاب میں ہے۔ بلکہ صرف یہی لکھا کہ مجدد کا آنا ضرور ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ اگر وہ لکھتے تو ان کے استدلال کی قلعی کھل جاتی۔ کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہر صدی پر ایک مجدد خدا کی طرف سے الہام پا کر مجدد ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے ساتھ علوم لدنیہ اور آیات سماویہ بھی ہوا کرتی ہیں۔ حالانکہ حدیث میں کوئی ایسی بات مذکور نہیں۔ دیکھئے حدیث شریف یہ ہے۔ ”عن ابی ھریرة ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ یبعث لھذہ الامة علی راس کل مائة سنة من یجدد لھا دینھا “ (ابوداؤد کتاب الملاحم ج٢ ص١٣٢) یعنی اللہ تعالیٰ اس امت میں ہر صدی کے سرے پر ایک ایسا شخص پیدا کیا کرے گا جو اس کے دین کی تجدید کرے۔ وفیات الاسلاف میں حدیث موصوف کو نقل کر کے ہر زمانے میں جن علماء اور مؤیدین دین پر مجددیت کا گمان تھا ان کے ناموں کی فہرست لکھی اور یہ ثابت کیا کہ ہر صدی کا مجدد یقینی طور پر معین نہیں کر سکتے۔ اسی وجہ سے بعض علماء نے لکھا ہے کہ مجدد ہر صدی کا ایک ہونا ضرور نہیں۔ کیونکہ حدیث شریف میں لفظ من بصیغہ مفرد وارد ہے۔ اور لفظ من کا استعمال کثیر میں اکثر ہوا کرتا ہے۔ ہر چند نام اکابر علماء کے لکھے ہیں۔ مگر یہ کسی نے نہیں لکھا کہ ان میں سے کسی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ میں علوم لدنیہ خدا کے پاس سے لے کر آ رہا ہوں اور مجھے خواہ مخواہ مجدد کہو (اور ادھر ہزارہا علماء کا ہجوم اور اصرار کہ نہ تو مجدد ہے نہ محدث اور طرفین سے رسالہ بازیوں کی لے دے ہو رہی ہے) بلکہ ان حضرات کی حالت یہ تھی کہ تائید دین متین کو مقصود بالذات سمجھ کر ہمیشہ اسی میں مصروف رہا کرتے تھے اور ایسی تعلیوں کو کراہیت کی نظر سے دیکھتے پھر ان کی کمال حقانیت اور خلوص کا وہ اثر دلوں پر پڑتا تھا کہ خود کہہ اٹھتے تھے کہ بے شک یہ مجدد ہیں۔ مرزا قادیانی نے لوازم و شروط مجدد کے جو بیان کئے ہیں اگر راست ہیں تو ضرور ہے کہ ہر صدی کے مجدد کا نام اور اس کے دعوے پیش کریں اور یاد رہے کہ یہ ممکن نہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ حدیث و قرآن کا مضمون جیسا جی چاہتا ہے بنا لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے نہ وہ مجدد ہو سکتے نہ محدث وغیرہ جو اعلیٰ مدارج ہیں۔ تجدید کے معنی یہ ہیں کہ جو دین کی قدیمی باتیں پرانی ہو گئی ہوں ان کو از سر نو رواج دے۔ مگر مرزا قادیانی جو بات نکالتے ہیں وہ تو ایسی ہوتی ہے کہ کسی مسلمان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہوتی۔ تھوڑی باتیں تو اس کتاب کی فہرست سے بھی معلوم ہو سکتی ہیں۔ ایسے لوگوں کی نسبت یہ ارشاد ہے۔ ”عن ابی ھریرة ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ سیکون فی آخر امتی اناس یحدثونکم بما لم تسمعوا
٤٢
انتم ولا اباؤکم فایاکم وایاہم (مسلم ج ١ ص ٩، باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء) ”یعنی فرمایا نبی ﷺ نے کہ آخری زمانے میں میری امت کے بعض لوگ ایسی نئی باتیں کہیں گے کہ نہ تم نے سنی نہ تمہارے آباؤ اجداد نے ان لوگوں سے بہت دور رہو۔ مسلمانو! کیا اس کے بعد بھی اب ان کی باتیں دل لگا کر سنو گے اور اپنے نبی ﷺ کو ناراض کرو گے۔ یہ تو حضرت نے تمہاری ہی خیر خواہی کے لئے فرمایا ہے۔ کلام اس میں تھا کہ کسی نے مجددیت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس لئے مرزا قادیانی مجدد ہیں اسی طرح عیسویت کا بھی دعویٰ ہے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩) میں لکھتے ہیں ”ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ بلکہ اس تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔“
غرض مسیح موعود کا نہ آنا ہی آپ کے مسیح ہونے پر دلیل ہے اور ایک دلیل مسیحیت پر یہ ہے جو (ازالۃ الاوہام ص ١٥٥، خزائن ج ٣ ص ١٧٩) میں لکھتے ہیں۔ ”اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعوے میں غلطی پر ہے تو آپ لوگ کوشش کریں کہ مسیح موعود جو آپ کے خیال میں ہے انہیں دنوں میں آسمان سے اتر آئے۔ کیونکہ میں تو اس وقت موجود ہوں۔ مگر جس کے انتظار میں آپ لوگ ہیں وہ موجود نہیں اور میرے دعویٰ کا ٹوٹنا صرف اس صورت میں متصور ہے کہ اب وہ آسمان سے اتر ہی آوے۔ تا میں ملزم ٹھہر سکوں۔ آپ لوگ اگر سچ پر ہیں تو سب مل کر دعاء کریں کہ مسیح ابن مریم جلد آسمان سے اترتے دکھائی دیں۔ اگر آپ حق پر ہیں تو یہ دعاء قبول ہو جائے گی۔ کیونکہ اہل حق کی دعا مبطلین کے مقابلے پر قبول ہو جایا کرتی ہے۔ لیکن آپ یقیناً سمجھیں کہ یہ دعاء ہرگز قبول نہیں ہوگی کیونکہ آپ غلطی پر ہیں۔“
مرزا قادیانی ہم لوگوں کو نہایت تنگ کرتے ہیں۔ بھلا اس آخری زمانے میں مستجاب الدعوات لوگ جن کی دعاء فوراً قبول ہو جائے کہاں ظاہر ہوتے ہیں وہ تو بحسب آیہ شریفہ ”یا ایہا الذین آمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم (مائدہ: ١٠٥)“ اپنی فکر میں لگے رہتے ہیں ان کو بحسب اقتضائے زمانہ کسی کے گمراہ کرنے اور ہونے کی کچھ پروا نہیں ہوتی۔ وہ فیصل شدہ امور میں خلاف مرضی الٰہی دعاء کرنے کو بھی حرام سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ قیامت کا ایک وقت مقرر ہے اور اس کے آثار و علامات جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ سعادت سے شروع ہو گئے ہیں۔ وقتاً فوقتاً اپنے اپنے وقت پر ظہور کرتے جاتے ہیں۔ ان کا ایمان ایسا مستحکم ہے کہ کسی علامت کی تاخیر سے متزلزل نہیں ہوتا۔ ان
٤٤
کو یقین ہے کہ وقت مقررہ پر اس کا ظہور ضرور ہو گا۔ تعجیل کو وہ کافروں کی خصلت سمجھتے ہیں۔ کیونکہ کفار کی عادت تھی کہ انبیاء کو یہ کہہ کر تنگ کرتے تھے کہ عذاب کا جو تم وعدہ دیتے ہو اگر سچے ہو تو دعاء کر کے اتار دو۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ سے بھی یہی درخواست ان کی رہا کرتی تھی۔ ”ويستعجلونك بالعذاب ولولا اجل مسمى لجاء هم العذاب (العنکبوت: ٥٣) “ یعنی کفار عذاب کی جلدی کرتے ہیں۔ اگر سچے ہو تو دعاء کر کے اتارو۔ اگر اس کا وقت مقرر نہ ہوتا تو عذاب ان پر آجاتا اور حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ويقولون متى هذا الوعد ان كنتم صادقين قل لكم ميعاد يوم لا تستاخرون عنه ساعة ولا تستقدمون (سبا: ٢٩، ٣٠) “ ﴿وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا۔ کہو تمہارے ساتھ جس دن کا وعدہ ہے تم نہ اس سے ایک گھڑی پیچھے رہ سکو گے نہ آگے بڑھ سکو گے۔﴾
دیکھئے ہم نے جو کہا تھا کہ مرزا قادیانی مدعیان نبوت وغیرہ اہل باطل کے خیالات اختراعیہ سے مدد لیا کرتے ہیں اس کی تصدیق یہاں ہوگئی کہ کفار کے خیالات سے ان کا تائید لینا ظاہر ہو گیا۔ کیونکہ جس طرح کفار ہمارے نبی ﷺ کو عاجز کرنے کی غرض سے عذاب کی جلدی کیا کرتے تھے کہ اگر وہ آنے والا ہے تو اتار لاؤ اسی طرح مرزا قادیانی ہم کو عاجز کر رہے ہیں کہ اگر مسیح اترنے والے ہیں تو جلد اتار لاؤ۔ چونکہ ان کو اس تقلید کی عادت ہو گئی ہے اس لئے اس کا خیال بھی ان کو نہ آیا کہ اگر میں یہ دلیل پیش کروں گا تو قرآن پڑھنے والے کیا کہیں گے۔ مرزا قادیانی جو فرماتے ہیں میں تو موجود ہوں۔ اگر عیسیٰ اس وقت نہ اتریں تو میرا دعویٰ ٹوٹ نہیں سکتا۔ غور کا مقام ہے اگر کوئی ملحد خدائی کا دعویٰ کر کے یہی دلیل پیش کرے کہ اگر میں خدا نہیں تو دعاء کر کے خدا کو اتار لاؤ تو اس کا بھی جواب ایسا ہی مشکل ہو گا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا جواب دینا مشکل ہو رہا ہے۔ کیونکہ ہم میں ایسی طاقت کہاں کہ خدا کو یا مسیح علیہ السلام کو اتار سکیں پھر کیا اس عجز سے اس ملحد کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا۔ مرزا قادیانی کو یہ طریقہ کفار و ملاحدہ کا اختیار کرنا زیبا نہ تھا۔ ابن حزمؒ نے کتاب الملل والنحل میں لکھا ہے کہ ابو منصور کسف نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے ساتھ یہ بھی دعویٰ تھا کہ میں کسف ہوں ۔ جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وان يروا كسفاً من السماء ساقطاً يقولوا سحاب مركوم (الطور: ٤٤) “ ﴿اگر وہ آسمان کا ٹکڑا گرتا ہوا دیکھیں تو کہیں کہ وہ ابر جما ہوا ہے۔﴾ اس نے استعارہ وغیرہ سے کسف یعنی آسمان کا ٹکڑا ہونے میں اپنے لئے فضیلت
٤٤
خاصہ ثابت کر رکھی تھی اور بہت سے لوگ اس کے بھی پیرو ہو گئے تھے۔ غرض کہ اس کا یہ دعویٰ تھا کہ اگر میں کاذب نہیں ہوں اور میرے مخالف اگر سچے ہیں تو دعاء کر کے کوئی آسمان کا ٹکڑا اتار لیں اور یاد رہے کہ وہ ہر گز نہیں اتار سکیں گے۔ اس لئے کہ وہ غلطی پر ہیں۔ ہر چند مفتری بن سے زیادہ اس دلیل کی وقعت نہیں۔ مگر اس نے اپنے زعم میں اس کو دلیل بنا رکھا تھا اور اس کے اتباع اس کی تحسین بھی کرتے ہوں گے۔
مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے اتارنے پر فیصلہ جو ٹھہرایا ہے وہ مخلوق کے اختیار سے باہر ہے۔ اس سے مقصود ان کو ظاہر ہے کہ وہ فیصلہ کرنا نہیں چاہتے ورنہ ایک ایسا آسان طریقہ فیصلے کا قرار دیا گیا تھا کہ وہ طرفین کے اختیار میں تھا۔ یعنی مباہلہ جس کے لئے میاں عبدالحق صاحب مستعد ہو گئے تھے اور مرزا قادیانی گریز کر گئے۔
اور ایک دلیل اپنی عیسویت پر یہ پیش کرتے ہیں جو (ازالۃ الاوہام ص ٦٩٣ ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤) میں ہے۔ ”ازانجملہ ایک یہ ہے کہ ضرور تھا کہ آنے والا ابن مریم الف ششم کے آخر میں پیدا ہوتا“ اور (ازالۃ الاوہام ص ٦٩٦ ،خزائن ج ٣ ص ٤٧٥) میں ”اس عاجز کو خدا تعالیٰ نے آدم مقرر کر کے بھیجا۔ اس کا یہ نشان رکھا کہ الف ششم میں جو قائم مقام روز ششم ہے یعنی آخری حصہ الف میں جو وقت عصر سے مشابہ ہے۔ اس عاجز کو پیدا کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ان يوماً عند ربك كالف سنة مماتعدون اور ضرور تھا کہ وہ ابن مریم جس کا انجیل اور فرقان میں آدم بھی نام رکھا گیا ہے اور آدم کی طرز پر الف ششم کے آخر میں ظہور کرتا سو آدم اوّل کی پیدائش سے الف ششم میں ظاہر ہونے والا یہی عاجز ہے۔ بہت سی حدیثوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ نبی آدم کی عمر سات ہزار برس ہے اور آخری آدم پہلے آدم کی طرز ظہور پر الف ششم کے آخر میں جو روز ششم کے حکم میں ہے۔ پیدا ہونے والا ہے۔ سو وہ یہی ہے جو پیدا ہو گیا۔ ازالۃ الاوہام کے دیکھنے سے یہ بات ظاہر ہے کہ اگر مرزا قادیانی کو کوئی حدیث ایسی مل جاتی ہے جس کو وہ مفید سمجھتے ہیں تو نہایت جلی حرفوں میں نمایاں لکھتے ہیں۔ مگر یہاں صرف یہ لکھ دیا کہ بہت سی حدیثوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ بنی آدم کی عمر سات ہزار برس کی ہے اور ایک حدیث بھی نقل نہیں کی یہ ترک عادت خالی از حکمت عملی نہیں۔ مرزا قادیانی تو بخاری اور مسلم کی حدیثوں میں بھی تعارض پیدا کر کے ساقط الاعتبار کر دیتے ہیں۔ مگر ہم توسیع کرتے ہیں کہ بخاری کی بھی خصوصیت نہیں۔ صحاح ستہ سے کسی کتاب کی حدیث اس مضمون کی پیش فرمائیں۔ مگر یاد رہے کہ وہ ہرگز پیش نہیں کر سکتے۔ پھر یہ کہہ دینا کہ بہت سی حدیثوں سے ثابت ہو گیا ہے کس قدر جرات کی بات ہے یہ مرزا قادیانی ہی کی ہمت ہے۔ واضح
١٤٥
رہے کہ جو حدیثیں اس باب میں وارد ہیں اکثر فردوس دیلمی کی ہیں۔ جس کی نسبت امام سیوطیؒ نے جمع الجوامع کے دیباچے میں لکھا ہے کہ جو روایت فقط دیلمی نے فردوس میں کی ہے۔ ضعیف سمجھی جائے۔ اس کے سوا ان احادیث میں تعارض اس قدر ہے کہ کوئی بات ثابت نہیں ہوسکتی۔ احادیث یہ ہیں۔ ”عن علیؓ قال قال رسول اللہ ﷺ خلق اللہ الدنیا علی سبعۃ آماد و الامد الدھر الطویل الذی لا یحصیھ الا اللہ فمضی من الدنیا قبل خلق آدم ستۃ آماد و منذ خلق اللہ آدم الیٰ ان تقوم الساعۃ انتم فی امد واحد (الدیلمی) “ یعنی دنیا کو اللہ تعالیٰ نے سات امد پر پیدا کیا اور امد ایک طویل زمانے کا نام ہے۔ جس کا شمار سوائے خدائے تعالیٰ کے کوئی کر نہیں سکتا۔ ان میں سے آدم علیہ السلام کے پہلے چھ امد گذر چکے اور آدم علیہ السلام جب سے پیدا ہوئے قیامت تک تم لوگ ایک ہی امد میں ہو۔ ”عن حذیفۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ الدنیا مسیرۃ خمسمائۃ سنۃ (الدیلمی) “ یعنی دنیا پانچ سو برس کی مسافت ہے۔ ”عن انسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ الدنیا کلھا سبعۃ ایام من ایام الاخرۃ (الدیلمی) “ یعنی پوری دنیا آخرت کے سات دن ہیں۔ ”عن ابن عباسؓ قال الدنیا جمعۃ من جمع الآخرۃ سبعۃ الاف سنۃ فقد مضی ستۃ الاف سنۃ ومائتہ والیاتین علیھا مئوا سنۃ لیس علیھا موحد (ابن جریر) “ یعنی ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ دنیا آخرت کے ہفتوں سے ایک ہفتہ ہے۔ جس کے سات ہزار برس ہیں۔ ان میں چھے ہزار اور کئی سو برس گزر گئے اور کئی سو برس ایسے آئیں گے کہ کوئی خدائے تعالیٰ کی توحید کرنے والا روئے زمین پر نہ رہے گا۔
مرزا قادیانی کے استدلال میں تین چیزیں مقصود بالذات ہیں۔
- ١....... آدم علیہ السلام دنیا کے الف ششم کے آخر میں پیدا ہوئے۔
- ٢....... عمر بنی آدم کی سات ہزار سال ہے۔
- ٣....... الف ششم کے آخر میں خود پیدا ہوئے۔
اب ان احادیث کو ان دعاوی پر منطبق کیجئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حدیث سے ظاہر ہے کہ آدم علیہ السلام ساتویں امد میں پیدا ہوئے۔ اس سے دعویٰ اوّل کا بطلان ہوگیا۔ پھر امد کے معنی ہزار برس نہیں بلکہ ایک ایسی مدت طویلہ کا نام ہے جس کو سوائے خدائے تعالیٰ کے کوئی شمار کر نہیں سکتا۔ اس حدیث سے تینوں دعوؤں کا ابطال ہوگیا۔ کیونکہ ہزار یہاں کسی شمار و قطار میں نہیں اور حذیفہؓ کی حدیث سے بھی امور مذکورہ کا ابطال ہورہا ہے۔ اس لئے کہ اگر کل دنیا کی
٤٦
عمر ہماری اصطلاحی پانچ سو برس لئے جائیں تو خلاف بداہت اور خلاف مقصود ہے اور اگر پانچ سو برس آخرت کے لئے جائیں جو آیۂ شریفہ ان يوما عند ربك كالف سنة مما تعدون میں مذکور ہے تو اٹھارہ کروڑ سال ہوتے ہیں۔ پھر اگر بنی آدم کی عمر اس کا ساتواں حصہ لی جائے۔ جیسا کہ حدیث علی اور ابن عباسؓ سے معلوم ہوتا ہے۔ تو ڈھائی کروڑ سال سے زیادہ ہوئی اور اس حساب سے آدم علیہ السلام کی خلق ابتدائے عالم سے پندرہ کروڑ سال کے بعد ہوئی اور مرزا قادیانی آدم علیہ السلام کے بعد الف ششم میں پیدا ہوئے۔ دیکھئے کہاں پندرہ کروڑ اور کہاں چھے ہزار اور اگر انسؓ کی حدیث دیکھی جائے تو بنی آدم کی عمر ایک ہی ہزار برس کی ہوتی ہے۔ حالانکہ اب تک چھے ہزار برس گزر گئے اور اگر ابن عباسؓ کی حدیث دیکھی جائے تو حضرت کے وقت سے قیامت تک ہزار سال ہونا چاہئے۔ حالانکہ اس وقت تک تیرہ سو سال گزر چکے ہیں۔ غرض کہ کسی ضعیف حدیث سے بھی کوئی دعویٰ مرزا قادیانی کا ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس پر یہ فرماتے ہیں کہ بہت سی حدیثوں سے ثابت ہے۔ اگر مرزا قادیانی یہ کہتے کہ بہت سے حکما یا پادریوں کے قول سے ثابت ہے تو چنداں مضائقہ نہ تھا۔ غضب کی بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو نہیں فرمایا وہ بطور افتراء کہتے ہیں کہ بہت سی حدیثوں سے ثابت ہے۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ نے صاف فرما دیا ”من كذب على متعمداً فليتبوأ مقعده من النار (البخاری ج ١ ص ٢١، باب اثم من كذب على النبیﷺ)“ یعنی جو شخص جھوٹ کہہ دے کہ میں نے یہ کہا ہے تو اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اب مرزا قادیانی جب تک صحیح روایت سے حضرت کا فرمانا ثابت نہ کر دیں اس وعید سے نکل نہیں سکتے۔
اور ایک دلیل یہ ہے جو (ازالۃ الاوہام ص ٦٩٣، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤) میں لکھتے ہیں ”ظلمت عامہ اور تامہ کے عام طور پر پھیلنے کی وجہ سے اور حقیقت انسانیہ پر ایک فنا طاری ہونے کے باعث سے وہ روحانی طور پر ابوالبشر یعنی آدم کی صورت پر پیدا ہونے والا ہے۔“
ماحصل یہ ہے کہ اس وقت پوری پوری ظلمت ہر ملک میں پھیل گئی ہے اور انسانی حقیقت پر فنا طاری ہو گئی ہے۔ اس وجہ سے روحانی طور پر ابوالبشر یعنی خود پیدا ہوئے۔ یہ تو محسوس نہیں ہے کہ آفتاب کا نکلنا موقوف ہو گیا ہے۔ اس وجہ سے ظلمت ہو گئی ہے اور تمام دنیا کے آدمی مر گئے۔ یہاں تک کہ حقیقت انسانیہ پر فنا طاری ہو گئی۔ اس لئے ضرور ہے کہ مرزا قادیانی کی مراد ظلمت اور فنا سے کچھ اور ہو گی۔ ضرور تھا کہ اس کی تصریح فرما دیتے اور یہ بھی لکھ دیتے کہ کون سی تاریخ سے ان امور کا ظہور ہوا۔ یوں تو ١٣٠٠ھ اس کی تاریخ فرما دیں گے جس کا مادہ خود ہی غلام
٤٧
احمد قادیانی نے بتایا ہے۔ مگر یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوسکتا۔ جب تک یہ بات بدلیل ثابت نہ ہو کہ اس تاریخ سے کوئی ایسا انقلاب اسلام میں پیدا ہو گیا ہے۔ جو اس کے پہلے نہ تھا۔ اگر یہ فرمائیں کہ اپنی عیسویت کو نہ ماننا ہی دلیل ہے تو خصم اس کا یہ جواب دے سکتا ہے کہ یہی تو بقائے حقیقت انسانیہ کی دلیل ہے کہ اس قدر احساس انسانی ان میں اب تک باقی ہے کہ جس طرح مدعیان نبوت کو ان کے اسلاف نے نہیں مانا تھا۔ انہوں نے بھی نہیں مانا اور "اولئك كالانعام بل هم اضل (اعراف:١٧٩)" کے مصداق نہ بنے۔ غرض کہ ظلمت عامہ کے پھیلنے اور حقیقت انسانیہ کے فنا ہونے کا سند مذکور تو نہیں ہو سکتا۔ شاید انقلاب کے لحاظ سے ١٢٧٤ھ قرار دیا ہوگا۔
چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٧٢٢، حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٨٩ تا ٤٩٢) میں لکھتے ہیں: "آیت انا على ذهاب به لقادرون میں ١٨٥٧ء کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں ہندوستان میں ایک مفسدہ عظیم ہو کر آثار باقیہ اسلامی سلطنت کے ملک ہند سے ناپید ہو گئے تھے۔ کیونکہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل ١٢٧٤ھ ہیں اور ١٢٧٤ھ کے زمانے کو جب عیسوی تاریخ میں دیکھنا چاہیں تو ١٨٥٧ء ہوتا ہے سو درحقیقت ضعف الاسلام کا ابتدائی زمانہ یہی ١٨٥٧ء ہے۔ جس کی نسبت خدائے تعالیٰ آیت موصوفہ بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائے گا۔ سو ایسا ہی ١٨٥٧ء میں مسلمانوں کی حالت ہو گئی کہ بجز بدچلنی اور فسق و فجور کے اسلام کے رئیسوں کو اور کچھ یاد نہ تھا۔ جس کا اثر عوام پر بھی بہت پڑ گیا تھا۔ انہیں ایام میں انہوں نے ناجائز اور ناگوار طریقے سے سرکار انگریزی سے باوجود نمک خوار اور رعیت ہونے کے مقابلہ کیا..... سخت حرام اور معصیت کبیرہ اور ایک نہایت مکروہ بدکاری ہے..... یہ کیسے تھے مولوی تھے اور کیسے ان کے فتوے تھے جس میں نہ رحم تھا نہ عقل تھی نہ اخلاق نہ انصاف۔ ان لوگوں نے قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا ..... بچوں اور بے گناہ عورتوں کو قتل کیا اور نہایت بے رحمی سے انہیں پانی تک نہ دیا..... پس اس حکیم اور علیم کا قرآن کریم میں یہ بیان فرمانا کہ ١٨٥٧ء میں میرا کلام آسمان پر اٹھایا جائے گا۔ یہی معنی رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے..... باوجود اس کے یہ مولوی اس بات کی شیخی مارتے ہیں کہ ہم بڑے متقی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ نفاق سے زندگی بسر کرنا انہوں نے کہاں سے سیکھ لیا۔"
ماحصل اس کا یہ ہے کہ ١٨٥٧ء میں قرآن شریف اٹھا لیا گیا اس وجہ سے کہ آثار اسلامی سلطنت ہند سے ناپید ہو گئے اور ظلمت عامہ اور تامہ پھیل گئی۔ معلوم نہیں ان ایام سے ظلمت اور اندھیر پھیلنے کا کیا سبب ہوا اگر غدر کی وجہ سے تھا تو اس کے بعد تو امن و آسائش کا زمانہ
٤٨
آ گیا ۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣) میں تحریر فرماتے ہیں ”اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہیں جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکرگزار ہیں کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پارہے ہیں۔ وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں نہیں پاسکتے، ہرگز نہیں پاسکتے۔“
باوجود اس کے ایسے زمانے کو اندھیر کا زمانہ قرار دینا مرزا قادیانی کی شان کے خلاف ہوگا اور اگر غدر کے سوا اور کوئی سبب ظلمت اور اندھیر کا ہے تو ضرور تھا کہ گورنمنٹ سے اس ظلمت اور اندھیر کے اٹھانے کی درخواست کرتے بغیر چارہ جوئی کے یہ شکایت نازیبا ہے۔ پھر فقط ظلمت اور اندھیر ہی پر کفایت نہیں فرماتے ۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں انسانی حقیقت فنا ہو گئی ۔ یعنی کسی میں آدمیت ہی نہ رہی یہ دوسرا الزام ہے۔ گورنمنٹ تو لکھوکھا روپیہ بمقضائے انسانیت تعلیم میں صرف کرے اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ انسانیت کی حقیقت فنا ہو گئی ۔ یعنی کسی ایک آدمی میں آدمیت نہ رہی اگر یوں فرماتے کہ کسی مسلمان میں آدمیت نہ رہی تو دوسری گالیوں میں اس کا بھی شمار کر لیا جاتا وہ تو عام طور پر کہہ رہے ہیں کہ کسی آدمی میں آدمیت نہ رہی اور ظلمت اور اندھیر بالکل پھیل گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ گورنمنٹ کی تعریف وہ منافقانہ طور پر کرتے ہیں اور (ازالۃ الاوہام ص ١٤٦، خزائن ج ٣ ص ١٧٤) میں لکھتے ہیں ”ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد با اقبال قومیں ہوں اور گدھا ان کا یہی ریل ہو جو مشرق سے مغرب کے ملکوں میں ہزار ہا کوسوں تک چلتے دیکھتے ہو۔“ اب انہیں سے پوچھا جائے کہ دجال کو کیا آپ ایماندار عیسائی سمجھتے ہیں یا یہودی بے ایمان ۔ پھر با اقبال قوم کو جو دجال قرار دیا جس کی ریل مشرق سے مغرب کے ملکوں میں چلتی ہے اس قوم سے کون سی قوم مراد لی ۔ اگر دل میں گورنمنٹ کی توہین کا خیال نہ تھا تو درپردہ با اقبال قومیں کہنے کی کیا ضرورت تھی۔ صاف کہہ دیتے کہ دجال سے مراد روس ہے۔ جس کی ریل مشرق سے مغرب کو جاتی ہے۔ یہی تو منافقی ہے۔ حیرت ہے کہ اپنے آپ پر قیاس کر کے مسلمانوں کو منافق بتا رہے ہیں اور یہ جو فرماتے ہیں کہ عورتوں اور بچوں کو نہایت بے رحمی سے قتل کیا اس واسطے حق تعالیٰ نے ١٨٥٧ء میں قرآن کو اٹھا لیا فی الواقع یہ بڑا ہی ظلم ہوا مگر یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ اس کے پہلے ٦٠ھ میں ایک سخت ظلم و ستم کا واقعہ اسلام میں بھی گزر چکا ہے۔ جس کو تمام مسلمان جانتے ہیں کہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے واقعے میں کس قدر بے رحمیاں کی گئیں اور خاندان نبوت پر کیسا ظلم ہوا کہ جس کے سننے سے آدمی روتے روتے بے تاب ہو جاتا ہے۔
چنانچہ خود مرزا قادیانی بھی (ازالۃ الاوہام ص ٧٠ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٧) میں اس واقعہ کی باوقعت اور پُرعظمت اور دردناک ہونے کے قائل ہیں۔ اب اگر ظلم شدید کی وجہ سے قرآن کا اٹھایا جانا مسلم ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ رسول اللہ ﷺ کی ذریت اور خاندان پر ایسا ظلم شدید ہونے کے وقت ٦٠ھ ہی میں قرآن شریف اٹھا لیا گیا۔ پھر ١٨٥٧ء میں رہا ہی کیا تھا۔ جو اٹھایا جاتا اور جو فرماتے ہیں کہ ’وانا على ذهاب به لقادرون‘ میں حق تعالیٰ نے بیان فرما دیا کہ ١٨٥٧ء میں قرآن زمین سے اٹھالوں گا۔ اس میں مرزا قادیانی کو علیٰ ذہاب بہ کی ضمیر کے مرجع میں دھوکا ہو گیا۔ جس کی وجہ سے قرآن کی طرف وہ ضمیر پھیر دی اس کا حال پوری آیت سے معلوم ہو سکتا ہے وہ یہ ہے۔ ’وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسكناه في الارض وانا على ذهاب به لقادرون (مؤمنون: ١٨)‘ ’اور ہم ہی نے ایک اندازے کے ساتھ پانی برسایا۔ پھر اس کو زمین میں ٹھہرا رکھا اور ہم اس پانی کے اڑالے جانے پر بھی قادر ہیں۔‘
اس آیۂ شریفہ سے ظاہر ہے کہ یہ ضمیر پانی کی طرف پھرتی ہے جو اس کے پہلے صراحتاً مذکور ہے اور قرآن کا وہاں ذکر بھی نہیں اگر لاعلمی سے مرزا قادیانی نے یہ کہہ دیا تو غلطی کی اور اگر قصداً یہ معنی قرار دیئے تو تحریف کی پھر اس آیت کو مادہ تاریخ قرآن کے اٹھائے جانے کا ٹھہرا کر یہ کہنا کہ ١٨٥٧ء اس وقت قرار دیا گیا دوسری غلطی ہے۔ شاعروں نے جو مادۂ تاریخ کی اصطلاح ٹھہرائی ہے ان کے یہاں بھی یہ شرط مسلم ہے کہ مادۂ تاریخ کے پہلے معلوم کرا دیتے ہیں کہ فلاں واقعے کا سال ان الفاظ سے نکلتا ہے۔ مگر حق تعالیٰ نے نہ یہ اصطلاح بیان کی نہ اس کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ آیت مادۂ تاریخ ہے نہ نبی کریم ﷺ نے کبھی یہ فرمایا کہ دیکھو فلاں آیت فلاں واقعہ کا مادہ تاریخ ہے اور اگر صرف مضمون کے لحاظ سے آیات مادہ تاریخ قرار دی جائیں تو ان الساعة آتية سے واقعہ قیامت ٦٣٤ میں ہونا چاہئے۔
علاوہ ان تمام امور کے القادرون سے یہ کہنا کہ اس کا وقوع ہو گیا یہ بھی ایک دھوکا ہے۔ یہی لفظ دوسرے مقامات میں وارد ہے اور اس سے مقصود صرف تخویف اور بیان قدرت ہے۔ ’انا لقادرون على ان نبدل خيراً منهم (معارج: ٤٠، ٤١)‘ یعنی ہم قادر ہیں کہ ان کفار سے بہتر ان کے بدلے بنائیں۔ حالانکہ کفار اب تک موجود ہیں۔ اسی طرح ارشاد ہے ’وانا على ان نريك ما نعدهم لقادرون (مؤمنون : ٩٥)‘ یعنی ہم اس پر قادر ہیں کہ جس عذاب کا وعدہ ان کافروں سے کیا گیا تمہیں دکھا دیں۔ حالانکہ اس کا بھی وقوع نہیں ہوا۔ بلکہ مقصود بیان قدرت اور تخویف ہے۔ اسی طرح اس آیۂ شریفہ میں بھی بیان قدرت اور تخویف
٥٠
مقصود ہے کہ پانی جو زمین پر ٹھہرتا ہے اور جس سے تمام منافع بنی آدم کے متعلق ہیں اس کے اڑا لیجانے پر ہم قادر ہیں۔ اگر اس قدرت کو ظاہر کر دکھائیں تو تمہاری کیا حالت ہوگی۔ اب غور کیا جائے کہ باوجود اتنے دعووں اور غلطیوں کے یقینی طور پر یہ کہہ دینا کہ حق تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ ١٨٥٧ء میں ہم قرآن کو اٹھا لیں گے کس قدر جرات ہے۔ ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ حق تعالیٰ پر صریح افتراء ہے اور قرآن سے ثابت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے وہ کفار سے بھی بدتر ہے۔ جیسا کہ اس آیہ شریفہ سے مستفاد ہے۔ ”ومن اظلم ممن افترى على الله كذباً (انعام:٢١)“ اور ارشاد ہے ”ان الله لا يهدى القوم الظالمين (احقاف:١٠)“ یعنی ظالموں کو خدا رستہ ہی نہیں بتاتا۔ پھر جس کو خدا رستہ نہ بتائے تو اس کی گمراہی میں کیا شک ہے۔ نعوذ بالله من ذالك!
مرزا قادیانی نے ایام غدر کے مظالم کا فوٹو کھینچ کر سب الزام علماء کے ذمے لگا دیا کہ انہیں کے فتووں سے عورتیں اور بچے پیاسے قتل کئے گئے۔ مگر یہ بات حد تواتر تک پہنچ گئی ہے کہ وہ ایک ایسا عام بلوہ تھا جس میں ہندو اور مسلمان سب کے سب شریک تھے اور یہ کوئی نئی بات نہیں اس قسم کے واقعات گویا حکومت کا لازمہ ہے۔ اس لئے کہ گورنمنٹ اور رعایا کے باہمی تعلقات کثرت سے ہوتے ہیں۔ کسی نہ کسی بات پر مخالفت ہو ہی جاتی ہے۔ اس میں کوئی فرقے کی خصوصیت نہیں۔ لیکن گورنمنٹ کا فرض منصبی ہے کہ ایسے مفسدوں کو دفع کر کے امن وامان قائم کر دے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بفضلہ تعالیٰ پورے طور سے ہندوستان میں اس کے بعد امن قائم ہوگئی۔ مگر مرزا قادیانی کو مسلمانوں کا بے فکری سے رہنا گوارا نہیں اسی وجہ سے خلاف واقع مسلمانوں کے ذمے الزام لگا رہے ہیں اور یہ خیال نہیں فرمایا کہ جب مجرمین اسی زمانے میں سزایاب بھی ہوگئے اور امن بھی قائم کر دی گئی اور پچاس برس کی مدت گزر گئی جس کی وجہ سے فی صدی پانچ شخص بھی اس زمانے کے اب باقی نہیں رہے ایسے وقت میں گورنمنٹ مرزا قادیانی کی ان اشتہارات کی طرف کیوں توجہ کرے گی۔ اگرچہ مرزا قادیانی بھی ایسے شخص نہیں کہ مسلمانوں کے بالکل جانی دشمن ہوں۔ کیونکہ آخر مسلمانی کا دعویٰ ان کو بھی ہے۔ مگر شاید اقتضائے طبیعت سے اس تحریر کے وقت مجبور ہوگئے ہوں گے اور ایک دلیل اپنے صدق پر یہ پیش کرتے ہیں جو (ازالہ الاوهام ص ٦٦٣، خزائن ج ٣ ص ٤٥٨) میں مذکور ہے۔ ”اس بات کو میں منظور کرتا ہوں کہ آپ دس ہفتے تک اس بات کے فیصلے کے لئے احکم الحاکمین کی طرف توجہ کریں تا کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کا کوئی نشان یا کوئی اعلیٰ درجے کی پیش گوئی جو راستبازوں کو ملتی ہے آپ کو دی
٥١
جائے۔ ایسا ہی دوسری طرف میں بھی توجہ کروں گا.......اگر آپ لوگ اعراض کر گئے تو گریز پر حمل کیا جائے گا۔“
حاصل اس کا یہ ہوا کہ مرزا قادیانی جو دعویٰ رسالت وغیرہ کرتے ہیں اس کی نفی کا بینہ فریق مقابل کے ذمے ہے۔ مدت معینہ میں پیش نہ ہو تو ان کا دعویٰ ثابت اور بینہ بھی کیسا کہ اقتدار بشری سے خارج ہو۔
یہ بھی ایک الہامی طریقہ ثبوت دعویٰ کا ہے جو مرزا قادیانی کے خصائص سے ہے۔ مگر خدانخواستہ اس طریق کا اگر رواج پڑ جائے تو جھوٹوں کو کامیابی کا بڑا ہی ذریعہ ہاتھ آجائے گا۔ جس کا جو جی چاہے گا کسی پر دعویٰ کر کے ثبوت میں یہ بینہ پیش کر دے گا کہ اگر مدعاعلیہ سچا ہے تو احکم الحاکمین کی طرف رجوع کرے۔ ضرور کوئی نشانی مل جائے جو راستبازوں کو فوق طاقت بشری ملا کرتی ہے اور جب مدت معینہ میں نہ ملے تو اپنا دعویٰ ثابت، خدائے تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو باوجود ہزار ہا معجزے عطاء کئے شق قمر تک آپ کے دست مبارک سے ہوا۔ مگر بعض وقت حسب خواہش کفار کوئی نشانی بھی نہیں دی گئی۔ چنانچہ اس آیہ شریفہ سے ظاہر ہے۔ ”وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعاً او تکون لک جنۃ من نخیل وعنب (بنی اسرائیل:٩٠، ٩١)“ ”الیٰ قولہ تعالیٰ قل سبحان ربی ھل کنت الا بشراً رسولا (بنی اسرائیل:٩٣)“ مطلب اس کا یہ ہے کہ کفار نے حضرت سے درخواست کی کہ زمین سے چشمے جاری ہو جائیں یا ایک باغ پیدا ہو جائے یا آسمان کا ایک ٹکڑا گرا دیا جائے اور اسی قسم کی کئی درخواستیں کیں۔ اس پر حضرت کو حکم ہوا کہ ان سے کہو کہ میں تو ایک بشر رسول ہوں یعنی جو معجزے میرے ہاتھ پر خدائے تعالیٰ ظاہر کراتا ہے وہ کرتا ہوں۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ تمہاری ہر درخواست کو منظور کر لیا کروں۔ دیکھئے باوجودیکہ آیات و معجزات لازمہ رسالت ہیں۔ مگر ضرور نہ تھا کہ جانب مقابل کی طلب پر کوئی نشانی ضرور ظاہر ہو تو اب مرزا قادیانی کی طلب پر کیا ضرورت ہے کہ کوئی نشانی اہل حق سے ظاہر ہو اور نہ ہونے سے ان کی حقانیت میں فرق آجائے۔ اگر وہ ضرور ہوتا تو معاذ اللہ اس وقت کفار اہل حق ٹھہر جاتے۔ پھر اس نشانی کے ظاہر نہ ہونے سے مرزا قادیانی کا حق پر ہونا کیونکر ثابت ہوگا۔
مرزا قادیانی کو ایسے ابواب میں کمال مشاقی اور جرأت حاصل ہے اس دس ہفتے کی مہلت میں انہوں نے کوئی ایسی بات ضرور سوچی تھی کہ اس کو بالائی تدابیر سے اپنی کامیابی کا ذریعہ بنا لیتے۔ جیسے نصاریٰ کے مقابلے میں انہوں نے یہی تدبیر کی کہ باوجودیکہ پیشین گوئی جھوٹی ثابت
٥٢
ہوگئی۔ مگر وہ اسی کو اپنی کامیابی کا ذریعہ بتاتے جاتے ہیں۔ اور ایک دلیل اپنی عیسویت پر رسالہ (نشان آسمانی ص ٤٩ تا ٥١، خزائن ج ٤ ص ٣٦٧ تا ٣٧٧ ملخص) میں لکھتے ہیں کہ ”مولوی اسماعیل صاحب شہید دہلوی جس زمانے میں اس کوشش میں تھے کہ کس طرح ان کے مرشد سید احمد صاحب مہدی وقت قرار دیئے جائیں اس زمانے میں انہوں نے قصیدہ شاہ نعمت اللہ کو حاصل کر کے بہت کچھ سعی کی کہ یہ پیش گوئی ان کے حق میں ٹھہرائی جائے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کتاب کے ساتھ اس کو شائع کر دیا۔ لیکن اس پیش گوئی میں وہ پتے اور نشان دیئے گئے تھے کہ کسی طرح سید احمد صاحب ان علامات کے مصداق نہیں ٹھہر سکتے تھے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اس پیش گوئی کے مصداق کا نام احمد ہے اور نیز یہ بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ وہ ملک ہند میں ہوگا اور لکھا ہے کہ وہ تیرھویں صدی میں ظہور کرے گا۔ پس بنظر سرسری خیال گزر سکتا ہے کہ سید احمد صاحب میں یہ تینوں علامتیں نہیں ۔“
پھر مرزا قادیانی نے اس قصیدے کے چند اشعار نقل کئے جن میں سے چند یہ ہیں۔
ظلمتِ ظلم ظالمان دیار بیحد و بے شمار می بینم
چوں زمستان بے چمن بگذشت شمسِ خوش بہار می بینم
غم مخور زانکہ من دریں تشویش حرفے وصل یار می بینم
غازی دوست دار دشمن کش ہمدم ویار غار می بینم
ا ح م د دال می خوانم نام آں نامدار می بینم
پادشاہ تمام ہفت اقلیم شاہ عالی تبار می بینم
مہدی وقت وعیسی دوراں ہر دورا شہسوار می بینم
مرزا قادیانی ”چوں زمستان بے چمن بگذشت“ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ جب تیرھویں صدی کا موسم خزاں گزر جائے گا تو چودھویں صدی کے سر پر آفتاب پر بہار نکلے گا یعنی مجدد وقت ظہور کرے گا۔
یہ بات پوشیدہ نہیں کہ جہاں ہزاروں کا مجمع ہوتا ہے اس میں ہر قسم اور طبیعت کے لوگ ہوتے ہیں۔ بعض مفتری وکذاب بھی ہوتے ہیں جو اس مجمع اور گروہ کی ترقی کی غرض سے اعتقاد بڑھانے والے اقسام کی باتیں بنالیتے ہیں اور بعض دیانت دار بھی نیک نیتی سے ایسے امور کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اگر اس میں کچھ گناہ بھی ہو تو اس نیک نیتی کی وجہ
٨٣
سے معاف ہو جائے گا۔ بہر حال ممکن ہے کہ کسی نے اس وقت یہ قصیدہ بنا کر ایک کامل بزرگ کے نام سے مشہور کر دیا ہو جس سے مولوی اسماعیل صاحب کو بھی استدلال کا موقع ہاتھ آ گیا اور ان کا استدلال صحیح بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے کہ اس میں ١٢٠٠ھ کے بعد کی خبر ہے۔ جس زمانے میں سید احمد صاحب کا ظہور ہوا تھا۔ اگر بقول مرزا قادیانی چودھویں صدی کا ذکر صاحب قصیدہ کو منظور ہوتا تو (چوں زمستان پنجم بگذشت) کی جگہ (بگذرد چوں صدی سیزدہم) لکھ دیتے۔ کیونکہ جب پورے واقعات کا کشف ہی ٹھہرا تو (غ دے) کے بعد ایام فتنہ زائیاں کر کے عین مقصود بالذات زمانہ بشارت کو چھوڑ دینا بالکل خلاف عقل ہے۔ پھر جب کہ اس پیش گوئی میں سید احمد صاحب اور غلام احمد بیگ صاحب میں تنازع ہے تو سرسید احمد خاں صاحب اس سے کیوں محروم رکھے جائیں۔ ان کے اتباع تو (مہدی وقت و عیسیٰ دوراں) کے مصداق کی تکمیل میں مہدی علی خاں صاحب کو پیش کر دیں گے۔ جس سے (ہر دو را شہسواری بینم) بھی چسپاں ہو جائے گا اور مرزا قادیانی نے جو تکلیف اٹھا کر دو کو ایک کر دیا اس کی ضرورت بھی نہ رہے گی اور کثرت اتباع کے لحاظ سے بھی انہیں کا نمبر بڑھا رہے گا۔ یہ سب آپس کے جھگڑے ہیں مگر اس کا کیا جواب ہوگا کہ قصیدے میں تو بادشاہ تمام ہفت اقلیم می بینم لکھا ہے۔ اگر یہ تینوں احمد صاحبان علی سبیل البدلیت یا بطور مانعۃ الخلو مصداق ٹھہریں تو ان کے پیرو صرف ہندوستان کے مسلمانوں کے عشر عشیر نہیں ہو سکتے۔ پھر ہفت اقلیم کی سلطنت کیسی اس سے بداہتاً معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ قصیدہ جعلی ہے کسی نے مصلحت وقت کے لحاظ سے بنا کر اس بزرگ کی طرف منسوب کر دیا۔
مرزا قادیانی نے چند اشعار کی شرح کی اور پورا قصیدہ علیحدہ اسی کتاب میں لکھ دیا اس قصیدے کی ابتداء میں یہ اشعار ہیں۔
فتنہ و کار زار می بینم
ترک و تاجیک را بہم دیگر
خصمی و گیر و دار می بینم
(نشان آسمانی ص ٤١، خزائن ج ٤ ص ٣٥٧)
اب اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ فتنہ جو خراسان و مصر و شام و عراق و ترک و تاجیک میں ہو اور مرزا قادیانی ہندوستان میں نکلیں اس کی توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس فتنے کی خبر دینے کو وہ بھیجے گئے ہوں تا لوگ ہوشیار رہیں مگر کوئی ایسی خبر بھی انہوں نے اب تک شائع نہیں کی۔
٥٤
مرزا قادیانی فرماتے ہیں یہ سچ ہے کہ اشارتاً یہ پایا جاتا ہے کہ وہ ملک ہند میں ہوگا۔ چونکہ مرزا قادیانی جھوٹ کو شرک کے برابر سمجھتے ہیں۔ ضرور ہندوستان کی طرف اس میں اشارہ ہوگا۔ مگر ہماری سمجھ میں نہیں آیا شاید کسی کی سمجھ میں آجائے۔
مرزا قادیانی نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ قابل غور ہے جو احادیث ان کے مضر ہوتی ہیں۔ اگر صحیح مسلم میں بھی ہوں تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ بخاری نے ان کو صحیح نہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ (ازالہ) اور کبھی کہتے ہیں کہ امام بخاری جیسے رئیس المحدثین کو وہ حدیث نہ ملی اور کبھی کہتے ہیں ممکن ہے کہ راوی نے سہواً یا عمداً خطا کی ہو مطلب یہ کہ حدیثیں قابل اعتبار نہیں۔ یعنی موضوع ہیں اور احادیث صحیحہ میں یہ کلام ہوتا ہے کہ پیش گوئیوں میں استعارات و کنایات ہوتے ہیں۔ ظاہری معنی ان کے نہیں لے سکتے اور جو بات اپنے مفید سمجھتے ہیں وہ کیسی ہی بے اصل اور مجہول ہو اس پر استدلال کرتے ہیں اور اس کے معنی لینے میں کوئی تامل نہیں ہوتا۔ دیکھئے یہ قصیدہ تو قابل استدلال ہوا۔ جس کا ثبوت تقریباً محال ہے اور جو مضمون بیان کیا گیا وہ بھی ایسا کہ مرزا قادیانی کے سوا کوئی دوسرا نہ سمجھ سکے۔ پھر شاہ نعمت اللہ صاحب کے کشف کا اس قدر وثوق کہ کوئی لفظ اس کا ظاہری معنی سے ہٹ نہیں سکتا اور نبی ﷺ کا کشف اور پیش گوئیاں ایسی کمزور کہ جب تک ان میں نئے معنی نہ ڈالے جائیں اپنے ذاتی معنی پر دلالت ہی نہیں کر سکتیں۔ بلکہ کبھی یہ بھی کہا جاتا ہے آنحضرت ﷺ پر اس کی حقیقت کھلی ہی نہیں۔ اس پر دعویٰ امتی بلکہ نبی ہونے کا۔
ایک دلیل یہ ہے جو (ضرورت الامام ص ٢٦، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٧) میں لکھتے ہیں ۔ ”مجھے خبر دی گئی ہے کہ جو شرارت سے میرے مقابل پر کھڑا ہوگا وہ ذلیل اور شرمندہ ہو جائے گا۔ فی الواقع اگر یہ خبر اللہ کی طرف سے دی گئی ہو تو اعلیٰ درجے کی نشانی ہوگی۔ مگر اس کا ظہور اب تک نہیں ہوا۔ جب سے مرزا قادیانی نے دعویٰ عیسویت کیا ہے علماء ان کے مقابلے میں برابر کھڑے ہیں اور کبھی ان کو ذلت نہ ہوئی۔ بلکہ اسلامی دنیا میں ان کی عزت اور بڑھ گئی۔
مرزا قادیانی نے اس بناء پر یہ بات کہی ہے کہ جو شخص ان کا مقابلہ کرے گا وہ اس کو بہت سی گالیاں دیں گے اور خفیف کریں گے جس سے اس کو شرمندہ ہونا پڑے گا۔ مگر وہ کبھی ذرا سوچیں تو معلوم ہوگا کہ اس میں انہیں کی ذلت ہے۔ بازاری لوگ معززین کی نگاہوں سے کیوں گرے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے کہ فحش گوئی اور بدخلقی اکثر ان سے دیکھی جاتی ہے۔ مرزا قادیانی نے دیکھا کہ بازاری لوگ فحش و سب وشتم کی وجہ سے معزز نہیں سمجھے جاتے۔ مگر ان کے ڈر سے ان کے کام تو نکل آتے ہیں۔ اس وجہ سے برآمد کار کے لئے یہی طریقہ خوب ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ
٥٥
مرزا قادیانی نے اراذل و بدمعاشوں سے جو اس بات میں سبق لیا ہو کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔ اس لئے کہ عقلاء کی شان یہی ہے کہ اپنے مقصود کی بات جہاں ملتی ہے لے لیتے ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ ہم کس سے لے رہے ہیں۔ دیکھئے کتب اخلاق میں مصرح ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ اپنی کارآمد صفتیں کتے سے سیکھے کہ کیسا قانع اور وفادار ہے۔ بلکہ ہمیں صرف لم اور ماخذ اس طریقے کا بتلانا منظور ہے۔ گو مرزا قادیانی اس کو قبول نہ فرمائیں کیونکہ وہ اس طریقے کو عیسویت کا لازمہ قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ (عصائے موسیٰ ص ١٥٨) میں انکا قول نقل کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اکثر سخت لفظ اپنے مخاطبین کے حق میں استعمال کئے ہیں۔ جیسا کہ سؤر، کتے، بے ایمان، بدکار وغیرہ وغیرہ ۔ لفظ وغیرہ وغیرہ سے ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بکثرت گالیاں دیا کرتے تھے۔ جس سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ لازمہ عیسویت ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کو تکمیل عیسویت کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کی صفات کے ساتھ متصف ہونا ضرور تھا۔ اس لئے انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا۔ حالانکہ ان کی ذاتی خصوصیات کچھ اور ہیں۔
امام سیوطیؒ نے عیسیٰ علیہ السلام کے حالات میں کئی ایک روایتیں تفسیر درمنثور میں نقل کی ہیں۔ چونکہ یہ کتاب چھپ گئی ہے اس لئے چند روایات کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے۔ اگر کسی صاحب کو ان کا دیکھنا منظور ہو تو درمنثور کی جلد دوم میں ص ٢٦ سے ص ٣٢ تک ملاحظہ فرمالیں۔ ماحصل ان کا یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے لئے نہ کہیں گھر بنایا نہ بنانے دیا، نہ ان کے اہل وعیال تھے۔ گذران کی یہ صورت کہ جنگل میں پتے وغیرہ کھا کر بسر کرتے۔ جہاں شام ہوئی مقام کیا۔ صبح ہوئی روانہ ہو گئے۔ نہ کبھی چراغ جلایا نہ بچھونا بچھایا۔ جہاں نیند غالب ہو گئی لیٹ گئے۔ سوائے کمبل یا ٹاٹ کے کوئی لباس نہیں پہنا۔ نہ کبھی سر میں تیل ڈالا، نہ کنگھی کی۔ بجائے نعلین کسی درخت کی چھال پیروں سے لپیٹ کر لیف سے باندھ لیتے ، کبھی ٹھنڈا پانی نہیں پیا۔ ایک بار آپ پتھر سرہانے لے کر سوتے تھے۔ ابلیس نے متشکل ہو کر طعن کیا کہ آپ اکثر کہا کرتے ہیں کہ میں دنیا کا سامان کچھ نہیں رکھتا۔ پھر یہ پتھر کا سرہانا کیسا۔ آپ نے وہ بھی پھینک دیا۔ ایک بار آپ حوارئین کے ساتھ کہیں جا رہے تھے راستے میں مرے ہوئے کتے پر سے گزر ہوا۔ لوگوں نے اس کی بدبو کی شکایت کی آپ نے فرمایا اس کے دانت کتنے سفید ہیں۔ مقصود یہ کہ کسی چیز کی مذمت نہ کی جائے۔ ایک بار ایک خنزیر ان کے روبرو سے نکلا اس سے خطاب کر کے فرمایا سلامتی سے گزر جا کسی نے کہا یا روح اللہ آپ خنزیر سے ایسا خطاب فرماتے ہیں جو آدمیوں سے کیا جاتا ہے۔ فرمایا میں مکروہ سمجھتا ہوں کہ میری زبان کو بری بات کی عادت ہو۔ ایک بار ایک رفیق کے ساتھ آپ جنگل میں جا رہے
٥٦
تھے ایک بدمعاش نے حائل ہو کر کہا کہ جب تک تم دونوں کو ایک ایک طمانچہ نہ مارلوں جانے نہ دوں گا۔ آپ نے فرمایا اچھا تو مجھے مار لے اس نے آپ کو مار کر رستہ دیا۔ مگر رفیق راضی نہ ہوا۔ آپ نے فرمایا اس کے بدلے بھی مجھی کو مار، یہ کہہ کر دوسرا رخسار مبارک پیش کیا اس نے آپ ہی کو مار کر دونوں کو رستہ دیا۔ ایک بار آپ دھوپ میں چل رہے تھے دھوپ کی شدت اور پیاس کی سختی سے تاب نہ لا کر کسی کے خیمے کی چھاؤں میں بیٹھ گئے۔ صاحب خیمہ نے باہر آکر آپ کو وہاں سے اٹھا دیا۔ آپ علیحدہ ہو کر دھوپ میں بیٹھ گئے اور فرمایا اے شخص تو نے مجھے نہیں اٹھایا بلکہ اس نے اٹھایا جو نہیں چاہتا کہ دنیا میں مجھے کچھ بھی راحت ہو۔ یعنی پوری راحت جنت ہی میں ہوگی۔ آپ اکثر پانی پر چلا کرتے تھے لوگوں نے پوچھا یہ بات آپ کو کیونکر حاصل ہوئی۔ فرمایا ایمان اور یقین کی وجہ سے انہوں نے کہا ہمیں بھی تو ایمان و یقین ہے۔ فرمایا تم بھی چلو تھوڑی دور گئے تھے کہ ایک موج آئی اور وہ ڈوبنے لگے آپ نے ان کو نکال کر پوچھا تم نے کیا کیا تھا۔ کہا موج سے ہم ڈر گئے تھے۔ فرمایا موج کے رب سے کیوں نہیں ڈرے یہ تھوڑا سا حال مسیح علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھا۔ اب مسیح علیہ السلام اور مثیل مسیح کی حالت کا موازنہ کر کے بھی دیکھ لیجئے تاکہ تعرف الاشیاء باضدادہا کے لحاظ سے مرزا قادیانی کی معرفت حاصل ہو جائے۔ وہاں تجرد کی وہ کیفیت تھی تو یہاں تعیش کی یہ کیفیت کہ پیرانہ سری میں شادی ہونے میں جو توقف ہو گیا۔ تو مثیل صاحب جامے کے باہر ہیں اور کنبے بھر میں ایک تہلکہ برپا ہے کہ سمدھن صاحبہ کے بھائی نے اپنے کو لڑکی کیوں نہیں دی۔ اس جرم میں بہو بیٹے میں تفرقہ اندازی کی تدبیر اور فرزند پر یہ تشدد کہ اگر طلاق نہ دے تو عاق اور میراث سے محروم ہے۔ وہاں کمبل اور ٹاٹ کا لباس ہے تو یہاں پشمینہ وغیرہ اعلیٰ درجے کے ملبوسات ، وہاں رہنے کو گھر نہیں یہاں سجے ہوئے کمرے مکانات باغ سکونت اور تفریح کے لئے آراستہ ہیں۔ وہاں سرہانے کے تکیہ کے لئے پتھر گوارا نہیں۔ یہاں بغیر اعلیٰ درجے کے نرم نرم تو شکیں اور لحاف کے نیند نہیں آتی ہے۔ وہاں جنگل کے پتوں پر گذران تھی۔ یہاں مرغی ، انڈے پلاؤ وغیرہ الوان نعمت کی ضرورت، وہاں دھوپ میں پیاس سے موت کا سامان ہے تو یہاں ہر وقت برف ، کیوڑہ وغیرہ تنعم کا سامان مہیا، وہاں جنگل ہے اور اندھیری رات کا سناٹا اور جلانے کو چراغ نہیں ، یہاں گھر کے پاس ہزاروں روپے کے صرف سے ایک بلند منارہ بنایا گیا۔ جس کی روشنی جنگل میں پڑے۔ وہاں کل راحتوں کا حوالہ آخرت پر ہے تو یہاں کل راحتوں کا استیفاء دنیا میں ۔ وہاں مرے ہوئے کتے کی مذمت گوارا نہیں۔ یہاں صحابہ سے لے کر آج تک کے مسلمان مشرک قرار دیئے جارہے ہیں اور مسلمانوں کی شان میں وہ الفاظ کہ کوئی کافروں کو بھی نہیں کہتا۔ وہاں ٥٧
خنزیر کے ساتھ مہذبانہ برتاؤ یہاں علماء ومشائخین کے القاب خنزیر وغیرہ زبان زد ہیں۔ غرض کہ مثیل مسیح موعود ہونے کے لئے تمامی اوصاف مسیح علیہ السلام سے وہ صفت منتخب کی گئی۔ جس سے مسیح علیہ السلام کو کمال درجے کی نفرت اور احتراز رہا اور انجیل جس کو خود ہی محرف بتاتے ہیں اس میں سے صرف فحش اور سب وشتم کا مضمون لے کر مسلمانوں کو لگے گالیاں دینے کہ دیکھو میں مسیح ہوں میرا فرض منصبی ہے کہ دل کھول کر لیکن ٹھنڈے دل سے گالیاں دیا کروں۔ اس کی وجہ اور کیا ہو سکتی ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے جب دیکھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیات اور فضائل واخلاق کا حاصل کرنا تو محال ہے اور ان کی کوئی بات اپنے میں نہ ہو تو مسیحیت کا ثبوت مشکل ہے اس لئے ما لا يدرك كله لا يترك كله کے لحاظ سے خذ ما صفا ودع ما كدر پر عمل کر کے طریقہ سب وشتم کو اختیار کیا جس کا ذکر اناجیل محرفہ میں ہے۔
اس باب میں جو تحریفیں وغیرہ ہوئیں اس کا الزام اس کے ذمے ہوگا جس نے الحاق کر کے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اس طریقہ شنیعہ کو منسوب کیا۔ مرزا قادیانی نے حسن ظن سے اس باب میں صرف تقلید نصاریٰ کی کی اور مقلد کو یہ حق نہیں کہ اپنے مقتداء پر تحریف وغیرہ کا الزام لگائے اس لئے نہ مرزا قادیانی پر تحریف کا الزام آ سکتا ہے۔ نہ ترک تحقیق کا بہر حال یہ دین عیسائی کی تعلیم تھی۔ اب دین محمدی کی تعلیم دیکھئے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”ان الله يامر بالعدل والاحسان وايتاء ذي القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر (النحل : ٩٠)“ یعنی خدائے تعالیٰ منع کرتا ہے بے حیائی اور بدگوئی اور برے کام سے اور ارشاد ہے۔ ”ولا تتبعوا خطوات الشيطان انه لكم عدو مبين انما يأمركم بالسوء والفحشاء (البقرة : ١٦٨، ١٦٩)“ یعنی شیطان جو تمہارا دشمن ہے بدگوئی اور برے کاموں کا حکم کرتا ہے۔ ان دونوں آیتوں سے ظاہر ہے کہ سب وشتم سے خدائے تعالیٰ منع فرماتا ہے اور شیطان اس کا حکم کرتا ہے اور ہمارے نبی کریم ﷺ میں اس صفت کا نام ونشان نہ تھا۔ جیسا کہ (بخاری شریف ج ٢ ص ٨٩١، باب لم يكن لنبي فاحشاً ولا متفحشاً ) میں ہے۔ ”لم يكن النبي ﷺ فاحشا ولا متفحشا “ یعنی بدگوئی کی صفت حضرت میں نہ بالطبع تھی نہ عارضی طور پر اور یہ روایت بھی (بخاری شریف ج ٢ ص ٨٩١، باب ایضاً) میں ہے کہ چند یہودی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بجائے السلام علیکم کے دبی آواز سے اسام علیکم کہا حضرت نے ان کے جواب میں صرف وعلیکم فرمایا مگر عائشہؓ صبر نہ کر سکیں۔ کیونکہ سام کے معنی موت کے ہیں اور غصے سے کہا وعليكم ولعنكم الله وغضب الله عليكم حضرت نے ان سے فرمایا مهلًا یا عائشه
٥٨
علیک بالرفق وایاک والعنف والفحش“ یعنی اے عائشہ سختی اور بدگوئی سے دور رہو۔ دیکھئے بددعاء کے بدلے بددعاء دی گئی تھی۔ اس کا نام بھی حضرت نے فحش ہی رکھا جس سے خدا تعالیٰ منع فرماتا ہے۔ ”وعن عبدالله قال قال رسول الله ﷺ سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر (البخاری ج ٢ ص ٨٩٣، باب ما ینہٰی عن السباب واللعن)“ یعنی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کا قتل کفر ہے۔ ” وعن ثابت ابن الضحاک قال قال رسول الله ﷺ من لعن مؤمنا فہو کقتلہ ومن قذف مؤمنا بکفر فہو کقتلہ (البخاری ج ٢ ص ٨٩٣، باب ایضاً) ” یعنی جو شخص کسی مسلمان پر لعنت کرے یا اس کو کافر کہے تو گویا اس کو اس نے قتل کر ڈالا۔ مرزا قادیانی کو اسماء میں تصرف کرنے کا ہتھکنڈہ ہاتھ آگیا ہے۔ اس لئے خوب سی گالیاں دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ان کا نام گالی ہی نہیں۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٩) میں لکھتے ہیں ” اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے۔ بلکہ ایسی ہر ایک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو۔ محض اس کی کسی قدر مرارت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لازم حال ہوا کرتی ہے۔ دشنام ہی تصور کر لیتے ہیں۔ حالانکہ دشنام اور سب وشتم فقط اس مفہوم کا نام ہے۔ جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض ایذا رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے۔“
حاصل اس کا یہ ہوا کہ کسی کے واقعی عیوب بیان کئے جائیں تو مضائقہ نہیں۔ مگر یہ بات قرآن شریف کے خلاف ہے حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ویل لکل ہمزۃ لمزۃ (ہمزۃ: ١)“ یعنی ہمزہ اور لمزہ کے لئے ویل ہے جو جہنم میں ایک وادی ہے۔ تفسیر خازن میں ہمزہ اور لمزہ میں کئی اقوال نقل کر کے لکھا ہے کہ سب اقوال کا مرجع اسی طرف ہے کہ وہ اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کا عیب بیان کرے۔ اب دیکھئے کہ جب یقینی موجودہ عیوب ظاہر کرنے کی یہ وعید ہو تو (مادرزاد اندھے رئیس الدجالین، ہامان ہالکین وغیرہ) کہنے کا کیا حال ہو۔ پھر مرزا قادیانی خنزیر، چمار، چوہڑے جو علماء کو کہتے ہیں کیا ان الفاظ پر بھی دشنام کی تعریف صادق نہیں آتی۔
مرزا قادیانی کا یہ بھی استدلال ہے کہ حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں کافروں کو بہت گالیاں دی ہیں اور حدیث شریف میں ان پر لعنت وغیرہ وارد ہے۔ مقصود یہ کہ مرزا قادیانی نے خدا کا طریقہ اختیار کیا اور نیز اشداء علی الکفار بھی وارد ہے۔ اشداء علی الکفار کا جواب تو ظاہر ہے کہ سختی کافروں پر چاہئے، مسلمانوں کو گالیاں دینے
٨٥
سے کیا تعلق ، ان کے باب میں تو رحماء بینہم کا ارشاد اسی سے متصل کیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی کا روئے سخن گالیوں میں صرف علماء ومشائخین اہل اسلام کی طرف ہے۔ اگر بزعم مرزا قادیانی وہ گنہگار بھی ہوں تو کیا اسلام سے خارج سمجھے جائیں گے۔ پھر اشداء علی الکفار سے استدلال کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ بلکہ برخلاف اس کے برے القاب سے مسلمانوں کا ذکر ممنوع ہے۔ ”ولا تلمزوا انفسکم ولا تنابزوا بالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الایمان ومن لم یتب فاولئک ہم الظالمون (حجرات:١١)“ یعنی عیب مت کرو آپس میں ایک دوسرے کا اور مت پکارو ایک دوسرے کو برے نام سے برا نام گناہ گاری ہے۔ پیچھے ایمان کے اور جو کوئی توبہ نہ کرے وہ ظالموں سے ہے۔ تفسیر خازن میں بروایت ترمذی منقول ہے کہ بعض لوگوں کے دو دو تین تین نام ہوتے تھے۔ جن میں وہ بعضوں کو ناپسند کرتے تھے۔ اگر کوئی ناپسند ناموں سے ان کو پکارتا تو وہ رنجیدہ ہوتے ان کے باب میں یہ آیہ شریفہ نازل ہوئی اور لکھا ہے کہ ”لا تلمزوا انفسکم (حجرات:١١)“ یعنی اپنی ذاتوں کو عیب مت لگاؤ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم نے اپنے بھائی مسلمان کو عیب لگایا تو گویا وہ عیب تم نے اپنے آپ کو لگایا۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ قرآن اس درجے کے اتحاد کی تعلیم کر رہا ہے کہ سب مسلمان آپس میں کنفس واحدہ ہو جائیں اور عمل یہ ہو رہا ہے کہ صرف عیب ہی نہیں لگائے جاتے۔ بلکہ مغلظات کی بوچھاڑ کی جاتی ہے۔ جس سے اعلیٰ درجے کی دشمنی باہم پیدا ہو جائے۔ اس پر اصلاح قوم کا دعویٰ اب رہا یہ کہ خدائے تعالیٰ کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ سو اس میں یہ کلام ہے۔ جب آیات و احادیث مذکورہ سے ثابت ہو گیا کہ بدگوئی سے خدا و رسول منع فرماتے ہیں اور منع ہی نہیں بلکہ سخت سخت اس پر وعیدیں ہیں۔ تو کسی کو حق نہیں کہ اپنے مالک اور خالق سے پوچھے کہ جس کام سے آپ منع کرتے ہیں اس کے آپ کیوں مرتکب ہیں۔ دیکھ لیجئے تکبر اور تعلی سے حق تعالیٰ نے بندوں کو منع فرمایا ہے اور خود متکبر ہے کیا کوئی اس سے پوچھ سکتا ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”لا یسأل عما یفعل وہم یسألون (انبیاء:٢٣)“ یعنی خدائے تعالیٰ جو چاہے کرے اس سے کوئی نہیں پوچھ سکتا اور وہ سب سے پوچھے گا کہ یہ تم نے کیوں نہ کیا۔ اسی طرح نبی ﷺ نے امت کو چار سے زیادہ عورتوں کی اجازت نہیں دی اور خود بوجوہات کے نو یا اس سے زیادہ ازواج مطہرات تھیں۔ اس کے سوا اور بہت سی خصوصیات تھیں جو علماء پر پوشیدہ نہیں۔
اب استدلال کا حال بھی دیکھ لیجئے کہ اگر بقول مرزا قادیانی قرآن میں گالیاں ہیں بھی تو وہ کن کو دی گئیں اور اس کا منشاء کیا ہے جو لوگ اپنے خالق کو خالق نہ سمجھیں اور اپنے ہاتھ سے
بنائے ہوئے بت کی پرستش کریں اور بجائے شکر کے ناشکری کریں اور حق تعالیٰ پر بدنما تہمتیں لگائیں اور اس کے بھیجے ہوئے سچے پیغمبر کی بات نہ مانیں اور کھلی کھلی نشانیاں دیکھ کر بھی اعتبار نہ کریں اور قدرت الہی پر ایمان نہ لائیں تو وہ زجروتوبیخ تو کیا اس سے زیادہ کے مستحق ہیں۔ بھلا مرزا قادیانی ان میں سے ایک بات تو اپنے مخالفین میں بتا دیں، سوا اس کے کہ ان کی جعلی اور بے ضرورت نبوت کو نہیں مانتے۔ جن لوگوں نے ان کی عیسویت کو قبول کر لیا ہے اور ایماندار سمجھے جاتے ہیں ان میں تقرب الی اللہ کی کون سی بات زیادہ ہوگئی جو سب میں نہیں۔ سوائے چند چیزوں کے جو ان کی عیسویت کے مزاحم ہیں۔ مثلاً نبی ﷺ کے معراج کا انکار، عیسیٰ علیہ السلام کی موت، قرآن میں جو انبیاء علیہم السلام کے معجزوں کا ذکر ہے۔ اکثر ان میں مسمریزم اور سحر تھے۔ مرنے کے بعد اس عالم میں کوئی زندہ نہیں ہو سکتا اور اس قسم کی خبریں جو قرآن میں دی گئیں وہ خلاف واقع ہیں۔ حشر اجساد کا انکار!
غرض کہ یہی چند مسائل کا اختلاف، کفر و ایمان کا معیار ٹھہرایا گیا کافر ملعون وغیرہ القاب انہیں چند خیالات اور اختراعات کے نہ ماننے کی وجہ سے دیئے جارہے ہیں۔ یہاں مرزا قادیانی بھی غور فرمائیں کہ اس میں ہم لوگوں کا کیا قصور ہے۔ ان امور میں جو ہمارے اعتقاد ہیں۔ اگر وہ ہمارے تراشیدہ اور اختراعی ہوتے تو یہ اعتراض ہو سکتا کہ ”كل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار (نسائی ج١ ص١٦٢، باب الخطبة فى العيدين)“ ہمارے اعتقاد تو قرآن وحدیث واجماع سے ثابت ہیں۔ پھر کیونکر ہو سکے گا کہ باوجود اسلام کے دعویٰ کے ہم اس کو چھوڑ دیں۔
ہم کتنا ہی عاجزی سے کہیں ہمیں یقین نہیں کہ مرزا قادیانی اس طریقہ سب وشتم کو چھوڑیں گے۔ کیونکہ انہوں نے تو اسی کو تکمیل عیسویت سمجھ رکھا ہے اور نیز اس الہام کو پورا کرنا ہے کہ جو ان کے مقابلے کو کھڑا ہوگا وہ ذلیل اور شرمندہ ہوگا اور ان کی امت کو بھی سب وشتم کی ضرورت ہے تا کہ اس الہام کا مضمون پورا ہو اور ان سے یہ تو امید نہیں کہ اپنے نبی کی مخالفت کر کے ہمارے نبی ﷺ کے طریقہ عمل اور ارشادات پر عمل کریں اور نرمی اور تہذیب کو کام میں لائیں۔ اگر ایسا کیا تو اپنے نبی کی امت سے خارج ہوئے جاتے ہیں۔ غرض کہ اس باب میں وہ بھی معذور ہیں اس موقع میں ہم لوگوں کو ضرور ہے کہ اس آیہ شریفہ کو پیش نظر رکھیں۔ جو حق تعالیٰ فرماتا ہے ”لتبلون في اموالكم وانفسكم ولتسمعن من الذين اوتو الكتاب من قبلكم ومن الذين اشركوا اذى كثيراً (آل عمران: ١٨٦)“ ”البتہ تم آزمائے جاؤ گے مال
سے اور جان سے اور البتہ سنو گے اہل کتاب اور مشرکین سے بدگوئی بہت اور اگر تم صبر کرو اور پرہیز گاری کرو تو یہ ہمت کے کام ہیں۔ ﴾
اس آیۂ شریفہ کے لحاظ سے ضرور ہے کہ صبر کرنے میں ہم لوگ ہمت نہ ہاریں۔ تھوڑے دن کسی طرح گزر جائیں گے اور اس کا عمدہ بدلہ حق تعالیٰ عطا فرمائے گا۔ یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ آیۂ شریفہ میں تو اہل کتاب اور مشرکین کا ذکر ہے جن کی ایذا پر صبر باعث اجر ہے اور مرزا قادیانی تو نہ اہل کتاب سے ہیں نہ مشرک ہیں۔ بلکہ اس شبہ کا جواب یہ سمجھا جائے کہ مرزا قادیانی اس باب میں عیسائیوں کے مقلد ہیں۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا اور جس دین کے لوگوں کا جو کوئی مقلد ہو وہ اسی میں سمجھا جاتا ہے۔ دیکھ لیجئے حنفی، شافعی وغیرہ سب محمدی ہیں۔ اس صورت میں جو بات ہم کو عیسائیوں کی اذیت رسانی میں حاصل ہونے والی ہے مرزا قادیانی اور ان کی امت کے سب وشتم میں بھی وہی حاصل ہے اور دراصل ہمارے اسلام کا طریقہ کل انبیاء علیہم السلام کا طریقہ ہے جس پر قرآن کریم شاہد ہے۔ مثلاً ”فقولا له قولا لينا طه:٤٤“ وغیرہ سے ظاہر ہے سراج الملوک میں نقل کیا ہے۔ ”مر المسیح علیہ السلام علی قوم من اليهود فقالوا له شرا وقال لهم خيراً فقيل له انهم يقولون شراً وانت تقول خيراً فقال كل ينفق بما عنده “ یعنی مسیح علیہ السلام کا گزر یہود کی کسی قوم پر ہوا وہ لوگ آپ کو دیکھتے ہی بری بری گالیاں دینے لگے مگر آپ نے نہایت عمدگی سے ان کے جواب دیئے کسی نے آپ سے کہا کہ وہ تو سختی اختیار کر رہے ہیں اور آپ اس عمدگی سے پیش آرہے ہیں۔ فرمایا ہر شخص وہی خرچتا ہے جو اس کے پاس ہو۔ الحاصل مرزا قادیانی جو لکھتے ہیں کہ ”مجھے خبر دی گئی کہ میرا مقابل ذلیل اور شرمندہ ہوگا ۔“ مشاہدے سے ثابت ہے کہ وہ خبر غلط نکلی کہ مرزا قادیانی خود ہی ذلیل و شرمندہ ہوئے۔ جیسا مناظروں وغیرہ سے ظاہر ہے اس سے معلوم ہو گیا کہ فی الواقع ان کو کوئی خبر نہیں دی گئی تھی۔ صرف تخویف کی غرض سے انہوں نے وہ مشہور کر دیا تھا مگر مرزا قادیانی اور ان کے اتباع یاد رکھیں کہ ایسی تخویفوں سے مسلمانوں کو کوئی جنبش نہیں ہوتی ۔ بلکہ ان کا ایمان اور زیادہ ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”الذين قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم ايماناً وقالوا حسبنا الله ونعم الوكيل فانقلبوا بنعمة من الله وفضل لم يمسسهم سوء واتبعوا رضوان الله والله ذوالفضل العظيم انما ذلكم الشيطان يخوف اولياءہ فلا تخافوهم وخافون ان كنتم مؤمنین (آل عمران:١٧٣ تا ١٧٥) “ یعنی مسلمانوں سے جب کہا گیا کہ دیکھو تمہارے مارنے
کے واسطے لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ ان سے ڈرو تو اس سے ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا اور کہنے لگے کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ ہمارا اچھا وکیل ہے سو ان کو کوئی برائی نہیں پہنچی اور وہ اللہ کی رضا مندی کے ساتھ رہے اور وہ جو ڈراتا ہے۔ شیطان ہے اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے۔ یعنی اس کے ڈرانے سے ڈرنے والے شیطان کے دوست ہیں سو تم ان سے مت ڈرو۔ بلکہ مجھ سے ڈرو اگر تم مسلمان ہو۔ اس سے ظاہر ہے کہ ایسی تخویفات سے ڈرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور مسلمان نہیں۔ اب غور کیا جائے کہ خدا اور رسول کے کلام کی کوئی تکذیب کر کے اس کی حمایت کرنے والوں کو ذلت سے ڈرائے تو کیا ممکن ہے کہ وہ بزدلی کر کے چپ رہ جائیں گے۔ ہر گز نہیں گالیوں کی ذلت تو کیا قتل کی تخویف سے بھی وہ نہیں ڈرتے۔
جس طرح مرزا قادیانی نے ذلت سے ڈرایا اسی طرح تخویف کے لئے وہ یہ خواب بھی بیان فرماتے ہیں۔ جو (ازالۃ الاوہام ص ٨٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٤) میں درج ہے کہ ”میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک تلوار میرے ہاتھ میں ہے۔ جس کا قبضہ میرے پنجہ میں اور نوک آسمان تک پہنچی ہوئی ہے۔ جب میں اس کو دائیں طرف چلاتا ہوں تو ہزاروں مخالف اس سے قتل ہو جاتے ہیں اور جب بائیں طرف چلاتا ہوں تو ہزار ہا دشمن اس سے مارے جاتے ہیں۔“ اس خواب سے بھی مرزا قادیانی کا مقصود مخالفین کی تخویف اور معتقدوں کا اعتقاد بڑھانا ہے کہ وہ اس غیبی تلوار سے دائیں بائیں مسلمان اور کفار کو تہ تیغ کریں گے۔ کیونکہ جہلاء کو تعبیر تو معلوم ہی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے وہ ظاہری مفہوم کو سچ سمجھ لیں گے۔ دراصل تعبیر پر مطلع ہونا ہر کسی کا کام نہیں۔ البتہ بطور خود جب اس کا ظہور ہو جاتا ہے تو اس وقت یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ صورت مثالیہ جو دکھلائی گئیں تھی۔ اس سے وہی مراد ہے جس کا ظہور ہوا جب ہمارے مشاہدے سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی ایک طرف آیات و احادیث پر وار کر رہے ہیں اور دوسری طرف اقوال سلف پر، تو کھلے طور پر معلوم ہو گیا کہ اس کی تعبیر یہی ہے جو ظہور میں آگئی۔ اس سے ظاہر ہے کہ تلوار کی نوک جو آسمان تک پہنچی ہوئی ہے وہ اشارہ کر رہی ہے کہ علوم سماویہ کو ان سے ضرر پہنچے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مسئلہ معراج و حشر اجساد و احیائے اموات و حیات مسیح علیہ السلام وغیرہ مسائل میں بہت سے مسلمانوں کے دل میں خدشے پیدا ہو گئے اور بہتوں نے تو آمنا و صدقنا بھی کہہ دیا۔ داہنی طرف ان کے مخالف آیات و احادیث ہیں اور بائیں طرف اقوال سلف جن کو وہ تہ تیغ کر رہے ہیں۔ ہر چند مرزا قادیانی مسلمانوں کو اپنے مخالف سمجھتے ہیں۔ مگر دراصل ان کو کوئی مخالفت نہیں۔ منشاء مخالفت کا یہی ہے کہ وہ آیات و احادیث و اقوال سلف پر تعدی کر رہے ہیں۔ جن کی حمایت ہر
٦٣
مسلمان پر فرض عین ہے۔ ورنہ جب تک مرزا قادیانی کا حال کھلا نہ تھا۔ براہین احمدیہ وغیرہ کے طبع میں کس قدر تائیدیں دیں اور اگر مخالفین سے مراد اہل اسلام ہی ہوں تو ان کا قتل ہو جانا ظاہر ہے اس لئے کہ جب مرزا قادیانی کی تقریر جو تیغ براں سے کم نہیں ان پر اثر کر گئی اور آیات قرآن اور احادیث سے ان کا ایمان ہٹ گیا اور مرزا قادیانی کے متبع ہو گئے تو ان کے قتل معنوی میں کیا شک ۔ یہ ہلاکت ایسی نہیں ہے جس کے ہم پلہ موت ہو سکے۔ بلکہ وہ ہلاکت ابدی ہے۔ اعاذنا الله واياهم منه!
اب مرزا قادیانی کی اس تقریر پر غور کیجئے جو (ازالۃ الاوہام ص ٦٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٥٥) میں لکھتے ہیں کہ ”حدیثوں میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ مسیح موعود اس وقت دنیا میں آئے گا کہ جب علم قرآن زمین پر سے اٹھ جائے گا اور جہل شیوع پائے گا۔ یہ وہی زمانہ ہے جس کی طرف ایک حدیث میں یہ اشارہ ہے ”لو کان الایمان معلقا عندالثريا لناله رجل من فارس“ یہ وہی زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا ۔“ جب خواب مرقوم الصدر کی تعبیر مشاہدے سے ثابت ہو گئی تو اس خواب والی شمشیر نے کشف کو بے سروپا کر دیا۔ کیونکہ تلوار کی نوک بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ اگر قرآن بالفرض ثریا پر پہنچ جائے تو اس کو مرزا قادیانی وہاں بھی نہ چھوڑیں گے اس لئے تلوار کی نوک جہاں پہنچے اس سے وہاں وہی کام لیا جائے گا جو اس کے لائق ہے۔
ایک دلیل نبوت اور عیسویت پر ان کی یہ ہے کہ الہام ہوا کرتے ہیں اور اس دلیل کو بنسبت دوسری دلیلوں کے قوی بتلاتے ہیں۔ یہاں تک کہ فرماتے ہیں ہمارا دعویٰ الہام سے پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات الہام سے معلوم ہوئی اور اپنے کل فضائل کلیہ اور جزئیہ اور خلیفۃ اللہ اور عیسیٰ موعود اور رسول اللہ وغیرہ ہونا بھی الہام سے معلوم ہوا۔ مگر الہام ہونے کی جو خبریں دیتے ہیں ان میں یہ کلام ہے کہ سوائے ان کے مجرد قول کے اس پر کوئی گواہ نہیں ۔ چونکہ انہوں نے حدیث شریف کے راویوں کی نسبت یہ فرمایا ہے کہ جائز ہے کہ انہوں نے عمداً یا سہواً خطاء کی ہو تو ہم اس موقع میں کہہ سکتے ہیں کہ جب راویوں میں صحابہ بھی شریک ہیں تو یہ احتمال وہاں تک پہنچ رہا ہے اور اس احتمال کو جب اس قدر وسعت دی گئی ہے کہ تمام اہل اسلام کے مسلم اشخاص پر شامل ہو رہا ہے تو مرزا قادیانی ہی کے قول کے مطابق ان کے الہامی خبروں میں بھی وہی احتمال پڑ گیا کہ جائز ہے کہ عمداً یا سہواً انہوں نے خطاء کی ہو اور انہیں کی تصریح کے مطابق کہ اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال ان کا کوئی الہام قابل استدلال نہ رہا۔
میاں عبدالحق صاحب کو مرزا قادیانی کے جہنمی ہونے پر اس تصریح سے الہام ہوا تھا کہ
”سيصلے ناراً ذات لهب“ یعنی قریب ہے کہ مرزا دوزخی آگ میں داخل ہوگا۔ اس پر مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٦٢٨، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) میں لکھتے ہیں کہ ”یہ الہام شیطانی ہے اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے انکشاف کے لئے بطور استخارہ اور استخبارہ وغیرہ کے توجہ کرتا ہے خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی برا یا بھلا کلمہ بطور الہام معلوم ہو جائے تو شیطان اس وقت اس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔“ مرزا قادیانی نے یہاں ایک قاعدہ بتلا دیا ہے کہ جب کسی چیز کی طرف توجہ تام ہوتی ہے تو شیطان آرزو میں دخل دیتا ہے اور اس وقت جو الہام ہوتا ہے وہ شیطانی ہوتا ہے۔ اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی ابتدائے شعور سے کتب مذاہب باطلہ کی طرف متوجہ ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر انہوں نے ایک نیا مذہب ایجاد کر ہی ڈالا۔ اس عرصے میں ہر وقت شیطان کو موقع ملتا رہا اور وقتاً فوقتاً الہام کرتا رہا جو براہین احمدیہ وغیرہ کتب میں مذکور ہیں اور اب تک اس کا سلسلہ منقطع نہیں بلکہ صفائی اور بڑھتی جارہی ہے۔ چنانچہ کن فیکون والا الہام اسی آخری زمانے کا ہے۔ انہوں نے جو قاعدہ ایجاد کیا ہے اس کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ ”سيصلے ناراً“ کے الہام کے جواب میں ”تبت یدا ابی لهب“ کا الہام ہو گیا۔ جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص ١٩٤، خزائن ج ٣ ص ١٩٤) میں یہ الہام لکھتے ہیں۔ ”ويخوفونك من دونه أئمة الكفر تبت یدا ابی لهب وتب“ الغرض اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کو شیطانی الہام ہوا کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے اقرار سے ثابت ہے کہ عوام الناس تو کیا انبیاء کے الہاموں میں بھی شیطان کا دخل ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ چار سو نبیوں کے الہام ایک ہی واقعے میں شیطانی اور جھوٹے نکلے۔
(ازالۃ الاوہام ص ٦٢٨، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)
جب انبیاء کے الہام بحسب اقرار مرزا قادیانی جھوٹے نکلے تو مرزا قادیانی کے الہاموں کا جھوٹے اور ساقط الاعتبار ہونا بطریق اولیٰ ثابت ہو گیا یہ بات بدلائل ثابت ہو چکی کہ مرزا قادیانی کی کل پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں اور ظاہر ہے کہ پیش گوئی بغیر الہام کے ہو نہیں سکتی۔ اس لئے کہ آئندہ ہونے والے واقعے اور غیب کی باتیں جب تک خدائے تعالیٰ الہام کے ذریعے سے معلوم نہ کرائے کسی کو معلوم نہیں ہو سکتیں۔ پھر جب ان کی کل پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں تو معلوم ہوا کہ اس کے متعلق الہام بھی شیطانی تھے۔
کئی واقعات سے مرزا قادیانی کا جھوٹ کہنا بلکہ جھوٹی قسمیں کھانا اور خیانت اور
بدنیتی وغیرہ حالات معلوم ہوئے۔ جن کا ذکر ہو چکا ہے اور ظاہر ہے کہ رتبہ الہام بغیر اعلیٰ درجے کے تقدس کے حاصل ہو نہیں سکتا۔ اس لئے مرزا قادیانی کے الہام ہرگز قرین صدق نہیں۔ کئی واقعات گواہ ہیں کہ مرزا قادیانی نے دنیوی اغراض اور منافع حاصل کرنے کے لئے وعدہ خلافیاں کیں۔ داؤ پیچ کئے، دھوکے دیئے۔ غرض کہ کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ الہام بھی انہیں اغراض کی تکمیل کے لئے بنا لیا کرتے ہیں۔ ان کو شیطانی الہام بھی کہنے کی ضرورت نہیں۔
مرزا قادیانی نے جس طرح ظاہر بینوں کے لئے عقلی معجزات کی ایک نئی مد قائم کر کے اس میں تمام تدابیر اور داؤ پیچ داخل کر دیئے۔ اسی طرح معتقدین الہام کے لئے الہاموں کے ایجاد کی ضرورت ہوئی۔ جس سے باطنی اور ظاہری لوازم نبوت برائے نام پورے ہو جائیں اور کسی کو یہ کہنے کی گنجائش نہ ملے کہ اگر مرزا قادیانی نبی ہیں تو معجزے اور وحی کہاں اسی لئے انہوں نے اس پر زور دیا کہ الہام ہی کا نام وحی ہے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے۔
خوارق عادات بنسبت الہام کے نہایت کم درجہ اور پست مرتبہ ہیں اس لئے کہ بتصریح حکماء واہل اسلام ثابت ہے کہ خوارق کے ظاہر ہونے کے لئے اسلام شرط نہیں۔ اسی وجہ سے جوگیوں وغیرہم سے بھی خوارق ظاہر ہوا کرتے ہیں اور الہام ربانی سوائے اعلیٰ درجے کے متقی اور اولیاء اللہ کے کسی کو نہیں ہوتے۔ چونکہ خوارق عادات علانیہ دکھلانے کی ضرورت تھی اس لئے انہوں نے اس میں ایسی پیچیدگیاں ڈال دیں اور شروط کے شکنجے میں داب دیا کہ عمر بھر مرزا قادیانی کے خوارق دیکھنا کسی کو نصیب نہ ہو اور الہام جو غیر محسوس امر تھا بطیب خاطر اس کو قبول کر کے اس بات پر زور دیا کہ وہ قطعی ہے، اور متدین کو ضرور ہے کہ جب الہام کا نام سن لے تو دم نہ مارے اور یقیناً سمجھ لے کہ واقع میں وہ الہام ہوا ہے اور وہ الہام لوگوں پر حجت بھی ہے۔ کیا ان تصریحات کے بعد بھی اہل دانش اور سخن شناسوں پر مرزا قادیانی کے الہاموں کی حقیقت پوشیدہ رہے گی۔
مرزا قادیانی الہاموں کو قطعی اور حجت بنانے کی کوشش جو کر رہے ہیں وہ اسی غرض سے ہے کہ ہر ایک مسئلے میں استدلال کی تکلیف سے سبکدوشی حاصل ہو جائے اور یہ مرتبہ حاصل ہو کہ مرزا قادیانی جو کچھ کہیں وہ وحی واجب التعمیل سمجھی جائے۔ اگر کہا جائے کہ مرزا قادیانی نے یہ بھی تو کہہ دیا ہے کہ قرآن میں ایک نقطے کی بھی کمی و زیادتی ممکن نہیں اس میں تو کمال درجے کی احتیاط ہے۔ اگر بالفرض کوئی الہام بنا بھی لیا تو وہ مخالف قرآن نہ ہوگا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہی فقرہ تو مسلمانوں کو دام میں پھانستا ہے۔ جتنے مدعیان نبوت گزرے سب کا یہی دعویٰ تھا۔ مگر آیات قرآنیہ ہی سے انہوں نے حرام کو حلال بنایا تمام عبادات
٦٦
ساقط کر دیئے جس کا حال ابھی معلوم ہوا۔ مرزا قادیانی ہی کو دیکھ لیجئے کہ قرآن ہی سے تمام امت کو حتیٰ کہ سلف صالح کو مشرک قرار دیا اور خاتم النبیین کے الفاظ پر ایمان بھی ہے باوجود اس کے نبوت اور رسالت کا دعویٰ بھی ہے اور وحی بھی برابر نازل ہوتی ہے اور معجزے بھی متواتر صادر ہو رہے ہیں اور لوگ بھی ایمان لاتے جاتے ہیں۔ حشر اجساد کا انکار، معراج کا انکار، صلبی فرزند محروم الارث، انبیاء ساحر، قرآن میں جن معجزات کا ذکر ہے وہ مسمریزم وغیرہ۔ باوجود اس کے قرآن میں ایک نقطہ کی کمی و زیادتی ممکن نہیں۔
الحاصل جب ایک احتمال سے استدلال باطل ہو جاتا ہے تو مرزا قادیانی کے الہام شیطانی بلکہ مصنوعی ہونے پر تو اتنے دلائل موجود ہیں پھر وہ ان کی نبوت اور عیسویت پر کیونکر دلیل ہو سکتے ہیں۔
ایک دلیل عیسویت پر یہ ہے کہ معارف قرآنی دیئے گئے ہیں۔ مرزا قادیانی کو جن معارف پر ناز ہے سورۃ انا انزلنا کی تفسیر ہے۔ جس کو ازالۃ الاوہام میں کئی ورق لکھ کر یہ باور کراتے ہیں کہ یہ معارف کیا کسی اور تفسیر میں مل سکتے ہیں۔ چونکہ وہ نہایت طولانی تقریر ہے جس کو پوری نقل کرنا تضیع اوقات اور تطویل بلا طائل ہے۔ اس لئے ملخصاً چند عبارتیں اس کی نقل کی جاتی ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ”سورۃ القدر کے معانی پر غور کرنے سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس سورۃ میں صاف اور صریح لفظوں میں فرما دیا ہے کہ جس وقت کوئی آسمانی مصلح زمین پر آتا ہے تو اس کے ساتھ فرشتے آسمان سے اتر کر مستعد لوگوں کو حق کی طرف کھینچتے ہیں۔ پس ان آیات کے مفہوم سے یہ جدید فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ اگر سخت ضلالت اور غفلت کے زمانے میں ایک دفعہ خارق عادت کے طور پر انسانوں کے قویٰ میں خود بخود مذہب کی تفتیش کی طرف حرکت پیدا ہونی شروع ہو جائے تو وہ اس بات کی علامت ہوگی کہ کوئی آسمانی مصلح پیدا ہو گیا ہے۔ کیونکہ بغیر روح القدس کے نزول کے وہ حرکت پیدا ہونا ممکن نہیں ...... پھر وہ حرکت تامہ ہو تو رو بحق ہو جاتے ہیں اور حرکت ناقصہ ہو تو اور زیادہ گمراہ ہوتے ہیں ...... ہر نبی کے نزول کے وقت ایک لیلۃ القدر ہوتی ہے ...... لیکن ان سب سے بڑی لیلۃ القدر وہ ہے جو ہمارے نبی ﷺ کو عطاء کی گئی۔ درحقیقت اس لیلۃ القدر کا دامن آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے قیامت تک پھیلا ہوا ہے اور جو کچھ قوائے انسانی میں جنبشیں آج تک ہو رہی ہیں وہ لیلۃ القدر کی تاثیریں ہیں ...... اور جس زمانے میں حضرت کا نائب دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو یہ تحریکیں بہت تیز ہوتی ہیں ...... نائب کے نزول کے وقت جو لیلۃ القدر مقرر کی گئی ہے وہ درحقیقت حضرت ہی کی لیلۃ القدر کی شاخ اور ظل ہے۔ اس لیلۃ القدر کی
٦٧
شان میں فیہا یفرق کل امر حکیم ہے۔ یعنی اس لیلۃ القدر کے زمانے میں جو قیامت تک ممتد ہے ہر ایک حکمت اور معرفت اور علوم اور صنعتیں ظاہر ہو جائیں گی۔ لیکن یہ سب کچھ ان دنوں میں پر زور تحریکوں سے ہوتا رہے گا کہ جب کوئی نائب حضرت دنیا میں پیدا ہوگا درحقیقت سورۃ الزلزال میں اسی کا بیان ہے۔ کیونکہ سورۃ القدر میں فرمایا گیا کہ لیلۃ القدر میں خدا کا کلام اور اس کا نبی اور فرشتے اترتے ہیں اور وہ ضلالت کی پرظلمت رات سے شروع کر کے صبح صداقت تک اسی کام میں لگے رہتے ہیں کہ مستعد دلوں کو سچائی کی طرف کھینچتے رہیں۔ پھر سورہ بینہ میں بیان کیا کہ اہل کتاب اور مشرکین کی نجات پانے کی بھی یہی سبیل ہے کہ خدا نے نبی بھیجا اور زبردست تحریک دینے والے ملائک نازل کئے تھے۔ اس کے بعد اذا زلزلت میں یہ اشارہ کیا کہ جب تم یہ نشانیاں دیکھ لو تو سمجھ لو کہ وہ لیلۃ القدر اپنے تمام تر زور کے ساتھ پھر ظاہر ہوئی ہے اور کوئی ربانی مصلح مع فرشتوں کے نازل ہو گیا ہے۔ زلزلہ کی یہ صورت ہے کہ تمام قوائے انسانیہ جوش کے ساتھ حرکت میں آ جائیں گے اور تمام علوم وفنون ظاہر ہو جائیں گے اور فرشتے جو مرد صالح کے ساتھ آسمان سے اترے ہوں گے ہر شخص پر اثر ڈالیں گے۔ اس روز ایک مرد عارف متحیر ہو کر اپنے دل میں کہے گا کہ یہ طاقتیں اپنے میں کہاں سے آ گئیں۔ تب ہر ایک استعداد انسانی بزبان حال باتیں کرے گا کہ یہ ایک وحی ہے جو ہر ایک استعداد پر اتر رہی ہے۔ دنیا پرستوں کی تحریکیں صنعتیں اور کلیں ایجاد کریں گے اور ہر ایک اپنی کوششوں کے ثمرات کو دیکھ لیویں تب آخر ہو جائے گی۔ یہ آخری لیلۃ القدر کا نشان ہے جس کی بنا ابھی سے ڈالی گئی ہے۔ جس کی تکمیل کے لئے خدا نے اس عاجز کو بھیجا اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ ”انت اشد من مناسبة بعیسیٰ“ ہمارے علماء نے جو ظاہری طور پر سورۃ الزلزال کی تفسیر کی ہے کہ درحقیقت زمین کو آخری دنوں میں سخت زلزلہ آئے گا۔ جس سے زمین کے اندر کی چیزیں باہر آ جائیں گی اور انسان یعنی کافر لوگ زمین کو پوچھیں گے کہ تجھے کیا ہوا تب اس روز زمین باتیں کریں گی اور اپنا حال بتائیں گی۔“
(ازالۃ الاوہام ص ١٠٠ تا ١٠٣، خزائن ج ٣ ص ١٥٥ تا ١٥٧ ملخص)
یہ سراسر غلط تفسیر ہے کہ جو قرآن کے سیاق سباق سے مخالف ہے۔ مرزا قادیانی کو ضرور تھا کہ پہلے سورۃ القدر کی شان نزول بیان کرتے۔ جس سے مضمون خود حل ہو جاتا۔ لیکن ان کو تفسیر بالرائے کرنا منظور تھا۔ اس لئے انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔
(درمنثور ج ٦ ص ٣٧١) میں اس سورہ کے شان نزول کے بارے میں کئی حدیثیں منقول ”ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جب امم سابقہ کی دراز دراز عمریں اور ان کی عمر بھر کی ریاضتیں دیکھیں
٦٨
اور اس کے بعد اپنے امتیوں کی عمروں کو دیکھا کہ بہ نسبت ان کے بہت کوتاہ ہیں۔ اس چھوٹی سی عمر میں ان کے سے فضائل کیونکر حاصل کر سکیں گے۔ اس ملال پر رحمت الہی جوش میں آئی اور ارشاد ہوا کہ ہم تمہیں ایک لیلۃ القدر ایسی دیتے ہیں جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ یعنی اس ایک رات کی عبادت ان لوگوں کی اسی برس کی عبادت سے بہتر ہے اور انہیں دنوں آنحضرت ﷺ نے خواب بھی دیکھا تھا کہ اپنے منبر پر بنی امیہ یکے بعد دیگرے چڑھتے جاتے ہیں۔ یہ بات بمقتضائے بشریت ناگوار طبع غیور ہوئی۔ اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی جس میں یہ بتایا گیا کہ ہزار مہینے وہ لوگ سلطنت اسلامی پر قابض ہوں گے۔ مگر فضیلت دنیوی کوئی چیز نہیں۔ آپ کو اس معاوضے میں ایک فضیلت اخروی ہم ایسی دیتے ہیں کہ اس کے مقابلے میں وہ سلطنت ظاہری کوئی چیز نہیں۔ وہ ایک رات آپ کی امت کے لئے اتنی فضیلت کی دی گئی کہ ان ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ چونکہ آنحضرت ﷺ کو امت کی خیر خواہی ہمیشہ ملحوظ اور پیش نظر رہتی تھی۔ اس لئے آپ کو جو ان ہزار مہینوں کی سلطنت کا کسی قدر ملال تھا دفع ہو گیا۔ علماء نے حساب کر کے دیکھا تو بنی امیہ کی خلافت برابر ہزار مہینے رہی۔
اب اس کے بعد مرزا قادیانی کی پوری تقریر دیکھ لیجئے کہ اس واقعے کے ساتھ اس کا کچھ بھی تعلق ہے۔ اس سورۃ سے مقصود تو آنحضرت ﷺ کی تسلی تھی۔ مگر مرزا قادیانی کو اصلی واقعات سے کیا غرض ان کو اپنی عیسویت کے دھن میں کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ کہاں ہزار مہینے سے لیلۃ القدر کا افضل ہونا اور کہاں مرزا قادیانی کی نیابت اور کلوں کا ایجاد کسی چیز سے دل چسپی اور تعیش بھی بری بلا ہے۔ آدمی کو سوائے اپنی محبوبہ کے کچھ سوجھتا ہی نہیں۔
نقل مشہور ہے کہ کسی نے مجنوں سے پوچھا کہ خلافت کس کا حق تھا۔ اس نے جواب دیا کہ ہماری لیلیٰ کا حق تھا۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی کہتے ہیں کہ انا انزلناہ کو کسی سے کچھ تعلق نہیں وہ میری عیسویت کے واسطے اتری ہے۔
مرزا قادیانی نے انزلناہ کی ضمیر مصلح کی طرح پھیری۔ جس کا کہیں ذکر نہیں۔ تمام مفسروں نے وہ ضمیر قرآن کی طرف پھیری ہے۔ چنانچہ بروایات صحیحہ ابن عباسؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ اس رات قرآن شریف لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل ہوا۔
(در منثور ج ٦ ص ٣٧٠)
اور (بخاری شریف ج٢ ص ٧٤٠، تحت سورۃ انا انزلناہ) میں ہے انا انزلناہ الھاء کنایۃ عن القرآن مرزا قادیانی کو مصلح قوم کی طرف ضمیر پھیرنے سے غرض یہ ہے کہ آپ بھی اس میں داخل ہو جائیں۔
٧٨
اس موقع میں مرزا قادیانی یہی فرمائیں گے کہ آخر قرآن بھی مصلح قوم ہے۔ اس لئے ضمیر انا انزلنا سے مراد مصلح لی گئی۔ جس کے مفہوم میں خود بھی داخل ہیں۔ مگر یہ توجیہ درست نہیں اس لئے کہ اول تو مرزا قادیانی مصلح قوم ہو ہی نہیں سکتے۔ اس لئے کہ انہوں نے تو کروڑہا مسلمانوں کو مشرک اور کافر بنا دیا جس کی وجہ سے ان کے نزدیک تمام قوم فاسد اور ہلاک ہوگئی اور ظاہر ہے کہ جس کی وجہ سے کوئی قوم فاسد ہو جائے وہ مفسد قوم سمجھا جائے گا۔ غرض کہ انہیں کے اقرار کے مطابق وہ مصلح قوم نہیں ہو سکتے۔ پھر قرآن پر مفہوم عام مصلح قوم کا صادق آنے سے یہ کیونکر ثابت ہوگا کہ جس طرح قرآن لیلۃ القدر میں اترا ہے ہر مصلح قوم بھی لیلۃ القدر میں اترتا ہے۔ یہ بات تو ادنیٰ طالب العلم بھی جانتا ہے کہ کسی جزئی پر کوئی مفہوم عام اور کلی صادق آئے تو یہ ضرور نہیں کہ لوازم اس جزئی کے دوسری جزئیات پر بھی صادق آجائیں۔ جن پر وہ مفہوم عام صادق آتا ہے کوئی جاہل یہ نہ کہے گا کہ غلام احمد صاحب چونکہ مرزا ہیں اور قادیان میں رہتے ہیں۔ اس وجہ سے جتنے مرزا ہیں سب قادیان ہی میں رہا کرتے ہیں۔ اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی نے جس بات پر اپنے معارف کی بنیاد رکھی ہے وہ کئی طرح سے غلط ثابت ہوئی۔ ایک یہ کہ ضمیر کے مرجع میں قصداً غلطی کی۔ دوسرے اپنے آپ کو مصلح قرار دیا۔ تیسرے ایک جزئی کے لوازم مختصہ کو دوسری جزئی میں ثابت کیا۔ پھر مصلح قوم کی اگر تعمیم کی جائے تو علماء امتی کا نبیاء بنی اسرائیل کے لحاظ سے کل علمائے اُمت مصلح ہیں۔ جن سے کوئی زمانہ خالی نہیں۔ اس صورت میں مرزا قادیانی کی خصوصیت ہی کیا اور وہ بات کیونکر صادق آئے جو لکھتے ہیں کہ جب مصلح قوم اترتا ہے تو انسانی قویٰ میں خود بخود مذہب کی تفتیش کی طرف حرکت پیدا ہوتی ہے اور حکمت اور معرفت اور علوم اور صنعتیں ظاہر ہوتی ہیں۔
مرزا قادیانی نے اپنی نیابت کی یہ دلیل قرار دی کہ علوم اور صنعتیں اس زمانے میں ظاہر ہو رہی ہیں۔ مگر یہاں یہ دیکھنا چاہئے کہ اگر یہ کوئی کمال کی بات ہوتی تو آنحضرت ﷺ کے زمانے میں صنعتوں کا ظہور زیادہ ہوتا۔ حالانکہ وہ زمانہ نہایت سادہ اور فطرتی طور پر تھا۔ البتہ دین کی ترقی اس زمانے میں روز افزوں تھی۔ بخلاف مرزا قادیانی کے زمانہ نیابت کے کہ دنیا کی ترقی روز افزوں ہے اور دین کا انحطاط دیکھ لیجئے۔ مرزا قادیانی کے اوائل زمانے میں کروڑ ہا مسلمان تھے۔ جن کا مشرک اور بے دین ہونا محال تھا۔ جیسا کہ (براہین احمدیہ ص ١٠٩ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ١٠٦) میں لکھ چکے ہیں۔ جس کا حال اوپر معلوم ہوا اور شاید دس پندرہ سال بھی نہیں گزرے کہ انہیں کروڑہا مسلمانوں کو انہوں نے یہودی اور مشرک و بے دین بنا دیا۔ اب خود ہی غور فرمائیں کہ یہ نیابت
٧٠
آنحضرت ﷺ کی ہوئی یا اور کسی کی۔
اور یہ جو لکھا ہے کہ حضرت کی لیلۃ القدر کا دامن قیامت تک پھیلا ہوا ہے اس کا مطلب ظاہر ہے کہ حضرت کی لیلۃ القدر ایک تھی اور مرزا قادیانی کی لیلۃ القدر دوسری۔ یہ بھی خلاف احادیث صحیحہ ہے جن سے ثابت ہے کہ حضرت کے زمانے میں بھی لیلۃ القدر ہر سال ہوا کرتی تھی اور قیامت تک ہر سال ہوا کرے گی۔ (مسند امام احمد ابن حنبل ج ٦ ص ١٨٢) اور (ترمذی ج ٢ ص ١٩١، ابواب الدعوات) اور (نسائی السنن الکبریٰ ج ٦ ص ٢١٩، باب ما یقول اذا وافق لیلۃ القدر) وغیرہ میں یہ روایت موجود ہے کہ ”عن عائشة قالت قلت يا رسول الله ان وافقت ليلة القدر فما اقول قال قولی اللهم انك عفو تحب العفو فاعف عنى“ یعنی عائشہؓ نے حضرت سے پوچھا کہ اگر لیلۃ القدر پاؤں تو کیا دعاء کروں۔ حضرت ﷺ نے ان کو یہ دعاء تعلیم کی اس کے سوا لیلۃ القدر ہر سال ہونے کی احادیث بکثرت مذکور ہیں۔ جن کو تمام اہل علم جانتے ہیں۔ اب مرزا قادیانی کی خود غرضی کو دیکھئے کہ اپنی ایک لیلۃ القدر کے واسطے صدہا لیالی قدر کا خون کیا۔
حق تعالیٰ نے لیلۃ القدر کو ہزار مہینوں سے بہتر فرمایا نہ اس میں امتداد کا ذکر ہے نہ اس کے دامن دار ہونے کا اور مرزا قادیانی اس کو دامن دار اور شاخ دار بنا رہے ہیں۔ ان کے قول پر اگر الشاة خير من فيل کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہاتھی سے بکری زیادہ اونچی ہے۔ جس کا قائل کوئی عاقل نہیں ہو سکتا۔
مرزا قادیانی نے چند قادیانی بننے والوں کو دیکھا کہ اپنا مذہب اور دین چھوڑ کر دوسرے مذہب کی تفتیش کر رہے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ اس کے لئے اندرونی تحریک کی ضرورت ہے۔ اس پر یہ قیاس جمایا کہ روح القدس اس کا محرک ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ انسانوں کے قویٰ میں خود بخود مذہب کی تفتیش کی طرف حرکت شروع ہو جائے تو اس بات کی علامت ہوگی کہ کوئی آسمانی مصلح پیدا ہو گیا ہے۔ کیونکہ بغیر روح القدس کے نزول کے وہ حرکت پیدا نہیں ہوتی اور روح کا اترنا لیلۃ القدر میں ثابت ہے۔ اس سے یہ بات نکالی کہ جتنے اس قسم کے ایام ہیں سب لیلۃ القدر ہیں۔ رات کو دن بنا دینا ہر کسی کا کام نہیں۔ یہ بھی مرزا قادیانی ہی کی ہمت کا خاصہ ہے۔
یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ اہل اسلام کو تفتیش مذہب کے لئے اندرونی تحریک کرنا کیا روح القدس کا کام ہوگا یا شیطان لعین کا۔ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مسلمانوں سے دین اسلام ترک کرانے کے لئے روح القدس آسمان سے اترتے ہیں۔ پھر دوسرا اندھیر یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے نزول ملائکہ کے لئے طلوع فجر سے پہلے کا زمانہ معین فرمایا ہے۔ جیسا کہ حتیٰ مطلع الفجر سے ظاہر
٧١
ہے۔ مگر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ فرشتے صبح صادق تک کام میں لگے رہتے ہیں۔ یعنی دن رات اسی کام میں رہتے ہیں کہ مسلمانوں سے ان کا مذہب وملت چھڑاویں۔ اس کے بعد سورۂ اذا زلزلت میں یومئذ کا لفظ دیکھ کر مرزا قادیانی نے لیلۃ القدر کی جوڑ ملا دی اور لیلۃ القدر جس کی نسبت حق تعالیٰ نے خیر من الف شهر فرمایا ہے اس کو ضلالت اور ظلمت کی رات قرار دی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ہزار مہینے سے بدتر ہے۔ دیکھئے کس قدر قرآن کی اور خدا کی مخالفت کی۔ کیا کوئی مسلمان اس بات پر راضی ہو گا کہ جس رات کی تعریف خدائے تعالیٰ نے کی ہے اور صحیح روایتوں سے اس کی فضیلت ثابت ہے اس کو ضلالت کی رات سمجھے۔
پھر مرزا قادیانی نے اذا زلزلت کی تفسیر کی جس کا حاصل یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ زمین کو زلزلہ ہو گا غلط ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی کی قوتیں حرکت کریں گی اور خدائے تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ اس کے خزانے وغیرہ اثقال جو اس میں مدفون ہیں نکل پڑیں گی وہ کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے صحیح یہ ہے کہ علوم وفنون ظاہر ہوں گے اور خدائے تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ زمین اس روز باتیں کرے گی وہ کہتے ہیں کہ یہ بھی غلط ہے۔ استعداد انسانی بزبان حال باتیں کرے گی۔ مرزا قادیانی نے جو لکھا ہے کہ ہمارے علماء نے جو تفسیر کی ہے کہ زمین کو زلزلہ آئے گا اور اندر کی چیزیں باہر آجائیں گی اور زمین باتیں کرے گی یہ سراسر غلط ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کی سراسر زیادتی ہے۔ ہمارے علماء نے سوائے قرآن پر ایمان لانے کے اور کچھ نہیں کہا کوئی بات اپنی طرف سے نہیں لکھی۔ بلکہ جس طرح مرزا قادیانی اکثر کہا کرتے ہیں کہ ”النصوص يحمل علي الظواهر“ (ازالۃ الاوہام ص ٥٣٠، خزائن ج ٣ ص ٣٩٠) ظاہر آیات کی تصدیق کی البتہ مرزا قادیانی کو ان کی عقل نے ایمان سے روک دیا۔ انہوں نے لڑکپن سے دیکھا ہے بات دو انگل کی زبان سے ہوا کرتی ہے۔ اس لئے ان کو عقل نے صاف حکم کر دیا کہ کلام الہی غلط ہے۔ اگر خدا بھی چاہے کہ زمین سے بات کرائے تو وہ ممکن نہیں۔ اس لئے کہ اس کو زبان نہیں۔ اگر مرزا قادیانی یہ سمجھتے ہیں کہ بات کرنے کے لئے گوشت کا لوتھڑا ضروری ہے تو یہ لازم آئے گا کہ خدائے تعالیٰ بات کرانے میں نعوذ باللہ اس لوتھڑے کا محتاج ہے۔ پھر دیکھتے ہیں کہ گونگوں اور جانوروں کے بھی زبان ہوتی ہے مگر بات نہیں کر سکتے اور اگر یہ سمجھتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ سے جیسے اس لوتھڑے کو قوت کلام بخشی، ہر چیز کو یہ قوت بخش سکتا ہے تو پھر زمین کے بات کرنے میں کیا کلام اور اس میں خدائے تعالیٰ کی تکذیب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اب اہل انصاف غور کریں کہ جب مرزا قادیانی کی عقل اس درجے کی قوت پر ہے کہ خدائے تعالیٰ کے بھی مقابلے میں کھڑی ہو جاتی
٧٢
ہے تو کیا ممکن ہے کہ کوئی دوسرا ان کا مقابلہ کر سکے اور اگر کسی نے کیا بھی تو کیا مرزا قادیانی اس کو تسلیم کریں گے۔ اگر اہل اسلام کو اپنا ایمان بچانا منظور ہے تو مرزا قادیانی کی عقل کے دام سے بچیں اور یاد رکھیں کہ ذرا بھی ان کی طرف مائل ہو گئے تو دلوں میں کجروی کا مادہ پیدا کر دیا جائے گا۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”فلما زاغوا ازاغ الله قلوبهم والله لا يهدى القوم الفاسقین (صف:٥)“ ”وما علينا الا البلاغ“
الحاصل مرزا قادیانی کے معارف کا یہ حال ہے جو آپ نے دیکھ لیا کہ نہ قرآن سے کام ہے نہ حدیث سے نہ عقل سے کیونکر اگر عقل سے کام لیا جاتا تو لیلۃ القدر کی تعریف کر کے اس کی مذمت نہ کرتے اور زمین کے بات کرنے کا انکار خدا کی قدرت پر ایمان لانے کے بعد نہ کرتے۔ الغرض بے تکی باتیں ملانے کا نام انہوں نے معارف رکھ دیا اور اسی کو اپنی عیسویت کی دلیل قرار دی ہے۔
رسالہ (قطع الوتین باعتبار کید الملحدین ص ٤٢) میں لکھا ہے کہ مریدوں کی بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی مفتری علی اللہ ہوتے تو (٢٣) سال یا اس سے زیادہ ان کو مہلت نہ ملتی اور مرزا قادیانی نے بھی اشتہار جاری کیا کہ اگر کوئی شخص ایسا مفتری علی اللہ دکھا دے جس نے (٢٣) سال کی مہلت پائی ہو تو ہم اس کو پانچ سو روپے انعام دیں گے۔ اس پر حافظ محمد یوسف صاحب نے ایک فہرست ہی پیش کر دی۔ جس میں ٢٣ سال سے زیادہ جن مفتریوں کو مہلت ملی ان کے نام درج تھے۔ مگر مرزا قادیانی نے نہ اس کا جواب دیا نہ اس وعدے کا ایفا کیا جو اشتہار میں کیا تھا۔ فہرست رسالہ مذکور میں لکھ دی گئی ہے۔ اصل دلیل ان کی یہ ہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”ولو تقول علينا بعض الاقاويل لا خذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين (الحاقة:٤٤ تا ٤٦)“ یعنی نبی ﷺ کوئی بات اپنے دل سے بنا کر ہماری طرف منسوب کر دیتے تو ہم ان کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے۔ یعنی ہلاک کر دیتے۔ اس سے ان کا مقصود یہ ہے کہ اگر خود بھی خدا پر افتراء کئے ہوتے تو اس آیہ شریفہ کے مطابق بہت جلد ہلاک کر دیئے جاتے اور اس میں ان کی خصوصیت نہیں۔ جس نے خدا پر افتراء کیا فوراً ہلاک کر دیا گیا۔ کوئی ٢٣ سال تک زندہ نہ رہا اگر رہا تو اس کا نام بتایا جائے۔
مرزا قادیانی ٢٣ سال سے زیادہ زندہ رہنے والے مفتریوں کی نظیریں جو طلب فرماتے ہیں اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کیا اس مدت کو مفتری کی برأت میں کوئی خصوصیت ہے۔ کیا ٢٣ سال تک کوئی مفتری زندہ نہیں رہ سکتا اور ٢٢ برس تک رہ سکتا ہے۔ اگر ایک سال بھی کسی
٧٣
مفتری کو مہلت ملے تو وہ بھی مثل مرزا قادیانی کے کہہ سکتا ہے کہ اگر میں مفتری ہوتا تو اتنی مدت جس میں پوری چار فصلیں گذریں مجھے کبھی مہلت نہ ملتی۔ کیا یہ قول اس کا قابل تسلیم ہوسکتا ہے۔ الغرض مرزا قادیانی ٢٣ برس کی مدت جو مقرر کر رہے ہیں وہ درست نہیں۔ صرف ایسے لوگوں کی فہرست کافی تھی جن کو باوجود افتراء کے کچھ مہلت ملی۔
اصل یہ ہے کہ دار الجزاء قیامت ہے جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”انما يؤخرهم ليوم تشخص فيه الابصار (ابراهیم:٤٢)“ اگر افتراء کا یہ لازمہ ہوتا کہ اسی عالم میں اس کی سزا ہو جائے تو تخلف لازم کا ملزوم سے عقلاً درست نہ ہونے کی وجہ سے یہ لازم ہوتا کہ مجرد افتراء کے فوراً سزا ہو جائے۔ حالانکہ مرزا قادیانی بھی اس کے قائل ہیں کہ مسیلمہ کذاب وغیرہ گزرے ہیں اور ان کو مجرد افتراء کے سزا نہیں ہوئی اور ایسے لوگ دس بیس سال بھی اکثر زندہ رہے ہیں۔ مسیلمہ کذاب ہی کو دیکھ لیجئے کہ اس قدر اس کو مہلت ملی کہ لاکھ آدمی سے زیادہ اس نے فراہم کر لئے۔ وہ زمانہ وہ تھا کہ خود نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے اور حضرت کے بعد صدیق اکبرؓ وغیرہ کل صحابہ موجود تھے۔ ہدایت روز افزوں ترقی پر تھی ملک خاص عرب کا تھا۔ جس کو منبع ہدایت ہونے کا فخر حاصل ہو چکا تھا۔ ایسے متبرک زمانے اور متبرک مقام میں جب اس کو اس قدر مہلت ملی تو اس زمانے میں جو ضلالت روز افزوں ترقی کر رہی ہے اور ہندوستان جیسے ملک میں کسی مفتری علی اللہ کو پچیس تیس سال مہلت مل جائے تو کیا تعجب ہے۔ بلکہ زمان و مکان وغیرہ حالات کی مناسبت سے دیکھا جائے تو اس زمانے میں مفتری کو ایک دن مہلت ملنا اس زمانے کے پچیس تیس سال کی مہلت کے برابر ہے۔ الغرض اس سے ثابت ہے کہ مفتری علی اللہ کو مہلت ملا کرتی ہے اور وہ استدراج ہے جس کی نسبت حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”سنستدرجهم من حيث لا يعلمون واملى لهم (القلم:٤٤، ٤٥)“ یعنی مہلت دے کر آہستہ آہستہ ان کو ایسے طور پر ہم کھینچتے ہیں کہ ان کو خبر نہ ہو۔ مرزا قادیانی جو جلدی فرماتے ہیں کہ اگر مفتری ہوں تو چاہئے کہ عذاب اتر آئے سو اس کا جواب قرآن شریف میں پہلے ہی ہو چکا ہے۔ ”ولئن اخرنا عنهم العذاب الى امة معدودة ليقولن ما يحبسه الا يوم ياتيهم ليس مصروفا عنهم (هود:٨)“ یعنی اگر ان کے عذاب میں تاخیر کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ اس کو کس نے روکا۔ یاد رہے کہ جب وہ آئے گا تو پھر نہ ٹلے گا۔ قرآن میں جو واقعات مذکور ہیں اگر پیش نظر ہوں تو معلوم ہو سکتا ہے کہ زیادتی مہلت کا سبب زیادتی غضب الہی ہوتا ہے کہ مفتری دل کھول کر افتراء پردازیاں کرے اور پورے طور پر حجت قائم ہوجائے۔ چنانچہ ارشاد ہے ”انما نملي لهم ليزدادو اثما (آل
٧٤
عمران:١٧٨) ”یعنی ہم اسی واسطے ان کو مہلت دیتے ہیں کہ خوب گناہ کریں۔ اور آیہ شریفہ ”ولو تقول علينا بعض الاقاويل (الحاقة:٤٤)“ سے جو استدلال کیا جاتا ہے۔ وہ صحیح نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ تمام انبیاء خصوصاً ہمارے نبی ﷺ اعلیٰ درجے کے مقرب بارگاہ الٰہی ہیں۔ ان کی شان یہی ہے کہ افتراء وغیرہ رذائل کا خیال تک نہ آنے دیں۔ اسی واسطے حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر بفرض محال وہ ایک بھی افتراء کرتے تو ہلاک کر دیئے جاتے اور دوسرے انبیاء کے حالات سے بھی ظاہر ہے کہ ادنیٰ ادنیٰ خلاف مرضی حرکات سے سخت مصیبتیں ان پر ڈالی گئیں۔ بخلاف ان لوگوں کے کہ اسی کام کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں۔ ان کا تو لازمہ یہی ہے کہ عمر بھر ایسے ہی کام کیا کریں۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”وكذالك جعلنا لكل نبي عدواً شياطين الانس والجن يوحی بعضهم الی بعض (انعام:١١٢)“ یعنی شیاطین انس و جن کو ہر نبی کے دشمن ہم نے مقرر کر دیئے تھے اور ارشاد ہے قولہ تعالیٰ ”وكذلك جعلنا فی کل قرية اكابر مجرميها ليمكروا فيها (انعام:١٢٣)“ یعنی ہر بستی میں بڑے بڑے گناہ گار ہم نے پیدا کر دیئے تا کہ ان میں مکاریاں کریں۔
الحاصل ٢٣ سال یا اس سے زیادہ کوئی مفتری علی اللہ زندہ رہے تو یہ نہ سمجھا جائے گا کہ وہ مفتری نہیں بلکہ یہی سمجھا جائے گا کہ اسی کام کے واسطے مقرر کیا گیا ہے۔ اگر مثل فرعون کے صدہا سال بھی زندہ رہے گا تو وہی اپنا فرض منصبی ادا کرتا رہے گا۔ جس کام کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔
یہ ادّعائی مسیح کی نشانیاں اور دلائل تھے۔ اب اصلی عیسیٰ علیہ السلام کی علامتیں بھی سنئے۔ جو صحیح صحیح احادیث میں وارد ہیں۔ مگر اس مقام میں پہلے غور کر لیا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا میں آنا کوئی عقلی مسئلہ نہیں۔ جس میں رائے لگائی جائے اس باب میں جو احادیث وارد ہیں اگر علیحدہ کر دیئے جائیں تو یہ مسئلہ اس قابل نہیں رہتا کہ جس کی طرف توجہ کی جائے۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی کو نیچروں سے شکایت ہے کہ ان احادیث کو وہ مانتے ہی نہیں۔ غرض کہ مرزا قادیانی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس باب میں جو احادیث وارد ہیں ضرور مانی جائیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جس طرح اہل اسلام مانتے ہیں اور ان کے ظاہری معنی بطور خرق عادت عیسیٰ علیہ السلام میں ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ درست نہیں۔ بلکہ ایسے طور پر ان احادیث کے معنی لئے جائیں کہ اپنے پر یعنی مرزا قادیانی پر صادق آ جائیں اور نبی کریم ﷺ نے عیسیٰ ابن مریم کا نام جو لے لیا ہے اس کی وجہ یہ تھی (ازالۃ الاوہام ص ٦٩١ ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣ ملخص) کہ ”آنحضرت ﷺ پر ابن مریم،
٧٥
دجال اور یاجوج وماجوج اور دابۃ الارض کی حقیقت منکشف ہوئی نہ تھی“ اور (ازالۃ الاوہام ص ٦٩٠، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢ ملخص) اور انبیاء پیش گوئیوں کی تاویل اور تعبیر میں غلطی کھاتے ہیں۔ جس کا مطلب اور ماحصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو عیسیٰ ابن مریم روح اللہ کے نزول کی خبر دی ہے وہ غلط ہے۔ درحقیقت عیسیٰ موعود غلام احمد قادیانی ہیں اور ان سے خوارق عادات کوئی ظاہر نہ ہوں گے۔ بلکہ رد نصاریٰ میں چند معمولی تقریریں لکھ دیں گے اور ان تمام حدیثوں کی پیش گوئی پوری ہو جائے گی۔ سبحان اللہ کوہ کندن و موش برآوردن کا مضمون یہاں پورا پورا صادق آ رہا ہے۔ احادیث نزول عیسیٰ علیہ السلام کس شدومد سے ثابت کئے گئے اور ان سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک پنجابی شخص پیدا ہو کر رد نصاریٰ میں چند معمولی تقریریں لکھ دے گا۔ اس باب میں مرزا قادیانی کو تکلیف گوارا کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ بفضلہ تعالیٰ رد نصاریٰ کرنے والے اس وقت ایسے بہت سارے لوگ موجود ہیں کہ جو اپنی عمر بھر کی مزاولت کی وجہ مرزا قادیانی سے کہیں زیادہ اس باب میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کی عمر کا ایک معتدبہ حصہ تو متفرق مذاہب باطلہ کی کتابوں کے مطالعہ میں صرف ہوا اور اس کے بعد جب یک سوئی حاصل ہوئی تو دعویٰ عیسویت شروع ہوا اور اس میں اس قدر استغراق اور انہماک ہے کہ جس کا بیان نہیں اگر مناظرہ ہے تو اسی مسئلے میں اور تصانیف ہیں تو ان میں اسی دعویٰ کے دلائل ولوازم، پھر ان کو رد نصاریٰ کی نوبت ہی کہاں آئی۔ براہین احمدیہ میں جو وعدہ کیا تھا اس کا بھی ایفاء کر سکے۔
الحاصل جب یہ مسئلہ نقلی ہے جس میں عقل کو کوئی دخل نہیں اور ان احادیث پر جو اس باب میں وارد ہیں ایمان لایا گیا تو ان کے ظاہری معنی پر ایمان لانے سے اہل ایمان کیوں روکے جاتے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٤٠٩، ٥٤٠، خزائن ج ٣ ص ٣٩٠، ٣١٢) میں خود لکھتے ہیں کہ ”نصوص کو ظاہر پر حمل کرنے پر اجماع ہے“ اب ان امور کو پیش نظر رکھ کر غور کیجئے کہ جو عیسیٰ علیہ السلام کی علامات احادیث میں وارد ہیں ان سے مرزا قادیانی کو کیا تعلق ہے۔
- ١....... دمشق میں منار کے پاس عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اس حدیث کو
مرزا قادیانی نے (ازالۃ الاوہام ص ٦٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٢ حاشیہ) میں نقل کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا کہ اس سے مراد قادیان ہے اور وہاں ایک منار اس غرض سے تیار کر دیا کہ اگر دمشق نہیں تو منار ہی سہی۔ جس سے ایک جزو حدیث کا صادق آجائے۔ یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ اس حدیث کو نیچریوں نے جو نہ مانا اور مرزا قادیانی نے مان لیا۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے۔ ادنیٰ تامل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہی فرق ہے جو جہل بسیط اور جہل مرکب میں ہوا کرتا ہے۔
٧٦
- ٢....... عیسیٰ علیہ السلام کا حکم عادل ہونا جو اس روایت ( صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩٠،
باب نزول عیسیٰ ابن مریم ) میں مصرح ہے۔ ”عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تكون السجدة الواحدة خیر من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابو ھریرة واقرء وا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامة یکون علیھم شھیداً “ یعنی قسم ہے خدا کی کہ ابن مریم حاکم عادل ہو کر تم میں اتریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور ان کے زمانے میں مال بہت ہو جائے گا کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ اگر چاہو اس کی تصدیق قرآن میں پڑھ لو کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ کل اہل کتاب اس وقت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے اور وہ اس پر گواہ ہوں گے۔
اس حدیث شریف سے ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام عادل ہوں گے کسی پر ظلم نہ کریں گے اور مرزا قادیانی کے عدل کا حال آپ نے دیکھ لیا کہ ان کی سمدھن کے بھائی نے جوان لڑکی نہ دی تو اس کا وبال اپنی بہو پر ڈالا اور اپنے فرزند کو طلاق پر مجبور کیا۔ میراث پدری سے خلاف شرع محروم کر دیا اور اس کا کچھ خیال نہ کیا حق تعالیٰ فرماتا ہے ”ولا تزر وازرة وزر اخرى“ (فاطر:١٧) کیا کسی ملت میں اس کو عدل کہہ سکتے ہیں جب مرزا قادیانی پر قوائے شہوانیہ اور غضبانیہ کا اس قدر تسلط ہے کہ مہر پدری پر بھی وہ غالب ہیں تو دوسروں کے ساتھ کیا عدل کریں گے۔
اس حدیث میں آپ نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کس جزم سے قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ ابن مریم تم میں اتریں گے اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت کو اس کشف میں غلطی ہوئی۔ اب اہل ایمان غور کریں کہ معمولی آدمی بھی کسی بات پر قسم کھانے میں کمال درجے کی احتیاط کیا کرتا ہے اور ذرا بھی شک ہو تو اس کا ایمان قسم سے اس کو روک دیتا ہے۔ بخلاف نبی ﷺ کے کہ نعوذ باللہ غلط بات پر بے دھڑک قسم کھالی اور عمر بھر اسی غلطی پر رہے۔ کیونکہ کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ حضرت نے رجوع کر کے یہ فرمایا ہو کہ اس کشف میں مجھے غلطی ہوگئی تھی۔ یہ الزام مرزا قادیانی جو ہمارے نبی ﷺ پر لگا رہے ہیں اس سے ان کا مقصود حضرت کے کشف اور اقوال کو ساقط الاعتبار کر دینا ہے۔ اس کے سوا جو جو قباحتیں اس میں لازم آتی ہیں ان کی تفصیل کرنے
میں ہمارا قلم یاری نہیں دیتا۔ ایک عقلمند ادنیٰ تامل سے سمجھ سکتا ہے کہ یہ کس درجے کا حملہ ہے پھر یہ حملہ صرف نبی ﷺ پر نہیں ہے۔ حق تعالیٰ پر بھی ہے کہ ایسے مکرم اور معصوم نبی پر ایک ایسی بات منکشف کر دی جو غلط تھی اور نعوذ باللہ اس سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس غلطی کی اصلاح کر دیتا۔ اب اہل دانش اندازہ کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا ایمان خدا اور رسول پر کس قسم کا ہے اور ایسے ایمان کو ایمان کہنا ہو سکتا ہے یا نہیں۔
٤٠٣....... صلیب کو توڑنا اور خنزیر کو قتل کرنا جیسا کہ بخاری کی روایت مذکورہ سے ثابت ہے۔ مرزا قادیانی نے (ازالۃ الاوہام ص ٤٢٨، خزائن ج ٣ ص ٣٢٦) میں لکھا ہے ” کیا ان احادیث پر اجماع ہو سکتا ہے کہ مسیح آ کر جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا“ اور (ازالۃ الاوہام ص ٤١، خزائن ج ٣ ص ١٢٣ ملخص) میں لکھا ہے کہ ”کیا ان کا یہی کام ہو گا کہ صلیبوں کو توڑتے اور خنزیروں کو قتل کرتے پھریں گے“ اور (ازالۃ الاوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢ حاشیہ) میں لکھتے ہیں کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ مسیح دنیا میں آ کر صلیبی مذہب کی شان و شوکت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے گا اور ان لوگوں کو جن میں خنزیروں کی بے حیائی اور خوکوں کی بے شرمی اور نجاست خواری ہے ان پر دلائل قاطعہ کا ہتھیار چلا کر ان سب کا کام تمام کر دے گا۔“ اس سے ضمناً مرزا قادیانی کا دعویٰ بھی معلوم ہوا کہ انہوں نے صلیبی مذہب کی شان و شوکت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالا اور نصاریٰ کے دلائل کا کام تمام کر دیا۔ مگر قصہ آتھم کے ملاحظہ سے ظاہر ہے کہ انہوں نے نصاریٰ کے مقابلے میں اسلام ہی کا کام تمام کر ڈالا تھا۔ خیر گذری کہ اہل اسلام نے عملی طور پر ان کو اسلام سے خارج کر دیا ورنہ اسلام پر بڑا اثر پڑتا۔ جس کا حال اوپر معلوم ہوا۔ پھر یہ بات اب تک معلوم نہیں ہوئی کہ مرزا قادیانی کے دلائل سے عیسائی مذہب کی شان و شوکت میں کیا فرق آ گیا۔ پادریوں کے حملے جیسے پہلے تھے اب بھی ہیں اور جس طرح پہلے ان کی قومی ترقی تھی اب بھی جاری ہے۔ غرضکہ کسر صلیب کے معنی کو مرزا قادیانی نے گو بدل دیا۔ مگر اس سے بھی وہ منتفع نہیں ہو سکے۔ اسی طرح قتل خنزیر کا بھی حال ہے کہ عیسائیوں کو خنزیر قرار دیا اور قتل سے مراد انکار کو لیا۔ مگر یہ قتل بھی ان سے نہ ہو سکا بلکہ سچ پوچھئے تو مسٹر آتھم صاحب ہی نے ان کو قتل کر ڈالا۔ جس کے مقابلہ میں دم نہ مار سکے۔
مرزا قادیانی قتل خنزیر کے معنی میں جو مسلمانوں پر الزام لگاتے ہیں وہ ان کی ناتفہمی ہے۔ کوئی مسلمان اس کا قائل نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام خنزیروں کا شکار جنگلوں میں کرتے اور صلیبیوں کو توڑتے پھریں گے۔ اگر مرزا قادیانی کنائے کی حقیقت سمجھے ہوتے تو یہ اعتراض کبھی نہ
٧٨
کرتے۔ مسلمانوں نے کسر صلیب اور قتل خنزیر کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں نصاریٰ مغلوب ہو جائیں گے۔ اس لئے کہ صلیب ان کا شعار دین ہے اور خنزیر نہایت مرغوب الطبع ہے اور قاعدے کی بات ہے کہ ہر شخص ان دونوں قسم کی چیزوں کو نہایت دوست رکھتا ہے اور ان کی حفاظت میں جان کی بھی پروا نہیں کرتا۔ پھر ایسی چیزوں کو اگر کوئی تلف کر ڈالے اور وہ منہ دیکھتا رہے اور کچھ نہ کر سکے تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ شخص نہایت مغلوب ہے۔ مرزا قادیانی اس کا تجربہ کر لیں۔ کسر صلیب اور قتل خنزیر تو درکنار ذرا بری نگاہوں سے ان اشیاء کو دیکھ تو لیں جس سے معلوم ہو کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ برخلاف اس کے عیسیٰ علیہ السلام کو وہ قوت و شوکت حاصل ہو گی کہ کسی کی صلیب کو علانیہ توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے اور کوئی مزاحم نہ ہو سکے گا۔ یہ ان کے کمال شوکت اور غلبے کی دلیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آخر یہاں تک نوبت پہنچ جائے گی کہ سوائے اسلام کے کوئی دین باقی نہ رہے گا۔ کل نصاریٰ مسلمان ہو جائیں گے۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (نساء:١٥٩)“ اور حدیث شریف میں ہے ”عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ ویھلک اللہ فی زمانہ (اے زمان عیسیٰ علیہ السلام ) الملل کلھا الا الاسلام (احمد ج ٢ ص ٤٠٦، ابو داؤد ج ٢ ص ٢٣٨، باب خروج الدجال)“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں سوائے اسلام کے کوئی دین باقی نہ رہے گا۔ الحاصل کسر صلیب اور قتل خنزیر عیسیٰ علیہ السلام کی علامت مختصہ ہے کسی طور سے یہ علامتیں مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاسکتیں۔
- ٥...... وضع جزیہ جو بخاری شریف کی حدیث میں مذکور ہوا۔ یہ علامت بھی
مرزا قادیانی میں ہرگز نہیں پائی جاسکتی اور نہ اس کے پائے جانے کی توقع ہے۔ اس لئے کہ اگر بالفرض ان کی حکومت ان کے مریدوں پر فرض کی جائے تو بجائے اس کے کہ وہ جزیہ موقوف کرتے ان سے جزیہ جس قسم کا ممکن ہے برابر وصول کرتے ہیں۔ جیسا کہ اخبار الحکم وغیرہ سے ظاہر ہے اور اگر جزیہ سے مراد وہ رقم ہے کہ خاص کافروں سے لی جاتی ہے تو ہندوستان میں اس کا وجود ہی نہیں اور نہ یہ توقع ہے کہ مرزا قادیانی کی موت سے پہلے اس کا رواج ہو۔ اس لئے اس کا موقوف کرنا کسی طرح صادق نہیں آسکتا۔ اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے جو دمشق کو قادیان اور اپنے کو عیسیٰ موعود قرار دیا ہے وہ غلط ہے۔ اس لئے کہ اگر وہ عیسیٰ ہوتے تو جزیہ موقوف کر دیتے اور یہ ممکن نہیں بخلاف عیسیٰ علیہ السلام کے جب دمشق میں اتریں گے جزیہ موقوف کر دیں گے۔ جس کا رواج وہاں موجود ہے اور نزول عیسیٰ علیہ السلام تک بھی جاری رہے گا۔ جس
٧٨
سے یہ علامت بھی پوری ہوگی۔
- ......٦ مال بے حساب تقسیم کرنا۔ جیسا کہ حدیث بخاری میں مذکور ہوا اور (مسلم
شریف ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ بن مریم) میں ہے ”ولیدعون الی المال فلا یقبلہ احد“ اور (مسند امام احمد ج ٢ ص ٢٤٠، بخاری ج ١ ص ٣٩٠، باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ، ترمذی ج ٢ ص ٤٧، باب ما جاء فی نزول عیسیٰ بن مریم) میں ہے کہ ”ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد“ اور نیز بخاری ومسلم میں ہے ”یکثر فیکم المال فیفیض حتی یہم رب المال من یقبل صدقتہ فیقول الذی یعرضہ علیہ لا ارب لی بہ“ اور روایت (مسلم ج ٢ ص ٣٩٥، کتاب الفتن واشراط الساعۃ) میں ہے ”یکون فی آخر الزمان خلیفۃ یقسم المال ولا یعدہ“ یہ کل حدیثیں مرفوع ہیں اور اس مضمون کی کئی روایتیں وارد ہیں۔ جن کا مضمون یہ ہے کہ قیامت کے قریب مال بکثرت ہوگا اور زمین سے خزانے ابلنے لگیں گے اور مہدی اور عیسیٰ علیہم السلام بے حساب تقسیم کریں گے۔ یہاں تک کہ اس کے لینے کے لئے جس کو بلائیں گے وہ یہی کہے گا کہ مجھے حاجت نہیں۔
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٦٥٦، خزائن ج ٣ ص ٤٥٥، ٤٥٤) میں آیۂ شریفہ ”فبذلک فلیفرحوا ہو خیر مما یجمعون“ اس کا ترجمہ لکھتے ہیں کہ ”ان کو کہہ دے کہ خدائے تعالیٰ کے فضل ورحمت سے یہ قرآن بیش قیمت مال ہے سو اس کو تم خوشی سے قبول کرو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ علم وحکمت کے مانند کوئی مال نہیں۔ یہ وہی مال ہے جس کی نسبت پیش گوئی کے طور پر لکھا تھا کہ مسیح دنیا میں آ کر مال کو اس قدر تقسیم کرے گا کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے۔ یہ نہیں کہ مسیح درہم ودینار کو جو بمصداق آیت ”انما اموالکم واولادکم“ فتنہ ہے جمع کرے گا اور دانستہ ہر ایک کو مال کثیر دے کر فتنے میں ڈال دے گا“
مرزا قادیانی نے دیکھا کہ ہر کس وناکس کے زبان زد ہے کہ بہمہ شکل برائے اکل ایک مدت تک جاں فشانی کر کے یہ صورت پیدا کی گئی اور اقسام کی تدبیروں سے روپیہ کمایا گیا۔ مثلاً منارہ اور مسجد اور مدرسے کی تعمیر پیش کر کے خط وکتابت ومہمانداری کی ضرورتیں بتلا کے۔ کتابوں کی تصنیف اور اشاعت کے ذریعے سے تصویریں بکوا کر غرض کہ جو روپیہ بڑی بڑی مشقتوں سے جمع کیا گیا اپنی اور اپنے پس ماندگوں کی ضرورتوں اور اسباب راحت میں صرف نہ کر کے شریعت کے لحاظ سے مفت تقسیم کر دینا کوئی عقل کی بات نہیں۔ اس لئے بچاؤ کی یہ تدبیر نکالی کہ عیسیٰ جو مال تقسیم کرے گا وہ یہ مال نہیں جو لوگ خیال کرتے ہیں۔ بلکہ وہ مال قرآن ہے۔ فی الحقیقت مال کا
بے دریغ اس طرح راہ خدا میں خرچ کر دینا مشکل کام ہے اور یہ مال کی جگہ قرآن کا خرچ کرنا صرف مرزا قادیانی ہی کی رائے نہیں۔ قدیم زمانے میں بھی بعض لوگوں کی یہی رائے تھی۔ چنانچہ سعدیؒ فرماتے ہیں۔
بدیناری چو خر در گل بماند
مرزا قادیانی نے قرآن کو مال اس قرینے سے بنایا کہ آیہ موصوفہ میں قرآن کی تفصیل مال پر دی گئی ”وهو خير مما يجمعون“ مگر یہ استدلال صحیح نہیں اس لئے کہ یہ بھی قرآن شریف میں ہے۔ ”لمغفرة من الله ورحمة خير مما يجمعون (آل عمران: ١٥٧) “ یعنی خدا کی مغفرت اور رحمت اس مال سے جو وہ جمع کرتے ہیں بہتر ہے۔ مرزا قادیانی کے استدلال کی بناء پر یہاں بھی یہ کہنا پڑے گا کہ مغفرت بھی مال ہے۔ حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں ہو سکتا۔ غرض کہ قرآن کے علوم کو مال نہیں کہہ سکتے اس صورت میں جن احادیث میں صراحتاً وارد ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بے حساب مال تقسیم کریں گے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ وہ علوم قرآنیہ تقسیم کریں گے۔
البتہ بادی النظر میں مرزا قادیانی کا یہ اعتراض ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ مال تقسیم کرنے کے لئے اس کا جمع کرنا بھی ضرور ہے۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام کی یہ شان نہیں کہ مال جمع کریں۔ اگرچہ اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ جب مرزا قادیانی کو عیسویت کا دعویٰ ہے تو پھر وہ اقسام کی تدبیروں سے مال جس کو خود فتنہ کہتے ہیں کیوں جمع کرتے ہیں۔ مگر تحقیقی جواب اس شبہ کا یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو مال جمع کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی۔ بلکہ اس زمانے میں مال زمین سے ابلے گا۔ جیسا کہ احادیث موصوفہ میں ویفیض المال بتصریح موجود ہے۔ یہاں بھی مرزا قادیانی نے دھوکا دیا۔
مرزا قادیانی جو فرماتے ہیں کہ مسیح اتنا مال یعنی علوم قرآنیہ تقسیم کرے گا کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے اور ایک مقام میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ میں وہ مال اتنا تقسیم کروں گا کہ لوگ لے نہ سکیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے معتقدین اس مصنوعی مال سے اتنا سرمایہ علمی حاصل کرلیں گے کہ اس سے زیادہ کی ضرورت نہ ہوگی۔ مگر حدیث شریف میں یہ ہے ”لیدعون الی المال فلا يقبله احد“ یعنی وہ لوگ مال لینے کے لئے بلائے جائیں گے۔ مگر کوئی اس کو قبول نہ کرے گا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ اس سے اعراض کریں گے اور ظاہر ہے کہ علوم قرآنیہ سے اعراض کرنا دلیل کفر ہے۔ اہل اسلام تو بلحاظ آیہ شریفہ ”وقل رب زدنی
علما (طہ:١١٤) ”ہمیشہ زیادتی علم کے طالب رہا کرتے ہیں۔ بخلاف اس کے مال سے اعراض کرنا کوئی بری بات نہیں۔ بلکہ شرعاً ممدوح ہے الغرض مال بمعنی علم ہو نہیں سکتا۔
مرزا قادیانی نے مال کی جو توہین کی ہے کہ وہ فتنہ ہے اور جمع مال دے کر لوگوں کو فتنے میں کیوں ڈالے گا۔ معلوم نہیں یہ کس حالت میں انہوں نے لکھ دیا۔ جس فتنے کو گھر سے نکال دینا عیسویت کی شان سے بعید سمجھتے ہیں۔ اسی فتنے کو اقسام کی تدبیروں سے خود جمع کر رہے ہیں اور قوم کے روبرو اپنی محتاجی بیان کر کے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں کہ کچھ امداد کرو۔ جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص ٩٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٨١) سے ظاہر ہے اس پر یہ دعویٰ کہ میں عیسیٰ ہوں۔
شاید مرزا قادیانی یہاں یہ بھی اعتراض کریں گے کہ زمین سے مال ابلنا خلاف عقل ہے۔ مگر یہ اعتراض قابل توجہ نہیں اس لئے کہ آخر زمین میں دفینے معدنیں موجود ہیں اور سلاطین کو اکثر ملا ہی کرتے ہیں اور خدائے تعالیٰ قادر ہے کہ ان ذخائر پر عیسیٰ علیہ السلام کو مطلع فرما دے اور اگر خدائے تعالیٰ کی قدرت ہی میں کلام ہے تو ہم اس کا جواب یہاں نہ دیں گے۔ بلکہ ان کتابوں میں دیں گے جہاں بمقابلہ کفار صفات الٰہیہ ثابت کی جاتی ہیں۔
الغرض مرزا قادیانی مال سے مراد ان احادیث میں جو علوم قرآنیہ لیتے ہیں۔ وہ صحیح نہیں بلکہ دراصل وہ ایک ایسی علامت عیسیٰ علیہ السلام کی ہمارے نبیﷺ نے بیان فرما دی ہے کہ ہر مسلمان اس کو دیکھتے ہی یقین کر لے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام اتر آئے اور چونکہ مرزا قادیانی کے زمانے میں نہ مال اس قدر وفور سے ہے نہ وہ بے حساب تقسیم کر سکتے ہیں۔ بلکہ خود ہی لوگوں سے وصول کرنے کی فکر میں دن رات مصروف ہیں۔ اس سے یقیناً مسلمانوں کو معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔
٧...... کل ادیان کا ہلاک ہو کر ایک دین اسلام کا باقی رہ جانا۔ جیسا کہ روایت (امام احمد ج ٢ ص ٤٠٦، ابی داود ج ٢ ص ٢٣٨، باب خروج الدجال) سے اوپر معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا۔ ”ویهلک الله فی زمانه الملل كلها الا الاسلام“ بیان للناس میں (فتح الباری ج ٦ ص ٣٥٧) سے ابن حجر کا قول نقل کیا ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں۔
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٥١٢، خزائن ج ٣ ص ٣٧٦) میں لکھتے ہیں کہ ”اس زمانے میں تحصیل علوم رہزن ہو رہی ہے۔ ہمارے زمانے کی نئی روشنی جس کو دوسرے لفظوں میں دخان سے موسوم کرنا چاہئے عجیب طور پر ایمان اور دیانت اور اندرونی سادگی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ سو فلسفی تقریروں کے غبار نے صداقت کے آفتاب کو چھپا دیا ہے۔ فلسفی مغالطات نے سادہ لوحوں
٨٢
کو طرح طرح کے شبہات میں ڈال دیا ہے۔ خیالات باطلہ کـ اکثر لوگوں کی نظر میں کچھ حقیر سی معلوم ہوتی ہیں۔“ اور (براہین احمدیہ ص ح، خزائن ج ١ ص ٦٩ ملخص) میں افزوں ترقی کر رہے ہیں کہ ستائیس ہزار سے پانچ لاکھ تک شـ ہے کہ اس تحریر کے بعد کرسٹان اور بھی بڑھ گئے۔
اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی کا زمانہ اسلام کے حق مـ اور کفر کی روز افزوں ترقی ہے۔ جس کے خود وہ معترف اور شا کسی مسلمان کو جس کو ہمارے نبی کریمﷺ پر اور احادیث ہونے کا احتمال بھی ہو سکتا ہے۔ کیا عیسیٰ موعود کا یہی کام ہے کرلے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کی اشاعت کر کے اس کتاب کی لاگت سے دوچند بلکہ اس سے بھی زیا کہ ”ایک شب اپنے خیالات کی شب تاریک میں غوطـ دفعہ پردہ غیب سے انی انا ربك کی آواز آئی اور ایسے اسـ کی رسائی نہ تھی۔ سو اب کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً مـ کہ کس اندازے اور مقدار تک پہنچانے کا ارادہ ہے اور دین ا
(براہین احمدیہ ص آخری، ملحقہ اشتہا
مقصود یہ کہ جتنے دلائل قائم کرنے کا وعدہ تھا اور حافظ ہے۔ اگر پادری، لامذہب اور آریہ وغیرہ مسلمانوں کی تو عیسیٰ کو اس سے کیا تعلق۔ اگر کوئی کافر بھی ہو جائے تو مرزا
بری منك انی اخاف الله رب العالمین!
٨...... دشمنی بغض اور حسد کا دفع ہو جانا مـ نزول عیسیٰ بن مریم) سے ثابت ہے ”قال رسول اللـ والتباغض والتحاسد (کنز العمال ج ١٤ ص ٣٢ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام رہے گا۔ اس لئے کہ جب کل ادیان جا کر اسلام ہی اسلام جائے گی۔
٨٣
کو طرح طرح کے شبہات میں ڈال دیا ہے۔ خیالات باطلہ کی تعظیم کی جاتی ہے۔ حقیقی صداقتیں اکثر لوگوں کی نظر میں کچھ حقیر سی معلوم ہوتی ہیں۔“
اور (براہین احمدیہ ص ٧، خزائن ج ١ ص ٦٩ ملخص) میں لکھتے ہیں ”پادری لوگ ہمیشہ روز افزوں ترقی کر رہے ہیں کہ ستائیس ہزار سے پانچ لاکھ تک شمار کرستانوں کا پہنچ گیا ہے“ اور ظاہر ہے کہ اس تحریر کے بعد کرستان اور بھی بڑھ گئے۔
اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی کا زمانہ اسلام کے حق میں کیسا منحوس ہے۔ جس میں لامذہبی اور کفر کی روز افزوں ترقی ہے۔ جس کے خود وہ معترف اور شاکی ہیں کیا اس کھلے مشاہدے کے بعد کسی مسلمان کو جس کو ہمارے نبی کریم ﷺ پر اور احادیث پر ایمان ہے۔ مرزا قادیانی کے مسیح ہونے کا احتمال بھی ہو سکتا ہے۔ کیا عیسیٰ موعود کا یہی کام ہے کہ کفر الحاد کی شکایت کر کے روپیہ جمع کرلے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کی اشاعت میں یہی کام کیا کہ اس قسم کی تقریریں کر کے اس کتاب کی لاگت سے دہ چند بلکہ اس سے بھی زیادہ روپیہ وصول کر لیا اور آخر میں لکھ دیا کہ ”ایک شب اپنے خیالات کی شب تاریک میں موسیٰ علیہ السلام کی طرح سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے انى اناربك کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔ سو اب کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہر و باطناً حضرت رب العالمین ہے اور معلوم نہیں کہ کس اندازے اور مقدار تک پہنچانے کا ارادہ ہے اور دین اسلام کا وہی حافظ ہے۔“
(براہین احمدیہ ص آخری، ملحقہ اشتہار ہم اور ہماری کتاب، خزائن ج ١ ص ٦٧٣)
مقصود یہ کہ جتنے دلائل قائم کرنے کا وعدہ تھا اب اس کی ضرورت نہ رہی اور دین کا خدا حافظ ہے۔ اگر پادری ، لامذہب اور آریہ وغیرہ مسلمانوں کی تعداد گھٹائیں اور کفر کی اشاعت کریں تو عیسیٰ کو اس سے کیا تعلق۔ اگر کوئی کافر بھی ہو جائے تو مرزا قادیانی صاف کہہ دیں گے۔ انی برئ منك انى اخاف الله رب العالمين!
- ٨...... دشمنی بغض اور حسد کا دفع ہو جانا جیسا کہ روایت (صحیح مسلم ج ١ ص ٨٧، باب
نزول عیسیٰ بن مریم) سے ثابت ہے ”قال رسول الله ﷺ وليذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد (کنز العمال ج ١٤ ص ٣٣٢، حدیث نمبر ٣٨٨٤١)“
اس حدیث سے ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ان صفات کا وجود ہی نہ رہے گا۔ اس لئے کہ جب کل ادیان جا کر اسلام ہی اسلام رہ جائے گا تو اصلی اخوت اسلامی قائم ہو جائے گی۔
٨٣
اب مرزا قادیانی کی عیسویت کا دورہ بھی دیکھ لیجئے کہ جہاں اسلام میں بہتر فرقے تھے انہوں نے ایک فرقہ ایسا بنا دیا کہ جس کو ان میں سے کسی کے ساتھ تعلق نہیں اور اس فرقے کی یہ کیفیت کہ تمام مسلمانوں کا دشمن ایک مسلمان آج اپنے گھر میں خوشی سے بیٹھا ہے کہ کل مرزا قادیانی کا منتر اس پر اثر کرتے ہی اپنے کنبے بھر کا دشمن ہو گیا اور طرفین سے سب وشتم اور زدوضرب کی نوبت پہنچ رہی ہے اور دونوں فوجداری میں کھنچے جا رہے ہیں۔ اب مرزا قادیانی ہی انصاف سے کہہ دیں کہ مسلمان اپنے نبی کی بات مان کر ایسے مسیح کا انتظار کریں جس کے زمانے میں اس علامت کا وقوع ہو یا آپ کی بات مان کر اپنے نبی کی حدیث کو جھوٹی ثابت کریں۔
......٩ باطنی اثر سے امن قائم ہو جانا اس طور پر کہ شیر اونٹوں کے ساتھ اور چیتے گائیوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور لڑکے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ جیسا کہ (مسند امام احمد ج ٢ ص ٤٠٦، مستدرک حاکم) میں مروی ہے۔ ”قال رسول الله ﷺ وتقع امنة علی اهل الارض حتی ترعی الاسود مع الابل والنمور مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان بالحيات فلا يضرهم (کنز العمال ج ١٤ ص ٢٣٦، حدیث نمبر ٣٨٨٠٥)“
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٥٩٤، خزائن ج ٣ ص ٤٢١،٤٢٠) میں لکھتے ہیں کہ ”(حضرت نے ) ”ایک دوسری پیش گوئی بطور استعارے کے فرمادی کہ جب تم ایسے یہودی بن جاؤ گے تو تمہارے حال کے مناسب حال ایسا ہے کہ ایک مسیح تم سے ہی تمہیں دیا جائے گا اور وہ تم میں حکم ہوگا اور تمہارے کینے اور بغض کو دور کر دے گا۔ شیر و بکری کو ایک جگہ بٹھاوے گا اور سانپوں کی زہر نکال دے گا اور بچے تمہارے سانپوں اور بچھوؤں سے کھیلیں گے اور ان کے زہر سے ضرر نہیں اٹھائیں گے۔ یہ تمام اشارات اسی بات کی طرف ہیں کہ جب مذہبی اختلافات دور ہو جائیں گے تو ایک دفعہ فطرتی محبت کا چشمہ جوش مارے گا اور تناقض اور تحاسد دور ہو جائے گا اور تعصب کی زہریں نکل جائیں گی اور ایک بھائی دوسرے بھائی پر نیک ظن پیدا کرے گا تب اسلام کے دن پھر سعادت اور اقبال کی طرف پھریں گے اور سب مل کر کوشش میں لگیں گے کہ اسلام کو بڑھایا جائے اور مسلمانوں کی کثرت ہو جیسا کہ آج کل یہ کوشش ہو رہی ہے کہ مسلمانوں کو جہاں تک ممکن ہے کم کر دیا جائے اور بدسرشت مولویوں کے حکم و فتوے دین اسلام سے خارج کر دیئے جائیں اور اگر ہزار وجہ اسلام کی پائی جائے تو اس سے چشم پوشی کر کے ایک بیہودہ اور بے اصل وجہ کفر کی نکال کر ایسا کافر ٹھہرا دیا جائے گا کہ گویا وہ ہندوؤں اور عیسائیوں سے بدتر ہیں۔ ...... اور یہ سب ملایان یوں کہو کہ
٨٤
ایک دوسرے کو کھانے وا پہلے مرزا قادیا تقریر کے موافق تطبیق کر ہیں۔ ضرور تھا کہ مرزا قادیا اسلام بڑھانے کی کوش وقت یہ تقریر مرزا قادیانی خوش ہوتے ہوں گے کہ تائید کی جائے۔ چنانچ نادم ہونا پڑا کہ پچیس تیس سال سے بھی زیادہ عرص ان کے طفیل سے ایک معلوم ہوتا۔ مرزا قادیا ایسے پڑ گئے ہیں کہ د مسلمانوں کو ایک کر تعصب مذہبی اب ایس سے آدمی کو ضرر رہے کے بعد تعصب کی د ”وجعلنا من بین مرزا قاد انصاف سے دیکھا ج مگر مرزا قادیانی ۔ وحدیث اور اجماع پڑھیں اور ان سے مرزا قادیانی پر ایما ساتھ کیا نسبت ۔ ایک دوسرے کو کھا
ایک دوسرے کو کھانے والے کیڑے ہیں۔“
پہلے مرزا قادیانی کی مسیحائی پر ان حالات کو جو احادیث موصوفہ میں وارد ہیں انہیں کی تقریر کے موافق تطبیق کر کے دیکھ لیجئے۔ مسلمان تو بقول ان کے یہودی ہو گئے اور مرزا قادیانی مسیح ہیں۔ ضرور تھا کہ مرزا قادیانی کل مسلمانوں سے تعصب کا زہر نکال دیتے اور کل اہل اسلام مل کر اسلام بڑھانے کی کوشش کرتے۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے مگر اس کا اب تک ظہور نہ ہوا۔ جس وقت یہ تقریر مرزا قادیانی نے کمال فخر سے کی ہوگی۔ خوش اعتقاد لوگ آمنا وصدقنا کہہ کر دل میں خوش ہوتے ہوں گے کہ مرزا قادیانی کا وجود نعمت غیر مترقبہ ہے۔ جہاں تک ہو سکے دل سے ان کی تائید کی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ براہین احمدیہ کو لوگوں نے سو سو روپے دے کر خریدا مگر ان کو نادم ہونا پڑا کہ پچیس تیس سال سے بلکہ جب سے مرزا قادیانی کا خیال اس طرف ہوا غالباً پچاس سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اس مدت میں بجائے اس کے کہ تعصب مذہبی دور ہو جاتا۔ ان کے طفیل سے ایک نیا تعصب ایسا قائم ہو گیا ہے کہ اس کا اٹھنا ان کے بعد بھی بظاہر ممکن نہیں معلوم ہوتا۔ مرزا قادیانی کا اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ اکثر بیمار رہتے ہیں اور چل چلاؤ کی فکر میں ایسے پڑ گئے ہیں کہ وہ گرم جوشیاں بھی جاتی رہیں۔ کیا اب بھی توقع ہے کہ مرزا قادیانی کل مسلمانوں کو ایک کر کے کفار کے مقابلے میں کھڑے کر دیں گے۔ ہرگز نہیں مگر خوش اعتقادوں پر تعصب مذہبی اب ایسا مسلط ہو گیا ہے کہ وہ اب بھی مرغی کی ایک ٹانگ کہے جائیں گے۔ اسی وجہ سے آدمی کو ضرور ہے کہ سوچ سمجھ کر بہت احتیاط سے کوئی مذہب اختیار کرے۔ کیونکہ اختیار کرنے کے بعد تعصب کی دیوار آگے پیچھے ایسی سد ہو جاتی ہے کہ اس کا توڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ”وجعلنا من بين أيديهم سداً ومن خلفهم سداً (يسين:٩)“
مرزا قادیانی مولویوں کی شکایت کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو وہ کم کرتے ہیں۔ انصاف سے دیکھا جائے تو مولویوں نے صرف چند قادیانیوں کو مسلمانوں سے خارج کر دیا تھا۔ مگر مرزا قادیانی نے تو کروڑہا مسلمانوں کو اسلام سے خارج کر دیا۔ جن کے اعتقاد قرآن وحدیث اور اجماع کے مطابق ہیں اور اپنی قوم کو صاف حکم دے دیا کہ کسی مسلمان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں اور ان سے من جمیع الوجوہ اجتناب اور مفارقت اختیار کریں اور وجہ اس کی صرف یہی کہ مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لاتے۔ اب غور کیا جائے کہ چند قادیانیوں کو کروڑہا مسلمانوں کے ساتھ کیا نسبت ہے۔ پھر جب چند قادیانیوں کو خارج کرنے سے علمائے اسلام بدسرشت اور ایک دوسرے کو کھانے والے کیڑے قرار دیئے گئے تو مرزا قادیانی کا لقب واقع میں کیا ہوگا اور
٨٥
جو وجہ انہوں نے مسلمانوں کو اسلام سے خارج ہونے کی قرار دی ہے وہ کس درجے کی بیہودہ اور بے اصل سمجھی جائے۔
مرزا قادیانی نے بھیڑ، بکریاں وغیرہ الفاظ حدیث کے معنی جو مجازی لئے ہیں اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک ممکن نہیں کہ بھیڑیا بکری کو اور شیر اونٹ کو نہ کھائے اور درندے اپنی صفت درندگی کو چھوڑ دیں۔ کیونکہ مجازی معنی اس وقت لئے جاتے ہیں جب حقیقی معنی نہ بن سکیں۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ حقیقی معنی ان الفاظ کے کیوں نہیں بن سکتے۔ اگر مرزا قادیانی یہ کہیں کہ عادت کے خلاف ہے تو وہ مسلم ہے۔ لیکن مسلمانوں کے بلکہ حکماء کے بھی نزدیک یہ بھی تو مسلم ہے کہ انبیاء اور اولیاء سے خلاف عادت امور بھی ظاہر ہوا کرتے ہیں اور اگر یہ کہیں کہ حیوانات کے مقتضائے طبع کا دور کرنا خدا کی قدرت میں بھی نہیں ہے تو پھر ان کے کفر میں شک کیوں کیا جائے اور یہ تو ظاہر ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کی خالقیت کے قائل ہو گئے تو اس کو ماننا پڑے گا کہ جس نے ان کو صفت سبعیت دی ہے وہ اس کو سلب بھی کر سکتا ہے۔ مرزا قادیانی کی اس تقریر سے مستفاد ہوتا ہے نہ ان کو نبی ﷺ کے قول کا اعتبار ہے نہ خدائے تعالیٰ کی قدرت کا یقین۔ پھر ان سے اس بارے میں گفتگو ہی کیا۔
ایں است جوابش کہ جوابش ندہی
ہم اپنے ہم مشربوں سے خیر خواہانہ کہتے ہیں کہ اس قسم کی تقریروں سے اپنے ایمان کو صدمہ نہ پہنچنے دیں اور قرآن وحدیث کے مقابلے میں کسی کی بات نہ سنیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کی نسبت تو خاص خاص اہتمام منظور الٰہی ہیں۔ جن کی خبریں آنحضرت ﷺ نے بتصریح دی ہیں۔ (تاریخ الخلفاء ص ١٩٩، فصل عمر بن عبدالعزیز) میں امام سیوطیؒ نے مالک ابن دینارؒ وغیرہ اکابر دین کے چشم دید واقعات نقل کئے ہیں کہ عمر ابن عبدالعزیزؒ کی خلافت کے زمانے میں بھیڑیں بکریوں کے ساتھ چرا کرتی تھیں۔ الحاصل مرزا قادیانی نے صرف اپنی عیسویت جمانے کی غرض سے یہ کام کیا کہ جتنے خوارق عیسیٰ علیہ السلام کی خبریں نبی ﷺ نے دی ہیں سب میں تاویلیں کر کے ان کی وقعت کھودی اور ان کو معمولی باتیں قرار دے کر اپنے آپ پر منطبق کر لیا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو اس کی نظیریں امم سابقہ میں بھی مل سکتی ہیں۔ دیکھئے حق تعالیٰ قرآن شریف میں خبر دیتا ہے۔ ”الم تر الى الذی حاج ابراهیم فی ربہ ان اتاہ اللہ الملک اذ قال ابراهیم ربی الذی یحیی ویمیت قال انا احی وامیت (بقرہ:٢٥٨)“
٨٦
واقعہ یہ ہے کہ لوگ غلہ لینے کے لئے نمرود کے پاس جاتے تھے اور اس کی عادت تھی کہ ان سے پوچھتا کہ تمہارا رب کون ہے اگر وہ کہتے کہ تو ہی ہمارا رب ہے تو ان کو غلہ دیتا۔ ایک بار ابراہیم علیہ السلام بھی ضرورتاً اس کے پاس گئے اور اس نے حسب عادت آپ سے بھی پوچھا کہ تمہارا رب کون ہے آپ نے فرمایا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اس نے کہا یہ صفت تو مجھ میں بھی ہے۔ جس کو چاہتا ہوں مار ڈالتا ہوں اور جس کو چاہتا ہوں زندہ چھوڑ دیتا ہوں۔ چنانچہ دو شخصوں کو بلا کر ایک کو قتل کر ڈالا اور دوسرے کو زندہ چھوڑ دیا۔ یہ واقعہ تفسیر (درمنثور ج ١ ص ٣٣١) میں امام سیوطیؒ نے ذکر کیا ہے۔
دیکھئے صفت احیاء و اماتت جو خاصۂ باری تعالیٰ ہے۔ اس کی تاویل کر کے نمرود نے ایک معمولی بات بنادی اور اپنے آپ پر منطبق کرلیا۔ جس طرح مرزا قادیانی کر رہے ہیں۔ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کی نسبت تو فرما دیا کہ وہ یہود بن گئے۔ مگر افسوس ہے کہ اپنی حالت کو ملاحظہ نہیں فرمایا کہ کیا بن گئے۔ اگرچہ ان کو اعتراض ہے کہ وہ یہودیوں کے مثل ہیں۔ جیسا کہ عبارت مذکورہ میں لکھتے ہیں۔ (جب تم یہودی بن جاؤ گے تو تمہارے مناسب حال ایسا ہی ایک مسیح تم سے دیا گیا) مگر ان تقریروں سے ظاہر ہے کہ اسی پر اکتفاء نہیں۔ بہرحال یہ علامتیں جو صحیح حدیثوں میں وارد ہیں مرزا قادیانی کے زمانے پر صادق نہیں آسکتیں۔ اس وجہ سے وہ مسیح موعود ہو نہیں سکتے۔
- ١٠....... شب معراج خود عیسیٰ علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ دجال کے قتل
کے لئے میں مامور ہوں اور زمین پر اتر کے میں ہی اس کو قتل کروں گا۔ جیسا کہ (امام احمدؒ ج ١ ص ٣٧٥، ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٦٦٠ ، باب ماذکر فی فتنۃ الدجال) اور سعید بن منصور اور بیہقی نے روایت کی ہے۔ ”عن ابی مسعودؓ قال قال رسول اللہ ﷺ لقيت ليلة اسری بی ابراهيم وموسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام فتذكروا امر الساعة فردوا امرهم الى ابراهيم فقال لا علم لی بها فردوا امرهم الى موسیٰ فقال لا علم لی بها فردوا امرهم الى عیسیٰ فقال اما وجبتها فلم يعلم بها احد الا اللہ وفيما عهد الى رب ان الدجال خارج ومعی قضيبان فاذا رآنی ذاب كما يذوب الرصاص فیہلکہ اللہ اذا رآنی“ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے کہ شب معراج مجھ کو ابراہیم اور موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات ہوئی۔ اثنائے گفتگو میں قیامت کا ذکر آیا۔ ہم سب نے ابراہیم علیہ السلام سے اس کا حال دریافت کیا۔ انہوں نے اپنی لاعلمی ظاہر کی اسی طرح موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی لاعلمی ظاہر کی۔
٨٧
مگر عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یہ تو سوائے خدائے تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب ہوگی۔ مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ دجال نکلنے والا ہے اور خدائے تعالیٰ نے مجھے معلوم کرا دیا ہے کہ اس وقت میرے ساتھ دو چھڑیاں ہوں گی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا۔
مولوی محمد عبداللہ صاحب شاہجہاں پوری نے (شفاء للناس ص٤١) میں فتح الباری سے نقل کیا ہے کہ یہ حدیث (مسند امام احمد ج١ ص٣٧٥، ابن ماجہ ص٢٩٩، باب فتنہ الدجال وخروج عیسیٰ، مستدرک حاکم ج٥ ص٦٨٧ حدیث نمبر ٨٥٤٩، باب مذاکرۃ الانبیاء فی امر الساعۃ) میں ہے اور حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور (ابن ماجہ ص٢٩٩، باب فتنہ الدجال) کی روایت میں یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے نکلنے کا حال کہہ کر کہا کہ میں اس وقت اتروں گا اور اس کو قتل کروں گا۔ اس صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ خود عیسیٰ علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ سے بیان کیا کہ خدائے تعالیٰ نے پہلے سے مجھے دجال کے قتل کے لئے معین فرما دیا ہے اور میں زمین پر اتر کر اس کو قتل کروں گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کو صرف کشف ہی سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا حال معلوم نہیں ہوا بلکہ خود عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے حضرت سن چکے تھے۔ اس سے وہ احتمال بھی جاتا رہا جو مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ اس کشف میں حضرت کو نعوذ باللہ غلطی ہوئی ہے۔
مرزا قادیانی غالباً یہاں یہ شبہ پیش کریں گے کہ ان انبیاء کے مقامات ایک آسمان پر نہیں پھر سب کا اتفاق اور مجمع ایک جگہ کیسے ہوا۔ مگر اہل اسلام کے نزدیک ایسے رکیک شبہات قابل توجہ نہیں۔ اس لئے کہ اولیاء اللہ کو اس عالم میں یہ بات حاصل ہے کہ وقت واحد میں متعدد مقامات میں رہ سکتے ہیں۔ جیسا کہ امام سیوطیؒ نے کتاب التجلی فی تطور الولی میں اس کو دلائل سے ثابت کیا ہے اور اولیاء اللہ کے تذکروں میں اس کی نظائر بکثرت موجود ہیں۔
الحاصل اس حدیث کے دیکھنے کے بعد اہل ایمان کو اس میں کوئی شبہ نہ رہے گا کہ مرزا قادیانی نے اپنی عیسویت ثابت کرنے کے لئے جتنی تمہیدات کی ہیں کہ خدا نے میرا نام عیسیٰ رکھا ابن مریم رکھا اور یہ کہا اور وہ کہا سب سخن سازیاں اور افتراء ہیں اور کوئی الہام ان کا اس قابل نہیں کہ اس حدیث کے مقابلے میں آسکے۔
مرزا قادیانی نے مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی کے مقابلے میں جو تقریر کی ہے (الحق الصریح فی حیوٰۃ المسیح ص١٠٧) میں لفظ بلفظ لکھا ہے۔ اس تقریر میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں ۔ ”فرض کرو کہ وہ قرأت بقول مولوی صاحب کے ایک ضعیف حدیث ہے۔ مگر آخر حدیث تو ہے یہ تو ثابت نہیں ہوا کہ وہ کسی مفتری کا افتراء ہے۔ مولوی صاحب پر فرض تھا کہ قرأت شاذہ بقول مرجّح
٨٨
کے راوی کا صریح افتراء ثابت کرتے اور یہ ثابت کر کے دکھلاتے کہ یہ حدیث موضوعات میں سے ہے۔ مجرد ضعیف حدیث کا بیان کرنا اس کو بکلی ثبوت سے روک نہیں سکتا۔ امام بزرگ حضرت ابو حنیفہ فخر الائمہ سے مروی ہے کہ میں ایک ضعیف حدیث کے ساتھ بھی قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں۔ اب کیا جس قدر حدیثیں صحاح ستہ میں ہیں۔ بباعث بعض راویوں کے قابل جرح یا مرسل اور منقطع الاسناد ہیں۔ وہ بالکل پایہ اعتبار سے خالی اور بے اعتبار محض ہیں اور کیا محدثین کے نزدیک موضوعات کے برابر سمجھی گئی ہیں۔“
مرزا قادیانی کو جب ضعیف حدیث کے ساتھ یہ خوش اعتقادی ہے تو یہ حدیث جس میں آنحضرت ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کا بیان مذکور فرمایا ہے وہ تو صحیح ہے جس کی صحت کی تصریح اکابر محدثین نے کر دی ہے۔ اس کو وہ ضرور مانتے ہوں گے مگر ان کی تقریروں سے ثابت ہے کہ وہ اس کو نہیں مانتے۔ مرزا قادیانی اپنے استدلال کے وقت جو ضعیف حدیث کے ماننے پر ہم کو مجبور کرتے ہیں اور خود حدیث صحیح بھی نہیں مانتے۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ ہم کو مسلمان سمجھتے ہیں اور خود کو دائرہ اسلام سے خارج، اگر مسلمانوں کا یہودی بن جانا اور اپنا مسلمان ہونا ان کے نزدیک ثابت ہوتا تو اس پر کبھی اصرار نہ کرتے کہ ضعیف حدیث بھی نبی کی ہم لوگ مان لیں اور خود صحیح حدیث بھی نہ مانیں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو انہوں نے یہود قرار دیا تھا اور اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا امتی وہ قطع نظر اس کے کہ واقع کے خلاف ہے۔ خود بھی اپنی غلط بیانی کے معترف ہیں۔ اس موقع میں ہم نہایت خوشی سے اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ اپنے نبی کی ضعیف حدیث بھی قابل تسلیم ہے۔ مگر مرزا قادیانی کو کوئی حق نہیں کہ اس کا الزام ہم پر لگائیں۔ کیونکہ مسائل جزئیہ میں ہر دین والا اپنے نبی کے قول پر عامل ہوتا ہے۔ دوسری ملت والا شخص ان میں مباحثے کا مجاز نہیں بلکہ اگر مناظرہ ہو تو امور کلیہ میں ہو گا کہ پہلے ہر شخص اپنا دین واجب الاتباع ثابت کرے۔ اب مرزا قادیانی سے اگر بحث ہو تو ہم اپنا دین ناسخ ثابت کریں اور مرزا قادیانی اپنا دین اور ان جزئیات سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اگر مرزا قادیانی اپنے کو دائرہ اسلام میں داخل کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ بمقتضائے وقت اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں تو چاہئے کہ اس حدیث صحیح کو مان لیں اور دعویٰ عیسویت سے توبہ کریں۔ ورنہ یہ الزام رفع نہیں ہو سکتا۔
الحاصل مرزا قادیانی اس حدیث کو مانیں یا نہ مانیں مسلمانوں کے نزدیک مرزا قادیانی اس صحیح حدیث کی رو سے مسیح موعود ہرگز ہو نہیں سکتے۔
- (١١،١٢) ”عیسیٰ علیہ السلام کا دجال کو باب لد پر قتل کرنا اور ان کے دم سے کفار کا مر جانا جو
٨٩
اس روایت سے ظاہر ہے جو (مسلم شریف ج ٢ ص ٤٠١ ، ٤٠٢ ، باب ذکر الدجال ) میں ہے ”عن النواس ابن سمعان قال ذكر رسول الله ﷺ الدجال ذات غداة فخفض فيه ورفع حتى ظنناه في طائفة النخل فلما رحنا اليه عرف ذلك فينا فقال ماشانكم قلنا يارسول الله ذكرت الدجال غداة فخفضت فيه ورفعت حتى ظنناه فى طائفة النخل فقال غير الدجال اخوفنى عليكم ان يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم وان يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه والله خليفتى على كل مسلم ، انه شاب قطط عينه طافة كأنى اشبه بعبد العزى بن قطن فمن ادركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف ، انه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يميناً وعاث شمالاً ياعباد الله فاثبتوا قلنا يارسول الله وما لبثه فى الارض قال اربعون يوماً يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر ايا كايا مكم قلنا يا رسول الله فذلك اليوم الذى كسنة اتكفينا فيه صلوة يوم قال لا اقدروا له قدره قلنا يا رسول الله ﷺ وما اسراعه فى الارض قال كالغيث استدبرته الريح فياتى على القوم فيدعوهم فيؤمنون به ويستجيبون له فيا مر السماء فتمطر والارض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم اطول ماكانت ذرى واسبغه ضروعاً وامده خواصر ثم ياتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايديهم شئی عن اموالهم ويمر بالخربة فيقول لها اخرجی کنوزك فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل ثم يدع رجلا ممتليا شباباً فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه ويضحك فبينما هو كذالك اذ بعث الله المسيح ابن مريم عليه السلام فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهروذتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذا طا طأراسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤ لؤ فلايحل لكافر يجد ريح نفسه الامات ونفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله ثم ياتى عيسى قوم قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم فى الجنة فبينما هو كذالك اذا وحى الله الى عيسى عليه السلام انى قد اخرجت عبادالى لا يدان لا حد بقتالهم فحرز عبادى الى الطور
٩٠
ويبعث الله ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون فيمر اوائلهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيها ويمر آخرهم فيقولون لقد كان بهذه مرة ماء يحصر نبي الله عيسى عليه السلام واصحابه حتى يكون راس الثور لاحدهم خيراً من مائة دينار لا حدكم اليوم فيرغب نبي الله عيسى عليه السلام واصحابه فيرسل الله عليهم النغف في رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ثم يهبط نبي الله عيسى عليه السلام واصحابه الى الارض فلا يجدون في الارض موضع شبر الاملاه زهمهم ونتنهم فيرغب نبي الله عيسى عليه السلام واصحابه الى الله فيرسل الله عليهم طيراً كاعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله ثم يرسل مطراً لايكن منه بيت مدرولا وبرفيغسل الارض حتى يتركها كالزلفة ثم يقال للارض انبتى ثمرتك وردى بركتك فيومئذ تاكل العصابة من الرمانة ويستظلون بقحفها ويبارك في الرسل حتى ان اللقحة من الابل لتكفى الفام من الناس اللقحة من البقرة لتكفى القبيلة من الناس واللقحة من الغنم لتكفى الفخذ من الناس فبينماهم كذلك اذبعث الله ريحا طيبة فتاخذ هم تحت آباطهم فتقبض روح كل مومن وكل مسلم ويبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة
(مسلم ج ٢ ص ٤٠٠ تا ٤٠٢ ، باب ذكر الدجال)
يعنى نواسؓ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر ایسے طور پر کیا کہ کچھ دبی آواز سے فرمایا اور کچھ بلند آواز سے جس سے ہم کو خیال ہوا کہ شاید نخلستان میں وہ آ گیا۔ جب ہم اس طرف جانے لگے فرمایا کہ یہ کیا تمہاری حالت ہے۔ ہم نے عرض کی کہ آپ ﷺ نے ایسے طور پر دجال کا حال بیان فرمایا کہ ہمیں اس کے نخلستان میں آ جانے کا گمان ہو گیا۔ حضرت نے فرمایا اس سے زیادہ خوف دوسرے امور کا تمہاری نسبت مجھے ہے۔ (یعنی ظالم اور گمراہ سلاطین کا جیسا کہ دوسری احادیث میں وارد ہے) اگر بالفرض دجال میرے وقت میں نکلے تو میں اس سے گفتگو کر کے قائل کردوں گا اور میرے بعد نکلے تو ہر شخص اس سے بطور خود بحث کرے اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے۔ مگر یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دجال جواں ہوگا اور اس کے بال بہت بڑے ہوئے ہوں گے اور وہ عبدالعزی بن قطن کے ساتھ کسی قدر مشابہ ہے۔ جو مسلمان اس کو پائے سورۂ کہف کے شروع کی چند آیتیں پڑھ لے اور یہ بھی یاد رکھو کہ وہ شام
٩١
اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں فساد کا ہنگامہ برپا کر دے گا۔ اے خدا کے بندو اس وقت اپنے دین پر ثابت رہو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ وہ کتنے روز زمین پر رہے گا۔ فرمایا چالیس روز مگر ایک دن ایک برس کے برابر ہوگا اور ایک دن ایک مہینے کے برابر اور ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی ایام معمولی ہوں گے۔ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ جو دن ایک برس کے برابر ہوگا اس میں پانچ نمازیں کافی ہوں گی۔ فرمایا نہیں اوقات کا اندازہ کر کے نمازیں پڑھی جائیں۔ پھر ہم نے عرض کی اس کی سرعت سیر کی کیا کیفیت ہو گی فرمایا جس طرح ابر کو ہوا لے جاتی ہے وہ کسی قوم میں جا کر ان کو اپنے پر ایمان لانے کو کہے گا جب وہ اس پر ایمان لائیں گے تو آسمان کو حکم کرے گا کہ پانی برسائے اور زمین کو حکم کرے گا سبزی اگائے۔ جس سے جانور خوب ہی موٹے تازے ہو جائیں گے۔ پھر دوسری قوم پر جا کر ان کو اپنی طرف مائل کرے گا مگر وہ قبول نہ کریں گے۔ وہاں سے جب وہ لوٹے گا تو ان لوگوں پر قحط آ جائے گا اور کسی قسم کا مال ان لوگوں کے ہاتھ میں باقی نہ رہے گا۔ اس کے بعد ایک ویرانے پر گزرے گا اور اس سے کہے گا کہ اپنے خزانوں کو نکالے۔ چنانچہ وہاں کے خزانے اس کے ساتھ ہو جائیں گے۔ پھر وہ ایک شخص کو بلائے گا جو کمال شباب میں ہوگا اور اس کے دو ٹکڑے کر کے دور دور ڈلوا دے گا۔ پھر اس جوان مقتول کو بلائے گا چنانچہ وہ ہنستا ہوا اس کی طرف جائے گا۔ غرض کہ وہ اس قسم کے واقعات میں مشغول ہوگا کہ خدائے تعالیٰ مسیح ابن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا وہ دمشق کی شرقی جانب سفید مینار کے پاس دو زرد چادریں پہنے ہوئے دو فرشتوں کی بازوؤں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ سر جھکائیں گے اور اٹھا دیں گے تو ان کے پسینے کے قطرے مثل موتی کے ٹپکیں گے۔ جس کافر کو ان کے دم کی بو پہنچ جائے گی تو ممکن نہیں کہ وہ زندہ رہ سکے۔ پھر وہ دجال کو ڈھونڈ کر لد کے دروازے پر جو بیت المقدس کے قریب ایک شہر ہے قتل کر ڈالیں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام اس قوم کی طرف جائیں گے جن کو حق تعالیٰ نے دجال کے فتنے سے بچایا تھا اور شفقت سے ان کے منہ پر ہاتھ پھیر کر خوشخبری درجات جنت کی دیں گے جو ان کے لئے مقرر ہیں۔ اس اثناء میں حق تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام پر وحی فرمائیں گے کہ اب ہم نے اپنے ایسے بندوں کو نکالا ہے جن کے مقابلے کی کسی میں طاقت نہیں۔ اس لئے ہمارے پیارے بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ۔ اس وقت یاجوج ماجوج کو حق تعالیٰ زمین پر بھیجے گا جو ہر بلندی پر سے دوڑتے نظر آئیں گے۔ ان کی کثرت کی یہ کیفیت ہوگی کہ جب بحیرہ طبریہ پر ان کا گزر ہوگا تو اس کا سب پانی پی جائیں گے۔ جس کو دیکھ کر ان کے پچھلے لوگ خیال کریں گے کہ شاید کسی زمانے میں یہاں ٩٢
پانی تھا۔ ادھر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب محصور ہوں گے اور اشیاء کی نایابی اس درجے تک پہنچ جائے گی کہ آج کے دن سو اشرفیوں کی جو تمہیں قدر ہے اس روز بیل کے ایک سر کی قدر ہوگی۔ اس وقت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب خدائے تعالیٰ کی طرف توجہ کریں گے اور حق تعالیٰ ایک کیڑا یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں پیدا کر دے گا۔ جس سے ایک رات میں وہ سب مر جائیں گے ایک ان میں سے نہ بچے گا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام اپنے اصحاب کے ساتھ اپنے مقام سے نکلیں گے اور دیکھیں گے کہ زمین پر ایک بالشت کی جگہ ایسی نہیں جہاں ان کی چربی اور گندگی نہ ہو۔ سب خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں گے کہ یہ مصیبت دفع فرمائے۔ تب حق تعالیٰ بڑے بڑے پرندے اتارے گا اور وہ ان کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں منظور الہیٰ ہے ڈال دیں گے اور پانی برس جائے گا۔ جس سے تمام روئے زمین آئینہ کی طرح صاف ہو جائے گی۔ پھر زمین کو حکم ہوگا کہ اپنے ثمرات اگا دے اور برکت از سر نو ظاہر کرے۔ چنانچہ برکت کی یہ کیفیت ہوگی کہ ایک انار ایک جماعت کو کافی ہوگا اور اس کے چھلکے کے سائے کے تلے ایک جماعت بیٹھ سکے گی اور ایک اونٹنی کے دودھ میں یہ برکت ہوگی کہ ایک بڑی جماعت اس سے سیراب ہو جائے گی اور ایک گائے کا دودھ ایک قبیلے کو اور ایک بکری کا دودھ ایک خاندان کے لوگوں کو کافی ہوگا۔ اس اثناء میں ایک ہوائے خوش گوار ایسی بہے گی کہ مسلمانوں کے بغلوں کے نیچے سے اس کے بہتے ہی ان کی روح قبض ہو جائے گی۔ چنانچہ کل مسلمان عالم بقا کو چلے جائیں گے اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے۔ ان لوگوں کو بے حیائی اس درجے تک پہنچ جائے گی کہ عام جلسوں میں مرد عورت گدھوں کی طرح علانیہ جفتی کریں گے۔ انہی لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔
اس حدیث شریف نے مرزا قادیانی کی عیسویت کی کارروائی کو ملیا میٹ کر دیا۔ کیونکہ جو امور عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق اس میں مذکور ہیں نہ مرزا قادیانی سے ان کا وقوع ممکن ہے نہ ان کے زمانے میں کوئی ایسی بات پائی جاسکتی ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہوگی۔ اسی وجہ سے وہ جھنجھلا کر (ازالۃ الاوہام ص ٢٠٢، خزائن ج ٣ ص ١٩٩) میں لکھتے ہیں کہ ”بانی مبانی اس تمام روایت کا صرف نواس بن سمعان ہے اور کوئی نہیں“۔ جس کا مطلب کھلے الفاظ میں یہ ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو بنایا ہے۔ اگر مرزا قادیانی یہ الفاظ اپنے معاصرین کے حق میں کہتے تو چنداں مضائقہ نہ تھا۔ مگر افسوس ہے کہ ان کی صحابیت اور جلالت شان کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا۔ بھلا نواسؓ کو کیا خبر کہ مرزا قادیانی عیسویت کا جھوٹا دعویٰ کریں گے۔ جس کے مخالف یہ حدیث ہوگی انہوں نے تو اپنا فرض منصبی ادا کر دیا اور جس طرح صحابہ کا دستور تھا جو کچھ آنحضرت ﷺ سے سنا تھا بلا کم و کاست
پہنچا دیا اور امت مرحومہ نے اس کو قبول بھی کر لیا۔ کیونکہ اس حدیث میں اکثر کسی کو کلام ہوتا تو علماء اس کی تصریح کر دیتے کہ نواسؓ نے اس حدیث میں غلطی کی ہے۔ ہر چند یہ بات ظاہر ہے کہ جتنے امور اس حدیث میں مذکور ہیں ظاہراً خلاف عقل ہیں۔ مگر علماء نے دیکھا کہ جتنے وقائع قیامت کے قرآن وحدیث سے ثابت ہیں بالکل خلاف عقل ہیں اور یہ امور بھی مقدمۂ قیامت ہیں۔ اس لئے انہوں نے ان کو بھی قیامت ہی سے متعلق کر کے ایمان سے کام لیا۔ لیکن مرزا قادیانی چونکہ اس مسئلے میں صاحب غرض ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ اگر ایک بات بھی اس حدیث کی مان لیجائے تو عیسویت سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ اس لئے پہلے تو بانی مبانی اس حدیث کا نواسؓ کو قرار دے کر موضوع ہی ٹھہرا دیا پھر تاویلات سے کام لیا۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص٢٠٢، خزائن ج٣ ص١٩٩،٢٠٠) میں اس حدیث کو ذکر کر کے ایک دوسری حدیث تلاش کی جو ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے رات عیسیٰ علیہ السلام کو اور دجال کو خواب میں دیکھا اور ان دونوں کا حلیہ بھی بیان فرمایا جو خواب میں دیکھا تھا۔ مقصود اس تلاش سے یہ ہے کہ کسی طرح نواسؓ کی حدیث کو بے کار کر دیں اور اس کی تدبیر یہ نکالی کہ ابن عمرؓ کی حدیث میں مصرح ہے کہ حضرت نے خواب میں دونوں کو دیکھا تھا۔ اس وجہ سے نواسؓ کی حدیث بھی خواب ہی کی بات ہے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص٢٠٦، ٢٠٧، خزائن ج٣ ص٢٠٢) میں لکھتے ہیں کہ ”اب اس تمام حدیث میں نظر غور ڈال کر معلوم ہوگا کہ جو کچھ دمشقی حدیث میں مسلم نے بیان کیا ہے اکثر باتیں اس کی بطور اختصاص اس حدیث (ابن عمرؓ) میں واقع ہیں اور پیغمبر خدا ﷺ نے صاف اور صریح طور سے اس حدیث میں بیان فرما دیا کہ یہ میرا ایک مکاشفہ یا ایک خواب ہے۔ پس اس جگہ یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہے کہ وہ دمشق والی حدیث (جس کو نواسؓ نے روایت کیا ہے) درحقیقت وہ بھی آنحضرت ﷺ کا ایک خواب ہی ہے۔“
نواسؓ والی حدیث میں شروع سے اخیر تک کہیں نہ خواب کا لفظ ہے نہ اس پر کوئی دلیل۔ مگر مرزا قادیانی نے اسی میں سے ایک لفظ نکال ہی لیا۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص٢٠٣، خزائن ج٣ ص١٩٩، ٢٠٠) میں لکھتے ہیں کہ ”حضرت نے دجال کو خواب یا کشف میں دیکھا تھا اور چونکہ وہ ایک عالم مثالی ہے۔ اس لئے اس کا حلیہ بیان کرنے کے وقت لفظ کأنی یعنی گویا کا لفظ بتا دیا تا اس بات پر دلالت کرے کہ یہ رویت حقیقی رویت نہیں۔ ایک امر تعبیر طلب ہے۔“
سبحان اللہ مرزا قادیانی نے کہاں کی کہاں لگادی۔ اگر تعبیر طلب تھی تو ابن عمرؓ کی حدیث تھی۔ جس میں عیسیٰ علیہ السلام اور دجال وغیرہ کا خواب میں دیکھنا مذکور ہے۔ حالانکہ حضرت نے
٩٤
نہ خود اس کی تعبیر بیان کی نہ صحابہ نے حسب عادت پوچھا کہ عیسیٰ سے کیا مراد ہے اور دجال سے کیا مراد اور ان کے طواف سے کیا مقصود ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس خواب سے صرف ان کی معرفت اور مشخص طور پر معلوم ہونا مقصود تھا۔ بخلاف نواس کی حدیث کے اس میں تو سرے سے خواب کا ذکر ہی نہیں۔ رہا لفظ کأنی اشبہ اس سے صرف تعین اور تشخیص مقصود ہے کہ من وجہ جسمانی مشابہت مشبہ بہ بھی معلوم ہو جائے کیونکہ یہ لفظ دوسرے مشخصات کی قطار میں واقع ہے۔ جیسے ان کے نکلنے کے مقامات اور مدت بقاء اور سرعت سیر کا اندازہ اور اس زمانے کے واقعات جن سے ہر مسلمان سمجھ جائے کہ جب تک یہ تمام نشانیاں نہ پائی جائیں نہ کسی کو عیسیٰ سمجھ سکتے ہیں نہ دجال موعود۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ باوجود ان تمام تشخصات اور اہتمام کے جو حضرت نے ان کے بیان میں کیا ہے۔ یہ سمجھا کہ وہ سب خواب و خیال ہے۔ کس قدر ایمان سے دور ہے۔ پیشتر یہ بات معلوم ہو گئی ہے کہ مرزا قادیانی نے یوز آصف کا طریقہ اختیار کیا ہے کہ واقعات میں تصرف کیا کرتے ہیں۔ جیسے اس نے ابراہیم علیہ السلام کے تمام واقعات میں تصرف کر کے ان کو مجوسی قرار دیا اور بنیاد یہ قائم کی کہ ان کے نطفہ پر برس ہوا تھا۔ مرزا قادیانی نے یہاں بھی وہی کیا کہ لفظ کأنی پر یہ بنیاد قائم کی نواس کی حدیث ایک خواب کا واقعہ ہے۔ ابن عمرؓ والی حدیث میں جو آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ میں نے خواب میں عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کو دیکھا ہے اس بناء پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ پس یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ دمشق والی حدیث درحقیقت ایک خواب ہی ہے۔ معلوم نہیں مرزا قادیانی سے کس نے کہہ دیا کہ حضرت نے دجال وغیرہ کو جو ایک بار خواب میں دیکھ لیا تھا اس کے بعد جتنے واقعات اور پیش گوئیاں حضرت نے اس باب میں فرمائی ہیں وہ سب خواب ہیں۔ ایک بار کسی کو خواب میں دیکھنے سے قطعی طور پر یہ کیونکر ثابت ہوگا کہ جب کبھی اس کے واقعات بیان ہوں۔ سب خواب ہی ہوا کریں۔ مرزا قادیانی کے اس مسلک پر حضرت عائشہؓ کے نکاح وغیرہ کے واقعات سب قطعی اور یقینی طور پر خواب ہوں گے۔ اس کے لئے ان کو بھی حضرت نے نکاح سے پہلے خواب میں دیکھ لیا تھا۔ مرزا قادیانی کی سخن سازیوں نے قطع اور یقین کو نہایت ہی ارزاں کر دیا ہے کہ جہاں احتمال بھی پایا نہیں جاتا قطع اور یقین کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔
مرزا قادیانی نے دجال کی نسبت جو لکھا ہے کہ حضرت نے دجال کو خواب میں دیکھا وہ صورت مثالی تعبیر طلب ہے۔ اس سے تو مرزا قادیانی کی عیسویت بھی دجال ہی کے ساتھ درہم و برہم ہو جاتی ہے۔ اس لئے کہ حضرت نے دونوں کو ایک ہی خواب میں دیکھا تھا اور علمائے فن
٩٥
معبر نے تصریح کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر سفر وغیرہ ہے۔ اس صورت میں مرزا قادیانی کی عیسویت کس بناء پر قائم ہو گی۔ کیونکہ حضرت کے اس خواب کی تعبیر کا ظہور تو حضرت کے سفر وغیرہ سے اسی زمانے میں ہو گیا ہوگا۔ اب نواسؓ والی حدیث میں غور کیجئے کہ کتنے واقعات آنحضرتﷺ نے اس میں بیان فرمائے ہیں۔ جو عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے ہی سے متعلق ہیں۔
- ١...... دجال کا حلیہ۔
- ٢...... شام وعراق کے درمیان سے اس کا نکلنا۔
- ٣...... اس کا فساد برپا کرنا۔
- ٤...... اس کی مدت فتنہ پردازی۔
- ٥...... اس کے زمانے کے ایام کی مقدار۔
- ٦...... ان ایام کی نمازوں کا طریقہ۔
- ٧...... اس کی سرعت سیر۔
- ٨...... اس کے خوارق عادات۔
- ٩...... عیسیٰ علیہ السلام کا دمشق میں اترنا۔
- ١٠...... ان کے اترنے کا مقام۔
- ١١...... ان کا لباس اور ہیئت۔
- ١٢...... کافروں کا قتل۔
- ١٣...... دجال کو مقام لد میں قتل کرنا۔
- ١٤...... یاجوج و ماجوج کا خروج اور ان کی کثرت۔
- ١٥...... خوردنی اشیاء کی گرانی۔
- ١٦...... یاجوج و ماجوج کی موت کا حال۔
- ١٧...... پرندوں کا ان کی لاشوں کو اٹھا لے جانا۔
- ١٨...... زمین کو گندگی سے پاک کرنے کے لئے بارش۔
- ١٩...... پیداوار کی کثرت۔
- ٢٠...... مسلمانوں کی موت کا حال۔
- ٢١...... کفار کا حال اور ان پر قیامت کا قائم ہونا یہ کل علامات ایسی ہیں جو
عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے ساتھ مختص ہیں۔ جن میں سے ایک بھی مرزا قادیانی کے وقت میں نہیں ہے۔
مرزا قادیانی نے اس حدیث کو ایک خواب تعبیر طلب قرار دے کر بعض امور کی تعبیر بھی بیان کی ہے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٢١٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٠٧) میں طولانی ایام کی نسبت لکھتے ہیں کہ ”لمبے دنوں سے مراد تکلیف اور مصیبت کے دن بھی ہوتے ہیں۔ بعض مصیبتیں ایسی درد ناک ہوتی ہیں کہ ایک دن ایک برس کے برابر دکھائی دیتا ہے اور بعض مصیبتیں ایسی کہ ایک دن ایک مہینے کی مانند معلوم ہوتا ہے اور بعض مصیبتوں میں ایک دن ایک ہفتہ جیسا لمبا سمجھا جاتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ صبر پیدا ہو جانے سے وہی لمبے دن معمولی دن دکھائی دینے لگتے ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ١٤٦، خزائن ج ٣ ص ١٧٤) میں انہوں نے لکھا ہے کہ ”دجال سے مراد با اقبال قومیں ہیں۔“ جب دجال سے مراد با اقبال قومیں اور ایام کی درازی مصیبتوں کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ تو اس تعبیر میں ان کو ضرور تھا کہ اس کی تصریح کر دیتے کہ فلاں با اقبال قوم کے خروج کا پہلا دن ایک سال اور دوسرا دن ایک ماہ کا اور تیسرا دن ایک ہفتے کا اور باقی ایام معمولی اصناف مصائب کے لحاظ سے ہو گئے تھے۔ اسی طرح ایک ایک با اقبال قوم کے ایام و مصائب کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر یہ ان سے ممکن نہیں ان کو تو صرف حدیث کو بگاڑنا مقصود ہے۔
اور (ازالۃ الاوہام ص ٢١٦، خزائن ج ٣ ص ٢٠٧، ٢٠٨) نمازوں کے باب میں لکھتے ہیں کہ ”طولانی دن کی مقدار پر اندازہ کرنے کو جو فرمایا ہے سو یہ بیان پیغمبر خدا ﷺ کا علیٰ سبیل الاحتمال ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے بلحاظ وسعت قدرت الٰہی کشف امر کو مطابق سوال سائل کے ظاہر پر محمول کر کے جواب دے دیا...... اور کشفی امر کو جب تک خدا تعالیٰ خاص طور پر ظاہر نہ کرے کبھی ظاہری معنوں پر محدود نہیں سمجھتے تھے۔“
مطلب اس کا ظاہر ہے کہ ان ایام کا کشف تو حضرت کو ہو گیا تھا۔ مگر بیان کرنے میں نعوذ باللہ غلطی کی جو مطابق سوال کے خلاف واقع جواب دے دیا اور حق تعالیٰ نے اس کشفی امر کو حضرت پر ظاہر ہی نہیں کیا۔ اسی لئے ظاہری معنے پر اس کو محدود کر لیا۔
یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اگر ان ایام کا کشف آنحضرت ﷺ کو ہو گیا تھا کہ ایک روز ایک برس کا ہوگا تو اس کو ظاہری معنی پر حمل کرنا کیوں خلاف واقع سمجھا جاتا ہے اور اگر ایک برس کا ایک دن سمجھنا غلط تھا تو کشف ہی کیا ہوا مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے کشف کو اپنے ادعائی کشفوں کے جیسے سمجھ لیا ہے کہ کشف میں دیکھا تو شیطان کو اور سمجھ لیا کہ وہ خدا ہے۔
جیسا کہ اوپر معلوم ہوا اسی وجہ سے حضرت کے کشف کی اصل حقیقت سمجھنے میں دقتیں لاحق ہوئیں۔
اور اسی (ازالۃ الاوہام ص ٤١٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٨ ملخص) میں لکھتے ہیں کہ ”یہ جو فرمایا کہ دجال بادل کی طرح تیز چلے گا اور اس پر ایمان جو لائے تب بادل کو حکم کرے گا کہ مینہ برسائے اور زمین کھیتی اگائے سو یہ استعارات ہیں۔ ہوشیار رہو دھوکا نہ کھانا۔‘‘
مرزا قادیانی مسلمانوں کو ڈراتے ہیں کہ تمہارے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تم کو دھوکا دے دیا ان سے ہوشیار رہو دھوکا نہ کھاؤ۔ سبحان اللہ اس پر امتی ہونے کا دعویٰ بھی ہے اور اسی (ازالۃ الاوہام ص ٢١٥، خزائن ج ٣ ص ٢٠٦) پر لکھتے ہیں کہ ”دجال اس راہ سے نکلنے والا ہے کہ جو شام و عراق کے درمیان واقع ہے۔ یہ بھی ایک استعارہ ہے۔ جیسا کہ مکاشفات میں عام طور پر استعارات و کنایات ہوا کرتے ہیں۔‘‘
مرزا قادیانی کی رائے یہاں چل نہ سکی۔ اس لئے کہ دجال تو با اقبال قومیں ٹھہریں اور وہ شام و عراق کے درمیان نہیں۔ اس لئے اسی پر اکتفا کیا کہ وہ بھی ایک استعارہ و کنایہ ہے۔ جس کے معنی سمجھ میں نہیں آتے۔ یہاں اہل اسلام کو یہ بھی خیال کر لینا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ نے کسی اہتمام سے ان واقعات کو بیان فرمایا اور کیسے کھلے کھلے الفاظ میں دجال کے حالات معلوم کرائے۔ ان سب کو مرزا قادیانی نے چیستان اور پہیلی قرار دیا اور صرف چند مضامین اپنی دانست میں حل کر کے باقی چھوڑ دیا۔ کیا یہی نبی کی شان ہے کہ اپنی امت کو کسی سے ڈرائے اور اس کے احوال کی پہیلی بنا کر بیان کرے اور اس پہیلی کے سننے والے اس کو ظاہر پر حمل کر کے ظاہری الفاظ پر ایمان لائیں۔ جن میں بعض امور کفریات اور دھوکا ہوں اور نبی ساکت رہیں اور یہ بھی نہ کہیں کہ ہم نے تو پہیلی بنائی تھی۔ تم اسی کے ظاہر پر ایمان لا رہے ہو۔ اپنے نبی کی نسبت ایسا گمان کرنے والا کیا امتی ہو سکتا ہے۔ عقل اس کو ہرگز باور نہ کرے گی۔
مرزا قادیانی نے دیکھا کہ اگر عیسیٰ اور دجال میں تلازم ثابت ہو جائے تو جو علامات دجال کی احادیث میں مذکور ہیں کسی پر صادق کر کے بتلانے کی ضرورت ہوگی۔ اگرچہ کہ اپنے مناسب دجال کبھی پادریوں کو اور کبھی با اقبال قوموں کو قرار دیتے ہیں اور چند علامات بھی تاویلیں کر کے ان پر صادق کر دیتے ہیں۔ مثلاً ایک چشمی ہونے سے مراد دنیاوی عقل وغیرہ ہیں۔ مگر پوری علامتیں تاویلات سے بھی صادق نہیں آسکیں۔ اس لئے آخر میں بتنگ آ کر صاف کہہ دیا کہ دجال کے باب میں جتنی حدیثیں بخاری اور مسلم وغیرہ میں مذکور ہیں سب موضوع ہیں۔ البتہ ابن صیاد دجال موعود تھا جو حضرت ہی کے زمانے میں نکلا اور مر بھی گیا۔ اب دجال کی ضرورت ہی
٩٨
نہ رہی۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص٢٢٦، ٢٢٧، خزائن ج٣ ص٢١٣،٢١٤) میں لکھتے ہیں کہ ”اگر ہم بخاری اور مسلم کی ان حدیثوں کو صحیح سمجھیں جو دجال کو آخری زمانہ میں اتار رہی ہیں تو یہ حدیثیں ان کی موضوع ٹھہرتی ہیں اور اگر ان حدیثوں کو صحیح قرار دیں تو پھر ان کا موضوع ہونا ماننا پڑتا ہے۔…… عقل خداداد ہم کو یہ طریقہ فیصلہ کا بتلاتی ہے کہ جن احادیث پر عقل اور شرع کا کچھ اعتراض نہیں انہیں کو صحیح سمجھنا چاہئے۔ سو اس طریق فیصلہ کی رو سے یہ حدیثیں جو ابن صیاد کے حق میں وارد ہیں قرین قیاس معلوم ہوتی ہیں۔ کیونکہ ابن صیاد اپنے اوائل ایام میں بے شک ایک دجال ہی تھا اور بعض شیاطین کے تعلق سے اس سے امور عجیبہ ظاہر ہوتے تھے۔ جس سے اکثر لوگ فتنے میں پڑتے تھے۔ لیکن بعد اس کے خداداد ہدایت سے وہ مشرف باسلام ہو گیا۔“
اور اسی (ازالۃ الاوہام ص٢٢٥،خزائن ج٣ ص٢١٣) میں لکھتے ہیں کہ ”دوسری حدیثوں سے ظاہر ہے کہ بالآخر اس پر (ابن صیاد) یقین کیا گیا کہ یہی دجال معہود ہے۔ چنانچہ صحابہؓ نے قسمیں کھا کر کہا کہ ہمیں اب اس میں شک نہیں کہ یہی دجال معہود ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی آخر کار یقین کرلیا۔“
ابن صیاد اور دجال کی بحث انوار الحق میں کسی قدر مبسوط لکھی گئی ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کے ان شبہات کے جوابات بھی مذکور ہیں۔ مگر یہاں یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ جب آخری زمانے میں دجال کا وجود ہی نہ ہو تو پھر عیسیٰ کی ضرورت ہی کیا۔ حالانکہ (ازالۃ الاوہام ص١٤٧، خزائن ج٣ ص١٧٥) میں وہ لکھتے ہیں ”لکل دجال عیسیٰ“ اس سے تو دونوں میں تلازم ثابت ہورہا ہے اور احادیث میں مصرح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام خاص دجال کے قتل کے لئے معین ہیں اور خود عیسیٰ علیہ السلام نے بھی آنحضرت ﷺ سے یہی کہا جیسا کہ حدیث صحیح سے ابھی معلوم ہوا اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب وہ حدیثیں موضوع ہوں تو عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا ذکر جو وہ بھی انہی میں ہے کیونکر ثابت ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں مرزا قادیانی کے اقرار سے ثابت ہوگیا کہ نہ وہ مسیح موعود ہیں نہ مثیل موعود اور نہ ان کی ذریت میں کوئی مسیح ہوسکتا ہے اور اگر اپنے الہاموں سے مسیح ہونا ثابت کریں تو ان کے الہاموں کی بے وقعتی تقریر سابق سے بخوبی ثابت ہے اور مرزا قادیانی اپنا دجال پادریوں اور بااقبال قوموں کو جو بتارہے ہیں ان کے مقابلے میں غالب ہونا تو درکنار ان کو آنکھ اٹھا کر دیکھ نہیں سکتے۔ اس لئے کہ مسٹر آتھم صاحب کے مقابلے میں جب حد سے زیادہ خفیف و ذلیل ہوئے تو اب کسی پادری کے مقابلے کی ان میں جرأت ہی نہیں اور بااقبال قوموں کے مقابلے کا تو ان کو خیال بھی نہیں آسکتا۔ بلکہ بجائے مقابلے کے دعا گو اور خوشامد
٩٩
میں مصروف ہیں۔ پھر اپنے آپ کو عیسیٰ اور پادریوں اور با اقبال قوموں کو دجال بنانے سے فائدہ ہی کیا۔ جب احادیث سے بتواتر ثابت ہے کہ عیسیٰ دجال کو قتل کریں گے اور مرزا قادیانی اپنے دجال کے مقابلے میں حرکت مذبوحی بھی نہیں کر سکتے تو انہی احادیث سے مرزا قادیانی کی عیسویت خود باطل ہوگئی۔
مرزا قادیانی نے مسیحیت کا ایسا دعویٰ کیا ہے کہ بقول ان کے اب تک کسی نے نہیں کیا۔ کیونکہ اس دعوے کے لوازم و شرائط جو احادیث صحیحہ میں وارد ہیں ہر مسلمان کو جس میں ذرا بھی ایمان ہے اس دعوے سے روک دیتی ہیں اور تمام حدیثوں کی صحیح کتابیں جن کی صحت پر ہر زمانے کے علمائے مشرق و مغرب کا اتفاق قرناً بعد قرن چلا آ رہا ہے ان کو اس دعوے میں کاذب بتا رہی ہیں تو اب ان کو بغیر اس کے کہ ان کتابوں پر حملہ کریں کوئی مفر نہیں۔ اس صورت میں مسلمانوں کو اس کی کیا ضرورت کہ مرزا قادیانی کی خاطر سے اپنی معتمد علیہ کتابوں کو جھوٹی اور اپنے سلف صالح اور متفق علیہ علمائے متقدمین و متاخرین کو جاہل اور غیر متدین کہہ کر ادعائی مسیح کو مان لیں۔ بہر حال یہ اکیس علامتیں جن کو نواسؓ نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے اور تمام امت نے اس کی تصدیق کی ہے۔ بآواز بلند کہہ رہی ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ عیسویت بلاشک و شبہ بے اصل محض ہے اور وہ زبردستی اپنے کو مسیح بنا رہے ہیں اور اس کا کچھ خوف نہیں کہ نبی ﷺ نے اس باب میں کیا فرمایا ہے۔ امام سیوطیؒ نے (البدور السافرة فی احوال الآخرة ص ٢١١) میں یہ حدیث نقل کی ہے۔ ”اخرج الشيخان قال رسول الله ﷺ من ادعى ماليس له فليس منا وليتبوأ مقعده من النار“ یعنی بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایسی بات کا دعویٰ کرے جو اس کو حاصل نہیں وہ ہم لوگوں میں یعنی مسلمان نہیں۔ چاہئے کہ وہ اپنا گھر دوزخ میں بنالے۔
اس مقام میں فلسفی خیال والوں کو مرزا قادیانی کی تقریر بہت مفید ہوگی اور ضعیف الایمان ان کی بات کو بآسانی قبول کر لیں گے۔ اس وجہ سے کہ امور مذکورہ کو معمولی عقلیں قبول نہیں کر سکتیں۔ مثلاً چالیس سال کا ایک دن ہونا ہر گز قرین قیاس نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ایمان کے موانع بہت ہیں۔ اسی وجہ سے اہل ایمان جو مستحق جنت ہیں دوزخیوں کی نسبت ہزاروں حصہ ہوں گے۔ جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔۔ لیکن انصاف سے اگر دیکھا جائے تو کوئی بات بھی ان میں خلاف عقل نہیں۔ اس لئے کہ خدائے تعالیٰ جو خالق عالم ہے اس میں ہر طرح تصرف کر سکتا ہے۔ اس میں کسی مسلمان کو شبہ نہیں کہ قیامت کے روز آسمان ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔
آفتاب بے نور اور قریب ہو جائے گا اور اس پچاس ہزار برس کے دن میں آفتاب پر کئی حالتیں طاری ہوں گی۔ پھر اگر قیامت کے قریب اس پر یہ حالت بھی گذرے کہ چالیس سال زمین کے کسی خاص حصے کے مقابل ٹھہرا رہے تو کون سا محال لازم آجائے گا۔ حکمت جدیدہ کی رو سے تو آفتاب ساکن ہے اور حکمت قدیمہ کی رو سے زمین ساکن ہے۔ بہر حال ان دونوں کا ساکن ہونا حکماء کے قول سے ثابت ہے۔ پھر اگر ایک مدت تک دونوں ساکن رہیں تو کون سی نئی بات ہوگی۔ اس پر کل امور کا قیاس کر لیجئے کیونکہ وہ ایک ایسا زمانہ ہوگا کہ خدائے تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کو خاص طور پر ظاہر فرمائے گا۔ اس سے بڑھ کر کیا ہو کہ جتنی مخلوق ابتدائے خلقت سے مر کھپ مٹی میں مل گئی جن کا نام ونشان تک باقی نہ رہا سب کے سب اصلی حالت پر اٹھائی جائے گی اور اعادہ معدوم جو محال سمجھا جاتا ہے اس روز ممکن بلکہ واجب ہوگا۔ بہر حال آدمی ایمان لانا چاہے تو کوئی بات نہ خلاف عقل ہے نہ ایمان لانے سے مانع۔ مگر یہ بات بے توفیق الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی ۔ وما توفیقی الا باللّٰہ!
نواسؓ کی روایت سے جو علامات عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے معلوم ہوئیں یہ ہیں۔
- ٢٢...... شام وعراق کے درمیان دجال کا نکلنا۔
- ٢٣...... اس کا حلیہ۔
- ٢٤...... اس کا فساد برپا کرنا۔
- ٢٥...... اس کی فتنہ پردازیاں۔
- ٢٦...... اس کے زمانے کے ایام کی مقدار۔
- ٢٧...... ان ایام کی نمازوں کا طریقہ۔
- ٢٨...... اس کی سرعت سیر۔
- ٢٩...... اس کے خوارق عادات۔
- ٣٠...... عیسیٰ علیہ السلام کا لباس وہیت وغیرہ۔
- ٣١...... ان کا کافروں کو قتل کرنا۔
- ٣٢...... یاجوج ماجوج کا خروج اور ان کی کثرت۔
- ٣٣...... خوردنی اشیاء کی گرانی۔
- ٣٤...... یاجوج و ماجوج کی موت کا حال۔
- ٣٥...... پرندوں کا ان کی لاشوں کو اٹھا لے جانا۔
١٠١
- ٣٦...... زمین کو گندگی سے پاک کرنے کے لئے بارش۔
- ٣٧...... پیداوار کی کثرت۔
- ٣٨...... مسلمانوں کی موت کا حال۔
- ٣٩...... کفار کا حال۔
- ٤٠...... ان پر قیامت کا قائم ہونا۔
- ٤١...... امام مہدی کا عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہونا۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی شخص ہیں۔ مگر ہمارے نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ دو شخص ہیں اور ہر ایک کے حالات جدا جدا ہیں۔ جیسا کہ اس حدیث شریف سے ظاہر ہے جو (کنز العمال ج ١٤ ص ٢٦٩، حدیث نمبر ٣٨٦٨٢) میں ہے۔
”قال رسول اللہ ﷺ کیف تھلك امة انا فی اولھا وعیسیٰ ابن مریم فی آخرھا والمھدی من اھل بیتی فی وسطھا“ یعنی وہ امت کیونکر ہلاک ہوگی جس کے اوائل میں میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ ابن مریم اور وسط میں مہدی ہیں۔
اس سے ظاہر ہے کہ مہدی اور عیسیٰ علیہم السلام ایک شخص نہیں ہیں اور (کنز العمال ج ١٤ ص ٢٦٤، حدیث نمبر ٣٨٦٦٢) میں ہے ”قال رسول اللہ ﷺ المھدی من عترتی من ولد فاطمة (عن ام سلمہ)“ یعنی مہدی میرے اہل بیت میں فاطمہؓ کی اولاد میں ہوں گے۔ یہ روایت (ابو داؤد ج ٢ ص ١٣١، اول کتاب المہدی) میں ہے ”وفی (کنز العمال ج ١٤ ص ٢٦٨، حدیث نمبر ٣٨٦٧٨) قال النبی ﷺ المھدی یواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی“ یعنی مہدی کا نام محمد ابن عبداللہ ہوگا۔
”(وفی کنز العمال ج ١٤ ص ٢٦٧، حدیث نمبر ٣٨٦٧٦) قال رسول اللہ ﷺ لو لم یبق من الدنیا الا یوم لطول اللہ ذلك الیوم حتیٰ یبعث فیہ رجل من اھل بیتی یواطئ اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی یملأ الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجورا (وعن ابن مسعود)“ یعنی اگر بالفرض دنیا کا ایک ہی دن باقی رہ جائے تب بھی حق تعالیٰ اس دن کو دراز کر دے گا تاکہ امام مہدی آ کر دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں۔ ان کے سوا اور بھی حدیثیں ہیں جن سے ثابت ہے کہ مہدی علیہ السلام اور ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام اور۔
١٠٢
پھر ان کو پہچاننے کے لئے حضرت نے کئی علامتیں بتلاویں تا کہ مسلمان کسی اور کو مہدی نہ سمجھ لیں۔ ”كما في (كنز العمال ج ١٤ ص ٢٦٤، حديث نمبر ٣٨٦٦٥) قال رسول الله ﷺ المهدی اجلی الجبهة اقنى الانف (عن ابی سعید) وفي (رواية ج ١٤ ص ٢٦٤، حديث نمبر ٣٨٦٦٦) قال رسول الله ﷺ وجهه كالكوكب الدرى وفي (روايه ج ١٤ ص ٢٦٨، حديث نمبر ٣٨٦٨٠) في خده الايمن خال اسود عليه عبأتان قطوانيتان وفي البرهان فى علامات مهدى آخر الزمان للشيخ على متقى اخرج نعيم عن ابى الطفيل ان رسول الله ﷺ وصف المهدى فذكر ثقلا فى لسانه وفيه ايضاً اخرج نعيم المهدى ازج ابلج اعين بخيى من الحجاز حتى يستوى على منبر دمشق وهو ابن ثمان عشر سنة وفيه ايضاً من رواية على ابن ابى طالب كرم الله وجهه المهدى كث اللحية اكحل العينين براق الثنايا وفى وجهه خال“ یعنی مہدی علیہ السلام فراخ پیشانی اور بلند بینی ہوں گے۔ ان کا چہرہ ستارہ کی طرح چمکتا ہوگا۔ ان کے داہنے رخسار پر خال سیاہ ہوگا اور لباس ان کا دو قطرے عبا ہوں گے۔ ان کی زبان میں ثقل ہوگا اور کشیدہ و کشادہ ابرو ہوں گے اور فراخ چشم جب وہ حجاز سے دمشق آئیں گے ان کی عمر اٹھارہ سال کی ہوگی۔ دمشق کے منبر پر خطبہ پڑھیں گے۔ ان کی ریش گھنی ہوگی آنکھیں سرمگیں اور دانت نہایت چمکدار ہوں گے۔ ان کے سوا اور بہت سی حدیثیں حلیہ وغیرہ سے متعلق وارد ہیں۔ الغرض باوجودیکہ امام مہدی سے متعلق روایتیں بکثرت صحاح وغیرہ میں وارد ہیں اور مرزا قادیانی جانتے ہیں کہ امام مہدی آنحضرت ﷺ کی اولاد میں ہوں گے اور خود مغل ہیں اور ہر شخص جانتا ہے کہ دوسرے نسب میں داخل ہونے کی کیسی وعیدیں ہیں۔ مگر باایں ہمہ صاف کہتے ہیں کہ میں مہدی ہوں۔
اب ان روایات کو بھی دیکھئے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امام مہدی ، عیسیٰ علیہ السلام کی امامت کریں گے ۔ ” عن جابر قال قال رسول الله ﷺ لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنافيقول لا ان بعضكم على البعض امراء تكرمة الله هذه الامة (رواه مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عيسى ابن مريم) “ یعنی فرمایا حضرت ﷺ نے میری امت قیامت تک حق پر جنگ کرتی رہے گی۔ جب عیسیٰ بن مریم اتریں گے ان کا امیر
١٠٣
عیسیٰ علیہ السلام سے کہے گا آئیے نماز پڑھائیے اور انکار کر کے کہیں گے اس امت کے امیر انہی میں سے ہو سکتے ہیں یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے اس امت کو بزرگی دی ہے۔ اگر چہ روایت میں صرف امیر کا لفظ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کی امامت کریں گے۔ مگر دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امام مہدی ہوں گے۔ جیسا کہ (کنز العمال ج١٤ ص٢٦٦، حدیث نمبر٣٨٦٨٣) میں ہے۔ ”قال النبیﷺ منا الذی یصلی عیسیٰ بن مریم خلفہ“ یعنی جس امیر کے پیچھے عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھیں گے وہ ہمارے اہل بیت میں ہوگا۔ مرزا قادیانی اگر مہدی ہیں تو ثابت کریں کہ عیسیٰ علیہ السلام نے ان کے پیچھے نماز کون سی جنگ میں پڑھی تھی۔ مختصر تذکرہ قرطبی میں امام شعرانیؒ نے لکھا ہے ”عن ابی ھریرةؓ قال قال رسول الله ﷺ لو لم یبق من الدنیا الا یوم واحد لطوله الله عزوجل حتی یملك رجل من اهل بیتی جبل الدیلم ولقسطنطنیه واسناد صحیح (کنزالعمال ج١٤ ص٢٦٦، حدیث٣٨٦٧٤، ابن ماجه ص٩٩، باب ذکر ......)“ یعنی اگر بالفرض دنیا کا ایک ہی دن باقی رہ جائے تو خدائے تعالیٰ اسی کو دراز کرے گا۔ جس میں میرے اہل بیت سے ایک شخص جبل دیلم اور قسطنطنیہ کا مالک ہو جائے گا اور روایت سابقہ جو اسی مضمون کی مذکور ہوئی اس میں نام بھی اس شخص کا معلوم ہوا کہ وہ امام مہدی ہوں گے اور دوسری روایت میں مصرح ہے کہ قسطنطنیہ کی فتح کے ساتھ ہی دجال نکلے گا جس کے مقابلے کے لئے امام مہدی جائیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام کی امامت کا اتفاق ہوگا۔ جس کی خبر حضرت نے دی ہے کہ منا الذی یصلی عیسیٰ خلفہ روایت مذکورہ یہ ہے جو مختصر تذکرہ قرطبی میں مذکور ہے۔ (رواہ مسلم ج٢ ص٣٩٢، ٣٩١، کتاب الفتن واشراط الساعۃ) ”عن ابن ھریرةؓ ان رسول الله ﷺ قال لاتقوم الساعة حتی تنزل الروم ...... فیفتحون قسطنطنیه فبیناہم یقتسمون الغنائم اذ صاح فیہم الشیطان ان المسیح قد خلفکم فی أہلیکم فیخرجون وذلك باطل فاذا جاؤا الشام خرج فبیناہم یعدون للقتال یسوون الصفوف اذا اقیمت الصلوۃ فینزل عیسیٰ بن مریم “ یعنی اہل اسلام قسطنطنیہ فتح کر کے تقسیم غنیمت میں مشغول ہوں گے کہ شیطان پکار دے گا کہ دجال نکل آیا اگر چہ وہ بے اصل ہوگا۔ لیکن جب وہ شام کو آئیں گے تب دجال نکلے گا اور وہ صف آرائی میں مشغول ہونگے اور ادھر نماز کی جماعت قائم ہوگی کہ عیسیٰ علیہ السلام اتر آئیں گے۔ مرزا قادیانی انہی احادیث کے لحاظ سے اکثر نماز میں اقتداء کیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ الحکم میں لکھا ١٠٤
ہے اور کچھ نہیں تو تصور تو اس کا ضرور جماتے ہوں گے کہ میں عیسیٰ ہوں اور یہ امام مہدی ہے۔ کیوں نہ ہو مرزا قادیانی کو تصوف میں بھی دعویٰ ہے فنا وبقاء میں خوب گفتگو کیا کرتے ہیں یہ شعر ضرور پیش نظر ہوگا۔
مگر حیرت یہ ہے کہ یہ تصور بھی اب تک جما نہیں اس لئے کہ نماز کے بعد بے چارے امام کو مہدویت سے محروم کر کے خود مہدی بن جاتے ہیں۔
احادیث مذکورہ بالا سے ثابت ہے کہ امام مہدی عیسیٰ علیہ السلام سے چند روز پیشتر مامور ہوں گے۔ مگر درحقیقت دونوں کا زمانہ ایک ہی ہوگا اور یہ حدیث شریف بھی اسی کی خبر دیتی ہے۔ ”عن معاذ ابن جبل قال قال رسول اللہ ﷺ عمران بیت المقدس خراب یثرب وخراب یثرب خروج الملحمة وخروج الملحمة فتح قسطنطنیہ وفتح قسطنطنیه خروج الدجال (رواہ ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٢، اول کتاب الملاحم)“ یعنی بیت المقدس کی آبادی مدینے کی ویرانی ہے اور مدینے کی ویرانی ایک جنگ عظیم کی ابتداء ہوگی اور اس جنگ عظیم کی ابتداء قسطنطنیہ کی فتح اور فتح قسطنطنیہ خروج دجال ہے۔ یعنی ایک دوسرے سے ایسے متصل ہیں کہ گویا سب ایک ہی ہیں اور ابھی معلوم ہوا کہ امام مہدی قسطنطنیہ کو فتح کرتے ہی شام میں آئیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور ابو عمر الدانی نے اپنی سنن میں حذیفہؓ سے روایت کی ہے۔ ”قال رسول اللہ ﷺ يلتفت المهدي وقد نزل عيسىٰ ابن مريم كانما يقطر من شعره الماء فيقول المهدي تقدم وصل بالناس فيقول عيسىٰ عليه السلام انما اقيمت الصلوة لك فيصلى خلف الرجل من ولدي (الحاوى للفتاوى ج ٢ ص ٨١)“ مولوی قاضی عبید اللہ مدراسی نے فتوے میں یہ روایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام مہدیؓ نماز کے لئے کھڑے ہوں گے کہ یکا یک عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور امام مہدیؓ امامت کے لئے ان سے کہیں گے مگر وہ قبول نہ کریں گے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام میری اولاد سے ایک شخص یعنی امام مہدی کے پیچھے اقتداء کرینگے اور اسی میں ہے ’اخرج ابو نعیم عن كعب الاحبار فاذا بعيسىٰ ابن مريم وتقام الصلوة فيرجع امام المسلمين المهدي فيقول عيسىٰ عليه السلام تقدم فلك اقيمت الصلوة فيصلى بهم تلك الليلة ثم يكون عيسىٰ اماماً بعده (الحاوی للفتاوی ج ٢ ص ٨٤)“ اور نیز اس میں ہے
١٠٨
”(اخرج ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ ج٢ ص ٢٧٩، حدیث نمبر ١٩٥، کتاب الفتن ماذکر فی فتنۃ الدجال) قال المہدی من ہذہ الامۃ وہو الذی یؤم عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام“ ماحصل ان سب روایتوں کا یہی ہے کہ امام مہدی عیسیٰ علیہ السلام کی امامت کریں گے۔ جس سے ظاہر ہے کہ دونوں کا زمانہ ایک ہی ہوگا۔ اسی وجہ سے حدیث شریف میں وارد ہے کہ لا مہدی الا عیسیٰ یعنی ہر چند ان دونوں حضرات کے حیرت انگیز وقائع جداگانہ ہیں۔ جن کا ذکر مختلف احادیث میں بیان فرمایا گیا۔ لیکن زمانہ دونوں کا ایک ہی ہے۔ جیسے فتح قسطنطنیہ خروج دجال ہی ہے۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی نے اس حدیث سے یہ کام لیا کہ مہدی کو عیسیٰ بنا دیا اور یہ خیال نہیں کیا کہ جہاں مبالغہ مقصود ہوتا ہے اس قسم کا حال عموماً کیا کرتے ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ جب کسی سے زیادہ محبت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اور آپ ایک ہیں اس سے کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ دونوں شخص مل کر ایک ہو گئے۔ کیونکہ ہر عاقل سمجھتا ہے کہ دو ذاتوں کا ایک ہو جانا محال ہے۔ حضرت نے جب حسب و نسب اور احوال شخصہ ہر ایک کے بارہا بیان فرمائے جس سے تمام صحابہ مطلع اور بخوبی واقف ہو گئے کہ قبل قیامت ان دونوں حضرات کی تشریف فرمائی ضرور ہے کسی موقع میں جہاں اتصال زمانی دونوں کا بیان کرنا مقصود تھا۔ فرما دیا کہ لا مہدی الا عیسیٰ وہ بھی اس خیال سے کہ کوئی غبی ایسا نہیں ہو سکتا کہ دو شخصوں کو ایک سمجھ لے پھر بھلا صحابہ جو حضرت کی بات بات کو وظیفہ اور حرز جان بنا کر ہمیشہ پیش نظر رکھا کرتے تھے۔ کیونکر اس سے یہ سمجھ سکتے کہ حضرت نے ان دونوں بزرگواروں کو ایک بنا دیا۔
مرزا قادیانی کی کج بحثیوں کی کوئی انتہا بھی ہے۔ صد ہا احادیث و آثار امام مہدی کی خصوصیات میں موجود ہیں۔ جن میں چند یہاں لکھے گئے اور صد ہا آیات واحادیث وآثار عیسیٰ کے باب میں وارد ہیں۔ ذرا بھی احتمال نہیں ہو سکتا کہ یہ دونوں نام ایک شخص کے ہیں۔ مگر انہوں نے ایک حدیث کو لے کر سب کو باطل کر دیا۔ اس پر اجتہاد کا بھی دعویٰ ہے۔ اگر اجتہاد اسی کا نام ہے کہ ایک حدیث کو لے کر سب کو باطل کر دیا جائے تو اتنی بات کے لئے مجتہد کی کوئی ضرورت نہیں۔ جس عامی سے کہئے فوراً یہ کام کر دے گا۔ تقریر سابق سے ظاہر ہے کہ حدیث لا مہدی الا عیسیٰ میں صرف مضاف محذوف ہے۔ یعنی لا زمان مہدی الا زمان عیسیٰ جیسے حدیث عمران بیت المقدس خراب یثرب میں بھی لفظ زمان محذوف ہے۔ چونکہ آبادی بیت المقدس اور ویرانی یثرب اور جنگ عظیم اور فتح قسطنطنیہ اور خروج دجال اور ظہور امام مہدی اور نزول عیسیٰ علیہم السلام میں
١٠٦
قرب و اتصال زمانی ہے۔ اس لئے حسب محاورہ سامعین کی فہم پر اعتماد کر کے ان وقائع کو ایک دوسرے پر حمل فرما دیا۔ مگر مرزا قادیانی اس کو جائز نہیں رکھتے۔ اپنے دعوؤں میں تو مجاز واستعارات و حذف وغیرہ سے احادیث میں برابر کام لیں۔ مثلاً خود مجازی عیسیٰ قادیان دمشق یا اقبال قومیں دجال اور امام مہدی کے باب میں جو کثرت سے روایتیں وارد ہیں جن کا تواتر محدثین و محققین کی تصریح سے ثابت ہے۔ ان کی صحت کے لئے مجاز لینے کی اجازت نہ ہو۔ اس سے بڑھ کر احادیث رسول اللہ ﷺ پر کیا ظلم ہو سکتا ہے اس پر دعویٰ ہے کہ میں عدل ہوں۔ (شفاء للناس ص٢٦) میں لکھا ہے کہ علامہ شوکانی بعد نقل احادیث کے اپنی کتاب توضیح میں لکھتے ہیں۔
”وجميع ما سبقناه بالغ حد التواتر كما لا يخفى على من له فضل اطلاع فتقرر بجميع ما سبقناه في هذا الجواب ان الاحاديث الواردة في المهدی المنتظر متواترة “ اب حدیث لا مہدی الا عیسیٰ کا بھی تھوڑا سا حال سن لیجئے۔ جس سے صحیح صحیح روایتیں مرزا قادیانی باطل کر رہے ہیں۔ یہ روایت (ابن ماجہ ص٢٩٢) میں ہے ”كما قال حدثنا يونس بن عبد الاعلى ثنا محمد بن ادريس الشافعى حدثنى محمد بن خالد الجندى عن ابان بن صالح عن الحسن عن انس بن مالك ان رسول الله ﷺ قال لا يزداد الامر الا شدة ولا الدنيا الا ادباراً ولا الناس الا شحا ولا تقوم الساعة الا على شرار الناس ولا مهدى الا عيسى ابن مريم“ امام سیوطیؒ نے مصباح الزجاجہ میں اس روایت سے متعلق ایک نہایت مبسوط تقریر لکھی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث میں جملہ لا مہدی الا عیسیٰ سوائے یونس کے اور کسی نے زیادہ نہیں کیا اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ یونس نے امام شافعیؒ سے اس کو نہیں سنا اس وجہ سے یہ حدیث منقطع ہے اور یہ روایت صرف محمد بن خالد سے مروی ہے اور محدثین نے تصریح کر دی ہے کہ وہ منکر الحدیث اور مجہول ہیں ان کی عدالت ثابت نہیں اور ابان بن صالح کی نسبت کہا گیا ہے کہ انہوں نے حسن سے کوئی حدیث سنی نہیں۔ ابو الحسن علی بن محمد ابن عبداللہ الواسطی کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعیؒ کو خواب میں دیکھا وہ فرماتے ہیں کہ یونس نے جو مہدی کے باب میں مجھ سے روایت بیان کی ہے وہ جھوٹ ہے نہ میں نے وہ روایت کی نہ اس سے بیان کیا۔ الحاصل روایت لا مہدی الا عیسیٰ اکابر محدثین کے نزدیک کئی طرح سے مخدوش ہے۔ مگر مرزا قادیانی کو اس سے کیا غرض ان کو کیسی ہی ضعیف منکر منقطع مجہول مخدوش روایت مل جائے۔ بشرطیکہ مفید مطلب ہو۔ اس پر بڑی دھوم دھام
١٠٧
سے استدلال کرتے ہیں اور جو روایت ان کے حق میں مضر ہوتی ہے اگر بخاری ومسلم میں بھی ہو تو اقسام کے احتمال قائم کر کے ساقط الاعتبار بنا دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٥١٨، ٥١٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٨، ٣٧٩) میں لکھتے ہیں کہ ”یہ خیال بالکل فضول اور مہمل معلوم ہوتا ہے کہ باوجود یکہ ایک ایسی شان کا آدمی ہو جس کو باعتبار باطنی رنگ اور خاصیت اس کی کے مسیح ابن مریم کہنا چاہیے۔ دنیا میں ظہور کرے اور پھر اس کے ساتھ کسی دوسرے مہدی کا آنا بھی ضرور ہو۔ کیا وہ خود مہدی نہیں کیا وہ خدا کی طرف سے ہدایت پا کر نہیں آیا...... ابن ماجہ نے اپنی صحیح میں لکھا ہے ’لا مهدی الا عیسیٰ‘ یعنی بجز عیسیٰ کے اس وقت کوئی مہدی نہ ہوگا۔“
مطلب اس کا یہی ہوا کہ آنحضرتﷺ نے اس خیال سے کہ مسیح کے رنگ والا شخص یعنی قادیانی موجود ہونے کے بعد پھر مہدی کی کیا ضرورت کمال زجر سے فرمایا ”لا مهدی الا عیسیٰ“ یعنی مہدی اس وقت کوئی چیز نہیں وہی قادیانی بس ہے۔ وہی مہدی ہے۔ مگر یہ بات غور طلب ہے کہ صحابہ کا دستور تھا کہ جب کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تو پوچھ کر اس کو صاف کر لیا کرتے تھے۔ اس موقع میں ضرور تھا کہ کمال ادب سے عرض کرتے کہ حضرت مہدی کا ذکر تو نہ قرآن میں ہے نہ توراۃ وانجیل وغیرہ میں نہ ہم نے کسی سے سنا کہ مہدی بھی کوئی آدمی ہوگا۔ پھر یہ جو بطور عتاب ارشاد ہو رہا ہے کہ مہدی کوئی چیز نہیں۔ اس کا سبب معلوم نہ ہوا کس نے عرض کی کہ مہدی بھی کوئی چیز ہے اور اگر انہوں نے حضرت سے امام مہدی کا ذکر اور ان کا حسب ونسب وحلیہ وغیرہ سنا تھا جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے تو عرض کرتے کہ جس مہدی موعود کا بار ہا ذکر فرمایا گیا اب ان کی ضرورت نہ رہی اور جب عیسیٰ ہی مہدی ٹھہرے تو کیا وہ حضرت ہی کی اولاد میں ہوں گے۔ اب تک تو ہم قرآن اور حضرت کے ارشاد سے عیسیٰ ابن مریم کو نبی بنی اسرائیل سمجھتے تھے۔ اب ان کی نسبت کیا اعتقاد رکھنا چاہئے کیا وہ سچ مچ عیسیٰ ابن مریم ہوں گے یا جس طرح مہدی کی نفی فرمادی گئی ان کی بھی نفی مطلوب ہے۔ مگر کسی حدیث میں اس قسم کا سوال مذکور نہیں۔ اب یہ مضمون کس طرح اس حدیث سے نکالا جائے کہ قادیانی کے وقت میں مہدی کوئی چیز نہ ہوں گے اور قادیانی ہی مہدی ہوں گے۔ اہل وجدان سلیم سمجھ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی جو اس حدیث کے معنی بیان فرماتے ہیں کس قدر بد نما ہیں۔
مرزا قادیانی نے جو لکھا ہے کہ بجز عیسیٰ کے اس وقت کوئی مہدی یعنی ہدایت یافتہ نہ ہوگا
اس میں بھی ان کو غلطی ہوئی اس لئے کہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں صرف اسلام ہی اسلام رہ جائے گا۔ جس سے ظاہر ہے کل ہدایت یافتہ ہوں گے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کل مہدی یعنی محمد ابن عبداللہ ہوں۔ کلام اس میں ہے کہ مہدی موعود عیسیٰ علیہ السلام نہیں البتہ معنی لغوی ان پر صادق آئیں گے۔ جس میں ان کی خصوصیت نہیں۔
مرزا قادیانی نے مہدی کو کلی قرار دی ہے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٥١٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٩) میں لکھتے ہیں۔ ”یوں تو ہمیں اس بات کا اقرار ہے کہ پہلے بھی کئی مہدی آئے ہوں اور ممکن ہے کہ آئندہ بھی آویں اور ممکن ہے کہ امام محمد کے نام پر بھی کوئی مہدی ظاہر ہو۔ لیکن جس طرز سے عوام کے خیال میں ہے اس کا ثبوت پایا نہیں جاتا۔“
مقصود یہ کہ مہدی اسلام میں متعدد ہوں گے۔ مگر جس صورت میں حدیث لا مہدی ظاہری معنی پر لی جائے جس کے مرزا قادیانی قائل ہیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ محمد ابن عبداللہ بھی مہدی یعنی ہدایت یافتہ نہیں۔ جن کا حال آنحضرت ﷺ نے بکرات ومرات بیان فرمایا پھر مرزا قادیانی کا اقرار مہدیوں کے تعدد میں کیونکر صحیح ہوگا۔
مرزا قادیانی نے مہدی سے پیچھا چھڑانے میں بڑی دقتیں اٹھائیں۔ مگر اس زمانے میں اس کی کوئی ضرورت نہ تھی کسی کا نام مہدی رکھ دیا جاتا یا اس نام کا کوئی شخص تلاش کر لیا جاتا تو بھی کام چل جاتا۔ آخر قدما نے فرشتے بنا لئے تھے اور اسی پر ان کی کامیابی ہو گئی۔ جیسا کہ تو مرث کے واقعہ سے ظاہر ہے۔
مرزا قادیانی نے حدیث لامہدی الا عیسیٰ کو ابن ماجہ میں تلاش تو کر لی۔ مگر وہیں ایک حدیث اور بھی موجود تھی کاش اس پر بھی ان کی نظر پڑجاتی اور اس کے معنی بھی بیان فرما دیتے جس سے ناظرین کو دو بالا لطف آتا۔ مگر اس کو انہوں نے اگر دیکھا بھی ہے تو نظر انداز کیا۔ اس لئے کہ وہ تو مہدی کے ساتھ اس زمانے کے عیسیٰ کو بھی رخصت کر رہی ہے۔ وہ حدیث یہ ہے ”عن ابی امامۃ الباھلی قال خطبنا رسول اللہ ﷺ فکان اکثر خطبتہ حدیثا حدثناہ عن الدجال...... وامامھم رجل صالح فبینما امامھم قد تقدم یصلی لھم الصبح اذ نزل علیھم عیسیٰ ابن مریم الصبح فرجع ذلک الامام یمشی القھقری لیقدم عیسیٰ یصلی فیضع عیسیٰ یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ تقدم فصل فانما لک اقیمت فیصلی بھم امامھم فاذا انصرف قال عیسیٰ علیہ السلام افتحوا الباب
١٠٩
فيفتح ووراءه الدجال معه سبعون الف يهودى كلهم ذو سيف محلى وساج فاذا نظر اليه دجال ذاب كما يذوب الملح فى الماء وينطلق هاربا ويقول عيسى عليه السلام ان لى فيك ضربة لن تسبقنى بها فدركه عند باب الد الشرقى فيقتله فيهزم الله اليهود فلا يبقى شى مما خلق الله يتوارى به اليهود الا انطق الله ذالك الشى لا حجر ولا شجر ولا حائط ولا دابة الا الغرقد فانها من شجرهم لا ينطق الا قال يا عبدالله المسلم هذا يهودى فتعال اقتله (رواه ابن ماجه ص٢٩٨،٢٩٧، باب فتنة الدجال وخروج عيسى ابن مریم) ”یعنی آنحضرت ﷺ نے ایک روز اکثر دجال ہی کا حال بیان فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ دجال کے مقابل ہوں گے۔ انکا امام ایک مرد صالح ہوگا۔ صبح کی نماز پڑھانے کے لئے وہ آگے بڑھے گا کہ عیسیٰ ابن مریم اتر آئیں گے۔ امام پیچھے ہٹے گا تا کہ عیسیٰ علیہ السلام امامت کریں مگر وہ کہیں گے کہ تم ہی نماز پڑھاؤ۔ چنانچہ وہ نماز پڑھائے گا۔ بعد فراغ عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ دروازہ کھول دو۔ اس وقت دجال ستر ہزار یہود کے ساتھ وہاں موجود ہوگا۔ جب وہ عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو کمال اضمحلال کی حالت میں بھاگے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے تو مجھ سے بھاگ نہیں سکتا۔ ایک وار میرا تجھ میں ضرور ہوگا۔ چنانچہ اس کا پیچھا کر کے لد کے شرقی دروازہ کے پاس اس کو قتل کریں گے اور خدائے تعالیٰ یہودیوں کو ہزیمت دے گا اور کیفیت یہ ہوگی کہ جس چیز کے پیچھے کوئی یہودی چھپے گا خواہ وہ پتھر ہو یا جھاڑ یا دیوار یا جانور وہ چیز بآواز بلند کہے گی کہ اے خدا کے بندے مسلمان یہاں یہودی چھپا ہے۔ آکر اس کو قتل کر ڈال۔ صرف غرقد کا جھاڑ خبر نہ دے گا کیونکہ وہ انہیں کا ہے۔
اب مرزا قادیانی ہی بتائیں کہ وہ کون لوگ تھے جو دجال کے مقابل ہو گئے تھے اور ان کا کون امام تھا۔ جس کی توصیف آنحضرت ﷺ نے کی ہے اور کون سی صبح کی نماز کے لئے وہ کھڑا تھا۔ جو مرزا قادیانی اتر آئے اور اس کے پیچھے نماز پڑھی اور کون سی مسجد کا دروازہ کھولنے کو کہا۔ جس کے پاس دجال ستر ہزار مسلح یہود کو لے کر کھڑا تھا اور کس کے پیچھے دوڑ کر مرزا قادیانی نے لد کے دروازہ پر قتل کر ڈالا اور کون سے یہودیوں کو ہزیمت ہوئی اور سب مارے گئے اور کس روز مرزا قادیانی اور ان کے ہمراہی سے حجر و شجر نے باتیں کیں۔
یوں تو مرزا قادیانی مسلمانوں کو یہود قرار دے ہی چکے ہیں کہہ دیں گے کہ میں نے ان
١١٠
کو ہزیمت دی مگر وہ خلاف واقع ہے۔ اس لئے کہ کئی وقائع سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ مرزا قادیانی ہی کو ہزیمت ہوئی اور بجائے اس کے کہ اپنے دجال کو قتل کریں اگر دل سے نہیں تو زبان سے اس کے مدح خوان اور شکر گزار اور دعا گو ہیں۔ کیونکہ دجال انہوں نے بااقبال قوموں کو قرار دیا ہے جن میں اعلیٰ درجے کی گورنمنٹ برطانیہ ہے۔
اور (ازالۃ الاوہام ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣) میں گورنمنٹ کی کمال درجہ کی شکر گزاری اور دعا گوئی میں اپنی مصروفی اور مشغولی ظاہر کرتے ہیں۔
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٥٧٢، خزائن ج ٣ ص ٤٠٨، ٤٠٩) میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”احادیث نبویہ کا لب لباب اور خلاصہ یہ ہے جو آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جب تم آخری زمانہ میں یہودیوں کی طرح چال چلن خراب کرو گے۔ تو تمہارے درست کرنے کے لئے عیسیٰ بن مریم آئے گا۔ یعنی جب تم اپنی شرارتوں کی وجہ سے یہودی بن جاؤ گے تو میں بھی عیسیٰ ابن مریم کسی کو بنا کر تمہاری طرف بھیجوں گا اور جب تم اشد سرکشیوں کی وجہ سے سیاست کے لائق ٹھہر جاؤ گے تو محمد ابن عبداللہ ظہور کرے گا جو مہدی ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں وعدے کہ محمد ابن عبداللہ آئے گا یا عیسیٰ ابن مریم آئے گا۔ دراصل اپنی مراد ومطلب میں ہم شکل ہیں۔ محمد ابن عبداللہ کے آنے سے مقصود یہ ہے کہ جب دنیا ایسی حالت میں ہو جائے گی جو اپنی درستی کے لئے سیاست کی محتاج ہوگی تو اس وقت کوئی شخص مثیل محمد ﷺ ہو کر ظاہر ہوگا اور یہ ضرور نہیں کہ درحقیقت اس کا نام محمد ابن عبداللہ ہو۔ بلکہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک اس کا نام محمد ابن عبداللہ ہوگا۔ کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کا مثیل بن کر آئے گا۔“
مرزا قادیانی نے دیکھا کہ اہل اسلام احادیث کو دیکھ کر اس بات پر اڑیں گے کہ امام مہدی جن کا نام محمد ابن عبداللہ ہوگا اور ان کی وہ علامتیں ہوں گی جو احادیث میں مصرح ہیں۔ ان کا وجود ضروری ہے اس لئے انہوں نے تقریر سابق میں یہ طریقہ اختیار کیا کہ ممکن ہے کہ کئی مہدی آئے ہوں اور امام محمد بھی آجائیں نہ ان کے وجود سے غرض ہے نہ عدم سے مطلب۔ ہمیں اپنی عیسویت سے کام ہے۔ اس میں صرف ابلہ فریبی مقصود تھی ورنہ ان کا مقصود اصلی تو یہ ہے کہ وہ صرف عیسیٰ ہی نہیں بلکہ مہدی بھی ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ جہلاء تو سب کچھ مان لیں گے مگر علماء سے پیچھا چھڑانا مشکل ہے اس لئے یہ راہ گریز بنا رکھی کہ ہم نے تو مہدی کے آنے کا بھی اقرار کر لیا ہے۔ پھر اپنی عیسویت کا ثبوت یہ دیتے ہیں کہ جو لوگ یہودی بن گئے تھے ان کی اصلاح کے
١١١
لئے آئے ہیں اور مہدویت کا یہ ثبوت کہ لوگ سیاست کے قابل ہو گئے تھے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ کے مثیل بنکر آئے ہیں اور مہدی ہیں۔ ہرچند اس مقام میں اس کا ذکر نہیں کیا۔ مگر یہ تو کہہ دیا کہ اس وقت کوئی شخص مثیل محمد ﷺ کا ہو کر ظاہر ہوگا جو مہدی ہے اور یہ ضرور نہیں کہ اس کا نام بھی محمد ابن عبداللہ ہو اور براہین احمدیہ اور ازالۃ الاوہام میں بکثرت دفعات لکھ چکے ہیں کہ مثیل آنحضرت ﷺ کا ہوں۔ بلکہ دعویٰ یہ ہے کہ بروزی طور پر حضرت ہی تشریف فرما ہوئے ہیں۔ جیسا کہ سابقاً معلوم ہوا اور اس قول سے بھی ظاہر ہے کہ جو ابھی نقل کیا گیا کہ ایسا شخص جس کو مسیح کہنا چاہئے کیا وہ مہدی نہیں۔ لیجئے خود ہی عیسیٰ بھی ہو گئے اور خود ہی مہدی بھی ہیں اور جتنی حدیثیں امام مہدی کے حسب ونسب وغیرہ خصوصیات کی تھیں سب بے کار ہوگئیں اور مرزا قادیانی کا قول سب کا ناسخ ان کی امت نے تسلیم کر لیا۔
اب غور کیا جائے کہ مرزا قادیانی جن یہودیوں کی اصلاح کے لئے آئے تھے ان کی اصلاح کی یا ان کو یہودی بنا دیا۔ یہود جو گمراہ سمجھے گئے تھے آخر اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے نبی کے ارشادوں کو چھوڑ کر اوروں کی باتوں کو مان لیا تھا۔ جو اپنے دل سے تراش کر ان کو فتویٰ دیا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کا گروہ بھی یہی کر رہا ہے کہ مرزا قادیانی کے قول کے مقابلہ میں کسی حدیث کو نہیں مانتے اور جن کو اپنا نبی تسلیم کرتے ہیں ان کی باتوں کو قابل تسلیم نہیں سمجھتے۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی سرکشی اور شرارت ہو سکتی ہے۔ مرزا قادیانی نے نہایت سچ اور بالکل حسب حال فرمایا کہ بہت سے لوگ یہودی بن گئے اور ان کی سیاست کی ضرورت ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”وان يروا سبيل الرشد لا يتخذوه سبيلا وان يروا سبيل الغي يتخذوه سبيلا (اعراف:١٤٦)“ یعنی ان گمراہوں کی یہ حالت ہے کہ ہدایت کی راہ دیکھتے ہیں تو اس کو راستہ نہیں بناتے اور گمراہی کی راہ دیکھتے ہیں تو اس کو راستہ بنا لیتے ہیں۔
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص٢٠١، خزائن ج٣ ص ١٩٨، ١٩٩) میں حدیث ”كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم“ کے ترجمے میں لکھتے ہیں ”کیا حال ہوگا جس دن ابن مریم تم میں نازل ہوگا اور تم جانتے ہو کہ ابن مریم کون ہے وہ تمہارا ہی ایک امام ہوگا اور تم میں سے اے امتی لوگو پیدا ہوگا۔ یہاں تک کہ بخاری کی حدیث کا ترجمہ ہو چکا اور آپ لوگوں نے سمجھ لیا ہوگا کہ امام بخاری صاحب امامکم منکم کے لفظ سے کس طرف اشارہ کر گئے العاقل تکفیہ الاشارہ سبحان اللہ امام بخاری کے فرضی اشارہ پر تو اس قدر توجہ اور خود نبی ﷺ نے صراحۃً جو فرمایا ہے کہ ”
١١٢
عیسیٰ علیہ السلام کی امامت جو شخص کریں گے وہ ہمارے ائمہ نہیں۔ اگر یہ حدیثیں ضعیف بھی ہوتیں تو جب بھی ان کے ا موضوع ہونا ثابت نہیں۔ چہ جائیکہ وہ احادیث مسلم اور ا مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ امامکم منکم کا جملہ علیحدہ ہے اور اس میں لکھتے ہیں کہ واو وامامکم میں حرف تفسیر ہے۔ جیسا کہ قَا غرض کہ دوتوجیہیں کیں ایک یہ کہ وامامکم جملہ مستانفہ ہے د جو نزل کے فاعل کی تفسیر واقع ہوا ہے۔ مگر امام بخاری نے بھی اشارہ نہیں کیا۔ مرزا قادیانی کو ضرور تھا کہ کس لفظ طرف اشارہ کیا ہے۔ بیان کرتے مگر چونکہ امام بخاری پر یہ کوئی تعجب کی بات نہیں خدا اور رسول پر ان کا افتراء م محدثین کے نزدیک مسلم ہے کہ الحدیث یفسر الحدیث یعنی حدیثیں جو اس باب میں وارد ہیں دیکھی جائیں اور حدیثوں سے مستفاد ہوں جب ہم صحیح مسلم وغیرہ کی حد عیسیٰ علیہ السلام جب اتریں گے تو مسلمانوں کا امام ان نہ کریں گے۔ جس سے ظاہر ہے کہ وہ امام اور عیسیٰ علیہ کے لحاظ سے ہمیں ضرور ہوا کہ اس حدیث بخاری کے ہیں۔ اس لئے وامامكم منکم میں واؤ حالیہ لیا گیا ہ نظیریں قرآن وحدیث میں موجود ہیں جن کو ہر طالبِ مرزا قادیانی نے اس واؤ کے جو معنی لئے مرزا قادیانی خود غرضی سے یہ معنی تراش رہے ہیں اور لئے جائیں تو دوسری احادیث میں عیسیٰ علیہ السلام حدیثیں جھوٹی ثابت ہوں گی اور کتب صحاح ساقط ال
بدوزد طمع
اب دیکھئے کہ اس حدیث کے معنی جو ر ایک شخص ہوگا ظاہر ہے کہ غلط ہیں۔ اس لئے کہ ہر
عیسیٰ علیہ السلام کی امامت جو شخص کریں گے وہ ہمارے اہل بیت سے ہوں گے۔ اس کا ذکر تک نہیں ۔ اگر یہ حدیثیں ضعیف بھی ہوتیں تو جب بھی ان کے ابطال کا کوئی حق نہ تھا۔ اس لئے کہ ان کا موضوع ہونا ثابت نہیں ۔ چہ جائیکہ وہ احادیث مسلم اور ابن ماجہ وغیرہ میں موجود ہیں۔ مقصود مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ امامکم منکم کا جملہ علیحدہ ہے اور اس میں لفظ ہو محذوف ہے اور ایک مقام میں لکھتے ہیں کہ واو وامامکم میں حرف تفسیر ہے۔ جیسا کہ تلک آیات الکتاب وقرآن مبین ۔ غرض کہ دو توجیہیں کیں ایک یہ کہ وامامکم جملہ مستانفہ ہے بحذف مبتدا اور دوسری یہ کہ جزو جملہ ہے جو نزل کے فاعل کی تفسیر واقع ہوا ہے ۔ مگر امام بخاری نے ان دونوں توجیہوں سے ایک کی طرف بھی اشارہ نہیں کیا ۔ مرزا قادیانی کو ضرور تھا کہ کس لفظ سے امام بخاری نے واو کے اس معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ بیان کرتے مگر چونکہ امام بخاری پر یہ افتراء ہے اس لئے بیان نہ کر سکے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں خدا اور رسول پر ان کا افتراء کرنا ثابت ہے ۔ پھر بخاری کیا چیز ہیں ۔ محدثین کے نزدیک مسلم ہے کہ الحدیث یفسر الحدیث یعنی کسی حدیث کے معنی میں تردد ہو تو دوسری حدیثیں جو اس باب میں وارد ہیں دیکھی جائیں اور اس کے وہی معنی لئے جائیں جو دوسری حدیثوں سے مستفاد ہوں جب ہم صحیح مسلم وغیرہ کی حدیثوں کو دیکھتے ہیں کہ ان میں مصرح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب اتریں گے تو مسلمانوں کا امام ان سے درخواست امامت کرے گا اور وہ قبول نہ کریں گے ۔ جس سے ظاہر ہے کہ وہ امام اور عیسیٰ علیہم السلام دو شخص ہوں گے۔ تو ان احادیث کے لحاظ سے ہمیں ضرور ہوا کہ اس حدیث بخاری کے وہی معنی لیں جو ان صحیح حدیثوں سے مستفاد ہیں۔ اس لئے وامامکم منکم میں واؤ حالیہ لیا گیا ۔ جس پر تمام علماء کا اجماع ہے اور اس کی صدہا نظیریں قرآن وحدیث میں موجود ہیں جن کو ہر طالب علم جانتا ہے ۔“
مرزا قادیانی نے اس واؤ کے جو معنی لئے ہیں اب تک کسی عالم نے نہیں لکھا۔ صرف مرزا قادیانی خود غرضی سے یہ معنی تراش رہے ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ اگر تکلف کر کے یہ معنی لئے جائیں تو دوسری احادیث میں عیسیٰ علیہ السلام اور امام میں مغائرت بالتصریح ثابت ہے وہ حدیثیں جھوٹی ثابت ہوں گی اور کتب صحاح ساقط الاعتبار ہو جائیں گی۔
اب دیکھئے کہ اس حدیث کے معنی جو وہ بتلاتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم تمہیں میں سے ایک شخص ہوگا ظاہر ہے کہ غلط ہیں۔ اس لئے کہ ہر مسلمان جانتا ہے اور صحابہ ہمیشہ قرآن وحدیث
١١٣
میں سنتے تھے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے تھے۔ اگر ذرا بھی احتمال اس معنی کا ہوتا تو صحابہ پوچھ لیتے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو نبی بنی اسرائیل ہیں۔ ان کی نسبت منکم کا ارشاد کیسا ہم اطمینان دلاتے ہیں کہ مرزا قادیانی کسی ضعیف بلکہ موضوع روایت سے بھی ثابت نہیں کر سکتے کہ عیسیٰ ابن مریم جو حضرت نے فرمایا اس سے مراد وہ شخص ہے جو اس امت سے ہوگا۔
یہاں یہ شبہ ہوتا ہے کہ (مسلم شریف ج٢ ص ٣٩٢، کتاب الفتن واشراط الساعۃ) میں روایت ہے ”فاذا جاؤا الشام خرج فبینما یعدون القتال یسوون الصفوف اذا اقیمت الصلوٰۃ فینزل عیسیٰ ابن مریم ﷺ فامہم فاذا رآہ عدو اللہ ذاب کما یذوب الملح فی الماء“ اس سے ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب اتریں گے تو امامت کریں گے۔ مگر جب دوسری متعدد حدیثوں سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام امامت نہ کریں گے۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا تو ہمیں یقین ہوتا ہے کہ اس حدیث کا وہ مطلب نہ ہوگا جو ظاہراً سمجھا جاتا ہے۔ البتہ لفظ امہم سے وہ شبہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ فقط نماز ہی کی امامت کے واسطے موضوع نہیں بلکہ پیش روی کے معنی میں بھی مستعمل ہے تو وہ شبہ رفع ہو جاتا ہے۔ (لسان العرب ج ١ ص ٢١٤، ٢١٥) میں لکھا ہے ”والامام بمعنى القدام وفلان یؤم القوم یقدمہم وقال ابوبکر معنى قولہم یؤم القوم ای یتقدمہم اخذ من الامام یقال فلان امام القوم معناہ ھو المتقدم لہم ویکون الامام رئیسا کقولك امام المسلمین“ اور (منتہی الارب ج ١ ص ٣٥) میں لکھا ہے ”وامہم امامۃ وام بہم امام و پیش رو شدن ایشان شد“ اس صورت میں مطلب حدیث کا یہ ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور دجال کے مقابلے کے واسطے پیش رو ہوں گے اور اس پر قرینہ بھی یہ ہے کہ فامہم کے ساتھ فاذا رآہ عدو اللہ ذاب متصل ہے یعنی جب مسلمانوں کے ساتھ مقدمۃ الجیش میں سب سے آگے عیسیٰ علیہ السلام کو دجال اپنے مقابلہ میں دیکھے گا تو گل جائے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان کو پیش رو لشکر دیکھے گا ورنہ مسجد میں دیکھنے کا اس کو کوئی موقع نہیں۔ کیونکہ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ مسجد کا دروازہ نماز کے وقت بند ہوگا۔ یہاں مرزا قادیانی یہ اعتراض ضرور کریں گے کہ فینزل عیسیٰ علیہ السلام فامہم سے ظاہر امامت نماز معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں یہ بھی ایک احتمال ہے اور جو مذکور ہوا وہ بھی احتمال ہے۔ جس پر قرینہ بھی موجود اور لفظ بھی مساعد ہے اور دوسری احادیث بھی اسی کو مؤید ہیں۔ بہت ہوگا تو تعارض کی وجہ سے دونوں احتمال ساقط ہوں گے۔ مگر اس سے ہمارے مقصود میں کوئی نقصان نہیں آتا۔ کیونکہ دوسری حدیثیں صحیح صریح
١١٤
بجائے خود بحال ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام امیر المومنین کی اقتداء کریں گے۔ اس توجیہہ پر اتنی بات باقی رہ جائے گی کہ اس حدیث سے یہ معلوم نہ ہوگا کہ اس وقت امامت کون کریں گے۔ مگر یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ اہل علم پر پوشیدہ نہیں کہ قرآن شریف میں کس قدر محذوفات ہیں۔ مثلاً ”واذ الارض مدت والقت مافیها وتخلت واذنت لربها وحقت یا ایها الانسان (انشقاق:٣ تا ٦)“ میں جزا محذوف ہے۔ جس کی نظیریں بکثرت موجود ہیں۔ اسی طرح قصص میں کہیں پورا قصہ ذکر کیا گیا اور کہیں اختصار کیا گیا۔ جس کی نظیریں بکثرت موجود ہیں۔ اسی طرح ”یا ایها الناس ان کنتم فی ریب من البعث فانا خلقناکم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم من مضغة مخلقة وغير مخلقة لنبين لكم ونقر فی الارحام مانشاء الی اجل مسمیٰ ثم نخرجکم طفلا (الحج: ٥)“ اور دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ”هو الذی خلقکم من تراب ثم من نطفة ثم من علقه ثم يخرجکم طفلا (مؤمن: ٦٧)“ دیکھئے آیہ سابقہ میں ارشاد ہے کہ نطفہ سے علقہ اور علقہ سے مضغہ اور مضغہ سے طفل بنایا جاتا ہے اور دوسری آیت میں ہے کہ علقہ سے طفل بنایا جاتا ہے۔ یعنی اس آیت میں مضغہ مخلقہ وغیرہ مخلقہ ترک کر دیا گیا۔ اسی طور پر احادیث میں بھی کہیں پورا واقعہ مذکور ہوتا ہے۔ اور کہیں بالاختصار اور عقل و تجربہ بھی اس پر گواہ ہے کہ جب آدمی متعدد مجلسوں میں کسی واقعہ کو ذکر کرتا ہے تو اس کا التزام نہیں کرتا کہ من اولہ الیٰ آخرہ پورا واقعہ بیان کر دے۔ بلکہ بحسب ضرورت مقام اور اقتضائے حال کمی و زیادتی ہو جاتی ہے۔ اسی طور پر اس حدیث شریف میں نماز کی امامت کا ذکر ترک کر دیا جو بار ہا مختلف حدیثوں میں بیان فرما دیا ہے۔ اس موقع میں مقصود اسی قدر تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام اس لشکر کے آگے رہیں گے۔ جن کو دیکھ کر دجال مضمحل ہوگا۔ مرزا قادیانی اس حدیث کو اپنے پر چسپاں کرنا چاہتے ہیں معلوم نہیں وہ کیونکر ہو سکے گا۔ آنحضرت ﷺ تو فرماتے ہیں اے مسلمانو اس روز تمہاری کیا حالت ہوگی جب عیسیٰ ابن مریم آسمان سے اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔ اس قسم کی بات ایسے موقع میں کہی جائے تو زیبا ہے کہ کوئی بڑی بات کا وقوع ہو۔ مثلاً عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم نبی جن کی جگہ جگہ قرآن شریف میں تعریف وتوصیف ہے۔ آسمان سے اتریں اور ہمارے نبیﷺ کے امتی کہلائیں اور خود امامت بھی نہ کریں بلکہ ایک امتی کی اقتداء کریں۔ البتہ یہ کمال افتخار اور خوشی کی بات ہوگی اور یہ اس وجہ سے کہ آدمی کا مقتضائے طبع ہے کہ جب کوئی جلیل القدر شخص اپنے کسی بزرگ مثلاً باپ یا مرشد کا تابع ہو کر اپنے حلقہ میں شریک ہوتا ہے تو ایسی خوشی ہوتی ہے کہ جس کا ١١٥
بیان نہیں ہوسکتا اسی بناء پر حضرت فرماتے ہیں کہ اس روز کیا حالت ہوگی جب تمہارے ساتھ بایں جلالت شان عیسیٰ علیہ السلام شریک حال ہوں گے فی الواقع جن کو نبی کریم ﷺ سے کمال درجے کی محبت ہے ان کی اس وقت عجیب حالت ہوگی اسی وجہ سے ارشاد ہے ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم (مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسی بن مریم)“
اگر اس حدیث کا یہ مطلب سمجھا جائے کہ اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی۔ جب ایک پنجابی تم میں اترے گا اور تمہاری امامت کرے گا۔ اس میں تو کوئی خوشی کی بات معلوم نہیں ہوتی۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بات اس قابل ہے کہ عرب اس کو بہت برا سمجھیں مگر اس لحاظ سے کہ وہ ایک مہمان ہوگا جو (اذا نزل) سے سمجھا گیا ہے۔ چنداں ملال کے قابل بھی نہیں۔ بہر حال ایک پنجابی شخص کا کسی نماز میں امامت کرانا نہ کوئی خوشی کی بات ہے نہ غمی کی۔ پھر کیف انتم سے اس واقعہ کی عظمت بیان کرنا کس قدر شان بلاغت و فصاحت سے دور ہے۔ در باطن یہ آنحضرت ﷺ پر ایک حملہ ہے کہ ایسے خفیف خفیف امور کو حضرت عظیم الشان سمجھتے تھے اور اگر یہ خیال کیا جائے کہ اس شخص میں عیسیٰ علیہ السلام کے کمالات ہوں گے۔ جب بھی بقول مرزا قادیانی وہ کمال ہی کیا دار ومدار ان کے معجزوں کا مسمریزم تھا۔ جس کو خود مرزا قادیانی قابل نفرت سمجھتے ہیں۔ ایسے قابل نفرت شخص کی امامت کوئی وقعت کی بات نہیں ہو سکتی۔ اب رہا یہ کہ احیاء اموات وغیرہ سے ہدایت مراد لی جائے تو وہ بھی کوئی نئی بات نہیں۔ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل فرما کر حضرت نے ہر ایک عالم متدین کو انبیائے بنی اسرائیل کا مثیل قرار دیا۔ جن میں موسیٰ اور عیسیٰ وغیرہ انبیاء علیہم السلام داخل ہیں۔
- ٤٢...... امام مہدی جو عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہوں گے وہ خاندان اہل
بیت کرام سے ہوں گے جن کا حلیہ بھی بتلادیا گیا جیسا کہ ابھی معلوم ہوا۔
- ٤٣...... اٹھارہ سال کی عمر میں امام مہدیؑ دمشق میں جا کر خطبہ پڑھیں گے جیسا کہ
معلوم ہوا۔
- ٤٤...... امام مہدیؑ قسطنطنیہ فتح کریں گے اور ساتھ ہی دجال نکلے گا کما مر ۔
- ٤٥...... امیر المؤمنین عیسیٰ علیہ السلام کو امامت کے لئے کہیں گے مگر وہ اس پر راضی
نہ ہوں گے۔
- ٤٦...... عیسیٰ علیہ السلام نماز کے بعد مسجد کا دروازہ کھلوادیں گے اور اس وقت
دجال وہاں موجود ہوگا کما مر ۔
١١٦
- ٤٧...... دجال کے ساتھ ستر ہزار یہود ہوں گے اور سب بھاگیں گے کما مرّ۔
- ٤٨...... پتھر جھاڑ وغیرہ یہودیوں کی نشاندہی کریں گے تا کہ اہل اسلام ان کو قتل کر
ڈالیں کما مرّ۔
- ٤٩...... امام مہدی کی تائید کے لئے حارث کا خراسان کی طرف سے نکلنا جیسا کہ
اس حدیث شریف سے ظاہر ہے ”قال النبی ﷺ يخرج رجل من وراء النهر يقال له الحارث بن حراث على مقدمة رجل يقال له منصور يوطن او يمكن لآل محمد ﷺ كما مكنت قريش لرسول الله ﷺ وجب على كل مؤمن نصره او قال اجابة (رواہ ابوداؤد ج٢ ص١٣١، کتاب المہدی) “ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے ماوراء النہر سے ایک شخص نکلے گا۔ جس کا نام حارث ہوگا۔ جس کے مقدمۃ الجیش پر ایک شخص منصور نام ہوگا۔ آل محمد ﷺ کو وہ ایسی مدد دے گا جیسے قریش نے نبی ﷺ کو مدد دی تھی۔ ہر مسلمان پر اس کی مدد واجب ہے اور ایک روایت ہے ”قال رسول الله ﷺ اذا رايتم الرايات السود جأت من قبل خراسان فاتوها فان فيها خليفة الله المهدى (رواہ احمد ج٥ ص٢٧٧، والبیهقی فی دلائل النبوۃ ج٦ ص٥١٦، باب ماجاء فی الاخبار عن ملك بنی العباس بن عبدالمطلب) “ (از شرح رسالہ قیامت مولانا شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی مؤلفہ مولانا کرامت علی صاحب محدث دہلوی) یعنی فرمایا نبی ﷺ نے کہ جب تم دیکھو کہ سیاہ نشان خراسان کی طرف سے آ رہے ہیں تو ان لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ اس لئے کہ ان میں مہدی خلیفۃ اللہ ہوں گے۔
ان روایات سے ثابت ہے کہ حارث امام مہدی کی مدد کے لئے خراسان کی طرف فوج لے کر نکلے گا اور امام مہدی بھی اس کے ساتھ ہوں گے۔ ان روایتوں میں کئی امور مذکور ہیں۔
- ١...... حارث کا خروج۔
- ٢...... اس کا مقام خروج ماوراء النہر ہوگا۔
- ٣...... اس کی فوج کے مقدمۃ الجیش پر ایک شخص ہوگا جس کا نام منصور ہوگا۔
- ٤...... غرض اس کی آل محمد ﷺ کی تائید ہوگی۔
- ٥...... امام مہدی بھی اس فوج میں موجود ہوں گے۔
- ٦...... ہر شخص پر واجب ہوگا کہ ان کی مدد کرے۔
امر اوّل کی نسبت مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ وہ حارث میں ہوں۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام
١١٧
ص ١٣٢، خزائن ج ٣ ص ١٦٦ حاشیہ) میں لکھتے ہیں ۔ ”انگریزی سلطنت میں تین گاؤں تعلق داری اور ملکیت قادیان کا حصہ جدی والد مرحوم کو ملے جو اب تک ہیں اور حراث کے لفظ کے مصداق کے لئے کافی ہیں ۔“
مرزا قادیانی اپنی زمینداری سے یہاں یہ کام لینا چاہتے ہیں کہ اس حدیث کے مصداق بنیں اور اس کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ اس حدیث میں لفظ حارث مذکور ہے اور حارث زمیندار کو کہتے ہیں اور میں زمیندار ہوں ۔
حارث کے معنے جو زمیندار کے بتلا رہے ہیں اس سے مسلمانوں کو دھوکا دینا انہیں مقصود ہے ۔ کیونکہ کتب لغت میں مصرح ہے کہ حارث کسان کو کہتے ہیں اور اگر بالفرض وہ کسان بھی قرار دیئے جائیں جب بھی اس حدیث کے مصداق نہیں ہو سکتے ۔ اس لئے کہ حضرت ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ یخرج رجل حارث بلکہ یہ فرمایا رجل یقال لہ الحارث ۔ جس سے ظاہر ہے کہ اس شخص کا نام حارث ہوگا ۔ کیونکہ یقال لہ اعلام کے مقام میں کہا جاتا ہے جیسا کہ حدیث اس پر شہادت دے رہی ہے۔ ” قال النبی ﷺ لا تذهب الليل والنهار حتى يملك رجل من الموالی یقال له الجهجاه (رواہ الترمذی ج ٢ ص ٤٦،٤٧، باب ماجاء ان الخلفاء من قريش الى ان تقوم الساعة، مسلم ج٢ ص ٣٩٥، كتاب الفتن) “
(غیاث اللغات ص ١٦٧) میں لکھا ہے حارث اسد وشیر درندہ و بمعنی زراعت کنندہ ومزارع ونام ابن ہشام کہ از صنادید عرب بود ۔ ظاہر ہے کہ یہ تینوں معنی مرزا قادیانی پر صادق نہیں۔ اگر حارث زمیندار کو کہنا صحیح ہو تو بادشاہ پر بطریق اولیٰ یہ لفظ صادق آئے گا۔ حالانکہ کسی کتاب میں وہ اس کی تصریح نہیں بتا سکتے ۔ بہر حال لفظ حارث کے مصداق وہ کسی طرح بن نہیں سکتے ۔
مرزا قادیانی نے اس حدیث میں ایک اور تصرف کیا ہے (یقال لہ الحارث حراث علی مقدمة رجل) کا مطلب یہ بتایا کہ ایک شخص حارث نام یعنی حراث ماوراء النہر سے نکلے گا جیسا کہ (ازالة الاوہام ص ٧٩، خزائن ج ٣ ص ١٤١ حاشیہ) میں فرماتے ہیں کہ ”اب میں وہ حدیث جو ابو داؤد نے اپنی صحیح میں لکھی ہے ۔ ناظرین کے سامنے پیش کر کے اس کے مصداق کی طرف ان کو توجہ دلاتا ہوں سو واضح ہو کہ یہ پیش گوئی جو ابوداؤد کی صحیح میں درج ہے کہ ایک شخص حارث نام یعنی حراث ماوراء النہر سے یعنی سمرقند کی طرف سے نکلے گا جو آل رسول کو تقویت دے گا ۔ جس کی امداد ونصرت ہر ایک مؤمن پر واجب ہو گی ۔ الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیش گوئی اور مسیح کے آنے کی
١١٨
پیش گوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہوگا۔ دراصل یہ دونوں پیش گوئیاں متحد المضمون ہیں اور دونوں کا مصداق یہی عاجز ہے۔“
اب دیکھئے کہ ان کا یہ قول کہ ایک شخص حارث نام یعنی حراث ماوراء النہر سے نکلے گا کسی طرح صحیح ہوگا۔ اگر تفسیر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو حارث مفرد ہے اور حراث جمع ہے۔ مفرد کی تفسیر جمع کے ساتھ صحیح نہیں اور اگر جمع کا لحاظ کیا جائے تو من تبعیضیہ کی ضرورت ہے۔ مگر مضاف الیہ حراث کا جو ماوراء النہر کو بتا رہے ہیں وہ خود مضاف سے بھی کئی درجہ اوپر ہے۔ مضاف الیہ کے تحت میں کیونکر آ سکے۔ البتہ اس لحاظ سے کہ مرزا قادیانی کے کئی درجہ اوپر کے جد بزرگوار ماوراء النہر سے نکلے اور حارث مرزا قادیانی بن رہے ہیں تو یہ توجیہہ بن سکتی ہے۔ مگر کلام یہاں عبارت حدیث میں ہے کہ آیا نحوی ترکیب بھی اس کو اجازت دیتی ہے یا نہیں۔ سو ادنیٰ درجہ کا طالب علم بھی سمجھتا ہے کہ وہ درست نہیں۔ کیونکہ "يخرج رجل من وراء النهر يقال له الحارث حراث على مقدمة رجل “ کے معنی "يخرج رجل يقال له الحارث ای من حراث ماوراء النهر“ سمجھنا کسی نحوی کا کام نہیں۔ مرزا قادیانی کی امت تو خوش ہوتی ہوگی کہ مرزا قادیانی نے حدیثوں کے ساتھ نحو کو بھی باطل کر دیا۔ مگر اہل علم کو اس کا صدمہ ہوتا ہے کہ اس دور میں علوم کی تباہی ہو رہی ہے۔
اس کی ضرورت ان کو اس وجہ سے ہوئی کہ حدیث شریف میں حارث کی مدد کرنے کا حکم ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ کسی طرح حارث بن جائیں تو ہر طرف سے مال آنے لگ جائے گا۔ جو لوگ علم سے ناواقف تھے ان کو ترکیب نحوی سے کیا غرض انہوں نے مرزا قادیانی کے اعتبار پر ایک حارث ہی کیا۔ مہدی مسیح موعود نبی رسول اور خدا کی اولاد کے برابر بھی مان لیا اور مرزا قادیانی نے فوراً چندوں کی فہرست پیش کر دی۔ چنانچہ اسی تقریر کے ضمن (ازالہ اوہام ص١٠٠، ١٠١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٥٠، ١٥١) میں لکھتے ہیں۔ ”یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک عظیم الشان سلسلہ اس حارث کے سپرد کیا جائے گا جس میں قوم کی امداد کی ضرورت ہوگی۔ جیسا کہ ہم فتح اسلام میں اس سلسلہ کی پانچوں شاخوں کا مفصل ذکر کر آئے ہیں اور نیز اس جگہ بھی یہی اشارہ سمجھایا گیا ہے کہ وہ حارث بادشاہوں یا امیروں میں سے نہیں ہوگا۔ تا ایسے مصارف کا اپنی ذات سے متحمل ہو سکے اور اس تاکید شدید کرنے سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اس حارث کے ظہور کے وقت جو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا لوگ امتحان میں پڑ جائیں گے اور بہتیرے ان میں سے مخالفت پر کھڑے ہوں گے اور مدد دینے سے رکیں گے بلکہ کوشش
١١٩
کریں گے کہ اس کی جماعت متفرق ہو جائے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ پہلے سے تاکید کرتے ہیں کہ اے مومنو تم پر اس حارث کی مدد واجب ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی کے بہکانے سے اس سعادت سے محروم رہ جاؤ۔‘‘ اہل وجدان سلیم سمجھ سکتے ہیں کہ اس حدیث میں سے یہ سب اشارات مرزا قادیانی کے مفید مدعا کس صفائی سے نکالے جارہے ہیں۔ مرزا قادیانی کا خیال ایک اعتبار سے درست بھی ہے۔ اس لئے کہ جب تک ایسی تدابیر نہ کی جائیں کوئی روپیہ دیتا بھی تو نہیں اور ایسا کون آدمی ہے جس کو روپیہ کی ضرورت نہ ہو۔ خصوصاً زمینداری بلکہ موروثی شاہی خیال والوں کو تو بہت سی ضرورتیں لاحق رہتی ہیں۔
اب اس حدیث پر اور بھی غور کیجئے۔ ابوداؤد کے نسخوں میں یہ عبارت (الحارث الحراث) دو طور پر ہے۔ بعض نسخوں میں حارث ابن حراث ہے۔ جس کا مطلب ظاہر ہے کہ حارث کے باپ کا نام حراث ہوگا اور بعض نسخوں میں حارث حراث علی مقدمته رجل ہے۔ یعنی حارث ایسی حالت میں نکلے گا کہ اس کے مقدمۃ الجیش پر ایک شخص ہوگا۔ جس کا نام منصور ہوگا۔ اس نسخہ کی شرح میں محدثین لکھتے ہیں۔ حراث کعلام اے اجیر وعامل للحارث یعنی حراث کے معنی کارگزار اور کاسب کے ہیں۔ چنانچہ (لسان العرب ج٣ ص١٠٤) میں لکھا ہے ”وفی الحديث اصدق الاسماء الحارث لان الحارث الکاسب واحترث المال کسبہ والانسان لا یخلو من الکسب طبعا واختياراً“
امر دوم یعنی حارث کا مقام خروج ماوراء النہر ہونا جو حدیث شریف میں ہے۔ اس کی نسبت مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص١٦١، خزائن ج٣ ص١٦٠) میں فرماتے ہیں کہ ”بابر بادشاہ کے وقت میں جو چغتائی سلطنت کا مورث اعلیٰ تھا بزرگ اجداد اس نیاز مند کے خاص سمرقند سے ایک جماعت کثیر کے ساتھ کسی سبب سے جو بیان نہیں کیا گیا ہجرت اختیار کر کے دہلی میں پہنچے..... انہیں شاہی خاندان سے کچھ ایسا تعلق خاص تھا جس کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ کی نظر میں معزز تھے۔ چنانچہ بادشاہ وقت سے پنجاب میں بہت سے دیہات جاگیر کے انہیں ملے اور ایک بڑی زمینداری کے وہ تعلق دار ٹھہرائے گئے ۔“
بابر بادشاہ کے زمانہ کو چار سو برس گذرتے ہیں۔ اس عرصہ میں تخمیناً دس پندرہ پشت مرزا قادیانی کے گذر گئے ہوں گے اور جد اعلیٰ جو دہلی تشریف لائے تھے۔ مقصود اس سے سمرقند سے ہجرت کر کے اس غرض سے نکلنا تھا کہ بادشاہ سے کوئی دنیوی نفع حاصل کریں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جاگیرات وغیرہ ملیں۔ اب مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ سمرقند سے یعنی ماوراء النہر سے کوئی
١٢٠
بھی نکلے۔ مگر حارث تو میں ہی ہوں۔ کیونکہ الہام سے ایسا ہی معلوم ہوا ہے۔
مرزا قادیانی نے اس موقع میں حسن ظن سے بہت کام لیا ورنہ ملہم سے پوچھ لیتے کہ نبی ﷺ نے تو صاف فرما دیا ہے کہ حارث وراء النہر سے نکلے گا اور میں تو وراء النہر کہاں، پنجاب سے بھی باہر نہیں نکلا۔ پھر حارث ہونے کا کیونکر دعویٰ کروں اور اگر اس حدیث کے معنی خلاف واقعہ بیان کر دوں تو وہ نبی کریم ﷺ پر افتراء ہوگا۔ جس کے بارے میں سخت وعید وارد ہے کہ "قال النبی ﷺ من کذب علی متعمداً فلیتبو مقعدہ من النار (بخاری ج ١ ص ٢١، باب اثم من کذب علی النبی ﷺ، مسلم ج ١ ص ٧، باب تغلیظ الکذب علی رسول اللہ ﷺ)" یعنی جو بات حضرت نے نہیں کہی وہ حضرت کی طرف منسوب کرنا دوزخ میں ٹھکانا بنا لینا ہے۔ اس سوال کے بعد جب ملہم کوئی تشفی بخش جواب نہ دیتا اور یقیناً نہ دے سکتا تو اس پر لاحول پڑھ کر سمجھ جاتے کہ یہ شیطانی الہام ہے۔ جو مخالف حدیث ہے۔ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو چندوں کی ضرورت ہے اور صبح و شام اسی کا خیال لگا رہتا ہے۔ اس لئے جس طرح مرزا قادیانی نے اپنی ذاتی تحقیق سے قاعدہ قرار دیا ہے۔ شیطان نے موقع پا کر الہام کر دیا اور مرزا قادیانی کو ضرورت کے لحاظ سے اس کے رد کرنے کا موقع نہ ملا۔
تیسرا امر یعنی حارث کے مقدمۃ الجیش پر منصور نام سردار ہونا جو حدیث میں مذکور ہے اس کی نسبت (ازالۃ الاوہام ص ٩٦، ٩٧ خزائن ج ٣ ص ١٤٨، ١٤٩) میں تحریر فرماتے ہیں کہ "پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس لشکر یعنی اس کی جماعت کا سردار وسرگروہ ایک توفیق یافتہ شخص ہوگا۔ جس کو آسمان پر منصور کے نام سے پکارا جائے گا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ اس کے خادمانہ ارادوں کا جو اس کے دل میں ہوں گے آپ ناصر ہوگا اس جگہ اگر چہ اس منصور کو سپہ سالار کے طور پر بیان کیا ہے۔ مگر اس مقام میں درحقیقت کوئی ظاہری جنگ و جدل مراد نہیں۔ بلکہ ایک روحانی فوج ہوگی کہ اس حارث کو دی جائے گی۔ جیسا کہ کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا۔"
حدیث شریف میں (علی مقدمۃ رجل یقال لہ منصور) مذکور ہے اور لغت میں مقدمہ فوج کے اس حصے کو کہتے ہیں جو تمام لشکر کے آگے رہتا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ حارث معمولی آدمی نہ ہوگا بلکہ لشکر جرار لے کر امام مہدی کی مدد کو نکلے گا اور ایک منصور نامی سردار اس کے مقدمۃ الجیش پر ہوگا اور دوسری روایت میں جو اس کی تائید میں ہے صراحۃً یہ بھی مذکور ہے کہ اس فوج کے نشان سیاہ ہوں گے۔ جس کا حال ابھی معلوم ہوا۔ مرزا قادیانی سب کی نفی کر کے فرماتے ہیں کہ وہ ایک معمولی پنجابی آدمی ہوگا۔ جس کے ساتھ نہ فوج ہے نہ حشم البتہ اس کے مریدوں میں ایک شخص
١٢١
ہوگا جس کو آسمان پر منصور پکارا جائے گا۔ مرزا قادیانی کی تحریر سے ابھی معلوم ہوا کہ اس حدیث سے اشارہ سمجھا گیا کہ وہ حارث بادشاہ یا امیروں میں سے نہیں ہوگا۔ تا ایسے معارف کا اپنی ذات سے متحمل ہوسکے۔ غالباً اشارہ اسی سے نکالا ہوگا کہ حارث کی نصرت کا حکم ہے۔ انہوں نے نصرت کو چندہ میں منحصر کردیا۔ حالانکہ چندہ دینے کا نام نصرت نہیں۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”ولقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ (توبہ:٢٥)“ کیا مرزا قادیانی اس آیت کی تفسیر میں بھی یہ فرمائیں گے کہ خدائے تعالیٰ نے چندہ دیا تھا۔ مرزا قادیانی لفظ (وجب نصرہ) سے اشارۃً یہ نکالتے ہیں کہ وہ بادشاہ اور امیر نہ ہوگا اور جو صراحۃً لشکر و آیات وغیرہ مذکور ہے۔ اس سے انکار ہے تو تومرت کے زمانے کے مسلمانوں کو آفرین کہنا چاہئے کہ باوجودیکہ انہیں حدیثوں پر استدلال کرکے اپنی مہدویت کے ثبوت پر ایک لشکر جرار پیش کرتا ہوگا۔ مگر جو خالص ایماندار تھے وہ نور ایمان سے اس کی کارروائیوں پر نظر کرکے اس کے دام میں نہ آئے۔ برخلاف اس کے ہمارے زمانے کے مسلمان دیکھ رہے ہیں کہ ایک علامت بھی پائی نہیں جاتی۔ مگر مرزا قادیانی کے تصنیفات وتالیفات پر ایمان لاکر انہی کا کلمہ پڑھ رہے ہیں اور جو لوگ ان کو مکائد پر ان کے مطلع کرتے ہیں انہی کو دشمن سمجھتے ہیں۔
یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ مرزا قادیانی کا لشکر تو روحانی ہے نہ جسمانی فوج ہے نہ جنگ و جدل پھر چندوں کی کیا ضرورت۔ ایسے لطیف لشکر کی نصرت کثیف چیز سے طلب کرنا اور مال جس کا فتنہ ہونا مسلم ہے اس کے لئے ہاتھ پھیلانا کس قدر نامناسب اور بدنما ہے۔ (ازالۃ الاوہام ص ٢٥٦، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥) میں خود فرماتے ہیں کہ ”مسیح دنیا میں آکر مال کو اس قدر تقسیم کرے گا کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے۔ یہ نہیں کہ مسیح درم و دینار کو جو بمصداق آیت انما اموالکم واولادکم فتنہ ہے جمع کرے گا اور دانستہ ہر ایک کو مال کثیر دے کر فتنے میں ڈالے گا ۔“
مرزا قادیانی کا حزم واحتیاط بھی قابل دید ہے کہ مال میں دو جہتیں ہیں۔ محمود و مذموم جب دینے کی کوئی روایت آجاتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بہت مال دیں گے تو مال نہایت مذموم اور فتنہ ہوجاتا ہے کہ اگر دیا جائے تو لوگ فتنے میں پڑیں گے اور لینے کا موقع آتا ہے تو نہایت محمود اور اس قابل ہوجاتا ہے کہ اس کے لئے دست سوال دراز کیا جائے اور اس کے دینے کی حدیثوں میں فرماتے ہیں کہ ان سے مراد باتیں کرنا ہے اور لینے کے وقت وہی خاص جسم قرار دیا جاتا ہے جس میں استعارہ اور کنایہ کو دخل نہیں۔
١٢٢
امر چہارم یعنی حارث کی غرض آل محمدﷺ کی تائید ہوگی۔ اس کی نسبت (ازالۃ الاوہام ص ٩٤، خزائن ج ٣ ص ١٤٧) میں لکھتے ہیں کہ ”حارث ایسے وقت میں ظاہر ہوگا کہ جس وقت میں آل محمد یعنی اتقیاء مسلمین جو سادات قوم و شرفائے ملت ہیں۔ کسی حامی دین اور مبارز میدان کے محتاج ہوں گے۔ آل محمد کے لفظ میں ایک افضل اور طیب جزو کو ذکر کر کے کل افراد جو پاکیزگی اور طہارت میں اس جزو سے مناسبت رکھتے ہیں اسی کے اندر داخل کئے گئے ہیں۔ جیسا کہ یہ عام طریقہ متکلمین ہے کہ بعض اوقات ایک جزو کو ذکر کر کے کل اس سے مراد لیتے ہیں۔“
ابھی معلوم ہوا کہ آل محمدﷺ سے مراد امام مہدی ہیں۔ جیسا کہ دوسری حدیث سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے اس روایت سے اغماض کر کے صرف آل محمدﷺ والی حدیث کو لے لیا اور اس میں یہ تصرف کیا کہ اس سے مراد تمام مسلمان ہیں جن کی تائید کے لئے وہ خراسان یعنی سمرقند سے نکلے ہیں اور تائید یہ کی کہ تمام روئے زمین کے مسلمانوں کو بلکہ صحابہ سے لے کر آج تک کے مسلمانوں کو مشرک بنا دیا جس کا حال مذکور ہوا۔
یہ بات اہل علم جانتے ہیں کہ مجازی معنی وہیں لئے جاتے ہیں جہاں حقیقی معنی نہ بنیں۔
اب یہ دیکھنا چاہئے کہ اس پیش گوئی کے حقیقی معنی چھوڑنے کی کیا ضرورت۔ اگر آنحضرتﷺ یہ فرماتے کہ فلاں سنہ میں یہ واقعہ ہوگا۔ پھر اگر وہ سنہ قریب الختم ہوتا تو اس وقت اس حدیث کی تصحیح کے لئے مجازی معنی لے سکتے تھے۔ امام مہدی حارث اور عیسیٰ علیہ السلام اور دجال وغیرہ کا نکلنا تو قیامت کی علامات کبریٰ سے ہیں۔ جن کے متصل قیامت ہوگی اور پھر یہ علم کسی کو نہیں دیا گیا کہ قیامت کس سنہ میں ہوگی۔ یہاں تک کہ کفار آنحضرتﷺ سے اکثر پوچھا کرتے تھے کہ قیامت کب ہوگی۔ حق تعالیٰ نے فرما دیا کہ ان سے صاف کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ جب چاہے گا قائم کر دے گا۔ چنانچہ ارشاد ہے ”يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ (اعراف: ١٨٧)“ اور ابھی معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے بھی آنحضرتﷺ سے شب معراج کہا تھا کہ قیامت کب ہوگی یہ تو سوائے خدائے تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ دجال کا قتل میرے ذمہ ہے جو وقت پر عمل میں آجائے گا۔ جب قیامت کا علم کسی کو نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ اس زمانہ میں اگر ان احادیث کے معنی مجازی نہ لئے جائیں تو وقت منقضی ہو جائے گا اور وہ حدیثیں نعوذ باللہ جھوٹی ثابت ہوں گی تو پھر کیا ضرورت ہے کہ حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی لئے جائیں۔ اگر مجازی معنی ہر موقع میں لینے کی اجازت شرعاً اور لغۃً
١٢٣
ہوجائے تو ہر شخص قرآن وحدیث میں خود غرضی سے مجازی معنی لے کر اپنا مطلب نکالے گا اور جتنے مفتری اور کذاب ہیں اپنا اپنا دین علیحدہ بنالیں گے۔ جس طرح مرزا قادیانی بنارہے ہیں کہ عیسیٰ مجازی دجال، مجازی قتل، مجازی مہدی، مجازی آل محمد، مجازی حارث، مجازی منصور، مجازی جنگ وغیرہ۔ سب مجازی جس کا مطلب ظاہر ہے کہ یہ کل کارخانہ جو جمایا گیا ہے محض بے اصل و بے حقیقت ہے۔
امر پنجم و ششم : یعنی امام مہدی کا اس لشکر میں ہونا اور ان کی مدد کی ضرورت اس مقام میں ان کو صرف حارث بننا منظور تھا۔ ان حدیثوں سے اگر اپنی مہدویت ثابت کرتے تو کوئی دوسرا شخص حارث بن کر چندوں کا مستحق ہوتا۔ چونکہ اس حدیث سے چندوں کی کارروائی کو تائید پہنچتی ہے۔ اس لئے اس حدیث میں بڑا ہی زور لگایا اور چار جز تک اس میں خامہ فرسائی کی۔ مگر یہ ثابت نہ کر سکے کہ حارث قادیان سے نکلے گا۔ اگر مرزا قادیانی چاہتے تو چند روز میں اپنے خاص خاص مریدوں کے ساتھ ماوراء النہر تک جاکر چلے آتے۔ جس سے ماوراء النہر یا خراسان سے نکلنا صادق آجاتا اور کسی کو یہ کہنے کی گنجائش نہ ملتی کہ مرزا قادیانی ماوراء النہر سے نہیں نکلے۔ مگر وہ ان سے نہ ہوسکا اور کیونکر ہوسکتا وہ تو مخبر صادق کا کلام ہے۔ جو سوائے اپنے مصداق کے کسی دوسرے پر صادق آہی نہیں سکتا۔ باطن میں فی الحقیقت یہی وجہ تھی مگر ظاہراً افغانستان کا خوف سدراہ ہوا ہوگا۔ جب یہود سے کہا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”فتمنو الموت ان کنتم صادقین (بقرہ:٩٤)“ مگر خدا جانے ان پر کس قسم کا خوف طاری ہوگیا تھا کہ ان کے منہ سے کوئی تمنا کا کلمہ نکل ہی نہ سکا۔ آخر ان کا جھوٹا ہونا خود ان کی طرز عمل سے مسلم ہوگیا۔
یہ چند علامتیں عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کی ہیں۔ اگرچہ اور بہت سی علامات احادیث سے ثابت ہیں۔ مگر طالبین حق کے لئے یہ چالیس علامتیں بھی کم نہیں ۔ ”اگر در خانہ کس است یک حرف بس است“ آپ نے دیکھ لیا ان علامتوں سے ایک بھی مرزا قادیانی پر صادق نہیں آتی۔ اب وہ اس فکر میں ہوئے کہ کس طرح ان علامات کو اپنے پر چسپاں کرلیں۔ ورنہ عیسویت سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ اس لئے اقسام کی تدبیریں کیں۔ مثلاً ناموں میں تحریف کردی، اپنا نام عیسیٰ مہدی حارث وغیرہ رکھ لیا اور قادیان کو دمشق اور پادریوں اور ابن صیاد کو دجال اور نصاریٰ کو یاجوج و ماجوج قرار دیا اور کہیں معنوں میں تحریف کی۔ مثلاً قتل دجال اور کسر صلیب سے مراد رقعہ سب اور معمولی سوال وجواب اور بے حساب مال تقسیم کرنے سے مراد علمی باتیں بیان کرنا اور کسی حدیث کی
١٤٤
نسبت کہہ دیا کہ وہ حضرت کا خواب تعبیر طلب تھا۔ اس کے وہ معنی نہیں جو ظاہر میں سمجھے جاتے ہیں اور کبھی عقل سے حدیث کو رد کر دیا جیسا کہ لکھا ہے کیا عیسیٰ مہدی اور ہدایت یافتہ نہیں پھر مہدی کی کیا ضرورت اور جہاں کچھ نہ بنا تو کہہ دیا کہ وہ بھی ایک استعارہ ہے۔ جیسا کہ دجال کے شام وعراق کے درمیان سے نکلنے کے باب میں لکھا ہے اور سردار لشکر کا نام جو حدیث میں منصور مذکور ہے کہا کہ خدا کے نزدیک اس کا نام منصور ہوگا۔ بلکہ کہیں تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ وہ حدیث ہی غلط ہے۔ جیسا کہ نواس کی حدیث کی نسبت معلوم ہوا بلکہ خود نبی ﷺ کی طرف غلطی کی نسبت کر دی اور کہیں اغماض ہی کرگئے۔ مثلاً حدیث شریف میں مذکور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں کل اسلام ہی اسلام ہو جائے گا اور درندے اور گزندے کسی کو ضرر نہ پہنچاسکیں گے۔ وہاں کہہ تو دیا کہ شیر اور بکری کو ایک جگہ بٹھائے گا۔ مگر اس میں کچھ گفتگو نہ کی کہ عیسیٰ ہیں تو ان پیش گوئیوں کا وقوع کیوں نہ ہوا۔ غرض کہ اقسام کی بد نما تدبیریں کیں کہ کوئی سمجھ دار آدمی اس کو رضا مندی کی نگاہ سے دیکھ نہیں سکتا۔ افسوس ہے ایک زمانہ وہ تھا جس میں العاقل یکفیہ الاشارہ کے مصداق بکثرت موجود تھے اور اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ اشارہ تو درکنار سخن سازیاں بآواز بلند کہتی ہیں کہ کل تصنع ہی تصنع ہے۔ مگر کسی کو جنبش نہیں ہوتی کہ مرزا قادیانی کیا کر رہے ہیں۔ معتقدین اتنا تو خیال کر لیتے کہ جب آنحضرت ﷺ کے کشف میں غلطی ٹھہری تو اس کی تصدیق کیوں کی جائے کہ ایک نقلی عیسیٰ پنجابی شخص ہونا ضروری ہے۔ آخر وہ بھی کشفی بات ہے۔ ”اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال“ اور کشف جب تعبیر طلب ہو تو کسی شخص کے مثیل مسیح ہونے کی کیا ضرورت، ممکن ہے کہ اس کی تعبیر یہ ہو کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں امت مرحومہ من جانب اللہ راہ راست پر آ جائے گی۔ کیونکہ عیسیٰ کلمۃ اللہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کلمہ کن سے سب کچھ کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے ”لا تینا کل نفس ھدھا (الم السجدۃ:١٣)“ اس تعبیر میں جیسے عیسیٰ کی ضرورت نہیں ویسا ہی مثیل عیسیٰ کی بھی ضرورت نہیں۔
اور (ازالۃ الاوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧) میں انہوں نے قاعدہ بیان کیا ہے کہ ”لکل دجال عیسیٰ“ تو جس طرح پادریوں کی قوم دجال بتائی گئی اسی طرح ان کی رد کرنے والی قوم عیسیٰ ہوگی اور اگر وہاں افراد قوم دجال ہیں تو ادھر بھی افراد قوم عیسیٰ ہوں گے۔ اس کا کیا ثبوت کہ ادھر تو دجال قوم ہو اور ادھر ایک ہی شخص ہو۔ الحاصل بیسیوں قرینے شاہد حال ہیں کہ نہ ان کو حدیث سے کام ہے نہ قرآن سے۔ مطلب صرف اپنی عیسویت مقصود بالذات ہے۔ جس سے بوضاحت ثابت ہے کہ جتنے الہام انہوں نے اپنی عیسویت وغیرہ سے متعلق لکھے ہیں وہ سب دل سے بنائے
١٢٥
ہوئے ہیں۔ کیونکہ جب آیات واحادیث میں تصرفات کرکے ایسے معنی بیان کرتے ہیں جن کا احتمال بھی نہیں اور اس کی کچھ پروا نہیں کرتے کہ دیکھنے والے کیا کہیں گے تو الہام بنا لینا کون سی بڑی بات ہے۔ اس پر تو دوسرا کوئی مطلع ہی نہیں ہو سکتا۔ آخر قرآن وحدیث کے خلاف مراد معنی بیان کرنا بھی تو افتراء ہی ہے۔ جس نے حرمت علیکم المیتتہ کے معنی یہ لئے تھے کہ میتہ کسی بزرگ کا نام تھا۔ جس کی تعظیم کی گئی تھی۔ اس کو مردار سے کوئی تعلق نہیں کیا یہ افتراء علی اللہ نہیں۔ مرزا قادیانی بھی تو اسی قسم کے تصرفات کر رہے ہیں۔ پھر ان کے افتراء کرنے میں کیا تامل اور جب یہ افتراء انہوں نے جائز رکھا تو الہام بنالینے میں کون مانع ہے۔ پھر جو دلائل انہوں نے اپنی عیسویت پر پیش کئے ان میں سے ایک بھی ایسی نہیں جو قابل توجہ ہو۔ جس کا حال اوپر معلوم ہوا۔ اس سے یقیناً ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر انہوں نے اسی وجہ سے زور دیا ہے کہ ان کی حیات میں خدشے پیدا کرکے خود مسیح موعود بن جائیں۔ کیونکہ جب تک ان کی موت ثابت نہ ہو وہ مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ مشاہدہ سے ثابت ہے کہ کیسی ہی یقینی بات ہو جب آدمی اس میں خدشے ڈالنے کے در پے ہوتا ہے تو سخن سازیوں سے دل پر کچھ نہ کچھ اثر ہو ہی جاتا ہے۔ دیکھ لیجئے حضرت امام حسینؓ کی شہادت میں تیرہ سو سال سے آج تک کسی کو اختلاف نہیں۔ شیعہ، سنی، ہندو، عیسائی وغیرہ سب کے نزدیک وہ مسلم ہے اور تمام تاریخی کتابیں اس پر گواہی دے رہے ہیں۔ مگر مرزا حیرت صاحب نے اس میں خدشے ڈال ہی دیئے۔ چنانچہ جاہلوں میں ہر طرف چرچے ہو رہے ہیں کہ مرزا حیرت صاحب نے خوب ہی دلائل قائم کئے۔ آج کل کے مباحثوں کا حال بعینہ اس مباحثے کا سا ہے کسی مجلس میں ایک مولوی صاحب نے کوئی واقعہ بیان کیا جو ظاہراً غیر مربوط سا تھا۔ اس موقع پر ایک شاعر صاحب نے ہنس کر یہ شعر پڑھا۔
الا یا ایہا الساقی ادر کاساً وناولہا
مولوی صاحب نے بگڑ کر کہا کیسا غلط پڑھتے ہو اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ ایک مصرعہ چھوٹا ایک بڑا ہے۔ اس پر شاعری کا دعویٰ۔
شاعر: حضرت مجھے تو ایسا ہی یاد ہے صحیح آپ ارشاد فرمائیں۔
مولوی صاحب: خیر ہم ہی صحیح بتائے دیتے ہیں۔
الا یا ایہا الساقی ادرکا
شاعر: اور کا چہ معنی دارد۔
مولوی صاحب: عربی پڑھیں تو معلوم ہو کہ (ادر) امر کا صیغہ ہے اور کاف خطاب کا جو اشباع کی وجہ سے (ادر کا) پڑھا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اے ساقی پیالہ کے دور کرانے میں کیا لگا ہے۔ اپنے کو پھیر اور ادھر متوجہ کر۔
شاعر: دیوان حافظ میں تو اس مصرعہ میں یہ ہے ادر کاساً و ناولہا۔
مولوی صاحب: سبحان اللہ ترجمہ کا بھی آپ کو خوب سلیقہ ہے کیا سعدیؒ کے معنی حافظ اور زلیخا کے معنی دیوان ہیں۔ جو دیوان حافظ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ شاعر تو یہ خبر دے رہا ہے کہ سعدی نے زلیخا میں یہ مصرعہ لکھا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ دیوان حافظ میں ایسا نہیں ہے نہ ہوا کرے۔
شاعر: کیا سعدیؒ نے زلیخا بھی لکھی ہے۔
مولوی صاحب: کیا سعدی کو زلیخا لکھنا منع تھا۔
شاعر: اگر لکھی ہے تو وہ زلیخا کہاں ہے۔
مولوی صاحب: کیا ساری دنیا کی کتابیں آپ کے شہر میں موجود ہیں یا آپ نے سب کا مطالعہ کر لیا ہے اور صرف وہی ایک باقی رہ گئی۔
شاعر: حضرت آپ یہ خیال نہیں فرماتے کہ یہ شعر کس موقع میں پڑھا جاتا ہے۔ جب کوئی بے ربط بات کہی جائے تو مضحکہ کے طور پر پڑھتے ہیں۔ جس سے یہ بتلایا جاتا ہے کہ وہ بات ایسی ہے جیسے اس شعر کا مضمون۔
مولوی صاحب: یہ آپ کا خیال ہے، مضحکہ سے کیا تعلق جب کوئی دلچسپ بات سنتے ہیں تو بے اختیار ہنس کر اس کی داد دیتے ہیں کہ ادھر متوجہ ہو کر پھر فرمائے۔ جناب اتنا تو خیال کر لیجئے کہ یہ شعر حد تواتر کو پہنچ گیا ہے۔ ہزاروں ذی علم اس کو پڑھتے ہیں اور یہ خبر دیتے ہیں کہ یہ مصرعہ سعدی نے اپنی زلیخا میں لکھا ہے کیا وہ سب جھوٹے ہیں کیا ان میں سے کسی نے بھی سعدی کی زلیخا کو نہ دیکھا ہوگا آپ کی عقل پر افسوس ہے۔
الغرض شاعر صاحب سے کچھ نہ بن پڑی اپنا سا منھ لے کر رہ گئے اور آخر یہی کہنا پڑا کہ شاید ایسا ہی ہوگا۔
کلام اس میں تھا کہ تیرہ سو برس سے جو بات بلا خلاف ہم تک پہنچی اور جس پر ہر ملک و ملت کے لوگ گواہی دے رہے ہیں اور کسی کو اس میں ذرا بھی شک نہ تھا۔ مرزا حیرت صاحب
١٢٧
نے باتیں بنا کر جاہلوں کو چوکنے تو کر دیا اور بعض متزلزل بھی ہو گئے اور تعجب نہیں کہ رفتہ رفتہ ایک جماعت بھی قائم ہو جائے۔
اسی طرح مرزا قادیانی اور ان کے امتی ہمہ تن متوجہ ہو کر اپنی پوری ذکاوتیں مسئلہ وفات مسیح میں صرف کر رہے ہیں۔ جس سے جاہلوں کے اعتقاد متزلزل ہو گئے اور یہ کوئی نہیں سمجھتا کہ مرزا قادیانی جب منصب عیسویت اپنے لئے تجویز کر رہے ہیں اور اس کا مدار انہیں خدشات پر ہے تو ان کی غرض اس سے متعلق ہوئی اور خود غرضی کاروائی عقلاً قابل التفات ہو سکتی ہے یا نہیں۔ پھر جب ان کا مقصود یعنی ان کی عیسویت کسی دلیل سے ثابت نہ ہوسکی تو عیسیٰ علیہ السلام کی موت وحیات میں گفتگو سے کیا فائدہ، ان کو ضرور ہے کہ اپنی عیسویت بدلائل ثابت کر دیں اور جب وہ بدلائل ثابت ہو جائے تو عیسیٰ علیہ السلام کی موت خود بطریق لزوم ثابت ہو جائے گی کیونکہ مسیح موعود تو ایک ہی ہے اور یہ ممکن نہیں کہ ان کی موت ثابت ہونے سے مرزا قادیانی کی عیسویت ثابت ہو جائے۔ اس لئے کہ یہ ضرور نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام مرتے ہی مرزا قادیانی ہی عیسیٰ بن جائیں۔ آخر مرزا قادیانی بھی اس کے قائل نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ١٣٠٠ھ میں ہوئی اور وہ ان کے جانشین ہوئے اور یہ بات بھی کسی دلیل سے ثابت نہیں ہو سکتی کہ ایک عیسیٰ کے مرنے کے بعد دوسرے عیسیٰ کے نکلنے کی اس قدر مدت مقرر ہے۔ الحاصل مرزا قادیانی مدعی عیسویت ہیں۔ اپنا دعویٰ مع شرائط ولوازم ثابت کرنا ان کے ذمہ ہے۔ ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ ہمارے دین میں طے شدہ اجماعی مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام کو از سر نو ثابت کریں۔ البتہ بحسب قواعد مناظرہ ہمارا کام ہو گا کہ مدعی کے دلائل میں غور کر کے بحسب موقع و ضرورت جرح کریں۔
مرزا قادیانی کو عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنے اور اپنے مسیح موعود ہونے میں بڑے بڑے معرکے پیش آئے۔ پہلے یہ ثابت کرنا انہوں نے ضروری سمجھا کہ کوئی شخص زندہ آسمان پر جا ہی نہیں سکتا۔ اس میں یہ دقت پیش آئی کہ قرآن و احادیث صحیحہ سے نبی کریم ﷺ کا معراج ثابت ہے۔ اگر قرآن وحدیث کی رعایت کرتے ہیں تو اپنی بات بگڑتی ہے اور اگر بات کی رعایت کرتے ہیں تو ان آیات واحادیث سے ایمان رخصت ہوتا ہے۔ آخر بحکم 'حبك للشئ یعمی ویصم' طبیعت نے یہی حکم کیا کہ بات بگڑنے نہ پائے۔ چنانچہ معراج جسمانی کا انکار ہی کر دیا اور اس بات کے قائل ہو گئے کہ حضرت شب معراج مکہ سے باہر نہیں گئے۔ بستر ہی پر بیت المقدس وغیرہ کا کشف ہو گیا اور سبحان الذی اسریٰ بعبدہ وغیرہ آیات کو تاویل کر کے ٹال دیا۔ اس کے بعد یہ خیال کیا کہ شاید کوئی یہ کہہ دے کہ عیسیٰ علیہ السلام مر تو گئے مگر
١٢٨
ممکن ہے کہ قیامت کے قریب زندہ ہو کر آجائیں۔ اس کی پیش بندی یوں کی کہ کوئی شخص مرنے کے بعد اس عالم میں زندہ ہو ہی نہیں سکتا اور قرآن شریف میں جو ہزارہا مردوں کا زندہ ہونا مذکور ہے اس کا عقل سے ایسا مقابلہ کیا کہ انہی کا کام تھا۔ کسی واقعہ میں کہا کہ مسمریزم سے صرف حرکت ہو گئی تھی اور کبھی معنی بدل دیئے مثلاً فاماتہ اللہ مأتہ عام میں کہا کہ اس سے موت مراد نہیں۔ بلکہ نیند ہے کہ سو برس تک سوتے رہے۔ اس کے بعد یہ سوچا کہ ایسی تدبیر کی جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت میں بھی زمین پر نہ آنے پائیں۔ اس لئے حشر اجساد ہی کا انکار کر دیا۔ اس دلیل سے کہ مرنے کے بعد قبر میں ایک سوراخ ہو جاتا ہے۔ جس کی راہ سے جنتی آدمی جنت میں چلا جاتا ہے اور پھر وہاں سے نکل ہی نہیں سکتا۔ اب صدہا آیات واحادیث جو حشر اجساد اور قبر سے مردے نکلنے کے باب میں وارد ہیں۔ وہ سب اپنی اپنی جگہ رکھی رہیں اور سب پر ایمان بھی ہے۔ مگر ان کے معنی سے کوئی تعلق نہیں اور ان کا وہ قول بھی صحیح ہو گیا کہ قرآن کے ایک نقطہ کی کمی و زیادتی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ مسلمانوں کو بتلانے کے لئے الفاظ پر پورا پورا ایمان ہے۔ جو کچھ تصرف اور حکومت ہے سو معنی پر ہے۔ الغرض ان مقامات میں اور ان کے سوا جو جو آیات واحادیث ان کو مقصود کے مخالف نظر آئیں۔ سب کے معنی میں تحریف کر ڈالی اور جن آیات واحادیث کو دیکھا کہ تغیر معنی سے اپنا مطلب نکل سکتا ہے ان میں نئے معنی پیدا کر کے استدلال میں پیش کر دیا۔
یوں تو مرزا قادیانی کی طبیعت خود جدت پسند اور موجد مضامین تازہ ہے۔ مگر ظاہراً تقدم کی وجہ سے سرسید احمد خاں صاحب کو مقتداء ہونے کا فخر حاصل ہے۔ کیونکہ انہوں نے ایسے طریقہ بتا دیئے کہ کہنے کو قرآن پر ایمان بھی مسلم رہے اور اپنی مطلب برآری میں قرآن خلل انداز بھی نہ ہو مثلاً انہوں نے دیکھا کہ جب تک گورنمنٹ کے ہم خیال نہ ہوں مقصود حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے قرآن کو حکمت جدیدہ کے تابع کر دیا اور جتنی آیتوں سے آسمانوں کا وجود ثابت ہوتا ہے سب میں تاویلیں کر کے آسمانوں کی جگہ موہوم دوائر قائم کر دیئے اور جنت و دوزخ کے باب میں جتنی آیات وارد ہیں سب کو عالم خیال میں پہنچا دیا۔ قرآن میں فرشتوں کا ذکر بہت جگہ ہے۔ اس کی تصدیق یوں کی کہ آدمی وغیرہ میں جو قوتیں ہیں وہی ملائکہ ہیں۔ مگر یہ ممکن نہیں کہ آسمان پر بھی کوئی فرشتہ ہو۔ بہر حال خاں صاحب اور مرزا قادیانی الفاظ قرآن کی جہاں تک حد ہے اس میں مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور جہاں معنی کا موقع آیا علیحدہ ہو جاتے ہیں اور اس وقت سوائے اپنی خواہش کے مسلمان تو کیا اگر نبی ﷺ بھی فرمادیں تو نہیں سنتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں صاحبوں کے نزدیک احادیث ساقط الاعتبار ہیں۔ البتہ وہ حدیثیں تو استدلال میں پیش کرتے ہیں۔ جن کو
١٢٥
اپنے مفید مدعا سمجھتے ہیں۔ مگر یہ بات یادرہے کہ ان حضرات نے جو ایمان کا طریقہ نکالا ہے وہ شرعاً ایمان نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ جو قرآن نازل ہوا ہے اس سے یہ مقصود نہیں کہ فقط الفاظ ہی پر ایمان لایا جائے۔ دیکھ لیجئے اگر کوئی شخص عمر بھر لا الہ اللہ پڑھا کرے اور اس کے معنی یعنی توحید کا قائل نہ ہو تو وہ شرعاً ہرگز مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا۔ اگر معنی میں تعمیم کر دی جائے کہ حسب مرضی جو جی چاہئے سمجھ لینا کافی ہے تو اس قسم کی تاویلوں میں تعجب نہیں کہ کفار کے اعتقاد بھی داخل ہو جائیں۔ منصور نے ”حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر (مائدہ:٣)“ میں تاویل کر کے مردار خنزیر وغیرہ کو حلال کر دیا تھا۔ حالانکہ اس آیت کو وہ کلام الٰہی کہتا تھا۔ کیا اس قسم کے ایمان سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اس کو اس آیت پر ایمان تھا۔
اب ہم خیر خواہانہ اہل اسلام سے عرض کرتے ہیں کہ ایمان بڑی نعمت عظمیٰ ہے۔ آخرت کی نجات اور راحت ابدی کا مدار اسی پر ہے۔ اس کی حفاظت اور احتیاط کی بڑی ضرورت ہے ہر کس و ناکس کو اپنے ایمان پر تصرف دینا نہایت خلاف عقل ہے۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں:
پس بہر دستے نباید داد دست
معراج کا مسئلہ اسلام میں ایک عظیم الشان ہے۔ جس سے امتیوں کو کمال درجہ کا افتخار حاصل ہے کہ سوائے ہمارے نبی ﷺ کے کسی نبی کو یہ فضیلت حاصل نہیں ہوئی۔ مگر مرزا قادیانی خود غرضی سے اس میں کلام کرتے ہیں کہ اگر معراج جسمانی ثابت ہو جائے تو عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر زندہ جانا ثابت ہو جاتا ہے۔ اگر چہ ظاہر میں وہ اس کی تصریح نہیں کرتے مگر قرائن ودلائل واضحہ اس کی خبر دے رہے ہیں۔
بہر حال (ازالۃ الاوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٣٦) میں لکھتے ہیں ”یہ معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔ اس کثیف بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفیٰ و اجلیٰ ہوتی ہے اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔“
مرزا قادیانی کے کشف و تجربہ کا کیا کہنا اسی کتاب میں آپ کے کشفوں کا حال بخوبی معلوم ہو گیا ہے۔ اگر ناظرین ان کا تذکرہ فرمالیں تو مرزا قادیانی کی اس تقریر کا لطف دوبالا ہو جائے گا۔ قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ ان کا غالباً پیشتر کا ہوگا ورنہ انہوں نے تو اپنے باب میں قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ خود بدولت مردود ہیں ملعون ہیں بے دین ہیں، خائن ہیں پس اس فیصلہ کو خدائے تعالیٰ نے بھی منظور فرمالیا۔ جس کا حال معلوم ہوا، اس کے بعد وہ کسی عادل مسلمان
کی بھی مساوات کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ چہ جائیکہ سید المرسلین ﷺ کی ہمسری۔ اگرچہ مسئلہ معراج نہایت وسیع اور طویل الذیل ہے۔ جس کی گنجائش اس مختصر میں دشوار ہے۔ مگر ما لا يدرك كله لا يترك كله کے لحاظ سے تھوڑی سی بحث اس میں بھی کی جاتی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ بشرط انصاف ہر ایک پر منکشف ہو جائے گا کہ اہل سنت کا مذہب اس مسئلہ میں کیسا قوی ہے۔
معراج کی بحث
اس میں شک نہیں کہ کئی امور اس مسئلہ میں ایسے ہیں کہ معمولی عقول پر ان کا تسلیم کرنا شاق ہوتا ہے۔ مثلاً سینہ مبارک آنحضرت ﷺ کا شب معراج شق کیا جانا اور حکمت و ایمان سے اس کو بھرنا، پھر بسواری براق بیت المقدس اور وہاں سے آسمانوں پر جانا اور یہ سب معاملات ایک ہی شب میں طے ہو جانا وغیرہ امور ایسے ہیں کہ ان کی نظیر مل نہیں سکتی اور خلاف عادت ہونے کی وجہ سے عقل کے خلاف ہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس عالم میں بہت سے بلکہ تقریباً کل کام ایسے ہیں کہ ان کا ادراک عقل سے ممکن نہیں۔ مگر عادت کی وجہ سے ان میں غور و تدبر کی نوبت آتی ہے نہ خلاف عقل معلوم ہوتے ہیں اس کا بیان ہم نے کتاب العقل میں بشرح و بسط لکھا ہے۔ اس کے ملاحظہ سے منکشف ہو سکتا ہے کہ جو معمولی امور ہیں ان کے بھی ادراک میں حکماء کی عقلیں حیران ہیں اور جن چیزوں کو ہم بدیہی سمجھتے ہیں ان کی حقیقتیں ایسی نظری ہیں کہ ان کا ادراک اب تک نہ ہوسکا۔ پھر جیسے وہ عادت کی وجہ سے مطابق عقل معلوم ہوتے ہیں اسی طرح اگر بالفرض آسمانوں پر آنا جانا بھی عادی ہوتا تو ان میں بھی عقل کو استبعاد کا موقع نہ ملتا۔ یہاں بطور مثال ایک نور ہی کو دیکھ لیجئے کہ وہ کس قدر ظاہر بلکہ مظہر ہے اور ہمیشہ دیکھنے کی وجہ سے ہر شخص اس کو بدیہی سمجھتا ہے۔ مگر اس کی حقیقت ایسی نظری ہے کہ تمام حکماء اس کے ادراک میں حیران ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی اس کو جوہر بلکہ جسم کہتا ہے اور کوئی عرض، حالانکہ جوہر و عرض میں جس قدر فرق اور تباین ہے ظاہر ہے۔ ایسی روشن چیز میں جب یہ اندھیر ہو تو اور چیزوں کا کیا حال ہوگا۔ اگر ایسے شخص سے جس نے نور کبھی نہ دیکھا ہو یعنی مادر زاد نابینا سے اس کا حال بیان کیا جائے تو یہی کہے گا کہ ایسی چیز کا وجود محال ہے۔ اہل حکمت جدیدہ نے نور کو جوہر بلکہ جسم مان لیا ہے اور کمال تحقیق سے تصریح کرتے ہیں کہ وہ ایک منٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ میل کی مسافت طے کرتا ہے۔ جیسا کہ ریور نڈ چارلس صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے اور پیسہ اخبار مورخہ ٩ / جمادی الثانی ١٣٣٠ھ میں تحقیق جدید کو بیان کیا ہے کہ بجلی ایک منٹ میں پانچ سو مرتبہ زمین کے گرد گھوم سکتی ہے اور ہیئت شمسیہ میں جو چارلس صاحب مذکور کی کتاب کا ترجمہ ہے لکھا ہے کہ بعض دم دار ستارے اتنے بڑے
١٣١
میں کہ فقط ان کی دم تین کروڑ تیس لاکھ میل کی ہے اور ان کی رفتار ایک ساعت میں آٹھ لاکھ اسی ہزار میل تک ثابت ہوئی ہے اور محققین ہیئت قدیمہ نے تصریح کی ہے کہ فلک تاسع کے مقعر کا ہر نقطہ ایک ساعت میں دس کروڑ اکہتر لاکھ میل حرکت کرتا ہے اور لکھا ہے آدمی جس عرصہ میں ایک لفظ کا تلفظ کرے مثلاً (ا) یا (ب) کہے وہ پانچ ہزار ایک سو چھیانوے میل طے کرتا ہے۔ اب دیکھئے کہ کیسے بڑے بڑے اجسام کی حرکت ایک ساعت میں لاکھوں بلکہ کروڑوں میل تسلیم کر لی جاتی ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ حکماء کا قول ہے اور معراج کی خبر خود خدا تعالیٰ دیتا ہے۔ اس میں اقسام کے احتمالات پیدا کر کے تاویلیں کی جاتی ہیں کہ جسم کثیف اس مدت قلیل میں اتنی مسافت کیونکر طے کر سکتا ہے اس لئے برائے نام اس پر ایمان لانے کی یہ تدبیر نکالی گئی کہ وہ ایک کشفی واقعہ ہے۔ اب اگر کوئی ایماندار جس کو خدا کی قدرت پر پورا ایمان ہو اور یقین سمجھتا ہو کہ حق تعالیٰ صرف کن سے جو چاہتا ہے کر سکتا ہے یہ اعتقاد رکھے کہ وہ قادر مطلق جو بعض اجسام کثیف کو ایک منٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ میل چلا جاتا ہے۔ اپنے حبیب ﷺ جن کا جسم مبارک ہماری جان سے بھی زیادہ تر لطیف تھا۔ ان کو تھوڑے عرصہ میں آسمانوں کی سیر کرا لائے تو کون سی بڑی بات ہوگئی۔ کیا ان مسلمانوں کے نزدیک خدا کی اور اپنے نبی کریم ﷺ کی بات کی اتنی بھی وقعت نہ ہونی چاہئے جو اہل یورپ کی بات کی آج کل ہو رہی ہے۔ مقتضائے ایمان تو یہ تھا کہ اگر کوئی ضعیف حدیث بھی اس باب میں وارد ہوتی تو اس خیال سے مان لی جاتی کہ آخر حدیث تو ہے کسی کی بنائی ہوئی بات نہیں۔ چہ جائیکہ قرآن کی آیتوں اور صحیح صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔ مگر ہر کسی کو یہ گراں بہا دولت ایمانی کہاں نصیب ہو سکتی ہے۔ ہزارہا معجزات دیکھنے پر بھی تو اشقیاء اس دولت سے محروم ہی رہے۔ دراصل خود حق تعالیٰ کو منظور نہیں کہ یہ دولت عام اور بے قدر ہو جائے اسی وجہ سے خود کتاب ہدایت یعنی قرآن شریف کی خاصیت ”يضل به كثيراً ويهدى به كثيرا (بقره:٢٦)“ رکھی گئی اور معراج شریف کی نسبت بھی اسی قسم کا ارشاد ہے۔ ”وما جعلنا الرءيا التى اريناك الا فتنة للناس (بنى اسرائيل:٦٠)“ یعنی جو تم کو شب معراج ہم نے دکھلایا اس سے لوگوں کی آزمائش مقصود ہے۔ احادیث و آثار سے ثابت ہے کہ یہ آیت معراج ہی کے باب میں نازل ہوئی۔ یہ بات ظاہر ہے کہ ہر کسی کا کام نہیں کہ خدائے تعالیٰ کے امتحان میں پورا اترے۔ اس موقع میں تو ایمانداروں کا ایمان ہی سلامت رہ جائے تو غنیمت ہے۔ کافروں کے ایمان کی کیا توقع۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ باوجودیکہ حضرت نے بیت المقدس کی پوری نشانیاں بتلادیں اور کفار اس کا انکار بھی نہ کر سکے۔ مگر ایمان کسی نے نہ لایا اور صحابہ جو ہمیشہ معجزات دیکھتے
١٤٢
تھے باوجود اس فیضان معنوی کے وہ بھی متزلزل ہو گئے اور بعض تو نعوذ باللہ مرتد ہی ہو گئے اور اسی واقعہ کی عمدہ طور پر تصدیق کرنے کی بدولت ابوبکر صدیق کہلائے۔ ان مضامین کی تصدیق روایات ذیل سے ہوتی ہے۔ ”اخرج ابن جریر عن قتادۃ وما جعلنا الرؤیا التی اریناک الافتنۃ للناس یقول اراہ من الآیات والعیر فی میسرہ الی بیت المقدس وذکر لنا ان ناساً ارتد وابعد اسلامہم حین حدثہم رسول اللہ ﷺ بمیسرہ انکر واذلك وکذبوا بہ وعجبوا منہ وقالوا اتحدثنا انک سرت میسرۃ شہرین فی لیلۃ واحدۃ (کذافی الدر المنثور ج ٤ ص ١٩١) “یعنی قتادہ کہتے ہیں کہ آیۂ شریفہ ”وما جعلنا الرءیا التی اریناک الافتنۃ للناس“ سے وہ نشانیاں مراد ہیں جو بیت المقدس کے جانے میں حضرت کو دکھلائی گئیں۔ جب حضرت نے وہ حالات بیان کئے تو بہت سے لوگوں نے تکذیب کر کے براہ انکار کہا کہ اب ایسی باتیں کرنے لگے کہ ایک رات میں دو مہینے کی راہ طے کی۔ غرض باوجود یکہ وہ لوگ اسلام لا چکے تھے۔ مگر واقعہ معراج سن کر مرتد ہو گئے۔ ”واخرج احمد وابو یعلی وابن مردویہ وابو نعیم عن ابن عباس قال اسری بالنبی ﷺ الی بیت المقدس ثم جاء من اللیلۃ فحدثہم بمیسرہ وبعلامۃ بیت المقدس وبعیرہم فقال ناس نحن لا نصدق محمداً (ﷺ) بما یقول فارتد واکفار افضرب اللہ رقابہم مع ابی جہل (کذافی الدر المنثور ج ٤ ص ١٥١) “یعنی ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب حضرت بیت المقدس جا کر اسی شب واپس تشریف لائے اور واقعہ جانے کا اور علامت بیت المقدس کی اور کفار کے قافلہ کا حال بیان فرمایا تو بہت سے لوگوں نے کہا کہ ہم محمد ﷺ کی تصدیق ان امور میں نہیں کر سکتے۔ چنانچہ وہ مرتد ہو گئے اور آخر ابوجہل کے ساتھ ان کی گردنیں ماری گئیں۔ ان روایات سے ظاہر ہے کہ یہ واقعہ ظاہراً خلاف عقل ہونے کی وجہ سے وہ لوگ اس کی تصدیق نہ کر سکے۔ جس سے ان کا ایمان سلب کر لیا گیا۔ یہاں غور کیا جائے کہ کیا خواب میں بیت المقدس کو جانا اس قدر خلاف عقل تھا کہ اس کے سننے سے مسلمانوں کا ایمان جاتا رہے۔ عقل سلیم اس کو ہرگز قبول نہیں کر سکتی یہ واقعہ خلاف عقل اسی وقت ہو سکتا ہے کہ عالم بیداری میں ہوا ہو۔ جس کی تصدیق ابوبکر نے کر کے مستحق لقب صدیق ہوئے۔ جیسا کہ اس روایت سے ظاہر ہے۔ ”واخرج ابو یعلی وابن عساکر عن ام ہانئ قالت دخل علی النبی ﷺ الی ان قالت فقال مطعم کل امرک قبل الیوم کان امماً غیر قولک الیوم انا اشہدانک کاذب نحن نضرب اکبادا لابل الی بیت المقدس
١٣٣
مصعداً شهراً ومنحدراً شهراً تزعم انك اتيته فى ليلة واللات العزى لا اصد قك فقال ابوبكر يا مطعم بئس ما قلت لا بن اخيك جبهته وكذبته انا اشهد انه صادق فقالوا يا محمد صف لنا بيت المقدس قال دخلته ليلاً وخرجت منه ليلا فاتاه جبرئيل عليه السلام فصوره فى جناحه فجعل يقول باب منه كذا فى موضع كذا و باب منه كذا فى موضع كذا وابوبكر يقول صدقت صدقت فقال رسول الله ﷺ يومئذٍ يا ابابكر ان الله قد سماك الصديق (الدر المنثور ج ٤ ص ١٤٨، ١٤٩) ”یعنی ام ہانیؓ نے معراج کا واقعہ بیان کر کے کہا کہ جب یہ واقعہ حضرت نے کفار سے بیان کیا تو مطعم نے کہا کہ اب تک آپ کا معاملہ ٹھیک تھا۔ سوائے اس بات کے جو اب کہہ رہے ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ تم جھوٹے ہو۔ ہم تو اونٹوں کو مار مار کے دو مہینے میں بیت المقدس کو جا کر آتے ہیں اور تم کہتے ہو کہ ایک ہی رات میں جا کر آگئے۔ لات وعزٰی کی قسم ہے کہ یہ تو میں ہرگز نہ مانوں گا۔ ابوبکرؓ نے کہا اے مطعم تو نے بری بات کہی۔ اپنے بھتیجے کو شرمندہ کیا اور ان کی تکذیب کی، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ سچے ہیں۔ پھر کفار نے حضرت سے کہا کہ بیت المقدس کا حال تو بیان کیجئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں رات کے وقت اس میں داخل ہوا تھا اور رات ہی میں اس سے نکلا یہ فرما ہی رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور اپنی بازو میں بیت المقدس کا نقشہ پیش نظر کر دیا۔ جس کو دیکھ دیکھ کر آپ علامتیں فرماتے کہ فلاں دروازہ فلاں مقام میں ہے اور فلاں دروازہ فلاں مقام میں اور ابوبکرؓ اس کی تصدیق کرتے جاتے تھے۔ اس روز آنحضرت ﷺ نے ابوبکرؓ سے فرمایا کہ اے ابوبکرؓ، اللہ نے تمہارا نام صدیق رکھا۔
اس سے ظاہر ہے کہ معراج جسمانی کی تصدیق کی وجہ سے حق تعالیٰ نے ابوبکرؓ کو لقب صدیق عطا فرمایا۔ اگر یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو کفار کو بھی اس میں کلام نہ ہوتا۔ کیونکہ خواب میں اکثر دور دور کے شہروں کی سیر کیا ہی کرتے ہیں۔
الحاصل اسلام میں معراج کا واقعہ گویا محک امتحان ہے۔ جس نے اس کا انکار کیا اس کی شقاوت ازلی کا حال کھل گیا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا شقاوت ہوگی کہ سب جانتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے کبھی بیت المقدس کو نہیں دیکھا تھا۔ باوجود اس کے جو جو نشانیاں پوچھتے گئے سب بتلا دیں اور رستے کے قافلہ کا حال پوچھا وہ بھی بیان کر دیا۔ جس کی تصدیق بھی ہوگئی پھر بھی تصدیق نہ کی اور مثل دوسرے معجزات کے اس کو بھی سحر ہی قرار دیا۔ جیسا کہ ان روایات سے ظاہر ہے“ (واخرج مسلم ج ١، باب الاسراء ص ٩٦) والنسائى وابن مردويه عن ابى
١٣٤
هريرة قال قال رسول الله ﷺ لقد رايتنى فى الحجر وقريش تسالنى عن مسراى فسالونى عن اشياء من بيت المقدس لم اثبتها فكربت كرباً ماكربت مثله قط فرفعه الله لى انظر اليه ماسالونى عن شى الا انباتهم به (كذافى الدر المنثور ج ٤ ص ١٥١) ’’یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب قریش مجھ سے بیت المقدس کے جانے کا حال دریافت کرنے لگے میں حطیم میں تھا۔ بہت سی چیزیں بیت المقدس کی انہوں نے ایسی پوچھیں جو مجھے بخوبی یاد نہ تھیں اس وقت مجھ کو ایسی فکر ہوئی کہ کبھی ہوئی نہ تھی۔ تب حق تعالیٰ نے اس کو میرے پیش نظر کر دیا پھر تو وہ جو سوال کرتے میں دیکھ کر فوراً جواب دے دیتا۔ ” واخرج ابو يعلى وابن عساكر عن ام هانئ ثم انتهيت الى عير بنى فلان فى التنعيم يقدمها جمل اورق وهاهى تطلع عليكم من الثنية فقال الوليد ابن المغيرة ساحر فانطلقوا فوجدوا كما قال فرموه بالسحر وقالوا صدق الوليد فانزل الله وما جعلنا الرؤيا التي اريناك الافتنة للناس (الدر المنثور ج ٤ ص ١٤٩)“ یعنی سفر بیت المقدس کے واقعہ کے اخیر میں حضرت نے یہ بھی فرمایا کہ واپسی کے وقت تنعیم میں مجھے ایک قافلہ ملا جس کے آگے آگے ایک اونٹ ہے۔ جس کا رنگ خاکستری ہے اور وہ یہی قریب میں ہے۔ ابھی ثنیہ پر تمہیں نظر آئے گا یہ سن کر ولید نے کہا کہ یہ ساحر ہیں اور لوگ قافلہ کی خبر لانے کو گئے۔ چنانچہ جس طور پر حضرت نے فرمایا تھا سب باتوں کی تصدیق ہوگئی۔ اس پر سب نے کہا ولید نے جو حضرت کو ساحر کہا تھا وہ سچ ہے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی ”وما جعلنا الرؤيا التى اريناك الافتنة للناس (بنی اسرائيل: ٦٠)“
اب یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ نیند کی حالت میں ہوا تھا کیا وہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا، جس کے مرزا قادیانی قائل ہیں۔ ان کو کتنے واقعات کا انکار کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ خواب کیسا ہی عجیب وغریب ہو اس کے بیان کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوتا اور نہ سننے والا اس کا انکار کرتا ہے۔ حالانکہ احادیث سے ثابت ہے کہ اس واقعہ کا بیان کرنا بخوف تکذیب قرین مصلحت نہیں سمجھا گیا تھا۔ جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے”واخرج الطبرانی وابن مردويه عن ام هانئ قالت فقال رسول الله ﷺ وانا اريد ان اخرج الى قريش فاخبرهم ما رايت فاخذت بثوبه فقلت انى اذكرك الله انك تأتى قوماً يكذبونك وينكرون مقالتك فاخاف ان يسطوا بك قالت فضرب ثوبه من يدى ثم خرج اليهم واتاهم جلوس فاخبرهم (الدر المنثور ج٤
١٣٥
ص١٤٨) ”یہ حدیث بہت طویل ہے۔ یہاں مقصود اسی حصہ سے متعلق ہے جو لکھا گیا۔ ماحصل اس کا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے ام ہانی سے سفر بیت المقدس کا واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے رات دیکھا ہے سب قریش سے بیان کردوں۔ میں نے حضرت کا دامن پکڑلیا اور کہا کہ خدا کے لئے آپ یہ کیا کرتے ہو۔ لوگ تو پہلے ہی سے آپ کی تکذیب اور آپ کی باتوں کا انکار کرتے ہیں۔ مجھے خوف ہے کہ یہ واقعہ سن کر کہیں حملہ نہ کر بیٹھیں۔ حضرت نے جھٹکا مار کر دامن چھڑا لیا اور ان کے مجمع میں جا کر سب واقعہ بیان فرمایا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو اس کی تکذیب کی کوئی وجہ نہ تھی۔ پھر ام ہانی کو اس کے بیان نہ کرنے پر اس قدر اصرار کیوں تھا اور احادیث سے ثابت ہے کہ جب کفار نے یہ واقعہ سنا تو بہت کچھ خوشیاں منائیں اور یہ سمجھ لیا کہ اب حضرت کی کسی بات کو فروغ نہ ہوگا۔ چنانچہ اس روایت سے ظاہر ہے ”واخرج ابن شيبه واحمد والنسائى والبزار والطبرانى وابن مردويه وابونعيم فى الدلائل والضياء فى المختاره وابن عساكر بسند صحيح عن ابن عباس قال قال رسول الله ﷺ لما كان ليلة اسرى بى فاصبحت فى مكة فظعت وعرفت ان الناس مكذبى فقعدت معتزلا حزينا فمربى عدوالله ابوجهل فجاء حتى جلس اليه فقال له كالمستهزئ هل كان من شئ قال نعم قال وماهو قال انى اسرى بى الليلة قال الى اين قال الى بيت المقدس قال ثم اصبحت بين ظهرانينا قال نعم فلم يرد ان يكذبه مخافة ان يجحده الحديث اذا دعا قومه اليه قال ارايت ان دعوت قومك اتحدثهم بما حدثتنى قال نعم قال هيا معشر بنى كعب بن لوى فانقضت اليه المجالس وجاؤا حتى جلسوا اليهما قال حدث قومك بما حدثتنى فقال رسول الله ﷺ انى اسرى بى الليلة قالوا الى اين قال الى بيت المقدس قالوا ايليا قال نعم قالوا ثم اصبحت بين ظهرانينا قال نعم قال فمن بين مصفق وبين واضع يده على راسه متعجبا قالوا وتستطيع ان تنعت المسجد وفى القوم من قد سافر اليه قال رسول الله ﷺ فذهبت انعت فمازلت انعت حتى التبس على بعض النعت فجلى بالمسجد وانا انظر اليه حتى وضع دون دار عقيل او عقال فنعته وانا انظر اليه فقال القوم اما النعت فوالله لقد اصاب (الدر المنثور ج٤ ص١٥٥) ”یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس رات میں بیت المقدس جاکر صبح
١٣٦
کہ میں آ گیا مجھے یقین ہوا کہ اس واقعہ میں لوگ میری تکذیب ضرور کریں گے۔ اسی خیال میں میں ایک طرف غمگین بیٹھا تھا کہ دشمن خدا ابو جہل آ کر میرے پاس بیٹھ گیا اور بطور استہزاء پوچھا کیوں کیا کوئی نئی بات ہے فرمایا ہاں کہا کیا ہے۔ فرمایا آج رات مجھے یہاں سے لے گئے تھے کہا کہاں فرمایا بیت المقدس کہا پھر صبح ہم لوگوں میں موجود ہو گئے۔ فرمایا ہاں، جب یہ سنا تو اس خیال سے کہ کہیں لوگوں کے روبرو انکار نہ کر جائیں۔ تکذیب نہیں کی اور کہا کیا یہ بات آپ لوگوں کے روبرو بیان کرو گے، فرمایا ہاں۔ یہ سنتے ہی بآواز بلند پکارا اے گروہ بنی کعب بن لوی اور فوراً جوق جوق لوگ وہاں ٹوٹ پڑے پھر حضرت سے کہا جو آپ نے مجھ سے کہا تھا وہ ان لوگوں سے بھی کہئے۔ فرمایا آج رات مجھے یہاں سے لے گئے تھے لوگوں نے پوچھا کہاں۔ فرمایا بیت المقدس کہا کیا ایلیا، فرمایا ہاں کہا۔ پھر صبح آپ ہم لوگوں میں موجود ہو گئے۔ فرمایا ہاں یہ سنتے ہی لوگوں کی یہ کیفیت ہوئی کہ کوئی تو تالیاں بجانے لگا کوئی تعجب سے سر پر ہاتھ رکھ لیا۔ پھر انہوں نے کہا کیا آپ مسجد کا حال بیان کر سکتے ہیں اور ان میں وہ لوگ بھی تھے جو بیت المقدس کا سفر کر چکے تھے۔ حضرت فرماتے ہیں کہ مسجد کا حال بیان کرنے لگا یہاں تک کہ بعض علامتوں میں کچھ اشتباہ سا ہو گیا۔ ساتھ ہی مسجد میرے سامنے دار عقیل کے ورے رکھی گئی۔ جس کو میں دیکھ دیکھ کر بیان کرنے لگا۔ ان لوگوں نے جب پوری علامتیں سن لیں تو بے ساختہ کہہ اٹھے کہ واللہ سب علامتیں برابر بتلائیں۔
یہاں چند امور قابل یاد رکھنے کے ہیں۔
- ١...... یہ حدیث صحاح اور مسند امام احمد اور مختارہ میں ہے اور بحسب تصریح
محدثین ثابت ہے کہ ان کتابوں کی صحت میں کوئی کلام نہیں۔
- ٢...... حضرت کا یقین کرنا کہ اس واقعہ کی تکذیب کریں گے۔ دلیل ہے اس
بات پر کہ یہ واقعہ خواب کا نہیں کیونکہ خواب میں اکثر عجیب و غریب خلاف عقل واقعات دیکھے جاتے ہیں۔ مگر کسی کو یہ فکر نہیں ہوتی کہ لوگ سن کر اس کی تکذیب کریں گے۔
- ٣...... حضرت بجائے اس کے کہ اس واقعہ معراج شریف سے شادان و فرحان
رہے، بیان کرنے کے پہلے نہایت غمگین رہے اس وجہ سے کہ کفار اس خلاف عقل واقعہ کی ضرور تکذیب کریں گے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے جب یہی خیال تھا تو بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی اور اگر ضرور بھی تھا تو صرف راسخ الاعتقاد۔ چند مسلمانوں سے بطور راز کہا جاتا۔ بخلاف اس کے ام ہانی نے کفار کے روبرو بیان کرنے سے بہت روکا اور خود حضرت کو بھی کمال درجہ کی فکر
١٣٧
دامنگیر تھی۔ یہاں تک کہ حزین وغمگین بہت دیر بیٹھے رہے۔ مگر آخر بیان کرنا پڑا ان امور میں غور کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت اس واقعہ کے بیان کرنے پر من جانب اللہ مامور اور مکلف تھے۔ اگرچہ اصل مقصود عجائب قدرت حضرت کو دکھانا تھا۔ مگر اس کے بعد اس مسئلہ کی حیثیت ہی کچھ دوسری ہوگئی اور ایک دینی مسئلہ ٹھہر گیا۔ پہلے حضرت مامور ہوئے کہ کفار اور مسلمانوں میں اس کا اعلان کردیں۔ پھر قرآن شریف میں اس کا ذکر فرما کر کہ قیامت تک کے آنے والوں کو اس کی اطلاع دی گئی اور منجملہ ان مسائل کے ٹھہرایا گیا جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔ گو خلاف عقل ہوں جیسے مسائل بحث ونشر ومقدورات الہی وغیرہ۔ چنانچہ ارشاد ہے ”سبحان الذي اسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى الذي باركنا حوله لنريه من آياتنا (بنی اسرائیل: ١)“ یعنی وہ خدا پاک ہے جو اپنے بندے محمد مصطفیٰ ﷺ کو راتوں رات مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ سے مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس لے گیا۔ جس کے گرداگرد ہم نے برکتیں دیں اور اس لے جانے سے مقصود یہ تھا کہ ہم ان کو اپنی قدرت کے چند نمونہ معائنہ کرائیں۔
اور اس واقعہ کے بعد اغراض اس طرح بیان کئے ۔ ”وما جعلنا الرؤيا التي اريناك الافتنة للناس (بنی اسرائیل : ٦٠)“ یعنی یہ جو تم کو دکھایا گیا اے محمدﷺ اس واسطے تاکہ لوگوں کی آزمائش ہو جائے۔ چنانچہ آزمائش اور فتنے کا حال بھی ابھی معلوم ہوگیا کہ بعض مسلمان کافر ومرتد ہوگئے اور کافروں کا کفر وانکار اور بڑھ گیا۔
- ٤....... کفار نے جب پوچھا کہ کیا آپ ﷺ رات بیت المقدس کو جاکر صبح ہم
میں موجود ہوگئے تو آپ ﷺ نے اس کی تصدیق کی اس سے صاف ظاہر ہے کہ جسم کے ساتھ حالت بیداری میں تشریف لے گئے تھے۔ ورنہ جواب میں فرماتے کہ یہ واقعہ تو خواب کا تھا۔ جس کے ساتھ یہاں سے گیا ہی کب تھا جو پوچھا جاتا ہے کہ ”ثم اصبحت بين ظهر انينا“ یعنی صبح یہاں موجود ہوگئے۔
- ٥....... ایسے موقع میں تالیاں بجانا اپنی کامیابی اور خصم کی ذلت کی علامت ہے
اور کامیابی اپنی وہ اسی میں سمجھتے تھے کہ جھوٹ ثابت کریں اور ظاہر ہے کہ خلاف عقل خواب سننے سے یہ جوش طبائع میں ہرگز نہیں پیدا ہوتا۔ اس میں تو توہین مقصود ہو تو زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ اضغاث احلام یعنی پریشان خواب ہیں جو قابل اعتبار نہیں ہو سکتے۔ حالانکہ کسی روایت سے یہ ثابت نہ کیا جائے گا کہ کسی مخالف نے اس واقعہ کو سن کر پریشان خواب کہا ہو۔
١٣٨
- ٦....... مقامی ع
کرتا۔ اس لئے کہ خواب کے بیا مطابق ہے۔ اسی وجہ سے اس م نہ ان کو علامات پوچھنے کا موقع طبع غیور کو لاحق ہوتی۔
- ٧....... امتحان
موقع میں ہوا تھا جس کی تفصی رات بیت المقدس وغیرہ میر الحاصل حدیث م واقعہ حالت بیداری میں ہوا کفار نے جب ہے کہ جو سنے گا عقل میں نہ آ خیال کیا کہ حضرت صد جائیں گے تو پھر کوئی حضر پہنچے اور کہا کہ لیجئے آپ ؐ آگئے کیا اسکی بھی تصدیق سے کب جنبش ہو سکتی تھی حضرت ﷺ نے فرمایا؟ وابن مردويه وال الى المسجد الا امنوابه وصدقوه انه اسرى به الل ذلك لقد صدق ق يصبح قال نع غدوة أوروحة عائشہؓ فرماتی ہیں کہ
- ٦...... مقامی علامتیں بطور امتحان دریافت کرنا خواب کے واقعہ میں نہیں ہوا
کرتا۔ اس لئے کہ خواب کے بیان کرنے والے کو یہ دعویٰ ہی نہیں ہوتا کہ جو دیکھا ہے وہ واقع کے مطابق ہے۔ اسی وجہ سے اس میں تعبیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ واقعہ خواب میں دیکھا گیا ہے تو نہ ان کو علامات پوچھنے کا موقع ملتا نہ حضرت ﷺ کو جواب دینے کی ضرورت ہوتی اور نہ فکر و کرب طبع غیور کو لاحق ہوتی۔
- ٧...... امتحان کے وقت نقشہ مسجد کا پیش نظر ہونے سے ظاہر ہے کہ کشف اس
موقع میں ہوا تھا جس کی تصریح فرمادی۔ اگر پورا واقعہ کشفی ہوتا تو اسی طرح صراحۃً فرما دیتے کہ رات بیت المقدس وغیرہ میرے پیش نظر ہو گئے تھے۔
الحاصل حدیث موصوف میں غور کرنے سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ یہ واقعہ حالت بیداری میں ہوا ہے۔
کفار نے جب حضرت ﷺ سے یہ واقعہ سنا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ خبر ایسی کھلی جھوٹ ہے کہ جو سنے گا عقل میں نہ آنے کی وجہ سے اس کی تکذیب کر دے گا۔ اس لئے انہوں نے پہلے یہ خیال کیا کہ حضرت صدیق اکبر کو فتنے میں ڈالیں۔ جب نعوذ باللہ وہ حضرت ﷺ سے پھر جائیں گے تو پھر کوئی حضرت ﷺ کی رفاقت نہ دے گا۔ اس لئے فوراً وہ صدیق اکبرؓ کے مکان پر پہنچے اور کہا کہ لیجئے آپ ﷺ کے رفیق اب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آج رات بیت المقدس جا کر آ گئے کیا اسکی بھی تصدیق کی جائے گی۔ مگر وہاں شان صدیقی جلوہ گر تھی۔ ایسے باد ہوائی شبہات سے کب جنبش ہو سکتی تھی۔ آپؓ نے فرمایا کہ اس کی بھی تصدیق میں کوئی تامل نہیں۔ بشرطیکہ حضرت ﷺ نے فرمایا ہو۔ جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہے۔ ”واخرج الحاکم وصححه وابن مردويه والبيهقى فى الدلائل عن عائشة قالت لما اسرى بالنبی ﷺ الى المسجد الاقصى اصبح يحدث الناس بذلك فارتد ناس ممن کانوا امنوا به وصدقوه وسعوا بذلك الى ابی بکر فقالوا هل لك فى صاحبك يزعم انه اسرى به الليلة الى بيت المقدس قال او قال ذلك قالوا نعم قال لئن قال ذلك لقد صدق قالوا فتصدقه انه ذهب الليلة الى بيت المقدس وجاء قبل ان يصبح قال نعم انى لا صدقه بما هو أ بعد من ذلك أ صدقه بخبر السماء فى غدوة أو روحة فلذلك سمى ابا بکر الصديق (الدر المنثور ج٤ ص١٥٥)“ یعنی عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جس رات نبی ﷺ بیت المقدس جا کر واپس تشریف لائے اس کی صبح وہ واقعہ
١٣٩
لوگوں سے بیان فرمایا جس سے بہت لوگ جو حضرت پر ایمان لاکر ہر طرح کی تصدیق کر چکے تھے مرتد ہو گئے۔ پھر کفار ابوبکرؓ کے پاس آکر کہنے لگے کیا اب بھی آپ اپنے رفیق یعنی آنحضرت ﷺ کی تصدیق کروگے۔ لیجئے وہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ آج رات وہ بیت المقدس جاکر آگئے کہا کیا حضرت ﷺ نے یہ فرمایا ہے۔ کہا ہاں کہا اگر فرمایا ہے تو یقیناً سچ ہے کہا کیا تم اس کی تصدیق کرتے ہو کہ وہ رات بیت المقدس تک گئے اور صبح سے پہلے واپس آگئے۔ فرمایا ہاں میں تو بیت المقدس سے دور کی باتوں کی تصدیق کرتا ہوں۔ یعنی جو صبح شام آسمان کی خبریں بیان فرماتے ہیں ان کو صحیح جانتا ہوں۔ عائشہؓ فرماتی ہیں اسی وجہ سے ان کا نام صدیق رکھا گیا۔
اس روایت سے ظاہر ہے کہ کفار کے ذہن نشین یہی کرایا گیا تھا کہ حضرت ﷺ حالت بیداری میں بیت المقدس جاکر تشریف لائے اور اسی کی تصدیق پر صدیق اکبرؓ بلقب صدیق ملقب ہوئے۔ اگر کفار نے سمجھا نہ تھا یا بہتان کیا تھا تو عائشہؓ اس کی تصریح فرمادیتیں کہ یہ کفار نے بہتان کیا تھا۔ درحقیقت وہ خواب تھا۔
اب اس روایت کی قوت کو دیکھئے کہ باوجود یکہ حاکم کا میلان تشیع کی طرف تھا جیسا کہ مولانا شاہ عبدالعزیز صاحبؒ بستان المحدثین میں لکھتے ہیں اور اس حدیث سے صدیق اکبرؓ کی فضیلت صدیقیت ثابت ہوتی ہے۔ مگر قوت اسناد کے لحاظ سے مستدرک میں اس کو لکھ کر تصریح کر دی کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عائشہ صدیقہؓ بھی معراج جسمانی کی قائل ہیں۔ پھر یہ جو کہا جاتا ہے کہ وہ معراج جسمانی کی قائل نہیں ہیں کیونکر صحیح ہوگا۔
اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بہت سے مسلمانوں نے مرتد ہونے اور دین اسلام کو چھوڑ دینے کو گوارہ کیا۔ مگر معراج جسمانی کو نہ مان سکے۔ جیسا کہ دوسری احادیث سے ابھی معلوم ہوا واضح رہے کہ ایسے لوگوں کو مسلمان کہنا مجازی طور پر ہے۔ حقیقت میں تو وہ کفار ازلی تھے اور تعجب نہیں کہ برائے نام مسلمان کہلاتے ہوں۔ کیونکہ مسلمانوں کے ایسے بودے اعتقاد نہیں ہوا کرتے۔
" واخرج البزار وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل وصححہ عن شداد بن اوس قال قلنا یا رسول اللہ کیف اسری بک فقال صلیت لاصحابی العتمۃ بمکۃ معتما فاتانی جبرئیل بدابۃ بیضاء...... لی ان قال ثم انصرف بی فمررنا بعیر قریش بمکان کذا وکذا وقد ضلوا بعیر لہم قد جمعہ فلان فسلمت علیہم فقال بعضہم ہذا صوت
١٤٠٠
محمدﷺ ثم اتيت اصحابى قبل الصبح بمكة فاتانى ابوبكر فقال يا رسول الله اين كنت الليلة قد التمسك فى مكانك فقلت اعلمت انى اتيت بيت المقدس الليلة فقال يا رسول الله انه مسيرة شهر فصفه لى قال ففتح لى صراط كانى انظر اليه لا تسالونى عن شى الا انباتكم عنه فقال ابوبكر اشهد انك رسول الله وقال المشركون انظر وا الى ابن ابى كبشه زعم انه اتى بيت المقدس الليلة فقال ان من آية ما أقول لكم انه مررت بعير لكم بمكان كذا وكذا وقد اضلوا بعيرا لهم فجمعه فلان وان مسيرهم ينزلون بكذا ثم كذا وياتونكم يوم كذا وكذا يقدمهم جمل آدم عليه شيخ اسود وغرار تان سود اوتان فلما كان ذالك اليوم اشرف القوم ينظرون حتى كان قريباً من نصف النهار قدمت العير يقدمهم ذالك الجمل الذى وصفه رسول الله ﷺ (ذكره الامام السيوطى بطوله فى الدر المنثور ج٤ ص١٤٠) " یعنی شداد بن اوس کہتے ہیں ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ کو بیت المقدس کس طرح لے گئے۔ فرمایا میں جب صحابہ کے ساتھ عشا پڑھ چکا تو جبرئیل میرے لئے سواری لائے۔ پھر تمام واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ جب ہم بیت المقدس سے لوٹے تو فلاں مقام میں ایک قافلہ پر ہمارا گذر ہوا جو مکہ کو جا رہا تھا۔ ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا۔ جس کو فلاں شخص نے گھیر لایا۔ اس حالت میں میں نے ان پر سلام کیا بعضوں نے کہا یہ تو محمد ﷺ کی آواز ہے۔ غرض کہ صبح سے پہلے میں مکہ کو اپنے صحابہ میں پہنچ گیا۔ پھر ابو بکر میرے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ آپ رات کہاں تھے میں نے آپ کو آپ کے مقام پر تلاش کیا میں نے کہا تم جانتے ہو میں رات بیت المقدس گیا تھا۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ وہ تو ایک مہینے کی راہ ہے اس کا کچھ حال بیان کیجئے۔ فرمایا وہ دور تو ہے لیکن خدائے تعالیٰ نے ایک رستہ میرے لئے ایسا نزدیک کا کھول دیا کہ وہ میرے پیش نظر ہو گیا وہاں کی جو بات تم پوچھو میں بتادوں گا۔ ابوبکر نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہو اور مشرکوں نے کہا دیکھو ابن ابی کبشہ یعنی محمد ﷺ کہتے ہیں کہ آج رات بیت المقدس کو جاکر آگئے۔ حضرت نے فرمایا میں ایک نشانی اس کی تمہیں بتلاتا ہوں کہ میرا گزر فلاں مقام میں تمہارے قافلہ پر ایسے وقت ہوا کہ ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا۔ جس کو فلاں شخص نے گھیر لایا اور ان کی رفتار ایسی تھی کہ فلاں مقام میں اتریں گے۔ اس کے بعد فلاں مقام میں اتریں گے اور فلاں روز وہ یہاں پہنچ جائیں گے۔ قافلہ کے آگے ایک سفید اونٹ ہے جس کی پیٹھ پر دو کالے گوں اور اس پر ایک بوڑھا سیاہ رنگ سوار ہے۔ جب وہ دن آیا تو ١٤١
لوگ اس قافلہ کو دیکھنے لگے۔ چنانچہ دوپہر کے قریب وہ قافلہ آ پہنچا اور جس طرح حضرت نے فرمایا تھا وہی اونٹ اس کے آگے تھا۔
اس حدیث سے ظاہر ہے کہ حضرت نے طے مکان کو اشارۃ بیان فرمایا اور صدیق اکبرؓ نے رسالت کی شہادت دے کر اس کی تصدیق کر لی۔ کیونکہ جب رسالت مان لی جائے تو اس کے سب لوازم مان لئے جاتے ہیں۔ دیکھئے لفظ انصرفت اور ثم اتیت قبل الصبح بمکہ سے ظاہر ہے کہ اس رات حضرت ﷺ مکہ میں تشریف نہیں رکھتے تھے اور اس پر قوی دلیل یہ ہے کہ صدیق اکبرؓ نے حضرت ﷺ کو اس رات تلاش کیا اور نہ پایا۔ اگر حضرت وہاں ہوتے تو فرما دیتے کہ میں تو وہیں تھا یا فلاں مقام میں تھا۔ بجائے اس کے صدیق اکبرؓ کے اس سوال کے جواب میں کہ آپ رات کہاں تھے یہ فرمانا کہ میں بیت المقدس گیا تھا۔ بآواز بلند کہہ رہا ہے کہ حضرت ﷺ مع جسم تشریف لے گئے تھے۔ پھر ظاہر ہے کہ اس قافلہ والوں پر ایسی جلدی کی حالت میں کہ سرعت سیر برق سے کم نہ تھی سلام کرنا اسی غرض سے تھا کہ خبر معراج سن کر ان کے دل اس کی صحت پر گواہی دیں۔ کیونکہ اپنے کانوں سے انہوں نے حضرت ﷺ کی آواز سن لی تھی۔
اور نیز جب کافروں نے کہا حضرت بیت المقدس کے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ان کے جواب میں یہ ارشاد ہے کہ جانے کی نشانی میں تمہیں بتلاتا ہوں۔ علانیہ ثابت کر رہا ہے کہ ان کے قول کو تسلیم کیا گیا کہ بے شک ہم گئے تھے اور اس کی نشانیاں سن لو۔ اگر خواب وغیرہ میں گئے ہوتے تو فرما دیتے کہ یہ میرا دعویٰ ہی نہیں اور جس طرح اس حدیث سے ثابت ہے کہ معراج حالت بیداری میں جسم کے ساتھ ہوئی ان احادیث سے بھی ثابت ہے۔ ”اخرج ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل وابن عساکر عن ابی سعید الخدریؓ قال حدثنا رسول اللہ ﷺ بالمدینة عن لیلة اسری به من مكة الى المسجد الاقصى قال بیننا انا نائم عشاء بالمسجد الحرام اذ آتانی آت فایقظنی فاستیقظت (الدر المنثور ج ٤ ص ١٤٢)“ یعنی ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ میں ہم لوگوں سے واقعہ معراج کا جو بیان فرمایا اس میں یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ اس رات میں مسجد میں سوتا تھا کہ یکا یک کسی شخص نے آ کر مجھے بیدار کیا۔ اس کے بعد پورا واقعہ اس حدیث میں مذکور ہے اور ایک روایت یہ بھی ہے ”عن ابی اسحق وابن جریر وابن المنذر عن الحسن بن الحسین قال قال رسول اللہ ﷺ بیننا انا نائم فی الحجر جاءنی جبرئیل فہمزنی برجله فجلست فلم ارشیا فعدت
١٤٢
لمضجعی فجاء نی الثانية فهمزنی بقدمه فجلست فلم ارشیا فعدت لمضجعی فجائنی فهمزنى بقدمه فجلست فاخذ بعضدى فقمت معه (الدر المنثور ج٤ ص١٥٧) ”یعنی آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں حطیم میں سو رہا تھا جو مسجد الحرام میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے جگایا مگر کوئی نظر نہ آیا۔ اس لئے پھر سو رہا پھر جگایا پھر بھی کوئی نظر نہ آیا اور پھر سو رہا۔ تیسرے بار کے جگانے میں میں اٹھ بیٹھا اور انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں ان کے ساتھ چلا اس کے بعد براق وغیرہ کا قصہ مذکور ہے۔
اب اہل انصاف غور فرمائیں کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”سبحان الذی اسری بعبده ليلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى (بنی اسرائیل:١)“ اور نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس اس رات میں جا کر آیا اور قرآن وحدیث میں کوئی لفظ ایسا نہیں جس سے خواب پر دلالت ہو اور مرزا قادیانی بھی (ازالۃ الاوہام ص٥٤٠، خزائن ج٣ ص٣٩٠) میں لکھتے ہیں ”یہ مسلم ہے کہ النصوص يحمل على ظواهرها“ اور خود آنحضرت ﷺ تصریح فرما رہے ہیں کہ یہ واقعہ حالت بیداری میں ہوا اور اس پر اتنے قرائن موجود ہیں جو مذکور ہوئے۔ پھر کسی ایماندار کو اس کے ماننے میں کیونکر تامل ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے صحابہ کو اس مسئلہ میں ذرا بھی شبہ نہ تھا۔ چنانچہ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ جو تفسیر (درمنثور ج٤ ص١٩١) میں ہے ”اخرج عبدالرزاق وسعيد بن منصور واحمد والبخارى والترمذى والنسائى وابن جرير وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبراني والحاكم وابن مردويه والبيهقى في الدلائل عن ابن عباس في قوله وما جعلنا الرؤيا التي اريناك الافتنة للناس قال هی رؤيا عين اريها رسول الله ﷺ ليلة اسرى به الى بيت المقدس وليست برؤيا منام “ یعنی آیہ شریفہ ”وما جعلنا الرؤيا التي اريناك الافتنة للناس“ کی تفسیر میں ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رؤیا سے مراد یہاں رؤیت چشم ہے۔ خواب میں دیکھنا مراد نہیں۔ یعنی شب معراج جو نشانیاں حضرت ﷺ کو بیت المقدس وغیرہ میں دکھلائی گئی تھیں وہ خواب نہ تھا۔
اب دیکھئے کہ باوجودیکہ رؤیا خواب کے معنی میں کثیر الاستعمال ہے۔ مگر چونکہ ابن عباسؓ کو خواہ تواتر کی وجہ سے یا خود آنحضرت ﷺ سے سن لیا تھا۔ معراج جسمانی کا یقین تھا اس لئے رؤیا کی تفسیر رؤیت چشم کے ساتھ کی جو لازمہ معراج جسمانی ہے۔ اگر ان کو اس بات میں ذرا
١٤٣
بھی قائل ہوتا تو قرآن کی تفسیر اس جزم کے ساتھ ہرگز نہ کرتے اور نہ اس کو جائز رکھتے۔ کیونکہ تفسیر بالرائے کو یہ حضرات کفر سمجھتے تھے۔
ابن عباسؓ سے انی متوفیک کے معنی ممیتک جو مروی ہیں اس کو مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام) میں بار بار ذکر کرتے ہیں اور ابن عباسؓ کے فضائل بیان کر کر کے لکھتے ہیں کہ نبیﷺ کی دعائے علم قرآن ان کے حق میں قبول ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ابن عباسؓ جس آیت کی تفسیر کرتے ہیں وہ صحیح اور قابل وثوق ہے۔ اس صورت میں ضرور تھا کہ مرزا قادیانی ابن عباسؓ کی اس تفسیر پر اعتماد کر کے معراج جسمانی کے قائل ہوتے مگر افسوس ہے کہ اس کو قابل اعتبار نہ سمجھا اور اس پر توجہ تک نہ کی۔ جس سے معلوم ہوا کہ ان احادیث فضیلت پر ایمان زبانی تھا۔
ابن عباسؓ نے روایت مذکورہ میں رؤیت کو دو قسموں میں منحصر کیا۔ رؤیت عینی اور رؤیت منامی۔ اگر رؤیت کشفی جو مرزا قادیانی کہتے ہیں کوئی علیحدہ چیز ہوتی تو اس کو بھی بیان کر دیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رؤیت کشفی کو انہوں نے انہیں دو سے کسی ایک میں داخل کر دیا ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اگرچہ منام میں دیکھنے والا بھی سمجھتا ہے کہ میں آنکھ سے دیکھ رہا ہوں مگر فی الواقع وہ چشم سر سے نہیں دیکھتا۔ یہی حال کشفی رؤیت کا بھی ہے۔ اس لئے کہ آنحضرتﷺ نے کشف سے قیامت تک کے حالات کو بیان فرمایا ہے۔ حالانکہ ان چیزوں کا وجود ہی اس زمانہ میں نہ تھا۔ پھر کیونکر کہا جائے کہ حضرت نے آنکھوں سے ان چیزوں کو دیکھا تھا۔ حالانکہ ابصار کی شرط جو تقابل رائی و مرئی ہے فوت ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ رویت کشفی رؤیت عینی نہیں ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ابن عباسؓ نے رویت کشفی کو رویت منامی میں داخل کر کے اس کی بھی نفی کر دی اور رؤیت عینی کو ثابت کیا۔
اس موقع میں تعجب نہیں کہ مرزا قادیانی اس کو بھی قبول کر لیں گے کہ حضرتﷺ نے وہیں بیٹھے ہوئے آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیا۔ جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص ٢٥٤، خزائن ج ٣ ص ٢٨١) میں ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو انکار یا تاویل یا رد و قدح کی ضرورت صرف وہاں ہوتی ہے جہاں ان کی عیسویت وغیرہ پر کوئی اثر پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ مثلاً اگر معراج جسمانی ثابت ہو جائے تو عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا ثابت ہو جاتا ہے۔ پھر جب وہ زندہ آسمان پر موجود ہوں تو احادیث کی رو سے لوگ انہیں کے انتظار میں لگ جائیں گے اور مرزا قادیانی کو کون پوچھے گا۔ اس وجہ سے معراج کا انکار ہی کر دیا اور شق القمر کے معجزہ کا کوئی اثر ان کے مباحث پر نہ تھا۔ اس لئے اس کو مان لیا۔
١٤٤
چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٣٠١، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤، ٢٥٣) میں لکھتے ہیں کہ ”معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو محض سماوی امور ہوتے ہیں جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا۔ جیسے شق القمر جو ہمارے سید ومولیٰ نبی ﷺ کا معجزہ تھا اور خدائے تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راست باز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس کو دکھایا تھا۔“
اور اس کے بہت سے نظائر ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ یہاں کلام اس میں تھا کہ تعجب نہیں مرزا قادیانی رؤیت عینی کو بھی مان لیں۔ کیونکہ اس سے کوئی ان کا ہرج نہیں۔ البتہ حرکت جسمانی کو وہ اس خیال سے محال سمجھتے ہیں کہ کہیں معراج کے ضمن میں عیسیٰ بھی آسمان پر نہ چڑھ جائیں۔ مگر رؤیت عینی کو اگر مان لیں تو کہا جائے گا کہ علم مناظر ومرایا میں ثابت کیا گیا ہے کہ مرائی رائی سے اس قدر دور ہو کہ اس کی نسبت اس بعد کی طرف ایسی ہو جیسے ایک کی نسبت پانچ ہزار تین سو کی طرف ہے تو وہ شے نظر نہ آئے گی۔ اس صورت میں مرزا قادیانی کے اس قول پر بھی حکماء ہنسیں گے۔ جس کا ان کو بہت خوف ہے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ١٤٦، خزائن ج ٣ ص ١٧٤) میں لکھتے ہیں کہ ”مسیح کے بارہ میں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا طبعی اور فلسفی لوگ اس خیال پر نہیں ہنسیں گے کہ جب کہ تیس یا چالیس ہزار فٹ تک زمین سے اوپر کی طرف جانا موت کا موجب ہے تو حضرت مسیح اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان تک کیونکر پہنچ گئے۔“
میری رائے میں اس فکر کی ضرورت نہیں۔ اگر طبعی اور فلسفی لوگ یہ سن لیں گے کہ مہینوں کی راہ سے چھوٹی چھوٹی چیزوں کا آنکھوں سے دیکھ لینا اور انگشت کے اشارہ سے آسمان پر چاند کے دو ٹکڑے کر دینا وقوع میں آ گیا ہے تو ایسی حیرت اور پریشانی میں پڑ جائیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے عروج پر ہنسنے کی نوبت ہی نہ آئے گی۔ غرض عجائب قدرت کو شب معراج اپنے مقام میں بیٹھے ہوئے دیکھنا نہ عقلاً ثابت ہو سکتا ہے نہ نقلاً اور اگر معجزہ کے طور پر تسلیم بھی کر لیا جائے تو قرآن کے خلاف ہوتا ہے کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ“ اس سے تو صراحۃً حضرت کو لے جانا ثابت ہے۔ پھر اگر لیجانا روحانی اور رؤیت جسمانی ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ حضرت کی روح مبارک بیت المقدس بلکہ آسمانوں پر گئی اور جسمانی آنکھیں بغیر روح کے مکہ میں پڑی دیکھ رہی تھیں اور یہ اس تقدیر پر لفظ اسریٰ بے معنی ہوئے جاتا ہے۔ وہاں تو توفی کے معنی پورے صادق آ جاتے ہیں۔ خود حق تعالیٰ فرماتا ہے ”اَللّٰهُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ
١٤٨
الاخرى (زمر:٤٢) ”جس کا مطلب یہ کہ نیند بھی ایک قسم کی وفات ہے۔ جس میں روح قبض کی جاتی ہے اور پھر چھوڑ دی جاتی ہے۔ پھر یہ بھی ثابت کرنے کی ضرورت ہوگی کہ بغیر روح کے بھی آنکھوں کو ادراک ہوسکتا ہے جو اس معراج میں مقصود بالذات تھا۔ لنریہ من آیاتنا! شاید یہاں یہ کہا جائے گا کہ آیۂ شریفہ وما جعلنا الرؤيا کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ محققین مفسرین ومحدثین نے تصریح کی ہے کہ ابن عباسؓ کا ترجمان القرآن ہونا مسلم ہے۔ اس لئے بہ نسبت اور تفسیروں کے ان کی تفسیر زیادہ تر قابل قبول ہے اور مرزا قادیانی کی تقریر سابق سے بھی یہی امر مستفاد ہے۔ پھر وہ روایت بھی کوئی ضعیف نہیں بلکہ بخاری وغیرہ کتب صحاح میں موجود ہے اور مرزا قادیانی بھی بخاری اور مسلم کی صحت اور قابل استدلال ہونے کے قائل ہیں۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٨٨٢، خزائن ج ٣ ص ٥٨٢) میں لکھتے ہیں کہ ”اگر میں بخاری اور مسلم کی صحت کا قائل نہ ہوتا تو میں اپنی تائید دعویٰ میں کیوں بار بار ان کو پیش کرتا۔“
غرض کہ ابن عباسؓ کی تفسیر اور بخاری شریف کی روایت دونوں مرزا قادیانی کے مسلمات سے ہیں اور ان سے معراج جسمانی ثابت ہوگئی۔ وهو المقصود!
کفار نے آنحضرت ﷺ پر اسی قدر اعتراض کیا تھا کہ اگر آپ بیت المقدس جاکر آئے ہیں تو وہاں کی نشانیاں بتلائیے۔ پھر جب نشانیاں بتلائی گئیں تو اور کوئی اعتراض ان کو نہ سوجھا سوائے اس کے کہ عناد کی راہ سے ساحر کہہ دیا۔ مگر مرزا قادیانی چونکہ پڑھے ہوئے اور فہم و ذکا میں ان سے بھی بڑے ہوئے ہیں اس لئے انہوں نے اس مسئلہ میں ضرورت سے زیادہ موشگافیاں کر کے ایسے اعتراضات قائم کئے کہ اب تک کسی کو سوجھے نہ تھے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٩٣٢، ٩٣٣، خزائن ج ٣ ص ٦١٢، ٦١٣) میں لکھتے ہیں کہ ”معراج کی حدیثوں میں سخت تعارض واقع ہے۔ کسی حدیث میں ہے کہ چھت کو کھول کر جبرئیل آئے اور میرے سینہ کو کھولا...... پھر ایک سونے کا طشت لایا گیا جس میں حکمت اور ایمان بھرا ہوا تھا۔ سو وہ میرے سینہ میں ڈالا گیا۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی طرف لے گیا۔ مگر اس میں یہ نہیں لکھا کہ وہ طشت طلائی جو عین بیداری میں ملا تھا کیا ہوا اور کس کے حوالے کیا گیا...... اور کسی حدیث میں میں بیت اللہ کے پاس خواب اور بیداری کے درمیان میں تھا اور تین فرشتے آئے...... اور ایک جانور بھی لایا گیا...... اور کسی میں براق کا کوئی ذکر نہیں۔...... اور کسی میں ہے کہ حطیم میں تھا یا حجرہ میں لیٹا ہوا تھا...... اور کسی میں ہے بعثت کے
١٤٦
پہلے یہ واقعہ ہوا اور بغیر براق کے آسمان پر گئے اور آخر میں آنکھ کھل گئی اور ان پانچوں واقعوں میں لکھا ہے کہ معراج کے وقت پہلے پچاس نمازیں مقرر ہوئیں اور بعد تخفیف پانچ منظور کرائیں اور ترتیب رؤیت انبیاء میں بڑا اختلاف ہے۔“
یہ جتنی باتیں مرزا قادیانی نے لکھی ہیں بے شک بخاری کی احادیث میں موجود ہیں باوجود اس کے کسی مسلمان کا ذہن انکے ابطال کی طرف منتقل نہ ہوا اور صحابہ کے زمانہ سے آج تک باوجود ان روایات متعارضہ کے باوجود معراج پر اجماع ہی رہا۔ اس لئے کہ جب یقینی طور پر کوئی چیز ثابت ہو جاتی ہے تو اس کے عوارض میں اختلاف ہونے سے اس یقین پر کوئی اثر پڑ نہیں سکتا۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی کو اپنی عیسویت ثابت کرنے کی غرض سے اس کے ابطال کی ضرورت ہے۔ اس لئے جن امور میں اغماض ہورہا تھا ان کو ظاہر کر دیا تا کہ ضعیف الایمان لوگوں کو اصل معراج ہی میں شک پڑ جائے۔ بہت خیر گذری کہ مرزا قادیانی احادیث ہی میں تعارض پیدا کرنے کے درپے ہوئے۔ اگر قرآن کی طرف توجہ کرتے تو اس قسم کے بہت سارے اعتراض اس میں بھی پیدا کر دیتے۔ ایک موسیٰ علیہ السلام ہی کا قصہ دیکھ لیجئے کہ حق تعالیٰ کہیں فرماتا ہے کہ موسیٰ کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا۔ ”ثم بعثنا من بعدهم موسى بآياتنا الى فرعون وملائه (اعراف:١٠٣)“ اور کہیں فرماتا ہے کہ صرف قوم فرعون کی طرف بھیجا ”واذ نادى ربك موسى ان ائت القوم الظالمين قوم فرعون (شعراء:١٠، ١١)“ اور کہیں فرماتا ہے کہ انہیں کو قوم کی ہدایت کو بھیجا ”ولقد ارسلنا موسى بآياتنا ان اخرج قومك من الظلمات الى النور (ابراهيم:٥)“ کہیں فرماتا ہے کہ موسیٰ اور ہارون کو بھیجا ”فاتيا فرعون فقولا انا رسول رب العالمين (شعراء:١٦)“
اور کہیں فرماتا ہے صرف موسیٰ کو بھیجا ”واذ نادى ربك موسى ان ائت القوم الظلمين (شعراء:١٠)“ کہیں فرماتا ہے کہ موسیٰ نے ساحروں سے ابتدا فرمایا کہ جو تم کو ڈالنا منظور ہو ڈال دو۔ ”وقال لهم موسى القوا ما انتم ملقون (يونس:٨٠)“ اور کہیں فرماتا ہے کہ پہلے ساحروں نے اس بات میں تحریک کی ”قالوا يا موسى اما ان تلقى واما ان نكون نحن الملقين (اعراف:١١٥)“ کہیں فرماتا ہے کہ فرعون کی قوم کو ڈبو دیا ”ثم اغرقنا الآخرين (صافات:٨٢)“ اور کہیں فرماتا ہے کہ فرعون اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا ”فاخذناه وجنوده فنبذناهم فى اليم (قصص:٤٠)“ اور اس کے نظائر قرآن میں
١٤٧
بکثرت ہیں۔ ہر چند یہ ظاہر میں اختلاف معلوم ہوتا ہے۔ مگر کیا کوئی مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ تعارض کی وجہ سے قابل اعتبار نہیں۔ نعوذ بالله من ذلك ! ممکن نہیں کہ اہل ایمان کے دل میں اس تعارض کا ذرا بھی اثر ہو یا اس کو تعارض سمجھیں۔ ادنیٰ تامل سے یہ بات معلوم ہو سکتی ہے کہ شارع کو واقعات بیان کرنے سے کہانی مقصود نہیں ہوتی کہ جب بیان کی جائے پوری بیان کی جائے۔ بلکہ وہاں ہر بیان میں ایک مقصود خاص پیش نظر ہوا کرتا ہے۔ پھر متعدد بیانوں سے پورا قصہ بھی معلوم ہو جاتا ہے۔
اب معراج کے قصہ میں غور کیجئے کہ جس کو خدا تعالیٰ کی قدرت پر ایمان ہو، کیا اس کو ان امور میں جو اس میں مذکور ہیں کچھ تامل ہوگا یا جیسے موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں متفرق امور مربوط و مرتب کئے جاتے ہیں۔ یہاں ممکن نہیں کیا یہ تصدیق ممکن نہیں کہ خدائے تعالیٰ نے کسی مصلحت سے چھت کھول کر فرشتوں کو حضرت کے مکان میں اتارا ہو اور پھر چھت کو ملا دیا ہو۔ جس میں ظاہراً ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ اجسام کے خرق والتیام کا پہلے ہی سے حضرت کو مشاہدہ ہو جائے اور شق صدر کے وقت کسی قسم کا تردد نہ ہو اور آسمانوں کے خرق والتیام کا استبعاد بھی جاتا رہے۔ کیا یہ محال ہے کہ فرشتوں نے حضرت کو گھر سے مسجد میں اس غرض سے لایا ہو کہ معراج اس متبرک مقام سے ہو اور تھوڑی دیر آپ آرام فرمانے کے بعد وقت مقررہ پر جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو جگایا ہو اور کیا جبرئیل علیہ السلام کو سونے کا طشت ملنا محال تھا یا یہ محال سمجھا گیا کہ اتنا بوجھ اٹھا کر وہ یا ان کے ساتھ کے فرشتے آسمان پر کیسے چڑھ گئے اور یہ تو کسی حدیث میں نہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضرت کو وہ طشت ہبہ کر دیا تھا پھر مرزا قادیانی جو اس سونے کے طشت کی تلاش کرتے ہیں کہ جو بیداری میں ملا تھا۔ کیا ہوا اور کس کے حوالے کیا گیا معلوم نہیں کس خیال پر مبنی ہے۔ جب طشت کا آسمان پر اٹھایا جانا مرزا قادیانی کی سمجھ سے باہر ہے تو فی الواقع آنحضرت ﷺ اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر جانا ہرگز ان کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسی خلاف عادت اور خلاف عقل باتوں پر ایمان لانا ہر کسی کا کام نہیں۔ جب تک فضل الٰہی شامل حال نہ ہو ممکن نہیں کہ آدمی خدا اور رسول کے ارشادات پر ایمان لاسکے۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ” بل الله يمن عليكم ان هدكم للايمان ان كنتم صادقين (حجرات: ١٧) “ یعنی بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو ایمان کا رستہ دکھایا۔ بشرطیکہ تم دعویٰ اسلام میں سچے ہو۔ اگر آدمی کو ایمان لانا منظور ہو تو قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کو پیش نظر رکھ
١٤٨
کر اور اپنے قصور فہم کا اعتراف کر کے ایمان لاسکتا ہے۔ جیسے کروڑ ہا مسلمان باوجود ان تمام مضامین مذکورہ کے جن کو مرزا قادیانی اپنی کامیابی کا سامان سمجھ رہے ہیں ایمان لاتے رہے اور جب ایمان لانا منظور نہیں ہوتا تو مشاہدہ بھی کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ چنانچہ کفار نے باوجود یکہ دیکھ لیا کہ حضرت نے ان کے تمام شبہات کے جواب دے دیئے۔ مگر جب بھی ایمان نہ لائے۔
تقریر بالا میں اگر غور کیا جائے تو مرزا قادیانی کے اکثر شبہات کے جواب ہو گئے۔ مثلاً بعض احادیث معراج میں براق کا نام چھوٹ گیا اور بعضوں میں ام ہانیؓ کے گھر میں پہلے آرام فرمانا اور بعضوں میں حطیم کا ذکر اور بعضوں میں جبرئیل علیہ السلام کا حضرت ﷺ کو جگانا ترک ہو گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کے واقعات کی ہر آیت میں بعض بعض امور فروگذاشت کئے گئے۔ باوجود اس کے تعارض کا احتمال بھی نہیں ہو سکتا۔ البتہ بعض روایات میں جو وارد ہے کہ معراج قبل بعثت ہوئی وہ خلاف واقع ہے۔ بجائے قبل ہجرت قبل بعثت کہا گیا ہے۔ جیسے متعدد احادیث سے اور اجماع سے ثابت ہے مگر اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی بعض تحقیقات سے مستفاد ہے کہ کبھی مؤخر چیز مقدم بھی کہی جاتی ہے۔ چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ انی متوفیک ورافعک میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں۔ جس ترتیب سے حق تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے وہی واقعی ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ پہلے رفع ہوا اور وفات بعد ہو گی وہ اپنے لئے خدا کی استادی کا منصب تجویز کرتے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذلک ، اس کا مطلب ظاہر ہے کہ جو ترتیب لفظی واؤ کے ساتھ ہوتی ہے مرزا قادیانی کے نزدیک وہ واقع کے مطابق ہوتی ہے۔ یعنی واؤ بھی ترتیب کے لئے ہے۔ اس قاعدہ کی بناء پر ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پہلے تھے اور ان کے بعد ایوب ، یونس، ہارون اور سلیمان علیہم السلام وجود میں آئے۔ کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”واوحینا الی ابرھیم واسماعیل واسحق ويعقوب والاسباط وعيسى وايوب ويونس وهارون وسليمان (نساء:١٦٣) ”جب بحسب تحقیق مرزا قادیانی اس آیہ شریفہ میں اشارۃ النص سے یہ ثابت ہوا کہ گویا حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ عیسیٰ پہلے تھے اور ایوب وغیرہ بعد ۔ حالانکہ تورات وانجیل و احادیث وغیرہ سے عیسیٰ علیہ السلام کے بعدیت یقیناً ثابت ہے اس بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ راوی نے اسی طرح معراج کو بعثت پر مقدم بیان کیا۔ جیسے عیسیٰ علیہ السلام ایوب ویونس وہارون علیہم السلام پر مقدم بیان کئے گئے۔ جس سے نہ کذب لازم آتا ہے نہ خلاف واقع خبر دینے کا الزام ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اسلام میں معراج ایک ایسا مشہور واقعہ ہے کہ ابتداء سے
١٤٥
آج تک ہر کسی کے زبان زد ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ جس واقعہ کی کیفیت طولانی ہو اور اس کے بیان کرنے والے بکثرت ہوں تو بعض امور میں ضرور اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ مگر اس اختلاف جزئی سے اصل واقعہ کے ثبوت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ بلکہ ہر فریق اس واقعہ کے وجود پر گواہ سمجھا جائے گا۔ دیکھئے جو لوگ قائل ہیں کہ معراج قبل بعثت ہوا وہ بھی معراج کے ایسے ہی مثبت ہیں۔ جیسے بعد بعثت کے قائلین۔ ہاں یہ کہا جائے گا کہ کسی نے تاریخ میں غلطی کی ہے جو اصل واقعہ سے خارج ہے۔ پھر وہ غلطی بھی دوسرے قرائن سے نکل سکتی ہے جیسا کہ خفاجیؒ نے شرح شفاء قاضی عیاضؒ میں لکھا ہے کہ بہت سی روایتوں اور اتفاق جمہور اور اجماع سے ثابت ہے کہ معراج بعد البعثت اور قبل ہجرت ہوا ہے۔ اس لئے قبل بعثت کی روایت قابل تاویل ہے۔
اصل منشاء اس قسم کے اختلافوں کا یہ ہے کہ اوائل اسلام میں ہر امر میں مقصود بالذات پیش نظر رہا کرتا اور اسی کا پورا پورا اہتمام ہوا کرتا تھا اور جن امور کو مقصود میں چنداں دخل نہیں ان کے یاد رکھنے میں بھی چنداں اہتمام نہ ہوتا۔ اس بات کا ثبوت اس سے ہو سکتا ہے کہ فی زماننا ادنیٰ ادنیٰ شیوخ و مشائخین کی تواریخ وفات وغیرہ میں کس قدر اہتمام ہوتا ہے کہ روز تو کیا وقت تک محفوظ رکھا جاتا ہے۔ بخلاف اس کے وہاں خود آنحضرت ﷺ کی وفات شریف میں اختلاف پڑا ہوا ہے۔ کسی روایت میں دوسری ربیع الاول کی ہے اور کسی میں تیرہویں اور کسی میں چودہویں ۔ اسی طرح بعثت کے وقت بھی بڑا ہی اختلاف ہے۔ کسی روایت میں ہے کہ اس وقت آنحضرت ﷺ کی عمر شریف برابر چالیس سال کی تھی کسی میں ہے کہ ایک روز زیادہ ہوا تھا اور کسی میں زیادتی دس روز کی اور کسی میں دو مہینے کی کسی میں تین برس کی اور کسی میں پانچ سال کی لکھی ہے اور سال ہجرت میں بھی بڑا اختلاف ہے۔ بخاری میں ہے کہ نبوت سے تیرہ برس کے بعد ہجرت ہوئی اور مسلم میں پندرہ برس کے بعد اور مسند امام احمد اور نیز بخاری میں دس برس کے بعد جیسا کہ مواہب اللدنیہ اور زرقانی میں لکھا ہے۔
الحاصل واقعات کی تاریخ اس زمانہ میں چنداں ضروری نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اسی وجہ سے صحابہ اور تابعین نے تاریخ معراج کی تحقیق میں کوشش نہ کی اور یہ سمجھ لیا کہ مقصود بالذات معراج ہے۔ خواہ قبل بعثت ہو یا بعد بعثت۔ اس کا وقوع ضرور ہوا۔ مرزا قادیانی کے جزئی سوالوں کے لحاظ سے ایک معراج ہی کیا، نہ آنحضرت ﷺ کی وفات ثابت ہوگی نہ ہجرت وغیرہ۔ (سیرۃ حلبیہ ج ٢ ص ٢٧٢) میں امام عبدالوہاب شعرانیؒ کا قول نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو پینتالیس بار
١٥٠
ظاہر ہے کہ جس واقعہ کی کیفیت طولانی ہو اور اس کے میں ضرور اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ مگر اس اختلاف میں آتا۔ بلکہ ہر فریق اس واقعہ کے وجود پر گواہ سمجھا باعث ہوا وہ بھی معراج کے ایسے ہی مثبت ہیں۔ کہ کسی نے تاریخ میں غلطی کی ہے جو اصل واقعہ سے سے نکل سکتی ہے جیسا کہ خفاجیؒ نے شرح شفاء قاضی اتفاق جمہور اور اجماع سے ثابت ہے کہ معراج بعد بات کی روایت قابل تاویل ہے۔ یہ ہے کہ اوائل اسلام میں ہر امر میں مقصود بالذات ہوتا تھا اور جن امور کو مقصود میں چنداں دخل نہیں ان بات کا ثبوت اس سے ہو سکتا ہے کہ فی زمانہ ادنیٰ بھی کس قدر اہتمام ہوتا ہے کہ روز تو کیا وقت تک آنحضرت ﷺ کی وفات شریف میں اختلاف پڑا ہے اور کسی میں تیرہویں اور کسی میں چودھویں ۔ اسی کسی روایت میں ہے کہ اس وقت آنحضرت ﷺ ہے کہ ایک روز زیادہ ہوا تھا اور کسی میں زیادتی دس اور کسی میں پانچ سال کی لکھی ہے اور سال ہجرت ہجرت سے تیرہ برس کے بعد ہجرت ہوئی اور مسلم میں ہجری میں دس برس کے بعد جیسا کہ مواہب اللدنیہ
میں چنداں ضروری نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اسی وجہ میں کوشش نہ کی اور یہ سمجھ لیا کہ مقصود بالذات کا وقوع ضرور ہوا۔ مرزا قادیانی کے جرحی سوالوں ﷺ کی وفات ثابت ہو گئی نہ ہجرت وغیرہ۔ (سیرۃ قول نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو پینتالیس بار
معراج ہوئی۔ ایک حالت بیداری میں جسم کے ساتھ اور باقی روحانی اور تفسیر روح البیان میں لکھا ہے ”قال الشيخ الاکبر الاظهر ان معراجه عليه السلام اربع وثلثون مرة واحدة بجسده والباقی بروحه“ یعنی شیخ محی الدین عربیؒ کا بھی یہی قول ہے کہ معراج چونتیس بار ہوئی۔ ایک بار بیداری میں اور باقی روحانی اس صورت میں جو معراج قبل بعثت ہوئی تھی اور جن معراجوں کا خواب میں ہونا معلوم ہوتا ہے وہ سب روحانی معراجوں میں داخل ہیں اور اس پر یہ قرینہ بھی ہے کہ قبل بعثت معراج ہونے کی حدیث جو (بخاری ص ١١٢٠، باب قول الله وکلم الله موسٰی تکلیما) میں ہے اس میں یہ الفاظ موجود ہیں ”انه جاءه ثلثة نفر قبل ان يوحٰی اليه وهو نائم فی المسجد“ اور اسی کے آخر میں ”فاستيقظ هو فی المسجد الحرام“ موجود ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت مسجد میں آرام فرماتے تھے۔ اس وقت تین فرشتے خواب میں آئے اور سب واقعہ دیکھنے کے بعد حضرت ﷺ بیدار ہو گئے اور یہ واقعہ قبل نزول وحی ہوا۔
اس حدیث کے سوا ان پانچوں حدیثوں میں جن کو مرزا قادیانی نے ذکر کیا ہے۔ اس صراحت سے کسی میں خواب مذکور نہیں البتہ ص ٣٥٥ کی حدیث میں بین النوم والیقظہ مذکور ہے۔ مگر اس کے آخر میں فاستیقظ یا اس کا مرادف کوئی لفظ نہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ وہ حالت آخر تک مستمر رہی۔ کیونکہ اس میں تو صرف ابتدائے حالت کا ذکر ہے کہ غنودگی تھی اور ظاہر ہے کہ بیدار مغز ادنیٰ حرکت سے چونک پڑتے ہیں۔
یہاں مرزا قادیانی یہ اعتراض ضرور کریں گے کہ خواب کی حدیث میں بھی وہی مضمون ہے جو بیداری میں معراج ہونے کی حدیثوں میں ہے اور اس میں بھی پچاس وقت کی نمازیں ابتداً فرض ہونا اور بعد کمی کے پانچ مقرر ہونا موجود ہے۔ جس سے یہ لازم آتا ہے کہ نمازیں دو وقت فرض ہوئیں۔ مگر اس کا جواب ادنیٰ تامل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جب قبل بعثت نبوت ملی ہی نہ تھی تو اس کے لوازم اور کسی چیز کا فرض ہونا کیسا۔ وہ خواب تو صرف تمہیداً دکھایا گیا تھا کہ آئندہ ایسی خصوصیات اور وہ وہ فضائل حاصل ہونے والے ہیں جو کسی کو نصیب نہ ہوئے۔ جس کے دیکھنے سے آنحضرت ﷺ کو ایک خاص توقع اور اشتیاق پیدا ہو گیا اور یہ تو کتب تاریخ سے بھی واضح ہے کہ سلاطین وغیرہ ہم جن کو غیر معمولی مدارج حاصل ہونے والے ہوتے ہیں۔ ان کو عالم رؤیا میں اکثر اطلاع ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس قسم کے خواب رسالہ (عجیب غریب خواب) میں بہت سے
١٥١
مذکور ہیں اور اس خواب میں بہت بڑا نفع یہ بھی ہوا کہ جب بیداری میں حضرت ﷺ تشریف لے گئے تو کسی مقام سے اجنبیت اور نا آشنائی نہ رہے جو باعث توحش ہو۔ پھر خواب فقط معراج ہی کے پہلے نہیں بلکہ ہجرت وغیرہ کے پہلے بھی ہوا تھا۔
جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہے ”عن ابی موسیٰ عن النبی ﷺ قال رایت فی المنام انی اھاجر من مکۃ الی ارض بھا نخل فذهب وھلی الی انھا الیمامۃ او ھجر فاذا ھی المدینۃ یثرب متفق علیہ (بخاری ج ١، باب ھجرۃ النبی ﷺ واصحابہ المدینہ ص ٥٥١)“ یعنی نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ مکہ سے ہجرت کر کے اس طرف جا رہا ہوں جہاں نخلستان ہے۔ اس وقت میرا خیال یمامہ اور ہجر کی طرف گیا۔ پھر یکا یک جو دیکھا تو وہ مدینہ یثرب تھا۔ مقصود یہ کہ ہجرت کا واقعہ قبل ہجرت معلوم کرایا گیا اور مقام ہجرت بھی دکھلایا گیا۔ مگر چونکہ حضرت ﷺ نے پیشتر مدینہ طیبہ کو غالباً دیکھا نہ تھا اور یمامہ اور ہجر کا نخلستان مشہور تھا اس سبب سے خیال ان شہروں کی طرف منتقل ہوا۔ مگر ساتھ ہی معلوم ہو گیا کہ وہ مدینہ ہے۔
الحاصل جس طرح ہجرت سے پہلے ہجرت خواب میں ہوئی اسی طرح معراج سے پہلے معراج خواب میں ہوئی۔ اب اہل اسلام اس بات میں بھی غور کر لیں کہ کیا اس حدیث ہجرت میں کوئی ایسی بات ہے کہ آنحضرت ﷺ کی غلطی پکڑی جائے۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی اس فکر اور تلاش میں رہتے ہیں کہ حضرت ﷺ کی غلطیاں پکڑیں ان کو یہاں اتنا موقع مل گیا کہ حضرت ﷺ نے (ذہب وھلی) فرمایا جس کے معنی وہم وخلاف واقع ہیں۔ پھر کیا تھا جھٹ سے غلطی ثابت ہی کر دی۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٦٨٩، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢) میں لکھتے ہیں کہ ”وہ حدیث جس کے یہ الفاظ ہیں ”فذهب وھلی الی انہ الیمامۃ او ھجر فاذا ھی المدینۃ یثرب “ صاف صاف ظاہر کر رہی ہے کہ جو کچھ آنحضرت ﷺ نے اپنے اجتہاد سے پیش گوئی کا محل ومصداق سمجھا تھا وہ غلط نکلا۔
غور کیجئے کہ حضرت ﷺ نے کب پیش گوئی کا دعویٰ کیا تھا کہ میں مکہ چھوڑ کر یمامہ پر ہجرت جاؤں گا۔ بلکہ وہ تو برسبیل حکایت فرمایا کہ خواب میں نخلستان دیکھ کر ہجر کا خیال تو ہوا تھا۔ مگر اسی وقت وہ مدینہ ثابت ہوا جو فاذا ھی المدینہ سے ظاہر ہے۔ اس سے تو کمال درجہ کا صدق ثابت ہورہا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس خیال کو جو خواب میں پیدا ہوا تھا خواب ہی میں فوراً بدل دیا تا کہ
١٥٢
وہ خواب اگر پیش گوئی کے لباس میں سمجھا جائے تو بھی اس غلطی کا احتمال باقی نہ رہے۔ مگر افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو حضرت سرور عالم ﷺ کی غلطی پکڑنے کی خوشی میں اپنی غلط فہمی پر نظر نہ پڑی اور مصرعہ ”عیب نماید ہنرش در نظر“ کا مضمون صادق کرتا یا یہ معنی بحث تھی کلام اس میں تھا کہ قبل وقوع واقعہ آنحضرت ﷺ کو خواب میں اطلاع ہو جاتی تھی۔ اس پر یہ حدیث بھی دلیل ہے۔ ”عن عائشۃ قالت اول مابدى بہ رسول اللہ ﷺ من الوحى الرؤيا الصالحۃ فی النوم فکان لایری رؤیا الا جاءت مثل فلق الصبح (رواہ البخاری ج ١ ص ٢، باب کیف کان بدؤ الوحی الی رسول اللہ ﷺ)“ یعنی عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ابتداء وحی کی رؤیائے صالحہ سے ہوئی جو کچھ حضرت ﷺ خواب میں دیکھتے اس کا ظہور روشن طور پر ہوتا۔ جس میں کوئی اشتباہ نہ رہتا۔ چنانچہ معراج کے واقعہ میں بھی ایسا ہی ہوا کہ جو واقعات خواب میں دیکھے تھے بلاکم و کاست بیداری میں بھی ملاحظہ فرمالیا۔
مرزا قادیانی جو لکھتے ہیں کہ مقامات انبیاء میں بڑا ہی اختلاف ہے۔ اس کا جواب تقریر بالا سے واضح ہے کہ نفس معراج میں ان امور کو کوئی دخل نہیں بلکہ یہ کل روایات مثبت معراج ہیں۔ البتہ اس اختلاف کا اثر نفس مقامات پر پڑیگا۔ جس سے یقینی طور پر یہ ثابت نہ ہوگا کہ کس نبی کا کون سا مقام ہے اور وہ کوئی ضروری بات بھی نہیں۔ اسی وجہ سے راویوں نے اس کے یاد رکھنے میں اہتمام نہ کیا۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ مقامات انبیاء کا مسئلہ منجملہ اسرار اور ایک لا یدرک بھید ہے۔ اسی وجہ سے بعض متکلمین نے اس میں کلام کرنے کو مناسب نہیں سمجھا۔ جیسا کہ شہاب خفاجیؒ نے شرح شفاء میں لکھا ہے۔ امام شعرانیؒ نے کتاب الیواقیت والجواہر میں لکھا ہے کہ معراج کے کئی فوائد ہیں ایک یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک جسم کو آن واحد میں دو مکانوں میں دیکھ لیا۔ چنانچہ حضرت جب پہلے آسمان پر گئے آدم علیہ السلام کو دیکھا کہ ان کے داہنے طرف ان کی نیک بخت جنتی اولاد ہے اور بائیں طرف بد بخت دوزخی ہیں۔ حضرت نے اپنی صورت نیک بخت جماعت میں دیکھ کر شکر کیا اور نیز موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ پھر انہیں کو دیکھا کہ آسمان پر بھی موجود ہیں اور یہ نہیں فرمایا کہ ان کی روح کو دیکھا۔
اس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اختلاف انبیاء علیہم السلام کے مقامات میں وارد ہے وہ راویوں کی غلطی نہ تھی۔ بلکہ فی الواقع متعدد مقامات ہی میں دیکھے گئے تھے اور یہ کوئی مستبعد بات
١٥٣
نہیں امام سیوطیؒ نے ایک مستقل رسالہ جس کا نام ”المنجلی فی تطور الولی“ ہے صرف اس مسئلہ میں لکھا ہے کہ اولیاء اللہ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ آن واحد میں متعدد مقامات میں ظاہر ہو سکتے ہیں اور سبب تالیف یہ لکھا ہے کہ شیخ عبدالقادر طہطوطیؒ ایک شب کسی شخص کے مکان میں رہے اس نے ایک مجلس میں شیخ کی شب باشی کا ذکر کیا۔ مجلس سے ایک شخص اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ وہ تو تمام رات میرے گھر میں تھے۔ ان دونوں میں ردو قدح کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہر ایک نے قسم کھائی کہ اگر وہ بزرگ میرے گھر میں رات بھر نہ رہے ہوں تو میری زوجہ پر طلاق ہے۔ جب شیخ سے پوچھا گیا تو انہوں نے دونوں کی تصدیق کی اور کہا اگر چار شخص کہیں کہ میں ان کے ساتھ مختلف مقامات میں وقت واحد میں رہا۔ جب بھی تصدیق کرلو۔ امام سیوطیؒ کے پاس جب یہ مسئلہ پیش ہوا تو انہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ کسی کی زوجہ پر طلاق نہیں پڑی اور کئی وقائع اور متقدمین علماء کے فتوے استدلال میں پیش کئے جن سے ظاہر ہے کہ اولیاء اللہ کو یہ قدرت دی جاتی ہے کہ جب چاہیں وقت واحد میں متعدد مقامات میں ظاہر ہوسکیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ مسند امام احمد اور نسائی وغیرہ میں یہ روایت ہے کہ جب کفار نے بطور امتحان مسجد کی نشانیاں حضرت ﷺ سے پوچھیں تو مسجد وہاں موجود ہوگئی۔ جس کو دیکھ دیکھ کر حضرت ﷺ ان کے جواب دیتے گئے ۔ ” قال رسول الله ﷺ فذهبت انعت فمازلت حتى التبس على بعض النعت فجلّى بالمسجد وانا انظر اليه حتى وضع دون دار عقيل اوعقال (در منثور ج ٤ ص ١٥٥) “ یہ حدیث پوری اوپر مذکور ہے امام سیوطیؒ اس حدیث کو نقل کر کے لکھتے ہیں کہ یہ بھی اس قسم کی بات ہے۔ کیونکہ اصل مسجد اپنی جگہ سے ہٹی نہ تھی اور یہاں بھی موجود تھی۔ جس کو حضرت ان الفاظ سے تعبیر فرماتے ہیں فجلّى بالمسجد حتى وضع دون دار عقيل اور تفسیر روح البیان میں امام شعرانیؒ کا قول نقل کیا ہے کہ شیخ محمد حضرمیؒ نے ایک ہی روز پچاس شہروں میں جمعہ کا خطبہ پڑھا اور امامت کی روض الرياحين اور کتب طبقات اولیاء اللہ سے ظاہر ہے کہ اس مسئلہ پر اولیاء اللہ کا اجماع ہے۔
غور کیا جائے کہ جب اولیاء اللہ کو اس عالم کثیف میں یہ قدرت حاصل ہو کہ وقت واحد میں متعدد جگہ موجود ہو سکتے ہیں اور مسجد دو جگہ آن واحد میں موجود ہوگئی تو انبیاء علیہم السلام کو اس عالم لطیف میں وہ قدرت حاصل ہونا کون سی بڑی بات ہے۔ غرض کہ انبیاء علیہم السلام کا مختلف مقامات میں حضرت سے ملنا گو بظاہر تعارض کی شکل میں نمایاں ہے۔ لیکن واقع میں وہ
١٥٤
تعارض نہیں۔ البتہ متوسط عقول اس کے سمجھنے میں قاصر ہیں۔ مگر غنیمت یہ ہے کہ مرزا قادیانی اس قسم کے اسرار کے قائل ہیں۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص٤٤٠، خزائن ج٣ ص٣٣٣، ٣٣٤) میں لکھتے ہیں کہ ”در حقیقت تمام ارواح کلمات اللہ ہی ہیں جو ایک لایدرک بھید کے طور پر ہے جس کی تہ تک انسان کی عقل نہیں پہنچ سکتی۔ روحیں بن گئی ہیں ...... کلمات اللہ ہی بحکم و باذن ربی لباس ارواح کا پہن لیتے ہیں اور ان میں وہ تمام طاقتیں اور قوتیں اور خاصیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جو روحوں میں پائی جاتی ہیں ...... پھر وہ روح کی حالت سے باہر آ کر کلمۃ اللہ ہی بن جاتی ہیں ...... اور ہمارے ظاہر بین علماء اپنے محدود خیالات کی وجہ سے کلمات طیبہ سے مراد محض عقائد یا اذکار و اشغال رکھتے ہیں۔“
کلمات کا ارواح بن جانا نہ کہیں قرآن میں ہے نہ حدیث میں۔ با وجود اس کے جب وہ لایدرک بھید قابل تصدیق ہے تو ارواح کا متعدد مقامات میں ہونا جو صراحۃً احادیث سے ثابت ہے لایدرک بھید قابل تصدیق کیوں نہ ہو اور جب کسی جسم کا متعدد مقامات میں آن واحد میں ہونا احادیث صحیحہ اور اجماع اولیاء اللہ سے مستبعد نہ ہو تو ارواح مقدسہ کا متعدد مقامات میں پایا جانا کیوں مستبعد ہو۔ الحاصل بعض انبیاء کی ارواح کا متعدد آسمانوں میں پایا جانا جو احادیث میں وارد ہے ایسی بات نہیں ہے کہ اس کی سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے بخاری شریف بے اعتبار کر دی جائے یا معراج ہی کا انکار کر دیا جائے۔ اگر قصور فہم کی وجہ سے یہ طریقہ اختیار کیا جائے تو قرآن شریف کا ایک معتدبہ حصہ نعوذ باللہ بے کار اور بے اعتبار ہوئے جاتا ہے۔ ایک تخت بلقیس ہی کا واقعہ دیکھ لیا جائے کہ کس قدر حیرت انگیز ہے۔ ایک بڑا شاندار تخت شاہی صد ہا کوس کے فاصلہ سے ایک لمحہ میں صحیح سالم سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچ جانا کیا معمولی عقول میں آسکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ شہاب خفاجیؒ نے شرح شفائے قاضی عیاض میں لکھا ہے کہ جس قدر مسافت مکہ معظمہ سے بیت المقدس کی ہے اس سے زیادہ مسافت کو اس تخت نے طرفۃ العین میں طے کیا۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”قال الذي عنده علم الكتاب انا آتيك به قبل ان يرتد اليك طرفك فلما راه مستقرا عنده قال هذا من فضل ربی (نمل:٤٠)“ ﴿ایک شخص جس کو کتابی علم تھا بولا کہ آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی تخت آپ کے حضور میں لا حاضر کرتا ہوں۔﴾ کیا ممکن ہے کہ کوئی مسلمان اس تخت کی غیر معمولی سرعت سیر میں کلام کر سکے۔ پھر حبیب رب العالمین ﷺ کی سرعت سیر وغیرہ میں کلام کرنا کیسی بات ہے ایماندار سے تو یہ ہرگز ممکن نہیں۔
١٥٥
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٢٨٩، خزائن ج ٣ ص ٢٤٧، ٢٤٨) میں لکھتے ہیں کہ ”باوجودیکہ آنحضرت ﷺ کے رفع جسمی کے بارہ میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم سمیت شب معراج میں آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے۔ تقریباً تمام صحابہ کا بھی اعتقاد تھا...... لیکن پھر بھی حضرت عائشہؓ اس بات کو تسلیم نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ رؤیائے صالحہ تھی۔“
اس تقریر سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ تقریباً کل صحابہ معراج جسمانی کے قائل تھے دوسری یہ کہ عائشہؓ اس کی منکر تھیں۔ کتب رجال وغیرہ سے ثابت ہے کہ صحابہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ لفظ تقریباً کے لحاظ سے اگر زیادتی حذف کی جائے تو بھی بقول مرزا قادیانی ثابت ہے کہ لاکھ صحابہ معراج جسمانی کا اعتقاد رکھتے تھے۔ یہ امر پوشیدہ نہیں کہ جس بات پر لاکھ صحابہ کا اعتقاد ہو۔ اسلام میں وہ کس قدر قابل وقعت ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ فرقہ ناجیہ وہی ہے کہ ان کا اعتقاد صحابہ کے اعتقاد کے موافق ہو۔ جیسا کہ اس حدیث شریف سے ظاہر ہے۔ ”عن ابن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ وتفترق امتى على ثلث وسبعين ملة كلهم فى النار الا واحدة قالوا من هى يارسول الله قال ما انا عليه واصحابی متفق علیه (مشکوۃ ص ٣٠، باب الاعتصام بالكتاب والسنة)“ اور یہ بھی ارشاد ہے کہ جو جماعت سے ایک بالشت علیحدہ ہو جائے وہ اسلام سے خارج ہے۔ ”كما فی (كنز العمال ج ١ ص ١٧٥، حدیث نمبر ٨٨٦) عن ابی داؤد قال قال رسول الله ﷺ من فارق الجماعة شبرا فقد خلع ربقة الاسلام من عنقه حم وك“ جب عموماً جماعت سے مخالفت کرنے والے کا یہ حال ہو تو لاکھ صحابہ کی جماعت کے مخالف کرنے والے کا کیا حال ہو اور آیہ شریفہ ”ويتبع غير سبيل المومنين نوله ماتولیٰ (نساء:١١٥)“ سے اس کی وعید ثابت ہے۔
اب رہا یہ کہ عائشہؓ معراج جسمانی کی منکر ہیں سو وہ بالکل غلط ہے۔ اس لئے کہ ابھی بروایت صحیحہ ثابت ہوا کہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ شب معراج بیت المقدس جا کر تشریف لائے اور وہ واقعہ بیان فرمایا تو بہت سے مسلمان مرتد ہوگئے اور کفار نے ابوبکرؓ سے جا کر کہا کیا اس کی بھی تصدیق کرو گے اور انہوں نے تصدیق کی اسی روز سے آپ کا نام صدیق قرار پایا۔
ادنیٰ تامل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اگر عائشہؓ کے نزدیک یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو ضرور فرماتیں کہ ان بے وقوفوں نے جو مرتد ہو گئے اتنا بھی نہ سمجھا کہ یہ واقعہ خواب کا ہے جو عادتاً ایسے
١٥:١
خلاف عقل خواب ہر شخص کو ہوا کرتے ہیں اور ابوبکرؓ کو کفار کا عار دلانا کس قدر بیہودگی اور حماقت تھی۔ پھر صرف خواب کی تصدیق پر لقب صدیق حق تعالیٰ کی طرف سے ان کو ملنا کیسا بد نما تھا۔
نعوذ بالله من ذلك!
عائشہؓ کا اس واقعہ کو بغیر تصریح خواب کے بیان کرنا صاف کہہ رہا ہے کہ وہ عالم بیداری میں تھا۔ جس پر یہ آثار مرتب ہوئے پھر جو ان سے یہ روایت ہے ”واخرج ابن اسحق وابن جرير عائشة قالت ما فقدت جسد رسول الله ﷺ ولكن الله اسری بروحه (درمنثور ج ٤ ص ١٥٧)“ یعنی عائشہؓ کہتی ہیں کہ معراج حضرت ﷺ کی روح کو ہوئی اور جسم مبارک میرے پاس سے غائب نہ ہوا کیونکر صحیح ہو گی۔ اوّل تو یہ روایت صحاح میں نہیں پھر اس میں یہ اختلاف ہے کہ بعض ما فقدت کہتے ہیں اور بعض ما فقد جیسا کہ شہاب خفاجیؒ نے شرح شفا میں لکھا ہے۔
اور شفاء قاضی عیاضؒ میں ہے کہ یہ حدیث محدثین کے نزدیک ثابت نہیں اس لئے کہ اس کی سند میں محمد ابن اسحق ہیں۔ جن کو امام مالکؒ نے ضعیف کہا ہے اور علامہ زرقانیؒ نے شرح مواہب میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند میں انقطاع ہے اور راوی مجہول ہے اور ابن دحیہؒ نے تنویر میں لکھا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے کسی نے صحیح حدیث کو رد کرنے کی غرض سے بنا لیا ہے۔
قطع نظر اس کے ما فقدت کی روایت تو کسی طرح صحیح ہو ہی نہیں سکتی۔ اس لئے کہ اس زمانہ میں عائشہؓ کا نکاح ہی ہوا نہ تھا۔ پھر ان کا یہ کہنا کہ حضرت میرے پاس سے مفقود نہ ہوئے۔ کیونکر صحیح ہو سکتا اور نہ وہ زمانہ ان کے سن شعور کا تھا۔ اس لئے کہ معراج کے سال میں اختلاف ہے۔ مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے کہ بعضوں کا قول ہے کہ بعثت سے ڈیڑھ سال بعد ہوا اور بعض پانچ سال کے بعد اور بعض ہجرت سے ایک سال پیشتر کہتے ہیں اگر اخیر کا قول بھی لیا جائے تو اس وقت ان کی عمر سات سال کی ہوگی۔ کیونکہ یہ روایت صحیحہ سے ثابت ہے کہ ہجرت کے وقت ان کی عمر آٹھ سال کی تھی اور ظاہر ہے کہ اس عمر میں تحقیق مسائل کی طرف توجہ نہیں ہوا کرتی اور دوسرے قول پر معراج کا زمانہ عائشہؓ کا سال ولادت ہے۔ اس لئے کہ بروایت بخاری جس کو مواہب میں ذکر کیا ہے معراج بعثت سے تیرہ سال کے بعد ہوئی اور جب ہجرت کے وقت ان کی عمر آٹھ سال کی تھی تو پانچواں سال جو اس قول پر معراج کا زمانہ ہے ان کی ولادت کا زمانہ ثابت ہوگا اور پہلے قول پر تو معراج ان کی ولادت با سعادت سے تخمیناً تین سال پیشتر ہو چکا تھا اور یہی قول درایۃً و روایۃً قابل وثوق معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اسلام میں جس قدر نماز کا اہتمام ہے کسی چیز کا نہیں اور جمیع
١٥٧
روایات سے ثابت ہے کہ نماز شب معراج میں فرض ہوئی اس لحاظ سے عقل گواہی دیتی ہے کہ زمانہ بعثت سے نماز کی فرض ہونے کا زمانہ بہت ہی قریب ہوگا اور اس قول کی پوری تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو (درمنثور ج ٤ ص ١٥٣) میں ہے۔ ’واخرج الطبرانی عن عائشة قالت قال رسول الله ﷺ لما أسری بی الی السماء ادخلت الجنة فوقعت علی شجرة من أشجار الجنة لم أرفی الجنة أحسن منها ولا أبيض ورقا ولا أطيب ثمرة فتنا ولت ثمرة من ثمرتها فاكلتها فصارت نطفة في صلبي فلما هبطت الى الارض واقعت خديجة فحملت بفاطمة فاذا انا اشتقت الى ريح الجنة شممت ريح فاطمة “ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے جب میں شب معراج آسمان پر گیا تو مجھے جنت میں لے گئے وہاں ایک جھاڑ دیکھا جس کے پتے نہایت سفید اور پھل نہایت پاکیزہ تھے۔ اس سے بہتر کوئی جھاڑ نظر نہ آیا۔ میں اس کا ایک پھل لے کر کھایا جس سے نطفہ میری پشت میں بنا جب میں زمین پر آیا اور خدیجہ کے ساتھ مصاحبت کا اتفاق ہوا تو فاطمہ کا حمل قرار پایا۔ اب جب کبھی مجھے جنت کی بو سونگھنے کا شوق ہوتا ہے تو فاطمہ کی بو سونگھ لیتا ہوں۔
دیکھئے معراج کا بعثت سے دوسرے سال ہونا اس روایت سے بوضاحت معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ مواہب اللدنیہ میں علامہ قسطلانیؒ نے لکھا ہے کہ فاطمۃ الزہرا علیہا وعلیٰ ابیہا الصلوٰۃ والسلام کی ولادت باسعادت کے وقت آنحضرت ﷺ کی عمر شریف اکتالیس سال کی تھی۔ چونکہ عرب کی عادت ہے کہ سال پر جو مہینے زیادہ ہوتے ہیں اکثر حذف کر دیتے ہیں۔ اس اعتبار سے جائز ہے کہ بعثت کے دوسرے سال کے آخر میں آپ کی ولادت ہوئی ہو اور معراج اسی سال کے نصف اوّل میں ہوئی ہو جس سے مدت حمل دونوں کے مابین میں پوری ہو جاتی ہے۔ الحاصل اس روایت کے لحاظ سے تاریخ معراج کے تین قولوں میں یہی قول مناسب تر ثابت ہوتا ہے ورنہ دوسرے اقوال پر یہ روایت بے ضرورت خلافِ واقع ٹھہرتی ہے۔ اب دیکھئے کہ تاریخی واقعات کے لحاظ سے بھی یہ حدیث روایت مافقدت جسد رسول الله ﷺ کو غیر صحیح ثابت کر رہی ہے اور لطف خاص یہ ہے کہ روایت تناول میوہ عائشہؓ ہی سے مروی ہے اور نیز یہ بات اس حدیث سے ظاہر ہے کہ عائشہؓ معراج جسمانی کی قائل تھیں۔ اس لئے کہ عقلاً اور عادۃً محال ہے کہ کوئی چیز خواب میں کھائی جائے اور اس سے نطفہ بنے۔ اگر کہا جائے کہ خدائے تعالیٰ کی قدرت میں وہ محال نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے مانا کہ اس حدیث میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ حضرت نے بیداری میں جنت کا پھل تناول فرمایا جو نطفہ بن گیا۔ دوسرا خواب میں اس کا تناول فرمانا مگر
احتمال اول صرف احتمال ہی نہیں بلکہ الفاظ وعبارت اسی پر دال ہیں اور قرینہ بھی اسی کا شاہد ہے اور دوسرا احتمال نہ الفاظ سے پیدا ہوتا ہے نہ کوئی اس پر لفظی قرینہ ہے۔ بلکہ صرف اس خیال سے پیدا کیا جاتا ہے کہ معراج جسمانی عادۃً جائز نہیں۔ حالانکہ عقلاً اس کا جواز اور قرآن واحادیث واجماع صحابہ سے اس کا وقوع ثابت ہے۔ اس صورت میں وہ معنی جو عبارت النص اور دلائل قطعیہ سے ثابت ہیں۔ چھوڑ کر ایک ضعیف مردود احتمال پیدا کرنا کیونکر جائز ہوگا۔ اب رہا یہ کہ قدرت الٰہی سے خواب میں کھایا ہوا پھل نطفہ بن جانا سو ہمیں بھی اس قدرت میں کلام نہیں۔ مگر جیسی یہ قدرت ہے ویسا ہی بیداری میں جسمانی معراج کرانا بھی قدرت الٰہی میں داخل ہے۔ پھر ایک قدرت کو ماننا اور دوسری کو نہ مان کر قرآن واحادیث واجماع صحابہ وغیر ہم کا انکار کرنا کس قسم کی بات ہے۔ الحاصل عائشہؓ کی اس روایت مرفوع سے بھی مافقدت جسدہ والی حدیث موقوف غیر صحیح ثابت ہوتی ہے۔
اب غور کیا جائے کہ جب عائشہؓ خود یہ حدیثیں روایت کر رہی ہیں کہ حضرت رات بھر میں بیت المقدس جا کر تشریف لائے جس کو سن کر بہت سے مسلمان مرتد ہو گئے۔ اور صدیقیت کا لقب اسی کی تصدیق سے ابوبکرؓ کو ملا اور اپنی ولادت سے پیشتر جسمانی معراج ہوئی تو کیونکر خیال کیا جائے کہ باوجود اس کے انہوں نے یہ بھی کہا ہوگا کہ شب معراج حضرت کا جسم مبارک اپنے پاس سے غائب نہ ہوا یا روحانی معراج تھی۔ غرض ان متعدد قرائن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حسب تصریح علامہ قسطلانی حدیث مافقد جسدہ موضوع ہے۔
اصل منشاء اس حدیث کے بنانے کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسروقؒ نے عائشہؓ سے پوچھا کہ کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے اس سوال سے میرے جسم پر رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اگر یہ بات کوئی تم سے کہے تو سمجھو کہ وہ جھوٹا ہے۔ کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”لا تدرکہ الابصار (انعام:١٠٣)“ اس پر کسی نے خیال کیا ہوگا کہ وہ معراج جسمانی کی قائل نہیں۔ کیونکہ یہ بات مشہور تھی کہ رؤیت آنحضرت ﷺ کو شب معراج ہوئی ہے اس قرینے سے ان کو یہ حدیث بنانے کا موقع ہاتھ آ گیا۔ جس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ احادیث میں تعارض پیدا کر دیں۔ ان لوگوں نے یہ نہ سمجھا کہ رؤیت قلبی معراج جسمانی کے منافی نہیں۔ جیسا کہ شفاء قاضی عیاض میں لکھا ہے کہ بعض اصحاب اشارات کا قول ہے کہ معراج تو جسمانی تھا مگر اس لحاظ سے کہ کہیں محسوسات اور عجائب کی طرف دل مائل نہ ہو۔ حضرت نے آنکھیں بند کر لی تھیں اور اسی حالت میں دیدار الٰہی ہوا۔
١٥٩
بحث معراج میں غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس میں کئی امور مقصود بالذات تھے ایک اظہار معجزہ جس سے کفار کو الزام دینا مقصود تھا۔ چنانچہ اس کا ظہور یوں ہوا کہ سب جانتے تھے کہ حضرت ﷺ بیت المقدس کبھی گئے نہ تھے۔ مگر جو جو نشانیاں اس کے وہ پوچھتے گئے حضرت ﷺ نے پوری پوری بتلادیں جس سے وہ قائل ہو گئے۔
دوسرا مسلمانوں کا امتحان ”وما جعلنا الرؤيا التي اريناك الافتنة للناس (بنی اسرائیل:٦٠)“ چنانچہ اس واقعہ سے بہت سے لوگ مرتد ہو گئے۔
تیسرا قدرت کی نشانیاں دکھلانا جیسا کہ ارشاد ہے ”لنریه من آياتنا (بنی اسرائیل:١)“ ”لقد رأى من آيات ربه الكبرى (نجم:١٨)“
چوتھا تقرب اور دنوے بلا کیف سے ایک خاص غیر معمولی طور پر حضرت ﷺ کو مشرف کرنا جیسا کہ ارشاد ہے ”ثم دنا فتدلى فكان قاب قوسين او ادنیٰ (نجم:٨،٩)“ اس واقعہ میں معجزہ کی حیثیت صرف بیت المقدس تک جا کر آنے میں ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ آسمانوں کے وقائع بیان کرنے سے کفار پر کوئی الزام قائم نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے جن احادیث میں ذکر ہے کہ کفار کے روبرو حضرت نے اسراء کا حال بیان کیا ان میں صرف بیت المقدس اور اس کے رستہ ہی کے وقائع مذکور ہیں اور قرآن شریف میں بھی صراحۃً اسی کا ذکر ہے۔ اگر کفار سے کہا جاتا کہ آسمانوں پر گئے اور انبیاء سے ملاقات کی اور جنت و دوزخ وغیرہ دیکھے تو کوئی حجت قائم نہ ہوتی۔ جیسے بیت المقدس کے نشانیاں دیکھی ہوئی بیان کرنے میں حجت قائم ہو گئی اور ان کو نادم ہونا پڑا۔ بیت المقدس سے آسمانوں پر جانا گو اعلیٰ درجہ کا معجزہ ہے۔ لیکن اس میں تحدی اور کسی کو الزام دینا مقصود نہیں۔ بلکہ وہ منجملہ ان فضائل و خصوصیات کے ہے جو حق تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم ﷺ کے واسطے خاص کی تھیں۔ در حقیقت وہ ایک راز کی بات تھی جس کے سننے کے مستحق وہی ہوا خواہ تھے جو اپنے ولی نعمت کی ترقی مدارج اور فضائل سن کر خوش ہوا کرتے تھے پھر وہاں کی باتیں سب ایسی نہ تھیں کہ ہر شخص کی عقل ان کو قبول کر سکے اور حضرت ہر شخص کی طبیعت اور حالت سے خوب واقف اور حکیم تھے۔ اس لئے بمقتضائے حکمت ہر ایک کو علیٰ قدر مراتب عقول ان اسرار پر مطلع فرمایا اسی وجہ سے رؤیت کے مسئلہ میں بہت اختلاف ہے۔ بعضے رؤیت عینی کے قائل ہیں اور بہت سے رؤیت قلبی کے قاضی عیاضؒ نے (شفاء ج١ ص١٢٠) میں ترمذی سے نقل کیا ہے۔ ”روی عبدالله بن الحارث قال اجتمع عباس وكعب فقال ابن عباس اما نحن بنوهاشم فنقول ان محمدا رأى ربه فكبر كعب حتى جاوبته الجبال وقال
ان اللہ قسم رویۃ وکلامہ بین محمد ﷺ وموسیٰ وراہ محمد بقلبہ‘‘
”وقال ابن عباس فیماروی الحاکم والنسائی والطبرانی ان اللہ اختص موسیٰ بالکلام وابراھیم بالخلۃ ومحمد ﷺ بالرؤیۃ وعن ابن
عباس انہ رأہ بعینہ ھذا کلہ (فی الشفاء ج ١ ص ١١٩، ١٢٠، وشرحہ للخفاجی)
حاصل اس کا یہ ہے کہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ لوگ کچھ بھی کہیں ہم بنی ہاشم تو یہی کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور یہ حضرت کی خصوصیت تھی جو کسی نبی کو حاصل نہ ہوئی۔ اب دیکھئے بنی ہاشم خصوصاً ابن عباسؓ کا یہ کہنا کہ حضرت ﷺ نے اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بظاہر ”لا تدرکہ الابصار“ کے معارض ہے۔ پھر کیا یہ ممکن ہے کہ وہ حضرت ﷺ کی قرابت یا محبت کی وجہ سے اس نص قطعی کے مخالف یہ رائے قائم کئے ہوں گے ہرگز نہیں۔ ان حضرات نے ضرور آنحضرت ﷺ سے وہ سنا ہوگا اگر یہ حسن ظن نہ کیا جائے تو بہت بڑا الزام تفسیر بالرائے کا ان کے ذمہ عائد ہوگا اور اس حسن ظن پر یہ قرینہ بھی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے ان کو دیکھا کہ علاوہ کامل الایمان ہونے کے بمقتضائے قرابت اور فرط محبت خصوصیات وفضائل کاملہ انہیں سن کر سب سے زیادہ خوش ہونے والے یہی لوگ ہیں۔ اس لئے ان کو اس قابل سمجھا کہ اس راز پر مطلع کئے جائیں اور حق تعالیٰ نے بھی اپنے کلام پاک میں بطور راز حضرت ﷺ کی تصدیق فرمادی تا کہ ان راز دانوں کا ایمان اور مستحکم ہو جائے۔ ”والنجم اذا ھویٰ . ماضل صاحبکم وماغویٰ . وماینطق عن الھویٰ . ان ھو الا وحی یوحیٰ . علمہ شدید القویٰ . ذومرۃ فاستویٰ . وھو بالافق الاعلیٰ . ثم دنا فتدلیٰ . فکان قاب قوسین او ادنیٰ . فاوحیٰ الی عبدہ ما اوحیٰ . ماکذب
الفؤاد مارأیٰ . افتمارونہ علیٰ مایریٰ . ولقد رأہ نزلۃ اخریٰ (نجم: ١ تا ١٣)“
”قسم ہے تارے کی جب گرے، بہکے نہیں تمہارے رفیق یعنی محمد ﷺ اور بے راہ نہیں چلے اور نہیں بولتے وہ اپنی خواہش سے یہ تو حکم ہے جو پہنچاتے ہیں سکھایا ان کو سخت قوتوں والے زور آور نے پھر سیدھا ہوا کنارہ بلند پر پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا پھر رہ گیا فرق دو کمان کے برابر پھر جو پیغام اپنے بندے کی طرف بھیجنا تھا بھیجا ان کے دل نے اس میں کچھ جھوٹ نہیں ملایا۔ اب کیا تم جھگڑتے ہو اس پر جو انہوں نے دیکھا اس کو ایک دوسری بار۔“
دیکھئے اس آیۂ شریفہ میں ضمائر وغیرہ کیسے پہلو دار ہیں۔ جن سے موافق مخالف دونوں استدلال کر سکیں۔ اسی وجہ سے دنا فتدلیٰ اور ولقد راہ کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے۔ مگر ابن
١٦١
عباس ؓ یہی تفسیر کرتے ہیں کہ محمد ﷺ اپنے رب سے قریب ہوئے اور اپنے رب کو دیکھا ”(كما فى الدر المنثور ج ٦ ص ١٢٣ للامام السيوطى) واخرج ابن ابي حاتم والطبراني وابن مردويه عن ابن عباس فى قوله ثم دنا فتدلى قال هو محمد ﷺ دنا فتدلى الى ربه عزوجل“ اور نیز (درمنثور ج ٦ ص ١٢٤) میں ہے ”واخرج الترمذى وحسنه الطبرانى وابن مردويه والبيهقى فى الاسماء والصفات عن ابن عباس فى قول الله ولقد راه نزلة اخرى قال ابن عباس قال رأى النبى ﷺ ربه عزوجل“ غرض کہ اختلاف آثار واحادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ ایسے امور میں ہر ایک کے فہم اور حوصلہ کے مطابق کلام کیا کرتے تھے۔ چنانچہ اس روایت سے ظاہر ہے کہ ”عن ابي عباس قال قال رسول الله ﷺ بعثنا معاشر الانبياء نخاطب الناس على قدر عقولهم ذكره الامام السخاوى فى المقاصد الحسنه مع نظائره“
اس میں شک نہیں کہ تمام صحابہ کامل الایمان تھے۔ مگر پھر بھی اس کو ماننا پڑے گا کہ جو صدیق اکبر ؓ کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ خصوصیت تھی وہ عموماً دوسروں کو نہ تھی۔ اسی طرح جو اہل بیت اور بنی ہاشم کو خصوصیت تھی بنی امیہ کو حاصل نہ تھی۔ دیکھ لیجئے تقریباً تمام صحابہ معراج جسمانی کے قائل تھے۔ مگر معاویہ ؓ اسی بات پر رہے کہ معراج خواب میں ہوا تھا۔ جیسا کہ شفاء میں لکھا ہے اس سے ظاہر ہے کہ حضرت ﷺ نے ان حضرات سے یہ بیان ہی نہیں کیا تھا۔ ورنہ ممکن نہیں کہ حضرت سے سن کر بھی اس کے خلاف اعتقاد رکھتے۔ غرض وہ راز چندے بنی ہاشم میں رہا۔ پھر انہوں نے بحسب صلاحیت اپنے ہمشربوں سے کہا یہاں تک کہ شدہ شدہ خاص خاص مجلسوں میں اس کا ذکر ہونے لگا۔ پھر بمصداق ”نہاں کے ماند آں رازے کزوسازند محفلها“ وہ راز طشت از بام ہو گیا اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ بعض علماء نے تصریح کر دی کہ وہی مذہب صحیح ہے۔ چنانچہ تفسیر روح البیان میں لکھا ہے ”وفي كشف الاسرار قال بعضهم راه بقلبه دون عينه وهذا خلاف السنة والمذهب الصحيح انه عليه السلام رأى ربه بعين راسه“ امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں کہ میں بھی وہی کہتا ہوں جو ابن عباسؓ نے کہا ہے کہ حضرت نے اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ”(كما فى الشفاء ج ١ ص ١٢٠) للقاضي عياض وحكى النقاش عن احمد بن حنبل انه قال اقول بحديث ابن عباس بعينه رأى ربه رآه رآه حتى انقطع نفسه“ یعنی نفس احمد یعنی امام احمدؒ رأی ربہ کہہ کر لفظ رآہ کو
١٦٢
اتنی دیر تک مکرر کرتے رہے جب تک سانس نے یاری دی۔ یہ بات وجدان سے دریافت کرنے کے قابل ہے کہ لفظ راہ کی تکرار کے وقت اس امام جلیل القدر پر کیسی حالت وجد طاری تھی کہ اس بے خودانہ غیر معمولی حرکت صادر ہونے پر مجبور تھے یا یہ بات تھی کہ کمال غضب سے دیر تک اس لفظ کو مکرر کیا تا کہ مخالفوں پر ہیبت طاری ہو اور کوئی دم نہ مار سکے اور ان کے پہلے عکرمہؓ نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ چنانچہ (ابن جریرؒ نے اپنی تفسیر ج ٢٧ ص ٢٨) میں لکھا ہے ”أخبرنا عباد بن منصور قال سالت عكرمة عن قوله ماكذب الفؤاد مارأى قال أتريد أن أقول لك قد رأه نعم قد رأه ثم قد رأه ثم قد رأه حتى انقطع النفس“ اور (تفسیر روح المعانی ج ٢٧ ص ٤٤) میں علامہ آلوسیؒ نے لکھا ہے ”فقد كان (الحسن) عليه الرحمة يحلف بالله تعالى لقد رأی محمدﷺ ربه“ یعنی حسن بصریؒ قسم کھا کر کہتے تھے کہ حضرتﷺ نے اپنے رب کو دیکھا عائشہؓ کا مذہب جو روایت کے باب میں بنی ہاشم کے خلاف ہے ممکن ہے کہ آنحضرتﷺ نے ان کو کسی مصلحت سے نہ فرمایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ فرمایا ہو مگر انہوں نے عقول کی رعایت سے بیان نہ کیا ہو۔ کیونکہ ایسے امور کے بیان کرنے سے احتیاط کرنے کا حکم ہے۔ جیسا کہ مقاصد حسنہ میں امام سخاویؒ نے لکھا ہے ”عن ابن عباس عن النبىﷺ قال لا تحدثوا امتى من احاديثى الا مايحتمله عقولهم فيكون فتنة عليهم فكان ابن عباس يخفى اشياء من حديثه ويفشيها الى اهل العلم (كنز العمال ج ١٠ ص ٢٤٢، حدیث نمبر ٢٩٢٨٧)“ یعنی ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے کہ میری حدیثوں میں سے وہی حدیثیں میری امت سے بیان کرو جن کو ان کی عقلیں تحمل کر سکیں۔ اسی وجہ سے ابن عباسؓ بہت سی حدیثیں عام لوگوں سے چھپاتے اور اہل علم پر ظاہر کرتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ ابن عباسؓ کے اکثر اقوال تفاسیر میں باہم متعارض وارد ہیں۔ چنانچہ اسی مسئلہ میں دیکھئے کہ رؤیت قلبی کی بھی روایت ان سے وارد ہے۔ جیسا کہ (درمنثور ج ٦ ص ١٢٤) میں ہے ”واخرج مسلم واحمد عن ابن عباس في قوله ماكذب الفؤاد مارأى ولقد راه نزلة اخرى قال رأی محمد ربه بقلبه مرتين“ یہاں یہ شبہ ہوتا ہے کہ رؤیت قلبی اور رؤیت عینی ایک نہیں تو ایک قول ضرور واقع کے خلاف ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رؤیت الٰہی کی حقیقت عقول سے خارج ہے۔ اس لئے ممکن نہیں کہ وہ رؤیت ایسی ہو جیسے ہم اجسام کو دیکھتے ہیں جائز ہے کہ وہاں رؤیت عینی رؤیت قلبی کے مقارن ہو اور دونوں صادق آجائیں۔ چنانچہ تفسیر روح البیان میں لکھا ہے ”قال عليه السلام رأيت ربى بعینی وبقلبی رواه مسلم
فی صحیحہ“ اور اسی میں لکھا ہے۔
خداوند جہاں را بے جہت دید
دراں دیدن کہ حیرت حاصلش بود
دلش در چشم و چشمش در دلش بود
اور یہ بھی لکھا ہے ”شیخ ابوالحسین از معنی ایں آیہ یعنی افتمارونہ علیٰ ما یرٰی پرسیدند جواب داد جو ئیکہ جبرئیل بظہور نوری کیست کہ ازاں سخن تواند گفت۔“
پردۂ او شد حق نور ذات
تیرگی ہستی ازو دور گشت
پردگی پردۂ آں نور گشت
کیست کزاں پردہ شود پردہ ساز
زمزمۂ گوید ازاں پردہ باز
الغرض اخفائے راز کے مقام میں رؤیت قلبی کہہ دیا تا کہ عقول متحمل ہو سکیں اور وہ بھی خلاف واقعہ نہیں۔ رؤیت کی تقریر ایک مناسبت سے ضمناً لکھی گئی۔ اصل کلام اس میں تھا کہ عائشہؓ معراج جسمانی کی منکر ہیں یا نہیں۔ سو یہ ثابت ہو گیا کہ ان کو اس کا اقرار ہے اور جو انکار ان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے بے اصل اور موضوع روایت ہے۔ پھر جو مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ اس بات کو تسلیم نہیں کرتیں اور کہتے ہیں کہ رؤیائے صالحہ تھی قابل تسلیم نہیں۔
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٤٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٢٦) میں لکھتے ہیں کہ ”سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا...... میں اس کا نام خواب ہرگز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنیٰ درجوں میں اس کو سمجھتا ہوں۔ بلکہ یہ کشف بزرگ ترین مقام ہے جو در حقیقت بیداری بلکہ اس کثیف بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفیٰ واجلیٰ ہوتی ہے اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔“
افسوس ہے مرزا قادیانی نے نبی کریم ﷺ کے جسم مبارک کی کچھ قدر نہ کی اور اپنے جیسا کثیف سمجھ لیا۔ حالانکہ وہ جسم لطیف در حقیقت نور محض تھا۔ چنانچہ شفاء میں قاضی عیاضؒ نے کعب احبار اور سعید بن جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ آیہ شریفہ ”الله نور السمٰوت والارض
١٦٤
مثل نورہ (نور: ٣٥) ”میں نور ثانی سے مراد محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پاک ہے اور اسی میں لکھا ہے کہ حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں کئی جگہ حضرت ﷺ کو نور اور سراج فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے ”قد جاءکم من الله نور و کتاب (مائدہ: ١٥)“ ”یا ایها النبی انا ارسلناك شاهداً ومبشراً ونذيراً وداعياً الى الله باذنه وسراجاً منيرا
(احزاب: ٤٥،٤٦)“
اور اس کی تصدیق اس سے کھلے طور پر ہوتی ہے کہ حضرت ﷺ دھوپ یا چاندنی میں نکلتے تو آپ ﷺ کا سایہ زمین پر نہ پڑتا۔ جیسا کہ امام سیوطیؒ نے (خصائص کبریٰ ج ١ ص ١٦٩، ١٧٠، باب الآیۃ فی انہ ﷺ لم یکن یریٰ لہ ظل) میں نقل کیا ہے۔ ”اخرج الحکیم الترمذی عن ذکوان ان رسول الله ﷺ لم یکن له ظل فی شمس ولا قمر قال ابن سبع من خصائصه ان ظله كان لا يقع على الارض وانه كان نوراً لم يكن اذا مشى فى الشمس او القمر لا ينظر له ظل قال بعضهم ويشهد له حديث قوله ﷺ في دعائه (واجعلنى نوراً) “ یعنی نبی کریم ﷺ کا سایہ دھوپ اور چاندنی میں نہیں پڑتا تھا۔ اس لئے کہ آپ ﷺ نور تھے اور یہ اثر اس دعاء کا بھی تھا جو حضرت ﷺ کیا کرتے تھے۔ واجعلنی نوراً!
مرزا قادیانی مسئلہ معراج میں بو علی سینا کے مقلد ہیں۔ کیونکہ دبستان مذاہب میں ان کا قول نقل کیا ہے کہ حدیث معراج میں جبرائیل کا جو ذکر ہے اس سے قوت روح قدسی مراد ہے اور براق سے عقل ہے اور حضرت نے جو فرمایا ہے کہ میرے پیچھے ایک شخص چلا آ رہا تھا۔ اس نے آواز دی کہ ٹھہرو اور جبرئیل نے کہا کہ اس سے بات نہ کیجئے اور چلے چلئے۔ اس سے یہ اشارہ ہے کہ قوت وہم پیچھے آ رہی تھی۔ جب حضرت ﷺ اعضاء و جوارح کے مطالعہ سے فارغ ہوئے اور ہنوز حواس میں تامل نہ کیا تھا کہ قوت وہم نے آواز دی کہ آگے نہ بڑھئے اس کی وجہ یہ ہے کہ قوت واہمہ متصرف ہے اور غالب ہے۔ ہر وقت عقل کو ترقی سے روکتی رہتی ہے اور جو فرمایا کہ بیت المقدس پہنچے اور مؤذن نے آذان کہی اور میں آگے بڑھا دیکھا کہ جماعت انبیاء اور اولیاء داہنے بائیں کھڑی ہے یہ اشارہ اس طرف ہے کہ حیوانی اور طبعی قوتوں کے مطالعہ سے جب حضرت ﷺ فارغ ہوئے تو دماغ کے قریب پہنچے وہاں قوت ذاکرہ متوجہ اعلام ہوئی اور حضرت تفکر کی طرف بڑھے اور قوائے دماغی مثلاً تمیز حفظ ذکر اور فکر وغیرہ داہنے بائیں موجود تھیں۔ اسی طرح آسمانی معراج کا حال بھی بیان کیا۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ نہ بیت المقدس گئے نہ آسمانوں پر جتنی باتیں قرآن
١٦٥
وحدیث میں مذکور ہیں سب کو وہیں مکہ میں بیٹھے ہوئے نمٹا دیا۔ مرزا قادیانی بھی یہی کہتے ہیں صرف فرق مراقبہ اور مکاشفہ کا ہے۔ یعنی بوعلی سینا اس کو مراقبہ کہتے ہیں کہ قوائے جسمانی وغیرہ میں اس وقت حضرت غور فرما رہے تھے اور مرزا قادیانی مکاشفہ کہتے ہیں کہ وہیں بیٹھے ہوئے بیت المقدس اور آسمانوں کو کشف سے دیکھ رہے تھے۔ اہل رائے سمجھ سکتے ہیں کہ اگرچہ ان دونوں کو معراج کا انکار ہے۔ مگر جس طرح بوعلی سینا نے تمام واقعات کو عقل کے مطابق کر دیا مرزا قادیانی نہ کر سکے۔ بھلا کوئی پابند عقل اس کو مان سکتا ہے کہ آنکھیں جن پر مدار رؤیت ہے تو بند ہوں لاکھوں بلکہ کروڑوں کوس پر کی چیزیں ایسی دکھائی دیں جیسے کوئی آنکھوں سے دیکھتا ہو۔ بلکہ اس سے بھی اصفٰی اور اجلیٰ ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی جو لکھتے ہیں کہ اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔ ایک حد تک درست ہے کیونکہ عام تجربہ ہے کہ جب آدمی آنکھیں بند کر لیتا ہے تو اقسام کے خیالات آنے لگتے ہیں اور اپنے اختیار سے بھی ذہن سے کام لیتا ہے۔ مرزا قادیانی کے خیالات چونکہ حد سے بڑھے ہوئے ہیں۔ عرش کو ایک بڑا چمکتا ہوا تخت خیال کرتے ہوں گے اور اس پر رب العالمین بیٹھا ہوا اپنے روشن چہرے سے پردہ اتار کر اپنے سے باتیں کرتا ہوا دیکھ لیتے ہوں گے۔ جیسا کہ (ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣) میں خود تحریر فرماتے ہیں مگر اس کو کشف سمجھنا غلطی ہے۔ اس قسم کے مشاہدات کو عقلاً اختراعات ذہنیہ کہتے ہیں جن کو واقع سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر مرزا قادیانی دعویٰ کریں کہ یہ خیالات مطابق واقع کے ہوتے ہیں تو جب تک دلائل عقلیہ سے اس کو ثابت نہ کریں ایک خیالی بات سے اس کا درجہ بڑھ نہیں سکتا اور اگر اہل کشف کے اقوال پیش کریں تو جس معرکہ میں خدا اور رسول کی بات کو وہ نہیں مانتے اہل کشف کا مجرد بیان کون مانے گا۔ ان کی تصدیق کا درجہ تو خدا اور رسول کی تصدیق کے بعد ہے اور اگر کوئی ایسا ہی خوش اعتقاد شخص ہے کہ خلاف عقل بات بھی اہل کشف کی بلا دلیل مان لیتا ہے تو خدا اور رسول کی باتیں بلا دلیل مان لینا اس پر کیا دشوار ہے۔ اب دیکھئے کہ جس طرح جسم کے ساتھ آسمانوں پر جانا خلاف عقل ہے کشف سے واقعی حالات معلوم کرنا بھی خلاف عقل ہے۔ پھر جب اہل کشف کی بات پر اس قدر وثوق ہے کہ ان کے مجرد قول سے کشف مان لیا جاتا ہے تو خدا اور رسول کی بات پر مسلمان کو اس سے زیادہ وثوق چاہئے یا نہیں۔
مرزا قادیانی کو اعلیٰ درجہ کے کشف کا جو دعویٰ ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ کیونکہ وہ ایک معنوی چیز ہے جو دوسرے کو محسوس نہیں ہو سکتی۔ البتہ آثار سے کسی قدر اس کا ثبوت ہو سکتا ہے۔ مگر ہم جب یہاں آثار پر نظر ڈالتے ہیں تو بجائے ثبوت کے اس کا ابطال ہوا جاتا ہے۔ اس لئے کہ
١٦٦
مرزا قادیانی ہمیشہ پیش گوئیاں کیا کرتے ہیں اور ہمارے علم میں مرزا قادیانی نجومی یا کاہن یا رمال نہیں ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان پیش گوئیوں کا مدار ان کے کشف پر ہے۔ (یعنی جو کچھ آئندہ ہونے والا ہے کشف کے ذریعہ سے پیش از پیش دیکھ کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ایسا ہو گا مثلاً فلاں شخص تین برس کی مدت میں مرے گا) پیش گوئیوں کا مدار کشف پر اس وجہ سے ہے کہ بغیر کشف کے رجماً بالغیب وہ حکم لگا دینا ترجیح بلا مرجح ہے۔ ممکن ہے کہ وہ پچاس برس کے بعد مرے۔ پھر خود مرزا قادیانی کو اعلیٰ درجہ کے کشف کا دعویٰ بھی ہے۔ اس صورت میں ضرور تھا کہ ہر پیشین گوئی ان کی صحیح نکلتی۔ جس سے کشف کی صحت ثابت ہوتی۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ بلکہ اس کے خلاف ثابت ہوا دیکھئے کہ مولوی ابوالوفا ثناء اللہ صاحب نے رسالہ (الہامات مرزا مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ٨١) میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے جن پیش گوئیوں کو معیار اپنی صداقت اور مدار بطالت قرار دیا ہے وہ کل جھوٹی ثابت ہوئیں۔ پھر جب مولوی صاحب ان کا کذب ثابت کرنے کو قادیان گئے تو بجائے اس کے کہ مرزا قادیانی خوش ہو کر اپنے کمالات ظاہر فرماتے اور ان پیش گوئیوں کا وقوع ثابت کرتے الٹے ناراض ہو گئے اور مناظرہ سے گریز کی۔ اس کے بعد مولوی صاحب موصوف نے وہ رسالہ لکھ کر ان پیش گوئیوں کا عدم وقوع اور بطلان بدلائل ثابت کر دیا۔ جس کا جواب نہ مرزا قادیانی سے ہوا نہ ان کے ہوا خواہوں سے۔ چنانچہ اسی رسالہ کے عنوان پر یہ عبارت لکھ دی کہ اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے الہاموں پر مفصل بحث کر کے ان کو محض غلط ثابت کیا ہے۔ اس کے جواب کے لئے طبع اوّل پر مرزا قادیانی کو پانچ سو روپیہ انعام تھا۔ طبع ثانی پر ہزار کیا گیا اب طبع ثالث پر پورا مبلغ دو ہزار کیا جاتا ہے۔ اگر وہ ایک سال تک جواب دیں تو انعام مذکور ان کے پیش کش کیا جائے گا۔
یہ بات ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان الہامات اور پیش گوئیوں کے اثبات میں مرزا قادیانی ہی کا نفع تھا۔ پھر اس پر جب انعام بھی ملتا تھا تو چاہئے تھا کہ سب کام چھوڑ کے اس رسالہ کے جواب میں مصروف ہو جاتے اور وہ رسالہ بھی کتنا پورے سات جزو کا بھی نہیں۔ پھر جواب میں نہ کسی کتاب کے دیکھنے کی ضرورت ہے نہ اجتہاد کی حاجت۔ ہر پیشین گوئی سے متعلق جواب میں اتنا کہنا کافی ہے کہ اس کا وقوع اس طرح ہوا اور اس کے فلاں فلاں گواہ موجود ہیں۔ جس کے لئے ایک دو ورق سے زیادہ درکار نہیں۔ مگر جواب تو جب لکھا جائے کہ کسی پیشین گوئی کا وقوع بھی ہوا ہو۔ وہاں تو سرے سے وجود ہی ندارد اور جو تقریروں میں ملمع سازیاں کی گئی تھیں ان کی قلعی مولوی صاحب نے کھول دی۔ اب ان پیشین گوئیوں کا اثبات حیّز امکان سے کسی قدر خارج دکھائی دیتا ١٦٧
ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ہمسری کا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ اس قسم کے یعنی معراج جیسے کشفوں میں خود صاحب تجربہ ہیں غلط فہمی ہے۔
یہاں یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ (الحکم مطبوعہ ١١/صفر ١٣٢٤ھ نمبر ١٣) میں مرزا قادیانی کی تقریر درج ہے کہ ”جیسا کہ بت پوجنا شرک ہے ویسے ہی جھوٹ بولنا بھی شرک ہے۔ بت پوجنے والا اس خیال سے بت پوجتا ہے کہ یہ میری مرادیں برلاتا ہے۔ ایسا ہی جھوٹ بولنے والا بھی اسی خیال سے جھوٹ بولتا ہے کہ جھوٹ سے میرا کام نکلتا ہے۔ مقدمہ جیت لیتا ہوں، بیوپار ہوتا ہے اور آفات و بلا سے بچ جاتا ہوں ان دونوں باتوں میں کچھ فرق نہ ہے۔“
جب مرزا قادیانی جھوٹ کو شرک سمجھتے ہیں تو وہ اس کے مرتکب کیونکر ہوئے ہوں گے۔ اس کا جواب بدیہۃ نہایت دشوار ہے۔ مگر عقلاً خود اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
مرزا قادیانی جو اپنے کشف کی خبر دیتے ہیں سو وہ کوئی نئی بات نہیں اس قسم کی تعلیوں کی ان کی عادت ہے۔ چنانچہ رسالہ عقائد مرزا میں توضیح المرام وغیرہ رسائل مرزا قادیانی سے ان کے اقوال نقل کئے ہیں کہ میں اللہ کا نبی ہوں، رسول ہوں، میرا منکر کافر ہے اور مردود ہے، میرے معجزات اور نشانیاں انبیاء کے معجزات سے بڑھ کر ہیں۔ میری پیش گوئیاں نبیوں کی پیش گوئیوں سے زیادہ ہیں۔ میرے معجزات اور نشانات کے انکار سے سب نبیوں کے معجزات سے انکار کرنا پڑے گا۔ میرے منکروں اور مترددوں کے پیچھے نماز درست نہیں بلکہ ان پر سلام نہ کرنا چاہئے اور لکھتے ہیں کہ خدا بے پردہ ہو کر ان سے ٹھٹھے کیا کرتا ہے۔ وغیرہ ذلک!
جب مرزا قادیانی کی جبلت میں تعلیاں داخل ہیں جن کا وجود ممکن نہیں تو ان کا یہ قول کہ معراج کے جیسے کشفوں میں مؤلف صاحب تجربہ ہے، کون اعتبار کرے۔ البتہ اہل کشف کی تحقیق قابل تسلیم ہے۔ جن کے کشف کو اہل کشف اور صلحا اور اولیاء اللہ نے تسلیم کر لیا ہے۔ دیکھئے شیخ محی الدین عربیؒ (فتوحات مکیہ ج ٣ ص ٣٤٠،٣٤١) کے تین سو چودھویں باب میں لکھتے ہیں۔ ”وقد اعطته المعرفة انه لا يصح الانس الا بالمناسب ولا مناسبة بين الله وعبده واذا اضيف المؤانسة فانما ذلك على وجه خاص يرجع الى الكون فاعطته هذه المعرفة الوحشة لانفراده وهذا مما يدلك ان الاسراء كان بجسمه ﷺ لان الارواح لا تتصف بالوحشة ولا الاستيحاش فلما علم الله منه ذلك وكيف لا يعلمه وهو الذى خلقه فى نفسه وطلب عليه السلام الدنو بقوة المقام الذى هو فيه فنودى بصوت يشبه صوت ابى بكر تانيسا له به اذ كان
١٦٨
انيسه فيالمعهود فحن لذلك وانس به ...... فلهذا المعراج خطاب خاص تعطيه خاصية هذا المعراج لا يكون الا للرسل فلو عرج عليه الولى لا عطاه هذا المعراج بخاصية ما عنده وخاصية ماتنفرد به الرسالة فكان الولى اذا عرج به فيه يكون رسولا وقد اخبر رسول الله ﷺ ان باب الرسالة والنبوة قد اغلق فتبين ان هذا المعراج لا سبيل للولى اليه البتته“
ماحصل اس کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو شب معراج آسمانوں پر وحشت ہوئی۔ اس وقت صدیق اکبر کی آواز سنائی گئی جس سے حضرت ﷺ کی وحشت جاتی رہی۔ اس سے ظاہر ہے کہ معراج جسم کے ساتھ تھی۔ کیونکہ ارواح وحشت کے ساتھ متصف نہیں ہوتیں۔ پھر اس جسمانی معراج کا خاصہ یہ ہے کہ اس میں ایک خاص قسم کا خطاب ہوا کرتا ہے جو رسولوں کے ساتھ خاص ہے۔ اگر کسی ولی کو بھی اس قسم کی معراج ہو تو اس خاصہ کی وجہ سے لازم آئے گا کہ وہ ولی بھی رسول ہو جائے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ رسالت اور نبوت کا دروازہ بند ہو گیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس قسم کی معراج جو رسول اللہ ﷺ کو ہوئی تھی کسی ولی کو ہرگز نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اولیاء اللہ کے نزدیک مسلم ہے کہ حضرت کی معرج جسمانی تھی اور وہ حضرت کا خاصہ تھا کہ کسی ولی کو وہ نصیب نہیں ہو سکتا اور جو کوئی نبوت ورسالت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔
قیامت کی بحث
مسئلہ معراج میں مرزا قادیانی کی کارسازیاں آپ نے دیکھ لیں۔ اب مسئلہ قیامت کو دیکھئے کہ کیسی کیسی کارستانیاں کر رہے ہیں۔ (ازالۃ الاوہام ص ٣٥٠،٣٥١، خزائن ج ٣ ص ٢٧٩) میں تحریر فرماتے ہیں ”قیامت کے دن میں بحضور رب العالمین ان کا حاضر ہونا ان کو بہشت سے نہیں نکالتا۔ کیونکہ یہ تو نہیں کہ بہشت سے باہر کوئی لکڑی، لوہے یا چاندی وغیرہ کا تخت بچھایا جائے گا اور خدائے تعالیٰ مجازی حکام اور سلاطین کی طرح اس پر بیٹھے گا اور کسی قدر مسافت طے کر کے اس کے حضور میں حاضر ہونا ہوگا تا یہ اعتراض لازم آئے کہ اگر بہشتی لوگ بہشت میں داخل شدہ تجویز کئے جائیں تو تجلی کے وقت انہیں بہشت سے نکلنا پڑے گا اور اس لق ودق جنگل میں جہاں تخت رب العالمین بچھایا گیا ہے حاضر ہونا پڑے گا۔ ایسا خیال تو سراسر جسمانی اور یہودیت کی سرشت سے نکلا ہوا ہے اور حق یہی ہے کہ ہم عدالت کے دن پر ایمان تو لاتے ہیں اور تخت رب العالمین کے قائل ہیں لیکن جسمانی طور پر اس کا خاکہ نہیں کھینچتے اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ اللہ اور رسول نے فرمایا ہے وہ سب کچھ ہوگا۔ لیکن ایسے پاک طور پر کہ خدائے تعالیٰ کے تقدس، وتنزہ میں
١٦٩
کوئی فرق نہ ہو...... حق یہ ہے کہ اس دن بھی بہشتی بہشت میں ہوں گے اور دوزخی دوزخ میں لیکن رحم الٰہی کی تجلی عظمیٰ راست بازوں اور ایمان داروں پر ایک جدید طور سے لذات کاملہ کی بارش کر کے اور تمام سامان بہشتی زندگی کا حسی اور جسمانی طور پر ان کو دکھا کر اس نئے طور کے دارالسلام میں ان کو داخل کر دے گی۔
حاصل اس کا یہ ہوا کہ نہ نفخ صور ہوگا نہ مردے زندہ ہوں گے نہ حساب و کتاب ہے نہ صحائف اعمال کی جانچ نہ پل صراط کا معرکہ درپیش ہے نہ کسی قسم کی پریشانی اس روز ہوگی نہ کسی کی شفاعت کی ضرورت ہے اور ہزارہا آیات واحادیث وآثار میں جن چیزوں کا ذکر بڑے اہتمام سے خدا اور رسول نے کیا ہے سب نعوذ باللہ بے اصل ہے۔
خالص ایمان اسے کہتے ہیں کہ فقط ایمان ہی ایمان ہے۔ جو اس آمیزش واختلاط سے بھی منزہ ہے جو مؤمن بہ کے سات متعلق ہونے کی وجہ سے ہوا کرتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی یہ فرما دیتے کہ ایسی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اس وجہ سے ہم ان پر ایمان نہ لائیں گے تو مسلمانوں کو بے فکری ہو جاتی اور سمجھ جاتے کہ فی الحقیقت قیامت کا مسئلہ ایسا ہی ہے کہ ہر شخص کی سمجھ سے باہر ہے۔ نزول قرآن کے وقت جب عقلاء اس کو تسلیم نہ کر سکے تو تیرہ سو برس کے بعد مرزا قادیانی کا تسلیم نہ کرنا چنداں بعید نہیں۔ مگر افسوس ہے کہ انہوں نے ایمان کا جھگڑا لگا رکھا۔
مرزا قادیانی تخت رب العالمین پر ایمان تو لاتے ہیں مگر لکڑی وغیرہ کے تخت پر نہیں لاتے۔ کیونکہ جب جنت کے باہر لق ودق جنگل میں وہ تخت آئے گا تو لکڑی وغیرہ کا ہو جائے گا۔ جو اس قابل نہیں کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ البتہ جب وہ جنت میں پہنچے گا تو ایمان لانے کے قابل ہوگا۔ اس لئے کہ نہ وہ لکڑی کا ہوگا نہ کسی چیز کا۔ اب یہ بات غور طلب ہے کہ وہ تخت کیسا ہوگا کہ تخت تو ہوگا مگر کسی چیز کا نہ ہوگا۔ پھر اگر ایسا تخت ہو سکتا ہے تو جنت کے باہر آنے سے اس کو کون چیز مانع ہے۔ بہر حال مرزا قادیانی کو اگر قرآن پر ایمان لانا منظور ہوتا تو جس قسم کا تخت جنت میں تجویز کر رہے ہیں جنت کے باہر بھی تجویز کر سکتے۔ مگر ان کو قیامت کا انکار ہی منظور ہے۔ اس لئے اس کی یہ تمہید کی کہ جب تخت رب العالمین آ ہی نہیں سکتا تو قیامت کے دوسرے واقعات جو اس روز حق تعالیٰ کے روبرو ہوں گے کہاں اس وجہ سے جتنے آیات واحادیث قیامت کے باب میں وارد ہیں۔ نعوذ باللہ سب خلاف واقع ہیں۔ یہاں مرزا قادیانی کی اس تقریر کو بھی یاد کر لیجئے کہ قرآن کا ایک نقطہ کم نہیں ہو سکتا۔
اب ہم محشر کا تھوڑا سا حال بیان کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان کو اس کا تذکرہ ہو جائے
١٧٠
اور معلوم ہو کہ حشر کا مسئلہ ہمارے دین میں کسی قدر مہتم بالشان ہے۔ امام سیوطیؒ (درمنثور ج٦ ص٣١٨) میں لکھتے ہیں ”اخرج احمد والترمذی وابن منذر و الحاکم وصححه وابن مردويه عن ابن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ من سره ان ينظر الیٰ يوم القيمة كانه رأی عين فليقراء اذاالشمس كورت واذاالسماء انفطرت واذاالسماء انشقت“ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے اگر کوئی چاہے کہ قیامت کا حال برائی العین مشاہدہ کرلے تو سورۂ اذاالشمس کورت اور اذاالسماء انفطرت واذاالسماء انشقت کو پڑھے۔ ان سورتوں میں مجملاً قیامت کا بیان ہے کہ اس روز آسمان پھٹ جائیں گے۔ آفتاب اور تمام تارے تیرہ و تار ہو کر گر جائیں گے۔ سمندر خشک ہو جائیں گے۔ دوزخ خوب سلگائی جائے گی۔ مردے زندہ ہوں گے نامہ اعمال ہر ایک کے اڑا کر اس کے ہاتھ میں آ جائیں گے۔ چونکہ حشر زمین پر ہوگا اس لئے اس کی درستی اور صفائی کا یہ اہتمام اس روز ہوگا کہ جتنے سمندر اور دریا ہیں یہ سب خشک کر کے اور پہاڑوں اور جھاڑوں کو نکال دے کر زمین کی وسعت بڑھا دی جائے گی اور ایسی مسطح بنا دی جائے گی کہ کہیں نشیب و فراز باقی نہ رہے اور چونکہ تمام فرشتے بھی زمین پر اتر آئیں گے اس لئے وہ اور بھی کشادہ کی جائے گی۔ جس میں تمام خلائق کی گنجائش ہو ان تمام امور کا ذکر بالتفصیل قرآن شریف میں موجود ہے۔ چند آیات یہاں لکھی جاتی ہیں۔ حق تعالٰی فرماتا ہے ”ويسألونك عن الجبال فقل ينسفها ربی نسفاً فيذرها قاعاً صفصفاً لا تری فيها عوجاً ولا امتاً يومئذٍ يتبعون الداعی لا عوج له وخشعت الاصوات للرحمٰن فلا تسمع الا همساً (طہٰ:١٠٥ تا ١٠٨)“ ﴿پوچھتے ہیں تم سے پہاڑوں کا حال سو کہو ان سے بکھیر دے گا ان کو میرا رب اڑا کر پھر کر دے گا زمین کو چٹیل میدان نہ دیکھو گے۔ اس میں موڑ نہ ٹیلہ اس دن پیچھے دوڑیں گے پکارنے والے کے ٹیڑھی نہیں جس کی بات اور دب گئیں آوازیں رحمن کے ڈر سے۔
مگر کھس کھسی آواز﴾ اس آیت میں صراحتاً مذکور ہے کہ پہاڑ زمین سے نکال دیئے جائیں گے اور زمین مسطح بنا دی جائے گی اور ارشاد ہے ”ويوم نسير الجبال وتری الارض بارزة وحشرناهم فلم نغادر منهم احداً وعرضوا علیٰ ربك صفاً لقد جئتمونا كما خلقناكم اول مرة بل زعمتم ان لن نجعل لكم موعداً (كهف:٤٧، ٤٨)“ ﴿اور جس دن ہم چلا دیں گے پہاڑ اور تم دیکھو گے زمین کھلی ہوئی اور جمع کریں گے ہم ان کو پھر نہ چھوڑیں ان میں سے ایک کو اور سامنے لائے جائیں گے تمہارے
١٧١
رب کے روبرو کھڑے کر کے آپہنچے تم ہمارے پاس جیسا ہم نے بنایا تھا۔ تم کو پہلے بار بلکہ تم کہا کرتے تھے کہ نہ ٹھہرائیں گے ہم تمہارا کوئی وعدہ۔ ﴿
اس آیت میں صاف مذکور ہے کہ اس مسطح اور ہموار زمین پر سب لوگ اکٹھے کئے جائیں گے اور وہ حق تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوں گے اور منکرین حشر کو زجر و توبیخ ہو گی۔ ”وَاِذَ البحار سجرت (تکویر:٦)“ (بخاری شریف ج٢، کتاب التفسیر ص ٧٣٥) میں ہے ”قال الحسن سجرت ذهب ماؤها فلا يبقى قطرة “ یعنی اس روز سمندر ایسے سوکھ جائیں گے کہ ان میں ایک قطرہ باقی نہ رہے گا۔ (درمنثور ج٤ ص٩١) پر امام سیوطیؒ نے بدور سافرہ فی احوال الآخرہ میں لکھا ہے۔ ”عن ابن عباس فی قوله تعالى يوم تبدل الارض غير الارض الآيه قال يزاد فيها وينقص منها وتذهب آكامها وجبالها واوديتها وشجرها ومافيها وتمد مد الاديم“ یعنی حق تعالیٰ جو فرماتا ہے ”يوم تبدل الارض (ابراهیم:٤٨)“ اس کی تفسیر میں ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ زمین میں کمی و زیادتی ہو جائے گی۔ ٹیلے پہاڑ وادیاں جھاڑ اور جو کچھ اس میں ہے یہ سب چیزیں نکال دی جائیں گی۔ تاکہ ایک سطح ہو جائے۔ پھر کھینچ کر مثل ادیم کے کشادہ کی جائے گی۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”وَاِذَ الْاَرْضُ مُدَّتْ“ الحاصل زمین جب مسطح اور ایسی وسیع کر دی جائے گی کہ تمام جن و انس و ملائکہ وغیرہم کی اس میں گنجائش ہو۔ اس وقت تمام مردوں کو حکم ہو گا کہ سب زندہ ہو کر میدانِ حشر میں آ کھڑے ہوں۔ ”ثم نفخ فيه اخرى فاذاهم قيام ينظرون (زمر:٦٨)“ یعنی دوسرے بار صور پھونکا جائے گا جس سے سب مردے فوراً کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ ”يقولون اِئنا لمردودون فى الحافرة، اذاکنا عظاما نخرة قالوا تلك اذاً كرة خاسرة فانما هی زجرة واحدة فاذاهم بالساهرة (نازعات:١٠،١٤)“ ﴿ کہتے ہیں کفار کیا ہم آویں گے الٹے پاؤں یعنی زمین پر جب ہو چکیں بوسیدہ ہڈیاں کہیں یہ تو پھر آنا گھاٹا ہے۔ پھر وہ تو ایک جھڑکی ہے جس سے یکا یک میدان میں آجائیں گے۔ ﴿
حاصل یہ کہ کفار قیامت کی نسبت بہت باتیں بناتے اور استبعاد ظاہر کیا کرتے تھے کہ یہ کیسا اور وہ کیونکر ہوگا۔ ارشاد ہوا یہ وہ کچھ نہیں ایک جھڑکی کے ساتھ سب زمین پر آرہیں گے۔ (درمنثور ج٦ ص٣١٢) امام سیوطیؒ نے بالساہرہ کی تفسیر میں لکھا ہے ”عن الضحاك قال كانوا فى بطن الارض ثم صارو اعلى ظهرها “ یعنی سب مردے زمین کے اندر سے نکل کر اوپر آجائیں گے۔ دیکھ لیجئے ان آیات سے مردوں کا قبروں
سے نکلنا اور حق تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونا کس قدر ظاہر و واضح ہے۔
مرزا قادیانی جو ازالۃ الاوہام میں بار بار لکھتے ہیں کہ ”یحمل النصوص علی الظواھر“ سو ان نصوص کو ظاہر پر حمل کرنے سے کون چیز مانع ہے۔ اگر فرمادیں کہ عقل مانع ہے تو کفار بھی یہی کہہ کر کھلے طور پر ایمان لانے سے منکر ہو گئے تھے۔ پھر ایمان کے دعویٰ کی کیا ضرورت یہ تو منافقوں کی عادت تھی کہ دل میں تو ایمان نہیں مگر کہتے ضرور تھے کہ ہم مؤمن ہیں اور جب عقل کو اس قدر غلبہ دیا جاتا ہے کہ خدا کا کلام بھی اس کے مقابلہ میں ہیچ ہے تو براہین احمدیہ میں کیوں فرمایا تھا کہ عقل مغیبات کے دریافت کا آلہ نہیں بن سکتی اور عقل خدا کی حکمتوں کا پیمانہ نہیں بن سکتی۔ اس سے تو ظاہر ہے کہ اس وقت صرف مسلمانوں کو دھوکا دینا منظور تھا۔ یہ تو زمین کا حال تھا اب آسمانوں کا حال سنئے کہ اس روز کیا ہوگا۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”اذا السماء انفطرت (انفطار: ١) “ ”اذا لسماء انشقت واذا لسماء کشطت (انشقاق: ١) “ ”یوم نطوی السماء كطی السجل للکتب (انبیاء: ١٠٤) “ یعنی آسمان چر جائیں گے، پھٹ جائیں گے ان کا پوست کھینچا جائے گا۔ لپیٹ دیئے جائیں گے۔ جیسے طومار میں کاغذ لپیٹا جاتا ہے اور تاروں کی نسبت ارشاد ہے ”اذا الشمس کورت واذ النجوم انکدرت (تکویر: ١، ٢) “ ”واذا الکواکب انتثرت (انفطار: ٢) “ یعنی آفتاب اور تارے تیرہ و تار ہو کر جھڑ جائیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ آسمانی نظم و نسق درہم و برہم ہو کر وہ کارخانہ ہی طے کر دیا جائے گا اور کل ساکنین فلک کا مجمع زمین پر ہو جائے گا۔ ”کلا اذا دكت الارض دكاً دكاً وجاء ربک والملک صفاً صفاً وجیئ یومئذ بجهنم یومئذ یتذکر الانسان وانی له الذکری یقول یالیتنی قدمت لحیواتی فیومئذ لا یعذب عذابه احد ولا یوثق وثاقه احد یا ایتها النفس المطمئنة ارجعی الی ربک راضیة مرضیة فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی (فجر: ٢١ تا ٣٠) “ ﴿ جب پست کرے زمین کو کوٹ کوٹ اور آوے تمہارا رب اور فرشتے آویں قطار قطار اور لائی جائے اس دن دوزخ یاد کرے گا اس روز انسان اور کہاں ہے اس دن سوچنا، کہے گا کاش میں کچھ آگے بھیجتا اپنی زندگی میں اور عذاب نہ کرے اس عذاب کے مانند کوئی اور باندھ نہ رکھے اس کا سا باندھنا کوئی کہا جائے گا مسلمانوں کی روح کو اے نفس مطمئنہ پھر چل اپنے رب کی طرف تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی داخل ہو جا میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا میری جنت میں۔ ﴾
حاصل یہ کہ تمام آسمانوں کے فرشتے زمین پر اتر آئیں گے اور ہر ہر آسمان کے
فرشتے ایک ایک جدا صف باندھ کر کھڑے ہو جائیں گے۔ جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوگا۔ آیہ موصوفہ ”وجاء ربك“ سے اگر چہ صاف طور پر ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کا عرش زمین کی جانب نزول فرمائے گا۔ مگر چونکہ ہمارے اذہان اس قسم کے الفاظ سے اسی معنی کی طرف منتقل ہوتے ہیں جو ہماری بول چال میں جسمانیات سے متعلق ہیں اور حقیقت مبنی جو لائق شان کبریائی ہے سمجھ میں نہیں آسکتی۔ اس لئے اس مقام میں یہ تاویل کی جاتی ہے کہ حق تعالیٰ اس روز خاص طور پر کسی قسم کی تجلی فرمادے گا اور ارشاد ہے ”ويحمل عرش ربك فوقهم يومئذ ثمانية (حاقه:١٧)“ یعنی تمہارے رب کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اٹھاویں گے۔
امام سیوطیؒ نے (درمنثور ج٦ ص٢٦١) میں لکھا ہے ”عن ابن زيد قال قال رسول اللہ ﷺ يحمله اليوم اربعة ويوم القيمة ثمانية “ یعنی آج عرش کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں اور قیامت کے روز آٹھ فرشتے اٹھائیں گے اور اس وجہ سے کہ آفتاب چاند اور تارے ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔ زمین پر سوائے خدائے تعالیٰ کے نور کے کوئی نور نہ ہوگا۔ ”واشرقت الارض بنور ربھا (زمر:٦٩) “ ﴿یعنی روشن ہو جائے گی زمین اپنے رب کے نور سے﴾ اور ظاہری قربت کی یہ حالت ہوگی کہ ہر شخص کو دولت ہمکلامی نصیب ہوگی۔ چنانچہ (بخاری شریف ج ٢ ص ٩٦٨ ، باب من نوقش الحساب عذب) میں ہے ”عن عدی ابن حاتم قال قال رسول اللہ ﷺ ما منکم من احد الا سیکلمه الله يوم القيمة ليس بينه وبینہ ترجمان الحدیث“ یعنی تم میں سے ہر شخص کے ساتھ حق تعالیٰ ایسے طور پر کلام کرے گا کہ کوئی ترجمان درمیان میں نہ ہوگا۔ علامہ زمحشری نے کشاف میں لکھا ہے کہ محشر کا روز جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اس میں پچاس موطن و مقامات ہوں گے ایک ایک مقام میں ہزار ہزار سال لوگ ٹھہرے رہیں گے۔ ہر مقام کے حالات و لوازم جداگانہ ہیں۔ جو آیات و احادیث سے ثابت ہیں۔ اگر وہ تمام ایک جگہ جمع کئے جائیں تو ایک بڑی کتاب ہو جائے۔ چنانچہ امام سیوطیؒ نے بدور السافرہ فی احوال الآخرہ میں یہی کلام کیا ہے اور اس باب میں اور بھی کتابیں موجود ہیں۔ طالبین حق کو ضرور ہے کہ ان کتابوں کو جو چھپ گئی ہیں دیکھ کر اپنے اسلامی عقائد کو مستحکم کرلیں۔ کیونکہ علماء نے اپنی عمر عزیز کا ایک بیش بہا حصہ صرف کر کے مختلف مقامات سے آیات و حدیث کو جمع کرنے کی محنت اور تحقیق کی مشقت جو گوارا کی ہے اس سے صرف ہماری خیر خواہی مقصود تھی۔ اگر ہم اپنا تھوڑا سا وقت وہ بھی اپنے ہی نفع کے لئے صرف کر کے اس کو دیکھیں بھی نہیں تو کمال درجہ کی بے
قدری ہے۔ غرض آیات واحادیث تو اس باب میں بہت ہیں مگر تھوڑی سی یہاں بقدر ضرورت لکھی جاتی ہیں۔ (بخاری شریف ج ٢ ص ٩٦٧، باب قول اللہ الا یظن اولئك انہم مبعثون) میں ہے ”عن ابن عمر عن النبی ﷺ یوم یقوم الناس لرب العالمین قال یوم احدهم فی رشحہ الی انصاف اذنیہ “یعنی لوگ جو خدائے تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہوں گے ان میں بعضوں کا یہ حال ہوگا کہ آدھے آدھے کانوں تک پسینہ میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور یہ روایت بھی (بخاری شریف ج ٢ ص ٩٦٧، باب قول اللہ الا یظن اولئك انہم مبعثون) میں ہے ”عن ابی ہریرة ان رسول اللہ ﷺ قال یعرق الناس یوم القيمة حتی یذہب عرقہم فی الارض سبعین ذراعاً یلجمہم حتی یبلغ آذانہم “ یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کا پسینہ قیامت کے روز اس قدر ہوگا کہ ستر ہاتھ زمین کے اندر اتر جائے گا اور پسینہ کی وجہ اس حدیث شریف میں بیان کی گئی ہے جس کو امام احمد نے (مسند احمد ج ٥ ص ٢٥٤) اور طبرانی نے (معجم کبیر ج ٨ ص ١٨٩، حدیث نمبر ٢٢٢٦) میں روایت کی ہے۔ ”عن ابی امامة قال قال رسول اللہ ﷺ تدنو الشمس یوم القيمة علی قدر میل ویزداد فی حرہا کذا وکذا یغلی منہ الہوام کما تغلی القدور علی الاثا فی یعرقون منہا علی قدر خطایاہم ومنہم من یبلغ الی کعبیہ ومنہم من یبلغ الی ساقیہ ومنہم من یبلغ الی وسطہ ومنہم من یلجمہ العرق “یعنی قیامت کے روز آفتاب زمین سے ایک میل کے فاصلہ پر آ جائے گا اور اس کی گرمی اس قدر بڑھ جائے گی کہ حشرات الارض ایسے جوش کھائیں گے جیسے دیگ چولہے پر جوش کھاتی ہے۔ لوگوں پر اس کا اثر بقدر گناہ ہوگا۔ بعضوں کو پسینہ ٹخنہ تک پہنچے گا اور بعضوں کو کمر اور بعضوں کو منہ تک پہنچے گا۔ جن کو خدائے تعالیٰ کی قدرت پر ایمان نہیں اس قسم کی باتوں پر وہ ایمان نہیں لا سکتے اور وجہ اس کی سوائے شقاوت کے اور کوئی نہیں۔ ورنہ یہ امر مشاہد ہے کہ سخت دھوپ میں گرم مزاج لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں اور جن کی طبیعت پر برودت غالب ہوتی ہے وہ اس سے انتفاع اور لذت اٹھاتے ہیں۔ اگر چہ ظاہری اسباب اس کے حرارت و برودت مزاج ہیں۔ مگر آخری مدار ان کا تخلیق خالق ہی پر ہوگا۔ پھر اگر خالق اس روز بحسب اعمال پسینہ کی تخلیق مختلف طور پر کرے تو عقل کو اس میں کیا کلام۔ اس روز کی حالت کو حق تعالیٰ چند مختصر مگر نہایت پر اثر الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔
”یوم یفر المرء من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ لکل امرئ منہم یومئذ شان یغنیہ (عبس:٣٤ تا ٣٧) “ جس دن بھاگے مرد اپنے بھائی سے اور
اپنے ماں باپ سے اور اپنی زوجہ سے اور اپنے بیٹوں سے ہر شخص کو اس روز ایک فکر لگا ہے جو اس کو بس ہے۔﴾
ہر صاحب عقل سلیم اور تخیل صحیح غور کر سکتا ہے کہ اس روز کیسی حالت ہو گی جس کے یہ آثار ہوں گے۔ بخاری مسلم ترمذی وغیرہ میں یہ روایت ہے ”عن ابی ھریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ انا سید الناس یوم القیمۃ وھل تدرون مم ذلک یجمع اللہ الاولین والآخرین فی صعید واحد یسمعھم الداعی وینفذھم البصر وتدنو الشمس منھم فیبلغ الناس من الغم الکرب مالا یطیقون ولا یحتملون فیقول الناس الاترون ماقد بلغکم الاتنظرون من یشفع لکم الی ربکم فیقول بعض الناس لبعض ادم فیاتون آدم فیقولون یآدم انت ابونا انت ابوالبشر خلقک اللہ بیدہ ونفخ فیک من روحہ وامر الملئکۃ فسجدوا لک اشفع لنا الی ربک الاتری مانحن فیہ الاتری الی ماقد بلغنا فیقول لھم آدم ان ربی قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ ولن یغضب بعدہ مثلہ وانہ نھانی عن الشجرۃ فعصیتہ نفسی نفسی نفسی اذھبوا الی غیری اذھبوا الی نوح فیاتون نوحاً فیقولون یانوح انت اوّل الرسل الی اھل الارض وسماک اللہ عبداً شکوراً اشفع لنا الی ربک الاتری مانحن فیہ الاتری ماقد بلغنا فیقول لھم نوح ان ربی قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ ولن یغضب بعدہ مثلہ وانہ قد کانت لی دعوۃ دعوت بھا علی قومی نفسی نفسی نفسی اذھبوا الی غیری اذھبوا الی ابرھیم فیاتون ابراھیم فیقولون یا ابراھیم انت نبی اللہ وخلیل اللہ من اھل الارض اشفع لنا الی ربک الاتری مانحن فیہ الاتری ماقد بلغنا فیقول لھم ابراھیم ان ربی تعالیٰ قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ ولن یغضب بعدہ مثلہ وانی قد کنت کذبت ثلث کذبات نفسی نفسی نفسی اذھبوا الی غیری اذھبوا الی موسیٰ فیاتون موسیٰ فیقولون یاموسیٰ انت رسول اللہ فضلک اللہ برسالاتہ وبتکلیمہ علی الناس اشفع لنا الی ربک الاتری الی مانحن فیہ الاتری الی ماقد بلغنا فیقول لھم موسیٰ ان ربی قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ ولن یغضب بعدہ مثلہ وانی قد قتلت نفسا لم اؤمر بقتلھا نفسی نفسی نفسی اذھبوا الی غیری اذھبوا الی
عیسٰی فیاتون عیسٰی فیقولون یا عیسٰی انت رسول الله وکلمة القاها الی مریم وروح منه وکلمت الناس فی المهد اشفع لنا الی ربک الاتریٰ مانحن فیه الاتریٰ ماقد بلغنا فیقول لهم عیسٰی ان ربی قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبله مثله ولن یغضب بعده مثله نفسی نفسی نفسی اذهبوا الی غیری اذهبوا الیٰ محمد فیاتون محمدا فیقولون یا محمد انت رسول الله وخاتم الانبیاء وغفر الله لک ماتقدم من ذنبک وما تاخر اشفع لنا الیٰ ربک الاتریٰ مانحن فیه الاتریٰ الیٰ ماقد بلغنا فانطلق فآتی تحت العرش فاقع ساجدا لربی ثم یفتح الله علی ویلهمنی من محامده وحسن الثناء علیه شیئاً لم یفتح لاحد قبلی ثم یقال یا محمد ارفع راسک سل تعطه واشفع تشفع فارفع راسی فاقول یارب امتی امتی فیقال یا محمد ادخل الجنة من امتک من لا حساب علیه من الباب الایمن من ابواب الجنة وهم شرکاء الناس فیما سوی ذلک من الابواب والذی نفسی بیده ان مابین المصراعین من مصاریع الجنة کما بین مکة وهجرا وکما بین مکة وبصریٰ (کذا فی کنز العمال ج ١٤ ص ٣٩٢ تا ٣٩٤، حدیث نمبر ٣٩٠٥١)‘‘ انتہیٰ (بخاری ج ٢ ص ٦٨٤، ٦٨٥، باب قوله ذرية من حملنا مع نوح انه کان عبداً شکورا، مسلم ج ١ ص ١١١، باب اثبات الشفاعه عنه واخرج الموحدین من النار ) وغیرہ میں روایت ہے ابی ہریرہؓ سے کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے قیامت کے روز میں تمام آدمیوں کا سردار ہوں گا۔ جانتے ہو اس کی کیا وجہ ہے۔ خدائے تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو ایک ایسی زمین میں جمع کرے گا کہ پکارنے والے کی آواز سب سن لیں گے اور دیکھنے والا سب کو دیکھ لے اور آفتاب نہایت نزدیک آجائے گا۔ جس سے لوگوں کو اس قدر غم اور سختی ہو گی کہ برداشت کی طاقت نہ رہے گی۔ اس وقت لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا دیکھتے نہیں کیسی حالت گزر رہی ہے کسی ایسے شخص کی تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ خدائے تعالیٰ سے ہماری شفاعت کرے اور اس بلا سے ہمیں نجات دے۔ آخر یہ رائے قرار پائے گی کہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں۔
چنانچہ ان کے پاس جا کر کہیں گے حضرت آپ ہمارے اور تمام بشر کے باپ ہو۔ حق تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم کیا کہ آپ کو سجدہ کریں۔ اپنے رب سے ہماری شفاعت کیجئے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ کس حالت میں ہم لوگ مبتلا ہیں۔ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ آج خدائے تعالیٰ ایسا غضب ناک ہے کہ ایسا نہ کبھی پیشتر ہوا تھا نہ آئندہ
کبھی ہوگا۔ مجھ کو اس جھاڑ کے پاس جانے سے منع فرمایا تھا، مگر مجھ سے نافرمانی ہوگئی۔ آج مجھے اپنے ہی نفس کی فکر ہے تم لوگ اور کسی کے پاس جاؤ۔ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ تو اچھا ہے۔ وہ سب نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ آپ پہلے رسول ہیں جو اہل زمین کی طرف بھیجے گئے تھے۔ آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے عبدشکور رکھا۔ اپنے رب سے ہماری شفاعت کیجئے کہ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حالت میں مبتلا ہیں۔ نوح علیہ السلام کہیں گے کہ خدائے تعالیٰ آج ایسا غضبناک ہے کہ نہ کبھی ہوا تھا نہ کبھی ہوگا۔ میرے لئے ایک دعاء مقرر تھی جو رد نہ ہو سو وہ دعاء میں نے اپنی قوم کے ہلاک کے لئے کی آج مجھے اپنے ہی نفس کی فکر ہے تم اور کہیں جاؤ اگر ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ تو اچھا ہے وہ سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ حضرت آپ نبی اللہ اور خلیل اللہ ہیں۔ اپنے رب سے ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کیسی حالت میں مبتلا ہیں وہ بھی فرمائیں گے کہ جیسے آج حق تعالیٰ غضب کی حالت میں ہے نہ ویسا کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہوگا۔ میں نے تین جھوٹ کہے تھے اس لئے مجھے آج اپنے ہی نفس کی فکر ہے کسی اور کے پاس جاؤ اگر موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ تو اچھا ہے وہ سب موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاکر کہیں گے اے موسیٰ آپ اللہ کے رسول ہو اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالتوں اور کلام سے سب پر بزرگی دی کیا ہماری حالت آپ نہیں دیکھتے رحم کیجئے اور اپنے رب سے ہماری شفاعت کیجئے۔ وہ بھی فرمائیں گے کہ خدائے تعالیٰ جیسے آج غضبناک ہے نہ کبھی ہوا نہ ہوگا۔ میں نے ایک شخص کو بغیر حکم کے مار ڈالا تھا۔ مجھے آج اپنے ہی نفس کی پڑی ہے تم اور کہیں جاؤ اگر عیسیٰ کے پاس جاؤ تو اچھا ہے وہ سب عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاکر کہیں گے حضرت آپ اللہ کے رسول اور اس کے کلمہ ہو۔ جو مریم کی طرف ڈالا تھا اور روح اللہ ہو۔ گہوارہ میں آپ نے لوگوں سے باتیں کی تھیں۔ ہماری حالت پر رحم کر کے اپنے رب سے ہماری شفاعت کیجئے وہ بھی یہی کہیں گے جیسے آج حق تعالیٰ غضب کی حالت میں ہے۔ نہ ویسا کبھی ہوا تھا نہ ہوگا۔ آج مجھے اپنے ہی نفس کی فکر ہے۔ تم اور کہیں جاؤ اگر محمدﷺ کے پاس جاؤ تو اچھا ہے وہ سب محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ حضرت آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں اور خدا تعالیٰ نے اگلے پچھلے گناہ آپ کے سب معاف کر دیئے ہیں دیکھئے ہم کس حالت میں مبتلا ہیں ہماری شفاعت اپنے رب سے کیجئے اس وقت میں عرش کے نیچے جاکر سجدہ میں گروں گا اور محامد و ثنائے الٰہی کے وہ الہامی مضامین میرے دل پر منکشف ہوں گے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ حکم ہوگا کہ اے محمدﷺ سر اٹھاؤ جو تم مانگو گے وہ دیا جائے گا اور شفاعت
کرو گے تو قبول کی جائے گی اس وقت میں سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا۔ اے رب امتی امتی یعنی میری امت کو نجات دے۔ ارشاد ہوگا اے محمدﷺ اپنی امت سے ان لوگوں کو جن پر حساب وکتاب نہیں ہے جنت کی سیدھی جانب کے دروازے سے جنت میں داخل کرو اور اس کے سوا دوسرے دروازوں سے بھی وہ جاسکتے ہیں۔ قسم ہے خدائے تعالیٰ کی جنت کے دروازوں کی مسافت ایک پٹ سے دوسری پٹ تک اتنی ہے جتنی مکہ سے ہجر کی یا مکہ سے بصریٰ کی۔
یہ حدیث بخاری ومسلم وغیرہ میں مذکور ہے جس کی صحت میں کوئی کلام نہیں۔ اس سے ثابت ہے کہ قیامت کے روز تمام انبیائے اولوالعزم اپنی اپنی لغزشیں یاد کرکے خائف وترساں رہیں گے اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ خدا نے ان کو اگلے پچھلے گناہ معاف کرکے بے فکر کر دیا اور اب وہ آنحضرتﷺ کے درجہ میں ہیں۔ کیا فی الواقع ایسا الہام کر کے خدائے تعالیٰ نے ان کو تمام انبیاء سے افضل بنا دیا ہوگا۔ میری دانست میں کوئی مسلمان اس کا قائل نہ ہوگا کہ وہ تمام انبیاء سے افضل اور بارگاہ کبریائی میں سب سے زیادہ مقرب ہیں۔ بات یہ ہے کہ ایسے الہاموں میں اکثر شیطان دھوکا دے دیا کرتا ہے اور آدمی کو اپنی فضیلت کی خوشی میں کچھ نہیں سوجھتا اور سمجھ جاتا ہے کہ سچ مچ خدا ہی کی طرف سے وہ الہام ہے۔ یہ حکایت مشہور ہے کہ کسی زاہد پر شیطان نے وحی کی (بمصداق یوحی بعضہم الی بعض زخرف القول غروراً) کہ میں جبرئیل ہوں اور آپ کے لئے براق لے آیا ہوں۔ چلئے آج آپ کی معراج ہے۔ مگر آنکھوں کو پہلے پٹی باندھ لیجئے۔ چنانچہ انہوں نے اس خوشی میں کہ آج اپنے نبیﷺ کی ہم رتبہ ہوتے ہیں آنکھوں کو پٹی باندھ خدا کا شکر کرتے ہوئے براق پر سوار ہوئے۔ جو دراصل گدھا تھا۔ شیطان نے رسوائی کی غرض سے تمام شہر میں ان کی تشہیر کرکے کسی ویرانہ میں لیجا کر چھوڑ دیا۔ الغرض شیطان آدمی کا سخت دشمن ہے اقسام کی تدبیریں کرکے رسوا بلکہ خسر الدنیا والآخرہ بنا دیتا ہے۔
یہ بحث عارضی تھی اصل کلام روز قیامت کے احوال میں تھا۔ بخاری شریف میں ہے "عن ابن عباس قال خطب النبیﷺ فقال انکم محشورون الی اللّٰه عزوجل عراة غرلاً کما بدانا اوّل خلق نعیده وعداً علینا ان کنا فاعلین ثم ان اوّل من یکسی یوم القیمة ابراهیم الا انه یجاء برجال من امتی فیؤخذ بهم ذات الشمال فاقول یارب اصحابی فیقال لاتدری ما احدثوا بعدک (بخاری ص ٦٩٣ ج ٢، باب قوله کما بداء نااوّل خلق)“ یعنی ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے خطبہ میں فرمایا تم لوگوں کا حشر اللہ تعالیٰ کے روبرو ایسے طور پر ہوگا کہ سب برہنہ اور بے ختنہ
ہوں گے۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”کما بدانا اول خلق“ یعنی جیسے اوّل خلقت میں ہم نے ان کو پیدا کیا تھا۔ اسی طرح ان کو دوبارہ پیدا کریں گے۔ یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے۔ جس کو ہم پورا کرنے والے ہیں۔ پھر قیامت کے روز پہلے ابراہیم علیہ السلام لباس پہنائے جائیں گے۔ میری امت سے چند شخصوں کو بائیں طرف یعنی دوزخ کی جانب لے جائیں گے۔ میں کہوں گا کہ یہ تو میرے اصحاب یعنی امتی ہیں۔ کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد کیسی کیسی نئی باتیں نکالی تھیں۔
اور (بخاری ص ٩٦٦ ج ٢، باب کیف الحشر) میں ہے ”عن انس ان رجلا قال یا نبی الله كيف يحشر الكافر على وجهه يوم القيمة قال اليس الذى امشاه على الرجلين في الدنيا قادر على ان يمشيه على وجهه يوم القيمة“ نبی ﷺ سے کسی نے پوچھا کیا کافر حشر کے دن منہ کے بل چلے گا فرمایا جس نے دنیا میں اس کو پاؤں پر چلایا تھا کیا اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت میں اس کو منہ پر چلائے۔
ان احادیث اور آیۂ موصوفہ سے ظاہر ہے کہ قیامت میں پورا جسمانی کارخانہ قائم ہو جائے گا۔ کیونکہ قبروں سے بے ختنہ اور برہنہ اٹھنا اور منہ کے بل چلنا اور پسینہ جاری ہونا وغیرہ امور اس پر دلیل قطعی ہیں اب اگر مرزا قادیانی کو خدا اور رسول کی بات ماننے میں یہودیت کا خوف ہے تو وہ یہودیت سے بھی بدتر ہے۔ اس لئے کہ کل کفار کا یہی طریقہ رہا کہ خدا اور رسول کی بات پر کوئی نہ کوئی الزام قائم کر دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد اعمال نامے ہر طرف سے اڑیں گے اور ہر ایک کے ہاتھ میں آ جائیں گے۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”واذا الصحف نشرت (تکویر: ١٠)“ ”يومئذ تعرضون لا تخفى منكم خافيه فامامن اوتی کتابه بيمينه فيقول هاؤم اقرؤا كتابيه اني ظننت انی ملق حسابية فهو في عيشة راضية في جنة عالية قطوفها دانية كلوا واشربوا هنيئاً بما اسلفتم في الايام الخالية وامامن اوتی کتابه بشماله فيقول ياليتني لم اوت كتابيه ولم ادر ماحسابيه ياليتها كانت القاضية ما اغنى عنی مالیه هلك عنى سلطانيه خذوه فغلوه ثم الجحيم صلوه ثم في سلسلة ذرعها سبعون ذراعا فاسلكوه (حاقة: ١٨ تا ٣٢)“ اس دن سامنے جاؤ گے چھپ نہ رہے گا۔ چھپنے والا سو جس کو ملا نامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں کہے گا لیجئے پڑھو میرا نامہ مجھے اعتقاد تھا کہ مجھ کو ملنا ہے۔ میرا حساب سو وہ پسندیدہ عیش میں رہے گا۔ جنت میں جس کے میوے جھک رہے ہیں کھاؤ خوشگوار جو آگے بھیجا تم
نے پہلے دنوں میں اور جس کو ملا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں کہے گا کاش مجھ کو نہ ملتا میرا لکھا اور مجھ کو خبر نہ ہوتی کہ کیا حساب ہے میرا اے کاش موت ہی میرا کام تمام کر دیتی کچھ کام نہ آیا مجھ کو میرا مال زائل ہو گئی مجھ سے حکومت کہا جائے گا کہ اس کو پکڑو پھر طوق ڈالو پھر آگ کے ڈھیر میں اس کو بٹھاؤ پھر ایک زنجیر میں جس کا ناپ ستر گز ہے اس کو جکڑو۔ ﴿
اور حدیث میں ہے جس کو احمد عبد بن حمید اور ترمذی اور ابن ماجہ اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے روایت کی ہے۔ ”عن ابی موسیٰ قال قال رسول اللہ ﷺ یعرض الناس یوم القیامۃ ثلث عرضات فاما عرضتان فجدال ومعاذیر و أما الثالثۃ فعند ذلک تطائر الصحف فی الایدی فاخذ بیمینہ واخذ بشمالہ (کذافی الدر المنثور ج ٦ ص ٢٦١ للامام السیوطی)“ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے کہ اعمال تین بار پیش کئے جائیں گے دو بار تو جھگڑے اور عذر خواہیاں رہیں گی۔ تیسرے بار اعمال نامے اڑ کر ہاتھوں میں آ جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔
اور اعمال کے تلنے کا بھی ایک بڑا معرکہ ہے حق تعالیٰ فرماتا ہے ”والوزن یومئذ الحق فمن ثقلت موازینہ فاولئک ہم المفلحون ومن خفت موازینہ فاولئک الذین خسروا انفسہم فی جہنم خالدون (اعراف:٨، ٩)“ جن کے بھاری ہوئیں تولیں وہی رستگار ہوں گے اور جن کی ہلکی ہوئیں تولیں وہی ہیں جو ہار بیٹھے اپنی جان دوزخ میں رہیں گے۔ ﴿
اور ارشاد ہے ”ونضع الموازین القسط لیوم القیمۃ فلا تظلم نفس شیئاً وان کان مثقال حبۃ من خردل اتینا بہا وکفی بنا حاسبین (انبیاء: ٤٧)“ اور رکھیں گے ہم ترازوئیں انصاف کی قیامت کے دن پھر ظلم نہ ہوگا کسی ایک شخص پر ایک ذرہ اور اگر ہوگا برابر رائی کے دانہ کے وہ بھی ہم لے آئیں گے اور ہم بس ہیں حساب کرنے والے۔ ﴿
اور حق تعالیٰ فرماتا ہے ”حتیٰ اذا ماجاؤہا شہد علیہم سمعہم وابصارہم وجلودہم بماکانوا یعملون (حم سجدہ: ٢٠)“ ”الیوم نختم علی افواہہم وتکلمنا ایدیہم وتشہدا رجلہم بما کانوا یکسبون (یسین: ٦٥)“ یعنی ان کے منہ پر اس روز مہر کر دی جائے گی اور ہاتھ پاؤں وغیرہ اعضاء سے گواہی طلب کی جائے گی اور ہر عضو جو کچھ دنیا میں کام کیا تھا پورا پورا کہہ دے گا اور ارشاد ہے ”وان منکم الا واردہا کان علی
١٨١
ربك حتماً مقضياً (مریم: ٧١) ”اور کوئی نہیں تم میں جو نہ پہنچے گا دوزخ پر ہو چکا تمہارے رب پر ضرور مقرر۔﴿
اور امام سیوطیؒ نے (درمنثور ج٤ ص٢٨١) میں نقل کی ہے’عن ابن مسعودؓ فی قوله وان منكم الا واردها قال قال رسول اللہﷺ یرد الناس كلهم النار ثم يصدرون عنها باعمالهم فاولهم كلمح البرق ثم كالريح ثم كحضر الفرس ثم كالراكب في رحله ثم كشد الرجل ثم كمشيه “ یعنی فرمایا نبیﷺ نے کہ کل آدمی دوزخ پر آئیں گے اور بقدر اعمال اس پر سے گزریں گے۔ بعض برق کی طرح بعض ہوا کی بعض گھوڑے کے دوڑ کی اور بعض اونٹ کے اور بعض آدمی کے دوڑنے اور چلنے کی طرح۔
اور بخاری شریف میں یہ روایت ہے’عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہﷺ يقول الله يوم القيمة يا آدم يقول لبيك ربنا وسعديك فينادى بصوت ان الله يامرك ان تخرج من ذريتك بعثا الى النار قال يارب وما بعث النار قال منكل الف اراه قال تسع مائه وتسعة وتسعين (بخاری ج٢ ص٦٩٣، کتاب التفسیر سورة حج، باب قوله وترى الناس سكارى) “ یعنی فرمایا نبیﷺ نے کہ حق تعالیٰ قیامت کے روز فرمادے گا یا آدم وہ جواب میں عرض کریں گے لبیک ربنا وسعدیک پھر ندا ہوگی بلند آواز سے کہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم فرماتا ہے کہ اپنی اولاد سے دوزخ کا لشکر جدا کرو عرض کریں گے کس قدر ارشاد ہوگا ہر ہزار سے ایک کم ہزار۔
پھر وہ مصیبت کا روز معمولی بھی نہ ہوگا کہ چار پہر کسی طرح گذر جائیں۔ بلکہ ابتدائے تخلیق سے قیامت تک جتنی عمر اس عالم دنیوی کی ہے وہ ایک روز درازی میں گویا اس تمام کے برابر اور ہم پہلو ہوگا۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ پچاس ہزار برس کا دن ہوگا۔ ”سال سائل بعذاب واقع للكافرين ليس له دافع من الله ذي المعارج تعرج الملئكة والروح اليه فى يوم كان مقداره خمسين الف سنة فاصبر صبراً جميلا (معارج: ١ تا ٥) “﴿درخواست کرتا ہے درخواست کرنے والا اس عذاب کی جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے اللہ کی طرف سے جو مرتبوں والا ہے۔ چڑھیں گے اس کی طرف فرشتے اور روح اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار برس کی ہے سو صبر کرو اچھا صبر۔﴾
یعنی جتنے فرشتے دنیا میں مختلف کاموں پر مامور ہیں اس روز تمام آسمانوں پر چڑھ جائیں گے۔ غرض کہ قیامت کا دن پچاس ہزار برس کا ہونا اور اس میں اقسام کے مصائب کا پیش
١٨٢
آنا قرآن شریف کی بیسوں آیات اور صدہا احادیث سے ثابت ہے۔ جس کو ذرا بھی ایمان ہو اس میں ہرگز شک نہیں کر سکتا۔ اس پر بھی جن لوگوں کو شک ہو۔ حق تعالیٰ ان کو عقلی طریقہ سے سمجھاتا ہے۔ ”یا ایھاالناس ان کنتم فی ریب من البعث فانا خلقناکم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم من مضغة مخلقة وغير مخلقة لنبين لكم ونقر فی الارحام مانشاء الی اجل مسمى ثم نخرجکم طفلا ثم لتبلغوا اشدکم ومنکم من یتوفی ومنکم من یردالی ارذل العمر لکیلا یعلم من بعد علم شیئاً وتری الارض هامدة فاذا انزلنا علیھا الماء اهتزت وربت وانبتت من کل زوج بهیج ذلک بان الله هوالحق وانه یحیی الموتی وانه علی کل شئی قدیر وان الساعة آتیة لاریب فیھا وان الله یبعث من فی القبور ومن الناس من یجادل فی الله بغیر علم ولاهدی ولا کتاب منیر ثانی عطفه لیضل عن سبیل الله له فی الدنیا خزی ونذیقه یوم القیمة عذاب الحریق (حج:٥ تا ٩)“ اے لوگو! اگر تم کو شک ہے جی اٹھنے میں تو (دیکھو) کہ ہم نے تم کو بنایا مٹی سے پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر مضغہ گوشت سے صورت بنی ہوئی اور نہ بنی ہوئی یہ اس واسطے کہ تم کو ظاہر طور پر معلوم کرا دیں اور ٹھہرا رکھتے ہیں ہم رحم میں جو کچھ چاہتے ہیں ایک میعاد مقرر تک پھر تم کو نکالتے ہیں لڑکا پھر جب تک پہنچو اپنی جوانی کے زور کو اور بعضے تم میں سے مر جاتے ہیں اور بعضے پھیرے جاتے ہیں ارذل عمر تک تا سمجھ کے پیچھے کچھ نہ سمجھنے لگیں اور تم دیکھتے ہو زمین خشک پر جہاں ہم نے اتارا اس پر پانی تازی ہوئی اور ابھری اور اگائیں ہر قسم کی رونق کی چیزیں یہ اس واسطے کہ اللہ ہی ہے حق اور وہ جلاتا ہے مردے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں اور یہ کہ اللہ اٹھائے گا قبر میں پڑے ہوؤں کو اور بعض لوگ ہیں جو جھگڑتے ہیں اللہ کے بات میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے اپنی گردن موڑ کر کہ گمراہ کریں اللہ کی راہ سے ان کی دنیا میں رسوائی ہے اور چکھا دیں گے ہم ان کو قیامت کے دن جلن کی عذاب۔ ﴾
اس آیۂ شریفہ میں حق تعالیٰ ان لوگوں کو جو قیامت کے قائل نہیں کئی مثالوں سے سمجھاتا ہے کہ تم اپنی ہی پیدائش کو دیکھ لو کہ کس قدر عقل کے خلاف ہے۔ مٹی سے نباتات اور ان سے نطفہ اور اس سے علقہ اور اس سے مضغہ اور اس سے آدمی بنتا ہے۔ پھر تم پر کیسے کیسے انقلابات آتے ہیں کبھی لڑکے کبھی جوان کبھی بعد کمال عقل کے بے وقوف محض اور زمین ہی کو دیکھ لو کہ خشک ہونے کے بعد ہمارے حکم سے کیسی لہلہانے لگتی ہے اس سے سمجھ سکتے ہو کہ خدائے تعالیٰ جو ہمیشہ اس عالم
١٨٣
میں انقلاب پیدا کیا کرتا ہے۔ اس انقلاب اخروی پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر کے میدان حشر میں قائم کر دے۔ اس پر بھی جو نہ مانے وہ دنیا میں ذلیل اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ حق تعالیٰ جو فرماتا ہے ’یا ایها الناس ان کنتم فی ریب من البعث (حج:٥)‘ سو مرزا قادیانی کا شبہ اس میں داخل ہے یا نہیں۔ انہوں نے تحریر سابق میں اپنا اعتقاد بیان کر دیا ہے کہ مرنے کے بعد ایک حالت مستمرہ رہے گی اور کوئی زندہ ہو کر زمین پر نہ آئے گا۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ جن شبہات کے رفع کے لئے یہ آیت نازل ہوئی ان میں مرزا قادیانی کا شبہ اور اعتقاد بھی داخل ہے۔ اب مرزا قادیانی کو خدا کا شکریہ بجالانا چاہئے کہ کس طرح مثالیں دے دے کر حق تعالیٰ نے موت کے بعد زندہ کرنے کا حال بیان فرمایا۔ اگر یہودیت کا خیال مانع ہے تو اس کی طرف کچھ توجہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس لئے کہ شیطان ایسے ہی قیاس کر کے آدم علیہ السلام کے سجدہ سے روکا تھا۔
خدائے تعالیٰ کے ارشاد کے بعد مسلمانوں کو چون و چرا کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب اہل انصاف خود ہی غور کر لیں کہ مرزا قادیانی جو فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن بحضور رب العالمین حاضر ہونا ان کو بہشت سے نہیں نکالتا (ازالۃ الاوہام ص ٣٥٠، خزائن ج ٣ ص ٢٧٩) معاد جسمانی کا انکار ہے یا نہیں اور یہ عقیدہ قرآن وحدیث کے مخالف ہے یا نہیں اور اس مخالفت سے آدمی کا ایمان باقی رہ سکتا ہے یا نہیں۔ خدائے تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ تو صاف فرما رہے ہیں کہ حشر زمین پر ہو گا اور اس تصریح کے ساتھ ارشاد ہے کہ اس دن زمین جھاڑ پہاڑ وغیرہ سے خالی کر دی جائے گی اور دریائیں خشک ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔
مگر مرزا قادیانی ایک نہیں مانتے۔ قرآن وحدیث سے مردوں کا قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف جانا ثابت ہے ’ونفخ فی الصور فاذاهم من الاجداث الی ربهم ینسلون (یسین:٥١)‘ یعنی صور پھونکے جانے کے ساتھ ہی سب آدمی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑیں گے اور نیز میدان حشر میں کھڑے ہونا اور پسینہ کی وہ حالت اور ان کا ختنہ نہ کئے ہوئے ایسی حالت پر ہونا جیسے دنیا میں پیدا ہوئے تھے ثابت ہے جو صاف طور سے معاد جسمانی پر گواہی دے رہا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اس کی تصدیق نہیں کرتے اور معرکہ حساب و میزان و پل صراط اور انبیائے اولوالعزم کی پریشانی اور بکرات ومرات نفسی نفسی کہنا دلیل بین ہے۔ اس پر کہ اس وقت کوئی جنت میں نہ ہو گا۔ مگر مرزا قادیانی اس کو رد کر کے کہتے ہیں کہ بہشت سے کوئی نہ نکلے گا۔ دیکھ لیجئے ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی صرف مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے
١٨٤
کہتے ہیں کہ قرآن پر ہمارا ایمان ہے اور اس سے ایک نقطہ کم نہیں ہو سکتا۔ فی الحقیقت ایک نقطہ تو کم نہیں کیا مگر جزو کے جزو نکال دیئے۔ اب یہاں ایک اور مشکل درپیش ہے کہ مرزا قادیانی یہ بھی کہتے ہیں کہ ”ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ اللہ و رسول نے فرمایا ہے وہ سب کچھ ہوگا۔ لیکن ایسے طور پر کہ خدائے تعالیٰ کے تقدس اور تنزہ ...... میں کوئی منافی نہ ہو۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣٥٥ ، خزائن ج ٣ ص ٢٧٩)
اس کا یہ مطلب ہوا کہ وہ لوگ جنت میں بھی ہوں گے اور زمین محشر پر بھی۔ محشر کے مصائب اور آفات تو ابھی معلوم ہوئے اب جنت کے بھی تھوڑے احوال سن لیجئے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”جنات تجرى من تحتها الانهار (محمد: ١٢)“ ”فيها أنهار من ماء غير أسن وانهار من لبن لم يتغير طعمه وانهار من خمر لذة للشاربين وانهار من عسل مصفی (محمد: ١٥)“ ”لكم فيها فاكهة كثيرة منها تا كلون (زخرف: ٧٣)“ ”وفيها ماتشتهيه الانفس وتلذ الاعين (زخرف: ٧١)“ ”لهم فيها ازواج مطهرة (بقرۃ: ٢٥)“ ”وعندهم قاصرات الطرف (صافات: ٤٨)“ ”وحور عين كا مثال اللؤلؤ المكنون (واقعه: ٢٢، ٢٣)“ ”يحلون فيها من اساور من ذهب ويلبسون ثيابا خضرا من سندس واستبرق متكئين فيها على الارائك (كهف: ٣١)“ ”يطاف عليهم بصحاف من ذهب واكواب (زخرف: ٧١)“ ”وكأساً دهاقا (نباء: ٣٤)“ ”لا يرون فيها شمساً ولا زمهریر (دھر: ١٣)“ ”فيها سرر مرفوعة واكواب موضوعة ونمارق مصفوفة وزرابى مبثوثه (غاشیه: ١٣ تا ١٦)“ اس کے سوا اور بہت سی آیتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ جنتیوں کی حالت یہ ہے کہ ان کے مکانوں کے نیچے پانی اور دودھ اور شراب مصفیٰ شہد کی نہریں بہتی ہوں گی۔ مکانات نہایت پر تکلف جن میں بہت ہی پاکیزہ فرش بچھے ہوئے اور مسندیں لگی ہوئیں اور ایک طرف اونچے اونچے تخت سجے ہوئے اور بیبیاں نہایت پاکیزہ اور شرمگیں اور حوریں نہایت حسین فاخرہ لباس اور اقسام کے زیوروں سے آراستہ نزدیک بیٹھی ہوئیں اور خود بھی مکلل زیور اور عمدہ عمدہ لباس پہنے ہوئے اور میوہ جات اور طرح طرح کی نعمتیں جن کا شمار نہیں غلمان و خدام بشقابوں پر بشقابیں لئے چلے آ رہے ہیں اور چھلکتے پیالوں کا ہر دم دور پھر جس چیز کی خواہش ہو فوراً موجود اور ان کے سوا وہ وہ نعمتیں جو نہ کسی کانوں نے سنے نہ آنکھوں نے دیکھیں ہر وقت مہیا پھر نہ اس میں آفتاب کی گرمی نہ زمہریر کی سردی نہ کسی امر کی فکر نہ اس سے نکلنے کا اندیشہ نہ موت کا کھٹکا وغیرہ ۔ امور جن کو تمام اہل
١٨٥
اسلام جانتے ہیں۔ اب دیکھئے مرزا قادیانی جو فرماتے ہیں کہ قیامت کے روز بہشت سے کوئی نہ نکلے گا اور قیامت کے کل مصائب پر بھی ایمان ہے اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اس روز مصائب قیامت میں بھی سب جنتی مبتلا رہیں گے اور عیش وعشرت میں بھی سرگرم اور مشغول رہیں گے یہ بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی مگر ابن حزمؒ نے ملل ونحل میں لکھا ہے کہ انجیل متی کے چودھویں باب میں مذکور ہے کہ مسیح نے کہا کہ یحییٰ نہ کھانا کھاتے ہیں نہ پانی پیتے ہیں اور میں کھانا بھی کھاتا ہوں اور پانی بھی پیتا ہوں۔ اس سے ظاہر ہے کہ یحییٰ علیہ السلام مسیح علیہ السلام سے افضل ہیں۔ نصاریٰ اس کا جواب دیتے ہیں کہ مسیح کا ناسوت کھاتا پیتا تھا اور لاہوت نہ کھاتا تھا نہ پیتا تھا۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ مسئلہ وہیں سے نکالا ہوگا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو یہود ونصاریٰ کے عقائد میں ممارست کی وجہ سے یدِ طولیٰ ہے۔ اس بناء پر قائل ہوں گے کہ اہل محشر کا لاہوت جنت میں اور ناسوت مصائب میں رہے گا مگر ہمارے دین میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس وجہ سے اہل اسلام اس قسم کے لاہوت و ناسوت کے قائل نہیں ہو سکتے۔ مرزا قادیانی ہم پر یہود کے ہم خیال ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور خود نصاریٰ کے ساتھ ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”اگر بہشتی لوگ بہشت میں داخل شدہ تجویز کئے جائیں تو طلبی کے وقت انہیں بہشت سے نکلنا پڑے گا اور اس لق ودق جنگل میں جہاں تخت رب العالمین بچھایا گیا ہے۔ حاضر ہونا پڑے گا ایسا خیال تو سراسر جسمانی اور یہودیت کی سرشت سے نکلا ہوا ہے اور حق یہی ہے کہ ہم عدالت کے دن پر ایمان تو لاتے ہیں اور تخت رب العالمین کے قائل ہیں۔ لیکن جسمانی طور پر اس کا خاکہ نہیں کھینچتے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣٥٠، خزائن ج ٣ ص ٢٧٩)
خود ہی غور فرمائیں کہ یہ تو ہم نے نہیں کہا کہ لق ودق جنگل میں تخت رب العالمین بچھے گا۔ جس کا الزام ہم پر لگایا جاتا ہے البتہ ہم اس آیۂ شریفہ پر ایمان ضرور رکھتے ہیں ”ویحمل عرش ربک فوقہم یومئذ ثمانیۃ (حاقہ:١٧)“ اور اس قسم کے جتنے امور ہمارے خدا اور رسول نے فرما دیئے ہیں گو یہود کے بھی وہ اعتقاد ہوں ان سب کو ہم مانتے ہیں۔ کیونکہ ہمارا قرآن تورات وانجیل کا مصدق ہے۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”ولما جاءہم کتاب من عنداللہ مصدق لما معہم (بقرہ:٨٩)“ اور ہمارے نبی ﷺ نے یہود کے بعض اقوال کی تصدیق بھی کی ہے۔ چنانچہ اس حدیث شریف سے ظاہر ہے جو (بخاری شریف ص ١١٧٢ ج٢، باب قولہ وما قدروا اللہ حق قدرہ ) میں ہے ”عن عبداللہ قال جاء حبر من الاحبار الی رسول اللہ ﷺ فقال یا محمد انا نجد ان اللہ یجعل السموات علی اصبع
١٨٦
والارضين على اصبع والشجر على اصبع والماء على اصبع والثرى على اصبع وسائر الخلائق على اصبع فيقول انا الملك فضحك النبى ﷺ حتى بدت نواجذه تصديقاً لقول الحبر ثم قرأ رسول الله ﷺ وما قدرو الله حق قدره والارض جميعاً قبضته يوم القيمة ‘‘ یعنی ایک عالم یہود کا حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہماری کتاب میں یہ ہے کہ حق تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک اصبع پر اور زمینوں وغیرہ کو ایک ایک اصبع پر رکھ کر فرمائے گا کہ میں ہی بادشاہ ہوں۔ یہ سن کر آنحضرت ﷺ ہنسے جس سے تصدیق اس عالم کی ہوتی تھی۔ پھر حضرت ﷺ نے یہ آیت پڑھی ’’وما قدروا الله حق قدره والارض جميعاً قبضته يوم القيمة (زمر:٦٧)‘‘
الحاصل ہمارے قرآن اور نبی ﷺ نے یہود کی جن جن باتوں کی تصدیق کی ہے ان کی تصدیق کرنے میں ہمیں کوئی عار نہیں۔ البتہ اس قسم کے ناسوت ولاہوت کا اعتقاد قابل عار ہے۔
مرزا قادیانی یہ جو فرماتے ہیں کہ ہم تخت رب العالمین کا خاکہ جسمانی طور پر نہیں کھینچتے۔ اس کا مطلب یہاں معلوم نہیں ہوتا کہ عرش الہی کے جسمانی نہ ہونے سے معاد جسمانی کیونکر باطل کیا جاتا ہے۔ اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ حشر جسمانی ہو تو تنزیہ الہی میں فرق پڑجائے گا تو اس اعتبار سے اس عالم جسمانی میں بھی تنزیہ باقی نہ رہنا چاہئے۔ اس لئے کہ آخر اب بھی استواء علی العرش ثابت ہے۔ جیسے قیامت میں ہوگا۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ’’الرحمن على العرش استوى (طه:٥)‘‘ اب استویٰ کے معنی جو کچھ ہوں جیسے اس عالم میں ہے ویسا ہی اس عالم میں بھی ہوگا۔ پھر جب اس عالم میں زمین پر حشر جسمانی ہونے سے تنزیہ میں فرق آتا ہے تو اس عالم میں بھی عالم جسمانی زمین پر ہونے سے فرق آنا چاہئے اور جب اس عالم میں تنزیہ میں فرق نہیں آتا تو وہاں معاد جسمانی سے فرق آنے کی کیا وجہ۔
مرزا قادیانی تنزیہ کو پیش کر کے حشر ونشر کا جو انکار کرتے ہیں کس قدر بد نما اور خلاف تدین ہے۔ اب تک تو آیات قرآنیہ کو بیان کر کے ان میں الٹ پلٹ ہی کیا کرتے تھے۔ اس مسئلہ میں جو دیکھا کہ اگر احادیث کی تکذیب بھی کردیں تو آیات قرآنیہ اتنی ہیں کہ ان سے سر بر ہونا مشکل ہے۔ اس لئے یہاں وہ طریقہ بھی چھوڑ دیا اور خود مختاری سے ایک نیا عقیدہ گھڑ لیا جس کا کوئی اسلامی فرقہ قائل نہیں۔ گویا وہ کل آیات نعوذ باللہ منسوخ کردی گئیں۔ تمام اہل اسلام جانتے ہیں کہ کوئی بھی کلام الہی کو منسوخ کرنے کا مجاز نہیں۔ جب تک خود خدائے تعالیٰ کسی آیت کو منسوخ نہ کرے پھر مرزا قادیانی اس کے کیونکر مجاز ہو سکتے ہیں۔ اس سے تو یہ ظاہر ہے کہ
١٨٧
روز افزوں ترقی میں نبوت مستقلہ سے بھی ترقی کا دعویٰ ہو گیا ہے۔ اگر متبعین کو مرزا قادیانی کی تقریر سے معاد جسمانی کا انکار ہے تو ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک وہ نبی مستقل بلکہ نبی سے بھی ایک درجہ بڑھ کر ہیں اور ان کی کتاب ازالۃ الاوہام ناسخ قرآن شریف قرار پا چکی ہے۔ نعوذ باللہ من ذلک خدا کرے کہ ایسا نہ ہو اور یہ حضرات خاتم النبیین ﷺ ہی کے کلمہ گو اور پورے قرآن کے معتقد رہیں۔
مشرکین وفلاسفہ جو قیامت کا انکار کرتے تھے بڑی وجہ اس کی یہ مشاہدہ تھا کہ جب کوئی چیز فنا ہو جاتی ہے تو پھر وجود میں نہیں آتی۔ اسی وجہ سے وہ کہتے تھے من یعیدنا یعنی ہمیں دوبارہ کون پیدا کرے گا اور فلاسفہ نے قاعدہ بنا رکھا ہے کہ اعادۂ معدوم محال ہے۔ حق تعالیٰ جواب میں فرماتا ہے ”كما خلقناكم (انعام:٩٤)“ ”اوّل خلق نعيده وعدا علينا انا كنا فاعلين (انبیاء:١٠٤)“ یعنی ہم نے جیسے تمہیں پہلے پیدا کیا جب تم کچھ نہ تھے۔ ویسا ہی دوبارہ بھی پیدا کریں گے۔ کیونکہ اعادہ بہ نسبت ابتدائے تخلیق کے بہت آسان ہے اور ارشاد ہے کہ ”من يحيى العظام وهى رميم قل يحيها الذى انشاها اوّل مرة وهو بكل خلق عليم (يسين:٧٩،٧٨)“ یعنی وہ کہتے ہیں کہ بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم کہو کہ جس نے پہلے پیدا کیا تھا وہی ان کو زندہ کرے گا۔ ہر چیز کو پیدا کرنے کا حال وہ خوب جانتا ہے۔ الحاصل جب آدمی کو خدائے تعالیٰ کی قدرت پر ایمان ہو تو اس کو قیامت کے تسلیم کرنے میں ذرا بھی تأمل نہ ہوگا۔
قیامت کے باب میں کم فہم اور جاہلوں کو یہ شبہات ہوتے ہیں کہ آیات واحادیث میں جو قیامت کے احوال مذکور ہیں باہم متعارض ہیں۔ مثلاً کسی آیت میں یہ ہے کہ سب فرشتے اس روز آسمانوں پر چلے جائیں گے اور کسی میں یہ ہے کہ سب زمین پر اتر آئیں گے اور کسی میں یہ ہے کہ آفتاب و ماہتاب بے نور ہو کر گر جائیں گے اور کسی میں یہ ہے کہ زمین سے ایک میل کے فاصلہ پر آفتاب آجائے گا اور کسی میں ہے کہ دوزخ میں دونوں ڈالے جائیں گے۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”انكم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم (انبیاء:٩٨)“ غرض کہ آیات واحادیث کو دیکھنے سے اس قسم کے بہت شبہات پیدا ہوتے ہیں سو ان کو یوں دفع کرنا چاہئے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار برس کا ہوگا۔ جس میں مختلف اوقات میں مختلف کام ہوں گے۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ایک ہی صدی میں کیسے کیسے انقلابات پیدا ہو جاتے ہیں۔ آدمی جب اپنے بزرگوں کی زبانی ان کے اوائل حالات سنتا ہے اور اپنے زمانے کے حالات کو دیکھتا ہے تو ایک
١٨٨
انقلاب عظیم پاتا ہے۔ جس سے متحیر ہو جاتا ہے۔ جب ایک صدی میں یہ کیفیت ہو تو قیامت کے پچاس ہزار برس میں کس قدر انقلابات ہونا چاہئے۔ اسی وجہ سے ایک وقت وہ ہوگا کہ تمام فرشتے زمین کے آسمانوں پر چلے جائیں گے۔ اس کے بعد جب آسمانوں کا کارخانہ درہم برہم ہو جائے گا زمین پر شان و شوکت کے اظہار کی ضرورت ہوگی تمام فرشتوں کے صفوف زمین پر آراستہ کئے جائیں گے اور آفتاب کا نور زائل کر کے صرف اس کی گرمی کسی خاص مصلحت کے لحاظ سے باقی رکھی جائے گی۔ پھر کسی وقت دوزخ میں بھی ڈال دیا جائے گا۔ ابن عباس کے روبرو بھی چند شبہات اس قسم کے پیش کئے گئے تھے ان کا جواب جو انہوں نے دیا ہے اس سے ہمارے اس قول کی تصدیق ہوتی ہے۔ بخاری شریف میں ہے ”عن سعید قال قال رجل لابن عباس انی اجد فی القرآن اشیاء تختلف علیّ قال فلا انساب بینهم یومئذ ولا یتساء لون واقبل بعضهم علی بعض یتساء لون ولا یکتمون الله حدیثا ربنا ما کنا مشرکین فقد کتموا فی هذه الایة وقال والسماء بناها الی قوله دحاها فذکر خلق السماء قبل خلق الارض ثم قال انکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین الی طائعین فذکر فی هذه خلق الارض قبل السماء وقال وکان الله غفوراً رحیما عزیزاً حکیما سمیعاً بصیراً فکانه کان ثم مضی فقال فلا انساب بینهم فی النفخة الاولٰی ثم ینفخ فی الصور فصعق من فی السمٰوت ومن فی الارض الامن شاء الله فلا انساب عند ذالک ولا یتسائلون ثم فی النفخة الآخرة اقبل بعضهم علی بعض یتسائلون واما قوله ما کنا مشرکین ولا یکتمون الله فان الله یغفر لاهل الاخلاص ذنوبهم وقال المشرکون تعالوا نقول لم نکن مشرکین فختم علی افواههم فتنطق ایدیهم فعند ذلک عرف ان الله لم یکتم حدیثا وعنده یود الذین کفروا الایة وخلق الارض فی یومین ثم خلق السماء ثم استوی الی السماء فسوٰهن فی یومین آخرین ثم دحا الارض ودحیها ان اخرج منها الماء والمرعی وخلق الجبال والاکام وما بینهما فی یومین آخرین فذلک قوله دحاها وقوله خلق الارض فی یومین فجعلت الارض وما فیها من شیء فی اربعة ایام وخلقت السماء فی یومین وکان الله غفوراً رحیما سمی نفسه ذلک وذلک قوله ای لم یزل کذلک فان الله لم یرد شیئاً الا اصاب بالذی اراد فلا یختلف علیک القرآن فان کلا
١٨٩
من عند اللہ " یعنی ایک شخص نے ابن عباسؓ سے کہا کہ قرآن شریف میں مجھے کچھ اختلاف معلوم ہوتا ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے روز لوگوں میں نہ نسبی تعلق ہوگا نہ ایک دوسرے کو پوچھے گا۔ پھر دوسری آیت میں ہے کہ ایک دوسرے کے پاس جائیں گے اور پوچھیں گے اور ایک آیت میں ہے کہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپائیں گے اور دوسری آیت میں ہے مشرک کہیں گے کہ یا اللہ ہم مشرک نہ تھے۔ اس سے چھپانا ثابت ہے اور ایک آیت میں ہے کہ زمین آسمانوں سے پہلے پیدا ہوئی اور دوسری آیت میں ہے کہ آسمان زمین سے پہلے پیدا ہوئے اور کـــــــان اللہ غفوراً رحیما وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ غفور و رحیم گزشتہ زمانہ میں تھا۔ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ نفخہ اولیٰ کے وقت کوئی کسی کو نہ پوچھے گا پھر نفخہ اخریٰ کے بعد ایک دوسرے کو پوچھنے لگیں گے اور جب خدائے تعالیٰ اہل اخلاص کے گناہ معاف فرمادے گا تو مشرکین آپس میں کہیں گے کہ آؤ ہم بھی کہیں کہ ہم مشرک نہ تھے۔ اس وقت ان کے مونہوں پر مہر کر دی جائے گی اور ہاتھ ان کے سب واقعات کہہ سنائیں گے کہ ہم نے یہ یہ کام کیا تھا۔ اس وقت یہ ثابت ہو جائے گا کہ خدائے تعالیٰ سے کوئی کچھ چھپا نہیں سکتا۔ اس وقت کفار آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی ایمان لائے ہوتے اور حق تعالیٰ نے دو دن میں زمین کو پیدا کیا پھر دو دن میں آسمان بنائے۔ اس کے بعد دو دن میں زمین سے پانی نکالا اور چراگاہ اور پہاڑ اور ٹیلے وغیرہ بنائے۔ اس حساب سے زمین اور اس کے متعلقات چار دن میں آسمان سے پہلے اور بعد بنائے گئے اور آسمان دو دن میں اور کـــــــان اللہ غفوراً رحیما وغیرہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمانہ گزشتہ میں یہ نام اپنے رکھے اور اس کے بعد ہمیشہ ان صفات کے ساتھ متصف رہے۔ جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے اور مغفرت وغیرہ کرتا ہے یہ بیان کر کے ابن عباسؓ نے فرمایا کہ ہرگز یہ خیال نہ کرنا کہ قرآن میں اختلاف ہے سارا قرآن اللہ تعالیٰ کے پاس سے اترا ہے ممکن نہیں کہ اس میں اختلاف ہو۔
الحاصل جس طریقہ کی تعلیم ترجمان القرآن ابن عباسؓ نے کی اس سے ظاہر ہے کہ ظاہری طور پر تعارض اگر معلوم ہو تو ایسے طور پر اٹھایا جائے کہ کسی آیت کی تکذیب نہ ہو اور ہر آیت کے معنی پورے طور پر باقی رہیں نہ یہ کہ کسی غرض سے تعارض پیدا کر کے کلام الٰہی کو بدنام کریں۔ پھر اس کو اٹھانے کے واسطے ایسی بد نما تاویلیں کریں۔ جن سے خواہ مخواہ دوسری آیتوں کی تکذیب ہو جائے۔ امام سیوطیؒ نے (درمنثور ج ٢ ص ٨) میں لکھا ہے"واخرج نصر المقدسی فی الحجه عن ابن عمرؓ قال خرج رسول اللہ ﷺ ومن وراء حجرته قوم يتجادلون في القرآن فخرج محمرة وجنتاه كانما تقطران دما فقال ياقوم لا
١٩٠
تجادلوا بالقرآن فانماضل من كان قبلكم بجدالهم ان القرآن لم ينزل ليكذب بعضه بعضا ولكن نزل ليصدق بعضه بعضاً فما كان من محكمه فاعملوا اوماكان من متشابهه فامنوا به “ یعنی ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک بار آنحضرتﷺ کے پیچھے چند لوگ قرآن کی آیت میں جھگڑ رہے تھے کہ حضرت برآمد ہوئے غصہ سے چہرہ مبارک اس قدر سرخ تھا کہ گویا خون ٹپکنے کو ہے اور فرمایا کہ تمہارے پیشتر کی اقوام اسی وجہ سے گمراہ ہوئے کہ کتاب الٰہی میں جھگڑنے لگے۔ قرآن اس واسطے نہیں نازل ہوا کہ ایک آیت سے دوسری آیت کی تکذیب ہو بلکہ اس واسطے نازل ہوا کہ ایک آیت دوسری آیت کی تصدیق کرے۔ سو جو محکم ہے اس پر عمل کرو اور جو متشابہ ہے اس کا صرف یقین کرلو۔
مرزا قادیانی یقین کو نزدیک نہیں آنے دیتے۔ بلکہ جن آیتوں کا یقین تھا ان میں نئے نئے شبہات پیدا کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ضرور ہے کہ ہمیشہ ان شبہات سے پناہ مانگتے رہیں۔ حق تعالیٰ نے ایسے ہی مواقع کے لئے مسلمانوں کو پہلے ہی تعلیم کر دی۔ چنانچہ ارشاد ہے ”الذی یووسوس فی صدور الناس من الجنة والناس (الناس: ٥، ٦)“
اللهم انا نعوذبک من هذه الوساوس والشبهات اور (بخاری شریف ص ٦٥٢ ج٢) میں ہے باب منہ آیات محکمات ”وقال مجاهد الحلال والحرام واخر متشابهات يصدق بعضه بعضاً كقوله تعالیٰ وما يضل به الاالفاسقين وكقوله جل ذكره ويجعل الرجس على الذين لا يعقلون وكقوله والذين اهتدوا زادهم هدى “ یعنی آیات محکمات سے مراد حلال وحرام ہے واخر متشابہات یعنی دوسری آیتیں متشابہ ہیں کہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ سوائے حلال وحرام کے کل آیات متشابہ ہیں۔ جو ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں اور امام سیوطیؒ نے درمنثور میں ابن عباسؓ کا قول بروایت صحیح نقل کیا ہے۔ ”قال ابن عباس وان الله لم يزل شيئاً الاوقد اصاب بالذى اراد ولكن اكثر الناس لا يعلمون“ یعنی حق تعالیٰ نے جو کچھ قرآن میں نازل کیا ہے اس کی مراد نہایت صحیح اور واقعی ہے۔ لیکن بہت لوگ نہیں جانتے غرضکہ آیات واحادیث سے صاف ظاہر ہے کہ آیات کلام اللہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں اور اگر کسی کے سمجھ میں نہ آئے اور تعارض ظاہرا معلوم ہو تو وہ اپنے فہم کا قصور ہے۔ کلام الٰہی اس سے بری ہے۔ مگر مرزا قادیانی کو عیسویت کے دھن میں کچھ نہیں سوجھتا اور خواہ مخواہ آیات میں تعارض پیدا کر کے معاد جسمانی کی آیتوں پر جن سے قرآن بھرا ہو ہے حملہ کر رہے ہیں اور صاف طور سے اس کا انکار ہے۔ مقصود تو یہ
١٩١
ہے کہ مسیح کا زمین پر اترنا ہر طرح سے باطل کر دیں۔ مگر ظاہراً چند آیتیں پیش کرتے ہیں کہ وہ متعارض ہیں۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٢٤٩ تا ٢٥٥، خزائن ج ٣ ص ٢٧٨ تا ٢٨١) میں لکھتے ہیں ”مسیح ابن مریم جس کی روح اٹھائی گئی برطبق آیات کریمہ ”يا ايتها النفس المطمئنة ارجعى الى ربك راضية مرضية فادخلى فى عبادى وادخلى جنتى“ بہشت میں داخل ہوچکے۔ پھر کیونکر اس غمکدہ میں آجائیں۔ ...... اور جو شخص بہشت میں داخل کیا جاتا ہے پھر وہ اس سے کبھی خارج نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”لا يمسهم فيها نصب وماهم منها بمخرجين واما الذين سعدوا ففى الجنة خالدين فيها مادامت السموات والارض الا ماشاء الله عطاء غير مجذوذ“ ..... ایسا ہی قرآن شریف کے دوسرے مقامات میں بھی بہشتیوں کے ہمیشہ بہشت میں رہنے کا جابجا ذکر ہے اور سارا قرآن شریف اس سے بھرا پڑا ہے جیسا کہ فرماتا ہے ولهم فيها ازواج مطهرة وهم فيها خالدون اولئك اصحاب الجنة هم فيها خالدون وغیرہ وغیرہ ..... اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مومن کو فوت ہونے کے بعد بلا توقف بہشت میں جگہ ملتی ہے۔ جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہورہا ہے ”قيل ادخل الجنة قال ياليت قومى يعلمون بما غفرلى ربى وجعلنى من المكرمين“ اور دوسری آیت یہ ہے ”فادخلى فى عبادى وادخلى جنتى“ اور تیسری آیت یہ ہے ”ولا تحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله امواتا بل احياء عند ربهم يرزقون فرحين بما آتہم الله من فضله“ اور احادیث میں تو اس قدر اس کا بیان ہے کہ جس کا استیعاباً ذکر کرنا موجب تطویل ہوگا۔ بلکہ خود آنحضرت ﷺ اپنا چشم دید ماجرا بیان فرماتے ہیں کہ مجھے دوزخ دکھلایا گیا تو میں نے اس میں اکثر عورتیں دیکھیں اور بہشت دکھلایا گیا تو اکثر ان میں فقراء تھے۔“
مطلب اس کا یہ ہوا کہ ان تین آیتوں سے ثابت ہے کہ مرتے ہی آدمی جنت میں داخل ہوجاتا ہے اور بہت سی آیتوں سے ثابت ہے کہ جو جنت میں داخل ہوجاتا ہے پھر اس سے نہیں نکلتا۔ جس سے ثابت ہوا کہ قیامت زمین پر نہ ہوگی اور جتنی آیتیں معاد جسمانی زمین پر ہونے کی ہیں جن سے قرآن شریف بھرا ہوا ہے اور صدہا حدیثیں جن سے ہزارہا کتابیں بھری ہیں کوئی اعتبار اور اعتقاد کے قابل نہیں۔
اب ہر عاقل سمجھ سکتا ہے کہ صدہا آیتوں کے مقابل دو تین آیتیں مخالف معلوم ہوں تو وہ مخالفت قصور فہم کی وجہ سے سمجھی جائے گی یا واقعی جس سے ان تمام آیات کثیرہ کی تکذیب کی
١٩٢
ضرورت ہو۔ کیا مرزا قادیانی کا صدہا آیتوں پر اس غرض سے حملہ کرنا کہ بے کھٹکا عیسیٰ موعود خود بن جائیں۔ عقلاً یہ سمجھنے کے لئے کافی نہیں کہ صرف دنیاوی غرض سے وہ قرآن کی تکذیب کر رہے ہیں اس لئے وہ اپنے کسی دعوے میں ہرگز صادق نہیں ہو سکتے اور نہ کسی دینی خدمت کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ اب ان تین آیتوں کے استدلال کا حال بھی دیکھ لیجئے یا ایتھا النفس المطمئنة سے استدلال کیا جاتا ہے کہ ارواح مرتے ہی بلا توقف بہشت میں داخل ہو جاتی ہیں۔
مگر اس سے تو کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا نہ اس میں موت کا ذکر ہے نہ مرتے ہی جنت میں داخل ہونے کی تصریح بلکہ ابھی معلوم ہوا کہ یہ خطاب قیامت کے دن ہوگا۔ جو سیاق آیت سے خود ظاہر ہے۔ کیونکہ پوری آیت شریفہ یہ ہے کہ ”فیومئذ لا یعذب عذابه احد ولا یوثق وثاقه احد یا ایتھا النفس المطمئنة ارجعی الی ربک راضیة مرضیة فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی (فجر ٢٥ تا ٣٠) “ اوپر سے قیامت کا ذکر چلا آ رہا ہے ”اذا دکت الارض دکاً دکا (فجر : ٢١)“ اس سے ظاہر ہے کہ فیومئذ سے مراد قیامت ہی ہے اور اسی روز ارواح کو یہ خطاب ادخلی فی جنتی ہوگا۔ چنانچہ مولانا شاہ عبدالعزیز صاحبؒ تفسیر عزیزی میں لکھتے ہیں ”دراں روز پر ہول یعنی روز قیامت کہ اوّل وہلہ ہر ہمہ را از نیکاں و بداں اضطراب وفزع لاحق گردد مطیعان و نیکان را تسلی بخشند و ندا در رسد کہ ”یا ایتھا النفس المطمئنة “ اور امام سیوطیؒ (درمنثور ج ٦ ص ٣٥١) میں لکھتے ہیں ”عن ابن عباس فی قوله ارجعی الی ربک قال ترد الارواح یوم القیمة فی الاجساد“ یعنی ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ارواح کو جو ارجعی الیٰ ربک کا خطاب ہوگا وہ قیامت کے روز ہوگا کہ اپنے اجساد میں داخل ہو کر محشر میں حاضر ہو جائیں۔
اور اسی میں یہ روایت بھی ہے ”عن سعید بن جبیر ثم یطیر الارواح فتؤمر ان تدخل الاجساد فهو قوله ارجعی الی ربک راضیة مرضیة (درمنثور ج ٦ ص ٣٥١)“ یعنی سعید بن جبیرؒ بھی یہی مطلب اس آیۂ شریفہ کا کہتے ہیں کہ قیامت کے روز اجساد میں ارواح کو داخل ہونے کا حکم ہوگا۔ چنانچہ وہ اڑ اڑ کر اجساد میں داخل ہو جائیں گے اور یہ روایت بھی اس میں ہے ”وعن ابی صالح فی قوله ارجعی الی ربک قال هذا عند الموت رجوعها الی ربها خروجها من الدنیا فاذا کان یوم القیمة قیل لها فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی (درمنثور ج ٦ ص ٣٥١)“ یعنی ابی صالحؒ فرماتے ہیں ارجعی الیٰ ربک کا خطاب روح کو موت کے وقت ہوتا ہے اس کا دنیا سے نکلنا رب کی طرف
١٩٣
رجوع ہوتا ہے اور جب قیامت کا روز ہوگا تو ادخلی فی عبادی وادخلی جنتی کہا جائے گا اور اسی (درمنثور ج ٦ ص ٣٥١) میں ہے ”عن زید ابن اسلمؒ یا ایتھا النفس المطمئنہ الایة قال بشرت بالجنة عند الموت وعند البعث ویوم الجمع“ یعنی زید ابن اسلمؒ یا ایتھا النفس المطمئنة کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ یہ خوشخبری روح کو موت کے وقت اور قیامت کے روز دی جائے گی کہ جب دخول جنت کا وقت آجائے گا اس وقت داخل ہو جائے۔
اس کی مثال ایسی ہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”واما الذین سعدوا ففی الجنة (ھود:١٠٨)“ یعنی جتنے سعید لوگ ہیں جنت میں ہیں۔ اس سے یہ مقصود نہیں کہ ہر سعید ازلی نزول آیت کے وقت جنت میں چلا گیا تھا۔ جس سے حقیقی طور پر ظرفیت صادق آئے بلکہ وہ سعدا کو بشارت ہے کہ جب جنت میں داخل ہونے کا وقت آجائے گا اس وقت داخل ہو جائیں گے اور
تفسیر نیشاپوری میں ہے کہ عبداللہ ابن مسعودؓ کی قرأت ادخلی فی جسد عبدی ہے۔ یعنی قیامت کے روز نفس مطمئنہ کو حکم ہوگا کہ میرے بندہ کے جسد میں داخل ہو جا اور امام سیوطیؒ نے (درمنثور ج ٦ ص ٣٥١) میں لکھا ہے کہ ”عن ابن عباسؓ فادخلی فی عبدی“ پڑھتے تھے جس کا مطلب وہی ہے کہ جسد میں داخل ہونے کا حکم ہوگا۔ آپ نے دیکھ لیا کہ قرآن شریف کی پوری آیت جو ابھی لکھی گئی اس کے سیاق سے ظاہر ہے کہ قیامت کے روز ادخلی جنتی کا خطاب ہوگا۔ مگر مرزا قادیانی پوری آیت نہیں پڑھتے اور صرف ادخلی جنتی سے استدلال کرتے ہیں۔ اس کی مثال بعینہ ایسی ہے کہ ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ نماز کے پاس جانے کا حکم نہیں اور استدلال میں یہ آیت پیش کر دی کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”یا ایھا الذین آمنوا لا تقربوا الصلوٰة (نساء:٤٣)“ کسی نے کہا وانتم سکاریٰ بھی تو اسی کے ساتھ مذکور ہے۔ جس سے مطلب ظاہر ہے کہ نشہ کی حالت میں نماز مت پڑھو۔ اس نے جواب دیا کہ یوں تو سارا قرآن پڑا ہوا ہے مگر آخر لا تقربوا الصلوٰة بھی تو کلام الٰہی ہے۔ اہل ایمان غور کریں کیا اس قسم کا استدلال کرنے والا مسلمان سمجھا جائے گا یا یہ سمجھا جائے گا کہ قرآن پر اس کا ایمان ہی نہیں۔ کیونکہ صراحۃً جو قید مذکور ہے اس کو اپنی بات بنانے کے لئے اس نے حذف کر دیا۔
اب مرزا قادیانی کو بھی دیکھ لیجئے کہ یہی کام کر رہے ہیں یا نہیں حق تعالیٰ پوری آیت میں قیامت کا ذکر فرماتا ہے اور مرزا قادیانی اپنی بات بنانے کے لئے اس کو حذف کر کے ایک حصہ سے استدلال کرتے ہیں اور موت کے ساتھ اس کو خاص کرتے ہیں اب کیونکر کہا جائے کہ مرزا قادیانی کو قرآن پر ایمان ہے۔
١٩٤
رسالۃ الحق الصریح میں مرزا قادیانی کی تحریر جو درج ہے اس سے ظاہر ہے کہ ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ میں ایک قرأت شاذہ قبل موتھم بھی ہے جو ان کے مفید مدعا ہے۔ اس قرأت شاذہ پر استدلال کر کے (ص٨٩) میں لکھتے ہیں کہ فرض کرو کہ وہ قرأت بقول مولوی صاحب ایک ضعیف حدیث ہے۔ مگر آخر حدیث تو ہے یہ تو ثابت نہیں ہوا کہ وہ کسی مفتری کا افتراء ہے۔ بلکہ وہ احتمال صحت رکھتی ہے۔
مقصود کہ قرأت شاذہ بلکہ حدیث ضعیف بھی اعتماد کے قابل ہے اس بناء پر ہم بھی کہتے ہیں کہ یہ دو قرأتیں ایسے جلیل القدر صحابیوں کی ایک ابن عباسؓ جو ترجمان القرآن ہیں اور دوسرے ابن مسعودؓ جن کی فضیلت صحابہ کے نزدیک مسلم ہے۔ گواہ عادل اس بات پر ہیں کہ ادخلی جنتی کا حکم قیامت کے روز ارواح کو اس واسطے ہوگا کہ وہ اپنے اپنے اجساد میں داخل ہو جائیں۔ موت کے وقت اس حکم سے کوئی تعلق نہیں اور قرأت متواترہ کی تفسیر جو ابن عباسؓ وغیرہ نے کی ہے وہ بھی اسی کے مطابق ہے اور سیاق آیت سے بھی ظاہر ہے کہ قیامت کے روز ارواح کو یہ حکم ہوگا اور جتنی آیتیں معاد جسمانی کے باب میں وارد ہیں سب کا مفاد یہ ہے کہ حشر زمین پر ہوگا اور کل اولین و آخرین انبیاء و غیرہم کا میدان حشر میں موجود رہنا مصرح ہے۔ ”ان الاولیـــــــن والآخرین لمجموعون الیٰ میقات یوم معلوم (واقعہ:٤٩، ٥٠)“ ”ویوم نبعث فی کل امۃ شھیداً علیہم من انفسھم جئنابک شھیداً علی ھؤلاء (نحل:٨٩)“ جن سے ظاہر ہے کہ اس روز کوئی بہشت میں نہ رہے گا اتنے دلائل کے بعد یہ کہنا کہ بہشتوں کے بہشت سے نکلنے پر کوئی حدیث نہیں۔ مرزا قادیانی ہی کا کام ہے اگر مرزا قادیانی کو اتنے دلائل ملتے تو معلوم نہیں کہ کیا حشر برپا کرتے۔ حق تعالیٰ صاف فرماتا ہے ”یخرجون من الاجداث کانھم جراد منتشر (قمر:٧)“ یعنی سب مردے قبروں سے ایسے نکلیں گے جیسے ٹڈے ہیں پراگندہ اور قیامت کے روز کا نام بھی حق تعالیٰ نے یوم الخروج رکھا ہے۔ ”یوم یسمعون الصیحۃ بالحق ذلک یوم الخروج انا نحن نحیی ونمیت (ق:٤٢، ٤٣)“ اور معاد جسمانی پر صدہا حدیثیں موجود ہیں جن کا تھوڑا سا حال اوپر معلوم ہوا باوجود اس کے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ایک حدیث بھی نہیں اور اس پر مرزا قادیانی یہ بھی فرماتے ہیں کہ جھوٹ شرک کے برابر ہے۔ اس سے عقلاء سمجھ سکتے ہیں کہ یہ قول ان کا دھوکا دینے کی غرض سے ہے یا نہیں۔
(ازالۃ الاوہام ص ٣٥٧، خزائن ج ٣ ص ٣٨٨، ٣٨٩) میں عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے باب میں لکھتے ہیں کہ ”اگر ہمارے پاس صرف نصوص قرآن کریم ہی ہوتیں تو فقط وہی کافی تھیں۔
١٩٥
اب جس حالت میں بعض حدیثیں بھی ان نصوص کے مطابق ہوں تو پھر گویا وہ یقین نور علیٰ نور ہے۔ جس سے عمداً انحراف ایک قسم کی بے ایمانی میں داخل ہے۔ یہ بات تو انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ معلوم ہو جائے گی کہ نصوص قرآنیہ اور احادیث نبویہ اور اجماع امت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے باب میں ہمارے مفید ہیں یا مرزا قادیانی کے۔ مگر یہاں صرف یہ بتلانا منظور ہے کہ معاد جسمانی کے باب میں مرزا قادیانی صدہا آیات واحادیث سے جو عمداً انحراف کر رہے ہیں انہیں کے اقرار کے مطابق وہ بے ایمانی کر رہے ہیں یا نہیں۔ دراصل وہ دھوکا دینا چاہتے ہیں کہ ادنیٰ جنتی سے جب مرتے ہی جنت میں داخل ہونا ثابت ہو جائے تو پھر عدم خروج کے دلائل بہت ہیں۔ مگر یاد رہے کہ جب تک وہ قطعی طور پر یہ ثابت نہ کریں کہ مرتے ہی آدمی جنت میں داخل ہوجاتا ہے پھر اس کے بعد جب تک ان تمام نصوص قطعیہ کا جواب نہ دیں جس سے معاد جسمانی اور حشر کا زمین پر ہونا ثابت ہے۔ عدم خروج کی آیتیں ان کو مفید نہیں ہوسکتیں۔ اصل مغالطہ کا منشاء یہ ہے کہ مرنے کے بعد بعضے روحانی طور پر جنت میں داخل ہوجاتے ہیں اسی کو انہوں نے دخول حقیقی قرار دیا ہے جس کے بعد خروج ممکن نہیں۔ حالانکہ وہ دخول حشر اجساد و احیائے عظام کے بعد ہوگا۔ جیسا کہ نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اور دخول روحانی وہ مانع خروج نہیں۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے بارہا روحانی طور پر جنت کی سیر کی ہے جس کا حال انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ معلوم ہوگا۔ اگر مرزا قادیانی یہ فرق کر دیتے کہ (شہداء وغیرہم کے ارواح جنت میں داخل ہوتے ہیں مگر قیامت کے روز وہ اجساد میں داخل اور نئے سرے سے زندہ ہوکر قبروں سے نکلیں گے۔ اس کے بعد جب داخل جنت ہوں گے تو پھر کبھی نہ نکلیں گے) تو کوئی جھگڑا بھی نہ تھا۔ تمام آیات واحادیث حشر جسمانی کے مسلم رہتے اور پورے قرآن پر ایمان بھی ہوجاتا۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کے زمین پر آنے کے خوف سے انہوں نے اس کو گوارا نہ کیا اور اس کی کچھ پروا نہ کی کہ صدہا آیات واحادیث کا انکار لازم آجاتا ہے اور استدلال میں بھی چال نکالی کہ ایک احتمالی پہلو جو نصوص قطعیہ کے مخالف ہے۔ پیش کر کے نہایت ڈھٹائی سے کہہ دیا کہ قرآن سے ثابت ہے کہ بہشتی مرتے ہی بہشت میں داخل ہوجاتا ہے اور پھر نہیں نکلتا۔
مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص٤٣٠، ٤٣١، خزائن ج٣ ص٣٢٨) میں لکھتے ہیں ’’یاد رکھنا چاہئے کہ روحانی علوم اور روحانی معارف صرف بذریعہ الہامات ومکاشفات ہی ملتے ہیں اور جب تک ہم وہ درجہ روشنی کا نہ پالیں تب تک ہماری انسانیت کسی حقیقی معرفت یا حقیقی کمال سے بہرہ یاب نہیں ہوسکتی۔ صرف کوے کی طرح یا بھینڈے کے مانند ایک نجاست کو ہم حلوا سمجھتے رہیں گے اور
١٩٦
ہم میں ایمانی فراست نہیں آئے گی۔ صرف لومڑی کی طرح داؤ پیچ بہت یاد ہوں گے۔“
اب اہل انصاف خود ہی سمجھ سکتے ہیں کہ جس فراست سے قرآن کی صدہا آیتوں اور حدیثوں کا ابطال ہو اس کا نام ایمانی فراست ہوگا۔ بحسب اقرار مرزا قادیانی بے ایمانی اور داؤ پیچ کا بھی حال معلوم ہو گیا کہ ایک آیت کا اجمالی پہلو پیش کر کے صد ہا نصوص قطعیہ کو رد کر دیا اور پھر فرماتے ہیں کہ حق یہی ہے کہ عدالت کے دن پر ہم ایمان تو لاتے ہیں لیکن اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ اللہ ورسول نے فرمایا ہے وہ سب کچھ ہوگا۔ لیکن سبحان اللہ کیا ایمان و یقین ہے یہ ایمان کا طریقہ تو مرزا قادیانی نے ایسا نکالا کہ آدمی تمام دنیا کے مذاہب و ادیان کی تصدیق کر سکتا ہے۔ مثلاً نصاریٰ سے کہہ دے کہ ہم تثلیث کو مانتے تو ہیں لیکن اور اس لیکن کے تحت میں منافیات تثلیث کو داخل کر دے۔ جتنے مشرکین تھے خدائے تعالیٰ کی خالقیت والوہیت کو یقینی طور مانتے تھے۔ ”ولئن سألتهم من خلق السموات والارض ليقولن الله (زخرف:٩)“ مگر اس کے ساتھ ”ما نعبدهم الا ليقربونا الی اللہ زلفی (زمر:٣)“ کا (لیکن) لگا رہتا تھا اور منافق تو اس لیکن کو ظاہر بھی نہیں کرتے تھے۔ صرف اس کی کیفیت ان کے دل میں رہتی تھی۔ باوجود اس کے ان کا آمنا کہنا بے کار کر دیا گیا اور آخر ”ان المنافقين في الدرك الاسفل من النار (نساء:١٤٥)“ کے مستحق ٹھہرے۔ اب اس لیکن کے مطلب پر بھی غور کر لیجئے جب یہ تصریح مرزا قادیانی نے کر دی کہ بہشتی مرتے ہی بہشت میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر اس سے نہیں نکلتے اس کے بعد اگر پوچھا جائے کہ قرآن میں تو یہ ہے کہ سب روحیں اجساد میں داخل ہو کر قیامت کے روز قبروں سے زمین پر نکلیں گے تو یہی جواب ہوگا کہ اس پر ایمان تو ہے لیکن بہشت سے نہیں نکلیں گے اور اگر کہا جائے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ اولین و آخرین اس روز سب زمین پر ہوں گے تو یہی جواب ہوگا کہ اس کا یقین تو ہے لیکن بہشت سے کوئی نہ نکلے گا اور اگر کہا جائے کہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ حشر میں ہر شخص پریشان رہے گا اور انبیاء تک نفسی نفسی کہیں گے تو جواب یہی ہوگا کہ یہ صحیح ہے۔ لیکن جنت کے عیش وعشرت سے کوئی نکالا نہیں جائے گا۔ غرض کہ جتنی آیات واحادیث اس باب میں وارد ہیں سب کی فوراً تصدیق کی جائے گی۔ مگر لفظ لیکن اس کے ساتھ لگا رہے گا۔ اسی کے مناسب یہ حکایت ہے کسی مولوی صاحب نے ایک صاحب سے پوچھا جن کو سیادت کا دعویٰ تھا کہ آپ کون سے سید ہیں حسنی یا حسینی انہوں نے کہا میں سید ابراہیمی ہوں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے خاص فرزند ابراہیم علیہ وعلیٰ ابیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد میں ہوں۔ مولوی صاحب نے احادیث اور انساب اور تواریخ کی کتابیں پیش کیں کہ حضرت ابراہیم کا انتقال
١٩٧
حالت طفولیت میں ہو گیا ہے۔ سید صاحب نے یہ سن کر فرمایا وہ سب صحیح ہے۔ لیکن بندہ تو سید ابراہیمی ہے۔ اب ہر شخص غور کر سکتا ہے کہ باوجود اس لائن کے یہ کہنا کہ خدا اور رسول نے قیامت کے باب میں جو کچھ فرمایا وہ سب کچھ ہوگا اور اس پر ہمارا یقین اور ایمان ہے کہ کیا دھوکے کی ٹٹی نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا داؤ پیچ ہو سکتے ہیں جن کو تھوڑی سی بھی فراست ہو اس کو بخوبی معلوم ہو سکتے ہیں۔
ان مقامات میں جو جو آیات و احادیث وارد ہیں مرزا قادیانی کو ایک قدم بڑھنے نہیں دیتیں اور یہ وہی نقشہ ہے جو انہوں نے (ازالۃ الاوہام ص ٤٢٦، خزائن ج ٣ ص ٣٢٨) میں عیسیٰ علیہ السلام کے وفات کے باب میں کھینچا ہے کہ ”ہمارے مخالفین کو ان تمام شواہد میں کوئی مدد نہیں دیتا۔ قرآن کریم کے سامنے جاتے ہیں تو قرآن کریم کہتا ہے کہ چل دور ہو میرے خزانہ حکمت میں تیرے خیال کے لئے کوئی موید بات نہیں۔ پھر وہاں سے محروم ہو کر حدیثوں کی طرف آتے ہیں تو حدیثیں کہتی ہیں کہ اے سرکش قوم یک جائی سے ہمیں دیکھ اور مؤمن ببعض اور کافر ببعض نہ ہوتا تجھے معلوم ہو کہ میں قرآن کے مخالف نہیں۔“
اس کا تصفیہ تو اپنے مقام پر انشاء اللہ تعالیٰ ہو جائے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے باب میں آیات و احادیث ان کو رد کرتے ہیں یا ان کے مخالفین کو۔ مگر یہاں تو ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی قرآن کی جس آیت کے سامنے جاتے ہیں وہ صاف کہتی ہے کہ چل دور ہو تیرے خیالی اور اختراعی باتوں سے میں بری اور بیزار ہوں۔ پھر وہاں سے محروم ہو کر حدیثوں کی طرف آتے ہیں تو ان کا تو ایک لشکر کثیر شمشیر بکف ہے کہ جتنی باتیں تیری معارض قرآن ہیں سب واجب القتل ہیں۔ مگر مرزا قادیانی عیسویت پر عاشق دل دادہ ہیں۔ وہ کب کسی کی مانتے ہیں۔ ان کا عشق اس سے ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کا قیامت کے روز بھی زمین پر اترنا ناگوار ہے۔ اگر نصوص قطعیہ کے مطابق زمین پر حشر ہو اور عیسیٰ علیہ السلام بھی وہاں موجود ہوں تو یہ تو نہ ہوگا کہ قتل دجال وغیرہ کی ضرورت ہوگی۔ جس سے مزاحمت کا اندیشہ ہو۔ پھر جب مرزا قادیانی کا اس میں کوئی ذاتی ضرر متصور نہیں ہوتا تو ناحق آیات و احادیث کثیرہ سے مخالفت پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر چہ انہوں نے یہ سوچا ہے کہ بطور ترقی یہ کہا جائے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام اس عالم میں تو کیا قیامت کے روز بھی زمین پر نہیں اتر سکتے۔ مگر یہ بات ضرورت سے زیادہ ہے اور اس قابل نہیں کہ اس کے لحاظ سے اتنی آیات و احادیث سے مخالفت کی جائے۔ دراصل یہ بھی اسی عشق کا ایک شعبہ ہے اور اس قسم کی صدہا باتیں ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہے کہ بمصداق حدیث
١٩٨
شریف حبك للشی یعمی و یصم ۔ نبوت کے شوق میں ان کو نہ قرآن کریم کی مخالفت کی پروا ہے نہ حدیث شریف کی۔ جب ان کو اس درجہ کا عشق ہے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو امور ان کے مقصود کے مزاحم اور مانع ہوں تو ان کو کس نظر سے دیکھتے ہوں گے۔ عشاق تو ناصح خیر خواہ کو بھی دشمن سمجھتے ہیں۔ چہ جائیکہ موانع اور وہ امور جو مقصود کی طرف جانے سے روک دیں ان کا بس چلیں تو روکنے والوں کو بلا تامل قتل ہی کر ڈالیں۔ جیسا محمد ابن تومرت نے کیا تھا۔ جس کا حال اسی کتاب میں معلوم ہوا۔ اب غور کیا جائے کہ مرزا قادیانی کی اس عاشقانہ رفتار میں جگہ جگہ آیات واحادیث جو مزاحمت کر رہی ہیں کس قدر ان کے دل آزار اور ناگوار خاطر ہوں گی۔ جب ہی تو وہ بے باکانہ حملے پر حملے کئے جاتے ہیں۔ نہ کسی آیت کو وہ چھوڑتے ہیں نہ حدیث کو۔ انا ولا غیری کی نشا میں سرشار ہیں اور ہر معرکہ میں زبان آوری کے جوہر دکھاتے اور دشمنوں کو تہ تیغ کرتے ہوئے مقصود کی طرف بڑھتے جارہے ہیں۔ اس وقت مرزا قادیانی کا کوئی دشمن سوا آیات واحادیث کے نظر نہیں آتا جو دائیں بائیں طرف سے ان پر حملہ آور ہو اگر اہل اسلام مخالفت کر رہے ہیں تو وہ وکالۃً ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے مسیح بن جانے سے نہ ان کے کسی منصب پر اثر پڑتا ہے نہ کوئی نقصان ہے۔
اس مشاہدہ سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی نے جو خواب دیکھا تھا کہ ایک لمبی تلوار جس کی نوک آسمان تک پہنچی ہے ان کے ہاتھ میں ہے اور دائیں بائیں چلا رہے ہیں اور ہزار دشمن اس سے مارے جارہے ہیں۔ اس کی تعبیر یہی ہے کہ ہزار آیات واحادیث کا خون کریں گے جس کا وقوع ہو گیا اور غزنوی صاحب نے جو حسن ظن سے تعبیر دی تھی اس کو مشاہدہ غلط ثابت کر رہا ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں خواب کی تعبیر میں اکثر غلطی ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٢١١، خزائن ج ٣ ص ٢٠٤) میں لکھتے ہیں ”جو وحی یا کشف خواب کے ذریعہ سے کسی نبی کو ہووے اس کی تعبیر کرنے میں غلطی بھی ہو سکتی ہے۔“
جب بقول مرزا قادیانی ایسے قابل وثوق خواب میں غلطی ہو جو نبی نے دیکھا ہو اور بذریعہ وحی ہو تو دوسرے خواب اوروں کے اور ان کی تعبیر کس حساب و شمار میں۔ یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ جو تعبیر ہم نے بیان کی ہے اس پر ایک بہت بڑا قرینہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تلوار کی نوک آسمان تک پہنچی ہے۔ جس سے اشارہ ہے کہ آسمانی کتاب اور آسمانی نبوت کے مکاشفات اور اخبار پر اسی تلوار سے حملہ ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب جب اس رؤیا کی تعبیر بحسب مشاہدہ اور قرینہ قویہ یہ ثابت ہوئی تو مرزا قادیانی کا یہ قول جو (ازالۃ الاوہام ص ٦٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤٥٥) میں لکھا
١٩٩
ہے کہ ”حدیثوں میں یہ بات وضاحت سے لکھی گئی ہے کہ مسیح موعود اس وقت دنیا میں آئے گا کہ جب علم قرآن زمین پر سے اٹھ جائے گا۔ جہل شیوع پا جائے گا یہ وہی زمانہ ہے جس کی طرف ایک حدیث میں یہ اشارہ ہے۔ ”لوکان الایمان معلقاً بالثریا لناله رجل من فارس“ یہ وہی زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا ۔“
یعنی اس وقت علم قرآن کو خدا نے ثریا سے لایا ہے (رؤیائے مذکورہ) کے خلاف اس لئے کہ تلوار کی نوک آسمان اور ثریا تک پہنچنے کا مطلب تو یہی ہے کہ اگر قرآن ثریا پر بھی جائے تو اس تلوار سے اس کا کام وہیں تمام کر دیا جائے۔ کیونکہ تلوار کی نوک سے تلوار ہی کا کام لیا جاتا ہے۔
جب الہامات وغیرہ سے ظاہر ہو گیا کہ قرآن وحدیث کو وہ تہ تیغ کر رہے ہیں اور یہ اصول قرار دیا ہے کہ تفسیر وحدیث وآثار صحابہ وغیرہ کوئی قابل اعتبار نہیں اور اس پر قرآن کے معارف دانی کا دعویٰ ہے تو جو معارف مرزا قادیانی ایجاد کرتے ہیں وہ ضرور ایسے ہوں گے کہ نہ کسی مسلمان نے ان کو سنا ہوگا نہ ان کے آباؤ اجداد نے۔ سو ایسے معارف سننے والے بھی ایسے ہی ہونا چاہئے کہ جن کو دین بطور وراثت باپ دادا سے پہنچا نہ ہو۔ کیونکہ جہاں دین نیا ہو تو دیندار بھی نئے ہی ہوں گے۔ نبی ﷺ نے اس قسم کے معارف بیان کرنے والوں کو نسبت صاف فرما دیا ہے کہ ان کو جھوٹے اور دجال سمجھو۔ چنانچہ امام سیوطیؒ (در منثور ج ٦ ص ٥١) میں لکھتے ہیں کہ (امام احمد ج ٢ ص ٣٤٩) وغیرہ میں روایت کی ہے ”عن ابی هریرة ان رسول الله ﷺ قال سیکون فی امتی دجالون کذابون یاتونکم ببدع من الحدیث بما لم تسمعوا انتم ولا آباؤکم فایاکم وایاهم لایفتنونکم “ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے میری امت میں بہت سے دجال جھوٹے ہوں گے۔ جو مسلمانوں کے روبرو ایسی نئی نئی باتیں پیش کرینگے کہ نہ انہوں نے سنیں نہ ان کے باپ دادا نے۔ ایسے لوگوں سے بچتے رہو کہیں وہ فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
مرزا قادیانی کی کارروائیاں اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہر دو پیش نظر رکھیں اہل ایمان تھوڑی توجہ کریں تو قیاس سے صحیح نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ وہ کیسے شخص ہیں کیا اب بھی مسلمانوں کو مرزا قادیانی کے معاملہ میں کوئی شک کا موقع اور عذر باقی ہے۔ اب حدیث کو دیکھئے کہ امام سیوطیؒ نے اس کو روایت کی ہے جن کی جلالت شان یہ ہے کہ مرزا قادیانی خود (ازالۃ الاوہام ص ١٥١، خزائن ج ٣ ص ١٧٧) میں لکھتے ہیں کہ ”امام شعرانی صاحب نے ان لوگوں کے نام لئے ہیں جن میں سے ایک امام محدث جلال الدین سیوطیؒ بھی ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق جلال الدین سیوطیؒ کا بخط ان کے محبی شیخ عبدالقادر شاذلی کے پاس پایا۔ جو کسی شخص کے نام خط تھا۔ جس نے
٢٠٠
ان سے بادشاہ وقت کے پاس سفارش کی درخواست کی تھی۔ سو امام صاحب نے اس کے جواب میں لکھا تھا کہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں صحیح احادیث کے لئے جن کو محدثین ضعیف کہتے ہیں حاضر ہوا کرتا ہوں۔ چنانچہ اس وقت تک پچھتر دفعہ حالت بیداری میں حاضر خدمت ہو چکا ہوں۔ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میں بادشاہ وقت کے پاس جانے کے سبب سے اس حضوری سے رک جاؤں گا تو قلعہ میں جاتا اور تمہاری سفارش کرتا۔“ چونکہ مرزا قادیانی نے بلاجرح واعتراض بطیب خاطر اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔ اس لئے ہم حتی الوسع امام سیوطیؒ کی کتابوں سے احادیث نقل کیا کرتے ہیں۔ تاکہ مرزا قادیانی کو ان کے مان لینے میں تأمل نہ ہو اور جس کتاب سے حدیث مذکورہ بالا کو امام سیوطیؒ نے نقل کیا ہے وہ امام احمد کی مسند ہے۔ جنکی شاگردی پر اکابر محدثین کو ناز ہے اور خود مرزا قادیانی (ضرورت الامام ص ٢٤ خزائن ج ١٣ص ٤٩٥) میں حدیث ”من مات بغیر امام مات ميتة جاهلية “ کو انہیں کی اسی مسند سے نقل کر کے لکھتے ہیں کہ یہ حدیث ایک متقی کے دل کو امام الوقت کا طالب بنانے کے لئے کافی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ جاہلیت کی موت ایک ایسی جامع شقاوت ہے جس سے کوئی بدی اور بدبختی باہر نہیں۔ سو بموجب اس نبوی وصیت کے ضروری ہوا کہ ہر ایک حق کا طالب امام صادق کی تلاش میں لگا رہے۔“
اس کے بعد امام الوقت ہونے کی تقریر کر کے یہ نتیجہ نکالا کہ جو اپنے کو امام نہ مانے وہ اس شقاوت میں گرفتار ہوگا۔ جس سے کوئی بدی اور بدبختی باہر نہیں نہ فسق نہ کفر، یعنی فاسق و کافر ہوگا۔ اب دیکھئے کہ مسند موصوف کو بقول مرزا قادیانی کس درجہ قوت ہے کہ اس کی حدیث پر عمل نہ کرنے والا فاسق بلکہ کافر ہو جاتا ہے۔ پھر اسی کتاب کی وہ حدیث واجب العمل کیوں نہ ہو جس سے نئی غیر معروف باتیں بنانے والے دجال و کذاب ثابت ہوتے ہیں۔
من مات بغیر امام کی حدیث میں چونکہ مرزا قادیانی کا نام نہیں ہے اس لئے اس سے خاص مرزا قادیانی کا امام زماں ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ بخلاف اس کے جو شخص ایسی نئی باتیں بیان کرے جو مسلمانوں نے اور ان کے آبا و اجداد نے نہیں سنی۔ اس کو دجال و کذاب و فتنہ پرداز سمجھنا بحسب اقرار مرزا قادیانی صراحۃً اس حدیث سے لازم اور واجب ہے۔ خدا کرے مرزا قادیانی ایسی نئی باتیں بنانا چھوڑ دیں اور مسلمانوں کے معتمد علیہ بن جائیں۔
یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ حدیث شریف تو صراحۃً بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ نئی باتیں بنانے والا دجال و کذاب ہے اور مرزا قادیانی کی تقریر سے مستفاد ہے کہ نصوص کیسے ہی صراحت سے وارد ہوں مگر مرزا قادیانی کے قول کے مقابلے میں وہ سب ترک کر دی جائیں۔
٢٠١
چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٤٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣١٢) میں فرماتے ہیں کہ ”صرف الہام کے ذریعہ ایک مسلمان اس کے معنی آپ پر کھولتا ہے کہ ابن مریم سے اس جگہ درحقیقت ابن مریم مراد نہیں ہے ۔ تب بھی بمقابل اس کے آپ لوگوں کو یہ دعویٰ نہیں پہنچتا کہ ابن مریم سے مراد حقیقت ابن مریم ہی ہے۔ کیونکہ مکاشفات میں استعارات غالب ہیں اور حقیقت سے پھیرنے کے لئے الہام الہی قرینہ قویہ کا کام دے سکتا ہے اور آپ حسن ظن کے مامور ہیں۔“
دیکھ لیجئے ابتدائے اسلام سے آج تک کسی نے کہا نہ سنا کہ عیسیٰ علیہ السلام مرکز زمین میں دفن ہو گئے اور ان کا ہم نام یا مثیل پیدا ہو کر پادریوں کا جواب دے گا اور پادری لوگ ہی دجال ہیں۔ اسی طرح قیامت کا جنت میں ہونا وغیرہ امور جو مرزا قادیانی سنا رہے ہیں ایسے ہیں کہ کسی مسلمان نے نہیں سنے اور آیات واحادیث میں کھلے الفاظوں میں موجود ہے کہ قیامت زمین پر ہوگی اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام قبل قیامت زمین پر آئیں گے۔ ایسے موقع میں مرزا قادیانی پر حسن ظن کیا جائے یا نبی ﷺ کے حکم کی تعمیل کی جائے کہ جو شخص نئی باتیں بنائے وہ دجال وکذاب سمجھا جائے۔ ہمارے کہنے کی یہاں کوئی ضرورت نہیں۔ ہر شخص اپنے معتقد علیہ کی بات کو خود مان لے گا۔ وما علینا الا البلاغ !
اگر مرزا قادیانی کے مخترعات پر حسن ظن ضرور ہے تو ابو منصور کے کشف مذکور کے الہامات کیوں قابل حسن ظن نہ ہوں۔ آخر اس کا بھی دعویٰ الہام ہی سے تھا کہ حرمت علیکم المیتة والدم ولحم الخنزیر کے معنی یہ نہیں جو ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتے ہیں۔ بلکہ وہ بزرگوں کے نام تھے۔ جن کی حرمت وتعظیم کی ضرورت تھی۔ اس وجہ سے مردار اور خون اور گوشت خنزیر وغیرہ کی حرمت ثابت نہیں۔ علیٰ ہذا القیاس جتنے مدعیان الہام گزرے ہیں سب کا یہی دعویٰ تھا کہ ہمارے الہام حجت ہیں اور اسی قسم کے دلائل انہوں نے بھی قائم کئے ہوں گے کہ کلام خدا اور رسول کو پھیرنے کے لئے الہام الہی قرینہ قویہ کا کام دے سکتا ہے اور آپ حسن ظن کے مامور ہیں۔ انہی وجوہات سے ہزاروں ان کے بھی پیرو ہو گئے تھے مگر درحقیقت وہ جھوٹے تھے۔ جن کے کذاب ودجال ہونے کے قائل غالباً مرزا قادیانی بھی ہوں گے۔ اب ان صدہا تجربوں کے بعد بھی اگر مرزا قادیانی کے الہاموں پر حسن ظن کیا جائے تو یہ مقولہ صادق آجائے گا من جرب المجرب حلت بہ الندامۃ مگر یہ ندامت قیامت کے روز خدا اور رسول کے روبرو کچھ مفید نہ ہوگی۔
غرض کہ مرزا قادیانی نے جو کہا تھا کہ آدمی مرتے ہی جنت میں چلا جاتا ہے اور
٢٠٢
استدلال میں یہ آیت پیش کی تھی ادخلی جنتی سو اس کا حال معلوم ہو گیا کہ اس آیت کو اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ بلکہ سیاق آیت سے ظاہر ہے کہ قیامت کے روز یہ ارشاد ہو گا جس پر دوسری آیات بھی ناطق ہیں اور اگر موت کے وقت کہا بھی جاتا ہو تو بطور بشارت ہے کہ وقت پر داخل ہو جائے ۔
اور اس آیہ شریفہ سے یہی استدلال کرتے ہیں ”قیل ادخل الجنة قال یالیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی وجعلنی من المکرمین (یٰسین:٢٧،٢٦)“ یہ ایک شخصی واقعہ ہے جوکہ حق تعالیٰ نے ”وجاء من اقصٰی المدینہ رجل یسعٰی (یٰسین:٢٠)“ ”الیٰ قولہ تعالیٰ قیل ادخل الجنة (یٰسین:٢٦)“ میں ذکر فرمایا ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اہل انطاکیہ کی طرف اپنے حوارین سے تین شخصوں کو بھیجا تھا کہ ان کو توحید کی دعوت کریں۔ انہوں نے ان سب کو مار ڈالا اس اثناء میں ایک بزرگ جن کا نام حبیب تھا وہ بھی آئے اور اس قوم کو نصیحت کر کے اپنا ایمان ظاہر کیا انہوں نے ان کو بھی شہید کر ڈالا۔ حق تعالیٰ اس بزرگ کا حال بیان فرماتا ہے۔ ”قیل ادخل الجنة قال یالیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی وجعلنی من المکرمین“ یعنی اس شخص سے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہو اس نے کہا کاش میری قوم جانتی کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا اور عزت دی۔ اس واقعہ پر مرزا قادیانی استدلال کرتے ہیں کہ مرتے ہی جنتی جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اس میں صرف اسی قدر ہے کہ اس شخص سے کہا گیا تھا کہ جنت میں داخل ہو جا یہ تو نہیں کہا گیا ۔ ابھی داخل ہو جا اگر فی الحقیقت ان کے داخل ہو جانے کا حال بیان کرنا مقصود ہوتا تو ادخلناہ فی الجنة ارشاد ہوتا۔ یعنی ہم نے اس کو جنت میں داخل کر دیا۔ کیونکہ یہاں اس بزرگ کی جان بازی کے معاوضہ میں اپنے کمال فضل کا حال بیان کرنا مقصود ہے۔ فن بلاغت میں بلاغت کے معنی یہ لکھتے ہیں کہ کلام مقتضائے حال کے مطابق ہو ”کما قال فی التلخیص البلاغة فی الکلام مطابقة لمقتضی الحال مع فصاحة“ اب دیکھئے کہ اگر وہ بزرگ داخل جنت ہو گئے ہوتے تو مقتضائے حال لفظ ادخلناہ تھا نہ قیل ادخل الجنة اور جب قیل ادخل ارشاد ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ صرف بشارت مقصود تھی ورنہ کلام مطابق مقتضائے حال نہ ہوگا۔ حالانکہ کلام الٰہی میں یہ بات محال ہے۔ اگر کہا جائے کہ حق تعالیٰ کا فرمانا بھی دخول جنت کے لئے کافی ہے تو ہم یہ کہیں گے کہ لفظ قیل ادخل سے دو احتمال پیدا ہوتے ہیں ایک فوراً داخل ہو جانا دوسرا وقت معین پر۔ یعنی قیامت کے روز داخل ہونے کی بشارت اس صورت میں وہ احتمال لینا جو
٢٠٣
مخالف قرآن ہے ہرگز جائز نہیں پھر ایسا احتمالی پہلو اختیار کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی صاف ارشاد ہو جاتا کہ ہم نے اس کو جنت میں داخل کر دیا۔ جس سے کوئی احتمال ہی باقی نہ رہتا اور اگر تسلیم بھی کر لیا جائے تو وہ دخول روحانی تھا۔ جو عارضی طور پر ہوا کرتا ہے۔ غرض کہ اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ مرتے ہی ہر شخص جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر اس سے نہیں نکلتا۔
اور یہ آیت شریفہ بھی استدلال میں پیش کرتے ہیں ”ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل الله امواتاً بل احیاء عند ربھم (آل عمران: ١٦٩)“ یعنی شہیدوں کو مردے مت سمجھو وہ اللہ کے پاس زندہ ہیں۔
اس میں تو جنت کا نام بھی نہیں، رہا اللہ کے پاس زندہ رہنا سو اس میں جنت کی کیا خصوصیت، دیکھ لیجئے فرشتے زندہ ہیں اور جنت میں نہیں ہیں اور اگر کہا جائے کہ فرشتے آسمانوں میں ہیں اور جنتیں بھی وہیں ہیں جس سے یہ لازم آتا ہے کہ کل آسمانی فرشتے جنت میں ہیں تو پھر یہ کہنا کہ جنت میں داخل شدہ خارج نہیں ہو سکتا، صحیح نہیں اس لئے کہ فرشتے زمین پر برابر اترتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”تنزل الملئکة والروح (قدر: ٤)“ اس سورت میں ممکن ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی ان فرشتوں کے ساتھ اتر آئیں۔ غرض کہ زندگی کے واسطے جنت کی ضرورت نہیں۔ اگر قبر ہی میں خاص طور پر زندہ رہیں تو احیاء عند ربھم جب بھی صادق آئیگا اور قرب کے لئے نہ آسمانوں کی ضرورت ہے نہ جنت کی۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”نحن اقرب اليه من حبل الوريد (ق:١٦)“ ”فلولا اذا بلغت الحلقوم وانتم حنئذ تنظرون ونحن اقرب اليه منكم ولكن لا تبصرون (واقعه: ٨٣ تا ٨٥)“ یعنی جب روح حلق کو پہنچ جاتی ہے اور تم دیکھتے رہتے ہو اور ہم تم سے زیادہ تر نزدیک اس کے رہتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے۔ اس سے ظاہر ہے کہ عند کا مضمون ہر وقت صادق ہے۔
اس میں کلام نہیں کہ شہداء کو خاص طور پر تقرب ہے۔ مگر اس سے ثابت یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمیشہ کے لئے وہ جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اس قسم کا داخل ہونا بعد حشر کے ہوگا۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”وسیق الذین اتقو ربھم الی الجنة زمرا حتى اذا جاؤها وفتحت ابوابها وقال لهم خزنتها سلام علیکم طبتم فادخلوها خالدین (زمر: ٧٣)“ ﴿جو لوگ متقی ہیں ان کے گروہ گروہ جنت کی طرف جائیں گے۔ جب وہ لوگ وہاں پہنچیں گے اور دروازے کھولے جائیں گے تو دربان کہیں گے سلام ہے تم پر خوش رہو اور داخل ہو اور ہمیشہ اسی میں رہو۔﴾ اگر کہا جائے کہ اس آیت میں تو قیامت کا ذکر نہیں ہے تو ہم کہیں گے
٢٠١٤
کہ اس میں موت کا بھی ذکر نہیں ہے۔ ظاہر آیت سے صرف اسی قدر معلوم ہوتا ہے کہ متقی لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ مگر نبی ﷺ نے تصریح فرمادی ہے کہ قیامت کے روز وہ داخل جنت ہوں گے۔ چنانچہ امام سیوطیؒ نے (درمنثور ج٤ ص١٤٥) میں لکھا ہے ”(اخرج النسائی ص٢٧٢، کتاب الزکوٰۃ باب وجوب زکوٰۃ، والحاکم وابن حبان) عن ابی ھریرۃ وابی سعید ان النبی ﷺ قال ما من عبد یصلی الصلوات الخمس ویصوم رمضان ویخرج الزکوٰۃ ویجتنب الکبائر السبع الا فتحت لہ ابواب الجنۃ الثمانیۃ یوم القیمۃ “ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے کہ جو شخص پانچ وقت کی نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے اور زکوٰۃ دے اور ساتوں گناہ کبیرہ سے بچے تو قیامت کے روز اس کے لئے جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
اب غور کیا جائے کہ اگر وہ لوگ جنت میں داخل شدہ تجویز کئے جائیں تو قرآن وحدیث کے مطابق پھر دوبارہ ان کو اس روز داخل جنت ہونا پڑے گا اور وہ کس قدر خلاف عقل ہے کیونکہ عقلاء جانتے ہیں کہ تحصیل حاصل محال ہے۔
الحاصل آیہ شریفہ سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ شہداء قیامت سے پہلے جنت میں داخل ہوجاتے ہیں۔ البتہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شہداء کی ارواح جنت میں داخل ہوجاتی ہیں۔
چونکہ مرزا قادیانی کی عادت ہے کہ جو احادیث ان کے مقصود کے مضر ہوتی ہیں۔ ان کو نظر انداز کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ حشر اجساد کے باب میں جتنی حدیثیں وارد ہیں سب کو نظر انداز کردیا اور ایک کا بھی جواب نہ دیا۔ اسی طرح ہم کو بھی اس مقام میں احادیث سے تعرض کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ مگر اپنے ہم مشربوں کے خیال سے ان احادیث کا بھی مطلب بیان کردیتے ہیں جو اس باب میں وارد ہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دخول جنت روحانی طور پر بھی ہوا کرتا ہے۔ جیسا کہ متعدد احادیث سے ثابت ہے منجملہ ان کے ایک یہ ہے جو (بخاری ج٢ ص١٠٤٠، کتاب تعبیر باب القصر فی المنام، مسلم اور مسند امام احمدؒ ج٣ ص١٧٩) میں ہے ”عن انس وجابر قال قال رسول اللہ ﷺ دخلت الجنۃ فاذا انا بقصر من ذھب فقلت لمن ھذا القصر قالوا لشاب من قریش فظننت انی انا ھو قلت ومن ھو قالوا عمر ابن الخطاب فلولا علمت من غیرتک لدخلتہ “ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے عمرؓ سے کہ میں جنت میں داخل ہوا دیکھا کہ ایک محل سونے کا بنا ہوا ہے میں نے پوچھا یہ کس کا محل ہے لوگوں نے کہا ایک
٥٠٦
جوان قریشی کا ہے میں نے خیال کیا کہ شاید وہ میرا ہوگا۔ مگر پھر پوچھا کہ وہ کون شخص ہے کہا عمر ابن الخطابؓ۔ اگر تمہاری غیرت کا خیال نہ ہوتا تو میں اس محل میں چلا جاتا۔
اور ایک حدیث یہ بھی ہے جو (بخاری ج٢ ص٩٧٤، کتاب الحوض باب انا اعطینك الکوثر) میں مذکور ہے ’عن انسؓ قال قال رسول اللهﷺ بینا انا اسیر فی الجنة اذا انا بنهر حافتاه قباب الدر المجوف قلت ماهذا یا جبرئیل قال هذا الکوثر الذی اعطاک ربک فاذا طینه اوطینه مسک اذفر شک هدبة “یعنی فرمایا نبیﷺ نے ایک بار میں جنت میں سیر کر رہا تھا ایک نہر پر جانکلا جس کے کنارے مجوف موتی کے قبہ تھے میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کیا ہے کہا یہ وہی کوثر ہے جو آپﷺ کے رب نے آپﷺ کو دیا ہے۔ دیکھا تو اس کا کیچڑ مشک اذفر ہے۔
اگر چہ ان حدیثوں میں خواب کی تصریح نہیں ممکن ہے کہ شب معراج حالت بیداری میں تشریف لے گئے ہوں۔ مگر علیٰ سبیل التنزل دخول روحانی میں تو کلام ہی نہیں جس سے یہ ثابت ہے کہ دخول روحانی مانع خروج نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح شہداء بھی روحانی طور پر جنت میں داخل ہوا کرتے ہیں۔ چنانچہ اس روایت سے ظاہر ہے کہ جس کو امام سیوطیؒ نے (درمنثور ج٢ ص٩٥) میں (مسند امام احمد ابن حنبل ج١ ص٢٦٦، ابوداؤد ج١ ص٢٥١، باب فی فضل الشهادة، مستدرک حاکم ج٢ ص٤١٠، حدیث نمبر٢٤٨٩) وغیرہ سے نقل کیا ہے ’عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللهﷺ لما اصیب اخوانکم باحد جعل الله ارواحهم فی اجواف طیر خضر ترد انهار الجنة وتاکل ثمارها وتاوی الی قنادیل من ذهب معلقة فی ظل العرش “یعنی نبیﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تمہارے بھائی جب احد میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ ان کی روحوں کو سبز سبز پرندوں میں رکھا وہ جنت کے نہروں پر جاتے ہیں اور میوے کھاتے ہیں اور سونے کی قنادیل میں رہتے ہیں جو عرش کے سایہ میں لٹکے ہوئے ہیں۔
شہداء کا روحانی اور عارضی طور پر جنت میں جانا اس سے بخوبی ثابت ہے کہ ان کی روحیں پرندوں میں رکھی گئیں اور مقام ان کا قنادیل قرار دیا گیا نہ حور و غلمان سے ان کو تعلق ہے، نہ تخت و تاج سے کام، نہ لباس و زیور سے آرائش، نہ ان کے لئے فرش و فروش۔ حالانکہ یہ امور جنتیوں کے لئے لازم ہیں۔ جس کا حال ابھی معلوم ہوا صرف پرندوں کی طرح کھا پی لیتے ہیں اور خاص قسم کا تقرب بھی حاصل ہے۔ مگر وہ خصوصیات جو وقت پر ہونے والی ہیں کہاں۔ جس دخول کے بعد ہمیشہ رہنا ہوگا۔ وہ دخول جسمانی ہے جس کی نسبت اس آیہ شریفہ میں اشارہ ہے۔ ’کما
٢٠٦
خلقناکم اول خلق نعیده (انبیآء خلق پر دوبارہ پیدا کریں گے اور ظاہر ہے ص٦٩٣ ج٢، باب قوله کما بدأنا اوّل خلق النبیﷺ فقال انکم محشرو خلق نعیده وعداً علینا انا کـ لوگوں کا حشر خدائے عزوجل کی طرف ہو چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے جیسے ہم نے جسم پہلی حالت پر دوبارہ پیدا کریں گے یہ وعـ اسی اعادہ کے بعد فادخلـ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شہدا جب پرندوں کی شکل پر نہ رہیں گے۔ بلکہ ہمیـ (تبین:٤) ”شکل انسانی میں ہوں گے یہاں یہ بھی یاد رہے کہ ہر واقعہ اسلامی دنیا میں مثل آفتاب روشـ میں جسم اطہر کے ساتھ جنتوں میں قـ ہوسکی۔ اگر کوئی منصف مزاج دیدہ معلوم ہو کہ یہ دونوں گھر یعنی دارالد جہاں چاہئے رکھے اور جس کو چاہـ ادلہ بھی جاری ہوچکی ہے کہ بحسب اللفظ والمعنی گواہی دے رہے ہیں شہداء کی ارواح اس عالم میں آیا نے جعفر ابن ابی طالب کو فرشتوں ص ٦٦١ حدیث نمبر ٣٣١٩١ جعفراً فی رفقة من المـ رسول اللهﷺ ان الله قـ مع الملئکة “اس کے بعد
كما بدأنا اول خلق نعيده (انبیاء: ١٠٤) ”یعنی جس طرح ہم نے پہلے تمہیں پیدا کیا اسی خلق پر دوبارہ پیدا کریں گے اور ظاہر ہے کہ دخول روحانی میں یہ بات نہیں ہے اور (بخاری شریف ص ٦٩٣ ج ٢، باب قوله كمابداًنا اوّل خلق) میں یہ روایت ہے ” عن ابن عباس قال خطب النبی ﷺ فقال انكم محشرون الیٰ الله عزوجل عراة غرلا كما بدأنا اوّل خلق نعيده وعداً علينا انا كنا فاعلين“ یعنی خطبہ میں فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ تم لوگوں کا حشر خدائے عزوجل کی طرف ہوگا۔ برہنہ اور بے ختنہ۔ یعنی ابتدائے پیدائش کے مطابق چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے جیسے ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ اسی طرح پھر اعادہ کریں گے یعنی پہلی حالت پر دوبارہ پیدا کریں گے یہ وعدہ ہم پر لازم ہے جس کو ہم پورا کرنے والے ہیں ۔
اسی اعادہ کے بعد فادخلوها خالدین کہا جائے گا۔ جس کا حال ابھی معلوم ہوا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شہدا جب ہمیشہ رہنے کے واسطے جنت میں دوبارہ داخل ہوں گے تو پرندوں کی شکل پر نہ رہیں گے۔ بلکہ بمصداق ”ولقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم (تین:٤)“ شکل انسانی میں ہوں گے جو احسن صور ہے۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ ہر دخول جسمانی بھی مانع خروج نہیں۔ چنانچہ معراج شریف کا واقعہ اسلامی دنیا میں مثل آفتاب روشن اور اعلان کر رہا ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ عالم بیداری میں جسم اطہر کے ساتھ جنتوں میں تشریف لے گئے تھے اور واپس تشریف لانے کو کوئی چیز مانع نہ ہوسکی۔ اگر کوئی منصف مزاج دیدۂ عقل کو سرمۂ بصیرت بخش شریعت غرا سے منور کرکے دیکھے تو معلوم ہو کہ یہ دونوں گھر یعنی دارالدنیا اور دارالجنان ایک ہی خالق کے مخلوق ہیں جس کو جب تک جہاں چاہئیے رکھے اور جس کو چاہے ایک گھر سے دوسرے گھر میں لے جائے ۔ مختار ہے اور عادت اللہ بھی جاری ہو چکی ہے کہ بحسب ضرورت مردے زندہ ہو چکے ہیں جس پر کئی آیات بینات متفق اللفظ والمعنی گواہی دے رہے ہیں جس کا حال انشاء اللہ تعالیٰ معلوم ہوگا اور یہ بھی ثابت ہے کہ شہداء کی ارواح اس عالم میں آیا کرتی ہیں۔ چنانچہ احادیث سے ثابت ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے جعفر ابن ابی طالب کو فرشتوں کے ساتھ اڑتے ہوئے دیکھا ” کما (فی کنز العمال ج ١١ ص ٦٦١ حدیث نمبر ٣٣١٩١، ٣٣١٩٤) عن علیؓ قال قال رسول اللہ ﷺ عرفت جعفرا فی رفقة من الملئكة يبشرون اهل بيته بالمطر وعن البراء قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ قد جعل لجعفر جناحين مضرجين بالدم يطير بهما مع الملئكة “ اس کے بعد یہ بات ہر صاحب فہم کی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اگر بقول مرزا قادیانی
٢٠٧
عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تھوڑی دیر کے لئے تسلیم کر بھی لی جائے تو بحسب وعدہ خدا اور رسول ان کا زندہ ہو کر اپنی خدمت بجالانے کے واسطے چند روز کے لئے آ جانا کون سی بڑی بات ہے۔ اگر مرزا قادیانی اپنی عیسویت کے خیال کو علیحدہ رکھ کر خدائے تعالیٰ کی قدرت اور ایفائے عہد اور نبی ﷺ کے مخبر صادق ہونے پر غور فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر آنا کسی حالت میں مستبعد اور خلاف عقل نہیں۔
غرض کہ یہ بات بدلائل ثابت ہوچکی کہ دخول جنت دو قسم پر ہے۔ ایک روحانی اور قبل حشر اجساد دوسرا جسمانی اور بعد حشر پہلا مانع خروج نہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے اس کے خلاف میں دوسرے اقسام کا اختراع کیا ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ ”جنت اور دوزخ تین درجوں پر منقسم ہے۔ پہلا درجہ قبر کا...... دوسرا درجہ حشر اجساد کے بعد اور جنت عظمیٰ یا جہنم کبریٰ میں داخل ہونے سے پہلے حاصل ہوتا ہے اور بوجہ تعلق جسد کامل قویٰ میں ایک اعلیٰ درجہ کی تیزی پیدا ہوتی ہے...... تیسرا درجہ یوم الحساب کے بعد۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣٥٧ تا ٣٦٠، خزائن ج ٣ ص ٢٨٢ تا ٢٨٤ ملخصاً)
اس تقریر میں مرزا قادیانی حشر اجساد کا نام جو لے رہے ہیں اس میں بڑی دوراندیشی سے کام لیا جا رہا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا نام بھی نہ لیں تو لوگ بالکل کافر بنا دیں گے۔ مگر اس زمانہ میں ایسی احتیاط کی ضرورت نہیں۔ ایسے بزرگوار لوگ جو کچھ فرما دیتے ہیں وہ بات چل ہی جاتی ہے اور کسی قسم کے شبہ تک نوبت ہی نہیں آتی۔ آخر اس حدیث شریف کا صادق ہونا بھی ضرور ہے۔ ”عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ ان من اشراط الساعۃ ان یرفع العلم ویظہر الجہل“ یعنی (بخاری، مسلم ج ٢ ص ٣٤٠، باب رفع العلم وقبضہ وظہور جہل والفتن فی آخر الزمان، مسند امام احمد اور ابن ماجہ) میں روایت ہے کہ فرمایا نبی ﷺ نے کہ قیامت کی علامتوں سے ایک یہ ہے کہ علم اٹھ جائے گا اور جہل ظاہر ہوگا۔
اگرچہ علم کے اٹھ جانے کے کئی معنی ہو سکتے ہیں مگر مشاہدہ جو ہو رہا ہے اس کے لحاظ سے یہ معنی بھی صادق آتے ہیں کہ جب قرآن کے اصلی معنی لوگوں کے خیال سے جاتے رہیں تو جو حقیقی اور واقعی علم ہے وہ بے شک اٹھ جائے گا۔ مثلاً قیامت کا علم وہی ہے جو آیات واحادیث سے ثابت ہے کہ مردے زندہ ہو کر قبروں سے زمین پر آ جائیں گے۔ پھر جب یہ علم جاتا رہے اور اس کی جگہ یہ ذہن نشین ہو کہ مردے اندر ہی اندر سوراخ کی راہ سے جنت میں گھس جائیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں تو علم کے اٹھنے میں اور جہل مرکب کے ظاہر ہونے میں کیا شک ہے۔ چونکہ یہ پر آشوب و پر فتن زمانہ ایسا ہی ہے مگر ایمان والوں کو بفضلہ تعالیٰ کچھ خطر نہیں۔ چنانچہ حدیث
٢٠٨
شریف ہے ”عن علیؓ قال قال رسول اللہ ﷺ لاتکرھوا الفتنة فی آخر الزمان فانہا تبیر المنافقین (کنز العمال ج١١ ص١٨٩ حدیث نمبر ٣١١٧٠) ”یعنی آخر زمانہ والوں کو نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم لوگ کسی فتنہ کو مکروہ نہ سمجھو وہ صرف منافقوں کو تباہ کر دے گا۔ یعنی جہل مرکب کے گڑھوں میں گر کے تباہ اور ہلاک ہوں گے غرض کہ ہم لوگوں کو چاہئے کہ جو کچھ حق تعالیٰ نے اور ہمارے نبی کریم ﷺ نے ظاہر طور پر فرما دیا ہے۔ اس پر مضبوط ایمان رکھیں اور جان سے زیادہ عزیز سمجھیں پھر کسی فتنہ گر کے فتنہ سے کچھ خوف نہیں۔
مرزا قادیانی کا مذہب ابھی معلوم ہوا کہ آدمی مرتے ہی جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر تخت رب العالمین بھی اتر آئے تو وہ حصار جنت سے حساب و کتاب کے واسطے باہر نہ نکلے گا۔ اس صورت میں جو تحریر فرماتے ہیں کہ حشر اجساد کے بعد اور جنت عظمیٰ میں داخل ہونے کے پہلے تعلق اجساد کا متوسط درجہ قرار دیا گیا ہے تو یہ ترقی معکوس سمجھ میں نہیں آتی۔ البتہ پہلا درجہ جو قبر کو قرار دیا ہے اس کو مجازاً جنت تسلیم کر سکتے ہیں۔ کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”النار یعرضون علیها غدوا وعشیا ویوم تقوم الساعة ادخلوا آل فرعون اشد العذاب (مؤمن:٤٦)“ یعنی دکھاتے ہیں ان کو صبح و شام دوزخ کی آگ اور قیامت کے روز کہا جائے کہ فرعون کے لوگوں کو داخل کرو سخت عذاب میں اور (بخاری شریف ج٢ ص٩٦٣، باب سکرات الموت) میں ہے ”عن عبداللہ بن عمرؓ قال قال رسول اللہ ﷺ اذامات احدکم یعرض علیه مقعده بالغداة والعشی فان کان من اهل الجنة فمن اهل الجنة وان کان من اهل النار فمن اهل النار“ (ترجمہ) مر جاتا ہے تو خواہ وہ جنتی ہو یا دوزخی اس کا مقام صبح و شام اس کو دکھایا جاتا ہے۔ یہ آیت و حدیث اس بات پر دلیل قطعی ہے کہ ہر شخص اپنی ہی قبر میں رہتا ہے اور وہ وہیں اپنا مقام دیکھا کیا کرتا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ قبر جنت کا کوئی درجہ نہیں بلکہ اس سے خارج ہے۔ ہاں اگر اس لحاظ سے کہ جنت وہاں سے نظر آتی ہے اس کو جنت کہیں تو مجازاً ممکن ہے۔ مگر پچاس ہزار برس کا قیامت کا دن جس میں انبیاء بھی نفسی نفسی پکاریں گے۔ اس کو جنت کا ایک درجہ وہ بھی متوسط قرار دینا سخت حیرت انگیز ہے نہ قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے نہ حدیث بلکہ دونوں اعلان کے ساتھ اس کی تکذیب کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا اس آیۂ شریفہ سے وہ تقریر اور بھی مستند ہو گئی جس میں بیان کیا گیا تھا کہ دخول جنت و دوزخ قیامت پر منحصر ہے اور مرزا قادیانی کی اس تقریر کی بھی حقیقت کھل گئی جو (ازالۃ الاوہام ص٣٦٠ تا ٣٦٣، خزائن ج٣ ص٢٨٥، ٢٨٦) میں لکھتے ہیں کہ ”ایک شخص ایمان اور عمل کی ادنیٰ حالت
٢٠٩
میں فوت ہوتا ہے تو تھوڑی سی سوراخ بہشت کی طرف اس کے لئے نکالی جاتی ہے۔۔۔۔۔ پھر لوگوں کی دعاؤں وغیرہ سے وہ سوراخ بڑھ کر ایک وسیع دروازہ ہو جاتا ہے جس سے وہ بہشت میں چلا جاتا ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ بہشت میں داخل ہونے کے لئے ایسے زبردست اسباب موجود ہیں کہ قریباً تمام مؤمنین یوم الحساب سے پہلے اس میں پورے طور پر داخل ہو جائیں گے اور یوم الحساب ان کو بہشت سے خارج نہ کرے گا۔‘‘
یہ امر پوشیدہ نہیں کہ روح ایسی لطیف چیز ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے سوراخ سے بھی وہ نکل جاتی ہے۔ چنانچہ رحم کا منہ باوجود یکہ نہایت سختی سے بند ہو جاتا ہے جس کی تصریح طب جدیدہ میں کی گئی ہے مگر روح اس سے بھی نکل کر جنین میں داخل ہو ہی جاتی ہے۔ پھر اس سوراخ سے نکل جانا جو قبر سے بہشت کی طرف اسی کے واسطے نکالا جاتا ہے کیا مشکل اس کے نکلنے کے لئے نہ بڑے دروازے کی ضرورت ہے نہ اس قدر مہلت درکار ہے کہ سوم ، دہم، چہلم ، سہ ماہی ، برسی وغیرہ میں دعائیں اور کار خیر ہوتے ہیں۔ بتدریج اس سوراخ کو بڑھا کر وسیع کر دیں جس سے وہ نکل کر جنت میں داخل ہو سکے۔ کیونکہ بقول مرزا قادیانی روح تو مرتے ہی جنت میں داخل ہو جاتی ہے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٢٦٢، خزائن ج ٣ ص ٢٣٣) میں فرماتے ہیں کہ ہر ایک مؤمن جو فوت ہوتا ہے اس کی روح خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی جاتی ہے اور بہشت میں داخل کی جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”یٰا ایتھا النفس المطمئنۃ“ بظاہر مرزا قادیانی کے ان دونوں کلاموں میں تعارض سا معلوم ہوتا ہے کہ روح مرتے ہی جنت میں داخل ہو جاتی ہے اور لوگوں کی (دعا) وغیرہ سے سوراخ کشادہ ہونے کے بعد ایمان دار جنت میں چلا جاتا ہے۔ مگر اس کے جواب کی طرف انہوں نے اشارہ کر دیا کہ روح تو مرتے ہی جنت میں پہنچ جاتی ہے اور ہمیشہ رہنے کے لئے جنت میں داخل ہونا جو احیائے جسم پر موقوف ہے جیسا کہ ”قال من یحیی العظام وھی رمیم قل یحییھا الذی انشاھا اول مرۃ (یٰسٓ: ٧٨، ٧٩)“ سے ثابت ہے سو اس کے لئے مہلت درکار ہے۔ جس میں دروازہ اتنا وسیع ہو کہ لاش اس سے نکل سکے۔ چنانچہ مرتے ہی داخل ہونے کے باب میں تصریح کرتے ہیں کہ روح داخل ہوتی ہے اور مہلت اور وسعت باب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ شخص ایماندار داخل ہوتا ہے اس تقریر سے تعارض تو دفع ہو گیا لیکن اس پر ایک نیا شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ شخص جنت میں داخل ہونے کو جاتا ہے اور جنت آسمان پر ہے جیسے مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٢٦٤، خزائن ج ٣ ص ٢٣٣) میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”عیسیٰ علیہ السلام فوت ہونے کے بعد ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی ۔۔۔۔ اور ہر مؤمن کی
٢١٠
بھی اٹھائی جاتی ہے اور بہشت میں داخل کی جاتی ہے۔“ اور نیز جنتوں کا آسمان پر ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے تو ضرور تھا کہ مردے آسمانوں پر جاتے ہوئے دکھائی دیتے۔ کیونکہ یہ دخول اس وجہ سے جسمانی ہے کہ روح تو مرتے ہی جنت میں داخل ہو جاتی ہے اور اس دخول کے لئے دعاؤں وغیرہ کا انتظار رہتا ہے۔ جس سے سوراخ اس قابل ہو کہ لاش اس سے نکل جائے۔ اس صورت میں ضرور تھا کہ مردے قبروں سے نکلتے ہوئے نظر آتے۔ شاید اس کا یہ جواب دیا جائے گا کہ وہ اس طرف سے نہیں جاتے۔ بلکہ زمین کے اندر ہی اندر سوراخ کر کے دوسری طرف سے نکل جاتے ہیں تو اس کے ماننے میں بھی تامل ہے۔ کیونکہ ایسا سوراخ جس سے مردہ جاسکے کسی قبر میں دیکھا نہیں گیا۔ اگر چہ یہ ممکن ہے کہ مردہ نکلتے ہی وہ سرنگ پاٹ دی جاتی ہو۔ لیکن اس کے ماننے کے بعد بھی ایک اور دشواری درپیش ہے کہ جغرافیہ سے ثابت ہے کہ اگر ہندوستان کی زمین میں سوراخ آر پار کر دیا جائے تو وہ امریکہ کے کسی حصہ میں نکلے گا۔ پھر اگر ہندوستان کے مردے اس سوراخ کی راہ سے اس طرف زمین پر نکل کر آسمان کی طرف جائیں تو امریکہ والوں کی شکایت گورنمنٹ میں ضرور پیش ہوتی کہ ہندوستان کے صدہا بلکہ ہزار ہا مردے ہر روز چلے آتے ہیں۔ کوئی کفن پہنا ہوا ہے کوئی برہنہ ہیبت ناک کسی کے گھر میں نکلتے ہیں کسی کی زراعت وغیرہ میں، غرض علاوہ خوف و دہشت کے مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔ حالانکہ اب تک کوئی اس قسم کی شکایت کسی اخبار میں دیکھی نہیں گئی۔ یہ ہم اپنی طرف سے نہیں کہتے مرزا قادیانی ہی کی تحقیق سے استفادہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے (ازالۃ الاوہام ص٤٧٣، خزائن ج٣ ص٣٥٣) میں لکھا ہے کہ (عیسیٰ علیہ السلام اپنے وطن گلیل میں مر گئے) اور (رسالہ الہدیٰ ص٧٣، خزائن ج١٨ ص٣٢٠) میں لکھتے ہیں کہ (ان کی قبر کشمیر میں ہے) اور اس کو اپنے کشف اور گواہوں سے ثابت کیا ہے اگر سوراخ کی راہ سے مردے دوسری طرف سے نہ نکلتے تو عیسیٰ علیہ السلام گلیل میں بیت المقدس کے پاس مر کر کشمیر میں کیوں آتے۔ اہل اسلام بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے دین میں بلکہ کل ادیان سماویہ میں قیامت کا مسئلہ کیسا مہتم بالشان ہے جس میں صدہا آیات و احادیث وارد ہیں جن سے ظاہر ہے کہ جس طرح توحید و رسالت پر ایمان ضروری ہے قیامت کے وقوع پر بھی ضروری ہے اور کسی مسلمان کو ابتداء سے آج تک اس میں خلاف نہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے صرف اتنی بات بتلانے کے لئے کہ (عیسیٰ علیہ السلام اس عالم میں تو کیا قیامت میں بھی زمین پر نہیں آسکتے) ایسے مشہور و معروف اور ضروری مسئلہ کا انکار ہی کر دیا۔ پھر جن مسائل میں چند آیات و احادیث وارد ہوں ان کے اصل معنی سے انکار کر دینا کون ٢١١
سی بڑی بات ہے۔ اگر مرزا قادیانی کو ذرا بھی خوف خدا اور قیامت کے دن کا خیال ہوتا تو قرآن وحدیث کے معنی اپنے دل سے تراش کر لکھنے پر ان کے ہاتھ یاری نہ دیتے۔ کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”فويل للذين يكتبون الكتاب بايديهم ثم يقولون هذا من عندالله ليشتروا به ثمناً قليلاً فويل لهم مما كتبت ايديهم وويل لهم مما يكسبون (بقرہ:٧٩)“ ادنیٰ تامل سے یہ بات معلوم ہو سکتی ہے کہ جو بات هذا من عندالله کہنے میں ہے وہی بات کسی آیت کا مضمون خلاف مقصود الٰہی بیان کرنے میں ہے۔ دیکھ لیجئے کہ اگر کوئی کہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”احل الله لكم الميتة والدم ولحم الخنزير“ سو جس طرح یہ شخص ملحد اور بے دین سمجھا جائے گا اسی طرح وہ شخص بھی سمجھا جائے گا جو آیہ شریفہ ”حرمت عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير (مائدہ:٣)“ سے مراد یہ بیان کرے کہ میتہ اور دم اور لحم خنزیر عرب میں معزز لوگ تھے۔ اس میں تعظیم وحرمت کرنے کا اس میں حکم ہے مردار وغیرہ کی حرمت سے اس کو کوئی تعلق نہیں۔ مرزا قادیانی کی غرض جس آیت سے متعلق ہوتی ہے اس کے معنی میں اس قسم کی تحریف کرنے سے ذرا بھی خوف نہیں کرتے۔ مثلاً ”احی الموتیٰ باذن الله (آل عمران:٤٩)“ کے معنی یہ بتلاتے ہیں کہ مسمریزم کی وجہ سے قریب الموت شخص کو حرکت ہو جاتی تھی اور عزیر علیہ السلام کے قصہ میں حق تعالیٰ فرماتا ہے ”فاماته الله مائة عام (بقرہ:٢٥٩)“ مرزا قادیانی اس کا مطلب بتاتے ہیں کہ سو برس تک خدائے تعالیٰ نے ان کو سلا دیا تھا۔ اسی طرح بیسیوں آیات و احادیث کے معنی انہوں نے بدل ڈالے۔ اسی پر قیاس کیا جائے کہ جب ایک ضعیف اور موہوم غرض کے مقابلہ میں انہوں نے قیامت کا انکار کر دیا۔ تو جس سے بہت بڑی بڑی غرضیں ان کی متعلق ہوں گی اس کا کیا حال ہوگا۔ اسی وجہ سے احیائے اموات کے بارہ میں جو آیات وارد ہیں ان کی تحریف معنی میں بہت زور لگایا۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تسلیم کرنے کے بعد بھی یہ احتمال لگا ہوا ہے کہ ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ ان کو زندہ کرکے زمین پر بھیجے اسی وجہ سے (ازالۃ الاوہام ص ٦٦٥، خزائن ج ٣ ص ٤٥٩) میں لکھتے ہیں ”اس میں شک نہیں کہ اس بات کے ثابت ہونے کے بعد کہ درحقیقت حضرت مسیح ابن مریم اسرائیلی نبی فوت ہو گیا ہے۔ ہر ایک مسلمان کو ماننا پڑے گا کہ فوت شدہ نبی ہرگز دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتا۔ کیونکہ قرآن اور حدیث دونوں بالاتفاق اس بات پر شاہد ہیں کہ جو شخص مرگیا پھر دنیا میں ہرگز نہیں آئے گا اور قرآن کریم انهم لا يرجعون کہہ کر ہمیشہ کے لئے ان کو رخصت کرتا ہے۔“
مرزا قادیانی کے مبالغہ کی بھی کوئی حد ہے بھلا قرآن وحدیث نے کب گواہی دی تھی
٢١٢
کو ذرا بھی خوف خدا اور قیامت کے دن کا خیال ہوتا تو قرآن پر لکھنے پر ان کے ہاتھ یاری نہ دیتے۔ کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ان الكتاب بايديهم ثم يقولون هذا من عندالله ويل لهم مما كتبت ايديهم وويل لهم مما يكسبون جرات معلوم ہو سکتی ہے کہ جو بات ھذا من عنداللہ کہنے میں خلاف مقصود الہی بیان کرنے میں ہے۔ دیکھ لیجئے کہ اگر کوئی کہے كم الميتة والدم ولحم الخنزير سو جس طرح یہ شخص محرف وہ شخص بھی سمجھا جائے گا جو آیہ شریفہ ” حرمت عليكم (مائدہ:٣) ” سے مراد یہ بیان کرے کہ میتہ اور دم اور لحم خنزیر تعظیم و حرمت کرنے کا اس میں حکم ہے مردار وغیرہ کی حرمت اپنی غرض جس آیت سے متعلق ہوتی ہے اس کے معنی میں تحریف کرتے۔ مثلاً ” احی الموتی باذن اللہ (آل عمران:٤٩) ” کہ مسمریزم کی وجہ سے قریب الموت شخص کو حرکت ہو جاتی ہے ۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ” فاماته الله مائة عام اس کا مطلب بتاتے ہیں کہ سو برس تک خدائے تعالیٰ نے ان کو سلا دیا“ احادیث کے معنی انہوں نے بدل ڈالے۔ اسی پر قیاس کیا اپنی غرض کے مقابلہ میں انہوں نے قیامت کا انکار کر دیا۔ تو جس شخص کی یہ حالت ہو اس کا کیا حال ہوگا۔ اسی وجہ سے احیائے اموات کی تحریف معنی میں بہت زور لگایا۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا ڈر لگا ہوا ہے کہ ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ ان کو زندہ کر کے زمین پر بھیج دے“ (ازالہ اوہام ص ٤٢٦ ، خزائن ج ٣ ص ٣٥٩) میں لکھتے ہیں ” اس میں شک نہیں کہ در حقیقت حضرت مسیح ابن مریم اسرائیلی نبی فوت ہو گیا ہے۔ اور فوت شدہ نبی ہرگز دنیا میں دوبارہ نہیں آ سکتا ۔ کیونکہ قرآن اور حدیث شاہد ہیں کہ جو شخص مر گیا پھر دنیا میں ہرگز نہیں آئے گا اور قرآن ہمیشہ کے لئے ان کو رخصت کرتا ہے ۔“ یہ بھی کوئی حد ہے بھلا قرآن وحدیث نے کب گواہی دی تھی کہ مرا ہوا آدمی دنیا میں ہرگز نہیں آئے گا۔ ان کو ضرور تھا کہ کوئی ایسی گواہی پیش کر دیتے۔ باوجودیکہ ان کی عادت ہے کہ ادنیٰ احتمال کا موقع بھی ملتا ہے تو سیاق وسباق کو حذف کر کے کوئی آیت یا حدیث استدلال میں پیش کر دیا کرتے ہیں۔ جیسے فادخلى جنتی وغیرہ میں معلوم ہوا مگر اس دعویٰ پر انہوں نے کوئی دلیل پیش نہیں کی اس سے ظاہر ہے کہ کوئی احتمالی دلیل بھی ان کو نہیں ملی۔ اب سوائے اس کے کہ جرأت سے کام لیں کوئی تدبیر نہ تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ جرأت سے بھی بہت کام چل جاتے ہیں۔ جیسے پیش گوئیوں میں کہہ دیتے ہیں کہ فلاں کام نہ ہو تو میرا منہ کالا کیا جائے، گلے میں رسا ڈالا جائے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ نہ وہ کام ہوتا ہے نہ منہ کالا ہوتا ہے کوئی پہلو نکال کر عمر بھر بحث کرتے رہتے ہیں۔ جیسے کہ اتھم کے رجوع الی الحق وغیرہ میں آپ نے دیکھ لیا۔ اسی طرح یہاں بھی جرأت سے کام لے کر کہہ دیا کہ قرآن وحدیث بالاتفاق شاہد ہیں کہ مرا ہوا دنیا میں ہرگز نہیں آسکتا۔ حالانکہ قرآن شریف کے متعدد مقاموں میں یحیی الموتی واحياهم وغیرہ الفاظ صراحۃً مذکور ہیں جن کا حال انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ معلوم ہوگا۔
اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جب خود خدائے تعالیٰ احیائے اموات کا ذکر قرآن میں فرمادے اور اس کا مقابلہ میں کوئی کہے کہ وہ ہو نہیں سکتا تو مسلمان اس کی تکذیب کرے گا یا نعوذ باللہ قرآن شریف پر کسی قسم کا الزام لگائے گا ؟ رہا یہ کہ مرزا قادیانی اس باب میں تاویلات سے کام لیتے ہیں کہ احیاء سے مراد مثلاً مسمریزی حرکت ہے اور موت سے مراد نیند ہے۔ جیسا کہ عزیر علیہ السلام کے قصہ میں فرماتے ہیں کہ فاماته الله مائة عام “ سے مراد نوم اور غشی ہے۔ سو یہ بات دوسری ہے کہ قرآن کو ماننا منظور نہیں اور جو فرماتے ہیں کہ قرآن کریم انهم لا يرجعون کہہ کر ان کو ہمیشہ کے لئے رخصت کر رہا ہے۔ سو مرزا قادیانی نے اس استدلال میں بھی وہی طریقہ اختیار کیا جو یاايها الذين آمنوا لا تقربوا الصلوۃ میں کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ اس آیہ شریفہ سے انہوں نے وہ حصہ حذف کر دیا جو ان کو مضر تھا۔ پوری آیت یہ ہے فمن يعمل من الصالحات وهو مؤمن فلا كفران لسعيه واناله كاتبون وحرام على قرية اهلكنها انهم لا يرجعون (انبیاء:٩٤،٩٥) ” یعنی جو شخص نیک کام کرے اور ایمان بھی رکھتا ہو تو اس کی کوشش اکارت ہونے والی نہیں اور ہم اس کے نیک اعمال سب لکھتے جاتے ہیں اور جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کر دیا ممکن نہیں کہ وہ لوگ قیامت کو ہماری حضوری میں لوٹ کر نہ آئیں ۔
اس آیت کے کئی معنی ہیں اگر پہلی آیت سے اس کا ربط ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ اعمال صالحہ ہم کسی کے ضائع نہ کریں گے ان کے اعمال ہم لکھ رکھتے ہیں۔ اگر وہ مر بھی جائیں تو ہمارے
پاس ان کا آنا ضرور ہے۔ اس روز ان کو ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور اگر پہلی آیت سے ربط نہ ہو تو یہ معنی ہوں گے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا ہو ہمارے قبضہ سے باہر نہیں جاسکتی۔ ممکن نہیں کہ وہ لوگ ہماری طرف رجوع نہ کریں۔ مطلب یہ کہ ان کی ہلاکی رستگاری کا باعث نہیں ہمارے پاس وہ ضرور آئیں گے اور ان پر حرام ہے کہ نہ آئیں۔ پھر اس روز ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی اب دیکھئے کہ مطلب تو یہ تھا کہ خدا کی طرف ان کا رجوع نہ کرنا حرام اور محال ہے اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ وہ دنیا کی طرف رجوع نہیں کرسکتے۔ اگر لا یرجعون سے مراد دنیا کی طرف رجوع نہ کرنا ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ دنیا کی طرف ان کا رجوع نہ کرنا حرام اور محال ہے۔ یعنی ضرور رجوع کریں گے اس سے تو مرزا قادیانی کا مقصود ہی فوت ہوگیا اور بجائے نہ آنے کے آنا ضروری ٹھہرا اور اگر تسلیم بھی کرلیا جائے کہ لا یرجعون سے مراد ان کا دنیا میں نہ آنا ہے تو اس سے بھی کوئی حرج نہیں۔ اس لئے کہ یہ کس نے کہا کہ فوت شدہ دنیا میں آیا کرتے ہیں۔ ان میں یہ طاقت کہاں کہ پھر لوٹ کر آجائیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ خدا جس کو چاہے دوبارہ دنیا میں وہ ضرور آئے گا۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ کے ارادہ کے خلاف کوئی چیز ظہور میں نہیں آسکتی۔ مرزا قادیانی اس کے قائل نہیں ہم کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی قدرت کا انکار کوئی مسلمان نہیں کرسکتا۔ اس کے نزدیک قیامت میں زندہ کرنا اور قیامت کے پیشتر کسی کو زندہ کرنا ایک جیسا ہے اور جب حق تعالیٰ نے متعدد مقام میں قرآن شریف میں خبر دی ہے کہ ہم نے بہتوں کو اس عالم میں زندہ کیا جس کا حال انشاء اللہ تعالیٰ معلوم ہوگا تو ہم اس کا ہرگز انکار نہیں کرسکتے۔ مگر مرزا قادیانی داؤ پیچ کر کے اس کا انکار کرتے ہیں اور احیائے موتی کو محال سمجھتے ہیں۔ جس سے ان پر یہ بات صادق آتی ہے۔ (ازالۃ الاوہام ص ٤٣١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٨) میں خود فرماتے ہیں کہ ”ہم کوے کی طرح یا بھیڑیے کے مانند ایک نجاست کو حلوا سمجھتے رہیں گے اور ہم میں ایمانی فراست نہیں آئے گی۔ صرف لومڑی کی طرح داؤ پیچ یاد ہوں گے۔“
غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ دنیا کا انتظام چونکہ ایک نسق پر رکھا گیا ہے جو ہمیشہ جاری ہے۔ اس لئے ایک بڑا فرقہ دہریہ اس بات کا قائل ہوگیا کہ عالم کا کام بطور خود جاری ہے۔ اس کے لئے خالق کی کوئی ضرورت نہیں۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”وقالوا ما هي الا حياتنا الدنيا نموت ونحيا وما يهلكنا الا الدهر (جاثیه:٢٤)“ یعنی کفار کہتے ہیں کہ ہماری تو یہی دنیا کی زندگی ہے اور بس ہم یہیں مرتے اور جیتے ہیں اور زمانہ ہم کو ایک وقت خاص تک زندہ رکھ کر مار دیتا ہے۔ حق تعالیٰ نے ان کے خیالات فاسدہ کو دفع کرنے کے لئے
٤١٤
انبیاء کو بھیجا۔ چنانچہ جب انہوں نے معجزے اور خوارق عادات دیکھے اور بچشم خود دیکھ لیا کہ عادت مستمرہ کے خلاف بھی ایسے کام حکمی طور پر ہوتے ہیں جن کو عقل محال سمجھتی ہے تو ان کو یقین ہو گیا کہ کوئی زبردست قدرت والا بھی ہے کہ ایسے مستحکم عادتی کارخانہ کو درہم و برہم کر کے محال کو واقع کر دکھاتا ہے اس بناء پر بحسب توفیق وہ خالق عالم کے قائل ہو گئے اور نبوت کی بھی تصدیق کی اور جن کی طبیعتوں پر تعصب غالب تھا وہ اس دولت سے محروم رہے۔ الحاصل حق تعالیٰ نے عادت مستمرہ کے خلاف بھی کام کئے۔ جس سے اس کی قدرت اور خالقیت پورے طور پر ذہن نشین ہوگئی اگر خدائے تعالیٰ عادت مستمرہ کے خلاف کوئی کام کر کے نہ دکھاتا تو دہریہ کو قائل کرنے کی کوئی صورت نہ تھی۔ اس لئے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ افلاک کی حرکات سے طبائع میں امتزاجات پیدا ہوتے ہیں۔ جن کے خاص خاص طور پر واقع ہونے سے حیات اور موت کا وقوع ہوتا ہے۔ اس میں خالق کے فعل کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر احیائے اموات کے جیسے خوارق عادت کا وقوع نہ ہوتا تو صرف باتوں سے وہ خالق کو ماننا اور اپنے آپ کو اس کی بندگی اور عبودیت میں دے کر عمر بھر کی آزادیوں سے دست بردار ہو جانا کبھی گوارا نہ کرتے۔ ان کے بعد جو ان کے خلف اور قدم بقدم ان کے پیرو تھے اس قسم کی جتنی باتیں قرآن میں ہیں سب کی تصدیق انہوں نے کی اور جن کی طبیعتوں میں انحراف آگیا وہ اس کے ماننے میں حیلے کرنے لگے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اس موقع میں یہ تعارض کا حیلہ پیش کرتے ہیں کہ اگر مردوں کو زندہ ہونا مان لیا جائے تو انہم لا یرجعون کے مخالف ہوگا۔ ادنیٰ تامل سے یہ بات معلوم ہو سکتی ہے کہ ان آیات میں کوئی تعارض نہیں اس لئے کہ جہاں لا یرجعون ارشاد ہے اس سے آدمی کی بے بسی ثابت کرنا منظور ہے کہ جب ہم اس کو مار ڈالتے ہیں تو اس میں یہ قدرت نہیں کہ اپنی زائل شدہ حیات کو پھر حاصل کر سکے۔ بلکہ ہمارے قبضہ قدرت سے وہ نکل نہیں سکتا اور جہاں یہ ارشاد ہے کہ ہم نے مردوں کو زندہ کیا اس سے بھی کامل درجہ کی قدرت ہی کا اظہار مقصود ہے کہ جو تمہاری عقلوں میں محال دکھائی دیتا ہے اس کو ہم نے واقع کر دکھایا۔ اب دیکھئے کہ دونوں آیتوں کے مضمون میں کس قدر توافق ہے۔ حاصل مطلب ان کا یہی ہوا کہ ہم ہر طرح قادر ہیں نہ کوئی زندہ ہماری قدرت سے خارج ہو سکتا ہے نہ مردہ زندہ کو جب ہم مردہ کر دیتے ہیں تو وہ زندہ نہیں ہو سکتا اور جب مردہ کو زندہ کرتے ہیں تو وہ انکار اور سرتابی نہیں کر سکتا۔
مرزا قادیانی جو تعارض پیدا کر رہے ہیں اسی کا نام تعارض ہو تو اس قسم کا تعارض بہت سی آیتوں میں پیدا ہو جائے گا۔ مثلاً حق تعالیٰ فرماتا ہے ”ان الذین کفروا سواء علیہم انذرتہم ام لم تنذرہم فہم لا یؤمنون (بقرہ:٦)“ جس کا مطلب یہ ہے کہ کفار ایمان نہ
٢١٥
لائینگے۔ حالانکہ ہزار ہا کفار اس آیت کے نزول کے بعد ایمان لائے اور لاتے جاتے ہیں۔ دیکھئے انهم لا يرجعون میں جو بات ہے وہی انهم لا يؤمنون میں بھی ہے۔ اگر انهم لا يرجعون سے رجوع اموات غیر ممکن ثابت ہوتا ہے تو انهم لا يؤمنون سے بھی کفار کا ایمان لانا غیر ممکن ہو جائے گا۔ مگر جب ہمیں معلوم ہو گیا کہ بمصداق یهدی من یشاء الی صراط مستقیم کے حق تعالیٰ جس کو چاہتا ہے راہ راست پر لاتا ہے۔ اسی وجہ سے کفار ایمان لاتے ہیں تو اس کا بھی ہمیں یقین ہو گیا کہ وہ جس مردہ کو چاہتا ہے زندہ کر سکتا ہے۔ جس کے وقوع پر یحی الموتی وغیرہ آیات گواہ صادق ہیں۔
اصل یہ ہے کہ اکثر محاورات قرآنیہ وغیرہ میں عام طور پر کوئی بات کہی جاتی ہے۔ مگر بلحاظ قرائن اس کی تخصیص پیش نظر رہا کرتی ہے اس کی نظیریں قرآن شریف میں بکثرت موجود ہیں۔ ایک وہی آیت ہے جو ابھی مذکور ہوئی اور ایک آیت یہ ہے ”والملئكة يسبحون بحمد ربهم ويستغفرون لمن فی الارض الا ان الله هو الغفور الرحیم (شوریٰ: ٥)“ یعنی فرشتے اللہ کی تسبیح اور حمد کیا کرتے ہیں اور زمین میں رہنے والوں کے گناہوں کی مغفرت اور معافی مانگا کرتے ہیں۔ اگر اس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ تمام اہل زمین کے حتیٰ کہ مشرکین کے لئے بھی استغفار کیا کرتے ہیں تو یہ صحیح نہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو حق تعالیٰ ان کو منع فرما دیتا۔ جیسا کہ مسلمانوں کو منع فرمایا۔ ”ماکان للنبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین ولوکانوا اولی قربی (توبہ: ١١٣)“ یعنی نبی اور مسلمانوں کو زیبا نہیں کہ مشرکین کی مغفرت کی دعا مانگیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ فرشتے صرف مسلمانوں کی مغفرت کی دعاء کیا کرتے ہیں۔ ورنہ صحابہ ضرور عرض کرتے کہ جب فرشتوں کو مشرکین کی مغفرت مانگنے کی اجازت ہے تو ہمیں بطریق اولیٰ اس کی اجازت ہونی چاہئے۔ اس لئے کہ ہم پر تو بہت سے مشرکوں کی قرابت کا حق ہے۔ حالانکہ یہ درخواست کبھی پیش نہ ہوئی اس سے ثابت ہے کہ صحابہ نے من فی الارض سے مراد عام اہل زمین نہیں سمجھا بلکہ بقرینۂ آیۂ شریفہ ”وماکان للنبی والذین آمنوا“ اس کی تخصیص مسلمانوں ہی کے ساتھ کی۔ اسی طرح انهم لا یرجعون سے مراد کل مردے نہیں بلکہ جن مردوں کا زندہ ہونا دوسری آیتوں سے ثابت ہے وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ جیسے من فی الارض سے مشرکین مستثنیٰ ہیں۔
اسی طرح یہ آیۂ شریفہ ہے ”یبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم وانی فضلتکم علی العالمین (بقرہ:٤٧)“ یعنی اے بنی اسرائیل میری اس نعمت
٢١٦
کو یاد کرو جو تم کو دی تھی اور یہ کہ فضیلت دی تھی تم کو عالموں پر یہ بات ظاہر ہے کہ تمام عالموں میں تمام انبیاء اور تمام ملائکہ بھی داخل ہیں۔ پھر کیا ممکن ہے کہ بنی اسرائیل کو ان تمام امتوں پر فضیلت دی گئی تھی۔ ہرگز نہیں۔ غرض کہ جس طرح دوسری آیتوں سے ملائکہ وغیرہ عالمین سے مستثنیٰ ہیں۔ اسی طرح دوسری آیتوں سے زندہ شدہ مردے لا یرجعون کے حکم میں داخل نہیں سکتے۔
اسی طرح یہ آیہ شریفہ ہے ”قال فخذ اربعة من الطير فصرهن اليك ثم اجعل على كل جبل منهن جزءا (بقرہ:٢٦٠)“ ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا تھا کہ پرندوں کو ٹکڑے کر کے پہاڑوں پر رکھ دو جس کی نسبت آیہ شریفہ میں علی کل جبل مذکور ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ کل جبل میں تمام روئے زمین کے پہاڑ شامل ہیں۔ مگر بقرینہ عقل کل جبل سے مراد چند مخصوص پہاڑ تھے۔ اسی طرح بقرینہ عقل لا یرجعون سے مراد وہی مردے ہیں جن کا زندہ ہونا مشیت الٰہی میں نہیں اس لئے کہ جب خدائے تعالیٰ نے چند مردوں کے زندہ کرنے کا حال بیان فرمایا اور عقل بھی اس قدرت الٰہی کو جائز رکھتی ہے تو عقل گواہی دیتی ہے کہ جس طرح خدائے تعالیٰ نے خبر دی ہے بیشک وہ مردے زندہ ہوئے تھے اس لئے لا یرجعون کے حکم سے وہ خارج ہیں۔
اسی طرح یہ آیہ شریفہ ہے ”وبدأ خلق الانسان من طين ثم جعل نسله من سلالة من ماء مهين (الم سجده:٧،٨) “ یعنی انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا پھر مٹی کو نچوڑے یعنی منی سے جو ایک حقیر پانی ہے۔ ان کی نسل چلائی اسی طرح ”خلقناكم من تراب ثم من نطفة (حج:٥) “ جس سے ظاہر ہے کہ کل انسان نطفہ سے پیدا ہوئے۔ حالانکہ اس سے عیسیٰ علیہ السلام مستثنیٰ ہیں۔ جس پر یہ آیہ شریفہ دال ہے۔ ”ان مثل عيسى عند الله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون (آل عمران:٥٩) “ یعنی مثال عیسیٰ علیہ السلام کی آدم علیہ السلام کی سی ہے کہ ان کو مٹی سے بنایا پھر کن سے پیدا ہو گئے۔ جس طرح اس آیہ شریفہ کی وجہ سے عیسیٰ علیہ السلام آیہ خلق الانسان من سلالة کے حکم میں داخل نہیں اور نطفہ سے ان کی تخلیق نہیں سمجھی جاتی۔ اسی طرح وہ مردے جو زندہ کئے گئے لا یرجعون کے حکم میں شریک نہیں اور حق تعالیٰ فرماتا ہے ”لا تحسبن الذين يفرحون بما اتوا ويحبون ان يحمدوا بمالم يفعلوا فلا تحسبنهم بمفازة من العذاب ولهم عذاب اليم (آل عمران:١٨٨) “ یعنی لوگ خوش ہوتے ہیں اپنے کئے پر اور چاہتے ہیں کہ تعریف ہو بن کئے پر سو نہ جانو کہ وہ عذاب سے خلاصی پائیں گے۔ بلکہ ان کو عذاب دردناک ہوگا۔ (بخاری شریف ج ٢ ص ٦٥٦، باب قوله لا تحسبن الذين يفرحون بما اتوا) میں ہے کہ مروان نے ابن عباسؓ سے
٢١٧
پوچھوایا کہ اگر یہی بات ہو تو ہم سب معذب ہوں گے اس لئے کہ یہ صفت ہم سب میں موجود ہے۔ ابن عباسؓ نے فرمایا ”ومالكم ولهذه انما دعا النبي ﷺ يهودا فسالهم عن شئی فكتموه اياه واخبروه بغيره فاروه ان قد استحمدوا اليه بما اخبروه عنه في ما سالهم وفرحوا بما اوتوا من كتمانهم (رواه البخارى) “ یعنی تم لوگوں کو اس سے کیا تعلق اس سے مراد وہ یہود ہیں جن سے حضرت ﷺ نے کچھ پوچھا تھا انہوں نے اصل معاملہ چھپا کر کوئی اور بات بتلادی اور اسی پر خوش ہو کر اپنی تعریف چاہی اس سے ظاہر ہے کہ الذین عام ہے مگر مراد اس سے چند مخصوص لوگ تھے۔
الحاصل اس کے نظائر بکثرت ہیں کہ دوسری آیتوں وغیرہ سے حکم عام کی تخصیص ہوا کرتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ مشہور ہے ”وما من عام الا خص منه البعض“ اب اہل انصاف غور فرمائیں کہ جب انهم لا يرجعون کا حکم ان زندہ شدہ مردوں پر شامل ہی نہیں تو تعارض کیسا اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی زبردستی تعارض پیدا کر کے اپنا مطلب نکالنا چاہتے ہیں اور اگر ظاہری تعارض کے لحاظ سے تاویل کی ضرورت ہے تو صرف لا يرجعون میں تاویل کیوں نہیں کی جاتی۔ جو کسی طرح بے موقع نہیں بلکہ بحسب محاورات قرآنیہ شائع و ذائع ہے۔ جس کا حال معلوم ہوا کہ خود خدائے تعالیٰ کو یہ تاویل منظور ہے پھر ایسی تاویل کو چھوڑ کر بدنما تاویلیں کرنا جن کے سننے سے مسلمانوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کا کلام بگاڑا جاتا ہے کس قدر ایمان سے دور ہے۔ اس تقریر سے ان استدلالوں کا جواب بھی ہو گیا جو مرزا قادیانی کی جانب سے پیش ہوتے ہیں کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”وكم اهلكنا قبلهم من القرون انهم اليهم لا يرجعون (یسین: ٣١)“ ”فلا يستطيعون توصية ولا الى اهلهم يرجعون (یسین: ٥٠)“ کیونکہ زندہ شدہ مردے خود بخود رجوع نہیں کر سکتے۔ بلکہ حق تعالیٰ نے ان کو زندہ کیا اور اگر مطلق رجوع مراد لی جائے تو دوسری آیتوں کی شہادت سے وہ لا يرجعون میں داخل ہی نہیں اور جس طرح فهم لا يؤمنون سے ثابت نہیں ہو سکتا کہ کوئی کافر ایمان لایا ہی نہیں اسی طرح لا يرجعون سے بھی یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ کوئی مردہ زندہ ہوا ہی نہیں۔
اور اس آیہ شریفہ سے جو استدلال کیا جاتا ہے ”انكم يوم القيمة تبعثون (مؤمنون: ١٦)“ کہ اس وعدہ میں کبھی تخلف نہ ہوگا معلوم نہیں یہ کس بناء پر ہے یہ تو کسی نے نہیں کہا کہ قیامت میں مردے نہ اٹھیں گے۔ البتہ مرزا قادیانی اس کے قائل ہیں۔ کیونکہ وہ فرماتے
ہیں کہ مردے سوراخ کی راہ سے جنت میں گھس جاتے ہیں اور پھر نہیں نکل سکتے۔ جس سے ظاہر ہے کہ بعث ونشر کی ضرورت ہی نہیں۔
شاید ان حضرات نے ہمارا مذہب یہ سمجھا ہے کہ زندہ شدہ مردوں کو کبھی موت نہیں جس سے یہ لازم آئے کہ ان کے بعث کی ضرورت نہیں۔ دراصل ہمارا مذہب یہ نہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جن مردوں کو حق تعالیٰ نے زندہ کیا اس سے صرف قدرت نمائی مقصود تھی۔ پھر جب تک چاہا ان کو زندہ رکھا اور مثل دوسروں کے وہ بھی مر گئے اور قیامت میں سب کے ساتھ ان کا بھی حشر ہوگا اور یوم القیمۃ تبعثون کے حکم میں شریک ہو جائیں گے۔
اس استدلال میں لطف خاص یہ ہے کہ انکم یوم القیمۃ تبعثون (مؤمنون:١٦) ”میں مخاطبوں کی تخصیص ہے اور اس سے استدلال یہ ہو رہا ہے کہ گذشتہ بعض افراد قبل قیامت زندہ نہیں کئے گئے۔ گو خدائے تعالیٰ نے ان کی زندگی کی خبر دی ہے۔
اور اس حدیث شریف سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ بعد شہادت جابرؓ نے حق تعالیٰ سے درخواست کی کہ پھر دنیا میں رجوع کرنے کی اجازت ہو تاکہ دوبارہ درجہ شہادت حاصل کریں۔ اس پر ارشاد ہوا ”انی قضیت انہم لا یرجعون“ اور ایک روایت میں ہے قد سبق القول منی انہم لا یرجعون یعنی میں پہلے فیصلہ کر چکا ہوں کہ وہ لوگ نہ لوٹیں گے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک حق تعالیٰ نے یہی قاعدہ اس عالم میں مقرر فرمایا ہے کہ کوئی مرا ہوا زندہ نہیں ہوتا اور یہی عادۃ اللہ اور سنۃ اللہ ہے جس کی نسبت ارشاد ہے ”فلن تجد لسنت اللہ تبدیلا ولن تجد لسنت اللہ تحویلا (فاطر:٤٣) “مگر یہاں یہ دیکھنا چاہئے کہ کسی مصلحت سے عادت کو کبھی بدل دینا ممکن ہے یا نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں بہت سے واقعات بیان کئے ہیں جن سے ثابت ہے کہ اکثر عادتوں کے خلاف بھی کیا ہے۔ مثلاً تمام روئے زمین پر وقت واحد میں ایسا طوفان ہو جانا کہ کل پہاڑ تک غرق ہو جائیں بالکل خلاف عادت ہے اور نوح علیہ السلام کے وقت ایسا ہی ہوا کہ طوفان سے کل آدمی اور حیوان مر گئے عادۃً آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے۔ مگر ابراہیم علیہ السلام پر سرد ہوگئی لاٹھی کا سانپ بن جانا اور اس کے مارنے سے دریا پھٹ کر اس میں راستے ہو جانا اور ایک مار سے پتھر میں بارہ چشمے جاری ہو جانا خلاف عادت ہے۔ مگر موسیٰ علیہ السلام سے وہ سب وقوع میں آئے۔ مچھلی کے پیٹ میں آدمی کا زندہ رہنا خلاف عادت ہے۔ مگر یونس علیہ السلام اس میں ایسے رہے جیسے کوئی گھر میں رہتا ہے۔ بغیر مرد کے عورت کو اولاد ہونا محال سمجھا جاتا ہے حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ایسی ہی ہوئی۔
چاند کا شق ہونا خلاف عقل وخلاف عادت ہے باوجود اس کے ہمارے نبی کریم ﷺ نے اس کو واقع کر دکھایا جس کے مرزا قادیانی بھی قائل ہیں ان کے سوا صد ہا خوارق عادات قرآن وحدیث سے ثابت ہے جن سے ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ کسی خاص مصلحت سے عادت کے خلاف بھی کرتا ہے اور یہ بھی ضرور نہیں کہ ہر کسی کی درخواست پر عادت بدل دیا کرے۔
چونکہ جابرؓ کی درخواست میں کوئی عمومی مصلحت نہ تھی۔ بلکہ تلذذ کی وجہ سے ان کا ذاتی شوق تھا کہ زندہ ہو کر پھر راہ خدا میں شہید ہوں۔ اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی تو ہر شہید یہی تمنا کرتا اور خلاف عادت اللہ عادت ہو جاتی جس سے اعلیٰ درجہ کا خارق عادت عادتی امور میں داخل ہو جانے کا سخت اندیشہ تھا اور اس سے بڑا مقصود فوت ہو جاتا ہے کہ اعلیٰ درجہ کا خارق عادات میں شریک ہو جاتا۔ حالانکہ وہ ممکن نہیں کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ’ ولن تجد لسنۃ اللّٰہ تحویلا ‘ غرض کہ مصلحت الٰہی مقتضی نہ ہوئی کہ وہ زندہ کئے جائیں۔ اس لئے صاف جواب مل گیا کہ یہ امر عادت اور قانون فطرت کے خلاف ہے۔ اس لئے یہ درخواست منظور نہیں ہو سکتی۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خدائے تعالیٰ کو خرق عادت پر قدرت نہیں یا کبھی نہیں کیا۔ اس کی مثال یوں سمجھنا چاہئے کہ بادشاہ مقتدر اپنے ملک میں کوئی دستور مقرر کر دے تو کسی کو یہ حق نہیں کہ اس دستور کے خلاف درخواست کرے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں کہ کیسی ہی خاص مصلحت اور ضرورت ہو بادشاہ خلاف قانون نہ کرے گا۔ بلکہ عند الضرورت اپنے شاہی اقتدار سے کسی فقرہ کے خلاف عمل کرنا انسب سمجھا جائے گا اور کسی کو پوچھنے کا حق نہ ہو گا کہ خلاف قانون کیوں کیا گیا۔
الحاصل جابرؓ کی درخواست منظور نہ ہونے سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ خدائے تعالیٰ نے بطور خرق عادت کسی مردہ کو زندہ کیا ہی نہیں۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ خود اپنے کلام پاک میں خبر دے رہا ہے کہ کئی مردوں کو ہم نے زندہ کیا۔
ایک قادیانی صاحب نے القول العجیب میں لکھا ہے کہ اگر ان چاروں مقاموں میں یعنی فاماتہ اللّٰہ مائۃ عام ثم بعثہ وغیرہ میں حقیقی احیائے موتیٰ مراد ہوتا تو خدا علیم اموات کے ترکہ کی تقسیم کے احکام تفصیلاً نہ فرماتا اور عورتوں کے شوہر مرنے پر عدت اور خانہ نشینی کی ہدایت نہ فرماتا۔ بلکہ نکاح ثانی کا حکم نہ بھیجتا۔ بلکہ یوں حکم کرتا کہ خبردار میت کے مال کی طرف ہاتھ نہ بڑھاؤ ہم اس کو قریب میں واپس کرنے والے ہیں اور عورتوں کو تاکیدی ارشاد ہوتا کہ زنہار غیر سے نکاح نہ کر لینا۔ عنقریب ہم تمہارے خاوندوں کو تمہاری طرف لوٹانے والے ہیں
٢٦٠
اور اس قسم کی بہت سی تفریعات ولوازم لکھے جن کا مطلب یہ ہوا کہ خدائے تعالیٰ نے احیائے اموات کی خبریں جو قرآن شریف میں دی ہیں کہ عزیر علیہ السلام وغیرہ کو ہم نے زندہ کیا تھا۔ اگر ان کا یقین کر لیا جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ اب نہ کسی کا مال متروکہ بعد موت تقسیم ہو سکے نہ عورتوں کو نکاح ثانی کی اجازت ملے۔ کیونکہ عزیر علیہ السلام زندہ ہوئے تھے۔ اگر یہ استدلال صحیح ہو جائے تو بڑی دقتیں لاحق ہوں گی۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ موت سے پہلے موت کا سامنا ہو جائے گا۔ اس لئے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”أهلكنا القرون الأولى (قصص:٤٣)“ یعنی پہلے زمانہ والوں کو ہم نے ہلاک کیا اس لئے اب نہ کسی کو کھانا سوجھے نہ پینا نہ نکاح وغیرہ۔ اس لئے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے لوگوں کو ہم نے ہلاک کر دیا اور یہ بھی کہنا پڑے گا کہ آگ سرد ہے اس لئے کہ ابراہیم علیہ السلام کے حق میں سرد ہو گئی تھی مگر کوئی عقلمند اس قسم کے استدلال کو جائز نہ رکھے گا اس لئے کہ گزشتہ کا خاص کوئی واقعہ بیان کرنا اس کو مقتضی نہیں کہ ہر وقت اس قسم کے واقعات ہوا کریں۔ خصوصاً ایسے واقعات کا جن کا خارق عادت ہونا مسلم ہے۔ کوئی مسلمان اس کا قائل نہیں کہ حق تعالیٰ کی عادت ہے کہ ہر مردہ کو زندہ کیا کرتا ہے۔ غرضیکہ احیائے اموات کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے تقسیم میراث وغیرہ کی اجازت ہے۔ اگر چہ کہ اس میں بھی شک نہیں کہ حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے اب بھی مردوں کو زندہ کر سکتا ہے۔ مگر ہمارے دین میں احتمال پر واقعی آثار مرتب نہیں ہو سکتے۔ اسی وجہ سے گو ہر وقت آدمی کو موت کا احتمال لگا ہوا ہے۔ مگر اس احتمال پر یہ حکم نہیں ہو سکتا کہ اس کا مال ترکہ میں تقسیم کر دیا جائے یا اس کی عورت عدت میں بیٹھے اور نکاح ثانی کر لے۔ غرضیکہ جب تک آدمی نہ مرے نہ اس کا مال ترکہ ہو سکتا ہے نہ اس کی عورت بیوہ۔ اسی طرح جب تک مردہ زندہ نہ ہو نہ اس کے مال سے ورثا محروم ہوں گے نہ اس کی عورت عدت ونکاح سے ممنوع۔
مرزا قادیانی جو کہتے ہیں کہ کوئی مردہ اس عالم میں زندہ نہیں ہو سکتا سو علاوہ اس کے کہ قرآن شریف کی کئی آیتیں اس دعویٰ کی تکذیب کر رہی ہیں۔ احادیث اور واقعات سے بھی اس کا رد ہو رہا ہے۔ چنانچہ ان روایات سے ظاہر ہے۔ علامہ قسطلانیؒ نے (مواہب لدنیہ ج ٥ ص ١٨٢، باب احیاء الموتیٰ) میں اور ملا علی قاری نے (شرح شفاء ج ١ ص ٦٥١، باب احیاء الموتیٰ وکلامہم) قاضی عیاضؒ نے شفا میں نقل کی ہے۔ ”ان النبی ﷺ دعا رجلا الى الاسلام فقال لا اؤمن بك حتى تحيى لى ابنتى فقال النبى ﷺ ارنى قبرها فاراه اياه فقال النبى ﷺ
٢٢١
يا فلانة فقالت لبيك وسعديك فقال ﷺ اتحبين ان ترجع فقالت لا والله يارسول الله انى وجدت الله خيراً لى من ابوى ووجدت الآخرة خيرا من الدنيا “ یعنی نبی ﷺ نے ایک شخص کو دعوت اسلام کی اس نے کہا کہ جب تک میری لڑکی کو آپ زندہ نہ کرو گے میں ایمان نہ لاؤ گا۔ آپ نے فرمایا اس کی قبر کہاں ہے اس نے قبر دکھلادی۔ حضرت ﷺ نے اس لڑکی کا نام لے کر پکارا اس نے جواب دیا حضرت ﷺ نے فرمایا کیا تو اس بات کو پسند کرتی ہے کہ پھر دنیا میں لوٹے اس نے قسم کھا کر کہا یا رسول اللہ ﷺ میں یہ نہیں چاہتی میں نے خدا کو اپنے ماں باپ سے اور آخرت کو دنیا سے بہتر پایا۔
”روی ابن عدى وابن ابی الدنيا والبيهقى وابونعيم عن انس قال كنا فى صفة عند رسول الله ﷺ فاتته عجوز عميا مهاجرة معها ابن لها قد بلغ فلم يلبث ان اصابه وباء المدينة فمرض اياماً ثم قبض فغمضه رسول الله ﷺ وامره ای انسا بجهازه فلما اردنا ان نغسله قال يا انس ائت امه فاعلمه فاعلمتها فجاءت حتى جلست عند قدميه فاخذت بها ثم قالت اني اسلمت اليك طوعاً وخلعت الاوثان زهداً وهاجرت اليك رغبة اللهم لاتشمت عبدة الاوثان ولا تحملنى فى هذا المصيبة مالا طاقة لي بحمله فوالله ما انقضى كلامها حتى حرك قدميه والقى الثوب عن وجهه وطعم وطعمنا معه وعاش حتى قبض النبی ﷺ وهلكت امه ذكره الزرقاني في شرح المواهب اللدنیه ج ٥ ص ١٨٣، باب احیاء الموتی)“ یعنی انسؓ کہتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے حضور میں حاضر تھے کہ ایک نابینا بڑھیا ہجرت کر کے اپنے جواں فرزند کے ساتھ حاضر خدمت ہوئیں۔ تھوڑے دن گزرے تھے کہ ان کا لڑکا وبا سے بیمار ہوا اور چند روز میں انتقال کیا۔ حضرت نے اس کی آنکھیں بند کر کے انسؓ کو اس کی تجہیز وتکفین کا حکم دیا۔ جب ہم نے اس کے غسل کا ارادہ کیا تو حضرت نے فرمایا کہ اس کی ماں کو خبر کر دو چنانچہ سنتے ہی وہ آئیں اور اپنے لڑکے کے پیروں کے پاس بیٹھ کر اس کے دونوں قدم پکڑے اور کہنے لگیں یا اللہ میں خوشی سے اسلام لائی تھی اور بے رغبتی سے بتوں کو چھوڑ دیا تھا اور کمال رغبت سے تیری طرف ہجرت کی تھی یا اللہ ایسا مت کر کہ بت پرست دشمن ہنسیں اور اس مصیبت میں وہ بار مجھ پر مت ڈال جس کے اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں۔ انسؓ کہتے ہیں کہ ہنوز کلام پورا نہیں ہوا تھا کہ اس لڑکے نے
٢٢٢
پاؤں ہلائے اور کپڑا منہ سے ہٹا دیا اور ہمارے ساتھ اس نے کھانا کھایا اور حضرت کی وفات کے بعد تک زندہ رہا اور اس اثناء میں اس کی ماں کا بھی انتقال ہو گیا۔ (درمنثور ج٢ ص٣٤، تحت قولہ تعالیٰ واحی الموتی باذن اللہ ) میں امام سیوطیؒ نے لکھا ہے ” واخرج ابن ابی الدنیا فی کتاب من عاش بعد الموت عن معاویۃ بن قرۃ قال سالت بنو اسرائيل عيسى فقالوا ان سام بن نوح دفن ههنا قريبا فادع الله يبعثه لنا فهتف فخرج اشمط “ یعنی بنی اسرائیل نے عیسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ سام بن نوح کی قبر یہاں سے قریب ہے۔ ان کے زندہ ہونے کی دعاء کیجئے۔ آپ نے ان کو پکارا اور وہ قبر سے نکل آئے۔ یہاں ایک بات اور بھی معلوم ہوئی کہ ابن ابی الدنیا نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو مرنے کے بعد زندہ ہوئے۔ اور یہ روایت بھی (درمنثور ج ٢ ص ٣٤، تحت قولہ تعالیٰ واحی الموتی باذن اللہ ) میں ہے ” واخرج اسحق بن بشر وابن عساکر من طرق عن ابن عباس قال كانت اليهود ويجتمعون الى عيسىٰ ...... الى ان قال فمر ذات يوم بامراة قاعدة عند قبر وهى تبكى فسالها فقالت ماتت ابنة لى ولم يكن لى ولد غيرها فصلى عيسىٰ ركعتين ثم نادىٰ يا فلانة قومى باذن الرحمن فاخرجه فتحرك القبر ثم نادى الثانية فانصدع القبر ثم نادى الثالثة فخرجت وهى تنفض رأسها من التراب “ یعنی ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک روز عیسیٰ علیہ السلام کا گزر ایک عورت پر ہوا جو قبر کے پاس روتی بیٹھی تھی۔ آپ نے حال دریافت فرمایا اس نے کہا کہ میری ایک لڑکی تھی۔ جس کے سوا میری کوئی اولاد نہیں وہ مرگئی آپ نے دو رکعت نماز پڑھ کر اس کو پکارا کہ خدا کے حکم سے کھڑی ہو جا اور نکل آ اس کے ساتھ ہی قبر کو حرکت ہوئی پھر دوسرے بار پکارا جس سے قبر شق ہوئی پھر تیسرے بار کے پکارنے پر وہ لڑکی سر سے مٹی جھٹکتی ہوئی نکل آئی۔ اور یہ روایت بھی (درمنثور ص ٣٦ ج ٢) میں ہے جس کی تخریج ابن جریر اور ابن عساکر نے ابن عباسؓ سے کی ہے۔ یہ روایت طولانی ہے۔ ماحصل اس کا یہ ہے کہ ایک شاہزادہ مر گیا تھا۔ اس کے باپ نے عیسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ وہ زندہ کیا جائے۔ آپ نے دعاء کی اور وہ زندہ ہو گیا اور یہ روایت بھی (درمنثور ص ٣٥ ج ٢) میں ہے ” واخرج احمد في الزهد عن خالد الحذاء قال كان عيسىٰ بن مريم اذا سرح رسله يحيون الموتىٰ يقول ٢٢٣
لهم قولوا كذا قولو كذا فاذا وجدتم قشعريرة ودمعة فادعوا عند ذلك “یعنی عیسیٰ علیہ السلام جب اپنے رسولوں کو بھیجتے تو ان کو مردوں کے زندہ کرنے کی تدبیر بتلادیتے کہ یہ کلمات کہا کرو اور جب جسم پر رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور اشک بہنے لگیں تو اس وقت دعا کرو۔ اور یہ روایت بھی (درمنثور ص ٣٥ ج ٢) میں ہے ” واخرج احمد فی الزهد عن ثابت قال انطلق عيسىٰ عليه السلام يزور اخاله فاستقبله انسان فقال ان اخاك قد مات فرجع فسمعت بنات اخيه برجوعه عنهن فاتين فقلن يا رسول الله رجوعك عنا اشد علينا من موت ابينا قال فانطلقن فارينی قبره فانطلقن حتى ارينه قبره قال فصوت به فخرج “ یعنی عیسیٰ علیہ السلام اپنے کسی بھائی کی ملاقات کو گئے ایک شخص نے کہا کہ ان کا انتقال ہو گیا آپ نے لوٹنا چاہا آپ کے بھتیجوں کو جب یہ کیفیت معلوم ہوئی تو کہنے لگیں کہ آپ کا واپس جانا ہمارے باپ کے انتقال سے زیادہ ہم پر شاق ہے۔ فرمایا اپنے باپ کی قبر دکھلاؤ وہ ساتھ ہوئیں اور قبر کی نشاندہی کی آپ نے صاحب قبر کو پکارا چنانچہ وہ قبر سے نکل آئے۔
(بہجۃ الاسرار ص ١٣٦) میں شیخ نور الدین علی اللخمی نے لکھا ہے کہ شیخ ابوبکر شبلیؒ ایک بار اکیلے بیٹھے ہوئے تھے سو سے زیادہ پرندے وہاں اتر آئے شیخ کو ان کی آوازوں سے تشویش ہوئی اور غصے سے ان کی طرف دیکھا فوراً سب مر گئے۔ شیخ کو ان پر رحم آیا اور کہا الٰہی میرا مقصود یہ نہ تھا فوراً زندہ ہو کر اڑ گئے۔
اور اسی (ص ١٩٥) میں لکھا ہے کہ ایک روز بطیحہ میں سات شخصوں نے بہت سے پرندوں کا شکار کیا مگر سب مردار ہو گئے تھے۔ شیخ عثمان بطائحیؒ نے ان سے کہا اس شکار سے تمہیں کیا فائدہ نہ خود کھا سکتے ہو نہ کسی کو کھلا سکتے ہو۔ ان لوگوں نے کہا کیوں، فرمایا اس لئے کہ وہ تو سب مردار ہیں۔ کسی نے بطور استہزاء کہا کہ اگر آپ سے ہو سکتا ہے تو زندہ کر دیجئے۔ آپ نے کہا بسم الله الله اكبر اللهم احيها يا محى العظام وهى رميم یہ کہتے ہی وہ سب زندہ ہو کر اڑ گئے۔
اور اسی (ص ٢٣٥) میں ہے کہ ایک بار شیخ احمد رفاعیؒ تشریف رکھے تھے ایک شخص نے آکر کہا میری خواہش یہ ہے کہ یہ مرغابیاں جو اڑ رہی ہیں۔ ان میں سے ایک اور دو روٹیاں اور ٹھنڈا پانی میرے روبرو ہو آپ نے قبول کیا۔ چنانچہ وہ سب چیزیں فراہم ہو گئیں۔ جب وہ کھانے سے
٢٤٤
فارغ ہوا تو آپ نے اس مرغابی کی ہڈیاں لے کر کہا اذهبی بسم الله الرحمن الرحیم کہتے ہی وہ زندہ ہو کر اڑ گئی۔
اور اسی (ص ٦٥) میں ہے کہ ایک عورت نے اپنے لڑکے کو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی خدمت میں دیا آپ نے اس کو مجاہدہ اور سلوک میں مشغول فرمایا ایک روز وہ عورت آئی اور دیکھا کہ حضرت کے روبرو مرغ کا گوشت ہے اور اپنے لڑکے کے روبرو سوکھی جو کی روٹی یہ اس کو ناگوار ہوا۔ حضرت نے اس مرغی کی ہڈیوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اٹھ اللہ کے حکم سے وہ فوراً زندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہوا پھر اس عورت سے فرمایا جب تیرے لڑکے میں یہ بات پیدا ہو گئی اس وقت وہ مرغ کھا سکتا ہے۔
اور اسی (ص ١٥٧) میں شیخ علی بن ہیتی کے حال میں لکھا ہے کہ کسی گاؤں میں ایک شخص قتل ہوا تھا اور قاتل کا نام معلوم نہ ہونے کی وجہ سے قریب تھا کہ دوگاؤں کے لوگوں میں کشت وخون ہو۔ شیخ وہاں چلے گئے اور مقتول کے سر کے بال پکڑ کر پوچھا کہ تجھے کس نے قتل کیا وہ اٹھ بیٹھا اور شیخ کی طرف دیکھ کر بآواز بلند فصیح زبان سے کہا کہ فلاں شخص نے مجھے قتل کیا۔ چنانچہ سب نے سنا اور اسی کے قول پر فیصلہ ہو گیا۔
اور اسی (ص ٢٣٢) میں لکھا ہے کہ ایک بار سید احمد رفاعی اپنے مریدوں کے ساتھ دریا کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا کہ اس وقت مچھلی کا گوشت کھانے کو جی چاہتا ہے۔ یہ کہتے ہی اقسام کی مچھلیاں کنارے پر آگئیں اور کثرت سے شکار ہوا اور کڑاہیوں میں تلی گئیں۔ جب سب کھانے سے فارغ ہوئے اور چند قتلے باقی رہ گئے اس طور پر کہ کسی کا سر ہے تو کسی کی دم وغیرہ۔ اس وقت ایک شخص نے پوچھا کہ حضرت شخص متمکن کی کیا صفت ہے۔ فرمایا کہ تمام خلائق میں اس کو عام تصرف دیا جائے اس نے کہا اس کی علامت کیا ہے۔ فرمایا اگر وہ ان مچھلیوں سے کہہ دے کہ چلے جائیں تو وہ چلی جاویں پھر ان قتلوں کی طرف خطاب کر کے فرمایا اے مچھلیو اللہ کے حکم سے تم اٹھو اور چلی جاؤ یہ کہتے ہی وہ سب زندہ ہو گئیں اور دریا میں کود پڑیں۔
یہ روایتیں بہجۃ الاسرار میں ہیں چونکہ اس کے مصنف شیخ نور الدین علی محمد شطنوفی شافعی ہیں اس لئے ہر روایت کو بطرز حدیث بسند متصل بیان کیا۔ (فتح المبین ص ١١) میں ”فیما یتعلق بتریاق المحبین میں صاحب بہجۃ الاسرار کے حال میں لکھا ہے قال الامام الذهبی المشهور الذی هو من اعظم علماء الحدیث واکابرهم الذی یقال عنه انه محك
٢٤٥
الرجال ومعيارهم العارف باحوال رجال الحديث والرواية في كتابه طبقات المقربين فى ترجمة مصنف البهجة مانصه علی بن يوسف بن جرير اللخمى المشطوفى الامام الاوحد المصرى نور الدين شيخ القراء بالديار المصرية ابو الحسن تصدر للاقراء والتدريس بالجامع الازهر وقد حضرت مجلس اقرائه واستانست بسمته وسكونه “ دیکھئے امام ذہبی جیسے شخص مصنف بہجۃ الاسرار کو الامام الاوحد یعنی امام یگانہ روزگار کہتے ہیں اور اس کی مجلس کی حضوری کو باعث فخر سمجھتے ہیں تو کس درجہ کے معتمد علیہ شخص ہوں گے۔
اور نیز (نفح الیمن ص ١١٥) میں محمد بن محمد الجزری صاحب حصن حصین کا قول نقل کیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ کتاب بہجۃ الاسرار میں نے مصر میں کامل پڑھی اور شیخ القادر جو اکابر مشائخین مصر سے تھے ان سے اس کی اجازت لی۔ اس سے بہجۃ الاسرار کی جلالت شان معلوم ہوتی ہے کہ محدثین اس کو سبقاً سبقاً پڑھا کرتے تھے اور مثل صحاح ستہ کے اس کی بھی اجازت لیا کرتے تھے۔ جب نقاد حدیث نے اس کتاب کے مصنف کو امام اوحد کہہ دیا اور محدثین کے درس و تدریس میں وہ کتاب رہی تو اب کس کی مجال ہے کہ اس کی روایتوں میں چون و چرا کر سکے۔
امام یافعیؒ نے (روض الریاحین ص ١٩٣) میں لکھا ہے کہ شعمیؒ کا چشم دید واقعہ ہے کہ ایک جماعت یمن سے جہاد کے لئے آئی ان میں سے ایک شخص کا گدھا مر گیا ہر چند رفقاء نے ان کی سواری کے لئے اپنے گدھے پیش کئے۔ مگر انہوں نے قبول نہ کیا اور وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھی اور دعاء کی کہ الٰہی تیری راہ میں تیری رضامندی کے لئے میں جہاد کے واسطے نکلا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ تو مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمام مردوں کو تو قبروں سے اٹھائے گا۔ الٰہی میں تجھ سے یہ طلب کرتا ہوں کہ میرے گدھے کو زندہ کر دے یہ کہہ کر گدھے کو مارا وہ کان جھٹکتا ہوا فوراً کھڑا ہو گیا وہ اس پر سوار ہوئے اور اپنے رفقاء سے جاملے۔
اور اسی (ص ٢٠٩) میں لکھا ہے کہ ایک روز چند پرندے بریاں شیخ مفرجؒ کے دستر خوان پر لائے گئے ۔ آپ نے ان سے کہا کہ اڑ جاؤ وہ سب زندہ ہو کر اڑ گئے۔
(فتاویٰ حدیثیہ ص ٢٥٧) میں مذکور ہے کہ علامہ ابن حجر ہیتمی مکیؒ سے سوال کیا گیا کہ کرامت معجزہ کے درجے کو پہنچ سکتی ہے یا نہیں اور ان دونوں میں کیا فرق ہے۔ انہوں نے جواب دیا اہل سنت و جماعت کے کل فرقے یعنی فقہاء اصولیین اور محدثین وغیرہم سب کرامت کے وجود
٢٢٦
کے قائل ہیں۔ معتزلہ اس کے قائل نہیں۔ پھر اہل سنت کے دلائل احادیث سے بیان کئے اور لکھا کہ کرامت اور معجزے میں کوئی فرق نہیں۔ سوائے اس کے کہ معجزہ دعویٰ نبوت کی تصدیق کے لئے ہے اور کرامت ولی سے صادر ہوتی ہے۔ جو نبوت کا دعویٰ کر ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ دعویٰ کرتے ہی ولایت کرامت اس کی سلب ہو جائے گی اور وہ کافر ہو جائے گا۔ اس کے بعد کئی واقعات احیائے اموات کے بیان کئے جو بطور کرامت اولیاء اللہ سے صادر ہوئے ہیں۔ چنانچہ چند واقعات کا ترجمہ بیان کیا جاتا ہے۔
ایک یہ کہ عبداللہ تستریؒ جہاد کے لئے جارہے تھے کہ رستہ میں ان کی سواری کا گھوڑا مرگیا۔ انہوں نے دعاء کی کہ الٰہی یہ گھوڑا مجھے اس وقت تک عاریت دے کہ میں اپنی بستی تستر کو پہنچ جاؤں۔ اسی وقت گھوڑا کھڑا ہوگیا اور اس سفر میں پوری رفاقت دی اور جب تستر کو پہنچے تو خوگیر اتارتے ہی وہ مر گیا۔
اور ایک اعرابی کے اونٹ کے زندہ ہونے کا واقعہ بھی اسی قسم کا نقل کیا ہے اور لکھا ہے "عن سهل التسترى انه قال الذاكر الله على الحقيقة لوهم ان يحيئ الموتى لفعل سهل" تستری کہتے ہیں حقیقی طور پر جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرے اور وہ مردہ کو زندہ کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔
اور لکھا ہے کہ شیخ اجل ابوالغیثؒ کے پاس ایک بلی پلی ہوئی تھی۔ خادم نے اس کو مار ڈالا اور جب شیخ نے اس کا حال کئی روز کے بعد پوچھا تو اپنی لاعلمی ظاہر کی شیخ نے حسب عادت بلی کو پکارا فوراً زندہ ہوکر آگئی۔
اور لکھا ہے کہ شیخ ابویوسف دہستانیؒ کے کسی مرید کا انتقال ہوا۔ جس سے اس کے قرابت دار نہایت مغموم تھے۔ آپ وہاں تشریف لے گئے اور قم باذن اللہ تعالیٰ اس سے کہا فوراً وہ اٹھ کھڑا ہوا اور ایک مدت تک زندہ رہا۔
(نفحات الانس ص ٢٦٨) میں مولانا جامیؒ نے عین القضاۃ ہمدانی کے حال میں لکھا ہے کہ آپ سے اعلیٰ درجہ کے خوارق عادات مثل احیاء و اماتت ظہور میں آئے۔ چنانچہ ایک روز سماع کی مجلس میں ابوسعید ترمذیؒ نے ایک بیت پڑھی جس پر آپ کو وجد ہوا۔ ابوسعید نے کہا مجھے مرنے کی آرزو آتی ہے۔ آپ نے کہا مرجاؤ وہ فوراً بیہوش ہوکر گرے اور مرگئے۔ مفتی شہر بھی اس مجلس میں حاضر تھے پوچھا کہ آپ نے زندہ کو تو مار ڈالا کیا مردہ کو بھی زندہ کرسکتے ہو۔ کہا کون مردہ ہے کہا فقیہ محمود آپ نے کہا الٰہی فقیہ محمود کو زندہ کردے اسی ساعت وہ زندہ ہوگئے۔
٢٢٧
یہ چند واقعات جو دو چار کتابیں سے لکھے گئے ان کو مشتے نمونہ از خروارے سمجھنا چاہئے اگر تمام کتب سیر و تواریخ وغیرہ میں تلاش کئے جائیں تو اور بہت سے واقعات مل سکتے ہیں اور یہ تو ابھی معلوم ہوا کہ ابن ابی الدنیا جو اکابر محدثین سے ہیں انہوں نے ایک کتاب ہی مستقل زندہ شدہ مردوں کے حال میں لکھی ہے۔ اس سے ان کا یہی مقصود تھا کہ احیائے اموات کا ذکر قرآن شریف میں جو کئی جگہ واقع ہے مختلف اوقات اور متعدد مقامات میں اس کا وقوع معلوم ہونے سے کوئی استبعاد باقی نہ رہے۔ حق تعالیٰ ان علماء کی سعی مشکور فرمادے کہ ہم آخری زمانے والے مسلمانوں کے ایمان کو مستحکم کرنے کی غرض سے کیسی کیسی محنتیں گوارا کر کے ایک ذخیرہ معلومات کا ہمارے لئے فراہم کر دیا جس کی شکر گزاری ہم پر واجب ہے۔
ان تمام واقعات کو دیکھنے سے ظاہر ہے کہ حدیث شریف میں جو وارد ہے علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل اس سے یہی مراد نہیں کہ صرف زبانی وعظ و نصیحت علماء کا کام ہے۔ بلکہ مقتضائے کمال تشبہ یہ ہے کہ جس طرح انبیاء نے احیائے اموات وغیرہ کا خوارق عادات سے کام لیا تھا سید الانبیاء والمرسلین ﷺ کی امت اس باب میں بھی ان سے پیچھے نہ رہے۔ چنانچہ علماء باللہ قدس اللہ اسرارہم نے اس کو بھی دکھایا۔
ہمیں اس کا یقین ہے کہ یہ تو کیا اگر کئی جز ان واقعات کے پیش کئے جائیں تو بھی مرزا قادیانی اور ان کے پیرو ایک نہ مانیں گے اور جس طرح مرزا حیرت صاحب کو حضرت امام حسینؓ سے واقعہ شہادت کی روایات اور تواتر کا انکار ہے ہمارے مرزا قادیانی بھی انکار ہی فرماتے رہیں گے۔ اس لئے یہاں ہمارا روئے سخن مرزا قادیانی کی طرف نہیں ہے۔ بلکہ ہم ان حضرات کو توجہ دلاتے ہیں کہ جو فقہاء اور محدثین اور اولیاء اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہیں ورنہ مخالفین اہل سنت و جماعت کے روبرو ان حضرات کے اقوال پیش کرنا ایسا ہے جیسے پادریوں کے مقابلہ میں قرآن وحدیث کو پیش کرنا۔ جس سے سوائے تضیع اوقات کے کوئی فائدہ متصور نہیں۔
معتزلہ اور ان کے ہم خیال لوگوں کو اصل کرامت ہی کا انکار ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ اس لئے کہ مادر زاد نابینا مثلاً اگر خط و خال و حسن و جمال اور جملہ الوان و انوار کا انکار نہ کرے تو کیا کرے۔ اس کی عقل میں صلاحیت ہی نہیں کہ ان چیزوں کا تصور کر سکے۔ اسی طرح معتزلہ نے دیکھا کہ آخر ہم بھی مسلمان ہیں اور کبھی کرامت کی صورت بھی نہ دیکھی۔ اس لئے ان کی عقلوں نے اصل کرامت ہی کا انکار کر دیا۔ انہوں نے یہ نہیں خیال کیا کہ اس میں اپنا ہی قصور ہے۔
٢٢٨
کرامت کا مدار تو کمال ایمان پر ہے اور وہاں نفس ایمان میں کلام ہے۔ کیا یہ مقتضائے ایمان ہے کہ کھلی کھلی آیات واحادیث کو اپنی سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے نہ مان کر ان میں اقسام کی تاویلیں کی جائیں۔ کرامت کا درجہ تو فقط ایمان لانے سے بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ جب تک ایسی حالت نہ پیدا ہو جس سے خالق کی خوشنودی کے مستحق ہوں۔ پھر ایسا عظیم الشان درجہ بغیر تمام آیات واحادیث پر ایمان لانے کے کیوں کر حاصل ہوسکتا ہے۔
الحاصل جس طرح معتزلہ کے انکار کرامت سے اہل سنت و جماعت کرامت کا انکار نہیں کر سکتے اسی طرح مرزا قادیانی کے انکار احیائے اموات سے وہ لوگ اس کا انکار نہیں کر سکتے۔ معتزلہ کو تو صرف قیاس ہی نے روکا تھا۔ اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض نہ تھی۔ مرزا قادیانی کی تو ذاتی غرض بھی اس انکار سے متعلق ہے ایسے موقع میں ان کی بات کیونکر قابل اعتبار ہو سکے۔
حق تعالیٰ عزیر یا ارمیا علیہم السلام کے مر کے زندہ ہونے کا واقعہ جو قرآن شریف میں بیان فرمایا ہے مرزا قادیانی اس کی نسبت (ازالۃ الاوہام ص ٦٦٥، ٦٦٦، خزائن ج ٣ ص ٤٥٩) میں لکھتے ہیں کہ ”قصہ عزیر وغیرہ جو قرآن میں ہے اس بات کے مخالف نہیں کیونکہ لغت میں موت بمعنی نوم وغشی بھی آیا ہے۔ دیکھو قاموس اور جو عزیر کے قصہ میں ہڈیوں پر گوشت چڑھانے کا ذکر ہے وہ حقیقت میں ایک الگ بیان ہے۔ جس میں یہ جتانا منظور ہے کہ رحم میں خدائے تعالیٰ ایک مردہ کو زندہ کرتا ہے اور اس کی ہڈیوں پر گوشت چڑھاتا ہے اور پھر اس میں جان ڈالتا ہے ماسوا اس کے کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں ہو سکتا کہ عزیر دوبارہ زندہ ہو کر پھر بھی فوت ہوا۔ پس اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ عزیر کی زندگی دوم دنیوی نہیں تھی ورنہ اس کے بعد ضرور اس کی موت کا ذکر ہوتا۔“
یہ قصہ قرآن شریف میں اس طرح مذکور ہے ”او کالذی مر علی قریة وھی خاویة علی عروشھا قال انی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا فاماتہ اللہ مائة عام ثم بعثہ قال کم لبثت قال لبثت یوما او بعض یوم قال بل لبثت مائة عام فانظر الی طعامک وشرابک لم یتسنہ وانظر الی حمارک ولنجعلک آیة للناس وانظر الی العظام کیف ننشزھا ثم نکسوھا لحما فلما تبین لہ قال اعلم ان اللہ علی کل شیء قدیر (بقرہ:٢٥٩)“ حاصل مضمون اس آیۂ شریفہ کا جو احادیث سے ثابت ہے جن کو ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اور امام سیوطی نے درمنثور میں اور دوسرے مفسرین نے
٢٢٩
ذکر کیا ہے یہ ہے اور سیاق و سباق سے بھی ظاہر ہے کہ جب بیت المقدس میں بنی اسرائیل کے نوخیز اور نئے خیال کے لوگ خدا اور رسول سے بے خوف ہوگئے اور فسق و فجور حد سے زیادہ ہوگیا۔ ارمیا علیہ السلام پر وحی ہوئی کہ اب یہ بستی غارت اور ویران کردی جائے گی۔ ہر چند انہوں نے لوگوں کو بہت کچھ سمجھایا اور وعظ و نصیحت کی۔ مگر جب ایمان ہی نہ ہو تو کیا اثر ہوسکتا ہے۔ غرض کہ کسی نے نہ مانا آخر بخت نصر نے اس پر چڑھائی کی اور قتل عام کر کے اس کو ایسا تباہ کیا کہ تمام مکانات و عمارات منہدم کر دیئے۔ جس سے پوری بستی ایک تودۂ خاک مثل پہاڑ نظر آتی تھی۔ ارمیا علیہ السلام وہاں سے جاتے ہوئے کسی پہاڑ کے کنارے کھڑے ہوگئے اور کمال افسوس سے کہا کہ اب یہ بستی کہاں آباد ہو سکتی ہے۔ ”او كالذي مر على قرية وهى خاوية على عروشها قال انى يحيى هذه الله بعد موتها (بقرہ:٢٥٩)“ اور ایک روایت میں ہے کہ عزیر علیہ السلام کا اس پر گذر ہوا اور انہوں نے یہ کلمہ کہا۔ بہر حال خدائے تعالیٰ کو منظور ہوا کہ نبی وقت کا استبعاد دفع کردے۔ ملک الموت کو حکم ہوا کہ ان کی روح قبض کرلیں۔ چنانچہ روح قبض کر لی گئی۔ جس کی خبر حق تعالیٰ قرآن شریف میں دیتا ہے کہ فاماته الله اور ان کا لاشہ وہیں پڑا رہا۔ یہاں تک کہ جب ستر برس گزرے تو کسی بادشاہ کو حکم ہوا کہ بیت المقدس کو پھر آباد کرے۔ چنانچہ تیس سال میں وہ بالکل آباد ہوگیا۔ اس وقت جب کہ پورے سو برس ان کی موت سے گزرے تھے حق تعالیٰ نے ان کو زندہ کیا ”فاماته الله مائة عام ثم بعثہ“ اور زندہ ایسے طور پر کئے گئے کہ جو خدشہ ان کے دل میں تھا اس کا جواب ساتھ ہی ہوجائے۔ یعنی ابتداءً آنکھیں بنائی گئیں اور پہلے پہل جس پر نظر پڑی وہ بیت المقدس تھا۔ جس کی آبادی بحال سمجھی گئی تھی۔ دیکھا کہ اس کی اب یہ حالت ہے کہ پہلے سے بھی زیادہ خوش نما اور خوش منظر ہے۔ کیونکہ کل عمارتیں جدید بنی ہوئی تھیں۔ جن میں نام کو کہنگی نہ تھی۔ جب انہوں نے اپنے سوال کا جواب عملی طور پر پا لیا تو ارشاد ہوا کہ اب بتاؤ کہ تم یہاں کتنے روز رہے۔ قال كم لبثت کہا ایک روز یا اس سے بھی کم ”قال لبثت يوماً او بعض يوم“ اس لئے کہ اس عالم سے غائب ہونے کا وقت صبح کا تھا اور اب غروب کا وقت ہے۔ فرمایا یہ نہیں بلکہ سو برس گزر چکے ہیں ”قال بل لبثت مائة عام“ اب غور کرو کیا ممکن ہے کہ اتنی مدت کھانے پینے کی چیزوں از قسم فواکہ محفوظ رہ سکیں۔ دیکھو یہ چیزیں بلا تغیر تمہارے سامنے رکھی ہیں اور گدھا بھی بحال خود موجود ہے۔ یہ وہی اشیاء ہیں جو تمہارے ساتھ تھیں۔ ”فانظر الى طعامك وشرابك لم يتسنه وانظر الى حمارك“ اس سے ان کو یہ بھی
٢٣٠
یہ بھی ظاہر ہے کہ جب بیت المقدس میں بنی اسرائیل کے دل سے بے خوف ہو گئے اور فسق و فجور حد سے زیادہ ہو گیا۔ بستی غارت اور ویران کر دی جائے گی۔ ہر چند انہوں نے نصیحت کی ۔ مگر جب ایمان ہی نہ ہو تو کیا اثر ہو سکتا ہے۔ غرض کہ پر چڑھائی کی اور قتل عام کر کے اس کو ایسا تباہ کیا کہ تمام سے پوری بستی ایک تودۂ خاک مثل پہاڑ نظر آتی تھی۔ ارمیا پہاڑ کے کنارے کھڑے ہو گئے اور کمال افسوس سے کہا کہ كالذى مر على قرية وهى خاوية على عروشها آیہ (بقرہ:٢٥٩) ” اور ایک روایت میں ہے کہ عزیر علیہ یہ کلمہ کہا۔ بہر حال خدائے تعالیٰ کو منظور ہوا کہ نبی وقت کا تا کہ ان کی روح قبض کر لیں ۔ چنانچہ روح قبض کر لی گئی ۔ آتا ہے کہ فاماته الله اور ان کا لاشہ وہیں پڑا رہا۔ یہاں تک کہ ان کو حکم ہوا کہ بیت المقدس کو پھر آباد کرے۔ چنانچہ تیس جب کہ پورے سو برس ان کی موت سے گزرے تھے حق مائة عام ثم بعثہ “ اور زندہ ایسے طور پر کئے گئے کہ جو کچھ ہی ہو جائے ۔ یعنی ابتداء آنکھیں بنائی گئیں اور پہلے جس کی آبادی محال سمجھی گئی تھی ۔ دیکھا کہ اس کی اب یہ شہر خوش منظر ہے۔ کیونکہ کل عمارتیں جدید بنی ہوئی تھیں۔ ، اپنے سوال کا جواب عملی طور پر پا لیا تو ارشاد ہوا کہ اب لبثت کہا ایک روز یا اس سے بھی کم ”قال لبثت يوماً سے غائب ہونے کا وقت صبح کا تھا اور اب غروب کا وقت قال بل لبثت مائة عام “ اب غور کرو کیا ممکن ہے فواکہ محفوظ رہ سکیں۔ دیکھو یہ چیزیں بلا تغیر تمہارے موجود ہے۔ یہ وہی اشیاء ہیں جو تمہارے ساتھ تھیں۔ يتسنه وانظر الى حمارك “ اس سے ان کو یہ بھی ٢٣
معلوم ہو گیا کہ جس طرح خدائے تعالیٰ خراب کو آباد اور درست کرتا ہے اسی طرح جس چیز کو چاہتا ہے خرابی سے محفوظ بھی رکھ سکتا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ ان کارروائیوں سے ہمارا مقصود یہ تھا کہ تمہارے خدشہ کا جواب مع شئی زائد ہو جائے اور یہ بھی غرض تھی کہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانی بتائیں ۔” ولنجعلك آية للناس “ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب وہ اپنے گھر گئے تو پوتے بوڑھے تھے اور ان کی وہی عمر تھی۔ جو انتقال کے وقت تھی۔ چنانچہ (درمنثور ج ١ ص ٣٣٦) میں ہے” قال ابن عباس فكان كما قال الله ولنجعلك آية للناس يعنى لبني اسرائيل وذالك انه يجلس مع بنى بنيه وهم شيوخ وهوشباب لانه كان مات وهوا بن اربعين سنة فبعث الله شابا كهيئة يوم مات مختصراً “ غرض کہ جب مجلس میں وہ اپنے پوتوں کے ساتھ بیٹھتے تو حق تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ ہوتا کہ دادا تو چالیس برس کے اور پوتے سو سو برس کے۔ یہاں یہ نکتہ قابلِ یاد رکھنے کے ہے کہ بیت المقدس خرابی کے بعد از سر نو آباد ہوا۔ جس کو نیا شہر باعتبار تعمیر کے کہہ سکتے ہیں اور فواکہ میں خرابی اور تغیر آیا ہی نہ تھا۔ بلکہ وجود ان کا بحالت سابقہ مستمر رہا اور عزیر علیہ السلام کا وجود نہ مثل فواکہ مستمر رہا نہ بیت المقدس وجود سابق ولاحق میں ایسی مغایرت ہوئی ۔ جس سے نئے عزیر کہلائیں۔ بلکہ وجود سابق کے ساتھ وجود لاحق ایسا متصل کیا گیا کہ گویا وجود سابق ہی مستمر ہے۔ اسی وجہ سے ان کے پوتوں نے اپنا دادا تسلیم کر لیا۔ غرضیکہ عزیر علیہ السلام کو ویران شہر کے آباد ہونے ہی میں کلام تھا۔ حق تعالیٰ نے اس سے بڑھ کر قابل استبعاد بلکہ محال چیزوں کا مشاہدہ کرا دیا۔ کیونکہ عقل ہرگز جائز نہیں رکھتی کہ میوہ بغیر تغیر کے سو سال تک محفوظ رہے یا اعادہ معدوم کا ہو سکے۔ اس کے بعد معدوم کو موجود کرنے کا طریقہ دکھلایا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہے ” وانظر الى العظام كيف ننشزها ثم نكسوها لحما “ یعنی اپنی ہڈیوں کی طرف دیکھو کہ کیسی جمع ہو رہی ہیں اور کس طرح ہم ان پر گوشت پہناتے ہیں ۔ جب انہوں نے تمام واقعات بچشم خود دیکھ لئے اور اچھی طرح ان پر یہ امر ظاہر ہو گیا ۔ ” فلما تبين له “ بے اختیار کہہ اٹھے کہ ” اعلم ان الله على كل شئی قدير “ یعنی میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ویران بستی کا آباد کرنا تو کیا معدوم کو دوبارہ موجود کر سکتا ہے۔ وغير ذلک!
یہ ملخص ان احادیث کا ہے جو اس باب میں بکثرت وارد ہیں اور جن کا نقل کرنا موجب تطویل ہے۔ (درمنثور ج ١ ص ٣٣١، ٣٣٢) میں یہ روایت بھی ہے ”اخرج عبدابن حميد وابن المنذر وابن حاتم والحاكم وصححه والبيهقى فى شعب الايمان عن على بن ٢٣١
ابی طالب فی قوله تعالیٰ اوکالذی مرعلی قریة الی ان قال فاماته الله مائة عام ثم بعثه فاول ماخلق الله منه عیناه فجعل ینظر الی عظامه الحدیث واخرج اسحق بن بشر وابن عساکر من طرق عن ابن عباس وکعب والحسن ووهب فقال انی یحیی هذه الله بعد موتها فلم یشک ان الله یحیها ولکن قالها تعجبا فبعث الله ملک الموت فقبض روحه فاماته الله مائة عام الحدیث“ حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ اور ابن عباس اور کعب اور حسن اور وہب فرماتے ہیں کہ وہ نبی حقیقۃً مر گئے تھے جن کی روح ملک الموت نے قبض کی اور پہلے ان کی آنکھوں میں جان آئی۔ جن سے وہ بوسیدہ ہڈیوں کو دیکھ رہے تھے۔ یہ دو روایتیں مسلمانوں کے لئے کافی ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور ابن عباس وغیرہ اکابر صحابہ و تابعین جب ان کی حقیقی موت کے بعد زندہ ہونے کے قائل ہیں اور صراحۃً قرآن شریف میں بھی ان کی موت کا ذکر موجود ہے تو اب مرزا قادیانی کا مجرد بیان کہ ان کی موت ثابت نہیں اور وہ بھی ایسا کہ جس سے اپنی ذاتی منفعت حاصل کرنا چاہتے ہیں اس قابل نہیں کہ کوئی مسلمان اس کی طرف توجہ کرے۔
مرزا قادیانی کی جہاں غرض متعلق ہوتی ہے تو فرماتے ہیں کہ حدیث ضعیف بھی اعتبار کے قابل ہے۔ کیونکہ اس کا موضوع ہونا تو ثابت نہیں۔ جیسا کہ اسی کتاب میں معلوم ہوا۔
اور (ازالۃ الاوہام ص٥٥٧، خزائن ج٣ ص٤٠٠) میں لکھتے ہیں کہ جو حدیث قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اس کے بیان کو اور بھی بسط سے بیان کرتی ہے وہ بشرطیکہ جرح سے خالی ہو قبول کرنے کے لائق ہے۔ اب دیکھئے یہ حدیثیں تو ضعیف بھی نہیں بلکہ خود محدثین نے صحت کی تصریح کی ہے اور ان میں کسی محدث نے جرح بھی نہیں کی اور قرآن کو اور بھی بسط سے بیان کر رہی ہیں کہ ملک الموت نے ان کی روح قبض کی اور زندہ ہونے کے وقت پہلے آنکھیں بنائی گئیں۔ تو بقول مرزا قادیانی وہ بھی قابل قبول ہیں۔ جس سے یقیناً ثابت ہو گیا کہ موت یہاں نوم وغشی کے معنی میں نہیں ہے اور جب احادیث اور آیت قرآنی سے اس عالم میں موت کے بعد زندہ ثابت ہو گیا تو لایرجعون سے مرزا قادیانی نے جو مطلب نکالا تھا کہ کوئی مردہ زندہ نہیں ہو سکتا وہ غلط ہو گیا۔
اور وہ بات صادق آگئی جو خود مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص٥٥٧، ٥٥٨، خزائن ج٣ ص٤٠٠، ٤٠١) میں تحریر فرماتے ہیں ”اور باعث اس کے کہ ان لوگوں (نیچروں) کے دلوں میں
٢٣٢
قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی۔ اس لئے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔ قانون قدرت بیشک حق اور باطل کے آزمانے کے لئے ایک آلہ ہے۔ مگر ہر ایک قسم کی آزمائش کا اسی پر مدار نہیں ...... اس فلسفی قانون قدرت سے ذرا اوپر چڑھ کر ایک اور قانون قدرت بھی ہے جو نہایت دقیق اور غامض اور بباعث دقت وغموض موٹی نظروں سے چھپا ہوا ہے جو عارفوں ہی پر کھلتا ہے۔ مسلمانوں کی بدقسمتی سے یہ فرقہ بھی اسلام میں پیدا ہو گیا۔ جس کا قدم دن بدن الحاد کے میدانوں میں آگے ہی آگے چل رہا ہے۔‘‘
مرزا قادیانی نیچروں کی چنگال سے مسلمانوں کو اس وجہ سے نکال رہے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی کی عیسویت کو نہیں مانتے۔ چنانچہ اسی تقریر کی ابتداء (ازالۃ الاوہام ص ٥٥٥، خزائن ج ٣ ص ٣٩٩) میں لکھتے ہیں کہ ”حال کے نیچری جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت قال اللہ اور قال الرسول کی باقی نہیں رہی یہ بے اصل خیال پیش کرتے ہیں کہ جو مسیح ابن مریم کے آنے کی خبریں صحاح میں موجود ہیں یہ تمام خبریں ہی غلط ہیں۔ شاید ان کا ایسی باتوں سے مطلب یہ ہے کہ تا اس عاجز کے اس دعویٰ کی تحقیر کر کے اس کو باطل ٹھہرایا جائے۔‘‘ اس موقع میں تو ماشاء اللہ مرزا قادیانی نے حدیثوں کی خوب ہی طرفداری کی مگر جب کوئی حدیث ان کے مخالف ہوتی ہے (اور ہمیشہ یہی ہوا کرتا ہے) تو خواہ وہ بخاری کی حدیث ہو یا مسلم کی صاف فرما دیتے ہیں کہ حدیث اگر صحیح بھی ہو تو مفید ظن ہے۔ ”والظن لا یغنی من الحق شیئاً “ یعنی حدیث سے کوئی بات ثابت نہیں ہو سکتی اور مرزا قادیانی کی توجہ حدیث کی طرف ایسی ہوتی جیسے آتھم صاحب کے بھاگے بھاگے پھرنے کا نام انہوں نے رجوع الی الحق رکھ دیا تھا۔ اب بے چارے نادان مسلمان اگر نیچروں کے پنجہ سے نکلے بھی تو مرزا قادیانی کے پنجہ میں گرفتار ہیں اور مجبوراً ان کو یہی کہنا پڑے گا کہ کوئی حدیث قابل اعتبار نہیں اور بزبان حال کہہ رہے ہیں (دیدم عاقبت خود گرگ بودی) مگر اس سے کیا ہوتا ہے یہی بات اگر سمجھ کے کہتے تو اس کے نتائج ہی کچھ اور ہوتے۔
مرزا قادیانی نے اگر چہ احتمال قائم کر دیا ہے کہ موت کے معنی لغت میں نوم وغشی کے ہیں۔ مگر وہ موت ہی کے قائل معلوم ہوتے ہیں۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٣٦٥، خزائن ج ٣ ص ٢٨٧) میں لکھتے ہیں ”اگر ان آیات کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے تو صرف یہ ثابت ہو گا کہ خدا تعالیٰ کے کرشمہ قدرت نے ایک لمحہ کے لئے عزیر علیہ السلام کو زندہ کر کے دکھلا دیا۔ تاکہ اپنی قدرت پر اس کو یقین دلائے۔‘‘ مگر ان کے مرید صاحب نے تو موت کا انکار ہی
٢٣٣
کر دیا۔ چنانچہ القول العجیب میں لکھا ہے کہ یہ ایک خواب تھی جو اللہ نے نبی کو دکھلائی تھی۔ ان کو خیال پیدا ہوا کہ ہڈیوں کو کیونکر زندہ کر سکتا ہے۔ تب اللہ نے ان کی تسلی کے لئے ان پر خواب طاری کی اور خواب میں ان ہڈیوں وغیرہ اور غیر آباد زمین کو سو سال کے اندر آباد ہوتے دکھلایا۔ پھر جب وہ خواب سے بیدار ہوئے تو اللہ نے پوچھا کہ تم اس حالت میں کتنی دیر رہے۔ انہوں نے جواب دیا ایک دن۔ اللہ نے کہا تو ١٠٠ سال تک اس نظارہ کو دیکھتا رہا۔ پھر جب ان کو تردد پیدا ہوا کہ کیا میں سو سال تک سوتا رہا تب اللہ نے ان کے رفع شک کے لئے فرمایا کہ وہ بات تو خواب کی یعنی عالم مثال کے سو سال تھے۔ کیونکہ تم اپنے کھانے اور پینے کی چیز کو دیکھو اس پر کوئی سال نہیں گزرے۔ اپنے گدھے کو دیکھو کھڑا ہوا ہے۔ ماحصل اس کا یہ ہوا کہ مرزا قادیانی نے ناحق اقرار کر لیا کہ وہ ایک لمحہ کے لئے مرے تھے۔ دراصل وہ مرے ہی نہیں اور اللہ تعالیٰ جو فاماتہ الله فرمایا ہے وہ بھی کچھ ایسی ہی بات ہے دراصل نہ وہ مرے نہ سو برس پڑے رہے۔ بلکہ صرف تین چار پہر سوتے رہے اور سو برس تک خواب دیکھا کئے یہ فاماتہ الله مائة عام کا مطلب ہوا پھر جب خدا نے ان سے پوچھا کہ کم لبثت اس کا مطلب یہ کہ کتنی دیر خواب دیکھا کئے پھر انہوں نے دیکھا تو سو برس مگر کہہ دیا ایک روز خدا نے کہا نہیں بل لبثت مائة عام یعنی تم سو برس تک خواب دیکھا کئے اس پر بھی ان کو اعتبار نہ آیا اور نہ یہ بات یاد آئی کہ سو برس خواب دیکھا کئے آخر خدا کو یہ بات ثابت کرنے کی ضرورت ہوئی کہ وہ واقعہ ایک ہی روز کا تھا۔ اس لئے ان کے کھانے پینے کی چیزیں اور گدھے کو دکھلانے کی ضرورت ہوئی اور انہوں نے جو خود اقرار کیا تھا کہ ابھی ایک دن بھی نہیں گزرا وہ قابل اعتبار نہ ہوا۔
یہ جو مضمون قرآن شریف کا بیان کیا گیا ہے کیا کوئی غبی یا ذکی عبارت قرآن سے نکال سکتا ہے۔ ہرگز نہیں اور نہ یہ مضمون کسی تفسیر میں ہے نہ حدیث میں۔ اسی کو تفسیر بالرائے کہتے ہیں جس کی نسبت مرزا قادیانی نے بھی کفر و الحاد کا فتویٰ دے دیا ہے۔
ادنیٰ فراست سے یہ بات معلوم ہو سکتی ہے کہ جب مرزا قادیانی کو دعویٰ فصاحت اور بلاغت اور اعجاز بیانی ہے تو مرزا قادیانی کے کلام میں اور کلام الہی میں ضرور فصاحت اور بلاغت کا موازنہ ہوگا اور یہ بات ثابت کر دی جائے گی کہ خدا کا کلام تو ایسا ہوا کرتا ہے کہ مقصود کچھ ہے تو الفاظ کچھ ہیں اور مرزا قادیانی کے کلام میں اس قسم کی رکاکت ثابت نہ ہو سکے گی اور ان کی بھی خصوصیت کیا ہر ایک ادنیٰ منشی جو کچھ لکھتا ہے اپنا ما فی الضمیر الفاظ میں پورا بیان کر دیتا ہے۔ جس
سے اس کو دیکھنے والا مقصود اس شئی کا سمجھ جاتا ہے۔ پھر اس موازنہ پر جو کچھ تفریعات اور آثار مرتب ہوں گے وہ محتاج بیان نہیں۔
القول العجیب میں یہ بھی لکھا ہے کہ اکثر تفاسیر میں فاماتہ اللہ کے معنی یہی لکھے ہیں فانامہ اللہ یعنی اللہ نے اس کو سلا دیا دیکھو معالم وغیرہ، ہم نے معالم کو دیکھا اس کی عبارت یہ ہے ”فالقى الله عليه النوم فلما نام نزع الله منه الروح مائة عام فلما مضت المائة احيى الله منه عينيه وراسه ثم احياء جسده وهو ينظر اليه“ یعنی خدائے تعالیٰ نے ان پر نیند غالب کر دی۔ جب وہ سو رہے تو ان کی روح قبض کر لی گئی۔ پھر جب سو برس پورے گذرے تو اللہ نے پہلے ان کی آنکھیں زندہ کیں پھر تمام جسم کو زندہ کیا جس کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اگر صاحب معالم نے فاماتہ اللہ کے معنی فانامہ لیا ہے تو فلما نام نزع اللہ منہ الروح مائۃ عام میں نزع روح کس لفظ سے نکالا جائے گا۔
شاید نزع روح سے معمولی غفلت سمجھی گئی۔ مگر وہ بھی صاحب قول عجیب کے مقصود کے خلاف ہے۔ کیونکہ سو برس کی نیند کے وہ قائل نہیں۔ پھر آنکھوں اور جسم کا زندہ کرنا کیسا۔ موت تو آئی نہ تھی شاید یہاں یہ کہا جائے گا کہ پہلے آنکھیں بیدار ہوئیں اس کے بعد جسم بیدار ہوا۔ جس کو وہ آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ مگر اس میں بھی یہ بات قابل توجہ ہے کہ آنکھوں سے جسم کی بیداری کیونکر نظر آئی۔ اگر جسم کی بیداری سے مراد حرکت ہے تو یہ نہیں ہو سکتا اس لئے کہ نیند میں بھی جسم کی حرکت باقی رہتی ہے جو کروٹ بدلنے سے ظاہر ہے اور اگر حس مراد ہے تو وہ آنکھوں سے محسوس نہیں اس لئے کہ ہر عضو کا حس جدا ہے۔ الحاصل صاحب معالم کا یہ مذہب ہرگز ثابت نہیں ہو سکتا کہ عزیر علیہ السلام ایک روز سوتے رہے۔ البتہ انہوں نے ایک نئی بات بتلائی کہ نزع روح حالت بیداری میں نہیں ہوا۔ بلکہ نیند کی حالت میں ہوا تھا۔
اس مقام میں ہم صاحب قول عجیب پر یہ الزام ہرگز نہیں لگا سکتے کہ انہوں نے معالم کا مطلب سمجھا نہیں۔ بلکہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان کو صرف قرآن کی تحریف منظور ہے۔ اس لئے القی اللہ علیہ النوم کو اماتہ اللہ کے معنی قرار دے کر نزع اللہ روحہ وغیرہ کو قصداً ترک کر دیا۔ جس سے مسلمانوں کو دھوکا دینا مقصود ہے کیا ان کارروائیوں کے بعد بھی حسن ظن کیا جائے گا کہ ان حضرات کو کلام الٰہی پر ایمان ہے کیا وہ تمام باتیں جو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ تفسیر بالرائے کفر والحاد ہے اور جھوٹ کہنا شرک ہے وغیرہ وغیرہ۔ صدق دل سے کہی گئی ہوں گی۔ ان کارروائیوں سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ وہ بھی ایک حکمت عملی ہے۔ جس پر ان کی امت بھی عمل پیرا ہے۔
٢٣٥
اب مرزا قادیانی کی پیش بندیوں کو دیکھئے کہ قرآن کی تحریف کے واسطے کیسا طریقہ نکالا۔ احادیث و تفاسیر کو پہلے ہی ساقط الاعتبار کر دیا۔ پھر جب مطلق العنان ہو گئے تو کون روکنے والا ہے۔ مجاز کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ آدمی کو گدھا اور گدھے کو آدمی مجازاً کہہ سکتے ہیں۔ پھر موت کو نیند اور نیند کو موت کہہ دینا کون بڑی بات ہے۔ جتنے نبوت کا دعویٰ کرنے والے گزرے ہیں سب کا یہی طریقہ رہا ہے کہ قرآن کی تحریف کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اسی کتاب میں معلوم ہوا کہ قرآن ہی سے استدلال کر کے بعضوں نے مردار اور خون اور خنزیر کو مباح کر دیا تھا۔ اگر آخری زمانہ والے مسلمان مرزا قادیانی کے اس طریقہ کو جائز رکھیں تو بس دین کا خاتمہ ہو گیا۔ جب آدمی کے معنی گدھا اور گدھے کے معنی آدمی مجازاً ہو سکتے ہیں تو کون سا لفظ ایسا ہو گا جس کے مجازی معنی اپنے مقصود کے موافق نہ لے سکیں۔
یہ بات قابل یاد رکھنے کے ہے کہ کسی لفظ کے مجازی معنی لینا تو درست ہے مگر نہ شرعاً عام طور پر اس کی اجازت ہے نہ لغۃً نہ عرفاً نہ عقلاً کہ جہاں چاہیں حقیقی معنی چھوڑ کے مجازی معنی لیا کریں۔ بلکہ اس کے لئے شرط یہ ہے کہ حقیقی معنی وہاں نہ بن سکتے ہوں اور معنی مجازی پر کوئی قرینہ بھی موجود ہو۔ دیکھ لیجئے اگر کوئی شخص کہے کہ میں نے شیر دیکھا تو اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ اصلی شیر دیکھا کیونکہ مجازی معنی پر کوئی قرینہ نہیں اور اگر یہ کہے کہ میں نے ایک شیر دیکھا جو بندوق چلا رہا تھا تو بندوق چلانے کے قرینہ سے جوان مرد شخص سمجھا جائے گا۔ کیونکہ اصلی شیر میں بندوق سر کرنے کی صلاحیت نہیں۔ چونکہ الفاظ حقیقی اور مجازی معنی میں برابر مستعمل ہوا کرتے ہیں اور حقیقی اور مجازی معنی کا اشتباہ ہمیشہ فہم مضامین میں خلل انداز ہونے کا باعث تھا۔ اس لئے اکابر اہل لغت نے اس کا بندوبست یہ کر دیا کہ ہر لفظ کے حقیقی معنی کی تصریح کر دی۔ جس سے یہ معلوم ہو گیا کہ اس معنی کے سوائے جس معنی میں وہ لفظ مستعمل ہو مجاز ہوگا اور اس کے لئے قرینے کی ضرورت ہوگی تاکہ کسی کو یہ موقع نہ ملے کہ کسی لفظ کو مجازی معنی میں مستعمل ہوتے دیکھ کر جہاں چاہے وہی معنی مراد لے۔ اب دیکھئے علامہ زمخشریؒ نے اساس البلاغہ میں موت کے حقیقی معنی وہی لکھے ہیں جو مشہور ہیں۔ اس کے بعد لکھا ”(ومن المجاز) احیاء اللہ البلد المیت واخذتہ الموتۃ الغشی ومات فوق الرحل اذا استثقل فی نومہ“ اور اس کے سوائے بہت سے مجازی استعمال لفظ موت کے بیان کئے اور (لسان العرب ج ١٤ ص ٢١٨) میں لکھا ہے ”الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور سمی النوم موتا لانہ یزول معہ العقل والحرکۃ تمثیلا وتشبیہا لا تحقیقاً“ حاصل مطلب یہ ہوا کہ نیند کو موت جو کبھی
٢٢٦
کہتے ہیں تو وہ بطور تشبیہ وتمثیل کے ہوتا ہے حقیقی معنی اس کے وہ نہیں۔ الحمد للہ کہ اکابر اہل لغت کی تصریح سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ موت کے حقیقی معنی وہی ہیں جس کو ہر شخص جانتا ہے اور بیہوشی اور نیند کے معنی میں جو یہ لفظ مستعمل ہے وہ بطور مجاز ہے۔ اسی وجہ سے اگر مات فلاں کہا جائے تو یہی سمجھا جائے گا کہ وہ مر گیا اور غشی یا نیند کے معنی میں مستعمل ہو تو اسی کے لئے قرینہ حالیہ یا مقالیہ کی ضرورت ہو گی۔ جو علامت مجاز ہے۔ اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی موت کے حقیقی معنی بیہوشی اور نیند کے جو کہتے ہیں۔ جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص٩٢٣، خزائن ج ٣ ص٦٢١) میں لکھتے ہیں کہ ”اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بیہوش کرنا بھی اس میں داخل ہے۔“ اہل لغت کی تصریح سے ثابت ہوا کہ غلط ہے۔ اگر یہ فرماتے کہ اماتت سلانے اور بیہوش کرنے کے معنی میں بھی مستعمل ہے تو البتہ قابل تسلیم تھا۔ مگر وہ تو صاف کہہ رہے ہیں کہ اماتت کے حقیقی معنی سلانے اور بیہوش کرنے کے ہیں۔ جس کی تکذیب کتب لغت سے ہو رہی ہے۔ اگر یہ بیان ان کا صحیح ہوتا تو کسی لغت کی کتاب کی عبارت نقل کر دیتے کہ اماتت کے حقیقی معنی سلانے اور بیہوش کرنے کے ہیں۔ جیسے ہم نے لغت سے ثابت کر دیا کہ یہ معنی مجازی ہیں۔
جب لغت سے ان کی یہ خلاف بیانی ثابت ہو گئی تو اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ وہ اپنی غرض کے وقت جھوٹ سچ کی کچھ پروا نہیں کرتے۔ اس لئے ان کی کوئی بات قابل اعتبار نہیں۔ پھر انہوں نے جو کہا تھا کہ جھوٹ کہنا شرک ہے۔ تو اس سے سوائے دھوکہ دہی کے اور کیا تصور کیا جائے اور ابھی یہ بات معلوم ہوئی کہ اماتہ اللہ کی تفسیر احادیث سے بھی ثابت ہے کہ عزیر علیہ السلام اس وقت مر گئے تھے تو معلوم ہوا کہ نہ بحسب لغت اماتت کی تفسیر بیہوشی اور خواب ہو سکتی ہے۔ نہ بحسب حدیث اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے اپنی رائے سے تفسیر کی ہے اور خود ہی (ازالۃ الاوہام ص٣٢٨، خزائن ج ٣ ص ٢٦٧) میں لکھتے ہیں کہ مومن کا یہ کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔ اب ان کو کیا کہنا چاہئے اور حدیث شریف میں ہے ”قال النبی ﷺ من تکلم فی القرآن برائہ فاصاب فقد اخطاء رواہ ابو داؤد والترمذی وفی رواية عن ابی داؤد قال النبی ﷺ من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوا مقعدہ من النار (کذافی تفسیر روح المعانی ص٦ ج١)“ یعنی فرمایا نبی ﷺ نے جو شخص قرآن میں اپنی رائے سے کوئی بات بنائے اگر صواب بھی ہو تو اس نے خطاء کی اور جو شخص قرآن میں بے علمی سے کوئی بات بنائے تو اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اب دیکھئے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے موافق مرزا قادیانی
٢٣٧
کیسی کیسی وعیدوں کے مستحق ہورہے ہیں۔ اس صورت میں مسلمانوں کو ان کی رفاقت دینے کی معلوم نہیں کون سی ضرورت ہے۔ مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٤٢٧، خزائن ج ٣ ص ٤٢٤) میں لکھتے ہیں کہ تفسیر معالم میں زیر تفسیر آیت یا عیسیٰ انی متوفیک لکھا کہ علی بن طلحہ ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ انی ممیتک یعنی میں تجھ کو مارنے والا ہوں۔ آپ نے دیکھ لیا کہ ابھی اماتت کے معنی سلانے کے تھے اور یہاں مارنے کے معنی لے رہے ہیں۔ مگر یہ بات یاد رہے کہ یہ تفسیر بھی مرزا قادیانی کو مفید نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ ان کے اعتراف سے ثابت ہے کہ اماتت کے معنی سلا دینے کے ہیں۔ جس سے ثابت ہے کہ متوفیک کے معنی ابن عباسؓ نے ممیتک کر کے سلا دینے کے معنی اس کے بھی لئے ہیں اور قرآن شریف بھی ثابت ہے کہ توفی کے معنی سلا دینے کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ ”اللہ یتوفی الانفس حين موتها والتی لم تمت فی منامها“ یعنی توفی جو موت اور سونے کے وقت ہوتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے یعنی اللہ ہی مارتا ہے اور سلاتا ہے۔ ”وہو الذی یتوفکم باللیل“ یعنی اللہ ہی تم کو رات میں سلا دیا کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ توفی کے معنی سلا دینے کے ہیں اور مرزا قادیانی کی تقریر سے معلوم ہوا کہ اماتت کے معنی بھی سلا دینے کے ہیں۔ اس صورت میں متوفیک اور ممیتک دونوں کے معنی سلا دینے کے ہوئے جو ہمارا مقصود ہے اور مرزا قادیانی جو (ازالۃ الاوہام ص ٩٤٣، خزائن ج ٣ ص ٦٢١) میں لکھتے ہیں کہ ”توفی کے حقیقی معنی وفات دینے اور روح قبض کرنے کے ہیں ۔“ سو خود کلام الٰہی سے اس کی تکذیب ہو گئی اور معلوم ہو گیا کہ توفی جیسے قبض روح سے ہوتی ہے نیند سے بھی ہوتی ہے۔
علامہ زمخشری نے اساس البلاغہ میں توفی کے حقیقی معنی استکمال لکھا ہے ” وتوفاہ استکمالہ “ اس کے بعد لکھا ہے ”و (من المجاز) توفی فلان وتوفاہ اللہ“ اور کتہ الوفات اور (لسان العرب ج ١٥ ص ٣٥٩، ٣٦٠) میں لکھا ہے ”تقول قد استوفیت من فلان وتوفیت منہ مالی علیہ تاویلہ ان لم یبق علیہ شئی واما توفی النائم فہو استیفاء وقت عقلہ وتمیزہ الی ان نام وقال الزجاج فی قولہ قل یتوفاکم ملک الموت قال ہو من توفیۃ العدد تاویلہ ان یقبض ارواحکم اجمعین فلا ینقص واحد منکم “ الحاصل اس سے ثابت ہے کہ توفی کے حقیقی معنی استکمال اور استیفاء کے ہیں۔ کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ توفی کے حقیقی معنی موت کے ہیں۔ اس صورت میں یا عیسیٰ انی متوفیک کا مطلب یہ ہوا کہ اے عیسیٰ ہر چند کفار تم کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ نہ ہوگا۔ ہم تمہاری عمر کامل
٢٣٨
کریں گے اور تم کو اپنی طرف اٹھالیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حق تعالیٰ نے ان کی عمر دراز کی جس کی ظاہرہ تدبیر یہ ہوئی کہ ان کے دشمنوں میں سے ان کو آسمان کی طرف اٹھالیا اور قیامت کے قریب تک زندہ رہیں گے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے یہ مطلب آیت شریفہ کا توفی کے حقیقی معنی لینے پر تھا اور اگر مجازی معنی لئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم تمہیں سلا کے یا بیہوش کر کے اٹھالیں گے اور توفی کے معنی سلانے کے تو خود کلام الٰہی سے ثابت ہیں۔ بہر حال متوفیک کے حقیقی معنی لیں یا مجازی دونوں صورتوں میں وہ معنی اچھی طرح بن جاتے ہیں جو مسلمانوں میں ابتداء سے اب تک متعارف و مشہور ہیں اور جن کی تصدیق صدہا احادیث و آثار سے ہورہی ہے اور اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی کہ عیسیٰ سے مایوس ہو کر مرزا قادیانی ہی پر قناعت کر لی جائے گو جتنی باتیں آپ میں پائی جاتی ہیں شان عیسویت کے سراسر خلاف اور مضر ہیں۔
اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی نے موت اور توفی کے معنی میں لغت کی طرف رجوع کی تو اکابر اہل لغت نے ان کی تکذیب کر دی۔ پھر قرآن کی طرف رخ کیا تو خدائے تعالیٰ کے کلام قدیم سے صاف ان کا جھوٹ ثابت ہو گیا اور احادیث کے تو وہ اسی وجہ سے دشمن ہیں کہ حدیثیں ہمیشہ ان کی تکفیر و تفسیق وغیرہ کرتی ہیں۔
اہل انصاف اس مقام میں اچھی طرح غور کریں کہ مرزا قادیانی نے خیال کیا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت یا عیسیٰ انی متوفیک سے تو گویا ثابت ہوگئی اور دوبارہ زندہ ہونے کا احتمال جو فاماته الله مائة عام سے ہوتا ہے کہ ممکن ہے کہ مثل عزیر علیہ السلام کے وہ پھر زندہ ہو جائیں۔ اس کے باطل کرنے کی غرض سے اس آیت شریفہ کے معنی میں تحریف و تصرف کیا۔ مگر بفضلہ تعالیٰ انہی کی تقریر سے ثابت ہو گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہیں اس لئے کہ ابن عباس کی تفسیر جو استدلال میں پیش کرتے ہیں کہ متوفیک کی تفسیر انہوں نے (ممیتک کی ہے) اس سے ان کی موت ثابت نہیں۔ جیسا کہ اماته الله سے عزیر علیہ السلام کی موت بقول مرزا قادیانی ثابت نہیں اور اگر عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنے کی غرض سے ممیتک جو تفسیر متوفیک میں واقع ہے اس سے حقیقی موت مراد لیں تو فاماته الله سے عزیر علیہ السلام کی حقیقی موت ثابت ہوگی۔ جس سے ان کا وہ مطلب فوت ہو جائے گا کہ کوئی شخص اس عالم میں دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے فاماته الله مائة عام ثم بعثه سے عزیر علیہ السلام کا دوبارہ زندہ ہونا ثابت ہے۔ بہر حال ان دونوں دعوؤں سے ایک دعویٰ ان کا ضرور باطل ہو گیا اس کے بعد احیائے موتی سے متعلق کل آیتوں میں جو وہ تحریفیں کر رہے ہیں جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص ٩٣٣، خزائن ج ٣ ص ٦٢١)
٢٣٩
میں لکھتے ہیں کہ ”تمام قرآن میں جو احیائے موتی کے متعلق آیات ہیں جن میں یہ مذکور ہے کہ فلاں قوم یا شخص کو مارنے کے بعد زندہ کیا گیا ان میں صرف اماتت کا لفظ ہے توفی کا لفظ نہیں اس میں یہی بھید ہے کہ توفی کے حقیقی معنی وفات دینے اور روح قبض کرنے کے ہیں۔ لیکن اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں۔ بلکہ سلانا اور بیہوش کرنا بھی اس میں داخل ہے۔“ اس سے ان کو کچھ فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ غضب الٰہی کا استحقاق حاصل ہو۔
ایک واقعہ احیائے موتی کا قرآن شریف میں یہ مذکور ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص مارا گیا۔ جس کا قاتل معلوم نہ تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کے معجزے سے مقتول زندہ ہوا اور اپنے قاتل کا نام بتلا دیا۔ یہ واقعہ سورۂ بقر میں آیۂ شریفہ ”و اذ قتلتم نفسا فادارتم (بقرۃ:٧٢)“ میں مذکور ہے جس میں حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا حال ظاہر فرماتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ نہ وہ قدرت خدا تھی نہ معجزہ۔ بلکہ ایک معمولی بات تھی کہ مسمریزم کے عمل سے اس مردہ کو حرکت ہو گئی تھی۔ معاذ اللہ!
مرزا قادیانی کو عیسویت کے دعوٰی نے کہاں تک پہنچا دیا۔ قرآن کی تکذیب کی، خدا کی قدرت کا انکار کیا، انبیاء کو ساحر قرار دیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے کمال درجہ کے یقین کی تعریف احادیث میں وارد ہے کہ یقین کی وجہ سے وہ پانی پر چلتے تھے۔ مسیح موعود میں کم از کم ایمان تو ہونا چاہیے۔ مگر یہاں تو ایمان ہی ندارد کا مضمون صادق آ رہا ہے۔ اب بھلا اہل ایمان مرزا قادیانی کو مسیح موعود کس طرح تصور کریں۔ اس آیۂ شریفہ کی تفسیر اور مرزا قادیانی کے شبہات پیشتر لکھے جا چکے ہیں۔ اعادہ کی حاجت نہیں۔
اور ایک واقعہ احیائے موتی کا آیۂ شریفہ ”و اذ قال ابراھیم رب ارنی کیف تحیی الموتی (بقرہ:٢٦٠)“ میں مذکور ہے جو ابراہیم علیہ السلام کا معجزہ احیائے اموات کئی مقاموں میں بیان فرمایا ہے اور ان کے احیائے اموات کے واقعات احادیث سے ہمیں معلوم ہوئے۔ مگر مرزا قادیانی کی رائے ہے کہ نہ کوئی واقعہ صحیح ہے نہ خدا تعالیٰ کا خبر دینا۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ دراصل وہ قریب الموت آدمی کی روح میں مسمریزم کے عمل سے چند منٹ کے لئے گرمی پہنچا دیتے تھے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ نعوذ باللہ عیسیٰ علیہ السلام ایک معمولی جادوگر تھے۔ جو مسمریزم میں مشاقی حاصل کر کے قریب الموت بیماروں کو مسمریزم سے حرکت دیتے۔ جس سے دھوکا دینا مقصود تھا کہ ہم مردوں کو بھی زندہ کرتے ہیں اور حق تعالیٰ نے ان کی بڑائی کی غرض سے اصل واقعہ چھپا کر اس قابل نفرت کارروائی یعنی عمل مسمریزم کو ایسے الفاظ میں بیان کیا کہ ہر شخص یہ
٢٤٠
سمجھے کہ سچ مچ وہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے اور اس دھوکے کو باذن اللہ کہہ کر اور بھی مستحکم کر دیا کہ جب خدا کے حکم واجازت سے یہ کام کرتے تھے تو مسلمان یہی سمجھیں کہ فی الواقع وہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔ کیا اب اس کے بعد بھی کوئی درجہ باقی ہے جس کا انتظار ہے۔ مسمریزم کی ایجاد کو ابھی پورے سو برس نہیں گذرے اگر مرزا قادیانی اس صدی کے پہلے ہوتے تو جن آیتوں میں احیائے اموات کو مسمریزی تحریک قرار دیتے ہیں اس وقت اس کی طرف تو خیال کا منتقل ہونا محال تھا اور احیائے اموات کے بھی قائل نہیں۔ معلوم نہیں اس وقت ان آیتوں کے کیا معنی بیان فرماتے۔ اہل رائے سمجھ سکتے ہیں کہ جب احیائے اموات بھی نہ ہو اور نہ متشابہ حیات یعنی مسمریزی حرکت کا احتمال قائم ہو تو بجز اس کے کہ ان آیتوں کا سرے سے انکار ہی کیا جاتا اور کوئی صورت نہ تھی۔ مسمیر صاحب کا احسان سمجھنا چاہئے کہ ان کی وجہ سے اس کھلے انکار کی نوبت نہ آئی۔
اور حق تعالیٰ فرماتا ہے ”الم تر الی الذین خرجوا من دیارہم وہم الوف حذر الموت فقال لہم اللہ موتوا ثم احیاہم ان اللہ لذو فضل علی الناس ولکن اکثر الناس لا یشکرون (بقرہ:٢٤٣)“ یعنی کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ایک بار ہزاروں آدمی موت سے ڈر کر اپنے گھروں سے نکل گئے تھے۔ اللہ نے ان کو کہا کہ تم سب مرجاؤ تو وہ مرگئے۔ پھر ان کو زندہ کیا اللہ کا لوگوں پر بڑا فضل ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ مرزا قادیانی یہاں بھی وہی نیند یا بیہوشی موت سے مراد لیتے ہیں کیونکہ ابھی معلوم ہوا کہ انہوں نے عام قاعدہ ایسے موقعوں کے لئے بنادیا ہے کہ جہاں موت کا لفظ آجائے اس کے معنی بے ہوشی یا نیند کے لئے جائیں۔ مرزا قادیانی کی رائے پر اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ ہزار ہا آدمی نیند کے ڈر سے بھاگے سو حق تعالیٰ نے ان سب کو کہا کہ سو رہو۔ پھر جب سو رہے تو ان کو جگا دیا۔ اللہ کا لوگوں پر بڑا فضل ہے۔ معلوم نہیں کہ نیند ایسی کیا مصیبت کی چیز تھی۔ جس کے ڈر سے ہزاروں آدمی گھر بار چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پھر خدا تعالیٰ نے سب کو سلا دیا۔ پھر جگا بھی دیا۔ نیند تو ستہ ضروریہ میں ہے اور عادۃ اللہ جاری ہے کہ ہر رات آدمی سوتا ہے پھر بیدار بھی ہو جاتا ہے گو یہ سب حق تعالیٰ ہی کے حکم سے ہوتا ہے۔ مگر یہ کوئی نئی بات نہیں۔ جس کا بیان اس اہتمام سے فرماتا ہے ”فقال لہم اللہ موتوا ثم احیاہم ان اللہ لذو فضل علی الناس (بقرہ:٢٤٣)“ جس کو تھوڑی بھی عقل ایمان کے ساتھ ہو کیا اس آیت کے یہی معنی سمجھے گا جو مرزا قادیانی بتلاتے ہیں کہ کیا یہ حق تعالیٰ کی شان کی بات ہے کہ قرآن میں ایسا واقعہ بیان فرمادے کہ نیند سے بھاگے ہوؤں کو سلا دیا۔ پھر جگا دیا اور بڑا ہی فضل کیا۔ جب مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ کے کلام معجز نظام کو
٢٤١
رکیک اور مہمل بنانے کی کچھ پروا نہ کی تو اب کون سی بات ان کے لئے دشوار ہے یہ تو مرزا قادیانی کی تفسیر بالرائے تھی۔ اب اصل تفسیر سنئے امام سیوطیؒ نے (درمنثور ج١ ص٣١١) میں اس آیت کی شان نزول نقل کی ہے کہ ایک بار عمرؓ نماز پڑھ رہے تھے۔ دو یہودی آئے ایک نے دوسرے سے کہا کیا یہ وہی ہوں گے۔ عمرؓ جب جانے لگے ان سے پوچھا کہ تم کیا کہہ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کتاب میں لکھا ہے کہ ایک شخص لوہے کا سینگ یعنی نہایت قوی ہوگا اور اس کو وہ دیا جائے گا جو نبی اللہ حزقیل کو دیا گیا تھا۔ جن کی دعاء سے مردے زندہ ہوئے تھے۔ عمرؓ نے کہا ”ما نجد فی کتاب اللہ حزقیل والاحیاء الموتیٰ باذن اللہ الا عیسیٰ“ یعنی ہماری کتاب میں نہ حزقیل کا نام ہے اور نہ یہ کہ سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے اور کسی نے باذن اللہ مردے کو زندہ کئے۔ انہوں نے کہا کیا تمہاری کتاب میں یہ نہیں ہے ”ورسلالم نقصصھم عليك“ یعنی بہت رسولوں کے قصے قرآن میں نہیں بیان کئے گئے۔ عمرؓ نے فرمایا ہاں یہ تو ہے انہوں نے کہا کہ حزقیل نے جو مردے زندہ کئے تھے اس کا واقعہ یہ ہے کہ ایک بار بنی اسرائیل میں ایک عام مرض پھیلا تھا۔ جس سے بہت لوگ بھاگ گئے ایک میل کے فاصلہ پر وہ لوگ ہوں گے کہ یکبارگی وہ سب بحکم الٰہی مر گئے اور ایک مدت تک وہیں پڑے رہے۔ یہاں تک کہ ان کی ہڈیاں بوسیدہ ہوگئیں۔ اس وقت حزقیل نبی اللہ کا وہاں گذر ہوا اور انہوں نے ان کی زندہ ہونے کی دعاء کی۔ چنانچہ وہ سب زندہ ہو گئے۔ اس لئے اس واقعہ کی تصدیق میں آیہ شریفہ ”الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف“ نازل ہوئی۔ اس کے سوا اور بہت سی روایتیں (درمنثور ج١ ص٣١١) میں منقول ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے ”عن ابن عباس فی قولہ الم ترالی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت قال کانوا اربعۃ آلاف خرجوا فرارا من الطاعون وقالوا ناتی ارضا لیس بھا موت حتی اذا کانوا بموضع کذا وکذا قال لھم موتوا فمر علیھم نبی من الانبیاء فدعا ربہ ان یحییھم حتیٰ یعبدوہ فاحیاھم “ یعنی ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ چار ہزار شخص طاعون سے اس غرض سے بھاگے تھے کہ کسی ایسے مقام میں جا بسیں کہ جہاں موت نہ ہو۔ راستہ میں ان کو حکم ہوا کہ مر جاؤ اس کے بعد کسی نبی کا ان پر گذر ہوا اور انہوں نے دعاء کی کہ وہ زندہ ہوں اور عبادت کریں۔ چنانچہ حق تعالیٰ نے ان کو زندہ کیا۔ یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ وہ لوگ شاید تھوڑی دیر کے لئے زندہ ہوئے ہوں گے۔ اس لئے کہ روایتوں سے ثابت ہے کہ وہ لوگ بہت روز زندہ رہے۔ چنانچہ (درمنثور ج١ ص٣١١) میں ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہی زندہ شدہ لوگوں کو جہاد کا حکم ہوا تھا جس کا ذکر اسی
٢٣٢
قصہ کے متصل اس آیہ شریفہ میں ہے ”وقاتلوا فی سبیل اللہ واعلموا ان اللہ سمیع علیم (بقرہ:٢٤٤) “ غرض کہ ہزار ہا مردوں کا زندہ ہونا اور مثل اور زندوں کے زندگی کرنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے مرزا قادیانی اگر قرآن وحدیث ہی کو نہ مانیں تو اس کا علاج نہیں حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”فبای حدیث بعدہ یؤمنون (مرسلات:٥٠) “ یعنی جب قرآن ہی پر ایمان نہ لائیں تو اب کاہے پر ایمان لائیں گے۔
اور حق تعالیٰ فرماتا ہے ”واذ قلتم یاموسیٰ لن نؤمن لک حتیٰ نری اللہ جھرۃ فاخذتکم الصاعقۃ وانتم تنظرون ثم بعثنکم من بعد موتکم لعلکم تشکرون (بقرہ:٥٥، ٥٦) “ یعنی یاد کرو جب تم یعنی تمہارے بڑوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ اے موسیٰ جب تک ہم خدا کو ظاہر میں نہ دیکھ لیں کسی طرح تمہاری بات کا یقین نہ کریں گے۔ اس پر تم کو یعنی تمہارے بڑوں کو بجلی نے آ دبوچا اور تم دیکھا کئے پھر تمہارے مرے پیچھے ہم نے تم کو جلا اٹھایا تا کہ شاید تم شکر کرو۔ امام سیوطیؒ نے تفسیر (در منثور ج ١ ص ٧٠) میں لکھا ہے ”عن الربیع بن انس فی قولہ واذ قلتم یاموسیٰ لن نؤمن لک حتیٰ نری اللہ جھرۃ قال ھم السبعون الذین اختارھم موسیٰ فاخذتکم الصاعقۃ قال ماتوا ثم بعثنکم فبعثوا من بعد الموت لیستوفوا آجالھم“ یعنی ربیع بن انسؒ سے روایت ہے کہ جن لوگوں پر بجلی گری تھی وہ ستر آدمی تھے۔ جن کو موسیٰ علیہ السلام نے انتخاب کیا تھا۔ وہ سب مرنے کے بعد زندہ ہوئے۔
اب اہل اسلام کی خدمت میں گذارش ہے کہ ہم نے اتنی آیات واحادیث واقوال سلف پیش کر دیئے جن سے صراحۃً ثابت ہے کہ ہزار ہا مردے زندہ ہو چکے ہیں اور یہ بات مسلم ہے کہ قرآن کے ایک حرف کا انکار تمام قرآن کا انکار ہے۔ جیسا کہ تفسیر ابن جریرؒ میں روایت ہے۔ ”عن عبداللہ قال کان من کفر بحرف من القرآن او بایۃ فقد کفر بہ کلہ “ یعنی قرآن کی ایک آیت یا ایک حرف کا بھی کوئی انکار کرے تو گویا اس نے تمام قرآن کا انکار کر دیا۔ اب ذرا تأمل کیا جائے کہ جب ایک حرف کا انکار تمام قرآن کا انکار ہے تو اتنی آیتوں کا انکار کس طرح جائز ہوگا۔ پھر علاوہ ان آیات کے احادیث بھی بکثرت ان کے مؤید ہیں اور تمام امت خصوصاً اہل سنت و جماعت کا ابتداء سے آج تک اسی پر اتفاق ہے۔ کسی کو اس میں کلام نہیں اور مرزا قادیانی نے ان تمام آیات و احادیث وغیرہ کا انکار کر دیا۔ اس میں صرف ان کی ذاتی غرض ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت فرض کر کے یہ ذہن نشین کریں کہ کوئی شخص
٢٤٣
مرنے کے بعد زندہ نہیں ہو سکتا اور احادیث سے عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی قیامت کے قریب ثابت ہے۔ اس لئے ان احادیث میں تاویلیں کر کے اور ان کے ساتھ الہاموں کا جوڑ لگا کر چاہتے ہیں کہ عیسیٰ موعود خود بن بیٹھیں ۔
اب ان آیات و احادیث و اجماع امت اور واقعات پر اطلاع ہونے کے بعد ہر شخص مختار ہے۔ خواہ قرآن وحدیث اور ہزار ہا کتب اہل سنت و جماعت جن میں یہ مسئلہ مذکور اور مسلم ہے سب کی تکذیب کر کے مرزا قادیانی کے قول پر ایمان لائے یا اپنے ایمان کو عزیز رکھ کر قرآن وحدیث پر ایمان لائے ۔ کیونکہ خود حق تعالیٰ نے فرما دیا ہے ”فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر (کہف:٢٩)“ یعنی جس کا جی چاہے ایمان لائے جس کا جی چاہے کافر ہو جائے ۔ مگر یاد رہے کہ اسی کے ساتھ حق تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا ہے ”انا اعتدنا للظالمین ناراً (کہف:٢٩)“ یعنی ہم نے ظالموں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے۔
مرزا قادیانی کو مسیح موعود ہونے کا تو بہت کچھ شوق ہے لیکن اس کے لوازم و آثار کو وہ پورے نہ کر سکے۔ جس کا حال معلوم ہوا بلکہ جو صفات ان میں پائی جاتی ہیں وہ منافی عیسویت مثلاً دین کے پیرایہ میں دنیا طلبی وہ بھی کمال بد نما طریقہ سے اس بات پر دلیل قطعی ہے کہ وہ عیسیٰ موعود نہیں ہو سکتے ۔ دیکھ لیجئے براہین احمدیہ کی نسبت انہوں نے لکھا تھا کہ اس کی پندرہ جلدیں تیار ہیں۔ چنانچہ اس کی قیمت سو سو روپیہ پیشگی وصول کر لی گئی اور ایک جلد کے اندازہ میں چھاپ کر اس کا خاتمہ ایک بات پر کر دیا کہ خدا اپنے دین کا خود حافظ ہے۔ یعنی زیادہ لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ سراج منیر چھاپنے کے نام سے پیشگی چندہ وصول کر لیا گیا اور کتاب ندارد۔ عطائے فرزند وغیرہ کی دعاء پر پیشگی اجرت وصول کی جاتی ہے۔ اپنی اور اپنے متعلقین کی تصویریں بیچ کر روپیہ جمع کیا جاتا ہے۔ زکوٰۃ اس تدبیر سے وصول کی جاتی ہے کہ ہر مسلمان کو زیور وغیرہ کی زکوٰۃ دینی ضروری ہے اور اس وقت اسلام یتیم ہو گیا ہے اس لئے چاہئے کہ زکوٰۃ کے روپیہ سے اپنی تصانیف خرید کر کے تقسیم کی جائیں ۔ حالانکہ حق تعالیٰ نے زکوٰۃ کا مصرف جو قرار فرمایا ہے اس کو ہر طالب علم جانتا ہے کہ فقراء اور مساکین وغیرہ ہیں۔ کعبہ جو اپنے گھر میں بنایا اس سے یہی غرض ہے کہ حج کی رقم اپنے گھر میں آیا کرے۔ اس کے سوا ان کی اور بہت سی کاروائیاں ہیں۔ مثل الحاد وتحریف قرآن اور خدا پر افتراء وغیرہ وغیرہ جن میں سے چند اس کتاب میں بھی مذکور ہوئیں۔ الحاصل ان امور کے دیکھنے کے بعد ان کا دعویٰ عیسویت بداہۃً باطل ہو جاتا ہے۔
تمت بالخیر!
٢٤٤
عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی قیامت کے قریب کر کے اور ان کے ساتھ الہاموں کا جوڑ لگا کر
ت اور واقعات پر اطلاع ہونے کے بعد ہر شخص سنت و جماعت جن میں یہ مسئلہ مذکور اور مسلم ایمان لائے یا اپنے ایمان کو عزیز رکھ کر قرآن ادیا ہے’’فمن شاء فليؤمن ومن شاء ان لائے جس کا جی چاہے کافر ہو جائے ۔ مگر یاد ’’انا أعتدنا للظالمين ناراً تیار کر رکھی ہے۔ ت کچھ شوق ہے لیکن اس کے لوازم و آثار کو وہ ت ان میں پائی جاتی ہیں وہ منافی عیسویت مثلاً سے اس بات پر دلیل قطعی ہے کہ وہ عیسیٰ موعود ں نے لکھا تھا کہ اس کی پندرہ جلدیں تیار ہیں۔ اور ایک جلد کے اندازہ میں چھاپ کر اس کا ط ہے۔ یعنی زیادہ لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ لیا گیا اور کتاب ندارد۔ عطائے فرزند وغیرہ کی اپنے متعلقین کی تصویریں بیچ کر روپیہ جمع کیا جاتا مسلمان کو زیور وغیرہ کی زکوٰۃ دینی ضروری ہے زکوٰۃ کے روپیہ سے اپنی تصانیف خرید کر کے ف جو قرار فرمایا ہے اس کو ہر طالب علم جانتا ہے ں بنایا اس سے یہی غرض ہے کہ حج کی رقم اپنے کارروائیاں ہیں ۔ مثل الحاد و تحریف قرآن اور ب میں بھی مذکور ہوتیں ۔ الحاصل ان امور کے تا ہے۔
الخير!
خاتم النبیین لا نبی بعدی
ہمارا آخری نبی ۔ محبوب سبحانی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
انوار الحق
حضرت مولانا انوار اللہ خاںؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمد للہ رب العالمین ۔ والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین!
پیشتر ایک رسالہ مسمی ”افادۃ الافہام“ لکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ جس میں ازالۃ الاوہام کے ان استدلالوں کا جواب دیا گیا جو مرزا قادیانی نے آیات قرآنی سے کئے۔ اس کے بعد تائید الحق مصنفہ مولوی حسن علی قادیانی لیکچرار دیکھنے میں آئی۔ جس میں انہوں نے ایک لمبی چوڑی تمہید کر کے مدبرانہ انداز سے مرزا قادیانی کی تائید کی اس تقریر کا یہ اثر دیکھا گیا کہ ہمارے ہم مشرب بعض حضرات بھی اس کی تحسین کرنے لگے اور تعجب نہیں کہ اس نے بہتوں کو متزلزل کر دیا ہو۔ اس میں شک نہیں کہ بعض جادو بھری تقریریں ایسی ہی پر تاثیر ہوا کرتی ہیں کہ دلوں کو ہلا دیتی ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں وارد ہے 'وان من البیان لسحراً (کنزالعمال ج ٣ ص ٥٧٩، حدیث نمبر ٧٩٨٤)' مگر جب اہل انصاف طالبین حق کے روبرو اصلی واقعات اور ملمع سازیاں مقرروں کی بیان کی جاتی ہیں تو وہ فوراً اپنے خیال سے رجوع کر جاتے ہیں اور جو لوگ نفسانیت کی راہ سے سخن پروری میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ اسی خیال پر اڑے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پُر اثر تقریروں کے زور سے مذاہب باطلہ بکثرت بنتے گئے اور عوام الناس کہیں ان کے دام میں آ ہی گئے تو علماء کے سنبھالنے سے پھر راہ راست پر آگئے۔ لیکن چند سخن پرور انہیں خیالات پر جمے رہتے تھے۔ جن کے اتباع ان مذاہب کو زندہ رکھنے والے اب تک موجود ہیں اور ہر وقت اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ان باطل مذاہب کو ترقی دیں الحاصل جب کبھی نئے مذہب کی بنیاد پڑی تو علمائے حقانی نے اس کے قلع و قمع کی فکر کی اور بفضلہ تعالیٰ اس کا اثر بھی ہوتا گیا کہ عموماً وہ مذاہب باطلہ کے لقب کے ساتھ مشہور رہے اور اہل انصاف و حق پسندان سے محترز رہے۔ فی الواقع یہ علماء کا فرض منصبی ہے کہ بقدر وسع حق کی تائید میں کمی نہ کریں۔ ہرچند اس نوایجاد مذہب قادیانی کے رد کی طرف بعض علماء متوجہ ہیں۔ مگر بحسب اقتضائے زمانہ جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آخری زمانہ میں باطل کا شیوع ہوگا۔ کچھ تو عموماً طبائع ہی ایسے امور کی طرف مائل اور متوجہ ہیں اور کچھ تقاعد علماء کی وجہ سے اس مذہب کی روز افزوں ترقی میں کمی نہیں ہوئی۔ چونکہ ایسی بدعت تازہ کے شیوع کے وقت ہر شخص کو ضرور ہے کہ جہاں تک ہو سکے روکنے کی فکر کرے اور یہ خیال نہ کرے کہ آخری زمانہ میں
٢
اس قسم کے فتنوں کا شیوع لازمی ہے۔ کیونکہ کچھ نہ ہو تو اتنا تو ضرور ہوگا کہ ”من کثر سواد قوم فھو منھم“ کا مصداق بنے گا۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ تائید الحق کا بھی جواب لکھوں اور اس کے ضمن میں ازالۃ الاوہام کے بعض مباحث پر بحسب ضرورت بحث کروں۔ جس سے حقیقت اس نئے مذہب کی کھل جائے اور اہل انصاف وطالبین حق کے بکار آمد ہو۔ والله یقول الحق وهو یھدی السبیل وما علینا الا البلاغ
قادیانی مولوی نے تمہید میں پہلا عنوان یہ قائم کیا کہ ”سچے خیر خواہوں کے ساتھ ہمیشہ کیسا سلوک ہوا ۔“ اس میں بہت سی نظیریں پیش کیں۔ جن سے مقصود یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تکفیر و تفسیق جو ہو رہی ہے۔ وہ بھی اس قسم کی ہے۔ اس موقعہ میں ہم یہ بیان کرنا نہیں چاہتے کہ مرزا قادیانی کیسے شخص ہیں اور ان القاب کے مستحق ہیں یا نہیں۔ اس وقت ہمارا روئے سخن صرف اس تمہید کی طرف ہے کہ آیا وہ مسکت خصم ہے یا نہیں۔ کتب تواریخ سے ظاہر ہے کہ صحابہؓ کے زمانہ سے اب تک کوئی زمانہ نہیں گزرا جس میں مفتری کذاب بے دین پیدا نہ ہوئے اور اس زمانہ کے عمائد دین اور علمائے حقانی نے ان کی تکفیر نہ کی ہو۔ جتنے مذاہب باطلہ آج کے زمانہ میں پائے جاتے ہیں۔ سب کے موجد زمانہ سابقہ ہی کے لوگ ہیں۔ اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ایسے لوگ اس زمانہ میں نہیں نکلے یا ان کی تکفیر نہیں ہوئی نہ یہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان کی تفسیق بے موقعہ تھی، کیا وہ اپنے مذاہب کی اشاعت کے لئے اپنی مظلومی بیان کر کے اسی قسم کے استدلال نہ کرتے ہوں گے۔ پھر کیا اس قسم کے نظائر حقانیت پر دلیل ہو سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ ایسے لوگوں کے ساتھ جو بدسلوکیاں کی گئیں۔ وہ ایک قسم کا عذاب الہی تھا۔ جس کی طرف اشارہ اس آیۃ شریفہ میں ہے۔ ”ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون (السجدہ:٢١)“ یعنی چکھائیں گے ہم ان کو چھوٹے عذاب سوائے بڑے عذابوں کے کہ شاید وہ رجوع کریں اور فرماتا ہے۔ ”واما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسا الی رجسھم وماتوا وھم کافرون اولا یرون انھم یفتنون فی کل عام مرۃ او مرتین ثم لا یتوبون ولاھم یذکرون (توبہ:١٢٥، ١٢٦)“ یعنی جن کے دل میں بیماری ہے سو ان کو بڑھی گندگی پر گندگی اور مرے جب کہ وہ کافر رہے یہ نہیں دیکھتے کہ وہ آزمانے میں آتے ہیں۔ ہر برس ایک بار یا دو بار پھر توبہ نہیں کرتے اور نصیحت نہیں قبول کرتے۔ اس سے ظاہر ہے کہ نفاق وغیرہ سے توبہ کرنے کے لئے بھی عذاب کیا جاتا ہے تاکہ وہ خدا کی طرف رجوع کریں۔ الحاصل نظیریں دونوں قسم کی موجود ہیں۔ بلکہ اس قسم کی نظیریں دس بیس ملیں
تو اہل باطل کی تکفیر و تفسیق و تعذیب کی نظیریں ہزار ہا ملیں گی۔ غرض یہ نظائر مولوی صاحب کے مفید مدعا نہیں ہو سکتیں۔
قادیانی مولوی جو لکھتے ہیں کہ: ”یہ جہان دار الامتحان ہے اس عالم میں سب باتیں کھول کر دکھائی نہیں جاتیں۔“ فی الحقیقت عادت اللہ ایسی ہی جاری ہے کہ حق و باطل اس جہان میں مشتبہ اور ملتبس رہا کئے۔ سحر و استدراج کو ہمیشہ معجزہ اور کرامت کی ہمسری کا دعویٰ اور کلام الٰہی پر سحر و بیان کا دھوکا لگا رہا۔ اصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے صفات کو کبھی تعطل و بیکاری نہیں۔ خواہ یہ عالم ہو خواہ دوسرا اس لئے کہ صفات جلال و جمال ہمیشہ اپنے کاموں میں مصروف و مشغول ہیں۔ اگرچہ بظاہر افراد بنی نوع انسان سے ہدایت اور شیاطین سے ضلالت متعلق ہے۔ مگر جب تک حق تعالیٰ نہ چاہے نہ ہدایت ہوتی ہے اور نہ ضلالت۔ جس کو خدا تعالیٰ ہدایت کرنا چاہے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جس کو گمراہ کرنا چاہے اسے کوئی ہدایت نہیں کر سکتا۔ ”من يهدی الله فلا مضل له ومن يضلله فلا هادى له“ انہیں صفات کا ظہور ہے کہ ہر زمانے میں حق تعالیٰ کسی ایسے شخص کو پیدا کر دیتا ہے جس سے بہت سے ہدایت پاتے ہیں اور بہت گمراہ ہوتے ہیں۔ انبیاء کو خاص ہدایت کے لئے مبعوث تھے۔ مگر ان کے نہ ماننے والے گمراہ ہوئے اور بہت سے مفتری کذاب کو گمراہ کرنے کے واسطے پیدا ہوئے ہیں۔ مگر ان سے بھی صفت جمال اپنا کام لیتی ہے کہ ان کے نہ ماننے والے ہدایت پر سمجھے جاتے ہیں۔ جس کو خدا تعالیٰ ہدایت کرنا چاہتا ہے۔ اس کا سینہ حق بات کے ماننے کے لئے وسیع اور کشادہ ہو جاتا ہے اور جس کی گمراہی منظور ہوتی ہے۔ اس کا سینہ تنگ ہو جاتا ہے۔ ”فمن يرد الله ان يهديه يشرح صدره للاسلام ومن يرد ان يضله يجعل صدره ضيقاً حرجاً كانما يصعد فى السماء (انعام:١٢٥)“ وسعت سینہ کی یہ دلیل ہے کہ ہدایت کی بات اس میں سما جائے۔ علیٰ ہذا القیاس تنگی سینہ کی یہ دلیل ہے کہ وہ بات اس کے سینے میں گنجائش نہ کرے اور یہ ظاہر ہے کہ اہل باطل کا سینہ باطل کے لئے کشادہ اور اہل حق کا دل اس سے تنگ ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وسعت و تنگی دونوں کے لئے ہوا کرتی ہے۔ اس وجہ سے کوئی شخص حق و باطل میں اپنے دل کے مشورہ سے تمیز نہیں کر سکتا۔ بلکہ وہ جس بات کا قائل ہوتا ہے اس چیز کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ جس سے پوچھئے اس کا یہی دعویٰ ہے کہ میں حق پر ہوں اور اس سے نہایت خوش رہتا ہے۔ ”كل حزب بما لديهم فرحون (مؤمنون:٥٣)“ اور صرف سمجھتا ہی نہیں بلکہ چاہتا بھی ہے کہ سارا جہاں اپنا ہم مشرب ہو جائے۔ اس کا تصفیہ باہم ممکن نہیں کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔ کیونکہ جس مسئلہ میں دو فریق ہو جائیں تو ہر ایک اپنے
٤
کو حق پر سمجھے گا اور تیسرا حکم بنے تو کسی ایک فریق میں شریک ہو جائے گا یا وہ بھی ایک فریق نیا بن کر اپنے ہی کو حق پر سمجھنے لگے گا۔ غرض اس عالم میں اس کا تصفیہ ممکن نہیں کہ شرح صدر کس کا حق پر ہے اور کس کا باطل پر۔ حق تعالیٰ ہی قیامت کے روز اس کا فیصلہ فرماوے گا۔ ”ان ربك هو يفصل بينهم يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون (السجدة:٢٥)“ اب قادیانی مولوی جو اپنا اطمینان اور شرح صدر مرزا قادیانی کی حقانیت پر ظاہر فرماتے ہیں وہ کیونکر اس امر کی دلیل ہو سکے کہ مرزا قادیانی سچ مچ عیسیٰ موعود ہیں۔ ہمیں اس میں کلام نہیں کہ مرزا قادیانی بڑے مرتاض ہوں گے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ جتنے مفتری دغاباز جعلساز ہوتے ہیں۔ جب تک وہ اچھی عادات اچھے حالات اور متقی لوگوں کی صورتوں میں اپنے کو ظاہر نہیں کرتے۔ ان کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔ قرامطہ کا حال آپ نے تواریخ میں دیکھا ہوگا کہ ابتداء کیا تھی اور انتہا کیسی ہوئی۔ تاریخ دول اسلامیہ میں لکھا ہے کہ ایک شخص خوزستان سے سواد کوفہ میں آکر ایک مدت تک اظہار تقدس میں مشغول رہا۔ زہد و تقویٰ اور کثرت صلوٰۃ کی یہ صورت کہ تمام اقران و معاصرین میں ممتاز، اکل حلال کی یہ کیفیت کہ اپنے ہاتھ سے بوریا بن کر اس سے اوقات بسر کرتا کسی سے کچھ قبول نہ کرتا۔ جب کوئی اس کے پاس جاتا تو سوائے وعظ ونصیحت کے کسی بات سے سروکار نہیں۔ غرض تقویٰ، طہارت، زہد، ریاضت میں اس کو وہ شہرت حاصل ہوئی کہ کسی زاہد وعابد کو اس کے مقابلہ میں فروغ نہ رہا۔ جب دیکھا کہ لوگوں کے دلوں میں اپنی بات کا پورا اثر ہونے لگا تو مشہور مشہور مسائل نماز وغیرہ میں تصرف کرکے خلاف اجماع و مذہب تعلیم شروع کی۔ جب اس میں بھی کامیابی ہوگئی تو آہستہ آہستہ خیر خواہانہ تمہید کی کہ طالبین حق کو ضرور ہے کہ کسی ایسے امام کے ہاتھ پر بیعت کریں جو اہل بیت نبوی سے ہو۔ غرض پوری طور پر اپنے مقصود کی تمہید ذہن نشین کرکے شام کو چلا گیا۔ وہاں بھی یہی طریقہ اختیار کرکے لوگوں کو امام برحق کا مشتاق بنادیا۔ چونکہ دعوت اس کی کسی معین شخص کی طرف نہ تھی۔ اس لئے بعضوں کا خیال تھا کہ محمد بن اسماعیل امام وقت ہوں گے اور بعض کسی دوسرے کو خیال کرتے تھے۔ بہرحال اس کو یہی انتظار تھا کہ امام وقت اب ظاہر ہونا چاہتے ہیں کہ ایک شخص قرامطہ سے جن میں یہ شخص تھا ظاہر ہوکر مہدویت کا دعویٰ کیا۔ اس مہدی کا اصلی نام ذکرویہ یحییٰ تھا۔ مگر اپنا نام محمد بن عبداللہ بن اسماعیل بن جعفر صادق ظاہر کیا۔ حالانکہ اسماعیل ابن جعفر کا کوئی فرزند عبداللہ نام نہ تھا۔ ضرورت اس جعلسازی کی اس لئے ہوئی کہ احادیث میں امام مہدی کا نام محمد بن عبداللہ وارد ہے۔ جو لوگ صرف امام کے منتظر تھے ان کو امام مہدی موعود کا مل جانا ایک نعمت غیر مترقبہ تھی۔ اس کے نکلتے ہی کل ہم مشرب اکٹھے ہوگئے اور یہ رائے قرار پائی ٥
کہ اصلاح قوم کی فکر کی جائے۔ چنانچہ بڑے بڑے گذرگاہوں پر فوجیں روانہ ہوئیں اور حرمین وغیرہ کے راستوں میں رہزنی شروع کر دی گئی اور تمام ملک حجاز و شام و مصر وغیرہ میں آتش فتنہ و فساد مشتعل ہوئی۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص ابو طاہر نام مع فوج کثیر مکہ معظمہ پر مسلط ہوا۔ کسی کو وہاں یہ طاقت نہ تھی کہ اس سیلاب بلا کو روک سکے۔ ابو طاہر گھوڑے کو دوڑا کر خاص حرم شریف کے اندر گھس آیا اور خانہ کعبہ کے دروازے پر آ کھڑا ہوا اور اس غرض سے سیٹی دی کہ گھوڑا بول و براز کرے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا پھر اس نے پکار کر کہا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو خدا کا کلام پڑھ پڑھ کر سنایا کرتے تھے کہ ومن دخله كان آمنا (آل عمران:٩٧) یہ کہہ کر قتل عام کا حکم دیا۔ لکھتے ہیں کہ تخمیناً تیس ہزار مسلمان مکہ معظمہ میں شہید کئے گئے۔ جس میں سترہ سو خاص مطاف میں جام شہادت سے سیراب ہوئے اور کشتوں کے سر کاٹ کر صرف سروں سے چاہ زمزم بھر دیا گیا اور تمام لاشیں بغیر کفن و نماز جنازے کے اندرون و بیرون شہر کے کنوؤں اور گڑھوں میں ڈال دیئے گئے۔ حجر اسود اکھاڑ لیا گیا۔ جس کی وجہ سے بائیس سال تک کعبہ شریف حجر اسود سے خالی رہا تمام مکانات لوٹ لئے گئے۔ غرض مکہ معظمہ میں اس مہدی کا یہ فتنہ ایسا ہوا کہ اس کی نظیر کسی تاریخ میں مل نہیں سکتی۔
الحاصل بدنام ہونا، برے کہلانا، سزائیں پانا، حقانیت پر قرینہ نہیں ہو سکتا۔ ورنہ جعلساز دغاباز بدمعاش جن سے جیل خانے ہمیشہ بھرے رہتے ہیں سب کو اہل اللہ کہنا پڑے گا اور نہ اظہار تقدس اس کا قرینہ ہے۔ جیسا کہ قرامطہ وغیرہ کے حال سے ظاہر ہے۔
قادیانی مولوی نے جہاں اسلام کے موجودہ دشمن فرقوں کی فہرست لکھ کر ان کی روز افزوں ترقی اور اس کی وجہ سے مرزا قادیانی کی ضرورت ثابت کی ہے ان میں مولوی اور مشائخوں کو بھی شریک کیا اور ان کو یہ خطاب عطاء فرمائے۔
شیطان، حشرات الارض، زر پرست، نفس پرست، کم بخت، موذی، نائب شیطان، ناپاک، مجموعہ صفات ذمیمہ، شریر فتنہ پرداز، مسلمانوں کے گمراہ کرنے والے، شیطان کے شاگرد رشید، مکار وغیرہ۔ اس بات میں قادیانی مولوی اپنے پیر کی سنت پر عمل کر رہے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی بھی علماء اور مشائخین کو ایسے خطابوں سے ذکر کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کی تصانیف میں یہ موجود ہیں۔ ”اے بدذات فرقہ مولویان تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا ہے وہی عوام کو بھی پلایا، علماء السوء، اندھیرے کے کیڑو، کتے، گدھے، حمار، عقارب، عقب الکلب، یعنی کتے کے بچے، خنزیر سے زیادہ پلید، ایمان وانصاف سے دور بھاگنے والے، احمق، پلید، دجال، مفتری،
٦
اشرار، اذل الکافرین، اوباش، بے ایمان، بے حیا، بددیانت، فتنہ انگیز، تمام دنیا سے بدتر، جھوٹ کا گو کھایا، جاہل جعلساز ، چمار، ڈوموں کی طرح مسخرہ، دشمن قرآن، روسیاہ، سفلے، سیاہ دل، سفہاء شریر، مکار، شیخ نجدی، عدو العقل، غول الاغوال، غدار سرشت، فرعون رنگ، کینہ ور کمینہ، مادر زاد اندھے، گندی مردار خوار، نااہل ، نمک حرام، نابکار، نالائق، نا اہل، ایمان سے دور بھاگنے والے، ابولہب، فرعون، بدذات، خبیث، زندیق، علیہم نعال لعن اللہ الف الف مرۃ وغیرہ وغیرہ۔ جس کو صاحب عصائے موسیٰ نے مرزا قادیانی کی کتابوں سے نقل کیا ہے۔ غرض کوئی گالی ان حضرت نے اٹھا نہ رکھی اور عذر یہ کیا کہ کمال جوش اور حرارت اسلامی میں یہ سب گالیاں دی گئیں۔ گویا اس جوش نے ان کو مرفوع القلم بنادیا۔ ان گالیوں کے پہلے آپ نے یہ تمہید بھی کر دی ہے کہ مصلحان قوم اپنی قوم کو بعض وقت بہت سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہیں۔ لیکن ان سخت الفاظ کے اندر محبت اور شفقت بھری رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ مصلح قوم ہیں۔ جس قدر گالیاں دیں اس کے مستحق ہیں۔ چونکہ اصلاح قوم اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے اور یہ سخت سست کہنا اس کا ذریعہ ہے یا مادہ، اس وجہ سے مولوی صاحب اور ان کے پیر اس کو عبادت اور باعث تقرب الٰہی سمجھتے ہوں گے۔ اس موقعہ میں واقعہ حرۃ اور مسلم بن عقبہ کی کارگزاری یاد آتی ہے۔ تاریخ دانوں پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ اہل مدینہ منورہ جب یزید کے مخالف ہو گئے تو اس نے مسلم بن عقبہ کو ان کی تادیب تعذیب کے لئے مامور کیا۔ وہ مقام حرہ میں جو مدینہ کے پاس ہے بارہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ آ پہنچا اور بعد سوال و جواب کے قتل عام و غارت کا حکم دیا اور تین روز تک مدینہ منورہ کو لشکریوں پر مباح کر دیا۔ تاریخ الخلفاء اور جذب القلوب وغیرہ میں لکھا ہے کہ ہزار ہا بکرہ لڑکیوں کا بکر حرام سے زائل کیا گیا اور تمام شہر کے گھر لوٹے گئے۔ جہاں کوئی ملتا مارا جاتا۔ صرف علماء سات سو شہید کئے گئے۔ جن میں تین سو صحابہؓ تھے۔ مسجد نبوی میں گھوڑے دوڑائے گئے۔ خاص روضۂ شریف گھوڑوں کی لید اور پیشاب سے متلطخ رہا۔ یہ سب مسلم بن عقبہ کے حکم سے ہوا اب اس کی خوش اعتقادی سنئے۔ جب اس کی موت کا وقت آپہنچا تو آخری دعاء یہ کی ۔ ”اللهم انی لم اعمل قط بعد شهادة ان لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسوله عملاً احب الى من قتلى اهل المدينة ولا ارجى عندى فى الاخرة (ذکر ابن اثیر فی تاریخه الکامل ج ٣ ص ٤٦٣، طبع بیروت) “ یعنی یا اللہ بعد شہادت کلمہ طیبہ کے جو کچھ اعمال صالحہ میں نے اپنی عمر میں کئے ان سب سے زیادہ مجھے وہ عمل پسند ہے جو مدینہ کے لوگوں کو میں نے قتل کیا اور اسی عمل سے مجھے زیادہ تر توقع ہے کہ آخرت میں کام آئے گا۔
٧
مسلم بن عقبہ کو صرف تعذیب اہل مدینہ پر ناز تھا۔ ہمارے مرزا قادیانی کو اس سے زیادہ ناز وفخر ہونا چاہئے۔ کیونکہ وہ تمام اہل اسلام کی تادیب فرمارہے ہیں اور وہاں صرف جراحات سنان تھیں۔ یہاں جراحات لسان ہیں جو التیام پذیر نہیں۔ ”جراحات السنان لها التیام ولا يلتام ماجرح اللسان“
پھر یہ گالیاں کن کو دیئے جارہے ہیں۔ عوام الناس بازاریوں کو ، نہیں جن کی عادت میں گالیاں دینا اور سننا داخل ہے۔ بلکہ ان افراد قوم کو جن کو قوم نے اپنا رہبر مربی اور حامی دین بنا رکھا ہے اور ہر ایک ان پر سوجان سے فدا ہے۔ معزز اور شریف لوگ قوم کے اس کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ گالیاں سن کر قوم کا کیا حال ہوتا ہوگا۔ سب کو جانے دیجئے خود حسن علی قادیانی اور ان کے پیر ہی غور کریں کہ کوئی ارذل یا ان کا ہمسر ان کے والد بزرگوار یا پیر کی شان میں یہ الفاظ کہے تو ان کا کیا حال ہوگا۔ اگر غیرت دار ہوں تو کیا اس ذلت کے مقابلہ میں مرجانا آسان نہ ہوگا۔ عرف میں ایسا شخص بڑا ہی بے شرم سمجھا جاتا ہے کہ اس کے باپ یا استاد یا پیر کو کوئی گالی دے اور وہ چپ رہے۔ نہایت افسوس اور شرمناک حالت ہے۔ جس کے مرتکب قادیانی مولوی صاحب اور مرزا قادیانی ہوئے ہیں۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله (انعام:١٠٨)“ یعنی بتوں کو گالیاں مت دو کہ وہ اللہ کو گالیاں دیں گے۔ ہادی برحق اور نبی صادق کو حق تعالیٰ تعلیم فرماتا ہے۔ ”ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتی هی احسن (نحل:١٢٥)“ یعنی بلاؤ اپنے رب کی راہ پر حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اور الزام دو ان کو جس طرح بہتر ہو۔ کیا مصلح قوم کی یہی شان ہے کہ اشتعال طبع پیدا کرنے والے الفاظ سے طبیعتوں کو مشتعل کرے اور اس قابل بنائے کہ حق بات سننے کی بھی صلاحیت باقی نہ رہے۔ قادیانی مولوی نے اپنے آپ کو جو مصلح قوم قرار دیا ہے وہ خود انہی کی تقریر سے باطل ہوگیا۔ اور نہ شرعاً اس قابل ہے کہ مصلح قوم سمجھے جائیں۔ نہ عرفاً پھر یہ جو شکایت ہورہی ہے کہ مولویوں کی وجہ سے مسلمان ذلیل ہو رہے ہیں۔ سچ ہے جس قوم کے مصلح رذالت سے کام لیں اس کو ذلت نہ ہو تو کیا ہو۔ یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آیا جو میرے ایک دوست کا دیکھا ہوا ہے کہ تراویح کی جماعت کسی مسجد میں ہورہی تھی۔ جس میں وہ بھی شریک تھے۔ ان کے قریب ایک شخص نے عین نماز میں اپنے بازو والے سے کچھ بات کہی ایک شخص نے نماز ہی کی حالت میں اس سے کہا کہ نماز میں بات کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ تیسرے نے کہا تمہاری نماز کب باقی رہی چوتھے نے کہا الحمدللہ میں نے تو کوئی بات نہ کی۔ ایسا ہی قادیانی مولوی صاحب
٨
اوروں پر الزام لگا رہے ہیں اس میں خود بھی مبتلا ہیں۔ مگر سمجھتے نہیں، علمائے ربانی وہ ہیں جو اپنے عیوب کی تفتیش کر کے اپنے نفس کی اصلاح کرتے رہتے ہیں اور حتی الوسع دوسرے کے عیوب پر نگاہ نہیں ڈالتے اور اگر امر بالمعروف کی ضرورت سمجھتے ہیں تو ایسے ملائم اور دل نشین طریقے سے کرتے ہیں۔ جس کا اثر ظاہر ہو عموماً تعلیم الٰہی امر بالمعروف کے بارے میں یہی رہی ہے کہ نہایت نرمی اور سہولت سے کام لیا جائے۔ باوجود یکہ اژدھائے خونخوار موسیٰ علیہ السلام کی مدد کے لئے ساتھ دیا گیا تھا۔ مگر ارشاد یہی ہوا کہ فرعون کے ساتھ نہایت نرمی سے گفتگو کی جائے۔ ”فقولا له قولا لينا لعله يتذكر او يخشى (طہ:٤٤)“ یعنی کہو اس سے بات نرم شاید وہ سوچ کرے یا ڈرے اور آنحضرت ﷺ کو ارشاد ہوا کہ ”ادفع بالتی ھی احسن فاذا الذی بینك وبينه عداوة كانه ولی حميم وما يلقھا الا الذين صبروا وما يلقھا الا ذو حظ عظیم (فصلت:٣٤، ٣٥)“ جواب میں کہئے اس سے بہتر پھر جو آپ دیکھو تو جس میں آپ میں دشمنی تھی۔ وہ ایسا ہوگا جیسے دوست دار ناتے والا اور یہ بات ملتی ہے۔ انہیں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ بات ملتی ہے اس کو جس کی بڑی قسمت ہے۔
اسی وجہ سے ہر شخص امر بالمعروف کا اہل نہیں سمجھا جاتا۔ کیونکہ امر بالمعروف میں عیوب پر مطلع کرنا ہوتا ہے اور قاعدہ کی بات ہے کہ جس کا عیب ظاہر کریں وہ دشمن ہو جائے گا۔ جس سے مخالفت اور جھگڑا پیدا ہونے کا سخت اندیشہ ہے جو ممنوع ہے۔ ”ولا تنازعوا فتفشلوا وتذهب ریحکم (انفال:٤٦)“ یعنی آپس میں نہ جھگڑو پھر نامرد ہو جاؤ گے اور جاتی رہے گی تمہاری ہوا۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”یا ایھا الذین آمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اهتدیتم (مائدہ:١٠٥)“ یعنی اے ایمان والو! تم پر لازم ہے فکر، اپنے جان کی تمہارا کچھ نہیں بگاڑتا جو کوئی بہکا جب تم راہ پر ہوئے۔ باوجود یکہ امر بالمعروف کی ضرورت دوسری آیات سے ثابت ہے۔ مگر آیت شریفہ میں جو اس کی ممانعت ہے اس کی تطبیق کی صورت یہ معلوم ہوتی ہے کہ عوام الناس اس سے روکے گئے ہیں اور خواص کو اس کی اجازت ہے۔ جن سے اصلاح کی امید ہے۔ بعضے صحابہؓ نے اس آیت شریفہ کا مضمون حضرت ﷺ سے دریافت کیا تو فرمایا تم لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کئے جاؤ اس وقت تک کہ لوگ دنیا اختیار کر لیں اور خود رائی کرنے لگیں تو اس وقت صرف اپنی فکر کرو اور ان کو چھوڑ دو۔
بہر حال قادیانی مولوی کا یہ امر بالمعروف کرنا اس زمانہ میں کسی طرح بجا اور بر محل نہیں ہو سکتا۔ پھر یہ امر بالمعروف بھی کس مسئلہ میں کہ مرزا قادیانی عیسیٰ موعود ہیں۔ جس کا ثبوت نہ
٩
قرآن سے ہے نہ حدیث سے نہ اور کسی علم سے۔ حالانکہ امر بالمعروف کے لفظ سے ظاہر ہے کہ اس بات کا امر کیا جائے جو دین میں معروف ہو۔
اب غور فرمائیے کہ اگر قادیانی مولوی کو مدارس کے علماء نے وعظ سے روک دیا تو کیا برا کیا۔ خود خدا اور رسول ان کو ایسے وعظ سے روک رہے ہیں۔ وعظ سے روکنے والوں کا استدلال اس حدیث سے ہوگا۔ جو سنن دارمی میں مروی ہے ۔ ”عن اسماء بن عبيد قال دخل رجلان على ابن سيرين فقالا يا ابابكر نحدثك بحديث قال لا قال فنقرأ عليك آية من كتاب الله قال لا لتقومان عنى اولا قومن قال فخرجا فقال بعض القوم يا ابابكر وما كان عليك ان تقرأ عليك آية من كتاب الله تعالى قال اني خشيت ان يقرأ على آية فيحرفانها فيقر ذلك في قلبى (دارمی ج ١ ص ١٠٩، باب اجتناب اهل الاهواء والبدع والخصومة)“ یعنی اسماء بن عبید کہتے ہیں کہ دو شخص اصحاب ہوا سے ابن سیرین کے پاس آئے اور کہا انہوں نے کہ ہم آپ سے ایک حدیث کہتے ہیں فرمایا نہیں سنتا انہوں نے کہا کہ ایک آیت قرآن کی پڑھتے ہیں کہ میں نہیں سنتا یا تم یہاں سے اٹھ جاؤ یا میں اٹھ جاتا ہوں۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ اگر وہ آیت قرآن کی پڑھتے تو آپ کا کیا نقصان تھا۔ فرمایا کہ مجھے خوف اس بات کا ہوا کہ وہ آیت قرآن کی پڑھیں اور کچھ الٹ پلٹ کردیں جو میرے دل میں جم جائے اور دوسری روایت اسی دارمی میں ہے۔ ”عن الحسن وابن سيرين انهما قالا لا تجالسوا اصحاب الاهواء ولا تجادلوهم ولا تسمعوا منهم وهكذا قال ابوقلابة (دارمی ج ١ ص ١١٠، باب ایضاً) “ یعنی حسن بصریؒ اور ابن سیرینؒ نے فرمایا کہ اصحاب ہوا کے ساتھ نہ بیٹھو نہ ان سے مناظرہ کرو اور نہ ان سے کوئی بات سنو۔ مرزا قادیانی نے جو یہ دعویٰ کیا ہے وہ بالکل نیا ہے۔ تیرہ سو برس کے عرصہ میں نہ کسی نے ایسا دعویٰ کیا نہ یہ کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام مر گئے اور جن کی آنے کی خبر احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ان کا قائم مقام کوئی دوسرا شخص ہوگا۔ اہل ہوا ایسے ہی لوگوں کو کہتے ہیں جو نئی نئی باتیں خواہش کے مطابق دین میں تراش لیتے ہیں۔ صحیح صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جو نئی بات نکالی جائے وہ مردود ہے اس سے احتراز اور اجتناب کیا جائے۔ اسی وجہ سے صحابہؓ ایسے لوگوں سے جو نئی بات نکالتے نہایت احتراز کیا کرتے۔ چنانچہ ابن عمرؓ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ فلاں شخص نے آپ کو سلام کہا ہے۔ فرمایا میں نے سنا ہے کہ اس نے کوئی بات نئی نکالی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو اس کو سلام کا جواب نہ پہنچانا۔ ”عن ابن عمر انه جاء رجل فقال ان فلانا يقرأ عليك
١٠
السلام قال بلغنی انه قد احدث فان كان قداحدث فلا تقرأ عليك السلام (دارمی ج ١ ص ١٠٨، باب ایضاً) ”عرفجہؓ کہتے ہیں کہ میں خود آنحضرت ﷺ سے سنا ہوں کہ فرماتے تھے قریب ہے کہ فتنے اور نئی نئی باتیں پیدا ہوں گی جو کوئی اس امت کی اجتماعی حالت میں تفرقہ ڈالنا چاہے جو کوئی ہو اس کو تلوار سے مار ڈالو۔“ عن عرفجة قال سمعت رسول الله ﷺ يقول انه ستكون هنات وهنات فمن اراد ان يفرق امر هذه الامة وهى جميع فاضربوه بالسيف كائنا من كان (مسلم ج ٢ ص ١٢٨، باب حكم من فرق امر المسلمين وهو مجتمع) ”غرض اس قسم کے اسباب سے نئی نئی باتوں کے کہنے سننے سے روک دینا علماء کا فرض منصبی ہے۔ اگر انہوں نے ایسے وعظ سے روک دیا تو یہ کوئی برہم ہونے کی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے ان کو ممنون ہونا چاہئے ورنہ اگر یہ راستہ بالکلیہ کھل جائے تو اس آخری زمانے میں جو دین پر ہر طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ مخالفین دین کو موقع مل جائے گا اور ہر شخص نئی نئی باتیں ایجاد کر کے دین میں داخل کر دے گا۔ جب تک مرزا قادیانی ادیان باطلہ کے رد کے طرف متوجہ تھے۔ سب ان کے مداح تھے۔ بلکہ ان کو مجدد بھی سمجھتے ہوں تو تعجب نہیں اور اب بھی اس حد تک کوئی برا نہیں سمجھتا جس میں تائید دین ہو۔ اگر یہ چند نئی باتیں چھوڑ دیں تو ابھی کل اہل حق ان کے رفیق و مدد گار ہو جاتے ہیں اور یہ ناحق کا جھگڑا جس سے نہ دین کا فائدہ ہے نہ دنیا کا مٹ کر كانهم بنيان مرصوص کا مضمون صادق آجاتا ہے اور یہ کچھ بڑی بات نہیں۔ مرزا قادیانی خود ازالۃ الاوہام میں فرماتے ہیں۔ ”ممکن ہے ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ بھی صادق آجائیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
جب یہ خود تسلیم کرتے ہیں تو پھر اس مشکوک دعویٰ پر اصرار کر کے مسلمانوں کے ساتھ دشمنی قائم کرنے سے کیا فائدہ نسأل الله التوفيق وهو بالاجابة جدير!
قادیانی مولوی اسلام اور مسلمانوں پر کمال دلسوزی ظاہر کر کے ایک مرثیہ رونے اور چلانے کے لئے لکھتے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ”اس زمانہ میں مسلمانوں کا قحط ہو گیا ہے اور دین اسلام گردش میں اور کفر کا زور وشور ہے۔“ اس مرثیہ میں اتنی کسر رہ گئی کہ چند بند مرزا قادیانی کی عیسویت پر بھی بڑھا دیتے کہ ہائے عیسیٰ ابن مریم بھی اتر کے تیس برس ہوگئے ۔ مگر بجائے اس کے کہ ان سے دین کی ترقی ہوتی کفر ہی کو ترقی ہوگئی اور ہورہی ہے۔ اور بمقتضائے حسن ظن یہ ہے کہ یہ اظہار دلسوزی قادیانی مولوی کی نیک نیتی پر محمول کی جاتی ۔ مگر مشکل یہ ہے کہ سرسید صاحب اور ان کے اتباع بھی اس سے زیادہ نوحے اور واویلے لکھتے پڑھتے ہیں۔ حالانکہ ان کی نیک نیتی
١١
کے قائل قادیانی مولوی صاحب بھی نہیں ہیں۔ بلکہ ان کو دشمن اسلام قرار دیا ہے۔ اس امر کی تصدیق کیونکر ہو کہ وہ فی الواقع اصلی اسلام کے دوست اور مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں۔ ان کا مقصود تو صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ اگر مسلمان ہیں تو چند قادیانی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ باقی سب بے دین ہیں۔ چنانچہ صاف لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا قحط ہو گیا ہے۔
اس طریقے کی ایجاد ابتدائے اسلام ہی میں ہو چکی ہے۔ چند لوگ ایسے پیدا ہوئے کہ کمال درجہ کا زہد تقویٰ پرہیز گاری ایمانداری ظاہر کر کے کل صحابہؓ و تابعینؒ کو بے دین قرار دیا اور ظاہری حالت ان کی دیکھ کر بہت سے ظاہر میں ان کی طرف مائل اور ان کے ہم خیال ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ ایک بڑی جماعت بن گئی۔ جن کے قلع قمع کی طرف سلطنت کو متوجہ ہونا پڑا، ان سب کا اعتقاد یہی تھا کہ اگر مسلمان ہیں تو ہم ہیں باقی سب صحابہؓ اور تابعینؒ کافر ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالك ! ان لوگوں کے واقعات و حالات بہت ہیں۔ مگر تھوڑا سا حال بقدر ضرورت یہاں لکھا جاتا ہے۔ جس سے طرز رفتار معلوم ہو جائے۔ جو واقعات یہاں لکھے جاتے ہیں۔ فضائل سیدنا علی کرم اللہ وجہہ مولفہ امام نسائی، مستدرک حاکم، کنز العمال اور تاریخ کامل وغیرہ متعدد معتبر کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ وھی ھذہ!
جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور معاویہؓ میں بہت لڑائیاں ہوئیں اور طرفین سے ہزاروں اہل اسلام شہید ہوئے تو یہ رائے قرار پائی کہ دونوں طرف سے دو شخص معتمد علیہ حکم قرار دئے جائیں وہ جو کچھ فیصلہ کریں نافذ ہو اور باہمی جھگڑے مٹ جائیں۔ چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے ابو موسیٰ اشعریؓ اور معاویہؓ کے جانب سے عمرو بن عاصؓ مقرر ہوئے اور طرفین سے عہد نامہ لکھا گیا اور اشعث بن قیس اس کام پر مامور ہوئے کہ وہ عہد نامہ ہر قبیلہ میں جا کر سنا دیں۔ جب وہ قبیلہ بنی تمیم میں جا کر عہد نامہ سنائے تو عروہ بن ادیہ تمیمی نے کہا کہ عجیب بات ہے یہ لوگ آدمیوں کو حکم بناتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کے سوائے کوئی حکم نہیں کر سکتا۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ان الحکم الا لله“ اور یہاں تک برہم ہوا کہ تلوار کھینچ کر اشعث پر حملہ کیا تو وہ بچ گئے۔ مگر ان کا گھوڑا زخمی ہوا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا بات تو سچی ہے۔ مگر مقصود اس سے باطل ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر وہ ہم سے مقابلہ کریں تو ہم اوّل ان سے تقریر کر کے قائل کریں گے اور نہ مانیں تو قتل کر ڈالیں گے۔ زید بن عاصم محاربی جو اس مجلس میں موجود تھا یہ سن کر اٹھ کھڑا ہوا اور خطبہ پڑھا کہ یا اللہ ہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس بات سے کہ اپنے دین میں دنائت اختیار کریں۔ کم ہمتی کو عمل میں لائیں۔ اے علیؓ کیا تم ہم کو قتل سے ڈراتے ہو ہوشیار رہو
١٢
واللہ ہم تمہیں قتل کر ڈالیں گے۔ اس وقت تمہیں معلوم ہو گا کہ خدا کی راہ پر تم چلتے ہو یا ہم پھر وہ اور اس کے بھائی نے ایک جماعت فراہم کی۔ جن میں عبداللہ بن وہب راسبی بھی تھا۔ اس نے خطبہ پڑھا کہ ہم کو پہاڑوں یا دوسرے شہروں میں جانا ضرور ہے۔ تا کہ گمراہ کرنے والے بدعتوں سے ہمارا انکار ثابت ہو جائے۔ پھر دنیا کی بے ثباتی اور متقیوں کے فضائل بیان کر کے سب کو شہر سے کوچ کرنے پر آمادہ کیا۔ اس کے بعد یہ مسئلہ پیش ہوا کہ امیر کون قرار دیا جائے۔ بعد اختلاف کے یہ امر طے ہوا کہ عبداللہ بن وہب کو ہی اس کام کے لئے منتخب کیا جائے۔ اس نے اوّل تو انکار کیا۔ لیکن بعد رد و قدح کے یہ کہہ کر قبول کیا کہ مجھے مطلقاً خواہش دنیوی نہیں۔ نہ میں امارت چاہتا ہوں۔ نہ مجھے اس سے کوئی خوف ہے۔ اللہ کے واسطے یہ خدمت قبول کرتا ہوں۔ اگر اس میں مر جاؤں تو کوئی پرواہ نہیں۔ پھر اس نے کہا کہ اب ایسا شہر تجویز کرنا چاہئے کہ جس میں ہم سب جمع ہوں اور اللہ کا حکم جاری کریں۔ کیونکہ اہل حق اب تمہی لوگ ہو۔ چنانچہ نہروان تجویز ہوا اور یہ سب خوارج وہاں چلے گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان کے نام خط لکھا کہ اب بھی چلے آؤ۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر تم اپنے کفر پر گواہی دیتے ہو اور نئے سرے سے توبہ کرتے ہو تو دیکھا جائے گا۔ اب تو ہم نے تم کو دور کر دیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ زیاد بن امیہ نے عروہ بن ادیبہ خارجی سے پوچھا کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کا کیا حال تھا۔ کہا اچھے تھے۔ پھر عثمانؓ کا حال دریافت کیا کہا ابتداء میں چھ سال تک ان کو میں بہت دوست رکھتا تھا۔ جب انہوں نے بدعتیں شروع کیں ان سے علیحدہ ہو گیا۔ اس لئے کہ وہ آخر عمر میں کافر ہو گئے تھے۔ پھر علیؓ کا حال دریافت کیا کہا کہ وہ بھی اوائل میں اچھے تھے۔ آخر میں کافر ہو گئے۔ بعد معاویہؓ کا حال پوچھا ان کو سخت گالی دی۔ پھر زیاد ابن امیہ نے اپنا حال پوچھا کہا تو اوائل میں اچھا تھا اور آخر میں گزندہ ہو گیا اور دونوں حالتوں کے بیچ میں تو اپنے رب کا نافرمان رہا زیاد نے اس کی گردن مارنے کا حکم دیا۔ پھر اس کے غلام کو بلا کر پوچھا کہ اس شخص کا مختصر حال بیان کر کہا۔ جب میں اس کے پاس کھانا لے جاتا یا اور کسی کام کے لئے جاتا تو اس کا یہی اعتقاد اور اجتہاد اور دلسوزی پاتا۔ غرض ضرورت سے زیادہ دلسوزی بھی علت سے خالی نہیں۔ خوارج حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے صرف دو باتوں سے بگڑے۔ جن میں ظاہراً کمال دینداری معلوم ہوتی ہے۔ ایک حکم کا مقرر کرنا جس کو انہوں نے شرک قرار دیا تھا۔ اس وجہ سے کہ حکم خدا تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ دوسرا اس میں شریک نہیں ہو سکتا۔ ”ان الحکم الا للہ“ دوسری یہ کہ مسلمانوں سے انہوں نے لڑائی کی۔ اگر لڑنا ضرور تھا تو ان کا مال غنیمت کیوں نہ بنایا۔ حالانکہ یہ دونوں امر قرآن سے ثابت ہیں۔ ان کے زہد
١٣
وتقویٰ کی یہ حالت تھی۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب چھ ہزار خوارج ایک مقام میں جمع ہوئے تو میں حضرت علیؓ سے اجازت لے کر عمدہ لباس پہن کر ان کے پاس گیا۔ انہوں نے دیکھتے ہی کہا کہ اے ابن عباسؓ یہ لباس کیسا، میں نے جواب تو دے دیا۔ مگر ان کی حالت یہ دیکھی کہ عبادت اور ریاضت میں کسی قوم کو ان کا نظیر نہیں پایا۔ صحابہ گونہ تابعین کو ان کے چہرے شب بیداری کی وجہ سے سوکھے سوکھے اور ہاتھ پاؤں نہایت دبلے۔ جندبؓ فرماتے ہیں کہ جب علی کرم اللہ وجہہ نے خوارج کا پیچھا کیا ہم ان کے لشکر کے قریب پہنچے ان کی حالت دیکھی کہ ہر طرف سے قرآن پڑھنے کی آواز آرہی ہے۔ سب لوگ تہبند باندھے ہوئے ٹوپیاں اوڑھے ہوئے یعنی کمال درجے کے زاہد و عابد نظر آئے۔ یہ حالت ان کی دیکھتے ہی میرے دل پر سخت صدمہ ہوا اور میں گھوڑے سے اتر کر جناب باری کی طرف رجوع کیا اور نماز کی حالت میں یہ دعاء کرنے لگا کہ الٰہی اگر اس قوم کا قتل کرنا طاعت ہو تو مجھے اجازت دے اور اگر معصیت ہو تو مجھے اس پر مطلع فرمادے۔ میں اسی حالت میں تھا کہ علی کرم اللہ وجہہ تشریف لائے اور فرمایا کہ اے جندبؓ خدا کے غضب سے پناہ مانگو۔ اے جندبؓ یاد رکھو کہ ہم میں سے دس شخص شہید نہ ہوں گے اور ان میں سے دس نہ بچیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ طارق بن زیادؒ کہتے ہیں کہ جب وہ لوگ قتل ہو چکے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا کہ ایک قوم ایسی پیدا ہوگی کہ بات سچی کہیں گے مگر ان کے حلق کے نیچے نہ اترے گی اور دین سے وہ ایسے نکلے ہوئے ہوں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ ان کی علامت یہ ہے کہ ان میں ایک شخص سیاہ رنگ ہوگا۔ جس کا ایک ہاتھ ناقص ہوگا اور اس پر چند سیاہ بال ہوں گے۔ ان میں اس کی تلاش کرو اگر وہ مل گیا تو سمجھو کہ تم نے بدترین خلق کو قتل کیا۔ ورنہ بہترین خلق کو تم نے مارا یہ سنتے ہی صحابہؓ کو فکر ہوئی اور بے اختیار رونے لگے اور اس کی تلاش میں سرگرم ہوئے۔ چنانچہ تمام لاشوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس کو نکالا۔ اس کے ملتے ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور تمام صحابہؓ سجدہ شکر میں گرے۔
خوارج کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ حق تعالیٰ عجم میں ایک نبی پیدا کرے گا اور اس پر ایک کتاب نازل ہوگی۔ جو آسمانوں میں لکھی ہوئی ہے۔ غرض جیسے یہ لوگ اپنے چند ہم مشربوں کو مسلمان قرار دے کر دوسروں کو گمراہ ٹھہرائے تھے قادیانی مولوی بھی وہی کر رہے ہیں۔ ان واقعات سے کئی امور مستفاد ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ کمال دلسوزی اسلام اور مسلمانوں کی حالت پر ظاہر کرنا دینداری اور حقانیت کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ دوسرا کمال ریاضت ومجاہدہ و ترک دنیا حقانیت کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ تیسرا مسلمانوں کو بے دین اور خود کو دیندار قرار دینا اہل باطل کا شعار ہے۔
١٤
چوتھا تمام مسلمانوں کے خلاف میں ایک نئی بات ایجاد کرنا اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا خدا اور رسول کے پاس مذموم ہے۔
قادیانی مولوی کو اپنی طبیعت خداداد پر ناز ہے کہ ولی کو پہچان لیتے ہیں۔ اس وجہ سے مرزا قادیانی کو پہچان لیا۔ اس کی تصدیق میں ہمیں کلام ہے۔ جب صحابہ کو خوارج کی ولایت اور ان کے بہترین خلق ہونے کا گمان ہوا اور فی الواقع وہ دھوکا ثابت ہوا تو اب ان سے بڑھ کر ولی کو کون پہچان سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ولی کو حق تعالیٰ پوشیدہ رکھتا ہے۔ اگر قادیانی مولوی اس لحاظ سے کہ ولی را ولی می شناسد! اپنے کو ولی سمجھتے ہیں تو یہ دوسری بات ہے۔ صحابہؓ کی تو یہ حالت تھی کہ بجائے اس کے کہ اپنے کو ولی سمجھیں۔ خود اپنے ایمان کو متہم رکھتے تھے۔ چنانچہ صحیح روایتوں سے ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ اکثر حذیفہؓ سے پوچھا کرتے تھے کہ آنحضرتﷺ نے مجھے منافقوں میں تو شریک نہیں فرمایا حنظلہؓ ایک وقت اپنی حالت قلبی دیکھ کر بے اختیار کہہ اٹھے کہ نافق حنظلہ یعنی حنظلہ منافق ہوگیا اور صدیق اکبرؓ بھی ان کے ہم زبان ہوگئے۔ یہ روایت (مسلم ج ٢ ص ٣٥٥، باب فضل دوام الذکر والفکر فی امور الآخرۃ) میں موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسرے کی ولایت تو کیا اپنی ولایت بھی ہر شخص کو معلوم ہونا ضرور نہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ولایت افعال واعمال کا نام نہیں۔ بلکہ وہ ایک نسبت ہے جو بندہ اور معبود کے بیچ میں ہوتی ہے۔ جس کا ماحصل تقرب الٰہی ہے۔ پھر جس کو تقرب الٰہی ہو تو ضرور نہیں کہ دوسرے کا تقرب بھی اس کو معلوم ہو اور جس کو تقرب ہی نہ ہو تو کسی کا تقرب اسے کیونکر معلوم ہو سکے۔ رہی یہ بات کہ اعمال صالحہ اور قرائن سے کسی کا تقرب معلوم کریں۔ سو وہ قابل اعتبار نہیں ہوسکتا۔ بخاری شریف میں ہے۔ ’’قال رسول اللہ ﷺ ان الرجل لیعمل عمل اہل الجنۃ فیما یبدو للناس وھو من اہل النار وان الرجل لیعمل عمل اہل النار فیما یبدو للناس وھو من اہل الجنۃ (بخاری ج ٢ ص ٦٠٤، باب غزوۃ خیبر)‘‘ یعنی دیکھنے میں بعضوں کے عمل جنتیوں کے ہوتے ہیں اور درحقیقت وہ دوزخی ہوتے ہیں اور بعضوں کے عمل دیکھنے میں دوزخیوں کے ہوتے ہیں اور وہ جنتی ہوتے ہیں مطلب یہ کہ ظاہری اعمال سے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون جنتی ہے اور کون دوزخی۔ ابھی قرامطہ اور خوارج کا حال معلوم ہوا۔ بلعم باعور کا قصہ تفاسیر میں مصرح ہے کہ نہایت مقدس مستجاب الدعوات تھا مگر انجام کار بے دین ہوکر مرا۔ جس کی مذمت قرآن شریف میں ہے۔ ’’ان تحمل علیہ یلہث او تترکہ یلہث (اعراف:١٧٦)‘‘
١٥
رند از رہ نیاز بدار السلام رفت
ہر شخص جس کسی کا مرید ہوتا ہے اس کو ولی سمجھتا ہے۔ پھر ان میں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں کہ پیرومرید دونوں خسر الدنیا والآخرۃ کے مصداق ہیں۔
پس بہر دستے نباید داد دست
صحابہؓ کا زمانہ دوسرے تمام زمانوں سے بہتر اور افضل ہونا اور اس کے بعد ابتری اور خرابی بڑھتی جانا صحیح صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔ جب اس زمانہ کا یہ حال ہو کہ صحابہؓ جن پر حسن ظن کریں وہ خوارج نکلیں تو ہم آخری زمانے والے جن پر حسن ظن کریں خدا ہی جانے ان کی کیا حالت ہو۔ امام سخاویؒ نے ”الجواهر المکللہ فی الاحادیث المسلسلہ“ میں بسند متصل عروہؒ سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہؓ اکثر لبید ابن ربیعہ کے یہ اشعار پڑھا کرتی تھیں۔ ”ذهب الذين يعاش في اكنافهم . وبقيت في خلف كجلد الاجرب . يتحدثون مخافة وملامة . ويعاب قائلهم وان لم يشغب“ یعنی جاتے رہے وہ لوگ جن کے پناہ میں زندگی بسر کی جاتی تھی اور رہ گئے ہیں ایسے ناخلف لوگوں میں جن کی حالت کھجلی بھرے اونٹ کے چمڑے کی ہے باتیں کرتے ہیں وہ لوگ خوف اور ملامت کی اور ان میں کہنے والا اگرچہ کجروی نہ کرے عیب لگایا جاتا ہے۔ عروہ اس حدیث کی روایت کرنے کے وقت کہا کرتے کہ اگر عائشہؓ ہمارے زمانے میں ہوتیں تو معلوم نہیں کیا کہتیں۔ ہشام جو عروہ سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عروہ اگر ہمارے زمانے میں ہوتے تو معلوم نہیں کیا کہتے۔ اسی طرح امام سخاویؒ تک۔
واصل الرواية ہٰذا ”وبالسند المذكور الى ابى بكربن شاذان حدثنا ابوبكر احمد بن محمد بن اسمعيل الهيتى بكسر الهاء والفوقانية وبينهما تحتانية وهو ثقة ثنا يعيش بن الجهم عن ابى حمزة هو انس بن عياض عن هشام بن عروة عن ابيه عن عائشةؓ انها كانت تتمثل بابيات لبيد بن ربيعة“ ”ذهب الذين يعاش فى اكنافهم . بقيت فى خلف كجلد الاجرب . يتحدثون مخافة وملامة ويعاب قائلهم وان لم يشغب . قال عروة رحم الله
١٦
عائشة كيف لو ادركـ زماننا هذا وقال ا يعيش رحم الله ابا يعيش كيف لو ادر لو ادرك زماننا هذا وقال للمبارك رحم ا الله المبارك كيف لو ا لو ادرك زماننا هذ هذا وقال كل من العـ وقال لنا القرشى مريم رحم الله العفيـ العفيف كيف لو اد لو ادرك زماننا هذ کی شکایت کی۔ فرمایا م آپ نے خود نبی ﷺ فشكونا اليه ما نـ الذى بعده شر مـ ص ١٠٤٧ ، باب لا يا ہے کہ جب حجاج کے ذ ترقی پذیر ہے تو اس زمـ فتنہ صرف جسم پر اثر کر تک محدود تھا۔ ان فتنـ ہو گیا۔ ان فتنوں کا اثر
حق تعالیٰ
عائشة كيف لوادركت زماننا هذا وقال هشام رحم الله عروة كيف لوادرك زماننا هذا وقال ابوحمزة رحم الله هشاما كيف لوادرك زماننا هذا وقال يعيش رحم الله اباحمزة كيف لوادرك زماننا هذا وقال الهيتى رحم الله يعيش كيف لوادرك زماننا هذا وقال ابن شاذان رحم الله الهيتى كيف لوادرك زماننا هذا وقال ابوالفتح رحم الله شاذان كيف لوادرك زماننا هذا وقال للمبارك رحم الله ابا الفتح كيف لوادرك زماننا هذا وقال السلفى رحم الله المبارك كيف لوادرك زماننا هذا وقال ابو الحسن رحم الله السلفى كيف لوادرك زماننا هذا وقال الطبری رحم الله ابا الحسن كيف لوادرك زماننا هذا وقال كل من العفيف والقروى رحم الله الطبری كيف لوادرك زماننا هذا وقال لنا القرشى رحم الله القروى كيف لوادرك زماننا هذا وكذا قالت لنا مريم رحم الله العفيف كيف لوادرك زماننا هذا وكذا قالت لنا مريم رحم الله العقيف كيف لوادرك زماننا هذا واقول رحم الله كلا من مشائخنا كيف لوادرك زماننا هذا ”زبیر بن عدیؒ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے انسؓ کے پاس حجاج بن یوسف کی شکایت کی۔ فرمایا صبر کرو جو زمانہ تم پر آتا ہے اس کے بعد کا زمانہ اس سے بدتر ہوگا۔ یہ بات آپ نے خود نبی ﷺ سے سنی ہے۔“ عن الزبير بن عدى قال اتينا انس بن مالك فشكونا اليه ما نلقى من الحجاج فقال اصبروا فانه لايأتى عليكم زمان الا الذى بعده شرمنه حتى تلقوا ربكم سمعته من نبيكم ﷺ (بخاری ج ١ ص ١٠٤٧، باب لاياتي زمان الا الذی بعدہ شر منہ) ”اس حدیث سے ہر شخص اندازہ کرسکتا ہے کہ جب حجاج کے زمانہ سے جس کو تخمیناً بارہ سو برس ہوتے ہیں۔ بدتری اور خرابی روز افزوں ترقی پذیر ہے تو اس زمانہ کے فتنہ انگیز حجاج سے کس درجہ بڑھے ہوئے ہوں گے۔ سچ ہے کہ اس کا فتنہ صرف جسم پر اثر کرتا تھا اور اس زمانہ کے فتنے ایمان پر اثر ڈالتے ہیں۔ اس فتنے کا اثر اسی عالم تک محدود تھا۔ ان فتنوں کا اثر عالم اخروی میں ظاہر ہونے والا ہے۔ اس فتنے کا اثر چند روز میں فنا ہوگیا۔ ان فتنوں کا اثر جس پر ہوا ابداً لآباد باقی رہا۔
حریفاں را نہ سر ماند نہ دستار
حق تعالیٰ ہم کو اور ہمارے احباب اور جمیع اہل اسلام کو توفیق عطاء فرمائے کہ اپنے
١٧
ایمان کی قدر کریں اور ہر کس و ناکس کے فریب میں آ کر ایسے گوہر بے بہا کو کھو نہ بیٹھیں۔ قادیانی مولوی مرزا قادیانی کی تائید اسلام اور تقدس سے متعلق جتنی باتیں بیان کرتے ہیں ان کا انکار کرنے کی ہمیں ضرورت نہیں۔ مگر یہ حقانیت کا قرینہ قطعیہ نہیں ہو سکتا۔ کتب تاریخ سے ظاہر ہے کہ حجاج بن یوسف نے بخارا سے ملتان تک صد ہا شہر فتح کر کے سرحد اسلام میں داخل کر دیا۔ جن میں کروڑ ہا اہل اسلام پیدا ہوئے اور بفضلہ تعالیٰ اسی تائید کا اثر قیامت تک جاری رہے گا۔ باوجود اس کے دیکھ لیجئے کہ اسلام میں حجاج ظالم کی کیا وقعت ہے۔ یہ تو ہمارے دین کا خاصہ ہے کہ حق تعالیٰ اس کی تائید بدکاروں سے بھی کرایا کرتا ہے۔ جیسا کہ صراحتاً اس حدیث شریف سے ظاہر ہے۔ ”قال النبی ﷺ ان الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (البخاری ج ٢ ص ٦٠٩ ، باب غزوة خيبر) ”غرض مرزا قادیانی کی تائید اسلام میں ہماری گفتگو نہیں، کلام ہے تو صرف اس میں ہے کہ مرزا قادیانی عیسیٰ موعود بننا چاہتے ہیں۔ اگرچہ اس میں بھی ہمیں کلام کرنے کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اس زمانہ میں نبوت تو کیا اگر کوئی خدائی کا بھی دعویٰ کرے تو کوئی نہیں پوچھتا۔ مگر چونکہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے ارشادات میں وہ تصرف کر رہے ہیں۔ اس لئے ہم پر حق ہے کہ جہاں تک ہو سکے ان کی حفاظت کریں اور اپنے ہم مشربوں کو ان کا اصلی مطلب معلوم کرا دیں۔ اس پر بھی اگر کوئی نہ مانے تو ہمارا کوئی نقصان نہیں۔ ہم کو اپنا حق ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ وما علينا الا البلاغ !
مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”احادیث سے ثابت ہے کہ آخری زمانے میں مسلمانوں کے صفات اور حالات ایسے ہوں گے جیسے مسیح ابن مریم کے مبعوث ہونے کے وقت یہود کی حالت تھی۔ بلکہ یہ لفظ یعنی عیسیٰ ابن مریم اس غرض سے اختیار کیا گیا ہے۔ تا ہر ایک کو خیال آ جائے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے ان مسلمانوں کو جن میں ابن مریم کے اترنے کا وعدہ دیا تھا یہود ٹھہرا لیا ہے۔ جیسے یہودیوں کا نام خدا تعالیٰ نے بندر اور سور رکھا اور فرمایا ”وجعل منهم القردة والخنازير“ اسی طرح اپنا نام عیسیٰ ابن مریم رکھ دیا اور اپنے الہام میں فرما دیا۔ ”جعلناك المسيح ابن مریم“
(ازالۃ اوہام ص ٤٧٣ خزائن ج ٣ ص ٤٤٢)
پھر دس بیس صفات مذمومہ مثل بغض وحسد اور تفرقہ وغیرہ جو اس زمانے کے بعض مسلمانوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ وہ اس زمانہ کے یہود میں بیان کئے جو عیسیٰ علیہ السلام کے مبعوث ہونے کے وقت تھے۔ مقصود اس سے یہ کہ ان لوگوں میں یہ صفات ہونے کے وجہ سے عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ اب بھی وہی صفات اس وقت کے مسلمانوں میں آگئے ہیں۔
١٨
اس لئے اب وہ یہود ہیں اور عیسیٰ کی ان کے لئے ضرورت ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ ”لکل فرعون موسیٰ“ اس صورت میں وہ عیسیٰ مراد نہیں جو نبی تھے۔ بلکہ ان کا مثل اور شبیہ مراد ہے۔ صفات مذمومہ جو دونوں فرقوں میں مشترک بتائے گئے ہیں۔ اس کا ثبوت کسی حدیث یا تاریخ کی کتاب سے نہیں دیا گیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا جن احادیث میں ذکر ہے ان میں نہ تو یہود کا نام ہے نہ ان کے ان صفات کا ذکر جو عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ان میں آگئی تھیں۔ یہ مسلم ہے کہ جب تک کسی قوم میں صفات مذمومہ نہیں پائی جاتیں اس قوم میں نبی کے مبعوث ہونے کی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ آیت شریف ”ان اريد الا الاصلاح (ھود:٨٨)“ سے ظاہر ہے اور وہ صفات مذمومہ اسی قسم کے ہوتے ہیں جو بیان کی گئی ہیں۔ مگر اس میں قوم یہود کی تخصیص سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر کوئی خصوصیت تھی تو چاہئے تھا کہ پہلے وہ خصوصیت قرآن وحدیث سے بیان کی جاتی۔ اس وقت لکل یہودی عیسیٰ صحیح ہوتا۔ جیسے لکل فرعون موسیٰ صحیح ہے یہ تو اس واسطے صحیح ہے کہ فرعون کا سرکش ہونا اور موسیٰ علیہ السلام کا سرکوب ہونا ہر شخص جانتا ہے اور یہ کوئی نہیں جانتا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے یہود میں کون سی صفات تھیں۔ جس کی اصلاح کے لئے عیسیٰ علیہ السلام آئے تھے۔ اگر بالفرض وہ صفات معلوم بھی ہوتے تو دونوں طرف علم توصیفی کہے جاتے۔ جیسے ”لکل فرعون موسیٰ“ میں ہے۔ اگر زید شرارت کرے تو لزید موسیٰ کہنا ہرگز محاورہ کے مطابق نہ ہوگا۔ یہی صورت یہاں بھی ہو رہی ہے۔ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے اس قدر فرمایا کہ تم میں عیسیٰ آئیں گے۔ یہ کسی حدیث میں نہیں کہ تم یہود ہو جاؤ گے یا تم میں یہود کے صفات آ جائیں گے۔ اس لئے تم میں عیسیٰ آئے گا۔ البتہ یہ ثابت ہے کہ آخری زمانے والے امم سابقہ کی پیروی کریں گے۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی کہ میری امت اگلی امتوں کے پورے پورے صفات اختیار نہ کرے گی۔ صحابہؓ نے عرض کیا وہ لوگ فارس اور روم ہیں؟ فرمایا ان کے سوا اور کون۔ (کنز العمال ج ١٤ ص ٢٧٠، حدیث نمبر ٣٨٤١٥) میں یہ حدیث (بخاری ج ٢ ص ١٠٨٨، باب قول النبی ﷺ لتتبعن سنن من کان قبلکم) سے نقل کیا ہے۔
اب اس تصریح کے بعد یہ کہنا کہ یہ امت یہود ہو جائے گی۔ اس لئے کوئی عیسیٰ آئے گا۔ خلاف احادیث ہے۔
کنز العمال میں صد ہا حدیثیں خروج دجال اور نزول عیسیٰ علیہ السلام اور تغیر حال امت اور علامات قیامت کے باب میں وارد ہیں۔ کوئی حدیث ان میں ایسی نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ
١٩
امت میں یہود کی صفات پیدا ہو جائیں گی۔ اس کی وجہ سے عیسیٰ پیدا ہوں گے۔ پھر جس طرح فساد امت کے باب میں احادیث وارد ہیں اس کی مدح میں بھی آیات واحادیث وارد ہیں۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”کنتم خیر امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنکر“ یعنی کل امتوں سے یہ امت بہتر ہے اور احادیث میں وارد ہے کہ ”کبھی یہ امت گمراہی پر اتفاق نہ کرے گی۔ (کنز العمال ج ١٤ ص ٤٨، حدیث نمبر ٣٧٩٠١) اہل باطل اس امت کے اہل حق پر غالب نہ ہوں گے۔ بلکہ آخر امت کی بھی خاص خاص فضیلتیں وارد ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ میرے امت کی مثال ایسی ہے جیسے بارش کا پانی نہیں معلوم کہ اس کا اوّل اچھا ہے یا آخر۔“
(کنز العمال ج ٦ حدیث ٢٠٠)
اور فرماتے ہیں ”کیونکر ہلاک ہوگی وہ امت جس کے شروع میں میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ ابن مریم اور بیچ میں مہدی جو میرے اہل بیت سے ہوں گے۔“
(کنز العمال ج ١٤ ص ٢٦٩، حدیث نمبر ٣٨٦٨٢)
”حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ حضرتﷺ نے استفسار فرمایا کہ تمام اہل ایمان میں افضل کون لوگ ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ملائکہ ہوں گے۔ فرمایا کہ ان کے ایمان میں کیا شک ان کا مرتبہ تو ایسا ہی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا انبیاء ہونگے۔ فرمایا ان کے ایمان میں کیا شک۔ ان کا بھی ایسا ہی مرتبہ ہے۔ عرض کیا شہداء ہوں گے۔ جو انبیاء کے ساتھ حاضر رہے فرمایا ان کو خدا تعالیٰ نے ایسا ہی مرتبہ دیا ہے کہ انبیاء کے ساتھ رہیں۔ فرمایا ان کے سوا کہو سب نے عرض کیا حضرت ہی فرمادیں۔ ارشاد ہوا وہ لوگ وہ ہیں جو اب تک موجود نہیں ہوئے۔ وہ میرے بعد پیدا ہوں گے اور بغیر دیکھے کے مجھ پر ایمان لائیں گے اور صرف اوراق دیکھ کر اس پر عمل کریں گے ایمان والوں میں یہ لوگ افضل ہیں۔“
(کنز العمال ج ١٤ ص ٤١، حدیث نمبر ٣٧٨٨٠)
ان کے سوا اور کئی حدیثیں اس امت مرحومہ کی فضیلت پر دال ہیں۔ ان احادیث سے اس امر کی تائید بخوبی ہوسکتی ہے کہ اس امت کی عظمت اور رفعت شان کی وجہ سے عیسیٰ علیہ السلام جو نبی اللہ تھے وہی اس امت میں تشریف لائیں گے۔ اس لئے کہ دجال کا فتنہ جو اس امت مرحومہ کے اخیر میں ہونے والا ہے۔ ایک ایسا پُرآشوب فتنہ ہے کہ خدا ہی اس سے پناہ دے۔ تمامی انبیاء اپنی اپنی امتوں کو اس سے ڈراتے آئے۔ چنانچہ بخاری شریف میں یہ حدیث مروی ہے۔ ”ان عبدالله بن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ في الناس فاثنى على الله بما هو
٢٠
اهله ثم ذكر الدجال فقال انى لانذركموه وما من نبى الا انذر قومه لقد انذر نوح قومه ولكنى اقول لكم فيه قولا لم يقله نبى لقومه تعلمون انه اعور وان الله ليس باعور (بخاری ج ٢ ص ١٠٥٥ باب ذکر الدجال) ”یعنی ایک روز نبی کریم ﷺ نے خطبہ پڑھا اور حمد کے بعد دجال کا ذکر کر کے فرمایا میں اس سے تم کو ڈراتا ہوں۔ کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا نہیں ۔ یہاں تک کہ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا۔ لیکن میں ایک ایسی بات تمہیں کہتا ہوں کہ کسی نبی نے نہیں کہی۔ یاد رکھو کہ وہ کانا ہے اور اللہ کانا نہیں۔
غور کرنے کی بات ہے کہ باوجودیکہ اس فتنہ کا وقت علم الہی میں معین تھا کہ قریب قیامت حضرت کی آخر امت میں ہوگا۔ مگر شہرت اس کی نوح علیہ السلام ہی کے وقت سے دی گئی۔ جس سے ہر فرد بشر پناہ مانگتا تھا اور انبیاء ڈراتے رہے۔ وہ فتنہ کس بلا کا ہوگا۔ جس کی دھوم عالم میں قبل از وقوع واقعہ اس قدر مچی ہوئی تھی۔ حالانکہ دنیا میں صد ہا بلکہ ہزار ہا اشد وقائع اور فتنے ہوئے ۔ مگر کسی زمانے میں ان سے پناہ مانگی نہ گئی ۔ یہ فتنہ معمولی نہیں بلکہ قیامت کا نمونہ ہوگا کہ نقشہ قیامت کا پیش نظر کر دے گا۔ جو فتنہ غیر معمولی اور فوق طاقت بشری ہو اس کے دفع کرنے کا اہتمام بھی غیر معمولی طور پر ہونا مقتضائے حکمت ہے ۔ جس سے اس فتنے کی وقعت اور بھی زیادہ ہو جائے۔ یعنی اس اہتمام سے یہ خیال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جس کے دفع کرنے کے لئے انبیائے اولوالعزم سے خاص ایک نبی جلیل القدر مقرر ہو وہ کیسا فتنہ ہوگا۔ غرض جس طرح تمام انبیاء کا ڈرانا اہل ایمان کے دلوں کو متزلزل اور اللہ تعالیٰ کے طرف پناہ لینے پر مضطر کرتا ہے۔
نزول عیسیٰ علیہ السلام بوجہ خصوصیت و احترام امت است نہ بوجہ فساد آن
عیسیٰ علیہ السلام کو خاص اس کے فرو کرنے کے لئے متعین کرنا اس اثر قلبی کو دو بالا کرتا ہے اور اس میں بڑی مصلحت یہ ہے کہ کمال درجہ کی خصوصیت اس امت مرحومہ کی اور کمال درجہ کا فضل و احسان اس پر مبذول ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر چند وہ فتنہ کتنا ہی عظیم الشان ہو مگر اس کے دفعیہ کی تدبیر بھی خاص طور پر پہلے ہی سے کر دی گئی ۔ تا کہ ہر مسلمان بصدق دل حق تعالیٰ کا شکر گزار اور اپنے نبی کریم ﷺ پر سو جان سے نثار رہے کہ ان کی وجاہت اور رواداری کے طفیل سے کیسی کیسی بلائیں ہمارے سر سے حق تعالیٰ ٹال دیتا ہے۔ اگر ایسی نعمت عظمی کی قدر ہم نہ کریں تو بڑی کفران نعمت ہے۔ حاصل یہ کہ اس امت کی خرابیاں اس امر پر قرینہ نہیں کہ عیسیٰ فرضی ان خرابیوں کو دفع کرنے کے لئے آئے گا۔ بلکہ اس امت کی جلالت شان اس امر پر قرینہ ہے کہ حق
٢١
تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عیسیٰ علیہ السلام کو مامور فرمایا کہ اشد ضرورت کے وقت تشریف لا کر دشمن قوی کے ہاتھ سے اس کو بچاویں اور اس کے دشمن کو مقہور کر کے نئے سرے سے اس امت کا سکہ تمام عالم میں جمادیں اور خود بھی سید المرسلین ﷺ کے امتی ہونے کا فخر جس کی ایک زمانہ دراز سے آرزو تھی حاصل کریں۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء یفعل اللہ ما یشاء ویحکم ما یرید۔ حدیث مذکورہ بالا میں آپ نے دیکھ لیا ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں دجال کی وہ علامت تم سے کہتا ہوں جو کسی نبی نے نہیں کہی۔ وہ یہ ہے کہ دجال اعور ہے اور اللہ اعور نہیں۔ اس کا مطلب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ دجال الوہیت کا دعویٰ کرے گا۔ کیونکہ اس کے ذکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور اس کو ایک صفت مختصہ سے ممتاز کر دینا اس بات پر دلیل بین ہے کہ لوگوں کو اس کی شوکت اس کی قدرت ظاہری سے اس کی الوہیت کا گمان ہوگا اور کیوں نہ ہو جس کو حق تعالیٰ کے طرف سے اتنی قدرت حاصل ہو جائے کہ مردوں کو زندہ کرنے لگے تو ضعیف الایمان لوگوں کو اس کی الوہیت کا شبہ ضروری ہوگا۔
اس کا مردوں کو زندہ کرنا اس حدیث شریف سے ثابت ہے۔ جو (بخاری ج ٢ ص ١٠٥٦، باب لا یدخل الدجال المدينة) میں ہے۔ ان ابا سعيد الخدرى قال حدثنا النبي ﷺ يوما حديثا طويلا عن الدجال فكان فيما ليحدثنا به انه قال يأتى الدجال وهو محرم عليه ان يدخل نقاب المدينة فينزل بعض السباخ التی تلى المدينة فيخرج اليه يومئذ رجل وهو خير الناس او من خيار الناس فيقول اشهد انك الدجال الذى حدثنا رسول الله ﷺ حديثه فيقول الدجال ارایتم ان قتلت هذا ثم احييته هل تشكون فيقولون لا فيقتله ثم يحييه فيقول والله ما كنت فيك اشد بصيرة منی الیوم فیرید الدجال ان یقتله فلا يسلط عليه “ یعنی ایک روز آنحضرت ﷺ نے دجال کے بہت سے احوال بیان فرمائے۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ وہ مدینہ میں داخل نہ ہو سکے گا۔ مگر کسی زمین شور میں آکر مقام کرے گا۔ اس وقت ایک بزرگ اس کے پاس جاکر کہیں گے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی دجال ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا کہ اگر میں اس شخص کو قتل کر کے زندہ کردوں تو کیا جب بھی میرے کام میں یعنی خدائی میں تمہیں شک رہے گا۔ لوگ کہیں گے نہیں تب وہ ان کو قتل کر ڈالے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔ وہ بزرگ زندہ ہوتے ہی کہیں گے کہ اب تو تیرے دجال ہونے کا مجھ کو اور بھی یقین ہو گیا۔ غرض اس قسم کی قدرتیں اس کو حاصل ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کو
٢٢
خبر دار فرمادیا کہ کتنی ہی
خدا کا نا نہیں ہے۔
مرزا قادی
پادریاں مراد ہے۔“
(کتاب البریہ ص ٥
انہوں ۔
نہیں ہو سکتا۔ کسی شخص
بٹالوی کو بتا دیتے۔ ا
غرض بحمدہ ہی ایک گر
یوں تو ب
بخاری شریف کو بہت
انہیں دو حدیثوں کو ٹ
معلوم ہوتا ہے یا ایک
ان حد
جیسا کہ دوسرے ا
(کنزالعمال ج ١٤
لئے عیسیٰ علیہ السلا
دجال موعود کی خصو
سے معلوم ہوئی۔
اور بعض میں تمیم
(کنزالعمال ج ١٤
چونکہ اب تک سنا
صادق نہیں آسکا
ص ٤٨٨، خزائن ج
پہلے تو وہ قابل شا
نہ بتائے جائیں
خبردار فرما دیا کہ کتنی ہی قدرت اس کو حاصل ہو مگر سمجھ رکھو کہ وہ خدا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ کانا ہے اور خدا کانا نہیں ہے۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ’’دجال کسی ایک آدمی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ اس سے گروہ پادریاں مراد ہے۔‘‘
(کتاب البریہ ص ٢٢٥، ٢٢٤ حاشیہ خزائن ج ١٣ ص ٢٤٣، ٢٤٤، ازالہ اوہام ص ٤٨٨ خزائن ج ٣ ص ٣٦٢)
انہوں نے ان کو اس لئے اختیار کیا کہ اگر شخص معین مراد ہو تو ان کا دعویٰ عیسویت صحیح نہیں ہو سکتا۔ کسی شخص کو دجال معین کر کے بتلانا پڑتا۔ اگرچہ ممکن تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بتا دیتے۔ اس لئے کہ وہ ان کے سخت مخالف ہیں۔ مگر ان سب صفات کی تطبیق مشکل تھی۔ غرض مجبوری ایک گروہ کو دجال قرار دینے کی انہیں ضرورت ہوئی۔
یوں تو دجال کے باب میں بہت سی حدیثیں وارد ہیں۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی بھی بخاری شریف کو بہت مانتے ہیں۔ جیسا کہ ازالہ اوہام وغیرہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لئے بالفعل ہم انہیں دو حدیثوں کو پیش کرتے ہیں جو ابھی لکھی گئیں۔ انہیں میں غور کیا جائے کہ آیا دجال ایک شخص معلوم ہوتا ہے یا ایک قوم ہے؟
ان حدیثوں میں لفظ دجال مفرد ہے۔ اگر جماعت مقصود ہوتی تو لفظ دجالون آتا۔
جیسا کہ دوسرے احادیث میں وارد ہے۔ ”قال النبی ﷺ فی امتی کذابون دجالون (کنز العمال ج ١٤ ص ١٩٦، حدیث نمبر ٣٨٣٦٠)“ یہ دجال لوگ دجال موعود نہیں۔ جس کے لئے عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔ صرف مشابہت کی وجہ سے وہ دجال ٹھہرائے گئے ہیں۔ کیونکہ دجال موعود کی خصوصیات ان میں پائی نہیں جاتیں۔ پھر یہ دجال جن کی کثرت اس حدیث شریف سے معلوم ہوئی ہے۔ مثل پادریوں کے غیر محدود نہیں۔ بلکہ ان کی تعداد بعض روایات میں ستائیس اور بعض میں تیس تک وارد ہے اور ان دجالوں کی شناخت بھی حضرت ﷺ نے فرمادی ہے (کنز العمال ج ١٤ ص ١٩٧، حدیث ٣٨٣٧٢) کہ وہ سب یہ دعویٰ کریں گے کہ ہم اللہ کے رسول ہیں اور چونکہ اب تک سنا نہیں گیا کہ کسی پادری نے رسالت کا دعویٰ کیا ہو۔ اس لئے کسی پادری پر لفظ دجال صادق نہیں آسکتا اور اگر دجال سے پوری قوم پادریاں مراد ہے۔ جیسے مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٤٨٨ خزائن ج ٣ ص ٣٦٢) میں لکھتے ہیں کہ ’’لغت میں دجال جھوٹوں کے گروہ کو کہتے ہیں۔‘‘ تو پہلے تو وہ قابل تسلیم نہیں اس لئے کہ یہ معنی لغوی بیان کئے گئے ہیں۔ جب تک کسی کتاب لغت سے نہ بتائے جائیں قابل تسلیم نہیں اور اگر بفرض محال تسلیم بھی کر لئے جائیں تو ہمیں یہاں لغوی معنی
٢٣
سے بحث نہیں۔ ہمارا کلام اس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دجال کو جو استعمال فرمایا اس کے معنی یہاں کل قوم پادری ہو سکتے ہیں یا نہیں۔
حدیث مذکورہ بالا میں مصرح ہے کہ دجال مدینہ شریف کی کسی زمین شور میں اترے گا اور یہ بھی احادیث سے ثابت ہے کہ وہاں اس کا جانا قبل نزول عیسیٰ علیہ السلام ہوگا۔ حالانکہ ہمیں یقیناً معلوم ہے کہ کل گروہ پادریان نہ اب تک وہاں پہنچا نہ آئندہ کے لئے یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ سب کے سب جمع ہو کر تمام ایشیاء اور یورپ کو خالی کر کے اس زمین پاک میں جائیں گے۔ پھر مجموع گروہ پادریان لفظ دجال سے کیونکر مراد ہو سکتی ہے۔
پھر ان بزرگوار کا جس کا ذکر حدیث موصوف میں ہے۔ لاکھوں آدمیوں کے مقابلہ میں جا کر یہ کہنا کہ ”اشهد انك الدجال“ کیونکر صحیح ہوگا۔ اس وقت یوں کہنا چاہئے ”اشهد انكم الدجالون يا انكم الدجال“ اسی طرح اس کا ساتھیوں سے پوچھنا کہ اگر میں اس کو مار کر زندہ کروں تو جب بھی تمہیں شک باقی رہے گا کیونکر صحیح ہوگا۔ کیا اس جملے کو لاکھوں پادری ہم زبان ہو کر ادا کریں گے اور سب مل کر ہاتھوں ہاتھ ان کو مار ڈالیں گے۔ پھر سب مل کر زندہ کریں گے۔ اسی طرح اس بزرگ کا مخاطبہ ”ما كنت اشد بصيرة فيك“ صیغہ واحد کے ساتھ وغیرہ ان قرائن سے ہر شخص کا وجدان گواہی دیتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پیش نظر اس ارشاد کے وقت ایک ہی شخص تھا یہ بات دوسری ہے کہ قرائن خارجیہ کے لحاظ سے کسی ضعیف الایمان کی عقل اس کو تمیز نہیں کرتی ہو۔ جس کی پابندی مرزا قادیانی کر رہے ہیں۔ ہمارا کلام صرف اسی نقلی امر میں ہے جو حدیث شریف سے سمجھا جاتا ہے۔ جس پر ایمان لانا ہر ایمان دار کو ضرور ہے۔
الحاصل ان حدیثوں پر غور کرنے کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ گروہ پادریوں کو آنحضرت ﷺ نے دجال قرار دیا۔ ان کے سوا کئی حدیثیں ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ دجال پادریوں کا نام نہیں۔ چنانچہ مجملہ ان کے چند حدیثوں کا مضمون یہاں لکھا جاتا ہے۔
- ١...... دجال کی ماں باپ کو تیس سال تک اولاد نہ ہوگی۔
(کنزالعمال ج ١٤ ص ٣٠٤، حدیث نمبر ٣٨٧٧٤)
- ٢...... دجال کا باپ دراز قد کم گوشت ہوگا اور اس کی ناک چونچ کے جیسی ہوگی
اور اس کی ماں کے پستان دراز ہوں گے۔
(کنزالعمال ج ١٤ ص ٣٠٤، حدیث نمبر ٣٨٧٧٤)
- ٣...... دجال یہودی ہوگا مرزا قادیانی نصاریٰ کے پادریوں کو دجال کہتے ہیں۔
- ٤...... دجال کا حلیہ یہ ہے کہ وہ جوان ہوگا اور اس کی تشبیہ ایک شخص کے ساتھ دی
٢٤
گئی جو حضرت ﷺ کے زمانے میں موجود تھا اور صحابہؓ اس کو پہچانتے تھے۔
(ترمذی ج ٢ ص ٥٠، باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد)
- ٥...... اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔
(کنزالعمال ج ١٤ ص ٢٨٢، ٢٩٩، حدیث ٣٨٧٢٧، ٣٨٨٣٧)
- ٦...... اس کو اولاد نہ ہوگی۔ (کنزالعمال ج ١٤ ص ٢٩٩، حدیث ٣٨٨٤٩)
- ٧...... جب وہ سوئے گا تو اس کی آنکھیں بند رہیں گی اور دل بیدار۔
(کنزالعمال ج ١٤ ص ٣٠٤، حدیث ٣٨٨٧٧)
- ٨...... وہ اصفہان کے بعض دیہات سے نکلے گا۔
(کنزالعمال ج ١٤ ص ٣٠٤، حدیث ٣٨٨٢٢، ٣٨٨٢٤)
- ٩...... وہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ سیاحت کرے گا۔
(کنزالعمال ج ١٤ ص ٦٠٥، ٦٠٧، حدیث ٣٩٦٩٩، ٣٩٧٠١)
- ١٠...... نہروں پر دجال کا مسلمانوں کے ساتھ مقابلہ ہوگا۔ مسلمان غربی جانب
میں ہوں گے اور وہ شرقی جانب میں۔
- ١١...... عیسیٰ علیہ السلام اترتے ہی اس کو اور اس کے لشکر کو ہزیمت دیں گے اور
اس کو قتل کریں گے۔ اس وقت ہر چیز یہاں تک کہ دیواریں اور جھاڑیوں کی ٹہنیاں مسلمانوں کو پکار کر کہیں گی کہ کافر یہاں چھپا ہوا ہے اس کو مارلو۔
(کنز العمال ص ٣١٥، ٦٢٠، حدیث ٣٨٧٩١، ٣٩٧٤٠)
- ١٢...... دجال کے زمانہ میں مسلمانوں کی غذا تسبیح و تقدیس ہوگی۔ جس سے ان کی
بھوک جاتی رہے گی۔ (کنزالعمال ص ٣٠٠، حدیث ٣٨٧٥٥)
- ١٣...... دجال جبل احد پر چڑھ کر مدینہ شریف کو دیکھے گا اور اپنے ساتھیوں سے
کہے گا کہ سفید محل احمد (حضرت ﷺ) کی مسجد ہے۔ پھر مدینہ میں جانا چاہے گا۔ مگر جا نہ سکے گا۔ اس وقت مدینہ میں تین زلزلے ہوں گے۔ جن سے منافق اور فاسق نکل پڑیں گے۔
(کنزالعمال ص ٣٣٠، حدیث ٣٨٨٣٤)
ان کے سوا اور بہت سے حالات اور خصوصیات دجال کی احادیث میں مذکور ہیں۔ جن میں سے چند علامات کو مرزا قادیانی نے ازالۃ الاوہام میں ذکر کر کے بعض کو تو رد ہی کر دیا اور بعضوں میں تاویلیں کیں۔
موضوعیت احادیث
اگرچہ محدثین بھی بعض احادیث کو موضوع اور بعض کو ضعیف ٹھہرایا کرتے ہیں۔ لیکن ان کے پاس یہ قاعدہ مقرر ہے کہ جب تک کسی حدیث کے راویوں میں کوئی جھوٹا حدیثیں دل سے تراشنے والا ثابت نہ ہو جائے اس کی روایت کو ساقط الاعتبار نہیں کر سکتے۔ پھر اگر ایسا شخص کسی حدیث کے راویوں میں پایا جانے کی وجہ سے حدیث کو موضوع یا ضعیف ٹھہراتے ہیں تو جب بھی یہ کھٹکا ان کو لگا رہتا ہے کہ شاید وہ حدیث موضوع نہ ہو۔ اس لئے کہ آخر جھوٹا کبھی سچ بھی کہتا ہے۔ اس وجہ سے وہ تلاش کرتے ہیں کہ وہ روایت کسی اور طریقہ سے آئی ہے یا نہیں۔
غرض وہ کمال احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ کیونکہ جو بات نبی کریم ﷺ نے واقع میں فرمائی ہو اس کو لغو کر دینا یا نہ ماننا کمال درجہ کی بے ایمانی ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھو (حشر:٧)“ جو کچھ تمہیں رسول اللہ ﷺ دیں اس کو لو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔ اس تحقیق و تنقیح سے مقصود یہ ہے کہ واقعی طور پر حضرت کا فرمانا ثابت ہو جائے۔ اس کام کے لئے انہوں نے خاص ایک علم اصول حدیث مدون کیا ہے۔ جس میں تحقیق و تنقیح کے قواعد مقرر ہیں اور ایک فن خاص روایان حدیث کی تحقیق کے لئے مدون کیا ہے۔ جس کو فن رجال کہتے ہیں۔ اس میں روایان حدیث کی سوانح عمریاں لکھی جاتی ہے۔ ہر محدث کا فرض ٹھہرایا گیا ہے کہ جس محدث سے ملاقات ہو خواہ وہ استاد ہو یا ہم عصر اس کے حالات کی پوری پوری تحقیق کر کے اپنے شاگردوں اور ملاقاتیوں کو اس پر مطلع کر دیں۔ تاکہ آئندہ آنے والوں کو اس کے پورے احوال معلوم رہیں۔ جس سے اس کی روایتوں کے ضعف و قوت کا اندازہ کر سکیں۔ کسی حدیث کے خلاف عقل یا نقل ہونے سے اس حدیث کو وہ رد نہیں کر سکتے۔ جب تک اس کا راوی مخدوش مجروح ثابت نہ ہو۔ کیونکہ جب نبی کا ارشاد سچے لوگوں کی روایت سے ثابت ہو جائے تو مومن کو اس کا ماننا ضروری ہے۔ اس میں عقل کو دخل ہی کیا جتنے لوگ کافر رہ گئے۔ اکثر بلکہ کل کو عقل ہی نے تباہ کیا۔
مگر مرزا قادیانی نے یہ نیا طریقہ ایجاد کیا ہے کہ جو حدیث ان کے مقصود کے مضر یا مخالف ہو اس کو صاف باطل کہہ دیتے ہیں۔ پھر اس پر بھی اکتفا نہیں۔ اس کے ماننے والوں کو مشرک اور بے دین بھی ٹھہراتے ہیں۔ دیکھ لیجئے جن احادیث میں دجال کے استدراج مثلاً زندہ کرنا پانی برسانا وغیرہ امور مذکور ہیں۔ ذکر کر کے صاف لکھ رہے ہیں کہ یہ مشرکوں کے اعتقاد ہیں۔ اب غور کیجئے یہ سب احادیث حدیثوں کی کتابوں میں موجود ہیں اور ان کتابوں پر کس کو
اعتقاد نہیں۔ تمام فقہاء انہی کتابوں سے استدلال کرتے ہیں۔ تمام اولیاء اللہ انہیں سے استفادہ کرتے ہیں۔ تمام اہل اسلام انہیں کتابوں کو اپنے دین کی کتابیں سمجھتے ہیں۔ اگر بقول مرزا قادیانی یہ اعتقادات شرک ہیں تو ان کتابوں کو شرک سے بھری ہوئی کہنا پڑے گا اور ان کے جمع کرنے والوں کو مشرک ۔ معاذ اللہ !
ابھی معلوم ہوا کہ دجال کے زندہ کرنے کی حدیث بخاری شریف میں موجود ہے اور کنز العمال سے ظاہر ہے کہ تقریباً کل محدثین نے دجال کے اس قسم کے استدراج کی حدیثیں بکثرت روایت کی ہیں۔ اوّل درجہ میں ان حضرات پر الزام شرک کا عائد ہوتا ہے۔ پھر ان کتابوں کے معتقدوں پر جن میں جمیع اہل سنت و جماعت شریک ہیں۔ پھر یہ سلسلہ صرف محدثین ہی پر ختم نہیں ہوسکتا۔ ان حدیثوں کے کل رواۃ صحابہؓ تک اس الزام سے بچ نہیں سکتے اور بڑے غضب کی یہ بات ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد فرمانا وہ بھی عین خطبہ میں جو خاص احکام الٰہی پہنچانے کے لئے موضوع ہے کس قدر وحشت انگیز ہوگا۔
اس سے بڑھ کر سنئے ”ازالۃ الاوہام ص٣٢٢، خزائن ج٣ ص٢٦٣“ میں لکھتے ہیں کہ: ”یہ اعتقاد بالکل فاسد اور غلط اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا ۔“ یہ مشرکانہ خیال کس اعتقاد کی نسبت جو قرآن شریف سے ثابت ہے۔ ”واذ تخلق من الطین کھیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیھا فتکون طیراً باذنی (مائدہ:١١٠)“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام مٹی سے پرندے بنا کر ان میں پھونکتے تو حق تعالیٰ کے اذن سے وہ پرندے ہو جاتے تھے۔ اس کے بعد ہمیں تقریر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اہل ایمان خود سمجھ سکتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر اور کیا بے باکی ہوگی۔
آنست جوابش کہ جوابش ندہی
ہم نے مانا کہ مرزا قادیانی ان احادیث میں تاویل کر کے اپنی مرضی کے موافق بنا لیتے ہیں۔ مگر اس کا کیا جواب ہوگا کہ خود (ازالۃ الاوہام ص٥٤٠، خزائن ج٣ ص٣٩٠) میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”النصوص یحمل علی الظواھر مسلم ہے۔“ یعنی یہ بات مسلم ہے کہ نصوص کے ظاہری معنی لئے جاتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ صحابہ و غیرہم نے ان احادیث کے معنی وہی سمجھے جو مثل روز روشن ظاہر و باہر ہیں اور اس پر قرینہ قطعیہ یہ ہے کہ نہ آنحضرت ﷺ نے ان کی تاویل کی طرف کبھی اشارہ فرمایا نہ صحابہؓ سے کوئی تاویل مروی ہے۔ نہ کسی محدث وفقیہ نے تاویل کی۔ بلکہ
جہاں ان کا مضمون بیان کیا وہی بیان کیا جو ہر شخص سمجھتا ہے۔ بہرحال تاویل نہ کرنے والے شروع سے آخر تک بقول مرزا قادیانی مشرک ٹھہر رہے ہیں۔ جن کی کوئی دوسری بات بھی قابل اعتبار نہیں رہ سکتی۔ اس لئے کہ مستند اور معتبر تو وہ شخص ہو سکتا ہے جو متدین ہو اور آدمی کو غیر متدین بنانے والی شرک سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔
مرزا قادیانی نے اس مسئلہ میں اپنی تمام جودت طبع صرف کر کے ایسے ایسے مضامین تحریر فرمائے ہیں کہ کسی کو اب تک نہ سوجھے۔ شرک کی وہ ڈانٹ بتائی کہ بھولے بھالے خوش اعتقاد لوگ گھبرا کر مرزا قادیانی کا کلمہ پڑھنے لگے اور شدہ شدہ ایک گروہ بن گیا۔
ابھی آپ کو معلوم ہو چکا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس قسم کا شرک آیہ شریفہ ”ان الحکم الا للہ (انعام:٥٧)“ سے ثابت کر کے حضرت علی کرم اللہ وجہہ و غیرہ صحابہؓ کے ذمے لگایا گیا تھا۔ جس نے بہتوں کو راہ استقامت سے ہٹا کر زمرہ خوارج واہل ہوا میں شریک کر دیا۔ جس کا سلسلہ آج تک ختم نہیں ہوا۔ مگر اہل حق اس شرک مصنوعی کو عین ایمان سمجھ کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اتباع سے ایک قدم نہ ہٹے۔ اب بھی اہل ایمان کو چاہئے کہ کمال استقلال سے اپنے قدیم عقیدہ پر ثابت قدم رہیں ورنہ وہی خوارج کا حال ہوگا۔
اس موقع میں بھی جب ہم سلف صالح پر نظر ڈالتے ہیں تو کل اہل سنت و جماعت بلکہ کل امتہ مرحومہ کا اتفاق اور صحابہ کا اجماع اس شرک مصنوعی پر مرزا قادیانی کی مخالفانہ توحید کو محل خطر میں ڈال رہا ہے۔
نان حلال شیخ زآب حرام ما
اور یہ آیہ شریفہ ”ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ماتولی ونصلہ جھنم وساءت مصیرا (نساء:١١٥)“ اس نئے ایمان کی طرف ایک قدم بڑھنے نہیں دیتی اور بے اختیار یہ شعر زبان پر جاری ہو جاتا ہے۔
کفر گیرد کاملے ملت شود
ابھی آپ سن چکے ہیں کہ جو لوگ اہل حق کے مخالف ہیں اگر وہ قرآن بھی پڑھ کر سنانا چاہیں تو نہ سننا چاہئے۔ اگر اتباع حق منظور ہو تو احادیث نبویہ اور اقوال صحابہ اور سلف صالح کو اپنا مقتداء بنائے اور سیدھے ان کے پیچھے پیچھے ہی چلئے۔ تب تو امید قوی ہے کہ وہیں پہنچو گے۔
جہاں وہ حضرات پہنچ گئے ہیں اور اگر آپ نے ان کی راہ چھوڑ دی تو یاد رکھئے کہ ان سے تو آپ نہیں مل سکتے اور سوائے پریشانی کے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ان حضرات کا طریقہ چھوڑتے ہی پہلے پہل بہتر راہیں آپ کے پیش نظر ہو جائیں گی۔ جن پر ایک ایک گروہ قرآن وحدیث لئے ہوئے آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہوگا۔ پھر مختلف دین و آئین والے دلائل عقلیہ کی تلواریں کھینچ کر آپ پر ہجوم کریں گے۔ جن سے دین و ایمان کا بچانا مشکل ہوگا۔ اگر آپ اپنے ایمان کی سلامتی چاہتے ہیں تو اس فقرہ پر عمل کیجئے جو کسی بڑے تجربہ کار کا قول ہے۔ یک در گیر محکم گیر!
کلام اس حدیث شریف میں تھا جو (بخاری ج ٢ ص ١٠٥٥، باب ذکر الدجال) میں ہے۔ ”انہ اعور وان اللہ لیس باعور“ سمجھ رکھو کہ دجال اعور ہے اور اللہ اعور نہیں۔ مرزا قادیانی اس کے یہ معنی بتاتے ہیں کہ دجال سے مراد فرقہ پادریاں ہے اور ان کا اعور ہونا یہ ہے کہ ان کو دین کی عقل نہیں۔ صرف ایک آنکھ ہے۔ یعنی عقل معاش ہے۔ اگر اس کے یہی معنی قرار دیئے جائیں تو اس کا حاصل مطلب یہ ہوگا۔ (یاد رکھو کہ پادریوں کو دین کی عقل نہ ہوگی اور اللہ تعالیٰ کو دین کی عقل ہوگی) اس کا مطلب ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ خدا تعالیٰ تو خالق عقل ہے۔ مسلمان تو کیا کافر بھی یہ خیال نہیں کرسکتا کہ کسی زمانہ میں خدا تعالیٰ کو دین کی عقل ہوگی یا نہ ہوگی۔ پھر اس اہتمام اور تاکید سے آنحضرتﷺ کا فرمانا ”ان اللہ لیس باعور“ کیونکر صحیح ہوگا۔ کیا صحابہؓ سے کسی نے یہ خیال کیا ہوگا کہ دجال یعنی پادریوں کو تو دین کی عقل نہ ہوگی مگر خدا تعالیٰ کو بھی ہوگی یا نہ ہوگی۔ جس کے جواب میں حضرت یہ فرما رہے ہیں کہ ضرور ہوگی۔ معاذ اللہ صحابہؓ کی یہ شان نہیں کہ ایسا رکیک خیال کریں۔ پھر اگر دجال سے مراد گروہ پادریاں ہو تو وہ گروہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں بھی موجود تھا۔ چنانچہ خود قرآن شریف میں ان کا ذکر ہے اور ان کو دین کی عقل نہ ہونا بھی ثابت ہے کہ باوجودیکہ معجزات اور آیات بینات بچشم خود دیکھتے مگر ایمان نہیں لاتے تھے۔
اس زمانے کے بیچارے پادریوں نے تو ایک بھی معجزہ نہیں دیکھا۔ دراصل اگر اعور کے یہی معنی ہیں تو یہ لفظ انہی کے واسطے زیبا ہے اور ان کے مقابلہ میں ان کو ارمد کہنا چاہئے اور اس دجال اعور کے قتل کے واسطے نہ عیسیٰ کی ضرورت تھی نہ مثیل عیسیٰ کی۔ کیونکہ اس دجال کے وقت میں خود آنحضرتﷺ بنفس نفیس موجود تھے۔ چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر دجال میرے وقت میں نکلے تو میں خود اس کا مقابلہ کرلوں گا۔ تمہاری ضرورت نہیں۔ ”ان یخرج وانا فیکم فانا حجیجہ دونکم (احمد ج ٤ ص ١٨١، مسلم ج ٢ ص ٤٠١، باب ذکر الدجال، الترمذی ج ٢ ص ٤٨، باب ماجاء فی فتنۃ الدجال، ابن ماجہ ص ٢٩٦، باب فتنۃ الدجال)“ ہاں
دجال ارمد کے لئے اگر مثیل عیسیٰ کی ضرورت ہو تو وہ دوسری بات ہے۔ مگر ہم نہ اس دجال ارمد اشعرب چشم والا ۔ جس کی آنکھوں میں توازن نہ ہو یا شتر مرغ کی طرح دوڑنے والا (مصباح) کو دجال موعود کہہ سکتے ہیں نہ اس کے قاتل کو عیسیٰ موعود۔ یہ دجال وعیسیٰ دونوں مانحن فیہ سے خارج ہیں۔ ہمارا کلام اس دجال میں ہے جس سے نوح علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک تمام انبیاء نے اپنی اپنی امتوں کو ڈرایا اور حضرت ﷺ نے اپنی امت کو اس سے ڈرا کر اس کی علامتیں بتلادیں ۔ وہ دجال مرزا قادیانی والا دجال ہرگز نہیں ہو سکتا۔ ورنہ ان الله لیس باعور فرمانا کسی طرح صادق نہیں آسکتا۔
آنحضرت ﷺ نے دجال کی علامتیں جو بکثرت بیان فرمائیں جن میں سے چند اوپر مذکور ہوئیں اس سے مقصود حضرت ﷺ کا صاف ظاہر ہے کہ صرف خیر خواہی امت ہے تاکہ علامتیں اپنے دشمن کی معلوم کر رکھیں اور موقع پر اس کو پہچان کر اس کے شر سے بچیں مگر مرزا قادیانی کو یہ خیر خواہی منظور نہ ہوئی۔ بالفرض اگر مرزا قادیانی کی چل جائے اور پادریوں ہی کو دجال سمجھ بیٹھیں اور دجال اعور وقت مقرر پر نکل آئے اور ضرور نکلے گا تو اس وقت یہ اس سے خالی الذہن رہیں گے اور جو مقصود آنحضرت ﷺ کا اس کی علامات بیان فرمانے سے تھا۔ وہ تو خدانخواستہ فوت ہو جائے گا۔ معلوم نہیں اس سے مرزا قادیانی کا کیا فائدہ ہوگا اور حضرت ﷺ کو کیا جواب دیں گے ۔ ازالۃ الاوہام اور مناظرہ مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی بھی بخاری شریف کو اصح الکتب سمجھتے ہیں۔ (شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
پھر اس کی روایات مذکورہ بالا سے ظاہر ہے کہ دجال الوہیت کا دعویٰ کرے گا اور مردہ کو زندہ کر کے اس کی تصدیق بھی کر دکھائے گا تو اب مرزا قادیانی کا پادریوں کو دجال قرار دینا بے موقع ہے۔ اس لئے کہ بیچارے پادریوں میں تو سوائے معمولی باتوں کے ایک بھی بات ایسی پائی نہیں جاتی ۔ جس سے کوئی جاہل سے جاہل بھی ان کی خدائی کا خیال کرے ۔ ان سے بچانے کے لئے تو ایک ہی عام حکم کافی ہے ۔"یا ایہا الذین آمنوا لا تتخذوا الیہود والنصاری اولیاء بعضہم اولیاء بعض ومن یتولہم منکم فانہ منہم (مائدہ: ٥١)“ یعنی جو کسی یہودی یا نصرانی کو دوست رکھے گا وہ بھی انہیں میں ہے۔ اسی وجہ سے پادریوں کو کوئی جاہل مسلمان بھی دوست نہیں رکھتا اور جو دل سے دوستی رکھتا ہے وہ عیسائی ہو ہی جاتا ہے۔ اس میں پادریوں کا کیا قصور جن پر طمع دنیوی غالب ہوتی ہے۔ ہمیشہ ان کے دین و ایمان کی یہی کیفیت رہی ہے۔ دجال اعور اصطلاحی مرزا قادیانی خود طمع دنیوی اور پیٹ کے دھندے میں گرفتار تھا۔ چنانچہ اس کا
انجیل میں تحریف کرنا اسی غرض سے تھا کہ کچھ پیسے مل جائیں۔ ”فویل للذین یکتبون الکتب بایدیهم ثم یقولون هذا من عند الله لیشتروا به ثمنا قلیلا (بقرہ:٧٩)“ اور دجال ارمد بھی اسی آفت میں پھنسا ہوا ہے۔ اس کو دعویٰ الوہیت سے کیا سروکار۔ وہ بیچارا تو سر راہ پٹا کرتا ہے اور اپنی مظلومی کو باعث فخر سمجھتا ہے۔ قتل کر کے زندہ کرنا تو درکنار گورنمنٹ کے خوف سے کسی کو قتل کی تہدید بھی نہیں کر سکتا۔
مرزا قادیانی ہندوستان کے پادریوں کے فتنے جس قدر بیان کرتے ہیں۔ سب واقعی ہیں۔ مگر ایسے فتنے تو ہمیشہ اس امت میں ہوتے ہی رہے ہیں۔ شروع سے دیکھئے کیا یزید کا فتنہ کم تھا۔ اس کے بعد حجاج کا فتنہ جس سے صحابہؓ اور تابعینؒ الحذر کرتے تھے۔ علیٰ ہذا القیاس قرامطہ اور چنگیز خان و ہلاکو وغیرہ کے فتنے عرب عجم افریقہ وغیرہ بلاد اسلام میں ہوتے ہی رہے ہیں۔ پادریوں کا فتنہ ہندوستان میں ان فتنوں کے پاسنگ میں نہیں۔ ان کا اثر تو انہیں لوگوں پر ہوتا ہے جو ضعیف الایمان اور طمع دنیوی میں گرفتار ہیں۔ پھر مرزا قادیانی جو ہندوستان کے پادریوں کو دجال قرار دیتے ہیں۔ ان کو پہلے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ دجال کا فتنہ ہندوستان کے ساتھ خاص ہے اور ممکن نہیں کہ کسی حدیث سے یہ ثابت ہو سکے کہ دجال ہندوستان میں نکلے گا۔ برخلاف اس کے احادیث مذکورہ بالا سے ثابت ہے کہ وہ اصفہان کے دیہات سے نکلے گا اور حرمین شریفین و شام میں پہنچے گا۔ حالانکہ پادریوں کا ان دونوں جگہ گزر ہی نہیں۔ ان تصریحات کے بعد ہندوستان والے پادریوں کو دجال سمجھنا ہرگز صحیح نہیں ہو سکتا۔
مرزا قادیانی کو دجال کی تلاش کرنے کی ضرورت اس وجہ سے ہوئی کہ عیسویت اور مہدویت کا دعویٰ بغیر اس کے صحیح نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ ان تینوں کے ظہور کا زمانہ بہت ہی قریب ہے۔ مرزا قادیانی نے اس موقع میں کمال ذہانت سے کام لے کر ان تینوں کا اتفاق پبلک کے سامنے پیش کر دیا کہ خود تو مہدی اور عیسیٰ ہیں اور پادری دجال۔ ان کے پہلے جن لوگوں نے مہدویت کا دعویٰ کیا تھا۔ ان میں کسی کو یہ نہ سوجھی انہوں نے صرف یہ خیال کر لیا تھا کہ دعویٰ مہدویت کے زمانہ میں نہ عیسیٰ علیہ السلام کی ضرورت ہے نہ دجال کی کیوں کہ حدیث سے ثابت ہے کہ امام مہدی علیہ الرضوان نصاریٰ کے ساتھ پہلے جنگ کریں گے۔ اس کے بعد دجال نکلے گا۔ اس وقت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔ انہوں نے سوچ رکھا تھا کہ دجال اور عیسیٰ کی خبر اگر پوچھی جائے گی تو کہہ دیا جائے گا کہ وہ بھی ابھی آتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اس سوال و جواب کی بھی ضرورت باقی نہ رکھی۔ کیونکہ جب دجال مہدی عیسیٰ اکٹھے ہو گئے تو اب کون
سی حالت منتظرہ ہے۔ جس کے پوچھنے کی ضرورت ہو۔ غرض سیدھے سادھے مسلمان ان لوگوں کے دعووں کو بھی قبول کرتے رہے اور لاکھوں کا مجمع ان کے ساتھ ہو گیا۔ اب بھی وہی کیفیت ہے۔ اصل وجہ اس کی یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قیامت کی بہت سی علامتیں ذکر فرما کر آخری علامتوں میں یہ فرمادیا تھا کہ مہدی نکلیں گے اور اسلام کی تائید میں نصاریٰ سے سخت جنگ کر کے فتح پائیں گے اور پھر دجال نکلے گا اور اس کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے۔ چونکہ ہر مسلمان کا کامل اعتقاد ہے کہ حضرت کی جملہ پیشین گوئیاں باطلاع وحی الٰہی تھیں۔ جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى (النجم: ٤،٣)“ اس لئے جب وہ کوئی تغیر اور نئی بات دیکھتے فوراً قیامت ان کے پیش نظر ہو جاتی۔ اس کا انتظار صحابہؓ ہی کے زمانہ سے شروع ہو گیا تھا۔ چنانچہ ابن صیاد یہودی سے جب بعض خوارق عادات صادر ہونے لگے تو بعض صحابہ کو گمان ہو گیا تھا کہ کہیں یہی دجال نہ ہو۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اس کے قتل کا ارادہ مصمم کر لیا تھا۔ مگر آنحضرت ﷺ نے ان کو روک دیا کہ اگر یہ وہی دجال موعود ہے تو اس کو تم قتل نہیں کر سکتے۔ اس کا قاتل عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر مقدر ہے اور اگر وہ نہیں ہے تو اس کا قتل بیجا ہے۔
یہاں یہ خلجان ہوتا ہے کہ دجال کا واقعہ تو قیامت کے قریب ہونے والا ہے۔ جیسا کہ صحیح صحیح احادیث سے ثابت ہے تو عمرؓ نے اسی زمانہ میں اس کو دجال کیوں سمجھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے مزاج میں نہایت حزم واحتیاط تھی۔ جس کا حال ان کی سوانح عمری سے ظاہر ہے۔ چنانچہ مشہور ہے کہ شجرہ بیعت رضوان باوجودیکہ متبرک مانا جاتا تھا اور لوگ دور دور سے اس کی زیارت کو جاتے تھے۔ مگر انہوں نے اس احتیاط کے لحاظ سے کہ کہیں پرستش شروع نہ ہو جائے اسکو کٹوا ڈالا۔ غرض جب آپ نے دیکھا کہ ابن صیاد یہودی بھی ہے اور خوارق عادات بھی کچھ کچھ اس سے صادر ہورہے ہیں اور دجال میں بھی یہی باتیں ہوں گی۔ اپنے اقتضائے طبع کے مطابق حفظ ما تقدم اور حزم کے لحاظ سے چاہا کہ ابتدا ہی میں اس شجر خبیثہ کی بیخ کنی کر دی جائے۔ یہاں ایک اور شبہ پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یقینی طور پر کیوں نہیں فرمادیا کہ وہ دجال ہے یا نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حق تعالیٰ کو منظور ہے کہ قیامت کا وقت مبہم رہے اور یہ بھی معلوم نہ ہو کہ وہ بہت دور ہے تا کہ مسلمانوں کا ہر وقت خیال لگا رہے کہ شاید وہ بھی قائم ہو جائے۔ جس کی وجہ سے عمل خیر میں ساعی رہیں۔ ارشاد ہوتا ہے ”ويسئلونك عن الساعة ايان مرساها قل انما علمها عند ربي لا يجليها لوقتها الا هو ثقلت فى السمٰوت والارض لا تأتيكم الا بغتة يسئلونك كأنك حفى عنها قل انما علمها عند الله
(اعراف:١٨٧) ”آپ
رب ہی کے پاس ہے۔ وہی اس کو وہ تم پر آوے گی تو یکا یک آو کہئے کہ اس کا علم خاص اللہ کے اور یہ بھی ارشاد...
(اسرائیل: ٥١) ”یعنی لوگ
آنحضرت ﷺ بھی اکثر فرمایا غرض ان آیات عادت کے مطابق قریب کے زمانہ کا نام ہے۔ وہاں تو ایک
تعدون (حج:٤٧) ”یعنی
کرتے ہو۔ اس حساب سے اگر اس زمانہ میں کہا جاتا کہ فرداۓ قیامت اس پر برابر ہ غرض مصلحت الہ سمجھتے رہیں۔ چونکہ آنحضرت صیاد کے دجال موعود ہونے ک کہ مقصود فوت نہ ہو۔ یعنی ارش اس کا قتل بیجا ہے۔
اب ابن صیاد کا
ماجاء في ذكر ابن صياد کے ماں باپ کو تیس برس تک ہوگا اور نفع کم۔ اس کے سو۔ باپ اس کا بہت بلند قد، کم گ پستان ہوگی۔ ابوبکرؓ کہتے ہی ہے کہ میں اور زبیر بن العوا
(اعراف:١٨٧) ﴿”آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کا کب ٹھہراؤ ہے۔ کہہ دے اس کی خبر تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔ وہی کھول دے گا اس کو اپنے وقت پر، بھاری ہے وہ آسمانوں اور زمین میں وہ تم پر نہ آوے گی مگر یکا یک۔ آپ سے ایسے پوچھنے لگتے ہیں گویا آپ اس کے متلاشی ہوں۔ آپ کہہ دے کہ اس کا علم خاص اللہ کے پاس ہے۔“﴾
اور یہ بھی ارشاد ہے کہ ”ویقولون متی ھو قل عسی ان یکون قریباً (بنی اسرائیل:٥١) ”یعنی لوگ پوچھتے ہیں کہ قیامت کب ہے۔ آپ کہہ دیں کہ شاید وہ قریب ہی ہو اور آنحضرت ﷺ بھی اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ میں قیامت کے قریب مبعوث ہوا ہوں۔
غرض ان آیات واحادیث سے قیامت ہر وقت صحابہؓ کے پیش نظر رہتی تھی اور اپنی عادت کے مطابق قریب کے معنی سمجھتے تھے۔ یہ کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ کے پاس قریب کس مقدار کے زمانہ کا نام ہے۔ وہاں تو ایک دن ہزار برس کا ہے۔ ”وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون (حج:٤٧)“ یعنی ایک دن تمہارے رب کے پاس ان ہزار سال کے برابر ہے جو تم شمار کرتے ہو۔ اس حساب سے تو آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے آج تک ڈیڑھ دن بھی نہیں گذرا۔ اگر اس زمانہ میں کہا جاتا کہ قیامت کل ہے تو بھی دو ہزار سال تک کسی کو پوچھنے کا حق نہ تھا اور فردائے قیامت اس پر برابر صادق آسکتا۔
غرض مصلحت الٰہی اسی کو مقتضی ہے کہ قیامت کا حال پوشیدہ رہے اور لوگ اس کو قریب سمجھتے رہیں۔ چونکہ آنحضرت ﷺ اعلیٰ درجہ کے مرضی شناس حق تعالیٰ کے تھے۔ اس وجہ سے ابن صیاد کے دجال موعود ہونے کی نہ آپ نے تصدیق کی نہ انکار فرمایا۔ بلکہ ایک ایسا مجمل کلام فرما دیا کہ مقصود فوت نہ ہو۔ یعنی ارشاد ہوا کہ اگر یہ وہی دجال ہے تو تم اس کو مار نہ سکو گے اور اگر نہیں ہے تو اس کا قتل بیجا ہے۔
اب ابن صیاد کا بھی تھوڑا حال سنئے کہ کیسا پہلو دار ہے۔ (جامع ترمذی ج ٢ ص ٥٠، باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد) میں ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ دجال کے ماں باپ کو تیس برس تک بچہ نہ ہوگا اور اس کے بعد ایک لڑکا ہوگا۔ یک چشمی جس کا ضرر زیادہ ہوگا اور نفع کم۔ اس کے سونے کی یہ کیفیت ہوگی کہ آنکھوں میں تو نیند رہے گی اور دل ہوشیار اور باپ اس کا بہت بلند قد، کم گوشت۔ اس کی ناک چونچ کے جیسی ہوگی اور اس کی ماں موٹی دراز پستان ہوگی۔ ابوبکرؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک لڑکے کی شہرت ہوئی کہ عجائب روزگار سے ہے۔ میں اور زبیر بن العوامؓ اس کے گھر گئے۔ دیکھا کہ ایک مرد اور اس کی عورت کا وہی حلیہ
٣٣
ہے۔ جو آنحضرتﷺ نے بیان فرمایا تھا۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ تمہارا کوئی لڑکا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیس برس کے بعد ہمیں ایک لڑکا پیدا ہوا جو یک چشمی ہے۔ اس سے نقصان بہت ہے اور نفع کم۔ سوتا ہے تو آنکھیں بند رہتی ہیں اور دل ہوشیار۔ ہم ان کے پاس سے جب نکلے تو وہ دھوپ میں کچھ اوڑھا ہوا پڑا گنگنا رہا ہے۔ ہماری آہٹ سن کر پوچھا کہ تم کیا کہہ رہے تھے۔ ہم نے کہا کہ کیا تو نے سنا۔ کہا ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں اور دل جاگتا ہے۔ (مسلم ج٢ ص٣٩٧، باب ذکر ابن صیاد) میں ہے کہ ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ایک بار سفر حج میں میرا اور اس کا ساتھ ہوا۔ اس نے بہت سی باتیں کہیں کہ صحابہ مجھے دجال سمجھتے ہیں۔ حالانکہ دجال چنیں وچناں ہے اور وہ باتیں مجھ میں نہیں ہیں۔ اس کی باتیں میرے دل میں اثر کر رہی تھیں کہ کسی نے پوچھا کہ اگر تو ہی دجال ہو تو تجھے اچھا معلوم ہوگا یا نہیں۔ کہا اگر وہ خدمت پیش کی جائے تو میں اس کو مکروہ نہ سمجھوں گا اور پھر اس نے کہا کہ خدا کی قسم دجال کی پیدائش کی جگہ اور اس کا مقام میں جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اب وہ کہاں ہے۔ ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ یہ باتیں سن کر مجھے پھر اشتباہ ہو گیا۔ ملخصاً!
ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ ابن صیاد مدینہ شریف کے کسی راستہ میں مجھ سے ملا اتنا پھولا کہ راستہ بھر گیا۔ میں نے اس کو دھتکار کر کہا کہ تیری کچھ قدر نہیں۔ یہ کہتے ہی وہ سمٹ گیا اور میں راستہ پاکر چلا گیا۔ ملخصاً!
(مسلم ج٢ ص٣٩٩، باب ذکر ابن صیاد)
اس کے سوا اس کے اور بہت سے واقعات ہیں۔ جن سے صحابہ کو اس کے دجال ہونے کا خیال پیدا ہو گیا تھا۔ چنانچہ ابو ذر غفاریؓ کہتے ہیں کہ ابن صیاد کے دجال ہونے پر دس قسمیں کھانا بہتر سمجھتا ہوں۔ اس سے کہ اس کے دجال نہ ہونے پر ایک قسم کھالوں یعنی دس حصہ گمان ہے کہ وہی دجال ہوگا۔
(کنزالعمال ج١٤ ص٦١٦، حدیث٣٩٧١٤)
پھر موت میں بھی اس کے اختلاف ہے۔ بعض روایات سے اس کا مرنا معلوم ہوتا ہے۔ مگر سنن ابی داؤد میں یہ روایت ہے کہ جابرؓ کہتے ہیں کہ جس زمانہ میں یزید کا لشکر مدینہ طیبہ پر آیا تھا۔ ابن صیاد گم ہو گیا۔
(ابوداؤد ج٢ ص١٣٦، باب فی خبر ابن صیاد)
الحاصل جب منظور الٰہی تھا کہ علیٰ التعین قیام قیامت کا زمانہ کسی کو معلوم نہ ہو اور اس کو دور بھی نہ سمجھیں۔ جیسا کہ قرآن شریف سے ظاہر ہے تو حکمت بالغہ مقتضیٰ ہوئی کہ حضرت عیسیٰؑ کے زمانہ میں ایک ایسا شخص پیدا ہو کہ اس کے دجال ہونے کا گمان تمام مسلمانوں کو ہو جائے اور اس کے ظہور سے خائف وترساں رہ کر اپنے ایمان کے استحکام کی فکر میں لگے رہیں اور خدائے تعالیٰ
٣٤
سے پناہ مانگا کریں کہ الٰہی اس کے فتنے سے ہمیں بچائیو۔ اسی وجہ سے ہمارے خیر خواہ سرور عالمﷺ نے ہمیں تعلیم فرمادی کہ ہر نماز کے آخر میں یہ دعاء کیا کریں ۔"واعوذبك من شر فتنة المسيح الدجال"
آپ حضرات اس تقریر سے سمجھ گئے ہوں گے کہ اس زمانہ میں نہ ابن صیاد کوئی ایسا شخص تھا کہ اس کی ذات سے کچھ خوف ہو، نہ اس کے دجال سمجھنے سے یہ خیال کیا گیا کہ اس حالت موجودہ کے لحاظ سے وہ قابلِ خوف تھا۔ چنانچہ (مسلم شریف ج٢ ص٣٩٩، باب ذکر ابن صیاد) میں یہ روایت موجود ہے کہ ابن عمرؓ نے اس کو ایک لکڑی ایسی ماری کہ اس کے جسم پر ٹوٹ گئی۔ حالانکہ وہ بھی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مسیح الدجال یہی ابن صیاد ہے۔ جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص ٢٢٥، خزائن ج٣ ص٢١٨) میں لکھا ہے۔ البتہ خوف اس کے اس فتنہ کا تھا جو قیامت کے قریب ہونے والا ہے۔ جس کے انسداد کی غرض سے عمرؓ نے اس کو قتل کرنا چاہا اور آنحضرتﷺ نے فرمایا ”فان يكن الذي تخاف لن تستطيع قتله (مسلم ج٢ ص٣٩٧، باب ذكر ابن صياد)“ یعنی اگر یہ وہی دجال ہے جس سے تمہیں خوف ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔ بلکہ عیسیٰ ابن مریم اس کو قتل کریں گے۔ رواہ احمد بن حنبلؒ
اصل واقعات ابن صیاد کے یہ تھے جو مذکور ہوئے۔ مرزا قادیانی کو چونکہ عیسویت جمانے کی غرض سے دجال کی بہت تلاش تھی۔ کمالِ پریشانی میں لفظ دجال ابن صیاد کے نسبت جو مل گیا بیخود ہو گئے کہ اب کیا ہے دجال کو مار لیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ دجال معہود حضرت ہی کے زمانہ میں مرگیا۔ (ازالہ ص٢٢٧، خزائن ج٣ ص٢١٩) اب از خود رفتہ ہیں کبھی تو تمام اہل سنت و جماعت پر۔ بلکہ تمام اہل اسلام پر حملہ کر رہے ہیں کہ یہ سب مشرک ہیں کہ دجال موعود کو خدا کا شریک بنا رہے ہیں۔ کبھی اکابر علمائے امت پر وار ہے کہ ان ملاؤں نے دجال کو ہوا بنا رکھا ہے۔ کبھی اکابر محدثین پر طعن ہے کہ ان کی ایک کتاب بھی خواہ بخاری ہو یا مسلم قابلِ اعتبار نہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”دجال کے آخر زمانے میں نکلنے کی حدیثیں بخاری، مسلم وغیرہ میں ہیں اور ابن صیاد کے دجال ہونے کی روایتیں بھی انہیں میں ہیں۔ اس لئے اذا تعارضا تساقطا پر عمل کر کے دونوں قسم کی حدیثوں کو ساقط الاعتبار کرنا چاہئے ۔“ (ازالہ ص٢٢٤، خزائن ج٣ ص٢١٢) اور دجال کے استدراج میں جو احادیث صحاح میں وارد ہیں نقل کر کے لکھتے ہیں۔ ”سوچنا چاہئے کتنا بڑا شرک ہے کچھ انتہاء بھی ہے۔“ (ازالہ ص٢٣١، خزائن ج٣ ص٢١٦) جملہ اہل سنت و جماعت کا اتفاق اور اجماع ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ بخاری ہے اور خود مرزا قادیانی بھی اپنے استدلال کے
٣٥
موقع میں یہ فقرہ پیش کیا کرتے ہیں اور بقیہ کتب صحاح کی نسبت اجماع ہے کہ ان میں کوئی حدیث موضوع نہیں۔ مگر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ’’وہ حدیثیں ساقط الاعتبار ہیں۔‘‘ (ازالہ ص٢٢٤، خزائن ج٣ ص٢١٢) سخت حیرت کا مقام ہے۔
ابن صیاد کو دجال سمجھنے اور قیامت کے قریب خروج دجال میں مرزا قادیانی تعارض قرار دے کر کل حدیث کی کتابوں کو جو بے اعتبار بنارہے ہیں معلوم نہیں یہ کس بناء پر ہے۔ تعارض تو جب ہوتا کہ صحابہؓ اس کی تصریح بھی کردیتے کہ دجال نکل چکا اور اب وہ قیامت تک نہ نکلے گا۔ حالانکہ یہ تصریح کسی کتاب میں نہیں آنحضرت ﷺ نے جو فرمایا ’’فان یکن الذی تخاف لن تستطیع قتله انما صاحبه عیسیٰ ابن مریم‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ اس کا خوف عمرؓ کو اس کی حالت موجودہ کے لحاظ سے نہ تھا۔ بلکہ اس کے اس فتنہ کے لحاظ سے تھا۔ جس کو بارہا آنحضرت ﷺ سے سن چکے تھے۔ ورنہ کس کو خبر تھی کہ دجال کس بلا کا نام ہے۔ اس کا نام تو ابن صیاد مشہور تھا۔ پھر اس سے کوئی فتنہ بھی ایسا ظہور میں نہیں آیا جو دجال کے ساتھ خاص ہے۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٢٢٨، خزائن ج ٣ ص ٢١٣) میں لکھتے ہیں کہ ’’ابن صیاد نے کوئی کام بھی ایسا نہیں دکھایا جو دجال معہود کے نشانیوں میں سے سمجھا جائے۔‘‘ اگر حضرت عمرؓ اس کو دجال معہود سمجھتے تو صحابہؓ ضرور تخطیہ کرتے کہ اس کا خروج تو قیامت کے قریب ہوگا۔ پہلے بیت المقدس فتح ہوگا۔ اس کے ساتھ مدینہ منورہ کی ویرانی اس کے بعد جنگ عظیم ہوگی اور امام مہدیؑ نکلیں گے اور وہ شہر فتح ہوگا۔ جس کا ایک جانب سمندر میں ہے اور ایک جانب خشکی میں اور سب غنیمت کی تقسیم میں مصروف ہوں گے کہ ایک بارگی ایک شخص دوڑتا ہوا آ کر پکار دے گا کہ دجال نکلا اور ان سب علامتوں کے پہلے آنحضرت ﷺ نے دوسری علامتیں بکثرت بیان فرمائی ہیں۔ جن میں چند یہ ہیں کہ لوگ اونچے اونچے مکان بنائیں گے اور علم بالکل مفقود ہو جائے گا۔ زنا اور لواطت اور شراب خواری علانیہ اور کثرت سے ہوگی۔ زلزلے بہت ہوں گے۔ ترک و کرمان و عجم کے ساتھ جنگ ہوگی۔ تقریباً تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ جو رسالت کا دعویٰ کریں گے۔ ان کے سوا اور بہت سی علامتیں ہیں جو خروج دجال سے پہلے ظہور میں آئیں گے۔ الغرض اس کو دجال کہنے سے مراد عمرؓ کی اگر یہ ہوتی کہ ظہور ابن صیاد کا خروج دجال موعود ہے تو دوسرے صحابہؓ صاف کہہ دیتے حضرت ہی کی زبان مبارک سے ہم نے دجال کا نام سنا ہے اور اس کے خروج کا وقت حضرت ہی نے بیان فرما دیا ہے کہ ان تمام امور کے ظہور کے بعد ہوگا۔ پھر سب سے پہلے وہ کیونکر نکل آیا۔ بلکہ حضرتؓ خود فرما دیتے کہ میں اس کا وقت خروج ان علامات کے بعد بتلا رہا ہوں اور تم اس کو ابھی ٣٦
سے نکال رہے ہو۔ غرض اس سے ظاہر ہے کہ اس کو دجال کہنا مجازاً تھا۔ حقیقت نہ تھا، جابرؓ جو قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ابن صیاد ہی دجال ہے یہ بھی روایت کر رہے ہیں کہ دجال نکلنے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے۔ لوگ ان سے کہیں گے کہ اے روح اللہ امامت کیجئے وہ کہیں گے کہ تمہارا ہی امام نماز پڑھاوے۔ چنانچہ نماز کے بعد آگے بڑھ کر دجال کو قتل کریں گے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ابن صیاد کو آئندہ کے لحاظ سے دجال کہا گیا۔ جس کے نکلنے کا وقت قریب قیامت ہے۔ جابرؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ دجال کے پہلے تیس جھوٹے نکلیں گے۔ سب کے آخر میں دجال نکلے گا اور اس کا فتنہ سب سے بڑا ہوگا۔ اگر وہ ابن صیاد کو دجال موعود سمجھتے تو ان حدیثوں کو روایت نہ کرتے ورنہ محل اعتراض تھا کہ اجتماع ضدین کیسا اس سے معلوم ہوا کہ ان کو ظن غالب تھا کہ یہی ابن صیاد خروج کرے گا۔ جس کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے۔
اور نیز عبداللہ بن عمرؓ جو قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مجھے ابن صیاد کے دجال ہونے میں شک نہیں۔ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں کہ دجال مدینہ منورہ کی زمین شور میں آئے گا اور آخر میں مارا جائے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس کو اس حالت میں یہ نہیں سمجھتے تھے کہ وہ موعودی ہے اور فتنہ اس کا وقوع میں آچکا۔
اور نیز جابرؓ باجودیکہ ابن صیاد کے دجال ہونے پر قسم کھاتے ہیں۔ یہ روایت کرتے ہیں کہ دجال کی پیشانی پر ”ک ف ر“ لکھا ہوگا۔ حالانکہ خود انہوں نے دیکھا تھا کہ ابن صیاد کی پیشانی پر کچھ بھی نہ تھا۔ جیسا کہ (ازالۃ الاوہام ص٢٢٤، خزائن ج٣ ص٢١٢) میں ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس میں ان علامات کے ظہور کا وقت دوسرا ہے۔ ورنہ بجائے اس کے کہ اس کے دجال ہونے پر وہ قسمیں کھائیں دجال نہ ہونے پر قسمیں کھاتے۔
ان روایات سے ظاہر ہے کہ صحابہؓ کے پاس ابن صیاد کے دجال ہونے کا یہ مطلب نہ تھا کہ اس کا خروج موعود ہوچکا۔ بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس کا فتنہ اور سب علامات اسی وقت ظہور میں آئیں گے۔ جب دوبارہ وقت معین پر نکلے گا الغرض حضرت عمرؓ کا ابن صیاد کے دجال ہونے پر قسم کھانا اس بات پر دلیل نہیں کہ دجال مر گیا اور نہ آنحضرت ﷺ کا سکوت اس امر پر دلیل ہوسکتا ہے کہ دجال کے فتنہ موعودہ میں شک تھا۔ بلکہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس دجال کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے وہ یہی شخص ہے یا اور کوئی۔
مرزا قادیانی جو تمام صحاح کو ساقط الاعتبار بنارہے ہیں اس کا منشاء صرف یہی ہے کہ دو چار صحابیوں نے جو کہا تھا کہ ابن صیاد دجال ہے اس کو حقیقت پر محمول کر رہے ہیں۔ اگر اس کو مجاز
٣٤
پر محمول کرتے تو کوئی اشکال پیدا نہ ہوتا۔ آخر عیسیٰ اور دجال کے معنی بھی تو وہ مجازی ہی لے رہے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم خود ہیں اور شخص دجال گروہ پادریاں۔
مرزا قادیانی کا بڑا اعتراض یہ ہوگا کہ اگر وہ قیامت کے قریب دجال ہونے والا تھا تو اس وقت اس کو دجال کیوں کہا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کل اہل عربیت جانتے ہیں کہ اس کو مجاز باعتبار مایوؤل کہتے ہیں۔ جو مجاز مرسل کی ایک قسم ہے قرآن شریف میں اس کے نظائر موجود ہیں ”اعصر خمرا (یوسف:٣٦)“ ظاہر ہے کہ خمر نہیں نچوڑا جاتا۔ شیرے کو خمر باعتبار مایوؤل کہا گیا۔ ”ان الذین یاکلون اموال الیتمٰی ظلماً انما یاکلون فی بطونہم نارا (نساء: ١٠)“ یعنی جو لوگ یتیموں کے مال کھاتے ہیں۔ وہ لوگ آگ کھاتے ہیں۔ اموال کو حق تعالیٰ نے باعتبار مایوؤل آگ فرمایا۔ ”حتى تنکح زوجاً غیرہ (بقر:٢٣٠)“ ظاہر ہے کہ نکاح زوج کے ساتھ نہیں ہوتا۔ بلکہ نکاح کے وقت وہ اجنبی ہوتا ہے۔ جس پر زوج کا اطلاق ہوا قافلہ سفر سے واپس آنے والے گروہ کو کہتے ہیں۔ کیونکہ قفول کے معنی سفر سے واپس آنے کے ہیں۔ حالانکہ جانے والے گروہ کو بھی قافلہ کہتے ہیں اور یہ تو ہمارے عرف میں بھی شائع ہے کہ حج کے جانے والے کو حاجی صاحب اور لڑکوں کو مولوی صاحب کہتے ہیں۔ حالانکہ ہنوز وہ ان الفاظ کے معنی کے مستحق نہیں ہوتے۔
الحاصل ابن صیاد کو قبل دجال ہونے کے دجال کہنا بھی اسی قسم کا ہے۔ اب دیکھئے کہ ان احادیث میں تعارض کہاں رہا۔ دونوں کا مطلب یہی ہوا کہ دجال موعود آخری زمانہ میں نکلے گا۔ البتہ حضرت عمرؓ کے جزم کرنے سے اتنا معلوم ہوا کہ وہ پیدا ہو چکا ہے اور اپنے ظہور موعود کے وقت تک زندہ رہے گا اور یہ کوئی غیر ممکن بات نہیں۔ ہزار سال کی عمر نوح علیہ السلام کے لئے نص قطعی سے ثابت ہے۔ پھر اگر اس سے زیادہ کسی کو خدا تعالیٰ زندہ رکھے تو کیا تعجب ہے۔
یہاں حضرت عمرؓ کا قسم کھانا ابن صیاد کے دجال ہونے پر قابل غور ہے۔ پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ حضرت عمرؓ کو اس کے دجال ہونے کا علم کس قسم کا تھا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اس کا دجال ہونا نہ اولیات (اولیات وہ قضایا ہیں جس کے طرفین کو تصور کرتے ہی عقل ان کے صدق کا جزم کرے جیسے الواحد نصف الاثنین) سے ہے نہ فطریات (فطریات وہ قضایا ہیں جن کا جزم ایسے واسطہ کے طرف محتاج ہو جو ذہن سے غائب نہ ہو۔ مثلاً الاربعۃ زوج اس میں واسطہ انقسام متساوین ہے جس کو ہر شخص جانتا ہے) سے نہ مشاہدات (جیسے الشمس مشرقہ) و نہ وجدانیات (جیسے انا جوع او عطش) سے نہ تجربیات وبدہیات محسوسہ وحدسیات (نور القمر مستفاد من نور الشمس) سے اور نہ
٣٨
متواترات سے اس لئے کہ اس وقت تک کسی کو خبر نہ تھی کہ وہ دجال ہی رہا۔ یہ کہ آنحضرت ﷺ سے انہوں نے سنا ہو گا سو یہ ممکن نہیں۔ اس لئے کہ خود حضرت نے ان کی تصدیق نہیں کی۔ بہر حال یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اس کے دجال ہونے کا علم عمرؓ کو یقینی نہ تھا۔ کیونکہ یقینیات کے کسی قسم میں وہ داخل نہیں ہو سکتا۔ جو مذکور ہوئے۔ البتہ قرائن خارجیہ کے لحاظ سے اس کا ظن ہو گیا ہو تو ممکن ہے۔
مرزا قادیانی کے اصول پر حضرت عمرؓ کا قسم کھانا کبھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ایسے جلیل القدر صحابی ایسی بات پر قسم کھانا جس کا ثبوت نہ شرعاً ہو نہ عقلاً ہرگز قرین قیاس نہیں ہو سکتا۔ مگر چونکہ یہ روایت معتبر کتابوں میں ہے۔ اس لئے ہمیں ضرور ہے کہ حتی الوسع اس کی مناسب توجیہ کریں۔ بات یہ ہے کہ عرب کا دستور تھا اور اب تک ہے کہ محتملات و مظنونات پر بھی قسم کھا لیا کرتے ہیں۔ اس قسم کی قسم کو یمین لغو کہتے ہیں۔ جس کے خلاف واقع ہونے پر کوئی مواخذہ نہیں۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم (بقرہ:٢٢٥)“ تفسیر در منثور میں ہے کہ ایک بار آنحضرت ﷺ کے روبرو صحابہ تیر اندازی کر رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ ”اصبت واللہ“ یعنی بخدا نشانہ پر مار دیا اور وہ خلاف واقع تھا۔ کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ شخص حانث ہو گیا۔ حضرت نے فرمایا یہ یمین لغو ہے۔ اس میں کفارہ نہیں اور ابن عباسؓ اور ابو ہریرہؓ اور ابراہیمؒ یمین لغو کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ آدمی جس چیز پر قسم کھاتا ہو اس کے سچ ہونے کا گمان کرے۔ اگرچہ در حقیقت وہ سچ نہ ہو۔ انتھیٰ ملخصاً!
الحاصل جب یہ بات یقیناً ثابت ہو گئی کہ ابن صیاد کے دجال ہونے پر حضرت عمرؓ کا قسم کھانا ممکن نہیں کہ یقین پر مبنی ہو۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا تو ضرور ہوا کہ وہ یمین لغو شمار کی جائے۔ کیونکہ اس کی تعریف بھی اس یمین پر صادق آرہی ہے اور صحابہؓ کے اقوال سے ثابت ہوا کہ ایسی قسم خلاف واقع پر بھی ہوا کرتی ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ اس کا دجال ہونا خود حضرت عمرؓ کی قسم ہی سے مشکوک ہو گیا۔
اب ہم ایک دلیل معتمد پیش کرتے ہیں۔ جن سے اس کا دجال نہ ہونا ثابت ہو جائے۔ وہ یہ روایت ہے جو (صحیح مسلم ج٢ ص٤٠٤، ٤٠٥) میں ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے مدینہ طیبہ میں اعلان فرمایا کہ سب حاضر ہوں۔ اس کے بعد حضرت نہایت خوش تبسم فرماتے ہوئے منبر پر تشریف رکھے اور فرمایا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کس لئے جمع کیا۔ اس وقت کوئی ترغیب وترہیب مقصود نہیں۔ بلکہ یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ تمیم داری جو ایک نصرانی شخص تھے۔ اسلام لائے اور ایک واقعہ ایسا بیان کیا کہ میں نے جو تمہیں دجال کی خبر دی تھی اس سے اس کی تصدیق ہوتی
٣٩
ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری کشتی شدت ہوا کی وجہ سے کسی کنارے پر جا لگی۔ جب ہم اس جزیرے میں گئے تو ایک عجیب شخص سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے تو اس کو شیطان ہی سمجھا تھا۔ مگر اس نے چند باتیں پوچھیں جس کا ہم نے جواب دیا۔ منجملہ اس کے ایک بات یہ تھی کہ نبی امیّن کی کیا حالت ہے۔ ہم نے کہا وہ مکہ سے نکل کر یثرب میں ٹھہرے ہیں۔ کہا عرب نے ان سے جنگ کی ہم نے کہا ہاں کہا پھر کیا ہوا۔ ہم نے کہا قریب قریب کے لوگوں نے ان کی اطاعت کر لی ہے۔ پوچھا ایسا ہوا ہے۔ ہم نے کہا ہاں کہا ان کی اطاعت ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے۔ پھر کہا میں تم سے اپنا حال کہتا ہوں کہ میں مسیح دجال ہوں۔ قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت مل جائے میں تمام زمین میں پھروں گا۔ مگر مکہ اور طیبہ میں نہ جاسکوں گا۔ حضرت ﷺ نے فرمایا یہی طیبہ ہے۔ یعنی مدینہ، پھر حضرت ﷺ نے فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ پیشتر ہی میں تم سے یہ کہہ چکا ہوں لوگوں نے عرض کیا درست ہے۔ فرمایا تمیم داری کا یہ واقعہ مجھے بہت اچھا معلوم ہوا کہ جو میں نے تم سے کہا تھا اسی کے موافق ہے۔ پھر فرمایا یہ طیبہ ہے اور وہی دجال ہے۔ اب دیکھئے کہ جب آنحضرت ﷺ نے تمیم داری کی خبر کی تصدیق کی اور عمرؓ کے تخمین و گمان کی تصدیق نہیں کی تو اس سے یقیناً معلوم ہو گیا کہ ابن صیاد دجال نہ تھا۔ کیونکہ ایک روایت سے تو اس کا مرنا ہی ثابت ہے اور جو روایت اس کے خلاف ہے اس سے اس کے مفقود ہونے کا زمانہ خلفائے راشدین کے بعد کا ہے۔ بہرحال کسی طرح ابن صیاد وہ دجال نہیں ہو سکتا۔ جس کی خبر تمیم داریؓ نے دی اور آنحضرت ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی۔
(ازالۃ الاوہام ص ٨٤٢، خزائن ج ٣ ص ٥٥٦) میں اس حدیث کا جواب مرزا قادیانی اس طور سے دیتے ہیں کہ مسلم شریف میں تمیم داریؓ کی حدیث کے آخر میں یہ ہے۔ ”الا انه فى بحر الشام او بحر اليمن لا بل من قبل المشرق ماهو واومى بيده الى المشرق“ یعنی من قبل المشرق ما هو کہا دجال بحر شام میں ہے یا بحر یمن میں نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا نہیں وہ یعنی وہ نہیں نکلے گا۔ بلکہ اس کا مثل نکلے گا اور مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
مرزا قادیانی نے عبارت مذکورہ حدیث میں کسی غرض سے اختصار کیا ہے۔ پوری عبارت یہ ہے: ”لا بل من قبل المشرق ما هو من قبل المشرق ما هو واومى بيده الى المشرق (مسلم ج ٢ ص ٤٠٥)“ مرزا قادیانی نے (من قبل المشرق ماھو) کا ترجمہ یہ لکھا ہے (وہ مشرق کے طرف سے نکلے گا نہیں وہ) اردو جاننے والے معتقد تو مرفوع القلم ہیں۔ ان کے حق میں مرزا قادیانی کا قول خود بجائے وحی ہے۔ مگر عربی دان سمجھ سکتے
٤٠
ہیں کہ من قبل المشرق کے لفظ سے (وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا) سمجھنا درست ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس جزو جملہ میں کوئی ضمیر نہیں جو دجال کی طرف راجع ہو اور نہ لفظ یخرج کہیں مذکور ہے۔ شاید من کا متعلق یہ نکالا ہے۔ حالانکہ وہ صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ من زائدہ ہے۔ جیسا کہ مغنی اللبیب میں اس کی بہت سی مثالیں لکھی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے ”ان من اشد الناس عذابا یوم القیامۃ المصورون“
”ماھو“ کے معنی (نہیں وہ) انہوں نے لکھا ہے اور اس سے یہ مطلب نکالا ہے کہ وہ نہ نکلے گا۔ بلکہ مثیل نکلے گا۔ حالانکہ سیاق کلام سے یہ بالکل مخالف ہے۔ اس لئے کہ مقصود یہاں دجال کا مقام معین کرنا ہے کہ وہ بحر شام اور یمن میں نہیں۔ بلکہ مشرق کی طرف ہے۔ اس کے بعد (نہیں وہ) کہنے کا کوئی موقع نہیں۔
مرزا قادیانی کی تقریر کا حاصل یہاں یہ ہوتا ہے کہ حضرت نے تمیم داریؓ سے دجال کا سارا قصہ سن کر سب صحابہؓ کو جمع کیا اور خطبہ اس مضمون کا پڑھا کہ میں نے دجال کا حال جو تم سے کہا تھا تمیم داریؓ کے چشم دید واقعہ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ وہ دجال سے مل کر اور اس سے گفتگو کر کے آئے ہیں۔ وہ مشرقی دریا میں ہے۔ وہ نہیں اب غور کیجئے اس قدر اہتمام کے بعد یہ فرمانا کہ وہ نہیں کس قدر حیرت انگیز ہوگا۔ پھر ”من قبل المشرق ماھو“ کو تین تین بار دھرا کر فرمانے کا کیا مطلب ہوگا۔ مرزا قادیانی اس ما کو نافیہ لیتے ہیں۔ اس صورت میں اس جملہ کا یہ مطلب ہوگا کہ وہ مشرق کی طرف نہیں وہ مشرق کی طرف نہیں یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس نے کہا تھا کہ وہ مشرق کی طرف ہے۔ جس کا انکار حضرت ﷺ بکرات ومرات فرما رہے ہیں اور اگر حسب تجویز مرزا قادیانی اس عبارت کے دو جملے قرار دیئے جائیں۔ ایک ”من قبل المشرق“ یعنی دجال مشرق کی طرف سے نکلے گا اور دوسرا ”ماھو“ یعنی وہ نہیں تو حضرت ﷺ کا تین بار یہ فرمانا کہ دجال مشرق کی طرف سے نکلے گا۔ وہ نہیں۔ دجال مشرق کی طرف سے نکلے گا وہ نہیں کس قدر بے موقع ہوگا۔
اہل وجدان سلیم سمجھ سکتے ہیں کہ ان متضاد مضمونوں کے دو جملوں کی تکرار فصاحت سے کیسی اجنبی ہوگی۔ پھر یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب حضرت ﷺ کا مقصود اس سے یہ سمجھا جائے کہ دجال نہ نکلے گا۔ بلکہ ہندوستان سے اس کا مثیل نکلے گا تو صحابہؓ ضرور یہ پوچھ لیتے کہ تمیم داریؓ جس دجال کو دیکھ آئے ہیں وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا۔ وہ نہ نکلے گا تو اس کا کیا حشر ہوگا۔ کیا اپنی ہی جگہ بیٹھا بیٹھا مر جائے گا یا اور کسی زمانے میں نکلے گا اور کبھی نہ نکلے گا تو اس
٤١
کے دجال ہونے سے ہمارا کیا نقصان۔ یہ تو بڑی بشارت کی بات ہے کہ جس دجال سے آپ ڈراتے تھے اس سے تو بے فکری ہوگئی۔ غرض کوئی عاقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس عبارت سے وہ مضمون سمجھا جاتا ہے جو مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
یہ سب خرابیاں ماہو کے ما کو نافیہ لینے سے پیدا ہوتی ہیں۔ چونکہ مرزا قادیانی کو مثیل دجال ثابت کرنا ہے۔ اس لئے اس تحریف کی ضرورت ہوئی امام نوویؒ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے۔ ”قال القاضی لفظة ماهو زائدة صلة للكلام ليست بنافية والمراد اثبات انه فی جهات المشرق
(مسلم ج ٢ ص ٤٠٠ حاشیه)“
دراصل یہ ما زائدہ غیر نافیہ ہے۔ جس کی مثالیں مغنی اللبیب میں لکھی ہیں۔ ”شتان مازید وعمرو“ اور قول مہلہل ...... لوبابا نین جاء يخطبها...... زمل ما انف خاطب بدم“
اس صورت میں ”بل من قبل المشرق ماهو“ کے معنی یہ ہوئے کہ وہ دریائے شام اور یمن میں نہیں بلکہ مشرق کی طرف ہے اور اس جملہ کو مقرر کرنے سے یہ غرض تھی کہ اس کو یاد رکھیں اور یقینی سمجھ لیں کہ دجال ایک شخص معین مشرق کی جانب میں اس وقت زندہ موجود ہے۔ اب دیکھئے کہ آنحضرتﷺ تو اس قدر اہتمام اور تاکید سے اس کے شخص معین اور زندہ ہونے کی خبر دیں اور مرزا قادیانی اس کی کچھ پروا نہ کر کے یہ کہیں کہ دجال کوئی چیز نہیں۔ صرف پادریوں کا نام ہے۔ نعوذ بالله من ذالک!
اسی مقام میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”یاد رہے کہ اس خبر تمیم داریؓ کی تصدیق کے بارے میں ایسے الفاظ آنحضرتﷺ کے منہ سے ہرگز نہیں نکلے جو اس بات پر دلالت کرتے ہوں کہ آنحضرتﷺ نے اس تمیم داریؓ کے دجال کا یقین کیا تھا۔ بلکہ تصدیق اس بات کی پائی جاتی ہے کہ دجال مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں داخل نہیں ہوگا۔“
(ازالہ ص ٨٤٢، خزائن ج ٣ ص ٥٥٧)
آپ تمیم داریؓ کی حدیث کا ترجمہ ابھی پڑھ چکے ہیں۔ جس میں یہ موجود ہے کہ آنحضرتﷺ نے صحابہؓ کو جمع کر کے تمیم داریؓ کا پورا واقعہ بیان فرمایا کہ وہ دجال سے ملے اور اس سے سوال و جواب کئے اور دجال نے ان سے کہا کہ میں مسیح دجال ہوں اور قریب میں مجھے نکلنے کی اجازت ملنے والی ہے۔ پھر حضرتؐ نے اس کی تصدیق کی کہ وہی دجال تھا۔ چنانچہ لفظ وذالک الدجال صراحۃً موجود ہے۔ باوجود اس کے مرزا قادیانی کس ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ اس پر دلالت کرنے والے الفاظ بھی حضرتﷺ کے زبان سے نہیں نکلے اس کا کیا علاج۔ اگر کسی کو
٤٢
ہمارے بیان میں شبہ ہو تو مسلم شریف میں دیکھ لے کہ وہ سب قصہ اور لفظ وذالک الدجال اس میں موجود ہے یا نہیں۔
اور اسی حدیث میں یہ بھی موجود ہے کہ تمیم داری کا دیکھا ہوا واقعہ بیان کر کے آنحضرتﷺ نے فرمایا ”الا ھل کنت حدثتکم ذلک فقال الناس نعم فانہ اعجبنی حدیث تمیم انہ وافق الذی کنت احدثکم عنہ (مسلم ج٢ ص٤٠٥)“
ماحصل اس کا یہ ہے کہ سب صحابہؓ سے حضرتﷺ نے پوچھا کہ کیوں دجال کی خبر میں نے تمہیں پیشتر دی تھی؟ صحابہؓ نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر فرمایا کہ تمیم داری کا چشم دید واقعہ مجھے اچھا معلوم ہوا۔ جس سے میری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جو تم سے اکثر کہا کرتا تھا۔ اس حدیث سے علاوہ اس کے کہ آنحضرتﷺ نے واقعہ تمیم داری کی تصدیق کی، یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرتﷺ نے پیشتر بھی خبر دی تھی کہ دجال ایک شخص معین ہے اور کسی جزیرہ میں مقید ہے اور معین وقت پر نکلے گا۔ جس کی تصدیق تمیم داری کے واقعہ سے ہوئی اور چونکہ اس خبر کا ثبوت مشاہدہ سے ہو گیا۔ اس وجہ سے آنحضرتﷺ کو کمال درجہ کی فرحت ہوئی اور نہایت خوشی سے ہستی ہوئی برسر منبر بیان فرمایا۔ جیسا کہ اوپر معلوم ہوا اور آخر میں لفظ اعجبنی سے اس کی تصریح بھی کی۔
مگر افسوس ہے کہ جس چیز سے آنحضرتﷺ کی خوشی ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی پر سخت صدمہ ہے۔ غرض مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ حضرتﷺ نے تمیم داری کی تصدیق نہیں کی۔ کس قدر حیرت انگیز ہے اور یہ جرات قابل غور ہے کہ مسلم شریف جیسی مشہور و معروف کتاب میں ایسے تصرفات کرتے ہیں اور جو جی چاہتا ہے خلاف واقعہ لکھ دیتے ہیں اور اس کی کچھ پروا نہیں کرتے کہ اہل علم اس کو کیا سمجھیں گے۔ تو اس پر قیاس کرنا چاہئے کہ الہامات اور خواب جو لکھا کرتے ہیں ان کا کیا حال ہوگا۔
اور لکھتے ہیں کہ ”آنحضرتﷺ جو اخبار و حکایات بیان کردہ کی تصدیق کرتے تھے اس کے لئے یہ ضروری نہیں ہوتا تھا کہ وہ تصدیق وحی کی رو سے ہو۔ بلکہ محض مخبر کے اعتبار کے خیال سے تصدیق کر لیا کرتے تھے۔ انبیاء لوازم بشریت سے بالکل الگ نہیں کئے جاتے۔۔۔۔۔ محض عقلی طور پر اعتبار راوی کے لحاظ سے حضرتﷺ نے اس کی تصدیق کی۔ کیونکہ تمیم داری اس قصہ کے بیان کرنے کے وقت مسلمان ہو چکا تھا اور بوجہ مشرف باسلام ہونے کے اس لائق تھا کہ اس کے بیان کو عزت اور اعتبار کے نظر سے دیکھا جائے۔“ (ازالہ ص٨٤٢،٨٤٣، خزائن ج٣ ص٥٥٧،٥٥٨)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنحضرتﷺ کی یہ تصدیق فرمانا اعتبار کے قابل نہیں بلکہ وہ
٤٣
عقلی طور پر ہونے کی وجہ سے اس میں غلطی ہو گئی اور ثبوت غلطی کا اس طور سے ہوا کہ مرزا قادیانی کی جانچ میں ”سوائے پادریوں کے اور کوئی دجال نہیں ۔“
(ازالہ ص ٢٩٥، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦)
اس دعوے اور دلیل کی تصدیق سوائے مرزا قادیانی پر ایمان لانے والوں کے دوسرا کوئی مسلمان نہیں کر سکتا۔ بلکہ اہل ایمان کے پاس ایسا خیال کفر سے کم نہیں۔
اب رہی یہ بات کہ یہ تصدیق وحی کے رو سے نہ تھی۔ معلوم نہیں مرزا قادیانی نے اس کا ایک طرفہ قطعی فیصلہ کس طرح کر ڈالا ۔ ہم اہل اسلام کو تو حق تعالیٰ نے حکم قطعی کر دیا ہے کہ جو کچھ آنحضرت ﷺ فرما دیں اس کو مان لیں۔ کسی کو چوں و چرا کی مجال نہیں کہ حضرت ﷺ نے یوں ہی عقل سے یہ فرما دیا کوئی وحی بھی آئی تھی اور وحی آئی تھی تو کس کے رو برو وہ گواہ بھی اس وقت موجود تھے یا نہیں اور اگر موجود تھے تو انہوں نے جبرائیل کو وحی سناتے وقت دیکھا اور پہچانا بھی تھا یا قرائن سے کہہ دیا اور قرائن قطعی تھے یا ظنی۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”وما اتٰکم الرسول فخذوہ (حشر:٧)“ اور فرماتا ہے ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحي يوحى (النجم:٣، ٤)“ یعنی کوئی بات حضرت ﷺ اپنے خواہش سے نہیں فرماتے جو کچھ فرماتے ہیں صرف وحی سے فرماتے ہیں۔ حق تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کو نہ آنحضرت ﷺ کے فرمانے پر اعتبار آتا ہے نہ خود حضرت کا اعتبار ہے۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ تصدیق جو حضرت ﷺ نے کی تھی صرف تمیم داریؓ کے اعتبار پر تھی۔ مہذب پیرایہ میں انہوں نے اس مقدمہ میں اپنا عقیدہ ظاہر کر دیا کہ اپنی رائے سے جھوٹی خبر کی تصدیق حضرت ﷺ نے کر دی ۔ نعوذ بالله من ذلك! وہ لکھتے ہیں کہ ”تمیم مشرف باسلام ہونے کی وجہ سے وہ اس لائق تھا کہ اس کا بیان عزت اور اعتبار کی نظر سے دیکھا جائے۔“
(ازالہ ص ٨٢٢، خزائن ج ٣ ص ٥٥٨)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ باوجودیکہ حضرت ﷺ نے ان کو قابل اعتبار سمجھا مگر انہوں نے جھوٹ کہنے میں کمی نہ کی۔ پھر جھوٹ بھی کیسا کہ افضل الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے رو برو جس کو حضرت ﷺ نے منبر پر چڑھ کر ایک مجمع کثیر صحابہؓ کے روبرو کمال بشاشت سے بیان فرمایا۔
اب اہل ایمان غور کریں کہ کیا کوئی مسلمان یہ خیال کر سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک جھوٹی خبر بیان کرنے کے لئے صحابہؓ کو فراہم کریں اور منبر پر چڑھ کر وہ خبر بیان فرما دیں پھر اتنے بڑے واقعہ کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے حضرت ﷺ کو اطلاع نہ ہو کہ وہ خبر دراصل جھوٹی تھی اور اس کی غلطی نکالنے کا موقعہ ایک پنجابی کے ہاتھ آئے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ ادنیٰ ادنیٰ امور کی اطلاع بذریعہ وحی یا الہام حضرت ﷺ کو ہو جایا کرتی تھی۔ ایسا بڑا واقعہ جس سے مرزا قادیانی اور
٤٤
ان کے اتباع کی نظر میں حضرت ﷺ نعوذ باللہ بے اعتبار ہوئے جاتے ہیں۔ اس کی اطلاع حضرت ﷺ کو کسی طرح نہ ہوئی۔ کیونکہ اگر اطلاع ہوتی تو حضرت ﷺ ضرور فرما دیتے کہ تمیم داری نے جو خبر دی تھی جھوٹ ثابت ہوئی۔ اس مقام میں سوائے اس کے اور کیا کہا جائے کہ زمانہ کا مقتضے ہے کہ ایسے خیالات کے لوگ بھی مقتدیٰ بنائے جاتے ہیں۔ ”اللهم انا نعوذ بك من فتنة المحيا والممات ومن شر فتنة المسيح الدجال“ اب اہل انصاف ملاحظہ فرماویں کہ مرزا قادیانی کا یہ قول کہ دجال معہود آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظاہر ہو گیا اور مر بھی گیا۔ کیونکر صحیح ہو سکتا ہے بلکہ خود مرزا قادیانی ہی کا استدلال احادیث ابن صیاد سے ان کے دعوے کو مضر اور ہمارے لئے مفید ہے۔ اس وجہ سے کہ احادیث ابن صیاد سے اتنا تو ضرور معلوم ہوا کہ صحابہ دجال کو ایک معین شخص سمجھتے تھے اور آنحضرت ﷺ نے اس کی تصدیق بھی کی تو معلوم ہوا کہ حضرت ﷺ نے کسی قوم کا نام دجال نہیں رکھا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ دجال گروہ پادریاں کا نام ہے۔ بلکہ گویا حضرت ﷺ نے یہ فرما دیا کہ وہ ایک شخص ہوگا۔ جیسا کہ تم سمجھتے ہو۔ اس لئے کہ جب حضرت عمر نے ابن صیاد کو دجال قرار دے کر اس کو قتل کرنا چاہا تو جس صورت میں دجال جھوٹوں کے گروہ کا نام ہوتا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں تو ان کی غلط فہمی کی اصلاح آنحضرت ﷺ فرما دیتے اور یہ ارشاد ہوتا کہ دجال ایک شخص نہیں جس کو تم مارنا چاہتے ہو وہ تو ایک جماعت ہوگی۔ جو آخر زمانے میں پیدا ہوگی۔ کسی ادنیٰ شخص کے کلام کے معنی اس کی مراد کے خلاف بیان کئے جائیں تو وہ اپنی مراد ظاہر کر کے اس غلط فہمی کی اصلاح کر دیتا ہے۔ شارع کو بطریق اولیٰ ضرور ہے کہ اپنی مراد بیان کر کے غلط فہمی سے اپنی امت کو بچالیں۔ شاید مرزا قادیانی تمیم داری کی حدیث پر اعتراض کریں گے کہ بخاری شریف کی حدیث سے ثابت ہے کہ کوئی شخص خواہ آدمی ہو یا جانور آنحضرت ﷺ کے بعد سو برس زندہ نہ رہا۔ وہ حدیث یہ ہے ”ان عبد الله بن عمر قال صلى بنا رسول الله ﷺ العشاء فى آخر حياته فلما سلم قام فقال أرأيتكم ليلتكم هذه فان رأس مائة سنة منها لا يبقى ممن هو على ظهر الارض احد (رواه البخاري ج ١ ص ٢٢، باب السمر بالعلم)“ پھر تمیم داری نے جس دجال کی خبر دی ہے۔ وہ آخری زمانے میں کیونکر نکل سکتا ہے۔
اس کے جواب کے پہلے یہ امر غور طلب ہے کہ آنحضرت ﷺ نے انتقال کے قریب جو یہ ارشاد فرمایا ہے اس کا منشاء کیا ہوگا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اس میں نہ کوئی وصیت ہے۔ جس پر عمل کرنا مطلوب ہو، نہ کوئی ایسی چیز ہے جو ذات الٰہی یا امور اخروی سے متعلق ہو۔ کیونکہ الیوم اکملت
لکم دینکم سے صاف ظاہر ہے کہ دینی اعتقادات سے متعلق کل امور کو حضرت ﷺ نے بیان کر کے دین کا تکملہ فرما دیا۔ سو برس کے اندر تمام آدمیوں اور جانوروں کا مرجانا کوئی ایسی بات نہیں۔ جسے کہ حضرت ﷺ دینی امر تصور فرمائے ہوں اور وہ علامات قیامت میں بھی نہیں۔ ورنہ تصریح فرما دیتے۔ جیسے دوسری علامات میں موجود ہے۔ پھر آپ ﷺ کا غیبی بات کی خبر دینا وہ بھی عشاء کے بعد جس وقت خاص خاص حضرات حاضر رہتے تھے۔ اس میں کوئی خاص غرض ضرور تھی۔
قرائن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب الیوم اکملت لکم دینکم اور سورۂ اذا جاء نصر اللہ سے آنحضرت ﷺ کو معلوم ہو گیا کہ اب اس عالم میں آپ ﷺ کے تشریف فرما رہنے کی ضرورت نہ رہی اور ادھر سے جذبات اور ادھر سے عشق واشتیاق بڑھنے لگے تو آپ ﷺ نے سفر آخرت کا ارادہ مصمم فرما لیا۔ مگر اس کے ساتھ یہ خیال بھی تھا کہ شیفتگان جمال نبوی کا اس مفارقت سے کیا حال ہوگا۔ کیونکہ ان کی دل بستگی اور شیفتگی کو حضرت جانتے تھے کہ یہ صدمہ ان کی حالت کو خطرناک بنا دے گا۔ ان کی زبان حال بآواز بلند کہہ رہی تھی۔
ہرچہ خواہی کن ولیکن این مکن
صحابہؓ تو صحابہ ہی تھے۔ استن حنانہ جو ایک چوب خشک تھا۔ حضرت ﷺ کی مفارقت سے روتے روتے بیخود ہو گیا تھا۔ جس کا حال بخاری شریف میں موجود ہے۔ حضرت ﷺ کی سواری مبارک کا گدھا جس کا نام یعفور تھا۔ اس پر اس مفارقت کا یہ صدمہ ہوا کہ مجرد وفات شریف کے کمال بے تابی سے کنویں میں گر کر جان دے دی اور ناقہ سواری خاص کو اس غم نے ایسا مدہوش بنا دیا کہ کھانا پینا چھوڑ کر اسی صدمہ سے مرگئی۔ یہ روایتیں مواہب الدنیہ وغیرہ معتبر کتابوں میں موجود ہیں۔ اب اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ جب اونٹ اور گدھے اور چوب خشک کا مفارقت جان عالم ﷺ میں یہ حال ہو تو ان حضرات کا کیا حال ہوگا جو پروانہ وار شمع جمال پر جان دینے کو ہر وقت مستعد تھے۔ انہیں ایام میں آنحضرت ﷺ نے تذکرہ فرمایا کہ ایک بندہ کو خدا تعالیٰ نے اختیار دیا کہ چاہے دنیا کی نعمت اور آسائش اختیار کرے یا اس چیز کو جو اللہ کے پاس ہے اس بندہ نے وہی اختیار کیا جو اللہ کے پاس ہے۔ یہ سنتے ہی بعض صحابہؓ روتے روتے بے خود ہو گئے اور بآواز بلند کہنے لگے کہ ہم اپنے ماں باپ کو آپ ﷺ پر فدا کرتے ہیں۔ حالانکہ صراحتاً اس میں کوئی بات نہیں۔ مگر صرف خیال نے یہ اثر پیدا کر دیا۔
ہر چند صحابہؓ جانتے تھے کہ اس مفارقت کا زمانہ چالیس پچاس برس سے زیادہ نہ ہوگا۔
٤٦
کیونکہ جب ارشاد سراپا ارشاد سے معلوم ہو گیا تھا کہ اکثر لوگوں کی عمر ستر سال سے کم ہی رہے گی۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی خیال تھا کہ بعضوں کی عمر اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ پھر خدا جانے وہ کون ہوگا اور اس زیادتی کی نوبت کہاں تک پہنچے گی۔ اگر بالفرض مثل امم سابقہ سینکڑوں کی نوبت پہنچ جائے۔ جیسے قرآن شریف سے ہزار سال کی عمر بعض حضرات کی ثابت ہے تو اس مفارقت میں بڑی مصیبتیں جھیلنی پڑیں گی اور معلوم نہیں یہ فراق کیا رنگ لائے۔ اس خیال کے دفع کرنے کے لئے حضرت ﷺ نے اس خاص وقت میں فرما دیا کہ آج کی رات یاد رکھو کہ زیادہ سے زیادہ اگر کسی کی عمر ہوگی تو اس وقت سے سو برس سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ الغرض اس سے صحابہؓ کی تسکین مقصود تھی اور یہ بیان کرنا تھا کہ ان میں سے اس مدت میں کوئی باقی نہ رہے گا اور اس پر قرینہ بیّنہ یہ ہے کہ حضرت ﷺ نے اپنے انتقال کے قریب یہ خبر دی۔ اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ مشرق و مغرب اور یورپ و ایشیاء کے سب لوگ مر جائیں گے اور قیامت قائم ہو جائے گی۔ اگر کہا جائے کہ صحابہؓ کی اس حدیث میں تخصیص نہیں۔ بلکہ عام ارشاد ہے کہ جو کوئی اس رات میں روئے زمین پر موجود ہے ان میں سے اس مدت میں کوئی باقی نہ رہے گا۔ ایسے عام لفظ کو صحابہؓ کے ساتھ خاص کرنا کیونکر جائز ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اصول فقہ میں یہ مصرح ہے کہ ”ما من عام الا وقد خص منه البعض“ یعنی کوئی عام ایسا نہیں جس کی تخصیص نہ ہوئی ہو اور اس کے کئی شواہد و نظائر قرآن شریف میں موجود ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے۔ ”انما جزآء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا او یصلبوا او تقطع ایدیھم وارجلھم من خلاف او ینفوا من الارض (مائده:٣٣)“
یعنی جو لوگ اللہ و رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں۔ ان کی جزاء یہی ہے کہ قتل کئے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں۔ یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے نکال دیئے جائیں۔ ظاہر ہے کہ زندوں کو کل روئے زمین سے نکال دینا ممکن نہیں۔ اس لئے الارض کی تخصیص ضروری ہے اور اس سے وہی زمین مراد ہے جہاں وہ رہتے ہیں۔ اسی طرح علی ظہر الارض جو اس حدیث شریف میں ہے۔ اس سے بھی کل روئے زمین مراد نہ ہوگی۔ بلکہ وہی زمین مراد ہوگی جہاں صحابہؓ رہتے تھے اور اگر تعمیم کی جائے اس طور پر اس رات کے موجودہ کل آدمی مر جائیں گے تو اوّل تو اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ نہ وہ قیامت کی خبر ہے نہ صحابہؓ کا اس سے کوئی نفع وضرر۔
اور قطع نظر اس کے یہ تعمیم کسی طرح بن بھی نہیں سکتی۔ اس لئے کہ ظاہر الفاظ سے یہی
٤٧
مستفاد ہے کہ اس رات سے سو برس تک جتنے لوگ روئے زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اس میں کوئی لفظ ایسا نہیں جس سے اس رات والوں کی تخصیص سمجھی جائے۔ اگر یہی مقصود تھا تو من علی ظھر الارض اللیلۃ ارشاد فرماتے اور اگر اللیلۃ کا لفظ ہم اپنی طرف سے بڑھائیں تو جب بھی تخصیص ہی ہوئی۔ بہر حال کسی نہ کسی طرح سے اس حدیث میں تخصیص کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ عام رکھا جائے تو اس حدیث کا مطلب یہ کہنا پڑے گا کہ سو برس کے بعد قیامت قائم ہو جائے گی۔ کیونکہ کوئی باقی نہ رہے گا۔ حالانکہ یہ باطل ہے۔ فرق یہ ہے کہ ہم لفظ احد کو منکم کے ساتھ خاص کرتے ہیں اور معترض علی ظھر الارض کو اللیلۃ کے ساتھ۔
اب ہمارے اور معترض کی توجیہات کے نتائج کو دیکھئے۔ ہماری توجیہ میں ایک مہتم بالشان فائدہ ہے اور معترض کی توجیہ میں کوئی فائدہ نہیں جیسا کہ مذکور ہوا۔
ایک جماعت کثیرہ اولیاء اللہ کی مثل حضرت غوث الثقلین وغیرہ کے اپنے مشاہدہ کی خبر دیتے ہیں کہ ہم نے خضر علیہ السلام کو بچشم خود دیکھا ہے اور ان سے فیضیاب ہوئے۔ معترض کی توجیہ پر سب کی تکذیب ہو جائے گی اور ہماری توجیہ پر ان کی تصدیق ہوتی ہے۔
اور ہماری توجیہ پر بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کی حدیثوں میں تعارض نہیں رہتا جس سے حدیث تمیم داری کی بھی بحالہ خود صحیح رہتی ہے۔ بخلاف معترض کی توجیہ کے کہ دونوں حدیثوں میں سے ایک کو موضوع ٹھہرانے کی ضرورت ہوگی۔ اگر کہا جائے کہ بخاری بہ نسبت مسلم کے زیادہ معتبر ہے۔ اس لئے تعارض کے وقت بخاری کی حدیث کو ترجیح ہوگی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس مقام میں ترجیح دینے کا یہ مطلب ہوگا کہ آنحضرت ﷺ نے تمیم داری کی تصدیق نہیں کی۔ جس سے یہ لازم آئے گا کہ مسلم کی حدیث موضوع ہے۔ اس قسم کی ترجیح اس اجماع کو باطل کرتی ہے جو مسلم شریف کے صحیح ہونے پر ہوا ہے اور ہماری توجیہ پر دونوں حدیثیں صحیح رہتی ہیں۔ غرض ہم نے جو بخاری شریف کی حدیث کی تخصیص کی ہے وہ بہ نسبت اس تخصیص کے جو معترض نے کی ہے کئی طرح سے مفید ثابت ہے۔
الحاصل حدیث تمیم داری سے ثابت ہے کہ ابن صیاد دجال موعود نہ تھا اور مرزا قادیانی ابن صیاد کو دجال قرار دے کر دجال شخصی کی بلا اپنے سر سے ٹالنا چاہتے ہیں وہ ٹل نہیں سکتی۔ یعنی جب تک ایک معین شخص دجال نہ بتائیں۔ جس کے لئے عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے ان کی عیسویت ثابت نہیں ہو سکتی۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اس بحث کی دو ٹانگیں تھیں۔ ایک مسیح ابن مریم آخری زمانے میں اترنا...... دوسری ٹانگ دجال معہود کا آخری زمانے میں ظاہر ہونا سو یہ
٤٨
نے زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ تخصیص سمجھی جائے۔ اگر یہی مقصود تھا تو من اللیلہ کا لفظ ہم اپنے طرف سے بڑھائیں تو اس حدیث میں تخصیص کرنے کی ضرورت پڑے گا کہ سو برس کے بعد قیامت قائم ہو ہے۔ فرق یہ ہے کہ ہم لفظ احد کو منکم کے او اللیلۃ کے ساتھ۔
نتائج کو دیکھئے۔ ہماری توجیہ میں ایک مہتم جیسا کہ مذکور ہوا۔
غوث الثقلین وغیرہ کے اپنے مشاہدہ کی خبر اور ان سے فیضیاب ہوئے۔ معترض کی ان کی تصدیق ہوتی ہے۔
بخاری اور مسلم کی حدیثوں میں تعارض نہیں ہے۔ بخلاف معترض کی توجیہ کے کہ دونوں ہوگی۔ اگر کہا جائے کہ بخاری بہ نسبت مسلم حدیث کو ترجیح ہوگی تو اس کا جواب یہ ہے ﷺ نے تمیم داری کی تصدیق نہیں کی۔ اس قسم کی ترجیح اس اجماع کو باطل کرتی پر دونوں حدیثیں صحیح رہتی ہیں۔ غرض ہم سنت اس تخصیص کے جو معترض نے کی ہے
ابن صیاد دجال موعود نہ تھا اور مرزا قادیانی سے ٹالنا چاہتے ہیں وہ ٹل نہیں سکتی۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے ان کی اس بحث کی دو ٹانگیں تھیں۔ ایک مسیح ابن موعود کا آخری زمانے میں ظاہر ہونا سو یہ
دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔
(ازالۃ الاوہام ص ٢٤٤، خزائن ج ٣ ص ٢٢٣)
ناظرین ! تقریر بالا سے سمجھ گئے ہوں گے کہ مرزا قادیانی کی عیسویت کی تین ٹانگیں تھیں۔ ایک ابن صیاد کا دجال موعود ہونا جو گزر چکا۔ دوسری ٹانگ پادریوں کا دجال ہونا۔ تیسری مسلمانوں میں صفات یہودیت آنے کی وجہ سے عیسیٰ کی ضرورت ہونا۔ سو یہ تینوں ٹانگیں بفضلہ تعالیٰ ٹوٹ گئیں۔ جب یہ بات کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں ہو سکتی کہ مسلمانوں میں یہود کے صفات آنے کی وجہ سے عیسیٰ کی ضرورت ہوگی۔ بلکہ صدہا حدیثوں سے اور اجماع امت سے یہ ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دجال کے نکلنے کے بعد اس کے قتل کے لئے اتریں گے اور پادریوں کو جو مرزا قادیانی نے دجال قرار دیا اور اس کا خلاف واقع ہونا اور ابن صیاد کا دجال موعود نہ ہونا ثابت ہو گیا تو اب وہ عیسیٰ موعود تو نہیں ہو سکتے۔ ہاں جیسے عیسیٰ خان اور موسیٰ خان نام ہوتے ہیں۔ تبرکاً اگر یہ نام اختیار کیا ہے تو ہمیں اس میں کلام نہیں۔ مگر اس کے لئے یہ دعویٰ ضرورت سے زیادہ ہے کہ دم عیسوی سے وہ دجال یعنی پادریوں کو قتل کر رہے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ بھی صحیح ہوتا تو جب بھی مضائقہ نہ تھا۔ مسلمان لوگ اس خوشی میں کہ ہمارا دشمن تو ہلاک ہو گیا۔ اغماض کر جاتے یہاں تو پادریوں اور ان کی دجالیت کی ترقی روز افزوں ہو رہی ہے۔ جس کے خود مرزا قادیانی شاکی ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”ہر سال لاکھوں کرسچن بنائے جاتے ہیں۔“
(ازالہ ص ٢٩٤، ٢٩٦، خزائن ج ٣ ص ٢٤٦، ٢٤٧)
مرزا قادیانی جو دعویٰ عیسویت کرتے ہیں۔ اس کی بناء احادیث پر ہے۔ کیونکہ بقول مرزا قادیانی قرآن سے عیسیٰ علیہ السلام کا آنا ثابت نہیں۔ پھر جن احادیث میں عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا ذکر ہے۔ ان میں یہ بھی مصرح ہے کہ وہ اترتے ہی دجال کو مار ڈالیں گے اور ہمیں معلوم ہے کہ مرزا قادیانی بیس سال سے پہلے قادیان میں اتر کے دعویٰ عیسویت کر رہے ہیں اور اب تک ان کا دجال مرا نہیں تو ان کا دعویٰ انہیں کی دلیل سے باطل ہو گیا۔ کیونکہ عیسیٰ کو دجال کا مار ڈالنا لازم ہے اور یہ لزوم انہیں احادیث سے ثابت ہے۔ جن پر مرزا قادیانی کا استدلال ہے۔ اس صورت میں بحسب قاعدہ عقلیہ مسلمہ انتفائے لازم سے انتفاء ملزوم ضروری ہے۔ یعنی پادریوں کے معدوم نہ ہونے سے مرزا قادیانی کا عیسیٰ نہ ہونا انہیں دلائل سے ثابت ہوا۔ جن پر مرزا قادیانی استدلال کرتے ہیں۔
یہاں شاید یہ کہا جائے گا کہ مرزا قادیانی تو دجال یعنی پادریوں کو مار ہی ڈال رہے ہیں۔ مگر مجبوری یہ ہے کہ وہ مرتا نہیں۔ واقعی اس مجبوری کا علاج نہیں۔ بجز اس کے کہ اس دشمن قوی
٤٩
کے ہلاک ہونے کی دعاء کی جائے۔ چنانچہ ہم بھی دعاء گو ہیں اور بصدق دل چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو اس دجال پر فتح نصیب ہو۔ اگرچہ قرائن بینہ اور وجدان گواہی دیتے ہیں کہ اس دعاء کا اثر مرزا قادیانی کی زندگی میں ظاہر ہونا ممکن نہیں۔ خیر یہ دعاء تو ہوتی رہے گی۔ ہم بھی کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی جب بھی کرتے ہوں گے مگر کمال عیسویت میں ہے کہ پھونکتے پھونکتے عیسیٰ کا ناک میں دم آئے اور دم عیسوی ہوا اور برباد ہو جائے اور دشمن کو اس سے کچھ جنبش نہ ہو۔ بلکہ اور اشتعال زیادہ ہو۔ ایسے عیسیٰ سے تو بیمار ہی بھلا۔ جس کی حالت کو دیکھ کر دلوں پر اثر پڑتا ہے اور ہر شخص کو اس کا اضطراب چارہ جوئی پر مجبور کرتا ہے۔ کاش مرزا قادیانی وہ درد جو ازالۃ اوہام کے آخر میں ظاہر کرتے ہیں کہ:
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
(خزائن ج٣ ص٦٣٤)
قوم کے روبرو پیش کر کے اپنی سچی حالت کا ثبوت دیتے تو طبعاً قوم ایسے شقی القلب نہ تھے کہ اس طرف کچھ توجہ نہ کرے۔ مگر افسوس ہے کہ طبیعت مرزائی نے ذلت کو گوارا نہ کر کے ایسے راست بازی کے طریقہ سے روکا جو مستحکم اور قوی الاثر تھا۔
(ازالۃ اوہام ص٢٢٨، خزائن ج٣ ص٢١٤) میں مرزا قادیانی مسلم شریف کی وہ حدیث جس میں دجال کی سرعت سیر اور پانی برسانا اور کھیتی اگانا اور احیائے موتی وغیرہ امور کا ذکر ہے۔ نقل کر کے بیان کرتے ہیں کہ: ”اگر ظاہری معنوں پر اس کو حمل کریں تو اس بات پر ایمان لانا ہوگا کہ فی الحقیقت دجال کو ایک قسم کی قوت خدائی دی جائے گی وہ کن سے سب کچھ کرے گا۔ سوچنا چاہئے کہ یہ سب کتنا بڑا شرک ہے کچھ انتہاء بھی ہے انہوں نے (یعنی علماء نے) ایک طوفان شرک کا برپا کر دیا ہے۔“
معلوم نہیں مرزا قادیانی اس اعتقاد کو کس لحاظ سے شرک ٹھہراتے ہیں۔ اکابر نے جنہوں نے اس حدیث کو صحیح مان لیا ہے۔ جس کی بناء پر تمام اہل اسلام کا اعتقاد اس پر جما ہوا ہے۔ ان تک تو شرک کی ہوا بھی نہیں آسکتی۔ کیونکہ انہوں نے قرآن شریف اوّل سے آخر تک پڑھا ہے اور ہر آیت ان کے پیش نظر تھی وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت ہے۔ ”وهو علیٰ کل شئی قدیر“ وہی پیدا کرتا ہے وہی مارتا ہے۔ اس کے سوا کسی میں یہ قدرت نہیں۔ ”وهو الذی یحیی ویمیت (مؤمنون:٨٠)“ وہی رزق دینے والا ہے۔ ”وهو الرزاق وقوله تعالیٰ
٥٠
نحن نرزقكم واياهم "پانی برسانا اسی کا کام ہے۔" وهو الذى انزل من السماء ما (انعام: ٩٩) "کھیتی کا اگانا اسی کا کام ہے۔" والله انزل من السماء ماء فاحيا به الارض (نحل: ٦٥) "گمراہ کرنے کے واسطے وہی شیاطین کو بھیجتا ہے۔" انا ارسلنا الشياطين على الكافرين تؤزهم ازا (مریم: ٨٣) "گمراہ کرنے والوں کو ہر جگہ وہی مقرر فرماتا ہے۔" وكذلك جعلنا فى كل قرية اكابر مجرميها ليمكروا فيها (انعام: ١٢٣) "بعضوں کو خاص فتنوں کے لئے قرار دیتا ہے۔" والله خلقكم وما تعملون (صفت: ٩٦) "وہ آدمیوں کو پیدا کرتا ہے اور ان کاموں کو بھی پیدا کرتا ہے، ہدایت اور گمراہی کے اسباب کو وہی پیدا کرتا ہے۔" يضل به كثيراً ويهدى به كثيرا (بقرہ: ٢٦) "کاموں کی نسبت جو بندوں کی طرف ہے مجازی ہے۔ حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ ہی کے افعال ہیں۔" فلم تقتلوهم ولكن الله قتلهم وما رميت اذ رميت ولكن الله رمى (انفال: ١٧)" اگرچہ ہدایت انبیاء کی طرف منسوب ہے۔" وممن خلقنا امة يهدون الى الحق (اعراف: ١٨١) "لیکن درحقیقت وہ اللہ ہی کا کام ہے۔" انك لا تهدى من احببت ولكن الله يهدى من يشاء (قصص: ٥٦) "اور برے کاموں کی رغبت اگرچہ شیطان دلاتا ہے۔ "وزين لهم الشيطان اعمالهم (نمل: ٢٤)" مگر درحقیقت وہ بھی اللہ ہی کا کام ہے۔ "زينا لهم اعمالهم فهم يعمهون (نحل: ٤)" جب تک خدائے تعالیٰ کی مشیت کسی کام سے متعلق نہیں ہوتی۔ کسی کا خیال اس طرف متوجہ نہیں ہو سکتا۔" وما تشاؤن الا ان يشاء الله رب العالمين (تکویر: ٢٩) "فتح و شکست اسی کے ہاتھ ہے جس کو چاہتا ہے۔ زمین کا مالک بنا دیتا ہے۔" ان الارض لله يورثها من يشاء من عباده (اعراف: ١٢٨) "مكناهم فى الارض ما لم نمكن لكم (انعام: ٦) "ہدایت والوں کو اور گمراہی والوں کو دونوں کو وہی مدد دیتا ہے۔" كلا نمد هؤلاء وهؤلاء من عطاء ربك (بنی اسرائیل: ٢٠) "اس کی مصلحت میں کسی کو دخل نہیں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی اس سے پوچھ نہیں سکتا۔" لا يسئل عما يفعل وهم يسئلون (انبیاء: ٢٣) "انبیاء کو ہدایت کرنے کے لئے بھیجتا ہے اور شیطان اور آدمیوں کو ان کا دشمن بنا دیتا ہے۔ جن سے ان کو سخت مصیبتیں پہنچتی ہیں۔" وكذلك جعلنا لكل نبى عدو شياطين الانس والجن يوحى بعضهم الى بعض زخرف القول غرورا ولو شاء ربك مافعلوه (انعام: ١١٢) "مگر ان کے دلوں کو ثابت رکھتا ہے۔" ولولا ان ثبتناك لقد كدت تركن اليهم شيئا قليلا (بنی اسرائیل: ٧٤) "جن کی گمراہی
٥١
مقصود ہے ان کو انبیاء وغیرہم کتنا ہی سمجھائیں اور کیسے ہی دلائل بتلائیں نہ وہ سمجھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں۔ ”وجعلنا علی قلوبهم اكنة ان يفقهوه وفی اذانهم وقرا (بنی اسرائیل: ٤٦) . ختم الله علی قلوبهم وعلی سمعهم وعلی ابصارهم غشاوه (بقرہ: ٧) . ولقد ذرأنا لجهنم كثيراً من الجن والانس لهم قلوب لا يفقهون بها ولهم اعين لا يبصرون بها ولهم اذان لا يسمعون بها (انعام: ١٧٩)“ وہ مالک ومختار ہے۔ اپنے مخلوق میں جو چاہے کرے کسی کو مجال نہیں کہ اس سے پوچھ سکے۔ ”لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون (انبیاء: ٢٣)“
غرض نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ دنیا میں جتنے کام ہوتے ہیں۔ خواہ خیر ہوں یا شر معمولی ہوں یا غیر معمولی یعنی خوارق عادات سب کو حق تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔ شیطان ہو یا دجال اپنی خود مختاری سے کچھ نہیں کر سکتا۔ جب تک خدائے تعالیٰ نہ چاہے ازل ہی میں سب کام معین اور تقسیم ہوچکے ہیں کہ فلاں کام فلاں شخص فلاں وقت میں کرے گا۔ ”وعنده ام الكتاب وقال النبی ﷺ جف القلم بما هو کائن“ ازل میں حق تعالیٰ ہی مقرر فرما چکا ہے کہ دجال اس قسم کے فتنے برپا کرے۔ جس کی خبر جمیع انبیاء نے پہلے سے دی ہے۔
چونکہ مشیت الٰہی مقتضی ہے کہ اس کی وجہ سے سوائے چند اہل ایمان کے کل گمراہ ہو جائیں اور قیامت ایسے لوگوں پر قائم ہو کہ اللہ کا نام لینے والا کوئی باقی نہ رہے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اس لئے اولاً دجال کو ان تمام فتنہ پردازیوں اور دعویٰ الوہیت کا الہام ہوگا۔ آپ حضرات شاید لفظ الہام پر برافروختہ ہوئے ہوں گے کہ دعوے الوہیت کو الہام سے کیا نسبت تو اس کا جواب اجمالاً سن لیجئے کہ جھوٹے خواہ دعویٰ نبوت کا کریں یا الوہیت کا۔ جب تک الہام نہیں ہوتا نہیں کر سکتے۔ ہر اچھے اور برے کام کے لئے الہام ہوا کرتا ہے۔ ”ونـفـس ومـــا سواها فالهمها فجورها وتقوها (شمس: ٧، ٨)“
غرض جب وہ بحسب الہام ضلالت دعویٰ الوہیت کرے گا تو حق تعالیٰ کی طرف سے اس کو مدد ملے گی۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا اور چند لوازم الوہیت مثلاً پانی کا برسانا زمین شور سے زراعت کا اگانا، مردوں کو زندہ کرنا اس سے ظہور میں آئیں گے اور جس طرح عادت اللہ جاری ہے کہ کلمہ کن سے ہر چیز کو پیدا فرماتا ہے۔ اسی طرح یہ سب چیزیں خاص اللہ تعالیٰ ہی کے امر کن سے وجود میں آئیں گی۔ دجال کے فعل کو اس میں کچھ دخل نہیں۔ مگر چونکہ دجال کے دعوے کے بعد ان امور کا ظہور ہوگا۔ اس لئے ظاہر میں بے ایمان یہی سمجھیں گے کہ وہ سب اس کے حکم سے
٥٢
ہوئے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ دجال کو ایک قسم کی قوت خدائی دی جائے گی اور کن سے وہ سب کچھ کرے گا اور جس طرح بنی اسرائیل نے گوسالہ میں غیر معمولی بات دیکھ کر اس کو معبود بنالیا تھا۔ اسی طرح ان خوارق عادات کی وجہ سے دجال کو معبود خالق رزاق محیی ممیت سمجھ لیں گے۔ کیونکہ قرآن پر تو ان کا اعتقاد ہی نہ ہو گا اور جن کا اعتقاد قرآن پر ہوگا وہ صاف کہہ دیں گے کہ تو دجال جھوٹا ہے۔ جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ مرزا قادیانی جو لکھتے ہیں کہ دجال کو چناں وچنیں سمجھنا شرک ہے۔ فی الواقع صحیح ہے جو لوگ اس کو رزاق محیی وغیرہ سمجھیں گے وہ بے شک مشرک ہوں گے۔ مگر احادیث صحیحہ پر وہ جو الزام لگاتے ہیں کہ ان میں شرک بھرا ہوا ہے۔ اس الزام سے وہ احادیث مبرا ہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اولاً توحید افعالی کو اہل ایمان کے دلوں میں راسخ فرمادیا اور جن آیات میں اس کا ذکر ہے۔ باعلان شائع کر کے سب کو ان کا عامل بنادیا۔ جس سے ہر اہل ایمان سمجھ سکتا ہے۔ دجال نہ رزاق ہوسکتا ہے نہ محیی نہ ممیت۔ اب اگر کوئی شخص قرآن نہ پڑھا ہو یا اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور تعلیم نبوی سے ناواقف ہو تو وہ بے شک اس حدیث شریف کو اعتراض کی نظر سے دیکھے گا۔ مگر ایسا بے علم یا منکر شخص قابل التفات نہیں۔ کلام ان علماء کے اعتقاد میں ہے۔ جن کے پیش نظر یہ سب آیات اور تعلیم نبوی تھے۔ کیا یہ حضرات اور پورے قرآن پر کامل ایمان رکھنے والے بھی اس شرک کے قائل ہوں گے۔ جس میں مرزا قادیانی گرفتار ہیں، ہرگز نہیں۔
مرزا قادیانی کو مجددیت بلکہ مہدویت بلکہ عیسویت کا دعویٰ ہے اور یہ کل امور ایسے ہیں جن کا مدار ایمان پر ہے۔ ان کی اس تقریر سے تو یہ مقولہ پیش نظر ہو جاتا ہے کہ ”سبحہ نامے دارد ایمان ندارد“ کیونکہ اگر ان کو ان آیات پر ایمان ہوتا تو وہ دجال کی الوہیت لازم آنے کے قائل نہ ہوتے اور جب وہ اس کے قائل ہیں تو لازم آتا ہے کہ سامری کی قدرت خدائی پر ان کو ایمان ہوگا اور مان لیا ہوگا کہ مثل حق تعالیٰ کے کن کہہ کر گوسالہ کو اسی نے بنی اسرائیل کا معبود بنادیا۔ جس کی نسبت حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”فاضلهم السامري (طہ:٨٥)“ اور ”فاخرج لهم عجلا جسدا له خوار فقالوا هذا الهكم واله موسیٰ فنسی (طہ:٨٨)“ کیونکہ سونے اور چاندی سے ایسا بچھڑا بنانا جو زندہ اور آواز کرتا ہو کوئی معمولی بات نہیں۔ ورنہ ایک خلق کثیر اس کی الوہیت کی کیونکر قائل ہوتی۔ اگر وہ معمولی بات ہوتی تو حق تعالیٰ ان کی حماقت کے بیان میں فرماتا کہ وہ گوسالہ کوئی غیر معمولی نہ تھا۔ جس کی الوہیت کے وہ قائل ہو گئے تھے۔ بلکہ ارشاد ہوتا ہے کہ انہوں نے اتنا بھی نہیں دیکھا کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا تھا اور نہ وہ ان کے نفع وضرر کا مالک تھا۔ ”افلا یرون الا يرجع
٨٣
اليهم قولا ولا يملك لهم ضرا ولا نفعاً (طه:٨٩)‘‘ اب اہل انصاف غور کر سکتے ہیں کہ جن حدیثوں میں دجال کے خوارق عادات مذکور ہیں ان احادیث پر ایمان لانے کی وجہ سے صحابہ اور محدثین اور کل امت مرحومہ پر الزام شرک عائد ہو سکتا ہے یا اس اعتقاد کی وجہ سے مرزا قادیانی پر؟
رند از رہِ نیاز بدار السلام رفت
حق تعالیٰ اہل ایمان کو سمجھ عطا فرمائے کہ حق و باطل میں تمیز کرسکیں۔ مرزا قادیانی ایک استدلال یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ: ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ عیسیٰ ابن مریم اور دجال خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔‘‘ انتہیٰ ملخصاً!
(ازالہ ص ٢٠٥،٢٠٦،خزائن ج ٣ ص ٢٠١)
اور لکھتے ہیں کہ: ”جو کچھ دمشقی حدیث میں مسلم نے بیان کیا ہے اکثر باتیں اس کی بطور اختصار اس حدیث میں درج ہیں اور پیغمبر ﷺ نے صاف اور صریح طور پر اس حدیث میں بیان فرما دیا کہ یہ میرا مکاشفہ ہے یا ایک خواب ہے۔ اس جگہ سے یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ دمشق والی حدیث جو پہلے ہم لکھ آئے ہیں وہ بھی آنحضرت ﷺ کا ایک خواب ہے۔ جیسا کہ اس میں یہ اشارہ بھی کانی کا لفظ بیان کر کے کیا گیا ہے۔‘‘
(ازالہ ص ٢٠٦،خزائن ج ٣ ص ٢٠٢)
دمشق والی حدیث جس کا حوالہ مرزا قادیانی (ازالہ ص ٢٠٢،٢٠٣،خزائن ج ٣ ص ١٩٩) دیتے ہیں۔ اس کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ ایک بار آنحضرت ﷺ نے دجال کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر وہ میرے زمانہ میں نکلے گا تو میں خود اس کا مقابلہ کرلوں گا اور اگر میں نہ رہوں تو ہر شخص اپنے طور پر حجت قائم کر لے۔ (اس کی علامتیں یہ ہیں) وہ جوان ہوگا۔ اس کے بال مڑے ہوئے ہوں گے اور ایک آنکھ اس کی پھولی ہوئی ہوگی۔ وہ عبدالعزیٰ بن قطن کے مشابہ ہوگا۔ انتہیٰ ملخصاً!
مرزا قادیانی اس حدیث کے ساتھ طواف والی حدیث کو جوڑ لگاتے ہیں۔ اس غرض سے کہ جیسے طواف کی تعبیر ضروری ہے۔ ویسے ہی دجال کی تاویل ضروری ہے۔ اسی وجہ سے دجال سے گروہ پادریاں مراد ہے اور اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ مکاشفات بھی مثل خواب قابل تعبیر ہیں اور لفظ کانی سے اسی طرف اشارہ ہے۔ مرزا قادیانی یہاں ایک نیا قاعدہ ایجاد کر رہے ہیں کہ کانی سے خواب کی طرف اشارہ ہوا کرتا ہے۔ حالانکہ یہ نص قطعی کے خلاف ہے، حق تعالیٰ فرماتا ہے: ”فلما جاءت قال أهكذا عرشك قالت كأنه هو (نمل:٤٢)‘‘ ظاہر ہے کہ بلقیس کا یہ قول خواب میں نہ تھا۔
اصل یہ ہے کہ کان تشبیہ کے لئے ہے چونکہ آنحضرت ﷺ کا مقصود یہ تھا کہ دجال کو ایسے طور پر معین ومشخص فرمادیں کہ امت کو اس کے پہچاننے میں کسی قسم کا اشتباہ نہ رہے تا کہ اس کے فتنہ سے محفوظ رہیں۔ اس لئے اولاً اس کے تمام حالات و خوارق عادات بیان کر دیئے ۔ پھر اس کا حلیہ بیان فرمادیا اور اس پر بھی اکتفا نہ کر کے ایک ایسے شخص کے ساتھ تشبیہ دے کر اس کو مشخص فرما دیا۔ جس کو لوگ پہچانتے تھے تا کہ لوگ معلوم رکھیں کہ وہ کیسے ہی دعوے کرے مگر دراصل وہ ایک آدمی ہوگا۔ مشابہ عبدالعزیٰ کے چنانچہ ایک موقع میں صراحۃً فرما دیا کہ میں اس کی وہ علامتیں تمہیں بتلاتا ہوں کہ کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتلائیں۔
اہل انصاف خود غور فرمالیں کہ اس تشبیہ سے آنحضرت ﷺ کو دجال کی تعیین وتشخیص مقصود تھی یا ابہام جب لفظ کان سے یہ ثابت کیا جائے کہ وہ قابل تعبیر ہے تو ہر شخص اپنی سمجھ کے موافق تعبیر اور تاویل کرے گا۔ کیونکہ حضرت ﷺ نے تو اس کی تعبیر کچھ بیان ہی نہیں فرمائی ۔ اس صورت میں حضرت ﷺ کا وہ تمام اہتمام جو اس کی تعین کے باب میں فرمایا سب بے کار ہو جائے گا۔ عقلاً وعادۃً یہ بات ثابت ہے کہ جب کسی غائب کو معین کر کے بتلا دینا مقصود ہوتا ہے تو پہلے اس کے احوال مختصہ بیان کئے جاتے ہیں۔ پھر اس کا حلیہ بیان کیا جاتا ہے اور چونکہ حلیہ میں بھی مفاہیم کلیہ ہوتے ہیں۔ جس سے تعین شخصی نہیں ہوتی۔ اس لئے اس کے مشابہ کوئی ہو تو اس کو دکھلا کر کہا جاتا ہے کہ وہ غائب اس کے مشابہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی دجال کی تعیین و تشخیص کے بارے میں یہ تینوں مدارج طے فرما دیئے۔ کنز العمال دیکھ لیجئے کہ ان تینوں قسم سے متعلق احادیث بکثرت موجود ہیں۔
مرزا قادیانی کو ضد ہے کہ آنحضرت ﷺ کتنا ہی اس کو مشخص فرمادیں ۔ وہ مشخص ہونے نہیں دیتے۔ بلکہ اس کوشش میں ہیں کہ جہاں تک ہو سکے ابہام بڑھایا جائے۔
گورنمنٹ کے مخالفت کے خیال کو جو عیسیٰ بننے میں پیدا ہوتا تھا کس اہتمام سے مرزا قادیانی نے دفع کیا۔ چنانچہ (کشف الغطا ص٣،٤، خزائن ج١٤ ص١٨٥) میں وہ لکھتے ہیں کہ ”میں نے عربی فارسی اردو کتابیں لکھ کر عرب، شام، کابل، بخارا وغیرہ کے مسلمانوں کو بار بار تاکید کی اور معقول وجہوں سے ان کو اس طرف جھکا دیا کہ گورنمنٹ کی اطاعت بدل و جان اختیار کریں۔“
دیکھئے ان تمامی اسلامی بلاد کے مسلمانوں کو مرزا قادیانی نے جو بار بار تاکید کی کہ ان اسلامی شہروں کو سلطنت اسلامی سے خارج کر کے نصاریٰ کے قبضہ میں دے دیں اور وہ اس طرف مائل بھی ہو گئے ۔ اس میں کس قدر مرزا قادیانی کا روپیہ صرف ہوا ہوگا۔ مگر اس کی کچھ پروا نہ کی اور یہ سب کچھ
رفع الزام مخالفت گورنمنٹ میں گوارا کیا۔ مگر افسوس ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ضد اور مخالفت علانیہ کر رہے ہیں اور اس کی کچھ پروا نہیں اور اس سے زیادہ قابل افسوس یہ ہے کہ اس قسم کی مخالفتوں پر دین کا مدار سمجھا جارہا ہے۔
مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کے مکاشفہ کو اپنے مکاشفہ پر قیاس کر کے اس کا مطلب یہ بتاتے ہیں کہ اس مکاشفہ سے کشف وظہور نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس میں ایک ایسا ابہام رہتا ہے کہ اس کی تعبیر کی حاجت ہوتی ہے۔ یعنی مکاشفہ میں جو چیز دیکھی جاتی ہے درحقیقت وہ چیز نہیں ہوتی۔ جیسے خواب میں اگر دودھ دیکھا جائے تو اس سے مراد مثلاً علم ہے دودھ نہیں۔ اسی وجہ سے خواب دیکھنے والا پریشان ہو کر تعبیر پوچھتا پھرتا ہے۔ پھر اگر کوئی شخص اس کی تعبیر بیان بھی کر دے تو وہ بھی قابل یقین نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جب تعبیر باعتبار صفات ولوازم و مناسبات لی جاتی ہے اور ہر چیز کے لوازم و مناسبات بکثرت ہو سکتے ہیں تو کیونکر یقین ہو کہ جن مناسبتوں کا لحاظ تعبیر میں رکھا گیا وہی واقعہ میں بھی ہیں۔
اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے مکاشفہ اور خواب کا ایک ہی حال فرض کریں۔ جب بھی ہم کہیں گے کہ آنحضرت ﷺ کا خواب اوروں کے الہام سے افضل تھا۔ اس لئے کہ اس کا مقصود حضرت ﷺ پر ظاہر ہو جاتا تھا۔ جس کو تعبیر کے پیرایہ میں بیان فرما دیتے تھے۔ چنانچہ احادیث سے ظاہر ہے کہ خود حضرت ﷺ کوئی خواب دیکھتے یا صحابہ اپنے خواب عرض کرتے۔ حضرت ﷺ اس کی تعبیر دے کر اس کے ابہام کو اٹھا دیتے تھے۔ اگر اس مکاشفہ میں عبدالعزیٰ صورت مثالی دجال کی تھی۔ جس کی تعبیر کی حاجت ہے تو مثل اور خوابوں کے اس کی بھی تعبیر خود بیان فرما دیتے۔ ورنہ صورت مثالی کو بیان کر کے مصداق اور تعبیر بیان نہ کرنا شان نبوت سے بعید ہے۔ کیونکہ ایسی مبہم چیز کے بیان سے سوائے سامعین کی پریشانی خاطر کے کوئی نتیجہ نہیں اور پیشین گوئی کے مکاشفہ کو صحابہ قابل تعبیر سمجھتے تو جیسے اور خوابوں کی تعبیر پوچھتے تھے اس کی بھی تعبیر پوچھ لیتے کہ عبد العزیٰ کے مشابہ ہونے کا کیا مطلب ہے۔ پھر دجال کا واقعہ کوئی معمولی نہ تھا کہ چنداں قابل التفات نہ ہو اس کی خوفناک حالتیں حضرت ہمیشہ بیان فرماتے۔ امم سابقہ کا اس سے ڈرنا اور انبیاء کا ڈرانا صحابہ کو معلوم تھا۔ ہمیشہ نماز میں دعاء کرتے۔ ”واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال“ ایسی حالت میں اگر مکاشفہ دجال کو قابل تعبیر سمجھتے تو صحابہ کی شان نہ تھی کہ ایسے اہم معاملہ کو مبہم چھوڑ دیتے اور اگر بالفرض کسی وجہ سے چھوڑ بھی دیا تھا تو کسی کو تو افسوس ہوتا کہ کاش کہ حضرت ﷺ سے اس کی تعبیر پوچھ لی ہوتی۔ حالانکہ کوئی روایت اس قسم کے افسوس کی نہ مرزا قادیانی نے بتلائی نہ بتلا
سکتے ہیں۔ ایک بار آنحضرت ﷺ نے اپنا خواب بیان فرمایا کہ میرے پیچھے گویا کالی بکریوں کا ایک گلہ چلا آ رہا ہے۔ پھر سفید بکریوں کا اتنا بڑا گلہ آ گیا کہ اس میں کالی بکریاں چھپ گئیں۔ صدیق اکبرؓ نے عرض کی شاید کالی بکریوں سے عرب اور سفید بکریوں سے عجم مراد ہوں گے۔ فرمایا ہاں صبح کے قریب ایک فرشتے نے بھی یہی تعبیر دی۔ دیکھئے حضرت ﷺ کی تعبیر بیان فرمانے سے پہلے صدیق اکبرؓ نے تعبیر دے دی اس سے ظاہر ہے کہ مبہم اور تعبیر طلب امور کی تعبیر معلوم کرنے میں صحابہؓ بے چین ہو جاتے تھے۔
جب ادنیٰ ادنیٰ شبہات کو صحابہؓ پوچھ کر اعتقاد کو محکم کر لیا کرتے تھے تو ایسے پرخطر اور خوفناک واقعہ کو صحابہ ضرور پوچھتے کہ حضرت انبیائے سابقین نے دجال کو ہوا بنا رکھا تھا۔ (جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں) یا واقعہ میں وہ کوئی چیز بھی ہے اور اگر ہے تو کسی قوم کا نام ہے یا کوئی معین شخص ہوگا۔ جس کا یہ حلیہ بیان ہو رہا ہے اور تشبیہ دی جا رہی ہے۔
آپ حضرات خود سمجھ سکتے ہیں کہ بعد اس کے کہ دجال کا حلیہ بیان فرمایا گیا اور ایک شخص کے ساتھ اس کو تشبیہ دے کر معین فرما دیا۔ اس پر بھی اگر کوئی پوچھتا کہ حضرت ﷺ اس کو آپ نے ہوا بنا رکھا ہے یا وہ کوئی قوم ہے تو یہ سوال کیسے سمجھا جاتا اور اس کا جواب کیا ہوتا۔ کاش مرزا قادیانی کا ہم خیال اس وقت کوئی ہوتا اور خود آنحضرت ﷺ سے پوچھ لیتا تو اس سوال وجواب کا لطف سخن شناسوں کو قیامت تک آتا رہتا۔
کشف کے معنی مرزا قادیانی (ازالہ ص ٢١٢ ، خزائن ج ٣ ص ٢٠٥) میں یہ لیتے ہیں کہ: ”اس میں صورت مثالی ظاہر ہوتی ہے۔“ یہ اگر یہی معنی کشف کے ہیں تو چاہئے کہ اگر کسی چیز کا خیال کر لیا جائے تو اس کو بھی کشف کہیں۔ اس لئے کہ اس میں بھی آخر صورت خیالی کا کشف ہوتا ہے اور دونوں میں اصل واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اگر بعد تعبیر کے انطباق صورت مثالیہ کا صورت خارجیہ پر ممکن ہے تو بعد تحقیق کے صورت خیالیہ کا انطباق بھی صورت خارجیہ پر ممکن ہے۔ پھر ایسا کشف جس کو خیال پر بھی فضیلت نہ ہو سکے اس کو کشف کہنا ہی اندھیر ہے۔
تمام اہل کشف کا اتفاق ہے جس سے اولیاء اللہ کے تذکرے بھرے ہوئے ہیں کہ جس چیز کا کشف ہوتا ہے اس کو مکشوف العین دیکھ لیتے ہیں اور جو کچھ وہ خبر دیتے ہیں برابر اس کا ظہور ہوتا ہے۔
مگر مرزا قادیانی اس کو کیوں ماننے لگے تھے۔ اگر ان کے روبرو حضرت بایزید بسطامی یا حضرت غوث الثقلینؒ کے اقوال بھی پیش کئے جائیں تو وہ نہ مانیں گے اور اگر اپنے
٥٧
مطلب کی بات ہو تو نواب صدیق حسن خان صاحب کا قول پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ (ازالہ اوہام ص ٥٦٤، خزائن ج ٣ ص ٤٠٤) میں لکھتے ہیں کہ: ”سلف صالح میں سے بہت سے صاحب مکاشفات مسیح کے آنے کا وقت چودھویں صدی کا شروع بتلا گئے ہیں۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب اور مولوی صدیق حسن خان صاحب نے ایسا ہی لکھا ہے۔ مرزا قادیانی نے یا تو بہت سے اہل مکاشفات وسلف صالح سے سوائے ان دو شخصوں کے کسی کا نام قابل ذکر نہیں سمجھا۔ یا اس قول موافق کی وجہ سے ان کی قدر افزائی کر کے سلف صالح اور اہل مکاشفات میں ان کا حساب کر لیا۔ بہر حال ان کے صرف اس خیال اور تخمینی قول کی وجہ سے جو من وجہ مفید مدعا ہے۔ اگر سلف صالح ہیں تو وہ ہیں اور ولی کامل اور صاحب مکاشفہ ہیں تو وہ ہیں اور جس قدر قول ان کے مخالف ہو خواہ وہ محدث ہو یا صحابی صاف کہہ دیتے ہیں کہ یہ سراسر غلط ہے۔ بلکہ تمام اکابر دین پر شرک کا الزام لگا ہی دیا۔ جیسا کہ ابھی ہوا اور طرفہ یہ ہے کہ اگر قابل تاویل و تعبیر ہو تو آنحضرت ﷺ کا کشف ہو اور ایسے لوگوں کے کشف و پیشین گوئی میں نہ تاویل کی ضرورت ہے نہ تعبیر کی۔ چنانچہ ان کے کشف کے مطابق چودھویں صدی کے شروع میں عیسیٰ آ بھی گیا۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو صدیق حسن خان صاحب کے پیشین گوئی کی جتنی وقعت ہے۔ آنحضرت ﷺ کی اتنی بھی وقعت نہیں۔ اس پر یہ دعویٰ مہدویت وغیرہ وغیرہ اسی طرح اپنے کشفوں کی نسبت ہمیشہ زور دیا جاتا ہے کہ وہ صحیح نکلے۔ گو ہر طرف سے اس کا انکار ہو رہا ہو۔ مسلم شریف کی حدیث چونکہ ان کے مدعا کے مخالف ہے لکھتے ہیں کہ دمشق کی حدیث میں مسلم نے بیان کیا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ دجال کی علامتیں جو حدیث مسلم میں وارد ہیں حضرت نے نہیں بیان فرمایا۔ بلکہ مسلم نے بیان کیا یعنی بنالیا ہے۔ حالانکہ وہ حدیث خاص آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے اور دجال کو خواب میں دیکھنے کی حدیث کو چونکہ مفید مدعا سمجھتے ہیں۔ کمال عقیدت اور اہتمام سے لکھتے ہیں کہ پیغمبر خدا ﷺ نے صاف و صریح طور پر بیان فرما دیا کہ یہ خبر میرا مکاشفہ یا ایک خواب ہے۔ حالانکہ اس حدیث میں نہ مکاشفہ کا لفظ ہے نہ خواب کا نام۔
اصل گفتگو یہ تھی کہ کشف سے واقعہ منکشف ہو جاتا ہے یا وہ قابل تعبیر اور مبہم رہتا ہے۔ قرآن شریف سے تو ثابت ہے کہ اصل واقعہ مشہور ہو جاتا ہے۔ دیکھ لیجئے خضر علیہ السلام نے ایک لڑکے کو صرف اس کشف کی بناء پر مار ڈالا کہ اگر وہ جوان ہوگا تو اپنے ماں باپ کو کافر بنا دے گا۔ اب غور کیجئے کہ کس درجہ کا ان کو اپنے کشف پر وثوق تھا کہ معصوم لڑکے کو بغیر کسی گناہ کے نبی وقت کے رو برو مارنے کی کچھ پروا نہ کی۔ اگر ذرا بھی ان کو اشتباہ ہوتا تو یہ قتل ہرگز جائز نہ ہوتا اور حق تعالیٰ
٥٨
نے اس واقعہ کی خبر جو اپنے کا بندوں کو یقینی کشف وعیاں عطا باوجود یکہ خضر علیہ السلام کا نبی والسلام کا کشف یقین کے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے ؟ میں اس کو اور قیامت تک جو اعلانیہ دیکھتا ہوں۔ (خصائص کی خبر جو کشف سے دی ہے ا ہے اور وہ کشف مثل خوابوں عبدالعزیٰ کے ساتھ اس کو آ کرتے ہیں۔ جن سے ظاہر تعبیر و تاویل اس کا ظہور ہو بمنزلہ مشتے نمونہ از خروارے نہیں لکھا گیا۔ الخصائص ا روایت کا حاصل مضمون لکھ ابن عمرؓ کہتے ہیں پوچھنے کی غرض سے آئے پوچھنا چاہتے ہو پوچھو اور نادر ہوگا۔ فرمایا کہ تم رات قسم کھا کر حضرت ﷺ کی ہی بیان کردوں۔ عرض کی مطلق راس و طواف رمی جم جس روز حجا عید گاہ تشریف لے گئے لکھتے ہیں کہ یہ نماز جناز کہ انہیں دنوں مہلک و غی
نے اس واقعہ کی خبر جو اپنے کلام پاک میں دی اس سے صاف ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو یقینی کشف وعیاں عطاء فرماتا ہے۔ اس موقعہ میں اہل ایمان واہل انصاف سمجھ سکتے ہیں کہ باوجودیکہ خضر علیہ السلام کا نبی ہونا ثابت نہیں۔ ان کا کشف جب یقینی ہو تو افضل انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کشف یقین کے کس درجہ میں ہونا چاہئے۔ ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے خود آنحضرت ﷺ سے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ حق تعالیٰ نے تمام دنیا کو میرے پیش نظر کر دیا ہے۔ میں اس کو اور قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے سب کو میں ایسا دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی اس ہتھیلی کو علانیہ دیکھتا ہوں۔ (خصائص کبریٰ) غرض ان وجوہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دجال کی خبر جو کشف سے دی ہے اس میں نہ حضرت ﷺ کو کسی قسم کا اشتباہ تھا نہ کوئی اہل ایمان شبہ کر سکتا ہے اور وہ کشف مثل خوابوں کے قابل تعبیر بھی نہیں۔ بلکہ جس طرح دجال کا حلیہ بیان فرمایا اور عبدالعزیٰ کے ساتھ اس کو تشبیہ دی ویسا ہی وہ ہوگا۔ اب ہم چند کشف آنحضرت ﷺ کے بیان کرتے ہیں۔ جن سے ظاہر ہے کہ جو کچھ حضرت ﷺ نے بیان فرمایا بلا کم وکاست وبغیر احتیاج تعبیر و تاویل اس کا ظہور ہوا۔ یوں تو حضرت ﷺ کے مکاشفات بے حد و بے شمار ہیں۔ مگر یہ چند بمنزلہ مشتے نمونہ از خروارے یہاں لکھے جاتے ہیں۔ جن روایات کے ذیل میں کسی کتاب کا نام نہیں لکھا گیا۔ الخصائص الکبریٰ سے لکھی گئی ہیں۔ چونکہ یہ کتاب چھپ گئی ہے۔ اس لئے ہر روایت کا حاصل مضمون لکھا گیا۔
ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک روز میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ دو شخص کچھ پوچھنے کی غرض سے آئے۔ ایک ثقفی دوسرا انصاری۔ اولاً آپ ﷺ نے ثقفی سے فرمایا کہ جو تم پوچھنا چاہتے ہو پوچھو اور اگر منظور ہو تو تمہارا سوال بھی میں ہی بیان کر دوں۔ عرض کیا یہ اور زیادہ نادر ہوگا۔ فرمایا کہ تم رات کی نماز اور رکوع وسجود وغسل جنابت کا حال پوچھنا چاہتے ہو۔ انہوں نے قسم کھا کر حضرت ﷺ کی تصدیق کی۔ پھر انصاری سے خطاب کر کے فرمایا کہ تمہارا بھی سوال میں ہی بیان کردوں۔ عرض کیا ارشاد ہو۔ فرمایا تمہارا قصد بیت اللہ جانے کا ہے۔ مسائل وقوف عرفات وحلق راس وطواف رمی جمار پوچھنا چاہتے ہو۔ انہوں نے بھی قسم کھا کر تصدیق کی۔
جس روز نجاشی بادشاہ حبش کا انتقال ہوا۔ حضرت ﷺ نے ان کے وفات کی خبر دی اور عید گاہ تشریف لے گئے۔ جہاں جنازوں پر نماز پڑھی جاتی تھی اور ان کی نماز جنازہ ادا کی۔ فقہاء لکھتے ہیں کہ یہ نماز جنازہ غائب پر نہ تھی۔ بلکہ جنازہ حضرت ﷺ کے پیش نظر تھا۔ ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ انہیں دنوں مشک وغیرہ ہدیہ میں نے نجاشی کو بھیجا تھا۔ مجھے اسی روز یقین ہو گیا کہ وہ ہدیہ واپس
٥٩
آ جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
آپ ﷺ نے ایک لشکر موتہ پر روانہ فرمایا تھا۔ جس روز کفار کے ساتھ ان کا مقابلہ ہوا آپ ﷺ خبر دے رہے تھے کہ رایت یعنی نشان کو زیدؓ نے لیا اور وہ شہید ہوگئے۔ پھر جعفرؓ نے لیا وہ بھی شہید ہو گئے۔ پھر عبداللہ بن رواحہؓ نے لیا وہ بھی شہید ہوئے۔ یہ فرما رہے تھے اور چشم مبارک سے اشک جاری تھے۔ فرمایا پھر سیف اللہ خالد بن ولیدؓ نے بغیر امارت کے لیا اللہ تعالیٰ نے فتح دی۔
(رواہ البخاری ج ٢ ص ٦١١، باب غزوۃ موتہ من ارض الشام)
جس مسجد قباء کی آپ ﷺ نے بنیاد ڈالی تو پہلے آپ ﷺ نے پتھر رکھا۔ پھر ابوبکرؓ نے پھر عمرؓ نے پھر عثمانؓ نے کسی نے پوچھا کہ حضرت ﷺ یہ عمارت آپ بنا فرماتے ہیں اور یہی تین صاحب آپ ﷺ کے ساتھ ہیں۔ فرمایا کہ یہ تینوں شخص میرے بعد میرے خلفاء اور ملک کے والی ہوں گے۔
فرمایا خلافت نبوت میری امت میں تیس سال رہے گی اس کے بعد بادشاہی ہو جائے گی۔ اہل علم پر پوشیدہ نہیں کہ خلافت راشدہ کی مدت اسی قدر ہے اور فرمایا کہ میں نے بنی امیہ کو خواب میں دیکھا کہ میرے منبر پر ایسے کود رہے ہیں جیسے بندر۔
اور فرمایا کہ بنی امیہ کے سرکشوں سے ایک سرکش کا خون رعاف میرے اس منبر پر بہے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ عمر بن سعید بن العاصؓ کا خون رعاف منبر شریف پر بہا۔ ام فضلؓ زوجہ حضرت عباسؓ کو جب لڑکا پیدا ہوا تو حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر کیں ان کا نام آپ ﷺ نے عبداللہ رکھ کر فرمایا کہ اس کو اس کے باپ کو لے جاؤ۔ حضرت عباسؓ کو یہ کیفیت معلوم ہوئی تو حضرت ﷺ سے استفسار کیا فرمایا ہاں یہ خلفاء کے باپ ہیں۔ ان کی اولاد میں سفاح مہدی وغیرہ ہوں گے۔
اور فرمایا بنی امیہ کے ہر روز کے معاوضہ میں بنی عباسؓ دو روز اور ہر مہینے کے معاوضہ میں دو مہینے حکومت کریں گے۔ یعنی خلفائے عباسیہ کی حکومت کی مدت بنی امیہ کی مدت حکومت سے دو چند ہوگی۔ امام سیوطیؒ اس حدیث کو نقل کر کے لکھتے ہیں کہ خاص بنی امیہ کی حکومت تراسی سال رہی اور بنی عباس کی حکومت ایک سو ساٹھ برس سے چند سال زیادہ رہی۔
فرمایا جب تک تم میں عمرؓ ہیں دروازہ فتنوں کا بند ہے اور ان کی شہادت کے بعد ہمیشہ آپس میں کشت و خوں ہوا کریں گے۔ اہل علم پر یہ امر اظہر من الشمس ہے۔
فرمایا قیصر و کسریٰ جو اب موجود ہیں۔ ان کے بعد پھر قیصر و کسریٰ کوئی نہ ہوگا۔ ایسا ہی
ہوا فرمایا فارس اور روم کو اہل اسلام فتح کریں گے۔ فارس کے ایک دو حملے ہوں گے اور اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مگر روم کے حملے مدتوں ہوتے رہیں گے۔ کتب تواریخ سے اس کی تصدیق ظاہر ہے۔ فرمایا کسریٰ کے وہ خزانے جو سفید محل میں رکھے ہوئے ہیں مسلمانوں کے قبضے میں آئیں گے اور کل خزانے کسریٰ و قیصر کے راہ خدا میں صرف کئے جائیں گے۔ تواریخ سے اس کی تصدیق ظاہر ہے۔
ایک روز آنحضرت ﷺ نے سراقہ بن مالک کے ہاتھ دیکھ کر فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے دست بند اور کمر میں اس کا کمر بند اور سر پر اس کا تاج ہے۔ جس روز تم یہ زیور پہنو گے تمہاری کیا حالت ہوگی۔ جب فتح فارس کے بعد دست بند وغیرہ کسریٰ کے حضرت عمرؓ کے روبرو آئے تو آپ نے سراقہ بن مالک کو بلایا اور وہ سب پہنا کر خدا کا شکر بجالایا کہ زیور کسریٰ جیسے بادشاہ سے چھین کر سراقہ کو جو ایک بدوی یعنی جنگلی شخص ہے پہنایا۔
غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حیرہ بیضا کو (جو ایک شہر ہے) میں دیکھ رہا ہوں اور یہ شیما بنت نفیلہ ازدیہ کالی اوڑھنی لپیٹے ہوئے خچر پر سوار ہے۔ خریم بن اوس نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ عورت مجھے عطاء فرما دیجئے۔ جس وقت ہم حیرہ کو فتح کریں اور اس کو پائیں تو میں اس کو لے لوں فرمایا اچھا ہم نے تمہیں دے دیا۔ خریم کہتے ہیں کہ ابوبکرؓ کے زمانہ میں جب ہم حیرہ کو گئے پہلے وہی شیما بنت نفیلہ اسی حالت سے سامنے آئی جس طرح حضرت ﷺ نے خبر دی تھی۔ میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا یہ وہی عورت ہے جسے آنحضرت ﷺ نے مجھے ہبہ کر دیا ہے۔ خالد بن ولیدؓ نے اس دعویٰ پر مجھ سے گواہ طلب کئے۔ میں نے دو گواہ پیش کئے جب وہ میرے قبضہ میں آگئی تو اس کا بھائی میرے پاس آیا کہ شیما کو قیمت لے کر دے دو۔ میں نے کہا کہ دس سو سے کم میں ہرگز نہ دوں گا۔ وہ ہزار درہم دے کر لے گیا۔ لوگوں نے کہا تم نے کیا کیا اگر لاکھ درہم مانگتے تو وہ تمہیں دیتا میں نے کہا مجھے خبر نہ تھی کہ دس سو سے زیادہ بھی کوئی عدد ہوتا ہے۔
عثمانؓ سے فرمایا کہ حق تعالیٰ تم کو خلعت خلافت پہنائے گا اور لوگ چاہیں گے کہ تم اس کو اتار دو تو تم ہرگز ان کی بات نہ مانو۔ قسم ہے اگر تم وہ خلعت اتار دو گے تو ہرگز جنت میں نہ جاؤ گے۔
فرمایا بعد عثمانؓ کے مدینہ کوئی چیز نہیں۔ غالباً حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسی وجہ سے کوفہ کی اقامت اختیار کی۔
٦١
ابوذرؓ کو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب مکانات سلع تک (جو ایک پہاڑ ہے مدینہ طیبہ میں) پہنچ جائیں تو تم شام کی طرف چلے جانا اور میں جانتا ہوں کہ تمہارے امراء تمہارا پیچھا نہ چھوڑیں گے۔ عرض کیا ان لوگوں کو قتل نہ کروں جو آپ ﷺ کے حکم میں حائل ہوں۔ فرمایا نہیں ان کی سنو اور اطاعت کرو۔ اگرچہ غلام حبشی ہو جب وہ حسب ارشاد شام گئے معاویہؓ نے حضرت عثمانؓ کو لکھا کہ ابوذرؓ لوگوں کو شام میں بگاڑ رہے ہیں۔ عثمانؓ نے ان کو بلا لیا۔ پھر وہ وہاں بھی نہ رہ سکے۔ ربذہ کو چلے گئے۔ وہاں کا حاکم عثمانؓ کا غلام تھا۔ ایک روز نماز کی جماعت قائم ہوئی۔ غلام نے چاہا کہ ابوذرؓ امامت کریں۔ آپ نے کہا کہ تم ہی آگے بڑھو۔ کیونکہ تم غلام حبشی ہو اور مجھے حضرت ﷺ کا حکم ہو چکا ہے کہ غلام حبشی کی اطاعت کروں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جب ابن ملجم نے زخمی کیا آپ نے اثنائے وصیت میں فرمایا جتنے اختلاف آنحضرت ﷺ کے بعد ہوئے اور آئندہ ہونے والے ہیں سب کی خبر حضرت ﷺ نے مجھے دی ہے۔ یہاں تک کہ یہ میرا زخمی ہونا اور معاویہؓ کا مالک ملک ہونا اور ان کا بیٹا ان کا جانشین ہونا پھر مروان کی اولاد یکے بعد دیگرے وارث ہونا اور بنی امیہ کے خاندان سے بنی عباس کے خاندان میں حکومت کا منتقل ہونا۔ مجھے معلوم کرا دیا اور وہ خاک بھی بتلا دی جس میں حسینؓ قتل ہوں گے۔ حضرت امام حسنؓ کی نسبت فرمایا کہ ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ نے اپنا حق چھوڑ دیا اور معاویہؓ سے صلح کر لی۔
فرمایا میری اہل بیت کے لئے حق تعالیٰ نے آخرت پسند کی ہے۔ میرے بعد ان کو بلاؤں کا سامنا ہوگا۔ نکالے جائیں گے قتل کئے جائیں گے۔
ایک بار آنحضرت ﷺ نے تذکرہ فرمایا کہ بعض امہات المؤمنینؓ خلیفہ وقت سے جنگ کرنے کو نکلیں گی اور حواب (نام مقام) کے کتے ان کو دیکھ کر بھونکیں گے۔ عائشہؓ یہ سن کر ہنسیں آپؐ نے فرمایا اے حمیرا دیکھو کہیں تمہیں نہ ہوں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اس وقت وہاں موجود تھے۔ ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جب تمہارے قبضہ میں آ جائیں تو نرمی سے پیش آنا اور ان کے گھر ان کو پہنچا دینا چاہئے۔ حضرت عائشہؓ با ارادہ مقابلہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جب حواب کو پہنچیں کتے بھونکنے لگے۔ پوچھا اس جگہ کا کیا نام ہے۔ لوگوں نے کہا حواب سنتے ہی آنحضرت ﷺ کا ارشاد یاد آ گیا اور فوراً واپس ہونے کا ارادہ کر لیں۔ مگر زبیرؓ نے ترغیب دی کہ شاید آپ کی وجہ سے مسلمانوں میں صلح ہو جائے۔ غرض جو کچھ حضرت ﷺ نے فرمایا تھا وہ سب ظہور میں آیا۔
٦٢
حضرتﷺ نے زبیرؓ سے فرمایا تھا کہ تم علیؓ کے ساتھ جنگ کرو گے اور تم ظالم ہو گے۔ جنگ جمل میں زبیرؓ حضرت عائشہؓ کے لشکر میں تھے۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مقابلہ میں آئے آپ نے ان سے کہا کہ میں قسم دے کر تم سے پوچھتا ہوں کہ تمہیں یاد نہیں کہ ایک روز تم اور میں حضرتﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ حضرتﷺ نے تم سے پوچھا کہ تم ان سے محبت رکھتے ہو تم نے کہا کون چیز اس سے مانع ہے۔ فرمایا تم ان سے جنگ کرو گے اور تم ظالم ہو گے۔ زبیرؓ نے کہا واقعی میں بھول گیا تھا یہ کہہ کر واپس ہو گئے۔
عمار بن یاسرؓ کو حضرتﷺ نے فرمایا کہ تم کو گروہ باغی قتل کرے گا۔ حضرتﷺ کے وفات کے بعد ایک بار وہ ایسے سخت بیمار ہوئے کہ امید منقطع ہو گئی۔ چنانچہ ایک دفعہ غشی ہوئی جس سے سب گھر والے رونے لگے۔ جب ہوش میں آئے تو کہا کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں بچھونے پر مروں گا ہرگز نہیں۔ حضرتﷺ نے مجھ سے فرما دیا ہے کہ گروہ باغی مجھے قتل کرے گا۔ آخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور معاویہؓ کے جنگ میں ان کو معاویہؓ کے لوگوں نے شہید کیا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا کہ تم امیر اور خلیفہ بنائے جاؤ گے اور قتل بھی کئے جاؤ گے اور داڑھی تمہارے سر کے خون سے رنگین ہوگی۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ بقصد عراق اونٹ پر سوار ہورہے تھے کہ عبداللہ بن سلامؓ آئے اور کہا کہ آپ اگر عراق کو جائیں تو آپ کو تلوار کا سخت زخم لگے گا۔ فرمایا خدا کی قسم یہی بات حضرتﷺ نے مجھ سے بھی فرمائی تھی۔ معاویہؓ سے فرمایا کہ جب تمہیں خلافت کا لباس پہنایا جائے گا تو تمہاری کیا حالت ہوگی۔ سوچو کہ اس وقت کیا کرو گے۔ ام حبیبہؓ نے پوچھا کیا میرے بھائی خلیفہ ہوں گے۔ فرمایا ہاں لیکن اس میں بہت شروفساد ہوں گے۔
جبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرتﷺ کے حضور میں حاضر تھے کہ حکم ابن ابی العاص کا گزر ہوا۔ حضرتﷺ نے فرمایا میری امت کو اس شخص سے جو اس کی پیٹھ میں ہے بڑی بڑی مصیبتیں پہنچیں گی۔
کتب تواریخ سے ظاہر ہے کہ مروان بن الحکم کی وجہ سے مسلمانوں کو کیسی کیسی مصیبتیں پہنچیں۔ دراصل بانی فساد یہی تھا جس کی وجہ سے اہل مصر برہم ہوئے اور واقعہ شہادت عثمانؓ کا پیش آیا اور اس کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت عائشہؓ اور معاویہؓ کی جتنی لڑائیاں ہوئی سب کا ظاہرہ منشاء یہی شہادت تھی۔ جس کا باعث مروان ہوا۔ غرض مروان اسلام کے حق میں ایک بلائے جانکاہ تھا۔ ایک بار معاذ بن جبلؓ سے حضرتﷺ نے فرمایا بہت سے فتنے تیرہ وتار
٦٣
پے در پے ہونے والے ہیں۔ ان میں سے چند بیان کئے جاتے ہیں۔ تم گنتے جاؤ۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ﷺ ایک ایک فتنہ کا نام لیتے تھے اور میں انگلیوں پر گنتا تھا۔ چنانچہ پانچواں فتنہ یزید کا بیان کر کے فرمایا لا يبارك الله فی یزید اور چشم مبارک سے اشک رواں ہو گئے۔ فرمایا کہ حسین کی موت کی خبر مجھے دی گئی اور ان کی قتل گاہ اور ان کے قاتل کا نام بھی مجھے معلوم ہے۔ اس کے بعد اور فتنے بیان کر کے دسواں ولید کا فتنہ بیان فرمایا کہ وہ ایک فرعون ہوگا کہ اسلام کے شرائع کو ڈھائے گا۔
تاریخ الخلفاء وغیرہ میں ولید کا حال لکھا ہے کہ وہ ١٢٥ھ میں خلیفہ ہوا اور ہمیشہ لہو ولعب میں مشغول رہتا تھا۔ شراب خواری کی یہ کیفیت کہ ایک حوض شراب سے بھرا رہتا تھا۔ جب خوش ہوتا اس میں کود پڑتا اور خوب پیتا اور ایک بار حج کا ارادہ اس غرض سے کیا کہ کعبہ شریف کے سقف پر جا کر شراب پیئے۔ ایک روز لونڈی کے ساتھ مرتکب ہو کر بیٹھا تھا کہ مؤذن نے اذان دی کہا خدا کی قسم آج اس لونڈی کو امام بناتا ہوں۔ چنانچہ اپنا لباس اس کو پہنا کر مسجد کو بھیجا اور حالت جنابت میں اس نے امامت کی۔ ایک بار قرآن کی فال دیکھی یہ آیت نکلی ”واستفتحوا وخاب کل جبار عنید“ برہم ہو کر قرآن شریف کو پارہ پارہ کر دیا اور یہ اشعار پڑھے۔ ”اَتُوعد کل جبار عنيد ...... فها انا ذاك جبار عنيد اذا ماجئت ربك يوم حشر فقل يا رب مزقنی ولید“
حضرت علی کرم اللہ وجہہ جب جنگ صفین سے واپس تشریف لائے حاضرین سے فرمایا معاویہ کی امارت کو مکروہ نہ جانو۔ جب وہ تم میں نہ رہیں گے تو مثل حنظل کے سر لڑکا کریں گے۔
ابو ہریرہؓ ہمیشہ دعاء کرتے تھے کہ یا اللہ ٦٠ھ اور لڑکوں کی امارت نہ دکھائیو ان حضرات کی پیشین گوئی کا منشا یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ نے اس کی خبر پہلے ہی دی تھی۔ چنانچہ ایک بار فرمایا کہ یہ امر یعنی اسلام کا معاملہ سیدھا اور قائم رہے گا۔ اس وقت تک کہ ایک شخص ”حی بنی امیہ“ سے جس کا نام یزید ہے۔ اس میں سوراخ اور رخنہ ڈالے گا۔
ایک بار آنحضرت ﷺ کا گزر حَرہ پر ہوا جو مدینہ طیبہ کے قریب ہے۔ حضرت ﷺ کھڑے ہوگئے اور انا للہ پڑھا۔ صحابہؓ نے اس کی وجہ دریافت کی فرمایا اس مقام پر میری امت کے بہتر اور عمدہ لوگ قتل کئے جائیں گے۔ امام مالک کہتے ہیں کہ یزید کی خلافت میں مقام حرہ پر صرف علماء سات سو قتل ہوئے جن میں تین سو صحابہؓ تھے۔
سعید بن مسیب قریب ہے کہ تم پہچان لو۔ کا انتقال ان کے دو سال علی کرم اللہ ہیں۔ یعنی عمر بن عبدالعز سے تھیں۔ فرمایا قیامت میں بدتر قبیلے بنی ثقیف نے کہا کہ نہ وہ اچھوں جاہلیت کا سا حکم کرے ابوالیمان اوصاف انہوں نے بیا بلائے بے درماں تھے فرمایا میری ابلیس کے ضرر سے بچ تھا کہ تقدیر کوئی چیز نہیں خوارج۔ خبر دے چکے تھے اور آنحضر گردنیں نظر آئیں گی ہے کہ اکابر محدثین آگ کے حالات میں ثابت ہے۔ اس کا آگ مقام ہیلا میں آگ کا طور چارفری آتا تھا۔ جس کے
سعید بن مسیبؒ نے کہا کہ خلیفے ابوبکرؓ ہیں اور دو عمرؓ کسی نے پوچھا دوسرے عمر کون کہا قریب ہے کہ تم پہچان لو گے۔ بیہقی کہتے ہیں کہ دوسرے عمر عمر بن عبد العزیزؒ ہیں۔ سعید ابن مسیبؒ کا انتقال ان کے دو سال پہلے ہوا اس لئے وہ بتلا نہ سکے۔
علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ بنی امیہ پر لعنت مت کرو۔ ان میں ایک صالح امیر ہیں۔ یعنی عمر بن عبد العزیزؒ ظاہر ہے کہ یہ پیشین گوئیاں آنحضرت ﷺ کے اطلاع دینے کی وجہ سے تھیں۔
فرمایا قیامت تک تیس جھوٹے نکلیں گے۔ جن میں مسیلمہ عنسی اور مختار ہے اور عرب میں بدتر قبیلے بنی ثقیف ہیں۔ قبیلہ ثقیف میں ایک شخص مبیر یعنی ہلاک ہونے والا ہوگا۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ نہ وہ اچھوں سے کوئی اچھی بات قبول کرے گا نہ بروں کی خطاء معاف کرے گا۔ بلکہ جاہلیت کا سا حکم کرے گا۔
ابو الیمان کہتے ہیں کہ عمرؓ کو پہلے سے معلوم تھا کہ حجاج ثقفی نکلنے والا ہے۔ جس کے اوصاف انہوں نے بیان کر دیئے۔ اہل علم پر پوشیدہ نہیں کہ مسیلمہ کذاب عنسی مختار اور حجاج کیسے بلائے بے درماں تھے۔ جن کی خبر حضرت ﷺ نے دی ہے۔
فرمایا میری امت میں ایک شخص پیدا ہوگا جس کو لوگ غیلان کہیں گے۔ اس کا ضرر ابلیس کے ضرر سے بڑھا ہوا ہوگا۔ یہ شخص دمشق میں تھا۔ مذہب قدریہ کو اس نے ایجاد کیا اس کا قول تھا کہ تقدیر کوئی چیز نہیں۔ آدمی اپنے فعل کا آپ مختار اور خالق ہے۔
خوارج کے قتل کا واقعہ اوپر مذکور ہوا جس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ اس واقعہ کی خبر دے چکے تھے اور سب پیشین گوئیاں بلا کم و کاست ظہور میں آئیں۔
آنحضرت ﷺ نے خبر دی تھی کہ ایک آگ نکلے گی جس سے بصریٰ میں اونٹوں کی گردنیں نظر آئیں گی۔ امام سیوطیؒ کہتے ہیں کہ یہ آگ ٦٥٤ھ میں نکلی تھی۔ خلاصۃ الوفاء میں لکھا ہے کہ اکابر محدثین مثل امام نووی اور قطب قسطلانی وغیرہ نے جو اس زمانہ میں موجود تھے اس آگ کے حالات میں مستقل رسالے لکھے ہیں اور اہل شام کے نزدیک اس آگ کا نکلنا بتواتر ثابت ہے۔ اس کا واقعہ مواہب اللدنیہ اور خلاصۃ الوفاء وغیرہ میں اس طرح لکھا ہے کہ ایک آگ مقام ہیلا میں پیدا ہوئی جو مدینہ منورہ سے شرق کے جانب ایک منزل پر واقع ہے۔ اس آگ کا طول چار فرسخ یعنی سولہ میل اور عرض چار میل تھا اور بہیئت مجموعی ایک وسیع آگ کا شہر نظر آتا تھا۔ جس کے اطراف فصیل اور اس کے اوپر کنگرے اور برج آگ کے محسوس تھے اور
٦٨
ارتفاع میں اس قدر تھی کہ مکہ معظمہ کے لوگوں نے اس کو دیکھا اور بصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں اس سے چمکتی تھیں۔ جب اپنے مقام سے وہ حرکت کی تو جس پہاڑ پر اس کا گذر ہوتا اس کو گلا دیتی اور بڑھتی ہوئی مدینہ تک پہنچی۔ دو یا تین مہینے حد حرم پر رہی قرطبیؒ نے تذکرہ میں لکھا ہے کہ شب معراج میں یعنی ٢٧ رجب کو وہ آگ بجھی۔ خوارج کے متعلق پیشین گوئیاں اوپر مذکور ہوئیں اور ان کے وقوع کا حال بھی معلوم ہوا۔
اسی طرح وہابیوں کے فتنہ کی بھی پوری پوری خبریں حضرت ﷺ نے دیں۔ چنانچہ الدرر السنیہ میں شیخ دحلانؒ نے لکھا ہے کہ اس فتنہ کے باب میں صحیح صحیح احادیث وارد ہیں۔ بعض بخاری اور مسلم میں ہیں اور بعض دوسری کتابوں میں۔ ان میں سے چند حدیثیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ ”قال النبي ﷺ الفتنة من ههنا الفتنة من ههنا واشار الى المشرق (بخاری ج ٢ ص ١٠٥٠، باب قول النبی ﷺ الفتنة من قبل المشرق)“ یعنی فرمایا کہ فتنہ ادھر سے نکلے گا اور مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ ”وقال صلی اللہ علیہ وسلم اللهم بارك لنا في شامنا وبارك لنا في يمننا قالوا يا رسول الله وفى نجدنا قال هناك الزلازل والفتن وبها يطلع قرن الشيطان (بخاری ج ٢ ص ١٠٥١، باب ايضاً)“ یعنی ایک بار حضرت ﷺ نے دعاء کی کہ یا اللہ ہماری شام اور یمن میں برکت دیجیو۔ لوگوں نے کہا کہ ہمارے نجد کے لئے بھی دعاء فرمائیے۔ ارشاد ہوا وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور شیطان کا سینگ وہاں سے نکلے گا۔ ”وفي رواية سيظهر من نجد شيطان يتزلزل جزيرة العرب من فتنة“ یعنی فرمایا قریب ہے کہ ظاہر ہو گا نجد کی طرف سے ایک شیطان جس کے فتنہ سے جزیرۂ عرب متزلزل ہو جائے گا۔ ”وقال ﷺ ليخرج ناس من المشرق يقرؤن القرآن لا تجاوز تراقيهم يمرقون من الدين مروق السهم منه سيماهم التحليق“ یعنی فرمایا بہت سے لوگ مشرق کی طرف سے نکلیں گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے مگر ان کے حلق کے نیچے نہ اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ پھر وہ ہرگز دین میں نہ لوٹیں گے اور نشانی ان کی سر منڈوانا ہے۔ ”قال ﷺ من ضئضى هذا اى ذى الخويصرة او فى عقب هذا قوماً يقرؤن القرآن لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية يقتلون اهل الاسلام يدعون اهل الاوثان“ یعنی ذوالخویصرہ تمیمی کے خاندان سے ایک قوم نکلے گی وہ لوگ قرآن پڑھیں گے۔ مگر ان کے گلے کے نیچے نہ اترے گا۔ دین سے وہ ایسے نکل جائیں گے
جیسے شکار سے تیر نکل جاتا ہے۔ اہل اسلام کو وہ قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔
شیخ دحلان نے الدرالسنیہ میں اس قسم کی اور روایتیں ذکر کر کے لکھا ہے۔ ابن عبدالوہاب نجدی قبیلہ تمیم کا ایک شخص تھا۔ ١١٤٣ھ میں اس کا فتنہ نجد سے شروع ہوا۔ اوّل تو لوگوں کو خالص توحید کی طرف بلاتا اور شرک کی مذمتیں بیان کرتا تھا۔ جب اہل اسلام نے سادگی سے اس کا اتباع قبول کر لیا اور رفتہ رفتہ ایک گروہ بن گیا تو اس نے قتل وغارت شروع کر دیا اور ظالمانہ طریقہ سے بزور شمشیر تسلط بڑھاتا گیا۔ یہاں تک کہ حرمین شریفین بلکہ کل جزیرہ عرب پر اس گروہ کا تسلط ہو گیا۔ حالت ان کی یہ تھی کہ جمیع انبیاء اور آنحضرت ﷺ کی تنقیص اور کسرِ شان کے ساتھ ان کو نہایت دل چسپی تھی۔ شہداء اور اولیاء اللہ کی قبریں کھدوا دی جاتی تھیں۔ دلائل الخیرات اور اذکار کی کتابیں اور بزرگانِ دین کے تذکرے جلا دیئے جاتے تھے اور ضروریاتِ دین سے یہ بات ٹھہرائی گئی تھی کہ ٦٠٠ھ سے اس طرف جتنے علماء و سادات و مشائخین و اولیاء اللہ ہوئے ہیں۔ سب کی تکفیر کی جائے۔ اگر اس میں کوئی تامل کرتا تو فوراً قتل کر دیا جاتا۔ غرض ان ملحدانہ اور ظالمانہ حرکات سے تمام جزیرہ عرب ١٢٢٧ھ تک ایک تہلکہ عظیم میں گرفتار تھا۔ اس نے اپنے ہم مشربوں کی علامت تحلیق راس قرار دی تھی۔ اگر کوئی سر نہ منڈواتا تو اس کو اپنے گروہ میں نہ سمجھتا۔ اس باب میں اس کو اس قدر اصرار تھا کہ عورتوں کو بھی سر منڈوانے پر مجبور کیا۔ آخر ایک عورت نے کہا کہ ہمارے سر کے بال ایسے ہیں جیسے مردوں کی داڑھیاں۔ مرد لوگ اگر داڑھیاں منڈوا دیں تو ہمارا سر منڈوانا بجا ہوگا۔ اس جواب سے لاجواب ہو کر عورتوں کو اس حکم سے مستثنیٰ کر دیا۔ غرض اس کا نجدی اور خاندان بنی تمیم سے ہونا اور مدینہ کے شرقی جانب سے جو نجد اسی جانب میں واقع ہے نکلنا اور بت پرستوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کرنا اور تمام جزیرہ عرب اس کے فتنہ سے متزلزل ہونا اور قرآن کا کوئی اثر اس قوم کے دل میں نہ ہونا اور تحلیق کو اپنے گروہ کی علامت قرار دینا جس طرح آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا۔ بلا کم و کاست ظہور میں آیا۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ آخری زمانہ کے مسلمان بنی اسرائیل کی پیروی کریں گے اور بعضوں میں مطلقاً امم سابقہ کی تصریح ہے۔ جن میں نصاریٰ اور فارسی بھی شریک ہیں۔ اس پیشین گوئی کا وقوع ظاہر ہے کہ اس زمانے کے مسلمان نصاریٰ کی کس قدر پیروی کر رہے ہیں۔ کھانا پینا، لباس وضع رفتار گفتار نشست برخاست وغیرہ جمیع امورِ معاشرت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہوتا۔ باوجود یکہ مونچھیں بڑھانے میں سخت وعید وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ ایسے شخص کی شفاعت نہ کریں گے مگر اس کی کچھ پرواہ نہیں۔ صرف انگریز دانوں کی تقریریں سن کر علومِ اسلامی میں نکتہ چینیاں ہوتی ہیں۔ حکمتِ جدیدہ کا اگر
٦٧
کوئی مسئلہ پیش ہو گیا تو قبل اس کے کہ اس کی دلیل معلوم کریں۔ قرآن وحدیث پر اعتراض ہونے لگتے ہیں۔ نہایت ذہین اور محقق وہ شخص مانا جاتا ہے کہ قرآن وحدیث میں تحریف وتاویل کر کے نئے خیالات کے مطابق کردے۔ نصاریٰ اپنے مکانات کی آرائش تصاویر سے کیا کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے بھی وہی اختیار کیا۔ حالانکہ حدیث شریف میں وارد ہے ”لا تدخل الملئکۃ بیتاً فیہ کلب ولا تصاویر متفق علیہ“ اور جبرائیل علیہ السلام کا قول حضرت ﷺ نے نقل فرمایا کہ ”لا تدخل بیتاً فیہ کلب ولا صورۃ“ یعنی جس گھر میں کتا اور تصویر ہوتی ہے اس میں رحمت کے فرشتے نہیں جاتے۔ مرزا قادیانی کے مریدوں کے گھر میں ان کی تصویر ضرور رہا کرتی ہے اور مرزا قادیانی نے اس کے جواز کا فتویٰ بھی دے دیا ہے۔
کلام الہٰی میں تحریف کرنے کی عادت یہودیوں کی تھی۔ جیسا کہ حق تعالٰی فرماتا ہے۔ ”یحرفون الکلم عن مواضعہ (نساء:٤٦)“ یعنی کلمات کو اپنے مقام ومعانی سے دوسری طرف پھیر دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اور ان سے پہلے سرسید صاحب نے وہی اختیار کیا جیسا کہ دونوں صاحبوں کی تصانیف سے ظاہر ہے۔ یہاں چند تحریفیں جو مرزا قادیانی کی ہیں لکھی جاتی ہیں۔ جس سے آنحضرت ﷺ کی تصدیق ظاہر ہے۔
مرزا قادیانی ازالۃ اوہام میں لکھتے ہیں کہ: ”اس میں تو کچھ شک نہیں کہ اس بات کے ثابت ہونے کے بعد کہ درحقیقت حضرت مسیح ابن مریم اسرائیلی نبی فوت ہو گیا ہے۔ ہر ایک مسلمان کو ماننا پڑے گا کہ فوت شدہ نبی ہرگز دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتا۔ کیونکہ قرآن وحدیث دونوں بالاتفاق اس بات پر شاہد ہیں کہ جو شخص مرگیا پھر دنیا میں ہرگز نہیں آئے گا اور قرآن کریم ان کو انھم لا یرجعون کہہ کر ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے ان کو رخصت کرتا ہے اور قصہ عزیر وغیرہ جو قرآن کریم میں ہے۔ اس بات کے مخالف نہیں۔ کیونکہ لغت میں موت بمعنی نوم وغشی بھی آیا ہے۔ دیکھو قاموس اور جو عزیر کے قصہ میں ہڈیوں پر گوشت چڑھانے کا ذکر ہے۔ وہ حقیقت میں ایک الگ بیان ہے جس میں یہ بتلانا منظور ہے کہ رحم میں خدا تعالٰی ایک مردہ کو زندہ کرتا ہے اور اس کے ہڈیوں پر گوشت چڑھاتا ہے اور پھر اس میں جان ڈالتا ہے۔ ماسوا اس کے کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں ہو سکتا کہ عزیر دوبارہ زندہ ہو کر پھر بھی فوت ہوا۔ پس اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ عزیر کی زندگی دوم دنیوی زندگی نہیں تھی۔ ورنہ اس کے بعد ضرور کہیں اس کے موت کا ذکر ہوتا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٦٥، خزائن ج ٣ ص ٤٥٩)
جس آیت شریفہ میں عزیر علیہ السلام کی موت کا ذکر ہے وہ یہ ہے۔ ”او کالذی مر
٧٨
على قرية وهي خاوية على عروشها قال انى يحيى هذه الله بعد موتها فاماته الله مائة عام ثم بعثه قال كم لبثت قال لبثت يوما او بعض يوم قال بل لبثت مائة عام فانظر الى طعامك وشرابك لم يتسنه وانظر الى حمارك ولنجعلك آية للناس وانظر الى العظام كيف ننشزها ثم نكسوها لحما فلما تبين له قال اعلم ان الله على كل شئی قدیر (بقره:٢٥٩) ”یا جیسے وہ شخص کہ گزرا ایک شہر پر جو کہ پڑا تھا اپنے چھتوں پر بولا کہاں جلاوے گا اس کو اللہ، مرگئے پیچھے پھر مار رکھا اس شخص کو اللہ نے سو برس پھر اٹھایا۔ کہا تو کتنی دیر رہا بولا میں رہا ایک دن یا اس سے کچھ کم۔ کہا نہیں بلکہ رہا تو سو برس اب دیکھ اپنا کھانا پینا سڑا نہیں گیا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور تجھ کو ہم نمونہ کیا چاہیں لوگوں کے واسطے اور دیکھ ہڈیاں کس طرح ان کو ابھارتے ہیں۔ پھر ان پر پہناتے ہیں گوشت پھر جب اس پر ظاہر ہوا تو بولا میں جانتا ہوں اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔﴿
تفسیر درمنثور میں مستدرک حاکم اور بیہقی وغیرہ کتب سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ایک طویل روایت نقل کی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ عزیر علیہ السلام سو برس کے بعد جب زندہ کئے گئے تو پہلے حق تعالیٰ نے ان کی آنکھیں پیدا کیں۔ جن سے وہ اپنی ہڈیوں کو دیکھتے تھے کہ ایک دوسرے سے متصل ہو رہی ہیں۔ اس کے بعد ان پر گوشت پہنایا گیا اور اسی میں ابن عباسؓ اور کعبؓ اور حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ ملک الموت نے ان کی روح قبض کی اور سو برس تک وہ مردہ رہے۔ جب زندہ ہو کر اپنے گھر آئے تو ان کے پوتے بوڑھے ہو گئے تھے اور آپ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ اس لئے کہ مرتے وقت آپ کی عمر چالیس ہی برس کی تھی۔ اس کے سوا اور کئی روایتیں اس مضمون کی موئد درمنثور میں موجود ہیں۔
مگر مرزا قادیانی ان احادیث کو نہیں مانتے اور آیہ شریفہ میں جو ”فاماته الله“ ہے اس کے معنی یہ کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کو سلا دیا یا بیہوش کر دیا۔
یہاں یہ دیکھنا چاہیے کہ عزیر علیہ السلام کو استبعاد کس امر کا تھا۔ سو کے اٹھنے کا یا مر کے زندہ ہونے کا اس آیہ شریفہ میں تو ”انی یحیی هذه الله بعد موتها“ سے صاف ظاہر ہے کہ احیاء اموات کا استبعاد تھا اور ظاہر ہے کہ یہ استبعاد سو کے اٹھنے یا بیہوشی سے ہوش میں آنے سے ہرگز دور نہیں ہو سکتا۔ اس صورت میں مرزا قادیانی کی یہ توجیہ کہ موت بمعنی نوم یا غشی ہے۔ کیونکر صحیح ہو گی ہاں سو برس کی نیند یا بیہوشی کے بعد اٹھنا البتہ ایک حیرت خیز بات ہے۔ مگر اس سے بھی اسکا استبعاد احیاء دور نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ موت ظاہراً اعدام محض ہے اور نوم وغشی طویل میں
٦٩
صرف طول عمر ہے جو قابل استبعاد نہیں اور طول عمر پر اعادہ معدوم کا قیاس بھی نہیں ہو سکتا۔ پھر اگر ناقص نظیر کے طور پر اس کو مان بھی لیں تو اس تطویل مدت کا ان کو مشاہدہ بھی نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے جواب میں انہوں نے بھی عرض کیا کہ لبثت یوماً او بعض یوم یعنی تقریباً ایک دن گزرا ہوگا جس کے بعد ارشاد ہوا کہ سو برس گزر چکے ہیں۔ اس کی تصدیق بھی انہوں نے ایمانی طور پر کی۔ جیسے احیاء اموات کی تصدیق پہلے سے ان کو حاصل تھی۔ البتہ ان کا استبعاد اس طور سے دور ہو سکتا تھا کہ چشم خود مردہ کو زندہ ہوتے دیکھ لیتے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ پہلے ان کی آنکھیں زندہ کی گئیں۔ جس سے انہوں نے خود اپنے تمام جسم کے زندہ ہونے کو دیکھ لیا۔ پھر گدھے کے زندہ ہونے کو دیکھا۔ جیسا کہ حدیث شریف سے ثابت ہے۔ اگر ان کے استبعاد کے دور کرنے کا وہی طریقہ بیان کیا جائے جو مرزا قادیانی کہتے ہیں تو عوام الناس کو خصوصاً منکرین حشر کو بڑا موقع اعتراض کا ہاتھ آجائے گا کہ حق تعالیٰ میں احیاء اموات کی نعوذ باللہ قدرت ہی نہیں۔ کیونکہ اگر قدرت ہوتی تو ایسے موقع میں کہ نبی استبعاد ظاہر کر رہے ہیں۔ ضرور اس کا اظہار ہوتا۔ جس سے وہ اعتراف کر لیتے۔ مگر جب ہمیں ان کا اعتراف یقیناً معلوم ہو گیا جیسا کہ اس قصہ کے اخیر میں ہے۔ ”فلما تبین لہ قال اعلم ان اللہ علی کل شئی قدیر“ تو اس سے قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ درحقیقت انہوں نے اپنے اور اپنے گدھے کے مر کر زندہ ہونے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔ ورنہ تبین درست نہ ہوگا۔
مرزا قادیانی کا مذاق چونکہ فلسفی ہے اور اکثر فلسفہ کے خلاف میں جو آیات واحادیث وارد ہوتے ہیں ان کو رد کر دیتے ہیں۔ چنانچہ اسی بناء پر عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے باب میں لکھتے ہیں کہ اس کو نہ فلسفہ قدیمہ قبول کرتا ہے۔ نہ فلسفہ جدیدہ اس لئے وہ محال ہے۔ اسی طرح عزیر علیہ السلام کی پہلی موت اور اس کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں اور ہر چند نوم وغشی کے معنی سیاق وسباق کے بالکل مخالف ہیں۔ مگر مذاق فلسفیانہ کی مخالفت کی وجہ سے اس کی کچھ پروا نہ کر کے بیہوشی کے معنی لیتے ہیں۔
یہاں حیرت اس امر کی ہوتی ہے کہ فلسفہ نے یہ اجازت کیونکر دی کہ آدمی بغیر کھانے پینے کے سو برس تک زندہ رہ سکتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ رہنے میں تو بڑا ہی زور لگایا کہ کیا وہاں ظروف بھی ہوں گے۔ مطبخ بھی ہوگا پاخانہ بھی ہوگا۔ معلوم نہیں اس سو برس کے لئے جس کے چھتیس ہزار دن ہوتے ہیں۔ مطبخ وغیرہ کی کیا فکر کی گئی۔ مرزا قادیانی ہیں بڑے ہوشیار اگرچہ لکھا نہیں مگر اس مایہ عام میں کوئی نہ کوئی نکتہ معتقدین کے لئے سینہ بسینہ ضرور رکھا
٧٠
اور طول عمر پر اعادہ معدوم کا قیاس بھی نہیں ہو سکتا ۔ پھر اگر اس طویل مدت کا ان کو مشاہدہ بھی نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے لبثت يوماً أو بعض يوم یعنی تقریباً ایک دن گزرا ہوگا چکے ہیں۔ اس کی تصدیق بھی انہوں نے ایمانی طور پر کی۔ ان کو حاصل تھی۔ البتہ ان کا استبعاد اس طور سے دور ہو سکتا لیتے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ پہلے ان کی آنکھیں زندہ کی تمام جسم کے زندہ ہونے کو دیکھ لیا۔ پھر گدھے کے زندہ سے ثابت ہے۔ اگر ان کے استبعاد کے دور کرنے کا وہی کہتے ہیں تو عوام الناس کو خصوصاً منکرین حشر کو بڑا موقع اس احیاء اموات کی نعوذ باللہ قدرت ہی نہیں ۔ کیونکہ اگر عناد ظاہر کر رہے ہیں۔ ضرور اس کا اظہار ہوتا۔ جس سے اعتراف یقیناً معلوم ہو گیا جیسا کہ اس قصہ کے اخیر میں ان الله على كل شئى قدير “ تو اس سے قطعی طور پر ئے اور اپنے گدھے کے مرکر زندہ ہونے کو اپنی آنکھوں
ہا ہے اور اکثر فلسفہ کے خلاف میں جو آیات واحادیث انچہ اسی بناء پر عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے دلال کرتا ہے۔ نہ فلسفہ جدیدہ اس لئے وہ محال ہے۔ اسی ما کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں اور ہر چند نوم ب ہیں۔ مگر مذاق فلسفیانہ کی مخالفت کی وجہ سے اس کی
ہے کہ فلسفہ نے یہ اجازت کیونکر دی کہ آدمی بغیر کھانے علیہ السلام کے آسمان پر زندہ رہنے میں تو بڑا ہی زور بھی ہوگا پاخانہ بھی ہوگا۔ معلوم نہیں اس سو برس کے مطبخ وغیرہ کی کیا فکر کی گئی۔ مرزا قادیانی ہیں بڑے کوئی نہ کوئی نکتہ معتقدین کے لئے سینہ بسینہ ضرور رکھا
٧٠
ہوگا ۔ چونکہ ان کی طبیعت نکتہ رس حساب جمل وغیرہ سے اکثر کام لیتی ہے۔ چنانچہ اپنی عیسویت کو غلام احمد قادیانی کے اعداد سے ثابت کر ہی دیا کہ : ”اس نام کے تیرہ سو عدد ہیں اور دنیا میں اس نام والا کوئی شخص نہیں۔ اس لئے خود عیسیٰ موعود ہیں ۔“
(ازالۃ الاوہام ص ١٨٦، خزائن ج ٣ ص ١٩٠)
تعجب نہیں کہ اس مقام میں بھی اسی قسم کا نکتہ پیش نظر ہو گا کہ یہاں لفظ سنہ حول اور خریف وغیرہ چھوڑ کر لفظ عام استعمال کیا گیا اور لفظ عام کے اعداد (١١١) ہیں۔ چونکہ یہ شکل بارہ کے لئے موضوع ہے۔ اسی وجہ سے تمام گھڑیوں میں یہی شکل بارہ کے لئے مخصوص کی گئی ہے کہ جب کانٹا اس شکل پر آتا ہے تو بارہ بجتے ہیں۔ اس سے قطعاً اور یقیناً ثابت ہے کہ بارہ گھنٹے وہ سورہے تھے اور قیلولہ کا وقت بھی بارہ ہی کا ہے۔ ہر چند اس نکتہ میں مائۃ عام سے مائۃ کے معنی متروک ہوتے ہیں۔ مگر نکات میں سیاق و سباق کا لحاظ چنداں ضرور نہیں سمجھا جاتا۔ جیسے اپنے نام کے صرف اعداد سے عیسویت کا ثبوت اسی بناء پر ہوتا ہے کہ نہ وہ سیاق میں ہے نہ سباق میں اور نیز اسی آیہ شریفہ کے معنی سے جو مرزا قادیانی کے اجتہاد سے پیدا ہوتے ہیں ابھی معلوم ہوگا۔ یہ نکتہ تو ہمارے بادی الرائے میں سمجھا گیا مرزا قادیانی جو غور و تامل سے نکالے ہوں گے وہ اس سے زیادہ تڑپتا ہوگا۔
قولہ ” قرآن وحدیث دونوں اس بات پر شاہد ہیں کہ جو شخص مر گیا پھر دنیا میں ہرگز نہیں آئے گا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٦٥، خزائن ج ٣ ص ٤٥٩)
ظاہر آیت موصوفہ اور احادیث مذکورہ سے ثابت ہے کہ عزیر علیہ السلام بعد موت کے دنیا میں زندہ کئے گئے اور دوسری آیت و احادیث سے ثابت ہے کہ ہزاروں آدمی بعد موت کے دنیا میں ہی زندہ کئے گئے ۔ ”الم ترالى الذين خرجوا من ديارهم وهم الوف حذر الموت فقال لهم الله موتوا ثم احياهم (بقره:٢٤٣)“ تم نے نہیں دیکھا وہ لوگ گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے پھر کہا ان کو اللہ تعالیٰ نے مرجاؤ پھر ان کو زندہ کیا۔ انتہی !
ابن عباسؓ وغیرہ صحابہؓ و تابعینؒ سے بکثرت روایتیں تفاسیر میں موجود ہیں کہ وہ لوگ چار ہزار تھے جو طاعون سے بھاگ کر کسی مقام میں ٹھہرے تھے۔ حق تعالیٰ نے سب کو مار ڈالا پھر کئی روز کے بعد حزقیل علیہ السلام کی دعاء سے وہ سب زندہ ہوئے ۔ اب دیکھئے کہ قرآن وحدیث کی گواہی سے ہمارا حق ثابت ہو رہا ہے یا مرزا قادیانی کا ۔ مگر اس کا کیا علاج کہ مرزا قادیانی نہ حدیث کو مانتے ہیں نہ قرآن کو۔
٧١
قولہ (قرآن ”انهم لا يرجعون“ کہہ کر ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے ان کو رخصت کرتا ہے۔) پوری آیت شریفہ یہ ہے ”وحرام على قريه اهلكناها انهم لا يرجعون (انبیاء:٩٥)“ یعنی جس گاؤں کو ہم لوگ ہلاک کرتے ہیں وہ پھر نہیں لوٹتے۔ اس سے تو یہ معلوم ہوا کہ ہلاک کی ہوئی بستیاں خود مختاری سے نہیں لوٹتیں۔ کیونکہ لا یرجعون بصیغہ معروف ہے۔ یہ کیسے معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ بھی کسی کو زندہ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ ابھی قرآن شریف سے معلوم ہوا کہ ہزارہا مردوں کو ایک وقت میں حق تعالیٰ نے زندہ کر دیا۔ قولہ: ”عزیر کے قصہ میں ہڈیوں پر گوشت چڑھانے کا ذکر ہے وہ درحقیقت الگ بیان ہے۔ جس میں یہ بتلانا منظور ہے کہ رحم میں خدائے تعالیٰ ایک مردہ کو زندہ کرتا ہے اور اس کی ہڈیوں پر گوشت چڑھاتا ہے اور پھر جان ڈالتا ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٢٦٥، خزائن ج ٣ ص ٤٥٩)
یہاں بھی مرزا قادیانی نے عجیب لطف کیا ہے کہ نہ وہاں گدھا مرا ہوا تھا نہ اس کی ہڈیاں تھیں۔ بلکہ ایک عورت کا رحم پیش نظر تھا جس کے اندر ہڈیوں پر گوشت چڑھ رہا تھا۔ کیونکہ حق تعالیٰ عزیر علیہ السلام کی طرف خطاب کر کے فرمایا ”انظر الى العظام كيف ننشزها“ اس سے معلوم ہوا کہ رحم کی طرف وہ دیکھ رہے ہوں گے۔ مگر قرآن شریف میں کوئی لفظ یہاں ایسا نہیں ہے جس سے معنی رحم کے سمجھ میں آئیں اور جب گدھے کے زندہ ہونے اور اس کے ہڈیوں پر گوشت چڑھنے سے کوئی تعلق نہیں اور رحم کی حالت جداگانہ بتلانا منظور تھا تو معلوم نہیں کہ ”انظر الى حمارك“ کہہ کر صرف گدھے کو بتلا دینے سے کیا مقصود تھا۔ کیا گدھا بھی کوئی ایسی چیز تھا کہ اس وقت اس کا دیکھ لینا ان کو ضرور تھا۔ پھر بھی اس کا ذکر بھی بڑے اہتمام سے قرآن شریف میں کیا گیا ہے کہ ان کو گدھا دکھلایا گیا تھا۔ گدھے تو اب بھی ہر قسم کے موجود ہیں۔ اس گدھے میں ایسی کون سی بات تھی۔ جس کی حکایت کی جا رہی ہے۔ اب اہل وجدان سلیم سمجھ سکتے ہیں کہ جن ہڈیوں پر گوشت چڑھائے جانے کا ذکر ہے وہ مردہ گدھے کی ہڈیاں تھیں یا رحم کے بچے کی اور صورت ثانیہ یہ بھی غور طلب ہے کہ ہڈیاں رحم میں پہلے بن کر اس پر گوشت چڑھایا جاتا ہے یا گوشت پہلے بنتا ہے۔ اگر اہل انصاف صرف اسی بحث کو کرات ومرات بغور ملاحظہ فرمائیں تو مرزا قادیانی کی قرآن فہمی کا حال بخوبی واضح ہوگا اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ اپنی بات بنانے کو وہ کس قدر کلام الہی میں تصرف کرتے ہیں۔ یوں تو معتزلہ وغیرہ اہل ہوا بھی قرآن شریف میں تاویل کرتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کا نمبر سب سے بڑا ہوا ہے۔ قولہ: ”کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں ہو سکتا کہ عزیر علیہ السلام دوبارہ زندہ ہو کر پھر بھی فوت ہوا اس سے صاف ثابت ہوتا
٧٢
ہے کہ عزیر علیہ السلام کی زندگی دوم دنیوی زندگی۔ (ایضاً) مطلب یہ ہوا کہ "فاماتہ اللہ" میں عزیر علیہ السلام کی موت کا جو ذکر ہوا اس کے بعد دوسری ان کی موت کا ذکر نہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بعثہ اللہ سے مراد اس عالم کی زندگی نہیں ۔ بلکہ اس عالم اخروی میں زندہ ہونا مراد ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اماتہ اللہ سے مراد موت حقیقی لی گئی۔ حالانکہ اس کا انکار کر کے نوم و غشی کے معنی ابھی بیان کر آئے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ان کو اماتت سے کام ہے نہ بعثت سے جہاں کوئی موقع مل گیا۔ الٹ پھیر کر کے اپنی جمائے جاتے ہیں۔
اب مرزا قادیانی کی توجیہات کے مطابق آیہ موصوفہ کی تفسیر سنئے کہ عزیر علیہ السلام نے احیائے اموات پر استبعاد ظاہر کیا۔ اس پر حق تعالیٰ نے ان کو بیہوش کر دیا اور عالم اخروی میں ان کو زندہ کر کے پوچھا کہ کتنے روز تم کو مر کر ہوئے۔ انہوں نے کہا تقریباً ایک روز ارشاد ہوا کہ سو برس تم کو مر کر ہوئے۔ دیکھو تمہارا کھانا پینا متغیر نہیں ہوا اور گدھے کو دیکھ لو اور رحم میں دیکھو کہ بچے کے ہڈیوں پر کس طرح ہم گوشت چڑھاتے ہیں۔ یعنی مرنے کے سو برس بعد اس کا استبعاد دور ہو گیا۔ معلوم نہیں سو برس تک وہ کہاں رہے اس عالم سے تو مر ہی گئے تھے اور اس عالم میں سو برس کے بعد زندہ ہوئے۔ پھر کھانا پینا بھی ساتھ ساتھ گویا سفر آخرت کا توشہ تھا۔ جس کے دیکھنے کا حکم ہوا اور گدھا جو دکھلایا گیا کیا وہ بھی شاید سواری اس سفر کی تھی۔ بھلا یہ زاد راہ اور سواری تو قرین قیاس بھی ہے کہ آخر سفر کا لازمہ ہے۔ مگر رحم کے بچے کو دیکھنے میں تامل ہوتا ہے کہ اس کی وہاں کیا ضرورت تھی۔ بہر حال مرزا قادیانی کے ان حقائق و معارف قرآنی کو ہم ہدیہ ناظرین کر دیتے ہیں۔ وہ خود فیصلہ کر لیں گے کہ قرآن شریف میں مرزا قادیانی کیسے کیسے تصرفات اور تحریفات کرتے ہیں۔ لفظ اماتت میں تحریف کی پھر لایرجعون میں پھر انظر الی العظام میں پھر نكسوها لحما میں۔ اگرچہ ہنوز اس میں غور و فکر کو گنجائش ہے۔ مگر بنظر ملال ناظرین اسی پر اختصار کیا گیا۔
مرزا قادیانی (ضرورۃ الامام ص ٢٦، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٦) میں لکھتے ہیں کہ: "میں قرآن شریف کے حقائق و معارف بیان کرنے کا نشان دیا گیا ہوں کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔" فی الحقیقت مرزا قادیانی نے قرآن کے حقائق و معارف بیان کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے ممکن ہے کہ کوئی مسلمان اس میں ان کا ہم پلہ ہو سکے۔ کیونکہ یہ بیچارے اس حدیث شریف کے لحاظ سے نار دوزخ سے خائف اور لرزاں ہیں۔ "قال رسول الله ﷺ من قال فی
٧٣
القرآن برأيه فلیتبوأ مقعده من النار (الترمذى كذافى المشكوة كتاب العلم ص ٣٠) ”یعنی فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے جو کوئی قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہے تو اپنی جگہ دوزخ میں بنالے اور مرزا قادیانی کو اس کا کچھ خوف نہیں۔ کیونکہ مذاق فلسفی میں اس نار کا تو وجود ہی نہیں پھر اس سے خوف کیا ہے۔
(ازالۃ الاوہام) میں لکھتے ہیں کہ ”او ترقٰی فى السماء قل سبحان ربى هل كنت الا بشرا رسولا“ یعنی کفار کہتے ہیں تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا تب ہم ایمان لے آئیں گے۔ ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس سے پاک تر ہے کہ اس دارالابتلاء میں ایسے کھلے کھلے نشان دکھا دے اور میں بجز اس کے اور کچھ نہیں ہوں کہ ایک آدمی اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا اور انہیں صاف جواب ملا کہ یہ عادت نہیں کہ کسی جسم خاکی کو آسمان پر لے جائے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٢٥، خزائن ج ٣ ص ٤٣٧)
مرزا قادیانی نے خود غرضی سے اس آیت شریفہ میں اختصار وحذف وغیرہ کیا ہے۔ پوری آیت یہ ہے ”وقالوا لن نؤمن لك حتى تفجر لنا من الارض ينبوعا او تكون لك جنة من نخيل وعنب فتفجر الانهار خلالها تفجيرا او تسقط السماء كما زعمت علينا كسفا او تاتى بالله والملئكة قبيلا او يكون لك بيت من زخرف او ترقى فى السماء ولن نؤمن لرقيك حتى تنزل علينا كتابا نقرؤه قل سبحان ربى هل كنت الا بشرا رسولا (بنى اسرائيل: ٩٠ تا ٩٣)“ ﴿بولے ہم نہ مانیں گے تیرا کہا جب تک تو نہ بہائے ہمارے واسطے زمین سے ایک چشمہ، یا ہو جائے تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا پھر بہائے تو اس کے بیچ نہریں چلا کر یا گرا دے آسمان ہم پر جیسا کہا کرتا ہے ٹکڑے ٹکڑے یا لے آ اللہ اور فرشتوں کو ضامن یا ہو جائے تجھ کو ایک ستھرا گھر یا چڑھ جائے تو آسمان میں اور ہم یقین نہ کریں گے۔ چڑھنا جب تک نہ اتار لائے ہم پر ایک لکھا جو ہم پڑھ لیں تو کہہ سبحان اللہ میں کون ہوں مگر ایک آدمی بھیجا ہوا۔﴾
اب اس پوری آیت پڑھنے کے بعد بھی کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جسم خاکی کا آسمان پر جانا محال ہے۔ جب تک وہ تدبیر نہ کی جائے جو مرزا قادیانی نے کی انہوں نے اپنی کامیابی کا یہ طریقہ نکالا کہ جو جملے اپنے مدعا کے مخالف ہوں۔ ان کو نکال دور کر کے چند متفرق الفاظ اکھٹے کئے اور کہہ دیا کہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مدعا ثابت ہے۔ دیکھ لیجئے تمام آیت میں سے او ترقٰی کا جملہ لے لیا اور لن نؤمن لرقيك کو حذف کر کے قل سبحان
١٤
کے جملہ کے ساتھ اس کی جوڑ لگا دیا۔ تاکہ اس ترک و حذف سے اصل مضمون خبط ہو کر نیا مضمون پیدا ہو جائے۔ چونکہ مرزا قادیانی کو یہ ثابت کرنا ہے کہ جسم خاکی کا آسمان پر جانا محال ہے۔ اس لئے انہوں نے کفار کی کل درخواستوں کو چھوڑ دیا۔ کیونکہ ان میں چند چیزیں ایسی بھی ہیں کہ اہل اسلام کے پاس ممکن الوقوع ہیں۔ مثلاً چشمہ کا جاری کرنا جس کو موسیٰ علیہ السلام نے کر دکھایا تھا اور کھجور اور انگور کا باغ اور سنہری مکان حضرت ﷺ کے لئے تیار ہو جانا کوئی مشکل بات نہ تھی۔ گو کفار کے پاس یہ چیزیں بھی محال نہ تھیں۔ ان کو خوف ہوا کہ اگر کسی کی نظر ان چیزوں پر پڑ جائے گی تو حضرت ﷺ کا آسمان پر جانا بھی انہیں نظائر میں سمجھ لیں گے اور مقصود فوت ہو جائے گا۔ او ترقی فی السماء کے بعد کا جملہ یعنی ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کو اس واسطے حذف کیا کہ اس میں کتاب نازل کرنے کی درخواست تھی اور ترقی کے جواب میں ھل کنت الا بشرا سے جب یہ استدلال ہو کہ جسم خاکی آسمان پر نہیں جا سکتا تو وہی جواب حتی تنزل علینا کا بھی ہے۔ اس سے بھی یہی سمجھا جائے گا کہ کتاب بھی نازل نہیں ہو سکتی۔ حالانکہ قرآن شریف برابر نازل ہوتا تھا اور اکثر کفار اس کا اعجاز دیکھ کر منزل من اللہ سمجھتے اور ایمان لاتے تھے۔
ہر چند مرزا قادیانی نے تحریف کا الزام اپنے ذمہ لیا۔ مگر اس سے بھی ان کا مطلب ثابت نہیں ہو سکتا۔ تھوڑی دیر کے لئے اتنی ہی آیت فرض کیجئے۔ جس کا ترجمہ انہوں نے استدلال میں پیش کیا ہے۔ یعنی ” وقالوا لن نؤمن لک حتی ترقی فی السماء قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا“ اس سے تو یہ معلوم ہوا کہ کفار نے حضرت ﷺ سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تو ان کو یہ جواب ملا کہ میں تو ایک بشر ہوں۔ یعنی خدا نہیں کہ اپنی ذاتی قدرت سے ایسے خوارق عادات ظاہر کروں۔ اس سے یقینی طور پر معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت ہے۔ اگر کسی جسم کو آسمان پر لے جائے تو اس کی قدرت سے بعید نہیں۔ رہا یہ کہ عادت نہیں تو جتنے معجزات ظہور میں آئے تھے۔ سب خوارق عادات تھے۔ کوئی کم فہم بھی اس جملہ سے کہ (میں تو ایک بشر رسول ہوں) یہ سمجھ نہیں سکتا کہ یہ عادت نہیں کہ خدا جسم خاکی کو آسمان پر لے جائے۔
اب دیکھ لیجئے کہ مرزا قادیانی کی تحریف اور عبارت آرائی نے کیا نفع دیا۔
بباد رفت وازاں خواجہ ہیچ طرف نہ بست
اس بے تکے استدلال سے تو یہ استدلال کس قدر قریب الفہم ہوگا کہ ان کے جواب میں حضرت ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ یہ کیا کہہ رہے ہو۔ میں کوئی عامی شخص نہیں بلکہ میں بشر رسول
٧٨
ہوں۔ بفضلہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہوں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ شب معراج اسی جسم خاکی سے آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ جس کی تصدیق صد ہا حدیثیں کر رہی ہیں اور تمامی امت کا اجماع ہے۔ مرزا قادیانی کو فلسفہ پر کامل اعتقاد ہونے کی وجہ سے معراج کا انکار کرتے ہیں۔ مگر کوئی مسلمان جس کو خدا کی قدرت پر ایمان ہے اور آنحضرت ﷺ کے اخبار کو سچے سمجھتا ہے وہ تو ہرگز انکار نہیں کر سکتا۔
چونکہ مرزا قادیانی کو نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی شان کو گھٹانے کی یہاں ضرورت تھی۔ اس لئے ”هل كنت الا بشرا رسولا“ کے ترجمہ میں رسول کے لفظ کو چھوڑ کر اسی پر اکتفا کیا کہ (میں بجز اس کے اور کوئی نہیں کہ ایک آدمی ) تا کہ اردو پڑھنے والوں کا خیال رسالت کی طرف منتقل ہی نہ ہو۔ کیونکہ رتبہ رسالت الٰہی عموماً فطرۃً معظم و مکرم سمجھا گیا ہے۔ اسی وجہ سے کفار اس رتبے کے مستحق ملائکہ کو سمجھتے تھے۔ چنانچہ ان کا قول ”لولا انزل عليه ملك فيكون معه نذیرا“ اور صرف بشریت کی وجہ سے ”ان انتم الا بشر مثلنا“ کہہ کر انبیاء کی رسالت میں کلام کرتے تھے۔ مرزا قادیانی نے خیال کیا کہ اگر لفظ رسول ترجمہ میں شریک کیا جائے تو مبادا کوئی یہ کہہ بیٹھے کہ حضرت ﷺ کو جب رسالت کی قوت اعجازی دی گئی تھی تو ممکن ہے کہ آسمان پر جانے کی قدرت بھی ہو۔ اس وجہ سے انہوں نے اس لفظ کا ترجمہ ترک ہی کر دیا۔
مرزا قادیانی نے آیۂ موصوفہ میں سبحان ربی کی توجیہہ یہ کی کہ میرا خدا اس سے پاک تر ہے کہ اس دارالابتلاء میں ایسے کھلے کھلے نشانیاں دکھلاوے۔ اس کا مطلب ظاہر ہے کہ کھلے کھلے قدرت کی نشانیاں دکھانا خدا تعالیٰ کی نسبت ایک ایسا سخت عیب ہے۔ جس سے تنزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ قدرت نمائیاں کس وجہ سے عیب ٹھہرائی گئی ہیں۔ یہ تو ہر شخص جانتا ہے کہ جس میں کوئی کمال ہو اس کا ظاہر کرنا کمالِ مستحسن سمجھا جاتا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ کی قدرت جو غایت درجہ کا کمال ہے۔ اس کا اظہار کس وجہ سے نقص اور عیب ہوگا۔ غور کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ عیب نعوذ باللہ حق تعالیٰ پر جو لگایا گیا ہے اس کا منشاء صرف یہی ہے کہ اس سے مرزا قادیانی کی عیسویت کو صدمہ پہنچتا ہے۔ اس لئے کہ اگر جسم خاکی آسمان پر جانے سے عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ثابت ہو جاتی ہے۔ پھر مرزا قادیانی کو کون پوچھے۔ غرض سبحان ربی سے یہ مطلب نکالنا صرف تحریف ہے۔
اصل یہ ہے کہ جب سوال کوئی بے موقعہ اور بد نما ہوتا ہے تو اس کے جواب میں یہ لفظ بطور تعجب کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس حدیث شریف سے بھی ظاہر ہے جو بخاری شریف میں ہے۔
٧٦
”عن عائشة ان امرأة سألت النبىﷺ عن غسلها من المحيض فامرها كيف تغتسل قال خذى فرصة من مسك فتطهرى بها قالت كيف اتطهر بها قال تطهرى بها قالت كيف قال سبحان الله تطهرى فاجتبذتها الى فقلت تتبعى اثرالدم (بخارى ج ١ ص ٤٠ ، باب دلك المرأة نفسها كتاب الحيض) ”یعنی ایک عورت نے حضرتﷺ سے پوچھا کہ حیض کا غسل کس طرح کیا جائے۔ فرمایا کہ ایک کپڑے کے ٹکڑے میں مشک لگا کر اس سے پاک کر کہا کیسے پاک کروں فرمایا پاک کر پھر اس نے پوچھا کیسے فرمایا۔ سبحان اللہ پاک کر۔ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے اس کو اپنی طرف کھینچ کر تدبیر بتلادی۔ اب دیکھئے کہ خدا تعالیٰ کی تنزیہ بیان کرنے کی یہاں کوئی ضرورت نہیں۔ بلکہ صرف اس بے موقعہ سوال کے جواب میں بطور تعجب یہ لفظ فرمایا۔ اسی طرح کفار کے ان بے موقعہ اور مہمل سوالوں کے جواب میں اس لفظ کا استعمال کیا گیا۔ وہ سوال بے موقعہ اس وجہ سے تھے کہ حضرتﷺ نے یہ دعویٰ کب کیا تھا کہ اپنی خود مختاری سے تمام خوارق عادات ظاہر فرما دیں گے۔ حضرتﷺ تو ہمیشہ اپنی عبودیت کے معترف تھے۔ مرزا قادیانی کو اپنی عیسویت اور تعلی ثابت کرنے کے لئے کیا کیا دقتیں پیش آرہی ہیں۔ کبھی تمام علمائے اسلام کو مشرک بنانے کی ضرورت ہوتی ہے اور کبھی نبیﷺ کی توہین اور حق تعالیٰ پر عیب لگانے کی احتیاج۔ نعوذ بالله من ذالك!
اس تقریر سے ایک اور امر مستفاد ہے کہ مرزا قادیانی معجزات کے بھی قائل نہیں۔ اس لئے کہ معجزات تو وہی ہوتے ہیں جو قدرت الہیہ کی نشانیاں ہوں اور قدرت بشری سے خارج ہوں۔ پھر جب ایسی نشانیوں کا اظہار عیب اور خدا تعالیٰ کو اس سے منزہ سمجھنے کی ضرورت ہو تو ممکن نہیں کہ ان کا وقوع ہو سکے۔ اس صورت میں بخاری ومسلم وغیرہ کتب حدیث جو معجزات انبیاء اور کرامات اولیاء سے بھری ہوئی ہیں نعوذ باللہ سب کو جھوٹی سمجھنا پڑے گا۔ بلکہ خود قرآن شریف میں بھی جو معجزات اور خوارق عادات مذکور ہیں وہ بھی بقول مرزا قادیانی قابل اعتبار نہ ہوں گے۔ ہر چند مرزا قادیانی اپنے کو ہم خیال معتزلہ کا بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ ضرورت الامام میں لکھتے ہیں کہ: ”میں معتزلہ وغیرہ کے قول کو مسیح کی وفات کے بارے میں صحیح قرار دیتا ہوں اور دوسرے اہل سنت کو غلطی کا مرتکب سمجھتا ہوں ۔“
(ضرورت الامام ص ٢٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٦)
مگر معجزات کے انکار سے ظاہر ہے کہ مذاق فلسفی میں سرسید صاحب کے بھی ہم خیال ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ انہوں نے جس قدر دینی مسائل میں تفرقہ اندازی کی، مقصود اس سے بظاہر مسلمانوں کی دنیوی خیر خواہی تھی اور مرزا قادیانی کو اس سے بھی کچھ کام نہیں چاہے
دین و دنیا دونوں تباہ ہو جائیں۔ مگر ان کی مجددیت امامت، مہدویت، عیسویت وغیرہ ہم جم جائے تو بس ہے۔
(ازالۃ اوہام) میں لکھتے ہیں کہ ”اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے۔ وہ بھی اس نئے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد وعیسیٰ اپنے جمالی معنوں کے رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے۔ ”مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“ مگر ہمارے نبیﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا....... (اس کے بعد خدا تعالیٰ کی قدرت بیان کر کے اپنا الہام بیان کیا۔ وجعلناك مسیح ابن مریم اس کے بعد لکھا کہ ) ”جو عام طور پر مشائخ وعلماء ہیں ان میں موت روحانی پھیل گئی“ اس کے بعد لکھا کہ ”اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کے آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔ قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کے چودہ سو برس تک مدت ٹھہرائی ہے۔ بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت ”وانا على ذهاب به لقادرون “ جس کے بحساب جمل ١٢٧٤ عدد ہیں۔ اسلامی چاند کی سلخ کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جس میں نئے چاند کے نکلنے کی بشارت چھپی ہوئی ہے۔ جو غلام احمد قادیانی کے عدد میں بحساب جمل پائی جاتی ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٧٣ ، ٦٧٥ ، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣، ٤٦٤)
جس آیت کو مرزا قادیانی نے ذکر کیا وہ یہ ہے۔ ”واذ قال عیسیٰ ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراة ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد (الصف:٦) “ ﴿جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے اے بنی اسرائیل میں بھیجا آیا ہوں اللہ کا تمہاری طرف سچ لانے والا اس کو جو مجھ سے آگے ہے تو رات اور خوشخبری سنانے والا ایک رسول کی جو آوے گا۔ مجھ سے پیچھے اس کا نام ہے احمد ۔﴾
مرزا قادیانی آپ اور عیسیٰ جمالی بن کر آنحضرتﷺ کو اس آیت کے مصداق ہونے سے خارج کر رہے ہیں۔ مگر ان کو ضرور تھا پہلے قرآن وحدیث سے یہ ثابت کر دیتے کہ عیسیٰ اور احمد جمالی نام ہیں اور محمد جلالی اس کے بعد یہ ثابت کرنے کی بھی ضرورت تھی کہ جمالی نام والے کی پیش گوئی جمالی نام والے کے واسطے ہونا ضرور ہے۔ اس میں جلالی نام والا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔ مرزا قادیانی کی خودسری بھی حد سے بڑھی ہوئی ہے۔ احادیث کی وقعت تو
بدویت امامت، مہدویت، عیسویت وغیرہم جم آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے۔ وہ بھی اس لالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد وعیسیٰ اپنے جمالی یہ اشارہ ہے۔ ”مبشرا برسول یاتی من فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال ئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے ان کر کے اپنا الہام بیان کیا۔ وجعلناك وعام طور پر مشائخ وعلماء ہیں ان میں موت روحانی ت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کے آخری زمانہ میں قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کے چودہ سو اپنے مکاشفات کی رو سے اس مدت کو مانتے ہیں ”جس کے بحساب جمل ١٢٧٤عدد ہیں۔ اسلامی س میں نئے چاند کے نکلنے کی بشارت چھپی ہوئی پائی جاتی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٧٣، ٦٧٤ خزائن ج ٣ ص ٤٦٣، ٤٦٤)
ہ یہ ہے۔ ”واذ قال عيسى ابن مریم یا مصدقا لما بين يدى من التوراة ومبشرا الصف:٦) ”جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے اے سچ لانے والا اس کو جو مجھ سے آگے ہے تورات مجھ سے پیچھے اس کا نام ہے احمد۔ ﴾ کر آنحضرت ﷺ کو اس آیت کے مصداق پہلے قرآن وحدیث سے یہ ثابت کر دیتے بعد یہ ثابت کرنے کی بھی ضرورت تھی کہ جمالی طے ہونا ضرور ہے۔ اس میں جلالی نام والا کوئی حد سے بڑھی ہوئی ہے۔ احادیث کی وقعت تو
٧٨
ان کے پاس اتنی بھی نہیں جتنی صدیق حسن خان صاحب کے قول کی ہے۔ جیسا کہ اوپر معلوم ہوا۔ رہا کلام اللہ اس کی حالت بھی دیکھ لیجئے۔ حق تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اس رسول کی بشارت دی جس کا نام احمد ہے اور وہ کہتے ہیں نہیں وہ غلام احمد قادیانی کی بشارت ہے۔ کیونکہ وہ لکھتے ہیں لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی احمد بھیجا گیا۔ پھر ایک الہام کا جوڑ لگا کر کہ (وجعلنك مسیح ابن مریم) لکھتے ہیں کہ مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔ یعنی آیہ شریفہ ”ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد “ اپنے آنے کی پیش گوئی ہے۔ اس لئے کہ الہام سے آپ مسیح ابن مریم ہیں اور احمد وعیسیٰ جمالی معنی کے رو سے ایک ہی ہیں تو جو احمد کی پیش گوئی ہے وہی عیسیٰ کی پیش گوئی ہوئی۔ اس سے حاصل مطلب صاف ظاہر ہے کہ ”رسول یاتی من بعدی اسمه احمد “ سے مراد غلام احمد ہے جو عیسیٰ ابن مریم بھی ہے اور ہمارے نبی ﷺ مراد نہیں۔
قولہ: ”مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)
یعنی اگر حضرت ﷺ کا نام صرف احمد ہی ہوتا تو ممکن تھا کہ اس پیش گوئی سے کچھ حصہ مل جاتا۔ کیونکہ آخر خود بھی تو احمد ہیں اور جب حضرت ﷺ کا نام صرف احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہے تو آپ بالکل اس سے بے تعلق ہیں۔ اس لئے کہ جلال و جمال سے مرکب ہونے کی وجہ سے خالص جمال نہ رہا۔ جو عیسیٰ میں تھا اور پیشین گوئی اسی وقت صادق آئے گی کہ عیسیٰ کی حقیقت بھی اندر موجود ہو۔ جیسا کہ لکھتے ہیں۔ برطبق پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔
اس تحقیق سے ایک قاعدہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کسی کی نسبت پیش گوئی کرتے ہیں تو ان کی حقیقت اس میں ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ عیسیٰ کی حقیقت مرزا قادیانی میں، بیشمار احادیث صحیحہ سے اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ نوح علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک کل انبیاء نے دجال کی پیشین گوئی کی ہے۔ اس قاعدہ کے رو سے مرزا قادیانی کے اعتقاد میں یہ بات ضرور ہوگی کہ کل انبیاء کی حقیقت اس دجال میں ہے جس کے قتل کرنے کے لئے مرزا قادیانی آئے ہیں۔ مگر یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب مرزا قادیانی کو افضل کہنا چاہئے یا پادریوں کو۔ کیونکہ مرزا قادیانی میں تو صرف حقیقت عیسویت ہے اور پادریوں میں بحسب قاعدہ مذکورہ تمام انبیاء کی حقیقت ہے۔
٧٩
قولہ ”اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے اور اسی طرف یہ اشارہ ہے و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد قیامت تک جتنے آنے والوں کا نام احمد ہو وہ غلام احمد ہو۔
یا احمد بیگ یا احمد خاں سب مثیل عیسیٰ ہوں گے یا ان میں کوئی مابہ الامتیاز بھی ہے۔ اگر بالکل تعمیم کی جائے تو مرزا قادیانی کی شیخی باقی نہیں رہتی اور اس تخصیص کا کوئی قرینہ نہیں۔ جس سے مرزا قادیانی ہی داخل ہوں۔ لیکن جب ہم آیہ شریفہ کو دیکھتے ہیں تو وہ بزبان فصیح کہہ رہی ہے کہ وہ خاص رسول ہے۔ جس کا مبارک نام احمد ہے نہ ان میں کوئی غلام ہے نہ بیگ نہ خان۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کا اس غرض سے کہ خود بھی شریک ہو جائیں یہ کہنا کہ آنے والے کا نام احمد رکھا گیا ہے غلط ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اس آنے والے رسول کا نام احمد ہے۔ ہر چند مرزا قادیانی نے اس میں آنکھ بچا کر داخل ہونے کی یہ تدبیر نکالی کہ لفظ رسول کو چھوڑ کر صرف آنے والے کا نام احمد ہے لکھ دیا۔ تا کہ لوگ رسالت کے دعوے سے چونک نہ جائیں۔ مگر سمجھنے والے سمجھ ہی جاتے ہیں۔
ترک مست است مگر میل کبابے دارد
اگر یہ کہتے کہ اس آنے والے رسول کا نام احمد ہے اور میں وہی ہوں تو ہر طرف سے دار و گیر شروع ہو جاتی۔ مگر داخل ہونے کے بعد چپ نہ رہ سکے۔ دبی آواز میں رسالت کا دعویٰ بھی کر ہی دیا۔ چنانچہ اسی بحث کے آخر میں لکھتے ہیں کہ میں آخری زمانہ میں بھیجا گیا تا کہ اس آیہ شریفہ کا پورا مصداق بن جائیں اور رسول یاتی من بعدی اسمہ احمد میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ یہاں شاید یہ کہا جائے گا کہ حق تعالیٰ نے وارسلنا الریاح اور انا ارسلنا الشیاطین وغیرہ بھی فرمایا ہے۔ جب ہوائیں اور شیاطین کو اللہ تعالیٰ بھیجا کرتا ہے تو اگر مرزا قادیانی نے اپنے کو بھیجا گیا ہوں کہا تو کون سی بڑی بات ہو گئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فی الواقع ہر چیز کو خاص کام کے لئے حق تعالیٰ بھیجا کرتا ہے۔ مثلاً ہواؤں کو پانی برسانے کے لئے۔ اب مرزا قادیانی کو دیکھنا چاہئے کہ کس کام کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ وہ ایک جلیل القدر شخص ہیں اس واسطے تو نہیں بھیجے گئے ہوں گے کہ زراعت وغیرہ میں لگائے جائیں۔ کیونکہ انہوں نے زمین داری چھوڑ کر علمی خدمت اختیار کی ہے۔ جس سے ہدایت یا ضلالت متعلق ہے۔ اگر انا ارسلنا الشیطین کے مد میں
٦٠
داخل ہیں تو ممکن ہے۔ کیونکہ شیاطین کے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ قیامت تک گمراہ کرنے والے ہر زمانہ میں پیدا ہوتے رہیں گے۔ مگر مرزا قادیانی اس کو قبول نہ کریں گے اور یہی فرمائیں گے کہ میں ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ جس سے مقصود یہ کہ رسولوں کے زمرہ میں شریک ہوں تو یہ بات اہل اسلام ہرگز قبول نہیں کر سکتے۔ اس لئے کہ حق تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین فرما کر ہمیشہ کے لئے تمام مدعیوں کو مایوس کر دیا۔ غرض میں بھیجا گیا ہوں کہنا ان کا سوائے دعوٰی رسالت کے اور کوئی بات نہیں اور یہ دعوٰی بمقتضائے مقام ان کو لازم بھی تھا۔ اس لئے کہ جب آنحضرت ﷺ اس آیت شریفہ کے مصداق نہ ہوئے تو بقول مرزا قادیانی ضرور ہوا کہ وہ اس کے مصداق بنیں ورنہ خبر قرآنی خلاف واقع ہو جاتی تھی اور وہ خود کہتے بھی ہیں ”رسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ سے اپنی طرف اشارہ ہے۔ غرض اس تقریر سے اور نیز بعض الہامات سے جس کو خود انہوں نے بیان کیا ہے۔ مثلاً ”انی رسول اللہ الیکم جمیعا“ سے صاف ظاہر ہے کہ ان کو دعوٰی رسالت ضرور ہے۔
اب ہم یہاں نہایت ٹھنڈے دل سے گذارش کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی مدعی رسالت ہیں اور جو مدعی رسالت ہو وہ دجال ہے۔ صغریٰ کا ثبوت ابھی معلوم ہوا اور کبریٰ کا ثبوت اس حدیث شریف سے ہے۔ ”قال النبی ﷺ لا تقوم الساعۃ حتی یبعث دجالون کذابون قریباً من ثلثین کلہم یزعم انہ رسول اللہ (البخاری ج١ ص٥٠٩، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، مسلم ج٢ ص٣٩٧، باب کتاب الفتن واشراط الساعۃ، ابوداؤد، والترمذی عن ابی ھریرۃ کذافی کنز العمال) “ یعنی فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک جھوٹے دجال قریب تیس کے نہ نکلیں گے۔ سب کا دعوٰی یہی ہوگا کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں۔
شکل اول سے یہ نتیجہ نکلا کہ غلام احمد قادیانی دجال ہے تو پہلے ہی ایسا نام رکھا گیا کہ وہ مادہ تاریخ اس خدمت کا بن سکے۔ یعنی مسمائے غلام احمد قادیانی بشکل اوّل دجال ہو تو ان کے نام نامی سے مادہ تاریخ اس خدمت کی نکل آنا ایک مناسبت کے ساتھ ہوگا۔ بخلاف اس کے کہ اس عدد سے عیسویت ثابت کی جائے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے کی ہے۔ اب مرزا قادیانی جو ازالۃ الاوہام میں لکھتے ہیں کہ (گورنمنٹ انگریزی دجال ہے) سو اس سے کیا فائدہ۔ قولہ: ”قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی چودہ سو برس مدت ٹھہرائی۔“ پہلے اس آیت کے بتلانے کی ضرورت
٨١
تھی کہ چودہ سو برس تک مسیح کبھی نہ کبھی نکل آوے گا اور اگر حساب جمل سے نکل آنے کا نام قرار داد مدت ہے تو جن آیتوں میں عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے ان کے اعداد نکال کر دیکھ لیجئے کہ چودہ سو برس پر انحصار نہیں ہوسکتا۔ پہلے سب سے زیادہ مستحق اعداد نکالنے کے لئے وہ آیہ ہے جس میں حقیقت عیسیٰ یعنی احمد آنے کا ذکر ہے۔ یعنی آیۂ ”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ مگر اس میں سولہ سو نکلتے ہیں۔ چونکہ اس میں بہت سے تخرجہ کی ضرورت ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی اپنے کام میں اس کو نہ لاسکے۔ جب ان کو اس مضمون کی کوئی آیت نہ ملی جس میں عیسیٰ یا احمد کا ذکر ہو تو بہ امر مجبوری یہ آیۂ اختیار کی ”وانا علی ذھابٍ بہ لقادرون“ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں۔ اب یہ نہیں معلوم کہ کس کے لیجانے پر قادر ہیں۔ کیونکہ آیۂ تو پوری ذکر ہی نہیں کی جس سے ضمیر کا مرجع معلوم ہو۔ اس لئے کہ اس کے اعداد بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اس الہام کو انہوں نے اس طرح اٹھایا کہ اس میں اسلامی چاند کے سلخ کی راتوں کی طرف اشارہ ہے۔ جس سے ہر شخص سمجھ جائے کہ ضمیر چاند کی طرف پھرتی ہے اور چاند جانے سے سلخ ہو جاتا ہے۔ مگر پوری آیۂ جو دیکھی گئی تو اس میں چاند کا ذکر ہی نہیں۔ بلکہ یہ ذکر ہے کہ ہم آسمان سے اندازہ کا پانی برسا کر اس کو زمین میں رکھتے ہیں۔ پھر اس کے بعد فرمایا کہ ہم اس کو بھی لے جانے پر قادر ہیں۔ ”وانزلنا من السماء ماءً بقدرٍ فاسکناہ فی الارض وانا علی ذھابٍ بہ لقادرون“ اس صورت میں مرزا قادیانی ١٢٧٤ کے عدد کی آیت جو اس غرض سے نکالی تھی کہ اپنے ظہور کے پیشتر اسلام کا چاند ڈوب جائے گا۔ وہ بھی صحیح نہیں ہے۔ بلکہ اس میں بھی تحریف کی ضرورت پڑی۔ کیونکہ بہ کی ضمیر چاند کی طرف پھیر دی۔ جس کا ذکر ہی نہیں تا کہ جہال اعتبار کر کے سمجھ لیں شاید اوپر اس کا ذکر ہوگا۔ پھر غلام احمد قادیانی سے یہ نکالا کہ تیرہ سو برس میں عیسیٰ نکلے گا۔ اب دیکھئے کہ اس سلسلہ تقریر کی ابتدا یہ تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام نے خبر دی کہ میرے بعد ایک رسول آئیں گے جن کا نام احمد ہے۔ اس میں یہ تحریف کی کہ آنحضرت ﷺ پر صادق نہیں آتی۔ پھر یہ بات بنائی کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ چودہ سو برس تک عیسیٰ نکلے گا۔ پھر اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ عیسیٰ تیرہ سو برس میں نکل پڑا۔ ایک آیہ پیش کی کہ قرآن سے ثابت ہے کہ ١٢٧٤ھ میں اسلام کا چاند غروب کرے گا۔ حالانکہ نہ اس میں چاند کا ذکر ہے نہ ١٢٧٤ھ کا پھر اپنے نام کے مجرد اعداد ١٣٠٠ سو سے یہ مطلب نکالا کہ عیسیٰ کے نکلنے کا سنہ یہی ہے معلوم نہیں کہ اس سنہ کے ساتھ عیسیٰ کو کیا مناسبت پہلے کوئی آیت یا حدیث سے یہ ثابت کرنا ضرور
تھا کہ عیسیٰ ١٣٠٠ میں نکلے گا۔ ا دلیل بن سکتی اس تقریر سے تو و مرزا قادیانی نے مطلب کی تائید میں لے لیتے کیا کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی القادیان وبالحق انزل میں چھپ چکا ہے۔ بصراحت احادیث نبویہ میں پیش گوئی صاحب مرحوم مرزا غلام قاد پڑھتے انہوں نے ان فقرات بہت تعجب سے کہا کہ قادیان لکھا ہوا ہے تب میں نے نظر صفحہ میں شاید قریب نصف ک دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ
مرزا قادیانی کے ایسا صریح صحیح احادیث سے ثا لفظ محض استعارہ کے طور پر میں بہت عظمت و وقعت رکھ کو بھی اس میں کلام نہیں ہو ک اور بھی مشابہت سے تشبیہ ک کی آنکھوں کے سامنے وہ کمال درجہ کے ظلم اور جور و خدا تعالیٰ اس دمشق کو جس
٨٢
تھا کہ عیسیٰ ١٣٠٠ میں نکلے گا۔ اس کے بعد اگر یہ نام کے اعداد لکھے جاتے تو ایک شاعرانہ مضمون کی دلیل بن سکتی اس تقریر سے تو وہ بھی نہ بنی۔
مرزا قادیانی نے جو طریقہ ایجاد کیا ہے کہ کچھ کمی و زیادتی کر کے آیت یا حدیث کو اپنے مطلب کی تائید میں لے لیتے ہیں۔ یہ طریقہ کوئی قابل تحسین نہیں۔ اکثر آزاد غیر متدین بھی کام کیا کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی (ازالہ الاوہام) میں لکھتے ہیں اور یہ الہام ”انا انزلناہ قریباً من القادیان وبالحق انزلناہ وبالحق نزل وكان وعدالله مفعولا “ جو براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے۔ بصراحت اور بآواز بلند ظاہر کر رہا ہے کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں یا احادیث نبویہ میں پیش گوئی ضرور موجود ہے۔.... کہ کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان “ تو میں نے سنکر بہت تعجب سے کہا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا یہ دیکھو لکھا ہوا ہے تب میں نے نظر جو ڈال کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے، مکہ مدینہ قادیان۔
(ازالہ اوہام ص ٧٣ تا ٧٧ حاشیہ ، خزائن ج ٣ ص ١٣٨ تا ١٤٠)
مرزا قادیانی کے دعوے عیسویت پر جب یہ اعتراض ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا دمشق میں اترنا صحیح صحیح احادیث سے ثابت ہے تو انہوں نے خود یہ سوال کر کے اس کا جواب دیا کہ: ”دمشق کا لفظ محض استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ چونکہ امام حسین کا مظلومانہ واقعہ خدا تعالیٰ کی نظر میں بہت عظمت و وقعت رکھتا ہے اور یہ واقعہ حضرت مسیح کے واقعہ سے ایسا ہمرنگ ہے کہ عیسائیوں کو بھی اس میں کلام نہیں ہوگی۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ آنے والے زمانہ کو بھی اس کی عظمت اور مسیحی مشابہت سے تنبیہ کرے۔ اس وجہ سے دمشق کا لفظ بطور استعارہ لیا گیا تا کہ پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے وہ زمانہ آجائے جس میں لخت جگر رسول اللہ ﷺ حضرت مسیح کے طرح کمال درجہ کے ظلم اور جور و جفا کے راہ سے دمشقی اشقیاء کے محاصرہ میں آ کر قتل کئے گئے۔ سو خدا تعالیٰ اس دمشق کو جس سے ایسے ظلم و احکام نکلتے تھے اور جس میں ایسے سنگدل اور سیاہ دروں
٨٣
لوگ پیدا ہو گئے تھے۔ اس غرض سے تشابہ بنا کر لکھا کہ اب مثیل دمشق عدل اور ایمان پھیلانے کا ہیڈ کوارٹر ہوگا۔ کیونکہ اکثر نبی ظالموں کی بستی ہی میں آتے رہے ہیں اور خدا تعالیٰ لعنت کی جگہ کو برکت کے مکانات بناتا رہتا ہے۔ اس استعارہ کو خدائے تعالیٰ نے اس لئے اختیار کیا کہ پڑھنے والے دو فائدہ اس سے حاصل کریں۔ ایک یہ کہ امام مظلوم حسینؓ کا دردناک واقعہ شہادت جس کی دمشق کے لفظ میں بطور پیش گوئی اشارہ کی طرز پر حدیث نبوی میں خبر دی گئی۔ اس کی عظمت اور وقعت دلوں پر کھل جائے۔ دوسرا یہ کہ تحقیقی طور پر معلوم کر جاویں کہ جیسے دمشق میں رہنے والے دراصل یہودی نہیں تھے۔ مگر یہودیوں کے کام انہوں نے کئے ایسا ہی جو مسیح آنے والا ہے۔ دراصل مسیح نہیں ہے۔ مگر مسیح کے روحانی حالت کا مثیل ہے اور اس جگہ بغیر اس شخص کے کہ جس کے دل میں حسین کی وہ عظمت نہ ہو جو ہونی چاہئے۔ ہر ایک شخص اس دمشقی خصوصیت کو جو ہم نے بیان کی ہے کمال انشراح صدر سے ضرور قبول کر لے گا اور نہ صرف قبول بلکہ اس مضمون پر نظر امعان کرنے سے حق الیقین تک پہنچ جائے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩ تا ٧١ حاشیہ، خزائن ج٣ ص ١٣٦، ١٣٧)
اس تقریر میں مرزا قادیانی نے کئی امور ثابت کئے ہیں۔
- ١...... قرآن شریف میں قادیان کا نام موجود ہے۔
- ٢...... قادیان و دمشق میں مشابہت معنوی ہے۔
- ٣...... حدیث شریف میں قادیان بلفظ دمشق بیان کیا گیا۔
- ٤...... دمشق کے لوگ ظالم ہونے کی وجہ سے قادیان میں برکت پھیلی اور عدل کا
ہیڈ کوارٹر ہوا۔
- ٥...... عیسیٰ علیہ السلام کے دمشق میں اترنے کی پیش گوئی جو حدیث شریف میں
ہے لفظ دمشق میں امام حسینؓ کی شہادت کے واقعہ کا اشارہ ہے۔
- ٦...... یہ بات یقینی طور سے معلوم ہوگئی کہ جیسے دمشق میں مثیل یہود کے تھے ایسا
ہی قادیان میں مسیح کا مثیل آئے گا۔
قرآن میں قادیان کا نام تلاش کرنے کی ضرورت مرزا قادیانی کو اس وجہ سے ہوئی کہ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ کا الہام ہوا تھا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”یہ الہام بصراحت اور بآواز بلند ظاہر کر رہا ہے کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔“ اس سے ایک نئی بات معلوم ہوئی کہ الہام میں جس چیز کا نام ہو وہ نام قرآن میں ضرور
٨٤
ہوا کرتا ہے۔ اگر صرف یہی ایک آیت ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ قرآن میں بڑھا دی جاتی تو چنداں فکر کی بات نہ تھی۔ یہ ایک مصیبت تھی۔ کسی طرح نمٹ لی جاتی۔ مگر اس قاعدہ نے تو کمر ہی توڑ دی کہ جو چیز الہام میں ہو وہ قرآن میں بھی ہوگی۔ مرزا قادیانی کے الہاموں کا سلسلہ ایک مدت دراز سے جاری ہے اور ابھی اس کے ختم ہونے کی توقع بھی نہیں۔ بلکہ زیادتی ہی کا اندیشہ ہے۔ اس لئے کہ جس قدر پختگی بڑھتی جائے گی۔ الہاموں کی آمد زیادہ ہوگی اور اگلے پچھلے الہاموں کی آیتیں بڑھتی جائیں گی۔ جس سے بجائے خود ایک دوسرا قرآن تیار ہو جائے گا۔ قادیان والی آیت ایک عالم کو برہم کر رہی ہے۔ جب وہ پوٹ کا پوٹ نیا قرآن نکلے گا تو معلوم نہیں کیسی قیامت برپا کرے گا۔
کہ پریشانی ایں سلسلہ را آخر نیست
اس الہام میں یہ نہیں معلوم ہوا کہ انا انزلناہ کی ضمیر کس طرف پھرتی ہے۔ اگر قرآن کی طرف ہے تو چنداں مضائقہ نہیں۔ اس لئے کہ جو قرآن قادیان میں اترتا ہے۔ اس میں قادیان کا نام بے موقع نہ ہوگا۔ مگر مرزا قادیانی کا اس پر راضی ہونا دشوار ہے وہ تو یہی فرماویں گے کہ اگر جعلی قرآن میں بھائی صاحب نے یہ آیت بڑھا دی تو لطف ہی کیا رہا۔ عظمت و شان قادیان تو جب ہوگی کہ قرآن کریم میں یہ آیت بڑھے۔ اسی وجہ سے یہ لکھتے ہیں کہ قادیان کا نام اعزاز کے ساتھ مثل مکہ ومدینہ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے اور انزلناہ کی ضمیر مسیح وغیرہ کے طرف پھر نہیں سکتی۔ اس لئے کہ اس کا ذکر پہلے نہیں جو شرط ضمیر غائب ہے اور اگر یہی مطلب ہوتا تو مثل دوسرے الہاموں کے انزلناک بصیغہ خطاب ہوتا یا مرزا قادیانی خود کہہ دیتے کہ انا انزلناہ کی ضمیر میری طرف پھرتی ہے اور جہاں قرآن شریف میں انا انزلناہ اور بالحق انزلناہ وبالحق نزل وارد ہے۔ قرآن شریف کی طرف ضمیر پھرتی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ انا انزلناہ کی ضمیر قرآن ہی کی طرف پھرتی ہے۔ مگر جب واقعہ پر نظر ڈالی جائے تو یہ امر کسی پر پوشیدہ نہیں کہ قرآن قریب قادیان نہیں اتارا گیا اور ہم مرزا قادیانی پر بھی جھوٹ کا الزام نہیں لگا سکتے کہ بغیر الہام ہونے کے کہہ دیا کہ مجھ پر یہ الہام ہوا۔ اب سخت دشواری یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کو سچے کہیں تو قرآن کا قادیان میں اترنا واقعہ کے خلاف ہے اور اگر واقعہ کا لحاظ کریں تو مرزا قادیانی جھوٹے ہوئے جاتے ہیں۔ مگر تطبیق و توفیق کی ضرورت نے ہمیں ایک ایسا کھلا راستہ دکھلا دیا کہ ہم اس سے ہرگز
٨٥
چشم پوشی نہیں کر سکتے۔ وہ یہ کہ انا انزلناہ کا کہنے والا کوئی دوسرا ہی ہے جس کی تصدیق خود مرزا قادیانی ہر جگہ کرتے ہیں۔ چنانچہ ضرورت الامام میں لکھتے ہیں کہ:”جب کہ سید عبدالقادر جیسے اہل اللہ و مرد فرد کو شیطانی الہام ہوا تو دوسرے عامۃ الناس اس سے کیونکر بچ سکتے ہیں۔“
(ضرورۃ الامام ص ١٧ رخ ج ١٣ ص ٤٨٧)
اس صورت میں مرزا قادیانی کی تصدیق بھی ہو جاتی ہے کہ ان کو الہام ضرور ہوا اور قرآن شریف کا قادیان میں اترنا بھی نہیں لازم آتا۔ البتہ صرف اتنی جرات کی ضرورت ہے کہ وہ الہام شیطانی مان لیا جائے اور یہ چنداں بد نما بھی نہیں۔ اس لئے کہ جب ہم خلاف واقعہ اور جھوٹ کے مقابلہ میں اس کو لا کر دیکھتے ہیں تو بمصداق من ابتلی ببلیتین فیختار اہونہما کے اس کو الہام شیطانی سمجھنا مرزا قادیانی کو بھی مفید ہے۔ اس لئے کہ جھوٹا رسول ہرگز نہیں ہو سکتا جس کا دعوٰی مرزا قادیانی کو ہے اور نہ مجدد امام زمان کی یہ شان ہے کہ خلاف واقعہ یا جھوٹ کوئی خبر دے رہا۔ الہام شیطانی سو بقول مرزا قادیانی بڑے بڑے لوگوں کو ہو چکا ہے۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا۔ اس صورت میں مرزا قادیانی اپنی ذات سے بری الذمہ ہو جائیں گے کہ جو کچھ انہوں نے واقعہ میں دیکھا کہہ دیا۔ اس سے کیا بحث کہ دکھانے والا کون تھا۔ وہ فعل مرزا قادیانی کا نہیں جو اس کے ذمہ دار ہوں۔ بلکہ دکھانے والا قابل مواخذہ ہوگا۔ ہر چند وہ اپنی برأت ظاہر کرے۔ جیسا کہ حق تعالٰی فرماتا ہے ۔ ”کمثل الشیطٰن اذا قال للانسان اکفر فلما کفر قال انی بری منك اني اخاف الله رب العالمين (حشر: ١٦) “ مگر مواخذہ سے وہ بری نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ اسی آیہ شریفہ کے آخر میں ہے ۔ ”وكان عاقبتهما انهما فى النار “
البتہ ایک الزام مرزا قادیانی کے ذمہ عائد ہوگا کہ انہوں نے الہام شیطانی اور رحمانی میں فرق نہ کیا۔ مگر اہل دانش اس باب میں بھی ان کو معذور رکھ سکتے ہیں کہ الہام ایک کیفیت وجدانی کا نام ہے۔ جو انسان میں پائی جاتی ہے اور وہ اس کو اپنے میں احساس کرتا ہے یہ کیا معلوم وہ کہاں سے آئی۔ جب شیطان الہام کرنے پر قادر ہے تو وہ ایسا بے وقوف نہیں کہ اپنا نام اس الہام کے وقت بتا کر خبردار کر دے۔ جس سے اس کا مقصود فوت ہو جائے۔ غرض اس الہام کو شیطانی کہیں تو مرزا قادیانی کے ذمہ اس کا قصور عائد نہیں ہو سکتا۔ مگر مرزا قادیانی کو یہ فرمانا سزاوار نہیں کہ قرآن شریف میں قادیان کا نام ہے۔ مرزا قادیانی کو اپنے الہام و مکاشفہ پر کس قدر وثوق ہے جو لکھتے ہیں کہ: ” یہ الہام بصراحت اور بآواز بلند کہہ رہا ہے کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں
٨٧
ہے ۔“ اور آنحضرت ﷺ کے مکاشفہ کی نسبت کہتے ہیں کہ اس میں ایک ایسا ابہام رہتا ہے کہ اس کی تعبیر کی حاجت ہوتی ہے چنانچہ اوپر معلوم ہوا۔ ادنیٰ تامل سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مکاشفہ کو آنحضرت ﷺ کے مکاشفہ سے کس قدر بڑھا رہے ہیں اور کس قدر اپنی فضیلت آنحضرت ﷺ پر اس باب میں بیان کر رہے ہیں۔ مگر آخری زمانہ کے مسلمانوں کو اس کی کیا پروا۔ وہ لکھتے ہیں کہ قادیان اور دمشق میں مشابہت معنوی ہے۔ اس لئے کہ امام حسینؓ اور عیسیٰ علیہ السلام کے واقعے نہایت ہمرنگ ہیں۔ مطلب اس کا یہ ہوا کہ قادیان مشبہ اور دمشق مشبہ بہ ہے اور وجہ شبیہ مظلومیت کا مقام ہونا ٹھہرایا گیا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل خلاف واقعہ ہے کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام نہ مارے گئے نہ سولی پر چڑھائے گئے۔ بلکہ نہایت عظمت و شان کے ساتھ شاداں و فرحاں آسمان پر چلے گئے۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وقوله تعالى وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه“ اور اگر بالفرض عیسیٰ علیہ السلام بحالت مظلومی سولی پر چڑھائے بھی گئے۔ جیسے مرزا قادیانی کہتے ہیں تو پہلے یہ ثابت کرنا ضرور تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام پر قادیان میں ظلم ہوا تھا۔ تا کہ قادیان اور دمشق میں مشابہت ثابت ہو جو مقصود اس تقریر سے ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی ثابت کیا جاتا کہ امام حسین علیہ السلام دمشق میں مظلوم شہید ہوئے۔ کیونکہ ان دونوں شہروں میں جو مشابہت بیان کی جارہی ہے اس میں وجہ شبہ یہی ہے کہ دونوں مظلومیت کے مقام ہیں اور اگر وجہ شبہ یہ ہے کہ اجرائے احکام ظلم کے مقام ہیں تو یہ ثابت کرنا ضرور تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے کے احکام قادیان سے جاری ہوئے تھے۔ جیسے دمشق سے امام حسینؓ پر ظلم کرنے کے احکام جاری ہوئے اور یہ دونوں امر خلاف واقعہ ہیں۔ یعنی نہ دمشق میں امام حسینؓ پر ظلم ہوا نہ قادیان میں عیسیٰ علیہ السلام پر۔ پھر ان دونوں واقعوں کے ہم رنگ ہونے سے قادیان و دمشق میں مشابہت کہاں سے آگئی۔ کیونکہ وجہ شبہ طرفین میں موجود نہیں۔ حالانکہ مشابہت کے لئے اس کا طرفین میں موجود ہونا ضروری ہے۔
پھر مرزا قادیانی جو لکھتے ہیں کہ لفظ دمشق بطور استعارہ قادیان پر استعمال کیا گیا۔ اس حدیث شریف کی طرف اشارہ ہے۔ ”اذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقی دمشق“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے شرقی جانب منارہ کے پاس اتریں گے۔ مقصود ان کا یہ ہے کہ دمشق سے مراد قادیان ہے۔ عموماً اہل علم اس بات کو جانتے ہیں کہ استعارہ ایک قسم کا مجاز ہے۔ اس لئے کہ اس میں بھی لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں مستعمل نہیں
٨٧
ہوتا۔ اس وجہ سے وہاں ایسے قرینہ کی ضرورت ہے کہ معنی موضوع لہ مراد نہ ہونے کو صراحۃً بتلادے۔ یہ امر ظاہر ہے کہ اگر کوئی کہے کہ میں نے ایک شیر کو دیکھا تو اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ شیر کو دیکھا ہوگا۔ یہ کوئی نہ سمجھے گا کہ کسی جواں مرد آدمی کو اس نے دیکھا ہے۔ جب تک کوئی قرینہ اس پر قائم نہ کیا جائے اور اگر یوں کہے میں نے ایک شیر کو دیکھا جو تیر چلا رہا تھا تو اس سے ہر شخص سمجھ جائے گا کہ اس نے شیر کو دیکھا نہیں بلکہ کسی جواں مرد آدمی کو دیکھا ہے۔ کیونکہ تیر چلانا اس امر پر قرینہ ہے کہ شیر کا حقیقی معنی مراد نہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جب تک قرینہ قائم نہ ہو معنی حقیقی متروک نہیں ہو سکتے۔ اب دیکھئے کہ اگر اس حدیث شریف میں دمشق کے حقیقی معنی متروک ہوتے اور قادیان اس سے مراد ہوتا تو اس پر کوئی قرینہ ضرور ہوتا۔ حالانکہ کوئی قرینہ نہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ دمشق اپنے معنی موضوع لہ میں مستعمل ہے اور قادیان اس سے مراد سمجھنا محض غلط ہے۔
اور نیز علم بیان میں مصرح ہے کہ استعارہ اعلام میں جائز نہیں۔ مثلاً کہا جائے کہ فلاں شخص مکہ معظمہ میں داخل ہوا اور اس سے یہ مراد لی کہ دہلی یا لکھنؤ میں داخل ہوا تو ہرگز صحیح نہیں۔ اسی طرح دمشق سے قادیان مراد لینا صحیح نہیں۔ شاید یہاں یہ کہا جائے گا کہ سخی کو حاتم کہنا صحیح ہے۔ حالانکہ حاتم بھی ایک شخص کا نام تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حاتم سخاوت میں ایسا مشہور ہے کہ شخصی معنی کے طرف ذہن نہیں جاتا۔ بلکہ حاتم کہنا اور جواد کہنا برابر ہے۔
اس وجہ سے گویا علمی معنی اس کے متروک ہو گئے۔ چنانچہ تمام کتب فن میں مصرح ہے اور ظاہر ہے کہ دمشق میں یہ بات صادق نہیں آتی۔ جس وقت آنحضرت ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کا دمشق میں اترنا بیان فرمایا اس وقت یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ محل اجرائے احکام ظلم ہے۔ بلکہ برعکس اس کے مسلمانوں کے اعتقاد میں وہ نہایت عمدہ اور برگزیدہ مقام تھا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے نہایت فضیلت اس کی بیان فرمائی تھی۔ چنانچہ صحیح روایتوں میں وارد ہے کہ شام اللہ تعالیٰ کے پاس تمام شہروں میں برگزیدہ اور پسندیدہ مقام اور خدائے تعالیٰ کے بہترین عباد کے رہنے کی جگہ ہے اور خاص دمشق کی فضیلت میں یہ وارد ہے کہ شام کے تمام شہروں میں دمشق بہتر ہے۔ اب غور کیا جائے کہ جب آنحضرت ﷺ نے دمشق کے فضائل بیان فرمائے تو صحابہ اور تمام امت میں اس کی عمدگی مشہور ہوگی یا بقول مرزا قادیانی اس کی خرابی کہ وہاں کے لوگ بدترین خلق ہیں۔ اگر چند روز یزید نے ظلم کے احکام جاری کئے تو اس سے دمشق کی ذاتی فضیلت کو کیا نقصان جیسے ابو جہل
٨٨
وغیرہ سے مکہ معظمہ کی عظمت میں کوئی نقص نہ آیا یہ تو قاعدہ ہے کہ جہاں اچھے لوگ بکثرت ہوتے ہیں چند برے بھی ہوتے ہیں۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ آنحضرت ﷺ تو دمشق کو اچھا اور اس میں رہنے والوں کی تعریفیں فرماویں اور مرزا قادیانی برخلاف اس کے یہ کہتے ہیں کہ وہ برا اور اس میں رہنے والے نہایت برے ہیں۔ یہ کیسی بے باکی ہے کہ امتی ہونے کا دعویٰ اور اس پر یہ مخالفت۔ نعوذ باللہ من ذالك!
اب دیکھئے کہ نہ دمشق میں کوئی ذاتی برائی ہے نہ باعتبار واقعہ کے اس میں کوئی برائی آئی۔ نہ قادیان و دمشق میں کسی بات میں مشابہت ہے نہ استعارہ دمشق کا علم ہونے کی وجہ سے صحیح ہو سکتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی زبردستی نزول عیسیٰ علیہ السلام کی حدیث کو جھوٹی بنانے کے فکر میں کہتے ہیں کہ نہ عیسیٰ اتریں گے نہ دمشق ان کے اترنے کی جگہ ہے۔ اگر عیسیٰ ہوں تو میں ہوں اور اگر ان کے اترنے کی جگہ ہے تو قادیان ہے۔ یہاں مجنوں کی حکایت یاد آتی ہے۔ کسی نے اس سے پوچھا کہ خلافت امام حسین کا حق تھا یا یزید کا۔ اس نے کہا کہ نہ ان کا حق تھا نہ اس کا میری لیلیٰ کا حق تھا۔ مرزا قادیانی بھی چونکہ عیسویت کے عاشق ہیں۔ اس قسم کی بات کہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ مگر مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے مجنونانہ مضامین کو قابل اعتماد نہ سمجھیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے دمشق کو نشانہ بنا کر لکھا کہ اب مثیل دمشق عدل اور ایمان پھیلانے کا ہیڈ کوارٹر ہوگا۔ کیونکہ اکثر نبی ظالموں کی بستی میں آتے رہتے ہیں۔
حاصل یہ کہ قادیان مثیل دمشق ہے۔ یعنی ظالموں کی بستی ہے اور ایسے بستیوں میں انبیاء آتے رہتے ہیں۔ اس لئے خود بدولت قادیان میں عدل پھیلانے کو آئے ہیں۔
اس سے ظاہر ہے کہ وہ ختم نبوت کے قائل نہیں۔ جبھی تو کہا کہ (انبیاء ایسی بستیوں میں آتے رہتے ہیں) اگر ختم نبوت کے قائل ہوتے تو آتے رہتے تھے کہتے جب قادیان کا ظالموں کی بستی ہونا ثابت کر کے کہا کہ ایسی بستیوں میں انبیاء آتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا کہ میں اس میں ایمان و عدل پھیلانے کو آیا ہوں اور نیز لکھتے ہیں کہ آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی احمد بھیجا گیا۔ جیسا کہ اوپر معلوم ہوا تو ان کے دعوے نبوت میں کیا شک ہے۔
مرزا قادیانی نبوت کی طمع میں قادیان کے لوگوں کو زبردستی ظالم بنا رہے ہیں۔ ہم نے تو نہ کسی سے یہ سنا کہ قادیان ظالموں کی بستی ہے نہ کوئی اس میں ظلم کا ایسا واقعہ کتب تواریخ سے ثابت ہے کہ غیر معمولی طور پر یادگار ہو۔ البتہ ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے کہ مرزا قادیانی پر وہاں کے لوگوں
٨٩
نے یورش کی ہوگی۔ مگر وہ بیچارے اس میں معذور ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کی دل آزاری اور اشتعال طبع کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ ان کے علماء ومشائخین زمانہ پر گالیوں اور لعنت کی وہ بوچھاڑ کی کہ الامان۔ جس کو آپ دیکھ چکے ان کی دینی کتابوں کو لکھا کہ شرک سے بھری ہوئی ہیں۔ ان کے اعلیٰ درجہ کے مقتداء یعنی صحابہ اور تابعین ومحدثین وغیرہم پر شرک کا الزام لگایا۔ ان کے نبی کی شان میں جو آیت وارد ہوئی اس کے مصداق خود بن بیٹھے۔ ان کی کتاب یعنی قرآن شریف میں تحریف کر کے بگاڑنے کا گویا بیڑا اٹھایا۔ نبوت اور رسالت کا دعویٰ کر کے ان کے نبی کی ریاست کو جو قیامت تک قائم ہے چھیننا چاہا۔ اس پر بھی اگر وہ لوگ برہم نہ ہوتے تو خدا اور رسول کے پاس ان کا نام کس زمرہ میں لکھا جاتا اور ہم چشموں میں ان کی کس درجہ کی بے حرمتی اور بے غیرتی ثابت ہوتی۔ کیسا ہی بے غیرت مسلمان ہو ممکن نہیں کہ اتنی باتیں سن کر اس کی رگ حمیت جوش میں نہ آئے۔ مرزا قادیانی اگر گورنمنٹ کی حمایت میں نہ ہوتے تو دیکھتے کہ قادیان ہی کے لوگ کیا کرتے۔ اب بھی کسی اسلامی سلطنت میں اپنے تصنیفات لے جائیں اور پھر دیکھیں کہ کیا کیفیت ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کو گورنمنٹ کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ مگر بجائے شکریہ کے گورنمنٹ کو دجال کہتے ہیں۔ جیسا کہ رسالۂ عقائد مرزا مطبوعہ امرت سر میں لکھا ہے اور وہ قادیان کی گورنمنٹ کو ظالم قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ اس کو دمشق کے ساتھ تشبیہ دے رہے ہیں۔ جس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ جیسے دمشق کی حکومت میں حضرت امام حسین پر ظلم اور بیداد کے احکام جاری ہوئے۔ قادیان کی حکومت سے بھی ایسا ہی ہوا اور یہ ہر شخص جانتا ہے کہ حضرت امام حسین پر دمشق میں ظلم نہیں ہوا۔ جس سے مرزا قادیانی کی مظلومیت قادیان میں بطور تشبیہ ثابت ہو۔ لسان شرع شریف سے تو دمشق کی مدح ثابت ہے۔ مگر مرزا قادیانی اس کی مذمت اس بناء پر کرتے ہیں کہ اس میں حضرت امام حسین پر آنحضرت ﷺ کے پچاس برس بعد ظلم ہوا۔ حالانکہ حضرت ﷺ نے شہادت کا واقعہ جو بیان فرمایا اس میں اگر دمشق کا نام بھی ہوتا تو یہ سمجھا جاتا کہ یہ شہر دارالظلم ہوگا۔ برخلاف اس کے خاص طور پر صراحۃً دمشق کی تعریف کی۔ جیسا کہ ابھی معلوم ہوا اگر صرف اس بناء پر کہ کسی زمانہ میں کسی شہر میں ظلم ہو اور ایسے شہر کا نام لینے سے اس ظلم کی طرف اشارہ ہوتا ہو تو یہ لازم آئے گا کہ جہاں مکہ معظمہ کا نام قرآن وحدیث میں آئے ان تمام اذیتوں کی طرف اشارہ ہو جائے جو آنحضرت ﷺ پر دس بارہ سال تک ہوتی رہیں۔ جن کا حال متعدد احادیث میں موجود ہے۔ اہل اسلام پر اپنے نبی کریم ﷺ کی ادنیٰ تکلیف کا صدمہ اس قدر ہونا چاہئے کہ اپنی یا
٩٠
اور کسی کی موت سے سے ہجرت کی نوبت بقول مرزا قادیانی یہ مبعوث ہونا ثابت کر ظلم وزیا
مقصود صرف خرابی کی جہت ا قادیان لے مربع فٹ سـ دمشق میں اتر طرف ا
کی ضرور ”ان اول عمر چونکہ آخـ ظلم کیا۔ اس مناسبت ہو
ان حضرات اعتراضات ہـ صاحب حصا اعلیٰ درجہ کے حـ المؤمن من کی مشاور
اور کسی کی موت سے ہو۔ چہ جائیکہ اتنی مدت تک پیہم صدمات وتکالیف شاقہ جاری رہے۔ جس سے ہجرت کی نوبت کو پہنچے۔ اگر ذکر مکہ سے اشارہ ان تمام اذیتوں کی طرف ہو تو وہ شہر مبارک بقول مرزا قادیانی معاذ اللہ مبغوض ہونا چاہئے۔ حالانکہ نہ کسی حدیث سے مرزا قادیانی اس کا مبغوض ہونا ثابت کر سکیں گے نہ کوئی مسلمان اس کو مبغوض کہہ سکتا ہے۔ کیونکہ چند بدمعاشوں کے ظلم وزیادتی سے کوئی متبرک اور ممدوح شہر مبغوض نہیں ہو سکتا۔
مرزا قادیانی جو دمشق کو مبغوض قرار دے رہے ہیں صرف کارسازی اور خود غرضی ہے۔ مقصود صرف ان کا یہ ہے۔ عوام الناس کو جو ظاہر بین ہوتے ہیں ایک واقعہ جان کاہ یاد دلا کر اس کی خرابی کی جہت کی طرف متوجہ کر دیں اور ساتھ ہی وہی جہت قادیان میں قائم کر کے دمشق سے مراد قادیان لے لیں۔ جس سے اپنی عیسویت جہلاء کے پاس جم جائے اور آنحضرت ﷺ کا مقصود صریح فوت ہو جائے۔ اس لئے کہ مقصود اس حدیث شریف سے اسی قدر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دمشق میں اتریں گے نہ اس کے سیاق وسباق میں امام حسینؓ کا نام ہے۔ نہ دمشق کی خرابی نہ کسی طرف اشارہ ہے اب دیکھئے کہ یہ کیسی کھلی کھلی تحریف ہے۔
مرزا قادیانی کو منظور تھا کہ قادیان کو دمشق ثابت کریں۔ اس لئے یہ واسطہ قائم کرنے کی ضرورت ہوئی کہ قادیان کے لوگ یزیدی الطبع ہیں۔ اس کو اگر مکہ بنانا منظور ہوتا تو یہ آیہ شریفہ ”ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی للعالمین (آل عمران:٩٦)“ پیش کر کے وہی تقریر فرماتے کہ مکہ کا لفظ محض استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ چونکہ آنحضرت ﷺ پر وہاں نہایت ظلم ہوا اور قادیان میں ابوجہل الطبع لوگوں نے اپنے پر ویسا ہی ظلم کیا۔ اس لئے مکہ سے قادیان مراد ہے۔ بمناسبت مردم یزیدی الطبع قادیان دمشق ہو تو بہ مناسبت ابو جہل الطبع قادیان مکہ بنے کو کیا دیر۔
مرزا قادیانی کی غم خواری حضرت امام حسینؓ کے نسبت سلام روستائی سے کم نہیں۔ ان حضرات کو ان امور سے کام ہی کیا وہاں تو اعلانیہ بے دھڑک حضرت امام حسینؓ پر اعتراضات ہوتے ہیں کہ انہوں نے خواہ مخواہ سلطنت میں مداخلت کر کے مخالفت کی۔ جیسا کہ صاحب عصائے موسیٰ نے مدلل لکھا ہے اور خط مولوی نور الدین صاحب جو مرزا قادیانی کے اعلیٰ درجہ کے حوارین میں سے ہیں نقل کیا ہے۔ جس کا حاصل مضمون یہ ہے کہ ”لا یلدغ المؤمن من جحر واحد مر تین “ وارد ہے۔ حضرت امام اس حجر میں کیوں جا گھسے صحابہ کی مشاورت کے خلاف کیوں کیا۔
٩١
لیجئے جب حضرت امام حسینؓ کی حرکت ومخالفت قابل مواخذہ واعتراض ٹھہرے تو یہ اظہار خوش اعتقادی غرض آمیز نہیں تو کیا ہے۔ اگر مرزا قادیانی کی خوش اعتقادی دلی ہوتی تو ان کے مریدین کو کبھی ایسی تقریروں کی جرأت نہ ہوتی۔
تحریر فرماتے ہیں کہ یقینی طور پر سے معلوم ہو گیا کہ جیسے دمشق میں مثیل یہود کے تھے۔ ایسا ہی قادیان میں مسیح کا مثیل آئے گا۔ سبحان اللہ کجا دمشق کجا قادیان پھر طرفہ یہ کہ تمام مسلمانوں کو یقین بھی آگیا۔ مرزا قادیانی کو یقین ایسے باتوں کا ہوا کرتا ہے۔ لیکن احادیث صحیحہ پر یقین نہیں آتا۔ ”اللهم انا نعوذ بك من شرور انفسنا“ یہ چند تحریفیں جو مرزا قادیانی کی لکھی گئیں مشتے نمونہ از خروارے ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بحسب فرصت وقت اور بھی لکھی جائیں گی۔ اس وقت اکثر احباب کی یہ رائے ہوئی کہ بالفعل یہ رسالہ انوار الحق جس قدر لکھا گیا طبع کرادیا جائے تاکہ جس کو توفیق ازلی ہو اس سے بہرہ یاب ہو۔ اس لئے اس حصہ کو میں اس دعاء پر ختم کرتا ہوں کہ الہٰی بطفیل اپنے حبیب کریم ﷺ کے اہل اسلام کو توفیق عطاء فرما کہ جو راہ آنحضرت ﷺ نے بتلائی اور صحابہؓ سے آج تک اہل حق کا اوپر اتفاق واجماع رہا اس کی پیروی میں مصروف اور نئے نئے دین وآئین وخیالات سے محترز اور محفوظ رہیں۔ آمین!
تمت بالخیر!
تاریخ طبع از جناب معلے القاب مولوی مظفر الدین صاحب المتخلص بہ معلیٰ عم فیضہ
کند غور اگر ہر طلب گار حق
دریں نسخہ فرمود اظہار حق
شود از خیالات باطل برون
نمودم چو فکر سنہ طبع او
پے شکر وتحسین ایں کلمہ حق
معلے دلم گفت تاریخ طبع
زہے جلوۂ فیض انوار حق
(١٣٢٢ھ)