رَدِّ قادیانیت
رسائل
- رئیس المحدثین حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ
- حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ
- شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ
- محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ
احتساب قادیانیت
جلد چہارم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 514122
رَدِّ قادیانیت
رسائل
- رئیس المحدثین حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ
- حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ
- شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ
- محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ
احتساب قادیانیت
جلد چہارم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ، ملتان ۔ فون: 514122
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
دیباچہ
الحمدللہ وکفی وسلام علیٰ خاتم الانبیاء ، اما بعد!
اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے ”احتساب قادیانیت“ کی چوتھی جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ١٩٨٨ء میں مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے رد قادیانیت پر مجموعہ رسائل کو ”احتساب قادیانیت“ جلد اول کے نام سے شائع کیا تھا۔ اس وقت خیال بھی نہ تھا کہ یہ سلسلہ آگے جاری رکھا جائے گا۔ قدرت کے کرم اور کریم کے احسانات کو دیکھئے کہ اس نام سے جلد دوم میں حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے رسائل اور جلد سوم میں حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کے رسائل کے مجموعہ جات شائع ہوگئے۔ دوسری جلد کی اشاعت پر جامعہ خیر المدارس ملتان کے استاذ التفسیر حضرت مولانا محمد عابد صاحب مدظلہ کا اصرار کی حد تک حکم تھا کہ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ کے رسائل کو بھی یکجا شائع کریں۔ ان کی تجویز پر فقیر نے ارادہ کر لیا تھا لیکن تیسری جلد پر کام شروع ہو چکا تھا۔ چنانچہ تیسری جلد کی تکمیل پر فقیر نے شہید ختم نبوت حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ سے عرض کیا کہ آپ اجازت بخشیں تو احتساب قادیانیت کی چوتھی جلد میں شیخ الاسلام سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ، شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، محدث کبیر حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ کے رد قادیانیت کے مجموعہ رسائل کو یکجا کر دیا جائے۔ آپ اس تجویز پر بلا مبالغہ خوشی سے اچھل گئے۔ فرمایا! ضرور۔ ان کی مجسم شیریں بیانی کا منظر اس وقت بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ فقیر نے عرض کیا کہ آپ دعا بھی فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ آسانی پیدا فرمادیں اور یہ چھپ جائے۔ آپ نے وجد بھری کیفیت میں فرمایا! ”چھپ گئی“ آج جب اس کتاب کے دیباچہ کے لئے قلم اٹھایا ہے تو یہ حسرت و محرومی دل کو گھائل کر رہی ہے کہ کتاب چھپ گئی اور اس کی اشاعت کی منظوری دینے والے منوں مٹی کے نیچے چھپ گئے۔ یہاں پہنچ کر دل کی تار نے ساز وہ چھیڑ دیا ہے کہ اس سے آگے لکھنے کا یارا نہیں رہا۔ ہر کتاب کا تعارف اس کتاب کے ابتدا میں دے دیا گیا ہے۔ چند ماہ ہوئے حضرت علامہ خالد محمود صاحب دامت برکاتہم سے ملتان دفتر مرکزیہ میں مقدمہ لکھوایا تھا۔ اب اسے پڑھئے۔ اللہ تعالیٰ مزید توفیق عنایت فرمائیں اور خدا کرے کہ یہ سلسلہ چلتا رہے۔ آمین!
فقیر اللہ وسایا
٧ / ٦ / ١٤٢٢ھ
٢٧ / ٨ / ٢٠٠١ء
مقدمہ
از حضرت ڈاکٹر علامہ خالد محمود مانچسٹر
الحمدللہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی ۔ اما بعد!
مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ انگریزوں نے ہندوستان میں اپنی حکومت کو استحکام دینے اور جہاد کو احکام اسلام سے خارج کرنے کے لئے مسلمانوں میں ایک مذہبی گروہ پیدا کیا۔ جس نے انگریزوں کے سیاسی مفادات کو پورا کرنے کے لئے قادیان (پنجاب) میں ایک نئی وحی اتاری اور اسلام کے مرکزی عقیدہ ختم نبوت کو بری طرح مجروح کیا۔ بات اس سے بہت آگے بھی نکلی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ تحریک صرف ہندوستان کے لئے نہیں پوری دنیائے اسلام کے خلاف ایک زبردست دجالی کاروائی تھی جس نے پورے اسلام کو استعارات کی زد میں لاکر ایک ایک بنیاد اسلام کو تاویل باطل مہیا کی، اور دیکھتے دیکھتے پرانے اسلام کے خلاف ایک نیا اسلام لا کھڑا کیا اور مندرجہ ذیل اصولوں پر اپنے اس نئے اسلام کی بنیاد رکھی۔
- ١............ قرآن سمجھنے میں اب تک امت مسلمہ نے جو ذرائع اختیار کئے تھے اور
تفسیر پر تیرہ صدیوں میں جو عظیم ذخیرہ تیار کیا تھا یکسر ناقابل اعتبار ٹھہرایا اور کھل کر کہا کہ پچھلی تیرہ صد سالہ تفاسیر میں ہم کسی کا اعتبار نہیں کرتے۔
- ٢............ مسلمانوں کے حدیثی لٹریچر پر اپنے آپ کو حکم ٹھہرایا کہ جو حدیث
ہم کہیں وہی لائق قبول سمجھی جائے اور جو حدیث ہماری وحی کے مطابق نہ چلے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔
- ٣............ صحابہ کرام کی قرآن فہمی اور حدیث دانی میں غلطیاں نکالی جائیں اور
انہیں پرانے اسلام کے لئے معیار حق نہ مانا جائے تاکہ اس نئے اسلام کا پرانے اسلام سے کوئی تسلسل باقی نہ رہے۔
- ٤............ اسلام کا مرکز عقیدت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ نہ رہیں۔ یہ بات کھل
کر کہی جائے کہ اب مکہ و مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو چکا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے پرانے اسلام پر ان چار ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اکابر علماء اسلام میں سے امام العصر حجۃ الاسلام حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے قادیانیت کو پوری امت مسلمہ پر ایک ”عالمگیر دجالی حملہ“ سمجھا۔ یہ صحیح ہے کہ اس سے پہلے علماء اسلام ختم نبوت اور حیات مسیح کے عنوانات پر قادیانیوں کے خلاف اعتقادی جنگ کا آغاز کر چکے تھے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ احتیاط کی تمام منزلوں سے گزر کر مرزا غلام احمد قادیانی پر حتمی کفر کا فتویٰ دے چکے تھے۔ لیکن ابھی تک بطور جماعت قادیانیت کو ایک غیر مسلم اقلیت نہ کہا گیا تھا اور نہ قادیانیت کو ہندوستان سے آگے گزر کر پوری امت کے خلاف ایک عالمگیر دجالی فتنہ قرار دیا گیا تھا۔ حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی اس دجالی تحریک کے خلاف ”دعوت حفظ ایمان“ کی آواز لگا دی۔ بابائے صحافت مولانا ظفر علی خانؒ نے انجمن دعوت و ارشاد قائم کی اور حضرت شاہ صاحبؒ نے اپنے تمام شاگردوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی اور حکومتی سطح پر قادیانیوں کے مسلمانوں کے ساتھ رہنے کے نقصانات بیان کئے۔ آپ پہلے بزرگ ہیں جن کی عقابی نگاہ نے قادیانیت کو پورے اسلام کے خلاف ایک خطرناک یلغار سمجھا۔ آپ نے دیوبند میں اپنی قیام گاہ واقع محلہ خانقاہ دیوبند سے ١٢ ذیقعدہ ١٣٥١ھ کو دعوت حفظ ایمان کے نام سے ایک عظیم فکری دعوت پیش کی۔
آپ نے اپنی اس دعوت میں مرزا غلام احمد قادیانی کے صرف بڑوں کو ہی نہیں اس کے لاہوری فرقہ کے پیروں کو بھی برابر ساتھ رکھا اور پھر ٢٢ ذیقعدہ کو ”دعوت حفظ ایمان“ کی ایک اور صدا لگا دی۔ آپ کی یہ دونوں تحریریں عرصہ سے نایاب تھیں اور ضرورت تھی کہ ہندوستان میں قادیانیت کے خلاف جو اردو میں کام ہوا۔ اس میں کفر و اسلام کے جو اصولی فاصلے سامنے آئے ان میں حضرت شاہ صاحبؒ کی ان تحریروں کو سنگ بنیاد سمجھا جائے۔
آپ کے شاگردوں نے پنجاب میں مجلس مستشار العلماء قائم کی اور پنجاب کے مختلف شہروں میں اس کی برانچیں قائم کیں۔ آپ نے پورے عالم اسلام کی طرف سے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی صدا بلند کی تو قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی بات پورے ہندوستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ انگریزی دستور حکومت میں قادیانی گو مسلمانوں میں سے ہی سمجھے جاتے تھے لیکن نکاح اور فسخ نکاح اور شمولیت نماز جنازہ جیسے مسائل میں قادیانی پورے ہندوستان میں غیر مسلم اقلیت سمجھے جانے لگے اور مقبوضہ ہندوستان کی انگریزی عدالتوں میں بھی خاوند کے قادیانی ہونے پر مسلم خواتین کے نکاح فسخ ہوئے۔ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے بھی حضرت شاہ صاحبؒ سے یہ سبق لیا اور انجمن حمایت اسلام لاہور میں یہ تحریک پیش کی کہ کوئی قادیانی اس کا ممبر نہ ہو سکے اور جو پہلے سے اس میں شامل ہیں وہ یکسر خارج کر دیئے جائیں۔
حضرت شاہ صاحبؒ کا عالم عرب کو انتباہ
آپ نے قادیانیت کو صرف ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ہی خطرہ نہ جانا بلکہ آپ نے حفظ ایمان کی یہ دعوت پورے عالم اسلام میں پھیلا دی۔ عرب دنیا کو اس پر مطلع کرنے کے لئے عقیدۃ الاسلام اور اکفار الملحدین فی انکار شی من ضروریات الدین جیسی مؤثر کتابیں عربی میں لکھیں۔ حضرت شاہ صاحب کی یہ عربی کتابیں تو بار بار چھپتی رہیں اور علماء نے ان کی روشنی میں اردو میں بھی اس پر بہت وقیع لٹریچر مہیا کیا لیکن حضرت شاہ صاحب کی حفظ ایمان کی یہ اردو تحریریں عرصہ سے نایاب تھیں جن کو اس مجموعہ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس طرح سرکاری و عدالتی سطح پر قادیانیت کے کفریہ فیصلہ کے لئے بنیادی کردار حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے اس بیان کا ہے جو آپ نے بہاولپور کی عدالت میں قادیانیوں کے خلاف دیا۔ وہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ”الخطاب الملیح فی تحقیق المهدی والمسیح“ لکھی۔ یہ کتاب مطبع ہلالی سٹیم پریس ساڈھورہ ضلع انبالہ سے
چھپی۔ پھر حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ١٣٣٨ھ میں ”قائد قادیان“ کے نام سے ایک رسالہ لکھا جو ١٣٤٠ھ میں شائع ہوا۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے دونوں متذکرہ رسائل اس مجموعہ میں شامل ہیں۔
آپ نے اس کی فصل ثانی میں ان کتابوں کی بھی ایک فہرست دی ہے جو خانقاہ رحمانیہ محلہ مخصوص پورہ مونگیر سے شائع ہوئیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی تردید میں بہت سرگرم رہے۔
حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ان تحریروں سے قادیانیت پوری طرح بے نقاب ہوئی۔ انہیں پڑھ کر ان کے غیر مسلم ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ جو لوگ پہلے مسلمان تھے پھر وہ قادیانی ہوئے اب وہ محض غیر مسلم نہیں مرتد سمجھے جائیں گے جن کے لئے عام کافروں کا سا حکم نہیں بلکہ مرتد کا حکم اور زیادہ سخت ہے اور جو قادیانی ان کی ذریت ہیں وہ زندیق شمار ہوں گے کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے باز نہیں آتے۔ نام اسلام کا ہو اور عقائد غیر اسلامی ہوں تو یہ وہ زندقہ ہے جسے اسلام میں برداشت نہیں کیا گیا۔ یہ زنادقہ مرتدین کے ساتھ شمار ہوں گے۔ جب قادیانی عام سطح پر غیر مسلم سمجھے گئے تو اب اسلامی دنیا کو ان کے حکم سے مطلع کرنا بھی ضروری بنا۔ اس میں بھی پہل علماء دیوبند نے کی۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے اپنے رسالہ ”الشہاب لرجم الخاطف المرتاب“ میں قادیانیت کا شرعی حکم تحریر فرمایا۔ اس میں آپ نے نہایت سلیس، معقول اور منصفانہ طریقہ سے مرزائیوں کے ارتداد کا ثبوت، قتل مرتد کے شرعی دلائل اور اس کا عقلی فلسفہ اور جہاد بالسیف کی حکمت اور حدود افغانستان کے فیصلہ دربارہ تعزیر مرتد کی تحسین و تصویب کی۔ آپ نے یہ رسالہ ٨ ربیع الاول ١٣٤٣ھ کو شائع کیا پھر ٦ فروری ١٩٢٥ء کو مرزا غلام احمد قادیانی کے لاہوری جانشین مسٹر محمد علی مرزائی نے اس کے جواب میں ایک رسالہ لکھا۔ مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ نے اس کے دو ماہ بعد اپنے رسالہ الشہاب کی ایک تذنیب جمادی الاخری ١٣٤٣ھ میں شائع کی۔
حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی اس تحریک پر ان کے جن تلامذہ نے رد قادیانیت میں محنت کی ان میں دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز فرزند محدث کبیر حضرت مولانا سید بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ کے رد قادیانیت پر تمام رسائل اس مجموعہ میں شامل ہیں۔
ضرورت تھی کہ ان تمام قدیم تالیفات کو جن کے بل بوتے پر ملت اسلامیہ نے پاکستان میں دو دفعہ ختم نبوت کے محاذ کھولے اور بالآخر قادیانیوں کو دستور اور قانون کے تقاضوں میں ایک غیر مسلم اقلیت ٹھہرایا۔ پھر سے بطور تاریخی دستاویزات کے شائع اور محفوظ کیا جائے۔ راقم الحروف اسی سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے کہ انہوں نے اس وقت کے علمی احتساب کو نمبر وار شائع کرنے کا قصد کیا ہے۔ جب سے برصغیر پاک و ہند میں قادیانیت کا پودا لگا۔ الحمد للہ! مجلس نے اس سلسلہ میں بہت سا کام کیا ہے۔ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اتنا عظیم کام کرنے اور کامیابی سے کنارے اترنے پر لائق صد تبریک ہیں۔ اب تک اس سلسلہ میں جن بزرگوں کی تحریریں شائع ہو چکیں ان کے اسماء گرامی‘ سن ولادت‘ سن وفات ہدیہ قارئین ہیں :
- ١......حکیم الامت حضرت مولانا سید محمد اشرف علی تھانویؒ ...(و ١٨٦٣ء‘ م ١٩٤٣ء)
- ٢......امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ .......(و ١٨٧٥ء‘ م ١٩٣٣ء)
- ٣......شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم ......(و ١٨٨٩ء‘ م ١٩٤٩ء)
- ٤......شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ....(و ١٨٩٨ء‘ م ١٩٧٤ء)
- ٥......مناظر اسلام حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ ......(و ١٨٩٨ء‘ م ١٩٤٨ء)
- ٦......مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر صاحبؒ .....(و ......‘ م ١٩٧٣ء)
- ٧......محدث کبیر حضرت مولانا سید بدر عالم میرٹھیؒ مہاجر مدنی.(و ١٨٩٨ء‘ م ١٩٦٥ء)
اللہ رب العزت ان تمام حضرات کی مساعی کو قبولیت سے نوازے۔ آمین!
خالد محمود عفاء اللہ
حال مقیم دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۔ ملتان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فہرست
- ١ دعوت حفظ ایمان نمبر ١ مولانا سید محمد انورؒ شاہ کشمیریؒ ١١
- ٢ دعوت حفظ ایمان نمبر ٢ ، ، ، ١٧
- ٣ بیان مقدمہ بہاولپور ، ، ، ٣٣
- ٤ الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی مولانا اشرف علی تھانویؒ ٩٥
- ٥ قائد قادیان ، ، ، ١٣١
- ٦ الشہاب لرجم الخاطف المرتاب مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ١٩١
- ٧ صدائے ایمان ، ، ، ٢٣٣
- ٨ نزول عیسیٰ علیہ السلام مولانا بدر عالم میرٹھیؒ ٢٥٣
- ٩ ختم نبوت ، ، ، ٣٦٥
- ١٠ سیدنا مہدی علیہ الرضوان ، ، ، ٤٢٥
- ١١ دجال اکبر ، ، ، ٤٩٧
- ١٢ نور ایمان ، ، ، ٥٣١
- ١٣ الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح ٥٣٣
- مصباح العلّیہ لمحو النبوّۃ الظلّیہ ٥٣٨
- الجواب الحفی فی آیت التوفی ٥٧٦
- انجاز الوفی فی آیت التوفی ٥٩٢
- ١٤ آواز حق ٦٣٩
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ و پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی زیر سرپرستی اور مولانا مفتی محمد جمیل خان کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔
زر سالانہ صرف 350/= روپے
رابطہ کے لئے:
مینجر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
دعوت حفظ ایمان
حصہ اول
امام العصر حجۃ الاسلام
مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ
بسم الله الرحمن الرحیم!
تعارف
الحمدلله وکفیٰ وسلام علیٰ خاتم الانبیاء۔ اما بعد!
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے رد قادیانیت پر مندرجہ ذیل کتب تحریر فرمائیں: ١....... اکفار الملحدین۔ ٢....... خاتم النبیین۔ ٣....... التصریح بما تواتر فی نزول المسیح۔ ٤....... عقیدۃ الاسلام۔ ٥....... تحیۃ الاسلام۔ الحمد للہ! یہ کتابیں بارہا شائع ہوئیں۔ پہلی تین کتابوں کے اردو میں تراجم بھی ہوگئے۔ آخری دو کتابوں کے ترجمے تا حال طبع نہیں ہوئے۔ خدا کرے ہو جائیں تو اسلامیان برصغیر کے لئے گرانقدر علمی اثاثہ ہوں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ عقیدۃ الاسلام کا ترجمہ حضرت مرحوم کے صاحبزادے حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیری کر رہے ہیں۔ خدا کرے جلد شائع ہو جائے۔ ان کے علاوہ حضرت مرحوم کی دعوت حفظ ایمان ١....... ٢ ہے۔ یہ مختصر چند صفحات کے رسائل ہیں۔ دعوت حفظ ایمان نمبر اول میں حکومت کشمیر کو قادیانی فتنہ کی زہر ناکیوں سے باخبر کیا گیا ہے۔ حضرت مولانا ظفر علی خاںؒ، استاذ محترم مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا عبدالمنان ہزارویؒ، احمد یار خانؒ کی گرفتاری پر بے چینی کا اظہار کیا گیا ہے اور اپنے شاگردوں سے ختم نبوت کا کام کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ تحریر ١٢ ذیقعدہ ١٣٥١ھ کی ہے۔ دعوت حفظ ایمان نمبر دوم میں قادیانی کفریہ عقائد کو طشت از بام کر کے روزنامہ زمیندار کی اشاعت کی توسیع اور جمعیتہ العلماء پنجاب لاہور (جو آپ کے شاگردوں نے رد قادیانیت کے لئے قائم کی تھی) سے تقویت اور اعانت کے لئے متوجہ فرمایا گیا۔ یہ تحریر پہلی تحریر کے دس دن بعد یعنی ٢٢ ذیقعدہ ١٣٥١ھ کی ہے۔ یہ رسالے ایک ایک بار شائع ہوئے۔ اب ان کا ملنا مشکل مسئلہ تھا۔ اس لئے ان کو ان مجموعہ میں شامل کیا گیا ہے۔ (باقی ضخیم کتب ہیں جن کے نام اوپر ذکر کر دیئے ہیں) اللہ رب العزت شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!
فقیر اللہ وسایا ٧ / ٦ / ١٤٢٢ھ ٢ / ٨ / ٢٠٠١ء
بسم الله الرحمن الرحیم !
حامدا و مصلیا و مسلما، السلام علیکم یا اہل الاسلام و رحمة الله و بركاته ٠
محمد انور شاہ کشمیری عفا اللہ عنہ بحیثیت ایمان و اسلام و اخوت دینی اور امت مرحومہ محمدیہ ﷺ کے اعضاء ہونے کے لحاظ سے کافہ اہل اسلام خواص و عوام کی عالی خدمت میں عرض گزار ہے کہ اگرچہ فتنے طرح طرح کے حوادث اور وارداتیں اس دین سماوی پر وقتاً فوقتاً گزرتی رہی ہیں اور باوجود اس کے کہ آخری پیغام خدائے برحق کا یہ ہے کہ :
”اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ، مائده آیت ٣“
﴿ آج کے دن میں نے دین تمہارا کمال کو پہنچایا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور اسلام پر ہی تمہارا دین ہونے کے لئے راضی ہوا ۔ ﴾
”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّنَ ٠ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا ، احزاب آیت ٤٠“
﴿ نہیں محمد ﷺ کسی کے باپ تمہارے مردوں میں سے ، لیکن ہیں رسولِ خدا کے اور خاتم پیغمبروں کے اور خدا ہر چیز کا بخوبی عالم ہے ۔ ﴾
اور اس کے قطعی الدلالت ہونے پر بھی امت محمدیہ ﷺ کا اجماع منعقد ہو گیا اور ختم نبوت کا عقیدہ دین محمدی کا اساسی اصول قرار پایا اور جس امت نے ہم تک یہ آیت پہنچائی اسی امت نے یہ مراد بھی پہنچائی اور اس دعویٰ پر مسیلمہ کذاب اور اسود کاذب کو قتل کیا اور بڑا کفر دونوں کا یہ دعویٰ قرار دے کر کذاب مشتہر کیا اور باقی جرائم کو کذاب کے ماتحت رکھا۔ مگر پھر بھی بحکم حدیث نبوی بہت سے دجالوں نے نبوت کے دعوے کئے اور ان کی حکومتیں بھی
١
رہیں اور بالآخر واصل جہنم ہوئے۔ ہمارے اس منحوس دور میں جو یورپ کی افتاد سے ایمان اور خصائل ایمان کی فنا کا زمانہ ہے۔ منشی غلام احمد قادیانی کا فتنہ درپیش ہے اور گزشتہ فتنوں سے مزید اور شدید ہے اور حکومت وقت بھی بمقابلہ مسلمانوں کے قادیانی جماعت کی امداد اور اعانت کر رہی ہے۔ یہ جماعت بہ نسبت یہود اور نصاریٰ و ہنود کے اہل اسلام کے ساتھ زیادہ عداوت رکھتی ہے۔ کوئی چیز ان کے اور اہل اسلام کے درمیان مشترک اور اتحادی باقی نہیں رہی۔ منشی غلام احمد قادیانی جو اس زمانہ کا دجال اکبر ہے بیس جزوِ وحی قرآن مجید پر اضافہ کرتا ہے۔ جو کوئی اس کی اس بیس جزوِ وحی کا انکار کرے اور ان کو نبی نہ مانے‘ وہ ان کے نزدیک کافر ہے اور اولاد زنا ہے اور کوئی اسلامی تعلق مثل جنازہ کی نماز اور نکاح کے اس کے ساتھ جائز نہیں۔ پھر قرآن مجید کی تفسیر اس نے اپنے قبضہ میں رکھی ہے۔ دوسرے کسی کا کوئی حصہ نہیں لگتا۔ جیسے فارسی مثل ہے : ” خوردن ز من و لقمہ شمردن از تو “
اس کی تفسیر کے متعلق خواہ کل امت کا اختلاف ہو وہ سب اس کے نزدیک گمراہ ہیں۔ حدیث پیغمبر اسلام ﷺ کی جو اس کی وحی کے موافق نہ ہو۔ اس کی نسبت اس کی تصریح ہے کہ ردی کے ٹوکرے میں پھینک دی جائے۔ ان دو اصول اسلام یعنی کتاب اور سنت کی تو اس کے نزدیک یہ حالت ہے اور بحسب تصریح اس کے اس پر شریعت بھی نازل ہوئی ہے اور بمقابلہ اس عقیدہ اسلامیہ کے۔ کہ بعد ختم نبوت کے آئندہ کوئی شریعت نہیں ہوگی۔ صریح ادعاء شریعت کیا ہے اور نیز اس کا اعلان ہے کہ آئندہ حج قادیان ہوا کرے گا۔ نیز جہاد شرعی اس کے آنے سے منسوخ ہو گیا ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ کے معجزات تو تین ہزار ہی نقل ہوئے ہیں۔ منشی غلام احمد قادیانی کے تین لاکھ اور دس لاکھ تک ہیں۔ جن میں تحصیل چندہ کی کامیابی بھی شمار ہے اور اس کے اشعار ہیں :
آنچہ دادست ہر نبی را جام ٠ داد آں جام را مرا با تمام
(نزول المسیح ص ٩٩‘ ١٠٠‘ خزائن ص ٤٧٧‘ ٤٧٨ ج ١٨)
نیز اپنی مسیحیت کی تائید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ جن پر ایمان‘ دین محمدی
٢ دین محمدی
٢ Wait! Actually, the last line is: نیز اپنی مسیحیت کی تائید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ جن پر ایمان‘ دین محمدی and then `٢` on a new line. I'll print exactly that. (The last edit I was mentally checking the copy paste buffer).
رہیں اور بالآخر واصل جہنم ہوئے۔ ہمارے اس منحوس دور میں جو یورپ کی افتاد سے ایمان اور خصائل ایمان کی فنا کا زمانہ ہے۔ منشی غلام احمد قادیانی کا فتنہ درپیش ہے اور گزشتہ فتنوں سے مزید اور شدید ہے اور حکومت وقت بھی بمقابلہ مسلمانوں کے قادیانی جماعت کی امداد اور اعانت کر رہی ہے۔ یہ جماعت بہ نسبت یہود اور نصاریٰ و ہنود کے اہل اسلام کے ساتھ زیادہ عداوت رکھتی ہے۔ کوئی چیز ان کے اور اہل اسلام کے درمیان مشترک اور اتحادی باقی نہیں رہی۔ منشی غلام احمد قادیانی جو اس زمانہ کا دجال اکبر ہے بیس جزوِ وحی قرآن مجید پر اضافہ کرتا ہے۔ جو کوئی اس کی اس بیس جزوِ وحی کا انکار کرے اور ان کو نبی نہ مانے‘ وہ ان کے نزدیک کافر ہے اور اولاد زنا ہے اور کوئی اسلامی تعلق مثل جنازہ کی نماز اور نکاح کے اس کے ساتھ جائز نہیں۔ پھر قرآن مجید کی تفسیر اس نے اپنے قبضہ میں رکھی ہے۔ دوسرے کسی کا کوئی حصہ نہیں لگتا۔ جیسے فارسی مثل ہے : ” خوردن ز من و لقمہ شمردن از تو “
اس کی تفسیر کے متعلق خواہ کل امت کا اختلاف ہو وہ سب اس کے نزدیک گمراہ ہیں۔ حدیث پیغمبر اسلام ﷺ کی جو اس کی وحی کے موافق نہ ہو۔ اس کی نسبت اس کی تصریح ہے کہ ردی کے ٹوکرے میں پھینک دی جائے۔ ان دو اصول اسلام یعنی کتاب اور سنت کی تو اس کے نزدیک یہ حالت ہے اور بحسب تصریح اس کے اس پر شریعت بھی نازل ہوئی ہے اور بمقابلہ اس عقیدہ اسلامیہ کے۔ کہ بعد ختم نبوت کے آئندہ کوئی شریعت نہیں ہوگی۔ صریح ادعاء شریعت کیا ہے اور نیز اس کا اعلان ہے کہ آئندہ حج قادیان ہوا کرے گا۔ نیز جہاد شرعی اس کے آنے سے منسوخ ہو گیا ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ کے معجزات تو تین ہزار ہی نقل ہوئے ہیں۔ منشی غلام احمد قادیانی کے تین لاکھ اور دس لاکھ تک ہیں۔ جن میں تحصیل چندہ کی کامیابی بھی شمار ہے اور اس کے اشعار ہیں :
آنچہ دادست ہر نبی را جام ٠ داد آں جام را مرا با تمام
(نزول المسیح ص ٩٩‘ ١٠٠‘ خزائن ص ٤٧٧‘ ٤٧٨ ج ١٨)
نیز اپنی مسیحیت کی تائید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ جن پر ایمان‘ دین محمدی
٢
ہے ایسی توہین کی ہے کہ جس سے دل اور جگر شق ہوتا ہے اور اس کے نزدیک تحقیق توہین ہے۔ الزامی یا بقول نصاریٰ تو در کنار رہی۔ توہین عیسیٰ علیہ السلام میں علاوہ اپنی تحقیقی توہین کے ایک اور طریقہ بھی اختیار کیا ہے کہ نقل نصاریٰ کے سر رکھ کر توہین سے اپنا دل ٹھنڈا کرتا ہے : ” گفته آید در حدیث دیگراں ۔ “ یہ معاملہ اسی پیغمبر کے ساتھ کیا ہے تاکہ عظمت ان کی قلوب سے اتار دے اور خود مسیح بن بیٹھے۔ اسی واسطے ہنود کے پیشواؤں کے ساتھ ایسا نہیں کیا بلکہ توقیر کی ہے اور ایسے ہی بزرگان اسلام امام حسینؓ وغیرھم کی تحقیر اور اپنی تعلی میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔ غرض یہ کہ اس دجال کی دعوت اس کے نزدیک سب انبیاء اور رسل صلوٰۃ اللہ علیہم سے بڑھ چڑھ کر اور افضل واکمل ہے۔
علماء اسلام نے اس فتنہ کے استیصال میں خاصی خدمتیں کیں مگر وہ خدمتیں انفرادی اور خصوصی تھیں۔ اس وقت کہ ایک لطیفہ غیب نمودار اور نمایاں ہوا ہے کہ مجاہد ملت جناب سامی القاب مولوی ظفر علی خان صاحب دامت برکاتہم اس خدمت کا فرض ادا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس وقت جناب ممدوح اور ان کے رفقاء جناب مولوی عبد الحنان صاحب ہزاروی‘ مولوی لال حسین صاحب اختر اور احمد یار خان صاحب سپرد حوالات ہیں۔ ہم کو کچھ حمیت اور حمایت اسلام سے کام لینا چاہئیے۔ اہل خطہ کشمیر سمجھ اور بوجھ لیں کہ جو کچھ قادیانی جماعت ان کی امداد کر رہی ہے وہ اہل خطہ کے ایمان کی قیمت ہے اور ناممکن ہے کہ کوئی امداد اور ہمدردی اس فرقہ کی ایمان خریدنے کے سوا ہو :
پنہاں خورید بادہ کہ تکفیر می کنند
جن لوگوں نے اس فرقہ کے ساتھ کسی قسم کی رواداری بھی برتی ہے وہ خطرہ میں ہیں۔ یہ نہ سمجھیں کہ یہ کوئی معمولی بیعت ہے۔ بلکہ (بقول ان کے ) ایک چھوٹی پیغمبری سے ایک بڑی پیغمبری ”قادیانی“ میں تحویل ہونا ہے‘ اور جن کا جی چاہے ان عقائد ملعونہ قادیانی کا ثبوت ہم سے لے اور اس شدید وقت میں کہ (اہل) وطن کو بے خبر کر کے ایمان پر چھاپہ مارا گیا ہے‘ کچھ غیرت ایمانی کا ثبوت دے۔
٣
جن حضرات نے اس احقر ہیچمیز سے حدیث شریف کے حرف پڑھے ہیں جو تقریباً دو ہزار ہوں گے۔ وہ اس وقت کچھ ہمدردی اسلام کی کر جائیں اور کلمہ حق کہہ جائیں اور انجمن دعوت و ارشاد میں شرکت فرمائیں۔
اس فرقہ کی تکفیر میں توقف یا تو اس وجہ سے ہے کہ صحیح علم نصیب نہیں ہوا اور اب تک ایمان اور کفر کا فرق ہی معلوم نہیں اور نہ کوئی حقیقت محصلہ ایمان کی‘ ان کے ذہن میں ہے اور یا کوئی مصلحت دنیاوی دامن گیر ہے۔ ورنہ اسلام کوئی نسبی اور نسلی لقب نہیں ہے۔ جیسے یہود اور ہنود کہ زائل نہ ہو اور جو کوئی بھی اپنے آپ کو مسلمان کہے بس وہ قوم نسبی لقب یا ملکی و شہری نسبت کی طرح لاینفک رہے بلکہ (اسلام) عقائد اور عمل کا نام ہے اور ضرورت قطعیہ اور متواترات شرعیہ میں کوئی تاویل یا تحریف بھی کفر و الحاد ہے۔ جب کوئی ایک حکم قطعی اور متواتر شرعی کا انکار کر دے وہ کافر ہے۔ خواہ اور بہت سے کام اسلام کے کرتا ہو :” ان اللہ لیؤید الدین بالرجل الفاجر . “ اسی میں وارد ہوا ہے حق تعالیٰ صحیح علم اور صحیح سمجھ اور توفیق عمل نصیب کرے۔ آمین!
انتباہ! آخر میں یہ عاجز بحیثیت رعیت ریاست کشمیر ہونے کے حکومت کشمیر کو متنبہ کرنا چاہتا ہے کہ قادیانی عقیدہ کا آدمی عالم اسلام کے نزدیک مسلمان نہیں ہے۔ لہٰذا حکومت کشمیر و جمیع اہل اسلام اور مذہب قدیمی اہل کشمیر کی رعایت کرتے ہوئے قادیانیوں کی بھرتی اسکولوں اور محکموں میں نہ کرے ورنہ اختلال امن کا اندیشہ ہے۔
محمد انور شاہ کشمیری عفا اللہ عنہ
از دیوبند محلہ خانقاہ ١٢ ذیقعدہ ١٣٥١ھ
منقول از روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت
ملتان : ص ٣٨ تا ٨٢ ١٣٨١ھ
م
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّیِنَ لَا نَبِیَ بَعْدِی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
دعوت حفظ ایمان
حصہ دوم
امام العصر حجۃ الاسلام
مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ
بسم الله الرحمن الرحیم
السلام عليكم يا اهل الاسلام و رحمة الله و بركاته
حامدا و مصليا و مسلما ٠
بندہ درگاہ الٰہی، محمد انور شاہ کشمیری عفا اللہ عنہ پھر بحیثیت ایمان و اسلام و بحیثیت اخوت دینی وبحیثیت اس کے کہ ہم سب امت مرحومہ محمدیہ ﷺ کے اعضاء واجزاء ہیں جملہ اہل اسلام خاص وعام کی عالی خدمت میں عرض گزار ہے کہ :
صحاف قضاء و جلد او بدء و معاد
امت ہمہ شاگرد و پیمبر استاد
عالم بعقیدۂ ادیان سماوی جانبین ماضی ومستقبل سے محدود ہے کیونکہ مستقبل کل قوت سے فعلیت میں نہیں آیا اور میرے نزدیک چونکہ ماضی و مستقبل محض ہمارے اعتبار سے ہیں حق تعالیٰ کے ہاں ایک ہی آن حاضر ہے جیسے طبرانیؒ نے ابن مسعودؓ سے روایت کیا ہے کہ : ”لیس عند ربك صباح ولا مساء ٠“
پھر جب ہم حق تعالیٰ سے زمانہ رفع کر دیں تو حوادث آ رہے ہیں اور جا رہے ہیں آنے کی جانب کو ہم نے مستقبل نام رکھا ہے اور جانے کی جانب کو ماضی۔ اس تقدیر پر یہ دونوں اعتباری اور اضافی ہوئے نہ حقیقی اور حوادث خواہ کیسے ہی غیر محصور ہوں پھر بھی قدم کی وسعت اور امتداد کو پر نہیں کر سکتے۔
وعلیٰ ہٰذا ماضی کی جانب بھی میرے نزدیک غیر متناہی بالفعل نہیں جیسا کہ خیال کیا
٢
جاتا ہے بلکہ عالم دونوں جانب سے غیر متناہی : ”بمعنی لا یقف عند حد .“ ہے اور دونوں طرف سے منقطع، اور زمانہ کوئی شئے مستقل بذاتہ نہیں بلکہ ان ہی حوادث سے منتزع ہے اور مسئلہ تجدد امثال کا بھی ایک صحیح مسئلہ ہے اور چونکہ مادہ سے کثرت ہوتی ہے اور صورت سے اتحاد جیسے سامان عمارت چونکہ مادہ ہے وہ کثیر اور متعدد ہے اور صورت تعمیری چونکہ صورت ہے اس سے عمارت کی وحدت شخصی آئی۔
علی ہذا القیاس کل عالم کو سمجھئے کہ اس میں ایک وحدت انتظامی ہے اور وہ ایک شخص اکبر ہے نہ محض ایک بے انتظام گدام۔ آدم علیہ السلام سے پیشتر عناصر اور موالید ثلاثہ اور ارض و سماء اور بعض انواع پیدا کئے گئے مگر یہ تاچندے بمنزلہ مادہ کے رہے، آدم علیہ السلام کے آنے کے بعد ان متفرقات منتشرہ کو وحدت انتظامی عطا کی گئی کہ بمنزلہ صورت کے ہے۔ اشیاء متفرقہ کے مجموعہ میں اگر وحدت ہو سکتی ہے تو وحدت انتظامی اور ترتیبی ہی فقط۔ یعنی آدم علیہ السلام کو خلیفہ اور افسر بنا کر بھیجا اور عالم کو ان کی ماتحتی میں دے دیا اس سے کل عالم واحد بالشخص اور شخص اکبر ہو گیا۔
اس پیغمبر برحق نے اپنے عمل سے بنی آدم کو یہ تعلیم دی کہ جب کسی ایک پر کسی معاملہ میں فرد جرم لگا کرے وہ بارگاہ خداوندی میں نہ جواب دعویٰ پیش کرے اور نہ صفائی دینے کی کوشش بلکہ اس کا حق صرف ایک ہی راہ ہے وہ یہ کہ مراحم خسروانہ میں درخواست دے کہ :
” رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ٠ اعراف آیت٢٣“
عزازیل (ابلیس) نے حق تعالیٰ سے حجت کی وہ ابدالدہر ملعون ہو گیا : ”لَايُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْئَلُوْنَ ٠ الانبیا آیت ٢٣“ اب اہل سنت کا قدم آدم علیہ السلام کے قدم پر ہے اور اہل اعتزال کا قدم عزازیل کے قدم پر۔ اور اس واقعہ سے حق تعالیٰ نے یہ بھی تعلیم کر دی کہ خلفاء سے جو شخص انحراف کرے وہ اصل سلطنت سے باغی ہے یہاں ہی سے انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا جزء ایمان ہو گیا۔
٣
آدم علیہ السلام کے بعد کچھ دیر تک دنیا میں ایمان ہی رہا نوح علیہ السلام کے قبل دنیا میں قابیل کی ذریت میں کفر نمودار ہوا اور پہلے وہ پیغمبر کہ کفر کے توڑ کے واسطے بھیجے گئے وہ نوح علیہ السلام ہیں۔ اس کے بعد دنیا میں صابئین ظاہر ہوئے ۔ صابئین ان کو کہتے ہیں جن کا خیال ہے کہ ہم اعمال سفلیہ سے علویات کو تابع اور مسخر کریں گے جیسے معشوق یا ہمزاد کو کوئی مسخر کرتا ہے۔ اس خیال میں یہ بھی مندرج ہے کہ اس فرقہ کو خدا کی جانب سے ہدایات کی ضرورت نہیں اور نہ کسی ہادی کا واسطہ وثنیت (بت پرستی) بھی صابئیت کا ایک ذلیل تنزل ہے۔ منتر جنتر کے ذریعہ سے خدا کو مسخر کرنا چاہتے ہیں؟۔
انبیاء علیہم السلام کا دین اس کے بالکل بر خلاف ہے ان کا دین یہ ہے کہ خدا کی بارگاہ میں محض بندگی اور عبدیت کی عرض و معروض رہے گی اور ادھر ہی کی ہدایت پر عمل پیرا ہونا ہو گا۔ بس۔ صابئین کے مقابلہ میں ابراہیم علیہ السلام کو بھیجا گیا اور ان کا لقب حنیف ہوا۔ حنیف اس کو کہتے ہیں کہ سب کو چھوڑ چھاڑ کر ایک خدا کا ہو جائے جیسے شیخ عطارؒ فرماتے ہیں :
یک دل و یک قبلہ و یک روئے باش
اس کے بعد کچھ تکمیل دین سماوی کی کہ ابتداء سے خاتم الانبیاء تک دین واحد ہے باقی تھی وہ خاتم الانبیاء ﷺ کے ہاتھ پر تمام کر دی اور اعلان کر دیا کہ : ”اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ٠ مائدہ آیت نمبر ٣“ اور : ”مَاكَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ٠ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْ عَلِیْمًا ٠ احزاب آیت ٤٠“
پہلی آیت میں یہ بھی آگیا کہ اب کوئی جزء ایمان کا باقی نہیں رہا خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لانا کل انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا ہے۔ ایسا نہیں کہ من بعد کسی پر ایمان نہ لانے سے کافر رہے جیسے قادیانی دجال سمجھا ہے کہ :
٤
”جو دین نبی ساز نہ ہو وہ دین لعنتی ہے۔“
(براہین پنجم ص ١٣٨ خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)
جیسے معلوم ہوا کہ عالم محض متفرقات منتشرہ نہیں بلکہ وہ ایک واحد منتظم ہے اسی طرح بتصریح حدیث خاتم الانبیاء ﷺ نبوت بھی عمارت کی مثال ہے کہ اس کی اساس رکھی گئی اور تعمیر کی گئی اور تکمیل کو پہنچا کر آخری لبنہ نبی کریم ﷺ کو رکھ کر عمارت ختم کر دی گئی۔ قرآن مجید نے اعلان تکمیل و ختم سنا دیا اور نبوت کی کوئی جزئی باقی نہیں رہی۔ البتہ کمالات نبوت کہ وہ فیوض اور متعلقات نبوت ہیں عین نبوت نہیں باقی ہیں۔ یہاں اجزاء اور جزئیات کا فرق بھی اہل معقول پر مخفی نہیں جزء پر کل صادق نہیں اور جزئی پر کلی صادق۔
ختم نبوت کا عقیدہ بہ تبلیغ پیغمبر اسلام، خاص و عام کو پہنچ کر ضروریات دین میں سے ہو گیا جس کا انکار یا تحریف کفر ہے۔ صوفیاء کرام نے جو کوئی مقام ولایت کالانبیاء الاولیاء اور نبوت من غیر تشریع ذکر کیا ہے تو ساتھ ہی نہایت مؤکد پیاپے تصریح کی ہے کہ نبوت سے مراد لغوی بمعنے پیشین گوئی ہے نہ نبوت شرعی۔ کیونکہ نبوت شرعی کا جو ایک منصب الٰہی اور وہبی ہے نہ کسبی۔ خواہ شریعت جدیدہ ہو یا نہ ہو اختتام اسلام میں اساسی اصول ہے اور منصوص قرآن و احادیث متواترہ اور مجمع علیہ امت محمدیہ ﷺ ہے۔ اسی دفعہ کے ماتحت مسیلمہ کذاب کو قتل کیا، اور کذاب پر فرد جرم لگائی بقیہ شنائع اس کے مادون اور مابعد کے رہے بلکہ جیسے ابن خلدونؒ نے ذکر کیا ہے یہ امور صحابہؓ کو اس کے قتل کے بعد معلوم ہوئے ہیں۔ قتل تو دعویٰ نبوت پر ہوا ہے۔
اس کے بعد دنیا میں حسب طبیعت دنیا، زندقہ اور الحاد ظاہر ہوا۔ زندقہ اور الحاد اس کو کہتے ہیں کہ سچے دین کو گڑبڑ کر دے اور اسماء سابقہ کو بحال رکھ کر حقیقت ان کی بگاڑ دے کہ فلاں چیز کی حقیقت یہ نہیں بلکہ یہ ہے۔ وعلیٰ ہذا القیاس دین کا اسم ہی چھوڑے مسمیٰ فناء کر دے۔ دہلی میں ایک صاحب چارپائی کے پائینتی کے سیروے فقط بغل کے نیچے دبائے ہوئے یہ صدا لگایا کرتے تھے (دو نہیں لمبے تڑنگے، ایک نہیں سرھنے کا، چار نہیں ٹیکین کے، اور لو چار پائی) آٹھ لکڑیوں میں سے سات موجود نہیں اور پھر بھی چارپائی ہے۔
٥
ایسے ہی وقتاً فوقتاً ملحدوں اور زندیقوں نے دین برحق کی شکست وریخت کر کے سعی فناء کیا اور کچھ پردہ باقی رکھنے کی وجہ سے عوام کی نظر میں غیر فرقہ ہونے کی جو کچھ زد پڑتی اس سے بچ گئے۔ اس وقت یورپ کی افتاد جو ایمان اور صفات ایمان پر ہے اس کی پیداوار اور حکومت وقت کی پیداوار منشی غلام احمد قادیانی کی دعوت نبوت ہے۔
یہ شخص معمولی درجہ کی فارسی اور اردو کا مالک ہے نثر و نظم میں کوئی اعلیٰ پایہ نہیں رکھتا۔ عربی میں محض تک بندی یا سرقہ کر سکتا ہے اور صوفیاء کرام جسے فن حقائق کہتے ہیں اس میں سے کسی حقیقت کو صحیح نہیں سمجھ سکا۔ قرآن مجید کی مناسبت سے اس قدر محروم ہے کہ اپنی مطبوعات میں نہایت کثرت سے آیات غلط اور محرف نقل کرتا جاتا ہے۔
تعلیم اس کی باب اور بہاء اللہ کی تعلیم سے مسروق ہے۔ بہاء اللہ کی کتابیں یہاں پیشتر موجود نہیں تھیں۔ جس کی وجہ سے کچھ وقفہ رہا اب کہ کتابیں اس کی آگئیں ناظرین نے اس سرقہ فاحشہ کو ثابت کر دکھایا۔ معہذا اس دجال کی دریدہ دہنی اس درجہ تک ہے کہ کہتا ہے :
ہر رسولے نہاں بپیرہنم
(نزول المسیح ص ١٠٠ خزائن ص ٤٧٨ ج ١٨)
ہر نبی میرے آنے سے زندہ ہوا ہے۔ ( نہیں تو مرے پڑے تھے ) اور ہر رسول میرے چولے میں چھپا پڑا ہے۔
پہلوں نے کیا خوب پیشین گوئی کی ہے :
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خر چند
اور :
پیٹنا اس (مرزا غلام احمد قادیانی) کا اس کی بعثت کو خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت سے
٦
افضل اور اکمل اعلان کرتا ہے اور اسی پر بیعت لیتا ہے۔ اس کافر دجال نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جو کوئی کل عالم اسلام اسے نبی نہ مانے اس کو کافر اعلان کیا اور ولد الزنا کہا، اور دعویٰ وحی کیا جو مساوی قرآن اس کے زعم میں ہے اور بمقابلہ ان علماء کے جنہوں نے آئندہ شریعت ناممکن لکھی ہے (اور کلام ان کی شریعت جدیدہ میں ہے) دعویٰ شریعت کیا۔ اس سے ناظرین خود سمجھ لیں کہ یہ دعویٰ بمقابلہ ان علماء کے دعویٰ شریعت جدیدہ کو مستلزم ہے یا یوں ہی بے سوچے سمجھے کلام بے موقع ولا یعنی ہے۔ اس کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ جہاد اسلامی میرے آنے سے منسوخ ہو گیا اور (ظلی) حج آئندہ قادیان کا ہو گا اور جو چندہ قادیان کا نہ دے گاوہ خارج از بیعت یعنی خارج از اسلام ہے زکوٰۃ یہی رہ گئی۔ اور بہت سے ضروریات دین کا انکار کیا جو تاویل سے ہو یا بغیر تاویل کے کفر ہے۔ عالم کو قدیم کہتا ہے اور قیامت کو ایک تجلی فقط اور تجلی کا جو صوفیاء کرام کی اصطلاح ہے کوئی مفہوم محصل اس کے ذہن میں نہیں اور اگر سو دفعہ جیئے اور سو دفعہ مرے کبھی ان حقائق کو سمجھ نہیں سکتا ناحق صوفیاء کی اصطلاحات میں الجھتا ہے اور منہ کی کھاتا ہے۔ صوفیاء کرام نے اس لفظ کو اور مواضع میں اطلاق کیا ہے کسی نے ان میں سے قیامت کو تجلی نہیں کہا مگر اس دجال نے ان ہی سے اڑایا ہے اور قدم عالم کا مسئلہ ایسا معرکۃ الآراء ہے کہ باپ بیٹا مل کر قیامت کی صبح تک بھی نہیں سمجھ سکتے ناحق ان مشکلات میں ٹانگ اڑائی ہے۔ اپنی کم مائیگی اور تنگ ظرفی سے معمولی سواد کو جو اسے حاصل ہے عدیم المثال سمجھتا ہے اور اسی کم حوصلگی کی بناء پر جب کسی جذبہ کے ماتحت غیب گوئی کرتا ہے اور منہ کی کھاتا ہے تو کمال بے ایمانی سے تاویلات مضحکہ اور مبکیہ کرنے کو آموجود ہوتا ہے۔
تقدیر کا بھی منکر ہے ملائکہ کرام کو قویٰ کہتا ہے اور ان کے نزول کا جو منصوص قرآن ہے منکر ہے۔ حیات عیسیٰ علیہ السلام جو متواتر دین محمدی ہے اور معجزہ احیاء میت جو منصوص قرآن ہے اس کو شرک و کفر کہتا ہے اور جو دین نبی ساز نہ ہو اسے لعنتی دین بتلاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
اور بہت سی چیزوں کا جو دین میں متواتر اور اصول ہیں تحریف کی۔ جو زندقہ اور کفر
٧
ہے جیسے کوئی نماز کی تحریف کرے۔ توہین انبیاء علیہ السلام کی گزر گئی کہ کل کے کل کو اپنا چیلا بتلاتا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کو تو العیاذ باللہ اپنی تعلیم کا مستقل موضوع بنایا ہے اور رسالے لکھے ہیں نہ تصریحی توہین میں کمی ہے اور نہ تعریضی میں یعنی دوسرے کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانا اور غرض اس دجال کی اس سے یہ ہے کہ عظمت ان کی قلوب سے اتارے اور خود مسیح بن بیٹھے۔ ولہذا ہنود کے پیشواؤں کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا بلکہ توقیر اور استمالہ کیا ہے۔
ہم نے کسی جماعت میں خواہ علماء ہوں یا عقلاء روزگار بکلی اتفاق علم نہیں دیکھا۔ الا انبیاء علیہم السلام کہ ان میں اتفاق کلی ہے۔ اسی سے ہم سمجھے تھے کہ یہ کوئی اور علم ہے جو حضرت حق نے دیا۔ اس قادیانی دجال نے اس کو بھی بے وزن کر دیا اور یہی تعلیم اپنے اذناب کو دے گیا۔ یہ بھی معلوم ہو کہ قادیانی پہلے مسیحیت کے دعویٰ کو تناسخ کہتا تھا اور دعویٰ صرف مثیل ہونے کا تھا۔
چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ : ”مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔“
(اشتہار مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩١ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١‘ عسل مصفیٰ ج دوم ص ٥٦٨)
اس کے بعد جب دوسرا جنم لیا تو یوں کہا : ”سو اس نے قدیم وعدے کے موافق اپنے مسیح موعود کو پیدا کیا جو عیسیٰ کا اوتار اور احمدی رنگ میں ہو کر جمالی اخلاق کو ظاہر کرنے والا ہے۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٨‘ خزائن ص ٤٤٦ ج ١٧)
یہاں ضروریات دینیہ کی تفسیر ضروری ہے۔ ضروریات دینیہ ان متواترات شرعیہ کو کہتے ہیں جو‘ بہ تبلیغ پیغمبر اسلام‘ خاص سے متجاوز ہو کر عوام کو بھی پہنچ گئے اور ان کے علم میں عوام بھی شریک ہو گئے اور شریعت کے بدیہی امور ہو گئے۔
اور مراد‘ ان کی بھی وہی مقرر رہے گی جو امت نے بوقت تبلیغ ..... سمجھی اور پھر ٨
طبقہ بعد طبقہ پہنچاتے اور سمجھاتے آئے۔ اس کی تحریف اور اس سے انحراف کفر و الحاد ہے۔
یہاں ضرورت بمعنی بداہت ہے اور یہ ایک مشہور اصطلاح فنون کی ہے جس کا علم بالا ضطرار ہو۔ متواتر اس کو کہتے ہیں جس کی نقل اس قدر پیہم ہو کہ خطاء کے احتمال کی اس میں گنجائش نہ رہے۔ فنون مدونہ میں بھی کسی فن کے اصحاب کے نزدیک بکثرت متواترات ہوتے ہیں۔ جیسے صرف و نحو میں بکثرت متواترات ہیں جن میں کوئی بھی شبہ نہیں کرتا اور ایسے ہی علماء لغت جو ایک جماعت مخصوصہ ہے ان کے اتفاق کے بعد بھی کوئی متردد نہیں رہتا۔ اسی طرح قرآن مجید تو حرفاً حرفاً متواتر ہے۔ علاوہ اس کے شریعت میں اور بھی بکثرت متواترات موجود ہیں جیسے مضمضہ واستنشاق (ناک میں پانی ڈالنا اور کلی کرنا) وضوء میں اور مسواک وغیرہ صدہا امور‘ اور یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ضروریات دینیہ اعلیٰ درجہ کے فرائض مؤکدہ کو کہتے ہیں بلکہ مستحب بھی اگر صاحب شریعت سے بتواتر ثابت ہو وہ بھی ضروریات میں سے ہے‘ بلکہ بعض مباحات کی اباحت مثلاً جو اور گیہوں کی اباحت ضروریات دینیہ سے ہے جو کوئی ان کی اباحت اور حِلّ کا انکار کرے وہ قطعاً کافر ہے کیونکہ پیغمبر اسلام کے عہد سے لے کر اب تک امت کھاتی آئی اور حلال کہتی آئی۔ کسی کو جو‘ مرغوب طبیعت نہ ہو وہ بخوشی ترک کر سکتا ہے لیکن حِل کے انکار سے کافر ہو جائے گا۔ ضرورت سے یہاں ضرورت اعتقاد و ثبوت مراد ہے نہ ضرورت عمل جوارح۔ یہ بھی معلوم رہے کہ یہ کل ضروریات دین‘ ایمان کے دفعات ہیں نہ فقط توحید و رسالت بلکہ رسالت پر ایمان تو اسی واسطے ہے کہ جو کچھ وہ خدا سے لائیں اور تبلیغ کریں اس پر ایمان ہو۔ وعلیٰ ہذا کہہ سکتے ہیں کہ مسواک سنت ہے اور اعتقاد اس کی سنیت کا فرض ہے اور اس کی معلومات حاصل کرنا سنت ہے اور دانستہ جحود کفر ہے اور جہل اس سے حرمان نصیبی۔
شریعت محمدیہ ﷺ میں یہ تبلیغ پیغمبر اسلام‘ بہت کثرت کے ساتھ متواترات ہیں اور بتواتر توارث یعنی نسلاً بعد نسلٍ بتواتر نقل کئے گئے ہیں اور ان میں طبقہ بعد طبقہ تواتر چلا آتا ہے تواتر اسنادی کوئی لازم نہیں۔
حاصل کلام کا یہ کہ کل وہ امور جو دین میں بالبداہت معلوم اور درمیان عام و خاص
٩
کے مشتہر اور مسلم ہوں، وہ کل کے کل ضروریات دینیہ میں سے ہیں اور ان سب پر بدون انحراف و تحریف کے ایمان لانا ایمان کی حقیقت میں داخل ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ ایمان کے دفعات وہی امور ہیں جن کی تبلیغ حضرت رسالت پناہ سے ہو۔ اور ان مسائل و عقائد بدیہیہ کا انکار کفر اور ارتداد ہے۔ ایمان کے دو جزء یعنی شہادتین ان کل متواترات اور ضروریات کی تسلیم پر حاوی ہیں۔
ورنہ یوں دجال بھی آنحضرت ﷺ کی مجمل تصدیق کرے گا جیسے احادیث میں موجود ہے اور اسی میں قرآن نازل ہوا ہے :
” فَلَا وَرَبِّكَ لَايُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِىْ مَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِىْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ٠ النساء آیت ٦٥“
﴿قسم تیرے رب کی کہ مومن نہ ہوں گے جب تک کہ تجھے حکم نہ بنالیں ہر اس چیز میں کہ اختلافی ہو گئی ان کے درمیان، پھر نہ پائیں اپنے جیوں میں گھٹن آپ ﷺ کے فیصلہ سے اور مان لیں ماننے کی طرح۔﴾
اس بدیہی مضمون کے بعد قادیانی کی تکفیر بدیہی امر ہے۔
توقف کا سبب کوئی علمی مرحلہ نہیں بلکہ بعض کو تو ایمان کے ساتھ کوئی ہمدردی ہی نہیں اور نہ فرق ایمان و کفر سے کوئی سروکار۔ ان کے نزدیک دعوٰی اسلام ہی اسلام ہے جیسے نسب اور شہر و ملک کی نسبت میں فقط دعوٰی کافی سمجھا جاتا ہے ان لوگوں کو تو مسئلہ تکفیر سے اشتعال اور طیش آجاتا ہے۔
وہ خود بہت سی قیود شریعت سے آزاد ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کسی کا کیا حق ہے کہ ہم پر حرف گیری کرے کفر ہے کس جانور کا نام؟۔ اور بعض ایسے ہیں کہ سلامت روی میں ان کا دنیوی فائدہ ہے ان کو اس کی کیا پرواہ کہ ایمان پر کیا گزر رہی ہے :
بامسلماناں اللہ اللہ بابر ہمن رام رام
بعض روشن خیال زمانہ جن کا نصاب تعلیم فقط انگریزی زبان اور انگریزی خط سے اور
١٠
نصاب علم شریعت سے بکلی فارغ‘ اور ان کو اس کا اقرار بھی ہوتا ہے مگر پھر چنے کے چھلکے کی طرح خالی چیختے رہتے ہیں۔
"وما مثله الا كفارغ حمص . خلی بلا معنی ولکن یفرقع . "
یہ صاحب زبانی دعوت اتفاق و اتحاد دیتے ہیں اور اس میں خلل انداز صرف مولویوں کی تکفیر بازی قرار دیتے ہیں۔
اس گمراہ کن مغالطہ میں یہ چند امور یادداشتنی ہیں کیا کافر کی تکفیر اگر حق بجانب بھی ہو وہ بھی ترک کرنی چاہئے ؟۔ اس صورت میں تو کفر و ایمان میں کوئی فرق ہی نہ رہا۔
اگر یہ صحیح نہیں اور عصبیت اسلام کی ہے تو ضرور کوئی معیار در میان کفر و ایمان کے فارق ہو گا پھر اس معیار کی تحقیق کرنی چاہئے تاکہ اس پر عمل رہے۔
پھر دیکھنا یہ ہے کہ کیا تکفیر بازی اولا مرزا غلام احمد قادیانی نے کی۔ جس نے کل عالم اسلام کو جو اس کو نبی نہ مانے کافر اور ولد الزنا کہا اور یہ ہی بیخ کن اسلام ہو ا یا علماء اسلام ؟۔۔ جنہوں نے مرزا قادیانی اور اس کے اذناب کی تکفیر کی جن کی تعداد سنا ہے کہ مردم شماری کی اعداد میں ٧٥ ہزار دونوں (لاہوری‘ و قادیانی) طائفہ کی ہے اور کیا اتفاق کی جڑ مرزا غلام احمد قادیانی نے کاٹی یا علماء اسلام نے ؟۔
قادیانی کہتا ہے کہ عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام اور احیاء میت شرک و کفر ہے اور ساتھ ہی کہتا ہے کہ میں بھی ایک زمانہ دراز سے بتقلید جمہور اہل اسلام اسی عقیدہ پر تھا اب کفر سے اسلام کی طرف گیا ہوں اور علماء اسلام کہتے ہیں نہیں بلکہ قادیانی اسلام سے کفر کی طرف گیا۔
پھر کیا جو انتقال اس نے اپنے اقرار سے کیا‘ مخول کی طرح ٹال دینے کی چیز ہے یا علماء اسلام کا حق ہے کہ اس کو پرکھیں ؟۔
بات یہ ہے کہ اپنی بیٹی میں تو کوئی یہ سخاوت اور کرم نہیں کرتا اور جب ایمان کی تقسیم کا وقت ہو سو وہ ہے کیا چیز جس میں سخاء اور جود نہ کریں :
١١
گھر سے کیا گیا جو حساب و احتیاط ہو۔
جو صاحب لاہوریوں کی تکفیر میں جو قادیانی کو مسیح موعود وغیرہ سب کچھ مانتے ہیں اور نبوت ظلی بروزی وغیرہ کہتے رہتے ہیں جس کی کوئی اصل دین میں نہیں متأمل ہیں وہ بھی سمجھنے سے محروم ہیں۔ کیا اگر کوئی یہ کہے کہ مسیلمہ نے دعویٰ نبوت کیا ہی نہیں بلکہ ایک محدث وہ بھی ہوا ہے تو اس سے وہ شخص کفر سے نجات پائے گا؟۔ حق تعالیٰ صحیح سمجھ نصیب کرے اور سلامت فطرت کی دے۔ آمین!
قادیانی کی تعلیم اور دعوت کو کیوں اٹھا کر نہیں دیکھتے کیا وہ دعویٰ نبوت اسی معنے سے نہیں کرتا جس معنی میں یہ لفظ آسمانی کتابوں میں آیا ہے اور کیا وہ اپنی نبوت نہ ماننے والے کو کافر اور ولد الزنا نہیں کہتا اور کیا وہ اپنی وحی کو قرآن کے برابر نہیں کہتا اور کیا اس نے دعویٰ شریعت اور توہین انبیاء نہیں کی؟۔ اس کے بعد لاہوریوں کا کتمان اور عمداً مغالطہ ان کے منہ پر کیوں نہ مارا جائے اور ان کو فی النار والسقر کیوں نہ کہا جائے؟۔
اصل میں اس فرقہ کی تکفیر میں بھی توقف کے وجوہ وہی ہیں جو اوپر گزر گئے کوئی نئی بات نہیں۔ پنجابی دھوبی کپڑے کو پتھر پر مارنے کے وقت بولا کرتے ہیں : ”ساڈا کی جاندے اچھو“ اور اگر کسی کو ان مسائل کا جہل ہو تو اپنے جہل ہی کا اعتراف کرتا رہے جہل کو علم نہ بنائے اور جہل خدا داد کو نہ چھپائے اور خلق اللہ کو گمراہ نہ کرے۔
تکفیر کا مسئلہ اگر احتیاط کی چیز ہے تو دونوں جانب سے ہے نہ مسلم کو کافر کہے اور نہ کافر کو مسلم۔ جب مرزا غلام احمد قادیانی قطعاً کافر ہے اور بدیہی کافر اور تاریخ اسلام میں بلا فصل مدعی نبوت کو کافر کہتے آئے ہیں اور سزائے قتل دیتے، تو اس کے دعاوی کو کتمان کرنے والا اور مصالح سے تحریف کرنے والا جو بداہت کے خلاف ہے کفر سے کیسے بچ سکتا ہے؟۔ بداہت کے خلاف مکابرہ شرعاً و عقلاً قابل التفات نہیں۔ کفار کے ساتھ جہاد کیوں ہوتا ہے۔ کیا ان کے شبہات نہیں؟ یہی تو کہ وضوح حق کے بعد شبہات کی پرواہ نہیں کی گئی اور یہاں تو شبہات بھی نہیں محض بے حیائی اور کتمان ہے اور جنگ زرگری۔
اور سنئے کہ اس جاہلانہ احتیاط میں کیا کچھ مضمر ہے۔ کیا کسی ناپاک ذات کو مسیح
١٢
موعود ماننا کفر نہیں؟۔ شریعت تورات میں کہ نبوت جاری تھی اس میں متنبئ کاذب کا کیا قتل نہیں؟۔
کیا کسی رجس خبیث کو مسیح موعود اور مہدی مسعود کہنا شریعت متواترہ اسلامیہ کی تحریف اور تمسخر نہیں؟۔ شریعت متواترہ کی تحریف کیا جائے خود کفر نہیں۔ کفر کے کوئی سینگ ہیں کہ دروازہ میں نہ سمائیں؟۔ ہاں! خوب یاد آیا کہ ممکن ہے کہ کفر کی شکل جئے سنگھ بہادر ہو یا رودر گوپال اور ان کے سینگ بھی ہوں۔
اس کے بعد اس جاہل محتاط سے کہنا چاہئے کہ وہ اپنی اس ہمہ دانی میں میاں مٹھو کی طرح اتنے ہی پر اکتفا کرے کہ قادیانی قطعی بدیہی کافر ہے پھر دنیا کو ان کی سمجھ پر چھوڑ دے وہ خود نتیجہ نکال لیں گے کہ بدیہی کافر کو مسیح و مہدی بنانے والا کیا ہے؟۔
یہ بھی شریعت میں دیکھنے کی چیز ہے کہ کیا کسی کے لئے سوائے اعتقاد نبوت کے اعتقاد وحی مساوی قرآن رکھنا یا اعتقاد شریعت رکھنا یا اس کے اس قول پر :
من بعرفاں نہ کمترم زکسے
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
اعتقاد رکھنا کیا یہ کفر نہیں؟۔
نیز فرض کیجئے کہ کسی شخص نے دعویٰ نبوت بالتصریح کیا اور اس کے اذناب ہو گئے بعض نے نبی مانا اور بعض نے عمداً و مصلحتاً : ” توجیہ القائل بما لا یرضی بہ قائلہ “ کر کے اس کو نبی نہ کہا لیکن سب خصائص و فضائل انبیاء کے اس کے لئے اعتقاد کر لئے کیا وہ سب کافر نہیں؟۔ یہ بھی معلوم رہے کہ انبیاء کی نقل اتارنا مثلاً اپنے دو چیلوں کا نام جبریل اور میکائیل رکھے اور کہتا رہے کہ مجھے جبریل نے یہ خبر دی اور میکائیل نے یہ کہا یا یہ کہے کہ مجھ پر میرے حق میں : ”لولاک لما خلقت الافلاک“ نازل ہوئی ہے۔
(تذکرہ ص ٦١٢)
غرض نقل اتارتا ہو جیسے مسیلمہ نقل اتارتا تھا اور محاکات کرتا تھا :
١٣
اس کی دو صورتیں ہیں یا یہ کہ انبیاء کے ساتھ استہزاء کرتا ہو، یا ادعاء ہو کہ مجھے بھی یہ خصائص حاصل ہیں اور واقعی یہ دو فرشتے میرے پاس آتے ہیں اگرچہ اس ادعاء سے نقل اتارنا مغائر ہے۔ حکم دونوں صورت کا کفر ہے اور جو کوئی اس کے اس ادعاء کو صداقت باور کرے وہ بھی کافر ہے۔
ان صاحبوں سے یہ بھی دریافت کیا جائے کہ اس فرقہ کے علاوہ اگر آپ سے بایں عنوان مسئلہ پوچھا جائے کہ اگر کوئی اور خبیث مخبث کھڑا ہو جائے اور دعوٰی مسیحیت کرے اور اس کے پاس مال نہ ہو اور القاب پیدا نہ ہوں لیکن وہ برابر اسی دعوٰی پر رہے، اس کے حق میں آپ کا کیا حکم ہے یا فقط زور دار اسامی ہی دیکھ کر آپ کا مسئلہ بدلتا ہے؟۔
دجال اکبر جس کے قتل کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اس کی کیا وجہ ہے سوائے اس کے کہ اس نے اپنے آپ کو یہود سے مسیح موعود منوایا ہوگا۔ جسے خدا سمجھ نہ دے اسے خدا سمجھے۔ بالجملہ انبیاء علیہم السلام کی نقل اتارنا مستقل کفر ہے اگرچہ ادعاء نبوت بلفظ نبوت نہ کرے اور جو کوئی اس کو صداقت باور کرے بلکہ جملہ مقربین سے بڑھ کر مانے اور اس پر ایمان لائے وہ بھی قطعاً کافر ہے۔
اسی طرح وہ شخص جو انبیاء علیہ السلام کی اسامی قبضائے اور وہ کہ اس پر ایمان لائے۔ خلاصہ کلام کا یہ ہے کہ قادیانی نے علاوہ دعوٰی نبوت کے دعوٰی وحی مساوی قرآن اور دعوٰی شریعت اور توہین انبیاء اور تکفیر امت حاضرہ اور ادعاء خصائص انبیاء علیہم السلام اور ان کی نقل اتارنا اور انکار ضروریات دینیہ اور تحریف دین متواتر اور تمسخر بعض شریعت متواترہ کا کیا ہے اور یہ سب وجوہ متفق علیہ کفر ہیں اور لاہوری اس پر ایمان لائے ہوئے ہیں۔
کشتی نوح ص ١٦ خزائن ص ١٨ ج ١٩ پر قادیانی کی عبارت دیکھنی چاہئے کہ اپنی جانب سے اپنی تحقیق سے مریم صدیقہ کی طرف زناء کی نسبت کرتا ہے : ”والعیاذ بااللہ العلی العظیم ۔ واللہ الہادی لا ھادی الا ھو۔“
یہ کل بحث اس صاحب کے ساتھ ہے جس کے نزدیک دین کی کوئی حقیقت محصلہ
١٤
ہے اور اس پر ایمان و کفر کا فرق گراں نہیں۔ ورنہ جس کا دین محض مصلحت وقت اور ہر دلعزیزی ہے اس کے ساتھ ہمارا تخاطب نہیں۔
بالآخر پھر اپنے احباب سے استدعاء ہے کہ وہ اس وقت کو غنیمت سمجھ کر انجمن دعوت و ارشاد میں شرکت فرمائیں اور ہر طرح سے اس کی تقویت و امداد کی سبیل نکالیں تاکہ ایک مستقل اور مستقر انجمن ہو جائے اور دین مبین کی خدمت کرتی رہے۔
نیز زمیندار کی توسیع اشاعت میں سعی فرمائیں کیونکہ ان معلومات کا اصل ذخیرہ اور سر چشمہ وہی ہے اور اسی کی فروع میں سے باقی شعبے ہیں۔ حکومت کشمیر کو پھر بحیثیت رعیت ہونے کے متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ کل عالم اسلام، مصر، شام، عرب، عراق، ہندوستان، کابل وغیرہ قادیانیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے ان کی بھرتی سکولوں اور محکموں میں مسلمانوں پر احسان نہیں اور ہمیشہ موجب تصادم و خلل امن رہے گی فقط !!
اہل کشمیر پر واضح رہے کہ جو قادیانی اخبار کشمیر سے جاری ہوا ہے وہ قادیانی عقائد یعنی کفر کی تخم ریزی ہے۔ عنقریب شاخ و برگ دکھائے گا۔ مسلمان اپنی جیبیں خالی کر کے کفر نہ خریدیں۔ والسلام!
العارض محمد انور شاہ کشمیری عفاہ اللہ عنہ از دیوبند ٢٢ ذی قعدہ ١٣٥١ ہجری
مجلس مستشار العلماء پنجاب لاہور سے بھی بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ کیونکہ اعضاء اس کے مستند علماء ہیں۔ اصحاب و احباب اسے بھی فراموش نہ کریں۔ اگر اس کی تقویت اور اعانت ہو گئی تو انشاء اللہ ! بہت سی خدمت مذہب و ملت کی انجام دے گی۔ واللہ الموفق !!!
١٥
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوّۃ
ملت اسلامیہ کی بین الاقوامی تنظیم ہے
جو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے قائم فرمائی ، مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے چار چاند لگائے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور اب شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد دامت برکاتہم کی قیادت میں قادیانیت کے خاتمہ کی مہم پر ہے۔
اغراض ومقاصد
اسلام کی دعوت و تبلیغ ، ناموس ختم نبوت کی پاسبانی ، قادیانی فتنہ ارتداد کی سرکوبی باطل فرقوں کا مقابلہ، مجلس کا عظیم اور مقدس مقصد ہے ، قادیانیوں کے سرپرستوں کے عزائم اور سازشوں کے پیشِ نظر مستقبل قریب میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے اربوں کھربوں کے منصوبے شروع کئے جا چکے ہیں جس سے ختم نبوت کی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے ، اندرون و بیرون ملک مجلس کے مبلغ ، دفاتر ، مدارس کا سلسلہ ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے وقف ہے ، مجلس کا سالانہ میزانیہ کئی لاکھ کا ہے ۔ لاکھوں روپے کا صرف لٹریچر اندرون و بیرون ملک تقسیم کیا جاتا ہے ، جامع مسجد ربوہ ، جامع مسجد کراچی اور دیگر شہروں میں مجلس کے تعمیراتی منصوبے تشنہ تکمیل تھے، جبکہ لندن اور دوسرے ممالک میں بھی دفاتر قائم کیے جارہے ہیں ۔ اندرون و بیرون ملک قادیانیوں کے ساتھ مقدمات کی وجہ سے مجلس کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں ختم نبوت کی خدمت اور مالی اعانت اللہ تعالے کی رضا جوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذریعہ ہے۔ آنجناب سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ اس کار خیر میں ضرور شریک ہونگے
واجرکم علی اللہ ۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ
فقیر خان محمد امیر مرکزیہ ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ ، حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
بیان در مقدمہ بہاول پور
٢٥ / ٢٧ / ٢٨ / ٢٩ اگست ١٩٣٢ء
امام العصر حجۃ الاسلام
مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بہاولپور کا معرکتہ الآراء تاریخی مقدمہ
١٩٣٢ء کی تیسری سہ ماہی میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحبؒ بوجہ علالت چند ہفتوں کے لئے ڈابھیل سے دیوبند تشریف لائے ہوئے تھے۔ جب طبع مبارک قدرے روبصحت ہوئی تو ڈابھیل مراجعت فرمانے کا عزم فرمایا۔ اور رخت سفر تیار کیا کہ اچانک حضرت شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی صاحبؒ کا صحیفہ گرامی موصول ہوا جس میں اہالیان بہاولپور کی اس آرزو کا اظہار تھا کہ حضرتؒ بہاولپور تشریف لاکر حق وباطل کے اس مقدمہ میں شہادت قلمبند کرائیں۔
حضرتؒ نے معاملہ کی نزاکت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ڈابھیل کا سفر معرض التوا میں ڈال کر بہاول پور کا قصد فرمایا اور باوجود پیرانہ سالی و شدید ضعف و علالت کے دیوبند سے بہاول پور تک کا صعوبت انگیز سفر اختیار فرمایا۔ اور ١٩ اگست ١٩٣٢ء بروز جمعتہ المبارک سر زمین بہاولپور کو قدوم میمنت لزوم سے سرفراز فرمایا۔
حضرتؒ کی بہاولپور آمد کے ساتھ ہی تمام ہندوستان کی نظریں اس مقدمہ پر مرکوز ہو گئیں اور اس نے لاثانی شہرت اختیار کر لی۔ پنجاب اور سندھ کے اکثر علماء دین بہاولپور پہنچ گئے۔ آپ کی قیام گاہ پر ہمہ وقت زائرین کا اژدھام رہتا تھا۔ ٢٥ اگست ١٩٣٢ء کو جب یہ رأس المحدثین اپنی شہادت قلمبند کرانے عدالت میں پہنچا تو کمرہ عدالت ذی علم علماء دین و مشاہیر و وزراء و اکابرین قوم سے مکمل طور پر معمور تھا۔ عدالت کے باہر میدان میں
٢
عوام کا ایک جم غفیر موجود تھا جس میں اہل ایمان کے علاوہ اہل ہنود بھی شامل تھے اور ہر شخص حضرتؒ کے ارشادات گرامی سننے کے لئے مضطرب تھا۔ آپ کا یہ بیان ٢٨ اگست ١٩٣٢ء تک جاری رہا جبکہ ٢٩ اگست کو جلال الدین شمس قادیانی مختار فریق ثانی نے آپ پر جرح کی۔ حضرتؒ نے مندرجہ ذیل پانچ وجوہ پیش کر کے مرزا قادیانی اور اس کے متبعین کی تکفیر کا ثبوت پیش فرمایا :
- (١).......... دعویٰ نبوت
- (٢).......... دعویٰ شریعت
- (٣).......... توہین انبیاء علیہم السلام
- (٤).......... انکار متواترات و ضروریات دین
- (٥).......... سب (گالی دینا) انبیاء علیہم السلام
حضرتؒ نے اپنے دلائل قاطع و براہین ساطع سے مرزا غلام احمد قادیانی کی باطل نبوت اور فرقہ ضالہ مرزائیہ کا کفر و ارتداد پورے عالم میں ابیض من الشمس کر دیا (حضرتؒ کا یہ بیان علم و عرفان کا ایسا بحر ذخار ہے جس کی گہرائیوں میں گراں قدر اور بے بہا موتی بھرے ہوئے ہیں۔)
مقدمہ بہاولپور کے ساتھ ویسے تو بہت سے تاریخی واقعات وابستہ ہیں۔ قارئین گرامی کی بہرہ اندوزی کے لئے یہاں پر صرف تین کا ذکر کیا جاتا ہے۔
- (١).......... مورخہ ٢٩ اگست ١٩٣٢ء کو جب جلال الدین شمس قادیانی مختار مدعا
علیہ حضرت شاہ صاحبؒ پر لایعنی جرح کر رہا تھا تو حضرت شاہ صاحبؒ موصوف کی زبان مبارک سے ”غلام احمد جہنمی“ کا لفظ نکلا جس پر مختار مدعا علیہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے جرح بند کر دی اور عدالت سے درخواست کی کہ حضرت شاہ صاحبؒ کو حکم فرمایا جائے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔ عدالت کا کمرہ علماء فضلاء و مشاہیر سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ان حضرات نے مشاہدہ کیا کہ حضرتؒ پر ایک خاص کیفیت وجد طاری ہو گئی۔ چہرہ مبارک نور سے منور ہو گیا۔ آپ نے اپنا دست مبارک جلال الدین شمس قادیانی کے کاندھے پر رکھ کر فرمایا :
٣
"ہاں ہاں! مرزا غلام احمد قادیانی جہنمی ہے۔ دیکھنا چاہتے ہو کہ وہ جہنم میں کیسے جل رہا ہے؟۔"
حضرت شاہ صاحبؒ کے ان الہامی کلمات سے مرزائیوں پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ ان کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جلال الدین شمس قادیانی نے فوراً حضرت شاہ صاحبؒ کا دست مبارک اپنے کندھے سے ہٹا دیا اور کہنے لگا کہ اگر آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو جہنم میں جلتا ہوا دکھا بھی دیں۔ تو میں اسے شعبدہ بازی کہوں گا۔
بفضل تعالیٰ آج بھی بہاولپور میں بالخصوص اور برصغیر میں بالعموم ہزاروں افراد موجود ہیں جو اس تاریخی واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔
- (٢)............ ٢٦ اگست ١٩٣٢ء کو یوم جمعۃ المبارک تھا۔ جامع مسجد الصادق
بہاولپور میں آپ نے جمعہ کی نماز ادا فرمانا تھی۔ مسجد کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ قرب و جوار کے گلی کوچے نمازیوں سے بھرے ہوئے تھے نماز کے بعد آپ نے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا:
”میں بواسیر خونی کے مرض کے غلبہ سے نیم جاں تھا اور ساتھ ہی اپنی ملازمت کے سلسلہ میں ڈابھیل کے لئے پا بہ رکاب کہ اچانک شیخ الجامعہ صاحب کا مکتوب مجھے ملا جس میں بہاولپور آکر مقدمہ میں شہادت دینے کے لئے لکھا گیا تھا۔ میں نے سوچا کہ میرے پاس کوئی زاد راہ ہے نہیں۔ شاید یہی چیز ذریعہ نجات بن جائے کہ میں حضرت محمد ﷺ کے دین کا جانبدار بن کر یہاں آیا ہوں۔“
یہ سن کر مجمع بے قرار ہو گیا۔ آپ کے ایک شاگرد مولانا عبد المنان ہزاروی آہ و بکا کرتے ہوئے کھڑے ہو گئے اور مجمع سے بولے کہ اگر حضرت کو بھی اپنی نجات کا یقین نہیں تو پھر اس دنیا میں کس کی مغفرت متوقع ہوگی؟۔ اس کے علاوہ کچھ اور بلند کلمات حضرت کی تعریف و توصیف میں عرض کئے جب وہ بیٹھ گئے تو پھر مجمع کو خطاب کر کے فرمایا کہ:
”ان صاحب نے ہماری تعریف میں مبالغہ کیا۔ حالانکہ ہم پر یہ بات کھل گئی کہ گلی کا کتا بھی ہم سے بہتر ہے اگر ہم تحفظ ختم نبوت نہ کر سکیں۔“
(کمالات انوری)
٤
- (٣).......... جب بہاولپور سے بیان دیکر واپس دیوبند جانے لگے تو اپنے شاگر
د حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ سے فرمایا کہ اگر فیصلہ میری زندگی میں ہوا تو خود سن لوں گا۔ اگر میرے مرنے کے بعد فیصلہ ہو تو میری قبر پر آکر سنا دینا۔ اللہ تعالیٰ کی شان بے نیازی کہ فیصلہ سے پہلے آپ کا وصال ہو گیا۔ چنانچہ آپ کی وصیت کے مطابق مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ نے دیوبند جاکر آپ کی مزار انور پر اس فیصلہ میں اہل اسلام کی کامیابی کی نوید عرض کی۔
(فقیر اللہ وسایا)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
٢٥ اگست ١٩٣٢
بیان گواہ مدعیہ باقرار صالح
سید محمد انور شاہ ولد معظم شاہ ذات سید سکنہ کشمیر عمر ٥٥ سال
ایمان اور کفر کی حقیقت
کسی کے قول کو اس کے اعتماد پر باور کرنے اور غیب کی خبروں کو انبیاء علیہم السلام کے اعتماد پر باور کرنے کو ایمان کہتے ہیں۔ اور کفر کہتے ہیں حق ناشناسی اور منکر ہو جانے کو یا مکر جانے کو۔ ہمارے دین کا ثبوت دو طرح سے ہے۔ یا تواتر سے یا خبر واحد سے۔
اقسام تواتر : تواتر اسے کہتے ہیں کہ کوئی چیز ایسی ثابت ہوئی ہو نبی کریم ﷺ سے اور ہم تک پہنچی ہو علی الاتصال کہ اس میں احتمال خطا کا نہ ہو۔ تواتر ہمارے دین میں چار قسم کا ہے۔ حدیث ہے کہ : "من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار۔"
٥
﴿جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے۔ اسے چاہئیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے ۔﴾
پہلی قسم : یہ حدیث متواتر ہے اور تیس صحابہؓ سے بسند صحیح مذکور ہے۔ اس کو تواتر اسنادی کہا جائے گا۔ نزول مسیح میں چالیس حدیثیں صحیح ہمارے پاس موجود ہیں۔ یہ متواتر ہیں۔ (اگر) اس کا کوئی انکار کرے (تو) وہ کافر ہے۔
دوسری قسم : تواتر طبقہ۔ (کہ جب) یہ معلوم نہ ہو کہ کس نے کس سے لیا۔ بلکہ یہی معلوم ہو کہ پچھلی نسل نے اگلی سے سیکھا۔ جیسا کہ قرآن مجید کا تواتر۔ اس تواتر کا منکر اور منحرف بھی کافر ہے۔ مسواک کا ثبوت بھی دونوں طرح سے متواتر ہے۔ اگر کوئی (مسواک) ترک کردے تو چنداں وبال نہیں اور اگر اس کا کوئی انکار کردے علم دین سمجھ کر تو وہ کافر صریح ہے۔ اگر کوئی شخص کہہ دے کہ ”جو“ حرام ہیں تو وہ کافر ہے۔ حسب شریعت محمدیہ (جو کھانا) کوئی بڑی چیز نہ تھی لیکن پیغمبر ﷺ نے ”جو“ کھائے اور امت اب تک ”جو“ کھاتی آئی ہے۔ اس تواتر قطعی کا انکار کفر ہے۔
تیسری قسم : تواتر قدر مشترک ہے۔ حدیثیں کئی ایک خبر واحد آئی ہوں۔ اس میں قدر مشترک متفق علیہ وہ حصہ حاصل ہوا جو تواتر کو پہنچ گیا۔ مثال اس کی کہ معجزات نبی کریم ﷺ کچھ متواتر ہیں۔ اور کوئی (کچھ) اخبار احاد ہیں۔ لیکن ان اخبار احاد میں ایک مضمون مشترک ملتا ہے کہ وہ قطعی ہو جاتا ہے۔ اس کا انکار بھی ویسا ہی کفر ہے۔ جیسے پہلی دو قسم کا۔
چوتھی قسم : تواتر توارث ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ نسل نے نسل سے لیا ہو۔ جیسا کہ ساری امت اس علم میں شریک رہی کہ خاتم الانبیاء محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ یہ تواتر اس طرح سے ہے کہ بیٹے نے باپ سے لیا اور باپ نے (اپنے) باپ سے لیا اس کا انکار بھی صریح کفر ہے۔
٦
اگر متواترات کے انکار کو کفر نہ کہا جائے۔ تو اسلام کی کوئی حقیقت قائم نہیں رہ سکتی اور نہ کسی اور یقینی چیز کی۔ ان متواترات میں تاویل کرنا۔ مطلب بگاڑنا کفر صریح ہے۔ رد ہے اور مسموع نہیں ہے۔
متواترات کو تاویل سے پلٹنا کفر ہے
میں نے اپنی کتاب عقیدۃ الاسلام کے صفحہ اول پر متواترات کے پلٹنے کی مثال دی ہے۔ اس کا نام باطنیت ہے۔ اس کا نام زندیقیت اور الحاد ہے۔
کفر کے اقسام : کفر کبھی قولی ہوتا ہے۔ اور کبھی فعلی ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص ساری عمر نمازیں پڑھتا رہے اور تیس چالیس سال کے بعد ایک دفعہ بت کے آگے سجدہ کرے تو وہ کافر ہے۔ اور تارک نماز سے بدتر ہے۔ یہ کفر فعلی ہے۔ کفر قولی یہ ہے کہ مثلاً یہ کہہ دے کہ خدا کے ساتھ کوئی شریک ہے۔ صفتوں میں یا فعل میں یا یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی اور نیا پیغمبر آئے گا یہ کفر قولی ہے۔
اختلاف مراتب : کوئی شخص اگر اپنے مساوی رتبہ سے کہہ دے کہ کلمہ بکو۔ تو وہ کوئی چیز نہیں۔ استاد اور باپ سے (یہی کلمہ) کہہ دے۔ تو اسے عاق کہتے ہیں۔ پیغمبر کے ساتھ یہ معاملہ کرے تو یہ کفر صریح ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ جب منافقین سے کہا جاتا ہے کہ پیغمبر سے آکر مغفرت کی دعا کراؤ تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں۔ اس کو بھی پیغمبر کے مقابلے میں قرآن نے کفر قرار دیا ہے۔ کوئی شخص اگر بغیر نیت کے بطور ہنسی کھیل کے کلمہ کفر کہتا ہے۔ تو وہ بھی کافر ہے۔ اگر سبقت لسانی ہوئی تو یہ معاف ہے۔
اس کی تائید میں آیت : ”وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا ٠ توبہ آیت ٧٤“
﴿ بے شک کہا انہوں نے لفظ کفر اور منکر ہو گئے مسلمان ہو کر اور کہا تھا اس چیز کا جو ان کو نہ ملی ۔ ﴾
٧
اور : ”لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ ٠ توبہ آیت ٦٦“ ﴿بہانے مت بناؤ تم کفار ہو گئے ۔ اظہار ایمان کے بعد۔﴾
ان دفعات (اسلامیہ) سے جو اوپر بیان کئے گئے ہیں (جو) انکار کرے تو وہ خدا کا باغی ہے اور اس کی سزا موت ہے۔
مرزائیوں سے اصولی اختلاف
اہل سنت والجماعت اور مرزائی مذہب والوں میں قانون کا اختلاف ہے۔ علمائے دیوبند اور علمائے بریلی میں واقعات کا اختلاف ہے۔ قانون کا نہیں۔
مرزا قادیانی نے اسلام کے اصول بدلے
مرزائی مذہب والے (مرزا غلام احمد قادیانی) نے مہمات دین کے بہت سے اصولوں کی تبدیلی کر دی ہے اور بہت سے اسمائے کا مسمی بدل دیا ہے۔
نبوت کے ختم ہونے کے بارے میں ہمارے پاس کوئی دو سو حدیثیں ہیں اور قرآن مجید ہے اور اجماع بالفعل ہے اور ہر نسل اگلی نے پچھلی سے اس کو لیا ہے اور کوئی مسلمان جس کو تعلق ہو اسلام کے ساتھ ۔ وہ اس عقیدہ سے غافل نہ رہا۔ اس عقیدہ کی تحریف کرنا اور اس سے انحراف کرنا صریح کفر ہے اگر کوئی آیت قرآنی ہو اور اس کی مراد پر اجماع ہو امت کا اور صحابہ کرام کا ، اس سے انحراف کرنا اور تحریف کرنا کفر صریح ہے۔
یہ جو کہا جاتا ہے کہ امام احمدؒ نے کہا ہے کہ : ” من ادعی الاجماع فهو كاذب “ تو اس کی مراد یہ ہے کہ لوگ کہیں کہیں اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ اجماعی ہوتے نہیں ۔ نہ یہ کہ کوئی چیز دین محمدی میں اجماعی ہے ہی نہیں ؟
ہم خود زبان امام احمد سے نقل اجماع کو ہم بہت (خوب) ثابت کر دیں گے۔
امت محمدیہ ﷺ میں پہلا اجماع
پہلا اجماع جو اس امت محمدیہ ﷺ میں ہوا ہے وہ اس پر ہوا ہے کہ مدعی نبوت کو
١
قتل کیا جائے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا صدیق اکبرؓ نے خلافت کے زمانہ میں مسیلمہ کے قتل کے واسطے صحابہؓ کو بھیجا۔ کسی نے اس میں تردد نہ کیا۔ یعنی جو خاتم النبیین کے بعد دعویٰ نبوت کرے تو وہ مرتد اور زندیق ہے اور واجب القتل ہے۔
سنن ابی داؤد میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس مسیلمہ کے قاصد آئے کہ تم کہتے ہو کہ وہ نبی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہاں۔
فرمایا کہ دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن مار دیتا۔
(کتاب الجہاد فی باب الرسل سنن ابو داؤد ص ٣٨٠ مطبوعہ لکھنو)
اس کے بعد معجم طبرانی میں ہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ کو ان قاصدوں میں سے ایک (ابن نواحہ) کوفہ میں ملا۔ حضرت فاروقؓ یا عثمانؓ کے زمانہ میں۔ وہ مسیلمہ کا نام لیتا تھا۔ فرمانے لگے کہ اب تو یہ قاصد نہیں ہے۔ حکم دیا کہ اس کی گردن ماری جاوے۔
(جامع المسانید والسنن ص ١٦٣، ١٤٤، ١٤٣، ٦٨٧، ٧٢٧)
نیز یہ روایت بخاری کی کتاب کفالت میں بھی مختصراً موجود ہے۔ معجم طبرانی کتب خانہ مولوی شمس الدین بہاولپوری۔ ورق ٢٩ جو روایت معجم طبرانی سے نقل کی گئی ہے۔ وہ بھی سنن ابی داؤد ص ٢٧٤ ج ١ میں موجود ہے۔
اسلام میں عقیدہ ختم نبوت متواتر ہے
ختم نبوت کا عقیدہ دین محمدی ﷺ میں متواتر ہے۔ قرآن، حدیث سے اجماع بالفعل سے اور یہ پہلا اجماع ہے۔ ہر وقت (زمانہ) میں حکومت اسلامی نے اس شخص کو جس نے دعویٰ نبوت کیا۔ سزائے موت دی ہے۔ ایک شاعر کو سلطان صلاح الدین ایوبی نے بہ فتویٰ علماء دین ایک شعر کے کہنے پر قتل کرا دیا تھا۔
سعى فاصبح يدعى سيد الامم
٩
﴿ آغاز اس دین کی ایک شخص سے تھی کہ اس نے کوشش کی اور وہ سردار ہو گیا امتوں کا۔ ﴾
اس شعر سے قرار دیا گیا کہ یہ شخص نبوت کو کسبی کہتا ہے جو کہ ریاضتوں سے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس لئے اسے قتل کر دیا گیا۔
ختم نبوت کی آیت :
”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ط وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا ، احزاب آیت ٤٠“
﴿ محمد رسول اللہ ﷺ تم بالغوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن رسول ہیں اللہ کے اور ختم کرنے والے ہیں پیغمبروں کے۔﴾
اس آیت میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ نبی کریم کی ابوت (باپ ہونے) کا علاقہ دائماً دنیا سے منقطع ہے۔ اور اس کے عوض رسالت اور نبوت کا علاقہ دائماً ثابت ہے۔ گویا ساری جگہ نبوت اور رسالت کی محمد ﷺ نے گھیر لی۔ کوئی جگہ خالی نہ رہی۔ احادیث تواتر کو پہنچ گئی ہیں کہ یہ عہدہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔
نبی کریم ﷺ اشخاص نبوت کے بھی خاتم ہیں اور آپ ﷺ کے تشریف لانے سے نبوت کا عہدہ منقطع ہو گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا علامت ہے اس بات کی کہ انبیاء کے عدد میں کوئی باقی نہیں اس لئے پہلے نبی کو لانا پڑا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ :
”چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہر حال۔ محمد ﷺ ہی نبی ہے نہ اور کوئی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ خزائن ٢١٢ ج ١٨ ؛ ضمیمہ حقیقت النبوت ص ٢٦٦)
مطلب یہ کہ میں آئینہ بن گیا ہوں محمد رسول اللہ کا اور مجھ میں تصویر اتر آئی ہے رسول کریم ﷺ کی۔ اس سے مہر نبوت نہ ٹوٹی۔ میں کہتا ہوں کہ یہ تمسخر ہے۔ خدا اور خدا کے رسول ﷺ کے ساتھ (یعنی مہر نہیں رہی اور مال میں سے مال چرا لیا گیا)
١٠
مرزا غلام احمد قادیانی خاتم کے یہ معنی کرتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ مہر ہیں اور آپ ﷺ کے منظور کرنے سے نبی بنتے ہیں۔
(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ خزائن ص ١٠٠ ج ٢٢)
چند شبہات کے جوابات
- (١)................. علمائے اسلام حنفیہ نے یہ لکھا ہے کہ اگر کسی کے کلمہ کفر میں ٩٩‘
احتمال کفر کے ہوں اور ایک (احتمال) اسلام کا ہو تو ننانوے احتمالات کو نظر انداز کر دیا جاوے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ صرف ایک ہی کلمہ کفر کسی کا پایا گیا ہو۔ حالات اس کے معلوم نہیں۔ تو اس وقت یہ صورت ہو گی‘ ورنہ اگر حالات معلوم ہوں اور وہ ٣٠ سال اگر عبادت کرتا رہے اور ایک کلمہ کفر کا کہے وہ کافر ہے۔
- (٢)................. تکفیر اہل قبلہ یہ مسئلہ مشہور ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔
پس اس کی مراد میں علماء نے تصریح کی ہے کہ اہل قبلہ سے مراد یہ ہے کہ وہ کل متواترات اور ضروریات دینی پر ایمان لایا ہو۔
(فتاویٰ عالمگیری کتاب السیر ص ٢٢٠ ردالمحتار ج ٣ ص ٣٢٤ شرح فقہ اکبر تحریر شیخ ابن ھمام ص ١٨٩)
- (٣)................. میں نے شروع بیان میں جو یہ کہا تھا کہ اجماع کا منکر کافر ہے اور
اجماع صحابہؓ حجت قطعی ہے۔ حافظ ابن تیمیہ کی کتاب اقامۃ الدلیل ص ١٣٠ ج ٣ پر ہے۔ واجب ہے اس اجماع صحابہؓ کا اتباع بلکہ وہ قوی تر حجت ہے اور مقدم ہے اور حجتوں پر۔ اسلام شناخت ہے مسلمانوں کی اور مسلمانوں کے اشخاص شناخت ہیں اسلام کی۔ (اگر اجماع کو درمیان میں سے اٹھا دیا جاوے تو دین ڈھے گیا۔)
صحیح بخاری ص ١٠٢٤ جلد ٢ میں ایک حدیث ہے : ”فان له اصحاب.............. ..............الخ . “ اس کی ذریت سے کہ ایک نسل آئے گی کہ ان کے روزے اور نماز کے سامنے تمہارے (یعنی صحابہؓ کے ) نماز اور روزے ہیچ ہوں گے۔ اس جھٹ (تیزی) سے نکل جائیں گے دین سے۔ جس طرح تیر نکل جاتا ہے شکار سے۔ ایک اور حدیث ہے کہ اگر میں نے پایا ان کو۔ تو جیسے عاد اور ثمود قتل کئے گئے میں بھی ان کو قتل کر دوں گا۔
١١
(٤).......... حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ گناہوں سے تکفیر نہ چاہئے۔ ان گناہوں سے مراد وہ ہیں جو کفر کی حد تک نہیں پہنچے اور جو کفر کے کلمے یا فعل ہیں۔ ان سے ہر طرح سے تکفیر کی جائے۔ ایسے گناہ مثلاً زنا‘ شراب خوری‘ ڈاکہ زنی‘ سے تکفیر نہیں کی جائے گی۔ اگر نماز کوئی شخص ترک کرے دانستہ وہ کافر نہیں فاسق ہے اور شدید عاصی ہے‘ اور اگر تاویل کر جائے نماز میں کہ نماز سے کچھ اور مراد ہے تو وہ کافر ہے قطعاً نماز کا اگر کوئی شخص اقرار کرتا ہے اور دانستہ نہ پڑھے تو کافر نہیں بلکہ فاسق ہے۔ اور اگر ایک دفعہ قبلہ سے روگردانی کر کے دوسری طرف دانستہ نماز پڑھ لے تو وہ کافر ہے۔ نماز کا تارک کافر نہیں ہے۔ فاسق ہے اور اگر بے وضو نماز پڑھے تو کافر ہے۔
اصل کافروں سے بدتر وہ کافر ہے جن کا رلاؤ (ملے جلے) ہو اسلام کے ساتھ جنم کے کافروں سے۔ کیونکہ اصل کافروں سے نفع جاتا ہے اور دوسروں سے پونجی جاتی ہے۔
شیطان کا کفر : کبھی کفر ایسا ہوتا ہے کہ نہ خدا کی تکذیب کی نہ پیغمبر کی تکذیب کی۔ پھر بھی کافر جیسے ابلیس نے نہ خدا کی تکذیب کی نہ آدم کی۔
کافر‘ منافق اور زندیق میں فرق
جو اقرار نہ کرے دین محمدی کا اس کو کافر کہتے ہیں۔ جسے اندر سے اعتقاد نہ ہو اسے منافق کہتے ہیں حکم اس کا بھی وہی ہے۔ بلکہ کافر سے اشد۔ جو زبان سے اقرار کرتا ہو لیکن دین کی حقیقت بدلتا ہو۔ اسے زندیق کہتے ہیں وہ پہلی دو قسموں سے زیادہ شدید کافر ہے۔
امام ابو حنیفہؒ سے بالاسناد احکام القرآن ص ٥٣ (منقول ہے) امام محمد فرماتے ہیں کہ : ” ومن انکر شیئاً من شرائع الاسلام فقد ابطل قول . لا الہ الا اللہ . السیر الکبیر ص ٢٦٥ ج ١٤ “ کہ جس نے انکار کیا کسی چیز کا اسلامی امور میں سے اس نے باطل کر دیا قول لا الہ الا اللہ کا۔
٢٧ اگست ١٩٢٣ء
تتمہ بیان سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ
اسلام کفر اور ارتداد کے معنی
اس وقت تک جو اجمالی طور پر کفر و ایمان کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ارتداد کے معنی یہ ہیں کہ دین اسلام سے ایک مسلمان کلمہ کفر کہہ کر اور ضروریات ومتواترات دین میں سے کسی چیز کا انکار کر کے (اسلام سے) خارج ہو جائے۔ اور ایمان یہ ہے کہ سرور عالم ﷺ جس چیز کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے لائے ہیں اور اس کا ثبوت بدیہیات اسلام سے ہے اور ہر مسلمان عام وخاص اس کو جانتے ہیں اس کی تصدیق کرنا۔ عبارت ذیل سے یہ دونوں مسئلہ ثابت ہیں۔
”هو الراجع عن دين الاسلام وركنها اجراء كلمة الكفر على للسان بعد الایمان و هو تصديق محمد ﷺ فى جميع ما جاء به عن الله تعالىٰ مما علم مجيئه ضرورة.“
(درمختار محشیہ شامی ج٣ ص٢٢١ باب المرتد)
مرتد وہ ہے جو پھر جائے دین اسلام سے اور حقیقت اس کی جاری کرنا کلمہ کفر کا زبان پر ایمان کے بعد۔ اور ایمان کیا چیز ہے تصدیق کرنا نبی کریم ﷺ کی سب ان چیزوں میں جو خدا کی طرف سے لائے۔ ثبوت ان کا بدیہی ہو گیا۔
دوسری عبارت بالفاظ ذیل : ”الایمان تصديق سيدنا محمدﷺ فى جميع ما جاء به من الدين ضرورة. الكفر تكذيب محمدﷺ مما جاء من الدين ضرورة ولا يكفر احد من اهل القبلة بجحود“
(صفحہ ٢٦٣ شرح الاشباہ والنظائر نول کشور)
ایمان تصدیق ہے۔ نبی کریم ﷺ کی جملہ ان امور میں کہ جو لائے اور ثابت ہوئے تواتر سے۔ کفر تکذیب ہے نبی کریم ﷺ کی کسی ایک چیز میں بھی جو دین میں بدیہتاً
١٣
ثابت ہو۔ کافر نہیں ہو گا کوئی اہل ایمان (اہل قبلہ) میں سے مگر جب انکار کرے کسی اس چیز کے (سے) جو چیز کہ ضروریات دین سے ہو۔ ﴾
ضروریات دین
" معنى التصديق قبول القلب‘ و اذعانه لما علم الضرورة انه من دين محمد ﷺ بحيث تعلمه العامة من غير افتقار الى نظر و استدلال كالو حدانية والنبوة والبعث الجزاء ووجوب الصلوة . "
ضروریات دین وہ ہیں کہ پہچانیں ان کو خواص و عوام کہ یہ دین سے ہیں۔ جیسے اعتقاد توحید کا رسالت کا اور پانچ نمازوں کا اور مثل ان کے اور چیزیں۔
(رد المحتار ص ٢٤٧ ج ١ باب الامامت)
مرزائی تاویلات کا رد
جو لوگ ضروریات دین کا انکار کر کے کافر ہو جاتے ہیں وہ عموماً اپنے کفر کو چھپانے کے لئے مختلف تاویلیں اور تدبیریں اختیار کرتے ہیں :
- (١)............ کبھی کہتے ہیں ہم اہل قبلہ ہیں اور اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔
- (٢)............ کبھی کہتے ہیں ہم تمام ارکان اسلام، نماز روزہ حج زکوٰۃ ادا کرتے ہیں
تبلیغ اسلام میں سرگرم کوششیں کرتے ہیں۔ ہمیں کیسے اسلام سے خارج کیا جاسکتا ہے ؟۔
- (٣)............ کبھی کہتے ہیں کہ بہ تصریح فقہائے (اسلام) اگر ایک شخص کے
کلام میں ٩٩ وجوہ کفر کی اور صرف ایک (وجہ) اسلام کی موجود ہو تو مفتی کا فرض ہے کہ اس ایک وجہ کو اختیار کر کے اس کو مسلمان کہے۔ کفر کا حکم نہ لگائے۔ پھر ہمیں کیسے خارج از اسلام کہا جاسکتا ہے ؟۔
- (٤)............ اور کبھی کہتے ہیں کہ بتصریح فقہا جو لوگ کوئی کلمہ کفر کسی تاویل
کی بنا پر کہیں۔ اس کو کافر کہنا جائز نہیں۔ ان چاروں شبہات کے جواب ترتیب وار یہ ہیں۔
١٤
پہلا شبہ : اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔ یہ بے علمی اور ناواقفیت پر مبنی ہے۔
چونکہ حسب تصریح و اتفاق علماء ’اہل قبلہ کے یہ معنی نہیں کہ جو قبلہ کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہے چاہے سارے عقائد اسلام کا انکار کرے۔ قرآن مجید میں منافقین کو عام کفار سے زیادہ بدتر کافر ٹھہرایا گیا ہے۔ حالانکہ وہ فقط قبلہ کی طرف منہ ہی نہیں کرتے تھے بلکہ تمام ظاہری احکام اسلام ادا کرتے تھے۔
قرآن مجید کا ارشاد ہے :”لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ . البقره آیت نمبر ١٧٧“
﴿نیکی کچھ یہی نہیں ہے کہ منہ کرو اپنا مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف۔ لیکن بڑی نیکی یہ ہے جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر۔﴾
اس مضمون کی تصریح کتب ذیل میں ہے :
”ثم اعلم ان المراد باهل القبلة الذين اتفقوا على ما هو من ضروریات الدین حدوث العالم و حشر الاجساد و علم الله تعالیٰ بالکلیات والجزئیات و ما اشبه من المسائل المهمات فمن و ظب طول عمره علی الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم او نفی الحشر نفی علمه سبحانه بالجزئیات لایکون من اهل القبله ۔“
(شرح فقہ اکبر بیان موجبات الکفر ص ١٢٣ مطبع احمدی)
جس کا مطلب یہ ہے کہ جان لو کہ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اتفاق کیا ضروریات دین پر جیسے حدوث عالم، حشر اجساد، علم اللہ تعالیٰ کا کل خبروں کے ساتھ اور جو اس کی مثالیں ہوں مسائل مہمہ میں سے۔ پس جس شخص نے مداومت کی ساری عمر اطاعت اور عبادت پر باوجود اعتقاد قدم عالم کے اور نفی حشر کے اور جزئیات مادیات کے ساتھ علم الٰہی کی نفی کی۔ وہ اہل قبلہ میں سے نہیں اور یہ جو مسئلہ کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز
١٥
نہیں ۔ اس کی مراد یہ ہے کہ کافر نہیں ہو گا جب تک کہ نشانی کفر کی اور علامتیں کفر کی اور کوئی چیزیں موجبات کفر میں سے نہ پائی گئی ہو۔
” والمراد ........................................ قطعاً ۔ “ مراد مبتدع سے وہ ہے جو اپنی بدعت رسوم سے کافر نہیں اور ایسے ہی گنہگار اہل قبلہ میں سے وہ شخص مراد ہے جو موافق ہو ضروریات دین کے جیسے حدوث عالم ۔ حشر اجساد ۔ سوائے اس کے کہ صادر ہو۔ اس سے کوئی چیز موجبات کفر کی۔
(تقریر شرح تحریر الاصول ص ٣١٨، ج ٣)
اس کتاب کے اسی صفحہ پر ہے :
” ثم .............................................................. الخ “
﴿کافر نہ کہنا کسی اہل قبلہ کو کسی گناہ سے تصریح کی ہے اس کی امام ابی حنیفہ نے فقہ اکبر میں فرمایا کہ ہم کافر نہیں کہتے کسی کو کسی گناہ سے اگر چہ وہ گناہ کبیرہ ہو۔ جب تک اس گناہ کو حلال نہ سمجھے جیسے کہ منتقیٰ حاکم شہید کی کتاب میں ہے ۔ ﴾
دوسرا شبہ : یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ تمام ارکان اسلام کے پابند اور تبلیغ اسلام میں کوشش کرنے والے ہیں ۔ پھر ان کو کیسے کافر کہا جائے ؟ ۔ اس کا جواب صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کتاب : ”استتابۃ المعاندین والمرتدین باب قتال الخوارج ، ص ١٠٢٦ ج ٢“ جس کو میں پہلے اپنے بیان میں کہہ چکا ہوں ۔
اس حدیث میں تصریح ہے کہ یہ قوم جس کے متعلق آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دین اسلام سے صاف نکل جائے گی اور ان کے قتل کرنے میں بڑا ثواب ہے ۔ یہ لوگ نماز روزے کے پابند ہوں گے بلکہ ظاہری خشوع و خضوع کی کیفیات بھی ایسی ہوں گی کہ ان کے نماز، روزے کے مقابلے میں مسلمان اپنے نماز ، روزے کو بھی ہیچ سمجھیں گے ۔ لیکن اس کے باوجود جب کہ بعض ضروریات دین کا انکار ان سے ثابت ہوا تو ان کی نماز روزہ ان کو حکم کفر سے نہ بچاسکے ۔
تیسرا شبہ : یہ کہا جاتا ہے کہ فقہا نے ایسے شخص کو مسلمان ہی کہا ہے جس کے
١٦
کلام میں ٩٩ وجہ کفر کی موجود ہوں اور صرف ایک وجہ اسلام کی ہو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا منشاء بھی یہی ہے کہ فقہاء کے بعض الفاظ دیکھ لئے گئے اور اسکے معنی سمجھنے کی کوشش نہ کی گئی اور نہ ان کے وہ اقوال دیکھے جس میں صراحتاً بیان کیا گیا کہ یہ حکم اپنے عموم پر نہیں ہے بلکہ اس وقت ہے جب کہ قائل کا صرف ایک کلمہ مفتی کے سامنے آوے اور قائل کا کوئی دوسرا حال معلوم نہ ہو اور نہ اس کے کلام میں ایسی تصریح ہو جس کا معنی کفریہ متعین ہو جائے۔ تو ایسی حالت میں مفتی کا فرض ہے کہ معاملہ تکفیر میں احتیاط برتے اور اگر کوئی خفیف سے خفیف احتمال نکل سکے، جس کی بنا پر یہ کلام کلمہ کفر سے بچ جائے تو اس احتمال کو اختیار کرے۔ اور اس شخص کو کافر نہ کہے لیکن ایک شخص کا یہی کلمہ کفر اس کی سینکڑوں تحریرات میں بعنوانات والفاظ مختلفہ موجود ہوں جس کو دیکھ کر یہ یقین ہو جائے کہ یہ شخص بھی یہی معنی کفریہ مراد لیتا ہے۔ یا خود اپنے کلام میں اس معنی کفریہ کی تصریح کر دے تو باجماع فقہاء ہرگز ہرگز اس کو مسلمان نہیں کہہ سکتے بلکہ قطعی طور پر ایسے شخص کے لئے کفر کا حکم لگایا جائے گا۔
”اذا كان فى المسئلة وجوه توجب الكفر و وجه واحد يمنع فعلى المفتى ان يميل الى ذلك الوجه الا اذا صرح بارادة توجب الكفر. فلا ينفعه التاويل حينئذ . كذافى البحر الرائق“
(فتاوی عالم گیری الباب التاسع احکام المرتدین قبیل باب البغاة ص ٣٢٠ ج ٢)
﴿ جب مسئلہ میں کئی وجہیں ہوں کہ واجب کریں کفر کو۔ اور ایک وجہ ہو کہ منع کرتی ہو کفر کو۔ لازم ہے مفتی کو، کہ دیکھے اس ایک وجہ کی طرف۔ مگر جب تصریح کی ایسی مراد کی جو کفر واجب کرے تو کوئی مانع نہ ہو دیگر تاویل اس وقت۔ ایسا ہی ہے البحر الرائق میں۔ ایسا ہی ہے خلاصہ بزازیہ میں۔﴾
چوتھا شبہ : یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی کلمہ کفر کسی تاویل کے ساتھ کہا جاوے۔ تو کفر کا حکم نہیں۔
١٧
اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں بھی وہی تصریحات فقہاء سے ناواقفیت کا اظہار ہے۔ حضرات فقہاء اور متکلمین کی تصریحات موجود ہیں کہ تاویل اس کلام اور اس چیز میں مانع تکفیر ہوتی ہے۔ جو ضروریات دین میں سے نہ ہو۔ لیکن ضروریات دین میں اگر کوئی تاویل کرے اور اجماعی عقیدہ کے خلاف کوئی نیا معنی تراشے تو بلاشبہ اس کو کافر کہا جائے گا۔ اسے قرآن مجید الحاد کہتا ہے۔ اور حدیث نے اس کا نام زندیق رکھا ہے۔ زندیق اسے کہتے ہیں جو مذہبی لٹریچر بدلے۔ الفاظ کی حقیقت بدل دے۔
محمد بن ابی بکرؓ حاکم مصر نے حضرت علیؓ کی خدمت میں لکھا کہ دو مسلمان زندیق ہو گئے ہیں۔ ادھر سے جواب دیا گیا اگر توبہ کر لیں تو قتل سے بچ گئے۔ نہیں تو گردن مار دو۔ روایت کیا اس کو امام شافعی اور بیہقی نے زندیق کا لفظ کنز العمال ص ٩٣ جلد ٣ سے لیا ہے۔ زندیق فارسی لفظ ہے جس کو عربی میں لیا گیا ہے۔ علماء کی کتابوں میں اس کا نام باطنیت آتا ہے۔ یہ تینوں چیزیں ایک ہی معنی رکھتی ہیں۔ کفر صریح ہیں۔ معانی الآثار کتاب الحدود‘ باب حد الخمر ص ٨٩ ج٣ میں ہے۔ امام طحاویؒ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت نقل کی ہے اہل شام کی ایک جماعت نے شراب پی اور آیت کریمہ : ”لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْا ، المائدہ آیت ٩٣“ کی تحریف کر کے شراب کو حلال قرار دیا۔ اس وقت یزید ابن ابی سفیان شام کے حاکم تھے۔ انہوں نے حضرت فاروق اعظمؓ کو یہ واقعہ لکھا۔ فاروق اعظمؓ نے جواب میں لکھا کہ ان لوگوں کو گرفتار کر کے میرے پاس بھیجئے۔ جب یہ لوگ حضرت فاروق اعظم ؓ کی خدمت میں پہنچے تو صحابہؓ اور تابعینؒ سے ان کے معاملہ میں مشورہ ہوا۔ سب نے یہ رائے دی کہ یا امیر المومنینؓ :
”تَرٰی اَنَّھُمْ قَدْ کَذَبُوْا عَلَی اللّٰہِ وَ شَرَعُوْا فِیْ دِیْنِھِمْ مَّا لَمْ یَاْذَنْ بِہٖ اللّٰہُ فَاضْرِبْ اَعْنَاقَھُمْ ۔“
﴿یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ پر افتراء کی ہے اور دین میں ایک ایسی بات جاری کی جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی، اس لئے ان کی گردنیں مار دیجئے۔ لوگوں نے یہ رائے دی۔﴾
١٨
مگر حضرت علیؓ ساکت رہے حضرت فاروق اعظمؓ نے پوچھا کہ آپ کیا فرماتے ہیں۔ فرمایا :
"ارىٰ ان تستتيبهم، فان تابوا ضربتهم ثمانين بشربهم الخمر و ان لم يتوبوا ضربت اعناقهم قد كذبوا على الله و شرعوا فى دينهم مالم ياذن به الله فاستتابہم فتابوا، فضربہم ثمانین ثمانین۔"
﴿ میں تو یہ کہتا ہوں کہ آپ ان سے کہیں کہ اس خیال سے توبہ کرو۔ اگر وہ توبہ کریں تو ہر ایک کو ٨٠، ٨٠ کوڑے لگائیں اور اگر توبہ نہ کریں تو ان کی گردنیں مار دی جائیں کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتے ہیں اور دین میں ایسی بات جاری کرتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی۔﴾
یہ واقعہ حافظ الدنیا ابن حجر عسقلانی نے شرح فتح الباری میں حوالہ مسند عبدالرزاق مصنف ابن ابی شیبہ نقل فرمایا ہے۔
(فتح الباری کتاب الحدود باب ضرب بالجرید والنعال پاره ٢٧ ص ٦٠ ج ١٢)
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شریعت کے کسی لفظ کو بحال رکھے اور اس کی حقیقت کو بدل دے اور مقابلہ ہو متواترات کا تو وہ کفر صریح ہے (ان لوگوں نے قرآن کی تکذیب نہ کی تھی بلکہ بے جا تاویل کی تھی جس پر قتل کا حکم کر دیا گیا۔)
وزیر محمد بن ابراہیم یمانی لکھتے ہیں :
" مثل كفر الزنادقة والملاحدة ،الى ان قال، و تلعبوا بجميع آيات كتاب الله عز و جل فى تاويلها جميعا بالبواطن التي لم يدل على شئى منها دلالة ولا امارة ولالہا فی عصر السلف الصالح اشارة ، وكذلك من بلغ مبلغهم من غيرهم فى تصفية آثار الشريعت وردالعلوم الضرورية التى نقلتها الامة خلفها عن سلفها۔"
(ایثار الحق علی الخلق ص ٤٢٥)
﴿ جیسے کفر زندیقوں اور ملحدوں کا کھیل اور تمسخر کیا انہوں نے قرآن مجید کی سب
١٩
آیتوں کے ساتھ اور تاویل کی ان آیتوں کی ان باطنی چیزوں کے ساتھ جس پر نہ لفظوں کی دلالت ہے۔ نہ نشان ہے۔ نہ سلف کے زمانہ میں کوئی اشارہ ہے اور اس طرح ان زندیقوں اور ملحدوں جیسے وہ لوگ بھی ہیں۔ جو ان ہی کی صفت کے ہوں اور شریعت کے نشان مٹانے میں اور بدیہی علوم کو رد کرنے میں جس کو پچھلی نسلوں نے اگلی نسلوں سے لیا ہے۔ ﴾
یہاں تک میرے بیان سے اصولی طور پر کفر اور ایمان کی شرعی حقیقت اور یہ بات واضح ہوچکی کہ ایک مسلمان کس قسم کے افعال یا اقوال کی وجہ سے کبھی کافر اور خارج از اسلام ہو جاتا ہے۔
کفر مرزا پر علماء کا فتویٰ
اس کے بعد میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ قادیانی مدعی نبوت نے کن ضروریات دین کا انکار کیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ باجماع امت کافر مرتد قرار دیئے گئے اور ہندوستان کے تمام اسلامی فرقے باوجود سخت اختلاف خیال اور اختلاف مشرب کے۔ ان کے کفر اور ارتداد پر نیز ان کے متبعین کے کفر اور ارتداد پر متفق ہوگئے۔
رسالہ القول الصحیح فی مکائد المسیح ص ١٥ مرتبہ مولوی سہول صاحب سابق مدرس دارالعلوم دیوبند‘ الحال پرنسپل کالج شمس الہدیٰ پٹنہ عظیم آباد نے ایک فتویٰ مرتب کیا ہے جس پر بہت سے علماء کے دستخط ہیں اور مولانا محمود حسن صاحب شیخ الہندؒ کے بھی اس پر دستخط ہیں۔ شیخ الہندؒ صاحب نے ایک دو سطریں ہی لکھی ہیں جو بالفاظ ذیل ہیں :
”مرزا علیہ ما یستحقہ کے عقائد و اقوال کا امور کفریہ ہونا۔ ایسا بدیہی مضمون ہے جس کا انکار کوئی منصف صاحب فہم نہیں کر سکتا۔ جس کی تفصیل جواب میں موجود ہے۔“
مصر کا فتویٰ بھی اس کے متعلق چھپا ہوا موجود ہے۔ شام کا بھی موجود ہے۔
شام کا مشہور رسالہ ”خلاصۃ الرد فی انتقاد مسیح الہند“ از قلم محمد ہاشم الرشید الخطیب الحسینی القادری ١٣٤٤ھ ہے۔ اس میں سے چند سطور کا مطلوب یہ ہے کہ تیسری
٢٠
کلام وہ جو کہ میں نے رسالہ کے ص ٣٦٢ پر نقل کی ہے : ”وہ شہادت دیتی ہے اور حکم کرتی ہے تجھ پر کہ تو کافر ہے۔ نہیں داخل ہوا تو دین اسلام میں اور ایسا ہی تیرا مسیح ہندی اور جو اس کا پیرو ہے۔“ آگے لکھتے ہیں : ”اسکندرانی اور دیگر سب جرائد نے تمہارے رد کا اعلان کیا ہے۔ مضامین لکھے ہیں۔ سارے مسلمان اس یقین پر ہیں کہ تم ملحد اور کافر ہو۔“
دوسرا فتویٰ علمائے ہندوستان کا ہے جو شائع شدہ ہے اور جس کا نام استکفاف المسلمین ہے جو سال ١٣٣٨ھ میں شائع ہوا۔ مصر کے فتویٰ کا ترجمہ جو انجمن تائید الاسلام گوجرانوالہ نے اپنے رسالہ ”کفر مرزا“ میں شائع کیا ہے کہ :
غلام احمد ہندی کی کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ مگر غلام احمد نے کہا کہ میرا مقصد ختم نبوت سے ختم کمالات نبوت ہے۔ جو سب سے افضل رسول اور انبیاء ہمارے نبی پر ختم ہوئے اور میرا عقیدہ ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی نہیں۔ بجز اس کے جو آپ کی امت میں ہو اور پوری طرح سے آپ کا پیرو ہو۔ جس نے سارا فیض آپ کی روحانیت سے پایا ہو اور آپ کی روشنی سے روشنی پائی ہو تو وہاں پر مغائرت اور غیریت کا مقام نہیں اور نہ کوئی دوسری نبوت ہے اور یہ کوئی حیرت کا مقام نہیں۔ وہ تو خود احمد ہی ہیں جو دوسرے آئینہ میں ظاہر ہوئے ہیں۔ کوئی شخص اپنی صورت کو جس کو اللہ تعالیٰ آئینہ میں دکھاتا اور ظاہر کرتا ہے۔ غیریت نہیں کرتا۔ پس جو شخص نبی سے ہو اور نبی کے اندر ہو تو وہ ہو بہو وہی ہے۔
یہ کلام اس باب میں بالکل صاف ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی آپ ﷺ کے بعد نبوت کے جواز کا عقیدہ رکھتا ہے۔ یعنی کہ نبی کریم ﷺ کے بعد وہ بھی نبی ‘ آپ ﷺ کے اتباع سے ہے اور وہ صورت نبی ﷺ سے ہے اور ہو بہو محمد ﷺ ہے۔ یہ صریح کفر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ٠ احزاب آیت ٤٠“ کے صریح مخالف ہے۔ یہ ان بہت سے دعووں میں سے ایک قلیل ہے جو کذب غلام احمد ہندی پر دلالت کرتے ہیں اور جن کو اس نے اپنی کتاب
٢١
میں (مواہب الرحمن ص ٦٩، ٧٠، خزائن ص ٢٧٨ ج ١٩) تحریر کیا ہے۔ ﴾ مغفور مصطفیٰ کامل پاشا رئیس حزب الوطن اور مالک اخبار اللواء نے بھی اس کا رد لکھا ہے۔ غلام احمد کو ضال اور مضل لکھا ہے اور اس کے اقوال کو دیوار پر پھینکنے اور نجاست کی طرح الاؤ پر ڈال دینے کے لئے کہا ہے۔
کاتب فتویٰ مفتی ملک مصر محمد نجیب اور علامہ طنطاوی جوہری ہیں۔ اصل فتویٰ میں نے دیکھا ہوا ہے۔ اس کا ترجمہ جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ درست ہے۔ یہ فتویٰ مصر میں علیحدہ شائع ہوا تھا اور میں محمد نجیب اور علامہ طنطاوی دونوں کو جانتا ہوں۔
رسالہ استکاف الاسلام میں مفتی بھوپال کے بھی دستخط اور مہر ہے۔ انہوں نے اس سوال نکاح کے متعلق بھی ایک فتویٰ دیا ہوا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا اگر استیعاب کیا جاوے تو بہت سے متواترات شرعیہ کا انکار اور خلاف شرع صریح طور پر اس کے کلام میں موجود ہے۔ جن میں سے اس وقت چند چیزیں پیش کی جاتی ہیں جو ہمارے نزدیک اور ساری امت کے نزدیک موجبات کفر سے ہیں :
- (١).......... ختم نبوت کا انکار اور اس کے اجماعی معنی کی تحریف۔
- (٢).......... نبوت کا دعویٰ اور اس کی تصریح کہ ایسی ہی نبوت مراد ہے۔ جیسے
پہلے انبیاء کی ہوتی رہی ہے۔
- (٣).......... وحی کا دعویٰ اور اپنی وحی کو قرآن کی طرح واجب الایمان قرار دینا۔
- (٤).......... عیسیٰ علیہ السلام کی توہین۔
- (٥).......... آنحضرت ﷺ کی توہین۔
- (٦).......... عام امت محمدیہ کی تکفیر کرنا۔ بجز اپنے چند مریدوں کے سب کو
دائرہ اسلام سے خارج کرنا۔ پچاس کروڑ مسلمانوں کو اولاد زنا قرار دینا۔ ان سب چیزوں کا دعویٰ کرنا۔ میں اپنے آخری بیان میں خود مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے پیش کروں گا۔ اس سے پہلے ہر ایک نمبر کے متعلق یہ بتلا دینا چاہتا ہوں کہ یہ (مرزا قادیانی کی)
٢٢
سب چیزیں متواترات اور ضروریات دین کے خلاف ہیں اور اجماعی کفر ہیں۔
ختم نبوت کا انکار : ختم نبوت کا انکار کفر ہے آیت : ”مَاكَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ...... الخ . “ خداوند کی مشیت میں یہ مقدر تھا کہ انبیاء کی عمارت کو نبی کریم ﷺ پر ختم کیا جاوے اور جتنے کمال ہیں وہ آپ ﷺ پر ختم ہو جائیں۔ اس کے بعد سلسلہ پیغمبری کا باقی رکھنا مشیت نہیں ہے۔ اسی مشیت کے ماتحت آپ ﷺ کی اولاد نرینہ باقی نہ رہی۔ اس مقصود سے فرمان ہے قرآن مجید کا کہ نبی کریم ﷺ کی ابوت کا علاقہ تا آخر کسی کے ساتھ نہیں۔ ابوت کا علاقہ کسی بالغ مرد کے ساتھ تا آخر نہیں ہے۔ اس کی جا (جگہ) میں خاتم الانبیاء کی رسالت ہے۔ آپ ﷺ کی رسالت کا علاقہ مستقبل کے لئے اور خاتم النبیین کا علاقہ ماضی کے لئے ہے۔ پہلی کتابوں میں بھی آپ ﷺ پر سلسلہ پیغمبر ختم کیا گیا اور تورات میں بالفاظ عربی یہ آیت ہے :
” فابی مقرنخ کا مورخ . یا قیم یخ . الا. وتسما یمون بنی من قربک نعما انيمك كمثلك لملك مقيم لك الهك اليه تسمعون . “
﴿ پیغمبر ایک‘ نبی ایک‘ تیرے قرابت داروں میں سے‘ تیرے بھائیوں میں سے‘ تجھ میں قائم کرے گا‘ تیرے لئے خدا تیرا۔ اس کی اطاعت کرنی ہوگی ۔﴾
انجیل میں بلفظ عبرانی یوں ہے :
” یحوہ مینائی و زادم مساعیر هو منع تو دباران . “
﴿خدا سینا سے آیا۔ طلوع اس کا ساعیر پر ہوا اور استوا اس کا فاران پر ہوا۔﴾
نبوت موسوی اور عیسوی اور محمدی ﷺ کی طرف اشارہ ہے۔ اور ان کو کمال پر پہنچا کر چھوڑ دیا ہے۔ یہ عبارتیں کتاب الملل والنحل میں موجود ہیں اور دونوں عبارتیں تورات کی ہیں۔
ختم نبوت کے متعلق یہ آیت ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ بایں معنی کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بعد کسی کو عہدہ نبوت نہ دیا جائے گا۔ بغیر کسی تاویل و تخصیص
٢٣
کے ان اجماعی عقائد میں سے ہے۔ جو اسلام کے اصولی عقائد میں سے سمجھا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آج تک نسلاً بعد نسلٍ ہر مسلمان جس کو اسلام سے کچھ بھی تعلق رہا ہے۔ اس پر ایمان رکھتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ قرآن مجید کی بہت سی آیات سے اور احادیث متواتر المعنی سے جس کا عدد دوسو سے بھی زیادہ ہے اور قطعی اجماع امت سے روز روشن کی طرح ثابت ہے۔ جس کا منکر قطعاً کافر مانا گیا ہے اور کوئی تاویل و تخصیص اس میں قبول نہیں کی گئی۔ منجملہ آیات کے اس وقت صرف ایک آیت پر اکتفاء کرتا ہوں :
”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ، احزاب آیت ٤٠“
اس آیت سے ختم کا ثبوت بایں معنی کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بعد کسی شخص کو عہدہ نبوت ہرگز نہ دیا جائے گا باجماع صحابہؓ تابعینؒ اور باتفاق مفسرینؒ ثابت ہے اور اس پر اجماع ہے جو شخص اس میں کسی قسم کی تاویل و تخصیص نکالے۔ وہ ضروریات دین میں تاویل کرنے کی وجہ سے منکر ضروریات دین سمجھا جائے گا۔ اس کے ثبوت کے لئے میں ائمہ تفسیر و حدیث کے اقوال بطریق اختصار پیش کرتا ہوں۔
حافظ ابن کثیر اس آیت کے تحت میں تحریر فرماتے ہیں :
”فهذه الاية نص فى انه لا نبى بعده و اذا كان لا نبى بعده فلا رسول بالطريق الاولى والاخرى لان مقام الرسالة اخص من مقام النبوة فان كل رسول نبى ولا ينعكس و بذلك وردت احاديث المتواترة عن رسول الله ﷺ من حديث جماعة من الصحابة . “
(ج٨ ص٧٩ طبع قدیم)
﴿یہ آیت نص (صریح ہے) اس میں کہ کوئی نبی نہیں ہے۔ بعد خاتم الانبیاء محمد ﷺ کے اور جب کوئی نبی نہیں ہے تو کوئی رسول بھی نہیں ہے۔ بطریق اولیٰ کیونکہ مقام رسالت کا خاص ہے مقام نبوت سے۔ ہر رسول نبی ہے اور ہر نبی رسول نہیں اور اس کے موافق وارد ہوئیں متواتر حدیثیں نبی کریم ﷺ سے ایک جماعت صحابہؓ کی روایت سے۔﴾
امام موصوف کے اس کلام سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ختم نبوت کو ثابت کرنے کی
٢٤
حدیثیں متواتر ہیں جن کا ایک بہت بڑا حصہ امام موصوف نے اس کے بعد نقل فرما کر فرمایا ہے :
” فمن رحمة الله تعالى بالعباد ارسال محمد ﷺ اليهم ثم من تشريفه لهم ختم الانبياء والمرسلين به واكمال الدين الحنيف له قد اخبر الله في كتابه و رسوله ﷺ في السنة المتواتره عنه انه لا نبي بعده ليعلموا ان كل من ادعى هذا المقام بعده فهو كذاب ۔ افاك ۔ دجال ۔ ضال ۔ مضل ولو تخرق و شعبد و اتى بانواع السحر و الطلاسم والنيرنجيات فكلها محال و ضلال عند اولى الالباب ۔ تفسیر ابن کثیر ص ٩١ ج ٨“
﴿ خدا کی رحمت ہے اپنے بندوں پر کہ اپنے رسول محمد ﷺ کو بھیجا۔ پھر خدا تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ختم نبوت اور رسالت سے مشرف فرمایا اور آپ ﷺ کا (پر) دین حنیف کامل کیا۔ خبر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سے اور اس کے رسول نے اس کو اپنی سنت متواترہ میں کہ کوئی نبی نہیں ہے۔ بعد محمد رسول اللہ ﷺ کے تاکہ جانے کہ جس نے دعویٰ کیا ہے۔ اس عہدہ کا بعد خاتم الانبیاء کے وہ جھوٹا ہے ‘ بہتان تراش ہے ‘ دجال ہے ‘ گمراہ ہے ‘ گمراہ کن ہے۔ اگرچہ کتنے حیلے اور شعبدے ایجاد کرے اور کتنے ساحرانہ طلسمات اور نیرنگیاں پیدا (ظاہر) کرے یہ سب محال اور گمراہیاں ہے۔ ﴾
اس آیت کی تفسیر میں شیخ محمود آلوسی ‘ مفتی بغداد تحریر فرماتے ہیں روح المعانی میں جو ان کی تفسیر ہے اس پر ہے :
” والمراد بكونه عليه الصلوة والسلام خاتمهم انقطاع حدوث و صف النبوة في احد من الثقلين بعد تحليه عليه الصلوة والسلام بها في هذه النشاة ولايقدح في ذلك ...... الى قول النبوة . “
(ص ٦٠ ج ٧ طبع قدیم)
﴿ مراد نبی کریم ﷺ کے خاتم ہونے کی یہ ہے کہ بعد نبی کریم ﷺ کے کوئی اور اس عہدہ سے سرفراز نہ ہو گا۔ یہ نہیں ہے ۔ قدح کرنے والا (معارض) اس اجماع میں ۔ جس میں امت نے اجماع کیا ہے اور حدیثیں تواتر کو پہنچ چکی ہیں اور قرآن مجید میں بھی یہ ہے بعض تفسیروں کی رو سے اور ایمان اس پر واجب ہے اور منکر اس کا کافر مانا گیا ہے۔ ﴾
٢٥
قاضی عیاض اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ :
”باب ما هومن الكفر اجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره و ان مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شك في كفر هولاء الطوائف كلها قطعاً اجماعيا و سمعا .“
(شفاء مطبوعہ بریلی ص ٣٦٢)
﴿اجماع کیا امت نے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پر ہے اور یہی مفہوم اس کی مراد ہے۔ اس کے سوا کسی تاویل اور تخصیص کے۔ تو کوئی شک نہیں ان سب طائفوں کے کفر اور الحاد میں ۔ (جو اوپر بیان ہوئے )﴾
از روئے اجماع کے اور از روئے نصوص کے۔ حدیث کے ذخیرہ میں سے میں صرف ایک حدیث پر اکتفا کرتا ہوں :
”كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وانه لا نبى بعدى و سيكون خلفاء فيكثرون قالوا فما تأمرنا فوا بيعة الاول فالاول اعطوهم حقهم . بخارى شريف كتاب احاديث الانبياء ص ٢٩١“
﴿نبی کریم ﷺ نے فرمایا ! بنی اسرائیل کی نگرانی (نگہبانی) انبیاء کرتے تھے۔ جب ایک پیغمبر فوت ہو جاتا تو دوسرا آجاتا تھا۔ میرے بعد میں کوئی نبی نہیں ہے۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ عرض کی گئی کہ پھر کیا ہدایت (حکم) ہے اس وقت ۔ فرمایا کہ وفاداری کرو۔ بیعت اول فی الاول کی (ہر ایک کے بعد کے دوسرے کی بیعت پوری کرو) عطا کرو ان کو حق ان کا کیونکہ حق تعالیٰ ان سے پوچھ لے گا۔ جو رعیت ان کی حوالگی (سپردگی) میں دی گئی تھی۔ ﴾
یہی حدیث امام مسلم نے کتاب الامارۃ میں دی ہے۔ اس کے بعد اجماع امت اور چند بزرگان ملت کے اقوال پیش کر کے اس بحث کو ختم کرتا ہوں۔
سب سے پہلا اجماع
اسلام میں سب سے پہلا جو اجماع منعقد ہوا وہ اس پر تھا کہ مدعی نبوت کو بغیر اس
٢٦
تحقیق اور تفتیش کے کہ اس کی تاویل کیا ہے اور کیسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے؟۔ کفر اور ارتداد ہے اور سزا اس کی قتل ہے۔ صحابہ کرام کے اجماع سے صدیق اکبر کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب مدعی نبوت پر جہاد کیا گیا اور اس کو قتل کیا گیا۔ عبارت اس حدیث کی بالفاظ ذیل ہے جو ایک صفحہ تک چلی جاتی ہے۔
ملا علی قاری فرماتے ہیں :
"مع نبینا ﷺ ای فی زمنہ کمسیلمۃ الکذاب والاسود العنسی او ادعی نبوت احد بعدہ فانہ خاتم النبیین بنص القرآن و الحدیث فھذا تکذیب اللہ و رسولہ ﷺ کالعیسویۃ ۔"
(شرح شفاء ص ٥٠٦ ج ٤)
﴿جس نے دعویٰ کیا نبی کریم ﷺ ہمارے کے بعد نبوت کا۔ جیسے مسیلمہ کذاب کے اور اسود عنسی کے یا بعد کے عیسوی فرقہ کے یا تجویز (جائز) کیا نبوت کا کسب ریاضت سے ان سب کا حکم کفر ہے۔ (بلاشبہ وہ کافر ہیں)﴾
خفاجی نے شرح شفاء میں اسی قسم کا مضمون لکھا ہے۔ جو کتاب مذکورہ بالا کے حاشیہ پر ہے۔
ابن حزم لکھتے ہیں :
"فکیف یستجیز مسلم ان یثبت بعدہ علیہ السلام نبیا فی الارض حاشا ما استثناہ رسول اللہ ﷺ فی الآثار المسندۃ الثابۃ فی نزول عیسی بن مریم علیہ السلام فی آخر الزمان ۔"
(کتاب الملل والنحل ص ١٨٠ ج ٤ باب ذکر العزائم الموجبۃ الی الکفر)
﴿کیسے جائز ہے کہ کوئی مسلمان ہو ثابت کرے نبی کریم ﷺ کے کوئی پیغمبر زمین میں سوائے اس کے استثناء کیا خود نبی کریم ﷺ نے متواتر حدیثوں میں۔ وہ کیا ہے۔ نزول حضرت عیسیٰ ابن مریم صاحب۔﴾
وہی مصنف ابن حزم اس کتاب کے ص ٢٤٩ ج ٣ پر لکھتے ہیں :
"او ان بعد محمد ﷺ نبیاً غیر عیسی ابن مریم فانہ لایختلف
٢٧
اثنان فى تكفيره لصحة قيام الحجة بكل هذا على كل احد . “ ﴿ یا یہ کہ بعد محمد ﷺ کے کوئی نبی ہو۔ سوائے حضرت عیسیٰ بن مریم کے۔ کیونکہ دو آدمیوں کا بھی اختلاف ایسے شخص کے کفر میں نہیں ہے۔ ﴾
یہاں تک تحقیق کے ساتھ یہ بات ثابت ہو گئی کہ ختم نبوت اپنے مشہور و معروف معنی کے ساتھ قرآن وحدیث کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اور اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے اس کا منکر یا تاویل و تحریف کرنے والا کافر ہے۔
دعویٰ نبوت : (٢)............. امر دوم (ب) کے متعلق کہ ادعاء نبوت کفر ہے۔ میں دلائل بیان کرتا ہوں اس امر کے ثابت کرنے کے لئے وہ تمام آیات واحادیث اور اقوال سلف کافی دلائل ہیں۔ مزید برآں چند عبارات اور پیش کی جاتی ہیں۔ ملا علی قاری کلمات کفر کی بحث میں فرماتے ہیں :
- - ” دعوى النبوة بعد نبينا ﷺ كفر بالاجماع . “
(کتاب شرح فقہ اکبر مطبوعہ گلزار محمدی لاہور ص ١٩١)
﴿ دعویٰ نبوت کرنا ہمارے نبی ﷺ کے بعد اجماعی کفر ہے۔ ﴾
”اذا لم يعرف الرجل ان محمدا ﷺ آخر الانبياء فليس بمسلم . كذا فى يتيم الدهر . “
(فتاویٰ عالم گیری باب ٩ ص ٢٦٣ کتاب السیر ج ٢)
﴿ جب نہ پہچانے (کوئی) شخص کہ نبی کریم ﷺ آخر انبیاء ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ اسی طرح یتیم الدھر میں ہے۔ ﴾
دعویٰ وحی : (٣)............. ادعاء وحی کفر ہے۔ اس کے تحت حسب ذیل دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔
وحی لازم نبوت ہے جو شخص اس کا دعویٰ کرے اگر چہ (بظاہر) نبوت کا مدعی نہ ہو۔ وہ در حقیقت نبوت ہی کا مدعی ہے اور کافر ہے۔ جیسا کہ بحوالہ شرح شفاء پہلے گزر چکا ہے جس کے بعض الفاظ یہ ہیں :
”وكذالك فمن ادعى منهم انه يوحى اليه و ان لم يدع ان النبوة الى ان قال فهولاء كلهم كفار مكذبون النبىﷺ ۔ “
جس نے دعویٰ کیا ان لوگوں میں سے کہ اس کی طرف وحی آتی ہے۔ کافر ہے۔ اگرچہ نبوت کا دعویٰ نہ کیا ہو۔
(نسیم الریاض شرح ملا علی قاری ص ٥٠٨ ج ٤)
کشف اسے کہتے ہیں کہ کوئی پیرایہ (واقعہ) آنکھوں سے دکھلایا۔ جس کی مراد کشف والا خود نکالے۔ دل میں کچھ مضمون ڈال دیا اور سمجھا دیا جاوے تو یہ الہام ہے۔
خدا نے پیغام بھیجا۔ اپنے ضابطہ کا۔ وہ وحی ہے۔ وحی قطعی ہے اور کشف والہام ظنی ہیں۔ بنی نوع آدم میں وحی پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہے۔ غیروں کے لئے کشف یا الہام۔ یہ تصوری (معنوی) وحی ہو سکتی ہے شرعی نہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
موجبات کفر قادیانی میں امر چہارم یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور امر پنجم آنحضرتﷺ کی توہین ہے۔ توہین دو قسم پر ہے۔ صریح، یا تعریض۔ تعریض اسے کہتے ہیں کہ دوسرے کے حوالہ سے نقل کی اور مقصود اس سے یہ ہو کہ اس شخص کے عیوب اور نقائص لوگوں میں قبول ہو جائیں۔ گویا کہ کام اپنا کرتا ہے کندھے پر دوسرے کے رکھ کر۔ یہ کفر صریح ہے مگر میں توہین کی صریح مثالیں پیش کروں گا۔
بعض توہینوں کو مستند کرتا ہے قرآن سے یعنی قرآن اس کی سند میں پیش کیا کرتا ہے اور تفسیر قرآن کی اس سے کی جاتی ہے اور کسی چیز کو کہتا ہے کہ حق بات یہ ہے کہ یعنی اس پر اپنا فیصلہ دیتا ہے۔ اب میں سندات پیش کرتا ہوں کہ توہین انبیاء علیہم السلام کفر ہے۔
یہ بات اول تو محتاج دلیل نہیں۔ بلکہ ہر مذہب پرست انسان کے نزدیک مسلمات میں ہے۔ تاہم چند مختصر دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔ یہ نص قرآن نبی کا کلام سن کر بطور اعراض سر پھیر دینا بھی کفر قرار دیا گیا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ۔
” وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَرَ
٢٩
اَيْتَهُمْ يَصُدُّوْنَ وَهُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ ، المنافقون آیت ٥“
﴿جب کہا جاتا ہے انہیں کہ آؤ۔ استغفار کریں تمہارے لئے رسول اللہ۔ پھیرتے ہیں اپنے سروں کو اور دیکھے گا۔ تو انہیں اعراض کرتے ہیں اور کبر کرتے ہیں۔﴾
اور محکم آیت کریمہ : ” لا نفرق بين احد من رسله . “ یہ حکم تمام انبیاء پر شامل ہے۔
اس لئے فتاویٰ کی مشہور کتاب پر ہے :
” الكافر بسب نبى من الانبياء فانه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقاً . “
(درمختار اور شامی (طبع جدید) باب المرتدین ص ٢٣١ ج ٤)
﴿جو شخص سب کرے یعنی برا بھلا کہے یا ناسزا کہے کسی نبی کو وہ قتل کیا جائے گا حد کے طور پر اس کی توبہ قبول نہیں ہے۔﴾
دنیا میں اور جو کوئی شک کرے اس کے کفر میں اور عذاب (سزا) میں وہ بھی کافر ہے۔ حافظ ابن تیمیہ حافظ حدیث کہتے ہیں :
” فعلم ان سب الرسل والطعن فيهم ينبوع جميع انواع الكفر و جماع جميع الضلالات وكل كفر فرع منه . “
(الصارم المسلول ص ٢٤٣)
﴿ جانا گیا سب (گالی) اور ناسزا کہنا پیغمبروں کو اور طعن کرنا سرچشمہ ہے۔ جمیع انواع کفر کا اور مجموعہ ہے جملہ گمراہیوں کا اور ہر کفر اس کی شاخ ہے۔﴾
قاضی عیاض کی شفاء ص ٣٢٠ میں اس بحث پر چند فصلیں لکھی گئی ہیں۔ جس میں ثابت کیا ہے کہ کسی نبی کی ادنیٰ توہین کرنا بھی کفر ہے۔ عبارت باب اول سے شروع ہو کر اخیر باب ثانی تک جاتی ہے۔ اسی کتاب پر توہین انبیاء کرنے والے کے قتل کے متعلق لکھا ہے :
” الدليل السادس . اقاويل الصحابه فانها نصوص فى تعيين قتله مثل قول عمر من سب الله تعالى او سب احداً من الانبياء فاقتلوا . “
(الصارم المسلول ص ٢٨٢)
﴿ چھٹی دلیل اقوال ہیں صحابہؓ کے۔ وہ نص ہیں تعین میں قتل کرنے اور ایسے
٣٠
شخص کے جیسے قول عمر فاروقؓ کا جس نے ناسزا کہا خدا یا کسی پیغمبر کو اُس کو قتل کر دو۔ ﴾
اس کتاب کے ص٢٧٥ پر ہے کہ :
”قال اصحابنا التعريض بسب الله وسب رسول الله ﷺ ردة وهو موجب للقتل كالتصريح . “
﴿ امام احمد فرماتے ہیں جس نے ناسزا کہا نبی کریم کو یا تنقیص کی، مسلمان ہو یہ شخص یا کافر ہو۔ سزا اس کی قتل ہے۔ کہا ہمارے علماء نے اشارہ کرنا یعنی تعریض کرنا خدا کی سب (گالی) کا اور رسول کی سب (گالی) کا۔ ارتداد ہے اور موجب قتل ہے۔ جیسے صریح۔ ﴾
تکفیر امت : ساری امت حاضرہ کی تکفیر کرنے والا بھی خود کافر ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت نے اپنے چند مریدوں کے سوا چالیس پچاس کروڑ مسلمانوں کو کافر قرار دیا ہے اور سب کو اولاد زنا کہا۔ یہ بھی منجملہ موجبات کفر کے ہے۔ مرتد کا حکم شرعی یہ ہے قرآن مجید میں ہر قسم کے کافروں کے متعلق یہ فیصلہ صاف مذکور ہے :
”لَاهُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَاهُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ، الممتحنه آیت ١٠“
” و يبطل منه اتفاقا ما يعتمد الملة وهى خمس النكاح ، الذبيحة والصيد والشهادة ، والارث . “
(درمختار اور شامی (طبع ثانی) ج ٤ باب المرتدین ص٢٤٩)
﴿ باطل ہے۔ بسبب ارتداد کے ہر وہ شی جس کی بناء ہو ملت پر۔ وہ پانچ چیزیں ہیں جو بناء ہیں ملت پر۔ نکاح، ذبیحہ، شکار، شہادت، اور ارث یعنی ارتداد سے یہ چیزیں منقطع ہو جائیں گی۔ ﴾
اسی کتاب کے جلد ثانی ”باب نکاح الکافر“ میں ہے
” و ارتداد احدهما اى الزوجين (فسخ ) فلا ينقض عددا (عاجل) بلا قضاء . “
﴿ ارتداد احد الزوجین کا یعنی مرد عورت میں سے ایک، فسخ (نکاح) ہے۔ فوری محتاج نہیں ہے حکم حاکم کا۔
٣١
توہین انبیاء : اب توہین انبیاء کے قول مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں سے نقل کئے جاتے ہیں :
داد آں جام را مرا بتمام
انبیاء گرچہ بودہ اندبسے
من بہ عرفان نہ کمترم زکسے
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین!
ہر کہ گوید دروغ ہست و لعین!
(نزول المسیح ص٩٩ خزائن ص٤٧٧ ج١٨)
باہمی فضیلت کا باب انبیاء میں فرق مراتب کا ہے اور جو پیغمبر افضل ہے وہ کسی قرینہ سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ دوسرے سے افضل ہے اور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت تک یہ پہنچایا ہے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ اس سے فوق متصور نہیں ایسی فضیلت دینا ایک پیغمبر کو اگرچہ واقعی ہو کہ جس میں دوسرے کی توہین لازم آتی ہو کفر صریح ہے۔
مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے :
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بہ منبرم!
(ازالہ اوہام ج١ ص١٥٩ خزائن ص١٨٠ ج٣)
قرآن مجید نے یہود اور نصاریٰ کے عقائد کی بیخ کنی کی ہے اور ایک حرف بھی موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کی ہتک کا اشارۃً یا کنایۃً ذکر نہیں فرمایا۔
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ یہ باتیں شاعرانہ نہیں۔ بلکہ واقعی ہیں اور یہ کہ :
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص٢٠ خزائن ص٢٣٠ ج١٨)
٣٢
پہلی عبارت کے ساتھ آگے یہ الفاظ ہیں کہ :
”اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید سے مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔“
”مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ خزائن ص ٢٨٩ ج ١١)
اس سے تعریض اور تصریح دونوں قسم کی توہین ظاہر ہوتی ہے۔
”عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ خزائن ص ٢٩٠ ج ١١)
اس سے صریح عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ٹپکتی ہے۔ حق بات کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے فیصلہ کے الفاظ ہیں۔
لفظ یسوع دراصل عبرانی میں ہے۔ ایشوع جس کا ترجمہ ہے نجات دہندہ۔ اس سے یسوع بنا اور اس کی تعریب ہو کر یعنی زبان عربی میں آکر لفظ عیسیٰ بنا اور یہ تعریب قرآن پاک سے شروع نہیں ہوئی۔ نزول قرآن سے پہلے عرب کے نصاریٰ عیسیٰ علیہ السلام کو عیسیٰ ہی بولتے تھے۔
مرزا قادیانی کے ہاں بھی یسوع اور عیسیٰ ایک ہی ذات ہیں۔ جیسے لکھتا ہے کہ :
”مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٣ خزائن ص ٥٢ ج ٣)
اس سے ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی کی ہی توہین کی۔ توہین کی ایک تیسری قسم لزومی ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ عبارت اس لئے نہیں لائی کہ تنقیص کرے لیکن وہ عبارت صادق نہیں آتی۔ جب تک تنقیص موجود نہ ہو۔
اس قسم کے تحت نبی کریم ﷺ کی تنقیص پائی جاتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے :
٣٣
”جناب رسول اللہ ﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار لکھی ہے۔“
(دیکھئے تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ خزائن ص ١٥٣ ج ١٧)
”اور اپنے معجزات کی دس لاکھ لکھی ہے۔“
(دیکھئے براہین احمدیہ ج ٥ ص ٥٦ خزائن ص ٧٢ ج ٢١)
اس ضمن میں ایک شعر بالفاظ ذیل ہے :
غسا القمران المشرقان اتنكر
(کتاب اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ص ١٨٣ ج ١٩)
﴿نبی کریم کے لئے گہن لگا چاند کو اور میرے لئے گہن لگا سورج اور چاند کو۔ کیا تجھے اے مخاطب اس سے کچھ انکار ہے۔﴾ یہ بھی توہین لزومی ہے۔
ادعاء نبوت : صریح وجہ کفر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے :
- (١)..........”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١ خزائن ص ٢٣١ ج ١٨)
- (٢)..........”اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور
تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ : ” هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ۔ “
(اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ص ١١٣ ج ١٩)
- (٣)..........”اور اگر کہو صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر
ایک مفتری۔ تو اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ص ٤٣٥ ج ١٧)
- (٤)..........”ہاں اگر یہی اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میں
٣٤
صرف یہی جواب نہیں دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں ۔ بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعوٰی ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھلائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھلائے ہوں ۔“
(تمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦ خزائن ص ٥٧٢ ج ٢٢)
- (٥)......... ”اب یہ ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا
ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔ (دشمن سے مراد یہ ہے کہ جو اسے نہ مانے)“
(انجام آتھم ص ٦٢ خزائن ص ٦٢ ج ١١)
- (٦)......... ”میں صرف پنجاب کے لئے ہی مبعوث نہیں ہوا ہوں بلکہ جہاں
تک دنیا کی آبادی ہے۔ ان سب کی اصلاح کے واسطے مامور ہوں۔“
(حاشیہ حقیقت الوحی ص ١٩٢ خزائن ص ٢٠٠ ج ٢٢)
- (٧)......... ”تم سمجھو کہ قادیان صرف اس لئے محفوظ رکھی گئی کہ خدا کا رسول
اور فرستادہ قادیان میں تھا۔“
(دافع البلاء ص ٥ خزائن ص ٢٢٦ ج ١٨)
- (٨)......... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے
اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے کا نام غلام احمد رکھا ۔“
(دافع البلاء ص ١٣ خزائن ص ٢٣٣ ج ١٨)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے متعلق ایک اور صریح عبارت ہے کہ : ”اور جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ وسوسہ شیطانی ہے کہ کہا جاوے کہ کیوں تم اپنے تئیں مسیح ابن مریم سے افضل قرار دیتے ہو۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٥ خزائن ١٥٩ ج ٢٢)
تکفیر امت : تکفیر امت حاضرہ کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے حسب ذیل اقوال ہیں :
٣٥
”ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اس لئے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر منکر ہی کو کہتے ہیں کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے اول یہ کہ ایک شخص اسلام ہی سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرا یہ کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٧٩ خزائن ص ١٨٥ ج ٢٢)
مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا ہے :
”تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المودة والمحبة و ينتفع من معارفها و يقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم وهم لا يقبلون . “
(آئینہ کمالات ص ٥٤٨ خزائن ص ٥٤٨ ج ٥)
﴿ میری کتابیں پھیل چکی ہیں۔ دیکھتا ہے ان کی طرف ہمہ (تمام) مسلمان محبت اور مودت کی آنکھ سے۔ نفع پاتا ہے ان کے معارف سے اور مجھے قبول کرتا ہے اور تصدیق کرتا ہے میرے دعویٰ کی۔ مگر نسل زانیہ عورتوں کی جن کے دل پر خدا نے مہر کر دی ہے وہ قبول نہیں کرتے۔ ﴾
وحی کا دعویٰ اور اس کو قرآن کے برابر ٹھہرانا
- (١)......... مرزا قادیانی کہتا ہے کہ : ” میں خدا تعالیٰ کی ٢٣ برس کی متواتر وحی کو
کیونکر رد کر سکتا ہوں میں اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٥٠ خزائن ص ١٥٤ ج ٢٢)
- (٢)......... ”مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اس
طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں
٣٦
قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٢١ خزائن ص ٢١١ ج ٢٢)
(٣).......... ”پھر اس کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے : ” محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم .“ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣ خزائن ص ٢٠٧ ج ١٨)
(٤).......... ”اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں۔ جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کے متواتر نشانیوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ وحی پاک میرے پر نازل ہوتی ہے۔ وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰؑ و حضرت عیسیٰؑ و حضرت محمد ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اسی طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللہ ہوں۔ مگر پیش گوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦ خزائن ص ٢١٠ ج ١٨ ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٤)
٢٨ اگست ١٩٣٢ء
تتمہ بیان سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ با اقرار صالح
میں آج حضرت صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ کا قول سب (گالی) نبی کے متعلق پیش کرتا ہوں۔ حرب کی ایک روایت امام ابن تیمیہ حافظ حدیث سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص فاروق اعظمؓ کے سامنے لایا گیا جس نے سب (گالی) کی تھی نبی کریم ﷺ کی۔ فاروق اعظمؓ نے اسے سزائے موت دی۔
(الصارم المسلول حافظ ابن تیمیہ ص ١٩٥، ص ١٩٥‘ ٤١٨ پر یہ واقعہ کتاب مذکورہ میں درج ہے)
فاروق اعظمؓ کا ارشاد ہے : ”ثم قال عمر من سب اللہ تعالیٰ و سب احدا من الانبیاء فاقتلوھم . “
٣٧
﴿جس نے ناسزا (برا بھلا) کہا خدا کو یا کسی پیغمبر کو اسے سزائے موت دی جائے۔﴾
صدیق اکبر کا حکم
کسی عورت نے سب کی ہوئی تھی نبی کریم ﷺ کی‘ نجران میں۔ وہاں کے حاکم مہاجر ابن امیہ نے اسے کوئی سزا دی ہوئی تھی۔ صدیق اکبرؓ کا حکم پہنچا کہ پہلے مجھے اطلاع ہوتی تو سب نبی کی یہ سزا نہیں۔ بلکہ اس کی سزا قتل ہے۔ لفظ صدیق اکبرؓ کے یہ ہیں :
”فلولا ما قد سبقتنی فیھا لا مرتک بقتلھا . لان حد الانبیاء لا یشبہ الحدود فمن تعاطی ذلک من مسلم فھو مرتد و معاھد فھو محارب غادر.“
﴿اگر تو پہلے کچھ نہ کر چکا ہوتا۔ میں امر کرتا اس عورت کے قتل کا۔ کیونکہ انبیاء کے سب کے حد اور حدوں کے مشابہ نہیں جو کوئی مسلمان ایسا کرے وہ مرتد ہے اور جو کوئی ذمی ایسا کرے وہ جنگ کرنے والا ہے۔ ہم سے اور غدر کرنے والا ہے۔﴾
یہ تین خلیفوں کے احکام ہیں۔ اس مسئلہ پر کل امت محمدیہ ﷺ کا اجماع بلا فصل ہے۔ حافظ ابن تیمیہ نے اس مسئلہ سب نبی پر ایک علیحدہ کتاب لکھی ہے جو ”الصارم المسلول“ کے نام سے موسوم ہے۔ دوسری کتاب السبت المسلول جو شیخ تقی الدین السبکی کی تصنیف شدہ ہے۔ دونوں آٹھویں صدی کے حافظ حدیث ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ :
”لیکن مسیحؑ کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰؑ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی یہ نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس پر عطر ملا تھا یا اپنے ہاتھوں یا سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے
٣٨
”مجھے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص ٤، خزائن ص ٢٢٠ ج ١٨)
ایک شعر مرزا غلام احمد قادیانی کا بالفاظ ذیل ہے :
ہر رسول نہاں با پیراہنم!
(کتاب نزول مسیح ص ١٠٠، خزائن ص ٤٧٨ ج ١٨)
علماء نے جب تورات اور انجیل محرف سے کوئی چیز بحرف نقل کی ہے۔ نتیجہ یہ نکالا ہے کہ یہ کتابیں تحریف شدہ ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نالائق تھے۔ (معاذ اللہ) علماء کے طریق میں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے طریق میں کفر و اسلام کا فرق ہے۔ جو عبارت حقیقت الوحی ص ٢٧٩، خزائن ص ٢٨٥ ج ٢٢ سے پڑھی گئی ہے۔ اس سے ثابت ہوا تھا کہ قادیانی اور مرزا غلام احمد قادیانی اپنے منکرین کو کافر کہتے ہیں۔ یہی مضمون ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے :
”اب دیکھو! خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا ہے اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“
(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ص ٤٣٥ ج ١٧)
”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا۔ یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں شان اعلیٰ رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہی سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(حاشیہ تریاق القلوب ص ٣٢٥، خزائن ص ٣٣٢ ج ١٥)
تریاق القلوب کی عبارت مذکورہ کو پہلی عبارتوں کے ساتھ جمع کرنے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی فقط نبوت ہی کے مدعی نہیں ہیں بلکہ شریعت جدیدہ کے بھی مدعی ہیں۔ جیسا کہ اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ص ٤٣٢ ج ١٥ کی عبارت سے بھی یہ بات پہلے معلوم ہوچکی ہے۔
٣٩
اصول یہ باندھا کہ جو صاحب شریعت ہو۔ اس کا انکار کفر ہے۔ پھر ساری امت حاضرہ کو جو منکر ہو۔ اس کو کافر کہا۔ تو گویا دعویٰ شریعت جدیدہ کا کیا۔ پھر اس پر بس نہیں کی۔ تصریح کر دی کہ شریعت امر و نہی کا نام ہے۔ امر جیسا میری وحی میں موجود ہے لیکن محض مسلمانوں کو مغالطہ دینے کے لئے چند الفاظ ظلی، بروزی وغیرہ گھڑے ہوئے ہیں۔ جس کی آڑ میں دین کی تحریف کرتے ہیں۔ اس لئے میں ان الفاظ کی حقیقت خود مرزا غلام احمد قادیانی کے کلام سے واضح کر دینا چاہتا ہوں۔
بروزی ، ظلی ، مجازی نبوت کی اصلیت
خود مرزا غلام احمد قادیانی کا کلام ہے اس کے الفاظ یہ ہیں :
”غرض جیسا کہ صوفیوں کے نزدیک مانا گیا ہے کہ مراتب وجودیہ دوریہ ہیں۔ اسی طرح ابراہیم علیہ السلام نے اپنی خو ، طبیعت اور دلی مشابہت کے لحاظ سے قریباً اڑھائی ہزار برس اپنی وفات کے بعد پھر عبداللہ پسر عبدالمطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمد کے نام سے پکارا گیا۔“
(تریاق القلوب حاشیہ ص ١٥٧ خزائن ص ٤٧٧ ج ١٥)
یہ ہے حقیقت مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک بروزی ، ظلی اور مجازی کی۔ دوسرے جنم کا عقیدہ اسلام میں کفر ہے اور یہ ہندوؤں کا عقیدہ ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا قول اس طرح مذکور ہے :
”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے ہیں۔ وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سب سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم ﷺ سے ظلی طور پر ہم کو عطا کئے گئے ............ پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریم ﷺ کے خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم ﷺ کے ظل ہیں۔“
(کتاب قول فیصل ص ٢٦ حوالہ اخبار الحکم ٢٤ اپریل ١٩٠٣ء ، ملفوظات احمد ج ٤ ص ١٤٢ مرتبہ منظور الٰہی)
ان عبارات سے نتائج ذیل برآمد ہوتے ہیں :
(الف)........... ”مرزا غلام احمد قادیانی نے جو اپنے کو ظلی اور بروزی نبی کہہ کر
دنیا کو یہ دھوکا دینا چاہا ہے کہ اس کی نبوت، نبوت محمدیہ : ” علی صاحبہا الصلواۃ والتحیۃ . “ سے علیحدہ کوئی چیز نہیں اور اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی۔ یہ بالکل لغو اور بے ہودہ خیال ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو مرزا غلام احمد قادیانی کے اس قول مذکور سے یہ لازم آتا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ معاذ اللہ کوئی چیز نہیں تھے۔ بلکہ آپ ﷺ کا تشریف لانا بعینہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تشریف لانا ہے۔ گویا کہ ابراہیم علیہ السلام کے یہ دور ہیں۔
گویا اصل ابراہیم علیہ السلام ہوئے اور آئینہ رسول ﷺ ہوئے اور چونکہ ظل اور صاحب ظل میں مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک عینیت ہے اور اس وجہ سے وہ اپنے کو عین محمد ﷺ کہتے ہیں تو جب محمد ﷺ بروز ابراہیم علیہ السلام ہوئے تو عین ابراہیم علیہ السلام ہوئے۔ اس سے صاف لازم آتا ہے کہ معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی وجود بالاستقلال نہیں اور نہ آپ ﷺ کی نبوت کوئی مستقل شے ہے۔“
(ب)......... ”رسول اللہ ﷺ ابراہیم علیہ السلام کے بروز ہوئے اور خاتم النبیین آپ ہوئے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ خاتم بروز اور ظل ہوتا ہے۔ صاحب ظل اور اصل نہیں ہوتا۔ اس طرح مرزا غلام احمد قادیانی، آنحضرت ﷺ کے بروز ہوا۔ تو خاتم النبیین مرزا غلام احمد قادیانی ہوا نہ کہ آنحضرت ﷺ۔“
(ج)......... ”الحکم کی عبارت مذکورہ سے یہ ثابت ہوا کہ جملہ انبیاء سابقین رسول اللہ ﷺ کے ایک ایک صفت میں ظل ہیں اور تمام کمالات رسالت رسول کریم ﷺ میں پائے جاتے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بروز ہوئے تو جملہ کمالات نبوۃ اگر مجتمع ہوں گے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام میں نہ کہ آنحضرت ﷺ میں۔ یہ باطل اور بے معنی ہیں۔ یہ صریح توہین ہے سرور عالم ﷺ کی۔ اس کے علاوہ یہ مضمون بھی فی نفسہ کہ آنحضرت ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بروز ہیں اور ابراہیم علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے بروز ہوں۔ بے معنی اور فضول ہے۔ (جو کھلا ہوا دور ہے)“
ظل، بروز، تناسخ : اس کے بعد میں ظل اور بروز کی اصطلاح (تحقیق) فلسفہ
سے ذکر کرتا ہوں فلسفہ یونانی میں بروز اسے کہا ہے کہ ایک روح دوسرے ذی روح میں حلول کرے یعنی ایک بدن میں دو روحیں ہو جائیں تناسخ اسے کہتے ہیں کہ روح ڈھانچے بدلتی رہے۔
نسخ: ........... اسے کہتے ہیں کہ ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو۔ رسخ: ........... اسے کہتے ہیں کہ ایک حیوان نباتات میں تبدیل ہو۔ مسخ: ........... اسے کہتے ہیں کہ حیوان جماد بن جائے۔ یہ پانچوں اصطلاحیں آسمانی دینوں میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔
غلام احمد قادیانی کا اقرار ختم نبوت
"و ما كان لی ان ادعى النبوة و اخرج من الاسلام والحق بقوم الكافرين . "
(حمامة البشری ص ٧٩ خزائن ص ٢٩٧ ج ٧)
کہ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے نکل جاؤں اور قوم کافرین سے مل جاؤں۔
(منقول از ضمیمہ النبوة فی الاسلام ص ٥٩)
"مسیح کیونکر آسکتا ہے۔ وہ رسول تھا اور خاتم النبیین کی دیوار اس کو آنے سے روکتی ہے۔"
(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٧٦ خزائن ص ٣٨٠ ج ٣)
لکھتا ہے کہ : "یہ ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبریل کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے۔ ایک نئی کتاب اللہ جو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو۔ پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو۔ وہ محال ہوتا ہے۔ فتدبر۔"
(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٤٣١ خزائن ص ٤٣١ ج ٣)
لکھتا ہے : "قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا کیونکہ رسول کو علم وحی بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی
٤٢
رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔ “
(ازالہ اوہام ص ٣١٠ ج ٢ خزائن ص ٥١١ ج ٣)
یہ مضمون اختلاف بیان مرزا غلام احمد قادیانی میں پیش کیا گیا ہے۔ جو انہوں نے ابتداء ہی سے زندقہ اور الحاد کا ارادہ کیا ہوا تھا۔
مسلمانوں کا عقیدہ ختم نبوت کے متعلق
آیت کریمہ : ”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا ٠ احزاب آیت ٤٠“ یہ آیت اس واسطے آئی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نسل نرینہ چھوڑنا ہماری مشیت میں مقدر نہیں ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کے بعد میں تا آخر دنیا نبوت کی اسامی آپ ﷺ کے وجود ذی جود سے پر ہے۔ آپ ﷺ مستقبل کے لئے تا آخر دنیا رسول ہیں اور جملہ انبیاء سابقین کے خاتم ہیں۔ نسبی سلسلہ کے بدلہ میں اس نبوی سلسلہ کو عوض میں رکھ لو۔
اس عقیدہ کے موافق کوئی دو سو حدیث نبی کریم ﷺ سے وارد ہوئیں اور رسالہ (ختم نبوت کامل) مفتی حال دیوبند (مولانا) محمد شفیع کی طرف سے شائع ہو چکا ہے اور اس عقیدہ پر اجماع رہا ہے۔ امت محمدیہ ﷺ کا۔ ابتداء سے لے کر آج تک بلافصل۔
اور جیسے قرآن امت کو پہنچا ہے اسی طرح یہ عقیدہ بھی پہنچا ہے اور جب سے لے کر اب تک اس کا بھی اجماع ہوا ہے کہ اس آیت میں کوئی تاویل نہیں ہے اور اس عقیدہ میں کوئی فرق نہیں۔ خلفاء اور سلاطین اسلام نے جب سے لے کر اب تک مدعیان نبوۃ کو سزائے موت دی اور انہیں کافر و مرتد سمجھا اصلی کافر کے وجود کو برداشت کیا اور ایسے مرتد کے وجود کو برداشت نہیں کیا اور خود مرزا غلام احمد قادیانی کا جب تک مسلم تھے یہی عقیدہ رہا ہے۔
نبوت ایک صفت اصلی قائم ہے۔ نبی کی ذات کے ساتھ نہ وہ کسب سے حاصل ہو اور نہ وہ کبھی سلب ہو یہ عقیدہ یہود کا ہے کہ نبوت سلب بھی ہو سکتی ہے۔
اگر نبوت کسبی ہو تو سلب بھی ہو سکتی ہو گی۔ یہ عقیدہ اسلام کا نہیں۔ ولایت ایسی
٤٣
چیز ہے کہ کسب سے حاصل ہو اور زائل بھی ہو جائے۔ یہ صفت نبوت جو نبی کی ذات کے ساتھ قائم و دائم باقی ہے۔ احکام شرعیہ کی تبلیغ اس کے وقتی ثمرات میں سے ہے اور توابع میں سے ہے۔
کسی محدود وقت میں اگر نبی نے ضروری احکام نہ پہنچائے تو وہ نبی بذات خود نبی برحق ہے۔ صفت نبوت جو اس کی ذات کے ساتھ قائم تھی کسی طرح زائل نہیں ہوتی۔ تبلیغ ایک کارگزاری تھی۔ پیغمبر کی کہ حاجت پر دائر ہو گی۔ عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا بعینہ ایسا ہے کہ جیسا گزشتہ زمانہ میں یعقوب علیہ السلام مصر چلے گئے تھے اور وہاں بطور رعایت کچھ دن گزارے۔
نبوت و ولایت : صوفیائے کرام نے نبوت کو بمعنی لغوی لے کر منقسم بنایا اور اس کی تفسیر خدا سے اطلاع پانا دوسرے کو اطلاع دینا کی، اور اس کے نیچے انبیاء اور اولیاء کرام دونوں کو داخل کیا اور نبوت کو دو قسم کر دیا۔ نبوت شرعی اور نبوت غیر شرعی۔
نبوت شرعی کے نیچے انبیاء اور رسل دونوں درج کر دیئے اور اب ان کے لئے نبوت غیر شرعی اولیاء کے کشف اور الہام کے لئے نکھر گئی اور مخصوص ہو گئی۔ صوفیائے کرام کی تصریح ہے کہ کشف کے ذریعے سے مستحب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ صرف اسرار و معارف مکاشف اس کا دائرہ ہیں۔ اگر کوئی دعویٰ کرے کہ مجھ پر مستحب کا حکم آیا ہے پس یہ اگر پہلے سے شریعت محمدیہ ﷺ میں موجود ہے تو سنت اور اگر موجود نہیں ہے اور پھر وہ دعویٰ کرتا ہے اضافہ کا تو گردن زدنی ہے اور یہ تصریح فرماتے ہیں کہ ہمارا کشف دوسرے پر حجت نہیں۔ ہمارا کشف ہمارے لئے ہے۔
کتاب الیواقیت والجواہر کے ص ٢٧٩ پر حسب ذیل الفاظ ہیں :
” فقد بان لك ..................................................... الخ . “
” پس روشن ہو گیا تیرے لئے کہ دروازے اوامر شرعیہ کے اور نواہی کے بند کر دیئے گئے ۔ جس نے دعویٰ کیا امر و نہی کا بعد محمد ﷺ کے پس وہ مدعی شریعت کا (ہے) جو
٤٤
اس کی طرف بھیجی گئی۔ برابر ہے کہ وہ موافق ہو امر شریعت کے یا مخالف ہو۔ پس اگر ہے عاقل بالغ یہ مدعی اتاریں گے ہم اس کی گردن‘ اور اگر عاقل بالغ نہیں ہے اس سے اعراض کریں گے۔“
شطحیات : صوفیاء کے ہاں ایک باب ہے جس کو شطحیات کہتے ہیں اور خود فتوحات میں اس کا باب ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ان پر حالات گزرتے ہیں اور ان حالات میں کوئی کلمات ان کے منہ سے نکل جاتے ہیں جو ہمارے ظاہر قواعد پر چسپاں نہیں ہوتے اور بسا (اوقات) غلط راستہ لینے کا سبب ہو جاتے ہیں۔ صوفیاء کی تصریح ہے کہ ان پر عمل پیرا نہ ہو اور تصریح کرتے ہیں کہ جن پر یہ احوال نہ گزرے ہوں ۔ وہ ہماری کتابوں کا مطالعہ نہ کرے۔ مجملاً ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص جو کسی حال کا مالک ہوتا ہے۔ دوسرا خالی آدمی ضرور اس سے الجھ جائے گا لیکن دین میں کسی زیادتی۔ کمی کے صوفیاء میں سے کوئی بھی قائل نہیں اور ایسے مدعی کو کافر بالاتفاق کہتے ہیں۔ ہم نے اولیاء اللہ قدس اللہ اسرار ہم کو ان کی طہارت تقویٰ اور تقدس کی خبریں سن کر اور ان کے شواہد افعال‘ اعمال اور اخلاق سے تائید پا کر ولی مقبول تسلیم کر لیا ہے۔ ان قرائن اور نشانیوں سے جو خارج مبحوث عنہ سے ہوں۔ یعنی انہی شطحیات سے ان کی ولایت ثابت نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ ولایت ان کی خارج سے پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے جو طریقہ ثبوت کا ہے۔ اس کے بعد ہم نے کسی کی ولایت تسلیم کی اور ہم اس تسلیم میں صواب پر تھے تو اس کے بعد اگر کوئی کلمہ مغائر یا موہم ہمارے سامنے پڑھتا ہے تو ہم اس کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی توجیہ کریں اور محمل نکالیں کہ ٹھکانہ اس کا کیا ہے۔ شطحیات کو ہی پہلے پیش کرنا اور اس پر ولایت کا جمگھٹا جمانا‘ نا فہم اور جاہل کا کام ہے۔ کسی شخص کی راست بازی اگر جداگانہ تجارب سے اور جو طریقہ راست بازی ثابت کرنے کا ہے۔ ثابت ہوئی ہو تو پھر اگر کہیں‘ کوئی کلمہ موہم اور مغالطہ میں ڈالنے والا اس کا سامنے آگیا۔ تو منصف طبیعتوں کے ذہن اس کی توضیح کریں گے اور محمل نکالیں گے۔
یہ عاقل کا کام نہیں ہے کہ راست بازی کسی کی ثابت ہونے سے پیشتر وہی کلمات
٤٥
مغالطہ پیش کر کے مسلم الثبوت مقبولوں پر قیاس کرے اور کہے کہ فلاں نے ایسا کیا فلاں نے ایسا کیا۔ اس کا جواب مختصر یہ ہو گا کہ فلاں کی راست بازی جداگانہ اگر ہمیں کسی طریقہ اور دلیل سے معلوم ہے تو ہم محتاج توجیہ ہوں گے اور اگر زیر بحث یہی کلمات ہیں اور اس سے پیشتر کچھ سامان خیر کا ہے ہی نہیں۔ تو ہم یہ کھوٹی پونجی اس کے منہ پر ماریں گے۔
خلاصہ بیان: میرے کل بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی مدعی نبوت حسب تصریحات قرآن و حدیث اور باجماع امت کافر مرتد ہے اور جو شخص ان کے عقائد باطلہ اور دعویٰ نبوت و وحی پر مطلع ہونے کے باوجود ان کو کافر نہ سمجھے ان کی نبوت کو تسلیم کرے یا مسیح موعود کہے۔ وہ بھی اسی کے حکم میں ہے۔
اور حکم یہ ہے کہ ان کا نکاح کسی مسلمان مرد عورت کے ساتھ جائز نہیں۔ اور اگر بعد نکاح کے کوئی شخص ایسا عقیدہ اختیار کرے تو فوراً نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ قضاء قاضی اور عدت کی بھی ضرورت نہیں رہتی اور اس کے بعد اگر زن و شوہر کے تعلقات باقی رکھے گئے تو جو اولاد ہو گی وہ اولاد ثابت النسب نہ ہو گی یعنی وہ حرام کی ہو گی جیسا کہ شامی کے حوالہ سے اوپر بیان کیا جا چکا ہے اور موجبات کفر مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین کے لئے میرے بیان میں چھ وجوہ آئے ہیں۔
- اول : ........... ختم نبوت کا انکار اور اس کے اجماعی معنی کی تحریف اور جس مذہب
میں سلسلہ نبوت منقطع ہو۔ اس کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دینا۔
- دوم : ........... دعویٰ نبوۃ مطلقہ اور تشریعیہ۔
- سوم : ........... دعویٰ وحی اور ایسی وحی کو قرآن کے برابر قرار دینا۔
- چہارم : ........... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین۔
- پنجم : ........... آنحضرت ﷺ کی توہین۔
- ششم : ........... ساری امت محمدیہ ﷺ کو بجز اپنے متبعین کے کافر کہنا یہ
اصول ہیں۔ جن کے تحت میں اور بھی ایسے فروع موجود ہیں جو منشا موجبات کفر ہو سکتے ہیں۔
٤٦
مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کو دیکھنے والے پر یہ بات پوری طرح روشن ہو جاتی ہے کہ ان کی ساری تصانیف میں صرف چند ہی مسائل کا تکرار اور دور ہے۔ ایک مسئلہ اور ایک ہی مضمون کو بیسیوں کتابوں میں مختلف عنوانوں سے ذکر کیا ہے اور پھر سب اقوال میں اس قدر تہافت اور تعارض پایا جاتا ہے۔
خود مرزا غلام احمد قادیانی کو ایسی پریشان خیالی ہے اور بالقصد ایسی روش اختیار کی ہے ۔ جس سے نتیجہ گڑبڑ رہے اور ان کو بوقت ضرورت کے مخلص اور مفر باقی رہے۔ یہی ذکر میں آیا ہے کہ زنادقوں نے ہمیشہ یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ کہیں ختم نبوت کے عقیدہ کو اپنے مشہور اور اجماعی معنی کے ساتھ قطعی اور اجماعی عقیدہ کہتے ہیں اور کہیں پر ایسا عقیدہ بتلانے والے مذہب کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دیتے ہیں۔ کہیں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو تمام امت محمدیہ ﷺ کے عقیدہ کے موافق متواترات دین میں داخل کرتے ہیں اور اس پر اجماع ہونا نقل کرتے ہیں اور کہیں اس عقیدہ کو مشرکانہ عقیدہ بتلاتے ہیں۔ ان کا سبب پورے غور کرنے سے دو چیزیں معلوم ہوتی ہیں۔
اول یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی چونکہ مادر زاد کافر نہ تھے۔ ابتداء ان کی تمام اسلامی عقائد پر نشو و نما ہوئی (اس لئے) انہی کے پابند تھے اور وہی لکھے۔ پھر تدریجاً ان سے الگ ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ آخری اقوال میں بہت سی ضروریات دین کے قطعاً مخالف ہو گئے۔
دوسرے یہ کہ انہوں نے باطل اور جھوٹے دعوؤں کے رواج دینے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی کہ اسلامی عقائد کے الفاظ وہی قائم رکھے۔ جو قرآن اور حدیث میں مذکور ہیں۔ عام و خواص مسلمانوں کی زبانوں پر جاری ہیں لیکن ان کے حقائق کو ایسا بدل دیا جس سے بالکل ان عقائد کا انکار ہو گیا جس کے متعلق پہلے بیان میں آچکا ہے کہ ایسا کرنا کفر صریح ہے۔ اور اس قسم کے کفر کا نام قرآن مجید نے الحاد رکھا ہے۔ اور حدیث نے زندقہ اور عام محققین نے باطنیت کے نام سے اس کو پکارا ہے۔ اس لئے اب قادیانی صاحب کی کتابوں سے ایسے اقوال پیش کرنا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بعض عقائد میں عام اہل سنت والجماعت کے ساتھ شریک ہیں۔ ان کے اقوال وافعال کفریہ کا کفارہ نہیں بن سکتے۔ جب تک اس کی تصریح نہ ہو
٤٧
کہ ان عقائد کی مراد بھی وہی ہے جو جمہور امت نے سمجھی اور پھر اس کی تصریح نہ ہو کہ جو عقائد کفریہ انہوں نے اختیار کئے تھے ان سے توبہ کر چکے ہیں اور جب تک توبہ کی تصریح نہ ہو چند عقائد اسلام کے الفاظ کتابوں میں لکھ کر کفر سے نہیں بچ سکتے کیونکہ زندیق اس کو کہا جاتا ہے جو عقائد اسلام ظاہر کرے اور قرآن و حدیث کے اتباع کا دعویٰ کرے لیکن ان کی ایسی تاویل و تحریف کرے جس سے ان کے حقائق بدل جائیں اس لئے جب تک اس کی تصریح نہ دکھائی جائے کہ قادیانی صاحب ختم نبوت اور انقطاع وحی کا اس معنی کے اعتبار سے قائل ہے جس معنی سے صحابہ و تابعین اور تمام امت محمدیہ قائل ہے۔ اس وقت تک ان کی کسی ایسی عبارت کا مقابلہ میں پیش کرنا مفید نہیں ہو سکتا۔ جس میں خاتم النبیین کے الفاظ کا اقرار کیا ہو۔ اسی طرح حشر اجساد۔ نزول مسیح وغیرہ عقائد کے الفاظ کا اقرار کر لینا یا لکھ دینا بغیر تصریح مذکور کے ہرگز مفید نہیں ہو گا۔ خواہ وہ عبارت تصنیف میں مقدم ہو یا مؤخر۔ اسی طرح مسئلہ توہین ہے کہ جب ایک جگہ توہین کے کلمات ثابت ہو گئے۔ تو اگر ہزار جگہ کلمات مدحیہ لکھے ہوں اور ثناء خوانی بھی کی ہو۔ تو وہ اس کو اس کے کفر سے نجات نہیں دلا سکتے۔ جیسا کہ تمام دنیا اور دین کے قواعد مسلم اس پر شاہد ہیں کہ اگر ایک شخص تمام عمر کسی کی اتباع اور اطاعت گزاری اور مدح و ثناء کرتا رہے لیکن کبھی کبھی اس کی سخت ترین توہین بھی کی۔ تو کوئی انسان اس کو مطیع اور معتقد واقعی نہیں کہہ سکتا۔ الغرض اول تو یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی آخر عمر تک دعویٰ نبوت و وحی پر قائم رہا ہے۔ اور اپنی کفریات سے کوئی توبہ نہیں کی۔ جیسا کہ ان کے آخری خط سے واضح ہوتا ہے جو موت سے تین دن پہلے اخبار عام لاہور کے ایڈیٹر کے نام لکھا ہے اور اگر یہ بھی ثابت نہ ہوتا تو کلمات کفریہ اور عقائد کفریہ لکھنے اور کہنے کے بعد اس وقت تک اس کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ جب تک وہ ان عقائد سے توبہ کا اعلان نہ کرے اور توبہ کا اعلان جہاں تک ہم نے کوشش کی ان کی کسی کتاب یا تحریر میں نہیں پایا گیا۔ اس لئے تکفیر کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ علاوہ ازیں اگر یہ بھی فرض کر لیا جاوے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت وغیرہ سے توبہ کی تھی جب بھی ہمارا مدعا علیہ چونکہ ان کو عام انبیاء کی طرح نبی اور رسول ماننے کی تصریح اپنی کلام میں کرتا ہے
٤٨
اس لئے اس کے کفر و ارتداد میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا از روئے عقائد اسلام و مسائل فقہیہ اجماعیہ اس کا نکاح جو مسلمان عورت کے ساتھ ہوا تھا۔ قطعاً فسخ ہو چکا۔
و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و علی الہ اجمعین
دستخط جج محمد اکبر ٢٨ اگست ١٩٣٢ء
جرح بر بیان امام العصر سید محمد انور شاہ صاحبؒ گواہ مدعیہ
مورخہ ٢٩ اگست ١٩٣٢ء
صحیح مسلم میں ہے کہ جس کو پہنچے میرا کلمہ اور تصدیق نہ کرے ” ماجئت بہ ۔“ کی وہ مسلم نہیں ہے۔ جبرائیل علیہ السلام کی دریافت پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایمان کی یہ تشریح کی کہ ایمان لانا خدا پر‘ ملائکہ پر‘ کتب سماویہ پر‘ رسل پر‘ یوم آخرت پر‘ تقدیر خیر و شر من اللہ ہونے پر۔ یہ اجزاء ایمان کے فرمائے اور اسلام میں عبادت حق تعالیٰ کی (وحدہ لاشریک لہ) اقامت صلوٰۃ‘ ایتاء زکوٰۃ‘ صوم رمضان پر‘ جبرائیل علیہ السلام نے اس کی تصدیق کی۔ یہ بات حدیث کے متن میں موجود ہے جس جس چیز کو قرآن (پاک) ایمان کہے، گا وہ ایمان ہے۔ اُس کا منکر خارج از اسلام ہے۔
احادیث میں پانچ چیزوں پر بنائے اسلام رکھی گئی ہے۔ دو شہادتیں‘ یعنی توحید اور رسالت کی شہادت‘ نماز کا قائم کرنا‘ زکوٰۃ کا دینا‘ رمضان کا روزہ رکھنا اور حج کرنا جو طاقت رکھے۔ یہ حدیثیں قدرے مشترک کے تواتر تک پہنچی ہیں۔
تواتر کی قسمیں علماء کی اپنی طرف سے ایجاد شدہ نہیں ہیں۔ بلکہ انہوں نے قرآن اور حدیث کا ثبوت جس حال سے پایا اس کو ادا کر دیا۔ علماء نے حال واقعی جیسا پایا اس کو یونہی ادا کیا۔ یہ تواتر کے اقسام علماء کی اصطلاحات ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنی کتابوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ تواتر معنوی میں جو حصہ قدر مشترک ہے۔ اس کا ثبوت اگر واضح ہے۔ تو
٤٩
اس کا منکر کافر ہے اور اگر خفی ہے تو مجمل ایمان فرض ہے اور تفصیل کو خدا کے سپرد کریں۔
ایک خبر واحد کو اگر کوئی شخص حجت نہ مانے تو کافر نہیں بدعتی ہے۔ کتاب مسلم الثبوت کے ص ٧١ پر امام رازیؒ کا جو قول بیان کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا درجہ تواتر معنوی پر نہیں پہنچا اور مسئلہ پر دلیل ہونا اس میں تردد ہے۔ یہ نہیں فرماتے کہ وہ تواتر معنوی کو پہنچا ہو اور پھر اس کا منکر کافر نہیں۔ حنفیہ کا اصول ہے کہ اجماع صحابہؓ کا قطعی ہے اور منکر اس کا کافر ہے اور مابعد کے اجماع کا منکر مبتدع اور فاسق ہے۔ اجماع صحابہؓ کے قطعی ہونے میں امام ابن تیمیہؒ کی کتاب سے حوالہ دیا جاسکتا ہے۔
نزول مسیح علامات قیامت میں سے ہے۔ جو خبریں اخبار مستقبل سے تعلق رکھتی ہیں ان پر اجماع ہو سکتا ہے اور ہوا ہے۔ نزول مسیح کے سوال پر فقط اجماع ہی نہیں بلکہ نصوص احادیث کا تواتر ہے۔
” اما فی المستقبلات ............. ھذا . “
(کتاب مسلم الثبوت ص ١٩٥ ج ٢)
اس عبارت سے مراد یہ ہے کہ واقعہ پیش آگیا ہو اور اس کا حکم دینا ہو مجتہدین کو۔ تو اتفاق اور اجماع کریں اور آئندہ چیزیں جو یقینی ہیں ان میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ عقیدہ کافی ہے۔ یعنی تواتر اگر ہو جائے تو اس عقیدہ کو ایمانی عقیدہ قرار دو۔ اور ان کی تفصیل اور مصداق ڈھونڈھنے میں نہ پڑو۔ جب وہ واقعات پیش آجائیں گے اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو خلیفہ کا خلیفہ ماننا اجزاء ایمان میں داخل نہیں ہے۔ واجبات میں سے ہے۔ مسئلہ کی جیسی حقیقت ہو گی۔ ویسے ہی اس پر اجماع رہے گا۔ ثبوت اس کا قطعی ہو جائے گا۔ حکم اس کا ویسا ہی رہے گا۔ جیسی اس کی حقیقت ہے۔
صحابہؓ کا اجماع کسی مسئلہ پر ہو اس کا منکر کافر ہے۔ لیکن مسئلہ تعدد خلیفہ کا اور وحدت کا صدر اول میں مختلف فیہ ہے۔ اجماع کسی مسئلہ پر ہوتا ہے۔ یا کسی کارروائی پر کسی مسئلہ پر جو اجماع ہوا اس کا وہی حکم رہا جو اجماع صحابہؓ کا ہے۔ اور کسی عملی استصواب پر یا کارروائی پر ہوا تو وہ اجماع اس قسم کا نہیں۔ جس پر بحث ہو رہی ہے۔
” ولو انکر .......................... یکفر . “
(کتاب شرح فقہ اکبر ص ١٤٧)
٥٠
اس کی مراد یہ ہے کہ روافض جو منکر ہیں۔ خلفائے ثلاثہ سے اس بنا پر کہ وہ خلافت کے مستحق نہ تھے تو وہ کافر ہیں اور اگر صحابہؓ صدیق اکبرؓ کے سوا کسی اور کے ہاتھ پر بیعت کرتے تو کوئی خلاف جزو ایمانی نہ تھا۔ حیات مسیح اجماعی مسئلہ ہے۔ صحابہؓ میں اور تواتر ہے حدیث کا اور سوائے ملحدوں کے کسی نے انکار نہیں کیا۔ روح المعانی کا حوالہ پیش کیا جاچکا ہے۔ جو تفسیر سورہ احزاب میں ہے۔ (ص ٦٠ ج ٧)
”اما رفع عیسیٰ ........................ فارفعت .“ (تلخیص الحبیر ص ٣١٩)
لیکن اٹھایا جانا عیسیٰ علیہ السلام کا پس اتفاق کیا اصحاب اخبار اور تفسیر نے کہ عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے بدن کے ساتھ زندہ ہیں۔ اگر اختلاف ہے تو اس میں ہے کہ موت آئی تھی رفع سے پہلے یا سو گئے اور اٹھا لیا گیا۔
حیات کے متعلق چند سلف کا اختلاف ہے لیکن عام طور پر اتفاق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں ہمارے نزدیک حیات اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ ایک ہی ضمنی ہے۔ میری بحث اجماع اور تواتر پر ہے۔
سوال یہ تھا کہ حیات مسیح پر صحابہؓ کے اجماع کی سند دی جائے اس کا جواب گول ابھی دینا چاہتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا حضرت امام مالکؒ نے نہیں کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے وہ حیات ونزول عیسیٰ کے قائل ہیں۔
”قال مالك ............. ثلاثین سنۃ .“ (کتاب اکمال الاکمال ج ٢ ص ٢٦٥ مصری)
امام مالکؒ کا یہ قول بھی ان کی اکمال سے لکھا جو عطیہ کے نام سے موسوم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ موت آئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وہ ٣٣ سال کے تھے۔ اس کتاب میں دوسری جگہ ہے کہ امام مالکؒ نے فرمایا دریں اثناء کہ لوگ کھڑے ہوں گے سنتے ہوں گے کان لگائے ہوں گے اقامت صلوٰۃ کے لئے ڈھانک لے گا ان کو ایک بادل اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتر آئیں گے۔ ابن حزم کا جو قول تفسیر جلالین سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے یہ الفاظ غلط نقل ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ابن حزم کی کتاب میں اس کی نقیض ہے اور یہاں یہ لکھوائی گئی ہے۔ جو حدیث ”الفرق بین العبدو
٥١
بين الكفر. ”ترک الصلوٰۃ“ ہے۔ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔
تین اماموں کا اتفاق ہے کہ تارک الصلوٰۃ کو کافر نہیں کہا جائے گا۔ فاسق کہا جائے گا اور امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں کہ وہ کافر ہے۔ سنن ابی داؤد کی وجہ سے اس مسئلہ میں اختلاف پڑ گیا۔ دوسری حدیث جو بیان کی گئی ہے وہ بھی اسی قسم کی ہے۔ الفاظ میں کچھ فرق ہے۔
عقیدۂ نماز کی فرضیت کا چھوڑ دے تو باجماع امت کافر ہے : ” وكذلك ترك صلوۃ موجب للقتل عند الشافعی ؒ ۔ “
(شرح فقہ اکبر ص ١٦٣)
یہ تشریح کہ جو شخص نماز کو فرض جان کر ترک کرے وہ کافر ہے۔
سنن ابی داؤد کی احادیث سے پیدا ہوتی ہے۔ جس حدیث میں بناء اسلام پانچ بیان کی گئی ہے اس کے علاوہ ایک اور حدیث ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ پانچ نمازیں فرض کیں خدا نے‘ جس نے اچھا کیا وضو ان کا‘ اور پڑھیں اپنے وقت پر اور پورا کیا رکوع ان کا اور خشوع‘ تو خدا کی ضمانت میں ہے کہ مغفرت کرے اسے اور جس نے نہ کیا۔ خدا کی ضمانت میں نہیں ہے۔ چاہے مغفرت کرے چاہے عذاب کرے۔ (سنن ابو داؤد)
اس پر مجتہدین کی رائے ہو گئی جو مسائل : ”کذالو قال عند شرب الخمر والزانی بسم الله عمداً او باعتقاد انهما حلالان وكذالو افتی لامراۃ لتبین من زوجها . “
(شرح فقہ اکبر ص ١٦٢‘١٦٠‘١٥٦)
استخفاف علماء کفر ہے۔ جو اشارہ سے مشابہت کرے کفر ہے۔ جو عالم کو مولوی طولوی کہہ دے کافر ہو جائے گا۔ جو شراب پیتے وقت بسم اللہ کہہ دے وہ کافر ہو جائے گا سے بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب میں یہ مسئلے ہیں۔ میرے بیان میں آچکا ہے کہ کوئی چیز کسی حال میں کفر ہوتی ہے۔ کسی حالت میں کفر نہیں ہوتی‘ میں اس کی مثال دے چکا ہوں۔ کلمات مذکورہ بالا بعض حالات میں موجب کفر ہو جائیں گے۔ بعض حالات میں نہیں ہوں گے لیکن ہم نے عقائد باطلہ پر حکم لگایا ہے۔ کسی ایک اختلافی چیز سے مدد نہیں لی اور نہ اپنے حکم کی بناء
٥٢
کسی مختلف حصہ پر رکھی ہے۔ اختلافی حصہ کو پہلے سے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ہمارے عزم کی بناء اس دین پر ہے جو نبی کریم ﷺ کے زمانہ سے بلا فصل اب تک چلا آ رہا ہے۔ جو مسائل اوپر بیان کئے گئے ہیں۔ یہ مسائل اختلافیہ ہیں۔
علماء بریلی نے جن واقعات پر علمائے دیوبند پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے وہ عقائد علمائے دیوبند نے ظاہر نہیں کئے۔ غلط فہمی ہوئی۔ جن عقائد کی بنا پر علمائے بریلی نے علماء دیوبند کے خلاف کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔ علمائے دیوبند ان عقائد کے قائل نہ تھے۔
٢٩ اگست ١٩٣٢ء
تتمہ بیان جرح سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ
با اقرار صالح
ضروریات دین کا انکار کرنا یعنی عقیدہ چھوڑ دینا کفر ہے لیکن عمل نہ کرنا کفر نہیں وہ فسق اور معصیت ہے کفر نہیں جو عقیدہ ترک کرے وہ ایمان سے نکل جاتا ہے اور جو عمل ترک کرے وہ عاصی ہے۔ جو شخص دستور ملکی کی بناء پر باوجود طاقت رکھنے کے شرعی حکم کو چھوڑے۔ اس کی بابت بھی یہی حکم ہے۔
اگر عقیدہ حق ہونے کا ترک کیا اور کہتا ہے کہ یہ شریعت غلط ہے اور اگر کہتا ہے کہ یہ عقیدہ صحیح اور مسئلہ درست ہے۔ عمل ہم اپنی بد قسمتی سے نہیں کرتے۔ وہ داخل ایمان اور عاصی ہے۔ مدعی نبوت اور اس کی طرف بلانے والے کی سزا قتل ہے۔ صاحب شریعت (نبی) دستور ملکی کی رو سے اگر کوئی چیز بیان کرے وہ بھی شریعت ہے۔ وہ جو کچھ فرمائے کرے۔ کل شریعت ہے اور جو کچھ صاحب شریعت کے روبرو ہوا وہ اس پر سکوت کرے۔ تو وہ بھی شریعت ہے۔ ابن صیاد جس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے دعویٰ نبوت کیا۔ اسے اس لئے قتل نہ کیا گیا کہ وہ نابالغ تھا۔ نابالغ کو قتل نہیں کیا جاتا۔ اس امر کی تصریح ہے کہ وہ نابالغ تھا۔ صحیح بخاری میں اس سے متعلق آیا ہے کہ وہ نابالغ تھا۔
٥٣
صدیق اکبرؓ خلیفہ ہوئے۔ مسیلمہ نے دعویٰ نبوت کیا تھا اور کچھ نفری (جماعت) اس کے ساتھ شریک ہو گئی تھی۔ صدیق اکبرؓ نے مہم تیار کی۔ اس کے جہاد کے واسطے بعض صحابہؓ نے عرض کی کہ مدینہ میں اس وقت لوگ کم ہیں اور خطرہ ہے۔ مدینہ کی حفاظت کے لئے لوگوں کو موجود رہنے دیا جاوے۔
صدیق اکبرؓ فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں بہادر تھے اور اسلام میں آ کر بزدل ہو گئے۔ یہ مجھے برداشت نہیں صحابہؓ نے اس پر کوئی تخلف نہ کیا اصول میں یہ اجماع کہلاتا ہے۔ اجماع کے معنی یہ ہیں کہ مسئلہ پیش کیا جاوے اور اس پر سب اتفاق کر گئے۔ کسی نے مخالفت نہ کی اسے اجماع کہا جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک کے سامنے وہ مسئلہ پیش ہو اور وہ کہے کہ مجھے اتفاق ہے۔
مسیلمہ نے نبی کریم ﷺ کے بعض احکام میں تغیر و تبدل کیا تھا لیکن جو دو شخص نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش ہوئے ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ وہی کچھ کہتے ہیں جو مسیلمہ کہتا ہے یعنی کہ وہ نبی ہے۔
کتاب حجج الکرامہ ص ٢٣٢‘ ٢٣٥ میں ہے جو واقعات مسیلمہ کے ساتھ پیش کئے گئے ہیں یہ وقوع میں ظاہر ہوئے ہیں لیکن وقت اس کتاب میں ترتیب سے نہیں لکھا گیا۔ مسیلمہ کو قتل کرنے کی بڑی وجہ دعویٰ نبوت تھی اور جو چیزیں اس کے متعلق اس کتاب میں بیان کی گئی ہیں وہ اس کے لگ بھگ تھیں اور یہ چیزیں نبوت کے تحت میں تھیں۔
اگر اخبار احاد کی تاویل کوئی شخص قواعد کے مطابق کرے تو اس کے قائل کو مبتدع یعنی بدعتی نہیں کہیں گے اور اگر قواعد کی رو سے صحیح نہیں ہے تو وہ خاطی ہے۔
آیات قرآن متواتر ہیں
قرآن اور حدیث جو نبی کریم ﷺ سے ہم تک پہنچا اس کی دو جانبیں ہیں۔ ایک ثبوت اور ایک دلالت‘ ثبوت قرآن کا تواتر ہے اور اس تواتر کا اگر کوئی انکار کرے تو پھر قرآن کے ثبوت کی اس کے پاس کوئی صورت نہیں اور ایسا ہی جو شخص تواتر کے حجت ہونے کا انکار
٥٤
کرے اس نے دین ڈھا(گرا) دیا۔ دوسری جانب دلالت ہے دلالت قرآن کی کبھی قطعی ہوتی ہے اور کبھی ظنی ثبوت قطعی ہے۔
دلالت کا معنی ہے کہ مطلب پر رہنمائی کرنا۔ اگر اجماع ہو جائے صحابہؓ کا اس کی دلالت پر یا کوئی اور دلیل عقلی یا نقلی قائم ہو جائے کہ مدلول یہی ہے۔ تو پھر دلالت بھی قطعی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ قرآن سارا بسم اللہ سے والناس تک قطعی الثبوت ہے۔ دلالت میں کہیں ظنیت ہے اور کہیں قطعیت لیکن قرائن کے ملنے سے دلالت بھی قطعی ہو جاتی ہے۔
حدیث ہے کہ : ” لكل آية ظاہر و باطن “ لیکن قوی نہیں۔ باوجود قوی نہ ہونے کے مراد اس کی میرے نزدیک صحیح ہے۔
محدثین نے لکھا ہے کہ اس کی اسناد میں کچھ کلام ہے۔ اس حدیث میں لفظ بطن سے تو جو کچھ رسول اللہ ﷺ کے دل میں تھا وہ سب منکشف نہیں ہے۔ مجملاً ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کی ایک مراد وہ ہے کہ قواعد لغت اور عربیت سے اور ادلہ شریعت سے علماء شریعت سمجھ لیں اور اس کے تحت میں قسمیں ہیں۔
بطن سے یہ مراد ہے کہ حق تعالیٰ اپنے ممتاز بندوں کو ان حقائق سے سرفراز کر دے اور بہتوں سے وہ مخفی رہ جائیں لیکن ایسا کوئی بطن جو مخالف ظاہر کے ہو اور قواعد شریعت رد کرتے ہوں وہ مقبول نہ ہو گا اور رد کیا جائے گا اور بعض اوقات میں باطنیت اور الحاد کی حد تک پہنچا دے گا۔ حاصل یہ کہ ہم مکلف فرمانبردار اپنے مقدور کے موافق ظاہر کی خدمت کریں اور بطن کو سپرد کر دیں خدا کے۔
اگر اخبار احاد متعدد جب باہم مل کر تواتر کے درجہ کو پہنچ جائیں تو وہ قطعیت میں قرآن مجید کے ہم مرتبہ ہیں اور کوئی متواتر چیز قرآن کے منافی دین میں ممکن نہیں کہ پائی جاوے۔ اور اگر اخبار احاد تواتر کے درجہ کو نہ پہنچیں اور بظاہر ان کی مغائرت معلوم ہوتی ہو قرآن سے تو علماء کا فرض ہے کہ اس کی تطبیق اور توفیق ڈھونڈیں یعنی (آپس میں) ملائیں۔
خبر واحد کے بھی دو پہلو ہیں : ثبوت پہلو کا۔ دوسرا دلالت کا۔ ثبوت میں وہ ظنی ہوتی ہے۔ جب تک کئی
٥٥
مل کر تواتر کو نہ پہنچ جائیں اور دلالت میں کبھی قطعی اور کبھی ظنی۔ دین میں کوئی متواتر چیز ایسی نہیں پائی جاتی جو قرآن کی ناسخ ہو، کوئی حدیث متواتر یا خبر واحد ایسی نہیں ہے کہ جس کو علماء نے قرآن کے ساتھ جوڑا نہ ہو۔ نسخ کا باب اگر کوئی چھیڑے تو فرضی ہے۔ وقوع اس کا نہیں، خوارج کے قتل کی وجہ میں اختلاف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ کفر کی وجہ سے قتل ہوئے اور کوئی کہتا ہے کہ بغاوت کی وجہ سے، فتح الباری ج ١٢ ص ٢٥٢، میں ہے کہ خوارج کو بعض کہتے ہیں کفر کی وجہ سے قتل کیا گیا اور بعض کہتے ہیں کہ بغاوت کی وجہ سے۔
حضرت علیؓ کا قول خوارج کے بارے میں جو کتاب منہاج السنۃ ج ٣ ص ٦١ سے بیان کیا گیا ہے وہ اسی کتاب میں ہے۔ ان خوارج میں سے جو منکر ہوں گے ضروریات دین کے ان کی تکفیر ہو گی اور جو ضروریات دین کے منکر نہ ہوں گے وہ باغی رہیں گے اور ان کے ساتھ قتال یعنی جنگ ہو گی۔
نزديك است كه علماء ظواہر چوں مہدی علیہ السلام مقاتلہ بر ...... تفصیل سے کتاب میں یہ عبارتیں ہیں۔
(کتاب مکتوبات امام ربانی ج ٢ ص ١٦٧، کتاب حجج الکرامہ ص ٣٦٣)
شیخ مجددؒ میرے نزدیک مسلم صاحب کشف ہیں۔ کشف ظنی چیز ہے۔ مجھے احادیث سے اور روایات سے جو امام مہدی کے متعلق آئی ہیں کوئی شبہ معلوم نہیں ہوا۔ جس سے یہ پتہ چلے کہ ان کی نوبت آئے گی یعنی ان کے ظہور کے وقت میں علماء کی طرف سے یہ نوبت آئے گی۔ باقی رہا کشف مجدد صاحب کا، وہ اللہ کو معلوم ہے مجھے روایات پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ حدیث ہے کہ میری امت کے ٧٢ فرقے ہو جائیں گے اور آگے ہے کہ سارے نار میں جائیں گے مگر ایک فرقہ۔ اس پر عرض کی گئی کہ وہ کون ہو گا۔ فرمایا کہ وہ ہو گا جو میرے راستہ پر اور میرے صحابہؓ کے راستہ پر ہو گا۔ ”الملل والنحل میں اس حدیث کے ساتھ یہ الفاظ ہیں کہ وہ جماعت ہو گی۔ ”اس جماعت سے مراد اس کے مصنف شہرستانی مراد اہل سنت والجماعت ہے۔
٥٦
یہ الفاظ بعض روایات میں ہیں اور بعض میں نہیں ہیں اس سے یہ اصلاً مراد نہیں کہ وہ چھوٹی جماعت ہو گی۔“
محمد ہاشم خطیب سے جس نے شام میں مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق فتویٰ دیا ہے۔ مجھے اس سے تعارف نہیں ہے۔
نبی کی اولاد کے لئے نبی ہونا ضروری نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں صحابیؓ کے متابعت میں آیت کی مراد میں یہ ذکر کیا ہے۔ ورنہ کوئی حاجت نہیں اور نہ میرا اس پر مطلب موقوف ہے۔ قول صحابیؓ کا حجت نہیں ہوتا جیسا کہ نبی کا قول ہوتا ہے لغت والوں نے تصریح کی ہے کہ خاتم بفتح تا ہو کر مہر کے معنی میں ہی ہے اور آخر کے معنی میں بھی ہیں۔ جو شخص یہ کہے کہ عیسیٰ ابن مریم کے سوا جو بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے۔ رسول اکرم ﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی آسکتا ہے وہ کافر ہے۔
قرآن شریف میں تین طریقے انسان کے ساتھ خدا کے کلام کے بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن ان کو احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے اپنے بیان میں وحی کی تعریف نہیں کی۔ اقسام بیان کئے ہیں۔ پیغمبر کے ساتھ وحی کے متعدد طریقے ہیں جو پیغمبر کا معاملہ اور خدا کا معاملہ ہے۔ اس کی انتہاء میرے مقدور سے باہر ہے۔ وہ مخصوص معاملہ ہے۔ خدا کا اور پیغمبر خدا کا‘ اور جب وہ صفت مجھے حاصل نہیں تو میں اس کی پوری حقیقت اور کنہ کو نہیں پاسکتا۔ لیکن حرف شناسی اور طالب العلمی کی مد میں آیت کی تفسیر کرتا ہوں :
”وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلاً فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهِ مَا یَشَاءُ ؕ اِنَّهُ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ ، الشوریٰ آیت ٥١“
مناسب نہیں ہے کسی بشر کو کہ کلام کرے اس کے ساتھ خدا۔ مگر بطور وحی یا پردہ کے پیچھے سے یا بھیجے اس کی طرف قاصد اور قاصد کے ذریعہ سے پیغام دے۔ اپنی مشیت اور ارادے سے جو پیغمبر کہ پیغمبر ثابت ہو چکا ہے۔ جداگانہ طریق پر۔ اس پر جو وحی ہوتی ہے۔ وہ وحی قطعی ہے۔ دوسرے شخص پر جو وحی ہو وہ ظنی ہے۔ جو شخص خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد وحی نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کو پہلے نبی مانتے ہیں۔ اس کے سوا جو
٥٧
وحی ہے وہ وحی نبوۃ نہیں ہے۔ لفظ وحی کا اس پر اطلاق ہو گا۔ وحی قرآن کا لفظ ہے اور لغت میں جتنے معنی وحی کے لئے گئے ہیں ان پر وحی کا لفظ اطلاق ہو سکتا ہے۔ حضرت مریم اور ام موسیٰ (والدہ موسیٰ) کی طرف جس وحی کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ چونکہ پیغمبر نہیں ہیں اس لئے اس وحی سے وہ دوسری وحی مراد ہو گی۔ جو ظنی ہے۔
قرآن شریف میں جو تین طریقے وحی کے مذکور ہیں۔ ام موسیٰ اور حضرت مریم کی طرف جو وحی آئی ہو گی۔ وہ ان تینوں طرق میں سے ہو گی مگر عام مفسرین نے اس آیت: ”وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَآءِ حِجَابٍ ....................الخ۔“ کو وحی نبوت پر ہی اتارا ہے۔
میں نے سنا ہے :
”اس میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ کشفی ہے۔ یا الہامی ہے جو حجت قطعی نہیں ہے۔ شیخ مجدد کی کلام کشف والہام میں ہے۔“
(مکتوبات امام ربانی جلد ثانی ص ٩٩ مکتوب ٥١)
توہین انبیاء کے بارے میں میں نے تصریح کر دی ہے اپنے بیان میں کہ سب (گالی) کی قسم تعریض سے بھی ہوتی ہے اور لزوم سے بھی ہوتی ہے۔ لیکن میں نے وجہ ارتداد مرزا غلام احمد قادیانی میں تعریض کو نہیں لیا بلکہ جس ہجو کو انہوں نے قرآن مجید سے مستنبط کیا اور اسے قرآن مجید کی تفسیر گردانا اور جس ہجو کو اپنی جانب سے حق کہا میں اسے ارتداد سمجھتا ہوں اور اسی کو ارتداد کی وجہ قرار دیا۔
مرثیہ شیخ رشید احمد صاحب گنگوہیؒ ص ٨، ٦ کے اشعار ص ٣٣ کے اشعار متعلق مسیح کا جواب۔
شیخ الہند صاحب کے جو شعر نقل کئے گئے۔ اس کے متعلق یہ جواب ہے کہ جو مدحیہ اشعار ہوں وہ تحقیقی نہیں ہوتے بلکہ اغراق کی کلام اٹکل کے ہوتے ہیں اور شاعرانہ محاورہ۔ نئی نوع کلام کی تسلیم کیا گیا ہے۔ فرق اس میں یہ ہے کہ جو خدا کی کلام ہو گی وہ عقیدہ ہو گا اور وہ تحقیق ہو گی اور وہ کسی طرح سے اٹکل نہ ہو گی۔ حقیقت حال ہو گی۔ نہ کم نہ بیش‘ بجز انبیاء کے حقیقت کو نہیں پہنچتا تخمینی لفظ کہتا ہے اور دنیا نے اس کو تسلیم کیا کہ شاعرانہ نوع
٥٨
تعبیر‘ عام اطلاق الفاظ نہیں ہے اور وہ تخمینہ پر عبارت کہہ دیتے ہیں۔ جو آس پاس (قریب قریب) ہوتی ہے۔ ٹھیک حقیقت نہیں ہوتی اور خود شاعر کی نیت میں اور ضمیر میں منوانا اس کا عالم کو منظور نہیں ہوتا۔
جھوٹ میں اور شاعر میں یہ فرق ہے۔ کہ جھوٹا کوشش کرتا ہے کہ میرے کلام کو لوگ سچ مان لیں اور شاعر کی اصلاً یہ کوشش نہیں ہوتی بلکہ وہ خود سمجھتا ہے کہ حاضرین بھی میرے اس کلام کو حقیقت پر نہیں سمجھیں گے بلکہ اگر کوئی حقیقت پر سمجھے تو اس کی اصلاح کے در پے ہوتا ہے۔ دوسرے وقت ایسے وقائع دنیا میں بہت پیش آچکے ہیں۔ مبالغہ شاعروں کے ہاں ہوتا ہے اور یہ ایک قسم ہے کلام کی‘ جو فنون علمیہ میں درج ہے اور اس مبالغہ کی حقیقت یہ ہے کہ چھوٹی چیز کو بڑا ادا کرنا اور بڑی چیز کو چھوٹا ادا کرنا۔ بشرطیکہ نہ اعتقاد ہو‘ نہ مخلوق کو منوانا ہو۔ پس اگر کوئی شخص کوئی ایسی چیز کہتا ہے کہ جس سے مغالطہ پڑتا ہے۔ نبوت کے باب میں اور وہ ساری کوشش اس میں خرچ کرتا ہے وہ اور جہاں کا ہے اور یہ حضرت شاعر اور جہاں میں ہیں۔
کتاب ازالۃ الاوہام مصنفہ مولانا رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی اور اشعار مولوی آل حسن صاحب سے جو مشکوٰۃ شریف میں جو قصہ حضرت عمرؓ کے تورات کا ورق پڑھنے اور رسول اللہ ﷺ کا جواب دینے کے متعلق مذکور ہے۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کے جواب سے حضرت موسیٰ کی کوئی توہین ظاہر نہیں۔
جواب میں موجب ارتداد مرزا غلام احمد قادیانی میں اس قسم کی کوئی چیز پیش نہیں کرتا۔ جس میں کہ مجھے نیت سے بحث کرنی پڑے بلکہ میں نے اس چیز کو لیا ہے جسے انہوں نے قرآن کی تفسیر بنایا ہے اور اسے حق کہا ہے اور جن چیزوں میں مجھے نیت کی تلاش رہتی وہ میں نے اپنی بحث سے خارج کر دیئے ہیں اور انہیں موجب ارتداد قرار نہیں دیا۔ میں اپنے بیان میں تصریح کر چکا ہوں کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نیت پر گرفت نہیں کروں گا۔ زبان پر کروں گا۔ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا۔ جس قدر مجھے حکم دینے کی ضرورت ہوئی۔ اسی قدر میں نے مطالعہ کیا ہے۔
٥٩
مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا اور بغیر توبہ کے مرے۔ اس لئے میرے نزدیک وہ کافر ہیں۔
بروز ...... نسخ ...... رسخ ...... فسخ ...... مسخ ...... کے جو الفاظ میں نے بیان کئے تھے۔ اس سے میں نے یہ دکھلایا تھا کہ ان کی کوئی حقیقت دین سماوی میں نہیں ہے اور کہ یہ لفظ نہ آئے ہوں۔ یہ غلط ہے۔ نہ میرے بیان میں ہے۔ علماء نے ان لفظوں کو لیا ہے اور رد کیا ہے۔ میرا عقیدہ نہیں ہے کہ مسیح کی شکل دوسرے کسی مردود میں ڈالی گئی ہو لیکن بعض مفسرین نے اہل کتاب سے نقل لی ہے :
”کونوا قردة خاسئین ۔“ کے متعلق میرا عقیدہ کہ وہ لوگ مسخ ہو گئے تھے۔ مولانا محمد حسین بٹالوی نے جو کچھ مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق کہا ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کہاں تک درست کہتا ہے۔ (دستخط جج) محمد اکبر
سوال مکرر : میں نے کل اس سوال سے کہ اسلام کی بناء پر جو پانچ چیزوں پر بیان کی گئی ہے۔ اس سے مراد میں نے یہ لی تھی کہ صاحب شریعت نے جو بناء اسلام کی پانچ چیز پر رکھی ہے۔
مظہر نے بہت سے دفعات کا اضافہ کیا ہے۔ اس کا جواب میں نے اس وقت یہ دیا تھا کہ جو جو چیز قرآن شریف میں سے لی جائے گی۔ وہ ایمان میں داخل ہو جائے گی اور جو متواتر حدیث ہو گی۔ وہ ایمان میں داخل ہو جائے گی اور یہ جو ہے کہ بناء اسلام کی پانچ چیز پر ہے۔ ایک شہادت توحید کی اور شہادت رسالت کی اس شہادت رسالت کے تحت سارا دین پیغمبر کا داخل ہو گیا۔ رسول کا ماننا۔ ان کی شریعت کی اطاعت کو حاوی ہے۔ انہی پانچ کے اندر بلکہ ایک ہی لفظ کے اندر رسول کی رسالت کو ماننا۔ سارا دین آگیا۔
میں نے کوئی دفعہ جو اضافہ کی ہے۔ مطلق اضافہ نہیں نیز مقنن اگر کئی ایک قانون کہے تو یہ اعتراض بے معنی ہے کہ ایک ہی دفعہ کے تحت ذیلی منشاء کو کیوں ادا نہ کر دیا؟۔ بلکہ سارے قوانین اس کے واجب الانقیاد یعنی واجب الاطاعت ہوں گے۔ اس میں، میں نے صحیح مسلم کی حدیث کا حوالہ کل دیا تھا کہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جو کوئی ان
سب پر جو میں لایا ہوں خدا کی طرف سے ایمان نہ لائے وہ مومن نہیں۔ حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ میں امر کیا گیا ہوں کہ میں مقابلہ کروں لوگوں کے ساتھ، یہاں تک کہ شہادت دیں لا اله الا الله ۔ کی اور ایمان لائیں مجھ پر اور اس چیز پر جو میں لے کر آیا ہوں۔
بناء اسلام کے جو پانچ ارکان بیان کئے گئے ہیں۔ یہ مہم (اہم) ارکان ہیں۔ بڑے ستون تو یہ ہیں اور حدیث میں اور چیزیں بھی ہیں۔ یعنی ایمان کے دیگر بھی کئی شعبے ہیں۔ خلافت شیخینؓ کے اجماع کے متعلق میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ جو شخص ان کے مستحق خلافت ہونے کا انکار کرے کہ وہ خلافت کے لائق نہ تھے وہ شخص کافر ہے۔
”لعل المراد انكار استحقاقهما الخلافة فهو مخالف لاجماع الصحابة لا انكار وجودها ، “
(شامی باب الامامت ” نقل عن البحر الرائق “ص٥٦١ج١)
﴿شاید مراد انکار استحقاق شیخینؓ کا ایسا شخص مخالف ہے اجماع صحابہؓ کے یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ وہ وقوع خلافت سے کوئی انکار کرے۔﴾
حیات مسیح کے سوال پر امت کا اجماع ہے اور امت کہتے ہیں۔ یہاں سے لے کر پیغمبر کے زمانے تک کے مسلمان اور صحابہؓ بھی اس میں داخل سمجھے جائیں گے۔
دیوبندیوں کے خلاف جو فتویٰ علماء بریلی کا پیش کیا گیا تھا۔ اس میں جو فقرے کتاب تحذیر الناس سے نقل کئے گئے ہیں وہ مختلف مقامات سے جوڑ کر ان کی مولانا محمد قاسم صاحبؒ کی طرف نسبت کی گئی ہے۔ مولانا کی تصریح یہ ہے کہ جو ختم زمانی کا انکار کرے وہ بسبب تواتر کافر ہے۔ کتاب تحذیر الناس کے ص ١٠ پر سو اگر سے ............ کافر ہو گا تک۔
مولانا نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ جو ختم زمانی کا انکار کرے وہ قرآن سے۔ تواتر سے اور اجماع سے کافر ہے۔ میں نے یہ کہا تھا کہ قرآن اور حدیث جس طریقہ پر ہمارے پاس پہنچا۔ اس طریقہ کو علماء نے ادا کیا اور جو شخص تواتر کا انکار کرے وہ قرآن کو ثابت نہیں کر سکتا اور دین ابتداء سے آخر تک منہدم ہو جائے گا۔ اس میں پس و پیش کرنا کہ متواتر خبر ، حدیث قطعی ہے ، مستلزم ہو گا کہ قرآن میں بھی پس و پیش کرے کہ اس واسطے کہ ثبوت قرآن کا اور
٦١
حدیث متواتر کا تواتر ہی ہے۔ تواتر میں اگر جھگڑا ڈالا تو اس شخص کے پاس دین محمدی ﷺ جز کوئی جز نہیں۔
کل یہ سوال کیا گیا تھا کہ امور مستقبلہ پر اجماع ہوتا ہے یا نہیں، امور مستقبلہ میں اجماع نہ ہونا کی مراد یہ ہے کہ حکم عملی، جو ہاتھ پیر سے کرنا ہو۔ اسے مستقبل پر چھوڑا جاوے۔ پہلے سے اجماع کا کوئی اثر نہیں۔ وقت پر دیکھا جائے گا اور جو عقیدہ قرآن و حدیث میں آچکا ہے۔ مستقبل کے متعلق اس پر اجماع منعقد ہونا معقول ہو گا اور حجت ہو گا۔ کہیں فرض ہو گا: ” ودعوى النبوة بعد نبينا صلى الله عليه وسلم كفر بالاجماع.“
شرح مسلم الثبوت ص ٥١٩ کتاب اکمال الاکمال کے حوالہ سے جو کل یہ بیان کیا گیا تھا کہ امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام ٣٣ سال کی عمر میں فوت ہو گئے۔ اس کتاب کے دوسرے صفحہ پر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے۔ امام مالکؒ کی مراد یہی ہو گی کہ برائے چند ساعت موت دی گئی ہے اور بعد میں اٹھائے جائیں گے۔ ایک ہی صاحب کے مقولہ کے دو قطعہ ہیں۔
سن کر تسلیم کیا گیا دستخط جج صاحب ٢٩ اگست ١٩٣٢ء
٦٢
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
الخطاب الملیح
فی تحقیق المہدی والمسیح
حکیم الامت
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تعارف
الحمدللہ وکفیٰ وسلام علیٰ خاتم الانبیاء ۔ اما بعد! حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی رد قادیانیت پر گرانقدر تصنیف ”الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح“ اس مجموعہ میں شامل کرنے کی سعادت پر رب کریم کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔ یہ وہ کتاب ہے جو مرزا قادیانی کے زمانہ حیات میں شائع ہوئی مگر بد باطن مرزا قادیانی کی کور باطنی اور بد عقلی پر ماتم کیجئے کہ وہ اپنی کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٩٩ خزائن ج ٢١ ص ٣٧١ پر اسے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی تصنیف قرار دے کر جواب کے لئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ قادیانی کرم فرما‘ مرزا قادیانی کی بد عقلی و سوئے فہمی پر ماتم کریں کہ ٹائٹل پر لکھے ہوئے مصنف کے نام کو جو شخص پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس نے جواب کیا دیا ہوگا؟۔ قادیانی اس کتاب کو پڑھیں اور مرزا قادیانی کے جواب سے تقابل کریں کہ مرزا قادیانی کو جواب دہی سے سوائے رسوائی و ندامت کے اور کیا حاصل ہوا ہے؟۔
اس کتاب کی تصنیف کی تقریب یوں ہوئی کہ انبالہ کے منشی کرم خان نے چند سوالات لکھ کر حضرت تھانویؒ سے ان کا جواب طلب کیا۔ آپ نے مرزائیوں کے سوالات کو ”قول مرزا“ اور اس کے رد کو ”جواب“ کا عنوان دے کر یہ کتاب تحریر فرمادی جو قدرت حق کی طرف سے مرزا قادیانی کے منہ پر طمانچہ تھا اور اہل اسلام کے لئے بہت بڑا علمی سرمایہ۔ یہ کتاب ایک آدھ بار شائع ہوئی۔ اب اس مجموعہ میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!
فقیر اللہ وسایا ٧ / ٦ / ١٤٢٢ھ ٧ / ٨ / ٢٠٠١ء
٢
بسم اللہ الرحمن الرحیم
”الحمدلله الذي هدانا بالكتاب والسنة و جعلنا متبعين للسواد الاعظم من الامة فنحمده على ما انعم علينا بهذه المنة و نصلى على سيدنا محمد نبيه و رسوله الذى به من علينا بتلك النعمة و على آله و صحبه ومن معهم الذين هم السواد الاعظم فيالهم من ائمه فمن حاد عن سبيلهم فلاريب ان قلبه فى اكنه و امره لا بد وان يكون عليه غمه . اما بعد!!! .“
چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی غلطیوں کو ہمیشہ اہل علم ظاہر فرما رہے ہیں۔ اس لئے کبھی اس باب میں لکھنے کا خیال نہیں ہوا۔ مگر بعض احباب سے جو کچھ زبانی سوال و جواب کا اتفاق ہوا اور بفضلہ تعالیٰ ان کے شبہات کو شفا ہوئی انہوں نے تقیید بالقلم کا اصرار کے ساتھ مشورہ دیا چونکہ نفع کی امید پائی گئی اس لئے خود بھی اس کا خیال ہو گیا۔ اسی اثناء میں منشی کرم خان صاحب نائب محافظ دفتر ڈپٹی کمشنر انبالہ نے کچھ سوالات بعض اقوال کی نسبت محض نیک نیتی سے بغرض جواب بھیج دئیے۔ وہ اس خیال کے لئے اور بھی مؤید اور مؤکد ہو گئے۔ اس لئے ان سوالات کا جواب لکھ کر آخر میں ایک مستقل مختصر مضمون جو اجمالاً انشاء اللہ! ایسے تمام شبہات کے جواب کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔ اضافہ کر دیا اور اس مجموعہ کو ایک رسالہ کی شکل میں بنا کر ” الخطاب المليح في تحقيق المهدی والمسيح “ کے ساتھ نامزد کر دیا اول سوال مرقوم ہے پھر جواب مذکور ہے پھر اسی آخری مضمون پر کتاب ختم ہے :
والله تعالى ولى الهداية و منه البداية واليه النهاية .
٣
نقل خط منشی صاحب موصوف متضمن سوال
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم !
جناب ہدایت مآب مولانا صاحب مکرم معظم دام ظلکم و فضلکم از جانب احقر العباد پر عصیان کرم خان، بعد ادائے مراسم ماوجب نہایت ادب سے عرض ہے میں ایک معمولی اردو خوان ملازم ہوں لیکن بفضل خدا کتب شرعی دیکھنے کا شوق ہے۔ ان ایام میں جو شور مرزائیوں کا ہو رہا ہے اور اکثر لوگ بے علم جو بک رہے ہیں وہ ظاہر ہے، بعض میرے احباب آپس میں گفتگو رکھتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دلائل وفات مسیح کی پیش کیا کرتے ہیں۔ گو بفضل خدا اور برکت علماء سے یہ خاکسار اس کے عقائد اور اقوال سے بیزار ہے کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے لیکن بعض مقامات کو برائے ازدیاد تقویت و یقین کبھی کبھی بعض نامور علماء سے پوچھ لیا کرتا ہے۔ چنانچہ دو تین مرتبہ جو مقامات کی نسبت بعلت مسائل مختلفہ و تقلید و تراویح ہشت رکعت جناب مولانا مخدومنا حضرت مولانا رشید احمد صاحب مدظلہم (گنگوہیؒ) سے دریافت کیا تو حضرت مولانا صاحب ممدوح نے میرے سوالات پر رسالہ سبیل الرشاد، اور رسالہ الرائے النجیح فی عدد رکعات التراویح، تحریر فرما دیا ہے۔ اسی طرح آپ سے مجھ کو بعض امور کی بابت تحقیق ہے۔ گو جناب مولانا رشید احمد (گنگوہیؒ) صاحب سے ایک گونہ نیاز حاصل ہے لیکن مجھ کو شرم آتی ہے کہ شاید مولانا موصوف یہ خیال نہ فرماویں کہ یہ شخص ہمیشہ سائل رہتا ہے۔ چونکہ ان امور مندرجہ ذیل کا معلوم کرنا ضروری ہے پس اس وقت مجھ کو بھی ضروری ہوا کہ ان امور کو بامید جواب شافی و تسلی کافی کے حضور ہی کی خدمت میں پیش کروں۔ بعض تصانیف حضور کی میرے پاس ہیں اور جو فضل و کمال و خلق محمدی و توجہ و تبحر علمی حضور کو ہے وہ اظہر من الشمس ہے اور نیز مخدومی مکرمی مولوی انوار الحق صاحب نقل نویس جو میرے دفتر میں ہیں اور نیز مولوی اکرام حسین صاحب نے بھی مجبور کیا کہ تم کو مولانا ہی جواب سے جلد مشرف فرماویں گے۔
٤
گو جناب کو بھی علاوہ درس و تدریس و ذکر اللہ کے کتب بینی و تصانیف و تحریر فتاویٰ بے شمار میں ایک مشغلہ عظیم ہے لیکن میں امید قوی رکھتا ہوں کہ حضور ان امور کا جواب دینا بھی ضروری خیال فرمائیں گے۔ کیونکہ آپ کی برکت سے امید ہے کہ بعض لوگ جو عقاید مرزا میں گرفتار ہو جاتے ہیں شاید بچ جاویں۔ اس واسطے جناب کی خدمت میں عرض ہے۔ اول قول مرزا غلام احمد قادیانی کا پھر امور تحقیق طلب لکھتا ہوں۔
قول مرزا نمبر ١...... : عیسیٰ علیہ السلام اور انکی والدہ نے بمقام کشمیر وفات پائی ہے۔ چنانچہ آیت قرآن شریف : ” واوینا ھما الیٰ ربوۃ “ سے یہی مراد ہے۔ کیونکہ کشمیر بہت بلند جگہ ہے جبکہ مسیح علیہ السلام صلیب سے بھاگ کر کشمیر چلے گئے تو ہر دو مسیح و والدہ حضرت مریم علیہا السلام نے وہاں وفات پائی۔ اسی جگہ ان ہر دو کی قبر ہے۔
جواب نمبر ١...... : ربوہ کی تفسیر دمشق یا فلسطین یا بیت المقدس غرض ملک شام کے کسی مقام سے کی گئی ہے۔ کشمیر سے تفسیر کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور علیٰ سبیل التنزل کہتا ہوں کہ اگر کشمیر تشریف لانا مان بھی لیا جاوے تو اس کو اصل مدعا منکر رفع جسمانی الیٰ السماء سے کیا تعلق ہے۔ کیا سفر کشمیر کے بعد وہاں سے جانا اور پھر مرفوع الی السماء ہونا ممتنع ہے؟۔ رہا دعویٰ وہاں قبر ہونے کا محض بے اصل ہے۔ تخمین و قیاسات و افواہی حکایات کا بمقابلہ دلائل شرعیہ کوئی اعتبار نہیں رہی تحقیق قبر حضرت مریم کی اس کی ضرورت نہیں۔
قول مرزا نمبر ٢...... : حضرت مریم علیہا السلام نے حالت حمل میں نکاح کر لیا تھا چنانچہ مسیح علیہ السلام کے حقیقی برادر و ہمشیرگان بھی تھیں۔
جواب نمبر ٢...... : کہیں ثابت نہیں قبل حمل اس کا قائل ہونا صریح تکذیب قرآن ہے اور بعد حمل تکذیب اجماع ہے۔ پس دونوں امر باطل ہیں اور جنت میں نکاح کئے جانے کی مجھ کو تحقیق نہیں نہ تحقیق کی ضرورت سمجھی۔
٥
قول مرزا نمبر ٣.......: حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور نیز بخاریؒ کا وفات مسیح علیہ السلام پر مذہب ہے۔ چنانچہ کتاب التفسیر بخاری میں قول عبداللہ بن عباسؓ کا ہے : ” متوفیک ای ممیتک ۔ “ یعنی توفی بمعنی فوت ہے۔ نہ نیند وغیرہ‘ اور امام بخاریؒ حدیث لائے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کو میری امت سے بعض اشخاص ننگے سر و پاؤں لائے جائیں گے ان کو اپنے اصحاب کہوں گا۔ ندا ہو گی کہ یہ تیرے بعد گمراہ ہو گئے تھے‘ تو اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو عیسیٰ نے کہا یعنی : ”انی اقول کما قال العبد الصالح ۔ “ پس یہ فرمانا آنحضرت کا اس وقت یعنی زبان حدیث میں‘ ایک قصہ ماضی کا ہو گیا۔ حضرت نے کما قال فرمایا یقول نہیں فرمایا اور مسلمان کہتے ہیں کہ مسیح قیامت کو جواب دیں گے حالانکہ یہاں صیغہ ماضی کا بولا گیا ہے۔
جواب نمبر ٣......: اگر متوفیک کو اپنے ظاہری معنے پر کہا جاوے پھر بھی منکر رفع جسمانی کو کچھ مفید نہیں۔ اول تو اس وجہ سے کہ ممکن ہے کہ یہ موت بعد النزول الی الارض ہو‘ جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہلے سے دیدی اور واؤ ترتیب کے لئے موضوع نہیں۔ اس لئے اس کا تحقق و رافعک الیٰ سے پہلے ضروری نہیں۔ رہی یہ بات کہ ذکر میں کیوں مقدم فرمایا‘ سو گو اس نکتہ کی تحقیق کو اصل بحث سے تعلق نہیں مگر تبرعاً نکتہ کا بیان بھی کئے دیتا ہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے باب میں دو فرقوں کو افراط و تفریط تھا۔ ایک نصاریٰ کو کہ ان کو الہ مانتے تھے دوسرے یہود کو۔ وہ ان کو غیر طاہر جانتے تھے اور نصاریٰ کی غلطی یہود کی غلطی سے بڑھی ہوئی تھی کیونکہ غیر الہ کو الہ ماننا زیادہ بعید ہے۔ نبی کو غیر نبی جاننے سے۔ اگرچہ کفر دونوں ہیں۔ اس لئے متوفیک کو جبکہ معنے ممیتک ہو مقدم کیا کہ اس میں ابطال ہے عقیدہ نصاریٰ کا‘ کیونکہ موت منافی ہے الوہیت کے۔ پھر رد فرمایا عقیدہ یہود کو اس طرح سے کہ ان کے لئے رفع الی السماء ثابت کیا‘ جو مستلزم ہے طہارت جسمانی کو‘ اور تطہیر مطلق ثابت کی جو مستلزم ہے طہارت روحانی کو‘ اس طرح دونوں فرقوں پر رد ہو گیا اور متوفیک کی تقدیم مناسب ہوئی اور اگر ترتیب ذکری کے ساتھ ترتیب ٦
وقوعی بھی مان لی جائے‘ تب بھی منکر رفع کو مفید نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ قبل رفع تھوڑی دیر کے لئے آپ کو وفات دی گئی ہو اور پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھا لئے گئے ہوں جیسا کہ بعض سلف اس کے قائل بھی ہوئے ہیں۔ چنانچہ تفسیر کبیر میں ہے :
” الثانی متوفیک ای ممیتک و ہو مروی عن ابن عباس و محمد بن اسحاق قالوا والمقصود ان لا یصل اعداء من الیہود الی قتلہ ثم انہ بعد ذلک اکرمہ بان رفعہ الی السماء. ثم اختلفوا علی ثلثۃ اوجہ احدہا قال وہب توفی ثلث ساعات ثم رفع. ثانیہا قال محمد بن اسحاق توفی سبع ساعات ثم احیاہ اللہ تعالیٰ و رفعہ . الثالث قال الربیع بن انس انہ تعالیٰ توفاہ حین رفعہ الی السماء.“
بہر حال ممیتک کے ساتھ تفسیر کرنا بھی کسی طرح منکر رفع کو مفید نہ ہوا۔ اور امام بخاری کا اس تفسیر کو نقل کرنا‘ اول تو مستلزم نہیں کہ ان کا بھی یہی مذہب ہو اور اگر ہو بھی تو منکر رفع کو مفید نہیں جیسا کہ ابھی بیان ہوا کہ موت اور رفع العبد الی السماء میں تنافی نہیں۔ ایک کے اثبات سے دوسرے کی نفی لازم نہیں آتی۔ رہا استدلال کرنا قال کے ماضی ہونے سے یہ بھی محض ضعیف ہے۔ اول تو اس لئے کہ ماضی بمعنی مضارع بکثرت قرآن میں وارد ہے : ”ونفخ فی الصور. و اشرقت الارض. وضع الکتاب . جئی با النبیئن . قضی بینہم . وسیق . وغیر ذلک .“ پس قال بمعنی یقول ہو سکتا ہے۔ رہا یہ امر کہ ماضی سے کیوں تعبیر فرمایا‘ سو گو بیان نکتہ کو اصل مقصود میں کوئی دخل نہیں‘ مگر تبرعاً بیان کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ حضورﷺ نے جو اپنی حکایت بیان فرمائی کہ میں قیامت میں اس طرح کہوں گا۔ اس بیان سے پہلے صحابہؓ یہ آیت سن چکے تھے : ” ان تعذبہم فانہم عبادک . الایۃ . “ پس مقتضا بلاغت کا ہوا کہ حکایت کے ماضی ہونے کو بمنزلہ محکی عنہ کے ماضی ہونے کے ٹھہرا کر صیغہ ماضی استعمال فرمایا۔ یا یوں کہا جائے کہ قیامت کے روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول پہلے ہو چکے گا‘ پھر ہمارے حضورﷺ کا یہ قول صادر ہو گا‘ تو حضورﷺ کے قول کے وقت چونکہ وہ قول ماضی ہو چکا ہے اس لئے صیغہ ماضی سے تعبیر ہے
فرمایا۔ قرآن مجید میں بھی اس کی نظیر ہے : ”قال تعالیٰ یوم یأتی بعض آیات ربک لا ینفع نفسا ایمانھا لم تکن آمنت من قبل ۔“ یہ یقینی بات ہے کہ تکلم کے وقت کے اعتبار سے : ” لم تکن آمنت“ مستقبل ہے۔ مگر باعتبار وقت حکم لاینفع کے ماضی تھا اس لئے ماضی لائے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر بعض جگہ تو مستقبل سے مستقبل کو بھی ماضی سے تعبیر فرمایا گیا ہے : ”قال تعالیٰ و علی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماھم ونادو اصحاب الجنة ۔“ اس میں یقیناً نداء بعد معرفت کے ہے پھر یعرفون کو مستقبل لائے اور نداء جو اس مستقبل سے بھی مستقبل ہے اس کو ماضی سے تعبیر فرمایا۔ اور اگر قال کو ہم ظاہری معنے پر ہی محمول کریں، تب بھی استدلال منکر رفع کا غلط ہے کیونکہ ممکن ہے کہ یہ مخاطبت فیما بین اللہ تعالیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد رفع الی السماء واقع ہو چکی ہو، جیسا احادیث میں وارد ہے کہ شہداء سے بمجرد پیشی قبل قیامت ہی باتیں ہوا کرتی ہیں۔ غایت مافی الباب یہ لازم آیا کہ جب عیسیٰ علیہ السلام سے یہ باتیں ہو چکی ہیں۔ تو توفی بھی واقع ہو چکی ہے مگر اس میں بھی کوئی اشکال لازم نہیں اگر توفی بمعنے اخذ الشی بالتمام، کی ہو جیسا بہت سے مفسرین اس طرف گئے ہیں اور اس بناء پر توفی عین مفہوم رفع عیسیٰ علیہ السلام مع الجسد والروح ہو گا۔ تب تو ظاہر ہے کہ کوئی اشکال نہیں اور اگر بمعنے وفات ہی لے لیا جائے تب بھی اوپر تحقیق ہو چکا ہے کہ وفات میں اور رفع مع الجسم میں کوئی منافاۃ نہیں بہر حال کسی تفسیر پر بھی منکر رفع کو مفید نہیں۔
قول مرزا نمبر ٤...... : میں نبی ہوں، رسول ہوں، مگر بروزی طور پر میں
صاحب شریعت نہیں ہوں لیکن جزوی نبی ہوں، اور ایسا دعویٰ اکابر نے بھی کیا ہے جیسے منصور نے انا الحق و بایزید بسطامیؒ نے انا نوح۔ وغیرہ کیا ہے ثابت ہے۔
جواب نمبر ٤...... : رسالت و نبوت و وحی کے جو معانی اصطلاح شرعی میں
ہیں، ان کا منقطع ہو جانا، دلائل قطعیہ سے ثابت ہے اور ہمارے حضور ﷺ ان امور کے خاتم ہیں۔ اس کے انکار کی تو گنجائش ہی نہیں۔ رہا قصہ بروز کا سو یہ ایک اصطلاح مستحدث ہے۔ اگر
اس کی تعریف جامع مانع ایسی کی جائے جو قواعد شرعیہ کے مخالف نہ ہو تو گو بحکم قول لا مشاحة فی الاصطلاح محل نزاع نہیں، مگر چونکہ یہ حکم بھی شرعی ہے کہ الفاظ موہمہ سے احتراز واجب ہے چنانچہ اسی بناء پر: ”لا تقولوا راعنا.“ فرمایا گیا اور احادیث میں بہت سے الفاظ کی ممانعت اسی بناء پر وارد ہے۔ اس لئے جس جگہ اس قسم کا الہام اور عوام کے لئے مغلط اور مفسدہ کا احتمال ہو گا ایسے الفاظ کے استعمال کو حرام و معصیت کہا جائے گا‘ اور اگر ان الفاظ اصطلاحی کی تعریف ہی میں کوئی جزو مخالف قواعد شرعیہ ہو گا تو اس وقت اس کو فی نفسہ بھی باطل قرار دیں گے۔ اس کے علاوہ میں کہتا ہوں کہ اگر لفظ بروز کے بڑھا دینے سے رسالت و نبوت کا دعویٰ جائز ہے تو اسی قید کے ساتھ خدائی کے دعویٰ کی بھی اجازت ہونا چاہئے۔ کیونکہ آخر مخلوق میں صفات الٰہیہ کا کم و بیش: ”علی قدر العطاء الوہبی.“ ظل تو ضروری ہے کیا کوئی عاقل متدین اس امر کو گوارا کر سکے گا؟ جب خدائی کا دعویٰ گوارا نہیں تو رسالت کا کیونکر گوارا ہے؟۔ رہا استدلال کرنا فعل اکابر سے سو اگر ان قصوں کو صحیح مان لیا جائے تو وہ حضرات غلبہ حال سے معذور تھے۔ چنانچہ حضرت بایزید بسطامیؒ کا قصہ مشہور ہے کہ جب ان کو حالت صحت میں اس کی اطلاع کی گئی تو توبہ ظاہر فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اگر میں پھر ایسی بات کہوں تو مجھ کو بلا تردد قتل کر ڈالو۔ چنانچہ لوگوں کا اس طرح سے قصد کرنا اور پھر آپ کی کرامت سے زخموں کا اثر نہ ہونا مشہور ہے۔ بہر حال قصد و عمد سے کبھی نہیں کہا نہ اس پر اصرار تھا۔ پس کجا وہ حالت اور کجا یہ حالت کہ اگر کوئی ذرا کلام کرے تو اس کے رد میں رسالے اور اشتہارات تیار کئے جائیں۔
گرچہ ماند نوشتن شیر و شیر
تو صاحب نفسی اے غافل میاں خاک خون میخور
کہ صاحب دل اگر زہری خورد آن انگبین باشد
قول مرزا نمبر ٥.....: رفع بمعنی عزت کے موت دینا ہے۔ یا بعد مرنے
کے روحانی طور پر بہشت میں داخل ہونا ہے۔ چنانچہ : ” ورافعک الی “ بحق مسیح علیہ السلام اور لفظ : ” ورفعناہ مکانا علیا ۔“ بحق ادریس علیہ السلام ہی بولا گیا ہے۔ نہ بالجسم اٹھانا مراد ہے۔
جواب نمبر ٥ ....... : رفع کے معنے لغوی مشہور ہیں۔ شرعی اصطلاح اس میں جداگانہ نہیں۔ عزت کی موت اس کے کوئی معنی نہیں۔ البتہ رفع بمعنے درجہ کے بھی مستعمل ہے اور بمعنی رفع روح جس کا حاصل موت ہے بھی مستعمل ، لیکن دونوں معنی کا مجموعہ کہ اس میں دونوں قیدیں ہوں اس میں کہیں مستعمل نہیں دیکھا گیا اور اگر کہیں مستعمل ہوتا بھی ہو‘ تو بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے باب میں جو لفظ رفع آیا ہے وہ تو یقیناً اس معنی میں مستعمل نہیں کیونکہ یہ یقینی امر ہے کہ احادیث میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کی خبر دی گئی ہے اور اس نزول کو بمقابلہ ان کے مرفوع ہونے کے فرمایا گیا ہے چنانچہ سیاق احادیث سے ظاہر ہے۔ پس جب دونوں لفظ اس حیثیت سے متقابل ٹھہرے تو یقیناً ایک لفظ کے جو معنے ہوں گے دوسرے لفظ میں اس کا مقابل مراد ہوگا۔ پس اگر رفع سے مراد مع الجسم آسمان پر جانا مراد لیا جائے جیسا جمہور کہتے ہیں تو نزول سے مراد مع الجسم زمین پر آنا مراد ہو گا جس میں نہ تقابل فوت ہوا نہ کوئی خرابی لازم آئی۔ اگر بقول منکر رفع جسمانی سے مراد عزت کی موت لی جائے تو نزول سے مراد بقرینہ مقابلہ ذلت کی پیدائش لینا چاہئے۔ پس معنے حدیث نزول کے یہ ہوں گے کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ذلت کے ساتھ پیدا ہوں گے‘ اور اگر یہاں یہ معنے نہ لئے جائیں تو مقابلہ فوت ہو جائے گا۔ جس کا لزوم اوپر ثابت ہو چکا ہے پس معلوم ہوا کہ عزت کی موت کے معنے مراد لینا صحیح نہیں۔ اور اگر کوئی کہے کہ ہم مطلق موت مراد لے لیں گے‘ تو ہم کہیں گے کہ اول تو اس کی دلیل چاہئے اور اگر بلا دلیل ہم تسلیم بھی کر لیں جب بھی منکر رفع جسمانی کو مفید نہیں‘ کیونکہ رفع جسمانی اگر اس لفظ سے ثابت نہ کہا جائے گا دوسری دلیل شرعی یعنی اجماع سے ثابت رہے گا‘ اور موت کا رفع جسمانی کے منافی نہ ہونا اوپر ثابت ہو چکا ہے۔ اور اگر : ” رفعناہ مکانا علیا ۔“ میں صرف رفع روح مراد ہو جب بھی ہم کو مضر
نہیں کیونکہ ہم یہ کب کہتے ہیں کہ رفع روحانی میں اس کا استعمال نہیں آتا۔ اسی وجہ سے تحقیق قصہ ادریس علیہ السلام کی حاجت نہیں، ہمارا تو یہ قول ہے کہ دونوں معنے میں استعمال ہو سکتا ہے مگر چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مرفوع بالجسم ہونا اجماع سے ثابت ہے۔ اس لئے ان کے قصہ میں اس معنے کو ترجیح ہے اور علی سبیل التنزل کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قرآن میں بمعنے رفع الجسم نہ بھی لے تب بھی ہمارا دعویٰ رفع مع الجسم کا اجماع سے ثابت ہے جیسا عنقریب بیان ہو چکا ہے۔ اور چونکہ لفظ رفع بمعنے رفع مع المادۃ میں لغۃً مستعمل ہے۔ اس لئے نظیر کی حاجت نہیں اور تبرعاً نظیر بھی پیش کرتے ہیں : "قال تعالیٰ رفع السموات بغیر عمد" وقال تعالیٰ رفع سمکھا. "حدیث ضحایا میں ہے :" قالت عائشہ ولقد كنا لنرفع الكراع، ترمذی ص٢٧٧ج١“ اور حدیث حج صبی میں "فرفعت امرأة صبياً، ترمذی ص١٨٥ج١" دیکھئے۔ یہ سب اشیاء مادی ہیں جو مع المادہ مرفوع ہوئیں۔
قول مرزا نمبر ٦...... : لفظ نزول جو بحق مسیح علیہ السلام احادیث میں وارد ہے وہ مراد آسمان سے اترنا نہیں ہے بلکہ پیدا ہونا مراد ہے۔ جیسا کہ فرمایا خدا نے : " وانزلنا الحدید" کیا یہاں لوہا بھی آسمان سے اترا ہے یا لفظ : "انزلنا الکتاب" میں مراد یہ ہے کہ قرآن مجید آسمان سے اترا ہے اور کسی نے دیکھا ہے۔
جواب نمبر ٦...... : گو نزول بھی دوسرے معانی میں حقیقتاً یا مجازاً مستعمل ہوتا ہے جس کا انکار نہیں، مگر نزول عیسیٰ علیہ السلام کا یقیناً باعتبار معنے ظاہر متبادر کے ہے۔ اولاً حدیث مسلم باب ذکر الدجال میں ہے : " فینزل الی قوله بین مہرو زتین واضعا کفیہ علی اجنحتہ ملکین ." اگر بقول منکر نزول "من السماء" یہاں پیدائش کے معنے لئے جائیں تو استغفر اللہ حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ عیسیٰ علیہ السلام دو رنگین کپڑے پہنے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے پیدا ہونگے۔ اولاً تو یہ مطلب کیسا مہمل ہے۔ پھر افسوس کہ مدعی مسیحیت میں یہ صفت بھی نہیں پائی جاتی۔ پس حدیث کے قرائن معنے متبادر
کے تعین کر رہے ہیں۔ دوسرے اس معنے پر اجماع بھی ہے۔
قول مرزا نمبر ٧ :...... آسمان پر اس جسم خاکی کا جانا محال ہے اور ”معاذ اللہ“ یہ لفظ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس جسم کثیف سے معراج کو نہیں گئے بلکہ معراج کشفی و نومی تھا اور حضرت عائشہؓ کا قول لاتا ہے کہ وہ بھی جسمی معراج کی قائل نہ تھیں۔ اور وجہ یہ ہے کہ آسمان پر کرہ نار یا زمہریر ہے خاکی جسم کا جانا محال ہے بلکہ بڑے پہاڑوں پر جانے سے انسان نہیں زندہ رہ سکتا ہے۔
جواب نمبر ٧ :...... بلاشک جاسکتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص محال کہے تو اس سے پوچھنا چاہئے کہ یہ محال عقلی ہے یا شرعی ہے یا عادی ہے۔ اگر محال عقلی یا شرعی ہے تو دلیل لانا چاہئے۔ کون سی دلیل عقلی نے اس کی نفی کی ہے؟۔ کونسی دلیل شرعی اس کا انکار کر رہی ہے؟۔ انشاء اللہ تعالیٰ! قیامت تک کوئی دلیل اس پر قائم نہ ہو سکے گی۔ اور اگر محال عادی ہے تو مسلم، مگر یہ مفید نہیں کیونکہ قاعدہ کلیہ ہے کہ جب کسی امر کا امکان عقل سے ثابت ہو اور دلیل شرعی اس کے وقوع کی خبر دے اور اس کے وقوع کا اعتقاد واجب ہے۔ چنانچہ یہ امر بہت ہی ظاہر ہے پس جب اس میں کوئی استحالہ عقلی ہی نہیں، اور دلیل شرعی اس کا اثبات کر رہی ہے تو واجب ہوگا کہ اس کو خرق عادت قرار دیکر اس کا اعتقاد کیا جائے۔ اور ممکنات عقلیہ کی نسبت : ”ان اللہ علی کل شئ قدیر“ عقیدہ قطعیہ ہے۔ بلکہ میں ترقی کر کے کہتا ہوں کہ یہاں ممکن ہے کہ کوئی مانع عادی طبعی بھی نہ ہو کیونکہ یہ امر مشاہدہ سے ثابت ہے کہ اگر آگ یا مثل اس کے کسی تیز چیز کے اندر سے بہت جلدی سے انگلی کو بار بار نکالیں تو کوئی صدمہ نہیں پہنچتا۔ اور فلسفہ میں یہ طے ہو چکا ہے کہ سرعت حرکت کی کوئی حد نہیں پس ممکن ہے کہ جسم محمدی و جسم عیسوی علیہما السلام کو کرہ زمہریر و کرہ نار کے اندر سے نہایت سرعت و عجلت کے ساتھ نکال کر آسمان پر پہنچا دیا ہو اور بوجہ سرعت جسم کو کوئی گزند نہ پہنچا ہو تو اس میں کیا استبعاد ہے۔ اور بڑی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محال عادی پر قادر ہیں جو چاہیں واقع کر دیں زمہریر اور نار سب ان کے مسخر اور محکوم ہیں۔ جب اس کا
امکان ثابت ہوگیا تو بلندی کشتی نوح علیہ السلام کی تحقیق کی کچھ حاجت نہیں۔ اور قول حضرت عائشہؓ کا بامقابلہ دیگر روایات صحیحہ مرجوح ہے یا تعدد واقعہ پر محمول ہے۔ اور صریح دلیل معراج کے جسمانی ہونے کی یہ ہے کہ منکرین نے اس کی کس شدت سے تکذیب کی۔ اگر روحانی و نومی ہوتی استعجاب واستبعاد کی کوئی وجہ نہ تھی۔ پھر حضورﷺ خود فرما دیتے کہ اس میں استبعاد کیا ہے یہ تو نومی و روحانی ہے۔
قول مرزا نمبر ٨.......: مسیح کا آنا محال ہے کیونکہ اگر وہ بحالت نبوت آئے تو
خاتم النبیین کی آیت کا نقض ہے اگر بلا نبوت آئے تو ان سے کیا قصور ہوا ہے کہ نبوت سے معزول ہو گئے۔
جواب نمبر ٨....... : اس مدعا کی تو تحقیق نہیں نہ تحقیق کی حاجت‘ مگر
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تابع شرع محمدی ﷺ ہو کر تشریف لانا یقینی ہے۔ اور اس میں نہ ختم نبوت میں قدح لازم آتا ہے نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نبوت سے معزول ہونا لازم آتا ہے۔ کیونکہ وہ اس وقت نبی بھی ہونگے اور تابع دوسرے نبی یعنی ہمارے حضور ﷺ کے تابع بھی ہونگے جس طرح حضرت ہارون علیہ السلام خود بھی نبی تھے اور شریعت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع تھے اور پھر بھی تابع ہونے سے معزول ہونا لازم نہیں آیا۔ البتہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت خود صاحب شریعت مستقلہ ہوتے تو حضور ﷺ کی شریعت کا منسوخ ہونا اور اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس وقت نبوت عطا ہوتی اور پہلے زمانہ میں نبوت نہ مل چکتی‘ تو حضور ﷺ پر نبوت کا ختم نہ ہونا بے شک لازم آتا۔ مگر جب ایسا نہیں ہے بلکہ ایک ایسے نبی جن کو حضور ﷺ کے زمانہ سے پہلے نبوت مل چکی ہے۔ حضور ﷺ کے تابع شرع ہو کر آویں گے تو اس صورت میں نہ حضور ﷺ کی ابدیۃ شریعت میں کوئی خلل ہوا اور نہ ختم نبوت میں کوئی قدح ہوا۔ اور اگر صرف اتباع کا نام معزولی ہے تو حدیث میں صاف تصریح ہے : ”لوکان موسی حیا لما وسعه الا اتباعی٠ مشکوٰۃ ج ١ ص ٣٠ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ“ اس بنا پر
١٣
معنی حدیث کے یہ ہونا چاہئے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام میرے وقت میں زندہ ہوتے تو نبوت سے معزول ہو جاتے۔ پس یہی سوال ہم کرتے ہیں کہ اس صورت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کیا خطا تھی جو وہ نبوت سے معزول کر دیئے جاتے؟۔
قول مرزا نمبر ٩......: آیت: ” وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتہ . “ میں ہر دو ضمائر میں ایک ضمیر اول میں قرآن شریف یا آنحضرت ﷺ مراد ہیں ۔ اور ضمیر دوم میں ایک کتابی‘ چنانچہ تفاسیر میں لکھا ہے کہ ہر ایک کتابی بوقت موت خود مسیح پر ایمان لے آتا ہے۔ پس ضمیرہ کی مسیح کی طرف پھیرنا اور قیامت کو صیغہ مستقبل لانا غلطی ہے۔
جواب نمبر ٩......: اس ضمیر میں کئی قول ہیں چونکہ ہمارا مدار استدلال اس پر نہیں ہے۔ اس لئے ہماری طرف سے گنجائش ہے جس قول کو چاہے کوئی اختیار کر لے ہمارا کچھ ضرر نہیں۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ضمیر راجع ہو تب تو ظاہر ہے کہ ہم کو مفید ہے ہی‘ اور اگر کتابی کی طرف ہو تو حیات و موت عیسیٰ علیہ السلام اس آیت میں مسکوت عنہا ہو گی۔ سو ہمارے پاس دوسرے دلائل موجود ہیں۔ اس لئے ایک جگہ مسکوت عنہا ہونا ہم کو مضر نہیں۔
قول مرزا نمبر ١٠......: آیت: ” قد خلت من قبله الرسل. “ صاف دلالت وفات مسیح ہے کیونکہ لفظ خلا بمعنی موت ہے اگر گذرنا معنے لئے جاویں تو وہ گذرنا مراد ہے جو پھر واپس نہ آوے۔ جیسا کہ مرنا ہے کہ پھر کوئی نہیں آیا۔
جواب نمبر ١٠......: خلا بمعنے مطلق مضی ہے۔ نہ حیات اس کے مفہوم کا جزو ہے نہ موت۔ قرینہ مقام سے جیسے مضی مناسب ہو گی مراد لے لی جائے گی۔ خواہ وہ مضی بالموت ہو یا مع الحیوۃ۔ پس خلت کو بالتعیین بمعنے ماتت لینے کی کوئی دلیل نہیں۔ رہا یہ کہ کوئی ایسی نظیر ہو جس میں حیات کے ساتھ استعمال خلت کا آیا ہو۔ جواب
سوال ششم میں اس کا جواب ہو چکا ہے کہ بعد اثبات حجت استعمال کے نظیر پیش کرنے کی حاجت نہیں۔ مگر ہم تبرعاً نظیر بھی پیش کرتے ہیں :” قال الله تعالىٰ وان من امة الا خلا فیہا نذير۔“ فی الصراح ای مضی وارسل‘ گو دلیل خارجی سے نذیر کا میت ہونا معلوم ہوا ہے مگر جو مقصود ہے اس کلام سے کہ کوئی امت بلا نذیر نہیں۔ یہی جیسا صاحب صراح نے مضی کی تفسیر ارسل سے کر کے اس کی تصریح کر دی‘ اس مقصود میں خلا کا صدق حیوۃ فاعل خلا کے ساتھ ہوا ہے کیونکہ حالت موت میں مرسل ہونے کے کوئی معنے نہیں جیسا ظاہر ہے ورنہ آیت کے یہ معنی ہونگے کہ جتنی امتیں ہوئی ہیں سب میں ایک ایک نذیر مرچکا ہے۔ سو اس کا مخالف مقصود قرآنی ہونا ظاہر ہے اور اگر قد خلت کو بمعنے قد ماتت ہی لے لیا جائے تب بھی منکر رفع جسمانی کو مفید نہیں کیونکہ موت اور رفع الجسم میں منافات نہ ہونا اوپر محقق ہو چکا ہے۔
قول مرزا نمبر ١١...... : مجمع بحار الانوار ص ٢٨٦ میں قول مالک مات بحق مسیح لکھا ہے اور امام ابن قیم اور ابن تیمیہ مسیح کی وفات کے قائل ہیں۔
جواب نمبر ١١....... : ہم کو تحقیق حوالہ و تحقیق مذہب ابن تیمیہ وابن القیم کی حاجت نہیں کیونکہ تسلیم موت میں بھی منکر رفع جسمانی کو کوئی نفع نہیں جیسا کئی بار گزر چکا۔ اور اگر کسی کے کلام میں رفع جسمانی کی نفی مصرح ہو بوجہ خلاف اجماع ہونے کے قابل قبول نہیں۔
قول مرزا نمبر ١٢....... : قرآن شریف میں ٢٣ جگہ وفات یعنی توفی بمعنے موت ہے اور انی متوفیک میں صاف ظاہر ہے کہ معنے میں مار دونگا تحریر ہے۔ نہ مراد لینا ہے۔ اور کہیں قرآن یا حدیث یا قول صحابہؓ یا محاورہ عرب میں توفی بمعنی رفع ملتا نہیں ہے۔ کیونکہ جہاں خدا فاعل اور ذی روح مفعول اور فعل توفی ہو وہاں صِرف قبض روح اور جسم بیکار چھوڑ دینا ہے۔ ایسے موقع پر کہیں سوائے قبض روح‘ اور مراد نہیں ہے۔
١٥
جواب نمبر ١٢...... : جب آیت : ”وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفّٰكُمْ بِاللَّيْلِ ، الانعام آیت ٦٠“ میں غیر موت میں (توفی کا) استعمال ثابت ہے تو اور نظائر کی کیا ضرورت ہے ؟۔ ورنہ مثل اس نظیر کے اور نظائر کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان سب نظائر کے سوا اور کوئی نظیر بھی ہے ؟۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ بعد اثبات حجت استعمال کے ایک نظیر کی بھی حاجت نہیں ہے اور صحت استعمال لغت سے ثابت ہے۔ توفی کے معنے ”تمام گرفتن حق“ لکھا ہے۔ نیز مجمع البحار میں ہے : ” متوفيك ورافعك على التقدم والتاء خرو قد يكون الوفاة قبضا ليس بموت . “
قول مرزا نمبر ١٣...... : آیت : ” فیها تحیون و فیها تموتون و
منها تخرجون . “ سے صاف مراد ہے کہ انسان زمین ہی پر رہے گا نہ آسمان پر۔ اگر آسمان پر مسیح کا جانا مانا جاوے تو یہ آیت مخالف ہے۔
جواب نمبر ١٣...... : اگر دلیل حصر بجز تقدیم معمول کے اور کچھ ہے تو ظاہر کرنا چاہئے اور اگر معمول کی تقدیم دلیل ہے تو استدلال غلط ہے کیونکہ تقدیم کے اور فوائد بھی اہل بلاغت نے ذکر کئے ہیں۔ پس اس کی کیا دلیل ہے کہ یہاں حصر کے لئے ہی ممکن ہے اور بلکہ واقعی یہی ہے کہ یہاں تقدیم اہتمام شان کے لئے ہے۔ چونکہ مقام ذکر معائنہ حضرت آدم علیہ السلام کا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ تمہارے لئے جزائے اکل شجرہ میں ملکوت سے بعد ہو گیا اور بجائے اس کے زمین سے تعلق و تلبس ہو گیا۔ پس اس مقام پر مناسب تھا کہ زمین کے ذکر کو مقدم کیا جاتا، حیات میں بھی، موت میں بھی، دوبارہ خروج میں بھی، تاکہ جمیع احوال میں تلبس بالارض مؤکد ہو جائے۔ پس اس کی حصر پر کوئی دلالت نہیں اور قرآن مجید میں ایسی تقدیم بہت مواقع پر ہے : ” قال الله تعالیٰ ان الله بما تعملون بصیر . “ اور ظاہر ہے کہ یہاں حصر کے معنی محض باطل ہیں ورنہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ غیر اعمال مخاطبین پر بصیر نہوں۔ نعوذ باللہ منہ۔ پس جب حصر پر کوئی دلیل نہیں پھر حصر پر کسی حکم کو
مبنی کرنا کس طرح درست ہوگا؟۔ بلکہ ترقی کر کے کہتا ہوں کہ آیت : ” فیہا تحیون ۔“ میں اگر حصر مانا جاوے تو لازم آتا ہے کہ انسان کی حیات جنت میں بھی نہ ہو۔ کیونکہ جنت زمین سے خارج ہے۔ حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں ہو سکتا۔ اگر کہا جائے کہ اس حصر سے زمان آخرت مستثنیٰ ہے ہم کہیں گے کہ مکان آخرت بھی مستثنیٰ ہے۔ آسمان مکان آخرت میں داخل ہے۔ پس جو شخص مکان آخرت میں ہو اس کی حیات غیر ارض پر ہو سکتی ہے اور یہی جواب ہے : ”ولکم فی الارض مستقر ۔“ سے استدلال کرنے کا۔ مزید برآں یہ ہے کہ اگر فی الارض کی تقدیم حصر کے لئے ہے تو لکم کی تقدیم بھی مفید حصر ہونا چاہئے جس سے یہ لازم آوے گا آپ کا‘ کہ بجز انسان کے اور کوئی مخلوق زمین پر نہیں رہتی اور بطلان اس کا ظاہر ہے۔
قول مرزا نمبر ١٤...... : آیت : ”اوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ۔
وکانا یا کلان الطعام ۔“ وغیرہ میں صاف ہے کہ انسان بلا غذا نہیں رہ سکتا ہے۔ پس مسیح آسمان پر کس طرح قائم ہو گئے اور زکوٰۃ آسمان پر کس کو دیتے ہوں گے ؟۔
جواب نمبر ١٤...... : زکوٰۃ سے مراد اگر یہی زکوٰۃ بالمعنی المشہور ہو تب بھی
کچھ اشکال نہیں۔ رہا یہ شبہ کہ آسمان پر کس کو دیتے ہوں گے محض ”پادر ہوا“ ہے۔ کیونکہ زمین پر رہتے بھی یہ حکم ایسا نہیں جو کسی عارض سے ساقط نہ ہو جاوے۔ مثلاً مامور بالزکوٰۃ کے پاس مال نہ رہے اب وہ مامور نہ رہے گا‘ اور کوئی امر مانع وجوب پایا جاوے وجوب نہ رہے گا۔ پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ منجملہ شرائط وجوب زکوٰۃ کے یہ بھی ہے کہ وہ شخص زمین پر رہتا ہو اور مالدار ہو‘ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر تشریف لے گئے اور وہاں ان کے پاس مال بھی نہیں اس لئے شرط وجوب مفقود ہو گئی۔ پس مشروط یعنی وجوب بھی ساقط ہو گیا۔ پس اوصانی بالزکوٰۃ کے معنے یہ ہوں گے‘ اوصانی بشرط اجتماع شرائط وارتفاع الموانع‘ جیسا جمیع احکام میں بالا جماع یہی دونوں قیدیں معتبر ہوتی ہیں۔ اور حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ پر زکوٰۃ واجب ہونے نہ ہونے کی تحقیق کی حاجت نہیں۔ اگر ان پر واجب نہ ہونا ثابت بھی ہو جاوے تو
١٧
اوصانی بالزکوۃ کے معنے ہوں گے ”اوصانی بان آمر امتی بالزکوٰۃ رہا کانا یاکلان الطعام ۔“ سے یہ استدلال کرنا کہ بلاغذا انسان زندہ نہیں رہ سکتا اور اس سے حیات عیسویہ کو آسمان پر ممتنع کہنا نہایت ہی غلطی ہے۔ اس آیت میں صرف ان کے اکل طعام سے ان کے ابطال الوہیت پر استدلال کیا ہے‘ جس کا عمر بھر میں ایک بار بھی متحقق ہو جانا استدلال کے لئے کافی ہے‘ کیونکہ اکل طعام دلیل احتیاج کی ہے اور وہ دلیل حدوث کی ہے اور وہ منافی ہے وجوب کے‘ جو الوہیت کے لئے لازم ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ایک بار کے اکل طعام سے بھی حدوث ثابت ہو جاویگا اور حادث کا واجب بالذات ہونا ممکن ہی نہیں۔ اس لئے ایک فرد بھی اکل طعام ہی استدلال کے لئے کافی ہو گی۔ یہ حاصل ہے آیت کا۔ پس مقصود آیت کا جب ایک بار کے اکل طعام سے بھی حاصل ہو سکتا ہے تو دوام اکل طعام پر آیت کی دلالت کہاں ہے؟ جب آیت دوام اکل طعام پر دلالت نہیں کرتی تو ضرورت اکل طعام پر تو کب دلالت کر سکتی ہے۔ جیسا کہ عقلاء پر ظاہر ہے۔ پھر آیت سے امتناع حیات بدون غذا کا حکم کرنا جو موقوف ہے اثبات ضرورت اکل طعام پر کب صحیح ہو گا۔ پس یہ دعویٰ محض غلط ہوا کہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا غذا انسان زندہ نہیں رہ سکتا‘ دوسرے کانا دوام کے لئے ضروری الدلالۃ بھی نہیں جیسا اہل عربیہ پر ظاہر ہے۔ تیسرے یہ کہ اگر دوام کے لئے مان بھی لیا جاوے تو باعتبار زمان ماضی کے اور اس میں بھی زمان سکونت ارض کے اعتبار سے دوام ہو سکتا ہے پس آسمان پر غذا کی ضرورت یا دوام کی کیا دلیل ہے۔ رہا اگر کوئی آیت سے قطع نظر کر کے باعتبار اقتضائے مزاج انسانی کے دعویٰ کرے کہ بدون غذا کے حیات ممتنع ہے تو جواب دیا جاویگا کہ یہ ظاہر ہے کہ یہ امتناع عقلی یا شرعی تو ہے نہیں‘ صرف عادی ہے سو اللہ تعالیٰ کو ہر طرح کی قدرت ہے‘ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اقتضاء مزاج کو بدل ڈالیں کہ غذا کی حاجت نہ رہے۔ دنیا میں جب ایک ملک سے دوسرے ملک میں جا کر بعض مقتضیات مزاجیہ بدل جاتے ہیں تو آسمان و زمین کے خواص میں تو بہت فرق ہونا ممکن ہے۔
چنانچہ حضرت قتادہؓ کا قول روح المعانی میں منقول ہے :
” رفع اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام فکساہ الریش والبسہ
١٨
النور و قطع عنه لذة المطعم و المشرب فصار مع الملائكة . ”بلکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ خروج دجال میں اہل ایمان کو کل کو‘ یا بعض کو بجائے غذا کے صرف ذکر اللہ کافی ہو جایا کرے گا۔ مشکوٰۃ ص ٤٧٧ باب العلامات بین یدی الساعۃ و ذکر الدجال میں ہے :” قال ﷺ یجزیہم ما یجزی اهل السماء من التسبيح والتقديس . “ اور اگر بدون غذا کے زندہ رہنا سمجھ میں نہیں آتا تو ہم کہیں گے کہ کیا آسمان پر اللہ تعالیٰ غذا نہیں دے سکتے۔ اگر جنت کے میوے کھلا دیتے ہوں تو کیا مشکل ہے ؟۔
قول مرزا نمبر ١٥.......: مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ مسیح فوت ہو گئے۔ اور جو فوت ہو جاتا ہے وہ پھر واپس نہیں آتا یہ سنت اللہ ہے غیر متغیر و متبدل اور حضرت عزیر علیہ السلام کا زندہ ہونا واقعی نہ تھا اور دیگر مردمان کا زندہ ہونا‘ مراد وہاں موت سے غشی ہے نہ حقیقی موت۔
جواب نمبر ١٥.......: جن قصص میں مردوں کا زندہ ہونا قرآن مجید میں آیا ہے ان الفاظ کے حقیقی معنی تو یہی ہیں کہ بے جان سے جان دار کر دیئے گئے موت کو غشی پر اور احیاء کو ازالہ غشی پر محمول کرنا مجاز ہے اور ظاہر ہے کہ جب تک حقیقی معنے کے تعذر کی کوئی وجہ نہ ہو اس وقت تک مجاز پر عمل کرنا درست نہیں۔ لہٰذا یہ تاویل یقیناً باطل ہے۔ اور اگر بلا دلیل ایسے احتمالات کا اعتبار کیا جاوے تو حشر و نشر میں بھی ایسی تاویلیں ہو سکتی ہیں۔ جیسا ملحدین نے کہا ہے۔ پس جیسا ملحدین کے شبہ کو اسی قاعدہ اصالۃً معنے حقیقی سے باطل کیا جاتا ہے تو اسی قاعدہ پر یہاں بھی عمل ضروری ہے۔ کیونکہ دونوں جگہ لفظ احیاء اور اماتت آیا ہے۔ البتہ جہاں کوئی دلیل ترک معنے حقیقی کی ہو وہاں مجاز لینے میں کسی کو کلام نہیں‘ لیکن جہاں کوئی قرینہ مانعہ معنے حقیقی سے نہ ہو وہاں کوئی وجہ نہیں کہ معنے مجازی لئے جاویں۔ اگر یہ کہا جاوے کہ یہاں دلیل قائم ہے معنے حقیقی نہ لینے کی‘ وہ یہ کہ سنت اللہ جاری ہے کہ مر کر کوئی زندہ نہیں ہوتا :” ولن تجد لسنة الله تبديلا . “ ہم کہتے ہیں کہ اگر سنت اللہ کی تبدیل کے یہ معنے ہوں تو پھر قیامت میں مردوں کو زندہ کرنا تو سب سے بڑھ کر سنت ١٩
اللہ کی تبدیل ہے کیونکہ اس کے قبل تک تو یہی سنت چلی آتی تھی کہ سب مردہ تھے بلکہ قبل قیام ساعت تو یہ سنت اس قدر پرانی نہیں ہوئی جس قدر قیام ساعت تک پرانی ہو جاوے گی۔ پس اگر اس روز اس سنت اقدم کی تبدیل ہو گی تو اس وقت تو اقدم بھی نہیں ہوئی صرف سنت قدیمہ ہی کی تبدیل ہے۔ جب اقدم میں تبدیل جائز ہے تو قدیمہ میں تو بدرجہ اولیٰ جائز جاننا چاہئے۔ اور لیجئے عالم اہل حق کے نزدیک حادث بالزمان ہی قبل حدوث ایک غیر متناہی مدت اس پر عدم کی گزر گئی۔ اور یہ معدوم رکھنا سنت اللہ تھا۔ پس عالم کو پیدا کر کے اس سنت اللہ کو کیسے بدل دیا گیا۔ اور پھر پیدا کرنے کے بعد جب اس کا وجود مظہر سنت اللہ ہو گیا پھر موت مسلط کر کے اس سنت کو کیسے بدل دیا جاتا ہے۔ غرض یہ چند بار تبدیل سنت اللہ کیسے واقع ہوا۔ اس پر اگر یوں کہا جاوے کہ یہ مجموعہ حالات کا من حیث المجموع سنت اللہ ہے اور اس میں تبدیل نہیں ہوئی۔ ہم کہیں گے اسی طرح اکثر مردوں کو دنیا میں زندہ نہ کرنا اور کسی کسی مردے کو زندہ کر دینا یہ مجموعہ بھی سنت اللہ ہے۔ پس کسی کسی کا زندہ کرنا موجب تبدیل سنت اللہ نہیں ہوا۔ اصل یہ ہے کہ آیت کے یہ معنے ہی نہیں کہ ہم خود بھی اپنے طریقہ کو نہیں بدلتے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوئی اور شخص اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ ہمارے طریقہ کو بدل سکے۔ جیسے ارشاد ہوا ہے : ” لا مبدل لكلماته . “ اور اگر تبدیل کا فاعل اللہ تعالیٰ ہی کو مانا جاوے تو سنت سے مراد سنت قولیہ یعنی وعدہ قولی ہے اس میں وہ خود بھی تبدیل نہیں فرماتے اور اس تمام تر تقریر کی اس وقت ضرورت ہے جب وفات مسیح علیہ السلام کو مان لیا جاوے اور یہی اس میں گنجائش کلام ہے جیسا تفسیر متوفیک کے ضمن میں معلوم ہوا ہے۔
قول مرزا نمبر ١٦......: مسلم کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت سے سو برس کے اندر جس قدر نفوس زندہ ہیں وہ مر جاوینگے۔ اگر بقول مسلمانان مسیح زندہ بھی تھے تو اس حدیث سے مر گئے۔
جواب نمبر ١٦......: یہ حدیث اہل ارض کے باب میں ہے نہ کہ اہل سماء کے بارہ میں۔ چنانچہ حدیث میں : ” علی ظہر الارض . “ کی قید صاف مذکور ہے۔ اور اہل
٢٠
ارض میں سے بھی باعتبار اکثر کے فرمایا ہے ورنہ خود ابلیس بھی ایک نفس منفوسہ ہے۔ اور اب تک زندہ ہے۔ مقصود اصلی اس حدیث کا یہ فرمانا ہے کہ ایک صدی کے بعد یہ قرن گذر کر دوسرا قرن لگ جاوے گا اور زمانہ کا نیا رنگ ہو جاوے گا گو بعض لوگ اس قرن کے زندہ بھی رہیں، چنانچہ راوی حدیث ابن عمرؓ نے خود یہی تفسیر کی ہے رواہ البخاری پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ وقت ارشاد اس حدیث کے ، اہل سماء میں سے ہیں۔ اس لئے وہ اس حدیث میں داخل ہی نہیں۔ اور اگر زبردستی باعتبار ماکان کے ان کو علیٰ ظہر الارض مانا جاوے تو دوسرا جواب دیدیا جاوے گا کہ یہ حدیث باعتبار اکثر کے ہے۔ نہ باعتبار کل کے ، اور بعد ان جوابوں کے حیات خضر علیہ السلام و اصحاب کہف و قصص جن کی تحقیق کی حاجت نہیں کیونکہ یہ سب نظائر ہوگئے اور ہر واقعہ کے لئے اگر نظیر کی ضرورت ہو تو وہ نظیر بھی ایک واقعہ ہوگا۔ اس قاعدہ کے موافق اور اس کے لئے ایک اور نظیر چاہئے۔ اس طرح اس میں بھی کلام ہوگا۔ پس یا تو سلسلہ کہیں ختم نہیں ہوگا تو تسلسل محال لازم آوے گا، اور اگر کہیں ختم ہوگا تو وہ واقعہ بلا نظیر مان لیا جاوے گا تو وہ قاعدہ غلط ہوگا۔
قول مرزا نمبر ١٧...... : حدیث میں ہے کہ میری امت کی عمر بہت کم
ہوگی۔ اگر بقول مولویان مسیح زندہ ہیں تو اس وقت دو ہزار برس کی ان کی عمر ہوگی اور یہ خلاف ہے۔ کیونکہ مسلمان مسیح کو امتی بھی آنحضرت ﷺ کا مانتے ہیں۔
جواب نمبر ١٧...... : اس قسم کی حدیثوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام
داخل نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اس ارشاد کے وقت وہ حضور ﷺ کی امت میں داخل نہیں ہوئے جو اس حدیث میں داخل کئے جاویں ۔ اور جب امتی ہوکر تشریف لاوینگے تو بمقتضائے ان احادیث کے معمولی عمر کے بعد وفات فرما جاوینگے۔ دوسرے یہ حکم باعتبار اکثر کے ہے کیونکہ بعض روایات میں : ” مابین ستین الی سبعین “ آیا ہے۔ حالانکہ مشاہدہ ہے کہ بعض امتیوں کی عمر اس مدت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ بہر حال ان احادیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا اثبات سخت مغالطہ ہے۔
٢١
جواب نمبر ١٨......: کہ نبی کے معنے خبر دہندہ ہے۔ اور وحی اور ان پر بھی سوائے انبیاء کے نازل ہوئی ہے۔ پس باب وحی و نبوت من کل الوجوہ بند نہیں ہوا۔ البتہ نبی صاحب شریعت کا خاتمہ ہے۔ بطور ظلیت محمدی ﷺ کے جزوی نبی اس امت میں ہوتے رہیں گے۔ فقط!!!
جواب نمبر ١٨......: اس کی تحقیق جواب سوال چہارم میں گزر چکی۔
قول مرزا نمبر ١٩......: اگر جناب کے پاس انجیل برنباس کی ہووے تو اس میں سنا ہے کہ حضرت مسیح کے زندہ آسمان پر جانے اور پھر آنے اور آنحضرت کی پیشین گوئی کا ذکر درج ہے یہ تحریر فرماویں۔
جواب نمبر ١٩......: انجیل نہ میرے پاس ہے نہ بعد اقامۃ دلائل شرعیہ اس سے تحقیق کرنے کی حاجت ہے۔
قول مرزا نمبر ٢٠......: آیت: ” ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم وامه ومن فی الارض جمیعا .“ میں صاف حیات مسیح نکلتی ہے۔ مگر لفظ امہ کی کیا توجیہ ہے؟۔ کیونکہ نزول آیت کے وقت حضرت مریم علیہا السلام فوت شدہ تھیں۔
جواب نمبر ٢٠......: ہمارا مدار استدلال یہ نہیں لہٰذا اس غرض سے توجیہ کی حاجت نہیں گو تحقیق تفسیر کے مقام میں توجیہ کی جائے جس کا ذکر کرنا یہاں ضروری نہیں۔
قول مرزا نمبر ٢١......: سنا ہے کہ محی الدین ابن عربی نے فتوحات مکیہ کے باب ٣٦٠ یا ٢٦٠ میں ایک حدیث ابن عمرؓ سے ایک حواری مسیح کا قصہ صعود و نزول مسیح میں لکھا ہے اور وہی روایت کتاب ازالۃ الخفا حضرت شاہ ولی اللہؒ میں بھی ہے۔ ان کی صحت تحریر فرمائیے کہ کہاں ہے اور ازالۃ الخفا میں کیا عبارت ہے اور سنا ہے کہ محی الدین ابن عربی نے اس حدیث کی صحت کشفی طور پر کی ہے۔
٢٢
جواب نمبر ٢١...... :
فی طلعته الشمس ما یغنيك عن زحل
قول مرزا نمبر ٢٢......: بوقت وفات جناب سرور کائنات روحی فداہ حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کو مردہ کہے گا میں مارونگا۔ اور فرماتے تھے کہ محمد ﷺ نہیں مرے بلکہ : ”رفع کما رفع عیسیٰ ٠“ کما یعنے حضرت مسیح کی طرح زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ پھر حضرت صدیق اکبرؓ نے خطبہ پڑھا اور سمجھایا۔ یہ پورا قصہ کہاں ہے اور یہ الفاظ : ”رفع کما رفع عیسیٰ٠“ ہیں یا کیا الفاظ ہیں۔
جواب نمبر ٢٢......: یہ الفاظ مجھ کو یاد نہیں۔ اگر ہوں تو تشبیہ مطلق رفع میں ہے گو مشبہ میں رفع روحانی ہو اور مشبہ بہ میں رفع جسمانی مع الروح ہو۔ صحت تشبیہ کے لئے ادنیٰ مشارکت کافی ہے۔ البتہ بخاری میں یہ الفاظ پیش نظر ہیں : ”ولیبعثنہ اللہ ٠“ سو اس میں کوئی امر قابل بحث ہی نہیں۔
قول مرزا نمبر ٢٣......: حضرت مہدی علیہ السلام کا بعد اختلاف اس کے کہ وہ بنی ہاشم سے ہونگے یا کسی اور قوم سے قول فیصل اور اکثر کیا ہے۔
جواب نمبر ٢٣......: احادیث میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی نسبت : ”من اہل بیتی ومن عترتی ومن اولاد فاطمۃ ٠“ منصوص ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ بنی ہاشم سے ہیں۔
قول مرزا نمبر ٢٤......: مرزا : ”لامہدی الاعیسیٰ ٠ و امامکم منکم٠“ کے احادیث سے کہتا ہے کہ مہدی کوئی نہیں ہو گا فقط مسیح ہو گا۔ چنانچہ میں مسیح ہوں اس کی کیا عمدہ توجیہ ہے ؟۔
٢٣
جواب نمبر ٢٤ ...... : چونکہ احادیث سے قطعاً تغائر و تمائز حضرت عیسیٰ علیہ السلام و حضرت مہدی علیہ السلام کا ثابت ہے اور نیز اجماع اس پر منعقد ہے، اس لئے حدیث : ”لا مہدی الاعیسیٰ“ بالاجماع (ضعیف و ناقابل حجت ہے صحیح ہوتی تو تب بھی ) ماؤل ہے۔ علماء نے چند تاویلیں ذکر کی ہیں جو مناسب معلوم ہو، اختیار کر لینا جائز ہے۔ میرے نزدیک توجیہ حدیث کی یہ ہے کہ یہ ترکیب مستعمل ہوتی ہے کمال تشابہ کے لئے۔ پس مطلب یہ ہے کہ ان دونوں بزرگوں میں باعتبار صفات کمال کے ایسا تشابہ ہو گا کہ گویا مہدی عین عیسیٰ علیہ السلام کے ہیں۔ جیسا کسی کا قول ہے شعر :
تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
اور امامکم منکم میں امام سے مراد حضرت مہدی علیہ السلام ہیں اور اس سے قبل اس حدیث میں یہ ہے کہ : ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم“ اور امامکم منکم مبتدأ خبر مل کر حال واقع ہو گا۔ اس میں تو کوئی وجہ شبہ اتحاد کی بھی نہیں، بلکہ مطلب صاف ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ایسی حالت میں آوینگے جبکہ تم میں مہدی بھی موجود ہونگے۔ غرض کسی حدیث سے دونوں کا ایک ہونا ثابت نہیں، رہا اپنی نسبت دعویٰ کرنا اس کے متعلق خاتمہ ملاحظہ کیا جاوے۔
قول مرزا نمبر ٢٥ ...... : بخاری شریف میں عامر بن فہیرہ کا بئر معونہ کے دن مقتول ہونے کے بعد جسد عنصری آسمان پر اٹھ جانا درج ہے۔ ایک کتاب میں دیکھا ہے، امید کہ اس کی صحت باب بخاری وغیرہ سے پتہ دیں اور یہ بھی ثبوت دیں کہ انسان کا آسمان پر جانا ممکن ہے یا نہیں۔ کتاب شرح الصدور ص ٧٤ کا حوالہ بھی لکھا ہے بابت حبیب بن عدی کے۔ چونکہ یہ ایک بڑا مجموعہ سوالات کا ہے اور میں بفضل خدا اور برکت سرور کائنات ﷺ و علمائے شریعت سے اپنے عقائد اہل سنت حنفی المذہب پر بہت معتقد و قائم
٢٤
ہوں لوگوں کی چھیڑ چھاڑ اور بعض احباب کے بگڑ جانے اور بعض کے مستقیم رہنے کی وجہ سے یہ تکلیف حضور کو دی ہے۔ بخدا! خدا ہی عالم ہے کہ یہ امر بطور بناوٹ اور خود غرضی کی وجہ سے نہیں ۔ اگر حضور ﷺ کل کا جواب تحریر فرما دینگے تب بھی میں جناب کا مشکور اور اگر بعض کا‘ تب بھی حضور کا ممنون ہوں۔
جواب نمبر ٢٥....... : بخاری جلد ثانی ص ٥٨٧ میں اس قصہ کے یہ الفاظ ہیں : ” قال لقد رايتہ بعد ما قتل رفع الى السماء حتى انى لا نظر الى السماء بینه و بین الارض ثم وضع ۔ “ اس میں رفع مع الجسم کی تصریح ہے اور شرح الصدور میرے پاس نہیں ہے نہ اس میں تحقیق کرنے کی حاجت اور ممکنات کے ثبوت کا قاعدہ و طریقہ جواب ہشتم میں مذکور ہو چکا ہے۔ اور استحالہ کسی دلیل سے ثابت نہیں۔
قول مرزا نمبر ٢٦....... : اور ایک امر یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت حسینؓ و علیؓ کے اوپر طعن و تشنیع بہت کیا ہے اور آخر میں یہ فقرہ لکھ دیتا ہے کہ میں تو اپنے عیسیٰ کو جو نبی تھے یا حضرت حسینؓ و علیؓ کو جو ہمارے ہیں نہیں کہا ہے۔ بلکہ عیسائیوں کے مسیح کو جس نے خدائی کا دعویٰ کیا ہے اور جس کا قرآن میں ذکر نہیں ہے کہا ہے اور شیعوں کے حسینؓ اور علیؓ کو کہا ہے۔ چونکہ عیسائیوں نے ہمارے حضرت کو اور شیعوں نے ہمارے خلفاء ثلاثہ کو بہت برا کہا ہے اس وجہ سے ہم نے بھی ان کے مسلمہ و موضوعہ بصفات موصوفہ بخیال ان کے ‘ کو کہا ہے۔ آیا ایسا پیرا یہ اور حیلہ کر کے حضرت حسینؓ ، مسیح علیہ السلام ، علیؓ پر کس قدر حملہ جائز ہے؟۔ یا قطعی ناجائز ہے اگر کوئی الزام ان پر دیا جاوے تو اس کی کیا صورت ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عیسائیوں کے مقابلہ میں حقِ مسیح علیہ السلام علماء سلف و خلف نے ایسا حملہ کیا ہے اور علماء اہل سنت نے بمقابلہ شیعان کے برتاؤ کیا ہے۔ یہ کہاں تک صحیح ہے۔
جواب نمبر ٢٦....... : گو مناظرین کی ایسی عادت ہے مگر قرآن مجید کی ایک
٢٥
آیت کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ امر قبیح ہے۔ وہ آیت یہ ہے : ”لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْا إِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاءُ ٠ آل عمران ١٨١“ اس کا شان نزول مفسرین میں مشہور ہے کہ حضور ﷺ نے صدقات کی ترغیب فرمائی تھی جس پر یہود نے یہ بات کہی‘ یہ یقینی ہے کہ ان کا یہ عقیدہ نہ تھا‘ بلکہ محض الزام کے طور پر کہا تھا کہ حضور ﷺ کی ترغیب سے (نعوذباللہ) اللہ تعالیٰ کا حاجت مند ہونا لازم آتا ہے۔ مگر انہوں نے اس قضیہ شرطیہ کو صورۃ حملیہ میں کہا اللہ تعالیٰ نے اس کی تقبیح فرمائی۔ گو اس کا بطور قضیہ شرطیہ کے کہنا بھی بوجہ لزوم تکذیب حضور ﷺ کے قابل تقبیح کے ہے۔ مگر اس مقام پر اس کا ذکر نہیں فرمایا۔ صرف امر اول کی تقبیح پر اکتفا فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس طرح کا پیرایہ قبیح ہے۔ اگر کسی نے ایسا کیا اس کی تاویل کرینگے کہ مقصود الزام ہے اور کہیں گے کہ انہوں نے آیت میں غور نہیں کیا ہو گا۔ اور خاص کر جب یہ کہنا مخالفین کی زبان سے اپنے بزرگوں کو برا بھلا کہلانے کا سبب بن جاوے‘ اس صورت میں تو دوسری وجہ سے بھی ممنوع ہونے کی پائی جاوے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : ”وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ٠ الانعام آیت ١٠٨“ اور سلف کے کلام میں ایسے عنوانات نظر سے نہیں گزرے۔
قول مرزا نمبر ٢...... : چونکہ بعض اوقات بعض مسلمان کہہ دیا کرتے ہیں کہ مرزا کلمہ گو ہے اور اس کو برا نہ کہو اور خاص کر صوفی المشرب میں تو برا کسی کو کہنا ہی نہیں آیا ہے۔ اس میں حضور کی کیا رائے ہے؟ کیونکہ مرزا مدعی نبوت و رسالت و مہدیت و مسیحیت وغیرہ کا ہے۔ اور ظاہراً اہانت انبیاء و علماء کی کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ پس ایسے شخص کی نسبت کیا حکم ہے۔ علماء کی مواہیر اس کے ضال و مضل و بعض بکفر وغیرہ ثبت ہیں۔ امید کہ مفصل جواب نمبر وار سے مشرف فرماویں گے اور جس کتاب کا حوالہ دیں باب یا فصل سے مطلع فرماویں۔ چونکہ مرزا بخاری شریف پر اور قول میں کہ حضرت ابن عباسؓ پر بہت ناز کرتا ہے۔ اگر زیادہ تر حوالہ بخاری شریف اور حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کا حوالہ دیں تو عمدہ ہے۔ اور اکابر
٢٦
علماء جن میں محی الدین ابن عربیؒ یا جلال الدین سیوطیؒ اور خصوصاً حضرت امام مالکؒ کی بابت اگر کہیں اقوال ہوویں تو ضرور تحریر فرماویں یا اصحاب مالکؒ سے حوالہ دیں۔ اور مجمع البحار کی عبارت سے تسلی بخشیں۔ حضور کے جواب کا میں منتظر رہونگا۔ اگر کاغذات جواب زیادہ ہو جاویں تو بیرنگ ارسال فرماویں۔ یا جو صورت ہووے۔ زیادہ والسلام۔ خدا حضور کو سلامت با کرامت رکھے۔ امید رکھتا ہوں کہ جناب بندہ کو محروم نہ رکھیں گے۔ بندہ خاکسار۔ کرم خان نائب محافظ دفتر فارسی صاحب ڈپٹی کمشنر انبالہ، شہر انبالہ محلہ نیلانس، ٢٢ فروری ١٩٠٣ء
جواب نمبر ٧......: بلا ضرورت تو کسی کو برا بھلا کہنا واقعی برا ہے گو وہ شخص برا ہی کیوں نہ ہو لیکن جہاں بندگان خدا کے دین اور عقیدہ کی حفاظت مقصود ہو ایسے وقت واجب ہے کہ جس شخص کی وجہ سے دین میں فتنہ ہوتا ہو اس کی غلطیوں کو مسلمانوں پر ظاہر کرے البتہ سب و شتم فضول حرکت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”وَلَا تُجَادِلُوْا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ“ العنکبوت آیت ٤٦ ”پھر اللہ فرماتے ہیں : ”وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَقُوْلُوا الَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ“ بنی اسرائیل آیت ٥٣“
اب ہم اس مقام پر مناسب سمجھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعض اقوال مع حوالہ نقل کریں۔ ناظرین اگر اہل علم و فہم ہیں تو خود ورنہ علماء محققین کے روبرو ان کو پیش کر کے تحقیق کرلیں کہ ایسے اقوال کا شریعت میں کیا اثر اور قائل کا کیا حکم ہے؟۔
قول اول :
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ص ٢٤٠ ج ١٨، مؤلفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
قول دوم : مشتمل بر چند قول ازالہ اوہام ص ٣٠٨، خزائن ص ٢٧٥،
ج ٣ : ٢٥٨
٢٧
اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح بن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل التراب میں کمال رکھتے تھے۔ گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے تھے.......... اگر یہ عاجز اس عمل التراب کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ تھا.......... جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کی رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی و دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے وہ اپنی ان روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کی کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارہ میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔ حالانکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ازالہ اوہام ص ٣، خزائن ص ١٠٤ ج ٣ پر لکھا ہے کہ : ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں مرے گا ۔ “ اور بھی اس قسم کے اقوال ہیں جو ان کے اور ان کے مقلدین کے تالیفات میں نظر پڑتی ہیں۔ اللہم اعذنا من کل قول او عمل لا یرضیک ٠
قول مرزا نمبر ٢٨....... : حضرت الیاس یعنی ادریس علیہ السلام کے نزول
کا صحیح حوالہ تحریر فرمائیں۔
جواب نمبر ٢٨...... : چونکہ ہمارا مدار استدلال نہیں اس لئے کچھ حاجت
نہیں۔
قول مرزا نمبر ٢٩....... : اور حضرت عزیر علیہ السلام کے دوبارہ شہر میں
آنے کا اور توریت زبانی پھر کہنے یا صحیح کرنے کا قصہ جو مشہور ہے اس کا پتہ صحیح کیا ہے۔
٢٨
جواب نمبر ٢٩...... : قرآن مجید میں بعد قصہ مناظرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک قصہ مذکور ہے جس میں صاحب قصہ کا مر جانا پھر بعد سو برس کے زندہ ہونا صراحۃً مذکور ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ صاحب قصہ حضرت عزیر علیہ السلام ہیں۔ غرض صاحب قصہ کوئی ہو حیات بعد موت ثابت ہے اور حفظ توریت وغیرہ کے قصہ کی تحقیق کی حاجت نہیں۔
قول مرزا نمبر ٣٠...... : اگر کسی مردہ کا زندہ ہونا کسی اولیاء اللہ سے بثبوت کتاب معتبر ہو تو تحریر فرمائیں۔
جواب نمبر ٣٠...... : کچھ حاجت نہیں: ”تمت الجوابات والحمد للّٰہ الذی بنعمۃ تتم الصالحات۔“
خاتمہ مفیدہ جس میں خلاصہ اختلاف
مرزا قادیانی و جمہور مسلمین کا بیان ہے
جاننا چاہئیے کہ جمہور اہل اسلام کا عقیدہ مشترکہ اس باب میں صرف اس قدر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع الجسم مرفوع الی السماء ہوئے اور پھر مع الجسم آسمان سے نزول فرمائیں گے۔ مثل دیگر اموات کے میت و مقبور نہیں ہوئے۔ اب اس رفع ونزول کے درمیان کی حالت کو کوئی شخص خواہ حیات کہے یا موت کہے یا حیات بعد الموت کہے اس کو اختیار ہے کوئی شق اصل مدعا میں قادح نہیں۔ اس بناء پر اگر آیات متضمنہ لفظ توفی وخلت وغیرہا کو معنی موت پر بھی محمول کر لیا جائے تو مدعائے مذکور میں مضر نہیں۔ چنانچہ چند جگہ ضمن اجوبہ اصولیہ میں اس کا مذکور ہو چکا ہے۔ اس حالت کو یا اصطلاحاً موت کہا جائے گا یا تشبیہاً جیسا بعض مفسرین نے توفی کے معنی میں لکھا ہے: ”السابع انی متوفیک ای اجعلک کالمتوفی لانہ اذا رفع الی السماء وانقطع خبرہ عن الارض کان“
٢٩
کا المتوفیٰ ۔ کبیر“ اور حاصل دعویٰ مرزا غلام احمد قادیانی کا دو امر ہیں۔ ایک دعویٰ مسیح ہونے کا۔ دوسرا دعویٰ مہدی ہونے کا۔ اور ان دونوں دعوؤں پر دو دلیلیں قائم کرتے ہیں۔ ایک تفصیلی‘ دوسری اجمالی۔ تفصیلی دلیل دونوں دعوؤں پر جدا جدا اس طرح ہے کہ دعویٰ اولیٰ کی بنا پر مقدمات ہیں۔
- نمبر ١ ...... : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہو گیا۔
- نمبر ٢ ...... : بعد وفات پھر کوئی زندہ نہیں ہو سکتا۔
- نمبر ٣ ...... : پس احادیث نزول میں عیسیٰ مجازی مراد ہے اور وہ میں ہوں۔
میں کہتا ہوں کہ مقدمہ اولیٰ میں اگر وفات سے مراد مع دفن الجسم فی الارض ہے تو بوجہ مخالف ہونے ظواہر آیات و نصوص حدیث و محکم اجماع کے غلط ہے۔ جیسا بضمن اجوبہ مذکور بیان کیا گیا ہے اور اگر مطلق وفات ہے تو مضر نہیں‘ کیونکہ مطلق وفات اور رفع الجسم الی السماء میں منافات نہیں جیسا اوپر ذکر ہو چکا اور مقدمہ ثانیہ میں اگر مراد امتناع سے امتناع عادی ہے تو جمہور کو مضر نہیں کیونکہ دلائل یقینیہ سے وقوع خوارق عادات کا ثابت ہے اور اگر امتناع عقلی یا شرعی ہے تو غلط ہے یہ بھی ضمن اجوبہ میں گزر چکا ہے۔ مقدمہ ثالثہ مبنی ہے پہلے دو مقدموں پر‘ ان کے انہدام سے یہ بھی منہدم ہو گیا۔ پھر علی سبیل التنزیل کہا جاتا ہے کہ اگر بفرض محال عیسیٰ مجازی ہی مراد لیا جائے تب بھی تعیین مدعا کی کیا دلیل ہے کہ میں ہی ہوں ممکن ہے کہ کوئی اور شخص ہو۔ رہا تشابہ صفات کا سو ایسی تاویلات بعیدہ سے تو سینکڑوں آدمی مرزا غلام احمد قادیانی سے بڑھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مشارکت صفاتی رکھنے والے نکل سکتے ہیں اور اگر تعین پر بعض مکاشفات سے استدلال کیا جائے جیسا کہ تحفہ گولڑویہ میں نقل کیا ہے تو بعد تسلیم صحت روایت اور ان صاحبوں کے صاحب کشف صحیح ہونے اور اس کشف میں غلطی نہ ہونے کے ان مکاشفات کو بوجہ مخالف دلائل شرعیہ کے تاویلات مناسب سے ماؤل کیا جائے گا۔ رہا دوسرا دعویٰ اس کی بناء دو مقدموں پر ہے۔
٣٠
نمبر ١.......: مہدی و عیسیٰ ایک ہیں۔
نمبر ٢.......: میں مسیح ہوں نتیجہ نکلا کہ میں ہی مہدی ہوں۔
میں کہتا ہوں کہ مقدمہ ثانیہ میں دعویٰ اولی ہے جس کا ابطال ابھی ہو چکا ہے اور مقدمہ اولی اس لئے صحیح نہیں کہ احادیث سے صاف دونوں کا جدا جدا ہونا صریحاً ثابت ہوتا ہے اور تاویل حدیث کی اوپر مذکور ہو چکی اور اگر نفی تغائر میں المسیح والمہدی کے لئے احادیث وارد فی حق المہدی کا انکار کیا جائے جیسا بعضوں کو مقدمہ ابن خلدون سے شبہ پڑ گیا ہے تو اس کے جواب میں احقر کی ایک تحریر ملاحظہ فرمائی جائے جس کو مہتمم مطبع آسی مدراس لکھنؤ اپنے جریدہ البیان میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ غرض کہ جب یہ دونوں مقدمے بھی ثابت نہ ہوئے دوسرا مدعا بھی ثابت نہ ہوا اور اگر اجتماع کسوف وخسوف سے ماہ رمضان میں جو کئی سال ہوئے واقع ہوا تھا اس مدعا میں سہارا ڈھونڈا جائے، تو اول تو اس میں یہی کلام ہو سکتا ہے کہ تعین کی کیا دلیل ہے ممکن ہے کہ یہ علامت قرب خروج مہدی اصلی کی ہو اور وہ بعد چندے متحقق ہو جائے دوسرے یہ کہ حدیث میں جس کیفیت سے خسوف وکسوف کے اجتماع کی خبر آئی ہے بعد قطع نظر ضعف حدیث کے وہ اجتماع ابھی واقع بھی نہیں ہوا۔ دارقطنی میں وہ حدیث یوں مروی ہے :
” روی الدار قطنی من طریق عمرو بن شمر عن جابر عن محمد عن علیٰ قال ان لمہدینا آیتین لم یکونا منذ خلق اللہ السموات والارض تنکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ ولم یکونا منذ خلق اللہ السموات والارض ۔ صفحہ ١٨٨ “
یعنی رمضان کی پہلی تاریخ چاند گہن ہوگا اور نصف ماہ پر سورج گہن ہوگا۔ حاصل یہ کہ دونوں خلاف قاعدہ ہیئت ہوں گے۔ اور جو کسوف وخسوف رمضان میں ہو چکا ہے وہ قواعد ہیئت کے موافق تھا اور اس حدیث دارقطنی میں یہ تاویل کہ اول لیلہ سے مراد اول تواریخ خسوف قمر ہے نہ خود اول تاریخ رمضان کی، اس تاویل کو خود الفاظ حدیث ”لاول
٣١
لیلة من رمضان “ صراحۃً رد کرتے ہیں کیونکہ عبارۃ مذکور کا ترجمہ : ﴿یعنی رمضان کی اول شب﴾ جو شخص سنے گا وہ یقیناً اس تاویل کو باطل سمجھے گا اور تاویل مذکور پر اس سے استناد کرنا کہ پہلی شب کے چاند کو قمر نہیں کہہ سکتے محض ضعیف ہے بعد قیام قرینہ تعذر معنی حقیقی کے استعمال فی المعنی المجازی کے امتناع کی کیا دلیل ہے؟ اور قرینہ یہاں وہی حدیث کی عبارۃ مذکور ہے جیسا ابھی بیان ہوا ہے اور خود قرآن مجید میں بالمعنی العام وارد ہے : ” قال تعالیٰ والقمر قدرناہ منازل حتیٰ عاد كالعرجون القديم ۔ “ دوسری جگہ فرمایا ہے : ” وقدر منازل لتعلمواعددالسنين والحساب ۔ “ اور ظاہر اور یقینی ہے کہ سیر منازل کا آلہ حساب بن جانا اول ہی شب سے شروع ہو جاتا ہے، باوجود اس کے پھر اس حالت میں بھی اس کو قمر ہی کہا گیا‘ زمخشری کہ لغت وعربیت میں مسلم و ماہر ہیں تفسیر میں لکھتے ہیں :” وهى ثمانية وعشرون منزلا ينزل القمر كل ليلة فى واحد منها لايتخطاه ولايتقاصرعنه على تقدير مستولا يتفاوت يسير فيها من ليلة المستهل الى الثمانية والعشرين ثم يستتر ليلتين اوليلة اذا نقص الشہر ۔ “ اس میں لیلۃ المستہل کی تصریح اس عموم کی مؤید ہورہی ہے۔ اس طرح حدیث مذکور میں احتمال قرب ظہور پر یہ استبعاد کہ علامت تو اب ہو اور ذی علامت ایک صدی بعد ہو اور اس احتمال کو بے مزگی قرار دینا بھی عجیب ہے‘ اولاً ایک صدی کا فصل لازم نہیں آتا ممکن ہے کہ اسی صدی میں اس کا وقوع ہو جائے‘ رہا صدی کے شروع پر ہونا سو اول تو اس پر کوئی حجۃ قویہ نہیں دوسرے نصف سے پہلے پہلے شروع ہی کے حکم میں ہے ثانیاً اگر اس سے زیادہ بھی فصل ہو تو مضر نہیں اور علامت ہونے میں مخل نہیں‘ احادیث میں قیامت کی جو علامات آئی ہیں اس میں بہت سی علامتیں گزر چکیں اور قیامت ابتک بھی نہیں آئی چنانچہ اہل علم پر مخفی نہیں‘ اب بعد تقریر عدم الاثبات کے اثبات العدم کے لئے کہتا ہوں کہ جو شخص خالی الذہن ہو کر ان احادیث کو جو حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ السلام کی شان میں وارد ہیں یا اگر اصل احادیث نہ سمجھ سکے تو ترجمہ مشکوٰۃ میں ان ابواب کو فہرست میں صفحہ دیکھ کر نکال کر ترجمہ ان کا دیکھے گا وہ یقین کے ساتھ سمجھ لے گا اور اس کے نزدیک کالمعائنہ
٣٢
متیقن ہو جائے گا کہ ابھی تک ان صفات وعلامت کا مصداق ظاہر نہیں ہوا اور کھینچ تان کر کے کسی کا مصداق بنانا یا بنادینا تو تمام شریعت مطہرہ سے امن واطمینان اٹھائے دیتا ہے کیونکہ اس قسم کے احتمالات تو نصوص صلوٰۃ وزکوٰۃ میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور ملاحدہ نے نکالی بھی ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ اعمال میں تو ان احتمالات کو فاسد باطل قرار دیا جائے اور عقاید میں ان کو صحیح وحق سمجھا جاوے۔ مقتضائے دین و تقویٰ کا تو یہ ہے کہ غرض نفسانی وہوا پرستی کو چھوڑ کر نظر حق طلبی سے کتاب وسنت کو دیکھ کر عقائد واعمال میں ان کا اتباع کیا جائے۔ ورنہ غلبہ ہوائے نفسانی سے حق ہرگز واضح نہیں ہوتا۔ اسپر حضرت مولانا رومیؒ کے چند اشعار یاد آتے ہیں :
اے ہوا را تازہ کردہ درنہان
تاہوا تازہ است ایمان تازہ نیست
چون ہوا جز قفل آن دروازہ نیست
کردہ تاویل حرف بکررا
خویش را تاویل کن نے ذکرا
برہوا تاویل قرآن مے کنی
پست وکژشد از تو معنی سنی
ماند احوالت بداں طرفہ مگس
کوہمی پنداشت خودرا ہست کس
از خودی سرمست گشتہ بے شراب
ذرہ خودرا شمردہ آفتاب
وصف بازان راشنیدہ درزمان
گفت من عنقائے وقتم بیگمان
٣٣
ہمچو کشتیباں ہمی افراشت فر
گفت من کشتی ودریا خوانده ام
مدتی درفکرآن مے مانده ام
اینک این دریا واین کشتی ومن
مرد کشتیبان واہل رائے وفن
برسر دریا ہمیراند اوعمد
مے نمودش اینقدر بیرون زحد
بود بیحدآن چشمه نسبت بدو
آن نظر کو بیند اورا راست کو
عالمش چندان بود کش بینش ست
چشم چندین بحرہم چندینش ست
صاحب تاویل باطل چون مگس
وہم اوبول خر وتصویر خس
گرمگس تاویل بگذارد برائے
آن مگس رابخت گرداند ہُمائے
آن مگس نبود کش این غیرت بود
روح ادنی در خور صورت بود
یہ کلام تو تھا ان کی تفصیلی دلیل میں اور اجمالی دلیل اپنے سب دعوؤں پر یہ پیش فرماتے ہیں کہ اگر میں (مرزا قادیانی) کاذب ہوتا تو اب تک ہلاک کردیا جاتا اور اس باب میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں: ”وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ ٠ لَاَ خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ٠ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ ٠ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِيْنَ ٠ الحاقہ آیت ٤٧“ میں کہتا ہوں کہ اس آیت میں اگر مراد مطلق تقول ہے تو
٣٤
تمام کفار اپنے کفر و شرک میں متقول علی اللہ ہیں چنانچہ ظاہر ہے اور قرآن مجید میں بھی ان کو متقول علی اللہ کہا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : ”وَإِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا قُلْ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ ، الاعراف آیت ٢٨“ جیسے کہ اور آیات میں بھی ہے کہ حالانکہ بہتیرے ان میں ہلاک نہیں ہوتے بلکہ ان کی شان میں جابجا اس قسم کی آیتیں فرمائی گئیں ہیں : ” سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ٠ وَاُمْلِىْ لَهُمْ إِنَّ كَيْدِىْ مَتِيْنٌ ٠ قلم آیت ٤٥ “ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”قُلْ مَنْ كَانَ فِى الضَّلٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ ، مریم آیت ٧٥ “ پس یہ تو یقیناً ثابت ہو گیا کہ مطلق تقول مراد نہیں کوئی خاص تقول ہے پھر یہ کہ وہ خاص کیا ہے ؟ سو ظاہر یہ ہے کہ جس دعوٰی کے باب میں یہ آیت آئی ہے یعنی نبوت کا دعوٰی جو حضور نے کیا اور جس حالت میں یہ نازل ہوئی ہے یعنی اوسوقت شرائع کی تکمیل نہ ہوئی تھی اور اس لئے دلائل شرعیہ سے ایسے امور میں اتمام حجہ نہ ہو سکتی تھی ویسا ہی دعوٰی اور اسی حالت کا مراد ہے پس حاصل آیت کا یہ ہوا کہ جو شخص ایسے وقت میں کہ اور حجج شرعیہ سے لوگوں کا التباس رفع نہ ہو سکے نبوت بالمعنی الشرعی کا دعوٰی کرے وہ بمقتضائے حکمت و رحمت خداوندی کہ خلق گمراہ نہو ضرور ہلاک کیا جاوے گا۔ سو اب اگر کوئی شخص تقول کرے اول تو وہ نبوت کا دعوٰی نہیں اور اگر بالفرض کوئی ایسا بھی کرے تو بوجہ تکمیل اصول فروع شرعیہ کے اس پر بھی احتجاج ہو سکتا ہے، اور لوگوں کو بھی بوجہ وضوح دلائل شرعیہ کے التباس و اشتباہ واقع نہیں ہو سکتا۔ پس ایسا تقول مستلزم ہلاک نہیں ہے جب ہلاک لازم ہی نہیں تو اس کی نفی سے تقول کے نفی پر استدلال کرنا باطل ہے پس یہ اجمالی دلیل بھی باطل ہو گئی۔ یہ ملخص ہے مکالمہ فمابین مرزا غلام احمد قادیانی و جمہور کا۔ احقر کے نزدیک منشاء ان کے خیالات کا فساد قوۃ مخیلہ ہے جو اس باب میں ہو گیا ہے جس کا سبب گاہے طول خلوت بھی ہو جاتا ہے اور گاہے اس میں کچھ کشف بھی ہونے لگتا ہے جیسا شرح اسباب وغیرہ میں مذکور ہے۔ اگر اس سے زیادہ تفصیل دیکھنے کا شوق ہو تو دوسرے اہل علم کی تصانیف جو اس باب میں لکھی گئی ہیں جیسے سیف چشتیائی وعصائے موسیٰ و صحیفہ الولا ٣٥
و رد الشبہات وغیرہا ان کا مطالعہ کیا جاوے اور امید تو اللہ سے یہ ہے کہ طالبِ حق و تابع انصاف کے لئے یہ مختصر اوراق ہی انشاء اللہ تعالیٰ کافی شافی ہیں اور سخن پرور کے لئے تو ہزاروں دفتر بھی غیر وافی ہیں ولیکن : ہذا آخر ما اردنا ایرادہ وکان ہذا التحریر و تمامہ فی یوم عرفہ من ١٣٢٠ہ وجمع اسبابہ الضروریة قبلہ بیوم فی یوم الترویة وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین تمت٭
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆……☆…… قادیانیوں کا حکم مرتد کا ہے۔ مرتد مرد یا عورت
سے نکاح نہیں ہوتا۔ اس لئے قادیانی لڑکی سے جو اولاد ہو گی وہ ولد الحرام ہو گی۔
- ☆……☆…… مرزا قادیانی کے بلند بانگ مگر بے بنیاد دعوے
”مراق“ کا کرشمہ ہے۔
- ☆……☆…… وہ وکلاء جنہوں نے دینِ محمدی ﷺ کے خلاف
قادیانیوں کی وکالت کی قیامت کے دن مرزا غلام احمد قادیانی کے کیمپ میں ہوں گے۔
٣٦
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
قائد قادیان
حکیم الامت
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
تعارف
الحمدللہ وکفی وسلام علیٰ خاتم الانبیاء، اما بعد! حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی گرانقدر تصنیف ”قائد قادیان“ ٢٢ شوال ١٣٣٨ھ کی ہے۔ اس کی پہلی فصل میں مرزا قادیانی ملعون کے اقوال نقل کر کے اس کا رد کیا گیا ہے جو اہل علم کے لئے ایک علمی تحفہ ہے۔ اس میں مرزا قادیانی ملعون کے ١٢٥ اقوال کا رد لکھا گیا ہے۔ مرزا قادیانی کے اقوال ودعاوی کی تردید کے بعد اسی فصل اول کا ضمیمہ تحریر فرمایا ہے جس میں مرزا قادیانی کے علم واعمال واخلاق کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ فصل ثانی میں رد قادیانیت کی کتب کی فہرست مع مختصر تعارف کے نقل فرمائی۔ حیات مسیح پر لکھے گئے رسائل کا علیحدہ تعارف تحریر فرمایا ہے اور آخر میں مونگیر سے شائع شدہ رسالہ ”جماعت احمدیہ سے خیر خواہانہ گزارش اور مسیح قادیان کی حالت کا بیان“ کو بطور ضمیمہ اپنی کتاب کا حصہ بنادیا ہے۔ حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی یہ تصنیف لطیف رسالہ النور تھانہ بھون میں قسط وار شائع ہوئی۔ ٨٤ سال بعد ”النور“ سے پہلی بار اسے کتابی شکل میں شائع کرنے پر جتنی خوشی ہو رہی ہے اس کی کیفیت قلم سے بیان کرنا ممکن نہیں۔
فقیر اللہ وسایا ٧ / ٦ / ١٤٢٢ھ ٢٧ / ٨ / ٢٠٠١ء
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بعد الحمد والصلوٰۃ!
قادیان ایک گاؤں کا نام ہے ضلع گورداسپور پنجاب ہندوستان میں۔ اس رسالہ میں اس گاؤں کے ایک قائد یعنی پیشوا کی حالت باطلہ کا بقدر ضرورت بطور نمونہ بہیئت رسالہ انموذج کا تذکرہ ہے جس سے ناظرین کافی تبصرہ حاصل کر کے اپنے دین کی حفاظت کر سکیں: ”والرسالة مشتملة علی ثلثة فصول، شرفنا الله تعالیٰ بالنفع والقبول۔“ (کتبہ اشرف علی ٢٢ شوال ١٣٣٨ھ)
فصل اول در فہرست بعضے اکاذیب و اباطیل قادیانی کہ بعضے از انہا بدرجہ کفر رسیدہ است: ” اعاذنا اللہ تعالیٰ منہما۔“
قول مرزا نمبر ١ ...... : ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن واحادیث کی وہ پیشین گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو علماء اسلامی کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٧ خزائن ص ٤٠٤ ج ١٧)
کیفیت قول ...... : قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی حدیث میں یہ مضمون نہیں محض افتراء علی اللہ والرسول ہے۔
قول مرزا نمبر ٢ ...... : ”مولوی غلام دستگیر قصوری نے اور مولوی اسماعیل
٣
علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا کیونکہ کاذب ہے مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح پر ان کی موت نے فیصلہ کر دیا کہ کاذب کون تھا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٩ خزائن ص ٤٢٦ ج ١٧)
کیفیت قول....... : مرزائیوں کو چیلنج دیا گیا کہ ان کی کتابوں میں یہ مضمون دکھا دیں مگر کسی کو ہمت نہ ہوئی۔
(صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢ ص ٣)
قول مرزا نمبر ٣....... : ”جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کی امت میں سلسلہ نبوت جاری رہا۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی امت میں بھی سلسلہ نبوت جاری رہے گا۔“
(نور الدین ص ١٢٠ ملخص)
کیفیت قول....... : حدیث : ” لا نبی بعدی ۔“ و نص خاتم النبیین سے اس کا بطلان ظاہر ہے۔
قول مرزا نمبر ٤....... : ” توفی کو موت ہی کے معنی میں منحصر سمجھنا۔“
کیفیت قول....... : تفسیر کبیر میں ہے کہ توفی جنس ہے۔ اس کے تحت میں انواع ہیں۔ موت اور آسمان پر اٹھایا جانا، رافعک الی فرمانا تعیین نوع کی ہے۔ اس میں تکرار نہیں۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢ ص ٣ خود قرآن مجید کی آیت : ” وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّكُم بِالَّيْلِ ۔ الانعام آیت ٦٠ “ میں اس کے معنے سلا دینا ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی (ازالہ اوہام ص ٦٤٠ خزائن ص ٤٤٥ ج ٣) میں لکھتا ہے کہ : ”مات کے معنے لغت میں نام کے ہیں۔“ آیت کا یہ مطلب ہوا کہ میں آپ کو سلا دینے والا ہوں پھر اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں۔ چنانچہ خازن میں ہے کہ نیند کی حالت میں اٹھا لیا تا کہ خوف لاحق نہ ہو، صحیفہ نمبر ٢ ص ٢٥ اور یہ بات کہ کثرت سے جس معنی میں ہو ہر جگہ اس پر محمول کریں گے خود ہی قاعدہ
٤
غلط ہے۔ اصحاب النار کا لفظ قرآن میں بکثرت معذبین بالنار کے معنی میں ہے۔ مگر سورہ مدثر میں ملائکہ کو اصحاب النار کہا گیا ہے جہاں یہ معنے نہیں ہیں۔
قول مرزا نمبر ٥ ......: ” حضرت ابن عباسؓ نے متوفی کی تفسیر ممیت فرمائی ہے۔“
کیفیت قول ......: درمنثور میں بروایت صحیح حضرت ابن عباسؓ سے ثابت ہے کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔ آپ فرماتے ہیں : ” رافعك الی ثم متوفيك فی آخر الزمان . “
(صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢ ص ٥)
قول مرزا نمبر ٦ ......: ”خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“ (دافع البلاء ص ١٣‘ خزائن ص ٢٣٣ ج ١٨) پھر اسی رسالہ (دافع البلاء ص ٤‘ خزائن ص ٢٢٠ ج ١٨) پر لکھتے ہیں : ”بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
کیفیت قول ......: اس میں حضرت مسیح علیہ السلام کی سخت اہانت ہے کہ ان کو پاک دامن نہ سمجھا اور یہ کفر ہے۔
قول مرزا نمبر ٧ ......: ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٦٣‘ خزائن ص ١٦٧ ج ٢٢) اسی صفحہ میں ہے علاوہ اس کے : ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“
٥
کیفیت قول .......: یہ بالکل نبوت مستقلہ کا دعویٰ ہے۔ پس توجیہ ظلی اور بروزی کی محض آڑ اور تلبیس ہے۔
قول مرزا نمبر ٨.......: ”قرآن مجید کے وہی معنی لائق اعتبار ہیں جو میں بیان کروں اور حدیث وہی لائق اعتبار ہے جسے میں صحیح کہہ دوں ورنہ ردی میں پھینک دینے کے لائق ہے۔ حاشیہ میں ہے کہ حدیث کا ردی کی طرح پھینکنا اور غیر معتبر ہونا رسالہ اعجاز احمدی کے ص ٣٠‘ ٣١ خزائن ص ١٢٠ ج ١٩‘ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ١٠‘ خزائن ص ٥١ ج ١٧ میں مرقوم ہے۔“
کیفیت قول .......: کتاباً باطل اور بلا دلیل بلکہ خلاف دلیل دعویٰ ہے۔ کیا بجز صاحب وحی کے ایسا دعویٰ کوئی کر سکتا ہے؟۔ پس ایسا مدعی وحی قطعی کا مدعی ہے۔
قول مرزا نمبر ٩.......: ”(مرزا غلام احمد قادیانی) کہتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣‘ خزائن ص ١٦٣ ج ٢٢)
کیفیت قول .......: یہ بالکل نبوت مستقلہ کا دعویٰ ہے۔
قول مرزا نمبر ١٠.......: ”خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور یا مکذب اور متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔“
(حاشیہ اربعین ٣ ص ٢٨‘ خزائن ص ٤١٧ ج ١٧)
قول مرزا نمبر ١١.......: ”سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز‘ حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں؟۔ فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٨٢)
٢
کیفیت قول......: نماز ہر مسلمان کے پیچھے درست ہے تو پھر غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنا اس کو کافر سمجھنا ہے۔
قول مرزا نمبر ١٢......: ”دعویٰ نبوت کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی
کے بعض الہامات و اقوال :
- (١)..........” انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم کما ارسلنا
الی فرعون رسولا .“
(حقیقت الوحی ص ١٠١‘ خزائن ص ١٠٥ ج ٢٢)
- (٢)..........” یٰسین انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم .
تنزیل العزیز الرحیم .“
(حقیقت الوحی ص ١٠٧‘ خزائن ص ١١٠ ج ٢٢)
- (٣)..........” انا ارسلنا احمد الی قومہ فاعرضوا و قالوا کذاب
اشر .“
(اربعین نمبر ٢ ص ٢٦‘ خزائن ص ٣٨٤ ج ١٧)
- (٤)..........” فکلمنی و نادانی و قال انی مرسلک الی قوم
مفسدین وانی جاعلک للناس اماما . وانی مستخلفک اکراما . کماجرت سنتی فی الاولین .“
(انجام آتھم ص ٧٩‘ خزائن ص ٧٩ ج ١١)
- (٥)..........” الہامات میں میری نسبت بارہا بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا‘ فرستادہ
خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢‘ خزائن ص ٦٢ ج ١١)
- (٦)..........” سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١‘ خزائن ص ٢٣١ ج ١٨)
- (٧)..........” تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ
بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے‘ گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠‘ خزائن ص ٢٣٠ ج ١٨)
(٨)............ ”مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ : ”ھوالذی ارسل رسوله بالھدی و دین الحق لیظهره علی الدین کله ۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ١١٣ ج ١٩)
(٩)............ ”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ خزائن ٤٢٦ ج ١٧)
(١٠)............ ”سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امرو نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ص ٤٣٣ ج ١٧)
کیفیت قول ....... : ان سب اقوال میں رسالت کا دعویٰ ہے جو صریح آیت ختم نبوت کے خلاف ہے۔ اور بعض میں رسالت مستقلہ تشریعیہ کا دعویٰ جو تاویل ظلیت اور بروزیت کو باطل کرتا ہے جیسے قول ٩‘ ١٠ میں ہے اور بعض میں مزید تحریف بھی ہے جیسے قول ٨ میں ہے کہ بجائے رسول اللہ ﷺ کے خود کو مصداق بتایا ہے اور چونکہ قول ٧ کی تکذیب قادیان میں طاعون کے آجانے سے ہو گئی۔ چنانچہ ١٩٠٤ء میں قادیان میں طاعون آیا اور ٢٨٠٠ کی آبادی میں سے ٣١٣ مرے جن میں ان کے خاص مرید عبد الکریم سیالکوٹی بھی تھے اور صدق لوازم رسالت و وحی سے ہے اور لازم کی نفی سے ملزوم کا انتفاء یقینی ہے تو علاوہ نصوص شرعیہ کے خود ان کا یہ قول بانضمام واقعہ طاعون ان کے کاذب ہونے کی کافی دلیل ہے اور اگر طاعون کی پیشین گوئی میں کوئی قید ہے جو معلوم نہیں تو پھر توسیع مکان کے لئے چندہ کیوں مانگا۔ ممکن ہے کہ اس مکان میں رہنے کے بعد بھی اس وجہ غیر معلوم سے مبتلائے طاعون ہو تو چندہ بھی برباد گیا اور یہ صریح دھوکہ ہے کیونکہ دینے والا تو اسی خیال سے دے رہا ہے کہ محفوظ رہیں گے۔ تو چندہ کی ترغیب کے وقت اس کو کیوں نہیں ظاہر کیا۔
٨
قول مرزا نمبر ١٣...... :
- (١).......... ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت و انجیل و قرآن
کریم پر۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩‘ خزائن ص ٤٥٤ ج ١٧)
- (٢).......... ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی
طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف اور خداوند تعالیٰ کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا تعالیٰ کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١‘ خزائن ص ٢٢٠ ج ٢٢)
- (٣).......... ”اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت
میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا اس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١‘ خزائن ص ٤٠٦ ج ٢٢)
- (٤).......... ”خدا تعالیٰ نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح
سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨‘ خزائن ص ١٥٢ ج ٢٢)
- (٥).......... ”اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو
تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨‘ خزائن ص ٥٠٣ ج ٢٢)
”اور رسول اللہ ﷺ سے بقول مرزا صاحب تین ہزار معجزے ظاہر ہوئے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٧‘ خزائن ص ١٥٣ ج ١٧)
- (٦).......... ”لیکن پھر بھی دو نام دو نبیوں سے کچھ خصوصیت رکھتے ہیں۔ یعنی
مہدی کا نام ہمارے نبی ﷺ سے خاص ہے اور مسیح یعنی مؤید بروح القدس کا نام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کچھ خصوصیت رکھتا ہے...... اور نبیوں کی پیشین گوئیوں میں یہ تھا کہ امام آخر
٩
الزمان میں یہ دونوں صفتیں اکٹھا ہو جائیں گی۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ١٢، خزائن ص ٣٥٩، ٣٥٨ ج ١٧)
(٧).......... ”له خسف القمر المنير وان لی غسا القمران المشرقان اتنکر.“ ترجمہ :اس کے لئے (یعنی رسول اللہ ﷺ کے لئے۔ ذرا ترجمہ کا ادب قابل لحاظ ہے) چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“
(قصیدہ اعجازیہ اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ص ١٨٣ ج ١٩)
(٨).......... ”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو اور اسی کی طرف خدا تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے : ”سبحان الذی اسریٰ .“
(خطبہ الہامیہ ص ١٩٤، ١٩٣ خزائن ص ٢٨٨ ج ١٦)
(٩).......... ”لولاک لما خلقت الافلاک .“
(استفتاء ص ٨٥ خزائن ص ١٢٧ ج ٢٢)
(١٠).......... ”انما امرک اذا اردت شيئاً ان تقول له کن فیکون .“
(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ١٠٨ ج ٢٢)
کیفیت قول...... :ان سب اقوال میں مضمون مشترک دعویٰ ہے نبوت مستقلہ قطعیہ کا‘ جو تاویل بروزیت وظلیت کا مبطل ہے کیونکہ اس تاویل سے تو دوسرے بزرگوں کے لئے بھی ثابت ہو سکتی ہے جس کی نفی قول (٣) میں کی ہے اور قول (٤) میں دعویٰ افضلیت کا ہے حضرت مسیح علیہ السلام سے‘ جو کہ نبی مستقل ہیں افضل نہیں ہو سکتا اور دعویٰ افضلیت کے ساتھ ان کی تحقیر و تنقیص بھی ہے اور قول (٥) میں رسول اللہ ﷺ پر افضلیت کا دعویٰ ہے اسی طرح قول (٦) میں کہ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ جامع کمالات اپنے کو بتایا ہے اور اس سے بڑھ کر قول (٧) و (٨) و (٩) میں حضور ﷺ پر اس طرح فضیلت کا دعویٰ ہے کہ یہ حدیث حضور ﷺ کے باب میں لفظاً تو غیر ثابت اور معنیً ثابت مگر ظنی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے حق میں الہامی جو کہ ان کے نزدیک قطعی ہے کہ ظاہر
ہے کہ فضیلت قطعیہ والا افضل ہو گا فضیلت ظنیہ والے سے‘ اور سب سے بڑھ کر قول (١٠) میں تو معراج ترقی انتہا تک پہنچ گئی کہ حق تعالیٰ کی خاص صفت میں شریک ہو گئے اور جو خدا کا مساوی ہو گاوہ نبی کا ظل کیوں ہو گا ؟۔
قول مرزا نمبر ١٤....... : ”پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جاوے کہ کیوں تم مسیح بن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٥‘ خزائن ص ١٥٩ ج ٢٢)
کیفیت قول....... : چونکہ کوئی نائب رسول کسی ادنیٰ نبی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ چہ جائے کہ ایک اولوالعزم رسول سے افضل ہو جاوے تو اس میں صاف نبوت مستقلہ غیر ظلیہ و غیر بروزیہ کا دعویٰ ہے۔
قول مرزا نمبر ١٥....... : ”١٨٨٨ء کے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ ہر ایک روک کے دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
”خدا تعالیٰ نے............ ظاہر فرمایا کہ احمد بیگ کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور............ آخر کار ایسا ہی ہو گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦‘ خزائن ص ٣٠٥ ج ٣)
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ ان میں سے وہ پیشین گوئی جو مسلمانوں کی قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں :
(١) مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی معیاد کے اندر فوت ہو۔ (٢) اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے۔ اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔ (٣) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔ (٤) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔ (٥) اور پھر یہ کہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے
١١
پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔ (٦) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔
(شہادۃ القرآن ص ٨٠‘ خزائن ص ٣٧٦ ج ٦)
کیفیت قول .......: اس پیشین گوئی کا کاذب ہونا اظہر من الشمس ہے۔ چنانچہ ١٨٩٣ء میں اس کا نکاح ہوا اور ١٩٠٨ء میں مرزا غلام احمد قادیانی مرے اور وہ دونوں میاں‘ بی بی ہونے کی حالت پر زندہ رہے اور کاذب ہونے کا نتیجہ وہ خود لکھ رہے ہیں کہ : ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی۔ اور میری موت آجاوے گی۔“
(انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ‘ خزائن ص ٣١ ج ١١)
احمد بیگ کے مرنے سے وسوسہ نہ کیا جاوے۔ کیونکہ مرکب صادق و کاذب سے کاذب ہے اور یوں تو کیف ما اتفق کوئی شخص دس پیشین گوئی کر دے تو کسی نہ کسی کا واقع ہو جانا اتفاقی بات ہے دلیل صدق نہیں۔
قول مرزا نمبر ١٦‘ ١٧ .......: پیشین گوئی ہے کہ :
”مولوی ثناء اللہ صاحب قادیان میں تمام پیشین گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس نہ آئیں تو ...................“
(اعجاز احمدی ص ٢٣‘ خزائن ص ١٣٢ ج ١٩ ملخص)
مرزا قادیانی نے پیر مہر علی شاہ صاحبؒ سے مناظرہ کا اشتہار دیا۔ یہ بھی لکھ دیا کہ : ”اگر میں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو پھر میں کاذب سمجھا جاؤں گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١٣ ملخص)
نیز مرزا غلام احمد قادیانی نے مولوی ثناء اللہ صاحبؒ کی نسبت میں آخری فیصلہ کا اعلان دیا اور اس طرح دعا کی کہ :
”اے میرے آقا! ....... اب میں تیرے تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھالے ...... اے میرے
١٢
مالک! تو ایسا ہی کر۔“
(اخبار الحکم ج ١١ نمبر ١٣‘ ١٧ء ١٩٠ء‘ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩)
”مجھے خدا نے اطلاع دی ہے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں پٹیالوی میری زندگی میں مر جائے گا۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٢١‘ خزائن ص ٣٣٦ ج ٢٣ ملخص)
کیفیت قول ......: مگر مولوی ثناء اللہ صاحب ١٠ جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان پہنچے۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی نے بجز اظہار غیض و غضب اور زبردستی کی باتوں کے اور کچھ نہیں کیا۔
(الہامات مرزا ص ١٦‘ ١١٠)
اسی طرح پیر مہر علی شاہ صاحبؒ تاریخ مناظرہ سے ایک روز پہلے ٢٤ اگست ١٩٠٠ء کو لاہور پہنچے اور ٢٩ تک مرزا قادیانی کے منتظر رہے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی گھر سے نہ نکلے۔
(حاشیہ فیصلہ آسمانی حصہ ٣ ص ٤٣)
مباہلہ ثنائیہ میں مرزا غلام احمد قادیانی پہلے مر گئے اسی طرح مولوی عبدالحق صاحب غزنوی و ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے مباہلہ و بد دعا میں ہوا۔
(شہادت آسمانی حصہ ٢ ص ١١٤)
قول مرزا نمبر ١٨......: شعر فارسی :
عیسیٰ کجا ست تا بنہد پا بمنبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨‘ خزائن ص ١٨٠ ج ٣)
اردو میں اس کا ترجمہ یہ ہے کہ :
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠‘ خزائن ص ٢٤٠ ج ١٨)
داد آن جام را مرا بہ تمام
١٣
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
کم نیم زآں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(نزول المسیح ص ٩٩‘ ١٠٠ خزائن ص ٤٧٧‘ ٤٧٨ ج ١٨)
”ولما ترك يونس بسوء فهمه الا ستقامة والا ستقلال . “
(انجام آتھم ص ٢٢٥ خزائن ص ٢٢٥ ج ١١)
کیفیت قول ......: کھلی اہانت ہے ایک نبی اولوالعزم کی‘ کیا اس کے کفر ہونے میں کوئی شبہ ہو سکتا ہے ؟۔ اور صریح تفضیل ہے اپنی سب انبیاء پر کیونکہ جو سب کمالات انبیاء کا جامع ہو گا۔ سب سے افضل ہوگا اور ایک قول میں اہانت ہے یونس علیہ السلام کی کہ ان کو بد فہم کہا ہے۔
قول مرزا نمبر ١٩.......: ”مسجد اقصی سے مراد مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢١ خزائن ص ٢١ ج ١٦)
کیفیت قول .......: تمام علماء اسلام کی تفسیر کے خلاف اور تواتر کے بھی خلاف۔ کیا رسول اللہ ﷺ شب معراج میں قادیان کی مسجد میں تشریف لائے تھے ؟ جس کا نام و نشان بھی نہ تھا۔
قول مرزا نمبر ٢٠......: ”جب احمد بیگ کے مرنے کی پیشین گوئی معیاد کے اندر پوری نہ ہوئی تو مرزا غلام احمد قادیانی کو اقرار کرنا پڑا کہ اس وعید کی معیاد میں تخلف ہو گیا۔
(انجام آتھم ص ٢٩ خزائن حاشیہ ص ٢٩ ج ١١)
کیفیت قول .......: مرزا قادیانی کی صریح نصوص کے خلاف ہے۔
١٤
قول مرزا نمبر ٢١.......:
- (١)....... ”انت منی وانا منك . “
(حقیقت الوحی ص ٧٤‘ خزائن ص ٧٧ ج ٢٢)
- (٢)....... ”ظهورك ظهوری . “
(تذکرہ ص ٧٠٤ طبع سوم)
- (٣)....... ”انت منى بمنزلة توحيدى و تفريدى . “
(حقیقت الوحی ص ٨٦‘ خزائن ص ٨٩ ج ٢٢)
- (٤)....... ”انت منى بمنزلة ولدى“
(حقیقت الوحی ص ٨٦‘ خزائن ص ٨٩ ج ٢٢)
- (٥)....... ”میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی
ہوں۔“
(کتاب البریہ ص ٨٥ خزائن ص ١٠٣ ج ١٣)
کیفیت قول.......: خدا ہونا‘ یا خدا کا بیٹا ہونا‘ یا خدا کے ساتھ اتحاد‘ شرعاً وعقلاً
ہر شخص جانتا ہے کہ باطل ہے۔
قول مرزا نمبر ٢٢.......:
- (١)....... ”يأتى قمرالانبياء . “
(حقیقت الوحی ص ١٠٦‘ خزائن ص ١٠٩ ج ٢٢)
- (٢)....... ”يا نبي الله كنت لاعرفك . “
(الاستفتاء تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥‘ خزائن ص ٤٣٧ ج ٢٢)
- (٣)....... ”خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں
تحریف معنوی اور لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠‘ خزائن ص ٥١ ج ١٧)
”ہم اب تک سمجھتے ہیں کہ حکم اس کو کہتے ہیں کہ اس کا حکم قبول کیا جائے۔ اور اس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٩‘ خزائن میں ١٣٩ ج ١٩)
١٥
قول مرزا نمبر ٢٣......: ”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں.........اس حالت میں‘ میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔“
(کتاب البریہ ص ٨٧‘٨٩ خزائن ص ١٠٣‘١٠٤ ج ١٣)
کیفیت قول......: جس کو کوئی عذر شرعی نہ ہو وہ بلا تاویل ایسا دعویٰ کرے اس کا جو شرعاً حکم ہے ظاہر ہے۔
قول مرزا نمبر ٢٤......:
- (١)......”آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے
اور کچھ نہ تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧ خزائن ص ٢٩١ ج ١١)
- (٢)......”یہ بھی یاد رہے کہ آپ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو جھوٹ بولنے
کی بھی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥ خزائن ص ٢٨٩ ج ١١)
- (٣)......”آپ (حضرت مسیح علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر
ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧ خزائن ص ٢٩١ ج ١١)
- (٤)......”آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا کنجریوں (کسبیوں) سے مناسبت
اور صحبت بھی اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری (کسبی) کو ایسا موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کا عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧ خزائن ص ٢٩١ ج ١١)
- (٥)......”یسوع (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے دادا صاحب داؤد نے تو
١٦
سارے برے کام کئے۔ ایک بے گناہ کو اپنی شہوت رانی کے لئے فریب سے قتل کر لیا اور دلالہ عورتوں کو بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا اور اور اس کو شراب پلائی اور اس سے زنا کیا اور بہت سا مال حرام کاری میں ضائع کیا۔"
(معیار المذاہب ص ٢١، خزائن ص ٧٩ ج ٩)
کیفیت قول...... : عیاں راچہ بیاں‘ اور جواب الزامی میں بھی اس عنوان کا اختیار کرنا خلاف ایمان ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے کہ اگر تمہارا قول مان لیا جاوے تو ’یہ‘ یہ امور لازم آویں گے۔ نعوذ باللہ منہ اور خصوص جب کہ انجام آتھم میں یہ لکھتے ہیں کہ : ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزے لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا ۔ “ پھر لکھتے ہیں کہ : ”ممکن ہے کہ اپنی معمولی تدبیر سے کسی شبکور وغیرہ کو اچھا کیا ہو۔“ اور اسی صفحہ میں ہے کہ : ”آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے کچھ نہ تھا۔“ اور توہین انبیاء ذی شان یہ صریح ہے کہ یہ الزاماً نہیں بلکہ اسی کو حق سمجھ کر لکھا ہے۔ نیز دافع البلاء کی عبارت جو خانہ (٦) میں ہے جس میں یہ قصے نقل کر کے لکھا ہے کہ : ”اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ الزام نہیں کیونکہ پادریوں پر قرآن کا حوالہ حجت نہیں بلکہ خود اپنی تحقیق ہے۔ قرآن سے اپنا مدعا ثابت کرتے ہیں :
”تم الفهرس المختصر الکاشف عن عقائد القائد القادیانی . حفظ اللہ تعالیٰ جمیع المسلمین عن امثال ہذہ الضلال الشیطانی وان اشتقت الی البسط فی الاطلاع علیھا وعلی جوابھا فانظر ما فی الفصل الثانی .“
ضمیمہ فصل اول
یہ تو قائد قادیان کے اقوال و دعاوی تھے جن سے عقائد کا پتہ لگتا ہے۔ اب کچھ نمونہ کے طور پر ان کے علم و اعمال واخلاق کی کیفیت بھی دکھلائی جاتی ہے :
- علم : (١).......... میں نے ایک کتاب عربی زبان میں ان (مرزا غلام احمد
١٧
قادیانی) کی دیکھی ہے جس کا نام یاد نہیں رہا۔ (الہدی) اس میں ایک حدیث کی عجیب مضحکہ خیز شرح کی ہے۔ حدیث یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دجال کو باب لد پر (ایک مقام ہے شام میں) قتل کریں گے۔
انہوں نے اس میں عجیب تحریف کی ہے لکھا ہے کہ : " لد مخفف ہے لدھیانہ کا۔"
(الہدیٰ والتبصرۃ لمن یری ص ٩٢ خزائن ص ٣٤١ ج ١٨)
میں نے لدھیانہ میں پادریوں کو مغلوب کیا تھا۔ یہ اس کی پیشین گوئی ہے اس کے صریح جہل ہونے میں کچھ شبہ ہو سکتا ہے؟۔
(٢)............ دعویٰ کیا ہے کہ : "دجال ایک شخص کا نام نہیں ہے بلکہ ایک جماعت کا لقب ہے۔"
(تحفہ گولڑویہ ص ١٣٥، ١٥٠ خزائن ص ٢٣٥، ٢٤٦ ج ١٧)
اور دلیل میں ایک عجیب جہل ظاہر کیا ہے۔ ترمذی کی ایک حدیث ہے : "سيكون رجال يختلون الدنيا بالدین . " اس بندۂ خدا نے رجال کو دجال سمجھا ہے اور يختلون میں جو ضمیر جمع کی اس کی طرف راجع ہے۔ اس سے اس پر استدلال کیا ہے اور منشاء اس غلطی کا یہ ہوا کہ انہوں نے حدیث کو کنز العمال سے نقل کیا ہے وہ ٹائپ کا چھاپہ ہے اس میں حرف (ر) کا سر ذرا آگے کو مڑ گیا ہے جس سے اس کو (د) سمجھا۔ مگر جس شخص کو ذرا بھی علم سے مناسبت ہوگی وہ کبھی ایسی غلطی نہیں کر سکتا اور طرفہ یہ کہ میرے لکھنے سے حافظ عبدالقدوس مرحوم سابق ایڈیٹر صادق الاخبار بہاولپور نے ان کے خلیفہ (نورالدین) کو اس کے متعلق خط لکھا تھا تو وہاں سے جواب آیا کہ حدیث میں تو دجال ہی ہے باقی مولوی صاحبان جو چاہیں کہیں بھلا اس جہل مرکب کی بھی کوئی حد ہے۔ ماشاء اللہ۔ وزیرے چنیں شہریارے چناں۔ پھر بھولے لوگ ان کو ذی علم کہتے ہیں انا للہ، پری نہفتہ رخ و دیو در کرشمہ و ناز۔
(٣)............ متعدد رسائل میں یہ مضمون منقول ہے کہ اگر میرے بیٹے نے اپنی بی بی کو طلاق نہ دی تو میں اس کو عاق کر دونگا۔ اس جہل میں عالم کیا طالب علم کا صحبت یافتہ بھی مبتلا نہیں ہو سکتا۔
١٨
عمل : (١)........ ”مجھ سے ایک ثقہ راوی کانپوری نے جو قادیان میں ایک
معتد بہ مدت تک اپنی ایک دنیوی حاجت کے لئے رہے تھے۔ بیان کیا کہ ان کے روبرو عید کے روز ظہر و عصر کو ظہر کے وقت میں بلاعذر جمع حقیقی کیا گیا اور عصر کی نماز کے وقت مسجد میں میز کرسیاں بچھا کر مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے خواص کا فوٹو لینے کا انتظام کیا گیا۔“
(٢)......... ”مجھ سے میرے ایک ہم وطن نے جو کہ ان (مرزا قادیانی) کے مرید تھے بیان کیا کہ میں نے نماز میں وساوس کی شکایت کی تو انہوں نے یہ عمل بتلایا کہ بعد قومہ کے اردو زبان میں اس کے ازالہ کی دعا کیا کرو سبحان اللہ کیسی اچھی نماز کی تعلیم ہے؟۔“
(٣)......... ”عبداللطیف رئیس خوست جو حج کو جاتے ہوئے ان (مرزا قادیانی) کے پاس آئے تھے ان کو حج سے روک کر تبلیغ کے واسطے وطن واپس کر دیا جو امیر عبدالرحمن خاں صاحب کے وقت میں ہلاک کئے گئے جس کا ذکر خود ”تذکرۃ الشہادتین“ میں لکھا ہے اور اس فعل کا : ” یصدون عن سبیل اللہ . “ میں داخل ہونا ظاہر ہے اور اسی عبداللطیف کے قصے میں خود ہی اپنا ایک علمی نمونہ بھی دکھلایا ہے۔ اول ابو داؤد کی عیسیٰ علیہ السلام کے باب میں ایک حدیث نقل کی ہے : ” بین ثوبین ممصر تین....... الخ . “ یعنی دو زرد کپڑوں میں نزول فرماویں گے۔ پھر آگے اس پر ایک سوال نقل کیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی زرد کپڑے کہاں پہنتا ہے پھر اس کا جواب نہایت پاکیزہ خوشبودار دیا ہے کہ زرد کپڑوں سے مراد پیشاب اور سر درد ہیں (کہ دونوں کا رنگ زرد ہے) اور میں ان ہی دو امراض میں مبتلا ہوں اس طرح سے یہ مجھ پر صادق آگیا۔ یہ علم اور یہ عمل ہے مسیح الزمان کا۔“
(تفصیلات کے لئے دیکھئے تذکرۃ الشہادتین ص ٧٣‘ خزائن ص ٣٦ ج ٢٠)
اخلاق : حسن اخلاق کا شعبہ اعظم وہ ہے جس کو شیخ شیرازی نے اس شعر میں
جمع کیا ہے :
دو اندرز فرمود بروئے آب
١٩
دوم آنکہ برغیر بد بیں مباش
یہاں ماشاء اللہ دونوں تعلیموں کا روز و شب جس بیدردی سے خون کیا جاتا تھا مخفی نہیں ان کی تمام تحریرات بے حد تعلیوں اور دعوؤں سے بھری ہوئی ہیں اور اسی طرح اپنے مخالفین کو خصوص علماء کو وہ مغلظ گالیاں دی ہیں کہ نقل کرنے کو بھی لوگ خلاف شرافت سمجھتے ہیں۔ عصائے موسیٰ میں گالیوں کی ایک الف ‘ب‘ ت ہے یعنی ہر حرف سے بہت بہت گالیاں شروع ہوئی ہیں جس کا دل چاہے دیکھ لے۔
نتیجہ : ظاہر ہے کہ ایسے اوصاف کا آدمی صلحاء میں بھی داخل نہیں۔ چہ جائیکہ ولی یا مہدی یا نبی ہو۔ نعوذ باللہ! اگر اب بھی کوئی ایسے شخص پر فریفتہ ہو تو بجز ”ختم الله علیٰ قلوبهم“ کے کیا کہا جائے۔
فصل ثانی
در فہرست بعضے کتب رد قادیانی
یہ فہرست مولوی محمد اسحاق صاحب نے خانقاہ رحمانیہ محلہ مخصوص پور مونگیر سے بصورت ایک رسالہ مسمی ”حفاظت ایمان کی کتابیں“ کے شائع کی ہے جو بعد حذف اکثر مضامین ذیل میں منقول ہے۔
فہرست موعود
- (١)............ فیصلہ آسمانی حصہ اول معہ تتمہ :
اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے نہایت عظیم الشان نشان کو غلط ثابت کر کے اور ان کی ذاتی حالت کو دکھا کر نہایت روشن طریقہ سے انہیں کاذب ثابت کیا ہے اور ان کے جوابات کی غلطی نہایت روشن طریقہ سے دکھائی ہے۔
٢٠
- (٢).......... فیصلہ آسمانی حصہ دوم :
اس میں مرزا قادیانی کے پختہ اقراروں سے انہیں کاذب ثابت کیا ہے اور ان کی عظیم الشان دلیل کا بطلان نہایت محققانہ طور سے کیا ہے۔
- (٣).......... فیصلہ آسمانی حصہ سوم :
اس میں نہایت محققانہ طریقہ سے قرآن مجید واحادیث صحیحہ سے مرزا قادیانی کا کاذب ہونا ثابت کیا ہے اور رسالہ اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کی حالت دکھا کر ان کی خطرناک حالت پر متنبہ کیا ہے۔ پھر ان کی غلط پیشین گوئیاں دکھا کر قرآن مجید کی متعدد آیات سے مرزا قادیانی کے دعویٰ کی غلطی دکھائی ہے۔ خلف فی الوعید کی بحث ایسی تحقیق سے لکھی ہے کہ اب تک متقدمین اور متاخرین کی کتاب میں دیکھی نہیں گئی بڑے صفحوں پر صفحات ١٣٦ ہیں۔
- (٤).......... حقیقت المسیح :
صحیح حدیث سے اور مرزا قادیانی کے حالات سے ثابت کیا ہے کہ وہ مسیح موعود ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس نے (مرزا) سوا اس کے کہ مسلمانوں کو کافر بنایا اور کچھ نہیں کیا۔
- (٥).......... معیار المسیح :
بعض وہ آیتیں جن سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کی جاتی ہے۔ انہیں سے ان کا کذب ثابت کیا ہے۔
- (٦).......... تنزیہہ ربانی از تلویث قادیانی :
اس مختصر رسالہ میں قرآن مجید کی آیتوں اور خود مرزا قادیانی کے اقرار سے انہیں جھوٹا ثابت کیا ہے اور خاص مرزائی نے جو جواب دیا تھا اس کی غلطی اظہر من الشمس کی ہے۔ ان سب رسالوں کے مکرر چھپنے کی سخت ضرورت ہے۔
- (٧).......... معیار صداقت :
اس میں اصل مضمون وہی ہے جو تنزیہہ میں ہے مگر طریقے اور دلائل دوسرے ہیں۔
- (٨).......... شہادت آسمانی :
٢١
اس میں مرزا قادیانی کی آسمانی شہادت کو نہایت تحقیق اور تفصیل سے غلط ثابت کیا ہے اور ان کی ناگفتہ بہ باتیں دکھائی ہیں۔
- (٩) ............. دوسری شہادت آسمانی :
پہلی شہادت آسمانی مختصر تھی۔ یہ ١٢٨ صفحوں پر مشتمل ہے۔
- (١٠) ............. صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦ :
اس میں مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت مستقلہ ثابت کر کے قرآن اور حدیث سے انہیں کاذب ثابت کیا ہے۔
- (١١) ............. صحیفہ رحمانیہ نمبر ٧ :
اس میں (مرزا قادیانی کا) دعویٰ نبوت کے علاوہ یہ ثابت کیا ہے کہ انہیں افضل الانبیاء ہونے کا دعویٰ ہے ان کے اقوال نقل کر کے ان کا نتیجہ دکھایا ہے۔ مثلاً یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک تمام انبیاء کی بعثت بے کار ہوئی کسی نے شیطان کو ذلیل نہیں کیا مگر مرزا قادیانی نے کیا۔ بھائیو! مرزا قادیانی کی ایسی باتوں میں غور کرتے جاؤ جن سے ان کی خاص حالت پر روشنی پڑتی ہے۔
- (١٢) ............. صحیفہ رحمانیہ نمبر ٨ نمبر ٩ :
اس میں رسالہ عبرت خیز ہے جس میں مفتریوں اور صادقوں کی عبرت خیز حالت دکھا کر مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے اور نہایت خوبی سے عبد الماجد صاحب کی غلطیوں کو پردہ پوشی کے ساتھ دکھایا ہے۔ یہ ایک ہی رسالہ مرزا قادیانی کے کذب کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ یہ رسالے نہایت شائستگی اور کامل تحقیق اور وضاحت سے لکھے گئے ہیں۔ ہر ایک منصف طالب حق کی ان سے تسلی ہو سکتی ہے اور ایسی قابلیت اور تحقیق سے اعتراضات کئے گئے ہیں کہ ان کا جواب نہیں ہو سکتا۔ ان میں ہر ایک رسالہ مرزا قادیانی کو کاذب ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ اب حیات و ممات مسیح علیہ السلام پر گفتگو کرنا اور مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی دلیل پوچھنا بے کار ہے کیونکہ ان رسالوں میں قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے اور احادیث صحیحہ سے اور خود مرزا قادیانی کے متعدد اقوال سے یقینی طور پر ان کا کاذب ہونا
٢٢
ثابت کر دیا ہے۔ اب مرزائیوں سے ان اعتراضات کے جواب کی درخواست کرنا چاہئے۔ اس کے سوا اور تمام گفتگو فضول ہے اب حضرت مسیح کی ممات کا عقیدہ کام نہیں آسکتا۔ ان رسالوں نے قطعی طور سے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح زندہ ہوں یا مر گئے ہوں مگر مرزا قادیانی ہر طرح کاذب ہے۔ اس کا صادق ہونا کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتا۔
- (١٣)............. صحیفہ رحمانیہ نمبر ١ :
اس میں جلسہ بھاگل پور کی کیفیت اور مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کے بیان کا خلاصہ ہے۔
- (١٤)............. صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢ :
اس میں وہ تقریر ہے جو مولانا سعید انور حسین صاحب پروفیسر کالج مونگیر نے جلسہ بھاگلپور میں ختم نبوت پر کی تھی۔
- (١٥)............. صحیفہ رحمانیہ نمبر ٣ :
اس میں مرزائیوں کے صحیفہ تبلیغیہ نمبر ١ کا جواب ہے جس کے بعد مرزائیوں کو صحیفہ نکالنے کی ہمت نہ ہوئی۔
- (١٦)............. صحیفہ رحمانیہ نمبر ٤ :
اس میں لارڈ ہیڈلے کے مسلمان ہونے کی واقعی حالت بیان کر کے خواجہ کمال (مرزائی) کے غلط دعوؤں کا اظہار کیا ہے۔
- (١٧)............. صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٠ :
اس میں مولوی عبد الماجد (مرزائی) کی بد دیانتی اور فاش غلطیاں دکھائی گئی ہیں۔
- (١٨)............. صحیفہ رحمانیہ نمبر ١١، ١٢ :
مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی تشریح کر کے مولوی عبد الماجد (مرزائی) کی غلطیاں دکھائی ہیں۔
- (١٩)............. محکمات ربانی لنسخ القائے قادیانی :
اس میں پوری تحقیق سے القائے قادیانی کا جواب دیا ہے اور عبد الماجد (مرزائی) کی
٢٣
بد دیانتیاں دکھائی ہیں۔
- (٢٠)............انوار ایمانی :
القائے قادیانی میں جو عبد الماجد (مرزائی) نے غلطیاں اور بد دیانتیاں کی ہیں ان کا نمونہ اس میں دکھایا ہے اور اصل بات کا جواب دے کر مرزا قادیانی کا کذب ثابت کیا ہے۔
- (٢١)............مرزائی ماجد کی پہلی غلطی میں تیس غلطیاں :
اپنے القاء میں جو انہوں نے پہلی غلطی قرار دی ہے اس میں تیس غلطیاں دکھائی گئی ہیں۔ اس وقت تک ٥ رسالے القائے قادیانی کی غلطی کے اظہار میں طبع ہو چکے ہیں۔
- (٢٢)............صواعق ربانی بر مؤلف برق آسمانی :
اس میں میاں خلیل احمد مرزائی کے برق آسمانی کا جواب ہے۔
- (٢٣)............تذکرہ حضرت یونس علیہ السلام :
چونکہ مرزا قادیانی نے اپنے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لئے حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کو بہت پیش کیا ہے۔ اس لئے اس رسالہ میں اس کی پوری حقیقت اور واقعی حالت دکھا کر مرزا قادیانی کے فریب کو ظاہر کیا ہے۔ ابھی چھپا نہیں۔
- (٢٤)............ابطال اعجاز مرزا :
اس کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کی غلطیاں دکھائی گئی ہیں۔ دوسرا حصہ عربی کا قصیدہ ہے۔ ”قصیدہ اعجازیہ“ مرزا قادیانی کے جواب میں۔
- (٢٥)............دعائے مرزا :
اس میں یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ مرزا قادیانی کا آخری فیصلہ یعنی اس کا مفتری اور کذاب ہونا خدا کی مشیت کے مطابق ہوا ہے۔
- (٢٦)............مسیح کاذب :
اس میں مرزا قادیانی کی چوبیس پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا ہے اور مرزائیوں کی بد زبانی کا دندان شکن جواب دیا ہے۔
- (٢٧) ........ تنبیہہ قادیانی :
٢٤
مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے صحبت یافتہ ایڈیٹر اخبار بدر نے بے تہذیبی سے کچھ لکھا تھا اس کا کافی جواب ہے۔
(٢٨)............ تائید ربانی :
اس میں ملک منصور مرزائی طالب علم کے رسالہ نصرت یزدانی کا دندان شکن جواب ہے۔
(٢٩)............ آئینہ قادیانی :
اس میں مرزا غلام احمد قادیانی بانی مذہب جدید کے چند اقوال دکھا کر ان کی مخفی حالت دکھائی گئی ہے۔
(٣٠)............ حق نما :
اس میں مختصر تمہید کے ساتھ اس مناظرہ لاہور کی کیفیت ہے۔ جس سے مرزا قادیانی گریز کر گئے تھے اور اپنے اقرار سے کاذب و ملعون قرار پائے۔
(٣١)............ حق طلب کی سچی فریاد :
اس میں مرزا قادیانی پر چند لاجواب اعتراض ہیں۔
(٣٢)............ اظہار حق :
مناظرہ مونگیر کی کیفیت اور بعض رسالوں کی فہرست ہے۔
(٣٣)............ رسالہ ختم نبوت :
نہایت محققانہ طور سے ثابت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد مستقل غیر مستقل ظلی بروزی کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا مختصر رسالہ ہے۔
(٣٤)............ النجم الثاقب :
اس کے تین حصے ہیں حصہ اول کے شروع میں مرزا قادیانی کے دعویٰ کو قرآن اور حدیث سے غلط ثابت کیا ہے۔ اس کے بعد ان کی غلط پیشین گوئیاں اور غلط الہامات کو دکھایا ہے جس سے ان کا کاذب ہونا بالیقین ثابت ہوتا ہے۔ یہ حصہ ١٢٤ صفحوں پر چھپا ہے۔
(٣٥)............ النجم الثاقب حصہ دوم :
٢٥
حصہ دوم میں مرزا قادیانی کی اکیس پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا ہے۔
- (٣٦)............ النجم الثاقب حصہ سوم :
حصہ سوم میں ماسٹر عبدالمجید مرزائی کے رسالہ اظہار حق کا جواب دیا گیا ہے۔ ہر ایک حصہ درحقیقت مستقل رسالہ ہے مگر چھپنے کی ضرورت ہے۔
- (٣٧)............ دوستانہ نصیحت :
اس میں مولوی علاؤالدین احمد صاحب بی اے وکیل کا خط ہے مولوی صاحب نے ماسٹر عبدالمجید صاحب بی اے کے مقابلہ میں مرزا قادیانی پر لاجواب اعتراضات کئے ہیں۔ وکٹوریہ پریس بدایون میں چھپا ہے۔
- (٣٨)............ خیر خواہی و تائید خیر خواہی :
یہ مختصر رسالہ قاضی منشی اشرف حسین صاحب نے ایک احمدی (قادیانی) کے خط کے جواب میں بنظر خیر خواہی لکھا ہے اور مؤلف اسرار نہانی کی جہالت کو دکھلایا ہے۔ اس کی تائید میں مولوی عزیزالحسن صاحب بدایونی نے اچھا مضمون شائع کیا ہے۔
- (٣٩)............ جواب حقانی :
قاضی صاحب ممدوح نے اس میں احمدی (قادیانی) مذکور کے دوسرے خط کا دندان شکن جواب دیا ہے۔
- (٤٠)............ تکذیب قادیانی از نشان آسمانی :
اس میں مرزا قادیانی کے اقوال سے اس کا جھوٹا ہونا ثابت کیا گیا ہے۔
- (٤١)............ قہر ربانی بر نشان آسمانی :
اس میں حکیم خلیل (قادیانی) کے اشتہار کا دندان شکن جواب دیا گیا ہے۔
- (٤٢)............ دروغ قادیانی منتخب از نشان آسمانی :
اس میں خلیل (قادیانی) کے اشتہار کے کذب کو نمبر وار دکھا کر جواب دیا گیا ہے۔
- (٤٣)............ عتاب ربانی :
اس میں رسالہ فیصلہ آسمانی کا لاجواب ہونا دکھلا کر مرزائی کی دروغ گوئی کا جواب دیا گیا ہے۔
٢٦
- (٤٤)........... مرزا غلام احمد کا منصب :
اس میں مرزا قادیانی کے اقوال سے اس کا جھوٹا ہونا ثابت کیا گیا ہے۔
- (٤٥)........... مسیح قادیانی کا فیصلہ :
اس میں بھی اس کے اقوال سے اس کی حالت دکھائی گئی ہے۔
- (٤٦)........... اہل حق کو بصارت :
اس میں نہایت واضح طریقہ سے دکھلایا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا‘ قرآن وحدیث یا کسی دلیل صحیح سے ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ اپنے اقرار سے کاذب ہے۔
یہ رسائل خدام و محبین حضرت مولانا ممدوح (مولانا محمد علی مونگیریؒ) دام فیوضہم کے ہیں آخر کے سات رسالے چھوٹے چھوٹے ١٣٣٠‘ ١٣٣٢ ہجری میں لکھے گئے ہیں۔ جس وقت مرزائیوں کے دعوٰی کا غل تھا اور سمجھتے تھے کہ ہماری باتیں لاجواب ہیں جب ہماری طرف سے پردہ دری کی گئی اور بنظر خیر خواہی مرزا قادیانی کی واقعی حالت دکھائی گئی تو اب یہ حضرات دم بخود ہیں۔ کسی کو غیرت نفسانی اور کسی کو دنیوی طمع حق بات کے قبول کرنے سے مانع ہے۔
- (٤٧)........... الہامات مرزا :
اس میں مرزا قادیانی کی مخصوص پیشین گوئیوں کو غلط ثابت کر کے اس کا کاذب ہونا ثابت کیا ہے۔
- (٤٨)........... مرقع قادیانی :
یہ ماہوار رسالہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے جاری کیا تھا سال بھر یا کچھ زیادہ جاری رہا چونکہ مولوی صاحب‘ مرزا قادیانی کے حالات سے خوب واقف ہیں اس لئے خوب ہی ان کی اصلی حالت کو کھولا ہے۔ یکم جون ١٩٠٧ء سے جاری ہوا تھا۔
- (٤٩)........... صحیفہ محبوبیہ :
حکیم نور الدین نے مرزا کی مدح میں ایک رسالہ چھپوا کر والی حیدر آباد دکن کی خدمت میں پیش کیا تھا اس کے جواب میں مولوی ثناء اللہ نے یہ صحیفہ بھیجا ١٩٠٩ء میں چھپا ہے۔
٢٧
- (٥٠)........... فاتح قادیان :
اس میں اس آخری فیصلہ کا بیان ہے، جس میں مرزا قادیانی اپنے الہامی اقرار سے کذاب و مفتری ثابت ہوئے۔ یہ فتح بھی مولوی ثناء اللہ صاحب کے حصہ میں رہی اور مرزا قادیانی کی عاجزانہ دعا بھی قبول نہ ہوئی۔
- (٥١)........... السیف الاعظم :
مولوی غلام مصطفیٰ صاحب کی تالیف ہے اور سید مکرم علی صاحب رئیس کٹک نے اپنی عالی ہمتی سے اسے چھپوایا ہے۔
- (٥٢)........... افادۃ الافہام :
مرزا قادیانی کی مایہ فخر کتاب ”ازالہ اوہام“ کا نہایت عمدہ اور مبسوط جواب دو جلدوں میں ہے۔ استاد حضور نظام حیدرآباد دکن مولانا محمد انوار اللہ صاحب کی تصانیف سے ہے۔ ١٣٢٥ھ میں چھپی ہے۔
- (٥٣)........... مفاتح الاعلام :
اس میں افادۃ الافہام کے دونوں حصوں کے مضامین کی فہرست ہے۔ جس سے مجملاً مرزا قادیانی کی حالت معلوم ہوتی ہے۔
- (٥٤)........... انوار الحق :
مولوی حسن علی بھاگل پوری کے تائید الحق کا مدلل جواب ہے۔ ١٣٣٢ھ حیدر آباد میں چھپا ہے۔
- (٥٥)........... الخبر الصحیح عن قبر المسیح :
اس میں مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کی تکذیب کی گئی ہے کہ حضرت مسیح کا مزار کشمیر میں ہے۔
- (٥٦)........... سلم الوصول :
اس میں حضور ﷺ کی معراج جسمانی کا ثبوت دیا گیا ہے جس کا مرزا قادیانی منکر ہے۔
- (٥٧)........... الذکر الحکیم نمبر ٣ :
٢٨
اس میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب کے وہ خطوط ہیں جن میں انہوں نے مرزا قادیانی سے علیحدہ ہونے کی نہایت معقول وجوہ بیان کئے ہیں۔
- (٥٨)............ الذکر الحکیم نمبر ٦ :
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے تمام دلائل و دعاوی کی کامل تردید ہے۔
- (٥٩)............ اتمام الحجۃ عرف کانا دجال :
اس میں مرزا قادیانی کی ہلاکت اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی فتح کا بیان ہے۔
- (٦٠)............ المسیح الدجال :
اس میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب نے وہ وجوہ بیان کئے ہیں جن سے وہ مرزا قادیانی سے علیحدہ ہوئے اور ان کے ساتھ تعلق رکھنے کو حرام سمجھا۔ اس میں نہایت معقول طور سے مرزا قادیانی کے مکر و فریب ثابت کئے ہیں۔
- (٦١)............ عصائے موسیٰ :
مرزا قادیانی کے ایک دوست منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ نے مرزا قادیانی کی خوب حقیقت کھولی ہے اور خوب اعتراضات کئے ہیں۔ یہ رسالہ مرزا قادیانی کے رسالہ ضرورۃ الامام کا جواب ہے۔ بڑا رسالہ ہے مطبع انصاری دہلی میں چھپا ہے۔ اب نہیں ملتا۔
- (٦٢)............ چودھویں صدی کا مسیح :
چونکہ اس وقت ناول دیکھنے کا مذاق زیادہ ہو گیا ہے۔ مؤلف نے مرزا قادیانی کے واقعی اور سچے حالات ناول کے طریقہ پر لکھے ہیں تاکہ اہل مذاق دیکھ کر واقف ہوں۔ خوب لکھا ہے۔ مگر اب نہیں ملتا۔
- (٦٣)............ الخلافۃ فی خیر الامۃ رد علی النبوۃ فی خیر الامۃ :
قاسم علی مرزائی نے ایک رسالہ میں لکھا تھا کہ امت محمدیہ میں نبوت قائم رہے گی اور مرزا قادیانی نبی ہے۔ اس کے جواب میں اس رسالہ میں یہ ثابت کیا ہے کہ نبوت نہیں رہ سکتی البتہ خلافت رہے گی۔ عمدہ رسالہ ہے۔
- (٦٤)............ تردید نبوت قادیانی جواب نبوت فی خیر الامۃ :
٢٩
یہ بھی قاسم علی (مرزائی) کے اسی رسالہ کا جواب ہے۔ قاسم علی نے اشتہار دیا تھا کہ جو کوئی میرے رسالہ کا جواب دے اسے ایک ہزار روپیہ دیا جائے گا مگر جب جواب دیا گیا اور مجیب نے اعلان دیا کہ روپیہ لاؤ اگر جواب میں تردد ہو تو جلسہ کر کے طے کر لو، مگر ہمت کہاں تھی ہزار کا اشتہار تو عوام کے فریب کے لئے تھا کہ اگر کسی نے جواب کی طرف توجہ نہ کی تو پھر غل مچا کر عوام کو بہکائیں گے اور اب اگر راستبازی کا دعویٰ ہے تو دو ہزار روپے دونوں رسالوں کے مؤلف کو دیں۔ ورنہ آئندہ جھوٹی گپوں سے توبہ کریں۔
- (٦٥).......... معیار عقائد قادیانی :
مرزائیوں کے عقائد بیان کر کے ان کا رد کیا ہے۔
- (٦٦).......... مرزائی صاحبان کے ہینڈ بل کا جواب :
یہ پرچہ لاہور سے شائع ہوتا ہے۔ بھائی دروازہ منشی پیر بخش صاحب پوسٹ ماسٹر پینشنر سے طلب کرنا چاہئے۔
- (٦٧).......... کلمہ فضل رحمانی :
یہ کتاب ١٣١٤ھ قاضی فضل احمد کورٹ انسپکٹر لدھیانہ مؤلف میزان الحق نے مرزا قادیانی کے رسالہ انجام آتھم و ضمیمہ وغیرہ کے جواب میں لکھی ہے۔
- (٦٨).......... کاشف اسرار نہانی یعنی روئداد مقدمات قادیانی :
اس میں مرزائیوں کے مقدمہ بازی کی مفصل حالت لکھی ہے جو ١٨٩٨ء میں مرزا قادیانی پر دائر ہوا تھا۔
- (٦٩).......... بیان للناس :
مطبوعہ ١٣٠٩ھ انصاری دہلی۔ اس میں وہ خط و کتابت ہے جو درمیان مولوی عبد المجید دہلوی اور مولوی محمد احسن مؤلف اعلام الناس حواری مسیح قادیانی ہوئی تھی۔
- (٧٠).......... شفاء للناس :
مطبوعہ ١٣٠٩ھ انصاری دہلی۔ اس میں مولوی عبد اللہ صاحب شاہ جہان پوری نے اعلام الناس کا جواب دیا ہے اور مرزا قادیانی کی حالت پر خوب روشنی ڈالی ہے۔
٣٠
- (٧١).............. نمونہ لیاقت علمی :
اس کا مضمون نام سے ظاہر ہے یعنی جس طرح عبد الماجد بھاگل پوری (قادیانی) کی دیانت اور لیاقت کا نمونہ کئی رسالوں میں دکھلایا گیا ہے (محمد احسن قادیانی) امروہی لیاقت کا نمونہ ایک ہی رسالہ میں دکھا گیا ہے۔
- (٧٢).............. اعلاء الحق الصریح بتکذیب مثیل المسیح :
اس میں بھی مرزا قادیانی کی حالت کو ظاہر کیا ہے کیونکہ پہلے ان کو دعویٰ مثیل مسیح ہونے کا تھا اس لئے اسی دعوے کی تکذیب کی گئی ہے۔
- (٧٣).............. اشاعة السنة جلد ٦ وغیرہ :
اس کے لکھنے والے مرزا قادیانی کے خاص دوست مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں۔ جب تک مرزا قادیانی حد سے نہیں بڑھے یہ ان کے معاون رہے جب ان کے دعوے حد سے بڑھے تو پھر مولوی صاحب نے خوب خبر لی چار برس تک زور شور سے تحریریں ہوتی رہیں۔ اس کا ذکر ١٣١١ھ کے جلد ٧ میں مولوی صاحب نے کیا ہے۔ جلد ١٥ اور ١٦ وغیرہ دیکھی جائے اس میں آتھم کے مناظرہ کی حالت بھی پوری لکھی ہے۔
- (٧٤).............. اشتہار واجب الاظہار :
مرزا قادیانی نے مسلمانوں کا جلسہ کر کے یہ ظاہر کیا تھا کہ میں دعویٰ نبوت نہیں کرتا۔ مولوی مجھ پر اتہام کرتے ہیں۔ مولوی عبد الحق صاحب غزنوی امرتسری نے اس میں ان کا دعویٰ نبوت اور توہین انبیاء ثابت کی ہے۔ اسی طرح مولوی صاحب ممدوح کی متعدد تحریریں مرزا قادیانی کے دعوؤں اور ان کی غلطیوں کے اظہار میں چھپی ہیں۔
- (٧٥).............. کتاب اعجاز مسیح پر ریویو :
اس میں مرزا کے رسالہ اعجاز المسیح کی غلطیاں بطور اختصار دکھائی گئی ہیں۔ دو جز میں ہے۔
- (٧٦).............. حفاظت ایمان کی کتابیں :
یہی فہرست ہے جس میں مفید مضامین بھی ہیں جو ناظرین کی خدمت میں پیش کی گئی ہے۔
٣١
(٧٧).......... تنقیح امامت قادیانی ابطال امامت قادیانی : مولانا عبدالرحیم صاحب صادق پوری کے حکم سے چھپی ہے اور مدرسہ اصلاح المسلمین بانکی پور سے قادیانی کو مفت دی جاتی ہے۔
وہ رسالے جن میں حضرت مسیح علیہ السلام
کی حیات کو ثابت کیا ہے
تمہید
رسائل ذیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات و ممات کا تذکرہ ہے اور حیات کو ثابت کیا ہے۔ اسی بحث کو مرزائی حضرات اپنی پناہ خیال کرتے ہیں اور اول اسی مسئلہ کو پیش کر کے ایسی باتیں بناتے ہیں کہ گفتگو کی نوبت نہ آئے۔ چونکہ مرزائی اپنے مرشد مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت و مہدویت وغیرہ ثابت نہیں کر سکتے۔ اس لئے اس فضول گفتگو کو چھیڑ کر اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں۔ مگر الحمد للہ! ہماری طرف سے اس کا مسکتہ (حل) بھی تیار ہے۔ البتہ ہمارے بھائیوں کو چاہئے کہ اس گفتگو میں نہ پڑیں۔ کیونکہ حضرت مسیح کی حیات (یا ممات) کو مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے کچھ واسطہ نہیں ہے۔ اسے لازم و ملزوم کہنا یا موقوف علیہ ٹھہرانا محض غلط ہے اور یہ غلطی ایسی بدیہی ہے کہ کسی فہمیدہ پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ نہایت ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے مر جانے سے ایسا شخص مسیح موعود کسی طرح نہیں ہو سکتا جس کا کذب قرآن مجید سے ، صحیح حدیثوں سے ، ثابت ہو اور وہ اپنے متعدد اقوال سے کاذب قرار پائے اور دوسرے ناشائستہ اقوال اس کے ایسے ہوں جو کسی بزرگ کے نہیں ہو سکتے اور مہدی اور مسیح کی تو بڑی شان ہے۔ پھر ایسا شخص مسیح موعود کیسے ہو سکتا ہے؟ ۔ مگر میں برادران اسلام کی واقفیت کے لئے چند کتابوں کے نام لکھتا ہوں جو حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات و ممات کی بحث میں لکھے گئے ہیں اور مرزا قادیانی کی دلیلوں کو خاک میں ملا کر ثبوت حیات کے پایہ کو چرخ چہارم تک پہنچایا ہے۔ مرزا محمود (پسر مرزا قادیانی) لاہور میں آئے
٣٢
تھے۔ وہاں کی انجمن تائید اسلام نے انہیں خط لکھا کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کے اثبات میں گفتگو کیجئے مگر صاحبزادے صاحب حضرت مسیح کی حیات و ممات کا تذکرہ چھیڑ کر اور اسے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو لازم و ملزوم کہہ کر بھاگے‘ انہیں اس کی بھی خبر نہیں ہے کہ لزوم کسے کہتے ہیں اور اس کی کتنی قسمیں ہیں اور ان دونوں میں لازم کون ہے اور ملزوم کون ہے؟ اگر صداقت کا دعویٰ ہے تو پہلے یہ ثابت کریں کہ حضرت مسیح کی موت کو مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا لازم ہے یا جو مرزائی اسے موقوف علیہ کہتے ہیں وہ اپنے دعویٰ کو ثابت کریں مگر یہ بالکل غیر ممکن ہے۔ مرزا محمود تو کیا کوئی مرزائی ثابت نہیں کر سکتا: ” ولوکان بعضہم لبعض ظہیرا۔“ اور اس کا بدیہی ثبوت وہی ہے جو پہلے کہا گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مر گئے تو ایسا شخص ان کا قائم مقام کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ جس کا کاذب ہونا متعدد وجوہ سے اظہر من الشمس ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور پہلو گریز کا نکالا ہے وہ بھی لائق ملاحظہ ہے۔
حضرات! مرزائی جب مقابلہ کے لئے مسیح کی حیات و ممات کی بحث کو اپنی پناہ قرار دیتے ہیں تو ہماری طرف سے محض ان کے سمجھانے اور ان کا عجز دکھانے کے لئے بعض وقت یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے مان لیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مر گئے ہم بحث میں کسی وقت حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کو پیش نہ کریں گے نہ کسی اعتراض میں نہ کسی جواب میں‘ مگر یہ حضرات ہمارے اس احسان کو بھی نہیں مانتے کہ ہم نے ان کی خاطر سے بحث کو مختصر کرنے کے لئے حضرت مسیح کی موت کو مان لیا اور اثبات موت کا بار ان پر سے ہلکا کر دیا۔ ہمارے اس کہنے کے بعد کہتے ہیں کہ وفات مسیح کو مان لینا اور فرض کر لینا کام نہیں دے سکتا (یعنی جیسا کہ مرزا محمود نے لاہور میں کہا تھا) اب ان عقل کے دشمنوں سے یہ دریافت کیا جائے کہ کیوں کام نہیں دے سکتا؟ جب ہم کہتے ہیں کہ اسرائیلی مسیح کا ذکر ہم بحث میں نہ کریں گے جب تم کوئی حدیث پیش کرو گے ہم ہرگز نہ کہیں گے کہ یہ حدیث اسرائیلی مسیح علیہ السلام کے باب میں ہے‘ بلکہ یہ کہیں گے کہ جو علامتیں مسیح موعود کی اس حدیث میں آئی ہیں وہ مرزا قادیانی میں ثابت کرو اور جن دلیلوں سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ ان کا جواب دو۔ مگر یہ کسی مرزائی سے نہیں ہو سکتا اس لئے اپنا عجز پوشیدہ کرنے کے لئے یہ حیلہ
٣٣
نکالا کہ فرض کر لینا کام نہیں دے سکتا۔ اے صاحب کیوں کام نہیں دے سکتا جب ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم کسی اعتراض یا جواب میں حضرت مسیح کی حیات کو پیش نہ کریں گے۔ پھر کام نہ دینے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ مونگیر کے مرزائیوں کو بھی اس پر بہت خوش ہوتے سنا کہ حضرت مسیح کی موت کو اب تو مانا جاتا ہے۔ پہلے تو وہ کبھی اس کا تذکرہ نہیں کرتے تھے۔ اے نادانو ہمارا یہ ماننا اس وجہ سے نہیں ہے کہ ہم حیات مسیح ثابت نہیں کر سکتے اور مرزا قادیانی نے جو موت ثابت کر دی تو ہم اسے مان گئے۔ بلکہ محض بطور فرض ہم نے اسے مانا ہے تا کہ فضول گفتگو میں وقت ضائع نہ ہو۔ ورنہ ہمیں ماننے کی ضرورت نہیں ہے اور اسکا بدیہی ثبوت یہ ہے کہ رسائل ذیل ہمارے پاس موجود ہیں جن میں حیات مسیح کو ثابت کیا ہے اور کوئی مرزائی ان کا جواب نہیں دے سکا۔ ان کی فہرست ملاحظہ ہو۔
- (٧٨) ............. الالهام الصحيح فی حیات المسيح :
یہ رسالہ نہایت قابلیت سے مرزا قادیانی کے ابتدائی وقت میں لکھا گیا ہے نہایت معقولانہ طریقہ سے حیات مسیح کو ثابت کیا ہے اور مرزا قادیانی کے دلائل کا جواب دیا ہے اس کے مؤلف نہایت زور سے دعویٰ کرتے تھے کہ اگر مرزا قادیانی یا ان کے خلیفہ نور الدین نے اس کے جواب میں کچھ بھی قلم اٹھایا تو پھر ایسا ان کا رد کیا جائے گا کہ ہوش جاتے رہیں گے۔ اس رسالہ کے بعد دونوں صاحب برسوں زندہ رہے مگر جواب میں قلم نہیں اٹھا سکے مؤلف رسالہ مولانا ابو زبیر غلام رسول عرف رسل نما امر تسری ہیں ١٣١١ھ میں چھپا ہے۔ اب گویا نایاب ہے۔ مگر الحمد للہ یہاں موجود ہے جس کا جی چاہے آکر دیکھے۔ (الحمد للہ ! دفتر ختم نبوت ملتان میں بھی موجود ہے۔)
- (٧٩) ............. الفتح ربانی :
یہ رسالہ اصل عربی زبان میں ہے اور اس کا ترجمہ اردو میں ١٣١١ھ میں مطبع انصاری دہلی میں چھپا ہے۔
- (٨٠) ............. حصر الشارد فی رد ہفوات المولوی عبد الواحد الملقب بہ تشئید
المبانی لرد القادیانی :
٣٤
اس کے مؤلف مولانا حافظ ابو عبداللہ صاحب چھپراوی مقیم کلکتہ ہیں آپ سے اور مولوی عبدالواحد صاحب مرزائی سے تحریری مناظرہ ہوا ہے۔ مرزائی صاحب بالکل ساکت ہو گئے اور مولانا نے خوب تفصیل سے جواب دیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کو ثابت کیا ہذا رسالہ ہے مگر ابھی تک طبع نہیں ہوا۔
(٨١)............... شمس الهداية :
یہ ١٣٢٣ھ میں مطبع مصطفائی لاہور میں چھپا ہے۔ اس کے مؤلف مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب ہیں۔
(٨٢)............... سیف چشتیائی :
اس کا جواب مرزا سے نہ ہو سکا۔ اس رسالہ کے مؤلف بھی پیر صاحب ہیں۔
(٨٣)............ الحق الصريح في حیات المسيح :
١٣٠٩ھ میں مطبع انصاری دہلی میں چھپا ہے۔ یہ وہ رسالہ ہے جس کے دلائل کے جواب بالمقابل مرزا قادیانی نہ دے سکے اور دہلی چھوڑ کر قادیان بھاگ گئے تھے اس کے مؤلف مولانا محمد بشیر احمد صاحب سہوانی ہیں۔
(٨٤)............... البيان الصحيح في حیات المسيح :
یہ رسالہ عمدۃ المطابع لکھنؤ میں چھپا ہے۔
(٨٥).............. شهادت القرآن (باب اول) :
اس رسالہ کے اس باب میں آیات قرآنیہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت کی ہے۔
(٨٦).............. شهادت القرآن (باب دوم) :
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے دلائل ممات کو غلط ثابت کیا ہے۔ یہ باب دوبارہ لاہور میں ١٣٣٠ھ میں چھپا ہے۔ اس کے مؤلف مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی ہیں۔ ہر ایک باب مستقل رسالہ ہے اور علیحدہ علیحدہ چھپا ہے۔ مرزا قادیانی تمام عمر اس کا جواب نہ دے سکا اور اب کوئی کیا دے گا۔
٣٥
- (٨٧)............. رسالہ مذہب الاسلام :
اس کے اخیر میں حیات مسیح علیہ السلام پر عمدہ بحث کی ہے۔ اس کا جواب بھی کسی مرزائی نے نہیں دیا۔ ١٩١٤ء میں چھپا ہے۔
- (٨٨)............. صحیفہ رحمانیہ نمبر ٥ :
اس میں مولانا سید انور حسین صاحب پروفیسر کالج مونگیر نے لفظ توفی پر خوب اچھی بحث کی ہے جس سے ممات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ثابت کرنے والوں کی کمر ٹوٹ گئی۔
- (٨٩)............. رسالہ النجم لکھنوجلد نمبر ١٠ نمبر ١٣ :
مولوی غلام سرور (قادیانی) اور مفتی صادق (قادیانی) لکھنومیں آئے تھے علمائے اسلام نے مرزا قادیانی کے مہدی ومسیح موعود ہونے کے دلائل طلب کئے۔ اس سے انہوں نے بالکل گریز کیا۔ مگر حیات و ممات کے مسئلہ پر گفتگو کرنے کے لئے راضی ہوئے مگر وہ بھی بالمقابل گفتگو نہ کر سکے اور یہ کہا کہ لکھ کر قادیان بھیج دینا ہم جواب دیں گے۔ مولوی عبدالشکور صاحب مدیر النجم نے نمبر مذکور میں جواب لکھ کر بھیجا مگر اس وقت تک وہاں سے کچھ جواب نہ آیا مگر صاحبزادے (مرزا محمود) صاحب لاہور پہنچ کر پھر اسی مسئلہ پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ اے جناب ! مدیر النجم نے تو آپ کی سب باتیں مان کر اثبات حیات پر مضمون لکھا تھا اس کا جواب کیوں نہ دیا گیا اس وقت مہر سکوت منہ پر کیوں لگی رہی ؟۔
- (٩٠)............. موازنة الحقائق :
مؤلف رسالہ نے حیات وممات مسیح کے رسالے دیکھ کر بلا تعصب حاکمانہ فیصلہ کیا ہے زبان فارسی میں، اور حضرت مسیح کی حیات کو ترجیح دی ہے۔ (مؤلفہ مولوی محمد اکبر صاحب کارخانہ پیسہ اخبار لاہور )
- (٩١)............. درة الدرانی علیٰ ردالقادیانی :
اس میں بھی حضرت مسیح کی حیات کو ثابت کیا ہے۔ علاوہ اس کے جس قدر عقائد باطلہ ولغویات و کفریات مرزا قادیانی کے قول میں پائے جاتے ہیں اس کی تشریح اور پوری
٣٦
تردید عمدہ طور سے کی گئی ہے۔ (مؤلفہ مولوی محمد حیدر اللہ خاں مجددی مطبع ہاشمی میرٹھ میں چھپا ہے۔)
یہ چودہ رسالے اس وقت تک میرے علم میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات و ممات کے بحث میں لکھے گئے ہیں۔ پھر کسی مولوی مرزائی کی جرأت نہ ہوئی کہ ان کا جواب دے۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام کی ممات کا دعویٰ ہو رہا ہے اور جب کوئی بحث کو کہتا ہے تو حیات و ممات کو پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں ہمارے علماء نے تو اتنے رسالے اس بحث میں لکھ کر شائع کر دیئے اور مرزا قادیانی کی کتاب کا بھی جواب دے دیا۔ اب تمہیں کسی طرح حق نہیں ہے کہ بغیر ان رسالوں کا جواب دیئے اس بحث کو پیش کرو۔ اس کے علاوہ اب تو تمہارا اول فرض یہ ہے کہ پہلے ان الزامات کو اٹھاؤ جو مرزا قادیانی پر کئے گئے ہیں اور مذکورہ رسالوں میں مندرج ہیں۔ جن سے قطعی طور سے ثابت ہوتا ہے کہ بموجب قرآن وحدیث مرزا قادیانی کاذب ہیں اور خود ان کے پختہ اقرار انہیں جھوٹا اور ہر بد سے بدتر ثابت کرتے ہیں۔ ان الزاموں کے اٹھانے کے بعد قرآن وحدیث سے ان کے دعویٰ نبوت کو ثابت کیجئے مگر میں قطعی پیش گوئی کرتا ہوں کہ یہ کسی مرزائی سے نہیں ہو سکتا کیونکہ قرآن مجید کی نصوص قطعیہ نے ان کے کاذب ہونے کا فیصلہ کر دیا ہے اور وہ اپنی زبان سے کاذب ٹھہر چکے ہیں۔ اب جو کوئی ان کی صداقت میں قرآن مجید کی کوئی آیت پیش کرے اسے بالیقین سمجھو کہ فریب دیتا ہے یا جاہل ہے آیت کے مطلب کو نہیں سمجھا کیونکہ یہ غیر ممکن ہے کہ جس کے کذب کا فیصلہ خود کلام الٰہی کر چکا ہو، جس کا کذب بدیہی طور سے دنیا پر ظاہر ہو گیا ہو، پھر وہی کلام بھی دوسرے مقام پر اسے صادق ٹھہرائے۔ آسمان وزمین ٹل جائیں مگر یہ نہیں ہو سکتا۔
مسلمانو! اس پر غور کرو کہ ٩١ کتابیں (اور اب تو ٢٠٠١ء میں ١٥٠٠ سے بھی زائد) مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب کے ثبوت میں ہمارے علماء نے لکھی ہیں ان میں سے بہت کتابیں مرزا قادیانی کی زندگی میں لکھی گئی ہیں اور باوجود کہ وہ بڑے لکھنے والے تھے اور اس قدر لکھنے میں منہمک ہوتے تھے کہ نماز کی بھی پرواہ نہیں رکھتے تھے مگر ان کا جواب نہ دے سکے۔ ان کے خلیفہ اول بھی عاجز رہے۔ اس واقعہ سے ہر ایک مسلمان سمجھ سکتا ہے کہ یہ کتابیں
٣٧
لاجواب ہیں اور مرزا قادیانی کا کاذب ہونا قطعی اور یقینی ہے بایں ہمہ اگر کوئی مرزائی کسی مسلمان کے دل میں شبہ ڈالے اسے چاہئے کہ ان کتابوں کو اچھی طرح دیکھے۔ اگر پھر بھی شبہ رہے تو بالضرور ہمیں اطلاع دے۔ انشاء اللہ! یہاں سے اس کا کافی جواب دیا جائے گا اور ان کی تسلی کر دی جائے گی۔
مکرر التماس ! میں محض خیر خواہانہ فہرست شائع کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اسے آپ غور سے دیکھیں گے اور ان کتابوں کو منگوانے اور اشاعت کی کوشش کر کے اس کا ثواب عظیم حاصل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ہمیشہ توفیق خیر عنایت کریں۔ آمین! راقم : خاکسار محمد اسحاق خانقاہ رحمانیہ محلہ مخصوص پور مونگیر (٢٦۔ شوال یوم پنج شنبہ ١٣٢٣ھ)
آخری التماس از مشتہر موصوف
میں نے آپ کے روبرو ان کتابوں کی فہرست پیش کی ہے کہ اگر آپ خالی الذہن ہو کر ان کو دیکھیں گے تو اس جدید فتنہ سے آپ کا ایمان محفوظ رہے گا۔ اب میں ان کی خدمت میں التماس کرتا ہوں جو مرزا کی بعض باتوں کو قانون قدرت کے موافق خیال کر کے ان کی سب باتوں پر ایمان لے آئے وہ یہ فرمائیں کہ کیا کوئی جھوٹا کبھی سچ نہیں بولتا اور کوئی عمدہ بات نہیں کہتا ؟ ۔ مجھے ہر عقلمند سے امید ہے کہ اس سے انکار نہ کریں گے اس لئے ضرور ہے کہ مدعی نبوت و رسالت کے دعویٰ کی تصدیق اسی وقت کرنی چاہئے کہ جب وہ اپنے خاص دعویٰ میں سچا ہو۔ مرزا قادیانی تو اپنے دعویٰ میں کسی طرح صادق نہیں ہو سکتے۔ اس کے نہایت کافی وجوہ ان رسالوں میں لکھے گئے ہیں جن کی فہرست میں پیش کر چکا ہوں۔ ختم شد التماس
ضمیمہ فہرست مذکور جو دوسرے مقامات سے نقل کیا گیا ہے بہ ترتیب سلسلہ مذکورہ اصل فہرست۔ (٩٢)...... حدیبیہ والی پیشین گوئی کی صداقت۔ (٩٣)...... اعلان الحق از ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب۔ (٩٤)...... بقیہ نمبر ہائے الذکر الحکیم علاوہ نمبر ہائے مذکورہ فہرست۔ (٩٥)...... ہدیہ عثمانیہ۔ (٩٦)...... ہدیہ ناظرین منصف مزاج۔ (٩٧)......
٣٨
شہاب ثاقب۔ (٩٨)...... ایک ہمدرد مخلص کی فریاد۔ (٩٩)...... القول الصحیح فی مکائد المسیح۔ (١٠٠)...... مرزائی جماعت کا تنزل۔ (١٠١)...... مسیح قادیانی کے جھوٹے الہامات۔ (١٠٢)...... مسیح قادیان کا عالم برزخ میں واویلا۔ (١٠٣)...... عبرت خیز۔ (١٠٤)...... حیات مسیح۔ (١٠٥)...... اشتہار مرزا محمود کی تشریف آوری۔ (١٠٦)...... جماعت احمدیہ سے خیر خواہانہ گزارش۔ (١٠٧)...... مسیح قادیان اور توہین انبیاء ذی شان۔ (١٠٨)...... اسلامی اعلان۔ (١٠٩)...... تبلیغ رحمانی۔ (١١٠)...... الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح از احقر۔ (١١١)...... بقیہ پرچے اخبار اہل سنت والجماعت امرتسر۔ (١١٢)...... تغلیط منہاج نبوت قادیانی۔ تمت الضمیمہ۔
- تنبیہ : (١)............ فہرست مذکور و ضمیمہ مذکورہ کی بعض کتب کی نسبت ماخذ
میں غیر مطبوع لکھا ہے۔ اب کا حال معلوم نہیں۔
- (٢)............ بہت سی کتابیں اور بعض کے ملنے کا پتہ خانقاہ رحمانیہ مونگیر محلہ
مخصوص پور مولوی محمد اسحاق صاحب سے ملے گا اور بعض کا اور مختلف مقامات سے۔ مثلاً مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے مگر ان حضرات سے اولاً وی پی بھیجنے کی درخواست نہ کی جائے بلکہ جوابی کارڈ پر دریافت کیا جائے کہ اگر آپ کو معلوم ہو تو فلاں کتاب کے ملنے کا پتہ بتلا دیجئے۔
تسہیل فی المشورہ : اگر سب کتابوں کا جمع کرنا یا دیکھنا دشوار ہو تو رسائل ذیل تو ضروری دیکھ لینا اور پاس رکھنا چاہئیں۔
ان رسائل کے نام مع خلاصہ مضمون
- (١)............ مسیح کاذب :
اس میں ٢٤ کذب فاحش مرزا قادیانی کے ہیں۔
- (٢)............ معیار المسیح :
٣٩
ان آیتوں کی شرح جن سے مرزائی مرزا قادیانی کا صدق ثابت کرتے ہیں اور اسی میں ان کے خطوط منکوحہ آسمانی کے باب میں قابل ملاحظہ ہیں۔
- (٣)......... ابطال اعجاز مرزا :
قابل ملاحظہ اہل علم قصیدہ اعجازیہ کے اغلاط دکھلائے ہیں۔
- (٤)......... اشتہار مرزا محمود کی تشریف آوری :
اس میں ختم نبوت کے دلائل اور خاتم النبیین کی تفسیر ہے۔
- (٥)......... جماعت احمدیہ سے خیر خواہانہ گذارش :
اس مختصر تحریر میں مرزا قادیانی کے اکاذیب متعدد دکھلائے ہیں۔
- (٦)......... شہادۃ القرآن مولوی محمد ابراہیم سیالکوٹی :
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اثبات حیات۔
- (٧)......... صحیفہ رحمانیہ نمبر ٤ :
لارڈ ہیڈلے کے اسلام کی تحقیق۔
- (٨)......... صحیفہ رحمانیہ نمبر ٥ :
ختم نبوت و توفی۔
- (٩)......... صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦ و نمبر ٧ :
دعویٰ نبوت و جواب دلائل وفات۔
- (١٠)......... فیصلہ آسمانی حصہ اول :
منکوحہ آسمانی کی کامل بحث ہے اور آخر میں توفی کی تحقیق۔
- (١١)......... فیصلہ آسمانی حصہ دوم :
اس میں قطع وتین کی بحث اور مدعیان کاذب کا مدت دراز تک ہلاک نہ ہونا۔
- (١٢/١٣)......... شہادت آسمانی حصہ اول و دوم :
اس میں خسوف و کسوف رمضان المبارک کے اجتماع سے استدلال کا بہت اچھا جواب ہے۔
٤٠
- (١٤)........... الذکر الحکیم کے سب نمبر :
- (١٥)........... اعلان الحق :
- (١٦)........... مسیح دجال :
- (١٧)........... النجم الثاقب :
اس میں بعض اکاذیب مرزا قادیانی کے بیان کئے گئے ہیں۔
- (١٨)........... معیار صداقت : نکاح والی پیشین گوئی کے جواب۔
- (١٩)........... حفاظت ایمان کی کتابیں :
اس میں ان کتابوں کا تذکرہ ہے جن کا پاس رکھنا نہایت ضروری ہے۔
- (٢٠)........... عصائے موسیٰ :
از منشی الٰہی بخش صاحب یہ پہلے معتقد تھے۔ ذیل کی پانچ تحریریں جو نہایت مختصر ہیں۔ ان کا تو پاس رکھنا ہر شخص کو بہت ہی آسان ہے۔ وہ یہ ہیں۔
- (٢١)........... جماعت احمدیہ سے خیر خواہانہ گذارش :
اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات اور اکاذیب کا بیان ہے۔
- (٢٢)........... مسیح قادیان کا عالم برزخ میں واویلا :
اس میں مرزا کے متعلق عبرت ناک خواب ہیں۔
- (٢٣)........... مسیح قادیان اور توہین انبیاء ذیشان :
مضمون کے نام سے ظاہر ہے۔
- (٢٤)........... اسلامی اعلان :
اس میں مختصراً مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ اور عقائد اور علماء کرام کا فتویٰ اور قادیانی مشن کے مبلغین کی اور ان کے اخباروں کی فہرست اور رسائل رد مرزا قادیانی کی فہرست معہ قیمت اور بعض رسائل رد مرزا غلام احمد قادیانی کی فہرست جن کا جواب نہیں ہوسکا اور مرزا قادیانی کی درخواست چندہ۔ توسیع مکان کے متعلق مرزا قادیانی کے بڑے
٤١
بھائی کی طرف ایک خط اور صفحہ آخر میں کچھ اقوال جو بیخ کن اسلام ہیں۔ اس مقام پر فصل سوم کے عنوان سے ان پانچ تحریروں میں سے صرف تحریر اول کو بعینہ نقل کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
فصل ثالث در نقل مضمون معنون
جماعت احمدیہ سے خیر خواہانہ گذارش
اور مسیح قادیانی کی حالت کا بیان
از مولانا ابواحمد صاحب رحمانی مونگیر
ہم نے نہایت خیر خواہی سے تمام مسلمانوں کو اور خصوصاً جماعت احمدیہ کو مرزا قادیانی کی حالت سے آگاہ کیا اور متعدد رسالے لکھ کر ان کے سامنے پیش کئے مگر افسوس ہے کہ مرزائی جماعت کچھ توجہ نہیں کرتی اور ان کے سرکردہ ہمارے رسالوں کو دیکھنے نہیں دیتے اور ایک یقینی جھوٹے کی پیروی میں سرگرم ہے اور نہایت ناجائز طریقوں سے جھوٹ کی اشاعت میں کوشاں ہے اور کچھ خیال نہیں کرتی کہ دنیا میں بہت تھوڑے دن رہنا ہے۔
سخت حیرت یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے اعلانیہ جھوٹ اور فریب چھپانے کے لئے خدا تعالیٰ پر جھوٹ اور فریب کا الزام لگاتے ہیں اور یہ خوشی سے مان رہی ہے۔ ان کے مولوی نہایت غلط اور شرمناک باتوں کو مرزا قادیانی سے الزام اٹھانے کے لئے اعلانیہ پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے خدا پر الزام آئے گا۔ اور شریعت الٰہی بے کار ہو جائے گی۔ مگر ان کی اس بے رخی اور بے اعتنائی کے ساتھ بھی ہم ان کی خیر خواہی سے باز نہیں رہ سکتے اور مخلوق خدا کو اس عظیم الشان گمراہی سے بچانے کیلئے مستعد ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمارے اور بھائیوں کو بھی مستعد کرے۔ اس تحریر میں ہم خاص طور سے مرزا قادیانی کی کذب بیانی دکھانا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ملتجی ہیں کہ وہ ہادئ مطلق مرزائی جماعت کو ہدایت کرے اور راستبازی اور حق پسندی کا جوش ان کے دل میں عنایت فرمائے۔ پہلے اس کو اپنے ذہن
٦٢
نشین کر لینا چاہئے کہ ہمارا مذہب مقدس اسلام ایسا عالی مرتبہ ہے کہ راستی و سچائی اس کا بڑا جزو ہے۔ ہمارے نبی کریم سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ نے مختلف اوقات میں فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ یہ کیسا پیارا اور سچا مقولہ ہے جس کی خوبی اور صداقت پر ایک انسان شہادت دیتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ برگزیدہ اسلامی صفت مرزائیوں کے مرشد میں نہیں پائی جاتی اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت اس سے بہت دور ہے اور ناراستی اور بے باکی ان کی سرشت میں سرایت کر گئی ہے۔ پھر ایسے شخص کو مقدس اور بزرگ ماننا اسلام کی ہتک کرنا اور ارشاد نبوی کو پامال کرنا ہے۔ جس میں حدیث رسول اللہ ﷺ کے بموجب اسلام کا جزو اعظم نہ پایا جائے اسے بزرگ اور مسیح موعود سمجھنا اور تمام اولیائے کرام سے اسے افضل بتانا کس قدر اسلام پر اور کاملین اسلام پر مخالفین اسلام کو مضحکہ کا موقع دینا ہے۔ مخالفین علانیہ کہیں گے کہ جس مذہب کے بڑے بزرگ جنہیں خواجہ کمال (قادیانی) لکچرار تمام اولیائے امت سے افضل قرار دیں اور ایک جماعت کے مفروض الطاعة امام میاں محمود (قادیانی) انہیں خدا کا رسول بتائیں وہ ایسے جھوٹے اور کذاب ہوں پھر اور اولیائے امت کا کیا حال ہو گا اور تمام شریعت الہی کے معتبر ہونے کی کیا وجہ ہو گی ؟۔ حیرت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو جھوٹ بولنے میں اس قدر جرأت ہے کہ نہایت بے اصل اور اعلانیہ جھوٹ کو اس قدر زور اور دعوے سے بیان کرتے ہیں کہ ناواقف کے ذہن میں اس کی صداقت اثر کر جاتی ہے اور اس کے جھوٹے ہونے کا خطرہ بھی اسے نہیں رہتا یہی وجہ ہے کہ بہت سادہ لوحوں اور کج طبیعت حضرات نے انہیں مان لیا اور ماننے کے بعد اس میں سرشار ہو گئے اور بہتوں کو تنخواہیں ملنے لگیں۔ بعض کو بات کی پچ لگ گئی اور مطالب کے پیرو ہو گئے۔ اب مرزا قادیانی کی ناراستی اور کذب بیانی کا نمونہ ملاحظہ ہو۔
ذرا اس صحیفہ کا پہلا نمبر ملاحظہ کیجئے کہ اس میں کئی جھوٹ مرزا قادیانی کے بیان ہوئے اور کئی پیش گوئیاں جو انہوں نے اپنی سخت مخالفت کے مقابلہ میں کی تھیں وہ جھوٹی ہوئیں۔ پیام صلح والے (لاہوری مرزائی) اور محمودی پارٹی (قادیانی) آنکھیں کھول کر دیکھے اور انہیں شمار کرے اس نمبر کے شروع میں سات کتابوں کے نام لکھ کر یہ بتایا ہے کہ : ٤٣
پہلے رسالہ میں ١٥٩ جھوٹ و فریب مرزا قادیانی کے دکھائے ہیں، اور دوسرے میں ٦٩، اور تیسرے میں ٩٠، اور چوتھے میں ٤٥، اور پانچویں میں ٤٢، اور چھٹے میں ٢٤، اور ساتویں میں ١٧۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے مقابلہ کی معرکۃ الآراء پیش گوئی کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے اور اس سے کئی جھوٹ مرزا قادیانی کے ثابت کئے ہیں۔ انہیں دیکھئے :
- (١)....... ان (مرزا قادیانی) کا یہ کہنا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم میرے روبرو ہلاک ہوگا۔
- (٢)....... دنیا میں وہ عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
- (٣)....... میں اس کی زندگی میں ہرگز نہ مروں گا۔ میں سلامتی کا شہزادہ ہوں۔
- (٤)....... ڈاکٹر عبدالحکیم مجھ پر غالب نہیں آ سکتا۔
یہ چاروں باتیں مرزا قادیانی کی جھوٹی ثابت ہوئیں اور اپنے اقرار سے لعنت کی موت سے مرے کیونکہ مرزا قادیانی کو مرے ہوئے آٹھ برس ہو گئے اور ڈاکٹر صاحب نہایت خیر و خوبی سے اب تک بیٹھے ہوئے تالیف کر رہے ہیں اور مرزا قادیانی کے کذب کو دکھا رہے ہیں۔ اسی صحیفہ کے آخری صفحہ میں تین پیش گوئیوں کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے۔ غرض کہ سات جھوٹ اور چار جھوٹی پیش گوئیاں دکھائی گئی ہیں۔ اب ان کو سابقہ رسائل والے جھوٹوں کے ساتھ شمار کر لیجئے اور جمع کیجئے کہ کتنے سو جھوٹ ہوئے؟ اور پھر تھوڑی سی عقل کو دخل دیجئے کہ جھوٹ ایسا جرم ہے کہ اگر ایک جھوٹ بھی کسی کا ثابت ہو جائے تو پھر اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں رہتا اور جو ایسا جھوٹ بولے جس سے خدا پر الزام آئے تو حسب ارشاد خداوندی وہ جھوٹا ہے۔ مرزا قادیانی نے تو ہر قسم کے جھوٹ بولے ہیں۔ پھر ایسا جھوٹا شخص مسیح موعود مانا جائے حیرت ہے۔ یہی حضرت ہیں جنہیں خواجہ کمال (مرزائی) مسیح موعود اور تمام اولیاء اللہ سے افضل مانتے ہیں اور بڑے فخر سے ان کی مدح میں یہ مصرعہ پڑھتے ہیں :
کہتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی۔ غیر معتبر اور جھوٹا ہونے کے لئے ایک جھوٹ کا ثبوت کافی ہے اور یہاں تو دو ورق میں اس قدر جھوٹ ثابت کر دیئے گئے اور دکھایا گیا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود تو کیا ہوتے صلحا اور راستباز جماعت میں بھی ان کا شمار نہیں ہو سکتا اور مونگیر
٤٤
سے لے کر بنگال اور حیدرآباد تک اور حیدرآباد سے قادیان اور لاہور اور پشاور تک ہزاروں دو ورقے شائع کر دیئے مگر کسی قادیانی کی مجال تو نہ ہوئی کہ جواب دے۔ اگر ہم نے غلط کہا ہے تو مرزائی جواب دیں، مگر یہ یقینی بات ہے کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔ اس صحیفہ کے نمبر ٢ میں دوسرے طریقہ سے ان کا کاذب ہونا ثابت کیا ہے یعنی احادیث صحیحہ سے یہ دکھایا گیا ہے کہ شریعت محمدیہ ﷺ میں انبیاء کی توہین تحقیقاً اور الزاماً کسی طرح جائز نہیں ہے اور مرزا قادیانی نے اس ناجائز فعل کا ارتکاب بڑی شدومد سے کیا ہے اور انبیاء کرام کی سخت توہین کی ہے جس سے وہ علانیہ دائرہ اسلام سے علیحدہ معلوم ہوتے ہیں اور اس توہین میں اپنی عادت مستمرہ کے بموجب محض جھوٹی باتیں کہی ہیں۔
مثلاً مسیح کی نسبت لکھا ہے کہ :
”حق بات یہ ہے کہ ان سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ خزائن ص ٢٩٠ ج ١١)
ملاحظہ ہو یہ وہ جھوٹ ہے جس کی شہادت کلام الٰہی دیتا ہے اور ارشاد خداوندی سورہ بقرہ کے دسویں رکوع میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو معجزات دیئے اور سورہ مائدہ میں ان معجزات کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔
اب مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا کیسا صریح جھوٹ ہے؟ اور یہ جھوٹ الزاماً نہیں بولا ہے بلکہ ان کا یہ کہنا کہ حق بات یہ ہے، بخوبی ثابت کرتا ہے کہ اس امر میں ان کے نزدیک جو امر حق ہے اسے بیان کیا ہے، اب ان کا حضرت مسیح کے معجزات سے انکار کرنا اور اس انکار کو حق بات کہنا، قرآن مجید کی آیات مذکورہ سے صریح انکار ہے، مگر چونکہ مسلمانوں کو فریب دینا ہے اس لئے صاف انکار نہیں کرتے باتیں بنا کر فریب دیتے ہیں۔ مولوی عبد الماجد مرزائی سے اسی پر گفتگو ہوئی تھی اور مولانا محمد عبدالشکور صاحب (لکھنویؒ) نے انہیں ایسا عاجز اور ساکت کر دیا کہ وہ اپنے عجز کے خود مقر ہو گئے اور تمام حاضرین جلسہ نے اس کا معائنہ کر لیا۔ اسی صحیفہ میں ایک جھوٹ یہ بھی دکھایا ہے کہ حضرت مسیح کی نسبت لکھتے ہیں :
٤٥
"آپ کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ص ٢٩١ ج ١١)
برادران اسلام! ایک اولوالعزم نبی کی شان کو خیال کریں اور مرزا قادیانی کی اس گستاخی اور بے ادبی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ عالی مرتبہ پیغمبر ہیں، جن کی عظمت و رسالت اور معجزات اور تقرب الہی کا ذکر قرآن مجید میں غالباً دس جگہ آیا ہے۔ ان کی نسبت مرزا قادیانی کا قول ہے کہ ان کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے کچھ نہ تھا۔ یہ کیسی صریح ان آیات کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ پر الزام ہے، جن میں ان کی عظمت و رسالت بیان ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی نسبت فرماتے ہیں :
" وَ اٰتَیْنَا عِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ٠ البقرہ آیت ٨٧"
یعنی ﴿ہم نے عیسیٰ کو معجزے دیئے اور روح القدس کے ذریعہ سے ان کی مدد کی۔﴾ بعض مقام پر ان کی تعریف اس طرح فرمائی :
" وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ٠ آل عمران آیت ٤٥"
﴿عیسیٰ (علیہ السلام) دونوں جہان میں صاحب وجاہت اور مقبولان خدا سے ہے۔﴾
برادران اسلام! ملاحظہ کریں کہ جن کی برگزیدہ صفات اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں بیان فرمائے۔ ان کی نسبت مرزا قادیانی نہایت بے باکی سے یہ لکھتے ہیں کہ : "ان کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہ تھا"۔ یہ کیسی صریح تکذیب ہے کلام الہی کی کسی مسلمان کو ایسی جرأت نہیں ہو سکتی۔ یہ کہنا کہ الزاماً ایسا کہا ہے محض جہالت یا فریب دہی ہے۔ اول تو انبیاء کی نسبت ایسی گستاخیاں تحقیقاً اور الزاماً ہر طرح منع ہیں۔ حدیث سے ثابت کر دیا گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ الزام دینے کا یہ طریقہ ہرگز نہیں ہے۔ اہل علم اسے خوب جانتے ہیں یہی باتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو مذہب سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ البتہ مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے اپنے آپ کو اسلام کا مطیع کہتے تھے اور قرآن و حدیث سے
٤٦
استدلال پیش کرتے تھے۔ مگر اس میں ایسی تحریف کرتے تھے جسے اہل علم ہی خوب سمجھتے ہیں کہ یہ اپنی دلی خواہش کو مسلمانوں سے منوانے کے لئے قرآن مجید کو پیش کرتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن مجید سے ہمارا مدعا ثابت ہے۔ ان باتوں کے علاوہ اس تحریر میں اور بھی جھوٹ و فریب بیان ہوئے ہیں۔ ناظرین اس نمبر کو ملاحظہ فرمائیں۔ اب یہاں دوسرے قسم کے جھوٹ آپ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔
مسیح قادیان کے بعض اعلانیہ جھوٹ
جن میں بعض وہ بھی ہیں جو کئی برس ہوئے دکھا کر جواب طلب کیا گیا تھا مگر اب تک یہاں سے قادیان تک سب کا ناطقہ بند ہے۔ جواب سے عاجز ہیں مگر سخت افسوس ہے ان کے حال پر‘ کہ ایسے علانیہ جھوٹ دیکھ کر بھی اس کی پیروی سے علیحدہ نہیں ہوتے‘ مقابلہ پر کبھی دم بخود ہو جاتے ہیں‘ کچھ نہیں کہتے‘ کبھی کہتے ہیں کہ حوالہ غلط ہے‘ پوری عبارت نہیں لکھی گئی‘ اصل کتاب دکھاؤ۔ چونکہ جانتے ہیں کہ ہر وقت ہر شخص کے پاس کتاب موجود نہیں رہتی اس لئے ٹالنے کے لئے ایسا کہہ دیتے ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ جو حوالے ہم نے مرزا قادیانی کی کتاب سے دیئے ہیں اگر مرزا قادیانی کی کتاب میں یہ مطلب نہ ہو تو ہم مجمع میں اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کریں گے اور ہر غلط حوالہ کے عوض ہزار روپے دینے کو موجود ہیں۔ اگر حوالہ غلط نہ ہو اور جو مطلب ہم نے ثابت کیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہو تو تمہیں مرزا قادیانی کو جھوٹا ماننا ہو گا۔ میں تمام برادران اسلام ! سے کہتا ہوں کہ جب کوئی مرزائی ہمارے حوالہ پر الزام لگائے اس سے یہی کہیں اور نہایت زور سے کہیں اب مرزا قادیانی کے جھوٹوں کا نمونہ ملاحظہ ہو :
پہلا جھوٹ ...... : مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ :
”مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری ......... اور مولوی محمد اسماعیل صاحب علی گڑھی نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٩ خزائن ص ٤٩٣ ج ١٧)
٤٧
یہ مرزا غلام احمد قادیانی کا صریح کذب ہے۔ ان دونوں حضرات نے ایسا کہیں نہیں لکھا۔ اگر کسی کو دعویٰ ہے تو بتائے کہ کہاں اور ان کی کس کتاب میں ہے؟۔ ’دعویٰ مرزا قادیانی‘ میں یہ بھی استفتاء کیا گیا ہے اور مجیب کے لئے پانچ سو روپے کا اشتہار دیا ہے اور یہ رسالہ صحیفہ رحمانیہ سے بہت پہلے چھپا ہے۔ پھر صحیفہ رحمانیہ نمبر اول میں اس جھوٹ کو دکھایا گیا ہے۔ صحیفہ صفر ١٣٣٢ھ میں چھپا ہے اور اب ١٣٣٥ھ ہے (اور اب ١٤٢١ھ ہے) مگر اس وقت تک کوئی مرزائی اس جھوٹ کے داغ کو مٹا نہیں سکا اور نہ قیامت تک مٹا سکتا ہے۔
دوسرا جھوٹ ......: لکھا ہے کہ :
”جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے مقابلہ میں آئے خدا تعالیٰ نے سب کو ہلاک کر دیا۔“
(اخبار بدر مورخہ ٢٧؍ دسمبر ١٩٠٦ء ملفوظات ص ٩٩ ج ٩)
یہ دعویٰ بھی محض غلط اور سراسر جھوٹ ہے۔ صوفی عبدالحق صاحب کے سوا کسی سے مرزا قادیانی نے مباہلہ نہیں کیا اور صوفی صاحب اب تک زندہ موجود ہیں اور مرزا قادیانی کو ہلاک ہوئے آٹھ برس ہو گئے مگر مریدوں کی کذب پرستی کا یہ حال ہے کہ اپنے مرشد کے اس جھوٹے دعوے کو سچ مان کر بڑے زور سے اب تک یہی دعویٰ کر رہے ہیں۔
چنانچہ لکھا ہے کہ :
”کئی ایک مخالفین بالمقابل کھڑے ہو کر اور مباہلہ کر کے اپنی ہلاکت سے خدا کے اس مامور کی صداقت پر مہر لگا گئے۔“
(٢١؍ دسمبر ١٩١٦ء پیغام صلح)
اب دیکھا جائے کہ یہ کیسا اعلانیہ جھوٹ ہے، مگر کاذب کی پیروی نے دل کو تاریک اور عقل و ہوش کو بے کار کر دیا کہ متنبہ کرنے کے بعد بھی واقعی بات کی تحقیق نہیں کرتے۔ اس دعویٰ کا جھوٹا ہونا ١٩١٣ء میں صحیفہ رحمانیہ نمبر ١ میں دکھایا گیا ہے۔ بایں ہمہ ١٩١٦ء میں کس جرأت سے لکھتے ہیں کہ مباہلہ کر کے اپنی ہلاکت سے خدا کے اس مامور کی صداقت پر مہر لگا گئے۔ اگر اور کچھ نہیں دیکھا تھا اور مرزا قادیانی کے جھوٹ کو بھی وہ سچ سمجھتے تھے تو صوفی عبدالحق صاحب کو بھی انہوں نے دیکھا یا سنا نہ تھا کہ مباہلہ کرنے والے اس وقت
٤٨
تک زندہ امرتسر میں موجود ہیں۔ پھر ایسا اعلانیہ جھوٹ بولتے انہیں شرم نہیں آئی اور یہ بھی خیال نہیں کیا کہ باوجود اس شور و غل کے تمام عمر میں ایک صوفی صاحب سے مباہلہ کی نوبت آئی اور ان کی زندگی میں مرزا قادیانی ہلاک ہوئے اور اس سے اہل حق کی صداقت پر مہر لگا گئے۔ اب اس اعلانیہ سچے واقعہ کے خلاف بیان کرنا کسی صاحب شرم و حیاء کا کام ہو سکتا ہے؟۔ ہرگز نہیں۔ یہ خواجہ کمال (مرزائی) کی پارٹی کا جھوٹ ہے جو اشاعت اسلام کا دعویٰ کر کے مسلمانوں سے روپیہ بٹور رہے ہیں۔
لطف یہ ہے کہ ١٧ جنوری ١٩١٧ء کے اہل حدیث میں ان مباہلین کے نام دریافت کئے ہیں جو مرزا قادیانی سے مباہلہ کر کے مر گئے، تو بڑی جرات سے تاریخ مذکور کے پیغام صلح میں ان پانچ شخصوں کے نام بتائے جنہوں نے مرزا قادیانی سے کسی وقت مباہلہ نہیں کیا۔ البتہ جس طرح دنیا کے بہت لوگوں نے مرزا قادیانی کے سامنے انتقال کیا اسی طرح ان پانچوں صاحب نے انتقال کیا مگر اس جماعت کے کذب کی پیروی اور راستی اور سچائی سے بیزاری قابل ملاحظہ ہے کہ باوجودیکہ اپنا اور اپنے مرشد کا جھوٹ معلوم کر چکے، مگر عوام ناواقفوں کے سامنے ملمع کر کے اپنی سچائی دکھانا چاہتے ہیں اور پانچ شخصوں کا نام گناتے ہیں تاکہ ناواقف یہ سمجھیں کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے مباہلہ کیا اور مر گئے۔ حالانکہ یہ بات نہیں ہے ان لوگوں نے مباہلہ نہیں کیا۔ یہی حضرات اشاعت اسلام کا دعویٰ کر رہے ہیں؟ اور مسلمانوں سے چندہ مانگتے ہیں اور ہمارے سیدھے سادھے مسلمان انہیں سچا سمجھ کر چندہ دے رہے ہیں۔
تیسرا جھوٹ......: مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ :
”ضرور تھا کہ قرآن کریم اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دئے جائیں گے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٧، خزائن ص ٤٠٤ ج ١٧)
٤٩
یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ قرآن وحدیث میں کہیں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف حدیثوں میں یہ آیا ہے کہ امام مہدی اور مسیح جب آئیں گے تو مسلمانوں کے دلوں میں ان کی محبت اس قدر ہو گی کہ ہر وقت ان کا ذکر کریں گے اور بلا ان کی خواہش کے بیعت ان سے کرنا چاہیں گے اور کریں گے۔ ملاحظہ ہو :
”البرہان فی علامات مہدی آخر الزماں .“
مرزا قادیانی نے مذکورہ قول میں تین باتیں قرآن اور حدیث کی طرف منسوب کی ہیں :
- (١)......... یہ کہ علماء کے ہاتھ سے مسیح موعود دکھ اٹھائے گا۔ یعنی اسے ماریں
پیٹیں گے۔
- (٢)......... اسے کافر قرار دیں گے۔
- (٣)......... اس کے قتل کا فتویٰ دیں گے۔
اور یہ تینوں باتیں قرآن وحدیث کی طرف منسوب کی ہیں۔ یعنی قرآن مجید میں یہ تینوں باتیں آئی ہیں اور حدیث میں بھی۔ مگر یہ تینوں دعوے محض غلط ہیں نہ قرآن میں ان دعوؤں کا پتہ ہے اور نہ حدیث میں۔ اس لئے یہ چھ جھوٹ ہوئے۔ اب جس کو ان کے سچے ہونے کا دعویٰ ہے وہ قرآن وحدیث سے ثابت کرے ورنہ خدا سے ڈر کر ایسے جھوٹے سے علیحدہ ہو جائے ۔ آٹھ جھوٹ تو یہ ہوئے۔ اب نواں جھوٹ دیکھئے :
نواں جھوٹ ...... : مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ :
”ہمارے نبی کریم ﷺ کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے ۔“
(قادیانی اخبار البدر مورخہ ٢٤ نومبر و یکم دسمبر ١٩٠٤ء ملفوظات ص ٤٢٧ ج ٧)
دیکھئے یہ کیسا بے تکا جھوٹ ہے۔ اب قادیانی پارٹی یا لاہوری پارٹی کوئی اپنے مقتداء کی صداقت ثابت کرے اور کوئی معتبر روایت اس مضمون کی دکھائے۔ یہ اس قسم کے جھوٹ ہیں جن سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی جھوٹ بولنے میں ایسا بے باک تھا کہ جب جو
٥٠
جی چاہا ہے کہہ دیا۔ اب خیال کیا جائے کہ جو شخص ایسا اعلانیہ جھوٹ بولے جو تھوڑی سی تحقیق سے معلوم ہو سکتا ہے اس کے اس قول کو کہ مجھے یہ وحی والہام ہوا ہے کون عقل باور کر سکتی ہے؟۔
دسواں جھوٹ......: ١٢/ اگست ١٩٠٧ء کو مرزا قادیانی نے اشتہار دیا تھا جس کی سرخی تھی ”عام مریدوں کے لئے ہدایت“ اس میں لکھا ہے کہ :
”آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو‘ تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔“
یہ قول بھی حضور سرور انبیاء علیہ السلام پر افتراء ہے۔ اس افتراء کی ضرورت مرزا قادیانی کی یہ پیش آئی کہ قادیان میں جب طاعون آیا تو مرزا قادیانی باہر بھاگے اس لئے اس بھاگنے کو حضور علیہ السلام کا حکم ظاہر کرنا چاہتے ہیں اب اگر سچا ماننے والو، کچھ غیرت ہو تو کسی حدیث کی کتاب سے کوئی معتبر روایت اس مضمون کی دکھائیں مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں دکھا سکتے۔
گیارہواں جھوٹ......: مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ :
”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ : ”ھذا خلیفۃ اللہ المھدی۔“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے کہ ............ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ میں ہے۔
(شھادۃ القرآن ص ٤١‘ خزائن ص ٤٣٧ ج ٦)
اس مضمون کو بخاری کی روایت بتانا بھی اس کی شہادت دیتا ہے کہ مرزا قادیانی کی طبیعت میں احتیاط اور راست بازی کا بالکل خیال نہ تھا جو دل میں آگیا وہ زور سے بیان کر دیا اور جس کی طرف چاہا اس کی طرف اُس خیال کو منسوب کر دیا اگر اتفاقیہ سچ ہو گیا تو مدعا حاصل‘
١١
ورنہ باتیں بنانا کچھ مشکل نہیں ہیں اور ماننے والے ہر طرح مان ہی لیتے ہیں۔ عیاں را چہ بیان۔ مرزا قادیانی کے مرید اس کی کامل شہادت دیتے ہیں۔ اگر میں غلط کہتا ہوں تو تمام دنیا کے مرزائی مل کر تلاش کریں اور بخاری کی اس روایت کو دکھائیں۔
اے مرزائیو! کچھ تو سوچو اور اگر اب تک غفلت میں تھے تو اب سوچو کہ ایسے شخص کے منہ پر دعویٰ نبوت اور مسیحیت اور مہدویت و افضل الامۃ ہی نہیں بلکہ قمر الانبیاء اور افضل من عیسیٰ روح اللہ ہونے کا زیب دیتا ہے جو اس قدر دلیر جھوٹا ہو؟۔ بخاری شریف مسلمانوں کی ایک مشہور و معروف کتاب ہے۔ تمام احمدی (قادیانی) مل کر اور جمع ہو کر بتائیں کہ بخاری کے کس باب میں یہ حدیث ہے۔ اور اگر نہ بتا سکیں تو بس اب توبہ کرنے میں کیوں دیر کرتے ہیں؟۔ یہ تو وہ جھوٹ ہیں جن میں نہ کوئی الہام کی غلط فہمی کام آسکتی ہے نہ کوئی شرط لگ سکتی ہے۔ نہ یمح اللہ ماشاء اللہ و یثبت کا پیچ چل سکتا ہے نہ وعد ولا یوفی کام دے سکتا ہے نہ چاند اور سورج کا گہن اس کو سچا کر سکتا ہے۔ کیا اسی نبی کی نبوت کی آسمان اور زمین نے شہادت دی تھی؟۔ اسی کی نبوت قرآن و حدیث سے ثابت کرتے ہو۔ آخر خدا نے انسان بنایا ہے کچھ تو غور و فکر سے کام لو۔ کیا مرنا نہیں ہے۔ کیوں مخالفین اسلام کو ہنساتے ہو اور ان کی تعداد کو بڑھاتے ہو؟۔
بارہواں جھوٹ:...... مرزا قادیانی نے اپنی مدح میں ایک پیش گوئی گھڑی ہے اور اسے حدیث رسول اللہ ﷺ ٹھہرایا ہے۔ لکھتا ہے کہ : ”واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہو گا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩٠ خزائن ص ٤٠٦ ج ٢٢)
یہ پیشین گوئی کسی حدیث میں نہیں آئی مرزا قادیانی نے جاہلوں کے بہکاوے کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ پر افتراء کیا ہے۔ اگر ہم غلط کہتے ہیں تو کوئی مرزائی اس روایت کو کسی معتبر کتاب سے ثابت کر دے۔ مگر نہیں کر سکتا۔ اس قول میں مرزا قادیانی اپنے لئے پیش
٥٢
گوئی ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مریدوں کو خوش کرنے کے لئے فرماتے ہیں کہ ایک شخص پیدا ہو گا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا اردو محاورے کے لحاظ سے اس کے دو معنے ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ در حقیقت تو وہ عیسیٰ اور ابن مریم نہیں ہو گا مگر دوسروں سے کہلائے گا۔ یعنی لوگوں سے کہے گا کہ مجھے عیسیٰ اور ابن مریم کہو‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں سے جھوٹ بلوائے گا اور عیسیٰ اور ابن مریم بنے گا‘ اور دوسرے معنے یہ ہیں کہ نام تو اس کا کچھ اور ہو گا مگر کسی وجہ سے لوگ اسے عیسیٰ اور ابن مریم کہنے لگیں گے وہ خود نہیں کہلائے گا۔ اب یہ قول پہلے معنے کے لحاظ سے تو صاف طور سے ایک جھوٹے کی پیشین گوئی ہوئی جیسے دجال کی پیشین گوئی ہے۔ دوسرے معنے کے لحاظ سے مرزا قادیانی اس کے مصداق نہیں ہو سکتے کیونکہ لوگوں نے انہیں خود عیسیٰ اور ابن مریم نہیں کہا بلکہ انہوں نے بہت جھوٹی اور فریب آمیز باتیں بنا کر اپنے کو عیسیٰ اور ابن مریم بنایا ہے تاکہ مسیح موعود کے مصداق بنیں۔ بہر حال جو معنے ہوں۔ کسی حدیث میں یہ پیش گوئی نہیں ہے کہ میری امت میں ایک شخص پیدا ہو گا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا۔ ایک جملہ اس قول میں یہ ہے کہ نبی کے نام سے موسوم ہو گا۔ یہ جملہ مرزا قادیانی نے بڑی ہوشیاری اور عیاری سے لکھا ہے۔ اب مرزائی حضرات یہ فرمائیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟۔ ظاہراً اردو کے محاورے کے لحاظ سے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ در حقیقت تو وہ نبی یعنی خدا کا رسول نہ ہو گا۔ بلکہ اس کا نام نبی رکھا جائے گا۔ جس طرح اس وقت لکھنؤ میں ایک مشہور بیرسٹر ہیں ان کا نام ”نبی اللہ“ ہے جا کر دیکھ لیجئے۔ مگر یہ مطلب اس لئے غلط ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا نام نبی نہیں رکھا گیا بلکہ غلام احمد ان کا نام ہے۔ غرضیکہ برائے نام بھی انہیں نبی کہنا غلط ہے مگر مرزا قادیانی نے یہ جملہ اس لئے تراشا ہے کہ خاص و عام میں مشہور ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ ان کی تسکین کے لئے کہتے ہیں کہ وہ حقیقی نبی نہیں ہو گا بلکہ نبی اس کا نام رکھا جائے گا۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ ہم پر یہ الزام نہ لگایا جائے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے منکر ہیں بلکہ اسے مان کر ہم نبی کہلانے کے مستحق ہیں۔ ہمیں حدیث میں نبی کہا گیا ہے مگر یہ محض فریب ہے۔ حدیث میں جنہیں نبی کہا گیا ہے وہ واقعی نبی ہیں مگر انہیں رسول اللہ ﷺ ٥٣
سے پہلے نبوت کا مرتبہ مل چکا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد انہیں نبوت نہیں ملی۔ جو حضور علیہ السلام کے خاتم النبیین ہونے کے مخالف ہو۔ بہر حال یہ یقینی بات ہے کہ کسی حدیث صحیح میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نہیں ہے کہ میری امت میں ایسا شخص پیدا ہو گا جس میں یہ تین باتیں ہوں گی یعنی یہ کہ وہ عیسیٰ کہلائے اور ابن مریم بھی اسے لوگ کہیں اور نبی کے نام سے بھی موسوم ہو۔ البتہ صحیح مسلم میں حضرت مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ہے مگر اس میں ٢٧ باتوں سے زائد ایسی بیان ہوئی ہیں جن سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١١‘ ١٢ کا صفحہ ٤٢‘ ٥١ تک ملاحظہ ہو۔ اس حدیث میں پہلے حضرت عیسیٰ کا آنا اور کافروں کا مارا جانا بیان کر کے یاجوج ماجوج کا آنا اور حضرت عیسیٰ کا پہاڑ پر محصور ہونا بیان ہوا ہے۔ پھر ارشاد ہے : ” فیرغب نبی اللہ عیسیٰ واصحابہ ۔ “ یعنی اس وقت خدا کے رسول جن کا نام عیسیٰ ہے اور ان کے اصحاب خدا کی طرف متوجہ ہوں گے اور دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو نیست و نابود کر دے گا۔ اس کے بعد دنیا کی ایسی عمدہ حالت کی پیش گوئی ہے کہ اس کا ظہور اس وقت تک کبھی نہیں ہوا۔ قادیانی مسیح کے وقت کی حالت تو ایسی خراب تھی اور ہے کہ کبھی ایسی نہیں ہوئی۔ اس حدیث میں کسی امتی کا نام نبی یا نبی اللہ ہرگز نہیں بتایا۔ بلکہ حضرت عیسیٰ کی صفت ”نبی اللہ“ بیان ہوئی ۔
تیرہواں جھوٹ......: لکھتا ہے کہ :
”جاننا چاہئے کہ اگرچہ عام طور پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ حدیث صحیح ثابت ہو چکی ہے کہ خدا تعالیٰ اس امت کی اصلاح کے لئے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اس کے دین کو نیا کرے گا لیکن چودھویں (صدی) کے لئے یعنی اس بشارت کے بارہ میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو گا اس قدر اشارات نبویہ پائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی طالب منکر نہیں ہو سکتا۔“
(نشان آسمانی ص ١٨ خزائن ص ٣٧٨ ج ٤)
مرزا قادیانی نے یہ عظیم الشان دعویٰ کیا اور اکثر عمر رسائل لکھنے میں گزاری مگر
٥٤
کسی رسالہ میں ان اشاروں کا اجمالی ذکر بھی کہیں دکھایا نہیں گیا۔ اگر کوئی دکھا سکے تو دکھایئے مگر یہ بات قطعاً اور یقیناً جھوٹی ہے کہ چودھویں صدی کے مجدد کے لئے مخصوص اشارے کسی حدیث میں ہیں جو اور مجددوں کے لئے نہیں ہیں۔ اس مضمون کی ایک روایت صرف ابو داؤد میں ہے جس کے معنے کے اشکال سے اگر قطع نظر کی جائے تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر مجدد کو پیدا کرے گا۔ جو دین کو بہت کچھ نفع پہنچائے گا۔ حدیث : ”ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها ، ابوداؤد ص ١٣٢ ج٢“ ﴿اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی کے شروع میں ایسا مجدد بھیجے گا جو دین کی تجدید کرے گا۔﴾
اب قادیانی جماعت بتلائے کہ اس حدیث میں وہ کونسا لفظ ہے جس سے معلوم ہو کہ چودھویں صدی کا مجدد ممتاز ہو گا۔ جو عبارت سمجھ سکتے ہیں وہ بخوبی معلوم کر سکتے ہیں کہ :
- (١).......... اس حدیث میں صرف اس قدر بیان ہے کہ ہر صدی پر جو دین کو
فائدہ پہنچائے گا اس کے سوا کوئی اشارہ اس میں نہیں ہے۔ اس حدیث کے موجب مرزا قادیانی مجدد ہرگز نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ انہوں نے دین اسلام کو کوئی نفع ایسا نہیں پہنچایا۔ جو دوسرے علماء نے نہ پہنچایا ہو، بلکہ نہایت نقصان پہنچایا مثلاً یہ کہ :
- (١).......... چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر دنیا کو اسلام سے خالی کر دیا۔
- (٢).......... خدا اور رسول ﷺ پر ایسے الزام لگائے جس سے منکرین اسلام کو
اس مقدس مذہب پر مضحکہ کا موقع دیا۔ اس وقت تو یہ چند جھوٹ مسیح قادیانی کے آ گئے آئندہ اس سے زیادہ دکھائے جائیں گے جس سے معلوم ہو جائے گا کہ قادیانیوں کے سردار جھوٹوں کے سر کردہ ہیں انہیں کو خواجہ کمال (مرزائی) مسیح موعود اور تمام صحابہ کرام اور آئمہ سے افضل کہتے ہیں اور در پردہ وہ ہمارے مقدس بزرگوں کی سخت توہین کرتے ہیں۔
(خاکسار ابو احمد رحمانی ماہ رجب ١٣٣٥ھ رحمانیہ پریس مونگیر)
فصل الثالث وبتمامه تمت رسالة قائد القاديان حفظنا الله تعالى
٥٥
وجميع اهل الايمان كافة ومن كل زيغ وطغيان . آمين بحرمة سيدالمرسلين صلى الله تعالى عليه وعلى انبياء واهل بيتهم وصحابهم اجمعين .
ذنابة الرسالة فى بعض الاشعار المناسبة للمقام از اخبار اہل سنت و جماعت امرتسر جلد ١‘ ٣ یکم جون ١٩١٨ء تحت عنوان
”مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت اور اُس کا جواب“
وليلے لاتقرله بذاك
از ٹائٹل ص ٢ رسالہ ”مسیح کاذب“ تحت عنوان لسان الغیب از صائب
نتواں گشت بتصدیق خر چند
فارسی از ٹائٹل ص ١ رسالہ تنبیہ قادیانی
فتنہ در دین محمد مصطفیٰ خواہد شدن
گاہ ابن الله گاہ خود خدا خواہد شدن
منقول از حاشیہ رسالہ تنبیہ قادیانی ص ٢٠ منقول از اشاعت السنہ ص ١٢ ج ١٤ بعنوان: ”أهل البيت ادرى بمافيه“ اشعار تصنیف خسر مرزا غلام احمد قادیانی:
تاکہ حاصل ہو کہیں وجہ معاش
رنڈیوں کا مال یا بھانڈوں کا ہو
٥٦
حرص کا ہے اس قدر ان کو مرض
بوسیلہ آج احمد بن گئے
اس اخیر مضمون کی مناسبت سے ایک تحریر مرزا قادیانی کے بڑے بھائی کی یاد آ گئی جو تبلیغ رحمانی میں بھی چھپی ہے گو وہ نظم نہیں مگر اہلبیت (مرزا قادیانی) کی دوسری شہادت ہونے کے سبب مکمل نصاب شہادت تھی اس لئے نقل کی جاتی ہے۔ تحت عنوان ”درخواست چندہ بر خوردار مرزا قادیانی طال عمرہ“ بعد دعائے درازی عمر کے واضح ہو کہ میں تمہارے دعوئی ہمیشہ سے سنتا ہوں اور دور دراز تک تمہاری خبر پہنچی ہوئی ہے اور لوگ جوق در جوق آتے ہیں مگر افسوس میں تمہارا بڑا بھائی اور بزرگ ہوں میری طرف تم نے کوئی خاص توجہ نہ کی جو تمہاری نالائقی کا ثبوت ہے آخر میں بھرے دل سے از خود تم کو اطلاع کرتا ہوں کہ میں تمہارے ذاتی عیوب سے قطع نظر تمہاری پیش گوئیوں کو ایک گوز شتر سمجھتا ہوں۔ تم نے تو مولوی ثناء اللہ امر تسری کو فی پیش گوئی سو روپے دینا کیا تھا جو ان کے آنے پر تم گھر سے بھی نہ نکلے مگر میں تم کو فی پیش گوئی ہزار روپے دینے کا وعدہ کرتا ہوں اگر تم اپنی پیش کردہ پانچ پیش گوئیاں بھی مجھے سچی کر دو تو فی پیش گوئی ہزار روپے تم کو دوں گا اور اگر نہ ثابت کر سکو تو صرف تم کو مسلمان ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ پس ایک ہفتہ تک اس دعوت کا جواب بذریعہ اشتہار جلدی دینا کیونکہ خداوند تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے نبی ﷺ کو بھی حکم فرمایا ہے :”وآت ذالقربی حقہ“ یعنی قریبوں کے حقوق ادا کرو۔ قریبوں کا حق دوسروں سے زیادہ ہے بھلا یہ کیا انصاف ہے کہ کشتی نوح کے آخر صفحہ پر تو ہم کو اپنا شریک اور قرابتی بتاؤ اور یہ ظاہر کرو کہ ہمارے شرکاء مکان دینے کو راضی ہیں دو ہزار روپے چندہ جمع کر لیا ہے حالانکہ ہمیں اس کی کوئی خبر ہی نہیں اور نہ ہم دینا چاہتے ہیں ایسے جھوٹ کا بھی کوئی علاج ہے خیر ان باتوں کے ذکر کو تو ایک دفتر چاہئے جو میں الگ سے کسی وقت تفصیل سے بیان
٥٧
کروں گا سر دست میں اس اشتہار کے جواب کا منتظر ہوں۔ رقیمہ مولائی مرزا امام الدین برادر کلاں مرزا قادیانی مورخہ ١٠ مارچ ١٩٠٣ء مطبوعہ اہل حدیث پریس)
لطیفہ شریفہ
اشعار بالا کی نقل کے بعد جی چاہا کہ مثنوی معنوی کی طرف بطور تائید کے نہ کہ احتجاج کے: ”لان الاحتجاج لم یبق الیہ احتیاج“ رجوع کیا جائے سات بار بسم اللہ پڑھ کر بے ساختہ کتاب کھولی‘ اول ہی میں یہ اشعار نکلے (دفتر چہارم ص ٤٢٠) اور سچ تو یہ ہے کہ موضوع بحث کا بالکل فوٹو ہی کھینچ دیا ہے۔ وہ یہ ہیں:
اودنی وقبلۂ گاہ ادنی ست
مردہ را درخور بود گوروکفن
قبلہ اش دنیاست اورا مردہ دان
تاب خورشیدی کہ آن آفل نشد
گرچہ خلقان راکشد گردن کشان
مرگ چوبے داں کہ آں شد اژدہا
يك جہاں پر شب بدآنرا صبح خورد
وہذا آخر الکلام ، فی ہذا المرام ، وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر الانام وعلیٰ آلہ الکرام واصحابہ العظام فقط . یکم ذیقعدہ ١٣٢٨ھ یوم الاحد .
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆.......کسی مرزائی کو داماد بنانا ایسا ہے جیسے کسی ہندو، سکھ،
چوہڑے کو داماد بنا لیا جائے۔
- ☆.......جس شخص نے کہا کہ قادیانی مسلمانوں سے اچھے
ہیں وہ خود قادیانیوں سے بد تر کافر ہو گیا۔
- ☆.......مرزائیوں کی حیثیت ذمیوں کی نہیں بلکہ محارب
کافروں کی ہے اور محاربین سے کسی قسم کا تعلق رکھنا شرعاً جائز نہیں۔
☆.......☆.......☆
٥٩
ضروری اعلان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے
ناظم دفتر ماہنامہ لولاک ملتان
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
الشہاب لرجم الخاطف المرتاب
بمع ضمیمہ
شیخ الاسلام
حضرت علامہ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
تعارف
الحمدللہ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء ۔ اما بعد!
مرزا قادیانی ملعون کے پانچ مریدوں (مرتدوں) کو افغانستان میں مختلف اوقات میں بجرم ارتداد سنگسار کیا گیا اور اللہ تعالٰی کی شان کو دیکھو اس وقت بھی افغانستان کی انہی روایات کے باعث آج افغانستان میں طالبان کی خالصۃ اسلامی حکومت قائم ہے بلکہ ارتداد کی شرعی سزا بھی نافذ ہے۔ جہاں تک قادیانیوں کو سنگسار کرنے کا تعلق ہے سب سے پہلے عبدالرحمٰن قادیانی کو ١٩٠١ء میں والیٔ افغانستان جناب امیر عبدالرحمٰنؒ نے سنگسار کرایا۔ اس کے بعد عبداللطیف قادیانی کو ١٤ جولائی ١٩٠٣ء میں والیٔ افغانستان جناب امیر حبیب اللہ ؒ کے زمانہ میں بجرم ارتداد سنگسار کیا گیا۔ (تاریخ احمدیت ج ٣ ص ٥٢٨) اس زمانہ میں مرزا قادیانی زندہ تھا۔ افغانستان کے امیر عبدالرحمٰنؒ اور امیر حبیب اللہؒ کے خلاف اس نے بد زبانی کی اور تذکرۃ الشہادتین نامی کتاب تحریر کی۔ اللہ رب العزت کے کرم کو دیکھو کہ مرزا قادیانی کی تحریری بکواسات کا اسلامی مملکت افغانستان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ بلکہ غازی امان اللہ خانؒ والیٔ افغانستان کے زمانہ میں قادیانیوں نے پھر وہاں ارتدادی مہم چلانے کی کوشش کی تو ٣١ اگست ١٩٢٤ء کو نعمت اللہ قادیانی اور ١٢ فروری ١٩٢٥ء کو عبدالحلیم اور قاری نور علی قادیانی کو بجرم ارتداد قتل کیا گیا۔ (تذکرہ ص ٥٨٩ طبع سوم) نعمت اللہ قادیانی کی سنگساری پر لاہوری گروپ کے چیف گرو و لاٹ پادری محمد علی نے پیغام صلح میں ایک مضمون میں ارتداد کی سزا قتل کے خلاف سخن سازی کی۔ اللہ رب العزت کی کروڑوں رحمتیں ہوں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ پر آپ نے ”الشہاب لرجم الخاطف المرتاب“ نامی رسالہ تحریر فرما کر قادیانیوں و لاہوریوں کی سخن سازیوں پر علم کے قفل جڑ دیئے۔ ڈیڑھ دو ماہ بعد لاہوری گروپ کے محمد علی کی باسی کڑھی میں ابال آیا تو اس نے پھر ایک مضمون لکھا۔ آپ نے ”تذنیب یعنی ضمیمہ الشہاب“ تحریر کر دیا۔ قادیانی کیا خاموش ہوئے گویا ان کو سانپ سونگھ گیا۔ اللہ تعالٰی کے رحم و کرم کے صدقہ میں اس رسالہ کو مع ضمیمہ کے آپ ملاحظہ فرمائیں۔
اسلامیان پاکستان نوٹ کریں کہ پاکستان کے پہلے شیخ الاسلام حضرت عثمانیؒ کی یہ تحریر ہے۔ پاکستان کی نظریاتی کونسل نے ارتداد کی سزا قتل کی سفارش کر دی ہے۔ حکومت کب اسے قانون کا درجہ دیتی ہے؟ لیکن یہ ظاہر ہے کہ جب بھی پاکستان میں سرکاری سطح پر ارتداد کی سزا نافذ ہوئی وہ دن قادیانیت کے خاتمہ کا دن ہو گا۔ انشاء اللہ العزیز!
فقیر اللہ وسایا ٧ / ٦ / ١٤٢٢ھ ٢٧ / ٨ / ٢٠٠١ء
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ وصحبہ اجمعین ۔!!!
کابل میں نعمت اللہ قادیانی کی سنگساری کے واقعہ سے ہندوستان کے اخباروں میں قادیانیوں کے ارتداد کی بحث پھر تازہ ہو گئی۔ اور ساتھ ہی یہ مسئلہ بھی زیر بحث آگیا کہ اسلام میں مرتد کی سزا کیا ہے ؟۔ مسٹر محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور نے ”پیغام صلح“ کے ضمیمہ کے طور پر ایک پمفلٹ ”نعمت اللہ خاں کی سنگساری“ بھی اسی مضمون کے متعلق بڑی تعداد میں شائع کر لیا ہے۔ جس میں پورے زور خطابت سے حکومت افغانستان اور علمائے دیوبند کے خلاف (جو افغانستان کے اس فعل کی سب سے بڑھ کر تحسین کرنے والے ہیں) نفرت اور اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اگرچہ مجھے یقین ہے کہ مسلمان اب بہت کچھ قادیانیوں کی فتنہ پردازیوں اور اسلام کے خلاف ان کی دسیسہ کاریوں سے واقف ہو گئے ہیں اور اسی لئے ان کا کوئی پروپیگنڈہ افغانی گورنمنٹ یا علماء دیوبند کے خلاف انشاء اللہ! مؤثر نہیں ہو سکتا۔ تاہم سلسلہ تحریرات جس حد تک پہنچ گیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے مناسب معلوم ہوا کہ اس باب میں توسیع کے ساتھ کچھ عرض کیا جائے۔
اس ضمن میں پہلی بحث جو ہمارے سامنے آتی ہے وہ قادیانی جماعت کے ارتداد کا مسئلہ ہے۔ اور پھر یہ دیکھنا ہے کہ مرتد کی نسبت اسلام کیا فیصلہ کرتا ہے؟ تو ضروری ہوا کہ اولاً ارتداد کے معنے سمجھ لئے جائیں۔
ارتداد کی تعریف
مرتد کے معنی لغت میں (راجع) یعنی کسی چیز سے لوٹنے اور پھر جانے والے کے ہیں اور شریعت کی اصطلاح میں مرتد اس شخص کو کہا جاتا ہے جو دین اسلام کو اختیار کر کے اس سے پھر جائے۔
٣
امام راغب ارتداد کے معنے لکھتے ہیں :
” هو الرجوع من الاسلام الیٰ الکفر ۔ “ ﴿اسلام سے کفر کی طرف پھر جانا۔﴾
(مفردات ص ١٩٤)
محمد علی مرزائی اپنے پمفلٹ میں لکھتے ہیں کہ : ”ارتداد یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو قبول کر کے پھر اس سے انکار کردے اور کہہ دے کہ آپ رسول نہیں ۔ “
(نعمت اللہ خان کی سنگساری ص ٥)
لیکن یہ بات صاف ہو جانی چاہئے کہ امام راغب کی تعریف میں کفر ، اور محمد علی (مرزائی) کی تعریف میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت سے انکار کرنے کا کیا مطلب ہے ؟۔ کیا رسالت کا انکار اسی وقت سمجھا جائے گا کہ وہ زبان سے کہہ دے کہ میں آپ ﷺ کو رسول نہیں جانتا۔ یا رسول اللہ ﷺ کی کسی یقینی خبر اور قطعی فرمان کا انکار کرنے سے بھی رسالت کا منکر ٹھہرے گا ؟۔
فرض کیجئے ! ایک شخص زبان سے اقرار کرتا ہے کہ جناب محمد ﷺ خدا کے رسول ہیں۔ نماز بھی قبلہ کی طرف پڑھتا ہے۔ زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہے۔ مسلمانوں کا ذبیحہ بھی کھاتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ میرے خیال میں سورہ احزاب یا سورہ نساء قرآن کی سورۃ نہیں۔ یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام مثلاً خدا کے پیغمبر نہیں (معاذ اللہ ) باقی سارے قرآن اور سارے انبیاء کی میں تصدیق کرتا ہوں تو کیا ایسی تصریحات کے باوجود بھی محمد علی (مرزائی) اسے مسلمان سمجھتے رہیں گے اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھنے والا تصور کریں گے اور ان بعض انبیاء یا ان بعض اجزائے قرآن کی تکذیب کو خود محمد رسول اللہ ﷺ بلکہ رب محمد کی تکذیب قرار نہ دیں گے ؟۔
اگر ایسے شخص کو باوجود زبانی اقرار رسالت کے وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت بلکہ خود خداوند رب العزت کا منکر ہی قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ : ” اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ، وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلاً ، اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ
٤
حَقًّا ، النساء آیت ١٥٠“ کے تحت میں انہوں نے لکھا ہے : ”اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق سے مراد صرف یہی نہیں کہ اللہ کو مان لیا اور رسولوں کا انکار کر دیا۔ جیسے یہود ہیں۔ بلکہ یہ بھی کہ بعض رسولوں کو مان لیا اور بعض کا انکار کر دیا۔ جیسے تمام اہل کتاب کی حالت ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ کے کسی رسول کا انکار گویا اللہ کا ہی انکار ہے۔“
(بیان القرآن ص ٣٩٢)
ان کے مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) لکھتے ہیں کہ : ” کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام ہی سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے ............. اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٩ خزائن ص ١٨٥ ج ٢٢)
لکھتے ہیں کہ : ”وہ جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣ خزائن ص ١٦٨ ج ٢٢)
تو اس قسم کے اقرار اور تسلیم سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک بھی اللہ اور اس کے رسول کے انکار کی صرف یہ ہی صورت نہیں کہ ایک شخص زبان سے صریح طور پر یوں کہے کہ میں خدا کو یا اس کے پیغمبر رسول عربی ﷺ کو نہیں مانتا بلکہ بسا اوقات بعض نہایت ہی قطعی اور ضروری چیزوں کا انکار کرنے والا بھی جن کی اطلاع خدا اور اس کے رسول نے دی ہو خدا اور اس کے رسول ہی کا انکار کرنے والا سمجھا جائے گا جو قرآن کی تصریح اور مرزا قادیانی کے اقرار کے موافق کفر ہے۔
پس جب کہ امام راغبؒ کی تصریح کے موافق اسلام سے کفر کی طرف پھر جانے کا نام ارتداد ہے اور محمد علی (مرزائی) اور ان کے مسیح موعود کی تصریحات سے یہ ثابت ہو چکا کہ کفر صرف یہی نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کا صریح طور پر زبان سے انکار کیا جائے بلکہ
٥
بعض قطعیات اسلام کا انکار کرنا بھی حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرنا ہے جو کفر ہے۔ تو معلوم ہوا کہ ارتداد یعنی اسلام سے کفر کی طرف پھر جانے کی دو صورتیں ہیں۔
- (١).......... ایک یہ کہ کوئی مسلمان صریحاً اسلام سے کفر کر بیٹھے۔
- (٢).......... دوسرے یہ کہ ایسا نہ ہو۔ مگر بعض ضروریات دینیہ اور قطعیات
شرعیہ سے انکار کرے۔
دونوں صورتوں میں ایسا شخص مرتد یعنی اسلام سے نکل کر کفر میں جانے والا ہے۔ (العیاذ باللہ)
کیا مرزا قادیانی اور اس کی امت مرتد ہیں؟
جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو مرتد کہتے ہیں ان کے نزدیک معیار ارتداد وہی ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ مرزا قادیانی پہلے مسلمان تھے اور جمہور اہل اسلام کے سے عقائد رکھتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے بتدریج ایسی باتیں لکھیں اور شائع کیں جن کا ماننا کھلے طور پر رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا نہ ماننا ہے وہ اگرچہ بار بار زبان سے یہ بھی اظہار کرتے رہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خدا کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں اور تمام انبیاء و مرسلین خدا کے پاک اور برگزیدہ بندے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ قلم اور زبان سے نہایت اصرار کے ساتھ ایسی چیزیں بھی نکالتے رہے جو ان کے پہلے ادعاء کی مکذب ہیں۔
وہ جب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ قرآن کی تصریح کے موافق خاتم النبیین ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے بعد نبی ہو کر آیا ہوں۔ پھر یہ نبوت جس کا انہیں دعویٰ ہے صرف وہ ولایت و محدثیت نہیں جسے صوفیہ نے (مثلاً شیخ اکبرؒ) نے اپنی اصطلاح میں نبوت کے لفظ سے تعبیر کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ گروہ اولیاء میں موجود ہوتی ہے۔ گو اس کی وجہ سے وہ انبیاء نہیں کہلاتے اور نہ کبھی آج تک کسی ولی نے حتیٰ کہ اس محدث نے بھی جس کے محدث ہونے کی تصدیق زبان رسالت سے ہو چکی تھی (حضرت عمرؓ)۔ اپنی اس نبوت پر ایمان لانے کی طرف لوگوں کو دعوت دی ہے اور نہ مرزا قادیانی ایسی گھٹیا نبوت
٦
کے مدعی ہیں جو ایک سچا خواب دیکھنے سے بھی کسی مومن صالح کو فی الجملہ حاصل ہو سکتی ہے۔
”فالاتصاف بکمالات النبوة لا يلزم الاتصاف بالنبوة ، عبقات ص١٥٩ج١“
پس کمالات نبوت سے متصف ہونا اتصاف بالنبوت کو مستلزم نہیں۔
”فاخبر رسول الله ﷺ ان الرؤيا جزء من اجزاء النبوة فقد بقى للناس من النبوة هذا وغيره ومع هذا لا يطلق اسم النبوة ولا النبى الا على المشرع خاصة فحجر هذا لاسم لخصوص وصف معين فى النبوة ، فتوحات ص٣٧٦ج٢“
﴿رسول اللہ ﷺ نے ہم کو بتلایا کہ خواب (سچا) اجزاء نبوت میں سے ایک جز ہے تو لوگوں کے واسطے نبوت میں سے یہ جز (رؤیا) وغیرہ باقی رہ گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی نبوت کا لفظ اور نبی کا نام بجز مشرع (امر و نہی لانیوالے) کے اور کسی پر بولا نہیں جاسکتا۔ تو نبوت میں ایک خاص وصف معین کی موجودگی کی وجہ سے اس نام (نبی) کی بندش کر دی گئی ہے۔﴾
”كمن يوحى اليه فى المبشرات وهى جزء من اجزاء النبوة وان لم يكن صاحب المبشرة نبيا فتفطن لعموم رحمة الله فما تطلق النبوة الا لمن اتصف بالمجموع فذلك النبى وتلك النبوة التى حجزت علينا وانقطعت فان من جملتها التشريع بالوحى الملكى فى التشريع وذلك لا يكون الا لنبى خاصة ، فتوحات ص٥٦٨ج٣“
جیسے کسی کی طرف مبشرات کی وحی آئی اور وہ مبشرات اجزاء نبوت میں سے ہیں۔ اگر چہ صاحب مبشرۃ نبی نہیں ہو جاتا۔ پس رحمۃ الہیہ کے عموم کو سمجھو تو نبوت کا اطلاق اسی پر ہو سکتا ہے جو تمام اجزء نبوت سے متصف ہو۔ وہی نبی ہے اور وہی نبوت ہے جو منقطع ہو چکی اور ہم سے روک دی گئی کیونکہ نبوت کے اجزء میں سے تشریع بھی ہے جو وحی ملکی سے ہوتی ہے اور یہ بات صرف نبی کے ساتھ مخصوص ہے۔
٧
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت
بلکہ وہ محدثیت وغیرہ سے آگے بڑھ کر مدعی ہوئے ہیں ایسی نبوت کے، جس پر نہ صرف قادیان کو نہ صرف پنجاب کو‘ نہ صرف انڈیا کو بلکہ خاتم النبیین ﷺ کی نبوت کی طرح تمام عالم کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ پھر جو کوئی اس دعوت کے پہنچنے پر بھی ایمان نہ لائے وہ دائرہ ایمان و اسلام سے خارج اور جہنمی ہے، جس طرح آنحضرت ﷺ کی دعوت پر ایمان نہ لانے والا بے ایمان اور جہنمی ہوتا ہے‘ بلکہ ان (مرزا قادیانی) کا نہ ماننے والا بعینہ خدا اور رسول کو بھی نہ ماننے والا ہے۔
نہ صرف یہی کہ ان (مرزا قادیانی) کو معمولی نبی تسلیم کر لیا جائے ۔ بلکہ اولوالعزم پیغمبر اور خاتم انبیاء بنی اسرائیل سیدنا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام پر بھی ان کی فضیلت کا اقرار کیا جائے۔ پھر فضیلت بھی کوئی جزئی فضیلت نہیں ۔ بلکہ کلی فضیلت اور ہر شان میں ان سے بڑھ کر مانا جائے اور اگر ہو سکے تو ان سب کے بعد ذرا دبی زبان سے تشریعی (صاحب شریعت) نبی بھی تسلیم کر لیا جائے۔
ملاحظہ ہوں مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارات ذیل :
”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فر ستادہ‘ خدا کا مامور‘ خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢‘ خزائن ص ٦٢ ج ١١)
”بہر حال جب کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١١٠ منقول از تشحیذ الاذہان جلد ١٠ نمبر ٤ ص ١٣٥‘ تذکرہ ص ٦٠٧ طبع سوم)
”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشین گوئی موجود ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٦٣‘ خزائن ص ١٦٨ ج ٢٢)
٨
”اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے۔ اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٢ خزائن ص ١٦٨ ج ٢٢)
”اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح بن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین سے ہے۔ اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔ اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٩ خزائن ص ١٥٣، ١٥٤ ج ٢٢)
”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨ خزائن ص ١٥٢ ج ٢٢)
کافر کس طرح کے رسول کا نہ ماننے والا ہوتا ہے؟
اس کے متعلق مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ :
”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(تریاق القلوب حاشیہ ص ١٣٠ خزائن ص ٣٣٢ ج ١٥)
”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی .................... اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں نئے
٩
احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ”ان ھذا لفی الصحف الاولیٰ ٠ صحف ابراہیم وموسیٰ ٠“ یعنی قرآنی تعلیم تعلیم توریت میں بھی موجود ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦‘ خزائن ص ٤٣٥‘ ٤٣٦ ج ١٧)
شیخ اکبرؒ فرماتے ہیں کہ :
”فما بقی لاولیاء الیوم بعد ارتفاع النبوة الا التعرف وانسدت ابواب الاوامر الالہیة والنواہی فمن ادعا ھا بعد محمدﷺ فھومدع شریعة اوحی بھا الیہ سواء وافق بھا شرعنا او خالف ٠ فتوحات مکیہ ص ٣٩ ج ٢“
﴿نبوت اٹھ جانے کے بعد آج اولیاء کے لئے بجز تعریفات کے کچھ باقی نہیں رہا اور اوامر و نواہی کے سب دروازے بند ہوچکے۔ اب جو کوئی محمد رسول اللہﷺ کے بعد امر و نہی کا مدعی ہو (جیسے مرزا غلام احمد قادیانی) وہ اپنی طرف وحی شریعت آنے کا مدعی ہے۔ خواہ وہ شریعت ہماری شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔﴾
شیخ عبد الوہابؒ شعرانی اس عبارت کے ساتھ اس قدر اور اضافہ کرتے ہیں :
”فان کان مکلفاً ضربنا عنقہ والا ضربنا عنہ صفحاً ٠ الیواقیت والجواہر ص ٢٨ ج ٢“
﴿پھر اگر یہ مدعی وحی شریعت مکلف ہے (یعنی مجنوں وغیرہ نہیں ہے) تو ہم اس کی گردن ماریں گے اور اگر مکلف نہیں تو ہم اس سے کنارہ کشی کریں گے۔﴾
”قال الشیخ ( الاکبر ) فی الباب الحادی والعشرین من الفتوحات من قال ان اللّٰہ تعالیٰ امرہ بشیٔ فلیس ذلک بصحیح انما ذلک تلبیسٌ‘ لان من الامر قسم الکلام وصفتہ وذلک باب مسدود دون الناس ٠ الیواقیت والجواہر ص ٢٨ ج ٢“
١٠
﴿شیخ اکبر فتوحات کے اکیسویں باب میں فرماتے ہیں کہ جو کوئی (بعد نبی کریم ﷺ کے) یہ دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کسی چیز کا حکم کیا ہے (جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی) تو یہ دعویٰ صحیح نہیں یہ محض تلبیس ہے۔ کیونکہ ”امر“ کلام کی قسم اور اس کی صفات میں سے ہے اور یہ (کلام کا دروازہ) لوگوں پر بند کیا جا چکا ہے۔﴾
کیا مسٹر محمد علی (مرزائی) اور بے خبری سے ان کی تائید کرنے والے یہ عبارتیں سن رہے ہیں؟ کیا یہی وہ صوفیوں کی اصطلاحی یا مجازی یا لغوی نبوت ہے؟ جس کا ثبوت رویا کی حدیث یا شیخ اکبر کے کلام میں پایا جاتا ہے۔ کیا قادیانیوں کا یہی ظلی اور بروزی نبی ہے جو اصلی اور حقیقی نبیوں سے بڑھ گیا ہے؟۔ کیا امتی نبی نام رکھ دینے سے اصل حقیقت پر پردہ پڑ سکتا ہے؟۔ اور کیا یہ سخت حیرت انگیز اور مضحکہ خیز منطق نہیں ہے کہ کسی پرانے نبی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کا دوبارہ آنا تو یہ آیۃ خاتم النبیین کے خلاف ہو۔ لیکن پچھلے نبیوں پر فضیلت کلی رکھنے والا ایک نیا نبی قادیان میں آجائے۔ یہ خاتم النبیین کے خلاف نہ ہو؟۔ گویا آنحضرت ﷺ کے وجود باجود نے مفضول انبیاء کے آنے کا سلسلہ تو بند کر دیا لیکن ان سے اعلیٰ اور افضل انبیاء کی تشریف آوری کا دروازہ کھول دیا ہے۔ کاش کہ قرآن میں بھی خاتم النبیین کی آیت کے ساتھ فاتح النبیین کی کوئی آیت ہوتی۔ اور جس صراحت اور تکرار کے ساتھ حضور ﷺ سے پہلے آنے والے انبیاء کا تذکرہ ہوا ہے۔ اس کا عشر عشیر ہی پیچھے آنے والے نبی کے متعلق ہوتا کہ امت کو زیادہ کام ان ہی پچھلوں سے پڑنا تھا اور یہ ان پہلوں سے افضل بھی تھے۔
کیا مرزائیوں میں کوئی بھی خوف خدا رکھنے والا نہیں؟ کیا ان کے دلوں پر مہر ہو چکی ہے؟ کیا ان کے قلوب پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں؟ جو ایسی ایسی صریح عبارتوں کے بعد بھی ایک مفتری علی اللہ کو سچا پیغمبر بناتے چلے جاتے ہیں۔ عجیب تماشا ہے کہ اس مفتری نے اپنے تئیں سچا ثابت کرنے کے لئے آتھم کے قصہ میں اور محمدی بیگم کے آسمانی نکاح میں معاذ اللہ خدا کو اور اس کی قضاء مبرم تک کو جھوٹا ٹھہرا دیا۔ مگر وہ محروم الخیر جماعت جو
١١
آج علماء دیوبند پر خدا کو جھوٹا کہنے کا محض فرضی الزام رکھ کر اپنے لئے اور نئی لعنت خرید رہی ہے۔ اس مفتری کی امت ہر کلمہ پر مٹتی جاتی ہے جو اپنی سچائی کا ثبوت ہی جب پیش کر سکتا ہے جب پہلے خدا کو جھوٹا ثابت کر دے :
”كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ، کہف آیت ٥“
شاید محمد علی (مرزائی) کو علماء دیوبند کے آئینہ اعتقاد میں اپنا چہرہ نظر آگیا ہے جو معاذ اللہ خدا کے جھوٹ بولنے کی تصویر سامنے آگئی : ”إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ ، ق ٣٧“
خوب سمجھ لو کہ جھوٹے حیلے اور بیہودہ عذر تراش کر ختم نبوت جیسے قطعی اور اسلام کے بنیادی عقیدہ کی تکذیب کرنا رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور صدق و راست بازی اور قرآن کریم کے وحی الہی ہونے سے انکار کرنا ہے :
”فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّلِمِينَ بِأَيْتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ ، الانعام آیت ٣٣۔“
﴿یہ لوگ تجھے نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم خدا کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔﴾
اور جیسا کہ ابتداء میں عرض کر چکا ہوں یہی ارتداد ہے کہ آدمی اسلام کا اقرار کرنے کے بعد پھر اس سے صریحاً انکار کرنے لگے یا ایسی قطعی اور صاف چیزوں کا انکار کر بیٹھے جو انکار رسالت کو مستلزم ہو۔
ارتداد کی اس قسم خفی کا نام یعنی یہ کہ آدمی زبان سے اسلام کا نام بھی لیتا رہے اور کلمہ بھی پڑھتا رہے مگر نامعقول تحریفات اور ناقابل قبول تاویلات باطلہ سے قطعیات کے انکار پر بھی تلا ہو۔ سلف کی زبان میں ”زندقہ“ ہو گیا ہے اور جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے زنادقہ کا حکم بھی وہی عام مرتدین کا سا ہے۔
اس تمام تقریر سے یہ نتیجہ نکلا کہ مرزا قادیانی جس کی ختم نبوت کو رد کرنے والی تصریحات ہم نقل کر چکے ہیں اسلام کے ایک قطعی عقیدہ کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے مرتد اور زندیق ہے اور جو جماعت ان تصریحات پر مطلع ہو کر ان کو صادق سمجھتی رہے اور اس کی
١٢
حمایت میں لڑتی رہے وہ بھی یقیناً مرتد اور زندیق ہے خواہ وہ قادیان میں سکونت رکھتی ہو یا لاہور میں۔ جب تک وہ ان تصریحات کے غلط اور باطل ہونے کا اعلانیہ نہ کرے گی خدا کے عذاب سے خلاص پانے کی اس کے لئے کوئی سبیل نہیں۔
یہاں تک ہم نے مرزا قادیانی اور ان کے اذناب کے ارتداد کا صرف ایک سبب بیان کیا ہے کیونکہ محمد علی مرزائی نے اپنے پمفلٹ میں اس کا تذکرہ کیا تھا۔ دوسرے موجبات ارتداد مثلاً توہین انبیاء علیہم السلام وغیرہ سے عمداً اغماض کیا گیا ہے۔ شاید اس خدمت کو میرا کوئی دوسرا بھائی انجام دے گا اور بہت سے بزرگ مجھ سے پہلے بھی فی الجملہ انجام دے چکے ہیں۔
آپ یقین کیجئے کہ ہم کو مرزا قادیانی یا کسی ایک کلمہ گو کے کافر اور مرتد ثابت کرنے میں کوئی خوشی نہیں ہے۔ ہماری حالت تو یہ ہے کہ نہ ہم غیر مقلدین کو کافر کہتے ہیں نہ تمام شیعوں کو نہ سارے نیچریوں کو حتیٰ کہ ان بریلویوں کو بھی کافر نہیں کہتے جو ہم کو کافر بتاتے ہیں اور ہماری تمنا تھی کہ کوئی صورت ایسی نکل آتی کہ مرزائیوں کی تکفیر سے بھی ہم کو زبان آلودہ نہ کرنی پڑتی۔ لیکن ان کے ملحدانہ دعاوی نے جن سے بارگاہ رسالت میں سخت گستاخی ہوتی ہے اور کسی طرح ختم نبوت کا ستون کھڑا نہیں رہ سکتا۔ ہم کو مضطر کر دیا ہے کہ بادل نخواستہ ان کی گمراہی سے لوگوں کو بچائیں کہ جو زہر دودھ یا مٹھائی میں مخلوط ہو گیا ہو، وہ سخت خطرناک ہے۔
جو عبارتیں مرزا قادیانی کی میں اوپر نقل کر چکا ہوں کیا ان کے مطالعہ کے بعد اس مسئلہ کا اعلان نہیں ہو جاتا کہ جو کوئی ان کو نبی اور مسیح موعود نہ مانے وہ دائرہ ایمان و اسلام سے خارج ہے۔ اب تم خود دنیا کی مردم شماری کر لو کہ تمہارے کافر بنائے ہوئے غیر مسلموں کے سوا کتنے آدمی مسلمان رہ جاتے ہیں؟۔ حالانکہ یہ کروڑوں غیر مسلم (فی زعمکم) لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار بھی کرتے ہیں اور سارے احکام بجالاتے ہیں۔
مسٹر محمد علی مرزائی اپنے اس فقرہ میں :
”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے کو کافر کہنا بڑی
١٣
خطرناک غلطی ہے۔ خواہ مرزا محمود کہیں یا مولوی کفایت اللہ صاحب۔“
(نعمت اللہ خان کی سنگساری ص ٤)
کیا دونوں ناموں سے پہلے مرزا قادیانی کا نام اضافہ کریں گے؟ اور ان کی قبر پر جا کر : ” وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ٠ النساء آیت ٩٤“ کی تلاوت فرمائیں گے۔؟
ایک طرف تو آپ کے مسیح موعود (مرزا قادیانی) سارے جہان کے کلمہ پڑھنے والوں کو بجز چند لاکھ نفوس کے مسلمانی سے نکال رہے ہیں اور دوسری طرف آپ شاید ہر اس شخص کو جو مسلمانوں کو سلام کرلے (خواہ وہ ہندو ہو یا یہودی یا نصرانی یا دہریہ ) مومن تسلیم کرتے ہیں۔ اس سے نبی قادیانی اور امتی دونوں کی شریعت فہمی اور قرآن دانی کی حقیقت بے نقاب ہو جاتی ہے۔
کہا گیا ہے کہ قادیانی بڑے نمازی ہیں۔ قرآن بہت پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں۔ اگر اس پر بھی وہ مسلمان نہیں، تو بڑی حسرت اور حیرت کا مقام ہے۔
میں کہتا ہوں کہ ایک ایسی ہی بدبخت قوم کا تذکرہ حضور نبی کریم ﷺ نے صحیحین کی احادیث میں فرمایا ہے کہ جو قرآن کی تلاوت بھی کرے گی، اور بظاہر سچے مسلمانوں سے بھی زیادہ نمازیں پڑھے گی، روزے رکھے گی، مگر ان کا قرآن ان کے حلقوم سے آگے نہ بڑھے گا اور وہ اسلام میں سے ایسی ہی نکل چکی ہو گی جیسے تیر شکار کا جسم چھید کر صاف نکل جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں نے ان کو پایا تو عاد و ثمود کی طرح ان کو قتل کروں گا۔
حق تعالیٰ شانہ اپنی پناہ میں رکھے اور اس دنیا سے ایمان پر اٹھالے کہ یہ مقام بڑے خوف اور عبرت کا ہے۔
مرزائیوں کو بڑا فخر ہے اور بعض سادہ لوح آزاد منش مسلمان بھی ان کی مدح سرائی میں رطب اللسان ہو جاتے ہیں کہ وہ آج اسلام کی ایسی خدمت کر رہے ہیں جو کسی دوسری جماعت مسلمین سے بن نہیں پڑی۔ یعنی یورپ میں اسلام پھیلاتے ہیں۔ بکانیر و سندھ میں
١٤
ہونے سے روکتے ہیں۔ آریوں وغیرہ کے مقابلہ پر سینہ سپر ہوتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ ان کا یہ فخر اور منقبت اگرچہ سمجھدار مسلمان اس لئے تسلیم نہیں کرتے کہ جس چیز کی وہ اشاعت اور حمایت کرتے ہیں وہ صحیح اسلام نہیں ہے بلکہ یا تو وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی تبلیغ ہوتی ہے اور یا مرزا قادیانی کا ترمیم کیا ہوا اسلام‘ جسے انہوں نے بہت سے اصول و فروع کاٹ کر نوجوانان یورپ یا یورپ کی وحی پر ایمان لانے والوں کے اہواء و ظنون کے سانچہ میں ڈھالا ہے۔ لیکن میں اس سے قطع نظر کر کے علیٰ سبیل التنزل کہتا ہوں کہ ان کا یہ سب امتیاز اور فخر اور خدمات اسلام کو تسلیم کرنے کے بعد بھی ان کا مومن اور ناجی ہونا ضروری نہیں ہے۔
صحیح مسلم کے ابواب ایمان میں اس شخص کا واقعہ پڑھئے جو رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے ہمرکاب جہاد میں تھا اور اس نے وہ خدمت اور اعانت اسلام اور مسلمانوں کی‘ کی تھی جس کا اعتراف صحابہؓ نے حضور ﷺ کی جناب میں ان الفاظ سے کیا ہے : ”ما اجزأ منا اليوم احدكما اجزأ فلان .“ ﴿ آج کے دن ہم میں کوئی بھی ایسا کافی نہیں ہوا جیسا کہ فلاں آدمی ہوا ہے۔ ﴾ مگر لسان نبوت سے باوجود ان خدمات جلیلہ کے ارشاد ہوا : ” اما انه من اہل النار . “ ﴿یادرکھو وہ دوزخی ہے۔ ﴾
(مسلم ج ١ ص ٤٧ باب تغلیظ تحریم قتل الانسان نفسہ عن سہل بن سعد)
حضور نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ : ” ان الله يؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر . “ ﴿ بے شک حق تعالیٰ اس دین کو مدد پہنچا دیتا ہے بدمعاش آدمی سے ۔ ﴾
(مسلم ج ١ ص ٤٧ باب تغلیظ تحریم قتل الانسان کتاب الایمان عن ابی ہریرۃ)
جامع صغیر میں حدیث ہے کہ : ”سیشد د ھذ الدین برجال ليس لهم عندالله خلاق . السراج المنیر شرح جامع الصغیر ص ٢٢٧ ج ٣“
١٥
﴿قریب ہے کہ اس دین کی تائید اور تقویت ایسے لوگوں کے ذریعہ سے ہو جائے گی جن کے لئے خدا کے یہاں حصہ نہیں۔﴾
عبداللہ بن عمرؓ نے ایک ایسی جماعت کے متعلق جو قرآن کو اور رسول اللہ ﷺ کو سب کو مانتی تھی صرف ”قدر“ کا انکار کرتی تھی۔ فرمایا:
”اذا لقيت اولئك فاخبرهم انى برى منهم و انهم برآؤ منى والذى يحلف به عبدالله بن عمر لوان لاحدهم مثل احد ذهبا فانفقه ما قبل الله منه حتى يؤمن بالقدر.“
﴿جب تم ان سے ملو تو کہہ دو کہ میں (عبداللہ بن عمرؓ) ان سے علیحدہ ہوں اور وہ ہم سے بے تعلق ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کی عبداللہ بن عمر قسم کھا سکتا ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس احد (پہاڑ) کے برابر سونا ہو پھر وہ اسے خرچ کر ڈالے تب بھی اللہ ہرگز اسے قبول نہیں کرے گا یہاں تک کہ وہ تقدیر پر ایمان لے آئے۔﴾
ابو طالب سے بڑھ کر اسلام اور پیغمبر اسلام کی حمایت اور اعانت ایسی نازک ترین ساعت میں کس نے کی ہو گی؟۔ لیکن وہ ساری خدمات اور جانبازیاں بھی اس کو عذاب نار سے نہ بچاسکیں۔
روایات بالا کو پڑھ کر کس کی ہمت ہے کہ قادیانیوں کی محض نام نہاد خدمات اسلامیہ کو دیکھ کر ان کے مومن یا ناجی ہونے کا فتویٰ دیدے اور ان کے عقائد کفریہ کی طرف کچھ التفات نہ کرے۔
عہد رسالت میں منافقین کا گروہ برابر اپنے کو مسلمان کہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر قسمیں کھا کر گواہی دیتا تھا۔ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے کا اظہار کرتا تھا۔ مسجدوں میں مسلمانوں کے ساتھ ان کے قبلہ کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتا تھا اور ان کا ذبیحہ بھی کھاتا تھا، لیکن اس پر بھی ان کو جھوٹا اور بے ایمان کہا گیا اور مسلمانوں کو ان کے مکائد سے بچتے رہنے کی ہدایت کی گئی۔ کیونکہ ان کے دوسرے قرائن واحوال اور مخاطبات سریہ ان کے دعوائے ایمان کی تکذیب کرتے تھے: ”وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِىْ لَحْنِ الْقَوْلِ . محمد
١٦
آیت ٣٠ ”اور ان کا دل ایمان سے خالی تھا اور وہ لوگ بھی ہمارے یہاں کے پنجابی نبی کی امت کی طرح اندر ہی اندر اسلام اور مسلمانوں کی جڑ کاٹتے رہتے تھے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ پنجابی نبی اور اس کی امت نے تنگ ظرفی سے اسلام کے خلاف بعض عقائد کا اعلان بھی کر دیا اور اس لئے وہ منافق کے بجائے مرتد کے حکم کے تحت میں آگئے اور امیر افغانستان ان کو منافقین کی سی مہلت نہ دے سکے۔ اگر قادیانی پارٹی منافقین میں شامل ہو کر افغانی حدود تعزیر سے بچنا چاہتی ہے تو اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہ جہاراً (اعلانیہ) اپنے خبیث عقائد کا اقرار کرنا چھوڑ دے۔ پھر ان کے دلوں کا حال خدا کے اور یوم آخرت کے حوالہ کر دیا جائے گا۔ غالباً مرزا محمود نے جو مشورہ نعمت اللہ کے واقعہ کے بعد اپنی پارٹی کو دیا ہے اس میں اسی نفاق کی تعلیم کی طرف ایک قدم اٹھایا ہے۔
محمد علی (مرزائی) کو اس کی بڑی فکر ہے کہ :
”اگر علماء دیوبند قادیانیوں کو کافر بتلاتے ہیں سنیوں کو شیعہ اور شیعوں کو سنی۔ مقلدوں کو غیر مقلد اور غیر مقلدوں کو مقلد۔ علی ھذا القیاس دیوبندیوں کو بریلوی اور بریلویوں کو دیوبندی کافر قرار دیتے ہیں۔ اس صورت میں تو کوئی مسلمان نہ رہے گا اور ایک دوسرے کو مرتد سمجھ کر قتل کر دیں گے۔“
(نعمت اللہ خان کی سنگساری ص ٦ (تلخیص)
لیکن اول تو یہ دعویٰ ہی غلط ہے کہ ان میں سے ہر ایک فرقہ دوسرے کو کافر اور مرتد اور واجب القتل سمجھتا ہے۔ دوسرے واقعات آپ کے اس خطرہ کی تردید کرتے ہیں کیا اس وقت تک افغانستان تین مرتد قتل نہیں کئے گئے؟۔ پھر بھی خدا کے فضل سے کوئی موقعہ ایسا پیش نہیں آیا کہ کوئی مسلمان محض فرضی جرم ارتداد پر کسی جگہ قتل کر دیا گیا ہو۔ اور اگر کسی جگہ آئندہ ایسا ہی کیا گیا تو آپ دیکھ لیں گے کہ اس کا خون حول اللہ و قوتہ رنگ لائے بدون نہیں رہے گا۔
محمد علی (مرزائی) کو ایسا لکھتے وقت اسلام کے نام اور اپنی نام نہاد امامت کی شرم کرنی چاہئے۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ مسلمان یہود و نصاریٰ کو اور وہ سب لوگ مسلمانوں کو کافر
١٧
کہتے ہیں۔ تو کیا اس اختلاف کے وقت یہود و نصاریٰ کے کافر کہنے سے آپ کو اپنے مزعوم اسلام میں کچھ تردد ہو جاتا ہے۔ یا آپ کے ہاتھ میں کوئی معیار ایسا دیا گیا ہے جس پر آپ اپنے اسلام اور ان کے کفر کو پرکھ سکتے ہیں؟۔
اسی طرح کیا قرآن وسنت نے کوئی معیار صحیح و محکم ہمارے ہاتھ میں ایسا نہیں دیا کہ ہم مدعیان اسلام کے اختلاف کے وقت ہر ایک کے کفر و ایمان کو اس پر کس کر دیکھ لیں؟۔ تو صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہر ایک فرقہ دوسرے کو کافر و مرتد کہتا ہے یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ ان میں کوئی کافر و مرتد نہیں یا سارے کافر و مرتد ہی ہیں۔
(نعمت اللہ کی سنگساری ص ٩ ملخص)
خدا نے اگر تم سے نور ایمان چھین لیا ہے تو کیا عام انسانوں کو جو نور فہم عطا ہوتا ہے وہ بھی سلب کر لیا گیا ہے؟۔ تم کو بڑا غیظ ہے کہ جب مرزائی افغانستان میں قتل کئے جاتے ہیں تو بابی اور بہائی شاہ ایران اور ترکوں کے حکم سے کیوں قتل نہیں کئے جاتے؟۔
یہ سوال یا تو آپ کوکب ہند والے سید محفوظ الحق سے کیجئے۔ اور یا شاہ ایران اور ترکی پارلیمنٹ سے اور یا ان ملعونین مرجومین سے جو کابل کے قلمرو میں اس علم کے بعد کہ وہاں خالص اسلامی حد و تعزیر کی تلوار چمکتی رہتی ہے ارتداد کا جھنڈا اٹھا کر لے گئے۔ اور انجام کار آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ان کو حق تعالیٰ کے غضب و انتقام کا مورد بننا پڑا۔
کیا اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے؟
اب میں دوسرے مسئلہ کی طرف آتا ہوں۔ وہ یہ کہ اسلام میں مرتد کی سزا کیا ہے اور افغانستان کا فعل کس حد تک اصل قانون اسلام پر منطبق ہو سکتا ہے؟۔ اسلامی اصول کے موافق کسی مسئلہ شرعی کے اثبات کے لئے چاروں دلیلیں ہو سکتی ہیں۔ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ، اجماع مجتہدین، قیاس واستنباط۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ ہر مسئلہ کا ثبوت چاروں طریقوں سے ہو۔ اور نہ ہر ایک دلیل ہر مسئلہ میں کارآمد ہو سکتی ہے۔ تاہم مسئلہ زیر بحث (قتل مرتد) میں اتفاق سے چاروں دلیلیں جمع ہو گئی ہیں۔
١٨
چونکہ بارہا کہا گیا ہے کہ قتل مرتد کا ثبوت قرآن کریم سے پیش کرو (حالانکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت جس کے نہ ماننے سے مسلمان خارج از اسلام ہو جاتے ہیں۔ قرآن‘ حدیث‘ اجماع وغیرہ سب کو چھوڑ کر صرف ایک دو صوفیوں کی ناتمام عبارتوں سے ہی ثابت ہو جاتی ہے)۔ اس لئے ہم نے ہمہ وجوہ اتمام حجت کے لئے مناسب سمجھا ہے کہ اولاً مرتد کے بارہ میں قرآن ہی کا فیصلہ سنایا جائے۔
مرتدین کے حق میں قرآن کا فیصلہ
یوں تو قرآن کریم کی بہت سی آیات ہیں۔ جو مرتد کے قتل پر دلالت کرتی ہیں لیکن ایک واقعہ جماعت مرتدین کے حکم خدا‘ قتل کئے جانے کا ایسی تصریح اور ایضاح کے ساتھ قرآن میں مذکور ہے کہ خدا سے ڈرنے والوں کے لئے اس میں تاویل کی ذرا گنجائش نہیں۔ نہ وہاں محاربہ ہے۔ نہ قطع طریق۔ نہ کوئی دوسرا جرم۔ صرف ارتداد اور تنہا ارتداد ہی وہ جرم ہے جس پر حق تعالیٰ نے ان کے بے دریغ قتل کا حکم دیا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی برکت سے بنی اسرائیل کو جب خدا نے فرعون کی غلامی سے نجات دی اور فرعونیوں کی دولت کا مالک بنا دیا۔ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ٹھہرے ہوئے وعدہ کے موافق حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بنا کر کوہ طور پر تشریف لے گئے جہاں آپ نے چالیس راتیں خدا کی عبادت اور لذت مناجات میں گزاریں اور تورات شریف آپ کو عطا کی گئی۔
ادھر تو یہ ہو رہا تھا اور ادھر سامری کی فتنہ پردازی نے بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت کو آپ کے پیچھے راہ حق سے ہٹا دیا : ” وَاَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ ٠ طہ آیت ٨٥“ یعنی سونے چاندی کا ایک بچھڑا بنا کر کھڑا کر دیا۔ جس میں سے کچھ بے معنی آواز بھی آتی تھی۔ بنی اسرائیل جو کئی صدی تک مصری بت پرستوں کی صحبت بلکہ غلامی میں رہے تھے۔ اور جنہوں نے عبور بحر کے بعد بھی ایک بت پرست قوم کو دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ بے ہودہ درخواست کی تھی کہ :
١٩
”اِجْعَلْ لَّنَا اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ ٠ الاعراف آیت ١٣٧“
﴿ہمارے لئے بھی ایسا ہی معبود بنا دیجئے۔ جیسے ان کے معبود ہیں۔﴾
وہ سامری کے اس بچھڑے پر مفتون ہو گئے اور یہاں تک کہہ گزرے کہ یہی تمہارا اور موسیٰ کا خدا ہے جس کی تلاش میں موسیٰ بھول کر ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کی جانشینی کا حق ادا کیا اور اس کفر و ارتداد سے باز آجانے کی ہدایت کی :۔
”يٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهِ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِيْ وَاَطِيْعُوْآ اَمْرِيْ ٠ طه آیت ٩٠“
﴿اے لوگو! تم اس بچھڑے کے سبب فتنہ میں ڈال دیئے گئے ہو حالانکہ تمہارا پروردگار (تمہارا) رحمان ہے تو تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔﴾
لیکن وہ اپنی اسی سخت مرتدانہ حرکت پر جمے رہے۔ بجائے توبہ کے یہ کہا کہ :
”لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ حَتّٰى يَرْجِعَ اِلَيْنَا مُوْسٰى ٠ طه آیت ٩١“
﴿ہم برابر اپنے اس فعل پر جمے رہیں گے یہاں تک کہ خود موسیٰ علیہ السلام ہماری طرف واپس آئیں۔﴾
ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پروردگار نے اطلاع کی کہ تیری قوم تیرے پیچھے فتنہ (ارتداد) میں پڑ گئی۔ وہ غصہ اور غم میں بھرے ہوئے آئے۔ اپنی قوم کو سخت سست کہا۔ حضرت ہارون علیہ السلام سے بھی باز پرس کی۔ سامری کو بڑے زور سے ڈانٹا اور ان کے بنائے ہوئے معبود کو جلا کر راکھ کر دیا اور دریا میں پھینک دیا۔
یہ سب ہوا۔ لیکن ان مرتدین کی نسبت خدا کا کیا فیصلہ رہا۔ جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے پیچھے گوسالہ پرستی اختیار کر لی تھی؟ تو دنیا میں تو ان کے لئے خدا کا فیصلہ یہ تھا :
”اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَكَذٰلِكَ نَجْزِى الْمُفْتَرِيْنَ ٠ الاعراف آیت ١٥٢“
﴿جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا ضرور ان کو دنیا میں ذلت اور خدا کا غضب پہنچے
٢٠
کر رہے گا اور مفترین کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔﴾
اور اس غضب وذلت کے اظہار کی صورت عباد عجل کے حق میں یہ تجویز ہوئی جو سورۃ بقرہ میں ہے :
”إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْا أَنْفُسَكُمْ . البقرہ آیت ٥٤“
﴿اے قوم بنی اسرائیل ! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ تو اب خدا کی طرف رجوع کرو۔ پھر اپنے آدمیوں کو قتل کرو۔﴾
اور ” فاقتلوا انفسکم“ میں انفسکم کے معنی وہی ہیں جو ” ثم انتم هولاء تقتلون انفسکم“ میں ہیں اور قتل کو اپنے اصلی اور حقیقی معنے سے (جو ہر طرح کے قتل کے خواہ لوہے سے ہو یا پتھر سے شامل ہے) پھیرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں بلکہ غضب اور ذلت فی الحیوۃ الدنیا کا لفظ اس کے نہایت ہی مناسب ہے اور یہی غضب کا لفظ دوسری جگہ عام مرتدین کے حق میں بھی آیا ہے۔
جیسا کہ فرماتے ہیں : ”مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْ بَعْدِ إِيْمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيْمَانِ وَلَكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ . النحل آیت ١٠٦“
اس حکم کا نتیجہ جیسا کہ روایات میں ہے یہ ہوا کہ کئی ہزار آدمی جرم ارتداد میں خدا کے حکم سے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے قتل کئے گئے۔ اور صورت یہ ہوئی کہ قوم میں سے جن لوگوں نے بچھڑے کو نہیں پوجا تھا ان میں سے ہر ایک نے اپنے عزیز و قریب کو جس نے گوسالہ پرستی کی تھی اپنے ہاتھ سے قتل کیا اور جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے قاتلین کا اپنے عزیزوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرنا یہ اس کی سزا تھی کہ انہوں نے اپنے آدمیوں کو ارتداد سے روکنے میں کیوں تساہل کیا ؟ :
” وَلَمَّا سُقِطَ فِىْ أَيْدِيْهِمْ وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ . الاعراف آیت ١٤٩“
٢١
﴿جب وہ نادم ہوئے اور معلوم کرلیا کہ وہ رستہ سے بھٹک رہے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہ فرمائے گا اور ہم کو نہ بخشے گا تو ہم ضرور خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔﴾
لیکن اس توبہ نے بھی ان کو دنیا کی عقوبت سے نہیں بچایا۔ جیسا کہ اب بھی بعض اقسام مرتد کے متعلق علماء کا یہی فتویٰ ہے کہ وہ توبہ کے بعد بھی حداً قتل کیا جائے گا۔ خواہ توبہ آخرت کے عذاب کو اس سے اٹھادے۔
اسی طرح گوسالہ پرستوں سے بھی اگرچہ دنیا میں خدا کی تعزیر ساقط نہیں ہوئی۔ لیکن قتل کئے جانے کے بعد خدا نے احکام اخروی کے اعتبار سے ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ اور ان قاتلین کی بھی جنہوں نے اپنے اقرباء کے ارتداد کے معاملہ میں مداہنت کی تھی :
”ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ اِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ . البقرہ آیت ٥٤“
﴿یہ تمہارے خالق کے یہاں تمہارے حق میں بہتر ہے پھر خدا نے ان کی توبہ قبول کرلی کیونکہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔﴾
محمد علی (مرزائی) جن کی تفسیر پر مرزائیوں کو بڑا ناز ہے لکھتے ہیں کہ :
”سینالهم غضب من ربهم وذلة فی الحیوة الدنیا وكذلك نجزی المفترین“ کے بعد : ” والذین عملوا السيئات ثم تابوا من بعدها وامنوا ان ربك من بعدها لغفور رحیم ۔“ واقع ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کے بعد جرم معاف ہو جاتا ہے۔
(بیان القرآن ص ٥٣٧)
لیکن ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ جو مرتد توبہ کے بعد بھی حداً یا تعزیراً قتل کیا جائے۔ جیسا کہ عباد عجل کئے گئے ۔ اس کے حق میں یہ معافی کی آیت ایسی ہے جس طرح سارق کے بارہ میں : ”وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْا اَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالاً مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ . المائدہ آیت ٣٨“ کے بعد : ”فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللَّهَ يَتُوْبُ عَلَيْهِ . اِنَّ اللَّهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ . المائدہ آیت ٣٩“ سے
٢٢
اس کی معافی کی طرف اشارہ ہے اگرچہ سرقہ کی سزا دنیا میں اس سے ساقط نہیں ہوتی۔
الحاصل واقعہ عجل سے یہ بات بخوبی واضح ہو گئی کہ مرتدین کی ایک جماعت کو جس کی تعداد ہزاروں سے کم نہیں تھی حق تعالیٰ نے محض ارتداد کے جرم میں نہایت اہانت اور ذلت کے ساتھ قتل کرایا۔ اور ارتداد بھی اس درجہ کا قرار دیا گیا کہ توبہ بھی ان کو خدائی سزا سے محفوظ نہ کر سکی۔ بلکہ توبہ کی مقبولیت بھی اسی صابرانہ مقتولیت پر مرتب ہوئی۔
کہا جاسکتا ہے کہ یہ واقعہ موسوی شریعت کا ہے۔ امت محمدیہ ﷺ کے حق میں اس سے تمسک نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پہلی امتوں کو جن شرائع اور احکام کی ہدایت کی گئی ہے اور قرآن نے ان کو نقل کیا ہے۔ وہ ہمارے حق میں بھی معتبر ہیں۔ اور ان کی اقتداء کرنے کا امر، ہم کو بھی ہے جب تک کہ خاص طور پر ہمارے پیغمبر ہماری کتاب اس حکم سے ہم کو علیحدہ نہ کردیں۔
چند انبیاء و مرسلین کے تذکرہ کے بعد جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ہیں نبی کریم ﷺ کو خطاب ہوا ہے کہ :
”اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ فَبِھُدٰھُمُ اقْتَدِہْ ٠ الانعام آیت ٩٠“
﴿یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت کی تو آپ بھی ان کی ہدایت پر چلئے﴾
یہ خطاب فی الحقیقت ہم کو سنانا ہے۔ خود محمد علی (مرزائی) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ :
”قرآن شریف میں کسی انسان کا ذکر ہو یا کسی قوم کا سب مسلمانوں کی تعلیم کے لئے ہے۔“
(بیان القرآن ص ٥٣)
پس اس قاعدہ سے بنی اسرائیل کے مرتدین کو قتل کئے جانے کے حکم میں بھی تعلیم ہم ہی مسلمانوں کو ہوگی۔
مرتد کا فیصلہ سنت رسول اللہ ﷺ سے
خصوصاً جب کہ دوسری آیت کی معیت میں خود رسول اللہ ﷺ کا عام و تمام فیصلہ
٢٣
بھی (جو : ”لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَيْهِمْ . النحل آیت ٤٤“ کے تحت میں داخل ہے) یہی ہوا کہ :
”من بدل دينه فاقتلوه .“ ﴿جو اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو۔﴾
(صحیح بخاری ص ٤٢٣ ج ١، ص ١٠٢٣ ج ٢)
محمد علی (مرزائی) نے بخاری کی اس حدیث کے ساتھ خوب ٹھٹھا کیا ہے۔ اور اس طرح اپنے دل کی گندگی کو اور بڑھایا۔ کہتے ہیں کہ :
”یہاں دین سے کیا مراد ہے۔ کیا ہر ایک دین کو بدلنے والا واجب القتل ہے تو یہودی سے کوئی نصرانی بنے یا ہندو سے عیسائی وہ بھی واجب القتل ہو گا۔“
(النبوت فی الاسلام ص ٥ ملخص)
کیا محمد علی (مرزائی) ایمان سے کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ یہ لکھ رہے تھے خود ان کا ضمیر اندر سے ان پر لعنت نہیں کر رہا تھا؟ کیا واقعی طور پر وہ رسول اللہ ﷺ کے کسی ایک لفظ کا بھی کوئی ایسا مطلب لینا جائز سمجھتے ہیں جس سے یہ لازم آتا ہو کہ ہر شخص جو اپنا پرانا مذہب چھوڑ کر اسلام میں آتا جائے اسے تم قتل کرتے جاؤ۔ یہاں تو آپ معنی ڈالنے پر سوامی دیانند سے بھی گوئے سبقت لے گئے۔ جس وقت آپ کے دل میں یہ سوال آیا تھا کہ حدیث میں جو مسلمانوں کو خطاب ہے : ”من بدل دينه فاقتلوه .“ اس میں کونسا دین خدا کے رسول کی مراد ہے تو اس کے جواب میں قرآن کی آواز پر کان دھرا ہوتا۔ جو کہتا ہے کہ :
”إِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ . آل عمران آیت ١٩“ ﴿بلاشبہ دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔﴾ ”وَمَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ . آل عمران آیت ١٩“ ﴿جو کوئی اسلام کے سوا اور دین کی تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔﴾
مگر آپ کے دل میں تو وہ خدا کا دین ہے ہی نہیں۔ اس لئے آپ مجبور ہیں کہ کافروں کے دین کی طرف جائیں۔ (الاناء يترشح بما فيه)
٢٢
بہر حال حدیث صحیح نے مرتد کے معاملہ میں خواہ وہ بر سر پیکار ہو یا نہ ہو فیصلہ کر دیا کہ وہ واجب القتل ہے۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ حضور نے کمال بلاغت سے من ارتد عن دینہ نہیں فرمایا کہ شاید کسی کو شبہ ہوتا کہ یہ صرف اس کے حق میں ہے جو مثلاً یہودیت وغیرہ کسی مذہب باطل کو چھوڑ کر اسلام میں آیا تھا پھر ادھر ہی لوٹ گیا بلکہ من بدل دینہ فرمایا کہ واجب القتل ہونے کے لئے خدائی دین کو تبدیل کرنا کافی ہے ضرورت نہیں کہ جس مذہب سے آیا تھا اس میں لوٹ کر جائے۔
خدائے عزوجل اور رسول خدا ﷺ
دونوں کا فیصلہ مرتد کے متعلق
یہاں تک تو آپ نے مرتد کے بارہ میں خدا اور رسول ﷺ کا الگ الگ فیصلہ سنا۔
اب یک جائی بھی سن لیجئے :
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اور معاذ بن جبلؓ پر رسول اللہ ﷺ نے یمن کا علاقہ تقسیم کر دیا تھا۔ دونوں اپنے اپنے حلقہ میں کام کرتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت معاذؓ حضرت ابو موسیٰؓ کے پاس بغرض ملاقات آئے دیکھا کہ ایک شخص ان کے پاس بندھا کھڑا ہے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ مرتد ہے یعنی پہلے یہودیت سے اسلام لایا۔ پھر یہودی بن گیا۔ حضرت ابو موسیٰؓ نے حضرت معاذؓ سے کہا کہ تشریف رکھئے۔ انہوں نے فرمایا نہیں۔ میں اس وقت تک نہ بیٹھوں گا جب تک یہ قتل نہ کر دیا جائے۔ تین مرتبہ یہی گفتگو ہوئی۔ معاذ بن جبلؓ نے فرمایا : ”قضاء الله ورسوله .“ یعنی یہ اللہ کا اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے چنانچہ وہ قتل کر دیا گیا۔
(صحیح بخاری ص ١٠٢٣ ج ٢)
زنادقہ کے متعلق حضرت علیؓ کا فیصلہ
یہ تو آپ نے ان دو صحابیوں کا ذکر سنا جو غالباً آپ کے خیال میں علماء دیوبند سے بھی زیادہ تنگ نظر ہوں گے۔ اب سنیے چوتھے خلیفہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ
٢٥
کی (بقول آپ کے) تنگ نظری بھی ملاحظہ کیجئے :
”عن عكرمة قال اتى علىّ بزنادقة فاحرقهم فبلغ ذلك ابن عباس فقال لوكنت انا لم احرقهم لنهى رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تعذ بوا ، بعذاب الله ولقتلتهم لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم من بدل دينه فاقتلوه . صحيح بخاری ص ١٠٢٣ ج ٢“
﴿حضرت علیؓ کے پاس چند زنادقہ لائے گئے۔ انہوں نے ان کو جلا دیا۔ یہ خبر ابن عباسؓ کو پہنچی انہوں نے فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو ان کو جلاتا نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب (آگ) سے کسی کو سزا مت دو۔ البتہ میں ان کو قتل کرتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنا دین تبدیل کرے۔ اس کو قتل کر دو۔﴾
حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں روایات نقل کی ہیں۔ جن میں تصریح ہے کہ یہ زنا دقہ مرتدین تھے۔ پھر بعض علماء کا یہ قول نقل کیا ہے کہ :
”ومن الزنادقة الباطنية وهم قوم زعموا ان الله خلق شيئاً ثم خلق منه شيئاً آخر فدبر العالم باسره . ويسمونها العقل و النفس الى قوله ولهم مقالات سخيفة فى النبوات وتحريف الأيات وفرائض العبادات . فتح الباری ص ٢٣٩ ج ١٢“
﴿اور زنادقہ میں ہی سے باطنیہ فرقہ ہے (جن کے خیالات تخلیق عالم کی نسبت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ نبوت اور تحریف آیات و عبادات میں ان کے اقوال نہایت رذیل (بیہودہ) ہیں۔﴾
اس سے ظاہر ہوا کہ جس کو فقہاء زندیق کہتے ہیں وہ مرتد ہی ہے۔ اور زنادقہ و مرتدین کا حکم آپ کو معلوم ہو چکا۔
قتل مرتد کا فیصلہ اجماع ائمۃ الاسلام ہے؟
قرآن و سنت کے بعد تمام ائمۃ الاسلام کا متفقہ فیصلہ بھی قتل مرتد کے متعلق سن
٢٦
لیجئے ۔ امام عبد الوہاب شعرانی ”میزان کبریٰ میں تحریر فرماتے ہیں :
”وقداتفق الائمة على ان من ارتد عن الاسلام وجب قتله وعلى
ان قتل الزنديق واجب وهوالذى يسرالكفر ويتظاهر بالاسلام ٠ ميزان
ص ١٦٥ ج ٢“
﴿تمام ائمہ کا اس پر اتفاق ہو چکا ہے کہ جو شخص اسلام سے پھر جائے یا زندیق ہو
اس کا قتل واجب ہے اور زندیق وہ ہے جو اندرونی کفر کے باوجود اسلام سے مظاہرہ کرتا
رہے۔﴾
اس عبارت کو پڑھ کر یہ آیت بھی تلاوت فرمائیے :
”وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِمَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ
سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَآءَ تْ مَصِيْرًا ٠ النساء
آیت ١١٥“
﴿جس کسی نے رسول کی مخالفت کی ہدایت ظاہر ہو جانے کے بعد اور مومنین
کے راستہ کے سوا کسی اور راستہ پر چلا تو ہم اس کو حوالے کریں گے اس چیز کے جس کو وہ اختیار
کرتا ہے اور داخل کریں گے دوزخ میں اور وہ برا ٹھکانا ہے۔﴾
قتل مرتد کے متعلق قیاس شرعی اور عقل سلیم کا کیا حکم ہے
چونکہ مضمون اندازہ سے زیادہ طویل ہوتا جارہا ہے۔ اس لئے قرآن‘ سنت‘ اجماع
پیش کرنے کے بعد چند الفاظ حافظ ابن قیمؒ کے نقل کرتا ہوں جن سے معلوم ہو گا کہ کافر
حربی اور مرتد کا قتل کیا جانا عقل سلیم اور قیاس صحیح کا اقتضاء ہے۔ فرماتے ہے :
”فاما القتل فجعله عقوبة اعظم الجنايات كالجناية على الانفس
فكانت عقوبة من جنسه وكالجناية على الدين بالطعن فيه والارتداد عنه
وهذه الجناية اولى بالقتل وكف عدوان الجانى عليه من كل عقوبة اذابقاء
ه بين اظهر عباده مفسدة لهم ولا خير يرجى فى بقاء ه ولا مصلحة فاذا
٢٧
حبس شره وامسك لسانه وكف اذاه والتزم الذل والصغار و جريان احكام الله ورسوله عليه واداء الجزية لم يكن فى بقائه بين اظهر المسلمين ضرر عليهم والدنيا بلاغ ومتاع الى حين وجعله ايضا عقوبة الجناية على الفروج المحرمة لما فيها من المفاسد العظيم واختلاط الانساب والفساد العام ٠ اعلام الموقعين ص٢١٨ج٢“
﴿خدا تعالیٰ نے کئی طرح کی سزائیں مقرر کی ہیں۔ ان میں سے قتل سب سے بڑے جرم کی سزا ہو سکتی ہے۔ مثلاً کسی بے گناہ کو ہلاک کر دینا یا کسی عورت کی آبرو ریزی کر کے منہ کالا کرنا یا دین حق پر طعن کرنا اور اس سے پھر جانا۔ اور جب قتل عمد کی سزا قتل ہے تو دین برباد کرنے کی سزا بطریق اولیٰ قتل ہونی چاہئے کیونکہ ایک نفس کا ہلاک دین کی تباہی سے زیادہ قبیح نہیں ہے۔ پس اس شخص کا وجود جو دین حق پر طعن کرے یا اس سے پھر جائے مسلمانوں کی جماعت کے اندر بڑی خرابی کا باعث ہے جس کے باقی رکھنے میں کسی نیکی اور بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی ہاں اگر وہ طعن کرنے والا اپنی زبان کو روک لے اور اپنی شرارت سے باز رہے اور مسلمانوں کو دکھ نہ دے اور ذلیل و خوار اور خدا اور رسول کے احکام کے سامنے پست ہو کر رہنا پسند کرے۔ تو اس چند روزہ زندگی میں اس کے لئے گنجائش ہے۔﴾
یہاں تک ہم نے ادلہ اربعہ سے قتل مرتد کا بقدر کفایت ثبوت پیش کر دیا ہے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو آئندہ اس کی مزید تشریح کی جائے گی۔
یہ بات رہ گئی ہے کہ بعض لوگوں نے قرآن کی وہ آیات پیش کی ہیں جن میں مرتد کے اعمال حبط ہونے یا ان پر لعنت برسنے یا آخرت میں غضب اور عذاب ہونے کا ذکر ہے ان آیات میں ساتھ کی ساتھ اس کے قتل کئے جانے کا حکم مذکور نہیں۔
لیکن اس میں تو غالباً مرزائیوں کو بھی تردد نہ ہو گا کہ قتل عمد کی سزا اسلام میں قتل ہے، پر حق تعالیٰ نے جس جگہ قرآن میں یہ فرمایا ہے :
”وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّلَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا ٠ النساء ٩٣“
٢٨
﴿اور جو شخص کسی مسلمان کو عمداً قتل کرے گا تو آخرت میں اس کی سزا جہنم ہو گی جس میں ہمیشہ رہنا ہو گا اور اس پر اللہ غضب اور لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے خدا نے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے۔﴾ تو اس کا بدلہ صرف یہ قرار دیا ہے کہ اس کو دوزخ میں خلود ہو گا اور اللہ کا غصہ اور اس کی لعنت اس پر ہے اور خدا نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تو کیا اس جگہ صرف اخروی سزا مذکور ہونے سے مرزائیوں کے مایہ ناز مفسر کے نزدیک قاتل کو بھی دنیا میں آزاد چھوڑ دیا جائے گا؟۔ اگر یہی آپ کی قرآن فہمی اور نکتہ سنجی ہے تو اپنے نام نہاد اسلام اور اس کے فلسفہ کو آپ دنیا میں خوب نیک نام کریں گے۔ اگر آپ قاتل کی نسبت فیصلہ کرنے میں آیت مذکورہ کے ساتھ قرآن کی دوسری آیات کو بھی ملاتے ہیں تو مرتد کے متعلق فیصلہ کرتے وقت ایسا کرنے سے کیا چیز مانع ہے؟۔ آپ کتنی ہی کوشش کیجئے اور احادیث و آثار سے بھاگ کر قرآن کی پناہ لیجئے۔ مگر قرآن آپ کو ضرور دھکے دے گا اور آپ کے حیل فاسدہ کے منہ پر طمانچے مارے گا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے بھاگنے والے کے واسطے خداوند تعالیٰ کے یہاں کوئی پناہ نہیں ہے۔
مرتد کی نسبت اسلامی حکومت کا فیصلہ
قرآن‘ حدیث‘ اجماع‘ قیاس کے فیصلوں کے بعد ایک خالص اسلامی حکومت (افغانستان) کا فیصلہ بھی وہی ہونا تھا جو ہوا۔ لیکن جب سے دولت عالیہ افغانیہ کی سب سے بڑی شرعی عدالت نے نعمت اللہ قادیانی کو اس کے ارتداد کے جرم میں نہایت ذلت اور رسوائی کے ساتھ قتل کر لیا ہے مرزائی امت نے اس خالص اسلامی قانون کی تنفیذ اور رسول اللہ ﷺ کی ایک محکم سنت کے احیاء کے خلاف سخت شور و ہنگامہ بپا کر رکھا ہے۔ کبھی وہ افغانستان کے مقابلہ پر امریکہ اور یورپ کو ابھارتے ہیں۔ کبھی ہندوؤں سے فریاد کرتے ہیں۔ کبھی آزاد منش لیڈروں کو اکسانا چاہتے ہیں اور سب سے آخر میں رائے عامہ سے اپیل کی جاتی ہے۔ لیکن ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ قتل مرتد کا قانون نہ تو یورپ و امریکہ کی حکومتوں کا
٢٩
بنایا ہوا ہے اور نہ کانگریس یا کسی اور دنیوی انجمن کی منتظمہ کمیٹی سے اس کی منظوری میں رائے لی گئی ہے۔ اور نہ ہی پبلک کے غوغائے عام یا ووٹوں کی کثرت کو اس کے پاس کئے جانے میں کچھ دخل ہے۔ وہ تو ایک آسمانی فیصلہ ہے جو خدا کے ان وفادار بندوں کے ہاتھوں سے نفاذ پذیر ہوتا ہے۔ جن کی نسبت قرآن حکیم میں یہ ارشاد ہوا ہے :
”فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ اَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ ۔ مائدہ آیت ٥٤“
﴿تو قریب ہے کہ خدا لائے گا ایک ایسی قوم کو جن کو وہ محبوب رکھتا ہے اور وہ خدا کو محبوب رکھتی ہے کافروں کے مقابلہ میں غالب اور مومنین کے سامنے خاکسار ، جو جہاد کرے گی خدا کے راستہ میں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرے گی یہ خدا کا فضل ہے جس کو چاہے دے۔﴾
وہ ایک فرمان رسالت ہے جس کا امتثال ان ہی سعید روحوں کا حصہ ہے جن کو حق تعالیٰ نے اپنے باغیوں کی سرکوبی کے لئے سارے جہان میں سے چن لیا ہے اور جن کو اس نے محض اپنے افضال سے : ”اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ ۔ الفتح آیت ٢٩“ کا تمغہ مرحمت فرمایا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ اس دور فتن میں جب کہ الحاد اور لامذہبیت کی رو کے خلاف کوئی کام کرنے کی بہت ہی کم جرات ہو سکتی ہے۔ اعلیٰ حضرت امیر غازی ایدہ اللہ بنصرہ نے اس سنتِ سنیہ کو زندہ کر کے بارگاہِ الٰہی اور قلوبِ مومنین میں وہ عزت پیدا کر لی ہے جو انسانوں کی دی ہوئی اور بادشاہوں کی تسلیم کی ہوئی عزتوں سے بالاتر ہے۔ قاعدہ ہے کہ جو شخص جس گورنمنٹ کے قانون کو قبول کرتا اور اس کی حمایت کرتا ہے اس کی پشت پر اس گورنمنٹ کی ساری طاقت ہوتی ہے۔ پس ضرور ہے کہ جو بادشاہ خدائی قانون کی حمایت اور تنفیذ کرے خدائی طاقت اس کی حامی اور سرپرست ہو۔ اسی لئے ہم کو یقین رکھنا چاہئے کہ اعلیٰ حضرت امیر غازی جس وقت تک قانونِ الٰہی کو بلا خوف ”لومۃ لائم“ اپنا دستور العمل بناتے رہیں
گے۔ خدائی طاقت ان کو ہر شیطانی طاقت کے مقابلہ میں مظفر و منصور کرے گی :
”فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰهُ وَجِبْرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ وَالْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ۔ تحریم آیت ٤“
آج تاجدار افغانستان نے اقامت حدود الٰہیہ سے قرن صحابہؓ کی یاد تازہ کردی اور رسول کریم ﷺ کی روح مبارک کو خوش کرنے میں اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کی کہ دنیا ان کو وحشی سمجھے گی یا جاہل۔
انہوں نے بڑی دلیری کے ساتھ اسلام کے حقیقی حسن و جمال اور قدرتی سادگی و خوب صورتی سے پردہ اٹھا دیا اور اسے بناوٹی خوب صورتی اور مصنوعی رنگ و روپ سے اس کو بے نیاز ثابت کر دیا جس میں اسلام کے نادان دوست یا دانا دشمن اسے پیش کر رہے تھے۔
امیر کابل جیسے خالص خود مختار اسلامی فرمان روا سے اسلام کی یہ خدمت کچھ زیادہ عجیب نہیں۔ لیکن تعجب اور تعجب سے زیادہ مسرت ہم کو اس بات پر ہے کہ غلام ہندوستان کے اسلامی اخباروں کو (جن میں معزز زمیندار اور سیاست خصوصیت سے قابل ذکر ہیں) حق تعالیٰ نے ایسی سیدھی سمجھ اور مومنانہ جرأت اور صراط مستقیم پر چلنے کے لئے بصیرت کی وہ روشنی عطا فرمائی ہے۔ جس نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے اسلام کی اصلی ہیئت اور فتنہ عظیمہ مرزائیت کے کفریات اور بد نتائج کا مشاہدہ کرنے کے لئے غافلوں اور بے خبروں کی آنکھوں کے سامنے اجالا کر دیا ہے۔
مسلمان قوم کے حق میں یہ بڑی مبارک فال ہے کہ اس کے موقر اخبار تجارتی مقاصد اور لومة لائمین کی پرواہ نہ کر کے ٹھیک ٹھیک اسلامی تعلیمات لوگوں کے سامنے پیش کریں اور ان کی حمایت پر علیٰ وجہ البصیرۃ کمر بستہ ہوں۔
ان اخباروں کی روش افغانستان کے اس فعل کی تائید و تحسین میں حق پرست مسلمانوں پر یہ ثابت کر رہی ہے کہ یہ اخبار محض کسب زر کا آلہ نہیں بلکہ اسلام کے بہترین خادم ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ حد سے بڑھے ہوئے آزاد مسلمانوں کے جذبات و محسوسات کی ٹرین کو کچھ پیچھے ہٹا کر اسی سیدھی لائن پر کھڑا کر دیں۔ جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے
٣١
صحابہؓ نے عرب کی زمین پر بچھائی تھی۔
لاہوری پارٹی کے امیر (محمد علی مرزائی) تو لکھتے ہیں کہ : ”افغانستان کے ایک فعل نے اسلام کی ترقی کو دس سال اور پیچھے ڈال دیا۔“
(نعمت اللہ کی سنگساری ص ١٠)
مگر میں انہیں خوش خبری سناتا ہوں کہ دس سال نہیں۔ اس نے اولوالامر مسلمانوں کو نہایت ہی مہلک آزادی کی طرف ترقی کرنے سے تیرہ سو سال پیچھے ہٹا دیا ہے۔
مرزائیوں کو بڑی فکر ہے کہ افغانستان کا یہ فعل جب اسلام کی طرف منسوب ہو گا تو غیر مسلم قومیں اسلام سے نفرت کرنے لگیں گی اور یہ سمجھ جائیں گی کہ اسلام صرف تلوار کے زور سے قائم رکھا جاسکتا ہے اور یہ ایک بڑی روک اشاعت اسلام کے راستہ میں ہو گی۔
لیکن قرونِ اولیٰ کا تجربہ ہم کو یہ بتلاتا ہے کہ جب صدیق اکبرؓ اور دوسرے خلفاءؓ کے عہد میں ارتداد کا فیصلہ حضور ﷺ کے حکم کے موافق تلوار کی نوک سے کیا جاتا تھا حتیٰ کہ بعض اوقات سر زمین عرب کا وسیع رقبہ مرتدین کے خون سے رنگین ہو گیا۔ اس وقت اشاعت اسلام کی رفتار ترقی اس قدر سریع اور حیرت میں ڈالنے والی تھی کہ جسے حضور ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
جیسا کہ تھوڑی دیر پہلے میں ثابت کر چکا ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے حکم : ”من بدل دینہ فاقتلوہ . “ کی تعمیل میں ایک لمحہ کا توقف بھی روا نہ رکھتے تھے۔ لیکن مرزائیوں کے لئے یہ کس قدر تعجب اور غصہ کا مقام ہو گا کہ ان ہی صحابہؓ کے عہد میں بیشمار کفار اسلام کے حلقہ بگوش بنتے گئے۔ نہ تو وہ قتل مرتدین کو دیکھ کر اسلام سے بدگمان ہوئے اور نہ انہوں نے حاملین اسلام سے نفرت کی۔ بلکہ وہ یہ دیکھ کر کہ مسلمان حکمرانوں کے زیر سایہ جہاں تمام یہود و نصاریٰ اور دوسری غیر مسلم اقوام اس طرح آزادانہ زندگی بسر کرتے اور اپنے مذہبی وظائف کو بلا روک ٹوک بجالاتی ہیں۔ کسی مرتد کا بیدریغ قتل کیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان صرف ایک ہی چیز کے خواہاں ہیں اور وہ یہ کہ ان کے دین میں زہریلے جراثیم کی تولید نہ ہونے پائے۔ اور کبھی ہو جائے تو اس کو ترقی اور تعدیہ کا
٣٢
موقع نہ ملے۔ جراثیم ارتداد کا فنا کرنا فی الحقیقت بقیہ سچے ایمانداروں کی حفاظت کرنا ہے۔ مرتد کا وجود ایک مجسم فتنہ ہے جس سے کمزور اور سادہ لوح مسلمانوں کے خیالات میں تشویش اور ان کے جذبات میں تلاطم پیدا ہو سکتا ہے۔
جو لوگ عہد رسالت میں اپنے آدمیوں کو : ” آمِنُوْا بِالَّذِيْ أُنْزِلَ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوْا اٰخِرَهٗ ۔ آل عمران آیت ٧٢“ کا مشورہ دیتے تھے۔ ان کی غرض بھی ”لعلهم يرجعون“ ہی تھی یعنی یہ کہ کچھ مصنوعی مسلمانوں کو اسلام سے پھرتے ہوئے دیکھ کر سچے مؤمنین کو بھی جھوٹ اور باطل کی طرف آنے کی ترغیب ہوگی۔ یا کم از کم یہ خیال کر کے کہ آخر کچھ تو وجہ ہے کہ یہ لوگ اسلام قبول کرنے کے بعد اس سے منحرف ہو گئے ہیں۔ ان کے دلوں میں بھی ایک طرح کا تردد اور تذبذب پیدا ہو جائے گا۔
اسی لئے اسلام نے ارتداد کے مہلک جراثیم کو تباہ کر ڈالنے کے لئے پوری قوت استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔
بہتر ہے کہ مرتد کو اولاً سمجھاؤ۔ اس کے شبہات کا ازالہ کرو۔ اگر وہ خدا کی کھلی کھلی آیات دیکھنے اور واضح دلائل سننے کے بعد بھی اپنی معاندانہ ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ اور اپنی ہوا و ہوس یا اوہام باطلہ کی پیروی سے باز نہ آئے تو مسلمانوں کی جماعت کو اس کے زہریلے وجود سے پاک کر دو کہ : ” تبین رشد من الغی ۔“ کے بعد دین میں کوئی اکراہ نہیں ہے : ” لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰی مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ ۔ الانفال آیت ٤٢“
ایک شخص اتفاقاً گھوڑے سے گر پڑا۔ ٹانگ ٹوٹ گئی۔ ہڈی کے ریزے ادھر ادھر گھس گئے۔ سول سرجن کا کام یہ ہے کہ ہڈی کو جوڑے، زخم صاف کرے، پٹی باندھے اور مرہم لگائے۔ لیکن اگر کسی تدبیر سے زخم مندمل نہ ہو سکے، بلکہ اس کے سرایت کرنے اور باقی ٹانگ کو بھی خراب اور مسموم کر ڈالنے کا اندیشہ ہو تو کیا اس وقت اس سول سرجن کا یہ ایک مشفقانہ فرض نہیں ہو جاتا کہ وہ ٹانگ کے مسموم حصہ کو کاٹ کر پھینک دے اور فاسد عضو بدن پر یہ سمجھ کر کچھ رحم نہ کھائے کہ گھوڑے سے گرنا اور ٹانگ ٹوٹ جانا اور مریض کا زخم
٣٣
مندمل نہ ہونا اس کے اختیار میں نہیں تھا۔ اس وقت سول سرجن کا فرض یہ دیکھنا نہیں کہ آیا مریض نے اپنے اختیار سے مرض کو پیدا کیا ہے یا بے اختیاری طور پر پیدا ہو گیا ہے۔ بلکہ اپنے اختیار کو دیکھنا ہے جسے وہ مریض کے بقیہ اعضا بدن کو بچانے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔
یاد رکھو کہ ارتداد ایک سخت زہریلا مادہ ہے جو جسم مسلم میں پیدا ہو جاتا ہے۔ خدائی سول سرجن جب اس کی تحلیل یا اخراج کی تدبیر سے تھک جاتے ہیں تو :” آخر الحیل السیف“ کے قاعدہ سے اس عضو فاسد کو کاٹ کر پھینک دیتے ہیں۔ اور وہ ایسا کرنے کے وقت خدا کی طرف سے : ”وَلاَ تَاْخُذْ كُمْ بِهِمَا رَأفَةٌ فِىْ دِیْنِ اللّٰهِ. النور آیت٢“ اور : ”وَاغْلُظْ عَلَيْهِم ٠ توبہ آیت ٧٣“ کے مخاطب ہوتے ہیں۔ کسی سخت آپریشن کا مشاہدہ کرنے سے بعض اوقات نازک دل عورتیں یا بعض ضعیف القلب مرد بھی غش کھا کر گر پڑتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی کمزور دل ڈاکٹر اس سے متاثر ہو کر آپریشن چھوڑ بیٹھے تو نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بڑا رحمدل ہے بلکہ کہا جائے گا کہ وہ اپنے منصب سے معزول کر دینے کے قابل ہے۔
ہم کو خدا کا بڑا شکر ادا کرنا چاہئے۔ کہ اس نے موجودہ عہد انحطاط میں امیر غازی امان اللہ خان اور ان سے پہلے ان کے والد مرحوم کو وہ اختیارات بخشے اور ان اختیارات کے استعمال کی توفیق مرحمت فرمائی جو جسم مسلم کو نہایت ہی سمی آلائشوں سے پاک کرنے اور اصلاح پر لانے کے لئے ضروری تھے۔ اگر بفرض محال یہ صحیح بھی ہو کہ امیر صاحب کے اس فعل سے اشاعت اسلام میں کچھ رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس میں پھر بھی کوئی شبہ نہیں کہ حفاظت اسلام میں اس سے بڑی بھاری مدد ملے گی اور شاید قادیان کی کسی چوتھی تحریک کو اب مدت تک یہ ہوس نہ ہو گی کہ اعلانیہ افغانیوں کے اسلام یا ان کی متحدہ قومیت میں سینگ مار کر کابل کے ذبحہ خانہ سے شہادت کا فخر حاصل کرے۔
مرزا محمود (قادیانی) ہو یا محمد علی (لاہوری) ان کو چاہئے کہ وہ دول یورپ یا سوراجی ہندو مسلمانوں کو اتنا بے وقوف نہ سمجھیں کہ وہ سب کے سب امیر کابل کو آپ کے کہنے سے اتنا سفاک اور جاہل سمجھ لیں گے کہ وہ دول غیر کے تمام سفراء کو اس قدر مامون و مصئون
٣٤
رکھنے اور افغانی ہندوؤں کو ہندوستانی ہندوؤں سے زیادہ آزادی اور طمانیت عطا کرنے کے باوجود مشق تیغ آزمائی یا بجبر واکراہ اسلام پھیلانے کے لئے قادیان کی ایک بکری (نعمت اللہ) پر شمشیر چلا کر خوش ہوتے ہیں۔
کوئی شبہ نہیں کہ کسی آدمی کو عمداً قتل کر ڈالنا بڑی سخت چیز ہے۔ مگر قرآن نے جس کو فتنہ کہا ہے وہ قتل سے بھی بڑھ کر سخت ہے : " وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ . البقرہ آیت ١٩١" " وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ . البقرہ آیت ٢١٧"
یہ فتنہ دین حق سے ہٹنے یا ہٹائے جانے کا فتنہ ہے۔ جس پر : " وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ . مائده آیت ٤٩ " میں متنبہ کیا گیا ہے اور جس کو حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنی قوم کے مرتد گوسالہ پرستوں کو مخاطب کرتے ہوئے : " يٰقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهِ . طه آیت ٩٠" سے تعبیر فرمایا تھا اور جو ان کفار کا ہمیشہ مطمح نظر رہتا ہے۔
جن کی نسبت قرآن میں کہا گیا ہے : " وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاءٌ . النساء آیت ٨٩" ﴾ وہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ خود کافر ہیں تم کافر ہو کر ان کے برابر ہو جاؤ۔ ﴿
"وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْ بَعْدِ إِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا ٠ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ . البقره آیت ١٠٩ " ﴾ بہت سے اہل کتاب از راہ حسد یہ آرزو رکھتے ہیں کہ تم کو ایمان لانے کے بعد پھر کافر بنا ڈالیں۔ ﴿
" وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوْ . البقره آیت ٢١٧ " ﴾ وہ ہمیشہ تم سے اس لئے جنگ کرتے رہیں گے کہ اگر ان کا بس چلے تو تم کو تمہارے دین سے ہٹا دیں۔ ﴿
اسی فتنہ کے روکنے اور مٹانے کے لئے وہ جارحانہ اور مدافعانہ جہاد بالسیف مشروع ٣٥
کیا گیا جس کا خیال مسلمانوں کے دلوں سے محو کرنے کے لئے لاہوری پارٹی کا لغوی اور محمودی پارٹی کا بروزی نبی مبعوث ہوا ہے۔ پڑھو : ”وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَاتَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ ۔ البقرہ آیت ١٩٣“ ﴿دشمنان اسلام سے اس وقت تک لڑو کہ فتنہ کا وجود نہ رہے اور خدا کا دین ہی غالب ہو کر رہے۔﴾ (جیسا کہ : ”لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ ۔ الفتح آیت ٢٨“ سے مفہوم ہوتا ہے۔)
صحیح بخاری میں ابن عمرؓ سے اور سنن ابن ماجہ میں عمران بن حصینؓ سے منقول ہے کہ اس فتنہ سے مراد ارتداد کا فتنہ ہے۔ (دیکھو فتح الباری ص ٤٠ ج ١٣) اور اسی طرح اشارہ صحیح مسلم میں سعد بن ابی وقاصؓ کی روایت میں موجود ہے۔
پس اسلام کا سارا جہاد و قتال خواہ ہجوم کی صورت میں ہو یا دفاع کی، صرف مرتد بننے یا بنانے والوں کے مقابلہ میں ہے۔ جس کی غرض یہ ہے کہ فتنہ ارتداد، یا اس کے خطرہ سے مؤمنین کی حفاظت کی جائے اور یہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ مرتدین کا جو مجسم فتنہ ہیں استیصال ہو اور مرتد بنانے والوں کے حملوں اور تدبیروں اور ان کی شوکت و قوت کو جس سے وہ مسلمانوں کے ایمان کو موت کی دھمکی دے سکتے ہیں ہر ممکن طریقہ سے روکا جائے یا توڑا جائے۔
چنانچہ کفار اگر جزیہ دے کر اسلامی رعایا بننے یا مسلمانوں کے امن میں آجانے یا باہمی مصالحت اور معاہدہ کی وجہ سے مسلمانوں کو عملاً مطمئن کردیں کہ وہ ان کے دین میں کوئی رخنہ اندازی نہ کریں گے اور ان کے غلبہ اور شوکت کی وجہ سے مسلمانوں کو مرتد بنائے جانے کا کوئی اندیشہ باقی نہ رہے گا تو ایسی اقوام کے مقابلہ میں مسلمانوں کو ہتھیار اٹھانا جائز نہیں۔ ”حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صَاغِرُوْنَ ۔ التوبۃ آیت ٢٩“ ﴿یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کریں ہاتھ سے ذلیل ہو کر۔﴾ ”وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتّٰى يَسْمَعَ كَلَامَ اللّٰهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ۔ التوبۃ آیت ٦“
٣٦
﴿اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے پناہ مانگے تو تم اس کو پناہ دیدو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچادو۔﴾
"وَإِنْ جَنَحُوْا لِلسِّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ . الانفال آیت ٦١"
﴿اگر وہ صلح کے لئے جھکیں تو تم بھی اس کے لئے جھک جاؤ اور خدا پر بھروسہ کرو۔﴾
"فَإِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ وَأَلْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيْلاً . النساء آیت ٩٠"
﴿پھر اگر وہ تم سے علیحدہ رہیں اور نہ لڑیں اور صلح کی سلسلہ جنبانی کریں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلہ میں تم کو کوئی راستہ نہیں دیا۔﴾
"وَإِنْ نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِىْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ . التوبة ١٢"
﴿اگر عہد و پیمان کے بعد اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر زبان درازی کریں تو لڑو تم کفر کے سرداروں سے۔﴾
پس جہاد بالسیف خواہ ہجومی ہو (یعنی بطریق حفظ تقدم) یا دفاعی (یعنی بطریق چارہ سازی) صرف مؤمنین کی حفاظت کے لئے ہے۔ اور یہ ایک ایسا فطری حق ہے جس سے کوئی عقلمند اور مہذب انسان مسلمانوں کو محروم نہیں کر سکتا۔ اس لئے احکام جہاد کی نسبت جو قرآن میں بکثرت موجود ہیں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ :”لَآ إِكْرَاهَ فِى الدِّيْنِ . البقره آیت ٢٥٦“ اور :”أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ . یونس آیت ٩٩“ کے معارض ہیں۔ بلکہ کہا جائے گا کہ دین میں کوئی اکراہ نہیں۔ البتہ جو فتنے دین میں رخنہ ڈالتے ہوں ان کے روکنے میں ضرور اکراہ ہے۔ یعنی جہاں تک مسلمانوں کی طاقت میں ہو گا فتنہ کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ مسلمانوں کی جماعت سے سر نکالے یا نشوونما پائے۔
اگر اسلام کی اسی حفاظت خود اختیاری کے معنی اس کا بزور شمشیر پھیلایا جانا ہے تو
٣٧
میں اقرار کرتا ہوں کہ بیشک ایسی حفاظت کے لئے شمشیر استعمال ہوتی ہے اور برابر ان لوگوں کے ہاتھوں سے جنہیں خدا ایسی قوت اور توفیق بخشے گا استعمال ہوتی رہے گی : ”الجہاد ماض الی یوم القیامۃ ٠ مجمع الزوائد ج ١ ص ١١١‘ سنن ابی داؤد ج ١ ص حاشیہ ٢٤٧ کتاب الجہاد“ خواہ قادیان کا متنبی اپنے قلم کی چوں چوں سے کتنا ہی اس تلوار کی جھنکار کو پست کرنا چاہے۔
ہم بحمد اللہ! خوب سمجھتے ہیں کہ اسلام کے بہت سے دانا دشمنوں نے اس امر کی حمایت میں کہ اسلام ہرگز بزور شمشیر نہیں پھیلا موٹی موٹی کتابیں لکھی ہیں۔ اور کیسی خوب صورتی اور دانائی سے ایک سچی بات کہہ کر دوسری سچی بات (جہاد بالسیف) کی اہمیت اور ولولہ کو مسلمانوں کے دلوں سے محو کرنا چاہا ہے اور اسلام کے بہت سے نادان دوست بھی ان کی اس منافقانہ ہمدردی کا شکار ہوگئے ہیں اور انہوں نے اپنی اصلاح کی قینچی سے مسئلہ جہاد کے بازو کتر ڈالے ہیں۔ لیکن یاد رکھئے کہ قائلین بالحق کا گروہ نہ تو کسی کی تجہیل و تحمیق سے ڈرتا ہے۔ اور نہ کسی کی مکاری اور چرب لسانی سے پسیجتا ہے۔ وہ بلا خوف تردید کہتا ہے کہ تم حقیقت جہاد سے جاہل ہو‘ اور خدائے قدوس کی انتہائی وفاداری اور اس کی راہ میں شجاعانہ سرفروشی کو اگر تم وحشیانہ حرکت اور مذہبی دیوانگی سے موسوم کرتے ہو تو ہم اپنی دیوانگی اور تمہاری فرزانگی کی نسبت مولانا رومیؒ کی زبان میں صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں :
بعد ازیں دیوانہ سازم خویش را
اوست دیوانہ کہ دیوانہ نہ شد
اوست فرزانہ کہ فرزانہ نہ شد
بہر حال قتل مرتد یا جہاد بالسیف کا حکم مسلمانوں کو فتنہ سے محفوظ رکھنے کے لئے ہے جس کا اول مخاطب امام صاحب اقتدار ہوتا ہے۔ جن ممالک میں مسلمانوں کا امام صاحب اقتدار نہ ہو وہاں عام مسلمان اس قسم کے احکام کے مکلف نہیں ہیں (جیسے ہندوستان ہے) بناءً علیہ ہندوستان کے مرتد یا غیر مسلم اقوام کو نعمت اللہ خان کے قتل سے خوف کھانے کی کوئی
٣٨
وجہ نہیں۔ بلکہ خود افغانستان کی غیر مسلم رعایا یا مستأمنین کو بھی جیسا کہ مشاہدہ کیا جارہا ہے کوئی خطرہ نہیں۔ لاہوری پارٹی کے (مرزائی) امیر کی سمجھ میں ابھی تک یہ فلسفہ نہیں آیا کہ : ”ایک ہندو پیغمبر اسلام ﷺ کو نعوذ باللہ جھوٹا سمجھ کر حکومت افغانستان کے ماتحت آزاد ہے۔ ایک عیسائی یا یہودی آپ ﷺ کو نعوذ باللہ مفتری قرار دے کر حکومت افغانستان کے کسی عہدہ پر بھی فائز ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک مسلمان یہ کہہ کر کہ خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں یہ نہیں۔ (یعنی خاتم النبیین کی تاویل باطل کے پردہ میں انکار کر کے) واجب القتل ہو جاتا ہے۔“
(نعمت اللہ کی سنگساری ص ٨)
مجھے افسوس ہے کہ ایسی سیدھی اور موٹی سی بات امیر جماعت احمدیہ کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی ؟۔ وہ کروڑوں انسان جو برٹش قلمرو سے باہر رہتے ہیں۔ اور انہوں نے آج تک انگریزوں کی حکومت اپنے اوپر قبول نہیں کی، آزاد ہیں۔ کہ جو چاہیں قانون اپنے لئے بنائیں اور جس طرز سے چاہیں زندگی بسر کریں۔ انگریزی حکومت کو ان سے کوئی سروکار نہیں ۔ لیکن وہ شخص جو برٹش حکومت اور برٹش قانون کو قبول کر کے انگریزی رعایا بن چکا ہے، وہ چاہے بغاوت کا جھنڈا کھڑا کر دے اور سڈیشن یا انارکی پھیلائے اور حکومت کے قانون کو توڑے ۔ ساتھ ہی زبان سے یہ بھی کہتا رہے کہ میں انگریزوں کی وفادار رعایا میں سے ہوں حکومت اس سے اغماض نہیں کر سکتی ۔ حکومت اگر اس کے لئے پھانسی یا حبس دوام کی سزا تجویز کرے تو یہ سوال نہیں کیا جاسکتا کہ جب کروڑوں آدمی دنیا میں انگریزی حکومت سے باہر ایسے موجود ہیں جو انگریزی قانون اور اس کی حکومت کو قطعاً نہیں مانتے۔ اور حکومت ان سے کوئی تعرض نہیں کرتی تو کیا وجہ ہے کہ رعیت ہونے کا اقرار کرنے والے شخص کو سڈیشن کے جرم میں اس قدر سخت اور سنگین سزا دی جارہی ہے۔
خوب سمجھ لو کہ جو شخص اسلام میں داخل ہو وہ اس کے حلقہ حکومت میں آگیا۔ اور اس نے اسلام کے پورے قانون کو اپنے حق میں قبول کر لیا۔ اب اگر وہ اسلام کا زبانی دعویٰ رکھتے ہوئے اسلام سے نکلنا چاہتا ہے اور اس کے قانون کو توڑنا چاہتا ہے۔ اور خاتم النبیین کی رعیت بننے کے بعد کسی کذاب کو جدید نبی مان کر فی الحقیقت آپ ﷺ کے دعوائے خاتم
٣٩
النبیین کو جھٹلاتا ہے وہ اسلام کا باغی ہے۔ پس اسلام کی طرف سے وہ یقیناً ایسی سزا کا مورد ہوگا۔ جس کے مورد وہ غیر مسلم لوگ نہیں ہیں جو ابھی تک اسلام کے حلقہ میں داخل ہی نہیں ہوئے اور جو : ” فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ، کہف آیت ٢٩“ کی تہدید آمیز آزادی سے ابھی تک متمتع ہورہے ہیں۔ امیر جماعت احمدیہ سوال کرتے ہیں کہ :
”اگر مسلمان حکومتیں اپنے ملکوں میں یہ قانون بنائیں گی کہ کسی غیر مسلم کو ان کے ملک میں اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت نہیں تو اس کے بالمقابل کیا عیسائی طاقتیں اسی قسم کا قانون اسلام کے خلاف بنانے میں حق بجانب نہ ہونگی کہ ان کی حکومت میں تبلیغ اسلام کی اجازت نہیں۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟۔ یہی کہ تبلیغ اسلام کا کام دنیا میں قطعی طور سے رک جائے گا۔“
(نعمت اللہ کی سنگساری ص ١١)
اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام اپنے اختیار سے کسی شخص کو مرتد بنائے جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اسلام کا یہی قانون افغانستان میں بہت پہلے سے رائج ہے اب اگر اس کے جواب میں محمد علی (لاہوری) یا مرزا محمود (قادیانی) کے مشورہ سے غیر مسلم حکومتیں اپنی قلمرو میں تبلیغ اسلام کو روک دیں تو اگرچہ ہم مسلمان اپنے اس عقیدہ کے موافق کہ آج دنیا میں صرف ایک مذہب اسلام ہی سچا اور مکمل اور عالمگیر مذہب ہو سکتا ہے ان کی اس بندش کو حق بجانب نہیں کہہ سکتے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ وہ ایسا کرگزریں تو ہم ان کو روک بھی نہیں سکتے، نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک طرف اگر نو مسلموں کا سلسلہ رک جائے گا تو دوسری جانب پرانے مسلمانوں کا اسلام سے نکلنا بھی بند ہو جائے گا اور میں خیال کرتا ہوں کہ موجودہ دولت کی حفاظت غیر موجود دولت کی تحصیل سے اہم اور مقدم ہے۔ کسی چھوٹی سے چھوٹی اور ضعیف سے ضعیف سلطنت کی غیرت بھی اس کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ اپنے حاصل شدہ حقوق و فوائد کی حفاظت کیلئے فوج بھرتی کرنے اور بڑی سے بڑی طاقت کی ٹکر اٹھانے سے پہلو تہی کرے۔ حالانکہ وہ جانتی ہے کہ اس تحفظ کے سلسلہ میں اس کے سپاہیوں کا نقصان غنیم کے سپاہیوں سے بہت زیادہ ہوگا۔
پھر کیا وجہ ہے کہ اسلام اپنے پیروں کے ایمان کی حفاظت میں ایسی غیرت اور
٤٠
مضبوطی نہ دکھلاوے۔ اس خوف سے کہ اس کو دوسری جگہ بعض غیر حاصل شدہ فوائد سے محروم ہونا پڑے گا اپنے حاصل شدہ حقوق کی حفاظت سے دست بردار ہو جائے۔
مرزا محمود قادیانی اور محمد علی مرزائی مع اپنی ذریات کے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر عیسائی طاقتوں سے ایسا قانون بنوا لیں اور تبلیغ اسلام کے قانوناً روک دیئے جانے کا گناہ اور قتل مرتد کے جواب میں قتل کئے جانے والے نو مسلموں کا خون اپنی گردن پر اٹھا لیں۔ لیکن وہ یہ امید ہرگز نہ رکھیں کہ افغانی حکومت ان کی ان دھمکیوں سے مرعوب ہو کر اپنا اسلامی قانون بدل ڈالے گی اور ان کو یہ موقعہ دیا جائے گا کہ افغانستان کے نہایت ہی پکے اور سچے مسلمانوں میں ایک جھوٹے نبی کا نام لے کر اور غیر مسلموں کے ایجنٹ بن کر تفرقہ اندازی کرتے پھریں۔ محمد علی (مرزائی) کہتے ہیں کہ :
”اسلام کی فتح اس میں نہیں کہ مسلمان ملکوں میں دوسرے مذہب کی تبلیغ رکی رہے۔ بلکہ اسلام کی فتح یہ ہے کہ اسلام کے مخالف اپنی ساری مادی طاقتوں کو خرچ کر لیں اور جس قدر اسلام سے لوگوں کو نکالنے کے لئے لگا سکتے ہیں لگالیں اور آخر دیکھ لیں کہ کس طرح پر وہ ناکام رہتے ہیں۔“
(نعمت اللہ کی سنگساری ص ١١)
بیشک اس نتیجہ کا ہم کو بھی یقین ہے اور خدا کی مہربانی اور امداد سے ہم کو پورا وثوق ہے کہ اسلام کے خلاف سب دجالانہ کوششیں اندرونی ہوں یا بیرونی آخر کار ناکام ہو کر رہیں گی۔ لیکن اس یقین اور وثوق سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم برائی کی جس کوشش کو ظہور میں آنے سے پہلے روکنے پر قادر ہوں نہ روکیں اور جس بدی کو نمودار ہونے سے قبل ہی ہم بند کر سکتے ہیں بند نہ کریں۔
اسلام صرف بہادر ہی نہیں، حکیم بھی ہے۔ وہ اپنی بہادری کے جوش میں اور آخری فتح کے یقین پر احتیاطی تدابیر اور حفاظتی وسائل کو نظر انداز نہیں کرتا۔ بلکہ بطور انجام بینی جہاں تک ممکن ہو فتنہ کے آنے سے پہلے ہی سد لگاتا ہے، اگر اس پر بھی فتنہ کسی جگہ نہ رک سکے تو پھر بہادرانہ مقابلہ کرتا ہے۔ اور ہر صورت میں انجام یہی ہوتا ہے کہ حق کی فتح اور باطل کا سر نیچا ہو۔
حضرت ابوبکرؓ نے مرتدین پر چڑھائی کی۔ لیکن جب انہوں نے مانعین زکوٰۃ سے (حکم زکوٰۃ نہ ماننے کی وجہ سے) قتال کا ارادہ کیا تو حضرت عمرؓ اور دوسرے صحابہ مانع آئے کہ تم کلمہ پڑھنے والوں کے ساتھ قتال کیسے کرو گے؟ آپ نے فرمایا کہ :
”وَاللهِ لاقَاتِلَنَّ من فرق بين الصلوٰةِ والزكوٰةِ ۔“
﴿خدا کی قسم میں ضرور اس شخص سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا۔﴾
(بخاری ص ١٠٢٣ ج ٢)
چنانچہ حضرت عمرؓ اور دوسرے معترضین کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور حق تعالیٰ نے ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ سے فتنہ ارتداد کا استیصال کردیا۔ اور حق کو وہ فتح و نصرت نصیب ہوئی کہ بعد میں صحابہؓ ابوبکرؓ کے اس کارنامہ پر رشک کرتے تھے۔
غور کرنے کا مقام ہے کہ مانعین زکوٰۃ اگر خلیفہ کے مقابلہ میں چڑھ کر آئے تھے تو کیا حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابہؓ اس کی مدافعت سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو روکتے تھے۔ کیا انہوں نے : ”فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتَّى تَفِيْءَ إِلَى أَمْرِاللَّهِ . الحجرات آیت ٩“ قرآن میں نہیں پڑھا تھا۔ پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ یہ لوگ باغی ہیں اور خلافت کے مقابلہ پر انہوں نے چڑھائی کی ہے۔ اس لئے ان سے لڑنا ضرور ہے۔ جو جواب دیا وہ صاف بتلاتا ہے کہ اگر کوئی جماعت مسلمان ہونے کے بعد نماز یا زکوٰۃ یا اسلام کے کسی قطعی حکم کے ماننے سے انکار کرے گی تو اس سے ضرور قتال کیا جائے گا۔ تاوقتیکہ وہ راہ راست پر نہ آجائے۔
ہاں ! حنفیہ نے قتل مرتد کے حکم سے عورت کو مستثنیٰ کہا ہے۔ اگرچہ حبس دوام کا حکم وہ بھی دیتے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں کہ جرم ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے۔ بلکہ ایک ہی جرم کی دو سزائیں مجرمین کے احوال کے تفاوت کی بناء پر ہیں۔ میں پہلے ثابت کر چکا ہوں کہ ارتداد اسلام سے بغاوت کا نام ہے۔ تو کیا حکمت و انصاف کی بڑی بڑی مدعی گورنمنٹوں کے یہاں بھی بغاوت کے جرم کی سزا ہر ایک مجرم کے حق میں یکساں ہے ؟۔
پس اگر امام ابو حنیفہؒ نے بعض نصوص کے اشارہ سے دو مجرموں کے لئے ایک ہی ٤٢
جرم کی دو سزائیں تجویز کی ہیں تو اس پر کیا اعتراض ہے؟۔ کیا شریعت میں اٰمہ (لونڈی) اور حرہ کی حد میں فرق نہیں ہے۔ حالانکہ جرم ایک ہی ہوتا ہے۔ کیا ایک ہی فعل زنا زانی کے محصن اور غیر محصن ہونے کے فرق سے الگ الگ سزاؤں کا موجب نہیں ہے؟ اسی پر مرتد اور مرتدہ کے جرم ارتداد اور اس کے مدارج کو قیاس کرلو۔ یعنی مرتد اور مرتدہ کی سزاؤں کے تفاوت سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ سزا جرم ارتداد کی نہیں ہے۔ زیادہ توضیح چاہو تو برادر محترم مولانا سراج احمد صاحب اور مولانا میرک شاہ صاحب کے مضامین کا مطالعہ کرو۔
اب میں مضمون ختم کرتا ہوں اور جانتا ہوں کہ اس کے جواب میں مجھے بہت سی گالیاں دی جائیں گی۔ لیکن میری پھر بھی یہی دعا ہوگی کہ خدائے قادر و توانا مرزائیوں کو ارتداد کی دلدل سے نکال کر دنیا و آخرت کی سزا سے بچائے۔ اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر کرے۔ اور بادشاہ اسلام امیر افغانستان کو اجراء حدود اسلامیہ اور محافظ حقوق مسلمین کی بیش از بیش توفیق مرحمت فرمائے :
”رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ٠ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ٠ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ٠ وَاعْفُ عَنَّا ٠ وَاغْفِرْ لَنَا ٠ وَارْحَمْنَا ٠ اَنْتَ مَوْلٰنَا ٠ فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِينَ ٠“
شبیر احمد عثمانی عفا اللہ عنہ
١٨ ربیع الاول ١٣٤٣ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تذنیب یعنی
ضمیمہ الشہاب
”حامداً ومصلیاً۔“
خدا کا شکر میں کس زبان سے ادا کروں جس نے میرے ناچیز رسالہ ”الشہاب“ کو عام و خاص میں وہ حسن قبول عطا فرمایا جس کا مجھے لکھتے وقت کچھ بھی اندازہ نہ تھا۔ الشہاب کی اشاعت شروع ہوئی اور چاروں طرف سے اس کی مانگ ہونے لگی۔ شکریہ اور تحسین کے بہت سے خطوط آئے۔ مسلمانوں کو توقع سے بڑھ کر فائدہ پہنچا۔ اور حق تعالیٰ نے باطل پرستوں کے دلوں میں ایسی ہیبت ڈال دی کہ آج ڈیڑھ ماہ سے زائد اس کی اشاعت کو ہوا۔ لیکن مرزائیوں کی کوئی پارٹی بھی جواب سے عہدہ برآ نہ ہو سکی۔
رسالہ کے بڑھتے ہوئے اثر کو دیکھ کر مرزائی دانت پیس رہے ہیں۔ اور ان کے سینوں پر آرے چل رہے ہیں۔ لیکن جس طرح انہیں قبول حق کی توفیق نہیں ہوئی جواب دینے کی ہمت بھی نہیں ہو سکی۔
البتہ آج ٦ جنوری ١٩٢٥ء کو ایک رسالہ مسٹر محمد علی مرزائی امیر جماعت احمدیہ لاہور کا اتفاقاً ہمارے ہاتھ آیا جو سزائے ارتداد کے متعلق ان کے پہلے رسالہ کی صدائے باز گشت سے زیادہ نہ تھا۔ اس رسالہ پر ٢٢ دسمبر کی تاریخ پڑی ہے۔ اور دیوبند سے ١٩ نومبر کو الشہاب خود ان کے نام روانہ ہو چکا تھا لیکن آپ اپنے رسالہ کے بالکل آخر میں لکھتے ہیں کہ :
”مضمون یہاں تک پہنچ چکا تھا کہ رسالہ الشہاب ملا۔ گویا دیوبند سے لاہور ایک ماہ سے زائد میں رسالہ پہنچا۔“
بہر حال آپ (محمد علی مرزائی) کے جدید رسالہ کا خلاصہ چند الفاظ میں یوں ہو سکتا ہے کہ
ہے کہ :”کسی شرعی مسئلہ کے اثبات کے لئے تین چیزیں ہیں۔ قرآن‘ حدیث‘ اجتہاد ائمہ۔“ اجتہاد ائمہ میں خطا ہو سکتی ہے۔ حدیث بھی غلط روایتوں اور غلط فہمیوں سے محفوظ نہیں ہے۔ لہٰذا ان دونوں سے علیحدہ ہو کر صرف قرآن رہ گیا جو محفوظ ہے۔ پس اس کے خلاف جو چیز آئے گی رد کر دی جائے گی۔ اور خلاف کا مطلب بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کے مزعوم معنی اور تفسیر کی رو سے جس مسئلہ میں قرآن خاموش بھی ہو اس کے متعلق صحیح سے صحیح اور ناطق سے ناطق حدیثیں بھی یہ کہہ کر نظر انداز کر دی جائیں گی کہ ان کا ذکر قرآن میں ان کی بتلائی ہوئی تفسیر کے موافق نہیں ہے۔
اس طرح تمام مسائل اور مباحث کا فیصلہ اس ایک اصول سے ہو جاتا ہے اور کسی قسم کی کدوکاوش کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس تمہید کے بعد آپ نے وہ آیات قرآنیہ پیش کی ہیں جن میں مرتد کے قتل کئے جانے کا حکم نہیں ہے۔ نہ یہ کہ اس کے قتل نہ کرنے کا ذکر ہے۔ بلاشبہ ان کا یہ استدلال ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص :” وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَاَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيْمًا ٠النساء آیت ٩٣“ کو پیش کر کے یہ کہنے لگے کہ قتل عمد کی سزا بھی قتل نہیں ہے۔ کیونکہ اس آیت میں باوجودیکہ قتلِ عمد کا ذکر کیا گیا۔ مگر ساتھ کے ساتھ قاتل کی سزا قتل نہیں بتلائی گئی۔
اس کے جواب میں وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں سزا دینا اور نہ دینا دونوں سے سکوت ہے۔ اور دوسری جگہ قرآن میں :”كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ٠ البقره : آیت ١٧٨“ فرما کر قاتل کی سزا بتلا دی گئی۔
ٹھیک اسی طرح ان کو سمجھنا چاہئے کہ :”فاقتلوا انفسكم٠“ بھی جو مرتدین ہی کے متعلق قرآن میں دوسری جگہ آیا ہے اس میں ہم کو تعلیم دے دی گئی کہ ارتداد کی سزا اللہ کے نزدیک قتل ہے۔
آپ نے میرے استدلال قرآنی پر پیچ و تاب تو بہت کھائے اور علماء کو گالیاں بھی دیں جو اس نبی (مرزا قادیانی) کے امتی کے لئے نہایت زیبا ہیں۔ جو ذمائم اخلاق‘ سب و شتم اور
لعن و طعن کی تکمیل ہی کے لئے شاید مبعوث ہوا تھا۔ لیکن آیت قرآنی: ”فاقتلوا انفسکم“ کا کوئی مطلب پھر بھی نہ بتلا سکے۔ آپ نے میرے استدلال پر جو سوالات کئے ہیں ان کا نمبر وار جواب سنئے :
سوال نمبر ١: ............... کیا گوسالہ پرستی سے بنی اسرائیل مرتد تھے؟ ۔ اگر یہ صحیح ہے تو کسی قوم کا عقیدہ خواہ کچھ ہو کیا عملی طور پر کسی تعلیم سے انحراف پر ارتداد کا فتویٰ صادر ہو سکتا ہے۔ اور کیا آج لاکھوں مسلمان جو قبر پرستی اور کئی قسم کی : ” من دون اللہ ۔“ پرستش میں مبتلا ہیں۔ ان پر ارتداد اور سنگساری کا حکم صادر ہو سکتا ہے؟۔
جواب نمبر ١: ............... کیا ایمان لانے کے بعد گوسالہ پرستی جس کے ساتھ یہ بھی اعلان ہو کہ : ” هٰذَا اِلٰهُكُمْ وَاِلٰهُ مُوْسٰى فَنَسِیَ ٠ طه آیت ٨٨“ اس کے ارتداد ہونے میں بھی آپ کو کچھ تردد ہیں؟ ۔ پھر تو کھلی سے کھلی بت پرستی بھی آپ کے نزدیک کفر نہیں ہو گی۔ کیا قبر پرست یہ کہتے ہیں کہ یہ قبر یا صاحب قبر ہی مسلمانوں کا اور حضرت محمد ﷺ کا معبود ہے۔ (معاذ اللہ)
سوال نمبر ٢: ............... قرآن شریف میں صاف مذکور ہے کہ سامری کو جو اس ساری شرارت کا بانی تھا قتل نہیں کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ حکم شریعت کو سب سے بڑے مرتد پر کیوں نہ صادر کیا گیا؟ یہ کیا وہ اس قوم کا مولوی تھا اور اس لئے حکم شریعت سے مستثنیٰ تھا۔
جواب نمبر ٢: ............... سامری اس شرارت کا ایسا ہی بانی تھا جیسا آنحضرت ﷺ کے عہد میں عبداللہ بن ابی : ” رئیس المنافقین قصہ افک ۔ “ کا بانی اور : ” وَالَّذِىْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ ٠ النور آیت ١١“ کا مصداق اعظم تھا۔ مگر آپ کو شاید یہ خبر نہ ہو کہ حسب روایات صحیحہ اس پر حد قذف جاری نہ کی گئی۔ حالانکہ حضرت حسان بن ثابتؓ وغیرہ مؤمنین پر حد قذف جاری ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ منافقین سب سے بڑھ کر شرارتیں کرتے ہیں۔ لیکن اپنے نفاق کی وجہ سے دنیا میں قانونی گرفت سے اپنے کو بچاتے رہتے ہیں۔ جھوٹ بولنے اور بات بنادینے میں ان کو کوئی باک نہیں ہوتا ساری کارروائی کر کے بھی قانونی زد سے اپنے کو بچا لیتے ہیں۔ جیسا کہ لاہوری پارٹی باجودیکہ مرزا قادیانی کی ان کتابوں کے حرف
بحرف صحیح و صادق ہونے پر ایمان رکھتی ہے، جو دعاوی نبوت پر مشتمل ہیں۔ مگر از راہ خداع و فریب زبان سے یہی کہتی ہے کہ ہم ان کو نبی نہیں مانتے۔ سامری کا نفاق ان سے بھی زیادہ عریق تھا۔ وہ شروع ہی سے مومن نہ تھا۔ بلکہ ایک پکا منافق تھا جو ملت موسوی کی گھات میں رہتا تھا گویا وہ اس عہد کا عبداللہ بن ابی تھا۔ علامہ سید محمود آلوسی بغدادیؒ روح المعانی میں بہت سے اقوال نقل کر کے فرماتے ہیں :
” وبالجملة كان عندالجمهور منافقا يظهر الايمان ويبطن. لكفر۔ روح المعانی ص٨٩ ج٥“ پس جیسا کہ میں رسالہ ”الشہاب“ میں بتلا چکا ہوں منافق کے احکام کھلے ہوئے مرتد سے علیحدہ ہیں۔ اس لئے سامری ان مرتدین کے ذیل میں نہیں آیا۔ ہاں اس کے فتنہ سے محفوظ کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے اس کو یہ سزا دی : ” فَاِنَّ لَكَ فِى الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ وَاِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهُ ٠ سورۃ طه آیت ٩٧“
سوال نمبر ٣: .......... اگر : ” فاقتلوا انفسکم .“ کے یہ معنی درست ہیں کہ شرک کرنے والے لوگوں کو قتل کر دو تو اس شرک میں ساری قوم مبتلا ہے۔ اس کے بعد جس قوم بنی اسرائیل کا ذکر ہے وہ کہاں سے آئی تھی۔
جواب نمبر ٣: .......... یہ آپ ثابت کیجئے کہ گوسالہ پرستی میں ساری کی ساری قوم مبتلا تھی۔ لفظ قوم تو بارہا قرآن میں ایسے واقعات کے ذیل میں استعمال ہوا ہے جن کا تعلق مخصوص جماعت یا افراد سے تھا۔
سوال نمبر ٤: .......... قرآن شریف میں ان کی توبہ قبول کرنے کا بھی ذکر ہے۔ اور اسی واقعہ کا ذکر کر کے یہ بھی فرمایا ہے : ” ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ٠ البقرہ آیت ٥٢“ ﴿ہم نے تمہیں معاف کر دیا تا کہ تم شکر گزار بنو ۔﴾ اگر قتل کر دیئے گئے تو وہ معافی جس پر شکر گزاری کا حکم ہوتا ہے اور جو اسی دنیا کی زندگی سے تعلق رکھتی ہے کیا تھی؟۔
جواب نمبر ٤: .......... اگر اس آیت میں ان ہی مقتولین کی معافی کا ذکر ہے تو
٤٧
بیشک نجات اخروی کے اعتبار سے ان کی توبہ مقبول ہو چکی اور جب اس کی مقبولیت کی اطلاع باقی قوم کو دی گئی تو باہمی تعلقات کی بنا پر ان کو بھی شکر گزار ہونا چاہئے۔
اگر کسی کے ماں‘ باپ‘ بھائی‘ بہن کا جرم حق تعالیٰ معاف کر دے اور اس سے اپنا عذاب اٹھا لے تو کیا یہ ایک طرح کا احسان اس شخص پر نہیں ہے؟۔ دیکھو: ” يٰبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ ٠ البقرہ آیت٤٠“ میں ان بنی اسرائیل کو خطاب ہو رہا ہے جو آنحضرت ﷺ کے عہد میں موجود تھے۔ اور جس انعام کا ان پر ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً فرعون کے ہاتھ سے نجات دلانا‘ دریا سے پار کرنا وغیرہ وغیرہ وہ ان بنی اسرائیل سے متعلق نہیں بلکہ ان کے اسلاف سے متعلق تھا۔ اسی طرح یہاں بھی سمجھ لو۔ اور
اگر آپ کے نزدیک دنیا میں ہی ان کا جرم معاف ہو چکا تھا تو :” اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ٠ الاعراف آیت١٥٢“ کس طرح صحیح ہو گا کیا خدا تعالیٰ ایک جرم معاف کر کے پھر اسی پر سزا بھی دیتا ہے۔
سوال نمبر ٥:............. کیا یہ صحیح ہے کہ راغب جیسے امام لغت نے : ”فاقتلوا انفسکم ٠“ کے معنی یہ بھی لکھے ہیں : ” قیل عنی بقتل انفس اماطة الشهوات ٠“ یعنی قتل نفس سے مراد شہوت کا دور کرنا ہے تو وہ تصریح اور ایضاح کہاں رہی جس کا مولوی صاحب کو دعویٰ تھا۔
جواب نمبر ٥:............ راغب نے یہ معنی خود اختیار نہیں کئے کسی اور کا قول نقل کیا ہے۔ وہ بھی بصیغہ تمریض اور یہ پتہ نہیں کہ اس کا قائل کون ہے۔ اور کس رتبہ اور درجہ کا ہے۔ ایک ایسے مجہول قائل کے غیر معروف قول کے مقابلہ میں کیا۔
” اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ٠ الاعراف آیت١٥٢“ سے آپ دست بردار ہو جائیں گے؟۔ کیا :”اماطة الشهوات ٠“ اور نفس کشی بھی خدا کا غضب اور ذلت ہے ایسے غیر ناشی عند الدلیل احتمالات کسی مضمون کی صراحت اور وضوح کو باطل نہیں کر سکتے۔
یہ تو امیر جماعت احمدیہ لاہور کی قرآن دانی کا حال تھا۔ اب حدیث فہمی کا نمونہ
٤٨
دیکھئے۔ میں نے سنت رسول اللہ ﷺ کے ذیل میں چند احادیث قولیہ صحیحہ پیش کی تھی۔ آپ (محمد علی مرزائی) فرماتے ہیں کہ یہ تو نبی کریم ﷺ کے اقوال و ارشادات ہیں۔ سنت رسول اللہ ﷺ تو آپ کا عمل ہوتا ہے۔ عمل دکھلاؤ۔
بلاشبہ جو لوگ احادیث رسول اللہ ﷺ سے گھبراتے اور بھاگتے ہیں خدا کی لعنت سے کچھ ایسے خبطی ہو جاتے ہیں کہ موٹی موٹی چیزوں کے سمجھنے کا مادہ بھی ان میں نہیں رہتا اور دنیا کی ذلت اور آخرت کی رسوائی سب کو بھول جاتے ہیں۔ کسی ادنیٰ طالب علم سے پوچھ لیا ہوتا کہ علمائے حدیث و اصول صرف فعل رسول اللہ ﷺ ہی کو سنت کہتے ہیں یا حضور ﷺ کے قول کو بھی؟۔ بلکہ اگر قول و فعل میں معارضہ ہو تو قول کو فعل پر ترجیح دیتے ہیں۔
امیر جماعت احمدیہ کا خیال اور قول و فعل میں امتیاز اس حد تک پہنچ گیا ہے۔ کہ حضرت معاذ بن جبلؓ کی صحیح حدیث ”قضاء اللہ و رسولہ ۔“ کو قرآن کے مقابل صحابی کا ایک فعل قرار دیتے ہیں۔ اور پھر کھسیانے ہو کر کہتے ہیں کہ یہ واقعہ اپنی ساری تفصیلات کے ساتھ مذکور نہیں۔ ہمیں کیا علم ہے کہ اس مرتد نے اور کیا کچھ کیا تھا۔ گویا آپ کا جہل (نہ جاننا) بھی بخاری کی صحیح حدیث کو رد کر سکتا ہے ؟۔
یہ امتی تو اپنے نبی سے بھی بڑھ گیا۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی تو کسی حدیث کو رد کرنے کے لئے اپنی وحی کی آڑ پکڑتے تھے۔ لیکن آپ (محمد علی مرزائی) کے یہاں ایک چیز کا نہ معلوم ہونا بھی اس کے رد کرنے کے لئے کفایت کرتا ہے۔
اجماع ائمہ جو میں نے امام شعرانیؒ کی کتاب سے نقل کیا تھا اس کا جب کچھ جواب نہ بن پڑا تو فرماتے ہیں کہ : ”یستتاب ابدا ۔“ اور : ”لا قتل الا بحراب ۔“ اس کے معارض ہے۔
مگر یہ نہ بتلایا کہ یہ جملے اجماع کے مخالف کس طرح ہیں۔ جن بعض لوگوں کی رائے یستاب ابدا کی ہے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ اگر مرتد قتل سے پہلے ارتداد سے توبہ کرلے، پھر ارتداد کیا پھر توبہ کر لی اور اسی طرح کرتا رہا تو توبہ قبول ہوتی رہے گی۔ اجماع اس پر ہے کہ مرتد واجب القتل ہے اور ان حضرات کے نزدیک جب توبہ قبول ہو جاتی ہے تو وہ
٤٩
بعد توبہ مرتد ہی نہیں رہتا پھر کیوں قتل کیا جائے۔ فی الحقیقت یہ جملہ ان علماء کے مقابلہ میں ہے جو فرماتے ہیں کہ تیسری دفعہ مرتد ہونے والے کی توبہ بھی قبول نہیں۔
اور :” لا قتل الا بالحراب .“ جس جگہ لکھا ہے وہیں اس کی تفصیل بھی موجود ہے کہ حراب سے بالفعل جنگ کرنا مراد نہیں اور آپ خود بھی :” اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ ، سورۃ المائدہ آیت ٣٣“ کی تفسیر میں تسلیم کر رہے ہیں کہ ہر جگہ حراب کے معنی جنگ کرنے کے نہیں ہوتے اور اس کے شواہد قرآن شریف سے پیش کرتے ہیں۔
(دیکھو بیان القرآن ص ٦١٥)
قیاس شرعی جو میں نے حافظ ابن قیمؒ سے نقل کیا تھا اس کا آپ نے کچھ ذکر نہ کیا بلکہ اس کی جگہ ایک دوسری عبارت جو میں نے اس سیاق میں نہیں لکھی تھی نقل کر دی اور افسوس کہ اس کا بھی کچھ جواب نہ دے سکے۔
میرے مضمون میں ایک جگہ ”آخر الحیل السیف“ عربی کا یہ جملہ آگیا تھا جسے کاتب نے نسخ میں لکھ دیا آپ اسے آیت قرآنی سمجھ کر قرآن میں تلاش کر رہے ہیں۔ حالانکہ بہتر ہوتا کہ آپ اسے کابل کے اسلحہ خانہ میں تلاش کرتے۔ آپ کہتے ہیں کہ جس طرح خلیفۃ المسلمین کو یورپین طاقتوں کے دباؤ سے قتل مرتد کا قانون بدلنا پڑا‘ ان علماء کو بھی ذلیل ہو کر ایک دن ایسا کرنا پڑے گا۔
مگر آپ کو یہیں سے سمجھ لینا چاہئے تھا کہ علماء ربانیین کو حق تعالیٰ نے کیا جرأت اور قوت قلبی بخشی ہے کہ جو چیز آپ کے ادعاء کے موافق یورپین طاقتوں کے دباؤ سے خلیفۃ المسلمین تک کو ماننی پڑی ہے اسے آج تک ہندوستان کے محکوم مولویوں نے نہ مانا تم تمام علماء کو مرزا قادیانی کی طرح بزدل اور ڈرپوک نہ سمجھو۔ بحول اللہ وقوتہ ایسے علماء قلیل کثیر برابر موجود رہیں گے جو تلواروں کی چمک اور بندوقوں کی کڑک کے نیچے بھی حق کا اظہار کریں گے۔
اور خدا نہ کردہ اگر افغانستان بھی ایک قانون اسلامی کو تبدیل کر دے گا وہ (علماء) جب بھی تبدیل نہ کریں گے۔ آپ نے تو آخر میں چند سوالات جو پمفلٹ میں کئے تھے پھر
٥٠
اعادہ کیا ہے لیکن ان سب کا جواب یہ ہے کہ ناظرین کرام ایک مرتبہ ازراہ مہربانی پھر رسالہ ”الشہاب“ کو پڑھ لیں۔
انشاء اللہ تمام وساوس شیطانیہ کے لئے لاحول کا کام دے گا۔ اور کوئی ضروری سوال ایسا نہ ملے گا جس کا جواب اس میں موجود نہ ہو۔ میں تطویل کی ضرورت نہیں سمجھتا کیونکہ آپ نے عملاً میرے رسالہ کے سارے مضامین کو تسلیم کر لیا ہے۔ اور جن ایک دو امور کی نسبت یہ دو ایک ورق سیاہ کئے ہیں اس کی شافی اور مبسوط بحث ہمارے رسالہ میں پہلے سے موجود ہے: ” وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهُ نُوْرًا فَمَالَهُ مِنْ نُّوْرٍ.“
تم ہزار بار برا کہو لیکن جو کاری ضرب ”الشہاب“ نے تمہاری اصل بنیاد پر لگائی ہے وہ خدا کے فضل سے بے اثر نہیں گئی۔ جن کروڑوں مسلمانوں کو آپ کے مرزا قادیانی نے دائرہ اسلام سے نکالا تھا وہ اس رسالہ سے اطمینان پارہے۔ اور دنیا میں جو چند نفوس مرزا قادیانی نے مسلمان چھوڑے تھے ان کے دلوں میں حق تعالیٰ نے ایسا رعب ڈال دیا ہے کہ وہ اب ”الشہاب“ کے کسی مطالعہ کرنے والے سے اپنے ارتداد کو نہیں چھپا سکتے۔
ایک طرف اگر مرزائی اور آریہ اور عیسائی چند جاہلوں کو مرتد بنا رہے ہیں تو دوسری طرف خدا تعالیٰ حق کا نور پھیلا رہا ہے۔ بہت سے غافلوں کی آنکھیں کھلتی جاتی ہیں اور بہت سے لوگ اسلام کی فطری کشش سے اسلام کی طرف جذب ہوتے جاتے ہیں۔
”كُلًّا نُّمِدُّ هٰؤُلَاءِ وَهٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ؕ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا ٠ بنی اسرائیل آیت ٢٠“
تم جلتے رہو اور غیظ کھاتے رہو۔ ہماری طرف سے یہ جواب ہے۔
”قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ٠ آل عمران آیت ١١٩“
الراقم شبیر احمد عثمانی دیوبند ١٠ جمادی الاخریٰ ١٣٤٣ھ
٥١
سالانہ رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال ٥ شعبان سے ٢٨ شعبان تک مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع جھنگ میں ”رد قادیانیت وعیسائیت کورس“ ہوتا ہے۔ جس میں ملک بھر کے نامور علماء کرام ومناظرین لیکچرز دیتے ہیں۔ علماء، خطباء اور تمام طبقہ حیات سے تعلق رکھنے والے اس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ تعلیم کم از کم درجہ رابعہ یا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔......... رہائش، خوراک، کتب و دیگر ضروریات کا اہتمام مجلس کرتی ہے۔
رابطہ کے لئے
(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری
ناظم اعلیٰ : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
صدائے ایمان
شیخ الاسلام
حضرت علامہ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
تعارف
الحمدللہ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء ۔ اما بعد !
قادیانیوں کے ایک مضمون کے جواب میں دارالعلوم دیوبند کے کچھار کے ایک شیر اور پاکستان کے پہلے شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی صاحبؒ نے یہ مضمون تحریر کیا۔ جس کا نام ”ندائے ایمان“ تجویز ہوا۔ یہ جمادی الثانی ١٣٥٠ھ کی تحریر ہے اور جمادی الثانی ١٤٢٢ھ میں ٹھیک بہتر سال بعد دوبارہ شائع کرنے کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سعادت حاصل کر رہی ہے۔
فالحمدللہ اولاً وّ آخرا
فقیر اللہ وسایا ٧ / ٦ / ١٤٢٢ھ ٧ / ٨ / ٢٠٠١ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اما بعد! رسول کریم ﷺ کی ذات مبارک کچھ ایسی کفر توڑ ہے کہ ہر شخص جس کے دل میں کفر کی کوئی رگ ہو آپ ﷺ سے دشمنی رکھتا ہے اور آپ ﷺ کی مقدس ذات پر حملہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے کیونکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی ترقی میں اس کا زوال اور آپ ﷺ کی زندگی میں اس کی موت ہے۔ تعجب ہے ان لوگوں پر جو اسلام سے محبت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ قرآن کریم پر اپنا یقین ظاہر کرتے ہیں۔ درود پڑھتے ہیں اور سلام بھیجتے ہیں باوجود اس کے رسول کریم ﷺ کی ذات پر حملہ کرنے سے نہیں ڈرتے اور ایسے عقائد و خیالات پھیلاتے ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی شان مبارک کی سخت تنقیص ہوتی ہے اور اس طرح عوام الناس کے دلوں سے آپ ﷺ کی محبت کم کر کے اپنی محبت و تعظیم کا سکہ بٹھلانا چاہتے ہیں۔
دیکھو قادیان کا متنبی سرور کائنات جناب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے معجزات کی کل تعداد تین ہزار بتلاتا ہے۔
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ خزائن ص ١٥٣ ج ١٧)
لیکن خود اپنے معجزات کی تعداد دس لاکھ بیان کی ہے۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦ خزائن ص ٧٢ ج ٢١)
گویا سید الانبیاء ﷺ اپنی عظمت و شان میں اس مفتری سے تین سو تینتیس درجہ کم ہوئے (العیاذ باللہ)
قرآن کریم میں خداوند قدوس نے ہمارے حضور ﷺ کی نسبت فرمایا ہے:
”اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا ٠ الفتح آیت ١“
٣
یہ مفتری اس کو بھی برداشت نہ کر سکا اور صاف لکھ دیا کہ : ” فتح مبین “ کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گذر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود (یعنی خود اس مفتری) کا وقت ہو۔ “
(خطبہ الہامیہ ص ٢٨٨ خزائن ص ٢٨٨ ج ١٦)
گویا حضور ﷺ کی فتح اگر مبین تھی تو اس مفتری کی فتح ابین ہے اور وہ ظاہر تھی تو یہ اظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور سرور کائنات ﷺ کی نسبت فرمایا : ” هُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهِ ، الفتح آیت ٢٨“ ﴿وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تا کہ سب ادیان پر اس کو غالب کر دے۔﴾
یہ مفتری کہتا ہے کہ : ”اس آیت کا مصداق تو میں ہوں اور قرآن میں یہ میری خبر دی گئی ہے۔“
غرض اس نے قسم کھائی ہے کہ جو بزرگی اور سیادت ہمارے آقا و مولیٰ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے ثابت ہو گی اس کو کسی نہ کسی طرح کم کر کے یا جھوٹ اور غلط ثابت کر کے رہونگا۔ حق تعالیٰ نے تمام انبیاء اور بذریعہ انبیاء کے ان کی امتوں سے عہد لیا تھا کہ جو کوئی ان میں سے خاتم الانبیاء کا زمانہ پائے ان پر ایمان لائے اور ان کی تائید و حمایت کے لئے کمر بستہ رہے۔
اسی لئے سرور کائنات خاتم الانبیاء حضور ﷺ نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ : ”اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع سے چارہ نہ تھا۔“
لیکن یہ سب باتیں صرف قرآن و حدیث کے ماننے والوں کی عقیدت و بصیرت میں اضافہ کرنے والی تھیں۔ خداوند کریم کا ارادہ یہ ہوا کہ امام الانبیاء سید المرسلین ﷺ کی سیادت و امامت کے عقیدہ کو محض کاغذی دستاویزوں یا زبانی شہادتوں اور خوش عقیدہ مسلمانوں کے حلقوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کا ایک بخارق عادت مظاہرہ کیا
جائے جس کے سامنے موافق و مخالف کو طوعاً و کرہاً سر تسلیم جھکا لینا پڑے اس کی صورت یہ قرار دی کہ جب دنیا میں اسلام و کفر یا بلفظ دیگر حق و باطل کی فیصلہ کن معرکہ آرائی اور بالکل آخری کشمکش کا وقت آجائے۔ اس وقت انبیاء بنی اسرائیل کے خاتم، حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو خاتم مطلق و سید بر حق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا نائب اور امت محمدیہ کا قائد بنا کر نہایت اکرام واجلال کے ساتھ آسمان سے زمین پر لایا جائے۔ آپ زمین پر نزول فرما کر یہودیت کا استیصال اور نصرانیت کی اصلاح فرمائیں، باطل کو محو کریں، حق کو پھیلائیں، گھر گھر میں اسلام کا غلغلہ بلند کریں۔ اور یہ سب کچھ اپنا نام لے کر نہیں بلکہ اس سید و آقا کے نام سے ہو جس کے آپ نائب بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
اس وقت آپ اپنی رسالت کی طرف کوئی خصوصی دعوت نہ دیں گے بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف مخلوق کو بلائیں گے اور بائبل کے دستور و آئین پر نہیں، خالص قرآن وسنت کے احکام پر بندوں کو چلائیں گے جن لوگوں نے ان کو خدا بنایا تھا ان کو بتلائیں گے کہ میں خدا کا ایک عاجز بندہ ہوں بلکہ اس کے سب سے بڑے بندے اور رسول کا متبع بن کر اور ایک طرح ان کی امت میں شامل ہو کر آیا ہوں۔ اس وقت آشکارا ہو گا کہ جو عہد انبیا سے لیا گیا تھا اس کی نوعیت کیا تھی۔ دنیا دیکھ لے گی کہ ہمارے حضور ﷺ کی اور اس امت محمدیہ مرحومہ کی وہ شان ہے کہ جو مقدس و مکرم وجود اس قدر تعظیم و تکریم سے آسمان رفعت پر اٹھایا گیا تھا۔ آج ان کی خاطر آسمان سے اترتا ہے اور خالص ان کی کتاب وسنت کا اتباع کر کے بتلا دیتا ہے کہ بڑے اونچے مقام والے بھی بارگاہ محمدی سے انتساب اور آئین محمدی کی پیروی کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں۔
سبحان اللہ! وہ منظر کیسا عجیب اور کیسا قابل فخر ہو گا جب سرور کائنات ﷺ کی سروری اور انبیاء پر آپ ﷺ کی فضیلت و سیادت اس خارق عادت طریق سے علی رؤس الاشہاد ظاہر ہو گی۔ ایک مومن محمدی کے لئے کون سا موقعہ اس سے زیادہ مسرت وانبساط کا ہو سکتا ہے۔ شاید اسی لئے حدیث میں ارشاد ہوا کہ : ”کیف انتم اذا نزل ............ فیکم ابن مریم ............ الخ ۔“
﴿ تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب ابن مریم علیہ السلام تمہارے اندر نزول فرمائیں گے۔ ﴾
شیخ اکبرؒ نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ آخرت میں بھی مسیح علیہ السلام کا حشر دو مرتبہ ہو گا۔ ایک دفعہ انبیاء و رسل کے زمرہ میں اور ایک مرتبہ امت محمدیہ ﷺ کے ذیل میں۔ (واللہ اعلم) خیال کرو کہ اس صورت میں ہمارے دین اور ہمارے پیغمبر ﷺ (فداہ ابی وامی) کا کس قدر اعزاز و اکرام ہے اور وہ وقت نئے اور پرانے عیسائیوں کے لئے کس قدر ذلت اور رسوائی کا ہونا چاہئے۔
قادیان والوں کو یہ بھی ناگوار ہوا کہ کسی وقت ان کے سفید فام عیسائی آقاؤں کو خود حضرت مسیح آسمان سے اتر کر اس طرح خفیف و رسوا کریں۔ انہوں نے فوراً قادیان سے ایک جھوٹا مسیح کھڑا کر دیا تاکہ آسمان سے اس سچے مسیح کو اترنے نہ دیں۔ ٹھیک اسی طرح جو تم نے سنا ہو گا کہ ایک ”پرندہ“ رات کو اس غرض سے پاؤں اوپر کر کے سوتا تھا اگر کہیں آسمان گرنے لگے تو اس کو اپنے پاؤں پر روک سکے: ”يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّهِ ۔ الفتح آیت ١٥“
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز سرور کائنات ﷺ کی اس نمایاں شان امامت و سیادت کا جلوہ دنیا کو دیکھنے نہ دیں گے کہ حضرت مسیح آسمان سے آئیں۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک اعلیٰ ترین نائب اور وفادار جرنیل کی حیثیت سے امت محمدیہ میں شامل ہوں اور اپنے نفس کو در میان سے بالکل الگ کر کے اعلان کریں کہ :
”میں سارے جہاں کو محمدی پرچم کے نیچے جمع کرنے اور ان کے دشمنوں کو ختم کرنے کے لئے آیا ہوں۔“
کہا جاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے بڑے نبی کو آسمان پر نہ اٹھایا تو حضرت مسیح کی عزت ان سے بڑھ کر کیوں کی جائے کہ وہ بجائے قبر میں دفن کئے جانے کے آسمان پر رہیں اور اتنے زمانہ تک نہ مریں؟۔ لیکن ان کور باطنوں کو یہ معلوم نہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ تو وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ایک آسمان پر نہیں، تمام آسمانوں سے بھی اوپر لے گیا۔ اور حضرت مسیح کو آسمان پر لے جاکر صحیح و سالم رکھنا بھی ان ہی محمد ﷺ کے طفیل میں ہوا تاکہ
٦
وقت موعود پر ان کی نیابت کا فرض ادا کرنے کے لئے اسی عزت کے ساتھ اتارے جائیں جس عزت کے ساتھ چڑھائے گئے تھے۔
پس فی الحقیقت ان کا آسمان پر لے جایا جانا۔ دوبارہ زمین پر لانے کے لئے تھا اگر دنیا پر محمد رسول اللہ ﷺ کی عظمت و سیادت اور اس امت کے خیر الامم ہونے کا مظاہرہ مد نظر نہ ہوتا تو نہ حضرت مسیح کو آسمان پر (جو موطن کون و فساد نہیں ہے) لے جانے کی ضرورت تھی اور نہ اتنے طویل زمانہ تک زندہ رکھنے کی!
مسلمان جانتے ہیں کہ تمام آسمان فرشتوں سے آباد ہیں اور کتنی طویل مدت سے فرشتے ایک حالت پر الان کماکان موجود ہیں۔ لیکن صرف اتنی بات سے انبیاء و رسل پر ان کی فضیلت ثابت نہیں ہوئی۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ چاند‘ سورج‘ ستارے آج تک یکساں حالت پر زمین سے کس قدر بلند مقام پر ہیں۔ کیا ان ستاروں کو انبیاء علیہم السلام سے جو اسی زمین پر پیدا ہوئے‘ جوانی اور بڑھاپے کی منزلیں طے کیں اور آخر اسی زمین کے نیچے دفن کئے گئے‘ افضل کہا جائے گا؟۔ اس پر بھی اگر کوئی جاہل عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کے : ”رفع الی السماء.“ سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اٹھانے دو! اس کی حماقتوں اور ہماری مصلحت بینیوں سے حقائق واقعیہ بدل نہیں جاسکتیں اور نہ کسی کو اس بات کا موقعہ دیا جاسکتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی موت سے فائدہ اٹھا کر خود مسیح بن بیٹھے۔
مرزا محمود نے بہت رو رو کر بیان کیا ہے کہ ”آنحضرت ﷺ نے مکہ میں ایسی ایسی سختیاں اٹھائیں اور صحابہ نے ایسی ایسی قربانیاں کیں جن کا عشر عشیر بھی حضرت مسیح اور ان کے حواریوں سے ظاہر نہیں ہوا۔ (گو قادیانی مسیح جو تمام شانوں میں اپنے کو اصل مسیح سے بڑھ کر بتلاتا ہے اس کا عشر عشیر بھی نہ دکھلا سکا۔) پھر کیونکر مان لیا جائے کہ حضرت محمد ﷺ تو آسمان پر نہ اٹھائے جائیں اور حضرت مسیح اٹھا لئے جائیں۔ خدا کو کیا ضرورت تھی کہ وہ یہودیوں سے ڈر کر اپنے نبی کو آسمان پر اٹھا لیتا وہ اسی زمین میں ہی ان کی حفاظت کر سکتا ہے اور اس کے دشمنوں کو تباہ کر سکتا تھا۔
بلاشبہ ہمارے آقا و سید محمد رسول اللہ ﷺ نے نہایت طویل مدت تک جو سختیاں
٧
اٹھائیں ان سے آپ کا مرتبہ کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے : " كما قال ﷺ في الحديث نحن معشر الانبياء اشد بلا ثم الا مثل فالا مثل ۔" اور جیسا ہم اوپر لکھ چکے ہیں اور حضور کے اسی علو مرتبت کے آثار و ثمرات میں سے یہ ایک اثر اور ثمرہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دوبارہ آپ ﷺ کی امت کے زمرہ میں شریک کرنے کے لیے آسمان پر محفوظ رکھا گیا پس مسیح کا آسمان پر اٹھانا اگر کوئی عزت و فضیلت کی چیز ہے اور بے شک ہے تو وہ عزت و فضیلت بھی نتیجہ اور غرض و غایت کے اعتبار سے حضرت خاتم الانبیا ﷺ کی ہوئی۔
رہا یہ کہنا کہ آسمان پر لے جانے کی ضرورت ہی کیا تھی کیا زمین پر خدا حفاظت نہ کر سکتا تھا؟ تو کیا آپ بتلا سکتے ہیں کہ محمد ﷺ کو مکہ سے مدینہ ابراہیم علیہ السلام کو عراق سے شام لے جانے کی کیا ضرورت تھی؟۔ کیا اللہ اس پر قادر نہیں تھا کہ ان کو وطن عزیز ہی میں رہنے دیتا اور اس سر زمین سے جس کی نسبت حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم سب شہروں سے زیادہ مجھ کو محبوب ہے، الگ نہ کرتا اور سب دشمنوں کو وہیں رہتے ہوئے زیر کر دیتا اور دوستوں کو وہیں کھینچ لاتا؟۔ اس طرح کے سوال ہزاروں ہو سکتے ہیں جن سب کا جواب حافظ شیرازی نے دیا ہے کہ :
کہ کس نکشود و نکشاید بحکمت ایں معمہ
پس تمام سچے ایمان داروں کو لازم ہے کہ اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور ان عظیم الشان فتنوں کی شب دیجور میں قرآن مجید و سنت کی روشنی سے علیحدہ نہ ہوں بہت سے لٹیرے، ڈاکو، چور، اچکے گھات میں لگے ہیں تم سے دولت ایمان چھین لیں اور بظاہر نبی کریم ﷺ کی محبت و عظمت کا دم بھرتے ہوئے بہت ہوشیاری سے اندر ہی اندر تمہارے دلوں سے ان چیزوں کو نکالنے اور اپنی عظمت و محبت کا سکہ بٹھانے میں کامیاب ہو جائیں لیکن اولاً اللہ کی توفیق اور ثانیاً مومنین کی فراست سے امید ہے کہ وہ رہبر و رہزن میں فرق کریں گے اور ان عیاروں کو اپنے ملعون مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیں گے۔
مسلمانو! ہوشیار و بیدار رہو۔ ان دجالوں کے مغالطات میں مت آؤ۔ قرآن وسنت کی حبل متین کو مضبوط تھامے رکھو اور اپنے سید و آقا سرور کائنات ﷺ کے نائب اعظم حضرت مسیح کو آسمان سے آنے دو کہ ان کا آنا عیسائیت یہودیت اور ہر قسم کے کفر کا جانا ہے۔ ان کی زندگی دجالوں کے لیے پیام موت ہے۔ اس لیے یہ دجال صفت ہمیشہ ان کی آمد کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹاتے رہے ہیں۔ تم ان کی آمد پر یقین رکھو۔ کیونکہ یہ چیز قرآن کریم واحادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہوچکی ہے۔
ہاں! ان کی آمد سے پہلے اپنی سر توڑ کوششوں اور مجاہدانہ قربانیوں سے ثابت کرو کہ ہم : ”وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ . الجمعہ آیت ٣“ بھی اسی سچے مسیح کے ہر اول ہیں جو سارے جہاں کے سردار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک جرنیل اعظم کی حیثیت سے دنیا کو علم اسلام کے نیچے جمع کرنے والا ہے۔
والله الموفق والمعین وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد والہ واصحابہ اجمعین .!!!
جمادی الاخری ١٣٥٠ھ
شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے !
شیزان کی مشروبات ایک قادیانی طائفہ کی ملکیت ہیں۔ افسوس کہ ہزار ہا مسلمان اس کے خریدار ہیں۔ اسی طرح شیزان ریستوران جو لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں بڑے زور سے چلائے جارہے ہیں۔ اسی طائفے کے سر براہ شاہ نواز قادیانی کی ملکیت ہیں۔ قادیانی شیزان کی سر پرستی کرنا اپنے عقیدہ کا جزو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کی آمدنی کا سولہ فیصد حصہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد ان ریستوران کی مستقل گاہک ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ ایک مرتد ادارہ کی گاہک ہے اور جو چیز کسی مرتد کے ہاں پکتی ہے وہ حلال نہیں ہوتی۔ شیزان کے مسلمان گاہکوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے بھول پن پر نظر ثانی کریں۔ جس ادارے کا مالک ختم نبوت سے متعلق قادیانی چوچلوں کا معتقد ہو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے اور سواد اعظم اس کے نزدیک کافر ہو اور جہاں ننانوے فیصد ملازم قادیانی ہوں ایک روایت کے مطابق شیزان کی مصنوعات میں چناب نگر کے بہشتی مقبرہ کی مٹی ملائی جاتی ہے۔
اے فرزندان اسلام !
آج فیصلہ کر لو کہ شیزان اور اسی طرح کی دوسری قادیانی مصنوعات کے مشروبات نہیں پیئو گے اور شیزان کے کھانے نہیں کھاؤ گے۔ اگر تم نے اس سے اعراض کیا اور خوردونوش کے ان اداروں سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن حضور ﷺ کو کیا جواب دو گے ؟۔ کیا تمہیں احساس نہیں کہ تم اس طرح مرتدوں کی پشت پناہی کر رہے ہو۔
(آغا شورش کاشمیریؒ)
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام
محدث کبیر
حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تعارف
الحمدللہ وکفی وسلام علیٰ خاتم الانبیاء، اما بعد! محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ کی شہرہ آفاق تصنیف ترجمان السنۃ جلد سوم ص ٥٢١ سے ٥٩٣ تک کا حصہ ”حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام“ کی شخصیت‘ حیات‘ رفع و نزول کے مباحث پر مشتمل ہے۔ علیحدہ کتابی شکل میں ”نزولِ عیسیٰ علیہ السلام“ کے نام پر بھی سورت ضلع گجرات انڈیا سے شائع ہوا۔ اس کو کتاب ھذا کا حصہ بنایا جارہا ہے۔
قرآن وسنت اور عقل کی روشنی میں اس کے مباحث ایمان پرور ہیں۔ مطالعہ فرمائیں گے تو قلب و جگر ایمان و ایقان کو جلاء نصیب ہوگی۔
فقیر اللہ وسایا ١٤٢٢/٦/٧ھ ٢٠٠١/٨/٢٧ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ کی ایک اہم سرگذشت
کے متعلق چند جدید علمی اور منصفانہ نکات قرآن وحدیث اور تاریخ
کی روشنی میں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی بڑی علامت ہے اس لئے اس کو عالم کے تعمیری نظم و نسق کی بجائے تخریب عالم کے نظم و نسق پر قیاس کرنا چاہئے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ میں رفع ونزول کی سرگذشت بے شک عجیب تر ہے لیکن اس پر غور کرنے سے قبل سب سے پہلے یہ سوال سامنے رکھنا چاہئے کہ یہ مسئلہ کس دور اور کس شخصیت کے ساتھ متعلق ہے کیونکہ دنیا کے روز مرہ معمولی واقعات بھی زمانہ اور شخصیتوں کے اختلاف سے بہت مختلف ہو جاتے ہیں اور ان کی تصدیق و تکذیب میں بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی زمین پر ایک خطہ زمین ایسا بھی ہے جہاں مہینوں کی رات اور مہینوں کا دن ہوتا ہے اور ان ہی سمندروں میں ایک سمندر ایسا بھی ہے جس پر مسافر موسم سرما میں خشکی کی طرح سواریوں پر چلتے ہیں اسی طرح انسانوں کا اختلاف بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ شجاعت و طاقت اور دانائی و فرزانگی کے وہ بعید سے بعید کارنامے جو رستم واسفندیار، انور بے اور ہٹلر، اسٹالن اور لینن وغیرہ کے حق میں بے تامل قابل تصدیق سمجھے جاتے ہیں وہ عام انسانوں کے حق میں بڑے تامل کے بعد بھی مشکل قابل تصدیق ہو سکتے ہیں۔ پس صرف عام
٣
انسانوں کے حالات کے لحاظ سے یا صرف اپنے دور اور اپنے زمانہ کے حالات پر قیاس کر کے کسی صحیح واقعہ کا انکار کر دینا کوئی معقول طریقہ نہیں ہے۔
لہٰذا مسئلہ نزول پر بحث کرنے کے وقت بھی سب سے پہلے اس پر غور کر لینا ضروری ہے کہ یہ واقعہ کس دور اور کس زمانہ سے پھر کس شخصیت سے متعلق ہے۔ جب آپ ان دو سوالوں پر محققانہ نظر ڈالیں گے تو پوری وضاحت سے ثابت ہو گا کہ یہ واقعہ تخریب عالم یعنی قیامت کے واقعات کی ایک کڑی ہے اور تخریب عالم کا ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جو عالم کے تعمیری دور کے واقعات سے ملتا جلتا ہو۔ پس اگر تخریب عالم کے وہ سب واقعات جو تعمیری دنیا کے معتاد واقعات سے مختلف ہونے کے باوجود قابل تصدیق ہیں تو پھر اس ایک واقعہ کی تصدیق میں آپ کو تامل کیوں ہے؟۔
حقیقت یہ ہے کہ عالم کی تخلیق اور اس کی تخریب کے دونوں واقعات اتنے عجائبات پر مشتمل ہیں کہ جو انسان ان دونوں جانبوں سے غائب ہے وہ بیچارہ اپنے موجودہ حالات کی دنیا دیکھ کر ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آپ عالم کی تخلیق کے واقعات پر ذرا نظر ڈالیں زمین کس طرح بنائی گئی پھر کس طرح بچھائی گئی۔ آسمان کس طرح بنائے گئے۔ آدم کس طرح پیدا ہوئے۔ ان کا جوڑا کس طرح پیدا ہوا۔ پھر کس طرح خلافت ارضی قائم ہوئی۔ اسی طرح بہت سے واقعات ہیں جو ایک سے ایک عجیب تر ہیں اور ان سب ہی کے بیان کی ذمہ داری خود قرآن کریم نے اپنے سر رکھی ہے۔ اگر آپ ان میں سے ایک واقعہ بھی عالم کے تعمیری دور کے نظم و نسق سے ملا کر دیکھیں تو آپ کو ان میں سے ایک واقعہ کے فہم میں بھی سخت الجھن پیش آئے گی اور اسی بناء پر ایک جماعت نے تو سرے سے تخلیق عالم ہی کا انکار کر کے قدم عالم کا راستہ لے لیا ہے۔ مگر آپ کے نزدیک کیا اس کا یہ طریقہ کار صحیح ہے؟۔
اسی طرح جب آپ تخریب عالم کے واقعات پر نظر ڈالیں گے تو وہ بھی عجیب در عجیب ہی نظر آتے ہیں۔ یعنی کبھی نہ پھٹنے والے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ آفتاب و ماہتاب اور یہ تمام روشن ستارے بے نور ہو کر گر پڑیں گے اور کبھی جنبش نہ کرنے والے یہ بڑے بڑے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے نظر آئیں گے اور یہ سارا کا سارا عالم ہستی عدم
٤
محض اور صرف نیستی کے تحت آجائے گا۔ یہ اور ان جیسے اور بہت سے عقل سے بالاتر واقعات کے بیان کی ذمہ داری بھی خود قرآن کریم ہی نے اٹھائی ہے۔ اب اگر آپ ان کی تصدیق کا فیصلہ موجودہ عالم کے واقعات کے پیش نظر کرنے بیٹھ جائیں تو کیا آپ کوئی صحیح فیصلہ کر سکیں گے۔ لیکن ہاں! جب آپ عالم کی تخلیق اور اس کی تخریب کے دونوں سرے ملا کر دیکھیں گے تو دونوں آپ کو بالکل یکساں صورت میں نظر آئیں گے۔
پس چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ بھی عالم کے درمیانی واقعات کا مسئلہ نہیں بلکہ تخریب عالم کے واقعات کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس لئے اپنی جگہ وہ بھی معقول ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تمام مردوں کے زندہ ہو ہو کر ایک میدان میں جمع ہونے کا زمانہ قریب آرہا ہو تو اس سے ذرا قبل صرف ایک زندہ انسان کا آسمانوں سے زمین پر آنا کون سی بڑی بات ہے ؟۔ بلکہ اس طویل گمشدگی کے بعد یہ جسمانی نزول مجموعہ عالم انسانی کے جسمانی نشاۃ ثانیہ کے لئے ایک بدیہی اور محکم برہان ہے۔ اسی لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں ارشاد ہے: ” وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ “ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک مجسم علامت ہیں۔ درمنثور میں حضرت ابن عباسؓ اور حسنؓ اور قتادہؓ سے منقول ہے کہ اس آیت کا مصداق قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری ہے۔
اس کے بعد جب آپ اس پر غور کریں گے کہ یہ پیشگوئی ہے کسی شخصیت کے متعلق‘ وہ شخصیت کسی عام بشری سنت کے تحت کوئی بشر ہے یا ان سے کچھ الگ ہے تو آپ کو یہی ثابت ہو گا کہ وہ صرف عام انسانوں ہی سے نہیں بلکہ جملہ انبیاء علیہم السلام کی جماعت میں بھی سب سے الگ اور سب سے ممتاز خلقت کا بشر ہے۔ جتنے انسان ہیں وہ سب مذکر و مؤنث کی دو صنفوں سے پیدا ہوئے ہیں۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسے انسان ہیں جن کی تخلیق صرف ایک صنف انسانی سے وجود میں آئی ہے۔ پھر اس میں تمثل جبریلی اور نفخۂ ملکی اور تکلم فی المہد کے واقعات اور بھی عجیب تر ہیں۔ ان کے معجزات دیکھئے تو وہ بھی کچھ نرالی شان رکھتے ہیں۔ ان میں سے ہر ہر معجزہ ایسا ہے جس میں ”بِاِذْنِ اللہ“ کی قید لگانی پڑتی ہے۔ ان کے گزشتہ دورِ حیات میں ملکیت کا اتنا غلبہ ہے کہ کھانے پینے‘ رہنے سہنے‘ شادی و
٥
نکاح کا کوئی نظم و نسق ہی نہیں ملتا۔ یوں معلوم ہوتا ہے گویا وہ ان سب ضروریات سے منزہ و مبرا سچ مچ کے ایک فرشتہ ہیں۔ پھر جب ان کی ہجرت کا مرحلہ سامنے آتا ہے تو یہاں بھی ان کی شان سب سے نرالی نظر آتی ہے۔ یعنی ان کی ہجرت کسی خطہ ارضی کی بجائے اس عالم کی طرف ہوتی ہے جو ملکوت اور ارواح کا مستقر ہے۔ غرض ان کی حیات کے جس گوشہ پر نظر ڈالئے وہ ملکوتیت کا ایک مرقعہ نظر آتا ہے۔ یہاں قرآن کریم نے جو لقب ان کو عطا فرمایا ہے۔ وہ بھی سب سے ممتاز ہے اور اس نوع کا لقب ہے جس سے ان کی زندگی کی یہ سب خصوصیات اجمالی طور پر بیک نظر سامنے آجاتی ہیں یعنی ”روح اللہ“ اور ”کلمتہ اللہ“ گو بنی آدم جتنے بھی ہیں ان سب کی روحیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف اور اسی کے حکم ”کن“ سے آئی ہیں مگر یہاں اس روح کی آمد میں کوئی ظاہری واسطہ بھی نہ تھا اور جو واسطہ تھا وہ ایسا ہی تھا جس کے موجود ہونے سے عالم قدس کی طرف ان کی نسبت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ تمام کا تمام وہ تذکرہ حیات ہے جو ان کے آسمانوں پر جانے سے قبل سے متعلق ہے۔ اب آپ نازل ہونے کے بعد ان کے حالات پر نظر ڈالیں تو وہ پہلی زندگی کے بالکل برعکس ہیں۔ یہاں ان کے تمام معاملات میں دنیا کا مرتب نظم و نسق ملتا ہے حتیٰ کہ نکاح و ولادت کا بھی اور اس سے بھی بڑھ کر ان کی حیثیت ایک امام و امیر کی ثابت ہوتی ہے۔ گویا وہ انسانوں میں بھی کوئی معمولی طبقہ کے انسان نہیں بلکہ اس اعلیٰ طبقہ کے انسان ہیں جن کی قیادت میں اسفل طبقہ کے انسان ترقی کر کے اعلیٰ طبقہ کے انسان بن سکتے ہیں۔ غرض ان کی حیات کے یہ دو دور تمامتر قدرت کے ان عجائبات سے مشابہ ہیں جو عالم میں دست قدرت کے براہ راست پیدا کردہ ہیں وہ بیک وقت بن باپ پیدا ہو کر آغاز عالم کے واقعات میں حضرت آدم علیہ السلام کے مشابہ ہیں : ”اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰهِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ٠ آل عمران آیت ٥٩“ اور اتنی طویل غیبت کے بعد عالم کے خاتمہ پر جسمانی نزول فرما کر علامات قیامت میں بھی شمار ہیں : ” وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا ٠ الزخرف آیت ٦١“ اگر ایک طرف اپنی پہلی حیات میں آسمانوں پر جا کر وہ فرشتوں سے مشابہ ہیں تو دوسری طرف نزول کے بعد موت اور پھر آنحضرت ﷺ کے پہلو میں مدفون ہو کر عام انسانوں کی صف میں بھی داخل ہیں۔ اگر پہلی
زندگی میں ان کا معجزہ احیاء موتی ہے تو نزول کے بعد دوسرے دور حیات میں اماتت دجال یعنی قتل دجال ہے۔ ان کی یہ تمام سوانح حیات قرآن کی بیان کردہ ہے۔ چنانچہ سورہ نساء آیت ١٥٩ : ” وَاِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ ......... الخ ۔“ آئندہ ان کی وفات ان کے نزول کی شاہد ہے جیسا کہ آئندہ اس کی تشریح آئے گی۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک انسان کا آسمانوں پر زندہ جانا اور زندہ رہنا اور آخر زمانہ میں پھر اسی جسم عنصری کے ساتھ اتر آنا۔ نہ عام انسانوں کی سنت ہے اور نہ زمانہ کے عام واقعات کے موافق ہے۔ لیکن اگر آپ یہ دو باتیں ملحوظ رکھیں کہ یہ مسئلہ تخریب عالم کا ایک مقدمہ ہے اور ہے بھی اس شخصیت کے متعلق جس کے دیگر حالات زندگی بھی عالم کے عام دستور کے موافق نہیں تو پھر بنظر انصاف اس میں آپ کو کوئی تردد نہ ہونا چاہئے۔ قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام سے تشبیہ دیکر یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کی ہستی کو عالم کے درمیانی سلسلہ پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ اگر ان کے حالات کو قیاس کرنا ہی ہے تو تخلیق عالم کے حالات پر قیاس کر کے دیکھو تمہارا سب تعجب جاتا رہے گا۔
اصل یہ ہے کہ مادی عقول کے نزدیک کچھ یہی ایک مسئلہ نہیں ہے جو زیر انکار آ رہا ہو بلکہ عالم غیب کے تمام حقائق ہی زیر انکار ہیں۔ اور در حقیقت یہ عقل و نقل کی اصولی جنگ کا ثمرہ ہے ارباب عقل یہ سمجھتے ہیں کہ اخبار انبیاء علیہم السلام سب خلاف عقل ہوتے ہیں اور اصحاب نقل یہ سمجھتے ہیں کہ جو بات بھی عقلی ہو وہ سب شریعت کے خلاف ہوتی ہے ، یہ نزاع و جدل در حقیقت عقل و شرع کا صحیح مفہوم متعین نہ کرنے سے پیدا ہو رہا ہے۔
حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :
” کون نہیں جانتا کہ قرآن و سنت نے جا بجا عقل کی تعریف فرمائی ہے بلکہ اپنی دعوت کا مخاطب ہی صرف اہل فہم اور اہل عقل کو قرار دیا ہے۔ مجنون اور بچے اس کی دعوت کے احاطہ سے ہی باہر ہیں لیکن جب بعض اہل بدعت نے بعض کلامی مسائل کو جو دراصل قرآن و سنت کے بھی خلاف تھے اصول دین میں داخل کر دیا اور اس کا نام عقلیات رکھا تو اب اہل شرع کو عقلیات کے نام ہی سے ایسی نفرت پیدا ہو گئی جو شخص بھی عقلی استدلال کرتا نظر
٧
آتا ان کے نزدیک بدعتی اور باطل پرست سمجھا جاتا اور دوسری طرف جب عقلا نے اہل شرع سے وہ مسائل سنے جو صریح عقل اور یقینی تاریخ کے خلاف تھے۔ اس پر ان کا یہ دعویٰ سنا کہ وہ قرآن وحدیث کے بیان کردہ ہیں تو ان کے دلوں میں نفس قرآن وسنت ہی کے متعلق خلاف عقل ہونے کی بدگمانی بیٹھ گئی۔ حتی کہ اب جو قرآن وسنت سے استدلال کرتا ان کے نزدیک قانون فطرت اور تقاضائے عقل کا مخالف ہوتا۔ یہاں غلطی دونوں فریق کی ہے عقلا ء کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے تحقیق کئے بغیر ہر خلاف عقل بات کا نام شرع کیوں رکھ دیا؟۔ اور علماء کی کوتاہی یہ ہے کہ انہوں نے جو عقل صحیح کا تقاضہ نہ تھا۔ اس کو شرع کے مفہوم میں کیسے داخل کر دیا؟۔ حالانکہ شریعت کا ایک مسئلہ بھی ایسا نہیں ہے جو عقل سلیم کے نزدیک قابل انکار ہو یا محالات کی تعریف میں آتا ہو لیکن جب کسی ابتدائی غلطی پر کچھ مدت گزر جاتی ہے تو وہ غلطی راسخ ہوتے ہوتے عقائد کا رنگ پیدا کر لیتی ہے اور جو کسی صحیح حقیقت پر نتائج و آثار مرتب ہوتے ہیں وہی اس غلطی پر مرتب ہونے لگتے ہیں۔ اس لئے اگر مسائل پر گفتگو کرنے سے قبل عقل و شرع کا صحیح صحیح مفہوم متعین کر لیا جائے تو عقلاء اور علماء کے درمیان بحث و جدل کا یہ وسیع میدان بہت تنگ ہو سکتا ہے۔ علماء ہر خلاف عقل بات کو شرع کے مفہوم میں داخل کرنے کی سعی کرنا ترک کر دیں اور عقلا شرع کی ہر بات پر خلاف عقل ہونے کی بدگمانی دل سے نکال ڈالیں اور عقل و فکر کا کوئی صحیح معیار مقرر کر لیں۔ (کتاب النبوت ٦٤)
خلاصہ یہ ہے کہ اگر یہ مسئلہ قابل تسلیم نہیں ہے تو پھر آپ کو بھی ایک فیصلہ کرنا ہو گا کہ عالم کے تخلیق و تخریب کے دوسرے تمام واقعات بھی قابل تسلیم نہیں ہیں اور اگر وہ سب قابل تصدیق ہیں تو پھر یہ مسئلہ بھی قابل تصدیق ماننا ہو گا۔ صرف اس لئے آغاز عالم کے تعمیری واقعات سے آپ کی زندگی کا اب کوئی تعلق باقی نہیں رہا یہ مستقبل بعید کے تخریبی واقعات کے موجودہ دور کے انسانوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے ان سب سے صرف نظر کر کے بحث کا رخ صرف مسئلہ نزول میں منحصر کر دینا اپنے نفس کو بھی مغالطہ میں رکھنا ہے اور دوسروں کو بھی مغالطہ میں ڈالنا ہے۔
٨
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جزئی معاملات کی اہمیت
واضح رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت اس لحاظ سے بھی سب میں ممتاز ہے کہ ان کے جزئی جزئی واقعات کو بھی قرآن کریم نے اصولی معاملات کی سی اہمیت دی ہے۔ مثلاً ان کی ولادت کا معاملہ یہ ایک جزئی معاملہ ہے مگر ان کی ولادت کو بھی قرآن کریم نے بڑی اہمیت سے ذکر کیا ہے۔ یعنی فرشتہ کا بصورت بشری آنا اور اپنی آمد کی غرض وغایت بتانا۔ اس پر حضرت مریم کا نا کٹخدائی کی حالت میں تعجب فرمانا پھر فرشتہ کا جواب اور اس کے بعد ان کے گریبان میں پھونک مارنا یہ سب تفصیلی ذکر ہیں۔ حتی کہ ان کی والدہ کا دردِ زہ بھی‘ پھر ولادت اور اس پر لوگوں کی چہ میگوئیاں بھی‘ ظاہر ہے کہ ان سب معاملات میں سے کس معاملہ کو اصولی اور بنیادی کہا جاسکتا ہے؟۔ مگر کیا ان میں سے کوئی ایک بات بھی ایسی ہے جس کو آپ صرف ایک جزئی معاملہ کہہ کر ٹال سکتے ہوں اور جس پر عقیدہ رکھنا کوئی ضروری بات نہ ہو پھر عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے اہم واقعہ کو صرف ایک جزئی معاملہ کہہ کر آپ کیونکر عقائد کی فہرست سے خارج کرسکتے ہیں۔
مسئلہ نزول کی حیثیت کتب عقائد میں
یہی وجہ ہے کہ شروع سے لے کر آج تک کتب عقائد میں اس مسئلہ کو بھی دیگر عقائد کے ساتھ ساتھ ایک عقیدہ ہی شمار کیا ہے۔ حتیٰ کہ محدثین نے جو مؤلفات ترتیب دی ہیں گو ان کو عقائد کی شکل پر مرتب نہیں فرمایا ان کے مقاصد دوسرے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود امام مسلم نے جن کی کتاب کو بلحاظ ترتیب بخاری شریف پر بھی فوقیت دی گئی ہے۔ نزول عیسیٰ علیہ السلام کو ابواب ایمان کا ایک جز قرار دیا ہے پھر یہ کہنا کتنی کوتاہ نظری ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ چونکہ ایک جزئی مسئلہ ہے۔ اس لئے اس کو عقائد اور ایمانیات کا مقام حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ معجزات کی بحث میں ہم انشاء اللہ تعالیٰ ! اس پر اور مبسوط بحث کریں گے کہ رسولوں کی اخبار پر ایمان رکھنا یہ جزئی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ رہا خاص نزول عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ تو اس کو اس حیثیت کے علاوہ رسالت اور قیامت کے
٩
مسئلہ سے بھی براہ راست تعلق ہے جیسا کہ عنقریب اس کی تفصیل آنے والی ہے۔ یہاں ایک عجیب بات یہ ہے کہ ذات و صفات، قضا و قدر، حشر و نشر اور رؤیت باری تعالیٰ وغیرہ جن مسائل کو بے چون و چرا عقائد میں داخل سمجھا گیا ہے۔ ان میں تو کافی اختلافات بھی ملتے ہیں چنانچہ معتزلہ ان سب مسائل میں اہل سنت والجماعت سے اپنا علیحدہ خیال رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ اشاعرہ و ماتریدیہ کے مابین بھی بعض مسائل میں ضرب المثل اختلاف موجود ہے لیکن اس کے باوجود ان مسائل کو کسی نے عقائد کی فہرست سے خارج نہیں کیا۔ اس کے بر خلاف نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ ہے جس میں سلف سے لے کر آج تک ائمہ دین میں سے کسی کا اختلاف ثابت نہیں پھر اس کو عقائد کی فہرست سے کس طرح خارج کیا جاسکتا ہے۔ حیرت ہے کہ معتزلہ جو مذکورہ بالا مسائل میں اہل سنت سے کچھ اختلاف بھی رکھتے ہیں۔ وہ بھی اس مسئلہ میں جمہور امت کے ساتھ متفق ہیں جیسا کہ زمخشری نے کشاف میں اس کی تصریح کی ہے۔ ابن عطیہ لکھتے ہیں کہ : ”تمام امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قرب قیامت میں جسم عنصری پھر تشریف لانے والے ہیں۔ جیسا کہ متواتر حدیثوں سے ثابت ہے۔“
(دیکھو بحر محیط ص ٢٧٣ ج ٢)
مسئلہ نزول کی حیثیت احادیث میں
اس بارے میں اگر حدیثوں پر نظر ڈالیں تو تیس صحابہؓ سے تقریباً سو حدیثوں میں باسالیب مختلفہ اس مسئلہ کو بہزار قسمیں کھا کھا کر دہرایا گیا ہے۔ (ان صحابہؓ کے اسماء مبارکہ یہ ہیں جن کی تفصیل روایات دیکھنی ہوں تو رسالہ ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ مؤلفہ محترم جناب مولانا محمد شفیع صاحبؒ مفتی پاکستان ملاحظہ فرمائیں۔
(١)...... ابو ہریرہ (٢)...... جابر بن عبداللہ (٣)...... نواس بن سمعان (٤)...... ابن عمر (٥)...... حذیفہ بن اسید (٦)...... ثوبان (٧)...... مجمع (٨)...... ابو امامہ (٩)...... ابن مسعود (١٠)...... ابو نضرۃ (١١)...... سمرۃ (١٢)...... عبد الرحمان بن جبر (١٣)...... ابو الطفیل (١٤)...... انس (١٥)...... واثلہ (١٦)...... عبداللہ بن سلام (١٧)......
١٠
ابن عباس (١٨)...... اوس (١٩)...... عمران بن حصین (٢٠)...... عائشہ (٢١)...... سفینہ (٢٢)...... حذیفہ (٢٣)...... عبداللہ بن مغفل (٢٤)...... عبدالرحمٰن بن سمرۃ (٢٥)...... ابوسعید الخدری (٢٦)...... عمار (٢٧)...... ربیع (٢٨)...... الحسن (٢٩)...... عروہ بن رویم (٣٠)...... کعب (٣١) الامام جعفر رضی اللہ عنہم اجمعین
اس بڑے ذخیرہ میں سے چالیس حدیثیں تو ایسی ہیں جن کی تصحیح و تحسین محدثین نے صراحت کے ساتھ ثبت فرمادی ہے اور بقیہ کے متعلق گو صراحۃً ان سے تحسین منقول نہ ہو لیکن کوئی صاف جرح بھی ثابت نہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس پیشگوئی کا رتبہ کیا ہے؟ دعویٰ سے کہا جاسکتا ہے کہ متواتر حدیث کی جو بڑی سے بڑی مثال پیش کی گئی ہے۔ اس پیشگوئی کا پلہ کسی طرح بھی اس سے ہلکا نہیں ہے۔ پھر جب کتب سابقہ پر نظر ڈالی جائے تو یہاں انجیل بھی احادیث نبویہ کے ساتھ اس درجہ مطابق ملتی ہے کہ اس کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اور یہ یقین بدیہی بن جاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول صرف اسی شریعت کا مسئلہ نہیں بلکہ جملہ ادیان سماویہ کا ایک ایسا متفقہ عقیدہ ہے جس میں اصول دین کی طرح کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا۔
مسئلہ نزول کی حیثیت انجیل میں
پھر اس مسئلہ کی حقیقت ایک عام اور مجمل پیشگوئی کے سمجھ لینے میں کتنی بڑی فرو گذاشت ہوگی۔ انجیل متی باب ٢٤ آیت ٣ میں ہے : ”اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگردوں نے خلوت میں اس کے پاس آکر کہا ہم سے یہ کہہ کہ یہ کب ہوگا اور تیرے آنے کا اور زمانہ کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے؟۔ تب یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔ اور تم لڑائیوں اور لڑائیوں کی افواہوں کی خبر سنو گے۔ خبر دار مت گھبرائیو ! کیونکہ ان سب باتوں کا ہونا ضرور ہے۔ پر اب تک آخر نہیں ہے کہ قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھ آئے گی اور کال اور مری پڑے گی اور جگہ جگہ بھونچال
١١
آئیں گے یہ سب کچھ مصیبتوں کا شروع ہے۔“
انجیل متی باب ٢٤ آیت ٢٣ تا ٣١: ”اس وقت اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں۔ دیکھو میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے۔ پس اگر وہ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا۔ دیکھو وہ کوٹھڑیوں میں ہے تو یقین نہ کرنا کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوند کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے۔ ویسے ہی ابن آدم کا آنا ہوگا۔ جہاں مردار ہے وہاں گدھ جمع ہو جائیں گے اور فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمانوں کی قوتیں ہلائی جائیں گی اور اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور اس وقت زمین کی ساری قوتیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔“
انجیل لوقا باب ٢١ آیت ٢٦ میں اتنی زیادتی اور ہے: ”اور ڈر کے مارے اور زمین پر آنے والی بلاؤں کی راہ دیکھتے دیکھتے لوگوں کی جان میں جان نہ رہے گی............. اور جب یہ باتیں ہونے لگیں تو سیدھے ہو کر سر اوپر اٹھانا۔ اس لئے کہ تمہاری مخلصی نزدیک ہو گی۔“ انجیل مرقس ولوقا میں۔
انجیل متی باب ٢٤ آیت ٣٢، ٣٣
”اب انجیر کے درخت کی ایک تمثیل سیکھو جو نہی اس کی ڈالی نرم ہوتی ہے اور پتے نکلتے ہیں تم جان لیتے ہو کہ گرمی نزدیک ہے۔ اسی طرح جب تم ان سب باتوں کو دیکھو تو جان لو کہ وہ نزدیک ہے بلکہ دروازہ پر ہے۔“
اعمال باب ١‘ آیت ٩
”اور وہ یہ کہہ کے ان کے دیکھتے ہوئے اوپر اٹھایا گیا اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا اور اس کے جاتے ہوئے جب وہ آسمان کی طرف تک رہے تھے۔ دیکھو دو مرد سفید
١٢
پوشاک پہنے ان کے پاس کھڑے تھے اور کہنے لگے۔ اے جلیل مردو! تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو۔ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے اسی طرح جس طرح تم نے اسے آسمان کو جاتے دیکھا ہے پھر آئے گا۔“
مسئلہ نزول کی حیثیت قرآن کریم میں
خدا تعالیٰ کی سب سے آخری کتاب قرآن کریم ہے۔ جب اس پر نظر ڈالیں تو اس میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی یہی حیثیت ثابت ہوتی ہے۔ رہا ان کے رفع جسمانی کا مسئلہ تو اس کو تو قرآن کریم نے اہل کتاب کے مقابلہ میں اپنی جانب سے ایک فیصلہ کی حیثیت سے ذکر فرمایا ہے جیسا کہ آئندہ اس کی تفصیل آتی ہے : ”وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ٠ النساء آیت ١٥٩“ یعنی اہل کتاب میں کوئی ایسا نہ ہو گا جو عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے آیت بالا میں اس کی تصریح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی فوت نہیں ہوئے۔ نیز یہ کہ آئندہ زمانہ میں کسی شبہ کے بغیر اہل کتاب کو ان پر ایمان لانا ہے یہی وجہ ہے کہ ابو ہریرہؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی صحیح حدیث روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اگر اس پیشگوئی کو تم قرآن کریم کی روشنی میں دیکھنا چاہو تو آیت بالا کو پڑھ لو۔ اس کی مزید تشریح آئندہ آئے گی اور اس مغالطہ کو بھی دور کر دیا جائے گا کہ نزول کا لفظ قرآن کریم میں کیوں نہیں آیا۔ پس اگر یہ مسئلہ جو کتب سابقہ سے لے کر احادیث نبویہ اور خود کتاب اللہ میں اس تواتر کے ساتھ ثابت ہے عقائد کی فہرست میں شمار ہونے کے قابل نہیں ہے تو پھر اور کس مسئلہ کو عقائد میں شمار کیا جاسکتا ہے ؟۔ تعجب ہے کہ یہاں کتب سماویہ کو اس پر جتنا اصرار ہے ہماری مادی عقول کو اس سے اتنا ہی انکار ہے۔ فالی اللہ المشتکی
مسئلہ نزول کی اہمیت اور اصول دین سے اس کا تعلق
موجودہ دور کے مبصرین کی نظر یہاں ایک اور واضح حقیقت سے بھی چوک گئی ہے وہ صرف اس بحث میں الجھ کر رہ گئی ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی خبر صرف ایک پیشگوئی
١٣
ہے اور جس طرح دیگر پیشگوئیاں نہ صرف صداقت رسول کا ایک معیار ہوتی ہیں یہ بھی اسی نوع کی ایک پیشگوئی ہے۔ لہٰذا جو امت اس رسول کی تصدیق پہلے سے کر چکی ہے اس کے حق میں اس کی اہمیت کیا ہے؟ اور اسی غلط فہمی میں انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اصل دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کو یہ علم ہی نہیں کہ اس پیشگوئی کو ایک اصولی اہمیت بھی حاصل ہے۔ کیونکہ اہل کتاب کی دو مرکزی جماعتوں کا نقطہ ضلالت یہی پیشگوئی ہے۔
حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ :
”کتب سابقہ میں دو مسیح کی آمد کی پیشگوئی کی گئی تھی ایک مسیح ہدایت کی، جس کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے اور دوسری مسیح ضلالت کی، جس کا مصداق دجال ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو یہود بے بہبود نے ان کو تو مسیح ضلالت کا مصداق ٹھہرا لیا اور اس لئے ان کی ایذا رسانی اور قتل کے درپے رہے اور جب مسیح ضلالت ظاہر ہو گا۔ یعنی دجال تو اس کو مسیح ہدایت کا مصداق ٹھہرائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام یہود دجال کی اتباع کر لیں گے۔ اس کے برعکس نصاریٰ ہیں کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گو مسیح ہدایت کا مصداق تو مانا مگر حد سے بڑھا کر ان کو اقانیم ثلاثہ کا ایک جز بنا لیا۔ اب یہاں ان دونوں بڑی بڑی جماعتوں کو جو بسیط ارض پر پھیلی پڑی ہیں ایک مسیح کی آمد کا انتظار لگ رہا ہے یہود کو تو اس لئے کہ ان کے نزدیک مسیح ہدایت کی جو پیشگوئی کی گئی تھی اس کا ظہور ابھی باقی ہے۔ لہٰذا مسیح ہدایت کو آنا چاہئے اور نصاریٰ کو اس لئے کہ ان کے زعم میں وہی مسیح دوبارہ آکر مخلوق کا حساب لیں گے اور یہی دن قیامت کا دن ہو گا۔“
(الجواب الصحیح ص ٤٤١، ٤٨١ ج١)
اس مسئلہ پر بحث کے وقت اگر اس اہم تاریخ کو بھی سامنے رکھ لیا جاتا تو یہ واضح ہو جاتا کہ اس پیشگوئی کی حقیقت نہ صرف ایک پیشگوئی کی ہے اور نہ ایک جزئی واقعہ کی بلکہ اس کا تمام تر تعلق اصول دین کے ساتھ ہے کیونکہ رسالت اور قیامت کے دونوں مسئلے اصولی مسئلے ہیں اور اس مسئلہ کو ان دونوں سے گہرا تعلق ہے۔ یہاں یہودیوں کی یہ گمراہی کتنی اصولی گمراہی تھی کہ انہوں نے مسیح ہدایت یعنی خدا تعالیٰ کے ایک سچے رسول کو مسیح ضلالت یعنی
١٤
دجال ٹھہرا لیا تھا۔ اور نصاریٰ کی یہ گمراہی بھی کتنی اصولی تھی کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے ایک رسول کی آمد کو خدائی آمد اور اس کی آمد کے دن کو قیامت کا دن سمجھ رکھا تھا۔ ان دو اصولی غلطیوں کی اصلاح پر دنیا کی ان دو بڑی بڑی امتوں کے ایمان کا دارومدار ہے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کی آمد کی پیشگوئی کی وہی اہمیت محسوس فرمائی ہے جو کسی اصولی معاملہ کی کی جاسکتی ہے اور مسیح ہدایت اور مسیح ضلالت کی تفصیلات بیان فرمادی ہیں کہ پھر آئندہ ان دونوں کے ظہور کے وقت ان کی شناخت میں دونوں قوموں کو کوئی مغالطہ نہیں لگ سکتا یہود آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ جس کو انہوں نے ”مسیح ضلالت“ سمجھا تھا (والعیاذ باللہ !) درحقیقت وہ مسیح ہدایت تھے اور نصاریٰ کو یہ خوب ثابت ہو جائے گا کہ جس کو انہوں نے خدائے تعالیٰ کا شریک ٹھہرا لیا تھا۔ درحقیقت وہ اس کا ایک بندہ اور اس کی مخلوق تھا اور ان کی آمد قیامت کا دن نہیں بلکہ اس کی ایک بڑی علامت تھی اور ساری غلطیاں خود عیسیٰ علیہ السلام ہی کی زبان سے دور کر دی جائیں گی تا کہ اختتام عالم سے قبل اتحادِ ملل کے راستہ میں جتنی رکاوٹیں ہو سکتی تھیں وہ ایک ایک کر کے سب دور کر دی جائیں اور ملل سماویہ کی وحدت کا وعدہ پوری صفائی اور صداقت سے پورا ہو جائے :۔ ”وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلاً ۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اہمیت تاریخی نظر میں
یہ ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان انبیاء علیہم السلام میں سے نہیں ہیں۔ جن کا تذکرہ تاریخ نے محو کر ڈالا ہو بلکہ ان اولوالعزم رسولوں میں سے ہیں جن کا تذکرہ ہر دور میں بڑی اہمیت کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ اہل کتاب کے وہ بڑے بڑے گروہ ان کی ایک ایک علیحدہ تاریخ رکھتے ہیں اور خود اہل اسلام کے پاس بھی ان کی ایک منقح تاریخ موجود ہے۔ یہود کی تاریخ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو انہوں نے قتل کر ڈالا ہے۔ اس لئے ان کے نزدیک تو ان کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہ گئے نصاریٰ تو وہ ان کی دوبارہ تشریف آوری کے قائل ہیں مگر وہ اس دن کو قیامت کا دن سمجھتے ہیں اور مجمل طور پر ان کے سولی چڑھائے جانے اور زندہ ہو کر آسمانوں پر اٹھائے جانے کے بھی قائل ہیں۔
١٥
اہل اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ نہ وہ قتل ہوئے اور نہ سولی دیئے گئے بلکہ زندہ اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمانوں پر اٹھائے گئے۔ اور قیامت سے پہلے پھر اسی جسم عنصری کیساتھ تشریف لائیں گے اور مدینہ طیبہ میں جوار آنحضرت ﷺ میں وفات کے بعد مدفون ہوں گے۔ اب ایسے اولوالعزم رسول کے متعلق یہ حق کس کو پہنچتا ہے کہ وہ کوئی ایسی جدید تاریخ بنا لے جو دنیا میں کسی جماعت کو بھی مسلم نہ ہو۔ مثلاً یہ کہنا ہے کہ وہ سولی پر چڑھائے گئے پھر نیم مردنی کی حالت میں اتار لئے گئے تھے پھر کہیں جا کر اپنی طبعی موت سے مر گئے اور آخر کشمیر یا کسی اور شہر میں جا کر ایسی گمنامی کی حالت میں مدفون ہو گئے جس کی اطلاع کسی کو نہیں ہو سکی۔ اس جلیل القدر رسول کی اس جدید تاریخ کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسا آج کوئی شخص آنحضرت ﷺ کے متعلق بیان کرے کہ آپ ﷺ کی وفات اور دفن کا سب افسانہ غلط ہے بلکہ جب کفار نے آپ ﷺ کو زیادہ ستایا تو آپ ﷺ اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمانوں پر تشریف لے گئے اور آئندہ پھر تشریف لانے والے ہیں۔ کیا دنیا میں کوئی عاقل ایسا ہے جو اس رسول اعظم کی اس جدید تاریخ پر غور کرے اور اس کے دلائل سننے کے لئے تیار ہو۔ ہمارے نزدیک ایک مسلم فوت شدہ رسول کے زندہ آسمانوں پر جانے کی تاریخ میں اور ایک مسلم زندہ آسمانوں پر موجود رسول کے متعلق ان کی موت اور دفن کی جدید تاریخ میں کوئی فرق نہیں نہ وہ عقلا کے نزدیک قابل توجہ ہے نہ یہ قابل التفات ہو سکتی ہے۔
عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی اہمیت تاریخ کی نظر میں
یہ بات کتنی عجیب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام خود نبی اولوالعزم ہیں۔ ان کی امت بھی تسلسل کے ساتھ کسی انقطاع کے بغیر اب تک چلی آرہی ہے پھر ان کی موت اور ان کی قبر کا صحیح صحیح حال آج تک ان سب پر کیسے مخفی رہ گیا۔ بالخصوص یہود جو ان کے قتل کے مدعی تھے وہ اس اہم واقعہ سے کیسے غفلت اختیار کر سکتے تھے۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے مقتول ہونے کے لئے ان کی قبر کی نشاندہی ان کے لئے سب سے کھلا ہوا ثبوت تھی۔ مگر یہاں نہ تو یہود ان کی قبر کا پتہ نشان بتا سکتے ہیں اور نہ اس بارے میں نصاریٰ کے پاس ہی کوئی صحیح علم ہے از ہر
١٦
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کے درمیان جو مدت ہے وہ تقریباً چھ سو سال کی مدت ہے۔ یہ اتنی طویل مدت نہیں کہ اس میں کسی ایسی اولوالعزم تاریخی شخصیت کی قبر اتنی لاپتہ ہو جائے کہ نہ اس کے ماننے والوں بلکہ پوجنے والوں کو معلوم ہو اور نہ اس کے دشمنوں کو۔ اس امت میں نہ معلوم کتنے اولیاء اللہ گزر چکے ہیں جن کی وفات پر اس سے کہیں زیادہ مدت گزر چکی ہے مگر ان کی قبریں آج تک تازہ یادگاریں معلوم ہوتی ہیں پھر عیسیٰ علیہ السلام کی موت اور ان کی قبر کی ایسی گمنامی یہ کیسے قرین قیاس ہو سکتی ہے۔ اس سے زیادہ حیرت اس پر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تشریف لاکر ان کے حق میں کبھی موت کا ایک حرف نہیں فرمایا اور نہ ان کی قبر کا کہیں نشان بتایا۔ درآنحالیکہ یہ مسائل آپ کی آنکھوں کے سامنے زیر بحث چل رہے تھے۔ اس کے برعکس فرمایا تو یہ کہ وہ دوبارہ تشریف لائیں گے اور ابھی ان کی وفات نہیں ہوئی اور قبر بتائی تو مستقبل بعید میں اپنے پہلو کے قریب مدینہ طیبہ میں اس سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے تردید الوہیت کے موقعہ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معمولی سے معمولی حالات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ مثلاً ان کا کھانا کھانا ”كَانَا يَأْ كُلٰنِ الطَّعَامَ ٠ المائدہ آیت ٧٥“ مگر ان کی الوہیت کے خلاف جو سب سے واضح ثبوت تھا یعنی یہ کہ وہ مرچکے ہیں اس کو ایک جگہ بھی عیسائیوں کے مقابلہ میں ذکر نہیں فرمایا اور نہ کبھی آپ کی زبان مبارک سے یہ نکلا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تو مدت ہوئی وفات ہوچکی ہے۔ پھر وہ خدا کیسے ہو سکتے ہیں؟ حالانکہ بارہا عیسائیوں کے ساتھ آپ کے مکالمات ہوئے ہیں۔ پھر اس تحقیقاتی دور میں جہاں جبل ایورسٹ (Evarest) پر رسائی ہوچکی ہو فرعون کی لاش دستیاب ہوچکی ہو اور سفینہ نوح علیہ السلام کے نشانات معلوم کئے جاچکے ہوں وہاں کیا اس مقدس رسول کی قبر مخفی رہ سکتی تھی؟ ۔ ان حالات میں بھی اگر اپنی جانب سے ہم ان کی موت اور قبر کی نشاندہی کے مدعی بنتے ہیں تو تاریخی دنیا میں اس کی کیا قدر و منزلت سمجھی جا سکتی ہے۔
١٧
اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو چکی تھی تو نصاریٰ اور اہل
اسلام خاص طور پر ان ہی کی حیات کے قائل کیوں ہیں ؟
یہاں تھوڑا سا غور اس پر بھی کر لینا چاہئے کہ اگر بالفرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی تھی تو پھر تمام انبیاء علیہم السلام میں سے ایک ان ہی کی خصوصیت کیا تھی کہ ان ہی کے معاملہ میں نصاریٰ سے لے کر اہل اسلام تک ان کی حیات اور ان کے نزول کے تسلسل کے ساتھ قائل چلے آرہے ہیں۔ چلئے نصاریٰ اگر اپنی فرط عقیدت سے کسی بے اصل بات کا دعویٰ کر ڈالیں تو جائے تعجب نہیں مگر یہاں ان علماء اسلام کے لئے اس کا کیا محل ہو سکتا تھا۔ جو ہمیشہ تردید الوہیت میں سرگرم رہے ہیں بلکہ اس سلسلہ میں کسی کے قلم سے ایسے کلمات بھی نکل گئے ہیں کہ اگر کہیں اتنی بڑی تہمت ان کے سر نہ رکھی جاتی تو وہ کلمات ہرگز ان کے زیر قلم نہ آسکتے تھے پھر کسی غلطی کا اگر امکان تھا تو چلئے یہ کسی خاص فرد میں ہو سکتا تھا۔ لیکن جمہور امت اور صحابہ و تابعین پھر ائمہ دین اور مفسرین و شارحین سب ہی کا ایک بدیہی البطلان غلطی پر متفق ہو جانا کیونکر قرین قیاس مانا جاسکتا ہے۔ چلئے اگر یہ مسئلہ الہیات کے دقیق مسائل یا حیات برزخی کے بالاتر از فہم کیفیات کی طرح کوئی باریک مسئلہ ہوتا تو بھی کسی غلط فہمی کا امکان تھا۔ مگر ایک شخص کی موت وحیات کا مسئلہ تو کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہ تھا جس کے فہم میں کوئی دشواری تھی یا اس میں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش تھی یہ تو عام انسانوں سے لے کر انبیاء علیہم السلام کی جماعت تک کی ایک عام سنت بشری تھی پھر انبیاء علیہم السلام کی تمام جماعت میں سے ان ہی کی موت میں غلط فہمی کیوں پیدا ہو گئی اور حیرت در حیرت یہ کہ وہ آنحضرت ﷺ کے دور میں بھی صاف نہ ہو سکی بلکہ اور مستحکم ہوتی رہی۔ پس اگر حقیقت حال یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے تو پھر کسی تاریخ سے یہ ثبوت پیش کرنا لازم ہوگا کہ کم از کم مسلمانوں میں اس کے خلاف ان کی حیات کے عقیدہ کی بنیاد کب سے پڑی۔ لیکن یہاں تو ہم جتنا صحابہ و تابعین اور ان سے اوپر احادیث مرفوعہ کی طرف نظر کرتے چلے جاتے ہیں اتنا ہی ہم کو رفع ونزول کا ثبوت اور بہم پہنچتا چلا جاتا ہے اور
١٨
اس کے برعکس آخر میں موت کے عقیدہ کی بدعت سئیہ جس کسی فرد نے ایجاد کی ہے تاریخ انگلی رکھ کر اس کا نام و نشان بتاتی ہے اور ہمیشہ اس کو مسلمانوں کے خلاف عقیدہ کا شخص شمار کرتی ہے۔ حتی کہ اس مدت میں جو مدعی مسیحیت گزرے ہیں وہ بھی اپنے دعویٰ سے قبل تمام عمر اس بارے میں عام امت کے ساتھ ہی نظر آتے ہیں۔ یہ بات دوسری ہے کہ جب زمین ہموار ہو گئی اور انہوں نے خود مسیح ہونے کا دعویٰ شروع کیا تو پھر جس عقیدہ پر ان کی ساری عمر گزری تھی اسی کو انہوں نے مشرکانہ عقیدہ ٹھہرا دیا بلکہ اس سے بڑھ کر اس مضمون کی صحیح سے صحیح حدیثوں کے متعلق ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے کے مکروہ ترین الفاظ بھی لکھ مارے ہوں۔ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ . إِنْ يَّقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا!
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگر وفات پاچکے ہیں تو ان کے متعلق
حدیث و قرآن میں کہیں موت کا صاف لفظ کیوں نہیں
اس مقام پر یہ دقیقہ بھی قابل فروگزاشت نہیں ہے کہ ایک انسان کی موت کا واقعہ کون سا پیچیدہ واقعہ ہے جس کے بیان کرنے میں ایک معمولی سے معمولی انسان کو بھی کوئی دشواری ہو سکتی ہے۔ اگر قرآن کریم کسی ایک جگہ بھی صراحت کے ساتھ یہ لفظ فرما دیتا کہ : ”ان عیسیٰ مات“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں تو بس اسی ایک لفظ سے ساری بحثیں ختم ہو جاتیں اور بے وجہ لفظ توفی پر دفتر کے دفتر خرچ کر کے یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہ رہتی کہ توفی لغت عرب میں موت کے ہم معنی ہے۔ افسوس ہے کہ لفظ توفی کے موت کے معنی میں ثابت کرنے کے لئے تو عمریں صرف کی گئیں مگر اس پر کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی غور نہ کیا گیا جب عربی زبان میں موت کے لئے دوسرا صاف لفظ موجود تھا تو پھر یہاں موضع اختلاف میں اس صاف اور سیدھے لفظ کو چھوڑ کر ایسے مشتبہ لفظ کو کیوں اختیار کیا گیا ہے جو بڑی کاوشوں کے بعد بھی موت میں منحصر نہیں ہو سکتا۔ بالخصوص جبکہ عیسائی یہ ڈنکہ بجا رہے ہوں کہ وہ اللہ تھے۔ والعیاذ باللہ! تو کیا یہ بات سیدھی اور صاف نہ تھی کہ اللہ کا سب سے پہلا نام : ”الحیّ“ ہے اور عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں۔ سورہ آل عمران میں جو
١٩
نصاریٰ ہی کی تردید کے لئے اتری اس میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کو: ”الحی القیوم“ کہہ کر ان کی تردید کی گئی مگر ساری سورت میں ایک بار بھی عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں موت کا لفظ نہ بولا گیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا مسئلہ عام انسانوں
کی موت پر قیاس کرنا صحیح نہیں
یہ اچھی طرح واضح رہنا چاہئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا مسئلہ صرف عام انسانوں کی موت پر قیاس کر کے طے نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ عام انسانوں کی حیات و موت سے قومی تاریخ یا مذہبی عقیدہ کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس لئے یہاں طویل گمشدگی کو بھی موت کا قرینہ بنالیا جاتا ہے لیکن ایک ایسے اولو العزم نبی کی وفات کا مسئلہ جس کی حیات و موت کی بحث دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ سے چل رہی ہو پھر جس کی حیات کے واضح اور مستحکم دلائل بھی موجود ہوں اس کو صرف عام انسانوں پر قیاس کر کے کیسے طے کیا جاسکتا ہے۔ یہ بالکل اتنا ہی غیر معقول ہے جتنا کہ کسی ایسے زندہ شخص کی طویل گمشدگی سے اس کی موت کا حکم لگا دینا جس کی حیات کی شہادت معتمد اخبارات کے ذریعے بھی اور خود اس کے بیانات سے بھی مسلسل موصول ہو رہی ہو۔ یہاں کوئی عاقل ایسا نہیں ہو گا جو ان حالات میں صرف اس کی مدت سفر کے غیر معمولی طوالت کی وجہ سے اس کے ترکہ تقسیم کا دعویٰ کسی عدالت میں دائر کر سکے اور نہ کوئی عدالت یہاں اس کی وراثت کی تقسیم کا حکم دے سکتی ہے۔
خوب یاد رکھو جہاں کوئی معاملہ خاص دلائل کی روشنی میں پایہ ثبوت کو پہنچ جائے۔ وہاں صرف عام قیاسات سے کوئی حکم لگانا کھلی ہوئی غلطی ہے۔ مثلاً آج جبکہ فرعون کی لاش پختہ ثبوت کے ساتھ دریافت ہو چکی ہے تو اب محض اس بناء پر اس کا انکار کرنا کہ ایک غرق شدہ لاش کا وہ بھی سینکڑوں سال کے بعد صحیح و سالم برآمد ہونا چونکہ عام دستور کے خلاف ہے۔ اس لئے فرعون کی لاش کا برآمد ہونا بھی قابل تسلیم نہیں یا قابل یقین نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قیاس کی عقل و تاریخ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ
٢٠
علیہ السلام کی وفات کا مسئلہ بھی ہے یہاں صرف عام قیاسات اور عام دلائل پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کا معاملہ قرآن وحدیث کے واضح سے واضح اور مستقل طور پر علیحدہ بیان میں آچکا ہے۔
حیات و موت کا مسئلہ دنیا کے عام واقعات میں شامل ہے
پھر قرآن و حدیث میں اس کی اہمیت کیوں ہے؟
اس امر پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ حیات و موت دنیا کے عام واقعات میں شامل ہیں بہت سے انبیاء علیہم السلام فوت ہوئے اور بہت سے نااہل امتوں کے ہاتھوں شہید بھی ہوئے۔ اسی طرح مستقبل میں بہت سے مبارک اور نامبارک افراد و اشخاص کے ظہور کی پیشگوئیاں کی گئی ہیں۔ مگر آخر ان سب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد اور ان کی حیات کے مسئلہ کی اہمیت کیا تھی کہ کتب سابقہ سے لے کر قرآن کریم تک نے اس کے بیان و ایضاح کا اہتمام کیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی بار بار ان کے متعلق نزول کی پیشگوئی فرمائی اور اس کی اتنی تفصیلات بیان فرمائی ہیں جتنی کہ کسی اور دوسرے شخص کے متعلق نہیں فرمائیں۔ یقیناً اس کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ ان کا تعلق آئندہ زمانہ سے ابھی باقی ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی دوسرے انبیاء علیہم السلام کی طرح فوت ہوچکے ہوتے تو جس طرح ان کی موت اور سوانح موت کی تفصیلات سے سکوت اختیار کرلیا گیا تھا۔ یہاں بھی سکوت اختیار کرلیا جاتا مگر چونکہ ان کو ابھی دوبارہ تشریف لانا باقی تھا۔ اس لئے آپ نے ان کی آمد کی تفصیلات کا خاص اہتمام فرمایا ہے تاکہ جن کے متعلق پہلی بار دو بڑی قومیں گمراہ ہوچکی تھیں دوسری بار اب وہ اپنی اپنی غلطیوں کو صاف طور پر سمجھ جائیں اور اجتماعی حیثیت سے جس طرح وہ پہلی بار کفر پر جمع ہوگئی تھیں۔ اس مرتبہ ایمان پر جمع ہو سکیں اور : ”وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ٭ “ کی پیشگوئی پوری آب و تاب سے پوری ہو جائے۔ آنحضرت ﷺ کا یہ واضح اور شافی بیان جس طرح کہ اس امت پر ایک احسان عظیم ہے اسی طرح دوسری امتوں پر بھی ہے کہ ان کو صرف آپ ﷺ کے طفیل میں حضرت عیسیٰ علیہ
٢٢
السلام کی صحیح معرفت اور ان پر صحیح ایمان کا سامان میسر آگیا۔ اسی سے آنحضرت ﷺ کے فضل و برتری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ مسائل جو آج تک الجھے ہوئے چلے آرہے تھے وہ آپ ﷺ کے دور میں کس طرح سلجھتے چلے جارہے ہیں۔
نا فہم لوگ یہ کہتے ہیں کہ جن کی پہلی آمد امتوں کے فتنے کا موجب بنی ان کی دوسری آمد سے ہدایت کی کیا توقع ہو سکتی ہے؟ اور اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اس کی ذمہ داری اگر تمام تر امتوں پر عائد ہوتی ہے تو ان کی دوبارہ آمد میں خطرہ کیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ذمہ داری خود ان ہی پر عائد ہے۔ والعیاذ باللہ! تو یہ براہ راست خدا کے ایک معصوم رسول پر حملہ ہے اور صحیح معنی میں یہود کی اتباع ہے۔ ہمارے بیان سے یہ واضح ہو گیا کہ ان کی دوبارہ تشریف آوری در حقیقت اس عمیق حکمت کے اظہار کے لئے ہے کہ یہ بات عالم آشکارا کر دی جائے کہ جن کو جماعتوں نے مرکز ضلالت ٹھہرایا تھا ۔ یہ ان کی شقاوت تھی در حقیقت وہ مرکز ہدایت تھے اور اس طرح جہاں ایک طرف ان کی بزرگی ثابت ہو دوسری طرف آنحضرت ﷺ کی عظمت شان بھی ظاہر ہو۔ کہ اب جو جہان بھر کے نافہم تھے وہ آپ کے دور میں کتنے با فہم بن چکے ہیں۔
خاص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں لفظ نزول کی اہمیت
یہ امر بھی خاص طور پر قابل غور ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے اور اب وہ دوبارہ تشریف نہیں لائیں گے تو حدیثوں میں نزول کی پیشگوئی خاص اسی نام و نسبت کے شخص کے متعلق کیوں کی گئی ہے اور کیوں صاف طور پر دنیا کے دستور کے موافق اس کا وہی نام ذکر نہیں کیا گیا جو اس کا اصل نام تھا؟۔ نیز یہ سوال بھی اہم ہے کہ کسی ایک حدیث میں ان کے متعلق ولادت کا سیدھا لفظ کیوں نہیں فرما دیا گیا تاکہ یہ بات صاف ہو جاتی کہ جو شخص آئندہ آنے والا ہے وہ عام انسانوں کی طرح کسی وقت پیدا ہو گا اور وہ مسیح اسرائیل نہیں بلکہ کوئی اور دوسرا انسان ہے۔ بالخصوص جبکہ امام مہدی اور دجال جو بھی مبارک و نامبارک انسان آئندہ ظاہر ہونے والے تھے ان کے حق میں ولادت ہی کا صاف لفظ
٢٣
بولا گیا ہے اور ان کی وہی نام و نسبتیں ذکر فرمائی گئی ہیں جو ان کی اصل نام و نسبتیں تھیں۔ پس کوئی وجہ نہیں ہے کہ اگر مسیح ابن مریم در حقیقت فوت ہو چکے تھے اور ان کی بجائے کوئی اور شخص ان کا ہمرنگ اس امت میں پیدا ہونے والا تھا تو اس کے حق میں کہیں ولادت کا لفظ بولا نہ جاتا اور کسی ایک حدیث میں اس کے اصل نام و نسبت کی تصریح نہ کی جاتی اور کہیں اس کے اصل شہر اور محل پیدائش کا پتہ بتایا نہ جاتا بلکہ ہر ہر مقام پر وہی نام و نسبت وہی شہر وہی تمام صفات اور وہی حلیہ ذکر کیا جاتا جو در حقیقت مسیح اسرائیل کا تھا۔ کیا جس نام و نسبت والے شخص کے متعلق عیسائی قوم دوبارہ آمد کا انتظار کر رہی تھی اسی نام و نسبت والے شخص کی دوبارہ آمد کی پیشگوئی کر کے عیسائیوں کی کھلے طور پر تائید کرنی نہیں ہے؟۔ اس انداز بیان کا مطلب ایک سیدھی بات کو اور الجھا دینا اور ہدایت کی بجائے گمراہی میں مبتلا کرنا ہے۔ والعیاذ باللہ!
پس اگر صرف اسی ایک بات پر غور کر لیا جاتا کہ حدیثوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بار بار کیوں نزول کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور کیوں ایک مرتبہ بھی ولادت کا لفظ نہیں بولا گیا اور کیوں تمام مقامات پر اسی اسرائیلی رسول بزرگ کے نام نسبت اور شکل و شمائل کو ذکر کیا گیا ہے اور کیوں اس کا اصل نام و نسبت ذکر نہیں کیا گیا تو یہ بات بالکل صاف ہو جاتی کہ یقیناً وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنے والے ہیں جو ایک بار پہلے آ چکے ہیں اور وہ زندہ ہیں اور آئندہ زمانہ میں ان کو نازل ہونا ہے۔ حدیثوں کے اس واضح بیان کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں حدیثوں کی تاویل کرنا اور ان کو بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک پیدا ہونے والا انسان شمار کرنا ٹھیک اسی طرح تحریف ہو گا جیسا امام مہدی علیہ السلام یا دجال کے بارے میں ولادت کے صاف لفظ مذکور ہو جانے کے باوجود یہ دعویٰ کرنا کہ امام مہدی علیہ السلام اور دجال بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح آسمان سے نازل ہوں گے۔ پس جس طرح امام مہدی علیہ السلام کے حق میں ان کے نزول کی بجائے امت کو ان کی ولادت ہی کا انتظار ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ان کی پیدائش کی بجائے ان کے اترنے ہی کا انتظار ہونا چاہئے۔ ہم کو اس کا کوئی حق نہیں کہ حدیثوں میں جہاں صاف طور پر نزول کا صاف لفظ آ چکا ہے۔ وہاں! اس کے معنی ولادت کے
٢٤
اور جہاں ولادت کا صاف لفظ وارد ہے۔ اس کے معنی نزول کے کر ڈالیں۔
غیر مؤقت پیشگوئیوں کا انکار یا تاویل دونوں خطرناک اقدام ہیں
جو پیشگوئیاں مؤقت نہیں ہیں ان کے متعلق قبل از وقت تھک کر یہ کہنا کہ مسلمانوں کا مسیح و مہدی جب آج بھی نہ آیا تو آخر کب آئے گا؟۔ بالکل کفار کے اس قول کے مشابہ ہے جو انہوں نے انبیاء علیہم السلام کے مقابلہ میں قیامت کے بارے میں کہا تھا : ”وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ ٠ قُلْ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا ٠ بنی اسرائیل آیت ٥٠“ حقیقت یہ ہے کہ اسلام چونکہ قیامت تک باقی رہنے والا مذہب ہے۔ اس لئے اس کی پیشگوئی کا دامن بھی قیامت تک وسیع رہنا چاہئے۔ بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں پوری ہو چکیں پھر کچھ حصہ ہے جو صحابہ کے زمانہ میں پورا ہوا۔ اس کے بعد اسی طرح ہر دور میں ان کا ایک ایک حصہ پورا ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ پورے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ زمانہ کا کوئی دور خالی نہیں گزرا جس میں آپ کی پیشگوئی کا کوئی نہ کوئی حصہ آنکھوں کے سامنے نہ آتا رہا ہو۔ ٤٧ء میں ہنگاموں کی سرگذشت بہت مختصر اور جامع الفاظ میں اگر آپ کو پڑھنی ہو تو آپ ان الفاظ میں پڑھ لیجئے۔ جو صحیح مسلم میں موجود ہیں ”ایک زمانہ آئے گا جس میں ایسی جنگ ہوگی کہ قاتل کو یہ حس نہ ہوگی کہ وہ کیوں قتل کر رہا ہے اور مقتول کو یہ علم نہ ہو گا کہ وہ کس جرم میں قتل کیا جا رہا ہے۔ ہم نے آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ان ہنگاموں میں قتل کا یہی نقشہ تھا کہ ایک انسان دوسرے انسان اور ایک جماعت دوسری جماعت کے قتل کے درپے تھی اور کسی کو اس تحقیق کی ضرورت نہیں تھی کہ یہ اس کا موافق ہے یا مخالف، قتل کرنے والا کس گناہ میں دوسرے کو قتل کر رہا ہے اور مقتول کیوں مفت مارا جارہا ہے؟۔
خلاصہ یہ کہ آپ ﷺ کی پیشگوئیوں کو صرف گزشتہ زمانہ میں ختم کر دینا اور مستقبل میں پوری ہونے والی پیشگوئیوں کا قبل از وقت انتظار کر کر کے تھک جانا اور ان کے انکار پر آمادہ ہو جانا در حقیقت یہ آپ ﷺ کی عموم بعثت کا انکار ہے کیونکہ اگر آپ ﷺ کی
٢٥
بعثت قیامت تک کے لئے ہے تو پھر اس کی صداقت کے نشانات بھی دنیا کے ہر دور کے انسان کے سامنے آنے چاہئیں۔ اسی لئے قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ کی پیشگوئیاں آپ ہی کی حیات طیبہ میں پوری ہوں گی۔ بلکہ بعض یعنی کچھ کا لفظ فرمایا ہے :
” وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ٠ یونس آیت ٤٦“
” وَإِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ٠ وَإِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ ٠ المؤمن آیت ٢٨“
اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی آپ قبل از وقت انتظار کر کے خود بخود تھک جائیں اور پھر صریح حدیثوں کی ایسی ایسی تاویلیں کرنے کے لئے مجبور ہو جائیں جو دنیائے عالم میں قابل مضحکہ اور سارے دین میں شبہ کا باعث بن جائیں کیونکہ جب دین کے ان واضح الفاظ کی یہ حقیقت ثابت ہو تو پھر کیا اطمینان کیا جا سکتا ہے کہ ذات و صفات اور حشر ونشر اور جنت و دوزخ کے واضح الفاظ کی صحیح حقیقتیں کیا ہوں گی اور اس طرح پورے کے پورے دین پر کیا اطمینان باقی رہ سکتا ہے ؟۔
قرآن کریم میں نزول کا مسئلہ بھی رفع جسمانی کی طرح
صاف طور پر کیوں ذکر میں نہیں آیا
قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور مقتول نہ ہونے کا تذکرہ صرف یہود کے اسباب لعنت کے بیان کے ضمن میں آ گیا ہے۔ اس ضمن میں قرآن شریف نے یہ نقل کیا ہے کہ یہود واقعہ کے خلاف ان کے قتل کرنے کے مدعی ہیں اور نصاریٰ گو بہت سی بے تحقیق باتیں بناتے ہیں مگر اجمالاً ان کے رفع کے قائل ہیں۔ اس لئے یہاں قابل توجہ صرف یہی مسئلہ تھا کہ وہ مقتول ہوئے یا نہیں اور اگر مقتول نہیں ہوئے تو آسمان پر اٹھائے گئے یا نہیں۔ رہا ان کے نزول کا مسئلہ تو وہ کسی مقام پر بھی زیر بحث نہیں آیا۔ پھر ہم کو کسی آیت سے ثابت نہیں ہوتا کہ نزول یا عدم نزول کا
٢٦
مسئلہ کبھی اہل کتاب نے آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا تھا۔ لہذا جب یہ مسئلہ کہیں آپ کے سامنے زیر بحث ہی نہیں آیا اور نہ قرآن کریم ہی کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا تو اب صراحت کے ساتھ نزول کا لفظ ذکر ہوتا تو کیسے ہوتا۔ ہاں! اگر نزول کا مسئلہ بھی اس وقت کہیں زیر بحث آجاتا تو جس طرح یہاں رفع کا لفظ صراحت کے ساتھ مذکور ہوا تھا۔ نزول کا لفظ بھی یقیناً اسی طرح صراحت کے ساتھ ذکر ہو جاتا لیکن جب یہ مسئلہ کہیں زیر بحث آیا ہی نہیں تو اب قرآن کریم میں صراحۃً لفظ نزول کا مطالبہ کرنا کتنی بڑی بے انصافی ہے اور اگر بالفرض یہ لفظ مذکور ہو بھی جاتا جب بھی حیلہ جو طبیعتوں کو فائدہ کیا تھا؟۔ آخر صحیح سے صحیح حدیثوں میں یہ لفظ بار بار آیا اور آنحضرت ﷺ کی جانب سے قسموں کے ساتھ آیا مگر پھر ان کو کیا فائدہ ہوا؟۔
پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول یعنی آمد ثانی کا مسئلہ خواہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو مگر اس وقت وہ زیر بحث ہی نہ تھا ہاں قومی تاریخ کے لحاظ سے جو فرقہ ان کے رفع جسمانی کا قائل تھا وہ ان کی آمد ثانی کا بھی منتظر تھا اور اب تک ہے اور جو ان کے قتل کا مدعی تھا ان کے نزدیک ان کی آمد ثانی محل بحث ہی کیا ہو سکتی تھی۔ پس اگر یہاں قرآنی فیصلہ ان کے رفع کا ہو جاتا ہے تو ان کے نزول کا مسئلہ خود بخود ثابت ہو جاتا ہے اور اگر تحقیق یہ ہو کہ وہ مقتول ہو گئے (والعیاذ باللہ) تو پھر ایک شخص کے دوبارہ آمد کی بحث ہی پیدا نہیں ہو سکتی۔ لہذا اگر قرآن کریم کی کسی آیت میں رفع کے صاف لفظ کی طرح نزول کا لفظ مذکور نہیں تو اس سے مسئلہ نزول کی اہمیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا پھر خاص نزول کا لفظ مذکور ہونا ہی کیوں ضروری ہے؟۔ جبکہ قرآن کریم یہ تصریح کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ابھی وفات نہیں پائی اور قیامت سے پہلے تمام اہل کتاب کو ان پر ایمان لانا باقی ہے اور ظاہر ہے کہ جو شخص زندہ آسمان پر اٹھایا گیا ہے اور ابھی تک اس کو موت نہیں آئی ضرور ہے کہ وہ زمین پر نازل ہو۔ تاکہ اہل کتاب ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ان پر ایمان لے آئیں اور وہ اپنی مقررہ مدت عمر پوری کر کے دنیا کی آنکھوں کے سامنے وفات پا کر مدفون ہوں۔ اسی لئے حضرت ابو ہریرہؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی حدیث روایت کر کے فرماتے ہیں کہ اگر اس پیشگوئی کو تم قرآن کریم کے الفاظ میں دیکھنا چاہو تو سورہ نساء کی یہ آیت پڑھ لو : ”وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ
٢٧
اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۔“
آیت بالا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے لئے جو سب سے زیادہ صاف اور واضح لفظ ہو سکتا تھا وہ قبل موتہ کا لفظ ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ جس زندہ شخص کی اب تک وفات ثابت نہیں ہوئی اس کی حیات کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت کیا ہے۔ یہاں جو شخص ان کی موت کا مدعی ہو یہ فرض اس کا ہے کہ وہ ان کی موت ثابت کرے۔ پھر آیت بالا میں خاص اہل کتاب کے ایمان کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل اسلام کو ان پر اس وقت بھی صحیح ایمان حاصل ہے۔ لہٰذا جن کا ایمان لانا قابل ذکر ہو سکتا تھا وہ صرف اہل کتاب کا ایمان ہے۔ اب اگر فرض کر لو کہ اہل اسلام بھی نصاریٰ کی طرح ان کے سولی پر چڑھنے کو تسلیم کرتے ہوں یا یہود کی طرح ان کے مردہ ہونے کے قائل ہوں تو پھر اہل اسلام کا ایمان بھی ان پر صحیح ایمان نہیں رہتا۔ اہل کتاب اگر اس بارے میں ایک غلطی پر ہیں تو اہل اسلام بھی دوسرے اعتبار سے غلطی میں مبتلا ہیں پھر اس تخصیص کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ قرآن کریم نے جہاں ان کی موت کی صاف نفی فرما کر یہ بتایا ہے کہ ابھی آئندہ زمانہ میں اہل کتاب کو ان پر ایمان لانا باقی ہے اسی طرح دوسری طرف یہ بھی تصریح کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان پر شہادت دینا باقی ہے۔ ان دونوں باتوں کے لئے ان کی تشریف آوری لازم ہے کیونکہ شہادت شہود سے مشتق ہے۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام جب تک کہ پھر تشریف لا کر ان میں موجود نہ ہوں ان پر گواہی کیسے دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے : ”وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّادُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ اَنتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۔ المائدہ آیت ١١٧“ یعنی میں ان پر گواہ تھا جب تک کہ میں ان میں موجود رہا اور جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگران حال تھا۔
آیت بالا سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر دو زمانے گزرے ہیں ان میں سے آپ کی شہادت کا زمانہ صرف وہ ہے جس میں کہ آپ ان کے اندر موجود تھے اور دوسرا زمانہ جس میں کہ آپ ان میں موجود نہ تھے۔ وہ آپ کی شہادت سے خارج ہے۔ پس آئندہ اہل کتاب پر آپ کی شہادت کے لئے دوبارہ آپ کی تشریف آوری ضروری ٹھہری۔
٢٨
اسی لئے حضرت ابو ہریرہؓ اس آیت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی دلیل فرماتے ہیں۔ حیرت ہے کہ یہ صحابی جلیل القدر تو نزول کی پیشگوئی کو قرآنی پیشگوئی کہتا ہے ایک بدنصیب جماعت وہ ہے جو اس کو حدیثی پیشگوئی بھی کہنے کو تیار نہیں: ”وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهُ نُورًا فَمَالَهُ مِنْ نُّورٍ ۔“
قرآن کریم کے رفع جسمانی اور حدیث کے نزول جسمانی
کے اہتمام فرمانے کی حکمت
حجیت حدیث کے مضمون میں ہم یہ بات پوری وضاحت سے لکھ چکے ہیں کہ حدیث و قرآن کے مابین متن و شرح کی سی نسبت ہے۔ آیات قرآنیہ اور تشریحات حدیثیہ پر آپ جتنا غور کرتے چلے جائیں گے۔ یہ حقیقت آپ کو اتنی ہی روشن ہوتی چلی جائے گی۔ اسی لئے آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ جہاں کہیں قرآن کریم کسی مصلحت کے پیش نظر کسی مسئلہ کا ایک پہلو اپنے بیان میں لے لیتا ہے تو فوراً اس کا دوسرا پہلو حدیث لے لیتی ہے اور اس طرح مسئلہ کے دونوں پہلو صاف ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور در حقیقت حدیث کے بیان کہلانے کا منشاء بھی یہی ہے۔ مثلاً جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے صنف رجال میں ایک تباہ کن فاحشہ کی بنیاد ڈالی تو قرآن کریم نے اس عمل کی حرمت کا تذکرہ بھی صرف رجال یعنی مردوں ہی میں فرمایا اور صنف نساء میں بے وجہ اس عمل کی حرمت پر زور دینا اپنے انداز بلاغت کے خلاف سمجھا۔ ظاہر ہے کہ جب اس ماحول میں اس نوع کا وجود ہی نہ ہو تو پھر اس کا تذکرہ کر کے خواہ مخواہ ذہنوں کو اس طرف متوجہ کیوں کیا جائے لیکن چونکہ شرعی نظر میں ان دونوں عملوں کی حرمت یکساں تھی۔ اس لئے حدیث نے صنف نساء میں اس کی حرمت کا اسی شدومد سے اعلان کیا جس طرح کہ قرآن کریم نے صنف رجال میں اس کی حرمت کا اعلان کیا تھا اور اس طرح دونوں صنفوں کے احکام وضاحت سے ہمارے سامنے آگئے۔ ہمارے اس بیان سے یہ سوال بھی حل ہو گیا کہ اس عمل کے حرمت کی قرآن کریم میں صنف رجال کی تخصیص اور حدیث میں صنف نساء کی تخصیص کا سبب کیا ہے؟۔ اسی طرح
٢٩
سماوی عذر کے ایام میں صنف نساء کے ساتھ حدود اعتزال اور اختلاط کا مسئلہ ہے۔ یعنی اس زمانہ میں عورتوں سے کسی حد تک الگ رہنا چاہئے اور کہاں تک ان سے اختلاط رکھا جاسکتا ہے۔ یہاں یہود نے تو اجتناب نجاسات کے باب میں اتنا مبالغہ کر رکھا تھا کہ ان ایام میں وہ اپنے گھروں میں بھی داخل نہ ہوتے تھے اور نصاریٰ نے اتنی لا پرواہی اختیار کر لی تھی کہ نجاسات سے اجتناب کرنے کا ان کے ہاں باب ہی ندارد تھا۔
(الجواب الصحيح ج ١ ص ٢٣٢)
جب اس مسئلہ کے متعلق آنحضرت ﷺ سے سوال ہوا تو چونکہ یہاں قرآن کریم نے اپنے بیان میں اعتزال کا پہلو لے لیا تھا اور یہی ضعف بشری کے مناسب بھی تھا اور صاف فرما دیا تھا کہ : ”فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ٠ البقره آیت ٢٢٢“ ان ایام میں عورتوں سے الگ رہو تو اس کے جواب میں آپ نے اپنے قول و عمل سے فوراً حدود اختلاط بیان فرمائے۔ صحیح مسلم ج ١ ص ١٤٣ میں ہے کہ جب آیت : ”فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ٠“ نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ”اصنعوا كل شئى الا النكاح .“ یعنی ان ایام میں ہم بستری کے علاوہ سب کچھ جائز ہے۔ اب اندازہ فرمائیے کہ قرآن کریم نے تو لفظ اعتزال کا فرمایا تھا پھر آپ ﷺ نے اس کی تشریح میں حدود اختلاط کیوں بیان فرمائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدود اعتزال اس وقت تک معین ہی نہیں ہو سکتی تھیں جب تک کہ حدود اختلاط بیان میں نہ آجائیں : ”وبضد ھا تبین الاشیاء .“ لہٰذا یہاں وہ حدیثیں جو ان ایام میں امہات المومنین کے ساتھ آپ کے اختلاط کے متعلق روایت کی گئی ہیں۔ اسی روشنی میں پڑھنی چاہئیں تاکہ یہ بات پورے طور پر حل ہو جائے کہ ان میں آپ نے اس تاکید کے ساتھ اس کی عملی وضاحت کی کیا ضرورت سمجھی تھی۔ غرض جہاں بھی قرآن کریم نے مسئلہ کے عموم کے باوجود کسی وقتی مصلحت سے اس کا ایک پہلو بیان میں لے لیا ہے وہاں اس کا دوسرا پہلو فوراً حدیث نے لے لیا ہے اور در حقیقت حدیث کے بیان ہونے کا یہی منشاء بھی ہے۔ اسی مقام سے حدیث کی اہمیت اور اس کی ضرورت کا اندازہ کر لینا چاہئے۔
اس مقدمہ کے ذہن نشین کر لینے کے بعد جب آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس معاملہ پر غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ جب قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ
٣٠
السلام کے رفع کا مسئلہ وضاحت سے آچکا تھا تو یہاں حدیث کا فرض بھی ہونا چاہئے کہ وہ اس ضابطہ کے ماتحت رفع کے بعد نزول کا مسئلہ جو اس کا دوسرا پہلو ہے پورے طور پر روشن کر دے۔ اسی لئے نزول کا دوسرا پہلو حدیثوں میں اتنی تفصیل و تاکید سے قسمیں کھا کھا کر بیان کیا اور اس کو مختلف صحابہ اور مختلف مجلسوں میں پیرایہ بہ پیرایہ اتنا واضح فرمادیا کہ ایک طرف تو عیسیٰ علیہ السلام کے نزول میں کسی شبہ کا محل باقی نہیں رہا۔ دوسری طرف قرآن کریم کے لفظ رفع کی ایسی تشریح ہو گئی کہ اب اس میں ادنیٰ سا ابہام بھی باقی نہ رہا۔ اب آپ قرآنی لفظ رفع اور حدیث کے لفظ نزول کو جتنا ملا ملا کر پڑھیں گے اتنا ہی ان کے رفع جسمانی اور نزول جسمانی کا مسئلہ آپ کے سامنے کھلتا چلا جائے گا۔ کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ جو شخص جسم کے ساتھ اترے گا وہ یقیناً جسم ہی کے ساتھ اٹھایا گیا ہے اور جو جسم کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔ اس کو یقیناً دوبارہ اپنے جسم ہی کے ساتھ اترنا چاہئے۔
اب یہ عقیدہ بھی حل ہو گیا کہ حدیثوں میں جس کثرت کے ساتھ نزول کا تذکرہ ملتا ہے۔ اس کثرت کے ساتھ رفع جسمانی کا تذکرہ کیوں نہیں ملتا اور اسی طرح قرآن کریم میں جس صراحت کے ساتھ رفع جسمانی کا تذکرہ ملتا ہے۔ اس صراحت کے ساتھ نزول کا تذکرہ کیوں نہیں ملتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب قرآن کریم ان کے رفع کی تصریح فرما چکا تھا تو اب حدیث کی نظر میں یہ مسئلہ تو ایک طے شدہ مسئلہ تھا۔ اس کے تکرار کی ضرورت کیا تھی۔ اس لئے حدیثوں میں اس کے دوسرے پہلو پر یعنی نزول پر زور دیا گیا اور اسی پہلو پر زور دینا مناسب بھی تھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جتنی تفصیلات ثابت ہو چکی ہیں
کیا اس کے بعد بھی یہاں تاویل کرنا معقول ہے؟!!!
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ ہر ممکن تشریح کے ساتھ معرض بیان میں آچکا ہے۔ یعنی آپ کا اسم مبارک آپ کا نام و نسب اور اس خاص نسب نامہ کی خصوصیت یعنی صرف ماں سے آپ کی پیدائش آپ کا حلیہ مبارک۔ اس شہر کا نام جہاں آپ کا نزول ہو گا
٣١
اور پھر خاص اس جگہ کا نام بھی جہاں آپ کا نزول ہو گا۔ نزول کا وقت اور اس وقت آپ کا مکمل نقشہ۔ نزول کے بعد پہلی نماز میں آپ کا امام یا مقتدی ہونا۔ آپ کا منصب۔ آپ کی خدمات مفوضہ۔ آپ کی مدت قیام۔ آپ کے دور کی محیر العقول فراوانی اور عدل وانصاف۔ آپ کی زندگی کے اہم کارنامے‘ آپ کی شادی کرنا اور اولاد ہونا حتیٰ کہ آپ کا وفات پانا اور آپ کے مدفن کی مکمل تحقیق۔ اب انصاف سے فرمائیے کہ اس مسئلہ کے سمجھنے کے لئے آپ کو اور کن تفصیلات کا انتظار ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کسی واقعہ کی تعیین وتشریح کے لئے اس سے زیادہ آخر اور کیا طریق اختیار کیا جائے۔ آج دنیوی مقدمات میں صرف مدعی اور مدعی علیہ اور ان کے باپ دادوں کے نام ان کی تعیین کے لئے کافی سمجھے جاتے ہیں اور آئندہ مقدمہ کی تمام کارروائی اسی معین شدہ شخص سے متعلق سمجھی جاتی ہے اسی طرح خطوط‘ بیمے۔ منی آرڈر اور رجسٹریاں وغیرہ صرف شہر اور اس شخص کے نام لکھ دینے سے اس کو تقسیم کر دی جاتی ہیں۔ حیرت ہے کہ جب دنیا کے ہر چھوٹے بڑے شعبہ میں معمولی درجہ کی تعیین کافی سمجھی جاتی ہے تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں اتنی مفصل تاریخ کیوں ناکافی ہے؟۔ اچھا فرض کر لیجئے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ آپ خود اپنی عبارت میں ادا کرنا چاہیں تو آخر آپ وہ اور کس طرح ادا کریں گے کہ اس کے بعد اس میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ اگر در حقیقت اس پیشگوئی کا مصداق رسول اسرائیل کی بجائے خود اسی امت کا کوئی فرد ہو جو اسی امت میں پیدا ہونے والا ہو جس کا نہ یہ نام ہو‘ نہ یہ نسب نامہ‘ نہ یہ حلیہ‘ نہ یہ جائے نزول‘ نہ یہ منصب اور نہ یہ کارنامے تو کیا اس بیان کو ایسے شخص کے حق میں ایک گمراہ کن بیان نہ کہا جائے گا۔ کیا آج کسی شخص کی پیدائش کا معمولی مسئلہ کوئی ادنیٰ زبان داں شخص بیان کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اسی طرح اس کو مجاز واستعارہ کی بھول بھلیاں میں ادا کرے گا۔ چہ جائیکہ ایک رسول اور رسول بھی جو افصح العرب والعجم ہو۔ پس اگر دنیوی معاملات میں بادشاہوں سے لے کر فقراء اور اولیاء سے لے کر رسولوں تک کی پیدائش کے لئے یہ لفظ استعمال نہیں کئے جاتے تو پھر مجاز واستعارہ کی یہ ساری رام کہانی خاص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیوں گائی جاتی ہے۔
٣٢
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں سب سے زیادہ اہم لفظ رفع
کا ہے توفی کا لفظ قرآن کریم کی نظر میں اتنا اہم نہیں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں سورہ آل عمران میں تین لفظ استعمال فرمائے گئے ہیں۔ توفی‘ رفع الی اللہ اور تطہیر اور سورہ نساء میں جہاں ان کے مقدمہ پر خاص طور پر بحث کی گئی ہے۔ وہاں صرف رفع الیٰ اللہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ان تینوں الفاظ میں تطہیر کا لفظ توفی و رفع کے تابع ہے کیونکہ کفار سے ان کی تطہیر کا مقصد ان سے ان کی علیحدگی تھی اب وہ خواہ کسی صورت سے بھی ہو اس لئے قابل بحث دو ہی لفظ ہیں۔ توفی‘ رفع الی اللہ ان دو میں سے جس لفظ کو ان کے مقدمہ میں بصیغہ ماضی ذکر کیا گیا ہے۔ وہ صرف لفظ رفع کا ہے جس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ توفی اور رفع کے دو وعدوں میں سے رفع کا وعدہ تو آنحضرت ﷺ کے دور سے پہلے پہلے پورا ہو چکا تھا اور اسی لئے اس کو بصیغہ ماضی ادا فرمایا گیا ہے اور کسی آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ توفی بمعنے موت کا وعدہ بھی اس وقت پورا ہو چکا تھا۔ اس لئے اس کو بصیغہ ماضی ذکر نہیں فرمایا گیا۔ ہاں! سورہ مائدہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی زبان سے توفی کا لفظ گو بصیغہ ماضی استعمال کیا گیا ہے۔ مگر حسب تصریح قرآن کریم وہ ان کے مقدمہ کے ذیل میں نہیں ہے بلکہ اس سوال کے جواب میں ہے جو محشر میں ان سے ہو گا اور ظاہر ہے کہ قیامت سے قبل ان کی موت واقع ہونا سب کو مسلم ہے لیکن جہاں قرآن کریم نے ان کے مقدمہ پر بحث کی ہے اور ان کے معاملہ کے انکشاف کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ وہاں صرف لفظ رفع ہی استعمال فرمایا ہے اور توفی کا لفظ ذکر نہیں فرمایا جیسا کہ سورہ نساء میں ہے : ” وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْناً ۔ بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ ۔ آیت ١٥٧“ یہ بات یقینی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اگر توفی کے معنے موت ہوتے اور ان کی موت واقع ہو چکی ہوتی تو ضروری تھا کہ یہاں : ”بل توفاہ الیہ ۔“ فرمایا جاتا۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں اصل فیصلہ کن لفظ رفع کا ہے اسی لئے مقدمہ کے
فیصلہ میں خاص طور پر اسی لفظ پر زور دیا گیا ہے اور توفی کے لفظ کو اہمیت نہیں دی گئی۔ اس لئے یہاں جنہوں نے لفظ توفی کی لغوی تحقیق پر اپنا وقت خرچ کیا ہے وہ بالکل ضائع کیا ہے کیونکہ توفی خواہ کسی معنی میں بھی مستعمل ہو مگر قرآن کریم نے اپنے فیصلہ میں اس کو کوئی اہمیت نہیں دی کیا یہ امر قابل غور نہیں ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی تھی تو آخر ہر مقام پر اس حقیقت کا اخفاء کیوں کیا گیا ہے اور کیوں صاف الفاظ میں یہ نہیں فرما دیا گیا :” وماقتلوہ یقینا بل مات . “
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ پوری تفصیلات کے ساتھ
زیر بحث آچکا ہے یہاں ان کے معاملہ میں ایک ایک لفظ پر
علیحدہ بحث کرنا معقول نہیں
یہ بات بھی بڑی اہمیت کے ساتھ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ معاملہ قدرے مشترک طور پر ایک قوی تواتر رکھتا ہے کتب سابقہ سے لے کر قرآن کریم اور احادیث نبویہ تک اس کے جزئی جزئی واقعات کی تفصیل آچکی ہے۔ یہاں کتب لغت اٹھا کر صرف نزول یا صرف لفظ رفع یا صرف توفی کے الفاظ پر علیحدہ علیحدہ بحث کرنی صرف ایک بے معنی بحث ہے بلکہ ایک حقیقت کے مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ سیدھی بات یہ ہے کہ ان کے بارے میں جتنے تفصیلی واقعات معرض بیان میں آچکے ہیں ان کی روشنی میں ان الفاظ کے معنی متعین کئے جائیں کیونکہ الفاظ صورت واقعہ کے بغیر ایک وسیلہ ہوتے ہیں۔ یہاں واقعہ سے قطع نظر کر کے الفاظ میں مجاز و استعارہ کی بے وجہ بحث کھڑی کر دینی حد درجہ غیر معقول ہے۔ پس کسی لفظ کے معنی حقیقی یا مجازی متعین کرنے کے لئے صرف لغت کی عام بحث شروع کر دینی صحیح طریقہ نہیں بلکہ پہلے اس کے استعمال کا محل اور دوسرے قرائن اور خارجی حالات پر نظر ڈالنی بھی ضروری ہے۔ مثلاً لفظ اسد عربی زبان میں اس کے معنے ”شیر“ ہیں اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ عربی اردو محاورات میں ایک بہادر شخص کو بھی
٣٤
مجازاً شیر کہہ دیتے ہیں۔ اب کسی سے صرف ”ھذا اسد“ کا جملہ سن کر یہی رٹ لگائے جانا کہ اس جملہ کا مقصد صرف کسی بہادر شخص کی طرف اشارہ کرنا ہے اور اس محاورہ کے لئے دواوین عرب اور شعراء کے کلام سے استدلال کرتے چلے جانا کتنی بڑی غلطی ہے۔ بسا اوقات اس کے متکلم کے لئے باعث ہلاکت بھی بن سکتی ہے۔ یہاں اس بحث سے پہلے یہ تحقیق کرنی ضروری ہو گی کہ یہ جملہ کس مقام پر کہا گیا ہے۔ بستی میں‘ یا جنگل میں‘ کسی عام مجمع میں‘ یا کسی بیابان میں سیاق کلام کسی کی مدح و ثناء کا ہے یا خوف و ہراس کا‘ اب اگر یہ جملہ جنگل میں کسی شخص کی زبان سے نکلتا ہے جس کے سامنے شیر کھڑا ہے۔ اس کی آواز کانپ رہی ہے اور جسم لرز رہا ہے تو اس وقت انصاف فرمائیے کہ لفظ ”اسد“ کے مجازی معنی یعنی بہادر انسان مراد لینا اور اس کے لئے ہزاروں اشعار پڑھ ڈالنا اور یہی کہے چلے جانا کہ اس شخص کی مراد شیر نہیں بلکہ ایک بہادر انسان کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ کیا ایک صحیح العقل انسان کا کام ہو سکتا ہے؟۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زیر بحث معاملہ میں بھی ان تمام تفصیلات کو پیش نظر رکھنا لازم ہے جو صحیح طریقوں سے ثابت ہیں پھر جب اس طرف بھی نظر کی جائے گی کہ قرآن و حدیث میں جو جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ وہ الفاظ کسی دوسرے شخص کے حق میں بیک وقت آج تک استعمال نہیں کئے گئے تو یقیناً یہ ماننا پڑے گا کہ ان کا معاملہ ہی سب سے جداگانہ معاملہ ہے۔ چنانچہ لفظ توفی اور رفع کا علیحدہ علیحدہ استعمال قرآن کریم میں آپ کو بہت جگہ نظر آئے گا لیکن ایک ہی شخصیت کے بارے میں یہ دونوں لفظ ایک ہی سیاق میں کسی دوسری شخصیت کے متعلق آپ کو کہیں نظر نہیں آئیں گے۔ سورہ آل عمران میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں یہ ہر دو لفظ اس طرح سے فرمادیئے گئے ہیں: ”يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ۔ آل عمران آیت ٥٥“ ان کے علاوہ کسی کے حق میں ان دونوں لفظوں کو جمع نہیں کیا گیا۔ اسی طرح نزول کا لفظ بھی محاورات میں بہت جگہ آپ کی نظروں سے گزرے گا لیکن نزول کے ساتھ رفع اور رفع کے ساتھ نزول‘ پھر نزول کی اتنی تفصیلات کسی ایک مقام پر بھی کسی کے حق میں آپ کی نظروں سے نہیں گزریں گی نہ کسی لغت میں‘ نہ شعراء کے کلام میں‘ نہ کسی آیت میں اور نہ کسی حدیث میں۔ پس جب آپ ان جملہ امور ٣٥
پر غور کریں گے کہ حدیث و قرآن میں جو الفاظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں ایک جگہ جمع کر دیئے گئے ہیں۔ وہ کسی بشر کے لئے بیک وقت ایک جگہ جمع نہیں کئے گئے تو پھر صرف ایک یہی نتیجہ بدیہی ہو کر آپ کے سامنے آجائے گا کہ ان کا معاملہ بھی یقینا سب سے الگ معاملہ ہے۔ یہاں ایک ایک لفظ کو علیحدہ علیحدہ لے کر بحث کرنا یا اس میں مجاز و استعارہ کی آڑ لینا کتنا بیجا ہے؟ سوال سیدھا یہ ہے کہ جس شخص کے بارے میں قرآن و حدیث میں بیک وقت یہ سب الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور اسی کے ساتھ اس کے یہ تفصیلی سوانح حیات بھی موجود ہیں۔ کیا اس کے بعد بھی ان میں لغوی موشگافیوں اور مجاز و استعارہ کی تاویلات کی گنجائش نکل سکتی ہے؟۔
اسلام صرف علمی مذہب نہیں بلکہ سلف صالحین سے اس کی عملی
صورت بھی منقول چلی آتی ہے۔ لہذا محض کتب لغت کی حدود سے
اس کی کوئی اور شکل بنا لینا درست نہیں
یہ بات بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اسلام صرف ایک علمی مذہب نہیں ہے جس کو صرف دماغی کاوشوں نے پیدا کیا ہو بلکہ وہ ایک مجموعی شکل و صورت کے ساتھ عملاً بھی منقول ہوتا چلا آیا ہے۔ ہمارے دین کا تمام تر تعلق اوپر سے ہے ہم نیچے سے کسی نئے دین تراشنے کے مجاز نہیں۔ اس کے بانی آنحضرت ﷺ تھے آپ سے صحابہؓ نے اس کے شعبہ اعمال اور اس کے بنیادی عقائد بھی سیکھے۔ آپ ﷺ نے ان پر خود بھی ایمان رکھا اور ان ہی پر بعد کی امت کو ایمان رکھنے کی وصیت فرمائی اور پھر کسی درمیانی انقطاع کے بغیر اسی طرح دین سپرد ہوتا رہا ہے۔ ادھر حفاظت الٰہیہ کا یہ عجیب کرشمہ تھا کہ بحث و تمحیص کا جو مرحلہ تھا وہ سب تبع تابعین کے ماحول ہی میں ختم ہو چکا تھا۔ یہ وہ قرن ہے جس کے متعلق خیریت کی شہادت خود لسان نبوت سے نکل چکی ہے۔ اس لئے جب کسی دین کے مسئلہ پر بحث کی جائے تو اس کو محض دماغی کاوش اور لغت کی مدد سے از سر نو شروع کر دینا ایک بنیادی غلطی
٣٦
ہے ۔ یہاں ریسرچ کے اصول کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ کام خود انبیاء علیہم السلام کا بھی نہیں اس کو قدرت نے براہ راست خود اپنے ہی دست قدرت میں رکھا ہے۔ ان کی بھی مجال نہیں کہ حکم ایزدی کے بغیر وہ ایک نقطہ کا اضافہ یا ایک نقطہ کی ترمیم کر سکیں۔ چنانچہ ارشاد ہے :
” وَإِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاءَ نَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هٰذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْ أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِيْ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوْحٰى إِلَىَّ ۔ یونس آیت ١٥“
جب ہمارے کھلے کھلے احکام ان لوگوں کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو ہماری ملاقات کی امید نہیں وہ تم سے یہ فرمائش کرتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا کم از کم اسی میں کچھ ردوبدل کر دو ان سے کہہ دو کہ میرا تو ایسا مقدور نہیں کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی ردوبدل کر سکوں میں تو اسی پر چلتا ہوں جو میرے پاس وحی آتی ہے۔
اس ترمیم و تبدیل کا انحصار کچھ الفاظ ہی پر نہیں ہے بلکہ اس کے معانی کو بھی شامل ہے اور وہ لفظی ترمیم سے زیادہ شدید ہے۔ یہود بے بہبود نے دونوں قسموں کی تحریفیں کی تھیں۔ تورات کے الفاظ میں بھی اور ان کے معانی میں بھی۔ قرآن کریم چونکہ آخری کتاب تھی اس لئے وہ دونوں قسموں کی تحریفوں سے محفوظ ہے۔ لفظی ترمیم کا تو یہاں کوئی امکان ہی نہیں۔ رہی معنوی ترمیم و تحریف تو امت کے بعض ملحد فرقوں نے گو اس میں یہود کو بھی مات دے دی ہے مگر اس کی معنوی حفاظت کی وجہ سے وہ اصل دین پر کچھ اثر انداز نہیں ہو سکی اور ہر دور میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی علیحدہ کیا جاتا رہا ہے۔ پس اگر کوئی شخص آج یہ دعویٰ کرنے لگے کہ نمازیں پانچ نہیں صرف دو ہیں اور اسی کے لئے دماغی تماشے و دلائل کا ڈھیر لگا دے تو بالکل بے سود سعی ہے۔ اس کو یہ بھی ثابت کرنا ہو گا کہ امت اوپر سے بھی صرف دو ہی نمازیں پڑھا کرتی تھی۔ بلکہ اس کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ پانچ نمازوں کی فرضیت اگر غلط ہے تو پھر اس کی بنیاد کس دن سے قائم ہوئی۔ اسی طرح مسئلہ جنت و دوزخ، فرشتے اور جنات وغیرہا کی حقیقتیں صرف لفظی بحثوں سے نئی نئی بنا کر پیش کرنیں بھی غلط ہیں کیونکہ
٣٧
حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلقہ آیات پر غور کرنے سے قبل
یہاں ان کے مقدمہ کی پوری وہ روئیداد جو قرآن کریم نے نقل
فرمائی ہے اور فریقین کے بیانات پیش نظر رکھنا ضروری ہیں
قرآن کریم پر غور کرنے سے قبل یہاں یہ غور کر لینا بھی ضروری ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں جو مسئلہ زیر بحث آیا ہے وہ کیا مسئلہ ہے اور وہ کیوں زیر بحث آیا ہے۔ جب آپ اس طرف توجہ فرمائیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ سورہ نساء میں جس امر کی اہمیت محسوس کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جو قوم کل تک خدائے تعالیٰ کی نعمتوں کا گہوارہ بنی ہوئی تھی آخر کیوں ایک لخت وہ ان تمام نعمتوں سے محروم کر دی گئی اور کیوں نعمتوں کی بجائے لعنت کا مورد بن گئی۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم نے ان کے ان پے در پے جرائم کا ذکر کیا ہے جو ایک سے ایک بدتر تھے اور جس کی کہ یہ قوم عادی بن چکی تھی جو جرائم ان کے یہاں شمار کئے گئے ہیں۔ ان میں کچھ تو ان کے حیاناک اقوال ہیں اور کچھ زشت افعال‘ ان کے زشت افعال میں خدا تعالیٰ کے مقدس انبیاء علیہم السلام کا قتل کرنا ہے اور ان کے حیاناک اقوال میں معصومہ حضرت مریم علیہا السلام پر بہتان طرازی اور ان کے ملکی صفت فرزند مطہر کے متعلق قتل کرنے کا دعویٰ کاذب ہے۔ اب ہم کو دیکھنا یہ ہے کہ یہاں یہود ملعون کا بیان کیا ہے اور پھر ان بیانات ہی کی روشنی میں قرآنی فیصلہ پر غور کرنا ہے۔
یہ ظاہر ہے کہ کتاب اللہ کی حیثیت چونکہ ایک حکم اور فیصل کی ہے اس لئے ہم کو یہ امر خاص طور پر ملحوظ رکھنا چاہئے کہ جس معاملہ کے متعلق قرآن کریم نے فیصلہ فرمایا ہے۔ اس میں فریقین کے بیانات کیا نقل کئے ہیں۔ یہاں کسی ایک حرف کا اپنی جانب سے اضافہ کرنا جو مقدمہ کی جان ہو قرآن پر خیانت یا عجز کا بڑا اتہام ہے‘ یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہر عدالت کے لئے یہ کتنا ضروری ہے کہ وہ فریقین کے بیانات نہایت احتیاط کے ساتھ ضبط کرے اور بالخصوص جو اجزاء کسی فریق کے مقدمہ کی اصلی روح ہوں۔ ان کو پورے طور
٣٧
یہ الفاظ جس طرح اوپر سے منقول ہوتے چلے آئے ہیں اسی طرح ان کے معانی بھی اوپر ہی سے مفہوم اور معلوم ہوتے چلے آئے ہیں اسی طرح ختم نبوت اور نزول مسیح علیہ السلام کے الفاظ کا حال ہے۔ یہ بھی امت میں ہمیشہ سے مستعمل ہوتے چلے آئے ہیں اور ہر دور میں اس کے صرف یہی ایک معنی سمجھے گئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اب کوئی نبی نہیں بنے گا اور اسی کے ساتھ یہ بھی منقول ہوتا چلا آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آنے والے ہیں اب ذرا اس پر غور فرمائیے کہ ایک طرف نبی کی آمد کی ممانعت بھی منقول ہے اور اسی کے ساتھ اسرائیلی رسول کی آمد بھی منقول ہے۔ اب اگر کوئی صرف اپنی دماغی کاوش سے یہ کہنے بیٹھ جائے کہ جب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں تو عیسیٰ علیہ السلام بھی نہیں یا اگر عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو اور نبی بھی آئیں گے تو اس کا حاصل صرف اپنی دماغی کاوش ہے ایک علمی دین بنانا ہو گا اس کو منقول شدہ دین نہیں کہا جاسکتا اور اگر فرض کر لو کہ ہمارا کہنا صحیح نہیں تو پھر آپ کو کسی تاریخ سے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ فلاں تاریخ سے اس غلط عقیدہ کی بنیاد قائم ہوئی ہے مگر یہاں اسلامی تاریخ تو درکنار اگر اس بارے میں دوسرے اہل مذاہب سے آپ اس امت کا عقیدہ پوچھیں تو وہ بھی کسی تردد کے بغیر آپ کو یہی بتائیں گے کہ ان کے نزدیک کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا۔ ہاں! وہی عیسیٰ علیہ السلام اسرائیلی رسول آئیں گے۔ اس وقت یہ بحث نہیں ہے کہ یہ عقیدہ خلاف قیاس ہے یا نہیں اور نزول کے اور خاتم کے لغت میں معنی کیا ہیں اور ختم نبوت اور نزول میں طریق تطبیق کیا ہے۔ بلکہ بحث صرف یہ ہے کہ امت میں ان الفاظ کے معنی کیا سمجھے جاتے رہے ہیں تو آپ صرف اسی ایک مذکورہ بالا نتیجہ پر پہنچیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تفسیروں میں اور شروح حدیث میں کتب عقائد میں اور دین کے تمام معتبر لٹریچر میں اسی حقیقت کو دھرایا گیا ہے اور اسی حقیقت کے ماتحت ہر مدعی نبوت اور ہر مدعی مسیحیت کی تکفیر و تردید کی گئی ہے۔ لہٰذا یہاں صرف مجاز و استعارہ یا ناتمام نقول یا مبہم یا محرف الفاظ سے کوئی ایسی حقیقت تراش لینی جو آج تک امت کے بیان کردہ حقیقت کے برعکس ہو دین محمدی کہلانے کے قابل نہیں اس کو نیا دین کہنا چاہئے۔
٣٨
پر واضح کر دے آج بھی اگر کوئی عدالت فریقین کے بیانات قلم بند کرنے میں ایسی تقصیر کر جائے تو اس کے حق میں یہ کتنا بڑا سنگین جرم شمار ہوتا ہے۔ پس ہمارے نزدیک جو بات یہاں صورت واقعہ کو آسانی سے حل کر سکتی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے ہم فریقین کے بیانات کو حاشیہ آرائی کے بغیر دیکھیں۔ اس کے بعد کسی تاویل کے بغیر قرآنی فیصلہ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس قاعدہ کے موافق جب ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ سامنے رکھتے ہیں تو جو بیان ہم کو یہاں یہود کا ملتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہم نے ان کو قتل کر ڈالا ہے۔ رہا یہ کہ کس غرض سے ان کا قتل کیا ہے اور کس آلہ سے قتل کیا ہے۔ اس کو انہوں نے نہ یہاں بیان کیا ہے اور نہ یہ باتیں ان کے نزدیک کچھ اہم معلوم ہوتی ہیں جس بات پر انہوں نے اپنے بیان دعویٰ میں زور دیا ہے وہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات کی تشخیص و تعیین ہے۔ دوم ان کے قتل کرنے کا پورا جزم ویقین ہے اسی لئے مقتول کے صرف نام یا لقب ہی پر انہوں نے کفایت نہیں کی بلکہ خاص طور پر ان کی خاص مادری نسبت کا بھی ذکر کیا ہے، یعنی والد کے بغیر پیدائش اور اس سے بھی زیادہ یہ کہا ہے کہ یہ شخص وہی ہے جو ”رسول اللہ“ کہلاتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی جس جرأت کا بیباکانہ ذکر کیا ہے وہ قتل کا جرم ہے۔ چنانچہ اس کو بھی انہوں نے لفظ ”اِنّ“ سے ذکر کیا ہے جو عربی زبان میں جزم ویقین کے لئے مستعمل ہے تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ ان کو نہ تو اپنے فعل قتل میں کوئی شبہ ہے اور نہ اس مقتول کی ذات میں کوئی شبہ ہے جس کے قتل کا ان کو دعویٰ تھا اس سے زیادہ کوئی اور بات یہاں نقل نہیں کی گئی۔
اس لئے قرآنی فیصلہ بھی ہم کو صرف اسی بیان کی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔
نصاریٰ کے متعلق یہاں قرآن کریم نے صرف اتنا ہی کہا ہے کہ وہ یقینی طور پر کوئی بات نہیں کہتے مختلف باتیں بناتے ہیں اور چند وجوہات کی بناء پر حقیقت کا ان کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے اس لئے صرف اٹکل کے تیر چلانے کے سوا ان کے لئے چارہ کار ہی کیا ہے۔ ہاں! اجمالی طور پر ان کا یہ خیال ضرور تھا کہ وہ اپنے جسم ناسوتی یا لاہوتی کے ساتھ آسمانوں پر اٹھائے گئے۔ اب ظاہر بات ہے کہ قرآنی الفاظ کے مطابق جو بات یہاں متنازع فیہ نظر آتی ہے۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صرف زندہ شخصیت ہے یہود کہتے تھے کہ ہم نے ان کو قتل کر ڈالا
٣٩
ہے اور نصاریٰ اس خیال میں تھے کہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ ان کی روح کے متعلق نہ یہاں کوئی تذکرہ ہے اور نہ روح کا تذکرہ معرض بحث میں لایا جا سکتا ہے کیونکہ روح کا معاملہ ایک غیبی معاملہ ہے وہ انسان کے ادراک سے بالاتر بات ہے۔ اس پر نہ یہود کوئی حجت قائم کر سکتے ہیں اور نہ قرآنی بیان کو وہ تسلیم کرتے ہیں۔ اس لئے حسب تصریح قرآن کریم ان کے دعویٰ ہی میں روح زیر بحث نہ تھی تو فیصلہ میں اس کا ذکر کیسے آسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ قتل کا فعل جسم پر وارد ہوتا ہے روح پر وارد نہیں ہو سکتا۔ لہذا ان کے مقابلہ میں جب قرآنی فیصلہ یہ ہو کہ وہ مقتول نہیں ہوئے بلکہ مرفوع ہوئے ہیں تو یہاں رفع سے جسم ہی کا رفع مراد ہو گا نہ کہ روح کا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے اور ان کے صلیب
سے بچ جانے کی جدید داستان
یہاں ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھا دیا تھا۔ ان کے سر پر کانٹوں کا تاج بھی رکھا، منہ پر تھوکا بھی اور جو کچھ نہ کرنا تھا وہ سب کچھ بھی کر لیا تھا۔ (والعیاذ باللہ) حتیٰ کہ جب ان کو پورا یقین ہو گیا کہ انہوں نے ان کو در حقیقت مار ڈالا ہے تو ان کو سولی سے اتارا مگر ان میں زندگی کی کوئی رمق باقی تھی آخر وہ چھپ کر کشمیر یا دنیا کے کسی اور غیر معروف شہر میں آکر اپنی موت سے مر گئے تھے۔ اس جماعت کے نزدیک یہود کا یہ گمان تھا کہ جو شخص بھی صلیب کے ذریعہ مارا جاتا ہے وہ لعنتی موت مرتا ہے۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رسول ہونے کی بجائے ان کا ملعون ہونا ثابت کریں۔ اس لئے ان کے نزدیک یہ از بس ضروری تھا کہ ان کی موت صلیبی موت ہو تا کہ وہ ان کے لعنتی ہونے کا ثبوت بن سکے۔ اس جماعت کو یہود کے یہ سب جرائم مسلم ہیں یعنی ان کا سولی دینا اور تمام اہانت کے اسباب کا ارتکاب کرنا حتیٰ کہ ان کو اس نوبت میں پہنچا دینا کہ ان کے حق میں زندگی کا کوئی امکان بھی باقی نہ رہے اور یہاں قرآنی تردید کا حاصل صرف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں گو اسباب موت
٤٠
سب پورے ہو چکے تھے مگر ان میں کچھ جان باقی رہ گئی تھی۔ اس لئے وہ صلیبی موت سے نہیں مرے بلکہ کہیں جا کر خود اپنی موت سے مرے ہیں۔ اس لئے ان کی موت لعنتی موت نہیں ہوئی بلکہ ان کو بڑی عزت کی موت نصیب ہوئی ہے۔ اور ان کے بڑے درجے بلند ہوئے ان کے نزدیک : ” بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ . “ کی تفسیر یہی ہے۔
اب اگر واقعہ در حقیقت یہی تھا جو اس جماعت کا خیال ہے تو یہاں حسب ذیل امور قابل غور ہیں :
- (الف).......... اگر در حقیقت یہود کا دعویٰ یہاں ان کی صلیبی موت کا تھا تو پھر
کیا وجہ ہے کہ قرآن نے ان کے بیان میں صلیب کا دعویٰ نقل نہیں کیا اور کیوں قتل کا ایک عام لفظ نقل کیا ہے۔
- (ب).......... اور کیا وجہ ہے کہ جبکہ ان کا تمام زور صلیبی موت کے متعلق تھا تو
تردید میں صرف نفی قتل پر زور دیا گیا ہے اور کیوں ایک ایسے غیر متعلق جرم کی نفی پر زور دیا گیا ہے جس کی نفی سے ان کے دعویٰ کی تردید کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یعنی فعل قتل ، ظاہر ہے کہ یہ ایک عام جرم ہے جو صلیب اور غیر صلیب ہر آلہ سے حاصل ہو سکتا ہے۔ قتل کی نفی پر تو زور نہ دینا اور ایک عام جرم کی نفی پر زور دینا یہ کہاں تک مناسب ہے۔
- (ج).......... پھر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم نے اگر ایک بار صلیب کا
انکار بھی کیا تو وہ بھی ایسے محل پر کیا ہے جو اس کا صحیح محل نہ تھا۔ یعنی جب قرآن کریم ان کی لعنتی موت تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کی بجائے ان کی موت کو عزت کی موت قرار دیتا ہے تو پھر بلاغت کا تقاضا یہ ہے کہ ان دونوں باتوں کو مقابل بنا کر ذکر کرنا چاہئے تھا اور یوں کہنا تھا کہ : ” وما صلبوه يقينا بل رفعه الله اليه . “ مگر کتنی حیرت کی بات ہے کہ یہاں بھی قرآن کریم نے خاص صلیب کی بجائے صرف ایک عام فعل قتل کی نفی فرمائی ہے اور یوں فرمایا ہے کہ : ” وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْناً . بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ . “
- (د).......... اس تفسیر کی بناء پر یہ غور کرنا بھی ضروری ہے کہ جو چیز موقعہ
واردات پر واقع ہوئی وہ یہ تھی کہ وہ کشمیر یا اور کسی طرف چلے گئے تھے۔ رہا ان کی موت کا مسئلہ
٤١
تو اگر ان کی موت کہیں جا کر واقع ہوئی تو یہ سالوں یا مدتوں بعد کا معاملہ ہے۔ پس جو بات یہاں صورت حال بتانے کے لئے ضروری تھی اس کو کیوں حذف کر دیا گیا ہے اور صاف طور پر یہ کیوں نہیں فرما دیا گیا کہ یہود نے ان کو سولی نہیں دی بلکہ وہ زندہ کشمیر وغیرہ کہیں چلے گئے تھے تاکہ یہ بات واضح ہو جاتی کہ صلیبی موت سے بچنے کی ان کی شکل کیا ہوئی۔ پس اصل حقیقت کا تو اخفاء کرنا اور موت کی ایک عام سنت کا بیان کرنا یہ کس درجہ بے محل اور غیر متعلق بات ہے۔
- (٥).......... اس سے بڑھ کر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اصل بات ان کی
طبعی موت تھی تو یہاں : ”بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ “ کی بجائے : ” بل توفاہ اللہ “ کہنا زیادہ مناسب تھا تاکہ ثابت ہو جاتا کہ وہ صلیبی موت سے نہیں مرے بلکہ طبعی موت سے مرے ہیں اور جب اپنی طبعی موت سے مرے ہیں تو رفع درجات کا مسئلہ خود بخود ثابت ہو جاتا ہے۔ پس اگر صورت حال کا انکشاف ہوتا ہے تو وہ اسی صورت سے ہوتا ہے کہ یہاں ان کی طبعی موت کا ذکر کیا جائے۔
لیکن آیت بالا میں یہاں ان تینوں الفاظ میں سے کوئی لفظ نہیں ہے :
- (١)........ نہ ....... یہ : ”وما صلبوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ “
- (٢)........ نہ ....... یہ : ”وما قتلوہ یقینا بل اذہبہ اللہ الی الکشمیر“
- (٣)........ نہ ....... یہ : ” وما قتلوہ یقینا بل توفاہ اللہ “
اب اگر ہم اس جماعت کے خیالات کو صحیح تسلیم کرتے ہیں تو ہم کو یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ سرے سے یہود کا اصل دعوٰی ہی یہاں مذکور نہیں یعنی خاص صلیب دینا۔ کیونکہ ان کے بیان کے مطابق ان کی لعنتی موت ہونا اسی وقت ثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ یہ ثابت ہو جائے کہ ان کی موت صلیب کے ذریعہ واقع ہوئی ہے۔ اس لئے یہاں ان کے دعوے میں قتل کے عام جرم کا نقل کرنا مدعیین کے دعوٰی کے بھی اور ان کے مقاصد کے بھی بالکل خلاف ہیں۔ اسی طرح جب ہم قرآن کریم کے فیصلہ پر نظر کرتے ہیں تو یہاں بھی واقعہ کی اصل صورت بالکل مبہم نظر آتی اور صورت حال کا کچھ انکشاف نہیں ہوتا کیونکہ نہ یہاں ان
٤٢
کے کشمیر جانے کا ذکر ہے نہ ان کے طبعی وفات پانے کا کوئی تذکرہ ہے۔ اس لئے اس کا کوئی انکشاف نہیں ہوتا کہ ملزمین جس کے قتل کے اس شدومد کے ساتھ مدعی تھے۔ اگر وہ شخص مقتول نہیں ہوا تو آخر پھر کدھر گیا۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے متعلق جو نہ صرف ان کے زیر حراست آچکا تھا بلکہ ان کی آنکھوں کے سامنے مر بھی چکا تھا صرف یہ کہہ دینا کہ وہ سولی پر نہیں مرا تھا بلکہ عزت کی موت مرا تھا کیا تشفی بخش تھا۔
ہاں! اگر یہ کہہ دیا جاتا کہ ہم نے اس کو فلاں مقام پر بھیج دیا تھا اور اسی کے ساتھ یہ بھی واضح کر دیا جاتا کہ مدعین کے لئے اس مغالطہ لگنے کا باعث کیا تھا تو بے شک صورت حال پر روشنی پڑ سکتی تھی لیکن صرف یہ کہہ دینا کہ ان کی عزت کی موت واقع ہوئی ہے بے معنی فیصلہ ہے اور بالکل بعید از قیاس بھی ہے کیونکہ جو لوگ ان کے قتل کے مدعی تھے وہ یہود تھے اور اس بارے میں ان کو اتنا یقین تھا کہ اپنے بیان میں اس کے متعلق تاکید اور یقین کے جتنے طریقے وہ استعمال کر سکتے تھے سب استعمال کر چکے تھے۔ اب اگر قرآن کریم یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ تم نے ان کو سولی پر چڑھا دیا تھا مگر جب وہ سولی سے مردہ سمجھ کر اتارے گئے تھے تو وہ پورے طور سے نہیں مرے تھے۔ اگرچہ تم کو مردہ معلوم ہوتے تھے پھر بعد میں ان کو کسی غیر جگہ لے جا کر خود ہم نے ان کو موت دی تھی یہ بیان جتنا خلاف قیاس ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے خاص کر جب کہ ان کی موت تسلیم کرلی جائے جو لوگ یقینی اسباب قتل کا ارتکاب کرچکے تھے ان سے یہ کہنا کہ وہ ان اسباب سے نہیں مرے بالکل اتنی ہی مضحکہ خیز بات ہو گی جیسے کوئی قاتل اپنی صفائی کے بیان میں یہ کہے کہ مقتول کے پیٹ میں چھرا تو میں نے ہی گھونپا تھا مگر مقتول اس کی وجہ سے نہیں مرا بلکہ وہ اپنی طبعی موت سے مرا ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ قاتل کے یقینی آلہ قتل کے استعمال کرنے کے بعد ان حالات میں جبکہ موت کا ظاہری سبب وہی ہو۔ کوئی عدالت اس کے اس عذر کو معقول نہیں سمجھے گی بلکہ اس کی سماعت مقتول کے حق میں ایک ظلم تصور کرے گی پھر یہاں سولی کا جرم تسلیم کر لینے کے بعد اور وہ بھی اس حد تک کہ ملزمین کے نزدیک اس کی موت یقینی ہو چکی ہو خالق کائنات کا یہ فیصلہ دینا کہ وہ تمہارے مارنے سے نہیں مرے بلکہ ہمارے مارنے سے مرے ہیں ان کے مقابلہ میں کیا اثر
٤٣
انداز ہو سکتا ہے۔ بالخصوص جبکہ اس بعید از قیاس دعوے کے لئے کوئی قرینہ بھی یہاں ذکر نہیں کیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں اگر اس فیصلہ کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہی نکلے گا کہ اپنے دشمن کی ہلاکت جو ہر شخص کا مقصد ہوتا ہے یہاں اس کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھوں سے پورا کر دیا تھا دشمنوں کے مقابلہ میں‘ اب یہ بحث کھڑی کرنی کہ ان کی یہ موت بڑی عزت کی موت تھی ہمارے نزدیک زخموں پر نمک پاشی سے کم نہیں۔
یہ بات بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے کہ حسب بیان قرآن کریم یہود کے جرم کی جو نوعیت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں تھی وہی نوعیت دوسرے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی تھی۔ یعنی قتل‘ دونوں مقامات پر قرآن کریم نے ایک ہی لفظ قتل کو استعمال فرمایا ہے۔ فرق ہے تو صرف یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کے قتل ہونے کو اس نے تسلیم نہیں کیا اور دیگر انبیاء علیہم السلام کے حق میں تسلیم کر لیا ہے تو اب سوال یہ ہے کہ جب یہاں مدعین بھی ایک ہی قوم تھی اور دعویٰ بھی ایک تھا تو پھر صرف ایک عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت کیا تھی کہ ان کے حق میں ان کے رفع روحانی یا عزت کی موت کی تصریح ضروری سمجھی گئی ہے اور دیگر انبیاء علیہم السلام کے حق میں ان کی موت کے متعلق ایک کلمہ تک نہیں فرمایا گیا۔ حالانکہ یہود کا مقصد ان کے قتل کرنے سے بھی اس کے سوا اور کیا تھا کہ ان کے نزدیک یہ سب مقدس گروہ بھی لعنتی تھا۔ والعیاذ باللہ!
کیا اس سکوت کا مطلب یہ نہیں نکلتا کہ ان کے معاملہ میں رفع روحانی یا رفع درجات تسلیم نہیں کیا گیا۔ والعیاذ باللہ! حقیقت یہ ہے کہ روح کے رفع یا عدم رفع کا مسئلہ نہ یہاں زیر بحث تھا اور نہ یہ مسئلہ کسی کے حق میں خواہ عیسیٰ علیہ السلام ہوں یا دیگر انبیاء علیہم السلام زیر بحث آنے کے قابل ہے۔
پھر اگر یہاں رفع سے رفع روحانی مراد ہو تا تو کیا اس کے لئے صرف : ” بل رفعہ اللہ “ کا لفظ کافی نہ تھا۔ یہاں لفظ الیہ کا بے ضرورت کیوں اضافہ کیا گیا ہے؟۔
٤٤
صلیبی موت کا لعنتی ہونا اور اس کے مقابلہ میں عزت کی موت کا
افسانہ اسلام میں بالکل بے اصل بلکہ غیر معقول ہے
رفع روحانی اور عزت کی موت کا یہ سارا افسانہ اس پر مبنی ہے کہ صلیبی موت کے لعنتی موت ہونے کی شریعت کی نظر میں کوئی اصلیت بھی ہو لیکن اگر یہ تخیل ہی بے بنیاد ہے تو پھر نہ قرآن کریم کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت ہو سکتی ہے اور نہ کسی غلط بنیاد پر وہ اپنے صحیح فیصلہ کو مبنی کر سکتا ہے۔ جب اس پر نظر کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ لعنتی موت کا اسلام میں کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ یہاں کفار جتنے ہیں وہ سب کے سب ملعون ہیں۔ خواہ زندہ ہوں یا مردہ۔ سولی پا کر مریں یا گولی کھا کر۔ آخر جب ملعون قرار دیئے گئے تو کیا یہ لعنت ان کے دم کے ساتھ ساتھ نہ رہی۔ یقیناً حیات سے لے کر موت اور موت سے لے کر قیامت اور قیامت سے جہنم تک ان کے دم کے ساتھ لگی رہے گی۔ جملہ ادیان سماویہ میں موت کے اچھے اور برے ہونے کا تعلق انسانوں کے اعمال پر رکھا گیا ہے نہ کہ کسی خاص آلہ قتل پر اور یہی بات معقول بھی ہے یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ ایک پاکباز انسان اگر سولی پر مارا جائے تو وہ صرف اس خاص آلہ قتل کی وجہ سے لعنتی بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے دیگر انبیاء علیہم السلام کے متعلق یہود کے جرم قتل کا اعتراف کر لینے کے باوجود ان کی عزت کی موت ہونے کی طرف کوئی توجہ نہیں فرمائی اور نہ اس بدیہی بات کی طرف توجہ کی ضرورت تھی بلکہ جس بات کی اہمیت محسوس فرمائی۔ وہ یہ ہے کہ یہ وہ مقدس جماعت ہے جس کے قتل کا وبال یہ ہے کہ جو جماعت کل تک نعمت کا گہوارہ بنی ہوئی تھی۔ اب وہ مورد لعنت بن گئی ہے۔ تعجب ہے کہ یہاں سیاق کلام تو یہود کے ملعون ہونے کے اسباب بیان کرنے کا تھا اور اس میں بے بنیاد اور الٹا عیسیٰ علیہ السلام کے ملعون ہونے نہ ہونے کی بحث کھڑی کر دی گئی۔
٤٥
رفع کا لفظ قرآن کریم میں ایک جگہ بھی لعنتی موت
کی تردید کے لئے مستعمل نہیں
بحث کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ لفظ رفع کے معنے پر بھی غور کر لینا چاہئے کیا یہ لفظ عرف قرآنی میں کہیں عزت کی موت کے لئے استعمال ہوا ہے ؟۔ جہاں تک ہم نے قرآن کریم اور کتب لغت پر نظر کی ہے ہم کو اس لفظ کے معنی کہیں لعنتی موت کے بالمقابل عزت کی موت دینے کے ثابت نہیں ہوئے بلکہ اس لفظ کا استعمال غیر ذی روح میں بھی ہوتا ہے۔ جہاں موت کا احتمال ہی نہیں۔ ارشاد ہوتا ہے : ”رَفَعَ السَّمٰوَتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ۔“
رفع کے معنی قرآن ولغت میں
یہاں لفظ ”رفع“ آسمانوں کے متعلق استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح ان کا استعمال زندوں اور مردوں میں یکساں نظر آتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ موت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب آیات ذیل پر نظر فرمائیے !
- (١)........ :” وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ۔ الزخرف
آیت ٣٢“
- (٢)........ : ” يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ
دَرَجَاتٍ ۔المجادلہ آیت ١١“
- (٣)........ : ” وَلَوْشِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلٰكِنَّهُ اَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ ۔
الاعراف آیت ١٧٦“
- (٤)........ : ” وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا ۔ مریم آیت ٥٧“
- (٥)........ : ” وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۔ الانشراح آیت ٤“
- (٦)........ : ” وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ ۔ یوسف آیت ١٠٠“
ان تمام آیتوں میں رفع کا لفظ انسانوں ہی میں استعمال ہوا ہے مگر کسی ایک جگہ بھی
٤٦
اس کے معنی عزت کی موت کے مراد نہیں ہیں بلکہ مردوں میں اس کا استعمال ہی نہیں ہوا۔ یہاں ایک بڑا مغالطہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کا مسئلہ گویا صرف لفظ رفع سے پیدا ہو گیا ہے اور اس لئے ہم سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ رفع کا لفظ رفع جسمانی کے لئے کہیں آیا ہے یا نہیں۔ درحقیقت یہ بحث کا رخ پلٹنے کے لئے صرف ایک چال ہے۔ اصل سوال یہ تھا کہ یہ لفظ عزت کی موت کے لئے کہیں استعمال ہوا ہے یا نہیں اور چونکہ یہ معنی کہیں ثابت نہیں۔ اس لئے بحث کا رخ بدلنے کے لئے ذہنوں کو ایک دوسرے سوال کی طرف متوجہ کر دیا گیا ہے تاکہ اصل سوال کی طرف کسی کا ذہن متوجہ ہی نہ ہو سکے۔
اصل بات یہ ہے کہ رفع کا لفظ صرف بلند کرنے اور اٹھانے کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ اس میں نہ جسم کی خصوصیت ہے نہ روح کی بلکہ وہ غیر ذی روح میں بھی مستعمل ہوتا ہے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں جسم کا رفع اس لئے مراد لیا گیا ہے کہ یہاں زیر بحث جسم ہی کا معاملہ تھا۔ یہود اس کے قتل کے مدعی تھے اور نصاریٰ اس کے رفع کے۔ پس جب یہاں روح زیر بحث ہی نہ تھی تو رفع سے روح کا رفع مراد ہو کیسے سکتا تھا۔ اس مقام کے علاوہ قرآن کریم میں کسی جگہ اور کسی شخص کے متعلق یہ بحث نہیں ملتی کہ وہ قتل کیا گیا ہے یا اپنے جسم کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔ اس لئے کسی اور جگہ خاص جسم کے رفع کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ پس انسانوں میں جن کے جسم مشاہدہ میں ہوتے ہیں جب یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو چونکہ وہاں ان کے جسم کے رفع کا احتمال ہی نہیں ہوتا۔ اس لئے وہاں معنوی رفع یعنی درجات کی بلندی مراد ہوتی ہے اور یہ صحیح ہے کیونکہ اس لفظ کا استعمال ہر قسم کی بلندی کے لئے ہوتا ہے جسم کی ہو یا معنوی، جیسا موقع اور محل ہو گا اس کے مطابق اس کے معنی مراد لئے جائیں گے۔ یہی حال لفظ توفی کا ہے وہ بھی زندوں اور مردوں دونوں میں یکساں مستعمل ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں لفظ توفی، رفع نزول اور اس کی پوری تفصیلات موجود ہیں۔ اس کے ساتھ یہاں قومی تاریخیں بھی موجود ہیں۔ پس یہ مسئلہ قومی تاریخ اور آیات و احادیث کی روشنی سے ثابت ہوا ہے۔ یہ سمجھنا بڑی نا فہمی ہے کہ یہ مسئلہ صرف لفظ رفع کی پیداوار ہے جیسا کہ آیت نمبر ٦ میں حضرت یوسف علیہ السلام کے والدین کے
٤٧
جسمانی رفع کا معاملہ صرف لفظ رفع سے پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کے لئے دوسرے خارجی قرائن بھی تھے اور یہاں تو قرائن نہیں بلکہ دلائل موجود ہیں اور وہ بھی واضح سے واضح اور مستحکم سے مستحکم۔ خلاصہ یہ کہ جب ایک طرف لعنتی موت کا افسانہ بے بنیاد ثابت ہوتا ہے اور دوسری طرف رفع کا استعمال بھی عزت کی موت یعنی لعنتی موت کی تردید کے لئے نہیں ملتا تو پھر آیت بالا کی یہ تفسیر کیسے قبول کی جاسکتی ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مصلوب ہونا قرآن کریم سے
اور اس کی تردید
اب ذرا اس پر بھی نظر ڈالتے چلئے کہ خاص عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ان کا سولی دیا جانا۔ ان کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھنا۔ ان کے منہ پر تھوکا جانا اور طرح طرح سے ان کی توہین و تذلیل کرنا کیا یہ تاریخ قرآن کریم کو مسلم ہے؟۔
یہاں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ قرآن کریم نے جب یہود کے ملعون ہونے کے اسباب کا تذکرہ کیا ہے تو خاص عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ میں کسی سبب کا ذکر کیا ہے۔ آیت : ” وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ................... الخ ، النساء آیت ١٥٧ “ معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں صرف ان کا یہ کہنا کہ ہم نے ان کو قتل کر ڈالا ہے ان کے لعنت در لعنت کا سبب بن گیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اس معاملہ میں ان کی جانب سے وہ تمام بدترین اور توہین و تذلیل کی حرکات ناشائستہ سرزد ہو چکی تھیں جو ابھی ذکر ہو چکیں تو ان تمام مکروہ افعال کا ذکر نہ کرنا اور صرف ایک دعویٰ قتل کو نقل کرنا کیا یہ معقول ہو سکتا ہے۔ عقل ایک لمحہ کے لئے بھی یہ باور نہیں کر سکتی کہ اگر اس سلسلہ میں ان مکروہ افعال کا ان سے صدور ہوا تھا اور ان تمام مظالم اور جرائم پر پردہ ڈال دیا جاتا اور صرف ایک دعویٰ قتل کو ان کے اسباب لعنت میں ذکر کیا جاتا اور اس سے کہیں بڑھ کر اسباب لعنت کے ذکر سے سکوت کر لیا جاتا۔ ہمارے نزدیک دشمنوں اور مجرموں کے حق میں اس سے بڑھ کر فیاضی کی مثال ملنا ناممکن ہے۔
٤٨
اس کے علاوہ سورہ مائدہ میں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے انعامات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ تو ان میں ایک بڑا انعام یہ بھی شمار کیا ہے : ” وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِيْ اِسْرَآئِيْلَ عَنْكَ “ اور یہ انعام بھی قابل یاد ہے جبکہ ہم نے بنی اسرائیل کو تم سے دور روکے رکھا۔ اب اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑ کر سولی پر چڑھا دیا تھا اور سب ناروا سلوک ان کے ساتھ کر لئے تھے تو کیا بنی اسرائیل کی اس دسترس کے بعد عربی ادب ولغت کے لحاظ سے مذکورہ بالا جملہ استعمال کرنا صحیح ہے۔ دوم پھر کیا یہ درد ناک مظالم اور تذلیل و توہین کا سلوک اس قابل ہے کہ ان کے عجیب در عجیب معجزات اور نزول مائدہ جیسے انعامات کے پہلو بہ پہلو ایک انعام بنا کر اس کو ذکر کیا جائے۔
تیسرے سورہ آل عمران میں یہ ارشاد ہے :
” وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ ٠ آل عمران آیت ٥٤ “
یہود نے بھی خفیہ سازش کی اور ہم نے ان کے مقابلہ میں خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ تدبیر کرنے والوں میں سب سے بہتر و برتر ہے۔
آیت بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ جب یہود بے بہبود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تدبیریں کیں تو ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے بھی تدبیر فرمائی اور یہ ظاہر ہے کہ جب قدرت خود ضعیف انسان کی تدبیر کے مقابلہ کے لئے کھڑی ہو جائے تو پھر کسی کی ضعیف یا قوی تدبیر کیا چل سکتی ہے؟ ۔ یہ بات الگ ہے کہ جب قدرت تدریج وامہال کے قانون کے ماتحت کسی گرفت کا ارادہ ہی نہ فرمائے تو کچھ مدت کے لئے انسان اپنی سب تدبیروں میں کامیاب نظر آئے لیکن اگر قدرت الٰہیہ ان تدابیر کے مقابلہ کے لئے کھڑی ہو جائے تو کیا پھر اس رسوائی و ذلت کی کوئی مثال مل سکتی ہے جو یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں نافہموں نے اپنی جانب سے تراش لی ہے اور کیا اب دشمنوں کے مقابلہ میں قرآن کریم کا یہ دعویٰ کرنا کہ : ” وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ “ اللہ سب تدبیر کرنے والوں سے بڑھ کر تدبیر کرنے والا ہے۔ قابل مضحکہ نہیں ہے۔ (معاذاللہ!)
٥٦
لفظ مکر کے معنی عربی لغت میں خفیہ تدبیر کے ہیں
یہ خوب واضح رہنا چاہئے کہ یہاں قرآن کریم نے یہود کے مقابلہ میں جو لفظ استعمال کیا ہے وہ لفظ مکر ہے جس کے معنی لغت میں خفیہ تدبیر کے ہیں۔ پس اس لفظ کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں کوئی تدبیر ایسی ہونی چاہئے جس کا دشمنوں کو علم بھی نہ ہو سکے اور نتیجہ کے لحاظ سے وہ اس درجہ ناکام بھی رہیں کہ پھر ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کا : ” خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ ۔“ ہونا روز روشن کی طرح واضح ہو جائے۔
آنحضرت ﷺ کے ہجرت کے واقعہ میں لفظ مکر کا استعمال بھی ہوا
ہے ہر دو مقامات پر تدبیر الٰہی اور اس کا موازنہ اور آنحضرت ﷺ کی
شان برتری کا اس میں ظہور
اس قسم کا ایک جملہ قرآن کریم میں ہم کو آنحضرت ﷺ کے ہجرت کے متعلق بھی ملتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : ” وَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ ط وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ ۔ الانفال ٣٠“ ادھر تو وہ خفیہ سازش کر رہے تھے اور ادھر خدا خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور خدا سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔
یہاں بھی قریش کی سازش کا ذکر ہے پھر اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے خفیہ تدبیر فرمانے کا تذکرہ ہے اور آخر میں پھر وہی کلمہ دہرایا گیا ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں کہا گیا تھا یعنی : ” وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ ۔“
عجیب بات ہے کہ ہجرت کے لئے جب آنحضرت ﷺ گھر سے نکلے تو یہاں بھی کفار محاصرہ کر چکے تھے اور یہاں بھی آپ ﷺ حضرت علیؓ کو اپنی بجائے چھوڑ گئے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمانوں پر ہجرت کرنے لگے تو یہاں بھی دشمن گھیرا ڈال چکے تھے اور یہاں بھی ایک شخص ان کی بجائے دشمنوں کے ہاتھوں میں موجود تھا قرآن کریم نے دونوں مقامات پر اپنی تدبیر اور کفار کی غلط فہمی کو اسی لفظ ”مکر“ سے ادا فرمایا ہے۔ ان دونوں
ہجرتوں میں جب خدائی تدبیر کا موازنہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جو تدبیر آنحضرت ﷺ کے حق میں ظاہر ہوئی وہ دشمنوں پر ایک بڑی کاری ضرب تھی۔ ان دونوں مقامات پر خدا تعالیٰ کے یہ دونوں رسول گو دشمنوں کے نرغے میں سے صاف نکل گئے اور کسی کا بال بیکا نہ ہو سکا مگر غور فرمائیے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ آنحضرت ﷺ کا اپنے دشمنوں کے علم میں اسی سر زمین پر صحیح و سالم موجود رہنا اور ہر معرکہ میں ان کو شکست دیتے رہنا آخر ٨ھ میں اپنے آبائی وطن کو فتح کر لینا جتنا قریش کے لئے سوہانِ روح ہو سکتا تھا۔ آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر چلے جانا یہود پر شاق نہیں ہو سکتا؟۔ ادھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں ایک مقتول لاش بھی موجود تھی مگر اس کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہونے نہ ہونے میں بہت سے شبہات پیدا ہو گئے تھے۔ اس لئے یہ مسئلہ زیر بحث آگیا تھا کہ مقتول وہی حضرت مسیح علیہ السلام ہیں یا کوئی دوسرا شخص، مگر یہاں حضرت علیؓ سب کے جانے پہچانے شخص تھے۔ یہاں قریش کو پورا یقین ہو گیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کسی شبہ کے بغیر ان کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں اور پھر طرفہ یہ کہ ان سے ذرا فاصلہ پر ان کا سر کچلنے کے لئے موجود بھی ہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام باایں ہمہ رأفت و رحمت جب دوبارہ اپنے وطن لوٹ کر تشریف لائیں گے تو یہاں ان کے دشمنوں کے حق میں قتل مقدر ہوا۔ حتیٰ کہ یہودی ایک ایک کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا اور آنحضرت ﷺ جب لوٹ کر اپنے وطن مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ کے دشمنوں کے حق میں یہ مقدر ہوا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور پھر وہی آپ کے ساتھ غزوات میں شریک ہو ہو کر آپ پر اپنی جانیں قربان کریں۔ ذرا اس پر بھی غور فرمائیے کہ آنحضرت ﷺ کی دائمی فتح و نصرت کے لئے ایک بار آپ کی ہجرت اور ہجرت کے بعد پھر اسی مقام پر فاتحانہ واپسی مقدر ہوئی تو عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں بھی اگر پہلے ان کی ہجرت پھر اپنے وطن اصلی کی طرف واپسی مقدر ہو تو اس میں تعجب کیا ہے۔ یہاں اگر فرق ہے تو صرف دارالہجرت ہی کا تو ہے۔ یعنی وہاں دارالہجرت آسمان مقرر ہوا اور یہاں مدینہ طیبہ مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے یہ دونوں مقامات برابر تھے۔ ہاں اگر فرق تھا تو خود روح اللہ اور عبداللہ کی جانب سے تھا روح اللہ اور کلمتہ اللہ کی طبعی کشش
٥٤
آسمانوں کی طرف تھی آخر جو نفخہ جبرئیلی سے ظاہر ہوئے وہ جاتے تو اور کہاں جاتے عبداللہ کی طبعی کشش زمین کی جانب تھی۔ اس لئے اگر وہ کسی خطہ ارض کی طرف نہ جاتے تو اور کہاں جاتے؟ بے شک خدا تعالیٰ قادر تھا کہ آنحضرت ﷺ کو بھی آسمانوں پر اٹھا لیتا لیکن کیا یہ اس آخری رسول کی شان کے مناسب ہوتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگر آسمانوں پر تشریف لے گئے تو ان کے بعد دوسرا رسول اعظم دنیا کو نصیب ہو گیا لیکن آپ ﷺ تشریف لے جاتے تو امت کا نگہبان کون ہوتا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگر دوبارہ تشریف لائیں گے تو ان کو اس امت میں شامل ہونے کا دوسرا وہ شرف حاصل ہو گا جس کی اولوالعزم انبیاء علیہم السلام تمنائیں رکھتے تھے۔ لیکن اگر آنحضرت ﷺ دوبارہ تشریف لاتے تو آپ کو کون سا دوسرا شرف حاصل ہوتا پھر روح اللہ اگر آسمانوں پر گئے تو دشمنوں سے حفاظت کے لئے بلائے گئے اور آنحضرت ﷺ جب آسمانوں پر بلائے گئے تو صرف تشریف و تکریم کے لئے بلائے گئے پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگر گئے تو چوتھے آسمان تک گئے اور آنحضرت ﷺ تشریف لے گئے تو ساتوں آسمان طے کر کے وہاں تک پہنچ گئے جہاں جاتے جبرائیل علیہ السلام کے بھی پر جلتے تھے۔ ان دونوں ہجرتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک مقام پر امام رازی کے قلم سے کیا اچھا جملہ نکل گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں جو شرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو میسر ہوا وہ عروج تھا اور جس شرف سے آنحضرت ﷺ نوازے گئے اس کا نام معراج ہے۔ میں کہتا ہوں جی ہاں! وہ روح اللہ تھے اور یہ عبداللہ ہیں۔
”اللهم صل وسلم و بارك على عبدك ورسولك سيدنا محمد صاحب المعراج والبراق والقلم وعلىٰ اله واصحابہ تسليما كثيرا كثيرا.“
گو ان دونوں ہجرتوں میں اللہ تعالیٰ کی شان : ” خَيْرُ الْمَاكِرِينَ “ دونوں جگہ عیاں تھی اور دونوں مقامات میں اس کا جو ظہور ہوا وہ کامل ہی تھا مگر کیا جو تدبیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے جلوہ گر ہوئی وہ خاتم الانبیاء ﷺ کے لئے مناسب تھی۔
ہمارے مذکورہ بالا بیان سے یہ اچھی طرح واضح ہو گیا کہ اگر ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مصلوب ہونا اور آخر کار کشمیر وغیرہ میں جا کر کہیں اپنی طبعی موت سے مر جانا تسلیم کر
٥٥
لیں تو اس کے لئے نہ تو قرآنی الفاظ میں کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی دنیا کی تاریخ اس کی شہادت دے سکتی ہے اور نہ اس میں خدائی تدبیر کا کچھ ظہور ہوتا ہے اور نہ اس تقدیر پر یہود کے دعویٰ کی کوئی معقول تردید ہو سکتی ہے کیونکہ جب سولی کے ساتھ جملہ موت کے مقدمات تسلیم کر لئے جائیں اور گفتگو صرف اتنی رہ جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تم نے مار لیا کہیں گمنام مقام میں لے جاکر خود ہم نے مارا تو اب یہ گفتگو ایک عبث گفتگو ہے۔ اس کا حاصل یہی ہے کہ جو بات دشمن چاہتے تھے وہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے خود پوری فرمادی۔ والعیاذ باللہ!
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب و رفع کی تحقیق
قرآن کی روشنی میں
اسی طرح صلیب کے تسلیم کر لینے کے بعد یہاں نصاریٰ کی بھی کوئی تردید نہیں نکلتی کیونکہ جب اصولی طور پر عیسیٰ علیہ السلام کا سولی چڑھنا تسلیم کر لیا جائے اور رفع جسمانی کا قرآن کریم خود اعلان فرمادے تو اب ان کے ساتھ بھی جو اختلاف رہے گا وہ صرف نظریات ہی کا رہے گا اور صلیب پرستی کی یہ ایک بنیاد قائم ہو جائے گی۔ اس لئے ضروری ہے کہ آیت کے اصل مفہوم پر غور کیا جائے۔ اور جو مطلب کسی تاویل کے بغیر اس سے ظاہر ہوتا ہو اس کا اعتقاد رکھا جائے۔ پہلے ایک بار پوری آیت پڑھ لیجئے :
”وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا . بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا . النساء آیت ١٥٧“
اور ہم نے ان کو سزا میں مبتلا کیا۔ ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ نہ انہوں نے قتل کیا اور نہ ہی ان کو سولی پر چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اور جو لوگ ان کے بارہ میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو
٥٦
یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والے ہیں۔
آیت بالا کے مطالعہ کے بعد جو بات پہلی بار سمجھ میں آجاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے مدعی تھے اور اس بارے میں وہ اپنے پورے جزم و یقین کا اظہار کرتے تھے لیکن نصاریٰ چونکہ باہم خود مختلف تھے۔ اس لئے مختلف باتیں کہتے تھے ان ہر دو فریق کے مقابلہ میں قرآن کریم کا فیصلہ یہ ہے کہ دونوں کے دونوں غلطی پر ہیں۔ یہود کا دعویٰ قتل تو سراسر غلط ہے۔ اس لئے اس کو دوبار رد کیا گیا ہے تاکہ جتنا زور انہوں نے اپنے قول قتل کرنے پر صرف کیا تھا اتنا ہی اس کے انکار پر صرف کیا جائے۔ رہ گئے نصاریٰ تو وہ قدرے مشترک طور پر ان کے مصلوب ہونے کے آج تک قائل ہیں۔ اس لئے ضروری تھا کہ گو وہ کسی بات کے مدعی نہ ہوں مگر ان کے اس غلط خیال کی تردید بھی کر دی جائے۔ اس لئے یہود کے دعویٰ قتل کے ساتھ ساتھ صلیب کی بھی نفی کر دی گئی اور اس کے ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی واضح کر دیا گیا کہ ان کو اور کچھ علم نہیں ہے وہ صرف اٹکل کے تیر چلاتے ہیں لیکن یہ ظاہر ہے کہ جو قوم اپنے یقین کا دعویٰ رکھتی ہو صرف اس کی تردید کر دینا اس کے لئے کچھ تشفی بخش نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ اس کی غلط فہمی کے اسباب بھی بیان نہ کر دیئے جائیں۔ اس کو : ”وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ“ سے بیان کیا گیا ہے۔ یعنی یہاں قدرت کی طرف سے کچھ ایسے حالات پیدا کر دیئے گئے تھے جس کی رو سے حقیقت حال ان پر مشتبہ ہو گئی تھی۔ ایک طرف چونکہ سبت کا دن آرہا تھا اس لئے اس ارادہ بد کی تکمیل میں ان کو خود عجلت تھی دوسری طرف اس قسم کے ہنگاموں میں جو ایک طبعی وحشت ہوا کرتی ہے وہ بھی ان پر سوار تھی اس لئے اپنی دانست میں گو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے قتل کا قصد کیا تھا مگر ان مشتبہ کن حالات کی وجہ سے وہ اس ارادہ بد میں ناکام رہے اور ان کی توجہ اس طرف قائم نہ رہ سکی کہ وہ کس کو قتل کر رہے ہیں اور اس کی کھلی شہادت یہود و نصاریٰ کا باہم اختلاف ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صورت حالات ضرور کچھ ایسی پیچیدہ بن گئی تھی کہ حس و مشاہدہ کا یہ صاف واقعہ بھی مبہم ہو کر رہ گیا تھا اور پیچیدگی کی وجہ سے قرآن نے واقعہ کے انکشاف کی ٥٧
طرف توجہ فرمائی ہے ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قبل دوسرے انبیاء علیہم السلام کے متعلق بھی یہود اسی جرم کے ارتکاب کا دعویٰ کرتے تھے لیکن چونکہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے معاملہ میں وہ اپنے دعوے میں صادق تھے اس لئے قرآن کریم نے نہ ان کی کوئی تردید کی ہے اور نہ ان کے معاملہ میں کسی شبہ و اشتباہ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے زیادہ تفصیلات میں پڑنا قرآن کریم نے پسند نہیں فرمایا۔ اور نہ یہ احکم الحاکمین کی شان کے مناسب تھا اور غالباً لفظ مکر اللہ کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ خفیہ تدبیر کو کچھ خفیہ ہی رہنے دیا جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر در حقیقت مقتول کی لاش ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ تھے بلکہ کوئی دوسرا ان کا شبیہ شخص تھا جو عجلت میں غلطی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ تو یہ بتانا چاہئے کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام جو یقیناً ان کی زیر حراست آچکے تھے آخر وہ کدھر نکل گئے اگر ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا تو ماننا پڑتا ہے کہ پھر مقتول کی جو لاش موجود تھی وہ عیسیٰ علیہ السلام ہی تھے۔ اس لئے قرآن کریم نے اپنے فیصلہ میں قتل کی نفی کے بعد یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا تھا اس لئے زمین پر ان کی تلاش کرنا عبث ہے لیکن ایک ضعیف انسان چونکہ نہ اس قدرت کا تصور کر سکتا ہے اور نہ اس عظیم حکمت کو پا سکتا ہے۔ اس لئے یہاں خاص طور پر اپنی ایسی دو صفتوں کا تذکرہ فرما کر بحث کو ختم کر دیا ہے جن کے اقرار کے بعد کوئی استبعاد باقی نہیں رہتا۔ یعنی : ”وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا ۔“
یعنی اللہ کی ذات بڑی توانا اور بڑی حکمت والی ہے۔ اس کے سامنے یہ سب باتیں آسان ہیں۔ اس واضح فیصلہ سے جس طرح یہود کی کھلی ہوئی تردید ہو گئی اسی طرح نصاریٰ کے مذہب کی تمام بنیاد بھی منہدم ہو جاتی ہے کیونکہ جب صلیب کا سارا افسانہ ہی بے سروپا ثابت ہوا تو اب کفارہ کا اصولی عقیدہ بھی خود بخود باطل ہو گیا۔ اب اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ اسی حد پر ختم ہو چکا تھا اور مستقبل زمانہ کے ساتھ اس کا کچھ تعلق باقی نہ رہا تھا تو آئندہ آیت میں اس کی دوسری تفصیلات بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی لیکن چونکہ یہاں ایک اور مشکل تر سوال سامنے آگیا تھا اور وہ یہ کہ اگر وہ آسمانوں پر اٹھائے گئے ہیں تو پھر کیا وہ آسمانوں ہی پر وفات پائیں گے۔ اس لئے اس کی بھی وضاحت کر دی گئی اور پوری قوت
٥٨
کے ساتھ اس کا اعلان کر دیا گیا کہ ابھی ان کو طبعی موت نہیں آئی بلکہ موت سے قبل اہل کتاب کو ان پر ایمان لانا مقدر ہو چکا ہے۔ اس لئے یقیناً وہ دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے اور اب خدا تعالیٰ کی وہ خفیہ تدبیر بھی عالم آشکارا ہو جائے گی اور یہ ثابت ہو جائے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب اپنے جسم کے ساتھ تشریف لائے ہیں تو یقیناً جسم کے ساتھ ہی اٹھائے گئے تھے :
"وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا ، النساء آیت ١٥٩“
اور کوئی اہل کتاب نہیں ہو گا مگر ان کی موت سے پہلے ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن وہ (عیسیٰ علیہ السلام) ہوں گے ان پر گواہ۔
یہی وجہ تھی کہ حضرت ابو ہریرہؓ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی حدیث بیان فرماتے تو یہ بھی فرماتے کہ یہ پیشگوئی صرف حدیثی نہیں قرآنی ہے اور یہی آیات بالا پڑھ کر سنا دیتے۔ اب یہ مسئلہ بالکل سمجھ میں آگیا ہو گا کہ حدیثوں میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بار بار بیان فرمانے کی اہمیت کیوں محسوس کی گئی ہے یہ ظاہر ہے کہ رفع جسمانی چونکہ عام انسانوں کی سنت نہیں تھا۔ اس لئے اس کی تفہیم کے لئے اس حقیقت کے ذہن نشین کرنے کی بڑی اہمیت تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی وفات نہیں ہوئی اور ابھی ان کو آسمان سے اترنا ہے اور بہت سی خدمات مفوضہ ادا کرنی ہیں اہل کتاب کو ان پر ایمان لانا ہے اور دجال جیسے ایمان کے غارت گر کو قتل کرنا ہے اور بالآخر خدا تعالیٰ کی زمین کو شر و فساد سے پاک کر کے عام انسانوں کی سنت کے مطابق وفات پانا ہے اور خاتم الانبیاء ﷺ کے پہلو میں دفن ہونا ہے۔ یہ ہے قرآنی بیان اور قرآنی بے لاگ فیصلہ۔ اب یہاں ان کی موت کا دعویٰ کرنا ٹھیک ٹھیک یہودیوں کی اتباع ہے اور ان کو مصلوب مان لینا یہ نصارٰی کی کھلی موافقت ہے۔ کیونکہ اگر ہم عیسیٰ علیہ السلام کا مصلوب ہونا تسلیم کر لیتے ہیں اور پھر کسی غیر معلوم مقام پر جا کر ان کی موت مان لیتے ہیں تو اس کا حاصل صرف یہ ہو گا کہ یہود و نصارٰی کی وہ غلط باتیں جن کی قرآن کریم نے پوری تردید فرمائی تھی۔ ہم نے دونوں کو مان لیا ہے اور اس کے بعد ان کے ساتھ ہمارا
٥٩
اختلاف صرف نظریات کا اختلاف رہ جاتا ہے یہود کے ساتھ تو اس لئے کہ ان کی موت کے وہ بھی قائل تھے فرق صرف یہ رہے گا کہ یہ موت لعنتی تھی یا عزت کی اور نصاریٰ کے ساتھ اس لئے کہ جب وہ سولی دیدیئے گئے تو اب اس کی حقیقت امت کی تطہیر اور کفارہ تھی یا کچھ اور، ظاہر ہے کہ ان امور کے اصولاً تسلیم کر لینے کے بعد یہ نظریاتی اختلافات بالکل بے نتیجہ ہیں۔ ہماری مذکورہ بالا تفسیر کی بناء پر دونوں قوموں کے عقائد کی بیخ و بنیاد ہی اکھڑ جاتی ہے اور قرآن کریم پر اپنی جانب سے کسی حاشیہ آرائی کی کوئی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لانے کے بعد جملہ اہل اسلام کے
نزدیک بھی وفات پائیں گے زیر اختلاف ان کی گزشتہ موت ہے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ اہل اسلام جہاں ان کے رفع کے قائل ہیں اسی کے ساتھ نزول کے بعد ان کی موت کے بھی قائل ہیں۔ اس بارے میں ہمارے علم میں ایک متنفس کا اختلاف بھی نہیں یوں تو ان کی ولادت بلکہ ان کی زندگی کا ہر ہر گوشہ ان کی تردید الوہیت پر برہان قاطع ہے لیکن صرف ان کی موت کا عقیدہ مستقل اس کی ایک ایسی واضح دلیل ہے جس کے بعد ان کی الوہیت کی تردید کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہتی۔ لہٰذا ان کی ولادت اور موت تسلیم کرنے کے بعد اگر ایک ہزار بار بھی ان کے رفع الی السماء کا اقرار کر لیا جائے تو اس میں عیسائیوں کے مسئلہ الوہیت کی کوئی تائید نہیں ہوتی۔ اس لئے اگر بالفرض یہاں ابن عباسؓ یا کسی اور شخص سے ان کی موت منقول ہوتی ہے تو اس کو اجماع امت کے خلاف سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔
حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر کی تحقیق
پس اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ابن عباسؓ سے انی متوفیک کی تفسیر انی ممیتک مروی ہے تو زیادہ سے زیادہ اس سے یہی ثابت ہو گا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو بھی موت آنی ہے مگر اس کا انکار کس کو ہے۔ زیر بحث تو یہ ہے کہ وہ موت ان کو آچکی اور کیا وہ فی الحال مردوں میں شامل
٦٠
ہیں ۔ اور اب دوبارہ نہیں آئیں گے ۔ دعوے سے کہا جا سکتا ہے کہ نہ یہ حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے اور نہ امت مسلمہ میں کسی اور معتمد عالم سے بلکہ ابن عباسؓ سے باسناد قوی یہ ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے اور نزول کے بعد پھر وفات پائیں گے اور ٹھیک یہی تمام امت کا عقیدہ ہے۔
امام بخاریؒ کی کتاب التفسیر میں حل لغات کا حصہ خود ان کا
تصنیف کردہ نہیں بلکہ امام ابو عبید کا ترتیب دادہ ہے
یہاں بے علموں کو ایک مغالطہ یہ بھی لگ گیا ہے کہ ابن عباسؓ کی مذکورہ بالا تفسیر چونکہ امام بخاریؒ کی کتاب میں موجود ہے۔ لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ امام بخاری کا مختار بھی یہی ہے عجیب بات ہے کہ جب امام بخاریؒ ہی کی کتاب میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی حدیث بھی موجود ہے تو پھر کس دلیل سے یہ سمجھ لیا گیا کہ اس موت سے گزشتہ موت مراد ہے بلکہ جب خود حضرت ابن عباسؓ سے بھی یہ ثابت ہے کہ یہ موت نزول کے بعد والی موت ہے تو ماننا پڑتا ہے کہ امام بخاریؒ کے نزدیک بھی اس موت سے وہی مراد ہے اور اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ ان ہی کی کتاب میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا اقرار بھی موجود ہے۔
پھر ان مسکینوں کو اتنا علم بھی نہیں کہ امام بخاریؒ نے کتاب التفسیر میں جو لغات اور تراکیب نحویہ نقل فرمائی ہیں یہ خود ان کی جانب سے نہیں ہیں بلکہ ان کی جانب سے صرف وہی حصہ ہے جو انہوں نے اپنی اسناد کے ساتھ روایت فرمایا ہے اصل بات یہ ہے کہ امام بخاریؒ کے پاس ابو عبید کی کتاب التفسیر موجود تھی۔ امام موصوف نے اس پوری کتاب التفسیر کو کسی تنقید و انتخاب کے بغیر مجملہ اٹھا کر اپنی کتاب میں نقل کر دیا ہے۔ لہٰذا جتنے اقوال مرجوحہ اصل کتاب میں موجود تھے وہ بھی سب کے سب یہاں نقل ہو گئے ہیں۔ لہٰذا یہ سمجھنا بالکل بے اصل ہے کہ امام بخاریؒ نے خاص طور پر ابن عباسؓ کی اس تفسیر کو اختیار فرمایا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ابو عبید کی کتاب التفسیر میں چونکہ ابن عباسؓ کا یہ قول مروی تھا اور جب امام بخاریؒ نے ان کی پوری کتاب التفسیر ہی کو اپنی کتاب میں کسی انتخاب
٦١
کے بغیر نقل کر دیا تھا تو یہ جزء بھی چونکہ ابو عبید کی کتاب میں موجود تھا اس لئے وہ بھی یہاں نقل ہو گیا ہے۔ اہل علم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کتاب التفسیر میں بہت سے مقامات پر حل لغات میں تسامح بھی ہوا ہے اقوال مرجوحہ بھی نقل ہو گئے ہیں اور ان کی ترتیب میں بھی اچھا خاصہ اختلال واقع ہو گیا ہے لیکن امام بخاریؒ خود ان جملہ نقائص سے بری ہیں۔ اس کی ذمہ داری اگر عائد ہوتی ہے تو ابو عبید پر عائد ہوتی ہے۔ امام بخاریؒ کی کتاب کی علو صحت کے متعلق جو دعویٰ ہے وہ ان احادیث مرفوعہ کے متعلق ہے جو اس میں اسناد کے ساتھ امام نے از خود روایت فرمائی ہیں نہ کہ ان اقوال کے متعلق جو اسناد کے بغیر کسی جانب سے کتاب میں نقل ہوئے ہیں۔ لہٰذا اب یہ بات بالکل صاف ہو گئی کہ ان کے نزدیک مذکورہ بالا تفسیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے وہ موت مراد ہے جو آخر زمانہ میں تشریف لانے کے بعد ہو گی اور اس موت میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے اسی طرح ابن حزم کی طرف بھی موت کی نسبت کی گئی ہے۔ اگرچہ کسی شاذ فرد کے اختلاف سے جمہور امت کی رائے پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ وہ بھی ابن حزم جیسے شخص کے اختلاف سے، جس کے تفردات امت میں ضرب المثل ہیں لیکن وہ بھی متعدد مقامات پر اس کی تصریح کر چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری دور میں تشریف لائیں گے۔ لہٰذا زیر اختلاف مسئلہ پر ان شاذ نقول کا بھی کوئی اثر نہیں۔ چنانچہ ابن حزم نے اپنی کتاب المحلی ص ٣٩١ میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو امت کا عقیدہ شمار کیا ہے۔ دیکھو ج ٣ ص ٤٢٩ کتاب الفصل میں بھی اس کی تصریح کی ہے۔ اس کے علاوہ اور متعدد مقامات میں بھی اسی عقیدہ کو امت کا عقیدہ لکھا ہے :
”وقد صح عن رسول الله ﷺ بنقل الکواف التی نقلت نبوته و اعلامه و کتابه انه اخبر انه لانبی بعده الا ما جائت الاخبار الصحاح من نزول عیسیٰ علیہ السلام الذی بعث الی بنی اسرائیل وادعی الیہود قتله و صلبه فوجبت الاقرار بهذه الجملة وصح ان وجود النبوة بعده علیہ السلام لایکون البتة ص ٧٧ ج ١ الفصل ج ٢ ص ٢٣ ص ٨٧،٧٣،٥٥ کتاب مذکور ۔“
٦٢
”جس جمہور امت نے آپ کی نبوت اور اس کی علامات اور قرآن شریف کو نقل کیا ہے اسی امت نے صحیح طریقوں سے رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے یہ خبر دی ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ سوائے ایک عیسیٰ علیہ السلام کے کہ ان کے نزول کی خبر صحیح حدیثوں سے ثابت ہے یہ وہی ہیں جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور جن کے قتل وصلب کا یہود نے دعویٰ کیا تھا۔ لہٰذا ان باتوں کا اقرار کرنا ہم پر لازم ہے اور یہ بطریق صحیح ثابت ہے کہ نبوت کا وجود آپ ﷺ کے بعد ہرگز نہیں ہوگا۔“
قرآن کریم میں مشرکانہ عقائد کی تردید کا جتنا اہتمام کیا گیا ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ نصاریٰ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے لیکن جب اس نسبت کی نامعقولیت ان کے سامنے ظاہر کی جاتی ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ولدیت اور ابنیت سے ان کی مراد حقیقی معنی نہیں ہیں بلکہ اتحاد کی وہ خاص نسبت ہے جو مابین خالق اور عیسیٰ علیہ السلام موجود ہے اور اسی کو مجازاً اس لفظ سے ادا کیا گیا ہے لیکن اس لفظ کے استعمال سے چونکہ عیسائیت کی لفظی تائید ہوتی تھی۔ اس لئے قرآن کریم نے یہاں مجاز و استعارہ کی بھی اجازت نہیں دی بلکہ اس عنوان ہی کو خواہ وہ کسی معنی سے ہو اپنے سخت غیظ و غضب کا باعث قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے :
”تَكَادُ السَّمٰوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا ٭ اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا ٭ مریم آیت ٩٠“
ابھی اس افترا سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں اس پر کہ پکارتے ہیں رحمان کے نام پر اولاد۔
پس اگر قرآن کریم لفظ ابن اور ولد کا مجازی استعمال بھی حرام قرار دیتا ہے کیونکہ اس میں عیسائیت کی تقویت اور اس کی ترویج ہوتی ہے تو اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع یعنی آسمان پر اٹھائے جانے کا عقیدہ بھی صرف عیسائیوں کا عقیدہ تھا اور اس میں مشرکانہ عقیدہ کی ذرا بھی غلط تائید ہوتی تھی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ ٹھیک اسی لفظ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں خود استعمال فرماتا جو عیسائی استعمال کرتے تھے۔ یہ کیسی عجیب در
٦٣
عجیب منطق ہے کہ یہود نے جب : ”اِنَّا قَتَلْنَا“ کہا تو ان کی تردید میں تو قرآن کریم نے دو بار : ”وَمَا قَتَلُوْهُ“ فرمایا مگر جب عیسائیوں نے ”رفع“ کہا تو قرآن کریم نے ایک بار بھی ”وما رفع“ نہیں فرمایا بلکہ ”رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ“ میں لفظ ”الیہ“ کا اور اضافہ فرما کر رفع کے عقیدہ کو اور مضبوط بنادیا۔ کیا اس سے یہی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کے بارے میں عیسائیوں کا عقیدہ بالکل درست تھا۔ البتہ ان کے مصلوب ہونے کا خیال چونکہ بالکل بے اصل تھا اس لئے جس طرح کہ یہود کی تردید میں : ”وَمَا قَتَلُوْهُ“ فرمایا گیا تھا۔ اسی طرح عیسائیوں کی تردید میں : ”وَمَا صَلَبُوْهُ“ کا لفظ فرما دیا گیا اور اس طرح اہل کتاب کی ہر دو جماعتوں کی تردید علیحدہ علیحدہ دو لفظوں سے صراحۃً کر دی گئی اور اسی کے ساتھ عیسائیوں کے بنیادی عقیدہ کا بطلان بھی واضح ہو گیا کیونکہ ان کے مذہب میں کفارہ کا عقیدہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور کفارہ کا عقیدہ تمام تر صلیب پر مبنی ہے۔ لہٰذا جب قرآن کریم نے صراحۃً ”وَمَا صَلَبُوْهُ“ فرما کر صلیب کی صاف تردید فرمادی تو پھر اس پر جتنی بے اصل تعمیر قائم کی گئی وہ خود بخود سب منہدم ہوگئی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمات میں صلیب شکنی کا نکتہ
یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ صلیب چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے نام سے پوجی گئی تھی اس لئے ضروری ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی دوبارہ تشریف لا کر خود اس کے توڑنے کا حکم دیں تاکہ جن کے نام پر یہ شرک ایجاد ہوا تھا۔ ان ہی کے حکم سے اس کا استیصال بھی ہو جیسا کہ عرب نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے سر بت پرستی کی جھوٹی تہمت لگائی تو خود آپ کے سب سے عظیم اور جلیل القدر فرزند یعنی آنحضرت ﷺ نے تشریف لا کر اس کی تردید فرمائی اور فتح مکہ میں اپنے دست مبارک سے ان تمام بتوں کی تصاویر محو کر دیں جو ملت ابراہیمی کے نام پر خانہ کعبہ کے اندر بنائی گئی تھیں یہ خیال کتنا احمقانہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اگر صلیب توڑ دیں گے تو عیسائی اور بہت سی صلیبیں بنالیں گے۔ اگر یہی اعتراض آنحضرت ﷺ کی بت شکنی پر کیا جائے تو کیا یہ قابل مضحکہ نہ ہو گا۔ اصل بات
٦٢
یہ ہے کہ فاتح کی بت شکنی اور صلیب شکنی کا اندازہ غلامانہ ذہنیت کا محکوم ہو کر ہو ہی نہیں سکتا جو صلیب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دست مبارک سے توڑی جائے گی وہ پھر کبھی بنائی نہیں جاسکتی جیسا کہ جو بت آنحضرت ﷺ کے دست مبارک سے توڑے گئے وہ جزیرہ عرب میں آج تیرہ سو سال کے بعد بھی دوبارہ معبود نہیں بن سکے۔
قرآن کریم کی شان اس سے کہیں اعلیٰ و ارفع ہے کہ وہ دشمنان اسلام کے خوف سے حقائق بیان کرنے میں ادنیٰ پس و پیش بھی اختیار کرے
قرآن کریم کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ اپنے سیاق تردید میں صرف دشمنوں کے خوف سے کسی حقیقت پر بھی پانی پھیر دے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں اگر ”رفع“ کے لفظ سے ان کی الوہیت کے بارے میں کوئی بے سبب اشتباہ پیدا ہو سکتا تھا تو اس سے کئی درجہ زیادہ اشتباہ لفظ ”روح اللہ“ اور کلمتہ اللہ“ سے پیدا ہوتا تھا۔ چنانچہ آج تک عیسائی ان ہی الفاظ کو لے کر اہل اسلام کے مقابلہ میں پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کے معجزات کا حال بھی ہے مگر کیا ایک ایسے بحر پر جس میں جملہ بحری غواص تھکے ہوئے نظر آرہے ہوں بے دلیل الوہیت کی تہمت رکھ دینے والوں کی قرآن کریم نے کوئی رعایت کی ہے۔ کیا اس نے ”روح اللہ“ اور ”کلمتہ اللہ“ کا لقب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خود ہی نہیں دیا۔ کیا بے عقلوں کے خوف سے اس نے احیاء موتی کا معجزہ عطا کرنے میں کوئی پس و پیش کیا گیا ہے۔ اگر نامعقول جماعت نے دلائل بشریت ہی کو برعکس دلائل ربوبیت بنا ڈالا ہو تو اس میں سرتاسر جرم ان ہی کا ہے۔ لہذا یہاں قرآن کریم پر یہ زور ڈالنا کہ اس نے ” رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ “ کا لفظ کیوں استعمال فرمایا ہے۔ ایسا ہی ہے جیساکہ کہنا کہ اس نے کلمتہ اللہ اور روح اللہ کا لفظ کیوں استعمال فرمایا؟۔ خوب یاد رکھو اگر ہم اپنی مزعوم خیر خواہی میں قرآن کریم کے صریح الفاظ کی تاویل کریں گے تو اس کا نتیجہ صرف قرآن کریم کے الفاظ کی تحریف نہیں ہوگا بلکہ بہت سے حقائق کا انکار بھی ہوگا اگر رب العزت کے ان کے بن باپ پیدا فرمانے میں نامعقولوں کی رعایت کا حق کسی کو نہیں ہے تو اس سے ان کے زندہ آسمانوں پر
٦٥
اٹھانے میں نامعقولوں کی رعایت کے مطالبہ کا حق کس کو ہے قدرت و حکمت والا ہمیشہ اپنی قدرت و حکمت کے مظاہر کرتا رہے گا : ” فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ۔“
شبہات اور وساوس کا اثر عقائد کی تخریب ہے کسی صحیح حقیقت کی
تعمیر نہیں۔ پس صرف شبہات سے عقائد کی ترمیم کرنا غلط ہے
خود ان کا جواب دینا چاہئے
یہ بات قاعدہ کلیہ کی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ دین کا کوئی مسئلہ جب اپنے دلائل کے ساتھ روشنی میں آجائے تو اس پر بے تامل جزم و یقین کر لینا چاہئے۔ اب اگر اس میں کچھ شبہات اور اعتراضات دل میں گزرتے ہوں تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ان شبہات ہی کا جواب تلاش کرنا چاہئے اور ان کو حل کر لینا چاہئے نہ یہ کہ اس ثابت شدہ حقیقت ہی کا انکار کر دیا جائے کیونکہ شبہات زیادہ سے زیادہ دلائل کی روشنی مدہم تو کر سکتے ہیں مگر کوئی دوسری روشنی پیدا نہیں کر سکتے۔ اس لئے جب کبھی آپ اپنا رخ خود ان شبہات ہی کی طرف پھیر دیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ اور تاریکی در تاریکی میں جاگرے ہیں۔ مثلاً اگر کسی شبہ کی بنیاد پر ختم نبوت کا اجماعی عقیدہ بدل دیا جائے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ جتنے اشکالات اس عقیدہ میں پیدا ہو سکتے تھے اس سے کہیں بڑھ کر شبہات دوسری صورت میں پیدا ہونے لگے۔ در حقیقت یہ شیطان کا ایک بڑا علمی فریب ہے کہ جب وہ کسی گمراہی کی دعوت دیتا ہے تو پہلے ایک حق بات میں شبہات ڈالنا شروع کرتا ہے پھر رفتہ رفتہ ان شبہات کو بڑھا کر ان کو ایک حقیقت کی صورت پہنا دیتا ہے پھر اس کے دلائل کی تلاش لگاتا ہے اور اس تمام تدریجی سلسلہ میں ایک بار بھی انسان کا ذہن اصل عقیدہ کے دلائل کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا۔ حتیٰ کہ وہ عقیدہ جو پہلے ان شبہات کے وجود سے مجروح ہو چکا تھا اب ان وہمی دلائل سے باطل نظر آنے لگتا ہے اور ان دلائل پر دماغ میں کسی ادنیٰ شبہ کا گزر ہونے نہیں دیتا۔ اس کے بعد پھر انسان کو ایسا دلیر بنا دیتا ہے کہ اس کے نوساختہ عقیدہ کے خلاف انسان واضح سے واضح دلائل کی تاویل بلکہ
٦٦
تحریف میں ذرا نہیں شرماتا اور اس طرح وہ انسان کو دین سے منحرف کر دیتا ہے اور اس کے ایمان بالغیب کی ساری دنیا برباد کر ڈالتا ہے۔ اسی کی مثال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ ہے یہاں بھی صرف شبہات پیدا کر کے پہلے وہ اس یقین کو متزلزل کرنے کی سعی کرتا ہے اور جب اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر انسان کو بیسیوں حدیثوں کی تاویل بلکہ انکار پر آمادہ کر دیتا ہے۔ مثلاً یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ دجال کو قتل کرنے کے لئے خاص حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے تشریف لانے کی ضرورت کیا پڑی ہے۔ پھر اتنے دن ان کا زندہ رہنا کیوں تسلیم کیا جائے اور اس کے لئے جتنے مقدمات ہو سکتے ہیں ان کو خوب مبرہن کرتا چلا جاتا ہے لیکن ایک مؤمن ان شبہات کی بناء پر قرآن و حدیث کی تاویل کرنے کی بجائے خود ان شبہات ہی کے جواب کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور صرف وساوس و اوہام سے اپنے قیمتی ایمان کو زخمی نہیں کرتا۔ اگر یہاں کتب سابقہ اور اہل کتاب کی تاریخ پر ذرا نظر کی جائے تو معلوم ہوگا کہ کتب سابقہ میں دو مسیح کے آمد کی پیشگوئی کی گئی تھی ایک مسیح ہدایت اور دوسرا مسیح ضلالت چونکہ یہود نے مسیح ہدایت کو مسیح ضلالت کا مصداق قرار دیدیا تھا اور مسیح ضلالت کو اس کے برعکس مسیح ہدایت ٹھہرایا گیا۔ اس لئے کیا یہ مناسب نہ تھا کہ مسیح ضلالت کے ظہور کے وقت خود مسیح ہدایت ہی تشریف لا کر اس کے مقابلہ پر یہ ثابت کر دیں کہ مسیح ہدایت کون ہے اور مسیح ضلالت کون تاکہ ایک طرف جو پہلے مسیح ہدایت کو مسیح ضلالت ٹھہرانے والے تھے وہ جھوٹے ثابت ہوں اور دوسری طرف مسیح ضلالت کی اتباع کرنے والے بھی نامراد ہو جائیں اور اس طرح جو مغالطے پہلے لگ چکے تھے اب وہ خود ان ہی کی زبان سے دور ہو جائیں۔ صلیب ان کے نام سے پوجی گئی تھی وہی آکر اس کو توڑیں اور سور بھی ان ہی کے نام سے حلال کیا گیا تھا اب وہی آکر اس کے قتل کا حکم دیں اور اس طرح قرب قیامت میں یہود و نصاریٰ پر خدا کی حجت پوری ہو اور اتحاد و ملل کے سلسلہ میں جتنی رکاوٹیں ہو سکتی تھیں وہ ایک ایک کر کے سب اٹھ جائیں اور آخر میں پھر دین اسی طرح ایک ہی باقی رہ جائے جیسا کہ آغاز عالم میں ایک ہی دین تھا ” وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقاً وَّعَدْلاً ٠ الانعام آیت ١١٥“
نیز چونکہ دجال آخر میں مدعی الوہیت ہوگا اور احیاء موتی کا مدعی ہوگا اس لئے کیا یہ
مناسب نہ تھا کہ اس کے قتل کے لئے ایک ایسا ہی رسول آتا جس پر دعویٰ الوہیت کی تہمت لگائی گئی ہو تا کہ ایک طرف تو قتل ہو کر جھوٹے مدعی الوہیت کا جھوٹ ثابت ہو جائے دوسری طرف اس قوم کا جھوٹ بھی ثابت ہو جائے جنہوں نے خدا کے مقدس رسول پر دعویٰ الوہیت کی بے بنیاد تہمت لگائی تھی اور روز روشن کی طرح یہ واضح ہو جائے کہ جو مدعی الوہیت کا قائل ہو وہ خود مدعی الوہیت کیسے ہو سکتا ہے۔ ان امور کے علاوہ جب یہود کے دعویٰ کو دیکھا جاتا ہے تو وہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کے بھی قتل کا دعویٰ رکھتے تھے مگر قرآن کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ قتل نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر اٹھا لئے گئے اور اس میں خدا تعالیٰ توانا و حکیم کی بڑی حکمت مضمر تھی کیا اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر کچھ اور تھا کہ جس کو مقتول ٹھہرایا گیا تھا وہی آکر پہلے خود ان کے سرغنہ کو قتل کرے۔ یعنی دجال کو پھر ان کے قتل کا حکم دے اور گویا اس طرح خود ایک نبی پہلے اپنی قوم انبیاء علیہ السلام کے قاتلین سے ان کا قصاص لے اور دوسری طرف اپنے متعلق دعویٰ قتل کا مزہ بھی چکھا دے۔
پھر جب ختم نبوت پر زیادہ گہرائی سے نظر ڈالی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ضرورت کے وقت امت میں کسی نبی کی پیدائش کی بجائے کوئی گزشتہ نبی آئے کیونکہ دجال اکبر کی آمد کی پیشگوئی نوح علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام کرتے چلے آئے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے ثابت ہوتا ہے کہ اتنی بڑی گمراہی دنیا کی پیدائش سے لے کر آج تک کبھی ظاہر نہیں ہوئی اس لئے یہ ماننا پڑتا ہے کہ دجال ایک مرکزی طاقت ہے اور ایک مرکزی طاقت کے مقابلہ کے لئے ضرور کوئی مرکزی طاقت ہی آنی مناسب ہے۔ اب اگر اس کے مقابلہ میں کسی امتی کو کھڑا کر دیا جاتا تو وہ اس کا صحیح مقابل ہی نہیں ہو سکتا تھا دنیا میں بھی کشتی میں پہلوانوں کا جوڑ دیکھا جاتا ہے اور اسی طرح حکومتوں کے مقابلہ کے وقت بھی ان کی طاقتوں کا توازن ضروری ہوتا ہے جس کو آج کل Ballance of Power کہا جاتا ہے۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ ابن صیاد کے متعلق جب حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! حکم دیجئے تو میں اس کی گردن اڑا دوں تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: ”ان یکن ہو فلن تسلط علیہ“ اگر یہ وہی دجال اکبر ہے تو ٦٨
تم اس کے قتل پر مسلط نہیں ہو سکتے۔ پس جب امت میں حضرت عمرؓ جیسا بھی اس کو قتل نہ کر سکے تو اب دوسرا کون اس کا قاتل ہو سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ٹھہرا کہ اس کا قاتل کوئی نبی ہو۔ پس جب نبی کی ضرورت کے وقت بھی اس امت میں سے کسی کو نبی نہیں بنایا گیا بلکہ ان ہی گزشتہ انبیاء علیہم السلام ہی میں سے ایک نبی کو لا کر کھڑا کیا گیا تو فرمائیے کہ ختم نبوت کا مسئلہ اب کتنا واضح ہو گیا۔ گویا آج تک ختم نبوت کا ثبوت صرف علمی تھا اور اس وقت تاریخ اور مشاہدہ سے بھی اس کا ثبوت ہو گیا کیونکہ جب ضرورت کے وقت پھر انبیاء سابقین ہی میں کا ایک رسول آیا تو یہ اس کا بدیہی ثبوت ہے کہ درحقیقت رسولوں میں سے کوئی فرد بھی باقی نہیں رہا تھا۔ اس لئے یقیناً آنحضرت ﷺ ہی سب سے آخری رسول تھے۔ لہٰذا اب یہ شبہ نہیں رہا کہ جب آپ خاتم النبیین ہیں تو آپ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کیسے آئیں گے بلکہ ان کا نزول ہی ختم نبوت کا سب سے بڑا ثبوت ہو گا۔ اگر وہ دوبارہ تشریف نہ لائیں تو مشاہدہ میں یہ کیسے ثابت ہوتا کہ سب رسول آچکے ہیں اور آپ ہی سب سے آخری رسول ہیں۔
جلد اول (ترجمان السنۃ) میں ختم نبوت کی پہلی حدیث میں ہم یہ بھی بتفصیل لکھ چکے ہیں کہ حسب تصریح قرآن کریم آنحضرت ﷺ کے حق میں جملہ انبیاء علیہم السلام سے ایمان اور بوقت ضرورت نصرت کا عہد بھی لیا جا چکا ہے۔ اس لئے یوں مقدر ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام تشریف لا کر اپنی طرف سے اصالۃً اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کی طرف سے وکالۃً اس عہد کو پورا فرمائیں۔ کیا ان چند وجوہات سے جو فوری طور پر زیر قلم آگئے ہیں گزشتہ شبہات کا جواب نہیں ہو جاتا۔
کتاب اللہ میں اور حدیثوں میں دیگر موجودہ کتب سماویہ
کے مقابلہ میں مجازات اور استعارہ کا استعمال بہت کم ہے
اور یہ اسلام کا ایک طرۂ امتیاز بھی ہے
جہاں تک ہم نے غور کیا ہے ہم کو یہی ثابت ہوا ہے کہ دیگر کتب سماویہ کی نسبت
٦٩ کی نسبت
٦٩
ہماری شریعت میں استعارات و مجازات کا دائرہ بہت تنگ ہے۔ کتب سابقہ کی موجودہ صورت پر گو کوئی اعتماد نہیں کیا جاسکتا تاہم ہمارے موازنہ کے لئے ان کے موجودہ نسخوں کے علاوہ ہمارے سامنے کوئی اور سامان بھی نہیں ہے۔ جب ہم حدیث و قرآن کریم کی پیشگوئیوں اور اس کے دیگر بیانات کی کتب سابقہ کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو ہم کو آفتاب درخشاں کی طرح یہ واضح ہوتا ہے کہ ہماری شریعت نے اس بارے میں استعارات و مجازات کا دائرہ بجز ان مجازات کے جو حقیقت سے زیادہ متعارف ہوں بہت تنگ رکھا ہے اور عقائد کے باب سے تو اس کا کوئی تعلق ہی نہ رکھا۔ اس کے برخلاف موجودہ انجیل کا حال یہ ہے کہ اس میں الوہیت و رسالت کے بنیادی مسائل بھی مجازات و استعارہ کے پیرایہ میں ادا کئے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ منصف عیسائی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ان کے مذہب میں توحید کا مسئلہ بھی تقدیر کے مسئلہ کی طرح مذہب کا ایک راز اور ناقابل فہم مسئلہ ہے اس کے برعکس قرآن کریم کا بیان ہے یہاں عقائد و احکام کا تو ذکر ہی کیا ہے پیشگوئیوں کا عام باب بھی اس طرح کھول کھول کر بیان کر دیا گیا ہے کہ کسی صحیح فہم والے شخص کے لئے ان میں کوئی تردد نہیں رہتا فارس و روم کی جنگ میں فتح کی پیشگوئی‘ فتح مکہ کی پیشگوئی‘ اعضاء انسانی کا کلام کرنا‘ دجال کی پیدائش اس کا اور اس کے والدین کا نقشہ‘ سر کے بل انسانوں کا محشر میں چلنا‘ مردے قبور سے نکلنا اور مردوں اور عورتوں کا ایک میدان میں اسی طرح جمع ہونا۔ غرض حشر و نشر اور جنت و دوزخ کی وہ تفصیلات جو مادی عقول کے نزدیک حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نزول سے کہیں بعید تر ہیں۔ ان سب کے متعلق صاحب شریعت کی طرف سے ہم پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ سب کی سب حقیقت ہی حقیقت ہیں اور کسی تاویل کے بغیر ہمیں ان کو حقیقت ہی پر محمول کرنا چاہئے۔ چنانچہ اگر جنت کے تذکرہ میں حسب الاتفاق اس کا ذکر آگیا ہے کہ وہاں انسان کی ہر خواہش پوری ہو گی تو سامعین نے کبھی اس کو مبالغہ پر حمل نہیں کیا بلکہ اپنے اپنے ذوق کے مطابق وہی سوالات کئے ہیں جو ان الفاظ کے حقیقی معنی میں پیدا ہو سکتے تھے۔ مثلاً کسی نے یہ سوال کیا کہ کیا جنت میں کاشت اور کھیتی بھی ہو گی اور جب کبھی جنت میں صنفی تعلقات کا ذکر آگیا ہے تو سامعین میں سے اس پر کسی نے ولادت کے مسئلہ کا حل بھی دریافت کیا ہے۔
٧٠
اسی طرح بقیہ مسائل کے متعلق بھی ایسے سوالات کئے گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے مخاطب صحابہ ہمیشہ آپ ﷺ کے کلام کو حقیقت ہی پر محمول کرنے کے عادی تھے۔ پھر ان کے جو جوابات آپ ﷺ سے منقول ہیں وہ بھی اسی کی دلیل ہیں کہ خود آپ ﷺ نے بھی ان الفاظ سے حقیقی معنوں ہی کا ارادہ فرمایا ہے۔ مثلاً پہلے سوال کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی زراعت منش آدمی کے دل میں وہاں بھی یہ جذبہ پیدا ہو گا تو زراعت اس کی بالیدگی و پختگی سب آن کی آن میں ہو جائے گی اور ذرا سی دیر نہ ہو گی کہ کھیتی کٹ کٹا کر اس کے گھر میں آجائے گی اور قدرت کی طرف سے ارشاد ہو گا۔ اے ابن آدم ! لے تو یہ بھی لے تیری ہوس آخر کسی طرح پوری بھی ہو گی۔ اگر یہاں مجازی معنی استعمال ہوتے تو جواب صاف تھا کہ جنت میں کھیتی کہاں ؟۔ اس کا مطلب تو صرف ایک معنی مجازی اور مبالغہ تھا اسی طرح دوسرے سوال کے جواب میں بھی آپ یہی فرما سکتے تھے کہ اگر کوئی شخص ولادت کی تمنا کرے گا تو فوراً حمل و ولادت اور وضع حمل کا سلسلہ آناً فاناً پورا ہو کر کھیلتا ہوا بچہ اس کو مل جائے گا مگر جو دنیا میں میزان مستوفی ملانے کے لئے نہیں آئے بلکہ حقیقت ہی حقیقت بتانے آئے تھے انہوں نے یہاں بھی وہی جواب نہیں دیا جو صرف قیاس سے دیا جاسکتا تھا، بلکہ وہ جواب عنایت فرمایا جو حقیقت میں اس کا جواب تھا۔ ارشاد ہے کہ اگر جنت میں کسی کے دل میں یہ تمنا ہوئی تو ایسا ہی ہو گا مگر وہاں کسی کے دل میں یہ تمنا ہی نہ ہو گی۔
غرض شریعت اسلام کی تاریخ میں متکلم و مخاطب دونوں کے حالات سے ہم کو یہی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جانبوں سے شرعی الفاظ کے ہمیشہ حقیقی معنی ہی مراد لئے گئے ہیں بجز اس کے کہ فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے وہاں استعارہ و مجاز لانا واضح ہو کہ حقیقی معنی کی طرف عام طور پر ذہن کا انتقال ہی مشکل ہو۔ مثلاً صبح کے لئے الخیط الابیض کا لفظ اور شب کی تاریکی کے لئے الخیط الاسود کا لفظ فصیح لغت میں ایک ایسا مجاز ہے کہ اس مجاز کو چھوڑ کر یہاں حقیقت کا استعمال کرنا گویا انداز بلاغت ہی کو چھوڑ دینا ہے۔ اس کے باوجود جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی : ” حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ ٠ البقرہ آیت ١٨٧“ تو کسی دماغ نے اس کھلے ہوئے مجاز کو بھی حقیقت ہی پر
٧١
محمول کیا اور سیاہ و سفید رنگ کے دو دھاگے لے کر اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لئے اور رات کو اس وقت تک کھاتا پیتا رہا جب تک کہ یہ دو دھاگے علیحدہ علیحدہ صاف صاف نظر نہ آنے لگے۔ جب صبح کو اس واقعہ کی اطلاع آنحضرت ﷺ کو پہنچی تو آپ نے بلیغانہ انداز میں فرمایا تمہارا تکیہ بھی کتنا لمبا چوڑا ہے جس کے نیچے دن کی روشنی اور رات کی تاریکی دونوں سما گئیں۔ یعنی ان الفاظ سے مراد معنی مجازی تھے اور یہاں مجاز ایسا متعین ہے کہ حقیقت کی طرف ذہن جانا ہی مشکل ہے۔ تم نے اس کو حقیقت پر کیسے محمول کر لیا لیکن اس انفرادی غلطی کے باوجود اس کی اتنی اہمیت محسوس کی گئی کہ کلمہ : ” من الفجر “ اور نازل ہو گیا تاکہ پھر یہ مجاز متعارف بھی حقیقت کے اتنا قریب آجائے کہ یہاں کسی ایک فرد کو بھی احکام کے باب میں اس غلط فہمی کا امکان نہ رہے۔
﴿اس سے اندازہ کر لینا چاہئے کہ یہاں ایسے مجازات کا تو بھلا کیا امکان ہو گا جن کی طرف کسی اہل زبان کا ذہن ہی منتقل نہ ہو سکے حتیٰ کہ ان کے زبردستی منوانے کے لئے جدید وحی کی ضرورت محسوس ہو اور کسی نبی مزعوم کو آکر پہلے خود بھی سالوں کا مغالطہ لگا رہے اور وہ بھی ان کو حقیقی معنی پر ہی حمل کرتا رہے پھر جب وہ مدعی مسیحیت بنے تو ان کے مجازی معنی مراد لے اور اس کے سمجھانے میں اس کو امت کے ساتھ مدتوں جنگ کرنی پڑے۔ مثلاً یہ کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی عیسیٰ ابن مریم سے مجازاً فلاں شخص جس کا باپ بھی موجود ہے اور ماں کا نام بھی مریم نہیں ہے مراد ہے اور نزول سے مجازاً ولادت اور حاکم سے مجازاً محکوم اور دمشق سے فلاں شہر اور دو زرد چادروں سے مجازاً دو مرض مراد ہیں۔ غرض کہ اس پیشگوئی کے جملہ الفاظ میں مجازی معنی مراد لے لئے بجز ایک منارہ کے کہ اس کے معنی حقیقی مراد لے اور یہ حقیقی معنی بھی وہ خود اپنے نزول یعنی ولادت بلکہ دعویٰ مسیحیت کے بعد اپنے چندہ سے منارہ بنا کر پیدا کرے بے شک مجاز و استعارہ فصاحت و بلاغت کا ایک اہم باب ہے اور ہر زبان میں پایا جاتا ہے مگر کیا ایسے استعارہ و مجاز کی مثال بھی کسی زبان میں ملتی ہے۔ اگر اس قسم کے استعارہ و مجاز کے لئے بھی کوئی وجہ جواز نکل سکتی ہے تو پھر دنیا میں جھوٹ اور کذب کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔ ہر جھوٹ استعارہ و مجاز کے پردے میں چل سکتا ہے۔﴾
٧٢
خلاصہ یہ کہ دیگر کتب سماویہ کے مقابلہ میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ کا یہ بھی ایک طغرئ امتیاز ہے کہ یہاں جملہ بیانات اتنے واضح ہیں جتنا کہ وہ ہو سکتے ہیں پھر اگر ان میں کوئی ابہام رہ گیا ہے تو وہ بھی اسی حد تک ہے جو ناگزیر ہے بلکہ وہاں یہ ابہام ہی مناسب ہے۔ بعض مرتبہ مصداق کے ظہور سے قبل وہ ابہام اس لئے بھی ناگزیر ہوتا ہے کہ اس کی تشریح کے لئے عقل انسانی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جیسے برزخی کیفیات ظاہر ہے کہ عالم برزخ جب عالم مادیات سے جدا عالم ہے تو جب تک ایک انسان اسی عالم مادہ میں موجود ہے وہ عالم برزخ کے دوسرے عالم کی پوری تفصیلات کا پورا احاطہ کیسے کر سکتا ہے۔
اور در حقیقت آخری شریعت کی یہی صفت ہونی بھی چاہئے کیونکہ پہلی کتب میں اگر کوئی ابہام رہ گیا تو آئندہ نبی نے آکر اس کو واضح کر دیا ہے۔ لیکن اگر ضروری امور میں اس شریعت میں بھی ابہام رہ جائے تو اب یہاں کون ہے جو آئندہ آکر اس کی ذمہ دارانہ تشریح کر سکے مجتہدین کا بیان اس جگہ ناکافی ہے۔ ان کو یہاں دوطرفہ عمل کے لئے وسعت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ان کے بیان کی وہ حیثیت نہیں جو رسول کے سرکاری بیان کی ہو سکتی ہے۔
صریح حدیثوں میں تاویل کا خطرناک نتیجہ
صریح الفاظ اور صریح بیانات کو پیچیدہ بنانے اور ان کی تاویلات کرنے کا نتیجہ کبھی اچھا برآمد نہیں ہوا۔ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی پیشگوئی میں تاویل کی۔ آخر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انہوں نے دجال کا مصداق سمجھا اور جب دجال ظاہر ہو گا تو اس کو مسیح ہدایت سمجھ کر اس کی اتباع کریں گے۔ اسی طرح نصاریٰ نے آنحضرت ﷺ کی صاف صاف پیشگوئیوں کی تاویلات کیں۔ آخر اس کا بھی جو نتیجہ ظاہر ہونا تھا وہ ہوا اور انہوں نے بھی اسی غلطی کی بدولت آنحضرت ﷺ کا انکار کیا۔ لہذا صاف اور واضح بیانات میں تاویلات کرنا نہایت خطرناک قدم ہے اور اس کا ثمرہ بھی یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ غلط مسیح، مسیح حق مان لئے جائیں اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں تو یہودیوں کی طرح ان کا انکار کر دیا جائے۔ اگر نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اتنے
٧٣
واضح اور صریح الفاظ میں بھی تاویلات یا مجازات واستعارات جاری کردینا صحیح ہے تو پھر یہودو نصاریٰ کو بھی قصوروار ٹھہرانا غلط ہوگا جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے متعلق پیشگوئیوں میں تاویلیں کرکے اپنا ایمان برباد کیا۔ والعیاذ باللّٰہ من الزيغ والالحاد!
سيدنا روح اللّٰه عيسىٰ بن مريم وقطعة مهمة
من حياته الطيبة عليه الصلوٰة والسلام
سیدنا روح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کی حیات طیبہ
کی ایک اہم سرگزشت
نزول عيسىٰ عليه السلام حق جزم به
النبی ﷺ حتّٰی حلف عليه
- (١)..........." عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ
اللّٰهِ ﷺ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَّنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْحَرْبَ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ثُمَّ يَقُولُ أَبُوهُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهٖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا. رواه البخارى ص٤٩٠ج١ باب نزول عيسىٰ بن مريم ومسلم ص٨٧ج١ باب نزول ابن مريم“
” وفى لفظ من رواية عطاء ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد . رواه ابوداؤد وابن ماجه واحمد فى مسنده ص٤٩٣، ٤٩٤ج٢ وبطريق آخر فى ص٤١١ج٢“
”ولفظه يوشك من عاش منكم ان يلقى عيسىٰ بن مريم وعزاه
٧٤
السيوطى فى الدر المنثور ص ٢٤٢ ج ٢ لابن ابى شيبة وعبد بن حميد وأخرجه ابن مردويه وفى لفظه وتكون السجدة واحدة لله رب العالمين واقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته موت عيسىٰ بن مريم ثم يعيدها ابو هريرة ثلث مرات . “
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول یقینی مسئلہ ہے۔ حتیٰ کہ
آنحضرت ﷺ نے اس کو قسم کھا کر ذکر فرمایا ہے
﴿ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ یقیناً وہ زمانہ قریب ہے جبکہ ابن مریم تمہارے درمیان اتریں گے وہ ایک منصف فیصلہ کرنے والے کی حیثیت سے آئیں گے۔ صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور سور کو قتل کریں گے اور جنگ ختم کر دیں گے اور ان کے دور میں مال اس طرح بہا پڑے گا کہ کوئی شخص اس کو قبول کرنے والا نہ ملے گا اور لوگوں کی نظروں میں ایک سجدہ کی قدر و قیمت دنیا و مافیہا سے بھی زیادہ بڑھ جائے گی۔ یہ مضمون روایت فرما کر ابو ہریرہؓ کہتے تھے کہ اگر تم اس مضمون کو قرآن کی روشنی میں دیکھنا چاہو تو سورۃ النساء کی یہ آیت پڑھ لو : ” وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۔ “ بخاری شریف و مسلم شریف میں عطاء کی روایت میں یہ الفاظ اور ہیں کہ ان کے زمانہ کی برکات میں سے یہ بھی ہو گا کہ لوگوں میں کینہ بغض اور حسد کا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔﴾
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول میں اگر عام عادت کے خلاف کوئی بات نہیں تو آنحضرت ﷺ اس کو قسم کھا کھا کر کیوں بیان فرماتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے کسی انسان کی ولادت مراد نہیں، کیونکہ اس میں کوئی ایسی جدید بات نہیں جس پر قسم کھانے کی ضرورت ہو۔ پھر اس پیشن گوئی کی اہمیت راوی حدیث کی نظر میں اتنی ہے۔ کہ وہ اس کو قرآنی پیشن گوئی کہتا ہے۔ اب اس سے اندازہ کر لینا چاہئے کہ جو پیشن گوئی قسم کے ساتھ حدیثوں میں بیان کی گئی ہو بلکہ قرآن کریم میں موجود ہو وہ جزم و یقین
٧٥
کے کس درجہ میں ہو گی۔ حدیث مذکور میں ان کے زمانہ کی چند ایسی برکات کا تذکرہ بھی آگیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت ایک غیر معمولی شخصیت ہو گی۔ وہ کوئی معمولی محکوم انسان نہیں ہوں گے۔ بلکہ حاکم بھی وہ حاکم ہوں گے۔ جو وقت کی بڑی طاقت یعنی نصرانیت کا صرف روحانی طور پر ہی نہیں بلکہ مادی طور پر بھی استیصال فرمائیں گے اور شعار نصرانیت میں سب سے بڑا شعار یعنی صلیب اسکو نیست و نابود کر دیں گے۔ اخروی برکات کے ساتھ ساتھ دنیوی برکات بھی ان کے قدموں سے لگی ہوئی ہوں گے اور یہ سب برکات اتنی ظاہر و باہر ہوں گی کہ اس وقت کے انسانوں کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وہی اسرائیلی رسول ہونے کا بدیہی ثبوت دیں گے۔
یہ بھی واضح رہے کہ حدیث مذکور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حَکَم فرمایا گیا ہے اور حَکَم وہی ہو سکتا ہے جو فریقین کے نزدیک مسلم ہو اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ نازل ہونے والے وہی اسرائیلی عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کیونکہ ان کی شخصیت ہی اہل کتاب اور امت محمدیہ ﷺ دونوں کے نزدیک مسلم ہو سکتی ہے۔ اگر بالفرض اس پیشین گوئی کا مصداق کسی ایسے شخص کو قرار دیا جائے جو خود اسی امت میں پیدا ہو تو اس کو حَکَم نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ اہل کتاب کے نزدیک وہ مسلم نہیں ہوگا۔ یہاں حَکَم یعنی ثالث کی ضرورت اس لئے ہے کہ دنیا کے خاتمہ پر جملہ ادیان کا پھر ملت واحد بن جانا ضروری ہے اور اس کے لئے اہل کتاب اور اہل قرآن کا باہم اختلاف ختم ہو جانا لازم ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے سب فیصلے دلائل و براہین کی روشنی میں ہوتے ہیں اس لئے اس کی مصلحت نے تقاضا کیا کہ اس مقصد کے لئے ایک ایسی شخصیت آئے جو فریقین کے نزدیک مسلم ہو تاکہ خدائے تعالیٰ کی حجت دونوں فریق پر پوری ہو جائے اس لئے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا تشریف لانا مقدر ہوا : ” وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلاً ۔ “
- (٢)........... ”وَأَخْرَجَ أَبُويَعْلَى مَرْفُوعًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَنْزِلَنَّ
عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ لَئِنْ قَامَ عَلَى قَبْرِي وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ لَأُجِيبَنَّهُ كذافي روح الْمَعَانِي من الاحزاب ج٢٢ ص٢٣ زیر آیت خاتم النبیین، مجمع الزوائد
٧٦
ص ٢١٤ ج ٨ بحوالہ مسند ابی یعلیٰ“ ﴾آنحضرت ﷺ نے اس ذات کی قسم کھا کر فرمایا جس کے قبضہ میں آپ کی جان ہے کہ عیسیٰ بن مریم ضرور اتر کر رہیں گے اور اگر وہ میری قبر پر آکر کھڑے ہوں گے اور مجھ کو یا محمد ﷺ کہہ کر آواز دیں گے تو میں ان کو ضرور جواب دوں گا۔﴿
(٣)......... "عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ عِيْسَى بْنَ مَرْيَمَ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّى السَّلَامَ٠ كذافى الدر منثور ص ٢٤٥ج ٢ وقدرواه احمدص٢٩٨ج ٢ فى مسنده عن ابى هريرة مرفوعاً بسندرجاله رجال البخارى مستدرك حاكم ج ٥ ص ٧٥٥ حديث نمبر ٨٦٧٩"
﴾انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا ہے تم میں سے جس شخص کی بھی عیسیٰ بن مریم سے ملاقات ہو وہ ان کو میری جانب سے ضرور سلام کہہ دے۔﴿
(٤)......... "عَنْ اَبِىْ هُرَيْرَةَ مَوْقُوْفًا عَلَيْهِ اِنِّىْ لَاَرْجُوْ إِنْ طَالَتْ بِىْ حَيُوةٌ أَنْ أُدْرِكَ عِيْسَى بْنَ مَرْيَمَ فَإِنْ عَجَّلَ بِىْ مَوْتٌ فَمَنْ أَدْرَكَهُ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّى السَّلَامَ (مسند احمدص٢٩٨ ج ٢) ورجاله رجال البخارى وقد اخرج البخارى بهذا لاسناد احاديث فراجع ص ١٠٠٧ ج ٢ وص ٩٩٩ ج ٢"
﴾ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اگر میری زندگی دراز ہو گئی تو مجھ کو امید ہے کہ عیسیٰ بن مریم سے خود میری ملاقات ہو جائے گی اور اگر اس سے پہلے میری موت آجائے تو جو شخص ان کا زمانہ پائے وہ میری جانب سے ان کی خدمت میں سلام عرض کر دے۔﴿
ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول یقینی امر ہے اور ایسا یقینی ہے کہ اس پیشین گوئی کے راویوں کی نظروں میں اس کا انتظار لگ رہا تھا۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت غیر معمولی شخصیت ہے امت کا فرض ہے کہ وہ پیشین گوئی کو یاد رکھے اور جس خوش نصیب کو وہ زمانہ ہاتھ آجائے اس پر لازم ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کا سلام پہنچا کر آپ ﷺ کی وصیت کو پورا کرنے کی سعادت حاصل کرے۔
٧٧
ان عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام لم یمت الی
الان وانہ راجع الینا ثم یاتی علیہ الفناء
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اب تک وفات نہیں ہوئی ان کو تشریف
لانا ہے اس کے بعد ان کی وفات ہونی ہے
- (٥)..........”عَنِ الْحَسَنِ مَرْفُوْعًا وَمَوْقُوْفًا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ
اللّٰهِ ﷺ لِلْیَهُوْدِ اِنَّ عِیْسٰی لَمْ یَمُتْ وَاِنَّهُ رَاجِعٌ اِلَیْكُمْ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَةِ اخرجہ ابن جریر مرفوعاً عنہ ج٣ص٢٨٩ واخرج ابن کثیر ج١ ص٣٦٦ من آل عمران وذکرہ فی النساء من طریق آخر موقوفاً علیہ واخرجہ ابن ابی حاتم مرفوعاً و در منثور ج٢ص٣٦ زیر آیت انی متوفیک“
﴿حضرت حسنؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود سے ارشاد فرمایا! عیسیٰ علیہ السلام ابھی مرے نہیں ہیں اور قیامت سے پہلے ان کو لوٹ کر تمہارے پاس آنا ہے۔﴾
عجیب بات ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں یہود و نصاریٰ کو علیحدہ علیحدہ خطاب فرمایا ہے چونکہ یہود عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ تصور کرتے ہیں اور ان کی دوبارہ آمد کے منکر ہیں اس لئے جب آپ نے خاص یہود کو خطاب فرمایا تو ان کے مقابلہ میں خاص طور پر ان کی دوبارہ تشریف آوری پر زور دیا ہے اور صراحت کے ساتھ ان کی موت کی نفی فرمادی ہے جس سے ثابت ہوا کہ جب عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہی نہیں ہوئی تو پھر ان کا دوبارہ تشریف لانا خود بخود ضروری ہے اور اس حقیقت کی مزید تاکید کے لئے جو شخص آسمانوں پر گیا ہے وہی شخص دوبارہ آئے گا لفظ ”رجوع“ یعنی لوٹنے کا استعمال فرمایا ہے۔ اس کے برعکس نصاریٰ ہیں وہ ان کو خدا مانتے ہیں۔ لہٰذا ان کے نزدیک وہ فنا کے تحت آہی نہیں سکتے۔ لہٰذا آپ نے جب خاص ان سے خطاب فرمایا تو ان کو یہ کہہ کر قائل
٧٨
کیا ہے کہ خدا وہ ہے جس کو کبھی فنا نہ ہو اور عیسیٰ علیہ السلام کو اترنے کے بعد موت آنی ہے۔ پھر وہ خدا کیسے ہو سکتے ہیں۔
- (٦)........ ”عَنِ الرَّبِيْعِ مُرْسَلاً قَالَ اِنَّ النَّصَارٰی اَتَوْا رَسُوْلَ
اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَخَاصَمُوْهُ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ وَقَالُوْا لَهُ مَنْ اَبُوْهُ وَقَالُوْا عَلَی اللّٰهِ الْكَذِبَ وَالْبُهْتَانَ فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ لَایَكُوْنُ وَلَدٌ اِلَّا وَهُوَ یَشْبَهُ اَبَاهُ قَالُوْا بَلٰی قَالَ اَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَبَّنَا حَيٌّ لَّا یَمُوْتُ وَاَنَّ عِیْسٰی یَاْتِیْ عَلَیْهِ الْفَنَاءُ قَالُوْا بَلٰی . الحدیث کذافی الدر المنثور من اول سورۃ آل عمران ص٣ج٢“
ربیع مرسلاً بیان کرتے ہیں کہ نصاریٰ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عیسیٰ بن مریم کے معاملہ میں حضور ﷺ سے جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ اگر وہ خدا تعالیٰ کے بیٹے نہ تھے تو بتائیے ان کا والد کون تھا اور حق تعالیٰ شانہ پر طرح طرح کے جھوٹ اور بہتان لگانے لگے۔ آپ نے ان سے فرمایا کیا تم اتنا بھی نہیں جانتے کہ ہر بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ زندہ رہنے والی ہے۔ اس کو موت کبھی نہ آئے گی اور عیسیٰ علیہ السلام کو موت آنی ہے۔ انہوں نے اس کا اقرار کیا اور کہا بے شک ان کو موت آنی ہے تو پھر وہ حق تعالیٰ کے مشابہ کہاں رہے۔
اگر بالفرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت آچکی تھی تو کیا اس حقیقت کے انکشاف کے لئے اس سے زیادہ بڑھ کر کوئی اور موقع تھا کہ آپ ﷺ یہاں صاف فرما دیتے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو کبھی کے مر چکے ہیں مگر قرآن وحدیث میں عیسائیوں کے سامنے ایک جگہ بھی ہم کو اس کا تذکرہ نہیں ملتا۔
- (٧)........ ”عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ عَنْ حُذَیْفَةَ بْنِ اُسَیْدِ الْغِفَارِيِّ قَالَ
اِطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلَیْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ فَقَالَ مَاتَذْكُرُوْنَ قَالُوْا نَذْكُرُ السَّاعَةَ قَالَ اِنَّهَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَآیَاتٍ فَذَكَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ
٧٩
وَالدَّابَّةَ وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِهَا وَنُزُوْلَ عِيْسَى بْنِ مَرْيَمَ وَيَاجُوْجَ وَمَاجُوْجَ وَثَلَاثَةَ خُسُوْفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيْرَةِ الْعَرَبِ وَاٰخِرُ ذٰلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ اِلٰى مَحْشَرِهِمْ
. اخرجه مسلم ص٣٩٣ ج٢ فصل فی ظهور عشر آیات وعن واثلة نحوه اخرجه الطبرانی ج٣ ص١٧١ حدیث نمبر ٣٠٢٨ والحاکم ج٥ ص ٦١١ حدیث نمبر ٨٣٦٦ ‘ وافقه الذهبی علی تصحیحه“
﴾ ابو الطفیلؓ حذیفہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس باہر سے تشریف لائے۔ اس وقت ہم قیامت کے متعلق گفتگو میں مشغول تھے۔ آپ نے فرمایا کیا گفتگو کر رہے ہو؟۔ ہم نے عرض کی قیامت کے متعلق باتیں کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا قیامت اس وقت تک ہرگز نہیں آسکتی جب تک کہ اس سے پہلے تم دس نشانیاں دیکھ نہ لو۔ (١) دھواں۔ (٢) دجال۔ (٣) دابۃ الارض۔ (٤) مغرب کی جانب سے آفتاب کا طلوع۔ (٥) عیسیٰ بن مریم کا اترنا۔ (٦) یاجوج و ماجوج کا ظہور۔ (٧) تین خسف ایک مشرق میں۔ (٨) ایک مغرب میں۔ (٩) اور تیسرا جزیرہ عرب میں۔ (١٠) اور سب سے آخر میں وہ آگ جو یمن سے ظاہر ہوگی اور سب کو دھکا دے کر محشر تک لے جائے گی۔ ﴿
حدیث مذکور سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کا آنا یقینی ہے مگر اس سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول چند اور علامات کے ساتھ بھی اتنا ہی یقینی ہے حتی کہ ان کی تشریف آوری سے قبل قیامت کا تصور کرنا گویا بے حقیقت بات ہے۔ نیز حدیث مذکور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول جن اور دیگر علامات کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ہر علامت اپنی اپنی نوعیت میں عجیب ہی ہے اور ظاہر ہے کہ انقلاب عالم کے عجیب تر حادثہ کی علامات ایسے ہی عجیب در عجیب ہونی چاہئیں۔ ان کو تاویلیں کر کر کے دنیا کے عام حوادث کی صف میں کھینچنا قیامت کی حقیقت سے ناواقفی کی دلیل ہے بلکہ ایک طرح پر قیامت ہی کا انکار ہے کیونکہ قیامت کا وجود ان علامات کے وجود سے کہیں عجیب تر ہے۔ پس اگر یہ علامات مادی عقول کے نزدیک خلاف عقل ہونے کی بناء پر قابل تاویل ہیں تو پھر قیامت کا وجود بدرجہ
٨٠
اولیٰ قابل تاویل ہونا چاہئے۔ والعیاذ باللہ! اہل عقل وانصاف کو ذرا ٹھنڈے دل سے اس پر غور کرنا چاہئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول حدیثوں میں قیامت کے قریب تر متعلقات میں شمار کیا گیا ہے۔ پھر اگر اس کو قیاس کرنا ہی ہے تو قیامت پر قیاس کرنا چاہئے عالم کے عام نظم و نسق میں اس کو شامل کر لینا کتنی بڑی نادانی ہے۔ حضرت شاہ رفیع الدینؒ نے اپنے رسالہ علامات قیامت میں قیامت کی علامات کی دو قسمیں قرار دی ہیں۔ صغریٰ (چھوٹی) اور کبریٰ (بڑی) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول علامات کبریٰ میں شامل فرمایا ہے جس کا حاصل حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کا اس طرح انتظار کرنا چاہئے جیسے جانور کے حمل کی مدت پوری ہو جانے کے بعد اس کا مالک بچہ کی پیدائش کا انتظار کیا کرتا ہے جیسا کہ اس باب کے آخر کی حدیثوں میں عنقریب آپ کے ملاحظہ سے گزرے گا۔
(٨).......... ”عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ قَالَ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ أُمَّتِيْ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِيْنَ عَلَى مَنْ نَاوَاهُمْ حَتّٰى يَأْتِيَ اَمْرُ اللّٰهِ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی وَيَنْزِلُ عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام. مسند احمد ص٤٢٩ ج٤ ورجاله كلهم ثقات“
﴿عمران بن حصینؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی جو اپنے دشمنوں کے مقابلہ پر غالب رہے گی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو اور حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں۔﴾
حدیث مذکور اگرچہ ایک دوسرے مضمون کی حدیث ہے مگر چونکہ قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری قیامت کی طرح یقینی مسئلہ ہے۔ اس لئے جب کہیں قیامت کا تذکرہ آتا ہے تو اگر وہاں سیاق کلام میں ذرا کوئی مناسبت نکل آتی ہے تو مسلمات کی طرح فوراً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا تذکرہ بھی آجاتا ہے۔
(٩).......... ”عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ مَّرْفُوْعًا قَالَ اِنَّ الْمَسِيْحَ بْنَ مَرْيَمَ خَارِجٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيَسْتَغْنِى بِهِ النَّاسُ عَمَّنْ سِوَاهُ . كنز العمال ج١٤ ص ٦٢٠ حدیث نمبر ٣٩٧٣١“
٨١
﴿ابن مسعودؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) یقیناً تشریف لا کر رہیں گے اور ان کی آمد کے بعد لوگ ان کے سوا سب سے بے نیاز ہو جائیں گے۔﴾
(١٠)..........”عَنْ اِبْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةٌ أَنَا فِىْ أَوَّلِهَا وَعِيْسَىٰ فِىْ آخِرِهَا . کنز العمال ج١٤ص٢٦٩حدیث نمبر٢٨٦٨٢ وصحه فى الدر المنثور فى ضمن اثر كعب وحسنه فى الفتح من فضائل اصحاب النبى ﷺ وذكره فى المشكوة ص٥٨٣ فى ثواب هذه الامة عن رزين بسلسلة الذهب قال فى التيسير ص٣٠٢ رواه النسائى وغيره“
﴿ابن عمرؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں بھلا وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کے اول میں تو میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ علیہ السلام ہوں۔﴾
(١١)..........” عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِىْ مَرْفُوعًا مُرْسَلاً لَنْ يُخْزِىَ اللّٰهُ أُمَّةً أَنَا فِىْ أَوَّلِهَا وَعِيْسَىٰ فِىْ آخِرِهَا کذافی الدرالمنثور ص٢٤٥ج٢ مصنف ابن ابى شيبه ج٥ص٢٩٩ کتاب الجهاد وقال الذهبى فى التلخيص هو خبر منكر ولم يذكرله وجها وجيها بل الصحيح انه ان لم يكن صحيحا فلا ينحط عن درجة الحسن كما صرح به الحافظ فى الفتح ص٥ج٧ وعن عروة بن رويم مثله كما فى الكنز ج١٤ص٢٣٥ حديث . نمبر٣٨٨٥٣ وعن كعب مثله مرفوعاً فى ضمن اثره الموقوف عليه كذافى الدرالمنثور وعن جعفر الصادق عن ابيه عن جده مرفوعاً فى حديث نحوه رواه رزين كما فى المشكوة ص٥٨٣ من باب ثواب هذه الامة“
﴿جبیر بن نفیر رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو ہرگز ناکام نہیں کرے گا جس کے اول میں تو میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ علیہ السلام ہوں۔﴾
حدیث مذکور سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول یقینی ہے اور اس نزول میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے ایک بڑی رحمت بھی پنہاں ہے۔ یوں تو
٨٨
ہر گزشتہ امت دو رسولوں کے درمیان ہی ہوتی چلی آئی ہے مگر چونکہ پہلے ہر رسول کی امت مستقل ہوتی تھی اس لئے اس کو پہلی امت کے آخر میں شمار کرنا بے معنی بات تھی۔ وہاں ہر رسول کا اصل مقام اپنی امت کے اول ہی میں تھا جیسا آنحضرت ﷺ کو نصاریٰ کے بعد تشریف لائے مگر چونکہ آپ مستقل رسول تھے اور آپ کی امت علیحدہ امت تھی اس لئے آپ کو امت عیسیٰ علیہ السلام کے آخر میں شمار کرنا اور یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی امت بھی دو رسولوں کے درمیان ہے۔ اس کے اول میں عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور آخر میں آنحضرت ﷺ بالکل بے معنی بات ہے لیکن اس امت کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ یہاں اس امت کے رسول تو صرف آنحضرت ﷺ ہیں اور چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری اس امت میں بحیثیت رسالت نہ ہوگی اس لئے ان کی امت بھی کوئی جدید امت نہ ہوگی اس لئے ان کو اس امت کے آخر میں شمار کرنا بالکل درست ہے اور اس امت کے حق میں بڑی رحمت کا باعث ہے۔
حدیث مذکور سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ آخر میں آنے والے رسول وہی اسرائیلی رسول ہوں گے اور خود اس امت میں پیدا نہیں ہوں گے کیونکہ اگر وہ خود اس امت میں پیدا ہوں تو پھر ان کو امت کے آخر میں کہنا مناسب نہیں۔ پس یہاں جس طرح امت کے اول میں آنے والے رسول کو اس امت میں شمار کرنا صحیح نہیں اسی طرح اس کے آخر میں آنے والے رسول کو اس امت میں پیدا شدہ کہنا صحیح نہیں بلکہ وہ ایسا رسول ہونا چاہیے جو خود رسول ہو مگر آئندہ اس کی کوئی علیحدہ امت نہ ہو تاکہ اس کو اس امت کے آخر میں کہنا صحیح اور بامعنی بات ہو یہ بات دوسری ہے کہ چونکہ وہ آنحضرت ﷺ کے بعد میں آئے گا۔ اس لئے دورۂ نبوت کے لحاظ سے اس کو آپ کی امت میں بھی شمار کرنا درست رہے تو پھر اس میں ایک عیسیٰ علیہ السلام کی تخصیص نہیں تمام انبیاء علیہم السلام بھی آپ کی نبوت کے تحت ہیں اور اس لئے صحیح حدیثوں میں آتا ہے کہ محشر میں آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک سب آپ ہی کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے مگر چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ شان ایک بار دنیا میں بھی ظاہر ہوگی۔ اس لئے تمام انبیاء علیہم السلام میں سے خاص ان کے
٨٣
اندر یہ رشتہ زیادہ نمایاں رہے گا۔ اس لئے علماء حقائق نے لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام میں اس خصوصیت کا ظہور قیامت کے دن بھی سب میں ممتاز رہے گا۔ عجب نہیں کہ: ”انا اولیٰ الناس بابن مریم“ کی صحیح حدیث میں اس طرف بھی کچھ اشارہ ہو۔
ان عیسیٰ عليه الصلوٰة والسلام ينزل من
السماء ولايولد فى الارض
- (١٢).......... ”عَنْ حَاطِبِ بن اَبِىْ بَلْتَعَةَ قَالَ بَعَثَنِىْ رَسُوْلُ
اللّٰهِ ﷺ اِلَى الْمُقَوْقِسِ مَلِكِ الاِسْكَنْدَرِيَّةِ قَالَ فَجِئْتُهُ بِكِتَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ فَاَنْزَلَنِىْ فِىْ مَنْزِلِهِ وَاَقَمْتُ عِنْدَهُ ثُمَّ بَعَثَ اِلَىَّ وَقَدْ جَمَعَ بَطَارِقَةَ وَقَالَ اِنِّىْ سَاُكَلِّمُكَ بِكَلاَمٍ وَاُحِبُّ اَنْ تَفْهَمَهُ مِنِّىْ قَالَ قُلْتُ هَلُمَّ قَالَ اَخْبِرْنِىْ عَنْ صَاحِبِكَ اَلَيْسَ هُوَ نَبِيًّا قُلْتُ بَلَى هُوَ رَسُوْلُ اللّٰهِ قَالَ فَمَا لَهُ حَيْثُ كَانَ هٰكَذَا لَمْ يَدْعُ عَلَى قَوْمِهِ حَيْثُ اَخْرَجُوْهُ مِنْ بَلَدِهِ اِلَى غَيْرِهَا قَالَ فَقُلْتُ عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ اَلَيْسَ تَشْهَدُ اَنَّهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ فَمَالَهُ حَيْثُ اَخَذَهُ قَوْمُهُ فَاَرَادُوْا اَنْ يَصْلِبُوْهُ اَنْ لاَّ يَكُوْنَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِاَنْ يُّهْلِكُهُمُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ حَتَّى رَفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ فِى السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالَ اَنْتَ الْحَكِيْمُ الَّذِىْ جَاءَ مِنْ عِنْدِالْحَكِيْمِ، اخرجه البيهقى كمافى الخصائص الكبرىٰ ج٢ص١٣٩ باب ماوقع عند كتابيه الىٰ المقوقس قلت ولم يذكره الشيخ قدس سره فى رسالة فى نزول المسيح عليه السلام ۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور زمین کے
کسی خطہ میں پیدا نہیں ہوں گے
﴿ حاطب بن ابی بلتعہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو مقوقس شاہ اسکندریہ کے پاس بھیجا۔ یہ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کا نامہ مبارک لے کر
٨٤
ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ کو اپنی جگہ پر بٹھایا اور میں ان کے ہاں مقیم رہا پھر کسی فرصت میں انہوں نے مجھ کو یاد فرمایا اور اپنے مذہبی بزرگوں کو بھی دعوت دی اور کہا مجھ کو تم سے ایک بات کہنی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم اس کو خوب سمجھ لو یہ کہتے ہی میں نے عرض کی فرمائیے! انہوں نے فرمایا اچھا اپنے پیشوا کے متعلق بتاؤ کیا وہ نبی ہیں؟۔ میں نے عرض کی یقیناً وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا تو پھر ان کی قوم نے ان کو اپنے وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا تھا تو انہوں نے کیوں ان پر بددعا نہ کی؟۔ یہ کہتے ہی میں نے اس کے جواب میں شاہ مقوقس سے کہا کیا آپ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ گواہی نہیں دیتے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو پھر جب ان کی قوم نے ان کو پکڑ کر سولی دینے کا ارادہ کیا تھا تو انہوں نے اس وقت ان کے حق میں یہ بددعا کیوں نہ کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کردے؟۔ یہاں تک کہ اللہ نے دنیا کے آسمان پر ان کو اٹھا لیا۔ یہ سن کر شاہ مقوقس نے کہا تو خود بھی دانا شخص ہے اور جس ہستی کا فیضیافتہ ہے وہ بھی بڑا صاحب حکمت ہے۔﴿
اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے ایک صحابی حاطبؓ اور شاہ مقوقس کے درمیان ایک مربوط گفتگو کا تذکرہ ہے جس کو پڑھ کر بے ساختہ دل اس کی تصدیق پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس گفتگو میں صحابی کو مقوقس کے جواب میں گو صرف اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے دشمنوں پر بددعا کیوں نہیں کی مگر انہوں نے شاہ مقوقس پر اور زیادہ زور ڈالنے کے لئے یہ حقیقت بھی واضح کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو ہجرت فرمائی تھی وہ تو صرف ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف تھی مگر عیسیٰ علیہ السلام کی ہجرت تو ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف تھی۔ ظاہر ہے کہ آپ نے وطن چھوڑا مگر پھر بھی رہے وطن ہی کے قریب ہیں۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تو ایسی جگہ ہجرت فرمائی جہاں نہ وطن کی خبر رہی نہ اہل وطن کی۔ پس بددعا کا سوال وہاں زیادہ چسپاں ہوتا ہے جہاں مظلومیت زیادہ ہو۔ اس پر شاہ مقوقس نے یہ نہیں کہا کہ تم یہ کیا نامعقول بات کہتے ہو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر کہاں گئے ان کی تو مدت ہوئی وفات ہو چکی ہے بلکہ وہ لاجواب ہو کر چپ رہ گیا اور ا س کو خود ان کی بھی اور آنحضرت ﷺ کی بھی غائبانہ داد دینی پڑی۔ معلوم ہوا کہ شاہ مقوقس
٨٥
کے نزدیک بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ زندہ آسمان پر تشریف لے گئے ہیں اس لئے آسمان ہی سے اتریں گے ان کے علاوہ کسی دوسرے انسان کا دنیا میں پیدا ہونے کا خیال یہ صرف جدید تراشیدہ افسانہ ہے جس کے نہ اہل کتاب ہی قائل تھے نہ علماء اسلام۔
(١٣).......... ”عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ قَالَ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ مِنَ السَّمَاءِ فِيْكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ۔ ذكره البيهقى فى كتاب الاسماء والصفات ص ٣٠١ وللبخارى ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عيسى بن مریم ومسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عيسى بن مريم عليه السلام على عادة المحدثين فى كون مرادهم به اصل الحديث ۔ “
” وعن ابن عباس فى تفسير قوله تعالى ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفر لهم اى من تركت منهم ومد فى عمره حتى اهبط من السماء الى الارض يقتل الدجال فنزلوا عن مقالتهم ووحدوك واقروا انا عبید ۔ در منثور ج ٢ ص ٣٥٠“
” وعنه قال لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء خرج الى اصحابه وفى البيت اثناء عشر رجلا من الحواریین فخرج عليهم من غير البيت ورأسه يقطر ماء ۔ در منثور ص ٢٣٨ ج ٢“
ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بھلا اس وقت تمہاری کیا حالت ہو گی جبکہ عیسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان آسمان سے اتریں گے اور تمہارا امام خود تم میں کا ہو گا۔ (الاسماء والصفات) ابن عباسؓ آیت : ” وان تعذبهم ........... الخ “ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے یعنی ان لوگوں کو جن کو تو باقی رکھے کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی عمر دراز کر دی گئی ہے یہاں تک کہ جب وہ آسمان سے زمین پر اتریں اور دجال کو قتل کر دیں تو جو باقی ماندہ اپنے مشرکانہ عقیدے سے باز آ کر تیری وحدانیت کے قائل ہو جائیں اور یہ اقرار بھی کریں کہ میں تیرا
٨٦ :
ایک بندہ ہی ہوں تو تو قادر اور حکمت والا ہے۔ نیز ابن عباسؓ ”بل رفعہ اللہ الیہ“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو وہ اپنے صحابہؓ کے پاس تشریف لائے اس وقت گھر میں صرف بارہ شخص موجود تھے اور وہ گھر کے دروازہ کی بجائے روشندان سے تشریف لے گئے اور اس وقت ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔۔۔۔۔﴾
حدیث مذکور میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے ہر چند کہ آسمان کے لفظ کی ان تفصیلات کے بعد جو عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں بیان میں آچکی تھیں کوئی ضرورت نہ تھی مگر اس کے باوجود چونکہ وہ ایک حقیقت تھی۔ اس لئے اگر بضرورت نہ سہی تو ایک حقیقت کے اظہار کے طور پر ہی سہی اس کا جا بجا تذکرہ ملتا ہے حتیٰ کہ حضرت ابن عباسؓ بھی جن کے متعلق یہ داستان گائی جاتی ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے قائل تھے مختلف مقامات میں ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کی تصریح فرماتے ہیں پھر اس میں شبہ کیا ہے کہ ایک دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی مرنا ہے کلام صرف اس میں ہے کہ یہ مقدر موت واقع ہو چکی ہے یا آئندہ واقع ہونے والی ہے کتنی نا فہمی ہے کہ بالفرض اگر ان کے بارے میں کسی سے موت کا لفظ منقول بھی ہے تو اس کو فوراً بے تحقیق گزشتہ موت پر حمل کر لیا جائے حالانکہ وہ اس کا صاف اقرار بھی کر رہا ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے جا چکے ہیں اور آئندہ تشریف لا کر عام انسانوں کی طرح وفات پائیں گے۔
(١٤).......... ” عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا قَالَ الدَّجَّال اَوَّلُ مَنْ يَّتْبَعُهُ سَبْعُوْنَ أَلْفاً مِنَ الْيَهُوْدِ عَلَيْهَا السِّيْجَانُ (الى قوله) قَالَ اِبْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعِنْدَ ذٰلِكَ يَنْزِل اَخِی عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَی جَبَلٍ اَفِیق إِمَامًا هَادِيًا وَحَكَمًا عَادِلاً عَلَيْهِ بُرْنُسٌ لَهُ مَرْبُوْعُ الْخَلْقِ اَصْلَتُ سَبِطُ الشَّعْرِ بِيَدِهِ حَرْبَةٌ يَقْتُلُ الدَّجَّالَ فَإِذَا قَتَلَ الدَّجَّالَ تَضَعُ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا فَكَانَ السِّلْمُ فَيَلْقَى الرَّجُلُ الْاَسَدَ فَلاَ يَهِيجُهُ وَيَأْخُذُ الْحَيَّةَ فَلاَ ٨٧
تَضُرُّهُ وَتُنْبِتُ الْاَرْضُ كَنَبَاتِهَا عَلٰى عَهْدِ اٰدَمَ وَيُؤْمِنُ بِهِ اَهْلُ الْاَرْضِ وَيَكُوْنُ النَّاسُ اَهْلُ مِلَّةٍ وَّاحِدَةٍ ٠ اسحق بن بشير كنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩،٦١٨ حديث نمبر ٣٩٧٦٦“
﴿ابن عباسؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے سب سے پہلے جو لوگ دجال کی اتباع کریں گے وہ ستر ہزار یہود ہوں گے۔ ان کے سروں پر طیلسان ہوں گے۔ اس سلسلہ میں ابن عباسؓ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ اُس وقت سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کوہ افیق پر آسمان سے اتریں گے اور وہ امام ہادی اور منصف حاکم ہوں گے۔ برنس (باران کوٹ کی طرح ہوتا ہے) پہنے ہوئے ہوں گے۔ وہ میانہ جسم کے بھرے ہوئے رخسار اور سیدھے بالوں والے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں نیزہ ہو گا۔ دجال کو قتل کریں گے اور جب اس کے قتل سے فارغ ہو جائیں گے تو جنگ ختم ہو جائے گی اور امن و سلامتی کا یہ عالم ہو گا کہ آدمی اور شیر کا آمنا سامنا ہو گا مگر اس پر حملہ کرنے کا اس کے دل میں ذرا خیال نہ آئے گا۔ آدمی سانپ کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور وہ اس کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچائے گا اور زمین کی پیداوار میں وہ برکت ہو گی جو کبھی آدم علیہ السلام کے زمانہ میں تھی اور زمین کے بسنے والے ان پر ایمان لے آئیں گے اور سب مخلوق ایک ہی ملت و مذہب کی ہو جائے گی۔﴾
اس حدیث میں بھی صراحت کے ساتھ آسمان کا لفظ موجود ہے اور ان کے دور کے امن وامان اور اصلاح و امنِ عام کا ایسا نقشہ موجود ہے جس سے بداہتاً ثابت ہوتا ہے کہ یقیناً وہ کوئی غیر معمولی انسان ہوں گے۔ اب اگر کسی کے دل میں ہر حقیقت کو مجاز بنا کر اس پیش گوئی کو اپنے نفس پر صادق کرنے کا جذبہ ہو تو اس کا علاج کس کے پاس ہے۔
ہاں! جو شخص اپنی ہوائے نفسانی کی خاطر آنحضرت ﷺ کے ان بصیرت افروز ارشادات کی بے جا تاویلات پر یقین لانے کو ترجیح دے وہ اپنا ٹھکانا خود سوچ لے :
”وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهُ نُوْرًا فَمَا لَهُ مِنْ نُّوْرٍ ٠ “
٨٨
جزم النبى صلى الله عليه وسلم بان النازل هو عيسى
بن مريم الذى ولد من غير اب وشيده
بمالا مزيد عليه من ذكر اسمه ونسبه
وحليته والاعمال المهمة التى ينزل
لها ومنصبه الذى ينزل به وكيفية الا
من الشامل وسعة الرزق وفيضان المال
وغيرها فى عهده عليه الصلوة والسلام
(١٥)........... ”عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ الانْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أَبُوْهُمْ دِيْنُهُمْ وَاحِدٌ وَّ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيْسَى بْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ ‘ وَإِنَّهُ نَازِلٌ ‘ فَإِذَا رَأَيْتُمُوْهُ فَاعْرِفُوْهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَرْبُوْعٌ ‘ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبِطٌ ‘ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَّمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ فَيَكْسِر الصليب وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيْرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُعَطِّلُ المِلَلَ حَتَّى يُهْلِكَ اللهُ فِيْ زَمَانِهِ المِلَلَ كُلَّهَا غَيْرَ الْإِسْلَامِ وَيُهْلِكَ اللهُ فِيْ زَمَانِهِ الْمَسِيْحَ الدَّجَّالَ الْكَذَّابَ وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْإِبِلُ مَعَ الْأَسَدِ جَمِيْعًا وَالنُّمُوْرُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبُ الصِّبْيَانُ وَالْغِلْمَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا يَضِرُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَيَمْكُثُ مَاشَاءَ اللهُ أَنْ يَّمْكُثَ ثُمَّ يَتَوَفَّى فَيُصَلِّيْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُوْنَ وَيَدْ فِنُوْنَهُ ، مسند احمد ج٢ ص ٤٣٧‘٤٠٦. البدايه والنهايه ج٢ ص ٩٩ باب صفة عيسىٰ عليه السلام تفسير ابن جرير ج ٦ ص ٢٢‘٢٣“
٨٩
آنحضرت ﷺ نے پورے یقین کے ساتھ فرمایا ہے کہ آئندہ تشریف لانے والے وہی عیسیٰ ہوں گے جن کی پیدائش بغیر والد کے ہوئی ہے۔ چنانچہ اس کی وضاحت کے لئے آپ نے ان کے نام ان کے نسب اور ان کی شکل وصورت بیان فرمانے کا خاص اہتمام فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ آپ کی خدمات مفوضہ ان کا منصب ان کے زمانہ امن عام کی کیفیت رزق کی فراوانی اور دیگر امور کی تفصیلات بھی بیان فرمادی ہیں
﴿ابو ہریرہؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جتنے انبیاء ہیں سب باپ شریک بھائیوں کی طرح ہیں۔ والد ایک اور مائیں علیحدہ علیحدہ ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام سے سب سے زیادہ نزدیک میں ہوں۔ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ دیکھو وہ ضرور اتریں گے اور جب تم ان کو دیکھو تو فوراً پہچان لینا کیونکہ ان کا قد میانہ ہو گا۔ رنگ سرخ و سفید۔ کنگھی کئے ہوئے سیدھے سیدھے بال۔ یوں معلوم ہو گا کہ سر سے پانی ٹپکنے والا ہے۔ اگرچہ اس پر کہیں تری کا نام نہ ہوگا۔ دو گیرو کے رنگ کی چادریں اوڑھے ہوں گے۔ وہ اتر کر صلیب کو توڑ ڈالیں گے ۔ سور کو قتل کر دیں گے جزیہ ختم کر دیں گے اور تمام مذاہب ان کے زمانہ میں ختم ہو کر صرف ایک مذہب اسلام باقی رہ جائے گا اور ان کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ جھوٹے مسیح دجال کو ہلاک کرے گا اور زمین پر امن وامان کا وہ نقشہ قائم ہو گا کہ اونٹ شیروں کے ساتھ اور چیتے بیلوں کیساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور لڑکے بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور ایک دوسرے کو ذرا کوئی تکلیف نہ دے گا۔ اسی حالت پر جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا وہ رہیں گے پھر ان کی وفات ہو گی اور مسلمان ان پر نماز جنازہ ادا کریں گے اور ان کو دفن کر دیں گے۔﴾
٩٠
اس حدیث پر پہلی نظر ڈالنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں اسی مسیح (اسرائیلی علیہ السلام) کا تذکرہ ہے جو ایک بار بہ حیثیت نبوت کے پہلے آچکے ہیں اور وہی اس امت پر ایک بڑی مصیبت کے وقت دوبارہ پھر تشریف لانے والے ہیں۔ کیونکہ زمانے کے لحاظ سے آپ ﷺ سے وہی اتنے قریب ہیں کہ ان کے اور آپ کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ اس لئے بھی اس مصیبت کے وقت آپ کی امت کی ہمدردی کا فرض سب سے پہلے ان ہی پر عائد ہوتا ہے۔ نیز آپ نے اس کی مزید توضیح کے لئے ان کا وہی نام و نسب ان کی اسی ملکی نظافت و طہارت اور ان کے اسی حلیہ مبارک کا تذکرہ فرمایا ہے جس کے بعد کسی مجنون کے لئے بھی اشتباہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی پھر آپ ﷺ نے صرف ان کے ماضی کے سوانح کے بیان پر ہی کفایت نہیں فرمائی بلکہ ان کے مستقبل کے ایسے کارنامے اور ایسی روشن برکات کا بھی تذکرہ فرما دیا ہے جن کے بعد ان کی شناخت میں کوئی ادنیٰ تردد نہیں ہو سکتا۔ اب اگر آپ کے فرمودہ پر ایمان لانا ہے تو وہ واضح سے واضح انداز میں یہ آپ کے سامنے موجود ہے اور اگر اپنے خیالات پر ایمان لانا ہے تو یہود اس سے پہلے آنحضرت ﷺ کے حق میں یہی راستہ اختیار کر چکے ہیں۔ کتب سماویہ صاف سے صاف انداز میں آپ کے نام و نسب آپ کی شکل و شمائل اور آپ کے کارناموں کو کھول کھول کر بیان کرتی رہیں اور یہ بد نصیب ان سب کی تاویلیں کر کر کے آپ کا انکار کرتے رہے : ”فَلَمَّا جَاءَ هُمْ مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ .“
البلد الذی ینزل فیہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ
والسلام وموضع النزول منہ بعینہ ہیاتیہ
عند نزولہ والبرکۃ العامۃ فی الاشیاء فی
عہدہ علیہ الصلوٰۃ والسلام
(١٦).......... ”عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَان قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ
٩١
الدَّجَّالِ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيْهِ وَرَفَعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِى طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَالِكَ فِيْنَا فَقَالَ مَاشَانُكُمْ قُلْنَا يَارَسُولَ اللّٰهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً فَخَفَّضْتَ فِيْهِ وَرَفَعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِى طَائِفَةِ النَّخْلِ فَقَالَ غَيْرُ الدَّجَّالِ اَخْوَفُنِى عَلَيْكُمْ إِن يَّخْرُجُ وَأَنَا فِيْكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُوْنَكُمْ وَإِنْ يُّخْرُجُ وَلَسْتُ فِيْكُمْ فَامْرَءُ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللّٰهُ خَلِيفَتِى عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌ قَطَط عَيْنُهُ طَافِئَة كَاَنِّى اُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزِّى بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ اَدْرَكَ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَءُ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُوْرَةِ الكهفِ اِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالاً يَاعِبَادَ اللّٰهِ فَاثْبُتُوا قُلْنَا يَارَسُولَ اللّٰهِ وَمَا لَبْثُهُ فِى الْاَرْضِ قَالَ اَرْبَعُوْنَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْم كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمْعَةٍ وَسَائِرُ اَيَّامِهِ كَاَيَّامِكُمْ قُلْنَا يَارَسُولَ اللّٰهِ فَذَالِكَ الْيَوْمُ الَّذِى كَسَنَةٍ اَتَكْفِيْنَا فِيْهِ صَلٰوةُ يَوْمٍ قَالَ لَا اَقْدِرُوْا لَهُ قَدْرُهُ قُلْنَا يَارَسُولَ اللّٰهِ وَمَا اَسْرَعُهُ فِى الْاَرْضِ قَالَ كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِى عَلَى الْقَوْمِ فَيَدْعُوْهُمْ فَيُؤْمِنُوْنَ بِهِ وَيَسْتَجِيْبُونَ لَهُ فَيَامُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِر وَالْاَرْضَ فَتُنْبِتُ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ اَطْوَلَ مَاكَانَتْ ذُرًى وَاَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَاَمَدَّهُ خَوَاصِر ثُمَّ يَأْتِى الْقَوْم فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّوْنَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَيَصْبِحُوْنَ مُمْحِلِين لَيْسَ بِاَيْدِيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا اَخْرِجِى كُنُوْزَكِ فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النحل ثُمَّ يَدْعُوهُمْ رَجُلاً مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جِزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوْهُ فَيُقْبِل وَيَتَهَلَّل وَجْهُهُ وَيَضْحَك فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَالِكَ اِذَا بَعَثَ اللّٰهُ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِىَّ دِمَشْق بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى اَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَاطَاَء رَاسَهُ قَطَر وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّ رَمِنْهُ جُمَانٌ كَالْلُّؤ لُوءِ فَلَا يَحِلُّ لِكَافِر يَجِدُ رِيحَ نَفْسِهِ اِلاَّ مَاتَ وَنَفْسُهُ يَنْتَهِى اِلى حَيْثُ يَنْتَهِى طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدِّ فَيَقْتُلَهُ ثُمَّ يَأْتِى عِيسٰى قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللّٰهُ مِنْهُ فَيَمْسِح عَنْ
٩٢
وُجُوْهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمُ بِدَرَجَاتِهِمْ فِى الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَالِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيْسَى عليه السلام أَنِّى قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِى لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَا لِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِى إِلَى الطُّوْرِ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوْجَ مَأْجُوْجَ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ فَيَمُرُّاَ وَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةٍ فَيَشْرَبُوْنَ مَا فِيْهَا وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُوْلُوْنَ لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً وَيُحْصَرُ نَبِىُّ اللَّهِ عِيْسَى عليه السلام واصحابه حَتَّى يَكُوْنَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَ حَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دينار لِأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِىُّ اللَّهِ عِيْسَى عليه السلام وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمِ النَّغَفَ فِى رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُوْنَ فَرْسَى كَموتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَهْبُطُ نَبِىُّ اللَّهِ عِيْسَى عليه السلام وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْأَرْضِ فَلَا يَجِدُوْنَ فِى مِثْلِى الْأَرْضِ مَوْضَعَ شِبْرٍ الامَلَأَتْهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ فَيَرْغَبُ نَبِىُّ اللَّهِ عِيْسَى عليه السلام وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَكِنُ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ أَنْبِتِى ثَمَرَتَكِ ورُدِّى بَرَكَتَكِ فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعَصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّوْنَ بِقَحْفِهَا وَيُبَارَكُ فِى الرَّسَلِ حَتَّى أَنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ لَتَكْفِى الْفَخِذَ مِنَ النَّاسِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَالِكَ إِذَا بَعَثَ اللَّهُ رِيْحًا طَيِّبَةً فَتَأْ خُذُهُمْ تَحْتَ أَبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوْحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكُلِّ مُسْلِمٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَا رَجُوْنَ فِيْهَا تَهَارُجَ الحمر فَعَلَيْهِمْ تَقُوْمُ السَّاعَةُ . رواه مسلم ج ٢ ص ٤٠١،٤٠٠ باب ذكر الدجال وابوداؤد ج ٢ ص١٣٤، ١٣٥ باب خروج الدجال ولفظه ثم ينزل عيسى بن مريم عند المنارة البيضاء شرقى دمشق الحديث والترمذى ص٤٨ ج٢ باب ماجاء فى فتنه الدجال وعزاه فى الكنز ج١٤ ص٢٨٥ تا ٢٨٨ حديث نمبر ٣٨٧٤٠ الا بن عساكر وفى لفظه اهبط عيسى ابن مريم واحمد فى مسنده ص١٨١،١٨٢ ج٤ وابن ماجه ص٢٩٦،٢٩٧ باب فتنه الدجال وخروج عيسى بن مريم . “
٩٣
عیسیٰ علیہ السلام کے شہر کا نام اور اس شہر میں خاص محل نزول کا نام
اور نزول کے وقت ان کا مکمل نقشہ اور ان کے زمانہ کی برکات
نواس بن سمعانؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن صبح کو رسول اللہ ﷺ نے اتنی اہمیت سے دجال کا تذکرہ فرمایا کہ مارے دہشت کے ہم کو یوں معلوم ہونے لگا گویا وہ یہیں کسی باغ میں موجود ہے۔ جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہمارے اس د ہشت و خوف کو محسوس کر لیا اور پوچھا تم ایسے پریشان کیوں نظر آتے ہو۔ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ نے صبح دجال کا ذکر اتنی اہمیت کے ساتھ فرمایا کہ ہم کو یوں معلوم ہونے لگا گویا وہ یہیں کسی باغ میں ہے۔ آپ نے فرمایا مجھ کو تم پر دجال سے بڑھ کر دوسری باتوں کا زیادہ اندیشہ ہے۔ دجال کا کیا ہے اگر وہ میری موجودگی میں نکلا تو تمہارے بجائے میں خود اس سے نمٹ لوں گا۔ ورنہ تو ہر شخص خود اس کا مقابلہ کرے اور میں نے تم سب کو خدا کے سپرد کیا۔ دیکھو وہ جوان ہو گا۔ اس کے بال سخت گھونگر والے اور اس کی آنکھ انگور کی طرح باہر کو ابھری ہوئی ہو گی۔ بالکل اس شباہت کا شخص سمجھو جیسا یہ عبد العزّیٰ بن قطن ہے۔ تو تم میں جو شخص بھی اس کا زمانہ پائے اس کو چاہئے کہ وہ سورہ کہف کی اول کی آیتیں پڑھ لے۔ وہ شام اور عراق کی درمیانی گھاٹیوں سے ظاہر ہو گا اور اپنے دائیں بائیں ہر سمت بڑا اودھم مچائے گا۔ تو اے اللہ کے بندو! دیکھو اس وقت ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ وہ کتنے عرصہ تک زمین پر رہے گا۔ فرمایا چالیس دن لیکن پہلا دن ایک سال کے برابر ہو گا اور پھر دوسرا ایک ماہ اور تیسرا ایک جمعہ کے برابر ہو گا۔ اس کے بعد بقیہ دن تمہارے عام دنوں کے برابر ہوں گے۔ ہم نے پوچھا جو دن ایک سال کے برابر ہو گا کیا اس دن میں ہم کو ایک ہی دن کی نمازیں ادا کرنی کافی ہوں گی۔ فرمایا نہیں بلکہ ایک دن کی بقدر نمازوں کا اندازہ کر کر کے نمازیں ادا کرتے رہنا۔ ہم نے پوچھا وہ کس رفتار سے زمین پر گھومے گا۔ فرمایا اس تیز رفتار بادل کی طرح جس کو پیچھے سے ہوا اڑائے لا رہی ہو۔ وہ کچھ لوگوں کے پاس آ کر ان کو اپنی خدائی پر ایمان لانے کی دعوت دے گا۔ وہ اس پر ایمان لے آئیں گے۔ وہ خوش ہو کر آسمان کو ٩٤
بارش کا حکم دے گا۔ فوراً بارش آجائے گی اور زمین کو حکم دے گا اسی وقت وہ سبزہ زار ہو جائے گی اور شام کو جب ان کے حیوانات چراگاہوں سے چر کر واپس ہوں گے تو ان کے اونٹوں کے کوہان پہلے سے زیادہ لمبے لمبے ان کے تھن پہلے سے زیادہ دودھ سے لبریز اور ان کی کوکھیں پہلے سے زیادہ تنی ہوئی ہوں گی۔ اس کے بعد وہ کچھ اور لوگوں کے پاس جائے گا اور ان کو بھی اپنی خدائی کی دعوت دے گا مگر وہ اس کو نہ مانیں گے۔ جب وہ ان کے پاس سے واپس ہو گا تو یہ بیچارے سب قحط میں مبتلا ہو جائیں گے اور ان کے قبضہ میں کوئی مال نہ رہے گا۔ سب دجال کے ساتھ چلا جائے گا پھر وہ ایک شور زمین سے گزرے گا اور اس کو یہ حکم دے گا اپنے تمام خزانے باہر اگل دے۔ وہ سب کے سب اس کے پیچھے پیچھے اس طرح ہولیں گے جیسے مکھیوں کے سردار کے پیچھے پیچھے سب مکھیاں ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ایک شخص کو بلائے گا جو اپنے پورے شباب پر ہو گا اور تلوار سے اس کے دو ٹکڑے کر کے اتنی دور پھینک دے گا جتنا تیر انداز اور اس کے نشانہ لگانے کی جگہ کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے پھر اس کو آواز دے کر بلائے گا وہ ہنستا کھل کھلاتا چلا جائے گا۔
ادھر وہ یہ شعبدہ بازیاں دکھلا رہا ہو گا ادھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا۔ وہ دمشق کے مشرقی سفید منارہ پر اتریں گے اور دو زرد زعفرانی رنگ کی چادریں اوڑھے ہوئے دو فرشتوں کے بازوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے۔ سر جھکائیں گے تو پانی کے قطرے ٹپکتے معلوم ہوں گے اور جب سر اٹھائیں گے تو بالوں میں چاندی کے سے موتی گرتے محسوس ہوں گے۔ جس کافر کو ان کے سانس لگ جائیں گے وہ زندہ نہ رہ سکے گا اور ان کے سانس کا اثر اتنے فاصلہ تک پڑے گا جہاں تک کہ ان کی نظر جائے گی وہ دجال کا پیچھا کریں گے اور باب لد (بیت المقدس میں ایک مقام ہے) پر اس کو پکڑ لیں گے اور یہاں اس کو قتل کر دیں گے۔ اس کے قتل سے فارغ ہو کر عیسیٰ علیہ السلام پھر ان لوگوں کے پاس آئیں گے جو اس کے فتنہ سے بچ رہے ہوں گے اور ان کو تسلی و تشفی دیں گے اور جنت میں ان کے مراتب کا حال بیان فرمائیں گے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام پر وحی آئے گی کہ اب میری ایک ایسی مخلوق نکلنے والی ہے جس کے مقابلہ کی کسی میں طاقت نہیں۔ لہٰذا میرے بندوں کو کوہ طور کی
٩٥
طرف لے جاکر جمع کر دو۔ پھر یاجوج وماجوج ہر پست زمین سے نکل پڑیں گے پہلے ان کا گزر طبریہ کے (مقام کا نام ہے) پانی پر ہو گا وہ اس کو پی کر اس طرح ختم کر دیں گے کہ جب ان کا آخری گروہ ادھر سے گزرے گا تو یوں کہے گا کبھی یہاں پانی تھا پھر بیت المقدس کے خمر پہاڑ پر پہنچیں گے اور اپنی قوت کے گھمنڈ میں کہیں گے ہم زمین والوں کو تو ختم کر چکے لو آؤ اب آسمان والوں کا بھی کام تمام کر دیں اور اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے۔ قدرت ان کے تیروں کو خون آلود کر کے واپس کر دے گی۔
ادھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی جماعت کوہ طور میں محصور ہو گی۔ یہاں تک کہ بیل کا ایک سر اتنا قیمتی ہو جائے گا جیسا آج تمہارے نزدیک سو دینار ہیں۔ اس تنگی کی حالت میں عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی جماعت مل کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو گی۔ ان کی دعا سے ان کی گردنوں میں پھوڑے نکل آئیں گے اور وہ سب کے سب ایک دم میں اس طرح پھول پھٹ کر مر جائیں گے جیسا ایک آدمی مرتا ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوہ طور سے اتر کر آئیں گے تو زمین پر کہیں بالشت بھر جگہ نہ ہو گی جہاں ان کے سڑے ہوئے گوشت کی بدبو اور چربی کا اثر نہ ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی جماعت پھر اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ و زاری کرے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ ایک قسم کا پرندہ بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں کی طرح لمبی لمبی ہوں گی۔ وہ ان کو اٹھا اٹھا کر جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا ڈال دیں گے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ مقام مہبل میں پھینک دیں گے۔ پھر مسلمان ان کے تیر و کمان اور ترکشوں سے سات سال تک آگ جلاتے رہیں گے اور آسمان سے اس زور کی بارش برسے گی کہ کوئی بستی نہ رہے گی اور جنگل میں کوئی خیمہ نہ بچے گا جس میں بارش نہ ہو۔ یہاں تک کہ تمام زمین میں پانی کی تالیوں کی طرح پانی ہی پانی ہو گا۔ پھر زمین کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہو گا کہ اپنے پھل اور اپنی سب برکت ظاہر کر دے تو اس قدر برکت ہو گی کہ ایک انار سے ایک جماعت کا پیٹ بھر جائے گا اور اس کا چھلکا ان کے سایہ کے لئے کافی ہو گا اور اونٹنی کے ایک مرتبہ کے دودھ میں اتنی برکت ہو گی کہ ایک دودھ والی اونٹنی کئی کئی جماعتوں کے لئے کافی ہو گی اور ایک دودھ کی گائے ایک قبیلہ کو اور ایک دودھ کی بکری ایک چھوٹے خاندان کو کافی ہو گی۔
٩٦
مخلوق خدا اسی فراغت و عیش کی حالت میں ہوگی کہ ایک اچھی ہوا چلے گی اور اس سے مسلمانوں کی بغلوں میں پھوڑے نکل آئیں گے اور ان سب کو موت آجائے گی اور صرف بدترین قسم کے کافر بچ رہیں گے جو گدھوں کی طرح منظر عام پر زنا کرتے پھریں گے۔ ان ہی پر قیامت قائم ہوگی۔ (مسلم شریف)
اس روایت میں جو حصہ مقام مہبل کے بعد سے سات سال تک تیر و کمان چلانے کا ہے وہ امام ترمذیؒ کا روایت کردہ ہے۔
اس حدیث میں دجال کا تذکرہ قدرے محل غور ہے۔ اس کے مباحث اپنے محل میں آئیں گے۔ ان میں سے صرف ایک بات کی تشریح یہاں کرنی مناسب ہے۔ حدیث مذکور سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کے زمانہ میں ایک دن ایک سال کی برابر ہوگا۔ حتیٰ کہ اس ایک دن میں ایک سال کی نمازیں ادا کرنی ہوں گی۔ دن کی اس طوالت کی صورت کیا ہو گی؟۔ اس کا حدیث میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک جب دنیا میں ان عجائبات کے ظہور کا زمانہ شروع ہو جائے گا۔ تو عالم کے موجودہ نظم و نسق کے تحت ان واقعات کے حل کرنے اور سمجھنے کی کوشش کرنی بھی مفت کی دردسری ہے۔ تاہم حضرت شاہ رفیع الدینؒ نے اپنے رسالہ ”علامات قیامت“ میں شیخ محی الدین ابن عربیؒ سے نقل کیا ہے کہ مصائب و آلام کے ان ہنگاموں میں اگر عام گرد و غبار اور غلیظ ابر کی وجہ سے رات و دن متمیز نہ ہو سکیں تو کچھ بعید نہیں ہے۔ آج بھی معمولی بارشوں میں عصر و مغرب و عشاء کی نمازوں میں تقدیم و تاخیر ہو جانا معمولی بات ہے۔ ذرا زیادہ گرہن لگ جائے تو ظہر کا پتہ ملنا بھی مشکل ہے۔ صبح کی نماز کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ پس بہت ممکن ہے کہ اس سب سے بڑے فتنے کے ظہور کے وقت جس طرح روحانیت کا عالم تاریک در تاریک ہو گا اسی طرح عالم عنصریات بھی گرد و غبار اور ابر و باراں کی وجہ سے اتنا مکدر اور تاریک ہو جائے کہ صحیح طور پر یہ اندازہ ہی ممکن نہ رہے کہ رات کب ختم ہوئی اور دن کب آیا اور تھوڑے بہت فرق کے ساتھ فضاء عالم یکساں نظر آنے لگے۔ ان حالات میں اس کے سواء اور کیا صورت ہو گی کہ اوقات نماز کا صرف ایک اندازہ رکھا جائے۔ رہا گھڑیوں کا سوال تو گو گھڑیاں موجود ہیں مگر سب جانتے ہیں کہ خاص کر
٩٧
عرب میں نمازوں کا تعلق اب بھی آفتاب کے طلوع و غروب ہی کے ساتھ ہے۔ یعنی غروب آفتاب پر یہاں سب گھڑیوں میں ١٢ بجادیئے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے تمام سال میں یہاں مغرب و عشاء کا وقت کبھی نہیں بدلتا۔ یعنی مغرب ہمیشہ بارہ بجے اور اس کے بعد عشاء ہمیشہ ڈیڑھ بجے کے قریب ہوتی ہے اور اس لئے روزمرہ غروب آفتاب کے ساتھ ساتھ گھڑی کو بھی موسموں کے لحاظ سے آگے پیچھے کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے شہروں میں تاریخ کی تبدیلی نصف شب کے بعد ہوتی ہے۔ یہاں ہمیں اس پر گفتگو کرنی نہیں ہے کہ ان دونوں نظاموں میں کون سا نظام معقول اور بہتر ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ چونکہ موجودہ عقول کے سامنے مادی ہر مشکل مشکل ہے لیکن اس کے مقابلہ میں صحیح سے صحیح حدیثوں کا انکار یا تاویل کوئی مشکل نہیں اس لئے دماغوں میں یہ سوال گزر سکتا ہے کہ گھڑیوں کے بعد نمازوں کے اوقات میں اب کوئی مشکل نہیں ہو سکتی۔
(اس تفصیل میں اس وقت ہم جانا پسند نہیں کرتے کہ جس زمانے میں ان مصنوعات کا تصور بھی دماغوں میں موجود نہ ہو۔ اس میں ایک امی قوم کے سامنے ان جدید آلات کا تذکرہ کرنا ایک سیدھی بات کے سمجھنے میں کتنی مشکلات کا باعث بن سکتا تھا۔ غالباً اسی مصلحت سے یاجوج و ماجوج کے خاص آلات حرب کے نام بھی تذکرہ میں نہ آئے ہوں پھر یہ کس کو خبر ہے کہ ایٹمی طاقتوں کے استعمال کے نتیجہ میں آئندہ قوانین جنگ میں آلات حرب کی اجازت کس حد تک رہ جائے گی۔ بہر حال جب تک مستقبل حوادث کے متعلق یہ تفصیلات حدیث میں نہیں آئیں تو صرف اپنے دماغی سوال و جواب سے ان ثابت شدہ تفصیلات کا انکار کرنا کسی طرح مناسب معلوم نہیں ہوتا جو صحیح طریقوں سے معرض بیان میں آچکی ہیں۔)
اس کے علاوہ حدیث مذکور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی بھی کچھ تفصیلات مذکور ہیں۔ ان کو آپ خالی الذہن ہو کر بار بار پڑھیں پھر یہ سوچیں کہ عربی زبان کے مطابق کیا ان تفصیلات میں کسی مجاز واستعارہ کا ارادہ کیا گیا ہے۔ ہم کو مجاز استعارہ سے انکار نہیں مگر آپ کو بھی حقیقت سے انکار نہ ہونا چاہئے۔ اگر سیاق کلام سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ
٩٨
یہاں متکلم نے یقیناً استعارہ و مجاز سے کام نہیں لیا تو پھر بے وجہ کھینچ کھینچ کر ایک حقیقت کو استعارہ و مجاز کا لباس پہنانا لاحاصل ہے۔
ابھی آپ حضرت ابن عباسؓ کی یہ روایت پڑھ چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان پر اٹھائے گئے تھے تو اس وقت ان کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ یہ کرشمہ قدرت ہے کہ جب وہ نازل ہوں گے تو اس وقت بھی یونہی نظر آئے گا کہ ان کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ گویا وہ غسل کر کے ایک دروازہ سے نکلے تھے اور پانی خشک ہونے سے پہلے اب دوسرے دروازہ سے داخل ہو رہے ہیں۔ جس عالم میں نہ دن ہو نہ رات نہ سردی ہو نہ گرمی اور نہ صحت ہو نہ مرض پھر اس عالم میں اگر پانی کے یہ قطرے بھی کسی تغیر سے محفوظ رہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
پھر جس خدا تعالیٰ میں یہ قدرت ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سانس کو پرندوں کی زندگی کا سبب بنادے۔ اس میں یہ طاقت کیوں نہیں کہ اسی سانس کو وہ دجال کے حق میں سم قاتل قرار دیدے۔ اسی طرح یہ بھی اس کی حکمت ہے کہ دجال جیسی قوت کو وہ ان کے صرف ایک اشارہ سے ہلاک کر دے اور دوسری طرف یاجوج و ماجوج کے مقابلہ سے عاجز بنا کر طور کی گوشہ نشینی پر مجبور کر دے تاکہ ایک طرف دنیا کو یہ واضح ہو جائے کہ جس پر دعویٰ الوہیت کی تہمت لگائی گئی تھی وہ تو مدعی الوہیت کا قاتل ہے اور دوسری طرف یہ بھی واضح ہو جائے کہ جس نے ایک مدعی الوہیت کو قتل کیا ہے وہ خود خدا نہیں بلکہ وہ تو ایک بیچارہ بشر ہے اور اس طرح طاقت و ضعف کے ان دونوں مظاہروں میں اصل خدائے قہار ہی کی طاقت کا جلوہ نظر آئے۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر و طغیان کی طاقتوں کو قدرت نے پہلے ہی قدم پر سزا نہیں دے دی ہے بلکہ استدراج و امہال کا قانون برابر ان کے ساتھ جاری رہا ہے۔ فرعون و نمرود شداد و ہامان کی داستانیں پڑھ لو تم کو ثابت ہو گا کہ جب کفر و طغیان اپنی پوری طاقت کو پہنچ چکا ہے تو اس کے بعد پاداش عمل کے قانون نے ان کو پکڑا ہے۔ پھر وہی سنت یہاں یاجوج و ماجوج کے ساتھ بھی جاری ہو گی جب وہ آسمان والوں کے قتل سے مطمئن ہو جائیں گے تو پھر ایسے ہی طریقہ سے ان کو ہلاک کیا جائے گا جو آسمان والے کی طرف سے
٩٩
ہوگا تاکہ عالم علوی کی شکست کا جواب سب غلط ہو کر رہ جائے۔ پھر دنیا کے خاتمہ پر وہی ایک دین رہ جائے گا جو حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے شروع ہوا تھا اور آسمان و زمین کی وہی برکتیں ظاہر ہوں گی جو ان کے دور میں ظاہر ہو چکی ہیں اور اس طرح سے : ” ان مثل عیسی عنداللہ کمثل آدم . “ کا دوسرا نقشہ بھی آنکھوں کے سامنے ہو گا۔ خدا تعالیٰ نے کن حکمتوں سے عالم کو بچھایا ‘ کن حکمتوں سے اس کو پھیلایا ‘ پھر کن حکمتوں سے اس کو سمیٹے گا یہ خود وہی جانتا ہے۔ ہم بے وجہ ہر جگہ ان کے سمجھنے کے لئے اپنی ٹانگ اڑاتے ہیں۔
خس پندارد کہ ایں کشاکش بادیست
ذکر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام فی محاورتہ
مع النبیﷺ لیلۃ المعراج انہ نازل قبل
قیام الساعۃ وانہ قاتل الدجال ولم یذکر
فیہ انہ ینزل لاصلاح ھذا الامۃ خاصۃً
وانما یکون ھذا من وظائف امامھا
- (١٧).........” عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ لَقِيْتُ لَیْلَةَ
اُسْرِىَ بِىْ إِبْرَاهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰى قَالَ فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ السَّاعَةِ فَرَدُّوْا أَمْرَهُمْ إِلٰى إِبْرَاهِيْمَ فَقَالَ لاَ عِلْمَ لِى بِهَا فَرَدُّوْا الْأَمْرَ إِلٰى مُوْسٰى فَقَالَ لاَ عِلْمَ لِى بِهَا فَرَدُّوْا الْأَمْرَ إِلٰى عِيْسٰى فَقَالَ أَمَّا وَجْبَتُهَا فَلاَ يَعْلَم بِهَا أَحَدٌ إِلاَّ اللّٰهُ تَعَالٰى ذٰلِكَ وَفِيْمَا عَهِدَ إِلَىَّ رَبِّىْ عَزَّوَجَلَّ أَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ‘ قَالَ وَمَعِىْ قَضِيْبَانِ فَإِذَا رَآنِىْ ذَابَ كَمَا يَذُوْبُ الرَّصَاصُ قَالَ فَيُهْلِكُهُمُ اللّٰهُ تَعَالٰى حَتّٰى أَنَّ الْحَجَرَ وَالشَّجَرَ لَيَقُوْلُ يَامُسْلِمُ إِن تَحْتِىْ كَافِرًا فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ قَالَ فَيُهْلِكُهُمُ اللّٰهُ تَعَالٰى ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلٰى بِلاَدِهِمْ وَأَوْطَانِهِمْ قَالَ فَعِنْدَ ذٰلِكَ
١٠٠
يَخْرُجُ يَأْجُوْجُ وَمَاجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ فَيَطَئُوْنَ بِلَادَهُمْ لَا يَأْتُوْنَ عَلَى شَيْئٍ إِلَّا أَهْلَكُوْهُ وَلَا يَمُرُّوْنَ عَلَى مَاءٍ إِلَّا شَرِبُوْهُ ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَىَّ فَيَشْكُوْنَهُمْ فَأَدْعُوْا عَلَيْهِمْ فَيُهْلِكُهُمُ اللّٰهُ تَعَالَى وَيُمِيْتُهُمْ حَتَّى تَجْوَى الْأَرْضُ مِنْ نَتَنِ رِيْحِهِمْ قَالَ فَيُنْزِلُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ الْمَطَرَ فَتَجْرِفُ أَجْسَادَهُمْ حَتَّى يَقْذِفَهُمْ فِي الْبَحْرِ قَالَ أَبِيْ ذَهَبَ عَلَىَّ هٰهُنَا شَيْءٌ لَّمْ أَفْهَمْهُ كَأَدِيْمٍ وَقَالَ يَزِيْدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُوْنَ ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ وَتُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيْمِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيْثِ هُشَيْمٍ قَالَ فَفِيْمَا عَهِدَ إِلَىَّ رَبِّيْ عَزَّوَجَلَّ إِنَّ ذٰلِكَ إِذَا كَانَ كَذٰلِكَ فَإِنَّ السَّاعَةَ كَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ الَّتِيْ لَا يَدْرِيْ أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَؤُهُمْ بِوِلَادِهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا ٠ رواه احمد فى مسنده ص٣٧٥ج١والحاكم فى المستدرك وقال صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه ووافقه الذهبي على ذالك فى التلخيص واقر الحافظ فى الفتح من نزول عيسى عليه السلام واخرجه ابن ماجه ص٢٩٩ باب خروج الدجال وعيسى بن مريم وخروج ياجوج ماجوج وابن ابى شيبه وابن جرير ابن المنذر وابن مردويه والبيهقى كذا فى الدر المنثور ج٤ص٣٣٦“
شب معراج میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنحضرت ﷺ سے یہ تذکرہ کرنا کہ قیامت کی آمد کا صحیح وقت ان کو بھی معلوم نہیں مگر صرف یہ معلوم ہے کہ اس سے پہلے ان کو دجال کو قتل کرنا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے امت محمدیہ ﷺ کی اصلاح کا ایک حرف بھی ذکر نہیں فرمایا کیونکہ یہ خدمت دراصل خود اس امت ہی کے ایک شخص کے متعلق ہو گی اس کے بعد پھر
١٠١
عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منتقل ہو جائے گی!
ابن مسعودؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے شب معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت ابراہیم و موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے بھی میری ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے باہم قیامت کا ذکر چھیڑا۔ آخر فیصلہ کے لئے انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے معاملہ پیش کیا۔ انہوں نے فرمایا مجھ کو تو صحیح وقت کی کچھ معلومات نہیں۔ پھر معاملہ موسیٰ علیہ السلام کے سامنے آیا۔ انہوں نے بھی اپنی لاعلمی کا اظہار فرمایا۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے معاملہ آیا تو انہوں نے فرمایا قیامت کے آنے کا ٹھیک وقت تو بجز ایک ذات اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو بھی نہیں ہے۔ ہاں! صرف اتنی بات میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ فرمایا ہے کہ دجال نکلے گا اور میرے ساتھ دو شاخیں ہوں گی اور جب اس کی نظر مجھ پر پڑے گی تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جیسے سیسہ (آگ میں) پگھل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کر دے گا پھر یہ نوبت آجائے گی کہ درخت اور پتھر آواز یں دے دے کر کہیں گے او مسلمان! دیکھ یہ میرے پیچھے کافر چھپا ہوا ہے۔ لپک کر آؤ اور اس کو بھی قتل کر۔ آخر کافر سب ہلاک ہو جائیں گے پھر لوگ اپنے اپنے شہر اور وطن کو واپس ہوں گے تو اس وقت یاجوج و ماجوج کی قوم کا حملہ ہو گا اور وہ ہر پست زمین سے نکل نکل کر بکھر پڑیں گے۔ بستیوں میں گھس پڑیں گے جس جس چیز پر بھی ان کا گزر ہو گا اس کو برباد کر ڈالیں گے اور جس پانی پر سے گزریں گے وہ سب پی کر ختم کر دیں گے۔ آخر لوگ شکایت لے کر میرے پاس آئیں گے۔ میں ان پر بد دعا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ میری بد دعا سے ان سب کو ہلاک کر دے گا اور وہ سب مرجائیں گے۔ تمام زمین ان کی بدبو سے سڑ جائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا جو ان کی نعشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گی۔ راوی کہتا ہے کہ اس مقام پر میرے والد نے کچھ فرمایا تھا وہ لفظ میری سمجھ میں نہ آیا صرف کادیم کا لفظ سننے میں آیا۔ یزید بن ہارون راوی کہتا ہے پوری بات یہ تھی کہ پھر پہاڑ دھن دیئے جائیں گے اور زمین جانور کے چمڑے کی طرح پھیلا کر سیدھی کر دی جائے گی۔ اس کے بعد پھر اصل حدیث
١٠٢
بیان فرمائی کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اور منجملہ ان باتوں کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمائی ہیں یہ ہے کہ جب ایسا ہو تو پھر قیامت اتنی نزدیک سمجھنا چاہئے جیسا وہ گابھن جانور جس کے بچہ کی پیدائش کی مدت پوری ہو چکی ہو اور اس کے مالک ہر وقت اس انتظار میں ہوں کہ دن رات میں نہ معلوم کب بچہ پیدا ہو جائے۔﴾
دیکھئے یہاں جب قیامت کا تذکرہ آیا اور جواب کی نوبت سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آئی تو انہوں نے اپنی لاعلمی کے ساتھ ساتھ فوراً اسی بات کا تذکرہ فرمایا جو قیامت کے ساتھ یقین کے اسی درجہ میں ہے۔ یعنی انکا پھر تشریف لانا اور دجال کو قتل کرنا۔ احادیث میں کہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے تشریف لانے کا اصل مقصد اس امت کی اصلاح ہو گی تاکہ یہ سوال پیدا ہو کہ اس امت کی اصلاح کے لئے اسرائیلی رسول کی آمد میں اس امت کی کسر شان ہے۔ حالانکہ یہ سوال ہی جاہلانہ ہے۔ ہم آج بھی خدا تعالیٰ کے سب رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارے لئے نہ صرف یہ کہ یہ موجب شرف ہے بلکہ مدار نجات ہے تو پھر اگر کوئی رسول آ کر ہماری اصلاح کرتا ہے تو ہمارے لئے اس میں کسر شان کی بات کیا ہے۔ ہاں! اگر کسی رسول کی آمد سے ہمارے رشتہ امیت پر زد پڑتی ہے اور وہ ہم کو دوسری امت بنانا چاہتا ہے تو اس میں صرف ہماری کسر شان نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی کسر شان بھی ہے۔ والعیاذ باللہ!
من اهم وظائف عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام
من قتل الدجال
(١٨).............."عَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ فِيْ حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ مِنْ ذِكْرِ الدَّجَّالِ فَقَالَتْ أُمَّ شَرِيْكٍ بِنْت أَبِيْ يَارَسُوْلَ اللّٰهِ فَاَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيْلٌ وَجُلُّهُمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَاِمَامُهُمْ رَجُلٌ صَالِحٌ فَبَيْنَمَا إِمَامُهُمْ قَدْ تَقَدَّمَ يُصَلِّى بِهِمُ الصُّبْحَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِمْ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ الصُّبْحَ فَرَجَعَ ذَالِكَ الإِمَام يَنْكُصُ يمشي قَهْقَرَى لِيَقْدَمَ عِيْسَى لِيُصَلِّى، فَيَضَعُ
١٠٣
عِيْسٰی يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ثُمَّ يَقُوْلُ لَهُ تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَاِنَّهَا لَكَ أُقِيْمَتْ فَيُصَلِّى بِهِمْ اِمَامُهُمْ فَاِذَا انْصَرَفَ قَالَ عِيْسٰی عليه السلام اِفْتَحُوا الْبَابَ فَيُفْتَحُ وَرَاءَهُ الدَّجَّالُ وَمَعَهُ سَبْعُوْنَ أَلْفَ يَهُوْدِىٍّ كُلُّهُ ذُوْسَيْفٍ مُّحَلًّی وَتَاجٍ فَاِذَا نَظَرَ إِلَيْهِ الدَّجَّالُ ذَابَ كَمَا يَذُوْبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ وَيَنْطَلِقُ هَا رِبًا وَيَقُوْلُ عِيْسٰى اِنَّ لِيَ فِيْكَ ضَرْبَةً لَّنْ تَسْبِقَنِیْ بِهَا فَيُدْرِكُهُ عِنْدَ بَابِ اللُّدِّ الشَّرْقِيِّ فَيَقْتُلُهُ فَيُهْزَمُ اللّٰهُ الْيَهُوْدَ (الى قوله) وَيُتْرَك الصَّدَقَةُ فَلَا يُسْعٰی عَلٰی شَاةٍ وَلَا عَلٰی بَعِيْرٍ وَتُرْفَعُ الشَّحْنَاء وَالتَّبَاغُضُ وَتُنْزَع حِمَةُ كُلِّ ذَاتِ حِمَّة حَتّٰی يُدْخِلَ الْوَلِيْدَةَ يَدَهُ فِي الْحَيَّةِ فَلَا تَضُرّه وتقر الوليدة الاسد فلَا يَضُرُّهَا وَيَكُوْنُ الذِّئْبِ فِي الْغَنَمِ كَأَنَّهُ كَلْبُهَا وَتُمْلَاءُ الْأَرْضُ مِنَ الْمُسْلِمِ كَمَا يُمْلَاءُ الْاَنَاءُ مِنَ الْمَاءِ وَتَكُوْنَ الْكَلِمَةُ وَاحِدَةً فَلَا يُعْبَدُ إِلَّا اللّٰهُ تَعَالٰی ․ الحديث اخرجه ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥ باب خروج الدجال وابن ماجه ص ٢٩٧‘٢٩٨ واللفظه له ورواه ابن حبان وابن خزيمة في صحيحهما والضيا في المختاره فقله كذالك في شرح المواهب للزرقانى ص ٥٣ من ذكر المعراج“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمات میں سب سے نمایاں
تر خدمت دجال کو قتل کرنا ہے
”ابوامامہ باہلیؓ دجال کی ایک طویل حدیث میں نقل کرتے ہیں کہ ام شریکؓ نے کہا یا رسول اللہ ! اس دن یعنی دجال کے زمانہ میں عرب کہاں چلے جائیں گے (کہ مسلمانوں کا یہ ابتر حال ہو جائے گا) فرمایا اس وقت عرب بہت کم رہ جائیں گے اور اکثر وہ بیت مقدس میں ہوں گے اور اس وقت ان کا امام ایک نیک شخص ہو گا۔ اس اثناء میں کہ یہ امام صبح کی نماز پڑھانے آگے بڑھ چکا ہو گا کہ دفعتاً عیسیٰ علیہ السلام اتر آئیں گے۔ یہ ان کو دیکھ کر مصلی سے پچھلے پیروں الٹے ہٹ آئیں گے تاکہ عیسیٰ علیہ السلام کو نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھائیں تو عیسیٰ علیہ السلام (شفقت کے انداز میں) اس کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے۔
١٠٤
آگے بڑھو اور تم ہی نماز پڑھاؤ کیونکہ اس نماز کی اقامت تو تمہارے ہی نام سے کہی گئی ہے۔ چنانچہ یہ نماز تو یہی امام پڑھائیں گے۔ نماز سے فراغت کے بعد عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے دروازہ کھولو۔ دروازہ کھولا جائے گا ادھر دجال نکل چکا ہو گا۔ اس کے ہمراہ ستر ہزار یہودی ہوں گے۔ ہر ایک کے پاس مزین تلوار اور سر پر طیلسان ہو گا۔ جب دجال کی نظر عیسیٰ علیہ السلام پر پڑے گی تو وہ نمک کی طرح پگھل جائے گا اور بھاگنے لگے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے میرے لئے تیرے نام کی ایک ضرب مقدر ہو چکی ہے۔ اس سے بچ کر تو مجھ سے کہاں نکل سکتا ہے۔ آخر اس کو باب ”لد“ پر پکڑ لیں گے اور اس کو قتل کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ سب یہودیوں کو شکست دے دے گا۔ اس وقت مال کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ صدقہ دینے کے لئے کوئی فقیر نہ ملے گا۔ لہٰذا بیت المال کی طرف سے کوئی شخص نہ بکری وصول کرنے والا رہے گا اور نہ اونٹ وصول کرنے والا اور بغض و کینہ سب دلوں سے نکل جائے گا اور تمام زہریلے جانوروں کے ڈنک بیکار ہو جائیں گے۔ یہاں تک کہ ایک چھوٹی سی لڑکی سانپ کے سوراخ میں ہاتھ ڈالے گی تو وہ اس کو نہ کاٹے گا اور شیر کو دوڑائے گی تو وہ اس کو کچھ نہ کہے گا اور بکریوں کے ریوڑ میں بھیڑیا اس طرح ساتھ ساتھ پھریں گے جیسے ریوڑ کا کتا۔ اور زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے اور صرف ایک خدا کی توحید باقی رہ جائے گی اور ایک اللہ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ ہو گی۔
سبحان اللہ ! جس شخصیت عظمیٰ کی برکات یہ ہوں وہ یقیناً کوئی معمولی انسان نہیں ہو سکتا۔ ضرور وہ کوئی خدا تعالیٰ کا قدوس نبی ہونا چاہئے اور یقیناً وہ کوئی ایسا ہی رسول ہونا چاہئے جس کے سب سے بڑے دشمن یہود ٹھہر چکے ہوں اور جس کے جھوٹے قتل کے گھمنڈ میں ایک بار وہ ملعون ٹھہر چکے ہوں۔ دوسری بار اسی کے ہاتھ سب موت کے گھاٹ اتار دیئے جائیں۔ انبیاء علیہم السلام سے عداوت اور بغاوت کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکل سکتا۔ اس بد خصلت کی بدولت پہلے وہ نبوت سے محروم کر دیئے گئے تھے اور آخر میں صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیئے جائیں گے۔ بے شک جو قوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آنحضرت ﷺ جیسے رأفت و رحمت والے رسول کے ساتھ بھی اپنا طریق کار نہ بدلے۔ ان ١٠٥
کی وجہ سے دنیا کو پاک کرنے ہی میں انسانیت کی فلاح ہے : ” اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوْا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا .“
شاید موجودہ زمانہ میں اطراف عالم سے سمٹ سمٹ کر انکا ایک جگہ جمع ہونا اسی قومی استیصال کے لئے پیش خیمہ ہو۔ حدیث مذکور سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا اہم مقصد دجال کا قتل کرنا ہے اور چونکہ اس کا مقابلہ براہ راست انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہے۔ اسی لئے ہر نبی نے اس کی آمد سے اپنی امت کو ڈرایا ہے۔ اس لئے ضروری ہوا کہ اس کے قتل کے لئے خدا تعالیٰ کے رسولوں ہی میں سے کوئی رسول آئے جو چھوٹے چھوٹے دجال اس سے قبل بھی ظاہر ہوتے رہے وہ اسی امت کے ہاتھوں ہلاک ہوتے رہے لیکن جو دجال کہ خاتم الدجاجلہ یعنی سب دجالوں کے آخر میں آئے گا اور خدائی افعال کے شعبدہ بازیاں ظاہر کرے گا۔ اس کے قتل کے لئے ایک نبی ہی کی تشریف آوری ضروری تھی۔ اس صورت میں اس امت کے لئے یہ کتنی بڑی کرامت اور شرافت ہو گی کہ جب اس پر کوئی خارجی حملہ ہو تو ان کی ہمدردی کے لئے خدا تعالیٰ کے رسول پیش قدمی فرمائیں اور وہ بھی بڑی تمناؤں اور بڑے فخر کے ساتھ۔ کیسے تعجب کی بات ہے جس بات میں اس امت کی شرافت تھی اسی کو برعکس اہانت سمجھا جائے: ” وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهُ نُوْرًا فَمَالَهُ مِنْ نُّوْرٍ .“
نزول عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام وظہور كرامة
هذه الامة وشرفها فی ذالك
(١٩)............”عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ يَقُوْلُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ اُمَّتِیْ يُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاهِرِيْنَ اِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَيَنْزِلُ عِيْسَی بْنُ مَرْيَمَ ﷺ فَيَقُوْلُ اَمِيْرُ هُمْ تَعَالَ فَصَلِّ لَنَا فَيَقُوْلُ لَا اِنَّ بَعْضَكُمْ عَلٰی بَعْضٍ اُمَرَاء تَكْرِمَةَ اللّٰهِ عَلٰی هٰذِهِ الْاُمَّةِ . مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسٰی بن مریم و مسند احمد ج ٣ ص ٣٤٥‘ ٣٨٤“
١٠٦
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری اور اس میں
آنحضرت ﷺ کی امت کی ظہور برتری
﴿جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق کے مقابلہ پر جنگ کرتی رہے گی اور وہ تاقیامت اپنے دشمنوں پر غالب رہے گی۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا آخر عیسیٰ بن مریم اتریں گے (نماز کا وقت ہو گا) مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا تشریف لائیے اور نماز پڑھا دیجئے۔ وہ فرمائیں گے یہ نہیں ہو سکتا۔ اس امت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اکرام واعزاز ہے کہ تم خود ہی ایک دوسرے کے امام وامیر ہو۔﴾
اس امت کی شرافت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ اس کے رسول کی وفات پر اتنی طویل مدت گزر جانے پر بھی اس میں ایسے افراد موجود رہیں کہ اسرائیلی سلسلہ کا ایک مقدس رسول آکر بھی اس کی امامت کو بر قرار رکھے اور اس کے پیچھے آکر نماز میں اس کی اقتداء کرلے اور اس کا اعلان بھی کرے کہ جس کرامت وشرافت کے تم پہلے مستحق تھے اتنی مدت دراز کے بعد آج بھی اسی شرافت وکرامت کے مستحق ہو۔ سوچئے اور ذرا انصاف فرمائیے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لاکر اس طرح اس امت کے پیچھے اقتداء نہ فرماتے تو کیا یہ ثابت ہو سکتا تھا کہ جو امت کل تک خیر امت کہی جاتی تھی آج بھی وہ اپنی اسی شرافت پر باقی ہے۔ یوں تو پہلے نبیوں کے دور میں بھی امت کے افراد لائق سے لائق تر گزرے ہیں مگر آخر کچھ مدت کے بعد ہی ان کا حشر کیا کچھ نہیں ہو گیا جو نبوتوں کے مستحق تھے وہ لعنت کے تحت آگئے یا نہیں۔ لیکن ایک یہ امت بھی ہے جس کی شرافت میں اتنی طویل مدت گزرنے پر بھی ذرا فرق نہیں آیا۔
یہ حقیقت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے جب ہم اس طرف بھی نظر کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے سفر آخرت کے وقت بھی ایک نماز کا نقشہ یہی تھا کہ مرض الموت میں آپ ﷺ نے منصب امامت کو سب سے بزرگ صدیق اکبرؓ کے سپرد کر دیا تھا۔ اس در میان
١٠٧
میں ایک ایسا وقت آیا کہ ان کی امامت میں خود آنحضرت ﷺ نے تشریف لا کر ان کے پیچھے نماز ادا فرمائی اور در حقیقت یہ اس کا اعلان تھا کہ یہ امت اب اس کمال کو پہنچ چکی ہے کہ ایک رسول کی نماز اس کے پیچھے ادا ہو سکتی ہے۔ لہذا اب سمجھ لینا چاہئے کہ رسول کی آمد کا جو مقصد اعظم ہوتا ہے وہ پورا ہو چکا ہے۔ اس لئے رسولوں کے دستور کے مطابق اس کی وفات کا وقت بھی آجائے تو تعجب کی بات نہیں۔ ایک طرف امامت واقتداء کا یہ نقشہ آپ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھئے اس کے ہزار سال سے کہیں زیادہ مدتوں کے بعد امامت واقتداء کا یہ دوسرا نقشہ بھی رکھیں جو یہاں حدیث میں آپ کے سامنے موجود ہے تو آپ کو بداہتہ ثابت ہو جائے گا کہ جس مدت میں پہلی امتیں ہلاک ہو ہو کر دنیا سے نیست و نابود ہو چکی ہیں۔ یہ امت اس سے زیادہ مدت گزرنے پر بھی اپنی اسی شرافت و کرامت پر باقی ہے جو کبھی اس کو اپنے عہد کمال میں حاصل تھی۔ اس سے جہاں ایک طرف اس امت کی بزرگی کا ثبوت ملتا ہے اس سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ کی روحانیت عظمیٰ اور آپ کے کمالات کا ثبوت ملتا ہے اور یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ آپ حقیقی معنی میں خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا کیونکہ جب قیامت تک آپ کی امت میں اس صفت کے لوگ موجود رہیں کہ اگر کوئی قدیم رسول آئے تو بے تکلف وہ ان کے پیچھے آکر نماز ادا کرلے تو اس سے صاف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ آخری رسول ہیں اور آپ کے بعد کسی رسول کی ضرورت باقی نہیں ہے۔ یہ اچھی طرح ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ اصل وظائف رسالت و نبوت خدائی دین کی تاسیس و اشاعت ہے کسی خاص شخص کا قتل کرنا اصل وظائف رسالت میں داخل نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کے بہت سے رسول وہ ہیں جو قتل کرنے کی بجائے خود دشمنوں کے ہاتھوں مقتول ہو گئے ہیں مگر کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے وظیفہ نبوت کی ادائیگی میں ذرا سا بھی قصور کیا تھا۔ والعیاذ باللہ!
پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دجال کو قتل کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ جدید رسالت کی حیثیت سے تشریف لائیں گے بلکہ یہ خدمت کسی حکمت سے ان کے سپرد کی گئی ہے جیسا کہ بہت سے امور حضرت خضر علیہ السلام کے سپرد ہوئے مگر ان عجائبات سے ان کی رسالت کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ چنانچہ آج تک امت میں اختلاف ہے
١٠٨
کہ وہ رسول تھے یا نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل کے لئے صاحب شریعت رسول ہونا۔ قرآن کریم سے ثابت ہے اور ان پر ہر امت کو ایمان لانا یہ ان کی رسالت کا حق ہے جو پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے لیکن آنحضرت ﷺ کے بعد چونکہ شریعت صرف آپ کی شریعت ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آکر اسی کی اتباع فرمائیں گے بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام صاحب تورات بھی آجائیں تو ان کے لئے بھی شریعت یہی شریعت ہو گی۔ اگر کوئی کامل سے کامل رسول کسی بڑی شریعت کا اتباع کرتا ہے تو اس سے اس کی نبوت و رسالت میں ذرہ برابر بھی کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔ بہت سے انبیاء علیہم السلام گزرے ہیں جن کی اپنی کوئی شریعت ہی نہ تھی لیکن پھر وہ خدا تعالیٰ کے نبی کہلائے پھر جو شریعت کہ سب شرائع کی جامع ہو۔ اگر کوئی رسول آکر اس کی اتباع کرتا ہے تو اس میں اس کی رسالت کے خلاف بات کیا ہے؟۔ لہٰذا یہ سوال کتنا نامعقول ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو کیا رسالت کی صفت ان سے سلب کر لی جائے گی۔ جی نہیں۔ وہ رسول ہی ہوں گے اور جس طرح اس وقت ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس طرح اس وقت بھی ایمان رکھیں گے۔ صرف اتباع شریعت کا مسئلہ ہے تو جب ہر رسول کی اپنی شریعت میں نسخ و منسوخ ہونے سے اس میں کوئی فرق نہیں آتا اسی طرح اگر ایک شریعت منسوخ ہو کر دوسری شریعت آجائے تو اس سے بھی اس میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس کے کمالات وہی ہیں۔ اس پر ایمان رکھنا اسی طرح ضروری ہے اور جس شریعت کی وہ دعوت دے اس کی اتباع ہر وقت لازم ہے۔ پس پہلے زمانے میں ان کی شریعت انجیل تھی اور نزول کے بعد اب ان کے لئے قرآن کریم شریعت ہو گا پہلے جب وہ شریعت انجیل کے داعی تھے اس وقت قرآن کریم نہ تھا اور جب وہ تشریف لائیں گے تو ان سے پہلے انجیل منسوخ ہو چکی ہو گی اور ان کے سامنے قرآنی شریعت ہو گی۔ لہٰذا اب وہ خود بھی اسی کا اتباع فرمائیں گے۔ کسی شریعت کے خاص خاص احکام یا شریعت کے منسوخ ہو جانے سے رسالت کے مسلوب ہونے نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ سوال نہ یہاں پیدا ہوتا ہے اور نہ اس حدیث میں پیدا ہوتا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے متعلق آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر بالفرض وہ آکر آپ کی شریعت کی اتباع کریں تو کیا اپنی ١٠٩
رسالت سے معزول ہو جائیں گے۔ والعیاذباللہ!
- (٢٠).........." عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِیْ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ
اللّٰهِ ﷺ یَقُوْلُ (فذكر الحديث وفيه) وَیَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ علیه السلام عِنْدَ صَلٰوةِ الْفَجْرِ فَیَقُوْلُ لَهُ اَمِیْرُ هُمْ یَارُوْحَ اللّٰهِ تَقَدَّمْ صَلِّ فَیَقُوْلُ هٰذِهِ الْاُمَّةُ اُمَرَاءُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ فَیُقَدَّمُ اَمِیْرُ هُمْ فَیُصَلِّی فَاِذَا قَضٰی صَلٰوة اَخَذَ عِیْسٰی حَرْبَتَهٗ فَیَذْهَبُ نَحْوَ الدَّجَّالِ فَاِذَا یَرَاهُ الدَّجَّالُ ذَابَ كَمَا یَذُوْبُ الرَّصَاص فَيَضَعُ حَرْبَتَهٗ بَیْنَ ثَنْدُ وَتِهِ فَیَقْتُلُهٗ وَیَنْهَزِمُ اَصْحَابُهٗ لَیْسَ یَوْمَئِذٍ شَیْئٌ یُّوَارِیْ مِنْهُمْ اَحَدًا حَتّٰی اَنَّ الشَّجَرَةَ لَتَقُوْلُ یَامُؤْمِنُ هٰذَا كَافِرٌ وَّ یَقُوْلُ الْحَجَرُ یَا مُؤْمِنُ هٰذَا كَافِرٌ ۔ اخرجه احمد فى مسنده ص٢١٦،٢١٧ج٤ بطريقين واخرجه ابن ابی شیبه والطبرانی والحاكم ج٥ ص٦٧٤،٦٧٥ حدیث نمبر٨٥٢٠ باب نزول عیسیٰ علیه السلام من السماء وصححه كذافی الدر المنثور ج٢ ص٢٤٣ وعن جابر نحوه وهكذا عند ابي یعلیٰ عنه وفیه انت احق بعضكم امراء على بعض اكرم اللّٰه به هذه الا مة كذافى الحاوی للسیوطیؒ ج٢ ص١٦٧ وليست هذه الرواية فى رسالة الشيخ قدس سره وفى رواية فيقول له عيسىٰ انما اقيمت الصلوٰة لك فيصلى خلفه كذافى البدايه والنهايه ج٢ ص٩٩ باب صفته عیسٰی علیه السلام شمائله فضائله“
عثمان بن ابی العاصؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ عیسٰی علیہ السلام فجر کی نماز میں اتریں گے تو اس وقت مسلمانوں کا جو امیر ہو گا وہ ان سے عرض کرے گا اے روح اللہ ! آگے تشریف لا کر نماز پڑھائیے۔ وہ فرمائیں گے یہ امت اپنی فضیلت کی وجہ سے خود ہی ایک دوسرے کی امیر ہے۔ اس پر وہ امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں گے۔ جب نماز ختم ہو جائے گی تو اس کے بعد عیسٰی علیہ السلام اپنا نیزہ لے کر دجال کی طرف جائیں گے۔ وہ جب ان کو دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائے گا جیسا آگ پر سیسہ پگھل
١١٠
جاتا ہے۔ وہ اپنا نیزہ اس کے سینہ کے درمیان لگائیں گے اور اس کو ختم کر دیں گے اور اس کا سب گروہ منتشر ہو جائے گا اور کوئی چیز ان کو پناہ نہ دے گی۔ یہاں تک کہ درخت اور پتھر بھی یہ کہے گا اے مومن ! میری آڑ میں یہ کافر موجود ہے۔ اس کو بھی قتل کر دے۔﴾
دوسری روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جواب اس طرح منقول ہے کہ اس نماز کی اقامت آپ ہی کے نام کی ہوئی ہے۔ یہ کہہ کر وہ ان ہی کے پیچھے نماز ادا کریں گے ؟۔
انما ينزل عيسىٰ عليه الصلوٰة والسلام من بين
سائر الانبياء عليه الصلوٰة والسلام خاصة لانه
اولىٰ الناس بالنبی ﷺ
(٢١)........... ” عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ، يَعْنِي عِيسٰى وَإِنَّهُ نَازِلٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوْهُ فَاعْرِفُوْهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ، إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِن لَّمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ فَيُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَيَدُقُّ الصَّلِيْبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُهْلِكُ اللهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ وَيُهْلِكُ الْمَسِيْحَ الدَّجَّالَ فَيَمْكُثُ فِى الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّى عَلَيْهِ الْمُسْلِمُوْنَ . رواه ابوداؤد ص ١٣٥ ج ٢ باب خروج الدجال واخرجه ابن ابی شیبة واحمد فی مسنده ج ٢ ص ٤٠٦ وابن حبان فی صحیحه وابن جریر ج ٦ ص ٢٢ کذا فی الدر المنثور ج ٢ ص ٢٤٢ البدایہ والنہایہ ج ٢ ص ٩٩ باب صفة عيسىٰ عليه السلام وصحہ الحافظ فی الفتح من نزول عیسىٰ عليه السلام“
﴿ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ وہ ضرور اتریں گے جب تم ان کو دیکھنا تو پہچان لینا کہ وہ میانہ قد سرخ و سفید رنگ کے اور دو زعفرانی چادریں اوڑھے ہوئے ہوں گے۔ ان پر وہ
١١١
شگفتگی و تازگی ہو گی یوں معلوم ہو گا کہ ان کے سر مبارک سے پانی کے قطرے اب ٹپکے۔ اگرچہ ان پر پانی کی نمی بھی نہ ہو گی۔ وہ اسلام پر لوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو چورا چورا کر ڈالیں گے۔ سور کو قتل کریں گے۔ جزیہ کی رسم اٹھا دیں گے۔ ان کے دور میں اللہ تعالیٰ تمام مذاہب ختم کر دے گا اور صرف ایک مذہب اسلام باقی رہ جائے گا اور ان کے دست مبارک پر اللہ تعالیٰ دجال کو قتل کرے گا۔ چالیس سال تک وہ زمین پر زندہ رہیں گے۔ اس کے بعد ان کی وفات ہو گی اور مسلمان ان پر نماز جنازہ ادا کریں گے۔ (ابو داؤد)
حجه واتيانه على قبر النبىﷺ وسلامه ورده
عليه عليهما الصلوٰة والسلام
(٢٢)....... " وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِﷺ قَالَ لَيُهِلَّنَّ عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ بَفَجِّ الرَّوْحَاءِ بِالْحَجِّ أَوْبِالْعُمْرَةِ اويَثْنِيَهُمَا جَمِيْعًا ٠ رواه مسلم ج١ص٤٠٨ باب جواز التمتع فى الحج والقران واخرجه مسند احمد ج٢ص٥١٣ ولفظه ينزل عيسى بن مريم فَيَقْتُلُ الْخِنْزِيْرَ ويمحوا الصَّلِيْبَ وَتَجْمَعُ لَهُ الصَّلوة وَيُعْطِى الْمَالَ حَتَّى لَا يُقْبَلُ وَيَضَعَ الْخَرَاجَ وَيَنْزِلُ الرَّوْحَاء فيحجُّ مِنْهَا أَوْ يَعْتَمِرُ أَوْ يَجْمَعُهُمَا وَتَلَا اَبُوْ هُرَيْرَةَ وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا فَزَعَمَ حَنْظَلَةُ اَنَّ اَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ يُؤْمِنُ بِهِ قَبْلَ مَوْتِ عِيْسَى فَلَا أَدْرِى هَذَا كُلُّهُ حَدِيْثُ النَّبِيِّ ﷺ أَمْ شَيْءٌ قَالَهُ أَبُوْهُرَيْرَةَ تفسير ابن كثير ج١ص٥٧٨ مسند احمد ج٢ص٢٩٠ واخرجه ابن جرير مثله والحاكم وصححه واللفظ له ليهبطن ابن مريم حكما عدلا واماما مقسطاً وليسلكن فجا حاجا اومعتمرا وليا تين قبرى حتى يسلم على ولاردن عليه يقول ابوهريرة اى بنى اخى ان رأيتموه فقولوا ابو هريرة يقرئك السلام درمنثور ج٢ص٢٤٥“
١١٢
﴿ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ضرور مقام فج روحاء پر حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔ (مسلم شریف) مسند احمد میں حدیث کے پورے الفاظ یہ ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوۃ والسلام اتریں گے سور کو قتل کریں گے۔ صلیب کا نام و نشان باقی نہ چھوڑیں گے اور مال اتنا تقسیم کریں گے کہ اس کو قبول کرنے والا نہ ملے گا اور جزیہ و خراج اٹھا دیں گے اور مقام فج روحاء میں حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔ اس کی شہادت میں ابوہریرہؓ نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی : ”وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا“ یعنی اہل کتاب میں کوئی شخص ایسا نہ رہے گا جو ان کی وفات سے پہلے یقیناً ان پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت میں عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے۔ حنظلہ (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں ابوہریرہؓ نے کہا: ”قَبْلَ مَوْتِهِ“ سے مراد عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی موت سے پیشتر ہے۔ اب یہ مجھ کو معلوم نہیں کہ یہ تفسیر بھی آنحضرت ﷺ کی جانب سے ہے یا یہ خود ابوہریرہؓ نے بیان فرمائی ہے۔﴾
يتزوج عليه الصلوة والسلام ويولد له ثم يتوفے
ويدفن وبيان موضع دفنه
(٢٣).......... ”عَنْ عبداللّٰهِ ابن عمر مَرْفُوْعًا يَنْزِلُ عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ إِلَى الْأَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ الحديث وعزاه لكتاب الوفاء واخرجه ابن المراغى فى المدينة وابن الجوزى فى المنتظم وهكذا فى المشكوة ص ٤٨٠ باب نزول عيسىٰ عليه السلام كتاب الفتن“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کے بعد شادی کرنا پھر ولادت ہونی
اس کے بعد آپ کی وفات اور مقام دفن کا ذکر
﴿ عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عیسیٰ بن مریم علیہ
١١٣
السلام زمین پر اتریں گے اور نکاح کریں گے اور ان کے اولاد ہو گی۔ ﴾
- (٢٤)............."عن ابى هريرة مرفوعًا طوبى لعيش بعد المسيح
يوذن للسماء فى القطر .................... ويوذن الارض فى النبات حتّى لو تذر حبّك فى الصّفَا نبت وحتّى يمر الرجل على الاسد فلا يضره ويطأ على الحية فلا تضره ولَا تَشَاحُن ولا تَبَاغُضَ اخرجه ابو سعید النقاش فى فوائد العراقين كذا فى الكنز ج١٤ ص٣٣٣ حديث نمبر ٣٨٨٤٤ باب نزول عيسىٰ عليه السلام ابو سعید عنه"
﴿ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد زندگی اور فارغ البالی کے کیا کہنے‘ آسمان کو بارش کا حکم مل جائے گا اور زمین کو پیدائش کا‘ حتیٰ کہ اگر تم پتھر پر دانہ ڈال دو گے تو بھی وہ جم جائے گا اور اتنا امن ہو گا کہ آدمی شیر کے قریب سے گزرے گا اور وہ اس کو ذرا نقصان نہیں پہنچائے گا اور بغض و کینہ کا کہیں نام و نشان نہ رہے گا۔﴾
- (٢٥)............"عن محمد بن يوسف بن عبدالله بن سلام عن ابيه
عن جده قال مكتوب فى التوراة صفة محمد رسول الله ﷺ وعيسىٰ بن مريم يدفن معه اخرجه الترمذى ج٢ ص٢٠٢ باب ما جاء فى فضل النبى ﷺ وحسنه كذا فى الدر المنثور ص٢٤٥ ج٢ قلت وقد تكلم فى اسناده الحافظ ابن كثير فى البداية والنهاية ص٩٩ ج٢ وقال فى اسناد رواية الترمذى هذه عثمان بن ضحاك والصواب الضحاك بن عثمان المدنى خصائص الكبرى ج٢ ص٤٤ مشكوة ص٥١٥ باب فضائل سيد المرسلين"
﴿ عبداللہ بن سلامؓ کہتے تھے کہ تورات میں محمد ﷺ کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی لکھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ کے پاس دفن ہوں گے۔﴾
عجیب بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں : ” اولی
١١٤
الناس“ کا لفظ فرمایا تھا اس کا ظہور یوں ہوا کہ اول تو آپ ﷺ کے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں گزرا۔ گویا دونوں کے زمانے متصل متصل رہے۔ پھر اسی مناسبت کی وجہ سے وہی آپ ﷺ کی امت میں تشریف لائیں گے اور یوں بھی ہوا کہ دفن بھی آپ ﷺ کے پاس ہی آکر ہوں گے۔ زمانی اور مکانی اور موت کی یہ خصوصیات ان کے سوا کسی اور نبی کو میسر نہیں آئیں۔
- (٢٦).......... ”عن عبداللّٰه بن سلام قال يدفن عيسى مع رسول
اللّٰه ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعا اخرجه البخاري في تاريخه والطبراني ، درمنثور ص ٢٤٥ ج ٢“
﴿ عبداللہ بن سلامؓ بیان کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام آکر رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے دو جاں نثار یعنی ابوبکرؓ اور عمرؓ کے پاس دفن ہوں گے اور اس لحاظ سے ان کی قبر چوتھی ہو گی۔ ﴾
- (٢٧).......... ”عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَارَسُوْلَ اللّٰهِ اِنِّیْ اَرٰی اَنِّیْ
اَعِيْشُ مِنْ بَعْدِكَ فَتَأْذَنَ لِیْ اَنْ اُدْفَنَ اِلٰی جَنْبِكَ فَقَالَ وَاَنّٰی لَكِ بِذٰلِكَ مِنْ مَوْضَعٍ مَافِيْهِ اِلَّا مَوْضَعُ قَبْرِیْ وَقَبْرِ اَبِیْ بَكْرٍ وَّ عُمَرَ وَعِيْسٰی بْنُ مَرْيَمَ اخرجه ابن عساكر كذافى الكنز ص ٦٢٠ ج ١٤ حدیث نمبر ٣٩٧٢٨ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام وفى فصل الخطاب باسناد المستغفرى فى دلائل نبوت الٰہ“
﴿ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میرا خیال ہوتا ہے شاید میں آپ ﷺ کے بعد تک زندہ رہوں گی تو آپ ﷺ مجھ کو اس کی اجازت دیں کہ میں آپ کے پہلو میں دفن ہوں۔ آپ نے فرمایا میں اس کی بھلا کیسے اجازت دے سکتا ہوں۔ یہاں تو صرف میری قبر اور ابوبکرؓ و عمرؓ کی قبریں اور عیسیٰ علیہ السلام کی قبر مقدر ہے۔ ﴾
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ختم نبوت
محدث کبیر
حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تعارف
الحمدللہ وکفی وسلام علیٰ خاتم الانبیاء، اما بعد! محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ کی تصنیف لطیف ترجمان السنۃ جلد اول کے ص ٣٧٩ سے ٤٢٦ تک رحمت عالم ﷺ کی وصف خاص و امتیازی شان ”ختم نبوت“ کو اچھوتے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن و سنت کے حوالے سے ایسا مدلل و مبرہن کیا ہے کہ منکرین ختم نبوت کے سارے اوہام باطلہ و خیالات رکیکہ ھباءً منثوراً ہو گئے ہیں۔ پڑھئے نور ایمان سے دل جگمگا اٹھے گا۔
فقیر اللہ وسایا ٧ / ٦ / ١٤٢٢ھ ٢٧ / ٨ / ٢٠٠١ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
كان النبى ﷺ نبيا وأدم بين الروح والجسد
- (١)........ ”عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوْا يََا رَسُوْلَ اللّٰهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ
النُّبُوَّةُ قَالَ وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ ٠ رواه الترمذی ص٢٠٢ج٢ باب ماجاء في فضل النبى ﷺ وقال هذا حديث حسن“
آنحضرت ﷺ نبوت سے اس وقت سرفراز ہوچکے تھے
جبکہ حضرت آدم میں نفخ روح بھی نہ ہوا تھا
﴿ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ صحابہؓ نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کو نبوت کب ملی فرمایا اس وقت جبکہ حضرت آدم علیہ السلام ابھی روح و جسم کے درمیان تھے (یعنی ان میں روح نہیں پھونکی گئی تھی) اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن کہا ہے۔﴾
حافظ سخاویؒ کہتے ہیں کہ اس حدیث کے مشہور الفاظ : ” کنت نبيا وأدم بين الماء والطين “ ہمیں کسی حدیث کی کتاب میں نہیں مل سکے۔ حافظ سیوطیؒ نے ان کا صاف طور پر انکار کر دیا ہے البتہ اس کا مضمون قابل تسلیم سمجھا ہے۔ خفاجی شرح شفاء میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے دو تین باتیں ثابت ہوتی ہیں :
- (١)...... آپ کا عالم ارواح میں نبوت سے حقیقتاً سرفراز ہونا۔
٣
(٢)....... جس طرح صفت وجود میں آپ کی ذات سب سے مقدم تھی اسی طرح صفت نبوت میں بھی آپ کا سب سے مقدم ہونا۔
اس مضمون کی پوری توضیح کے لئے اس تفصیل کا نقل کرنا ضروری ہے جو حافظ تقی الدین سبکیؒ نے آیت میثاق کی تفسیر میں لکھی ہے :
”وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَ كُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ٠ آل عمران آیت ٨١“
﴿اور وہ وقت یاد دلائیے جبکہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا تھا کہ ہم جو تمہیں کتاب وحکمت دیں پھر خدا کا کوئی رسول تمہارے پاس آئے اور جو کتاب تمہارے ساتھ ہو اس کی تصدیق کرے تو (دیکھو) ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔﴾
حافظ موصوف نے اس آیت کی شرح میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے اور اس کا نام ”التعظيم والمنة فى معنى قوله لتؤمنن به ولتنصرنه“ رکھا ہے۔ یوسف بن اسماعیل نبہانی نے جواہر البحار میں اس رسالہ کو بجنسہ نقل کیا ہے۔ خفاجی نے صرف اس کے منتشر ٹکڑے لئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ازل میں انبیاء علیہم السلام سے آنحضرت ﷺ کے لئے اسی نمونہ کا عہد لیا گیا تھا جیسا کہ امتوں سے نبیوں کے لئے یا رعایا سے خلفاء کے لئے اطاعت ونصرت کا عہد لیا جاتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے درمیان آپ کا منصب عالی وہ تھا جو امتوں میں انبیاء علیہم السلام کا منصب ہوتا ہے۔ اس لئے اور انبیاء تو صرف نبی ہیں اور آنحضرت ﷺ نبی الانبیاء ہیں یہ حقیقت اگرچہ عالم اجسام میں صاف طور پر عیاں نہیں ہو سکی مگر عالم ارواح اور اس عالم سے ماورا عالم میں جہاں بھی دیگر انبیاء علیہم السلام کے ساتھ آپ کا اجتماع ہو گیا ہے ظاہر ہو گئی ہے پہلی بار یہ اجتماع شب معراج میں ہوا تھا جبکہ نماز کے لئے امام کی تلاش ہو رہی تھی اس وقت تمام انبیاء علیہم السلام کی صفوں میں امامت کی مستحق آپ ہی کی ذات گرامی ٹھہری۔ گویا امت میں امامت کا جو حق کہ نبی کا ہوتا ہے۔ وہی حق انبیاء علیہم السلام میں آنحضرت ﷺ کا قرار پایا دوسرا اجتماع محشر میں ہو گا۔ وہاں بھی سب انبیاء آپ ہی کے زیر لواء اور آپ ہی کے
م
جھنڈے کے نیچے ہوں گے جیسا کہ ہر امت اپنے اپنے نبی کے جھنڈے کے نیچے ہو گی۔ تیسری بار شفاعت کا مرحلہ ہے یہاں بھی سب کی خطیب و امام آپ ہی کی ذات مبارک ہو گی بالفاظ دیگر یوں سمجھئے کہ جو منصب نبوت آپ کو اس امت کے لئے حاصل ہے وہی منصب آپ کو بلحاظ انبیاء بھی حاصل ہے۔
البتہ اس کا ظہور ان کے ساتھ اجتماع پر موقوف ہے۔ عالم کی تاریخ میں یہ اجتماع کل تین جگہ ثابت ہوتا ہے اور تینوں جگہ آپ کا یہ منصب عالی ظاہر ہوا ہے مگر اس عالم میں بھی انبیاء علیہم السلام کا آپ کے ساتھ اجتماع ہو جاتا تو یہ حقیقت یہاں بھی آشکارا ہو جاتی چنانچہ آخر زمانہ میں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو ان کا تعلق آپ کی شریعت کے ساتھ وہی ہو گا جو تمام امت کا ہے اور اسی لئے اس اتباع سے ان کی نبوت میں کوئی ادنیٰ شائبہ نقصان بھی لازم نہ آئے گا۔ اسی طرح اگر آپ گزشتہ انبیاء کے زمانہ میں تشریف لے آتے تو وہ بھی اپنی اپنی رسالت پر باقی رہتے ہوئے آنحضرت ﷺ کا اتباع ہی فرماتے اور اس اتباع کی وجہ سے ان کی رسالت میں بھی کوئی نقص لازم نہ آتا۔
رہا مختلف شریعتوں کا معاملہ تو جس طرح مختلف نبوتیں آنحضرت ﷺ کی نبوت کے ماتحت ہیں اسی طرح مختلف شریعتیں مختلف زمانوں اور امتوں کے لحاظ سے حضور ﷺ کی شریعتیں ہیں۔ پس یہود و نصاریٰ کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کی شریعت تورات و انجیل تھی اور امت محمدیہ کے لحاظ سے آپ کی شریعت قرآن شریف ہے اگر زمانوں اور اشخاص کے اعتبار سے احکام مختلف ہو جائیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
مذکورہ بالا تحقیق سے دو حدیثوں کی مراد روشن ہو گئی :
- (١)...... ”بعثت الی الناس کافۃ“ میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں عام
طور پر عموم بعثت کے معنی صرف یہ سمجھے جاتے تھے کہ آپ قیامت تک سب انسانوں کے لئے رسول ہیں۔ لیکن اس تحقیق سے ظاہر ہو گیا کہ آپ کی نبوت کا تعلق صرف مستقبل سے نہیں بلکہ ماضی و مستقبل دونوں سے ہے حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر آنحضرت ﷺ تک سب رسول آپ کی نبوت کے ماتحت ہیں اگرچہ ماتحتی کی نوعیت بدلی ہوئی ہو۔
٥
- (٢).......... ”حديث كنت نبيا وادم بين الماء والطين“ اس حدیث کی
مراد صرف یہ سمجھی جاتی تھی کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے اللہ تعالیٰ کو آپ کی نبوت کا علم حاصل تھا مگر اس میں آپ کی کیا خصوصیت ہے۔ دوسرے انبیاء علیہم السلام کی نبوتوں کا علم بھی اللہ تعالیٰ کو اسی طرح حاصل تھا جیسا کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا۔
اس تحقیق کی بناء پر حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ آنحضرت ﷺ کو حضرت آدم علیہ السلام میں نفخ روح سے پہلے نبوت سے نوازا جا چکا تھا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ قدرت کی طرف سے کسی کمال کے افاضہ کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ کبھی وہ عالم وجود میں آنے کے بعد کمال کا افاضہ کرتی ہے اور کبھی وجود سے پہلے عالم ارواح ہی میں اس کمال سے نواز دیتی ہے جس کا ظہور قالب انسانی میں مقدر ہو چکا ہے۔ دونوں صورتوں میں اس کمال کا علم اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کو یکساں ہوتا ہے بلکہ مخلوق کو پہلی صورت کا علم اس وقت حاصل ہوتا ہے جبکہ وہ کمال اس کے مشاہدہ میں آجائے اور دوسرے کمال کے علم کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ کوئی مخبر صادق اس کی خبر دے۔ یہاں آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے ہمیں اس بات کا علم ہو گیا ہے کہ کمال نبوت آپ کو اس وقت حاصل ہو چکا تھا جبکہ حضرت آدم علیہ السلام انسانی صورت پر استوار بھی نہ ہونے پائے تھے اور اسی وقت انبیاء علیہم السلام سے آپ کے لئے ایمان و نصرت کا عہد بھی لے لیا گیا تھا تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپ کی رسالت عامہ ان کو بھی شامل ہے اس لحاظ سے سب سے پہلے نبی آپ ہوئے مگر چونکہ جسد عنصری کے لحاظ سے آپ کا ظہور سب سے آخر میں ہوا ہے۔ اس لئے آپ آخر الانبیاء بھی کہلائے مگر اس معنی سے نہیں کہ آپ کو نبوت سب سے آخر میں ملی ہے۔
بلکہ اس معنی سے کہ آپ کا ظہور سب کے آخر میں ہوا ہے ورنہ منصب نبوت کے لحاظ سے آپ کی ولادت سے قبل اور ولادت کے بعد چالیس سال کی عمر سے پہلے اور اس کے بعد کے زمانہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کو ایک مثال سے یوں سمجھئے کہ اگر ایک شخص اپنی لڑکی کی شادی کے لئے کسی کو وکیل بناتا ہے تو بلاشبہ یہ وکالت صحیح ہے۔ اور اسی وقت سے اس کو تصرف کرنے کا حق بھی حاصل ہے لیکن اس تصرف کا ظہور اس پر موقوف ہے کہ پہلے
٦
کہیں اسے کفو ملے تو وہ شادی کرے بعض مرتبہ مدتوں کفو نہیں ملتا اور اس وکالت کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ شخص وکالت سے موصوف نہیں یا اس کو اس سے پیشتر حق تصرف حاصل نہیں اسی طرح آپ کی نبوت کا معاملہ سمجھنا چاہئے یہاں جسم عنصری کی شرط صرف تصرفات نبوت کے ظہور کے لئے ہے بنفس منصب نبوت کے لئے نہیں۔ اصل یہ ہے کہ کسی حکم کا کسی شرط سے تعلق دو طرح پر ہوتا ہے کبھی فاعل متصرف کے اعتبار سے، کبھی محل قابل کے لحاظ سے، یہاں آنحضرت ﷺ کی نبوت کے لئے جسم عنصری کی شرط فاعل متصرف کی طرف سے نہ تھی کیونکہ حق تعالیٰ نے آپ کو منصب نبوت سے عالم ارواح ہی میں سرفراز کر دیا تھا جسم ناسوتی کی شرط تھی تو صرف اس لئے تھی کہ مبعوث الیہم میں جسم کے بغیر استفادہ کی قابلیت نہ تھی تصرفات نبوۃ یعنی احکام الٰہیہ کی تبلیغ اس پر موقوف تھی کہ آپ جسم عنصری میں تشریف لا کر ان سے خطاب کریں۔ کلام الٰہی انہیں سنائیں اور سمجھائیں۔
اگر مخاطبین میں ان امور کی اس سے قبل صلاحیت ہوتی تو وہ کمال نبوت کا اس سے قبل بھی ادراک کر لیتے اس لئے قالب انسانی کی شرط یہاں نفس نبوت کے لئے نہیں بلکہ قصور مخاطبین کے لحاظ سے تھی۔ سبکیؒ متوفی ٧٥٦ھ سے پہلے حافظ ابو نعیم اصبہانیؒ نے متوفی (٤٣٠) اور شیخ محی الدین بن عربیؒ (متوفی ٦٣٨) نے فتوحات مکیہ کے باب ١٠ ص ١٧٤ و باب ١١ ص ١٨٥ و باب ١٤ ص ١٩٢ و باب ٧٣ ص ١٧٧ و ١٨٢ و باب ٣١٣ ص ٦٤، میں اور امام رازیؒ نے (متوفی ٦٠٦) اپنی تفسیر میں پھر بعد میں ابن حجر ہیتمیؒ (متوفی ٩٧٣) اور زرقانیؒ (١١٢٢) وغیرہم نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔
خفاجیؒ کو تقی سبکیؒ کی اس رائے سے اختلاف ہے وہ اور انبیاء علیہم السلام کے حق میں آپ کا یہ علاقہ تسلیم نہیں کرتے اور فرماتے ہیں کہ صرف تعظیم و توقیر عظمت و نصرت کے عہد سے اتنا اہم علاقہ ثابت نہیں ہو سکتا۔ ہمارے نزدیک اس کے خلاف پر جو وجوہات انہوں نے قائم کیے ہیں اس کا جواب ممکن ہے۔ مگر احتیاط یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس بحث سے سکوت اختیار کیا جائے۔ نہ تو اس کا دعویٰ کرنے کی ضرورت ہے اور نہ اس سے انکار کرنے
٧
کی حاجت۔ آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے صرف آپ کی سیادت و قیادت کا اعتقاد کافی ہے اب یہ بحث کہ انبیا علیہم السلام کے لیے بھی یہ سیادت اسی درجہ کی تھی جس درجہ کی اس امت کے لیے غیر ضروری بحث ہے۔ علامہ خفاجیؒ کو سبکیؒ کی دوسری بحث بلا کسی اختلاف کے تسلیم ہے یعنی یہ کہ آنحضرت ﷺ کو منصب نبوت سب سے پہلے عالم ارواح ہی میں مرحمت ہو چکا تھا اور اس حدیث کا منشاء صرف یہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو آپ کی نبوت کا علم تھا یہ ایک بدیہی اور غیر مفید سی بات ہے۔
(دیکھو نسیم الریاض ج ١ ص ٣٠٠ تا ٣٠٤)
شیخ اکبرؒ نے اس مضمون کو بڑی رنگینی سے ادا کیا ہے۔ اس کا نقل کرنا موجب طوالت ہے۔ اہل علم کی ضیافت طبع کے لیے یہاں صرف چند اشعار پیش کیے جاتے ہیں :
............()
و ادم بین الماء والطین واقف
﴿سن لو میرے ماں باپ اس پر قربان جو اس وقت بادشاہ اور سردار بن چکا تھا۔ جبکہ آدم علیہ السلام ابھی آب و گل کے درمیان ہی پڑے ہوئے تھے۔﴾
............()
له فی العلی مجد تلید وطارف
﴿یہ وہی مکی رسول ہیں جن کا نام نامی محمد ﷺ ہے اور جن کو ہر قسم کی نئی پرانی بزرگیاں حاصل ہیں۔﴾
............()
وکانت له فی کل عصر مواقف
﴿آپ کی آمد مدتوں بعد ایک خوش بخت زمانہ میں ہوئی مگر آپ کی شہرت ہر دور میں رہی ہے۔﴾
٨
.......... ()
فأثنت عليه السن وعوارف
﴿آئے اور ایک شکستہ حال زمانہ کی اصلاح کرنے کے لیے آئے۔ اس لیے زبان خلق اور بخششیں آپ کی ثناء خواں ہے۔﴾
.......... ()
وليس لذاك الامر فى الكون صارف
﴿جب آپ کسی بات کا عزم کر لیتے ہیں تو پھر اس کا خلاف نہیں ہوتا اور نہ عالم میں اس سے کوئی مانع نظر آتا ہے۔﴾
جعل النبی ﷺ خاتم النبیین
وآدم بین الماء والطین
- (٢)..........”عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ إِنَّهُ قَالَ إِنِّى
عِنْدَ اللّٰهِ مَكْتُوْبٌ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَإِنَّ اٰدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِى طِيْنَتِهٖ . رواه فى شرح السنة واحمد فى مسنده (ج٤ ص١٢٧‘١٢٨) كما فى المشكوة (ص٥١٣‘ باب فضائل سيد المرسلين ﷺ) والبيهقى والحاكم ص١٩٤ ج٢ حديث ٣٦١٩ كتاب التفسير كما فى المواهب وقال الحاكم صحيح الاسناد وفى شرحه رواه ابن حبان فى صحيحه ايضاً وفى الكنز ص٤١٨ج١١ حديث ٣١٩٦٠ وص٤٤٩ج١١ حديث ٣٢١١٤) فى لفظ لهذاالحديث عندابن سعد فى ام الكتاب خاتم النبيين الحديث“
آنحضرت ﷺ اس وقت خاتم النبیین بنادیئے گئے تھے
جبکہ حضرت آدم علیہ السلام ابھی آب و گل ہی میں تھے
﴿عرباض بن ساریہؓ فرماتے ہیں۔کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میں خدا کے نزدیک اس وقت خاتم النبیین مقرر ہو چکا تھا۔ جب کہ آدم علیہ السلام ابھی گارے کی شکل ہی میں پڑے ہوئے تھے (یعنی ان میں روح نہیں پھونکی گئی تھی) اس حدیث کو شرح السنۃ میں اور امام احمدؒ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔ کنزالعمال میں حوالہ ابن سعد اس حدیث کے لفظ میں بجائے عند اللہ کے ام الکتاب کا لفظ ہے۔ اب حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ میں لوح محفوظ میں خاتم النبیین لکھا جا چکا تھا۔ گویا ابن سعد کے لفظ کو مسند امام احمد کی شرح سمجھنا چاہیے۔﴾
مواہب میں ہے کہ : ” واخرج مسلم ج٢ص٣٢٥ من حديث عبد الله بن عمرو بن العاص عن النبى ﷺ انه قال ان عزوجل كتب مقادير الخلق قبل ان يخلق السموات والارض بخمسين الف سنة وكتب فى الذكر ان محمداً خاتم النبيين“
﴿عبداللہ بن عمرو بن العاص صحیح مسلم میں آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا! اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال قبل اپنی ہر مخلوق کا اندازہ لکھ دیا تھا اور لوح محفوظ میں یہ بھی لکھ دیا تھا ۔کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔﴾
یعنی جب عالم تکوین کی ہر معمولی سے معمولی چیز مقدر ہوئی تو جن کے وجود پر عالم تکوین کی آبادی کا مدار تھا۔ ان کا خاتم النبیین ہونا بھی اسی وقت مقدر ہو چکا تھا۔
اس روایت کا آخری فقرہ اگرچہ صحیح مسلم کے موجودہ نسخوں میں نہیں ملتا مگر جب مصنف مواہب نے اس کو حوالہ مسلم نقل کیا ہے تو ضرور ان کے نسخہ میں موجود ہو گا۔ واضح رہے کہ اس حدیث کا منشا بھی صرف تحریر و کتابت نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ خلعت ختم نبوت آپ کو اس وقت پہنایا جا چکا تھا۔ جبکہ ابو البشر نے خلعت وجود بھی نہیں پہنا تھا اسی طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے :
١٠
”عن ابن عباسؓ فی حدیث الشفاعة فیاتون عیسی فیقولون اشفع النا الی ربنا فیقضی بیننا فیقول انی لست ھنا کم انی اتخدت وامی الھین من دون اللہ ولکن ارائیتم لوان متاعاً فی وعاء قد ختم علیہ اكان یوصل الی مافی الوعاء حتی یقبض الخاتم فیقولون لا فیقول فان محمدﷺ قد حضرالیوم وقد غفرلہ ماتقدم من ذنبہ وماتأخر رواہ ابوداؤد الطیالسی ص٢٥٣)وفی لفظ (احمدص٢٨٢ ج١)وابی یعلی ان محمدﷺ خاتم النبیین قد حضرالیوم“
ابن عباسؓ شفاعت کی طویل حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ قیامت میں شفاعت کے لیے آخر کار لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ اور کہیں گے آپ ہی ہمارے پروردگار سے سفارش کیجئے۔ تاکہ ہمارا حساب لے لے۔ وہ فرمائیں گے۔ میں یہ کام نہیں کر سکتا کیونکہ میں اس سے شرمندہ ہوں کہ میرے امتیوں نے مجھے اور میری ماں کو خدا بنالیا تھا۔ لیکن بتلاؤ اگر کسی برتن کو بند کر کے اس پر مہر لگا دی جائے۔ کیا اس برتن کی چیز اس وقت تک لے سکتے ہو؟۔ جب تک اس کی مہر نہ توڑ دو۔ لوگ کہیں گے ایسا تو نہیں ہو سکتا۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے۔ پس محمد ﷺ (جو انبیاء علیہم السلام کے خاتمہ پر مہر ہیں) آج موجود ہیں۔ ان کی آئندہ اور گذشتہ سب لغزشیں معاف ہو چکی ہیں۔ (ان کے پاس جاؤ) مسند احمد اور ابو یعلیٰ کے لفظ یہ ہیں کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آج یہاں موجود ہیں۔ ان الفاظ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صرف تقدیر کا ذکر نہیں فرمایا۔ بلکہ اس نوازش الٰہیہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ جو ازل میں خلعت ختم نبوت پہنا کر آنحضرت ﷺ پر ہو چکی تھی۔ اس لیے شفاعت کا حق ان ہی کا ہے۔
عرباضؓ کی اس حدیث میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ عالم کی ہدایت کے وقت ہی اس کی نہایت آپ کے دورہ نبوت پر مقدر ہو چکی تھی۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا :
”عن بریدة قال قال رسول اللہ ﷺ بعثت انا والساعة جمیعا ان کادت لتسبقی .“
١١
﴿ حضرت بریدہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میں اور قیامت ساتھ ساتھ بھیجے گئے ہیں اور مبالغہ کے ساتھ فرمایا وہ تو قریب تھی کہ مجھ سے پہلے آجاتی اور بخاری میں ہے : ”بعثت انا والساعة کھاتین“ آپ نے اپنی دو انگلیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ میں اور قیامت اس طرح ملے ہوئے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی آپ کے زمانہ نبوت اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبوت حائل نہیں۔ قیامت جب بھی آئے گی آپ ہی کے دورِ نبوت میں آئے گی۔ (اخرجہ ابن جریرؒ بحوالہ مسند احمد ج ٥ ص ٣٤٨) ﴾
خلاصہ یہ کہ آپ کا دنیا کے آخری دور میں آنا اس وقت طے ہو چکا تھا۔ جبکہ حضرت آدم علیہ السلام میں نفخ روح نہ ہوا تھا۔ گویا کہ یہ بات عالم کے وجود سے بھی پہلے ایک طے شدہ بات تھی۔ اب اس میں شبہ کی کیا گنجائش ہو سکتی ہے۔
جعل النبی ﷺ اول النبیین وآخرھم وکذالک
امته اخرالامم وتکون اولھم یوم القیامة
- (٣) ......... ”عَنْ اَنَسٍ فِیْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ مَرْفُوْعًا قَالَ تَبَارَكَ
وَتَعَالٰی جَعَلْتُ اُمَّتَكَ هُمُ الْآخِرُوْنَ وَهُمُ الْاَوَّلُوْنَ (الى قوله) جَعَلْتُكَ اَوَّلَ النَّبِيّيْنَ خَلْقًا وَاٰخِرَهُمْ (الى قولی) وَجَعَلْتُكَ فَاتِحًا وَخَاتِمًا. اخرجه ابونعيم من (الخصائص الكبرى ج٣ص١٦٤باب اختصاصهﷺ بشرح الصدر ......... الخ)“
آنحضرت ﷺ سب سے پہلے نبی بنادیئے گئے تھے اور سب سے آخر میں تشریف لائے ہیں اور اسی طرح آپ کی امت بھی سب سے آخر میں آئی ہے اور قیامت کے دن سب سے مقدم ہو جائے گی
﴿ انسؓ سے ایک طویل حدیث میں مرفوع روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا! تیری امت کو میں نے سب سے آخر میں بھیجا ہے اور وہ حساب میں سب سے پہلے ہو گی اور میں
١٢
نے تجھ کو نبیوں میں سب سے پہلے پیدا کیا اور سب سے آخر میں بھیجا۔ تجھ کو میں نے فاتح یعنی دورہ نبوت شروع کرنے والا بنایا ہے اور تجھ کو ہی اس کا ختم کرنے والا بنایا ہے۔ اس حدیث کو ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔﴾
- (٤)..............”عَنْ سَلْمَانَ فِيْ حَدِيْثِ الشَّفَاعَةِ يَأْتُوْنَ مُحَمَّدًا
فَيَقُوْلُوْنَ يَا نَبِيَّ اللهِ أَنْتَ الَّذِيْ فَتَحَ اللهُ بِكَ وَخَتَمَ وَغَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ. رواه ابن شيبة ‘فتح الباری ج ١١ ص ٣٨٧“
﴿سلمانؓ شفاعت کی حدیث میں روایت کرتے ہیں لوگ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے۔ اے اللہ کے نبی آپ ہی وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے نبوت کو شروع کیا تھا اور جن پر ختم کیا ہے اور آپ کی آئندہ اور گزشتہ سب لغزشیں معاف کر دی ہیں۔ (اس حدیث کو ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے)﴾
- (٥)..............”عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ فِيْ حَدِيْثِ الْإِسْرَاءِ قَالُوْا يَا جِبْرَئِيْلُ
مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ هَذَا مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ ﷺ خَاتِمُ النَّبِيِّينَ...............الى ان قال فَقَالَ لَهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى...............جَعَلْتُكَ أَوَّلَ النَّبِيِّيْنَ خَلْقًا وَآخِرَهُمْ بَعْثًا ...............وَجَعَلْتُكَ فَاتِحًا وَخَاتِمًا. رواه البزار ‘ مجمع الزوائد ج ١ ص ٧٣‘٧٧ باب منه في الاسراء)“
﴿ابوہریرہؓ معراج کی حدیث میں روایت فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا تمہارے ساتھ یہ کون ہیں۔ وہ بولے محمد ﷺ ہیں جو اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ (جب آپ کی دربار الٰہی میں رسائی ہوئی) تو ارشاد ہوا (اے محمد ﷺ) میں نے پیدائش کے لحاظ سے تم کو سب نبیوں سے پہلے اور بلحاظ بعثت سب سے آخر میں بھیجا ہے۔ نبوت کا شروع کرنے والا اور ختم کرنے والا تم کو ہی بنایا ہے۔ اس حدیث کو بزار نے روایت کیا ہے۔﴾
چونکہ رسولوں کے سلسلہ میں بظاہر سب سے پہلے آنے والے رسول حضرت آدم علیہ السلام تھے۔ اس لئے احادیث میں اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ اصل اولیت یعنی باعتبار
١٣
خلق واتصاف نبوت آنحضرت ﷺ ہی کو حاصل ہے۔ گو بلحاظ وجود عنصری حضرت آدم علیہ السلام کی تشریف آوری سب سے اول ہو گئی ہے۔
(٦).............”عَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ مُرْسَلاً إِنَّمَا بُعِثْتُ خَاتِمًا وَفَاتِحًا وَأُعْطِيْتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَفَوَاتِحَهُ، رواه البيهقي في شعب الایمان، کنز العمال ج١١ ص ٤٢٥ حدیث ٣١٩٩٤“
﴿ابو قتادہؓ مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ہے نبوت کا شروع کرنے والا اور اس کا ختم کرنے والا میں ہی بھیجا گیا ہوں اور مجھے جوامع کلم اور فواتح کلم دیئے گئے ہیں۔ یعنی مختصر جملوں میں بڑے بڑے مضامین ادا کرنا۔ اس حدیث کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔﴾
حکیم ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ ہر سید و امیر کو بقدر اپنے دائرہ ولایت کے خزائن حشم و خدم درکار ہوتے ہیں۔ جو ایک قریہ یا ایک خطہ کا امیر ہوتا ہے۔ اس کے لئے اس کے مناسب اور جو ایک ملک کا امیر ہوتا ہے۔ اس کے لئے اس کے مناسب آنحضرت ﷺ کو چونکہ تمام جہان کا سید و امیر بنایا گیا ہے۔ اس لئے آپ کو اسی کے بقدر سامان ولایت کی ضرورت۔ اسی لئے حدیث میں ارشاد ہے کہ :
” اوتیت خزائن الارض “ ﴿ مجھے زمین بھر کے خزانے مرحمت فرما دیئے گئے ہیں۔ ﴾
اور اسی لئے فرمایا :
” اوتیت جوامع الکلم “ ﴿ مجھے جامع کلمات مرحمت کئے گئے ہیں۔ ﴾
بے شک جس کی مملکت تبلیغ تمام جہان ہو اسے مختصر جملوں میں سمندر کھپانے کی قدرت ملنی چاہئے۔ تاکہ اس کے کچھ جملوں میں سب کچھ آجائے اور ایک اعرابی و فلسفی یکساں طور پر اس سے ہمیشہ مستفید ہوتا رہے۔
اسی بناء پر ترمذی میں ہے کہ ہر نبی کو سات نجیب و نقیب ملے ہیں۔ مجھے چودہ مرحمت ہوئے ہیں۔ غرضیکہ جوامع الکلم بعثت عامہ کے مقتضیات و ضروریات میں
١٤
داخل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو رسول خاص خاص قوموں کی طرف مبعوث ہوئے۔ ان کو ایسے کلمات جامعہ مرحمت نہیں ہوئے۔ جوامع الکلم کی تفسیر ہمارے مضمون حجیت حدیث میں زیر عنوان قرآن کی جامعیت ملاحظہ کیجئے:
- (٧)..........”عَنْ قَتَادَةَ كُنْتُ أَوَّلَ النَّاسِ فِي الْخَلْقِ وَآخِرَهُمْ فِي
الْبَعْثِ . رواه ابن سعد مرسلاً كما فى الكنزالعمال ج ١١ ص ٤٠٩ حديث ٣١٩١٦‘ رواه ابن أبى شيبه مسندا عنه كما في الدرالمنثور ج ٥ ص ١٨٤“
﴾قتادہؓ سے روایت ہے کہ میں سب انسانوں میں بلحاظ پیدائش پہلا ہوں اور سب انبیاء میں باعتبار بعثت پچھلا۔ اس حدیث کو ابن سعد نے مرسلا اور ابن ابی شیبہ نے مسندا روایت کیا ہے۔﴿
- (٨)..........”عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّﷺ فِيْ قَوْلِ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ
وَ إِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّيْنَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ الايه قَالَ كُنْتُ أَوَّلَ النَّبِيِّيْنَ فِي الْخَلْقِ وَآخِرَهُمْ فِي الْبَعْثِ . رواه ابن ابی حاتم و ابن مرد ویه و ابو نعیم فی الدلا ئل والدیلمی و ابن عساکر و ابن ابی شیبه و ابن جریر عن قتادهؒ ص ١٢٥ جز ٢١ زیر آیت واذا خذنا من النبیین میثاقهم و ابن سعد‘ ابن کثیر ج ٣ ص ٤٦٩ زیر آیت واذا خذنا من النبیین میثاقهم والدر المنثور ج ٥ ص ١٨٤ الخصائص الكبرى ج ١ ص ٩ و الكنز العمال ص ٤٥٢ ج ٢١ حديث ٣٢١٢٦“
﴾ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ :”واذ اخذ نامن النبیین میثاقهم ومنك ومن نوح“ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا! میں باعتبار پیدائش کے سب سے پہلا اور باعتبار بعثت سب سے آخری نبی ہوں۔ اس حدیث کو ابن ابی حاتم‘ ابن مردویہ‘ ابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے اور دیلمی‘ ابن عساکر‘ ابن ابی شیبہ‘ ابن جریر‘ ابن سعد نے بھی روایت کیا ہے۔﴿
١٥
هذه الامة اخر الامم وخيرها
واولها فى الحساب
- (٩).......... "عَنْ قَتَادَةَ قَالَ ذُكِرَ لَنَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ
وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ نَحْنُ نُكْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِيْنَ أُمَّةً نَحْنُ اَخِرُهَا وَخَيْرُهَا ٠ رواه ابن جرير جز ٤ ص ٤٥ فى تفسير قوله كنتم خير امة الايه‘ الدر المنثور ج ٢ ص ٦٤"
یہ امت سب امتوں میں آخر سب سے بہتر
اور حساب میں سب سے مقدم ہو گی
﴿قتادہؒ فرماتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ کعبہ سے کمر لگائے بیٹھے تھے۔ اس وقت آپ نے فرمایا ہم قیامت کے دن ستر امتوں میں سے سترویں امت ہوں گے جن میں ہم سب سے آخر اور سب سے بہتر ہوں گے۔ درمنثور ﴾
ان جملہ احادیث میں رسول اللہ ﷺ کو فاتح نبوۃ اور خاتم نبوت دونوں قرار دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ازل میں آپ کی نبوت اور ختم نبوت صرف جز تقدیر کے معنی میں نہ تھی۔ تقدیر تو سب کے لئے یکساں ہے بلکہ اس منصب سے سرفرازی کے لحاظ سے ہے۔ آپ کی آخریت جس طرح خارج میں تھی اسی طرح آپ کی اولیت بھی سمجھنا چاہئے اور جس طرح آپ کی اولیت تھی یعنی آپ سے پیشتر کوئی رسول نہ تھا اسی طرح آپ کی آخریت سمجھنا چاہئے۔ یعنی آپ کے بعد بھی کسی قسم کا کوئی رسول نہیں ہوگا۔
- (١٠).......... "عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَزْمٍ.......... نُكْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سَبْعِيْنَ أُمَّةً ٠ نحن اخرها و اخيرها‘ رواه الباوردى الكنز العمال ج ١٢ ص ١٦٩ حديث ٣٤٥١٨"
﴿محمد بن حزم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ستر امتیں پوری ہو جائیں گی۔ جن
میں ہم سب سے آخر اور سب سے بہتر ہوں گے۔ کنزالعمال﴾
یہ معلوم نہیں ہے کہ یہاں ستر کا عدد کس مناسبت سے ذکر کیا گیا ہے۔ جب کوئی متکلم کوئی خاص عدد ذکر کرتا ہے تو اس کے ذہن میں اس عدد کا کوئی خاص معیار ہوتا ہے۔ جب تک اس کا وہ معیار اور اعتبار ذہنی معلوم نہ ہو جائے اس وقت تک اس عدد پر بحث کرنا کجروی ہے۔ ایک ہی مقدار کو پیسوں کے لحاظ سے ٦٤ اور آنوں کے اعتبار سے ١٦ اور روپیہ کے لحاظ سے ایک کہا جاسکتا ہے۔ معلوم نہیں کہ یہاں ٧٠ کے عدد میں کسی خاص بات کی رعایت کی گئی ہے۔
(١١)........... ”عَنْ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ فِیْ حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ يَا يَهُوْدِىُّ أَنْتُمُ الْاَوَّلُوْنَ وَنَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ اخرجه ابن راهويه فى مسنده وابن ابى شيبة فى المصنف، الخصائص الكبرى ج ٣ ص ١٩٨ باب اختصاصه ﷺ بان امة خير الامم“
﴿حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک طویل حدیث میں فرمایا! اے یہودی تم لوگ ہم سے پہلے ہو اور ہم گو تم سے آخر میں مگر قیامت کے دن حساب میں تم سے پہلے ہوں گے۔ اس حدیث کو ابن راہویہ نے اپنی مسند میں اور ابن ابی شیبہ نے مصنف میں روایت کیا ہے۔﴾
(١٢)........... ”عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيْمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ مَرْفُوْعًا تَكْمُلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُوْنَ أُمَّةً نَحْنُ آخِرُهَا وَخَيْرُهَا ۔ رواه ابن ماجه ص ٣١٧ باب صفة امة محمد ﷺ و الدارمی ج٢ ص ٢١٣ باب فی قول النبی ﷺ انتم آخر الامم ۔ کذافى کنزالعمال ج١٢ص١٦٩ حدیث نمبر ٣٤٥١٩ و رواه الترمذی وقال ہذا حدیث حسن المشکوٰۃ ص ٥٨٧ باب ثواب ہذہ الامة ۔“
﴿بہز بن حکیمؒ اپنے باپ حکیم اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن ستر امتیں پوری ہو جائیں گی۔ ہم ان سب سے
١٧
آخر اور سب سے بہتر ہوں گے۔ اس حدیث کو ابن ماجہ‘ دارمی اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔﴾
(١٣).......... ”عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عن النبىﷺ نَحْنُ اٰخِرُالْاُمَمِ وَاَوَّلُ مَنْ یُّحَاسَبُ یقال اَیْنَ الْاُمَّةُ الْاُمِّیَّةُ وَنَبِیُّهَا فَنَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ ٠ رواه ابن ماجه ص ٣١٧ باب صفة امة محمد ﷺ مسند احمد ج١ص٢٨٢الکنز“
﴿ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہم سب سے آخری امت ہیں اور قیامت میں سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا۔ پکارا جائے گا امت امیہ اور اس کا نبی کہاں ہیں؟۔ اس لئے گو ہم سب سے آخر میں ہیں مگر (قیامت کے دن) سب سے پہلے ہو جائیں گے۔ اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔﴾
(١٤).......... ”عَنْ اَبِیْ هُرَیْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ بَیْدَ اَنَّهُمْ اُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَاُوْتِيْنَا مِنْ بَعْدِ هِمْ٠ رواه الشيخان بخارى ج١ص١٢٠ باب فرض الجمعه مسلم ج١ص٢٨٢ فصل فى فضيلة يوم الجمعة على باقى الايام..........الخ والنسائى باب ايجاب الجمعة ج١ص١٣٨‘١٣٩ الكنزالعمال ج ١٢ص ١٥٩ حديث نمبر ٣٤٤٧٥ مثله عند ابونعيم فى الدلائل ص٩“
﴿ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہم سب سے آخر ہیں اور قیامت میں سب سے پہلے ہو جائیں گے۔ صرف اتنی بات ہے کہ پہلی امتوں کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے اور ہمیں ان کے بعد ملی ہے۔ اس حدیث کو شیخین اور نسائی نے روایت کیا ہے۔﴾
(١٥).......... ”عَنْ حُذَیْفَةَ مِثْلَهُ وَلَفْظُهُ نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ مِنْ اَهْلِ الدُّنْيَا وَالْاَوَّلُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ٠رواه مسلم ج١ص٢٨٢باب فصل فی فضيلة يوم الجمعه٠الترغيب والترهيب ج١ص٥٥١حديث١٠٣٤“
١٨
حذیفہؓ سے بھی یہی مضمون مروی ہے۔ اس کے لفظ یہ ہیں کہ ہم دنیا میں سب سے آخری امت ہیں اور قیامت میں سب سے پہلے ہوں گے۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
انجیل متی کے باب ١٩ میں آیت ٢٧ سے لے کر ٣٠ تک امت محمدیہ ﷺ کے اس وصف کی طرف اشارہ موجود ہے :
”پطرس نے جواب میں اس سے کہا کہ دیکھ ہم تو سب کو چھوڑ کر تیرے پیچھے ہولئے ہیں۔ پس ہم کو کیا ملے گا ؟۔ یسوع نے ان سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب ابنِ آدم نئی پیدائش میں اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا تو تم بھی جو میرے پیچھے ہو گئے ہو بارہ تختوں پر بیٹھ کر اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کرو گے اور جس کسی نے گھروں یا بھائیوں یا بہنوں یا باپ یا ماں یا بچوں یا کھیتوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے اس کو سو گنا ملے گا۔ اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہوگا۔ لیکن بہت سے اول آخر ہو جائیں گے اور آخر اول۔“
ان الفاظ میں قرآن کریم کی ایک دوسری آیت کی طرف بھی اشارہ ہے : ”قل ان کان اباؤکم وابناؤکم و اخوانکم وازواجکم وعشیرتکم ٠ التوبہ ٢٤“
مسجد النبی ﷺ کان اخر مساجد الانبیاء
(١٦).......... ”عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ قَارِظٍ اَشْهَدُ اِنِّیْ سَمِعْتُ اَبَاهُرَيْرَةَ يَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ فَاِنِّیْ آخِرُ الْاَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدِیْ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ، رواه مسلم ج١ ص٤٤٦ باب فضل الصلوة بمسجدى مكة والمدينة و النسائی ج١ ص٢٧ باب فضل مسجد النبی و لفظه خاتم الانبياء وخاتم المساجد“
آنحضرت ﷺ کی مسجد انبیاء کی مسجدوں میں آخری مسجد ہے
عبداللہ بن ابراہیم بن قارظؒ کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابو ہریرہؓ کو یہ کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میں سب انبیاء کے آخر میں ہوں اور میری
١٩
مسجد بھی اب آخری مسجد ہے۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے اور نسائی کے لفظ میں آخر کے بجائے دونوں جگہ خاتم کا لفظ ہے۔ ﴾
(آپ ﷺ کی مسجد کے آخری ہونے کی شرح آگے آرہی ہے۔)
(١٧).........”عَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِيْ حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ وَأَنَا آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ . رواه ابن ماجه ص ٢٩٧ فی باب فتنة الدجال وابن خزیمہ والحاکم ج٥ ص ٧٦٤ حدیث ٨٦٦٤ واضیاء منتخب الکنز العمال ج ١٤ ص ٣١٧ حدیث ٣٨٧٩٤“
﴿ابو امامہ باہلیؓ ایک طویل حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ میں انبیاء میں آخر ہوں اور تم امتوں میں آخر ہو۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے فتنہ دجال کے باب میں روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ‘ حاکم اور ضیاء الدین نے روایت کیا ہے۔﴾
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر آپ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی ہو تو اس امت کے بعد کوئی دوسری امت ہوگی مگر چونکہ عالم کا فناء مقدر ہو چکا ہے۔ اس لئے نہ کوئی اور نبی آئے گا نہ کوئی نئی امت۔ یہ نبی بھی آخری نبی ہے اور اس لئے امت بھی آخری امت ہے۔
(١٨).........”عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ اَنَا خَاتِمُ الْأَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدِيْ خَاتِمُ مَسَاجِدِ الْأَنْبِيَاءِ . رواه الدیلمی و ابن النجار و البزار الکنز العمال ج ١٢ ص ٢٧٠ حدیث نمبر ٣٤٩٩٩“
﴿حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں انبیاء میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مسجدوں میں آخری مسجد ہے۔ اس حدیث کو دیلمی‘ ابن النجار اور بزار نے روایت کیا ہے۔﴾
اس حدیث سے مسلم کی حدیث کی شرح ہو گئی اور معلوم ہو گیا کہ آپ کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح پہلے انبیاء علیہم السلام کے ناموں سے دنیا میں مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ اب آئندہ چونکہ کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے اس لئے کوئی نئی مسجد بھی کسی رسول کے نام سے تعمیر نہ ہو گی۔ بلکہ یہ مسجد نبوی ہی انبیاء علیہم السلام کی مسجدوں میں آخری مسجد رہے گی۔
٢٠
قال الرب تبارك و تعالیٰ ليلة الاسراء
انه جعله خاتم النبيين
(١٩)..............”عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ لَمَّا اُسْرِىَ بِىْ اِلَى السَّمَاءِ قَرَّبَنِىْ رَبِّىْ تَعَالٰى حَتّٰى كَانَ بَيْنِىْ وَبَيْنَهُ كَقَابِ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى لَا بَلْ اَدْنٰى قَالَ يَا حَبِيْبِىْ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَبِّ قَالَ هَلْ غَمَّكَ اِنْ جَعَلْتُكَ اٰخِرَ النَّبِيّيْنَ قُلْتُ يَارَبِّ لَا قَالَ حَبِيْبِىْ هَلْ غَمَّ اُمَّتَكَ اِنْ جَعَلْتُهُمْ اٰخِرَ الْاُمَمِ قُلْتُ يَارَبِّ لَا قَالَ اَبْلِغْ اُمَّتَكَ عَنِّى السَّلَامَ وَاَخْبِرْ هُمْ اَنِّىْ جَعَلْتُهُمْ اٰخِرَالْاُمَمِ ٠ رواه الخطيب والديلمى (الكنزالعمال ج١١ ص٤٤٩ حدیث نمبر ٣٢١١١‘ خصائص الكبرى ج٢ ص١٥٣“
شب معراج میں پروردگار عالم کا راز و نیاز کے طور پر کہنا کہ
اس نے آپ کو خاتم النبیین بنایا ہے
﴿ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب شب معراج میں مجھے آسمان پر لے گئے تو میرے پروردگار نے مجھے قریب بلایا اور بہت قریب بلایا اور کہا اے میرے حبیب ! اے محمد ﷺ ! میں نے کہا حاضر ہوں اے پروردگار ! ارشاد ہوا ! اگر ہم تمہیں آخر النبیین بنادیں تو تم ناخوش تو نہ ہو گے۔ میں نے عرض کیا اے پروردگار ! نہیں۔ پھر ارشاد ہوا ! اگر تمہاری امت کو آخری امت بنادیں تو وہ ناخوش تو نہ ہوگی۔ میں نے عرض کیا نہیں اے پروردگا۔ ارشاد ہوا کہ اچھا تو اپنی امت کو میرا سلام کہنا اور انہیں بتلا دینا کہ میں نے انہیں آخری امت بنادیا ہے۔ (کنزالعمال) ﴾
٢١
قال الرب لادم عليه السلام ان ابنه
احمد ﷺ هو الاول والآخر
(٢٠).......... ”عَنْ اَبِیْ هُرَیْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ اٰدَمَ عَلَیْهِ السَّلَامُ اَخْبَرَ بِبَنِیْهِ فَجَعَلَ یَرٰی فَضَائِلَ بَعْضِهِمْ عَلٰی بَعْضٍ فَرَاٰی نُوْرًا سَاطِعًا فِیْ اَسْفَلِهِمْ قَالَ یَارَبِّ مَنْ هٰذَا قَالَ هٰذَا اِبْنُکَ اَحْمَدُ هُوَ الْاَوَّلُ وَهُوَ الْاٰخِرُ وَهُوَ شَافِعٌ وَّاَوَّلُ مُشَفَّعٍ . رواه ابن عساكر كما فی الکنز العمال ج١١ ص ٤٣٧ حديث ٣٢٠٥٦“
حضرت آدم سے حق تعالیٰ کا ارشاد کہ ان کے فرزند احمد و محمد ﷺ
سب سے پہلے اور سب سے آخری نبی ہیں
﴿ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہیں ان کی اولاد بھی بتلائی۔ آدم علیہ السلام انہیں دیکھنے لگے کہ بعض بعض پر فضیلت رکھتے ہیں۔ ان سب کے آخر میں ایک بلند نور دیکھا تو عرض کیا اے میرے پروردگار ! یہ کون ہیں۔ ارشاد ہوا یہ تمہارے فرزند احمد ﷺ ہیں۔ یہی سب سے پہلے نبی ہیں اور یہی سب سے آخر ہیں۔ یہی قیامت میں سب سے پہلے شفاعت کریں گے اور ان ہی کی شفاعت سب سے پہلے قبول ہو گی۔ اس حدیث کو ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔﴾
قال جبرئیل لادم ان محمد ﷺ
اخر ولدك من الانبياء
(٢١).......... ”عَنْ اَبِیْ هُرَیْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ نَزَلَ اٰدَمَ بِالْهِنْدِ وَاسْتَوْ وَحَشَ فَنَزَلَ جِبْرِیْلُ فَنَادٰی بِاَذَانِ اللّٰهِ اَکْبَرُ اللّٰهُ اَکْبَرُ مَرَّتَیْنِ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مَرَّتَیْنِ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ مَرَّتَیْنِ قَالَ
٢٢
آدَمُ مَنْ مُّحَمَّدُ قَالَ آخِرُ وُلْدِكَ مِنَ الْاَنْبِيَاءِ . رواه ابن عساکر الکنز العمال ج ١١ ص ٤٥٥ حدیث نمبر ٣٢١٣٩ الخصائص ج ١ ص ٢١ باب ذکرہ فی الاذان فی عهد آدم“
حضرت آدم سے جبرائیل کا ارشاد کہ محمد ﷺ
انبیاء میں آپ کے سب سے آخری بیٹے ہیں
﴿ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے آدم علیہ السلام جب ہندوستان میں نازل ہوئے (اور تنہائی کی وجہ سے) گھبرائے تو جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور اذان کہی۔ اللہ اکبر ! اللہ اکبر ! دو مرتبہ اشہد ان لا الہ الا اللہ ! دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ ! دو مرتبہ (جب حضرت آدم علیہ السلام نے محمد ﷺ کا اسم گرامی سنا تو) فرمایا کہ یہ محمد ﷺ کون ہیں ؟۔ جبرائیل نے کہا کہ انبیاء میں آپ کے سب سے آخری بیٹے ہیں۔ اس حدیث کو ابن عساکرؒ نے روایت کیا ہے۔﴾
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان ابتداء عالم میں بھی ہوئی ہے ضرورت ہے کہ اس حدیث کے طرق جمع کئے جائیں تاکہ اس کے تفصیلی کلمات کا پتہ بھی مل جائے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ اذان کا ایک نفع رفع وحشت بھی ہے۔ سوم یہ بھی ثابت ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی جائے نزول ہندوستان میں کوئی جگہ ہے۔ اگر یہ حدیث صحت کو پہنچ جائے تو تاریخی لحاظ سے یہ ایک بڑی حقیقت کا انکشاف ہوگا۔ ہم نے اس حدیث کو یہاں صرف آخری جزو کی وجہ سے نقل کیا ہے۔
قال جبريل للنبي ﷺ انك خاتم النبيين
كما ان آدم صفى الله
(٢٢).......... ”عَنْ سَلْمَانَ فِىْ حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ قَالَ قَالَ جِبْرِيْلُ لِلنَّبِيِّ ﷺ اِنَّ رَبَّكَ يَقُوْلُ اِنْ كُنْتُ اِصْطَفَيْتُ اٰدَمَ فَقَدْ خَتَمْتُ بِكَ الْاَنْبِيَاءَ
٢٣
وَمَا خَلَقْتُ خَلْقًا أَكْرَمَ عَلَىَّ مِنْكَ ٠ خصائص ج ٣ ص ١٥١، ١٥٢، بحوالہ ابن عساکر“
آنحضرت ﷺ سے حضرت جبرائیل کا فرمان کہ جس طرح
حضرت آدم کا لقب صفی اللہ تھا آپ کا لقب خاتم النبیین ہے
﴿ سلمانؓ سے ایک طویل حدیث میں روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے کہا آپ کا پروردگار کہتا ہے اگر میں نے آدم کو صفی اللہ کا خطاب دیا ہے تو آپ پر تمام انبیاء کو ختم کرکے (خاتم النبیین کا خطاب دیا ہے) اور میں نے کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جو مجھے آپ سے زیادہ عزیز ہو ۔﴾
اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ کا نبیوں میں آخر ہونا صرف ایک زمانی تاخر نہیں بلکہ خدا کے نزدیک وہ خاص فضیلت ہے جو دیگر انبیاء علیہم السلام کے خصوصیات کے بالمقابل آپ کو مرحمت ہوئی ہے۔ عالم کا تدریجی ارتقاء بھی اسی کو مقتضی تھا کہ اس کی آخری کڑی سب میں کامل وبرتر ہو۔ اس لئے آخری نبی وہی ہونا چاہئے جو سب میں کامل اور سب سے اکرم ہو۔
مکتوب بین کتفی ادم محمد رسول
الله ﷺ خاتم النبيين
(٢٣) .........”عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَيْنَ كَتِفَىْ اٰدَمَ مَكْتُوْبٌ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ٠ رواه ابن عساكر، خصائص الكبرٰی ج ١ ص ١٩ باب خصوصيّة ﷺ“
حضرت آدم کے دونوں شانوں کے درمیان یہ لکھا ہوا تھا محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں
﴿ جابرؓ سے روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں شانوں کے درمیان
٢٤
یہ لکھا ہوا تھا : ”محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین“ ہیں۔ اس حدیث کو ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔ ﴾ آنحضرت ﷺ کی مہر نبوت بھی دونوں شانوں کے درمیان تھی مگر دجال کا کفر اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہو گا۔ یعنی مہر نبوت کا مقام دونوں شانوں کے درمیان اور مہر دجل و کفر کا محل پیشانی منتخب ہوا ہے۔ اس کی حکمتیں بھی علماء نے لکھی ہیں۔
الشهادة بختم النبوة جزء من الايمان
كالشهادة بكلمة التوحيد
- (٢٣).......... ”عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِيْ قِصَّةٍ طَوِيْلَةٍ لَهُ حِيْنَ جَاءَتْ
عَشِيْرَتُهُ يَطْلُبُوْنَهُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ بَعْدَ مَا اَسْلَمَ فَقَالُوْا لَهُ اِمْضِ مَعَنَا يَازَيْدُ فَقَالَ مَا أُرِيْدُ بِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ بَدَلاً وَلاَ غَيْرَهُ اَحَدًا فَقَالُوْا لِمُحَمَّدٍ اِنَّا مُعْطُوْكَ بِهذَا الْغُلاَمِ دِيَّاتٍ فَسَمِّ مَا شِئْتَ فَاِنَّا حَامِلُوْهُ إِلَيْكَ فَقَالَ اَسْأَلُكُمْ اَنْ تَشْهَدُوْا اَنْ لاَّ اِلهَ اِلاَّ اللهُ وَاِنِّيْ خَاتِمُ اَنْبِيَائِهِ وَرُسُلِهِ وَأُرْسِلُهُ مَعَكُمْ.
الحديث اخرجه الحاكم مفصلاً فى المستدرك ج٤ ص٢٢٤‘٢٢٥ حديث ٤٩٩٩ باب تبنى رسول الله ﷺ زيد بن حارثه“
عقیدہ ختم نبوت کلمہ شہادت کی طرح ایمان کا جزء ہے
٭ زید بن حارثہؓ اپنے ایک طویل قصہ میں ذکر کرتے ہیں کہ جب میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر مسلمان ہو گیا تو میرا قبیلہ مجھے تلاش کرتا ہوا آپ ﷺ کے پاس آیا اور مجھ سے کہا۔ اے زید ! ہمارے ساتھ چلو۔ زید بولے میں رسول اللہ ﷺ کے بدلہ میں کسی کو پسند نہیں کر سکتا اور نہ آپ کے سواء کسی دوسرے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے مخاطب ہو کر فرمایا اے محمد (ﷺ) اس لڑکے کے عوض میں ہم آپ کو بہت مال دے سکتے ہیں۔ جو آپ چاہیں بتلا دیجئے ہم اسے ادا کر دیں گے۔ آپ نے
٢٥
ارشاد فرمایا! میں تو تم سے صرف ایک چیز مانگتا ہوں۔ وہ یہ کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ خدا کوئی نہیں مگر اللہ اور اس کی کہ میں اس کے سب نبیوں اور رسولوں میں آخری نبی اور رسول ہوں۔ پس میں اس لڑکے کو ابھی تمہارے ساتھ بھیجے دیتا ہوں۔ (مستدرک)
اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے جس طرح خدا کی توحید پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا ہے اسی طرح اپنی ختم نبوت پر بھی ایمان لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان آپ کی ختم نبوت پر ایمان لائے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم میں: ”ولکن رسول اللہ“ کے ساتھ: ”وخاتم النبیین“ کا لفظ اسی لئے رکھا گیا ہے کہ آپ صرف رسول اللہ نہیں ہیں بلکہ خاتم النبیین بھی ہیں۔
اس کے برخلاف آپ سے پیشتر جتنے رسول ہوئے وہ صرف رسول اللہ تھے۔ اسی لئے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خاتم النبیین ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کا مخصوص لقب ہے اور آپ نے ہی اس کا دعویٰ کیا ہے۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا یہ لقب بطور مدح نہیں بلکہ بحیثیت عقیدہ کے ایک عقیدہ ہے۔ خاتم الشعراء اور خاتم المحدثین کی طرح صرف ایک محاورہ نہیں۔
ختم النبوة من خصائص النبیﷺ
(٢٥)..........”عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ قَالَ فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ أُعْطِيْتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُوْرًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّوْنَ. رواه مسلم ج١ص١٩٩ باب المساجد ومواضع الصلوٰة، مشکوٰة ص٥١٢ باب فی فضائل نبیناﷺ، تفسیر ابن کثیر ج٣ص٤٩٣ زیر آیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم“
٢٦
ختم نبوت انبیاء علیہم السلام میں صرف آنحضرت ﷺ
کا طغرۂ امتیاز ہے
﴿ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے انبیاء علیہم السلام پر چھ فضیلتیں دی گئی ہیں: (١)...... مجھے مختصر کلمات معانی کثیرہ کے حامل دیئے گئے ہیں۔ (٢)...... دشمن پر رعب ڈالکر میری مدد کی گئی ہے۔ (٣)...... میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے۔ (٤)...... تمام زمین میرے لئے مسجد اور پاک کرنے کا آلہ بنادی گئی ہے۔ (٥)...... تمام مخلوق کی طرف مجھے بھیجا گیا ہے۔ (٦)...... انبیاء کا سلسلہ میری ذات پر ختم کر دیا گیا ہے۔ (اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے)﴾
اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کی چند خصوصیات شمار کی گئی ہیں۔ یہ خصوصیات صرف چھ تک محدود نہیں بلکہ بہت ہیں۔ حافظ سیوطیؒ نے اسی موضوع پر دو ضخیم جلدوں کی ایک کتاب لکھدی ہے۔ جو خصائص الکبریٰ کے نام سے مشہور ہے۔ مفہوم عدد علماء کے نزدیک معتبر نہیں۔ یہ متکلم کے وقتی استحضار اور اس کے ذہنی اعتبار کی بات ہوتی ہے۔ یہاں ٥ و ٦ خصوصیتیں زیر بحث ہیں۔ بقیہ خصوصیات پر اپنی اپنی جگہ بحث آئے گی۔ خصوصیت (٥) کا مطلب علماء کے نزدیک یہ ہے کہ آپؐ کی بعثت آپ کے زمانہ سے لیکر قیامت تک کے لئے ہے۔ لیکن شیخ تقی الدین سبکیؒ فرماتے ہیں کہ آپؐ کی بعثت آپؐ سے پیشتر اور آپؐ کے بعد دونوں زمانوں کو شامل ہے۔ آدم علیہ السلام سے لیکر قیامت تک آنیوالی دنیا سب آپؐ کی بعثت کے ماتحت ہے۔ جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ خاتم النبیین آپؐ کی ایک خصوصیت تھی صرف تعریفی لقب نہ تھا۔ جو مجازاً دوسروں پر بھی اطلاق ہو سکتا۔
خاتم النبوة كان دليلاً على كونه خاتم النبيين
(٢٦)........... ”عَنْ عَلِيٍّ قَالَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَ خَاتِمُ
٢٧
النَّبِيِّيْنَ . رواه الترمذی فی شمائله ص٣ باب خاتم النبوة“
مہر نبوت خود اس کی دلیل تھی کہ آپ خاتم النبیین ہیں
﴿ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔ کیونکہ آپ خاتم النبیین تھے۔ (اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے)﴾
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی اس معنوی خصوصیت کو حسی شکل میں بھی ظاہر کر دیا گیا تھا۔ کتب سابقہ میں بھی مہر نبوت آپ کی ایک علامت بتلائی گئی تھی۔ اسی لئے بعض طالبین حق نے منجملہ اور علامات کے آپ کی مہر نبوت کو بھی تلاش کیا ہے۔ اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خاتم النبیین آپ کا شاعرانہ لقب نہ تھا بلکہ مہر نبوت اور آخری نبی ہونے کی وجہ سے آپ کو خاتم النبیین کہا جاتا تھا۔
دعویٰ النبی ﷺ انه خاتم النبیین واخرهم
(٢٧)............ ”عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ وَخَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ . رواه البيهقی والحاكم ج٢ ص١٩٤ حديث ٣٦١٩ باب انی عبدالله وخاتم النبيين وصححه كذافی الدر المنثور ج٥ ص٢٠٧“
آنحضرت ﷺ کا دعویٰ کرنا کہ خاتم النبیین اور آخری نبی میں ہوں
﴿عرباضؓ بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں عبداللہ ہوں۔ (اللہ کا بندہ) اور میں خاتم النبیین ہوں (آخری نبی) اس حدیث کو بیہقی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کو صحیح کہا ہے۔﴾
حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ صرف معنی ترکیبی کے لحاظ سے ”عبداللہ نہیں ہیں بلکہ انبیاء علیہم السلام میں ”عبداللہ آپ کا لقب بھی تھا۔
٢٨
قرآن کریم میں ”عبداللہ بطور لقب صرف آپ کی ذات پر اطلاق ہوا ہے۔“ :” لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا ٠ الجن ١٩ “ جب عبداللہ (یعنی محمد) نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو قریب تھا کہ وہ تہ بہ تہ ہو کر آپ پر ٹوٹ پڑتے۔ حدیث میں ہے کہ آپ کو اختیار دیا گیا تھا۔ اگر چاہیں رسالت کے ساتھ ملوکیت پسند کرلیں۔ جیسا کہ سلیمان علیہ السلام تھے یا چاہیں تو عبدیت اختیار کرلیں۔ آپ نے عبدیت کو ہی پسند فرمالیا۔ اس کے بعد آپ کی نشست وبرخاست۔ طعام و شراب سب میں عبدیت کا پہلو غالب تھا۔ دعاء تشہد میں بھی عبدہ ورسولہ تعلیم کیا گیا ہے۔ یعنی عبدیت کو مقدم رکھا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ایک شخص نے اس ترتیب کو بدل کر جب رسولہ وعبدہ کہا تو آپ نے اس کی اصلاح فرمائی اور کہا کہ وہی عبدہ ورسولہ کہو شیخ اکبرؒ تحریر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ پر یہ مقام عبدیت سوئی کے ناکے کے برابر منکشف ہوا تھا تو میں اس کی بھی تاب نہ لاسکا اور قریب تھا کہ جل جاتا۔ اسی طرح آپ کا دوسرا لقب خاتم النبیین ہے۔ پہلا لقب آپ کی ذاتی صفت اور دوسرا بلحاظ انبیاء علیہم السلام ہے۔ آپ سے پہلے کسی رسول نے یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ دوسرے رسولوں کی آمد کی بشارت دی ہے۔ اگر یہ لقب صرف شاعرانہ مبالغہ ہوتا تو آپ سے پہلے انبیاء پر بھی اس کا اطلاق درست ہوتا۔ آنحضرت ﷺ کا دعویٰ کرنا بتلاتا ہے کہ پہلے صحف میں کسی خاتم النبیین کی بشارت موجود تھی۔ آپ بتلارہے ہیں کہ اس مصداق میں ہوں۔
(٢٨).......... ”عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ مَرْفُوْعًا اِنِّيْ خَاتِمُ أَلْفِ نَبِيٍّ أَوْ أَكْثَرَ ، رواه فى المستدرک ج ٢ ص ٤٩٣ حديث ٤٢٢٤ باب بعث رسول الله ﷺ . الكنز ج ١١ ص ٤٨٣ حديث ٣٢٢٨١“
﴿ ابو سعیدؓ مرفوعا روایت کرتے ہیں۔ میں ایک ہزار نبی یا اس سے زیادہ کے آخر میں آیا ہوں۔ اس حدیث کو مستدرک میں روایت کیا ہے۔ ﴾
مشکوٰۃ میں ایک حدیث میں انبیاء علیہم السلام کا عدد ایک لاکھ چوبیس ہزار مذکور ہے۔ چونکہ یہاں راوی نے او اکثر کا لفظ کہہ دیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کو اصل عدد محفوظ نہیں رہا۔ اس لئے ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس
٢٩
حدیث میں ہزار کے عدد سے کسی خاص شان کے نبی مراد لئے گئے ہوں۔
(٢٩).......... ” عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ يَا اَبَا ذَرٍّ اَوَّلُ الْاَنْبِيَاءِ اٰدَمُ وَاٰخِرُهُمْ مُحَمَّدٌ‘. رواه ابن حبان في صحيحه وابونعيم في الحليه وابن عساكر والحكيم الترمذى الكنز ج١١ص٤٨٠ حديث ٣٢٢٦٩باب ذكر الانبياء واخرجه ابن حبان في تاريخه في السنة العاشرة ص٦٩مخطوط“
﴿ابوذرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر انبیاء علیہم السلام میں سب سے پہلے نبی حضرت آدم اور سب کے آخر میں محمد ﷺ ہیں۔ اس حدیث کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور ابو نعیم نے الحلیہ میں اور ابن عساکر اور حکیم ترمذی نے روایت کیا ہے۔ نیز ابن حبان نے اپنی تاریخ میں ١٠ھ کے احوال میں اس کو روایت کیا ہے۔ (از قلمی نسخہ)﴾
انبیاء علیہم السلام کے اول و آخر کی اس تحدید سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اب کوئی شخص جس کو نبی کہہ کر پکارا جائے نہیں ہوگا۔ پہلے آدم علیہ السلام ہیں اور آخری آپ اور بس۔ نیز اس حدیث میں حضرت آدم علیہ السلام کی نبوت کی تصریح بھی موجود ہے اسی طرح مشکوٰۃ میں ہے جب آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ حضرت آدم نبی تھے تو آپ نے فرمایا : ”نعم نبی مکلم“ ہاں! خدا کے نبی تھے۔ خدا تعالیٰ ان سے باتیں کرتا تھا۔
وصية النبى ﷺ انه لانبى بعده
(٣٠).......... ” عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ عمرو بن العاص يَقُوْلُ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ يَوْمًا كَالْمُوَدِّعِ فَقَالَ اَنَا محمد النَّبِىُّ الْاُمِّىُّ ثَلَاثًا وَلَا نَبِىَّ بَعْدِىْ (الىٰ قوله) فَاسْتَمِعُوْا وَاَطِيْعُوْا مَادُمْتُ فِيْكُمْ فَاِذَا ذُهِبَ بِىْ فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللّٰهِ تَعَالٰى اَحِلُّوْا حَلَالَهُ وَ حَرِّمُوْا حَرَامَهُ ‘. رواه احمد في مسنده ج٢
٣٠
ص ١١٧٢‘١١٧٢‘ تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٤٩٤ زیر آیت ماکان محمد ۔“
آنحضرت ﷺ کی وصیت کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا
﴿ابن عمرؓ روایت فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے (اور اس طرح تقریر فرمائی) جیسے کوئی رخصت ہونے والا تقریر کیا کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نبی اُمّی (جن کے آمد کی خبر تھی وہ) میں ہی ہوں اور میرے بعد اب کوئی نبی نہ ہوگا۔ (اسی تقریر میں یہ بھی فرمایا جب تک میں تمہارے اندر موجود ہوں میرے احکام سنو اور ان کی اتباع کرتے رہو اور جب مجھے دنیا سے اٹھا لیا جائے تو تم کتاب اللہ کو مضبوط پکڑے رہنا جو اس میں حلال ہے اس کو حلال اور جو حرام ہے اس کو حرام سمجھتے رہنا۔ اس حدیث کو احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔﴾
(٣١) ............ ”عَنْ أَبِىْ أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ فِىْ خُطْبَةِ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّهُ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ وَلَا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ فَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَصَلُّوْا خَمْسَكُمْ وَصُوْمُوْا شَهْرَكُمْ وَأَدُّوْا زَكٰوةَ اَمْوَالِكُمْ طَيِّبَةً بِهَا أَنْفُسُكُمْ وَأَطِيْعُوْا وُلَاةَ أُمُوْرِكُمْ تَدْخُلُوْا جَنَّةَ رَبِّكُمْ ، الكنز ج ٥ ص ٢٩٤‘٢٩٥ حدیث نمبر ١٢٩٢٢‘ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٦٦ باب لانبی بعدہ ﷺ‘ تفسیر معالم التنزیل ج ١ ص ٢٣٧ زیر آیت اطیعو اللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم“
﴿ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا۔ اے لوگو! نہ تو میرے بعد اب کوئی نبی ہوگا اور نہ تمہارے بعد کوئی امت۔ پس اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور اپنی پانچ نمازیں پڑھتے رہو اور رمضان کے روزے رکھے جاؤ۔ اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ خوشی خوشی دیئے جاؤ اور اپنے حاکموں کی اطاعت کرتے رہو تو پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ مطلب یہ ہے کہ نجات اب صرف ان فرائض اسلام پر عمل کرنے میں منحصر ہو گئی ہے۔ اگر پہلے زمانہ کی طرح آئندہ کوئی رسول آنے والا ہوتا تو اس پر
٣١
ایمان لانا بھی ضروری ہوتا۔ اب ایمان کا معاملہ تو مکمل ہو چکا ہے۔ صرف عمل کا مرحلہ باقی ہے۔ وہ بھی اتنا مختصر ہے کہ بس فرائض کے یہ چند قدم ہیں۔ انہیں طے کرو اور آگے جنت ہے۔﴾
(٣٢).......... ”عَنْ أَبِيْ قَبِيلَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ فَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَأَقِيْمُوْا خَمْسَكُمْ وَصُوْمُوْا شَهْرَكُمْ وَأَطِيْعُوْا وُلَاةَ أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوْا جَنَّةَ رَبِّكُمْ٠ رواه الطبراني والبغوي كذافي الكنز العمال ج ١٥ص ٩٤٧ حديث نمبر ٤٣٦٣٨ باب جامع المواعظ من الاكمال مجمع الزوائد ج ٣ص ٢٧٦ باب خطبه فى الحج “
﴿ابو قبیلہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بعد اب کوئی نبی نہیں ہوگا اور تمہارے بعد اب کوئی امت نہیں آئے گی۔ پس تم اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اپنی پانچ نمازیں ٹھیک ٹھیک پڑھتے رہو۔ ماہ رمضان کے روزہ رکھتے رہو اور اپنے حکام کی اطاعت کئے جاؤ۔ اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔﴾
(٣٣).......... ”عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا أُمَّةَ بَعْدَ أُمَّتِیْ٠ رواه البيهقى فى كتاب الرؤيا وفى رواية ابى قبيلة فى كنزالعمال لانبى بعدى ولا امة بعدكم ص٩٤٧ج١٥ حديث نمبر٤٣٦٣٨ باب جامع المواعظ من الاكمال “
﴿ضحاک بن نوفلؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بعد اب کوئی نبی نہ ہوگا اور میری امت کے بعد اب کوئی امت نہیں ہوگی۔ اس حدیث کو بیہقی نے کتاب الرؤیا میں روایت کیا ہے۔﴾
تصدیق ماهان عامل الروم ان النبى ﷺ
لا نبى بعده
(٣٤).......... ”عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فِیْ حَدِيثٍ طَوِيْلٍ أَنَّهُ سَأَلَهُ
٣٢
مَاهَانَ عَامِلُ مَلِكِ الرُّوْمِ عَلَى الشَّامِ هَلْ كَانَ رَسُوْلُكُمْ أَخْبَرَ أَنَّهُ يَأْتِيْ بَعْدَهُ رَسُوْلٌ قَالَ وَلٰكِنْ اَخْبَرَأَنَّهُ لاَنَبِيَّ بَعْدَهُ وَأَخْبَرَ أَنَّ عِيْسَى بْنَ مَرْيَمَ قَدْ بَشَّرَ بِهِ قَوْمَهُ قَالَ الرُّوْمِيُّ وَأَنَا عَلَى ذٰلِكَ مِنَ الشَّاهِدِيْنَ . خصائص الكبرى ج ٢ ص ٤١٢ باب ذكر آيات وقعت على اثر النبىﷺ فى غزوات“
ملک روم کے گورنر کی تصدیق کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا
﴿خالد بن ولیدؓ نے ایک طویل حدیث میں کہا کہ ماہان نے جو شام پر شاہ روم کا عامل تھا۔ ان سے دریافت کیا کیا تمہارے رسول نے تم سے یہ کہا ہے کہ ان کے بعد کوئی اور رسول آئے گا۔ انہوں نے کہا نہیں بلکہ یہ خبر دی ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اور یہ بھی کہا کہ عیسیٰ بن مریم نے ان کی آمد کی بشارت اپنی قوم کو دی تھی۔ ماہان رومی نے کہا کہ میں بھی اس پر گواہی دینے والوں میں ہوں۔﴾
حضرت ابو عبیدہؓ جب یرموک پہنچے تو روم کے لشکر کے سردار نے ان کے پاس ایک قاصد بھیجا۔ اس نے کہا کہ میں ماہان گورنر کے پاس سے آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ اپنی جماعت میں سے ایک عقلمند شخص ہمارے پاس بھیج دیں تاکہ ہم اس سے گفتگو کر لیں۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے اس کام کے لئے خالد بن ولیدؓ کو منتخب فرمایا اور انہوں نے وہ گفتگو کی جو اوپر مذکور ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلی بشارات میں نبی منتظر کی ایک علامت یہ بھی تھی کہ اس کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس لئے دوسری باتوں کے ساتھ اس کی تحقیق بھی کی جاتی تھی کہ اور انبیاء کی طرح آپ نے کسی نبی کی آمد کی خبر تو نہیں دی۔
شهادة الضب انه رسول الله وخاتم النبيين
(٣٥)..........”عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِى حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ فَقَالَ الْأَعْرَابِىُّ لاَ آمَنْتُ بِكَ حَتَّى يُؤْمِنَ بِكَ هَذَا الضَّبُّ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ مَنْ أَنَا يَاضَبُّ فَقَالَ الضَّبُّ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ يَفْهَمُهُ الْقَوْمُ جَمِيْعًا لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَارَسُوْلَ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ قَالَ مَنْ تَعْبُدُ فَقَالَ الَّذِيْ فِى السَّمَاءِ
٣٣
عَرْشُهُ وَفِی الْاَرْضِ سُلْطَانُهُ وَفِی الْبَحْرِ سَبِیْلُهُ وَفِی الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ وَفِی النَّارِ عَذَابُهُ قَالَ فَمَنْ اَنَا قَالَ اَنْتَ رَسُوْلُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ. الحدیث اخرجه الطبرانی فی الاوسط والصغیر ج٢ص٦٤ باب المیم اسمه محمد وابن عدی والحاکم فی المعجزات والبیہقی وابو نعیم وابن عساکر ولیس فی اسناده من ینظر فی حاله سوی محمد بن علی بن الولید البصری السلمی شیخ الطبرانی وابن عدی وقال السیوطی فی الخصائص قلت لحدیث عمر طریق آخر لیس فیه محمد بن علی بن الولید اخرجه ابو نعیم وروی عن عائشة وابی هريرة وعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہم مثله کما فی الخصائص ج٢ص٢٧٥ باب قصة الضب منتخب کنز العمال علی حاشیه مسند احمد ابن حنبل ج٤ص٢٧٨ باب شهادة الضب.“
گوہ کی شہادت کہ آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں
حضرت عمرؓ ایک طویل قصہ میں روایت فرماتے ہیں (کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دیہاتی آدمی کو اسلام کی دعوت دی) اس نے کہا جب تک یہ گوہ ایمان نہ لائے میں آپ پر ایمان نہیں لاسکتا۔ آپ نے فرمایا اے گوہ! بتلا میں کون ہوں۔ گوہ نے نہایت فصیح عربی میں جواب دیا جسے سب حاضرین نے سمجھا۔ اے رب العالمین کے رسول میں حاضر ہوں اور آپ کی فرماں بردار ہوں۔ آپ نے فرمایا بتلا تو کس کے نام کی تسبیح کرتی ہے۔ وہ بولی جس کا عرش آسمان پر ہے اور جس کا حکم زمین پر نافذ ہے جس نے سمندر میں راستے بنادیئے جس کی رحمت کا مظہر جنت، جس کے عذاب کا مظہر دوزخ ہے۔ آپ نے فرمایا میں کون ہوں؟۔ اس نے جواب دیا۔ آپ جہان کے پروردگار کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ اس حدیث کو طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں اور ابن عدی نے اور حاکم نے معجزات اور بیہقی ابو نعیم اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے اور اس کے راویوں میں سوائے محمد بن علی بن الولید کے کوئی راوی
٣٤
ایسا نہیں ہے جس کے معاملہ میں غور کرنے کی ضرورت ہو۔ یہ طبرانی اور ابن عدی کے شیخ ہیں۔ سیوطیؒ خصائص الکبریٰ میں فرماتے ہیں کہ حدیث عمر کے لئے ایک اور طریقہ بھی ہے جس میں یہ راوی نہیں ہے۔ ابو نعیم نے اس کو بیان کیا ہے۔ نیز حضرت عائشہؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ اور ............ حضرت علیؓ سے بھی اسی کے ہم معنی مضمون مروی ہے۔ ﴿﴾
حیوانات کی گفتگو اور ان کی شہادت دینا اگر بطور عادت و فطرت نقل کی جائے تو بے شک تعجب کرنا چاہئے۔ اگر بطریق معجزہ منقول ہو تو اس پر تعجب کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے معجزات تمام خارق عادات ہی ہوتے ہیں اور ان میں بہت سے تواتر سے بھی ثابت ہیں۔ لہٰذا صرف اس وجہ سے حدیث کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں! اگر اس کا روایتی پہلو نا قابل اعتبار ہوتا تو بے شک ایک بات ہو سکتی تھی۔ مگر اس کا روایتی پہلو بھی اتنا مخدوش نہیں ہے۔ یہاں حیوان کی شہادت میں لفظ رسول اللہ کے ساتھ خاتم النبیین کا لفظ ایسا ہی ہے جیسا کہ آیت قرآنی میں یہ دونوں لفظ یکجا رکھے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی رسالت کا صحیح اور پورا مفہوم اسی وقت ادا ہوتا ہے۔ جبکہ آپ کو خاتم النبیین بھی سمجھا جائے آپ کو صرف رسول اللہ کہنا اور خاتم النبیین نہ کہنا آپ کی حیثیت کے صرف ایک جز ہی کو ادا کرتا ہے اور وہ بھی مشترک جزء کو آپ کے منصب عالی کا ممتاز جز خاتم النبیین ہے۔ لیکن چونکہ یہ دونوں حیثیتیں آپ کی ذات میں جمع تھیں اور اس طرح جمع تھیں۔ گویا ایک ذات کے دو عنوان ہیں اس لئے عام طور پر صرف اقرار رسالت ختم نبوت کے اقرار کے لئے کافی سمجھا گیا تھا جیسا کہ کلمہ توحید کا۔ اس کا اقرار گو رسالت کے اقرار سے ایک جداگانہ شے ہے مگر جو توحید کہ آپ کی حکم برداری میں تسلیم کی جائے وہ اقرار بالرسالت کے ہم معنی تھی۔ اس لئے بعض احادیث میں صرف کلمہ توحید کی شہادت کو مدار نجات قرار دیا گیا ہے اسی طرح آپ کی رسالت اور ختم نبوت کا مسئلہ سمجھنا چاہئے۔
٥
شهادة زيد بن خارجةؓ بعد وفاته
انه ﷺ لانبی بعده
- (٣٦).......... ”عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ قَالَ كَانَ زَيْدُ بْنُ خَارِجَةَ مِنْ
سَرَاةِ الْأَنْصَارِ فَبَيْنَمَا هُوَ يَمْشِيْ فِيْ طَرِيْقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِيْنَةِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِذَا خَرَّ فَتُوُفِّيَ فَأَعْلَمْتُ بِهِ الْأَنْصَارُ فَأَتَوْهُ فَاحْتَمَلُوْهُ إِلَى بَيْتِهِ وَسَجُّوْهُ كِسَاءً وَبُرْدَيْنِ وَفِي الْبَيْتِ نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ يَبْكِيْنَ عَلَيْهِ وَرِجَالٌ مِنْ رِجَالِهِمْ فَمَكَثَ عَلَى حَالِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا سَمِعُوْا صَوْتَ قَائِلٍ يَقُوْلُ أَنْصِتُوْا أَنْصِتُوْا فَنَظَرُوْا فَإِذَا الصَّوْتُ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ فَحَسَرُوْا عَنْ وَجْهِهِ وَصَدْرِهِ فَإِذَا الْقَائِلُ يَقُوْلُ عَلَى لِسَانِهِ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ خَاتِمُ النَّبِيِّيْنَ لَانَبِيَّ بَعْدَهُ كَانَ ذٰلِكَ فِيْ الْكِتَابِ الْأَوَّلِ صَدَقَ صَدَقَ . هدية المهديين ص١١٤ معجم الكبير الطبرانی ج٥ص٢١٩ روايت نمبر١٥٤٤ حافظ ابن ابی الدنیا کی کتاب من عاش بعد الموت ص٥٢“
وفات کے بعد زید بن خارجہ کی شہادت کہ آپ ﷺ
کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا
﴿نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ زید بن خارجہؓ انصار کے سرداروں میں تھے۔ ایک دن وہ ظہر و عصر کے درمیان مدینہ کے کسی راستہ پر جارہے تھے کہ یکا یک گرے اور فوراً وفات ہو گئی۔ انصار کو اس واقعہ کی خبر ہوئی اور وہ آئے اور انہیں اٹھا کر گھر لے گئے اور ایک کمبل اور دو چادروں سے ان کو ڈھانک دیا۔ گھر میں انصار کی کچھ عورتیں اور مرد ان پر رو رہے تھے۔ یہ گریہ و زاری ہو تا رہا حتی کہ جب مغرب و عشاء کا درمیان ہوا تو دفعۃً ایک غیبی آواز آئی ”خاموش رہو، خاموش رہو“ ادھر ادھر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ آواز ان کپڑوں کے نیچے
٣٦
سے ہی آرہی ہے جس میں میت ہے۔ لوگوں نے ان کا منہ اور سینہ کھولا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ کوئی غیبی شخص ان کی زبان سے یہ کہہ رہا ہے ”محمد رسول اللہ نبی امی خاتم النبیین ہیں۔“ ان کے بعد اب کوئی نبی نہیں ہو گا۔ یہ تورات وانجیل میں موجود ہے۔ سچ ہے سچ ہے۔﴾
کرامت کے طور پر میت کا بولنا بھی کچھ تعجب کی بات نہیں تھی مگر راوی نے اس کی ایک اور توجیہہ بھی کر دی ہے اور وہ یہ کہ یہاں بولنے والا دراصل کوئی فرشتہ تھا۔ میت کی زبان ان کلمات کی ادائیگی کے لئے صرف ایک واسطہ کا کام دے رہی تھی۔ جمادات وحیوانات کے ان خارق عادت شہادات سے مقصود یہ ہے کہ بنی آدم کی فطرت زیادہ سے زیادہ متاثر ہو کر نصیحت و عبرت کرے اور حضور ﷺ کی تصدیق کے لئے اور زیادہ مستعد ہو جائے۔
كان النبي ﷺ رسولا الى اهل زمانه
ومن بعدهم سواء
(٣٧)..........”عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلاً قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ أَنَا رَسُوْلُ مَنْ أُدْرِكُ حَيًّا وَمَنْ يُوْلَدُ بَعْدِى“۔ رواه ابن سعد الكنز العمال ج ١١ ص ٤٠٤ حديث ٣١٨٨٥
آنحضرت ﷺ اپنے زمانہ اور بعد میں آنے والے سب
انسانوں کے لئے یکساں رسول ہیں
﴿حضرت حسنؓ سے مرسلا روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں ان کا بھی رسول ہوں جو اب زندہ ہیں اور ان کا بھی جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔ اس حدیث کو ابن سعد نے روایت کیا ہے۔﴾
بعثت عام اور ختم نبوت کو بڑا گہرا ربط ہے۔ اسی لئے پہلی حدیث میں دونوں خصوصیتوں کو ایک جگہ ذکر کیا گیا ہے۔ اگر آپ کی بعثت عام نہ ہوتی اور نبوت ختم ہو جاتی تو آنے والی امت بلا رسول رہ جاتی۔ یہ بجائے نعمت کے ایک زحمت ہوتی۔ اس لئے جب
٣٧
نبوت کا ختم ہونا مقدر ہوا تو آپ کی بعثت کا دامن قیامت تک کے انسانوں پر پھیلا دیا گیا تاکہ رہتی دنیا تک تمام انسان اس کامل واکمل رسالت کے نیچے آجائیں اور کسی دوسرے رسول کے محتاج نہ رہیں۔ اور اگر آپ کی بعثت تو عام ہوتی مگر نبوت ختم نہ ہوتی تو اب آئندہ اگر کوئی اور کامل رسول آتا اور آپ کی بجائے اس کی اتباع لازم ہوتی تو آپ کا نقصان ثابت ہوتا اور اگر کوئی ناقص رسول آتا تو کامل کے ہوتے ہوئے ناقص کے دامن میں آنا بجائے رحمت کے زحمت بن جاتا (والعیاذ باللہ!) اس لئے بعثت عامہ کے بعد نبوت کا ختم ہونا ضروری اور لازم ہو گیا۔
توضيح النبی ﷺ ختم النبوة بمثال
- (٣٨)........ ”عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ إِنَّ مَثَلِیْ
وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لِبْنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا لَبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ . بخاری ص٥٠١ ج ١ باب خاتم النبیین مسلم ج ٢ ص ٢٤٨ باب ذکر کونه خاتم النبیین واحمد ج ٢ ص ٢٥٦‘ درمنثور ج ٥ ص ٢٠٤ زیر آیت ماکان محمدا ابا احدمن رجالكم والنسائى والترمذى وفى بعض الفاظ فكنت انا سددت موضع اللبنة وختم بی البنیان وختم بی الرسل . رواه ابن عساکر كما في الكنز“
آنحضرت ﷺ کا ختم نبوت کو ایک مثال دیکر واضح کرنا
﴿ابو ہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اسے خوب آراستہ و پیراستہ کیا مگر اس کے ایک گوشہ میں صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی....... لوگ آآکر اس کے ارد گرد گھومنے لگے اور تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی (تاکہ یہ عیب بھی نہ رہتا) اس کے بعض الفاظ میں یہ ہے کہ میں نے آکر اس اینٹ کی جگہ کو پر
٤٨
کر دیا ہے اور اب قصر نبوت میری آمد سے مکمل ہو گیا ہے اور مجھ پر تمام رسول ختم کر دیئے گئے۔ (کنز العمال)
(٣٩).......... ”عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ مَثَلِيْ وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰى دَارًا فَأَتَمَّهَا وَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فجعل الناس يدخلونها وَيَقُوْلُوْنَ لَوْلَا مَوْضِع اللَّبِنَةِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ فَاَنَا مَوْضِع اللَّبِنَةِ جِئْتُ فَخُتِمَ بِىَ الْاَنْبِيَاء. مسلم ج٢ ص٢٤٨ باب ذكر كونه خاتم النبيين ،بخاری ج١ ص٥٠١ باب خاتم النبيين والترمذی ج٢ ص١١٣ باب ماجاء مثل النبى فى الانبياء وابن ابی حاتم“
جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور خوب عمدہ اور مکمل بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جو شخص اس میں داخل ہوتا اور اسے دیکھتا تو کہتا تمام گھر کس قدر خوبصورت ہے مگر یہ ایک اینٹ کی جگہ (وہ اینٹ میں ہوں) اور انبیاء مجھ پر ختم کر دیئے گئے ہیں۔ (اس حدیث کو شیخین ترمذی وابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے)
(٤٠).......... ”عَنْ اَبِيْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ مَثَلِيْ وَمَثَلُ النَّبِيّيْنَ فذكرنحوه. رواه مسلم ص٢٤٨ج٢ باب ذكر كونه خاتم النبيين واحمد“
ابو سعید خدریؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میری اور نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے گھر بنایا اور اس کو پورا بنا دیا مگر ایک اینٹ کی جگہ رہنے دی میں آیا اور اس اینٹ کو بھی پورا کر دیا۔ اس حدیث کو مسلم واحمد نے روایت کیا ہے۔
(٤١).......... ”عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِﷺ قَالَ مَثَلِيْ فِي النَّبِيّيْنَ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰى دَارًا فَاَحْسَنَهَا وَاَكْمَلَهَا وَاَجْمَلَهَا وَتَرَكَ مِنْهَا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوْفُوْنَ بِالْبِنَاءِ وَيَعْجَبُوْنَ مِنْهُ وَيَقُوْلُوْنَ لَوْتَمَّ
٣٠٩
مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ وَأَنَا فِى النَّبِيِّينَ مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ ، رواه الترمذى ج٢ ص٢٠٢ باب في فضل النبی وقال هذا حديث حسن صحيح غريب“ ابی بن کعبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نبیوں میں میری مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے گھر بنایا اور نہایت خوشنما مکمل اور آراستہ بنایا۔ لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس محل کے ارد گرد گھومتے اور اسے تعجب سے دیکھ دیکھ کر کہتے ہیں۔ کاش! اس اینٹ کی جگہ بھی پوری ہو جاتی۔ تو میں نبیوں میں ایسا ہی ہوں جیسے یہ اینٹ اس محل میں۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ﴾
ان تشبیہات کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح اس قصر میں جو ہر طرح مکمل ہو چکا ہے۔ اب کسی اور اینٹ کی کوئی گنجائش نہیں رہی اسی طرح میری آمد کے بعد اب کسی اور نبی کے آنے کا احتمال نہیں رہا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ ختم نبوت کے اس موٹے سے مسئلہ کو پیرایہ بہ پیرایہ طریقہ بہ طریقہ آخر کیوں اتنا سمجھا رہے ہیں۔ آپ کا آخری نبی ہونا کوئی دقیق مسئلہ نہیں جس کے لئے اتنی تفہیم کی حاجت ہو پھر یہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کا جواب آپ کو ان احادیث کے مطالعہ کے بعد خود واضح ہو جائے گا جن میں آنحضرت ﷺ کے بعد مدعین نبوت کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے۔
لا نبی بعد النبی ﷺ وان كان من غير تشريع
(٤٢)........ ” عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ لِعَلِيٍّ أَنْ تَكُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِیْ ٠ رواه البخارى ومسلم في غزوة تبوك ص٦٣٣ج٢ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی إِلَّا إِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ وَفِي روايته وفی لفظ مسلم ج٢ ص٢٧٨ باب من فضائل علیؓ بن ابی طالب خَلَّفَهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِی بَعْضِ مَغَازِيْهِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ خَلَّفْتَنِی مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ
٤٠
اللَّهِ ﷺ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي وَفِي لَفْظ آخَر عنده إِلَّا إِنَّكَ لَسْتَ نَبِيًّا . “
آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں خواہ غیر تشریعی نبی ہو
﴿سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا تمہیں مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو حضرت موسیٰ سے تھی اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ اس حدیث کو بخاری ومسلم نے غزوہ تبوک کے بیان میں روایت کیا ہے اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک جنگ کے موقعہ پر حضرت علیؓ کو اپنے ساتھ نہ لیا تو حضرت علیؓ نے آپ کی خدمت میں (حسرت سے) عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے آپ عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جارہے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے (ان کی تسلی کے لئے) فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہ نسبت حاصل ہو جو ہارون کو حضرت موسیٰ سے حاصل تھی مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد نبوت باقی نہیں اور مسلم کے دوسرے لفظ یہ ہیں مگر تم نبی نہیں ہو۔﴾
(٤٣)........ ”عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُّخْلِفَ عَلِيًّا قَالَ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ مَا يَقُوْلُ النَّاسُ فِيَّ إِذَا خَلَّفْتَنِي قَالَ فَقَالَ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسَى إِلَّا إِنَّهُ بَعْدِي نَبِيٌّ اولا يكون بعدی نبی ٠ رواه احمد ج٢ ص٣٣٨ وابن ماجة ص١٢ باب فضائل على بن ابی طالب والترمذی ج٢ ص٢١٤ باب مناقب علیّ بن ابی طالب . “
﴿جابرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب یہ ارادہ کیا کہ حضرت علیؓ کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپ مجھے (اپنے ہمراہ نہ لے جائیں گے اور) پیچھے چھوڑ جائیں گے تو بھلا لوگ میرے متعلق کیا کیا باتیں کہیں گے۔ راوی کہتا ہے کہ آپ نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ میری تمہاری وہ نسبت رہے جو ہارون
٤١
و موسیٰ کی تھی اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ اس حدیث کو احمد ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ﴾
ان دونوں حدیثوں میں حضرت علیؓ کو حضرت ہارون علیہ السلام کی ذات سے تشبیہ دینا مقصود نہیں۔ اسی لئے ”انت بمنزلتہ ہارون“ نہیں فرمایا بلکہ اس نسبت اور علاقہ سے تشبیہ مقصود ہے جو حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام کے درمیان تھا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ نے اپنی غیبت کے زمانہ میں اپنی قوم کی نگرانی کے لئے اپنے بھائی حضرت ہارون کا انتخاب کیا تھا۔ اسی طرح اپنی غیبت میں، میں تمہارا انتخاب کرتا ہوں اتنا فرق ضرور ہے کہ وہ نبی تھے تم نبی نہیں ہو۔ حضرت ہارون کو چونکہ نبوت کے ساتھ خلافت ملی تھی اس لئے اس مجمل تعبیر سے یہ وہم پیدا ہو سکتا ہے کہ حضرت علیؓ کی خلافت بھی کہیں خلافت نبوت نہ ہو۔ اس لئے اس احتمال کو بھی برداشت نہیں کیا گیا اور اس کو صاف طور پر صاف کر دیا گیا ہے تاکہ آنے والی امت محض الفاظ کے ابہام سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر حضرت علیؓ کو نبوت ملتی تو وہ یقیناً آپ کے اتباع ہی کی بدولت ہوتی مگر جب اس احتمال کی بھی نفی کر دی گئی تو اب توسطاً یا بلا توسط کسی نبوت کا احتمال باقی نہیں رہا۔ اگرچہ نبوت کا کسی نبی کے اتباع سے ملنا خود ایسا مسئلہ ہے جس کے لئے قرآن و حدیث سے کوئی دلیل نہیں ہے اور اسی لئے دنیا کی تاریخ میں کوئی نبی ایسا نہیں بتلایا جا سکتا جو کسی نبی کے اتباع کے صلہ میں انعامی طور پر نبی بنا دیا گیا ہو یہ محض دماغی اختراع اور خود ساختہ خیال ہے۔
(٤٤)............. ” عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِيْ أَوْفَى قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ (ياعلى) وَالَّذِيْ بَعَثَنِيْ بِالْحَقِّ مَاخْتَرْتُكَ اِلَّا لِنَفْسِىْ وَأَنْتَ مِنِّىْ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسَى غَيْرَ أَنَّهُ لاَنَبِىَّ بَعْدِىْ ٠ ابن عساكر‘ الكنز العمال ج٩ص١٦٧ حديث نمبر ٢٥٥٥٤ ج ١٣ ص ١٠٥ ‘ ١٠٦ حديث نمبر ٣٦٣٤٥ باب فضائل علیؓ “
﴿زید بن اوفیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے علیؓ اس ذات کی
٤٢
قسم ہے جس نے مجھے دین حق دیکر بھیجا ہے۔ میں نے تم کو صرف اپنے لئے پسند کیا ہے اور تمہیں مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے حاصل تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ (الکنز)﴾
یہی مضمون ابو سعید خدریؓ، حبشی بن جنادہؓ، عقیل بن ابی طالبؓ اور ابن عمر سے بھی مروی ہے۔ دیکھو کنز العمال۔
(٤٥)..........”عَنْ عَلِيٍّ قَالَ وَجِعْتُ وَجَعًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَقَامَنِیْ فِیْ مَكَانِهِ وَقَامَ يُصَلّی وَاَلْقٰی عَلَیَّ طَرَفَ ثَوْبِهِ ثُمَّ قَالَ بَرِئْتَ يَا ابْنَ اَبِی طَالِبٍ فَلَا بَأْسَ عَلَيْكَ مَاسَأَلْتُ اللهَ شَيْئًا اِلَّا سَأَلْتُ لَكَ مِثْلَهُ وَلَا سَأَلْتُ اللَّهَ شَيْئًا اِلَّا أَعْطَانِيْهِ غَيْرَ اَنَّهُ قِيْلَ لِيْ اَنَّهُ لَانَبِيَّ بَعْدِیْ فَقُمْتُ كَأَنّیْ مَاشْتَكَيْتُ ۔ رواه ابن جرير وابن شاهين في السنة والطبراني في الا وسط وابونعيم فى فضائل الصحابة كذافي الكنز ج١٣ص١٧٠ حديث ٣٦٥١٣“
﴿حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے درد اٹھا۔ میں آپ کی خدمت میں آیا آپ نے مجھے اپنی جگہ کھڑا کر دیا اور خود نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور اپنے لباس کا ایک کنارہ میرے اوپر ڈال دیا پھر فرمایا اے علیؓ تم شفایاب ہو گئے۔ اب تم میں کوئی مرض نہیں رہا۔ میں نے جو دعا اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے کی ہے وہی تمہارے لئے مانگی ہے اور جو دعا میں نے مانگی ہے وہ اس نے قبول فرمائی ہے۔ بجز اس کے کہ مجھ سے یہ کہہ دیا گیا ہے میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں اس طرح اٹھ کھڑا ہوا جیسے کبھی بیمار ہی نہ ہوا تھا۔ (کنز العمال)﴾
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے نبوت کی دعا فرمائی تھی اور قبول ہو گئی تھی : ” وَاجْعَلْ لِیْ وَزِيْرًا مِّنْ أَهْلِيْ ٠ هَارُوْنَ اَخِي ٠ اشْدُدْ بِهِ أَزْرِیْ ٠ وَاَشْرِكْهُ فِیْ أَمْرِیْ ٠ طہ آیت ٢٩“ اور میرے خاندان میں میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنادے ان کے ذریعہ سے میری کمر مضبوط فرما اور میرا شریک کار بنا
٤٣
دے۔ اس دعا کے بموجب ان کو نبی بنا دیا گیا تھا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد چونکہ عالم تقدیر میں یہ طے پا چکا تھا کہ اب کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس لئے یہ نامناسب تھا کہ دعا کے بعد آپ کو عالم تقدیر کے اس فیصلہ کی اطلاع دی جاتی۔ اس لئے اس سے قبل کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح آپ حضرت علیؓ کے لئے نبوت کی دعا فرماتے یہ کہہ دیا گیا کہ آپ کی ہر دعا قبول ہو گی مگر نبوت کے لئے آپ دعا ہی نہ فرمائیے۔
غور فرمائیے کہ حدیث مذکور میں موسیٰ و ہارون علیہم السلام کے ایک معمولی تشبیہ کے اثرات کتنی دور دور تک پھیل رہے ہیں اور ہر گوشہ میں ختم نبوت کا عقیدہ کس کس طرح نظر آتا چلا جا رہا ہے۔ گویا یہ ایک بنیاد ہے اور بقیہ تمام تفریعات اسی عقیدہ پر قائم ہیں۔ اگر کہیں ذرا بھی اس بنیاد کو ٹھیس لگتی نظر آتی ہے تو فوراً صفائی کے ساتھ اس کی اصلاح کر دی جاتی ہے اور معمولی سے ابہام کو بھی برداشت نہیں کیا جاتا۔ تعجب ہے کہ جہاں نبوت و رسالت کی صریح پیشگوئیوں کی بجائے اتنی گنجائش بھی نہ ہو وہاں نبوت کے دروازے نہیں بلکہ پھاٹک کھول دیئے جائیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ جب اس میں سے گزرنے والوں کی تعداد دریافت کی جائے تو بمشکل ایک شخص کا نام پیش کیا جائے اور اس میں بھی ابھی تک یہ بحث جاری ہو کہ وہ امام تھا یا مجدد یا نبی و رسول، اور اگر معتقدین کا حال چھوڑ کر کہیں خود اس کے دعوٰی کو دیکھا جائے تو ایک صحیح الفہم شخص یہ اندازہ کر ہی نہ سکے کہ اتنے مختلف دعوٰی کبھی ایک زبان سے ادا بھی ہو سکتے ہیں۔ واللہ المستعان!
لايبقى من النبوة شئی الا المبشرات
- (٤٦).......... ”عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ لَا يَبْقَى بَعْدِىْ
مِنَ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتِ قَالُوْا يَارَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا الْمُبَشِّرَاتِ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرٰی لَهُ . کذافى الكنز ج١٥ص٣٧١ حديث نمبر ١٤٢٣٤ وفي رواية البخارى عن ابى هريرة ج٢ ص١٠٣٥ باب المبشرات مسند احمد ج٦ص١٢٩“
٤٤
آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا کوئی جزء باقی نہیں رہا
صرف اچھے خواب باقی ہیں
﴿ حضرت عائشہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں کہ آپ نے فرمایا ہے میرے بعد نبوت کا کوئی جزء باقی نہیں رہا۔ صرف مبشرات باقی ہیں۔ صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہیں۔ آپ نے فرمایا اچھے خواب جو مسلمان خود دیکھے یا اس کے لئے کوئی دوسرا دیکھے۔ (کنز العمال) ﴾
انبیاء علیہم السلام کی صفت انذار بھی ہے اور تبشیر بھی۔ اس لئے قرآن کریم میں فرمایا ”رُسُلاً مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ“ اس لحاظ سے رؤیاء صالحہ کی بھی دو قسمیں ہونا چاہئیں مبشرات اور منذرات مگر چونکہ رؤیاء صالحہ کی تفسیر میں صرف مبشرات کا لفظ فرمایا گیا ہے۔ نیز جامع ترمذی اور ابن ماجہ میں روایت ہے کہ آیت : ”لَهُمُ الْبُشْرَى فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا“ میں بشریٰ سے مراد رؤیا صالحہ ہیں۔ اس بناء پر بھی رؤیاء صالحہ کا عنوان مبشرات بن گیا ہے بہر حال یہ ضروری نہیں ہے کہ سچے خواب ہمیشہ خوشی ومسرت کے متعلق ہوں۔ رنج و غم کے متعلق بھی ہو سکتے ہیں مگر رؤیاء صالحہ میں یہ حصہ مغلوب ہوتا ہے اور بشارت کا حصہ غالب۔ اس کے برعکس شیطانی خواب بیشتر خوفناک ہوتے ہیں اور مسرت وخوشی کے شاذو نادر۔ کیونکہ شیطان کا مقصود ہی تحزین مسلم ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے ایک مرفوع روایت ہے : ”الرويا الحسنة من الرجل الصالح جزء من ستة واربعين جزء من النبوة“ نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں جزء ہوتا ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ حدیث مذکور میں مسلم سے ہر فاسق و فاجر مراد نہیں بلکہ صالح اور نیک شخص مراد ہے۔
اس لئے فاسق یا کافر کا خواب اگر سچا بھی ہو تو نبوت کا جزء نہیں کہا جا سکتا۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نیک آدمی کبھی شیطانی خواب دیکھتا ہی نہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ جو شخص بیداری میں انبیاء علیہم السلام کے نقش قدم پر چلتا ہے۔ صدق
٤٥
واخلاص‘ امانت و دیانت داری اس کا شیوہ ہے۔ اندر باہر دوست و دشمن کسی کے ساتھ جھوٹ بولنا روا نہیں رکھتا۔ اس کی فطرت پر صدق و سچائی کا پورا نقش قائم ہو چکا ہے۔ وہ سونے کے بعد بھی شیطانی تسلط و حکومت کے ماتحت نہیں آتا۔ اس لئے اس کا جو خواب ہوتا ہے وہ اکثر خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اگر گاہے بگاہے اس کے خلاف ہو تو شاذ و نادر ہے۔ اس کے بر خلاف جو شخص حالت بیداری جھوٹ و دغابازی کا عادی ہے۔ وہ سونے کے حال میں بھی شیطان ہی کے زیر حکومت رہتا ہے۔ اس کے خواب بھی اکثر شیطانی اتصال و تصرف کا ثمرہ ہوتے ہیں۔ صحیح بخاری میں روایت ہے: ”الرویاء الصالحہ من اللہ والحلم من الشیطان“ اچھے خواب (جو مومن صالح کا نصیب ہے) خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے۔ خلاصہ یہ کہ انسان حالت خواب اپنے بیداری کے حالات کے تابع رہتا ہے۔ مشہور ہے کہ بلی کو خواب میں چھیچھڑے ہی نظر آتے ہیں۔ اگر اتنی بات آپ کے نزدیک معقول ہے تو یہ بھی سن لیجئے کہ جس طرح انسان حالت نوم میں بیداری کے حال کے تابع ہوتا ہے اسی طرح موت کے بعد اپنی حیات کے حالات کے تابع رہے گا : ”وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى.“ جو اس دنیا کی زندگی میں اندھا بنا رہا۔ وہ آخرت میں بھی اندھا اٹھے گا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حدیث میں یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ہر سچا خواب نبوت کا جزء ہے بلکہ اس کا خواب نبوت کا جزء قرار دیا گیا ہے جو شریعت کی اصطلاح میں صالح کہا جاسکے۔ قرطبیؒ شرح مسلم میں فرماتے ہیں کہ صالح سے مراد وہ شخص ہے جو عبادات وعادات میں انبیاء علیہم السلام کے قدم بقدم ہو۔ کاہن اور نجومی بھی غیب کی خبریں دیتے ہیں مگر وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتیں۔ اس کا نام اطلاع علی الغیب نہیں۔ اس کے اسباب پر اپنی جگہ مفصل بحث موجود ہے۔ اطلاع علی الغیب نبوت کا خاصہ ہے۔ اس کی ابتدا اچھے اور سچے خواب ہیں اور اس کی انتہاء وحی نبوت یعنی حالت بیداری خدا تعالیٰ یا فرشتہ کے ساتھ مکالمہ۔ آنحضرت ﷺ بھی نبوت سے پیشتر سچے سچے خواب دیکھا کرتے تھے۔ ٦ ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد وحی کا دور شروع ہو گیا جس کی مدت تیئیس سال ہے۔ بعض علماء نے یہ دیکھ کر کہا ٦ ماہ ٢٣ سال کا چھیالیسواں جزء ہیں۔ یہ
٤٦
کہہ دیا ہے کہ حضرت انسؓ کی حدیث میں رؤیاء مومن کو اسی لئے نبوت کا چھیالیسواں جزء کہا گیا ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں اس پر طویل گفتگو کی ہے۔ (اس پر سوال وجواب علماء کے دائرہ کی بحث ہے) باقی رہی یہ بحث کہ اگر مبشرات نبوت کا جزء ہیں تو کیا ان کو کوئی مختصر نبوت کہا جاسکتا ہے۔ اس پر آئندہ حدیث کے نوٹ میں کلام کیا جائے گا۔
ذهبت النبوة والرؤيا ليست بنبوة
(٤٧)........... ”عَنْ اُمِّ كُرْزٍ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتِ. اخرجه احمد ج٦ ص٢٨١ وابن ماجة ص٢٧٨ باب الرؤيا صالحه ...........الخ وصححه ابن خزيمة وابن حبان“
نبوت بالکل ختم ہو گئی اور صرف خواب نبوت نہیں ہیں
﴿ام کرزؒ روایت فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے خود سنا ہے نبوت تو ختم ہو گئی۔ ہاں! صرف مبشرات باقی ہیں۔ اس حدیث کو امام احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اس کو صحیح کہا ہے۔﴾
(٤٨)........... ”عَنْ اَنَسٍ رفعه اَنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ اِنْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَلَا نَبِيَّ ...........وَلٰكِنِ الْمُبَشِّرَاتِ فَقَالُوْا وَمَا الْمُبَشِّرَات قَالَ رُؤْيَا الْمُسْلِمُ جُزْءٌ مِّنْ اَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ . ترمذی ج٢ ص٥١ باب ذهبت النبوة وبقيت المبشرات كنز العمال ج١٥ ص٣٦٧ حديث ٤١٤٠٧ مسند احمد ج٣ ص٢٦٧“
﴿انسؓ آنحضرت ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ رسالت اور نبوت دونوں ختم ہو گئیں۔ اب میرے بعد نہ کوئی نبی ہو گا نہ رسول۔ لیکن مبشرات باقی ہیں۔ صحابہؓ نے پوچھا مبشرات کیا چیز ہیں۔ فرمایا مسلمانوں کے خواب۔ یہ اجزاء نبوت کا ایک جزء ہیں۔﴾
قرآن وحدیث اس پر متفق ہیں کہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔ تشریعی ہو یا غیر تشریعی۔ نبوت کی کوئی قسم اب باقی نہیں رہی۔ ہاں! اس کے کمالات وبرکات باقی رہنا چاہئیں اور وہ باقی
٢٧
بھی ہیں۔ نبوت سے قبل عالم کا ظاہر وباطن تیرہ و تاریک ہوتا ہے۔ جب آفتاب نبوت طلوع کرتا ہے تو عالم کا گوشہ گوشہ اس کے انوار سے منور ہو جاتا ہے۔ ظاہر میں ظلم و فساد کی بجائے رشد و صلاح کی حکومت ہو جاتی ہے۔ انسانی عادات میں افراط و تفریط، عجلت و جلد بازی کی بجائے متانت و بردباری، وقار و میانہ روی پیدا ہو جاتی ہے۔ باطن کا رشتہ شیطان سے یکسر کٹ جاتا ہے اور عالم بالا سے ایسا رشتہ قائم ہو جاتا ہے کہ اس میں مغیبات کے انعکاس کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ان ہی کا نام اجزاء نبوت یا آثار و برکات نبوت ہے ان اوصاف کے وجود سے کوئی شخص نبی نہیں بنتا۔ ہاں! نبی سے مستفیض کہا جاسکتا ہے۔ رؤیاء صالحہ یعنی اچھے خواب دیکھنا باطن کے اسی تاثر کی نشانی ہے اور عادات کا انقلاب ظاہر کے تاثر کی............ احادیث میں ایک طرف رؤیاء صالحہ کو نبوت کا چھیالیسواں جزء کہا گیا ہے۔ دوسری طرف بعض بلند اخلاق کو چھبیسواں جزء قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے: ”التوء دة والاقتصاد و حسن السمت من ستة وعشرين جزء من النبوة“ بردباری و متانت، میانہ روی اور اچھی روش نبوت کا چھبیسواں جزء ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان اخلاق کی وجہ سے کسی کو نبی نہیں کہا جاسکتا۔ جب چھبیسویں جزء کو نبوت نہیں کہا جاتا تو چھیالیسواں جزء کو نبوت کیسے کہا جاسکتا ہے۔ ابن جوزیؒ کہتے ہیں کہ رویاء صالحہ کو صرف تشبیہی لحاظ سے نبوت کا جزء کہا گیا ہے۔ ابن التینؒ کہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کو غیب کی خبریں وحی کے ذریعہ سے دی جاتی ہیں۔ اب یہ سلسلہ تو منقطع ہوا۔ خواب کا سلسلہ باقی ہے۔ اس اعتبار سے رؤیاء کو اجزاء نبوت میں شمار کیا گیا ہے۔ غالباً اسی وجہ سے اس حدیث کے کسی طریقہ میں رؤیاء کو رسالتہ کا جزء نہیں کہا گیا۔ ہر جگہ نبوت کا جزء کہا گیا ہے۔ رسالتہ کا زیادہ تعلق احکام سے ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ جو خواب نبوت کا چھیالیسواں جزء ہے۔ وہ ہر شخص کا خواب نہیں بلکہ خود نبی کا خواب ہے مگر یہ جواب مخدوش ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہ جزء ہمیشہ اپنے کل کے مغائر ہوتا ہے یہی کلمات جو مجموعی طور پر اذان کہے جاتے ہیں۔ علیحدہ علیحدہ اذان نہیں کہلاتے۔ عناصر اربعہ انسان کے اجزاء ہیں مگر ان میں سے کسی کو انسان نہیں کہا جاتا۔ مثلاً آب انسان کا 1/4 حصہ ہے مگر انسان نہیں تو رؤیاء صالحہ نبوت کا چھیالیسواں جزء ہو کر نبوت کیسے ہو سکتے ہیں۔ ہمارے
نزدیک یہ بات بالکل واضح ہے کہ رؤیاء صالحہ نبوت کے حقیقتاً اجزاء نہیں ہیں۔ کیونکہ نبوت کسی ایسی حقیقت مرکبہ کا نام نہیں جس کا تجزیہ و تحلیل ممکن ہو۔ وہ ایک منصب ہے جس کا تعلق صرف خدائی اصطفاء و اجتباء پر موقوف ہے۔ ہاں ! اس کے کچھ لوازم و خصائص ہیں جو اس کی ماہیت کا جزء نہیں ہوتے۔ ان خصائص و خصائل ہی کو مجازاً اجزء کہہ دیا جاتا ہے۔ یہ تنقیح بھی ہمیں اس لئے کرنی پڑتی ہے کہ اصطلاح میں خصائص واجزاء میں فرق ہے۔ ورنہ اہل عرف کے نزدیک یہ تدقیقات قطعاً غیر ضروری ہیں۔
ان کے نزدیک عوارض مختلفہ اور ذاتیات و اجزا میں کوئی فرق نہیں۔
امام بخاریؒ کی دقتِ نظر مشہور ہے۔ انہوں نے یہاں بھی ایک جدت طرازی سے کام لیا ہے۔ پہلے ترجمۃ الباب میں یہ حدیث نقل کی ہے۔ اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں جزء ہے۔ اس کے بعد یہ حدیث روایت کی ہے کہ اچھے خواب خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے۔ شارحین کو بحث ہے کہ اس حدیث کو بظاہر باب سے کوئی مناسبت نہیں۔ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ یہاں امام بخاریؒ رؤیا صالحہ کے جزء نبوت ہونے کی ایک لطیف حکمت کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں : ”انما کانت جزء من اجزء النبوة لكونها من الله تعالى بخلاف التي من الشيطان فانها ليست من اجزء النبوة فتح الباری ج ١٢ ص ٢٣٠ باب الرؤيا الصالحة جز من ستة واربعين جزء من النبوة“ یعنی رؤیاء صالحہ کو اجزاء نبوۃ اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں۔ اس کے بر خلاف وہ خواب جو شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اجزاء نبوت نہیں ہیں۔ بظاہر امام بخاریؒ کی مراد یہ ہے کہ جس طرح حالت بیداری میں وحی دو قسم پر ہے۔ ایک وحی نبوت جو خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ دوسری ایحاء شیطان : ”وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُوْنَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ . “ اسی طرح خواب کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک من اللہ دوسرے مِن الشیطان جو رؤیاء من اللہ ہیں۔ ان کا رشتہ نبوت سے ہے۔ وہ بھی خدا کی طرف سے ہوتی ہے اور جو من الشیطان ہے۔ اس کا تعلق وحی شیطان سے ہے۔ حدیث نے بھی اس مشتبہ حقیقت کا فرق واضح کیا ہے۔ یعنی جو خواب من اللہ ہیں۔ ان کا نام ٤٩
رؤیاء رکھا ہے اور جو شیطان کے تصرف سے ہیں ان کا نام حلم رکھا ہے۔ غالباً اسی لئے سورۃ یوسف میں فرمایا : ” وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِيْنَ “ یعنی انبیاء کو ” احلام “ شیطانی خوابوں کی تعبیر کا علم نہیں دیا جاتا۔ ہاں ”رؤیا“ عالم قدس کی ایک حقیقت ہے ان کی تعبیر کا علم شان نبوت کے مناسب ہے اور احلام بے حقیقت شے ہے ان سے انبیاء علیہم السلام کا کوئی واسطہ نہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ رؤیاء صالحہ نبوت نہیں بلکہ نبوت کا حقیقی جزء بھی نہیں۔ اس لئے ان احادیث میں پہلا عنوان بدل کر نبوت کو بالکل ختم کہا گیا ہے اور رؤیاء صالحہ کو جداگانہ ایک چیز قرار دیا گیا ہے۔ اصطلاح نحو کے مطابق پہلی حدیث میں استثناء کو منقطع کہا جائے گا یا اجزاء سے خصائص و آثار مراد ہوں گے۔ اگر سب کچھ تسلیم کر لیا جائے تو نبوت کے اس جزء میں کسی بڑے رتبہ یا کمال یا دعویٰ کی شرط نہیں۔ بلکہ ہر مرد صالح کا اس میں حصہ ہے۔
الالہام والتحديث مع الملائكة ليس بنبوة
- (٤٩).......... ” عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ لَقَدْ كَانَ
فِيْمَا كَانَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ نَاسٌ مُحَدَّثُوْنَ فَإِنْ يَكُ فِى أُمَّتِى أَحَدٌ فَإِنَّهُ عُمَرُ وفى رواية لَقَدْ كَانَ فِيْمَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رِجَالٌ يُكَلِّمُوْنَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُوْنُوْا أَنْبِيَاءَ فَإِنْ يَكُ فِى أُمَّتِى مِنْهُمْ أَحَدٌ فَعُمَرُ . بخاري ج١ ص٥٢١ باب مناقب عمر بن الخطاب وفى رواية مسلم عن عائشة ج٢ ص٢٧٦ باب فضائل عمر . “
الہام اور فرشتوں کے ساتھ باتیں کرنا بھی نبوت نہیں ہے
﴿ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمرؓ ہے اور بعض روایات میں ہے کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے ہوا کرتے تھے جن سے غیبی طور پر باتیں کی جاتی تھیں مگر وہ نبی نہ ہوتے تھے۔ اگر میری امت میں کوئی شخص ایسا ہے تو وہ عمرؓ ہے۔ (متفق علیہ) ﴾
٥٠
محدث اور مکلّم دونوں لفظ بصیغہ اسم مفعول ہیں۔ صحیح مسلم کے بعض طرق میں محدثون کی بجائے ”ملہمون“ اور مسند حمیدی میں حضرت عائشہؓ کی حدیث میں المہم بالصواب کا لفظ ہے اور ابن عیینہ کے شاگردوں نے اس کی تفسیر میں ”مفہمون“ کا لفظ نقل کیا ہے۔ ابو سعید خدریؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا محدث کیسا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ فرشتے ان کی زبان سے بولتے ہیں۔ علماء نے اس کی مختلف تفصیلات کی ہیں۔ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ : ”ھو الرجل الصادق الظن“ یہ وہ شخص ہے جس کا خیال اکثر صحیح ہو ”وھومن القی فی روعہ شئی من الملاء الاعلیٰ فیکون کالذی حدثہ غیرہ“ یہ شخص وہ ہے جس کے قلب میں ملائکہ مقربین کی جانب سے کوئی بات اس طرح ڈالی جائے گویا اس سے کسی نے کہہ دی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ محدث اسے کہتے ہیں جس کی زبان سے صدق و صواب بلا قصد نکلے۔ کسی نے تحدیث کا ترجمہ فراست کیا ہے۔ علماء محققین میں سے حضرت شاہ ولی اللہؒ وغیرہ نے بھی اس پر کافی کلام کیا ہے۔ ہمارے نزدیک تمام علماء نے حضرت عمرؓ کی ذات کو پیش نظر رکھا ہے۔ پھر ان کی ایک ایک خصوصیت کو اپنے خیال کے مطابق چنا ہے اور اس کو محدث کی تعریف میں شامل کر دیا ہے۔ ہمارے نزدیک مناسب یہ ہے کہ ان سب اوصاف کو یکجائی طور پر محدث کی تعریف میں داخل کر لینا چاہیے۔ یہ حقیقت حدیث سے تجاوز کر کے قرآن تک پہنچ گئی ہے۔ چنانچہ آیت : ”وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَّلَا نَبِيٍّ“ میں ابن عباسؓ ”ولا محدث“ کا لفظ اور پڑھا کرتے تھے۔ قرآن کریم میں محدث کو نبی کے بالمقابل رکھا گیا ہے۔ اسی لئے حدیث میں بھی : ”من غیران یکونوا انبیاء ٠ فتح الباری ج٧ص٤١ باب فضائل عمرؓ “ سے ان کے نبی نہ ہونے کی تصریح کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر حضرت عمرؓ کے متعلق اس حدیث کو پیش نظر رکھا جائے : ” لوکان بعدی نبی لکان عمرؓ “ اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو عمرؓ ہوتا تو یہ بات اور زیادہ صاف ہو جاتی ہے کہ محدث اور مکلّم نبی نہیں ہوتا۔ حضرت عمرؓ کا محدث ہونا اور نبی نہ ہونا دونوں باتیں حدیث سے ثابت ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ صرف ملائکۃ اللہ کا کسی سے ہم کلام ہونا یا صدق و صواب اس کی زبان پر ٥١
جاری ہو جانا نبوت نہیں ہے۔ جیسا کہ صرف غیب کی خبریں دینا نبوت نہیں یا جیسا کہ سچے خواب دیکھنا نبوت نہیں ہے۔ یہ سب باتیں انبیاء اور غیر انبیاء بلکہ مسلم و کافر میں بھی پائی جا سکتی ہیں۔ اولیاء کے مکالمات کو الہام کہتے ہیں اور نبی کے مکالمات کو وحی‘ یہ صرف اصطلاحی فرق ہے اس سے پوری حقیقت نہیں نکھرتی۔ اسی طرح قطعیت و ظنیت کے فرق سے بھی ان کی حقیقت پر کوئی روشنی نہیں پڑتی۔ یہ صرف صاحب وحی جانتا ہے کہ وحی یہ ہے اور الہام یہ۔ یہاں بھی علماء نے احادیث میں وحی کے لوازم و خصائص تلاش کر کے بہت کچھ لکھا ہے مگر انصاف یہ ہے کہ نبوت و وحی کی حقیقت سوائے نبی کے دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔ جب اشیاء خارجہ کے متعلق علماء کا فیصلہ یہ ہے کہ ان کی حدود حقیقی یا تو غیر ممکن ہیں ورنہ دشوار ضرور ہیں۔ تو روحانیات کے صحیح حدود کیسے ممکن ہیں۔ (دیکھو فتح الباری فضائل عمرؓ)
(٥٠)........." عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اِنَّهُ لَمْ یُبْعَثْ نَبِیٌّ قَطُّ اِلَّا کَانَ فِیْ اُمَّتِهِ مَنْ یُحَدَّثُ وَاِنْ یَّکُنْ فِیْ اُمَّتِیْ مِنْهُمْ اَحَدٌ فَهُوَ عُمَرُ . رواه ابن عساکر ‘ کنز العمال ج١١ ص٥٨٥ حدیث نمبر٣٢٧٨٨"
﴿ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا گیا جس کی امت میں کوئی نہ کوئی محدث نہ ہو۔ اگر میری امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمرؓ ہے۔ (کنز)﴾
(٥١)........." عَنْ عَائِشَةَ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَاکَانَ نَبِیٌّ اِلَّا کَانَ فِیْ اُمَّتِهِ مُعَلَّمٌ اَوْمُعَلَّمَانِ فَاِنْ یَّکُنْ فِیْ اُمَّتِیْ مِنْهُمْ اَحَدٌ فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . خصائص ج٢ص٤٦١ باب اخباره بان عمر من المحدثین"
﴿حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایسا کوئی نبی نہیں گزرا جس کی امت میں ایک دو معلم (محدث) نہ گزرے ہوں۔ اگر میری امت میں کوئی معلم ہے تو وہ عمر بن الخطابؓ ہے۔﴾
٥٢
سياسة الامة واصلاح مافيها من تغيير
الدين ليس بنبوة
(٥٢) ......... " عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِيْنِ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ كَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِيْلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ وَسَيَكُوْنُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُوْنَ قَالُوْا مَاذَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ قَالَ فُوْا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ أَعْطُوْهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللّٰهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ ٠ الخصائص الكبرى ص ٤١٤ ج ٢ باب اخباره ﷺ بالخلفاء بعده ثم الملوك ٠ رواه البخارى ج ١ ص ٤٩١ باب ما ذكر عن بنى اسرائيل ،ومسلم ج ٢ ص ١٦٢ باب وجوب الوفاء بيعته الخليفه الاول فالاول واحمد وابن ماجة ص ٢٠٦ باب الوفاء بالبيعة وابن جرير وابن ابى شيبه كنز العمال ج ٦ ص ٥١ حديث نمبر ١٤٨٠٥ باب فى اطاعت الامير"
امت کا انتظام اور ان کے دینی تحریفات کی اصلاح
کرنا بھی نبوت نہیں
﴿ ابو حازمؒ کہتے ہیں کہ میں ابو ہریرہؓ کے ساتھ ٥ سال رہا ہوں میں نے انہیں یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کا انتظام خود ان کے انبیاء فرمایا کرتے تھے۔ جب ایک نبی کی وفات ہو جاتی دوسرا اس کا جانشین آ جاتا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ہاں ! خلفاء ہوں گے اور وہ بہت ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا پھر ان کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے۔ فرمایا جو پہلا خلیفہ ہو اس کی بیعت پوری کرنا۔ تم تو ان کا حق ادا کرتے رہنا اور اس نگرانی کی باز پرس جو اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد کی ہے وہ خود فرمائے گا۔ (بخاری و مسلم واحمد و غیر ہم) ﴾
٥٣
حافظ ابن حجرؒ انبیاء بنی اسرائیل کی سیاست کی تشریح میں لکھتے ہیں: ”انہم کا نو اذا ظہر فیہم فساد بعث اللہ لہم نبیاً یقیم لہم امرہم ویزیل ما غیروا من احکام التوارت فتح الباری ج٦ ص ٣٦٠ باب ما ذکر عن بنی اسرائیل“ یعنی بنی اسرائیل میں جب کوئی فساد رونما ہوتا تو اللہ تعالیٰ کسی نبی کو ان میں بھیج دیتا جو ان کی اصلاح کرتا۔ اور شریعت تورات میں ان کی تحریفات کو دور کر دیتا۔ امت محمدیہ میں یہ خدمات خلفاء کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اچھے خواب دیکھنا الہام اور فرشتوں کے ساتھ مکالمہ کرنا امت کا دینی اور دنیوی نظم و نسق قائم رکھنا۔ یہ سب محدثین اور خلفاء کے وظائف ہیں۔ منصب نبوت اب ختم ہو گیا اور یہ وظائف نبوت امت محمدیہ کے خلفاء کی طرف منتقل کر دیئے گئے۔ اس سے امت محمدیہ کے کمالات اور عظمت کا اندازہ کرنا چاہئے کہ جن خدمات کے لئے پہلے انبیاء علیہم السلام بھیجے جاتے تھے اس امت کے علماء و خلفاء انہیں انجام دیا کریں گے۔
سوچو کہ امت محمدیہ کی ہتک عزت اس میں ہے کہ اسے نااہل قرار دیکر اس میں نبی پیدا کیا جائے یا اس میں کہ اس کے خلفاء وہ خدمات انجام دیں جو پہلے کبھی انبیاء علیہم السلام ادا فرمایا کرتے تھے۔ ابن عساکر نے حضرت ابن عباسؓ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”لی النبوۃ ولکم الخلافۃ“ نبوت صرف میرے لئے ہے اور تمہارے لئے خلافت ہے۔ (کنز العمال ج ١١ ص ٧٠٦ حدیث نمبر ٣٣٤٣٨) اس روایت میں آنحضرت ﷺ نے تقسیم کر کے اپنا اور امت کا حصہ علیحدہ علیحدہ بیان کر دیا ہے۔ اچھے خواب میں ہماری شرکت ہے۔ الہام اور فرشتوں سے بات چیت میں ہماری شرکت ہے۔ امت کا نظم ان کی تحریفات کی اصلاح ہمارا حصہ ہے مگر نبوت میں ہماری کوئی شرکت نہیں۔ اسی لئے حضرت علیؓ سے حضرت ہارون علیہ السلام کو تشبیہ دیتے ہوئے یہ صاف فرما دیا گیا تھا کہ تم میرے جانشین ضرور ہو مگر نبی نہیں ہو۔ نبوت میرا حق ہے اور خلافت تمہارا۔ عمر فاروقؓ کون، وہ کہ جب بولتے تھے تو وحی ان کے موافقت میں بولتی تھی محدث ہو سکتے ہیں مگر یہ بات ان سے بھی صاف کہہ دی گئی تھی کہ نبوت میرا حق ہے اور ٥٤
محدثیت تمہارا۔ حالانکہ ان کے خواب ان کے الہام ان کی امت کی نگہداشت و حفاظت اس کی سفارش کر رہی تھیں کہ اگر اس امت میں کوئی ہلکی سے ہلکی نبوت بھی جاری ہو تو وہ ان کو دے دی جائے۔ شب ہجرت میں حضرت علیؓ آپ کے بستر پر ساری رات آپ کی جگہ قربان ہونے کے شوق میں پڑے ہوئے ہیں۔ صدیق اکبرؓ راہ کے ہر ہر خطر ناک موقع پر سر بکف حاضر ہیں مگر فنافی الرسول کے سمندر کے ان شناوروں کو نبوت کا چھوٹا سا چھینٹا موتی بھی ہاتھ نہ آیا بلکہ اگر کسی کے متعلق سیاق کلام میں نبوت کا کوئی ادنیٰ احتمال بھی پیدا ہوتا نظر آیا تو اس کو بڑی صفائی سے دور کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ کسی کے لئے لفظ نبی کی کوئی بھی گنجائش نہیں دی گئی۔ اس لئے یہاں ظلی و بروزی نبوت کی بحث کرنا بھی بالکل بے معنی ہے۔ یہ بحث اس وقت قابل توجہ ہو سکتی ہے جبکہ شریعت میں کہیں امت کے کاملین پر نبی کا اطلاق درست تسلیم کیا جائے لیکن جب بلا تفصیل : ”لا نبی بعدی“ میرے بعد کوئی نبی نہیں کہہ دیا گیا ہے تو اب ہمیں بلاوجہ ظلی و بروزی کی تقسیم کی درد سری اٹھانے کی حاجت نہیں ہے۔ اس کے ماسوا یہ بھی قابل غور ہے کہ جب تاریخ نبوت میں صرف دو ہی قسم کی نبوتیں ملتی ہیں۔ تشریعی، غیر تشریعی، اور یہ دونوں براہ راست نبوتیں ہیں تو نبوت کی اب ایک اور تیسری قسم تراشنا تاریخ نبوت کے خلاف ہے۔ اس کے لئے بہت زبردست شرعی ثبوت درکار ہیں۔ پورے وثوق و تحدی کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن و حدیث میں ایک آیت اور کوئی ایک حدیث بھی دستیاب نہیں ہو سکتی جس میں آنے والی امت کو انبیاء کہا گیا ہو۔ پھر خاتم النبیین کے عموم میں محض اپنی اختراعی تقسیم کی وجہ سے تخصیص پیدا کرنا قرآن دانی کا ثبوت نہیں بلکہ کھلی ہوئی تحریف ہے۔
لوکان بعد النبی ﷺ نبی لکان عمرؓ
- (٥٣).......... ”عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ
لَوْكَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ٭ رواہ الترمذی ج ٢ ص ٢٠٩ باب مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب والخطیب عن مالك والطبرانی ج ١٧
٥٥
ص ١٨٠ حدیث نمبر ٤٧٥ عن عصمة بن مالك كما في الكنز ج ١١ ص ٥٧٨ حدیث نمبر ٣٢٧٤ باب فضل عمر بن الخطاب“
اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتے
﴿عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطابؓ ہوتے۔﴾
حضرت علیؓ کو آنحضرت ﷺ سے نسبت اخوت حاصل تھی اس کے باوجود وہ نبی نہیں بن سکے۔ نسبت اخوت سے بڑھ کر ابنیت کی نسبت ہے۔ گمان ہو سکتا تھا کہ آپ کا کوئی فرزند ہوتا تو شاید وہ نبی ہو جاتا مگر ان کے متعلق بھی حدیث میں یہ ارشاد ملتا ہے : ” لو عاش ابراهيم لكان صديقا نبيا . ابن ماجه ص ١٠٨ كنز العمال ج ١١ ص ٤٦٩ حدیث نمبر ٣٢٢٠ ”اگر ابراہیم جیتا تو صدیق نبی ہوتا۔ یعنی جس نے ختم نبوت مقدر فرمائی تھی اس نے ان کے لئے عالم تقدیر میں اتنی عمر بھی نہیں لکھی کہ ان کی علو استعداد ظاہر ہو اور ختم نبوت سے ٹکرائے۔ اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ آپ کے بعد نبوت باقی ہے۔ ورنہ حضرت ابراہیم (فرزند نبی کریم ﷺ) کیسے نبی ہو سکتے تھے۔
یہاں شیخ محی الدین نووی تو اپنی مشہور کتاب تہذیب الاسماء میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ کرتے ہوئے اس حدیث کے متعلق یہ لکھ گئے ہیں : ” اما ما روى عن بعض المتقدمين لو عاش ابراهيم لكان نبيا فباطل وجسارة على الكلام فى المغيبات مجازفة وهجوم على عظيم من الذلات والله المستعان (ج ١ ص ١٠٣) ”بعض متقدمین سے حضرت ابراہیم کی نبوت کے متعلق جو حدیث مروی ہے وہ بالکل بے اصل اور غیب کے معاملات میں بڑی دلیری اور اٹکل کے تیر اور بڑی لغزش ہے لیکن حافظ ابن حجرؒ فتح الباری ج ١٠ ص ٧٧٤ باب من سمی باسماء الانبیاء کے ذیل میں اسی کے ہم معنی اور چند احادیث نقل کر کے تحریر فرماتے ہیں : ” فهذه عدة احاديث صحيحة عن هولاء الصحابة انهم اطلقوا ذالك فلا ادرى مالذى
٥٦
حمل النووی ...... علی استنکار ذلک ” ان چند صحابہ سے کئی حدیثیں اس مضمون کی ثابت ہیں جن میں حضرت ابراہیم کی زندگی کی تقدیر پر ان کے نبی ہونے کا ذکر موجود ہے۔ پھر معلوم نہیں کہ نووی کو اس کے انکار کی کیا وجہ پیش آئی۔ اس لئے اس حدیث میں پس و پیش کرنے کی تو کوئی وجہ نہیں ہے۔ جن حضرات کو اس حدیث میں تشویش لاحق ہوئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث آیت خاتم النبیین کے بظاہر مخالف معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے قرآن کی قطعی آیت کے بالمقابل قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ ہمارے نزدیک ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ آیت خاتم النبیین کا تعلق عالم کے ان نبوتوں کے ساتھ ہے جو اپنی جگہ ایک حقیقت ثابتہ ہیں۔ اس کے بر خلاف حضرت ابراہیم کی نبوت صرف فرضی ہے۔ فرضی بات چونکہ محض ایک اعتبار ذہنی کا نام ہے۔ اس لئے اسے عالم کے واقعی نبوتوں کے ساتھ کوئی تعارض نہیں ہو سکتا۔ اس کی ایک منطقی مثال یہ ہے :"ان کان زید حمارا کان ناھقا" اگر زید گدھا ہوتا تو وہ گدھے ہی کی طرح بولتا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ زید انسان ہے اور اس لئے وہ گدھے کی آواز نہیں بولتا۔ یہ واقعہ بھی اپنی جگہ درست ہے۔ ہاں ! اگر زید کی انسانیت کے ساتھ ہی ساتھ اس کی حماریت کو مان لیا جائے تو اب یقیناً تعارض پیدا ہو جائے گا کیونکہ بیک وقت وہ ناطق اور ناہق دونوں نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ختم نبوت اپنی جگہ ایک حقیقت ثابتہ ہے اگر حضرت ابراہیم کی نبوت اسی درجہ میں مان لی جائے۔ تو یقیناً تعارض پیدا ہو جائے گا ورنہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ درست رہیں گی۔ ختم نبوت خارج میں اور نبوت ابراہیم فرضی طور پر، اصل یہ ہے کہ جب کوئی متکلم کسی بات کا کوئی پہلو واقعات عالم کے بر خلاف فرض کرتا ہے تو اس فرض سے اس کا کچھ مقصد ہوتا ہے۔ پہلے اس کے اس مقصد کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہئے اور صرف ایک فرضی پہلو کی وجہ سے اس کے تمام پہلوؤں کی فرضی تفصیلات میں جانا نہیں چاہئے۔ ظاہر ہے کہ جب عالم میں واقعات کی ایک ترتیب پہلے سے موجود ہے۔ اب اگر اس ترتیب کے خلاف کوئی امر فرض کیا جائے اور اس کو واقعات کی اسی مرتب صف میں ٹھونسنے کی کوشش کی جائے تو یقیناً اس مرتب سلسلہ میں اختلال و بد نظمی پیدا ہو جائے گی۔ یہاں واقعہ تو یہ ہے کہ
٥٧
آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ آپ کے فرزند بھی انتقال فرما گئے ہیں۔ عالم کے ان دونوں واقعات میں کوئی تعارض نہیں کوئی اختلاف نہیں۔ اب اگر صرف آپ کی عظمت شان اور ان کا جوہر استعداد سمجھانے کے لئے فرضی طور پر یہ کہہ دیا جائے کہ وہ جیتے تو نبی ہوتے تو اس میں بھی کوئی اشکال کی بات نہیں لیکن اسی فرضی نبوت کو اگر عالم کے ان واقعات کے ساتھ رکھ دو جو بلا فرض کئے ہوئے موجود ہیں تو یقیناً وہ خارجی ترتیب بگڑ جائے گی۔ اب غور طلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کی فرضی نبوت کی وجہ سے ختم نبوت کے واقعی عقیدہ کو فرضی کہہ دیا جائے یا اس کو واقعی اور اس کو فرضی کہہ دیا جائے۔ مقصود قائل سے یہ کتنا بعید ہو گا کہ وہ اپنی ختم نبوت کے ساتھ ایک ہستی کا پورا اعتقاد عظمت قائم کرنا چاہتا ہے۔ آپ ختم نبوت کا انکار کر کے اسی کا احترام ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک فرضی نبوت کا تصور آپ کے سامنے لاتا ہے۔ آپ اسے واقعی بنا کر ختم نبوت کا عقیدہ ہی فرضی بنائے دیتے ہیں۔ اچھا آپ کے بقول مان لیجئے کہ حضرت ابراہیم اگر زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ آئیے دیکھیں کہ جن کی فطرت ابراہیمی فطرت سے بہت ہی ملتی جلتی تھی اور وہ زندہ بھی رہے پھر کیا نبی بنے۔ ترمذی کی حدیث آپ کے سامنے ہے۔ عمر فاروق ؓ کی فطرت کو نبوت سے جتنی مناسبت ہے وہ خود آنحضرت ﷺ کے بیان سے ظاہر ہے۔ یہ زندہ بھی رہے مگر نبی نہ بنے۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ کسی مستعد نبوت کے نبی نہ ہونے کی اصل وجہ صرف اس کی موت نہیں ہے۔ ورنہ جہاں یہ وجہ نہ تھی وہاں نبوت مل جانا چاہئے تھی۔ غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی منصب پر تقرر کے لئے ذاتی استعداد و صلاحیت کے علاوہ دو باتوں کی اور بھی ضرورت ہے۔ عمر Age ہر شعبہ میں عمر کی بحث ضروری سمجھی جاتی ہے۔ دوم تقرر کی جگہ Vacancy خالی ہونا بھی شرط ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ دونوں نبی نہیں ہوئے۔ اگر اس کی وجہ یہ ہوتی کہ ان حضرات میں اتنی لیاقت و استعداد ہی نہ تھی تو یقیناً یہ اس امت کا نقصان شمار ہوتا لیکن اگر کوئی Vacancy تقرر کی جگہ ہی نہیں ہے تو اس میں امت کا کوئی قصور نہیں نکلتا۔ یہ بات حکومت کے نظم و نسق کے متعلق ہے کہ وہ کسی عہدہ پر کتنے اشخاص کا تقرر کرنا چاہتی ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم کو بھی نبوت نہیں ملی۔ کیوں نہیں ملی؟۔ کیا
٥٨
اس لئے کہ خاتم الانبیاء علیہم السلام کے اس جگر پارہ میں استعداد کا کوئی نقصان تھا۔ نہیں اس لئے کہ ان میں عمر Age کی کمی تھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ نبی کی ذریت اس کا قبیلہ بلکہ اس کی عام امت میں بھی استعداد نبوت تو موجود ہے۔ انتہائی بلند سے بلند کمال اسے حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ختم نبوت کا کوئی شخص یہ مطلب تو نہ سمجھے کہ یہ امت کمالات سے محروم ہو گئی ہے۔ بلکہ تمام تر کمالات اور پوری لیاقت کے باوجود چونکہ اب کوئی Vacancy نہیں رہی۔
اس لئے اس منصب پر کسی کا تقرر نہیں ہو سکتا۔ حضرت ابراہیم کے معاملہ میں تقرر کی جگہ ہونے نہ ہونے کی بحث سے پہلے عمر کی بحث حائل ہو گئی تھی۔ اس لئے ان کے حق میں Vacancy کی بحث دوسرے نمبر کی بحث تھی۔ حضرت عمرؓ کے معاملہ میں عمر کی بحث نہ تھی تو منصب نبوت ختم ہونے کا مرحلہ سامنے آگیا۔ بہر صورت ان مختلف اسباب و وجوہ کے باوجود جو واقعہ تھا وہ اپنی جگہ واقعہ رہا۔ یعنی ختم نبوت بلا تخصیص اپنے پورے عموم پر باقی رہی اور یہ بعد کی بحثیں اب صرف ذہنی رہ گئیں کہ فلاں کو نبوت کیوں نہیں ملی۔ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد در حقیقت نبوت جاری تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کی تئیس سالہ پیہم سعی کے بعد بھی کسی ایک کو نبوت نہ مل سکی۔ اگر حضرت ابراہیم کے لئے کوئی عذر درپیش تھا تو کیا تمام کے تمام صحابہ معذور ہو گئے تھے۔ پھر حضرت ابراہیم کے معاملہ میں ان کی حیات کا عذر اس لئے نہیں ہے کہ دراصل نبوت سے وہی ایک بات مانع تھی بلکہ یہاں اس بات کو بتلانا مقصود ہے جو خاص ان کے حق میں نبوت سے مانع آگئی۔ اگر یہ کہا جاتا کہ ابراہیم اگر جیتے تو بھی نبی نہ ہوتے تو ممکن تھا کہ کوئی شخص اسے ان کی قصور استعداد و لیاقت پر محمول کر لیتا۔ حالانکہ یہاں لیاقت و استعداد میں کوئی کمی نہ تھی۔ اس لئے ایسے پیرایہ بیان سے احتراز کر کے وہ پیرایہ اختیار کیا گیا ہے جو ان کی لیاقت پر روشنی ڈالے۔ یہاں ملا علی قاریؒ بلا وجہ حضرت ابراہیم کی فرضی نبوت کے اور دوسرے فرضی پہلوؤں کی تفصیلات میں بھی پڑ گئے ہیں۔ یعنی انہوں نے یہ بحث شروع کر دی ہے کہ اگر وہ زندہ رہتے اور فرض کر لو کہ نبی ہو جاتے تو آخر کس قسم کے نبی ہوتے۔ تشریعی یا غیر تشریعی۔ یہ سب بحثیں ہمارے نزدیک بے محل ہیں۔ حضرت ابراہیم کی فرضی نبوت کا پہلو یہاں صرف ایک خاص مقصد کے پیش
٥٩
نظر ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی بقیہ تفصیلات میں جانا قطعاً غیر ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ تاریخ نبوت بتلاتی ہے کہ نبوت افراد و اشخاص سے منتقل ہو کر ذریت ابراہیم علیہ السلام میں پھر ذریت ابراہیم سے ذریت اسماعیل میں منتقل ہوئی۔ اب اگر نبوت آئندہ جاری رہتی تو اس کو طبعاً آنحضرت ﷺ کی ذریت میں منتقل ہونا چاہئے تھا۔ اگرچہ یہ لزوم نہ عقلی ہے نہ نقلی۔ لیکن صرف نبوت کی تاریخ کی مناسبت یہ چاہتی ہے کہ اگر آئندہ نبوت منتقل ہو تو حضور ﷺ کے بعد اب آپ کے فرزند مبارک کی طرف منتقل ہو۔ اس استعداد و مناسبت کے اظہار کے لئے یہ فرمایا گیا تھا کہ اگر حضرت ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ ان مقاصد کے پیش نظر یہ کہنا کہ اگر آپ جیتے جب بھی نبی نہ ہوتے بالکل بے معنی بات تھی یہ اس وقت مناسب تھا۔ جبکہ آپ کو ختم نبوت کا مسئلہ بیان کرنا مقصود ہوتا۔ یہاں تو یہ بتلانا مقصود تھا کہ تاریخ نبوت جس بات کو چاہ رہی تھی اس کا اقتضاء یہاں پورا ہے۔ خاتم النبیین کے فرزند گرامی کے متعلق جتنی بلندی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے وہ اس سے آگے ہیں۔ چونکہ انتقال نبوت کا یہ مخصوص تخیل حضرت عمرؓ کے حق میں قائم کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ اس لئے ان کا جوہر استعداد بتلانے کے لئے دوسرا عنوان اختیار کیا گیا اور وہاں ختم نبوت ہی پر زور دیا گیا۔ یعنی اگر کہیں نبوت ختم نہ ہوتی تو یہ اپنے کمالات و لیاقت کے لحاظ سے اس کے اہل تھے کہ انہیں منصب نبوت سے سرفراز کر دیا جاتا جنہیں موارد کلام سمجھنے کا سلیقہ حاصل تھا۔ انہوں نے اس فرق کو خوب سمجھ لیا تھا۔ وہ حضرت ابراہیم کے متعلق اس حدیث سے یہ نہیں سمجھے کہ آپ کے بعد نبوت جاری ہے بلکہ انہوں نے اس کو یوں حل کر لیا کہ جب عالم تقدیر میں ختم نبوت مقدر ہو چکی تھی تو اس کے مناسب یہی تھا کہ عالم تکوین میں حضرت ابراہیم کو عمر نبوت نہ دی جائے تاکہ جوان ہو کر پھر آپ کا نبی ہونا مناسب ہو اور آپ کا جوہر استعداد سمجھانے کے لئے آپ کی حیات فرض کر کے یہ کہلا دیا جائے کہ آپ کی فطرت تو نبی کی فطرت تھی مگر چونکہ زمانہ نبوت باقی نہ تھا۔ اس لئے عمر نبوت مقدر نہ ہوئی۔
خلاصہ یہ کہ یہاں ختم نبوت کا مسئلہ چھیڑنا مقصود نہیں تھا۔ اگر آپ کو اس بحث میں پڑنا ہے تو پہلے اس پر بھی غور کیجئے کہ مشیت ایزدی نے حضرت ابراہیم کی حیات کا آخر
٦٠
ارادہ کیوں نہیں کیا۔ عطاء فرماتے ہیں : ” ان اللہ تعالیٰ لما حكم ان لا نبی بعدہ لم يعطه ولد ذكر ايصير رجلا ٠ معالم التنزيل ج٣ص١٧٨ زیر آیت ماکان محمد ............ الخ “ جب اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر فرمایا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہو تو آپ کو کوئی ایسی نرینہ اولاد بھی نہ دی جو جوانی کی عمر کو پہنچتی : ” عامر شعبی آیة ماکان محمد ............ الخ “ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” ماکان لیعیش له فيكم ولد ذكر ٠ ترمذی ج٢ص١٥٢ تفسیر احزاب “ یہ آپ کی شان (ختم نبوت) کے مناسب ہی نہ تھا کہ آپ کی کوئی نرینہ اولاد زندہ رہتی۔ اسماعیل فرماتے ہیں : ”قلت لابن أبى اوفى رائيت ابراهيم بن النبى ﷺ قال مات صغیر ولو قدران يكون بعد محمد ﷺ نبى عاش ابنه لكن لا نبی بعدہ بخاری ج٢ص٩١٤ باب من سمی باسماء الانبیاء “ میں نے ابن اوفی سے پوچھا آپ نے ابراہیم آپ ﷺ کے فرزند مبارک کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا ان کا لڑکپن ہی میں انتقال ہو گیا تھا۔ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی اور نبی مقدر ہوتا تو آپ کے فرزند مبارک جیتے رہتے لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے : ” عن انسؓ قال لوبقی لکان نبياً ولکن لم یکن لیبقی لان نبیكم آخرالانبیاء ٠ مسند احمد، الحاوی للفتاویٰ ج٢ص٩٩ فتح الباری ج١٠ص٤٧٧ باب من سمی باسماء الانبیاء “ انسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم اگر جیتے تو نبی ہوتے لیکن وہ کیسے جیتے ۔ جبکہ آپ نبیوں میں آخری نبی قرار پا چکے تھے۔ شیخ اکبرؒ فرماتے ہیں : ” الا تراہ صلی اللہ علیہ وسلم ماعاش له ولد ذکر من ظهره تشریفا لہ لکونه سبق فی علم الله انه خاتم النبيين ٠ فتوحات مکیه ج٣ص٥١٣ باب ٣٨٢ “ کیا تم نہیں دیکھتے کہ صرف آپ کی تشریف و تکریم کے لئے آپ کی نرینہ اولاد زندہ نہ رہی ۔ کیونکہ خدا کے علم میں یہ طے پا چکا تھا کہ آپ خاتم النبیین اور آخری نبی ہیں۔ اگر وہ زندہ رہتے اور نبی نہ ہوتے تو ایک لحاظ سے یہ بھی آپ کی شان کے مناسب نہ تھا اور اگر نبی ہوتے تو یہ آپ کے خاتم النبیین ہونے کے مناسب نہ ہوتا۔ اس لئے ان کے لئے عمرِ نبوت ہی مقدر نہ ہوئی۔
٦١
ان بیانات سے ثابت ہے کہ صحابہ و تابعین اور علماء محققین کے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نبی نہ ہونے کا اصل سبب وہی تھا کہ اب منصب نبوت کے تقرر کے لئے کوئی Vacancy جگہ ہی باقی نہیں رہی مگر جو مخصوص عنوان یہاں اختیار کیا گیا ہے۔ اس کی مصلحت اور ہے۔
من زعم بعد النبی ﷺ انه نبی فهو کذاب
- (٥٣)............ ”عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ إِنَّهُ سَيَكُوْنُ
فِىْ أُمَّتِىْ كَذَّابُوْنَ ثَلاثُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِىٌّ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيّيْنَ لاَنَبِىَّ بَعْدِىْ“. رواه مسلم عن ابوهريرة ج٢ص٣٩٧ كتاب الفتن واشراط الساعة ترمذی ج٢ ص٤٥ باب ماجاء لاتقوم الساعة حتّی یخرج کذابون‘ مسند احمد ج٥ص٢٧٨ درمنثور ج٥ص٢٠٤ زیر آیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم“
جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد یہ گمان رکھتا ہے کہ وہ نبی ہے
وہ پرلے درجہ کا جھوٹا ہے
﴿ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے آئندہ میری امت میں تیس سخت جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ان میں ہر ایک اپنے متعلق گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں سب نبیوں کے آخر میں آیا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
- (٥٥)............ ”عَنْ أَبِىْ بَكْرَةَ قَالَ أَكْثَرَ النَّاسُ فِىْ أَمْرِ مُسَيْلِمَةَ
الْكَذَّابِ قَبْلَ أَنْ يَّقُوْلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ فِيْهِ شَيْئًا ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ فِى النَّاسِ فَاَثْنٰى عَلَى اللّٰهِ بِمَا هُوَ اَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ اَمَّا بَعْدُ فِىْ شَأْنِ هٰذَا الرَّجُلِ الَّذِىْ قَدْ اَكْثَرْتُمْ فِىْ شَأْنِهِ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلاَثِيْنَ يَخْرُجُوْنَ قَبْلَ الدَّجَّالِ . رواه الطحاوی فی مشکل الاثار ج٢ ص١٠٤ مسند احمد ج٥ص٣٦“
٦٢
حضرت ابو بکرؓ سے روایت ہے کہ مسیلمہ کذاب کے معاملہ میں آنحضرت ﷺ کے کچھ فرمانے سے پیشتر لوگوں میں بڑی چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔ ایک دن آپ نے خطبہ دیا اور بعد حمد و صلوٰۃ کے فرمایا! جس شخص کے بارے میں تم رائے زنی کر رہے ہو وہ ان تیس جھوٹوں میں ایک جھوٹ ہے جو دجال اکبر سے پہلے آئیں گے۔
(مشکل الآثار)
- (٥٦)........... ”عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ
لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰى يَخْرُجَ ثَلَاثُوْنَ كَذَّابًا دَجَّالاً مِنْهُمُ الْمُسَيْلَمَةُ وَالْعَنْسِىُّ وَالْمُخْتَارُ۔ ابو یعلیٰ، فتح الباری ج٦ ص٤٥٤ باب علامات النبوة وفي رواية كنز العمال عن الزهری ج١٤ ص١٩٩ حدیث نمبر ٣٨٣٧٤“
عبد اللہ بن الزبیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت اس وقت تک نہیں آ سکتی جب تک کہ تیس جھوٹے دجال نہ نکل آئیں جن میں مسیلمہ، عنسی اور مختار بھی ہیں۔
انبیاء علیہم السلام کے بیان میں ان کے اندازہ علم و یقین کے مطابق ایک طاقت و شوکت ہوتی ہے۔ وہی یہاں ظاہر ہو رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چونکہ علم ازلی میں دجالین کی آمد ثابت ہو چکی ہے۔ اس لئے قیامت کے آنے سے پہلے ان کی آمد یقینی امر ہے۔ دنیا کو چاہئے کہ وہ ان کا انتظار کر کے تھک نہ جائے۔ رہی یہ بات کہ اس امت میں دجالوں کی اتنی کثرت کیوں ہے تو جو اور فتنوں کے متعلق جواب دیا جائے گا۔ وہی جواب اس فتنے کے متعلق بھی ہو جائے گا۔ ایک سطحی بات یہ ضرور معلوم ہوتی ہے کہ جب اس امت میں نبوت کا ختم ہونا مقدر ہوا تو اس کا مقابلہ بھی شیطانی طاقتوں کے لئے ضروری ہو گیا۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ دنیا کے آخری دور میں پھر ایک ایسی عام وحدت پیدا کر دے جیسا آغاز عالم میں ایک مرتبہ ظاہر ہو چکی ہے۔ نسل انسانی ایک ہی باپ کی اولاد تھی جیسا روز اول وہ ایک ہی دین پر تھی۔ آخر میں پھر اس کا ایک ہی کلمہ ایک ہی قبیلہ اور ایک ہی دین ہو جائے۔ درمیان میں نبوتوں اور رسالتوں کے تفاوت سے شریعت اور منہاج کا جو تفاوت پیدا ہو گیا تھا وہ سب ختم ہو کر صرف ایک شریعت اسلام باقی رہ جائے۔ اتنی عظیم وحدت کو شکست دینے کے لئے شیطانی
لشکروں کو بھاگ دوڑ کرنا ضروری تھا۔ اس لئے اس عام نبوت کے بالمقابل نبوت کا دعویٰ کرنا لازم ہو گیا۔ اس پیشگوئی کا ظہور آپ کے عہد مبارک سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ مسیلمہ اور عنسی آپ ﷺ کے زمانہ میں ہی ظاہر ہوئے اور آپ ﷺ کے حکم کے ماتحت صحابہؓ نے ان کو کاذب سمجھا اور آخر کار جو دجالین کے ساتھ برتاؤ چاہئے تھا وہی ان کے ساتھ کیا گیا۔ رہی یہ بحث کہ دجالوں کے تیس ہونے میں ہی کیا حکمت ہے حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں :
”وليس المراد بالحديث من ادعى النبوة مطلقاً فانهم لا يحصون كثرةً لكون غالبهم ينشا لهم ذلك عن جنون وسوداء وانما المراد من قامت له شوكته ، فتح الباري ج ٦ ص ٤٥٥ باب علامات النبوة فى الاسلام“
﴿حدیث مذکور میں مدعین نبوت سے ہر مدعی نبوت مراد نہیں۔ کیونکہ مدعی نبوت تو بے شمار ہیں۔ بیشتر یہ دعوے جنون یا سوداویت کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں مراد وہ مدعین نبوت ہیں جو باشوکت ہوں گے۔ ان کا مذہب تسلیم کیا جائے گا۔ ان کے متبعین کی تعداد زیادہ ہو گی۔﴾
نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جس امت میں لاکھوں اور کروڑوں سے متجاوز اولیاء و اقطاب گزر گئے ہوں۔ اس میں تیس دجالوں کا عدد کچھ زیادہ بھی نہیں ہے۔ غور طلب تو یہ ہے کہ اگر آپ کے بعد نبوت کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی قسط بھی باقی تھی تو اس کی بشارت کے لئے آخر ایک حدیث بھی کیوں نہیں آئی اور کذابین و دجالین کے متعلق دسیوں حدیثیں کیوں آگئیں پھر حدیث نمبر ١٦٦ میں ان کے کاذب ہونے کی وجہ یہ نہیں بتلائی گئی کہ وہ درحقیقت نبی نہ ہوں گے بلکہ یہ قرار دی گئی کہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ ایک طرف تو احادیث میں ہر قسم کی نبوت کی نفی آرہی ہے۔ ہر مدعی نبوت کو کذاب و دجال کہا جا رہا ہے۔ دوسری طرف کسی حدیث سے ظلی و بروزی کی تقسیم ثابت نہیں ہوتی۔ تاریخ نبوت میں ظلی نبی کوئی نظر نہیں آتا۔ پھر آخر کس دلیل سے نبوت کی ایک تیسری قسم مان کر اس کو جاری قرار دیا جائے۔ یہاں یہ تفتیش بھی ضروری ہے کہ نبوت کی جو قسم بھی تسلیم کی جائے اس کا آغاز کب سے ہوا۔ تاریخی لحاظ سے وہ
٦٤
افراد کون سے تھے جن کو ظلی نبی کہا جاسکتا ہے اور کیا یہ ثابت ہے کہ انہوں نے اپنی نبوت پر ایمان لانے کی امت کو دعوت دی ہو اور کیا کسی ایسے نبی کی امت نے کبھی تصدیق کی ہے۔ اگر ایسا کوئی نبی اب تک نہیں گزرا اور اگر گزرا ہے تو امت نے ہمیشہ اس کی تکذیب ہی کی ہے تو پھر کس دلیل سے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ در حقیقت اس امت میں نبوت کی کوئی قسم جاری ہے اور اتنی کثرت کے ساتھ جاری ہے کہ ان کی آمد دجالین کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ یہاں انجیل کا بیان بھی حدیث ہی کے موافق ہے۔
”جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں۔ ان کے پھلوں سے تم انہیں پہچان لو گے۔ کیا جھاڑیوں سے انگور یا اونٹ کٹاروں سے انجیر توڑتے ہیں۔“ (متی باب ٧ آیت ١٥‘ ١٦)
جس قدرت نے اس عالم کو تماشا گاہ اضداد بنایا ہے نور کے مقابلہ میں ظلمت‘ تری کے مقابلہ میں خشکی‘ صحت کے مقابلہ میں مرض‘ بلندی کے مقابلہ میں پستی پیدا فرمائی ہے۔ اسی نے عالم روحانیت میں ہدایت کے مقابلہ میں ضلالت‘ ملائکہ کے مقابلہ میں شیاطین‘ انبیاء علیہم السلام کے مقابلہ میں دجالین بنائے ہیں۔ پس جس طرح خاتم الرسل کی آمد سب رسولوں کے بعد ہوئی ہے اسی طرح مناسب ہے کہ دجال اکبر کے ظہور سے پہلے جو دجالین آنے ہیں آجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ دجال اکبر یعنی خاتم الدجاجلہ کا ظہور خاتم الرسل کے عہد میں ہی مقدر ہوا۔ تاکہ دنیا کے خاتمہ پر ہدایت و ضلالت کی آخری طاقتیں زور آزمائی کر کے ختم ہو جائیں پھر قیامت آجائے۔ ولله الحكمة البالغه!
خاتم النبیین
جہان کا سردار آگیا۔ اب کوئی رسول یا نبی نہیں آئے گا۔ دنیا اس کے زیر رسالت و سیادت ختم ہو جائے گی۔ عالم کی آبادی کا دارو مدار اس کی ہدایت پر ہے اور کارخانہ ہدایت تمام کا تمام رسولوں کی ذات سے وابستہ ہے۔ اس لئے عالم کی ابتداء و انتہاء اور رسالت کی ابتداء و انتہاء میں بڑا گہرا ربط ہے۔ پروردگار عالم نے جب ایک طرف عالم کی بنیاد رکھی تو اس کے ساتھ
٦٥
ساتھ دوسری طرف قصر نبوت کی پہلی اینٹ بھی رکھ دی۔ یعنی عالم میں جس کو اپنا خلیفہ بنایا تھا اسی کو قصر نبوت کی خشت اول قرار دیدیا۔ ادھر عالم بتدریج پھیلتا رہا ادھر قصر نبوت کی تعمیر ہوتی رہی۔ آخر کار عالم کے لئے جس عروج پر پہنچنا مقدر تھا پہنچ گیا ادھر قصر نبوت بھی اپنے جملہ محاسن اور خوبیوں کے ساتھ مکمل ہو گیا اور اس لئے ضروری ہوا کہ جس طرح عالم کی ابتداء میں رسولوں کی بعثت کی اطلاع دی گئی تھی اس کی انتہاء پر رسولوں کے خاتمہ کا بھی اعلان کر دیا جائے۔ تاکہ قدیم سنت کے مطابق آئندہ اب کوئی شخص رسول کی آمد کا انتظار نہ کرے :
”يٰبَنِيْ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَمَنِ اتَّقٰى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ٠ الاعراف آیت ٣٥“
﴿اے آدم کی اولاد ! (دیکھو) تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول آئیں گے جو میری آیتیں تمہیں پڑھ پڑھ کر سنائیں گے۔ جس نے تقویٰ کی راہ اختیار کی اور نیک رہا تو اس پر نہ گزشتہ کا خوف نہ آئندہ کا غم﴾
اس اعلان کے مطابق خدا کی زمین پر بہت سے رسول آئے مگر کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خاتم النبیین ہے بلکہ ہر رسول نے اپنے بعد دوسرا رسول آنے کی بشارت سنائی۔ حتیٰ کہ وہ زمانہ آگیا جبکہ اسرائیلی سلسلہ کے آخری رسول نے اسماعیلی سلسلہ کے اس رسول کی بشارت دے دی۔ جس کا اسم مبارک احمد تھا : ” وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ اَحْمَدُ ٠ آیت الصف ٦“
عالم کے اس منتظر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس مبشر رسول نے دنیا میں آ کر ایک نیا اعلان کیا اور وہ یہ تھا کہ میں اب آخری رسول ہوں۔ خود عالم کا زمانہ بھی آخر ہے اور ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح قریب قریب ہیں۔ عالم اپنے پورے عروج کو پہنچ چکا ہے۔ قصر نبوت میں ایک ہی اینٹ کی کسر باقی تھی۔ وہ میری آمد سے پوری ہو گئی ہے۔ دونوں تعمیریں مکمل ہو گئیں ہیں۔ اب صلاح و تقویٰ کا نتیجہ دیکھنے کا زمانہ آتا ہے۔ قرآن کریم میں آپ کی ختم نبوت کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا ہے :
٦٦
”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا ٠ احزاب آیت ٤٠“ یعنی اب تک جتنے رسول آئے وہ صرف رسول اللہ تھے۔ آپ رسول اللہ ہونے کے علاوہ خاتم النبیین بھی ہیں۔ اس بنا پر آنحضرت ﷺ کے تصور کے لئے دو باتوں کا تصور ضروری ہے۔ یہ کہ آپ رسول اللہ ہیں اور یہ کہ آپ خاتم النبیین بھی ہیں۔ آپ کے متعلق صرف رسول اللہ کا تصور آپ کی ذات کا ادھورا اور ناتمام تصور ہے۔ بلکہ ان ہر دو تصورات میں آپ کا امتیازی تصور خاتم النبیین ہی ہے۔ ختم نبوت کی اسی اہمیت کی وجہ سے گذشتہ احادیث میں آپ مطالعہ فرما چکے ہیں کہ اس مسئلہ کی نشر واشاعت نبوت سے تو کجا بلکہ وجود آدم علیہ السلام سے بھی پہلے لوح محفوظ اور عرش عظیم پر کر دی گئی تھی اور کاتب تقدیر نے حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں شانوں کے درمیان آپ کے اسم مبارک کے ساتھ آپ کی خاتم النبیین ہونے کی صفت بھی بصورت حروف نقش کر دی تھی۔ حضرت آدم علیہ السلام نسل انسانی کی بنیاد تھے۔ لوح محفوظ جملہ حوادث عالم کی بنیاد ہے اور عرش ان اصول کے اعلان کا سب سے بلند بورڈ ہے جو دربار الٰہی میں طے شدہ اور ناقابل ترمیم تصور کئے گئے ہیں۔ اس لئے ان مقامات پر اعلان کا یہ مطلب تھا کہ ختم نبوت بھی عالم کے ان بنیادی اور بدیہی مسائل میں داخل ہے جن کا علم سب پر فرض ہے اور جن میں اب کسی تبدیل و ترمیم کی گنجائش نہیں۔ اسی لئے آسمانوں پر فرشتوں نے‘ زمین پر حیوانات نے‘ محشر میں انبیاء علیہم السلام نے‘ غرض ابتداء سے لے کر انتہا تک‘ عالم بالا سے لیکر عالم اسفل تک ہر ذی شعور اور غیر ذی شعور نے آپ کی ختم نبوت کا نغمہ بلند کیا ہے۔ جب آپ عالم ناسوت میں جلوہ افروز ہوئے تو آپ کی یہ امتیازی شان مہر نبوت کی صورت میں بھی نمایاں کر دی گئی۔ تاکہ جس کی آمد کا غلغلہ اب تک عالم میں بلند ہو رہا تھا اس کی شناخت میں کوئی دشواری نہ رہے۔
قرطبیؒ شرح مسلم میں لکھتے ہیں کہ خاتم نبوت کو اسی لئے خاتم نبوت کہا جاتا ہے کہ یہ بھی منجملہ اور علامات کے آپ کی نبوت کی ایک علامت تھی۔ اسی لئے حضرت سلمان فارسیؓ آپ کی غائبانہ تلاش میں جب آپ کی خدمت میں پہنچ گئے تو نہایت متجسسانہ ٦٧
نظروں سے خاتم نبوت کو تلاش کرنے لگے۔ آپ نے ان کے طور و طریق سے ان کا مقصد پہچان لیا اور چادر مبارک خاتم نبوت سے ہٹا دی۔ پھر کیا تھا سلمان دیکھ کر بیخود ہو گئے اور اسی عالم بیخودی میں اس کو بوسہ دینے لگے اور فوراً حلقہ بگوش اسلام بن گئے۔ بحیرہ راہب کے قصہ میں بھی موجود ہے کہ اس نے کہا : ”انی اعرفہ بخاتم النبوة “میں خاتم نبوت کی وجہ سے آپ کو پہچانتا ہوں۔ غرض علماء اہل کتاب کے نزدیک نبی منتظر کی یہ ایک بڑی علامت تھی۔ (دیکھو زرقانی شرح مواہب)
خدا تعالیٰ کی یہ عجب حکمت ہے کہ مہر نبوت کے ظہور کے لئے آپ کے جسم مبارک میں بھی وہی جگہ منتخب ہوئی جو حضرت آدم علیہ السلام کے جسم مبارک میں منتخب ہوئی تھی۔
قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا عقیدہ ہر رسول کی دعوت کا جزء اہم رہا ہے اس لئے قیاس چاہتا ہے کہ جس رسول کے زمانہ سے قیامت کی آمد مربوط ہے اس کا تذکرہ بھی ان کا فرض منصبی رہا ہو گا۔ گویا ختم نبوت کا عقیدہ قیامت کے عقیدہ کے دوش بدوش ہمیشہ تعلیم دیا گیا ہے۔ شفاء قاضی عیاض اور کنز العمال میں ایک ضعیف اسناد کے ساتھ مروی ہے کہ خدا کے سب رسولوں نے خاتم الانبیاء کی آمد کی بشارت سنائی ہے :
حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ :
”وقد اخبر اللہ تبارک وتعالیٰ فی کتابہ ورسولہ ﷺ فی السنة المتواترة عنہ انہ لانبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادعی ہذا المقام فھو کذاب، افاک، دجال، ضال . تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٩٤ زیر آیت ماکان محمد ابا احد.............الخ“
﴿اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے احادیث متواترہ میں ختم نبوت کا اعلان اس لئے فرمایا ہے تاکہ معلوم ہو جائے جو شخص اب اس منصب کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا افتراء پرداز، دجال اور پرلے درجہ کا گمراہ ہو گا۔﴾
علماء محققین لکھتے ہیں کہ ختم نبوت کے اعلان میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ دنیا
٦٨
متنبہ ہو جائے کہ اب یہ پیغمبر آخری پیغمبر ہے اور یہ دین آخری دین ہے جس کو جو حاصل کرنا ہے کر لے۔ اس کے بعد دنیا کی یہ پیٹھ اجڑنے والی ہے جیسا شام کے وقت ایک دکاندار اعلان کرتا ہے کہ میں اب دکان بڑھاتا ہوں جسے سودا لینا ہے لے لے یا جیسا ایک حاکم بوقت آخری اسپیچ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میری تم سے اب یہ آخری ملاقات ہے جو کہتا ہوں خوب غور سے سن لو۔ اسی طرح خالق زمین وزماں کو جو آخری ہدایات دینا تھیں وہ آنحضرت ﷺ کی معرفت دے دیں اور اعلان کر دیا کہ اب یہ رسول آخری رسول ہے۔ ایمانیات، اخلاقیات، معیشت، تمدن کے سب اصول مکمل کر دیئے گئے۔ اس لئے یہ دین آخری دین ہے جسے جو عمل کرنا ہے کر لے۔ حیلہ وحجت کا وقت نہیں رہا۔ بحث وجدل کی بجائے عمل کی فرصت نکالنی چاہئے۔ وقت تھوڑا رہ گیا ہے اور حساب کی ذمہ داری سر پر ہے۔
اب نہ کوئی رسول آئے گا نہ نبی نہ تشریعی نہ غیر تشریعی نہ ظلی نہ بروزی مگر اس معنی سے نہیں کہ آئندہ نفوس انسانیہ کو کمال و تکمیل سے محروم کر دیا گیا ہے۔ بلکہ اس معنی سے کہ اب یہ منصب ہی ختم ہو گیا ہے۔ پہلے عالم کی عمر میں بہت وسعت تھی اور اس منصب پر تقرر کی گنجائش بھی کافی تھی۔ اس لئے انبیاء علیہم السلام برابر آتے رہے۔ اب دنیا کی عمر ہی اتنی باقی نہیں رہی کہ اس میں اور تقرر کی گنجائش ہوتی۔ اس لئے اس کے خاتمہ پر آپ کو بھیج کر یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ اب نبی نہیں آئیں گے قیامت آئے گی۔
چونکہ سنت الٰہیہ یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو ختم فرمانے کا ارادہ کرتا ہے تو کامل ہی ختم کرتا ہے ناقص ختم نہیں کرتا نبوت بھی اب اپنے کمال کو پہنچ چکی تھی۔ اس لئے مقدر یوں ہوا کہ اس کو بھی ختم کر دیا جائے۔ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت جاری ہو تو لازم آئے گا کہ اس کا خاتمہ نقصان پر ہو۔ ظاہر ہے کہ ایک نہ ایک دن عالم کا فناء ہونا ضروری ہے۔ اس سے قبل کسی نہ کسی نبی کا آخری نبی ہونا بھی عقلاً لازم ہے۔ اب اگر وہ آپ سے زیادہ کامل ہو تو اس کے لئے اسلامی عقیدہ میں گنجائش نہیں اور اگر ناقص ہو تو نبوت کا خاتمہ نقصان پر تسلیم کرنا لازم ہوگا۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب تم فطرت عالم پر غور کرو گے تو تم کو جزو کل میں ایک
٦٩
حرکت نظر آئے گی۔ ہر حرکت ایک ارتقاء اور کمال کی متلاشی ہوتی ہے۔ پھر ایک حد پر پہنچ کر یہ حرکت ختم ہو جاتی ہے اور جہاں ختم ہوتی ہے وہی اس کا نقطۂ کمال کہا جاتا ہے۔ انواع پر نظر ڈالئے تو جمادات سے نباتات اور نباتات سے حیوانات پھر حیوانات سے انسان کی طرف ایک ارتقائی حرکت نظر آ رہی ہے مگر انسان پر پہنچ کر یہ ارتقائی حرکت ختم ہو جاتی ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ انسان تمام انواع میں کامل تر نوع ہے خود انسان کی حقیقت پر اگر غور کیا جائے تو وہ بھی نطفہ سے متحرک ہو کر دم و علقہ و مضغہ کے قالب طے کرتا ہوا خلق آخر پر جا کر ٹھہر جاتا ہے اور اسی کو اس کی استعداد فطرت کا آخری کمال کہا جاتا ہے۔ پیدا ہونے کے بعد اس کے اعضاء میں پھر ایک حرکت اور ایک نشوونما نظر آتا ہے۔ وہ دور شباب پر جا کر ختم ہو جاتا ہے اور اسی کو اس کا زمانہ کمال کہا جاتا ہے نباتات و اشجار کو دیکھئے تو وہ بھی ایک چھوٹی سی گٹھلی سے حرکت کرتے کرتے ایک تناور درخت بن جاتے ہیں۔ آخر کار اس پر پھل نمودار ہوتے ہیں اور جب پھل نمودار ہو جاتے ہیں تو یہ اس کا کمال سمجھا جاتا ہے۔ اس کمال پر پہنچ کر درخت کا ایک دور حیوۃ ختم ہوتا ہے آئندہ اپنے دور حیوۃ کے لئے پھر اس کو بہت سے انہی ادوار کو دہرانا پڑتا ہے جن میں گزر کر وہ اس منزل تک پہنچا تھا۔ یعنی موسم خزاں آتا ہے اور اس کے ایک دورۂ حیوۃ کو ختم کر جاتا ہے۔ اگر قدرت کو اس کی پھر نشاۃ ثانیہ منظور نہ ہوتی تو وہ یونہی سوکھ کر ختم ہو گیا ہوتا مگر چونکہ اس کو ابھی باقی رکھنا منظور ہوتا ہے اس لئے پھر اسے وہی سبز سبز پتیاں، وہی ہری ہری لچک دار ڈالیاں مل جاتی ہیں۔ پھر اس پر پھول آتے ہیں اور آخر میں پھر پھل نمودار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جب تک یہ درخت موجود رہتا ہے اپنے ارتقائی مدارج کو ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک دوہرایا کرتا ہے جو درخت اپنی ابتدائی کڑیوں کو پھر نہیں دہراتے وہ ایک مرتبہ پھل دیکر اپنی زندگی ختم کر جاتے ہیں۔ جیسا کیلہ کا درخت۔
اگر یہ سچ ہے تو عالم نبوت میں بھی ایک تدریج نمایاں ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر تمام شریعتوں پر نظر ڈالئے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ تمام نبوتیں کسی ایک کمال کی جانب متحرک ہیں۔ ہر پچھلی شریعت پہلی سے نسبتاً ارتقائی شکل میں نظر آتی ہے۔
٧٠
اس لئے طبعی اصول کے مطابق ضروری ہے کہ یہ حرکت بھی کسی نقطہ پر جاکر ختم ہو جس کو اس کا کمال کہا جائے۔ لیکن جب خود نبوت ہمارے ادراک سے بالا تر حقیقت ہے تو اس کے آخری نقطۂ کمال کا ادراک بدرجہ اولیٰ ہماری پرواز سے باہر ہونا چاہئے۔ اس لئے ضروری ہوا کہ قدرت خود ہی اس کا تکفل فرمائے اور خود ہی اس کا اعلان کر دے کہ نبوت کا ارتقاء جہاں ختم ہوا ہے وہ مرکزی اور کامل ہستی آنحضرت ﷺ کی مبارک ہستی ہے۔ اسی لئے قرآن کریم میں : ”وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ کے بعد فرمایا ہے : ”وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا ۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ہی کو ہر چیز کا علم ہے وہی یہ جانتا ہے کہ نبیوں میں خاتم النبیین اور آخری کون ہے۔ یہ بات تمہاری دریافت سے باہر ہے کہ تم معلوم کر سکو کہ اس کے رسولوں کی مجموعی تعداد کتنی ہے۔ ان میں اول کون ہے اور آخر کون۔ اگر اسے عالم کا بقا اور منظور ہوتا تو شاید وہ آپ کی آمد ابھی کچھ دن کے لئے اور مؤخر کر دیتا لیکن چونکہ دنیا کی اجل مقدر پوری ہو چکی تھی۔ اس لئے ضروری تھا کہ نبوت کی آخری اینٹ بھی لگا دی جائے اور اعلان کر دیا جائے کہ دنیا کی عمر کے ساتھ ساتھ قصر نبوت کی بھی تکمیل ہو گئی ہے۔ نبوت نے اپنا مقصد پا لیا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد اب کوئی رسول نہیں آئے گا۔ کیونکہ اگر کوئی رسول آئے تو یا وہ آپ ﷺ سے افضل ہو گا یا مفضول۔ اگر افضل ہو تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ نبوت نے ابھی تک اپنے اس کمال کو نہیں پایا جس کے لئے وہ متحرک ہوئی تھی اور اگر مفضول ہو تو کمال کے بعد پھر یہ نزولی حرکت اسی وقت مناسب ہو سکتی ہے۔ جبکہ عالم کی پھر نشاۃ ثانیہ تسلیم کی جائے۔ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ نبوت اب اپنے ارتقائی کمال کو پہنچ چکی ہے۔ اب کوئی اور کمال منتظر اس کے لئے باقی نہیں رہا۔ اس لئے اس فطری اصول کے مطابق اسے ختم ہو جانا چاہئے۔
”اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ٠ مائدہ آیت ٣“ یعنی تمہارا دین کمال کو پہنچ چکا ہے۔ اب ناقص نہ ہوگا۔ خدا کی نعمت پوری ہو چکی ہے۔ اب آئندہ اس سے زیادہ اس کے اتمام کی توقع غلط ہے اور نظر ربوبیت اب ہمیشہ کے لئے دین اسلام کو پسند کر چکی ہے۔ اس لئے کوئی دین اس کا ناسخ بھی
٧١
نہیں آئے گا۔ عربی زبان میں کمال و تمام دونوں لفظ نقصان کے مقابل ہیں۔ ان میں فرق یہ ہے کہ کمال اوصاف خارجیہ کے نقصان کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے اور تمام اجزاء کے لحاظ سے مثلاً اگر انسان کا ایک ہاتھ نہ ہو وہ ناقص ہے۔ یعنی اسے ناتمام انسان کہا جائے گا۔ خواہ کتنا ہی حسین کیوں نہ ہو اور اگر اس کے اعضاء پورے ہیں مگر صورت اچھی نہیں اخلاق نادرست ہیں، خصائل درشت و ناہموار ہیں تو اس کو بجائے ناتمام کے نامکمل انسان کہا جائے گا۔ آیت بالا میں یہاں دونوں لفظوں کو جمع کر کے یہ بتلا دیا گیا ہے کہ دین اسلام اب ہر پہلو سے مکمل ہو چکا ہے۔ نہ اس میں اجزاء کا نقصان باقی ہے نہ اوصاف کا۔ اس لئے اب اس کی حرکت ارتقائی ختم ہو گئی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ آپ ﷺ کا آخری نبی ہونا صرف ایک تاخر زمانی نہیں ہے۔ کسی شخصیت کا صرف آخر میں آنا فضیلت کی کوئی دلیل نہیں ہوتی بلکہ سنت اللہ چونکہ یہ ہے کہ ہر شے کا خاتمہ کمال پر کیا جائے۔ اس لئے یہاں آپ ﷺ کا تاخر زمانی آپ ﷺ کے انتہائی کمال کی دلیل ہے۔ اسی حقیقت کو آنحضرت ﷺ نے قصر نبوۃ سے ایک بلیغ تشبیہ دیکر واضح فرما دیا تھا۔ یہود کو جب خدا کے اس اکمال و اتمام کی خبر پہنچی تو ان سے رہا نہ گیا اور انہوں نے از راہ حسد کہا اے عمرؓ اگر کہیں یہ آیت ہمارے حق میں اترتی ہم تو اس دن کو عید کا دن بنا لیتے۔ حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں :
”هذه اكبر نعم الله على هذه الامة حيث اكمل تعالى لهم دينهم فلا يحتاجون الى دين غيره ولا الى نبى غير نبيهم صلوات الله وسلامه عليه ولهذا جعله الله تعالى خاتم الانبيا وبعثه الى الانس والجن . تفسير ابن كثير ج ٢ ص ١٢ زیر آیت الیوم اکملت لکم“
﴿اللہ تعالیٰ کا اس امت پر یہ بہت بڑا انعام ہے کہ اس نے اس امت کا دین کامل کر دیا ہے کہ اب اسے نہ کسی اور دین کی ضرورت رہی نہ کسی اور نبی کی۔ اسی لئے آپ ﷺ کو خاتم النبیین بنایا ہے اور انسان و جن سب کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے۔﴾
معلوم ہوا کہ ختم نبوت دینی ارتقاء اور خدائے تعالیٰ کے انتہائی انعام کا اقتضاء ہے اور وہ کمال ہے کہ اس سے بڑھ کر امت کے لئے کوئی اور کمال نہیں ہو سکتا۔ حتیٰ کہ یہود کو
٧٢
بھی ہمارے اس کمال پر حسد ہے پھر حیرت ہے کہ اتنے عظیم الشان کمال کو برعکس محرومی سے کیسے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت کا صحیح مفہوم سمجھنے ہی میں چند غلط فہمیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ شاید اس کا مفہوم یہ سمجھا گیا ہے کہ نبوت پہلی امتوں کے لئے ولایت و صدیقیت کی طرح ایک ممکن الحصول کمال تھا۔ اب یہ امت دوسرے اور مراتب تو حاصل کر سکتی ہے مگر کمال نبوت کو حاصل نہیں کر سکتی۔ یہ سخت غلط فہمی اور حقیقت نبوت سے قطعی جہالت کی دلیل ہے۔ نبوت ان کمالات ہی میں نہیں ہے جو ریاضات و مجاہدات کے صلہ میں بطور انعام کسی وقت بھی بخشا گیا ہو بلکہ ایک الہی منصب ہے جس کا تعلق تشریعی ضرورت اور براہ راست خدائے تعالٰی کی صفت اجتباء واصطفاء کے ساتھ ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اس منصب کے لئے چن لیتا ہے۔ اگر نبوت ان کمالات میں ہوتی جو مجاہدات وریاضات، پاکبازی وحسن نیت کے صلہ میں انعامی طور پر ملتے ہیں تو یقیناً اس کے لئے سب سے موافق زمانہ خود نبی کی موجودگی کا زمانہ ہوتا کیونکہ جتنی عملی جدوجہد اتباع شریعت کا جتنا جذبہ خود اس کے زمانہ میں ہوتا ہے اس کے بعد نہیں ہوتا مگر نبوت کی تاریخ اس کے بر خلاف ہے۔ یعنی جب خدائے تعالٰی کی زمین شر و فساد، طغیان وسرکشی، تکبر و تمرد سے بھر گئی ہے۔ صلاح و تقویٰ کا تخم فاسد ہوگیا ہے رشد و ہدایت کے آثار محو ہو گئے ہیں۔ وہی انبیاء کی آمد کا سب سے زیادہ موزوں زمانہ سمجھا گیا ہے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نکالنا آسان نہیں کہ نبوت وہ انعام نہیں ہے جو ولایت وصدیقیت کی طرح امتوں میں تقسیم کی جائے بلکہ دنیا کے انتہائی دور ضلالت میں خدا کی صفت ہدایت کا ذاتی اقتضاء ہے۔ ذاتی اقتضاء سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ یہاں کسب واکتساب، ماحول کی مساعدت ونامساعدت کا کوئی دخل نہیں نبوت کا ماحول تو چاہتا ہے کہ خدائی رحمت کی بجائے خدا کا قہر ٹوٹے مگر اللہ تعالٰی کے اسماء حسنیٰ میں ایک اسم ہادی بھی ہے یہ اس کا اقتضاء ہے کہ جب ملک کا ملک اور قوم کی قوم اس کا راستہ گم کردے اور بھولے سے نہیں بلکہ شرارت و شیطنت کی بناء پر تو وہ اپنی طرف سے پھر ان کی ہدایت کے لئے ایک دروازہ کھول دے۔
٧٣
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب منصب رسالت سے سرفراز کیا گیا ان کا زمانہ انسانی کمالات کے عروج و ارتقاء کا زمانہ نہ تھا بلکہ دنیا فطری پستی، دنائت و خست اور احسان فراموشی کے اس تاریک گڑھے میں پڑی ہوئی تھی کہ ایک کمزور انسان کو خدائی کا دعویٰ کرتے بھی شرم نہ آتی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ خیال بھی نہ تھا کہ انہیں اس دعویٰ کے ابطال کے لئے مامور کیا جائے گا۔ اچانک کوہ طور کے ایک گوشے سے روحانیت کے بادل اٹھے اور حقیقت موسویہ پر اس طرح برسے کہ دم کے دم میں موسیٰ بن عمران حضرت موسیٰ کلیم اللہ بن گئے بیوی کے لئے آگ لینے کی فکر میں آئے تھے اور سب بھول بھال کر اب آتش کفر بجھانے کی فکر میں جارہے ہیں۔ اس مدعی الوہیت کا مقابلہ کرنا ہے جس کے پاس سلطنت کی ساری مادی طاقتیں جمع ہیں اور اپنے پاس قوت بیان بھی ناقص ہے۔ اس لئے دبے لہجے میں فرماتے ہیں :
” رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِي ۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي ۔ وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي ۔ هَارُونَ أَخِي ۔ اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي ۔ وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي ۔ طہ آیت ٢٥ تا ٣٢“
دوسری جگہ سورۃ القصص ٣٤ میں فرمایا :
” وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ۔ “
ان دعاؤں کا حاصل یہ ہے کہ اے اللہ ! میرا سینہ کشادہ فرما اور مجھے ایسا حوصلہ مند بنادے کہ خلاف طبع معاملات کو خندہ پیشانی سے برداشت کر سکوں اور میرے لئے ایسے سامان فراہم کر کہ یہ عظیم الشان خدمت آسان ہو جائے اور لڑکپن میں زبان جل جانے کی وجہ سے میری گفتگو میں جو لکنت پیدا ہو گئی ہے اس کو دور فرما کہ وہ میری بات تو سمجھ لیں اور میرے گھر میں میرے بھائی کو میرا معین بنادے کہ وہ میرا کام بٹائیں اور ان کی وجہ سے مجھے سہارا بھی رہے۔ سورہ قصص میں اس کی تفصیل اور ہے کہ میرے بھائی مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں۔ انہیں میرے ہمراہ کر دے تاکہ وہ میری اعانت میں میری تصدیق کرتے
٧٤
رہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میرے پہلے معاملات کی وجہ سے کہیں وہ سب میری تکذیب نہ کر دیں۔ اس وقت کم از کم ایک ایسا شخص تو میرے ساتھ ہو جو میری تصدیق کر دے اور اگر مناظرہ کی نوبت آجائے تو ان سے مناظرہ بھی کر لے اس دعا سے اس پر کافی روشنی پڑتی ہے کہ نبوت کو ان کمالات میں سمجھ لینا جو پہلی امتوں کو کسی عبادت و ریاضت کے صلہ میں یا انعام کے طور پر تقسیم کئے گئے ہیں سخت غلط فہمی ہے بلکہ یہ صرف تشریعی ضرورتوں کی تکمیل کا ایک منصب ہے جس میں قدرت اس کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ اسی کو اس منصب کے لئے انتخاب کر لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی درخواست میں یہاں حضرت ہارون علیہ السلام کی کسی ایسی جد و جہد کا ذکر نہیں کیا جو ان کی نبوت کی سفارش کر سکتی بلکہ ان صلاحیتوں کا ذکر کیا ہے جو اس منصب کے لئے درکار تھیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کے بعد ذرا اور آگے چلیں تو پھر ضلالت وہدایت میں یہی کشمکش نظر آتی ہے۔ کبھی ضلالت کے جھکڑ ہدایت کی شمعوں کو گل کر دیتے تھے کبھی نور ہدایت کفر کی تاریکیوں کے ٹکڑے کر ڈالتا تھا۔ حتیٰ کہ دنیا کے آخری دور میں پھر ضلالت کا ابر محیط اٹھا اور اس شان سے اٹھا کہ تمام کرہ ارضی پر تاریکی چھا گئی کوئی خطہ نہ رہا۔ جہاں آفتاب ہدایت کی کوئی معمولی کرن بھی چمکتی۔ عالم کا وہ مرکزی نقطہ بھی جس کو ام القریٰ کہا جاتا تھا تیرہ و تاریک ہو گیا اور خانہ خدا پر کفر کا پرچم لہرانے لگا تو اس عام گمراہی کے ماحول میں اسم ہادی کا پھر تقاضہ ہوا کہ اس کے مقابلہ کے لئے ایسی ہی عام ہدایت بھیجے جو خطہ وملک اور قوم وزمان کی قید سے آزاد ہو۔ وہ ہدایت بصورت محمد ﷺ دنیا میں ظاہر ہوئی اور تھوڑے ہی عرصہ میں کفر نے شکست کھائی کفر کا پھریرا اتار کر پھینک دیا گیا اور اس کی جائے خدائی نصرت و فتح کا جھنڈا نصب کر دیا گیا اور یہ اعلان کر دیا گیا کہ اب کفر ہمیشہ کے لئے شکست کھا چکا ہے ایسا کبھی نہیں ہو گا کہ کلمہ توحید مٹ جائے اور ہدایت کے آثار ونشانات اس طرح تباہ وبرباد ہو جائیں کہ خدا کی زمین پھر کسی نبی کو پکارنے لگے۔ مکہ مکرمہ اب اسلامی دارالسلطنت بن گیا ہے اور اسی لئے اب یہاں سے ہجرت کرنا منسوخ ہو گیا ہے۔ شیطان جو سرچشمہ کفر تھا۔ اب مایوس ہو گیا ہے کہ مصلین جزیرہ عرب میں اس کی عبادت کریں گے۔ دین اسلام کا
٧٥
مل ہو چکا ہے اس کی روشنی اقصائے عالم میں پھیل چکی ہے۔ خدائی نعمت پوری ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی اور ہمیشہ کے لئے ایک اسلام ہی پسندیدہ دین ٹھہر چکا ہے۔ اس لئے آئندہ نہ گمراہی اتنا تسلط حاصل کر سکتی ہے کہ ہدایت کو فنا کر دے اس کے تمام چشمے خشک ہو جائیں۔ اس کی ایک کرن بھی چمکتی نہ رہے اور نہ اس لئے کسی رسول کے آنے کی ضرورت باقی ہے۔ پھر ختم نبوت درحقیقت اس کا اعلان ہے کہ نور نبوت اب تمام عالم کو اس طرح روشن کر چکا ہے کہ کفر کتنا ہی سر پٹکے مگر وہ اس کے بجھائے بجھ نہیں..... سکتا۔ خدا کا اقرار، اس کے صفات کی معرفت، غیب کا یقین، مجموعہ عالم کا اس طرح جزء بن گیا کہ اگر کہیں اس مرتبہ پھر یہ معرفت ختم ہو گئی تو اس کے ساتھ ہی عالم کی روح بھی نکل جائے گی۔ فضاء عالم میں بیماریاں پھیلیں اور صحت عامہ کو خطرہ میں ڈال دیں پھر کوئی ڈاکٹر نہ ملے شفاخانہ نہ ہو تو یقیناً یہ دوہری مصیبت ہے لیکن اگر کسی ملک کی آب و ہوا ہی صاف ہو۔ وہاں کے باشندے شفاخانے اور ڈاکٹر کے محتاج ہی نہ ہوں تو بتلاؤ کہ یہاں بھی کسی شفاخانہ کے قیام کی حاجت ہے؟۔ کیا ایسی صحت و تندرستی کے ماحول میں بیماروں کے قیام کے لئے مکانات، ڈاکٹروں اور شفاخانوں کا وجود مقامی ضروریات میں داخل سمجھا جائے گا اور اگر یہ بھی فرض کر لو کہ اس خطہ کے باشندوں کو علم طب کی باضابطہ تعلیم دی گئی ہو تو کیا یہ شکوہ بجا ہو گا کہ جس طرح فلاں ملک کے لئے ڈاکٹر مقرر کر کے بھیجا گیا ہے۔ ہمارے لئے بھی اسی طرح ڈاکٹر کیوں نہیں بھیجا گیا :
”لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَیُزَكِّیْهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ آل عمران آیت ١٦٤“
یعنی آنحضرت ﷺ نے اس عام گمراہی کے بعد تشریف لا کر صرف خدائی آیات پڑھ کر ہی نہیں سنائیں بلکہ اس کو سمجھا بھی دیا اور اس پر پریکٹیکل طور سے عمل کرا دیا ہے۔ اس لئے اب آپ ﷺ کی اس ہمہ گیر تعلیم کے بعد اول تو یہ ممکن ہی نہیں کہ جراثیم کفر اس طرح غالب آجائیں کہ عالم کی صحت عامہ کسی بیرونی ڈاکٹر کی محتاج ہو جائے دوم ان کو اس حد
٧٢
تک اصول طب کی تعلیم بھی دیدی گئی ہے کہ اگر کہیں کفر سر نکالے تو اس کا آئینی علاج وہ خود کر سکتے ہیں۔ اگر اس پر وہ کار بند نہ ہوں تو یہ ان کا قصور رہے گا۔ پس یہ بڑی غلط فہمی ہے کہ ختم نبوت کو کمالات کے ختم کے ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے۔ ہمارے اس بیان سے روشن ہو گیا کہ نبوت کا ختم ہونا تو خدائی نعمت کے اتمام اور دین کے انتہائی ارتقاء و عروج کی دلیل ہے۔ البتہ کمالات و برکات کا خاتمہ بلاشبہ محرومی اور بڑی محرومی ہے مگر یہ روایات سے ثابت ہے کہ امت مرحومہ کے کمالات تمام امتوں سے زیادہ ہیں اور اتنے زیادہ ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے نبی کو بھی اس امت کے کمالات سن کر تمناء ہو سکتی ہے کہ وہ بھی اس امت کے ایک فرد ہوتے۔
خفاجی فرماتے ہیں رواہ ابو نعیم فی الحلية وورد بمعناہ من طرق كثيرة کمافی الخصائص
(نسیم الریاض ج ١ ص ٢٠٣)
خفاجی الشفاء کی شرح میں حضرت انسؓ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی جو شخص احمد (ﷺ) کا انکار کر کے میرے پاس آئے گا میں اسے دوزخ میں ڈالوں گا انہوں نے عرض کیا یہ احمد (ﷺ) کون ہیں؟۔ ارشاد ہوا یہ وہ ہیں جن سے زیادہ مجھے اپنی مخلوق میں کوئی عزیز نہیں۔ زمین و آسمان سے قبل ہی میں نے ان کا نام اپنے نام کے ساتھ ساتھ عرش پر لکھ دیا تھا اور یہ بات طے کر دی تھی کہ جب تک وہ اور ان کی امت جنت میں داخل نہ ہو لیں کوئی اور جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس امت کے اوصاف پوچھے۔ ارشاد ہوا کہ وہ امت ہر وقت ہماری تعریف کرے گی۔ بلندی پر چڑھے گی تو تعریف کرتی ہوئی۔ پستی میں اترے گی تو تعریف کرتی ہوئی۔ غرض ہر حال میں ہماری حمد و ثناء کرے گی۔ اپنی کمریں باندھنے والی اپنے اعضاء دھونے والی دن کی روشنی میں شیر کی طرح (بہادر) اور رات کی تاریکیوں میں درویش صفت ہو گی۔ ان کا تھوڑا سا عمل میں قبول کروں گا اور کلمہ شہادت پر انہیں جنت میں داخل کروں گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ تو مجھے اسی امت کا نبی بنا دے ارشاد ہوا کہ اس کا نبی تو خود ان ہی میں سے ہو گا۔ عرض کیا اچھا تو پھر اس نبی کی امت ہی
٧٧
میں بنا دے۔ ارشاد ہوا کہ تم ان سے پہلے ہو۔ وہ تمہارے بعد آئیں گے۔ البتہ میں اپنے دار جلال میں تمہیں ان کے ساتھ جمع کروں گا۔ مسند ابو داؤد طیالسی واحمد اور ابو یعلیٰ میں ہے : ”كادت هذه الامة ان تكون انبياء كلها“ ﴿یہ امت مجموعی اعتبار سے بلحاظ کمالات انبیاء ہونے کے قریب ہے۔﴾ شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے اسی مضمون کو حوالہ تورات وانجیل کعب احبار سے نقل کیا ہے۔ کنز العمال میں اسی کے ہم معنی روایت آنحضرت ﷺ سے بھی مروی ہے۔ جامع ترمذی میں حضرت عمرؓ کے متعلق آپ پڑھ ہی چکے ہیں۔ اگر نبوت باقی ہوتی تو ان کو اس منصب پر فائز کر دیا جاتا۔ مبشرات‘ الہام‘ تحدیث مع الملائکہ‘ نظم ونسق امت بدعت اور تحریف فی الدین کی اصلاح حتیٰ کہ خلافت حقہ کا صحیح قیام یہ سب اس امت کے مناصب وکمالات میں داخل ہیں۔ کتاب اللہ کی حفاظت‘ دین کی تکمیل ایک ایسی مضبوط جماعت کا بقا جو ہمیشہ جادۂ مستقیم پر قائم رہنے والی ہو‘ اور حسب ضرورت ایسے افراد و جماعات کی بعثت جو پوری ذمہ داری کے ساتھ تحریفات کی اصلاح کرتی رہیں۔ ان سب امور کا خود قدرت ایزدی تکفل فرما چکی ہے۔ آپ ہی سوچئے کہ اس کے بعد اب کونسا کمال باقی ہے جو پہلی امتوں میں تھا اور اس امت میں نہیں ہے اور جس کے لئے نبوت کی ضرورت ہے بلکہ صحیح بخاری کی حدیث میں تو یہ ہے کہ سیاست امت کی جو خدمت پہلے انبیاء علیہم السلام انجام دیا کرتے تھے۔ اب وہ خدمات اس امت کے خلفاء انجام دیا کریں گے۔ پس پہلی امتوں کا ایسا کوئی کمال نہیں ہے جو اس امت کو نہ ملا ہو۔ ہاں اس امت کے بہت سے ایسے خصائص ہیں جن سے پہلی امتیں محروم ہیں۔
دوسرا مغالطہ یہ ہے کہ ختم نبوت کا مطلب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ نبوت کی بندش گویا ختم نبوت کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اگر آپ تشریف نہ لاتے تو شاید کچھ اور افراد کو نبوت مل جاتی۔ یہ بھی انتہائی جہل ہے خاتم النبیین کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ سلسلہ انبیاء علیہم السلام میں آپ ﷺ سب سے آخری نبی ہیں۔ اس لئے آپ کی آمد ہی اس وقت ہوئی ہے جبکہ انبیاء علیہم السلام کا ایک ایک فرد آچکا تھا۔ اس لئے آپ کی آمد نے نبوت کو بند نہیں کیا بلکہ جب
٧٨
نبوت ختم ہو گئی ہے تو اس کی دلیل بن کر آپ تشریف لائے ہیں اور اسی معنی سے آپ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے۔ اگر علم ازلی میں کچھ اور افراد کے لئے نبوت مقدر ہوتی تو یقیناً آپ کی آمد کا زمانہ بھی ابھی اور مؤخر ہو جاتا۔ آپ کا لقب خاتم النبیین اسی وقت واقع کے مطابق ہو سکتا ہے۔ جبکہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے۔ اگر آپ کے بعد بھی کوئی نبی آتا ہے تو آپ کو آخری نبی کہنا ایسا ہی ہو گا جیسا درمیانی اولاد کو آخری اولاد کہنا۔ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام خدا کے پہلے رسول تھے۔ پس جس طرح ان سے پہلے کوئی رسول نہ تھا۔ نہ ظلی نہ بروزی۔ اسی طرح آپ آخر النبیین ہیں۔ آپ کے بعد بھی نہ کوئی ظلی نبی ہونا چاہئے نہ بروزی۔
تیسری غلطی یہاں سب سے زیادہ فاحش یہ ہے کہ اس پر غور ہی نہیں کیا گیا کہ پہلے ایک نبی کے بعد دوسرا نبی کیوں آتا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی نبوتیں خاص قوم اور خاص زمانہ کے لئے ہوتی تھیں۔ اس لئے ہر نبی کے بعد لامحالہ دوسرے نبی کی ضرورت باقی رہتی تھی لیکن جب وہ نبی آگیا جس کی نبوت کسی خطہ کسی قوم اور کسی زمانے کے ساتھ مقید نہیں تو اب اس کے بعد نبوت کا سوال ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کی موجودگی کے زمانہ میں۔ اگر اس وقت یہ سوال بیجا تھا تو اب بھی بیجا ہے اور اگر اس وقت نامعقول تھا تو اب بھی نامعقول ہے۔ یہاں ذہن اس طرف جاتا ہی نہیں کہ آپ کا دورۂ نبوت دوسرے انبیاء علیہم السلام کی طرح ختم نہیں ہوا۔ پس در حقیقت نبوت تو اب بھی باقی ہے اور وہ نبوت باقی ہے جو تمام نبوتوں سے کامل تر ہے۔ ہاں نبی کوئی اور باقی نہیں رہا۔ عجب بات ہے کہ یہاں بقاء نبوت ہی ختم نبوت کو مستلزم ہے۔ یعنی آپ کی نبوت کا بقاء اس کو مستلزم ہے کہ کوئی اور نبی نہ ہو نافہم الٹا یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی ختم نبوت دوسروں کی نبوت کے بقاء کو مستلزم ہے۔ یہ اس وقت تو معقول ہوتا جبکہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کی طرح آپ کی نبوت بھی ختم ہو جاتی لیکن جب آپ کی نبوت باقی ہے تو اب جدید نبوت کا سوال خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صرف خاتم النبیین نہیں بنایا بلکہ رحمتہ للعالمین بھی بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب خاتم بذات خود تمام جہان کے لئے رحمت بن کر آگیا ہے۔ اتنی بڑی رحمت کہ اس کے بعد کسی اور رحمت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ آج تک ہر رسول کے بعد دوسرے رسول کے انکار سے کفر کا خطرہ
٧٩
لگا رہتا تھا۔ خاتم النبیین کی آمد سے یہ کتنی بڑی رحمت ہوئی کہ اس راہ سے اب کفر کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہا نہ کسی نئے رسول کے آنے کا امکان ہے نہ کسی کے انکار سے کفر کا اندیشہ باقی ہے۔ پہلے ہر امت کی داستان اطاعت و عصیان دوسری امتوں کے سامنے رکھی جاتی تھی مگر اس امت مرحومہ کی داستان عمل اب کسی امت کے سامنے نہیں رکھی جائے گی۔ خلاصہ یہ کہ ختم نبوت ایک رحمت نہیں بلکہ اس کے دامن میں بیشمار رحمتوں اور کمالات کا دریا بہہ رہا ہے۔ اس لئے اس امت کو نئی نبوت کی ضرورت نہیں۔ اب یہ وہ زمانہ ہے جس میں ایک اسرائیلی نبی کے امتی بن کر آنے کا انتظار ہو رہا ہے، کمالات نبوت ختم نہیں ہاں ! وہ دور ضلالت و گمراہی ختم ہو گیا ہے جس کے لئے جدید نبوت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یاد رکھو اب نبی نہیں آئیں گے بلکہ قیامت آئے گی یا وہ جھوٹے نبی آئیں گے جن کو زبان نبوت نے دجال کہا ہے۔ انجیل میں ہے جھوٹے نبیوں سے خبردار ہو جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں ان کے پھلوں سے تم انہیں پہچان لو گے۔
(متی باب ٧ آیت ١٥‘ ١٦)
وہ ہو چکا ہے جس کا طرفدار ہو چکا
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
سیدنا مہدی علیہ الرضوان
محدث کبیر
حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تعارف
الحمدلله وكفى وسلام على خاتم الانبیاء، اما بعد! محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ کی معروف کتاب ترجمان السنۃ کی جلد اول ص ٣٧٢ سے ٤٢٨ تک ”سیدنا مہدی علیہ الرضوان“ کی ولادت و ظہور سے وفات تک کے واقعات کو حدیث شریف کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔ چالیس احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ کرامؓ سے مدلل فرمایا گیا ہے۔ تصنیف زمانہ ترجمان السنۃ تک پوری امت کی طرف سے اس مسئلہ پر جو کچھ تحریر کیا گیا تھا۔ اس کا نچوڑ آپ نے اس میں سمو دیا ہے۔ اس کتاب میں شامل کرنے پر رب کریم کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں۔ کہ منکرین سیدنا مہدی علیہ الرضوان خوارج اور جھوٹے مدعی مہدویت مرزا قادیانی کے پیروان کے لئے شاید ہدایت کا سامان بن جائے۔ وما ذالك على الله بعزيز!
فقیر اللہ وسایا ٧ / ٦ / ١٤٢٢ھ ٢٧ / ٨ / ٢٠٠١ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت امام مہدی کی احادیث مطالعہ فرمانے سے قبل ان کا مختصر تذکرہ معلوم کر لینا ضروری ہے۔ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلویؒ فرماتے ہیں :
حضرت امام مہدی کا نام ونسب اور ان کا حلیہ شریفہ
حضرت امام مہدی سید اور اولاد فاطمۃ الزہراؓ میں سے ہیں۔ آپ کا قد و قامت قدرے لانبا‘ بدن چست‘ رنگ کھلا ہوا اور چہرہ پیغمبر خدا ﷺ کے چہرے کے مشابہ ہوگا۔ نیز آپ کے اخلاق پیغمبر خدا ﷺ سے پوری مشابہت رکھتے ہوں گے۔ آپ کا اسم شریف محمد‘ والد کا نام عبداللہ‘ والدہ صاحبہ کا نام آمنہ ہوگا۔ زبان میں قدرے لکنت ہوگی۔ جس کی وجہ سے تنگدل ہو کر کبھی کبھی ران پر ہاتھ ماریں گے۔ آپ کا علم لدنی (خداداد) ہو گا سید برزنجیؒ اپنے رسالہ الاشاعت میں تحریر کرتے ہیں کہ تلاش کے باوجود مجھ کو آپ کی والدہ کا نام روایات میں کہیں نہیں ملا۔
آپ کے ظہور سے قبل سفیانی کا خروج‘ شاہ روم اور مسلمانوں میں
جنگ اور قسطنطنیہ کا فتح ہونا
آپ کے ظہور سے قبل ملک عرب و شام میں ابوسفیان کی اولاد میں سے ایک شخص پیدا ہو گا جو سادات کو قتل کرے گا۔ اس کا حکم ملک شام و مصر کے اطراف میں چلے گا اس درمیان میں بادشاہ روم کی عیسائیوں کے ایک فرقہ سے جنگ اور دوسرے فرقہ سے صلح ہو گی۔ لڑنے والا فریق قسطنطنیہ پر قبضہ کرلے گا۔ بادشاہ روم دارالخلافہ کو چھوڑ کر ملک شام میں
٢
پہنچ جائے گا اور عیسائیوں کے دوسرے فریق کی اعانت سے اسلامی فوج ایک خونریز جنگ کے بعد فریق مخالف پر فتح پائے گی۔ دشمن کی شکست کے بعد موافق فریق میں سے ایک شخص نعرہ لگائے گا، کہ صلیب غالب ہو گئی اور اسی کے نام سے یہ فتح ہوئی۔ یہ سن کر اسلامی لشکر میں سے ایک شخص اس سے مار پیٹ کرے گا اور کہے گا نہیں دین اسلام غالب ہوا اور اسی کی وجہ سے یہ فتح نصیب ہوئی۔ یہ دونوں اپنی اپنی قوم کو مدد کے لئے پکاریں گے جس کی وجہ سے فوج میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔
(حسب بیان سید برزنجیؒ یہ شخص خالد بن یزید بن ابی سفیان کی نسل سے ہوگا۔ امام قرطبیؒ نے اپنے تذکرہ میں اس کا نام عروۃ تحریر فرمایا ہے۔ سید برزنجیؒ نے اپنے رسالہ الاشاعۃ میں اس کا حلیہ اور اس کے دور کی پوری تاریخ تحریر فرمائی ہے مگر اس کا اکثر حصہ موقوف روایات سے ماخوذ ہے۔ اسی لئے ہم نے شاہ صاحب کے رسالہ سے اس کا مختصر تذکرہ نقل کیا ہے۔ امام قرطبیؒ نے بھی امام مہدی علیہ الرضوان کے دور کی پوری تاریخ نقل فرمائی ہے۔ تذکرہ قرطبیؒ گو اس وقت دستیاب نہیں مگر اس کا مختصر مؤلفہ ”امام شعرانیؒ“ عام طور پر ملتا ہے۔ قابل ملاحظہ ہے۔
سید برزنجیؒ کے رسالہ میں امام مہدی علیہ الرضوان کے زمانے کی مفصل اور مرتب تاریخ کے علاوہ اس باب کی مختصر حدیثوں میں جمع و تطبیق کی پوری کوشش کی گئی ہے لیکن چونکہ اس باب کی اکثر روایات ضعیف تھیں۔ اس لئے ہم نے ان کے درمیان تطبیق نقل کرنے کی چنداں اہمیت محسوس نہیں کی۔)
بادشاہ اسلام شہید ہو جائے گا عیسائی ملک شام پر قبضہ کر لیں گے اور آپس میں ان دونوں عیسائی قوموں کی صلح ہو جائے گی۔ باقی مسلمان مدینہ منورہ چلے آئیں گے عیسائیوں کی حکومت خیبر تک (جو مدینہ منورہ سے قریب ہے) پھیل جائے گی۔ اس وقت مسلمان اس فکر میں ہوں گے کہ امام مہدی کو تلاش کرنا چاہئے تاکہ ان کے ذریعے سے یہ مصیبتیں دور ہوں۔ اور دشمن کے پنجے سے نجات ملے۔
٤
امام مہدی کی تلاش اور ان سے بیعت کرنا
حضرت امام مہدی اس وقت مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوں گے مگر اس ڈر سے کہ مبادالوگ مجھ جیسے ضعیف کو اس عظیم الشان کام کی انجام دہی کی تکلیف دیں مکہ معظمہ چلے جائیں گے۔ اس زمانے کے اولیاء کرام اور ابدال عظام آپ کو تلاش کریں گے۔ بعض آدمی مہدی ہونے کے جھوٹے دعوے بھی کریں گے۔ حضرت مہدی علیہ السلام رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوں گے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کو پہچان لے گی اور آپ کو مجبور کر کے آپ سے بیعت کر لے گی۔ اس واقعہ کی علامت یہ ہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگ چکے گا اور بیعت کے وقت آسمان سے یہ آواز آئے گی : ”ہذا خلیفۃ اللہ المہدی فاستمعوالہ واطیعوا“ اس آواز کو اس جگہ کے تمام خاص و عام سن لیں گے۔ بیعت کے وقت آپ کی عمر چالیس سال کی ہو گی۔ خلافت کے مشہور ہونے پر مدینہ کی فوجیں آپ کے پاس مکہ معظمہ چلی آئیں گی۔ شام و عراق اور یمن کے اولیائے کرام و ابدال عظام آپ کی صحبت میں اور ملک عرب کے لا تعداد لوگ آپ کے لشکر میں داخل ہو جائیں گے اور اس خزانہ کو جو کعبہ میں مدفون ہے۔ (جس کو ”رتاج الکعبہ“ کہتے ہیں) نکال کر مسلمانوں میں تقسیم فرمائیں گے۔
خراسانی سردار کا امام مہدی کی اعانت کے لئے فوج روانہ کرنا اور
سفیانی کے لشکر کا ہلاک و تباہ ہو جانا
جب یہ خبر اسلامی دنیا میں پھیلے گی تو خراسان سے ایک شخص ایک بہت بڑی فوج لیکر آپ کی مدد کے لئے روانہ ہو گا۔ جو راستہ میں بہت سے عیسائیوں اور بد دینوں کا صفایا کر دے گا، اس لشکر کے مقدمتہ الجیش کی کمان منصور نامی ایک شخص کے ہاتھ میں ہو گی۔ وہ سفیانی (جس کا ذکر اوپر گزر چکا) اہل بیت کا دشمن ہو گا اس کی ننہال قوم بنو کلب ہو گی۔ حضرت امام مہدی کے مقابلہ کے واسطے اپنی فوج بھیجے گا۔ جب یہ فوج مکہ و مدینہ کے درمیان
٥
ایک میدان میں پہاڑ کے دامن میں مقیم ہو گی تو اسی جگہ اس فوج کے نیک وبد سب کے سب دھنس جائیں گے اور قیامت کے دن ہر ایک کا حشر اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق ہو گا۔ ان میں سے صرف دو آدمی بچیں گے۔ ایک حضرت امام مہدی کو اس واقعہ کی اطلاع دے گا اور دوسرا سفیانی کو۔
عیسائیوں کا مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے اجتماع اور امام مہدی کے
ساتھ خونریز جنگ اور آخر میں امام مہدی کی فتح مبین
عرب کی فوجوں کے اجتماع کا حال سن کر عیسائی بھی چاروں طرف سے فوجوں کے جمع کرنے کی کوشش میں لگ جائیں گے اور اپنے اور روم کے ممالک سے فوج کثیر لے کر امام مہدی علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے شام میں جمع ہو جائیں گے ان کی فوج کے اس وقت ستر جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ بارہ ہزار سپاہ ہو گی (جس کی کل تعداد ٨٤٠٠٠٠ ہو گی) حضرت امام مہدی مکہ مکرمہ سے روانہ ہو کر مدینہ منورہ پہنچیں گے اور پیغمبر خدا ﷺ کے روضہ کی زیارت سے مشرف ہو کر شام کی جانب روانہ ہو جائیں گے۔ دمشق کے پاس آکر عیسائیوں کی فوج سے مقابلہ ہو گا۔ اس وقت حضرت امام مہدی کی فوج کے تین گروہ ہو جائیں گے۔ ایک گروہ تو نصاریٰ کے خوف سے بھاگ جائے گا۔ خداوند کریم ان کی توبہ ہرگز قبول نہ فرمائے گا۔ باقی فوج میں سے کچھ تو شہید ہو کر بدر واحد کے شہداء کے مراتب کو پہنچیں گے اور کچھ بتوفیق ایزدی فتح یاب ہو کر ہمیشہ کے لئے گمراہی اور انجام بد سے چھٹکارا پالیں گے۔ حضرت امام مہدی دوسرے روز پھر نصاریٰ کے مقابلہ کے لئے نکلیں گے اس روز مسلمانوں کی ایک جماعت یہ عہد کر کے نکلے گی کہ یا میدان جنگ فتح کریں گے یا مر جائیں گے یہ جماعت سب کی سب شہید ہو جائے گی۔ حضرت امام مہدی باقی ماندہ قلیل جماعت کے ساتھ لشکر میں واپس آئیں گے۔ دوسرے دن پھر ایک بڑی جماعت یہ عہد کرے گی کہ فتح کے بغیر میدان جنگ سے واپس نہیں آئیں گے یا مر جائیں گے اور حضرت امام مہدی کے ہمراہ بڑی بہادری کے ساتھ جنگ کریں گے اور آخر یہ بھی جام شہادت نوش
٦
کریں گے۔ شام کے وقت حضرت امام مہدی تھوڑی سی جماعت کے ساتھ لوٹیں گے تیسرے روز اسی طرح ایک بڑی جماعت قسم کھا کر نکلے گی اور وہ بھی شہید ہو جائے گی اور حضرت امام مہدی تھوڑی سی جماعت کے ساتھ اپنی قیام گاہ پر واپس تشریف لے آئیں گے۔ چوتھے روز حضرت امام مہدی رسد گاہ کی محافظ جماعت کو لے کر دشمن سے پھر نبرد آزما ہوں گے۔ یہ جماعت تعداد میں بہت کم ہو گی مگر خداوند کریم ان کو فتح مبین عطا فرمائے گا۔ عیسائی اس قدر قتل ہوں گے کہ باقیوں کے دماغ سے حکومت کی بو نکل جائے گی اور بے سرو سامان ہو کر نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ بھاگ جائیں گے مسلمان ان کا تعاقب کر کے بہتوں کو جہنم رسید کر دیں گے۔ اس کے بعد حضرت امام مہدی بے انتہا انعام واکرام اس میدان کے شیروں جانبازوں پر تقسیم فرمائیں گے مگر اس مال سے کسی کو خوشی حاصل نہ ہو گی کیونکہ اس جنگ کی بدولت بہت سے خاندان و قبیلے ایسے ہوں گے۔ جن میں فی صدی صرف ایک ہی آدمی بچا ہو گا۔ اس کے بعد حضرت امام مہدی بلاد اسلام کے نظم ونسق اور فرائض و حقوق العباد کی انجام دہی میں مصروف ہوں گے۔ چاروں طرف اپنی فوجیں پھیلا دیں گے۔
ستر ہزار فوج کے ساتھ امام مہدی کی فتح قسطنطنیہ کے لئے روانگی
اور ایک نعرہ تکبیر سے شہر کا فتح ہو جانا
اور مہمات سے فارغ ہو کر فتح قسطنطنیہ کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ بحیرہ روم کے کنارے پر پہنچ کر قبیلہ بنو اسحاق کے ستر ہزار بہادروں کو کشتیوں پر سوار کر کے اس شہر کی خلاصی کے لئے جس کو آج کل استنبول کہتے ہیں۔ مقرر فرمائیں گے۔ جب یہ فصیل شہر کے قریب پہنچ کر نعرۂ تکبیر بلند کریں گے تو اس کی فصیل نام خدا کی برکت سے یکا یک گر جائے گی۔ مسلمان ہلہ کر کے شہر میں داخل ہو جائیں گے۔ سرکشوں کو ختم کر کے ملک کا انتظام نہایت عدل وانصاف کے ساتھ کریں گے۔ ابتدائی بیعت سے اس وقت تک چھ سات سال کا عرصہ گزرے گا۔ امام مہدی ملک کے بندوبست ہی میں مصروف ہوں گے۔
٧
امام مہدی کا دجال کی تحقیق کے لئے ایک مختصر دستہ روانہ فرمانا
اور ان کی افضلیت کا حال
افواہ اڑے گی کہ دجال نکل آیا اور مسلمانوں کو تباہ کر رہا ہے۔ اس خبر کے سنتے ہی حضرت امام مہدی ملک شام کی طرف واپس ہوں گے اور اس خبر کی تحقیق کے لئے پانچ یا نو سوار جن کے حق میں حضور سرور عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں ان کے ماں، باپوں و قبائل کے نام اور ان کے گھوڑوں کا رنگ جانتا ہوں۔ وہ اس زمانے کے روئے زمین کے آدمیوں سے بہتر ہوں گے۔ لشکر کے آگے بطور طلیعہ روانہ ہو کر معلوم کر لیں گے کہ یہ افواہ غلط ہے۔ پس امام مہدی عجلت کو چھوڑ کر ملک کی خبر گیری کی غرض سے آہستگی اختیار فرمائیں گے۔ اس میں کچھ عرصہ نہ گزرے گا کہ دجال ظاہر ہو جائے گا اور قبل اس کے کہ وہ دمشق پہنچے حضرت امام مہدی دمشق آچکے ہوں گے اور جنگ کی پوری تیاری و ترتیب فوج کر چکے ہوں گے اور اسباب حرب و ضرب تقسیم کرتے ہوں گے کہ مؤذن عصر کی اذان دے گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا اور اس وقت کی نماز
امام مہدی کی امامت میں ادا کرنا
لوگ نماز کی تیاری ہی میں ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کاندھوں پر تکیہ لگائے ہوئے آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی منارہ پر جلوہ افروز ہو کر آواز دیں گے کہ سیڑھی لے آؤ پس سیڑھی حاضر کر دی جائے گی۔ آپ اس کے ذریعہ سے نازل ہو کر امام مہدی سے ملاقات فرمائیں گے۔ امام مہدی نہایت تواضع و خوش خلقی سے آپ کے ساتھ پیش آئیں گے اور فرمائیں گے یا نبی اللہ امامت کیجئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ارشاد فرمائیں گے کہ امامت تم ہی کرو کیونکہ تمہارے بعض بعض کے لئے امام ہیں اور یہ عزت اسی امت کو خدا نے دی ہے۔ پس امام مہدی نماز پڑھائیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اقتداء کریں گے۔ نماز سے فارغ ہو کر امام مہدی پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے
٨
کہیں گے کہ یا نبی اللہ اب لشکر کا انتظام آپ کے سپرد ہے جس طرح چاہیں انجام دیں۔ وہ فرمائیں گے نہیں یہ کام بدستور آپ ہی کے تحت میں رہے گا۔ میں تو صرف قتل دجال کے واسطے آیا ہوں جس کا مارا جانا میرے ہی ہاتھ سے مقدر ہے۔
امام مہدی کے عہد خلافت کی خوشحالی اس کی مدت اور ان کی وفات
تمام زمین حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عدل و انصاف سے (بھر جائے گی) منور و روشن ہو جائے گی ظلم و بے انصافی کی بیخ کنی ہو گی۔ تمام لوگ عبادت و طاعت الٰہی میں سرگرمی سے مشغول ہوں گے۔ آپ کی خلافت کی میعاد سات یا آٹھ یا نو سال ہو گی۔ واضح رہے کہ سات سال عیسائیوں کے فتنے اور ملک کے انتظام میں، آٹھواں سال دجال کے ساتھ جنگ و جدال میں اور نواں سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں گزرے گا۔ اس حساب سے آپ کی عمر ٤٩ سال ہو گی۔ بعد ازاں امام مہدی علیہ السلام کی وفات ہو جائے گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کے جنازے کی نماز پڑھا کر دفن فرمائیں گے۔ اس کے بعد تمام چھوٹے بڑے انتظامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں آجائیں گے۔ (رسالہ علامات قیامت مؤلفہ حضرت مولانا شاہ رفیع الدینؒ)
اس موقع پر یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ شاہ صاحب موصوف نے یہ تمام سرگزشت کو حدیثوں کی روشنی ہی میں مرتب فرمائی ہے۔ جیسا کہ احادیث کے مطالعہ سے واضح ہے مگر واقعات کی ترتیب اور بعض جگہ ان کی تعیین یہ دونوں باتیں خود حضرت موصوف ہی کی جانب سے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث و قرآن میں جو قصص و واقعات بیان کئے گئے ہیں خواہ وہ گزشتہ زمانے سے متعلق ہوں یا آئندہ سے، ان کا اسلوب بیان تاریخی کتابوں کا سا نہیں بلکہ حسب مناسبت مقام ان کا ایک ایک ٹکڑا متفرق طور پر ذکر میں آگیا ہے پھر جب ان سب ٹکڑوں کو جوڑا جاتا ہے تو بعض مقامات پر کبھی اس کی کوئی درمیانی کڑی نہیں ملتی کہیں ان کی ترتیب میں شک و شبہ رہ جاتا ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر بعض خام طبائع تو اصل واقعہ کے ثبوت ہی سے دست بردار ہو جاتی ہیں حالانکہ غور یہ کرنا چاہئے کہ جب
٩
قرآن و حدیث کا اسلوب بیان ہی وہ نہیں جو آج ہماری تصانیف کا ہے تو پھر حدیثوں میں اس کو تلاش ہی کیوں کیا جائے ؟۔ نیز جب ان متفرق ٹکڑوں کی ترتیب صاحب شریعت نے خود بیان ہی نہیں فرمائی تو اس کو صاحب شریعت کے سر کیوں رکھ دیا جائے۔ لہٰذا اگر اپنی جانب سے کوئی ترتیب قائم کرلی گئی ہے تو اس پر جزم کیوں کیا جائے ؟۔ ہو سکتا ہے کہ جو ترتیب ہم نے اپنے ذہن سے قائم کی ہے۔ حقیقت اس کے خلاف ہو۔ اس قسم کے اور بھی بہت سے امور ہیں جو قرآنی اور حدیثی قصص میں تشنہ نظر آتے ہیں۔ اس لئے یہاں جو قدم اپنی رائے سے اٹھایا جائے اس کو کتاب و سنت کے سر رکھ دینا ایک خطرناک اقدام ہے اور اس ابہام کی وجہ سے اصل واقعہ ہی کا انکار کر ڈالنا یہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ واقعات کی پوری تفصیل اور اس کے اجزاء کی پوری پوری ترتیب بیان کرنی رسول کا وظیفہ نہیں۔ یہ ایک مؤرخ کا وظیفہ ہے۔ رسول آئندہ واقعات کی صرف بقدر ضرورت اطلاع دے دیتا ہے پھر جب ان کے ظہور کا وقت آتا ہے تو وہ خود اپنی تفصیل کے ساتھ آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور اس وقت یہ ایک کرشمہ معلوم ہوتا ہے کہ اتنے بڑے واقعات کے لئے جتنی اطلاع حدیثوں میں آچکی تھی وہ بہت کافی تھی اور قبل از وقت اس سے زیادہ تفصیلات دماغوں کے لئے بالکل غیر ضروری بلکہ شاید اور زیادہ الجھاؤ کا موجب تھیں۔ علاوہ ازیں جس کو ازل سے ابد تک کا علم ہے وہ یہ خوب جانتا تھا کہ امت میں دین روایت اور اسانید کے ذریعہ پھیلے گا۔ اور اس تقدیر پر راویوں کے اختلافات سے روایتوں کا ا ختلاف بھی لازم ہو گا۔ پس اگر غیر ضروری تفصیلات کو بیان کر دیا جاتا تو یقیناً ان میں بھی اختلاف پیدا ہونے کا امکان تھا اور ہو سکتا تھا کہ امت اس اجمالی خبر سے جتنا فائدہ اٹھا سکتی تھی تفصیلات بیان کرنے سے وہ بھی فوت ہو جاتا۔ لہٰذا امام مہدی کی حدیثوں کے سلسلہ میں نہ تو ہر گوشہ کی پوری تاریخ معلوم کرنے کی سعی کرنی صحیح ہے اور نہ صحت کے ساتھ منقول شدہ منتشر ٹکڑوں میں جزم کے ساتھ ترتیب دینی صحیح ہے اور نہ اس وجہ سے اصل پیشگوئی میں تردد پیدا کرنا علم کی بات ہے۔ یہاں جملہ پیشگوئیوں میں صحیح راہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ جتنی بات حدیثوں میں صحت کے ساتھ آچکی ہے اس کو اسی حد تک تسلیم کر لیا جائے اور زیادہ
١٠
تفصیلات کے درپے نہ ہوا جائے اور اگر مختلف حدیثوں میں کوئی ترتیب اپنے ذہن سے قائم کر لی گئی ہے تو اس کو حدیثی بیان کی حیثیت ہرگز نہ دی جائے۔
یہ بھی ظاہر ہے کہ اس سلسلہ کی حدیثیں مختلف اوقات میں مختلف صحابہؓ سے روایت ہوئی ہیں اور ہر مجلس میں آپ ﷺ نے اس وقت کے مناسب اور حسب ضرورت تفصیلات بیان فرمائی ہیں۔ یہاں یہ امر بھی یقینی نہیں کہ ان تفصیلات کے براہ راست سننے والوں کو ان سب کا علم حاصل ہو، بہت ممکن ہے کہ جس صحابیؓ نے امام مہدی کی پیشگوئی کا ایک حصہ ایک مجلس میں سنا ہو اس کو اس کے دوسرے حصے کے سننے کی نوبت ہی نہ آئی ہو جو دوسرے صحابیؓ نے دوسری مجلس میں سنا ہے اور اس لئے یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ واقعہ کے الفاظ بیان کرنے میں ان تفصیلات کی کوئی رعایت نہ کرے جو دوسرے صحابیؓ کے بیان میں موجود ہے۔
یہاں بعد کی آنے والی امت کے سامنے چونکہ یہ ہر دو بیانات موجود ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ فرض اس کا ہے کہ اگر وہ ان تفصیلات میں کوئی لفظی بے ارتباطی دیکھتی ہے تو اپنی جانب سے کوئی تطبیق کی راہ نکال لے۔ اس لئے بسا اوقات ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ یہ توجیہات راویوں کے بیانات پر پوری پوری راست نہیں آتیں۔ اب راویوں کے الفاظ کی یہ کشاکش اور تاویلات کی ناسازگاری کا یہ رنگ دیکھ کر بعض دماغ اس طرف چلے جاتے ہیں کہ ان تمام دشواریوں کے تسلیم کر لینے کی بجائے اصل واقعہ کا ہی انکار کر دینا آسان ہے۔ اگر کاش وہ اس پر بھی نظر کر لیتے کہ یہ تاویلات خود صاحب شریعت کی جانب سے نہیں بلکہ واقعہ کے خود راویوں کی جانب سے بھی نہیں یہ صرف ان دماغوں کی کاوش ہے جن کے سامنے اصل واقعہ کے وہ سب متفرق ٹکڑے جمع ہو کر آگئے ہیں جن کو مختلف صحابہؓ نے مختلف زبانوں میں روایت کیا ہے اور اس لئے ہر ایک نے اپنے الفاظ میں دوسرے کی تعبیر کی کوئی رعایت نہیں کی اور نہ وہ کر سکتا تھا تو پھر نہ تو ان پر راویوں کے الفاظ کی اس بے ارتباطی کا کوئی اثر پڑتا اور نہ ایک ثابت شدہ واقعہ کا انکار صرف اتنی سی بات پر ان کو آسان نظر آتا۔
یہاں جب آپ اس خاص تاریخ سے علیحدہ ہو کر نفس مسئلہ کی حیثیت سے
١١
احادیث پر نظر کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ امام مہدی کا تذکرہ سلف سے لے کر محدثین کے دور تک بڑی اہمیت کے ساتھ ہمیشہ ہوتا رہا ہے۔ حتیٰ کہ امام ترمذی، ابو داؤد ابن ماجہ وغیرہ نے امام مہدی کے عنوان سے ایک ایک باب ہی علیحدہ قائم کر دیا ہے۔ ان کے علاوہ وہ آئمہ حدیث جنہوں نے امام مہدی کے متعلق حدیثیں اپنی اپنی مؤلفات میں ذکر کی ہیں ان میں سے چند کے اسمائے مبارکہ حسب ذیل ہیں۔ امام احمد، البزار، ابن ابی شیبہ، الحاکم، الطبرانی، ابو یعلیٰ موصلی رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ جن جن صحابہ کرام سے اس باب میں روایتیں ذکر کی گئی ہیں۔ ان کے اسمائے مبارکہ یہ ہیں: حضرت علی، ابن عباس، ابن عمر، طلحہ، عبداللہ بن مسعود، ابو ہریرہ، انس، ابو سعید، ام حبیبہ، ام سلمہ، ثوبان، قرۃ بن ایاس، علی الہلالی، عبداللہ ابن الحارث بن جزء رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
شارح عقیدہ سفارینی نے امام مہدی کی تشریف آوری کے متعلق معنوی تواتر کا دعویٰ کیا ہے اور اس کو اہل سنت والجماعت کے عقائد میں شمار کیا ہے۔ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ :
”امام مہدی کے خروج کی روایتیں اتنی کثرت کے ساتھ موجود ہیں کہ اس کو معنوی تواتر کی حد تک کہا جا سکتا ہے اور یہ بات علمائے اہل سنت کے درمیان اس درجہ مشہور ہے کہ اہل سنت کے عقائد میں ایک عقیدے کی حیثیت سے شمار کی گئی ہے۔ ابو نعیم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی وغیرہ ہم نے صحابہؓ و تابعینؒ سے اس باب میں متعدد روایتیں بیان کی ہیں جن کے مجموعے سے امام مہدی کی آمد کا قطعی یقین حاصل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا امام مہدی کی تشریف آوری پر حسب بیان علماء اور حسب عقائد اہل سنت والجماعت یقین کرنا ضروری ہے۔“
(شرح عقیدہ السفارینی ص ٧٩، ٨٠)
اسی طرح حافظ سیوطیؒ نے بھی یہاں تواتر معنوی کا دعویٰ کیا ہے۔ قاضی شوکانیؒ نے اس سلسلہ کی جو حدیثیں جمع کی ہے ان میں مرفوع حدیثوں کی تعداد پچاس اور آثار کی اٹھائیس تک پہنچتی ہے۔ شیخ علی متقیؒ نے بھی منتخب کنز العمال میں اس کا بہت مواد جمع کر دیا ہے۔ حافظ ابن تیمیہؒ منہاج السنۃ اور حافظ ذہبیؒ مختصر منہاج السنۃ میں تحریر فرماتے ہیں :
”الاحادیث التی تحتج بھا علی خروج المہدی صحاح
١٢
رواها احمد، وابوداؤد والترمذى منها حديث ابن مسعودؓ و ام سلمةؓ وابى سعيدؓ وعلىّؓ ۔ مختصر منهاج ص ٥٣٤“
﴿یعنی جن حدیثوں سے امام مہدی کے خروج پر استدلال کیا گیا ہے۔ وہ صحیح ہیں۔ ان کو امام احمدؒ ، امام ابو داؤدؒ اور امام ترمذیؒ نے روایت فرمایا ہے۔﴾
یہ امر بھی واضح رہنا چاہئے کہ صحیح مسلم کی احادیث سے یہ امر ثابت ہے کہ :
(١)......آخری زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ ہوگا جس کے زمانے میں (٢)......غیر معمولی برکات ظاہر ہوں گی۔(٣)......وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قبل پیدا ہو گا۔(٤)...... دجال اسی کے عہد میں ظاہر ہو گا۔ مگر اس کا قتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دست مبارک سے ہوگا۔(٥)......حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے تشریف لائیں گے تو وہ خلیفہ نماز کے لئے مصلے پر آچکا ہو گا۔(٦)...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر وہ مصلے چھوڑ کر پیچھے ہٹے گا۔ مگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ان سے فرمائیں گے چونکہ آپ مصلے پر جاچکے ہیں۔ اس لئے اب امامت آپ ہی کا حق ہے اور یہ اس امت کی ایک بزرگی ہے۔ لہٰذا یہ نماز تو آپ انہیں کی اقتدا میں ادا فرمائیں گے۔
یہ تمام صفات ان صحیح حدیثوں سے ثابت ہیں جن میں محدثین کو کوئی کلام نہیں۔ اب گفتگو ہے تو صرف اتنی بات میں ہے کہ یہ خلیفہ کیا امام مہدی ہیں یا کوئی اور دوسرا خلیفہ ؟۔ دوسرے نمبر کی حدیثوں میں یہ تصریح موجود ہے کہ یہ خلیفہ امام مہدی ہوں گے۔ ہمارے نزدیک صحیح مسلم کی حدیثوں میں جب اس خلیفہ کا تذکرہ آچکا ہے تو پھر دوسرے نمبر کی حدیثوں میں جب وہی تفصیلات اس کے نام کے ساتھ مذکور ہیں تو ان کو بھی صحیح مسلم ہی کی حدیثوں کے حکم میں سمجھنا چاہئے۔ اس لئے اب اگر یہ کہہ دیا جائے کہ امام مہدی کا ثبوت خود صحیح مسلم میں موجود ہے تو اس کی گنجائش ہے۔ مثلاً جب صحیح مسلم میں موجود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب اتریں گے تو اس وقت مسلمانوں کا ایک امیر امامت کے لئے مصلے پر آچکا ہو گا تو اب جن حدیثوں میں اس خلیفہ کا نام امام مہدی بتایا گیا ہے۔ یقیناً وہ اسی مبہم خلیفہ کا بیان کہا جائے گا۔ یا مثلاً صحیح مسلم میں ہے کہ آخر زمانے میں ایک خلیفہ ہو گا جو بے حساب مال
١٣
تقسیم کرے گا۔ اب اگر دوسری حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مال کی یہ داد و دہش امام مہدی کے زمانے میں ہو گی تو صحیح مسلم کی اس حدیث کا مصداق امام مہدی کو قرار دینا بالکل بجا ہوگا۔ اسی طرح جنگ کے جو واقعات صحیح مسلم میں ابہام کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں۔ اگر دوسری حدیثوں میں وہی واقعات امام مہدی کے زمانے میں ثابت ہوتے ہیں تو یہ کہنا بالکل قرین قیاس ہو گا کہ صحیح مسلم میں جنگ کے جو واقعات مذکور ہیں وہ امام مہدی ہی کے دور کے واقعات ہیں۔ غالباً ان ہی وجوہات کی بناء پر محدثین نے بعض مبہم حدیثوں کو امام مہدی ہی کے حق میں سمجھا ہے اور اسی باب میں ان کو ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ امام ابو داؤد نے بارہ خلفاء کی حدیث کو امام مہدی کے باب میں ذکر فرما کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ بارہواں خلیفہ یہی امام مہدی ہیں۔
اب سب سے پہلے آپ ذیل کی حدیثیں پڑھئے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ امام مہدی کی آمد کی صحابہؓ و تابعینؒ کے درمیان کس درجہ شہرت تھی۔ اس کے بعد پھر مرفوع حدیثوں پر نظر ڈالئے تو بشرط اعتدال و انصاف آپ کو یقین ہو جائے گا کہ امام مہدی کی آمد کا مسئلہ بیشک ایک مسلم عقیدہ رہا ہے۔ البتہ روافض نے جو اور بے تکی باتیں اس میں اپنی جانب سے شامل کرلی ہیں ان کا نہ تو کوئی ثبوت نقل میں ملتا ہے نہ عقل ان کو باور کر سکتی ہے۔ صرف ان کی تردید میں کسی ثابت شدہ مسئلہ کا انکار کر دینا یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے:
- (١)........ ”عَنْ حَكِيْمِ بْنِ سَعْدٍ: قَالَ لَمَّا قَامَ سُلَيْمَانُ فَأَظْهَرَ مَا
أَظْهَرَ قُلْتُ لِأَ بِيْ يَحْيَى هَذَا الْمَهْدِيُّ الَّذِيْ يُذْكَرُ قَالَ لاَ ٠ اخرجه ابن ابی شيبه الحاوى ص ٨٠ج٢“
﴿حکیم بن سعد کہتے ہیں کہ جب سلیمان خلیفہ بنے اور انہوں نے عمدہ عمدہ خدمات انجام دیں تو میں نے ابو یحیٰی سے کہا وہ مہدی یہی ہیں جن کی شہرت ہے؟۔ انہوں نے کہا نہیں۔﴾
- (٢)............ ”عَنِ الْوَلِيْدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً يُحَدِّثُ قَوْماً
فَقَالَ: الْمَهْدِيُّوْنَ ثَلَاثَةٌ مَهْدِيُّ الْخَيْرِ عُمَرُ ابْنُ عَبْدِالْعَزِيْزِ وَمَهْدِيُّ الدَّمِ
١٤
وَهُوَالَّذِيْ تَسْكُنُ عَلَيْهِ الدِّمَاءُ وَمَهْدِيُّ الدِّيْنِ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ تُسْلِمُ اُمَّتُهُ فِيْ زَمَانِهِ كذافی الحاوی ص٧٨ج٢ وَفِيْهِ عَنْ كَعْبٍ قَالَ مَهْدِيُّ الْخَيْرِ يَخْرُجُ بَعْدَ السُّفْيَانِيِّ .“
﴿ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص سے سنا جو لوگوں سے کہہ رہا تھا کہ مہدی تین ہوں گے: (١)...... مہدی خیر‘ یہ تو عمر بن عبدالعزیز ہیں۔ (٢)...... مہدی دم‘ یہ وہ شخص ہے جس کے زمانے میں خونریزی ختم ہو جائے گی۔ (٣)...... مہدی دین‘ یہ عیسیٰ بن مریم ہیں۔ ان کے زمانے میں نصاریٰ بھی اسلام قبول کرلیں گے کعب بیان کرتے ہیں کہ مہدی خیر کا ظہور سفیانی کے ظہور کے بعد ہوگا۔﴾
- (٣).......... ”عن ابن عمر أنَّهُ قَالَ لِابْنِ الْحَنَفِيَّةِ الْمَهْدِيُّ الَّذِيْ
يَقُوْلُوْنَ كَمَا يَقُوْلُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا قِيْلَ لَهُ الْمَهْدِيُّ ٠ الحاوی ص٧٨ج٢“
﴿ابن عمرؓ نے ابن حنفیہ سے کہا المہدی کا لقب ایسا ہے جیسا کہ کسی نیک آدمی کو ”رجل صالح“ کہہ دیں۔ (اس لحاظ سے مہدی کا اطلاق متعدد اشخاص پر ہوسکتا ہے۔)﴾
- (٤).......... ”عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ يُبْعَثُ الْمَهْدِيُّ بَعْدَ اِيَاسٍ حَتّٰی
يَقُوْلَ النَّاسُ لَا مَهْدِيَّ ٠ كذا فی الحاوی ص٧٦ج٢“
﴿ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ مہدی کا ظہور اس وقت ہوگا جب لوگ مایوس ہوکر یہ کہیں گے کہ اب مہدی کیا آئے گا؟۔﴾
- (٥).......... ”عَنْ كَعْبٍ قَالَ إِنِّيْ أَجِدُ الْمَهْدِيَّ مَكْتُوْبًا فِيْ أَسْفَارِ
الْاَنْبِيَاءِ مَا فِيْ عَمَلِهِ ظُلْمٌ وَّلَا عَيْبٌ ٠ الحاوی ص٧٧ج٢“
﴿کعبؓ کہتے ہیں کہ میں نے انبیاء علیہم السلام کی کتابوں میں مہدی کی یہ صفت دیکھی ہے کہ اس کے عمل میں نہ ظلم ہو گا نہ عیب۔﴾
- (٦).......... ”عَنْ مَطَرٍ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيْزِ فَقَالَ بَلَغَنَا
١٥
أَنَّ الْمَهْدِيَّ يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيْزِ قُلْنَا مَا هُوَ؟ قَالَ يَأْتِيْهِ رَجُلٌ فَيَسْأَلُهُ فَيَقُوْلُ ادْخُلْ بَيْتَ الْمَالِ فَخُذْ فَيَدْخُلُ وَيَخْرُجُ وَيَرَى النَّاسَ شِبَاعًا فَيَنْدَمُ فَيَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيَقُوْلُ خُذْ مَا أَعْطَيْتَنِيْ فَيَأْبَى وَيَقُوْلُ إِنَّا نُعْطِيْ وَلاَ نَأْخُذُ ٠ الحاوى ص٧٧ ج٢“
﴿مطر کے سامنے عمر بن عبدالعزیزؒ کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا ہم کو معلوم ہوا ہے کہ مہدی آکر ایسے ایسے کام کریں گے جو عمر بن عبدالعزیزؒ سے نہیں ہوسکے ہم نے پوچھا وہ کیا؟۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایک شخص آکر سوال کرے گا۔ وہ کہیں گے بیت المال میں جا اور جتنا چاہے مال لے لے۔ وہ اندر جائے گا اور جب باہر آئے گا تو دیکھے گا کہ سب لوگ نیت سیر ہیں تو اس کو شرم آئے گی اور یہ لوٹ کر کہے گا کہ جو مال آپ نے دیا تھا وہ آپ لے لیجئے تو وہ فرمائیں گے ہم دینے کے لئے ہیں لینے کے لئے نہیں۔﴾
- (٧).......... ” عَنْ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ قُلْتُ لِطَاوُسٍ عُمَرُ بْنُ
عَبْدِالْعَزِيْزِ هُوَالْمَهْدِيُّ؟ قَالَ هُوَ الْمَهْدِيُّ وَلَيْسَ بِهِ إِنَّهُ لَمْ يَسْتَكْمِلِ الْعَدْلَ كُلَّهُ أَخْرَجَهُ أَبُوْ نُعَيْمٍ فِى الْحِلْيَةِ ٠ الحاوى ص٨٠ ج٢“
﴿ابراہیم بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے پوچھا کیا عمر بن عبدالعزیز وہی مہدی ہیں؟۔ انہوں نے کہا ایک مہدی وہ بھی ہیں لیکن وہ خاص مہدی نہیں۔ ان کے دور کا سا کامل انصاف ان کے دور میں کہاں ہے؟۔﴾
- (٨).......... ”عَنْ أَبِيْ جَعْفَرٍ قَالَ يَزْعَمُوْنَ أَنِّيْ أَنَا الْمَهْدِيُّ وَإِنِّيْ إِلَى
أَجَلٍ أَدْنَى مِنِّيْ إِلَى مَا يَدَّعُوْنَ ٠ اخرجه المحاملى فى اماليه ٠ الحاوى ص٨١ ج٢“
﴿ابو جعفر فرماتے ہیں کہ لوگ میرے متعلق یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ مہدی میں ہوں حالانکہ مجھے ان کے دعوؤں سے اپنا مر جانا نزدیک تر نظر آتا ہے۔﴾
- (٩).......... ”عَنْ سَلَمَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ قِيْلَ يَوْمًا عِنْدَ حُذَيْفَةَ قَدْ خَرَجَ
الْمَهْدِيُّ قَالَ لَقَدْ أَفْلَحْتُمْ إِنْ خَرَجَ وَأَصْحَابُ مُحَمَّدٍ بَيْنَكُمْ إِنَّهُ لاَ يَخْرُجُ حَتَّى
١٦
لَا يَكُوْنَ غَائِبٌ أَحَبَّ إِلَى النَّاسِ مِنْهُ مِمَّا يَلْقَوْنَ مِنَ الشَّرِّ أَخْرَجَهُ الدَّانِي .
الحاوى ص ٨١ ج ٢“
﴿ سلمہ بن زفر بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حذیفہ کے سامنے کسی نے کہا کہ مہدی ظاہر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے فرمایا اگر ایسا ہے جبکہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ تمہارے درمیان موجود ہیں تو تم نے بڑی فلاح پائی یادرکھو کہ وہ اس وقت ظاہر ہوں گے جبکہ مصائب کی وجہ سے کوئی غائب شخص لوگوں کو ان سے پیارا معلوم نہ ہوگا (یعنی ان کا شدید انتظار ہوگا)﴾ ان آثار کی روشنی میں :” لا مهدي الاعيسٰى“ کی شرح بھی بخوبی ہو سکتی ہے۔ بشرطیکہ ابن ماجہ کی اس حدیث کو کسی درجہ میں حسن تسلیم کر لیا جائے۔
رب العالمین کی یہ عجیب حکمت ہے کہ جب کسی اہم شخصیت کے متعلق کوئی پیشگوئی کی گئی ہے تو اس کی اس آزمائشی زمین پر ہمیشہ اس نام کے کاذب مدعی چاروں طرف سے پیدا ہونے شروع ہوگئے ہیں اور اس طرح ایک سیدھی بات آزمائشی منزل بن کر رہ گئی ہے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق صریح سے صریح الفاظ میں پیشگوئی کی گئی جس میں کسی دوسرے شخص کی آمد کا کوئی احتمال ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے باوجود نہ معلوم کتنے مدعی مسیحیت پیدا ہوگئے۔ آخر یہ ایک سیدھی پیشگوئی ایک معمہ بن کر رہ گئی ۔ اسی طرح جب حضرت امام مہدی کے حق میں پیشگوئی کی گئی تو گزشتہ زمانے میں یہاں بھی بہت سے اشخاص مہدویت کے مدعی پیدا ہوگئے۔ چنانچہ محمد بن عبداللہ بہ النفس الزکیہ کے لقب سے مشہور تھا۔ اسی طرح محمد بن مر توت، عبید اللہ بن میمون قداح، محمد جونپوری وغیرہ نے اپنے اپنے زمانے میں مہدویت کا دعویٰ کیا۔ شیخ سید برزنجیؒ لکھتے ہیں کہ ان کے زمانے میں مقام ازبک میں بھی ایک شخص نے مہدویت کا دعویٰ کیا۔ سید موصوف نے ایک اور ”کردی“ شخص کے متعلق بھی لکھا ہے کہ عقر کے پہاڑوں میں اس نے بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ ان سب اشخاص کے واقعات تاریخ میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں اور وہ تمام مصائب و آلام بھی مذکور ہیں جو ان بدبختوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر توڑے گئے تھے۔
رافضی جماعت کا مستقل یہ ایک عقیدہ ہی ہے کہ محمد بن حسن عسکری مہدی
١٧
موعود ہے۔ ان کے خیالات کے مطابق وہ اپنے طفولیت کے زمانے ہی سے لوگوں کی نظروں سے غائب ہو کر کسی مخفی غار میں پوشیدہ ہیں اور یہ جماعت آج تک انہی کے ظہور کی منتظر ہے اور مصیبتوں میں انہی کو پکارتی پھرتی ہے ان مفتریین کی تاریخ اور روافض کی اس وہم پرستی اور بے بنیاد عقیدہ کی وجہ سے بعض اہل علم کے ذہن اس طرف منتقل ہو گئے کہ اگر علمی لحاظ سے مہدی کے وجود ہی کا انکار کر دیا جائے تو اس تمام بحث و جدل سے امت مسلمہ کی جان چھوٹ جائے اور روز مرہ نئی نئی آزمائشوں کا اس کو مقابلہ نہ کرنا پڑے۔ چنانچہ ابن خلدون مؤرخ نے اسی پر پورا زور صرف کیا ہے اور چونکہ تاریخی اور تحقیقی لحاظ سے علمی طبقہ میں اس کو اونچا مقام حاصل ہے۔ اس لئے اس قسم کے مزاجوں کے لئے اس کا انکار کرنا اور تقویت کا باعث بن گیا پھر بعد میں اسی کے اعتماد پر اس مسئلہ کا انکار چلتا رہا ہے۔ محدثین علماء نے ہمیشہ اس انکار کو تسلیم نہیں کیا اور خود مؤرخ موصوف کے زمانے میں بھی اس پیشگوئی کے اثبات پر تالیفات کی گئیں جن میں سے اس وقت : ” ابراز الوہم المکنون من کلام ابن خلدون “ کا نام ہمارے علم میں بھی ہے مگر یہ رسالہ ہم کو دستیاب نہیں ہو سکا۔ امام قرطبی‘ شیخ جلال الدین سیوطی‘ سید برزنجی‘ شیخ علی متقی‘ علامہ شوکانی‘ نواب صدیق حسن خاں‘ شارح عقیدہ سفارینی کی تصنیفات ہماری نظر سے بھی گزری ہیں۔ ان کے مؤلفات کے علاوہ بھی اس موضوع پر بہت سے رسائل لکھے گئے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ جب کسی خاص ماحول کی وجہ سے وضع حدیث کے دواعی پیدا ہو گئے ہیں تو اس دور کی حدیثوں پر محدثین کی نظریں بھی ہمیشہ سخت ہو گئی ہیں اور اس لئے بعض صحیح حدیثیں بھی مشتبہ ہو گئیں جیسا کہ بنی امیہ کے دور میں فضائل اہل بیت کی بہت سی حدیثیں مشتبہ ہو گئی تھیں پھر جب محدثین نے ان کو چھانٹنا شروع کیا تو بعض متشدد نظروں میں اچھی خاصی حدیثیں بھی اس کی لپیٹ میں آگئیں۔ آخر جب اس فضا سے ہٹ کر علماء نے دوبارہ اس پر نظر ڈالی تو انہوں نے بہت سی ساقط شدہ حدیثوں میں کوئی سقم نہ پایا اور آخر ان کو قبول کیا۔ اسی طرح یہاں بھی چونکہ ایک فرقے نے محمد بن حسن عسکری کے مہدی منتظر ہونے کا دعویٰ کر دیا تو پھر وہی وضع حدیث کے جذبات ابھرے اور جب علماء نے غلط ذخیرہ کو
١٨
ذرا تشدد کے ساتھ الگ کرنے کا ارادہ کیا تو لازمی طور پر یہاں بھی کچھ حدیثیں اس کی زد میں آ گئیں۔ یہ ظاہر ہے کہ اس باب کی صریح حدیثوں میں کوئی حدیث بھی صحیحین کی نہ تھی۔ گو صحت کے لئے صحیحین کی حدیث ہونا کسی کے نزدیک بھی شرط نہیں۔ اس لئے محدثانہ ضابطہ کے مطابق نقد و تبصرہ کو یہاں کچھ نہ کچھ وسعت مل گئی لیکن یہ بات کچھ اسی باب کی حدیثوں ہی کے ساتھ خاص نہیں ہر کتاب پر شیخین کی کتابوں کے سوا جب صرف ضابطہ کی تنقید شروع کر دی جائے اور صرف راویوں پر جرح و تعدیل کو لیکر اس باب کے دیگر امور مہمہ کو نظر انداز کر ڈالا جائے تو پھر نقد کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔ اس تشدد و افراط کا ثمرہ گو وقتی طور پر کچھ مفید ہو تو ہو لیکن دوسری طرف اس کا نقصان بھی ضرور ہوتا ہے اور وقتی فتنے ختم ہو جانے کے بعد آئندہ امت کی نظروں میں یہ اختلاف اچھی حدیثوں میں بھی شک و تردد کا موجب بن جاتا ہے۔ یہاں جب آپ خارجی عوارض اور ماحول کے خاص حالات سے علیحدہ ہو کر نفس مسئلہ کی حیثیت سے اس موضوع کی احادیث پر نظر فرمائیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ امام مہدی کا تذکرہ سلف سے لے کر محدثین کے دور تک ہمیشہ بڑی اہمیت کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔
محقق ابن خلدون کے کلام کو جہاں تک ہم نے سمجھا ہے اس کا خلاصہ تین باتیں معلوم ہوتی ہیں: (١)...... جرح و تعدیل میں جرح کو ترجیح ہے۔ (٢) امام مہدی کی کوئی حدیث صحیحین میں موجود نہیں۔ (٣)...... اس باب کی جو صحیح حدیثیں ہیں ان میں امام مہدی کی تصریح نہیں۔
فن حدیث کے جاننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ تینوں باتیں کچھ وزن نہیں رکھتیں کیونکہ ہمیشہ اور ہر جرح کو ترجیح دینا یہ بالکل خلاف واقع ہے۔ چنانچہ خود محقق موصوف کو جب اس کا تنبہ ہوا کہ اس قاعدے کے تحت تو صحیحین کی حدیثیں بھی مجروح ہو جاتی ہیں تو اس کا جواب انہوں نے صرف یہ دے دیا ہے کہ یہ حدیثیں چونکہ علماء کے درمیان مسلم ہو چکی ہیں۔ اس لئے وہ مجروح نہیں کہی جاسکتیں مگر سوال تو یہ ہے کہ جب قاعدہ یہ ٹھہرا تو پھر علماء کو وہ مسلم ہی کیوں ہوئیں؟۔
١٩
رہا امام مہدی کی حدیثوں کا صحیحین میں مذکور نہ ہونا تو یہ اہل فن کے نزدیک کوئی جرح نہیں ہے۔ خود ان ہی حضرات کا اقرار ہے کہ انہوں نے جتنی صحیح حدیثیں ہیں وہ سب کی سب اپنی کتابوں میں درج نہیں کیں، اسی لئے بعد میں ہمیشہ محدثین نے مستدرکات لکھی ہیں۔ اب رہی تیسری بات تو یہ دعویٰ بھی تسلیم نہیں کہ صحیح حدیثوں میں امام مہدی کا نام مذکور نہیں ہے۔ کیا وہ حدیثیں جن کو امام ترمذی وابو داؤد وغیرہ جیسے محدثین نے صحیح و حسن کہا ہے صرف محقق موصوف کے بیان سے صحیح ہونے سے خارج ہو سکتی ہیں؟۔ دوم یہ کہ جن حدیثوں کو محقق موصوف نے بھی صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ اگر وہاں ایسے قوی قرائن موجود ہیں جن سے اس شخص کا امام مہدی ہونا تقریباً یقینی ہو جاتا ہے تو پھر امام مہدی کے لفظ کی تصریح ہی کیوں ضروری ہے؟۔ سوم یہاں اصل بحث مصداق میں ہے۔ مہدی کے لفظ میں نہیں۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک خلیفہ ہونا اور ایسی خاص صفات کا حامل ہونا جو بقول روایت عمر بن عبدالعزیزؒ جیسے شخص میں بھی نہ تھیں ثابت ہے تو بس اہل سنت کا مقصد اتنی بات سے پورا ہو جاتا ہے کیونکہ مہدی تو صرف ایک لقب ہے۔ علم اور نام نہیں، اور یہ آپ ابھی معلوم کر چکے ہیں کہ مہدی کا لفظ بطور لقب دوسرے اشخاص پر بھی اطلاق کیا گیا ہے۔ اگر چہ سب میں کامل مہدی وہی ہیں جن کا ظہور آئندہ زمانے میں مقدر ہے۔ یہ ایسا سمجھئے جیسا دجال کا لفظ حدیثوں میں ستر مدعیان نبوت کو دجال کہا گیا ہے مگر دجال اکبر وہی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے قتل ہو گا۔ ہاں! اس لقب کی زد اگر پڑتی ہے تو ان اصحاب پر پڑتی ہے جو مہدی کے ساتھ ساتھ کسی قرآن کے منتظر بیٹھے ہیں۔ محقق موصوف کی پوری بحث پڑھنے کے بعد یہ یقین ہو جاتا ہے کہ محقق موصوف کی اصل نظر اسی فتنہ کی طرف ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ حدیثوں سے کسی ایسے مہدی کا وجود ثابت نہ ہو جس پر ایمان و قرآن کا دارو مدار ہو اور جیسا کہ نقد و تبصرہ کے وقت ہر شخص اپنے طبعی اور علمی تاثرات سے بمشکل بری رہ سکتا ہے۔ اسی طرح محقق موصوف بھی یہاں اس سے بچ نہیں سکے اور فن تاریخ کی سب سے کٹھن منزل یہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث پر کلام کرتے ہوئے بڑے سے بڑے علماء کی توثیق نقل کرنے کے بعد بھی ان کا رجحان طبع انہیں علماء کی
٢٠
جانب رہا ہے جنہوں نے کوئی نہ کوئی جرح ان حدیثوں میں نکال کھڑی کی ہے اور صرف جرح کے مقدم ہونے کو ایک قاعدہ کلیہ بنا کر بس اسی سے کام لیا ہے۔ اگر محقق موصوف جرح کے اسباب و مراتب پر غور فرما لیتے تو شاید ہر مقام پر ان کا رجحان اس طرف نہ رہتا۔
اسم المهدی ونسبه وحلية الشريفه
(١).......... ”عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِّنْ اَهْلِ بَيْتِيْ يُوَاطِئُ اِسْمُهُ اِسْمِيْ رَوَاهُ الترمذى قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَّاَبِيْ سَعِيدٍ وَّأُمِّ سَلَمَةَ وَاَبِيْ هُرَيْرَةَ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قُلْتُ وَاَخْرَجَهُ أَبُودَاوُدَ وَسَكَتَ عَنْهُ هُوَ وَالْمُنْذِرِيُّ وَابْنُ الْقَيِّمِ وَقَالَ الْحَاكِمُ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَزَائِدَةُ وَغَيْرُهُمْ مِّنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِيْنَ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ وَطُرُقُ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ كُلُّهَا صَحِيْحَةٌ .“
امام مہدی کا نام ونسب اور ان کا حلیہ شریف
﴿عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دنیا کا اس وقت تک خاتمہ نہیں ہوگا جب تک کہ میرے اہل بیت سے ایک شخص عرب پر حاکم نہ ہو جو میرے ہم نام ہو گا۔ (ترمذی باب ماجاء فی المہدی ص ٤٢٧ ج ٢)﴾
(٢).......... ” عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ لَوْلَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمًا لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَلِيَ . الترمذى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . “
﴿ابو ہریرہؓ سے روایت ہے اگر دنیا کے خاتمہ میں صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اسی ایک دن کو اور دراز فرمادے گا۔ یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص عرب کا حاکم ہو کر رہے گا۔ (ترمذی شریف ص ٤٢٧ ج ٢)﴾
(٣).......... ” عَنْ أَبِيْ اِسْحَقَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ وَنَظَرَ إِلَى ابْنِهِ الْحَسَنِ فَقَالَ إِنَّ ابْنِيْ هَذَا سَيِّدٌ كَمَا سَمَّاهُ النَّبِيُّ ﷺ وَسَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ رَجُلٌ يُسَمَّى بِاسْمِ نَبِيِّكُمْ ﷺ يُشْبِهُ فِى الْخُلْقِ وَلاَ يَشْبِهُ فِى الْخَلْقِ ثُمَّ ذَكَرَ
٢١
قِصَّةً يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلاً رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَقَالَ أَبُودَاوُدَ فِي عُمَرِو بْنِ قَيْسٍ لَا بَأْسَ بِهِ فِي حَدِيْثِهِ خَطَاءٌ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ صَدُوْقٌ، لَهُ أَوْهَامٌ، وَأَمَّا أَبُو إِسْحَقَ السَّبِيْعِيُّ فَرِوَايَتُهُ عَنْ عَلِيٍّ مُنْقَطِعَةٌ . “
﴿ حضرت علیؓ نے اپنے فرزند حضرت حسنؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا میرا یہ فرزند سید ہوگا جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا ہے اور اس کی نسل سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے نبی کے نام پر ہوگا وہ عادات میں آپ ﷺ کے مشابہ ہوگا لیکن صورت میں مشابہ نہ ہوگا۔ اس کے بعد ان کے عدل و انصاف کا حال ذکر فرمایا۔ (ابو داؤد کتاب المہدی ص ١٣١ ج ٢) ﴾
(٤).......... ”عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَوْلَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا يَوْمٌ، لَبَعَثَ اللهُ رَجُلاً مِّنْ أَهْلِ بَيْتِيْ يَمْلَأُهَا قِسْطًا وَعَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا . رواه ابوداؤد وَفِي إِسْنَادِهِ فِطْرُ بْنُ خَلِيْفَةَ الْكُوْفِيُّ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيْدٍ الْقَطَّانُ وَيَحْيَى بْنُ مَعِيْنٍ وَالنَّسَائِيُّ وَالْعِجْلِي وَابْنُ سَعْدٍ وَالسَّاجِيُ وَقَالَ أَبُوْ حَاتِم صَالِحُ الْحَدِيْثِ وَأَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ فَالْحَدِيْثُ قَوِيٌّ . “
﴿ حضرت علیؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔ اگر قیامت میں صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے تو بھی اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ضرور ایک شخص کو کھڑا کرے گا جو دنیا کو عدل و انصاف سے پھر اسی طرح بھر دے گا جیسے وہ اس سے قبل ظلم سے بھر چکی ہوگی۔ (ابو داؤد ص ١٣١ ج ٢) ﴾
(٥).......... ”عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ فَتَذَاكَرْنَا الْمَهْدِيَّ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ الْمَهْدِيُّ مِنْ وُّلْدِ فَاطِمَةَ . رواه ابن ماجة وَفِيْهِ عَلِيُّ بْنُ النُّفَيْلِيُّ الْهِنْدِيُّ قَالَ أَبُوْ حَاتِمٍ لَا بَأْسَ بِهِ أَخْرَجَ لَهُ ابوداؤد وابن ماجة كَذَا فِى الْاِذَاعَةِ . “
﴿ سعید بن المسیبؒ بیان کرتے ہیں کہ ہم ام سلمہؓ کے پاس حاضر تھے ہم نے امام مہدی کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے آپ ﷺ
٢٢
فرماتے تھے کہ امام مہدی حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں ہوں گے۔ (ابن ماجہ باب خروج المہدی ص ٣٠٠)﴾
(٦)..........”عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ یَقُوْلُ نَحْنُ وُلْدُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ سَادَةُ اَهْلِ الْجَنَّةِ اَنَا وَحَمْزَةُ وَعَلِیٌّ وَّجَعْفَرٌ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ وَالْمَهْدِیُّ ٠ رواه ابن ماجة وفى الزوائد وفى اسناده مقال وعلى بن زياد لم ار من وثقه ولا من جرح وباقى رجال اسناده موثقون وراجع له الا ذاعة .“
﴿حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ ہم عبد المطلب کی اولاد واہل جنت کے سردار ہوں گے۔ یعنی میں حمزہ، علی، جعفر، حسن حسین اور مہدی رضی اللہ عنہم اجمعین (ابن ماجہ ص ٣٠٠)﴾
(٧)..........”عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ اَلْمَهْدِیُّ مِنِّیْ اَجْلَی الْجَبْهَةِ اَقْنَی الْاَنْفِ یَمْلَأُ الْاَرْضَ قِسْطًا وَّعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَّجَوْرًا وَّیَمْلِكُ سَبْعَ سِنِیْنَ(رواه ابوداؤد)قال المنذرى فى اسناده عمران القطان وهو ابوالعوام عمران بن داور القطان البصرى استشهد به البخارى ووثقه عفان بن مسلم واحسن عليه الثناء يحيى بن سعيد القطان“
﴿ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مہدی میری اولاد میں سے ہو گا جس کی پیشانی کشادہ اور ناک بلند ہو گی اور جو دنیا کو عدل وانصاف سے بھر بھر دے گا۔ جبکہ اس وقت وہ ظلم و ستم سے بھر چکی ہو گی ان کی حکومت سات سال تک رہے گی۔ (ابو داؤد ص ١٣١ ج ٢)﴾
(٨)..........”عَنْ بُرَیْدَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ سَتَكُوْنُ بَعْدِیْ بُعُوْثٌ كَثِیْرَةٌ فَكُوْنُوْا فِیْ بَعْثِ خُرَاسَانَ ٠ رواه ابن عدى وابن عساكر والسيوطى فى الجامع الصغير.“
٢٣
﴿بریدہؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بعد بہت سے لشکر ہوں گے تم اس لشکر میں شامل ہونا جو خراسان سے آئے گا۔ (جامع الاحادیث للسیوطی ص ١٤ج٦حدیث نمبر ١٣٠٧٠)﴾
(٩).......... ”عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ يَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ رَايَاتٌ سُوْدٌ فَلَا يَرُدُّ هَا شَيْءٌ حَتّٰی تُنْصَبُ بِاِيْلِيَاءَ ․ الترمذی“
﴿ابو ہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے خراسان کی طرف سے سیاہ سیاہ جھنڈے آئیں گے کوئی طاقت ان کو واپس نہیں کرسکے گی۔ یہاں تک کہ وہ بیت مقدس میں نصب کر دیئے جائیں گے۔ (ترمذی شریف ابواب الفتن ص ٥٢ ج٢)﴾
حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ سیاہ جھنڈے وہ نہیں ہیں جو ایک مرتبہ ابو مسلم خراسانی لیکر آیا تھا جس نے بنوامیہ کا ملک چھین لیا تھا بلکہ یہ دوسرے ہیں جو امام مہدی کے عہد میں ظاہر ہوں گے۔ کذافی الحاوی ج٢ص٦٠ نعیم بن حماد حضرت حمزہؓ سے روایت فرماتے ہیں کہ یہ جھنڈے چھوٹے چھوٹے ہوں گے۔ (حاوی ص ٦٨‘ ٦٩ ج٢)
(١٠).......... ”عَنْ سَعِيْدِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ رَايَاتٌ سُوْدٌ لِبَنِى الْعَبَّاسِ ثُمَّ يَمْكُثُوْنَ مَاشَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ تَخْرُجُ رَايَاتٌ سُوْدٌ صِغَارٌ تُقَاتِلُ رَجُلاً مِنْ وُلْدِ اَبِيْ سُفْيَانَ وَاَصْحَابَهُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يُؤَدُّوْنَ الطَّاعَةَ لِلْمَهْدِيِّ كذافی الحاوی ص٦٩ ج٢ وَفِيْهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ تَخْرُجُ رَايَاتٌ سُوْدٌ لِبَنِى الْعَبَّاسِ ثُمَّ تَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ اُخْرٰی سُوْدٌ قَلَانُسُهُمْ وَثِيَابُهُمْ بِيْضٌ عَلٰی مُقَدِّمَتِهِمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهٗ شُعَيْبُ بْنُ صَالِحٍ مِنْ تَمِيْمٍ يَهْزِمُوْنَ اَصْحَابَ السُّفْيَانِيِّ ........... الخ ․ الحاوی ص٦٨ ج٢“
﴿سعید بن المسیب روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مشرق کی سمت ایک مرتبہ بنو العباس سیاہ جھنڈے لے کر نکلیں گے پھر جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا رہیں گے۔ اس کے بعد پھر چھوٹے چھوٹے جھنڈے نمودار ہوں گے جو ابو سفیان کی
٢٢
اولاد اور اس کے رفقاء کے ساتھ جنگ کریں گے اور مہدی کی تابعداری کریں گے۔ ﴾
ظہور المهدی ومبايعة اهل مكة
اياه بين الركن والمقام
(١١)..............” عَنْ أُمّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيْفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ الْمَدِيْنَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيْهِ نَاسٌ مِّنْ اَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُوْنَهُ وَهُوَ كَارِهٌ فَيُبَايِعُوْنَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ مِّنَ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَا النَّاسُ ذَالِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُوْنَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِّنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُوْنَ عَلَيْهِمْ وَذَالِكَ بَعْثُ كَلْبٍ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَّمْ يَشْهَدُ غَنِيمَةَ كَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِى النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ وَيُلْقِى الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِيْنَ ثُمَّ يَتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُوْنَ . رواه ابوداؤد والحديث ادخله ابوداؤد في باب المهدى واشاراليه الترمذى بما في الباب والحديث سكت عنه ابو داؤد ثم المنذرى وابن القيم وفى الا ذاعة رجاله رجال الصحيحين لا مطعن فيهم ولا مغمز . العون ص١٧٦ج٤“
امام مہدی کا ظہور اور حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان
اہل مکہ کی ان سے بیعت کرنا
﴿ حضرت ام سلمہؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت فرماتی ہیں کہ ایک خلیفہ کے انتقال کے بعد کچھ اختلاف رونما ہو گا۔ اس وقت ایک شخص مدینہ کا باشندہ بھاگ کر مکہ مکرمہ آئے گا۔ مکہ مکرمہ کے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو مجبور کر کے حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کر لیں گے پھر شام سے اس کے مقابلے کے لئے
٢٥
ایک لشکر بھیجا جائے گا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان ایک میدان میں دھنسا دیا جائے گا۔ جب لوگ ان کی یہ کرامت دیکھیں گے تو شام کے ابدال اور عراق کی جماعتیں بھی آکر ان سے بیعت کریں گی۔ اس کے بعد پھر قریش میں ایک شخص ظاہر ہوگا جس کے ماموں قبیلہ کلب کے ہوں گے۔ وہ ظاہر ہو کر ان کے مقابلہ کے لئے لشکر بھیجے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو (امام مہدی کو) ان کے اوپر غالب فرمائے گا اور یہ بنو کلب کا لشکر ہوگا۔ وہ شخص بڑا بدنصیب ہے جو اس قبیلہ کلب کی غنیمت میں شریک نہ ہو۔ کامیابی کے بعد وہی شخص اس مال کو تقسیم کرے گا اور سنت کے مطابق لوگوں سے عمل کرائے گا اور اس کے عہد میں تمام روئے زمین پر اسلام ہی اسلام پھیل جائے گا اور سات برس تک وہ زندہ رہے گا۔ اس کے بعد اس کی وفات ہو جائے گی اور مسلمان اس کی نماز پڑھیں گے۔ (ابو داؤد ص ١٣١ ج ٢)
ابو داؤد نے اس روایت کو امام مہدی کے باب میں ذکر فرمایا ہے اور امام ترمذی نے جب امام مہدی کی حدیثیں روایت کرنے والے صحابہؓ کے اسماء شمار کرائے ہیں تو انہوں نے بھی حضرت ام سلمہؓ کی اس روایت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ نیز اس باب کی دوسری حدیثوں پر نظر کر کے یہ جزم حاصل ہو جاتا ہے کہ اس روایت میں اگرچہ اس شخص کا نام مذکور نہیں۔ مگر یقیناً وہ امام مہدی ہی ہیں کیونکہ مجموعی لحاظ سے یہ وہی اوصاف ہیں جو امام مہدی میں ہوں گے اور اسی وجہ سے ابو داؤد نے اس حدیث کو امام مہدی کی حدیثوں کے باب میں درج فرمایا ہے۔ ابن خلدون بھی اس پر کوئی خاص جرح نہ کر سکا صرف یہ کہہ سکا کہ اس روایت میں امام مہدی کا نام مذکور نہیں۔
(١٢).......... ” عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ قَالَ ذَكَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَاءً يُّصِيْبُ هٰذِهِ الْأُمَّةَ حَتّٰى لَايَجِدَ الرَّجُلُ مَلْجَاءً يَّلْجَاءُ إِلَيْهِ مِنَ الظُّلْمِ فَيَبْعَثُ اللّٰهُ رَجُلاً مِّنْ عِتْرَتِىْ وَأَهْلِ بَيْتِىْ فَيَمْلَأُ بِهِ الْأَرْضَ قِسْطًا وَّعَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَّجَوْرًا يَرْضٰى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ لَاتَدَعُ السَّمَاءُ مِنْ قَطْرِهَا شَيْئًا إِلَّا صَبَّتْهُ مِدْرَارًا وَّلَا تَدَعُ الْأَرْضُ مِنْ نَبَاتِهَا شَيْئًا إِلَّا أَخْرَجَتْهُ حَتّٰى يَتَمَنَّى الْأَحْيَاءُ الْأَمْوَاتَ يَعِيْشُ فِىْ ذٰلِكَ سَبْعَ سِنِيْنَ أَوْ ثَمَان سِنِيْنَ
٢٦
اَوْ تِسْعَ سِنِيْنَ . رواه الحاكم فى مستدركه كما فى المشكوة “
ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک بڑی آزمائش کا ذکر فرمایا جو اس امت کو پیش آنے والی ہے۔ ایک زمانے میں اتنا شدید ظلم ہو گا کہ کہیں پناہ کی جگہ نہ ملے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ میری اولاد میں ایک شخص کو پیدا فرمائے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے پھر ویسا ہی بھر دے گا جیسا وہ پہلے ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی زمین اور آسمان کے باشندے سب اس سے راضی ہوں گے۔ آسمان اپنی تمام بارش موسلادھار برسائے گا اور زمین اپنی سب پیداوار نکال کر رکھ دے گی یہاں تک کہ زندہ لوگوں کو تمنا ہو گی کہ ان سے پہلے جو لوگ تنگی و ظلم کی حالت میں گزر گئے ہیں کاش وہ بھی اس سماں کو دیکھتے۔ اسی برکت کے حال پر وہ سات یا آٹھ یا نو سال تک زندہ رہے گا۔ (مشكوة باب اشراط الساعة ص٤٧١‘ مستدرك بتغيير يسير ص٦٥٩ج٥حديث نمبر٨٤٨٦)
(١٣)..........”عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اَقْبَلَ فِتْيَةٌ مِّنْ بَنِىْ هَاشِمٍ فَلَمَّا رَاٰهُمُ النَّبِىُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ وَتَغَيَّرَ لَوْنُهٗ قَالَ فَقُلْتُ مَا نَزَالُ نَرٰى فِىْ وَجْهِكَ شَيْئًا نَكْرَهُهٗ فَقَالَ اِنَّا اَهْلَ الْبَيْتِ اِخْتَارَ اللّٰهُ لَنَا الْاٰخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا وَاِنَّ اَهْلَ بَيْتِىْ سَيَلْقَوْنَ بَعْدِىْ بَلاَءً وَتَشْرِيْدًا وَتَطْرِيْدًا حَتّٰى يَاْتِىَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَهُمْ رَايَاتٌ سُوْدٌ فَيَسْاَلُوْنَ الْخَيْرَ فَلاَ يُعْطَوْنَهٗ فَيُقَاتِلُوْنَ فَيُنْصَرُوْنَ فَيُعْطَوْنَ مَا سَاَلُوْا فَلاَ يَقْبَلُوْنَهٗ حَتّٰى يَدْفَعُوْهَا اِلٰى رَجُلٍ مِنْ اَهْلِ بَيْتِىْ فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا كَمَا مَلَؤُهَا جَوْرًا فَمَنْ اَدْرَكَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَاْتِهِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ(رواه ابن ماجه
قال السندهى الظاهر انه اشارة الى المهدى الموعود ولذلك ذكر المصنف هذا الحديث فى هذا الباب واللّٰه تعالیٰ اعلم بالصواب وفى الزوائد اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابى زياد الكوفى لكن لم ينفرد يزيد ابن ابى زياد عن ابراهيم فقد رواه الحاكم فى المستدرك من طريق عمرو بن قيس عن الحكم عن ابراهيم قلت ورواه السيوطى فى الحاوى
٢٧
ص ٢٦٠ ج ٢ برواية ابن ابی شيبة ونعيم بن حماد وابى نعيم وفى اخره فانه المہدی“
﴿عبداللہؓ بیان فرماتے ہیں ہم آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنو ہاشم کے چند نوجوان آپ ﷺ کے سامنے آئے۔ جب آپ ﷺ نے ان کو دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈب ڈبا گئیں اور آپ کا رنگ بدل گیا۔ ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا بات ہے۔ ہم آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر وہ آثار غم دیکھتے ہیں جس سے ہمارا دل آزردہ ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہمارے گھرانوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بجائے آخرت عنایت فرمائی ہے۔ میرے بعد میرے اہل بیت کو بڑی آزمائشوں کا سابقہ پڑے گا۔ ہر طرف سے بھگائے اور نکالے جائیں گے۔ یہاں تک کہ ایک قوم مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے لئے ہوئے آئے گی۔ میرے اہل بیت ان سے طالب خیر ہوں گے لیکن وہ ان کو نہیں دیں گے۔ اس پر سخت جنگ ہوگی۔ آخر وہ شکست کھائیں گے اور جو ان سے طلب کیا تھا پیش کریں گے مگر وہ اس کو قبول نہ کر سکیں گے۔ آخر کار وہ ان جھنڈوں کو ایک ایسے شخص کے حوالہ کریں گے جو میرے اہل بیت سے ہوگا۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے پھر اسی طرح بھر دے گا جیسا لوگوں نے اس سے قبل ظلم و تعدی سے بھر دیا ہوگا۔ لہٰذا تم میں سے جس کو اس کا زمانہ ملے وہ ضرور اس کے ساتھ ہو جائے۔ اگرچہ اس کو برف پر گھسٹ کر چلنا پڑے۔ (ابن ماجہ ص ٢٩٩)﴾
(١٤).......... ”عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ يُقْتَلُ عِنْدَ كَنْزِكُمْ ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ اِبْنُ خَلِيْفَةٍ ثُمَّ لَا يَصِيْرُ اِلٰى وَاحِدٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّايَاتُ السُّوْدُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَيَقْتُلُوْنَكُمْ قَتْلاً لَّمْ يَقْتُلْهُ قَوْمٌ ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا لَّا اَحْفَظُهُ فَقَالَ اِذَا رَاَيْتُمُوْهُ فَبَايِعُوْهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ فَاِنَّهُ خَلِيْفَةُ اللّٰهِ الْمَهْدِيُّ (رواه ابن ماجه) قال السندهی اخرجه ابوالحسن بن سفيان فی مسنده وأبو نعيم فی کتاب المہدی من طريق ابراهيم بن سويد الشامی فی الزوائد هذا اسناده صحیح رجاله ثقات ورواه الحاكم فی المستدرک“
٢٨
﴿ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے خزانے کے پاس تین آدمی خلفاء کی اولاد میں سے قتل ہوں گے پھر ان کے خاندان میں سے کسی کو امارت نہیں ملے گی پھر مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے نمایاں ہوں گے اور تم کو اس بری طرح سے قتل کریں گے کہ کسی قوم نے اس طرح قتل عام نہ کیا ہو گا۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ اور بیان فرمایا جو مجھ کو یاد نہیں ہے پھر فرمایا جب اس شخص کو تم دیکھو تو اس سے بیعت کر لینا۔ اگرچہ برف کے اوپر گھسٹ کر چلنا پڑے کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہو گا۔ (ابن ماجہ ص ٣٠٠)﴾
- (١٥).......... ”عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ
اللَّهِ ﷺ إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّوْدَ قَدْ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ خُرَاسَانَ فَأْتُوْهَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَی الثَّلْجِ فَإِنَّ فِيْهَا خَلِيْفَةَ اللَّهِ الْمَهْدِیَّ. رواه احمد والبيهقی فی الدلائل وسنده صحيح كذافی الاذاعة ص٦٨“
﴿ثوبانؓ جو آنحضرت ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جب تم دیکھو کہ سیاہ جھنڈے خراسان کی جانب سے آ رہے ہیں تو ان میں شامل ہو جانا۔ اگرچہ برف کے اوپر گھٹنوں کے بل چلنا ہی کیوں نہ پڑے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ مہدی ہو گا۔ (احمد ص ٢٧٧ ج ٥)﴾
- (١٦).......... ”عَنْ أَبِی الصِّدِّيْقِ النَّاجِیِّ عَنْ أَبِیْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِیِّ
عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ يَكُوْنُ فِیْ أُمَّتِی الْمَهْدِیُّ إِنْ قَصَرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ تَنْعَمُ أُمَّتِیْ فِيْهِ نِعْمَةً لَّمْ يَنْعَمُوْا مِثْلَهَا قَطُّ تُؤْتِی الْأَرْضُ أُكُلَهَا لَا تَدَّخِرُ عَنْهُمْ شَيْئًا وَالْمَالُ يَوْمَئِذٍ كُدَاسٌ يَقُوْمُ الرَّجُلُ فَيَقُوْلُ يَامَهْدِیُّ أَعْطِنِیْ فَيَقُوْلُ خُذْ. رواه الحاكم فی المستدرك واخرج حديث ابى سعيد من طرق متعددة وحكم علی بعضها بانه علی شرط الشيخين ورواه ابن ماجه وفيه زيد العمی ص٥٥٨ ج ٤“
﴿ابو الصدیق ناجی بیان کرتے ہیں کہ ابو سعید خدریؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت
٢٩
کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے میری امت میں مہدی ہو گا جو کم سے کم سات سال ورنہ نو سال تک رہے گا۔ ان کے زمانے میں میری امت اتنی خوشحال ہو گی کہ اس سے قبل کبھی ایسی خوشحال نہ ہوئی ہو گی۔ زمین اپنی ہر قسم کی پیداوار ان کے لئے نکال کر رکھ دے گی اور کچھ بچا کر نہ رکھے گی اور مال اس زمانے میں کھلیان میں اناج کے ڈھیر کی طرح پڑا ہو گا۔ حتیٰ کہ ایک شخص کھڑا ہو کر کہے گا۔ اے مہدی! مجھے کچھ دیجئے وہ فرمائیں گے ۔ جتنا مرضی میں آئے اٹھا لے۔
(ابن ماجہ ص ٣٠٩)
- (١٧) ........... ”عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَشِيْنَا أَنْ يَّكُوْنَ بَعْدَ
نَبِيِّنَا حَدَثٌ فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللّٰهِ ﷺ قَالَ إِنَّ فِيْ أُمَّتِي الْمَهْدِيَّ يَخْرُجُ يَعِيْشُ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا زَيْدٌ الشَّاكُّ قَالَ قُلْنَا وَمَاذَاكَ قَالَ سِنِيْنَ قَالَ فَيَجِيْئُ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَيَقُوْلُ يَامَهْدِىُّ أَعْطِنِيْ أَعْطِنِيْ قَالَ فَيُحْثِى لَهُ فِيْ ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَّحْمِلَهُ . رواه الترمذى وقال هذا حديث حسن وقد روى من غير وجه عن ابى سعيد عن النبى ﷺ وابو الصديق الناجى اسمه بكر بن عمرو ويقال بكر بن قيس وفى اسناده زيد العمى وروى البزار نحوه ورجاله ثقات كما فى الاذاعة .“
- ٭ ابو سعید خدریؓ بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کے بعد وقوع
حوادث کے خیال سے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ آپ ﷺ کے بعد کیا ہو گا۔ آپؐ نے فرمایا میری امت میں مہدی ہو گا جو پانچ یا سات یا نو تک حکومت کرے گا۔ (زید راوی حدیث کو ٹھیک مدت میں شک ہے) میں نے پوچھا کہ اس عدد سے کیا مراد ہے ؟۔ انہوں نے فرمایا سال۔ ان کا زمانہ ایسی خیر و برکت کا ہو گا کہ ایک شخص ان سے آکر سوال کرے گا اور کہے گا کہ اے مہدی! مجھ کو کچھ دیجئے مجھ کو کچھ دیجئے یہ کہتے ہیں کہ امام مہدی ہاتھ بھر بھر کر اس کو اتنا مال دیں گے جتنا اس سے اٹھ سکے گا۔
(ترمذی ص ٢٤٧ ج ٢)
- (١٨) ......... ”عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ
يَخْرُجُ فِيْ آخِرِ أُمَّتِى الْمَهْدِىُّ يَسْقِيْهِ اللّٰهُ الْغَيْثَ وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا
٣٠
وَيُعْطِي الْمَالَ صِحَاحًا وَتَكْثُرُ الْمَاشِيَةُ وَتَعْظُمُ الْأُمَّةُ وَيَعِيْشُ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا يَعْنِي حِجَجًا ٭ اخرجه الحاكم في المستدرك وفيه سليمان بن عبيد ذكره ابن حبان في الثقات ولم يرو ان احد اتكلم فيه ٭ كذافى الاذاعة “
﴿ ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے آخر میں ایک شخص مہدی ظاہر ہوگا جس کے دور میں اللہ تعالیٰ خوب بارش نازل فرمائے گا۔ اور زمین کی پیداوار بھی خوب ہوگی اور مال حصہ رسد سب کو برابر تقسیم کرے گا اور مویشیوں کی کثرت ہو جائے گی اور امت کو بہت عظمت حاصل ہو گی۔ سات یا آٹھ سال تک اس فراوانی سے رہے گا۔ راوی کہتا ہے کہ ساتھ یا آٹھ سے آپ ﷺ کی مراد ”سال“ تھے۔ (مستدرک ص ٥٧٢ ج ٥ حدیث نمبر ٨١٧٦) ﴾
- (١٩).......... ” عَنْ أَبِيْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ
أَبْشِرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ يُبْعَثُ فِيْ أُمَّتِيْ عَلٰى اخْتِلَافٍ مِّنَ النَّاسِ وَزَلَازِلَ فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَّعَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَّظُلْمًا يَرْضٰى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ يَقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحًا فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مَّا صِحَاحًا؟ قَالَ بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ قَالَ وَيَمْلَأُ قُلُوْبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ غِنًى وَّيَسَعُهُمْ عَدْلُهُ حَتّٰى يَأْمُرَ مُنَادِيًا يُنَادِيْ فَيَقُوْلُ مَنْ لَّهُ فِيْ مَالٍ حَاجَةٌ فَمَا يَقُوْمُ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ فَيَكُوْنُ كَذٰلِكَ سَبْعَ سِنِيْنَ ٭ قال السيوطى فى الحاوى رواه احمد فى مسنده وابويعلى بسند جيد وفى الاذاعة رجالهما ثقات “
﴿ ابو سعید خدریؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں تم کو مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو ایسے زمانے میں ظاہر ہوں گے جبکہ لوگوں میں بڑا اختلاف ہوگا اور بڑے زلزلے آئیں گے وہ آکر پھر زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جیسا کہ وہ اس کی آمد سے قبل ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی آسمان کے فرشتے اور زمین کے باشندے سب اس سے راضی ہوں گے اور مال تقسیم کریں گے صحاحاً۔ سوال کیا گیا صحاح کے معنی کیا ہیں؟ فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ انصاف کے ساتھ سب میں برابر (مال تقسیم
٣١
کریں گے) اور امت محمدیہ کے دل غنا سے بھر دیں گے اس کا انصاف بلا تخصیص سب میں عام ہوگا (اس کے زمانے میں فراغت کا یہ عالم ہو گا کہ ) وہ ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیں گے وہ اعلان کرے گا کسی کو مال کی ضرورت باقی ہے؟ تو صرف ایک شخص کھڑا ہو گا اسی حالت پر سات سال کا عرصہ گزرے گا۔ (احمد ص ٣٧ ج ٣) ﴾
(٢٠).......... "عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِيْ خَلِيْلِيْ أَبُوالْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ بَيْتِيْ فَيَضْرِبُهُمْ حَتَّى يَرْجِعُوْا إِلَى الْحَقِّ قَالَ قُلْتُ وَكَمْ يَمْلِكُ قَالَ خَمْسًا وَاثْنَتَيْنِ قَالَ قُلْتُ وَمَا خَمْسًا وَاثْنَتَيْنِ قَالَ لَا أَدْرِيْ . اخرجه ابويعلى وفيه الرجال بن الرجا . وثقه ابوزرعة وضعفه ابن معين وبقية رجاله ثقات قاله الشوكاني كذافى الاذاعة“
﴿ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ مجھ سے میرے خلیل ابو القاسم ﷺ نے بیان فرمایا (ابو القاسم رسول اللہ ﷺ کی کنیت ہے) قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص ظاہر نہ ہو۔ وہ اہل دنیا کو زبر دستی راہ حق پر قائم کرے گا۔ راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا اس کی حکومت کتنے دن قائم رہے گی۔ انہوں نے فرمایا پانچ اور دو (یعنی سات) یہ کہتے ہیں میں نے پوچھا ٥ اور دو کیا ؟۔ انہوں نے کہا یہ میں نہیں جانتا کہ مراد سات سال تھے یا مہینے گزشتہ روایات سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہاں سال ہی مراد ہیں۔ (مسند ابو یعلی)﴾
(٢١).......... "عَنْ يُسَيْرِبْنِ جَابِرٍ قَالَ هَاجَتْ رِيْحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوْفَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ لَّيْسَ لَهُ هِجِّيْرَى إِلَّا يَاعَبْدَاللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ جَاءَتِ السَّاعَةُ قَالَ فَقَعَدَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُوْمُ حَتَّى لَا يُقْسَمُ مِيْرَاثٌ وَلَا يُفْرَحُ بِغَنِيْمَةٍ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هٰكَذَا وَنَحَّاهَا نَحْوَ الشَّامِ فَقَالَ عَدُوٌّ يَجْمَعُوْنَ لِأَهْلِ الشَّامِ وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ قُلْتُ الرُّوْمَ تَعْنِيْ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَيَكُوْنُ عِنْدَ ذَالِكُمُ الْقِتَالِ رِدَّةٌ شَدِيْدَةٌ فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُوْنَ شُرْطَةً لِّلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا
٣٢
غَالِبَةٍ فَيَقْتَتِلُوْنَ حَتّٰى يَحْجِزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِئُ هٰؤُلَاءِ وَهٰؤُلَاءِ كُلُّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُوْنَ شُرْطَةً لِّلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ اِلَّا غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُوْنَ حَتّٰى يَحْجِزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِئُ هٰؤُلَاءِ وَهٰؤُلَاءِ كُلُّ غَيْرَ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُوْنَ شُرْطَةً لِّلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ اِلَّا غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُوْنَ حَتّٰى يُمْسُوْا فَيَفِئُ هٰؤُلَاءِ وَهٰؤُلَاءِ كُلُّ غَيْرَ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ فَاِذَا كَانَ الْيَوْمُ الرَّابِعُ نَهَدَ اِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ اَهْلِ الْاِسْلَامِ فَيَجْعَلُ اللّٰهُ الدَّابِرَةَ عَلَيْهِمْ فَيَقْتَتِلُوْنَ مَقْتَلَةً اِمَّا قَالَ لَا يُرٰى مِثْلُهَا وَاِمَّا قَالَ لَمْ يُرَ مِثْلُهَا حَتّٰى اِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَا تِهِمْ فَمَا يَخْلِفُهُمْ حَتّٰى يَخِرَّ مَيِّتًا فَيَتَعَادُّ بَنُوْا لْاَبٍ كَانُوْا مِائَةً فَلَا يَجِدُوْنَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ اِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ فَبِأَيِّ غَنِيْمَةٍ يُفْرَحُ اَوْ اَيِّ مِيْرَاثٍ يُقَاسَمُ فَبَيْنَا هُمْ كَذٰلِكَ اِذْ سَمِعُوْا بِبَأْسٍ هُوَ اَكْبَرُ مِنْ ذٰلِكَ فَجَاءَ هُمُ الصَّرِيْخُ اِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِیْ ذَرَارِيْهِمْ فَيَرْفُضُوْنَ مَا فِیْ اَيْدِيْهِمْ وَيُقْبِلُوْنَ فَيَبْعَثُوْنَ عَشْرَ فَوَارِسَ طَلِيْعَةً قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنِّیْ لَاَعْرِفُ اَسْمَاءَ هُمْ وَاَسْمَاءَ اَبَائِهِمْ وَاَلْوَانَ خُيُوْلِهِمْ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْاَرْضِ يَوْمَئِذٍ اَوْمِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْاَرْضِ يَوْمَئِذٍ۔ رواہ مسلم“
﴿یسیر بن جابر سے روایت ہے کہ ایک بار کوفہ میں لال آندھی آئی۔ ایک شخص آیا جس کا تکیہ کلام یہی تھا۔ اے عبداللہ بن مسعودؓ قیامت آگئی۔ یہ سن کر عبداللہ بن مسعودؓ بیٹھ گئے پہلے تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ قیامت نہ قائم ہو گی۔ یہاں تک کہ ترکہ نہ بٹے گا اور مال غنیمت سے کچھ خوشی نہ ہو گی (کیونکہ جب کوئی وارث ہی نہ رہے گا تو ترکہ کون بانٹے گا اور جب کوئی لڑائی سے زندہ نہ بچے گا تو مال غنیمت کی کیا خوشی ہو گی) پھر شام کے ملک کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور کہا (نصاریٰ) دشمن مسلمانوں سے جنگ کے لئے جمع ہوں گے اور مسلمان بھی ان سے لڑنے کے لئے جمع ہوں گے۔ میں نے کہا دشمن سے آپ کی مراد نصارٰی ہیں؟۔ انہوں نے فرمایا ”ہاں“ اور اس وقت لڑائی شروع ہو گی۔ مسلمان ایک لشکر کو آگے بھیجیں گے جو مرنے کی شرط لگا کر آگے بڑھے گا۔ یعنی اس قصد سے
٣٣
لڑے گا کہ یا مر جائیں گے یا فتح کر کے آئیں گے پھر دونوں لشکروں میں جنگ ہو گی۔ یہاں تک کہ رات ہو جائے گی اور دونوں طرف کی فوجیں لوٹ جائیں گی۔ کسی کو غلبہ نہ ہو گا اور جو لشکر لڑائی کے لئے بڑھا تھا وہ بالکل فنا ہو جائے گا۔ (یعنی سب مارا جائے گا) دوسرے دن پھر مسلمان ایک لشکر آگے بڑھائیں گے جو مرنے کے لئے اور غالب ہونے کے لئے جائے گا اور لڑائی ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ رات ہو جائے گی پھر دونوں طرف کی فوجیں لوٹ جائیں گی اور کسی کو غلبہ نہ ہو گا جو لشکر آگے بڑھا تھا وہ فنا ہو جائے گا پھر تیسرے دن مسلمان ایک لشکر آگے بڑھائیں گے۔ مرنے یا غالب ہونے کی نیت سے اور شام تک لڑائی رہے گی پھر دونوں کی طرف کی فوجیں لوٹ جائیں گی اور کسی کو غلبہ نہ ہو گا اور وہ لشکر بھی فنا ہو جائے گا۔ جب چوتھا دن ہو گا جو جتنے مسلمان باقی رہ جائیں گے وہ سب آگے بڑھیں گے۔ اس دن اللہ تعالیٰ کافروں کو شکست دے گا اور ایسی لڑائی ہو گی کہ ویسی کوئی نہ دیکھے گا یا ویسی لڑائی کسی نے نہ دیکھی ہو گی۔ (راوی کو لفظ میں شک ہے) یہاں تک کہ پرندہ ان کے اوپر یا ان کی نعشوں سے پرواز کرے گا پر آگے نہیں بڑھے گا کہ وہ مردہ ہو کر گر جائے گا (یعنی اس کثرت کے ساتھ لاشیں ہی لاشیں ہو جائیں گی) اور جب ایک دادا کی اولاد کی مردم شماری کی جائے گی تو فیصدی ٩٩ آدمی مارے جا چکے ہوں گے اور صرف ایک بچا ہوگا۔ ایسی حالت میں کون سے مالِ غنیمت سے خوشی ہو گی اور کون سا ترکہ تقسیم ہو گا۔ پھر مسلمان اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک اور بڑی آفت کی خبر سنیں گے اور وہ یہ کہ شور مچے گا کہ ان کے بال بچوں میں دجال آگیا ہے۔ یہ سنتے ہی جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہو گا سب چھوڑ کر روانہ ہو جائیں گے اور دس سواروں کو لین ڈوری کے طور پر روانہ کریں گے (تاکہ دجال کی خبر کی تحقیق کر کے لائیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ان سواروں کے اور ان کے باپوں کے نام جانتا ہوں اور ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی جانتا ہوں۔ وہ اس وقت تمام روئے زمین کے بہتر سوار ہوں گے یا بہتر سواروں میں سے ہوں گے۔ (مسلم شریف‘ کتاب الفتن واشراط الساعة ص٣٩٢ ج٢) ﴾
- (٢٢)............ ’’عَنْ اَبِىْ هُرَيْرَةَ اِنَّ النَّبِىَّ ﷺ قَالَ هَلْ سَمِعْتُمْ بِمَدِ
يْنَةٍ جَانِبٌ مِّنْهَا فِي الْبَرِّ وَجَانِبٌ مِّنْهَا فِي الْبَحْرِ قَالُوْا نَعَمْ يَارَسُوْلَ اللّٰهِ قَالَ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى يَغْزُوَهَا سَبْعُوْنَ أَلْفًا مِنْ بَنِيْ إِسْحَاقَ فَإِذَا جَاؤُهَا نَزَلُوْا فَلَمْ يُقَاتِلُوْا بِسِلَاحٍ وَلَمْ يَرْمُوْا بِسَهْمٍ قَالُوْا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ فَيَسْقُطُ أَحَدُ جَانِبَيْهَا قَالَ ثَوْرٌ (ابن يزيد الراوى) لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ الَّذِيْ فِي الْبَحْرِ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ الثَّانِيَةَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ فَيَسْقُطُ جَانِبُهَا الْآخَرُ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ الثَّالِثَةَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ فَيُفَرَّجُ لَهُمْ فَيَدْخُلُوْنَهَا فَيَغْنَمُوْنَ فَبَيْنَا هُمْ يَقْتَسِمُوْنَ الْمَغَانِمَ إِذَا جَاءَهُمُ الصَّرِيْخُ فَقَالَ أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ فَيَتْرُكُوْنَ كُلَّ شَيْءٍ وَيَرْجِعُوْنَ ، مسلم“
ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے وہ شہر سنا ہے جس کی ایک جانب خشکی میں اور دوسری جانب سمندر میں ہے؟۔ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ سنا ہے۔ آپ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی۔ جب تک کہ بنو اسحاق کے ستر ہزار مسلمان اس پر چڑھائی نہ کریں۔ جب وہ اس شہر کے پاس جا کر اتریں گے تو نہ کسی ہتھیار سے لڑیں گے نہ کوئی تیر چلائیں گے۔ بلکہ ایک نعرہ تکبیر لگائیں گے جس کی برکت سے شہر کی ایک جانب گر پڑے گی تو ابن یزید جو اس حدیث کا ایک راوی ہے۔ کہتا ہے جہاں تک مجھے یاد ہے مجھ سے بیان کرنے والے نے اس جانب کے متعلق یہ بیان کیا تھا کہ وہ جانب سمندر کے رخ والی ہو گی۔ اس کے بعد پھر دوبارہ نعرہ تکبیر لگائیں گے تو اس کی دوسری جانب بھی گر جائے گی، اس کے بعد جب تیسری بار نعرہ تکبیر بلند کریں گے تو دروازہ کھل جائے گا اور وہ اس میں داخل ہو جائیں گے اور مال غنیمت حاصل کریں گے۔ اس در میان میں کہ وہ مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ آواز آئے گی۔ دیکھو وہ دجال نکل پڑا۔ یہ سنتے ہی وہ سب مال و متاع چھوڑ کر لوٹ پڑیں گے۔
(مسلم ص ٣٩٦ ج ٢ کتاب الفتن و اشراط الساعۃ)
دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ قسطنطنیہ کا ہے۔ یہاں نعرہ تکبیر سے شہر کے فتح ہو جانے پر تعجب کرنے والے مسلمان ذرا غور و فکر کے ساتھ ایک بار اپنی گزشتہ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان کو معلوم ہو گا کہ مسلمانوں کی فتوحات کی تاریخ اس قسم کے
٣٥
عجائبات سے معمور ہے اور سچ یہ ہے کہ اگر اس قسم کی غیبی امدادیں ان کے ساتھ نہ ہوتیں تو اس زمانے میں جبکہ نہ دخانی جہاز تھے نہ فضائی طیارے اور نہ موٹر، پھر ربع سکوں میں اسلام کو پھیلا دینا یہ کیسے ممکن تھا۔ آج جبکہ مادی طاقتوں نے سیر و سیاحت کا مسئلہ بالکل آسان کر دیا ہے جس حصہ زمین میں ہم پہنچتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہم سے پہلے وہاں پہنچ چکا تھا۔ علاء بن حضرمی صحابیؓ اور ابو مسلم خولانیؒ کا معہ اپنی فوج کے سمندر کو خشکی کی طرح عبور کر جانا تاریخ کا واقعہ ہے۔ خالد بن ولیدؓ کے سامنے مقام حیرہ میں زہر کا پیالہ پیش ہونا اور ان کا بسم اللہ کہہ کر نوش کر لینا اور اس کا نقصان نہ کرنا بھی تاریخ کی ایک حقیقت ہے۔ سفینہ آپ ﷺ کے غلام کا نام ہے کا روم میں ایک جگہ گم ہو جانا اور ایک شیر کا گردن جھکا کر ان کو لشکر تک پہنچانا اور حضرت عمرؓ کا مدینہ میں منبر پر اپنے جنرل ساریہ کو آواز دینا اور مقام نہاوند میں ان کا سن لینا اور حضرت عمرؓ کے خط سے دریائے نیل کا جاری ہو جانا۔ یہ تمام تاریخ کے مستند حقائق ہیں۔ ان واقعات کے سوا جو بسلسلہ سند ثابت ہیں۔ ہندوستان کے بہت سے عجیب واقعات ایسے بھی ثابت ہیں جن میں سے کسی کسی کی شہادت تو انگریزوں کی زبان سے بھی ثابت ہے۔
(٢٣)........ ”عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَخِیْسُ الرُّوْمُ عَلٰی وَالٍ مِّنْ عِتْرَتِیْ یُوَاطِئُ اِسْمُہٗ اِسْمِیْ فَیَقْتَتِلُوْنَ بِمَکَانٍ یُّقَالُ لَہُ الْعَمَاقُ فَیَقْتَتِلُوْنَ فَیُقْتَلُ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ الثُّلُثُ اَوْ نَحْوَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَقْتَتِلُوْنَ الْیَوْمَ الْاٰخَرَ فَیُقْتَلُ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ نَحْوُ ذٰلِکَ ثُمَّ یَقْتَتِلُوْنَ الثَّالِثَ فَیَکِرُّوْنَ اَہْلُ الرُّوْمِ فَلَایَزَالُوْنَ حَتّٰی یَفْتَحُوْنَ الْقُسْطَنْطِنْیَةَ فَبَیْنَمَاہُمْ یَقْتَسِمُوْنَ فِیْہَا بِالْاَتْرَاسِ اِذَا تَاہُمْ صَارِخٌ اَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلْفَکُمْ فِیْ ذَرَارِیْکُمْ ٠ اخرجہ الخطیب فی المتفق والمقترق کذافی الا ذاعة ص٢٦“
٭ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رومی میرے خاندان کی ایک ولی سے عہد شکنی کریں گے۔ جس کا نام میرے ہی نام کی طرح ہو گا۔ پھر وہ عماق نامی جگہ پر جنگ کریں گے اور مسلمانوں کا تہائی لشکر تقریباً اتنا ہی شہید کر دیا جائے
٣٦
گا۔ پھر دوسرے دن جنگ کریں گے اور اتنی ہی مقدار شہید کر دی جائے گی۔ پھر تیسرے دن جنگ کریں گے اور مسلمان پلٹ کر رومیوں پر حملہ آور ہوں گے اور جنگ کا یہ سلسلہ قائم رہے گا۔ حتی کہ وہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے پھر اس دوران میں کہ وہ ڈھالیں بھر بھر کر مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ ایک آواز لگانے والا یہ آواز لگائے گا کہ دجال تمہاری اولاد کے پیچھے لگ گیا ہے۔﴾
(٢٤).......... ”عَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ مَرْفُوعًا قَالَ سَتَكُوْنُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الرُّوْمِ اَرْبَعُ هُدَنٍ يَوْمُ الرَّابِعَةِ عَلٰى يَدِ رَجُلٍ مِّنْ آلِ هَارُونَ يَدُوْمُ سَبْعَ سِنِيْنَ قِيْلَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ مَنْ إِمَامُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ قَالَ مِنْ وُلْدِىْ اِبْنُ أَرْبَعِيْنَ سَنَةً كَأَنَّ وَجْهَهُ كَوْكَبٌ دُرِّىٌّ فِيْ خَدِّهِ الْاَيْمَنِ خَالٌ اَسْوَدُ عَلَيْهِ عَبَايَتَانِ قَطْوَا نِيَّتَانِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ بَنِىْ إِسْرَائِيْلَ يَمْلِكُ عِشْرِيْنَ سَنَةً يَسْتَخْرِجُ الْكُنُوْزَ وَيَفْتَحُ مَدَائِنَ الشِّرْكِ ٠ كنز العمال ج١٤ ص٢٦٨ حدیث نمبر ٣٨٦٨٠“
﴿ابو امامہؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے اور روم کے درمیان چار مرتبہ صلح ہو گی۔ چوتھی صلح ایسے شخص کے ہاتھ پر ہو گی جو آل ہارون سے ہو گا اور یہ صلح سات سال تک برابر قائم رہے گی۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اس وقت مسلمانوں کا امام کون شخص ہو گا۔ آپ نے فرمایا وہ شخص میری اولاد میں سے ہو گا جس کی عمر چالیس سال کی ہو گی۔ اس کا چہرہ ستارہ کی طرح چمکدار اس کے دائیں رخسار پر سیاہ تل ہو گا۔ اور دو قطوانی عبائیں پہنے ہو گا۔ بالکل ایسا معلوم ہو گا جیسا بنی اسرائیل کا شخص بیس سال حکومت کرے گا۔ زمین سے خزانوں کو نکالے گا اور مشرکین کے شہروں کو فتح کرے گا۔﴾
(٢٥).......... ”عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ اَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِيْ غَزْوَةِ تَبُوْكَ وَهُوَ فِيْ قُبَّةٍ مِنْ اَدَمٍ فَقَالَ أُعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ مَوْتِىْ ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ مَوْتَانٌ يَأْخُذُ فِيْكُمْ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ حَتّٰى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِيْنَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقٰى بَيْتٌ مِّنَ الْعَرَبِ اِلَّا دَخَلَتْهُ ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُوْنُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِى الْاَصْفَرِ فَيَغْدُرُوْنَ فَيَأْتُوْنَكُمْ تَحْتَ
٣٧
ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اِثْنَا عَشَرَ أَلْفًا . رواہ البخاری ج١ ص٤٥٠ باب ما يحضر من الغدر . “
﴿ عوف بن مالکؓ سے روایت ہے کہ میں غزوہ تبوک میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ چمڑے کے خیمہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے چھ باتیں گن رکھو۔ سب سے پہلے میری وفات۔ پھر بیت المقدس کی فتح ۔ پھر تم میں عام موت ظاہر ہو گی جس طرح کہ بکریوں میں وبائی مرض پھیل جائے (اور ان کی تباہی کا باعث بن جائے) پھر مال کی بہتات ہو گی۔ حتی کہ ایک شخص کو سو سو دینار دیئے جائیں گے اور وہ خوش نہ ہو گا پھر فتنہ و فساد پھیل پڑے گا اور عرب کا کوئی گھر اس سے باقی نہ رہے گا۔ پھر صلح کی زندگی ہو گی اور یہ تمہارے اور بنی الاصفر (رومی) کے درمیان قائم رہے گی۔ پھر وہ تم سے عہد شکنی کریں گے اور اسی جھنڈوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کر دیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار کا لشکر ہو گا۔ ﴾
اس حدیث میں قیامت سے قبل چھ علامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کی تعیین میں اگر چہ بہت کچھ اختلافات ہیں اور ان کے ابہام کی وجہ سے ہونے چاہئیں لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ حدیث مذکور کے بعض الفاظ حضرت امام مہدی کے خروج کی علامات سے اتنے ملتے جلتے ہیں کہ اگر ان کو ادھر ہی اشارہ قرار دیدیا جائے تو ایک قریبی احتمال یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے اس حدیث کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بحث میں لکھ دیا گیا ہے۔ یہ لحاظ کئے بغیر کہ محقق ابن خلدون اور ان کے اذناب اس کے معتقد ہیں یا نہیں۔
تنبیہ
یہ بات قابل تنبیہ ہے کہ علماء کے نزدیک مفہوم عدد معتبر نہیں ہے۔ اس لئے مجھ کو اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے کہ قیامت سے قبل اس کے ظہور کی چھ علامات ہیں یا بیش و کم۔ یہ وقت اور علامات کی حیثیت شمار کرنے سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ ان کا کسی حیثیت سے چھ ہونا بھی ممکن ہے اور کسی لحاظ سے وہ کم اور زیادہ بھی ہو سکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ
٣٨
وقتی لحاظ سے جن علامات کو آپ ﷺ نے یہاں شمار کر لیا ہے۔ ان کا عدد کسی خصوصیت پر مشتمل ہو۔ یہ بات صرف یہاں نہیں بلکہ دیگر حدیثوں کے موضوع میں بھی اگر آپ کے پیش نظر رہے تو بہت سی مشکلات کے لئے موجب حل ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ فضائل اعمال کی حدیثوں میں اختلاف ملتا ہے۔ اس کو پیچیدگیوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ اختلاف بھی صرف وقتی اور شخصی اختلاف کے لحاظ سے پیدا ہو جانا بہت قرین قیاس ہے۔ مگر کیا کہا جائے منطقی عادات نے ہمارے ذہنی ساخت کو بدل دیا ہے۔ چوں ندیدند حقیقت رہ افسانہ زدند۔
- (٢٦)............”عَنْ ذِيْ مِخْبَرٍ (هوابن اخی النجاشی خادم رسول
اللّٰهِ ﷺ) قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ يَقُوْلُ سَتُصَالِحُوْنَ الرُّوْمَ صُلْحًا آمِنًا فَتَغْزُوْنَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِّنْ وَّرَائِكُمْ فَتُنْصَرُوْنَ وَتَغْنَمُوْنَ وَتَسْلَمُوْنَ ثُمَّ تَرْجِعُوْنَ حَتَّى تَنْزِلُوْا بِمَرْجٍ ذِيْ تُلُوْلٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ النَّصْرَانِيَّهِ الصَّلِيْبَ فَيَقُوْلُ غَلَبَ الصَّلِيْبُ فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ فَيَدُقُّهُ فَعِنْدَ ذٰلِكَ تَغْدِرُ الرُّوْمُ وَتَجْمَعُ لِلْمَلْحَمَةِ . رواه ابوداؤد“
﴿ذی مخبرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ تم روم سے صلح کرو گے پر امن صلح اور دونوں مل کر اپنے دشمن سے جنگ کرو گے اور تم کو کامیابی ہو گی اور مال غنیمت ملے گا۔ یہاں تک کہ جب ایک زمین پر جا کر لشکر اترے گا جس میں ٹیلے ہوں گے اور سبزہ ہو گا تو ایک شخص نصرانیوں میں سے صلیب کو اونچی کر کے کہے گا کہ صلیب کا بول بالا ہوا۔ اس پر ایک مسلمان کو غصہ آجائے گا۔ وہ اس صلیب کو جا کر توڑ ڈالے گا اور اس وقت نصاریٰ غداری کریں گے اور جنگ عظیم کے لئے سب ایک محاذ پر جمع ہو جائیں گے۔ (ابوداؤد باب مایذکر من ملاحم روم ص ٤٣٢ ج ٢)﴾
- (٢٧)............”عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ قَالَ كَيْفَ أَنْتُمْ
إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِّنْكُمْ (رواه الشيخان) وَفِى لَفْظٍ لِمُسْلِمٍ فَأَمَّكُمْ وَفِى لَفْظَةٍ اُخْرىٰ فَأَمَّكُمْ مِّنْكُمْ“
﴿ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس وقت تمہارا کیا حال
٣٩
ہو گا جبکہ تمہارے اندر عیسیٰ بن مریم اتریں گے اور اس وقت تمہارا امام وہ شخص ہو گا جو خود تم میں سے ہو گا۔ (بخاری و مسلم) مسلم کے ایک لفظ میں ہے کہ ایک شخص جو تم ہی میں سے ہو گا اور اس وقت کی نماز میں تمہارا امام وہی ہو گا۔ (بخاری شریف ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ بن مریم) ﴾
حدیث مذکور میں : ”و امامکم منکم“ کی شرح بعض علماء نے یہ بیان کی ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جب نازل ہوں گے تو وہ شریعت محمدیہ ہی پر عمل فرمائیں گے۔ اس لحاظ سے گویا وہ ہم ہی میں سے ہوں گے۔ اور بعض یہ کہتے ہیں کہ یہاں امام سے مراد امام مہدی ہیں اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسے زمانے میں نازل ہوں گے جبکہ ہمارا امام خود ہم ہی میں کا ایک شخص ہو گا۔ ان دونوں صورتوں میں امامت سے مراد امامت کبریٰ یعنی امیر و خلیفہ ہے۔
اس مضمون کے ساتھ صحیح مسلم میں ” فیقول امیرہم تعال صل لنا“ کا دوسرا مضمون بھی آیا ہے۔ یعنی یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو نماز کا وقت ہو گا اور امام مصلی پر جاچکا ہوگا۔ عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر وہ امام پیچھے ہٹنے کا ارادہ کرے گا اور عرض کرے گا۔ آپ آگے تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی کو امامت کا حکم فرمائیں گے اور یہ نماز خود اسی کے پیچھے ادا فرمائیں گے۔ یہاں امامت سے مراد امامت صغریٰ یعنی نماز کا امام مراد ہے۔
اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں مضمون بالکل علیحدہ علیحدہ ہیں اور آنحضرت ﷺ سے اسی طرح علیحدہ علیحدہ منقول ہوئے ہیں۔ ابو ہریرہؓ کی حدیث میں لفظ : ”وامامکم منکم“ سے پہلا مضمون مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانے میں مسلمانوں کا امیر ایک نیک شخص ہو گا جیسا کہ ابن ماجہ کی حدیث میں اس کی وضاحت آچکی ہے۔ (ملاحظہ فرمائیے ترجمان السنہ ص ٥٨٦ ج ٣) اس میں : ” وامامکم منکم“ کی بجائے : ” وامامکم رجل صالح“ صاف موجود ہے۔ یعنی تمہارا امام ایک مرد صالح ہو گا۔ اب بعد میں کسی راوی نے اس کو دوسری روایت پر حمل کر کے امام سے مراد امامت
٤٠
صغریٰ یعنی نماز کی امامت مراد لے لی ہے اور اس لئے اس کو بلفظ : "امکم" ادا کر دیا ہے۔ اس کے بعد کسی نے اس کے ساتھ : "منکم" کا لفظ اور اضافہ کر دیا ہے اور جب "امکم" کے ساتھ لفظ "منکم" کی مراد واضح نہ ہو سکی تو پھر اس کی تاویل شروع ہو گئی ہے۔ ورنہ "امامکم منکم" کا اصل لفظ بالکل واضح ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی اجمال نہیں ہے۔ ابن ماجہ کی قوی حدیث نے اس کی پوری تشریح بھی کر دی ہے۔ لہٰذا جب صحیح مسلم کی مذکورہ بالا حدیث میں یہ متعین ہو گیا کہ امام سے امیر و خلیفہ مراد ہے تو اب بحث طلب بات صرف یہ رہتی ہے کہ یہ امام اور رجل صالح کیا وہی امام مہدی ہی ہیں یا کوئی دوسرا شخص ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر دوسری روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس امام اور رجل صالح سے مراد ہی امام مہدی ہیں تو پھر امام مہدی کی آمد کا ثبوت خود صحیحین میں ماننا پڑے گا۔ اس کے بعد اب آپ وہ روایات ملاحظہ فرمائیں جن میں یہ مذکور ہے کہ یہاں امام سے مراد امام مہدی ہی ہیں۔ یہ واضح رہنا چاہئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانے میں کسی امام عادل کا موجود ہونا جب صحیحین سے ثابت ہے اور اس دعویٰ کے لئے کوئی ضعیف حدیث بھی موجود نہیں کہ وہ امام، امام مہدی نہ ہوں گے بلکہ کوئی اور امام ہو گا تو اب اس امام کے امام مہدی ہونے کے انکار کیلئے کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ بالخصوص جبکہ دوسری روایات میں اس کے امام مہدی ہونے کی تصریح موجود ہے۔ اسی کے ساتھ جب صحیح مسلم کی حدیثوں میں اس امام کے صفات وہی ہیں جو حضرت امام مہدی کی صفات ہیں تو پھر ان حدیثوں کو بھی امام مہدی کی آمد کا ثبوت تسلیم کر لینا چاہئے۔ اس کے علاوہ حدیثوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے جو اگرچہ بلحاظ اسناد ضعیف سہی لیکن صحیح و حسن حدیثوں کے ساتھ ملا کر وہ بھی امام مہدی کی آمد کی حجت کہا جا سکتا ہے۔
(٢٨).......... "عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ الْمَهْدِيُّ يَنْزِلُ عَلَيْهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَيُصَلِّي خَلْفَهُ عِيْسَی . اخرجه نعيم بن حماد کذافی الحاوی ص٧٨ ج٢"
﴿عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم امام مہدی کے بعد نازل ہوں گے اور
٤١
﴿ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے (ایک) نماز ادا فرمائیں گے۔ ﴾
(٢٩).......... ” عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ مِنَّا الَّذِيْ يُصَلِّي عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ خَلْفَهُ ٠ اخرجه ابونعيم كذا فى الحاوى ص ٦٤ ج٢“
﴿ ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسی امت میں سے ایک شخص ہو گا جس کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم اقتداء فرمائیں گے۔ ﴾
(٣٠).......... ” عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰهِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ أُمَّتِي تُقَاتِلُ عَلَى الْحَقِّ حَتّٰى يَنْزِلُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ عِنْدَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ يَنْزِلُ عَلَى الْمَهْدِيِّ فَيُقَالُ تَقَدَّمُ يَانَبِيَّ اللّٰهِ فَصَلِّ بِنَا فَيَقُوْلُ هٰذِهِ الْأُمَّةُ امراءُ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ ٠ اخرجه ابوعمر الدانى فى سننه الحاوی ص ٨٣ ج ٢ ورواه مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عيسىٰ بن مريم ايضا ولكن فيه فينزل عيسىٰ بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا كما فى ترجمان السنه ص ٥٨٨ ج ٣ “
﴿ جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کا ایک طائفہ حق کے لئے ہمیشہ مقابلہ کرتا رہے گا۔ یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم امام مہدی کی موجودگی میں بیت المقدس میں طلوع فجر کے وقت اتریں گے۔ ان سے عرض کیا جائے گا یا نبی اللہ آگے تشریف لائیے اور ہم کو نماز پڑھا دیجئے وہ فرمائیں گے یہ امت خود ایک دوسرے کے لئے امیر ہے (اس لئے اس وقت کی نماز تو یہی پڑھائیں) یہ روایت صحیح مسلم میں بھی ہے۔ مگر اس میں ”مہدی“ کی بجائے ”امیر ہم“ کا لفظ یعنی مسلمانوں کا امیر عرض کرے گا کہ آپ ہم کو نماز پڑھا دیجئے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہی جواب مذکور ہے۔ ﴾
(٣١).......... ” عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ يَلْتَفِتُ الْمَهْدِيُّ وَقَدْ نَزَلَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ كَأَنَّمَا يَقْطُرُ مِنْ شَعْرِهِ الْمَاءُ فَيَقُوْلُ الْمَهْدِيُّ تَقَدَّمْ صَلِّ بِالنَّاسِ فَيَقُوْلُ عِيْسَى إِنَّمَا أُقِيْمَتِ الصَّلٰوةُ لَكَ فَيُصَلِّى
٤٢
خَلْفَ رَجُلٍ مِنْ وُّلْدِیْ ٠اخرجه ابو عمر الدانی فی سننه كذافی الحاوی ص٨١ ج٢“
﴿حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اتر چکے ہوں گے۔ ان کو دیکھ کر یوں معلوم ہو گا گویا ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اس وقت امام مہدی ان کی طرف مخاطب ہو کر عرض کریں گے تشریف لائیے اور لوگوں کو نماز پڑھا دیجئے۔ وہ فرمائیں گے اس نماز کی اقامت تو آپ کے لئے ہو چکی ہے اور نماز تو آپ ہی پڑھائیں۔ چنانچہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) یہ نماز میری اولاد میں سے ایک شخص کے پیچھے ادا فرمائیں گے۔﴾
- (٣٢) ........... ”عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ يَنْزِلُ عِيْسٰى
ابْنُ مَرْيَمَ فَيَقُوْلُ اَمِيْرُهُمُ الْمَهْدِیُّ تَعَالَ صَلِّ بِنَا فَيَقُوْلُ لَا اِنَّ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ اللّٰهِ لِهٰذِهِ الْاُمَّةِ ٠اخرجه السیوطی فی الحاوی ص ٦٤ ج٢ عن ابی نعیم“
﴿جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور لوگوں کے امیر مہدی ........... فرمائیں گے کہ آئیے اور ہم کو نماز پڑھائیے۔ وہ جواب دیں گے کہ تم ہی میں سے ایک دوسرے کا امیر ہے اور یہ اس امت کا اعزاز ہے۔﴾
- (٣٣) ........... ”عَنِ ابْنِ سِيْرِيْنَ قَالَ الْمَهْدِیُّ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ
وَهُوَ الَّذِیْ يَؤُمُّ عِيْسٰى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ ٠ اخرجه ابن ابی شیبة كذافی الحاوی ص ٦٥ ج٢“
﴿ابن سیرینؒ سے روایت ہے کہ مہدی ........... اسی امت سے ہوں گے اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی امامت انجام دیں گے۔﴾
- (٣٤) ........... ”عَنْ أَبِیْ اُمَامَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ وَذَكَرَ
الدَّجَّالَ وَقَالَ فَتَنْفِیْ الْمَدِيْنَةُ الْخَبَثَ مِنْهَا كَمَا يَنْفِیْ الْكِيْرُ خَبَثَ الْحَدِيْدِ
٤٤
وَيُدْعَى ذٰلِكَ الْيَوْمُ يَوْمُ الْخَلَاصِ فَقَالَتْ أُمُّ شَرِيْكٍ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ يَوْمَئِذٍ . قَالَ هُمْ يَوْمَئِذٍ قَلِيْلٌ وَجُلُّهُمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَاِمَامُهُمُ الْمَهْدِىُّ رَجُلٌ صَالِحٌ فَبَيْنَمَا اِمَامُهُمْ قَدْ تَقَدَّمَ يُصَلِّى بِهِمُ الصُّبْحَ إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِمْ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ الصُّبْحَ فَرَجَعَ ذٰلِكَ الْإِمَامُ يَنْكُصُ يَمْشِى الْقَهْقَرَى لِيَتَقَدَّمَ عِيْسَى فَيَضَعُ عِيْسَى يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ثُمَّ يَقُوْلُ لَهُ تَقَدَّمْ فَإِنَّهَا لَكَ أُقِيْمَتْ فَيُصَلِّى بِهِمْ اِمَامُهُمْ ٠ ابن ماجه ص ٢٩٨ باب فتنة الدجال والروياني وابن خزیمه وابوعوانة والحاكم واللفظ له كذا فى الحاوى ص ٦٥ ج ٢ “
﴿ ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مدینہ گندگی کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح کہ بھٹی لوہے کی گندگی کو دور کر دیتی ہے اور یہ دن یوم الخلاص (پاک اور ناپاک کی جدائی کا دن کہلائے گا) ام شریکؓ نے دریافت کیا کہ اے رسول اللہ ﷺ اس وقت عرب کہاں ہوں گے ۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت ان کی تعداد کم ہو گی اور ان میں بیشتر بیت المقدس میں ہوں گے اور ان کے امام ایک مرد صالح مہدی ہوں گے ۔ وہ ایک نیک انسان ہوں گے ۔ وہ ایک دن صبح کی نماز کی امامت کے لئے آگے بڑھیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو جائے گا ۔ اور یہ امام (مہدی علیہ السلام) الٹے پاؤں لوٹیں گے تاکہ عیسیٰ علیہ السلام (امامت کیلئے) آگے بڑھیں ۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ ان کے شانوں کے درمیان رکھ دیں گے اور فرمائیں گے کہ آپ آگے بڑھئے اور یہ آپ ہی کے لئے اقامت کہی گئی ہے اور ان کے امام (مہدی .........) نماز پڑھائیں گے ۔ ﴾
(٣٥)......... ” عَنْ أَبِى نَضْرَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ فَقَالَ يُوشِكُ اَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَا يُجِئَ إِلَيْهِمْ قَفِيْزٌ وَلَا دِرْهَمٌ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ ذَاكَ فَقَالَ مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ يَمْنَعُوْنَ ذَاكَ ثُمَّ قَالَ يُوْشِكُ اَهْلُ الشَّامِ أَنْ لَا يَجِئَ إِلَيْهِمْ دِيْنَارٌ وَلَا مُدًى قُلْنَا لَهُ مِنْ أَيْنَ ذَاكَ فَقَالَ مِنْ قِبَلِ الرُّوْمِ ثُمَّ سَكَتَ هُنَيْهَةً ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ يَكُوْنُ فِىْ آخِرِ أُمَّتِىْ خَلِيْفَةٌ يَحْثِى الْمَالَ حَثْيًا
٤٤
وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا قِيْلَ لِأَبِى نَضْرَةَ وَأَبِى الْعَلَاءِ أَتَرَيَانِ أَنَّهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ قَالَ لَا . رواه مسلم“
﴿ابو نضرۃؒ بیان کرتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہؓ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے فرمایا عنقریب ایسا ہو گا کہ اہل عراق کو نہ غلہ ملے گا نہ پیسہ‘ ہم نے دریافت کیا یہ مصیبت کس کے سبب سے آئے گی۔ انہوں نے فرمایا عجم کے سبب سے‘ وہ نہ غلہ آنے دیں گے نہ پیسہ‘ پھر فرمایا عنقریب ایک وقت آئے گا کہ اہل شام کو نہ دینار ملے گا نہ کسی قسم کا ذرا سا غلہ‘ ہم نے ان سے پوچھا یہ مصیبت کدھر سے آئے گی۔ فرمایا روم کی جانب سے‘ یہ فرما کر تھوڑی دیر تک خاموش رہے۔ اس کے بعد فرمایا‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہو گا۔ جو لپ بھر بھر کر مال دے گا اور شمار نہیں کرے گا۔ ابو نضرۃؒ سے جو صحابیؓ سے حدیث کا راوی ہے اور ابو العلاء سے پوچھا گیا آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا اس خلیفہ کا مصداق عمر بن عبدالعزیزؒ ہیں۔ ان دونوں نے بالاتفاق جواب دیا۔ نہیں۔ (مسلم شریف ص ٣٩٥ ج ٢ کتاب الفتن واشراط الساعة)﴾
(٣٦)............ ”عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ يَكُوْنُ فِىْ اٰخِرِ أُمَّتِىْ خَلِيْفَةٌ يَحْثِى الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا . رواه مسلم ص ٣٩٥ ج ٢ کتاب الفتن واشراط الساعة“
﴿جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہو گا جو مال دونوں ہاتھ بھر بھر کر دے گا اور اس کو شمار نہیں کرے گا۔﴾
صحیح مسلم کی مذکورہ بالا ہر دو حدیثوں میں ایک خلیفہ کے دور میں مال کی خاص بہتات کا تذکرہ ہے اور ابو نضرۃؒ کی حدیث میں اس خلیفہ کے مصداق کے متعلق بھی کچھ بحث ہے مگر ابو نضرۃؒ راوی حدیث اور ابو العلاء کی رائے یہ ہے کہ اس کا مصداق عمر بن عبدالعزیزؒ جیسا ضرب المثل عادل خلیفہ بھی نہیں بلکہ ان کے بعد کوئی اور خلیفہ ہے
مگر جب امام ترمذی‘ امام احمد اور ابو یعلیٰ کی صحیح حدیثوں میں مال کی یہی بہتات تقریباً ایک ہی الفاظ کے ساتھ امام مہدی کے عہد میں ان کے نام کے ساتھ مذکور ہے تو پھر
٤٥
صحیح مسلم میں جس خلیفہ کا تذکرہ موجود ہے اس کا امام مہدی ہونا قطعی نہیں تو کیا ظنی بھی نہیں کہا جاسکتا۔
خروج السفيانى وهلاكه مع جنوده بالبيداء
(٣٧).......... " عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ السُّفْيَانِيُّ فِي عُمْقِ دِمَشْقَ وَعَامَّةُ مَنْ يَتْبَعُهُ مِنْ كَلْبٍ فَيَقْتُلُ حَتَّى يَبْقُرَ بُطُونَ النِّسَاءِ وَيَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَتَجْمَعُ لَهُمْ قَيْسُ فَيَقْتُلُهَا حَتَّى لَا يَمْنَعُ ذَنَبَ تَلْعَةٍ وَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فِي الْحَرَّةِ فَيَبْلُغُ السُّفْيَانِيَّ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ جُنْدًا مِنْ جُنْدِهِ فَيَهْزِمُهُمْ فَيَسِيرُ إِلَيْهِ السُّفْيَانِيُّ بِمَنْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا صَارَ بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ فَلَا يَنْجُوْ مِنْهُمْ إِلَّا الْمُخْبِرُ عَنْهُمْ . رواه الحاكم ، كذافى الحاوى ص ٦٥ ج ٢“
سفیانی کا نکلنا اور مقام بیداء میں اپنی فوج کے ساتھ ہلاک ہونا
﴿ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے دمشق کی بستی پر ایک سفیانی شخص حملہ آور ہو گا۔ جس کی عام طور پر اتباع کرنے والے قبیلہ کلب کے لوگ ہوں گے۔ وہ عورتوں کے پیٹ پھاڑ ڈالے گا اور بچوں کو قتل کرے گا اس کے مقابلہ کے لئے قیس کے قبیلہ کے لوگ جمع ہوں گے پھر وہ ان کو قتل کرے گا۔ حتیٰ کہ کسی ٹیلے کی گھاٹی ان کو بچانہ سکے گی۔ آہ! میرے اہل بیت میں سے مدینہ میں ایک شخص ظاہر ہو گا۔ اس سفیانی کو اس کی خبر پہنچے گی تو وہ اپنے لشکر میں سے ایک دستہ ان کے مقابلہ کے لئے روانہ کرے گا۔ وہ شخص ان کو شکست دے گا۔ اس پر سفیانی اپنے ہمراہیوں کو لیکر خود ان کے مقابلہ کے لئے چلے گا۔ یہاں تک کہ جب بیداء کے میدان میں پہنچے گا تو سب زمین میں دھنس جائیں گے اور ان میں سے کوئی شخص بھی نہ بچے گا۔ مگر صرف ایک شخص جو ان لوگوں کی خبر اپنی جماعت کو جا کر دے گا۔ (حاکم حدیث نمبر ٨٦٣٣ ص ٢٧٧ ج ٥ باب ذکر خروج السفیانی من دمشق وهلاكه۔﴾
٤٦
(٣٨)............”عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ الْعَجَبُ اَنَّ نَاسًا مِنْ اُمَّتِيْ يَؤُمُّوْنَ الْبَيْتَ لِرَجُلٍ مِّنْ قُرَيْشٍ قَدْ لَجَاَ بِالْبَيْتِ حَتّٰی كَانُوْا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ فِيْهِمِ الْمُسْتَنْفِرُ وَالْمَجْبُوْرُ وَابْنُ السَّبِيْلِ يَهْلِكُوْنَ مَهْلَكًا وَاحِدًا وَيَصْدُرُوْنَ مَصَادِرَ شَتّٰی يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ عَلٰی نِيَّاتِهِمْ . رواه مسلم“ ﴿حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تعجب کی بات ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ بیت اللہ شریف کی طرف ایسے قریشی شخص کے مقابلے کا قصد کریں گے جس نے بیت اللہ کی پناہ لے رکھی ہو گی اور میری امت ہی کے چند لوگ اس سے جنگ کا قصد کریں گے۔ یہاں تک کہ جب بیداء میں پہنچیں گے تو سب کے سب زمین میں دھنس جائیں گے۔ ان میں اپنی خوشی سے آنے والے اور زبردستی سے آنے والے اور مسافر سب ہی قسم کے لوگ ہوں گے یہ سب ایک ہی جگہ ہلاک ہو جائیں گے مگر محشر میں اپنی اپنی نیت کے مطابق اٹھیں گے (مسلم شریف ص ٣٨٨ ج ٢ کتاب الفتن)﴾
(٣٩)............”عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ قَالَ لَاتَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی تَنْزِلَ الرُّوْمُ بِالْاَعْمَاقِ اَوْ بِدَابِقَ فَيَخْرُجُ اِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِّنَ الْمَدِيْنَةِ مِنْ خِيَارِ اَهْلِ الْاَرْضِ يَوْمَئِذٍ فَاِذَا تَصَافُّوْا قَالَتِ الرُّوْمُ خَلُّوْا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِيْنَ سَبُوْا مِنَّا نُقَاتِلُهُمْ فَيَقُوْلُ الْمُسْلِمُوْنَ لَا وَاللّٰهِ لَانُخَلِّىْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ اِخْوَانِنَا فَيُقَاتِلُوْنَهُمْ فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَّا يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ اَبَدًا وَيُقْتَلُ ثُلُثٌ هُمْ اَفْضَلُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللّٰهِ وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لَا يُفْتَتَنُوْنَ اَبَدًا فَيَفْتَتِحُوْنَ قُسْطُنْطِيْنِيَّةَ فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُوْنَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوْا سُيُوْفَهُمْ بِالزَّيْتُوْنِ اِذْ صَاحَ فِيْهِمُ الشَّيْطَانُ اَنَّ الْمَسِيْحَ قَدْ خَلَفَكُمْ فِىْ اَهْلِيْكُمْ فَيَخْرُجُوْنَ وَذٰلِكَ بَاطِلٌ فَاِذَا جَاءُوا الشَّامَ خَرَجَ فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّوْنَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّوْنَ الصُّفُوْفَ اِذْ اُقِيْمَتِ الصَّلٰوةُ فَيَنْزِلُ عِيْسٰی بْنُ مَرْيَمَ فَيَؤُمُّهُمْ فَاِذَا رَاٰهُ عَدُوُّاللّٰهِ ذَابَ كَمَا يَذُوْبُ الْمِلْحُ فِى الْمَاءِ فَلَوْ تَرَكَهُ لَانْدَابَ حَتّٰی يَهْلِكَ وَلٰكِنْ يَقْتُلُهُ اللّٰهُ بِيَدِهِ فَيُرِيْهِمْ دَمَهُ فِىْ حَرْبَتِهِ . رواه مسلم“
٤٧
﴿ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت نہ قائم ہو گی یہاں تک کہ روم کے نصاریٰ کا لشکر اعماق میں یا دابق میں اترے گا۔ (یہ دونوں مقام حلب کے قریب ملک شام میں ہیں) تو مدینہ سے ایک ایسا لشکر نکلے گا جو اس وقت تمام روئے زمین میں افضل ہو گا جب دونوں لشکر صف آرا ہو جائیں گے تو نصاریٰ کہیں گے تم ان مسلمانوں سے الگ ہو جاؤ۔ جنہوں نے ہمارے بال بچے گرفتار کر لئے ہیں اور غلام بنا لئے ہیں ہم ان سے لڑیں گے۔ مسلمان کہیں گے نہیں خدا کی قسم ہم اپنے بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ پھر لڑائی ہو گی تو مسلمانوں کا ایک تہائی لشکر بھاگ نکلے گا۔ ان کی توبہ اللہ تعالیٰ کبھی قبول نہ کرے گا اور تہائی لشکر شہید ہو جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام شہیدوں میں افضل ہو گا اور تہائی لشکر فتح یاب ہو گا وہ عمر بھر کبھی کسی فتنے اور بلا میں نہ پڑیں گے پھر وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے جو اس وقت نصاریٰ کے قبضہ میں آگیا ہو گا۔ (اب تک یہ شہر مسلمانوں کے قبضہ میں ہے) وہ مال غنیمت کی تقسیم میں ابھی مشغول ہوں گے اور اپنی تلواروں کو زیتون کے درختوں میں لٹکا چکے ہوں گے۔ اتنے میں شیطان آواز دے گا کہ دجال تمہارے پیچھے تمہارے بال بچوں میں نکل آیا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی مسلمان وہاں سے چل پڑیں گے حالانکہ یہ افواہ غلط ہو گی۔ جب شام کے ملک میں پہنچیں گے اس وقت دجال نکلے گا اور جب مسلمان جنگ کے لئے مستعد ہوں گے اور صف آرائی کر رہے ہوں گے کہ نماز کا وقت آجائے گا۔ اسی وقت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور ان کی امامت کریں گے جب خدا کا دشمن دجال ان کو دیکھے گا تو مارے خوف کے اس طرح پگھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام اس کو یونہی چھوڑ دیں تو بھی وہ خود بخود گھل گھل کر ہلاک ہو جاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا قتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے مقدر فرمایا ہے۔ اس لئے وہ اس کو قتل فرمائیں گے اور اپنے نیزہ میں اس کے قتل کا خون دکھائیں گے۔ (مسلم ج ٢ ص ٣٩١‘٣٩٢ کتاب الفتن)﴾
سید برزنجیؒ نے حضرت ابن مسعودؓ سے ایک مفصل روایت نقل کی ہے جس سے اس باب کے واقعات کی ترتیب پر کافی روشنی پڑتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام
٤٨
رومیوں کے ساتھ مل کر پہلے ایک بار رومیوں کے کسی دشمن سے جنگ کریں گے جس کے نتیجہ میں ان کی فتح ہو گی اور دشمن سے حاصل شدہ مال یہ دونوں باہم تقسیم کرلیں گے۔ اس کے بعد پھر یہ دونوں مل کر فارس سے جنگ کریں گے اور پھر ان ہی کو فتح ہو گی۔ رومی مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس طرح پہلی بار ہم نے مال غنیمت تقسیم کر کے تم کو دیدیا تھا اسی طرح اس بار تم بھی مال اور قیدی سب ہم کو برابر تقسیم کر کے ہم کو دیدو۔ اس پر اہل اسلام حاصل شدہ مال اور مشرک قیدیوں کی تو تقسیم کرلیں گے مگر جو مسلمان قیدی ان کے پاس ہوں گے۔ وہ تقسیم نہ کریں گے۔ رومی کہیں گے کہ ہم سے جنگ کرنے اور ہمارے بچوں کو قید کرنے کے یہ بھی مجرم ہیں۔ اس لئے ان کو بھی ہمارے حوالہ کرو۔ مسلمان کہیں گے یہ نہیں ہو سکتا ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو ہرگز تمہارے حوالہ نہیں کریں گے۔ رومی کہیں گے کہ یہ خلاف معاہدہ بات ہے۔ آخر کار رومی صاحب رومیہ کے پاس یہ شکایت لے کر جائیں گے۔ وہ اسی (٨٠) جھنڈے کا ایک بڑا لشکر سمندری راہ سے ان کے ہمراہ کر دے گا جس کے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار سپاہی ہوں گے۔ یہ لشکر شام کا تمام ملک فتح کرلے گا صرف دمشق اور معتق کا پہاڑ بچ رہے گا اور بیت مقدس کو برباد کر ڈالے گا۔ یہاں ایک سخت جنگ ہو گی مسلمانوں کے بچے معتق پہاڑ کے اوپر ہوں گے اور مسلمان نہر اریط پر صبح و شام ان سے نبرد آزما ہوں گے۔ جب شاہ قسطنطنیہ یہ نقشہ دیکھے گا تو وہ قنسرین کے پاس تین لاکھ فوج خشکی کی راہ سے روانہ کرے گا اور یمن کے ساتھ چالیس ہزار قبیلہ حمیر کے لوگ ان سے آملیں گے۔ یہاں تک کہ بیت مقدس پہنچیں گے اور وہ بھی روم سے جنگ کریں گے۔ آخر ان کو شکست دیں گے۔
ایک اور لشکر آزاد شدہ غلاموں کا بھی عرب کی مدد کے لئے آئے گا اور کہے گا کہ اے عرب تم تعصب کی بات چھوڑ دو ورنہ کوئی تمہارا ساتھ نہ دے گا اور پھر ان کی مشرکین سے جنگ ہو گی مگر مسلمانوں کے کسی لشکر کو فتح نصیب نہ ہو گی۔ ایک تہائی مسلمان شہید ہو جائیں گے اور ایک تہائی بھاگ نکلیں گے اور ایک تہائی باقی رہ جائیں گے۔ ان میں سے پھر ایک تہائی مرتد ہو کر روم سے جاملیں گے اور ایک تہائی عراق و یمن اور حجاز کی طرف بھاگ
٤٩
جائیں گے اور بقیہ ایک تہائی کہیں گے کہ واقعی اب عصبیت چھوڑ کر سب متفق ہو جاؤ اور سب مل کر دشمن سے جنگ کرو اور اب اس عزم کے ساتھ جنگ کریں گے کہ یا ہم فتح کر لیں گے ورنہ مر جائیں گے۔
جب رومی لشکر مسلمانوں کی اس قلت کا احساس کرے گا تو ایک شخص صلیب لے کر کھڑا ہو گا اور کہے گا کہ صلیب کا بول بالا ہوا۔ اس پر ایک مسلمان جھنڈا لے کر نعرہ لگائے گا کہ اللہ کے انصار کا غلبہ ہوا۔ رومیوں کے اس کلمہ پر اللہ تعالیٰ کو غصہ آئے گا اور وہ مسلمانوں کی دولاکھ فرشتوں کے ساتھ مدد فرمائے گا اور مسلمانوں کو کامیاب کر دے گا۔ اس کے بعد مسلمان رومیوں کے ملک میں داخل ہو جائیں گے اور وہاں کے لوگ ان سے امن طلب کر کے جزیہ دینے پر راضی ہو جائیں گے پھر ارد گرد کے رومی یہ افواہ اڑائیں گے کہ دجال نکل آیا ہے مسلمان ادھر بھاگ پڑیں گے۔ بعد میں ان کو معلوم ہو گا کہ یہ خبر غلط تھی ادھر باقی ماندہ مسلمانوں پر رومی ٹوٹ پڑیں گے اور ان کو بیخ و بنیاد سے قتل کر ڈالیں گے۔ یہاں تک کہ روم میں عرب کے زن و مرد میں سے کوئی نہ بچے گا مسلمان واپس ہو کر جب یہ ماجرا دیکھیں گے تو پھر ان سے جنگ کریں گے اور جس قلعہ پر گزریں گے۔ تین دن کے اندر اندر اللہ تعالیٰ ان کو کامیاب کر دے گا۔ یہاں تک کہ جب خلیج کے پاس پہنچیں گے تو نصاریٰ کہیں گے مسیح ہمارا مدد گار ہے اور صلیب کی برکت خلیج سمندر سے بچاؤ کے لئے ہماری مدد گار ہے۔
جب صبح ہو گی تو کیا دیکھیں گے کہ خلیج خشک ہو گئی ہے اور سمندر ہٹ چکا ہے۔ بس فورا اس میں اپنے خیمے لگا دیں گے ادھر مسلمان جمعہ کی شب میں کفر کے اس شہر کا محاصرہ کر لیں گے اور رات سے لیکر صبح تک حمد اور اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کا ذکر کرتے رہیں گے۔ نہ کوئی شخص سوئے گا اور نہ بیٹھے گا جب صبح ہو گی تو تمام مسلمان مل کر ایک بار اللہ اکبر کا نعرہ لگائیں گے اسی وقت شہر کی ایک جانب گر پڑے گی اس پر حیران ہو کر روم کہیں گے کہ پہلے تو ہماری جنگ عرب سے تھی۔ اب تو جنگ کوئی خود پروردگار عالم ہی سے جنگ معلوم ہوتی ہے۔ دیکھو مسلمانوں کے لئے ہمارا شہر خود بخود گر کر برباد ہو گیا۔ اس کے بعد مال غنیمت کا سونا ڈھالوں میں بھر بھر کر تقسیم ہو گا اور عورتیں اس کثرت سے ہوں گی کہ ایک ایک شخص کے
٥٠
حصہ میں تین تین سو عورتیں آئیں گی۔ اس کے بعد پھر دجال حقیقتاً نکل آئے گا اور قسطنطنیہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں فتح ہو گا جو زندہ و سلامت رہیں گے۔ نہ بیمار پڑیں گے اور نہ کوئی مرض ان کو ستائے گا۔ یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور ان کے ہمراہ یہ جماعت دجال کے لشکر (یہود) کے ساتھ جنگ میں شریک ہو گی۔ یہ روایت اس تفصیل کے ساتھ امام سیوطیؒ نے جامع کبیر میں ذکر فرمائی ہے۔
بعض حدیثوں میں امام مہدی کے متعلق ” یصلحہ اللہ فی لیلۃ “ کا لفظ بھی ملتا ہے۔ جو ضابطہ حدیث کے اعتبار سے خواہ صحت کے درجہ پر نہ کہا جائے مگر ایک عمیق حقیقت اس سے حل ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں پر بعض ضعیف الایمان قلوب میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ جب امام مہدی ایسی کھلی ہوئی شہرت رکھتے ہیں تو پھر ان کا تعارف عوام و خواص میں کیسے مخفی رہ سکتا ہے۔ اس لئے مصائب و آلام کے وقت ان کے ظہور کا انتظار معقول معلوم نہیں ہوتا لیکن اس لفظ نے یہ حل کر دیا کہ یہ صفات خواہ کتنے ہی اشخاص میں کیوں نہ ہوں لیکن ان کے وہ باطنی تصرفات اور روحانیت مشیت الٰہیہ کے ماتحت اوجھل رکھی جائے گی یہاں تک کہ جب ان کے ظہور کا وقت آئے گا تو ایک ہی شب کے اندر اندر ان کی اندرونی خصوصیات منظر عام پر آجائیں گی۔ گویا یہ بھی ایک کرشمۂ قدرت ہو گا کہ ان کے ظہور کے وقت سے قبل کوئی شخصیت ان کو پہچان نہ سکے گی اور جب وقت آئے گا تو قدرت الٰہیہ شب بھر میں وہ تمام صلاحیتیں ان میں پیدا کر دے گی جن کے بعد ان کا امام مہدی ہونا ایک نابینا پر بھی منکشف ہو جائے گا۔ دیکھئے کہ دجال کا خروج احادیث صحیحہ سے کیسا ثابت ہے لیکن یہ ثابت شدہ حقیقت اس کے خروج سے پہلے پہلے کتنی مخفی ہے اور جب کہ یہ داستان دور فتن کی ہے تو اب امام مہدی کے ظہور اور دجال کے وجود میں انکشاف کا مطالبہ کرنا یا اس بحث میں پڑنا یہ مستقل خود ایک فتنہ ہے۔
اس قسم کے عجائبات کی مثالیں شریعت میں بہت ملتی ہیں۔ یوم جمعہ میں ساعت محمودہ کا ہونا تو یقینی ہے مگر وہ بھی اختلافات کے جھرمٹ میں ایسی مبہم ہو کر رہ گئی ہے کہ اس کا متعین کرنا اہل علم کو بھی مشکل پڑ گیا ہے۔ یہی حال شب قدر میں ہے اور اس سے زیادہ ابہام
٥١
دور فتن کی احادیث میں نظر آتا ہے۔ غالباً یہ بھی مشیت الہیہ کا ایک سر ہے کہ فتنہ اپنے وقت پر ظاہر ہو پھر اس کا متعین کرنا مشکل ہو جائے۔ دجال کی حدیثوں میں آپ پڑھیں گے کہ اس میں دجالیت کا ثبوت واضح سے واضح صورت میں موجود ہو گا لیکن اس پر بھی ایک جماعت ہو گی جو اس کو خدا اور رسول ماننے پر مجبور ہو گی۔ کیونکہ اس کے ہمراہ دجالیت کے ثبوت کے ساتھ ساتھ ایسے شبہات کی دنیا ہو گی جن کا ظہور اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔ گو شبہات کسی کے دعوے کے ثبوت کے لئے کتنے ہی ناکافی ہوں مگر اس وقت کے ایمانوں کو متزلزل کرنے کے لئے کافی سے زیادہ ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ظہور کے لئے قدرت الہیہ نے وہ زمانہ مقرر فرمایا ہے جبکہ ایمانوں کی قوت مسلوب ہو چکی ہو گی اور یہی راز ہے کہ اس کا ظہور خیر القرون میں نہ ہو سکا اور نہ اولیاء کرام کی کثرت کے ساتھ موجودگی میں ہو سکتا ہے۔ ہاں! مسلمانوں کے ایسے دور میں ہو گا جبکہ وہ بھیڑوں کی شکل میں مارے مارے پھرتے ہوں گے اور یہی حقیقت ہے کہ دنیا کے جس گوشہ میں ایمان کے پختہ لوگ بستے ہیں۔ وہاں جناتی اثرات کا ظہور بہت مضمحل نظر آتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم!
٥٢
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
دجال اکبر
محدث کبیر
حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
تعارف
الحمدللہ وکفیٰ وسلام علیٰ خاتم الانبیاء ٠ اما بعد! رحمت مجسم‘ نبی مکرم‘ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دجال اکبر کا فتنہ ابتدائے آفرینش سے قیام قیامت تک کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ جو اہل اسلام کے ایمان کے لئے خطرناک ترین امتحان ہوگا۔ تمام انبیاء علیہم السلام نے دجال کے فتنہ کی ہلاکت خیزیوں سے اپنی اپنی امت کو باخبر کیا لیکن اس فتنہ کی تفصیلات اور واضح علامات آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائیں۔ احادیث کی روشنی میں ”دجال اکبر“ پر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم مہاجر مدنیؒ کی اس کاوش نے پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ کا کام کیا ہے۔ پچیس احادیث مبارکہ بمع ترجمہ توضیح و تشریح کے آپ نے قلمبند فرما کر امت محمدیہ پر احسان فرمایا ہے۔
اللهم انا نعوذبك من فتنة المسيح الدجال ٠ آمين!
فقیر اللہ وسایا ٧ / ٦ / ١٤٢٢ھ ٧ / ٨ / ٢٠٠١ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
- (١)............... ”عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
يَقُولُ مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أَمْرٌ (وفى رواية خلق) أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ . مسلم ج ٢ ص ٤٠٥ باب بقية من احاديث الدجال“
﴿عمران بن حصینؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت آنے تک دجال سے زیادہ بڑا اور کوئی فتنہ نہیں ہے۔﴾
- (٢)............... ”عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ
الْعَيْنِ الْيُسْرَى جُفَالُ الشَّعْرِ مَعَهُ جَنَّتُهُ وَنَارُهُ فَنَارُهُ جَنَّةٌ ، وَجَنَّتُهُ نَارٌ . مسلم ص ٤٠٠ ج ٢ باب ذكر الدجال“
﴿حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دجال بائیں آنکھ سے کانا ہو گا اس کے جسم پر بہت گھنے بال ہوں گے اور اس کے ساتھ اس کی جنت اور دوزخ بھی ہو گی لیکن جو اس کی جنت نظر آئے گی دراصل وہ دوزخ ہو گی اور جو دوزخ نظر آئے گی وہ اصل میں جنت ہو گی۔ (لہذا جس کو وہ جنت میں ڈالے گا وہ دوزخی ہو گا اور جس کو اپنی دوزخ میں ڈالے گا وہ جنتی ہو گا ۔)﴾
- (٣)............... ”عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا
أُخْبِرُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَدِيثاً مَا حَدَّثَهُ نَبِيٌّ قَوْمَهُ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَ إِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَالَّتِي يَقُولُ أَنَّهَا الْجَنَّةُ هِيَ النَّارُ وَإِنِّي أُنْذِرُكُمْ بِهِ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ
٣
نُوْحٌ قَوْمَهُ ، متفق عليه واللفظ للمسلم ج ٢ ص ٤٠٠ باب ذكر الدجال“
﴿ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو دجال کے متعلق ایسی بات نہ بتادوں جو حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آج تک کسی نبی نے اپنی امت کو نہ بتائی ہو۔ دیکھو وہ کانا ہو گا اور اس کے ساتھ جنت اور دوزخ کے نام سے دو شعبدے بھی ہوں گے۔ تو جس کو وہ جنت کہے گا وہ درحقیقت دوزخ ہو گی۔ دیکھو دجال سے میں بھی تم کو اسی طرح ڈراتا ہوں جیسا کہ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔﴾
(٤)..........”عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنْاَءَ مِنْهُ فَوَاللّٰهِ اِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِيْهِ وَهُوَ يَحْسَبُ اَنَّهُ مُؤْمِنٌ فَيَتْبَعُهُ مِمَّايُبْعَثُ مَعَهُ مِنَ الشُّبُهَاتِ ٠ رواه ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٤ باب خروج الدجال“
﴿عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دیکھو جو شخص دجال کی خبر سنے اس کو چاہئے کہ وہ اس سے دور ہی دور رہے خدا کہ ایک شخص کو اپنے دل میں یہ خیال ہو گا کہ وہ مومن آدمی ہے لیکن ان عجائبات کو دیکھ کر جو اس کے ساتھ ہوں گے۔ وہ بھی اس کے پیچھے لگ جائے گا۔﴾
(٥)..........” وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ قَالَ اِنِّیْ قَدْ حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتّٰی خَشِيْتُ اَنْ لَّا تَعْقِلُوْا اَنَّ الْمَسِيْحَ الدَّجَّالَ رَجُلٌ قَصِيْرٌ اَفْحَجُ جَعْدٌ اَعْوَرُ مَطْمُوْسُ الْعَيْنِ لَيْسَ بِنَاءَ تِيَةٍ وَّلَا حَجْرَاءَ فَاِنْ اَلْبَسَ عَلَيْكُمْ فَاعْلَمُوْا اَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِاَعْوَرَ ٠ رواه ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٤ باب خروج الدجال“
﴿عبادہ بن صامتؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا میں نے دجال کے متعلق کچھ تفصیلات تم لوگوں سے بیان کیں لیکن مجھ کو خطرہ ہے کہ کہیں تم پورے طور پر اس کو نہ سمجھے ہو۔ دیکھو مسیح دجال کا قد ٹھگنا ہو گا۔ اس کے دونوں پیر ٹیڑھے‘ سر کے بال شدید خمیدہ‘ یک چشم مگر ایک آنکھ بالکل چٹ صاف‘ نہ اوپر کو ابھری ہوئی نہ اندر کو
٤
دھنسی ہوئی۔ اگر اب بھی تم کو شبہ رہے تو یہ بات یاد رکھنا کہ تمہارا رب یقیناً کانا نہیں ہے۔﴾
- (٦)........... ”وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ
اللّٰهِ ﷺ يَقُوْلُ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَّبِيٌّ بَعْدَ نُوْحٍ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ الدَّجَّالَ وَإِنِّيْ أُنْذِرُكُمُوْهُ فَوَصَفَهُ لَنَا قَالَ لَعَلَّهُ سَيُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَّآنِيْ أَوْ سَمِعَ كَلَامِيْ قَالُوْا يَارَسُوْلَ اللّٰهِ فَكَيْفَ قُلُوْبُنَا يَوْمَئِذٍ فَقَالَ مِثْلُهَا يَعْنِى الْيَوْمَ أَوْ خَيْرٌ“. رواہ الترمذی ج٢ ص٤٧ باب ماجاء فی الدجال“
﴿ابو عبیدہ بن جراحؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد جو نبی آیا ہے۔ اس نے اپنی قوم کو دجال سے ضرور ڈرایا ہے اور میں بھی تم کو اس سے ڈراتا ہوں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اس کی صورت وغیرہ بیان فرمائی اور کہا ممکن ہے جنہوں نے مجھ کو دیکھا ہے یا میرا کلام سنا ہو اس میں کوئی ایسا نکل آئے جو اس کا زمانہ پاسکے۔ انہوں نے پوچھا اس دن ہمارے دلوں کا حال کیسا ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا! ایسا ہی جیسا آج ہے یا اور بھی بہتر۔﴾
پیشگوئی میں اقسام کا ابہام رہ جاتا ہے اور وہ تکوینی امر ہے۔ دیکھئے یہاں پر: ”لعلہ سیدرکہ بعض من رأنی.“ کے لفظ نے کتنا ابہام پیدا کر دیا ہے۔ پھر: ”أو خیر“ میں یہ ابہام کہاں تک جا پہنچتا ہے۔
- (٧)........... ”عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ نِ الْخُدْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا النَّبِيُّ ﷺ يَوْمًا
حَدِيْثًا طَوِيْلًا عَنِ الدَّجَّالِ فَكَانَ فِيْمَا يُحَدِّثُنَا بِهِ أَنَّهُ قَالَ يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَّدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِيْنَةِ فَيَنْزِلُ بَعْضَ السِّبَاخُ الَّتِيْ تَلِيَ الْمَدِيْنَةَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ فَيَقُوْلُ أَشْهَدُ إِنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِيْ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ حَدِيْثَهُ فَيَقُوْلُ الدَّجَّالُ أَرَاءَ يْتُمْ أَنْ قَتَلْتُ هٰذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ هَلْ تَشُكُّوْنَ فِي الْأَمْرِ فَيَقُوْلُوْنَ لَا فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيْهِ فَيَقُوْلُ وَاللّٰهِ مَا كُنْتُ فِيْكَ أَشَدُّ بَصِيْرَةً مِنِّى الْيَوْمَ فَيُرِيْدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَّقْتُلَهُ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ . رواہ البخاری ج٢ ص١٠٥٦ باب لا يدخل الدجال المدينة“
٥
﴿حضرت ابی سعید الخدریؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ایک طویل حدیث دجال کے بارہ میں بیان فرمائی تو جو باتیں آپ نے ہم سے اس کے متعلق بتائیں۔ ان میں یہ بھی فرمایا تھا کہ دجال آئے گا مگر مدینہ کے راستوں میں گھس آنا اس کے لئے حرام اور ناممکن ہو گا تو وہ مدینہ کے آس پاس کی بنجر زمین میں کسی جگہ آکر اترے گا تو ............. اس کے مقابلہ کے لئے اس دن ایک شخص نکلے گا جو تمام انسانوں میں سب سے بہتر (یا بہتر انسانوں میں سے) ہو گا۔ وہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کی بات ہم کو جناب رسول اللہ ﷺ نے سنائی تھی‘ تو دجال کہے گا لوگو! بتاؤ اگر میں اس شخص کو قتل کر دوں اور پھر اسے زندہ کر دوں تب تو تم کو میرے معاملے میں کوئی شک شبہ باقی نہ رہے گا۔ وہ کہیں گے کہ نہیں۔ تو وہ ان کو قتل کر دے گا پھر ان کو زندہ کر دے گا۔ تو وہ بزرگ کہیں گے خدا کی قسم! اب تو مجھ کو تیرے بارے میں اور بھی یقین اور بصیرت حاصل ہو گئی کہ آج سے زیادہ ایسی بصیرت پہلے نہ تھی۔ تو دجال پھر ان کو قتل کرنا چاہے گا مگر اس کا قابو ان پر نہ چل سکے گا۔﴾
حدیث رسول اللہ ﷺ سے وہ مسئلہ بھی مستنبط ہو سکتا ہے جو اصول حدیث میں مندرج ہے۔ اس کی تفصیل کا نہ یہاں موقع ہے نہ مناسب۔ کہتے ہیں کہ یہ شخص عجب نہیں کہ خضر علیہ السلام ہوں واللہ تعالیٰ اعلم بہر حال حدیث ہذا میں جمع کے صیغہ میں بہت سے امور کی طرف اشارات ممکن ہیں۔
- (٨)......... ”عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ يَجِيئُ الدَّجَّالُ
حَتَّى يَنْزِلَ فِيْ نَاحِيَةِ الْمَدِيْنَةِ تَرْجُفُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَّمُنَافِقٍ رواہ البخاری وفى روايته عنده لا يدخل المدينة رعب المسيح الدجال ولها يومئذ سبعة ابواب على كل باب ملكان وفى رواية على انقاب المدينة ملائكة وفى رواية المدينة ياتيها الدجال فيجد الملائكة يحرسونها فلا يقربها كلها فى البخاری ج٢ ص ١٠٥٥ باب ذكر الدجال“
﴿حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال
٦
آئے گا یہاں تک کہ مدینہ کے ایک کنارے آکر اترے گا تو تین بار زلزلے آئیں گے۔ اس وقت جتنے کافر اور جتنے منافق ہوں گے سب نکل نکل کر اس کے ساتھ ہو جائیں گے۔ ﴾
ان کی ایک اور روایت میں ہے کہ مدینہ کے اندر مسیح دجال کا رعب بھی نہ آنے پائے گا۔ اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے۔ ہر دروازے پر دو دو فرشتے ہوں گے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ مدینہ کے بڑے بڑے راستوں پر بہت سے فرشتے ہوں گے اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ مدینہ کے پاس دجال آئے گا تو فرشتوں کو اس کی نگرانی کرتے پائے گا۔ لہٰذا ان کے پاس بھی نہ بھٹک سکے گا۔
- (٩).......... ”عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ سَمِعْتُ نِدَاءَ الْمُنَادِی
مُنَادِی رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ يُنَادِی الصَّلٰوةُ جَامِعَةٌ فَخَرَجْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ .......... فَلَمَّا قَضىٰ صَلٰوتَهُ جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ لِيَلْزَمْ كُلُّ اِنْسَانٍ مُّصَلَّاهُ ثُمَّ قَالَ اَتَدْرُوْنَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ قَالُوْا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ اَعْلَمُ قَالَ اِنِّیْ وَاللّٰهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَّلَا لِرَهْبَةٍ وَّلٰكِنْ جَمَعْتُكُمْ لِاَنَّ تَمِيْمَانِ الدَّارِیَّ كَانَ رَجُلاً نَّصْرَانِيًّا فَجَاءَ فَبَايَعَ وَاَسْلَمَ وَحَدَّثَنِیْ حَدِيْثًا وَّافَقَ الَّذِیْ كُنْتُ اُحَدِّثُكُمْ بِهٖ عَنِ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ حَدَّثَنِیْ اَنَّهٗ رَكِبَ فِیْ سَفِيْنَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَّعَ ثَلٰثِيْنَ رَجُلاً مِّنْ لَّخْمٍ وَّجُذَامٍ فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِی الْبَحْرِ فَاَرْفَاءُوْا اِلٰی جَزِيْرَةٍ حِيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ فَجَلَسُوْا فِیْ اَقْرَبِ السَّفِيْنَةِ فَدَخَلُوا الْجَزِيْرَةَ فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ اَهْلَبُ كَثِيْرُ الشَّعَرِ لَا يَدْرُوْنَ مَا قُبُلُهٗ مِنْ دُبُرِهٖ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ قَالُوْا وَيْلَكِ مَا اَنْتِ قَالَتْ اَنَا الْجَسَّاسَةُ اِنْطَلِقُوْا اِلٰی هٰذَا الرَّجُلِ فِی الدَّيْرِ فَاِنَّهٗ اِلٰی خَبَرِكُمْ بِالْاَشْوَاقِ قَالَ لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلاً فَرِقْنَا مِنْهَا اَنْ تَكُوْنَ شَيْطَانَةً قَالَ فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتّٰی دَخَلْنَا الدَّيْرَ فَاِذَا فِيْهِ اَعْظَمُ اِنْسَانٍ مَّا رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا وَّاَشَدُّهٗ وَثَاقًا مَجْمُوْعَةٌ يَدَاهُ عَلٰی عُنُقِهٖ مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ اِلٰی كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيْدِ قُلْنَا وَيْلَكَ مَا اَنْتَ ؟ قَالَ قَدْ قَدَرْتُمْ عَلٰی خَبَرِیْ فَاَخْبِرُوْنِیْ مَا اَنْتُمْ قَالُوْا نَحْنُ اُنَاسٌ مِّنَ الْعَرَبِ
٧
رَكِبْنَا فِى سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ......... فَلَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا فَدَخَلْنَا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْنَا دَابَّةٌ اَهْلَبُ فَقَالَتْ اَنَا الْجَسَّاسَةُ اِعْمَدُوْا اِلَى هٰذَا الرَّجُلِ فِى الدَّيْرِ فَاَقْبَلْنَا اِلَيْهِ سِرَاعًا فَقَالَ اَخْبِرُوْنِى عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ هَلْ تُثْمِرُ؟ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ اَمَا اَنَّهَا تُوْشِكُ اَنْ لَّا تُثْمِرَ قَالَ اَخْبِرُوْنِى عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ هَلْ فِيْهَا مَاءٌ ؟ قُلْنَا هِىَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ قَالَ اِنَّ مَاءَهَا يُوْشِكُ اَنْ يَّذْهَبَ قَالَ اَخْبِرُوْنِى عَنْ عَيْنِ زُغَرَ هَلْ فِى الْعَيْنِ مَاءٌ وَهَلْ يَزْرَعُ اَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَيْنِ قُلْنَا نَعَمْ هِىَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ وَاَهْلُهَا يَزْرَعُوْنَ مِنْ مَّائِهَا قَالَ اَخْبِرُوْنِى عَنْ نَّبِيِّ الْاُمِّيِّيْنَ مَافَعَلَ قُلْنَا قَدْ خَرَجَ مِنْ مَّكَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ قَالَ اَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ ؟ فَاَخْبَرْنَاهُ اَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ يَّلِيْهِ مِنَ الْعَرَبِ وَاَطَاعُوْهُ قَالَ اَمَا اِنَّ ذٰلِكَ خَيْرٌ لَّهُمْ اَنْ يُطِيْعُوْهُ وَاِنِّى مُخْبِرُكُمْ عَنِّى اَنَاالْمَسِيْحُ الدَّجَّالُ وَاِنِّى يُوْشِكُ اَنْ يُؤْذَنَ لِى فِى الْخُرُوْجِ فَاَخْرُجَ فَاَسِيْرَ فِى الْاَرْضِ فَلَا اَدَعَ قَرْيَةً اِلَّا هَبَطْتُهَا فِى اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ مُحَرَّمَتَانِ عَلَىَّ كِلْتَا هُمَا كُلَّمَا اَرَدْتُّ اَنْ اَدْخُلَ وَاحِدَةً مِّنْهُمَا اِسْتَقْبَلَنِى مَلَكٌ بِيَدِهِ السَّيْفُ صَلْتًا يَصُدُّنِى عَنْهَا وَاِنَّ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِّنْهَا مَلَائِكَةٌ يَحْرُسُوْنَهَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَعَنَ بِمِخْصَرَتِهِ فِى الْمِنْبَرِ هٰذِهِ طَيْبَةُ هٰذِهِ طَيْبَةُ هٰذِهِ طَيْبَةُ يَعْنِى مَدِيْنَةَ اَلَمْ اَكُنْ حَدَّثْتُكُمْ ذٰلِكَ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ......... اَلَا اِنَّهُ فِى بَحْرِ الشَّامِ اَوْبَحْرِ الْيَمَنِ لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَاهُوَ وَاَوْمَاءَ بِيَدِهِ اِلَى الْمَشْرِقِ (رواه مسلم ج ٢ ص ٤٠٤، ٤٠٥ باب ذكر الدجال) وَرَوَاهُ اَبُوْ دَاوُدَ مُخْتَصَرًا قَالَ الْحَافِظُ اِبْنُ حَجَرٍ عِنْدَ شَرْحِ حَدِيْثِ جَابِرٍ مِّنْ كِتَابِ الْإِعْتِصَامِ وَقَدْ تَوَهَّمَ بَعْضُهُمْ اَنَّهُ غَرِيْبٌ فَرُدَّ لَيْسَ كَذٰلِكَ فَقَدْ رَوَاهُ مَعَ فَاطِمَةِ بِنْتِ قَيْسٍ اَبُوْهُرَيْرَةَ كَمَا عِنْدَ اَحْمَدَ وَاَبِىْ يَعْلَى وَعَائِشَةُ كَمَا عِنْدَ اَحْمَدَ وَجَابِرٌ كَمَا عِنْدَ اَبِىْ دَاوُدَ فَتْحَ الْبَارِى وَذَكَرَ اَنَّ الْبُخَارِىَّ اِنَّمَالَمْ يُخَرِّجْهُ لِشِدَّةِ الْتِبَاسِ الْاَمْرِ فِى ذٰلِكَ فَتَنَبَّهْ .“
۞ فاطمہ بنت قیسؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے اِعلان کرنے
٨
والے کو سنا۔ وہ اعلان کر رہا تھا کہ نماز جامعہ ہے۔ میں نماز کے لئے نکلی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی۔ آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر منبر پر بیٹھ گئے اور آپ ﷺ کے چہرہ پر اس وقت مسکراہٹ تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہر شخص اپنی اپنی جگہ بیٹھا رہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو میں نے تم کو کیوں جمع کیا ہے۔ انہوں نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا بخدا میں نے تم کو نہ تو رغبت اور نہ رہبت کے لئے جمع کیا ہے بلکہ میں نے تم کو صرف اس بات کے لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری جو پہلے نصرانی تھا۔ وہ آیا اور مسلمان ہو گیا اور مجھ سے ایک قصہ بیان کیا ہے جس سے میرے اس بیان کی تصدیق ہوتی ہے جو میں نے تم سے دجال کے متعلق بیان کیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ وہ ایک سمندری کشتی میں سوار ہوا جس میں قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی اور تھے۔ سمندر کی لہروں نے ان کو ایک ماہ تک پریشان رکھا آخر وہ سورج غروب ہونے کے وقت ایک جزیرہ کے کنارے جا لگے۔ وہ چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر اس جزیرہ پر اتر گئے۔ سامنے سے ان کو ایک جانور ملا جس کے سارے جسم پر بال ہی بال تھے کہ بالوں کی کثرت کی وجہ سے اگلا اور پچھلا حصہ معلوم نہیں ہوتا تھا۔ لوگوں نے اس سے کہا کم بخت تو کیا بلا ہے؟۔ وہ بولی میں جساسہ ہوں۔ انہوں نے کہا یہ جساسہ کیا ہے؟۔ اس نے کہا اے لوگو! اس گرجے میں چلو۔ وہاں ایک شخص ہے جس کو تمہاری خبروں کا بڑا اشتیاق ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جب اس نے ایک آدمی کا ذکر کیا تو ہم کو ڈر لگا کہ کہیں وہ کوئی جن نہ ہو۔ ہم لپک کر گرجے میں پہنچے تو ہم نے ایک بڑا قوی ہیکل شخص دیکھا کہ اس سے قبل ہم نے ویسا کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ اس کے ہاتھ گردن سے ملا کر اور اس کے پیر گھٹنوں سے لے کر ٹخنوں تک لوہے کی زنجیروں سے نہایت مضبوطی سے جکڑے ہوئے تھے۔ ہم نے اس سے کہا تیرا ناس ہو تو کون ہے؟۔ وہ بولا تم کو تو میرا پتہ کچھ نہ کچھ لگ ہی گیا۔ اب تم بتاؤ تم کون لوگ ہو۔ انہوں نے کہا ہم عرب کے باشندے ہیں۔ ہم ایک سمندری کشتی میں سفر کر رہے تھے۔ سمندر میں طوفان آیا اور ایک ماہ تک رہا۔ اس کے بعد ہم اس جزیرہ میں آئے تو یہاں ہمیں ایک جانور ملا جس کے تمام جسم پر بال ہی بال تھے۔ اس نے کہا میں جساسہ ٥
(جاسوس، خبر رساں) ہوں۔ چلو اس شخص کی طرف چلو جو اس گرجے میں ہے۔ اس لئے ہم جلدی جلدی تیرے پاس آگئے۔ اس نے کہا مجھے یہ بتاؤ کہ بیسان (شام میں ایک بستی کا نام ہے) کی کھجوروں میں پھل آتا ہے یا نہیں۔ ہم نے کہا ہاں آتا ہے۔ اس نے کہا وہ وقت قریب ہے جب اس میں پھل نہ آئیں۔ پھر اس نے پوچھا اچھا بحیرہ طبریہ کے متعلق بتاؤ اس میں پانی ہے یا نہیں۔ ہم نے کہا بہت ہے۔ اس نے کہا وہ زمانہ قریب ہے جبکہ اس میں پانی نہ رہے گا۔ پھر اس نے پوچھا زغر (شام میں ایک بستی) کے چشمہ کے متعلق بتاؤ اس میں پانی ہے یا نہیں اور اس بستی والے اپنی کھیتوں کو اس کا پانی دیتے ہیں یا نہیں۔ ہم نے کہا اس میں بھی بہت پانی ہے اور بستی والے اسی کے پانی سے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ پھر اس نے کہا اچھا ”نبی الامیین“ کا کچھ حال سناؤ۔ ہم نے کہا وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئے ہیں۔ اس نے پوچھا کیا عرب کے لوگوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ہے۔ ہم نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا اچھا پھر کیا نتیجہ رہا؟ ہم نے بتایا کہ وہ اپنے گرد و نواح پر تو غالب آچکے ہیں اور لوگ ان کی اطاعت قبول کر چکے ہیں۔ اس نے کہا سن لو ان کے حق میں یہی بہتر تھا کہ ان کی اطاعت کر لیں اور اب میں تم کو اپنے متعلق بتاتا ہوں۔ میں مسیح دجال ہوں اور وہ وقت قریب ہے جبکہ مجھ کو یہاں سے باہر نکلنے کی اجازت مل جائے گی۔ میں باہر نکل کر تمام زمین پر گھوم جاؤں گا اور چالیس دن کے اندر اندر کوئی بستی ایسی نہ رہ جائے گی جس میں میں داخل نہ ہوں۔ بجز مکہ اور طیبہ کے کہ ان دونوں مقامات میں میرا داخلہ ممنوع ہے۔ جب میں ان دونوں میں سے کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کروں گا اس وقت ایک فرشتہ ہاتھ میں ننگی تلوار لئے سامنے سے آکر مجھ کو داخل ہونے سے روک دے گا اور ان مقامات (مقدسہ) کے جتنے راستے ہیں۔ ان سب پر فرشتے ہوں گے کہ وہ ان کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی لکڑی منبر پر مار کر فرمایا کہ وہ طیبہ یہی مدینہ ہے یہ جملہ تین بار فرمایا۔ دیکھو کیا یہی بات میں نے تم سے بیان نہیں کی تھی۔ لوگوں نے کہا جی ہاں! آپ نے بیان فرمائی تھی۔ اس کے بعد فرمایا! دیکھو وہ بحر شام یا بحر یمن (راوی کو شک ہے) بلکہ مشرق کی جانب ہے اور اسی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا۔ ﴾
امام قرطبی نے اپنی مشہور کتاب التذکرہ میں لکھا ہے کہ دجال کی بابت جن سوالات کے تفصیلی جوابات حدیث میں آچکے ہیں۔ وہ یہ ہیں۔ اس کی حقیقت سبب خروج‘ محل خروج‘ وقت خروج‘ شکل وصورت‘ ساحرانہ کرشمے اس کا دعویٰ اس کے قاتل اور وقت قتل کی تعیین اور یہ بحث بھی کہ وہ ابن صیاد ہے یا کوئی اور۔ اس بحث سے اس مسئلہ کا فیصلہ بھی ہو جاتا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں موجود تھا یا نہیں۔ (دیکھو فتح الباری)
ابن صياد واسمه وحليته وحلية ابيه ومافيه
من صفاته الغريبة
(١٠)............”وَعَنْ أَبِيْ بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ يَمْكُثُ أَبُو الدَّجَّالِ وَأُمُّهُ ثَلٰثِيْنَ عَامًا لَا يُوْلَدُ لَهُمَا وَلَدٌ‘ ثُمَّ يُوْلَدُ لَهُمَا غُلَامٌ‘ اَعْوَرُ اَضْرَسُ وَاَقَلُّهُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ثُمَّ نَعَتَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ اَبَوَيْهِ فَقَالَ أَبُوْهُ طِوَالٌ‘ ضَرْبُ اللَّحْمِ كَاَنَّ اَنْفَهُ مِنْقَارٌ‘ وَأُمُّهُ اِمْرَأَةٌ فَرْضَا حَيَّةٌ طَوِيْلَةُ الثَّدْيَيْنِ فَقَالَ أَبُوْ بَكْرَةَ فَسَمِعْنَا بِمَوْلُوْدٍ فِى الْيَهُوْدِ بِالْمَدِيْنَةِ فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتّٰى دَخَلْنَا عَلٰى اَبَوَيْهِ فَإِذَا نَعْتُ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ فِيْهِمَا فَقُلْنَا هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ‘ فَقَالَا مَكَثْنَا ثَلٰثِيْنَ عَامًا لَا يُوْلَدُ لَنَا وَلَدٌ‘ ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ‘ اَعْوَرَا ضْرَسُ وَاَقَلُّهُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالَ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا فَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ‘ فِى الشَّمْسِ فِى قَطِيْفَةٍ وَلَهُ هَمْهَمَةٌ فَكَشَفَ عَنْ رَّاسِهِ فَقَالَ مَاقُلْتُمَا؟ قُلْنَا وَهَلْ سَمِعْتَ مَاقُلْنَا؟ قَالَ نَعَمْ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِىْ ٠ رواه ترمذی ج٢ ص ٥٠ باب ما جاء فی ذکر ابن صیاد“
ابن صیاد کا نام اس کا اور اس کے باپ کا حلیہ
اور اس کی عجیب و غریب صفات کا بیان
﴿ابو بکرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دجال کے ماں باپ کے گھر
١١
تیس سال تک کوئی بچہ پیدا نہ ہوگا پھر ایک لڑکا پیدا ہو گا جس کی ایک آنکھ خراب ایک دانت باہر نکلا ہوا ہو گا وہ بالکل نکما ہو گا۔ سوتے میں اگرچہ اس کی آنکھیں بند ہوں گی مگر اس کا دل ہوشیار رہے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس کے ماں باپ کا نقشہ بیان فرمایا کہ اس کا باپ لانبا‘ چھریرے جسم والا‘ چونچ کی طرح اس کی ناک ہو گی۔ اس کی ماں کے دونوں پستان بڑے بڑے لٹکے ہوئے۔ ابو بکرؓ کہتے ہیں کہ ہم نے مدینہ میں یہود کے گھر اسی قسم کے ایک لڑکے کی پیدائش سنی تو میں اور زبیر بن عوام اس کے دیکھنے کے لئے گئے۔ جب اس کے ماں باپ کے پاس پہنچے دیکھا تو وہ ٹھیک اسی صورت کے تھے جو رسول اللہ ﷺ نے ان کی صورت بیان فرمائی تھی۔ ہم نے پوچھا تمہارے کوئی بچہ ہے؟۔ انہوں نے کہا تیس سال تک تو ہمارے کوئی بچہ نہیں تھا اس کے بعد اب ایک لڑکا پیدا ہوا ہے جس کی ایک آنکھ خراب ہے۔ اس کا ایک دانت باہر نکلا ہوا ہے۔ وہ بالکل نکما ہے۔ اس کی آنکھیں سوتی ہیں مگر اس کا دل خبردار رہتا ہے۔ ہم جو ان کے گھر سے باہر نکلے کیا دیکھتے ہیں کہ وہ دھوپ میں اپنی چادر میں لپٹا ہوا کچھ گنگنا رہا ہے۔ اس نے اپنا سر کھول کر کہا۔ تم کیا باتیں کر رہے تھے؟۔ ہم نے کہا کیا تو نے ہماری باتیں سن لیں۔ وہ بولا ہاں! میری آنکھیں ہی سوتی ہیں۔ ورنہ میرا دل جاگتا رہتا ہے۔ ﴾
جزری کہتے ہیں کہ روایت مذکورہ میں لفظ اضرس کاتب کی تصحیف ہے۔ اصل میں ”اضر شی“ ہے جیسا کہ ترمذی کی روایت میں موجود ہے۔ اس بناء پر اس کا ترجمہ یہ ہو گا کہ وہ سر تا پا مضرت ہی مضرت اور نقصان ہی نقصان ہے۔ احقر کا خیال ہے کہ ”ضرس“ لغت میں اگرچہ ڈاڑھ کو کہتے ہیں مگر توسعاً اس سے کیلہ یعنی کنارے کا لمبا نوکیلا دانت مراد ہو سکتا ہے اور اضرس کا ترجمہ لمبے کیلے والا ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ آئندہ روایت میں لفظ ”طالعة نابه“ موجود ہے۔ اس کا ترجمہ بھی یہی ہے کہ اس کا ایک کیلہ باہر کی جانب نکلا ہوا ہو گا۔ اس بناء پر تصحیف کہنے کی ضرورت نہ ہو گی۔
ابن صیاد کی صفات میں ایک صفت یہ بھی ہے کہ ”تنام عیناہ“ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ دل کی بیداری محمود صفت بھی ہے اور مذموم بھی جس کا علاقہ عالم ملکوت سے قائم ہوتا ہے وہ تو اس بیداری کی وجہ سے عالم علوی یعنی عالم ملکوت سے وابستہ رہتا ہے اور جس کا علاقہ
شیاطین اور جنوں کے ساتھ ہوتا ہے وہ عالم سفلی یعنی عالم شیاطین سے وابستہ رہتا ہے اور اس طرح مرکز ہدایت اور مرکز ضلالت دونوں کو اپنے اپنے عالموں سے مدد پہنچتی رہتی ہے :” كلا نمد هؤلاء وهؤلاء من عطاء ربك . وما كان عطاء ربك محذورا .“
روایت مذکورہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے دجال اور اس کے ماں باپ کا نقشہ اور حلیہ بھی بیان فرما دیا تھا اور چونکہ وہ ابن صیاد اور اس کے ماں باپ میں بھی موجود تھا اس لئے ابن صیاد کا معاملہ شروع میں باعث تحیر بن گیا تھا کہ کہیں یہ وہی دجال تو نہیں کیونکہ جلد اول کی ختم نبوت کی بحث میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ آپ ﷺ نے دجال اکبر کے علاوہ تیس سے ستر دجالوں تک کی اور خبر دی ہے جو اسی امت میں پیدا ہوں گے اور دعوٰیٰ نبوت کریں گے۔ بہر حال چونکہ اس بچہ میں دجال کا اور اس کے ماں باپ میں دجال کے ماں باپ کا اکثر نقشہ موجود تھا۔ اس لئے اس کے دجال ہونے میں خائف قلوب کو تردد پیدا ہو جانا ایک بالکل فطری اور معقول بات تھی۔
(١١)..........”عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَيَّادٍ فِيْ بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِيْنَةِ فَقَالَ لَهُ قَوْلاً اَغْضَبَهُ فَانْتَفَخَ حَتَّى مَلأَ السِّكَّةَ فَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى حَفْصَةَ وَقَدْ بَلَغَهَا فَقَالَتْ لَهُ رَحِمَكَ اللهُ مَااَرَدْتَ مِنْ اِبْنِ صَيَّادٍ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ إِنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا . مسلم ج ٢ ص ٣٩٩ باب ذکر ابن صیاد“
﴾نافعؒ ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ مدینہ کی کسی گلی میں ابن عمرؓ کی ابن صیاد سے مڈھ بھیڑ ہو گئی تو انہوں نے اسے کوئی ایسی بات کہہ دی جس سے اسے غصہ آ گیا تو وہ پھولنے لگا اور ایسا پھولا کہ ساری گلی اس سے بھر گئی۔ اس کے بعد ابن عمرؓ اپنی ہمشیرہ حضرت سیدہ حفصہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کو کہیں یہ قصہ پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے فرمایا! اے ابن عمرؓ! اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے تم نے اسے فضول چھیڑا تمہارا کیا مطلب تھا؟۔ کیا تم کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ دجال جب نکلے گا تو کسی بات پر غضبناک ہونے کی وجہ سے ہی نکلے گا۔﴿
١٤
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیاد میں بعض باتیں غیر معمولی بھی تھیں۔ مثلاً پھول کر کُپہ ہونا تو ایک مجاز اور اردو کا محاورہ ہے مگر حقیقۃً وہ اس طرح پھول جاتا تھا کہ ساری گلی اس سے بھر جائے۔ یہ جنات کے خواص میں سے ہے اس کے بعد ابن عمرؓ کی جو گفتگو حضرت حفصہؓ سے ہوئی اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر دجال یہی ابن صیاد ہے تو بھی اس کے خروج کا وقت یہ نہیں ہے۔ اب یہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ یہی ابن صیاد کن کن حالات سے گزرے گا اور پھر اپنے وقت مقرر پر ان فتنہ سامانیوں کے ساتھ ظاہر ہو گا جو احادیث میں مذکور ہیں۔
- (١٢).......... ”عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ وَاللّٰهِ مَا أَشُكُّ أَنَّ
الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ابْنُ صَيَّادٍ، رواه داؤد ج٢ ص١٣٦ باب فى خبر ابن صياد، والبيهقى فى كتاب البعث والنشور“
- ٭ نافعؒ روایت کرتے ہیں کہ ابن عمرؓ قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ مجھ کو اس میں ذرا
بھی شک نہیں کہ مسیح دجال وہ ابن صیاد ہی ہے۔ ٭
مذکورہ بالا حالات کی بناء پر ابن عمرؓ کا ایسا یقین کر لینا کچھ بعید نہیں ہے مگر ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اتنی بات سے بقیہ تفصیلات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ابن صیاد کا دجال ہونا پھر اپنے وقت پر اس کا ظاہر ہونا بہت آسان ہے اور یہ مختلف نقول اور آئندہ بھی جو آپ کے سامنے پیش ہوں گی۔ ان کا ابہام اس کے فتنہ در فتنہ ہونے کا سبب بن گئی ہیں۔
- (١٣).......... ”عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَدْ فَقَدْنَا ابْنَ صَيَّادٍ يَوْمَ الْحَرَّةِ ٠ رواه
ابوداؤد ج٢ ص١٣٦ باب فى خبر ابن صياد“
- ٭ جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب جنگ حرہ ہوئی تھی اس دن کے بعد سے ہم کو ابن
صیاد کا پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ چلا کہاں گیا؟۔ ٭
ابن صیاد کے حالات زندگی جتنے گوناگوں اختلافات اور ابہام میں پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اتنے ہی اس کے حالات سے گم گشتگی بھی ہے حتیٰ کہ کوئی تو اس کا گم ہونا نقل کرتا ہے اور کوئی اس کی موت بھی بیان کرتا ہے۔ بہر حال یہ تمام بیانات آپ ﷺ کے بعد ہی کے
١٤
ہیں ۔ ان تمام اختلافات کو بھی آپ ﷺ کے سر کیسے لگایا جاسکتا ہے ؟ ۔ آنحضرت ﷺ کی جانب سے اس کے بارہ میں ابتدائی تردد کے جو اسباب تھے اس کی حقیقت پہلے بیان ہو چکی ہے۔ اس کے بعد پھر جو آخری بات ہے وہ آئندہ حدیث میں آرہی ہے۔
(١٤).......... ”وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ صَيَّادٍ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ لِي مَالَقِيتُ مِنَ النَّاسِ يَزْعُمُونَ أَنِّى الدَّجَّالُ أَلَسْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ إِنَّهُ لَا يُولَدُلَهُ وَقَدْ وُلِدَلِي أَلَيْسَ قَدْ قَالَ هُوَ كَافِرٌ وَأَنَامُسْلِمٌ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَايَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ ثُمَّ قَالَ لِي فِي اخِرِ قَوْلِهِ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّى لَأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ قَالَ فَلَبَّسَنِي قَالَ قُلْتُ لَهُ تَبَّالَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ قَالَ وَقِيلَ لَهُ أَيَسُرُّكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ فَقَالَ لَوْ عُرِضَ عَلَىَّ مَاكَرِهْتُ. مسلم ج ٢ ص ٣٩٧ باب ذکر ابن صیاد“
﴿ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مکہ کے سفر میں میرا اور ابن صیاد کا ساتھ ہو گیا۔ تو وہ مجھ سے کہنے لگا لوگوں سے مجھ کو کتنی تکلیف پہنچ رہی ہے۔ میرے متعلق یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ دجال میں ہوں۔ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ اس کے اولاد نہ ہو گی اور میرے تو اولاد ہے۔ کیا آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ کافر ہو گا اور میں تو مسلمان ہوں۔ کیا آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ نہ مدینہ میں داخل ہو سکے گانہ مکہ میں اور دیکھو میں مدینہ سے تو آہی رہا ہوں اور اب مکہ مکرمہ جارہا ہوں۔ یہ سب کچھ کہہ سن کر آخر میں کہنے لگا۔ خدا کی قسم! البتہ میں جانتا ہوں کہ وہ (دجال) کہاں پیدا ہوا ؟ اور اب وہ کہاں ہے؟۔ میں اس کے ماں باپ کو بھی خوب پہچانتا ہوں۔ ابو سعیدؓ فرماتے ہیں کہ یہ دو رخی باتیں سنا کر اس نے مجھ کو شبہ میں ڈال دیا۔ میں نے اس سے کہا خدا تجھے ہلاک کرے۔ پھر کسی نے اس سے کہا کہ اگر وہ دجال تو ہی ہو تو کیا یہ بات تجھے پسند ہو گی۔ اس پر وہ بولا اگر مجھ کو دجال بنا دیا جائے تو مجھے کچھ برا بھی نہیں معلوم ہو گا۔﴾
ابن صیاد کے یہ عجیب حالات سب حدیثوں سے ثابت ہیں اور ان سب سے ابہام
١٥
کے سوا کوئی صاف نتیجہ برآمد نہیں ہوتا حتیٰ کہ اس نے خود جو بیان اپنی صفائی کے لئے پیش کیا تھا اس کو پھر خود ہی اپنی آخر گفتگو سے مبہم بنادیا۔ حتیٰ کہ ابو سعیدؓ کے دل میں اس کی طرف سے اس کی پہلی تقریر سے جو قدرے اطمینان پیدا ہو گیا تھا وہ پھر جاتا رہا۔ پس جبکہ اس کی ذات اور اس کے اقوال میں خود اس درجہ ابہام کے سامان موجود ہیں کہ اس کی موجودگی میں بھی اس کی طرف سے اطمینان حاصل ہونا مشکل مسئلہ بن رہا ہے۔ تو بعد میں اگر روایات کے اختلافات سے اس ابہام کو کچھ اور مدد مل گئی ہو تو اندازہ فرمالیجئے کہ اب اس کا معاملہ کتنا پیچیدہ ہو جانا چاہئے۔ انسان کے سامنے جزم ویقین کی حالت میں بھی جب کوئی خوفناک منظر آجاتا ہے تو اس کی فطرت غیر اختیاری طور پر ہراساں ہونے لگتی ہے۔
دیکھئے قیامت کا آنا جتنی یقینی بات ہے۔ اتنی ہی یقینی یہ بات بھی ہے کہ قیامت حضور ﷺ کی حیات میں نہیں آئے گی۔ لیکن اس کے باوجود جب دنیا کے معمول کے مطابق سورج کو گہن لگتا تو آنحضرت ﷺ کی آنکھوں کے سامنے قیامت کا نقشہ گھومنے لگتا تھا۔ اسی طرح جب آسمان پر سیاہ بادل منڈلاتے نظر آتے تو آپ ﷺ کے سامنے قوموں کی ہلاکت کا سماں بندھ جاتا اور آپ ﷺ پر کرب وبے چینی کا یہ عالم اس وقت تک برابر رہتا جب تک کہ بارش ہو کر بادل صاف نہ ہو جاتے۔ پس خوف کے مقامات میں جو غیر اختیاری تردد لاحق ہونا انسانی فطرت ہے۔ اس کو جزم ویقین کے خلاف سمجھنا خود بڑی نافہمی ہے۔ اسی طرح ابن صیاد کے حالات تھے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس کے حالات دجال اکبر سے کتنے ملتے جلتے تھے۔ اس لئے اگر اس کے معاملہ میں آپ ﷺ سے ابتداً غیر اختیاری تردد کے جو الفاظ منقول ہیں۔ ان کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں سمجھنا چاہئے جو ابھی ہم نے آپ سے بیان کی ہے۔ یہاں جن کو ابھی تک یہ تمام حقائق رام کہانیاں معلوم ہوتی ہیں جن کو خسوف شمس جیسے معمولی تغیر سے قیامت اور بادلوں کی آمد سے عذاب کا خطرہ بھی لاحق نہیں ہو سکتا۔ وہ ان حقائق کا نام تاویلات ہی رکھیں گے۔ ان کو کیا اندازہ ہو سکتا ہے کہ دجالی فتنہ کتنا عظیم فتنہ ہو گا اور ابن صیاد کے عجیب وغریب حالات کتنے تردد اور کتنے غورو فکر کا سامان بن سکتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جب دل میں ایمان ہی کمزور ہو تو ہر موقعہ پر عقائد کا پلہ اسی جانب جھکنے لگتا ہے جو دین
١٦
سے بعید تر ہوتی ہے : ” وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَالَهُ مِنْ نُّورٍ “
- (١٥)..........” وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ
غُلَامًا مَمْسُوحَةً عَيْنُهُ طَالِعَةً نَابُهُ فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَّكُونَ الدَّجَّالَ فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَالَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ اِئْذَنْ لِيْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِنْ يَّكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَأَنْ لَّا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مُشْفِقًا أَنَّهُ هُوَ الدَّجَّالُ. رواه فی شرح السنة “
﴿جابرؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک یہودی عورت کے لڑکا پیدا ہوا جس کی ایک آنکھ صاف تھی اور جس کا کیلہ باہر کو نکلا ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ کو یہ خطرہ ہوا کہ کہیں یہ وہی دجال نہ ہو۔ پھر ایسا ہوا کہ آپ ﷺ نے اس کو ایک چادر میں لپٹا ہوا دیکھا کہ اس میں پڑا کچھ گنگنا رہا تھا۔ اس کی ماں نے (آنحضرت ﷺ کو دیکھ کر) اس کو خبر دار کر دیا کہ اے عبداللہ! دیکھو یہ ابوالقاسم آگئے ہیں۔ پس وہ اپنی چادر سے باہر نکل آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! اللہ تعالیٰ اس کا ناس کرے۔ اگر یہ اس کو اطلاع نہ دیتی تو یہ اپنا معاملہ خود ہی بیان کر دیتا۔ پھر راوی نے حضرت عمرؓ والی حدیث کا قصہ بیان کیا کہ حضرت عمرؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ! مجھ کو اجازت دیجئے میں اس کو قتل کردوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا! اگر یہ وہی دجال ہے تو تم اس کے قاتل نہیں ہو۔ اس کو تو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام قتل کریں گے اور اگر یہ وہ نہیں تو ایسے بچہ کا قتل کرنا خیر کی بات نہیں جو ہمارے عہد میں داخل ہے۔ (یعنی ہماری ذمی رعایا ہے۔) اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اس کے متعلق یہ خطرہ لگا ہی رہا کہ کہیں وہ دجال اکبر نہ ہو۔﴾
دجال کا فتنہ چونکہ اپنی نوعیت میں سب سے بڑا فتنہ تھا۔ اس لئے قدرتی لحاظ سے اس میں راویوں کے بیان سے ایک ابہام یہ اور پیدا ہو گیا ہے کہ وہ ابن صیاد تھا یا کوئی دوسرا
١٧
شخص۔ اس کو براہ راست آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں۔ احادیث سے بعض دوسرے مقامات میں بھی ہم کو اس کی نظیر ملتی ہے۔ مثلاً شب قدر، ساعت محمودہ، صلوٰۃ وسطیٰ وغیرہ ان سب کے بارہ میں وثوق کے ساتھ تعیین کا کوئی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ان امور میں خود آنحضرت ﷺ کے علم میں بھی ابہام موجود تھا۔ بلکہ آپ ﷺ نے تو ان کو بیان فرمایا تھا پھر کسی وجہ سے راویوں کے بیان میں اختلاف ہوا اور اس طرح آخر امت کیلئے اصل معاملہ تکویناً مبہم بن گیا۔ اب جو جدوجہد کرنے والے افراد تھے انہوں نے شب قدر، ساعت محمودہ اور صلوٰۃ وسطیٰ کی تلاش میں اپنی مساعی تیز کر دیں اور جو جو بھی ان کا مصداق بن سکتا تھا۔ کسی تحقیق اور تفصیل کے بغیر ان سب مبہم ساعات میں وہی کوشش صرف کر ڈالی جو کسی ایک ساعت کے معین ہونے کی صورت میں کی جاسکتی تھی اور اس طرح یہ تکوینی ابہام ان کے حق میں ایک رحمت بن گیا۔ اسی طرح ابن صیاد کا معاملہ بھی روایات کے اختلافات کی وجہ سے گو مبہم رہا مگر یہ ابہام بھی سعید طبائع کے لئے رحمت بن گیا کیونکہ اس ابہام کا ثمرہ اس سے زیادہ اور کیا ہے کہ وہ دجال اکبر تھا یا نہیں۔ اس سے زیادہ اس ابہام کا دیگر تفصیلات پر کوئی اثر نہیں ہے۔ پس اگر ہم کو معین طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا تو اس کا اقتضا یہی ہے کہ اب ہم کو اور زیادہ احتیاط لازم ہو گئی۔ دیکھئے اگر اس روایت کی بناء پر ابن صیاد ہی دجال اکبر ہو تو اسی روایت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس کا اثر بقیہ تفصیلات پر اور کچھ نہیں ہے۔ چنانچہ جب حضرت عمرؓ نے اس کے قتل کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے صاف فرمادیا کہ دجال اکبر کے قاتل ازل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقرر ہو چکے ہیں اور جب یہ ہے تو نہ اللہ تعالیٰ کا علم بدل سکتا ہے اور نہ تم اس کو قتل کر سکتے ہو۔ لہٰذا اس ابہام کو لے کر بقیہ سارے معاملات کو مبہم بنا ڈالنا کج فہمی اور کج روی کے سوا کچھ نہیں۔ اس حدیث کے بقیہ مباحث کی تفصیل تقدیر کے باب میں گزر چکی ہے۔ آخر میں اتنا اور لکھ دینا کافی ہے کہ بہت سے امور مفزعہ کے پیش آنے پر آپ ﷺ کے چہرہ پر تردد اور خوف کا نمودار ہو جانا یہ کسی یقین کے مزاحم نہیں کہا جاسکتا۔ نہ ان کو کسی تردد کا باعث قرار دیا جاسکتا ہے۔ (جیسا کہ آئندہ آنے والا ہے۔)
١٨
آپ ﷺ کا وجود پاک جو عالم کے لئے رحمت ہی رحمت تھا۔ اس کے موجود ہوتے ہوئے قیامت کا قائم ہو جانا کیسے ممکن تھا: " وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم . " لہٰذا اگر کوئی شخص صرف ان احادیث کو اٹھا کر قیامت کا انکار کر ڈالے یا اس کے وقوع کے تردد میں پڑ جائے تو یہ اس کی نافہمی اور قصور فہم کا سبب ہے۔ اس کو حدیثوں کے سر رکھ دینا امور بدیہیہ سے ناواقفی ہے۔ اسی طرح احادیث فتن میں اس قسم کے ابہامات پیش آ گئے ہیں کہ اپنی اپنی فہم کے مطابق علماء نے ان کی تعیین میں کسی قدر عجلت سے کام لیا ہے۔ حالانکہ جب نہ حدیث میں ان کے ظہور کا وقت متعین ہے اور نہ ان کی تعیین مذکور ہے تو پھر اپنی جانب سے اس کی تعیین میں عجلت بازی سے کام لے کر اس کو حدیث کی طرف منسوب کر ڈالنا خلاف واقعہ ہے۔
(١٦)..........."عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اِنْطَلَقَ النَّبِيُّ ﷺ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّذِي فِيهِ ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَ النَّخْلَ طَفِقَ النَّبِيُّ ﷺ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَّسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَّرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِى قَطِيفَةٍ لَّهُ فِيهَا رَمْزَمَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنُ صَيَّادٍ النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ اَى صَافِ وَهُوَ اِسْمُهُ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ وَقَالَ سَالِمٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ ﷺ فِى النَّاسِ فَاَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ اَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ اِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَّبِيٍّ اِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلٰكِنْ سَأ قُولُ لَكُمْ فِيْهِ قَوْلاً لَّمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِّقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَاَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ۔ رواه البخاری ص٤٢٩، ٤٣٠ج١، باب كيف يعرض الاسلام الصبى كتاب الجهاد "
٭ ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ ابی بن کعبؓ اس باغ کی طرف چلے جس میں ابن صیاد رہتا تھا۔ جب آپ ﷺ باغ کے اندر تشریف لائے تو آپ ﷺ کھجور کے درختوں کی آڑ میں چھپ چھپ کر یہ تدبیر کر رہے تھے کہ ابن صیاد کے دیکھنے سے
١٩
پہلے آپؐ اس کی کوئی بات سن لیں۔ ادھر ابن صیاد اپنے بچھونے پر ایک چادر میں لپٹا ہوا اندر اندر کچھ گنگنارہا تھا۔ اس کی ماں نے آپ کو دیکھ پایا کہ آپؐ درخت کے تنوں کی آڑ لے رہے ہیں تو فوراً اس نے کہا۔ او صَاف ! (یہ اس کا نام تھا) ہوشیار۔ بس یہ سن کر ابن صیاد فوراً کھڑا ہو گیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! اگر اس کی ماں اس کو ہوشیار نہ کرتی تو یہ صاف بات کہہ گزرتا۔ سالمؒ کہتے ہیں کہ ابن عمرؓ نے فرمایا اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے لوگوں میں خطبہ دیا اور خدا کی شان کے مناسب حمد و ثنا کی۔ اس کے بعد دجال کا ذکر کیا اور فرمایا میں تم کو اس کے فتنے سے اسی طرح ڈراتا ہوں جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا ہے اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اس سے اپنی قوم کو نہ ڈرایا ہو۔ لیکن ایک بات میں تم کو ایسی صاف بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی۔ وہ یہ کہ تم جان چکے ہو کہ وہ کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہر عیب سے بری ہے۔ وہ کانا نہیں ہو سکتا۔ ﴾
- ﴿١٧﴾............ ”عَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ یَزِیْدَ قَالَتْ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ
فِیْ بَیْتِیْ فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّ بَیْنَ یَدَیْهِ ثَلَاثَ سِنِیْنَ سَنَةٌ تُمْسِكُ السَّمَاءُ فِیْهَا ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالْاَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا وَالثَّانِیَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَیْ قَطْرِهَا وَالْاَرْضُ ثُلُثَیْ نَبَاتِهَا وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَالْاَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ فَلَا یَبْقٰی ذَاتُ ضِرْسٍ وَلَا ذَاتُ ظِلْفٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَ وَإِنَّ اَشَدَّ فِتْنَتِهِ اَنْ یَّاْتِیَ الْاَعْرَابِیَّ فَیَقُوْلُ اَرَاَیْتَ إِنْ اَحْیَیْتُ لَكَ إِبِلَكَ اَلَسْتَ تَعْلَمُ اَنِّیْ رَبُّكَ قَالَ فَیَقُوْلُ بَلٰی فَیُمَثَّلُ لَهُ الشَّیْطَانُ نَحْوَ اِبِلِهِ كَاَحْسَنِ مَا تَكُوْنُ ضُرُوْعًا وَّاَعْظَمِهِ اَسْنِمَةً قَالَ وَیَاْتِی الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ اَخُوْهُ وَمَاتَ اَبُوْهُ فَیَقُوْلُ اَرَاَیْتَ إِنْ اَحْیَیْتُ لَكَ اَبَاكَ وَاَحْیَیْتُ لَكَ اَخَاكَ اَلَسْتَ تَعْلَمُ اَنِّیْ رَبُّكَ فَیَقُوْلُ بَلٰی فَیُمَثَّلُ لَهُ الشَّیْطَانُ نَحْوَ اَبِیْهِ وَنَحْوَ اَخِیْهِ قَالَتْ ثُمَّ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ قَالَتْ وَالْقَوْمُ فِیْ اِهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ بِهِ قَالَتْ فَاَخَذَ بِلُحْمَتَیِ الْبَابِ فَقَالَ مَهْیَمَ اَسْمَاءُ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ لَقَدْ خَلَعْتَ اَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ قَالَ إِنْ یَخْرُجُ وَاَنَا حَیٌّ فَاَنَا حَجِیْجُهُ وَاِلَّا فَإِنَّ رَبِّیْ خَلِیْفَتِیْ عَلٰی كُلِّ مُؤْمِنٍ
٢٠
قَالَتْ اَسْمَاءُ يَارَسُوْلَ اللهِ اِنَّا وَاللهِ لَنَعْجِنُ عَجِيْنَنَا فَمَا نَخْبِزُهُ حَتَّى نَجُوْعَ فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَئِذٍ قَالَ يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ اَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيْحِ وَالتَّقْدِيْسِ . رواه احمد ص٤٥٥،٤٥٦ ج ٦‘ ابوداؤد والطيالسى“
٭ اسماء بنت یزیدؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے دجال کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اس کے ظہور سے پہلے تین قحط پڑیں گے۔ ایک سال آسمان کی ایک تہائی بارش رک جائے گی اور زمین کی پیداوار بھی ایک تہائی کم ہو جائے گی۔ دوسرے سال آسمان کی دو حصے بارش رک جائے گی اور زمین کی پیداوار دو حصے کم ہو جائے گی اور تیسرے سال آسمان سے بارش بالکل نہ برسے گی اور زمین کی پیداوار بھی کچھ نہ ہو گی۔ حتی کہ جتنے حیوانات ہیں خواہ وہ کھر والے ہوں یا ڈاڑھ سے کھانے والے سب ہلاک ہو جائیں گے اور اس کا سب سے بڑا فتنہ یہ ہوگا کہ وہ ایک گنوار آدمی کے پاس آکر کہے گا۔ اگر میں تیرے اونٹ زندہ کردوں تو کیا اس کے بعد بھی تجھ کو یہ یقین نہ آئے گا کہ میں تیرا رب ہوں؟۔ وہ کہے گا ضرور۔ اس کے بعد شیطان اسی کے اونٹ کی سی شکل بن کر اس کے سامنے آئے گا۔ جیسے اچھے تھن اور بڑے کوہان والے اونٹ ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور شخص کے پاس آئے گا جس کا باپ اور سگا بھائی گزر چکا ہوگا اور اس سے آکر کہے گا۔ بتلا اگر میں تیرے باپ بھائی کو زندہ کردوں تو کیا پھر بھی یہ یقین نہ آئے گا کہ میں تیرا رب ہوں؟۔ وہ کہے گا کیوں نہیں۔ بس اس کے بعد شیطان اس کے باپ بھائی کی صورت بن کر آجائے گا۔ حضرت اسماءؓ کہتی ہیں کہ یہ بیان فرما کر رسول اللہ ﷺ ضرورت سے باہر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد لوٹ کر دیکھا تو لوگ آپ ﷺ کے اس بیان کے بعد سے بڑے فکر و غم میں پڑے ہوئے تھے۔ اسماءؓ کہتی ہیں کہ آپ ﷺ نے دروازہ کے دونوں کواڑ پکڑ کر فرمایا! اسماءؓ کہو کیا حال ہے؟۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! دجال کا ذکر سن کر ہمارے دل تو سینے سے نکلے پڑتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا! اگر وہ میری زندگی میں ظاہر ہوا تو میں اس سے نمٹ لوں گا۔ ورنہ میرے بعد پھر ہر مومن کا نگہبان میرا رب ہے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہمارا حال جب آج یہ ہے کہ ہم آٹا گوندھنا چاہتے ہیں مگر غم کے مارے اس کو اچھی
٢١
طرح گوندھ بھی نہیں سکتے۔ چہ جائیکہ روٹی پکا سکیں بھوکے ہی رہتے ہیں تو بھلا اس دن مؤمنوں کا حال کیا ہو گا جب یہ فتنہ آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا! اس دن ان کو وہ غذا کافی ہو گی جو آسمان کے فرشتوں کی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس۔
حدیث مذکور سے معلوم ہوا کہ جب اس عظیم ترین فتنے کا ظہور قریب ہو گا تو جس طرح انبیاء علیہم السلام کے ظہور سے پہلے برکات (ارہاص) کا ظہور شروع ہو جاتا ہے اسی طرح اس فتنے سے پہلے برکات کا خاتمہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ بارش غلہ اور اسی کے ساتھ سب حیوانات ختم ہو جائیں گے۔ اس بے سر و سامانی میں وہ اس ساز و سامان کے ساتھ آئے گا کہ ایک برباد شدہ کسان کے حیوانات زندہ کر دے گا اور ایک شخص سے اس کے باپ اور بھائی کے دوبارہ زندہ کر دینے کا وعدہ کرے گا۔ اب سوچئے کہ ضعیف انسان کی بے علمی اور اسی کے ساتھ جب افلاس کی سختی بھی یکجا جمع ہو جائے تو اس کی آزمائش کا میدان کتنا سخت ہو جائے گا۔ مردہ کا زندہ کرنا ہی کچھ کم بات نہیں پھر ایک کسان کے لئے اس کے جانور اور ان سے بڑھ کر اس کی اولاد اور اس کے ماں باپ اس سے زیادہ پیاری چیزیں اور کیا ہو سکتی ہیں؟۔ کون ہے جو اس فتنہ کا مقابلہ کر سکتا۔ اگر کہیں حدیث نے اس کی اعجوبہ نمائیوں کا راز فاش نہ کر دیا ہوتا تو آج بھی بہت سے ضعیف الایمان تردد میں پڑ جاتے مگر جب یہ بات صاف ہو گئی کہ یہ سب کچھ شیطانی تصرفات اور شعبدے ہوں گے تو اب کوئی اشکال نہ رہا۔ ظاہر ہے کہ دجال جب خدائی کا مدعی ہو تو اس کو خدائی کا سامان بھی دکھانا ضروری ہے۔ اس لئے اس کے ساتھ جنت دوزخ کا ہونا بھی ضروری ہے اور مردہ کو زندہ کرنے کا دعویٰ بھی ضروری ہے مگر حدیث کہتی ہے کہ یہ سب کچھ بازیگر کے تماشے سے زیادہ نہ ہو گا۔ چنانچہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لا کر اس کو قتل کر دیں گے تو اس کی خدائی کا یہ سارا ڈھونگ ایک بندہ کے ہاتھوں کھل ہی جائے گا۔
شیاطین اور ان کے تصرفات کی تفصیلات انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ آپ کے ملاحظہ سے گزریں گی۔ مگر اتنی بات اجمالاً یہاں بھی سن لیجئے کہ امور خیر کی تائید فرشتے اور شر کی شیاطین کرتے رہتے ہیں۔ پھر جو طاقت جتنی بڑی مرکزی ہوتی ہے اسی قدر اس اعانت میں
بھی قوت اور ضعف کا فرق ہو جاتا ہے۔ اس لئے انبیاء علیہم السلام کی تائید میں سارا عالم ملکوت نظر آتا ہے۔ اس کے بالمقابل دجال کی تائید میں سارا عالم شیاطین ہی ہونا چاہئے۔ جن کی نظر صرف ایک عالم مادی اور اس عالم کے بھی ایک مختصر اور محدود گوشہ میں محصور ہو کر رہ جائے۔ ان بیچاروں کے لئے ان حقائق کا سمجھنا بھی مشکل ہے۔
- (١٨)........... ”عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَاسَأَلَ اَحَدُ النَّبِيَّ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ وَأَنَّهُ قَالَ لِي مَا يَضُرُّكَ مِنْهُ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ جَبَلُ خُبْزِ وَنَهْرُ مَاءِ قَالَ إِنَّهُ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ . بخاری ج ٢ ص ١٠٥٥ باب ذکر الدجال، مسلم ج ٢ ص ٤٠٢ باب ذکر الدجال“
﴿حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کہتے ہیں کہ دجال کے متعلق جتنے سوالات میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کئے ہیں اتنے کسی اور شخص نے نہیں کئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دجال بھلا تم کو کیا نقصان پہنچا سکے گا۔ میں نے عرض کی لوگ تو یہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی۔ (یعنی قحط میں رزق کا پورا سامان ہو گا) آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ حقیر اور ذلیل تر ہے کہ اس کو یہ ساز و سامان ملے (جو ہو گا اس کی حقیقت سب شعبدہ بازی اور نظر بندی سے زیادہ نہ ہو گی جیسے ساحرین فرعون کی رسیوں کی)﴾
- (١٩).......... ” وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَقِيَهُ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُوبَكْرٍ وَعُمَرُ يَعْنِي ابْنَ صَيَّادٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ مَاذَا تَرَى قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ قَالَ وَمَا تَرَى قَالَ أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْكَاذِبَيْنِ وَصَادِقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُبَسَ عَلَيْهِ فَدَعُوهُ . رواه مسلم ج ٢ ص ٣٩٧ باب ذكر ابن صياد“
٤٤
﴿ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ اور ابوبکر و عمر کا اور ابن صیاد کا مدینہ کے کسی راستے میں کہیں آمنا سامنا ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد سے فرمایا۔ تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں یقینی اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ اس پر وہ بدبخت بولا! اچھا کیا آپ ﷺ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس کا یہ جملہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا! میں تو اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں پر اور سب کتب پر ایمان لاچکا۔ (اس کے بعد آپ ﷺ نے اس سے پوچھا) بھلا تجھے نظر کیا آتا ہے؟۔ وہ بولا مجھ کو پانی پر عرش (ایک تخت) نظر آتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو عرش ابلیس ہے جو تجھ کو سمندر پر نظر آتا ہے۔ اچھا تجھ کو اور کیا نظر آتا ہے؟ وہ بولا میرے پاس دو سچے ایک جھوٹا یا دو جھوٹے تو ایک سچا شخص نظر آتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا چھوڑو اس کو خود ہی اپنی حقیقت کا پتہ نہیں۔﴾
آنحضرت ﷺ نے یہاں سب سے پہلے اس سے اپنی رسالت کے متعلق سوال کیا کہ مقبول یا مردود ہونے کا سب سے پہلا معیار یہی ہے مگر اس نے شروع ہی سے نامعقول بات شروع کی اور اپنے متعلق آپ ﷺ سے یہی سوال کیا۔ اس پر آپ ﷺ کا جواب کتنا بلیغ تھا کہ آپ ﷺ نے کسی بے اصل بات کو قابل تردید بھی نہیں سمجھا کیونکہ تردید بھی اسی بات کی کی جاتی ہے جس کا کوئی امکان بھی ہو۔ لہٰذا آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا اظہار کر کے اس کو صحیح جواب بھی دے دیا اور خاص اس کے سوال کے جواب سے اعراض بھی کر لیا۔ اس کے بعد جب آپ ﷺ نے مزید تحقیق فرمائی تو اس نے ایک عرش دیکھنا بتایا۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرما دی کہ وہ تو عرش شیطان ہے۔ اس نے بھی اپنے اعوان و انصار کے لئے ایک عرش بچھا رکھا ہے۔ اس کے بعد جب آپ ﷺ نے اس کے پاس خبریں لانے والے کے متعلق سوال کیا تو بات بالکل صاف ہو گئی کیونکہ نبی کو خبر دینے والے میں کاذب ہونے کا احتمال ہی نہیں ہوتا۔ وہ صادق ہی صادق ہوتا ہے جس کو دو سچی اور ایک جھوٹی یا اس کے برعکس خبریں معلوم ہوں۔ تو یہ اس کے کاہن ہونے کی دلیل ہے۔ اس لئے اس کے بعد آپ ﷺ نے اس سے اور کوئی سوال نہیں کیا اور بات صاف ہو گئی۔ اس حدیث میں ایک قابل غور بات یہ بھی نکلتی ہے کہ ابن صیاد کی دجالیت کی علامات میں تدریج
٢٤
بھی ہے جیسا کہ :" وقد نفرت عینہ " کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔ اسی پر دوسری علامات کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔
- (٢٠)............ ”عَنْ اَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ اَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ سَأَلَ
النَّبِيَّ ﷺ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ“. رواه مسلم ج ٢ ص ٣٩٨ باب ذکر ابن صیاد“
﴿ ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ابن صیاد نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا جنت کی مٹی کیسی ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ میدہ کی طرح سفید اور مشک خالص کی طرح خوشبودار ہے۔ ﴾
- (٢١)............ ”عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَقِيْتُهُ وَنَفَرَتْ عَيْنُهُ فَقُلْتُ مَتَى فَعَلَتْ
عَيْنُكَ مَا اَرىٰ قَالَ لَا اَدْرِىْ قَالَ قُلْتُ لَا تَدْرِىْ وَهِىَ فِيْ رَاْسِكَ قَالَ اِنْ شَاءَ اللهُ خَلَقَهَا فِى عَصَاكَ قَالَ فَنَخَرَ كَاَشَدِّ نَخِيْرِ حِمَارٍ سَمِعْتُ. رواه مسلم ج ٢ ص ٣٩٩ باب ذکر ابن صیاد“
﴿ ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ ابن صیاد کو جب میں نے دیکھا تھا تو اس وقت اس کی آنکھ خراب ہو چکی تھی۔ میں نے پوچھا تیری یہ آنکھ کب خراب ہوئی؟۔ اس نے کہا مجھے نہیں معلوم۔ میں نے کہا اچھا وہ تیرے سر میں ہے اور پھر بھی تجھ کو معلوم نہیں؟۔ اس نے کہا اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو تیری لکڑی میں اسے پیدا فرمادے۔ یہ کہہ کر اس نے ایک ایسی زور کی آواز نکالی جیسے گدھے کی زور کی چیخ ہوتی ہے۔﴾
- (٢٢)............ ”عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِيْهِ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ
اللّٰهِ ﷺ قَالَ بَيْنَ اَنَا نَائِمٌ اَطُوْفُ بِالْكَعْبَةِ فَاِذَا رَجُلٌ اٰدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ يُهَا دِىْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطِفُ اَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَاءً قُلْتُ مَنْ هٰذَا قَالُوْا ابْنُ مَرْيَمَ فَذَهَبْتُ اَلْتَفِتُ فَاِذَا رَجُلٌ اَحْمَرُ جَسِيْمٌ جَعْدُ الرَّاْسِ اَعْوَرُ عَيْنُهُ الْيُمْنٰی كَاَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِئَةٌ فَقُلْتُ مَنْ هٰذَا قَالُوْا هٰذَا الدَّجَّالُ وَاَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا اِبْنُ قَطَنٍ قَالَ الزُّهْرِىُّ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ . رواه البخاری ص ٤٨٩ ج ١ باب ٢٥
اذكر فى الكتاب مريم‘ كتاب الانبياء“
﴿ ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں سو رہا تھا اور خواب میں طواف کر رہا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ہیں گندم گوں رنگ، سیدھے سیدھے بال۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ ہیں حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) پھر جو میری توجہ ذرا دوسری طرف گئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا لمبا چوڑا آدمی، سرخ رنگ، سخت گھونگروالے بال، آنکھ سے کانا، ایک آنکھ ایسی تھی جیسا ابھرا ہوا انگور، لوگوں نے بتایا یہ ہے دجال اکبر اور سب سے زیادہ مشابہ شخص دیکھنا چاہو تو۔ بس خزاعہ قبیلہ کا یہ عبد العزیٰ بن قطن ہے وہ ٹھیک اسی صورت کا تھا۔ ﴾
دوسری حدیثوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ عروۃ بن مسعودؓ کے بہت مشابہ ہیں اس حدیث کی تشبیہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان ہر دو افراد سے مراد خاص خاص اشخاص ہیں۔ قوم انگریز یا وہ شخص مراد نہیں جو عیسیٰ ابن مریم کی صفات یا ہیئت کا حامل نہ ہو جیسا کہ یہاں بعض مدعین کا دعویٰ ہے۔
- (٢٣)..............” عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلِ
اللّٰهِ ﷺ وَاَنَا أَبْكِيْ فَقَالَ لِيْ مَا یُبْكِيْكِ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ فَبَكَيْتُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ اِنْ یَّخْرُجُ الدَّجَّالُ وَاَنَا حَيٌّ كَفَیْتُكُمُوْهُ وَاِنْ یَّخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدِیْ فَاِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّوَجَلَّ لَیْسَ بِاَعْوَرَ اِنَّهُ یَخْرُجُ فِیْ یَهُوْدِيَّةِ اَصْفَهَانَ حَتّٰی یَاْتِیَ الْمَدِیْنَةَ فَیَنْزِلُ نَاحِیَتَهَا وَلَهَا یَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ اَبْوَابٍ عَلٰی كُلِّ نَقِیْبٍ مِّنْهَا مَلَكَانِ، فَیَخْرُجُ اِلَیْهَا شِرَارُ اَهْلِهَا حَتَّى الشَّامَ مَدِیْنَةُ بِفَلَسْطِيْنَ بِبَابِ لُدٍّ وَقَالَ اَبُوْدَاوٗدَ مَرَّةً حَتّٰی یَاْتِیَ فَلَسْطِيْنَ بِبَابِ لُدٍّ فَیَنْزِلُ عِیْسَی عَلَیْهِ السَّلَامُ فَیَقْتُلُهُ ثُمَّ یَمْكُثُ عِیْسَی عَلَیْهِ السَّلَامُ فِی الْاَرْضِ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً اِمَامًا عَدْلاً وَحَكَمًا وَّمُقْسِطًا ٭ مسند احمدج٦ص٧٥“
﴿ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے
دیکھا تو میں رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ نے دجال کا ذکر اس طرح فرمایا کہ اس غم میں مجھ کو بیساختہ رونا آگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا! اگر وہ نکلا اور میں اس وقت موجود ہوا تو تمہاری طرف سے میں اس سے نمٹ لوں گا۔ اگر وہ میرے بعد نکلا تو پھر یہ بات یاد رکھنا کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔ (وہ کانا ہوگا) جب وہ نکلے گا تو اس کے ساتھی اصفہان کے یہود ہوں گے۔ یہاں تک کہ جب مدینہ آئے گا تو یہاں ایک طرف آکر اترے گا۔ اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازہ پر دو دو فرشتے نگران ہوں گے (جو اس کو اندر آنے سے مانع ہوں گے) مدینہ میں جو بد اعمال لوگ آباد ہیں وہ نکل کر خود اس کے پاس چلے جائیں گے۔ اس کے بعد وہ فلسطین میں باب لد پر آئے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام نزول فرما چکے ہوں گے اور یہاں وہ اس کو قتل کریں گے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک ایک منصف امام کی حیثیت سے زمین پر زندہ رہیں گے۔ ﴾
(٢٤)........... ’’عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ يَنْزِلُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَيَمْكُثُ فِى النَّاسِ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً . أخرجه الطبراني واحمدج٢ص٤٣٧‘ ابن جرير ج٦ص١٦‘ درمنثور ج٢ ص٢٤٢‘ فتح البارى ج٦ ص٣٥٧‘ التصريح ص١٤٠‘ مرقات الصعود ص١٩٨‘‘
﴿ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور لوگوں میں چالیس سال تک رہیں گے۔ ﴾
(٢٥)........... ’’عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ جِرَاشٍ قَالَ قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو لِحُذَيْفَةَ أَلَا تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ قَالَ إِنِّيْ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ اِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ اِذَا خَرَجَ مَاءً وَّنَارًا فَاَمَّا الَّذِيْ يَرَى النَّاسُ اَنَّهَا النَّارُ فَمَاءٌ بَارِدٌ وَاَمَّا الَّذِيْ يَرَى النَّاسُ اَنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ فَنَارٌ تُحْرِقُ فَمَنْ اَدْرَكَ ذَالِكَ مِنْكُمْ فَلْيَقَعْ فِى الَّذِيْ يُرَى اَنَّهَا نَارٌ فَاِنَّهُ عَذْبٌ بَارِدٌ (رواه البخارى ص٤٩٠ج١) وَزَادَ مُسْلِمٌ وَاِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوْحُ الْعَيْنِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيْظَةٌ مَكْتُوْبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَأُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ اَوْ غَيْرُ كَاتِبٍ وَفِيْ رِوَايَةٍ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك‘
فَرَ وَفِيْ رِوَايَةِ الكاف والفاء والراء. مسلم ج٢ص٤٠٠ باب ذكر الدجال“
ؓ ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو نے حذیفہؓ سے کہا کہ آپ نے دجال کے متعلق جو بات آنحضرت ﷺ سے سنی تھی وہ ہم کو بھی سنا دیجئے۔ انہوں نے کہا میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ دجال جب ظاہر ہو گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ دونوں ہوں گے۔ مگر لوگوں کو جو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہو گا اور جس کو لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ جھلسا دینے والی آگ ہو گی۔ لہٰذا تم میں جس کو بھی یہ زمانہ ملے اس کو چاہئے کہ جو آگ معلوم ہو رہی ہو اسی میں داخل ہو جائے کیونکہ در حقیقت وہ آب خنک ہو گا۔ یہاں مسلم کی روایت میں اتنا اضافہ اور ہے کہ دجال کی ایک آنکھ میں موٹا سا ناخونہ ہو گا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر کے حروف علیحدہ علیحدہ لکھے ہوئے ہوں گے۔ جس کو ہر مومن پڑھ لے گا۔ چاہے وہ خواندہ ہو یا ناخواندہ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی آنکھوں کے درمیان ”ک ف ر“ اور ایک روایت میں ”کاف الف را“ ہو گا۔
دجال کا فتنہ جتنا عظیم الشان ہے قدرت کی طرف سے اس کی شناسائی کے نشان اتنے ہی زیادہ ہیں۔ الفاظ مسلم پر ایک بار پھر نظر ڈال لیجئے لیکن اس کو کیا کیا جائے کہ عالم تقدیر بینا کو نابینا بنا سکتا ہے۔ جب اپنے قلب کی آنکھیں خود نابینا ہوں تو ”ک ف ر“ کے الفاظ کیا نظر آئیں۔ لفظ: ”بین عینیہ“ تقدیری کتابت کے لئے شاید کچھ مخصوص ہے۔ اسی لئے یہی عمر و غیرہ کے لئے محل کتابت ہے اور حضرت داؤد علیہ السلام کی ازلی سعادت اسی مقام پر حضرت آدم علیہ السلام کو شاید اسی لئے نظر آگئی ہو۔ پہلے یہ سب تفصیلات گزر چکی ہیں۔ عرف عام میں ہائے کہہ کر اپنی پیشانی پر ہاتھ مارنا شاید اسی لئے رواج پا گیا ہو گا۔ صحیح مسلم کی یہ صحیح حدیث ہمارے اس بیان کے لئے شاہد ہے مگر یاد رہے کہ اس میں گو پڑھے لکھے ہونے کی شرط نہ سہی مگر مومن ہونے کی قید موجود ہے۔ عجب نہیں کہ یہی مومن کے ایمان کے تحفظ اور کافر کی محرومی کا سبب ہو اور یہی ایک اور عظیم فتنہ کا باعث بن جائے۔ یہ جملہ امور اگرچہ احادیث میں گو صراحۃً مذکور نہ ہوں مگر اس کی طرف صراحۃً اشارہ کے قریب ہے۔
٢٨
انہی سطور میں دجال کی حقیقت کے ساتھ ابن صیاد کی احادیث کے ذکر نہ کرنے کی طرف حافظ ابن حجرؒ کا لطیف بیان گزر چکا ہے۔ اگر آپ فتن کی حقیقت سمجھتے ہیں اور ان کی احادیث کی طرف نظر رکھتے ہیں تو ایک ثابت شدہ حقیقت کے انکار سے دوسری ایک حقیقت کے انکار کی راہ نہ لیں گے۔ یعنی فتنہ دجال کے خروج کے جتنے اسباب صراحت کے ساتھ ذکر میں آچکے ہیں وہ ایک ابن صیاد کی حقیقت کے مبہم رہنے کی وجہ سے مفت میں ان کا انکار نہ فرمائیں گے۔ اگر احادیث میں کہیں ابن صیاد کے دجال ہونے میں آپ کو شبہ گزرتا ہے تو آپ کی نظروں میں نفس دجال کی غیر مشتبہ حقیقت کو مشتبہ نہ ہونا چاہئے۔ اس جگہ کم از کم ایک منصف کے لئے حقیقت یہ ہے کہ دجال اگر قوم کا لقب ہو تو ابن صیاد کے متعلق حدیثیں اس کی تردید کے لئے کافی ہیں کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوتا کہ ابن صیاد کسی قوم کا لقب تھا اور نہ اس کے وجود شخصی کے دیکھ لینے کے بعد اور اس کے والدین کے نام و نسب کی تحقیق کے بعد اس کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ پھر ابن صیاد کے دجال کہنے سے احادیث صحیحہ کے انکار کے سوا اور فائدہ کیا؟۔ جبکہ احادیث صحیحہ میں یہ بیان موجود ہے کہ اس کا قاتل عمرؓ جیسا شخص بھی نہیں ہو سکتا بلکہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مقرر ہیں اور وہ بھی اس ثبوت کے لئے اپنے نیزہ میں اس کا خون دکھا دکھا کر یہ یقین دلائیں گے کہ میں جو عالم تقدیر میں اس کا قاتل مقرر ہو چکا ہوں وہ کوئی معنوی قتل نہیں ہے جو صرف کتابوں کے لکھ دینے سے پورا ہو جاتا بلکہ ایک حسی قتل ہے۔
دجالی فتنہ
یہ واضح رہنا چاہئے کہ وہ دجالی فتنہ جس کا حدیثوں میں تذکرہ آتا ہے اور جس سے تحفظ کا علاج سورہ کہف کی تلاوت کرنا قرار دیا گیا ہے۔ وہ اسی کے دور میں ظہور پذیر ہوگا۔ جبکہ ایک طرف وہ خدائی کا دعویٰ اور اس سے پہلے رسالت کا دعویٰ کرے گا اور اس کے ساتھ ایسے خارق عادات افعال بھی دکھلائے گا جو بظاہر اس کے دعوے کے مؤید نظر آئیں گے اور اس وجہ سے بہت سے لوگوں کے ایمان متزلزل ہو جائیں گے۔ ہمارے زمانے میں
٢٩
مادی ترقیات خواہ کتنی بھی ہو جائیں وہ سب مادی قوانین کے تحت ہیں ان کو دجالی فتنہ سمجھنا بالکل بے محل بلکہ خلاف واقع بات ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ موجودہ زمانے میں جو جدید ایجادات سامنے آرہی ہیں وہ عجیب سے عجیب تر ہیں۔ لیکن موجودہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں سب ہی اس میں شریک ہیں اور اس سلسلہ میں ایک دوسرے سے مسابقت میں خوب سرگرم ہیں اور ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ اس میدان کا ہیرو کون ہے؟۔ اس لئے بھی ان میں سے کسی کو دجالی فتنہ قرار دینا قبل از وقت ہے بلکہ ان کو اس کے مقدمات میں شمار کرنا بھی صحیح نہیں۔ اس کا مقدمہ دینی جہل ضعف ایمانی اور طغیانی طاقتوں کا ہمہ گیر اقتدار ہے۔
حدیثوں میں صاف طور پر مذکور ہے کہ دجال خود یہودی النسل ہو گا اور اس کے تمام متبعین بھی سب یہودی ہوں گے اور من حیث القوم وہی اس پر ایمان لائیں گے۔ اس لئے دجالی فتنہ کا مرکز درحقیقت یہود ہیں اور اس لئے ہمارے زمانے میں یہودی مملکت کا قیام اور ان کی متفرق طاقتوں کا ایک مرکز پر جمع ہونا اور اسی جگہ جمع ہونا جہاں عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور مقدر ہے۔ اگر اس کو دجالی فتنہ کا مقدمہ کہا جائے تو بجا ہو گا۔ اب رہے نصاریٰ تو وہ ابھی تک عیسائیت کے کم از کم دعویدار ضرور ہیں اور گو حیوانیت کے آخری نقطہ پر پہنچ چکے ہیں مگر ان کا زبانی دعویٰ اب بھی صلیب پرستی ہی کا ہے۔ ادھر روس گو مدعی الوہیت تو نہیں لیکن اس سے بڑھ کر خدائے برحق کا علی الاعلان منکر بھی کوئی نہیں۔ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد عیسائی تو ان پر ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ :” وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ ۔ نساء ١٥٩“ کی تفسیر میں آپ پہلے ملاحظہ فرما چکے ہیں اور یہودی ایک ایک کر کے قتل ہو جائے گا۔ حتیٰ کہ اگر وہ کسی درخت کی آڑ میں چھپ کر پناہ لینا چاہے گا تو وہ درخت بول اٹھے گا۔
دیکھو میرے پیچھے یہ یہودی ہے اس کو بھی قتل کر دو۔ اس سوانح حیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دجالی فتنہ کا تمام تر تعلق یہود کے ساتھ ہو گا۔ ہمارے زمانے کی مادی ترقیات کے ساتھ اس کا تعلق کچھ نہیں ہے اور نہ ان اقوام میں سے خاص طور پر کسی ایک قوم کے ساتھ ہے جن کے ذریعہ یہ ترقیات سامنے آرہی ہیں۔
٣٠
اب رہا یہ سوال کہ پھر سورہ کہف کے اور اس فتنہ سے تحفظ کے درمیان ربط کیا ہے؟ کہ اسی کی تلاوت کو اس سے تحفظ کا سبب قرار دیا گیا ہے تو اولاً اصولاً یہ سمجھ لیجئے کہ خوارق جس طرح خود سببیت اور مسببیت کے علاقہ سے باہر نظر آتے ہیں اسی طرح جو افعال ان کے مقابل ہیں وہ بھی سببیت کے علاقہ سے بالاتر ہوتے ہیں۔ مثلاً نظر کا لگنا سب جانتے ہیں کہ یہ صحیح حقیقت ہے اور گو علماء نے اس کی معقولیت کے اسباب بھی لکھے ہیں مگر بظاہر اس کا کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا۔ اسی لئے بہت سے اشخاص تو اب تک اس کے قائل ہی نہیں اور اس کو صرف ایک وہم پرستی اور تخیل سمجھتے ہیں لیکن اس کے دفعیہ کے لئے جو سورتیں مجرب ہیں وہ بھی اکثر اسی طرح غیر قیاسی ہیں۔ اسی طرح سمی جانوروں کے کاٹے کے جو منتر اور افسوں ہیں وہ اکثر یا تو بے معنی ہیں اور جن کے معنی کچھ مفہوم ہیں بھی ان میں سمیت دفعہ کرنے کا کوئی سبب ظاہر نہیں ہوتا۔
حدیثوں میں بہت سی سورتوں کے خواص مذکور ہیں مثلاً سورہ فاتحہ کہ وہ بہت سے لاعلاج امراض کے لئے شفا ہے۔ اب یہاں ہر جگہ اس مرض اور اس سورت کے مضامین میں مناسبت پیدا کرنے کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ملانا بیکار کی سعی ہے۔ پھر اسی قسم کی ذہنی مناسبات انسانی دماغ ہر جگہ نکال سکتا ہے۔ اس لئے ہمارے نزدیک اس کاوش میں پڑنا مفت کی دردسری ہے۔ لیکن با ایں ہمہ اگر سورہ کہف اور دجالی فتنہ کے درمیان کوئی تناسب معلوم کرنا ہی ناگزیر ہو تو پھر بالکل صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ اصحاب کہف بھی کفر و ارتداد کے ایک زبردست فتنہ میں مبتلا ہوئے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ان کے دل مضبوط رکھے اور اسلام پر ان کو ثابت قدم رکھا جیسا کہ اس سورت کے شروع ہی میں ارشاد ہے :
” وَرَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوَتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَا مِنْ دُوْنِہٖ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَا اِذًا شَطَطًا ٠ الكهف ١٤ “
پس جس طرح صرف اللہ تعالیٰ کی مدد سے وہ محفوظ رہے تھے۔ اسی طرح جب دجال کا سب سے زبردست ارتداد کفر کا فتنہ نمودار ہوگا تو اس وقت بھی صرف امداد الٰہی ہی
٣١
سے لوگوں کے ایمان مضبوط رہیں گے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ اس سورۃ کا نزول کفار کی فرمائش پر ہوا تھا۔ اس لئے یہ قصے ان کے جواب میں ذکر کئے گئے ہیں۔ اور اس مناسبت کا یعنی فتنہ دجال اور سورہ کہف سے اس سے تحفظ کا کہیں ذکر نہیں آتا۔ صرف ایک قیاس آرائی اور قافیہ بندی ہی کہا جا سکتا ہے اور جس کو حدیث و قرآن سے کوئی مناسبت نہ ہو وہ ان بے تکی باتوں میں پڑ سکتا ہے۔ دجال سے قبل یہی چند نشانیاں نہیں بلکہ بہت سی علامات مذکور ہیں جن کے اور دجال کے درمیان جوڑ لگانا ایک بڑی دردسری ہے۔ یہاں قرآن کریم نے اپنی صفات میں سے جہاں اپنا قیم ہونا ذکر فرمایا ہے اور عیسائیت کی تردید فرمائی ہے۔ وہ قرآن کے عام مضامین میں سے ایک اہم مضمون ہے جو متعدد اسالیب سے متعدد سورتوں میں مذکور ہے۔ لیکن ان سورتوں کی تلاوت کو کہیں یاد نہیں آتا کہ دجالی فتنے کے تحفظ کے لئے شمار کیا گیا ہو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہونہ ہو اس سورہ خاصہ میں کوئی سبب دوسرا ہوگا۔ ابھی آپ سن چکے ہیں کہ اس سورت کے اول میں چند اشخاص کے تحفظ ایمان کی ایسی عجیب صورت مذکور ہے جس کو قرآن نے اپنے الفاظ میں یوں ادا فرمایا ہے : ” وَتَحْسَبُهُمْ اَيْقَاظًا وَّهُمْ رُقُوْدٌ ۔ الکہف ١٨ “
گو کہ یہ واقعہ قدرت الٰہیہ کے سامنے کچھ تعجب خیز نہ ہو۔ لیکن ایک ضعیف البنیان انسان کے لئے ایک ایسا واقعہ ہے کہ اگر وہ اس کی نظروں میں تعجب خیز نظر آئے تو کچھ تعجب نہیں ۔ اس واقعہ کو ذکر فرما کر قرآن کریم نے جو نتیجہ خود اخذ کیا ہے وہ اثبات قیامت ہے۔ چنانچہ اس قصے کو پورا ذکر فرما کر ارشاد فرمایا : ” وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوْا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيْهَا ۔ الکہف ٢١“ اور دجال کی طرف کہیں اشارہ تک یاد نہیں آتا۔ ہاں حدیث میں بے شک اس سورت کے اوائل کے ساتھ اس کے اواخر کا تذکرہ ملتا ہے۔ اب اگر اوائل میں کھینچا تانی کر کے عیسائیت کو دجال کا فتنہ قرار دے ڈالا جائے تو پھر اس کے اواخر کے متعلق کیا کہا جائے گا جن میں عیسائیت کی تردید پر کوئی زور نہیں دیا گیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دجالی فتنے سے اور عیسائیت کی تردید سے یہاں کوئی تعلق نہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو اس فتنے میں روس عیسائیوں سے دو قدم آگے نظر آتا ہے تو پھر یہ
٣٢
بے جوڑ بات کہنے کی ضرورت کیا؟ اور عیسائیوں کے تقدم کو اس کی انتہائی شناعت کے باوجود دجالی فتنہ قرار دے ڈالنے سے غرض کیا؟۔
اصل یہ ہے کہ بہت سی قومیں جب دجال کا ظہور نہ پاسکیں تو انہوں نے دجال کی احادیث کی پیش گوئیاں پورا کرنے کے لئے خواہ مخواہ کی یہ زحمت اٹھائی۔ یہ زحمت اس زحمت سے کم نہیں جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اپنے زمانے میں نہ دیکھ کر خود عیسیٰ ابن مریم بننے کی سعی نا تمام کی۔ اگرچہ ان کے اور عیسیٰ علیہ السلام کے مابین شہر اور نام اور کام اور محل دفن وغیرہ کا اختلاف ہی کیوں نہ ہو مگر اس پر بھی آخر کار انہوں نے ایک عیسیٰ ابن مریم تجویز ہی کر لیا اور لاکھوں انسانوں نے ان کی اس بدیہی غلطی میں تقلید ہی کر ڈالی۔ اسی طرح یہاں عیسائیوں کا جرم تو مسلم ہے مگر انہی کو دجالی فتنہ قرار دے ڈالنا پھر سورہ کہف کی تلاوت کو اس سے تحفظ کا سبب سمجھ لینا یہ علمی غلطی ہے جس کا نہ احادیث سے کوئی پتہ لگتا ہے اور نہ تاریخ سے کوئی ثبوت۔
ہاں! اگر صرف قیاس آرائی کافی ہو تو بات دوسری ہے ورنہ عیسائیوں کو تو ان پر ایمان لانا ہے۔ ہاں! یہودیوں کو ان کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر جانا ہے اور اس طرح ان دونوں قوموں کا حشر آنکھوں کو نظر آنا ہے۔ پھر دجالی فتنے کو ان پر منطبق کرنا کہاں تک صحیح ہو سکتا ہے؟۔ کچھ گنجائش ہے اور دجالی فتنے کو کسی فریق پر منطبق کرنا ہی ہے تو یہود کے حق میں اس کا کوئی امکان پیدا ہو سکتا ہے اور بس۔
والحمد للہ اولاً وآخراً۔
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ الذین فی اولہم نبیہم واخرہم الامام المہدی علیہ السلام ( واما الدجال الاکبر فہو من الیہود لیس منا ولسنا منہ لعنہ اللہ لعناً کبیراً)
چہار شنبہ ١٢ محرم الحرام ١٣٨٥ ھ
بمطابق ١٢ مئی ١٩٦٥ء المدینۃ المنورہ
٣٣
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆☆...... مرزا قادیانی سب دہریوں سے بڑھ کر اپنے دہریہ
ہونے کا اعلان کرتا ہے۔
- ☆☆...... قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں بلکہ
مردار ہے۔
- ☆☆...... مرزائیو میرے اس سوال کا جواب دو کہ 52 سال
جھوٹ بکنے والا مسیح موعود کیسے بن گیا؟۔
☆......☆......☆
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِیْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
نور ایمان
محدث کبیر
حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تعارف
الحمدلله وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء٠ اما بعد! قادیانی جماعت کے لاٹ پادری مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور قادیانی جماعت کے دوسرے گرو مرزا محمود نے ندائے ایمان نامی ایک مضمون تحریر کیا۔ جس کا محدث کبیر حضرت مولانا سید بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ نے ”نور ایمان“ کے نام سے جواب تحریر فرمایا۔ صدائے ایمان از شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور نور ایمان از محدث کبیر مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ ایک ساتھ پمفلٹ کی شکل میں شائع ہوئے تھے۔ ”صدائے ایمان“ آپ پڑھ چکے ہیں۔ اب ”نور ایمان“ ملاحظہ فرمائیں۔ یہ ١٣٥٠ھ میں شائع ہوئے تھے۔ اب نایاب تھے۔ شامل کتاب کرنے کی سعادت پر رب کریم کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔ فالحمدلله!
فقیر اللہ وسایا ٧ / ٦ / ١٤٢٢ھ ٢٧ / ٨ / ٢٠٠١ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
”يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ٠ الصف ٨“
زمیندار کی ایک تازہ اشاعت میں مرزا محمود قادیانی کا مضمون ”ندائے ایمان“ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ جسے دیکھ کر مجھے ان کے فلسفہ توہین و عظمت رسول پر حیرت ہوتی ہے کیونکہ ایک طرف تو وہ انتہائی جذبہ عقیدت و مودت میں حیات مسیح علیہ السلام جیسے مسلم و محکم عقیدہ کو خاتم الانبیاء ﷺ کی توہین اور ہتک عزت کا موجب سمجھتے ہیں اور دوسری طرف نہایت بیباکانہ و سفاکانہ لہجہ میں سرور کائنات ﷺ کے ایک مخلص اور سچے جان نثار کو کافر، جہنمی قرار دے دیتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسا جذبہ محبت ظاہر کرنے والا نبوت محمدی کے تسلیم کر لینے والے کو کسی جدید نبوت کے انکار سے کیسے کافر کہہ سکتا ہے حالانکہ حیات مسیح علیہ السلام کے عقیدہ کو تو نبی کریم ﷺ کی توہین سے دور کا بھی کوئی علاقہ نظر نہیں آتا۔ ہزاروں انبیاء لاکھوں صلحاء گزر گئے لیکن کیا موجودہ زندہ رہنے والے انسانوں کو ان پر اس لئے کوئی فضیلت حاصل ہو سکتی ہے کہ یہ زندہ ہیں اور وہ وفات شدہ۔ اس لئے ہم یہ رائے قائم کر لینے پر مجبور ہیں کہ آپ کے نزدیک معیار توہین و عظمت صرف یہ ہے کہ جس طریق سے مسیحیت جدیدہ کا راستہ صاف ہو وہ عظمت ہے اور جس مسئلہ سے اس راستہ میں کوئی ادنیٰ رکاوٹ پیش آئے وہ توہین اور ہتک عزت ہے۔
حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ بھی چونکہ نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی مسیحیت بلکہ اس قسم کے ہر کاذب مدعی کے لئے سد راہ ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اسے آپ
٣
بھی ایک رکاوٹ سمجھ کر موجب توہین قرار دیں اور اسی لئے ایسے مدعیوں کا فرض ہو جاتا ہے کہ وہ پہلے اسی مسئلہ سے لوگوں میں تنفر پیدا کریں۔ تاکہ اپنی مسیحیت کی بنیاد قائم کرنے کے لئے ان کا دوسرا قدم ناکام نہ رہے۔ اسی لئے شریعت مصطفویہ ﷺ نے پہلا سد اسی دروازہ پر قائم کیا ہے۔ جہاں سے مدعیان مسیحیت کاذبہ کی آمد کا سب سے اول خطرہ تھا اور وہ یہی مسئلہ حیات مسیح ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حق کی ایک کڑی دوسری کڑی سے ملی ہوئی ہے اور اسی طرح ایک باطل دوسرے باطل سے وابستہ ہے :
” قال ﷺ وایاكم و محدثات الامور فان كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وفى حديث انس عند الترمذى ثم قال يا بنى وذلك من سنتى ومن احب سنتى فقد احبنى ومن احبنى كان معى فى الجنة .“
حیات مسیح علیہ السلام کے عقیدہ کے بعد حق کی دوسری کڑی مدعیان مسیحیت کاذبہ کی تکذیب ہے۔ ختم نبوت کا اعتقاد راسخ ہے۔ نبی کریم ﷺ کی عظمت اور ان کے جلال کا تسلیم کرنا ہے۔ قرآن شریف کے آیات اور احادیث کے ایک ذخیرہ پر خدا اور اس کے رسول کی مرضی کے مطابق ایمان لانا ہے۔ لیکن اس کے برخلاف وفات مسیح کے مان لینے کے بعد دوسرا باطل جو ہمارے سامنے ہے وہ مدعیان مسیحیت و نبوت کی ایک قطار ہے۔ قصر ختم نبوت کا ہدم ہے، مسیح برحق کا انکار ہے، قرآن شریف کی نصوص صریحہ سے روگردانی ہے اور سب سے آخر میں رسول اللہ ﷺ کے اس پر عظمت جلال کا انکار ہے جو آخری زمانہ میں عالم آشکارا ہونے والا ہے اور جس کے ساتھ اتحاد ملل و مذاہب وابستہ اور وحدۃ دین موجود ہے :
” قال تعالى وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۚ النساء ١٥٩“
اس کے بعد آپ غالباً بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی صدہا پیشگوئیوں میں سے مسیح علیہ السلام کی آمد کی پیشگوئی کو تقریباً (٧٠) (بلکہ سو سے بھی زائد) احادیث میں کیوں مکرر سہ کرر بیان کیا گیا ہے حالانکہ اس کی حیثیت ایک پیشگوئی ہونے کے سوا اور کیا ہے۔ پھر پیشگوئی ایک یہی نہیں اور بھی بہت تھیں اسی کو کیا اختصاص تھا کہ اس کثرت کے
٤
ساتھ اس کو بیان کیا گیا؟۔ اور اس کے بالمقابل مدعیان مسیحیت کو آخر اسی مخصوص مسئلہ سے چڑ کیوں ہے؟ اور کیوں زبردستی کبھی توہین کی دھمکی دے کر‘ کبھی عقل کے خلاف ٹھہرا کر‘ اور کبھی قرآن وحدیث کے مخالف قرار دے کر‘ اور کبھی عیسائیوں کی موافقت سے ڈرا کر اس مسئلہ سے متنفر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے؟۔
افسوس نہ تھا اگر اس اہم مسئلہ توہین وعظمت رسول میں اس ”سیاسی“ دلسوزی کے ساتھ علمیت کا بھی کچھ رنگ ہوتا کہ جواب دینے کے لئے ہم جیسے غلامان محمد ﷺ ابھی ہزاروں زندہ موجود ہیں۔ لیکن افسوس تو اس پر ہے کہ جن امور سے اس عقیدہ اہم ومہم کو توہین قرار دیا گیا ہے وہ ایک احمق سے احمق کے لئے بھی قابل تمسخر ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اس قدر طویل العمر اور زندہ سمجھنا نبی کریم ﷺ سے افضل ٹھہرانا ہے۔ یہ ٹھیک ایسا ہی استدلال ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کے صاحبزادہ ابراہیم (علیہ السلام) کو حالت رضاعت میں وفات شدہ ماننا اور مرزا غلام احمد کے صاحبزادہ کو بایں ریش وفش جیتا جاگتا تسلیم کرنا آپ کی توہین کرنا ہے۔ کیا اگر کوئی دوسرا پولیٹیکل مبلغ سرور کائنات ﷺ کے فرزند اور آپ کی اس پیری کا مقابلہ کر کے یہ کہنے لگے کہ مسلمانو! کیا غضب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے فرزند کو تو زمانہ طفولیت سے بھی گزرنے نہیں دیتے اور مرزا غلام احمد کے بیٹے کو زندہ مان کر بڑھاپے کی عمر تک پہنچاتے ہو‘ اور حضور ﷺ کی سخت توہین کرتے ہو۔ تو کیا وہ آپ کی وفات عین حالت حیات میں ثابت کرنے میں مجبور نہیں ہے؟۔ یا صرف اتنے سے فرق سے کہ آپ سرزمین پنجاب میں زندہ ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر۔ آپ زندہ اور وہ وفات شدہ تسلیم کئے جاسکتے ہیں؟۔ آپ کو یقین کر لینا چاہئے کہ مدنی نبی ﷺ کے ماننے والے اس کے فرمان پر چشم دید حالات سے زیادہ یقین رکھتے ہیں اور جہاں شریعت کی اطلاع پر لاتعداد لا تحصیٰ ملائکہ کو سمٰوات پر زندہ تسلیم کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک عیسیٰ علیہ السلام کو بھی بلاشبہ وریب زندہ تسلیم کرتے ہیں۔ عجب نہیں کہ قدرت کے ہاتھ نے اسی لئے انہیں آسمانوں پر اٹھایا ہو تاکہ آسمان پر رہ کر ان کے حیات میں کوئی استبعاد نہ رہے کیونکہ جس ملک کی عمر تا نفخ صور ہو وہاں کسی کا براۓ چندے زندہ رہنا کیا بعید ہے؟۔ اگر نوح علیہ
٥
السلام اسی زمین پر رہ کر ہزار برس زندہ رہ سکتے ہیں۔ تو حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر کیوں اس قدر یا اس سے زیادہ زندگی نہیں گزار سکتے ؟۔ حالانکہ وہ تو ان کا مستقر ہے جنہیں قیامت سے قبل موت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کا زمانہ وفات قریب ہو گا تو پھر اسی زمین پر آنا مقدر ہے تا معلوم ہو جائے کہ آسمانوں پر موت نہیں ہے۔ پھر کس قدر بے علمی ہے کہ جس صورت کو دست قدرت نے اس استبعاد کے دور کرنے کے لئے اختیار کیا۔ اسے ہی کم فہمیوں نے اور زیادہ استعجاب کا موجب بنا لیا۔ سچ ہے :
”وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ . لَقَالُوْا إِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ . الحجر ١٤“
ہاں! مرزا قادیانی کو دھوکا لگ جانا اس وقت قرین قیاس تھا جبکہ نبی کریم ﷺ کو بھی آسمانوں میں مان کر وفات شدہ تسلیم کیا جاتا۔ مگر میں آپ کو بتلانا چاہتا ہوں کہ آسمان ہرگز نبیوں کے مستقل طور پر رہنے کا مقام نہیں ہے۔ اور نہ انبیاء کا آسمانوں پر رہنا کوئی موجب افضلیت ہے۔
رسل اور سید الرسل کے لئے زمین کیوں منتخب ہوئی ؟
حق تعالیٰ کی مشیت ازلی نے جب چاہا کہ اپنا کوئی خلیفہ بنائے۔ اس وقت یہ آسمان بھی موجود تھے اور زمین بھی۔ لیکن صاف اعلان کر دیا کہ :
” وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِيْفَةً . البقره . ٣٠ “ یعنی فرشتے میرے آسمانوں پر ہیں لیکن میرا خلیفہ میری زمین پر ہو گا اور یہ اس لئے مقدر ہوا کہ آسمان بالاصالہ یعنی بلاواسطہ قدرت کی کار فرمائیوں کے مظہر ہیں۔ اس لئے جہاں اصل کا ظہور ہو وہاں خلیفہ کا کیا کام ؟۔ زمین ہی وہ ٹکڑا تھا جہاں ید قدرت نے آدم علیہ السلام کی طاقت ظاہر فرما کر اپنی قدرت کاملہ کو اسباب کے پردہ میں مستور کر دیا۔ لہذا ضرور ہوا کہ خلافت زمین پر ہی عیاں ہوتی۔ ورنہ جس طرح سموات اسباب سے بالا تر اور بالا تر کارخانہ پر مشتمل ہیں اسی طرح یہ زمین بھی براہ راست ید قدرت کے تحت میں ہوتی اور جس طرح
٢ ٦
آسمانوں پر خدا تعالیٰ کے نہ معصیت کرنے والے ملائکہ آباد ہیں۔ اسی طرح زمین پر وہ بندے آباد ہوتے جنہیں سوائے طاعت کے کچھ کام نہ ہوتا اور ”یَفْعَلُوْنَ مَایُؤْ مَرُوْنَ“ کا مصداق ہوتے اور اس طرح اسباب و مسببات کا سارا کارخانہ درہم وبرہم ہو جاتا۔ جنت و دوزخ کی حاجت نہ رہتی اور عالم کی پیدائش سے جو مقصد تھا وہ فوت ہو جاتا۔ لیکن جب حکمت ایزدی اور مرضی لم یزل نے غائب بن کر اپنی عبادت چاہی تو خلیفہ کے لئے اس زمین کو مخصوص کر دیا اور غائبانہ اپنے خلیفہ پر اوامر و نواہی اتارے تا کہ دیکھے کہ اگر ملائکہ مشاہدۃً عبادت کرتے ہیں تو کیا کوئی بن دیکھے بھی عبادت کر سکتا ہے :
”تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُ ۔ الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ۔ الملک ١‘٢“
اسی لئے بالآخر مسجود ملائکہ کو خدا تعالیٰ کی جنت چھوڑ کر مسند خلافت پر جلوہ آرا ہونے کے لئے اسی زمین پر آنا پڑا۔ پھر بتلاؤ کہ خلیفہ کے بعد دوسرے ہادیوں کے لئے بھی خدا کی یہی زمین زیادہ موزوں تھی یا وہ آسمان جہاں ایسی مخلوق بستی ہے کہ جو بلاواسطہ احکام سنتی اور بلافترۃ عبادت میں مشغول ہے۔ نہ وہ کسی رسول کی وحی کی محتاج ہے نہ کسی ہادی کی ہدایت کی۔ پھر حضرت مسیح علیہ السلام اگر کسی مصلحت الہیہ کے ماتحت آسمانوں پر تشریف فرما ہیں تو اس وجہ سے سرور کائنات ﷺ سے افضل ہو سکتے ہیں؟۔
ملائکۃ اللہ جنہیں ابتداء خلافت کی مصلحت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے جب کچھ تردد لاحق ہوتا ہے تو اتنا ہی کہتے ہیں کہ :
”وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ۔ البقرہ ٣٠“
یعنی اے اللہ! ہم تیری تسبیح و تقدیس کرتے ہیں۔ اگر آسمانوں پر رہنا بھی کسی فضل کا موجب تھا تو ان کا اولین حق تھا کہ اس کے ساتھ ہی : ”وَنَسْتَقِرُّ فِیْ سَمَائِکَ“ بھی کہتے یعنی اور ہم تیرے آسمانوں میں رہتے ہیں۔ لیکن جب خود اس مکان کے ساکن محض کسی مکان کی سکونت کو موجب فضل نہیں سمجھتے تو پھر زمین والوں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اسے اتنا بڑھائیں جتنا کہ انہیں حق نہیں؟۔ تسبیح و تقدیس گو بظاہر ایک بڑے فضل کی شے ہے لیکن
٧
بارگاہ صمدیت میں جسے ہر کسی کی تسبیح و تقدیس سے بے نیازی حاصل ہے۔ اس کو بھی کسی خاص فضل کا موجب نہ سمجھا گیا اور صاف جواب مل گیا کہ :” إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ . بقرہ ٣٠“ یعنی جہات فضیلت تمہاری پرواز سے باہر ہیں۔ کسی کا آسمان و زمین پر رہنا تو درکنار تسبیح و تقدیس بھی موجب فضیلت نہیں ہو سکتیں بلکہ اس کا ایک ہی سبب ہے اور وہ اس کی ذات قدسی صفات کا اصطفاء و اجتباء ہے اور یہ اسی کے ہاتھ میں ہے جسے کوئی بشر اپنی فطری یا کسی طاقت سے حاصل نہیں کر سکتا : ”اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَئِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ . الحج ٧٥“ ظاہر ہے کہ ایک ویسرائے ہندوستان میں رہ کر شاہ انگلستان کے نزدیک وہ رتبہ رکھ سکتا ہے جو ایک کمشنر اس کی محفل بلکہ اس کے محل میں رہ کر بھی حاصل نہیں کر سکتا پھر یہاں اور وہاں کا فرق فضول ہے :
افضل البشر ﷺ کی عظمت میں کسی کا کیا منہ ہے کہ ہم سے گوئے سبقت لے جائے ایک وہ ہیں جن کے خیال میں حضرت مسیح علیہ السلام برائے چندے آسمان پر رہ کر افضل بن سکتے ہیں اور ہم وہ ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ واللہ وہ سرزمین جس پر سرور کائنات (ﷺ) کے قدم پڑتے ہیں اس آسمان سے ہزار درجہ افضل ہے جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ اس کے غیر متناہی فرشتے بھی آباد ہیں۔
ایک وہ ہیں جو مکین کو مکان کی وجہ سے شرف دیتے ہیں اور ہم وہ ہیں جو مکان کو مکین کی وجہ سے اشرف سمجھتے ہیں : ” قال تعالى لَا أُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ . وَأَنْتَ حِلٌّ بِهٰذَا الْبَلَدِ . البلد ١، ٢“ یعنی اے محمد (ﷺ) میں اس شہر مکہ کی قسم اس لئے کھاتا ہوں کہ تو اس میں رہتا ہے پھر جس کے وجود سے ام القریٰ مکہ کو شرف حاصل ہو سکتا ہے وہ آسمان پر جانے کا کیا رشک کرتا ؟۔ بلکہ آسمان خود اس زمین پر رشک کرتا ہے جہاں اس کے قدم پڑتے ہیں :
سالہا سجدہ صاحب نظران خواہد بود
٨
اب تو آپ نے انصاف فرمالیا ہوگا کہ ہم غلامان محمد ﷺ اس عقیدہ کے ماتحت خاتم النبیین کی توہین کرتے ہیں (والعیاذ باللہ) یا تعظیم، اور آیئے میں آپ کو بتلاؤں کہ آپ ”مدنی“ نبوت کے بالمقابل ”قدنی“ نبوت کا جھنڈا گاڑ کر ایسی کھلی توہین کر رہے ہیں جس سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے اور زمین پاش پاش ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں۔
ختم نبوت کے بعد کسی نبوت جدیدہ کا تسلیم کرنا سخت توہین ہے
خدائے تعالیٰ نے دنیا میں بہت سے رسول بھیجے اور یقیناً ہر رسول اپنے اپنے زمانہ کے لئے ایک نور تھا اور ایک شمع تھی جس کے اجالے میں آنکھ بند کر کے خدائے قدوس تک رسائی ممکن تھی۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آدم علیہ السلام کی نبوت کا ماننے والا اگر نوح علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کے لئے سوائے جہنم کے کہیں مفر نہیں۔ یہ اس لئے نہیں کہ نبوت آدم علیہ السلام میں کوئی نقصان تھا (والعیاذ باللہ) بلکہ اس لئے کہ نبی وقت کی اس میں توہین ہے۔
یہی سلسلہ چل کر ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام تک پہنچا اور یہ ہر دو نبی بھی اپنے زمانہ میں آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے لیکن آخر کار عیسیٰ علیہ السلام کے دور نبوت میں ان پر ایمان رکھنا بھی نجات کے لئے کافی نہ ہوا اور عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا بھی ضروری ٹھہرا۔
اس سے معلوم ہوا کہ گذشتہ زمانہ میں ایک شخص اپنے نبی پر ایمان لا کر بھی خدائے تعالیٰ کے نزدیک نامقبول ٹھہر سکتا ہے اگر وہ آئندہ نبی پر ایمان نہیں لاتا اس لئے اگر ہمارے آقا و مولا سرور کائنات ﷺ بھی اسی سلسلہ کے ماتحت اول یا وسط میں مبعوث ہوتے تو ضرور آپ ﷺ پر ایمان لانا بھی کسی زمانہ میں اسی طرح ناکافی ہو جاتا۔ اور جس طرح کہ ایک شریعت موسویہ کا عامل عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے جنت اور رضائے حق سے محروم ہو کر ابدالآباد کے لئے جہنمی ہو سکتا۔ اسی طرح محمد رسول اللہ (ﷺ) پر بھی ایمان لا کر بعد کے نبی پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے جہنمی ہو سکتا تھا۔ لیکن رحمت حق نے اپنے محبوب کو ایک خاص بزرگی سے نوازا اور چاہا کہ اب آئندہ اس رحمۃ اللعالمین پر ایمان لانے والا اس
٩
خطرہ سے مامون ہو جائے اور جس طرح اس کے زمانہ میں ایمان کا مدار اس کی ذات پر تھا اسی طرح خدا تعالیٰ کی رحمت آئندہ بھی اسی کے نام سے وابستہ ہے۔ اس لئے ختم نبوت کا تاج مکمل اس کے سر پر رکھا اور دنیا کو مطمئن کر دیا کہ اس مربی اعظم ﷺ کے بعد دنیا میں کوئی نبی نہیں۔ اس کا ماننا نجات کے لئے کافی ہے۔ اسی کے ذریعہ سے رضائے حق مل سکتی ہے اور اسی کی مخالفت سے خدا کا غضب ٹوٹتا ہے۔ خدا کی جنت اسی کے نام کے ارد گرد دور (گھومتی) ہے اور جہنم اسی کے متبرک نام سے خائف ہے۔ کوئی نہیں جس پر ایمان لانا اس کے بعد درست ہو۔ اس لئے کہ اب وہ آگیا جو سارے جہان کو تسلی دینے والا ہے۔ ہر پیاسا اسی کے بحر شریعت سے سیراب ہوگا۔ ہر بھوکا اسی کے دستر خوان سے شکم سیر ہوگا اور ہر خائف اسی کے حریم امن میں پناہ پائے گا۔ اس کا دامن خدائے تعالیٰ کے دائمی رضا کا ضامن ہے۔ کوئی نہیں جس کا نام اس کے نام سے اونچا ہو سکے۔ کوئی نہیں جو اس کی نبوت کے بعد اپنی طرف دعوت کا حق رکھتا ہو۔ اس لئے کہ اب امام آگیا۔ وہ حامل لواء ہے اور سب اس کے جھنڈے کے نیچے ہیں۔ اسی راز کو آشکارا کرنے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام جیسا اولو العزم نبی آئے گا اور دنیا کو دکھلائے گا کہ یہ وہ نبی ہے جس کے دور میں انبیاء امتی بن کر بسر کرتے ہیں اور دوسروں کے شفیع بن کر بھی خود اس کی شفاعت سے مستغنی نہیں ہیں۔
عقیدہ حیات مسیح کا عیسائیت پر اثر
رہا عیسائیت کی موافقت کا سوال تو آپ کو معلوم رہے کہ عیسائیت کے استیصال کے لئے اس مسئلہ سے زیادہ کوئی اسم اعظم نہیں ہے۔ بہت سی کتابیں لکھی گئیں اور آخر میں وہ بھی لکھی جا چکی جس کو لوگ براہین احمدیہ کہتے ہیں اور جس کی تصنیف کا خدا کو متکفل کہا جاتا تھا۔ لیکن کیا عیسائیت معدوم ہو گئی؟۔
ہاں! اگر آتھم کے زمانہ کے دستور کے مطابق وفات پا جانے سے عیسائیت تباہ ہو سکتی ہے تو بے شک تباہ ہو گئی۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ میری اور تیری صفائی سے کیا ہوگا۔ صفائی مکمل اس وقت ہو گی جبکہ عیسائیوں کا مزعوم خدا خود زمین پر اتر کر اس اتہام کو علیٰ رؤس
١٠
الاشہاد اپنے سر سے اٹھائے گا اور رسول اللہ ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہو کر اپنے تابع ہونے کا ثبوت دے گا اور آخر کار اسی زمین میں جاکر سورہے گا۔ جہاں خدا کے سارے رسول آرام فرما ہیں۔ یہ وہ دن ہوگا جبکہ عیسائیت کا تخم دنیا سے معدوم ہو جائے گا اور اس لئے اس کے شعائر اس کی طاقت و شوکت اور اس کے خصائص سے عالم پاک ہوگا صلیب توڑ دی جائے گی کہ پھر نہ گرجا نظر آئے گا نہ اس پر صلیب لٹکے گی۔ خنزیر قتل کر دیئے جائیں گے اور دنیا بعد فساد کے پھر امن کی طرف لوٹے گی۔ لیکن اس کے برخلاف اگر آپ کے عقیدہ کے مطابق مسیح سولی چڑھا دیا گیا اور پھر نہ معلوم کہاں چلا گیا۔ کون ہے جو عیسائیوں کو کفارہ کے عقیدہ سے روک سکے۔ کون ہے جو ان کے شعائر کو پست کر دے اور کون ہے جو عیسائیت کا بیج خدا کی زمین سے نابود کر دے۔ کیا وہ مرزا غلام احمد قادیانی یا ان کے صاحبزادہ جنہیں ہمیشہ عیسائیوں اور ان کی سلطنت کے مناقب کے سوا کچھ کام نہ تھا۔ کیا وہ جن کے نزدیک ہندوستان مکہ اور مدینہ سے زیادہ پیارا ہے۔ کیا وہ جن کا خدا خود ان سے غلط انگریزی میں باتیں کیا کرتا تھا۔
اب مرزا محمود انصاف کریں کہ ایک طرف حیات عیسیٰ علیہ السلام کے نام سے ان کا نازک دل پھٹا جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ خدا تعالیٰ کے اس امتیاز کلی کو مٹانا چاہتا ہے کہ اب اس خاتم الرسل پر ایمان لانا نجات کے لئے کافی نہ رہے۔ جنت اور رضائے ایزدی اس کے توسط کے بجائے مرزا غلام احمد کے توسط سے ملنے لگے۔ خدا تعالیٰ کا کوئی رسول اس کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے نہ اترے اور اس کے ماء مصفی کو چھوڑ کر دنیا مرزا غلام احمد قادیانی کے گھاٹ سے سیراب ہو :
الی آخر الایام لا تتکدر
مسئلہ ختم نبوت ایک فسانہ سمجھا جائے اور اس طرح عظمت کے دعوے میں اہانت اور ایمان کی ندا میں کفر کی دعوت دی جائے؟۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ آپ ان عقائد فاسدہ سے توبہ کر لیں؟ اور ایک ایسی نبوت تامہ و عامہ کے نیچے آجائیں جس کے بعد ہر ١١
نبوت سے بے نیازی اور ہر وحی سے استغنی ہے :
برنگ اصحاب صورت را ببو ارباب معنی را
معزز زمیندار کی اپیل پڑھ کر میں نے اس مضمون کو شروع کیا تھا اور اپنے ذہن میں اس کو دو حصوں پر منقسم کیا تھا جس میں سے اول حصہ مرزا محمود صاحب کے شکوک کے جواب کے متعلق تھا۔ اور دوسرا اپنے مقصد کی تقریر میں۔ لیکن جب میں اس قدر مضمون لکھ چکا تو حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی مدظلہ کا میں نے مضمون سنا جس کے بعد اپنا یہ مضمون بھی زائد از حاجت معلوم ہوا اس لئے دوسرے حصہ کو حذف کرتا ہوں کہ مولانا ئے موصوف کا مضمون اس باب میں بس ہے اور اسی میں کفایت ہے اسی کو بغور پڑھئے اور سنایئے۔
١٢
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
الجواب الفصیح
لمنکر حیات المسیح
محدث کبیر
حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تعارف
الحمدللہ وکفی وسلام علی خاتم الانبیاء، اما بعد!
محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ نے ”الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح“ تحریر فرمایا جو ١٣٤٣ھ میں مطبع قاسمی دیوبند سے شائع ہوا تھا۔ عرصہ سے نایاب تھا۔ ٧٩ سال بعد اس کی اشاعت یہ ہمارے لئے کیا باعثِ سعادت نہیں؟۔ ١٧ شعبان ١٣٤١ھ کو شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اپنے وطن کشمیر تشریف لے گئے۔ آپ کے شاگردوں کی جماعت ساتھ تھی۔ کشمیر کے اہالیان کو پتہ چلا تو کشاں کشاں چلے آئے۔ آپ نے پورے کشمیر میں فتنہ قادیانیت کے خلاف تقریریں کیں۔ قادیانیت بوکھلا اٹھی۔ قادیان سے لاہور تک کے قادیانیوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اپنے ہفتگی رسائل جیسے پیغام الصلح وغیرہ میں مضامین لکھے جو دلائل سے زیادہ گالیوں سے پر تھے۔ ان تمام مضامین کا جواب حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ مرحوم نے تحریر فرمایا تو یہ کتاب بن گئی۔ اس میں ذیل کے مضامین ہیں: ١...... . مصباح العلیہ لمحو النبوۃ الظلیہ۔٢...... الجواب الحفی فی آیۃ التوفی۔ ٣...... انجاز الوفی فی لفظ التوفی۔ ان مضامین کے مجموعہ کا نام ”الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح“ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ اکابرین کی محنت کو امت کے ہاتھوں پہنچانے کی سعادت پر رب کریم کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔ فالحمدللہ!
فقیر اللہ وسایا ٧ / ٦ / ١٤٢٢ھ ٢٧ / ٨ / ٢٠٠١ء
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ایک ضروری گزارش
ناظرین کرام چونکہ اس رسالہ کا مقصد صرف معترض کی جوابدہی نہیں بلکہ اظہارِ حق اور تحقیق ہے۔ اس لئے ہر چند کہ تحریر جواب و کتابت سے فراغت حاصل ہوئی ایک عرصہ گزر چکا تھا۔ لیکن کارکنان شعبہ تبلیغ و اشاعت دارالعلوم کو کچھ ایسے مشاغل ضروریہ جو اس سے اہم تر تھے درپیش رہے جن کی وجہ سے رسالہ ہٰذا کے طبع میں ضرورت سے زیادہ تاخیر واقع ہو گئی اور کاپیاں بھی رکی رکی قدرے خراب ہو گئیں۔ اس لئے التماس ہے کہ اس تاخیر سے ملول نہ ہوں اور مطلب کی بات غور سے مطالعہ فرمائیں۔ انشاء اللہ ! امید ہے کہ فائدہ سے خالی نہ پائیں گے۔ اور اگر کوئی بات قابلِ پذیرائی نظر پڑے تو احقر کو بھی کلماتِ خیر سے ضرور یاد کریں۔
والسلام ! بدر عالم عفی عنہ خادم دارالعلوم دیوبند
٣
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم ۔ امابعد!
ایک مدت مدید سے اپنا خیال تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ایجادات پر کوئی مختصر سا رسالہ تحریر کیجئے اور اس مدعی نبوت کے اختراعی تصرفات کو عوام کے روبرو پیش کیجئے تاکہ امت محمدیہ اس کی تلبیس سے متنبہ اور حقیقت حال سے آگاہ ہو جائے۔ مگر اپنی بے بضاعتی نے کبھی اہل علم و فضل کے مجمع میں رہ کر قلم اٹھانے کی ہمت نہ دی۔ حتیٰ کہ یہ خیال قریب تھا کہ کہنہ ہو کر معدوم ہو گیا ہوتا کہ سعادت ازلیہ اور تقدیر الٰہی نے دفعۃً دستگیری کی اور ایسے سامان میسر کر دیئے کہ با ایں ہمہ قلم اٹھانے کی جرأت ہوئی۔ یعنی حسب الاتفاق خاتم المحدثین و آیت السالفین الصالحین سیدنا و سندنا و استاذنا حضرت مولانا مولوی الحاج سید انور شاہ صاحب مدظلہ العالی مدرس اعلیٰ مدرسہ دیوبند نے اپنے وطن مالوف کی طرف سفر کا ارادہ کیا اور مورخہ ١٧ شعبان ١٣٤١ھ کو یہاں سے روانہ ہو کر بمقام بارہ مولا و سری نگر ہوتے ہوئے کشمیر کو شرف ورود بخشا۔
چونکہ نواحی کشمیر میں جناب کے تقدس و علم کا ہندوستان سے بھی زیادہ شہرہ ہے۔ اس لئے جوق در جوق مشتاقان دیدار بغرض تحصیل زیارت آتے رہے۔ اس دوران میں حضرت موصوف مسلمانوں کی مذہبی کمزوری کو برابر محسوس کرتے تھے اور اسی سبب سے صرف دوماہ کے قیام میں مختلف مقامات پر آپ کو سترہ مرتبہ وعظ فرمانے کا اتفاق ہوا۔ جن میں بعض مسائل اجتہادیہ مختلف فیہا اور بعض میں اس فتنہ عمیاء و صماء پر خصوصیت سے بحث فرمائی۔ جوں ہی کہ حضرت موصوف کی زبان پر تاثیر سے صداقت و اخلاص سے لبریز مواعظ لوگوں کے کانوں تک پہنچے۔ اسی وقت سے عوام میں مذہبی تحریک اور مردہ ایمانوں میں تازگی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ پھر کیا تھا اس کامیابی اور تائید حق کو دیکھ کر مرزائیوں کے چھکے لگ گئے اور ان سے رہا نہ گیا۔ یہاں تک کہ پیغام صلح میں عبداللہ وکیل (قادیانی) کی طرف سے چند اعتراضات طبع ہوئے۔ خیر اس کا تو شکوہ نہ تھا افسوس اس پر ہے کہ ساتھ ہی ساتھ حضرت موصوف کی شان میں نہایت گستاخانہ کلمات بھی استعمال کئے گئے ہیں جسے ہم مرزائی سنت
٤
سمجھتے ہیں۔ خوش قسمتی سے یہ پرچہ میری نظر سے بھی گزرا۔ گو اپنا ارادہ تو تھا ہی مگر اس پر حضرت موصوف کے فرمان نے جسے میں نے قابل فخر اور باعث نجات تصور کیا۔ تحریر جواب پر مجبور کر دیا اور وہ امروز فردا کا غیر متناہی سلسلہ آج منقطع ہوا اور توکلا علی اللہ جو کچھ کہ آنجناب (شاہ صاحب) کے افادات خارج از اوقات درس کہ اپنے دماغ میں مجتمع تھے۔ ان کو یکجا قلم بند کرنا شروع کیا اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں دریافت بھی کیا۔ اس کے بعد اس منتشر اور بے ربط ذخیرہ کو بصورت رسالہ حضرت موصوف کی خدمت میں پیش کرنے کی درخواست کی۔ ہر چند کہ اپنی ہیچمدانی پر نظر کرتے ہوئے کس طرح امید نہ تھی کہ کچھ بھی قابل پذیرائی ہو مگر الحمد للہ! کہ حضرت موصوف نے اس کو قبول فرما کر اول سے آخر تک حرف بحرف سنا اور حسب ضرورت اصلاح فرمائی۔ اس کے ساتھ ہی میری گزارش پر ہر مضمون کا مناسب عنوان بھی خود ہی تجویز فرمایا۔
بدر عالم میرٹھی
نوٹ : ہر مضمون کا عنوان ابتداء صفحہ میں لکھ دیا گیا ہے۔ صفحات مضامین کے اعتبار سے لگائے گئے ہیں۔ اعتراضات بلفظہا منقول ہیں۔ اصل پیغام صلح مورخہ ٣ ذیقعدہ ١٣٤١ھ کالم ٤ پر ملاحظہ ہو۔
٥
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مصباح العلیہ لمحو النبوة الظلیہ
(قال) ”مولانا صاحب نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ظلی بروزی مجازی نبوت کا قائل خارج از دائرہ اسلام ہے۔ اس پر گزارش ہے کہ محدثیت ہی ظلی نبوت ہے۔ لکل ان یصطلح اگرچہ نبوت بھی بکلی مسدود ہے تو ملاحظہ فرمائیے کتاب : ”الیواقیت الجواہر امام شعرانیؒ اعلم ان النبوة لم یرتفع مطلقا بعد محمد ﷺ وانما ارتفع نبوة التشریع فقط وقد کان الشیخ عبدالقادر الجیلانی یقول اوتی الانبیاء اسم النبوة و اوتینا اللقب . ”کیا کوئی فاضل بتا سکتا ہے کہ امام شعرانیؒ یا عبدالقادر جیلانیؒ ”شیخ ابن عربیؒ“ مجدد الف ثانیؒ علماء اسلام داخل دائرہ اسلام نہیں ہیں۔ معاذ اللہ!“
(اقول) ”و بہ نستعین“ قبل اس کے کہ میں اس عبارت کی شرح کروں اولاً ظلی نبی کی مختصر تحقیق کرتا ہوں کہ کیا مرزا قادیانی کے نزدیک ظلی نبوت اور محدثیت شی واحد ہیں ؟ اور یہ کہ کیا ظلی نبوت کوئی قابل تسلیم اصطلاح ہو بھی سکتی ہے یا نہیں ؟ ۔ سو سب سے اول تو بطور اصل گزارش ہے کہ اگر ظلی یا بروزی نبوت دین میں کوئی شی معتبر ہے جس کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے تو کسی ایک حدیث کو ہی مرزائی پیش کر دیں جس میں ظلی یا بروزی کا لفظ آیا ہو۔ کیونکہ جب امت محمدیہ میں بقاء محدثیت شرعاً بھی ایک مسلم امر ہے اور محدث ظلی نبی بھی ہوتا ہے (بقول مرزائیاں) تو پھر ضرور کہیں اس کا پتہ ملنا چاہئے اور اگر یہ مجرد اختراع ہی ہے جیسا کہ ولکل ان یصطلح سے متبادر ہے تو ایسی اصطلاح کے ماننے پر جس کا دین میں کہیں پتہ نہ ہو دوسروں کو کیونکر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ خصوصاً جبکہ وہ اصطلاح شریعت محمدیہ کے مخالف بھی ہو بلکہ ممنوع ہو۔
مثلاً اگر کوئی شخص ظلی اور بروزی طور سے خدائی کا دعویٰ شروع کر دے تو کیا اس
٦
شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی اور کیا اس شخص کا یہ عذر قابل قبول ہو گا کہ میں نے حقیقتاً خدائی کا دعویٰ نہیں کیا تا کہ تعدد لازم آئے بلکہ ظلی طور سے میں نے اس میں فنا ہو کر اس کا نام پایا ہے۔ اس کا علم پایا ہے۔ اس کا حکم پایا ہے اور اس طور سے میں ظلی خدا ہوں۔ لہٰذا خدا کی خدائی اسی کے پاس رہی نہ کسی دوسرے کے پاس۔ لہٰذا مجھ کو مشرک نہ کہو۔
”اس طرح جس کو شعلۂ محبت الٰہی سر سے پیر تک اپنے اندر لیتا ہے۔ وہ مظہر تجلیات الٰہیہ ہو جاتا ہے۔ مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا ہے بلکہ ایک بندہ ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٥ خزائن ص ١٧ ج ٢٢)
بالکل اس طرح سمجھ لو کہ اگر کوئی شخص مظہر تجلیات نبویہ ہو جانے کا مدعی ہو تو اسے فقط بالکل اس اصطلاح کے تحت میں نبی نہیں کہا جا سکتا۔ بلکہ وہ ایک امتی ہو گا۔
مرزا قادیانی کے کلام سے ثبوت کہ ظلی طور سے انبیاء
علیہم السلام کے جمیع کمالات پانے والا بھی نبی نہیں کہلاتا
”جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے تو اس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء ہو جاتا ہے اور تمام ان ہدایتوں اور مقامات عالیہ کو ظلی طور پر پا لیتا ہے جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے اور انبیاء اور رسل کا وارث اور نائب ہو جاتا ہے۔ وہ حقیقت جو انبیاء میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے وہ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہو جاتی ہے اور وہ حقیقت جو انبیاء میں عصمت کے نام سے نامزد کی جاتی ہے اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے اس میں محدثیت کے پیرایہ میں ظہور پکڑتی ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٣٧ خزائن ص ٢٣٧ ج ٥)
اس عبارت میں صاف طور سے بتلایا گیا ہے کہ وہ شخص جو انبیاء سابقین کے جمیع کمالات کو ظلاً حاصل کر لیتا ہے نبی نہیں کہلاتا بلکہ محدث کہلاتا ہے۔ اس سے دو نتیجہ پیدا ہوتے ہیں یا تو یہ کہ محدث ظلی نبی ہی نہیں ہوتا یا ظلی نبی کہلا نہیں سکتا اور بہر تقدیر مرزا جی کا یہ فرمان پیغام صلح کی تردید کرتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک ظلی نبی اور محدث شے واحد ہیں لہٰذا
٧
محدث کو ظلی نبی کہیں گے مگر اس عبارت میں مرزا قادیانی نے تصریح کر دی ہے کہ نبیوں کی حقیقت اور محدثوں کی حقیقت واحد ہی ہے مگر باوجود اس کے پھر اس میں اختلاف ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر بالفرض کسی شخص میں نبوت کے جمیع کمالات ہوں اور پھر بھی اسے نبی نہ کہیں یہ ممکن ہے اور اگر مجازاً نبوت کا دعویٰ بھی صحیح ہو سکتا ہے تو بے شک مجازاً خدائی کا دعویٰ بھی صحیح ہوگا اور اگر نہیں تو پھر اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کو ہر ایک اصطلاح رکھنے کا حق نہیں۔ خواہ وہ قواعد شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔
یہ امر بھی سمجھنے کے قابل ہے کہ فقط کسی منصب کے کمالات کی تحصیل کر لینا اس اسم کے اطلاق کو جائز نہیں کرتا۔ دیکھو ایک گورنری کرنے کے قابل آدمی اپنے آپ کو گورنر نہیں کہہ سکتا باوجود یکہ وہ سارے کمالات گورنری کا جامع ہے تحدیانہ دعویٰ کرنا تو درکنار اگر یہ شخص اپنے یار دوستوں ہی میں اپنے آپ کو گورنر کہلانا چاہے تو اس کے رفقاء اس پر تمسخر کے علاوہ اور کیا کریں گے اور اگر کہیں اس عقل کے پتلے نے تحدیانہ دعویٰ بھی شروع کر دیا اور گھر بیٹھے منظور اور نامنظور بھی کہنا شروع کر دیا تو اس کا علاج سوائے آگرہ (مینٹل ہسپتال) بھیج دینے کے اور کچھ نہیں۔ اسی طرح اگر بالفرض کوئی شخص جامع کمالات نبویہ ہو بھی جائے جب بھی اسے دعویٰ نبوت کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ خدا سوائے محدث کے اب نبی کسی کو نہیں بنائے گا۔ ورنہ تو کوئی ایک آیت ہی پیش کر دو جس میں خدا نے ظلی نبی بنانے کا وعدہ کیا ہو۔
رہا محدثین کی آمد تو اس کے لئے حدیث موجود ہے۔ اس سے یہ امر بھی واضح ہو گیا کہ اگر کہیں بعض کمالات نبوت فی الجملہ کا ثبوت ملتا بھی ہو جب بھی وہ اطلاق لفظ نبی کو مستلزم نہیں۔ چہ جائے کہ دعویٰ نبوت۔ جیسا کہ ہم آئندہ چل کر واضح کریں گے۔ کیونکہ کمالات نبوت اور ادعاء نبوت میں بون بعید ہے ظاہر ہے کہ ایک امتی کے سارے کمالات کا منسوب الیہ نبی کریم ﷺ ہی کی ذات مقدسہ ہے۔ لہٰذا جو کمال بھی ہم میں ہے اس کا مستند آپ ﷺ کی ذات ہے۔ یہ حقیقت تھی اور ہر ایک کی سمجھ میں آنے والی بات تھی مگر مرزائیوں کو مغالطہ لگا کہ انہوں نے بجائے اس کے کہ اپنے کمالات کا استناد آنحضرت ﷺ کی طرف کرتے نبی کریم ﷺ کے جمیع کمالات اپنے اندر تسلیم کر لئے۔
٨
میرے دوستو! یہ ایک بڑی ٹھوکر ہے جو تم کو لگی۔ یاد رکھو کمال اس میں نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے سارے کمالات تم کو حاصل ہو جائیں بلکہ کمال اس میں ہے کہ جو کچھ تم میں ہو اس کا منتہی آنحضرت ﷺ کی ذات قرار پائے۔ اس میں راز یہ ہے کہ کمالات نبوت نہ تو واحد ہیں اور نہ نوع واحد سے ہیں بلکہ متعدد اور انواع مختلفہ سے ہیں۔ لہٰذا نبوت کو جامع ولایت بھی کہا گیا ہے۔ پس کمالات ولایت جو ایک پہلو ہے کمالات نبوت بھی کہے جاسکتے ہیں قیامت تک ظلاً جاری ہیں مگر وہ کمالات نبوت جو مختصات نبوت سے ہیں کلی مسدود ہیں یہی مطلب ہے : ” لوکان بعدی نبی لکان عمرؓ۔ “ کا اور اسی وجہ سے کہ عمرؓ کے پاس کمالات ولایت تو تھے مگر جو کمالات مخصوص بالنبوۃ ہیں نہیں تھے۔ نبی کا لفظ ظلاً بھی ان پر نہیں بولا گیا۔ ورنہ جس کی قرب مناسبت سے نبی کریم ﷺ نے خبر دی ہو اس پر اطلاق لفظ نبی میں حجر (روک) ہی کیا تھا۔ پس اگر نبی کا اطلاق تسلیم کیا جائے ........... تو پھر امر ختم نبوت ایک فسانہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب بعد خاتم الانبیاء ﷺ کے نبی بھی بنے اور نبی کہلائے بھی اور ان کے دعوؤں کی تصدیق بھی کی جائے تو اب ختم نبوت ایک امر اعتباری رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ!
علاوہ ازیں چونکہ آئینہ کمالات اسلام کے مطابق اسماء منقسم ہو چکے ہیں لہٰذا اولیاء پر انبیاء کا اطلاق کرنا کیونکر ممکن ہے اور کیا اس سے صاف معلوم نہ ہو گا کہ کمالات مخصوص بالنبوۃ بھی باقی ہیں۔ پھر ختم نبوت کیا قابل فخر امر رہ جاتا ہے جبکہ کمالات نبوت بھی باقی ہیں۔ معجزات اور دعوٰی نبوت بھی باقی ہے۔ سارے امور تو باقی تسلیم کئے جائیں صرف براہ راست اور بوساطت کا فرق باقی رہ جاتا ہے۔ سو مرزا قادیانی نے اسے بھی اٹھا دیا ہے۔
”اب میں بموجب آیت کریمہ : ”وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ . “ اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٦‘ خزائن ص ٧٠ ج ٢٢)
اب فرمائیے کہ جب نبوت شکم مادر ہی میں مل جائے تو توسط فیض و ظلیت بھی نابود
٩
ہو جاتا ہے۔ پھر اگر اس پر بھی تمہارا دل گوارا کرتا ہو تو بعد خاتم الانبیاء ﷺ کے جسے چاہے نبی بنا دو۔ مگر یاد رکھو اب خدا کسی کو نبی نہیں بنائے گا۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ جب ایک امر کو خود بھی مجازاً کہا جاتا ہے تو پھر اس کا دعوٰی کیوں کیا جاتا ہے۔ دعوٰی کسی امر حقیقی کا ہوا کرتا ہے نہ اس امر کا جو بطور سایہ اور لباس مجاز ہو۔ اس بیان سے میری غرض یہ ہے کہ کمالات نبوت موہبت الہیہ میں غایۃ الغایات ہیں جس کے تحت میں جمیع کمالات مندرج ہیں۔ پس جو کمال بھی ہے کمالات نبوت سے ہی ہے۔ لہٰذا کمالات نبوت جن کو کمالات ولایت کہا جاتا ہے باقی ہیں اور وہ کمالات نبوت جن سے کسی کو نبی کہلانے کا استحقاق ہو سکتا ہے بکلی مسدود ہیں۔ لہٰذا ظلی طور سے بھی ان کمالات کا حاصل کرنا جو خصوصیات نبوت سے ہیں محض غلط ہے۔ کیا جس قدر ہم میں افعال و کمالات ہیں وہ سب خدائی کمال کے اظلال نہیں؟۔ ظاہر ہے کہ ہمارا وجود ارادہ قدرت سمع و بصر سب خدا کے یہاں سے آئے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے کہ خدا بھی موجود ہے اور ہم بھی موجود ہیں وہ بھی سمیع و بصیر ہے ہم بھی سنتے اور دیکھتے ہیں۔ مگر نہیں کہا جاسکتا کہ ہم ظلی طور سے خدا ہیں۔ کیونکہ جس امر سے خدائیت کا اطلاق ممکن ہو اس کا حصول ظلی حقیقی ہر طور سے محال ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص جمیع کمالات الہیہ کو اپنے اندر تسلیم کرے۔ اگرچہ ظلاً ہی کیوں نہ سہی تو وہ کھلا مشرک ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے میں اور خدا میں صرف اعتباری فرق رکھا ہے۔ ورنہ بحقیقت مدعی مساوات ہے۔ کیونکہ اصل و تبع کا اگر فرق نکلے گا تو قبل حصول کمالات نکلے گا مگر بعد میں جبکہ تبع میں بھی اصل کے جمیع کمالات موجود ہو گئے امتیاز نہ رہے گا جیسا کہ ایک شاگرد استاذ سے اس وقت تک ناقص تسلیم کیا جاسکتا ہے جب تک کہ وہ استاذ کے کمالات سے بہرہ ور نہیں ہوا۔ مگر جب وہ استاذ کے جمیع کمالات اپنے اندر حاصل کر لے تو پھر حالت موجودہ اس میں اور اس کے استاذ میں کیا فرق ہے۔ ہاں! اگر فرق کیا جائے گا تو زمانہ ماضی کے لحاظ سے بالکل اسی طریق پر کمالات نبوت کا باسرہا (مجموعہ) تسلیم کرنا اصل و فرع میں امتیاز اٹھا دینا ہے اور در حقیقت یہ ایک زہر ہے جو ظل کا بہانہ کر کے مسلمانوں کو پلایا جارہا ہے۔ ورنہ ایسا شخص اصل میں حضور نبی کریم ﷺ سے مساوات کا مدعی ہے۔ الحاصل اطلاق نبوت کو مثل دیگر
١٠
اصطلاحوں کو ایک معمولی اصطلاح سمجھنا یہی سب سے اول اصولی غلطی ہے۔ گو یہ صحیح ہے کہ نبی کا لفظ لغۃ مخبر کے معنوں میں آتا ہے مگر اس معنی کے لحاظ سے تو کافر پر بھی نبی کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ لغۃ اس کے معنی میں قید اسلام بھی ملحوظ نہیں۔ لیکن چونکہ قرآن شریف میں رسول اللہ اور نبی اللہ کا لفظ مستقل نبیوں کے لئے مخصوص ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ سارے قرآن میں ایک جگہ بھی رسول اللہ اور نبی اللہ کا لفظ لغوی معنوں پر نہیں بولا گیا بلکہ اسی اپنی مقرر اصطلاح پر بولا گیا ہے۔ لہٰذا ایسے لفظ کو جو شرعاً کسی معنی کے ساتھ مختص ہو کر مہجور ہو چکا ہے۔ لغت کی رو سے بھی استعمال کرنا بے شک ممنوع کیا جائے گا۔ کیونکہ اس اختصاص کی وجہ سے ذہن اسی معنی کی طرف متبادر ہو گا۔ جو اہل اسلام میں شائع ہو چکے ہیں۔
دیکھئے مرزا غلام احمد قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ کسی لفظ کے متعلق ہم ایسی اصطلاح نہیں قائم کر سکتے جو قرآن شریف کی مقرر شدہ معنوں کے مخالف ہو اور یہ بھی کہ بعد نبی کریم ﷺ کے اب کسی پر لفظ نبی کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔ پس اگر لفظ نبی بھی مثل اور معمولی اصطلاحوں کے ہوتا تو مرزا قادیانی اس کے متعلق کیوں امتناع اطلاق کا فتویٰ دیتے اور لغوی معنی کی رو سے اطلاق کرنا کیوں ہتک قرار دیتے؟۔
مرزا قادیانی کے فتویٰ کے بموجب بھی نبی کا اطلاق مہجور و ممنوع ہے
”کسی کا اختیار نہیں ہے کہ ان معنوں کو بدل ڈالے اور ہم اس بات کے مجاز نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسے معنی ایجاد کریں کہ جو قرآن شریف کے بیان کردہ معنوں سے مغائر اور مخالف ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٢ خزائن ص ١٤٦ ج ٢٢)
اس کی مزید توضیح اس طور سے فرماتے ہیں کہ :
”ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ قرآن شریف سے پہلے عرب کے لوگ اللہ کے لفظ کو کن معنوں پر استعمال کرتے تھے۔ مگر ہمیں اس بات کی پابندی کرنی چاہئے کہ خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں اول سے آخر تک اللہ کے لفظ کو انہیں معنوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧١ خزائن ص ١٧٦ ج ٢٢)
١١
اس مقام پر ہر چند کہ ذکر خصوصاً لفظ اللہ کے ہی متعلق ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ قاعدہ مخصوص نہیں کیونکہ در حقیقت یہ ایک قیاس معنوی کا کبرٰی ہے جس کے لئے کلیتہً شرط انتاج ہے۔ لہٰذا اگر اسے مخصوص مانا جائے تو پھر لفظ اللہ کے متعلق یہی مرزا قادیانی کا دعوٰی ثابت نہیں ہوتا۔ پس اس عمومی فتویٰ کے موافق کسی اصطلاح مقرر کرنے والے کو ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ جس لفظ کی وہ اصطلاح مقرر کر رہا ہے۔ کہیں وہ قرآن شریف میں کسی معنی کے ساتھ مخصوص تو نہیں ہو چکا۔ کیونکہ اگر مخصوص ہو چکا ہے تو پھر اس کو قرآن شریف کے مقرر کردہ معنوں کے خلاف کسی معنی پر اطلاق کرنے کا۔ گو وہ کلام عرب کے موافق ہی کیوں نہ ہو کوئی حق نہیں پہنچتا۔ لہٰذا اس اصل کے ماتحت ہمیں لفظ نبی اللہ اور رسول اللہ کو بھی دیکھنا چاہئے اور قرآن کے تتبع کے بعد اس کے کوئی معنی بیان کرنے چاہئیں۔ مگر یہ امر تو بالاستقراء ثابت ہے کہ قرآن نے کسی ایک مقام پر بھی اس لفظ کو لغوی معنوں پر استعمال نہیں کیا۔ اگر کوئی دعوٰی کرے تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہوگا۔ پس ایسی حالت میں جبکہ رسول اللہ اور نبی اللہ کا لفظ قرآن شریف میں ایک مقرر معنوں کے لئے مخصوص ہو چکا ہے۔ کسی مصطلح کا اس کو ظلی نبوت کے لئے وضع کر لینا جس کو مجازی نبوت بتلایا جاتا ہے کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔ کیا یہ قرآن کے مقرر کردہ معنوں کی مخالفت نہیں ہے؟۔
اس کے بعد اسی اصل کے موافق مرزا قادیانی کے الہام : ”قُلْ یٰاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا“ (مندرجہ تذکرہ ص ٣٥٢ طبع سوم) میں اگر رسول اللہ سے ظلی رسول مراد لیا جائے تو یہ معنی قرآن شریف کے بیان کردہ معنوں کے مخالف ہوں گے اور مجھے یقین ہے کہ وہ خدا جس نے اپنی اصطلاح کو نبی کریم ﷺ جیسے اولوالعزم کے ذریعہ سے ایک مرتبہ پختہ کر دیا ہے۔ وہ مرزا قادیانی جیسے نبی کے لئے (بزعم مرزائیان) اپنی مقرر شدہ اصطلاح کو نہیں بدلے گا اور اگر خدا نے مرزا قادیانی کے لئے اپنی اصطلاح بدل دی ہے تو پھر مرزا قادیانی فضول لفظ توفی میں جھگڑا کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال کے موافق اگر لفظ توفی کا کسی معنی کے لئے مخصوص بھی ہو چکا ہو۔ جب بھی خدا کو اختیار ہے کہ اس نے بحق عیسیٰ علیہ السلام اپنے اس مقرر شدہ اصطلاح کے بر خلاف کسی اور معنی کا ارادہ کر لیا ہو۔
١٢
جبکہ آج وہ خدا رسول اللہ سے ظلی رسول مراد لے سکتا ہے۔ حالانکہ آج سے پیشتر کہیں اس نے رسول اللہ بول کر کسی کو ظلی نبی نہیں بنایا نہ مستقل نبی ہی بنایا ہے۔ تو پھر وہی خدا اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ قرآن میں ٢٣ جگہ لفظ ”توفی“ کا استعمال کرے اور ٢٢ جگہ بزعم مرزا قادیانی موت مراد لے اور ایک جگہ رفع بجسدہ مراد لے۔
مگر مرزا قادیانی نے توفی میں اسے محال سمجھا ہے۔ اور اگر اس الہام میں اپنے مقرر شدہ اصطلاح کو بدلا نہیں تو پھر مرزا قادیانی خاصے مستقل نبی بنے جاتے ہیں۔ جس کا دعویٰ بالاتفاق کفر ہے۔
اس کے بعد مرزا قادیانی تصریح ملاحظہ ہو :
”مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ نبوت تامہ کاملہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔“
(الوصیت ص ١٠‘ خزائن ص ٣١١ ج ٢٠)
”آنحضرت کے بعد کسی پر لفظ نبی کا اطلاق بھی جائز نہیں۔“
(حاشیہ تجلیات الہیہ ص ٢٨‘ خزائن ص ٤١٢ ج ٢٠)
اول عبارت سے معلوم ہوا کہ صرف نبی کا لفظ استعمال کرنا اس لئے ممنوع ہے کیونکہ اس میں حضور ﷺ کی ہتک ہوتی ہے۔ مگر اب جس کا جی چاہے نبوت کا دعویٰ کر کے نبی کریم ﷺ کی ہتک کرے ؟۔ والعیاذ باللہ!
دوسرے حوالہ میں صراحۃً اطلاق لفظ نبی کے عدم جواز کی تصریح ہے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ اگر کوئی شخص مجازاً یا ظلاً کسی طور سے بھی اپنی نسبت صرف نبی کے لفظ کو اطلاق کرتا ہے وہ نبی کریم ﷺ کی ہتک کرتا ہے اور جو نبی کریم ﷺ کی ہتک کرتا ہے وہ بلا ریب کافر ہے۔ لہٰذا بمقتضائے فتویٰ ہٰذا جو شخص بھی جس معنی کے لحاظ سے اپنی نسبت صرف لفظ نبی کا استعمال کرے گا۔ وہ کافر ہو گا خواہ وہ مرزا قادیانی ہی کیوں نہ ہوں۔ مگر ممکن ہے کہ جیسا خدا نے مرزا قادیانی کے لئے اپنی مقرر شدہ اصطلاح کو بدل دیا ہے۔ شاید ان کے لئے نبی کریم ﷺ کی ہتک بھی جائز کر دی ہو؟۔ والعیاذ باللہ!
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جب ایک شخص کو خدا نے محدث بنایا ہے نبی نہیں بنایا
١٣
تو پھر وہ کیوں خواہ مخواہ اس منصب کو جو اس کے حاصل نہیں ہے مجاز اور استعارہ کی آڑ لے کر اپنے لئے ثابت کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ اپنے اس بے ہودہ اقوال سے عوام میں ایک تشویش پھیلانا اور سادہ لوحوں کو فریب دینا مقصود ہو اور اس میں کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور سے فرض کیجئے لفظ مجدد لغۃً تجدید کرنے والے کو کہتے ہیں۔ چاہے وہ کسی امر کی تجدید کرے۔ اس لغوی معنی کی رو سے ہر شخص مجدد بن سکتا ہے؟۔ پس اگر اس اصطلاح کے موافق میں اپنی مجددیت کا اعلان کر دوں اور جب لوگ مجھے دیوانہ قرار دیں تو جھٹ لغۃ کی آڑ لے کر کہہ دوں کہ کیا لغۃ کی رو سے میں مجدد نہیں ہوں۔ کیا ایک تھانہ دار کو حق ہے کہ وہ مجازاً اپنے آپ کو انسپکٹر کہتا پھرے اور اس پر طرہ یہ کہ اگر کوئی شخص اس کی انسپکٹری سے انکار کرے تو اس کی جان کو آجائے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اپنے ایک مرید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ (ملاحظہ ہو ایک غلطی کا ازالہ) اور اس بیچارہ کو خوامخواہ ڈانٹ رہے ہیں۔ کیا یہ ساری باتیں کسی صحیح الحواس شخص سے سرزد ہو سکتی ہیں؟۔ ایسے شخص کا سوائے عوام کو دھوکہ دہی کے اور کوئی مقصد نہیں ہو سکتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی خود تحریر فرماتے ہیں کہ لفظ نبی کے مجازی اطلاق میں بھی دھوکہ کا احتمال ہے۔
مرزا قادیانی کے کلام سے ثبوت کہ لغۃً بھی لفظ نبی کا
اطلاق کرنے میں دھوکہ کا احتمال ہے
”غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ خزائن ص ٢٧ ج ١١)
یہ لفظ بہت زیادہ قابل غور ہیں۔ کیونکہ جب فقط بول چال میں لانے سے دھوکہ کا احتمال ہے۔ پس اگر اس کے ساتھ ہی تحدیانہ دعویٰ کر دیا جائے تو پھر اس احتمال کو خوب ہی پختہ کر دینا ہے۔ لہٰذا خدارا مدعین نبوت، امت کے حال پر رحم کریں اور امت کو جبکہ وہ سینکڑوں مصائب میں مبتلا ہے خواہ مخواہ دھوکہ دے کر اور نئی مصیبت میں مبتلا نہ کریں۔ خواہ
١٤
وہ مرزا قادیانی ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کی خدمت میں بھی ہماری یہی درخواست ہے۔ علاوہ ازیں ہر لفظ کو اگر مجازاً اطلاق کیا جاسکتا ہے تو پھر یہ تو شرک کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ ملائکہ کو مجازاً بنات اللہ بھی کہا جاسکے گا۔ مقربین کو استعارہ کے طور سے ابن اللہ بھی کہا جاسکے گا۔ اور صالحات کو مجازاً ازواج اللہ سے بھی موسوم کر سکیں گے۔ ظلی طور سے خدا بھی بن سکیں گے۔ والعیاذ باللہ !
قرآن تو ان ساری باتوں کی جڑ نکالتا ہے۔ مگر یہی قرآن کو چھوڑ کر مجاز کی پابندی رہی تو پھر ازواج اللہ کے دعوے ہونے لگیں۔ بزرگوار نبی کا دعویٰ کریں اور ان کی اہلیہ شریف زوج اللہ ہونے کا۔ اور ان کے پسر ابن اللہ کا اور اس طور سے مدعین نبوت خوب اپنے گھر کو رونق دے سکیں گے۔
میں پھر کہتا ہوں کہ للہ ! امت کے حال پر رحم کھاؤ اور وہ راہیں مت ایجاد کرو جس سے صادق اور کاذبوں کا رہا سہا فرق بھی اٹھ جائے۔ کیونکہ اس کے بعد امت کے ہاتھ میں پھر کوئی ذریعہ صادقین کی شناخت کا نہیں۔ اس کا افسوس ہے کہ خدا کے سچے پیغمبر نے کاذبین کی ایک موٹی علامت اپنی امت کو بتلائی تھی۔ یعنی دعویٰ نبوت۔ مگر آج کوشش ہے کہ اس علامت کو ہم سے چھین کر ہم کو اندھیرے میں ہی چھوڑ دیا جائے اور اس طور سے بیچارے مظلوم جاہلوں کے لئے ہر نبی کی تصدیق کا ایک باب واسع کیا جائے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک نبوت ظلیہ کی بنیاد شرک کی بنیاد ہے
”یہ مسلم مسئلہ ہے کہ بجز خدا تعالیٰ کے تمام انبیاء کے افعال اور صفات نظیر رکھتی ہیں تاکہ کسی نبی کی کوئی خصوصیت منجر بہ شرک نہ ہو جائے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦، خزائن ص ٩٥ ج ١٧)
اس عبارت سے ظاہر ہے کہ کسی نبی میں کوئی ایسی صفت تسلیم نہیں کی جاسکتی جس کی انبیاء سابقین میں نظیر نہ ہو اور اسی قاعدہ کے ماتحت مرزا قادیانی نے رفع عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا ہے۔ کیونکہ ان کے زعم کے موافق مخصوص عیسیٰ علیہ السلام کے لئے رفع تجویز کرنا
١٥
شرک کی بنیاد قائم کرنی ہے۔ اگر مرزا قادیانی کا یہ قاعدہ فقط رفع عیسیٰ علیہ السلام سے انکار کے لئے موضوع نہیں ہوا ہے۔ تو پھر نبوت ظلیہ کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک کسی نبی کے اتباع سے نبوت ملنا یہ فقط خاتم الانبیاء علیہم السلام کا خاصہ ہے اور اسی معنی سے انہوں نے نبی کریم ﷺ کو صاحب خاتم مانا ہے۔ جیسا کہ آئندہ حوالہ آتا ہے۔ یہی وہ نبوت ہے جس کا نام انہوں نے نبوت ظلیہ رکھا ہے۔ جیسا کہ ان کی تصانیف میں غیر محصور مقامات پر موجود ہے۔ وعلیٰ ہذا نبوت ظلیہ اگر باتباع نبی کریم ﷺ حاصل ہو سکتی ہے تو پھر یہ آنحضرت ﷺ کی ایسی خصوصیت ہو گی جس کی کسی نبی میں نظیر نہیں ملتی۔ لہذا یہ کہنا کہ نبی کریم ﷺ کے اتباع سے نبوت ظلیہ ملتی ہے ایک مشرکانہ خیال کی بنیاد ڈالنا ہے اور اگر یہ خصوصیت آنحضرت ﷺ میں تسلیم کی جاسکتی ہے اور باوجود اس کے پھر بھی منجر الی الشرک نہیں ہوتی تو پھر رفع عیسیٰ علیہ السلام سے کیونکر انکار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد جبکہ میں نے مرزا قادیانی کے کلام سے ہی ثابت کر دیا کہ بروزی اور ظلی نبی کوئی شے نہیں اور یہ اطلاق لفظ نبی آنحضرت ﷺ کے بعد ہر اعتبار سے ممنوع ہے۔ کیونکہ اس میں آپ ﷺ کی ہتک ہے۔ تو اب یہ بتلاتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک ظلی نبی کسے کہتے ہیں اور محدث کسے؟ اور کیا ان کی عبارات کے موافق یہ دونوں شے واحد ہیں یا مغائر؟۔
مرزا قادیانی کے نزدیک بروزی نبی کی حقیقت
”ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی فناء فی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی طرف سے اس کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے........... اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد ہی کو ملی گو بروزی طور پر........... “
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ص ٢٠٧ ج ١٨)
”اور کیونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں
١٦
ٹوٹی۔ کیونکہ محمد کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہر حال محمد ہی نبی رہا نہ اور کوئی۔ یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوں جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا.........“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨‘ خزائن ص ٢١٢ ج ١٨)
”پس جیسا کہ ظلی طور پر اسکا نام لے گا اس کا خلق لے گا اور اسکا علم لے گا ایسا ہی اس نبی کا لقب بھی لے گا کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنی اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔ پس چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تصویر بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو ............ پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ جس طرح بروزی طور پر محمد اور احمد نام رکھے جانے سے دو محمد اور دو احمد نہیں ہو گئے۔ اس طرح بروزی طور پر نبی یا رسول کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خاتم النبیین کی مہر ٹوٹ گئی۔ کیونکہ وجود بروزی کوئی الگ وجود نہیں ............ تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ بروزی میں دوئی نہیں ہوتی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٠‘ خزائن ص ٢١٣ ج ١٨)
یہ ایک اردو کی سادہ عبارت ہے جس میں ظلی نبی کی پوری تصویر دی گئی ہے۔ اس عبارت کی رو سے کسی شخص کے ظلی نبی ہونے سے یہ مطلب ہو گا کہ : (١)...... تمام کمالات محمدیہ مع نبوت کے اس میں منعکس ہیں۔ (٢)...... اس نے وہی چادر پہنی ہے جو نبوت محمدیہ کی چادر ہے۔ (٣)...... وہ بعینہ خاتم الانبیاء اور آنحضرت ﷺ ہے۔ (٤)...... اس کے وجود میں اور آنحضرت ﷺ کے وجود میں دوئی نہیں۔ مسلمانو ! اگر تمہارے سینے میں دل اور دل میں کوئی شمع ایمان ہے تو کیا تم کسی شخص کی نسبت گمان کر سکتے ہو کہ اس نے نبوت محمدیہ کی وہی چادر پہن لی اور پھر اس کا تحمل بھی کر لیا۔ اس میں سارے کمالات محمدی مجتمع بھی ہیں۔ وہ خاتم الانبیاء علیہم السلام کہلانے کا مستحق بھی ہو گیا۔ اگر مجھ سے فتویٰ دریافت کرو تو میں ایسے ملعون کو ایک صحیح الحواس کافر بھی تسلیم نہیں کروں گا۔ اس کے بعد میں خود مرزا غلام احمد قادیانی کے کلام سے محدث کی تفسیر پیش کرتا ہوں۔ تاکہ معلوم ہو کہ معترض کا یہ دعویٰ کہ محدثیت ہی ظلی نبوت ہے کہاں تک صحیح ہے؟۔
١٧
مرزا قادیانی کے نزدیک محدث کے معنی
”ہاں محدث آئیں گے جو اللہ جل شانہ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کے بعض صفات ظلی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں“ اس عبارت میں محدث اس کو بتلایا گیا ہے جس میں نبوت تامہ کے بعض صفات ظلی طور پر ہوں اب ناظرین انصاف کریں کہ وہ محدث جو صرف بعض صفات ہی اپنے اندر رکھتا ہے کیونکر ظلی نبی ٹھہر سکتا ہے جو کہ جمیع کمالات کا جامع اور ہر ایک پہلو سے اپنی اصل کے کمالات کا مثنیٰ ہے۔ پس اگر محدثیت ہی ظلی نبوت ہے تو مرزا قادیانی کی ان دونوں عبارتوں میں سے ایک کی تکذیب لازم ہو گی (٢) اگر نبوت ظلیہ اور محدثیت شے واحد ہوں تو پھر جمیع انبیاء علیہم السلام کا صاحب خاتم ہونا لازم آتا ہے اور اس طور سے نبی کریم ﷺ کا یہ مخصوص طرہ امتیاز جمیع انبیاء علیہم السلام کے لئے عام ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ خاتم النبیین کے معنی مرزا قادیانی کے نزدیک یہ ہیں کہ اس کے اتباع سے اور اس میں فنا ہو کر نبوۃ مل سکتی ہے اسی نبوت کا نام ان کے مذہب میں ظلی نبوت ہے۔
”وہ خاتم الانبیاء ہے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا۔ بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا ............ اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ............ سو خدا تعالیٰ نے ان معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا ............ کیونکہ مستقل نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئی ہے مگر ظلی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٨٢، خزائن ص ٣٠، ٢٩ ج ٢٢)
یہی مضمون ضمیمہ براہین احمدیہ اور دیگر کتب میں بھی بکثرت موجود ہے۔ اس کے ساتھ دوسرا مقدمہ پیغام صلح کی عبارت ہے : ”یعنی محدثیت ہی ظلی نبوت ہے ............ ان دو مقدموں کے ساتھ تیسرا مقدمہ حدیث ہے : ” عن عائشةؓ عن النبی ﷺ انه كان يقول قد كان يكون فى الامم قبلكم محدثون فان يكن فى امتى منهم احد فعمر بن الخطاب منهم.“ حقیقت الوحی کے حوالہ سے ظاہر ہے کہ
١٨
آنحضرت کے خاتم النبیین ہونے کا یہ مطلب ہے کہ آپ ہی صاحب خاتم ہیں اور کوئی نبی بجز آپ کے صاحب خاتم نہیں اور صاحب خاتم ہونے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کی مہر سے نبی بنیں جو کہ ظلی نبی کہلائیں اور مقدمہ ثانیہ سے ثابت ہوا کہ محدثیت اور ظلی نبوت شئی واحد ہے مقدمہ ثالثہ سے معلوم ہوا کہ پہلی امتوں میں بہت سے محدث ہوئے ہیں بلکہ اگر حدیث کے الفاظ پر غور کرو تو پہلی امتوں میں محدثوں کا ہونا بہ نسبت اس امت کے زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اس امت کے حق میں یہ الفاظ ہیں :
”اگر میری امت میں سے کوئی محدث ہو گا تو عمرؓ ہو گا۔“
اس سے جس قدر تقلیل معلوم ہوتی ہے محتاج بیان نہیں۔ اب ان تینوں مقدموں کو اگر ملاؤ تو بداہتہً نتیجہ نکلتا ہے کہ ظلی نبی گزشتہ امتوں میں بہ نسبت اس امت کے بہت زیادہ ہوئے ہیں۔ کیونکہ بحکم مقدمہ ثانیہ محدثیت ہی ظلی نبوت ہے اور بحکم حدیث محدثین کی کثرت امم سابقہ میں متحقق ہے۔ لہٰذا لازم آتا ہے کہ پہلی امتوں میں بہت سے ظلی نبی گزر چکے ہیں۔ وعلیٰ ہذا انبیاء سابقین بھی صاحب خاتم ٹھہرے کیونکہ ان کی مہر سے بھی محدث بنے جو کہ بعینہ ظلی نبی ہیں۔ بلکہ ان کو صاحب خاتم کہنا بہ نسبت آنحضرت ﷺ کے زیادہ لائق ہونا چاہئے کہ انہوں نے بہت سے ظلی نبی بنائے اور آنحضرت ﷺ نے ١٣٠٠ برس میں فقط ایک مرزا قادیانی کو ہی بنایا۔ وہ بھی زیر اختلاف رہے۔ نعوذ باللّٰہ من ھٰذا الخرافات اور اگر امم سابقہ میں محدثین کا وجود نہ مانا جائے تو علاوہ وہ مخالفت حدیث کے سارے ادیان سماویہ کو لعنتی قرار دینا پڑے گا۔
”وہ دین دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٣٨‘ ١٣٩ خزائن ص ٣٠٦ ج ٢١)
پس یا تو سارے ادیان سماویہ کو لعنتی ٹھہرایا جائے یا جمیع انبیاء علیہم السلام کو صاحب خاتم مانا جائے۔ لہٰذا ظلی نبی اور محدث کسی طرح واحد نہیں ہو سکتے۔ بلکہ ظلی نبی وہی لوگ ہیں جن کی مرزا قادیانی نے ”اشتہار ایک غلطی کا ازالہ“ میں خود تصریح کر دی ہے اب میں مرزا
١٩
قادیانی ہی کے کلام سے بتلاتا ہوں کہ مدعی نبوت ظلیہ صادق ہو سکتا ہے یا کاذب۔ اس فیصلہ کے لئے انہی کی کتاب تحفہ گولڑویہ سے ایک معیار پیش کرتا ہوں جو انہوں نے خود اسی غرض کے لئے مقرر کیا ہے۔
مرزا قادیانی کا صدق اور کذب کے شناخت کا ایک معیار
”سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اس کی نظیر کوئی نہیں ہوتی۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦ خزائن ص ٩٥ ج ١٧)
اولاً میں یہ بتلانا مناسب سمجھتا ہوں کہ مرزا قادیانی سے قبل کوئی بروز عیسوی بنایا نہیں؟۔ صحابہؓ سے لے کر تاحال کسی کو فنائیت کا مرتبہ نصیب ہوا یا نہیں۔ اگر بروز عیسوی بھی بنے اور مقام فنا تک بھی پہنچے تو ان کے دعوے کی کیا یہی نوعیت رہی ہے جو مرزا قادیانی کے دعوے کی ہے۔ اگر نہیں تو پھر یہ عملی رنگ میں انقطاع نبوت کا بین ثبوت ہو گا اور بر تقدیر نظیر نہ ملنے کے کسی شخص کا ایسا دعویٰ کرنا قطعاً جھوٹ ہو گا۔
”ایسا ہی جو شخص اس پاک تعلیم کو اپنا رہبر بنائے گا وہ بھی یسوع کی مانند ہو جائے گا یہ پاک تعلیم ہزاروں کو عیسیٰ مسیح بنانے کے لئے تیار ہے اور لاکھوں کو بنا چکی ہے۔“
(سراج الدین کے چار سوالوں کا جواب ص ٢٢ خزائن ص ١١٨ ج ١٢)
آنحضرت ﷺ کی جماعت نے اپنے رسول مقبول کی راہ میں ایسا اتحاد اور ایسی روحانی یگانگت پیدا کر لی تھی کہ اسلامی اخوۃ کی رو سے سچ مچ عضو واحد کی طرح ہو گئی تھی اور ان کے روزانہ برتاؤ اور زندگی اور ظاہر و باطن میں انوار نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ آنحضرت ﷺ کی عکسی تصویریں تھیں۔
(فتح اسلام ص ٣٥‘ ٣٦ خزائن ص ٢١ ج ٣)
”کیونکہ حضرت عمرؓ کا وجود ظلی طور پر گویا آنحضرت ﷺ کا وجود ہی تھا۔“
(ایام الصلح ص ٣٥ خزائن ص ٣٩ ج ١٤)
اور آپ (یعنی ابوبکر صدیقؓ) کتاب نبوت کا اجمالی نسخہ تھے ................. اور
٢٠
ہمارے رسول اور سید ﷺ کی طرح سارے آداب میں ظل کی مانند تھے۔“
(سر الخلافہ ص ٣٢‘ خزائن ص ٣٥٥ ج ٨)
ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ اس امت میں لاکھوں عیسیٰ مسیح بن چکے ہیں اور آپ کی جماعت کی جماعت بہ باعث کمال اتباع عکسی تصویریں بھی ٹھہریں اور حضرت عمرؓ کا وجود ظلا آنحضرت ہی کا وجود بھی قرار دیا گیا۔ اور نہ فقط اتنا ہی بلکہ حدیث میں ان کے لئے محدثیت کی بشارت بھی وارد ہو چکی باایں ہمہ نہ ان لاکھوں میں سے کوئی مدعی مسیحیت نظر آتا ہے نہ اس جماعت کی جماعت میں سے کوئی مدعی نبوت ظلیہ پایا جاتا ہے بلکہ میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے لیکر اس وقت تک جماعت حقہ میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ ملے گا جس نے حالت سکر نبوت یا مسیحیت کا دعویٰ کیا ہو۔ مخالفین کو مقابلہ پر بلایا ہو۔ طرح طرح سے لوگوں کو ملزم بنانے کی کوشش کی ہو اور نہ ماننے والوں سے اپنی جماعت کو ان سے علیحدگی کا حکم کیا ہو۔ بلکہ طرح طرح کے عذاب کی دھمکیاں بھی دی ہوں۔ اور بالآخر مباہلہ تک نوبت پہنچادی ہو۔
کیا کوئی مرزائی کہہ سکتا ہے کہ آج تک امت محمدیہ میں کوئی محدث نہیں گزرا حتی کہ جس کے لئے بشارت وارد ہو چکی وہ بھی محدث نہیں تھا؟ اور اگر گزرے ہیں تو برائے مہربانی ہم کو بتلا دیا جائے کہ کس محدث نے اس طرح سے اپنی محدثیت کی طرف دعوت دی ہے اور کب اس نے اپنے آپ کو ظلی نبی کہلوانے کی کوشش کی خصوصاً جبکہ مرزا قادیانی کے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ محدث نبی کی طرح اپنے دعوے کا اعلان کرے۔
”اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں باآواز بلند ظاہر کرے۔“
(توضیح مرام ص ١٨‘ خزائن ص ٦٠ ج ٣)
پس اگر مرزا قادیانی نے صرف محدثیت ہی کا دعویٰ کیا ہے تو امت کے سینکڑوں محدثوں میں سے کسی ایک ہی محدث کی نظیر لے آئیں جس نے ان کی مثل اپنی محدثیت اور نبوت ظلیہ کا اعلان کیا ہو اور اگر نہ لا سکیں تو سمجھ لیں کہ وہ اپنے دعوے میں بوجہ فقدان نظیر کاذب ہیں۔
٢١
عہد نبوت میں اطلاق نبوت کا انقطاع
ناظرین کرام کو مضمون بالا سے بخوبی واضح ہو گیا ہو گا کہ جبکہ صحابہؓ کے زمانہ سے لے کر اس زمانہ تک باقرار مرزا قادیانی لاکھوں عیسیٰ مسیح بھی گزرے اور محدث بھی ہوئے مگر پھر بھی کسی متنفس نے ان میں سے دعویٰ نبوت ظلیہ نہیں کیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے نزدیک ان پر فرض تھا کہ وہ مثل نبی کے اپنے تئیں اعلان کرتے مگر باوجود اس کے پھر ان کا ایسے دعوے سے دست بردار ہونا یقینی طور سے اس دعویٰ کے عدم جواز پر شہادت ہے۔ اس کے بعد ذرا اور اوپر چلئے اور عہد نبوت میں دیکھئے کہ خود اس صاحب خاتم ﷺ نے جبکہ وہ ان میں موجود تھا کس قدر لوگوں کو ظلی نبوت کی ڈگری پاس کرا دی اور کس کس کو مجازی نبی کا خطاب دیا اور اگر اپنی حیات ہی میں جبکہ اس کا فیض بلاواسطہ تھا اس نے کسی ایک کو بھی ظلی نبی نہیں بنایا تو اپنے بعد جبکہ اس فیض کے لئے سیرۃ صدیقی کا ایک واسطہ اور بڑھ گیا ہے کیسے ظلی نبی بنائے گا۔ (ہذا کلہ علیٰ زعم مرزا) حدیث میں ہے : ”انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی“ آنحضرت ﷺ حضرت علیؓ سے فرماتے ہیں۔ اے علیؓ! تو میرے لئے ایسا ہے جیسا کہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے لئے تھے مگر اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ دوم احادیث میں جو آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کے لئے مناسب مقرر فرمائے ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔
امام‘ خلیفہ‘ حکم‘ مجدد‘ محدث‘ ابدال۔ اگر آپ ﷺ کی امت میں نبی کا اطلاق بھی خواہ وہ کسی معنی کی رو سے ہو جائز ہوتا تو ضرور آنحضرت ﷺ اس کو بھی ذکر فرماتے۔ کیا وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی امت کو سارے القاب دیئے اور جو لقب کہ سب سے زیادہ باعث عزت تھا اس کو ایک جگہ بھی نہیں بیان کیا بلکہ : ”الا انہ لا نبی بعدی“ کہہ کر اس کی رہی سہی طمع کو بھی منقطع کر دیا۔ حدیث : ”العلماء ورثۃ الانبیاء“ نے جس کو مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنی تصانیف میں بہت جگہ لیا ہے‘ بالکل فیصلہ کر دیا کہ اس امت میں وارثین انبیاء کا خطاب علماء ہیں۔ پس کیا اے نبوت کے مشتاق تیرے لئے نبی کریم ﷺ کے عطا
٢٢
کردہ خطاب پر قناعت نہ تھی جو تو نے اپنے لئے خود اپنے آقا ہی کا لقب تجویز کر لیا اور اتنا بھی نہ سمجھا کہ اس میں میرے آقا کی اس قدر ہتک ہے۔ اگر وائسرائے کا ملازم خواہ وہ اس کا کتنا ہی مقرب کیوں نہ ہو اپنے لئے مجازی وائسرائے کا منصب تجویز کر کے مجازی ویسرایت کا دعویٰ شروع کر دے تو کیا اس نے اپنے آقا کی ہتک نہیں کی کہ اپنے آقا کی موجودگی میں اسی لقب کو اپنے لئے تجویز کرتا ہے۔
اے میرے عزیزو! یاد رکھو کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت تا قیامت باقی ہے اور جس طور پر کہ آنحضرت ﷺ بحالت موجودگی ہمارے لئے رسول تھے اسی طرح جبکہ ہماری آنکھوں سے پوشیدہ ہو چکے ہیں۔ ہمارے نبی اور رسول ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ بحیات نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں کون بد لگام بے ہودہ اس لقب کو اپنے لئے تجویز کر سکتا ہے۔ بلکہ احادیث پر اگر غور کرو تو تم کو معلوم ہو گا کہ مدعین نبوت کو حدیث دجال ٹھہراتی ہے۔ مگر افسوس کہ حدیث نے جس امر کو دجالیت کی علامت قرار دی تھی تم نے اس کو نبوت کی علامت سمجھی اور اتنا بھی نہ سمجھا کہ جب آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت منقطع ہو چکی تھی تو پھر مجازا اور استعارہ کی آڑ لے کر نبوت کے اطلاق میں کیا فائدہ تھا؟۔
مرزائیو مرزا غلام احمد قادیانی کی اقتداء میں
آنحضرت ﷺ کی مخالفت نہ کرو
یاد کرو جبکہ ایک شیطان نے بلی کی شکل میں آکر نبی کریم ﷺ کے روبرو قطع صلوۃ کا ارادہ کیا تو خاتم الانبیاء علیہم السلام نے اس کو ساریہ مسجد سے باندھنے کا قصد کیا اور صبح کو فرمایا کہ اگر مجھے سلیمان علیہ السلام کی دعا کا خیال نہ ہوتا تو میں اس کو اسی طرح رہنے دیتا۔ یہاں تک کہ بچے اس کے ساتھ کھیلا کرتے مگر اس دعا کے خیال سے میں نے اسے نہ باندھا ظاہر ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ ایسا کرتے بھی جب بھی سلیمان علیہ السلام کی دعا کی کوئی مخالفت لازم نہ آتی مگر یہ خاتم الانبیاء علیہم السلام ہی کا کمال تھا کہ باوجود قدرت کے پھر صوری معارضہ سے بھی احتراز کیا۔ اگر اس طرح خداوند عالم کے اس اعلان کے بعد
٢٣
”وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ، احزاب آیت ٤٠“ کسی شخص کا اپنی نسبت نبی کا اطلاق کر کے مدعی بن بیٹھنا۔ حالانکہ وہ ایک محدث ہی ہو بفرض محال اگر حقیقی مقابلہ نہیں تو صوری ضروری ہے۔
پس کیا فناء فی الرسول کا دم بھرنے والوں کے لئے ضروری نہ تھا کہ اپنے نبی کی ہتک سے باز آتے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے علاوہ اس امت میں کسی کو
نبی کا خطاب نہیں ملا
اب آخر میں خود مرزا قادیانی کے کلام سے اس امر کی شہادت پیش کی جاتی ہے کہ جمیع امت میں سے اطلاق نبی کے ساتھ وہی ایک فرد مخصوص ہیں اور ان کے خیال کے موافق کسی اور کو اطلاق نبی کا استحقاق بھی نہیں۔
”غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١ خزائن ص ٤٠٦ ج ٢٢)
پس اگر لاہوری جماعت کے خیال کے موافق مرزا قادیانی پر نبوت کا اطلاق بطور مجاز کے تھا تو اس عبارت کا صریح مطلب یہ ہے کہ ان کے علاوہ کسی پر نبوت کا اطلاق مجازاً بھی جائز نہیں۔ لہٰذا اب بحث طلب فقط مرزا قادیانی کی ذات رہ جاتی ہے جواز اطلاق نبی و عدم جواز کو اس بحث سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر نبوت مجازی آنحضرت ﷺ کے بعد مفتوح ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی سے قبل جس قدر محدث اور اقطاب گزرے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی اس نام کا استحقاق نہیں تھا۔ اگر کہا جائے کہ ان کی پیشین گوئیوں میں کثرت مفقود تھی جو کہ اس اطلاق کے لئے شرط ہے تو اولاً کثرت کا
٢٤
شرط ہونا لغۃً ثابت نہیں۔ دوم یہ بھی غلط ہے کہ مرزا قادیانی سے قبل کس کی پیشین گوئیوں میں کثرت نہیں پائی گئی۔
”حضرت خاتم الانبیاء کے ادنیٰ خادموں اور کمترین چاکروں سے ہزار ہا پیشین گوئیاں ظہور میں آتی ہیں اور خوارق عجیبہ ظاہر ہوتے ہیں۔“
(براہین احمدیہ چہار حصص حاشیہ نمبر ١١ ص ٥٣١ خزائن ص ٤٦٧ ج ١)
پھر کیا وجہ ہے کہ ان پر لفظ نبی کا اطلاق نہ کیا جائے اور جن عبارتوں سے آج مرزا قادیانی کے لئے استدلال کیا جاتا ہے۔ انہی عبارتوں کو میری طرف سے ان بزرگوں کے حق میں نہ سمجھا جائے۔ پس اگر ان عبارتوں کی وہی مراد ہے جو مرزائی سمجھے ہیں تو پھر انہی عبارتوں کے ماتحت ان ابدال اور اقطاب پر بھی لفظ نبی کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی صرف یہی نہیں فرماتے کہ ان پر لفظ نبی کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ ان کا عدم استحقاق بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اب آخر میں ان عبارتوں کے متعلق کچھ گفتگو کی جاتی ہے جن کو معترض صاحب نے اپنے لئے نص صریح سمجھا ہے۔
عبارات اکابر پر قادیانی اعتراضات کے جوابات
سب سے اول یہ امر غور طلب ہے کہ ان عبارتوں کو اس مقصد کے مخالف سمجھ کر پیش کیا ہے۔ ملاحظہ ہو پیغام صلح زیر عنوان ہم اور ہمارے مخالفین : ”مولوی مذکور نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بروز اور ظلی نبوت کا مدعی بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
اب اس دعوے کے مقابلہ میں ہمیں دیکھنا ہے کہ معترض صاحب جواز دعویٰ نبوت کہاں سے ثابت کرتے ہیں۔ ان دونوں عبارتوں میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے معلوم ہوتا ہو کہ دعویٰ نبوت جائز ہے۔ بلکہ میں سارے قادیانی اور لاہوری جماعت کو اپنے مقابلہ پر متحدیانہ دعوت دیتا ہوں کہ وہ کسی ایک باقاعدہ عالم یا صوفی کے کلام سے جواز دعویٰ نبوت کو ثابت کر دیں۔ ورنہ اپنے کفر کو خواہ مخواہ بزرگان دین کے سر نہ رکھیں۔ اس کے بعد پہلے میں امام شعرانیؒ کی عبارت کو لیتا ہوں : ” وبہ نستعین اعلم ان النبوة لم تر
٢٥
تفع مطلقا وانما ارتفع نبوة التشريع .“ فقط اولاً تو اس عبارت میں دعویٰ نبوت کے جواز یا عدم جواز کا ایک لفظ بھی نہیں۔ دوم یہ عبارت خود معترض کی بھی مخالف ہے۔ کیونکہ اس عبارت سے فقط نبوت تشریعیہ کا انقطاع معلوم ہوتا ہے۔ اب اس کے مقابلہ میں اگر نبوت غیر تشریعیہ کا جواز نکالا جائے تو لازم آتا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے نبی غیر تشریعی کا مطلقاً مبعوث ہونا جائز ہو۔ خواہ بالواسطہ نبی بنا ہو یا بلاواسطہ جیسا کہ حضرت ہارون علیہ السلام قوم بنی اسرائیل میں تھے ظاہر ہے کہ ان پر کوئی جدید شریعت نہیں تھی مگر ان کی نبوت بلاواسطہ تھی۔
جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ :
”بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں۔ حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔“
(حقیقت الوحی حاشیہ ص ٩٧‘ خزائن ص ١٠٠ ج ٢٢)
لہٰذا پہلے اس عبارت میں کہیں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ کی تفصیل پیدا کریں اسے ہمارے سامنے پیش کریں۔ ورنہ اپنے مخترعات کو بزرگوں کے سر نہ لگائیں۔ سوم لم ترتفع مطلقاً کیا ضرور ہے کہ بالنظر الی النبوۃ الظلیہ ہو جائز ہے کہ بالنظر الی المبشرات ہو بالخصوص جبکہ مبشرات کو حدیث میں بھی نبوت کا چالیسواں جز قرار دیا گیا ہے اور نبوت ظلیہ کا تو کہیں تذکرہ تک نہیں۔
اگر کہا جائے کہ مبشرات ہی نبوت ظلیہ ہیں تو میں کہتا ہوں کہ پھر یہ نبوت کیا ہوئی ایک مذاق ٹھہرا۔ کیونکہ اس معنی کے لحاظ سے تو ہر مومن نبی ظلی ہے مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میرے سوا امت میں سے کسی کو بھی نبی کے اطلاق کا حق حاصل نہیں۔ اسی مضمون کو بدیگر الفاظ یونہی تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ کلام اس مقام پر باعتبار الاجزاء ہے۔ نہ بحسب الافراد اس کے بعد دوسری عبارت شیخ عبد القادر جیلانی کی پیش کی گئی ہے : ”وقد كان الشيخ عبدالقادر الجيلي يقول أوتي الانبياء اسم النبوة واوتينا اللقب .“ یہ عبارت تو بجائے اس کے کہ کچھ مفید ہو مرزائی لغویات کی جڑ نکالتی ہے۔ میں پھر یہی کہوں
٢٦
گا کہ بزرگوں کی عبارت بلا سمجھے کیوں پیش کی جاتی ہے۔ ملاحظہ ہو اولاً تو شیخ عبدالقادر جیلانی نے خود اپنے آپ کو اوتی الانبیاء میں انبیاء سے جدا کر دیا ہے اور واوتینا فرمایا ہے اگر ان پر بھی نبی کا اطلاق ممکن تھا تو انبیاء میں سے اپنے آپ کو کیوں خارج کیا اور کیوں علیحدہ طور سے واوتینا فرمایا جبکہ ان پر بھی نبوت کا اطلاق جائز تھا دوم واوتینا اللقب سے صاف ظاہر ہے کہ ان پر اسم نبوت کا اطلاق کسی طرح جائز نہیں کیونکہ ”اوتینا اللقب‘ اوتی الانبیاء اسم النبوۃ ۔“ کے مقابلہ میں ہے۔ پس اس عبارت سے اطلاق نبی کا جواز نکالنا سراسر دھوکہ دہی ہے۔ اس تقدیر پر عبارت یوں ہونی چاہئے تھی : ” لأوتينا نحن والانبياء اسم النبوۃ ۔ “مگر یہاں ”انبیاء“ اسم نبوت کو مخصوص بالانبیاء قرار دیا گیا ہے۔
پس کس قدر صریح بددیانتی ہے کہ جس امر کو شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے مخصوص بالانبیاء قرار دیکر اپنے آپ کو اس سے بالتصریح جدا بھی کر لیا ہو ایسی عبارت سے ان کی مراد اور صریح لفظوں کے برعکس اسم نبی کا اطلاق ثابت کیا جائے۔ سوم اگر کچھ بھی دیانت تھی اور امام شعرانیؒ سے واقعی حسن ظنی تھی تو عوام کے روبرو اس عبارت کی شرح میں جو امام شعرانیؒ کی عبارت ہے وہ بھی نقل کر دینی چاہئے تھی مگر جس بات کو آپ نے مضر سمجھا اس کا حذف کر دینا ہی دیانت سمجھا اور ”نؤمن ببعض ونکفر ببعض کا خوب نمونہ پیش کیا۔
اسی کتاب الیواقیت میں اس عبارت کی شرح میں امام لکھتے ہیں کہ : ” ای حجر علینا اسم النبی “ یعنی ہم پر اسم نبی کا روک دیا گیا ہے۔ لہذا کسی نبی کا اطلاق نہ کیا جا سکے گا۔
کہئے معترض صاحب کل تک تو امام شعرانی سیدنا وابن سیدنا تھے۔ آج تو شرنا وابن شرنا کہئے گا۔ والعیاذ باللہ ! چہارم اگر نبوت کے دعوے کو وہ ظلی طور سے ہی سہی ، شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے نزدیک جائز ہوتے تو پھر کیا سبب ہے کہ کبھی انہوں نے ایسا دعویٰ نہیں فرمایا نہ کبھی تحدیانہ قصائد لکھے نہ مباہلے کئے۔ بلکہ مرزا قادیانی کے نزدیک تو شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو اپنی نسبت لفظ نبی کے اطلاق کا استحقاق ہی نہیں تھا۔ اگر وہ اطلاق کر بھی لیتے تو جب بھی مرزا قادیانی کے فرمان کے سامنے کون مرزائی تسلیم کرتا۔
الغرض اولاً تو یہ دونوں عبارتیں دعویٰ نبوت سے متعلق ہی نہیں تاکہ ثابت ہوتا
٢٧
کہ مدعی نبوت ظلیہ کافر نہیں، دوم یہ عبارتیں خود معترض کے لئے سخت مضر ہیں، سوم یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس عبارت میں نبوت ظلیہ کا نام تک نہیں پھر بقاء نبوت ظلیہ پر اس عبارت سے کیونکر احتجاج صحیح ہے۔ یہ بات بھی عجیب ہے کہ پہلے نبوت ظلیہ اپنی طرف سے ایک حقیقت مسلمہ مان لی۔ اس کے بعد ان حضرات کے کلام سے اس کا بقاء ثابت کرنا شروع کر دیا۔ مہربان پہلے یہ بھی ثابت کریں کہ صوفیا کے نزدیک نبوت ظلیہ کا اس تفسیر کے ساتھ جو مرزا قادیانی نے کی ہے کہیں وجود بھی ہے یا نہیں؟ اور اگر اپنی اصطلاح گھڑ کر بزرگوں کے کلام میں داخل کی جاسکتی ہے تو اگر آج میں یہی ایک اصطلاح مرتب کروں اور اس کا نام نبوت الٰہیہ رکھوں تو پھر کیا اس عبارت سے اطلاق لفظ اللہ پر بھی استدلال کیا جاسکتا ہے یہ میرا دوسرا چیلنج ہے سارے مرزائی کان کھول کر سن لیں کہ جماعت متشرعین صوفیہ میں سے کسی ایک فرد نے بھی نبوت ظلیہ کی وہ ملحدانہ حقیقت تسلیم نہیں کی جو مرزا قادیانی نے اپنی کتب میں فخر کے ساتھ پیش کی ہے۔ اگر کوئی مرزائی دکھا سکتا ہے تو دکھائے۔
ہم ذیل میں اس کتاب سے جس کو معترض صاحب نے پیش کیا ہے چند عبارتیں بطور مقابلہ درج کرتے ہیں۔ ناظرین خود اندازہ کر لیں گے کہ مرزا قادیانی کے زندقہ سے صوفیاء کرام کا دامن کس قدر پاک ہے۔ جس کو آج ان کے متبعین اپنے مرزا قادیانی کی صفائی کے لئے ناپاک کرنا چاہتے ہیں ایک طرف جو عقائد کہ مرزا قادیانی کے دربارہ نبوت ان کی کتب سے معلوم ہوئے ہیں درج کئے جاتے ہیں اور دوسری طرف امام شعرانیؒ نے جو شیخ محی الدینؒ وغیرہ کے عقائد جمع کئے ہیں ان کو لکھا جاتا ہے ناظرین بغور ملاحظہ فرمائیں۔ سردست چند ہی امور پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اگر خدا نے توفیق دی تو کسی دوسرے موقعہ پر زیادہ بسط و تفصیل کے ساتھ کلام کیا جائے گا۔
عقائد مرزا قادیانی
- (الف)........... نبوت ظلیہ نبی ﷺ کے اتباع سے مل سکتی ہے :
- ١....... پس کیونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تصویر
٢٨
بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہے۔٢......اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ میں ظلی طور پر محمد ہوں میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨‘ خزائن ص ٢١٢ ج ١٨)
(ب).........اور جبکہ انبیاء کے کمالات اجزاء متفرقہ کی طرح ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ہم سب کے سب طلب کریں اور ان تمام اجزاء کے مجموعہ کو اپنے نفوس میں جمع کریں............الخ۔“
(حمامتہ البشریٰ ص ٧٨‘ خزائن ص ٢٩٥ ج ٧)
(ج)..........مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس نبی کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسیٰ سے بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے............خدا تمہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تم اس رسول کی کامل پیروی کی برکت سے تمام رسولوں کے متفرق کمالات اپنے اندر جمع کر سکتے ہو اور تم صرف ایک نبی کے کمالات حاصل کرنا کفر جانتے ہو۔“
(چشمہ مسیحی ص ١٤‘ خزائن ٣٥٤‘ ٣٥٥ ج ٢٠)
(د)..........یہ یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے۔ پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشین گوئیاں ہیں۔ جن کی رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥‘ حاشیہ خزائن ص ٢٠٩ ج ١٨)
عقائد شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ
”(فان قلت) فهل النبوة مكتسبة اوموهبة فالجواب اليست النبوة مكتسبة حتى يتوصل اليها بالنسك والرياضات كما ظنه جماعة من الجمقى ........... وقد افتى المالكية وغيرهم بكفر من قال ان النبوة مكتسبة ص ١٤٧ ج ١ فلا تلحق نهاية الولاية بداية النبوة ابدا ولوان وليا تقدم الى العين التى ياخذ منها لانبياء لا حترق . وقال الشيخ اعلم ان الله تعالى قد سد باب الرسالة عن كل مخلوق بعد محمد الى يوم القيامة وانه لا مناسبة بيننا بين محمد لكونه فى مرتبة لا ينبغى ان تكون لنا وقال فى
٢٩
شرحه لترجمان الاشواق اعلم ان مقام النبى ممنوع لنا دخوله وغاية معرفتنا به من طريق الارث النظر اليه كما ينظر من هو فى اسفل الجنة الى من هو فى اعلى عليين وكما ينظر اهل الارض الى كواكب السماء وقد بلغنا عن الشيخ ابى يزيد انه فتح له من مقام النبوة قدر خرم ابرة تجلياً لا دخولاً فكاد ان يحترق ٠ ص ٦٤ ج ٢“
خلاصہ ترجمہ :....... نبوت اکتساب سے حاصل نہیں ہو سکتی تا کہ کوئی شخص عبادت کر کے نبوت حاصل کر سکے بلکہ مالکیہ اور غیر مالکیہ نے ایسے شخص پر جو نبوت کو مکتسب کہتا ہو کفر کا فتوی دیا ہے ولایت کا انتہائی درجہ نبوت کے ابتدائی درجہ سے بھی کم ہے۔ اگر جس چشمہ سے انبیاء فیض لیتے ہیں۔ ولی بھی فیض لینا چاہے تو تاب نہ لا سکے اور جل جائے ......... شیخ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کا مقام اس قدر رفیع اور عالی ہے کہ ہم میں اور آنحضرت ﷺ میں کوئی مناسبت بھی نہیں کیونکہ حضور ﷺ ایسے مرتبہ میں ہیں کہ جو ہمارے لئے حاصل ہی نہیں ہو سکتا بہت سے بہت بطور وراثت اور ظل کے ہم اسے اس طرح دیکھ سکتے ہیں جیسے اہل زمین ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ اور ہم کو شیخ ابی یزید سے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ ان پر مقام نبوت کی سوئی کے ناکے کے برابر صرف تجلی ہوئی تھی تو قریب تھا کہ جل گئے ہوتے نصیب ہونا تو درکنار۔
لیجئے وکیل صاحب ! اگر آپ مصنف الیواقیت کے واقعی معتقد ہیں تو ان کے ان اقوال پر بھی غور فرمائیے اور انصاف سے کہئے کہ کیا ایسے شخص کے نزدیک نبوت ظلیہ کوئی حقیقت واقعی ہو سکتی ہے۔ جبکہ آپ کے مرزا قادیانی تو نبی کریم ﷺ کے اتباع سے حصول نبوت جائز رکھتے ہیں اور وہ ایسے شخص پر کفر کا فتوی نقل کرتے ہیں۔
مرزا قادیانی کا تو زعم باطل ہے کہ وہ ظلی طور سے بعینہ حضور ﷺ بن گئے ہیں مگر صاحب الیواقیت نقل فرماتے ہیں کہ ولایت کا اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبہ نبوت کے ابتدائی مراتب سے بھی کمتر ہے اس سے یہ بات بھی حل ہو گئی کہ ولی میں چاہے کتنا ہی بزرگ کیوں نہ ہو نبوت نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی تو بعینہ آنحضرت ﷺ بن جانے کے مدعی ہیں۔ مگر شیخ عبد الوہاب
شیخ محی الدین ابن عربی سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے مقام کو بہت سے بہت ظلی طور سے دیکھ ہی سکتے ہیں اور وہ بھی قریب سے نہیں بلکہ اتنے فاصلہ سے جیسا کہ اہل زمین ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ دوم شیخ محی الدین ابن عربی کو آپ نے اپنا موافق سمجھا تھا ان کی عبارت بھی ماقبل میں نقل ہو چکی ہے جس سے معلوم ہو گیا کہ شیخ کے نزدیک حصول نبوت تو درکنار نظر الیٰ مقام النبی بھی قریب سے دشوار ہے۔ علاوہ ازیں ہم تو خدا سے دعا کرتے ہیں کہ کہیں آپ شیخ کے معتقد نہ ہو جائیں۔ اگر آپ دل سے شیخ کے معتقد ہوتے تو اب تک آپ کا دامن کبھی کا مرزا قادیانی پر ایمان سے پاک ہو گیا ہوتا۔ لیجئے آپ کے مرزا قادیانی اپنے الہامات میں امر و نہی ہوتا بیان فرماتے ہیں اور شیخ ایسے شخص پر قتل کا فتویٰ دیتے ہیں۔
مرزا قادیانی کے مستحق قتل ہونے پر شیخ محی الدین ابن عربیؒ کا فتویٰ
عبارت مرزا
”اگر کہو کہ صاحب شریعت افترا کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔
مثلاً یہ الہام : ” قل للمؤمنين يغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذالك ازکی لھم . “ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦‘ خزائن ص ٤٣٦‘ ٤٣٥ ج ١٧)
ابن عربیؒ کا فتویٰ
”وقال الشيخ ايضاً فى الباب الحادي والعشرين من الفتوحات
٣١
من قال ان الله امره بشئى فليس ذالك بصحيح انما ذالك تلبيس لان الامر من قسم الكلام و ذالك باب مسدود دون الناس ..................... ..................... فقد بان لك ان ابواب الاوامر الهيته والنواهى قدسدت و كل من ادعيها بعد محمد صلى الله عليه وسلم فهو مدعى شريعة اوحى بها اليه سواء وافق شرعنا اوخالف فان كان مكلفا ضربنا عنقه والا ضربنا عنه صفحا۔ ص ٣٤ جلد ٢“
﴿جو شخص یہ خیال کرے کہ خدا نے اسے کسی شے کا امر کیا ہے۔ تو یہ صحیح نہیں بلکہ تلبیس شیطان ہے کیونکہ امر و نہی اقسام کلام میں سے ہیں اور اسکا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ پھر اگر کوئی شخص اپنے الہام میں امر و نہی بیان کرے خواہ وہ ہماری شریعت کے موافق ہوں یا مخالف وہ دراصل نئی شریعت کا مدعی ہے۔ لہٰذا اگر مکلف ہو گا تو ہم اس کو قتل کریں گے اور اگر پاگلوں جیسا ہو تو اس سے اعراض کریں گے۔﴾
اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا شیخ عبدالوہاب شعرانی اور شیخ محی الدین ابن عربی اور شیخ ابی یزید یہ سب حضرات دائرہ اسلام سے خارج ہی تھے۔ والعیاذ باللہ! ورنہ انہوں نے کیونکر اپنی کتب میں ایسے عقائد تحریر کر دیئے جن سے مرزا قادیانی کی بجائے تصدیق کے تکذیب ہی نہیں بلکہ تکفیر سے بھی بڑھ کر قابل قتل و گردن زدنی ہونا ثابت ہوتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے اقوال بالا دیکھ کر کوئی شخص ان کے کفر میں تردد نہیں کر سکتا۔ اگر وقت و گنجائش مساعدت کرتی تو میں آپ کو بتلاتا کہ مرزا قادیانی کے دماغ میں نبوت ظلیہ کا مفہوم نبوت تشریعیہ سے بھی کچھ آگے ہی ہے۔ پھر کیا ایسی نبوت کو بھی کفر نہ کہا جائے تو کیا اسلام کہا جائے‘ جس پر طرہ یہ کہ ان بے اصل اختراعات کو بزرگان دین کے سر رکھا جاتا ہے اور ان کی غامض دقائق کو اپنے کفریات کے لئے آڑ بنایا جاتا ہے۔ اگر خدا نے مدد فرمائی تو کسی موقعہ پر انشاء اللہ! بزرگان دین کی عبارات پر مفصل کلام کیا جائے گا اور منقح کیا جائے گا کہ اس قسم کی عبارات سے ان کی کیا غرض ہے۔
٣٦
نوٹ : اس باب میں ہم نے جو کچھ تحریر کیا ہے۔ یہ سب مرزا قادیانی کے مسلمات اور ان کی تحریرات سے لکھا گیا ہے۔
لہذا ہماری اس تحریر سے ہم پر کوئی الزام قائم نہ کیا جائے۔ دوم جواب میں مرزا غلام احمد قادیانی کی کسی مخالف عبارت کا نقل کر دینا ناکافی سمجھا جائے گا۔ بلکہ اگر ایسا کیا گیا تو اس سے فقط یہ سمجھا جائے گا کہ مرزا قادیانی کے کلام خود آپس میں متناقض ہیں۔ کیونکہ اس کے متعلق ہمیں ان کی کتابوں کے مطالعہ کے بعد کافی تجربہ ہو چکا ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو پھر ممکن ہے کہ اس قسم کے اختلافی اقوال کی ہمیں ان ہی کی کتب سے ایک فہرست پیش کرنی پڑ جائے۔ جس کا نمونہ آپ کو ہمارے دوسرے مضمون میں ملے گا۔ واللہ اعلم!
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ........☆........ قادیانیوں کا حکم مرتد کا ہے۔ مرتد مرد یا عورت
سے نکاح نہیں ہوتا۔ اس لئے قادیانی لڑکی سے جو اولاد ہو گی وہ ولد الحرام ہو گی۔
- ........☆........ مرزا قادیانی کے بلند بانگ مگر سب لغو دعوے
”مراق“ کا کرشمہ ہے۔
- ........☆........ وہ وکلاء جنہوں نے دین محمدی ﷺ کے خلاف
قادیانیوں کی وکالت کی قیامت کے دن مرزا غلام احمد قادیانی کے کیمپ میں ہوں گے۔
٣٣
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جواب الحفی فی آیت التوفی
” مولوی صاحب نے فرمایا کہ : ” فلما توفیتنی “ سوال کا جواب نہیں۔ لیکن صحیح بخاری کتاب التفسیر کو دیکھو : ” فاقول كما قال العبد الصالح “ مولوی صاحب کا حدیث کے خلاف کہنا خیانت ہے یا نہ۔ “
اقول : ” من انداز قدت را می شناسم “ اس مختصر نویسی کی وجہ سے خوب سمجھتا ہوں لفظ توفی پر تو آٹھ سطریں غارت کی گئیں اور جو کہ اصل بحث تھی اس پر تین سطریں بھی خدا خدا کر کے پوری ہو سکیں۔ چونکہ قصور علم و فہم کے باعث اصل تقریر سمجھ نہیں سکے۔ اس لئے ایک مبسوط کلام کے صرف ایک قطعہ کو لیکر کام چلایا گیا ہے اور یہ نہ سمجھ کر کہ کلام اس مقام پر علی التحلیل ہے یا علی المسامحۃ خیانت کا الزام لگایا گیا ہے۔ حالانکہ سب سے اول تو اسی پر غور کرنا چاہئے تھا کہ کیا اس مقام پر نبی کریم ﷺ سے بھی کوئی سوال ہوا تھا جس کے جواب میں آپ ﷺ یہ فرمائیں گے۔ ثانیاً یہ بھی قابل تامل تھا کہ آنحضرت ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کے ایک طویل کلام میں سے اسی قطعہ کو کیوں مخصوص بالذکر کیا ہے ؟۔ اگر اسی امر پر تھوڑی توجہ کی جاتی تو سارے اضغاث احلام باطل ہو جاتے۔ ثالثاً یہ بھی سمجھنا چاہئے تھا کہ حدیث میں کس لفظ سے : ” فلما توفیتنی “ کا : ” أنت قلت للناس “ کے لئے جواب ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اہل عقل جانتے ہیں کہ اس حدیث سے : ” فلما توفیتنی “ کا عیسیٰ علیہ السلام کا فقط مقولہ ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اس پر فاضل معترض کی یہ دیانت ہے کہ خود تو حدیث کے الفاظ پر اضافہ کیا اور بدون کسی ایک حرف کے مقولہ مذکورہ کو جواب ٹھہرایا۔ اس پر طرہ یہ کہ دوسروں کے سر خیانت کا الزام لگایا۔ اس لئے ہمیں بھی ضروری ہوا کہ ہم بھی اس عادت کی اصل تلاش کریں اور خود مرزا قادیانی نے جو اس آیت کا مطلب سمجھا ہے ان کی دیانت کی معترض صاحب سے داد دلوائیں۔
١
حضرت مولانا شاہ صاحب مدظلہ العالی کی دیانت اور
مرزائی نبی کی کھلی خیانت
مرزا غلام احمد قادیانی اس آیت کی یوں شرح کرتے ہیں : ”کیونکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جناب الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ میری امت کے لوگ میری زندگی میں نہیں بگڑے بلکہ میری موت کے بعد بگڑے ہیں۔....................اور اس سے زیادہ اور کوئی سخت بے ایمانی نہیں ہو گی کہ ایسی نص صریح سے انکار کیا جائے۔“
(کتاب البریہ حاشیہ ص ١٨٦ خزائن ص ٢١٩ ج ١٣)
نیز اس آیت کا ترجمہ اس طور سے فرماتے ہیں : ”پھر جب کہ تو نے مجھے وفات دیدی تو پھر تو ہی انکا نگہبان تھا۔ مجھے ان کے حال کا کیا علم تھا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ بات سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئیں گے.....................تو وہ قیامت کو خدا تعالیٰ کے حضور میں کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ جب تو نے مجھے وفات دی تو اس کے بعد مجھے کیا علم ہے کہ عیسائیوں نے کون سی راہ اختیار کی۔ اگر وہ یہی جواب دیں گے کہ مجھے خبر نہیں تو ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی جھوٹا نہیں ہو گا۔“ والعیاذ باللہ!
(تذکرۃ الشہادتین ص ١٨ خزائن ص ٢٠ ج ٢٠)
کیا یہ انصاف کا خون نہ ہو گا کہ ادھر تو ایک طویل عبارت اپنے مخترع خیال کے موافق اضافہ کرنے کے بعد بھی نص صریح ہی سے تعبیر کی جائے اور ادھر اہل اسلام سے ”رافعک الی“ میں لفظ سماء کا مطالبہ کیا جائے۔ سارے لاہوری اور قادیانی مرزائی مل کر جواب دیں کہ زیر خط جملے آیت کے کس لفظ کا ترجمہ ہیں۔ ورنہ کیوں مخترع عبارت کو نص صریح کہہ کر عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ اسی دیانت پر دوسروں پر نکتہ چینی کا شوق پیدا ہوا ہے۔ لو! گوش ہوش کھولو اور آیت کی صحیح تفسیر سنو۔ تاکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی خیانت اور تمہارے اوہام کا پورے طور سے انکشاف ہو جائے : ”وَمَا تَوْفِيْقِيْ إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيْبُ۔“ یہ سمجھنے کے لئے کہ : ”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ۔“ جواب ہے یا مقولہ
٢
اولاً سوال کو دیکھنا چاہئے کہ سوال کس امر کا ہے۔ ملاحظہ ہو سوال خداوندی : ” ءَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰہَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ٠ المائدہ آیت ١١٦ “ اس مقام پر یہ سوال نہیں کہ عیسائیوں کی گمراہی کی تجھے اطلاع ہے یا نہیں۔ نہ یہ سوال ہے کہ عیسائی کب گمراہ ہوئے یعنی تیرے سامنے ہوئے یا تیری موت کے بعد ہوئے۔ الغرض نہ تعیین وقت سے سوال ہے نہ علم و عدم علم سے‘ بلکہ سوال فقط قول کا ہے تاکہ عیسائیوں کے لئے تبکیت اور عیسیٰ علیہ السلام کے لئے تیسیر ہو جائے۔ کیونکہ اگر سوال عیسائیوں کی گمراہی سے کیا جاتا کہ وہ کیوں گمراہ ہوئے تو عیسیٰ علیہ السلام کو جواب مشکل ہو جاتا اور اگر علم یا عدم علم سے ہوتا تو علاوہ غیر مفید ہونے کے مفید تبکیت بھی نہ ہوتا‘ وہکذا فی الثانی! اس لئے سوال صرف قول سے کیا گیا ہے۔ یعنی تو نے یہ کہا تھا یا نہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ یہاں سوال فاعل سے ہے نہ نفس فعل سے جیسا کہ تقدیم مسندالیہ سے مع تقریب حرف استفہام مستفاد ہوتا ہے۔ لہٰذا وقوع فعل سے بھی سوال نہیں بلکہ اصل سوال فاعل سے ہے۔ یعنی کیا تو نے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔ اس سے معلوم ہوا کہ شاید فی نفسہ قول ہو چکا تھا اور عجیب نہیں کہ اس کا خود عیسیٰ علیہ السلام کو بھی علم ہو۔ وعلیٰ ہٰذا نفس آیت میں یہ بھی نہیں کہ اتخاذ الہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں نہیں ہوا۔ بلکہ سوال غالباً اسی کے مؤید ہے۔ الحاصل جبکہ منقح ہو چکا کہ سوال عیسیٰ علیہ السلام سے اس قول کے سرزد ہونے یا نہ ہونے کا ہے تو اب جواب ملاحظہ فرمائیے اور اس کے جمیع اجزاء پر غور کیجئے کہ کس جز سے اصل سوال کا جواب نکلتا ہے اور کون سا جز جواب سے فاضل ہے فرماتے ہیں۔
” سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ ٠ المائدہ آیت ١١٦ “ الی قولہ : ”عَلَّامُ الْغُیُوْبِ ٠ “ چونکہ مقام محاسن تعبیر اور رعایت آداب کا ہے۔ لہٰذا سب سے اول عیسیٰ علیہ السلام نے جواب کو مصدر بتسبیح کیا تاکہ اول شئے جو عیسیٰ علیہ السلام کے جواب میں ہو وہ خداوند عالم جل شانہ کی ایسے ناپاک خیال سے پاکیزگی اور طہارت ہو۔ پھر دوسرے مرتبہ میں خود اپنا بھی ایسے افعال سے بیزار ہونا بتلایا اور اب تک اصل جواب نہیں دیا۔ اگرچہ اظہار ناراضگی اور بیزاری سے جواب مفہوم ہو جاتا ہے
٣
مگر صراحتہً جواب نہیں۔ کیونکہ ”ءَ اَنْتَ قُلْتَ“ کا جواب ”قُلْتُ“ یا ”مَا قُلْتُ“ ہی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اہل عرف و محاورہ شاہد ہیں اصل جواب کو تیسرے مرتبہ میں کہا ہے: ”کما قال۔ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا اَمَرْتَنِیْ بِهٖ اَنِ اعْبُدُ اللهَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ۔ المائدہ آیت ١١٧“ یہ صریح جواب ہے۔ سوال ایزدی کا۔ جس کو تیسرے مرتبہ میں رکھا ہے تاکہ خدائی تقدیس اور اپنے اظہار بیزاری اور عدم استحقاق کے بعد جواب اور زیادہ مؤثر ہو اور غایۃ ادب بھی ملحوظ رہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ملائکہ نے کہا تھا: ”سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۔ البقرہ آیت ٣٢“ چونکہ عیسٰی علیہ السلام کا یہ جواب بحیثیت مدعٰی علیہ ہونے کے ہے۔ لہٰذا جو امر کہ بحیثیت شہید ہونے کے ان پر ضرور تھا اس کو بھی مقرون بالجواب کر دیا تاکہ اپنا تبریہ مکمل ہو جائے۔ کیونکہ جو شخص خدا کی طرف سے احوال امت پر شہید اور گواہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس پر ضروری ہے کہ وہ خود امت کے زشت اور قبیح افعال میں شرکت نہ کرے، پس کیا جو خدا کا گواہ ہو گا وہ خود بالعکس خدا کی مخالفت کر سکتا ہے؟۔ لہٰذا مطلب یہ ہے کہ جب تک میں ان میں تھا اس وقت تک تیرا شہید اور تیری طرف سے ان کے افعال پر گواہ تھا۔ لہٰذا میں ایسی بات کیونکر کہہ سکتا تھا۔ رہا بعد کا معاملہ سو وہ میری شہادت سے خارج ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنانا میری توفی کے بعد ہوا ہے مجھے اس کی معلومات نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ جب تک میں ان میں تھا میں نے ان کو یہ نہیں کہا۔ کیونکہ میں ان میں شہید تھا اور جب تو نے میری توفی کی تو اس کے بعد جو معاملہ ہوا وہ میری شہادت سے خارج ہے۔ اس تقدیر پر یہ ممکن ہے کہ یہ معاملہ وفات سے سابق ہی ہوا ہو اور عیسٰی علیہ السلام کی شہادت میں داخل بھی ہو۔ کیونکہ آیت سے کسی طرح یہ نہیں نکلتا کہ عیسٰی علیہ السلام کی شہادت بحق نصارٰی اسی بات پر تھی کہ وہ نہیں بگڑے۔ اگر مزید تفصیل درکار ہو تو پڑھو قرآن شریف کی یہ آیت: ”فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هٰؤُلَاءِ شَهِيدًا ۔ النساء آیت ٤١“ اس آیت شریفہ میں خداوند عالم نے جمیع امتوں کے لئے ایک شہید کا ہونا بیان فرمایا ہے جس سے معلوم ہوا کہ ہر نبی سے اپنی امت پر شہادت لی جائے گی۔ کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی حیثیت منجملہ اور حیثیات کے ایک یہ
٤
بھی ہوتی ہے کہ وہ بمنزلہ سرکاری گواہ کے ہوتے ہیں اور علیٰ ہٰذا اگر کسی نبی کا اپنی امت پر گواہ ہونے کا یہ مطلب ہو کہ وہ امت اس کے زمانہ میں نہیں بگڑی بلکہ بعد میں بگڑی ہے تو پھر ان نبیوں کے حق میں کیا کہو گے جن پر ایک بھی ایمان نہیں لایا۔ یا اگر بعض لائے اور بعض مرتد ہوئے تو کیا ایسے بعض مرتدین یا کفار جو اس نبی کے زمانہ میں موجود ہوں اس کی شہادت سے خارج ہوں گے یا العیاذ باللہ! انبیا علیہم السلام ان کے حق میں بھی یہی کہیں گے کہ وہ لوگ بھی ہماری حیات میں گمراہ نہیں ہوئے۔ لہٰذا یہ بڑی کج فہمی اور نا سمجھی کی بات ہے کہ شہادت کو مقصور علیٰ الخیر کر دینا بلکہ شہادت جیسا کہ لغۃً و عرفاً (اصطلاحاً) عام ہے خواہ خیر پر ہو یا شر پر اس طرح اس کو یہاں بھی عام ہی رکھنا چاہئے اور کیا کہو گے : ” وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ . المائدہ آیت ١١٧“ میں جو کہ خود اسی آیت کے اخیر میں بطور اعتراض تذیلی موجود ہے کیا اس کا مطلب بھی یہ ہے کہ وہ خدا کی شہادت تک نہیں بگڑے اس بناء پر تو سارے عالم کو صالح اور مومن کہنا پڑے گا کیونکہ سارا عالم خدا کی زیر نگہبانی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ لہٰذا یہ امر سوچنے کے لائق تھا کہ ذکر شہادت سے یہاں عیسیٰ علیہ السلام کی کیا غرض ہے اور اپنی امت کے مشرکانہ افعال کی تنصیص اور تقریر سے کیا فائدہ متعلق ہے۔ ہمارے مذکورہ بالا بیان سے واضح ہو چکا کہ اگر شہادت سے کوئی اور غرض نہ بھی ہو جب بھی شہادت فی نفسہ خود ایک ایسی شئی ہے جس کا ادا کرنا ضروری تھا۔ کیونکہ آیت بالا سے معلوم ہو چکا ہے کہ ادائے شہادت فقط عیسیٰ علیہ السلام ہی کا فعل مخصوص نہیں بلکہ جمیع انبیاء سے اپنی اپنی امتوں کے حق میں شہادت لی جائے گی۔ اس کے بعد معترض صاحب جس حدیث بخاری کو اپنے لئے مفید سمجھے تھے اس کو غور سے ملاحظہ کریں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جمیع قطعات میں سے اسی کو کیوں مخصوص کیا ہے اور کیوں نہیں فرمایا کہ :” اقول کما قال العبد الصالح . سُبْحٰنَكَ مَا يَكُونُ لِيْ . “ بلکہ بجائے اس کے یہ فرمایا ہے کہ : ” وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا . “ اگر کچھ انصاف ہے تو سمجھو کہ یہ اسی وجہ سے تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے اور اجزاء مخصوص سوال ایزدی کے جواب ہی میں وارد تھے۔ لہٰذا ان کو آپ ﷺ کیسے نقل فرما سکتے تھے جبکہ وہ سوال ہی آپ ﷺ سے نہیں ہوا۔ اس لئے ٥
آپ ﷺ نے اس جزء کو لے لیا جس میں سارے انبیاء شریک ہیں۔ یعنی شہادت۔ لہٰذا حدیث نے نص کر دی اس بات پر کہ : ” وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ، ءَاَنْتَ قُلْتَ “کا جواب نہیں بلکہ وہ امر ہے جس کو عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کوئی اختصاص نہیں اور سب پر ضروری ہے۔ ورنہ اگر اس کو : ”ءَ اَنْتَ قُلْتَ “کا جواب قرار دیا جائے تو پھر بتلائیے کہ کیا یہی سوال نبی کریم ﷺ سے بھی ہوا تھا ؟۔ اگر نہیں ہوا تو پھر اس کا جواب کیسا۔ اس مقام پر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ نبی کریم ﷺ کا یہ مقولہ کس وقت کا ہے۔ تو ملاحظہ ہو صحیح بخاری اسی حدیث میں موجود ہے : ” فاقول اصیحابی اصیحابی فیقال لی انك لا تدرى ما احدثوا بعدك ۔“ پس جبکہ خود سیاق ہی میں نبی کریم ﷺ کا اس واقعہ سے عالم نہ ہونا اور آپ ﷺ کے اصحاب کا بعد میں بگڑنا موجود تھا تو پھر آنحضرت ﷺ نے : ” وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ۔“ سے علیٰ تفسیر المرزا کون سی نئی بات ذکر فرمائی۔ بزعم مرزا قادیانی جس بات کو آنحضرت ﷺ :” وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ۔ “ سے پیش کرنا چاہتے تھے وہ تو ان کے فرمانے سے پہلے ہی ان کے سامنے پیش کی جا چکی تھی اب کیا اسی بات کو مکرر کرنا تھا ؟۔ دوم میں یہ بھی سوال کروں گا کہ کیا نبی کریم ﷺ کو اپنی امت کے بگڑنے کا علم نہیں۔ کیا آپ ﷺ ہی نے قیامت تک کی امت کے سارے احوال نہیں بیان کر دیئے اور کیا قرب قیامت میں جو امت کا حال ہو گا وہ احادیث میں موجود نہیں ؟۔ اگر یہ ساری باتیں موجود ہیں تو بروز حشر : ” وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ۔ “ سے کیونکر نفی علم فرمائی گئی۔ جبکہ دنیا ہی میں آپ ﷺ کو امت کا مجموعی حال روشن ہو چکا تھا۔ رہا : ” انك لا تدرى ۔“ یہ افراد اور تفصیلات کے اعتبار سے ہے جو کہ علم اجمالی کے منافی نہیں۔ دوم : ” انك لا تدرى ۔ “ حق جماعۃ مخصوصہ ہے نہ حق امت اور عیسیٰ علیہ السلام سے سوال حق امت ہے اسی لئے وہاں لفظ ابتداء الناس کا ہے۔ لہٰذا اس حدیث نے بالکل فیصلہ کر دیا کہ یہ آیت کسی طرح جواب سوال نہیں کیونکہ اسی آیت کے بعد عیسیٰ علیہ السلام اپنی امت کے حق میں سفارش آمیز کلمات ہی فرماتے ہیں : ” اِنْ تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ . المائده آیت ١١٨“ اب ظاہر ہے کہ یہ جملہ جواب سوال نہیں۔ حالانکہ سیاق واحد ہی ہے۔ البتہ مقولہ ضرور ہے۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ
السلام کے جمیع مقولات کو جواب ہی بنا ڈالنا سخت نادانی ہے۔ سوم یہ کہ اگر آیت : ”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى“. کے وہ معنی بیان کئے جائیں تو پھر ذکر اشراک امت بعد سفارش قطعاً خلاف مقتضے الحال ہے۔
اور اگر وکیل صاحب دیانت داری سے : ”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى“. کا جواب ہی بناتے ہیں تو پھر ذرا آیت کا مطلب ہی درست کر دیجئے کیونکہ جب آپ کے نزدیک توفی بمعنے موت ہے تو عند الجواب موت کا ذکر کیسا؟
کیا عیسیٰ علیہ السلام سولی ہی پر فوت ہو گئے تھے۔ والعیاذ باللہ ! یا سولی سے نجات پا کر بزعم مرزا قادیانی ستاسی سال کشمیر میں بھی زندہ رہے ہیں۔ پس اگر سولی کے واقعہ کے بعد ستاسی سال اور بھی زندہ رہے ہیں تو پھر اہل شام کے انقطاع خبر کا ذریعہ موت کیوں بتایا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کی خبر تو ہجرت الی الکشمیر سے ہی منقطع ہو چکی تھی اور موت تو ستاسی سال بعد ہوئی ہے۔ لہذا جو انقطاع خبر کا اصل وقت اور سبب تھا اس کو تو ذکر نہ کرنا اور جو امر کہ ستاسی سال بعد واقع ہوا ہے اس کا تذکرہ کرنا کس قدر لغو ہے۔ لہذا جب عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہوگا کہ اے عیسیٰ ! کیا تو نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو۔ اس کے جواب میں مرزائی خیال کے موافق یہ جواب ہونا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میں ان میں تھا ان کا محافظ اور نگہبان تھا اور جب تو نے مجھے کشمیر روانہ کر دیا پھر مجھے خبر نہیں کیا ہوا۔ کیونکہ دراصل انقطاع خبر زمانہ ہجرت سے ہی مستمر ہے نہ وفات کے بعد سے۔ پس ان ستاسی سال کے استثناء کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی جبکہ ان میں بھی عیسیٰ علیہ السلام ان کے حالات سے بے خبر ہی تھے (بزعم مرزائیان) ہاں ! اگر عیسیٰ علیہ السلام سولی ہی پر فوت ہو چکے ہوں۔ والعیاذ باللہ ! تو شاید ذکر توفی بمعنی موت مناسب ہو۔ کیونکہ اس تقدیر پر انقطاع خبر کا ذریعہ صرف موت ہی ہے۔
اب وکیل صاحب فرمائیں کہ کیا اس آیت کو جواب بنانے سے ان کا مقصد عیسیٰ علیہ السلام کا مصلوب قرار دینا ہے۔ والعیاذ باللہ ! یا کچھ اور؟۔ کیونکہ توفی بمعنی موت لے کر اگر : ”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى“. کو جواب قرار دیا جائے تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کا جواب اسی
٧
صورت میں مستقیم ہو سکتا ہے۔ جبکہ وہ سولی ہی پر فوت ہوئے ہوں۔ والعیاذ باللہ ! ورنہ کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس آیت میں ہم نے جو کچھ تقریر توفی بمعنی موت لے کر کی ہے یہ سب علی سبیل التسلیم ہے۔ ورنہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ توفی بمعنی موت قرآن میں ایک جگہ بھی نہیں۔ ہاں ! مجامع ضرور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ان مقامات پر بھی جہاں توفی بمعنے اخذ ہے موت کے معنی مستقیم بن جاتے ہیں۔ کیونکہ اس مقام پر مثلاً توفی مجامع موت ہی ہوتی ہے۔ پس احد المجامعین کو مجامع آخر کے موقع میں رکھ دینے سے بعض وقت مطلب تو بے شک درست ہو جاتا ہے مگر پھر سطحی نظروں کو اس مجامع کا معنی حقیقی ہونا متوہم ہونے لگتا ہے اور اسی ایہام نے مرزائی جماعت کا ستیاناس کیا ہے۔ کاش ! ان کو سمجھ ہوتی۔ اس کے بعد اسی آیت میں جو کچھ مرزا غلام احمد قادیانی کی دیانتداری ہے۔ وکیل صاحب اسے بھی ملاحظہ فرمائیں :
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
مرزا غلام احمد قادیانی نے تسلیم کیا ہے کہ : ”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی“ قیامت کا واقعہ ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں : ”ظاہر ہے کہ یہ سوال (یعنی ءَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن ہو گا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣١ خزائن ص ٣٣ ج ٢٢)
اس طرح ہے :
”اب ظاہر ہے کہ اگر یہ بات سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے دنیا میں آئیں گے ......... تو وہ قیامت کو خدائے تعالیٰ کے حضور میں کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ جب تو نے مجھے وفات دی تو اس کے بعد مجھے کیا علم ہے۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ١٨ خزائن
٢١، ٢٠ ج ٢٠) (مفصل عبارت پہلے گزر چکی ہے۔)
اس کے برخلاف ملاحظہ فرمائیے اسی آیت کی شرح میں کہتے ہیں :
”ظاہر ہے کہ قال صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اول ”اِذْ“ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا
٨
ایک قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا اور پھر ایسا ہی جو جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے ہے یعنی : ”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ“. ”وہ بھی بصیغہ ماضی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٣٨ ج ٢‘ خزائن ٤٢٥ ج ٣)
اب اس دیانت کو دیکھئے کہ ایک ہی آیت کو حقیقت الوحی میں قیامت کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے اور اسی کو ازالۃ الاوہام میں واقعہ ماضی بنایا جاتا ہے کیا ایک ہی واقعہ ماضی اور مستقبل میں ہو سکتا ہے ؟ آیئے میں آپ کو اس کا راز بتلاؤں۔
ازالۃ الاوہام میں چونکہ وفات عیسیٰ علیہ السلام پر زور دینا مد نظر تھا۔ لہٰذا وہاں اس آیت کو واقعہ ماضی ہی قرار دینا مفید سمجھا‘ کیونکہ اگر توفی بمعنے موت لے کر یہ قصہ گزرا ہوا قرار دیا جائے تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول (جو بزعم مرزا قادیانی) پھیکا پڑ جاتا ہے۔ برخلاف اس کے حقیقت الوحی میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے مقصود قائلین حیات پر رد کرنا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو : ”اس جگہ اگر توفی کے معنی معہ جسم عنصری آسمان پر اٹھانا تجویز کیا جائے تو یہ معنی بدیہہ البطلان ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف کی انہیں آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن ہو گا۔ پس اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ وہ موت سے پہلے اس رفع جسمانی کی حالت میں خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو جائیں گے اور پھر کبھی نہ مریں گے۔ کیونکہ قیامت کے بعد موت نہیں اور ایسا خیال بداہتہ باطل ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٣١‘ خزائن ص ٣٣ ج ٢٢)
بھلا یہ بھی کوئی دیانت ہے کہ جہاں جو مناسب موقعہ معلوم ہوا ویسا ہی لکھ دیا جب اثبات کے لئے قلم اٹھایا تو آیت کو واقعہ ماضی بنایا اور جب قائلین حیات پر رد کرنا شروع کیا تو اسی واقعہ کو قیامت کا واقعہ قرار دے دیا۔ کہئے معترض صاحب اسی دیانت کو ساتھ لیکر دوسرے پر خیانت کا الزام ؟
اسی طرح مرزا قادیانی نے اس آیت کا مطلب یوں لکھا ہے :
”پھر جبکہ تو نے مجھے وفات دیدی تو پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا مجھے ان کے حال کا کیا علم تھا۔“ (تذکرۃ الشہادتین ص ١٨‘ خزائن ص ٢٠ ج ٢٠)................. (مفصل حوالہ
٩
اسی مضمون کے ابتداء میں درج ہے اس کی مراجعت کی جائے)
چونکہ تذکرۃ الشہادتین میں مرزا قادیانی نے اس قصہ کو قیامت کا واقعہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا قیامت میں علم کی نفی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کے بگڑنے کی قیامت تک کوئی خبر نہیں ہوئی (بزعم مرزا قادیانی) مگر اس کے برخلاف ملاحظہ ہو :"اور میرے پر کشفاً یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ کو اس کی خبر دی گئی تب ان کی روح روحانی نزول کے لئے حرکت میں آئی۔"(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٥٤، خزائن ص ٢٥٢ ج ٥) اور: "جیسا کہ میرے پر کشفاً کھولا گیا ہے حضرت مسیح کی روح ان افتراؤں کی وجہ سے جو ان پر اس زمانہ میں کی گئی اپنی مثالی نزول کے لئے شدت جوش میں تھی اور خدا تعالیٰ سے درخواست کرتی تھی کہ اس وقت مثالی طور پر اس کا نزول ہو۔ سو خدا تعالیٰ نے اس کے جوش کے موافق اس کی مثال کو دنیا میں بھیج دیا۔" (ایضاً ص ٤٢١) اس طرح ملاحظہ ہو : "پھر دوسری مرتبہ مسیح کی روحانیت اس وقت جوش میں آئی کہ جب نصاریٰ میں دجالیت کی صفت اتم اور اکمل طور پر آگئی۔"
(کتاب مذکور ص ٣٤٣ خزائن ص ٣٤٣ ج ٥)
آئینہ کمالات اسلام مصنفہ مرزا قادیانی کے ان حوالجات سے ظاہر ہے کہ قیامت سے قبل عیسیٰ علیہ السلام کو ہر اس وقت جبکہ ان کی امت میں کوئی نئی گمراہی پھیلی اطلاع دی جاتی تھی اور اسی وجہ سے ان کی روح مثالی نزول کے لئے بے قرار ہوئی پھر نہیں معلوم کیونکر عیسیٰ علیہ السلام بروز قیامت اپنی لاعلمی ظاہر کر سکتے ہیں جیسا کہ مرزا قادیانی نے تذکرۃ الشہادتین میں اس آیت کی شرح میں لکھا ہے۔ اب وکیل صاحب اپنے گریبان میں منہ ڈال کر روئیے اور فرمائیے جب کہ حسب زعم مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام قبل از قیامت اپنی امت کے احوال پر مطلع ہو چکے تھے تو پھر قیامت کے دن یہ کہنا۔ مجھے ان کے حال کا کیا علم تھا۔ کیا صریح کذب نہیں۔ والعیاذ باللہ!
الحاصل مرزا قادیانی کی اعلیٰ درجہ کی دیانت صرف یہ تھی کہ جہاں جو سمجھ میں آئے اس کے موافق معنی تراش دیں تذکرۃ الشہادتین میں ابطال حیات مدنظر تھا۔ لہٰذا وہاں
عیسیٰ علیہ السلام کا بے خبر بتانا مفید رہا اور آئینہ کمالات اسلام میں مثیل مسیح کا دعویٰ کرنا تھا۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ پہلے عیسیٰ علیہ السلام کی روح مثالی نزول کے لئے بے قرار ہو۔ لہٰذا وہاں بدون کسی پس و پیش کے عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی امت کے احوال سے خبردار ہونے کی تصریح کر دی گئی۔ یہ ہیں آپ کے مرزا قادیانی جو ایک ہی آیت میں ایسے متناقض اقوال کہہ کر آپ کو بلا میں گرفتار کر گئے: ”ولقد صدق اللہ تعالیٰ. وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا. النساء آیت ٨٢“
الحاصل جبکہ مرزا قادیانی کی تفسیر کی حقیقت اور ان کی قدم قدم پر دیانت بخوبی آشکارا ہو چکی تو اب میں پھر اصل سوال کی طرف توجہ کر کے کہتا ہوں کہ شاید اب اس شخص کی سمجھ میں آ گیا ہو گا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے کلام میں چند اجزاء ہیں جن کو یہ ایک سیاق میں دیکھ کر سب کو جواب بتا رہے ہیں اور دوسرے پر اعتراض کرنے کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔ پہلا جز تسبیح ہے جسے بالاتفاق جواب نہیں کہا جا سکتا، دوم اظہار بیزاری ہے جس سے جواب مفہوم تو ہو جاتا ہے مگر صریح جواب نہیں، سوم صریح جواب، چہارم ادائے شہادت، پنجم ذکر سفارش، اس اخیر جز کو بھی بالاتفاق جواب نہیں کہا جا سکتا۔ پس اگر کلام علی التحقیق والتحلیل کی جائے گی جیسا کہ حضرت موصوف مدظلہ کا منشا تھا جس کو کس قدر اپنے فہم کے موافق میں نے بھی ادا کیا تو پھر ضرور جواب اور مناسبات جواب و متعلقات جواب میں تمیز کرنی پڑے گی اور اگر کلام علی الاجمال والمسامحۃ ہے تو پھر چاہے شہادت کے ساتھ سفارش کو بھی جواب ہی قرار دو۔
وَاللَّهُ تعالیٰ علم و علمه اتم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تحقیق عمر حضرت عیسیٰ علیہ السلام
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم امابعد
واضح رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کے متعلق اس قدر اختلاف پیش آنے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ ان کے حصص عمر عام ابنائے آدم کی طرح مسلسل اور مشاہد نہیں گزرے بلکہ ان کی عمر میں ایک حصہ طویل وہ بھی شامل ہے جو حالت رفع آسمان پر گزرا ہے۔ اسی وجہ سے رواۃ کو مختلف اعتبارات سے مختلف عمریں بیان کرنے کا موقع ملتا رہا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جو زمانہ نبوت سے پیشتر کا ہے۔ اس کی تعیین کا تو احادیث میں کہیں پتہ نہیں کیونکہ وہ ایک احادی اور انفرادی حال تھا۔ دوسرا وہ زمانہ جو بعثت کے نام سے موسوم ہے۔ البتہ احادیث میں موجود ہے کیونکہ یہ زمانہ احادی نہیں بلکہ اختلاط فیما بین الناس کا زمانہ تھا۔ تیسرا وہ زمانہ ہے جو حالت رفع آسمان پر گزرا۔ چونکہ یہ زمانہ بھی مثل اول کے احادی اور انفرادی ہی تھا بلکہ مزید برآں اس میں تباین عالم کی وجہ سے اس جہان سے غیبوبت بھی رہی۔ لہٰذا اس کی بھی احادیث میں تعیین نہیں کی گئی۔
چوتھا نزول من السماء کے بعد پھر اختلاط فیمابین الناس کا زمانہ ہے۔ اس سے بھی احادیث میں تعرض کیا گیا ہے۔ الغرض عمر مسیح علیہ السلام کے چار حصص میں سے چونکہ دو حصوں میں بنی آدم کے ساتھ ان کا کوئی معاملہ نہیں رہا۔ لہٰذا ان کا ذکر بھی احادیث میں نہیں ہے۔ برخلاف اس کے وہ دو زمانے جس میں عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبوت رہے اور بحیثیت امامت رہیں گے۔ احادیث میں مختلف طور سے بیان ہوچکی ہیں جس کی تفصیل یہ ہے۔ خصائص الکبریٰ و کنز العمال ج١١ ص٤٧٨ حدیث ٣٢٢٦٠: ”واخرج ابن سعد عن ابراہیم النخعی قال قال رسول اللہ ﷺ یعیش کل نبی نصف عمر
١٢
الذى قبله وان عيسى ابن مريم مكث قومه اربعين عاما . “
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم میں چالیس برس رہے مگر اس کے برخلاف کنز العمال ج ١١ ص ٤٧٩ حدیث ٣٢٢٦٢ میں ہے : ” انه لم يكن نبى كان بعده نبى الا عاش نصف عمر عم الذى كان قبله وان عيسى ابن مريم عاش عشرين ومائة وانى لا ارانى الا ذاهبا على رأس الستين . “ اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم میں چالیس سال نہیں بلکہ ایک سو بیس سال رہے۔ ان دونوں کے سوا تینتیس سال کا بھی ایک قول ہے۔
الحاصل عیسیٰ علیہ السلام کی عمر قبل الرفع میں تین طور سے اختلاف پایا جاتا ہے اس طرح بعد النزول من السماء کے زمانہ میں چند اختلافات ہیں۔ چنانچہ ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥ میں ہے : ” عن ابى هريرة مرفوعا ينزل عيسى عليه السلام الى ان قال فيمكث فى الارض اربعين سنة . “ اور مسلم شریف میں “ ” عن ابن عمر وانه يمكث فى الارض بعد نزوله سبع سنين . “ اب ملاحظہ کیجئے کہ اول روایت سے بعد النزول من السماء کی مدت اقامت چالیس سال اور دوسری روایت سے سات ہی سال معلوم ہوتی ہے۔ انہیں انتشارات کو علماء نے دیکھ کر تطبیق کے لئے ( نہ انکار رفع عیسیٰ علیہ السلام کیلئے ) مختلف صورتیں اختیار کی ہیں۔ پس کسی نے تو اول کے تینتیس سال اور بعد کے سات سال لے کر مجموع عمر چالیس قرار دی اور کسی نے ایک سو بیس ہی کو زمانہ رفع سے قبل کی عمر قرار دے ڈالی اور بعد کے چالیس سال چونکہ بحیثیت امامت گزریں گے۔ لہذا ان کو نظر انداز کیا لیکن آپ کو معلوم ہوا ہو گا کہ تقدیر اول پر ایک سو بیس والی روایت متروک ہوئی جاتی ہے اور تقدیر ثانی پر سات اور چالیس والی روایتوں کا کوئی محمل نہیں رہتا۔ لہذا ان جمیع احادیث کو جمع کرنے سے اولاً بغرض تنقیح روایات اتنا عرض کر دینا ضروری ہے کہ تینتیس سال کی روایت تو مرفوعاً کہیں ثابت نہیں بلکہ علماء نے شد و مد سے اسے نصاریٰ کا قول قرار دیا ہے۔ چنانچہ شرح مواہب جلد اول و خامس و زاد المعاد و جمل میں مصرح مذکور ہے بلکہ شیخ جلال الدین سیوطیؒ جنہوں نے کہ جلالین شریف میں اس قول
١٣
کو اختیار کیا تھا مرقاۃ الصعود میں اپنا رجوع نقل کرتے ہیں۔ لہٰذا اسے تو ساقط ہی سمجھئے۔ اس کے بعد یہ غور کیجئے کہ ایک سو بیس والی روایت میں کون سی عمر مذکور ہے تو وہ اسی حدیث سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک سو بیس وہ عمر نہیں جس پر عیسیٰ علیہ السلام مرفوع ہوئے بلکہ قبل الرفع اور بعد النزول ملا کر مجموعی عمر ہے۔ کیونکہ اسی حدیث میں نبی کریم ﷺ نے اپنی عمر بعد حذف کسور ساٹھ سال بیان فرمائی ہے اور یہ آپ ﷺ کی جمیع عمر ہے۔ پس جبکہ معلوم ہو گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی عمر مجموعی ایک سو بیس سال ہے تو اب یہ معلوم کیجئے کہ بعد النزول عیسیٰ علیہ السلام کتنے دن وجہ ارض پر اور حیات رہیں گے۔ تاکہ بقاعدہ حساب عمر قبل الرفع خود متعین ہو جائے کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر رہنے کے متعرض فیہ صرف دو ہی زمانے ہیں۔ یا قبل الرفع حال النبوۃ یا بعد النزول حال الامۃ پھر جب مجموع عمر بھی معلوم ہے اور مابعد النزول بھی معلوم ہو جائے تو مابعد النزول کو مجموع سے تفریق کر دیجئے تاکہ بقاعدہ حساب حاصل تفریق عیسیٰ علیہ السلام کی قبل الرفع عمر نکل آئے۔ لہٰذا اس سے پہلے میں اس اختلاف کو رفع کرنا چاہتا ہوں جو مابعد النزول میں ہے تاکہ عندالحساب مفرق یعنی عدد اقل متعین ہو جائے۔
آپ کو معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد النزول عمر میں روایات دو طرح پر ہیں۔ بعض میں سات سال اور بعض میں چالیس سال ہے۔ ان ہر دو روایات میں صورت تطبیق یہ ہے کہ مجموع زمانہ بعد النزول چالیس سال قرار دیا جائے اور سات سال وہ رہیں جو امام مہدی بمعیتہ عیسیٰ علیہ السلام گزاریں گے جیسا کہ روایت ابو داؤد سے امام مہدی کا بعد نزول عیسیٰ علیہ السلام ٧ یا ٩ سال تک علیٰ شک الراوی حیات رہنا معلوم ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ در حقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مدت اقامت زمانہ نزول کے بعد چالیس سال ہے۔ پھر رواۃ نے مختلف اعتبارات سے متعدد عمریں ذکر کی ہیں۔ ان چالیس کو اگر مجموع عمر ایک سو بیس میں سے تفریق کر دیا جائے تو حاصل تفریق اسی سال ہوتے ہیں جو کہ بمقتضیٰ حدیث کنزالعمال عیسیٰ علیہ السلام کی عند الرفع عمر ہے۔ اس کے بعد جو اختلافات کہ عمر عند الرفع میں ہیں۔ ان کو دیکھئے۔
١٤
تینتیس سال والے قول کا تو مہجور ہونا معلوم ہو چکا رہی ایک سو بیس والی روایت تو اس میں خود حدیث سے قرینہ پیش کر چکا ہوں کہ یہ مجموع عمر ہے۔ نہ وہ عمر جو عندالرفع تھی۔ رہی چالیس والی روایت تو اس میں صرف زمانہ نبوت کو لیا گیا ہے۔ زمانہ نبوت سے جو پہلی عمر ہے وہ اس میں محسوب نہیں۔ جیسا کہ کنز العمال ج ١١ ص ٤٧٨ حدیث نمبر ٣٢٢٥٩ ہی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے : ” يافاطمة انه لم يبعث نبى الا عمرا لذى بعده نصف عمره وان عيسىٰ ابن مريم بعث رسولا لاربعين وانى بعثت لعشرين . “
دیکھئے اس روایت میں حضور ﷺ نے اربعین کو مدت بعثت قرار دیا ہے اور اسی وجہ سے اپنی بعثت کا زمانہ عشرین فرمایا کیونکہ چالیس سال پر آپ ﷺ کو نبوت ملی اور بیس برس بحذف کسور آپ ﷺ نے تبلیغ نبوت فرمائی جس کا مجموع وہی ساٹھ سال ہوتے ہیں جو ایک سو بیس والی روایت میں مذکور تھے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ احادیث میں تنصیف مجموع عمر و عمر نبوت ہر دو کے اعتبار سے وارد ہے اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال بعد النبوة رہے اور چالیس ہی سال امام رہیں گے۔ لہٰذا ان دونوں کو اگر مجموع عمر میں سے گھٹا دیجئے تو عیسیٰ علیہ السلام کی عمر عندالبعثة چالیس سال قرار پاتی ہے جو کہ انبیاء و رسل کی بعثت کی عمر ہے۔ جیسا کہ شرح مواہب ص ٦٢ ج ١ پر مذکور ہے۔
الحاصل انہیں روایات سے بخوبی معلوم ہو گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع اسی سال کی عمر میں ہوا۔ چنانچہ اصابہ میں سعید بن المسیب سے اسی طرح مذکور ہے۔ ہاں! اس تقدیر پر فقط ایک عاش کا لفظ بظاہر غیر مربوط معلوم ہوتا ہے مگر اگر ذرا تامل کیجئے تو اس میں بھی کوئی ضیق نہیں کیونکہ اگر تناسب سیاق و سباق کی رعایت کیجئے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس مقام پر یہی لفظ مناسب تھا۔ کیونکہ اولاً دیگر انبیاء علیہم السلام کے حق میں عاش بصیغہ ماضی صادق تھا ہی۔ پھر بحق عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنے حصص عمر میں سے دو حصوں کے اعتبار سے صادق تھا۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو تنصیف عمر ذکر کرنی مد نظر تھی۔ لہٰذا اگر سلسلہ نقض کرتے تو علاوہ نقض نظم کے بیان تنصیف میں تطویل الا طائل اختیار کرنی پڑتی۔
١٥
لہٰذا حصہ ثالث کو بھی جو بحقیقت مستقبلہ ہے صیغہ ماضی ہی میں لپیٹ دیا۔ تاکہ تنصیف جمیع عمر اور عمر نبوت ہر دو اعتبار سے معہ رعایت اختصار مستقیم ہو جائے اور سلسلہ نظم بھی بحال رہے۔
چنانچہ اس کے نظائر قرآن شریف میں بھی ہیں : ”كما قال ان اراد ان يهلك المسيح ابن مريم وامه ۔“ حالانکہ صیغہ استقبال بحق ام کسی طرح درست نہیں ہو سکتا مگر فصحاء کا طریق ہے کہ جہاں محط کلام معین ہو وہاں پھر غیر متعلق امور میں تطویل پسندیدہ نہیں سمجھتے۔
رہی میعاد عیسیٰ والی حدیث جو تفسیر ابن کثیر میں موجود ہے اس کی مراد تشبیہ ہے بحسب عدم التغیر ورنہ تو عمر مذکور بحق اہل جنت بھی درست نہیں کیونکہ جو ابدی ہے اس کی عمر کا حساب ہی کیا؟۔
یہ امر بھی قابل یاداشت ہے کہ تنصیف عمر امم و مشاہیر انبیاء علیہم السلام جن کے اعتبار سے زمانہ کی تاریخ بیان کی جاتی ہے سلسلہ طولیٰ اور تناسب قرون کے اعتبار سے ہے۔ یہ تو تطبیق روایات کی نسبت عرض کیا گیا۔ رہا مرزائیوں کی جوابدہی تو اس میں سہولت ہے کیونکہ اس جماعت کے پاس سوائے زندقہ اور الحاد کے کچھ نہیں۔
بھلا ان سے دریافت کیجئے کہ جبکہ بحکم حدیث ہر نبی کی عمر نصف عما قبلہ ہوتی ہے تو مرزا قادیانی کدھر سے نبی ہو گیا۔ کیونکہ اس کی عمر تو نبی کریم ﷺ سے بجائے نصف کے جمیع عمر سے بھی زیادہ ہے۔ لہٰذا جس حدیث کو وہ پیش کرتے ہیں وہ بالعکس ان ہی کی روسیاہی اور غوایت پر برہان ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
نوٹ : یہ ٹکڑا فقط تحقیق عمر عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بغرض نفع خلائق ملحق کر دیا گیا ورنہ سوال سے اسے کوئی تعلق نہیں۔
حررہ العبد بدر عالم میرٹھی عفی عنہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انجاز الوفی فی لفظ التوفی
”ہمارا دعویٰ ہے کہ اہل لغت نے ”توفاہ اللہ“ کا محاورہ خاص طور پر الگ لکھا ہے۔ تاج العروس اور لسان العرب ”صحاح“ میں ”قبض نفسہ وروحہ“ لکھے ہیں۔ اس محاورہ کو لغت دانوں نے مادہ کے دیگر مشتقات سے الگ کیا ہے .............. تمام علماء دیوبند وغیرہ زور لگاؤ۔ یہی ثابت ہو گا کہ جہاں فاعل اللہ اور مفعول ذی روح اور فعل توفی ہو وہاں بجز قبض روح اور : ”کوئی معنی ہرگز ہرگز نہیں۔“
اس قاعدہ کے سب سے اول موجد مرزا غلام احمد قادیانی ہیں اور اس کے بعد ان کے معتقدین نے اس پر بہت کچھ شور شغب مچایا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آج اس کی پوری حقیقت ناظرین کرام کے روبرو پیش کر دوں تاکہ ایک قدیم دعویٰ کی حقیقت سے پردہ اٹھ جائے اور اس قاعدہ کی اصلی تصویر جناب ملاحظہ فرما سکیں۔ میں مرزائی صاحبان سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ بھی اس مضمون کو اول سے آخر تک تعصب سے بر طرف ہو کر نہایت انصاف اور بلا رو رعایت ملاحظہ فرمائیں۔ عجب نہیں کہ ان کی ہدایت اور میری بخشش کا یہی ایک بہانہ ہو جائے۔
ملاحظہ ہو ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٠٦ تا ٢٠٨، خزائن ص ٣٧٨ تا ٣٨٠ ج ٢١ :
”اس بات پر تمام ائمہ لغت عرب اتفاق رکھتے ہیں کہ جب ایک علم پر یعنی کسی شخص کا نام لیکر توفی کا لفظ اس پر استعمال کیا جائے۔ مثلاً کہا جائے کہ : ”توفی اللہ زیداً“ تو اس کے یہی معنی ہوں گے کہ خدا نے زید کو مار دیا ............. اور میں نے جہاں تک ممکن تھا صحاح ستہ اور دوسری احادیث نبوی پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے کلام اور صحابہ کے کلام اور تابعین اور تبع تابعین کے کلام میں ایک نظیر بھی ایسی نہیں پائی جاتی جس سے
یہ ثابت ہو کہ کسی علم پر توفی کا لفظ آیا ہو۔ یعنی کسی شخص کا نام لے کر توفی کا لفظ اس کی نسبت استعمال کیا گیا ہو اور خدا فاعل اور وہ شخص مفعول بہ ٹھہرایا گیا ہو اور ایسی صورت میں اس فقرہ کے معنی بجز وفات دینے کے کوئی اور کئے گئے ہوں۔ بلکہ ہر ایک مقام پر جب نام لے کر کسی شخص کی نسبت توفی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اس جگہ خدا فاعل اور وہ شخص مفعول بہ ہے جس کا نام لیا گیا تو اس سے یہی معنی مراد لئے گئے ہیں کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔ چنانچہ ایسی نظیریں مجھے تین سو سے بھی زیادہ احادیث میں سے ملیں جن سے ثابت ہوا کہ جہاں کہیں توفی کے لفظ کا خدا فاعل ہو اور وہ شخص مفعول بہ ہو جس کا نام لیا گیا ہے تو اس جگہ صرف مار دینے کے معنی ہیں نہ اور کچھ۔ مگر باوجود تمام تر تلاش کے ایک بھی حدیث مجھے نہ ملی جس میں توفی کے فعل کا خدا فاعل ہو اور مفعول بہ علم ہو۔ یعنی نام لے کر کسی شخص کو مفعول بہ ٹھہرایا گیا ہو اور اس جگہ بجز مارنے کے کوئی اور معنی ہوں۔ اس طرح جب قرآن شریف پر اول سے آخر تک نظر ڈالی گئی تو اس سے بھی یہی ثابت ہوا ........... اور پھر میں نے عرب کے دیوانوں کی طرف اسی غرض سے سیر کی اور جاہلیت اور اسلامی زمانہ کے اشعار بڑے غور سے دیکھے اور بہت سا وقت ان کے دیکھنے میں خرچ ہوا مگر میں نے ان میں بھی ایک نظیر ایسی نہ پائی کہ جب خدا توفی کے لفظ کا فاعل ہو اور ایک علم مفعول بہ ہو۔ یعنی کوئی شخص اس کا نام لے کر مفعول بہ ٹھہرایا گیا ہو تو ایسی صورت میں بجز مار دینے کے کوئی اور معنی ہوں۔ بعد اس کے میں نے اکثر عرب کے اہل علم اور اہل فضل و کمال سے دریافت کیا تو ان کی زبانی بھی یہی معلوم ہوا کہ آج کے دنوں تک تمام عرب کی سر زمین میں یہی محاورہ جاری و ساری ہے کہ جب ایک شخص دوسرے شخص کی نسبت بیان کرتا ہے کہ توفی اللہ فلاناً تو اس کے معنی قطعی اور یقینی طور پر یہی سمجھے جاتے ہیں کہ فلاں شخص کو خدا تعالیٰ نے مار دیا اور جب ایک عرب کو دوسرے عرب کی طرف سے ایک خط آتا ہے اور اس میں مثلاً یہ لکھا ہوا ہوتا ہے کہ : ” تو فی اللہ زیدا ۔ “ تو اس کا یہی مطلب سمجھا جاتا ہے کہ خدا نے زید کو مار دیا۔ پس اس قدر تحقیق کے بعد جو حق الیقین تک پہنچ گئی ہے یہ امر فیصلہ ہو گیا ہے اور امور مشہودہ محسوسہ کے درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ ایک شخص جس کی نسبت اس طور سے لفظ توفی استعمال کیا جائے تو اس کے یہی
٢
معنی ہوں گے کہ وہ شخص وفات پا گیا۔ نہ اور کچھ۔“ اس ایک مسلسل مضمون میں مرزا قادیانی نے نو مرتبہ اس قاعدہ کو مکرر کیا ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کی دیگر کتب میں بھی یہ قاعدہ بکثرت موجود ہے مگر میرے خیال میں یہ ایک حوالہ نو حوالجات کے قائمقام ہے۔ لہٰذا میں اسی پر اکتفاء کرتے ہوئے جواب کی طرف تعرض کرتا ہوں۔
تنقیح دعویٰ
چونکہ کسی لفظ کے معنی معلوم کرنے کے لئے اس کے مادہ اشتقاق کو دیکھنا ضروری ہے۔ اس لئے لفظ ”توفی“ کے معنی متعین کرنے سے پہلے ہم کو اس کے مادہ کی تفتیش کی حاجت ہو گی۔ لغت میں بیشتر توفی کو وفی کے تحت میں لکھتے ہیں۔ ”وفی“ کے معنی پورا کرنا یا پورا لینے کے ہیں۔ اس مادہ سے عموماً چار باب ملتے ہیں :
١...... ”وفی الشی ای(تم)“ ٢...... ”واوفی فلان حقہ . اذا اعطاہ وافیاً“ ٣...... ”واستوفاہ اذالم یدع منہ شیئاً“ ٤...... ”وتوفاہ اللہ“
پیغام صلح کی تخصیص بالذکر کا بین طور سے یہی مفہوم ہے کہ اول کے تین ابواب میں ان کو ہم سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ ہم دونوں فریق ان ابواب کو اپنے مادہ کے ماتحت ہی تسلیم کرتے ہیں۔ اس طرح چوتھے باب میں بھی اگر اس کا فاعل اللہ یا مفعول ذی روح نہ ہو فریقین کا کوئی اختلاف ظاہر نہیں ہوتا۔ کیونکہ جس صورت میں دعویٰ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں دو قیدیں ملحوظ ہیں۔
(١)..........باب تفعل ہو (٢)..........فاعل اللہ اور مفعول ذی روح ہو۔
میں جہاں تک سمجھتا ہوں اگر یہ دونوں قیدیں منتفی ہو جائیں یا احد ہما، تو پھر شاید قادیانی جماعت یا لاہوری پارٹی اس کے متعلق ایسے موٹے لفظوں میں دعوے نہ کرے گی۔ پس اگر ان دونوں قیدوں کا کوئی مفہوم معتبر ہے تو ان کی انتفاء سے مندرجہ ذیل صورتیں پیدا ہوں گی۔ اول شرط کے انتفاء کی تین صورتیں ہیں۔ باب ضرب ہو یا افعال ہو یا
٣
استفعال۔ دوسری شرط کے منتفی ہونے کی بہت سی شکلیں ہیں۔ (١)...... فاعل اللہ ہو مگر مفعول ذی روح نہ ہو۔ (٢)...... مفعول ذی روح ہو مگر فاعل اللہ نہ ہو۔ (٣)...... نہ اللہ فاعل ہو اور نہ مفعول ذی روح ہو۔ یہ تیسری صورت بے شمار صورتوں پر مشتمل ہے۔ کیونکہ غیر اللہ کے افراد اس قدر ہیں ان جملہ صورتوں میں ہمارا اور مرزائیوں کا کوئی نزاع نہیں۔ اب مابہ النزاع باب تفعل میں یہی فقط وہ صورت ہے۔ جبکہ فاعل اللہ اور مفعول ذی روح ہو اس کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ توفی کے وہ معنی جو مرزائی صاحبان بیان کرتے ہیں اختلاف باب کا ثمرہ نہیں ہو سکتے اور نہ اس سبب سے اس لفظ کو اپنے مادہ سے جدا مانا گیا ہے۔ کیونکہ اگر اس باب سے فعل توفی بدون شرائط بالا کے مستعمل ہو تو پھر مرزائی جماعت اس کے متعلق یہ دعویٰ نہیں رکھتی جیسا کہ اوپر کی تشریح سے واضح ہو چکا اور جیسا کہ پیغام صلح کی صریح عبارت کا مفہوم ہے۔ لہٰذا اب مرزائیوں کا دعویٰ ان الفاظ میں منقح ہونا چاہئے کہ وفی کے جمیع ابواب میں سے فقط ایک باب تفعل اور پھر باب تفعل کی بے شمار صورتوں میں سے فقط ایک صورت جس میں فاعل علی التعیین اللہ ہو اور مفعول ذی روح ہو ایسی ہے جس میں اس کے مادہ کا کچھ پتہ نہیں بلکہ وہ اپنے مادہ سے بالکل علیحدہ ہے۔ بر خلاف اس کے وفی کے جمیع ابواب کے جمیع استعمالات اپنی اصل اور مادہ ہی کے ماتحت ہیں۔ اس کے مقابلہ میں ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ جس طرح تم بقیہ ساری صورتوں میں اس لفظ کو اپنے مادہ کے ماتحت ہی تسلیم کرتے ہو اس طرح ہم صورت بالا کو بھی اپنے مادہ کے ماتحت ہی سمجھتے ہیں۔ اب منصف انصاف کرے کہ ایک لفظ کے جمیع مشتقات کو اپنے مادہ کے ماتحت رکھنے والا حق پر ہو سکتا ہے یا وہ جس نے بلاوجہ فقط ایک صورت کو مستثنیٰ کیا ہو۔ حالانکہ بقیہ اور ساری صورتوں میں وہ بھی ہماری موافقت کرتا ہو۔
اب تفتیش طلب امر یہ ہے کہ آخر فقط ایک صورت میں اس لفظ کو اپنے بقیہ مشتقات سے کیوں جدا کیا گیا؟۔ اختلاف باب کی وجہ سے تو نہیں جیسا کہ ابھی معلوم ہو چکا۔ ہاں! شاید اللہ فاعل اور مفعول ذی روح ہونے کی وجہ سے مگر یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ کسی ایک لغوی نے بھی یہ قاعدہ نہیں لکھا کہ اللہ کے فاعل اور مفعول ذی روح ہونے سے لفظ
٥
اپنے مادہ سے اس قدر دور جا پڑتا ہے۔ گویا کہ پھر اسے اپنی اصل سے کوئی علاقہ ہی باقی نہیں رہتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ (مات زید) کے معنی بھی موت کے ہیں اور (اماتہ اللہ) میں بھی وہی معنی حاصل ہیں۔ لہٰذا یہ وجہ بھی اس مخترع استثناء کی قرار نہیں پاسکتی۔ اب ہمیں نہیں معلوم کہ اس لفظ نے مرزائیوں کا کیا قصور کیا ہے جو وہ اس کے معنی سارے استعمالات کے بر خلاف بیان کرتے ہیں۔ مجھے بعض اوقات تحیر ہوتا ہے کہ اس جماعت نے خود تو اس قدر بعید از عقل اور نقل دعویٰ کیا ہے۔ اس پر اہل اسلام سے مطالبات کا ارادہ ہے۔ اگر ہم اس کے جواب میں فقط اسی پر اکتفا کریں کہ ہم اس مقام پر بھی وہی معنی مراد لیتے ہیں جو اس کے دیگر بے شمار استعمالات میں تمہارے نزدیک بھی مراد ہیں تو بالکل بجا اور کافی ہو گا۔ خصوصاً جبکہ مرزا قادیانی کا ہمارے سر پر الزام یہ ہو۔
”یہ دعویٰ بھی عجیب دعویٰ ہے گویا تمام دنیا کے لئے تو توفی کے لفظ کے یہ معنی ہیں کہ ”قبض روح کرنا“ نہ قبض جسم، مگر حضرت عیسیٰ کے لئے خاص طور پر یہ معنی ہیں کہ مع جسم آسمان پر اٹھالینا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٢، خزائن ص ٣٣ ج ٢٢)
میں کہتا ہوں کہ اگر یہ دعویٰ تعجب خیز ہے تو یہ دعویٰ بھی تعجب خیز ہے کہ لفظ توفی کے جمیع استعمالات میں تو اس کے مادہ کا اثر ظاہر ہو اور جب اللہ فاعل اور مفعول ذی روح ہو۔ جب اس کے معنی اپنے مادہ سے بالکل علیحدہ جا پڑیں اور سوائے موت کے ہر گز ہر گز کوئی اور معنی نہ ہو سکیں۔ گویا کہ سارے استعمالات میں سے ایک صورت کو جدید معنی کے لئے مخصوص کر لینا تو کوئی تعجب خیز دعویٰ نہ ہو اور مرزا قادیانی کا اختراعی الزام تعجب خیز ٹھہرے اور اگر بالفرض فاعل یا مفعول کی تبدیلی سے معنی میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ اللہ کے فاعل اور غیر اللہ کے فاعل ہونے سے مرزائی خیال کے موافق لفظ توفی کے معنی میں فرق پڑتا ہے تو پھر اس میں کیوں استبعاد ہے کہ اگر مفعول عیسیٰ علیہ السلام ہوں تو معنی رفع جسمانی کے ہوں اور جب کوئی دوسرا مفعول ہو تو تغیر مفعول کی وجہ سے موت کے معنی مراد ہو جائیں۔
٤
مرزا قادیانی کا الزام بالکل غلط ہے
علاوہ ازیں حقیقت الوحی میں مرزا قادیانی کا تعجب اور ہمارے سر پر الزام ہمارا دعویٰ نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ لہٰذا میں مکرر دعویٰ کا اعلان کرتا ہوں اگر مرزا قادیانی زندہ ہوں ”لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيٰى“ تو وہ سن لیں ورنہ ان کے معتقدین گوش ہوش کھول کر سن لیں۔ ہم توفی کے معنی حق حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی وہی لیتے ہیں جو ساری دنیا کے لئے لیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک توفی کے معنی پورا لے لینے کے ہیں (جس کو حضرت شاہ عبدالقادر صاحب نے بلفظ ”بھر لینا“ ادا کیا ہے) اور اسی معنی کے لحاظ سے ساری دنیا کی توفی ہوتی ہے۔ ہمارے نزدیک نہ فقط قرآن شریف میں بلکہ سارے لغت عرب میں اس لفظ کا مدلول اور معنی یہی ہیں۔ مگر ہاں کہیں تھوڑا سا فرق بھی ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ تغیر لفظ کی وجہ سے ہونا قرین قیاس ہے مگر نہ اتنا کہ وہ لفظ اپنے مادہ ہی سے جدا جا پڑے۔ وعلیٰ ھٰذا! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے لیا ہی ہے۔ مگر اس طور سے کہ روح مع الجسد اور سارے عالم کو بھی خدا لیتا ہی ہے مگر اس طور سے کہ فقط روح اب ان دونوں مقام پر لفظ لے لینا موجود ہے جو کہ توفی کا مدلول ہے۔ البتہ کہیں رفع جسمی کے ساتھ مجامع ہے اور کہیں موت کے ساتھ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی مجامع مع الرفع ہے اور دیگر بنی آدم کی قبض روح کے ساتھ فقط، جس کا بالآخر حاصل موت ہی ہے۔
یہ امر ابھی میں قرآن سے ثابت کروں گا کہ موت میں بھی لے لینا ہے مثال کے طور سے دیکھئے ”ید“ اور ”وجہ“ کا لفظ خداوند عالم اور عباد دونوں میں مستعمل ہے۔ مگر ”ید“ کا مصداق عباد میں شکل مخصوص ہے اور خداوند عالم میں جو اس کی شان کے مناسب ہے۔ اسی طرح ”عین“ اور ”اصابع“ اور ”رجل“ اور ”ساق“ اور ”ازار“ اور ”رداء“ ان سب کا استعمال جناب باری عزاسمہ میں بھی احادیث صحیحہ اور قرآن عزیز میں موجود ہے باایں ہمہ مصداق کا فرق بھی ضرور ہے۔
اب کیا کوئی احمق جاہل کہہ سکتا ہے کہ عجیب بات ہے کہ ”ید“ کا لفظ جب ساری
٦
دنیا کے لئے مستعمل ہو جب تو اس سے ایسا ”ید“ مراد ہو جس میں ”اصابع“ اور اعصاب لحم و شحم ہیں اور جب خدا کی جناب میں مستعمل ہو تو اس کو ایک بے کیف اور مجہول الحال شئی قرار دے دیا جائے الحاصل توفی بمعنے موت کبھی مرتبہ مدلول میں مستعمل نہیں ہوا۔ یعنی اس طور سے کہ موت لفظ توفی کا موضوع لہ ہو ہاں کبھی لے لینا اور پورا کرنا موت کی طرف منتہی ضرور ہو جاتا ہے۔ یعنی خدا کسی کی عمر پوری کرے گا تو اس کی عمر کی انتہا موت ہی سے تو ہو گی یابدوں موت............ کے بھی عمر منتہی ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک موت نہیں آتی‘ کہا جاتا ہے کہ ابھی اس شخص کی عمر پوری نہیں ہوئی اور جب موت آجاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اب اس کی عمر پوری ہو گئی۔ پس عمر کے پورے ہونے کی انتہا چونکہ موت پر ہی ہے۔
کتب لغت میں توفی بمعنے موت ہونے کا راز
اسی لئے لغویین نے توفاہ اللہ کے معنے مات کے بھی لکھ دیئے ہیں نہ اس لئے کہ ان کے نزدیک توفی بمعنی موت حقیقی ہے۔ دیکھو لسان العرب ج ١٥ ص ٣٥٩ :” توفى الميت استيفاء مدته التى وفيت له وعدد ايامه وشهوره و اعوامه فى الدنيا انتهى . “
اس معنی کو خود مرزا قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ ضمیمہ براہین احمدیہ ص ٢٠٥ حاشیہ خزائن ص ٢٧٣ ج ٢١ پر تحریر فرماتے ہیں : ”معلوم رہے کہ زبان عرب میں لفظ توفی صرف موت دینے کو نہیں کہتے بلکہ طبعی موت دینے کو کہتے ہیں۔........... اسی بناء پر لسان العرب اور تاج العروس میں لکھا ہے : ” توفى الميت استيفاء مدته التى وفيت له وعدد ايامه و شهوره واعوامه فى الدنيا۔“ یعنی مرنے والے کی توفی سے مراد یہ ہے کہ اس کی طبعی زندگی کے تمام دن اور مہینے اور برس پورے کئے جائیں۔“
اب معترض صاحب ملاحظہ کریں کہ خود مرزا قادیانی ہی اپنی آخری تصنیف میں کس قدر صراحت کے ساتھ توفی کو پورا کئے جانے کے معنی میں تسلیم کرتے ہیں :” وماذا بعد الحق الا الضلال . “الغرض چونکہ عمر کا پورا کرنا اور موت دینا مصداق میں مجامع
٧
ہیں۔ اس لئے توفی کے معنی موت کے ہی لکھ دیئے جاتے ہیں اردو میں مثال ملاحظہ فرمائیے۔ جب کبھی کسی بڑے شخص کا انتقال ہوتا ہے تو یہ کوئی نہیں کہتا کہ فلاں بزرگ مر گیا۔ بلکہ یوں کہا جاتا ہے کہ ان کا وصال ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ وصال اور وصل کے لغوی معنی ملنے کے ہیں۔ اس طرح انتقال نقل سے مشتق ہے، جس کے معنی ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف حرکت کرنے کے ہیں مگر جب کسی بزرگ کی نسبت وصال یا انتقال کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے موت ہی کے معنی سمجھے جاتے ہیں اور اب کیا کوئی جاہل کہے گا کہ چونکہ دنیا کے سارے بزرگوں کے حق میں وصال بمعنی موت استعمال ہوا ہے۔ لہٰذا وصال کا موضوع لہ موت ہے اور اس بناء پر شاعر کے قول مثلاً : "وصال یار مشکل ہے" میں شاعر کی تمنا یار کی موت کی ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ یہی کہا جائے گا کہ وصال کے لغوی معنی ملنے کے ہیں مگر چونکہ بزرگوں کی نگاہ میں فقط ایک خدا سے ملنا ہوتا ہے جو بدوں موت متصور نہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ فلاں بزرگ کو بارگاہ ایزدی میں وصول میسر ہوا بالآخر اس کے مرادف ہو جاتا ہے کہ وہ مر گئے۔ اس لئے وصال مراد موت بولنے لگے ہیں۔ اس طرح لفظ انتقال ہے چونکہ بزرگان دین کی نسبت موت کا لفظ معمولی سمجھا گیا ہے۔ لہٰذا ان کی موت کو ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف منتقل ہونے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
۔ یہی حال لفظ توفی کا ہے کہ اس میں بھی فی الجملہ تشریف ہے خصوصاً جبکہ اللہ فاعل ہو۔ پس اگر کہیں یہ لفظ موت کی مراد میں نظر آتا ہو تو یہ نظراً الی التشریف ہے۔ لا لکونہ موضوعا لہ‘ جیسا کہ بیت اللہ اور روح اللہ اور ناقۃ اللہ میں تقریر کی گئی ہے۔
الحاصل جس طرح عرفاً فلاں حضرت کا وصال ہو گیا یا فلاں صاحب کا انتقال ہو گیا سے سوائے موت کے اور کچھ نہیں سمجھا جاتا۔ باوجود یہ کہ پھر بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ موت ان الفاظ کے معنی حقیقی ہیں نہ یہ بے ہودہ تاویل کی جاسکتی ہے کہ یہ الفاظ اپنے دیگر استعمالات مثلاً وصول اور ایصال سے بدون کسی قاعدہ کے بالکل جدا ہیں۔ اس طرح لفظ توفی کو بھی سمجھئے۔ چونکہ عام طور پر عمر کا پورا ہونا موت ہی پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس لئے توفی کے معنی موت کے بھی لکھ دیئے گئے ہیں مگر اس سے لفظ کا اپنے موضوع لہ سے نہ خروج لازم آتا ہے
٨
اور نہ اس معنی کا حقیقی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ بلکہ حقیقی معنی کا تحقق چونکہ عموماً موت کے مجامع ہو رہا ہے۔ لہٰذا عوام جو کہ مجامع للموت یا بمعنے موت ہونے میں کوئی تفریق نہیں کر سکتے توفی مجامع للموت کو بمعنی موت ہی قرار دے دیتے ہیں۔ لہٰذا توفی بمعنی موت اس سرسری اور عامیانہ استعمال کے لحاظ سے ہے۔ رہے خواص اور اہل علم سو وہ چونکہ تنقیحات علمیہ سے بخوبی مرتاض ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کے نزدیک توفی مجامع للموت ہونے سے بمعنی موت نہیں بن جاتا بلکہ وہ موت کو مرتبہ مصداق یا جزء اخیری کے مرتبہ میں رکھ کر لفظ کو اپنے مدلول سے خارج نہیں کرتے۔ چنانچہ اس مضمون کی شہادت کلیات ابو البقاء سے بخوبی ہو جاتی ہے : ”(التوفی) الاماته و قبض الروح وعلیه استعمال العامته اوالا ستیفاء واخذ الحق وعلیه استعمال البلغاء ۔“
اگر کسی کو عبارت فہمی کا سلیقہ ہو تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس عبارت کی مراد یہ نہیں ہے کہ بلغاء کے یہاں توفی کسی ایک مقام پر بھی موت کے مجامع نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ بلغاء کے نزدیک اس لفظ کے معنی استیفاء اور اخذ حق کے ہی ہوتے ہیں۔ اگرچہ مراد اس سے موت ہی کیوں نہ ہو۔ پس حق لفظ اور اشتقاق بھی ہے کہ اس میں اخذ اور استیفاء کے معنی ہر حال مرعی رہیں گو بظاہر کہیں سطحی نظریں بمعنی موت سمجھیں۔ وعلی ھٰذا! اس عبارت میں توفی کے محل موت میں مستعمل ہونے سے انکار نہیں مگر وجہ تخریج میں نظروں کا تفاوت ضرور ہے‘ عام آدمی سمجھتا ہے کہ توفی مصداق میں موت کے ساتھ جمع ہوا تو اس کے معنی ہی موت کے کرنے لگتا ہے۔ مگر بلیغ موت کو انحاء استیفاء میں سمجھ کر استیفاء مرتبہ مدلول میں اور موت کو مرتبہ مصداق میں رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ لغویین کافۃً اس امر میں متفق ہیں کہ موت توفی کے معنے حقیقی نہیں مگر پھر وجہ تخریج میں مختلف ہیں بعض کہتے ہیں کہ توفی المیت بمعنی استیفاء ہے۔ یعنی عمر پورا کرنا اور پورا لینا اور ............ بعض فرماتے ہیں کہ بمعنی اخذ ہے۔ یعنی کون فیھم کا مقابل جیسا کہ اردو میں کہا جاتا ہے کہ فلاں نے اپنا حق وصول کر لیا۔ اس لئے کلیات کی عبارت میں دو لفظ آئے ہیں اوالاستیفاء واخذ الحق۔ پس یہ دونوں شئی واحد نہیں ہیں مگر
٩
موت کے مرادف بھی نہیں ہیں یہ بھی یاد رہے کہ استیفاء کی دلالت اس معنی پر اولیٰ ہے اور جز اخیری پر ثانوی اور توفی کی دلالت علی العکس ہے۔ یعنی استیفاء میں حرکت مبدء سے مقطع کی طرف ہے اور توفی میں مقطع سے مبدء کی طرف۔ لہٰذا جب توفی مسند الی الرب العزت ہوتا ہے تو اس مقام پر مراد جز ثانی ہوتا ہے۔ بلحاظ جز اول اور جب مسند الی العبد یعنی الی المفعول ہوتا ہے تو مراد جزء اول ہوتا ہے بلحاظ جزء ثانی۔
اس تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ لفظ توفی کسی ایک مقام پر بھی بمعنی موت حقیقتاً مستعمل نہیں۔ ہاں مجامع ضرور ہے۔ لہٰذا : ”اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ“۔ آل عمران آیت ٥٥ ”میں یہ وعدہ کہ اے عیسیٰ میں تیری عمر پوری کروں گا۔ الی حین الوفاۃ مستنبط ہے اور جب تک کہ ان کی زندگی کے لمحات پورے ہوتے رہیں گے۔ کہا جائے گا کہ ان کی عمر پوری کی جارہی ہے۔ وعلیٰ ہٰذا توفی مقدم ہی ہونا چاہئے تھی کیونکہ یہ بمنزلہ مزید علیہ کے ہے اور مجامع ہے رفع کے ساتھ۔ نہ یہ کہ رفع بعد التوفی ہے۔ یعنی انقطاع توفی کے بعد رفع نہیں ہے بلکہ توفی جو ایک امر ممتد اور مستمر ہے اس مستمر زمانہ میں رفع بھی ہوا ہے۔ لہٰذا وہ امر مستمر اس رفع کے ساتھ مجامع ہو گیا؟۔ پس رفع کے زمانہ میں یہی توفی چل رہی ہے۔ یہاں تک کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے اور جو اجل خدا کے علم میں مقدر ہے اسے ختم فرما چکیں گے اور وفات پائیں گے تو کہا جائے گا کہ عمر پوری ہو چکی۔ اسی مقام سے تفسیر ابن عباسؓ کی مراد بھی حل ہو گئی کیونکہ ”انی ممیتک“ کے یہ معنی تو کوئی بھی نہیں کر سکتا کہ میں تیری موت سے پہلے تجھے موت دیدوں گا.......... بلکہ توفی ایک انتہائی وعدہ ہے جس کی ابتداء تعلیم ہے کیونکہ اگر توفی کو ذکر ہی نہ کیا جاتا تو کلام منتظر باقی رہ جاتا اور یہ نہ معلوم ہوتا کہ : ”جاعل الذین“ کے بعد کیا ہو گا اور اگر بعد میں ذکر فرماتے تو چنداں لطیف نہ رہتا کیونکہ معلوم ہے کہ انسان کے لئے بالآخر فنا ہی ہے۔ لہٰذا انتہائے ارادہ کی اولاً تعلیم فرما کر بقیہ مواعید کو ذکر فرمایا۔ یہ یاد رہے کہ اس تفسیر کو ترتیب کے خلاف سمجھنا سخت نادانی ہے کیونکہ ترتیب فقط واقع کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ ترتیب جیسا کہ حسب الوقوع ہوتی ہے۔ اس طرح حسب الذکر اور حسب العرف بھی ہوتی ہے۔ پس کسی کلام کے مطابق ترتیب
١٠
ہونے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ ساری ترتیبیں اس میں مجتمع ہو جائیں کیونکہ بعض اوقات بعض ترتیب بعض ترتیب کے مناقض ہوتی ہے۔ لہذا مطابقت ترتیب اسی لحاظ سے لی جائے گی جس اعتبار سے متکلم نے اپنے کلام میں ارادہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر متکلم کو چند امور کی فقط تعدید مطلوب ہو تو اس مقام پر وہ واقع کا لحاظ نہیں کرے گا۔ کیونکہ یہ اس کے مقصود سے خارج ہے۔ جیسا کہ علماء معانی نے جاء زید و عمر اور جاء زید فعمر میں لکھا ہے۔ بناءً علیہ میں کہتا ہوں کہ اس آیت میں بھی ان مواعید کی ترتیب بتلانا مد نظر نہیں اگر ترتیب بتلانی مد نظر ہوتی تو بجائے واو کے ف یا ثم حرف عطف لائے جاتے۔ حالانکہ ان حروف میں سے کوئی بھی اس مقام پر موجود نہیں ہیں۔ پس مقصود آیت میں صرف ان مواعید کا افادہ ہے۔ بدون التعرض الی الترتیب الوقوعی۔ لہذا آیت بیان ترتیب سے ساکت ہے اور ترتیب وقوعی خارج کے سپرد ہے۔ ہاں اس قسم کے مقامات پر جو عرفی ترتیب ہے وہ آیت میں موجود ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اگر متوفیک کو مؤخر کر دیا جاتا تو خلاف ترتیب عرفی ہو جاتا اگرچہ ترتیب وقوعی کی مطابقت حاصل ہو جاتی مگر وہ غیر مقصود تھی جیسا کہ معلوم ہوا۔ لہذا توفی بمعنی موت لے کر اور یہ مان کر کہ عیسیٰ علیہ السلام بعد النزول من السماء وفات فرمائیں گے۔ پھر بھی ترتیب یہی تھی جو آیت میں موجود ہے فافہم۔ اور یہ بھی عقلاً معلوم ہے کہ موت سب مرحلوں کے بعد میں ہوا کرتی ہے۔
- (٢)........... مغالطہ سے بچانے کے لئے یہ امر بھی ظاہر کر دینا ضروری ہے کہ
ہمارا نزاع اس میں نہیں ہے کہ بعض لغت کی کتب میں توفاہ اللہ کے معنی مات یا ادرکتہ الوفاۃ کے لکھے ہیں بلکہ میری طرف سے اس کا اقرار بھی گزر چکا ہے۔ اور نہ فقط اتنی بات ہمارے مخالف ہے۔ بلکہ النزاع یہ ہے کہ آیا معنی مذکور حقیقی ہیں یا مجازی۔
مرزائی مدعی ہیں کہ موت معنی حقیقی ہیں اور ہماری طرف سے یہ اصرار ہے کہ یہ معنی ہرگز ہرگز حقیقی نہیں چونکہ یہ دعویٰ لغت کے متعلق ہے۔ لہذا کوئی مرزائی کسی ایک معتبر لغت کی کتاب سے دکھلاوے جس نے صاف طور پر لکھ دیا ہو کہ توفاہ اللہ بمعنی مات حقیقی ہے اور جب تک یہ تصریح پیش نہ کی جائے اس وقت تک لغویین کی کتابیں کھول کھول کر
فقط مات کا لفظ دکھا دینا ہمارے لئے کوئی مضر نہیں ہے کیونکہ ہم بھی اس معنی کو ایک سرسری اور عامیانہ استعمال تسلیم کرتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ جب تک کوئی نقل اس کے خلاف نہ پیش کی جائے اس وقت تک لغویین کی تحریر سے متبادر یہی ہے کہ مات معنی حقیقی ہیں تو میں نہایت فراخ دلی سے ایسی نقل پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ملاحظہ ہو اساس البلاغۃ ص ٤٩٢ ج ١ مصنفہ علامہ زمخشری جو مرزا قادیانی کے نزدیک بھی بہت بڑے شخص ہیں۔ جیسا کہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٠٨‘ خزائن ص ٨٠ ج ٢١ میں ہے : ”اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ زبان عرب کا ایک بے مثل امام جس کے مقابل پر کسی کو چوں و چرا کی گنجائش نہیں یعنی علامہ زمخشری ۔“
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے فتویٰ دے دیا ہے کہ علامہ زمخشری کے بالمقابل کسی کو چوں و چرا کی گنجائش ہی نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا میں دیکھوں گا کہ مرزائی صاحبان کہاں تک مرزا قادیانی کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
اساس البلاغۃ ص ٣٠٤ ج ٢ ” ومن المجاز توفی وتوفاہ اللہ ادرکتہ الوفاۃ “ یعنی توفاہ اللہ کے معنی ادرکتہ الوفات کے مجازی ہیں۔ ہماری خوش قسمتی اور مرزائیوں کی بدقسمتی سے حسب الاتفاق علامہ کی اس عبارت میں فاعل اللہ اور مفعول ذی روح اور فعل توفی بھی ہے مگر پھر تصریح فرما رہے ہیں کہ توفاہ اللہ کے معنی موت کے مجازی ہیں۔ مرزائیو! خدارا اپنے نبی کے قول کی تو لاج رکھو اور اب تو شائع کر دو کہ توفاہ اللہ کے معنی مات کے مجازی ہیں تاکہ کسی کے تو مقتدی کہلاؤ۔
ایک مشہور مرزائی مصنف کی قابل ذکر ایمان داری
اس مقام پر مجھے بہت تأسف کے ساتھ میاں خدا بخش مرزائی مصنف عسل مصفےٰ کی ایمانداری کا حال بھی تحریر کرنا پڑتا ہے۔ ان حضرت نے جب اپنی کتاب میں اس عبارت کو درج کیا ہے تو شاید انہیں مرزا قادیانی کا فتویٰ بھی یاد آگیا ہے۔ لہٰذا اگر پوری عبارت نقل کر دیتے تو توفی کا معنے موت مجازی ہونا ثابت ہو جاتا جس کے مقابل پر حسب فتویٰ مذکور کچھ
١٢
چوں و چرا کی گنجائش نہ رہتی تو اب سہل صورت یہ ایجاد کی کہ علامہ کی اس عبارت کو کاٹ تراش کر و من المجاز کا لفظ ہی حذف کر دیا اور مابعد کی عبارت نقل کر دی جس میں یہ تھا کہ توفی بمعنے موت ہے اور جس جملہ میں اس معنی کا مجازی ہونا مصرح تھا اسے شاید غایت دیانت کے باعث نقل نہیں کیا۔ شاباش مرداں چنیں کنند۔ مرزائیو! اپنے دیانت داروں کا حال دیکھو اور اب بھی راہ راست پر آجاؤ اور خوب سمجھو کہ اگر تم میں حق پر پردہ ڈالنے والے زندہ ہیں تو اسلام میں اس پردے کو ہٹا کر مرزائی ایمان کی ننگی تصویر بھی پیش کر دینے والے موجود ہیں اگر کوئی قادیانی یا لاہوری اس مشہور مرزائی مصنف کی اس بددیانتی کو غلط ثابت کر دے تو اسے ایک سو روپے انعام ملے گا : ” فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ۔ “
الحاصل جبکہ ہم نے توفی بمعنی موت ہونے پر علامہ زمخشری جیسے شخص سے مجاز ہونے کی تصریح پیش کر دی ہے۔ اس لئے اس کے مقابلہ میں تاوقتیکہ کسی ایسے ہی شخص کی عبارت پیش نہ کی جائے جس نے ان معنوں کا حقیقی ہونا تسلیم کیا ہو اثبات مدعی خواب و خیال سمجھنا چاہئے۔
(٣) .......... یہ بات مسلم ہے کہ اضداد کا تمایز تقابل سے بہت نمایاں طور پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ مثلاً خوبصورتی کو بدصورتی کے مقابلہ میں رکھو تو کما حقہ امتیاز ہو جائے گا کہ یہ شے اور ہے اور یہ اور۔ اس طرح ظلمت اور نور الم و سرور انس و نفور خاکساری و غرور کے معانی کا تمایز عند التقابل علیٰ وجہ الکمال ظاہر ہو جاتا ہے۔ اسی بناء پر متنبی کہتا ہے : ” بضدھا تتبین الاشیاء۔“ وعلیٰ ہٰذا اگر توفی بمعنی موت حقیقت ہے تو ہمیں قرآن کی تتبع سے معلوم کرنا چاہئے کہ کیا قرآن نے کہیں حیات اور توفی کو مقابل ٹھہرایا ہے۔ پس اگر عرف قرآن سے ثابت ہو جائے کہ اکثر مقامات حیات کے مقابلہ میں توفی کو رکھا گیا ہے تو پھر توفی کا بمعنی موت ہونا بے شک قابل غور ہوگا۔ کیونکہ حیات کا مقابل نام موت ہی ہے اور اگر توفی کو بیشتر مقامات پر حیات کا مقابل نہ ٹھہرایا گیا ہو بلکہ بجائے توفی کے موت کو حیات کے بالمقابل رکھا گیا ہو تو یہ امر بداہتہ واضح ہو جائے گا کہ توفی بمعنی موت نہیں ہے۔ اب میں ذیل میں ان آیات کو نقل کرتا ہوں جس میں توفی اور موت کے متقابلات کو ذکر کیا گیا ہے۔
١٤
- (١)......:”يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ٠ الحديد آیت١٧“
- (٢)......:”هُوَ الَّذِیْ یُحْیِ وَیُمِیْتُ٠ المومن آیت ٦٨“
- (٣)......:”كِفَاتًا ٠ اَحْیَاءً وَّاَمْوَاتًا ٠ المرسلات آیت٢٦“
- (٤)......:”یُحْيِيْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ٠ الجاثيه آیت ٢٦“
- (٥)......:”هُوَ اَمَاتَ وَاَحْیَا٠ النجم آیت ٤٤“
- (٦)......:”لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَلَا یَحْیٰی ٠ الاعلی آیت ١٣“
- (٧)......:”یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ٠ الروم آیت ١٩“
- (٨)......:”وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ٠ الروم آیت ١٩“
- (٩)......:”وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَاءٌ٠
البقره آیت ١٥٤“
- (١٠)............:”اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَاءٍ ٠ النحل آیت ٢١“وغیرہ
اب دیکھئے کہ ان جمیع آیات میں جن کو میں نے صرف بغرض تمثیل نقل کیا ہے۔ حیات کا مقابل موت اور موت کا مقابل حیات کو ٹھہرایا گیا ہے جس سے معلوم ہو گیا کہ حیات کوئی ایسی شے ہے جو موت نہیں ہے اور موت کوئی ایسا امر ہے جو حیات نہیں۔ اس کے بعد اب توفی کے متقابلات پر نظر فرمائیے۔
(١)......:”وَكُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّادُمْتُ فِیْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ ٠ مائده آیت ١١٧“ (٢)......:”اَللّٰهُ یَتَوَفَّی الْاَ نْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا٠ زمر آیت ٤٢“ (٣)......:”وَمِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی وَمِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ٠ حج آیت ٥“ (٤)......:”وَهُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰكُمْ بِالَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَاجَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ٠ انعام آیت ٦٠“ (٥)......:”فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ ............. الخ٠ مومن آیت ٧٧ ‘ یونس آیت ٤٦‘رعد آیت ٤٠“ (٦)......:”حَتّٰی یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا ٠ نساء١٥“
اب ملاحظہ فرمائیے کہ سورۃ مائدہ میں توفی کو کونہ فِیہِم کے بالمقابل وزمر میں موت
١٤
و حیات کے مجامع اور حج میں رد الی ارذل عمر کے مقابل اور انعام میں جرح کے مقابل اور مومن‘ یونس و رعد میں اراۃ کے مقابل اور نساء میں جعل سبیل کے مقابل قرار دیا گیا۔ ان جمیع مقامات میں کسی ایک مقام پر بھی توفی کو حیات کا مقابل قرار نہیں دیا گیا۔ اب ذرا قرآن عزیز کی اس بلیغ تقسیم پر غور فرمائیے کہ ادھر تو حیات کے مقابل موت کو رکھا گیا اور توفی کو مقابل نہ بنایا اور ادھر توفی کا مقابل حیات نہ رکھا بلکہ ان اشیاء کو‘ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ عرف قرآن میں نہ توفی حیات کا پورا مقابل ہے اور نہ حیات توفی کا‘ بلکہ حیات اور موت متقابل ہیں توفی اور کونہ فیہم وغیرہ مقابل ہیں۔ اب اگر کہا جائے کہ قرآن شریف میں توفی کا مقابل امور عدیدہ کو کیوں قرار دیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مفہوم مقابل للتوفی فی نفسہ اس قدر عام ہے کہ جس کے افراد کثیرہ ہیں۔ مثلاً انسان کی نقیض لاانسان ہے۔ اب حجر بھی لاانسان ہے اور شجر بھی لاانسان ہے الی غیر ذالک اور یہ سب انسان کے مقابل ہی ہیں اس طرح توفی کے معنی جبکہ پورا لئے جانے یا حق وصول کرنے کے تھے۔ لہٰذا اب اگر کسی شی کو پورا نہ لیا گیا ہو تو اس کی متعدد صور ہیں جیسا کہ مائدہ میں توفی کا مقابل ما دمت فیہم قرار دیا گیا ہے کیونکہ دوامہ فیہم کے زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام اس معنی کے لحاظ سے غیر متوفی تھے اور زمر میں تو صراحۃً توفی کو موت اور حیات یعنی عدم موت دونوں کے مجامع قرار دے دیا گیا ہے۔ جس نے فیصلہ ہی کر دیا کہ توفی نہ موت کا پورا مقابل ہے نہ حیات کا۔ لہٰذا توفی اموات اور احیاء دونوں کی بن سکی کما سیجیئ تفصیلہ عنقریب اس طرح حج میں ”رد الی ارذل العمر“ کا مقابل بنایا گیا ہے کیونکہ ”من یرد الی ارذل العمر“ ظاہر ہے کہ اس معنی سے غیر متوفی ہے۔ ایسا ہی انعام میں جرح غیر توفی ہے کیونکہ حالت جرح میں بھی انسان پورا نہیں لیا جاتا جیسا کہ ظاہر ہے۔ اس طرح سورہ مومن و یونس و رعد میں بھی اراۃ کو توفی کا مقابل اسی لحاظ سے قرار دیا گیا ہے کیونکہ بحالت توفی اراۃ بعض الذی نعد غیر متصور ہے۔ ایسا ہی نساء میں جعل سبیل حالت توفی نہیں ہے بلکہ جعل سبیل عدم توفی کی صورت میں ہی ہے۔ الحاصل تعدد مقابلات توفی مفہوم مقابل کی فی نفسہ کلیۃ کی جہت سے ہے نہ کسی اور جہت سے۔ اس بیان سے ایک حق کے طالب کے لئے یہ امر بداہت کی حد تک پہنچ چکا ہے کہ ١٥
عرف قرآن میں ہرگز توفی بمعنی موت نہیں خصوصاً جبکہ ان آیات مندرجہ بالا میں فعل توفی اور اللہ فاعل اور مفعول ذی روح بھی ہے۔ لہذا اب اس بہانہ کی بھی گنجائش نہیں رہتی کہ ان جمیع آیات میں توفی شرائط بالا کے برخلاف واقع ہے۔
(٤)..........یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن عزیز میں اماتتہ کی اسناد علی سبیل الحقیقت سوائے خداوند عالم کے اور کسی غیر کی طرف نہیں کی گئی بلکہ احیاء اور اماتتہ کو بطور حصر اپنی صفت قرار دیا ہے : ”كما قال هو يحي ويميت“ اس وجہ سے محیی اور ممیت خداوند عالم کے اسماء مختصہ میں سے قرار دیئے گئے ہیں۔ برخلاف اس کے توفی کا فاعل غیر اللہ کو بھی قرار دیا گیا ہے۔
چنانچہ آیات مندرجہ ذیل ملاحظہ ہوں :
(١).......: ”حَتّٰی يَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ٠ نساء آیت ١٥“ (٢).......: ”قُلْ يَتَوَفّٰكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُكِّلَ بِكُمْ ٠ سجدہ آیت ١١“ (٣).......: ”اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰهُمُ الْمَلَآئِكَةُ ظَالِمِيْ اَنْفُسِهِمْ٠النساء آیت ٩٧ “(٤).......: ”تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلَآئِكَةُ ظَالِمِيْ اَنْفُسِهِمْ٠نحل آیت ٢٨“ (٥).......: ”تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلَآئِكَةُ طَيِّبِيْنَ ٠نحل آیت ٣٢“ (٦).......: ”تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا٠انعام آیت ٦١“ (٧).......: ”رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ ٠اعراف آیت ٣٧“ (٨).......: ”فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ ٠ محمد آیت ٢٧“
ان جمیع آیات میں توفی کا فاعل موت اور ملک الموت اور ملائکہ کو قرار دیا ہے۔ پس موت کا فاعل سوائے اپنی ذات کے کسی غیر کو قرار نہ دینا اور توفی کا فاعل غیر اللہ کو بھی بنا دینا ضرور اپنے اندر کوئی مخفی راز رکھتا ہے۔ مرزائی معنی کے مطابق یہ تقسیم اس معجز کلام میں محض اتفاقی اور بے سود ہے اور ہمارے بیان کی رو سے اس میں یہی قرآن شریف کی ایک معجز نما صداقت کا جلوہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ توفی کے معنی ہمارے نزدیک لے لینے کے ہیں اور موت فقط توفی کا نام نہیں بلکہ بعد التوفی امساک خداوندی کا نام ہے۔ پس توفی کی جس قدر مراد ہے اس کا فاعل ملک (فرشتہ) بھی حقیقتاً بن سکتا ہے کیونکہ توفی کے معنی لے لینا ہے اور فرشتہ
١٦
روح کو حقیقتاً لے سکتا ہے مگر اس کے بعد امساک یہ فعل مختص بالباری تعالیٰ ہے اور اس میں فرشتہ کو حقیقتاً کوئی دخل نہیں اور موت چونکہ اسی جزء اخیر کا نام ہے۔ لہذا موت سوائے خدا کے کسی غیر کی طرف حقیقتاً مسند نہیں ہو سکتی خلاف التوفی۔ الحاصل قرآن شریف میں لفظ توفی اور موت میں یہ دوسرا امتیاز ہے۔ اول امتیاز تو تعیین مقابلات سے واضح ہو چکا اور دوسرا امتیاز تقسیم فاعل سے بین ہو گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ توفی اور موت شے واحد نہیں ورنہ قرآن شریف کے یہ بلیغ فروق محض لغو ہوئے جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ!
مرزا قادیانی کے کلام سے ثبوت کہ توفی بمعنی
موت حقیقت نہیں
- (٥).......... الاستفتاء ص ٢٣ خزائن ٢٦٥ ج ٢٢ پر مرزا قادیانی حقیقی اور
مجازی معنے کیلئے ایک معیار نقل فرماتے ہیں :
” ثم اعلموا ان حق اللفظ الموضوع لمعنی ان یوجد المعنی الموضوع لہ فی جمیع افرادِہ من غیر تخصیص و تعیین “
﴿ پھر تم جانو کہ جو لفظ کسی معنے کے لئے موضوع ہو۔ اس کا حق یہ ہے کہ وہ معنی موضوع لہ اس لفظ کے جمیع افراد میں بدون کسی تخصیص اور تعیین کے پائے جائیں۔ ﴾
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے کسی معنی کے موضوع لہ ہونے کے دو حق بیان فرمائے ہیں اول تو یہ کہ وہ معنی موضوع لہ اس لفظ کے جمیع افراد میں پائے جائیں دوم یہ کہ وہ معنے بدون تخصیص اور تعیین کے مفہوم ہوں۔ آپ اسی معیار کے لحاظ سے لفظ توفی کو بھی دیکھئے ہم دیکھتے ہیں کہ مرزائی ”موت“ توفی کے معنی موضوع لہ قرار دیتے ہیں حالانکہ یہاں دونوں شرط منتفی ہیں کیونکہ توفی کے جمیع افراد میں موت کے معنی نہیں پائے جاتے۔ مثلاً اگر توفی کا فاعل غیر اللہ ہو تو مرزائیوں کے نزدیک توفی کے معنی موت کے نہ ہوں گے۔ اس طرح دوسری شرط بھی منتفی ہے کیونکہ مرزا قادیانی نے اس معنے کا بدون تخصیص و تعیین مفہوم ہونا لازم کر دیا ہے۔ حالانکہ اس مقام پر نہ ایک تخصیص بلکہ دو تخصیصیں
١٧
ہیں ۔ ادھر تو فاعل کی جانب اور ادھر مفعول کی جانب ۔ اب بتلائیے کہ جو معنے لفظ کے جمیع افراد میں نہ پائے جاتے ہوں اور بدون تخصیص و تعین کے مفہوم بھی نہ ہوں ۔ وہ کیونکر معنی موضوع لہ ہو سکتے ہیں۔ بر خلاف اس کے ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ ہمارے نزدیک بدون کسی تخصیص و تعین کے توفی کے جمیع افراد میں ایک ہی معنے ہیں جو کہ لے لینا ہیں ۔ لہٰذا اس معیار کے لحاظ سے بھی موت حقیقی معنے نہیں بنتے اور لے لینا ہی حقیقی معنے قرار پاتے ہیں : ” لَوْ كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ “
مرزا قادیانی کے کلام سے ثبوت کہ توفی بمعنے لے لینا ہے
- (٦).......... اب ہم صراحۃً مرزا قادیانی کی کتاب سے ہی ثابت کئے دیتے ہیں کہ
جس جگہ فعل توفی اور فاعل اللہ اور مفعول ذی روح بھی ہے وہاں بھی مرزا قادیانی نے موت کے معنے نہیں کئے۔.......... شاید معترض حق کی طرف رجوع کرے۔
ملاحظہ ہو براہین احمدیہ ص ٥١٩‘ خزائن ص ٦٢٠ ج ١:
” انی متوفیک و رافعک الی ۔.......... الخ “ ﴿ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا ........... الخ ۔ ﴾
اب ناظرین انصاف کریں کہ کیا بعد از صریح عبارت کے بھی توفی کے حقیقی اور موضوع معنی میں کوئی شک باقی رہ گیا ہے۔ حالانکہ اس مقام پر خدا فاعل بھی ہے اور مفعول ذی روح بھی اگر کہا جائے کہ مرزا قادیانی نے بھی غلطی کی ہے تو ہمیں ایسے نبی کی دعوت سے معذور سمجھا جائے جسے عربی کے ایک موٹے لفظ کے معنی سمجھنے کی لیاقت تک نہ ہو اور اس میں بھی وہ چالیس برس سے زیادہ مدت تک گمراہ رہے اور نہ قرآن کی تیس آیتوں کی طرف غور کرے اور نہ مرزائیوں کے موہوم اجماع کی طرف نظر ڈالے حالانکہ بارہ برس تک دعویٰ وحی بھی کرتا ہو اور خدا اس کی غلطی پر اسے متنبہ بھی کرتا ہے مگر وہ فقط (بزعم خود) گمراہ عوام کے اتباع میں وحی خداوندی کی بھی تاویل کرے احادیث اور محاورہ قرآن کو بھی پس پشت ڈال دے ۔ اجماع کی بھی کوئی پرواہ نہ کرے اور ان سارے دلائل قاطعہ کے روبرو
١٨
گمراہ عوام کے اتباع میں بہبودی تصور کرے بلکہ اسی کو طریق انبیاء قرار دے۔ ونعوذ بالله من خرافات هذا الدجال و متبعيه فانهم فى كل واد يهيمون ويقولون مالا يفعلون والله اعلم!
قرآن شریف سے توفی کا موت سے مغائر ہونے
کا ثبوت اور مرزائی چیلنج کا جواب
”قال الله تعالى! اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرٰی إِلٰی أَجَلٍ مُّسَمًّى ............ الخ . الزمر آیت نمبر ٤٢“
اے میرے بھٹکے ہوئے دوستو! اور اے سراب خادع کو ماء مصفےٰ خیال کرنے والو! آؤ اور قرآنی آیت: ”فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ . النساء آیت ٥٩“ کے تحت قرآن سے ہی فیصلہ کر لو۔ میں نے تم کو تحقیق لغت اور تنقیح محاورات و تصرفات قرآن اور بالآخر خود مرزا قادیانی کی تصانیف تک سے سمجھا دیا کہ توفی بمعنى موت ہرگز نہیں اور جس شخص نے ایسا کہا اس نے غور کلام کو چھوڑ کر اطراف میں اپنا وقت عزیز ضائع کیا۔ مگر تمہارے نزدیک اگر زمخشری کی تصریح اور ابو البقاء کی تفصیل بھی قابل اعتبار نہیں تو آؤ قرآن ہی کو اپنے سامنے رکھو اور اپنی قسمت کا آخری فیصلہ کر لو پھر یا مؤمن صادق بن جاؤ یا کافر مجاہر رہو۔ لیکن خدارا قرآن کو اپنے تخیل اور اباطیل پر حمل نہ کرو بلکہ اپنے اباطیل کی قرآن سے اصلاح کرو۔ کیونکہ بہت مرتبہ انسان کو باطل کی محبت نصوص کی تحریف اور صرائح کی تاویل پر مجبور کر دیتی ہے۔ پر نیک وہ ہے جس نے قرآن کو اپنے عقائد سے نہیں بلکہ اپنے عقائد کو قرآن سے سیکھا اور سنوارا۔ وبه نستعين!
یہ امر تو واضح ہے کہ اس آیت شریفہ میں توفی کی دو نوعیں ذکر کی گئی ہیں۔ ایک ان لوگوں کی توفی جو علیٰ شرف الرحیل ہیں اور دوم : ”والتی لم تمت“ یعنی احیاء کی توفی جس سے کم از کم یہ تو معلوم ہو گیا کہ توفی کوئی ایسا امر نہیں جو مخصوص بالا موات ہو جیسا کہ ١٩
اموات کے متعلق ہوتی ہے۔ اس طرح احیاء کے بھی متعلق ہوتی ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا یہ سمجھ لینا کہ سارے قرآن میں توفی موت ہی کے معنی میں منحصر ہے محض غلطی اور فاحش غلطی ہے۔ کیونکہ اس آیت میں صاف طور سے : ” والتی لم تمت “ کی بھی توفی موجود ہے۔
نیز آیت سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ نوم اور موت میں کیا فرق ہے یعنی ............ دونوں حالتوں میں جسم انسانی سے کچھ لے لیا جاتا ہے پھر یا وہ مر جاتا ہے یا اپنی خواہش ظاہرہ سے تھوڑے عرصہ کیلئے معطل ہو جاتا ہے۔ انہیں دو حالتوں کا آئندہ ذکر فرماتے ہیں : ” فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ......... الخ الزمر آیت ٤٢“ یعنی جو بدن انسانی سے کچھ لے لیتے ہیں اگر اسے لیکر نہ چھوڑا تو موت ہے اور اگر اجل مسمی تک پھر چھوڑ دیا تو نوم ہے۔
الغرض صدر آیت میں احیاء و اموات ہر دو کو خدائی توفی کے ماتحت رکھ کر ذیل میں ان کا فرق ذکر کیا گیا ہے تو لاچار ماننا پڑتا ہے کہ بے شک توفی مرتبہ لابشرط شی میں حیات اور موت دونوں سے مغائر بھی ہے اور مجامع بھی ورنہ آیت میں توفی کو منقسم الی التوفی مع الامساک اور مع الارسال بنانا کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اگر توفی کو ہر دو اقسام کے مغائر اور مجامع نہ لیا جائے بلکہ موت کا عین کر لیا جائے جیسا کہ مرزائی مدعی ہیں تو پھر تقسیم الشی الی نفسہ والی غیرہ کا استحالہ لازم آئے گا اور یہ مستلزم ہوگا کہ : ” قسم الشئ قسیما لہ “ اور : ” قسیم الشئ قسما منہ “ کو ”كما لا يخفى “ پس ضرور ہوا کہ مقام تقسیم میں توفی کو عام ہی لیا جائے تاکہ اس کا مقسم بننا درست ہو سکے۔ نیز اگر توفی کو بمعنی موت لیا جائے تو علاوہ استحالات عدیدہ کے فی نفسہ آیت کا حسن محو ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ مارتا ہے۔ روحوں کو ان کی موت کے وقت اور اللہ مارتا ہے جو روحیں ابھی نہیں مریں اور نوم کے وقت ............ اب اس مضمون کی رککت اور سخافت ملاحظہ فرمائیے کہ اولاً تو موت کے وقت مارے گا کیا مطلب ہے کیا کفار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ خدا موت سے پہلے ہی مار دیتا ہے۔ ؟ جس کے جواب میں خدا کہتا ہے کہ خدا مارتا ہے
٢٠
موت کے وقت ............ ناظرین انصاف کریں کہ : ” حین موتھا “ کو موت کا ظرف قرار دینا کس قدر لغو ہے۔ دوم صدر آیت میں موت مراد لے کر پھر امساک اور ارسال بالکل غیر مربوط ہو جاتا ہے کیونکہ امساک وارسال ما قبل میں ذکر اخذ کو مقتضی ہیں اور اس تقدیر پر اخذ کا کہیں تذکرہ نہیں ............ سوم لفظ موت جو مرنے والے ہیں اور جو زندہ رہنے والے ہیں دونوں پر اطلاق نہیں کیا جاسکتا حالانکہ لفظ : ” توفی حین موتھا “ اور : ” والتي لم تمت “ دونوں پر اطلاق کیا گیا ہے۔ چہارم موت کی تقسیم الی الامساک والارسال باطل ہے۔ کیونکہ موت توفی مع الامساک کے مساوی ہے جو کہ توفی مع الارسال کا قسیم ہے۔ لہٰذا مقسم نہیں بن سکتی۔ پنجم موت چونکہ توفی مع الامساک کا نام ہے۔ لہٰذا موت کے بعد نہ امساک تصور ہے نہ ارسال حالانکہ فیمسک میں فا اسی غرض سے لائی گئی ہے تاکہ امساک اور ارسال کی بعدیت اور ترتیب بالنسبت الی التوفی ظاہر ہو جائے۔ ششم اگر بعد الموت بھی امساک یا ارسال متصور ہو تو لازم آتا ہے کہ ہر ایک شخص پر موت کے بعد ایک اور موت طاری ہو یا موت کے بعد پھر حیات اسی عالم میں نصیب ہو۔ ہفتم اس تقدیر پر لازم آتا ہے کہ موت ارواح پر طاری ہوتی ہو کیونکہ آیت میں توفی انفس کا ذکر ہے۔ پس اگر توفی بمعنی موت ہے تو لا محالہ انفس کی موت تسلیم کرنا پڑے گی۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی ارواح پر الی یوم الحشر فناء نہیں برخلاف اس کے اگر توفی بمعنی اخذ ہو تو پھر کوئی استحالہ نہیں۔ کیونکہ اخذ انفس سے ان کی موت ثابت نہیں ہوتی بلکہ موت بعد الامساک ہوتی ہے۔ رہا یہ کہ پھر موتہا میں موت کی اضافت انفس کی طرف کیونکر صحیح ہے۔ تو جواباً گزارش ہے کہ اس کی جواب وہی ہے جو ہم دونوں فریق پر مساوی ہے کیونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی موت کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ روح انسانی بھی معدوم ہو جائے مگر بطور تبرع وامید نفع خلائق ذکر کرتا ہوں۔ لیکن اس سے قبل ایک مقدمہ عرض کر دینا ضروری ہے اور وہ یہ کہ انفس کا اجساد کے ساتھ اور اجساد کا جو انفس کے ساتھ جو حال و محل کا علاقہ ہے وہ سب کو مسلم ہے۔ پھر یہ بھی معلوم ہے کہ جس طرح انفس صعود وارتقاء میں محتاج الی الاجساد ہیں اس طرح اجساد نقل و حرکت میں محتاج الی الانفس ہیں۔
٢١
الغرض جو نفس اور بدن کے علائق ہیں وہ سب پر روشن ہیں اگر مقام میں گنجائش ہوتی تو میں کچھ زیادہ تفصیل سے عرض کرتا مگر سر دست اس کو اہل عقل و فہم کے حوالہ کر کے عرض کرتا ہوں کہ یہ باہمی ارتباط و احتیاج اس نوبت کو پہنچ چکا ہے کہ افعال جوارح کا اثر روح پر اور افعال روح کا اثر جوارح پر بین طور سے ظاہر ہوتا ہے۔ لہذا جسم کے افعال پر روح کو سزا اور روح کے افعال سے جسم پر مواخذہ ہے۔
پس جبکہ افعال جسم مسند الی الروح اور افعال روح مسند الی الجسم بن سکے تو موت کے جو بحقیقت جسم کے لواحق اور متعلقات میں سے ہے۔ مضاف الی الروح ہونے میں کیا نقص ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اضافہ موتہا میں بادنیٰ ملابست ہے اور یہ تاویل نہیں بلکہ امر حق ہے۔
اگر کوئی اعتراض کرے کہ توفی انفس کے یہی معنے کر لینے چاہئیں تو یہ قیاس مع الفارق ہے کیونکہ صدر آیت میں احوال ارواح کا ذکر مقصود بالذات ہے۔ نہ فقط جسم کا اور نہ جسم مع الروح کا۔ اور دلیل اس کی یہ ہے کہ ذیل آیت میں امساک اور ارسال کا ذکر بھی موجود ہے اور یہ علی الاطلاق روح کے ہی حال بن سکتے ہیں نہ فقط جسم کے اور نہ جسم مع الروح کے۔ الحاصل ان سات وجوہ ........... سے ظاہر ہو گیا کہ آیت میں توفی سے مراد اخذ ہے نہ موت اس کی تائید میں ایک حدیث بھی تحریر کرتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ آیت میں کسی طرح توفی سے موت مراد نہیں بلکہ اخذ اور قبض ہی مراد ہے۔
صحیح بخاری ج ١ ص ٨٣ باب الاذان بعد ذہاب الوقت :
” عن عبداللہ بن ابی قتادۃ عن ابیہ قال سرنا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ فقال بعض القوم لو عرست بنا یا رسول اللہ قال اخاف ان تناموا عن الصلوۃ قال بلال انا اوقظکم فاضطجعوا واسند بلال ظہرہ الی راحلتہ فغلبتہ عیناہ فنام فاستیقظ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وقد طلع حاجب الشمس فقال یا بلال این ما قلت قال ما القیت علی نومۃ مثلہا قط قال ان اللہ قبض ارواحکم حین شاء وردہا علیکم حین شاء ۔ الحدیث“ ٢٢
اب ملاحظہ فرمائیے کہ ان اللہ قبض ارواحکم میں وہی امر بیان کیا گیا ہے جو اللہ یتوفی الانفس میں مذکور ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خود آنحضرت نے بھی آیت اللہ یتوفی الانفس میں توفی الانفس کو قبض روح سمجھا ہے نہ موت کما قالوا۔
الحاصل جبکہ یہ امر بخوبی منقح ہو چکا کہ توفی سے مراد موت نہیں ہے تو پیغام صلح کے چیلنج کا بھی شافی جواب ہو گیا۔ کیونکہ اس مقام پر فعل توفی ہے اور اللہ فاعل بھی ہے اور مفعول ذی روح ہے باوجود اجتماع ان جمیع شرائط کے پھر معنی موت منتفی ہیں۔
(فائدہ جلیلہ) شیخ شہاب الدین سہروردیؒ نے عوارف میں نفس کے متعلق کچھ کلام کیا ہے جس سے موتا کی اضافت میں ایک لطیف توجیہ نکل آئی۔ اور ادنیٰ ملامتہ کہنے کی بھی حاجت نہ رہی۔ وہ فرماتے ہیں کہ موت سے جیسا کہ جسم متاثر ہوتا ہے اسی طرح نفس بھی متالم ہوتا ہے۔ وعلیٰ ہذا اضافہ علیٰ ظاہر ہا ہے۔
آیت دوم : ”وَهُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِاللَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّھَارِ۔ انعام آیت ٦٠“
یہ اقسام توفی میں سے قسم ثانی ہے جس کو اس مقام پر جرح کے مقابل رکھا گیا ہے۔ یہاں بھی موت مراد نہیں باوجودیکہ جمیع شرائط پائے جاتے ہیں کیونکہ اس مقام پر توفی مع الارسال مراد ہے اور یہ توفی مع الامساک کا مقابل اور قسیم ہے : ”کمامر فناھیک آیتین من آیات اللہ“
اس کے بعد میں اس جواب کو نقل کرتا ہوں جو خود مرزا قادیانی کے قلم کا نوشتہ ہے۔ مرزائیوں کو لازم ہے کہ کسی اور جواب کے نقل کرنے سے پیشتر مرزا قادیانی کے اس جواب کو صحیح بنائیں پھر کوئی نیا جواب اپنی طرف سے تراشیں، کیونکہ اپنے نبی سے زیادہ نہ ان کا علم ہے نہ فہم۔ لہٰذا اگر کوئی بہترین جواب ممکن ہوگا تو یہی ممکن ہوگا جو مرزا قادیانی نے پیش کیا ہے۔
”دو موخر الذکر آیتیں اگرچہ بظاہر نیند سے متعلق ہیں مگر در حقیقت ان دونوں آیتوں میں بھی نیند نہیں مراد لی گئی بلکہ اس جگہ بھی اصل مقصد اور مدعا موت ہے اور یہ ظاہر
٢٣
کرنا منظور ہے کہ نیند بھی ایک قسم کی موت ہی ہے۔۔۔۔۔۔ سو ان دونوں مقامات میں نیند پر توفی کے لفظ کا اطلاق کرنا ایک استعارہ ہے۔ جو بوجہ نصب قرینہ نوم استعمال کیا گیا ہے یعنی صاف لفظوں میں نیند کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ ایک شخص سمجھ لے کہ اس جگہ توفی سے مراد حقیقی موت نہیں ہے بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٣٢ خزائن ص ٢٦٩ ج ٣)
اس عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان ہر دو مذکورہ بالا آیتوں میں ظاہراً توفی سے موت مراد نہیں بلکہ نیند مراد ہے۔ ہاں قاعدہ کے مطرد اور منعکس بنانے کے لئے بالآخر نیند کو بھی موت ہی کی طرف راجع کر دیا گیا ہے تاکہ یہ قاعدہ کلیہ کہ : ” جہاں فعل توفی اور اللہ فاعل اور مفعول ذی روح ہے وہاں بجز موت کے اور کوئی معنے نہیں۔“ صحیح بن جائے۔
مگر ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے جو ہم ظاہر معنی کو چھوڑ کر فقط قاعدہ کے ٹھکانے لگانے کے واسطے موت مراد لیں ہر چند کہ ہمارے نزدیک جو آیت کے صحیح معنی تھے وہ گزر چکے مگر اس مقام پر بحیثیت منکر ہونے کے میرے لئے گنجائش ہے کہ آیت کے تاویلی معنے تسلیم نہ کروں اور بطور احتمال تھوڑی دیر کے لئے جس کو مرزا قادیانی نے ظاہری معنے ٹھہرایا ہے تسلیم کرلوں۔ دوم اس عبارت میں ایک اور معمہ بھی قابل حل ہے اور وہ یہ کہ ابتداء کلام میں تو نیند مراد ہونے کی نفی کی گئی ہے پھر چار ہی سطر پر فرماتے ہیں :
”اس جگہ توفی سے مراد حقیقی موت نہیں ہے۔ بلکہ مجازی موت مراد ہے۔ جو نیند ہے۔“
کس قدر تعجب ہے کہ ابھی چند سطروں کا ہی فصل ہونے پایا تھا۔ جو خود اپنے کلام سے رجوع کر لیا گیا۔ میں نے مانا کہ نیند کو مجازی موت مان کر مراد لیا گیا مگر جب نیند اور مجازی موت شیء واحد ہی ہیں تو پھر مجازی موت مراد ہوتے ہوئے نیند کی نفی کیونکر صحیح ہے۔ سوم اس تقدیر پر توفی بمعنی موت ہو اور موت بمعنی نوم لیا گیا تو اب سوچنا چاہئے کہ کیا آیات قرآنیہ ایسی تاویلات کی متحمل ہیں۔ چہارم اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ توفی آیت مذکور میں بطور استعارہ نوم میں مستعمل ہے تو یہ معنی آیت کے جزء ثانی میں بن سکیں گے نہ جزء
٢٤
اول میں۔ کیونکہ حین موتا کے ساتھ توفی بمعنی نوم کسی طرح درست نہیں۔ کیونکہ اس تقدیر پر جزء اول میں موت حقیقی کا بیان ہے اور جزء ثانی میں موت مجازی کا۔ پس اگر توفی کو بمعنی نوم لیا جائے تو لازم آتا ہے کہ حقیقی موت کے وقت بھی آدمی سویا کرتا ہو۔ پنجم جس قدر اعتراضات کہ توفی بمعنی موت لے کر وارد کئے گئے ہیں۔ ان میں سے اکثر توفی بمعنے نوم لے کر بھی وارد ہیں۔ کیونکہ اگر توفی بمعنے موت لے کر توفی مع الامساک کی مساوی بن جاتا ہے تو بمعنی نوم لے کر توفی مع الارسال کی مساوی ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس تقدیر پر بھی بقیہ اکثر استحالات لازم ہوں گے۔
ایک وہم کا ازالہ
شاید کوئی کہے کہ پیغام صلح میں توفی کے معنے قبض روح کے لئے گئے ہیں نہ موت کے اور قبض روح موت اور نوم دونوں سے عام ہے تو جواباً گزارش ہے کہ یہ محض ایک وہم ہے۔ ظاہر ہے کہ مرزائی جماعت اپنے نبی کا خلاف نہیں کر سکتی۔ اور میں پہلے مرزا قادیانی کی نو عبارتیں نقل کر چکا ہوں جس میں انہوں نے تصریح کی ہے کہ توفی سوائے موت کے اور کسی معنے میں مستعمل نہیں۔ اس مقام پر ایک حوالہ اور درج کرتا ہوں۔
”بلا شبہ قطعی اور یقینی طور پر اول سے آخر تک قرآنی محاورہ یہی ثابت ہے کہ ہر جگہ در حقیقت توفی کے لفظ سے موت ہی مراد ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٣٥ خزائن ص ٢٧٠ ج ٣)
بے شک مرزا جی کے کلام میں قبض روح کا لفظ بھی آیا ہے مگر اس سے مراد موت ہی ہے۔ کیونکہ اگر ان کے نزدیک قبض روح کے وہ عام معنے مراد ہوتے تو پھر ہر دو مذکورہ بالا آیتوں میں صاف صورت یہ تھی کہ توفی سے قبض روح مراد لے لیتے۔ اگرچہ یہ بھی صحیح نہ تھا مگر تاہم ان رکیک تاویلات سے بسا غنیمت ہوتا۔ جو مرزا قادیانی نے جواب میں کیں ہیں۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی کے کلام میں خود تصریح بھی موجود ہے کہ موت اور قبض روح ایک ہی معنی ہیں۔
”جب عرب کے قدیم و جدید اشعار و قصائد نظم و نثر کا جہاں تک ممکن تھا تتبع کیا
٢٥
گیا اور عمیق تحقیقات سے دیکھا گیا تو یہ ثابت ہوا کہ جہاں جہاں توفی کے لفظ کا ذی روح سے یعنی انسانوں سے علاقہ ہے اور فاعل اللہ جل شانہ کو ٹھہرایا گیا ہے۔ ان تمام مقامات میں توفی کے معنی موت اور قبض روح کئے گئے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٨٨٦‘ خزائن ص ٥٨٣ ج ٣)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے موت اور قبض روح کو مرادف مانا ہے۔ کیونکہ اگر قبض روح سے مراد عام معنے ہوتے تو ذکر موت محض لغو ہے۔ کیونکہ اس تقدیر پر موت بھی قبض روح کے افراد میں سے ہے جیسا کہ نوم۔ دوم عبارت یوں ہونی چاہئے تھی کہ : ”بعض مقامات میں توفی کے معنے موت کے کئے گئے ہیں اور بعض مقامات میں قبض روح کے۔“ مگر عبارت میں تو یہ ہے کہ : ”ان تمام مقامات میں توفی کے معنی موت اور قبض روح کے کئے گئے ہیں۔“
اب ظاہر ہے کہ قبض روح سے موت کے علاوہ کسی اور معنی کا ارادہ کیا گیا ہوتا تو تمام مقامات میں موت اور قبض روح مراد ہونا محض باطل ہے کیونکہ جہاں موت ہے وہاں پھر دوسرے معنی جو موت کے مغائر ہوں مراد نہیں ہو سکتے۔
نیز ملاحظہ ہو ازالہ ص ١٨٨ اس عاجز نے حدیثوں کی طرف رجوع کیا تا معلوم ہو ................ آیا یہ لفظ اس وقت ان کے روزمرہ محاورات میں کئی معنوں پر مستعمل ہوتا تھا یا صرف ایک ہی معنے قبض روح اور موت کے لئے مستعمل تھا۔ اب انصاف کیجئے کہ اس عبارت میں کس قدر صاف اور صریح طریق سے مرزا قادیانی نے قبض روح اور موت کو ایک ہی معنی تسلیم کیا ہے جیسا کہ ”کئی معنوں کا“ مقابلہ بتلارہا ہے۔ اس لئے میں نے بھی پیغام صلح میں قبض روح سے موت مراد لے کر جواب کی بناء رکھی ہے۔
تا مریدین اور مرشد کے کلام میں اختلاف نہ پیدا ہو۔ اس کے بعد یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر قبض روح اپنے عام معنوں کے لحاظ سے لیا جائے تو پھر اس کی نسبت موت اور نوم کی طرف مساوی ہو گی۔ کیونکہ موت اور نوم دونوں میں قبض روح موجود ہے پھر یہ کہنا محض غلط ہو گا کہ موت توفی کے معنی حقیقی ہیں اور نوم غیر حقیقی۔ حالانکہ مرزائی موت کو بمعنی حقیقی اور نوم کو معنی مجازی قرار دیتے ہیں اور اس تقدیر پر یہ کس طرح درست نہیں
٢٦
کیونکہ قبض روح کی نسبت ............... جیسا کہ موت کی طرف ہے۔ اسی طرح نوم کی طرف ہے یعنی اگر موت میں قبض الروح مع الامساک ہے تو نوم میں مع الارسال۔ بہر حال نفس قبض روح دونوں کے ساتھ مقید نہیں پھر کیونکر نوم اور موت میں فرق کیا جاسکتا ہے۔ لہذا ان مذکورہ بالا وجوہات سے یہ امر محقق ہو گیا کہ مرزا قادیانی کی نیت میں قبض روح اور موت میں سوائے اجمال اور تفصیل کے کوئی فرق نہیں اور نہ مرزا قادیانی کے کلام میں قبض روح کو موت سے عام لیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے بھی پیغام صلح کی عبارت میں قبض روح سے موت مراد لے کر جواب دہی شروع کر دی ہے۔
میرا خیال ہے کہ شاید مرزائی جماعت بھی میرے اس خیال کی تردید نہ کرے گی۔ ورنہ اگر اس نے اس طرف اس خیال کی تغلیط کی تو دوسری طرف اس پر واجب ہو گا کہ مرزاجی کی ان جمیع تحریرات کو پہلے ٹھکرادے جن میں انہوں نے بمعنی موت کی تصریح کی ہے اور اسی معنے کے لحاظ سے اپنے قاعدہ کی کلیہ کو بحال رکھا ہے۔ اگر کہا جائے کہ گو مرزا قادیانی کی عبارات میں موت ہی مراد ہے مگر ہم نے جن الفاظ میں دعویٰ پیش کیا ہے کہ اس پر تو اعتراض وارد نہیں ہوتا تو میں عرض کروں گا کہ ایسے مہمل اور ضال و مضل کو پہلے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے نبی یا مجدد کے سر سے تو اعتراضوں کا انبار اٹھائے۔ اس کے بعد اپنے اختراعی قواعد پیش کر لے ورنہ اس میں کیا کمال ہے کہ اپنے نبی کو تو مجرم و ملزم ٹھہرایا جائے اور اپنی برأت ثابت کی جائے۔
علاوہ ازیں میں سوال کرتا ہوں کہ جن الفاظ میں براہین احمدیہ حصہ پنجم سے دعویٰ نقل کیا گیا ہے وہ تمہارے نزدیک بھی صحیح ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو تم نے آپ ہی اپنے نبی کی تغلیط کر دی۔ اور اگر صحیح ہے تو پھر اعتراضات کی ذمہ داری آپ پر جس حیثیت سے بھی عائد ہو جاتی ہے۔ اگرچہ محض اتباع میں بھی قاعدہ مذکورہ ............ سے بحیثیت ایک امتی ہونے کے بھی آپ پر مدافعت ضروری تھی۔ لہذا قبل اس کے آپ اپنے نبی کو اصلاح دیں۔ ان کے اس قاعدہ کی اصلاح کی صورت نکالئے۔ اس کے بعد آخر میں نفس معنے قبض روح پر بھی تھوڑا سا کلام کرنا چاہتا ہوں۔
٢٧
واضح رہے کہ جس شخص نے توفی بمعنے قبض روح لیا ہے۔ اسے اولاً ثابت کرنا پڑے گا کہ روح توفی کے معنے میں داخل ہے۔ آیت مذکورہ : ” اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ...... ......الخ . الزمر آیت ٤٢ “ میں چونکہ خود آگے انفس کا لفظ موجود ہے۔ لہذا اس سے کوئی احتجاج نہیں ہو سکتا۔ رہا تاج العروس وغیرہ میں توفی اللہ زیداً کے معنی قبض روحہ کے لکھ دینا۔ سو اس سے بھی استدلال کرنا غایت حماقت کی دلیل ہے۔ کیونکہ لغویین کی مراد اس مقام پر قبض روح سے موت ہی ہے۔ نہ وہ قبض روح جو موت اور نوم دونوں سے عام ہے۔ کیا آپ کے نزدیک توفی اللہ زیداً بدون قیام قرینہ موت اور نوم دونوں سے ساکت ہے۔ پس لغویین نے روح کا لفظ اس لئے اضافہ نہیں کیا کہ یہ مفہوم لفظ کا جزء ہے بلکہ تبعیۃً مفعول میں ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ آگے چل کر خود ذکر کروں گا کہ عامۃً ناس کی توفی بصورت موت ہی ہوتی ہے۔ لہذا اسی توفی کو قبض روح سے تعبیر کر دیا گیا ہے۔ نیز اس میں بیان ماخذ معنے عام کا بھی مرعی ہے بخلاف موت کے یہی مراد ہے : ”فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ . الکہف آیت ٢٩“ سوم قبض روح اشتقاق لغوی کے لحاظ سے اگرچہ عام ہی ہے مگر عرفاً نائم کی روح کو مقبوض نہیں کہا جاسکتا۔ اور جب عام لوگ اپنے محاورہ میں بولتے ہیں کہ فلاں شخص کی روح قبض ہو گئی تو بیخطر اس سے مراد موت ہی ہوتی ہے۔ حقیقتاً یا تنزیلاً۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ توفی بمعنے قبض روح لے کر پھر آیت آل عمران سے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر استدلال کرنا غایۃً ضعیف ہو جاتا ہے۔ ہر چند کہ موت کے معنی لے کر بھی تحریف سے کم نہیں مگر میں مرزا قادیانی کی اس تقریر کے لحاظ سے عرض کرتا ہوں جو انہوں نے براہین احمدیہ میں کی ہے۔
”سو یاد رہے کہ قرآن شریف صاف لفظوں میں بلند آواز سے فرما رہا ہے کہ عیسیٰ اپنی طبعی موت سے فوت ہو گیا ہے جیسا کہ ایک جگہ تو اللہ تعالیٰ بطور وعدہ فرماتا ہے : ” یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی (حاشیہ)“ ”معلوم رہے کہ زبان عرب میں لفظ توفی صرف موت دینے کو نہیں کہتے بلکہ طبعی موت دینے کو کہتے ہیں جو بذریعہ قتل وصلیب یا دیگر خارجی عوارض سے نہ ہو“
(ملاحظہ ہو براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٠٥ خزائن ص ٢٧٧ ج ٢١)
٢٨
”اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ جبکہ آیت: ”وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا “ اور: ”وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ“ صرف توفی کے لفظ کی توضیح کے لئے بیان فرمائی گئی ہے کوئی نیا مضمون نہیں ہے۔ بلکہ صرف یہ تشریح مطلوب ہے کہ جیسا لفظ متوفیک میں یہ وعدہ تھا کہ عیسیٰ کو اس کی طبعی موت سے مارا جائے گا۔ ایسا ہی وہ طبعی موت سے مر گیا نہ کسی نے قتل کیا اور نہ کسی نے صلیب دیا۔“
حاشیہ: ”چونکہ یہودیوں کے عقیدہ کے موافق کسی نبی کا رفع روحانی طبعی موت پر موقوف ہے اور قتل اور صلیب رفع روحانی کا مانع ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے قول یہود کے رد کے لئے یہ ذکر فرمایا کہ عیسیٰ کے لئے طبعی موت ہو گی۔ پھر چونکہ رفع روحانی طبعی موت کا ایک نتیجہ ہے۔ اس لئے لفظ متوفیک کے بعد ورافعک الیٰ لکھ دیا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ٢٠٩ خزائن ص ٣٨٢ ج ٢١)
ان عبارات مذکورہ بالا سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ آیت نساء اور آل عمران سے آپ لوگوں کی تلبیس جب ہی چل سکتی ہے جبکہ توفی کو طبعی موت کے معنے میں لیں تاکہ آل عمران میں وعدہ توفی یہودیوں کے بالمقابل بن سکے۔ پس اگر آپ کے نزدیک توفی کے معنی قبض روح ہیں عام اس سے کہ بصورت نوم ہو یا بصورت موت تو پھر انی متوفیک میں موت کہاں سے متعین ہے جائز ہے کہ نوم مراد ہو جیسا کہ مفسرین نے ایک قول یہ بھی لکھا ہے۔ دوم قبض روح میں یہودیوں کا کوئی رد نہیں نکلتا کیونکہ قتل اور صلیب میں بھی قبض روح موجود ہے۔ وعلیٰ ہذا آیت النساء اس کی تشریح بھی نہیں بن سکتی۔ سوم جبکہ مرزا قادیانی نے تصریح کر دی ہے کہ زبان عرب میں توفی طبعی موت کو کہتے ہیں۔
ملاحظہ ہو حاشیہ براہین احمدیہ پنجم ص ٢٠٥ تو پھر قبض روح کے معنی مراد لینا مرزا قادیانی کی صریح مخالفت کرتا ہے۔ چہارم مرزا قادیانی نے جو بڑی سعی و کوشش کے بعد توفی بمعنی موت ہونے کا تاثر پیدا کیا تھا وہ سب کھویا جاتا ہے۔ کیونکہ قبض روح .................... موت سے عام ہے۔ پس توفی کو بمعنی قبض روح لے کر تو آپ کی اصل بنیاد یعنی وفات عیسیٰ علیہ السلام ہی کو سخت مضرت پہنچتی ہے۔ الحاصل توفی بمعنی قبض روح لو تو مرزا جی
٢٩
کے بر خلاف دعویٰ ہے۔ دوم اس تقدیر پر علاوہ ان گزشتہ استحالات کے اور چند استحالات ایسے لازم آتے ہیں جن سے ضروری طور پر مرزا قادیانی اور وفات مسیح علیہ السلام کی تکذیب کرنی پڑتی ہے۔ لہٰذا میں اس معنی کو وہم سے تعبیر کرتا ہوں اور نہیں خیال کرتا کہ کوئی مرزائی ایسے معنی سے اتفاق کر سکے۔
لیجئے آخر میں ہم آپ کو یہ بھی قرآن شریف سے بتلا دیتے ہیں کہ توفی بمعنے قبض روح کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔
توفی بمعنے قبض روح نہ ہونے کا قرآن شریف سے ثبوت
- (١)............"قال تعالیٰ! وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ أَزْوَاجًا
............الخ ۔ البقرہ آیت ٢٣٤" اس آیت میں ایک قرأۃ حضرت علیؓ کی یتوفون معروفا بھی ہے۔ اگر توفی بمعنے قبض روح ہو تو پھر آیت کا ترجمہ یوں ہوگا: "اور وہ لوگ جو تم میں سے قبض روح کرتے ہیں۔" حالانکہ یہ بداہت باطل ہے کیونکہ معلوم ہے کہ دنیا میں خدا نے ہم کو قابض ارواح نہیں بنایا۔ بر خلاف اس کے اگر ہمارے بیان کردہ معنے مراد لئے جائیں تو آیت کا مطلب بالکل صاف ہے۔ کیونکہ اس تقدیر پر ترجمہ یہ ہو گا: "اور وہ لوگ جو تم میں سے ہیں۔ چنانچہ اپنی عمر پوری کرتے ہیں۔............الخ۔"
چنانچہ تفسیر کبیر جز ٦ ص ١٣٤ میں اسی آیت کی شرح میں ہے:
” المسئلة اولىٰ ’يتوفون معناه يموتون ويقبضون قال الله تعالىٰ (الله يتوفى الانفس حين موتها) واصل التوفى اخذ الشئ وافيًا كاملاً‘ ويقال: توفى فلان‘ اذا مات فمن قال توفى كان معناه قبض واخذ ومن قال توفى كان معناه توفى اجله استوفى اكله وعمره وعلیه قراءة علی عليه السلام يتوفون بفتح الياء “
دیکھئے امام نے کس قدر صاف اور صریح طور سے حضرت علیؓ کی قرأۃ نقل فرما کر اس کے معنے استیفاء عمر واکل کے لئے ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں۔ بھلا کوئی
٣٠
مرزائی قبض روح کے معنے لے کر حضرت علیؓ کی قراءۃ کا مطلب بیان تو کر دے؟ اور اگر نہ بیان کر سکے اور سمجھ لے کہ بے شک توفی بمعنے قبض روح لے کر آیت کا مطلب خبط ہوا جاتا ہے تو وہ جان لے کہ حضرت علیؓ بڑے فصحاء و بلغاء میں سے ہیں۔ باایں ہمہ ان کی قرأت شاذہ نہیں معروفہ ہی ہے۔ پھر کیا اس سے صاف نتیجہ نہیں نکلتا کہ قرآن عزیز میں توفی بمعنے قبض روح کا کلیتہً دعویٰ کرنا سر تا پا غلط ہے۔
”قال تعالیٰ! حَتّٰی إِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ.“ تفسیر خازن ص ١٠٢ ج ٢ میں ہے: ”وقيل ان هذا يكون فى الآخرة “ والمعنى ”حَتّٰی إِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا“ بمعنے: ”ملائكة العذاب يتوفونهم“ یعنی: ”يستوفون عددهم عند حشرهم الى النار“ تاج العروس شرح قاموس میں ہے کہ اسکا قائل زجاج ہے۔ اب آپ ذرا انصاف فرمائیے کہ زجاج جیسا امام لغت اس آیت کو محشر میں تسلیم کرتا ہے۔ اگر توفی بمعنی قبض روح ہے تو پھر کیا محشر میں دوبارہ روحیں قبض کی جائیں گی اور کیا زجاج جیسا لغت دان ایسی فاحش غلطی کر سکتا ہے۔ اس طرح تفسیر کبیر میں اس قول کو سلف میں سے حسن کی طرف منسوب کیا ہے۔ الحاصل یہ امر قرآن شریف سے بھی ثابت ہو گیا کہ توفی بمعنے قبض روح محض غلط ہے ورنہ حضرت علیؓ اور حسن اور زجاج جیسے حضرات پر لغت عرب سے ناواقفیت کا سخت دھبہ لگتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ بلکہ معنی حقیقی مطلقاً قبض واخذ میں ہے۔
اب اس کے بعد میں مرزائی قاعدہ کا اصل راز بتلانا چاہتا ہوں تاکہ بیچارہ سادہ مسلمان سمجھ لے کہ اس قاعدہ میں نہ کوئی نور ہے نہ صداقت کی کوئی جھلک۔ فقط عوام پر تلبیس ہے اور کچھ نہیں۔
مرزائی قاعدہ کا راز طشت از بام ہو گیا
اس پر تو قدرے کافی بحث ہو چکی ہے کہ توفی کے لغوی معنی کیا ہیں اور قرآنی کیا۔ لہٰذا اب میں یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کیوں مجامع مع الرفع ہے اور عوام کی کیوں مجامع مع الموت تاکہ مرزائی قاعدہ کا راز طشت از بام اور اس کی چھپی ہوئی حقیقت منکشف ہو
٣١
جائے۔ اور بشرط انصاف آپ کو یہ بھی معلوم ہو جائے کہ بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی عامۃ الناس کی توفی سے مغائر ہی ہونا چاہئے۔ جس سے صاف طور پر آپ پر منکشف ہو جائے گا کہ مرزائیوں کا ایک امر مسلم پر نظیر طلب کرنا اور انعامی اشتہار دینا محض خداع اور ضلالت ہے۔ واللہ الموافق!!!
واضح ہو کہ آیت: ”اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ“ میں ان دو توفیوں کا ذکر ہے جو بطور عادت ہر بشر سے متعلق ہیں۔ یعنی اخذ مع الارسال اور اخذ مع الامساک اور اس وجہ سے ان دونوں کو ایک ہی آیت میں جمع فرما کر نفس دون نفس کے ساتھ مخصوص نہیں فرمایا۔ بلکہ لفظ انفس مفعول بنا کر تعمیم کی طرف اشارہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ ہر انسان کو ان دو توفیوں کے ماتحت آنا ہے بالفعل یا بالقوۃ بر خلاف اس کے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخصوص توفی کا تذکرہ فرمایا تو پھر خطاب بھی مخصوص کر دیا گیا اور اس تیسری مخصوص توفی کو اپنے اخوین سے منفصل قرار دیا ہے: ”کما قال: يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ .“ پس اولاً مصدر بالعلم فرما کر آگے خطاب غیر مشترک ہی رکھا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ خداوند عالم کا محض عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوا ہے۔ نہ کسی اور کے ساتھ۔ پس جبکہ یہ وعدہ عیسیٰ علیہ السلام ہی کے ساتھ مخصوص طور سے ہے تو اب اس کے لئے کسی نظیر کی تلاش کس قدر لغو ہے۔ کیا اگر زید نے صرف عمر سے ہی کوئی وعدہ کیا ہو تو بکر کو اس امر مو عود کے طلب کا حق پہنچ سکتا ہے؟ ۔ ہرگز نہیں ظاہر ہے کہ جس کے ساتھ وعدہ ہے اس کے ساتھ ایفاء ہونا چاہئے یہ کیا مہمل بات ہے کہ وعدہ تو فقط عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہو اور اس کا ایفاء عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے اور نبیوں کے ساتھ ڈھونڈا جائے جن سے اس امر موعود کا وعدہ بھی نہیں کیا گیا نہ ان سے اس کا کوئی تعلق ہے۔
چنانچہ آیت: ”اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ“ میں غور فرمائیے کہ کس طرح انفس کی توفی بصورت فعل رکھی ہے جو کہ مفید تجدد ہے اور آیت: ”يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ .“ میں کس طرح صیغہ اسم فاعل ہے جو کہ مفید وعدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی توفی چونکہ ان ہر دو عام توفیوں سے ایک مغائر توفی تھی۔ لہٰذا علاوہ تغییر سیاق کے لفظ رافعک کا اور
٣٢
اضافہ فرمایا تا کہ بالتصریح معلوم ہو جائے کہ یہ توفی مجامع مع الامساک یا مع الارسال نہیں بلکہ مجامع مع الرفع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سارے قرآن میں بزعم مرزا قادیانی ٢٣ مقامات پر لفظ توفی مستعمل ہوا ہے۔ مگر کسی ایک مقام میں بھی توفی کو مجامع مع الرفع نہیں رکھا گیا۔ سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے، حتی کہ جب نبی کریم کے حق میں اس لفظ کا استعمال ہوا ہے۔ وہاں بھی صرف توفی کا ذکر ہے مگر رفع کا ذکر نہیں : ”کما قال! وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ . یونس آیت٤٦“ اور یہ نہیں فرمایا کہ :” نتوفينك ونرفعك“ تاکہ معلوم ہو جائے کہ اطلاق سے غرض یہی ہے کہ آپ کی توفی کسی نئی شان کی نہیں بلکہ اسی قسم کی توفی ہے جو :” اَللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ . “میں بیان فرمائی گئی۔
پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن عزیز میں تین قسم کی توفیوں کا ذکر ہے : (١).......توفی مع الارسال۔(٢).......توفی مع الامساک۔(٣).......توفی مع الرفع‘ اول کی۔ دو توفیاں آیت :” اَللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ .“ میں مذکور ہیں جیسا کہ گزرا۔ اور تیسری توفی کا آل عمران میں ذکر ہے جیسا کہ معلوم ہوا۔ چونکہ اول دونوں نوعوں کا جمیع انفس سے تعلق بیان فرمایا گیا ہے۔ لہذا ہم نے اسے غیر منقطع اور سنت دائمی تصور کیا اور تیسری نوع کا مخصوص طور پر عیسیٰ علیہ السلام ہی سے وعدہ کیا گیا ہے نہ سارے جہان سے۔ لہذا ہم نے ان ہی پر مختص مانا۔ پس کیا ہی بدقسمت ہے وہ شخص جس نے خدا کے خوارق کو عادات اور الہام کو اوہام بنایا اور کیا ہی خوش نصیب ہے وہ جماعت جس نے اس کے احکامات کو اپنے اپنے مقام پر بدون کج بحثیوں کے تسلیم کیا اور شتان بین مشرق و مغرب۔
جب آپ نے یہ سمجھ لیا تو اب سنیئے کہ چونکہ مرزا قادیانی بھی اس امر کو جانتے ہیں کہ اہل اسلام کے نزدیک یہ توفی مخصوص طور سے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہوئی ہے اور کسی کی توفی اس طور سے نہیں واقع ہوئی بلکہ یا نوم کی صورت میں یا موت کی شکل میں ہوئی ہے۔ لہذا قاعدہ بنایا کہ جہاں کہیں اللہ فاعل ہو اور مفعول ذی روح وہاں ہر جگہ موت ہی کے معنی ہوں گے اور ہزار روپے کا اس پر اشتہار شائع کر دیا۔
”اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا حدیث رسول اللہ ﷺ سے یا اشعار قصائد نظم و
٣٣
نثر قدیم و جدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر پایا گیا ہے۔ یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپے نقد دوں گا۔‘‘
(ازالہ ص ٩١٩ حصہ دوم خزائن ص ٦٠٣ ج ٣)
سادے اور بھولے مسلمان اس دعوے اور اعلان کو دیکھ کر فوراً گردن تسلیم خم کر بیٹھے۔ حالانکہ اس عبارت میں جو کچھ بھی مرزا قادیانی نے ہوشیاری کی ہے وہی ان کے کشف حقیقت کے لئے کافی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیے اولاً سوائے وفات کے کسی اور معنی پر ہزار روپے کا وعدہ تھا مگر جانتے تھے کہ موت کے علاوہ تو دسیوں جگہ یہ لفظ مستعمل ہوا ہے۔ لہٰذا کسی اور معنی کی تشریح یوں فرماتے ہیں یعنی قبض جسم ........الخ۔ پس ہزار روپے کا وعدہ اس تقدیر پر ہے۔ جبکہ لفظ توفی کا خدا فاعل ہو اور مفعول ذی روح اور پھر وہاں قبض جسم یعنی رفع مع الجسد کے معنی ہوں ۔
اے میرے عزیزو! ذرا غور کرو کیا اہل اسلام کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور بھی آسمان پر گیا ہے؟۔ اگر نہیں گیا تو کسی ذی روح کی توفی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی کیسے ممکن ہے۔ جب خدا نے کسی کو رفع مع الجسد کا وعدہ ہی نہیں دیا سوائے ایک عیسیٰ علیہ السلام کے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ کسی ذی روح کی توفی اسی طور سے ہو سکے؟۔ جاؤ اور سارے مرزائی زور لگاؤ اور بتلا دو کہ سارے قرآن میں یا کسی حدیث میں کہیں خدا نے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کسی اور کو بھی رفع مع الجسد کا وعدہ دیا ہے اور پھر وہاں لفظ توفی کا بھی استعمال فرمایا ہے۔ اگر کوئی مرزائی ایسا دکھا دے تو پھر اسی وقت ہم سے توفی مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ قبض جسم کے معنی میں لے لے مگر اُس کی بد قسمتی سے اگر سارے قرآن میں سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کسی ایک سے بھی یہ وعدہ نہ کیا گیا ہو تو پھر اسے شرم کرنا چاہئے کہ جس کو خدا نے قبض جسم کا وعدہ ہی نہیں دیا وہ کیونکر آسمان پر جا سکتا ہے؟۔
چنانچہ پڑھو قرآن کی آیت : ’’وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ
٤٤
الْاَرْضِ يَنْبُوْعًا ٠ بنی اسرائیل آیت ٩٠“ (٢)......: ”اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهَارَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا ٠ بنی اسرائیل آیت ٩١“ (٣)......: ”اَوْتُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا ٠ بنی اسرائیل آیت ٩٢“ (٤)......: ” اَوْتَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ قَبِيْلًا ٠ ایضاً“ (٥)......: ” اَوْيَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ ٠ بنی اسرائیل آیت ٩٣“ (٦)......: ” اَوْتَرْقٰى فِي السَّمَآءِ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى ٠ بنی اسرائیل آیت ٩٣“ (٧)......: ”تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَاباً نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلاً ٠ بنی اسرائیل آیت ٩٣“
یعنی کفار کہتے تھے کہ ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ حتی کہ تو ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری کر دے یا تیرے پاس کھجور اور انگور کے باغ ہوں۔ اس کے نیچے نہریں جاری ہوں یا تو آسمانوں کا کوئی ٹکڑا برسا دے جیسا کہ تو کہا کرتا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو ضامن لے آوے یا تیرے لئے کوئی گھر سونے کا بنایا ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور اس پر بھی ہم تیرے چڑھنے کو نہیں مانیں گے جب تک کہ وہاں سے کوئی ایسی کتاب نہ نازل کرے جسے ہم خود پڑھ لیں۔ اے پیغمبر ﷺ ان کو ان سوالات کے جواب میں یہی کہہ دو کہ میرا رب پاک ہے (کہ کوئی اس پر زور و تحکم کر سکے) میں تو صرف ایک (فرمانبردار) بندہ اور رسول ہوں۔“
اس آیت نے ساری بحثوں کا فیصلہ ہی کر دیا۔ اگر لوگ سمجھیں ظاہر ہے کہ کفار نے اس آیت میں محالات سے سوال نہیں کیا بلکہ ان ہی امور سے سوال کیا ہے جو ان کے زعم میں واقع ہو چکی تھی یا نبی کریم ﷺ نے اس کا وعدہ دیا تھا۔ چنانچہ زمین سے چشموں کا پھوٹنا : ”فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ٠ البقره آیت ٦٠“ سے ثابت ہے اور باغوں کا ہونا : ”تَبَارَكَ الَّذِيْ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهَارُ وَيَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا ٠ الفرقان آیت ١٠“ سے ظاہر ہے اور بیت زخرف کا امکان قولِ خداوند : ” وَلَوْلَا اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ يَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُيُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُوْنَ وَلِبُيُوْتِهِمْ
٣٥
أَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِؤُنَ ٠ وَزُخْرُفًا ٠ الزحرف آیت ٣٣“ سے ظاہر ہے اسی طرح سقوط سماء کا حال اس طرح ارشاد ہوتا ہے: ” إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ ٠ سباء آیت ٩“ اور اتیان خداوند عالم کا بالملائکہ آیت : ”هَلْ يَنْظُرُوْنَ إِلَّا أَنْ يَّأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰئِكَةُ ..... الخ ٠ البقرۃ آیت ٢١٠“ میں مذکور ہے اور صعود الی السماء بحق عیسیٰ علیہ السلام ثابت ہے : ”کما قال! وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ٠ النساء آیت ١٥٧‘ ١٥٨“ رہا نزول کتاب سو وہ تورات موسیٰ علیہ السلام کے نزول سے ظاہر ہے۔ الحاصل ان کے سوالات میں کوئی امر مستبعد اور محال نہ تھا۔ صرف سقوط سماء ایک امر اجنبی معلوم ہوتا تھا۔ لہٰذا اسی کے ساتھ کما زَعَمْتَ لگا دیا۔ ورنہ جمیع اشیاء ان کے نزدیک ناممکن نہیں تھیں۔ بلکہ واقع تھیں اس وجہ سے ان کا سوال کیا گیا تھا۔ یعنی اگر تو رسول ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ جیسا پہلے رسولوں نے معجزہ دکھلائے ہیں تو نہیں دکھلاتا (افسوس کہ آج مرزائی ان امور کو بھی محال سمجھ رہے ہیں جن کو کفار مکہ تک نے باوجود اس جحود و عناد کے ناممکن نہیں سمجھا) ان سب کے جواب میں آپ ﷺ کو ایک ہی امر کی تعلیم ہوئی۔ یعنی اے محمد ﷺ فرما دیجئے کہ میں تو بشر اور رسول ہوں میرے قبضہ میں کچھ نہیں۔ اگر موسیٰ علیہ السلام نے چشمے جاری کئے یا عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر تشریف لے گئے وغیرہ تو نہ اس وجہ سے کہ ان میں طاقت تھی یا اپنے طوع و اختیار سے ایسا کیا بلکہ خدا نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ لہٰذا اس نے پورا کیا مگر میرے ساتھ ان امور کا وعدہ ہی نہیں میں کس طور سے آسمان پر جاسکتا ہوں کیونکہ آسمان پر جانا قوت بشری اور رسل سے خارج امر ہے صرف ایک خدا کے قبضہ میں ہے جسے چاہے لے جائے۔ الحاصل جبکہ سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کسی اور شخص سے رفع کا وعدہ ہی نہیں ہوا تو پھر کیونکر ہم توفی بمعنی قبض جسم دکھلائیں اور کیوں مرزا قادیانی ہم کو ایسے امر پر ہزار روپے کا اعلان دیں جو ہمارے مسلمات میں سے ہے ............ میں پھر مکرر بآواز بلند کہتا ہوں کہ ہمارے نزدیک کسی شخص کی توفی بمعنی الرفع نہیں ہوئی۔ ہاں ایک عیسیٰ علیہ السلام کی اگر خداوند عالم قرآن عزیز میں کسی اور کی توفی بھی بمعنی الرفع قرار دیتا تو ہم اسے بھی تسلیم کر لیتے مگر ہماری نظر
٣٦
سے نہ کوئی ایک آیت گزری ہے نہ کوئی حدیث۔ اگر مرزائی بتلا سکیں کہ سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کسی اور شخص کی توفی بھی مجامع مع الرفع ہوئی ہو تو ہم ان کے بہت مشکور ہوں گے۔ پس اب ایسے امر پر ہزار روپے کا انعام مقرر کرنا جسے بعض لحاظ سے ہم بھی تسلیم کرتے ہوں بالکل ایسا ہے جیسا کوئی شخص کہے کہ اگر مجھے کوئی دوسرا آفتاب دکھلا دے تو میں اسے دو ہزار روپے انعام دوں گا۔ ظاہر ہے کہ نہ دو آفتاب موجود ہوں گے نہ وہ دکھلا سکے گا۔ اس طرح سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نہ کسی سے خدا نے رفع مع الجسد کا وعدہ کیا ہے نہ توفی قبض جسم کے معنے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے ملے گی اور وہی زیر بحث ہے۔
ایک ہزار روپے کا چیلنج
لیجئے مرزا کے قاعدہ کے بالمقابل میں بھی ایک قاعدہ پیش کرتا ہوں وہ یہ کہ اگر فعل توفی رفع کے ساتھ مستعمل ہو اور فاعل دونوں کا اللہ اور مفعول ذی روح ذات واحد ہو تو وہاں صرف اخذ مع الرفع ہی کے معنی ہوں گے نہ کوئی اور معنے۔ اگر کوئی مرزائی سارے قرآن میں ایک مقام پر بھی اس کے خلاف دکھلا دے تو اس کو مبلغ ایک ہزار روپے انعام ملے گا۔
میرے دوستو! اگر قواعد بنانے سے ہی نبوت ملتی ہے تو آؤ میں تمہیں اور چند مطرد اور منعکس قاعدہ بتلاؤں پھر کیا تم مجھے بھی نبی بنا کر پوجا کرو گے۔ والعیاذ باللہ !
اگر مرزائی اعتراض کریں کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ خداوند عالم نے عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی ایسا وعدہ کیا ہو جو کسی سے نہیں کیا بلکہ ضروری ہے کہ ان سے قبل بھی کسی سے ایسا وعدہ نہ ہوا ہو تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا بھی مسلم نہیں۔
ہرچند کہ یہ اعتراض محض مہمل ہے مگر چونکہ اکثر ان حضرات کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے۔ لہٰذا ایک مقدمہ کی شکل میں اس کا جواب بھی تحریر کرتا ہوں جس کے مطالعہ کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ جمیع شکوک کافور ہو جائیں گے۔ وبہ التکلان
ایک ضروری مقدمہ
یہ مقدمہ ہر ذی فہم کے نزدیک قابل تسلیم ہے کہ جو ذات خالق السموات
والارضین ہے نہ اس کے افعال کی کنہ ہم دریافت کر سکتے ہیں اور نہ ان پر کوئی حق اعتراض رکھتے ہیں۔ چنانچہ قرآن پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ سب سے پہلا سوال آدم علیہ السلام کے خلافت پر ملائکہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ ہر چند کہ یہ سوال معترضانہ نظر سے نہیں بلکہ طالبانہ و سائلانہ طریق پر تھا مگر باایں ہمہ ملائکہ کو پشیمانی اور معذرت سے چارہ نہ لگا اور بالآخر : ” سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ ........... الخ . البقرہ آیت ٣٢ “ کہنا پڑا حتی کہ شیطان جو اس معاملہ کو معترضانہ نظر سے دیکھ کر : ” خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنٍ . الاعراف آیت ١٢ “ پکار اٹھا تھا۔ ابد لآباد کے لئے حطب جہنم بن گیا۔ اس ایک ہی واقعہ میں اہل بصیرت اور اصحاب فہم کے واسطے ایک بڑا سبق ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق کو خالق کے ساتھ کیا معاملہ چاہئے۔ عجب نہیں کہ سوال ملائکہ سے بھی مقصود ہو جیسا کہ : ” خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ . الاعراف آیت ٥٤ “ میں تعلیم کا راز مضمر تھا۔
الغرض عقل سلیم تسلیم کرتی ہے کہ خدا کی شان بے شک : ” لَا يُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ “ اور ہماری حالت : ” وَهُمْ يُسْئَلُوْنَ “ ہونی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان بشر کو ایمان ملائکہ پر ایک نوع کی فضیلت ہے کیونکہ ان کا ایمان مبنی علی الشہادۃ ہے اور ہمارا علی الغیب اس وجہ سے قرآن عزیز میں خصوصیات کے ساتھ مؤمنین کے اس وصف کو ذکر کیا گیا ہے : ” هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ . الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ “ پس خدائی افعال پر معترضانہ نظر شیطانی خصلت اور گردن تسلیم کرنا سنت انبیاء علیہم السلام اور شعار مؤمنین ہے۔ یہی حنیفیت ہے۔
حنیفیت کیا شئے ہے
حنیفیت مقابل کفر نہیں بلکہ نفس اسلام کی ایک خصوصیت ہے جس سے یہی مراد ہے کہ غیر اللہ کو چھوڑ کر ایک خدا کی طرف متوجہ رہنا کہ پھر یمین و یسار کی طرف میلان نہ ہو ........... چونکہ سب سے اول یہ کلمہ انبیاء علیہم السلام میں سے حضرت ابراہیم علیہ
٣٨
السلام ہی کی زبان سے ادا ہوا ہے اسی لئے ان کو حنیف کہا گیا: ”کما قال! اِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ٠ انعام آیت ٧٩“ پس حنیفیت دراصل وصف تھا پھر ملت ابراہیم کا لقب بن گیا ہے۔ جیسا کہ شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے اسلام کی نسبت دعویٰ کیا ہے۔ الحاصل حنیفیت اسلام میں ایک خصوصیت ہے جیسا کہ : ” وَلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا٠ آل عمران آیت٦٧“ سے ظاہر ہے۔
رہی تقدیم حنیفیت تو شاید وصف مختص ہونے کے لحاظ سے ہو غالباً اسی وجہ سے حنیفیت کو یہودیت ونصرانیت کا مقابل قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں قومیں اپنے اپنے و قتوں میں :” اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ٠“ میں سے تھیں۔ مگر حنیف نہ ہونے کے باعث ضَآلِّيْنَ اور مَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ سے بن گئیں ولہٰذا قرآن مجید میں :” اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ٠“ کے بعد :” غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ ٠“ فرمایا تاکہ ان سے احتراز ہو جائے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ ہم مومن اور متبع ملت ابراہیمی جب ہی کہلا سکتے ہیں جبکہ ہمارا غیوب پر ایمان ہو اور فضول تشویشیں بے جا سوال و جواب کے بدوں خدائی قصص و احکام کی تسلیم ہو۔
اس کے بعد قرآن عزیز میں خدائی افعال پر اعتراض کفار کی جانب سے بھی منقول ہے : ”وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْآنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِيْمٍ ٠ الزخرف آیت ٣١“ یعنی کفار مکہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن مکہ و طائف کے کسی بڑے رئیس پر کیوں نہ اترا ایک یتیم پر کیوں نازل ہوا ہے۔
مرزائیوں کے نزدیک تو اس سائل کا سوال جس میں سراسر مرزا قادیانی کی روح ہوگی بہت عمدہ اور موزوں ہونا چاہئے کیونکہ ظاہر ہے کہ قرآن ایک بڑی نعمت ہے وہ تو کسی بڑے شخص ہی کے مناسب ہے۔ جیسا کہ بزعم مرزا قادیانی امت محمدیہ ﷺ میں سوائے ان کے............. کسی کو نبوت نہ مل سکی مگر بارگاہ ایزدی میں اس اعتراض کی جو وقعت ہوئی وہ آئندہ فرمان عالی سے ظاہر ہے :”(فقال) اَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ٠(بل) نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ ............. الخ ٠ الزخرف آیت ٣٢“ یعنی کیا تیرے پروردگار
٣٩
کی رحمت وہ تقسیم کرتے ہیں؟۔ ہرگز نہیں بلکہ اپنی رحمت کے ہم تقسیم کرنے والے ہیں۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے : ” اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ٠ الانعام آیت ١٢٤“ یعنی خدا ہی خوب جانتا ہے جس جگہ وہ اپنی رسالت کو رکھتا ہے۔ پس جو تقسیم کرنے والا ہے وہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ ملائکہ کے مقابلہ میں کہا تھا کہ : ” اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَ ٠ البقرہ آیت ٣٠“ آئندہ ارشاد فرماتے ہیں : ”(بل) نَحْنُ قَسَمْنَا ....... الخ ٠ الزخرف آیت ٣٢“ یعنی نبوت اور رسالت تو ایک بڑا امر ہے زندگی کے سامان جیسے معمولی شے کے بھی ہم ہی تقسیم کرنے والے ہیں تو جیسا کہ تم یہ سوال نہیں کر سکتے کہ فلاں کو رئیس کیوں بنایا اور فلاں کو غریب کیوں؟ اسی طرح تمہیں اس سوال کا بھی حق نہیں کہ فلاں کو کیوں نبی بنایا اور فلاں کو کیوں نہ بنایا یہ سب اس وجہ سے ہے کہ خدا میں صفت علم سب سے اعلیٰ ہے اور اس کی شان وہی ہے جو خود اس نے قرآن عزیز میں بیان فرمائی یعنی : ” لَايُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْئَلُوْنَ ٠ الانبیاء آیت ٢٣“ یعنی خدا کے افعال پر خدا سے کوئی باز پرس کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا۔
اس مقام پر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ معیشت کو بینہم رکھا ہے مگر نبوت کو نہیں رکھا۔ اس کے بعد تقسیم دونوں کی اپنے ہاتھ میں لی ہے۔ یعنی یوں نہیں فرمایا کہ : ”اَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ٠ الزخرف آیت ٣٢“ بر خلاف اس کے دوسرے جملہ میں : ”(بل) نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ ٠ “ پس اول تو تقسیم رحمت یعنی نبوت سے اطلاع دی ثانیاً : ” اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ٠ الانعام آیت ١٢٤“ میں مخصوص افراد کو بخشنا بیان فرمایا گیا ہے ثالثاً : ”اَللّٰهُ يَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلاً وَّمِنَ النَّاسِ ٠ الحج آیت ٧٥“ میں نبوت کا اصطفاء پر مبنی ہونا مذکور ہوا۔ اس سے مستفاد ہوا کہ نبوت امت محمدیہ میں بطور فیضان جاری نہیں ہو سکتی۔ اولاً تو اس وجہ سے کہ نبوت بینھم رکھی ہی نہیں گئی بلکہ جس امر کی تقسیم بینہم ہے۔ وہ معیشت ہے۔ ثانیاً اس وجہ سے کہ نبوت ان افراد کو جو خدا کے علم میں ہیں مل چکی ہے۔ بطور اصطفاء نہ بطور کسب لہذا کسب بے کار۔ ثالثاً اس وجہ سے کہ خود قرآن عزیز نے بتا دیا ہے کہ تقسیم تام ہو گئی۔ چنانچہ ارشاد ہوتا
٤٠
ہے کہ :" الْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ..........الخ . المائدہ آیت ٣‘ لہذا کسی جدید قسم کی گنجائش نہیں۔
اس آیت میں اولاً چند امور قابل غور ہیں پہلے تو یہ کہ دین کا اکمال ذکر فرمایا اور نعمت کا اتمام پھر یہ کہ تکمیل دین میں لکم فرمایا اور اتمام نعمت میں علیکم نہ فیکم‘ پہلے سوال کی نسبت گزارش ہے کہ لغویین نے تصریح کی ہے کہ کمال بحسب الاوصاف ہوتا ہے اور تمام بحسب الاجزاء خصوصاً جبکہ یہ دونوں لفظ ایک ہی آیت میں مجتمع ہیں تو پھر تفریق ضروری ہے۔ جیسا کہ شیخ سید محمد آلوسیؒ نے تفسیر روح المعانی میں فرمایا ہے کہ : ”اذا اجتمعا افترقا و اذا افترقا اجتمعا و علی ہٰذا“ دین کے ساتھ اکمال ہی مناسب تھا کیونکہ اصول دین جمیع شرائع میں واحد ہی رہے ہیں۔ لہذا دین محمدی میں تکمیل اوصاف کے ہی لحاظ سے رہی مگر نبوت فقط اوصاف کے لحاظ سے کامل نہیں ہوئی بلکہ بلحاظ اجزاء بھی مکمل ہو چکی ہے جو اس مقام پر افراد نبوت سے عبارت ہیں وعلیٰ ہٰذا خاتم النبیین کی فقط یہ مراد لینا کہ آپ ﷺ جیسا کامل نبی اب کوئی نہ ہو گا اور امتی نبی برابر ہوتے رہیں گے محض غلط ہے۔ کیونکہ ختم نبوت فرع ہے اتمام نعمت کی اور جبکہ اتمام نعمت حسب الاجزاء ہے تو لامحالا خاتم النبیین باعتبار الافراد ہو گا نہ بحسب الوصف جیسا کہ حدیث : ”وانا اللبنة میں اقامة الافراد “مقام الاجزاء ہی ہے۔
مجھے حیرت ہے کہ جملہ اولیٰ میں باوجود یہ کہ دین کی تکمیل مذکور ہے۔ مگر باایں ہمہ کوئی مرزائی قرآن عزیز کے بعد کسی نئی شریعت کا قائل نہیں ہوا۔ اور جملہ ثانیہ میں حالانکہ تتمیم نعمت مصرح ہے مگر پھر بھی نبوت کو جاری ہی مانا جاتا ہے۔ پس اگر اتمام نعمت کسی جدید نبی کی بعثت کے منافی نہیں ہے تو پھر تکمیل دین کسی جدید دین کے لئے کیونکر مانع ہو سکتی ہے ؟۔ رہا :" اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ“ فرمانا نہ ” فیکم “ یہ اسی بناء پر ہے کہ نظر شریعت میں نبوت جاری نہیں بلکہ مسدود ہے۔ لہذا عند البیان تملیۃ علینا ہی انسب ہے نہ فینا الحاصل ایک طرف تو تقسیم نبوت کا تذکرہ‘ دوسری طرف اتمام نعمت کا اعلان۔ اس کے بعد خاتم النبیین کی خبر یہ سارے اجزاء بداہتۃً دلالت کرتے ہیں کہ اب آئندہ نبوت جاری نہیں۔
٤١
کیونکہ جب تقسیم تام ہو گئی تو اب نہ ظلی کی گنجائش ہے نہ بروزی کی۔ یہ سارے اقسام خدائی تقسیم کی تمامیت کے بعد حادث ہوئے ہیں۔ لہٰذا محض دجل ہیں۔ یہ ایک بحث درمیان میں آگئی جس کی اس مقام پر تفصیل مد نظر نہیں۔ لہٰذا میں اپنے اصل بیان کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ جب مقدمہ بالا سے یہ امر واضح ہو گیا کہ معیشت جیسی معمولی شی پر بھی ہمیں بارگاہ خداوندی میں سوال کا کوئی حق نہیں ہے تو نبوت یا خصائص نبوت یا کسی اور شے اہم کی نسبت کیا حق ہو سکتا ہے۔
پس اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور حیات میں نیچریانہ سوالات اور فلسفانہ اوہام پیدا کرنا قطعاً شیطان لعین اور کفار مکہ کی اقتداء کرنا ہے۔ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے بارے میں ایک بڑا اشکال یہ بھی ہے کہ جب ان سے قبل کوئی نبی آسمان پر نہیں گیا تو عیسیٰ علیہ السلام کیسے جاسکتے ہیں؟۔
معزز حضرات! یہ محض ایک مہمل اور احمقانہ سوال ہے کیونکہ اسکا لازم یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خاتمیت کا بھی انکار کر دیا جائے کیونکہ آپ ﷺ سے پیشتر کوئی خاتم نہیں گزرا۔ قرآن شریف کے معجز ہونے کا بھی انکار کیا جائے کیونکہ قرآن سے قبل کوئی کلام معجز نازل نہیں ہوا۔ شق القمر بھی غیر مسلم ٹھہرے کیونکہ پہلے کسی نے قمر کو شق نہیں کیا۔ معراج بھی ایک فسانہ ہو جائے کیونکہ کبھی کسی کو معراج نہیں ہوئی۔ اسی طرح کوہ طور، ناقہ صالح علیہ السلام یہ سب امور محض حکایات ہوں کیونکہ نہ کسی نبی کے لئے سوائے موسیٰ علیہ السلام کے کوہ طور ہوا نہ کسی کے لئے سوائے صالح علیہ السلام کے ناقہ، دوم اس اعتراض کا حاصل یہ ہے کہ کوئی صفت کسی نبی میں جب پائی جاسکتی ہے۔ جب اس کا تحقق نہ صرف ایک نبی میں بلکہ جمیع انبیاء علیہم السلام میں پہلے ہو گیا ہو کیونکہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و حیات سے اس لئے انکار ہے کہ ان سے پیشتر کوئی ایسا نبی نہیں گزرا جو مرفوع الی السماء ہو تو میں عرض کروں گا کہ اگر بالفرض آپ ﷺ سے پیشتر کوئی ایسا نبی گزر بھی جاتا جب بھی عیسیٰ علیہ السلام کا رفع مرزا قادیانی کے اصول پر قابل تسلیم نہ ہوتا کیونکہ پھر اس نبی میں کلام جاری ہو گا اور اس کا رفع جب قابل تسلیم ہے جب اس سے پیشتر کوئی نبی آسمان پر جاچکا ہو و ہٰذا۔
٤٢
پس ایسے مہمل اعتراض کرنا آدمی کی نبوت پر ہی نہیں بلکہ ایمان و عقل پر سخت بد نما داغ کا باعث ہیں۔
دیکھو قرآن عزیز تصریح کرتا ہے کہ : ” تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِّنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ٠ البقرہ آیت ٢٥٣“ یعنی یہ رسول ہیں جن میں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پس بعض ان میں سے وہ ہیں جن سے خدا نے کلام کیا ہے اور وہ یہی ہیں جن کے مرتبہ بلند کئے تو خود قرآن ہی نے تصریح کر دی کہ فضیلت من کل وجہ کسی کو نہیں سوائے ایک ذات واحد عزاسمہ کے ہاں۔ بعض کو فضیلت کلیہ ضرور ہے مگر فضیلت کلیہ من کل وجہ میں فرق ہے۔ کون نہیں جانتا کہ موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام سے افضل تھے مگر پھر بھی خضر علیہ السلام میں ایک وہ علم تھا جس سے موسیٰ علیہ السلام بے خبر تھے اور کیا قرآن میں نہیں ہے کہ : ” وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْم ٠ یوسف آیت ٧٦“ وعلیٰ ہذا باب مفاضلہ مخلوق سے چل کر خالق تک پہنچتا ہے اور ایک خدا ہی کی ذات پر ختم ہے جسے ہر جہت سے جمیع ماسوا پر ایسی فضیلت ہے کہ اس کا افضل کہنا بھی بے ادبی میں داخل ہے کیونکہ مفاضلہ متماثلین میں ہوتا ہے۔ ” نہ من له مثل و من ليس له مثل“ پس الحاصل رفع درجات اور فضیلت اور شے ہے اور کسی خصوصیت جزئیہ میں کسی نبی کا کسی سے ممتاز ہو جانا امر دیگر بلکہ منطوق قرآن عزیز ہے۔
جیسا کہ : ” مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ٠ البقرہ آیت ٢٥٣“ سے واضح ہے۔
پس کیا اگر نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں کوئی کوہ طور نہ تھا۔ آپ ﷺ کے پاس صالح علیہ السلام جیسی ناقہ نہ تھی یا موسیٰ علیہ السلام جیسا عصاء نہ تھا تو آپ ﷺ اس وجہ سے العیاذ باللہ! مفضول ہو گئے۔
ہر گز نہیں۔ کیونکہ دارو مدار فضیلت کلیہ کا تقرب پر ہے نہ عصاء پر نہ کوہ طور پر اور نہ رفع الی السماء پر کیونکہ معجزات ہر زمانہ میں احوال کے لحاظ سے مختلف رہے ہیں۔ لہٰذا معجزات سے اگر فضیلت نکالنی ہے تو پھر مرزائی جواب دیں کہ کیا مرزا قادیانی نے اپنے
٤٣
معجزات نبی کریم ﷺ کے معجزات سے سینکڑوں درجہ زیادہ بیان نہیں کئے۔ اگر آنحضرت کے معجزات کی تعداد چند ہزار لکھی ہے تو اپنے معجزات کی تعداد تین لاکھ اور براہین احمدیہ میں ایک کروڑ سے زیادہ بیان کی ہے تو کیا یہ صریح مقابلہ اور دعویٰ افضلیت نہیں ہے۔
پس اے میرے دوستو! دہریوں کا راستہ چھوڑو اور اہل ایمان کی راہ لو۔ اگر سلامتی درکار ہے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات سے اس لئے انکار ہے کہ ان سے قبل کوئی نبی ایسا نہیں گزرا تھا تو پھر قرآن کے معجز ہونے کا بھی انکار کرو گے یا اس جیسا کلام معجز بھی کوئی اور دوسرا بتلاؤ گے۔ اگر نہیں تو کیوں خدائی افعال پر اعتراض کرتے ہو اور کیوں انہیں اپنے عقلی اعتراضات کی بناء پر رد کرنے کھڑے ہو جاتے ہو۔ اگر خدا نے اپنی قدرت کاملہ کے اظہار کیلئے کبھی کوئی امر ظاہر کر دیا تو کیا ضروری ہے کہ ہمیشہ ویسا ہی ہوا کرے۔ یاد کرو جبکہ بنی اسرائیل نے خدا کے بہت سے نبیوں کو قتل کیا۔ پس اگر خدا نے بنی اسرائیل کے آخری نبی کو اپنی اظہار قدرت کی غرض سے مع الجسد اٹھا لیا تاکہ دنیا دیکھ لے کہ اگر خدا چاہے تو ایسا بھی کر سکتا ہے تو اس میں کیا استحالہ ہے؟۔ کیونکہ اب معاملہ قتل کا ختم کرنا تھا۔ لہٰذا ایک نبی کو اٹھا بھی لیا۔ چنانچہ ان کے بعد پھر قتل کی سنت معدوم ہو گئی۔ لہٰذا اب عیسیٰ علیہ السلام کا مخصوص رفع تسلیم کر لیا جائے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے۔
یاد رکھو کہ ہر بالعرض بالذات کی طرف منتہی ہوتا ہے۔ پس حکمت کے باب میں بالذات صرف ایک خدا کی ذات ہے۔ لہٰذا ہم سے یا کسی سے کیوں ایسے سوالات کئے جاتے ہیں۔ ہماری کیا قدرت ہے کہ ہم جمیع اشیاء کی حکمت بیان کر سکیں؟۔ ہمیں تو ایک گھاس کے تنکے کی حکمت بھی معلوم نہیں۔ اتنا سمجھ لینے کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ! جمیع اوہام مندفع ہو گئے ہوں گے اور آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ توفی کا لفظ جس میں مرزا جی نے ساری عمر صرف کی اور پھر بھی حق تک ان کی رسائی نہ ہوئی آج اس کو اسلام کے ایک ادنیٰ غلام نے کماحقہ واضح کر دکھایا۔ اور بتلا دیا کہ مدعی نبوت کی ساری کائنات از قبیل اضغاث احلام تھیں۔
ہر چند کہ میرے ذہن میں اس لفظ کے متعلق ابھی کچھ اور بھی فوائد ہیں جن کو
٤٤
بوجہ طوالت ذکر کرنا پسند نہیں کرتا کیونکہ ایک ہدایت کے طالب کے لئے اس اختصار ہی میں کفایت دیکھتا ہوں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
از ریختہ قلم استاذ الاساتذہ انور الشموس المستنیرہ
حضرت مولانا الحاج المولوی السید محمد انور شاہ صاحب کشمیری
صدر نشین مسند تدریس دارالعلوم دیوبند
متعنا اللہ بعموم فیوضہ وطول حیوته
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ محمد وعلیٰ الہ واصحابہ اجمعین . اما بعد !
احقر محمد انور شاہ کشمیری عفاہ اللہ عنہ اہل اسلام و اہل حق کی عالی خدمت میں عرض گزار ہے کہ احقر رمضان سال گزشتہ ١٣٤١ھ میں بغرض زیارت والد ماجد کشمیر گیا تھا۔ وہاں بضرورت شرعی و مذہبی قادیانی فرقہ کے متعلق متعدد تقریروں کا اتفاق ہوا اور اس کا بھی اعلان کیا کہ جو کوئی بعد خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کے دعوائے نبوت اور تحدی اور اپنے منکرین کی تکفیر کرے وہ باجماع امت محمدیہ کافر ہے اور جو کوئی ایسے مدعی کے کفر میں تردد کرے وہ بھی قطعاً کافر ہے۔
چنانچہ قادیانی اور لاہوری جماعت نے اپنے اخباروں میں حقیر کی نسبت طعن و تشنیع بھی کی جس کی کوئی پرواہ نہیں۔ احقر جب واپس دارالعلوم دیوبند میں حاضر ہوا تو فارغ التحصیل طلبہ اور بعض حضرات مدرسین کو اس جانب توجہ دلائی کہ اس فتنہ عظیم میں اپنا فرض ادا کریں۔
چنانچہ بحمد اللہ وتوفیقہ ان چند مہینوں میں آٹھ دس رسالے تالیف ہوچکے ہیں۔ جو انشاء اللہ تعالیٰ طبع ہوتے رہیں گے۔
٤٥
سردست جناب مستطاب مولوی بدر عالم صاحب مدرس دارالعلوم کا رسالہ متعلق مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام پیش کیا جاتا ہے۔ مولوی صاحب موصوف و ممدوح نے احقر کی استدعا پر یہ رسالہ تالیف کیا ہے۔ امید غالب ہے کہ اہل حق و اہل دین و اہل علم ان صحیح اور لطیف مضامین کو دیکھ کر جناب مؤلف اوصلہ اللہ الی غایۃ ما یتمناہ کے لئے ترقی مراتب دینیہ ودنیویہ دیں گے۔
والسلام!
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
٤٦
احتساب قادیانیت جلد پنجم
- ☆ ....... بحمدہ تعالیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ’’احتساب قادیانیت‘‘ کے نام سے
چار جلدوں میں مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ، حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ کے رد قادیانیت کے مجموعہ رسائل کو جمع کیا تین جلدیں شائع ہو گئی ہیں چوتھی جلد عنقریب شائع ہورہی ہے انشاء اللہ
- ☆ ....... اس وقت پانچویں جلد کی تیاری کا کام شروع ہے حجۃ اللہ علی الارض شیخ
المشائخ حضرت مولانا محمد علی مونگیرویؒ کی خانقاہ مونگیر شریف سے صحیفہ رحمانیہ کے نام پر چوبیس رسائل شائع ہوئے تھے پانچویں جلد ان ’’صحائف رحمانیہ‘‘ کے مجموعہ پر مشتمل ہوگی۔
- ☆ ....... قارئین سے درخواست ہے کہ ’’احتساب قادیانیت‘‘ کے نام سے شائع
ہونے والی اس کتاب کی تمام جلدوں کو خرید کر اپنی اپنی لائبریریوں کی زینت بنائیں اس سے انشاء اللہ امت مرحومہ کے تمام اکابرین کے رشحات قلم کا خزینہ آپ کے پاس جمع ہو جائے گا۔
- ☆ ....... اللہ تعالیٰ نے توفیق عنایت فرمائی تو امید ہے کہ یہ سلسلہ بیسوں جلدوں پر
محیط ہوگا صدیوں پہلے کا خزانہ نئے انداز میں مرتب ہو کر آپ کے قلوب وجگر کو جلاء بخشے گا۔
- ☆ ....... یہ کام تحریکی انداز میں آگے بڑھانے کا ہے تمام رفقاء اس کی طرف توجہ
فرمائیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق بخشیں۔
نوٹ احتساب جلد اول قیمت 100 روپے جلد دوم 100 روپے جلد سوم 100 روپے جلد چہارم زیر طبع ہے۔
رابطہ کے لئے: دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون 514122
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
آواز حق
محدث کبیر
حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
تعارف
الحمدلله وکفی وسلام علیٰ خاتم الانبیاء ، اما بعد!
محدث کبیر مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ کے رسائل کو جمع کرنے کے لئے تگ و دو شروع کی تو الحمد للہ! تمام رسائل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی کتب خانہ میں موجود پائے۔ البتہ ایک رسالہ ”آواز حق“ کے متعلق ترجمان السنۃ کے مقدمہ میں مولانا آفتاب عالم مدنی نے تذکرہ کیا تھا وہ نہ مل سکا۔ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، ماہنامہ لولاک ملتان، ماہنامہ الجمعیت اسلام آباد میں مخدوم العلماء حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری دامت برکاتہم نے اعلانات شائع کرائے لیکن کہیں سے جواب نہ آیا۔ دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم اور کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم عمومی، یادگار اسلاف حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری دامت برکاتہم کو دارالعلوم دیوبند عریضہ تحریر کیا۔ آپ نے دارالعلوم دیوبند کے کتب خانہ کی فہرست نمبر ٧٤٤ / ٩٤ سے اس کی فوٹو کاپی بھیج دی۔ رب کریم کے فضل سے یوں حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ کے رد قادیانیت پر جملہ رشحات قلم میسر آگئے۔ حضرت قاری صاحب دامت برکاتہم کے انتہائی شکرگزار ہیں۔ وہ ہمیشہ ایسے مواقع پر علمی تعاون فرما کر ممنون احسان فرماتے ہیں۔ اس رسالہ کی اشاعت کا باعث کیا تھا اس کی تفصیل رسالہ کے مقدمہ میں موجود ہے۔ احتساب قادیانیت جلد چہارم کا یہ آخری رسالہ ہے جو حضرت قاری محمد عثمان منصور پوری مدظلہ کے شکریہ کے ساتھ شامل اشاعت ہے۔
فقیر اللہ وسایا ٢٧ / ٦ / ١٤٢٢ھ ٢٧ / ٨ / ٢٠٠١ء
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ o
مقدمہ
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
الحمد لله رب العالمين' الصلوة والسلام علىٰ سيدالمرسلين' خاتم النبيين' رحمة للعالمين صل الله عليه وآله واصحابه وسلم. كنتم خيرامة اخرجت للناس. اليوم اكملت لكم دينكم و اتممت عليكم نعمتی ورضيت لكم الاسلام دينا.
اما بعد۔ لاکھ لاکھ شکر ادا کیجئے اس خلاق لم یزل کا جس نے ہمیں دین اسلام سے مالا مال کیا اور ہم کو بہترین امت بنایا۔ اسی پیارے اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لیے فخر موجودات سرور کونین کو مبعوث فرمایا جس کے وسیلہ سے ہم کو اس خالق کا پیارا کلام پہنچا جو بہرصورت ہمارا دستورالعمل' ہمارا دین اور ہمارا قانون ہے۔ افسوس ہزار افسوس کہ آپ محمد رسول اللہ کے امتی اس پیارے کلام الٰہی سے جس میں ہماری بہبودی کے سینکڑوں نسخے موجود ہیں۔ ناواقف ہیں اور ہوتے جارہے ہیں۔ دیکھئے اور غور کیجئے مسلمانوں کی بے بسی اور بے کسی پر آنسو بہائیے۔ چاروں طرف سے اسلام نرغے میں ہے اور مذاہب باطلہ برابر اپنی تبلیغ واشاعت میں مصروف ہیں۔ مگر مسلمان اور صرف مسلمان اپنے اس اہم فرض سے غافل ہی نہیں بلکہ لاپرواہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باطل پرستوں کے حوصلے بڑھ رہے ہیں اور وہ برابر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ غداری پر آمادہ
٣
ہیں اور عقائد اسلام کی اعلانیہ تخریب و تضحیک میں مصروف اور اسلام کی مقدس روایات کا انتہائی جسارت کے ساتھ استخفاف کر رہے ہیں۔ اٹھئے اور کمر بستہ ہو جائیے۔ باطل کا ڈٹ کر مقابلہ کیجئے۔ جان و مال، عزت و آبرو، اللہ اور اللہ کے حبیب اکرم خاتم النبیینؐ کی رضا مندی کے لیے وقف فرما دیجئے۔ اسلام خالق دو جہاں کا پسندیدہ مذہب ہے۔ دیکھئے کہیں باطل پرستوں کے ہتھکنڈوں سے اسے ضرر نہ پہنچے۔ تاریخ اسلام کا مطالعہ فرمائیے اور غور فرمائیے سلف کے مسلمان کیسے سرفروش اور جانباز تھے۔ رسول اکرمؐ نے تبلیغ دین کے لیے کیا حکم نافذ فرمایا اور آنحضرتؐ نے کیسی کیسی صعوبتیں برداشت کیں۔ خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسلام کو کیسے فروغ دیا اور کس طرح مقابلہ کیا۔ ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ علیہم اجمعین حامی دین متین نے حفاظت اسلام کے لیے کیسی کیسی تکالیف کا سامنا کیا۔ مذاہب باطلہ کی کیسی درگت بنائی اور کیسا ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام مٹ نہیں سکتا۔ قرآن محرف ہو نہیں سکتا۔ مگر یہ سمجھتے ہوئے باوجود عقل و خرد رکھنے کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے اور دنیا ہی کے طالب و سرشار رہنے سے کوئی فائدہ نہیں۔
ناظرین کرام: یاد ہوگا ٢ جمادی الاولیٰ ١٣٥٢ھ کو بتقریب جلسہ میلاد النبیؐ اندرون بادشاہی عاشور خانہ جس کو تاجران اہل سنت والجماعت سالار جنگ بلڈنگ نے منعقد کیا تھا۔ مولانا الیاس صاحب برنی پروفیسر معاشیات جامعہ عثمانیہ نے بعنوان ختم نبوت ایک مبسوط تقریر فرمائی تھی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انجمن احمدیہ حیدرآباد کی جانب سے مولانا موصوف کی تقریر پر چند بے معنی اور لغو اعتراضات ایک پمفلٹ کی صورت میں شائع کئے گئے۔ جس کو راقم نے جناب مولوی دلدار علی صاحب الفت حیدرآبادی متعلم جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کی خدمت میں روانہ کیا اور استدعا کی کہ یہ تردید جو انجمن احمدیہ کی جانب سے شائع ہوئی ہے اس کا مدلل جواب جامعہ کے کسی استاذ سے مرتب کروا کر فوراً روانہ کیا جائے تاکہ جلد شائع کیا جاسکے۔ مولوی دلدار علی صاحب الفت حیدر آبادی جو جامعہ کے ایک قابل اور سرفروش طالب علم ہیں۔ اس تردید کو حضرت العلامہ مولانا محمد بدر عالم صاحب میرٹھی استاذ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کی خدمت میں پیش فرمایا۔ مولانا موصوف جیسے جلیل القدر عالم اور جیسے مناظر ہیں غالباً تمام ہندوستان میں کوئی شخص آپ کی ذات ستودہ صفات سے ناواقف نہیں۔ حضرت مولانا نے بکمال خلوص و بخیال تحفظ اسلام احمدیوں کی اس تردید کا مکمل جواب بذریعہ مولوی دلدار علی صاحب روانہ فرمایا اور اس کی اشاعت کے لیے اظہار خوشنودی
فرمایا۔ جس کے لیے ہم خلوص دل سے حضرت مولانا موصوف اور مولوی دلدار علی صاحب الفت کی خدمت میں تمام مسلمانان حیدرآباد کی جانب سے ہدیہ ممنونیت پیش کرتے ہیں اور آپ کی اسلام دوستی پر بجان سپاس گزار ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ اس کی طباعت میں زیادہ تاخیر سے کام لیا گیا اور اس عرصہ میں ہمارے یہاں سے بہت جوابات شائع ہو چکے ہیں جس کے لیے ہم ان اصحاب کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس فرض دینی کو ادا کیا ہے اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت ان کو اس سے زیادہ مقابلہ کی قوت عطا کرے۔ درآنحالیکہ مسلمانوں کو ہمیشہ ہر وقت مقابلہ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
چونکہ یہ مضمون مولانا کے قلم باطل شکن کا نتیجہ ہے اس لیے ہم اس کے شائع کرنے کی عزت حاصل کرتے ہیں۔ یہ مضمون جہاں مرزائی ہفوات کا مدلل جواب ہے وہاں مولانا نے اس کا خیال بھی رکھا ہے کہ مرزائیت کے خلاف ہمیشہ کام آنے والا مجموعہ ثابت ہو اور امید کرتے ہیں کہ اہل بصیرت اس مدلل جواب کو ملاحظہ کرنے کے بعد حق و باطل کو اچھی طرح پرکھ لیں گے۔ اور رہزن و رہبر میں تمیز کرنے کے بعد قادیانیت کے ہمرنگ زمین جال سے اچھی طرح واقف ہو جائیں گے۔ اللہ جل جلالہ مسلمانوں کو گمراہی سے بچاوے اور باطل کے مقابلہ کی جرأت و قوت عطا فرماوے اور ہم ان اصحاب کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں اور بدل و جان ممنون ہیں کہ جنہوں نے رسالہ ہذا کی اشاعت کے لیے نہایت فیاضی سے کام لیکر ایک اہم دینی خدمت انجام دی۔ ہماری صرف ایک آرزو ہے اور اسی میں کامیابی کے لیے ہم خداوند قدوس سے ملتجی ہیں کہ اے رب العزت مسلمانوں کو گمراہی سے بچا اور پھر ان کے دلوں میں وہی جذبہ ایمان پیدا کر اور باطل کے مقابلہ کی جرأت عطا فرما اور تمام مسلمانان عالم کو سچا مسلمان اور تیرے حبیب اکرم خاتم النبیینؐ کا سچا پیرو بنا آمین ثم آمین۔
نصیحت: آخر میں ہم جہاں اللہ کے لیے سچی شہادتیں دے کر سرخرو ہوتے ہیں وہاں مرزائیوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اس قسم کی حرکات سے جو ملک میں فتنہ پیدا کرتی ہیں اور مسلمانوں کے دل کو چوٹ لگتی ہے باز آجائیں اور بچے رہیں۔ جس کو درحقیقت مرزائی حضرات ہی نے شروع کیا ہے ورنہ ہم حفاظت اسلام کی خاطر ممکنہ کوشش عمل میں لانے کے لیے مجبور ہوں گے۔
٥
ان مسلسل جوابات کی اشاعت کے بعد مرزائی حضرات نے احساس کر لیا ہوگا کہ حیدر آبادی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی ختم المرسلینی کے بعد کسی ایرے غیرے کو نبی نہیں مان سکتے۔
ضروری گزارش: رسالہ ہذا مندرجہ ذیل پتہ سے مفت حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اور ہم ناظرین کی خدمت میں ادباً گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس مختصر مفید رسالہ کو ردی یا تھیٹر کا اشتہار نہ سمجھیں بلکہ پڑھیں اور سمجھیں اوروں کو سمجھائیں تاکہ اس کی اشاعت کا مقصد بھی پورا ہو اور خود بھی ماجور و مثاب ہوں۔
خاکسار محمد فخر الدین رازی براق پنچی حیدرآباد دکن
نوٹ:۔ مسودہ کاتب کے پاس جا چکا تھا کہ ہمیں جماعت مرزائیہ کے دو پمفلٹ بعنوان ”دعوت قادیانیت پر ہمارے استفسارات کا جواب“ اور ”ختم نبوت“ ملے۔ ناظرین کرام مذکورہ بالا پمفلٹوں کا جواب ہمارے اسی رسالہ میں تلاش کر لیں۔ باقی جو امور تشنہ ہیں ان کا جواب انشاء اللہ بشرط فرصت دیں گے۔ فقط
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆....... قادیانی زندیق ہیں جو اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام
کہتے ہیں اور شریعت کے مطابق زندیق واجب القتل ہوتا ہے۔
- ☆....... یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی مراقی مسیحیت کے
کرشمے ہیں کہ وہ خود سے خود پیدا ہو کر مسیح ابن مریم بن گیا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ o
مسک الختام فی ختم النبوۃ خیر الانام
لمثل ھذا یذوب القلب من کمد
ان کان فی القلب اسلام و ایمان
”اگر قلب میں ذرہ بھر بھی ایمان و اسلام ہے تو اس قسم کی باتوں سے قلب مارے غم کے پگھلا جاتا ہے۔“ اس وقت میرے ہاتھ میں جماعت مرزائیہ حیدرآباد کا شائع کردہ ایک مختصر سا ٹریکٹ ہے۔ جس کا عنوان ”ختم نبوت اور جناب پروفیسر الیاس برنی“ ہے۔ اس ٹریکٹ میں اس جماعت نے اپنی قدیم عادت کے موافق سلف صالحین اور مشائخ کرام کی عبارات نقل کر کے ان کے اغراض و مقاصد کے قطعاً بر خلاف زہر پھیلایا ہے اور اپنے نزدیک گویا یہ ثابت کر دیا ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ ہمیشہ اسی طریق پر مسلم بین المسلمین رہا ہے جیسا کہ اس جماعت نے اپنے زعم فاسد میں سمجھ رکھا ہے۔ اس وقت ہم اس مختصر تحریر میں کسی طویل یا مختصر بحث کرنے سے پہلے یہ ظاہر کر دینا چاہتے ہیں کہ جب مرزائی مذہب میں خاتم المرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کے بعد بھی رسولوں کی آمد جائز ہے تو پھر ختم نبوت کا عنوان ٹھیک اسی طرح بے معنی رہ جاتا ہے جیسا کہ عیسائیوں اور آریوں کا دعویٰ توحید۔ یعنی جس طرح اقانیم ثلثہ مان کر مادہ اور روح کو قدیم کہہ کر توحید کا دعویٰ محض لفظی ہے۔ اسی طرح رسولوں کی آمد تسلیم کر کے ختم نبوت کا لفظ بھی صرف مسلمانوں کی دلفریبی کا ایک آلہ ہے اور بس۔ قرآن کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی شان میں خاتم النبیین کا لفظ اسی درجہ میں اہم اور قابل ایمان ہے جیسا کہ رسول اللہ کا۔ اسی لیے ایک ہی
آیت میں ان دونوں عقیدوں کو بایں طور جمع کر دیا گیا ہے ”وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ (احزاب ٤٠) یعنی بیک وقت آپ اللہ تعالیٰ کے رسول بھی ہیں اور خاتم النبیین بھی۔ بلکہ غور کرنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ خاتم النبیین کا ذکر بعض وجوہ سے زیادہ مہتم بالشان ہے۔ کیونکہ مضمون یہ بیان کرنا ہے کہ نبی عربی گو تم میں سے کسی مرد کا باپ نہ سہی مگر اس کے بجائے اللہ کا رسول اور نبیوں کا ختم کرنے والا ہے۔ اہل علم اتنا سمجھ سکتے ہیں کہ جب انبیاء سابقین مردوں کے باپ ہو کر پھر رسول اللہ بھی ہوتے رہے تو معلوم ہوا کہ ان دو باتوں میں تو کوئی تنافی اور عدم ملائمت نہیں ہے۔ لہٰذا اگر آپ بھی رسول اللہ ہو کر مردوں میں سے کسی کے باپ ہو جاتے تو کیا مضائقہ تھا۔ اس لیے قرآن نے رسول اللہ کے ساتھ خاتم النبیین کا اور اضافہ کر کے بتلا دیا کہ آپ صرف رسول اللہ نہیں ہیں بلکہ اس کے ساتھ خاتم النبیین بھی ہیں۔ اس لیے اگر آپ کے بھی پسری اولاد ہوتی تو جس طرح اسرائیلی سلسلہ میں انبیاء کی ذریت میں نبوت جاری رہی اسی طرح اسماعیلی سلسلہ میں بھی بقائے نبوت مناسب ہوتا۔ حالانکہ آپ کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا گیا تھا۔ نفی ابوت اور اثبات خاتمیت کے اسی ارتباط کو دیکھ کر صحابہؓ صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ رسول مقبول ﷺ کے فرزند اس لیے زندہ نہ رہے کہ آپ خاتم النبیین تھے۔ اگر آپ کے بعد کوئی نبی مقدر ہوتا تو آپ کے فرزند حضرت ابراہیم ضرور زندہ رہتے اور نبی ہوتے لیکن عالم تقدیر میں چونکہ تناقض نہیں ہے اس لیے اگر ایک طرف ختم نبوت مقدر ہوا تو دوسری طرف آپ کے لیے پسری اولاد کا سلسلہ منقطع ہو جانا بھی مقدر ہوا اور اعلان کر دیا گیا کہ انبیاء سابقین کی طرح آپ صرف رسول اللہ نہیں ہیں بلکہ آپ پر نبوت کا ختم کرنا بھی مقصود ہے۔ انبیاء سابقین چونکہ صرف رسول اللہ تھے مگر خاتم النبیین نہ تھے اس لیے پسری اولاد میں ان کے لیے مضائقہ بھی نہ تھا۔ لیکن اس اولوالعزم نبی کے اگر کوئی پسری اولاد بلوغت کو پہنچتی تو اس کی عظمت کے شایان شان یہی تھا کہ سب سے اوّل اسی کو منصب نبوت سے نوازا جاتا اور یہ نامناسب تھا کہ بنی اسرائیل میں تو انبیاء کی ذریت میں نبوت رہے اور اسماعیلی سلسلہ میں اس افضل ترین رسول کے پسری اولاد رجولیت کی حد کو پہنچے اور پھر نبی نہ ہو۔ یہی باعث تھا کہ انبیاء سابقین نے اپنی ذریت میں بقاء نبوت کی دعائیں مانگی ہیں اور حق تعالیٰ نے بھی انہیں ”و جعلنا فی ذریتھما“ کی بشارتیں سنائی ہیں مگر اس نے جس کے حق میں قرآن نے ”حریص علیکم“ الخ فرمایا ہے۔ اپنی امت میں ایک نبی کے لیے بھی دعا نہیں کی اور نہ خود حق تعالیٰ نے پہلوں کی طرح اس کو انبیاء کی آمد کی کوئی بشارت دی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ دیگر
٨
انبیاء فقط رسول اللہ تھے اور محمد عربی (ﷺ) رسول اللہ کے ساتھ خاتم النبیین بھی تھے۔ پھر جس کو خدا نے آخری نبی بنایا تھا وہ کیسے اپنی امت یا ذریت کے حق میں نبوت کی دعا کرتا اور کیسے مناسب تھا کہ اس کی ذریت میں کوئی بلوغت کی حد کو پہنچتا اور وہ ان کا باپ کہلاتا۔ ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“
(احزاب ٤٠)
محمد ﷺ کے لیے یہ مناسب ہی نہ تھا کہ وہ تم میں سے کسی مرد کا باپ ہوتا لیکن وہ تو اللہ کا رسول اور انبیاء میں سب سے آخر آنے والا ہے۔
”عن عامر الشعبي فى قول الله ما كان محمد ابا احد من رجالكم قال ما كان ليعيش له فيكم ولد ذكر“
(رواہ الترمذی ج ٢ ص ١٥٦ ابواب التفسیر)
عامر شعبیؒ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد۔ ”ما كان محمد ابا احد من رجالکم“ کا یہ مطلب ہے کہ تم میں اے لوگو ان کی کسی نرینہ اولاد کا زندہ رہنا مناسب ہی نہ تھا۔
ہمارے اس بیان سے دو امر اور ظاہر ہو گئے۔ اوّل یہ کہ صحابہؓ کے نزدیک بھی ختم نبوت کے یہ معنی تھے کہ اب آئندہ کوئی رسول نہ ہوگا۔ اسی وجہ سے وفات ابراہیمؓ کا انہوں نے یہ نکتہ بیان کیا۔ دوم یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر نبوت جاری ہوتی تو اس کے اوّلین مستحق صحابہؓ کے نزدیک بھی آپ کے فرزند حضرت ابراہیم ہی تھے۔ اسی کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ”لو عاش ابراهيم لكان صديقا نبيا“
(کنزالعمال ج ١١ ص ٤٧٩ حدیث نمبر ٣٢٢٧٠)
(اگر حضور کے صاحبزادے ابراہیم زندہ رہتے تو وہ صدیق اور نبی ہوتے)۔ میرا بیٹا ابراہیمؓ اگر زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔ اس لیے کہ جب بنی اسرائیل میں انبیاء کی ذریت میں نبوت رہی تو یہ نامناسب تھا کہ آپ کے فرزند کو نبوت نہ ملتی یا ملتی مگر کسی بعید پشت میں ظاہر ہوتی اور یہ تو کیسا ہی نامناسب تھا کہ ذریت محمد (ﷺ) سے نکل کر مثلاً مرزائیوں کے خاندان میں جا گھستی۔
اس جگہ اتنا بیان کر دینا اور ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ختم نبوت کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ سرور کائنات کے وجود نے دیگر انبیاء کی آمد کو روک دیا ہے بلکہ یہ معنی ہیں کہ علم ازلی میں جتنے رسول مقدر تھے وہ ایک ایک کر کے سب آچکے۔ اب ایک دن آخر اس عالم کو ختم کرنا تھا اس لیے آخری دنیا کے لیے وہ رسول جو سب کے آخر میں رکھا گیا تھا بھیج دیا گیا تا کہ اس کی آمد جس طرح رسولوں کی مردم شماری کے خاتمے کی دلیل ہے اسی طرح قیامت کے قرب پر بھی برہان قاطع ہو جائے۔ یہی مطلب ہے ”انا والساعة كهاتين“ میں اور قیامت ان دو وسطی اور شہادت کی انگلیوں کی
٩
طرح متصل ہیں۔
(اشارہ کرنا کہ حالانکہ معلوم ہے کہ قیامت آج تک نہیں آئی مگر چونکہ دنیا کی مجموعہ عمر کے مقابلہ میں آپ کی بعثت قیامت سے انتہائی قرب رکھتی تھی اس لیے اس کو کھاتین سے ادا کیا اور اسی لیے اس آخری رسول کے منہ میں (کتب سابقہ میں ایک پیشینگوئی ہے اس کی طرف اشارہ ہے) وہ کلام ڈالا جو موسیٰ علیہ السلام کے کانوں میں پڑا تھا۔ کیونکہ مدارج کلام میں یہ بھی ایک آخری مرتبہ ہے اور اس طور پر رسولوں کا آخر آخری کلام لیکر دنیا کے آخر میں آخر الامم کے لیے مقدر ہوا تا کہ اوّل کا کمال آخر میں دوبالا ہو جائے۔ اور صباحت یوسف علیہ السلام کے ساتھ ملاحت محمد ﷺ بھی جلوہ گر ہو۔ اسی مضمون کو صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ایک نہایت خوبصورت اور واضح مثال میں بیان کیا گیا ہے۔
عن ابی ھریرة ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ان مثلی و مثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا فاحسنہ واجملہ الا موضع لبنة من زاویة فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ھلا وضعت ھذہ اللبنة وانا خاتم النبیین (رواہ البخاری فی کتاب الانبیاء ج١ ص٥٠١ باب خاتم النبیین و مسلم فی الفضائل ج٢ ص٢٤٨ باب ذکر کونہ خاتم النبیین و احمد فی مسندہ ج٥ ص١٣٧ والنسائی و الترمذی ج٢ ص١١٤ باب ماجاء مثل النبی والانبیاء و فی بعض الفاظہ فکنت انا سددت موضع اللبنۃ و ختم بی البنیان و ختم بی الرسل ھکذا فی الکنز عن ابن عساکر ج١١ ص٢٥٣ حدیث نمبر ٣٢١٢٧۔)
ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص نے ایک مکان بنایا اور اس میں ہر طرح سے حسن اور خوبی پیدا کی مگر ایک اینٹ کی جگہ اس کے ایک گوشہ میں چھوڑ دی۔ لوگ اس کے گرد پھرتے رہے اور تعجب کرتے رہے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ لگا دی گئی۔ اب میں وہ اینٹ ہوں اور آخری نبی ہوں۔ بخاری نے کتاب الانبیاء میں اس کو بیان کیا ہے اور مسلم نے اس کو فضائل میں اور احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور نسائی اور ترمذی نے بھی روایت کیا ہے اور ترمذی کے بعض الفاظ میں یہ بھی ہے کہ میں نے اس اینٹ کی جگہ کو پر کیا اور مجھ سے تعمیر کی تکمیل اور اختتام ہوا اور مجھ سے تمام رسل کا اختتام ہوا۔ کنزالعمال میں ابن عساکر سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔
اس تمثیل میں ایک طرف انبیاء سابقین کو رکھا ہے اور دوسری طرف اپنی ذات کو اور
انبیاء لاحقین کا کوئی ذکر نہیں۔ اور اس کے بعد قصر نبوت کی تکمیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ حضور کے نزدیک بعد میں کوئی رسول آنے والا نہیں ہے۔ کیونکہ آپ نے ”مثلی و مثل الانبیاء من قبلی“ فرما کر گویا تصریح کر دی کہ من بعدی کوئی رسول نہیں۔ یہ نکتہ ہمیں انہیں شیخ محی الدین عربی سے ہاتھ لگا ہے جن کا ذکر خیر سیکرٹری صاحب نے کیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ ”واعلم ان لنا من الله الهام لا الوحى فان سبيل الوحى قد انقطع بموت رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد كان الوحى قبله ولم يجئى خبر الهی ان بعدہ (ﷺ) وحيا كما قال الله تعالى و لقد اوحى الیک و الى الذين من قبلك ولم يذكر وحيا بعده“
(فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٢٢٨ باب ٣٥٢)
(ترجمہ) یاد رہے کہ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اب الہام کا سلسلہ باقی ہے نہ کہ وحی کا۔ کیونکہ وحی کا سلسلہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے ساتھ منقطع ہو گیا۔ ہاں۔ پہلے وحی تھی اور اللہ تعالیٰ کے کلام میں یہ کہیں نہیں آیا کہ آپ کے بعد وحی ہے۔ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ ”آپ کی طرف اے رسول وحی بھیجی گئی اور آپ سے پہلے انبیاء کی طرف اور آپ کے بعد وحی کا ذکر نہیں کیا۔“ حدیث مذکور ادھر بھی اشارہ کرتی ہے کہ آپ کا آخر میں آنا اس لیے مقدر ہوا کہ جو بے رونقی ایک اینٹ کی جگہ خالی ہونے کی وجہ سے اس قصر میں ہویدا تھی وہ اس آخری نبی کی وجہ سے پوری ہو جائے۔
یاد رکھو اب خدائی عزت کسی کو موقعہ نہیں دے گی جو لبنہ محمدی ﷺ کے بعد اس قصر کا مکمل کہلائے۔ تکمیل کے بعد تخریب تو ممکن ہے لیکن تکمیل ممکن نہیں۔ خط پر مہر لگا کر اس کا توڑنا تو ممکن ہے مگر اس کا کھولنا ممکن نہیں۔ پھر کون ہے جو ختم محمدی ﷺ کو توڑ کر قصر نبوت میں آسکتا ہو اور کون ہے جو قصر نبوت کی تکمیل کے بعد اس کی تنقیص کا مدعی ہو۔ واللہ ثم باللہ جس کو خدا تعالیٰ نے آخری نبی کہا ہے وہی آخری نبی ہے۔ پھر کون ہے جو بعد میں نبوت کا دعویٰ کر کے آخری نبی بننے کا ارادہ رکھتا ہو۔ امم سابقہ کے پاس بہت سے رسول بھیجے گئے۔ پر وہ جس نے قصر نبوت کی تکمیل کی اسی امت مرحومہ کو نصیب ہوا۔ پھر کیا وہ امت جس کا رسول خاتم الانبیاء جیسا رسول ہو نبوت کی نعمت سے محروم کہی جاسکتی ہے۔ کیا وہ امت جس میں شرکت کی تمنا انبیاء رکھتے ہوں بدقسمت ٹھہر سکتی ہے۔ محروم وہ ہیں جنہیں ایسی رسالت عامہ تامہ کے بعد رسالت کی تمنا ہے۔ بدقسمت وہ ہیں جنہیں اپنے آقا کی ہمسری کا ولولہ ہے۔ کنز العمال ج ١١ ص ٤٠٤ حدیث نمبر ٣٦٨٨٥ میں
ہے۔ ”عن الحسن مرسلاً قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انا رسول من ادرکنا حیا و من یولد بعدی رواہ ابن سعد“ میں موجودین اور بعد میں آنے والوں کا سب کا رسول ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک سلسلۂ رسالت جاری تھا اس وقت تک رسولوں کو مخصوص قوم اور مخصوص زمانہ کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ لیکن جب نبیوں کا ختم کرنے والا آیا تو پھر اس کی نبوت کو نہ کسی قوم سے مخصوص کیا گیا نہ کسی زمانہ سے بلکہ قیامت تک کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا تا کہ جس طرح وہ ان موجودین کا رسول کہلائے اسی طرح بعد میں آنے والوں کا بھی رسول ٹھہرے اور کسی پھوٹے منہ سے یہ نہ نکل سکے کہ وہ نبوت سے محروم ہے۔ مگر مرزائی کب باز آنے والے تھے آخر کار قادیان میں ایک اشتہاری نبی بلا ہی لیا۔ یہ سچ ہے کہ نبوت کوئی زلزلہ نہیں ہے کہ لوگ اس سے گھبرائیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب تک زلزلہ آکر یہ قصر نبوت گر نہ جائے اس وقت تک کسی نبوت کے لیے جگہ بھی خالی نہیں اور اگر یہی دلیل اجراء نبوت کی ہے تو پھر نبوت تشریعیہ بھی کوئی زلزلہ نہیں ہے۔ لہٰذا قادیان کے سجادہ نشین کو چاہیے کہ وہ شریعت جدیدہ کا بھی دعویٰ کر دے۔ آخر جب نبوت کی ہوس ہے تو وحی جدید سے کیوں بیزاری ہے۔ اور اگر کامل دین کے بعد کوئی دین نہیں ہے تو کامل نبی کے بعد کوئی نبی کیوں ہو۔ خدا ان خلوتوں میں تشتت اور اس جماعت میں تفرق اور ان دیار کی تدمیر کرے جن میں خدا کے رسول کے خلاف یہ نجویٰ اور سرگوشیاں ہوتی ہیں اور توہین نبی پر تعظیم نبی کا لفظی ملمع چڑھا کر مسلمانوں کی فریب دہی کے منصوبے گانٹھے جاتے ہیں۔
قرآن عزیز کے اس معجز بیان پر سو مرتبہ قربان ہو جائیے جس نے اس امت کو ”خیر امۃ“ کہا۔ مگر اس لیے نہیں کہ اس میں بہت سے نبی ہوں گے۔ اگر اس لیے یہ امت خیر امۃ ہوتی تو بنی اسرائیل اس سے پہلے اس لقب کے مستحق تھے کہ جتنے رسول ان میں ہوئے اگر قادیان کا سجادہ نشین ”اهدنا الصراط المستقیم“ کی دعا مانگ مانگ کر فنا بھی ہو جائے پھر بھی اتنے تو کیا ایک بھی پیدا نہ ہوگا۔
ہاں۔ اتنی دعاؤں کے بعد جبکہ خیرالقرون گزر گیا۔ شیدائی محمدیؐ اپنی جانیں قربان کر کے جام شہادت نوش کر گئے۔ اولیاء اللہ ایک سے ایک ریاضت کرنے والے اپنی عمریں فنا کر گئے کہ دفعۃً مختاری کے امتحان سے ایک فیلر نبوت کے امتحان میں جا پاس ہوا۔ ہر چند کہ اس کے مریدین میں ابھی اختلاف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ محض مجدد تھا۔ کوئی کہتا ہے سچ مچ نبی تھا۔ لیجئے اس
١٠
کے آتے ہی یہ امت خیر امت بن گئی اور بدقسمت خوش قسمت ہوگئی۔ ارے۔ اگر اتباع شریعت سے کوئی نبی ہو جایا کرتا تو اے عقل و دین کے دشمنو! سب سے اوّل ابوبکرؓ ہوتا۔ عمرؓ ہوتا۔ عثمانؓ ہوتا‘ علیؓ ہوتا‘ مگر سرکار دو جہاں نے کیسے پیار کے وقت کیسی محبت کے وقت حضرت علیؓ سے فرما دیا کہ "انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی"
(مشکوٰۃ ص ٥٦٣ باب مناقب علی بن ابی طالبؓ)
اے علیؓ تو میرا ایسا ہی نائب ہے جیسے کہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے لیے تھے۔ مگر میرے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اس لیے ہارون علیہ السلام تو نبی تھے لیکن تو نبی نہیں ہے۔ اور صاف فرما دیا کہ "الا انہ لا نبی بعدی" خیال فرمائیے کہ صرف اس تشبیہ سے حضرت علیؓ کی نبوت کہاں ثابت ہوتی تھی لیکن سرکار دو جہاں نے اس وہم کا بھی ازالہ کر دیا اور فرما دیا "الا انہ لانبی بعدی" اس پر بھی ایسے اغبیاء کی جماعت موجود ہے جس کی سمجھ میں ہنوز کچھ نہیں آیا۔ الغرض جبکہ قرآن اس امت کو دوسری امتوں پر فضیلت دے رہا تھا تو اس نے یہ نہیں کہا کہ اے امت محمدیہ تو اس لیے خیر امت ہے کہ پہلی امتوں میں ہم نے اگر سو نبی بنائے ہیں تو تجھ میں دو سو بنائیں گے۔ بلکہ یوں فرمایا۔
کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر و تومنون باللہ (آل عمران ١١٠)
تم تمام امتوں میں سب سے بہتر امت ہو تمہیں اس لیے بنایا گیا ہے کہ لوگوں کو اچھی باتوں کے کرنے کا حکم دو اور بری باتوں سے منع کرو۔ اور اللہ پر ایمان رکھو۔
یعنی تیری خیریت امر بالمعروف‘ نہی عن المنکر‘ اور ایمان باللہ کی وجہ سے ہے اس لیے اب تو میں یوں کہتا ہوں کہ اس آیت سے تو بجائے فتح باب نبوت کے ختم نبوت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اگر اس امت میں نبوت جاری ہوتی تو اس کی خیریت بیان کرنے میں سب سے پہلا نمبر اس امت کی نبوتوں کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔ اس کے بعد میں دوسرے اوصاف کا ذکر مناسب تھا۔ حالانکہ یہاں صرف امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ کا ذکر ہے کیونکہ جو توحید اس امت کو نصیب ہے ان سے بقیہ امم محروم ہیں جیسا کہ عندالتقابل ظاہر ہو جائے گا۔ اس تقریر سے ثابت ہو گیا کہ "اھدنا الصراط المستقیم" کی دعا بھی اس لیے ہرگز تعلیم نہیں دے گئی کہ لوگ اس کے ذریعہ سے نبی بنا کریں ورنہ تو بقول سیکرٹری صاحب ذات باری پر شدید الزام آئے
گا کہ دعا کا نتیجہ و ثمرہ نہیں عطا فرمایا جانا تھا تو دعا کے سکھلانے کا فعل عبث کیوں کیا گیا۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر اس دعا کا مقصد عطاء نبوت ہوتا تو جس طرح اس امت میں لاکھوں صدیق اور کروڑوں شہداء وصالحین پیدا ہوئے اسی طرح کم از کم ایک ہزار تو نبی بن جاتے۔ مگر یہاں تو اس فہرست میں صرف ایک ہی نام بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ اور افسوس یہ ہے کہ وہ بھی زیر اختلاف ہے۔ اب مرزائی بتائیں کہ جب تیرہ سو سال کی دعا کا نتیجہ یہ نکلا تو یہ امت خیر امت رہی یا شر امت۔ علاوہ ازیں اگر اس آیت میں نبوت ہی کی دعا ہے تو پھر خود سردار دو جہاں کیوں اس دعا کو نمازوں میں پڑھا کرتے تھے۔ العیاذ باللہ کیا آپ کو بھی نبوت حاصل نہ تھی۔ اگر حاصل تھی اور سب سے افضل حاصل تھی تو دعا کس امر کی مانگتے تھے۔ یہ بھی عجیب دعا ہوئی کہ جو تیرہ سو سال سے چیخ چیخ کر مانگ رہے ہوں ان کی تو قبول نہ ہو اور جس کی بلا مانگے قبول ہو چکی ہو وہ اس کے بعد بھی مانگتا ہی رہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کسی کو حکومت برطانیہ وائسرائے بنادے مگر اس کی درخواست یہی باقی رہے کہ مجھے وائسرائے بنا دیجئے۔ سوچو کہ ایسے شخص کو کیا کہو گے۔ لہٰذا اگر اس آیت میں نبوت حاصل ہونے کی دعا ہے تو آپ کی شان والا پر بہت بڑا الزام عائد ہوتا ہے۔ کسی کے دل میں کوئی ذرہ ایمان کا باقی ہے کہ ایسی خودساختہ تفاسیر سے توبہ کرے؟ اس مقام پر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب منعم علیہم کے قرآن نے چار گروہ بیان کیے ہیں یعنی نبیین‘ شہداء‘ صدیقین اور صالحین تو پھر آپ کو صرف خاتم النبیین کیوں کہا گیا۔ خاتم الشہداء یا خاتم الصدیقین‘ خاتم الصالحین کیوں نہیں کہا گیا۔ مرزائی لٹریچر میں تو ختم نبوت نبی بنانے کے لیے ہی ہے تو کیا شہادت اور صلاح اور صدیقیت بلا آپ کی مہر کے ممکن ہے؟ اس لیے ضرور تھا کہ جس طرح آپ کو خاتم النبیین کہا گیا تھا اسی طور پر خاتم الصالحین بھی کہا جاتا۔ تا صاف معلوم ہو جاتا کہ ہر نعمت آپ ہی کے دامن کے نیچے مستور ہے۔ اس امر کو حل کرنے کے لیے کہ آپ کو خاتم علی الاطلاق کیوں نہ کہا گیا اور آپ کی خاتمیت کو صرف انبیاء کے ساتھ مقید کیوں کیا گیا ہے۔ پہلے ہمیں لفظ ”خاتم“ پر بحث کرنا ضروری ہے۔
آیت مذکور میں دو قرأتیں ہیں۔ اول بکسر تاء‘ دوم بفتح تاء۔ جمہور کی قرأت بکسر تا ہے جیسا کہ شیخ سید محمد آلوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ ”وقرأ الجمهور خاتم بكسر التاء على انه اسم فاعل اى الذى ختم النبيين والمراد به آخرهم“ (جمہور کی قرأت خاتم اسم فاعل تا کے زیر سے ہے یعنی جو ختم کرنے والا ہے انبیاء کا مراد یہ کہ آخری نبی ہے)۔
(روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٢ زیر آیت ما کان محمد ابا احد من رجالکم)
اسی طرح علامہ جریر الطبری لکھتے ہیں کہ حسن اور عاصم کے علاوہ تمام قراء خاتم بکسر تا پڑھتے تھے۔ (ج٢٢ ص١٦)
یہ امر یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اختلاف قراءت کی وجہ کسی مسئلہ یا عقیدے کا اختلاف نہیں ہوتا بلکہ قرآن چونکہ اپنے الفاظ کے لحاظ سے بھی ایسا ہی محفوظ ہے جیسا کہ معنی کے اعتبار سے۔ اس لیے جس صحابی نے جو قراءت اختیار کی وہ محض اس بناء پر کی کہ اس کو یہی قراءت پہنچی تھی لہٰذا انہی الفاظ کو محفوظ رکھنا اس نے اپنا فرض منصبی سمجھا۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے۔
”عن علقمة قال قدمنا الشام فاتانا ابوالدرداء فقال افیکم احد یقراء علی قرأة عبدالله فقلت نعم أنا‘ قال فکیف سمعت عبدالله یقراء ھذه الآیة ”واللیل اذا یغشی“ قال سمعتہ ”واللیل اذا یغشی والذکر والانثی“ قال وانا واللہ ھکذا سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقرء ھا۔ ولکن ھؤلاء یریدون ان اقراء ”وماخلق“ فلا اتابعھم۔“
حضرت علقمہؓ سے مروی ہے کہ ہم ملک شام آئے تو ہمارے پاس حضرت ابوالدرداءؓ تشریف لائے۔ پوچھا کہ کیا تم میں کوئی حضرت عبداللہ کی قرأت کے موافق قرأت کرنے والا ہے میں نے کہا۔ ہاں میں ہوں۔ انہوں نے کہا بولو تم نے عبداللہ کو یہ آیت ”واللیل اذا یغشی“ کس طرح پڑھتے ہوئے سنا۔ کہا میں نے اس طرح سنا ہے کہ ”واللیل اذا یغشی‘ والذکر والانثی“ انہوں نے کہا کہ قسم خدا کی میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ لیکن یہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ میں اس طرح پڑھوں کہ ”وماخلق الذکر والانثی“ پس میں ان کی اتباع نہیں کروں گا۔
دیکھئے ”والذکر والانثی“ اور ”وماخلق الذکر والانثی“ میں اختلاف کسی عقیدے یا مسئلہ کی بناء پر نہ تھا۔ کیونکہ مراد دونوں کی ایک ہی ہے بلکہ وجہ وہی تھی کہ جسے جو لفظ پہنچتا وہ اسے ہی محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔ خواہ وہ جمہور کے موافق رہے یا مخالف۔ اور آج بھی آپ کی قراءت بجائے ”والذکر والانثی“ کے ”وماخلق الذکر والانثی“ ہی ہے اسی طرح حضرت ابوالدرداءؓ نے جو قراءت حضورؐ سے سن لی تھی اور اسے ترک کرنا کسی طرح پسند نہ کیا۔ ٹھیک اسی طرح اگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خاتم بالفتح کی قراءت اختیار کی۔ تو اس کی وجہ کسی مسئلہ کا اختلاف نہیں بلکہ وہی تحفظ لفظی جو قرآن کریم کا طغرۂ امتیاز ہے مدنظر تھا اور یہ کیسے ممکن تھا جبکہ خود
١٥
حضور ان سے فرما چکے تھے کہ ”ان تكون منى بمنزلة هرون من موسىٰ الا انه لانبى بعدی“ (تم میرے لیے ایسے ہو کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارونؑ تھے مگر وہ نبی تھے اور تم نبی نہیں۔ کیونکہ میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا)۔ اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی روایت کرتے ہیں۔
عن علی قال وجعت وجعا فاتيت النبى صلى الله عليه وسلم فاقامنى فى مكانه و قام يصلى و القى على طرف ثوبه ثم قال برئت يا ابن ابی طالب فلابأس علیک، ماسألت الله لی شيئاً الا سألت لک مثله ولاسألت الله شيئاً الا اعطانيه غير انه قيل لى لانبى بعدک فقمت فكأنى ما اشتکيت.
(کذافى الكنز ص٧٠اج ١٣حدیث نمبر٣٦٥١٣)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں بڑا سخت بیمار ہوا اور حضورؐ کی خدمت میں آیا۔ آپ نے اپنے پاس مجھے جگہ دی اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور اپنے کپڑے کا ایک پلہ مجھ پر ڈالا۔ پھر فرمانے لگے لو ابن ابی طالب تم اچھے ہوگئے۔ اب کچھ فکر مت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ سے میں نے کوئی چیز ایسی نہیں مانگی کہ اس کے مثل تمہارے لیے نہ مانگی ہو۔ اور کوئی چیز ایسی نہیں رہی کہ میں نے اللہ سے مانگی ہو وہ مجھے نہ ملی ہو۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ مجھے کہا گیا ہے ۔ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں فوراً ایسا کھڑا ہو گیا گویا بیمار ہی نہیں ہوا تھا اس حدیث نے خوب تشریح کردی کہ خاتم النبیین کے معنی کیا ہیں۔ اور چلئے قرائت خاتم بفتح التاء ہی سہی۔ لیکن کس محبت و پیار کے وقت یہاں بھی صاف کہہ دیا گیا کہ ”انہ لانبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) جس سے یہ امر تو متیقن ہو گیا کہ نبوت کے بارے میں حضور سرور کائناتؐ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عقیدہ تو یہی تھا۔ لیکن ہم تبرعاً لغت سے بھی ثابت کرتے ہیں کہ یہ دونوں لفظ ہم معنی مستعمل ہوتے ہیں۔ لسان العرب اور قاموس میں مصرّحاً موجود ہے کہ خاتم بالفتح بھی خاتم بالکسر کے معنی میں آتا ہے۔ اور چونکہ مرجع قرائتیں واحد ہونا چاہیں اس لیے ائمہ لغت اور مفسرین نے بالاتفاق خاتم بالفتح کو خاتم بالکسر کی طرف راجع کیا ہے چنانچہ لسان العرب ج ٢ ص ٢٥ میں ہے۔
الخاتم والخاتم من اسماء النبى صلى الله عليه وسلم و فى التنزيل العزيز ماكان محمد الخ اى آخرهم ويقال فيه خاتمهم وخاتمهم آخرهم وايضاً
فی القاموس و تاج العروس و الخاتم آخر القوم کالخاتم ومنہ قولہ تعالیٰ وخاتم النبیین ای آخرھم۔
خاتم اور خاتَم دونوں نبی اکرم ﷺ کے اسماء مبارک سے ہیں۔ اور قرآن عزیز میں آیت ماکان محمد ابا احد الخ میں خاتم النبیین کے معنی آخر الانبیاء کے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ لوگوں میں خاتم یا خاتَم ہے یعنی آخری ہے۔ اور قاموس اور تاج العروس میں ہے کہ خاتَم کے معنی آخر شخص کے ہیں اور خاتم بھی ایسی ہی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قول خاتم النبیین ہے یعنی آخری نبی۔ اتنی تحقیق کے بعد حاجت نہ تھی کہ ہم آنحضرت ﷺ کی کچھ اور احادیث پیش کرتے۔ مگر صرف اطمینان خاطر کے لیے ایک حدیث صریح اور پیش کیے دیتے ہیں۔
عن ثوبان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لانبی بعدی.
(ابوداؤد ج٢ ص١٢٧ کتاب الفتن واللفظ لہ‘ ترمذی ج٢ ص٤٥ باب ماجاء لاتقوم الساعۃ)
”ثوبانؓ سے مروی ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں آخر الانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
اس حدیث میں چند امور غور طلب ہیں۔ اولاً یہ کہ نبی کریم ﷺ نے جب تیس مدعیان کاذب کی خبر دی تھی تو اگر اس مدت میں باب نبوت صادقہ بھی کھلا ہوا ہوتا تو کیا آپ انبیاء صادقین کی بشارت نہ دیتے۔ لیکن جبکہ قرآن وحدیث نے بالاتفاق کہیں ایک رسول کے آنے کی بھی خبر نہیں دی بلکہ اس کے بالکل برخلاف قرآن نے ختم نبوت کا اعلان کیا اور حدیث نے مدعیان نبوت کو دجال اور کذاب ٹھہرایا تو نتیجہ واضح ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے علم میں نبوت ختم ہو چکی ہے۔ اسی لیے حدیث میں ان مدعیان نبوت کے کاذب ہونے کی علامت صرف اس امر کو قرار دیا ہے کہ وہ اپنے متعلق نبوت کا گمان رکھتے ہوں گے۔ حالانکہ اگر نبوت باقی ہوتی تو نبوت کا گمان رکھنا بقول سیکرٹری صاحب کوئی زلزلہ یا طاعون تو تھا نہیں پھر اس نعمت کے گمان اور تخیل کو حضور اکرمؐ نے دجالیت کی علامت کیوں قرار دیا اور اسی پر بس نہیں بلکہ آگے بطور دلیل بیان فرمایا کہ میں چونکہ (بحکم قرآنی) خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں اس لیے نبوت کا خیال میرے بعد کیونکر درست ہو سکتا ہے۔
١٧
خاتم الانبیاء فداہ ابی وامی تو ختم نبوت کی بحث کو دو لفظوں میں ختم کر گئے تھے اور خوب کھول کھول کر سمجھا گئے تھے کہ میرے بعد ہر مدعی نبوت کو دجال سمجھنا کیونکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد نبی کیسا؟ اور اسی پر اسلامی حکومتوں میں عملدرآمد بھی رہا ہے۔ چنانچہ تاریخ اسلامی میں ایک واقعہ بھی نہیں دکھلایا جاسکتا کہ کسی زمانے میں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔ پھر اس سے ختم نبوت کے مسئلہ پر بحثیں کی گئی ہوں اور اس کے صدق کے دلائل طلب کیے گئے ہوں۔ بلکہ ہر ایک کو بموجب دعویٰ نبوت جہنم رسید کر دیا گیا ہے۔
مگر آہ! یہ کیسی بے کسی کا زمانہ ہے کہ آج سرور کائناتؐ کے بعد خائب و خاسر چہرے سرِ بزم ”نبوت نبوت“ پکارتے پھر رہے ہیں اور ہم سے اتنا بھی نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنے کانوں کو اس کی خرافات سے محفوظ ہی کر لیں۔ صد افسوس۔
كبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذبا. (الکہف ٥)
کیسا بڑا بول ان کے منہ سے نکلتا ہے جو از سر تا پا کذب محض ہے۔
اس مضمون کی اگر جملہ احادیث جمع کی جائیں تو یقیناً اس کے لیے ایک طویل فرصت درکار ہے۔ کیونکہ اس باب میں ایک سو بارہ احادیث آچکی ہیں جن میں علی الاعلان بیان کر دیا گیا ہے کہ خاتم الانبیاء کے بعد نبوت کا سلسلہ کلیتہً مسدود ہے۔ جس کے کان ہوں وہ سن لے اور جس کے دل میں ایمان ہو وہ سمجھ لے۔ البتہ جن صحابہ سے یہ احادیث مروی ہیں ان کے اسماء ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔ تفصیل کے لیے مولانا محترم محمد شفیع صاحب مفتی دارالعلوم کے رسائل کی طرف مراجعت کی جائے۔
(١) قتادہؓ (٢) عبداللہ بن مسعودؓ (٣) حسنؓ (٤) مغیرہ بن شعبہؓ (٥) عائشہؓ (٦) جابر بن عبداللہؓ (٧) ابو سعید الخدریؓ (٨) ابو الطفیلؓ (٩) ابو ھریرہؓ (١٠) انسؓ (١١) عفان بن مسلمؓ (١٢) ابو معاویہؓ (١٣) جبیر بن مطعمؓ (١٤) عبداللہ بن عمرؓ (١٥) ابی بن کعبؓ (١٦) حذیفہؓ (١٧) ثوبانؓ (١٨) عبادہ بن الصامتؓ (١٩) عبداللہ بن عباسؓ (٢٠) عطاء بن یسارؓ (٢١) سعد بن ابی وقاصؓ (٢٢) عرباض بن ساریہؓ (٢٣) عقبہ بن عامرؓ (٢٤) ابو موسیٰ الاشعریؓ (٢٥) ام کرز (٢٦) عمر الفاروق (٢٧) ابو حازمؓ (٢٨) ابو امامہ الباھلیؓ (٢٩) سفینہؓ (٣٠) تمیم الداریؓ (٣١) نعیم بن مسعودؓ (٣٢) عبیداللہ بن عمرو اللیثیؓ (٣٣) نعمان بن بشیرؓ (٣٤) ابن زمل الجہنیؓ (٣٥) ضحاک بن نوفلؓ (٣٦) علیؓ (٣٧) ابو ذر الغفاریؓ (٣٨) معاذؓ (٣٩) سھل بن سعدؓ (٤٠) حبشی
١٨
بن جنادۃ ط (٤١) اسماء بنت عمیس ط (٤٢) زید بن ابی اوفیٰ (٤٣) ابوثعلبۃ ط (٤٤) عقیل بن ابی طالبؓ (٤٥) ابوالفضلؓ (٤٦) نافع ط (٤٧) عوف بن مالک ط (٤٨) ابوبکرۃ ط (٤٩) ابومالک الاشعری ط (٥٠) ابوعبیدۃ ط (٥١) عصمۃ بن مالک ط (٥٢) عمرو بن قیس ط (٥٣) سلمان الفارسی ط (٥٤) محمد بن حزم الانصاری ط (٥٥) بحر بن حکیم ط (٥٦) عبدالرحمن بن سمرۃ ط (٥٧) عبداللہ بن عمرو بن العاص ط (٥٨) ابوقتادۃ ط (٥٩) قتادۃ ط (٦٠) عبداللہ بن ثابتؓ۔
جب لغت اور احادیث صحیحہ سے یہ امر واضح ہوچکا کہ ”خاتم“ بمعنی ”آخر“ ہے تو آپ کی خاتمیت کو صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص کرنے کی وجہ بھی ظاہر ہوگئی۔ کیونکہ اس تقدیر پر اگر آپ کو خاتم الصلحاء اور خاتم الصدیقین والشہداء کہہ دیا جاتا تو جس طرح آپ کا ظہور انبیاء علیہم السلام کے آخر ہونے کی دلیل ٹھہرا۔ اسی طرح لازم آتا کہ اب آپ کے بعد کوئی صالح اور صدیق بھی نہ ہوگا۔ حالانکہ آپ کی امت میں تمام امم سے بڑھ کر اولیاء، اقطاب مقدر ہوچکے تھے۔ اگر اس امت کے اولیاء کا دیگر امتوں سے مقابلہ کیا جائے تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی امت اس امت مرحومہ کے برابر اولیاء صدیقین کی فہرست پیش کرسکتی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ سمجھ دیتا تو معلوم ہوتا کہ اس امت کے خیرالامم ہونے کی اس سے بڑھ کر دلیل اور کیا ہوگی کہ مجموعی حیثیت سے خدا تعالیٰ کے برگزیدہ جس قدر اس امت میں گزرے کسی دوسری امت میں نہیں گزرے اور جیسا افضل رسول اس امت کو ملا کسی کو نصیب نہیں ہوا۔ دیکھو نبی کریم ﷺ اپنی امت کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں۔
”عن بريدة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اهل الجنة عشرون ومائة صف ثمانون منها من هذه الامة واربعون من سائر الامم۔ هذا حديث حسن
(رواہ الترمذی ج٢ ص١٨١ ابواب صفۃ الجنۃ مشکوۃ ص٤٩٨)
”بریدہؓ سے روایت ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفوف ہونگی جس میں اسی میری امت کی اور بقیہ چالیس دیگر امم کی ہوں گی۔“ (ترمذی اس کو روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے)۔
اس حدیث نے کسی قدر وضاحت کے ساتھ آپ کی امت کی کرامت اور اس کے اولیاء مقربین کی کثرت کو ظاہر کیا ہے۔ رہا یہ سوال کہ جب صدیقیت وغیرہ سب جاری ہیں تو نبوت کس لیے مسدود ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت پر چل کر اور کسی نبی کی تصدیق کرکے
١٩
جو انعامات مل سکتے ہیں وہ صرف یہی ہیں۔ نبوت کسب واتباع کا ثمرہ نہیں ہے۔ قرآن عزیز نے کسی ایک جگہ بھی نبوت کو کسب کا ثمرہ نہیں بتایا بلکہ صرف اپنے اجتباء واصطفاء پر موقوف رکھا ہے۔ ”اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس.“ (الحج ٧٥) انسانوں اور فرشتوں میں سے کسی کو اپنا پیغامبر بنانا صرف خدا تعالیٰ کے اصطفاء سے ہی ہوا کرتا ہے۔
قرآن عزیز فرضیت صوم بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے۔ ”لعلکم تتقون“ (بقرہ ١٨٣) یعنی اگر تم پابندی کے ساتھ روزہ رکھتے رہو تو شاید متقی ہو جاؤ لیکن ایک آیت بھی پیش نہیں کی جاسکتی جس میں یہ فرمایا کہ اگر تم اس نبی کا اتباع کرو تو شاید نبی بن جاؤ۔
لہٰذا خوب واضح ہو گیا کہ اگر اس امت میں نبی نہ بنے تو اس سے آپ کی قوت قدسیہ کا کوئی نقصان ظاہر نہیں ہوتا۔ اگر آپ کی قوت قدسیہ کا اندازہ لگانا ہو تو خود آپ کے فرمان سے اندازہ کرو کہ جنت کی ١٢٠ صفوں میں سے ٨٠ صفوف جنت میں داخل ہونے والی آپ ہی کی قوت قدسیہ کا ثمرہ نہیں تو اور کیا ہے۔ بلکہ آپ کی قوت قدسیہ کو اگر دیکھنا ہے تو آپ کے امتیوں کو دیکھو جو صرف آپ کے طفیل میں انبیاء علیہم السلام کے لیے قابل غبطہ بنے ہوئے ہیں۔ ترمذی شریف ج ٢ ص ٦٤ ابواب الزھد میں روایت ہے۔
یقول قال اللہ تعالیٰ المتحابون فی جلالی لھم منابر من نور یغبطھم النبیون والشھداء۔
”جو میرے جلال کا لحاظ کر کے آپس میں محبت رکھنے والے ہیں قیامت میں ان کے لیے ”نور“ کے منبر رکھے جائیں گے جن پر انبیاء اور شہداء بھی غبط کریں گے۔“
وجہ یہ ہے کہ ہر عمل کی ایک خصوصیت ہے جو محشر میں ظاہر ہو گی۔ خدا کی راہ میں موت کی یہ خصوصیت ہے کہ اس موت کو حیاۃ کے احکام دیئے جاتے ہیں۔ ”ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء“ (البقرہ ١٥٤) (اللہ کی راہ میں جو لوگ قتل ہوتے ہیں ان کو مردہ مت کہو وہ تو زندہ ہیں) اسی طرح حق تعالیٰ جس کو اپنا رسول و نبی بنائے اس کے بھی خصائص ہیں۔ ایسے ہی خدا تعالیٰ کے جلال و بزرگی کو نظر رکھتے ہوئے باہم محبت و آشتی رکھنا اور کوئی دوسری غرض نہ رکھنا بھی محشر میں ایک خاص امتیازی شکل میں ظاہر ہو گا۔ اور ظاہر ہے کہ آخرت کی ہر خصوصیت قابل غبطہ ہے پس جبکہ یہ امت محض آپ کی قوت قدسیہ کے طفیل میں انبیاء علیہم السلام کے لیے قابل غبطہ بن گئی۔ تو اب اس سے زیادہ اور کیا درکار ہے۔
٢٠
یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ حدیث اس جماعت کو جو خدا تعالیٰ کے لیے محبت رکھتی ہو۔ انبیاء علیہم السلام کے لیے قابل غبطہ تو کہتی ہے مگر نبی نہیں کہتی۔ چنانچہ مشکوٰۃ شریف ص ٤٢٦ باب الحب فی اللہ ومن اللہ میں مصرحاً موجود ہے۔
عن عمرؓ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان من عباد الله لاناساً ماهم بانبياء ولا شهداء يغبطهم الانبياء والشهداء يوم القيامة بمكانهم من الله۔ قالوا يارسول الله تخبرنا من هم۔ قال هم قوم تحابوا بروح الله على غير ارحام بينهم الخ۔
عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ بعض اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں جو نبی ہیں نہ شہید، لیکن چونکہ ان کا تعلق محض لوجہ اللہ تھا۔ اس لیے حق تعالیٰ محشر میں انہیں ایک ایسا مرتبہ عطا فرمائیں گے جس پر انبیاء و شہداء کو بھی غبطہ ہوگا۔ صحابہؓ نے سوال کیا یا رسول اللہ وہ لوگ کون ہوں گے۔ کہا جو صرف میری وجہ سے محبت رکھتے ہیں۔ (الخ)
اس سے ظاہر ہے کہ اس امت میں نبوت تو نہیں ہے لیکن ایسے عمل ضرور ہیں جن سے ایک امتی انبیاء علیہم السلام کے لیے بھی قابل غبطہ ہو سکتا ہے۔
الحاصل جب نبوت خدائی اصطفاء پر موقوف ہے نہ کہ انبیاء علیہم السلام کے کمال پر تو خاتم النبیین کی آمد سے صرف اتنا ثابت ہوا کہ حق تعالیٰ کو جتنے رسول بنانے تھے وہ بنا چکا اور اس محدود عالم کے واسطے جتنے اعداد رسل مقدر تھے ختم ہو لیے اور اس لیے اس نے اس دروازے کو جسے آدم علیہ السلام سے شروع کیا تھا۔ نبی کریم ﷺ کے ذریعہ سے بند کر دیا اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ جس طرح تعمیر عالم کے وقت اجراء نبوت و رسالت کا اعلان ہوا تھا۔ اسی طرح تخریب عالم یعنی قرب قیامت میں اس کے ختم کا اعلان بھی از بس ضروری تھا۔ قال تعالیٰ ”امایاتینکم رسل منکم“ (الاعراف) سورہ بقرہ میں تفصیل سے موجود ہے کہ جب حق تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو اس کا بھی اعلان کر دیا کہ اے آدم کی ذریت تمہارے پاس ہمارے رسول آئیں گے۔ تم ان پر ایمان لانا۔ جب تک خود خدا تعالیٰ ہی نبوت کے ختم کا اعلان نہ کرتا ابناء آدم پر واجب تھا کہ وہ قیامت تک اس حکم کے ماتحت ہر زمانہ میں رسول کا انتظار کیا کرتے۔ لہٰذا جب دنیا کو ختم کرنا منظور ہوا تو اس کے ساتھ ہی آخری رسول بھیج کر اعلان کر دیا کہ اب رسول ختم ہوئے۔ دنیا بھی ختم ہے۔ لہٰذا اب رسولوں کا انتظار نہ کرنا کیونکہ خاتم الانبیاء آچکا۔ اس کے بعد
٢١
اب نبی نہیں آ سکتا اور اس کے ساتھ میرا کلام اتر چکا جس کے بعد کوئی شریعت نہیں۔ لہٰذا اب نہ شریعت کا انتظار کرو نہ نبی کا۔ کیونکہ اب یہی تمہارا نبی ہو گا اور یہی تمہاری شریعت رہے گی۔ اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے ”الیوم اکملت لکم دینکم الخ“ (میں نے آج تمہارے لیے دین کی تکمیل کر دی) مفسرین نے اس آیت کی شرح میں بہت کچھ لکھا ہے مگر مجھے سب سے پیارے وہ جملے معلوم ہوتے ہیں جو درمنثور میں غالباً ابن عباسؓ سے منقول ہیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ”اب ہم نے تمہارے دین کو کامل کر دیا ہے تو اب کبھی ناقص نہ ہو گا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا ہے تو کبھی مسلوب نہ ہو گی۔ اور دین اسلام تمہارے لیے پسند کر لیا ہے کہ پھر کبھی ناپسند نہ ہوگا۔“
الحاصل جب شریعت اس معنی سے آخر ہے کہ اس کے بعد میں کوئی شریعت نہیں تو رسول بھی ”آخر“ اس معنی سے ہے کہ اس کے بعد کوئی رسول نہیں اور اسی لیے حق تبارک و تعالیٰ نے اسے خاتم النبیین فرمایا مگر خاتم الصالحین خاتم الشہداء اور خاتم الصدیقین کہیں نہ فرمایا۔ کیونکہ سب نعمتیں جو کسی کامل کے اتباع سے مل سکتی ہیں۔ جاری ہیں بلکہ اس امت میں سب سے زیادہ جاری ہیں لیکن نبوت! تو اگر خدا تعالیٰ کو جہان رکھنا ہوتا تو شاید وہ خاتم الانبیاء کو ابھی اور نہ بھیجتا۔ لیکن جب جہان ہی ختم کرنا ہے تو نبوت باقی رہے تو کس کے واسطے؟ سیکرٹری صاحب تو نبوت کو رو رہے ہیں اور پیغمبر خدا علم کے خاتمہ کا اعلان کر چکے ہیں۔ احادیث میں مصرح موجود ہے کہ قرب قیامت میں صحیح علم بھی اٹھا لیا جائے گا۔ کیونکہ جب تک علم نبوت کا ابقاء منظور ہے علماء کو باقی رکھنا ضروری ہے لیکن جب عالم کو سمیٹنا مقدر ہو گا تو علم نبوت رہے گا نہ اس کے حاملین بلکہ شرار الناس باقی رہ جائیں گے اور انہی پر قیامت قائم ہوگی۔
کہئے سیکرٹری صاحب! آپ تو نبوت کے خواب دیکھ رہے تھے اور حدیثیں تو آخر زمانے میں علم کو بھی رخصت کرتی ہیں۔ یہ ایک نہایت موٹی بات تھی کہ جب جہان ہی ختم ہونا ہے تو نبوت کا ختم ہونا بھی ایک ضروری امر ہے۔ لیکن کیا کریں کہ محض ایک مراقی شخص کے دعویٰ پر ایمان لا کر اس موٹی بات کے سمجھنے کی بھی اہلیت باقی نہیں رہی۔ قرآن سے آنکھیں بند ہوئیں۔ احادیث سے لاپرواہی برتی گئی اور نکتوں کا سہارا نکالا گیا ہے۔ حتیٰ کہ کسی نے یہ بھی کہہ دیا کہ خاتم النبیین کا لفظ ایسا ہے جیسا کہ خاتم المفسرین کا۔ حالانکہ اس قائل کو یہ خبر نہیں کہ آپ کے لیے صرف یہی ایک لفظ نہیں بلکہ اس کے ہم معنی اور بھی بہت سے الفاظ وارد ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی قرأت میں بجائے خاتم النبیین کے ختم النبیین ہے اور
٢٢
احادیث میں ختم بی النبیون (مسلم ج ١ ص ١٩٩) آخر النبیین۔ وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی (مسلم ج ٢ ص ٢٦١) (میں سب سے بعد آنے والا ہوں وہ وہی ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد کوئی نبی نہ ہو) بھی آئے ہیں۔ اب سوچو کہ بھلا یہ سب الفاظ صرف مدحی کہے جاسکتے ہیں؟ صفتی صیغہ میں تو یہ دجل چل سکتا ہے مگر کیا کوئی مدحاً یہ بھی کہتا ہے کہ ”فلان ختم بہ المفسرون“ اس کے علاوہ القاب مدحیہ جس کے لیے بولے جاتے ہیں وہ خود اس کا مدعی نہیں ہوا کرتا جیسا کہ اگر کسی خاتم المفسرین سے آپ دریافت کریں کہ کیا آپ خاتم المفسرین ہیں تو وہ اگر آدمی ہے تو یہی جواب دے گا کہ میں ہرگز اس قابل نہیں۔ ہاں یہ دوسرے لوگ البتہ اس کے اعزاز میں اس لقب کو استعمال کریں گے..........لیکن احادیث کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لقب کو آپ نے خود ہی اپنے حق میں استعمال کیا ہے اور جس نے بھی بعد میں استعمال کیا آپ ہی کی تعلیم سے استعمال کیا۔
علاوہ ازیں یہ بھی تو سمجھو کہ ایک متکلم خاتم المفسرین تعدد اشخاص اور تعدد زمان کے اعتبار سے متعدد اشخاص کو کہہ سکا ہے۔ اس لیے اس سے خود ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ لقب محض مدحی طور پر ہے۔ لیکن ازل سے آج تک نہ وحی سماوی نے کسی کو خاتم النبیین کا لقب دیا اور نہ خود رسولوں میں سے کسی نے اس لقب کو اپنے متعلق استعمال کیا اور نہ آنحضرت نے اس لقب سے کسی نبی کو یاد کیا۔
پس اگر یہ لقب خاتم المفسرین کی طرح تھا تو جیسے آج تک ہزاروں خاتم المفسرین گزر گئے۔ دو چار خاتم الانبیاء بھی تو گزر جاتے۔ مگر کون ہے جو ان موٹی اور بدیہی باتوں کو سمجھے۔
”ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہم من نور“ (اللہ نے جس کو نور کا حصہ نہیں دیا تو اس کے پاس نور کہاں سے آئے)۔
اب انصاف ناظرین پر ہے کہ جو مسئلہ قرآن کریم میں اس شد ومد سے مدلل ومبرہن موجود ہو۔ ساٹھ صحابہؓ سے ایک سو بارہ احادیث میں مفصلاً روایت کیا جا چکا ہو اس کی تردید کے لیے دور کے استنباطات‘ ناتمام تشبیہات‘ رکیک شبہات اور بے سند احادیث بھلا کیا کفایت کر سکتی ہیں۔ غور کیجئے کہ آیۃ ”کنتم خیر امۃ اخرجت للناس (العمران ١١٠) اور اھدنا الصراط المستقیم“ کو مسئلہ اجراء نبوت سے کیا علاقہ ہے۔ پہلی آیت میں تو اس امت کی فضیلت بیان ہو رہی ہے اور دوسری میں ایک عام دعا۔ اب خواہ مخواہ ایک مقدمہ کا اور اضافہ کر کے ثابت کیا جاتا ہے کہ نبوت جاری ہے۔ یعنی یہ کہ جب یہ امت خیر امت ہے تو ضرور اس کو نبوت ملنی چاہیے ورنہ
٢٣
یہ امت خیر امت نہ رہی۔ بھلا پوچھے تو سہی کہ خیر امت ہونا نبوت ملنے پر کس طرح موقوف ہے۔ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ یہ امت خیر امت اس لیے ہے کہ اس کا نبی خیر الانبیاء اور افضل الرسل ہے۔ لیکن یہ کہیں تو کس منہ سے کہیں۔ اس سے تو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت میں آگ لگ جاتی ہے۔
اب اگر سوال کیا جائے کہ یہ امت اگر اسی لیے خیر امت تھی تو بتلاؤ کہ اس امت میں کتنے ہزار نبی ہوئے۔ تو جواب میں ایک خاص نبی ”میڈ ان قادیان“ (Made in Khadiyan) کا نام پیش کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح اگر دوسری آیت میں دعاء نبوت کی تعلیم کی گئی تھی تو بتاؤ کہ اس صراط مستقیم پر چل کر آخر کتنے نبی بن چکے۔ لوٹ پلٹ کر پھر اسی ”متنبی“ کا نام سامنے آتا ہے۔ گویا مرزائیوں کے نزدیک نبوت کوئی زلزلہ تو نہیں ہے لیکن نزلہ ضرور ہے کہ ہر موقعہ پر اسی پر آ گرتا ہے۔ تو حضرت حلوہ خوردن را روئے باید۔ ”اللّٰہ اعلم حیث یجعل رسالتہ۔“ یہ تو قرآن دانی تھی۔ اب حدیث دانی ملاحظہ ہو۔ نبی کریم ﷺ حضرت عباسؓ سے فرماتے ہیں۔ ”اطمئن یاعم فانک خاتم المہاجرین فی الھجرۃ کما انا خاتم النبیین فی النبوۃ“ (کنز العمال ج ١١ ص ٦٩٩ حدیث نمبر ٣٣٣٨٧)
یہاں بھی ایک جاہلانہ مقدمہ اور بڑھایا جاتا ہے وہ یہ کہ حضرت عباسؓ کے بعد اور بہت سے مہاجر ہوئے۔ لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کے بعد نبی بھی ہوں گے۔
اوّل تو میں کہہ چکا ہوں کہ ایک سو بارہ احادیث کے مقابلہ میں صرف تشبیہات کے پردے میں کام نکالنا صریح بددیانتی ہے دوسرے یہ کہ اس حدیث میں مقصود بالذات یہ ہے کہ محض لفظی مشارکت بیان کر کے حضرت عباسؓ کو تسلی دی جائے۔ نہ یہ کہ مسئلہ نبوت کی تشریح کی جائے۔ اگر مسئلہ نبوت کی تشریح منظور ہوتی تو یوں فرمانا اولیٰ تھا ”یاعم انا خاتم النبیین فی النبوۃ کما انت خاتم المہاجرین فی الھجرۃ“ اس فرق کو علماء سمجھیں گے۔ اس لیے اس کی تفصیل کو ہم چھوڑتے ہیں۔
تیسرے یہ کہ سیکرٹری صاحب کو یہ بھی خبر نہیں کہ مہاجر کا لقب اسلام میں کب سے شروع ہوا ہے اور کب ختم ہوا۔ دنیا جانتی ہے کہ سرور کونین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہجرت مکہ سے ہجرت کی ابتدا ہوئی ہے۔ اس سے پہلے جس نے بھی اپنا وطن چھوڑا ہو اور جس سمت بھی گیا ہو ہجرت سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا۔ اس کے بعد ہجرتیں ہوتی رہی ہیں۔ لیکن جس طرح کہ یہ ہجرت
٢٤
مکہ مکرمہ سے شروع ہوئی تھی اسی طرح جب مکہ مکرمہ فتح ہو کر دارالاسلام بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی آپ کا اعلان بھی ہو گیا کہ ”لا ھجرة بعد الفتح“ (کنزالعمال ج ١٦ ص ٢٦٠ حدیث نمبر ٤٦٢٧٨) یعنی جو ہجرت فرض کی گئی تھی اب وہ ختم ہو گئی۔ اور اسی درمیان میں مکہ مکرمہ چھوڑنے والے صحابہؓ مہاجر کہلائے۔ اس کے بعد وہ ہجرت رہی نہ وہ مہاجر۔
حضرت عباسؓ نے چونکہ سب سے آخر میں ہجرت کی تھی اور روایات سے کوئی ایسا شخص معلوم نہیں ہوتا۔ جس نے ان کے بعد ہجرت کی ہو اس لیے بھی ”آخرالمہاجرین“ کہلائے۔
نہیں معلوم ”آخر“ ہونا کوئی زلزلہ یا طاعون ہے کہ مرزائی اس سے بہت ہی گھبراتے ہیں۔ کسی نبی کا آخر میں ہونا تسلیم کرتے ہیں نہ کسی مہاجر کا۔
اب تو غالباً سمجھ میں آ گیا ہو گا کہ یہ بھی اجرائے نبوت کے بجائے ختم نبوت ہی کی دلیل ہے۔ کیونکہ جس طرح ہجرت ختم ہونے کی وجہ سے حضرت عباسؓ کے بعد کوئی مہاجر نہیں۔ اسی طرح نبوت ختم ہو جانے کی وجہ سے محمد عربی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور جیسے کہ مکہ مکرمہ کے دارالاسلام ہو جانے کے بعد ہجرت ختم ہو گئی۔ اسی طرح قصر نبوت مکمل ہو جانے کے بعد نبوت پر مہر لگ گئی۔ پھر معلوم نہیں کہ اس حدیث سے الٹا مطلب کیسے نکال لیا گیا۔ رہا خاتم الاولیاء کا لفظ۔ اس میں تو خیر سے تشبیہ بھی نہیں ہے۔ پہلی حدیث میں تو صرف تشبیہات سے استدلال تھا۔ یہاں اور بے معنی۔ اس سے بڑھ کر ایک دلیل اور سنئے۔ ”قولوا انه خاتم الانبیاء ولا تقولوا انه لا نبی بعده“ (تکملہ مجمع البحار ج ٥ ص ٥٠٢) یہاں بھی ایک جاہلانہ مقدمہ اور لگایا گیا ہے اور وہ یہ کہ جب ”لا تقولوا لا نبی بعده“ کہا تو معلوم ہوا کہ نبوت جاری ہے اوّل تو یہ قول بلاسند ہے۔ ذرا اس کی سند دکھائیے۔ دوسرے صحیح بخاری میں خود آنحضرت ﷺ سے لا نبی بعدی موجود ہے۔ اب سیکرٹری صاحب فرمائیں کہ کس پر عمل کیا جائے۔ صحیح بخاری میں نقل شدہ آنحضرت ﷺ کے قول پر یا مجمع البحار پر کہیئے کیا ارشاد ہے۔
سوم آپ صفحہ ٦ پر خود ایک صحابی کی شہادت نقل کرتے ہیں جس کے بعد اس قول کی مراد بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ ”قال رجل عند المغیرة حسبک اذا قلت خاتم الانبياء فانا کنا نحدث ان عیسیٰ عليه السلام خارج فان هو خارج فقد كان قبله و بعده“ (ترجمہ) مغیرہ بن شعبہ کے سامنے ایک شخص نے کہا کہ صلی الله علی محمد خاتم الانبیاء لا نبی بعده. اس پر مغیرہؓ نے فرمایا کہ تجھے کافی تھا کہ کہہ دیا ”خاتم الانبیاء“ کیونکہ ہم
٢٥
لوگ یعنی صحابہؓ باتیں کیا کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام ظاہر ہونے والے ہیں۔ پس اگر وہ ظاہر ہوئے تو عیسیٰ ہی آپ سے پہلے ہوئے اور عیسیٰ ہی آپ کے بعد ہوئے (یہ ترجمہ خود مرزائی سیکرٹری صاحب نے کیا ہے)۔ یہاں بھی جہالت ظاہر ہو رہی ہے یعنی اس کو بھی اجراء نبوت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام تشریف لانے والے ہیں اور وہ بالاجماع نبی ہیں تو کوئی لانبی بعدہ کا مطلب یہ نہ سمجھے کہ آپ کے بعد وہ بھی تشریف نہ لائیں گے۔ لہٰذا مطلب یہ ہوا کہ یہ تو کہو کہ آپ سب نبیوں میں آخری نبی ہیں لیکن یہ مت کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ کیونکہ ایک پہلا نبی آنے والا ہے۔ لہٰذا آپ آخر بھی رہے اور پھر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس کے مخالف نہ ہوا۔ کیونکہ آخر میں تو وہی ہوگا جو دنیا میں آخر میں پیدا ہوا اور جو پہلے پیدا ہوا تھا مگر اس کی عمر دراز ہوئی اسے آخر کون کہہ دے گا۔ ظاہر ہے کہ زید کا آخری بیٹا وہی کہلائے گا جو سب سے آخر میں پیدا ہوا ہو۔ اب اگر بالفرض اس سے پہلے بیٹے کی عمر طویل ہو جائے اور وہ اس آخری لڑکے کے بعد تک زندہ رہے تو اس وجہ سے وہ آخری نہیں ہو سکتا۔
ایسے ہی چونکہ عیسیٰ علیہ السلام پہلے پیدا ہوئے تھے اس لیے بعد میں آنے سے آخر نہیں کہے جا سکتے۔ اب بتلائیے کہ اس خاص صحابی کی شہادت آپ کے مخالف ثابت ہوئی یا موافق۔ بلکہ اس نے تو حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب شدہ قول کی بھی تشریح کر دی۔
اگر یہ بے سند قول تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ خاتم الانبیاء تو کہو مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ حتیٰ کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی چونکہ لانبی بعدہ سے کسی بیوقوف شخص کو یہ احتمال پیدا ہو سکتا تھا۔ لہٰذا اس کو بھی رفع فرما دیا اور نزول مسیح علیہ السلام کو اور مؤکد فرما دیا۔ ہاں۔ خوب موقعہ پر یاد آیا کہ مغیرہؓ کی اس عبارت میں سیکرٹری صاحب کے ترجمہ کردہ یہ الفاظ بھی ہیں۔ ”اگر وہ ظاہر ہوئے تو عیسیٰ ہی آپ سے پہلے ہوئے اور عیسیٰ ہی آپ کے بعد ہوئے۔“ اس خاص شہادت سے اولاً تو یہ ثابت ہوا کہ جو عیسیٰ ہیں وہ ظاہر ہونے والے ہیں نہ کہ پیدا ہونے والے۔ دوسرے یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ وہی عیسیٰ ہوں گے جو آپ سے پہلے آچکے ہیں۔ پھر مرزائی سیکرٹری سوچے کہ قادیان میں جنے ہوئے شخص کو مسیح کیسے مانا جا سکتا ہے۔ کیا یہ وہی عیسیٰ تھے جو آپ سے قبل آچکے ہیں۔ اس عبارت میں صاف مذکور ہے کہ مسیح علیہ السلام کی دو آمد ہیں۔ ایک آپ سے پیشتر اور ایک آپ کے بعد یہی اہل اسلام کا عقیدہ ہے جو حضرت مغیرہؓ صحابی کا تھا۔ اور اسی وجہ سے وہ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ یہ مت سمجھ لینا کہ اب آپ کے بعد کوئی
٢٦
نبی نہ آئے گا۔ کہیں لا نبی بعدی اس سے نزول مسیح علیہ السلام کی بھی نفی سمجھ لو۔ یعنی حدیث کے الفاظ اجراء نبوت کے منافی ہیں نہ کہ نزول نبی کے۔
اب اگر دل میں ایمان کا کوئی ذرہ ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی کی مسیحیت سے صدق دل توبہ کرنی چاہیے کیونکہ نبی کریم ﷺ کے ایک خاص صحابی کی شہادت سے ثابت ہو گیا کہ آنے والا مسیح وہی ہے جو ایک مرتبہ آچکا ہے۔ کیا مرزا جی آواگون کے چکر میں پھنس کر کسی جون میں پہلے بھی آچکے ہیں؟ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے مضمون کے آخر میں ان علماء امت کی شہادتیں بھی نقل کر دیں جن کو سیکرٹری صاحب جماعت مرزائیہ نے اپنے موافق سمجھا ہے اور اگر درحقیقت ان کو یقین ہے کہ وہ علماء اسی کے موافق ہیں تو ان کو چاہیے کہ ایک مرتبہ بحلف تحریر شائع کردیں۔ تاکہ خدا تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہو۔ مگر نہیں کرسکتے کیونکہ وہ خود جانتے ہیں کہ یہ جملہ علماء نہ وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے اور نہ اجراء نبوت کے۔ ہمیں حیرت ہے کہ جن علماء کی کتابیں ہر خاص و عام کے ہاتھوں میں موجود ہوں کس ایمان کے ساتھ ان پر افتراء کر دیا جاسکتا ہے۔
حضرت ملا علی قاریؒ کی شہادت
ودعوی النبوة بعد نبينا صلى الله عليه وسلم كفر بالاجماع (شرح فقہ اکبرص٢٠٢) (ہمارے نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے)۔
حضرت محی الدین ابن عربیؒ کی پہلی شہادت
"وقال الشيخ (اے محی الدین ابن العربی) اعلم ان مقام النبی ممنوع لنادخوله و غاية معرفتنابه من طريق الارث النظر اليه كماينظرمن هو فی اسفل الجنة الى من هو فى اعلىٰ عليين وكما ينظر اهل الارض الى كواكب السماء. وقد بلغنا عن الشيخ ابی يزيد انه فتح له من مقام النبوة قدر حزم ابرة تجلیا لادخولاً فکادان يحترق
(الیواقیت والجواہر ص٧٢ جلد٢)
شیخ محی الدین ابن عربیؒ نے فرمایا۔ خوب جان لو نبوت کے مقام میں داخل ہونا ہمارے لیے بالکل ممنوع ہے اور اس مقام کی انتہائی معرفت بطریق ارث کے یہ ہو سکتی ہے کہ ہم اس مقام کی طرف محض نظر کر سکتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے جنت کے تحتانی حصہ والا شخص اعلیٰ علیین والوں کو دیکھتا ہے اور جیسا زمین والے آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ اور ہمیں
٢٧
شیخ ابی یزید سے یہ تحقیق بات پہنچی ہے کہ درحقیقت نبوت کا مقام سوئی کے ناکے کے برابر (محض) تجلی کی حد تک کھولا گیا ہے۔ داخل ہونے کی حد تک نہیں۔ (اس پر بھی) انسان جل جانے کے قریب ہو جاتا ہے۔
(الیواقیت والجواہر ص ٢٥ جلد ٢)۔
حضرت محی الدین ابن عربیؒ کی دوسری شہادت
"وقال الشيخ (اے محی الدین العربی) من قال ان الله تعالى امره بشئ فليس ذلك بصحيح انما ذلك تلبيس لان الامر من قسم الكلام وصفته وذلك باب مسدود دون الناس....... فقد بان لك ان ابواب الامر الالهيه والنواهى قد سدت وكل من ادعاها بعد محمد صلى الله عليه وسلم فهو مدعى شريعة اوحى بها اليه سواء وافق شرعنا او خالف فان كان مكلفا ضربنا عنقه والا ضربنا عنه صفحاً.
(الیواقیت ص ٢٨ جلد ٢)۔
شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فلاں چیز کا حکم کیا ہے۔ صحیح نہیں۔ یہ سراسر تلبیس اور فریب ہے کیونکہ حکم دینا کلام کی ایک قسم ہے اور یہ دروازہ لوگوں پر بند ہو چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہو گیا کہ اوامر و نواہی خداوندی کے دروازے اب بند ہو چکے ہیں۔ اب رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص اس قسم کا دعویٰ کرے تو وہ ایک شریعت کا جو اس کے پاس وحی کے ذریعہ پہنچی دعویدار ہے چاہے وہ ہماری شریعت کے بالکل موافق ہو یا مخالف اور اس قسم کا شخص اگر مکلف ہو گا تو ہم اس کی گردن مار دیں گے ورنہ ہم اس سے اعراض کریں گے اور اس کو پس پشت ڈال دیں گے۔
حضرت امام عبدالوہاب شعرانیؒ کی شہادت
(فان قلت) فهل النبوة مكتسبة او موهوبة (فالجواب) ليست النبوة مكتسبة حتى يتوصل اليها بالنسك والرياضات كما ظنه جماعة من الحمقاء. وقد افتى المالكية وغيرهم بكفر من قال ان النبوة مكتسبة.
(الیواقیت ص ١٦٤-١٦٥ جلد ا)۔
(اگر تو یہ کہے) کہ کیا نبوت اکتسابی شے ہے یا وہبی اور عطائی تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبوت حاصل کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتی یہاں تک مجاہدوں سے اور کثرت عبادات و ریاضات
٢٨
سے حاصل ہو جایا کرے جیسا بعض احمقوں کا خیال ہے۔ بلکہ وہ وہبی شے ہے۔ اور مالکیہ وغیرہ کا فتویٰ ہے کہ جو شخص نبوت کو مکتسبات سے کہے وہ کافر ہے۔
مگر مرزائی یوں کہتے ہیں کہ اهدنا الصراط المستقيم کی دعا کرو اور نبی بن جاؤ۔ وفیہ فلا تلحق نهاية الولاية بداية النبوه (الیواقیت ج ٢ ص ٧١) انتہائی درجہ ولایت کا نبوت کے ادنیٰ مقام تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے بعد شیخ عبد الوہاب نے وہ عبارت نقل کی ہے جو اوپر مسطور ہو چکی۔
حضرت مجدد الف ثانیؒ کی شہادت
لہٰذا سرورؐ........... در شان حضرت فاروقؓ فرمودہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام ” لو کان بعدی نبی لكان عمرؓ “ یعنی لوازم و کمالاتیکہ در نبوت در کار است ہمہ را عمر دارد۔ اما چوں منصب نبوت بخاتم الرسل ختم شدہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام بدولت منصب نبوت مشرف نگشت۔
(مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر ٢٤ دفتر دوم حصہ ہشتم ص ٣٢٧)
لہٰذا سرور کائنات ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شان میں فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے تو عمرؓ ہوتا۔ یعنی نبوت کے لیے جن کمالات اور خوبیوں کی ضرورت ہے وہ سب عمرؓ میں موجود ہیں۔ لیکن منصب نبوت چونکہ خاتم الرسل علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام پر ختم ہو چکا ہے اس لیے مرتبہ نبوت سے مشرف نہیں ہوئے۔
(مکتوب شریف ص ٢٤ جلد ٣)
اس مکتوب میں حضرت مجدد صاحبؒ نے منصب نبوت اور کمالات نبوت کا فرق خوب واضح فرما دیا ہے۔ کمالات دوسری شے ہیں اور منصب امرِ دیگر۔
جیسا کہ ایک شخص میں وائسرائے بننے کی لیاقت موجود ہو مگر ہر لیاقت والا ”وائسرائے“ نہیں بنا دیا جاتا۔ علاوہ لیاقت کے وہ کمال جو منصب وائسرائیت کے شرائط میں ہیں ان کا متحقق ہونا بھی ضروری ہے۔ مثلاً ایک ہندوستانی اگرچہ علیٰ وجہ الاتم وائسرائے بننے کی لیاقت رکھتا ہو مگر اسے وائسرائے نہیں بنایا جا سکتا۔ یا جب تک ایک وائسرائے موجود ہے اور اس کے زمانہ ملازمت کی مدت باقی ہے دوسرا شخص کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو وائسرائے نہیں ہو سکتا۔
اس طرح جب تک نبی کریم ﷺ کا وہ دورِ نبوت باقی ہے خواہ کوئی کتنا ہی کامل کیوں نہ ہو۔ نبی نہیں ہو سکتا۔ اور اگر بالفرض آپ کی امت میں کوئی نبی اپنی لیاقت کی وجہ سے ممکن ہوتا تو عمرؓ
٢٩
ہوتے۔ لیکن جب بحکم پیغمبر علیہ التحیۃ والتسلیم منصب نبوت انہی کو نہ ملا تو مرزا قادیانی کو کہاں سے مل جاتا۔ مگر بغاوت کا کیا چارہ۔ اگر کوئی بغاوت کر کے بادشاہی کا دعویٰ کرے اور اپنی لیاقت کو پیش کر کے یوں کہنے لگے کہ جب موجودہ بادشاہ کے کمالات سے زیادہ کمالات مجھ میں موجود ہیں تو پھر میں بادشاہ کیوں نہیں۔ تو جو جواب ایسے شخص کو دیا جائے گا اس سے زیادہ سخت جواب اس نا بکار کا ہے جو بادشاہ دو جہاں کی مملکت میں اپنی بادشاہی کا اعلان کرتا ہے۔
اسی کو حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ نے فرمایا ہے اور اسی لیے غیر از نبوت بالاصالۃ کی قید لگائی ہے۔
حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی شہادت
خاتمیت زمانی اپنا دین و ایمان ہے۔ ناحق کی تہمت کا البتہ کچھ علاج نہیں۔ سو اگر ایسی باتیں جائز ہوں تو ہمارے منہ میں بھی زبان ہے۔ (مناظرہ عجیبہ ص ٣٩)۔
اب ذرا حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ کی عبارت کا مطلب نہ سمجھنے والے اور دوسروں کو غلط طور پر گمراہ کرنے والے خود مولاناؒ کی اس عبارت کو بھی دیکھ لیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ بوقت فرصت ہم ان سب حضرات کی عبارت کا مفصل مطلب بیان کر کے واضح کر دیں گے کہ یہ حضرات درحقیقت ختم نبوت کے اولین علم بردار ہیں۔ علماء امت کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کی شہادت بھی پیش کر دی جائے۔
ختم نبوت پر مرزا غلام احمد قادیانی کی شہادت
پہلی شہادت: اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نہ کوئی پرانا نہ کوئی نیا۔
(انجام آتھم ص ٢٧ خزائن ج ١١ ص ٢٧ حاشیہ)
دوسری شہادت: میں نبوت کا مدعی نہیں ہوں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔
(آسمانی فیصلہ ص ٣ خزائن ج ٤)
”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا۔۔
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٤٣١ خزائن ج ٣ ص ٥١١-٥١٣)
تیسری شہادت: ”کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے
قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولکن رسول الله و خاتم النبیین کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی
(انجام آتھم ص ٢٧ خزائن ج ١١ ص ٢٧ حاشیہ)
آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔
آنحضرتؐ کے بعد کسی پر لفظ نبی کا اطلاق بھی جائز نہیں۔
(حاشیہ تجلیات الہیہ ص ٢٦ خزائن ج ٢٠ ص ٤٠١)
اب مرزائی سیکرٹری صاحب کو چاہیے کہ سر پکڑ کر روئے کیونکہ خود ان کے میڈان قادیان نبی نے بھی خاتم النبیین کے بعد رسولوں کی آمد ناجائز قرار دی ہے۔ بلکہ لفظ نبی کا اطلاق بھی ناجائز رکھا ہے۔
نوٹ:۔ ہم ناظرین کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ میڈان قادیان نبی کی ان عبارات کو دیکھ کر وہ یہ نہ سمجھیں کہ مرزا قادیانی سچ مچ نبوت کے مدعی نہ تھے بلکہ ان کی عادت تھی کہ موقعہ پر ہر قسم کی بات لکھ جاتے تھے۔ کبھی نبوت سے انکار کیا گیا تو اس طرح جیسا کہ آپ نے عبارت بالا میں ملاحظہ فرمایا۔ اور کبھی دل میں آگئی تو زور وشور سے رسالت کا دعویٰ کر ڈالا۔
”ملاحظہ ہو اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦“
- ١............خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب
اخلاق کے ساتھ بھیجا۔
- ٢............مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا
مصداق ہے ”ھوالذی ارسل رسوله بالھدیٰ“ الخ (اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
- ٣............پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ
(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦۔٤٠٧)
اس نام کے مستحق نہیں۔
- ٤............میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر (یعنی اپنے الہامات پر) اسی
طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر۔ اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل
(حقیقۃ الوحی ص ٢١١ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔
یہاں طبعاً ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی اپنی نبوت سے منکر ہیں تو پھر کیونکر اپنی تصانیف میں نبوت کا دعویٰ کر سکتے ہیں تو اس کا جواب ہم خود مرزا غلام
٣١
احمد قادیانی کی شہادت سے پیش کرنا چاہتے ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں کہ مجھے مراق یعنی مالیخولیا کا مرض تھا اور ظاہر ہے کہ جو شخص مراقی ہو اور صحیح الدماغ نہ ہو اس سے اس قسم کے بے معنی دعاوی کچھ مستبعد نہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی شہادت اپنے مراق اور کثرت بول وغیرہ پر
پہلی شہادت: دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرتؐ نے پیشینگوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔
(اخبار بدر قادیان ٧ جون ١٩٠٦ء ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥ تحفۃ الاذہان ماہ جون ١٩٠٦ء)
مراقی مرزا قادیانی کا یہ فقرہ بڑا مزے دار ہے۔ اپنے مراق میں کچھ خبر نہ رہی کہ یہاں مسیح علیہ السلام کے آسمان سے اترنے کا اقرار ہو گیا جب مسیح علیہ السلام بقول مراقی مرزا قادیانی فوت ہو چکے تو پھر آسمان سے کیونکر اتریں گے۔ ان کے خیال کے موافق تو یوں ہونا چاہیے تھا کہ جب مسیح قادیان میں پیدا ہوگا۔ مگر جادو وہ جو سر پر چڑھ کے بولے۔ ”والفضل ماشھدت بہ الاعداء“
دوسری شہادت: میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں۔ تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے۔
(کتاب منظور الٰہی ص ٣٤٨۔ ملفوظات ج ٢ ص ٢٧٦)
تیسری شہادت: ہمیشہ سر درد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج، دل کی بیماری دورے کے ساتھ آتی ہے اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیابیطس کی ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے۔ بسا اوقات سو سو مرتبہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے۔
(ضمیمہ اربعین ٣، ٤ ص ٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)
مرزا غلام احمد قادیانی کی ان تین ذاتی شہادات سے ثابت ہے کہ انہیں مراق تھا اور دراصل یہی باعث ادعاء نبوت ہوا۔ کتب طب میں تصریح ہے کہ مراق کی علامات میں سے ایک یہ
٣٢
بھی ہے کہ کبھی مراق کا مریض دعویٰ نبوت بھی کرنے لگتا ہے۔ چنانچہ اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٨ میں لکھا ہے اگر مریض دانشمند بودہ باشد دعویٰ پیغمبری و معجزات و کرامات کنند و سخن از خدا گوید و خلق را دعوت کند۔
اسی طرح شرح اسباب ص ٦٩ جلد ١ میں ہے۔ ”وقد يبلغ الفساد في بعضهم الی حد یظن انه يعلم الغیب و کثیرا ما یخبر بما سیکون قبل کونه و فیه قد یبلغ الفساد في بعضهم الى حد یظن انه صار ملكاً ۔“ (الخ) (بعض لوگوں میں فساد یہاں تک بڑھ جاتا ہے کہ اس کو یہ خیال ہونے لگتا ہے کہ وہ غیب کا علم رکھتا ہے اور اکثر آئندہ آنے والے امور کی خبر دینے لگتا ہے اور بعضوں میں فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں)
اسی مراق کی وجہ سے مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٥ خزائن ج ١٧ ص ٤١٣ میں لکھا ہے کہ ”دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل لکھا ہے۔“
اس کے ساتھ ہی ہم ان خطوط کو نقل کر دینا بھی خالی از دلچسپی نہیں سمجھتے جو خود اس میڈ ان قادیان نبی کے ایک خاص عقیدت مند نے شائع کیے ہیں۔ ان خطوط کو دیکھ کر مراق کے سوا مرزا قادیانی کے دیگر پوشیدہ امراض کا عقدہ بھی کھلتا ہے۔ معلوم نہیں کہ مراق ان امراض کا باعث تھا یا ان امراض کی وجہ سے مراق ہو گیا تھا۔
مکتوب اول: مولوی حکیم نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ...... مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوئی ......
ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھا کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ بکلی جاتا رہتا تھا ............ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا ............ یہ منی کو بھی غلیظ کرتی ہے ............ آپ اسے دودھ اور ملائی کے ساتھ زیادہ قند شربت کر کے استعمال کریں تو میں خواہشمند ہوں کہ آپ کے بدن میں ان فوائد کی بشارت سنوں ............ چونکہ دوا ختم ہو چکی ہے اور میں نے زیادہ زیادہ کھالی ہے اس لیے ارادہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو دوبارہ تیار کی جائے۔ لیکن چونکہ گھر میں ایام امید ہونے کا کچھ گمان ہے جس کا میں نے ذکر بھی کیا تھا۔ اس جہت سے جلد تیار کرنے کی چنداں ضرورت میں نہیں دیکھتا فقط۔
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ حصہ ٢ ص ١٤ مکتوب نمبر ١٠)
دوا کے جلد تیار کرنے کی ضرورت نہ ہونے کی وجہ تو آپ نے اسی مکتوب میں بیان کر
٣٣
دی ہے لیکن ”زیادہ زیادہ کھا لینے کا سبب جاننے کے لیے آپ کا دوسرا مکتوب ملاحظہ فرمائیے۔
مکتوب دوم: اخویم مخدوم ومکرم مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔عنایت نامہ پہنچا......... جس قدر ضعف دماغ کے عارضہ میں یہ عاجز مبتلا ہے۔ مجھے یقین نہیں کہ آپ کو ایسا ہی عارضہ ہو۔ جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں فقط ۔
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ حصہ ٢ ص ٢٠۔ ٢١ مکتوب نمبر ١٤)
میں ان بااخلاق قارئین سے معافی چاہتا ہوں جو اس قسم کے بداخلاقی اور حیاسوز مضامین کو مطالعہ کرتے ہوئے ان افعال شنیعہ کے مرتکب سے تو اغماض کر لیتے ہیں اور ناقل کو کسی طرح معاف نہیں کر سکتے اس مراقی نبی کی حالت زبوں نقل کرنے کے لیے آج بہ مجبوری ہمیں انہی کے الفاظ کو نقل کرنا پڑا ہے تا کہ مسلمان خواب غفلت میں نہ رہیں اور حیاۃ وفات کے مسئلہ میں پڑ کر ختم نبوت جیسے بدیہی مسئلہ میں شور و شغب سے متاثر ہو کر مفت ایمان نہ بیچ دیں۔ اگر کسی بے ایمان کے ساتھ ایمان جیسی شے فروخت کی جائے تو بہر حال کچھ تو کمال درکار ہے۔ مگر محض ایک مراقی آدمی پر ایمان لے آنا میں تو نہیں سمجھتا کہ سوائے مراقی کے کوئی دوسرا شخص بھی کر سکتا ہے۔ اس وقت میرا یہ فقرہ اس فقرہ سے بدرجہا مہذب اور نازل تر ہے جو مراقی نبی نے اپنے نہ ماننے والوں کے متعلق لکھا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ
”جو ان پر ایمان نہ لائے وہ حرام زادہ ہے“
”یقبلنی و یصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا“
(آئینہ کمالات اسلام خزائن ج ٥ ص ٥٤٧۔ ٥٤٨)
”حرامزادہ کے سوا ہر شخص مجھے قبول کرے گا اور میری دعوت کی تصدیق کرے گا۔“
”ان العدا صاروا خنازیر الفلا ونساء ہم من دونھن الا کلب“
”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ١٠ خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
اپنے مضمون کے خاتمہ پر مراقی مرزا قادیانی کے چند عقائد بھی ہم قارئین کرام کے سامنے پیش کر دینا چاہتے ہیں جن سے اندازہ ہوگا کہ یہ جماعت کس درجہ اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ہے۔ صرف مسلمانوں کے بہکانے کے لیے دوسرے دانت دکھلا دیتے ہیں جو صرف دکھانے کے ہیں۔ کھانے کے نہیں ”وما تخفی صدورھم اکبر۔“
٣٤
آنحضرتؐ کے معراج مبارک کے متعلق مراقی نبی کا عقیدہ
سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جس کو در حقیقت بیداری کہنا چاہیے............ اس قسم کے کشفوں میں خود مؤلف (یعنی مرزا قادیانی) کا تجربہ ہے۔
(ازالۃ الاوہام حصہ اول حاشیہ ٤٧ خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
اس مختصر عبارت میں آپ کے جسم مبارک کو کثیف کہنا اور معراج کو کشف قرار دینا اور اسی پر بس نہیں بلکہ جو فخر انبیاء علیہم السلام میں سے کسی کو نصیب نہ تھا اس میں اپنے آپ کو صاحب تجربہ قرار دینا جیسی گستاخی بارگاہ رسالتؐ میں ہے اس کا اندازہ آپ کا ایمان کر رہا ہوگا۔
آنحضرتؐ کے معجزات کے متعلق مراقی نبی کا عقیدہ
”آنحضرت ﷺ کے معجزات ............ جو صحابہؓ کی شہادتوں سے ثابت ہیں وہ تین ہزار معجزے ہیں۔
(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٤٩)
میری تائید میں اس (اللہ تعالیٰ) نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں............ اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔
(حقیقۃ الوحی ص ٦٧ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)
معجزہ شق القمر کے متعلق میڈ ان قادیان نبی کی بڑ
ترجمہ:۔ (اس کے لیے آنحضرت ﷺ) کے لیے تو چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا تو کیا اب بھی تم میرا انکار کرو گے۔
(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
اس ناپاک شعر میں معجزۂ شق القمر کو چاند گہن سے تعبیر کیا ہے اور پھر اس میں بھی اپنی ہی فضیلت بتلائی ہے۔ کیونکہ اس مراقی کے لیے چاند اور سورج دونوں کا خسوف ہوا۔ ”والعیاذ باللہ عن ہذہ الخرافات“
خطبہ الہامیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک کتاب ہے جو عربی میں ہے اور درمیان میں اس کا ترجمہ فارسی اور اردو میں ہے۔ اس کتاب میں لکھتے ہیں۔ میں اس کی عربی عبارت اور اردو
٣٥
ترجمہ نقل کرتا ہوں۔
وقد مضی وقت فتح مبین فی زمن نبینا المصطفیٰ و بقی فتح آخر و هو اعظم واکبر واظهر من غلبة اولى و قدر ان وقته وقت المسيح الموعود من الله الرؤف الودود و اليه اشار فى قوله تعالى سبحان الذى اسرى الخ.
ترجمہ:۔ اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریمؐ کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو اور اسی کی طرف خدا تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے۔ ”سبحان الذی“ الخ
(خطبہ الہامیہ ص ٢٨٨ خزائن ج ١٦ ص ٢٨٨)
اس عبارت میں مراقی نبی نے دعویٰ کیا ہے کہ جو فتح ان کے زمانہ میں ظاہر ہوئی وہ آنحضرتؐ کے زمانہ سے بہت بڑی ہے اور زیادہ ظاہر ہے۔ نعوذ بالله من ذالک.
دعویٰ فضیلت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر
خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا
(حقیقۃ الوحی ص ١٤٨ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
دیکھئے ! ذرا مراقی مرزا قادیانی کو کیسے اپنے جامہ سے باہر ہو رہے ہیں۔ کیا کوئی ذی روح ان کی ان قسموں کی تصدیق کرے گا الا من سفه نفسه. معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت غالباً عین دورے کے حال میں لکھی گئی ہے۔
جگر گوشۂ آنحضرتؐ کے متعلق مرزائے قادیان کے اشعار
ہر آن میرے لیے ایک نئی کربلا ہے ایسے حسین تو سینکڑوں میرے گریبان میں ہیں
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
لوگ کہتے ہیں کہ حسنین (علیہما السلام) پر اپنے کو فضیلت دیتا ہے میں کہتا ہوں ہاں ایسا ہی ہے اور میرا پروردگار اس
٣٦
کو ظاہر کرے گا۔
مجھے ہر آن مدد پہنچتی اور تائید غیبی میرا ساتھ دیتی ہے۔ تو بولو میرے اور تمہارے حسین کے درمیان کتنا فرق ہے۔
واللہ لیست فیہ منی زیادۃ وعندی شھادات من اللہ فانظروا
حسین (علیہ السلام) جس کی وجہ سے تم آج تک کربلا کو چیختے پھرتے ہو اور اس پر روتے رہتے ہو۔ قسم خدا کی اس میں میرے سے زیادہ ایک بھی فضیلت نہیں تھی اور مجھ میں ایک چھوڑ بہت سی شہادتیں ہیں اللہ کی جانب سے۔
میں عشق ومحبت سے مقتول ہوں اور تمہارا حسین بربنائے عداوت مقتول ہے تو کتنا ظاہر اور کھلا ہوا فرق ہے۔
(اعجاز احمدی ص ٦٩‘٧٢‘ ٨١‘ خزائن ج ١٩ ص ١٤٢‘١٨١۔١٩٣)
آٹھ کروڑ اہل اسلام کے حق میں مراقی نبی کا حکم
میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ‘ خدا کا مامور.......... ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔
(انجام آتھم ص ٦٢ خزائن ج ١١ ص ٦٢ )
خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہ امام ہو جو تم میں سے ہو۔
(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٨ خزائن ج ١٧ حاشیہ ص ٤١٧ تذکرہ ص ٤٨٩ طبع سوم)
احادیث مبارکہ کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ
ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں۔ اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ اگر حدیثوں کا دنیا میں وجود بھی نہ ہوتا تب بھی میرے اس دعویٰ کو کچھ حرج نہ پہنچتا تھا
(اعجاز احمدی ص ٣٠ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
”اقول اخسأ فلن تعدو قدرک“ مرزا قادیانی کے مراقی ہونے کے لیے ان کی یہ بیباکانہ تعلیاں کیا کم ہیں۔ فاعتبر وایا اولی الابصار.
٤٧٣
قارئین کرام! یہ اردو کی چند عبارتیں ہیں۔ آپ خود ان عبارات کو پڑھ کر اس جماعت کا عقیدہ معلوم کر سکتے ہیں۔ تاویلات کا دروازہ کب بند ہوا۔ اور کسی کی زبان یا قلم کا پکڑ لینا کب اختیار ہے۔ لیکن ایک سنجیدہ شخص غور کرے کہ اگر نبوت کا دروازہ درحقیقت کشادہ ہے اور فی الواقعہ اس امت کی خیریت نبی بننے میں ہی مضمر ہے۔ تو آخر اس ١٣٠٠ سال کے عرصہ میں کتنے نبی بن چکے۔ مرزائیوں سے دریافت کیجئے وہ بھی سوائے اس مراقی نبی کے کسی ایک کا نام نہیں لیں گے۔ تو کیا آپ کا دل گوارا کرتا ہے کہ اپنے نبی کریم کی خاتم المرسلینی چھوڑ کر اجراء نبوت کے قائل ہوں اور وہ بھی ایسے شخص کی خاطر جو بہ اقرار خود اس قسم کے ناپاک امراض کا شکار ہو۔ ایسے فاسد عقیدہ کا حامل ہو اور دنیائے اسلام کو سوائے ضرر رسانی کے اس کا کوئی اور کام نہ ہو۔
میں اس وقت عدیم الفرصت ہوں اس لیے بالاختصار آپ کے سامنے یہ چند اوراق پیش کر کے اس فتنہ عظیم کے استیصال کی آپ حضرات سے پرزور درخواست کرتا ہوں۔ اگر آپ حضرات خاموش رہے اور یہ فتنہ ترقی کرتا گیا تو اس کی جوابدہی روز محشر آپ ہی حضرات کو کرنی ہے۔ دین متین کی تائید کے لیے تیار ہو جائیے اور یقین کیجئے کہ آپ کی خیریت صرف امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ کے بدولت ہے۔ اگر آپ اپنے اس اہم فریضہ سے غافل ہیں تو پھر آپ کو اپنے لیے خیر امت کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ اس مقدس ریاست میں آنحضرتؐ کے ختم المرسلینی کے برخلاف یہ کیسی اشاعت ہو رہی ہے۔ جس کی دینی فداء کاری حمیت اور غیرت اور رسول عربی کے ساتھ والہانہ جذبہ زبان زد خاص و عام ہو چکا ہے۔ اسلام صرف مصلے پر کھڑے ہو کر دو رکعت ادا کر لینے کا نام نہیں ہے۔ ”لا حتی تاطروہم علی الحق اطرا“ جب تک تم لوگوں کو کمان کی طرح حق تسلیم کرنے پر جھکا نہ دو گے اس وقت تک اسلام کا صرف دعویٰ ہے۔ اگر اس راستہ میں تم اپنے وطنوں سے باہر کر دیئے جاؤ۔ اہل و عیال سے جدا کر دیئے جاؤ۔ حرمت و عزت سے محروم ہو جاؤ۔ ناعاقبت اندیش اور دین کا درد نہ رکھنے والے مسلمانوں کے ہدف ملامت بن جاؤ۔ تو تمہارے لیے یہ وہی مبارک سنت ہوگی۔ جو تم سے پیشتر دین کے حامیوں کی رہی ہیں۔ خدا تعالیٰ اپنے ذاتی مفاد کی حفاظت کے پردہ میں دین کی بے حرمتی ہمارے ہاتھوں نہ کرائے اور حمایت دین کا وہ جذبہ دے کہ ایک مرتبہ پھر عہد سلف تازہ ہو آمین یا رب العالمین۔
٣٨
ولک الحمد اولا واخرا والصلوة والسلام علی خیر الرسل خاتم النبیین و علی آله و اصحابه اجمعین الی یوم الدین.
نوٹ:۔ مرزائی جماعت اکثر بہکانے کے واسطے کہہ دیا کرتی ہے کہ حوالہ جات غلط ہیں ۔ احقر ان جملہ امور کو جن کا تحریر مذکور میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ ہر وقت مرزا قادیانی کی کتب سے ثابت کرنے کے لیے موجود ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ کوئی حوالہ غلط نہ نکل سکے گا۔ اگر کسی صاحب کو شبہ ہو تو وہ احقر سے تصحیح فرما سکتے ہیں فقط ۔
عاجز ناکارہ بندہ محمد بدر عالم عفی اللہ عنہ ڈابھیل ضلع سورت
نوٹ: ٹریکٹ ہٰذا کی کتابت ہو چکی تھی کہ ہمیں ٢٤ جنوری ١٩٣٤ء کے زمیندار میں مصر کی جماعت احمدیہ کا حسب ذیل مترجمہ بیان ملا جس کو زمیندار نے ”الفتح“ قاہرہ سے منقول کیا ہے۔ ہم بجنسہ نقل کرنے کے بعد ارباب بصیرت سے ملتمس ہیں کہ وہ اسے غور سے پڑھیں۔
غلام احمد قادیانی کی بیعت جہنم کی خریداری ہے
مصر میں فتنہ قادیانیت کی ناکامی و نامرادی
جماعت احمدیہ مصریہ کا بیان
ذیل کا اعلان مصری جماعت قادیانیہ کی طرف سے قاہرہ کے اخبار ”الفتح“ مورخہ ٢٧ رجب ١٣٥٢ھ میں شائع ہوا ہے یہ جماعت قادیانیوں کے دام فریب میں پھنس کر مرزا غلام احمد کی بیعت کر چکی تھی۔ لیکن مرزا اور اس کی جماعت کے متعلق مفصل حالات معلوم ہو جانے پر انہوں نے اس دین باطلہ سے توبہ کر لی ہے۔ (مدیر و معاون)۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ o
الحمد لله رب العلمین و صلی الله علی سیدنا محمد خاتم النبیین
ہم مسلمان نوجوانوں کی آرزو تھی کہ ہم دین حق کی نشر و اشاعت کریں اور علم اسلامی
٣٩
کو سرفراز کرنے کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیں۔ لیکن ہم فرقہ قادیانیہ کی حقیقت سے خالی الذہن تھے۔ ہم اس فرقہ کے بعض دعوے سن چکے تھے۔ اور ہمیں کہا گیا تھا کہ فرقہ قادیانیہ خدمت اسلام کے لیے قائم کیا گیا ہے اور یہ ایک ہی جماعت ہے جو منظم صورت میں دعوت اسلام دیتی ہے۔ ہم اس زمرہ میں داخل ہو گئے۔ تاکہ ان کے ساتھ مل کر خدمت اسلام کریں۔ اور ہمارا یہ اقدام خلوص نیت پر مبنی تھا۔ ہم نے قطر مصری میں مصری جماعت قادیانیہ کی جس کے صدر احمد حمدی آفندی مقرر ہوئے۔ ہم اس فرقہ میں داخل تو ہو گئے۔ لیکن ہمیں اس کے اندرونی حالات کا علم نہ تھا اور نہ ہمیں غلام احمد قادیانی کی سیرت سے واقفیت تھی۔ کیونکہ یہ قوم اس کے حالات کو چھپانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ اور نہیں چاہتی کہ لوگ غلام احمد کی تصنیفات سے بخوبی مطلع ہوں۔ کیونکہ یہ کتابیں ہر مسلم کو قادیانیت سے توبہ کرانے کے لیے کافی ہیں۔
اب ہمیں اس شخص کے حالات اور اس کی تالیفات سے آگاہی ہوگئی ہے۔ جسے یہ لوگ صیغہ راز میں رکھنا چاہتے ہیں اور یہاں غلام احمد کی خطبۃ الہامیہ کا ایک ہی قول درج کرنا کافی معلوم ہوتا ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ بعثت ثانیہ (مرزا کی بعثت) بعثت الاولیٰ (بعثت محمدیہ) سے افضل ہے اور مرزا کی سیرت کے متعلق صرف یہ بات جان لینا کافی ہے کہ وہ محمدی بیگم سے شادی کرنے کی ہوس میں مٹا جاتا تھا۔
ہمیں جب یہ امور اور فرقہ قادیانیہ کے دیگر اندرونی حالات معلوم ہوئے تو ہم پر ظاہر ہو گیا کہ ہم نے غلام احمد کی بیعت کرنے میں کس قدر غلطی کا ارتکاب کیا اور ہمیں یقین ہو گیا کہ غلام احمد قادیانی اور ہر ایسی چیز سے جو اس سے متعلق ہے حتمی طور پر توبہ کرنا حسنات سے ہے اور قادیانی لوگ مسلمانوں کو استعمار اجنبی کے جوئے کے نیچے آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور ہم نے دیکھا کہ غلام احمد کا دعویٰ ہے کہ اس کا کلام اس کی اپنی نظر میں قرآن کریم سے بڑا اعجاز ہے اور شمس قادیانی کا جلال تمام انبیاء سے افضل ہے۔
جب معاملہ یہاں تک پہنچا اور ہم پر واضح ہو گیا کہ ہم نے مرزائے قادیانی کی بیعت کر کے جہنم خرید لی ہے۔ تو ہم نے ضروری سمجھا کہ ہم مشرق و مغرب کے برادران اسلام کی اطلاع
١٤٠
کے لیے شائع کر دیں ۔ کہ ہم اس فرقہ سے تائب ہو کر خدا اور رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
احمد حمدی علی فاضل عبدالحمید اسید حسن احمد عبدالسلام رئیس جماعت احمدیہ مصریہ کاتب محکمہ الاستئناف الاہلیہ سیکرٹری دعوت و تبشیر طالب ثانوی جماعت احمدیہ مصریہ
احمد عبدالسلام عبدالسلام احمد عبدالحمید اسید میکینکل انجینئر رئیس مطبع جریدہ المطرقۃ جریدہ المطرقۃ
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆……☆…… کسی مرزائی کو داماد بنانا ایسا ہے جیسے کسی ہندو، سکھ،
چوہڑے کو داماد بنا لیا جائے۔
- ☆……☆…… جس شخص نے کہا کہ قادیانی مسلمانوں سے اچھے
ہیں وہ خود قادیانیوں سے بدتر کافر ہو گیا۔
- ☆……☆…… مرزائیوں کی حیثیت ذمیوں کی نہیں بلکہ محارب
کافروں کی ہے اور محاربین سے کسی قسم کا تعلق رکھنا شرعاً جائز نہیں۔
☆……☆……☆
٤١
فہرست کتب مطبوعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
نمبر شمار نام کتاب مصنف رعایتی قیمت ١ الخلیفۃ المہدی شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ 20/= ٢ تحفہ قادیانیت جلد اول حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ 100/= ٣ تحفہ قادیانیت جلد دوم // // // 100/= ٤ تحفہ قادیانیت جلد سوم // // // 100/= ٥ تحفہ قادیانیت جلد چہارم // // // زیر طبع ٦ خاتم النبیین // // // 100/= ٧ رئیس قادیان مولانا محمد رفیق دلاوریؒ 100/= ٨ قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ پروفیسر محمد الیاس برنیؒ 150/= ٩ مقدمہ قادیانی مذہب وقادیانی { // // // زیر طبع قول وفعل اول دوم // // // ١٠ احتساب قادیانیت جلد اول مولانا لال حسین اخترؒ 100/= ١١ احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ 100/= ١٢ احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ 100/= ١٣ احتساب قادیانیت جلد چہارم } حضرت کشمیریؒ، حضرت تھانویؒ، زیر طبع حضرت عثمانیؒ، حضرت میرٹھیؒ ١٤ سوانح مولانا تاج محمودؒ صاحبزادہ طارق محمود صاحب 100/= ١٥ رفع ونزول عیسیٰ مولانا عبد اللطیف مسعود 100/= ١٦ تحریف بائبل // // 80/= ١٧ قومی تاریخی دستاویز مولانا اللہ وسایا صاحب 100/= ١٨ قادیانی شبہات کے جوابات // // 100/= ١٩ سوانح حضرت قاضی احسان احمدؒ مولانا محمد اسماعیل شجاعبادی 100/=
ملنے کا پتہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان پاکستان فون نمبر:514122