کاروان
تحریک ختم نبوت
کے چند نقوش
محمَّد طاہر رزاق
تاریخ
تحفظ ختم نبوت
سیریز 2
کاروانِ
تحریکِ ختمِ نبوّت
کے
چند نقوش
ترتیب و تحقیق
محمّد طاہر رزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان
أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ١٤٠٤
انتساب
مرشد مجاہدین ختم نبوت سرپرست تحریک ختم نبوت پاسبان ناموس رسالت
حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ
اور دور حاضر میں ان کے مشن کے وارث
حضرت سید محمد نفیس شاہ صاحب مدظلہ
کے نام
ید بیضا لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
فہرست
آڈیو کیسٹ مانگیں-----(محمد طاہر رزاق) 13 صدائے اقبال (الحاج محمد نذیر مغل) 18 غیر منقسم ہند میں انگریز کے تین محاذ۔۔۔۔اور قادیانیت کا خوفناک 19 کردار میں تحفظ ختم نبوت کے کام سے کیسے منسلک ہوا؟ 23 عشق رسولؐ کے عملی مظاہرے 24 دوالمیال میں قادیانیت کا تعاقب 27 خدائی عذاب 29 افتخار کا ایثار 30 حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور قادیانیت 31 شیطان رشدی کا نانا ڈاکٹر عطاء اللہ بٹ قادیانی تھا! 35 کابلی پٹھان اور قادیانی کے درمیان دلچسپ مناظرہ 35 مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمودؒ 39 مولانا محمد شریف جالندھریؒ مرحوم 45
شورش کاشمیری کی موت کا انتظار 54 پہلی قادیانی کانفرنس کی ایک مختصر سی جھلک 59 آغا شورش کاشمیری (مرحوم) چند یادیں ---- چند باتیں 61 کراچی کی یادیں 65 حضرت پیر مہر علی شاہؒ کا جہاد ختم نبوت 71 مسلمانوں کے تمام فرقوں کا حضرت قبلہ عالم قدس سرہ کو اس محاذ 72 پر اپنا قائد منتخب کرنا لاہور میں حضرت قبلہ عالم قدس سرہ کی تشریف آوری 72 مرزا صاحب کی آمد کا انتظار 74 قادیانیوں کی دوڑ دھوپ 74 قادیانی جماعت میں انتشار 75 اللہ کی نصرت 76 الجثہ بالجثہ 76 کاروان ختم نبوت کے قافلہ سالار 77 امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ 79 مولانا قاضی احسان احمدؒ شجاع آبادی 82 مولانا محمد علی جالندھریؒ 86 مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ 89 جنت کا مزہ 95 ہدایات 96
ایبٹ آباد کے قادیانی مرکز کی بربادی 99 گاڑی کا انتظام 101 دو نوٹ 105 اور پھر قادیانی مناظر نہ آیا 106 علمی لطیفہ 108 پیغام 109 بہترین ترکیب 110 حضرت مولانا محمد صدیقؒ 110 وحدت امت 111 منصب نبوت 112 اعتماد کی بات 112 تکمیل نبوت 113 مرزا ناصر لاجواب ہو گیا 113 لیکن وہ پہنچ گئے 116 واحد مقصود 117 حساب 117 شاہ جیؒ کی ایمانی جرات 117 میں ذمہ دار ہوں 119 نواب آف بہاولپور 119 مولانا تاج محمودؒ کا ایمان پرور جواب 120
حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کا تحفہ 121 نداء الاسیر شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ 121 دو عظیم انسانوں کی ملاقات 125 سرمایہ آخرت 126 ایک ٹکراؤ 126 حضرت کشمیریؒ کی شاباش 129 مرزاجی کی ٹینچی ٹینچی 130 حضرت سید عطاء اللہ شاہؒ بخاری کے لیے دعا 130 تحفظ ختم نبوت اور خانقاہ سراجیہ 131 مولانا انور شاہ کشمیریؒ اور علامہ اقبالؒ 132 اسلامی غیرت و حمیت 133 مولانا تاج محمودؒ کا نصیب 134 شیخ بنوریؒ کو بیٹے کی خوشخبری 134 پنجاب یونیورسٹی اور مرزائی 135 شاہ جیؒ انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں 136 میں تیار ہوں 137 بہادری کا کوہ ہمالیہ 138 مولانا احمد علی لاہوریؒ کی حق گوئی 141 مولانا احمد علی لاہوریؒ کی مجلس تحفظ ختم نبوت والوں سے محبت 142 اس پیکر علم و عمل کو جانتے ہو۔۔۔۔۔؟ 142
حضرت مولانا احمدؒ خان صاحب کی دعا 143 حضرت شاہؒ جی کا ایک عاشق 143 حضرت شاہ جیؒ کی تشریف آوری 144 حکام سکھر جیل کا افسوس ناک سلوک 145 ڈم ڈم جیل کا ایک واقعہ 146 حضرت عبدالقادر رائے پوریؒ کا غم 147 خدمت گزاری کی روشن مثال 148 خاتم النبیین ﷺ کا حکم 148 مولانا یوسف بنوریؒ کا زاد راہ 149 ایام اسیری میں کس سے متاثر ہوا؟ 150 حاضر جوابی 151 مولانا ظفر علی خانؒ نے مرزا قادیانی کی علمی حیثیت بتائی 152 استخارہ میں کیا دیکھا؟ 152 میں سر بھی کٹا دوں گا 153 مرزائی کی قبر 153 حضرت مولانا بہاء الحق قاسمیؒ 154 قادیان پر مسلمانوں کی یلغاریں 155 تحفظ ختم نبوت کے لیے مولانا درخواستیؒ کی خدمات 155 دعائیں 158 کچھ تو غور کرو 159
شہیدان ناموس رسالتؐ تم پر سلام 159 لگن 161 تمغہ ہائے حریت 161 قادیان کانفرنس 163 امیر شریعتؒ کی کانفرنس میں آمد اور تقریر 165 شاہ جیؒ اور میاں شیر محمد شرقپوریؒ 167 ایک غلام کی معراج 167 قاضی احسانؒ احمد شجاع آبادی کی ایک معرکہ آرائی 169 شورش کاشمیریؒ کا باطل شکن اعلان 174 شورش کاشمیریؒ کے حضور حبیب جالب کا کلام 175 یہ قربانیاں 175 اور لاجواب کر دیا 176 قول حق 177 جرأت اظہار 177 ایک عشق 178 بھٹو کے قتل کی مرزائی سازش 179 قادیانی مغل خاندان سے تھا؟ 179 اور پھر تقریر ہو گئی 181 نکتہ آفرینی 182 تحریک ختم نبوت 1953ء کی کہانی ---- مولانا تاج محمودؒ کی زبانی 185
حرف سپاس
ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمٰن‘ جناب عبدالرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)
میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ کا جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)
محمد طاہر رزاق
آؤ! دیوانگی مانگیں
یہ سنہ ١٩٥٣ء ہے ----- پاکستان کو معرض وجود میں آئے ابھی صرف چھ سال بیتے ہیں ----- ہواؤں میں گولیوں کی تڑتڑ کی آواز گونج رہی ہے ----- فضاؤں میں بارود کی بدبو پھیلی ہوئی ہے ----- گلی محلوں میں شہیدوں کے لاشے بکھرے پڑے ہیں ----- لاہور کی کالی سڑکیں ----- شہیدوں کے خون ناب سے سرخ ہو چکی ہیں ----- لاکھوں ----- مسلمانوں کے جلوس ----- بگولے کی طرح مضطرب ہیں ----- یہ کیا مطالبہ کر رہے ہیں؟ یہ لوگ کون ہیں؟ یہ لوگ ختم نبوت کے دیوانے ہیں ----- یہ مطالبہ کر رہے ہیں ----- کہ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دو ----- کیونکہ یہ لوگ ایک جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں ----- یہ مطالبہ کر رہے ہیں ----- کہ مشہور کٹڑ اور متعصب قادیانی ظفر اللہ خان ----- جو ایک سازش کے تحت پاکستان کا وزیر خارجہ بن گیا ہے ----- اسے وزارت خارجہ سے ہٹایا جائے ----- چونکہ ظفر اللہ خان کلیدی عہدوں پر قادیانیوں کو تعینات کر کے پاکستان کو ----- قادیانی ریاست بنانے کی سازش کر رہا ہے ----- ملک ----- مسلمانوں کا ----- ملک کے عوام ----- مسلمان -----
مسلمانوں ۔۔۔۔۔ نے ہی ۔۔۔۔۔ اپنی ماؤں بہنوں کی عصمتیں لٹا کر اس ملک کو آزاد کرایا۔
مسلمانوں ۔۔۔۔۔ نے ہی ۔۔۔۔۔ فرنگی سے ۔۔۔۔۔ آزادی کی گھمسان جنگ لڑی ۔۔۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔۔ آزادی کے بعد ۔۔۔۔۔ شہیدوں کی اس سرزمین پر قادیانی حکومت کے منصوبے ۔۔۔۔۔ !!!
اس المناک صورت حال پر ۔۔۔۔۔ احتجاج کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔ پاکستان کے مسلمان ایک احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں ۔۔۔۔۔ جس کا نام تحریک ختم نبوت ہے ۔۔۔۔۔ تمام مکاتب فکر کے مسلمان اس میں شامل ہیں ۔۔۔۔۔
لیکن ظالم حکومت ۔۔۔۔۔ فوج ۔۔۔۔۔ اور سنگینوں کے زور سے اس تحریک کو کچلنا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔ پاکستان میں پہلے مارشل لاء کا نفاذ ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔
سمری ملٹری کورٹس تشکیل دے دی گئی ہیں ۔۔۔۔۔ جلوسوں سے پکڑے گئے لوگوں کو فوری سماعت کی فوجی عدالتوں میں پیش کر کے سزا سنا دی جاتی ہے ۔۔۔۔۔
لیکن رسول اللہ ﷺ کے دیوانے اور پروانے ۔۔۔۔۔ ان حربوں سے کہاں ڈرتے ہیں ۔۔۔۔۔
انتہائی تشدد کے باوجود ۔۔۔۔۔ پوری تب و تاب کے ساتھ جلوس نکال رہے ہیں ۔۔۔۔۔
ایسے ہی ایک جلوس میں شامل ۔۔۔۔۔ ایک نوجوان نعرہ لگاتا ہے ۔۔۔۔۔
”ختم نبوت ۔۔۔۔۔ زندہ آباد۔“
فوجی سپاہی آگے بڑھتا ہے ۔۔۔۔۔ پوری قوت سے اس کے سر پر رائفل کا بٹ مارتا ہے ۔۔۔۔۔ نوجوان کا سر پھٹ جاتا ہے ۔۔۔۔۔
عاشق رسول ﷺ کا مقدس خون ۔۔۔۔۔ گلکاریاں کرتا کپڑوں پر پھیل جاتا ہے ۔۔۔۔۔
نوجوان چکرا کر نیچے گرتا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن فوراً سنبھلتا ہے ۔۔۔۔۔ کھڑا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اور پہلے سے دگنی آواز میں نعرہ لگاتا ہے ”ختم نبوت ۔۔۔۔۔ زندہ آباد۔“
فوجی سپاہی اسے اٹھا کر ٹرک میں پھینکتا ہے ۔۔۔۔۔ ٹرک قریب ہی واقع سمری ملٹری
کورٹ کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
نوجوان کو ٹرک سے اتار کر ۔۔۔۔۔ فوجی افسر کے سامنے ۔۔۔۔۔ عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔
نوجوان ۔۔۔۔۔ عدالت میں قدم رکھتے ہی پوری قوت سے نعرہ لگاتا ہے ”ختم نبوت ۔۔۔۔۔ زندہ باد“
فوجی افسر اس جسارت پر ۔۔۔۔۔ غصہ سے کانپنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔ اور گرج دار آواز میں کہتا ہے۔
”ایک سال قید“
نوجوان ۔۔۔۔۔ جب ایک سال قید کا اعلان سنتا ہے ۔۔۔۔۔ تو پوری گھن گرج سے جواب دیتا ہے۔ ”ختم نبوت ۔۔۔۔۔ زندہ باد“
فوجی افسر: ”دو سال قید“
نوجوان: ”ختم نبوت ۔۔۔۔۔ زندہ باد“
فوجی افسر: ”چار سال قید“
نوجوان: ”ختم نبوت ۔۔۔۔۔ زندہ باد“
فوجی افسر: ”آٹھ سال قید“
نوجوان: ”ختم نبوت ۔۔۔۔۔ زندہ باد“
فوجی افسر: ”عمر قید“
نوجوان: ”ختم نبوت ۔۔۔۔۔ زندہ باد“
فوجی افسر ۔۔۔۔۔ انتہائی غضبناک ہو کر ۔۔۔۔۔ میز پر زور زور سے مکے مارتے ہوئے کہتا ہے۔ ”اسے میری عدالت سے باہر لے جا کر ابھی گولی مار دو۔“
نوجوان ۔۔۔۔۔ جب گولی کا حکم سنتا ہے ۔۔۔۔۔ تو اس پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔ اور وہ عدالت میں رقص کرنا شروع کر دیتا ہے۔۔۔۔۔ اور پوری قوت سے بولتا ہوا کہتا ہے ”اے گنبد خضراء کی طرف جانے والی ہوا ۔۔۔۔۔ میرے آقا ﷺ سے میرا آخری سلام کہنا ۔۔۔۔۔ اور کہنا ۔۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔۔ آپ کا غلام مقتل میں کہہ رہا تھا:
”ختم نبوت----- زندہ باد“ فوجی افسر کی گردن نیچے لڑھک جاتی ہے-----اور وہ ایک لمبی ٹھنڈی آہ بھر کے کہتا ہے۔
”اسے چھوڑ دو----- یہ دیوانہ ہے۔“ مسلمانو! میں لکھتے ہوئے نعرہ لگاتا ہوں ”ختم نبوت----- زندہ آباد“ آپ پڑھتے ہوئے نعرہ لگائیں: ”ختم نبوت----- زندہ آباد“
مسلمانو!----- آؤ اس رقت انگیز----- موقعہ پر----- ان ایمان پرور ساعتوں میں----- ہم بھی اپنا دامن پھیلا کر رب کے حضور دعا کریں: مولا! ہمیں بھی ختم نبوت کا دیوانہ بنادے----- کریما! ہمیں بھی ختم نبوت کا پروانہ بنادے----- رحیما! ہمیں بھی اپنے حبیب ﷺ کی حب عطا کر----- پروردگار! ہمیں بھی اپنے محبوب کی محبت عطا کر----- مالک! ہمیں بھی تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے----- خالق! ہمیں بھی گستاخان رسول ﷺ قادیانیوں سے برسرِ پیکار ہونے کی ہمت عطاکر-----
میرے مولا! مجھے صاحب جنوں کر
مولا! ہماری جان----- ہمارا مال----- ہمارا وقت----- بحرمت خاتم النبین ﷺ قبول فرما----- اور ہمیں ان کی شفاعت نصیب فرما۔ (آمین ۔ ثم آمین)
کوئی مجھ سا نہ دوسرا ہوتا
تیرے حجرے کے آس پاس کہیں
میں کوئی کچا راستہ ہوتا
کسی غزوہ میں زخمی ہو کر میں
تیرے قدموں پہ جا گرا ہوتا
کاش احد میں شریک ہو سکتا
اور باقی نہ پھر بچا ہوتا
میں کوئی جنگجو عرب ہوتا
اور ترے سامنے جھکا ہوتا
پانی ہوتا اداس چشموں کا
تیرے قدموں پہ بہہ گیا ہوتا
بچہ ہوتا غریب بیوہ کا
سر تیری گود میں چھپا ہوتا
رستہ ہوتا تیرے گزرنے کا
اور ترا رستہ دیکھتا ہوتا
مجھ کو خالق بناتا غار حرا
اور میرا نام بھی حرا ہوتا
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی۔ ایس۔ سی، ایم۔ اے (تاریخ) لاہور۔ 6 جون 1999ء
صدائے اقبالؔ
مصور پاکستان حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؔ نے ملت اسلامیہ کو قادیانیت کی زہرناکیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک تاریخی جملہ کہا تھا
"قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں"۔
گزرتے وقت کے اک اک لمحے نے حضرت علامہ اقبالؔ کے اس تاریخی قول پر مہر تصدیق ثبت کی۔
کیونکہ ----- قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں ----- اس لیے قادیانیوں کے خلاف جہاد کرنا، اسلام اور وطن دونوں کی خدمت ہے ----- ملت اسلامیہ کے شاہینوں سے میری درخواست ہے ----- کہ وہ قادیانیوں کے خلاف جہاد کر کے اپنی ملی غیرت اور دینی حمیت کا ثبوت دیں۔ کیونکہ ----- اسی میں ہماری بقا کا راز مضمر ہے۔
دعا گو الحاج محمد نذیر مغل
بسم اللہ الرحمن الرحیم
غیر منقسم ہند میں انگریز کے تین محاذ
اور
قادیانیت کا خوفناک کردار
فرنگی ڈاکوؤں نے جب برصغیر میں دولت و ثروت کی فراوانی دیکھ کر اپنے پاؤں مستقل طور پر جمانے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کے لیے تمام زمینی تدبیریں کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ خاص طور پر ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے بعد تو وہ اس سلسلے میں کوئی خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہی نہ تھے اور ہر اس بنیاد کو مسمار کرنے کے لیے مستعد تھے، جو کسی بھی طرح اسلامیان ہند کو ان کے مقابلے میں کھڑا کرنے کے قابل بنا سکے۔ اس کے لیے ایک طرف تو انہوں نے سیاسی و معاشی طور پر کچلے ہوئے مسلمانوں کو ٹوٹی پھوٹی انگریزی سیکھ کر اپنے نان شبینہ کا وسیلہ بنانے کا گر سکھایا اور گو اس سے کچھ فائدہ بھی ہوا لیکن اس طرز عمل نے آدھا تیتر اور آدھا بٹیر قسم کے کالے فرنگیوں کی ایک بڑی فوج ظفر
موج ایسی پیدا کر دی جو اپنی وظیفہ خواری کو برقرار رکھنے کے لیے لندن سے اٹھنے والی ہر احمقانہ سے احمقانہ آواز پر صاد کہنے کے لیے ہر لحظہ اور ہر وقت مستعد رہتی تھی۔ دوسرے محاذ پر ایک اور طبقہ اس مشن کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے مصروف جدوجہد تھا کہ ہندوستان کو دار الاسلام قرار دے کر ان علماء کو میدان جہاد سے واپس لا کر خانقاہوں میں بند کیا جائے جو ابلہ مسجد تھے نہ تہذیب کے فرزند لیکن ان دونوں محاذوں پر کام کرنے کے باوجود ہندوستان میں کمپنی بہادر کی حکومت اور تاج برطانیہ کی شوکت و سطوت قائم کرنے کے خواہاں منصوبہ ساز مطمئن نہ تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ جب تک مسلمان برصغیر کا ذہنی و قلبی ناطہ حضور ختمی مرتبت ﷺ سے توڑ کر ان کا قبلہ قلب و نظر اور کعبہ جاں کوئی دوسرا نہیں بنایا جاتا‘ اور ان کے دل سے جذبہ جہاد کو نکال کر انہیں محض چلتے پھرتے لاشے نہیں بنا دیا جاتا‘ اس وقت تک سلطنت انگلیشیہ کو استحکام نہیں مل سکتا۔
اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے بڑے غیر محسوس مگر عیارانہ طریقے سے کام کرتے ہوئے پہلے تو ہندوستان میں مذہبی آزادی کے نام پر مسلمانوں‘ عیسائیوں‘ آریوں اور ہندوؤں کے مابین مناظراتی فضا کو پروان چڑھایا اور انہیں امور مملکت سے لا تعلق رکھ کر آپس میں سر پھٹول کرتے رہنے میں الجھائے رکھا تاکہ یہ لوگ متحد ہو کر کبھی غیر ملکی تسلط کے خلاف لڑنے کا سوچ بھی نہ سکیں مگر ان سارے انتظامات کے بعد بھی انگریز بہادر کو مسلمانوں سے دھڑکا ہی لگا رہتا تھا کہ یہ دیو اگر نیند کی ماتی دیوتی کی آغوش سے انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہوا اور اسے اپنی قوت کا احساس ہو گیا تو پھر ہمارے لیے کوئی ٹھکانہ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہو گا۔ اس الجھن کو دور کرنے کے لیے اس نے پہلے تو مرزا غلام احمد کو ایک مناظر اسلام کے طور پر پیش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ حالانکہ ان مناظرات میں جو غلیظ ترین زبان موصوف نے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں اور اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کی‘ وہ القابات کی رواداری میں لپیٹا ہوا کوئی فرد تو درکنار کوئی معمولی شریف انسان بھی نہیں کر سکتا مگر سرکار انگلیشیہ ان ساری باتوں سے اس طرح اغماض‘ چشم پوشی بلکہ لا تعلقی کا مظاہرہ کرتی رہی اور مرزا غلام احمد کی مالی اعانت بھی بھرپور طریقے سے جاری رہی۔ اس صورت حال کو دیکھ کر سادہ لوح مسلمانوں کا ایک گروہ مرزا غلام احمد کی علمی خدمات کا مداح بن گیا اور اس کی دامے درمے قدمے سخنے مدد کرنے لگا۔
اور جب دولت و ثروت کی فراوانی نے مرزا غلام احمد کی آنکھوں کو مدت مدید کے بعد طراوت بخشی تو خبط عظمت نے اسے بری طرح اپنی گرفت میں لے لیا۔ عین اس مرحلہ پر انگریز بہادر نے اسے مزید پھونک دی اور اس نے محدثیت اور مجددیت کے مقام سے زقند بھرتے ہوئے اپنے آپ کو نبیوں کی صف میں لا کھڑا کیا اور صرف اس پر اکتفا نہ کیا بلکہ
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
قسم کے نعرے لگانے لگا۔ جب اسے بتایا گیا کہ ظلی نبوت‘ نبوت کی کوئی نئی نویلی قسم نہیں ولایت ہی کا دوسرا نام ہے تو اس نے ایک اور چھلانگ لگا کر کہا کہ شریعت میں اوامر اور نواہی ہی ہوتے ہیں اور یہ میرے اوپر نازل ہونے والے الہامات میں بھی ہے۔ گویا یہ بلاواسطہ طور پر صاف صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنے اصل کام کی طرف توجہ کی اور جہاد کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا
دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
یوں انگریز نے ایک نام نہاد کاسہ لیس سے اپنی حکومت و ریاست کی شان میں قصیدے بھی لکھوائے اور صلیب کی بجائے اسلام کے ہی ایک رکن رکین پر تیر چلانے کا بھی اہتمام کروا لیا۔ لیکن اب مرزا غلام احمد کے لیے یہیں رک جانا ممکن نہ تھا۔ اس لیے اس نے امت مسلمہ سے مصاہرت اور مناکحت کے رشتے تک توڑ کر اور مسلمانوں کے جنازہ تک میں شرکت کو حرام قرار دے کر ایک ایسے نئے مذہب کی بنیاد رکھی جس نے امت مسلمہ میں مزید انتشار اور افتراق پیدا کرنے کے علاوہ قطعی طور پر کوئی مثبت کام نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد کے بعد اس کے متبعین بھی گدی نشینی کی جنگ میں مزید دو فرقوں میں تقسیم ہو گئے لیکن ان میں غلامی کے اوصاف اس حد تک رچ بس گئے ہیں کہ پاکستان اور بھارت دو آزاد ممالک کے وجود میں آجانے کے باوجود ان کی قیادت ابھی تک ذہنی طور پر تقسیم برصغیر سے پہلے کے عہد میں رہ رہی ہے اور اسے ابھی تک یقین ہی نہیں آ رہا کہ انگریز اس ملک سے چلا گیا ہے۔
قادیانی امت کے چوتھے گرو مرزا طاہر احمد لندن میں ڈش انٹینا کے ذریعے اپنا
زہریلا پیغام دے کر سمجھتے ہیں کہ ”احمدیت“ پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ حالانکہ شروع دن ہی سے اس میں اتنی سکت ہی نہیں تھی کہ وہ کوئی بڑی تحریک بن سکے اور اب تو پاکستان‘ جنوبی افریقہ اور کئی دوسرے ممالک میں غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے بعد تو اس کا دائرہ مزید سمٹ رہا ہے اور خواہ قادیانی لاکھ دعوے کریں یہ شمشان گھاٹ میں اتر کر ہی رہے گی۔ کیونکہ جو تحریک قریباً ایک صدی میں قادیان اور چناب نگر (ربوہ) کی چند میل کی آبادی میں بھی ایک منصفانہ معاشرہ قائم نہیں کر سکی‘ اس کو کوئی ”خطبہ الہامیہ“ زندہ نہیں رکھ سکتا۔ مسلمان محمد عربی ﷺ کے دامن سے ناطہ توڑ کر مرزا غلام احمد اور اس کی ”ذریت“ سے اپنے آپ کو وابستہ کرنے کے لیے کسی طرح تیار ہوئے ہیں نہ ہوں گے اور جن لوگوں نے خلوص دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے اس فتنہ سے بچنے کی استعانت طلب کی ہے‘ ان کی زندگی کے درخشاں واقعات ایسے ہیں کہ انہیں پڑھ کر دل بے خود و بے اختیار ہو جاتا ہے‘ کاروان تحریک ختم نبوت کے چند نقوش‘ ایسے ہی واقعات کا ایک ایسا دل آویز مجموعہ ہے کہ اس کو پڑھنے اور سمجھنے والا دامان مصطفیٰ سے اپنا تعلق اتنا مضبوط اور مستحکم کر لیتا ہے کہ قادیانیت کا وسوسہ اندازی کے خاص جوہر سے آراستہ پروپیگنڈہ اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ محمد طاہر رزاق نے یہ واقعات بڑی محنت شاقہ اور لگن سے جمع کیے ہیں اور توقع ہے کہ یہ ان کی دنیوی و اخروی دونوں زندگیوں کے لیے سرمایہ افتخار ثابت ہوں گے اور جوں جوں شمع ختم نبوت کے پروانوں کے یہ واقعات پھیلتے جائیں گے‘ اس رفتار سے قادیانیت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر جہنم رسید ہوگی اور کوئی ٹمپی اور کوئی ڈش انٹینا اسے نہیں بچا سکے گا۔
شفیق مرزا‘ روزنامہ ”جنگ“ لاہور
میں تحفظ ختم نبوت کے کام سے کیسے منسلک ہوا؟
١٩٨٦ء میں ایک دفعہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جامع مسجد مدنی (اڈہ در بند) گیا۔ مولانا قاضی گل رحمٰن صاحب کا خطاب سنا۔ نماز کی ادائیگی کے بعد جب مسجد سے باہر نکلا تو ایک رعنا نوجوان لٹریچر تقسیم کر رہا تھا۔ اس نے مجھے بھی ایک پمفلٹ پڑھنے کے لیے دیا۔ میں وہ لے کر گھر آگیا۔ گھر پہنچ کر جب اسے دیکھا تو اس کا عنوان تھا ”عاشقان مصطفیٰ کہاں ہیں؟“
پڑھنا شروع کیا۔ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و افضلیت اور فتنہ قادیانیت کا تعارف پڑھا، تھرتھرا اٹھا کہ یا اللہ اتنے بڑے گستاخ بھی اس دنیا میں موجود ہیں۔ جب اس کتابچہ کے آخری حصہ پر پہنچا تو بے ساختہ آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے اور اسی دن رب کریم سے یہ عہد کیا کہ ان صلوتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین میرے مولا مجھے اتنی ہمت اور توفیق دے کہ تیرے لاڈلے نبی مکرم ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ اور فتنہ قادیانیت کا تعاقب کر سکوں۔
کتابچہ پڑھنے کے فوراً بعد جامع مسجد مدنی پہنچا اور لٹریچر تقسیم کرنے والے نوجوان کا ایڈریس معلوم کر کے اس کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ اس پروانہ ختم نبوت کا نام نامی صابر غفور علوی ہے۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ فتنہ قادیانیت سے متعلق میں نے انہیں اپنے احساسات و جذبات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے میرے مخلصانہ جذبات کی قدر کرتے ہوئے مجھے تھپکی دی اور بتایا کہ میرے تایا زاد بھائی عبدالخالق علوی واہ کینٹ میں ملازم ہیں۔ وہ یہ کتابچے منگوا کر مجھے دیتے ہیں اور میں ہر جمعہ شہر کی کسی نہ کسی مسجد میں اس لٹریچر کو تقسیم کرتا ہوں۔
اس عظیم کام کی نسبت سے میری صابر غفور علوی صاحب سے دوستی ہو گئی اور ہم سوچنے لگے کہ کس طرح ہری پور میں باقاعدہ نظم سے کام شروع کریں کہ دو چار دن بعد شہر میں اشتہار چسپاں دیکھے کہ مناظر اسلام، شاہین ختم نبوت فاتح ربوہ حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحب مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہری پور تشریف لا رہے ہیں اور جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ میں ان کا خطاب ہو گا۔ خوشی ہوئی کہ اور بھی کئی ساتھی یہاں یہ درد رکھنے والے ہیں۔ چلو ان سے ملاقات ہو گی تو کام کرنے کی صورتیں بھی نکل آئیں گی۔ مقررہ تاریخ کو جلسہ میں شرکت کی۔ مولانا اللہ وسایا صاحب کے انداز خطابت اور شعلہ بیانی نے ہر شخص کو فتنہ قادیانیت کے خلاف سراپائے احتجاج بنا دیا۔ مولانا نے تمام شرکائے جلسہ سے وعدہ لیا کہ وہ ہری پور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ذیلی شاخ شبان تحفظ ختم نبوت میں شامل ہو کر ہری پور سے قادیانیت کا جنازہ نکالیں گے۔ سب نے ہاتھ اٹھا کر یہ عہد کیا کہ اب ہم انشاء اللہ اپنے علاقہ سے قادیانیت کو بھگا کر ہی دم لیں گے۔ وہیں پہ شبان تحفظ ختم نبوت ہری پور کے امیر مولانا حفیظ الرحمن سے ملاقات ہوئی اور ہم نے باقاعدہ شبان تحفظ ختم نبوت میں شمولیت اختیار کی۔
عشق رسولؐ کے عملی مظاہرے
ہری پور کا درخشندہ ستارہ صابر غفور علوی، جنہوں نے دینی تڑپ اور عشق مصطفوی ﷺ کے جذبہ سے سرشار ہو کر فتنہ قادیانیت کا ایسا تعاقب کیا کہ ہری پور کے قادیانی بلبلا اٹھے۔ ان کا حلقہ احباب بڑا وسیع ہے اور تمام احباب شمع ختم نبوت کے پروانے اور فتنہ قادیانیت کے خلاف تازیانے ہیں۔ تحفظ ختم نبوت اور تردید مرزائیت کے محاذ پر صابر غفور علوی کی ناقابل فراموش سنہری خدمات ہیں۔ انہوں نے راقم کو ہری پور میں شیزان بائیکاٹ مہم کے سلسلہ میں دو ایمان پرور اور وجد آفریں واقعات سنائے جو کہ درج ذیل ہیں پڑھیے اور ان مجاہدین کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام عقیدت پیش کیجئے۔
- ١۔ جب ہم نے فتنہ مرزائیت کے استیصال کے لیے نوجوانوں پر مشتمل جماعت شبان
تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی تو جماعت کے مقامی سرپرست حضرت مولانا حفیظ الرحمن صاحب نے ہمیں حکم دیا کہ شہر کے تمام دکانداروں سے فرداً فرداً ملاقات کر کے انہیں شیزان کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی ترغیب دی جائے۔ چنانچہ اس ضمن میں ایک وفد تشکیل
دیا گیا وفد کی قیادت جناب سجاد یوسف کر رہے تھے۔ شہر کے تمام دکانداروں سے ملاقات کی۔ شیزان کے بائیکاٹ پر جماعت کا شائع شدہ لٹریچر (خصوصاً شیزان کا بائیکاٹ مسلمانوں کے ضمیر پر ایک دستک‘ مصنفہ محمد طاہر رزاق) دیا اور اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آئندہ دینی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شیزان کی مصنوعات استعمال نہیں کریں گے۔ سبھی نے وفد کو دینی جذبہ سے سرشار ہو کر یقین دہانی کرائی کہ وہ آئندہ شیزان کی مصنوعات نہیں بیچیں گے۔ یہ وفد جب اڈہ دربند (تربیلہ روڈ) پہنچا تو ایک دکاندار محمد رفیق نے اراکین وفد سے تلخ کلامی کی اور کہا کہ میں شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ نہیں کرتا۔ اگر تم اتنے ہی عاشق رسول ہو تو پہلے اپنی مونچھیں منڈوا کے آؤ پھر مجھ سے بات کرنا۔ (یہ اشارہ انہوں نے جناب سجاد یوسف کی طرف کیا تھا) جناب سجاد یوسف فوراً قریبی حمام کی دکان پر گئے اور مونچھیں منڈوا کر دوبارہ جناب محمد رفیق کی دکان پر آئے اور کہا کہ دیکھئے جناب آپ کے کہنے پر میں نے تو مونچھیں منڈوا دیں اب آپ بھی عشق نبوی ﷺ کا عملی اظہار کریں اور شیزان کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا وعدہ کریں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل و کرم شامل حال تھا۔ محمد رفیق نے کہا کہ وعدہ کیا؟ میں تو ابھی آپ کے سامنے شیزان کی بوتلیں توڑتا ہوں اور آج کے بعد آپ کبھی بھی میری دکان پر شیزان نام کی کوئی چیز نہیں دیکھیں گے۔ یہ کہا اور شیزان کی جتنی بوتلیں دکان پر پڑی تھیں، ایک ایک کر کے توڑ دیں۔ اس دن سے لے کر آج تک ان کی دکان پر شیزان کی مصنوعات نہیں دیکھی گئیں۔
ہماری دلی دعا ہے کہ مولائے کریم ان کے کاروبار اور عزت و آبرو میں اضافہ فرمائے۔
- ٢۔ دوسرا واقعہ ہری پور کے ایک عظیم مجاہد ختم نبوت جناب افتخار احمد مرحوم سے
متعلق ہے۔ واقعہ پڑھنے سے قبل یہ جان لیں کہ افتخار احمد کون تھا؟
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما جناب صاحبزادہ طارق محمود فیصل آبادی ہفت روزہ لولاک‘ جلد نمبر ٢٦ شمارہ نمبر ٤٣ میں رقم طراز ہیں کہ :
١٩٨٤ء میں تحریک ختم نبوت کا تیسرا جھونکا آیا جو اپنے ساتھ امتناع قادیانیت
آرڈیننس کا تحفہ لایا۔ تحریکوں کا یہ وصف ہے کہ وہ لیڈر پیدا کرتی ہیں اور کارکن ابھارتی ہیں۔ ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت سے جو نئے نوجوان مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستہ ہوئے‘ ان میں ایک بائیس سالہ نوجوان افتخار احمد اعوان بھی تھا‘ جس کا تعلق ہزارہ کے زرخیز‘ دیدہ زیب‘ دلفریب اور سرسبز و شاداب علاقے ہری پور سے تھا۔ مرحوم افتخار احمد نے اپنے چند دوستوں سے مل کر نوجوانوں کی تنظیم شبان تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی۔ مرحوم ایک متحرک‘ فعال‘ پرجوش اور مخلص کارکن تھے اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور تردید مرزائیت کے ہر پروگرام کی روح رواں ہوا کرتے تھے۔
مرحوم میں کام کرنے کا جذبہ ان کے خون کی حرارت میں شامل تھا۔ کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ افتخار ایک کامیاب مقرر بھی تھے۔ ان کی تقریر شعلہ و شبنم کا امتزاج تھی جو روانی‘ فراوانی اور طغیانی سے عبارت تھی۔ ان کی آواز‘ لہجہ کی گھن گرج سے محسوس ہوتا تھا گویا ان کا خمیر احرار سے اٹھا ہو۔ افتخار مرحوم کے کردار کی عظمت کا ایک روشن پہلو یہ بھی تھا کہ اس نے سیاست کی بجائے خدمت دین کا مشن اختیار کیا۔ ایک سیاسی جماعت کو خیرباد کہہ کر اور اس کے اونچے پلیٹ فارم سے اتر کر وہ ایک ایسی مذہبی تنظیم میں آیا جہاں نہ نمود و نمائش تھی نہ صلے کی تمنا اور نہ ستائش کی پروا..... حالانکہ سیاسی میدان میں نام کمانے اور جوہر دکھانے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ جواں سال افتخار نے بلاشبہ آرزوئیں بیچ کر دل کی تڑپ خریدی اور ناموس رسالتؐ کی پہرہ داری کو سیاست پر ترجیح دی۔ افتخار نو عمر اور نوخیز تھا۔ کام کی لگن اور جذبہ اخلاص نے اسے لوگوں میں محبوب بنادیا تھا۔ وہ نوجوانوں کی آنکھ کا تارا اور محفلوں کا مہ پارہ بن گیا تھا۔ افتخار جاتے جاتے اپنی یادوں اور باتوں کے ایسے چراغ روشن کر گیا جن سے نوجوان مدتوں روشنی پاتے رہیں گے۔ افتخار عالم تخیلات سے اپنے دوستوں کو آج بھی یہ پیغام دے رہا ہے کہ:
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا
افتخار مرحوم وفات سے چند ماہ پیشتر بلڈ کینسر کا شکار ہوا۔ اسے اپنی موت کا یقین ہو گیا تھا لیکن پھر بھی وہ شگفتہ مزاج اور پرعزم رہا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ عزیز واقارب اسے تسلی و
تشفی دیتے لیکن غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر وہ انہیں حوصلہ دیتا رہا۔ جن دوستوں نے افتخار مرحوم کا جنازہ دیکھا‘ ان کا کہنا ہے کہ افتخار کا جنازہ ہری پور کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد جنازہ تھا‘ جس نے سارے شہر کو سوگوار اور چہروں کو اشک بار کر دیا تھا۔ افتخار کا جب جنازہ اٹھا تو صبر کے پیمانے چھلک پڑے۔ ہر آنکھ مرحوم کو آنسوؤں کے نذرانے پیش کر رہی تھی۔ پاکیزہ اور با حیا جوانی کی موت نے افتخار کو زندہ جاوید کر دیا۔
جناب صابر غفور علوی نے راقم کو بتایا کہ شیزان بائیکاٹ مہم کے سلسلہ میں افتخار احمد مرحوم نے کالج کے ساتھیوں کو ہمراہ لیا اور ہر دکاندار کے پاس گئے۔ مسئلہ قادیانیت سمجھایا اور شیزان کے بائیکاٹ کی ترغیب دی۔ یوں شیزان کے خلاف لوگوں کے ذہن ایسے بنے کہ جب خطیب سکندر پور مولانا قاری عبد المالک عباسی نے جمعہ کے خطبہ میں شیزان کے بائیکاٹ کی اپیل کی تو دکانداروں نے جذبہ ایمانی کے تحت اسی وقت شیزان کی بوتلیں توڑ ڈالیں۔ (محترم مولانا اورنگ زیب اعوان کا مکتوب راقم کے نام)
دوالمیال میں قادیانیت کا تعاقب
اسلام آباد سے حافظ محمد رمضان لکھتے ہیں کہ ضلع چکوال کی تحصیل چوآسیدن شاہ کا قصبہ دوالمیال قادیانیوں کا ایک بہت بڑا مرکز ہے۔ دوالمیال کے رہنے والے ایک شخص مولوی کرم داد نے حصول علم میں حکیم نور الدین بھیروی کی شاگردی حاصل کی اور ١٩١٧ء میں دولت ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اپنا رشتہ سرکار مدینہ سرور قلب و سینہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے توڑ کر ازلی بد بخت اور لعین مرزا غلام احمد قادیانی سے جوڑا۔ قادیانیت کا طوق گلے میں ڈالنے کے بعد حکیم کرم داد نے اپنے آبائی علاقہ دوالمیال کا رخ کیا اور اپنے آپ کو جھوٹی نبوت کی تبلیغ و تشہیر کے لیے وقف کر دیا۔ پورے ضلع چکوال میں قادیانیت کے پھیلنے کا سبب یہ ملعون حکیم کرم داد تھا۔ علاقہ کی معروف مذہبی شخصیت اور خاندان سادات کے نامور سپوت حضرت مولانا لال شاہ نور اللہ مرقدہ نے اس طوفان ارتداد کے سامنے مناظروں اور مباحثوں کی صورت میں بند باندھنے کی کوشش کی اور ہر
میدان میں حکیم کرم داد کو ناکوں چنے چبوائے اور آج انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی اولاد قادیانی سرگرمیوں کے سدباب میں مصروف عمل ہے۔
اس وقت دوالمیال میں قادیانیوں کی آبادی ڈیڑھ ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ ان کی قلعہ نما عبادت گاہ قادیانی سرگرمیوں کا بہت بڑا مرکز ہے۔ گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کے حکم پر اسلام آباد کے مبلغ مولانا محمد اورنگ زیب اعوان نے دوالمیال اور چکوال کا تفصیلی دورہ کیا اور قادیانی سرگرمیوں سے دفتر مرکزیہ کو آگاہ کیا۔ بعد میں انہوں نے دفتر مرکزیہ کے حکم پر چکوال اور دوالمیال کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے چکوال میں بزم صدیق اکبرؓ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ سے‘ دوالمیال کی مرکزی جامع مسجد میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے اور بعد نماز عشاء دوالمیال کی مسجد دولا میں خطاب کیا۔
اہلیان دوالمیال نے شدید سردی کے باوجود ان پروگراموں میں جوق در جوق شرکت کی اور اپنی غیرت ایمانی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ مولانا محمد اورنگ زیب اعوان نے ان اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں سے ہماری جنگ دین کی وجہ سے ہے‘ ذاتی نہیں کیونکہ قادیانیوں نے حضور نبی کریم ﷺ کے بعد ایک ایسے شخص کو مسند نبوت پر بٹھایا ہے‘ جس کی نہ شکل ہے‘ نہ عقل اور نہ کردار و کریکٹر صحیح ہے۔ ہم ہر ایک کو برداشت کر سکتے ہیں مگر نبی مکرم ﷺ کے گستاخ کو قطعا برداشت نہیں کر سکتے۔ قادیانیوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح‘ مہدی مانتے ہیں۔ یہ بھی سراسر دجل و فریب ہے۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدویت کی دلیل میں دار قطنی کی جو حدیث وہ پیش کرتے ہیں‘ وہ سرے سے حدیث ہے ہی نہیں بلکہ وہ تو امام محمد باقرؒ کا ایک قول ہے جو کہ امام حسینؓ کے پوتے ہیں۔
امام محمد باقرؒ کی روایت یہ ہے کہ ہمارے مہدی کی دو نشانیاں ہیں۔ جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے‘ کبھی بھی ان کا ظہور نہیں ہوا۔ وہ دو نشانیاں یہ ہیں کہ رمضان المبارک کی پہلی تاریخ میں چاند گرہن اور نصف رمضان میں سورج گرہن ہو گا۔ اس روایت کو صحیح مان بھی لیا جائے تو مرزا قادیانی اس روایت کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتا کیونکہ امام
باقرؒ فرماتے ہیں کہ آنے والا ہمارا مہدی، یعنی جو مہدی آئے گا وہ فاطمی النسل ہو گا جبکہ مرزا قادیانی فاطمی النسل نہیں بلکہ مغل برلاس تھا۔ امام باقرؒ نے فرمایا کہ ظہور مہدی کے وقت یکم رمضان المبارک کو چاند گرہن اور نصف رمضان کو سورج گرہن ہو گا جبکہ مرزا قادیانی کے دور میں چاند گرہن یکم رمضان کے بجائے تیرہ رمضان کو ہوا اور سورج گرہن نصف رمضان کی بجائے اٹھائیس رمضان کو ہوا۔
اس سے ثابت ہوا کہ قادیانیوں کا مرزا قادیانی کو مہدی ثابت کرنا بھی سراسر دجل و فریب پر مبنی ہے۔ مولانا محمد اورنگ زیب اعوان نے تفصیل کے ساتھ نزول مسیح علیہ السلام، ظہور امام مہدی اور خروج دجال کی حقیقت اور ہر ایک کی جدا جدا نشانیاں بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ مسیح اور مہدی دو جدا جدا شخصیتیں ہیں جبکہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ دونوں ایک ہیں اور وہ ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
اب مولانا محمد اورنگ زیب اعوان نے مرزا قادیانی کی شخصیت بے حیثیت کا تعارف کروایا تو سامعین نے مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں پر خوب لعنتوں کے ڈونگرے برسائے اور تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ نبی کریم ﷺ سے اپنی عقیدت و محبت اور مرزائیت سے اپنی نفرت کا اظہار کیا۔ آخر میں مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد اورنگ زیب اعوان نے سامعین سے اپیل کی کہ صرف اور صرف نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر فتنہ قادیانیت کا تعاقب کریں اور حشر کی ہولناکیوں میں شافع محشر ﷺ کی شفاعت کے حقدار بنیں۔ اس پر سامعین نے ہاتھ اٹھا کر عہد کیا کہ اب ہم انشاء اللہ قادیانی کتوں کو پٹہ ڈال کر دم لیں گے۔ (مجاہد ختم نبوت جناب صابر غفور علوی کا مکتوب مولف کے نام)
خدائی عذاب
کوٹلی (آزاد کشمیر) سے جناب ابو سفیان تحریر کرتے ہیں کہ گزشتہ برس عالمی مجلس
تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب پہلی دفعہ کوٹلی تشریف لائے۔ شہر کی تاریخی جامع مسجد ”شاہی مسجد“ میں مولانا کا ایمان پرور‘ وجد آفریں اور قادیانیت سوز خطاب ہوا جس میں مولانا نے قادیانیت کے خوب بخیے ادھیڑے۔ مسجد کے قریب ہی قادیانی جماعت کوٹلی کے امیر کا مکان ہے۔ مولانا اللہ وسایا کے خطاب کے دوران...... کی قادیانی لڑکی جو گھر میں بیٹھی مولانا کی تقریر سن رہی تھی‘ اس نے مولانا کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی۔ تقریر کے اختتام پر وہ اٹھ کر رفع حاجت کے لیے بیت الخلاء میں گئی۔ بیت الخلاء میں داخل ہوتے ہی اس زور سے گری کہ اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ بڑے بڑے ہسپتالوں میں زیر علاج رہنے کے باوجود ابھی تک اس کی ٹانگ ٹھیک نہیں ہوئی۔ سچ ہے کہ ”کسی ولی کی شان میں گستاخی کرنے والے کے خلاف اللہ تعالیٰ کا اعلان جنگ ہے“۔ (مولانا اورنگ زیب اعوان کا مکتوب راقم کے نام)
افتخار کا ایثار
ایک دفعہ دفتر مرکزیہ ملتان سے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کا مجھے حکم ملا کہ ہری پور میں غازی کے قریب سلم کھنڈ نامی جگہ پر ایک نوجوان ذاکر حمید رہتا ہے۔ اس سے ملاقات کریں اور اسے رد قادیانیت سے متعلق معلومات فراہم کریں۔ بھائی افتخار سے جب ذکر ہوا تو انہوں نے وعدہ کیا کہ دونوں ایک ساتھ سلم کھنڈ کا سفر کریں گے۔ غازی کے لیے دن میں صرف دو دفعہ GTS کی گاڑی جاتی ہے۔ پہلی صبح 8 بجے جبکہ دوسری سہ پہر 3 بجے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ صبح 8 بجے والی گاڑی پہ جائیں گے کیونکہ رات واپس بھی آنا ہے۔ حسب وعدہ میں بس اسٹینڈ پر پہنچ گیا مگر بھائی افتخار نہ آئے۔ غصہ بھی آیا کہ وعدہ کر کے نبھایا نہیں۔ خیر میں گاڑی پر سوار ہوا۔ ساری راہ انہیں کوستا رہا کہ وعدہ کر کے آئے نہیں اور خواہ مخواہ مجھے بھی خراب کیا ہے۔ خدا خدا کر کے غازی پہنچا۔ سلم کھنڈ کے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ پہاڑوں میں سے انتہائی سنسان‘ ویران اور دشوار گزار راستوں سے گزر کر جانا پڑتا ہے اور پیدل راستہ تقریباً 8-7 کلو میٹر ہے۔ توکل
علی اللہ پیدل سفر شروع کیا۔ ویران و سنسان راستوں سے گزرتا ہوا مطلوبہ گاؤں پہنچا۔ جناب ذاکر حمید سے ملاقات ہوئی۔ تھوڑی دیر آرام کیا کہ اسی اثناء میں اذان ہو گئی۔ ہم نماز ظہر پڑھنے مسجد چلے گئے۔ جب نماز سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو راستہ میں گاؤں کا ایک لڑکا ملا۔ اس نے کہا کہ جناب جلدی پہنچیں۔ ہری پور سے آپ کے کوئی دوست آئے ہیں۔ میں حیران ہوا کہ ہری پور سے کون آگیا ہے۔ اللہ خیر کرے۔ جب جلدی جلدی حجرہ میں پہنچا تو دیکھ کر حیران و ششدر رہ گیا کہ وہ مہمان اخلاص و وفا کے پتلے مجاہد ختم نبوت اور میرے بھائی جناب افتخار احمد تھے۔ میں نے انتہائی حیرانگی سے پوچھا بھیا آپ اور یہاں؟ تو مسکرا کر کہنے لگے کہ رات راولپنڈی میں امیر عزیمت مولانا حق نواز جھنگویؒ کا پروگرام تھا۔ حضرت مولانا قاری محمد بشیر (خطیب ہزارہ) مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ صبح سویرے میں وہاں سے نکلا لیکن پھر بھی تاخیر ہو گئی۔ سوچا کہ تم سے وعدہ کر رکھا تھا اگر نہ پہنچا تو تم ناراض ہو گے اور وعدہ بھی ایفا نہیں ہو گا لہٰذا بڑی ہی مشکل سے یہاں تک پہنچا ہوں کہ وعدہ بھی ایفا ہو جائے اور تم بھی ناراض نہ ہو۔ سبحان اللہ! سنگلاخ چٹانوں، بیابان و ویران راہوں اور بھول بھلیوں سے گزر کر یہ مرد مجاہد صرف اس لیے پہنچا کہ وعدہ ایفا ہو جائے۔ یوں مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی یاد تازہ کر دی۔ اگر کوئی اور ہوتا تو ہرگز ہرگز ان راہوں پر نہ چلتا مگر یہ بھائی افتخار مرحوم کی جرات و ہمت اور جذبات کی صداقت تھی کہ ایفائے عہد کے لیے اتنا کٹھن سفر کیا۔ (مولانا اورنگ زیب اعوان کا مکتوب، راقم کے نام)
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور قادیانیت
آپ کا سلسلہ نسب کشمیر کے ایک نو مسلم خاندان سے ملتا ہے۔ آبائی وطن سری نگر ہے۔ باپ دادا پشمینے کا کاروبار کرتے تھے۔ ایک دفعہ مال لے کر امرتسر آئے تو یہیں کے ہو رہے۔ آپ کی ولادت ١٨٦٨ء میں امرتسر میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مولانا احمد اور مولانا غلام رسول قاسمی سے حاصل کی۔ بعد ازاں حضرت مولانا حافظ عبد المنان وزیر آبادی کی خدمت میں تشریف لے گئے اور ان سے حدیث کی چند کتابیں پڑھیں۔ پھر دہلی کا رخ کیا اور
حضرت میاں صاحب کے درس میں شامل ہو گئے۔ کچھ عرصہ وہاں پڑھنے کے بعد سہارنپور تشریف لے گئے اور پھر وہاں سے دارالعلوم دیوبند چلے گئے۔
یہاں کی دینی فضا، علمی ماحول اور ایک خاص نصاب کی پابندی سے درسیات کی تعلیم انہیں بہت پسند آئی۔ آپ نے حدیث و فقہ کی تعلیم حضرت شیخ الہند سے اور منطق، فلسفہ اور علم ہیئت کی تعلیم دوسرے اساتذہ سے حاصل کی۔ ابھی دیوبند ہی میں تھے کہ مدرسہ فیض عام کانپور کی کشش نے انہیں کھینچا اور معقولات کی ادق کتابیں پڑھنے کے لیے حضرت مولانا احمد حسن کانپوری کی خدمت میں تشریف لے گئے۔ حضرت کانپوری معقولات کی تدریس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ متحدہ ہندوستان کے دور دراز کے علاقوں سے معقولات کے شوقین ان کے پاس آتے تھے۔ مولانا نے بھی ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیے اور معقولات کی بڑی بڑی کتابیں ان سے پڑھنے لگے۔ حضرت کانپوری نے ان دنوں نئی نئی حدیث پڑھانی شروع کی تھی۔
مولانا کو فن حدیث سے بڑی دلچسپی تھی۔ ہندوستان کے بڑے بڑے محدثین سے حدیث پڑھ کر آئے تھے اس لیے حدیث کے اسباق میں مسلسل شریک ہوتے۔ ١٨٩٢ء میں مدرسہ فیض عام کا سالانہ جلسہ ہوا۔ اس میں جن ٨ فارغ التحصیل طلبہ کی دستار بندی استاذ العلماء حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی نے کی، ان میں ایک مولانا ثناء اللہ امرتسری بھی تھے۔ کان پور سے سند فراغت لے کر وطن پہنچے اور مدرسہ تائید الاسلام امرتسر میں درسیات کی تعلیم پر مامور ہوئے۔ مولانا کو بچپن ہی سے مناظروں اور دینی مباحثوں سے بڑی دلچسپی تھی۔ دوران تعلیم بھی مختلف مسلک کے طلبہ اور اساتذہ سے خوب مذہبی بحثیں کرتے رہے تھے۔ اس سے نہ صرف ان کی معلومات میں غیر معمولی اضافہ ہوا بلکہ مناظرانہ داؤ پیچ بھی آگئے۔ اس زمانے میں آریہ سماجیوں اور عیسائی مبلغوں نے ہندوستان میں ایک طوفان مچا رکھا تھا۔
وہ مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے اور اپنے مذہب کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ پر رکیک حملے کرتے اور مسلمانوں میں دل آزار لٹریچر تقسیم کرتے، جس سے اہل اسلام کے جذبات
مجروح ہوتے اور وہ کفر کی اس حرکت پر جل بھن جاتے۔ اس زمانے میں قادیانیت کے نام سے ایک نیا فتنہ نمودار ہوا۔ یہ فتنہ دجل و تلبیس اور مکر و فریب میں ان سے کسی طرح کم نہ تھا اور مسلمانوں کو اسلام کے نام پر گمراہ کر رہا تھا۔ ان حالات میں مولانا کے لیے بیٹھنا بہت مشکل ہو گیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان تمام فتنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے اور مسلمانوں پر دلائل و براہین سے ان کا بطلان واضح کیا جائے۔ مرزا نے ان دنوں مسیحیت کا دعویٰ کیا اور نزول مسیح کے نام سے ایک رسالہ تحریر کیا‘ جس میں ڈیڑھ سو پیش گوئیاں تھیں اور مولانا ثناء اللہ مرحوم کو لکھا کہ قادیان آکر کسی پیش گوئی کو جھوٹا ثابت کر دیں تو فی کس ایک ایک سو روپیہ دیا جائے گا اور آمد و رفت کا کرایہ علیحدہ۔
مرزا نے تو اس ارادے سے چیلنج دیا تھا کہ مولانا کیا آئیں گے اور کیا میری پیش گوئیوں کی تردید کریں گے مگر مولانا قادیان پہنچ گئے اور اپنی آمد کی اطلاع مرزا کو دی۔ مرزا کہاں مناظرہ کرنے والا تھا۔ وہ تو ان کی آمد سے اور برافروختہ ہو گیا اور ان سے جان چھڑانے کے لیے بے تکی شرطیں لگانے لگا۔ آخر کار مناظرہ نہ ہو سکا۔ مگر دونوں طرف سے باہمی مخالفت کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ مولانا نے اپنے اخبار اہل حدیث میں مرزا کے دجل و فریب کا وہ پردہ چاک کیا کہ قادیان کے در و بام ہل گئے۔ مرزا مولانا کے اس طوفانی انداز سے مرزا ایسا سٹپٹایا کہ گالیوں پر اتر آیا اور مولانا کو ذلیل‘ پاپی‘ کمینہ‘ مفسد اور مفتری تک کہنے سے بھی نہ چوکا۔ جب بہت زیادہ ذلیل و رسوا ہوا تو ان کے حق میں بددعا کرتے ہوئے کہا: ”اے خدا میں تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے‘ اس کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھا لے یا کسی سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو‘ مبتلا کر“۔
اس اعلان کے بعد جھوٹا سچے کی زندگی میں چل بسا۔ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو واصل جہنم ہوا اور حضرت مولانا کا انتقال تقسیم ہند کے بعد ١٥ مارچ ١٩٤٨ء کو سرگودھا میں ہوا۔ مولانا کی ساری عمر مناظروں اور مباحثوں میں گزری۔ قادیانیوں سے بھی انہوں نے عقلی و نقلی مناظرے کیے۔ ان مناظروں میں انہیں شاندار کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے عقلی و نقلی دلائل سے نہ صرف اپنے حریفوں کو چت کیا بلکہ انعامات بھی
حاصل کیے۔
ان میں ایک معرکۃ الاراء مناظرہ لدھیانہ کا ہے جس میں منصفین کے سرپنچ ایک سکھ وکیل سردار گوربچن سنگھ تھے، جنہوں نے مناظرے کی پوری روداد سننے کے بعد اپنا فیصلہ مولانا کے حق میں دیا۔ یہ معرکہ بھی بڑی کامیابی سے سر کیا۔ اس سے زیادہ مشہور وہ مناظرہ ہے جو مولانا نے قادیانی جماعت سے ریاست رامپور میں کیا۔ اس میں نواب رامپور خود تشریف لائے اور شروع سے آخر تک پوری توجہ سے مناظرہ سنا۔ مولانا نے قادیانیوں کے مکر و تلبیس کا ایسے پردہ چاک کیا کہ نواب صاحب ششدر رہ گئے۔ اس معرکہ میں مرزائیوں کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نواب صاحب آپ کی علمی قابلیت اور فنی مہارت سے اتنے متاثر ہوئے کہ آپ کو اس عظیم الشان کامیابی پر ریاست کی طرف سے سرٹیفکیٹ مرحمت کیا جس کے الفاظ یہ ہیں:
”رام پور میں قادیانی صاحبوں سے مناظرے کے وقت مولوی ابو الوفاء محمد ثناء اللہ کی گفتگو ہم نے سنی۔ مولوی صاحب نہایت فصیح البیان ہیں اور بڑی خوبی یہ ہے کہ برجستہ کلام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جس امر کی تمہید کی‘ اسے بدلائل ثابت کیا۔ ہم ان کے بیان سے مسرور و محظوظ ہوئے۔
نواب صاحب بہادر محمد حامد علی خاں
آخر یہ موحد متورع‘ عالم جلیل‘ خادم دین متین‘ مناظر اسلام جس کے بارے میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمٰن فرمایا کرتے تھے کہ ہم لوگ ٣٠ سال تک بھی محنت کریں تو ان کی واقفیت تک نہیں پہنچ سکتے۔ ١٥ مارچ ١٩٤٨ء کو اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حق مغفرت کرے‘ عجب آزاد مرد تھا۔
از قلم محمد باقر جامی ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی
شیطان رشدی کا نانا ڈاکٹر عطاء اللہ بٹ قادیانی تھا!
شیطان رشدی اور کذاب مرزا قادیانی میں مماثلت یہ ہے کہ رشدی نے اپنی شیطانی کتاب میں انبیاء کرام اور مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز بکواس کی ہے۔ ٹھیک اسی طرح مرزا کذاب قادیانی نے بھی اپنی تصانیف میں انبیاء کرام‘ صحابہ کرام‘ اہل بیت عظام نیز علماء امت کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے نازیبا الفاظ کہے۔
حال ہی میں ہمیں ایک خط محترم محمد افہام اللہ صاحب کا دستیاب ہوا ہے جس میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ رشدی کا نانا ڈاکٹر عطاء اللہ بٹ قادیانی تھا۔ محترم محمد افہام اللہ کا تعارف یہ ہے کہ بھارت کے مشہور حکیموں سے ہیں اور دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں۔ موصوف‘ رشدی کے نانا ڈاکٹر عطاء اللہ بٹ کے شاگرد ہیں۔ ڈاکٹر موصوف قادیانی تھا جیسا کہ ان کے خط سے ظاہر ہے۔
حکیم محمد افہام اللہ کا خط جو کہ مولانا ارشد مدنی کے نام لکھا گیا تھا‘ وہ ملاحظہ فرمائیں:
علی گڑھ ‘ ٩ جون ٨٩ء
سلمان رشدی کے نانا ڈاکٹر عطاء اللہ بٹ پرنسپل طبیہ کالج مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے تھے۔ علم الجراحت انہوں نے مجھ کو پڑھایا ہے۔ قادیانی مسلک کے تھے۔ انہیں کی وجہ سے طبیہ کالج میں قادیانیوں کا عروج تھا۔ بحمد اللہ اس کے بعد سب کا صفایا ہو گیا۔
دعا جو و دعا گو
محمد افہام اللہ
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ١٠‘ شمارہ ٢٣)
کابلی پٹھان اور قادیانی کے درمیان دلچسپ مناظرہ
حضور خاتم النبیین علیہ السلام نے بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے۔ حضور علیہ السلام کی نقالی میں مرزا غلام قادیانی نے بھی والی افغانستان امیر عبدالرحمٰن کو خط لکھا کہ ”میں نبی
ہوں ، مجھ پر ایمان لاؤ"۔
امیر عبدالرحمن نے جواب دیا کہ ”ایں جابیا“۔ ذرا یہاں آ جاؤ تو تم کو دعویٰ نبوت کا مزا چکھا دیا جائے گا۔ چنانچہ افغانستان میں جن لوگوں نے مرزائیت قبول کی ، وہ سنگسار کر دیے گئے۔
آخری قادیانی نعمت اللہ کی سنگساری پر مرزا محمود کو بہت تکلیف پہنچی اور یہ فریاد لے کر وہ لندن پہنچا۔ انگریز نے تو کچھ نہ کیا مگر مولانا ظفر علی خان نے ایک طنزیہ نظم لکھ دی۔ چند متعلقہ شعر یہ ہیں:
گئے لندن بشیر الدین محمود
یہ مقصد آپ کا تھا سفر سے
کہ سرحد پر بچھائی جائے بارود
دکھائے اس کو لندن آ کے بتی
جہنم کی لپٹ جس میں ہو موجود
کوئی اس دین کے دشمن کو سمجھائے
کہ ساری کوششیں تیری ہیں بے سود
بھلا برطانیہ کو کیا پڑی ہے
تیری خاطر جہنم میں پڑے کود
ہو تم بھی کیا کسی کرنیل کی میم
اٹھا کے لے گئے ہوں جس کو محسود
(محسود وزیرستان کا مشہور قبیلہ ہے جو انگریزوں سے مسلسل لڑتا ہی رہا)
یہ قصہ تو ضمناً آ گیا۔ اصل بات تو کابل کے پٹھان کے مناظرے کی تھی۔ ١٩٤٦ء میں فقیر کی شادی کے موقعہ پر فقیر کے مرشد معظم حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی فقیر کے غریب خانہ موضع درویش نزد
ہری پور تشریف لائے۔ شادی سے فراغت کے بعد حضرت مرحوم نے دہلی جانا تھا۔ رفقاء سفر میں مولانا حاجی جان محمد صاحبؒ ساکن موضع باگڑ سرگانہ تحصیل کبیروالہ ضلع ملتان جناب حافظ میر سید عبدالحمید صاحب بہاولپوری اور فیض محمد خان کابلی بھی موجود تھے۔ یہ دسمبر ٣٦ء کا آخری عشرہ تھا۔ ظفر اللہ قادیانی ریلوے کا وزیر تھا۔ ریلوے میں مسلمانوں کے حصے کی سب بڑی ملازمتیں دھڑا دھڑ مرزائیوں کو مل رہی تھیں اور مرزائیوں کا دماغ آسمانوں پر تھا۔
مالیر کوٹلہ‘ پٹیالہ‘ نابھا‘ دھنولہ سے ہو کر براستہ جند کرنال دہلی جانا تھا۔ ان دنوں مرزائیوں نے دسمبر کا آخری ہفتہ اپنے ارتداد کی تبلیغ کا مقرر کر رکھا تھا۔ ہماری گاڑی جب جند اسٹیشن پر رکی تو ایک نوجوان ہمارے کمرے میں آ دھمکا اور چھوٹتے ہی کہنے لگا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو نبی بنا کر بھیجا ہے اور اب دنیا کی نجات آپ پر ایمان لانے میں ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
ہم سب ساتھیوں نے اس پر اعتراضات شروع کیے۔ کسی نے عبداللہ آتھم کا قصہ چھیڑا‘ کسی نے محمدی بیگم کا‘ کسی نے ہیضے سے ٹٹی میں مرنے کا لیکن کوئی دو ٹوک فیصلہ نہ ہو رہا تھا۔ فیض محمد کابلی غور سے سوال و جواب سنتے رہے۔
یہ فیض محمد خان بڑے لحیم شحیم مضبوط جسامت‘ طویل و عریض قد و قامت کے بزرگ تھے۔ بلا مبالغہ ان کا سر اور چہرہ چھ نمبر کے فٹ بال جتنا تھا۔ بھورے بھورے بال‘ سبز آنکھیں۔ ان کا قد کاٹھ دیکھ کر ویسے ہی خوف آتا تھا۔ آخر میں وہ فیصلہ کن انداز میں کہنے لگے:
”تم چپ رہو تم کو بات کرنا نہیں آتا ہے۔ اب اس سے ہم بات کرتا ہے۔ پھر اس مرزائی سے مخاطب ہوئے۔
خان کابلی: تم یہ بتاؤ کہ جو نبی ہوتا ہے‘ وہ بہادر ہوتا ہے یا بزدل؟
مرزائی: سچا نبی بہادر ہوتا ہے۔
خان کابلی: اچھے سچے نبی کا امتی بہادر ہوتا ہے یا بزدل؟
مرزائی: سچے نبی کا امتی بھی بہادر ہوتا ہے۔
خان کابلی: اچھا جھوٹا نبی بہادر ہوتا ہے یا بزدل؟ مرزائی: جھوٹا نبی بزدل ہوتا ہے۔ خان کابلی: جھوٹے نبی کا امتی بہادر ہوتا ہے یا بزدل؟ مرزائی: جھوٹے نبی کا امتی بھی بزدل ہوتا ہے۔ خان کابلی: اچھا دیکھو ہمارا نبی پاک سچا تھا اور بہادر تھا اور تمہارا نبی جھوٹا بھی تھا اور بزدل بھی تھا۔ اس لیے تم جو اس کے امتی ہو، جھوٹے بھی ہو، اور بزدل بھی اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جو کوئی ہمارے سچے نبی کو گالی دے، تو ہم بہادر اور سچے ہیں۔ ہم اس گالی کو ہرگز برداشت نہیں کرتے بلکہ رسول پاک کی عزت کے لیے ہم اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں لیکن تم جھوٹے ہو اور بزدل بھی ہو۔ اس لیے جو تمہارے نبی کو گالی دے تو تم کچھ نہیں کر سکتے۔
اب سنو میں کہتا ہوں تمہارا نبی حرامی تھا، کنجر تھا، بدذات تھا، اس کی ماں کی...... اس کی بہن کی...... اس کی بیٹی کی وغیرہ وغیرہ۔ بہت سی مغلظات خان صاحب نے ایک ہی سانس میں سنادیں۔ پھر قمیض کے نیچے نیفے سے کمانی دار چاقو نکالا اور اسے کھولا۔ اس کا چھ انچ کا انتہائی تیز دھار کا پھل چمکتا، دمکتا تھا اور اس چاقو کو مرزائی کے سینے کی طرف تان کر کابلی خان گرجا:
اب تم ہمارے نبی پاک کے متعلق بولو۔ بولو۔ وہ مرزائی تھر تھر کانپنے لگا۔ سیٹ پر اس کا پیشاب بھی خطا ہو گیا۔ نیچے ایک مسافر کا بستر بھی ناپاک ہو گیا۔ اب اگلے اسٹیشن پر گاڑی جو رکی تو اس مرزائی نے دروازہ بھی نہ کھولا۔ کھڑکی کھلی تھی، تیزی سے پہلے دو ٹانگیں باہر نکالیں اور نیچے ریلوے لائن پر جا گرا۔ جان بچی سو لاکھوں پائے، خیر سے بدھو گھر کو آئے۔
کابلی واقعی کابلی ہوتے ہیں۔ یہ تو تھا خان کابلی کا دوٹوک مناظرہ۔ بعد میں جب ہم نے یہ قصہ حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو سنایا تو آپ بہت محظوظ ہوئے۔ اور اکثر سفر میں لطف انگیزی کے لیے کابلی خان سے وہ قصہ سنتے رہتے۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ٨، شمارہ ٩)
از قلم مولانا قاضی محمد شمس الدین درویش
مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمودؒ
ہاں ! تو بات چل رہی تھی حضرت مولانا تاج محمود علیہ الرحمۃ کی۔ غالباً ١٩٥٦ء کے موسم گرما کا ذکر ہے کہ ایڑی سے چوٹی تک پسینے میں شرابور‘ جب ماسٹر تاج الدین انصاری علیہ الرحمۃ کی کھلی کچہری کو الوداع کہتے ہوئے میں باہر نکلا تو سوچا کہ مولانا عبدالرحمن میانوی علیہ الرحمۃ کی زیارت بھی کرتا چلوں۔ ماسٹر صاحب کے اطاق پذیرائی سے صرف ایک یا دو قدم کے فاصلے ہی پر تو ان کا دفتر تھا۔ اندر داخل ہوا تو حضرت میانوی علیہ الرحمہ ایک پرانے ٹائپ کی آرام کرسی پر براجمان تھے اور بالوں پر‘ جوہر وسمہ مندی لگا رکھی تھی۔ دوسری کرسی پر‘ مولانا لال حسین اختر علیہ الرحمۃ میر محفل بن کر فروکش تھے۔ ان دونوں کے قریب رکھی گئی تیسری کرسی پر ایک عدد نئے مہمان کا اضافہ بھی تھا۔ کھلتا ہوا گندمی رنگ‘ سر پر اونچی دیوار کی قراقلی ٹوپی‘ سچی اور سیاہ داڑھی‘ تدبر و فراست سے مملو‘ موٹی موٹی اور متحرک آنکھیں‘ علیک سلیک اور مصافحے کے بعد میں پوری طرح اپنی نشست سنبھال بھی نہیں پایا تھا کہ ایک کھنکتی ہوئی‘ طویل الصوت اور گرج دار ”السلام علیکم“ کے ساتھ مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش علیہ الرحمۃ اچانک طلوع ہوئے۔
مولانا میکش نے ہم سے مصافحہ کیا اور مہمان کو آگے بڑھ کر پھرتی سے گلے لگالیا۔ دونوں مذہبی رہنماؤں کا یہ پرخلوص معانقہ جس پر اچھا خاصا وقت صرف ہوا تھا‘ جب اختتام پذیر ہوا تو مولانا میکش فرمانے لگے ”اوئے! تاج محمود ٹھنڈ پا دتی او کالجے وچ“ اب معلوم ہوا کہ مولانا تاج محمود فیصل آبادی (اس دور میں لائل پوری) یہی ہیں۔ ایک صحافی اور پھر احراری ہونے کی وجہ سے میں ان سے غائبانہ متعارف بھی تھا۔ مولانا میکش علیہ الرحمۃ ایک زندہ دل انسان تھے۔ کسی کے چٹکی لے لی۔ بکوٹا بھر لیا۔ خاص طور پر قادیانیوں پر وہ ٹوٹ پڑتے تھے۔ لیکن پھکڑ بازی تک نوبت نہیں پہنچنے پاتی تھی۔
اس روز پہلے تو وہ مولانا میانوی کو اپنی ظرافت کا نشانہ بناتے رہے ۔ پھر ان کی ظرافت کا رخ قادیانیوں کی طرف مڑ گیا۔ لطیفے کے ساتھ جڑا ہوا ظرافت کا ایک گلدستہ معلوم ہو رہا تھا۔ مولانا عبدالرحمن میانوی علیہ الرحمۃ نے ضمناً میرا تعارف بھی کرا دیا۔ بات رفت گزشت ہو گئی اور انقلاب دوراں نے مجھے سندھ کے اسی علاقے میں لا پھینکا جو قادیانی جاگیرداری کا مرکز تھا۔ کنری شہر جو موجودہ ضلع عمرکوٹ کی ایک تحصیل کا مرکزی شہر ہے۔ ان دنوں ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ انتہائی پس ماندہ قصبہ، سیاست اور معیشت پر عملاً قادیانیت کا قبضہ تھا۔ اس قصبے کی گلیوں میں کھیلتے ہوئے قادیانی ننھے منے بچے مرزا قادیانی کا یہ شعر کورس کے انداز میں مل کر گاتے ہوئے دکھائی دیتے تھے:
ٹاؤن کمیٹی کے اراکین ضلع کے حکام منتخب کرتے تھے۔ اس لیے ٹاؤن کمیٹی بھی قادیانیت کے قبضے میں تھی۔ کمیٹی کی لائبریری میں داخل ہونے کے بعد یہ احساس پیدا ہوتا تھا کہ غلطی سے ”ربوہ“ کی لائبریری میں پہنچ گئے ہیں۔ مستری برکت علی جالندھری پرانے احراری اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے بوڑھے اور دانا جرنیل ہیں۔ انہی کی شبانہ روز مساعی سے کنری شہر میں ایک جلسہ عام کے ذریعہ سندھ سرکار سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ ”کنری ٹاؤن“ کمیٹی کے اراکین الیکشن کے ذریعہ منتخب کیے جائیں۔ انتخابات ہوئے تو قادیانی صرف ایک نشست حاصل کر سکے۔ مولانا محمد علی جالندھری علیہ الرحمۃ ہر سال یہیں تشریف لاتے تھے۔ راقم الحروف نے قادیانیت کے خلاف ایک علمی مورچہ قائم کر رکھا تھا۔ مولانا محمد علی جالندھری کے علاوہ مولانا محمد شریف جالندھری نور اللہ مرقدہ قادیانیت کے خلاف میرے اس قلمی جہاد کے مداح تھے۔
انہوں نے مولانا تاج محمود علیہ الرحمۃ کو ہدایت کی کہ سبطین کو ”لولاک“ کی نمائندگی دی جائے۔ آپ نے مجھے ایک نوازش نامے کے ذریعے مطلع کیا کہ تمہیں ”لولاک“ کا نمائندہ مقرر کر لیا گیا ہے۔ غالباً بھٹو مرحوم کا دور حکومت تھا۔ ہفت روزہ ”المنبر“ فیصل آباد کے علاوہ پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث کراچی اور چند سندھی ہفت روزوں میں قادیانیت کے خلاف میرے مضامین مسلسل شائع ہو رہے تھے۔ مرزا ناصر
آنجہانی کا پرائیویٹ سیکرٹری ہر دو ماہ کے بعد اس علاقے میں آتا اور بارڈر کے قریب ایک گاؤں میں مقیم کسی ہندو کے پاس جاتا تھا۔ میں نے تعاقب کیا تو انکشاف ہوا کہ پاکستان کی قادیانی ڈاک اسی ہندو کے توسط سے بھارت پہنچا دی جاتی ہے۔
میں نے اس گاڑی کا نمبر نوٹ کیا۔ مولانا محمد شریف جالندھری علیہ الرحمہ کے ہاتھ دفتر ”لولاک“ میں دستی بھجوا دیا۔ مولانا تاج محمود علیہ الرحمہ نے اسے ایک مراسلے کی شکل میں شائع کر دیا۔ مضمون کی اشاعت میرے لیے وبال جان بن گئی۔ پورے ضلع کے قادیانی دوڑے پھرتے تھے۔ مجھے گرفتار کرانے کے سارے حربے استعمال کیے گئے لیکن ناکامی ازل ہی سے قادیانیت کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے، اسی لیے محفوظ رہا۔ غالباً ١٩٧٧ء کے انتخابات کے بعد میں فیصل آباد آگیا۔ مولانا حکیم عبدالرحیم صاحب اشرف کے یہاں پہنجا تو وہاں مولانا تاج محمود تشریف فرما تھے۔ میں نے انہیں اپنا تعارف کرایا۔ انہوں نے مجھے گلے لگا لیا۔
سچی بات تو یہ ہے کہ میں انہیں پہچان نہیں پایا تھا۔ جب انہوں نے خود ہی بتایا کہ ”بھئی! مجھے تاج محمود کہتے ہیں“ تو میں حیران رہ گیا کہ بیس سال کے بعد ان کے نقش و نگار، بدل چکے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد حکیم صاحب تشریف لائے اور نظام مصطفیٰؐ کے داعی ”قومی اتحاد“ کے ساتھ بھرپور تعاون پر مشتمل ایک قرارداد کا مسودہ فیصل آباد کے علماء دین کی طرف سے تیار ہونے لگا۔ مولانا تاج محمود لکھا رہے تھے اور حکیم صاحب لکھ رہے تھے۔ میں مولانا تاج محمود کی ذہانت پر عش عش کر اٹھا کہ ان کی طرف سے فی البدیہہ لکھائی جانے والی یہ قرارداد پارلیمانی زبان کا عکس معلوم ہو رہی تھی۔ مولانا حکیم عبدالرحیم صاحب اشرف نے مجھے ہفت روزہ ”المنبر“ کے ادارہ تحریر میں لے لیا تو مولانا تاج محمود علیہ الرحمہ سے قربت کا شرف بھی مجھے حاصل ہو گیا۔
کبھی حکیم صاحب کے آستانہ ”بیت اشرف“ میں، کبھی ٹیلیفون پر اور کبھی ”لولاک“ کے دفتر میں۔ ان کی محفل میں رومی کا سوز و ساز بھی ہوتا اور رازی کی پیچ و تاب بھی۔ مولانا تاج محمود علیہ الرحمہ کا طرز تحریر بڑا سادہ تھا۔ عام فہم تحریر میں علمیت کو بگھارنے کے وہ سرے سے قائل ہی نہیں تھے۔ لیکن اس سادہ پن میں جب وہ مزاح کو
عکس کر دیتے تو ان کے قلم سے پھول جھڑتے تھے۔ سنہ ٥٣ میں چودھری ظفر اللہ قادیانی کے جلسے میں جو بھگدڑ مچی تھی، افرا تفری کے اس عالم کو وہ کس مزے سے بیان کرتے ہیں۔ ”ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگے، انتظامیہ نے لاٹھی چارج کیا۔ بس پھر کیا تھا، تو میری کار میں، میں تیری کار میں“ دراصل یہ لکھتے وقت سکھوں کا وہ مشہور عام لطیفہ ان کے ذہن میں گردش کر رہا تھا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے کہنے پر کسی سکھ کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ مولوی صاحب کی بتائی ہوئی عبارت کو گورمکھی زبان میں تحریر کرے۔ اور دوسرا سکھ اس عبارت کو پڑھ کر سنائے۔ مولوی صاحب نے عبارت لکھائی۔ رفیع الدرجات، قاضی الحاجات، قطب الدین سلمہ اللہ تعالٰی۔ سکھ نے گٹا مٹا کر کے عبارت لکھ دی۔ جب دوسرے سکھ کو پڑھنے کے لیے بلایا گیا تو اس نے عبارت پڑھنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مہاراج اس میں تو گالیاں لکھی ہوئی ہیں۔
رنجیت سنگھ نے کہا تمہیں یہ عبارت پڑھنی پڑے گی۔ سکھ نے اس عبارت کو یوں پڑھا ”رپھی دی جات، قاجی دی جات، کتا بے دین، تو میرا سالا، میں تیرا سالا“۔
جب آپ اپنی گفتگو میں مزاح کی آمیزش کر دیتے تھے تو ہنستے ہنستے پیٹ دکھنے لگتا تھا۔ لاہور کے ایک سیاست دان کی کج بحثی موضوع سخن تھی۔ راقم الحروف اور مولانا تاج محمود حکیم عبدالرحیم اشرف صاحب کی معیت میں جامعہ تعلیمات اسلامیہ سے شہر کی طرف آ رہے تھے۔ حکیم صاحب نے فرمایا ”مولانا یہ سیاست دان تو کہتا ہے کہ اس کی سیاست کو بے وقت موت کی نیند سلا دیا گیا ہے“۔ مولانا مسکرائے اور فرمانے لگے ”جی میاں ایک گیدڑ کا رونا بھی یہی تھا کہ شیر نے اسے بے وقت موت کی نیند سلا دیا تھا“۔ حکیم صاحب بھی اس روز ایک خاص موڈ میں تھے۔ پوچھنے لگے ”وہ کیسے؟“ ”جی ہوا یوں کہ ایک گیدڑ مدتوں اس مسئلے پر غور کرتا رہا کہ شیر اپنے شکار کو آناً فاناً کیسے موت کی نیند سلا دیتا ہے؟ بالآخر وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ شیر اپنے شکار کو دیکھتے ہی پہلے تو اپنے بدن کے بال کھڑے کر لیتا ہے، پھر آنکھیں دکھاتا ہے۔ شکار اس کے عمل سے اپنا اعصابی توازن قائم نہیں رکھ سکتا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیر اس پر حملہ آور ہو کر اسے موت کی نیند سلا دیتا ہے۔ گیدڑ نے اپنی اس نادر ریسرچ کو پوری گیدڑ قوم کے سامنے بیان کیا اور کہا ”شیر سے خوفزدہ ہونے کی کوئی
ضرورت نہیں۔ اس نسخے کو حرز جاں بنالو اور فلاں تاریخ کو مقابلہ میں آنے کے لیے شیر کو میں نے اپنا الٹی میٹم بھی بھیج دیا ہے"۔
گیدڑوں نے اسے بہت سمجھایا کہ کیوں موت کو دعوت دے رہے ہو ؟"لیکن گیدڑ مہاراج پر ریسرچ اسکالر کہلانے کی دھن سوار تھی۔ وقت مقررہ پر "زندہ باد" کے نعروں کی گونج میں گیدڑ مہاراج جب اکھاڑے میں اتر آئے تو شیر نے ایک ہی چپت رسید کیا اور ایک شان بے نیازی کے ساتھ چلتا بنا۔ گیدڑ مہاراج اب اکھاڑے میں تڑپ رہے تھے۔ آنتیں باہر آچکی تھیں، خون کے فوارے ابل رہے تھے۔ وقت نزع کا عالم طاری تھا اور کہہ رہے تھے "ہائے ۔ ہائے، شریکاں نے پھڑ کے مروا دتا اے" ابھی تو میں پوری طرح آنکھیں بھی نہیں دکھا پایا تھا اپنے بدن کے بالوں میں سختی پیدا کر ہی رہا تھا کہ شریکوں کا اشارہ پاتے ہی شیر نے مجھ پر جارحانہ حملہ کر دیا۔
ہائے! ہائے شریکاں نے پھڑ کے بے وقت مروا دتا اے"۔ یہ کہتے ہوئے گیدڑ مہاراج کی "بولا ہی رام" ہو گئی۔ میں ادارہ "المنبر "سے مستعفی ہو کر واپس سندھ چلا گیا۔ ختم نبوت کانفرنس میں ملاقات ہوتی تو وہ مجھ سے بغل گیر ہوتے اور کہتے "ڈاکٹر صاحب! فیصل آباد کو آپ کی بہت ضرورت ہے۔ آپ کی کمی کا احساس مجھ پر ہر وقت غالب رہتا ہے۔
١٣ دسمبر ٨٣ء کو میں ایک ضروری کام سے فیصل آباد پہنچا۔ مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے مجھ سے شکوہ کیا کہ یہاں ایک ایسی مسجد سے فرقہ بندی کو ہوا دی جا رہی ہے جو مولانا تاج محمود کے زیر اثر ہے۔ میں نے آپ کو ٹیلی فون کیا۔ فرمانے لگے "سن چکا ہوں بھئی اور سن رہا ہوں۔ انتہائی معیوب حرکت ہے۔ اس طعن و تشنیع نے تو میرے جگر کو چھلنی کر دیا ہے۔ انشاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا"۔ عرض کیا حضرت! ملاقات کا وقت عنایت فرما دیجئے۔ فرمانے لگے "آپ کا یہ تجاہل عارفانہ بھی کلیجے میں ترازو ہو گیا ہے"۔ میں گھبرا اٹھا شاید کوئی گستاخی یا بے ادبی کے الفاظ میرے ذہن سے لاشعوری طور پر نکل گئے ہوں جنہیں مولانا نے بری طرح محسوس کیا ہو۔ ڈرتے ڈرتے استفسار کیا تو جواباً ارشاد فرمایا "ڈاکٹر صاحب! میرے یہاں آنے کے لیے آپ کا وقت طلب کرنا یہ بالکل ایسے ہی ناقابل
پُر وحشت بات ہے جیسے طارق محمود مجھ سے ٹیلیفون پر یہ کہے ” ابا جی میں گھر آسکتا ہوں ۔ ڈاکٹر صاحب ! میری کٹیا آپ کا اپنا گھر ہے اور گھر کے افراد خود اپنے ہی گھر آنے کے لیے ملاقات کا وقت مانگنے لگیں تو والدین اور سرپرستوں کو وحشت ہونے لگتی ہے “ ۔
چند ہی دن گزرے تھے غلام محمد آباد کی ایک مسجد میں درس قرآن دے رہا تھا کہ ایک آدمی ہڑبڑا کر بدحواسی کے عالم میں مسجد میں آیا ۔ اس کی ٹانگوں پر لرزہ طاری تھا۔ چہرے پر آنسوؤں کی پھوار تھی اور زبان میں لکنت ۔ کہنے لگا مولانا تاج محمود کا انتقال ہو گیا ہے۔ یہ خبر نہیں تھی بجلی کی ایک ننگی تار تھی جو کانوں کو ثقل سماعت میں مبتلا کرتے ہوئے کلیجے کو مفلوج کرتی ہوئی پورے اعصاب پر فالج گرا رہی تھی۔ لولاک کے دفتر سے رابطہ قائم کیا ۔ جواب ملا ” انہونی ہو چکی “ میں فوراً قیام گاہ پہنچا ۔ سوگوار سر نیوڑھائے بیٹھے تھے اور مولانا کی میت گھر میں رکھی تھی ۔ شام کو دوبارہ پہنچا۔ ہری پورہ سے اعزہ آئے تھے اور دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ رات بھر کرب و اضطراب کی کیفیت میں انگاروں پر لوٹتا رہا۔ دوسرے روز صبح پھر قیام گاہ پہنچا۔ مولانا محمد اشرف ہمدانی وضو بھی کر رہے تھے اور رو رہے تھے۔ پھر مجھے گلے لگا کر دیر تک روتے رہے۔ اب میت جنازہ گاہ کی طرف لے جانے کے لیے گھر سے باہر لائی جا چکی تھی ۔ صاحبزادہ طارق محمود چارپائی کے پاس کھڑے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے تھے ۔ میں نے انہیں بوسہ دیا تو چیخیں نکل گئیں ۔ مولانا میں آگیا ہوں۔ نالائق تھا دیر سے پہنچا ۔ سنتے تو ! لیکن
ایک بزرگ اور ایک سرپرست کی حیثیت سے میرا سب سے بڑا سہارا تھے۔ فیصل آباد میں ایک خاموش مگر ایک کامیاب صحافی کی زندگی گزار دینے میں میرے لیے مولانا علیہ الرحمہ کے مشورے آج بھی مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ معاشی بدحالی کے اس دور میں ایک مشنری زندگی بسر کرنے کے اصول راقم الحروف نے ماسٹر تاج الدین انصاری علیہ الرحمہ اور مولانا تاج محمود علیہ الرحمہ سے سیکھے تھے ۔ اس زر پرست دور کی نسل کبھی تصور ہی نہیں کر سکتی کہ ہمارے بزرگوں نے زندگی کیسے بسر کی تھی۔ ماسٹر تاج الدین انصاری علیہ الرحمہ کے لیے وہ دن عید کا روز سعید شمار ہوتا تھا جس روز انہیں چپاتی کے
ساتھ اچار مل جاتا تھا۔ مولانا تاج محمود علیہ الرحمتہ کے جنازے میں شریک ہوا۔ دور دور تک انسانی سر ہی سر نظر آ رہے تھے۔ آج سے ساٹھ سال قبل کے قائم کردہ دینی مدرسے کے ایک طالب علم تاج محمود کے جنازے نے شاہوں کے جنازے کو مات دے دی تھی۔ فیصل آباد جیسے صنعتی شہر میں بڑے بڑے صنعتکاروں کے جنازے کو یہ شرف کبھی حاصل نہیں ہو سکتا، جو ایک فقیر بے نوا تاج محمود کو عشق مصطفیٰ کے صلے میں بارگاہ خداوندی سے عطا ہوا تھا۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد، جلد ٣٠، شمارہ ٣١)
مولانا محمد شریفؒ جالندھری مرحوم
مولانا محمد شریفؒ جالندھری کا نام برسوں سے سن رکھا تھا۔ ٧٥ء سے خط و کتابت بھی تھی مگر انہیں دیکھنے، پڑھنے اور پرکھنے کا موقع ٨٣ میں ملا۔
مولانا بے شمار خوبیوں کے انسان تھے۔ سادگی، خلوص، نیکی اور فروتنی مولانا کا مزاج تھا۔ دین کے ساتھ محبت اور ختم نبوت کے ساتھ عشق مولانا کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ جس طرح مچھلی پانی میں آسودہ رہتی ہے، مولانا ختم نبوت کے کام میں خوش رہتے تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مولانا فنا فی ختم نبوت تھے تو مبالغہ نہ ہو گا۔
مولانا کے ساتھ پہلی ملاقات فروری ٨٣ء کے آخری عشرے میں سیالکوٹ میں ہوئی۔ خدا اسلم قریشی کے مراتب بلند کرے اس کا اغواء ہو چکا تھا۔ میں نے سیالکوٹ کے مزاج اور کمزور حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مولانا تاج محمود کو توجہ دلائی۔ انہوں نے مولانا شریف جالندھری سے بات کی اور وہ فوراً ہی سیالکوٹ آ گئے۔ خدا معلوم مولانا کس مٹی کے بنے تھے۔ سیالکوٹ پہنچ کر ایسا ڈیرا لگایا اور اس قدر جلسے کیے کہ کوئی نوجوان بھی اتنی صعوبت برداشت نہیں کر سکتا۔ مولانا کا اپنی کبر سنی کے باوجود یہ عالم تھا کہ ادھر گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، ملتان روانہ ہوئے اور ادھر پھر سیالکوٹ آ وارد ہوتے۔
خدا تعالیٰ نے مولانا کو معاملات کا فہم اور معاملات چلانے کا ایسا ڈھب ودیعت کر رکھا
تھا کہ جس کی مثال کم ہو گی۔ مولانا خود کھاتے پیتے زمیندار تھے۔ پولیس اور انتظامیہ کی نبضیں خوب سمجھتے تھے۔ سیالکوٹ میں جناب اسلم قریشی کی بازیابی کے لیے اگرچہ فروری کے ہفتے میں ایک ”بازیابی کمیٹی“ بن چکی تھی اور اس کے کرتادھرتا لوکل پولیس کی تفتیش سے مطمئن بھی تھے مگر مولانا کی نظر اصل حقیقت تاڑ چکی تھی۔ چونکہ وہ ایس پی طلعت محمود اور ڈی آئی جی میجر مشتاق احمد سے بار بار مل چکے تھے، معراجکے کا سفر بھی کر چکے تھے اور جناب اسلم قریشی کے سفر کی متعدد شہادتیں بھی یکجا کر چکے تھے، چنانچہ انہوں نے جون کے آغاز سے پہلے ہی پیش گوئی کر دی تھی کہ ایس پی طلعت محمود اسلم قریشی کو خرد برد کرنا چاہتا ہے اور لوکل مجلس عمل مسئلے کی نزاکت اور سنگینی کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ بعد میں جو کچھ ہوا، آج ہر شخص اسے جانتا ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت میں مولانا خان محمد مدظلہ کے علاوہ مولانا تاج محمود اور مولانا محمد شریف جالندھری یہ دو بزرگ ایسے تھے جن کے لیے اسلم قریشی کا اغواء دل کا ناسور بن چکا تھا۔ اگر میں یہ کہوں کہ مولانا تاج محمود اور مولانا محمد شریف جالندھری ”تلاش دوست“ میں جانثار ہوئے تو غلط نہ ہو گا۔ خدا مولانا محمد شریف کی مغفرت فرمائے۔ ان کے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی تھی اور وہ جلسوں اور نجی گفتگوؤں میں یہ مصرع پڑھا کرتے تھے
آہ! مولانا کی جان ان کے تن سے نکل کر ان کے ”مبلغ ختم نبوت“ کے پاس پہنچ گئی۔ مولانا! یہ تسلیم کہ آپ اپنے قول کے دھنی نکلے۔ اسلم قریشی کے اغواء کے بعد مولانا کا تجربہ یہ تھا کہ اب پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ ہماری آخری لڑائی ہے اور جب اپریل ٨٤ء میں قادیانی امتناع آرڈینینس جاری ہوا تو مولانا کی خوشی اور مسرت دیدنی تھی۔ فرمایا کرتے:
”تھوڑا سا کام رہ گیا ہے۔ ارتداد کی شرعی سزا جاری ہو جائے پھر میرا کام ختم، خدا مجھے اپنے پاس بلالے۔ میں خوشی خوشی اپنے بزرگوں اور دوستوں کے پاس جاؤں گا اور کہوں گا محمد شریف اپنے حصے کا کام کر آیا ہے۔ اب اپنے دوستوں سے مل کر مجھے کوئی ندامت نہیں ہو گی“
اپنے ایک خط میں مجھے لکھا اگر کوئی ریٹائرڈ جج قتل مرتد کے حق میں مضمون لکھے تو بڑا مفید ہو گا۔ یہ وقت کا تقاضا ہے۔ خواص پر اس مسئلہ کی حقانیت واضح کرنے کی بہت ضرورت ہے۔
مولانا کا ذہن یہ تھا کہ قادیانی آرڈیننس جاری ہو جانے کے بعد اب قادیانیت ملک میں سر اٹھا کر نہیں چل سکتی۔ وہ اس یقین کا اظہار کیا کرتے تھے کہ مستقبل کی کوئی حکومت اس آرڈیننس کو ختم نہیں کر سکتی۔ آرڈیننس پر عمل درآمد کے ضمن میں ان کا یہ ذہن تھا کہ ایک چیز بن گئی ہے اور میں توقع رکھتا ہوں کہ قوم اس قانون پر عمل درآمد کے لیے حالات خود ہموار کر لے گی۔ آخری دنوں میں ان کی تمام تر توجہ ارتداد کے شرعی قانون کے اجراء اور اس کے لیے ممکنہ تدابیر کی جانب تھی یا پھر اسلم قریشی ہر لحظہ ان کے سامنے رہتا تھا۔
مولانا میں ایک خاص چیز جو میں نے مشاہدہ کی، وہ طبیعت کا بے پناہ ٹھہراؤ اور سمندر کا سا گہرا سکوت تھا۔ ایک روز مولانا کا ٹیلی فون آیا کہ تم نے میاں عبدالقیوم اے آئی جی پولیس کے ساتھ ملنا ہے۔ گوجرانوالہ پہنچ جاؤ میں تمہارے ساتھ چلوں گا۔ میں نے وعدہ کر لیا۔ خدا کی پناہ سرشام مجھے گردے کے درد نے آلیا۔ بڑی مشکل بنی۔ اگلے روز نو بجے ملاقات تھی۔ میں نے آٹھ بجے مولانا کو اطلاع دی۔ انہیں جس کام کی دھن ہو جاتی، ہر قیمت پر اسے سرانجام دیتے۔ تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتا ہوں، مولانا گھر کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ میری حالت دیکھ کر اپنا اصرار ترک کیا اور وعدہ لیا کہ صحت یابی پر فوراً ان کے ساتھ چلوں گا۔
انہی دنوں اسلم قریشی کے اغواء کو سال پورا ہو گیا۔ سیالکوٹ میں عدیم المثال ہڑتال اور کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس کے بعد میں مولانا کے ہمراہ میاں عبدالقیوم صاحب کی رہائش گاہ پر انہیں ملا۔ میری اسلم قریشی کیس پر گفتگو ہوئی۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ حکومت بوجوہ اس کیس کو پردہ اخفا میں رکھنا چاہتی ہے۔ مولانا نے سیالکوٹ کانفرنس کے فیصلوں سے انہیں آگاہ کیا۔ مولانا جذبات سے یکسر خالی نہایت پرسکون مگر پریقین انداز میں کہہ رہے تھے:
”جناب علماء کرام نے فیصلہ کیا ہے اگر ١٢ اپریل تک ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ قادیانیوں کی عبادت گاہیں گرا دیں گے۔ جناب ختم نبوت کے مسئلے پر امت نے ہمیشہ ہی بڑی سے بڑی قربانی دی ہے اور اب بھی ہمیں یقین ہے امت ہر ممکن قربانی پیش کرے گی“۔ میاں صاحب نے مولانا کو سمجھاتے ہوئے کہا:
”مولانا لیکن یہ قانون شکنی ہے۔ کسی کی عبادت گاہ کو گرانا کوئی مناسب بات نہیں ہے۔ آپ لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے“۔
مولانا نے نہایت سکون اور تحمل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر کہا:
”جناب ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد کریم ﷺ نے منافقین کی مسجد ضرار گرائی تھی۔ ہم ان کی سنت پر عمل کریں گے۔ اب فیصلہ ہو گیا ہے۔ ہم اپنا فرض ادا کریں گے“۔
اسلم قریشی کیس میں ایک چیز جس نے ہمیں بہت پریشان کیا، وہ سیالکوٹ سے ہماری خبروں کا "Kill" ہو جانا تھا۔ چھوٹے شہروں کے اخباری رپورٹر بالعموم انتظامیہ اور پولیس سے دبتے ہیں۔ ایسی صورت میں اخبارات کے ایڈیٹرز سے براہ راست رابطہ ہی واحد کارگر ہتھیار ہے۔ میں نے مولانا جالندھری سے بات کی۔ برادرم مرحوم شورش سے ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر کو ٹیلی فون کروایا اور ان کے دفتر پہنچ گئے۔ مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا مفتی مختار احمد نعیمی، راقم اور دو ایک اور دوست تھے (جن کے نام اس وقت ذہن میں نہیں آ رہے) اخبار کے مالک اور مدیر مولانا جالندھری کو جس تپاک اور محبت سے ملے اور مولانا نے جس بے تکلفی کے ساتھ انہیں مخاطب کیا، مجھے اس پر خوشگوار حیرت ہوئی۔ معلوم ہوا کہ مولانا کے ان کے ساتھ پرانے روابط ہیں اور معاملہ گھریلو تعلقات کا سا ہے۔ ایڈیٹر موصوف نے ہماری بات نہایت توجہ سے سنی، فوری ایکشن لیا۔ نیوز روم کا سارا عملہ اور سیالکوٹ کے رپورٹر سے ہمارے سامنے جواب طلبی کی اور واضح الفاظ میں کہا کہ آئندہ ان کی کوئی شکایت میرے پاس نہ آئے۔ میرے ان لوگوں سے ذاتی تعلقات ہیں آپ لوگ سن لیں۔ اس ملاقات کا بہت فائدہ ہوا اور پھر ہمیں کم ہی مشکلات کا موقع ملا۔
مولانا محض حرکت اور جہد کے انسان نہ تھے بلکہ خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسے اور
توکل اور اس سے طلب استعانت کو مدار کامیابی سمجھتے تھے۔ ١٠ جون ١٩٨٣ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے لیے سیالکوٹ میں یوم دعا رکھ دیا۔ شومئی قسمت سے حالات پلٹا کھا گئے۔ پہلے تو نئی لوکل مجلس کے ذمہ دار ہی گریزاں نکلے۔ مولانا نے ان سے کہا آپ اپنا انکار لکھ کر دے دیں، مجلس کے صدر اور سرپرست نے لکھ کر دے دیا۔ فرمایا ”نعیم آسی بھی اس پر دستخط کرے‘ ورنہ تاج محمود نہیں مانے گا۔ میں غصے میں پڑا کہ یہ بیٹھے بٹھائے کیا مشکل آ پڑی۔ میرا ہمیشہ ہی یہی ذہن رہا ہے کہ اٹکے ہوئے کام تدبر اور جرات سے نکلتے ہیں۔ آپ جدوجہد کے میدان میں مداہنت سے کام لے کر کبھی سرخرو نہیں ہو سکتے۔ میں کاغذ کے اس پرزے پر دستخط نہیں کرنا چاہتا تھا مگر مولانا کا اصرار دیکھ کر دانائوں کی نادانی مجھے بھی مان لینا پڑی۔ مقامی مجلس کے انکار سے مولانا تاج محمود کو بہت تائو آیا۔ مجھے فون کیا اور نہایت غصے میں کہا:
”سیالکوٹ مجلس عمل کون ہوتی ہے ہمارا فیصلہ رد کرنے والی‘ اسلم قریشی ہماری جماعت کا مبلغ تھا۔ اور ہم بہرصورت ١٠ جون کو سیالکوٹ میں یوم دعا منائیں گے“۔
جماعت اسلامی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر نثار احمد قریشی مجلس کے رکن اور میرے ہمسایہ میں رہتے ہیں۔ میں نے ان سے بات کی۔ بریگیڈیئر صاحب بڑے سمجھدار انسان ہیں۔ کہا بات تو مولانا کی درست ہے۔ اگر ان کا فیصلہ ہے تو ہم اسے بدلنے کا اختیار نہیں رکھتے“۔ میں نے صدر مجلس سے اجلاس بلانے کا کہا۔ بالاخر طے ہوا کہ ١٠ جون کے ”یوم دعا“ میں لوکل مجلس اپنا کردار ادا کرے گی۔ جماعتیں خواہ کتنی بڑی اور مضبوط کیوں نہ ہوں‘ جب تک ان کی ذیلی شاخیں اور کارکن تعاون نہ کریں‘ وہ اپنے نیک مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
ارباب مجلس پروگرام کی کامیابی کے لیے جٹ گئے۔ مولانا مفتی مختار احمد نعیمی کی مسجد شہر کی سب سے بڑی جامع مسجد ہے اور عین شہر کے قلب میں واقع ہے۔ جگہ کے ضمن میں سب کی نظر انتخاب اسی پر پڑی۔ چونکہ ماضی کی تحریکوں میں مفتی صاحب کا دلیرانہ حصہ رہا ہے‘ اس لیے اس آڑے وقت میں ان پر نظر پڑنا فطری تھا۔ مفتی صاحب اور مسجد کی انتظامیہ دونوں نے اقرار کر لیا لیکن عین وقت پر حالات نے سب کے اوسان خطا کر دیے۔
خدا معلوم کیا پیچ پڑا کہ بریگیڈئیر نثار احمد قریشی یکایک مجلس عمل سے مستعفی ہو گئے۔ ”نوائے وقت“ نے صفحہ اول پر ان کے استعفیٰ کی خبر شائع کی۔ ان کے استعفیٰ کا متن اتنا افسوس ناک اور معاندانہ تھا کہ میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ یہ سب کیسے ہو گیا۔ دوسرا ستم یہ ہوا کہ مفتی صاحب کی مسجد کی انتظامیہ نے تحریراً معذرت کر لی۔ رہی سہی کسر ایم آر ڈی والوں نے نکال دی۔ راؤ رشید نے بیان دے دیا کہ ”یوم دعا“ ان کی حلیف جمعیتہ علماء اسلام کی ”Call“ ہے۔ اور ایم آر ڈی کی جماعتیں اس میں بھرپور حصہ لیں گی۔ میں نے فوراً اس کی تردید کرائی جو صرف روزنامہ ”مشرق“ میں شائع ہوئی۔
نو دس جون کی درمیانی شب مولانا احترام الحق تھانوی سیالکوٹ پہنچ گئے۔ ادھر یہ افواہ اڑ گئی کہ جنرل ٹکا خاں بھی سیالکوٹ آئے ہیں۔ ہم نے حالات کو سنبھالنے کی جتنی کوشش کی، معاملہ اتنا ہی بگڑتا چلا گیا۔ اس روز یوں تو ہم سب کا عجب حال تھا لیکن حضرت خواجہ خان محمد صاحب اور مولانا محمد شریف جالندھری کا رات بھر مصلے پر جاگنا اور خدا تعالیٰ کے حضور عجز نیاز کرنا ”یوم دعا“ کو کامیاب بنا گیا۔ جمعہ کا سورج نکلتے ہی ہر معاملہ آپ سے آپ سدھرنے لگا۔ خدا حضرت مفتی صاحب کو لاکھوں جزائے خیر فرمائے۔ ان کی ہمت مردانہ سے مقامی انتظامیہ پولیس اور انٹیلی جنس کا بنا ہوا سارا جال ٹوٹ پھوٹ گیا اور خدا تعالیٰ نے مجلس عمل کو بھرپور کامیابی عطا فرمائی جس میں مولانا جالندھری کی شبینہ دعاؤں کا حصہ ناقابل فراموش ہے۔ سچ ہے جو کام محنت و کوشش سے سرانجام نہ ہوں، انہیں مستجاب دعائیں لمحوں میں آسان بنا دیتی ہیں۔
مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا محمد علی جالندھری میں ایک مماثلت بڑی گہری تھی۔ دونوں نہایت کم قیمت سواری پر سفر کرتے اور نہایت کم قیمت خوراک کھاتے۔ مقصد یہ ہوتا کہ جماعت پر بار کم سے کم پڑے۔ اگر کوئی دوست دعوت کرتا تو کہتے ”کیا پکاؤ گے؟“ اور اچھے اچھے کھانوں کا سن کر کہتے ”تم یہ پیسے جماعت کو دے دو اور دال روٹی پکاؤ ہم وہ کھائیں گے“۔
واقعہ یہ ہے کہ ایسے ہی لوگ جماعتوں کی نیک نامی اور سربلندی کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے ساتھ میری طرح کے سفر کرنے اور دسترخوان پر بیٹھنے
والے پریشان ہوتے ہیں۔ خدا مولانا کی قبر کو ٹھنڈا فرمائے۔ میرے ساتھ غایت درجہ پیار کرتے اور میں بھی ان سے بے تکلفی کر لیتا تھا۔ اگرچہ عمروں میں بہت زیادہ تفاوت تھا مگر انہوں نے کبھی محسوس نہ ہونے دیا۔ مولانا کی ”خشک خوراکی“ دیکھ کر ایک روز میں نے مولانا سے کہا ”مولانا اگر ہمیں بلاتے ہیں تو کھانا تو اچھا کھلایا کریں“۔ ہنس پڑے اور ملک غلام نبی سے کہا:
”بھئی آج کسی اچھے سے ہوٹل میں لے چلو۔ اس کی شکایت نہیں سن سکتا اور پھر ہمیں چوبرجی کے قریب ایک ہوٹل میں کھانا کھلایا اور کھانے کے دوران پوچھتے رہے کہ بھئی کھانا ٹھیک ہے؟“
مولانا کا ایک بڑا وصف یہ تھا کہ دوستوں اور کارکنوں کے چھوٹے چھوٹے کاموں اور ضرورتوں کا بھی بڑا خیال کرتے اور ہر ممکن طریقے سے ان کی دلداری کرتے۔ راولپنڈی ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر سیالکوٹ میں میری گرفتاری عمل میں آگئی۔ میری تجویز پر لوکل مجلس عمل نے خالد اسلم قریشی کی قیادت میں راولپنڈی روانگی کا فیصلہ کیا۔ میں بہرصورت اس فیصلے کو عملی طور پر جامہ پہنانے پر تلا ہوا تھا۔ حکومت اس سے پریشان ہوئی اور ٢٢۔٢٣ اپریل کی درمیانی رات سوا دو بجے مجھے میری رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا۔ اس موقع پر پولیس میری ذاتی ڈائری اور یادداشتوں پر مشتمل میرا ایک اہم فائل اٹھا لے گئی۔ میں کپڑے تبدیل کر رہا تھا۔ مجھے کچھ اندازہ نہ ہوا۔ والدہ پس پردہ یہ سب کچھ دیکھ رہی تھیں۔ رہائی کے بعد میں نے متعلقہ پولیس حکام سے ان چیزوں کو واپس مانگا۔ انہوں نے قسم اٹھائی کہ ہم نے تو اٹھائی نہیں۔ میں نے مولانا کو لکھا۔ مولانا نے میرا خط ملتے ہی اے آئی جی کو لاہور ٹیلیفون کیا۔ انہوں نے کہا میں پتہ کرتا ہوں۔ مولانا کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ فون کے اگلے روز علی الصبح اے آئی جی کی رہائش گاہ پر جا پہنچے۔ اے آئی جی نے کہا کہ میں نے ایس پی سیالکوٹ کو ٹیلیفون کرایا ہے مگر وہ کہتا ہے یہ چیزیں ہم نے اپنی تحویل میں نہیں لیں۔
مولانا سیالکوٹ پہنچے اور یہ سب داستان سنائی۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا مولانا رات دو سپاہی گھر آئے تھے۔ دونوں چیزیں واپس کر گئے ہیں۔ اسی طرح دوران تحریک ایک موقع پر
مسعود شورش نے مجھ سے کہا کہ صوبائی محکمہ اطلاعات نے ”چٹان“ کے اشتہارات کا کوٹہ ساٹھ فیصد گھٹا دیا ہے تو میں نے یہ مسئلہ مرکزی مجلس عمل میں اٹھایا۔ مولانا کو خاص طور پر متوجہ کیا۔ مولانا کے احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ ان دنوں اپنے ہر خط میں مسئلہ کی بابت اپنی مساعی سے مجھے باخبر رکھتے۔
تحریکوں کے ضمن میں مولانا کا ذہن یہ تھا کہ ان کی کامیابی کا انحصار دو باتوں پر ہے۔ ایک ”سٹریٹ فورس“ کو عدم تشدد کے اصول پر منظم کرنا‘ دوسرا در پردہ طور پر ایسے ذرائع اور تدابیر اختیار کرنا‘ جو ارباب اقتدار پر اثر انداز ہو کر انہیں تحریکوں کے مقاصد کے ہم نوا بنا سکیں۔
مولانا کہا کرتے تھے تشدد کسی بھی تحریک کی ناکامی کا پہلا زینہ ہے۔ اسلم قریشی کے اغواء کے بعد مولانا کو کئی حلقوں نے یہ کہا کہ وہ بھی علاقہ غیر سے کچھ قبائلی منگوا کر دو ایک سرکردہ قادیانی اغواء کرا دیں اور کہیں کہ ”اسلم دے جاؤ اور انہیں لے جاؤ“ مگر مولانا نے اس تجویز کی بابت ہمیشہ ہی تامل اور انکار سے کام لیا۔ اس طرح مولانا قادیانی مسئلہ پر حکومت کے ساتھ ٹکراؤ کے حق میں بھی نہ تھے۔ وہ کہا کرتے ”میں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو یہ کہتے سنا ہے کہ قادیانی بدمعاش عورت کی طرح ہیں۔ جسے اس کے شوہر نے پستول تان کر کہا کہ یا بدمعاشی ترک کرو یا اپنی زندگی ختم سمجھو۔ عورت نے فوراً اس کا بچہ اٹھا کر سینے کے آگے کر لیا۔ اور کہا چلا گولی۔ شاہ جی کہا کرتے تھے یہی ٹیکنیک قادیانی استعمال کرتے ہیں۔ پھر انتظامیہ اور حکومت کی اوٹ میں ہو جاتے ہیں۔ تاکہ ٹکراؤ ہو تو حکومت اور عوام کا ہو۔ قادیانی صاف بچ کر نکل جائیں۔
مولانا کہا کرتے تھے ہم نے بہت سبق سیکھے ہیں۔ اب ہم صرف قادیانیوں سے لڑیں گے اور حکومت کو اپنا ساتھی بنائیں گے۔ جن دنوں میں تحریک چل رہی تھی‘ مولانا اکثر کہتے کاش کوئی خدا کا ایسا بندہ مل جائے جو صدر کے ساتھ میری ایک ملاقات کرا دے اور پھر راجہ ظفرالحق کے ذریعے مولانا کی یہ خواہش پوری ہوئی۔ قادیانی امتناع آرڈینینس کے ضمن میں بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہو گا کہ اس کے پس پردہ مولانا محمد شریف کی وزراء اور صدر کے ساتھ نجی ملاقاتوں کو بہت دخل ہے۔ مولانا جب صدر سے ملنے گئے تو بروایت
جوتوں والی جگہ پر نیچے ہی بیٹھ گئے۔ صدر مملکت نے خود مولانا کو پکڑ کر صوفے پر بٹھایا مولانا نے درد انگیز لہجے میں کہا:
”میاں صاحب میری اور آپ کی حیثیت کیا تھی۔ یہ خدا کا کرم ہے کہ اس نے آپ کو صدارت کے منصب سے نوازا اور مجھے آپ کے ساتھ بٹھایا۔ اگر آج آپ نے خدا کی اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا اور اس کے رسول کی عزت و ناموس کا تحفظ نہ ہوا تو آپ خدا کو کیا جواب دیں گے؟“
واقعہ یہ ہے کہ مولانا کا ختم نبوت کے ساتھ یہی عشق اور درد انہیں سرخرو کر گیا۔ باہر تحریک اپنے شباب پر تھی۔ اندر مولانا کی دردمندی اور اخلاص کام آیا اور یوں خدا تعالیٰ نے قادیانی آرڈیننس کے اجراء کی راہیں باز کردیں۔ آرڈیننس کے اجراء کے بعد سیالکوٹ مجلس عمل نے مرکزی مجلس عمل کے قائدین کے اعزاز میں ایک شاندار استقبالیہ دیا۔ مولانا اس موقع پر مجھے ایک جانب لے گئے۔ صدر کے ساتھ ملاقات اور مولانا اسلم قریشی تفتیشی ٹیم پر گفتگو کرتے رہے۔ میں نے مولانا سے پوچھا آپ کا کیا اندازہ ہے؟ حکومت کو واقعی اسلم قریشی کا پتہ نہیں یا پتہ ہے مگر وہ مصلحتاً خاموش ہیں؟“
مولانا نے کہا ”راجہ ظفرالحق وغیرہ کو تو کچھ پتہ نہیں۔ صدر کو کچھ معلوم ہو تو ہو۔ البتہ میرا اندازہ ہے گورنر غلام جیلانی خان کو سب پتہ ہے“۔ میں نے کہا ”یہ میجر مشتاق نئی تفتیشی ٹیم کا سربراہ کیوں کر بن گیا ہے؟“ مولانا نے کہا ”صدر نے ہم سے پوچھا تھا۔ میں نے کہا میجر مشتاق اور طلعت محمود نے اس کیس کو دبایا ہے۔ انہیں ہی کہیں کہ وہ اس کیس کو برآمد کریں“۔
مولانا نے مجھے خطاب کرتے ہوئے کہا ”میں نے (پنجاب پولیس کے ایک بڑے افسر کا نام لے کر) ان سے کہہ دیا اگر میجر مشتاق نے اسلم قریشی کو برآمد نہ کیا تو پھر دیکھنا صدر اس کے ساتھ کیا کرتا ہے؟ میں نے ہنستے ہوئے کہا ”آپ کو صدر کے وعدے پر اعتبار ہے؟“ فرمایا ”ہاں وہ میری سنتا ہے“۔ مولانا زندہ ہوتے تو شاید صدر ان کی سن لیتا مگر اب تو وہ پورے ملک کی نہیں سن رہے۔
مولانا کی زندگی کے بے شمار واقعات ہیں جو حافظے کے سمندر میں امنڈے چلے
آتے ہیں۔ کچھ حکایتیں ایسی ہیں جن کے کہنے کا ابھی وقت نہیں۔ لہٰذا قلم روکتا ہوں اور کسی مناسب وقت اور فرصت میں باقی داستان بھی لکھی جائے گی۔
(”ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ٢٢‘ شمارہ ٣٣‘ از قلم نعیم آسی)
شورش کاشمیری کی موت کا انتظار
مرزا ناصر احمد اور ان کے پیرو
”میں یہ واقعہ لکھنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ یہ چیزیں شوخی طبیعت کی افتاد ہوتی ہیں۔۔ لیکن ایک ذہنی تحریک کے اقتضا پر لکھ رہا ہوں۔ تاہم فیصلہ نہیں کر سکا کہ اس کی ضرورت تھی یا نہیں؟ مولانا ظفر علی خاں علیہ الرحمۃ میرے صحافی استاد تھے۔ آخری عمر میں سال ڈیڑھ سال ایک احمق طبیب کے کشتہ سے سخت بیمار ہوئے تو پھر موت تک سنبھالا نہ لے سکے۔ مولانا بستر مرگ پر مری میں تھے کہ مرزا بشیر الدین محمود کے ایماء پر قادیانیوں کا ایک وفد مولانا سے ملا۔ مولانا کلام کرنے سے معذور تھے۔ وفد نے مرزا صاحب کی طرف سے مولانا کو بیرون ملک سے علاج کے لیے ادویات فراہم کر دینے کی پیشکش کی۔ مولانا نے آواز کی گمشدگی کے باوجود ان کی پیشکش کو مسکرا کر من خوب می شناسم کے تحت ٹال دیا اور وہ ایک مخفی خفت لے کر چلے گئے۔ آج مولانا رہے نہ ان کے فرزند اختر علی خاں نہ زمیندار۔ رہے نام اللہ کا‘ لیکن ان کی رحلت کے سترہ سال بعد مرزا ناصر احمد نے راولپنڈی اور شیخوپورہ کے متبعین کی ایک محفل میں فرمایا کہ خلیفۃ الثانی نے ظفر علی خاں کی آخری عمر میں ان کے علاج معالجہ کا انتظام کیا تھا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔ شاید اس مضمون کے پس منظر میں اس واقعہ کا ‘ پرتو بھی ہے“۔
(ایڈیٹر)
میں شروع جون سے بیمار ہوں۔ مرض وہی پرانا ذیابیطس (شوگر) پہلی دفعہ اس مرض نے
١٩٦٠ء میں مجھ پر حملہ کیا۔ آج چودہ پندرہ برس ہوتے ہیں مرض اور میں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔ میں اپنی صحت کی طرف بہت کم توجہ کرتا ہوں۔ جیل خانے میں چون ٥٤ سے اٹھاون ٥٨ برس کی عمر کے مابین مجھے دو دفعہ پینتالیس روز اور چودہ پندرہ روز کی بھوک ہڑتال کرنا پڑی جس نے مجھ میں ذیابیطس کے نتیجہ میں کئی عوارض پیدا کر دیے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے کم ہی پرہیز کیا ہے۔ اپنے کشمیری نژاد ہونے کی وجہ سے چاول مجھ سے چھوٹتا نہیں۔ دوسری بد پرہیزیاں بھی کھانے پینے میں ہو ہی جاتی ہیں۔
اگست ١٩٧٢ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے مجھے قید کیا تو عجب نہ تھا کہ میانوالی سنٹرل جیل سے میرا جنازہ اٹھتا لیکن لاہور ہائی کورٹ اور ڈاکٹروں کی مہربانی سے میں محفوظ ہو گیا۔ میو ہسپتال لاہور میں علاج ہوتا رہا۔ ادھر رہا ہوا تو صحت کے ڈھانچہ میں کئی دراڑیں پیدا ہو چکی تھیں۔ میں جنوری ١٩٧٤ء میں رہا ہوا لیکن کئی عوارض میرے ہمرکاب تھے۔ علاج کراتا رہا مگر بوجوہ پرہیز میں سخت کوتاہی کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس سال شروع مئی میں ذیابیطس نے چت کرنا شروع کیا۔ جون میں حالت خاصی مضمحل ہو گئی۔ تحریک ختم نبوت کے باعث زندہ دلان پنجاب کے اصرار پر تین چار شہروں میں تقریریں کیں تو حالت اور بگڑی۔ راولپنڈی میں مجلس عمل کا اجلاس ہوا تو وہاں دو دن دو مختلف تقریریں کرنا پڑیں۔ احباب جانتے ہیں کہ سامعین کو آخر وقت تک بٹھانے کے لیے مجھے تقریر کا سب سے آخر میں موقع دیا جاتا ہے۔ نتیجہ میں لگ بھگ پونے بارہ بجے تقریر شروع کروں تو اڑھائی بجے شب سے پہلے ختم نہیں ہوتی۔ راولپنڈی کی ان دو تقریروں نے میری صحت کو بری طرح پٹخ دیا اور میں سخت بیماری کی حالت میں لاہور پہنچا۔
اس کے بعد بستر پر ایسا دراز ہوا کہ اٹھنے کا یارا ہی نہ رہا۔ ہفتہ نہ ہوا تھا کہ حکومت پنجاب نے میرا سب کچھ ضبط کر لیا اور مجھے ڈیفنس آف پاکستان رولز میں نظر بند فرما دیا۔ احکام تھے کہ مجھے کوٹ لکھپت جیل رکھا جائے لیکن پولیس افسروں نے میری متزلزل حالت دیکھی تو افسران مجاز سے مشورہ کر کے ۔۔۔ میو ہسپتال پہنچا دیا۔ صبح دم ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو خون میں ٥٠٠ ملی گرام شوگر تھی۔ پیشاب میں ساڑھے چار فیصد اور تمام بدن میں درد کی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ دو چار روز ہی میں حالت کچھ سے کچھ ہو گئی۔ وزن ٹوٹا تو خوب
ٹوٹا ۔ رنگ پیلا پڑ گیا ۔ دونوں پاؤں گھٹنوں تک بے حرکت سے ہو کر جڑ گئے ۔ دائیں ہاتھ میں رعشہ آ گیا ۔ عزیزوں کے لیے یہ سخت پریشانی کا مرحلہ تھا ۔ لیکن ہم سب منشاء خداوندی کے تابع تھے ۔
شیخ رشید احمد وزیر صحت کی مہربانی سے جینرک دواؤں کی بجائے عمدہ ، معیاری اور مجرب ادویات پاکستان سے تقریباً ناپید کر دی ہیں ۔ میرے لیے ڈاکٹروں نے جو انجکشن تجویز کیے ، وہ پاکستان میں تھے نہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا غائبانہ فضل تھا کہ بعض بلند سیرت انسانوں کو میری بیماری سے تشویش ہوئی ۔ انہیں ادھر ادھر سے ان انجکشنوں کی نایابی کا پتہ چلا جو میرے لیے ضروری تھے تو کئی ایک مخلصین نے جو شاید کبھی مجھ سے ملے بھی نہ تھے ، وہ انجکشن ارسال کیے ۔ پھر میرے بعض احباب نے میری صحت کی ویرانی کا حال سنا تو از خود بیرون ممالک سے فوری انتظام کے تحت انجکشن منگوائے ۔ میری اہلیہ نے میرے دو عزیز و مکرم دوستوں کو لندن اور سعودی عربیہ تار دیے تو انہوں نے فوراً انجکشن ارسال کر دیے ۔ اس طرح بفضل تعالیٰ لندن ، سعودی عربیہ ، اٹلی اور بیلجیم سے دو چار ماہ کے لیے ادویات کا ذخیرہ جمع ہو گیا ۔ ان انجکشنوں کی بدولت اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت بخش دی ۔ شوگر کم ہونے لگی ۔ ٹانگوں میں توانائی آگئی ، میں اٹھ کر بیٹھنے لگا ، رعشہ چلا گیا
حکومت نے جلد ہی محسوس کیا کہ میرے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بن رہا تو اس نے مجھے ٦ جولائی کو گرفتار کر کے ٢٦ جولائی کو رہا کر دیا ۔ میرے بچے مجھے بیماری کی تلخیوں کے باوجود گھر میں اٹھا لائے ۔ دوسرے دن ذیابیطس نے مجھ پر پھر حملہ کیا ۔ ہاتھوں میں رعشہ پیدا ہو گیا ۔ ایک ہفتہ ہی میں برادر عزیز خواجہ صادق کشمیری کی موت نے مجھے مزید نڈھال کر دیا ۔ میری بیماری کا یہ حال تھا کہ میں اپنے لیے وصیتیں کر رہا تھا کہ میری موت کے بعد مجھے میرے والد کے پہلو میں دفن کرنا وغیرہ وغیرہ مگر داغ مفارقت خواجہ صادق کشمیری دے گئے اور اس طرح ایک ذاتی خلا پیدا ہو گیا ۔
میرے فاضل معالج نے اپنی انتھک جدوجہد سے توفیق ایزدی کے باعث مرض پر دوبارہ قابو پا لیا لیکن ابھی ایک دن نہ گزرا تھا کہ میری آدھی پشت سے ناف تک عجیب و غریب دانوں کا ایک انبار نکل آیا اور درد کی شدید حالت پیدا ہو گئی ۔ انگریزی میں اس
مرض کو ہرپیز کہتے ہیں۔ جہاں تک دانوں کا تعلق ہے، وہ کئی ایک جرمن مرہموں سے دو دن میں غائب ہو گئے لیکن درد کا زور بندھا رہا اور آج ساڑھے تین ہفتے کے بعد بھی درد باقی ہے۔ تھوڑی سی کمی ہوئی ہے، درد گیا نہیں۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ یہ درد چار سے چھ ہفتے ضرور رہتا ہے۔ ٣٠ اگست کو رات دو بجے غسل خانے میں گیا تو وہاں اجابت کے فوراً بعد چکرا کے گر پڑا۔ جس سے بائیں گھٹنے پر اندرونی چوٹ پیدا ہو گئی۔ ملازم نے اٹھا کر بستر پر ڈالا۔ بچوں نے آئیو ڈیکس کی مالش کی لیکن اگلی شام چوٹ کا درد اتنا شدید ہو گیا کہ نہ گھٹنا کھلتا اور نہ ٹکتا تھا۔ شاید اسی باعث بخار نے حملہ کیا۔ ٹمپریچر ١٠٣ ہو گیا اور بلڈ پریشر ٢٠٠۔ ڈاکٹر رات ساڑھے گیارہ بجے تک بیٹھے رہے۔ بہت سی دوائیں استعمال کیں۔ بحمد اللہ اب شدتیں کم ہو گئی ہیں۔
اخباروں میں کسی مرحلے میں بھی اپنی بیماری سے متعلق خبر اسی لیے نہیں دی کہ خلافت ربوہ میری بیماری کو اپنے الہام کا نتیجہ قرار دے کر اپنے پیروؤں میں بالا ہونا چاہے گی۔ میں نے اپنے دوستوں کو سختی سے منع کر دیا۔ چنانچہ لاہور سے باہر بلکہ خود لاہور میں واقفان حال کی ایک مختصر جماعت کے سوا عزیز سے عزیز دوستوں کو بھی یہ معلوم نہیں کہ مجھ پر ان دو مہینوں میں کیا بیتی۔ میرے اہل خانہ کیونکر پریشان رہے اور میں موت و حیات کی پگڈنڈیوں سے صحت کے لالہ زار کی طرف آیا ہوں۔ اس وقت لگ بھگ میرے ذاتی نام کے دو اڑھائی ہزار خطوط دفتر میں بند پڑے ہیں اور میں ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق انہیں پڑھنے اور دیکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔ آج ہی مجھے پہلی دفعہ میرے پرسنل اسسٹنٹ نے بتایا کہ ربوہ سے گیانی عباداللہ کی تین رجسٹریاں آئی ہیں۔ نہ جانے ان میں کیا ہے؟ میری اہلیہ نے جواب دیا انہیں محفوظ رکھو اور گیانی صاحب کو لکھ دو کہ آغا صاحب ڈاک نہیں دیکھ رہے۔ اگر کوئی چیز جواب طلب ہوئی تو صحت یاب ہونے پر خط لکھ دیا جائے گا۔
میں اپنی بیماری کا ذکر کرنا ہی نہیں چاہتا تھا لیکن دو واقعات نے مجھے اپنی کہانی عرض کرنے پر مجبور کیا ہے۔ وہ دونوں واقعات سن لیجئے۔
پیغامبر کا نام قصداً نہیں لکھ رہا۔ واقعہ یہ ہے کہ ٣١ اگست کو میرے ایک نہایت معزز دوست نے بتایا کہ ان کے پاس قادیانی امت کے فلاں معتمد و متمول صاحب آئے تھے۔
انہوں نے سب سے پہلے آپ کی صحت کے متعلق پوچھا۔ میں نے رو بصحت ہونے کی خبر سنائی تو انہوں نے مختلف خدشات کا ذکر کیا جو ان کے کانوں میں ڈالے گئے تھے۔ میں نے تردید کی۔ انہوں نے کہا ”مجھے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے آپ کے پاس شورش کی صحت کے متعلق دریافت کرنے بھیجا ہے۔ مرزا صاحب ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہے کوئی سی دوا جو پاکستان میں نہ ہو‘ لیکن دنیا کے جس کسی ملک میں ملتی ہو‘ وہ بتائیے۔ ہم فی الفور دنیا کے ہر حصے سے منگوا کر دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر شورش صاحب کو علاج معالجہ کے لیے روپیہ کی ضرورت ہو تو حضرت مرزا صاحب فوراً بھیجنے کو تیار ہیں“۔
میرے دوست نے جواب دیا کہ شورش کو کسی چیز کی احتیاج نہیں۔ اس کے پاس اندرونی اور بیرونی دواؤں کا انبار لگ چکا ہے اور جہاں تک روپیہ پیسہ کا تعلق ہے‘ شورش پر اللہ کا فضل ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا بے نیاز اور غیرت مند شخص نہیں دیکھا۔
میرے دوست نے مجھ سے پوچھا ”مرزا صاحب نے یہ پیغام بھیجنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ میرا دماغ اس کے فہم سے قاصر ہے“ میں نے اپنے دوست سے عرض کیا اس میں کوئی پیچیدگی نہیں۔ ایک تو ظفر علی خاںؒ کا محولہ بالا واقعہ سنایا پھر عرض کی کہ دن بھر میں مجھے دیکھنے کے لیے چالیس پچاس آدمی آتے ہیں۔ ان میں دو چار مرزائی بھی ہوتے ہیں جو میری رفتار صحت سے ربوہ کو مطلع کرتے ہیں۔ چونکہ وہ لوگ ڈاکٹر نہیں ہوتے اور رفتار صحت کا اندازہ نہیں کر سکتے‘ اس لیے ان کی اطلاعات اونے پونے ہوتی ہیں۔ مرزا صاحب نے اپنے معتمد کی معرفت آپ سے میری صحیح صحیح کیفیت معلوم کرنا چاہی ہے اور پس منظر اس کی سوا کچھ نہیں کہ ان تک میرے جان بلب ہونے کی جو خبریں جا رہی ہیں‘ وہ اس کی توثیق و تصدیق پر اپنے کسی الہام کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔ مثلاً انہیں تصدیق ہو جائے کہ میری زندگی کے دن ختم ہو چکے ہیں تو وہ میرے متعلق اپنے مریدوں میں پیش گوئی کر سکتے ہیں کہ مجھے الہام ہوا ہے ۔۔۔ شورش کاشمیری ہمارا دشمن تھا خدا نے اس کی زندگی کے دن ختم کر دیے ہیں۔ اس قسم کی پیشگوئیاں ضعیف الاعتقاد پیروؤں کے لیے معجزہ ہوتی ہیں۔
جس دن میرے دوست نے مجھے یہ واقعہ سنایا‘ اس سے اگلے دن صبح دس بجے
میرے ایک اعلیٰ افسر دوست نے مجھے فون کیا کہ میں شورش صاحب سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے عرض کیا بول رہا ہوں۔ میری آواز نحیف تھی انہیں اعتبار نہ آیا۔ جب میں نے دو تین دفعہ عرض کیا کہ میں شورش ہی بول رہا ہوں اور آپ فلاں صاحب بول رہے ہیں تو اس دوست نے تین دفعہ الحمد پڑھا۔ پھر درود شریف اور انکشاف کیا کہ میں تو دو منٹ پہلے سخت آزردہ ہو گیا تھا۔ مجھے ماتحت عملہ نے رپورٹ دی تھی کہ پچھلی رات گڑھی شاہو میں لاہور کے سب سے بڑی قادیانی مرکز ”دارالذکر“ میں نمایاں مرزائی اکٹھے ہوئے۔ ایک نے بیان کیا کہ شورش کاشمیری کی زبان ہمیشہ کے لیے بند ہو گئی ہے اور اب وہ چند دنوں کا مہمان ہے۔ اس پر تمام مرزائیوں نے بے پناہ خوشی کا اظہار کیا۔ شکرانہ پڑھا۔ آپس میں مٹھائی تقسیم کی۔
مرزا ناصر احمد بقید حیات ہیں۔ اگر وہ اپنی پیشکش کی تردید کر دیں تو ہم ان اہم ترین اشخاص کے نام کا اعلان بھی کرنے کو تیار ہیں جو ان کی طرف سے پیغام لائے تھے۔ ہم ممنون ہوں گے اگر مرزا صاحب اس تضاد کی تصریح فرما دیں کہ ان کی ہمدردی اور دارالذکر کی بے دردی میں ظلی و بروزی نبوت کی رو سے کس قدر فاصلہ ہے؟
(ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور، جلد ٢٧، شمارہ ٣٤، از قلم شورش کاشمیری)
پہلی قادیانی کانفرنس کی ایک مختصر سی جھلک
علماء اہل حق دیوبند کثراللہ امثالہم نے علاوہ تحریر اور کتابی حملوں کے مارچ ١٩٢١ء مطابق رجب ١٣٣٩ھ میں سب سے پہلی یلغار قادیان دارالخذلان پر کی۔ حضرت علامہ انور شاہ صاحب کشمیری رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں اہل حق کا یہ قافلہ براستہ امرتسر و بٹالہ قادیان کے لیے روانہ ہوا اور بروز جمعہ ١٨، ١٩٢١ء / ٣، مطابق ٧ رجب ١٣٣٩ھ صبح کو دس بجے قادیان پہنچ گیا۔ حضرت شاہ صاحب کی ہمرکابی میں دوسرے رفقاء سفر میں سے چند حضرات کے نام یہ ہیں: (٢) حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب عثمانی (برادر بزرگ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی) صدر مہتمم دارالعلوم دیوبند (٣) حضرت
مولانا عبدالمبین صاحب مدرس دارالعلوم دیوبند (٤) حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب مراد آباد (٥) حضرت مولانا قاری محمد طاہر صاحب برادر خورد مولانا قاری محمد طیب صاحب (٦) حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند (٧) حضرت مولانا عبدالشکور صاحب ایڈیٹر ”النجم“ لکھنؤ (٨) حضرت مولانا بدر عالم صاحب (مہاجر مدنی) اور امرتسر سے اس قافلہ حقانی کے ہمراہ بھی بہت سے علماء شامل ہو گئے جن میں (٩) حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان اور (١٠) حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ (رحمتہ اللہ اجمعین)
قادیان جانے سے پہلے ٧ مارچ بروز جمعرات بٹالہ شہر میں بھی ایک یک روزہ ختم نبوت کانفرنس کے دو اجلاس ہوئے اور پھر قادیان سے واپسی پر بھی بٹالہ میں رات کو ایک عظیم الشان اجلاس ہوا جس کی حاضری مثالی تھی اور اس اجلاس میں مقررین نے پوری وضاحت سے قادیان کے جلسوں کی روداد اور مسئلہ تحفظ ختم نبوت کی اہمیت کھل کر بیان کی۔
الحمد للہ کہ علماء اہل حق کا یہ تبلیغی سفر انتہائی کامیاب رہا۔ قادیانیوں نے پہلے تو بہت ہاتھ پاؤں مارے کہ یہ کانفرنس منعقد ہی نہ کرنے دی جائے لیکن چونکہ بٹالہ کے بااثر مسلمان اس کانفرنس کے بانی اور منتظم تھے، اس لیے اس کانفرنس کو تو نہ روکا جاسکا، تاہم بڑی کافی تعداد میں پولیس قادیانیوں کی آبادی کی حفاظت کے لیے قادیان پہنچ گئی۔ تین دن تک حکماً قادیانی گھروں میں تالہ بند رہے۔ ہر گلی کوچے میں پولیس موجود تھی۔ آتش زنی کے خوف سے پانی کے ٹین اور ریت کے بورے بھر بھر کر قادیانیوں نے اکٹھے کرلیے تاہم ان کی ان شرارتی تدابیر کے باوجود کانفرنس باقاعدہ منعقد ہوئی اور خوب کامیاب رہی۔ خاص طور سے حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب کو خوب داد ملی۔ ان کے پھڑکتے ہوئے دلچسپ جملوں پر عوام کی طرف سے نعرہ ہائے تحسین و تکبیر نے قادیان کے در و بام ہلا دیے۔ نتیجہ میں کئی قادیانی دوبارہ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ باقی قادیانی اپنے ”تنزل منارے“ پر چڑھ چڑھ کر کانپتے دلوں اور پھڑکتی آنکھوں سے اس اسلامی یلغار کا نظارہ کرتے رہے۔
اس کانفرنس کی مفصل کارروائی اسی زمانہ میں منتظمین تحفظ ختم نبوت بٹالہ نے مرتب کر دی تھی جو مولانا ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان کی توجہ سے امرتسر میں فتح اسلام کے نام سے چھپی اور اسے جناب مولا بخش کشتہ تاجر کتب امرتسر نے اپنے اتحاد پریس امرتسر سے چھاپ کر شائع کیا اور اس وقت اس کی قیمت پانچ آنے رکھی گئی تھی۔ یہ مختصر کارروائی اس رسالے سے ماخوذ ہے جو ہمیں حضرت مولانا قاضی شمس الدین صاحب نقشبندی مدظلہ العالی ساکن درویش ہری پور ہزارہ نے نقل کر کے ارسال فرمائی ہے۔
(محمد حنیف)
آغا شورش کاشمیری (مرحوم)
(چند یادیں چند باتیں)
آج سے تقریباً چوبیس برس پہلے موسم گرما کی سہ پہر کی بات ہے۔ میرے والد مولانا تاج محمودؒ اپنے کمرے میں سو رہے تھے جبکہ میں اپنے بچپن کی عادات کے مطابق، گھر کے صحن میں کھیل رہا تھا۔ اچانک باہر سے چونکا دینے والی گرجدار آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ ”مولوی صاحب“ یہ تھے انجانی شخصیت کے دو بول جو فضا کو مرتعش کر گئے۔ میں کھیل چھوڑ کر باہر نکلا تو دیکھا کہ ہماری مسجد کے متصل بڑے کمرے کے دروازے پر کوئی صاحب بلند قامت، فربہ جسم، سانولا رنگ، بارعب چہرہ، اکڑی گردن، سفید کرتہ پاجامہ میں ملبوس، پاؤں میں پشاوری چپل پہنے دونوں بازو دروازے میں پھیلائے کھڑے ہیں۔ مجھے دیکھا تو مسکراتے ہوئے پوچھا ”مولانا صاحب ہیں“ میں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے بتایا کہ وہ سو رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا ”انہانوں اٹھا دیو، اور آکھو باہر قوم آئی اے“ (ان کو اٹھا دیں اور کہیں کہ باہر قوم آئی ہے) ان کے اس انداز بے تکلفانہ کو دیکھ کر میں نے بلا چوں و چرا والد صاحب کو جگا دیا۔
والد صاحب جیسے ہی باہر آئے، انہوں نے گرم جوشی سے معانقہ کیا۔ والد مرحوم
نے مجھے ان سے ملوایا کہ یہ میرا بیٹا طارق ہے اور مجھے بتایا کہ یہ تمہارے چچا شورش ہیں۔ میں نے فوراً پوچھا ”چٹان والے“۔ آغا صاحب نے اپنے روایتی لہجہ میں کہا ”طارق در کنار اندلس سفینہ سوخت“ لیکن میں کم سنی کے باعث اس کے معانی نہ سمجھ سکا۔ یہ تھی آغا شورش کاشمیری مرحوم و مغفور سے میری پہلی ملاقات۔
اس دن شیخ حسام الدین، ماسٹر تاج دین انصاری، آغا صاحب کے ہمراہ تھے۔ ان چاروں دوستوں کی یہ محفل میرے لیے یادگار سرمایہ بن گئی۔ مجھے اس مجلس کا نہ تو موضوع یاد ہے اور نہ خلاصہ لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ وقفے وقفے سے ان کے قہقہے گونجتے۔ تینوں کی نسبت آغا صاحب زیادہ بولتے رہے۔ ان کی طبیعت میں شوخی بھی تھی اور شرارت بھی۔ جتنی دیر نشست رہی، وہ چارپائی پر لیٹے لیٹے کوئی فقرہ چست کرتے تو اس کی داد لینے کے لیے اپنا ہاتھ والد صاحب کی طرف یا کبھی شیخ صاحب کی طرف بڑھا دیتے۔ اس طرح انہیں بار بار اٹھنا پڑتا۔
آخر انہوں نے تکیہ گود میں لیا اور اس پر دونوں کہنیاں رکھ لیں۔ پھر دونوں ہاتھوں کے کشکول میں اپنا چہرہ رکھ لیا۔ ان کا چہرہ مسلسل مسکراہٹیں بکھیرتا رہا۔ میں ان کی قلندرانہ اداؤں کو دیکھتا رہا۔ اسی دوران عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز کی امامت شیخ حسام الدین نے کی۔ آغا صاحب کی دلاویز شخصیت نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ میں نماز کے دوران بھی انہیں کن انکھیوں سے دیکھتا رہا۔ انہوں نے سر پر مسجد کی ٹوپی رکھی۔ چونکہ ٹوپی ان کے سر پر چھوٹی تھی، اس لیے وہ بار بار اسے دباتے۔ ٹوپی پھر اوپر کو آجاتی۔ سجدے میں جاتے تو وہ ان سے پہلے سجدے میں چلی جاتی۔ اس کشمکش میں ٹوپی آغا صاحب کے سر سے جاتی رہی۔ یوں انہوں نے ننگے سر نماز مکمل کی۔ شام کو تینوں دوست رخصت ہوئے تو آغا صاحب کی شخصیت میرے ننھے منے دل کی دنیا میں گھر کر چکی تھی۔
آغا شورش کاشمیری میرے والد کے دیرینہ، مخلص، بے تکلف اور گہرے دوست تھے اور اپنی موت تک رہے۔ وہ جب بھی فیصل آباد میں خطاب کرنے کے لیے کسی خاص تقریب میں شریک ہونے یا کسی ذاتی کام کی غرض سے آتے، ہمارے غریب خانہ پر ہی ٹھہرتے۔ ان کا قیام ہمارے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ حالانکہ اس شہر میں ان کے چاہنے
والے اور بھی بہت تھے۔ چنانچہ اس تعلق خاطر کی بدولت انہیں قریب سے دیکھنے، سننے کے بے شمار مواقع میسر آئے۔
١٩٦٨ء دور ایوبی میں آغا صاحب کو گرفتار کر کے ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں نظر بند کر دیا گیا۔ انہیں ان کے مقام و مرتبہ کے برعکس سی کلاس دی گئی اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا تو آغا صاحب نے اس صورت حال سے احباب کو آگاہ کرنے کے لیے ایک خفیہ تحریر کے ذریعے باہر پیغام بھجوایا۔ سپرنٹنڈنٹ جیل غالباً ان سے زیادہ متعارف نہ تھا۔ اس نے رعب ڈالنے کی خاطر آغا صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اتنی سختی کے باوجود آپ کی تحریر جیل سے باہر کیسے چلی جاتی ہے؟ آغا صاحب نے برجستہ جواب دیا کہ میری تحریر جیل سے باہر ایسے ہی پہنچ جاتی ہے، جیسے جیل کا راشن باہر پہنچ جاتا ہے۔ یہ جواب سن کر سپرنٹنڈنٹ جیل اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ جیل حکام کے رویہ کے خلاف آغا صاحب نے بھوک ہڑتال کی تو چند ہی دنوں میں ان کو پتہ چل گیا کہ اس فولادی انسان کو مرعوب کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔
انہی دنوں کا ذکر ہے کہ ہم لوگ شام کے وقت محفل جمائے بیٹھے تھے جبکہ والد مرحوم گھر پر نہ تھے۔ ایک سفید رنگ کی وین باہر سڑک سے ہمارے گھر کی طرف مڑی اور نکڑ پر کھڑی ہو گئی۔ وین کا اگلا دروازہ کھلا تو اس میں سے آغا صاحب نمودار ہوئے۔ انہوں نے وہیں سے با آواز بلند السلام علیکم کہا تو ہم انہیں دیکھ کر ششدر رہ گئے کیونکہ آغا صاحب ان دنوں میانوالی جیل کے مہمان تھے۔ ان کے ساتھ ان کا معالج اور پولیس والے بھی نکل آئے۔ آغا صاحب نے بتایا کہ کل لاہور ہائی کورٹ پیشی ہے۔ میانوالی سے لاہور جا رہے تھے تو سوچا چلو لائلپور سے گزرتے ہیں۔ ہم نے آغا صاحب اور ان کے ڈاکٹر کو اندر کمرے میں بٹھایا جبکہ پولیس والوں کے بیٹھنے کا باہر انتظام کر دیا۔ ساتھ ہی ان کی خاطر مدارت اور کھانے وغیرہ کا اس طرح انتظام کیا تاکہ آغا صاحب سے ملاقات کی ان گھڑیوں کو ذرا طول مل جائے۔
کہ جوڑ دے ٹکڑا کوئی شب جدائی کا
بعد ازاں ہم نے آغا صاحب کے دوستوں کو ٹیلی فون کر کے بلایا۔ خدا کا شکر کہ والد صاحب بھی با آسانی اور جلدی مل گئے۔ والد صاحب نے آغا صاحب کو اپنے کمرہ میں اس طرح پایا تو بہت خوش ہوئے۔ خان شرین گل پٹھان مرحوم ہمارے شہر کے معروف سماجی کارکن تھے اور آغا صاحب کے بہترین دوست تھے۔ وہ جونہی بغلگیر ہوئے، ان کی چیخیں نکل گئیں۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا شورش مجھ سے اب تیری قید نہیں دیکھی جاتی۔ پہلے تم کو کافر قید کرتا تھا، اب...... امیر خاص کے ساتھ احباب کی یہ محفل اپنے شباب پر تھی کہ انسپکٹر پولیس نے آغا صاحب سے درخواست کی کہ اب چلنا چاہیے کیونکہ ایک تو کافی دیر ہو رہی ہے، دوسرا یہاں جلسہ عام بنتا جا رہا ہے۔ آغا صاحب نے جواب میں کہا کہ مولانا صاحب کے گھر کی چائے بہت اچھی ہوتی ہے، آپ ایک دور اور لگائیں پھر چلتے ہیں۔ اس طرح پولیس کا عملہ چائے کے دوسرے دور میں داخل ہو گیا۔ جبکہ آغا صاحب نے ٹیلی فون پر لاہور کے وکلاء سے مشاورت کے علاوہ خواجہ صادق مرحوم کو مختلف ہدایات دے کر اصل کام مکمل کر لیا۔
اس تاریخی قید کے دوران حکومت نے آغا صاحب کو ڈیرہ اسماعیل خان سے کراچی منتقل کرنا تھا۔ آپ چونکہ مسئلہ ختم نبوت کی پاداش میں نظربند تھے، اس لیے عوامی ردعمل کے پیش نظر ٹرین کی بجائے طیارہ کے ذریعے انہیں بھیجنے کا انتظام کیا گیا۔ اس جہاز نے ملتان ایئرپورٹ پر کچھ دیر کے لیے رکنا تھا۔ آغا صاحب کی پرواز (فلائٹ) شروع ہوئی تو والد صاحب نے ملتان مولانا محمد علی جالندھری (مرحوم) کو ٹیلی فون پر مطلع کر دیا تاکہ وہ آغا صاحب سے مل کر تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں مشاورت کر سکیں۔ جونہی جہاز ملتان کے ہوائی اڈے پر اترا، آغا صاحب چہل قدمی کرتے ہوئے منتظر مولانا جالندھری کے پاس پہنچ گئے۔ دونوں رہنما تپاک سے ملے اور بات چیت شروع کر دی۔ انسپکٹر بھاگتا ہوا آیا اور آغا صاحب سے پوچھا یہ مولوی صاحب کون ہیں؟ آغا صاحب نے نہایت اطمینان سے فوراً جواب دیا یہ مولوی صاحب نہیں بلکہ یہاں ایک گاؤں میں پرچون کی دکان کرتے ہیں۔ بہت اچھے اور شریف آدمی ہیں۔ انسپکٹر نے آغا صاحب کا جواب اور مولانا مرحوم کی سادگی دیکھی تو مطمئن ہو کر واپس لوٹ گیا۔ اس طرح دونوں رہنماؤں نے آپس میں جی بھر کر
تبادلہ خیال کیا۔
کراچی کی یادیں
آغا شورش کاشمیری بزم میں ہوں یا رزم میں‘ باہر ہوں یا جیل کی دنیا میں‘ ان کی شخصیت انفرادیت کا شاہکار تھی۔ جیل میں تو ان کے انداز خسروانہ نرالے ہوتے تھے۔ بڑے سے بڑے مغرور اور فرعون مزاج حاکم ان کی استقامت اور دلیری کے سامنے پانی ہو جاتے۔ خود آغا صاحب کا کہنا تھا کہ جیل کے حکام بے تاج بادشاہ ہوتے ہیں۔ میری انا‘ خود داری‘ غیرت کو اس وقت تک چین نہیں ملتا‘ جب تک میں تاج یا بے تاج‘ بادشاہوں کا غرور اور فرعونیت خاک میں نہ ملا دوں۔
چنانچہ آغا صاحب کراچی جیل میں بھی شان و شوکت اور طمطراق کے ساتھ رہے۔ پہلے حکام کے رویہ کے خلاف بھوک ہڑتال کی جو جلد ہی ختم ہو گئی۔ لیکن حکومت کے معاندانہ رویہ کے خلاف آغا صاحب نے تاریخی بھوک ہڑتال کی جو ٥٦ دن جاری رہی۔ یہ بھوک ہڑتال انہیں موت کی وادیوں تک لے گئی۔ آخر ایوبی حکومت ان کے پختہ عزم‘ بے پناہ استقامت‘ بے مثال جرات کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گئی اور آغا صاحب کی رہائی کا اعلان کر دیا۔
جب میری حسرتوں کا جنازہ تیار تھا
آغا صاحب نے اسیری کی اس داستان کو ”موت سے واپسی“ کا نام دے کر اپنے خون جگر سے رقم کیا۔
آغا صاحب کی اس قید کے دوران میری ان سے نیاز مندی میں اضافہ ہوا اور ان کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ بھی چل نکلا۔ ان کے بے شمار خطوط آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔ جو قید تنہائی میں کسی شاعر اور ادیب کے لطیف جذبات و احساسات کا بہترین نمونہ ہیں۔ میرے نام شفقت و الفت سے لبریز ان کی یہ تحریریں میری زندگی کا سرمایہ افتخار
ہیں۔
آغا شورش کاشمیری مرحوم رہا ہوئے تو انہوں نے مجھے کراچی آنے کی دعوت دی۔ میں ان دنوں گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں تھرڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ چنانچہ میں والد مرحوم کے ساتھ عازم سفر ہو گیا۔ اس سفر میں مولانا مفتی محمود (مرحوم) ملتان تک شریک سفر رہے۔ کراچی ایئرپورٹ پر جہاز اترا تو شب کے آٹھ بج رہے تھے۔ ہم جونہی سیڑھیوں سے اترے‘ سامنے آغا صاحب نحیف اور کمزور حالت میں کھڑے مسکراتے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ حافظ عزیز الرحمٰن مرحوم اور ان کے دونوں صاحبزادے محبوب الرحمٰن‘ حبیب الرحمٰن بھی موجود تھے۔
ایئرپورٹ حکام کسی شخص کو جہاز کے قریب نہیں آنے دیتے لیکن انہیں جیسے ہی آغا صاحب کا علم ہوا‘ انہوں نے نہ صرف گرم جوشی سے مصافحے کیے‘ بلکہ ان کو ہماری پذیرائی کی خاطر جہاز تک آنے کی اجازت بھی دے دی۔ جناح ہسپتال کا کمرہ نمبر ١‘ آغا صاحب کی رہائی کے ساتھ ہی تاریخی حیثیت اختیار کر گیا۔ ڈاکٹروں نے ان کی متاثرہ صحت کے پیش نظر انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا لیکن سیاسی‘ علمی‘ ادبی اور دینی حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ جوق در جوق آغا صاحب کو دیکھنے اور ملنے آنا شروع ہو گئے۔ آغا صاحب نے تن تنہا اپنی قوت ارادی کے بل بوتے پر بھوک ہڑتال کر کے ایوب خان کی آمرانہ حکومت کے در و دیوار ہلا کر رکھ دیے۔ ان کی شاندار رہائی حکومت کے لیے رسوائی اور خفت کا باعث بنی۔ چنانچہ ان دنوں کراچی میں آغا صاحب کے نام کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ ایک دن مشہور انقلابی شاعر حبیب جالب تشریف لے آئے۔ آغا صاحب نے فرمائش کی کہ یار جالب کوئی تازہ کلام سناؤ۔ نظم شروع ہوئی تو جناح ہسپتال کا کمرہ‘ مشاعرہ ہال بن گیا۔ واہ واہ سبحان اللہ‘ زندہ باد کی آوازیں ہسپتال میں گونجنے لگیں۔ آغا صاحب کا کمرہ علمی‘ ادبی سرگرمیوں کا گہوارہ بن گیا۔ ڈاکٹر اور سٹاف ادب و احترام کی بنا پر خاموش رہتے۔ آخر آغا صاحب نے محسوس کیا کہ ہسپتال کا ماحول ڈسٹرب ہو رہا ہے۔ چنانچہ یہ رونقیں چند روز بعد جبیس ہوٹل میں منتقل ہو گئیں۔ ایک روز ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان تشریف لائے۔ کافی دیر تک آغا صاحب سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ آغا صاحب کی صحت
قدرے بحال ہوئی تو ایک دن آغا صاحب نے جیل جانے کا پروگرام بنایا تاکہ جیل سپرنٹنڈنٹ چودھری نذیر اختر سے الوداعی ملاقات کی جاسکے۔ آغا صاحب ان کے حسن سلوک اور اخلاق سے بہت متاثر تھے۔ جب ہماری گاڑی کراچی جیل کے دیو قامت کالے رنگ کے گیٹ پر پہنچی تو چودھری صاحب نے ہمارا خیر مقدم کیا اور نہایت تپاک سے ملے۔
آغا صاحب نے میرا تعارف کرواتے ہوئے انہیں بتایا کہ مولانا کے یہ صاحبزادے فیصل آباد میں آپ کے بھائی پروفیسر رشید احمد کے شاگرد ہیں۔ اس پر چودھری صاحب بہت خوش ہوئے۔ چودھری صاحب روایتی جیل سپرنٹنڈنٹ نہیں تھے بلکہ ایک خلیق، ملنسار اور شفیق انسان تھے۔ انہوں نے چائے، بسکٹ اور مٹھائی سے ہماری تواضع کی۔ اسی دوران چودھری صاحب نے آغا صاحب سے پوچھا ”لاہور کب جا رہے ہیں“ آغا صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا چند دنوں میں جا رہا ہوں۔ اسی لیے تو حاضر ہوا ہوں کہ واپسی کا ٹکٹ آپ سے لے سکوں۔ اس پر چودھری صاحب نے قہقہہ لگایا اور کہا اب تو آپ فاتح کی حیثیت سے واپس جارہے ہیں۔ آپ کا ٹکٹ کون چیک کرے گا۔ چائے کا دور ختم ہوا تو آغا صاحب نے چودھری نذیر صاحب سے کہا کہ میں ان بچوں کو جیل دکھانا چاہتا ہوں جس پر انہوں نے اجازت دے دی لیکن میرے والد مولانا تاج محمود مرحوم کو اپنے پاس بٹھا لیا کہ ہم گپ شپ لگائیں گے۔
چنانچہ بھائی حبیب الرحمٰن، محبوب الرحمٰن اور راقم آغا صاحب کے ہمراہ جیل کی دنیا میں داخل ہو گئے۔ جبکہ ایک سی آئی ڈی کا فرشتہ سائے کی طرح ہمارے پیچھے پیچھے رہا۔ سب سے پہلے آغا صاحب ہمیں اپنے اسیر خانہ لے گئے۔ ایک چھوٹے گیٹ سے داخل ہوئے۔ جس کے بائیں جانب خوبصورت باغیچہ جس میں رنگ برنگے پھول اپنی مہک بکھیر رہے تھے۔ دو کمروں اور برآمدہ پر مشتمل یہ کمرہ تاریخ ساز حیثیت رکھتا تھا۔ آغا صاحب نے بتایا کہ یہ وہی کمرہ ہے، جس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، پیر غلام مجدد سندھی کے علاوہ برصغیر پاک و ہند کی نامور دینی و سیاسی ہستیاں اس کی زینت بنتی رہی ہیں۔ آغا صاحب ابھی بتا ہی رہے تھے کہ ایک قیدی بھاگتا ہوا آیا۔ اس نے عقیدت و احترام سے ان کے ہاتھ چومے۔ یہ آغا صاحب کا مشقتی تھا جس نے قید کے
دوران ان کی خوب خدمت کی۔ آغا صاحب اس سے ہمکلام تھے کہ میں ماضی کے دریچوں سے جھانکتا ہوا اس تاریخی کمرے کے درودیوار دیکھتا رہا۔ اس لیے کہ
ہائے کیا لوگ تھے زنداں میں بھی ہم سے پہلے
یہاں سے چلے تو ساتھ ہی اسی انداز کا ایک اور قید خانہ تھا۔ جونہی گیٹ سے داخل ہوئے، ایک درمیانہ قد، چنبیلی جیسے سفید بال، سفید تاؤ دار مونچھیں، سفید لباس میں ملبوس اجلی شخصیت نظر آئی۔ آغا صاحب تیزی سے ان کی جانب بڑھے۔ پہلے مصافحہ، پھر معانقہ پھر مصافحہ کے ساتھ ہی آغا صاحب نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیتے ہوئے بوسہ دیا جس پر انہوں نے کچھ مزاحمت کی۔ مگر ان کے ہاتھ پر آغا صاحب کی عقیدت و محبت، اخلاص و الفت کا نشان ثبت ہو چکا تھا۔ ”مجھے یوں گنہ گار نہ کریں“ وہ اتنا کہہ پائے تھے کہ آغا صاحب کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو ٹپک پڑے۔ یہ سندھ کے مشہور و معروف ہاری راہنما حیدر بخش جتوئی مرحوم تھے جو ایوب حکومت کی ستم ظریفی کا شکار ہو کر طویل قید کاٹ رہے تھے۔ وہ استقامت کا پہاڑ اور جرات و استقلال کا پیکر تھے۔ ہم نے گھوم پھر کر جیل کے مختلف شعبے دیکھے، جن میں قالین بافی، کپڑے کی ویونگ اور بے شمار دستکاریاں قابل ذکر ہیں۔ آخر میں آغا صاحب نے ہمیں پھانسی گھر دکھایا۔ یہ بظاہر معمولی ساخت، رسی کا پھندہ اور ایک سادہ لیور پر مشتمل ہوتا ہے جو کسی قیدی کی موت کا سامان ہوتا ہے۔
آغا صاحب نے بتایا کہ پھانسی پانے والے قیدی کو علی الصبح تختہ دار پر لٹکایا جاتا ہے۔ پھانسی کی رات ہر طرف سے تلاوت قرآن کی آوازیں آتی ہیں۔ پھانسی کی رات جیل کی فضا کو سوگوار بنا دیتی ہے۔
کراچی میں آغا صاحب کو پہلا استقبالیہ شہریوں کی طرف سے جبیس ہوٹل میں دیا گیا۔ وہاں کے شہریوں کے لیے پہلا موقع تھا کہ وہ برصغیر پاک و ہند کے ایک شعلہ نوا مقرر، ادیب، شاعر اور بے باک صحافی کی تقریر سننے والے تھے۔ جبیس ہوٹل کا وسیع و عریض ہال اپنی تمام تر وسعت کے باوجود سمٹ چکا تھا۔ جونہی آغا صاحب ہال کے صدر دروازے سے داخل ہوئے، کوئی پندرہ منٹ تک ہال زبردست تالیوں اور نعروں سے گونجتا رہا۔ اس شاندار
استقبالیہ میں مولانا ضیاء القاسمی، مولانا تاج محمود کے خطاب کے علاوہ جناب رئیس امروہی نے آغا صاحب کو منظوم ہدیہ تحسین پیش کیا۔ آخر میں آغا صاحب نے اپنی تقریر کا آغاز کچھ اس انداز میں کیا:
"آپ نے میرے لیے جس بے پناہ محبت کا اظہار کیا ہے، یہ میرے لیے اعزاز اور دولت ہے بلکہ ایسی دولت ہے جو گندھارا انڈسٹریز بھی پیدا نہیں کر سکتی"۔
حکومت پر طنز کا پہلا ہی نشتر چلانے پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ آغا صاحب کی تقریر میں اشاروں، کنایوں، استعاروں، برجستہ فقروں اور برموقع اشعار سے حاضرین عش عش کر اٹھے۔ آغا صاحب گھنٹہ بھر تقریر کر چکے تو ان کی نگاہ اچانک "جنگ" میں "وغیرہ وغیرہ" کے کالم نویس ابراہیم جلیس پر پڑی تو آغا صاحب نے سامعین سے کہا کہ ابھی میں نے تقریر شروع نہیں کی بلکہ میں تو وغیرہ وغیرہ کر رہا ہوں۔
اس چوٹ پر مجلس کشت زعفران بن گئی۔ اسی خطاب کے آخر میں آغا صاحب نے صحافیوں کی خوب خبر لی۔ ادیبانہ زبان میں ان کو قلم کی آبرو اور پیشہ کی حرمت پر درس دیا۔ روزنامہ مشرق کا ذکر آیا تو آپ نے کہا مشرق والو اب یہ سورج مغرب میں غروب ہونے کو ہے۔ ان کا اشارہ حکومت کی طرف تھا کہ اب حکومت جانے والی ہے۔
کراچی میں آغا صاحب کا دوسرا اہم خطاب بار ایسوسی ایشن میں تھا۔ یہ تقریر بھی سننے سے تعلق رکھتی تھی۔ ان سے پہلے ملک اسلم حیات (ایڈووکیٹ) مرحوم نے تقریر کی۔ وکلاء کی اس مجلس میں ٥٦ دن کی بھوک ہڑتال کرنے والے اسیر نے جب خطابت کے موتی بکھیرے، الفاظ کا جادو جگایا، حقائق سے پردہ اٹھایا تو قانون دان بھی ان کی سحر انگیزی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ جب آغا صاحب نے گھمبیر لہجہ میں اپنی بھوک ہڑتال کی داستان سنائی تو بے شمار وکلاء آنسو ضبط نہ کر سکے۔ تقریر ختم ہوئی تو وکلاء فرط عقیدت میں آغا صاحب کے ہاتھ چوم رہے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک وکیل بار بار ہال میں حق و صداقت کے علمبردار شورش کاشمیری زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ جس شام ہم بذریعہ ٹرین کراچی سے روانہ ہوئے اس وقت بھی مذکورہ وکیل یہی نعرے بلند کرتے نظر آئے۔ اس سے وکلاء برادری میں آغا صاحب کی مقبولیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ایک مرتبہ میں اپنے ایک قریبی دوست کے ہمراہ آغا صاحب کو ملنے دفتر چٹان پہنچا۔ داخل ہوتے ہی بھائی صلاح الدین سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ آغا صاحب ملحقہ کمرے میں موجود ہیں آپ اندر چلے جائیں۔ ان کے کمرہ کا دروازہ نصف کے قریب کھلا تھا۔ ہم اندر داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آغا صاحب کرسی پر نیم دراز سامنے کی میز پر دونوں ٹانگیں رکھے جھولی میں کاغذ قلم لیے کچھ لکھنے میں مستغرق تھے۔ میں نے سلام کیا تو آغا صاحب نے جواب دینے کی بجائے بائیں ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ہم ان کے دائیں جانب لگی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ آغا صاحب کچھ لکھتے کاٹتے‘ پھر لکھتے‘ پھر کاٹ دیتے۔ میں نے محسوس کیا کہ آغا صاحب اس وقت علم و ادب کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر کسی گوہر نایاب کی تلاش میں ہیں۔ آغا صاحب قلندرانہ اداؤں کے ساتھ ماحول سے بے خبر بدستور لکھنے‘ کاٹنے میں مشغول رہے۔ ان کا قلم کبھی رکتا‘ کبھی چل پڑتا۔ اس کشمکش میں ان کا چہرہ کرب‘ غصہ‘ رنج و فکر‘ بے چینی اداسی و مایوسی کی جھلک دکھا رہا تھا۔ چہرے کے علاوہ ان کا پورا جسم ان کی ذہنی اضطراری کیفیت کی عکاسی کر رہا تھا۔ دائیں ٹانگ بائیں پر اور بائیں ٹانگ دائیں پر رکھتے۔ مصروں کی قطع برید کے ساتھ آغا صاحب اپنا سر کبھی دائیں کبھی بائیں جانب جھکا دیتے۔ کبھی کبھار ان کے لب قلم کی تصدیق میں ہلنے لگتے۔ انہوں نے آخری مصرعہ بھر پور انداز میں گنگنایا پھر کامران مسکراہٹ ان کے چہرے پر پھیل گئی۔
اس وقت تک ہمیں بیٹھے تقریباً نصف گھنٹہ گزر چکا تھا۔ آغا صاحب نے دائیں جانب گردن گھمائی تو ہمیں دیکھ کر تعجب بھرے انداز میں کہا اچھا کب آئے طارق۔ یہی صرف آدھ گھنٹہ ہونے کو ہے میں نے جواب دیا۔ کمال اے یار تسیں آندے کیوں نئیں دسیا (کمال ہے آپ نے آتے ہی کیوں نہیں بتایا) آغا صاحب کی آواز گونجی۔ اوئے صلاح الدین جلدی سے ٹھنڈا منگواؤ اور کھانے کا انتظام بھی کرو۔ ان دنوں آغا صاحب کی جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں سے ٹھنی ہوئی تھی۔ یہ نظم اسی کا ایک حصہ تھی۔ جو بعد ازاں انہوں نے ہماری فرمائش پر ہمیں سنائی۔ ہم نے جب بھی جانے کی اجازت مانگی‘ آغا صاحب نے بے تکلفانہ انداز میں کہا او بیٹھو جی آخر شام گئے ہمیں اجازت ملی۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ جلد ٢١‘ شمارہ ٢٦-٢٧)
حضرت پیر مہر علی شاہؒ کا جہاد ختم نبوت
چنانچہ جب وعدہ کا دن قریب آیا تو ملک کے طول و عرض سے ہزار ہا مسلمان لاہور پہنچ گئے۔ علماء، مشائخ، درویش اور ہر طبقہ و فرقہ کے مذہبی افتاد طبع رکھنے والے مسلمان، شیعہ، سنی، اہل حدیث حتیٰ کہ قادیانی جماعت کے مرید، متفق، ہمدرد اور مائل بھی دور و نزدیک سے جمع ہو گئے۔ دہلی، سہارن پور، دیوبند، لدھیانہ، سیالکوٹ، گورداسپور، امرتسر، مظفر گڑھ، ملتان اور پشاور کے ہر عقیدہ کے اسلامی مدارس اور مراکز نے بھی جو پہلے سے ہی قادیانی مباحث میں دلچسپی لے رہے تھے، اپنے اپنے نمائندے بھیجے۔ بعض سرکاری ملازم بھی دور دراز شہروں سے رخصت لے کر پہنچ گئے۔ مسلمانان لاہور نے اپنی روایتی مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔ استقبالیہ کمیٹیاں بن گئیں اور سرائیں، مسجدیں، مدرسے اور لوگوں کے گھر مہمانوں سے بھر گئے۔ قریبی اضلاع، قصبوں اور مضافات سے آنے والی ریل گاڑیاں وغیرہ سواریوں سے بھری ہوئی پہنچنے لگیں اور لاہور کے بازاروں میں لوگوں کے ٹھٹھ سے میلے کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ان دنوں ویسے بھی لوگ مذہبی جلسوں اور مباحثوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔ لیکن اس خاص موقعہ پر تو ہجوم خلائق کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ حضرت قبلہ عالم قدس سرہ جیسی مشہور زمانہ روحانی تقدس اور علمی احترام و شہرت رکھنے والی شخصیت پہلی بار، اسلام پر قادیانیت کے خطرناک حملوں کے دفاع میں علمائے دین کی اس قدر بڑی اور فقید المثال تعداد کے ساتھ میدان مناظرہ و مباحثہ میں تشریف فرما ہو رہی تھی اور تمام موافق، متردد یا مخالف حضرات اپنی آنکھوں سے بیسویں صدی کی اس سب سے بڑی اشتہاری تحریک کا حشر دیکھنا چاہتے تھے۔
مسلمانوں کے تمام فرقوں کا حضرت قبلہ عالم قدس سرہ
کو اس محاذ پر اپنا قائد منتخب کرنا
اس معرکہ میں تمام اسلامی فرقوں کے رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔ سنی، اہل حدیث اور اہل قرآن کے علاوہ لاہور اور سیالکوٹ کے شیعہ مجتہدین نے بھی قادیانیت کے محاذ پر حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف کے اپنا سربراہ و نمائندہ ہونے کا اعلان کیا۔ بالکل وہی صورت حال پیدا ہوئی جو پاکستان کے وجود میں آنے کے وقت ہندو کفر کے مقابلے میں اسلامی سیاسی پلیٹ فارم پر پیدا ہو گئی تھی اور یہی صورت آج سے تیرہ سو سال قبل قیصر روم کے اسلامی ممالک پر حملہ کے خطرہ کے وقت بھی پیدا ہوئی تھی جب حضرت امیر معاویہؓ نے رومی سلطنت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اندرونی اختلاف کے پیش نظر اسلامی سلطنت پر حملہ کیا گیا تو سب سے پہلا سپاہی جو علیؓ کے لشکر سے تمہارے مقابلہ کے لیے نکلے گا، وہ معاویہؓ بن ابو سفیان ہو گا۔
یہ وہ اسلامی روح تھی جو اپنے دامن کی پہنائی اور شدید و خفیف اختلافات کے باوجود ہر بیرونی اور ناقابل برداشت طاقت کے خلاف نبرد آزمائی و مدافعت کے لیے اپنے فرزندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے پر ہمیشہ مجبور کر دیتی رہی ہے۔ اسلامیان ہند کی اس علمی اور دینی قیادت کے وقت حضرت قبلہ عالم قدس سرہ کی عمر شریف صرف بیالیس (٤٢) سال کے قریب تھی۔ انہیں فارغ التحصیل ہوئے بائیس برس ہو چکے تھے۔ خلافت ارشاد کا اٹھارواں سال تھا اور جذب و سیاحت اور ادائیگی حج کے بعد مسند ارشاد پر صرف دس برس کا عرصہ گزرا تھا۔
لاہور میں حضرت قبلہ عالم قدس سرہ کی تشریف آوری
٢٤ اگست کو گولڑہ شریف سے روانگی پر حضرتؒ نے مرزا صاحب کو ایک تار کے
ذریعے پہلے راولپنڈی ریلوے اسٹیشن سے اور پھر اثنائے سفر لالہ موسیٰ جنکشن سے اطلاع دی کہ میں لاہور پہنچ رہا ہوں۔ جب آپ کی ٹرین لاہور پہنچی تو پہلا سوال جو آپ نے دریافت فرمایا‘ مرزا صاحب کی آمد کے متعلق تھا۔ پچاس کے قریب نامی گرامی علماء آپ کے ہمراہ تھے۔ جو پشاور‘ ہزارہ‘ اٹک‘ چھچھ‘ دھنی‘ گھیبی‘ پٹھوار‘ سوان اور سون وغیرہ علاقہ جات کے رہنے والے تھے۔ اضلاع جہلم‘ گجرات‘ گوجرانوالہ‘ شاہ پور‘ میانوالی کے علماء اور مشائخ اثنائے راہ یا لاہور میں پہنچنے سے قبل یا بعد پہنچ کر شامل ہو گئے۔ اسی طرح بہاول پور‘ ملتان‘ مظفر گڑھ‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ ڈیرہ غازی خان کے ارباب علم پہنچ کر آپ کے استقبال کنندگان میں شامل تھے۔ آپ کے ایک صاحب علم و ثروت مخلص حاجی کریم بخش سکنہ پشاور ساٹھ ہزار روپے کی طلائی اشرفیاں ہمراہ لائے تھے کہ اگر ارباب حکومت نے حفظ امن کے پیش نظر ضمانت طلب کی تو نقد جمع کرا دی جائے گی۔
مسلمان بہت بڑی تعداد میں آپ کے استقبال کے لیے اکٹھے ہو چکے تھے اور آپ کو جلوس کی صورت میں لے جانا چاہتے تھے مگر آپ نے پسند نہ فرمایا اور ریلوے اسٹیشن سے باہر باغ میں تشریف فرما ہو کر تقریباً دو گھنٹہ تک لوگوں سے مصافحہ فرماتے رہے اور ان کے شوق زیارت کی تسکین فرمائی۔
آپ کے قیام کا انتظام معہ آپ کے رفقاء کے برکت علی محمڈن ہال اور اس کی ملحقہ عمارات بیرون موچی دروازہ میں کیا گیا تھا۔ جہاں سر شام ہی مقامی اور بیرونی علماء و زعماء کی آمد و رفت شروع ہو گئی۔ جو بہت رات گئے تک متعلقہ مسائل پر تبادلہ خیالات کرتے رہے۔ اس مجلس میں حضرت قبلہ عالم قدس سرہ نے قادیانیت کے موافق و مخالف پہلوؤں پر بعض ایسے دلائل اور اسناد بیان فرمائے جو اس سے قبل کسی کے ذہن میں نہیں آئے تھے۔ یہاں تک کہ جب آپ نے قادیانیت کے موافق نقطہ نظر سے دلائل دیے تو مولوی غلام محمد بگوی امام شاہی مسجد لاہور بول اٹھے کہ حضرت اس سے تو ہمیں بھی شبہات پیدا ہونے لگ گئے ہیں مگر جب آپ نے تردیدی رخ اختیار فرمایا تو مولوی عبدالجبار غزنوی نے مجمع علماء کو مخاطب کر کے کہا کہ حضرت پیر صاحب نے ان مسائل پر جو طرز استدلال اختیار فرمائی ہے‘ اس سے بڑھ کر قادیانیت کی تردید نہیں کی جا سکتی۔
علماء کا خیال تھا کہ تقریری مناظرہ کی شرط کو واپس نہیں لینا چاہیے لیکن حضرت قبلہ عالم قدس سرہ نے ارشاد فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کسی طرح مرزا صاحب ایک بار علماء و مشائخ اسلام کی اس برگزیدہ مجلس میں شامل ہو جائیں۔ کیا عجب کہ حدیث شریف هم قوم لا یشقی جلیسهم (یہ وہ قوم ہیں جن کے پاس بیٹھنے والا بد بخت نہیں ہوتا) کی برکات سے بہرہ ور ہو کر راہ راست پر آجائیں اور یہی چیز ان نیازمند علماء و مشائخ کے حق میں اللہ سبحانہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی کا باعث ہو کر مغفرت کا سبب بن جائے۔
کہتے ہیں حضرت قبلہ عالم قدس سرہ کو اس خیال پر بہت اصرار تھا۔ ثقہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مرزا صاحب نے لاہور آنے سے بالکل ہی انکار کر دیا تو حضرت قبلہ عالم قدس سرہ علماء و مشائخ کی ایک چیدہ اور مختصر جماعت کے ساتھ قادیان جانے کو بھی تیار ہو گئے۔ مگر مسلمانوں کی اکثریت کے اس اقدام سے منع فرمانے پر اسے باطنی ارشاد سمجھتے ہوئے رک گئے۔
مرزا صاحب کی آمد کا انتظار
مباحثہ کا انعقاد شاہی مسجد میں قرار پایا تھا اس لیے مورخہ ٢٥ اگست کو پولیس نے وہیں حفظ امن کے انتظامات کر رکھے تھے۔ ٢٥ اور ٢٦ کو دونوں اطراف کے نمائندے اور عوام مسجد میں جمع ہو ہو کر منتشر ہوتے رہے اور قادیانیوں کی طرف سے کہا جاتا رہا کہ شرائط کے طے ہونے میں توقف ہو رہا ہے مگر مرزا صاحب ضرور آئیں گے لیکن مرزا صاحب کو نہ آنا تھا اور نہ آئے۔
قادیانیوں کی دوڑ دھوپ
اس جماعت کے بعض ذی اثر لاہوری حضرات نے مرزا صاحب کو لانے کے لیے
بہت تگ و دو کی مگر ناکام رہے ۔ مرزا صاحب نے کہلا بھیجا کہ پیر صاحب خود اعلان کریں کہ تقریری بحث کی شرط کو میں واپس لیتا ہوں اور تحریری مقابلہ کے لیے اشتہار دعوت کی شرائط کے مطابق تیار ہوں۔ حضرت قبلہ عالم قدس سرہ نے فرمایا کہ مرزا صاحب کے حواری مولوی محمد احسن امروہی کے اسی مضمون کے اشتہار کے جواب میں ہمارے ایک رفیق حکیم مولوی سلطان محمود کا جواب مشتہر ہو چکا ہے کہ مرزا صاحب کی اپنی شرائط پر ہی ہمیں مقابلہ منظور ہے۔ اس سے پہلے بھی مرزا صاحب کے نام ایک مطبوعہ خط شائع کر دیا گیا تھا کہ اگر آپ کسی شرط میں ترمیم چاہتے ہیں تو اطلاع دیں مگر مرزا صاحب نے کوئی اطلاع نہ دی اور برابر خاموش رہے۔ اگر اب بھی وہ اپنے دستخطوں سے اعلان کر دیں کہ میں تقریری بحث نہیں کرنا چاہتا تو میں بھی اپنے دستخطوں سے اعلان کردوں گا کہ میں تقریری بحث کی شرط اور مطالبہ واپس لے چکا ہوں۔
حضرت قبلہ عالم قدس سرہ نے فرمایا کہ تقریری بحث کی شرط خود مرزا صاحب کے اشتہار دعوت سے ہی پیدا ہوتی ہے جس میں انہوں نے تحریری مقابلہ سے پہلے علماء کو یہ دعوت دی ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی دلائل ہیں تو کیوں پیش نہیں کرتے۔ مگر اس گفت و شنید کے جواب میں مرزا صاحب نے نہ صرف اپنی طرف سے یہ اعلان جاری کرنے سے انکار کر دیا بلکہ صاف کہہ دیا کہ میں کسی قیمت پر بھی لاہور آنے کو تیار نہیں ہوں۔ کیونکہ مولوی لوگ مجھے دعویٰ نبوت میں کاذب ثابت کرنے کے بہانے قتل کرانا چاہتے ہیں۔
قادیانی جماعت میں انتشار
جب قادیانی جماعت کا آخری وفد، قادیان سے مرزا صاحب کا یہ جواب لے کر ناکام لوٹا تو اس جماعت میں بہت انتشار پیدا ہو گیا۔ بعض نے اسی وقت توبہ کا اعلان کر دیا۔ بعض سخت مایوس ہو کر خانہ نشین ہو گئے۔ لاہور کے اکثر وہ لوگ جو مرزا صاحب کے بہت قریب تھے، حضرت قبلہ عالم قدس سرہ کی روزانہ مجالس سے اثر پذیر ہو کر، کم از کم مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کے منکر ہو گئے۔ بعض دیگر حضرات مثلاً بابو الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ وغیرہ نے
جو قادیانیت کے سرگرم رکن رہ چکے تھے، حضرت قبلہ عالم قدس سرہ کے علم و فضل کی تعریف و توصیف میں اور آپ کی خداداد کامیابی و نصرت کے بیان میں اشتہارات اور ٹریکٹ شائع کیے۔
(”مہر منیر“ ص ٢٣٠-٢٣٢‘ مولانا فیض احمد فیض)
اللہ کی نصرت
ایک اور بزرگ حضرت سید چانن شاہؒ جابہ شریف بھی اپنے ایک خواب کی کیفیت بیان فرماتے تھے کہ میں نے ایک فوج کو علم لہراتے دریائے جہلم کے پل پر سے لاہور کی جانب جاتے دیکھا۔ جن میں سے ایک صاحب نے میری دریافت پر فرمایا کہ ہم بغداد شریف سے آرہے ہیں اور پیر صاحب گولڑہ شریف کی نصرت کے لیے مرزائے قادیانی کے مقابلہ پر لاہور جا رہے ہیں۔
(”مہر منیر“ ص ٢٤٥‘ مولانا فیض احمد فیض)
الجثّہ بالجثّہ
١٩٠٤ء میں ختم ہونے والے قادیانی مقدمات کے بعد‘ ١٩٠٧ء میں پھر ایک مرتبہ قادیانیت کی طرف سے حضرتؒ کے متعلق ایک کارروائی کا پتہ چلتا ہے۔ شاید اس سال مرزا صاحب نے پھر کوئی زبانی یا تحریری پیشین گوئی داغی ہو گی جسے سن کر یا پڑھ کر نواب محمد حیات قریشی سکنہ ضلع سرگودھا کے والد بزرگوار میاں محمد قریشی جو حضرت قبلہ عالم قدس سرہ کے پیر بھائی اور محب صادق تھے‘ پریشانی کے عالم میں گولڑہ شریف پہنچے اور عرض کی کہ مرزا قادیانی کہتا ہے اس آنے والے جیٹھ کے مہینہ میں پیر صاحب گولڑہ کا انتقال ہو جائے گا۔ لہٰذا آپ اپنی حفاظت کا مناسب انتظام رکھیں مبادا کوئی حملہ کر دے۔ حضرتؒ نے انہیں تسلی دے کر فرمایا کہ ”میاں محمد موت تو برحق ہے اور اس سے مفر نہیں مگر تسلی رکھو
انشاء اللہ اس جیٹھ میں تو میں نہیں مرتا“ جب اگلے جیٹھ کا مہینہ آیا تو مرزا صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اس سال جب سیال شریف کے عرس پر ملاقات ہوئی تو حضرت قبلہ عالم قدس سرہ نے میاں صاحب سے فرمایا الجیٹھ بالجیٹھ یعنی جیٹھ جیٹھ سے بدل گیا۔
("مہر منیر" ص ٢٥٧‘ مولانا فیض احمد فیض)
چنانچہ کتاب ”صاعقہ رحمانی بر محل قادیانی“ کے مصنف مولوی حبیب اللہ صاحب امرتسری نے جو مکتوب حضرتؒ کی خدمت میں ارسال کیا‘ اس میں کہا کہ ”مرزائیوں کی کتاب ”عسل مصفی“ پڑھ کر میرے دل میں قسم قسم کے شکوک پیدا ہو گئے تھے مگر الحمد للہ کہ جناب کی تصانیف ”سیف چشتیائی“ اور ”شمس الہدایت“ نے میرے مذبذب دل میں تسلی بخش امرت ٹپکایا اور نیز چند مرزائیوں نے اسے پڑھا۔ چنانچہ حکیم الہی بخش صاحب مرحوم مع اپنے لڑکے کے آخر مرزائیت سے توبہ کر گئے اور اسلام پر فوت ہوئے“۔
("مہر منیر" ص ٥٣٠‘ مولانا فیض احمد فیض)
مگر کچھ اور تھا رنگ جمانے والا
(مولف)
کاروان ختم نبوت کے قافلہ سالار
زیر نظر شمارہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرحوم امیر مولانا محمد یوسف بنوری رحمتہ اللہ علیہ کی یاد میں بطور خاص نمبر شائع کیا جارہا ہے۔ مولانا بنوری مجلس کے پانچویں امیر اور سربراہ تھے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے اس شمارہ میں مولانا مرحوم سے پہلے جماعت کے چار سربراہوں کا مختصرا تذکرہ بھی آجائے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام ملک کی تقسیم کے بعد اس وقت عمل میں لایا گیا‘ جب مذہبی اور سیاسی دونوں لحاظ سے ضروری ہو گیا تھا کہ عوام کو مرزائیت کے فتنہ اور اس کے خلاف ملک اور اسلام سرگرمیوں سے موثر طریقہ پر آگاہ کیا
جائے۔ مرزائیت کا محاسبہ اور تعاقب علماء حق روز اول ہی سے کرتے چلے آ رہے تھے۔ لیکن مجلس احرار اسلام وہ پہلی جماعت تھی جس نے منظم اور جماعتی طور پر اس کا محاسبہ کیا۔ انگریزوں کی سرپرستی میں جس طرح اس جماعت کو پروان چڑھانے کی کوشش کی گئی تھی اگر مجلس احرار اسلام اس کے سامنے سد سکندری نہ بن گئی ہوتی تو انگریزوں کا یہ خود کاشتہ پودا پورے غلامستان ہندوستان پر اپنا منحوس سایہ پھیلا چکا ہوتا۔
قیام پاکستان تک تو مجلس احرار نے اس کا ناطقہ بند کیے رکھا لیکن دوسری طرف بدقسمتی یہ ہوئی کہ مجلس احرار بوجوہ تحریک پاکستان کی جماعت مسلم لیگ کے نہج پر کام نہ کر سکی تھی۔ تحریک پاکستان سے پہلے اسے شہید گنج کے سلسلہ میں عوامی غیظ و غضب کا شکار ہونا پڑا تھا۔ رہی سہی کسر تحریک پاکستان کے زمانے میں نکل گئی۔
مرزائی پاکستان کے سیاسی طور پر ہی نہیں‘ الہامی طور پر بھی مخالف تھے۔ جب پاکستان مرزائیوں کی ہر طرح کی مخالفت کے علی الرغم بننے لگا تو مرزا محمود نے اعلان کر دیا کہ اگر ملک تقسیم ہوا تو وہ تقسیم عارضی ہو گی اور ہم کوشش کریں گے کہ ہندو مسلم پھر آپس میں شیر و شکر ہو جائیں اور ہم کسی نہ کسی طرح پھر اکھنڈ بھارت بنائیں گے۔ مرزا محمود کے اس اعلان کے بعد ہمارے لیے ضروری ہو گیا کہ مسلمانوں کو مرزائیوں کے عقائد کے علاوہ ان کے سیاسی عزائم سے بھی آگاہ کریں۔ ہم نے کلمہ حق کہنا شروع کیا تو اس کا اثر ہوا لیکن بے شمار لوگ ایسے تھے جنہیں مجلس احرار کے نام سے خدا واسطے کا بیر ہو چکا تھا۔ ہم نے مناسب سمجھا کہ بات نام کی نہیں‘ کام کی ہے۔ نام کوئی ہو‘ اصل کام ہونا چاہیے۔ پھر جب کہ خود مجلس احرار نے بھی اپنی سیاسی حالت ختم کر دینے کا فیصلہ کر لیا تھا‘ حالات کے تقاضے اور اکثر ساتھیوں کی خواہش کے مطابق ایک غیر سیاسی تنظیم مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کی گئی۔ اس کے بانی ممبران میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ مولانا محمد علی جالندھری‘ مولانا لال حسین اختر‘ مولانا شیخ احمد بوریوالہ‘ مولانا محمد شریف بہاولپوری‘ مولانا محمد حیات فاتح قادیان راقم الحروف‘ تاج محمود‘ مولانا عبدالرحمن میانوی‘ مولانا محمد شریف جالندھری‘ مولانا عبدالرحیم اشعر‘ مولانا محمد عبداللہ ساہیوال‘ مولانا غلام محمد بہاولپوری‘ مولانا نذیر حسین پتہ عاقل اور چند دیگر ساتھی شامل
تھے۔
اس پلیٹ فارم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ سرکاری ملازمین بھی جماعت میں شامل ہو سکتے تھے۔ یہ جماعت ملک کی کسی مسلمان سیاسی جماعت کی حلیف یا حریف بھی نہ تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جس کام کی راہ میں بے شمار مشکلات تھیں، وہی کام اللہ کے فضل و کرم سے دن دگنی رات چوگنی ترقی سے ہونے لگا۔ عوام کسی تعصب کے بغیر حق بات سننے لگے بلکہ سمجھنے لگے۔ ملک کے خلاف مرزائیوں کی سازشیں بے نقاب ہونے لگیں تو عوام نے نہ صرف یہ کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا بلکہ چودھری ظفر اللہ خاں کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کرنے اور تمام مرزائی افسروں کو کلیدی اسامیوں سے نکال دینے کا بھی مطالبہ شروع کر دیا اور چند سالوں میں ہی مرزائیوں کے خلاف ایک عظیم تحریک منظم ہو گئی۔
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے امیر اور سربراہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری منتخب ہوئے۔ حق یہ ہے کہ وہ اس جماعت کے بانی بھی تھے اور سربراہ بھی۔ شاہ جی کے آباء و اجداد سرزمین بخارا سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے بڑے بزرگوں میں سے کوئی صاحب کشمیر آکر آباد ہو گئے تھے۔
شاہ جی کے والد اور والدہ دونوں گھرانے حافظ اور عالم تھے۔ شاہ جی کے والد حافظ سید ضیاء الدین ناگڑیاں ضلع گجرات میں رہنے لگے تھے۔ آپ کی والدہ بزرگوار پٹنہ کے ایک سید خاندان سے تھیں، شاہ جی کا بچپن اپنے ننھیال پٹنہ میں گزرا تھا۔ حق تعالیٰ نے زبان بیان کے جوہر بچپن ہی میں عطا کر دیے تھے۔ تعلیم کے سلسلہ میں امرتسر میں رہے۔ پھر وہیں قیام اختیار کر لیا۔ ابتداء میں اصلاحی مضامین پر تقریریں کرتے تھے۔ حق تعالیٰ نے بے پناہ مقبولیت بخشی تو مولانا سید محمد داؤد غزنوی کی دعوت پر قومی تحریکوں اور جلسوں میں حصہ لینے لگے۔ پنجاب کے حریت فکر رکھنے والے مسلمان رہنماؤں نے کانگریس سے علیحدہ اپنی
جماعت مجلس احرار اسلام بنائی تو اس کے بانی ممبر کی حیثیت سے اس میں شامل ہو گئے۔ جن ہندوستانی رہنماؤں نے برصغیر کی تحریک آزادی کے لیے کام کیا، قربانیاں دیں اور لوگوں میں بیداری پیدا کی، شاہ جی ان میں ہر لحاظ سے سر فہرست تھے۔ زندگی کا ایک چوتھائی جیلوں میں بسر ہوا۔ خود ان کے بقول میری زندگی جیل، ریل اور تمہارے اس کھیل میں گزر گئی۔ مسلمانوں میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی بیداری پیدا کرنے کے سلسلہ میں شاہ جی نے بڑی خدمات سرانجام دی ہیں۔ شاہ جی واحد رہنما تھے، جو مسلمانوں کو اخبار پڑھنے اور ملکی حالات میں دلچسپی لینے کی ترغیب دیتے تھے۔ دیہات اور قصبات میں مسلمانوں کو کہہ کر دکانیں کھلواتے جبکہ مسلمان اس وقت دکانداری کرنا عیب سمجھتے تھے۔ مسلمانوں کی معاشرتی اور سماجی طور پر بڑی خدمت کی۔ آزادی وطن کے بعد کا جو نقشہ ان کے ذہن میں تھا، اس پر اب بحث عبث ہے لیکن انہیں اس بات کا بہت دکھ تھا کہ انگریزوں نے ہندوستان، مسلمانوں سے چھینا تھا پھر انگریزوں کو نکالنے کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں بھی مسلمانوں نے ہی دی تھیں۔ سراج الدولہ اور سلطان ٹیپو سے لے کر ١٤؍ اگست ١٩٤٧ء تک لاکھوں مسلمان آزادی کے لیے قربان ہوئے۔ جیلیں کاٹیں، گولیاں کھائیں، پھانسی کے پھندوں کو چومتے رہے۔ لیکن اب جب ملک آزاد ہو گا تو وہ مسلمانوں کا ملک کس کو ملے گا؟
درمیان میں ایک عظیم متحدہ خطہ اور بہت بڑی سلطنت بکرمادیت کا تخت بچھا کر ہندو کے حوالے کیا جائے گا۔ دائیں بائیں دو بکھرے ہوئے اور ایک دوسرے سے ہزار میل دو ٹکڑے مسلمانوں کے حوالے ہوں گے جو ایک دوسرے کے دکھ مصیبت میں شریک نہیں رہ سکیں گے۔ انہیں خواجہ اجمیری، خواجہ نظام الدین اولیاء، حضرت مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ اور ان کے نورانی گھرانے اور دوسرے ہزارہا صلحاء کے مزاروں کا کفرستان میں رہ جانا سمجھ میں نہ آتا تھا۔ وہ اس کے لیے بھی تڑپ جایا کرتے تھے کہ دہلی کی جامع مسجد مسلمانوں کی عظمت کا نشان لال قلعہ، آگرے کا تاج اور ایسی ہزاروں عظمتیں ہندو کے سپرد ہوں گی۔ دیوبندیوں کا دیوبند، بریلویوں کا بریلی، علی گڑھیوں کا علی گڑھ، جامعیوں کا جامعہ، ندویوں کا ندوہ، فرنگی محلیوں، بدایونیوں کے علمی اور روحانی مراکز کفرستان میں چلے جائیں
گے لیکن جب پاکستان معرض وجود میں آگیا تو ان کی عظمت دیکھئے تمام معتقدین، متبعین ساتھیوں اور محبت رکھنے والوں کو کھل کر فرما دیا جناب محمد علی جناح اور ہمارے درمیان سیاسی رائے کا اختلاف تھا۔ ایک ان کی رائے تھی، ایک ہماری رائے۔ دونوں دیانت پر مبنی تھیں۔ ان کی بات کو قوم کی اکثریت نے قبول کر لیا۔ ہماری بات کو ماننے سے اکثریت نے انکار کر دیا۔ اب تحریک آزادی کی ابتداء سے لے کر آخر تک کی مسلمانوں کی تمام محنتوں، قربانیوں اور کاوشوں کا صلہ پاکستان ہے۔ اس ملک کا حکم ایک مسجد کا ہے جو اب بن گئی ہے۔ اب اس کا آباد کرنا باعث اجر و ثواب اور اس کا گرانا یا اسے نقصان پہنچانا حرام اور باعث عذاب ہے۔
شاہ جی انتہائی خود دار، غیرت مند، بہادر اور جری انسان تھے۔ حق تعالیٰ نے انہیں پیغمبرانہ وجاہت عطا فرمائی تھی۔ ان کا وجود سراپا قدرت کا شاہکار تھا۔ زبان سے بولتے نہیں، موتی رولتے تھے۔ آواز میں قدرت نے جادو بھر دیا تھا۔ حافظہ خدا کی عطا تھی۔ ان کے بیان کی اثر آفرینی مالک کی دین تھی۔ وہ تقریر کیا کرتے، لوگوں کو ہوش و خرد کا شکار کر لیتے۔ ان کے حواس پر شاہ جی کا قبضہ ہو جاتا۔ چاہتے تو مجمع کو رلا دیتے اور چاہتے تو انہیں ہنسا دیتے۔ عموماً ان کی تقریر رات ١٠، ١١ بجے شروع ہوتی۔ وہ خود اور ان کے تمام سامعین رات بھر خدا جانے کہاں چلے جاتے۔ صبح کی اذان ہوتی تو فرماتے اوہ صبح ہو گئی؟ موذن، تیری آواز مکے اور مدینے اور پھر تقریر کے ختم کرنے کا اعلان کرتے تو ایک کہرام بپا ہو جایا کرتا۔ شاہ جی تھوڑی دیر اور بیان کر دیں اور شاہ جی کہتے نہیں، زندہ رہا تو انشاء اللہ پھر کبھی آؤں گا اور تقریر سناؤں گا۔ شاہ جی کی دیانت، امانت مثالی تھی۔ وہ حضور کے ارشاد الفقر فخری کی تصویر تھے۔ عظیم شخصیت ہوتے ہوئے بھی غریب کارکنوں، ساتھیوں اور رضا کاروں سے گھل مل کر رہتے۔ حضور اکرم کا عشق ان کے رونگٹے رونگٹے میں رچا بسا ہوا تھا۔ حضور کا نام اتنے ادب سے لیتے کہ سامع کے دل میں حضور کے لیے مقام و احترام پیدا ہوتا۔
انگریز کے دشمن تھے اور انگریزوں کے دشمنوں کو سر آنکھوں پر بٹھانے والے، جھوٹ اور چوری ان کے ہاں ناقابل معافی گناہ تھا۔ جھوٹے اور چور کو قریب پھٹکنے نہ دیتے تھے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے حصے میں ان کے بڑھاپے‘ بیماری اور معذوری کا زمانہ آیا لیکن انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے عشق اور محبت کے جذبہ کے تحت جماعت کے لیے دن رات کام کیا۔ ملک کے کونے کونے میں جماعتیں قائم ہوئیں‘ دفاتر کھولے گئے‘ رضاکار بھرتی کیے گئے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت انہی کی قیادت میں چلائی گئی۔ اس میں شک نہیں کہ وہ تحریک کامیاب نہ ہو سکی لیکن ١٩٧٤ء کی تحریک کی کامیابی کی بنیاد اسی تحریک میں پیش کی جانے والی قربانیاں ہی ثابت ہوئیں۔ مجلس احرار اسلام کے چمن کی آبیاری بھی زندگی بھر انہوں نے ہی کی تھی۔ اور آخری عمر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا گلستان سدا بہار بھی وہی اپنے ہاتھوں سے آباد کر گئے۔ ویسے تو شاہ جی مجلس کی روح رواں تھے۔ ١٩٣١ء میں جو قافلہ حبیب ہال لاہور میں مرتب اور منظم ہوا تھا‘ اس گلدستہ کے گل سرسبز ہمیشہ وہی رہے تھے۔ تاہم ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کی قید و بند کی ابتلاء سے رہائی کے بعد ہم دوبارہ اکٹھے ہوئے اور بے پناہ قربانی کرنے کے باوجود ہم نے مل کر عہد کیا کہ جب تک مسئلہ ختم نبوت کو حل نہیں کیا جائے گا‘ اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
١١ دسمبر ١٩٥٤ء کو ملتان میں ایک اجلاس ہوا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی باقاعدہ تشکیل اور ترتیب درست کی گئی۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو جماعت کا باقاعدہ امیر منتخب کیا گیا۔ ٢١ اگست ١٩٦١ء کو شاہ جی کی وفات کا سانحہ پیش آیا۔ اس لحاظ سے شاہ جی ١٤ ربیع الثانی ١٣٧٤ھ‘ بمطابق ١١ دسمبر ١٩٥٤ء سے ٩ ربیع الاول ١٣٨١ھ مطابق ٢١ اگست ١٩٦١ء تک مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ٦ سال ٨ ماہ ٩ دن باقاعدہ امیر اور سربراہ رہے۔
مولانا قاضی احسان احمدؒ شجاع آبادی
مجلس کے دوسرے امیر مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی تھے۔ شجاع آباد ضلع ملتان کا ایک قصبہ ہے۔ قاضی احسان احمد اسی قصبہ میں قاضی محمد امین کے ہاں پیدا ہوئے۔ تعلیم اپنے ہی بزرگوں سے حاصل کی۔ عربی‘ فارسی اور اردو زبان کے جید عالم تھے۔ قاضی
صاحب اپنی خطابت، ایثار اور قربانی کی بدولت ملک گیر شہرت کے مالک بن گئے تو ان کی بدولت شجاع آباد کے بھی بھاگ جاگ گئے اور شجاع آباد کا گمنام قصبہ بھی ملک گیر شہرت کا حامل ہو گیا۔
شجاع آباد بادشاہوں کے وقتوں کے کسی نواب کے نام پر ہے۔ قلعہ نما شہر اور درمیان میں شاہی مسجد ہے۔ قاضی صاحب مرحوم کے کوئی جد امجد قاضی، جسٹس یا جج کے عہدہ پر فائز تھے۔ ان کی اولاد قاضی کہلائی۔ منصب، مکان، جائیداد جدی چلی آ رہی ہے۔ قاضی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بڑی خوبیوں سے نوازا ہوا تھا۔ ان کا وجیہہ چہرہ مہرہ خطیبانہ تھا۔ بلا کے ذہین انسان تھے۔ عالم باعمل قسام ازل سے غضب کا حافظہ پایا تھا۔ شاہ جی کا ظل اور عکس شمار ہوتے تھے۔ پہلے احرار میں اور تقسیم ملک کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی ممبران میں شامل تھے۔ شعلہ نوا خطیب لاکھوں کے مجمع پر چھا جانے والے مشکل سے مشکل مسائل کو اپنے آسان طرز بیان سے عوام کے ذہن نشین کرنے کا خاص ملکہ رکھتے تھے۔ ضرورت کی کتابوں، اخباروں، رسالوں اور دستاویزات کا حوالہ ان کے پاس موجود ہوتا۔ جسٹس منیر کے بقول ان کے ساتھ ایک بہت بڑا صندوق لازماً ہوا کرتا تھا جسے ایک مضبوط زنجیر اور تالا کے ذریعے محفوظ رکھا جاتا۔ وہ صندوق دراصل قاضی صاحب کا اسلحہ خانہ تھا جس میں وہ تمام دستاویزی ثبوت اور حوالہ جات محفوظ رکھتے تھے۔ قاضی صاحب نے اونچے حلقوں میں اور اسی طرح تعلیم یافتہ طبقہ میں جماعت کی سفارت اور ترجمانی کا حق ادا کیا۔ قاضی صاحب مرحوم بظاہر امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ رکھتے تھے لیکن در حقیقت وہ صحیح معنوں میں درویش منش انسان تھے۔
قاضی صاحب نے خان لیاقت علی خان کو جب عربوں کا مرزا بشیر الدین محمود ہیڈ آف دی جماعت ربوہ کے نام خط دکھلایا جس میں عربوں نے مرزا صاحب کا اس بات پر شکریہ ادا کیا تھا کہ ان کی ہدایت پر چودھری ظفر اللہ خان نے ہماری یو این او میں حمایت کی ہے، تو خان صاحب کی آنکھیں کھل گئیں۔
قاضی صاحب نے فرمایا: خان صاحب! سر ظفر اللہ وزیر خارجہ پاکستان کا ہو، تنخواہ پاکستان کے خزانہ سے لیتا ہو، آپ کی کابینہ کا ممبر ہو، نمائندہ آپ کا ہو اور عرب شکریہ مرزا
محمود کا ادا کریں، حالانکہ عربوں کی یو این او میں حمایت مرزا محمود کی نہیں بلکہ پاکستان کی پالیسی ہے۔ عربوں کو شکریہ مرزا محمود کا نہیں بلکہ حکومت پاکستان اور آپ کا ادا کرنا چاہیے۔
قاضی صاحب ایک دفعہ مرزائیوں کی ان سرگرمیوں کا احتساب کرنے کے لیے کوئٹہ تشریف لے گئے جو مرزائیوں نے بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کے لیے بپا کر رکھی تھیں اور جن کے پیچھے ایک گہری سازش کار فرما تھی۔
میاں امین الدین وہاں حکومت کے انچارج اعلیٰ تھے۔ ان کا مزاج افسرانہ اور متکبرانہ تھا۔ قاضی صاحب نے ملاقات کے لیے وقت مانگا تو اس نے معذرت کر دی۔ قاضی صاحب نے دوبارہ کہلوایا کہ ملکی نوعیت کے مسائل پر گفتگو مقصود ہے۔ اس نے پندرہ منٹ عنایت فرما دیے۔ قاضی صاحب اندر گئے، ملاقات شروع ہوئی۔ مرزائیت کے متعلق بات شروع کی تو اس نے بڑے غرور سے کہا کہ اس کے متعلق ہم نے سرکلر جاری کر دیا ہے۔ چھوڑئیے اس بات کو، کوئی اور بات ہے تو کیجئے۔
قاضی صاحب نے فرمایا وہ سرکلر آپ نے نہیں جاری کیا میں مرکزی حکومت سے جاری کروا کر آیا ہوں۔ میاں صاحب کی اکڑی ہوئی گردن کچھ ڈھیلی ہوئی۔ دریافت کیا آپ مرکز میں کس سے ملے تھے۔ قاضی صاحب نے مرکزی وزراء اور وزیر اعظم کا نام لیا اور سرکاری محکموں میں مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں کے متعلق سرکلر کے جاری کیے جانے کی تفصیل بتائی۔ میاں صاحب کی گردن میں مزید خم پیدا ہو گیا۔ اب قاضی صاحب نے اپنا صندوق اندر منگوایا اور مرزائیوں کے متعلق وہ تمام حوالے نکال نکال کر دکھانے شروع کیے جن میں مرزائیوں کے سیاسی عزائم اور بلوچستان پر قبضہ کرنے کی باتیں درج تھیں۔ مرزائی لٹریچر سے جب میاں صاحب نے وہ حوالے دیکھے تو قاضی صاحب نے فرمایا میاں صاحب بلوچستان کے متعلق یہ خطرات آپ کے علم میں ہیں۔ میاں صاحب نے جواب دیا مجھے تو ان باتوں کا علم نہیں۔ تو آپ نے مرکز کو بھی قادیانی سرگرمیوں کی کوئی اطلاع نہیں بھجوائی ہو گی، بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ کے زیر انتظام علاقہ میں ملکی سالمیت کے خلاف یہ سازشیں پروان چڑھ رہی ہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ مجھے کوئی علم نہیں۔ یہ سن کر
میاں صاحب بالکل جھک کر بیٹھ گئے۔ اب وہ سب اکڑ فوں ختم ہو گئی۔ گفتگو شروع ہوئی جو اڑھائی گھنٹے تک جاری رہی۔ قاضی صاحب نے معلومات کا ذخیرہ جمع کر دیا۔ وہ حیران سے حیران تر اور پریشان سے پریشان تر ہوتا چلا گیا۔ اب قاضی صاحب نے اسے گریبان سے پکڑ لیا اور محبت سے کبھی اپنی طرف کھینچتے اور پھر کبھی ڈھیلا کر کے اسے پیچھے لے جاتے اور اپنی خاص ادا میں فرمایا میاں صاحب ابھی تو آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی جا کر اپنے فرائض کے متعلق جواب دینا ہے کہ آپ نے اسلامی حکومت کے ایک بہت بڑے صوبہ کی ذمہ داریوں کو کیوں نہیں ادا کیا تھا؟
قاضی صاحب ایک دفعہ قلات گئے تو نواب احمد یار نے انہیں اپنے ہاں مہمان ٹھہرایا۔ قاضی صاحب نے انہیں بھی ان تمام خطرات سے آگاہ کیا جو ملک اور اسلام کو مرزائیوں سے لاحق ہیں۔ نواب صاحب، قاضی صاحب سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ایک موقعہ پر قاضی صاحب کے جوتے اٹھا کر ان کے سامنے سیدھے کر کے رکھ دیے اور اس طرح اپنی نیازمندی کا اظہار کیا۔ قاضی صاحب مرحوم یہ واقعہ سناتے وقت فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ جبکہ میں نے اپنی والدہ بزرگوار کی خدمت کرتے ہوئے ان کے سامنے عجز اور محبت سے جوتے سیدھے کر کے رکھے تھے تو میری والدہ نے دعا دیتے ہوئے فرمایا تھا بیٹا ایک وقت آئے گا کوئی بادشاہ تیرے سامنے جوتے نیازمندی سے سیدھا کر کے رکھے گا۔ غرضیکہ قاضی صاحب مرحوم ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے بھرپور زندگی بسر کی۔ جیلیں کاٹیں، قربانیاں دیں۔ ایک تحریک کے دوران پولیس کے لاٹھی چارج میں ان کے بازو کی ہڈیاں توڑ دی گئی تھیں۔ ملت اسلامیہ کے لیے بے مثال خدمات سرانجام دیں اور مطمئن ضمیر لے کر اللہ کے پاس چلے گئے۔ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ١٢ شوال ١٣٨٢ھ مطابق ٩ مارچ ١٩٦٣ء سے ٩ شعبان ١٣٨٦ھ مطابق ٢٣ نومبر ١٩٦٦ء تک ٣ سال ٨ ماہ ٢٧ دن باقاعدہ امیر اور سربراہ رہے۔
مولانا محمد علیؒ جالندھری
مجلس کے تیسرے امیر اور سربراہ مولانا محمد علی جالندھری تھے۔ وہ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے بعد امیر منتخب ہوئے اور اس سے قبل شاہ صاحب اور قاضی صاحب کے ساتھ بطور ناظم اعلیٰ کام کرتے رہے۔
در حقیقت مولانا محمد علی جالندھری جماعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔ مولانا محمد علی جالندھری ارائیں برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنا اچھا خاصا زمیندارہ تھا۔ نکودر ضلع جالندھر کے ایک گاؤں یکو کے رہنے والے تھے۔ علامہ حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے خاص شاگردوں میں شامل اور مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل عالم تھے۔ مولانا جید عالم، منطقی اور زبردست مناظر تھے۔ وہ شکل، صورت، رہن سہن اور وضع قطع میں ٹھیٹھ پنجابی اور دیہاتی معلوم ہوتے تھے۔ ان جتنی مدلل تقریر احرار کے سارے گروہ میں کوئی مقرر نہیں کر سکتا تھا۔ وہ تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوتے، چند جملے اردو زبان میں بولتے تو مجمع سے آوازیں آنا شروع ہو جاتیں مولانا تقریر پنجابی زبان میں کریں اور مولانا ٹھیٹھ پنجابی زبان میں تقریر کرنا شروع کر دیتے۔ پنجابی کے محاورے بولتے، دیہات کی روز مرہ زبان استعمال کرتے۔ لوگ عش عش کر کے رہ جاتے۔ وہ کھیتوں کی روشوں، ہل چلانے والے کسانوں، ان کی ہل پنجالی، روٹی بھتہ لانے والی کسان کی بیوی، کھیتوں کے سبزے، فصلوں کی لہلہاہٹ سے اپنا مضمون پیدا کرتے۔ دیہاتی زندگی کے سادہ اور فطری مناظر سے اپنی روانی کا تانا بانا بنتے سنوارتے چلے جاتے۔
احرار کے زمانے میں انہیں پرولتاری مقرر سمجھا جاتا تھا۔ کسانوں، مزدوروں، غریبوں اور پسماندہ طبقوں کی زندگی کے مسائل کے متعلق بولتے، سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام پر سخت تنقید کرتے تو ان کی تقریر دور دور تک پہنچتی۔ اس زمانہ میں معلوم ہوتا تھا کہ روسی سفارت خانے میں مولانا کی تقریروں کے متعلق خاص طور پر دلچسپی لی جاتی ہے۔ مولانا بعض باتیں عجیب و غریب کہا کرتے تھے۔ مثلاً وہ فرمایا کرتے کہ جس طرح
جسم میں جوئیں باہر سے نہیں آتیں، بلکہ انسان کی اپنی میل کچیل سے پیدا ہوتی ہیں، اسی طرح کمیونزم بھی باہر سے نہیں آیا کرتا بلکہ ملکوں اور قوموں کے اندر ہی سے غربت، معاشی ناہمواری، ظلم اور جہالت کی بدولت پیدا ہو جاتا ہے۔ مولانا نے برصغیر کے چپے چپے پر بے شمار تقریریں کیں۔ آخری عمر میں ان کی تقریریں اصلاحی اور تبلیغی ہوا کرتی تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بڑی بڑی معرکۃ الاراء تقریریں کی ہوں گی لیکن ان کی ایک تقریر فروری ١٩٥٣ء میں نسبت روڈ لاہور پر ہوئی تھی، جس ایک تقریر نے لاہور میں آگ لگادی تھی اور دوسرے دن لاہور سراپا تحریک ختم نبوت بن چکا تھا۔ ایک مثالی اور یادگار تقریر تھی۔
ایک دفعہ اسلامیان سرگودھا نے شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ سے جلسے کے لیے وقت لیا۔ سرگودھا والوں نے جلسے کا اہتمام کرلیا۔ اشتہار چھپ گئے، تاریخ آگئی۔ سرگودھا اور شمال مغربی پنجاب کے دور دراز کے دیہات سے دنیا پہنچ گئی لیکن شاہ جی بیماری کے باعث جلسہ میں نہ پہنچ سکے۔ مولانا محمد علی جالندھری کا بھی وعدہ تھا وہ پہنچ گئے۔ لوگوں کو ابھی تک یہ معلوم نہ ہو سکا تھا کہ شاہ جی نہیں آ رہے ۔ عشاء کی نماز کے بعد جلسہ شروع ہوا۔ لاکھوں کا اجتماع تحریک ختم نبوت کی بحرانی کیفیت، مولانا محمد علی جالندھری کا بیان شروع ہوا۔ خدا کی قدرت مولانا کی تقریر میں ایسا جوش و خروش اور نظم و تسلسل پیدا ہوا کہ پوری کانفرنس سراپا گوش بن گئی۔ مولانا نے ختم نبوت کی اہمیت، اتحاد امت، شان رسالت، ”رد مرزائیت، ملک کے استحکام و بقا کی ضرورت اور مرزائیوں کی سازشی سرگرمیوں پر اتنی معرکۃ الاراء تقریر کی کہ ایک سماں بندھ گیا۔ ساری رات تقریر جاری رہی۔ صبح کی اذان نے تقریر کا سلسلہ منقطع کیا۔ لوگ ششدر اور مولانا خود حیران کہ آج یہ کیسی رات اور یہ کس زور کی تقریر ہو گئی۔ اگلے روز مولانا محمد علی جالندھری ملتان پہنچے۔ شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ماجرا سنایا۔ شاہ جی نے فرمایا محمد علی مجھے سرگودھا کے جلسہ کی بڑی فکر اور پریشانی تھی۔ میں بھی رات عشاء کی نماز پڑھ کر مصلیٰ پر بیٹھا ہوں تو صبح تک مصلیٰ پر ہی دعا کی حالت میں رہا کہ اے اللہ آج وہاں محمد علی اکیلا ہے تو ہماری سب کی لاج رکھیو۔
مولانا محمد علی جالندھری کی سب سے بڑی خوبی ان کا جماعت اور تحریکوں کے لیے
فنڈز کا انتظام کرنا، دیانت امانت سے ان کا حساب رکھنا، کفایت شعاری سے خرچ کرنا اور تحریک کو یا جماعت کے کام کو باقاعدہ اور ہمیشگی سے جاری رکھنے کا اہتمام کرنا تھا۔ مولانا جالندھری نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے قیام کے بعد اس کے مالیاتی نظام کی مضبوطی کی طرف خصوصی توجہ دی اور جماعت کے لیے مضبوط فنڈ کا اہتمام کیا۔ مجلس نے فیصلہ کیا کہ چونکہ جماعت نے حفاظت و اشاعت اسلام کا کام کرنا ہے، تردید مرزائیت جیسا کٹھن کام اس کے ذمہ ہے، مرزائی سازشوں کو بے نقاب کرنے اور قوم و ملک کو اس فتنہ سے بچانے کے لیے ایک منظم جماعت کی ضرورت ہے اس لیے جماعت میں مستقل ہمہ وقتی کام کرنے والے کارکن با تنخواہ رکھے جائیں جو ہر طرف سے بے فکر اور آزاد ہو کر یکسوئی کے ساتھ جماعتی مقاصد کے لیے کام کریں۔
جب اس فیصلے کے مطابق جماعت کے علماء کرام سے با تنخواہ کام کرنے اور ہمہ وقتی ڈیوٹی دینے کے لیے کہا گیا تو وہ لوگ جو ساری عمر ملک کی آزادی اور اسلام کی سربلندی کے لیے لوجہ اللہ تعالیٰ ماریں کھاتے رہے تھے، ان کی خودداری نے تنخواہ لے کر جماعت کا کام کرنا مناسب نہ سمجھا اور سب اس بات سے ہچکچانے لگے۔
مولانا مرحوم نے یہ محسوس کر کے کہ یہ لوگ اس چیز کو اپنے لیے عار سمجھتے ہیں، اپنے آپ کو پیش کیا کہ میں خود بھی تنخواہ لوں گا اور ہمہ وقت ملازم کی حیثیت سے جماعت کا کام کروں گا۔ اس کے بعد مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد شریف بہاولپوری، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا غلام محمد بہاولپوری غرضیکہ تمام مبلغین نے وظیفہ لینا اور ہمہ وقتی کام سرانجام دینا قبول کر لیا۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس سے مستثنیٰ رہے۔
تمام مبلغین جب جلسوں اور دوروں پر جاتے، لوگ ان کی خادم اسلام سمجھ کر جو خدمت کرتے تھے تو وہ اس کی بھی رسید کاٹ دیتے تھے۔ وہ ہدیہ، نذرانہ، خدمت سب جماعت کے بیت المال میں جمع ہو جاتا تھا۔ مولانا کے اخلاص، ایثار، دیانت اور امانت کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب مولانا کی وفات ہو گئی اور ہم لوگ ان کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے تو اگلے روز جب جماعت کے بیت المال جو لوہے کی بہت بڑے سیف کی
صورت میں ہے، اسے کھولا گیا تو تمام رقوم حساب کے مطابق موجود تھیں۔ البتہ ایک پوٹلی الگ رکھی ہوئی ملی، جس میں بائیس ہزار روپیہ تھا اور ساتھ یہ چٹ مولانا نے لکھ کر رکھی ہوئی تھی کہ جب جماعت کے دوسرے مبلغین اور علمائے کرام تنخواہ لینا عار سمجھتے تھے تو میں نے ان کی دلجوئی اور جھجک دور کرنے کے لیے تین صد روپیہ مشاہرہ قبول کر لیا تھا۔ الحمد للہ میں صاحب جائیداد اور گھر سے کھاتا پیتا ہوں۔ اللہ نے مجھ کو مال، اولاد، زمین، رزق سب کچھ دے رکھا ہے۔ وہ تین صد روپیہ میں الگ رکھتا رہا ہوں اور یہ بائیس ہزار روپیہ وہ روپیہ ہے۔ میرے مرنے کے بعد اس رقم کو جماعت کے خزانے میں جمع کر دیا جائے۔
یہ مولانا کی محنت، دیانت اور امانت کا ثمرہ ہے کہ جماعت کا لاکھوں روپیہ مالیت کا اپنا مرکزی دفتر ملتان میں ہے۔ انگلستان میں مجلس کا اپنا ملکیتی عظیم دفتر موجود ہے۔ اسلام آباد کا دفتر جماعت کا خریدا ہوا ملکیتی ہے۔ گوجرانوالہ کا دفتر جماعت کا خریدا ہوا ملکیتی مکان ہے۔ اس کے علاوہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، بہاولپور، سیالکوٹ، گجرات، فیصل آباد اور ملک کے تقریباً ہر ضلع اور بڑے شہروں میں جماعت کے کرایہ پر لیے ہوئے دفاتر موجود ہیں۔ اکثر دفاتر میں ٹیلی فون لگے ہوئے ہیں۔ ان میں مستقل ملازمین کارکن ہیں۔ پھر لاکھوں روپیہ کی زرعی اور سکنی وقف جائیداد جماعت کے نام موجود ہے اور اب الحمد للہ جماعت دینی مقاصد، تحفظ ختم رسالت، حفاظت و اشاعت اسلام پر تقریباً تیس لاکھ روپیہ سالانہ خرچ کر رہی ہے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری ٩ شعبان ١٣٨٦ھ مطابق ٢٣ نومبر ١٩٦٦ء سے ٢٤ صفر ١٣٩١ھ مطابق ٢١ اپریل ١٩٧١ء ٤ سال ٤ ماہ ٢٩ دن تک جماعت کے باقاعدہ امیر اور سربراہ رہے۔
مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ
مولانا محمد علی جالندھری کی وفات کے بعد مجلس کے تمام ساتھیوں نے متفقہ طور پر حضرت مولانا لال حسین اختر کو جماعت کا امیر منتخب کیا اور ان کے ساتھ مولانا محمد شریف
جالندھری جماعت کے جنرل سیکرٹری بنائے گئے۔ مولانا جماعت کے چوتھے امیر تھے۔ مولانا لال حسین اختر جید عالم‘ مناظر اور انتہائی درویش منش عالم دین تھے۔ اخلاص کی دولت سے مالا مال تھے۔ پوری زندگی دین کی خدمت میں بسر کر دی۔
ان کی قومی اور ملی زندگی کا آغاز شدھی اور سنگٹھن کے خلاف تحریکوں میں حصہ لینے سے ہوا۔ وہ ابھی کالج میں زیر تعلیم تھے کہ ہندوؤں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندو بنانے کی تحریک کا آغاز کیا۔ ہندوؤں کی اس تحریک کو شدھی کی تحریک کہا جاتا ہے۔
مولانا کا دل اس اسلام دشمن تحریک سے تڑپ گیا۔ آپ نے تعلیم کو خیر باد کہا اور جو وفود دیہات میں تبلیغ اسلام کے لیے جاتے تھے‘ ان کے ہمراہ ہو لیے۔ اسی طرح مولانا لال حسین اختر مولانا ظفر علی خان کے ہمراہ بھی ایک عرصہ تک تبلیغی دوروں میں شامل رہے اور بالاخر حکومت نے مولانا ظفر علی خاں اور مولانا لال حسین اختر دونوں کو قابل اعتراض تقریروں کے سلسلے میں گرفتار کر لیا اور مقدمہ کی سماعت کے بعد قید کر دیا۔
یہ قید ان دونوں حضرات نے لاہور سنٹرل جیل میں گزاری۔ اسی قید کے دوران جبکہ دونوں صاحبان کے چکی پیستے پیستے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے تھے‘ مولانا نے یہ اشعار مولانا لال حسین اختر کی فرمائش پر کہے تھے:
کہ میں نے تیری خاطر آٹا چکی جیل میں پیسی
رہائی کے بعد مولانا مستقل قومی تحریکوں اور سماجی کاموں میں حصہ لینے لگے لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ کہیں مرزائیوں کے ہتھے چڑھ گئے اور مرزائیوں کی لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی جنہوں نے قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے‘ اور جو بہر حال مرزائیوں میں ایک بڑے پڑھے لکھے اور قابل شخص تھے۔ علم اور قابلیت ایک الگ بات ہے اور ایمان کی توفیق ہونا نہ ہونا ایک دوسری بات ہے۔ مولانا لال حسین اختر ان سے متاثر ہوئے اور مرزائیت قبول کر لی۔ ہر کام میں میرے اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی پرورش میں دے کر فرعون کی حقیقت سے آشنا کر کے پھر موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ہی اس کا بیڑہ بھی غرق کیا کرتے ہیں۔ مولانا لال حسین
اختر پڑھے لکھے‘ ذہین و فطین نوجوان تھے۔ مرزائیوں نے ان کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کا انتظام کیا اور مولانا ہی کی روایت کے مطابق جس گروپ میں مجھے رکھا گیا‘ اس گروپ کی تعلیم و تربیت پر مرزائی جماعت کا اس زمانہ میں پچاس ہزار روپے خرچ ہوا تھا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مولانا مرزائی مبلغ بنا دیے گئے۔ برصغیر میں مرزائیت کی تبلیغ کے علاوہ مولانا کو جماعت احمدیہ کی طرف سے افریقی ممالک میں مرزائیت کی تبلیغ کے لیے بھیجا گیا۔ مولانا کے سپرد ہوا کہ وہ اپنے مدلل طرز کلام اور بیان سے سینکڑوں مسلمانوں کے ایمان خراب کرنے کی سعی میں حصہ لیں لیکن اللہ تعالیٰ نے مولانا لال حسین اختر کو مرزائیت کی حمایت کے لیے نہیں بلکہ اس شجرۂ خبیثہ کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پیدا فرمایا تھا۔ وہ کچھ عرصہ افریقی ممالک کے دورے کے بعد ہندوستان واپس آئے۔
مولانا کے اپنے بیان کے مطابق احمدیہ بلڈنگ لاہور جہاں غلام احمد قادیانی کی ہیضہ سے موت ہوئی تھی‘ مولانا نے رات کو سوتے ہوئے خواب دیکھا کہ لوگ جمع ہیں اور گویا کوئی خوفناک منظر دیکھ کر پریشان ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں کھڑے ہو جاؤ‘ ابھی تمہیں معلوم ہو جائے گا۔ اتنے میں ایک شخص نے چند انسانوں کو ایک رسی جو چمڑے کی تھی اور جسے تانت کہتے ہیں‘ کے ساتھ باندھا ہوا تھا اور انہیں ایک وسیع میدان کے ایک طرف سے لا کر دوسری طرف لے جا رہا ہے جہاں زبردست آگ کے الاؤ جل رہے تھے۔ شعلے دور دور تک نظر آ رہے تھے۔ وہ شخص ان لوگوں کو اس آگ میں پھینک کر واپس دوسری طرف جاتا ہے۔ پھر اور لوگوں کو باندھ کر لاتا ہے اور آگ میں ڈالنے کا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہے۔
میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ کیا قصہ ہے؟ انہوں نے بتایا یہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ سادہ لوح لوگوں کو مذہب کے نام پر شکار کرتا ہے‘ خوشنما پھندوں میں پھانس کر نامعلوم مقام کی طرف لے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ شخص ہزاروں آدمیوں کو دوزخ کی آگ کے سپرد کر چکا ہے۔ یہ خواب دیکھنے کے بعد میری آنکھ کھلی تو میں سخت پریشان ہو گیا۔ مرزائیت کے متعلق میرے دل میں وساوس‘ شکوک اور خطرات پیدا ہو گئے۔ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کو لے کر پھر دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔ جوں جوں میں کتابیں پڑھتا
گیا، میرے شکوک اور بڑھتے گئے۔ انہی ایام میں جبکہ میں مرزا صاحب کے متعلق سخت تذبذب اور پریشانی میں مبتلا تھا، مجھے ایک اور دوسرا خواب دکھائی دیا۔
میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مکان میں ایک شخص منہ پر چادر اوڑھ کر سورہا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب سو رہے ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ مرزا غلام احمد قادیانی سو رہے ہیں۔ میں نے ان کے چہرے سے چادر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ انسان نہیں خنزیر ہے۔ میری آنکھ کھل گئی اور میں نے جان لیا کہ حق تعالیٰ نے مجھے مرزائیت کے جھوٹ اور باطل ہونے پر آگاہ فرما دیا ہے۔ میرا تذبذب اور پریشانی ختم ہو چکی تھی میں نے توبہ کی، استغفار کیا اور از سر نو کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھا۔ مرزائیت ترک کر دی۔ مولوی محمد علی کو استعفیٰ لکھ کر دیا اور اللہ سے عہد کیا کہ اس گناہ عظیم کی تلافی کے لیے ساری عمر رسول اللہ ﷺ کی ختم رسالت کا خادم رہوں گا۔ واقعی مولانا نے یہ عہد نبھایا۔
قیام پاکستان سے پہلے مولانا مجلس احرار اسلام کے علماء اور مجاہدین کے ساتھ رہے۔ کچھ عرصہ آگرہ میں قیام رہا۔ مجلس احرار اسلام سیاسی جماعت تھی تو اس کے ساتھ ایک غیر سیاسی شعبہ، شعبہ ختم نبوت بھی بنایا گیا۔ اس شعبہ کے سربراہ میاں قمر الدین اچھروی اور انچارج تبلیغ پہلے مولانا عنایت اللہ صاحب تھے جو غالباً کالا باغ کے رہنے والے تھے اور بعد میں مولانا محمد حیات مدظلہ کو بھیجا گیا، جنہوں نے کئی سال وہاں رہ کر مرزائیوں کو ناک چنے چبوائے اور ان کی جعلی نبوت کا سارا پول ان کے ظل مسیح کے سامنے کھول کر رکھ دیا جس پر انہیں فاتح قادیان کا خطاب برصغیر کے اہل حق کی طرف سے دیا گیا تھا۔
مولانا لال حسین اختر اگرچہ احرار کی ہر جدوجہد میں اور قید کے ابتلاء میں شریک رہے تاہم ان کی خدمات کا زیادہ تر تعلق مرزائیوں کے تعاقب اور احتساب سے تھا۔ اور وہ بھی گویا ایک طرح کے شعبہ ختم نبوت سے متعلق رہے۔ البتہ قیام پاکستان کے بعد مجلس احرار اسلام واضح طور پر دو دھڑوں میں بٹ گئی۔ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ، مولانا محمد علی جالندھری اور قاضی احسان احمد شجاع آبادی اس سیاست سے بالکل بیزار ہوگئے جس کا رواج پاکستان میں فروغ پانے لگ گیا تھا اور ماسٹر تاج الدین انصاری، شیخ حسام الدین ابھی سیاسیات میں مزید تجربے اور ملک و ملت کی خدمت کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن مسلم لیگ
اور عوامی لیگ دونوں میں شامل ہو کر انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کا فیصلہ محل نظر تھا۔۔۔۔۔ اور شاہ جی کی کہی ہوئی بات بالکل صحیح تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان بزرگوں نے مسلم لیگ کی برباد سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی اور مجلس تحفظ ختم نبوت کو باقاعدہ الگ حیثیت سے جماعت کی شکل دی اور یکسوئی سے اشاعت و حفاظت اسلام کا کام کیا اور اس طرح مرزائیت کے حصار میں زبردست شگاف ڈالنے میں کامیاب ہو گئے یہاں تک کہ حق تعالیٰ نے مولانا لال حسین کے بعد آنے والے امیر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے دور میں اور ان ہی کے زیر قیادت ہماری آنکھوں کے سامنے انگریزوں کے بنائے ہوئے مرزائیت کے گھروندے کو برباد کر دیا۔ ہرچند کہ یہاں یہ ذکر بے ربط اور غیر ضروری ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس سارے سلسلہ میں احرار کے ان مخلص بہادر اور جری کارکنوں اور رضا کاروں کو بے حد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ شمع حریت کے پروانے تھے۔ برصغیر کی پچھلے پچاس سال کی سیاسی اور دینی تاریخ میں انہوں نے بڑا اہم اور شاندار کردار ادا کیا تھا۔ ان کی محبت اور جذبہ خدمت ناقابل تقسیم تھا لیکن ہر تقسیم کے صدمے کی طرح انہیں اس تقسیم کا صدمہ بھی سہنا پڑا۔
بہر حال الحمد للہ ان کارکنوں نے ابھی ہمت نہیں ہاری۔ ان کے ملک بھر میں دفاتر موجود ہیں، تنظیم موجود ہے۔ رضا کار موجود ہیں اور پاکستان میں کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کے نظام کے اجراء کا مشن ان کے سامنے موجود ہے۔ وہ اپنے اکابر کی اس روح کو سمجھتے ہیں کہ اسلام میں امرا کی نہیں، غرباء کی زیادہ دلجوئی موجود ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دین نام ہے۔ بقول علامہ اقبال
کہ اگر باو نہ رسیدی تمام بولہبی ست
انہوں نے سینہ سپر ہو کر فرنگی کو یہاں سے نکالا تھا اور بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔ وہ انگریز کے خود کاشتہ پودے کی تاریخ سے آگاہ ہیں۔ اس کے مقابلہ میں انہوں نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں، دے رہے ہیں اور جب تک یہ شجرۂ خبیثہ دنیا میں موجود رہے گا، وہ حضور ختمی مرتبتؐ کی محبت اور وفا کا حق ادا کرتے رہیں گے اور مرزا محمود کی ان کے متعلق پیش
کمی کبھی پوری نہیں ہو گی۔ ان کی یکجہتی کو کیوں نقصان پہنچا، وہ زیادہ سیاسی طاقت ہونے کے باوجود قوت فیصلہ کی کمزوری کے باعث ملکی سیاسیات میں کوئی ستارہ کیوں نہ بن سکے، میں اس تلخ نوائی میں نہ پڑنا چاہتا ہوں، نہ ہی غالباً یہ میرے قلم کی ذمہ داری ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل لایا گیا تو مولانا لال حسین اختر نے اپنے آپ کو اس جماعت کے لیے ہمہ تن اور ہمہ وقت وقف کر دیا اور بالآخر جماعت کی خدمت اور حضورؐ پر ختم رسالت کی پاسبانی کی ڈیوٹی کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔
مولانا لال حسین اختر کا وجود مرزائیت کے لیے برق بے اماں تھا۔ کسی مرزائی مبلغ اور مناظر کو مولانا کے مقابلہ میں گفتگو کرنے کی جرات نہ ہوا کرتی تھی۔ بعض دفعہ مرزائیوں نے ان کو مناظرے کے چیلنج دیے لیکن پھر مختلف حیلوں بہانوں سے راہ فرار اختیار کر جاتے تھے۔ اگر کہیں سامنے آگئے تو مولانا نے انہیں عبرت آموز شکست دی۔ مرزائی ان کے نام سے بدک جایا کرتے تھے۔
وہ مرزائیت کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا تھے۔ مرزائیوں کی تمام کتابیں اور ان کے حوالے انہیں ازبر تھے۔
مولانا کی زندگی ایک مستقل کتاب کی متقاضی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں خدمت دین کے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے۔ آخر عمر میں مجلس نے انہیں یورپ، امریکہ، فجی آئی لینڈ کے دورے پر بھیجا۔ وہ کئی سال تک ان ملکوں میں قیام پذیر رہے۔ انہوں نے قیام پاکستان کے دوران ووکنگ مسجد جو بیگم نواب بھوپال نے مسلمانوں کے لیے بنوائی تھی اور جس پر انگریزوں نے اپنے مرزائی جاسوسوں کو بٹھایا ہوا تھا، تاکہ انگلستان میں آنے والے مسلمان ملکوں کے طلبہ، سفراء، تاجر اور دوسرے نمائندگان مذہبی رسوم کی ادائیگی اس مسجد میں کریں اور یہاں ان کو اس اسلام سے آشنا کیا جائے جو برطانوی سامراج نے خود کاشتہ پودے کے طور پر دنیا میں بنا رکھا تھا اور جو برطانوی سامراج کی مصلحتوں کے تحت قال اللہ اور قال الرسول کی تشریح بتاتا تھا۔
مولانا لال حسین اختر نے انگلستان کے مسلمانوں کو بیدار کیا، منظم کیا اور مسجد کو مرزائیوں کے قبضہ سے آزاد کرانے کی تحریک شروع کی۔ وہ تحریک خدا کے فضل و کرم
سے کامیاب ہوئی اور مسجد پر مرزائیوں کا نوے سالہ پرانا قبضہ ختم ہوا اور اب وہ مسجد مسلمانوں کی رشد و ہدایت کا مرکز بن گئی ہے۔ اس مسجد کا اہتمام اور انتظام اب پاکستان کے سفیر اور اس کی بنائی ہوئی ایک کمیٹی کے سپرد ہے۔
اس کے علاوہ مولانا نے ہڈرس فیلڈ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک عظیم بلڈنگ خرید کر اسے مجلس کا مرکز بنایا جو الحمد للہ اب قائم ہے اور مجلس کی لاکھوں روپیہ کی جائیداد ہے اور جہاں سے یورپ اور دوسرے تمام ملکوں کے مشنوں اور کام کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ اسی دورے میں آپ فجی آئی لینڈ تشریف لے گئے۔ وہاں چھ ماہ قیام کیا۔ وہاں کے مسلمانوں کو منظم کیا، قرآن مجید اور عربی علوم کی درس گاہوں کا اہتمام کیا اور وہاں سے طلبہ کو باہر بھجوا کر دینی تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا کیا۔ الحمد للہ فجی آئی لینڈ کے فاضل طالب علم قادر بخش صاحب جو فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں، کے توسط اور کوشش سے اب درجنوں طلبہ پاکستان میں دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مولانا لال حسین اختر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ٢١ اپریل ٧١ء سے جولائی ٧٣ء تک امیر رہے۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ شیخ بنوری نمبر، ص ٦٥ تا ٧١)
جنت کا مزہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب فرماتے ہیں ”ایک دن بیٹھا تھا۔ ایک پرانے دوست آئے، پاس بیٹھ گئے اور پوچھا کیا حال ہے؟“ میں نے کہا ”ہمارے حال کیا پوچھتے ہو؟“ انہوں نے نہ جانے لہجے سے سمجھا کہ بہت دکھیارا ہے اور بظاہر انہیں ایسی کوئی بات نظر نہ آئی تو کہنے لگے ”بڑھاپا آ گیا ہے اور کیا ہے؟“ مولانا فرماتے ہیں ”میں نے کہا میرے بھائی اگر کوئی جنت میں کسی جنتی سے پوچھے کہ تمہارا کیا حال ہے؟ تو اس کا کیا جواب ہوگا۔ یہی ناں کہ ہمارا حال کیا پوچھتے ہو؟ اللہ کی قسم اللہ دنیا میں جنت کا مزہ دے رہا ہے۔ یہی ہے وہ مقام محبوبیت۔ حق تعالیٰ جل مجدہ جس کی طرف آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور کبھی اس انتخاب سے پیشتر بشارت دے کر حق
تعالیٰ انسان کا رواں رواں نور سے منور فرما دیتے ہیں۔ راتوں کو جب لوگ محو خواب ہوتے ہیں تو حق تعالیٰ کسی کے دل پر دستک دے کر اپنائیت کا اک احساس عطا فرماتے ہیں۔ کون جانتا تھا کہ ١٩٧٧ء میں دیکھا جانے والا خواب ١٩٨٤ء میں معجزانہ طور پر یوں منکشف ہو گا:
عالم خواب میں ایک بڑا‘ بہت بڑا اژدھا رنگت نسواری مائل ایک پہاڑ پر سر رکھے پڑا ہے اور چند لوگ اس کے گرد جمع ہیں اور پتھر اس کے سر پر مار رہے ہیں۔ فقیر بھی ان میں شامل ہے۔ زخمی حالت میں وہ اژدھا سر اٹھا کر دوسرے پہاڑ پر رکھ دیتا ہے اور وہ اژدھا نیم مردہ حالت میں جب اپنا سر دوسرے پہاڑ پر رکھ دیتا ہے‘ تب لوگ کہتے ہیں اب انشاء اللہ یہ نہ اٹھ سکے گا۔
١٩٧٨ء میں حق تعالیٰ کی نظر کرم اپنا مقام پا چکی‘ نبوت کے تحفظ کا کام تفویض ہو چکا تو رحمت عالم ﷺ خواب میں تشریف لائے اور مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا میں تمہارے لیے دعا کروں گا۔ تب سے اب تک واقعتاً دنیا جنت کا مزہ دے رہی ہے۔
(مولف کے نام‘ مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان کا مکتوب)
ہدایات
محقق دوراں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب مدظلہ نے سالانہ رد قادیانیت کورس ١٩٩٤ء میں ظہر کی نماز کے بعد خطاب کرتے ہوئے شرکائے کورس کو یوں ہدایات دیں:
مسئلہ ختم نبوت کو سمجھنا چاہیے اور قادیانیت زدہ لوگوں کو مل کر دعوت اسلام دینی چاہیے اور قادیانیوں کو بھی دعوت اسلام دینی چاہیے۔ انہوں نے ایک قادیانی خط پڑھ کر سنایا جو قادیانی جماعت کی طرف سے قادیانیوں کو جاری کیا گیا تھا۔ اس میں مسلمانوں کو مرتد بنانے یعنی قادیانیت کی تبلیغ کر کے لوگوں کو قائل کرنے کی تلقین کی گئی اور قول و قرار لیے گئے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نے کہا کہ مسلمانوں کو اس کے توڑ کے لیے علم
سے بہرہ ور ہونا چاہیے کہ یہ وقت کا تقاضا ہے۔ اور شاید گنبد خضریٰ کی پکار ہے۔
انہوں نے کہا:
- ١- تبلیغی جماعت کے طرز پر ختم نبوت کے کام کو لایا جائے۔
- ٢- گلی محلہ میں شبان ختم نبوت کے نام سے جماعتیں بنائیں۔
- ٣- ایمان کے ہتھیار سے کفر کا مقابلہ کرنا، مادی ہتھیاروں سے پہلے روحانی ہتھیار
استعمال کرنے چاہئیں۔
- ٤- اہل اللہ کے نقش قدم پر چل کر اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔
- ٥- زندگیوں میں صحابہ کرام کا رنگ شامل کرنا چاہیے۔
- ٦- تمام مسلمانوں کو قابل احترام سمجھنا چاہیے۔ دوسروں کو کافروں میں نہ شامل کرنا
چاہیے بلکہ جو لوگ قادیانیت کے چنگل میں پھنس چکے ہیں، انہیں ایک قیدی جاننا چاہیے اور ان کی آزادی کی کوشش کرنی چاہیے۔
- ٧- کوئی کتنا بھی گنہگار ہو، کسی کو بے ایمان نہ کہو۔ بلکہ اس کی اصلاح کرو۔ اپنی ٦٥ سالہ
زندگی کا نچوڑ پیش کر رہا ہوں۔
- ٨- اپنے اندر حلم اور حوصلہ پیدا کرو اور انبیاء کرام کے اخلاق۔
- ٩- قادیانیت زدہ اور قادیانیوں کو عزم کر لو کہ انہیں اسلام میں لوٹانا ہے۔
- ١٠- حضرت مولانا الیاسؒ کا قول کہ دعوت نہیں پنپ سکتی اس وقت تک جبکہ اپنا پورا
وزن اس کے پلڑے میں نہ ڈال دیا جائے، یعنی اپنی پوری صلاحیتوں کو اس کام میں صرف کر دینا چاہیے۔
- ١١- تحفہ قادیانیت کے رسائل پر مذاکرہ کرو۔ یہ تمہارا مسلح ہونا ہے۔
- ١٢- جائزہ لو کہ یہاں کون کون قادیانی ہیں۔ فہرستیں حاصل کرو اور پھر قادیانیوں سے ملو
اور انہیں دعوت دو اور خلوص اور مہربانی سے دعوت دو۔
- ١٣- مسلمان ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء دوسرے پڑھے لکھے طبقے کے لوگوں سے ملو اور
صاحب حیثیت لوگوں کو اپنا مسئلہ سمجھاؤ اور ساتھ لے کر چلو۔
- ١٤- دعوت کے تین میدان ہیں:
(الف) قادیانی (ب) قادیانی نواز (ج) سادہ ذہن
جو آگ کی خاصیت ہے، وہی عشق کی خاصیت
اک خانہ بہ خانہ ہے، دوسری سینہ بہ سینہ
- (i) عام مسلمانوں سے تعلق جوڑ لو اور سب کو اپنا مخدوم سمجھو اور خود سب کے
خادم بن جاؤ۔
- (ii) زیر تبلیغ قادیانیت لوگوں پر نظر رکھو اور تحقیق کرو۔ ان کا اکرام کرو۔ ان
سے محبت سے پیش آؤ اور انہیں قادیانی نظریات سمجھاؤ۔ ایمان آئے گا تو قادیانیت رفو چکر ہو جائے گی۔ تم نے ایک آدمی کو مرتد ہونے سے بچا لیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ یہ تمہاری بخشش کے لیے کافی ہے اور اگر کوئی آدمی تمہاری کوتاہی کی وجہ سے مرتد ہو گیا تو قیامت کے دن تم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
- (iii) قادیانیت تو نہیں قادیانیوں کو دعوت دینے کا قائل ہوں۔ مگر اس میں بہت
مشکلات ہیں اور یہ مشکل کام ہے۔ قادیانی کو دعوت دو اور تہمت سے بچنے کے لیے کسی اور کو بھی ساتھ شامل کر لو تاکہ الزام کسی ایک مسلمان کے سر نہ ہو۔ اس سے کسی کافر مرزائی کو دعوت دینے کا جو حق تمہارے ذمے ہو گا ادا ہو جائے گا۔ نتیجہ جو اللہ چاہے۔
وہ ڈش انٹینا کے ذریعے دعوت دیں اور تم بائیکاٹ کرو۔ یہ کیسی منطق ہے اس انداز کو بدلو۔
علاقہ کے لوگوں سے مشورہ کرو اور پوچھو کہ ان کا کیا علاج کیا جائے۔
قانون دان لوگوں سے مشورہ کرو۔ کسی کو طعنے دے کر اسلام اور دین کی خدمت ممکن نہیں۔ ہمیں آج تک بات کہنا نہیں آئی۔ جس درجہ پر ہمارا اخلاص ہونا چاہیے تھا، اس درجہ پر نہیں۔ جب اخلاص اور عمل ہو گا تو نتیجہ انشاء اللہ مثبت ہو گا۔ اور اللہ کے کرم اور افضال کا ظہور ہو گا۔
(مولف کے نام، مجاہد ختم نبوت، جناب ساجد اعوان کا مکتوب)
ایبٹ آباد کے قادیانی مرکز کی بربادی
ستمبر ٩٣ء کے آخری ہفتہ میں ظفر احمد تنولی اور رفیع احمد تنولی کے نام سے اشتہار شائع ہوئے اور پورے ایبٹ آباد میں چسپاں کر دیے گئے۔
اشتہارات کا مضمون یہ تھا کہ روس میں حصول تعلیم کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔
ہماری طرح خفیہ اداروں نے بھی اس کا نوٹس لیا۔
کچھ دنوں بعد دو لڑکے منظور احمد ساکنہ کاکول روڈ اور عبدالجلیل ساکنہ نواں شہر ڈسٹرکٹ خطیب مولانا شفیق الرحمٰن صاحب کے پاس گئے اور انہیں بتایا: ایک دن وہ تھا جب ہم نے دعوت کا پیغام لے کر تنولی ہاؤس میں قدم رکھا تھا اور جب اسی تنولی ہاؤس میں قادیانی جمع ہو کر جمعہ پڑھتے تھے اور پھر اللہ کریم کی نصرت سے چشم فلک نے ایک دن وہ بھی دیکھا کہ پولیس تنولی ہاؤس کو لاک کر کے اس کی چابی کسی کو دینا چاہتی تھی مگر اس چابی کو قبول کرنے والا کوئی نہ تھا۔
اور آج صورت حال یہ ہے کہ نہ قادیانی اس گھر میں آکر خود رہ سکتے ہیں اور نہ کوئی اسے کرایہ پر لینے کو تیار ہے۔
چالیس کے قریب گھرانے ہیں ایبٹ آباد میں قادیانیوں کے۔ کوئی ایک بھی اس طرح تباہ نہیں ہوا جیسا کہ تنولی ہاؤس فتنہ میں پڑا اور برباد ہوا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس گھر میں اتمام حجت ہو چکا تھا اور ان ظالموں نے حق کو قبول نہ کیا اور فتنہ اور فساد میں ڈال دیے گئے۔
قادیانیوں کی بربادی کا قصہ جہاں دوسرے قادیانیوں کے لیے باعث عبرت ہے‘ وہاں ایمان والوں کے لیے نوید ہے کہ (آئندہ اسی ڈگر پر چل کر) قادیانیت کے حوالہ سے آپ کا ہر کل آپ کے ہر آج سے درخشاں اور تابناک طلوع ہوا کرے گا۔
حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ فرمایا کرتے تھے کہ جب ابتداء قادیانیت کا فتنہ ترقی کرنے لگا اور ظاہری حالات پر قادیانیت کی گرفت دیکھی تو مسلسل چھ ماہ تک رات کو
میں چین سے سو نہ سکا۔ جونہی آنکھ لگتی تو گھبرا کر اٹھ بیٹھتا کہ یہ فتنہ اسی طرح پھلتا پھولتا رہا تو اسلام کا کیا بنے گا؟ حضورؐ کی ختم نبوت کا نام کون لے گا؟ فرماتے ہیں یہ سلسلہ چھ ماہ تک جاری رہا۔ آخر ایک رات حضورؐ خواب میں تشریف لائے اور فرمایا۔ انور شاہ گھبراتے کیوں ہو؟ جس طرح آج مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کا نام لینے والا روئے زمین پر کوئی نہیں ہے‘ ایک وقت آئے گا جب پوری دنیا میں تلاش کرنے کے باوجود تمہیں ایک قادیانی بھی نہیں ملے گا۔
فرماتے ہیں حضورؐ کے تسلی دینے کے بعد مجھے چین کی نیند نصیب ہونے لگی۔ یہ زمانہ اس دور کا آغاز کر چکا ہے جب مرزائی فتنہ کے حوالہ سے امت کو چین نصیب ہو گا اور مرزائیت کا یہ اژدھا اب واقعتاً (انشاء اللہ الرحمان) نہیں اٹھ سکے گا۔ نہیں اٹھ سکے گا۔ ہم دونوں اشتہار پڑھ کر ٹولی ہاؤس گئے۔ رفیع احمد سے ملاقات ہوئی۔ دو چار بار ہم آگے گئے۔ ہم نے انہیں بتا دیا تھا کہ ہمارے پاس اتنے پیسے ممکن نہیں ہیں مگر ہم کچھ نہ کچھ کرلیں گے۔
انہوں نے ہمیں اپنے پورے تعاون کا یقین دلایا اور بتایا کہ لیدر کی جیکٹس وغیرہ یہاں سے لے جائیں۔ وہاں وہ اچھی قیمت دے جاتی ہیں وہاں سے فلاں فلاں چیزیں لے آئیں۔ ان کی یہاں قیمت اچھی ہے۔ وہ ہمیں گر بتاتے رہے۔
کبھی کبھار مذہبی بات چیت بھی کرتے رہے مگر ہمیں اس سے بالکل اندازہ نہیں ہوا کہ یہ غیر مذہب ہیں۔ ہم ان کے رویے سے بہت خوش تھے۔ آج انہوں نے ہمیں یہ دو کتابیں (”ایک غلطی کا ازالہ“ اور ”ستارہ قیصرہ“ مصنفہ مرزا قادیانی) پڑھنے کے لیے دی ہیں۔ ہم نے ان پر مرزا قادیانی کا نام پڑھ کر سمجھ لیا ہے کہ یہ مرزائی ہیں اور ان کی ان تمام نوازشات کو سمجھ گئے جو وہ ہم پر کرنا چاہتے تھے۔
حضرت مولانا شفیق الرحمن صاحب نے دونوں لڑکوں کی معروضات سن کر راقم کے نام ایک رقعہ دے کر ہمارے پاس بھجوا دیا۔ وہ دونوں ہمارے پاس آئے‘ پوری تنظیم اتفاقاً جمع تھی۔ انہوں نے روئیداد سنائی۔ کسی کے جذبات کا اظہار اس کی تیز تیز گفتگو اور چلتے ہاتھوں سے ہو رہا تھا تو کسی کی سرخ آنکھیں قادیانیوں کا خون دیکھنا چاہتی تھیں اور کچھ ٹھنڈے
دماغ کے ساتھی تھے۔ بدر منیر شاہد خان کی طرح تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ مگر سب کی سوچ اور خون کا ابال ایک ہی نکتہ پر تھا کہ قادیانیت کو ہمارے شہر میں اتنی جرات ہو گئی۔
رات گیارہ بجے مکی مسجد میں مولانا شفیق الرحمن صاحب کی صدارت میں اجلاس ہوا اور اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی طے کی گئی۔ رات بارہ بجے تھانہ کینٹ میں ابتدائی رپورٹ درج کروائی۔ ١٥٦ ضمن ٣ کی انکوائری کے بعد دوسرے روز ایف آئی آر درج ہوئی اور رفیع احمد تنولی اور ظفر احمد تنولی پر ٢٩٨ الف‘ ٢٩٨ سی اور ٢٩٥ سی کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
اس دن کے بعد کبھی دن کو اور کبھی رات کو تنولی ہاؤس پر پولیس چھاپے مارتی رہی۔ اس سلسلے میں ڈی ایس پی عبد المالک خان اور ایس ایچ او میاں رضا کا کردار قابل تعریف رہا۔
رفیع احمد اور ظفر احمد تو پہلے روز ہی سے روپوش ہو چکے تھے۔ ان کی والدہ آئے روز کے چھاپوں سے تنگ آکر وہ بھی تنولی ہاؤس خالی کر کے جا چکی ہیں۔
گاڑی کا انتظام
محمد نثار عاصم نے غازی کوٹ ہزارہ ڈویژن میں ختم نبوت کانفرنس رکھی۔ مولانا اللہ وسایا صاحب اور مولانا عبدالرؤف جتوئی صاحب سے وقت لیا۔ ہماری خواہش تھی کہ ان حضرات علماء کرام کے لیے موٹر کا بندوبست ہو تاکہ آرام سے سفر کر کے خطابات کر سکیں۔ موٹر کا بندوبست کر لیا گیا۔
مولانا اللہ وسایا صاحب نے ملتان سے اسلام آباد دفتر آنا تھا اور انہیں وہاں سے ہم نے لینا تھا۔ مولانا حبیب الرحمن مرحوم امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ایبٹ آباد سے بھی ہم نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا تھا۔ مولانا حبیب الرحمن صاحب نے ہمیں سو روپیہ دیتے ہوئے فرمایا یہ میری طرف سے گاڑی کے پٹرول میں حصہ ڈال دینا۔ مگر عین وقت پر جس دوست نے گاڑی دینے کا وعدہ کیا تھا‘ انہیں ایمرجنسی ہو گئی اور گاڑی نہ مل سکی۔ راقم
اور توقیر الاسلام صاحب نے ایبٹ آباد سے پنڈی کا سفر کیا اور ذہن میں سوچا تھا کہ اب ویگن کے ذریعے ہی علماء کرام کو سفر کرنا پڑے گا۔ مگر دل تھا کہ مانتا نہ تھا کہ اتنے پاکیزہ اور عظیم مشن کی راہ میں بجائے نصرت اور اعانت کے رکاوٹ اور تنزل کیوں؟ پنڈی تک یہ قلق نہ جانے کیوں رہا؟ حالانکہ اس سے پہلے کبھی بھی مشن کی راہ میں آسائش اور آسودگی پہ نظر نہ رکھی تھی بس دیوانہ وار کام ہوتا تھا۔ آج نہ جانے کیوں یہ خواہش اتنی شدت سے بھر آئی تھی۔ پنڈی ہمشیرہ کے گھر کسی گھریلو کام کی وجہ سے پہلے جانا تھا اور ظہر تک اسلام آباد دفتر پہنچنے کا وعدہ تھا۔ پنڈہ ڈھوک پراچہ میں ہمشیرہ کے گھر کے قریب ہی ہمارے دوست حسنین عارضی طور پر رہائش پذیر تھے۔ وہ وہاں وکالت کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
ارادہ یہ تھا کہ آج حسنین صاحب سے نہیں ملنا اس لیے کہ وقت بہت کم ہے۔ وہ بٹھا لیتے ہیں اور وقت ضائع ہو گا اور ظہر تک اسلام آباد پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔ اسی سوچ میں دوسرا راستہ اختیار کیا مگر راستہ بھول گئے اور گھوم پھر کر پھر اسی چوک میں آگئے جہاں حسنین بھائی کی رہائش تھی۔ جب وہاں آہی گئے تھے تو خیال آیا کہ حسنین بھائی نے پہلے بھی شکوہ کیا تھا کہ مولانا اللہ وسایا صاحب اسلام آباد آئے تھے تو آپ نے مجھے بتایا نہیں تھا اور میں ان سے ملاقات نہ کر سکا۔ دروازے پر دستک دی کہ انہیں اطلاع کر دیں کہ ہم گھر سے (بیس گز کے فاصلے پر تھا) ہو کر پانچ منٹ میں آتے ہیں۔ آپ تیار رہیں۔ مولانا اللہ وسایا اسلام آباد تشریف لائے ہوئے ہیں ان سے ملاقات کرلیں۔
حسنین بھائی نے دروازہ کھولا‘ انہیں اطلاع دی۔ انہوں نے کہا آپ آئیں میں تیار ہوتا ہوں۔ ہم آئے تو حسنین بھائی تیار بیٹھے تھے۔ انہوں نے ہم سے پوچھا ”حضرت کیوں تشریف لائے ہیں؟“ توقیر الاسلام صاحب نے بتایا رات کو غازی میں ختم نبوت کانفرنس ہے‘ وہاں جانا ہے۔
حسنین صاحب: گاڑی واڑی لے کر آئے ہیں؟
راقم: یہ داستان نہ پوچھیں۔
حسنین صاحب: نہیں ہے گاڑی؟
راقم: نہیں۔
پاس ہی ایک آدمی سو رہا تھا۔ حسنین بھائی نے اسے جگایا اور فوراً تیار ہونے کو کہا، وہ باتھ روم گیا اور منہ ہاتھ دھو کر آگیا۔
حسنین صاحب نے کہا چلیں؟
دروازے سے باہر نکلے تو سامنے ایک موٹر کھڑی تھی۔ حسنین بھائی نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”یہ نئی خریدی ہے۔
ہم سب کو اس میں بٹھا دیا گیا۔
فیض آباد کے قریب ایک پٹرول پمپ سے پٹرول ڈلوانے رکے۔ حسنین صاحب نے ٹینکی فل کرنے کو کہا اور پھر ہم سے کہا ”یہ آپ کے ساتھ جائیں گے غازی۔ رات کو اگر جلد فارغ ہوگئے اور حضرت کو آسانی ہوئی تو رات واپس آجائیں ورنہ صبح آئیے گا۔
میں اور توقیرالاسلام ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھنے لگے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے کہ میں نے اپنے ٹوٹتے ہوئے ارادوں سے خدا کو پہچانا ہے۔ مگر ہماری حالت اس وقت یہ تھی ہم نے آج اپنی خواہشوں کے احترام میں خالق کی عظمت کا پرتو دیکھا ہم نے پٹرول کے پیسے دینے چاہے مگر حسنین بھائی نے منع کر دیا۔
اسلام آباد دفتر پہنچے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب تشریف لاچکے تھے اور نماز ظہر ادا کر رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہوکر شرف ملاقات بخشا اور کہنے لگے چلنا چاہیے۔
ایک گھنٹہ یہاں سے پنڈی تک دو گھنٹے تربیلا موڑ تک اور ایک گھنٹہ اس سے آگے۔ دو بج رہے ہیں۔ عشاء کے وقت ہی وہاں پہنچ پائیں گے۔
راقم: گاڑی ہے جی۔ انشاء اللہ دو گھنٹے میں ہم غازی ہوں گے۔
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے مولانا عبدالرؤف الازھری صاحب کو آواز دیتے ہوئے فرمایا ”مولانا عبدالرؤف صاحب تیار ہو جائیے“۔
مولانا عبدالرؤف صاحب اندر نماز ادا کر رہے تھے۔ وہ باہر آئے تو سب اکٹھے دفتر سے نکلے۔ حسنین بھائی نے کہا زیرو پوائنٹ تک مجھے بھی ساتھ لے جائیے۔ وہاں سے پنڈی کے لیے مجھے ویگن مل جائے گی۔
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے پوچھا ”آپ نہیں جارہے ساتھ؟“
حنین بھائی نے عرض کی ”حضرت میری کلاس ہے جی۔ میری کامیابی کے لیے دعا فرمائیں!
حضرت نے فرمایا ”اللہ حسنین کریمین کے صدقے آپ کو کامیاب فرمائے میاں! حنین بھائی زیرو پوائنٹ اتر گئے اور ہم سب غازی چل پڑے۔ عصر کی نماز راستے میں ادا کی۔ سورج غروب ہونے تک ہم نثار عاصم صاحب کے مہمان بن چکے تھے۔ ہری پور سے صابر غفور علوی اور اورنگ زیب پہلے ہی پہنچ گئے تھے۔ رات زبردست کانفرنس ہوئی۔ غازی کی ساری دینی قیادت جمع تھی۔ ایمان افروز خطابات ہوئے۔
دس بجے کے قریب کانفرنس ختم ہوئی۔ دعا کے بعد مسجد سے نکلے۔ حضرت کا ارادہ واپس ہونے کا تھا مگر دوستوں کا اصرار تھا کہ آپ رات یہیں بسر کریں۔
حضرت نے مجھے بلوایا اور پوچھا ”میاں اگر رات یہاں ٹھہر جائیں تو گاڑی کے سلسلہ میں کوئی حرج تو نہیں ہو گا؟
میں نے عرض کی ”نہیں حضرت“۔
حضرت نے دوستوں سے کہا ٹھیک ہے جناب ! صبح چلیں گے ۔ سارے دوست خوش ہو گئے۔ واپس گھر پہنچے تو محفل پھر جم گئی اور رات کے دو بج گئے۔
حضرت مولانا عبد الرؤف صاحب نے زبردستی سب کو سلایا۔ صبح ساڑھے پانچ بجے نماز کے لیے اٹھے۔ نماز پڑھی‘ ناشتہ کیا اور اندھیرے ہی میں غازی سے نکل پڑے۔
سورج حسن ابدال کے قریب آکر طلوع ہوا۔
فرنٹ سیٹ پر مولانا عبد الرؤف صاحب تھے اور پچھلے ایک طرف میں اور دوسری طرف توقیر الاسلام صاحب اور ہمارے بیچ میں حضرت بیٹھے تھے۔
میں سارے راستے میں دل ہی دل میں درود شریف پڑھتا رہا۔ پنڈی صدر پہنچے‘ اشارہ بند ہوا۔ گاڑی کو اچانک بریک لگی تو حضرت کی آنکھ کھل گئی۔ سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا ! اچھا پنڈی پہنچ آئے۔ اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمانے لگے اچھا بھائی اللہ قبول کرے۔ اچانک میرے ذہن میں سوال آیا کہ سوتے سوتے حضرت اٹھے ہیں اور کس چیز کی قبولیت کی دعا کر رہے ہیں۔ اسی سوچ میں میری نظر حضرت کی طرف اٹھی۔ نظر
سے نظر ملی۔ مجھے یوں لگا جیسے حضرت کچھ چھپا رہے ہیں اور پھر ہنستے ہوئے سر دوبارہ میرے کندھے پر رکھ دیا۔
مولانا عبد الرؤف صاحب ہوٹل انٹر کانٹینٹل کے سامنے اتر گئے اور ہم مری روڈ کی طرف چل پڑے۔ حضرت نے غیر متوقع حسنین بھائی کے بارے میں کوئی سوال کیا۔ میں نے جواب عرض کر دیا۔ حضرت نے الحمد للہ فرمایا۔ غازی سے پنڈی تک کے سفر میں یہ دوسری بات تھی جو الہامی محسوس ہوئی۔
حضرت نے لاہور کے لیے سفر کرنا تھا۔ فلائنگ کوچ کے اڈے پر پہنچے۔ ہم سے پہلے اتر کر حضرت نے بکنگ سے لاہور کا ٹکٹ لینا چاہا۔ میں نے بھی سو کا نوٹ بکنگ کلرک کو دے دیا۔ حضرت نے بہت منع کیا مگر میں نے عرض کیا کہ یہ سو روپیہ ہمیں حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب نے آپ ہی کے سفر کے لیے دیا تھا۔ حضرت صاحب راضی ہو گئے۔ پچیس روپے واپس ہوئے۔ حضرت ٹکٹ لے کر گاڑی میں سوار ہوئے۔ ہم بھی اجازت لے کر چل دیے۔
واپس آکر بقیہ پچیس روپے حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب کو پیش کیے اور ساری روئیداد سنائی تو حضرت بھی بہت خوش ہوئے اور خوب دعاؤں سے نوازا اور بقیہ پچیس روپے بھی یہ کہہ کر واپس کر دیے کہ انہیں بھی کہیں ختم نبوت کے کام پر خرچ کر دینا۔
حضرت کی اجازت سے راقم نے ایک قلم خرید لیا اور اس قلم سے ”تحفظ ناموس رسالت اور گستاخ رسول کی سزا“ قریباً آٹھ سو صفحات کی کتاب اللہ کریم نے لکھوائی۔ اس سفر میں یہ تیسرا بڑا انعام تھا جو خالق اکبر کی طرف سے ہمیں عطا ہوا تھا۔
(مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان صاحب کا خط راقم کے نام)
دو نوٹ
٧ مئی ١٩٩٢ء کو ایبٹ آباد میں ختم نبوت کانفرنس رکھی۔ حضرت مولانا خواجہ خان
محمد صاحب مدظلہ نے صدارت فرمائی۔ مولانا محمد اکرم طوفانی اور مولانا اللہ وسایا صاحب کے علاوہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب مدظلہ نے خطابات فرمائے۔
اس سے قبل طے شدہ نظم یہ ہوتا تھا کہ مہمانوں کے طعام وغیرہ تنظیم کے ذمے ہوا کرتے تھے اور جو ساتھی اپنے گھر طعام کا خرچ کرتا تھا، تنظیم ادا کر دیتی تھی۔ مگر اب کے دوستوں نے شدت سے یہ خواہش ظاہر کرنا شروع کر دی کہ مہمان ان کے ہاں رہیں۔ جب کسی طرح بھی کسی کو قائل نہ کیا جاسکا تو فیصلہ یہ کیا گیا کہ مہمان جس کے ہاں بھی جائیں گے، خرچ اس کا اپنا ہو گا۔ اب صبح کا ناشتہ ایک کے ہاں رکھا گیا، دوپہر کا کھانا کہیں اور۔ عصر کی چائے کہیں اور رات کا کھانا فقیر کی ذمہ داری تھی۔
مغرب کے قریب حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، مولانا اللہ وسایا صاحب، مولانا محمد اکرم طوفانی اور دیگر مہمانان غریب خانے پر تشریف لے آئے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب ظہر کی نشست سے خطاب فرما کر کراچی جاچکے تھے اور عشاء کے بعد دوسری نشست کا آغاز ہونا تھا۔
مغرب کا وقت ہوا۔ مغرب کی نماز کی تیاری شروع ہو گئی۔ ڈرائنگ روم میں مصلیٰ اور چادریں وغیرہ بچھا کر نماز کے لیے جگہ بنائی۔ چونکہ مہمان زیادہ تھے، اس لیے دادی اماں کا صندوق بھی کھولا جو چند روز پہلے وفات پاگئی تھیں تاکہ ان کا مصلیٰ بھی آج کام آئے۔ والدہ محترمہ نے مصلیٰ نکالا اور کھول کر جھاڑا تو اس میں سے ہزار ہزار روپے کے دو نوٹ ملے۔ امی نے دو ہزار اٹھا کر مجھے دیے اور کہا کہ تمہارے پیر تو بڑی کرامت والے ہیں۔ پیسے لیتے ہوئے میرے ذہن میں آیا کہ جیسے حسب سابق مہمانوں کے طعام وغیرہ کے لیے تنظیم رقم ادا کیا کرتی تھی، آج اللہ تعالیٰ نے یہ بندوبست کر دیا ہے۔
(مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان صاحب کا مکتوب راقم کے نام)
اور پھر قادیانی مناظر نہ آیا
آخر میں اپنا ایک ذاتی واقعہ ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتا ہوں۔ میرے اصل آبائی
وطن سنبھل سے قریباً پندرہ میل کے فاصلہ پر ایک موضع ہے۔ اس موضع میں چند دولت مند گھرانے تھے۔ والد ماجد رحمتہ اللہ علیہ سے ان لوگوں کے تجارتی اور کاروباری تعلقات تھے جس کی وجہ سے ان کی آمد و رفت رہتی تھی۔ میں جب شعبان ١٣٤٥ھ کے اواخر میں دارالعلوم کی تعلیم سے فارغ ہو کر مکان پہنچا تو میرے بڑے بھائی صاحب نے بتلایا کہ اس موضع والوں کے کوئی رشتہ دار امروہہ میں ہیں جو قادیانی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ برابر وہاں آتے ہیں اور قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہیں اور دعوت دیتے ہیں اور لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ اور سنا ہے کہ اس کا خطرہ ہے کہ بعض لوگ قادیانی ہو جائیں۔ میں نے عرض کیا کہ وہاں چلنا چاہیے۔ آپ پروگرام بنائیے۔ (میرے یہ بھائی صاحب مرحوم عالم تو نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے دین کی بڑی فکر عطا فرمائی تھی)
چند روز کے بعد انہوں نے بتلایا کہ معلوم ہوا ہے کہ امروہہ کا وہ قادیانی (جس کا نام عبدالسمیع تھا) فلاں دن وہاں آنے والا ہے۔ بھائی صاحب نے اس سے ایک دن پہلے پہنچنے کا پروگرام بنایا۔ رمضان مبارک کا مہینہ تھا۔ ہم اپنے پروگرام کے مطابق پہنچ گئے۔ لوگوں سے ہم نے باتیں کیں تو اندازہ ہوا کہ بعض لوگ بہت متاثر ہو چکے ہیں۔ بس اتنی ہی کسر ہے کہ ابھی باقاعدہ قادیانی نہیں ہوئے ہیں۔ جب ہم نے قادیانیت کے بارے میں ان لوگوں سے گفتگو کی تو انہوں نے بتلایا کہ امروہہ سے عبدالسمیع صاحب آنے والے ہیں، آپ ان کے سامنے یہ باتیں کریں۔
ہم نے کہا یہ تو بہت ہی اچھا ہے۔ ہم ان سے بھی بات کریں گے۔ اور ان کو بھی بتلائیں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیسا آدمی تھا اور اس کو نبی ماننا گمراہی کے علاوہ کتنی بڑی حماقت ہے۔ اس گفتگو ہی کے درمیان وہاں کے ایک صاحب نے (جو کچھ پڑھے لکھے تھے) اور عبدالسمیع کی باتوں سے زیادہ متاثر تھے‘ بتلایا کہ وہ تو مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی سے مناظرہ کر چکا ہے اور امروہہ کے سب سے بڑے بڑے عالموں سے بحث کر چکا ہے اور سب کو لاجواب کر چکا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ یہ بات سن کر میں بڑی فکر میں پڑ گیا اور دل میں خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہوا کہ وہ اپنی تجربہ کاری اور چرب زبانی سے لوگوں کو متاثر کرلے۔ میں نے دعا کی کہ
اللہ تعالیٰ میری مدد اور انجام بخیر فرمائے۔ میں اسی حال میں سو گیا۔ خواب میں حضرت استاذ قدس سرہ کو دیکھا۔ آپ نے کچھ فرمایا، جس سے دل میں اعتماد اور یقین پیدا ہو گیا کہ بڑے سے بڑا کوئی قادیانی مناظر آ جائے، تب بھی میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ حق کو غالب اور اس کو مغلوب فرمائے گا۔ اس کے بعد میری آنکھ کھلی تو الحمدللہ میرے دل میں وہی یقین واعتماد تھا۔ لیکن امروہہ سے وہ قادیانی عبدالسمیع نہیں آیا۔ ہم نے کہا کہ اب جب کبھی وہ آئے تو ہم کو اطلاع دیں۔ ہم انشاء اللہ آئیں گے۔ اس کے بعد ہم نے لوگوں کو بتلایا اور سمجھایا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا یا کسی دعویٰ کرنے والے کو نبی ماننا صریح کفر و ارتداد ہے اور مرزا قادیانی کے بارے میں بتلایا کہ وہ کیسا آدمی تھا۔ ہم بفضلہ تعالیٰ وہاں سے اس اطمینان کے ساتھ واپس ہوئے کہ انشاء اللہ اب یہاں کے لوگ اس قادیانی کے جال میں نہیں آئیں گے۔ خواب میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھے دکھایا، اس کو میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت اور حضرت شاہ صاحب کی کرامت سمجھا۔
(دارالعلوم دیوبند کا ختم نبوت نمبر، ص ٤٤ تا ٤٦)
علمی لطیفہ
موقع کی مناسبت سے ایک علمی لطیفہ ذہن میں آیا۔ رنگون میں خواجہ کمال الدین قادیانی پہنچا بڑا چالاک اور چالباز تھا۔ اس نے اہل رنگون کے سامنے اپنے اسلام کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ہم غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے اور یہ بات قسمیہ کہتا۔ جیسا کہ بہت سے قادیانی خصوصاً لاہوری کہتے ہیں، خواہ مخواہ ہم کو بدنام کیا جاتا ہے حالانکہ ہم پکے مسلمان ہیں۔ قرآن کو مانتے ہیں، حضور اکرم ﷺ کو اللہ کا سچا رسول سمجھتے ہیں۔ عوام اس کی باتوں میں آگئے۔ اس کی تقریریں ہونے لگیں۔ بہت سے مقامات پر نماز بھی پڑھائی۔ جمعہ تک پڑھایا۔ رنگون کے ذمہ دار بہت فکرمند تھے کہ عوام کو کس طرح اس فتنہ سے محفوظ رکھیں۔ عوام میں دن بدن اس کو مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ مقامی علماء سے اس کی گفتگو بھی ہوئی مگر اپنی چالبازی کی وجہ سے اپنی اصلیت ظاہر نہ ہونے دیتا۔ مشورہ کر کے یہ طے
پایا کہ امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحب کو مدعو کیا جائے۔ چنانچہ تار دے دیا گیا اور وہاں اس کی شہرت بھی ہو گئی کہ بہت جلد مولانا عبدالشکور صاحب تشریف لا رہے ہیں۔ وہ اس سے گفتگو کریں گے۔ خواجہ کمال الدین نے جب مولانا کا نام سنا تو راہ فرار اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت دیکھی۔ چنانچہ وہ مولانا کے وہاں پہنچنے سے پہلے پہلے چلا گیا۔ مولانا تشریف لے گئے۔ مولانا کی تقریریں ہوئیں، عوام الناس کو حقیقت سے خبردار کیا اور ذمہ داروں کی ایک مجلس میں فرمایا کہ آپ حضرات نے غور فرمایا کہ وہ کیوں یہاں سے چلا گیا! دراصل وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھ گیا ہو گا کہ میں اس سے یہ سوال کروں گا۔۔۔ کہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا قائل نہیں مگر تو اسے مسلمان سمجھتا ہے یا کافر؟ اس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔ جو بھی جواب دیتا، پکڑا جاتا۔ وہ مرزا صاحب کو کسی حال میں کافر تو کہہ نہیں سکتا تھا۔ اگر مسلمان کہتا تو اس پر بھی اس کی گرفت ہوتی کہ جو شخص مدعی نبوت ہو وہ کسی حال میں مسلمان نہیں رہ سکتا۔ ایسے آدمی کو مسلمان سمجھنا خود کفر ہے۔ میں اس سے یہی سوال کرتا اور یہ سوال لوگوں کے ذہن میں نہیں آیا۔ اس لیے یہ لوگ پریشان رہے۔
(”دارالعلوم دیوبند کا ختم نبوت نمبر‘ ص٦٧-٦٨)
پیغام
تقریباً ١٣٧٠ھ میں مولانا سید تجمل حسین شاہ صاحب کشمیری فاضل دیوبند جو درکھانہ اسٹیشن عبدالحکیم، ضلع ملتان سے حج کے لیے گئے (ان کے بھائی سید عارف حسین شاہ صاحب چک ٣٣٢ دھنی ویو ضلع فیصل آباد میں مقیم ہیں) مولانا سید تجمل حسین کو منیٰ میں فراغت حج کے بعد ایک بزرگ صورت ہستی کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی۔ انہوں نے آپ کو فرمایا کہ محمد علی جالندھری کو میرا پیغام پہنچا دینا کہ وہ تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا رہے، اس کو نہ چھوڑے۔
(روئیداد مجلس ١٣٨٢ھ، ص١٠)
بہترین ترکیب
محمدی بیگم مشہور عالم مسلمان خاتون تھیں۔ مرزا قادیانی نے اس سے نکاح کے لیے اس کے باپ احمد بیگ کو راضی کرنا چاہا۔ خواب‘ الہام‘ دھونس‘ دھاندلی‘ دنیاوی لالچ‘ عذاب کے ڈراؤنے دعاوی کیے مگر احمد بیگ نے اپنی دختر نیک اختر کا اپنے عزیز مرزا سلطان بیگ سے نکاح کر دیا۔ مرزا قادیانی زمانے کا ایسا ڈھیٹ انسان تھا کہ اس نے پیشین گوئی کر دی کہ محمدی بیگم سے آسمانوں پر میرا نکاح ہوا ہے۔ لہٰذا وہ عنقریب مجھ سے بیاہی جائے گی۔
اس زمانہ میں لاہور سے ہفتہ وار اخبار ”ٹلی“ ملا محمد بخش کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔
ملا محمد بخش نے اس اخبار میں اپنا ایک لمبا چوڑا خواب بیان کر کے اعلان کر دیا کہ آسمانوں پر میرا نکاح مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں سے ہو گیا ہے‘ اس لیے وہ بھی عنقریب مجھ سے بیاہی جائے گی۔ اس پر مرزا قادیانی کو بڑا غصہ آیا۔ ”تحفہ گولڑویہ“ ص ١٠٦‘ تا ١٠٧ پر مولانا محمد حسین بٹالوی اور ملا محمد بخش کے خلاف خوب اپنے دل کا غبار نکالا۔ مگر ملا محمد بخش کی اس مزیدار ترکیب سے مرزا قادیانی کے عشق کا بھوت ہوا ہو گیا اور مرزا قادیانی کو لینے کے دینے پڑ گئے۔
حضرت مولانا محمد صدیقؒ
حضرت مولانا محمد صدیق صاحب خلیفہ خاص حضرت امام گنگوہی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے شروع شروع میں مجددیت کا دعویٰ کیا تھا اور مرزا قادیانی اکثر لدھیانہ اس زمانہ میں آیا کرتا تھا۔ میرا بھی کبھی کبھار بھائی مشتاق احمد صاحب کے ہاں قیام ہو جاتا تھا۔ ایک مرتبہ بھائی مشتاق صاحب کہنے لگے کہ دریافت تو کریں کہ آیا واقعی یہ قادیانی مجدد ہے بھی سہی‘ یا ویسے ہی ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ حضرت مولانا مرحوم فرمانے لگے کہ اب کے جب مرزا قادیانی لدھیانہ آئے اور میں بھی موجود ہوں‘ تب یاد دلانا۔ اس
سے گفتگو کریں گے۔ اتفاق سے جلد ہی حضرت مولانا محمد صدیق اور مرزا قادیانی کا اجتماع ہو گیا۔ حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے مندرجہ ذیل سوال فرمائے:
حضرت مولانا: مرزا صاحب کیا آپ واقعی مجدد ہیں؟ مرزا قادیانی: ہاں واقعی مجدد ہوں۔ حضرت مولانا: مقامات سلوک تو آپ کو ضرور طے کرائے ہوں گے؟ مرزا قادیانی: جی ہاں مقامات سلوک طے کرائے ہیں۔ حضرت مولانا: مرزا صاحب یہ بتائیں سیر اجمالی ہوئی یا تفصیلی؟ مرزا قادیانی: جی مجھے سیر اجمالی ہوئی۔ حضرت مولانا: اجمالی والا مجدد نہیں ہوتا؟ مرزا قادیانی: مجھے اجمالی اور تفصیلی دونوں ہوئی ہیں۔ حضرت مولانا: سیر تفصیلی بیان کرو؟ مرزا قادیانی: ایسی تفصیل تھی جیسے ریل گاڑی تیز چل رہی ہو۔ بظاہر تفصیلی تھی لیکن معلوم کچھ نہیں ہوتا تھا۔ حضرت مولانا: ایسی تفصیلی میں اسٹیشن تو تمام ہی پر ٹھہرتے ہوں گے؟ انہیں کے نام شمار کرا دیجئے۔
مرزا قادیانی کو کچھ جواب نہ بن پڑا اور سانپ سونگھ گیا۔
(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت، ص ١٦٨-١٦٩، مصنفہ مولانا اللہ وسایا)
وحدت امت
رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہی وہ واحد ذریعہ ہے، جس نے مختلف فرقہ بندیوں کے باوجود مسلمانوں کی وحدت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کسی نئی نبوت کا تصور وحدت اسلامی کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے۔
مرزائیت کی تحریک جو مذہبی روپ میں نمودار ہوئی‘ دراصل مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد فنا کرنے اور ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ایک خوفناک سازش ہے جو انگریزی دور حکومت میں تیار کی گئی۔ مرزائیت کی تنظیم انگریزی راج کو دوام بخشنے کی ایک تدبیر ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس تحریک کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی ساری زندگی انگریزوں کی قصیدہ خوانی میں گزری۔ مرزائیت کو ہم ایک ایسے درخت سے تشبیہ دے سکتے ہیں جس کی آبیاری اور حفاظت اپنی سیاسی مصلحت کے تحت انگریز کرتے رہے اور جب تک وہ یہاں رہے‘ اس کے برگ و بار سے متمتع ہوتے رہے۔
(خطاب: امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ)
منصب نبوت
آپ نے فرمایا نبوت کھیل تماشا نہیں۔ یہ دکان نہیں ہے‘ جو ہر ایک کھول لیتا ہے۔ یہ تو خدا کی رحمت ہے جس کو چاہیں عطا کردیں۔ نبی پرائمری‘ مڈل اور مڈل پاس نہیں ہوتا۔ نبی یونیورسٹی سے نہیں نکلا کرتے۔ نبی امی ہوتے ہیں‘ نبی کا استاد دنیا میں نہیں ہوتا۔ کائنات کی ساری وسعتیں نبی کے قدموں میں ہوتی ہیں۔ اگر حیوان اپنی ساری طاقتوں کے باوجود انسان نہیں بن سکتا تو انسان اپنی ساری خوبیوں کے باوجود پیغمبر نہیں ہو سکتا۔ آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم ﷺ تک سب نبی امی تھے۔ نبی صرف خدا کی شاگردی کرتا ہے۔ وہ کائنات کی شاگردی سے بالکل مبرا ہوتا ہے۔
(خطاب: امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ)
اعتماد کی بات
مسلمانو! آج میں کھل کر ایک بات کہتا ہوں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر کہتا ہوں کہ اللہ کی ربوبیت اس وقت تک قائم ہے جب تک محمد کی نبوت قائم ہے۔ کیونکہ محمد ﷺ کی
نبوت کی ابدیت ہی اللہ کی ربوبیت کی مظہر ہے۔ ہم میں سے کسی نے خدا کو دیکھا ہے، ہم کیسے یقین کرلیں کہ ایسی بھی کوئی ہستی ہے جسے خدا کہتے ہیں۔ ہاں ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، جنہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ خدا بھی ہے ہمیں تو اعتماد ہے اس بلند شخصیت پر، بھائی اعتماد کی تو ساری بات ہے اگر اعتماد نہ رہا تو سارا کھیل ہی چوپٹ ہے"۔
(خطاب: امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ)
تکمیل نبوت
آیت خاتم النبیین (الاحزاب) میں خاتم کے معنی قادیانی حضرات کے نزدیک مہر کے ہیں تو بھی ختم نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ گورنمنٹ کے مقرر کردہ محکمہ کی طرف سے جس مکان کے دروازہ پر سیل (مہر) لگادی جاتی ہے، تو عوام کا کوئی فرد اسے توڑنے کا مجاز نہیں ہوتا۔ اسی طرح محکمہ ڈاک کے جس تھیلے پر مہر لگادی جاتی ہے، تو اسے بھی راستہ میں کوئی نہیں کھولتا تاوقتیکہ منزل مقصود پر افسر مجاز تک نہ پہنچ جائے۔ (محمد رسول اللہ پر) نبوت کے خاتمہ کی مہر ثبت ہو گئی ہے۔ اسے کھولنے کی تاقیامت کسی بشر کو اجازت نہیں اور اگر کوئی اسے کھولنے کی چوری کرے گا تو وہ پکڑا جائے گا۔
(خطاب: امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ)
مرزا ناصر لاجواب ہو گیا
پروفیسر غازی احمد (سابق کرشن لعل) جنہیں حضور نبی کریم ﷺ نے عالم خواب میں خود اپنے دست مبارک پر مسلمان کیا اور نہایت شفقت فرماتے ہوئے اپنے سینہ مبارک سے لگایا، ان کی زبانی ایمان پرور واقعہ سنئے:
آج سے دس بارہ سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور نے بی۔ اے کے امتحانات کے سلسلے میں مجھے تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں ناظم امتحان مقرر کیا۔ میں پچیس دن ربوہ کالج میں
میرا قیام رہا۔ ایک اتوار کو چھٹی کے دن میں نے مرزا ناصر احمد سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔ دفتر میں گیا اور ملاقاتیوں کی فہرست میں اپنا نام درج کرایا۔ میرا تیسواں نمبر تھا۔ میں نے ناظم ملاقات سے کہا، اگر ممکن ہو تو جلد ملاقات کرادیں۔ مجھے تو امتحان کے سلسلے میں کام کرنا ہے۔ انہوں نے میرے متعلق مرزا صاحب کو فون پر بتایا۔ ناصر صاحب نے کہا کہ ان کا نام دوسرے نمبر پر درج کردیں۔ پہلے نمبر پر ڈاکٹر عبدالسلام تھے۔ ملاقات شروع ہوئی تو ڈاکٹر عبدالسلام..... جو تقریباً نصف گھنٹہ تک محو گفتگو رہے۔ ڈاکٹر صاحب کے بعد میری باری آئی۔ ناصر صاحب دوسری منزل پر تھے۔ میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچا۔ ناصر صاحب نے دروازے میں آکر استقبال کیا۔ علیک سلیک کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔ ناصر صاحب نے فرمایا ”پتہ چلا ہے کہ آپ نے ہندو دھرم چھوڑ کر اسلام قبول کیا ہے؟“
میں نے کہا ”جی ہاں، آپ درست فرماتے ہیں۔ میں واقعی ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوا تھا اور رب العزت نے مجھے اسلام کی نعمت سے نوازا“۔ ناصر صاحب نے کہا ”مجھے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عالم رویا میں آپ کو اسلام سے مشرف فرمایا“۔
”جی ہاں! آپ کی معلومات بالکل درست ہیں۔ میں نے خواب میں نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا ہے“۔
ناصر صاحب نے مسرت کا اظہار فرمایا اور کہا ”واقعی آپ بڑے خوش قسمت انسان ہیں۔ بلکہ میں کہوں گا کہ آپ تو اسلام کی صداقت کی دلیل ہیں“ ناصر صاحب میرے قبول اسلام کی تفصیلات دریافت کرتے رہے اور میں جواب دیتا رہا۔
تقریباً نصف گھنٹہ اسی گفتگو میں گزر گیا تو میں نے کہا ”جناب کافی وقت گزر چکا ہے، نیچے بہت سے ملاقاتی آپ کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ میں رخصت چاہتا ہوں، البتہ اگر آپ مناسب خیال کریں اور گستاخی نہ سمجھیں تو ایک طالب علم کی حیثیت سے ایک سوال دریافت کرنا چاہتا ہوں“۔ ناصر صاحب نے خوش دلی سے اجازت دے دی۔
”جیسا کہ جناب کو بھی معلوم ہے کہ نبی مکرم ؐ نے مجھے مشرف بہ اسلام فرمایا اور مصداق حدیث من رانی فی المنام فقد رانی (یعنی جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا، اس نے میری ذات ہی کو دیکھا) میرا ایمان ہے کہ میں نے رسول مکرم ﷺ کی
ذات گرامی ہی سے دین اخذ کیا ہے اور میرا یہ بھی ایمان ہے کہ جو عقیدہ اور مسلک میں نے اپنایا ہے، وہ آنحضرت ﷺ کی رضائے عالیہ کے مطابق ہے۔
آپ حضرات کا سلسلہ نبوت کا سلسلہ ہے۔ اگر آپ کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں درست ہوتا تو نبی اکرم ﷺ مجھے اسلام سے مشرف فرمانے کے بعد ہدایت فرما دیتے کہ اب تم مسلمان تو ہو چکے ہو، تکمیل دین کے لیے قادیان چلے جاؤ۔ بحیثیت نبی آپ کے لیے ضروری تھا کہ مرزا صاحب کی نبوت کو نظر انداز نہ فرماتے مگر حضور ﷺ نے مرزا صاحب کی نبوت کو قطعاً نظر انداز فرما دیا۔ جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کا سلسلہ نبوت عند اللہ و عند الرسول درست نہیں، بلکہ یہ نبوت، نبوت کاذبہ کے زمرے میں آتی ہے“۔ جناب ناصر صاحب نے سوال سن کر فرمایا ”یہ سوال میری زندگی میں پہلی بار پیش کیا گیا ہے۔ آپ کے سوال کی معقولیت میں شک نہیں، مگر ملاقاتی کافی بیٹھے ہیں، پھر کسی ملاقات میں اس کا جواب دوں گا“۔
میں نے عرض کیا ”مجھے ایک بات اور دریافت کرنا ہے۔ میں نے مرزا صاحب کی تحریر پڑھی ہے کہ میں اور میری جماعت کے افراد فقہی مسلک میں امام ابو حنیفہ کے پیروکار ہیں۔ ناصر صاحب میں بھی حنفی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں“۔
ناصر صاحب نے اظہار مسرت فرمایا۔ میں نے عرض کیا کہ مرزا صاحب تو آپ کے خیال کے مطابق منصب نبوت پر سرفراز تھے۔ کیا یہ امر منصب نبوت کے شایان شان ہے کہ ایک نبی ایک امتی کے فقہی مسلک کا پیروکار اور مقلد ہو۔ کیا یہ مقام نبوت کی توہین نہیں؟ ناصر صاحب نے فرمایا ”اس سوال کا جواب بھی کسی دوسری مجلس میں تفصیل کے ساتھ دوں گا“۔
میں نے ناصر صاحب سے اجازت طلب کی۔ انہوں نے خندہ پیشانی سے رخصت کیا۔ جب میں سیڑھیاں اتر رہا تھا تو ختم نبوت پر میرے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا کہ واقعی حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ کا لایا ہوا دین کامل، مکمل اور اکمل ہے۔ کسی نئے تکمیل کنندہ کی قطعاً نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ گنجائش۔ آپ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا، اس کی نبوت کاذبہ ہو گی۔
(من الظلمات الی النور، مصنفہ پروفیسر غازی احمد)
کوئی بھی دور ہو ہر دور ان کا دور ہوتا ہے
(مولف)
لیکن وہ پہنچ گئے
دین پور شریف عرف جنو والا (ضلع بہاولنگر) کے مدرسہ والوں نے اپنے سالانہ جلسہ میں آپؒ کو مدعو کیا۔ جلسہ کے اشتہار میں آپؒ کے ساتھ دیگر علماء کرام کے اسماء گرامی بھی تھے۔ تاریخ جلسہ سے تقریباً دو تین دن قبل کسی بداندیش نے منتظمین جلسہ کی جانب سے جعلی خطوط تمام مدعوئین کو ارسال کیے، جن کا مضمون تھا ”جلسہ کا پروگرام بعض ناگزیر وجوہ کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا ہے“ آپؒ اپنی مومنانہ فراست میں بھانپ گئے کہ معاملہ کچھ اور ہی ہے۔ لہٰذا جلسہ کے پہلے روز ہی دین پور تشریف لے گئے۔ پتہ چلا کہ کسی دشمن دین نے تمام مدعوئین کو ایسے خطوط لکھ دیے تھے، لہٰذا کوئی صاحب بھی تشریف نہ لائے۔ آپؒ اکیلے تین دن مختلف اوقات میں تقاریر کرتے رہے۔ منتظمین جلسہ خوش تھے کہ ان کا جلسہ کامیاب ہو گیا۔ سامعین کا اجتماع اپنے آپ کو سعادت مند سمجھ رہا تھا کہ اس نے ایسے خطیب کی باتیں سن لیں جس کا بدل ان کی آنکھیں اب نہیں دیکھ سکیں گی۔ مولانا محمد علیؒ اس لیے خوش تھے کہ نبی اکرم ﷺ کے دین کی اشاعت کے لیے ایک پروگرام طے پایا تھا اللہ نے اسے کامیاب کر دیا۔ منتظمین جلسہ کو ندامت ہوئی نہ سامعین کو حسرت رہی۔
(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت، ص ٢١٢، از مولانا اللہ وسایا)
مری تربت پہ جب آنسو بہانے آئے گی دنیا
(مولف)
واحد مقصود
مسٹر جسٹس منیر نے اپنی انکوائری رپورٹ میں مولانا محمد علیؒ کے متعلق لکھا: ”اور محمد علی جالندھریؒ نے جو مجلس احرار کے ممتاز ممبر تھے‘ اپنے آپ کو اس تحریک (ختم نبوت) کا داعی مبلغ بنا دیا۔ گویا احمدیوں (مرزائیوں) کی مخالفت ہی ان کی زندگی کا واحد مقصد تھا“
(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘ ص ٢١٣‘ از مولانا اللہ وسایا)
حساب
مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی کہتے ہیں کہ ایک بار رات کو آپؒ جماعت کا حساب چیک کر رہے تھے۔ آمدن اور خرچ میں ایک پیسہ کا فرق تھا۔ حساب کو برابر کرنے کے لیے رات بھر جاگتے رہے۔ جب صبح رفقاء کار نے اس شب بیداری کا سبب پوچھا تو راز کھلا کہ جماعت کا ایک پیسہ کہیں ضائع ہو رہا تھا‘ انہیں اس کی تلاش تھی۔ لہٰذا جب تک وہ مل نہ گیا‘ ان کی آنکھ سو نہ سکی۔
(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘ ص ٢١٣‘ از مولانا اللہ وسایا)
ہم اس آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں
(مولف)
شاہ جی کی ایمانی جرات
حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ امرتسر میں حضرت مولانا نور احمد صاحبؒ کے پاس درس نظامی کے طالب علم تھے۔ انہی دنوں اعلان ہوا کہ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی ہال
بازار کے باہر ایک سینما ہال میں تقریر کریں گے۔ حضرت مولانا نور احمد صاحبؒ نے امرتسر کے تمام علماء کو جمع کیا اور کہا کہ اس سے پہلے مرزائیوں کو امرتسر میں جلسہ کرنے کی جرات نہیں ہوئی اور اب اگر ایک دفعہ یہ جلسہ کر گئے تو ہمیں تنگ کریں گے۔ علماء حضرات نے مختلف تجاویز پیش کیں۔ حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمایا کہ آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ جلسہ نہیں ہوگا۔
شاہ جیؒ کے ساتھ بخارا‘ سمرقند اور تاشقند سے بھی درس نظامیہ کے طالب علم امرتسر پڑھا کرتے تھے۔ آپ نے ان طلباء کو ساتھ لیا اور جلسہ گاہ میں پہنچ گئے۔ سینما ہال بھرا ہوا تھا۔ آپ سینما ہال کے درمیان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسرے طلباء آپ کی حفاظت کے لیے تھے۔ مرزا بشیر الدین قادیانی نے پہلے خطبہ پڑھا‘ پھر قرآن مجید کی چند آیات تلاوت کیں۔ شاہ جیؒ کھڑے ہو گئے اور فرمایا بشیر الدین‘ قرآن مجید صحیح پڑھو۔ مرزا بشیر الدین پہلے خاموش ہو گیا‘ پھر پڑھنا شروع کیا۔
آپ نے پھر فرمایا کہ بشیر الدین میں کہتا ہوں قرآن مجید صحیح پڑھو‘ ورنہ چپ ہو جاؤ۔ مرزا نے اشارہ کیا‘ بیٹھ جاؤ۔ قبلہ شاہ جیؒ اپنی بات دہرا رہے تھے۔ چاروں طرف سے شور اٹھا‘ بیٹھ جاؤ‘ مگر آپ کھڑے للکارتے رہے۔
قبلہ شاہ جی کی اس مختصر پارٹی کے سوا باقی سارا ہال مرزائیوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہ لوگ شاہ جی کی طرف بڑھے مگر آپ کی حفاظت کے لیے آئے ہوئے ساتھی ان کے لیے کافی تھے۔ جو بھی آگے بڑھتا‘ یہ لوگ انہیں اٹھا کر دوسروں پر پھینک دیتے۔ اس طرح پورے ہال میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔
شاہ جیؒ نے اسی حصار کے اندر آہستہ آہستہ اسٹیج کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ جب شاہ جیؒ اسٹیج کے قریب پہنچ گئے تو مرزا بشیر الدین محمود نے ملحقہ کمرے میں جا کر پناہ لی۔ شاہ جیؒ اور ان کے ساتھیوں نے کرسیاں اٹھا اٹھا کر ان لوگوں پر پھینکنا شروع کر دیں۔ بھگدڑ مچ گئی‘ جلسہ ختم ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ قریبی دروازے سے باہر نکل آئے۔ باہر ایک عظیم مجمع تھا۔ آپ ایک تانگے پر کھڑے ہو گئے اور تقریر شروع کر دی۔ پولیس آئی اور مرزائیوں اور مرزا بشیر الدین کو اپنی حفاظت میں ریلوے اسٹیشن پر پہنچا دیا۔
میں ذمہ دار ہوں
تحریک ختم نبوت کے بعد جب قید سے رہا ہو چکے تھے، غالباً ١٩٥٥ء میں فیصل آباد دھوبی گھاٹ کے میدان میں ضعیفی اور علالت کے سبب بیٹھ کر تقریر فرمارہے تھے۔ دوران تقریر میں کسی نے ایک چٹ بھیج دی۔ لکھا ہوا تھا کہ جو لوگ ختم نبوت کی تحریک میں شہید ہو گئے، ان کا ذمہ دار کون ہے؟ شاہ جیؒ نے پڑھا تو جوش میں آکر کھڑے ہو گئے اور گرج کر فرمایا سنو! ان شہداء کا میں ذمہ دار ہوں۔ نہیں نہیں آئندہ بھی جو حضور اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر شہید ہوں گے، ان کا بھی میں ذمہ دار ہوں۔ تم بھی گواہ رہو (اور آسمان کی طرف منہ کر کے فرمایا) اے اللہ تو بھی گواہ رہ۔ ان شہداء کا میں خود ذمہ دار ہوں اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، اگر میں زندہ رہا اور موقع ملا تو پھر بھی ایسا ہی ہوگا۔ اگر کل مسلمان حضورؐ کی جوتی کے تسمے پر قربان ہو جائیں تو پھر بھی حق ادا نہ ہوگا۔ ان جملوں سے سامعین تڑپ اٹھے۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ اور ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اٹھی۔
نواب آف بہاولپور
مشہور مقدمہ تنسیخ نکاح عائشہ بنام عبدالرزاق میں فاضل جج فریقین کے دلائل اور علماء کے بیانات سن کر ایک نتیجے پر پہنچ گئے تھے اور قادیانیوں کے بارے میں ان کا شرح صدر ہو چکا تھا لیکن عام تاثر یہ تھا کہ کہیں اس فیصلہ سے انگریز حکومت اسلامی ریاست بہاولپور کو نقصان نہ پہنچائے۔
یہ خبر نواب صاحبؒ تک پہنچی تو انہوں نے جج صاحب سے ببانگ دہل فرمایا ”آپ قادیانیوں کو علی الاعلان غیر مسلم قرار دیں۔ اگر نواب بہاولپور محمد صادقؒ پنجم کی ایک کیا ہزاروں ریاستیں بھی سرکار محمد ﷺ کی نبوت کے تحفظ میں قربان ہو جائیں تو پرواہ
نہیں“۔
پھر کیا تھا‘ وہ شہرۂ آفاق فیصلہ سامنے آیا‘ جس کے نتیجے میں قادیان کی جھوٹی نبوت کو ہر جگہ خائب و خاسر ہونا پڑا اور آخر کار ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے تاریخ ساز فیصلے کی رو سے قادیانی غیر مسلم قرار پائے۔
(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘ ص ١٦٩‘ ١٧٠‘ از مولانا اللہ وسایا)
دوزخ کی آگ اس پہ یقیناً حرام ہے
(مولف)
مولانا تاج محمود کا ایمان پرور جواب
ایک دفعہ آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ دل کے مریض ہیں۔ آپ تقریر میں اس قدر جذباتی نہ ہوا کریں۔ اس طرح آپ کو دل کی بیماری کا خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ آپ مسکرا کر فرما دیتے۔۔۔۔۔ چھوڑو جی۔۔۔۔۔ ایک دل ہی تو ہے۔ ہم فقیروں کے پاس یہ بھی اگر اپنے آقا مولا حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر نثار نہ کیا تو کیا کمایا‘ ہونے دو جو ہوتا ہے۔ ہم محمد ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ مرتے دم تک جہاد جاری رکھیں گے اور یہ صرف زبان تک محدود نہیں‘ بلکہ کر کے دکھایا۔
(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘ ص ١١١‘ از مولانا اللہ وسایا)
لیکن قدم کچھ اور سنبھلتے چلے گئے
(مولف)
حضرت مولانا محمد علی مونگیری کا تمغہ
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری نے جب حیدر آباد میں خاکسار (یعنی مولانا امرتسریؒ) کی ناچیز خدمات سنیں تو اپنے سر کی خاص پگڑی (شملہ) اور کرتہ کا کپڑا بذریعہ ڈاک پارسل اس خادم کو بھیجا۔ جو بلحاظ مذہبی تقدس کے حیدر آبادی منصب سے زیادہ قابل فخر ہے۔ دونوں (مادی اور روحانی) طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ حیدر آباد میں میری خدمات خدا کے ہاں مقبول ہوئی ہیں۔
(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت، ص ١٢١، از مولانا اللہ وسایا)
جو دلوں کو فتح کرے وہی فاتح زمانہ
(مولف)
نداء الاسیر
شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمود صاحب رحمتہ اللہ علیہ
حضرت مفتی محمود صاحب ١٩٥٣ء میں بسلسلہ تحریک ختم نبوت سنت یوسفی پر عمل کرتے ہوئے ملتان جیل میں محبوس ہوئے تو حضرت مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ دہلویؒ کے تتبع میں یہ نظم کہی۔ حضرت مفتی اعظم ١٩٣٢ء میں قائد جمعیتہ علماء ہند کی حیثیت سے سول نافرمانی کرتے ہوئے گرفتار ہوئے اور اٹھارہ ماہ قید بامشقت کی سزا کے سلسلے میں ملتان سنٹرل جیل لائے گئے۔ عید کے موقعہ پر ایک قیدی کے جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی حمیت و غیرت اور آزادی حاصل کرنے کے عزم مصمم کا بھی ذکر کیا تھا۔
حضرت مفتی محمود صاحب جو دینی، فقہی اور علمی و عملی ہر میدان میں حضرت مفتی اعظمؒ کے صحیح جانشین ہیں، کی یہ نظم ہمیں مولانا حبیب اللہ صاحب، ناظم جامعہ رشیدیہ
ساہیوال نے مرحمت فرمائی۔ ہمیں یہ نظم دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ کیونکہ ہمارے خیال میں حضرت مفتی صاحب عظیم فقیہ، بلند پایہ شیخ الحدیث اور ایک صاحب فراست سیاست دان تو تھے، لیکن اس کا قطعاً علم نہ تھا کہ آپ شعر بھی کہتے ہیں۔ یہ نیا شاعرانہ پہلو شاید قارئین کے لیے بھی انکشاف کی حیثیت رکھے گا۔ حضرت مفتی محمود صاحب کے ساتھ جیل میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علیؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا سید نور الحسن بخاری، مولانا محمد اسمعیل صاحب، حافظ خادم حسین صاحب اور ناظم جامعہ رشیدیہ بھی تھے۔ مفتی صاحب جمعہ پڑھایا کرتے۔ شیخ التفسیر قرآن پاک کا درس دیتے تھے اور مولانا حبیب اللہ صاحب نے رمضان میں قرآن پاک سنایا۔ (انوار مدینہ)
(میں ایک ایسے گھر میں ہوں (جیل میں) کہ یہاں وہ شخص رہا ہے کہ جس نے دین قویم کی درست کاری میں مدد کی ہے)
(تو اس میں اسرائیل علیہ السلام کے بیٹے یوسف علیہ السلام بھی ٹھہرے ان پر خدا کی طرف سے نہ منقطع ہونے والی سلامتی کا نزول ہوا)
(اس میں ہمارے آئمہ دین بھی رہے، اس میں ابو فقہ (امام اعظم ابو حنیفہؒ) جو بہت بزرگی والے ہیں رہے ہیں)
(اس میں ابن تیمیہؒ (رہے ہیں) انہیں تم دیکھو کہ وہ مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں عمدہ مقام کو بہت بہادر ڈھاٹا باندھنے والے ہیں)
(اور شیخ جو سرہند مبارک میں ٹھہرے ہوئے ہیں اسی (قید خانے) میں شیخ، قطب فضیلت اور صاحب عمامہ ہوئے)
هناك رشيد جاء بالفضل و العلى و عرف محمود هناك بضيغم (یہیں (قید خانہ ہی میں) حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ فضیلت و بلندیاں لے کر آئے اور یہاں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ ضیغم اسلام معروف ہوئے)
كفايته مولانا و فخر زماننا لكل سما فيها مدارج سلم (ہمارے آقا کفایت اللہ اور ہمارے زمانہ کے فخر (یعنی مولانا سید فخرالدین صاحبؒ) ہر ایک قید ہی میں (بلندیوں کی) سیڑھیاں چڑھ کر اوپر ابھرے)
و فيها حسين احمد تراه توطنا لذاك تراه اليوم خير ميمم (اس میں حضرت مولانا السید حسین احمد مدنی قدس سرہ کہ تم دیکھو گے کہ انہوں نے اپنا وطن ہی (قید خانہ) اسی لیے آج تم دیکھو گے کہ وہ ایسے ہیں کہ وہ سب سے بہتر مقصود بن گئے)
و فيها قضى عمراً امير شريعه و فيها امام الهند جا بتقدم (اور اسی میں امیر شریعت (مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم) نے اپنی عمر کا ایک حصہ گزارا اور اسی میں امام الہند (مولانا ابوالکلام آزادؒ) آگے بڑھنے کی فضیلت لائے)
فلولا ارى فيها مآثر ساره و لولم اظن الدار دار تنعم (اگر میں اس میں چلنے والے (قافلہ) کے تاثر و نشانات نہ دیکھتا اور اگر میں اس گھر (قید خانہ) کو نعمتوں کا گھر نہیں جانتا)
و لو لم اخل فيها معارج ذروه و لم ارتقب فيها حصول التكرم (اور اگر میرے خیال میں اس میں بلندیوں کی چوٹیاں نہ ہوتیں اور (میرے نزدیک) اس میں بزرگی کے حصول کی تاک نہ ہوتی)
و لم ارج فيها النيل نيل سعاده و لم انتظر فيها نزول الترحم (اور (اگر میں) اس میں حصول سعادت کی امید نہ رکھتا ہوتا اور (اگر) اس میں رحمت خداوندی کے اترنے کا مجھے انتظار نہ ہوتا)
(اور اگر میں اس (قید خانہ) میں آنے کو فرض نہیں جانتا ذی المجد و الکرم
علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خوشنودی کے لیے)
و حفظا لدین قیم و اماطتہ لکذب رجیم خادع و غلیم
(اور میں دینِ قیم کی حفاظت اور راندہ درگاہ، دھوکہ باز اور غلام ذلیل کے
جھوٹ کو دفع کرنے کے لیے)
فلولم یکن هاذاک ماسرت نحوها بقلب حریص مشرئب متیم
(اگر یہ باتیں نہ ہوتیں تو میں قید خانہ کی طرف ایسے دل سے نہ چلتا جو لالچ
میں بیتاب اور سراٹھائے ہوئے ہو)
و لم افترق اهلی و داری بساعہ و لم ادخل البیت المقفل فاعلم
(اور میں اپنے گھر اور اہل و عیال سے ذرا سی دیر کے لیے بھی جدا نہ ہوتا
اور دیکھو کہ نہ ہی اس مقفل گھر میں داخل ہوتا)
و لم ترنی المحبوس فی السجن لحظہ و کنت جمیع بالرفیق المعظم
(اور نہ تم مجھے ایک لحظہ کے لیے بھی قید میں بند دیکھتے اور میں رفیق معظم
(اپنے شیخ) کے ساتھ ساتھ ہوتا)
و ماکنت فی رمضان مونس غربہ و لم تدر ما حال الاسیر المجمجم
(اور رمضان میں میں پردیسی زندگی سے مانوس نہ تھا اور تم نہیں جان سکتے کہ
بے بس قیدی کا کیا حال ہوتا ہے)
و لم ترنی قاسیت کابہ عزلہ و ما کان لحظی دفعہ بمجرم
(اور تم نے مجھے نہ دیکھا ہو گا کہ میں نے یکسوئی کی تکلیف سہی ہو اور (جیل
میں آنے سے پہلے) میرا اچانک (سب کو) دیکھنا حرام نہ ہوا تھا)
و ما کان فی قلبی حریق تشوق و ما کان جسمی للعدی بمسلم
(اور میرے دل میں شوق کی آگ نہ تھی اور مرا جسم دشمنوں کو نہ سونپا گیا
تھا)
عسی اللہ ان یجعلہ خیر مقدم
(میں اپنے پروردگار کریم سے امید رکھتا ہوں حسن قبول کی، قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آمد(جیل) کو بہتر بنادے)
(ہفت روزہ ”ترجمان اسلام“ مفتی محمود نمبر، ص ٢٣ تا ٢٥)
درد باقی رہ گیا درد آشنا جاتا رہا
(مولف)
دو عظیم انسانوں کی ملاقات
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مجاز ڈاکٹر جلال الدین کی روایت، مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے اپنے شیخ مولانا محمد عبداللہ کے حوالہ سے بیان کی کہ ایک دن نحیف و ناتواں جسم ہڈیوں کا مجموعہ، لیکن چہرہ پر ایمان کی روشنی، قندیلوں کی جھلکار، حسین و جمیل انسان میری دکان پر تانگہ سے اترا۔ میں نے بڑھ کر دیکھا تو وہ مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ تھے۔ مولانا کشمیری نے ڈاکٹر جلال الدینؒ سے فرمایا کہ مجھے ڈاکٹر سر محمد اقبال سے ملنا ہے۔ ڈاکٹر جلال صاحب نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال سے وقت لیا۔ شاہ صاحب نے علامہ صاحب سے تین گھنٹے علیحدگی میں بات کی۔ واپس ہوئے تو ڈاکٹر جلال الدین نے شاہ صاحب سے پوچھا کہ حضرت اتنی نقاہت و کمزوری کے باوجود یہ سفر کیا۔ فرمایا کہ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کا پڑھے لکھے لوگوں پر اچھا اثر ہے۔ ان کو تیار کرنے آیا تھا کہ یہ قادیانیوں کے خلاف کچھ لکھیں تاکہ امت کا ایمان محفوظ ہو۔ آپ کی اس کوشش کا یہ صلہ ہے کہ علامہ محمد اقبال نے وہ تاریخ ساز معرکہ آراء خط و کتابت پنڈت جواہر لال نہرو سے کی، جس سے قادیانیت کے خدوخال واضح ہو گئے۔
(”قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت“ ص ٤٠، ٤١ از مولانا اللہ وسایا)
سرمایہ آخرت
مخدوم محترم حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری (امیر شریعت کے مرشد) ان دنوں لاہور ہی میں تشریف فرما تھے ۔ انہیں جب اطلاع ہوئی تو ملنے کے لیے خود تشریف لائے ۔ پیر اور مرید کے مابین کافی دیر محفل رہی ۔ حضرت لاہوریؒ بھی مجلس میں موجود تھے ۔ امیر شریعت نے دونوں حضرات سے دعا کے لیے درخواست کی تو حضرت رائے پوری نے فرمایا آپ کے لیے دعا نہیں کریں گے‘ شاہ جی! تو اور کس کے لیے کریں گے؟ آپ تو ہمارے لیے آخرت کا سرمایہ ہیں“ ۔ یہ سن کر امیر شریعتؒ زار و قطار رونے لگے اور کافی دیر روتے رہے ۔ اس دن کی یہ مجلس آنسوؤں کے طوفان میں بہہ گئی۔
(”حیات امیر شریعت“ ص ٤١٢-٤١٣‘ از جانباز مرزا)
لبوں پہ ان کے لیے ہوں سدا‘ دعا کے چراغ
(مولف)
ایک ٹکراؤ
اگرچہ امیر شریعت انتخابات کے دنوں پنجاب کے علاوہ صوبہ یو۔پی میں بھی مصروف تھے تاہم ان کی زیادہ تر توجہ کا مرکز ڈسکہ کی سیٹ تھی۔ چودھری سر ظفر اللہ خاں ہمیشہ اسی سیٹ سے مسلمانوں کے ووٹوں سے کامیاب چلا آ رہا تھا اور آج اس کا بھائی چودھری اسد اللہ خاں ایڈووکیٹ اسی سیٹ پر الیکشن کے میدان میں سامنے آیا تھا۔ سر ظفر اللہ خاں اپنی جاٹ برادری اور ضلع میں مقبول عام تھا۔ سرکاری اثر و رسوخ بھی اسے پناہ دیے ہوئے تھا۔ اس تحصیل کے مسلمانوں پر چودھری ظفر اللہ خاں کا اثر ریاستی نواب کی طرح تھا۔ ایسے حالات میں یہ ٹکراؤ بڑے جان جوکھوں کا کام تھا۔ خصوصاً جبکہ الیکشن بھائی چارے
اور برادریوں کے نام پر لڑے جارہے ہوں۔
بڑی دوڑ دھوپ کے بعد اسی برادری کے ایک معزز جاٹ چودھری غلام رسول ستراہ جو اپنے حلقہ میں خاصے رسوخ کے مالک تھے ، مجلس احرار کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کے لیے آمادہ ہوئے۔
چودھری غلام رسول کے پاس روپیہ ، برادری کا اثر و رسوخ سب کچھ تھا لیکن سرکاری دباؤ کا خوف سد راہ تھا۔ دوسری جانب مجلس احرار سمجھتی تھی کہ یہی شخصیت سر ظفر اللہ کے کفر کو توڑ سکے گی۔ چنانچہ ایک رات امیر شریعت نے چودھری غلام رسول سے کہا:
”دیکھو غلام رسول ! اس وقت پیغمبر اسلام ﷺ کی عزت کا سوال ہے ، غیر ملکی حکومت کا نمائندہ (وائسرائے) کہتا ہے کہ تم ظفر اللہ کو مسلمان نہیں کہتے، لیکن اس حلقہ کا مسلمان تو اس کو ووٹ دے کر منتخب کرتا ہے۔
چودھری صاحب ! اگر آج اس سیٹ سے اس خاندان کا کوئی فرد جو حضور سرور کائنات کو آخری نبی نہیں مانتا، مسلمانوں کے ووٹ سے اسمبلی میں چلا گیا تو قیامت کے دن تم مجرم قرار پاؤ گے۔ کیونکہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے دنیوی خوبیوں سے نوازا ہے۔ برادری میں تمہارا اثر اس سے کم نہیں، دولت اور عزت تمہیں بھی خدا نے دی ہے۔ حکومت میں تمہارا بھی وقار ہے“۔
امیر شریعت کی باتیں سن کر چودھری غلام رسول نے کہا:
”شاہ جی ! میں بہت ہی سیاہ کار ہوں۔ اس کے باوجود آپ حکم دیتے ہیں تو حاضر ہوں۔ لیکن میرے پاس برادری کی وہ قوت نہیں جو چودھری سر ظفر اللہ کے پاس ہے۔ روپیہ تو میں خرچ کر سکتا ہوں، لیکن حلقہ اور برادری کے ذمہ دار لوگ شاید میرا ساتھ نہ دیں“۔
امیر شریعت نے چودھری غلام رسول کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا:
” تم اللہ کے رسول کی عزت رکھو، اللہ تمہاری عزت کا وارث ہو گا۔ مجلس احرار کی سرخ فوج آج سے تمہارے حلقہ میں متعین کر دی گئی ہے ، بے فکر
رہو"۔
پولنگ شروع ہونے میں قریباً ایک ماہ باقی تھا کہ ڈسکہ سیٹ کی مہم شروع کی گئی۔ امیر شریعت دوسرے حلقوں کے علاوہ اس حلقہ میں زیادہ وقت اور توجہ صرف کرتے، مرکزی حکومت کے اشارے پر حکومت پنجاب نے بھی اس سیٹ پر خاصی توجہ دی۔ امیر شریعتؒ نے گاؤں گاؤں پھر کر جاٹ برادری کو خصوصیت کے ساتھ حضور خاتم الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے ناموس پر اپیل کی کہ وہ اپنا ووٹ برادری کے نام پر نہیں، بلکہ حضورؐ کے نام پر دیں۔ تاکہ دشمنانِ دین کے تمام منصوبے خاک میں مل جائیں۔ اس سلسلے میں امیر شریعتؒ جب گھوئینکے (ضلع سیالکوٹ) پہنچے تو وہاں نماز جمعہ پڑھانے کا پروگرام تھا۔
چودھری عبدالغنی گھمن معہ اپنی جاٹ برادری کے بندوقوں، پستولوں اور دوسرے اسلحہ سے مسلح ہو کر آن پہنچے کہ ہم عطاء اللہ شاہ بخاری کو تقریر نہیں کرنے دیں گے (یہ لوگ چودھری اسد اللہ کے حامی تھے) امیر شریعت نے کہا، اگر آپ اجازت دیں تو میں صرف جمعہ کی نماز پڑھ لوں؟ اس پر انہوں نے ہاں کہہ دی۔ چنانچہ نماز سے پہلے امیر شریعت نے قرآن کریم کا ایک رکوع پڑھا اور مخالفین سے پوچھا، اگر آپ حکم دیں تو اس آیت کی تشریح کر دوں۔ اس پر مخالفین کے دو حصے ہو گئے۔ ایک گروہ تشریح کے حق میں تھا اور دوسرا مخالف۔ آخر شاہ جی نے قرآن کریم کی تفسیر شروع کی، بس پھر کیا تھا، کہ جمعہ کی نماز بھی مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ بعد پڑھی گئی۔ آخر میں مخالفین امیر شریعت کے ہمنوا ہوگئے اور چودھری عبدالغنی کو اپنے ارادے میں بری طرح شکست ہو گئی۔
چونکہ امیر شریعت جاٹ برادری کے دل اپنے قبضے میں کر چکے تھے، ہزار جدوجہد کے باوجود سرکار کا اثر و رسوخ بھی کوئی کام نہ دے سکا۔ یہ لڑائی، مسلمان اور مرزائی کے عنوان پر لڑی گئی۔ امیر شریعتؒ کی مسلسل اور پیہم تقریروں سے ڈسکہ تحصیل کا مسلمان، مرزائی اور مسلمان کے درمیان حد فاصل کو سمجھ گیا اور جب اس الیکشن کا نتیجہ سامنے آیا تو چودھری غلام رسول ستراہ نے چودھری اسد اللہ خاں ایڈووکیٹ کو ہزاروں ووٹوں سے شکست دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی طور پر اس گھرانے کا وقار ڈسکہ تحصیل سے ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا اور تحریک مرزائیت کو خاصا نقصان پہنچا۔
("حیات امیر شریعت" ص ٢٠٨ تا ٢١٠' از جانباز مرزا)
چلتی ہوئی تلواروں میں بھی سچ کہنے کی عادت رکھتا ہوں
(مولف)
حضرت کشمیریؒ کی شاباش
قادیانیت کے سلسلہ میں شاہ جی نے جتنا کام کیا' سب ابا جی کے اشارہ و ارشاد پر۔ شاہ جی کی تقریریں پسند کی جاتیں تو ابا جی کا سیروں خون بڑھتا' وہ تردید قادیانیت کے لیے لمبے لمبے دورے کرتے تو ابا جی کی نگاہ ان کے ہر قدم پر رہتی۔ ڈابھیل میں مسجد مدرسہ میں ان کا معمول تھا کہ جمعہ کو تقریر فرمایا کرتے۔ ایسی تقریر جس میں صرف مغز مغز ہوتا تھا۔ الفاظ بالکل نہیں' نہ کوئی ابتدا ہوتی تھی اور نہ انتہا۔ تقریر ختم کرچکے۔ مجمع اٹھ گیا۔ خود منبر سے اتر آئے مگر کوئی بات پھر ذہن میں آگئی تو دوبارہ پھر منبر پر جابیٹھے اور تقریر شروع فرمادی۔ ایک دن خطبہ مسنونہ کے بعد صرف یہی مضمون بیان ہوا کہ پنجاب میں ایک صاحب ہمیں مل گئے ہیں 'صاحب توفیق' صاحب صلاحیت' صاحب سواد۔ خوب کام کرتے ہیں' مولویوں کی طرح نہ خواہش زر میں مبتلا ہیں اور نہ خواہش شہرت میں۔ بس بے چارے محض اللہ کے لیے کام کیے جاتے ہیں۔ ہم نے قادیانیت کے متعلق انہیں توجہ دلائی کہ یہ فتنہ عظیم صحیح اسلام کو جڑ سمیت اکھاڑ پھینکنے کا ارادہ کر بیٹھا ہے' آپ کیوں نہ اس فتنہ کے خلاف کچھ کام کرگزریں۔ آپ کا وہ کام دین میں آپ کے لیے نفع رساں ہو گا اور دنیا میں اس سے اہل دین کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ کہہ کر پھر شاہ جی کا نام لیا۔ فرمایا کہ بڑوں بڑوں سے جو کام نہ ہوا' وہ اس غریب نے کر دکھایا (طلبہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا) آپ تو مدرسہ کی روٹیاں کھاکر ہر وقت بحث مباحثہ میں لگے رہتے ہیں' دین کی کوئی محبت آپ حضرات کے دل میں نہیں۔ عطا اللہ شاہ اگر یہاں آگئے تو آپ ان سے ملئے' وہ عجیب آدمی ہیں۔
("یادگار زمانہ ہیں یہ لوگ" ص ٦٦' ٦٧ از ازہر شاہ قیصرؔ)
مرزا جی کی ٹپچی ٹپچی
میں ابھی بچہ ہی تھا کہ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم وزیر آباد تشریف لائے۔ رات غلہ منڈی میں انہوں نے تقریر کی۔ میں بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ تقریر سننے چلا گیا اور تو کچھ میری سمجھ میں نہ آیا البتہ ایک صاحب نے ایک پنجابی نظم پڑھی‘ جس کا ایک شعر مجھے اب بھی یاد ہے
راتوں رات ہوندا جدھا مرزے نال میل اے
(خدا جانے ٹپچی ٹپچی کہاں کی چڑیل ہے‘ جو رات کے وقت مرزا قادیانی سے ملاقات کرتی ہے)
میں اور میرے دوست اس پر ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئے اور میں یہ شعر گاتا ہوا گھر کو آگیا۔ ٹپچی ٹپچی رب جانے کتھوں دی چڑیل اے..... مرزائیت کے متعلق یہ میرا پہلا تاثر تھا
(قاضی محمد حفیظ اللہ‘ پی ایس سی (ریٹائرڈ)
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر‘ حصہ اول‘ ص ٦١٢)
حضرت سید عطاء اللہ شاہؒ بخاری کے لیے دعا
حضرت خان محمد صاحب قبلہ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نے بیان فرمایا کہ حضرت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری راولپنڈی جیل میں اسیر تھے۔ وہاں مولانا ظہور احمد بگوی بھیروی نے ان سے ملاقات کی۔ شاہ جی نے مولانا کے ہاتھ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ آپ زندہ ہوں اور میں جیل کی کال کوٹھڑیوں میں بند رہوں‘ یہ بات مناسب نظر نہیں آتی۔ مقصود رہائی کے لیے درخواست کی دعا تھی۔ حضرت سجادہ نشین نے فرمایا کہ میں ان ایام میں بھیرہ میں درسیات عربیہ کا طالب علم تھا۔ مولانا موصوف نے یہ پیغام مجھے
پہنچایا۔ میں اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور شاہ جی کا پیغام دیا۔ حضرت اعلیٰ نے فرمایا اگر علالت طبعی حائل نہ ہوتی تو میں شاہ جی کو ایک دن بھی جیل میں نہ رہنے دیتا۔ اس کے بعد لدھارام والے مشہور کیس کی سماعت شروع ہوئی۔ یہ اعلیٰ حضرت کی توجہ اور دعا کی تاثیر تھی کہ شاہ صاحب نے اس اسیری اور بھیانک سازشوں پر مبنی مقدمہ سے نجات پائی۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان‘ امیر شریعت نمبر‘ حصہ اول‘ ص ٣٥٥-٣٥٦)
تحفظ ختم نبوت اور خانقاہ سراجیہ
حضرت اقدس مولانا محمد عبداللہؒ اسلام اور بانی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حرمت و ناموس کو عقیدہ ختم نبوت کی اساس سمجھتے تھے۔ چنانچہ آپ اس عقیدہ کو ایمان کا موقوف علیہ تصور فرماتے ہوئے اس کے تحفظ کے سلسلہ کو حرز جان کی طرح اولین اہمیت دیتے تھے۔ ختم نبوت کے منکروں‘ اس عقیدہ میں من گھڑت تاویلات کرنے والوں اور جعلی نبوت کے قائلین کو اسلام کا سب سے بڑا دشمن گردانتے تھے۔ ١٩٥٣ء میں جب تحریک ختم نبوت ابھری تو آپ نے اس کی پوری طرح پشت پناہی فرمائی۔ عقیدۂ حق کا اعلان کرنے والوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں اور ان پر گولیاں برسنے لگیں۔ جہاں جہاں آپ کے متوسلین تھے‘ انہوں نے اس تحریک میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ خود آپ نے مرکز میں رہ کر اس تحریک کی قیادت فرمائی۔ موجودہ سجادہ نشین حضرت خان محمد صاحب قبلہ کو برملا اعلان حق کرنے اور میانوالی اجلاس منعقد کرنے کے لیے بھیجا۔ حضرت قبلہ تعمیل ارشاد کے پیش نظر قید و بند کی صعوبتوں سے بے نیاز میانوالی تشریف لے گئے اور خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا۔ پہلے میانوالی جیل میں رہے۔ پھر بورسٹل جیل لاہور منتقل کر دیئے گئے۔ بعد ازاں اس تحریک کو دبانے کے لیے اس دور کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے حدود لاہور میں جو تحریک کا سب سے بڑا عملی مرکز تھا‘ مارشل لاء نافذ کر دیا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی علیہ الرحمہ کے متعلق حکم دے دیا گیا کہ جہاں ملیں‘ انہیں گولی مار دی
جائے۔ مولانا ہزاروی حضرت اقدس کے حلقہ ارادت میں شامل تھے۔ آپ کو ان کی حفاظت جان کی فکر ہوئی۔ انہیں لاہور سے خانقاہ سراجیہ خاص حکمت عملی سے لایا گیا۔ پھر کسی محفوظ و مخفی مقام پر حالات درست ہونے تک رکھا گیا۔ پھر جب لاہور میں اس تحریک کے سلسلہ میں تحقیقاتی کمیشن بیٹھا تو منکرین ختم نبوت کے خارج از اسلام ہونے اور عقیدہ ختم نبوت کو اسلام کا بنیادی عقیدہ ثابت کرنے کے لیے علمائے اسلام کا بورڈ حکیم عبدالمجید صاحب سیفی کے مکان بیڈن روڈ پر بیٹھا۔ متعلقہ کتب فراہم کی گئیں۔ تحریک مرزائیت، بہاء اللہ بابیت سے متعلق تمام لٹریچر جمع کیا گیا۔ علمائے کرام ختم نبوت کے عظیم الشان مسئلہ کے اثبات میں کتابوں سے حوالے تلاش کر کے فراہم کرتے رہے۔
(ماہنامہ "نقیب ختم نبوت" ملتان، ص ٤٦-٤٧، اگست ١٩٩١ء)
جو چراغوں کی طرح سب کے لیے جلتے تھے
(مولف)
مولانا انور شاہ کشمیریؒ اور علامہ اقبالؒ
ایک مرتبہ حضرت شاہ صاحب انجمن خدام الدین کے کسی سالانہ اجتماع میں شرکت کی غرض سے لاہور تشریف لے گئے تو ڈاکٹر صاحب ملاقات کے لیے حضرت موصوف کی قیام گاہ پر آئے اور پھر ایک دن اپنے ہاں رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ دعوت کا صرف ایک بہانہ تھا ورنہ اصل مقصد علمی استفادہ تھا۔ چنانچہ کھانے سے فراغت کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ختم نبوت اور قتل مرتد کا مسئلہ چھیڑ دیا، جس پر کامل دو اڑھائی گھنٹہ تک گفتگو رہی۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ عادت تھی کہ جب وہ کسی اسلامی مسئلہ پر کسی بڑے عالم سے گفتگو کرتے تھے تو بالکل ایک طالب علمانہ انداز سے کرتے تھے۔ مسئلہ کے ایک ایک پہلو کو سامنے لاتے اور اس پر اپنے شکوک و شبہات بے تکلفانہ بیان کرتے تھے۔ چنانچہ اس وقت بھی انہوں نے ایسا ہی کیا۔ حضرت شاہ صاحب نے ڈاکٹر صاحب کے بیان کردہ شکوک و شبہات اور
اعتراضات کو بڑے صبر و سکون کے ساتھ سنا اور اس کے بعد ایک ایسی جامع اور مدلل تقریر کی کہ ڈاکٹر صاحب کا ان دو مسئلوں پر اطمینان کلی ہو گیا اور جو کچھ خلش ان کے دل میں تھی‘ وہ جاتی رہی اور اس کے بعد ہی انہوں نے ختم نبوت پر وہ لیکچر تیار کیا کہ جو ان کے چھ لیکچروں کے مجموعہ میں شامل ہے اور قادیانی تحریک پر وہ ہنگامہ آفریں مقالہ سپرد قلم فرمایا‘ جس نے انگریزی اخبارات میں شائع ہو کر پنجاب کی فضا میں تلاطم برپا کر دیا تھا۔
(”حیات انور“ ص ١٩٤-١٩٥‘ مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصر)
تیری تربت سے دعاؤں کی صدا آتی ہے
(مولف)
اسلامی غیرت و حمیت
حضرت شاہ صاحب طبعاً بڑے حلیم اور بردبار تھے۔ لیکن اسلامی اور دینی معاملات میں وہ کسی طرح کے تہاون و تکاسل یا غفلت شعاری کو گوارا نہیں کر سکتے تھے۔ ایک مرتبہ ڈابھیل سے دیوبند تشریف لے جارہے تھے۔ میں اس زمانہ میں مدرسہ فتح پوری دہلی میں مدرس تھا۔ حضرت کو دہلی کے اسٹیشن پر دیوبند کے لیے گاڑی بدلنا پڑتی تھی اور کئی گھنٹہ وہاں قیام کرنا پڑتا تھا۔ اس فرصت کو غنیمت جان کر میں چند احباب کے ساتھ اسٹیشن پہنچ گیا اور جب تک دیوبند والی گاڑی چھوٹ نہیں گئی‘ اسٹیشن پر حضرت الاستاذ کے ساتھ ہی رہا۔ اس موقع پر دوران گفتگو میں حضرت الاستاذ کو معلوم ہوا کہ ابھی حال میں دہلی میں قادیانیوں کا ایک جلسہ تین دن تک ہوتا رہا‘ جس میں ہر قسم کی تقریریں کی گئیں۔ لیکن علمائے اسلام میں سے کسی شخص نے قادیانیوں کے جلسہ میں پہنچ کر ان کو مناظرہ کی دعوت نہیں دی۔ قادیانی فتنہ کا استیصال حضرت شاہ صاحب کے دل کو لگا ہوا تھا۔ یہ سن کر بھی انہیں بے حد صدمہ ہوا اور خصوصاً اس بنا پر کہ دہلی میں دیوبند کے پڑھے ہوئے بیسیوں علماء موجود ہیں لیکن اس کے باوجود قادیانی تین دن تک اطمینان سے اپنا جلسہ کر گئے اور کسی
عالم دین کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ تقریرا یا تحریرا مسلمانوں کو اس فتنہ کی ہلاکت خیزی سے باخبر کردیتا۔
(”حیات انور“ ص ٤٠٤‘ مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصر)
میں تمہاری مثال دیتا ہوں
(مولف)
مولانا تاج محمود کا نصیب
ان کی وفات کے بعد بعض صلحاء کو مبشرات ہوئے۔ ایک صاحب نے دیکھا کہ مولانا بہت خوبصورت کپڑوں میں ہیں۔ پوچھا، کیسے گزری۔ فرمایا معاملہ تو سخت تھا، مگر میرے ہاتھ پر ایک شخص قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہوا تھا۔ اس کی برکت سے بخشش ہو گئی۔
(”مقالات یوسفی“ ص ٢٣١‘ مولانا محمد یوسف لدھیانوی)
شاداب ہو رہا ہے گلستان آرزو
(مولف)
شیخ بنوری کو بیٹے کی خوشخبری
تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر آپ کو ایک اور انعام ملا۔ حضرت فرماتے تھے کہ تحریک کے بعد غالبا رمضان المبارک میں، میں نے خواب دیکھا کہ ایک چاندی کی تختی مجھے عطا کی گئی ہے اور اس پر سنہرے حروف میں یہ آیت لکھی ہے انه من سليمان وانه بسم الله الرحمن الرحیم میں نے محسوس کیا کہ یہ تحریک ختم نبوت پر مجھے انعام دیا جا رہا ہے اور اس کی یہ تعبیر کی کہ مجھے حق تعالیٰ بیٹا عطا فرمائیں گے اور میں اس کا
نام سلیمان رکھوں گا۔ چنانچہ اس خواب کے دو سال بعد حق تعالیٰ نے ستر برس کی عمر میں آپ کو صاحبزادہ عطا فرمایا اور آپ نے اس کا نام سلیمان تجویز فرمایا۔
(”مقالات یوسفی“، ص ١٠٠‘ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)
اپنی تنہائی کا ایوان سجا لیتے ہیں
(مولف)
پنجاب یونیورسٹی اور مرزائی
علامہ اقبال نور اللہ مرقدہ نے مرزائیوں کی دونوں شاخوں کو خارج از اسلام قرار دے کر انجمن حمایت اسلام کے دروازے ان پر بند کر دیے۔ مرزائی لاہوری ہو یا قادیانی‘ انجمن کا ممبر نہیں ہو سکتا تھا۔ اس واقعے کی پوری تفصیلات انجمن کے تحریری ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اس کے ایک عینی گواہ لاہور کے سب سے بڑے شہری میاں امیر الدین بفضل تعالیٰ بقید حیات ہیں‘ یونیورسٹی کی انتظامیہ کے بھی رکن ہیں۔ ان سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال انجمن کی جنرل کونسل کے اجلاس عام کی صدارت فرمانے لگے تو آپ نے سب سے پہلے کھڑے ہو کر اعلان فرمایا کہ مسلمانوں کی اس انجمن کا کوئی مرزائی (لاہوری یا قادیانی) ممبر نہیں ہو سکتا۔ مرزا غلام احمد کے متبعین کی یہ دونوں جماعتیں خارج از اسلام ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کرسی صدارت کے عین سامنے بیٹھے تھے۔ ان کے ساتھ ہی میاں امیر الدین فروکش تھے۔ حضرت علامہ نے ڈاکٹر صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے صدر رکھنا ہے تو اس شخص کو نکال دو۔ مرزا صاحب لاہوری جماعت کے پیرو تھے۔ حضرت علامہؒ کے اس اعلان سے تھرا گئے‘ کانپ اٹھے‘ جزبز ہوئے۔ کچھ کہنا چاہا۔ حتیٰ کہ ان کا رنگ فق ہو گیا۔ حضرت علامہؒ مصر رہے کہ اس شخص کو یہاں سے جانا ہو گا۔ چنانچہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ‘ بیک بینی دو گوش نکال دیئے گئے۔ ان کی طبیعت پر اس اخراج کا یہ اثر ہوا کہ بے حواس ہو گئے۔ دو چار دن ہی میں مرض الموت نے آلیا اور
اس صدمہ کی تاب نہ لا کر انتقال کر گئے۔
(تحریک ختم نبوت‘ ١٩٧٤ء‘ جلد اول‘ ص ٢٣٢-٢٣٣‘ مولانا اللہ وسایا)
ملحدوں کی کیا مروت کیجئے
(مولف)
شاہؒ جی انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں
ایک دفعہ لاہور انجمن حمایت اسلام کی سہ روزہ کانفرنس کے آخری اجلاس میں شاہ صاحبؒ کی تقریر تھی اور میاں ممتاز دولتانہ کی صدارت تھی۔ شاہ جیؒ نے ملتان سے تشریف لانا تھا۔ کسی وجہ سے وقت مقررہ سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ دیر سے پہنچے‘ مجمع بے تابی سے منتظر تھا۔ بار بار پوچھتے شاہ صاحب ابھی تک کیوں نہیں پہنچے۔ اس لیے اسٹیج سیکرٹری خلیفہ شجاع الدین کو ہر دس منٹ کے بعد اعلان کرنا پڑتا کہ شاہ صاحب ضرور تشریف لائیں گے۔ آپ اطمینان سے بیٹھیں۔ لیجئے اطلاع پہنچی ہے کہ شاہ صاحب دفتر پہنچ گئے ہیں‘ اب عنقریب تشریف لے آئیں گے۔
آخر یہ اعلان کیا کہ شاہ صاحب دفتر سے جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ بس اب پہنچے کہ پہنچے۔ میاں دولتانہ اگرچہ صدارت کے لیے کب کے آچکے تھے مگر سوائے منتظمین کے عوام میں سے کسی کو خبر نہ تھی مگر جب شاہ جی کا پتہ چلا کہ دہلی دروازہ دفتر سے روانہ ہو چکے ہیں تو تمام پبلک سڑک پر استقبال کے لیے پہنچ گئی۔ جب شاہ جی تشریف لائے تو ہجوم نے والہانہ خیر مقدم کیا اور فلک بوس نعروں سے استقبال کیا۔ شاہ جی اسٹیج پر پہنچے تو جلسہ والوں کی جان میں جان آئی اور انہیں علم ہو گیا کہ دنیا دار کتنی شان و شوکت رکھتا ہو مگر جو عزت و احترام اللہ والوں کا ہے‘ وہ انہیں کہاں نصیب ہو سکتا ہے۔ اتنے میں ایک شخص نے ایک اشتہار جو مرزائیوں کی طرف سے تقسیم ہوا تھا‘ اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ انجمن حمایت اسلام ایک تعلیمی ادارہ ہے۔ اس کی کانفرنس میں بخاری جیسے سیاسی اور
"خصوصی مذہبی" لیڈر کو تقریر کے لیے کیوں بلایا گیا ہے؟
شاہ جیؒ نے جب یہ اشتہار پڑھا تو خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا سب سے پہلے مجھے مرزائیوں کے اس اشتہار کا جواب دینا ہے‘ پھر اشتہار پڑھ کر سنایا۔ فرمایا جلسہ انجمن حمایت اسلام کا جس کے نام سے ہی حمایت اسلام ظاہر ہے‘ تقریر بخاری کی‘ صدر میاں ممتاز دولتانہ‘ اسٹیج سیکرٹری خلیفہ شجاع الدین۔ میں پوچھتا ہوں آپ کو کیوں تکلیف ہوئی۔ بلانے والوں نے بلایا‘ آنے والا آگیا۔ آپ کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھا۔ انجمن حمایت اسلام مسلمانوں کی جماعت ہے۔ خلیفہ شجاع الدین صاحب سے مخاطب ہو کر‘ کیوں خلیفہ صاحب انجمن حمایت اسلام میں کوئی مرزائی بھی ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ پھر فرمایا تو پھر آخر انہیں کیوں تکلیف ہوئی‘ ان کی تسلی یوں نہیں ہو گی۔ پھر خلیفہ صاحب کو بلایا اور مائیک پر کھڑا کر دیا۔ فرمایا آپ اعلان کر دیں کہ ہمارے نزدیک مرزا غلام احمد کافر اور مرتد ہے اور اس کو ماننے والے بھی کافر‘ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ خلیفہ صاحب نے من و عن اعلان کر دیا۔ پھر شاہ جی نے فرمایا کہو مرزائیو اب تسلی تو ہو گئی ہو گی۔ جلسہ انجمن حمایت اسلام کے صدر اور جلسہ کے اسٹیج سیکرٹری خلیفہ شجاع الدین نے جو اعلان کر دیا ہے‘ اس کے بعد بھی کوئی کسر باقی ہے۔ اس معاملہ میں کوئی بھی مسلمان مجھ سے جدا نہیں۔ پھر اصل تقریر شروع فرمائی۔
("بخاری کی باتیں" ص ٦٢ تا ٦٤‘ مصنفہ سید امین گیلانی)
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
(مولف)
میں تیار ہوں
ایک دفعہ تقریر میں فرمایا قادیان کانفرنس کے خطبہ پر دفعہ نمبر ١٥٣ کے تحت مجھ پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اس کی سزا زیادہ سے زیادہ صرف دو سال قید ہے۔ میرا جرم یہ ہے
کہ میں محمد رسول اللہ کا خادم ہوں۔ اس جرم میں یہ سزا بہت کم ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے ناموس پر ہزار جان سے قربان ہونے کو تیار ہوں۔ مجھے شیروں اور چیتوں سے ٹکڑے ٹکڑے کرا دیا جائے اور پھر کہا جائے کہ تجھے بجرم عشق مصطفیٰؐ یہ تکلیفیں دی جا رہی ہیں تو میں خندہ پیشانی سے اس سزا کو قبول کروں گا۔ میرا آٹھ سالہ بچہ عطاء المنعم اور اس جیسے خدا کی قسم ہزار بچے رسول اللہ ﷺ کی کفش پر نچھاور کر دوں۔
(مختصر سوانح از خاں کابلی)
کہ جو عشق نبیؐ میں کھو گئے ہیں
(مولف)
بہادری کا کوہ ہمالیہ
مولانا لال حسین اختر فرماتے ہیں، تقسیم سے قبل صوبائی الیکشن میں تحصیل ڈسکہ سے ایک مرزائی امیدوار بھی تھا اور مرزائی امیدواروں کے خلاف ہمارا محاذ خصوصیت کے ساتھ تھا۔ اسی اثناء میں چودھری عبد الغنی گھمن نے صاحبزادہ فیض الحسن صاحب سے جو اس وقت گوجرانوالہ میں کسی علالت کے سبب صاحب فراش تھے، ملاقات کی اور کہا کہ ڈپٹی کمشنر نے مجھے بلا کر ہدایت کی ہے کہ تم اپنے موضع کے تمام ووٹ مرزائی امیدوار کو لے کر دینا اور میں نے ان سے پکا وعدہ کر لیا ہے کہ ان کے حکم کی پوری طرح تعمیل ہو گی۔ لہٰذا آپ بخاری صاحب کو کہہ دیں کہ وہ ہمارے گاؤں میں مرزائی امیدوار کی مخالفت کرنے نہ آئیں۔ نہ وہ وہاں جا کر اس کے خلاف ووٹ مانگیں۔ اگر انہوں نے میری بات نہ مانی تو نتائج خطرناک ہوں گے۔
میں نہیں چاہتا کہ ایک عالم اور سید کے خون سے ہمارے ہاتھ بھریں۔ مگر میرے اس مشورہ کو اگر نہ مانا گیا تو پھر بات صاف ہے۔ دنیا پہلے ایک سید کی شہادت پر آج تک رو رہی ہے، پھر اسے بھی روئے گی۔ بہتر یہی ہے کہ وہ میری بات مان لیں اور میرے موضع کا
رخ نہ کریں۔
مولانا فرماتے ہیں صاحبزادہ صاحب نے مجھے بلوا بھیجا اور سارا واقعہ من وعن سنا دیا اور کہا اب سوچ سمجھ لو۔ ساتھیوں سے مشورہ کر کے جیسا مناسب ہو قدم اٹھائیں۔ مولانا بتاتے ہیں کہ شاہ جیؒ کہیں دورہ پر تھے۔ ہم نے مشورہ کر کے یہی طے کیا کہ ہمیں ان کی دھمکی سے مرعوب نہ ہونا چاہیے ورنہ مرزائی امیدوار کامیاب ہو جائے گا۔ ہم نے گردو نواح کے تمام رضا کاروں کو پیغام پہنچا دیا کہ وہ جمعہ اس موضع میں پڑھیں اور باوردی آئیں۔ ادھر ہم نے شاہ جیؒ کو تار دے کر بلا لیا اور اس موضع میں اعلان کروا دیا کہ یہاں جمعہ مولانا لال حسین اختر پڑھائیں گے اور اس کے بعد شاہ جیؒ کی تقریر ہو گی۔ شاہ جیؒ جب جمعہ کے روز صبح تشریف لے آئے تو میں اور شاہ جیؒ اور کچھ دیگر احباب کار میں بیٹھ کر ڈسکہ کی طرف اس موضع کو روانہ ہو گئے۔ میں نے راستے میں شاہ جیؒ کو سارے حالات سے آگاہ کیا۔ شاہ جیؒ خاموشی سے سنتے رہے۔ جب میں بات ختم کر چکا تو میں نے پوچھا شاہ جی! کیا خیال ہے ہم نے وہاں جانے کا فیصلہ صحیح کیا یا غلط؟ فرمایا مولوی صاحب جو رات قبر میں آنی ہے وہ باہر نہیں آسکتی۔
بہر حال جب ہم وہاں پہنچے تو ہمارے سینکڑوں رضا کار باوردی پہنچ چکے تھے اور سارے گاؤں میں گہما گہمی تھی۔ رضا کاروں نے استقبال کیا۔ ہم اترے اور اسٹیج کی طرف چلے۔ وہاں پہنچے تو خاصا مجمع ہمارے انتظار میں تھا۔ رضا کاروں نے چاروں طرف سے جلسہ کو گھیر لیا اور اسٹیج کے گرد بھی بہت سے رضا کار پہرہ دینے لگے۔ جب میں خطبہ کے لیے کھڑا ہوا تو پہلی تین صفیں ساری کی ساری مخالفین کی تھیں۔ سب مسلح تھے۔ بندوقیں، کلہاڑیاں، ٹکوے ہاتھوں میں لیے بیٹھے تھے۔ اس وقت مجھے معاً خیال آیا کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ چاہیے تھا کہ پہلی صفوں میں اپنے رضا کاروں کو بٹھاتے تاکہ مخالف آسانی سے حملہ آور نہ ہو سکتا۔ میں نے آہستہ سے یہ بات شاہ جیؒ کے کان میں کہی۔ شاہ جیؒ نے فرمایا اب چھوڑو۔ اللہ کے سپرد کرو اور خطبہ دو۔
میں نے ابھی خطبہ کے چند الفاظ کہے تھے کہ چودھری عبدالغنی پہلی صف کے درمیان سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور پکار کر کہا مولوی صاحب! وعظ بے شک کہو، جمعہ کی نماز پڑھاؤ، ہم
وعظ سنیں گے، نماز تمہارے پیچھے پڑھیں گے مگر یاد رکھو اگر الیکشن کے متعلق یا ہمارے امیدوار کے خلاف ایک لفظ بھی کہا تو یہ بندوقیں، کلہاڑیاں اور لٹھے تمہارے سروں اور سینوں پر ہوں گے۔ ہم نے پہلے بتا دیا ہے، بعد میں کوئی یہ نہ کہے کہ ہم نے زیادتی کی ہے۔ یہ کہہ کر وہ بیٹھ گیا تو شاہ صاحب نے ایک دم میرا ہاتھ کھینچ کر مجھے بٹھا دیا اور ایسے جوش اور جلال سے کھڑے ہوئے کہ میں نے نہ کبھی پہلے اور نہ کبھی بعد میں ان کو ایسے جوش اور جلال میں دیکھا۔ شاہ جیؒ نے بغیر کچھ کہے خطبہ مسنونہ شروع کر دیا۔ خطبہ کے بعد چند آیات قرآنی تلاوت فرما کر ان کا ترجمہ کیا۔ پھر ایسے پر جوش اور والہانہ انداز سے تقریر جاری رکھی کہ کسی کو کچھ ہوش نہ تھا۔ حتیٰ کہ الیکشن کے موضوع پر آگئے اور جانی دشمن بیٹھے سن رہے ہیں۔ تقریر کرتے کرتے شاہ جیؒ نے ایسی بے خودی اور بے ساختگی کے انداز میں گرج کر فرمایا ”وہ دیکھو ملائکہ ہاتھوں میں قلم لیے اور سامنے رجسٹر رکھے بیٹھے ہیں۔ جو مسلمان امیدوار کو ووٹ دے گا، اس کا نام جنتیوں میں لکھیں گے اور جو مرزائی امیدوار کو ووٹ دے گا، اس کا دوزخیوں میں نام لکھیں گے۔ لوگو تمہیں خدا کی قسم ہے بتاؤ تم کیا چاہتے ہو؟
جو چاہتا ہے کہ ملائکہ اس کا نام جنتیوں میں لکھیں وہ ہاتھ کھڑا کرے۔ یکدم تمام مجمع نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ جب شاہ جیؒ نے غور سے دیکھا تو پہلی تین صفیں جو مخالفین کی تھیں، ان میں سے کسی نے ہاتھ کھڑا نہیں کیا تھا۔ شاہ جیؒ نے فوراً للکارا ”عبد الغنی، ہاتھ اٹھا دے ورنہ مارا جائے گا، تیرا اور تیرے ساتھیوں کا نام دوزخیوں میں نہ آجائے“۔ شاہ جی نے کچھ ایسے با رعب انداز میں یہ جملے کہے کہ عبد الغنی نے جھٹ اپنا ہاتھ بلند کر دیا۔ اسے دیکھتے ہی اس کے باقی ساتھیوں نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے۔ تمام پنڈال اللہ اکبر کے نعروں سے گونجنے لگا اور ہم لوگ بہ ہزار خاطر و مدارت وہاں سے کامیاب واپس آئے۔
(”بخاری کی باتیں“ ص ١٠٩ تا ١١١، مصنفہ سید امین گیلانی)
کیا مسافر تھے جو اس راہ گزر سے گزرے
(مولف)
مولانا احمد علی لاہوری کی حق گوئی
حضرت شیخ اظہار حق میں شمشیر برہنہ تھے۔ ١٩٥٣ء میں تحریک ختم نبوت سے کچھ روز قبل جمعہ کی تقریر میں للکار کر فرمایا میں خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان اور میاں ممتاز دولتانہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے پوچھتا ہوں تمہاری غیرت اسلامی اور حمیت دینی کو کیا ہو گیا ہے؟ تم مسلمان حکمران ہو، تمہاری حکومت میں رسالت ماب ﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ ختم نبوت کے انکار کرنے والے گویا حضور علیہ الصلوۃ والسلام، قرآن پاک اور حدیث رسولؐ کی توہین کر رہے ہیں مگر تم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ تم انہیں مسلمانوں سے علیحدہ نہیں کرتے۔ انہیں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے مطالبہ کو نہیں مانتے۔ کیا تمہیں مرنا نہیں، خدا کے حضور کیا جواب دو گے۔ پھر فرمایا، مرزا غلام احمد کہتا ہے کہ جو مجھے نبی تسلیم نہیں کرتے، وہ جنگلی سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیاں ہیں۔ میں خواجہ ناظم الدین اور دولتانہ سے پوچھتا ہوں کہ تم بھی مرزائی ہو، اگر نہیں تو غلام احمد کے کہنے پر تم بھی جنگلی سور اور تمہاری عورتیں کتیاں ہیں۔ پھر بھی تمہیں غیرت نہیں آتی۔ فحش گالیاں دینے والے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے، مسلمان تو غیرت مند ہوتے ہیں۔
(”دو بزرگ“ ص ٢٦‘ مصنفہ سید امین گیلانی
دیکھنا ہے اب ہمارے ساتھ دنیا کیا کرے
(مولف)
مولانا احمد علی لاہوریؒ کی مجلس تحفظ ختم نبوت
والوں سے محبت
مولانا لال حسین اختر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ ایک دفعہ حضرت نے مجھ سے بڑی محبت سے فرمایا مولانا مجھے آپ، مولانا محمد علی صاحب جالندھری اور مولانا محمد حیات صاحب سے بہت پیار ہے۔ محض اس لیے کہ آپ حضرات نے مسئلہ ختم نبوت کے لیے زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں۔
("دو بزرگ" ص ٥٩، مصنفہ سید امین گیلانی)
اس پیکر علم و عمل کو جانتے ہو....؟
وہی جس کے ہاتھ پر حجت الاسلام علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے سب سے اول بیعت کی وہی جس کے ہاتھ میں پانچ سو علماء نے مجمع عام میں ہاتھ دے دیے وہی جو چالیس برس کی عمر میں پانچ دفعہ حکومت کے عتاب کا شکار ہو چکا ہے وہی جو برسوں جیل کی کالی کوٹھڑیوں میں زندگی کی بہاریں لٹا چکا ہے ہندوستان کی چالیس کروڑ کی آبادی میں جس کی ٹکر کا ایک آدمی نہیں اس جیسا خوش بیاں نہیں اس جیسا جادو بیاں نہیں جس کے ایک ایک لفظ پر ہر مجمع میں ہزاروں آدمی آمادۂ عمل ہو جاتے ہیں یہ ہیں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
مفکر احرار
چودھری افضل حق رحمتہ اللہ اقتباس اداریہ روزنامہ ”مجاہد“ لاہور
حضرت مولانا احمدؒ خاں صاحب کی دعا
سر سکندر والے کیس میں خانقاہ سراجیہ کندیاں والے حضرت مولانا احمد خاں صاحب کو جب ابا جی نے دعاء کے لیے پیغام بھیجا تو انہوں نے وظیفہ پڑھنے کے لیے بتایا اور ساتھ فرمایا تھا ”جے میں ول ہوندا تے میرا اک رات دا کم سی۔ ہن شاہ نوں آکھو تن راتاں پڑھے تے ہوئے گا تماشا“۔ پھر رپورٹر نے ہی جعلی تقریر کا بھانڈا برسر عدالت پھوڑ دیا۔ ابا جی فرمایا کرتے تھے میں بیٹھا پڑھ رہا تھا‘ آنکھیں بند کیں تو تلوار چلتی دیکھی۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر‘ حصہ دوم‘ ص ٢٦١)
حضرت شاہ جیؒ کا ایک عاشق
میرے سسر حضرت الحاج سید محمد شفیع شاہ صاحب مرحوم و مغفور نے ابا جی کی وفات کے بعد بتایا کہ جس دن بخاری صاحب فوت ہوئے ہیں‘ میں آیا تو اسٹیشن ملتان چھاؤنی پر ایک آدمی بینچ پر بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں اس روز کا اخبار تھا۔ وہ اخبار کھولتا‘ خبر پڑھتا اور دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیتا۔ کئی بار اس نے ایسا ہی کیا۔ میں اسے دیکھتا اور سوچتا رہا کہ اس شخص کا خاندانی تعلق تو کوئی نہیں‘ محض لوجہ اللہ محبت سے اس کا یہ حال ہے۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر‘ حصہ دوم‘ ص ٢٦٣)
میں نے لکھا ہے سال رنگوں کا
(مولف)
حضرت شاہ صاحب کی تشریف آوری
٢٥ جولائی ١٩٥٣ء کو دن کے گیارہ بجے رہنمایان تحریک تحفظ ختم نبوت کا ایک گروپ' جس میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری' مولانا سید ابو الحسنات قادری' (صدر مجلس عمل) جناب مظفر علی شمسی (ایڈیٹر ہفت روزہ "شہید") اور دیگر حضرات شامل تھے۔ لاہور سنٹرل جیل پہنچ گیا۔ باقی حضرات تو ہمارے دیوانی احاطے میں جلد پہنچ گئے لیکن حضرت شاہ صاحب کافی دیر تک جیل کی ڈیوڑھی میں ٹھہرے رہے' جیل میں شاہ صاحب کی آمد کی خبر پا کر ہمارے احاطے کے علاوہ دوسرے احاطوں اور بارکوں کے سیاسی اور اخلاقی قیدی بھی سراپا انتظار کھڑے تھے کہ سامنے جیل کے بڑے دروازے کی جانب سے جیل کے حکام اور چند دوسرے قیدیوں کے جلو میں شاہ جی تشریف لاتے دکھائی دیے' لوگوں کی نگاہیں جو نہی آپ پر پڑیں "امیر شریعت زندہ باد" کے نعروں سے جیل کے در و دیوار گونج اٹھے۔ یہاں پر شاہ جی کی تشریف آوری اور نعروں کے انداز سے بڑے بڑے جلسوں کی یاد تازہ ہو گئی تھی!
شاہ صاحب جب دیوانی احاطے میں پہنچے تو ضعف اور نقاہت کے باعث آپ پژمردہ اور مضمحل دکھائی دے رہے تھے۔ آپ کا لحیم و شحیم جسم اب ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا تھا' گالوں اور چمکتے دمکتے سرخ و سفید چہرے پر جھریاں پڑ گئی تھیں' جسم پر جگہ جگہ پھوڑے پھنسیوں کے داغ دھبے نمایاں تھے' شاہ صاحب نے استقبال کرنے والے تمام سیاسی نظر بندوں اور اخلاقی قیدیوں سے معانقہ اور مصافحہ کرتے ہوئے سب کی خیر خیریت دریافت کی۔
دیوانی احاطے کے بڑے کمرے میں شاہ صاحب اور مولانا ابو الحسنات کی رہائش کا انتظام کر دیا گیا۔ ان حضرات کی تشریف آوری سے پہلے جیل خانے کے اکثر قیدی چار پائیوں پر سونے کے بجائے زمین کے فرش پر ہی اپنے بستر بچھا کر ایام اسیری گزار رہے تھے۔
حکام سکھر جیل کا افسوسناک سلوک
شاہ صاحب بیماری اور سفر کی طوالت کے باعث سخت نڈھال تھے۔ اس لیے ہم نے اپنی بات چیت کو صرف ”علیک سلیک“ تک محدود رکھا۔ ظہر کی نماز کے بعد جب ”ارباب سخن“ نے شاہ جی سے ان کی صحت کی بابت دریافت کیا تو آپ نے پہلے کراچی جیل کے ارباب اختیار کی ”داستان لطف و کرم“ سنائی کہ ان لوگوں نے ہم ”بڑھوں (مولانا ابوالحسنات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے) کے ساتھ کیا سلوک کیا‘ پھر سکھر جیل کے افسروں کی ”اخلاق باختگی“ اور ان کی ”سرد مہری“ کے واقعات سنائے تو سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
شاہ صاحب نے فرمایا موسم گرما کی شدت‘ جون جولائی کی ہلاکت خیزیاں‘ سکھر جیل اور اس کے ”رحم دل“ اور ”ذرہ نواز“ ارباب اختیار ۔۔۔! بس یہ تو میرے اللہ میاں کا کرم ہے کہ ہم وہاں سے نیم جان زندہ آگئے ہیں ورنہ ان لوگوں نے ہمارے خاتمے کے لیے اپنی جانب سے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا۔
شاہ صاحب نے سکھر جیل کی خوراک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ سفید ”چاول نما“ کسی چیز کے ملغوبے سے تیار کردہ سخت روٹی‘ گھاس پھوس کا ساگ پات اور مسلسل مسور کی دال یہ ہمارے لیے ”صحت افزا“ غذا تجویز کی گئی تھی اور ”قبر نما“ چھوٹے سے تپتے ہوئے کمرے میں جہاں سے ہوا کا گزر بھی مشکل ہو‘ ہماری رہائش گاہ اور مسکن تھی۔ نتیجتاً ہماری صحت کا ستیاناس ہو گیا۔ جسم پر پہلے گرمی کے دانے نمودار ہوئے جو رفتہ رفتہ بڑے سخت پھوڑے بن گئے‘ جنہوں نے میرے بدن میں آگ لگا دی‘ جیسے دہکتے انگارے رکھ دیے گئے ہوں۔
شاہ صاحب نے بتایا کہ آزادی سے قبل متحدہ ہندوستان میں جبکہ غیر ملکی فرنگیوں کا دور استبداد تھا‘ ہم نے سخت سے سخت جیل خانے بھی دیکھے ہیں‘ ظالم سے ظالم اور سفاک سے سفاک انگریز افسروں سے واسطہ بھی پڑا ہے‘ بعض افسروں سے ایسی ٹھنی کہ رہائی تک جیل خانے میں کئی برس اکھاڑہ جما رہا‘ لیکن جو سلوک سکھر جیل کے ”مسلمان افسروں“ اور
ہمارے اپنے بھائیوں نے ہمارے ساتھ روا رکھا‘ وہ ناقابل بیان ہے! شاہ صاحب نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا ‘ میں قید و بند کے مصائب بیان کرنے کا عادی نہیں ہوں ‘ بلکہ ان کا تذکرہ معیوب سمجھتا ہوں ۔ لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ حوالات میں ایک رات کاٹ آئیں تو باہر آکر اپنے اخبارات و رسائل کے ضخیم نمبر نکالتے ہیں ۔ زنداں کی ساعتیں منٹوں میں حساب لگا کر بیان کی جاتی ہیں‘ بابو! یہ پروپیگنڈے کی دنیا ہے‘ جو جتنا بڑا پراپیگنڈا باز ہے‘ وہ اس دنیا میں اتنا ہی کامیاب شمار ہوتا ہے لیکن میں جس گروہ سے تعلق رکھتا ہوں ‘ اس کے ہاں تو ایسے تصورات بھی معیوب ہیں ۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے تو جیل خانے کو ہمارے لیے ایک گلشن بنا دیا ہے ۔ عطر بیز پھولوں تک رسائی کانٹوں سے الجھنے کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے ۔ ایسے ہی گلشن زندگی میں ہم تلخیوں اور تنگیوں کے بعد ہی ثمر مراد پا سکتے ہیں ۔ شاہ صاحب نے حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر جاری رکھتے ہوئے فرمایا ” سبحان اللہ ! انہوں نے کتنی بامقصد اور بلند بات فرمائی ہے جسے قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا ہے :
”اے میرے پروردگار! یہ قید خانہ مجھے اس سے کہیں زیادہ محبوب ہے
جدھر وہ مجھے بلا رہے ہیں ۔۔۔۔!“
ڈم ڈم جیل کا ایک واقعہ
شاہ صاحب نے فرمایا حضرت یوسف علیہ السلام کے ذکر خیر سے مجھے ڈم ڈم جیل کا ایک واقعہ یاد آگیا ۔ ١٩٣٠ء کے ایام اسیری میں ایک شب میں سورہ یوسف کی تلاوت کر رہا تھا ۔ چودھویں چاند کی چاندنی ‘ رات کا سناٹا ‘ فضا خاموش ‘ بارش اور ژالہ باری کے بعد شدید سرد موسم اور ماحول دم بخود!
اپنی خاص کیفیت اور وجد میں تلاوت کرتے کچھ وقت گزر گیا کہ اتنے میں باہر سے ہچکیوں کے ساتھ رونے کی ہلکی ہلکی آواز سنائی دینے لگی ۔ میں نے سلسلہ تلاوت ختم کر کے
باہر دیکھا تو دروازے کے ساتھ سپرنٹنڈنٹ جیل پنڈت رام جی لال کھڑے تھے، انہوں نے مجھے دیکھتے ہی رندھی ہوئی آواز، گلو گیر لہجے میں کہا: ”شاہ جی خدا کے لیے بس کر دو! میرا دل بے قابو ہو رہا ہے، اب تو مجھ میں رونے کی بھی سکت نہیں رہی“۔
شاہ صاحب نے فرمایا بھائی ٹھیک سے قرآن پڑھا جائے تو آج بھی اس کے اعجاز دکھائی دیتے ہیں۔۔۔ پھر آپ نے سکھر جیل کا تذکرہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا میری تو خیر کوئی بات نہیں، میں سرد گرم چشیدہ ہوں، پوری زندگی جیل اور ریل کی نذر ہو گئی۔ مجھے تو سب سے زیادہ فکر ان بڑے میاں (مولانا ابوالحسنات) کی ہے، یہ بے چارے اس وادی پر خار میں پہلی مرتبہ قدم رنجاں ہوئے ہیں۔ مجھے ان کی تکالیف کا بے حد احساس تھا۔۔۔مگر۔۔۔۔ ماشاء اللہ! انہیں میں نے اپنے سب ساتھیوں میں سے صابر و شاکر پایا ہے۔۔۔!
راقم الحروف نے استفہاماً عرض کیا شاہ جی! کیا ہمارے ساتھ اس افسوس ناک سلوک کا محرک کہیں (مرزائی) انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کا انتقامی جذبہ تو نہیں ہے؟ کیونکہ آپ حضرات کے ساتھ سکھر جیل میں جو سلوک روا رکھا گیا، ہمارے ساتھ بھی نہایت بے رحمانہ اور ظلم و ستم کا سلوک ہوا ہے! اس پر شاہ جی نے ایک بار میری جانب دیکھا۔۔۔ اور پھر خاموش ہو گئے۔
(”خطبات امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری“ ص ٤٢ تا ٤٧، از مولانا مجاہد
الحسینی)
ہر امتحاں سے تیرے جان نثار گزرے ہیں
(مولف)
حضرت عبدالقادر رائے پوری کا غم
ہر مرید اپنے شیخ کا اور ہر شاگرد اپنے استاد کا محب ہوتا ہے لیکن عطاء اللہ کو مقام
محبوبیت کا یہ عالم کہ خود شیخ ہی ان کے گرویدہ ہو گئے۔ سید عطاء اللہ کی وفات کی خبر پہنچی تو شیخ بے اختیار رو پڑے اور رونے میں آوازیں تک نکل پڑیں۔ جس کا شیخ اپنے مرید کی جدائی پر پھوٹ پھوٹ کر روئے‘ اس کی محبوبیت کی کیا انتہا ہو سکتی ہے؟
(”خطبات امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری“ ص ١٠٣‘ از مولانا مجاہد الحسینی)
خدمت گزاری کی روشن مثال
”ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد“ کا عملی مظاہرہ لاہور سنٹرل جیل میں دیکھنے کا موقع ملا۔ جب حضرت امیر شریعت اپنے دیگر رفقاء زنداں کے ساتھ لاہور سنٹرل جیل میں تشریف لائے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وضو اور طہارت کے لیے ”حضرت مولانا سید محمد احمد قادری‘ صدر مجلس عمل“ کو پانی کا لوٹا حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری پیش کر رہے ہیں‘ حتی کہ بیت الخلاء کے دروازے تک لوٹا پکڑے ساتھ جا رہے ہیں۔ تمام رفقاء زنداں نے بصد اصرار حضرت شاہ صاحب سے یہ خدمت اپنے ذمے لینے کی کوشش کی مگر شاہ صاحب کسی طریقے سے بھی نہ مانے اور کسی دوسرے کو یہ خدمت انجام دینے کی اجازت دینے پر آمادہ نہ ہوئے۔
(”خطبات امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری“ ص ١٧٧‘ از مولانا مجاہد الحسینی)
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم
راقم آثم کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ متعدد بار حضرت بنوریؒ کے ساتھ حرمین شریفین میں شرف صحبت حاصل ہوتا رہا اور آخری دفعہ مسجد نبویؐ (مدینہ منورہ) میں حضرات شیخین حضرت سید بنوریؒ اور حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے قریب اعتکاف کا موقعہ ۔
ملا۔ آخری سفر میں معلوم ہوا کہ ”الجامعہ الاسلامیہ مدینہ منورہ“ میں حدیث کی تعلیمات کے لیے شاہ فیصل شہیدؒ کی طرف سے بذریعہ جامعہ اسلامیہ‘ دعوت نامہ موصول ہوا جبکہ عالم اسلام کے مختلف حضرات محدثین کو دعوت نامے جا رہے تھے۔ دعوت نامہ کے جواب میں حضرت سید بنوریؒ نے اپنے الفاظ میں یوں فرمایا کہ ”حضور علیہ السلام سے رجوع کر کے فیصلہ کر سکوں گا“ حج کے بعد حضرت بنوریؒ کراچی تشریف لے آئے اور یہ معلوم ہوا کہ دعوت قبول نہیں فرماسکے۔ راقم سطور کراچی واپسی پر حاضر مدرسہ عربیہ اسلامیہ ہوا اور زیارت کے بعد احقر ناظم نے عرض کیا کہ ”حضرت ہم ایسے لوگوں کو حضور علیہ السلام کی جاروب کشی کی سعادت نصیب ہو تو ہفت اقلیم کی بادشاہی سمجھیں۔ حضرت نے کیا فیصلہ فرمایا ہے جبکہ حضرت والا کو معقول مشاہرہ کے علاوہ خصوصی مراعات وغیرہ بھی میسر ہیں۔ حضرت نے پوری مجلس میں فرمایا کہ ”میں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا تھا اور پوچھا تھا کہ یوسف کے لیے کیا حکم ہے“ آپ نے گویا فرمایا کہ یہاں کی تو فکر نہ کرو‘ آتے جاتے رہو۔ لیکن اس ملک میں قیام کر کے میری سنت و حدیث کی خدمت کرو جہاں میری ختم نبوت اور میری حدیث کا انکار ہو رہا ہے۔ (او کما قال)
(ہفت روزہ ”لولاک“ ملتان بنوری نمبر‘ ص ٩٦)
اک شستہ کلام یاد آیا
(مولف)
مولانا یوسف بنوریؒ کا زاد راہ
روضہ رسول ؐ کی خاک جو آپ نے محفوظ کر رکھی تھی‘ آپ کی وصیت کے مطابق اسے آنکھوں کا سرمہ بنایا گیا۔ روضہ اقدس کے غلاف کا کپڑا آپ کے کفن میں سی دیا گیا اور بیت اللہ کی چھت کی لکڑی آپ کی قبر میں بچھائی گئی اور اپنی تعمیر کردہ مسجد کے پہلو میں قافلہ اسلاف کا یہ بچھڑا ہوا مسافر آرام کی نیند سو گیا۔
میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
(ہفت روزہ ”لولاک“ شیخ بنوری نمبر، ص ٣٨)
ایام اسیری میں کس سے متاثر ہوا؟
ایک دن میں نے شاہ صاحب سے دریافت کیا کہ آپ کی زندگی ریل اور جیل کی نذر ہوگئی۔ جس طرح آپ علمی، ادبی، ملی اور سیاسی شخصیات سے متاثر ہوئے ہیں اور ان کا اچھے الفاظ میں تذکرہ بھی فرمایا کرتے ہیں اسی طرح جیل کی زندگی میں آپ کو سب سے زیادہ کس نے متاثر کیا ہے۔۔۔؟
میرا یہ سوال سن کر پہلے تو حسب معمول ٹال گئے۔ پھر جب میں نے اپنی معروضات کے جواب پر ذرا اصرار کیا تو فرمانے لگے۔۔۔!
کیا پوچھتے ہو بھائی۔۔۔! میں تو ایک گنہگار انسان ہوں اور گنہگار کسی گنہگار ہی سے متاثر ہو سکتا ہے۔ قید و بند کے دوران سیاسی قیدیوں کے دوش بدوش اخلاقی جرائم، چوری اور ڈکیتی میں ملوث قیدیوں سے بھی ملاقات ہوتی رہتی۔ میں نے انہیں دیکھا کہ ایام اسیری گزارنے کے بعد جب وہ رہا ہو کر باہر جانے لگتے تو ان میں سے پختہ کار مجرم اپنے برتن، چٹائی اور کمبل وغیرہ اپنے جیل کے ساتھیوں کی تحویل میں یہ کہہ کر دے جاتے کہ انہیں جیل کے حکام کے پاس ڈیوڑھی میں جمع نہ کرانا بس تھوڑے ہی دنوں کے اندر اندر بہت جلد ہم پھر یہاں آئیں گے۔ یہیں اپنا سامان وصول کرلیں گے اور تمہارا جیل کا ساتھ نہ چھوڑیں گے۔
ان گنہگاروں کے عزائم کی بلندی اور اپنی دھن کی پختگی سے میں بہت متاثر ہوا کہ یہ لوگ گناہ میں اس قدر ثابت قدم اور پختہ کار ہیں اور ہم سراسر نیکیوں، خوبیوں اور محاسن میں کسی قسم کی کمزوری کا اظہار کریں؟ بھائی۔۔۔ یہ کفر میں پختگی تو کبھی کبھی انبیاء کرام علیہ السلام کی خصوصی توجہ اور دعاؤں کا مرکز بن جایا کرتی ہے۔ جبھی تو حضرت خاتم الانبیاء
ﷺ نے اللہ میاں سے حضرت امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اسلام کی تقویت کے لیے مانگا تھا۔ چنانچہ انہوں نے حلقہ بگوش اسلام ہو کر استقلال، شجاعت اور جوانمردی کے جو عظیم الشان کارنامے انجام دیے ہیں تاریخ اسلام میں سنہری باب کی حیثیت سے ہمیشہ ہمیشہ درخشندہ و تابناک رہیں گے۔
(”خطبات امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری“ ص ٥٠-٥١، از مولانا مجاہد الحسینی)
حاضر جوابی
ختم نبوت تحریک کے شروع میں بنوریؒ و بھٹو میٹنگ کا اہتمام کیا گیا لیکن بھٹو صاحب کہنے لگے کہ بنوری صاحب آپ نے یہ تحریک مجھ کو دبانے کے لیے چلائی ہے۔ اصل میں بھٹو صاحب کا مقصد یہ تھا کہ کسی نہ کسی بہانے تحریک کو ایسی راہ پر ڈال دیا جائے جس سے تشدد کا جواز پیدا ہو سکے لیکن اتقوا فراسه المومن ینظر بنور الله (مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کی رہنمائی سے معاملہ کو پوری طرح بھانپ لیتا ہے) کے مطابق حضرت بنوریؒ نے فوراً جواب دیا کہ بھٹو صاحب ایسا نہیں۔ اس میں ہمارے پیش نظر آپ کی خیر خواہی ہے۔ ہم یہ تحریک چلا کر آپ کے ہاتھ میں ایک قوی برہان دینا چاہتے ہیں۔ اس لیے کہ اگر بیرونی ممالک کے لوگ اس مسئلہ میں آپ پر کوئی دباؤ ڈالیں تو آپ پورے وثوق سے ان کو یہ جواب دے سکیں کہ میں کیا کروں، میں اس معاملہ میں مجبور ہوں کیونکہ تمام پاکستان کے مسلمانوں کا یہ اجتماعی مطالبہ ہے۔ اب میں اس سے کیسے صرف نظر کر سکتا ہوں۔ یہ جواب سن کر بھٹو صاحب ساکت و صامت ہو کر رہ گئے۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ شیخ بنوری نمبر، ص ٨٠)
پھر میرے دل میں اٹھا شور ہواؤں جیسا
(مولف)
مولانا ظفر علی خانؒ نے مرزا قادیانی کی علمی حیثیت بتائی
اسلامیہ کالج لاہور کے طلباء نے ڈاکٹر تاثیر کی سربراہی میں بزم فروغ اردو قائم کر رکھی تھی۔ ایک روز بزم نے آپ کی صدارت میں ادبی مذاکرہ منعقد کیا۔ افتتاحی تقریر کے لیے اٹھے تو اردو کے تمام شاعروں اور ادیبوں کا تذکرہ ایک ہی سانس میں کر ڈالا۔ معاً مرزا غلام احمد کی نظم ونثر کا ذکر لے بیٹھے۔
۔۔۔۔ عزیزو! اردو زبان کی بنیاد اٹھانے میں مذہب کا بہت بڑا ہاتھ ہے لیکن مرزا غلام احمد نے اردو کا چہرہ مسخ کرنے میں زبان و محاورہ اور انشاء و بیان کا جو خون کیا ہے‘ اس سے پیش تر اور کہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ حتیٰ کہ جعفر زٹلی بھی زبان و بیان کے اعتبار سے اس کے مقابلہ میں قادر الکلام تھے۔
(شورش کامل‘ ص ٤١٢‘ از ابو الکلام خواجہ)
استخارہ میں کیا دیکھا
حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستی پار سال سنا ہے ہجرت کر کے حرمین الشریفین جا رہے تھے۔ جب کراچی گئے تو کسی دوست نے مشورہ دیا کہ جانے سے پہلے استخارہ تو کر لیجئے۔ استخارہ میں انہوں نے دیکھا کہ جناب رسالت مآبؐ فرما رہے ہیں کہ میری نبوت پر کتے حملہ آور ہو رہے ہیں اور تم ہجرت کر کے یہاں آ رہے ہو (اس پر حاضرین مجلس آبدیدہ ہوگئے ۔ چنانچہ وہ حج کرکے واپس آگئے)
(خطبات مولانا احمد علی لاہوریؒ ” ص ١١)
لاریب وہ جنت کا سزاوار نہیں ہے
خاموش رہے سن کے جو اسلام کی توہین
بے شرم ہے‘ بزدل ہے‘ وہ خوددار نہیں ہے
میں سر بھی کٹا دوں گا
ختم نبوت کے موضوع پر تقریر کرنے والوں کی گرفتاری کی اطلاع سن کر مولانا نے فرمایا کہ نبی آخر الزمان ﷺ کی حرمت کے لیے جیل جانا کیا، اگر سر کٹانے کی نوبت بھی آئے تو میں اپنے لیے عین سعادت سمجھوں گا۔
(”خطبات مولانا احمد علی لاہوری“، ص ١٦)
پر ہاتھ سے چھوٹے گا نہ دامان محمدؐ
(مولف)
مرزائی کی قبر
آج کسی کا ہارٹ فیل ہو جائے تو قبر میں اگر پوچھا گیا کہ ختم نبوت کے لیے کیا کیا تھا؟ تو کیا جواب دو گے۔ وہاں تو سر ظفر اللہ کی دوستی کام نہیں آئے گی۔ وہاں مرزائیوں کی حمایت کام نہیں آئے گی۔ خواجہ ناظم الدین صاحب کو سمجھ لینا چاہیے کہ اگر مرزائیوں کی حمایت کرو گے تو قبر جہنم کا گڑھا بنے گی۔ میں اولیاء کرام کے نام بتاتا ہوں۔ ان کو مسلمانوں اور مرزائیوں کے مشترک قبرستان دکھاؤ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہر مرزائی کی قبر کے متعلق یہیں کہیں گے۔ قبر ہذا المقبور حفرہ من حفرا النیران (اس مقبور کی قبر دوزخ کے گڑھوں میں سے گڑھا ہے)
(خطبات حضرت مولانا احمد علی لاہوری“، ص ١٣١)
حضرت مولانا بہاء الحق قاسمی
آپ امرتسر کے رہنے والے تھے۔ بڑے ”خوش خلق، خوش رنگ، خوش گلو“ تھے۔ بڑے پایہ کے عالم اور خوش بیان تھے۔ ”بہترین صحافی“ اور ”دوستوں کے دوست“ تھے۔ اخلاص کے پتلے اور وفا کے مجسمہ تھے۔ پہلے کٹڑا کھاراں میں اور پھر گلو والی دروازہ کے اندر حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ جب کٹڑا مہاں سنگھ سے اٹھ کر ان کے محلہ میں آگئے تو پھر سڑک کی دوسری طرف ان کے مکان کے سامنے جگہ خرید کر اپنا نیا مکان بنالیا تھا، رہا کرتے تھے؟ ”عالی شان مکان“ تھا۔ ”انجمن اسلامیہ امرتسر“ کے ہائی سکول میں عربی پڑھایا کرتے تھے۔ مرزائیوں کے خلاف شدید جذبہ رکھتے تھے۔ ”میانہ قد، دوہرا جسم، گورا رنگ“ گھنی سیاہ داڑھی، ذرا سنبھلی ہوئی۔ سٹیج پر کھڑے ہوتے تو سامعین کو مسحور کر دیتے۔ ”خوش آواز اتنے کہ کسی راہ جاتے کے کان میں آواز پڑ جاتی تو وہ تھم جاتا۔ بیان اتنا عمدہ کہ کیا مجال مجمع میں سے کوئی ہلنے کا نام لے
جب مجلس احرار اسلام نے مرزائیوں کے خلاف ”شعبہ تبلیغ“ قائم کیا تو تہ دل سے اس کے معاون و مددگار بن گئے۔ ہم نے جب ”قادیان“ میں ”تحریک“ شروع کی تو طے پایا کہ ”ہر جمعہ کو باہر سے کوئی عالم آئے اور قادیان میں آکر مرزائیوں کے خلاف تبلیغ کرے۔ اس سلسلہ میں ہم نے ان سے فرمائش کی تو انہوں نے ہماری درخواست پر یہ فریضہ اپنے ذمہ لیا۔ چنانچہ مولانا مہینے میں ایک دو بار اپنا جمعہ کسی کے حوالہ کر کے قادیان تشریف لے آتے اور ”جامع مسجد ارائیاں قادیان“ میں بڑی زور دار تقریر فرماتے اور شام کی گاڑی سے واپس امرتسر چلے جاتے تھے۔ تقسیم ملک کے بعد لاہور آگئے اور ماڈل ٹاؤن لاہور کی جامع مسجد میں خطیب مقرر ہوئے۔ راقم الحروف سے بڑا پیار تھا اور تقسیم کے بعد میں کئی دفعہ ان کی ملاقات کے لیے ماڈل ٹاؤن گیا۔ وہ بہت خوش ہوتے۔
(”مشاہدات قادیان“ ص ٢٤١، از مولانا عنایت اللہ چشتی)
دل آج بھی تیرا ہی تمنائی ہے
(مولف)
قادیان پر مسلمانوں کی یلغاریں
لاہور سے حضرت مولانا ”احمد علی“ صاحب امیر انجمن خدام الدین شیرانوالہ دروازہ بھی قادیان تشریف لائے۔ امرتسر سے عموماً مولانا ”بہاء الحق“ قاسمی اور مولانا ”عبدالغفار“ غزنوی مرحوم جو کہ مولانا ”داؤد غزنوی“ مرحوم کے برادر خورد تھے، تشریف لاتے تھے۔ امرتسر میں حضرت مولانا مفتی ”محمد حسن“ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے جو پاکستان میں آکر ”جامعہ اشرفیہ“ لاہور کے بانی بنے انہوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ ”جو عالم امرتسر سے قادیان جمعہ پڑھانے جائے گا اس کا کرایہ آمد و رفت میں ادا کروں گا“۔ بہر حال یہ ایک سلسلہ تھا جو ہم نے جاری کر رکھا تھا۔ سر ظفر اللہ ، اس کی والدہ اور مرزا محمود کی دہائی کا یہ اثر ہوا کہ انگریزی حکومت نے باہر سے آنے والے علماء کا قادیان میں داخلہ بند کر دیا۔ قاضی ”احسان احمد“ صاحب شجاع آبادی ، شجاع آباد سے تشریف لائے تو بٹالہ میں پولیس نے انہیں روک لیا۔ ملک میں بڑا احتجاج ہوا مگر انگریزی حکومت اڑ گئی اور انہیں قادیان میں داخل نہ ہونے دیا۔
(”مشاہدات قادیان“ ص ٢٤٢-٢٤٣، مصنفہ مولانا عنایت اللہ چشتی)
رن ایک طرف چرخ کہن کانپ رہا ہے
(مولف)
تحفظ ختم نبوت کے لیے مولانا درخواستیؒ کی خدمات
١٩٥٢ء میں آپ حج پر تشریف لے گئے۔ مدینہ منورہ جاکر روضہ اقدس پر حاضر ہو کر مراقب ہوئے اور حضوری میں رہنے کی اجازت چاہی۔ رات کو خواب میں زیارت سے
مشرف ہوئے۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ پاکستان میں میری نبوت کو چیل اور کتے نوچ رہے ہیں ان سے تحفظ ختم نبوت کے لیے مقابلہ کرو اور میرے نواسے عطاء اللہ شاہ بخاری کو بھی میرا پیغام پہنچا دو۔ اس کے بعد آپ فوراً واپس پاکستان تشریف لائے۔ خان گڑھ میں جاکر حضرت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو حضور ﷺ کا پیغام اور سلام پہنچایا۔
١٩٥٣ء میں مشہور زمانہ تحریک کے الاؤ کو جلا بخشی۔ ہمہ تن تحریک کی کامیابی کے لیے مصروف عمل رہے۔ آپ نے تقریروں کے ذریعے بلامبالغہ ہزاروں شاگردوں و متعلقین کو گرفتاری پیش کرنے کے لیے کراچی بھیجا۔ جب تمام سرکردہ راہنما کراچی میں گرفتار ہو گئے تو آپ نے تحریک کو اپنے وجود سے ایسا سہارا دیا جس سے حکومت زچ ہوگئی۔ قید و بند کی صعوبتوں کی پرواہ کیے بغیر منزل کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھا اور آخر وقت تک تحریک کے لیے بہادر جرنیل کی طرح مورچہ زن رہے۔
١٩٥٤ء میں تحریک ختم نبوت کے بعد جب مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی گئی تو آپ نے اس کی سرپرستی فرمائی۔ چونکہ اکابرین مجلس امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ کے ساتھ حضرتؒ کا خصوصی تعلق تھا اس لیے کوئی اہم ختم نبوت کی کانفرنس نہ ہوئی تھی جس میں آپ کی صدارت و شرکت نہ ہو۔ کوئی ایسا امر نہیں ہوتا تھا جس میں آپ کا مشورہ شامل نہ ہو۔ ہمیشہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کی سرپرستی فرمائی۔ مبلغین کو پند و نصائح سے نوازتے اور ان کے کام کی نگرانی فرماتے۔ اپریل ١٩٦٥ء میں تغلق روڈ ملتان پر آپ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس تقریب میں تمام اکابر وقت تشریف فرما تھے۔ آپ نے اپنے تمام حلقہ اثر کو اس نیک مقصد کے لیے ہمہ تن متوجہ فرمایا۔
حاجی محمد مانک نے کرونڈی ضلع خیرپور میں عبدالحق نامی قادیانی کو اس کی رحمتہ اللعالمین ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی پر جہنم رسید کیا۔ حاجی صاحب پر کیس چلا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کیس کی پیروی کی۔ ابتداء کیس سے فیصلہ تک ہر اہم امر میں حضرتؒ درخواستیؒ کا مشورہ شامل حال رہا۔
مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ مقدمہ کی پیروی کے لیے ہر پیشی پر حضرتؒ کو اپنے ہمراہ لے جاتے تھے۔ حضرتؒ کی دینی ثقاہت و وجاہت نے اس کیس کو ملک بھر میں مشہور کر دیا۔ حضرتؒ کے ہر قسم کے تعاون و سرپرستی نے مقدمہ کے ضمن میں درپیش مسائل و مشکلات کو حل کر دیا تا آنکہ قدرت نے فضل فرمایا اور حاجی صاحب کو سزائے موت نہ ہو سکی۔ معمولی سزا کاٹ کر جیل سے بخیر و عافیت رہا ہو گئے۔ ان کی رہائی کے وقت بھی حضرتؒ بنفس نفیس جیل کے دروازہ پر استقبال کے لیے تشریف فرما تھے۔
اس طرح ایبٹ آباد کو مرزائیوں نے پروگرام کے تحت اپنا مرکز بنانا چاہا تو ان کی سرکوبی کے لیے حضرت وہاں تشریف لے گئے اور حاجی ٹاول خان مدظلہ (جو حضرت کے متعلقین میں سے ہیں) کو فرمایا کہ دشمنان خاتم النبیین ایبٹ آباد کو مرکز بنا کر یہاں کے سادہ لوح عوام کو گمراہی کی دلدل میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ یہ تمہارے عشق رسولؐ کا امتحان بھی ہے کہ ان کے پاؤں یہاں نہ جمنے دو‘ اس کے جواب میں چند شیدائیوں نے مسلح ہو کر ان سے مقابلہ کیا جس کی وجہ سے پانچ چھ مرزائی جہنم واصل ہو گئے۔ مقدمات بھی چلے، مگر حضرتؒ کی دعاؤں اور مخلص ساتھیوں کی کوشش سے سب کے سب ان مقدمات سے بری ہو گئے۔
اس کے بعد قادیانیوں نے بلوچستان کی طرف رخ کر کے کوئٹہ کو اپنا مرکز بنانا چاہا اور وہاں بڑے منظم انداز میں گمراہ کن لٹریچر تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ حضرتؒ کو علم ہوا تو ان کی بیخ کنی کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ کی تقریروں سے متاثر ہو کر چند جواں ہمت مسلمانوں نے مرزائیوں کے سرغنہ پر قاتلانہ حملہ کر کے اس کی انتڑیاں نکال دیں جس کی وجہ سے وہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد مرزائیوں کو بلوچستان کا رخ کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔ حضرتؒ نے اپنے جامعہ مخزن العلوم کو ختم نبوت کی خدمات کے لیے پیش پیش رکھا۔ سالانہ جلسہ پر جماعت کے تمام راہنما و مبلغین کو دعوت دیتے تھے۔ ہر سال دورہ تفسیر کے موقع پر مولانا لال حسین اخترؒ کو بلوا کر رد قادیانیت کے لیے خصوصی لیکچروں کا اہتمام فرماتے۔ دکھ ہو یا سکھ‘ خوشی ہو یا غم‘ ہر موقع پر ختم نبوت کے کاز پر کام کرنے والے راہنماؤں و کارکنوں کو حضرتؒ کا تعاون و سرپرستی حاصل رہی۔ خطیب پاکستان مولانا احسان احمد شجاع آبادیؒ ‘ مجاہد
ملت مولانا محمد علی جالندھری، مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ، مجلس تحفظ ختم نبوت کے تینوں امراء کی حضرت درخواستیؒ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
(تذکرہ مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ، ص ٦١ تا ٦٣، مصنفہ صاحبزادہ خلیل الرحمن
درخواستی)
تاریخ میں ہمارا بھی اپنا مقام ہے
(مولف)
دعائیں
شاہ جیؒ نے فرمایا کہ میں ایک جلسے میں تقریر کر کے سٹیج سے نیچے اترا۔ ایک ضعیفہ لاٹھی سے ٹیک لگائے راستے میں کھڑی تھی۔ جونہی میں اس کے پاس سے گزرا اس نے میرا نام لے کر مجھے پکارا۔ میرے قدم یکدم رک گئے۔ میں اس عفیفہ ضعیفہ کے قریب گیا۔ ادب سے سلام کیا۔ بڑھیا کہنے لگی عطاء اللہ شاہؒ تیرا ہی نام ہے‘ ادب سے کہا کہ اس گنہگار کو ہی عطاء اللہ کہتے ہیں۔۔۔۔ بے شمار دعائیں دیں کہنے لگی کہ اس بوڑھی جان کے ساتھ سینکڑوں نفل پڑھ کر تیرے لیے دعائیں کی ہیں کہ اے خدا اس نے تیرے حبیبؐ کے ناموس کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی ہے۔ یہ حق کے لیے لڑ رہا ہے‘ اس کو سلامت رکھنا۔ اس کو دشمنوں پر فتح نصیب کرنا۔۔۔۔ بڑھیا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ شاہ جیؒ نے فرمایا کہ میں اس کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا جو اس وقت مجھ پر طاری ہوئی۔ یہ حضور اکرم ﷺ کے کرم کے انداز ہیں۔
("متاع بے بہا" ص ١٠٧-١٠٨، مصنفہ حافظ لدھیانوی)
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
(مولف)
کچھ تو غور کرو
شاہ جی نے ضعیفی کے عالم میں اتمام حجت کی خاطر قادیانیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
”اے قادیانیو! اگر نیا نبی مانے بغیر تمہارا گزارا نہیں ہو سکتا، اگر اس کے بغیر تم جی ہی نہیں سکتے تو ہمارے قائد اعظمؒ کو ہی نبی مان لو، ارے مرد تو تھا جس بات پر ڈٹا، کوہ کی طرح اڑ گیا۔ آہوں کے بادل اٹھے، اشکوں کی گھٹا چھائی، خون کی برکھا ہوئی، لاشوں کا سیلاب آیا مگر کوئی چیز قائد اعظمؒ کے عزم کو نہ ہلا سکی۔ اس نے تاریخ کے اوراق کو پلٹ دیا اور ملک کے جغرافیہ کو بدل کر رکھ دیا۔ ارے تمہاری نبوت کو بھی لٹ پٹ کر جگہ ملی تو اسی کے قدموں میں۔ تمام عمر گزار دی انگریز کی نوکری نہیں کی، حکومت سے خطاب نہیں لیا۔ انگریز سے کوئی تمنا وابستہ نہیں کی اور ایک تمہارا نبی ہے کہ جس نے حضور گورنمنٹ کے آگے عاجزانہ درخواستیں کرتے کرتے پچاس الماریاں سیاہ کر ڈالیں“۔
(”پیام اسلام“ امیر شریعت نمبر، ص ٨٩-٩٠)
کہ زہر بھی کرتا ہے کار تریاقی
(مؤلف)
شہیدان ناموس رسالت! تم پر سلام
ملتان میں ١٨ جنوری ١٩٥٢ء کو قادیانیت کے خلاف اجتماع کرنے پر پولیس نے مجمع پر بلا وارننگ گولی چلا دی۔ دس منٹ تک ستر راؤنڈ چلائے گئے جس کے نتیجہ میں چھ مسلمان شہید اور کئی مسلمان زخمی ہوئے۔ ٢٥ جولائی ١٩٥٢ء کو امیر شریعت نے شہدائے ملتان کو
خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام کے بنیادی عقیدہ کو گزند پہنچانے کی ناپاک کوشش کی تو حضرت صدیق اکبرؓ نے اس کاذب و مفتری سے کسی قسم کا مناظرہ کر کے دعویٰ نبوت کے جواز میں دلیل طلب نہیں کی۔ اگر کیا تو یہ کیا کہ سات ہزار سے زائد حافظ قرآن صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین‘ ناموس رسالت اور تاج و تخت ختم نبوت پر قربان کر دیے اور اس طرح مسلمانوں کی متاع دین و ایمان کو ایک عیار اور مکار کی دست برد سے بچا لیا اور آئندہ کے لیے ملت اسلامیہ کو سبق دیا کہ جو شخص اس قسم کی ناپاک کوشش کرے۔ اس کے لیے اسلام اور ملت اسلامیہ کا فیصلہ کیا ہے؟
ملتان کے غیور صاحب ایمان مسلمانوں نے بھی اس دور پر آشوب میں جبکہ کفر و ارتداد کی سیاہ گھٹاؤں نے ایمان و ایقان کو پریشان کر رکھا ہے‘ اسلام کی لاج رکھ لی اور اپنے جگر گوشوں کو شمع رسالت پر پروانہ وار نثار کر کے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان آج بھی فخر دو عالم ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر گولیوں کی بارش میں مسکرا سکتا ہے۔
قربان جانے والے کے قربان جائیے
خدا کی نعمتیں نچھاور ہوں تم پر شہیدان ناموس رسالت! سلام ہو تم پر اے ختم المرسلینؐ کی عزت و آبرو پر قربان ہونے والو! مبارک ہیں ان کے والدین کہ ان کے نذرانے سرکار رسالت مآبؐ میں شرف قبولیت حاصل کر گئے۔
یوں تو اس دنیا میں ہزاروں بچے جنم لیتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ ہزاروں کلیاں کھلتی ہیں اور باد سموم کے تھپیڑوں کی تاب نہ لاکر مرجھا جاتی ہیں مگر وہ موت جو حق اور راستی کی راہ میں آئے‘ حیات جاوداں بن کر آجاتی ہے۔
قضا کی نرالی ادا چاہتی ہے
(حیات امیر شریعت‘ ص ٤٣١-٤٣٢‘ جانباز مرزا)
لگن
مجاہد ملت حضرت محمد علی جالندھری صاحبؒ یہ لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ کسی سفر میں وہ اسٹیشن پر ایسے وقت پر پہنچے کہ ریل کے آنے میں کچھ وقت تھا۔ غور کیا کہ اس مختصر سے فارغ وقت کو کیسے کام میں لایا جائے۔ چائے کے اسٹال پر گئے، چائے نوش کی۔ پیسے ادا کیے اور چائے والے سے کہا ”میرا نام محمد علی جالندھری ہے۔ میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا نمائندہ ہوں۔ میرا پتہ یہ ہے، اگر خدانخواستہ کسی وقت کوئی مرزائی تمہارے علاقے میں شرارت کرے تو مجھے خط لکھ دینا۔ مولانا مرحوم فرماتے تھے کہ سات برس بعد اس شخص کا خط آیا کہ ہمارے قصبے میں مرزائی مبلغین قادیانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں اور انہوں نے ایک خاندان کو مرتد کر لیا ہے۔ یہ خط ملتے ہی ہم وہاں پہنچے۔ قادیانیوں کو چیلنج کیا تو قادیانی بھاگ گئے اور نومرتد گھرانے کو قادیانیت کی حقیقت سمجھائی تو وہ دوبارہ مشرف بہ اسلام ہوا۔ اس کے بعد قادیانیوں کو اس قصبے کا رخ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔
(ماہنامہ ”الرشید“ دارالعلوم دیوبند نمبر، ص ٧٠٧-٧٠٨)
وہ کون سی گھڑی ہے کہ تو روبرو نہیں
(مؤلف)
تمغہ ہائے حریت
پہلی گرفتاری: زیر دفعہ ١٢٤، الف (تحریک بغاوت) ١٤ مارچ ١٩٢١ء مدت تین سال، جیل میانوالی۔
دوسری گرفتاری: زیر دفعہ ١٠٧ ضابطہ فوجداری، (نقض امن و آئین شکنی) ٦ جولائی
١٩٢٧ء‘ مدت سزا ایک سال‘ بورسٹل جیل لاہور (بہ سلسلہ سدباب فتنہ شاتم رسولؐ راجپال)
تیسری گرفتاری: زیر دفعہ ١٠٨‘ الف ٣٠ اگست ١٩٣٠ء‘ مدت سزا چھ ماہ‘ علی پور جیل‘ ڈم ڈم جیل‘ (بہ سلسلہ تحریک حقوق خود اختیاری و آئین آزادی)
چوتھی گرفتاری: زیر دفعہ ١٤٤‘ الف (غالباً) ١٩٣١ء‘ مدت سزا ایک سال‘ دہلی جیل‘ بہ سلسلہ تحریک کشمیر۔
پانچویں گرفتاری: زیر دفعہ نمبر ١٥٣‘ نومبر ١٩٣٤ء‘ مدت سزا چھ ماہ‘ بعد از اپیل سیشن کورٹ‘ سزا پندرہ منٹ تا برخاست عدالت‘ ٦ دسمبر ١٩٣٠ء (بہ سلسلہ تحریک استیصال مرزائیت بربناء تقریر احرار کانفرنس‘ قادیان)
چھٹی گرفتاری: بوجہ خلاف ورزی دفعہ ١٤٤‘ عائد شدہ بر داخلہ قادیان‘ مدت سزا چھ ماہ‘ گورداسپور جیل و نیو سنٹرل جیل ملتان‘ (بہ سلسلہ اداء نماز جمعہ در سرزمین قادیاں)
ساتویں گرفتاری: زیر دفعہ ١١٧- ١٤٤- ١٥٣- ٣٠٢ وغیرہ‘ ستمبر ١٩٣٩ء دوران سفر برلاری‘ بربنائے تقریر راولپنڈی۔
آٹھویں گرفتاری: زیر دفعہ ١١٧- ١٤٤- ١٥٣- ٣٠٢‘ جون ١٩٣٩ء مدت سزا بہ شکل حوالات ایک سال سات ماہ چار دن‘ راولپنڈی‘ گجرات اور نیو سنٹرل جیل لاہور۔ فیصلہ مقدمہ پر دونوں مقدموں میں باعزت بریت و رہائی‘ (بہ سلسلہ تحریک حصول آزادی و فوجی بھرتی بائیکاٹ)
نویں گرفتاری: ٢٨ فروری ١٩٥٣ء مدت سزا بطور نظر بندی‘ ایک سال ساڑھے آٹھ ماہ۔ مقام سزا کراچی‘ حیدر آباد۔ (ہائی کورٹ میں اپیل اور رٹ سماعت جرم ثابت نہ ہونے پر پہلی پیشی پر رہائی) سکھر‘ سنٹرل جیل ملتان۔
دسویں گرفتاری: بہ صورت حکم پابندی کل مدت ملتان شہر میں چھ ماہ کی نظر بندی (بہ
(سلسلہ تحریک مقدس تحفظ ختم نبوت) گیارہویں گرفتاری: ٢ رمضان المبارک ١٣٧٥ھ مطابق ١٤ اپریل ١٩٥٦ء‘ مدت حراست ٣ گھنٹے‘ قریب افطار ضمانت۔ مقدمہ کی کارروائی قریباً پانچ ماہ۔ کل گرفتاریاں: گیارہ (١١)‘ کل مدت قید و نظربندی‘ نو سال دو ماہ چوبیس دن (تقریباً)
("بتیس بڑے مسلمان" ص ٨٦، ٨٧‘ از عبدالرشید ارشد)
چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں
(مؤلف)
قادیان کانفرنس
اس کانفرنس کا انعقاد اکتوبر ١٩٣٤ء کے تیسرے ہفتے میں ہوا اور اس کانفرنس کے لیے ٢١۔ ٢٢ اور ٢٣ اکتوبر کی تاریخوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس کے لیے ایک سکھ زمیندار کی اراضی حاصل کی گئی تھی۔ اس زمیندار کا نام ایشر سنگھ تھا۔ اس اراضی پر پنڈال بھی تیار ہونا شروع ہو گیا تھا لیکن مرزائیوں نے اس اراضی پر قبضہ کر لیا۔ اب احراریوں کے لیے اور کوئی راستہ نہیں تھا یا تو وہ اراضی کے لئے لڑتے یا شہر سے دور کانفرنس منعقد کرتے۔ احرار نے جھگڑا کرنے سے گریز کیا کیونکہ اس وقت مرزائیوں کی مسلسل کوشش یہی تھی کہ فساد کرایا جائے اور اس بنیاد پر کانفرنس کو امن عامہ کے خلاف ثابت کر کے بند کروایا جائے۔ مجلس احرار مرزائیوں کے اس ارادے کو بھانپتی تھی۔ چنانچہ اس اشتعال کے باوجود مجلس احرار نے ایشر سنگھ کی اراضی پر کانفرنس منعقد نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اس کے بعد قادیاں سے ایک میل کے فاصلے پر ڈی۔ اے وی سکول کے پہلو میں پنڈال تیار کیا گیا۔
کانفرنس سے دو دن پہلے "سول اینڈ ملٹری گزٹ" کے نامہ نگار نے قادیاں سے یہ خبر
بھیجی تھی جس میں اس کانفرنس کے خدوخال اور اہمیت کا اندازہ ہوتا تھا۔ ”مجلس احرار ٢١-٢٢ اور ٢٣ اکتوبر کو ایک تبلیغی کانفرنس قادیان میں منعقد کر رہی ہے۔ اس کانفرنس کے لیے بڑے وسیع پیمانے پر تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مرزائیوں کی طرف سے مسلسل یہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ اس کانفرنس سے ان کا جان و مال خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ چنانچہ مرزائیوں نے اپنی حفاظت کے لیے لاتعداد دیہاتیوں اور اپنے مریدوں کو قادیان میں جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ ادھر احرار کی اس کانفرنس میں ٢٠ سے لے کر ٥٠ ہزار کا ہجوم ہے۔ مزید برآں کانفرنس کے منتظمین کا مطالبہ ہے کہ ان کو کانفرنس کے صدر کا جلوس نکالنے کی اجازت ہونی چاہیے اور یہ جلوس قادیاں شہر میں سے گزرے۔
اس کانفرنس کے پیش نظر آج صبح پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس خود بہ نفس نفیس قادیان آئے۔ ان کے ہمراہ پولیس کی بھی ایک بھاری جمعیت تھی۔ چنانچہ انسپکٹر جنرل پولیس نے کانفرنس وغیرہ کا موقع دیکھا اور احکام جاری کر دیے کہ اگر اس کانفرنس کے دوران قادیانیوں نے کوئی اجتماع منعقد کرنے کی کوشش کی تو یہ اجتماع خلاف قانون متصور ہوگا۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے احراریوں اور ان کی کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو بھی متنبہ کیا کہ وہ کانفرنس میں کسی قسم کے ہتھیار کے ساتھ شرکت نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ لاٹھیوں کو بھی ساتھ لانے کی ممانعت کر دی گئی۔ مزید برآں کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے ایک خاص راستہ متعین کر دیا گیا ہے۔ نیز اگر کسی قسم کا جلوس نکالا جائے تو اسے شہر میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آج قادیان میں امن و امان بحال رکھنے کے لیے چار سو پولیس کے سپاہی پہنچ جائیں گے۔ احراری ہر حالت میں کسی قسم کے جھگڑے سے اجتناب کریں گے۔ اس کانفرنس کا پنڈال ڈی۔ اے وی سکول میں بننا شروع ہو گیا ہے اور ارد گرد کے تمام علاقے میں دفعہ ١٤٤ نافذ کر دی گئی ہے اور لاٹھیاں ساتھ نہ لانے کی بھی منادی کرا دی گئی ہے“۔
امیر شریعت کی کانفرنس میں آمد اور تقریر
اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پورے پنجاب میں اس کانفرنس کے کس قدر چرچے تھے اور کتنے گوشوں سے اس کانفرنس کی کامیابی اور ناکامی کی خبروں کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ اس فضا میں یہ کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کے صدر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔ چنانچہ رات جب اپنا پورا سایہ ڈال چکی، لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہو چکے تو اس کانفرنس کے صدر سید عطاء اللہ شاہ بخاری تشریف لائے۔ ہزارہا انسانوں کا ہجوم اور امیر شریعتؒ کی پنڈال میں آمد۔ اور کون سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ملتان کی سرزمین میں دفن ہونے والا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نہیں وہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نہیں جس کی زبان گنگ ہو گئی تھی، جس کے چہرے کا جھریوں نے احاطہ کر لیا تھا، جس کے بالوں میں بڑھاپے کی سفیدی آگئی تھی۔ یہ وہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری تھا، جس کا شباب اور شعلہ بیانی دونوں اپنے عروج پر تھے۔ جو لاؤڈ اسپیکر کے بغیر لاکھوں کے مجمع کو مسخر کر سکتا تھا۔ جس کا حسن اور بیان دونوں الگ الگ جادو جگاتے تھے۔ پچاس ہزار کا مجمع، رات کی خاموشی، قمقموں کی روشنی اور اتنے میں حسن و نور کے پیکر، شعلہ بیاں خطیب اور شریعت کے امیر کی آمد۔
بس پھر کیا تھا مجمع میں کہاں ایک خاموشی اور ہو کا عالم تھا اور اب وارفتگی اور دیدار یار کی بے تابی نے سب کو آن گھیرا ہے اور اس بے تابی اور وارفتگی کا اظہار نعروں کی گونج میں ہوتا ہے۔ شاہ صاحبؒ ہیں کہ مسکراتے ہوئے، مجمع کو چیرتے ہوئے اسٹیج کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اسٹیج پر پہنچے، چاروں طرف نگاہ مست انداز سے دیکھا۔ بس پھر کیا تھا، نعروں کا ایک اور سیل ٹوٹ پڑا۔۔۔۔ اور امیر شریعت فاتحانہ انداز میں مسکرا رہے تھے۔ مجمع خاموش ہوا، تلاوت ہوئی، نظم ہوئی۔ اب سے پچیس برس پہلے کی تفصیلوں کو دہرائیے اور انہی تفصیلوں کو جن پر شاہ صاحبؒ کی تاریخی تقریر کی دبیز تہیں چڑھی ہوئی ہوں، شاہ صاحبؒ نے بھی کوئی ساڑھے نو بجے تقریر شروع کی ہو گی اور رات تھی کہ وہ بھی دم بخود گزرے جا
رہی تھی۔ لیکن شاہ صاحب کی شعلہ بیانی بڑھتی جا رہی تھی اور اس شعلہ بیانی اور آتش نوائی کو قدم قدم پر نعروں، قہقہوں اور آنسوؤں کے ذریعے خراج عقیدت پیش ہو رہا تھا۔ یہی وہ تقریر ہے جس میں شاہ صاحب نے اپنا مشہور جملہ کہا تھا:
”وہ مرزا (محمود) نبی کا بیٹا ہے اور میں نبی کا نواسہ ہوں۔ وہ آئے اور مجھ سے اردو، پنجابی، فارسی، عربی، ہر زبان میں بحث کرے۔ یہ جھگڑا آج ہی طے پا جاتا ہے۔ وہ پردے سے باہر نکلے، نقاب اٹھائے، کشتی لڑے۔ مولا علی کے جوہر دیکھے، ہر رنگ میں آئے۔ میں ننگے پاؤں آؤں اور وہ حریر و پرنیاں پہن کر آئے۔ میں موٹا جھوٹا پہن کر آؤں، وہ مزعفر کباب یا قوتیاں اور اپنے ابا کی سنت کے مطابق پلومر ٹانک وائن پی کر آئے۔ میں اپنے نانا کی سنت کے مطابق جو کی روٹی کھا کر آؤں، ہمیں میدان میں گو“۔
یہ تقریر جو رات کی خاموشی میں شروع ہوئی تھی، جو عشاء کی نماز کے بعد جب ابھی رات کا آغاز تھا، لوگوں نے سننا شروع کی تھی۔ یہ تقریر پوری رات ہوتی رہی اور مجمع پر ہو کا عالم طاری رہا۔ ایک بھی ذی نفس ایسا نہیں تھا جس نے تھکن کا اظہار کیا ہو، جس کے چہرے سے اکتاہٹ کی غمازی ہوئی ہو۔ اتنے میں صبح کا نور پھیلنا شروع ہو گیا اور موذن نے اذان دے دی۔ تقریر تھی کہ اس وقت بھی اپنے عروج پر تھی۔ لیکن موذن نے اس سیل رواں کو روک دیا اور خطابت کے دریا کو بند مار دیا۔ ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ میں بہت کم خطیب اور مقرر ایسے گزرے ہیں، جنہوں نے رات رات بھر تقریر کی ہو، جنہوں نے لوگوں کو اس قدر مسحور کیا ہو۔
کیا کریں گر نہ انتظار کریں
(”بیس بڑے مسلمان“ ص ٨٧٥-٨٧٦-٨٧٧)
نہیں اہل جنوں کا یہ زمانہ
(مولف)
شاہ جی اور میاں شرقپوری
غالباً شاہ جی کی سیاسی زندگی کے آغاز کا زمانہ تھا کہ ایک دفعہ۔۔۔۔ شرقپور حضرت شیر محمدؒ سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ ملاقات کا سلسلہ ختم ہوچکا تھا۔ حضرت اپنے حجرے میں تشریف لے جاچکے تھے۔ خدام نے عرض کیا کہ ملاقات کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ شاہ جی لاری کے اڈے پر واپس تشریف لے گئے۔ حضرت شیر محمد اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ عطاء اللہ شاہ نام کا کوئی آدمی ہے؟ خدام نے عرض کی چونکہ ملاقات کا وقت ختم ہوچکا تھا، اس لیے واپس تشریف لے گئے۔ انہوں نے یہ سن کر شاہ جی کو واپس بلوایا، بغل گیر ہوئے اور فرمایا تمہارا مرتبہ بہت بلند ہے، بہت اونچا ہے۔ الفاظ دہراتے جاتے اور اپنا ہاتھ اونچا کرتے جاتے۔ پھر پیٹھ ٹھونک کر رخصت کیا۔
(”میں بڑے مسلمان“ ص ٨٨٢-٨٨٣ ’ از عبدالرشید ارشد)
ایک غلام کی معراج
اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد میں نے ایک خواب دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ہزاروں لاکھوں انسانوں کا اجتماع ہے جس میں، میں بھی شامل ہوں۔ یکایک غلغلہ بلند ہوا کہ حضور ختمی مرتبت جناب رسالت مآب ﷺ تشریف لا رہے ہیں۔ نظر اٹھائی تو دیکھا کہ فضائے نیلگوں میں ہر طرف نور ہی نور پھیلا ہوا ہے اور دور سے آقائے دو جہاں سرور کائنات ﷺ نہایت پاکیزہ، سفید اور بے داغ لباس میں اسپ صبا رفتار پر سوار تشریف لا رہے ہیں۔ مجھ گناہگار میں تاب نظارہ جمال کہاں تھی جو جی بھر کر چہرہ انور کو دیکھتا۔ نگاہیں خود بخود جھک گئیں۔ مگر بے قراری اور اضطراب میں ان کی سواری کے ساتھ ساتھ دوڑتا جاتا ہوں۔ معلوم ہوا کہ حضور ﷺ فداہ ابی و امی کی سواری خانپور کی دینی درسگاہ ’مخزن العلوم‘ جس کے سربراہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی ہیں، کی جانب جارہی
ہے ۔ اسی دینی درسگاہ کی جامع مسجد سے ملحقہ احاطہ میں میرے پاکباز والد حضرت شیخ محمد قریشی مرحوم مدفون ہیں، جہاں انہوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنی مرقد تیار کرالی تھی۔ اسی دوران میری زندگی کا ماحصل وہ ناقابل فراموش حسین ترین لمحہ آیا، جب میرا سر آقا و مولائے کائنات ﷺ کے پائے رکاب کے نیچے آگیا اور مجھے اپنے ہاتھوں سے حضور ﷺ کے کفش پا کو چھونے کا شرف حاصل ہوا۔ زندگی میں اس سے بڑھ کر اور کیا عز و شرف ہو گا، جو کسی خاک پائے رسول ہاشمی ﷺ کو حاصل ہو۔
ایک عرصہ تک میں نے اس خواب کا ذکر کسی سے نہیں کیا۔ اس خیال سے کہ کہاں وہ سرور دو جہاں ﷺ اور کہاں یہ گدائے خستہ جاں، سراپا گناہ و عصیاں میں ڈوبا ہوا انسان جس کی زبان سے یہ بے پایاں لطف و کرم کی داستاں بیان ہو اور ڈر تھا کہ کہیں زبان سے کوئی لغزش نہ ہو جائے۔ شاید طہارت و پاکیزگی جسم و لباس کے بارے میں شاہ امم ﷺ کی ہدایت کا یہ بھی ایک انداز کریمانہ تھا۔ بڑے عرصے بعد ڈرتے ڈرتے میں نے یہ خواب اپنے ایک روشن ضمیر دوست بیرسٹر ضمیر احمد خاں کو سنایا۔ سن کر کہنے لگے ”بڑے ہی خوش نصیب ہو، شاید تم سے کوئی خدمت لی جائے گی“۔
(”ناموس رسولؐ اور قانون توہین رسالت“ ص ١١-١٢، محمد اسماعیل قریشی، ایڈووکیٹ)
قاضی احسانؒ احمد شجاع آبادی کی ایک معرکہ آرائی
قاضی صاحب کو فوراً دفتر سے کسی دوسری جگہ پہنچا دیا گیا۔ پولیس کو سن گن مل گئی تھی۔ رات بھر معروف احرار کارکنوں کے گھروں پر چھاپے پڑتے رہے۔ قاضی صاحب نہ ملے۔ صبح جمعرات کا دن تھا۔ ایک رضا کار ٹانگے میں نوبت سجائے آیا۔ ہر چوک پر نوبت بجاتا، لوگ اکٹھے ہوتے تو اعلان کرتا ”حضرات ایک ضروری اعلان سنئے۔ کل بروز جمعۃ المبارک جمعہ کی نماز جامع مسجد دین ہال بازار میں قاضی احسان احمد شجاع آبادی پڑھائیں گے۔ آپ سے اپیل ہے کہ جوق در جوق جامع مسجد خیر دین آکر نماز ادا کریں اور احرار راہنما کے خیالات سے مستفید ہوں“۔
سارے شہر میں منادی ہوتی رہی۔ پولیس نے جگہ جگہ تانگہ روک کر منادی کرنے والے سے سخت باز پرس کی بلکہ مارا پیٹا بھی کہ بتاؤ قاضی صاحب کہاں ہیں؟ رضا کار مسمسی صورت بنا کر کہتا جناب مجھے کیا پتہ، میں تو مزدور آدمی ہوں۔ دیہاڑی کر رہا ہوں۔ ایک آدمی نے یہ رقعہ دیا جو لکھا ہے، میں وہی پڑھ رہا ہوں۔ نوبت میری اپنی ہے، تانگے کا کرایہ بھی اس نے دے دیا ہے اور میری دیہاڑی بھی دے دی ہے۔ شام تک مجھے یہی کام کرنا ہے۔ تھانے دار نے کہا ”بس اب بند کرو، اور بھاگ جاؤ“۔
وہ کہتا ”نہیں جی ایمانداری بھی کوئی چیز ہے جی۔ میں نے شام تک کے پیسے لیے ہیں، بے ایمانی کیوں کروں“۔
اور نوبت بجاتا یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔ بہرحال اعلان ہوتا رہا اور پولیس شکاری کتوں کی طرح قاضی صاحب کی تلاش میں سرگرداں رہی۔
ادھر قاضی صاحب ہر دو تین گھنٹہ بعد اپنا ٹھکانہ بدل دیتے۔ شام کو وہ چٹا کٹڑہ (سفید کٹڑہ) میں شیخ ابراہیم سبزی اور پھل فروش کی دکان کے اوپر پھلوں کے خالی کریٹوں اور ٹوکریوں کے ڈھیر میں چھپے بیٹھے تھے۔ (شیخ ابراہیم صاحب جھنگ میں مقیم ہیں اور بحمد اللہ بقید حیات ہیں) قاضی صاحب کے ساتھ حکیم عبد الجبار صاحب کے رشتہ کے بھائی فیروز الدین تھے۔ ان کا گزشتہ ہفتہ انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت امیر شریعت سے بڑی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ مجلس احرار اسلام کے شیدائی تھے۔
رات گیارہ بجے اطلاع ملی کہ یہ جگہ بھی غیر محفوظ ہو گئی ہے۔ چنانچہ قاضی صاحب کو وہاں سے بھی نکالا گیا اور سفید لمبا برقعہ اوڑھا کر زنانہ سینڈل پہنا دیا۔ ساتھ میں دھان پان سے ایک مولوی صاحب جو معمر بھی تھے، دوپلی ٹوپی شیروانی میں ملبوس، تنگ پاجامہ، ایک چھوٹا سا ٹرنک ہاتھ میں لیے آگے آگے اور قاضی صاحب زنانہ لباس میں پیچھے پیچھے۔ ابھی ”بازار ورق کٹاں“ (ورق سازاں) کی طرف مڑے ہی تھے کہ پولیس کی کئی لاریاں آگئیں اور پولیس پورے بازار میں انیٹشن ہو گئی اور قاضی صاحب اسی ہیئت کذائی میں چلتے گئے۔ بازار ورق کٹاں سے بتی ہٹہ میں پہنچ گئے۔ آگے بازار صابونیاں میں پھر پولیس سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ اصل میں کسی نے مخبری کی تھی کہ گورو بازار کے اندر درشنی ڈیوڑھی میں ایک
چھوٹی سی مسجد تھی، جس کا امام احراری تھا، قاضی صاحب اس مسجد میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ یہ تمام علاقہ ہندوؤں کا تھا۔ خال خال مسلمانوں کی دکانیں تھیں۔ اس لیے پولیس کو یقین آگیا کہ چھپنے کے لیے معقول ٹھکانہ ہے۔ اب اتفاق کہئے کہ قاضی صاحب خود ہی اس راستے پر ہولئے۔ یہ راستہ اس لیے اختیار کیا گیا تھا کہ رات کو بازار بند ہونے کی وجہ سے آمدورفت کم ہو جاتی اور سارا علاقہ ہندوؤں کا تھا۔ کوئی شبہ نہ کرتا۔ بہرحال اب تو پھنس گئے! جانا مسجد خیرالدین میں ہی تھا۔
وہاں انتظام ہو چکا تھا۔ راستہ متعین تھا۔ پولیس نے پورا بازار گھیر رکھا تھا۔ لیکن ٹارگٹ تو مسجد ہی تھا۔ بس مولوی صاحب کو سمجھ آگئی۔ تھانے دار ہی سے جاکر پوچھنے لگے ”اماں تھانیدار صاحب! یہاں کوئی ٹانگہ وغیرہ اسٹیشن کے لیے مل جائے گا“ اور اس کا جواب سننے سے پہلے قاضی صاحب سے مخاطب ہوئے ”اری بیگم جلدی چلو گاڑی چھوٹ جائے گی۔ ایک تو تم عورتوں کے ساتھ سفر پر جانا ایک مصیبت سے کم نہیں۔ ارے ہاں تھانیدار صاحب کوئی ٹانگہ مل جائے گا“۔
اس نے کہا بڑے میاں ادھر کرموں ڈیوڑھی میں ٹانگہ مل جائے گا بے فکر رہیں۔ اچھا میاں اللہ آپ کا بھلا کرے۔ اری بیگم تم پھر پیچھے رہ گئیں‘ جلدی چلو۔
یوں چلتے چلاتے کٹڑہ جیمل سنگھ سے ہوتے ہوئے چوک فرید اور پیلا ہسپتال کے قریب سے ہو کر ہال بازار کے قریب ایک گلی میں ایک پریس تھا‘ اس میں داخل ہو گئے۔
یہ انتظامات پہلے کیے جاچکے تھے۔ پریس کے قیام سے قبل یہ جگہ پلاٹ تھی اور مسجد کا ایک چھوٹا دروازہ اس طرف بھی کھلتا تھا‘ جو اب بند رکھا جاتا تھا۔ اس طرف کوئی آمدورفت بھی نہ تھی۔ اس لیے کسی کا دھیان اس طرف نہ تھا۔
طالب علموں کے لیے اس طرف غسل خانے بنادیے گئے تھے اور رہائشی حجرے بھی ادھر ہی تھے۔ اس دروازے سے قاضی صاحب اندر داخل ہوئے اور کمبل اوڑھ کر لیٹ گئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔
صبح فجر کے بعد شہر میں پھر اعلان شروع ہو گیا کہ ”حضرت قاضی صاحب شہر میں تشریف لا چکے ہیں اور مسجد خیر الدین میں جمعہ کی نماز سے پہلے خطاب فرمائیں گے“۔
دو چار جگہ اعلان کرنے والوں کی پولیس نے پٹائی بھی کی۔ جہاں جہاں شبہ ہو سکتا تھا، پولیس چھاپے مار رہی تھی۔ کئی کارکنوں کو کوتوالی میں بٹھائے رکھا۔ خانہ تلاشیاں بھی ہوئیں۔ پنجاب کے تمام معروف شہروں کا دورہ قاضی صاحب کر چکے تھے۔ نصف درجن کے قریب وارنٹ گرفتاری ان کے تعاقب میں تھے۔ امرتسر ان کی آخری رزمگاہ تھا۔ ہر جگہ یہی ہوتا رہا کہ قاضی صاحب بگولے کی طرح آتے، طوفان کی طرح چھا جاتے اور چھلاوے کی طرح نکل جاتے۔ پولیس ہاتھ ملتے رہ جاتی۔
امرتسر میں بھی پولیس جھک مار رہی تھی۔ سی۔ آئی۔ ڈی والوں کو جھاڑیں پڑ رہی تھیں۔
احرار کارکنوں اور پولیس میں آنکھ مچولی ہو رہی تھی۔ سکندر حیات نے انا کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ پنجاب پولیس کے لیے شرم کا مقام تھا۔ آئی جی سب ماتحتوں پر برس رہے تھے کہ چوبیس گھنٹوں سے اعلان ہو رہا ہے کہ قاضی صاحب شہر میں موجود ہیں لیکن ٹریس نہیں ہو رہے۔ آخر انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟
جیسے جیسے نماز کا وقت قریب ہو رہا تھا، پولیس کی سرگرمیاں بڑھ رہی تھیں۔ کارکن مار کھا رہے تھے لیکن بتاتے کیا؟ جن دو چار کارکنوں کو اصل بات کا پتہ تھا، وہ شہر سے غائب تھے۔
سر بسجدہ مسیحا کہ میری بات رہے!
کسی بھی طرح مخبری ہو جاتی تو کیے کرائے پر پانی پھر جاتا۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہیں۔ بس اسی کی حکمت سے اسباب بنتے چلے گئے۔
نماز فجر کے وقت سے ہی پولیس نے مسجد کا صدر دروازہ گھیر رکھا تھا۔ ایک ایک آدمی کی شناخت ہو رہی تھی۔ چھت پر الگ پہرہ تھا۔ قریب کے گھروں پر بھی پولیس موجود تھی۔
ہال بازار دروازہ سے لے کر گول ہٹی تک اور ارد گرد کی تمام گلیوں کی ناکہ بندی ہو چکی تھی۔ نمازیوں کا اتنا اژدھام تھا کہ پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ مسجد کا صحن اور چھت بھر گئی تو
بازار میں صفیں لگ گئیں۔ مسجد کے صدر دروازے پر ڈی ایس پی اور اعلیٰ افسر موجود تھے۔ گرفتاری کے تمام انتظامات کر لیے گئے تھے۔ لٹھ بند دستہ تیار تھا تا آنکہ اذان کی آواز گونجی لوگ نماز کے لیے تیار ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد سپیکر پر آواز آئی ”حضرات قاضی صاحب اور آپ کے درمیان حائل نہیں ہونا چاہتا۔ آئیے قاضی صاحب خطاب شروع کیجئے“۔
قاضی صاحب منبر کے قریب ہی کمبل اوڑھے بیٹھے تھے۔ اٹھ کر مائیک پر آگئے۔
خطبہ مسنونہ کے بعد قاضی صاحب نے تقریر کا آغاز اس شعر سے کیا:
مزہ تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی
ادھر قاضی صاحب نے شعر پڑھا، ادھر ڈی آئی جی نے بے اختیار سی آئی ڈی انسپکٹر کے منہ پر چانٹا رسید کر دیا۔ قاضی صاحب نے آدھ پون گھنٹہ تقریر کی!
انگریز حکومت مردہ باد، سر سکندر حیات مردہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔ نماز کا وقت ہوا تو قاضی صاحب نے اعلان کیا حضرات باقی باتیں نماز کے بعد ہوں گی، تشریف رکھیں۔ نماز کے بعد جب تقریر کے لیے قاضی صاحب نے ابتدائی کلمات ہی ادا کیے تھے کہ پولیس جو پہلے ہی بھری بیٹھی تھی، بلا جواز اور بغیر وارننگ کے لاٹھی چارج کر دیا تاکہ لوگ بھاگ جائیں اور گرفتاری میں رکاوٹ نہ ہو۔
عجیب افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ پولیس سے لاٹھیاں چھین کر مقابلہ پر اتر آئے۔ ممکن ہے بہت نقصان ہوتا، گولی چلنے کی نوبت آجاتی۔ قاضی صاحب نے للکارتے ہوئے پولیس کو وارننگ دی ”او بزدلو کیوں نہتے عوام کو مارتے ہو۔ میں باہر آ رہا ہوں۔ چاہوں تو یہاں بھی گرفتاری نہ دوں۔ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ تجربہ آپ کر ہی چکے ہیں لیکن میرے پروگرام میں ہے کہ مجھے امرتسر میں گرفتاری دینا ہے اور میں باہر آ رہا ہوں۔ چنانچہ قاضی صاحب ملتے ملاتے مصافحہ کرتے ہوئے مسجد سے باہر تشریف لائے۔ لوگوں نے قاضی صاحب کو پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا۔ ہجوم چونکہ بپھر چکا تھا۔
گورنمنٹ برطانیہ اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی ہو رہی تھی!
ایس پی نے موٹر سائیکل جس کے ساتھ ایک نشستی سائیڈ کار لگی ہوئی تھی مسجد کی سیڑھیوں کے ساتھ لگا دی اور قاضی صاحب کو اس میں بیٹھنے کے لیے کہا۔ لوگوں نے موٹر سائیکل کو راستہ دینے سے انکار کر دیا اور دور تک لمبے لمبے لیٹ گئے۔ ایس پی اپنی بے بسی پر سٹ پٹا گیا اور قاضی صاحب سے ملتجی ہوا کہ آپ ان لوگوں کو سمجھائیں۔ ہماری ڈیوٹی ہے، ہم مجبور ہیں۔ چنانچہ قاضی صاحب نے دس پندرہ منٹ اور خطاب کیا اور کہا کہ ”یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم آزادی کے لیے جدوجہد کریں، سو ہم کر رہے ہیں۔ اس میں جیل جانے کا بھی مرحلہ آتا ہے۔ جس کو ہمیں خندہ پیشانی سے قبول کرنا چاہیے۔ آپ کی محبت آپ کی ہمدردی‘ آپ کا قربانی کا جذبہ اور انگریز سے بیزاری سب قابل قدر ہیں۔ انگریز سے گلو خلاصی کے لیے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا بھی ہماری جدوجہد کا حصہ ہیں۔ آپ اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔ شکریہ!
پھر ملیں گے اگر خدا لایا!
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ جلد ٥، شمارہ ١٠، ص ٤٤ تا ٤٧)
شورش کاشمیریؒ کا باطل شکن اعلان
خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس سے جنون کی حد تک والہانہ عشق تھا۔ عقیدہ ختم نبوت اُن کے رگ و ریشے میں لہو کی طرح دوڑتا تھا۔ اپنے پیر و مرشد سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی وفات کے بعد ملتان میں منعقد ہونے والے عظیم تعزیتی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے منکرین ختم نبوت کو واشگاف الفاظ میں خبردار کیا تھا کہ ”وہ امیر شریعت کی وفات پر خوشیاں نہ منائیں“۔ میں آج شاہ جیؒ کی روح سے یہ عہد کرتا ہوں کہ ناموس ختم نبوت کے تحفظ سے متعلق ان کے چھوڑے ہوئے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے زندگی کی آخری سانس تک برسرپیکار رہوں گا“۔
(ہفت روزہ ”چٹان“)
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
(مولف)
شورش کاشمیری کے حضور حبیب جالب کا کلام
شاعر انقلاب حبیب جالب نے اس عظیم الشان انسان کو خراج عقیدت ان اشعار میں پیش کیا:
پیدا کہاں آفاق میں تجھ سے جری انساں
لکھی ہوئی تاریخ میں ہے تیری کہانی
انگریز کے زنداں میں کٹی تیری جوانی
انگریز کی اولاد سے بھی ہار نہ مانی
قائم رہی تازیست تیری شعلہ بیانی
مرتے ہیں کہاں مر کے بھی تجھ جیسے قلندر
تو آج بھی زندہ ہے محمدؐ کے ثنا گر
(ہفت روزہ ”چٹان“ جلد ٢٧‘ شمارہ ٤٤‘ ص ١٥)
یہ قربانیاں
اس طرح مجلس عمل کے رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد پورے ملک میں سب سے پہلے آپ کی گرفتاری وقوع پذیر ہوئی۔ گرفتاری کے بعد پولیس نے جس اذیتناک کمینگی کا مظاہرہ کیا‘ وہ انتہائی قابل نفرین تھا۔ آپ کو ایک ایسی کوٹھڑی میں رکھا گیا‘ جہاں گدھوں‘
گھوڑوں اور کتوں کی غلاظت کے انبار لگے ہوئے تھے ۔ کئی دن اس جاں گداز تکلیف سے دو چار رکھنے کے بعد جیل بھیج دیا ۔ بعد ازاں گرفتاریوں کا سیل بیکراں شروع ہوا جس نے قصر اقتدار کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ۔ چار چھ ماہ بعد تمام اسیران تحریک ختم نبوت کی رہائی کے باوجود حکمران ٹولہ آپ کی رہائی کو برداشت نہ کر سکا اور تحریک کے جن مقتدر رہنماؤں پر ناموس ختم نبوت کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہونے کے الزام میں مقدمات بغاوت قائم کیے گئے تھے، آپ بھی انہی کے زمرہ میں شامل تھے ۔
(سوانح حیات مولانا غلام اللہ خان، ص٢٧٢-٢٧٣، مصنفہ محمد عبدالمعبود)
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
(مولف)
اور لاجواب کر دیا
جن دنوں تحریک پورے عروج پر تھی اور جوش و خروش کے ساتھ منزل مراد کی طرف رواں دواں تھی تو وزیر اعظم بھٹو نے شیخ القرآن سے ایک ملاقات کے دوران درشت لہجہ میں کہا تھا:
”مولانا آپ کا یہ دارالعلوم ہے یا تحریکوں کا ہیڈ کوارٹر“۔
شیخ نے برجستہ جواب دیا:
”وزیر اعظم صاحب میرے مدرسہ کا نام ہے دارالعلوم تعلیم القرآن اور قرآن کی تعلیم یہ ہے ما کان محمدا ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ وخاتم النبیین“۔
(”سوانح حیات مولانا غلام اللہ خان“ ص٢٨٨، مصنفہ محمد عبدالمعبود)
دل کی آواز کو مدھم نہ کرو دیوانو
(مؤلف)
قول حق
بعض ٹوڈیان کرام حکومت کے پٹھو مولوی کہتے ہیں کہ مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ بڑی زیادتی ہے اور وہ حضرت عمرؓ کے اس واقعہ سے استدلال کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی کتا بھی پیاسا مر گیا تو اس کی باز پرس بھی مجھ سے ہوگی۔ میں کہتا ہوں کتے کے ساتھ ہمدردی ضرور ہونی چاہیے لیکن کسی مرزائی دجال کے ساتھ ہرگز ہمدردی نہ کی جائے۔ کیونکہ قادیانی دجال کتے سے بھی برے ہیں۔ کتا قرآن پر حملہ نہیں کرتا‘ کتا رسولؐ خدا کی عصمت پر حملہ نہیں کرتا‘ کتا عیسیٰ علیہ السلام پر حملہ نہیں کرتا لیکن قادیانی دجال قرآن پر‘ دین مصطفیٰ ﷺ اور انبیاء کرام پر حملے کرتے ہیں۔
(”سوانح حیات مولانا غلام اللہ خان‘ ص ٢٨٩‘ مصنفہ محمد عبدالمعبود)
ملحدوں کی کیا مروت کیجئے
(مؤلف)
جرات اظہار
میں برملا کہتا ہوں کہ جلوس ہر قیمت پر نکالا جائے گا خواہ ہمیں گرفتار کرلو۔ ہماری جان جاتی ہے تب بھی جان کا نذرانہ پیش کر کے ختم نبوت کا جلوس نکالیں گے۔ ہمیں گولی کھانی پڑی تو کھائیں گے۔ ہم ختم نبوت کے لیے اپنے بچوں کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہیں مگر جلوس کا پروگرام ملتوی نہیں ہوگا۔ میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر مجھے گرفتار کرلیا گیا تو میں اپنی جگہ مولانا قاری سعید الرحمن مہتمم جامعہ اسلامیہ کو مجلس عمل کا صدر مقرر کرتا ہوں۔ اسی طرح اگر انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا تو ان کی جگہ دوسرے علماء جلوس کی قیادت
کریں گے۔ جلوس نکالنے کا فیصلہ مجلس عمل نے کیا ہے۔ اس لیے نہ ہم جلوس کا راستہ تبدیل کریں گے اور نہ اس کا پروگرام ملتوی کریں گے۔
("سوانح حیات مولانا غلام اللہ خان ، ص ٢٩٠-٢٩١ ، مصنفہ محمد عبدالمعبود)
کیوں دب کے رہیں ہم بھی ہمارا بھی خدا ہے
(مولف)
ایک مشق
”ہم نے پنجاب میں بھی یہ تحریک چلائی ہے کہ ہر ایک آدمی کی زبان پر ہو ”مرزائی کافر“۔ دکانداروں سے کہتا ہوں جو بھی گاہک سودا لینے آئے ، اسے دو چار آنے سودا سستا دیں اور ساتھ یہ بھی کہیں کہ یہ عقیدہ کی بات ہے کہ قادیانی کافر ہیں۔ آپ لوگ جب اپنے گھروں میں جائیں تو بچوں اور عورتوں سے کہیں قادیانی کافر ہیں۔ نوجوان اسکولوں اور کالجوں میں جائیں تو راستہ میں ایک دوسرے سے کہتے جائیں ، قادیانی کافر ہیں۔ جب کلاس میں جائیں تو ماسٹر صاحب سے کہیں ، ماسٹر جی ، قادیانی کافر ہیں۔ جہاں چند مسلمان مل بیٹھیں تو آپس میں کہیں قادیانی کافر ہیں۔ پروفیسروں اور پرنسپلوں کو کہو ، قادیانی کافر ہیں۔ اگر اس طرح دکانوں ، بازاروں ، اسکولوں ، کالجوں ، دفتروں اور گھروں میں یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو حکومت کو بھی معلوم ہو جائے گا کہ اس آواز کو مٹانا ہمارے بس کا روگ نہیں“۔
("سوانح حیات مولانا غلام اللہ خان ، ص ٢٩١ ، مصنفہ محمد عبدالمعبود)
بدل دیں گے نظام زندگی ہم دیکھتے رہنا
(مولف)
بھٹو کے قتل کی مرزائی سازش
ایک مرتبہ مرزائیوں نے وزیر اعظم بھٹو کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی سازش تیار کی جو قبل از وقت بے نقاب ہو گئی۔ اس پر شیخ القرآن نے اپنا رد عمل اس طرح پیش کیا تھا:
”تم نے یہ خیال کیا کہ بھٹو کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کرلیں گے۔ سن لو پاکستان پر قبضہ کرنے کا تمہارا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ ہم تمہارے خون سے پاکستان کو لالہ زار بنا دیں گے۔ نہ تمہارا ناصر دجال بچے گا اور نہ کوئی اور بچ سکے گا۔ بھٹو کو قتل کرنا تو درکنار‘ پاکستان کو مرزائیت کی ریاست بنانا تو درکنار‘ تمہیں ماں نے جنا ہی نہیں کہ تم سامنے بھی آسکو۔ پاکستان پر قبضہ کرنے کی سازشیں کرنے والو! ہم پاکستان کو تمہارا قبرستان بنا کر چھوڑیں گے۔ قبضہ کرنے کے بچو‘ تم نے ابھی تک سمجھا نہیں ہے۔ میں نے جنرل عبدالحمید کا بیان بھی پڑھا کہ ”میں ذاتی طور پر مرزائی ہوں“ اس وقت تو اس کی حقیقت معلوم نہ ہوسکی مگر معلوم ہوا کہ اسے بلا جواز ترقی دے کر اعلیٰ منصب پر کسی سازش کے تحت فائز کیا گیا تھا۔ اب تو بھٹو صاحب کو بھی پتہ چل گیا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ مرزائیوں کی وفاداریوں کا علم بھٹو کو ہو گیا ہے۔ ہم تو کہتے کہتے مر گئے مگر یہ مانتا ہی نہیں تھا۔ اب جب اس کے اپنے سر پر پڑی ہے تو ہوش آگیا ہے۔ ہم تو روز اول سے کہہ رہے ہیں کہ مرزائی پاکستان کے دشمن‘ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔
(”سوانح حیات مولانا غلام اللہ خان“ ص ٢٩٢-٢٩٣‘ مصنفہ محمد عبدالمعبود)
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
قادیانی مغل خاندان سے تھا
ہماری جماعت کے ایک مخلص حبیب اللہ کلرک امرتسری گزرے ہیں جو تقسیم ملک
سے پہلے ہی فوت ہو گئے تھے۔ وہ کھانا بہت کھایا کرتے اور کہا کرتے تھے میرا ہاضمہ بھی قوی ہے اور حافظہ بھی قوی ہے لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کا ہاضمہ بھی خراب تھا اور حافظہ بھی خراب تھا۔ میرے خیال میں مرزا قادیانی دجال کو اپنی کتابوں کی اتنی عبارتیں یاد نہیں تھیں، جتنی حبیب اللہ کلرک کو یاد تھیں۔ کتابوں کے نام، صفحہ اور سطر تک یاد تھیں۔ کلرک موصوف نے ایک رسالہ لکھا تھا جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی ماں، نانی، پر نانی سے مائی حوا تک سب کے نام لکھے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے باپ، دادا، پردادا، لکڑ دادا سے حضرت آدم علیہ السلام تک سب کے نام ترتیب وار بیان کیے۔ گویا کہ اس دجال کا مکمل نسب نامہ لکھا تھا۔
سب مسلمان تعجب کرتے تھے کہ حبیب اللہ کو کیا ہو گیا ہے کہ اس دجال کا نسب نامہ لکھنے کی "سعادت" حاصل کر رہا ہے۔ میں اس زمانہ میں نیا نیا یہاں آیا تھا۔ کوہ مری میں معمولی سی خطابت تھی۔ میں نے بھی کہا کہ آپ نے اس دجال کا نسب نامہ کیوں لکھا ہے تو وہ کہنے لگے میں نے اس کے ننہالی اور ددھیالی نسب سے ثابت کیا ہے کہ یہ سب مغل خاندان سے تعلق رکھنے والے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تعلق نہیں رکھتا۔ جبکہ قرآن مجید کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے بعد آنے والے تمام انبیاء ان کی ہی نسل سے ہوں گے۔
وجعلنا فی ذریتهما النبوه
"اور ہم نے نبوت ان دونوں (نوح اور ابراہیم علیہما السلام) کی اولاد میں منحصر کردی"۔
تو میں نے ثابت کیا ہے کہ جتنے مغل ہیں، یہ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے نہیں ہیں اور جو ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے نہیں، اسے نبوت از روئے قرآن نہیں مل سکتی۔
("سوانح حیات مولانا غلام اللہ خان" ص ٢٩٤-٢٩٥، مصنفہ محمد عبدالمعبود)
اور پھر تقریر ہو گئی
جن دنوں تحریک ختم نبوت چل رہی تھی‘ مجھ پر مقدمہ قائم تھا‘ میں ہسپتال میں بیمار پڑا تھا۔ ایک دن نماز پڑھنے مسجد میں گیا تو وہی جج صاحب ملے‘ جن کے پاس میرا کیس تھا۔ میں نے پوچھا آپ کدھر؟ کہنے لگے میں تو ریٹائر ہو چکا ہوں۔ میں نے ان سے ضمانت کے متعلق پوچھا تو کہنے لگے ضمانت تو جج لے لے گا اور آپ کو بنوں جانا پڑے گا۔ میں بنوں کبھی گیا ہی نہیں تھا‘ نہ وہاں کوئی واقفیت تھی۔ بہرحال گاڑی لے کر بنوں مولانا صدر الشہید صاحب کے پاس چلا گیا۔ وہاں ایک مولوی صاحب آئے اور مجھ سے پوچھا آپ کا نام مولانا غلام اللہ خان ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ اس نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اور لاؤڈ سپیکر پر اعلان کر دیا کہ مولانا غلام اللہ خان صاحب تشریف لا چکے ہیں‘ وہ تقریر فرمائیں گے۔ میں نے کہا کچھ دیر آرام کر لوں‘ پھر تقریر کروں گا۔
لیکن ان کے اعلان کرنے کی وجہ سے سی۔ آئی۔ ڈی اور پولیس کو فوراً اطلاع ہو گئی۔ میں تو وہاں ضمانت کرانے گیا تھا‘ گرفتاری دینے کے ارادہ سے تو گیا نہیں تھا‘ میں لیٹا ہوا تھا کہ پولیس کی بھاری نفری آ پہنچی اور میرے کمرے کا محاصرہ کر لیا اور ڈی۔ ایس۔ پی نے میرے پاؤں کا انگوٹھا پکڑ کر ہلایا۔ میں چادر اوڑھے ہوئے تھا‘ اسے دیکھ کر پھر چادر اوڑھ لی۔ وہ کہنے لگا۔ مولانا! میں ڈی۔ ایس۔ پی سٹی ہوں۔ میں ڈپٹی کمشنر کے حکم سے آیا ہوں‘ پولیس میرے ساتھ ہے اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں اسی وقت آپ کو بنوں شہر کی حدود سے باہر چھوڑ آؤں۔
میں نے کہا‘ میں بڑا تھکا ہوا ہوں۔ لمبا سفر کر کے آیا ہوں‘ تھوڑی دیر مجھے آرام کرنے دیں۔ میں نے ابھی اتنی ہی بات کہی تھی کہ پچیس تیس پٹھان آ پہنچے۔ میں چاہتا تھا کہ پولیس کے ساتھ میرا ٹکراؤ نہ ہو بلکہ پٹھانوں سے ٹکر ہو جائے۔ پٹھانوں نے پولیس کو دیکھتے ہی یہ نعرہ لگانا شروع کر دیا ۔ ”یہودی مرزائی بھائی بھائی“ اور پولیس کو کہا کہ مولوی صاحب ہر حال میں یہاں تقریر کریں گے۔ میں نے کہا پولیس کہتی ہے کہ دفعہ ١٤٤ کے تحت آپ یہاں ٹھہر بھی نہیں سکتے اور پٹھان کہتے ہیں کہ دفعہ ١٤٤ کے تحت مولوی صاحب تقریر کریں
گے ۔
بات جس قدر بڑھتی گئی‘ مجمع زیادہ ہو تا گیا۔ چار پانچ سو آدمی جمع ہو گئے۔ آخر ڈی۔ ایس۔ پی نے مجبور ہو کر ڈی۔ سی کو فون کیا کہ مجمع بڑھتا جا رہا ہے اور لوگ اس پر مصر ہیں کہ مولوی صاحب تقریر ہر حال میں کریں گے۔ اب آپ بتائیں کیا کیا جائے۔ ڈی۔ سی نے کہا پھر جلدی جلدی تقریر کروا لو اور شہر سے باہر پہنچا دو۔
چنانچہ ڈی۔ ایس۔ پی کہنے لگے ”مولانا! لوگوں کا اصرار ہے اس لیے آپ کچھ تقریر کر لیں۔ انہیں پانچ نمازوں اور روزوں کے مسائل بتائیں۔“
میں نے کہا یہ مسلمان ہیں اور پانچ ہی نمازیں پڑھتے ہیں‘ چھ نمازیں تو کوئی نہیں پڑھتا اور روزے بھی رمضان المبارک کے رکھتے ہیں۔ میں تو تقریر ختم نبوت کے موضوع پر کروں گا اور مرزائیوں کے خلاف کروں گا۔“ مجھے بتایا گیا تھا کہ ڈی۔سی مرزائی ہے۔
ڈی۔ ایس۔ پی نے اسی طرح جاکر ڈی۔سی کو کہہ دیا کہ وہ کہتا ہے ”میں تقریر مرزائیوں کے خلاف کروں گا اور مجھے معلوم ہے کہ ڈی۔سی مرزائی ہے۔“ ڈی۔سی نے کہا اچھا اب تقریر جو چاہے کرلے‘ مگر تقریر کے بعد فوراً اسے وہاں سے نکال دو۔
بہر حال میں نے پشتو میں تقریر کی اور مرزائیوں کے خلاف تقریر کی۔ بعد میں پولیس کی دو کاریں آگئیں۔ ان کے در میان میری کار تھی اور مجھے میانوالی کی حدود میں پہنچا کر وہ واپس چلے گئے۔
(”سوانح حیات مولانا غلام اللہ خان“ ص ٢٩٥ تا ٢٩٧‘ مصنفہ محمد عبدالمعبود)
کب وقت کے پاؤں میں زنجیر آئی
(مولف)
نکتہ آفرینی
سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قبر پر اللہ تعالیٰ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ ایک
وقت دنیا میں ان کی آواز گونج رہی تھی۔ وہ فرمایا کرتے تھے چار لا بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک لا قرآن کے لیے۔ ایک لا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے لیے۔ ایک لا کعبتہ اللہ کے لیے اور ایک لا امت کے لیے اور میں ان میں ایک اور لا کا اضافہ کرتا ہوں جو بنیاد ہے ان سب ”لاؤں“ کی لا الہ الا اللہ یعنی الا اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے اب دیکھیے:
- ١- لا کتاب بعد القرآن
”قرآن کے بعد کوئی آسمانی کتاب نہیں“۔
- ٢- انا خاتم النبین لا نبی بعدی ۔
”میں سب نبیوں میں آخر آنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا کسی کو نبوت نہیں ملے گی ۔
- ٣- لا قبلتہ بعد بیت الحرام
”بیت اللہ کے بعد قبلہ کوئی نہیں“۔
- ٤- لا امتہ بعد کم
”تمہارے بعد امت بھی کوئی نہیں“۔
اب قرآن کا انداز دیکھیں۔ قرآن کے لیے فرمایا:
- ٥ - شہر رمضان الذی انزل فیہ القران ہدی
للناس۔
پیغمبر کے لیے فرمایا:
وما ارسلنک الا کافتہ للناس ۔
قرآن بھی للناس پیغمبر کی نبوت بھی للناس
کعبتہ اللہ کے متعلق فرمایا:
ان اول بیت وضع للناس
امت کے لیے فرمایا:
کنتم خیر امتہ اخرجت للناس
قبلہ بھی آخری‘ امت بھی آخری‘ کتاب بھی آخری اور پیغمبر بھی آخری۔ یہ بات
بھی سمجھ لیں کہ جس طرح قرآن بروزی نہیں ہوتا‘ قبلہ بروزی نہیں‘ امت بروزی کوئی نہیں تو پیغمبر بھی بروزی کوئی نہیں۔ ”ہن آیا جے گھسیٹی دا پتر‘ بروز بروز کردا‘ بھیڑی شکل‘ کانا‘ بد کردار‘ بداخلاق‘ پرلے درجے دا بد معاش“ میں کہتا ہوں کہ تم بروز ہو‘ لیکن انگریز سور دا بروز‘ دنیا جہاں کے عیبوں کا مرکب‘ انگریز ملعون کا بروز ہے۔
(”سوانح حیات مولانا غلام اللہ خان“ ص ٤٠٠-٤٠١، مصنفہ محمد عبدالمعبود)
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی کہانی
مولانا تاج محمودؒ کی زبانی
پاکستان میں خواجہ ناظم الدین کا دور اقتدار تھا۔ دستور پاکستان کی تدوین زیر بحث تھی۔ حکمران اپنی شخصی حکومتوں کی عمریں لمبی کرنے کے لیے ملک کو دستور دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے۔ بالاخر خواجہ ناظم الدین کے زمانے میں دستور کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی رپورٹ (بی۔ پی۔ سی رپورٹ) شائع ہوئی۔ اس رپورٹ میں ملک کے لیے جداگانہ طریقہ انتخاب تجویز کیا گیا تھا۔ اقلیتوں کی نشستیں الگ مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اقلیتوں کی تعداد اور ان کے ناموں کا نقشہ بھی اس رپورٹ میں شائع کیا گیا۔ دکھ کی بات یہ تھی کہ قادیانیوں کو مسلمانوں میں شمار کیا گیا تھا۔ حالانکہ پہلے سے ہی مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے بلکہ ان کو علیحدہ غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا جائے۔
اس رپورٹ کے آنے کے کچھ دنوں بعد دسمبر ١٩٥٢ء میں چنیوٹ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس تھی۔ انہی دنوں مرزائی جماعت کا بھی ربوہ میں سالانہ جلسہ جسے وہ ظلی حج سمجھتے ہیں انعقاد پذیر تھا‘ ان دنوں مرزائی جماعت کا سربراہ مرزا بشیر الدین محمود تھا جس نے پہلے اعلان کر رکھا تھا کہ ”١٩٥٢ء کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ایسے حالات پیدا کر دیے جائیں کہ احمدیت کے تمام دشمن ہمارے قدموں میں آگریں۔“
٢٦‘ ٢٧‘ ٢٨ دسمبر کو چنیوٹ کی ختم نبوت کانفرنس ہے۔ ٥٢ء کے گزرنے میں تین دن باقی ہیں مرزا بشیر الدین کا ”اعلان“ ناکام ہوگیا ہے۔ مرزائیت کے احتساب کا شکنجہ مزید کس دیا گیا ہے۔ مرزا بشیر الدین کے اعلان کا جواب دیتے ہوئے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے پرجوش الہامی تقریر کرتے ہوئے فرمایا ”کہ اے
مرزا محمود ١٩٥٢ء تیرا تھا اور اب ١٩٥٣ء میرا ہو گا۔" اس سے قبل مرزائیوں کی جارحانہ ارتدادی سرگرمیوں کے باعث پورے ملک کے مسلمانوں میں شدید اشتعال تھا۔ پوری مسلمان قوم مرزائیت کی جارحیت پر فکر مند تھی اسی ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے موقع پر ایک بند کمرے میں جماعت کے رہنماؤں کا ایک خصوصی غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا جس میں مجھے بھی شامل ہونے کی سعادت حاصل ہے۔ اجلاس میں طے پایا کہ مرزائیوں کی جارحیت دماغ کی خرابی کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ جس کا سدباب کرنا ضروری ہے۔ بی۔ پی۔ سی رپورٹ کی رو سے خدا اور رسولؐ کے نام پر حاصل کردہ ملک کے دستور میں مرزائیوں کو مسلمان شمار کیا جا رہا ہے۔ اس لیے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔ اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کی جائے لیکن حکومت کے رویے سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ وہ راہ راست پر نہیں آئے گی۔ لہٰذا تمام مکاتب فکر کے علماء کو اس مہم میں شریک کیا جائے۔ موسم سرما ختم ہوتے ہی ان کا اجلاس بلایا جائے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر سوچ و بچار کر کے فیصلے کیے جائیں۔
میں ان دنوں میں ایم سی ہائی سکول لائلپور میں صدر مدرس تھا۔ چنیوٹ کی اس میٹنگ میں مجھے شیخ حسام الدین اور مولانا محمد علی جالندھری نے حکم دیا کہ تم یا تو سکول کی ملازمت سے استعفیٰ دے دو یا پھر یہ کہ لمبے عرصہ کی چھٹی لے لو تاکہ قادیانیت کے اس فتنہ سے امت کو بچانے کے لیے نئے مرحلہ میں آزادی کے ساتھ کام کر سکو۔ چنانچہ میں نے چھٹی لے لی۔
پورے ملک میں تمام رفقاء نے تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ سے رابطہ قائم کر کے ان کو قادیانیت کے مسئلہ کی سنگینی کی طرف توجہ اور ذمہ داری کا احساس دلایا۔ جنوری ١٩٥٣ء کے آخر میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا ایک اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔ جس میں فیصلہ ہوا کہ خواجہ ناظم الدین پر اتمام حجت کے لیے ایک ماہ کا نوٹس دیا جائے۔ اگلے روز ایک وفد سرسینہ شریف (مشرقی پاکستان) کی قیادت میں خواجہ ناظم الدین سے ملا۔
- ١۔ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- ٢۔ سر ظفر اللہ خان مرتد اعظم کو وزارت خارجہ سے ہٹایا جائے۔
- ٣- ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
- ٤- مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے بر طرف کیا جائے۔
یہ مطالبات پیش کیے۔ خواجہ صاحب نے وفد سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ظفر اللہ خان کو ہٹانے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے امریکہ پاکستان سے ناراض ہو جائے گا اور ہر قسم کی امداد بند کر دی جائے گی۔
وفد نے ایک تحریری نوٹس ان کو پیش کیا جس میں درج تھا کہ اگر حکومت نے ایک ماہ کے اندر ہمارے یہ خالصتہ دینی مطالبات تسلیم نہ کیے تو اسلامیان پاکستان مرزائی جارحیت کے خلاف راست اقدام کرنے پر مجبور ہوں گے اور مجلس عمل کی قیادت میں تحریک چلائی جائے گی۔
اواخر فروری ١٩٥٣ء میں دوبارہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا کراچی میں اجلاس منعقد ہوا۔ چونکہ حکومت نے مطالبات تسلیم نہیں کیے تھے۔ اس لیے تحریک راست اقدام چلانے کے فیصلہ پر عمل در آمد کا اعلان کیا گیا۔
تفصیل یہ طے کی گئی کہ پانچ پانچ رضا کاروں کے دو دستے یومیہ مظاہرہ کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔ پانچ رضا کاروں کا ایک دستہ خواجہ ناظم الدین کی کوٹھی پر جا کر مظاہرہ کرے اور دوسرے پانچ رضا کاروں کا دستہ ملک غلام محمد گورنر جنرل کی کوٹھی پر جا کر مظاہرہ کرے۔ دو دستوں کے جانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ صرف خواجہ ناظم الدین کی کوٹھی پر جا کر مظاہرہ کرنے سے تحریک کے دشمن یہ تاثر نہ دے سکیں کہ یہ تحریک مغربی پاکستان کے لوگ بنگالی وزیر اعظم کے خلاف چل رہے ہیں۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ جلوس پر رونق اور پر ہجوم راستوں اور سڑکوں سے نہ جائیں تاکہ ٹریفک میں رکاوٹ کا مسئلہ پیدا نہ ہو اور حکومت کو شر انگیزی کرنے کا موقع میسر نہ آئے۔
٢٧ فروری کی رات کو مجلس عمل کے تمام رہنما جن میں مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا ابو الحسنات محمد احمد قادریؒ، مولانا عبد الحامد بدایونیؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، سید مظفر علی شمسیؒ اور دوسرے بیسیوں رہنما شامل تھے کراچی میں گرفتار کر لیے گئے۔
٢٨ فروری کو پنجاب اور ملک کے دوسرے حصوں میں سینکڑوں رہنماؤں اور
کارکنوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔
٢٨ فروری کو لائل پور میں دوسرے شہروں کی طرح مجلس عمل کی اپیل پر ان رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف تاریخ ساز ہڑتال کی گئی۔ دھوبی گھاٹ میں لاکھوں انسانوں کا اجتماع منعقد ہوا۔ حضرت مولانا مفتی محمد یونس مراد آبادی، مولانا حکیم حافظ عبدالمجید، صاحبزادہ ظہور الحق، سید صاحبزادہ افتخار الحسن، مولانا عبید اللہ اور بندہ تاج محمود و دیگر حضرات کے بیانات ہوئے لوگوں نے ہر قسم کی قربانیاں دینے کا عہد کیا۔ اگلے روز تحریک شروع ہو گئی۔ لائلپور مجلس عمل کا صدر بندہ تاج محمود کو بنایا گیا۔ قادیانیت کے خلاف مسلمانوں کا جوش و جذبہ قابل دید تھا۔ چہار طرف سے تحریک کے الاؤ کو روشن کرنے کے لیے مسلمان اپنی جانوں کا نذرانہ تک دینے کو تیار تھے حکومت نے دھوبی گھاٹ پر قبضہ کر لیا ہم نے تحریک کا مرکز لائلپور کی مرکزی جامع مسجد کچہری بازار کو بنا لیا۔ شہر اور ضلع بھر کے دیہات سے ہزاروں رضا کار جمع ہونا شروع ہو گئے مسجد اور اس کی بالائی منزل رضاکاروں سے بھرنے لگی۔ صبح نو بجے اور تین بجے مسجد میں جلسے ہوتے سو رضا کاروں کا دستہ صبح اور سو رضا کاروں کا دستہ سہ پہر اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کرتا، جلوس اس شان سے نکلتا کہ اس پر فرشتے بھی رشک کرتے ہوں گے۔ محمد عربی ﷺ کی ذات اقدس کے حوالہ سے چلنے والی تحریک میں رضاکاروں، کارکنوں، رہنماؤں غرض یہ کہ ہر عام و خاص کا جذبہ عشق ختم نبوت قابل دید تھا ہر آدمی بازی لے جانے اور شفاعت محمدیؐ کا پروانہ حاصل کرنے کے لیے بیتاب تھا۔
کچھ دنوں تک تو حکومت کارکنوں کو گرفتار کرتی رہی لیکن بعد میں چند رضاکاروں کو گرفتار کر لیا جاتا اور اکثر رضا کاروں کو بسوں میں بٹھا کر تیس ٣٠ چالیس ٤٠ میل دور لے جا کر جنگلوں میں چھوڑ دیا جاتا۔
اہم واقعہ
میرا دفتر جامع مسجد کی اوپر کی منزل پر قائم تھا۔ ہر روز رات کو دس گیارہ بجے کے قریب کرفیو کے اوقات میں نکلتا ساتھ میرے عزیز دوست فیروز اقبال کا گھر ہے۔ وہاں
جاتا بچیاں کھانا لا کر دیتیں‘ دو چار لقمے زہر مار کرتا یہاں تک تو میرے معتمد خاص کو علم ہوتا تھا کہ مولانا اس وقت کہاں ہیں۔ یہاں سے رات کے اندھیرے اور کرفیو کی حالت میں اکیلے چھپتے چھپاتے اپنی بہن کے گھر واقع کچی آبادی مال گودام کے دوسری طرف پہنچتا۔ یہ سفر میرے لیے انتہائی کٹھن ہوتا ذرا سی آہٹ کا جواب گولی ہو سکتا تھا۔ ایک اور دوست کے ہاں جانا ہوتا یا پھر اپنی مسجد ریلوے کالونی میں آکر تھوڑی دیر آرام کرتا۔ صبح فجر کی آذان سے پہلے کچہری بازار کی مسجد میں واپس آجاتا۔ رضا کاروں کے ساتھ نماز پڑھتا۔ ہر روز میرا یہی معمول تھا۔
میرے دو شاگرد ایک ڈپٹی کمشنر کا سٹینو گرافر تھا اور دوسرا پولیس کے دفتر میں ملازم تھا۔ ان دونوں کا ذہن قلب و جگر تحریک مقدس ختم نبوت کے ساتھ تھا۔ وہ ہر روز عشاء کی نماز کے بعد آتے اور خفیہ حکومتی ارادوں پروگراموں کی رپورٹ سے مجھے مطلع کرتے ان میں سے ایک آج کل فیصل آباد کے معروف ایڈووکیٹ ہیں۔ دوسرے اللہ رب العزت کو پیارے ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کریں کہ وہ تحریک کے لیے بہت مخلص تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ آج آپ کے جلوس کے ساتھ ایک کی بجائے دو مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ میں حیران ہوا کہ ہمارا تو روز کا معمول ہے اور حکومت کا بھی کہ ایک مجسٹریٹ ہوتا ہے‘ آخر یہ دو مجسٹریٹوں کی کیوں ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ دوسرا یہ کہ हमारा جلوس تو دن کو ہوتا ہے اس وقت تمام رضا کار سوئے ہوتے ہیں رات کو جلوس اور مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی یہ کیا ماجرا ہے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ جلوس کون نکالے گا‘ کہاں سے آئے گا۔ میں نے اپنے معتمد خاص سے کہا کہ آج رات مسجد کے تمام دروازے اچھی طرح بند کر کے تالے لگا دیں اور نصیحت کر دیں کہ رات کو کوئی رضا کار ہرگز باہر نہ جائے۔ میں یہ ہدایت دے کر باہر آگیا حسب معمول اقبال فیروز کے گھر گیا‘ کھانا سامنے رکھا گیا کہ جلوس کے نعروں کی آواز سنائی دی۔ میں متوجہ ہوا‘ ہجوم مرزائیت مردہ باد اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوا مسجد کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مسجد کے قریب آکر جلوس نے مسجد کے دروازوں کو بند پایا۔ ارد گرد کا چکر لگایا جب چکر لگا کر چترال ہاؤس کے قریب آیا تو یک دم فائر کی آواز سنائی دی۔ میں حیران تھا کہ یہ لوگ کون ہیں‘ کہاں سے آئے ہیں گولی کس نے چلائی؟
گولی کس کو لگی ہے؟ کون زخمی ہوا؟ کون مرا؟ کہیں اس میں میرے رضا کار تو شریک نہیں۔ میں واپس مسجد آیا رضا کاروں کے بارے میں دریافت کیا معلوم ہوا کہ ہمارا کوئی رضا کار اس میں شریک نہ تھا۔ مگر باہر گولی لگنے سے چار پانچ آدمی جاں بحق اور بہت سارے زخمی ہوئے۔ ہم لوگ پوچھتے کچھ پتہ نہ چلتا کافی عرصہ گزر گیا میں گرفتار ہوا قید ہوئی۔ قید کاٹ کر رہا ہو کر بھی آگیا مگر یہ راز نہ کھلا۔
یہ انکشاف اس وقت ہوا کہ وہ کون تھے؟ جنہوں نے اس رات جلوس نکالا تھا اور پولیس نے ان کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیا تھا۔
ہوا یوں کہ شہر کے ایک شخص کو قتل کے مقدمہ میں سیشن کورٹ سے سزائے موت ہوئی۔ ہائیکورٹ و سپریم کورٹ سے بھی مقدمہ خارج ہوا۔ صدر نے رحم کی اپیل مسترد کر دی۔ سزائے موت پر عملدرآمد کا وقت قریب آیا تو سپرنٹنڈنٹ جیل نے آخری خواہش پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ میں ایک راز سے پردہ اٹھانا چاہتا ہوں کہ میں اس مقدمہ قتل میں بے قصور ہوں مگر یہ سزائے موت جو مجھے دی جارہی ہے یہ فلاں رات تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں جلوس نکال کر چار پانچ نوجوانوں کو موت کی آغوش میں دھکیلنے کی پاداش میں پا رہا ہوں، اس نے انکشاف کیا کہ پولیس کی سازش سے یہ جلوس نکالا گیا۔ پولیس کی پلاننگ یہ تھی کہ میں (سزائے موت پانے والا) محلہ کے چند بچوں اور نوجوانوں کو اکٹھا کر کے جلوس نکالوں۔ نعرے لگاتے ہوئے مسجد میں آئیں، وہاں طے شدہ پروگرام کے مطابق جلوس مسجد کے گرد چکر لگائے نعرے بازی کرے اس اثنا میں مجلس کے رضا کار بھی جلوس میں شامل ہو جائیں گے۔ پولیس ان میں سے چند کو گولیوں کی بوچھاڑ سے ٹھنڈا کر دے گی۔ میں ان بچوں کو ڈگلس پورہ اور اس کے اردگرد سے مٹھائی کا لالچ دے کر لایا تھا اور جلوس کی شکل میں وہاں لا کر پولیس کے لیے تر نوالہ مہیا کیا، ان کا یہ قتل میرے ذمہ ہے میں اس قتل کی سزا پا رہا ہوں۔
یہ تھی دوسری بار گولی چلنے کی داستان۔ اس سے قبل بھی لائل پور میں گولی چلی تھی۔ میرے ایک سو کے قریب رضا کار لائلپور سے کراچی جا رہے تھے جیسے ہی ٹرین روانہ ہوئی فوراً ہی اسٹیشن کی حدود سے نکلنے سے پہلے روک لی گئی اور رضا کاروں کو منتشر ہونے کا حکم دیا گیا۔ رضا کار ڈٹ گئے۔ ان کے پاس ڈنڈے تھے اور پولیس کے
پاس گولی تھی۔ پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کی بیسیوں رضا کار شہید ہو گئے، کئی لاشیں پولیس نے موقعہ سے اٹھا کر غائب کر دیں۔ ہمارے ہاتھ پانچ لاشیں آئیں۔ جب اس اندوہناک واقعہ کی اطلاع ملی، میری کمر ٹوٹ گئی۔ میرے سامنے کربلا کی فلم چلنے لگی، غم سے نڈھال ہو گیا۔ وحشت عود کر آئی، دل آنسو بہا رہا تھا، دماغ پھٹنے کو ہو گیا۔ ضمیر بے رحم حکمرانوں کو کوس رہا تھا۔ آنکھیں پتھرا گئیں۔ اقبال کا یہ مصرعہ ڈھارس بندھا رہا تھا۔
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
لاشیں اسٹیشن سے مسجد میں لائیں گئیں۔ چار کی شناخت ہو گئی ان کے لواحقین کو اطلاع کر دی گئی، وہ آگئے۔ ایک نوجوان لڑکے کی لاش ہم سے شناخت نہ ہو سکی اور نہ ہی اس کے لواحقین کا پتہ چلا۔ شام ٦ بجے کے قریب میرے پاس ایک آدمی آیا اس نے بتایا کہ یہ لاش سمندری روڈ کی ہے آپ ہمیں لاش لے جانے کی اجازت دے دیں، میں نے اس سے پوچھا کہ بھائی تمہارا کیا رشتہ ہے۔ اس کے والدین کیوں نہیں آئے اس نے کہا کہ جی انہوں نے مجھے بھیجا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ہمارے پاس قوم کی امانتیں ہیں، میں ان کو کسی اور کے حوالے نہیں کر سکتا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور چلا گیا۔
اس سے پہلے مجھے کسی شخص نے بتایا کہ یہ لاش پر اسرار ہے۔ اب میرے خدشات بڑھنے لگے کہ آخر اسکے والدین خود کیوں نہیں آئے ضرور کوئی بات ہے۔ ہم نے سب لاشوں کو غسل دیا، کفن کا انتظام کر کے شہر میں اعلان کرا دیا کہ صبح ساڑھے نو بجے دھوبی گھاٹ اقبال پارک میں نماز جنازہ پڑھائی جائے گی۔ جنازہ کی چارپائیوں کے ساتھ بڑے بڑے بانس باندھ کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آخری کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کا انتظام کیا گیا۔ جنازے اٹھا کر جلوس کی شکل میں دھوبی گھاٹ لائے گئے۔ جنازے بالکل تیار تھے، صفیں درست کی جا رہی تھیں کہ وہی آدمی پھر آیا اور کہنے لگا کہ اس کے والدین آئے ہیں ذرا منہ دکھا دو۔ دو عورتیں اور ایک مرد ساتھ تھا۔ آخری زیارت کے لیے میں نے اس کے منہ سے کفن ہٹا دیا۔ مرد اس کا باپ تھا وہ لاش کے قدموں کی طرف کھڑا تھا۔ ایک عورت جو ماں تھی اس نے لڑکے کا منہ چوما اور روتی
روتی بے ہوش ہو گئی۔ دوسری عورت اس کی بیوی تھی۔ چند ماہ پہلے شادی ہوئی تھی وہ اس کے قدموں کی طرف گئی جھک کر اس کے پاؤں چومے اور پھر بے ہوش ہو گئی۔ ہوش آنے پر دو تین منٹ کے بعد ان کو ہٹا دیا گیا۔ وہ چلے گئے جنازہ پڑھایا گیا۔ جنازہ پڑھنے کے لیے سارا شہر امڈ آیا تھا۔ ارد گرد کے دیہاتوں کے لوگ بھی بہت بڑی تعداد میں جنازہ میں شریک ہوئے۔ اتنا بڑا ہجوم لائل پور کی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا یہاں بڑے بڑے لیڈر آئے ان کے جلوس میں نے بچشم خود دیکھے مگر اتنا رش اس سے پہلے اور اس کے بعد آج تک نہیں دیکھا۔ گراؤنڈ پوری بھر چکی تھی‘ باہر کی تمام سڑکیں بھر چکی ہیں۔ گورنمنٹ کالج کی طرف جھنگ روڈ کی صفیں تھیں۔ ادھر بھوانہ بازار سامنے نالہ کی چھت پر اور اس کے پیچھے گلیوں تک اجتماع تھا۔ بھلا اندازہ کیجئے کہ جن شہیدوں کو رخصت کرنے والے اتنے لوگ ہوں گے ان کی آگے خدا تعالیٰ کے دربار میں کیسی پذیرائی ہو گی۔ جب میں جیل کاٹ کر سوا سال بعد رہا ہو کر آیا تو اکثر شام بٹ گڈز والے قاضی جلال الدین کے ہاں بیٹھتا تھا۔ ان کے ہاں ایک دن شام کو ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی تحریک میں جاں بحق ہونے والا ایک لڑکا قادیانی تھا میں نے کہا کہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ اس نے بتایا کہ ایک دفعہ میں ملتان کسی فیکٹری میں مالکوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کی تحریک کی باتیں شروع ہو گئیں۔ شہیدوں کا ذکر آیا تو ایک بوڑھا جو پاس کھڑا تھا وہ دھڑام سے گرا اور بیہوش ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو مالکوں کے اصرار پر اس نے بتایا کہ اس تحریک میں اس کا بیٹا بھی مارا گیا تھا‘ بس وہ لڑکوں کے ساتھ چلا گیا تھا بعد میں اس کے والدین کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ قادیانی ہیں۔ اندر کے حالات اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ وہ لڑکا قادیانی تھا یا نہیں بہرحال میں نے آج تک اس کو قادیانی نہ لکھا نہ کہا (ممکن ہے کہ قادیانی ہو اور تحریک کو تشدد کے راستہ پر ڈال کر سبوتاژ کرنا اس کا مشن ہو‘ اور یہ کہ قادیانی خاندان کے باوجود وہ خود مسلمان ہو اور جذبہ عشق رسالت مآب ﷺ کے پیش نظر جلوس میں شریک ہوا ہو تاہم اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں) عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ یہ لڑکا گاڑی کے انجن پر کھڑا تھا اس نے گریبان کھول کر اور سینہ تان کر پولیس والے سے گرجدار آواز میں مخاطب ہو کر کہا تھا کہ یہاں گولی مارو‘ پولیس والے ظالم نے وہیں
داغ دی۔ بس وہ ایک ہی جست میں نیچے گرا اور روح پرواز کر گئی۔ میں کچھ کہہ نہیں سکتا ممکن ہے کہ قادیانی نہ ہو اس نے جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر اسلام کی سربلندی کے لیے گولی کھائی ہو یہ سربستہ راز جاننے والی قوت اللہ تعالیٰ رکھتے ہیں اس کا عقدہ روز محشر کھلے گا۔
میری گرفتاری
میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لائل پور کا صدر تھا۔ حضرت مولانا مفتی محمد یونس، مولانا حکیم حافظ عبدالمجید نابینا، صاحبزادہ ظہور الحق، مولانا محمد صدیق، صاحبزادہ سید افتخار الحسن، مولانا محمد یعقوب نورانی، مولانا عبدالرحیم اشرف اور دیگر حضرات مجلس عمل کی عاملہ کے رکن تھے۔ مجلس عاملہ کے پہلے ہی اجلاس میں فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ باقی سب حضرات رضا کاروں کے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کریں گے۔ لیکن میں (مولانا تاج محمود) تحریک جاری اور منظم رکھنے کے لیے گرفتاری نہ دوں۔ مجلس عمل کا دفتر جامع مسجد کی بالائی منزل پر تھا۔ کم و بیش پانچ ہزار رضا کار گرفتاری دینے کے لیے اپنی باری کے انتظار میں مسجد میں جمع رہتے تھے، صبح و شام دو سو رضا کار یومیہ گرفتاری دے رہے تھے جامع مسجد میں جلسہ ہوتا تھا۔ ہر طرف ختم نبوت کی بہاریں ہی بہاریں تھیں۔ یہ سلسلہ پندرہ بیس دن جاری رہا، پندرہویں یا سولہویں دن یہاں کے ڈپٹی کمشنر سبط حسن کے حکم سے مسجد کی بجلی و پانی منقطع کر دیا گیا۔
دوسرے روز جامع مسجد میں جلسہ ہوا۔ میں نے پانی و بجلی کے منقطع کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ”سبط حسن تم سید ہو اور اس فرقہ سے تعلق رکھتے ہو جو ١٣٥٠ سال سے کربلا میں پانی کی بندش اور حضرت حسین ؓ کی شہادت کا ہائے حسین ؓ ہائے حسین ؓ کہتے ہوئے ماتم کرتا ہے کم از کم تیرے لیے یہ مناسب نہ تھا اگر تیری ماں کو مسجد کے پانی و بجلی منقطع کرنے کے تیرے اس کارنامے کا علم ہوتا تو وہ تیرا نام سبط حسن کی بجائے ابن یزید رکھتی۔“
اس تقریر کی رپورٹ پہنچنے پر میجر سبط حسن ڈی سی لائلپور میرا ذاتی و جانی دشمن
ہو گیا اور اس نے حکم دے دیا کہ مجھے ہر طور گرفتار کر لیا جائے۔ پہلے نرمی اور حکمت عملی سے پھانسنا چاہا۔ رانا صاحب ایس پی جو تحریک سے پہلے کے میرے جاننے والے تھے، انہوں نے مجھے اپنے دفتر بلوایا کہ آپ سے ایک ضروری امر پر مشورہ کرنا ہے۔ میں صورت حال کو بھانپ گیا اور میں نے تعلقات کے باوجود ان کے دفتر میں جانے کو پسند نہ کیا۔ پھر میاں مظفر اے۔ ڈی۔ ایم جو میرے اور مولانا عبید اللہ احرار کے مشترکہ دوست تھے وہ تشریف لائے اور مجھے کچہری بازار کے ایک ہوٹل میں بلوایا کہ مجھے آپ سے ضروری باتیں کرنی ہیں میں ان کے دھوکہ میں بھی نہ آیا اور ملنے سے انکار کر دیا اسی وقت اطلاع ملی کہ اے۔ ایس۔ پی نے ہمارے گرفتار شدہ رضا کاروں کو جیل کے دروازے پر ڈنڈوں اور بیدوں سے پٹوایا ہے۔ ہم نے اگلے روز پھر جلسہ کیا اور ڈی۔ سی، ایس پی سے مطالبہ کیا کہ اے۔ ایس۔ پی کو یہاں سے چلتا کیا جائے، ڈیوٹی سے ہٹایا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا اور یہ قتل ہو گیا تو ہماری ذمہ داری نہ ہوگی۔ اسی رات کو ہی پولیس نے چنیوٹ بازار میں گولی چلا کر کئی مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا تھا۔ جب میں ان کے چکر میں نہ آیا تو انہوں نے مجھے گرفتار کرنے کے لیے مسجد میں بوٹوں سمیت پولیس کو داخل ہونے کا حکم دینے کا فیصلہ کیا۔ ١٧، ١٨، ١٩ مارچ پورے تین روز بغیر کسی وقفہ کے شہر میں کرفیو نافذ رہا۔ پورے شہر کی ناکہ بندی کر دی گئی۔ کرفیو کے دوران مجھے ہر قیمت پر گرفتار کرنے کا فیصلہ ہوا۔ چنانچہ میں ٢٠ مارچ کو رات ایک بجے چک نمبر ٦٧ نزد گلبرگ سے گرفتار ہوا۔ راجہ نادر خان میری گرفتاری کے وقت پولیس کے ہمراہ شامل تھے۔
مقدمہ کی روئیداد
٢٠ مارچ ٥٣ء کو گرفتاری عمل میں آئی۔ جون ١٩٥٤ء میں تقریباً سوا سال بعد رہا ہوا۔ گرفتار کرنے کے بعد پہلی رات مجھے لائلپور کی حوالات میں رکھا گیا۔ دوسری رات ٣ بجے صبح لائلپور سے لاہور شاہی قلعہ میں منتقل کر دیا گیا۔ یہاں پر تفتیش شروع کی گئی۔ تفتیش کا مقصد یہ تھا کہ حکومت یہ جاننا چاہتی تھی کہ اس تحریک کے مقاصد کیا ہیں۔ اس
تحریک میں کسی بیرونی ملک یا طاقت کا ہاتھ ہے۔ یہ تحریک ملک کے خلاف قومی سازش ہے یا وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ قادیانیوں کی وہ کون سی چیزیں ہیں جن کا اتنا شدید رد عمل ہوا۔ ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کیا۔ تمام جیل خانے بھر گئے بڑی بڑی جیلوں میں کیمپ لگانے پڑے مختلف لوگوں کو مختلف المیعاد سزائیں دی گئیں۔ سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند رکھا گیا۔ ہزاروں مسلمان شہید ہوئے، آخر ایسا کیوں ہوا؟
مجھے پہلی دفعہ قلعہ جانے کا اتفاق ہوا۔ میں ان کی تفتیش کی تکنیک سے ناواقف تھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ ہمیں تاریک تہہ خانوں میں رکھیں گے۔ ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑیں گے۔ جب بھی قلعہ کا ذکر آتا ہے اس وقت ظلم و تشدد کی داستانیں ذہن میں ابھرتی ہیں۔ اس کے برعکس صاف ستھری بارکوں میں رکھا گیا۔ سلاخ دار دروازے تھے۔ پانی و بجلی موسم کے مطابق، کمبل وغیرہ ہر چیز مہیا تھی۔ ایک ماہ میں میری معلومات کے مطابق تحریک کے کارکنوں پر تشدد تو درکنار ایک انگلی تک نہ اٹھائی گئی، بلکہ ذہنی کرب اور فکری کوفت و پریشانی میں ان کو اس طرح مبتلا کیا گیا کہ اس ذہنی تکلیف کے سامنے بیسیوں قسم کے تشدد کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔
مثلاً مجھے پہلے دن بارک نمبر ١٠ میں فردوس شاہ ڈی ایس پی کے قاتل اشرف کاکا کے ساتھ رکھا گیا۔ اشرف کاکا کے متعلق مشہور تھا کہ اس نے فردوس شاہ ڈی ایس پی کو قتل کیا ہے۔ پولیس نے اسے گرفتار کیا اس سے فردوس شاہ کے ریوالور کی برآمدگی ڈالی گئی۔ چونکہ یہ نوجوان کئی دنوں سے قلعہ کی اس کوٹھڑی میں تنہا بند تھا۔ دماغی لحاظ سے ماؤف سا دکھائی دیتا تھا۔ مجھے یہ بتایا گیا کہ یہ قتل کا مجرم ہے اور لائلپور میں جو لوگ پولیس کی گولی سے جاں بحق ہوئے ان کے قتل کے جرم کی پاداش میں آپ پر بھی ٣٠٢ کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص نو گرفتار قفس ہو اسے ذہنی طور پر اذیت پہنچانے کے لیے یہ بات کافی تھی۔
- ١- اب میری تفتیش شروع ہوئی۔ مجھ پر الزام لگایا کہ کسی بیرونی ملک کا روپیہ
تحریک کے لیے آتا رہا ہے اور وہ آپ کو بھی ملتا رہا ہے۔
- ٢- آپ کی تحریک کے لیڈر دولتانہ صاحب سے ملے ہوئے ہیں۔ دولتانہ صاحب
کا کوئی آدمی آپ کو لائلپور ہدایت دیتا رہا۔
- ٣۔ افغانستان کے کوئی مشکوک لوگ آکر آپ سے ملے تھے ان سے آپ کی کیا
گفتگو ہوئی۔ انہوں نے آپ کو کیا دیا تھا۔؟
- ٤۔ آپ مسجد کی بالائی منزل پر جن کمروں میں رہتے تھے وہاں کافی اسلحہ بھی پہنچا
ہوا تھا۔ یہ اسلحہ آپ کو کس نے پہنچایا تھا؟
- ٥۔ گوجرانوالہ کے پہلوان رضا کاروں کا ایک جتھہ آپ سے اس مسجد میں ملا
تھا۔ یہ جتھہ ربوہ میں مرزائیوں کے سربراہ کو قتل کرنا چاہتا تھا آپ نے ان کو کیا ہدایات دیں؟
- ٦۔ جو لوگ پولیس کی گولیوں سے مارے گئے وہ آپ کی ہدایت پر پولیس کے
مقابلے میں نکلتے تھے۔
- ٧۔ آپ نے ٹرینیں رکوائی تھیں، لائن اکھڑوائی تھی اور بعض جانداروں کو
نذر آتش کرایا تھا۔
- ٨۔ اس کی کیا وجہ تھی کہ مرکزی مجلس عمل نے رضا کاروں کے دستے لاہور بھیجنے
کی آپ کو ہدایت کی تھی لیکن آپ نے لائلپور کے سربراہ کی حیثیت سے ان کا رخ کراچی کی طرف کیوں موڑ دیا تھا؟
غرض یہ کہ اس طرح کے بے سروپا جھوٹ و افترا پر مبنی الزامات کی ایک طویل فہرست مجھے پڑھ کر سنا دی گئی۔ جن کو سن کر میرا ابتدائی تاثر یہ تھا کہ ہم جناب رسول مقبول ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے جانوں پر کھیل رہے ہیں اور یہ ہم پر کس طرح کے جھوٹے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ صبح کے وقت یہ کارروائی ہوئی۔ انسپکٹر پولیس جو میری تفتیش پر مامور تھا جس کا نام دماغ سے نکل گیا ہے اس نے یہ الزامات عائد کر کے مجھے کہا کہ آپ ان سوالات کے جواب تیار رکھیں شام پانچ بجے ملاقات ہوگی۔
یہ کہہ کر وہ چلا گیا پورے آٹھ روز تک نہ آیا میں مسلسل ان الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد ثابت کرنے اور اصل صورت حال بتانے کی تیاری کرتا لیکن رات کو نیند نہ آتی۔ غنودگی کبھی طاری ہو جاتی یاد الہی کی جو کیفیت اور تجلیات و برکات ایام اسیری
میں محسوس کی پھر وہ عمر بھر نصیب نہ ہو سکی۔ جب آٹھویں دن صبح کو اٹھا تو میرا دل و دماغ نئی سلیٹ کی طرح صاف تھا میں نے فیصلہ کیا کہ میں کچھ نہ سوچوں گا۔ موقع پر جو سوالات کریں گے صحیح صحیح جوابات دے دوں گا۔
ابھی یہ فیصلہ ہی کیا تھا کہ انسپکٹر صاحب آ دھمکے اور معذرت کرنے لگے کہ میں کسی ضروری کام سے باہر چلا گیا تھا۔ میں نے دل میں سوچا کہ میں تمہارے ہتھکنڈوں سے ناواقف تھا اس لیے ذہنی کوفت میں رہا۔ تشریف لائیے 'پوچھئے میں بتائے دیتا ہوں۔ مجھے حوالات سے نکال کر بارک میں لے گئے۔ ہتھکڑی بھی نہیں لگائی پھل کے خالی کریٹ کو اوندھا کر کے مجھے اس پر بٹھا دیا گیا۔ ان سوالوں کا جواب صحیح صحیح دینا ہے ' کوئی غلط جواب نہ دیں اور یہ یاد رکھیں کہ یہ شاہی قلعہ ہے۔ یہاں سے آپ کی چیخ و پکار بھی باہر نہیں جا سکتی اور نہ ہی آپ کی مدد کو کوئی بلند و بالا دیواریں پھلانگ کر اندر آ سکتا ہے۔ یہ اس کے تمہیدی کلمات تھے۔
اب سوالات شروع ہوئے ' میں مختصر جواب دیتا رہا۔ جب مالیات کے متعلق سوال کیا کہ کس کس شخص نے کیا کیا مدد کی ' کل کتنا روپیہ تھا ' کتنا کہاں صرف ہوا ' باقی کہاں ہے۔ مجھے لائلپور میں معلوم ہو گیا تھا کہ جن مخیر حضرات کی تحریک میں مالی معاونت کا حکومت کو علم ہو جاتا ہے اس کی شامت آجاتی ہے۔ اس لیے میں نے جان خطرے میں ڈال کر کہا کہ یہ شعبہ میرے پاس نہیں ہے۔ میری رہائش شہر سے ڈیڑھ میل باہر ہے میں شہر کے لوگوں کو زیادہ جانتا بھی نہیں ' اس نقطے پر مجھے بڑی کوفت ہوئی بڑی اذیت کا سامنا کرنا پڑا مگر میں نے ثابت قدمی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ غرض یہ کہ پوری ہسٹری شیٹ تیار کی صبح کے چھ بجے سے رات کے گیارہ بجے تک مختلف وقفوں سے یہ عمل جاری رہا۔ گیارہ بجے رات تھک چور ہو کر حوالات میں آکر نماز پڑھی ' نیند نے آ دبوچا ' صبح فجر کی نماز سے فارغ ہوا ہی تھا کہ انسپکٹر صاحب آ دھمکے اور بڑی معصومیت اور مصنوعی طور پر مایوسی کا اظہار کرتے اور اپنا چہرہ بناتے ہوئے کہا کہ میری اور آپ کی کل کی ساری محنت ضائع ہو گئی۔ وہ دستاویزات میرے سائیکل کے کیرئیر سے گھر جاتے ہوئے راستہ میں گر گئیں آئیے اور کل والا بیان پھر لکھوائیے تاکہ میں اوپر افسران کو بھیج سکوں۔ میں پھر کل والی بارک میں پہنچایا گیا۔ وہیں دوبارہ پھر سارا
بیان لکھوایا۔ بعض مقامات ایسے تھے جہاں میں نے معلومات بہم پہنچاتے ہوئے احتیاط سے کام لیا تھا۔ آج بعض اور مقامات پر احتیاط کی گئی۔ کل والی احتیاط کا خیال دماغ میں نہ رہا۔ رات گیارہ بجے فراغت ہوئی اور مجھے میری حوالات میں پہنچا دیا گیا۔ ضروریات و فرائض سے فارغ ہوا گہری نیند کل کی طرح سو گیا۔ تیسرے روز ابھی نماز صبح سے فارغ ہوا ہی تھا کہ پھر انسپکٹر صاحب آ دھمکے اور کہا کہ ستم ہو گیا وہ آپ کا پرسوں کا بیان میرے میز کی دراز میں رہ گیا تھا۔ وہ بھی مل گیا لیکن اب جو میں نے آپ کے دونوں بیانوں کو پڑھا ہے تو ان میں تضاد و اختلاف ہے چنانچہ ان تضادات کو رفع کریں۔ مثلاً میں نے پہلے بیان میں کہا کہ میں نے شاہ جی سے متاثر ہو کر ٣٢ء میں احرار میں شمولیت اختیار کی۔ دوسرے بیان میں میں نے ٤٧‘ ٤٨ء بتایا اب اس نے کہا کہ ان میں سے کون سی بات صحیح ہے۔ میں نے کہا کہ رسمی طور پر ٣٢ء شامل تھا باضابطہ طور پر ٤٧‘ ٤٨ء میں شامل ہوا۔ غرض یہ کہ مسلسل اس قسم کی پورا دن کھینچا تانی جاری رہی۔
چوتھے روز اصغر خاں ڈی۔ آئی جی قلعہ نے وہ زبان استعمال کی کہ دلخراش خرافات کا ریکارڈ توڑ دیا۔ مسلسل ہتھکڑی لگا کر صبح ٦ بجے سے رات ١١ بجے تک کھڑا کیا گیا کمر کا درد ہمیشہ کا ساتھی بن گیا۔ قلعہ کے دن بڑے سخت تھے۔ اشرف کاکا کو وعدہ معاف گواہ بنا کر مولانا عبدالستار خان نیازی کو فردوس شاہ کے قتل میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی‘ مگر وہ انکاری رہا۔ اشرف کاکا بڑا بہادر انسان تھا‘ تین سال جیل کاٹ کر ملتان سے رہا ہو کر میرے پاس آیا بعد میں پھر ملاقات نہ ہو سکی نہ معلوم کہ اب وہ زندہ ہے یا انتقال کر گیا۔ جس حالت میں ہے اللہ تعالیٰ اسے سلامت رکھے۔
شاہی قلعہ کے بعد دس دن سی آئی اے حوالات میں گزرے یہ دن میرے لیے پہلے سے زیادہ اذیت ناک اور تکلیف دہ تھے کیونکہ حوالات سماج دشمن عناصر سے بھری پڑی تھی۔ پھر چند دن کے لیے لاہور سنٹرل جیل میں بھیج دیا گیا۔ یہاں سے بالاخر کیمبل پور (اٹک) جیل بھیج دیا گیا۔ بقیہ ایام اسیری یہاں گزارے قلعہ اور اٹک جیل میں مزید سیاسی رہنماؤں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی‘ مولانا عبدالستار خان نیازی‘ مولانا عبدالواحد گوجرانوالہ چوہدری ثناء اللہ بھٹہ‘ حکیم حافظ عبدالمجید نابینا‘ آغا شورش کاشمیری کا ساتھ رہا۔
میرے پیچھے میرے گھرانے پر جو صعوبتیں آئیں وہ بڑی دلخراش کہانی ہے۔ بقول غالب
جس کی بہار یہ ہو اس کی خزاں نہ پوچھ
گھر کا سارا سامان حکومت ضبط کر کے لی گئی۔ چند چیزیں مال خانہ میں جمع کرا کر باقی سامان پولیس نے مال غنیمت سمجھ کر آپس میں تقسیم کر لیا ریلوے والوں نے تنخواہ بند کر دی۔ شہر والے سمجھتے رہے کہ مولانا ریلوے کے بادشاہ ہیں اور ریلوے والے سمجھتے رہے کہ مولانا شہر کے بادشاہ ہیں۔ بچوں کو خاصی پریشانی رہی بہر حال جیسے کیسے وقت گزر گیا۔
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
رہائی کے بعد ریلوے والے گزشتہ ایام کی پوری تنخواہ لائے میں نے یہ کہہ کر واپس کر دی کہ میری عدم موجودگی میں میرے بچوں کو رقم کی زیادہ ضرورت تھی اس وقت تو آپ نے دی نہ اب تو میں آگیا ہوں۔ میری عدم موجودگی میں جس ذات باری تعالیٰ نے انتظام کیا وہ اب میری موجودگی میں بھی اس کا اہتمام کرے گی۔ وہ دن جائے آج کا دن آئے پھر کبھی ریلوے والوں سے مسجد کی خطابت کی تنخواہ نہ لی۔
---- O -----
تحریک ختم نبوت کے بارے میں حکومت کا رویہ
حکومت انفرادی ملاقاتوں میں تسلیم کرتی تھی کہ ہمارا موقف درست ہے لیکن پبلک کے سامنے انکار کرتی تھی۔ اصل میں بدقسمتی یہ تھی کہ مرکز میں خواجہ ناظم الدین برسراقتدار تھے، قادیانیت کا مرکز پنجاب میں تھا جہاں دولتانہ برسراقتدار تھے۔ ملک کا دستور زیر ترتیب تھا۔ دستور میں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ صوبہ سرحد، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور مشرقی بنگال اس لحاظ سے بنگال کا حصہ پانچویں بھائی کا بنتا تھا، اور مغربی
پاکستان سے مشرقی پاکستان کی آبادی کچھ زیادہ تھی۔ اس لیے دوسرا موقف یہ تھا کہ ملک کے سیاسی و معاشی آدھے حقوق مغربی پاکستان کے ہیں اور آدھے مشرقی پاکستان کے یہ تمام بحثیں بنگالی و پنجابی رہنماؤں کے درمیان تلخیاں پیدا کر رہی تھیں خواجہ ناظم الدین کو بنگال کا نمائندہ سمجھا جا رہا تھا اور دولتانہ کو پنجابیوں کا لیڈر گردانا جا رہا تھا۔ یہ بحثیں ابھی جاری تھیں کہ تحریک ختم نبوت ملک میں زور پکڑ گئی۔ مرزا بشیر الدین ان دنوں سخت اشتعال انگیز بیان دے رہا تھا۔ اس کا یہ اعلان بھی شامل تھا کہ ٥٢ء گزرنے سے پہلے ایسے حالات پیدا کر دیے جائیں کہ دشمن ہمارے پاؤں پر گرنے پر مجبور ہو جائے اور پھر یہ بیان کہ وہ وقت آنے والا ہے جب اقتدار ہمارے پاس ہو گا اور ہم دشمنوں کے ساتھ چوڑھے چماروں کا سا سلوک کریں گے۔
مرزا محمود کے ان بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور ملک میں تحریک بھڑک اٹھی جب گرفتاریاں شروع ہوئیں تو مرکزی حکومت کے رہنماؤں خصوصاً بنگالی قائدین نے اس تحریک کو دولتانہ کی تحریک کا نام دیا کہ وہ خواجہ ناظم الدین اور مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے علماء کو اکسا کر کراچی بھیج رہے ہیں‘ اور پورے ملک کے امن کو تہہ و بالا کیا ہوا ہے‘ حالانکہ خود دولتانہ تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں کے مقابلہ میں تحریک کی مخالفت کے لیے جگہ جگہ دورے کر رہے تھے۔ کئی جگہ ان کے جلسے بدامنی کا شکار ہو گئے۔ کئی جلسوں میں ان پر سوالات کی ایسی بوچھاڑ ہوئی کہ ان کے لیے جان چھڑانا مشکل ہو گیا وہ خود مشکل میں پھنسے ہوئے تھے۔ پنجاب مسلم لیگ تحریک کی دشمن تھی اس لیے کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ تحریک کے معمولی رہنماؤں کے جلسے میں لاکھوں افراد پہنچ جاتے تھے اور اس کے برعکس لیگ یا دولتانہ کا جلسہ ہوتا تو چند گنے چنے مسلم لیگی‘ ڈیوٹی والے پولیس کے ٹاؤٹ اور سادہ کپڑوں میں پولیس کے لوگ ہوتے۔ اس کیفیت سے مسلم لیگ خائف تھی کہ اگر تحریک کو کچلا نہ گیا تو آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ مجلس احرار کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا جائے گی لیکن دوسری طرف خواجہ ناظم الدین اور اس کے ساتھی پنجاب کی ساری صورت حال کی ذمہ داری مسلم لیگ پر ڈالتے رہے اور جو کچھ وہ تحریک کے خلاف کر رہے تھے‘ اس کو دولتانہ کی مکاری و عیاری سمجھتے رہے۔ یہ بات کہ ختم نبوت کی تحریک کے لیڈروں نے دولتانہ صاحب کے
اشارے پر ناظم الدین کو گرانے کے لیے یہ تحریک شروع کی تھی۔ تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے اور اس پر مزید یہ کہ ناظم الدین اور اس کی مرکزی حکومت کے علاوہ منیر انکوائری کورٹ نے بھی مرکزی حکومت کے موقف کو تسلیم کیا۔ تحریک اور تحریک کے رہنماؤں کو بدنام کرنے اور ان کی کردار کشی کرنے اور انہیں ذلیل کرنے کی پوری کوشش کی گئی جس کا فائدہ مرزائیوں یعنی فریقین کے دشمنوں کو پہنچا۔ منیر نے اپنی رپورٹ میں علماء کی کردار کشی کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ دنیا کہ سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان کے علماء اسلام کی متفقہ تعریف نہیں کر سکے یہ لکھ کر دنیائے عیسائیت کے ہاتھ میں اسلام کے خلاف ایک بڑا دستاویزی ثبوت مہیا کر دیا حالانکہ یہ تحریک علماء اور مسلمانوں کے اپنے نیک جذبات اور اخلاص پر مبنی تھی اور اس کا باعث مرزا بشیر الدین کے اشتعال انگیز بیانات اور مرزائیوں کی جارحانہ ارتدادی سرگرمیاں تھیں۔
مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کی سیاست کا اس میں دخل نہ تھا۔ نہ بنگالی پنجابی کی حمایت یا مخالفت میں کچھ کہا جا رہا تھا دولتانہ کو جو وفود ملتے رہے اس میں ان کے ان الفاظ کو اس جھوٹ کے پلندے کی بنیاد بنایا گیا۔ دولتانہ کا یہ کہنا تھا کہ آپ کے چار مطالبات ہیں۔
- ١۔ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- ٢۔ ظفر اللہ خاں مرتد قادیانی کو وزارت خارجہ سے ہٹایا جائے۔
- ٣۔ مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے بر طرف کیا جائے۔
- ٤۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
جہاں تک پہلے تینوں مطالبات کا تعلق ہے وہ مرکزی اسمبلی سے متعلق ہیں جس کے ہم بھی ممبر ہیں۔ ان مطالبات کو آپ وہاں پیش کرائیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کے مطالبات کی تائید میں ووٹ دیں گے۔
البتہ آپ کا یہ مطالبہ کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے یہ پنجاب حکومت سے متعلق ہے۔ اس پر میری حکومت غور کرنے اور تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔ مجلس عمل کے وفود اور دولتانہ کی گفتگو کو سازش کا نام دیا گیا اور اس جھوٹ کی بنیاد پر تمام جھوٹ کی
عمارت کھڑی کی گئی۔
چنانچہ اس کے بعد مجلس عمل کا اجلاس کراچی میں ہوا۔ خواجہ ناظم الدین سے وفد کی ملاقات ہوئی اور ان سے صاف کہا گیا کہ ہمارے تین مطالبات کا تعلق آپ کی وزارت کابینہ اور قومی اسمبلی سے ہے، آپ ہمارے مطالبات تسلیم کریں اور قومی اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کریں۔
لطف کی بات یہ ہے کہ مجلس عمل کے وفود کئی بار خواجہ ناظم الدین سے ملتے رہے اور ملاقاتوں میں خواجہ ناظم الدین نے مطالبات تسلیم نہ کرنے کے دوسرے دلائل دیے، حالانکہ اس کے دل میں شبہ یہ تھا کہ یہ وفود دولتانہ منظم کر کے بھیج رہا ہے۔ آخری مرتبہ جب مجلس عمل کا وفد مشرقی پاکستان کے پیر سرسینہ شریف کی قیادت میں خواجہ ناظم الدین سے ملا۔ بحث مباحثہ کے بعد وفد نے ایک ماہ کا تحریری الٹی میٹم دیا اس پر ناظم الدین نے پیر سرسینہ شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”پیر صاحب یہ مطالبات ماننا میرے بس میں نہیں ہے۔ اگر میں ظفر اللہ خاں مرتد قادیانی کو وزارت سے نکال دوں تو امریکہ پاکستان کو ایک دانہ گندم کا بھی نہیں دے گا۔“ پھر اسی گفتگو کو ناظم الدین نے منیر انکوائری کمیشن میں بھی دھرایا۔ یہ جملہ منیر انکوائری کی رپورٹ میں موجود ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ خواجہ ناظم الدین، دولتانہ اور مسلم لیگی لیڈروں کے انجام کو دیکھنے کے بعد بھی کچھ پڑھے لکھے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ تحریک خواجہ ناظم الدین کو پریشان کرنے کے لیے دولتانہ کے ایماء پر چلائی گئی تھی۔ ہم اس کی تردید میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین ۔
نیک سیرت
تحریک کے زمانہ میں کوہ مری میں حکومت کا اجلاس تھا بعض بدبخت مسلم لیگی رہنما وزراء تحریک کے رہنماؤں کو قتل کرنے کے فیصلے کر رہے تھے اور رب العزت کی شان بے نیازی کہ وہاں ایک نیک سیرت کمشنر صاحب ای یو خان بھی تھے جنہوں نے اس تجویز کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اس کے نقصانات گنوا کر مسلم لیگی وزیروں کو قائل کیا
کہ اس اقدام کے بعد آپ بھی نہ بچ سکیں گے۔ اس روایت کے راوی مولانا قاضی احسان شجاع آبادیؒ تھے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو جنہوں نے تحریک کی کسی بھی درجہ میں حمایت کی جزائے خیر دیں، جو مخالف تھے ان کا کیا انجام ہوا یہ بڑی عجیب و غریب داستان ہے۔
تحریک کے مخالفوں کا انجام
اگرچہ تحریک قہراً کچل دی گئی اور حکمران بظاہر ظفریاب ہوئے لیکن لاکھوں مسلمانوں کا جیلوں میں جانا، ہزاروں مسلمانوں کا خاک و خون میں تڑپ کر شہید ہونا چھوٹے چھوٹے بچوں کے سینوں پر گولیاں کھانا اللہ تعالیٰ کے ہاں ہرگز ضائع نہیں ہو سکتا تھا، اور نہ ہی قدرت نے ان لوگوں کو معاف کیا جنہوں نے معصوم و مظلوم مسلمانوں پر ستم ڈھائے تھے۔ سردار عبدالرب نشتر مرحوم نے ایک تقریب میں آغا شورش کاشمیری مرحوم سے فرمایا۔ شورش جو لوگ خوش ہیں کہ تحریک ختم نبوت کچل دی گئی، وہ احمق ہیں۔ ہم میں سے جس شخص نے اس مقدس تحریک کی جتنی مخالفت کی تھی اتنی سزا اسے قدرت نے اس دنیا میں دے دی ہے اور ابھی عاقبت باقی ہے۔ تحریک کے سب مخالفین روح کے سرطان میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک ختم نبوت کی مخالفت کرنے والے اس کو کچلنے والے، ظلم کرنے اور بے گناہوں کا خون بہانے والوں کو قدرت نے دنیا ہی میں اس کی عبرتناک سزا دی۔
ملک غلام محمد
ملک کے اس وقت کے گورنر جنرل تھے۔ اس وقت ارباب اقتدار کے اس گروہ کے سرغنہ تھے جو تحریک کا دشمن اور مخالف تھا۔ پھر انہوں نے تحریک کے بعد اپنے رشتہ دار جسٹس منیر کو انکوائری کمیشن کا چیئرمین بنا کر وہاں علما اور اہل حق کی تذلیل کا سامان کیا۔ اس غلام محمد کو فالج ہوا۔ مفلوج حالت میں نہایت ذلت کی زندگی کا آخری حصہ گزارا۔ اس کی آخری زندگی ایک جانور سے بھی بدتر ہو گئی مرنے کے بعد لوگوں نے
اسے چوہڑوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ آج کوئی مسلمان اس کی قبر پر نہ سلام کہتا ہے اور نہ دعائے مغفرت۔
سکندر مرزا
دوسرے نمبر پر تحریک کا دشمن سکندر مرزا تھا۔ یہ تحریک کے دنوں ڈیفنس سیکرٹری تھا۔ مرزائی سیکرٹریوں سے مل کر تحریک کو تباہ کرنے کے درپے ہوا۔ حتیٰ کہ جب پنجاب حکومت لوگوں کے احتجاج اور قربانیوں سے زچ ہو گئی تو حکومت پنجاب نے ریڈیو پر اعلان کر دیا کہ لوگوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ حکومت پنجاب کے دو نمائندے مرکزی حکومت کے پاس مطالبات منوانے کے لیے جارہے ہیں۔ سکندر مرزا نے اس وقت خواجہ ناظم الدین کو مجبور کر کے اور ٹیلی فونی اجازت لے کر لاہور فوج کے حوالے کر دیا اور کرفیو لگا دیا۔ جنرل اعظم نے ظلم کی انتہا کر دی اور اس سے بھی بڑھ کر میجر ضیاء الدین قادیانی نے تو یہاں تک کیا کہ مرزائی نوجوانوں کو فوجی جیپوں میں سوار اور مسلح کر کے فوجی وردی کے ساتھ شہر میں گشت کے لیے بھیج دیا اور حکم دیا کہ جہاں کہیں مسلمانوں کا اجتماع دیکھیں اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیں۔ جیسا کہ منیر انکوائری رپورٹ میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی شہادت سے معلوم ہوتا ہے سکندر مرزا پر بھی خدا کی گرفت آئی۔ اس کا جوان بیٹا جو ائیر فورس کا آفیسر تھا جہاز تباہ ہونے سے بھسم ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد ایوب خان کمانڈر انچیف نے سکندر مرزا سے اقتدار چھین لیا اور اسے مال بردار جہاز میں سوار کر کے انتہائی ذلت کے ساتھ کوئٹہ اور وہاں سے لندن بھیج کر جلاوطن کر دیا۔ سکندر مرزا کی یا تو یہ ٹھاٹ کہ ڈیفنس سیکرٹری کے بعد گورنر جنرل بنے یا پھر یہ ذلت و بے بسی کہ لندن میں ایک معمولی ہوٹل کے معمولی ملازم کے طور پر بقیہ زندگی برتن دھو کر گزار دی‘ اسی بے کسی میں لندن میں مر گیا۔ اس کی بیوی نے امانتاً لندن میں دفن کیا پھر شہنشاہ ایران سے رابطہ کر کے اسے ایران لا کر دفن کیا۔ کیونکہ سکندر مرزا کی بیوی ناہید ایرانی تھی اس لیے ایران میں دفن کی اجازت مل گئی لیکن شہدائے ختم نبوت کے خون کا رنگ دیکھئے اور قدرت کا انتقام ملاحظہ کیجئے۔ تھوڑے دنوں بعد شہنشاہ ایران کو اپنا تخت چھوڑنا پڑا۔ وہاں پر خمینی کی حکومت آگئی اس
کے رضاکاروں نے سکندر مرزا کی قبر اکھاڑ کر میت کا تابوت باہر پھینک دیا، جسے کتے اور جنگلی جانور کھا گئے ۔ ہڈیاں وغیرہ سمندر میں ڈال دی گئیں ۔ فاعتبروا یا اولی الابصار
مسٹر دولتانہ
پنجاب کا وزیر اعلیٰ تھا اس نے بھی تحریک کو کچلنے اور بدنام کرنے میں بہت زیادہ حصہ لیا۔ قدرت کا انتقام دیکھئے پہلے وزارت گئی، پھر مسلم لیگ چھٹی گوشہ گمنامی میں چلا گیا حالانکہ پاکستان کی بانی ٹیم کا رکن تھا۔ اس کی ذلت کی انتہا یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ ٹرین سے کراچی جا رہا تھا۔ اس ٹرین میں ذوالفقار علی بھٹو بھی سفر کر رہا تھا۔ جب بھٹو صاحب کو علم ہوا کہ اس ٹرین کے کسی ڈبے میں ممتاز احمد دولتانہ بھی سوار ہیں تو کسی اسٹیشن پر بھٹو صاحب نے اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹرین کے کسی ڈبے میں ایک ”چوہا“ بھی سفر کر رہا ہے اور پھر اس سے بڑھ کر دولتانہ کی ذلت دیکھئے کہ دولتانہ نے اپنی اسی حریف ذوالفقار علی بھٹو کا ملازم بن کر انگلستان کی سفارت قبول کر لی اور بھٹو صاحب کا کورنش بجا لانے لگا۔ پھر وزارت کی طرح سفارت بھی گئی۔ اس وقت وہ زمانہ کے ہاتھوں اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے۔
خان عبدالقیوم خان
یہ سرحد کا مرد آہن تھا۔ اس نے بھی تحریک ختم نبوت کے مجاہدین پر ظلم و ستم کیا اس کی وزارت بھی چھین لی۔ مسلم لیگی ہو کر مسٹر بھٹو کے ساتھ شریک اقتدار ہوا۔ ایک میٹنگ میں بھٹو صاحب نے ایسا ذلیل کیا کہ دم بخود ہو گیا۔ دربدر کے چکر صبح و شام موقف میں تبدیلی نے اس کی عزت بھی خاک میں ملا دی۔
خواجہ ناظم الدین
طبعاً نیک اور شریف انسان تھے ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن
مرزائیت سے اتنے خائف تھے کہ ظفر اللہ خاں مرتد قادیانی کو پورے ملک کے احتجاج کے باوجود وزارت سے نکالنے پر آمادہ نہ ہوئے حالانکہ جہانگیری پارک کراچی کے مرزائیوں کے جلسہ میں جب ظفر اللہ خاں مرتد قادیانی شرکت کے لیے جانے لگا تو خواجہ صاحب نے ان کو منع کیا۔ ظفر اللہ خاں مرتد قادیانی نے کہا کہ میں وزارت چھوڑ سکتا ہوں اپنی جماعت (قادیانیوں) کا جلسہ نہیں چھوڑ سکتا۔ اس جلسہ میں بہت بڑا فساد ہوا۔ مرزائیوں کے کئی ہوٹل اور دوسرے تجارتی ادارے مشتعل جلوس نے پھونک دیے ظفر اللہ خان کی اس شرکت اور حکم نہ ماننا وزارت سے علیحدگی کا باعث قرار دیا جاسکتا تھا۔ مگر خواجہ صاحب کی شرافت یا بزدلی مانع ہوئی۔ چنانچہ خواجہ صاحب بھی ہمیشہ کے لیے اقتدار سے محروم ہو گئے اور ابھی تک قیامت کی جواب دہی اور ذمہ داری ان کے سر ہے۔
میاں انور علی
ڈی آئی جی‘ سی آئی ڈی پنجاب تھے۔ تحریک کے دنوں میں مرکزی حکومت نے ان کو کراچی طلب کیا اور تھپکی دی کہ تمہیں آئی جی بنا دیا جاتا ہے۔ تم اس تحریک کو کچلنے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہو۔ میاں انور علی نے سکندر مرزا ایسے سازشیوں کے ذریعے خواجہ ناظم الدین کو جواب دیا کہ میں صرف ایک ہفتہ میں تحریک کو کچل سکتا ہوں‘ یہ آئی جی بنا دیے گئے۔ اس نے اسلامیان لاہور اور پنجاب کے دوسرے اضلاع کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی ایک نئی داستان رقم کی۔ وقت گزر گیا خدا کی لاٹھی بے آواز ہے اس کے ساتھ اپنی گھریلو زندگی میں ایک ایسا بد ترین سانحہ پیش آیا جس سے اس کی ساری زندگی کی عزت خاک میں مل گئی۔ (اس کی ایک..... جناب..... کے صاحبزادے کے ساتھ.....) اس سانحہ سے اس کی غیرت رسوائی کے گہرے گڑھے میں دفن ہو گئی۔ وہ سانحہ چونکہ ایوب خان مرحوم کے صاحبزادوں سے متعلق تھا اس لیے اس نے اس سانحہ کی اطلاع ایوب خان کو دی اور کسی خاص غرض سے دی (کہ اب ان دونوں کو شرعی طریقہ پر منسلک کر دیا جائے) ایوب خاں مرحوم برہم ہو گئے اور اپنے
سامنے سے "گٹ آؤٹ" کہہ کر نکال دیا اور ایسے ہتک آمیز الفاظ استعمال کیے جو زیب قلم نہیں۔ (ان گدھوں کو باندھ کر رکھو کہ گدھوں کے پاس نہ جایا کریں۔) اور ساتھ ہی اس کی موقوفی کے آرڈر بھی بھیج دیے ایک ہفتہ میں تحریک کو کچلنے والا ایک لحظہ میں دنیا و آخرت کی رسوائیاں لے کر واپس آگیا۔ اس طرح خونخوار بھیڑیے کا حشر ہوا۔
جنرل اعظم
لاہور میں مارشل لاء کا انچارج بنایا گیا اس نے میجر ضیاء الدین قادیانی کو مارشل لاء کا نظم و نسق سپرد کر دیا۔ پیچھے سے سکندر مرزا تار ہلا رہے تھے اور یہ پوچھتے تھے کہ آج کتنی لاشیں اٹھائی گئی ہیں۔ قادیانی میجر نے قادیانی فرقان فورس کے قادیانیوں کو مسلح کر کے لاہور میں مجاہدین ختم نبوت کا قتل عام کرایا۔ آج یہ جنرل اعظم "پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں" کی تصویر بنا بیٹھا ہے جس مرزائیت کے تحفظ کے لیے اس نے مسلمانوں کا قتل عام کرایا وہ مرزائیت اس کے سامنے اور یہ اس کے سامنے اپنی موت کے دن گن رہے ہیں۔ ایک دو مرتبہ سیاست کو منہ مارنے کی کوشش کی ہے لیکن لاہور کے مارشل لاء کی ابدی لعنت سے اس کا سیاہ چہرہ لوگوں کو کبھی پسند نہیں آیا۔
ڈپٹی کمشنر غلام سرور
یہ سیالکوٹ میں تعینات تھے اس نے تحریک کے رضا کاروں پر بے تحاشا ظلم و ستم کیا۔ قدرت کا انتقام دیکھئے کہ یہ پاگل ہو گیا ڈپٹی کمشنر ہاؤس سے لا کر پاگل خانے میں بند کر دیا گیا۔
راجہ نادر خان
میری گرفتاری کے وقت پولیس کے ساتھ یہ صاحب بھی تھے۔ فقیر نے ان کے لیے کبھی بد دعا نہیں کی لیکن قدرت کا انتقام دیکھئے کہ کار کے ایک حادثہ میں ٹانگ ٹوٹ گئی۔ پاکستان سے لندن تک ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔ قابل رحم حالت میں انتقال
ہوا، ہو سکتا ہے کہ ان کی یہ تکلیف کسی اور آزمائش اور سلسلے کی کڑی ہو مگر اس مظلوم (مولانا تاج محمود) کا دل گرفتاری کے وقت ان کی طرف سے آزردہ ضرور ہوا تھا۔
قدرت کی قہاریت کا عجیب واقعہ
مجھے جب لائلپور سے لاہور لے جاکر قلعہ میں بند کیا گیا تو میرے پاس چوہدری بہاول بخش ڈی۔ ایس۔ پی تشریف لائے اور مجھے بتایا کہ میرا لڑکا ایم۔ سی۔ ہائی سکول میں آپ کا شاگرد رہا ہے۔ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا خدمت ہو سکتی ہے کہ وحشت نگری میں آپ نے میری خیریت دریافت کی ہے۔ اگلے روز پھر وہ تشریف لائے اور کہا مولانا انہوں نے کچھ فارم چھپوائے ہیں آپ ان پر دستخط کر دیں اور گھر جائیں۔ میں سمجھ گیا کہ چوہدری صاحب کا اشارہ معافی نامہ کے فارموں کی طرف ہے۔ میں نے کہا چودھری صاحب کہ جو لوگ میرے ہمراہ سینوں پر گولیاں کھا کر حضور علیہ السلام کے نام و ناموس پر شہید ہو گئے۔ لائلپور کی سڑکوں پر ابھی تک ان کا خون خشک نہیں ہوا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ماؤں کے بچے مروا کر خود معافی نامہ پر دستخط کر کے گھر چلا جاؤں۔ چوہدری صاحب شرمندہ ہوئے، معذرت کی اور کہا کہ اگر آپ یہ حوصلہ رکھتے ہیں تو پھر آپ کا ڈٹ جانا ہی اصولی طور پر درست ہے۔ شیخ محمد شفیع انار کلی لائلپور والے چوہدری صاحب کے گہرے دوست تھے۔ وہ ان سے ملنے کے لیے شاہی قلعہ میں آئے۔ ان دونوں کے درمیان میرا بھی ذکر آیا اور خدا جانے آپس میں کیا باتیں ہوئیں۔ شیخ محمد شفیع نے لائلپور واپس جاکر یہ مشہور کر دیا کہ مولانا تاج محمود کو شاہی قلعہ میں پولیس نے اتنا مارا ہے کہ ان کی دونوں ٹانگیں اور دونوں بازو توڑ دیے ہیں۔ یہ بات اڑتے اڑتے چک نمبر ١٣٨ جھنگ برانچ نزد چنیوٹ جہاں میرے والد صاحب مرحوم مقیم تھے، ان تک پہنچ گئی۔ ان کو یہ سن کر انتہائی صدمہ ہوا۔ میری والدہ بتاتی تھیں کہ تمہارے اباجی نے یہ دردناک خبر سن کر ٣ ماہ تک رات کو تکیہ پر سجدے کی حالت میں راتیں گزاریں۔ انہیں یہ صدمہ سیدھے سونے نہیں دیتا تھا۔ برداشت نہ تھا۔ تین ماہ بعد میرے بڑے بھائی موضع ہری
پور ہزارہ سے مجھے ملنے کے لیے حکومت کی اجازت ملنے پر آئے۔ کیمبل پور جیل میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں سی۔ آئی۔ ڈی کا انسپکٹر رپورٹنگ کے لیے حکومت کی طرف سے موجود تھا۔ میرے بڑے بھائی گفتگو کرتے ہوئے میرے دونوں بازوؤں ٹانگوں کو بڑے غور سے دیکھتے تھے۔ بار بار ان کے ایسا کرنے پر مجھے شبہ ہوا تو میں نے پوچھا کہ بھائی جان آپ بار بار غور سے میرے بازوؤں اور ٹانگوں کو کیوں دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ شاہی قلعہ میں آپ کی ٹانگ کہاں سے توڑی گئی اور بازو کہاں سے؟ میں نے کہا اللہ کا شکر ہے۔ میری دونوں ٹانگیں و بازو صحیح سالم ہیں۔ انہوں نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا کہ یہ جھوٹی خبر تھی کہ آپ کو قلعہ میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ بالکل جھوٹ ہے مگر آپ تک یہ خبر کیسے پہنچی، انہوں نے ساری حقیقت حال کہہ سنائی، جس کا مجھے بہت دکھ ہوا کہ میرے ضعیف باپ کو کس قدر شدید اذیت اور ذہنی کوفت پہنچائی گئی۔ خدا کی قدرت دیکھئے کہ میں نظر بندی کے دن پورے کر کے گھر رہا ہو کر آگیا اور اس واقعہ کا شیخ صاحب مرحوم سے تذکرہ تک نہ کیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ شیخ صاحب جیپ کے ایک حادثہ کا سرگودھا روڈ پر شکار ہوئے اور ان کے دونوں بازو اور دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں، جس کی میرے دل میں ہرگز خواہش و تمنا نہ تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجیب و غریب نظارے سامنے آتے ہیں۔
اے فرزند اسلام! دین اسلام کی حفاظت اور تبلیغ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اب کسی نئے نبی نے تو دنیا میں آنا نہیں، اس لیے یہ ذمہ داری امت محمدیہؐ کے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے کہ وہ اس کی تبلیغ و اشاعت دنیا کے کونے کونے اور گوشے گوشے میں کرے اور اسلام کو ادیان باطل پر غالب کرے۔
ذرا چشم عبرت سے سمرقند، بخارا اور تاشقند کی خونچکاں تاریخ دیکھئے کہ جب وہاں کے
مسلمانوں نے اس فریضہ عظیم کو سرانجام دینے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کیا تو روسی کمیونزم کے بلڈوزروں نے اسلامی تہذیب و ثقافت کو روند ڈالا اور اسلام کے ہاتھوں میں دیس نکالا تھما دیا۔ مسجدوں کے بلند مینارے اذانوں سے محروم ہوگئے۔ مدارس قال اللہ و قال رسول اللہ کی روح پرور صداؤں کو ترسنے لگے۔ خانقاہوں کے دروازوں پر بھاری تالے لٹکنے لگے۔ قرآن اپنے قاریوں کی آوازیں سننے کے لیے سراپا انتظار بن گیا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مقدس سرزمینیں روسی مسلمان حاجیوں کی صورتیں دیکھنے کے لیے بے قرار ہوگئیں۔ جہاں اللہ کی بڑائی بیان ہوتی تھی، وہاں اللہ کے وجود کے انکار کی روح سوز آوازیں اٹھنے لگیں۔ علماء پھانسی کے پھندوں پر جھولتے نظر آنے لگے۔ مشائخ عظام کو جیل کی کوٹھڑیوں میں اذیتیں دے دے کر موت کی نیند سلایا گیا۔ لائبریریوں کو تاخت و تاراج کردیا گیا۔ اسلامی لٹریچر نذر آتش کر دیا گیا۔ مسلمانوں کی نئی نسل کے ذہنوں کی زمین میں الحاد کی تخم ریزی کر دی گئی۔ جن فضاؤں میں اسلام کا پرچم صدیوں لہراتا رہا وہاں لینن و سٹالن کے منحوس نعرے گونجنے لگے۔ امام بخاریؒ اور امام ترمذیؒ کی سرزمین پر شیطنت نے پنجے گاڑ لیے۔ بخارا اور سمرقند کے وہ چشمے جہاں اطراف عالم سے علم کے پیاسے اپنی پیاس بجھانے کے لیے امڈ امڈ کر آیا کرتے تھے، خشک ہوگئے۔ اسلاف کے خون سے سینچا ہوا چمنستان اسلام اجڑ گیا۔
اے اسلامیان پاکستان! آج قادیانی، یہود، ہنود اور نصاریٰ کے ساتھ مل کر پاکستان میں سمرقند و بخارا کی ہولناک تاریخ دہرانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے خوفناک منصوبہ تیار ہوچکا ہے۔ ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے ایک گہری سازش کے تحت سول اور فوج کے کلیدی عہدوں پر قادیانیوں کو بٹھایا جا رہا ہے۔ حساس ترین محکموں میں قادیانی گھس چکے ہیں اور وہ اپنے آقاؤں کو وطن عزیز کے سارے راز پہنچا رہے ہیں۔ مغربی ذہن رکھنے والے مسلمانوں کے گھروں میں اپنا لٹریچر پہنچا کر انہیں اپنا ہمنوا بنا رہے ہیں۔ نوجوانوں کو اندرون و بیرون ملک روزگار مہیا کر کے انہیں قادیانی بنایا جا رہا ہے۔ وہ اس دن کا بڑی شدت سے انتظار کر رہے ہیں جب اس ملک کی کرسی اقتدار پر کوئی قادیانی حکمران براجمان ہوگا۔ وہ ان ساعتوں کے منتظر ہیں جب شریعت محمدیہؐ کے نفاذ کے لیے حاصل کردہ اس ملک میں ”مرزا
قادیانی کی جے“ کے ارتدادی نعرے لگیں گے۔ وہ ان لمحات کے لیے بے قرار ہیں جب مسلمانوں کے گلے میں ان کی غلامی کا طوق ہو گا۔
برادران اسلام! آؤ ہم اپنی آنکھوں کی پلکوں سے خواب گراں کا بوجھ اتاریں۔۔۔ اک بھرپور انگڑائی لیں۔۔۔ خفتہ صلاحیتوں کو بیدار کریں۔۔۔ انتشار امت کو اتحاد امت میں تبدیل کریں۔۔۔ مسلمانوں کی نوخیز نسل کو قادیانیوں کے خلاف صف آرا کریں۔۔۔ پورے ملک میں جہاد کی صدا بلند کریں۔۔۔ عوام کو قادیانیوں کے خوفناک عقائد و عزائم سے آگاہ کریں۔۔۔ ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے شمشیر بکف سپاہی بن جائیں۔۔۔ تاکہ قادیانی سازشیں پاش پاش ہو جائیں۔۔۔ اور شہیدوں کے خون میں گندھی ہوئی یہ زمین قادیانیوں کے ناپاک وجودوں سے پاک ہو جائے۔
حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ ہماری سوئی ہوئی غیرت کو جگاتے اور درس حریت و بہادری و جفاکشی دیتے ہوئے ہمیں کہہ رہے ہیں۔۔۔
دانہ تو‘ کھیتی بھی تو‘ باراں بھی تو‘ حاصل بھی تو
آہ کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تو‘ رہرو بھی تو‘ رہبر بھی تو‘ منزل بھی تو
کانپتا ہے دل تیرا اندیشہ طوفاں سے کیا
ناخدا تو‘ بحر بھی تو‘ کشتی بھی تو‘ ساحل بھی تو
دیکھ آ کر کوچہ چاک گریباں میں کبھی!
قیس تو‘ لیلیٰ بھی تو‘ صحرا بھی تو‘ محمل بھی تو
وائے نادانی! کہ تو محتاج ساقی ہوگیا
مے بھی تو‘ مینا بھی تو‘ ساقی بھی تو‘ محفل بھی تو