احتساب قادیانیت جلد 36 · حضرت مولانا عبدالرشید
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 36
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

جلد ٣٦

عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّۃ

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 061-4783486

صفحہ ٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

عرض مرتب

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ٠ اما بعد!

قارئین محترم! لیجئے احتساب قادیانیت کی جلد چھتیس (٣٦) پیش خدمت ہے۔

اس جلد میں:

لاہور کا ایک رسالہ:

قادیان نے سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کی حیات اور نزول کا انکار کر کے خود کو مسیح ثابت کرنا چاہا۔ اس کے لئے اس ملعون نے بنیاد یہ قائم کی کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آگئے تو یہ ختم نبوت کے منافی ہے۔ حالانکہ اس ملعون قادیان سے کوئی پوچھے کہ:

کے دوبارہ تشریف لانے سے انبیاء علیہم السلام کی تعداد میں اضافہ نہ ہوگا۔ اس لئے کہ وہ پہلے سے صف انبیاء کے شمار میں آگئے۔ ان کا تشریف لانا تو مرزا قادیانی کے قول کے مطابق ختم نبوت کے منافی ہوا۔ البتہ مرزا غلام احمد قادیانی، رحمت عالم ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے تو یہ ختم نبوت کے منافی نہیں۔ اس الٹی منطق کو سوائے دجل و فریب کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

عالم ﷺ کی امت میں بھی شامل ہو رہے ہیں۔ جب کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کا معنی یہ

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥

ہے کہ آپ ﷺ کی امت میں سے ایک شخص نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے۔ انبیائے سابقین سے ایک نبی کا آپ کی امت میں داخل ہونا اور ایک شخص آپ کے امتی کا دعویٰ نبوت کرنا۔ ان دونوں باتوں میں ملعون قادیان فرق نہ کر سکا۔ مولانا عبد الرشید صاحب اہل حدیث مکتب فکر کے عالم دین نے اس بات کو پھیلایا۔ قرآن وسنت کی روشنی میں اس مسئلہ کو مبرہن کیا تو یہ کتاب تیار ہوگئی۔ مولانا نے اخبار تنظیم اہل حدیث لاہور میں ختم نبوت پر مضمون لکھا۔ اس میں ضمناً نزول مسیح علیہ السلام کی بحث آ گئی۔ لاہوری مرزائیوں کے اخبار ہفت روزہ پیغام صلح نے اس پر اشکال قائم کئے۔ مولانا عبدالرشید نے ان کے جوابات تحریر فرمائے۔ جو تنظیم اہل حدیث لاہور میں شائع ہوئے۔ پیغام صلح لاہور کی بولتی بند ہوگئی۔ چناں خفتہ اند کہ گوئی مردہ اند! سوئے کیا کہ گویا مر گئے۔ تنظیم اہل حدیث میں شائع شدہ جوابات کا مجموعہ یہ کتاب ہے۔ اسے شامل اشاعت کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتے ہیں۔

❁ ...... مولانا محمد عبداللہ محدث روپڑی، کا ایک رسالہ:

١/٢....... مرزائیت اور اسلام: بھی شامل اشاعت ہے۔ مولانا محمد عبداللہ محدث امرتسری روپڑی اہل حدیث مکتب کے نامور عالم دین تھے۔ آپ نے یہ کتاب ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران میں تحریر کر کے حکومت پر واضح کیا کہ قادیانیت، اسلام کے متوازی و متبائن ہے۔ قادیانیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ قادیانیت اور اسلام یا قادیانی اور مسلمان دو علیحدہ علیحدہ حقائق کو باہم دیگر ایک قرار دینا حکومت کی سخت نادانی ہے۔ یہ کتاب ١٩٥٣ء کے دوران میں لکھی گئی۔ لیکن اشاعت بعد میں ہوئی۔ نصف صدی قبل کی تحریر کی اشاعت پر اللہ رب العزت کا لاکھوں لاکھ شکر ادا کرتے ہیں۔

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦

آپ کے تین رسائل اس جلد میں شامل کئے جارہے ہیں:

پہلے دو رسائل کے ناموں سے موضوع واضح ہے۔ البتہ تیسرا رسالہ ’’شرمناک فرار‘‘ اس میں مولانا موصوف نے ایک مناظرہ کی روئیداد قلمبند کی ہے۔ جس میں قادیانیوں نے شرمناک فرار سے قادیانیت کی رسوائی کا سامان مہیا کیا۔ یہ مورخہ ١١؍نومبر ١٩٨١ء کی روئیداد ہے۔ جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ موصوف نامور عالم دین تھے۔ زندگی بھر عقیدۂ ختم نبوت کی ترویج کی۔ مدینہ طیبہ کی دھرتی نے اپنے اندر انہیں سمو لیا۔ زہے نصیب!

کا رد قادیانیت پر ایک رسالہ:

مرزا قادیانی کا المسیح الدجال ہونا ثابت کیا گیا ہے۔

نے قادیانیت کے رد پر ایک کتاب:

اجماع امت، لغت کے حوالہ سے نیز آئمہ محدثین، آئمہ فقہاء کے اقوال سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے مسئلہ کو مبرہن کیا گیا ہے۔

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧

ہوا۔ پینتیس سال بعد اسے دوبارہ شائع کرنے پر اللہ تعالیٰ کا لاکھوں لاکھ شکر ادا کرتے ہیں۔ اس رسالہ کا مکمل نام ”کذاب نبی، قرآن وحدیث اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ، الہامات اور پیش گوئیوں کی روشنی میں“ ہے۔ شرکت ادبیہ پنجاب شاہی محلہ لاہور نے ابتداء میں اسے شائع کیا تھا۔

آپ نے مرزا قادیانی کے رد میں ایک رسالہ تحریر فرمایا۔ جس میں مرزا قادیانی کے حالات، دعاوی، عقائد پر مختصر مگر جامع و مانع بحث کی ہے۔ سید احسن شاہ صاحب، حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کے حلقہ ارادت سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا یہ رسالہ تیسری بار جمادی الثانی ١٣٤١ھ میں مونگیر سے شائع ہوا۔ اب محرم ١٤٣٢ھ ہے۔ گویا بانوے سال قبل کا رسالہ اس جلد میں شائع کرنے کی ہم سعادت سے بہرہ ور ہورہے ہیں۔ حق تعالیٰ مزید توفیق عنایت فرمائیں۔ اس رسالہ کا نام ہے:

دستاویز ہے۔

ایک رسالہ تحریر کیا:

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨

لاٹ پادری مرزا بشیر الدین محمود کا ایک مضمون جو قادیانی جماعت کے روزنامہ الفضل مورخہ ٩؍ اگست ١٩٥٠ء میں شائع ہوا۔ پھر اسے قادیانی جماعت نے ”احمدی دوسروں کی اقتداء میں نماز کیوں نہیں پڑھتے“ نامی رسالہ کی شکل میں شائع کیا۔ جناب سلطان احمد خان نے اس کا جواب تحریر کیا۔ ساٹھ سال بعد دوبارہ اس کی اشاعت پر اللہ تعالیٰ کا لاکھوں لاکھ شکر ادا کرتے ہیں۔

۞...... حضرت مولانا محمد اسحق صاحب۔ قاضی القضاۃ ریاست اسلامیہ انب (سرحد) بہت بڑے عالم دین تھے۔ ریاست اسلامیہ انب کے چیف جسٹس تھے۔ ریاست انب میں لاہوری مرزائی رہتے تھے۔ انہوں نے والیٔ ریاست کے عزیزوں کو قادیانیت کے گرداب میں پھنسانا چاہا۔ مولانا محمد اسحق صاحب نے قادیانیوں کے تانا بانا کو تار عنکبوت کی طرح تار تار کر دیا۔ قادیانیت کے خلاف آپ کا یہ معرکہ بیسویں صدی کے ابتدائی ربع میں پیش آیا۔ جیسا کہ مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کے ایک مکتوب مورخہ ١٦؍ اکتوبر ١٩٢٢ء سے ظاہر ہے۔ جو اس کتاب میں موجود ہے۔ غرض قادیانی سازشیں تیار کرتے تھے۔ مولانا قاضی محمد اسحق ان سازشوں کو ناکام بناتے رہے۔ قریباً تیس سال قادیانیوں سے ریاست انب میں یہ معرکہ رہا۔ اللہ رب العزت نے کرم فرمایا۔ مولانا سرخرو ہوئے اور قادیانی روسیاہی کا داغ حسرت لے کر ناکامی و نامرادی سے دوچار ہوئے۔ اکتوبر ١٩٤٠ء میں مولانا نے ”تذکرۂ حقائق“ کے نام سے یہ کتاب شائع فرمائی۔ جو تمام حالات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ عرصہ ہوا مولانا قاضی محمد اسرائیل مانسہروی نے اس کتاب کا فوٹوسٹیٹ ارسال کیا تھا۔ اس جلد میں اسے شائع کرنے پر اللہ تعالیٰ کا لاکھوں لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ اکہتر سال بعد دوبارہ شائع کرنے کی توفیق نصیب ہوئی۔ کتاب کا نام ہے:

١/١١...... تذکرہ حقائق:

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩

قادیان میں پوسٹ ماسٹر کے طور پر عرصہ بھر کام کرتے رہے۔ یہ ١٩١٠ء کی بات ہے۔ پھر ١٩١٦ء میں دوبارہ قادیان کے پوسٹ آفس کے انچارج بن کر تشریف لے گئے۔ اس زمانہ میں آپ نے قادیان میں انجمن حمایت اسلام قادیان بھی قائم کی۔ اس کے زیر اہتمام سیرۃ النبیؐ کے عنوان پر ایک عظیم الشان کانفرنس کا بھی آپ نے اہتمام کیا۔ جس میں مولانا نور احمد امرتسریؒ، پروفیسر مولانا سید احمد علیؒ شاہ اسلامیہ کالج لاہور و خطیب شاہی مسجد لاہور، مولانا میر ابراہیمؒ سیالکوٹی، مولانا محمد حسین بٹالویؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور دوسرے حضرات کو مدعو کیا۔ غرض مجلس احرار اسلام کل ہند کی کانفرنس اکتوبر ١٩٣٤ء سے بھی قبل کی یہ کانفرنس تھی جو قادیانیوں کے مقابلہ میں منعقد ہوئی۔ جناب سید عبدالمجید شاہ امجد بخاری تقسیم کے بعد خیر پور میرس آگئے تھے۔ بخاری جنرل سٹور کے نام پر کاروبار بھی کرتے رہے۔ اس زمانہ میں آپ نے ایک پمفلٹ شائع کیا۔ اس کا نام تھا:

١٢ / ١ ...... میں اور قادیان: الحمدللہ! کہ اس جلد میں یہ رسالہ بھی توفیق الٰہی سے شامل کر دیا گیا ہے۔ متذکرہ کانفرنس کی تفصیل اس رسالہ میں موجود ہے۔

سے وابستہ تھے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے حالات، نتائج و عواقب کی ذمہ داری کے تعین کے لئے حکومت نے مسٹر جسٹس منیر اور مسٹر ایم۔ آر کیانی پر مشتمل انکوائری کمیشن قائم کیا۔ عدالتی کمیشن کی رپورٹ جب چھپ کر آئی تو وہ تضاد بیانیوں اور غلط معلومات کا ملغوبہ تھی۔ مختلف حضرات نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر تبصرے و تجزیے کئے۔ اس میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے وکیل مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش درانی کا تبصرہ ”محاسبہ“ کے نام پر ”احتساب قادیانیت“ کی سابقہ جلدوں میں پیش کر چکے ہیں۔ اس جلد میں جناب نعیم صدیقی و سعید احمد ملک کا مرتب کردہ تبصرہ جو جماعت اسلامی نے شائع کیا۔ جس کا نام ہے:

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠

١/١٣....... تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر تبصرہ: پیش خدمت ہے۔

۞ ...... مفکر احرار جناب چوہدری افضل حق مرحوم (وفات: ٨؍ جنوری ١٩٤٢ء) کل ہند مجلس احرار اسلام کے بیدار مغز، قائد جناب چوہدری افضل حق کو قدرت نے زرخیز دماغ کی نعمت سے نوازا تھا۔ وہ بہت دور رس سوچ وفکر کے حامل تھے۔ اپنے زمانہ میں برطانوی سامراج کے سب سے بڑے دشمن تھے۔ برصغیر کے حالات کی نبض پر ان کا ہاتھ ہوتا تھا۔ وہ مسلمانوں کے بہت بڑے خیر خواہ تھے۔ ان کی ساری زندگی فقر وفاقہ کی علامت تھی۔ وہ اس خطہ میں فقر ابوذرؓ کے وارث تھے۔ اس کے باوجود ان جیسے حقدار بھی چشم فلک نے بہت کم دیکھے ہوں گے۔ بیچ منجدھار وہ سیدھا تیرنے کے خوگر تھے۔ ان خوبیوں نے انہیں ملک وملت کا بے مثال لیڈر بنا دیا تھا۔ ان کا وجود حق وسچ کی دلیل تھا۔ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی کی قیادت، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی خطابت اور چوہدری افضل حق کے فکر رسا کا نام مجلس احرار اسلام تھا۔ قدرت نے انہیں جہاں خوبیوں کا مجموعہ بنایا تھا۔ وہاں دیگر خوبیوں کی طرح تحریر کے سلسلہ میں قدرت نے بڑی فیاضی سے حصہ نصیب فرمایا تھا۔ وہ اپنے وقت کے صاحب طرز ادیب تھے۔ رحمت عالم ﷺ کی سیرت پر آپ نے ”محبوب خدا“ کے عنوان سے کتاب تحریر کی۔ جو اردو ادب کا شاہکار ہے۔ آپ کی ایک کتاب ”تاریخ احرار“ ہے۔ اس اچھوتی تحریر پر مشتمل کتاب نے پورے ملک سے خراج تحسین وصول کیا۔ ہمارے مخدوم زادہ مولانا حافظ سید عطاء المنعم شاہ بخاریؒ نے عرصہ ہوا اسے دیدہ زیب طباعت سے دلنواز کیا تھا۔ ”حضرت حافظ جی مرحوم“ کے زمانہ میں گرانقدر پمفلٹ و کتب، احرار کے شعبہ نشر و اشاعت نے شائع کئے۔ اس کے بعد خارجیت و رافضیت کے حوالہ سے تو بہت کچھ شائع ہوا۔ اگر اس تسلسل کو برقرار رکھا جاتا تو جماعتی

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١

لٹریچر میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا۔ بہرحال اللہ رب العزت جس سے جو چاہے کام لے۔ اس کی اپنی حکمتیں ہیں۔ ان کی حکمتوں کو کون جان سکتا ہے۔ کل کی بات ہے ہمارے حضرت مخدوم گرامی حافظ مولانا سید عطاء المنعم شاہ بخاریؒ نے اپنے والد گرامی سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی سوانح قلم بند کی۔ اتنے ذوق و شوق، محنت و لگن سے کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ اس کتاب نے میری کمر کو دھرا کر دیا ہے۔ لیکن حضرت مرحوم کے ساتھ حادثہ ہوا کہ کسی ملعون نے ان کا مسودہ ہی چوری کر لیا۔ اس حادثہ نے حضرت حافظ جیؒ کے جگر کو چھلنی کر دیا۔ اس صدمہ نے اندر اندر سے انہیں ایسا گھائل کیا کہ وہ چارپائی سے لگ گئے۔ اس حادثہ پر انہوں نے اپنے رسالہ الاحرار میں جو نوٹ تحریر کئے۔ وہ اردو ادب میں مسودوں کے گم ہونے کا مرثیہ قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ عرصہ ہوا کہ اس مسودہ کے ملنے اور نہ ملنے کی متضاد خبروں نے گشت جاری رکھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نظر کرم سے اس چور کو ہدایت دے دیں کہ وہ اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کر کے محترم جناب سید محمد معاویہ بخاری کو وہ مسودہ واپس کر دیں تو حضرت مرحوم کی روح پر فتوح کو مزید سکون مل جائے۔ دیکھئے! میری دیوانگی کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ جناب! چوہدری افضل حق مرحوم نے رد قادیانیت پر تین مضمون تحریر فرمائے:

عطاء الحسن شاہ بخاریؒ نے بخاری اکیڈمی ملتان کی طرف سے شائع کیا تھا۔

مولانا ایم۔ ایس خالد وزیر آبادی نے اپنی کتاب تصویر مرزا میں شائع کیا تھا۔ جو احتساب قادیانیت کی جلد ٢٣ کے ص ٢٨٠ تا ٢٨٥ میں کتاب ’’تصویر مرزا‘‘ کے ساتھ چھپ چکا ہے۔

صفحہ ١٢

یوں حضرت چوہدری افضل حق مرحوم کے تین رسائل اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت بہرہ ور ہو رہے ہیں۔

خلاصہ: احتساب قادیانیت کی جلد چھتیس (٣٦) میں:

ٹوٹل ١٧ رسائل

گویا اس جلد میں تیرہ حضرات کے سترہ رسائل جمع ہو گئے ہیں۔ فالحمدللہ تعالیٰ!

(نوٹ! کتاب کے ٹریسنگ کمپیوٹر سے نکالے جا رہے تھے کہ مولانا منظور احمد الحسینیؒ کا ایک اور رسالہ مل گیا جو آخر میں لگا دیا ہے)

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 11

محتاج دعائی: فقیر اللہ وسایا ٢٧ محرم الحرام ١٤٣٢ھ ٣ جنوری ٢٠١١ء

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

فہرست رسائل مشمولہ...... احتساب قادیانیت جلد ٣٦

عرض مرتب ٤

روپڑیؒ

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد چھتیس (٣٦) مصنفین : حضرت مولانا عبدالرشیدؒ صاحب حضرت مولانا محمد عبداللہ روپڑیؒ حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ جناب محمد اسماعیل سہائمؔ صاحب حضرت مولانا مہر الدینؒ صاحب جناب محمد سلطان نظامیؒ صاحب جناب سید احسن شاہؒ صاحب جناب سلطان احمد خانؒ صاحب حضرت مولانا محمد اسحق قاضیؒ جناب سید عبدالمجید شاہ امجد بخاریؒ جناب نعیم صدیقی و سعید احمد ملک

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 14

جناب چوہدری افضل حقؒ صاحب

صفحات : ٦١٦ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اوّل : جنوری ٢٠١١ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

احتساب جلد چھتیس (٣٦)

مجموعہ رسائل

حضرت مولانا عبدالرشیدؒ صاحب حضرت مولانا محمد عبداللہ محدث روپڑیؒ حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ جناب محمد اسماعیل سہامؒ صاحب حضرت مولانا مہر الدینؒ صاحب جناب محمد سلطان نظامیؒ صاحب جناب سید احسن شاہؒ صاحب جناب سلطان احمد خانؒ صاحب حضرت مولانا محمد اسحق قاضیؒ سید عبدالمجید شاہ امجد بخاری بٹالویؒ جناب نعیم صدیقی و سعید احمد ملک جناب چوہدری افضل حقؒ صاحب

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 15

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

ختم نبوت

اور

نزول عیسیٰ علیہ السلام

حضرت مولانا عبدالرشیدؒ

صفحہ ١٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

پیش لفظ

”نحمده ونصلى على رسوله رحمة للعالمين وخاتم النبيين وعلى آله واصحابه الطاهرين“

امت محمدیہ میں بڑے بڑے اختلافات رونما ہوئے اور امت مسلمہ کئی گروہوں میں منقسم ہوگئی۔ باوجود اس کے آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قرب قیامت نزول من السماء پر متفق ہی رہی اور اس مسئلہ پر کبھی جھگڑا اور نزاع پیدا نہ ہوا۔ تیرہ سو سال بعد قصبہ قادیان ضلع گورداسپور سے مرزا غلام احمد قادیانی نے یہودیت اور عیسائیت کی تائید میں وفات مسیح کا مسئلہ کھڑا کر کے نزول عیسیٰ علیہ السلام کا صاف طور پر انکار کیا اور خود مثیل مسیح ہونے کا مدعی بن گئے۔ کبھی غیر تشریعی و تشریعی نبوت کے دعویدار اور گاہے انکار کرتے ہوئے ”من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب“ کہتے رہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ قرآن اور حدیث کے خلاف ہونے کے علاوہ اجماع کا بھی مخالف تھا۔ اس لئے علماء اسلام نے بڑی سختی سے محاسبہ کیا۔ بالخصوص شیخ العرب والعجم میاں نذیر حسینؒ محدث دہلوی، مولانا بشیرؒ، محدث سہسوانی، شمس العلماء مولانا محمد حسین بٹالویؒ، شیخ الاسلام، امام المناظرین، فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ قابل ذکر ہیں۔ میر سیالکوٹیؒ نے اثبات حیات مسیح پر ایک جامع اور مدلل کتاب شہادت القرآن دو حصہ مرزا قادیانی کی زندگی میں لکھی جو آج تک لاجواب ہے۔ شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہؒ نے تو ایسی گرفت کی کہ مرزا قادیانی چلا اٹھے اور ایک دعا ”مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ“ شائع کی کہ: ”اے خدا! اگر مولوی ثناء اللہ سچے ہیں اور میں جھوٹا ہوں تو مجھے ان کی زندگی میں ہلاک کر دے اور اگر میں سچا ہوں اور وہ جھوٹے ہیں تو انہیں میری زندگی میں ہلاک کر دے۔ ہلاکت بھی انسانی ہاتھوں سے نہیں بلکہ طاعون ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔“

(١٥ اپریل ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨)

اس کے بعد انہوں نے لکھا کہ: ”مجھے الہام ہوا ہے۔ ”اجیب دعوة الداع“ یعنی دعا بارگاہ الہی میں قبول ہو گئی ہے۔“

(اخبار بدر مورخہ ٢٥ اپریل

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥

١٩٠٧ء)

پھر نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی مورخہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء بروز منگل قریباً ساڑھے دس بجے دن کے بہ مرض ہیضہ اس طرح کہ: ”ایک بڑا دست آیا اور نبض بالکل بند ہو گئی ۔“ (اخبار بدر مورخہ ٢؍ جون ١٩٠٨ء ص ٤) اپنے افتراؤں کی سزا پانے کو حاکم حقیقی کے دربار میں بلائے گئے ۔ جس پر کسی زندہ دل شاعر نے لکھا۔

لکھا تھا کاذب مرے گا پیش تر
کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا

چاہئے تو یہ تھا کہ امت مرزائیہ آسمانی فیصلہ سے عبرت حاصل کر کے مرزا قادیانی کی نبوت و مسیحیت سے انکار کر دیتی ۔ مگر ایسا نہ ہوا اور عذر تراشا کہ یہ دعا نہ تھی بلکہ مباہلہ تھا۔ حالانکہ مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں یہ شائع ہو چکا تھا کہ: ”فیصلہ محض دعا سے چاہا گیا ہے ۔ مباہلہ سے نہیں۔“

(بدر مورخہ ٢٢؍ اگست

١٩٠٧ء)

مولوی محمد علی صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے بھی تسلیم کیا تھا کہ یہ اشتہار محض دعا تھا۔

(ریویو آف ریلیجنز قادیان بابت جون، جولائی

١٩٠٨ء)

بالآخر لدھیانہ میں آخری فیصلہ کے دعا یا مباہلہ ہونے پر فیصلہ کن مناظرہ ہوا ۔ ثالث کا فیصلہ مولانا امرتسریؒ کے حق میں ہوا اور مقررہ انعام تین صد روپیہ مولانا کو ملا۔ جس پر انہیں فاتح قادیان کا لقب دیا گیا ۔ روئیداد مناظرہ میں فیصلہ ثالث بنام ”فاتح قادیان“ شائع ہے ۔ جسے پڑھ کر ہر طالب حق فیصلہ کر سکتا ہے ۔

مرزائی حضرات مانیں یا نہ مانیں۔ مگر مرزا قادیانی کی موت بہ مرض ہیضہ نے ان کے کذب پر مہر ثبت کر دی ۔ ہم نے مسلمانوں کے مسلمہ عقیدہ ختم نبوت کی توضیح کے لئے اخبار تنظیم اہل حدیث لاہور میں مضمون لکھا ۔ ضمناً نزول مسیح کا ذکر بھی آ گیا ۔ بس پھر کیا تھا ۔ قصر مرزائیت میں زلزلہ آ گیا ۔ مرزائی اخبار پیغام صلح لاہور نے نزول مسیح پر چند اشکال پیش کئے جن کا معقول اور مدلل جواب ہماری طرف سے تنظیم اہل حدیث لاہور میں شائع ہوا ۔ جس کا جواب پیغام صلح

٣

صفحہ ١٦

لاہور نہ دے سکا۔ ”چناں خفتہ اند کہ گوئی مردہ اند“ اب تو ”اپالو ١١“ کی کامیاب پرواز نے ابطال مرزائیت پر ایک اور دلیل قائم کر دی ہے۔ جب عامی انسان چاند تک پرواز کر سکتا ہے تو مسیح علیہ السلام کے صعود الی السماء اور نزول من السماء میں کون سا استحالہ ہے؟

مضمون کی افادی حیثیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادارہ محمدیہ نے جو میاں حاجی محمد مرحوم امرتسری کی یادگار میں قائم ہوا ہے۔ بغرض تبلیغ و اشاعت کتابی صورت میں اس کی طباعت و اشاعت کا انتظام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو قرآن وحدیث کی تبلیغ واشاعت میں مزید کتب دینیہ شائع کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ (مؤلف)

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

خاتم النبیین صلى الله عليه وآله وسلم

”نحمدہ ونصلی علی رسولہ خاتم النبیین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین“

سلسلۂ نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا، اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوا۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء ورسل مبعوث ہوئے۔ ان کی نبوت ورسالت کسی مخصوص قوم یا محدود علاقے کے لئے تھی۔ مگر احمد مجتبیٰ ﷺ کی رسالت عامہ آپ کی بعثت سے تاقیامت تمام بنی نوع انسان کے لئے مقرر ہوئی۔ فرمایا: ”یایھا الناس انی رسول الله الیکم جمیعا (اعراف: ١٥٧)“ {لوگو! میں تم سب کے لئے رسول ہوں۔}

”وما ارسلنک الا رحمة للعالمین (الانبیاء: ١٠٧)“ {ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔}

بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنے بعد صرف ایک ہی رسول کی بشارت دی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”واذ قال عیسی ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول الله الیکم ومصدقاً لما بین یدی من التوراة ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد فلما جاء ہم بالبینات قالوا ھذا سحر مبین (صف: ٦)“ {جب حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا۔ اے بنی اسرائیل! بے شک میں تمہاری طرف اللہ کا

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧

رسول ہوں اور تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی اور خوش خبری دیتا ہوں ایک عظیم الشان رسول کی جو میرے بعد آئے گا۔ اس کا نام احمد ہوگا۔ پس جب آ گیا وہ رسول، ساتھ دلائل کے تو کہا انہوں نے یہ تو ظاہر جادو ہے۔}

دوسرے مقام پر فرمایا: ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (احزاب:٤٠)“ {محمد (ﷺ) تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ (یعنی آں جناب کی نرینہ اولاد کوئی نہیں) لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور خدا سب کچھ جانتا ہے۔}

الف لام چار معنوں میں مستعمل ہے۔

جنس خدا کے لئے ہے۔

کی۔

کھالیا۔

آخری دو قسمیں تو خاتم النبیین میں مراد نہیں ہوسکتیں۔ چوتھی اس لئے کہ غیر معین نبیوں کے خاتم ہونے کا کوئی مطلب نہیں اور تیسری قسم مراد ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ تعین کے لئے کوئی قرینہ چاہئے۔ پس پہلی دو قسمیں مراد ہوں گی۔ معنی یہ ہوا کہ آپ تشریعی اور غیر تشریعی تمام انبیاء کے خاتم ہیں۔ جب کسی شئے کی جنس ہی ختم ہو جائے تو اصل شئے ہی ختم ہو جاتی ہے۔

ختم کی تین قرائتیں ہیں۔

(تفسیر مدارک)

عربی لغت میں خَاتَم اور خَاتِم کے دو معنی ہوتے ہیں۔

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨

یہاں پہلا معنی مراد ہو تو مطلب واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپؐ کے بعد اب کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اگر دوسرے معنی مراد ہوں تو مہر سے مراد ایسی مہر ہو گی جیسے کسی شئے کو بند کر کے اس پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ اس صورت میں بھی مطلب وہی ہوا کہ آپؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے اور تیسری قرائت اس کی مؤید ہے۔ کیونکہ ختم النبیین کے دو معنی ہیں۔ ١...... یہ کہ آپ نے نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا۔ ٢...... مہر۔ مہر والا معنی یہاں بن نہیں سکتا۔ کیونکہ اس صورت میں یہاں تین چیزیں چاہئیں۔ (١) مہر۔ (٢) مہر لگانے والا۔ (٣) ایک جس پر مہر لگائی جاتی ہے۔ جب آپ مہر لگانے والے ہوئے تو خود مہر نہ ہوئے۔ حالانکہ دو قرائتوں میں آپ کو مہر کہا گیا ہے۔ پس یہ دونوں معنوں کے خلاف ہوا۔ اس لئے پہلا معنی مراد ہوگا۔ تاکہ تینوں قرائتوں کا مطلب ایک ہو جائے۔ یعنی پہلی دو قرائتوں کی رو سے آپ مہر ہیں اور مہر لگنے سے معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے آپ نبیوں کے ختم کرنے والے ہوئے اور یہ مہر خدا کی طرف سے لگائی گئی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ مہر لگانے والا ہوا۔

”النبیین“ کا الف، لام جنس یا استغراقی ہے۔ جو جملہ انبیاء ورسل پر حاوی ہے۔ کلام اللہ کی یہ آیت اعلان کر رہی ہے کہ سیدنا و مولانا محمد ﷺ کے وجود مسعود پر نبوت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

یہ آیت نہایت مستحکم دلائل اور قطعی براہین کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خصوصیت ختم المرسلین کو واضح کر رہی ہے۔ ختم نبوت کا منصب اس کو شایان ہے۔ جو کمال دین اور اتمام نعمت کی بشارت سے بھی مبشر ہو۔

فرمایا: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً (المائدہ: ٣)“ {آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا۔}

یہ ایک عجیب پیش گوئی ہے اور اس کے اندر عجیب طاقت من جانب اللہ موجود ہے۔ ایران کو دیکھو وہاں ہزاروں سال تک متواتر سروش آسمانی کی آواز بیسیوں پاک سرشت بزرگوں کو سنائی دیتی رہی۔ ہندوستان کا دعویٰ ہے کہ یہاں کروڑوں سال تک لاکھوں مہارشی ایسے ہوئے جن پر آکاش وانی کا پرکاش ہوتا رہا۔

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩

بنی اسرائیل کے حالات پڑھو، جہاں بیک وقت دو دو چار چار نبی موجود پائے گئے۔

اب کیوں اپنی قوم اور اپنے ملک میں کسی کا نبی ہونا تسلیم نہیں کرتے۔

مصریوں اور چینیوں نے بھی سینکڑوں سال تک اپنے اندر نبوت و رسالت ہونے کے دعویٰ کو بلند کیا۔ لیکن جب سے کلام اللہ میں آیت کا اعلان ہوا ہے۔ ختم نبوت کا فرمان سنایا گیا ہے۔ اس وقت سے ان سب مذاہب و ادیان نے بھی اپنے اپنے دروازوں پر قفل ڈال دیئے ہیں۔

مجوسی اب کیوں کسی شخص کو جائے اسپ و زرتشت کے اورنگ پر نہیں بٹھاتے۔

آریاورت، اب کیوں آکاش وانی کا ایک حرف بھی نہیں سنتا۔

یہ سب قدرت الہیہ کا روشن اور بین کارنامہ ہے۔ جس نے نبی ﷺ کو خاتم النبیین بنانے کے بعد تمام دنیا کے جملہ مذاہب کے دماغوں اور طبیعتوں سے بھی یہ بات نکال دی ہے کہ خود ان کے مذہب کے اندر بھی کسی کو پیغمبر، نبی اور اوتار کہا جائے۔ دنیا بھر کا یہ عمل فیصلہ یا میلان طبع بلکہ فطری وجدان ظاہر کرتا ہے کہ قدرت ربانی نے اس خصوصیت کی جو وجود اقدس نبویہ سے مخصوص ہے۔ کیسی زبردست حفاظت فرمائی۔ کوئی غیر مسلم یہ نہیں کہہ سکتا کہ نبی ﷺ نے اپنی ذاتی توصیف کے لئے ایسا فرما دیا ہے۔

اوّل ...... اس لئے کہ دعویٰ کرنا آسان ہے۔ مگر زمان مستقبل پر حکومت کرنا دشوار ہے۔ یہاں تو چودہ صدیوں کا زمانہ اور مختلف و متعدد مذاہب کا متفقہ رویہ اس کی تائید میں موجود ہے۔ جس شئے کی تائید میں خود نیچر ہوں وہاں تصنع کا کیا دخل رہ جاتا ہے۔

دوم ...... اگر نبی ﷺ کو اپنا ذاتی فخر بھی قائم کرنا مقصود ہوتا تو حضور ایسا کہہ سکتے تھے کہ اپنے متبعین کو نبوت کے منصب سے ممتاز بناتے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر اپنے اتباع کرنے والے انبیاء کی شان اور تعداد کا اظہار کرتے۔ بعض مسلمان صوفیا کی نسبت زبان زد عوام ہے کہ انہوں نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اوّل تو ان روایات کی صحت مشکوک ہے۔ دوم اگر ثابت بھی ہو جائے کہ کسی شخص نے ”انا الحق“ بھی کہا۔ ”سبحان ما اعظم الشانی“ کہا۔ تب بھی یہ نتیجہ صاف نکلتا ہے کہ خدا بننا تو ان کو سہل نظر آیا۔ مگر نبی کہلانے کی جرأت وہ بھی نہ کر سکے۔ ایسے ہی لوگوں میں یہ مصرع بہت شہرت یافتہ ہے۔

باخدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠

اب وہ احادیث درج کی جاتی ہیں جو زیر عنوان کی تفسیر میں نبی ﷺ سے باسناد صحیح ثابت ہیں۔

اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اپنے پانچ نام فرمائے۔ محمد، احمد کے معنی نہیں فرمائے۔ ماحی، حاشر، عاقب ان کے معانی بتلائے۔ اس سے واضح ہوا کہ محمد اور احمد ذاتی نام ہیں اور ماحی، حاشر اور عاقب وصفی نام ہیں۔

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١

ص ١٩٩ ، باب المساجد ومواضع الصلوٰة)“ {ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مجھے چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ مجھے جامع کلمات عطاء فرمائے گئے۔ مجھے رعب سے مدد دی گئی۔ مال غنیمت ہم پر حلال کیا گیا۔ روئے زمین کو ہمارے لئے مسجد اور سبب طہارت بنایا گیا۔ مجھے تمام مخلوق کے لئے رسول بنایا گیا۔ میری ذات پر انبیاء کا خاتمہ ہو گیا۔ یعنی اب کسی کو نئے سرے سے عہدۂ نبوت عطاء نہیں کیا جائے گا۔}

الناس انه لا نبی بعدی ولا امة بعدکم (رواہ ابن جریر وابن عساکر)“ {ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے خطبۃ الوداع میں فرمایا تھا۔ لوگو! یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔}

انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ ان النبوة والرسالة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (ترمذی ج ٢ ص ٥١، باب ذہبت النبوة وبقیت المبشرات)“ {امام احمد، امام ترمذی اور امام حاکم نے صحیح اسناد کے ساتھ انسؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اب رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے۔ لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی۔}

ثلثون کذابون کلہم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج ٢ ص ٤٥، باب لا تقوم الساعة حتى یخرج کذابون)“ {نبی ﷺ نے فرمایا۔ میرے امت میں تیس شخص کذاب ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک کا یہ گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔}

لکان عمر بن الخطاب (الترمذی ج ٢ ص ٢٠٩، باب مناقب ابی حفص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ)“ {رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔}

سب جانتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نبی نہ تھے۔ لہٰذا ثابت ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی بھی نبی نہیں ہو سکتا۔ قیامت تک اب کسی کو عہدۂ نبوت سے سرفراز نہیں فرمایا جائے گا۔

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢

( کیونکہ آپ کی نبوت عامہ اور کاملہ ہے )

٨...... سعد بن ابی وقاصؓ کہتے ہیں کہ غزوۂ تبوک میں نبی ﷺ نے حضرت علیؓ کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جاتے ہیں۔ اس وقت آپ نے فرمایا: ’’اما ترضی ان تكون منی بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبي بعدی (بخاری ج ١ ص ٥٢٦، باب مناقب علی بن ابی طالب)‘‘ { کیا تم اس پر خوش نہیں کہ تم میرے لئے ویسے بنو، جیسے ہارون، موسیٰ علیہ السلام کے لئے تھے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ }

حضرت موسیٰ علیہ السلام میقات ربی کے طور پر چالیس یوم ٹھہرے تھے اور اپنے بعد ہارون کو خلیفہ بنا گئے تھے۔ نبی ﷺ کو بھی غزوۂ تبوک میں تقریباً پچاس یوم مدینہ سے باہر رہنے کا اتفاق ہوا۔

اس واقعہ میں خلافت بعد وفات رسول اللہ ﷺ کا اشارہ تک نہیں ہے۔ کیونکہ ہارون نے موسیٰ سے بہت پہلے وفات پائی تھی۔

٩...... سیدنا حضرت علیؓ نبی کریم ﷺ کو آخری غسل دے رہے تھے تو اپنی زبان سے یوں فرما رہے تھے۔

’’بابی انت وامی لقد انقطع بموتک مالا ینقطع بموت غیرک من النبوة والانبیاء (نهج البلاغة ص ٢٠٥)‘‘ {میرے ماں باپ آنحضرت ﷺ پر قربان ہوں۔ آنحضرت ﷺ کی موت سے وہ چیز ختم ہوگئی جو اور کسی شخص کی موت سے ختم نہ ہوئی تھی۔ یعنی نبوت اور اخبار غیب اور آسمان سے خبروں کا آنا اب ختم ہو گیا۔}

قرآن وحدیث کی تصریحات سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد قیامت تک کسی قسم کی نبوت، ظلی، بروزی، تشریعی، غیر تشریعی کسی کو عطاء نہیں کی جائے گی اور اسی پر امت کا اجماع ہے۔ کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ کی موجودگی میں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اسی لئے ایک صحابی بھی ایسا نہیں ہوا۔ جس کا یہ عقیدہ ہو کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت جاری ہے۔ ایک تابعی بھی ایسا نہیں گذرا جو آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت جاری رہنے کا قائل ہو۔ ایک تبع تابعی بھی ایسا نہیں گذرا جس کا یہ نظریہ ہو کہ احمد مجتبیٰ ﷺ کے

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣

بعد کسی کو عہدہ نبوت سے سرفراز کیا جائے گا۔ کوئی امام یا مجتہد بھی نبی اکرم ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کا قائل نہیں اور نہ ہی آج تک کوئی محدث یا فقیہہ امت میں ایسا ہوا جس نے لکھا ہو کہ رحمتہ اللعالمین کے بعد بھی کسی قسم کا عہدہ نبوت کسی شخص کو عطاء کیا جائے گا۔

تمام قرآن مجید اور مجموعہ احادیث میں ایک آیت یا حدیث ایسی نہیں، جس میں یہ ذکر ہو کہ حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ کے بعد کسی شخص کو نبی بنایا جائے گا۔ یا ظلی یا بروزی، غیر تشریعی نبوت کسی امتی کو ملے گی۔ ”من ادعیٰ فعلیہ البیان بالبرھان“

دفع دخل، اگر کسی کو شبہ ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں آنے والے ہیں۔ وہ بھی تو نبی ہی ہیں۔ پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں؟ تو اس کا دفعیہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عہدہ نبوت آنحضرت ﷺ سے ٥٧١ سال پہلے عطاء ہوچکا ہے۔ اب دوبارہ آخری زمانے میں بحیثیت آپ کے ایک امتی کے آئیں گے۔ خود ان کی نبوت و رسالت کا عمل اس وقت جاری نہ ہوگا۔ جیسے آج تمام انبیاء اپنے اپنے مقام پر (برزخ میں) موجود ہیں۔ مگر عمل صرف نبوت محمدیہ کا جاری وساری ہے۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ: ”اگر آج موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی بجز اتباع کے چارہ نہ تھا۔ اسی طرح جب عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آسمان سے نازل ہوں گے تو قرآن پاک وحدیث شریف ہی کی اتباع وتبلیغ کریں گے۔“

عہدہ رسالت تو ان کو مل چکا ہے۔ جو کسی وقت سلب نہیں ہوسکتا اور ہم نے قرآن وسنت سے ثابت کر دیا ہے کہ نبوت ورسالت ختم ہوچکی۔ کسی شخص کو نئے سرے سے عہدہ نبوت نہیں عطاء کیا جائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آنحضرت ﷺ سے پہلے مرتبہ نبوت پر فائز ہوچکے ہیں۔ لہٰذا ان کی آمد سے خاتم النبیین کی ختم نبوت پر کوئی زد نہیں پڑتی۔

پس ختم نبوت کا مسئلہ کوئی جزوی یا فروعی مسئلہ نہیں ہے۔ ایمان واسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ بلکہ کفر واسلام میں حد فاصل ہے۔ جیسے سچے نبی کی تکذیب اور انکار کرنا کفر ہے۔ ایسے ہی کسی جھوٹے، کاذب کو نبی ماننا کفر ہے۔

یہ مسئلہ اتفاقی اور اجماعی ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ملاحظہ فرمائیں:

فى جهنم مثوى للكافرين (الزمر:٣٢)“ {اس سے بڑا ظالم کون ہے؟ جو خدا پر جھوٹ

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤

باندھے اور سچ کو جھٹلائے۔ جب کہ سچ اس کے پاس آ گیا۔ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے؟}

اليس فى جهنم مثوى للكافرين (العنکبوت:٦٨)“} اس سے بڑا ظالم کون ہے؟ جو خدا پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے۔ جب اس کے پاس حق آ گیا۔ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم نہیں؟}

ان آیات میں جیسے سچے نبی کی تکذیب اور انکار کرنے والے کو کافر کہا ہے۔ اسی طرح خدا پر جھوٹ باندھنے اور جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو کافر کہا ہے۔

لہٰذا اس فرمان کی بناء پر مدعی نبوت کاذب کے کفر میں کوئی شک نہ رہا۔ یہ فرمان مرزائیوں کے کفر پر صریح اور قطعی دلیل ہے۔ اس دلیل کی ترتیب بصورت شکل اوّل پوری ہوئی۔

صغریٰ: مرزا جھوٹی نبوت کا مدعی ہے۔ کبریٰ: اور جھوٹی نبوت کا مدعی کافر ہے۔ نتیجہ: صاف ہے کہ مرزا کافر ہے۔

دوسری طرز سے

صغریٰ: مرزا اللہ تعالیٰ کے نبی خاتم النبیین کا منکر ہے۔ (کیونکہ آپ کو خاتم النبیین نہیں مانتا) کبریٰ: اور سچے نبی کا منکر کافر ہے۔ نتیجہ: یہ کہ مرزائی کافر ہے۔

گزشتہ بیان سے شبہ ہو سکتا ہے کہ قادیانی مرزائی جو کہ مرزا قادیانی کی نبوت کاذبہ کو تسلیم کرتا ہے۔ وہ تو کافر ہوا۔ مگر لاہوری مرزائی کو کافر نہیں کہنا چاہئے۔ کیونکہ وہ ختم نبوت کا قائل ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔ اس شبہے کو دور کرنے کے لئے کئی دلائل ہیں۔

موعود نبی ہیں۔ مگر لاہوری مرزائی ان کی نبوت کا منکر ہے۔ اس بناء پر وہ بھی کافر ہے۔

والے مسیح علیہ السلام ابن مریم ہیں۔ ایسے قطعیات کا منکر کافر ہے۔

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥

سوم ...... مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوٰی نبوت میں شک نہیں۔ چنانچہ مرزا محمود قادیانی نے اپنی کتاب ”حقیقت النبوۃ“ میں ضرورت سے زیادہ مواد جمع کر دیا ہے۔ یہ لاہوری مرزائیوں کو بھی مسلم ہے۔ وہ صرف اس کی تاویل کرتے ہیں کہ نبی سے مراد محدث ہے۔ لیکن محدث کی تشریح وہی نبی والی کرتے ہیں کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے جو دخل شیطان سے محفوظ ہوتی ہے اور انبیاء کی طرح وہ مامور ہوتا ہے۔ اس کا منکر مستوجب سزا ٹھہرتا ہے۔ پس محدث کی تشریح نبی والی ہوئی۔ تو معلوم ہوا کہ درحقیقت مرزائی دونوں گروہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ لاہوری اور قادیانی میں کوئی فرق نہ ہوا۔

چہارم ...... امت مسلمہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ آنے والا مسیح حکومت اور سیاسی شان کے ساتھ آئے گا۔ احادیث صحیحہ میں بھی اس کی تصریح ہے کہ حکم، عدل، یعنی باانصاف حاکم ہوگا۔ جنگ کرے گا۔ دجال کو قتل کرے گا وغیرہ۔ ایسے متواتر اور متفقہ عقیدے کا منکر کافر ہے۔ پس لاہوری مرزائی بھی کافر ہوا۔ کیونکہ وہ بجائے اس کے ایسے شخص کو مسیح موعود مانتا ہے۔ جو حکومت اور سیاست کے ساتھ نہیں آئے گا۔

خلاصہ

یہ کہ مرزائی لاہوری ہوں یا قادیانی دونوں کافر ہیں اور امت مسلمہ مرزائیت کے دونوں گروہ کے کفر پر متفق اور متحد ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ: مرزائیت کے کفر پر امت محمدیہ کا اجماع ہے۔

ختم نبوت اور نزول عیسیٰ علیہ السلام

اخبار تنظیم اہل حدیث مجریہ ٢٩؍نومبر ١٩٦٨ء میں میرا مضمون بعنوان ”خاتم النبیین“ شائع ہوا تھا۔ جس میں قرآن وحدیث کی تصریحات سے یہ ثابت کیا گیا کہ حضرت محمد ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے اور آپ کے بعد کسی کو عہدۂ نبوت ورسالت سے سرفراز نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ضمن میں ایک شبے کا جواب دیتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر کسی کو شبہ ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت آنے والے ہیں۔ وہ بھی تو نبی ہیں۔ پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں؟

اس کا دفعیہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عہدۂ نبوت ٥٧١ سال پہلے عطا

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦

ہو چکا ہے۔ اب دوبارہ آخری زمانے میں بحیثیت آنحضرت ﷺ کے ایک امتی کے تشریف لائیں گے۔ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت ورسالت کا عمل اس وقت جاری نہ ہوگا۔ جیسے آج تمام انبیاء کرام اپنے اپنے مقام پر (برزخ) میں موجود ہیں۔ مگر عمل صرف نبوت محمدیہ کا جاری وساری ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو ان کو بھی بجز میری اتباع کے چارہ نہ ہوتا۔ اسی طرح جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آسمان سے نازل ہوں گے تو قرآن مجید وحدیث شریف ہی کی تبلیغ فرمائیں گے۔ عہدہ رسالت تو ان کو مل چکا ہے۔ جو کسی وقت سلب نہیں ہو سکتا اور ہم نے قرآن وسنت سے ثابت کر دیا کہ نبوت ورسالت ختم ہو چکی۔ کسی شخص کو نئے سرے سے عہدۂ نبوت اب عطا نہیں کیا جائے گا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آنحضرت ﷺ سے پہلے مرتبۂ نبوت پر فائز ہو چکے ہیں۔ لہذا ان کی آمد سے خاتم النبیین کی ختم نبوت پر کوئی زد نہیں پڑتی۔

ناظرین کرام! غور فرمائیں کس قدر صاف اور واضح بیان ہے کہ نبی ﷺ خاتم النبیین ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ سے پہلے عہدۂ نبوت عطاء ہو چکا ہے۔ اب ان کی آمد ثانیہ سے ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وہ بحیثیت آپ کے تابع آئیں گے۔ کتاب وسنت ہی کی تبلیغ واشاعت کریں گے۔ خود ان کی نبوت ورسالت کا عمل اس وقت جاری نہ ہوگا۔

یہ مدلل اور معقول بات بوجہ ضد اور تعصب مرزائی ہفت روزہ پیغام صلح کے مدیر کی سمجھ میں نہیں آئی۔ اس لئے وہ اعتراض کرتا ہوا رقم طراز ہے۔

یہ کہنا کس طرح ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دوبارہ آئیں گے تو وہ رسول بھی رہیں گے اور امتی بھی۔ امتی ہونا تو ان کی رسالت کے منافی ہے جو شخص رسول ہوگا وہ امتی کیسے ہو سکتا ہے؟

اب آپ فرمائیں کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اولی الامر کے مقام پر رکھا جائے گا۔ جس سے تنازعہ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں ان کی رسالت باقی نہیں رہے گی۔ یا رسول کے مقام پر سمجھا جائے گا۔ جس سے حضرت نبی کریم ﷺ کی نفی ہوتی ہے اور ختم نبوت باطل ہو جاتی ہے۔ ان دونوں میں سے کون سی صورت اختیار کی جائے گی؟

(پیغام صلح ١٨؍ دسمبر ١٩٦٨ء)

١٤

صفحہ ٢٧

سنئے جناب! حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی پچھلی نبوت سے نازل ہوں گے اور شریعت محمدی پر عمل کریں گے۔ ایک وقت میں دو نبیوں کا ہونا ایک امام کا ہونا اور دوسرے کا تابع ہونا ممتنع نہیں۔ بلکہ قرآن شریف سے بالتصریح ثابت ہے۔

دیکھئے! حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام دونوں ایک ہی وقت میں ہوئے ہیں اور دونوں نبی تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اصل صاحب شریعت امام تھے اور حضرت ہارون علیہ السلام آپ کے تابع اور خلیفہ تھے۔

چنانچہ سورۃ فرقان میں ارشاد ہے: ”ولقد أتینا موسیٰ الکتب وجعلنا معه اخاه هارون وزيراً (الفرقان: ٣٥)“ {ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو اس کا وزیر بنایا۔}

اسی طرح سورۃ اعراف میں ہے: ”وقال لاخیه هارون اخلفنی فی قومی (الاعراف: ١٤٢)“ {جب موسیٰ علیہ السلام حسب وعدہ الٰہی کوہ طور پر چلے تو اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو کہنے لگے۔ میرے بعد میری قوم میں میرا خلیفہ رہنا۔}

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ مقرر کرتے ہیں اور قوم کو صرف اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔ حالانکہ حضرت ہارون علیہ السلام بھی نبی تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ووهبناله من رحمتنا اخاه هارون نبياً (مریم: ٥٣)“ {ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون (علیہ السلام) نبی کر کے بخشا۔}

اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام دونوں ایک وقت میں ہوئے ہیں اور دونوں نبی تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام صاحب شریعت اور امام تھے اور حضرت لوط علیہ السلام باوجود نبی ہونے کے ان کے تابع تھے۔ چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام کی نبوت و رسالت کے بابت فرمایا: ”وان لوطاً لمن المرسلین (الصافات: ١٣٣)“ {بے شک حضرت لوط علیہ السلام بھی رسولوں میں سے ہیں۔}

اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تابع ہونے کی بابت اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”فأمن له لوط (عنکبوت: ٢٦)“ {(حضرت) لوط (حضرت) ابراہیم علیہما السلام پر ایمان لائے۔}

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨

اسی طرح حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام دونوں ایک وقت میں نبی تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام تھے اور حضرت یحییٰ علیہ السلام ان کے تابع تھے۔ جیسے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صفات میں فرمایا: ”مصدقاً بکلمۃ من اللہ (آل عمران: ٣٩)“ {حضرت یحییٰ کلمۃ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔}

اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اصل صاحب شریعت اور امام جناب رسول اللہ ﷺ ہی ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کے خلیفہ، وزیر اور تابع ہوں گے اور نبی بھی ہوں گے۔ اسی لئے صحیح مسلم کی حدیث جو حضرت نواس بن سمعانؓ سے روایت ہے۔ اس میں آپ کو چار دفعہ نبی اللہ کہا گیا ہے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام اولوالامر ہوں گے اور بحیثیت اولوالامر ہونے کے ان سے تنازعہ ممکن ہے اور اس کا فیصلہ بھی ”فردوہ الی اللہ والرسول (النساء: ٥٩)“ کے تحت ہوگا اور وہ قرآن وحدیث ہی کے مبلغ ہوں گے۔ خود ان کی رسالت ونبوت کے احکام اس وقت جاری نہ ہوں گے۔

دفع دخل نمبر: ١

اگر کہا جائے کہ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ایسے نبیوں کی بابت ہے جو ایک زمانے میں دنیا میں موجود تھے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی صورت میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ دنیا میں تشریف نہیں رکھتے تو جواب اس کا یہ ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی صورت میں یہ امر بطریق اولیٰ جائز ہے۔ کیونکہ جب حقیقتاً دو نبی اکٹھے ہو سکتے ہیں تو زمانہ اور زندگی کے لحاظ سے کیوں منع ہے؟ ایک تو باعتبار زمان نبوت کے ہو اور دوسرا اپنی حقیقی زندگی سے موجود ہو تو کوئی حرج نہیں۔ یہ امر بھی ہم قرآن شریف سے ثابت کئے دیتے ہیں۔“

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”ولقد آتینا موسیٰ الکتاب وقفینا من بعدہ بالرسل (البقرہ: ٨٧)“ {ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی اور اس کے بعد قدم بقدم کئی رسول بھیجے۔}

دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون الذین اسلموا (مائدہ: ٤٤)“ {ہم نے توراۃ نازل کی۔ اس میں ہدایت اور نور تھا۔ اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔ خدا کے فرمانبردار نبی۔}

ان آیات سے ظاہر ہے کہ شریعت موسوی کے تابع کئی رسول مبعوث کئے گئے اور وہ سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوئے۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩

بعد ان کے آئین وشریعت پر کئی نبی ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہو کر دنیا میں زندہ موجود ہونے میں کوئی فرق نہیں۔

پس ثابت ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ نہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کو آپ سے پیشتر نبوت مل چکی ہوئی ہے۔ نہیں آئیں گے۔

دفع دخل نمبر :٢

شاید کسی کو یہ شبہ ہو کہ کیا امت محمد ﷺ کی اصلاح بغیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نہیں ہو سکتی؟ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی دوبارہ نزول فرمائیں۔ کیا اس میں امت محمدیہ کی توہین نہیں ہے؟ کہ اس میں کوئی لائق اصلاح امت نہیں؟

جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض بھی کم علمی کے سبب ہے۔ یہ کسی حدیث میں نہیں لکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے تشریف لائیں گے۔ سب احادیث میں یہی لکھا ہے کہ صلیب توڑیں گے۔ یعنی دین نصاریٰ کو باطل کردیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ یعنی اس کے پالنے اور کھانے کو حرام کر دیں گے اور دجال کو ماریں گے۔

یہ کسی حدیث میں نہیں آیا کہ امت محمدیہ کی اصلاح کریں گے۔ اس میں امت محمدیہ کی توہین نہیں بلکہ فخر ہے کہ ایک اولوالعزم پیغمبر حضرت رحمۃ اللعالمین خاتم النبیین کی امت میں شامل ہو کر امامت کا فرض ادا کرے گا۔

دفع دخل نمبر :٣

اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ حضرت تشریف لائیں گے تو وحی رسالت کا بھی آنا ہوگا اور رسول کی حیثیت و ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل علیہ السلام حاصل کرے تو جواب یہ ہے کہ جب دین محمد ﷺ کامل ہے۔ اللہ ”اکملت لکم دینکم (مائدہ:٣)“ فرما رہا ہے۔ تو پھر مسیح رسول کو کون سے دینی علوم بذریعہ جبرائیل لینے ہوں گے؟

کیا مسیح دین محمد کا ناسخ ہوگا؟ ہر گز نہیں۔ اگر مسیح علیہ السلام پر جبرائیل علیہ السلام وحی رسالت لائے تو شریعت محمدی پر اس کا حکم کرنا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ باطل ہوتا ہے۔ کیونکہ جب جبرائیل علیہ السلام تازہ وحی لائے تو قرآنی وحی منسوخ ہوئی اور ”اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (مائدہ:٣)“ نعوذ باللہ! غلط ہوتا۔ پس یہ امر کہ رسول کے واسطے

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠

ہمیشہ جبرائیل علیہ السلام کا آنا لازمی امر ہے۔ غلط ہے کسی نص شرعی میں نہیں ہے کہ مسیح موعود پر جبرائیل علیہ السلام وحی لائے گا۔ بلکہ اجماع امت ہے کہ مسیح موعود باوجود رسول ہونے کے حضرت محمد ﷺ کی امت میں شمار ہوگا۔ جیسا کہ محی الدین ابن عربی فتوحات مکیہ کے باب ٢٣ میں فرماتے ہیں۔

”جاننا چاہئے کہ امت محمدیہ میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو ابوبکر صدیقؓ سے سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے افضل ہو۔ کیونکہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اسی شریعت محمدی سے حکم کریں گے اور قیامت میں ان کے دو حشر ہوں گے۔ ایک حشر انبیاء کے زمرے میں ہوگا اور دوسرا حشر اولیاء کے زمرے میں ہوگا۔“

حضرت شیخ اکبرؒ صاحب کشف والہام میں مرزا قادیانی اور ان کے مرید ان کو مانتے ہیں۔ اس واسطے شیخ اکبر کی تحریر مسلمہ فریقین ہے۔ حضرت شیخ کی اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد اسی شریعت محمدیؐ پر عمل کریں گے۔ باوجودیکہ خود رسول ہوں گے۔ چونکہ شریعت محمدی کامل شریعت ہے۔ اس لئے ان کو بعد نزول وحی رسالت نہ ہوگی۔ دوسرے اولیائے امت کی طرح ان کو بھی الہام ہوگا۔

وحی رسالت بے شک رسول کے واسطے لازمی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس پہلے ضرور حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی رسالت لایا کرتے تھے۔ مگر وہ آنا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے تھا جو کہ ان کی رسالت کا زمانہ تھا اور وہ اسی طرح وحی رسالت سے رسول تھے اور صاحب انجیل تھے۔

مگر یہ اعتراض سراسر غلط ہے کہ بعد نزول بھی ان کی وحی رسالت ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ رسول کو علم دین بذریعہ جبرائیل ملتا ہے۔ نزول جبرائیل علیہ السلام چونکہ بعد خاتم النبیین مسدود ہے۔ اس لئے عیسیٰ رسول اللہ پر بھی بعد خاتم النبیین کے نہیں آسکتے اور رسول کے لئے ضروری نہیں کہ ہر وقت بلاضرورت بھی اس کے پاس جبرائیل وحی رسالت لاتا رہے اور وہ وحی رسالت کے بند ہونے سے کسی رسول کی رسالت جاتی رہتی ہے۔ حضرت خاتم النبیین کے پاس کتنی کتنی مدت تک جبرائیل نہ آئے تھے تو کیا نبی کریم ﷺ کی رسالت جاتی رہتی تھی؟ اور پھر جب جبرائیل علیہ السلام آتے تھے۔ تب آپ پھر رسول ہو جاتے تھے۔ ہرگز نہیں۔

دفع دخل نمبر: ٤

اگر شبہ ہو کہ بعد نزول عیسیٰ ان کے امتی ہونے سے رسالت چھن جائے گی تو جواب یہ

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١

ہے کہ یہ کہاں سے سمجھ لیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعد نزول اپنی نبوت ورسالت چھن جائے گی اور وہ معزول ہوں گے۔ جب نظیریں موجود ہیں اور نص قرآنی ثابت کر رہی ہے کہ سب انبیاء علیہم السلام حضرت خاتم النبیین کی امت میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب انبیاء سے اقرار لے چکا ہے کہ وہ خاتم النبیین کی پیروی کریں گے اور ضرور اس پر ایمان لائیں گے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”وَاِذْ اَخَذْنَا مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا اتَيْتُكُم مِّنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ (آل عمران: ٨١)“ {جب خدا نے نبیوں سے اقرار لیا جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے۔ پھر جب تمہاری طرف رسول آئے جو تمہاری سچائی ظاہر کرے گا تو تم ضرور اس پر ایمان لاؤ گے اور ضرور مدد کرو گے۔}

معراج والی حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام نے آنحضرت ﷺ خاتم النبیین کے پیچھے نماز پڑھی اور آنحضرت ﷺ انبیاء کرام کے امام بنے اور اولوالعزم رسول آپ کے مقتدی ہوئے۔ جب ان تمام رسولوں اور نبیوں کی رسالت بحال رہی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب بعد نزول شریعت محمدی پر عمل کریں گے تو ان کی رسالت کیونکر جاتی رہے گی؟

فرض کرو ایک جرنیل دوسرے جرنیل کی کمان میں کسی خاص ڈیوٹی پر لگایا گیا ہو تو اس جرنیل کے عہدے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں اتنا ضرور ہوتا ہے کہ جس جرنیل کے ماتحت یہ جرنیل ہوتا ہے،۔ اس کی عالی شان ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول جب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شریعت کی متابعت کریں گے اور دین اسلام کی امداد کریں گے اور اپنا وعدہ جو روز میثاق میں کر چکے ہیں اسے وفا کریں گے۔ ان کی اپنی نبوت ورسالت بدستور بحال رہے گی۔

جیسا کہ شیخ اکبر نے لکھا ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کے دن انبیاء کے زمرے میں بھی حشر ہوگا اور اولیاء کے زمرے میں بھی۔“

یہ کام تو ان کی فضیلت کا باعث ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت کے اولیاء کرام میں بھی ان کا حشر ہوگا اور یہ ان کی اپنی دعا کا نتیجہ ہے۔

(دیکھو انجیل برنباس فصل

٢١٢ ص ٢٩٤)

”اے رب بخشش والے اور رحمت میں تو اپنے خادم (عیسیٰ) کو قیامت کے دن اپنے رسول (محمدؐ) کی امت میں نصیب فرما۔“

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢

حاصل یہ کہ ایک نبی دوسرے نبی کی متابعت کرے تو اس کی اپنی نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ آنحضرت ﷺ نے ملت ابراہیمی میں اتباع فرمائی تو کیا آپ کی نبوت جاتی رہی؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت خاتم النبیینؐ کی اتباع سے کیوں جاتی رہے گی؟

حضرت خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا کہ: ”اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی کے سوا ان کا چارہ نہ ہوتا۔“

اس حدیث سے بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایک نبی کی دوسرے نبی کی اتباع سے نبوت نہیں جاتی۔

پیغام صلح کا حدیث رسول سے انکار

مرزائی ہفت روزہ ”پیغام صلح“ کے مدیر حدیث: ”اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بھی بجز میری اتباع کے چارہ نہ تھا“ کا انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”یہ قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیت کے خلاف ہے۔ اس لئے اس کو رسول کریم کا قول تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔“

(پیغام صلح مورخہ ١٨ دسمبر ١٩٦٨ء)

جناب! یہ کہہ دینا آسان ہے کہ اس حدیث کو ہم نہیں مانتے۔ یہ قرآن کے خلاف ہے۔ مگر یہ ثابت کرنا کہ اس دلیل سے قرآن کے خلاف ہے مشکل ہے۔ کیا ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کہہ دے کہ یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے۔ یا اس کے لئے علم وعقل کی ضرورت ہے؟

کیا حدیث صحیح قرآن کے خلاف ہو سکتی ہے؟ یہ حدیث حضرت جابرؓ سے مشکوٰۃ، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ میں بحوالہ احمد، بیہقی میں موجود ہے۔

کیا مدیر ”پیغام صلح“ بتائیں گے کہ کس نے اس کو قرآن کے خلاف کہا ہے؟ کسی امام، محدث یا فقیہہ نے کسی ایک کا نام تو لیجئے۔ کیا مرزا قادیانی نے کہیں لکھا ہے کہ حدیث قرآن کے خلاف ہے۔ اگر نہیں تو آپ کا قول بے دلیل ہے۔ جسے کوئی عقل مند تسلیم نہیں کر سکتا۔

کیا یہ حدیث نبوی ﷺ کا انکار نہیں؟

کیا حدیث رسول ﷺ کا انکار کفر نہیں؟

کیا حدیث رسول ﷺ کو چھوڑنے والا بقول مرزا قادیانی خبیث نہیں؟

اثبات حیات مسیح علیہ السلام

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے: ”ویکلم الناس فی المھد وکھلاً

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣

ومن الصالحین (آل عمران: ٤٦) ” { کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور کہولت کی عمر میں اور صالحین سے ہوگا۔ }

”تكلم فی المهد اور تكلم فی الکھولت“ { کسی اور نبی کی شان میں سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وارد نہیں ہوا۔ اللہ انعام جتائے گا۔ }

”اذ ایدتک بروح القدس تكلم الناس فی المهد وكهلاً (مائدہ: ١١٠)“ { جب کہ تائید کی میں نے تیری، روح القدس سے کہ تو نے لوگوں سے گہوارے میں اور کہولت کی عمر میں کلام کیا۔ }

جس طرح تکلم فی المہد امر خارق عادت ہے۔ اسی طرح تکلم فی الکہولۃ بھی امر خارق عادت ہے۔ کلام فی الکہولۃ بظاہر امر عجیب نہیں۔ کیونکہ یہ زمانہ کہولت میں سب بولنے والے کلام کیا کرتے ہیں۔ اس لئے اس معجزہ عیسویہ کی صورت یہ ہوگی کہ اتنے زمانہ دراز تک جسم کا بغیر طعام وشراب زندہ رہنا اور اس میں کسی قسم کا تغیر نہ ہونا۔ امر خارق عادت ہے۔ ورنہ تخصیص مسیح کی کوئی وجہ نہیں۔ تکلم فی المہد کا ذکر سورۂ مریم میں ہے۔

”قالوا کیف نكلم من كان فی المهد صبیاً (مریم: ٢٩)“ لیکن تکلم فی الکہولۃ کا ذکر قرآن مجید میں نہیں۔ جو بعد نزول من السماء ہوگا۔ فافہم !

دوسرے مقام پر ارشاد باری ہے: ”ويعلمه الكتاب والحكمة والتوراة والانجیل (آل عمران: ٤٨)“ { سکھائے گا اس کو کتاب وحکمت، تورات اور انجیل۔ }

قرآن مجید میں جہاں حکمت وکتاب اکٹھا بصیغہ مضارع آیا ہے۔ وہاں بجز قرآن وسنت کے اور کچھ مراد نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن وسنت، توراۃ اور انجیل کا وعدہ فرمایا اور وعدہ خداوندی میں خلاف محال ہے۔ توراۃ اور انجیل کی تعلیم ہوچکی۔ قرآن وسنت کی تعلیم بعد نزول من السماء ہوگی۔

اور سنئے ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا (النساء: ١٥٩)“ { اور نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب میں سے۔ مگر ایمان لے آئے گا۔ اس پر اس کی موت سے پہلے اور وہ ان پر قیامت کے دن شاہد ہوگا۔ }

لیؤمنن مع لام قسم اور نون تاکید ثقیلہ کے ہے۔ کتب نحو میں مصرح ہے کہ نون تاکید

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢

مضارع کو خالص استقبال کے لئے کر دیتا ہے۔ ماضی اور حال کے لئے نون تاکید نہیں آتا۔ اس مسئلے میں کسی نحوی کا اختلاف نہیں اور نہ کسی آیت قرآنی یا حدیث نبوی یا کلام عرب میں اس کے خلاف نون تاکید کا استعمال پایا گیا ہے۔

مراد الہی اس آیت مبارکہ سے یہ ہوئی کہ آئندہ زمانہ میں ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے۔ جس میں سب اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ضرور آپ کے مرنے سے پہلے ایمان لے آئیں گے اور آپ ان پر قیامت کے دن شاہد ہوں گے۔

چونکہ ابھی تک بالاتفاق اہل کتاب قاطبۃً حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے پر محقق نہیں ہوئے۔ لہٰذا آپ ابھی تک فوت بھی نہیں ہوئے ہیں۔ آیت ”بل رفعہ اللہ“ میں مسیح علیہ السلام کا صعود الی السماء مذکور ہوا تو سامع کے دل میں ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے کبھی نازل بھی ہوں گے یا نہیں؟ سو اللہ تعالیٰ نے بطور استیناف (جواب و سوال مقدر) فرمایا کہ آخر زمانہ میں آپ نزول فرمائیں گے اور ان کے نزول کے وقت یہ ہوگا کہ اہل کتاب بالاتفاق آپ پر ایمان لے آئیں گے۔

اس کے ساتھ ہی بخاری و مسلم کی حدیث: ”واللہ لینزلن فیکم ابن مریم“ آپ نے فرمایا۔ مجھے اس ذات واحد کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے۔ تحقیق اتریں گے تم میں ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) حاکم عادل ہو کر ملا لیں۔

اس حدیث میں آنحضرت ﷺ قسم کھا کر نزول عیسیٰ علیہ السلام بیان فرما رہے ہیں۔ جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔

مرزا قادیانی کی شہادت

مرزا قادیانی رقم طراز ہیں کہ: ”نبی کا کسی بات کو قسم کھا کر بیان کرنا اس بات پر گواہ ہے کہ اس میں کوئی تاویل نہ کی جائے۔ نہ استثناء بلکہ اس کو ظاہر پر محمول کیا جائے۔ ورنہ قسم سے فائدہ ہی کیا ۔“

(حمامتہ البشریٰ حاشیہ ص ١٤، خزائن

ج ٧ ص ١٩٢)

حیات اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کی حکمت

حکمت الہیہ حضرت عیسیٰ روح اللہ کے زندہ رکھنے اور پھر دنیا میں نازل کرنے میں یہ ہے کہ نظر بر کمالات انبیاء علیہم السلام چار وصف ایسے معلوم ہوتے ہیں۔ جن کا حصول بہ نسبت

صفحہ ٣٥

انبیاء اولوالعزم علیہم السلام کے ضروری ہے۔ گو ان میں سے کسی کی نسبت کوئی وصف بہ باعث عدم ضرورت قرآن شریف میں مذکور نہ ہو یا بسبب موانع وعوائق خارجیہ مثل عدم ضرورت ظہور بالفعل ظاہر نہ ہوا ہو۔ مگر بالقوہ وہ سب ان اوصاف اربعہ سے متصف ہیں۔

١...... مبشر بہ (بصیغہ اسم مفعول) اس اعتبار کے کہ اس پیغمبر کے ہونے کی شہادت پہلے دی جاتی ہے۔ جیسے حضرت روح اللہ کی نسبت علی لسان الملائکہ حضرت مریم علیہا السلام کو بشارت دی گئی ۔ ”یا مریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم (آل عمران: ٤٥) “ {مریم! خدا تم کو اپنے کلمہ کی جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ بشارت دیتا ہے۔}

اور نیز: ”رسولاً الیٰ بنی اسرائیل (آل عمران: ٤٩) “ {اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف۔}

پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبشر بہ ہوئے۔

٢...... مصدق۔

٣...... مبشر (ہر دو بصیغہ اسم فاعل) مصدق اس نظر سے کہ وہ رسول اپنے سے پہلے رسولوں کی تصدیق کرتا ہے اور مبشر اس لحاظ سے کہ وہ رسول کسی دوسرے رسول کے آنے کی بشارت سناتا ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ اور محمد رسول اللہ، حبیب اللہ، صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین کی نسبت حکایۃً من روح اللہ علیہ السلام سورہ صف میں ذکر کیا۔ ”ومصدقا لما بین یدیَّ من التوراۃ ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (صف: ٦) “ {تصدیق کرنے والا توراۃ کی جو میرے آگے ہے اور بشارت دینے والا ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔}

اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دونوں، یعنی مبشر اور مصدق (ہر دو بصیغہ اسم فاعل) ثابت ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصدق بصیغہ اسم مفعول جو وصف چہارم ہے۔ کیونکہ تصدیق کتاب مستلزم ہے۔ تصدیق رسول کی اور آنحضرت ﷺ مبشر بہ وصف دوم جناب رسالت مآب کی نسبت سورہ صافات میں فرمایا۔ ”بل جاء بالحق وصدق المرسلین (صافات: ٣٧) “ {بلکہ حق لے کر آیا ہے اور رسولوں کی تصدیق کرتا ہے۔}

اس میں آنحضرت ﷺ کا وصف مصدق اسم فاعل مذکور ہوا۔ چونکہ حضرت روح اللہ علیہ السلام بھی زمرۂ مرسلین میں سے ہیں۔ اس لئے ان کی صفت مصدق اسم مفعول ثابت

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦

ہوئی۔

پس اس سلسلہ میں حضرت روح اللہ علیہ السلام کے چاروں وصف ثابت ہوئے اور آنحضرت ﷺ کے صرف دو یعنی مبشر بہ بصیغہ اسم مفعول اور مصدق اسم فاعل آنحضرت ﷺ کے لئے بوجہ سیادت اور ختم رسالت اوصاف اربعہ کا ظہور بالفعل ضروری ہے۔ پس اگر آپ کے اوصاف کی تکمیل بالفعل کے لئے کوئی نیا رسول بھیجا جائے تو خاتم النبیین کا شرف باقی نہیں رہتا اور اگر ختم نبوت کی رعایت کی جائے تو اوصاف مبشر بصیغہ اسم فاعل اور مصدق بصیغہ اسم مفعول کا ظہور نہیں ہوتا۔ جو شان سیادت کے شایان نہیں۔ اس لئے اللہ حکیم کی حکمت بالغہ اس امر کی مقتضی ہوئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ رکھا جائے۔ جن کی آمد ثانی کی بشارت سے آپ کا لقب مبشر بصیغہ اسم فاعل ظاہر ہو جائے اور حضرت مسیح علیہ السلام دنیا میں آ کر اس امر کی تصدیق کریں کہ محمد رسول حق ہے اور آپ ﷺ کی صفت مصدق اسم مفعول ظاہر ہو جائے۔

پس اس طریق حکیمانہ سے ختم نبوت بھی قائم رہی۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے پہلے رسول بن چکے ہیں اور اسی نبوت سے پھر آئیں گے۔ نیز رسول اللہ ﷺ کے اوصاف اربعہ بھی پورے ہو گئے۔

چنانچہ فتح الباری شرح صحیح بخاری، باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام میں بتخریج طبرانی حدیث عبداللہ بن مغفل مذکور ہے: ”ینزل عیسی بن مریم مصدقاً بمحمد علی ملتہ (فتح الباری)“ {حضرت عیسیٰ بن مریم، محمد ﷺ کی تصدیق کے لئے نازل ہوں گے اور آپ کی ملت پر ہوں گے۔}

تفسیر رحمانی میں ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع میں یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین محمدی کی تقویت کے لئے اٹھا رکھا۔ جب کہ دین محمدی دجال کے ظہور سے بہت ہی ضعف میں ہو جائے گا۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس (دجال) کو قتل کر دیں گے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو اس نعمت جزیلہ جلیلہ کے لئے اس واسطے مخصوص کیا گیا کہ آپ کی نسبت حضرت مریم علیہا السلام کو آپ کی ولادت سے پیشتر ہی بشارت سنائی گئی تھی۔“

”ولنجعله ایۃ للناس (مریم: ٢١)“ {تاکہ ہم اس کو لوگوں کے لئے اپنی قدرت کا ایک نشان بنائیں۔}

لہٰذا آپ اس انعام کے زیادہ مستحق ہیں۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ:

”انا اولی الناس بعیسی بن مریم (الحدیث)“ {مجھے عیسیٰ بن مریم کے ساتھ سب لوگوں

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧

سے زیادہ نسبت ہے۔}

(رواہ البخاری)

ان دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ سے اظہر من الشمس ہے کہ : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قرب قیامت دوبارہ نازل ہوں گے۔ جیسا کہ بخاری شریف سے ذکر ہو چکا اور اس میں بقول مرزا قادیانی: ”کسی تاویل یا مثیل کی گنجائش نہیں۔ بلکہ اسے ظاہر پر محمول کیا جائے۔“ جیسا کہ حمامۃ البشریٰ کے حوالے سے گزرا۔“

مگر مرزائی اخبار ”پیغام صلح“ کے مدیر صاحب کتاب وسنت کی تصریحات اور مرزا قادیانی کی شہادت کے باوجود اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”ان الجھنوں سے نکلنے کی ایک ہی راہ ہے۔ وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوسرے انبیاء کی طرح فوت شدہ تسلیم کرتے ہوئے (جو قرآن کریم سے ثابت ہے) ان کی دوبارہ آمد کا انکار کر دیا جائے اور اس کے وہ معنی کئے جائیں جو مرزا قادیانی نے کئے ہیں کہ نزول مسیح علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا مراد نہیں۔ بلکہ ان کی خو بو میں ان کے مثیل کا آنا مراد ہے۔ جیسے ملا کی نبی کی پیش گوئی میں الیاس کے دوبارہ آنے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے مثیل یوحنا کا آنا مراد لیا ہے۔“

(پیغام صلح مورخہ ١٨؍ دسمبر ١٩٦٨ء)

قارئین کرام! مدیر ”پیغام صلح“ نے وفات مسیح علیہ السلام کے ثبوت میں جو استدلال قرآن مجید سے کیا ہے۔ اس کا جواب تو اپنے موقع پر دیا جائے گا۔ کیا مدیر ”پیغام صلح“ یہ بتا سکتے ہیں کہ: ”جو معنی مرزا قادیانی نے کئے ہیں۔ یہ حضرت محمد مصطفی ﷺ سے ثابت ہیں؟ یا زمانہ خیر القرون میں کسی نے لکھا ہے کہ نزول مسیح علیہ السلام سے ان کا مثیل مراد ہے؟“

چلو سلف صالحین سے نہ سہی، متاخرین ائمہ کرام، مفسرین عظام، یا محدثین علام سے ہی سہی کہ نزول مسیح سے ان کی خو بو میں ان کے مثیل کا آنا مراد ہے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو مدیر پیغام صلح بتا سکتے ہیں کہ جو معنی اور مفہوم امت محمدیہ تیرہ سو سال تک نہیں سمجھ سکی۔ وہ مرزا قادیانی نے کہاں سے سمجھا؟

سر خدا کہ عارف وزاہد بکس نہ گفت
در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید

جو معنی امت محمدیہ کے اجماع کے خلاف ہو وہ کہاں تک درست ہو سکتا ہے؟

ناظرین! مرزا قادیانی کا یہ استدلال بالکل غلط ہے۔ اس طرح کہ حضرت الیاس علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور وہاں سے پھر اترنے کا مسئلہ قرآن وحدیث سے کہیں بھی ثابت

٢٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨

نہیں ۔ نہ حقیقتاً نہ مثالاً۔ بس مرزا قادیانی اس پر اپنی مماثلت کی بناء نہیں رکھ سکتے ۔ قرآن شریف سے یہی ثابت ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی بابت کوئی پیش گوئی نہیں ہے۔ یہ یہودیوں کا من گھڑت عذر تھا اور نیز یہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت الیاس علیہ السلام کے مثیل نہ تھے۔ کیونکہ حضرت زکریا علیہ السلام کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی تعریف ان لفظوں میں سنائی تھی۔

”ان الله يبشرك بيحيى مصدقاً بكلمة من الله وسيداً وحصوراً ونبياً من الصالحين (آل عمران: ٣٩) “ { (اے زکریا ) اللہ تجھ کو ایسے لڑکے کی بشارت دیتا ہے۔ جس کا یحییٰ نام ہوگا۔ وہ کلمتہ اللہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی (جو ان کے بعد ہوئے) تصدیق کرنے والا ہو اور اپنی قوم کا سردار ہوگا اور عورتوں سے علیحدہ رہنے والا اور بہت پاک باز ہوگا اور صالحین انبیاء میں سے ہوگا ۔ }

پس اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت الیاس کے نزول کی پیش گوئی ہوئی ہوتی اور اس کا پورا ہونا حضرت یحییٰ علیہ السلام کے آنے سے ہوتا تو یہ امر حضرت زکریا علیہ السلام کو ضرور معلوم ہوتا۔ کیونکہ اس وقت آپ بوجہ نبی ہونے کے کامل العلم تھے اور دوسرے لوگ آپ کے علم کے محتاج تھے۔ لہٰذا ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت یوں سناتا کہ یہ وہ مولود مسعود ہے جو مدتوں سے منتظر و موعود ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام اپنے بیٹے سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے سے زیادہ خوش ہوں گے۔ مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے باوجود سبب کے موجود ہونے اس امر کا ذکر نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ نہ الیاس کا نزول خدا کی طرف سے بتلایا گیا تھا اور نہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ان کا مثیل ہونا درست ہے۔

اسی طرح سورت مریم میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صفت میں فرمایا: ”لم نجعل له من قبل سمياً (مریم:٧) “ { ہم نے اس پیشتر اس کا نام بنایا ہی نہیں۔ }

سمی کے معنی نظیر و شبہ اور مثیل کے بھی ہیں۔ جیسا کہ اسی سورۃ میں آگے آتا ہے۔ ”هل تعلم له سمياً (مریم: ٦٥) “ { کیا تو کوئی ایسا شخص جانتا ہے جو اللہ کا نظیر ہو؟ }

پس جب یحییٰ علیہ السلام سے پیشتر ان کا ہم نام مثیل بنایا ہی نہیں تو اب مرزا قادیانی ان کو حضرت الیاس کا مثیل کس طرح قرار دیتے ہیں؟ اور کس طرح اس پر اپنے دعویٰ مماثلت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں؟

٢٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩

انجیل سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے نہ تو مثیل الیاس ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ وہ تھے۔ بلکہ یہودیوں کے پوچھنے پر اس سے صاف انکار کر دیا۔ جیسا کہ انجیل، یوحنا، باب اوّل میں آیت ١٩ سے ٢١ تک لکھا ہے کہ:

لاویوں کو بھیجا ہے کہ اس سے پوچھے تو کون ہے؟“

کہا میں نہیں ہوں۔ پس آیا تو وہ نبی ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں۔“

اس عبارت سے اور اس کے بعد کی عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام جن کا انجیلی نام یوحنا ہے۔ کاہنوں کے سوال پر اپنے مثیل الیاس ہونے سے صاف انکار کر دیا۔ پس مرزا قادیانی کا دعویٰ مماثلت بالکل بے بنیاد ہے۔

اگر یہ عذر کیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہودیوں کے اعتراض پر حضرت الیاس کی پیش گوئی کے پورا ہونے کی بابت حضرت یحییٰ علیہ السلام کا آنا پیش کیا تھا تو اس کا جواب

زبان سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو پیش کیا۔

ہو بہو ”مدعی سست گواہ چست“ کا معاملہ نظر آتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ کیا پھر مسیح علیہ السلام نے غلط جواب دیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ معاملہ بالکل من گھڑت ہے۔

پیش گوئی کی گئی تھی اور وہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے آنے سے پوری ہوئی تو پھر بھی یہ ایک نظیر ہی بنے گی۔ نہ کہ علت موجبہ کہ اس کی رو سے یہ قرار دیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی بھی اسی رنگ میں پوری ہو۔

یہ نکتہ اہل علم پر مخفی نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ دوسرا واقعہ خوانخواہ پہلے معاملہ کی مانند ہو۔

انجیل سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اصالتاً خود ہی نزول فرمائیں گے۔

٢٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠

نہ کہ ان کا مثیل و بروز۔ کیونکہ مسیح علیہ السلام نے شاگردوں کو فرمایا کہ: ”میں خود ہی قرب قیامت آؤں گا۔“

اور یہ بھی فرمایا: ”بہتیرے میرے نام پر آئیں اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔“

مسیح علیہ السلام کے ارشاد مذکورہ سے ثابت ہوا کہ جو شخص مسیح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور گمراہ کرنے والا ہے۔ جیسا کہ مندرجہ آیت میں ہے۔ ”بہتیرے میرے نام پر آئیں گے۔“

چنانچہ مسیح کے نام پر بہت آ چکے ہیں۔ انہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ ان کے نام صرف درج کئے جاتے ہیں۔

اچھا کرتا تھا اور مردہ بھی طلسمی تدابیر سے زندہ کر کے دکھا دیا تھا۔

(دیکھو کتاب المختار)

انجیل کے اس بیان سے روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ مسیح موعود میں کاذب تھے۔

مدیر پیغام صلح فرماتے ہیں: ”حضرت ابن عباسؓ کے متعلق ان کا کیا فتویٰ ہے۔ جنہوں نے مسیح علیہ السلام کے متعلق ارشاد الٰہی ”یا عیسیٰ انی متوفیک“ کے معنی ”ممیتک“ کئے ہیں۔

(پیغام صلح مورخہ یکم جنوری ١٩٦٩ء)

مدیر پیغام صلح کا دعویٰ تو یہ ہے کہ: ”حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔“ اور دلیل میں حضرت ابن عباسؓ کا معنی ”ممیتک“ پیش کر رہے ہیں۔ جس کا معنی

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١

ہیں ۔ ”فوت کروں گا ۔“ دعویٰ اور دلیل میں تقریب تام نہیں ہے۔ کیا مدیر پیغام صلح کے نزدیک فوت ہوچکے ہیں اور فوت کروں گا کا مطلب ایک ہی ہے؟

آپ نے حضرت ابن عباسؓ کا نام لے کر مسلمانوں کو صریح دھوکہ دینے کی مذموم کوشش کی ہے۔ کیونکہ حضرت ابن عباسؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت قبل از نزول کے قائل نہیں ہیں۔ صحابہؓ میں سے عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کی بیشتر روایات ابن عباسؓ ہی سے مروی ہیں۔ چنانچہ تفاسیر مبسوطہ سے ہیں۔ آپ نے جو ”متوفیک“ سے ”ممیتک“ مراد بتائی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرگئے ہیں۔ آپ اس آیت میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔

تفسیر معالم میں ضحاک شاگرد ابن عباسؓ سے اس کی تصریح موجود ہے۔ ”ان فی الاية تقديما وتاخيراً معناه انی رافعک الی ومطهرک من الذین کفروا ومتوفیک بعد انزالک من السماء“ {اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اور اس کے معنی ہی ہیں کہ میں تجھ کو اپنی طرف اوپر اٹھاؤں گا اور کفار سے تجھے بچالوں گا اور پھر آسمان سے اتارنے کے بعد ماروں گا۔}

امام سیوطی تفسیر در منثور میں فرماتے ہیں: ”اخرج اسحاق بن عساکر من طریق جوهر عن الضحاک عن ابن عباسﷺ فی قوله انی متوفیک ورافعک الیٰ یعنی رافعک ثم متوفیک فی أخر الزمان“ {ضحاک نے ابن عباسؓ سے دوبارہ متوفیک روایت کی کہ مراد اس سے یہ ہے کہ تجھے اٹھانے والا ہوں۔ پھر آخر زمانہ میں تجھے ماروں گا۔}

اسی طرح تفسیر ابو السعود میں ہے: ”والصحیح ان اللہ تعالیٰ رفعه من غیر وفاة ولا نوم کما قال الحسن وابن زید وهو اختیاری الطبری وهو الصحیح عن ابن عباس (ابو السعود)“ {اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر موت اور نیند کے اٹھایا۔ جیسے کہ حسن بصری اور ابن زید نے کہا اور یہی علامہ امام ابن جریر طبری نے اختیار کیا ہے اور یہی امر ابن عباسؓ سے صحیح طور پر ثابت ہے۔}

حاصل یہ کہ ”توفی بالموت“ کا تحقق ”بعد نزول من السماء الی الارض“ کے ہوگا۔ اگرچہ آیت میں مقدم ہے اور ”رفع الی السماء“ کا تحقق قبل موت کے ہوا۔ اگرچہ ذکر میں مؤخر ہے۔ کیونکہ ترتیب ذکری اور ترتیب وقوعی میں مطابقت ضروری نہیں۔ اس کے نظائر

٢٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢

قرآن مجید اور حدیث شریف اور کتب ادب میں بکثرت ہیں اور کتب نحو اس سے بھری پڑی ہیں کہ واؤ حرف عطف میں ترتیب نہیں ہوتی۔ جیسے آیت ”یمریم اقنتی لربک واسجدی والرکعی مع الراکعین (آل عمران: ٤٣)“ میں سجدہ کو رکوع سے پہلے ذکر کیا۔ حالانکہ ترتیب خارجی و عملی میں متاخر ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر اور فتح البیان میں بذیل آیت: ”وانه لعلم للساعة (زخرف: ٦١)“ میں بھی حضرت ابن عباسؓ کا مذہب دوبارہ نزول ثانی نقل کیا ہے۔

اور نیز فتح الباری اور قسطلانی شروح بخاری میں ”وان من اهل الكتاب الا لیؤمنن به قبل موته (النسائ: ١٥٩)“ میں ”قبل موتہ“ کی ضمیر کے بارے میں لکھا ہے کہ بسند صحیح ابن عباسؓ کا مذہب یہی ہے کہ یہ ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے اور جو اس ضمیر کی بابت ابن عباسؓ سے یہ منقول ہے کہ کتابی کی طرف پھرتی ہے۔ اس کو ضعیف لکھا ہے۔

پس صراحۃً ثابت ہو گیا کہ حضرت ابن عباسؓ کا اعتقاد یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور آخری زمانہ میں پھر نازل ہوں گے اور پھر اس کے بعد فوت ہوں گے۔

پس ابن عباسؓ کے قول ”ممیتک“ سے ”متمسک“ ہونا اور ان کے اپنے اعتقاد مصرح در باب ”رفع الی السماء ونزول الی الارض فی آخر الزمان“ کی طرف توجہ نہ کرنا بلکہ اس کے خلاف اعتقاد رکھنا ”افتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض (البقره: ٨٥)“ کا ارتکاب نہیں تو اور کیا ہے؟

میں پوشیدہ نہیں، ڈنکے کی چوٹ اعلان کرتا ہوں کہ کیا فرقہ مرزائیہ میں کوئی ہے جو

صحیح حضرت ابن عباسؓ سے تصریح لائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ نہیں اٹھائے گئے؟

صحیح ثابت کر سکتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بار ثانی نزول فرما نہیں ہوں گے۔

اگر یہ امور ثابت نہ کر سکو اور یقیناً ہرگز نہیں ثابت کر سکو گے تو سنو! اس خیر امت جلیل

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤

القدر صحابی پر ناحق افتراء نہ باندھو اور اس جرات عظیمہ سے باز رہ کر عقائد باطلہ، مبتدعہ سے جلد از جلد توبہ کرلو۔

مدیر پیغام صلح وفات مسیح ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”قرآن کریم تو صریح الفاظ میں وفات مسیح کا اعلان اور مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا انکار کر رہا ہے۔ چنانچہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا جائے گا کہ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کے سوا معبود بنا لو تو صاف لفظوں میں اس سے انکار کرتے ہوئے یہ فرمائیں گے کہ میں نے ان سے وہی بات کہی تھی جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا اور جب تک میں ان میں رہا۔ ان کا نگران رہا۔ پھر جب تو نے وفات دے دی تو تو ہی ان کا نگہبان تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر مسیح نے دوبارہ آنا ہوتا تو وہ ہرگز جواب یہ نہ دیتے۔“

(پیغام صلح مورخہ یکم فروری ١٩٢٩ء)

مدیر پیغام صلح مانتے ہیں کہ یہ سوال و جواب قیامت کے دن ہوگا تو میں کہتا ہوں۔ ہاں بے شک جس وقت یعنی بروز قیامت حضرت مسیح علیہ السلام یہ بات کہیں گے۔ اس وقت سے پہلے فوت ہو چکے ہوں گے۔ ہم بھی تو اس امر کے قائل ہیں کہ قرب قیامت میں دنیا میں تشریف لا کر بنی آدم کی طرح فوت ہوں گے۔

اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ اس وقت بھی مسیح فوت شدہ ہیں۔ ہاں اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ: ”سوال خداوندی کا مطلب تو یہ تھا کہ تو نے ان کو اپنی الوہیت کی طرف کیوں بلایا تھا؟“ جس کا جواب مسیح علیہ السلام نے یہ دیا اور پھر اس پر ہی بس نہ کی بلکہ یہ بھی کہا کہ: ”جب تک میں ان میں تھا ان کا نگران حال تھا اور جب تو نے مجھے فوت کر لیا تو تو ہی نگہبان تھا۔“ اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو عیسائیوں کے شرک کی کوئی خبر نہ تھی اور جب ہی صحیح ہو سکتا ہے کہ اب حضرت مسیح علیہ السلام زندہ نہ ہوں۔ کیونکہ اگر زندہ ہیں اور دنیا میں آئیں گے۔ جیسا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے تو عیسائیوں کے کفر و شرک کی ان کو ضرور خبر ہوگی۔ پھر اس سے انکار کیوں کریں گے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ: ”سوال خداوندی جس کا جواب حضرت مسیح علیہ السلام کے ذمے ہے۔ وہ صرف اتنا ہے کہ تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو؟“ جس کے جواب میں حضرت مسیح علیہ السلام مع شے زائد جواب دیں گے کہ: ”اے اللہ ! تو شرک سے پاک ہے۔ جو بات مجھے لائق نہیں میں وہ کیوں کہتا۔“

٣١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤

اصل سوال کا جواب یہاں تک آ گیا۔ اب آگے اس کام پر اپنی بے زاری کا اظہار کرنا ہے۔

مگر اس میں حضرت مسیح علیہ السلام کو ان لوگوں کی جنہوں نے جناب والا کی نسبت یہ افتراء کیا تھا۔ سفارش بھی کرنی ہے۔ اس لئے دونوں مطلبوں کو حاصل کرنے کے لئے اپنی بے زاری کا بھی اظہار کیا کہ جب تک میں ان میں رہا ان کا نگہبان تھا۔ جس سے کسی قدر استحقاق شفاعت ثابت ہوتا ہے اور جب تو نے مجھے فوت کر لیا تو تو ہی ہر چیز پر نگہبان رہا ہے۔ جیسے وہ ہیں تو جانتا ہے۔ اس سے آگے ان کی ضمناً سفارش بھی کی کہ اگر تو ان کو عذاب کرے، تو تیرے بندے ہیں۔ تجھے کوئی روک نہیں سکتا۔ اگر تو ان کو بخش دے تو ”ان تعذبهم فانهم عبادک وان تغفر لهم فانک انت العزیز الحکیم (المائدہ: ١١٨)“ {بڑا غالب، بڑا حکمت والا ہے۔ کوئی نہیں جو تیری اس بخشش کو خلاف مصلحت سمجھے۔}

اب بتلائیے! اگر مسیح علیہ السلام خود ہی ان کی اس نالائقی کا اعتراف کر لیتے تو ان کی سفارش کیوں کر کرتے۔ حالانکہ ان کے شرک کرنے نہ کرنے سے سوال ہی نہ تھا۔ بلکہ سوال صرف اس سے تھا کہ تو نے ان سے کہا تھا کہ مجھے خدا بنالو۔ پس جب کہ سوال ہی اس سے نہیں اور اس کا اقرار ان کی سفارش میں خلل انداز بھی ہے تو مسیح کو کیا غرض کہ وہ اس کا اقرار کریں کہ یہ مشرک تھے۔ ہاں کمال یہ ہے کہ انکار بھی نہیں کیا۔ کس طرح کرتے۔ جب کہ جان چکے تھے کہ عیسائیوں نے بے شک میری نسبت یہ افتراء کیا ہوا ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ مسیح علیہ السلام کے اقرار عدم اقرار پر کوئی بات موقوف نہیں۔ معاملہ خدا کی غیب دانی سے ہے۔ جس کو یہ بھی خبر ہے کہ انہوں نے شرک کیا اور یہ بھی خبر ہے کہ مسیح بھی اس کو جانتا ہے۔ مگر مسیح کو کیا غرض پڑی کہ بلا سوال ایک ایسے جواب کی طرف متوجہ ہو جس کا ان کو بھی امر مطلوب میں مضر ہونے کا اندیشہ ہو کہ وقت سفارش حکم ہو۔ اے مسیح علیہ السلام! تو خود ہی ان کے شرک کو مانتا ہے اور آپ ہی ان کے حق میں سفارش کرتا ہے۔ پس اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ مسیح علیہ السلام اس وقت مردہ اور فوت شدہ ہیں۔ کسی طرح ٹھیک نہیں۔

دوسری آیت جو حضرت مسیح ابن مریم کی وفات پر دلالت کرتی ہے۔ یہ ہے: ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل“

اس آیت کو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت نبی کریم ﷺ کی وفات کے موقع پر

٣٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥

تمام صحابہ کرامؓ کے سامنے پڑھا اور اس سے استدلال کیا کہ جس طرح پہلے تمام رسول فوت ہو چکے ہیں۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی وفات پا گئے اور ظاہر ہے کہ پہلے رسولوں میں مسیح ابن مریم بھی ہیں۔ پس نہ صرف قرآن کریم کی اس آیت سے بھی مسیح ابن مریم کا وفات یافتہ ہونا ثابت ہے۔ بلکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور تمام صحابہ کرامؓ کا اس پر اجماع بھی ہے۔

(پیغام صلح مورخہ یکم جنوری ١٩٦٩ء)

جواب اس مغالطہ عظیمہ کا یہ ہے کہ بعض لوگوں کو جنگ احد کے دن شبہ ہو گیا تھا کہ رسول کو مرنا نہیں چاہئے۔ اسی طرح کا وہم بعض کو آنحضرت ﷺ کی وفات پر ہوا کہ آپ فوت نہیں ہو سکتے۔ خواہ نبی ﷺ کی وفات کا واقعہ عظیمہ کے سبب طبیعت پر سخت صدمہ گزرنا اس کا موجب ہوا۔ یا کچھ اور غرض۔ وہم یہی تھا کہ آنحضرت ﷺ پر موت نہیں آسکتی۔ پس حضرت ابوبکر صدیقؓ کا اس وہم کو دور کرنے کے لئے اس آیت کو پڑھنا اسی طرح کا ہوا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے نازل کی تھی۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی صرف یہی ہے کہ رسالت اور موت میں منافات نہیں ہے۔ پس جس طرح اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہرگز ثابت نہیں ہوتی۔

اسی طرح خطبہ صدیقیہ سے بھی نبی ﷺ کے لئے موت کا آ سکنا ثابت ہوا۔ نہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات جسے مقصود سے کچھ تعلق نہیں۔ ہاں امکان ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر وقوع نہیں۔

صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی نظر آنحضرت ﷺ کی موت کے ممکن ہونے کے لئے ”ان مات“ پر ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں موت کو ممکن فرماتا ہے۔ اس وجہ کی تائید دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے۔ جو حضرت ابوبکرؓ نے اسی وقت حاضرین کو پڑھ کر سنائی تھی۔ وہ آیت یہ تھی۔ ”انک میت وانھم میتون“ یعنی اے پیغمبر! تو (بھی اپنے وقت مقررہ پر) مرنے والا ہے اور یہ کفار بھی مرنے والے ہیں۔

دیکھو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر میت کا لفظ فرمایا ہے۔ پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا استدلال ”افان مات“ سے ہے نہ کہ ”قد خلت من قبلہ الرسل“ سے کہ وفات مسیح علیہ السلام کے لئے ضعیف اور غلط طور پر بھی مفید ہو سکے۔

٣٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦

آپس میں ایسے لازم و ملزوم ہیں کہ ایک کا ماننے والا ضرور دوسری کا مصداق ہے۔ پس جب حضرت ابوبکرؓ دجال کے خروج کی حدیث کے راوی ہیں تو آپ نزول عیسیٰ علیہ السلام سے کب غافل ہیں۔

(سنن ابن ماجہ باب خروج الدجال)

چہارم ...... یہ کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی غرض ان آیات کے پڑھنے سے اس وہم کا ازالہ ہے کہ آنحضرت ﷺ فوت نہیں ہو سکتے۔ پس چونکہ وصف نبوت و موت میں منافات ہونے کو علی سبیل الحکایت باطل کرنا مقصود بالذات ہے۔ پس خطبہ صدیقی اس امر پر تو بعبارت النص دلالت کرتا ہے۔ لیکن یہ امر کہ سب انبیاء مر چکے ہیں۔ نہ تو خطبہ صدیقی کا مفاد ہے اور نہ اس پر مخاطبین کے مزعوم کی تردید موقوف ہے۔ کیونکہ سالبہ کلیہ کی نقیض موجبہ جزئیہ ہوتی ہے، نہ کہ کلیہ۔ پس اس سے وفات مسیح علیہ السلام پر اجماع صحابہؓ کا دعویٰ کرنا خلاف روایت بلکہ درایت بھی ہے۔

کیونکہ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت بالتصریح پکار رہی ہے کہ وہ سب صحابہؓ کے درمیان آیت: ”وان من اهل الكتاب الا لیؤمنن به قبل موته (النساء:١٥٩)“ میں ”موته“ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام قرار دے کر آپ کا نزول ثابت کر رہے ہیں اور اس تصریح نزول کے موقع پر کوئی صحابی نہ تو نفس مضمون یعنی نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے انکار کرتا ہے اور نہ حضرت ابو ہریرہؓ کے ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دینے کو غلط کہتا ہے اور نہ آپ کے استدلال کو ضعیف قرار دیتا ہے۔

پس اجماع حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام پر ہوا نہ کہ وفات پر۔ قطع نظر اس سے کہ یہ روایت صحیح بخاری عیسیٰ علیہ السلام کے حیات و نزول پر اجماع صحابہ کو ثابت کر رہی ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ کا اس آیت کو حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں حدیث کی تصدیق کے لئے پڑھنا مدیر ”پیغام صلح“ کے خیالی اجماع کے توڑنے کے لئے تو کافی ہے۔ نیز اس آیت میں لفظ خلوا آیا ہے۔ خلو کے معنی مرنا اور معدوم ہونا نہیں۔ کیونکہ پھر آیت ”سنة الله التی قد خلت من قبل“ اور آیت ”ولن تجد لسنة الله تبدیلا“ میں تناقض واقع ہوگا۔ کیونکہ پہلی آیت کا مفہوم بموجب مذہب مدیر پیغام صلح یہ ہے کہ سنت اللہ کی آیت معدوم ہو چکی ہے اور دوسری آیت کا یہ کہ سنت الہی تبدیل بھی نہیں ہو سکتی۔ یعنی اسے ہمیشہ اپنے حال پر بقاء حاصل ہے۔

٣٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧

پس خلت سے موت اور عدم مراد سمجھنا بالکل باطل ہے۔

اور سنئے! خلت، مشتق ہے خلو سے اور موضوع مکان کی صفت کے لئے اور مراد اس سے جگہ کا خالی کرنا ہے۔ چنانچہ لسان العرب میں ہے: ”خلا خلا المكان والشئ يخلو خلواً وخلاءً او اخلا اذا لم يكن فيه احد ولا شئ فيه وهو خال“

اسی طرح قاموس اور صراح میں بھی ہے اور قرآن شریف میں بھی نقل مکان کے لئے آیا ہے۔ جیسے: ”واذا خلوا الى شياطينهم (البقره: ١٤)“ {جس وقت یہ منافق اپنے بڑے شیطانوں (یعنی رئیسوں) کے پاس جاتے ہیں۔}

اور اسی طرح اس آیت سے پیشتر: ”واذا خلوا عضوا عليكم الانامل من الغيظ (آل عمران: ١١٩)“ {منافق لوگ جس وقت تم سے الگ ہوتے ہیں تو تم پر غیض و غضب کے مارے اپنے پوٹے کاٹتے ہیں۔}

اور اسی طرح یہ آیت ہے: ”فخلوا سبيلهم (التوبه: ٥)“ یعنی مشرک لوگ ایمان لے آئیں اور احکام الٰہی کے پابند ہو جائیں تو ان کا راستہ خالی کر دو۔ یعنی ان سے تعرض نہ کرو۔

ان سب آیات میں ایک جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ جانا مراد ہے۔ جسے انتقال مکانی کہتے ہیں۔ دوسرے خلو کے جو زمانے کے متعلق ہوتے ہیں۔ گزرنا ہے۔ جیسے آیت: ”بما اسلفتم فى الايام الخالية (الحاقه: ٢٤)“ {جو کچھ تم نے ایام گذشتہ میں کیا۔ اس کے عوض جنت کی ان نعمتوں میں رہو۔}

اور ہر ذی علم سمجھ سکتا ہے کہ گزرنا زمانے کی صفت بالذات ہوا کرتی ہے اور جن چیزوں پر زمانہ گزرتا ہے۔ یہ معنی یعنی گزرنا بعلاقہ ظرفیت ومظروفیت ان چیزوں کی صفت بھی ہو سکتا ہے۔ مگر بالذات نہیں بلکہ بالعرض۔ پس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ جگہ خالی کر گئے اور گزر چکے ہیں۔ پیشتر اس کے کئی رسول اور یہ معنی زندوں اور مردوں دونوں پر آسکتے ہیں۔ کیونکہ جگہ خالی کرنے اور گزرنے کی کیفیت صرف موت ہی میں منحصر نہیں۔ بلکہ یہ لفظ خلوا مردوں کے حق میں انتقال بالموت کے معنوں میں معین ہوگا اور جگہ تبدیل کرنے کے معنوں میں جس طرح کہا جاتا ہے کہ اس شہر میں کئی ایسے حاکم ہو گزرے ہیں۔ پس جس طرح یہ جملہ خواہ وہ حاکم مر گیا ہو۔ خواہ وہاں سے تبدیل ہو کر دوسری جگہ چلا گیا ہو۔ ہر دو حال میں صحیح المعنی رہتا ہے۔ اسی طرح آیت ”لقد خلت من قبله الرسل (آل عمران: ١٤٤)“ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں

٣٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨

بدلالت آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ (النساء:١٥٨)“ وغیرہ دوسرے معنی یعنی جگہ تبدیل کرنے میں معین ہوگا۔

مدیر پیغام صلح نے جو ترجمہ کیا ہے پہلے تمام رسول فوت ہو چکے ہیں۔ انہوں نے من قبلہ کو الرسل کی صفت میں بتایا ہے۔ یہ صریح غلطی ہے اور علم نحو سے نا آشنا ہونے یا دیدہ دانستہ لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کی صاف شہادت ہے۔ کیونکہ آیت میں ”من قبلہ“ لفظ ”الرسل“ کی صفت میں نہیں ہو سکتا۔ بلکہ محل ظرف میں واقع ہے اور متعلق ہے۔ فعل خلت کے کیونکہ ظرف کے لئے ضروری ہے کہ کسی فعل کے متعلق ہو۔ پس آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ: ”اس سے پیشتر کئی رسول گزر چکے ہیں۔“

”یا من قبلہ“ کو ”الرسل“ سے حال کہہ سکتے ہیں۔ مگر یہ بھی باطل ہے۔ اس لئے کہ حال اپنے ذوالحال پر ذکر میں اس وقت مقدم ہوگا۔ جب کہ ذوالحال نکرہ ہو اور اس آیت میں الرسل معرفہ ہے۔ پس من قبلہ کو خلت کے متعلق کرنا ضروری ہوا۔

دوسرے مدیر پیغام صلح کے ترجمے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ الرسل کے الف لام کو استغراق قرار دیتے ہیں اور اس بناء پر استدلال کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے پیشتر کے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔ یہ فاش غلطی ہے۔

اوّل ...... اس وجہ سے کہ پہلے ثابت ہو چکا ہے۔ ”من قبلہ“ فعل خلت کے متعلق ہے اور الرسل کی صفت نہیں ہے۔ پس یہی ترکیب اس الف لام کے استغراق نہ ہونے کے لئے کافی حجت ہے۔ کیونکہ اگر من قبلہ کو خلت کے متعلق ظرف ٹھہرائیں جو بالکل درست ہے اور الرسل کے الف لام استغراقی مانیں جو بالکل غلط ہے تو معاذ اللہ ثم معاذ اللہ اندریں صورت پہلے قضیہ ”ما محمد الا رسول“ کے خلاف رسول اللہ ﷺ جماعت مرسلین سے خارج ہوں گے۔ کیونکہ پھر تو اس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ جتنے اشخاص صفت رسول سے موصوف تھے۔ وہ محمد ﷺ سے پیشتر فوت ہو چکے ہیں۔ پس آپ معاذ اللہ رسول برحق ثابت نہ ہوں گے اور ظاہر ہے کہ جس معنی سے قرآن شریف کی آیات میں تعارض واقع ہو۔ خصوصاً کسی نبی برحق کی رسالت کا انکار لازم آتا ہو۔ وہ معنی بالکل باطل ہیں۔ دیگر یہی الفاظ ”قد خلت من قبلہ الرسل (مائدہ:٧٥)“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں دربارہ نفی الوہیت وارد ہوئے ہیں۔ پس اگر جہالت سے الف لام کو استغراقی مانا جائے تو لابد تسلیم کرنا پڑے گا کہ رسول اللہ ﷺ اس

٣٦

صفحہ ٤٩

آیت کے نزول کے وقت فوت ہو گئے تھے اور یہ بالکل باطل ہے۔ یا معاذ اللہ! انکار نبوت محمدی وعیسوی لازم آئے گا۔ کیونکہ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ سب رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پیشتر فوت ہو گئے ہیں۔ حالانکہ جب جناب رسول اللہ ﷺ حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع کے کئی زمانے بعد پیدا ہوئے اور شرف نبوت سے ممتاز ہوئے اور اس آیت کے نزول کے وقت زندہ موجود تھے۔ کیونکہ یہ آیت آپ ہی پر اتری۔ یہ ایک دقیق نکتہ ہے۔ اس کا ادراک کسی علم نحو کے مذاق سے خالی اردوخواں کا کام نہیں۔

دوسری وجہ الرسل کا الف لام استغراقی نہ ہونے کی یہ ہے کہ آیت ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران:١٤٤)“ کا شان نزول یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نسبت جنگ احد میں غلط خبر اڑ گئی کہ آپ شہید ہو گئے اور بعض لوگوں نے نبوت اور موت میں منافات سمجھی اور ارتداد کا راستہ اختیار کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے خیال کو باطل ثابت کرنے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی اور ظاہر کر دیا کہ نبوت اور موت میں منافات نہیں۔ کیونکہ جس طرح بعض اور رسولوں کے حق میں ان کے مرجانے سے ان کی نبوت میں کوئی قدح واقع نہیں ہوئی۔ اسی طرح اگر آنحضرت ﷺ بھی طبعی موت سے فوت ہو جائیں یا میدان جنگ میں شہید ہو جائیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ آپ نبی برحق نہیں ہیں۔ پس چونکہ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مقصود یہ ہے کہ نبوت اور موت میں منافات نہیں ہے۔ اس لئے استغراق افراد یعنی سب رسولوں کو فوت شدہ ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ متکلمین کا قول سالبہ کلیہ ہے کہ کوئی نبی مر نہیں سکتا اور اللہ تعالیٰ کو اس کی تردید منظور ہے اور معلوم ہے کہ سالبہ کلیہ کی نقیض موجبہ جزئیہ ہوتی ہے۔ نہ کہ موجبہ کلیہ۔

پس ایک رسول یا چند رسولوں کی موت کے ذکر سے مقصود حاصل ہو سکتا ہے۔

”اس سے پیشتر کئی رسول ہو چکے ہیں اور الف لام جنسی ہے۔“

کیونکہ:”اسم پر الف لام داخل ہو کر ہمیشہ استغراق افراد کا فائدہ نہیں دیتا۔“

پس ایک رسول یا چند رسولوں کی موت کے ذکر سے مقصود حاصل ہو سکتا ہے۔ پس الرسل کا الف لام استغراق کا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس سے پیشتر کئی رسول ہو چکے ہیں اور الف لام جنسی ہے۔ کیونکہ اسم پر الف لام داخل ہو کر ہمیشہ استغراق افراد کا فائدہ نہیں دیتا۔ بلکہ تین معانی میں سے کسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

٣٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠

١.......عہد۔ ٢.......استغراق۔ ٣.......تعریف جنس۔

جیسا کہ علم نحو کے مطالعہ کرنے والوں پر مخفی نہیں ہے۔

الرسل کا الف لام عہدی اس لئے نہیں کہ اس سے اوپر ان رسولوں کا ذکر نہیں ہے اور اس سے استغراقی نہ ہونے کے لئے ”من قبلہ“ اور شان نزول کا مانع ہونا بیان ہوچکا ہے۔ پس باقاعدہ تردید و دوران جنسی ہوا۔ پس الف لام الرسل کا استغراق کے لئے نہ ہوا۔ چونکہ الرسل کلی ہے اور اس پر کوئی کلمہ نہیں۔ اس لئے ”قد خلت من قبلہ الرسل“ قضیہ مہملہ ہوا اور یہ معلوم ہے کہ ”مہملہ“ قوت جزئیہ میں ہوتا ہے۔ لہٰذا آیت کے معنی ہوئے۔ تحقیق گزر چکے ہیں۔ پیشتر اس سے کئی رسول۔

پس الف لام کے استغراقی نہ ہونے کے سبب سب رسول فوت شدہ ثابت نہ ہوئے۔ بلکہ بعض رسول۔ لہٰذا یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قبل نزول کی دلیل نہ ہوسکی۔

اگر کہا جائے کہ الف لام جمع کے صیغے پر جب کبھی آتا ہے تو مفید استغراق ہی ہوتا ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ: ”ولقد آتينا موسیٰ الكتاب وقفينا من بعده بالرسل (البقره:٨٧)“ کو غور سے پڑھنا چاہئے کہ یہی لفظ الرسل بصیغہ جمع باالف ولام موجود ہے اور یہاں استغراق افراد قطعاً باطل ہے۔ کیونکہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ: ”موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کتاب دی اور اس کے پیچھے اس کے آئین پر کئی رسول بھیجے ۔“ نہ یہ کہ سب رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھیجے گئے۔

کیونکہ معلوم یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سب سے پہلے رسول نہیں ہیں۔ بلکہ کئی رسول آپ سے پہلے ہوئے اور کئی آپ سے بعد۔ پس ہر دو حالت میں الرسل سے مراد کئی پیغمبر ہیں نہ کہ سارے۔

اسی طرح قرآن شریف میں کئی مقام پر جمع کا لفظ الف ولام کے ساتھ آیا ہے اور وہاں استغراق افراد مراد نہیں۔ بلکہ کثرت کے معنی ہیں۔ جیسے: ”اذ جاء تهم الرسل (حم سجده:١٤)“ اور ”وقد خلت من قبلهم المثلت (الرعد:٦)“ بصیغہ جمع باالف لام سب کچھ موجود ہے۔

اب صاف طور پر ثابت ہوگیا کہ آیت ”قد خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤)“ کے یہ معنی نہیں جو پیغمبر آنحضرت ﷺ سے پیشتر تھے۔ وہ سب مرگئے۔ بلکہ

٣٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١

اس کے معنی جو لغت عرب اور قواعد نحو اور علم منطق کے لحاظ سے صحیح یہ ہیں کہ: ”تحقیق گزر چکے پیشتر اس کے رسول۔“

اگر بالفرض تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس کے معنی مرزائی مدیر پیغام صلح کی غلط تحقیق کے موافق ہیں تو بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ دلیل خاص کے مقابلے میں اس کے خلاف عام دلیل سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے۔

مثلاً سورہ دہر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج (الدھر:٢)“ {ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا۔}

اور چونکہ آدم علیہ السلام بھی انسان ہیں۔ اس لئے ان کی پیدائش بھی نطفے سے ثابت ہوئی۔ کیونکہ بروئے شکل اوّل اس کا قیاس اس طرح ہے۔

صغریٰ: آدم انسان ہے۔

کبریٰ: سب انسان نطفے سے پیدا ہوئے۔

نتیجہ: پس آدم بھی نطفے سے پیدا ہوئے۔

یہ بالکل باطل ہے۔ اس وہم کا ازالہ اس طرح ہے کہ:

آدم علیہ السلام کی پیدائش دوسرے مقام پر دلیل خاص سے ثابت ہے کہ مادہ مٹی سے ہوئی اور اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش نفخ روح القدس سے ہوئی۔ پس آدم وحوا اور عیسیٰ علیہم السلام جن کی پیدائش کی کیفیت خاص دلیل سے اور طرح پر ثابت ہے۔ اس آیت سورہ دھر سے مستثنیٰ رکھے جائیں گے اور ان کے علاوہ دوسرے انسانوں پر اس آیت کا حکم لگایا جائے گا کہ وہ مادہ منی سے پیدا ہوئے۔

پس اس طرح جب دوسرے مقام پر حیات عیسیٰ علیہ السلام خاص دلیل سے ثابت ہے۔ تو عیسیٰ علیہ السلام اس آیت ”قد خلت من قبلہ الرسل“ کے عموم سے باہر رہیں گے۔ لہٰذا آپ کی وفات ثابت نہ ہوئی اور مدیر پیغام صلح کی مراد پوری نہ ہوئی۔ للہ الحمد!

مدیر پیغام صلح نے یہ لکھا ہے کہ ظلی و بروزی نبوت جاری ہے اور دلیل یہ دی ہے کہ ظِل رسول تھا۔ لہٰذا ظلی نبوت ثابت ہوگئی۔

ہم تو یہ سمجھے تھے کہ لاہوری مرزائی آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتا ہے۔ مگر ظلی

٣٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢

و بروزی نبوت کا اجرا پڑھ کر اپنا خیال بدلنا پڑا اور یقین ہو گیا کہ: قادیانی اور لاہوری مرزائی ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ وہ غیر تشریعی نبوت کے اجراء کے قائل ہیں تو لاہوری ظلی و بروزی نبوت کے۔

حالانکہ قرآن وحدیث کی تصریحات واضح ہیں کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک کسی کو غیر تشریعی یا ظلی و بروزی نبوت کا عہدہ عطا نہیں کیا جائے گا۔ اسی پر امت کا اجماع ہے۔ نیز اگر کسی کے ظل رسول ہونے سے ظلی و بروزی نبوت کا اثبات ہو سکتا ہے تو کیا جس حدیث میں امام عادل کو ظل اللہ کہا گیا ہے۔ اس کی رو سے ظل اللہ بھی ہو سکتا ہے؟ مدیر پیغام صلح کا یہ عقیدہ مرزا قادیانی کے خلاف ہے۔ جو فرماتے ہیں: ”خدا نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کو قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ پر ختم کر دیا۔“

(قول مرزا الحکم ١٧ اگست ١٨٩٩ء)

نیز فرماتے ہیں ؎

ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را برو شد اختتام

(سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)

ختم شد بر نفس پاکش ہر کمال
لا جرم شد ختم ہر پیغمبرے

(براہین حصہ اول ص ١٠، خزائن ج ١ ص ١٩)

حاصل کلام یہ کہ سارے قرآن میں ایک بھی آیت نہیں۔ جس میں آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا ذکر ہو۔ ”من ادعی فعلیہ البیان“

کیا مدیر پیغام صلح ایک حدیث پیش کر سکتے ہیں۔ جس میں آنحضرت ﷺ کے بعد ظلی و بروزی نبوت کے جاری رہنے کا بیان ہو؟ یا ایک صحابی یا تابعی کا نام لے سکتے ہیں۔ جو آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کی ظلی و بروزی نبوت کے جریان کا قائل ہو۔ یا کوئی امام ایسا ہوا ہو۔ جو آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبوت جاریہ کا معتقد ہو؟

گر ز عشقت خبرے ہست بگو اے واعظ
ورنہ خاموش کہ این شور و فغان چیزے نیست

٤٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣

اب رہے صوفیائے کرام، ابن عربی وغیرہ ان کی اصطلاح میں مرزائیوں کی طرح نبی دو قسم کے نہیں ہوتے۔ بلکہ ان کے نزدیک جملہ نبی صاحب شریعت ہیں۔ لیکن اتنا فرق کرتے ہیں کہ: ”بعض کو رسول کہتے ہیں اور بعض کو نبی۔“

رسول وہ جس کو تبلیغ احکام شرعیہ کا حکم ہو۔ اس پر نازل ہوتے ہیں۔ نبی وہ جس پر شریعت تو اترے۔ مگر اس کی تبلیغ کے لئے وہ مامور نہ ہو۔

”الفرق بينهما هو ان النبى اذا القى اليه الروح شيئاً اقتصر به ذالك النبى على نفسه خليه ويحرم عليه ان يبلغ غيره ثم ان قيل له بلغ ما انزل اليك اما لطائفة مخصوصة كسائر الانبياء او عامة لم يكن ذالك الا لمحمد ص سمى لهذا الوجه رسولا وان لم يخص فى نفسه بحكم لا يكون لمن اليهم فهو رسول لا نبى واعنى بها نبوة التشريع التى لا يكون للاولياء (الیواقیت والجواهر ص ٢٥)“

”نبی وہ ہے جس پر وحی خالص اس کی ذات کے لئے نازل ہو۔ وہ اس کی تبلیغ پر مامور نہ ہو۔ پھر اگر اس کو ایسا حکم دیا ہے کہ اس کی وہ تبلیغ پر مامور ہوا ہے۔ خواہ کسی خاص قوم کی طرف یا تمام دنیا کی طرف تو وہ رسول ہے۔ مگر تمام دنیا کی طرف سوائے محمد ﷺ کے اور کوئی نہیں ہوا اور ہم نے جو نبوت تشریعی کا ذکر کیا ہے۔ وہ یہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ یہ نبوت اولیاء کے لئے نہیں ہے۔“

”قد ختم الله تعالى بشرع محمد ﷺ جميع الشرائع ولا رسول بعده يشرع ولا نبى بعده يرسل اليه بشرع يتعبد به فى نفسه انما يتعبد الناس بشريعة الى يوم القيمه (اليواقيت ج ٢ ص ٣٧)“

”اللہ تعالیٰ نے جملہ شرائع محمد ﷺ پر ختم کر دیا۔ آپؐ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا۔ جس پر خاص اس کی ذات کے لئے کوئی وحی ہو اور نہ کوئی رسول ہی آئے گا۔ جو تبلیغ کے لئے مامور ہوتا ہے۔“

”الذى اختص به النبى من هذا دون الولى الوحى بالتشريع ولا يشرع الا النبى ولا يشرع الا الرسول (فتوحات مكيه)“

”یہ وہ خصوصیت ہے جو ولی میں نہیں پائی جاتی۔ صرف نبی میں ہوتی ہے۔ یعنی وحی تشریعی مشروع نہیں مگر نبی اور رسول کے لئے۔“

٤١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤

ان عبارتوں سے صوفیائے کرام کا مطلب ظاہر ہے کہ وہ جملہ انبیاء کو تشریعی نبی کہتے ہیں اور اولیائے امت کا نام انہوں نے غیر تشریعی نبوت رکھا۔ یہ صوفیاء کی اصطلاح ہے اور یہ اصول مسلمہ ہے کہ ”ولا مناقشة فی الاصطلاح ولکل ان یصطلح“

مرزا غلام احمد قادیانی اور ختم نبوت

مدعی نبوت اور رسالت کو کافر اور کاذب جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“

(اشتہار مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

رکھتا ہوں۔ جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور نبوت کا مدعی نہیں۔ بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٤

ص ٣١٣)

جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔“

(نشان آسمانی ص ٣٥، خزائن

ج ٤ ص ٣٩٠)

(مجموعہ اشتہارات ج ٢

ص ٢٩٧)

ہے۔“

(راز حقیقت ص ١٦، خزائن ج ١٤ ص ١٦٨)

مندرجہ بالا حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت کو کاذب، کافر، دائرہ اسلام سے خارج اور لعنتی سمجھتے ہیں۔ باوجود ان تصریحات کے خود بھی دعویٰ نبوت کرتے ہیں۔

٤٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥

غیر تشریعی نبوت کا دعویٰ

معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدی سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اسی کا نام پا کر اسی کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص٦، ٧، خزائن ج١٨

ص٢١٠، ٢١١)

آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہوسکتا ہے۔ مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ پس اس بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

(تجلیات الٰہیہ ص٢٨، خزائن ج٢٠

ص٤١٢)

مدیر پیغام صلح اس حوالہ پر خصوصی غور فرمائیں کہ: ”مرزا قادیانی امتی بھی ہیں اور رسول بھی۔“ تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہوتے ہوئے محمد مصطفیٰ ﷺ کے امتی نہیں ہو سکتے؟ اس میں کیا استحالہ ہے؟

تشریعی نبوت کا ادعا

”اگر کہو کہ صاحب الشریعۃ افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے۔ نہ ہر ایک مفتری، اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعۃ ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“

(رسالہ اربعین نمبر٤ ص٦، خزائن ج١٧ ص٤٣٥)

اور سنئے! فرماتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ١٨٩٩ء میں تریاق القلوب لکھی۔ اس کے (ص١٥٨، خزائن ج١٥ ص٤٨١) پر لکھا کہ: ”میں غیر نبی ہوں۔ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت۔ اگر کچھ میری فضیلت کی وحی ہوتی تو میں اسے جزوی فضیلت قرار دیتا۔“

٤٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦

پھر حقیقت الوحی جو ١٩٠٧ء میں لکھی اس کے (ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) پر لکھا: ”مگر بعد میں بارش کی طرح مجھ پر وحی نازل ہوئی اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ لہٰذا اب میں مسیح سے تمام شان میں بڑھ گیا۔“

پس یہ اختلاف محض ظن اور یقین یا رسم اور وحی میں جو اختلاف ہوتا ہے۔ اسی طرح کا ہے۔ پہلے میں ظنی یا رسمی طور پر غیر نبی کہلاتا تھا۔ بعد میں وحی یقینی نے مجھے نبی کا خطاب دے دیا۔ لہٰذا میں نبی ہو گیا۔

کیا مدیر ”پیغام صلح“ بتائیں گے کہ مرزا قادیانی بعد دعویٰ نبوت بموجب فتویٰ خود کیا ٹھہرے؟ اور کیا کافر کو کافر نہ سمجھنا خود کافر ہونے کی دلیل نہیں ہے؟

نزول عیسیٰ علیہ السلام اور اسلاف امت

آخر میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں صحابہ اور تابعین کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں۔

قبل موت عیسی (النساء: ١٥٩)“ ”یعنی قبل موتہ کی ضمیر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اس وقت ان کی وفات سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔“

(تفسیر ابن جریر، ج٦

ص ١٤)

(تفسیر ابن جریر) ”{یعنی قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی ایک نشانی ہے۔}

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: ”تخرج الحبشة بعد نزول عیسیٰ فیبعث عیسیٰ طائفة فیھزمون (عمدة القاری للعینی ج ٩ ص ٢٣٣) ”{نزول عیسیٰ کے بعد حبشی خروج کریں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک جماعت کو ان کے مقابلے کے لئے بھیجیں گے تو حبشی شکست کھا جائیں گے۔}

امام مالک اور امام زہریؒ کے شیخ ، امام محمد بن زید مدنیؒ ارشاد فرماتے ہیں: ”اذا نزل عیسیٰ علیہ السلام فقتل الدجال لم یبق یھودی فی الارض الا امن بہ (تفسیر

٤٤

صفحہ ٥٧

ابن جریر ج ٦ ص ١٤) “{جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال قتل کر ڈالیں گے ۔ اس وقت روئے زمین پر کوئی یہودی بھی ایسا نہیں رہے گا جو ان پر ایمان نہ لائے ۔}

شیخ محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں: ”لا خلاف انہ ینزل فی أخر الزمان حكماً مقسطاً عدلا بشرعنا لا بشرع أخر ولا بشرعہ (فتوحات مکیہ ج ٢ باب ٧٣ ص ٣)“ {اسمیں کوئی اختلاف نہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) آخری زمانے میں حاکم عادل ہو کر نازل ہوں گے اور ہماری شریعت پر عمل کریں گے۔ کسی دوسری شریعت پر عمل نہیں کریں گے۔}

مرزا قادیانی اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام

”اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں۔ کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی حصہ نہیں دیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣

ص ٤٠٠)

”واضح ہو کہ اس امر سے دنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے۔ بلکہ تقریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے۔ جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا اور یہ پیش گوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے۔ جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے۔“

(شہادت القرآن ص ٢، خزائن ج ٦ ص ٢٩٨)

”ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس دین اسلام کے غلبہ کاملہ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا۔ مسیح موعود دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ ان کے ہاتھ سے اسلام جمیع آفاق میں پھیل جائے گا۔

(ملخص براہین احمدیہ ص ٤٩٨ تا ٤٩٩، خزائن ج ١

ص ٥٩٣)

براہین احمدیہ وہ کتاب ہے جو بقول مرزا قادیانی، رسول اللہ ﷺ کے دربار میں ٤٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٨

رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”خواب میں رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام قطبی رکھا۔“

(براہین احمدیہ حصہ اول ص ٢٤٩، خزائن

ج ١ ص ٢٧٥)

حاصل کلام یہ کہ نصوص قرآنیہ، احادیث متواترہ، صحابہ کرامؓ، تابعین، ائمہ، مجتہدین اور تمام علمائے امت کا اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آخری زمانے میں زمین پر نازل ہوں گے۔

”صحابہ کرام کا اجماع حجت ہے۔ جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔“

(تریاق القلوب ص ٤٦١، خزائن ج ١٥ ص ٤٦١)

نیز مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”من کفر بعقيدة اجماعیة فعلیه لعنت اللہ والملائكة والناس اجمعین“ جو اجماع کا منکر ہو وہ ملعون ہے۔

(انجام آتھم ص ١٤٤، خزائن ج ١١ ص ١٤٤)

امید ہے کہ مدیر ”پیغام صلح“ مرزا قادیانی کے اس فیصلے کو بسر و چشم قبول فرمائیں گے۔

”واللہ الہادی“

لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم
چنانکہ حرف عصا گفت موسیٰ اندر طور

فیضان محمد ﷺ کامل ہے

لاہوری مرزائی ہفت روزہ ”پیغام صلح“ اپنی ١٦؍ اپریل ١٩٦٩ء کی اشاعت میں تنظیم اہل حدیث کے جواب میں لکھتا ہے: ”لیکن دین نصاریٰ کے ابطال کے لئے جناب مسیح علیہ السلام کو دوبارہ بھیجنے میں کیا مصلحت ہے؟ کیا محمد رسول اللہ ﷺ کا فیضان معاذ اللہ اتنا ہی ناقص ہے کہ آپؐ کے متبعین میں کوئی بھی کسر صلیب اور ابطال دین نصاریٰ کی اہلیت نہیں رکھتا۔ آپ کے سامنے ایک متبع دین محمدیؐ نے اس کا بیڑا اٹھایا اور بہت حد تک اس کو پورا کر دکھایا۔ جس کی وجہ سے کوئی نصرانی اس کے مقابلہ میں آنے کی جرأت نہیں رکھتا۔ پھر بھی عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے اتارنا کس قدر مضحکہ خیز ہے اور امت محمدیہ کی کتنی بڑی ہتک اور ختم نبوت کے کس قدر منافی ہے۔“

اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ رکھنے اور دوبارہ نازل فرمانے میں کیا کیا حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں؟ تاہم احادیث نبویؐ کے مطالعے سے

٤٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٩

معلوم ہوتا ہے کہ:

چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی اس کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”هو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی کی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین جمیع اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

گویا امر مقدر یونہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دین محمد کا خادم بنا کر آنحضرت ﷺ کی شان کو دوبالا کیا جائے کہ آپ کا وہ مرتبہ ہے کہ مستقل اور صاحب کتاب رسول بھی آپ کی اتباع کو اپنی سعادت سمجھیں۔

حدیث عبداللہ بن مغفل میں بھی مذکور ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام، محمد ﷺ کے تصدیق کے لئے نازل ہوں گے اور آنحضرت ﷺ کی ملت پر ہوں گے۔“

(فتح الباری)

مدیر پیغام صلح غور فرمائیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ نزول کے بعد عیسیٰ علیہ السلام امت محمدیہ میں شامل ہوں گے تو کیا وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے متبعین میں سے نہ ہوں گے؟ یقینا ہوں گے تو پھر کسر صلیب قتل دجال وغیرہ، جملہ افعال جو ان سے ظاہر ہوں گے وہ آپ ہی کی اتباع سے وقوع میں آئیں گے۔ کیونکہ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت محمدیہ کے ایک فرد ہوں گے اور یہ نبی اکرم ﷺ کے فیضان کامل کی دلیل ہے یا کہ فیضان ناقص کی؟ نہ معلوم اس میں کیا مضحکہ خیزی ہے؟ اور کون سی امت محمدیہ کی توہین یا ہتک ہے؟ بتایا تو ہوتا۔ امت محمدیہ کو تو اس پر بجا فخر ہے کہ انبیائے سابقین میں سے ایک اولوالعزم پیغمبر بھی حضور خاتم النبیین ﷺ کا فرمانبردار اور متبع ہو کر امت محمدیہ میں شامل ہوگا۔ مدیر پیغام صلح بتائیں تو سہی کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام اور ختم نبوت میں کون سی منافات ہے؟ اور کیا استحالہ لازم آتا ہے۔

٤٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٠

ختم نبوت کے منافی تو اس وقت ہوتا۔ جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مرتبۂ رسالت ختم نبوت کے بعد نئے سرے سے عطا کیا جاتا وہ تو آنحضرت ﷺ سے ٥٧٠ برس قبل عہدہ رسالت سے سرفراز ہو چکے ہیں۔

مدیر پیغام صلح نے اشارہ تو کیا ہے۔ مگر اس شخصیت کا نام ذکر نہیں کیا کہ وہ متبع دین محمدی کون ہے؟ جس کے مقابلے میں کوئی نصرانی آنے کی جرأت نہیں کر سکتا؟ اگر ان کی مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہوں جنہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا: ”میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔ مسلمانوں کے لئے! یہی کہ وہ سچے مسلمان ہوں اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہوں اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آئے۔ دنیا ان کو بھول جائے۔“

(اخبار الحکم مورخہ ١٧؍ جولائی

١٩٠٥ء)

میں پوچھتا ہوں کہ:

اگر یہ سارے کام پورے ہو چکے ہیں تو پھر مدیر پیغام صلح اپنے اسی شمارے میں اسی صفحے پر یہ واویلا کیوں کرتے ہیں کہ: ”عیسائی مشنری ادارے انڈونیشیا میں بڑی تندہی سے کام کر رہے ہیں اور سینکڑوں کو عیسائی بنا رہے ہیں۔“

اگر صورتحال یہی ہے تو پھر قادیانی مسیح کے حق میں کیا یہ کہنا موزوں نہ ہوگا ؎

کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا
نامرادی ہی میں ہوا ہے ترا آنا جانا

حاصل کلام یہ کہ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہو کر الوہیت مسیح اور عیسائیت کا خاتمہ کریں گے۔ وہاں جھوٹے مثیل مسیح اور بزور نبی بننے والوں کی پردہ دری بھی یقینی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو مسیح علیہ السلام سے چڑ پیدا ہو گئی ہے۔ جونہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات یا نزول کا تذکرہ ہوتا ہے۔ قصر مرزائیت میں زلزلہ آ جاتا ہے۔

٤٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦١

خاتم النبیین ﷺ اور انبیاء سابقین علیہم السلام

قادیانی مرزائی الفرقان ربوہ اپنی اشاعت ماہ مارچ ١٩٦٩ء میں تنظیم اہل حدیث کے ایک مضمون پر تنقید کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ’’جب سب نبی حضرت خاتم النبیین ﷺ کی امت میں ہیں تو آپؐ کے ایک امتی نبی کی وجہ سے ختم نبوت کا ٹوٹنا کیونکر لازم آ سکتا ہے۔‘‘

بے شک امتی نبی سے ختم نبوت کا ٹوٹنا لازم نہیں آتا۔ جب کہ وہ امتی نبی انبیاء سابقین میں سے ہو۔ جیسا کہ نص قرآنی ثابت کر رہی ہے کہ سب انبیاء علیہم السلام حضرت خاتم النبیینؐ کی امت میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب انبیاء سے اقرار لے چکا ہے کہ وہ خاتم النبیین کی پیروی کریں گے اور ضرور اس پر ایمان لائیں گے۔ جناب! ختم نبوت کا ٹوٹنا تو تبھی لازم آتا ہے۔ جب کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین کے بعد کسی شخص کو جدید عہدہ نبوت از قسم تشریعی ، غیر تشریعی، ظلی یا بروزی کا ملنا مانا جائے۔ یہ مسلمہ عقیدہ کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ سے ثابت ہے اور امت محمدیہ کا اس پر اجماع ہے۔ حتیٰ کہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی مانتے ہیں اور فرماتے ہیں

؎ ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را برو شد اختتام

(سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)

ختم شد بر نفس پاکش ہر کمال
لا جرم شد ختم ہر پیغمبرے

(براہین احمدیہ حصہ اول ص ١٠، خزائن ج ١ ص ١٩)

نیز فرماتے ہیں: ’’حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔‘‘ (اشتہار مورخہ ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

اور لکھتے ہیں: ’’نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘

٤٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠

(آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٣١٣)

باوجود ان حقائق کے مرزا قادیانی دعویٰ نبوت بھی کرتے ہیں تو فرمائیں مدیر ”الفرقان“ کہ مرزا قادیانی اپنی تحریرات اور فتاویٰ کی رو سے کیا ٹھہرے؟ نیز یہ بتائیں کہ ایسی شخصیت کو امتی نبی بنانا کہاں تک درست ہے؟

حیات عیسیٰ علیہ السلام یہودیت اور عیسائیت کی موت ہے

ہم اپنے گذشتہ مضمون ختم نبوت اور نزول عیسیٰ علیہ السلام میں واضح دلائل سے حیات عیسیٰ علیہ السلام اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کو ثابت کر چکے ہیں۔ امت مسلمہ کا از روئے قرآن وحدیث یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قرب قیامت نازل ہو کر امت محمدیہ میں شامل ہونے کا شرف حاصل کریں گے۔ اس پر امت مرزائیہ کی طرف سے عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ عیسائیت کو تقویت پہنچاتا ہے اور اس سے عیسائیت کی تائید ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ یہ ایک پرانا مغالطہ اور زبردست دھوکا ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام کا ماننا عیسائیت کی تائید نہیں۔ بلکہ قرآن مجید اور حدیث شریف کی تصدیق ہے۔ بوقت نزول قرآن مجید یہودی اور عیسائی دونوں متفق تھے کہ مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا اور ایک سپاہی نے ان کو بھالا مارا۔ جس سے ان کا خون بہہ نکلا اور انہوں نے چلا کر جان دے دی۔

(انجیل متی باب ٢٧، یوحنا باب ١٩)

مرزا غلام احمد قادیانی یہ بھی مانتے ہیں کہ نصاریٰ کے تمام فرقے اس خیال باطل پر متفق تھے کہ مسیح علیہ السلام تین دن تک مرے رہے۔ پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ اہل کتاب کے اس متفقہ اور غلط عقیدے کو قرآن مجید نے صاف اور صریح لفظوں میں رد کیا۔ چنانچہ فرمایا: ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم وما قتلوہ یقیناً (النساء: ١٥٧)“ {نہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو قتل کیا نہ سولی پر مارا۔ لیکن وہ شبہ میں پڑ گئے اور انہوں نے اس کو یقیناً قتل نہیں کیا۔}

اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے متفقہ عقیدے وفات مسیح علیہ السلام کا ابطال فرمایا اور پھر ان الفاظ میں حیات مسیح علیہ السلام کا اعلان فرمایا: ”بل رفعہ اللہ الیہ“ {بلکہ خدا نے اسے اپنی

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 65

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

مرزائیت

اور

اسلام

حضرت مولانا محمد عبداللہ محدث روپڑیؒ

صفحہ ٦٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

ضروری گذارش

اس رسالہ کا مضمون قریباً مارچ ١٩٥٣ء کا لکھا ہوا ہے۔ جب تحریک راست اقدام زوروں پر تھی۔ چنانچہ قارئین کرام کو اس مضمون کے پڑھنے سے معلوم ہو جائے گا۔ انشاء اللہ!

چند در چند عوارض کے باعث اس کی اشاعت میں تاخیر ہو گئی ۔ چونکہ یہ ایک شرعی مسئلہ ہے۔ اس کی اہمیت اور افادی حیثیت کسی وقت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ اس لئے اب بھی اس کی اشاعت اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ پہلے تھی۔

اس مختصر مضمون میں مسئلہ ختم نبوت اور لفظ خاتم النبیین کے معنی پر بھی معقول بحث کی گئی ہے۔ اخیر میں مسلمان اور مرتد کی تعریف اور راعی و رعیت کے متعلق چند مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

مرزائیت کے متعلق مسلمانوں کے متفقہ مطالبات کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لئے یہ مضمون انشاء اللہ مشعل راہ ہوگا۔ واللہ الموفق! عبداللہ امرتسری روپڑی!

مسئلہ ختم نبوت اور موجودہ تحریک

حکومت پاکستان کا اس کے متعلق نظریہ

ہم نہ احراری ہیں نہ حکومت کے آدمی ہیں۔ ہماری حیثیت یہاں ایک ہمدرد عالم یا مفتی خیر خواہ کی ہے۔ ہمارے معمول میں یہ چیز داخل ہے کہ حسب طاقت الجھے ہوئے مسائل کو سلجھائیں اور ان میں غلط فہمیاں دور کرتے ہوئے صحیح مسلک پر روشنی ڈالیں ۔

اگر بینی کہ نابینا و چاہ است
اگر خاموش بنشینی گناہ است

موجودہ تحریک (ڈائرکٹ ایکشن یا راست اقدام) کے متعلق حکومت کے دو نظریے ہیں۔

ہے اور موجودہ تحریک سیاسی۔

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٥

دوم...... یہ کہ موجودہ تحریک خاص جماعت احرار کی اٹھائی ہوئی ہے۔ جس کو مذہبی رنگ دے کر عوام کے جذبات کو مشتعل کیا گیا۔ تاکہ اس ذریعہ سے اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں۔ اسی لئے بعض دوسری جماعتیں بھی اس میں شامل ہوگئیں۔ جن کا مقصد یہی سیاسی اقتدار حاصل کرنا تھا۔

اس بیان کی تصدیق کے لئے روزنامہ احسان ٧؍ جمادی الثانی ١٣٧٢ھ، مطابق ٢٣؍ مارچ ١٩٥٣ء کا پرچہ ملاحظہ فرماویں۔ اس کے صفحہ اوّل پر زیر عنوان: ”پنجاب میں راست اقدام کی تحریک ایک خطرناک سازش تھی۔“

گورنر پنجاب کی نشری تقریر شائع ہوئی۔ جس کے مختصر الفاظ یہ ہیں: ”گورنر پنجاب مسٹر اسماعیل ابراہیم چندریگر نے آج شام ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی ایک نشری تقریر میں کہا کہ بدامنی کی حالیہ تحریک بظاہر ختم نبوت کے تحفظ کے لئے شروع کی گئی۔ لیکن اس تحریک کے نام پر جو مطالبات پیش کئے گئے۔ وہ سراسر سیاسی تھے اور عوام کو فریب دینے کے لئے انہیں مذہبی رنگ دیا گیا۔ گورنر موصوف نے کہا یہ پروپیگنڈا بالکل غلط ہے کہ حکومت یا اس کے وزراء ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ لیکن اس مسئلہ کو بدامنی کی دلیل بنانا اور ڈائرکٹ ایکشن کی ابتداء کرنا ایک خطرناک سازش تھی۔ جس کی بیشتر ذمہ داری جماعت احرار پر عائد ہوتی ہے۔

مسٹر اسماعیل چندریگر نے کہا۔ یہ وہ جماعت ہے جو شروع سے پاکستان کی دشمن رہی اور قیام پاکستان سے اب تک شاید ہی کوئی ایسا حربہ ہو جسے اس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال نہ کیا ہو۔ یہاں تک کہ بانی پاکستان کی شخصیت پر بھی حملے کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ گورنر پنجاب نے کہا۔ اس تحریک کا اصل مقصد ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانا تھا۔ اس لئے غدارانہ سازش میں بعض اور جماعتیں بھی شامل ہوگئیں۔ جن کا مدعا ان ذرائع سے سیاسی اقتدار حاصل کرنا تھا۔ صوبہ کے سادہ لوح عوام کو غلط راستہ پر ڈالنے کے لئے ان کی آنکھوں پر مذہب کی پٹی باندھ دی گئی اور ان کے جذبات کو اشتعال انگیز تقریروں سے بھڑکایا گیا اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ حکومت کا نظام معطل ہو جائے اور ملک میں انتشار اور افراتفری پھیل جائے۔“

اس تقریر میں حکومت اور وزراء کا عقیدہ ختم نبوت بتایا گیا اور اس کے ساتھ ہی مذکورہ الصدر دو نظریے قائم کئے گئے ہیں۔ یعنی ایک تو اس تحریک کو مسئلہ ختم نبوت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوم یہ تحریک احرار کی پیداوار ہے۔ جس کا مقصد موجودہ نظام کو درہم برہم کر کے اپنا اقتدار قائم کرنا ہے۔

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٦

پیشتر اس کے کہ ان نظریوں کے متعلق کچھ کہا جائے۔ مسئلہ ختم نبوت کی حقیقت کو واضح کرنا ضروری ہے۔

ختم نبوت کا مسئلہ

کوئی فروعی یا جزوی مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ ایمان واسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور کفر واسلام میں حدفاصل ہے۔ جیسے سچے نبی کی تکذیب اور انکار کرنا کفر ہے۔ ایسے ہی کسی جھوٹے کاذب کو نبی ماننا کفر ہے۔ اس پر بے شمار دلائل معقولی اور منقولی پیش کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ چونکہ اتفاقی ہے۔ اس لئے ہم ایک دو آیات پر اکتفاء کرتے ہیں۔

خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”فمن اظلم ممن کذب علی اللّٰہ وکذب بالصدق اذ جآءہ الیس فی جھنم مثوی للکافرین (الزمر:٣٢)“ {اس سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے اور سچ کو جھٹلائے۔ جب کہ سچ اس کے پاس آ گیا۔ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے؟}

”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللّٰہ کذباً او کذب بالحق لما جآءہ الیس فی جہنم مثوی للکافرین (العنکبوت:٦٨)“ {اس سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے۔ جب اس کے پاس حق آ گیا۔ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے؟}

ان آیات میں جیسے سچے نبی کی تکذیب اور اس کا انکار کرنے والے کو کافر کہا ہے۔ اسی طرح خدا پر جھوٹ باندھنے اور جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو کافر فرمایا ہے۔

پس اس فرمان کی بناء پر مرزائیوں کے کفر میں کوئی شک نہ رہا اور یہ فرمان مرزائیوں کے کفر پر صریح اور قطعی دلیل ہے اور اس دلیل کی ترتیب منطقی طور پر بصورت شکل اوّل یوں ہوئی۔

یہ تو کفر کا ثبوت ایک طریق سے ہوا۔ دوسرا طریق یہ ہے:

النبیین نہیں مانتا)

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٧

یہ اصول

مرزائیوں کو بھی مسلم ہے۔ چنانچہ وہ اسی بناء پر ہم مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں مرزا غلام احمد قادیانی سچا نبی ہے اور سچے نبی کو نہ ماننے والا کافر ہے۔ چنانچہ:

نبوت مرزا کا منکر کافر ہے

’’ہم چونکہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے۔ اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی ایک نبی کا انکار بھی کفر ہے۔ غیر احمدی کافر ہیں۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٦، ٢٩/جون ١٩٢٢ء)

مانتا ہے۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے۔ مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ج ١٤

ص ١١٠)

جس نے مرزا قادیانی کا نام نہیں سنا وہ بھی کافر

مرزائیوں کے نزدیک وہ شخص بھی کافر ہے جس نے مرزا غلام احمد قادیانی کا نام تک نہیں سنا۔ چنانچہ بشیر الدین محمود فرماتے ہیں: ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینہ

صداقت ص ٣٥)

گویا مرزائیوں کے نزدیک کفر و اسلام کا مدار مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات پر ہے۔ جو اس کو نبی مانے وہ مسلمان باقی سب کافر۔

مسلمانوں اور مرزائیوں میں فرق

اسی بناء پر مرزا بشیر الدین مرزائیوں اور غیر مرزائیوں میں فرق بیان کرتے ہوئے

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٨

فرماتے ہیں:

اور ہمارا اور۔ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور۔ ہمارا حج اور ہے۔ ان کا حج اور ہے۔ اسی طرح ہر بات میں اختلاف ہے۔"

(الفضل مورخہ

٢١؍اگست ١٩١٧ء)

چند مسائل میں ہے۔ مسیح موعود نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے ہمیں اختلاف ہے۔"

(الفضل قادیان مورخہ ٣٠؍ جولائی

١٩٣١ء)

اس ہمہ گیر اختلاف کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزائیوں نے مسلمانوں کا پورا مقاطعہ کر دیا اور ایک نئی امت کی حیثیت سے اپنے مذہبی، معاشرتی اور سیاسی تمام تعلقات الگ کر لئے۔ اسی سکیم کا نتیجہ تھا کہ ظفر اللہ خاں نے بانیٔ پاکستان مسٹر محمد علی جناح کا جنازہ نہ پڑھا۔ اس پر سوال ہوا تو کہا۔ میرے نزدیک وہ کافر ہے۔ چنانچہ ان دنوں اخبارات "زمیندار" وغیرہ میں اس کا بہت تذکرہ ہو چکا ہے۔

غور فرمائیے! ظفر اللہ کے بانیٔ پاکستان کے ساتھ کتنے گہرے تعلقات تھے اور یہ ان کے کئی طرح ممنون تھے۔ وزارت خارجہ کا عہدہ بھی انہی کا عنایت کردہ ہے۔ مگر مرزائیت کی سکیم مقاطعہ نے تمام روابط توڑ دیئے۔ سب احسانات فراموش کر دیئے اور پاکستان کے آٹھ کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کا حق ظفر اللہ نے یوں ادا کیا کہ پاکستان کو کفرستان بنا دیا۔ لیکن ہمارا ارباب اقتدار کا حال دیکھئے کہ یہ حضرات پھر بھی ان لوگوں کے اسلام ہی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

کچھ اور بھی

سنئے! مرزا بشیر الدین مقاطعہ کی سکیم کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

١...... مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھو

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٩

”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے۔ اتنی ہی دفعہ میں یہ جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں، جائز نہیں، جائز نہیں ۔“

(انوار خلافت ص ٨٩)

٢...... غیر احمدی مسلمان نہیں

”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں ۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

٣...... مسلمان بچے کا جنازہ نہ پڑھو

”اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے؟ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔ غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے ۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

٤...... مسلمانوں کو رشتہ نہ دو

”حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول (نورالدین) نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا ۔“

(انوار خلافت

ص ٩٣، ٩٤)

مسلمان یہودی و عیسائی ہیں

مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے۔ جو نبی کریم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٠

باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرا دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم نے یہود تک کا جواب دیا ہے۔‘‘ (کلمتہ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج١٤

ص ١٦٩)

مقام غور

ان عبارات کو پڑھئے۔ بار بار پڑھئے اور غور کیجئے کہ جن لوگوں کی مسلمانوں سے مقاطعہ کی یہ سکیمیں ہوں۔ ان کو مسلمانوں میں شامل کرنا انصاف اور عدالت کا خون نہیں تو اور کیا ہے؟

آپس میں تکفیر کا مسئلہ

مذکورہ بالا عبارت سے مرزائیوں کی سکیم مقاطعہ کی وضاحت کے علاوہ ایک شبہ کا جواب بھی ہو گیا۔ جو عام طور پر کیا جاتا ہے اور بظاہر معقول سمجھا جاتا ہے۔ وہ شبہ یہ ہے کہ دوسری جماعتوں میں بھی تکفیر کا سلسلہ جاری ہے۔ مثلاً بریلوی، دیو بندیوں کو کافر سمجھتے ہیں اور دیوبندی بریلویوں کو۔ اسی طرح اہل حدیث کے ساتھ ان کا اختلاف ہے۔ نیز شیعہ، سنی نزاع بھی اسی رنگ کی ہے اور علیٰ ہذا القیاس دوسری جماعتوں کو سمجھ لیا جائے۔ اگر اسی طرح کی تکفیر سے ایک دوسرے کو کاٹا جائے اور امت مسلمہ سے الگ کیا جائے تو پھر مسلمان کون رہا؟

جواب اس کا یہ ہے۔ کفر و اسلام کی ایک تفریق کسی شخصیت میں اختلاف کی بناء پر ہوتی ہے۔ جیسے یہودیوں، عیسائیوں میں، اور عیسائیوں مسلمانوں میں تفریق ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں۔ لیکن یہودی ان کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو سید المرسلین تسلیم کرتے ہیں اور عیسائی و یہودی آپؐ کی تکذیب کرتے ہیں۔

اور ایک تفریق کسی شخصیت میں اختلاف کی بناء پر نہیں ہوتی۔ بلکہ دونوں اس کو صاحب وحی وصاحب الہام مانتے ہیں اور اسی کی وحی والہام کو دلیل میں پیش کرتے ہیں۔ تکفیر صرف الہامی کلام کے ثبوت، عدم ثبوت یا اس کے معنی و مفہوم میں اختلاف کی بناء پر ہوتی ہے۔

٨

صفحہ ٧١

جیسے مرزائی لاہوری اور قادیانی ہر دو گروہ مرزا غلام احمد کو صاحب وحی وصاحب الہام مانتے ہیں۔ انکے قول سے استدلال کرتے ہیں۔ لیکن معنی و مطلب میں ان کا اس قدر اختلاف ہے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کو کافر کہتا ہے۔ اسی طرح دوسری جماعتوں کی آپس میں تکفیر صرف معنی مفہوم میں اختلاف کی بناء پر ہے۔ ورنہ نبی سب کا ایک ہے۔ سب اسی کی وحی و الہام کو دلیل اور حجت سمجھتے ہیں۔ منکرین حدیث کا بھی نبی جدا نہیں ہے۔ ان کو صرف حدیث کے وحی اور الہامی کلام ہونے میں اختلاف ہے۔

یہ تفریق اگرچہ کفر تک پہنچ گئی ہے۔ مگر اس میں وہ بعد نہیں جو پہلی تفریق میں ہے۔ جس کی دو وجہیں ہیں۔

اوّل ...... یہ کہ نبی براہ راست اللہ تعالیٰ سے پیغام حاصل کرتا ہے اور جب نبی جدا ہو تو جڑ سے ہی جدائی اور تفریق ہو گئی۔ ایسا اختلاف قوم کو مستقل دو امتیں بنا دیتا ہے اور نبی ایک ہونے کی صورت میں دونوں کا رجوع اسی نبی کی طرف ہوگا۔ پس وہ دو مستقل امتیں نہ ہوں گی۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ جب نبی جدا ہو اور اس کو جھٹلایا جائے تو یہ گویا نبی پر کفر کا فتویٰ ہے اور نبی ایک ہونے کی صورت میں اگر ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ ہو تو یہ امتی کا امتی پر فتویٰ ہے اور ان دونوں میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے۔

افسوس ہے کہ اس مسئلہ پر کما حقہ غور نہیں کیا گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ مرزائیت کو اقلیت قرار دینے کے مطالبہ کا مدار صرف کفر واسلام کی بحث پر نہیں بلکہ یہ نبوت کی تبدیلی کا لازمی نتیجہ ہے۔ اس مطالبہ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ امتیں ہمیشہ نبوت کے تابع ہوتی ہیں۔ نبوت کے بدل جانے سے امت بھی علیحدہ ہو جاتی ہے۔ یہودی عیسائی مسلمانوں سے اس لئے علیحدہ ہیں کہ ان میں اور مسلمانوں میں نبوت کی تفریق ہے۔

دوسری جماعتوں کا آپس میں سلسلہ تکفیر خواہ کسی حد تک بھی کیوں نہ پہنچ جائے۔ مرکز نبوت سب کا ایک ہے۔ تمام فرقے صدہا اختلافات کے باوجود نبوت محمدیہ پر متفق اور متحد ہیں اور عقیدہ ختم نبوت پر اس کا اجماع ہے۔

مرزائیوں نے چونکہ اپنی نبوت علیحدہ کر لی ہے اور اسی نبوت کی وجہ سے انہوں نے مسلمانوں سے کلی مقاطعہ کیا ہے۔ اس بناء پر مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ مرزائیوں کو یہودیوں،

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٢

عیسائیوں کی طرح علیحدہ اقلیت قرار دیا جائے۔ مختصر یہ کہ مرزائیوں کی تکفیر کو دوسری جماعتوں کے اختلاف پر قیاس کرنا غلط ہے۔ مرزائی مسلمانوں سے اپنی نئی نبوت کی وجہ سے علیحدہ ہیں۔ چنانچہ مذکورہ بالا عبارات مرزائیہ کو پھر پڑھ جائیے۔ مرزائی خود اعلان کرتے ہیں کہ مسلمان اور مرزائی کی تفریق بالکل اسی طرح کی ہے۔ جیسی مسلمانوں اور عیسائیوں و یہودی کی تفریق ہے۔

اور اصولی لحاظ سے مرزائیوں کا یہ اعلان صحیح ہے۔ ان کا حق ہے کہ وہ ہر امر میں مسلمانوں سے علیحدہ رہیں۔ کیونکہ ان کی نبوت علیحدہ ہے۔ اندریں صورت کیا وجہ ہے کہ عیسائی وغیرہ تو اقلیت میں ہوں اور مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل کیا جائے۔

گول میز کانفرنس شملہ

میں مسٹر جناح نے تقسیم ملک کی بڑی وجہ یہ پیش کی تھی کہ گائے ایک قوم کا خدا ہے اور دوسری قوم کی خوراک ہے۔ لہٰذا یہ دونوں قومیں اکٹھی کس طرح رہ سکتی ہیں۔ اس پر ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ اب اس اصول کو یہاں لیجئے۔ نبوت کمال بشریت کا آخری درجہ ہے۔ نبی سے بڑھ کر خدا کا کوئی مقرب نہیں۔ جب ایک قوم کے نبی کو دوسری قوم دجال و کذاب کہے تو ان کے اجتماع کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اسی لئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عیسائیوں وغیرہ کی طرح مرزائیوں کو بھی اقلیت قرار دیا جائے۔

چند باتیں یہاں اور قابل توجہ ہیں

اوّل ...... یہ کہ دوسری جماعتوں کے آپس میں خواہ کتنے اور کیسے ہی اختلافات ہوں۔ مگر ان میں سے کوئی بھی اسلامی حکومت پر کفر کی حکومت کو ترجیح نہیں دیتا۔ بخلاف اس کے مرزائیت یہ چاہتی ہے کہ کفر کی حکومت برقرار رہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں : ’’میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح کر سکتا ہوں نہ مدینہ میں۔ نہ روم میں نہ شام میں ۔ نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٣٧٠ مورخہ ٢٢؍ مارچ ١٨٩٠ء)

الفضل ١٣؍ ستمبر ١٩١٤ء میں ہے : ’’سنو! انگریز کی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے اور اس خدا کی طرف سے وہ سپر ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو اور ہمارے مخالف جو مسلمان ہیں ۔ ہزار ہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں ۔‘‘

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٣

اسی پرچہ میں آگے چل کر لکھا ہے: ’’سچے احمدی بدوں کسی خوشامد اور چاپلوسی کے دل سے یقین کرتے ہیں کہ برٹش گورنمنٹ ان کے لئے فضل ایزدی اور سایہ رحمت ہے اور اس کی ہستی کو وہ اپنی ہستی خیال کرتے ہیں۔‘‘

ان عبارات کا مطلب واضح ہے کہ مرزائیت کے لئے کسی مملکت اسلامیہ میں جگہ نہیں۔ اسی لئے کہیں کفر کی حکومت کو سایہ رحمت ایزدی بتلایا جارہا ہے اور کہیں اس کے اقبال اور ترقی کے لئے دعائیں ہورہی ہیں۔ آخر یہ کیوں؟

یا تو اس لئے کہ نئی نبوت کا اسلام میں وجود ہی نہیں۔

یا اس لئے کہ اس میں اسلامی معاشرے کی تخریب قطع برید اور ملک میں انتشار و بدامنی کے خطرات اس قدر ہیں کہ کوئی اسلامی حکومت اس کو برداشت نہیں کرسکتی۔

آہ! ہماری بدقسمتی اور بدبختی کی انتہاء ہے کہ یہ انگریز کا خودکاشتہ پودا ہے۔ قادیانی نبوت پاکستان کے حصہ میں آگئی۔ جس کی بدولت ہزاروں جانیں تلف ہوئیں۔ سینکڑوں گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ بالخصوص لیڈران قوم پر شدید مصائب آئے۔ کئی شہید ہوئے اور بہت سے اب تک جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ کیا یہ امر قابل افسوس نہیں کہ جس نبوت کاذبہ کا وجود ہی کوئی اسلامی حکومت کسی حیثیت سے برداشت نہیں کرسکتی۔ نہ اسلامی حیثیت سے نہ سیاسی حیثیت سے۔ حکومت پاکستان اس کو اقلیت قرار دینے میں بھی پس و پیش کر رہی ہے۔ الی اللہ المشتکی!

دوسری بات قابل توجہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان کے اندر مرزائیت کو اپنی علیحدہ سٹیٹ کا فکر ہوا۔ حالانکہ حکومت نے اس کے ساتھ بہت سے خصوصی احسان کئے۔ ملک تقسیم ہوتے ہی نصف حکومت کے اختیارات اس کے حوالے کر دیئے۔ ظفر اللہ کو وزیر خارجہ بنا دیا۔ جس کی وجہ سے بیرونی اختیارات کی کلی طور پر مرزائیت مالک ہو گئی اور اندرونی طور پر بھی ہر محکمہ میں بہت زیادہ اقتدار پیدا کر لیا اور مستقل مرکز بنانے کے لئے ربوہ کا جنگل دے دیا گیا مگر مرزائیت ایسی احسان فراموش واقع ہوئی کہ اپنی علیحدہ سٹیٹ حاصل کرنے کی دھن میں مگن رہی۔ چنانچہ ٢٣/جولائی ١٩٤٨ء کو مرزا محمود نے کوئٹہ میں ایک خطبہ دیا۔ جو ٢٣/اگست ١٩٤٨ء کے الفضل میں شائع ہوا۔ اس میں آپ فرماتے ہیں۔

’’برٹش بلوچستان ...... جو اب پاکستانی بلوچستان ہے۔.... کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ یہ آبادی اگرچہ دوسرے صوبوں کی آبادی سے کم ہے۔ مگر بوجہ ایک یونٹ ہونے کے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ دنیا میں جیسے افراد کی قیمت ہوتی ہے۔ یونٹ کی بھی قیمت ہوتی

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٤

ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کی کانسٹی ٹیوشن ہے۔ وہاں اسٹیٹس سینٹ کے لئے اپنے ممبر منتخب کرتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی اسٹیٹ کی آبادی دس کروڑ ہے یا ایک کروڑ ہے۔ سب اسٹیٹس کی طرف سے برابر ممبر لئے جاتے ہیں۔ غرض باقی بلوچستان کی آبادی ٥، ٦ لاکھ ہے اور اگر ریاستی بلوچستان کو ملا لیا جائے تو اس کی آبادی گیارہ لاکھ ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک یونٹ ہے۔ اس لئے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے۔ لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلدی احمدی بنایا جا سکتا ہے۔...... یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ہماری بیس (BASE) مضبوط نہ ہو۔ پہلے بیس مضبوط ہو تو پھر تبلیغ پھیلتی ہے۔ بس پہلے اپنی بیس مضبوط کر لو۔ کسی نہ کسی جگہ اپنی بیس بنالو۔ کسی ملک میں ہی بنالو۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنا لیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا۔ جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔“

اس عبارت میں جس ریاست مرزائیہ کے مشورے ہو رہے ہیں۔ اس کا نقشہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی ساری آبادی پر مرزائیت اس طرح چھا جائے کہ کوئی فرد غیر مرزائی نہ رہے۔ گویا مرزائی مسلمانوں کی اقلیت بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ جس گروہ کو مسلمانوں سے اتنی نفرت ہو کہ یہودیت اور عیسائیت کو بھی اسلام سے اتنی نفرت نہیں۔ اس کے حق میں اقلیت کا مطالبہ تو بہت ہی معمولی اور ہلکا مطالبہ ہے۔

کاش! حکومت حقائق کا جائزہ لے اور مسلمانوں کے جائز مطالبات پر پورا غور کرے۔

تیسری بات قابل توجہ یہ ہے کہ تحریک راست اقدام سے چند روز پہلے اخبار زمیندار میں چوہدری ظفر اللہ کے چار خطوط شائع ہوئے تھے۔ جو نجی طور پر خلیفہ قادیان کو لکھے گئے۔ ان میں غیر ممالک کے اندر مرزائیت کی تبلیغ کا ذکر تھا۔ یہ کہاں کی انصاف پرستی ہے کہ پاکستانی خزانہ سے روپیہ مسلمانوں کا صرف ہو رہا ہے اور تبلیغ و نمائندگی مرزائیت کی ہو رہی ہے۔ ایسی تخریبی کاروائیاں ہی تو مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتی ہیں۔ خصوصاً جب کہ ان کاروائیوں کا مرتکب وہ شخص ہو جس کو اسلامی حکومت کے نصف حصے کا مختار بنا دیا گیا ہو۔

مسلمان آخر غیور قوم ہے۔ وہ ایک مرزائی کو سیاسی اعتبار سے ایسی کلیدی آسامی دینا ہی برداشت نہیں کر سکتی۔ اس پر غیر ممالک میں تبلیغ مرزائیت کا اضافہ جلتی پر تیل ڈالنے کی مثال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری جماعتوں کی آپس میں تکفیر کو یہاں پیش کرنا اور یہ کہنا کہ

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٥

مرزائیوں کی تکفیر کوئی نرالی نہیں۔ یہ قطعاً بے محل ہے۔ آخر یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ وہ کون سی چیز ہے جس نے آپس میں ایک دوسرے کی تکفیر کرنے والی تمام جماعتوں کو مرزائیت کے خلاف ایک سٹیج پر جمع کر دیا۔ وہ یہی تو ہے کہ مرزائی ایک نئی امت ہے۔ جس کی بابت ان کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی فرماتے ہیں: ”ان (یعنی مسلمانوں) کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور۔ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور۔ ہمارا حج اور ہے۔ ان کا حج اور۔ اس طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“

(الفضل

٢١ اگست ١٩١٧ء)

کیوں نہ ہو

جب نبوت ہی الگ ہو گئی تو باقی سب کچھ خود بخود الگ ہو گیا اور جیسے یہودی عیسائی ہم سے ہر معاملہ میں الگ ہیں۔ ایسے ہی مرزائی ہیں۔ چنانچہ گذشتہ صفحات میں حسب ضرورت تفصیل ہو چکی ہے۔

لاہوری مرزائی کا کفر

گذشتہ بیان سے یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ اس بناء پر لاہوری مرزائی کافر نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ وہ ختم نبوت کا قائل ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔

اوّل...... تو یہ شبہ یہاں مضر نہیں۔ اس لئے کہ لاہوری مرزائی اقل قلیل ہے اور مقابلہ اس وقت قادیانی سے ہے۔

اس کے علاوہ

لاہوری مرزائی بھی کافر ہیں۔ جس کے کئی دلائل ہیں۔

اوّل...... یہ کہ مسیح موعود کے متعلق امت کا متفقہ عقیدہ ہے اور احادیث میں بھی اس کی تصریح ہے کہ وہ نبی ہے۔ مگر لاہوری مرزائی اس کی نبوت سے منکر ہیں۔ اس بناء پر وہ بھی کافر ہیں۔

دوم...... امت کا اجماع ہے اور قرآن وحدیث اس پر متفق ہیں کہ آنے والے مسیح عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہیں۔ ایسے قطعیات کا منکر کافر ہے۔

سوم...... مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت میں شک نہیں۔ چنانچہ مرزا محمود نے اپنی کتاب ”حقیقت النبوۃ“ میں اس کے لئے ضرورت سے زیادہ مواد جمع کر دیا ہے اور یہ لاہوری مرزائیوں کو بھی مسلم ہے۔ وہ صرف اس کی تاویل کرتے ہیں کہ نبی سے مراد محدث ہے۔

١٣

صفحہ ٧٦

لیکن محدث کی تشریح وہی نبی والی کرتے ہیں کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ جو دخل شیطانی سے محفوظ ہوتی ہے اور انبیاء کی طرح وہ مامور ہوتا ہے۔ انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے۔ (یعنی دعویٰ کرے) اور اس کا منکر مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور آیت سورہ جن کی ”الا من ارتضیٰ من رسول“ اس کو شامل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے رسولوں پر غیب کی خبریں کھولتا ہے۔

یہ سب حوالہ جات کتاب ”نبوۃ فی الاسلام“ مصنفہ مولوی محمد علی امیر جماعت مرزائیہ لاہور میں موجود ہیں۔ خصوصاً اس کا باب چہارم قابل ملاحظہ ہے۔

درخت سے دی ہے کہ اس میں درخت بننے کی استعداد ہے۔ بالفعل درخت نہیں۔ لیکن محدث کی جو تشریح اوپر کی گئی ہے۔ اس پر یہ مثال چسپاں نہیں آتی۔ کیونکہ یہ تشریح اس کو بالفعل نبی بتاتی ہے۔

پس جب محدث کی تشریح نبی والی ہے تو معلوم ہوا کہ درحقیقت مرزائی دونوں گروہ مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں۔ لہٰذا مرزائی لاہوری اور قادیانی میں کوئی فرق نہ رہا۔ کیونکہ درحقیقت لاہوری بھی قادیانیوں کی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔

چہارم...... مولوی محمد علی نے (ضمیمہ نبوۃ فی الاسلام ص ١٠٥ بحوالہ اشتہار، ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨) مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ ذکر کیا ہے کہ میرا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ کیونکہ میری نبوت محمد ﷺ کی نبوت ہے۔ خواہ بطور عکس ہو اور ظاہر ہے کہ عکس انہی کمالات کا مظہر ہے جو اصل میں ہوتے ہیں۔ پس عکس کا انکار اصل کا انکار ہے اور اصل کا انکار تو لاہوری مرزائی کے نزدیک بھی کفر ہے۔ پس عکس کا انکار بھی کفر ہوا۔

نتیجہ ظاہر ہے کہ لاہوری مرزائی بھی مرزا غلام احمد قادیانی کو وہی درجہ دیتے ہیں جو قادیانی دیتے ہیں۔ لفظ خواہ محدث بولیں یا نبی۔ پس لاہوری قادیانی ایک ہی ہیں۔

پنجم...... مولوی محمد علی نے اس کتاب کے صفحہ ١٠٢ میں بحوالہ (اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤) مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات، انجیل اور قرآن کریم پر۔“

پس جب یہ وحی ایسی ہی قطعی ہے۔ جیسی کتب مذکورہ، تو پھر کتب مذکورہ کی طرح اس کا

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٧

منکر بھی کافر ہوا۔ نتیجہ وہی ہے جو ابھی ذکر ہوا۔

ششم ...... نبوۃ فی الاسلام ص ٧٦ میں (ازالہ اوہام ص ٥٧٦، خزائن ج ٣ ص ٤١١) سے نقل کر کے بطور خلاصہ لکھا ہے کہ: ”خواہ موجودہ احکام (اسلامی عقائد صوم وصلوٰۃ، زکوٰۃ، حج وغیرہ) ہی بذریعہ جبریل وحی نبوت سکھائے جائیں تو یہ ایک نئی کتاب اللہ ہوگی۔“

ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص ١٠٣ میں بحوالہ (اربعین نمبر ٤ ص ٦٠، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٦) لکھا ہے: ”خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر یہ حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعہ سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو۔ جھوٹی گواہی نہ دو۔ زنا نہ کرو۔ خون نہ کرو اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا شریعت ہے۔ جو مسیح موعود کا ہی کام ہے۔“

نبوت فی الاسلام کے ص ٧٥ میں بحوالہ تریاق القلوب لکھا ہے: ”یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ایسے دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا نہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا کی طرف سے شریعت اور احکام جدید لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں شان اعلیٰ اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣١ حاشیہ، خزائن ج ١٥

ص ٤٣٢)

ان عبارتوں کا نتیجہ ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا منکر کافر ہے۔ کیونکہ وہ صاحب کتاب اور صاحب شریعت ہے۔ جس کو وہی احکام بطور تجدید ملے۔

ہفتم ...... (نبوت فی الاسلام ص ٣١٦ پر بحوالہ دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) پر لکھا ہے کہ: ”میں اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہوں۔“

اور (نبوت فی الاسلام ص ٣٠٢، بحوالہ حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩) پر لکھتا ہے کہ: ”آنے والا مسیح جو آخری زمانہ میں آئے گا۔ اپنے جلال اور قوی نشانوں کے لحاظ سے پہلے مسیح یا پہلی آمد سے افضل ہے۔“

ان عبارات کا مطلب واضح ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت کے نشان پہلے مسیح سے زیادہ قوی زیادہ شان وشوکت اور جاہ وجلال رکھتے ہیں۔ پس جب پہلے مسیح کا منکر کافر ہے تو جس کی شان پہلے مسیح سے بڑی ہے۔ ان کا منکر بطریق اولیٰ کافر ہوا۔

ہشتم ...... نبوت فی الاسلام ص ١٤٠ پر بحوالہ (تحفہ بغداد ص ١٨، خزائن ج ٧ ص ٣٤) لکھا ہے کہ: ”لا شک ان من آمن بنزول المسیح الذی ھو نبی من بنی اسرائیل فقد

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٨

کفر بخاتم النبیین“ {کوئی شک نہیں کہ جو شخص اس مسیح کے نزول پر ایمان لایا جو بنی اسرائیل سے ایک نبی ہے۔ وہ خاتم النبیین کے ساتھ کافر ہے۔} اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اپنے تمام مخالفوں کو کافر کہا ہے اور لاہوری مرزائی اس کو پیش کر رہے ہیں اور یہی قادیانیوں کا عقیدہ ہے۔ پس لاہوری اور قادیانی ایک ہی ہوئے۔

نہم....... امت اسلامیہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ آنے والا مسیح حکومت اور سیاسی شان کے ساتھ آئے گا۔ احادیث صحیحہ میں بھی اس کی تصریح ہے کہ وہ حَکَم عدل یعنی باانصاف حاکم ہوگا۔ جنگ کرے گا۔ دجال کو قتل کرے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے متواتر اور متفقہ عقیدہ کا منکر کافر ہے۔ پس لاہوری مرزائی بھی کافر ہوا۔ کیونکہ وہ بجائے اس کے ایسے شخص کو مسیح موعود مانتا ہے جو حکومت اور سیاست کے ساتھ نہیں آیا۔

دہم...... یہ کہ حیات مسیح بھی اہل اسلام کا متفقہ اور اجماعی عقیدہ ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم آسمان پر اب زندہ ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ نے تلخیص الحبیر میں اس پر اجماع نقل فرمایا ہے۔ لاہوری مرزائی ان قطعیات کے منکر ہیں۔ لہٰذا وہ بھی قادیانیوں کی طرح کافر ہیں۔ ”تلك عشرة كاملة“

اس قسم کی اور بھی بہت وجوہات ہیں۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اربعین میں خود صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ لاہوری مرزائیوں کو بھی مسلم ہے کہ صاحب شریعت کی نبوت کا انکار کفر ہے۔

(ملاحظہ ہو نبوۃ فی الاسلام ص ٧٥، ٧٦)

خلاصہ یہ کہ مرزائی لاہوری ہوں یا قادیانی۔ دونوں کافر ہیں۔

حکومت پاکستان کا نظریہ

اب حکومت پاکستان کے نظریوں پر غور فرمائیے۔

پہلا نظریہ

موجودہ تحریک کو مسئلہ ختم نبوت سے کوئی تعلق نہیں۔

اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان اسلامی حکومت ہے یا غیر اسلامی۔ اگر غیر اسلامی ہے تو پھر بھارت اور پاکستان ایک ہی شے ہے۔ تقسیم ملک بیکار گئی اور لاکھوں قربانیاں برباد ہوگئیں۔ ایسا کہنے کی جرأت تو کون کرے گا۔

اور اگر اسلامی حکومت ہے۔ جیسا کہ پاکستان کو اسلامی حکومتوں میں سب سے بڑی

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٧٩

حکومت کہا جاتا ہے تو پھر اسلامی حکومت کی تعریف اس پر صادق آنی چاہئے۔ چونکہ آپ اس کو جمہوری حکومت کہتے ہیں۔ یعنی اکثر افراد کی حکومت جو رائے عامہ کے تحت ہو اس لئے کم از کم کلیدی آسامیاں (جن میں مسلم غیر مسلم دونوں کی نمائندگی کے اختیارات ہوں) مسلمان ہونی چاہئیں۔ ورنہ حکومت اسلامی محض ایک فریب ہوگا۔ جس کو مذہبی رنگ دیا گیا ہے۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ جب تک پاکستان میں اسلامی قانون رائج نہ ہو، اس کو اسلامی حکومت کہنا صرف ایک خوش فہمی ہے۔

یہ تو بالکل سطحی نظر ہے کہ کلیدی آسامیاں کافر ہوں اور حکومت اسلامی کہلائے۔ علم منطق کا مشہور مسئلہ ہے کہ نتیجہ ”اخس ارذل“ کے تابع ہوتا ہے۔ یعنی مرکب شے میں ایک چیز ناقص ہو تو ساری ناقص کہلاتی ہے۔ مثلاً پورے قرآن مجید پر ایمان لا کر صرف ایک آیت کے ساتھ کفر ہو تو وہ کافر ہی کہلائے گا۔ اسی طرح تمام انبیاء علیہ السلام کو مان کر ایک کا انکار کرے تو وہ کافر ہے۔ یہودی، عیسائی اسی لئے کافر ہیں۔

پس حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اپنے نام اور مقام کا لحاظ کرتے ہوئے ظفر اللہ کو وزارت خارجہ کے عہدے سے سبکدوش کردے۔

دوسرا نظریہ

یہ تحریک دراصل احرار کی ہے۔

اس پر یہ سوال ہے کہ جب مسئلہ ختم نبوت پوری ملت اسلامیہ کا مشترکہ ہے اور اسی مسئلہ کا تقاضہ ہے کہ وزارت خارجہ تبدیل ہو اور مرزائیت اقلیت قرار پائے تو پھر اس میں احراریوں کی کیا خصوصیت رہی۔ اسی لئے تمام جماعتیں اس میں شریک ہوگئیں۔ یہاں اقتدار غیر اقتدار کا سوال نہیں۔ بلکہ پاکستان کے متعلق حکومت اسلامی یا غیر اسلامی کا مسئلہ پیش نظر ہے۔ جس پر غور کرنا حکومت پاکستان کا اولین فرض ہے۔ تاکہ اپنے اسلامی ہونے کا ثبوت پیش کر سکے۔

خلاصہ یہ کہ مسئلہ ختم نبوت بے شک مذہبی چیز ہے اور موجودہ تحریک سیاسی۔ لیکن جب حکومت اسلامی ہے اور اسلام خود ایک مذہب ہے تو پھر ایک کو دوسرے سے جدا کیسے کر سکتے ہیں۔ اصل میں ایک عام وبا پھیل گئی ہے جو انگریزی دور کی پیداوار ہے کہ مذہب اور سیاست دو الگ الگ چیزیں ہیں اور اسی سے ہماری حکومت متاثر ہے۔ حالانکہ اسلام کا عملی حصہ

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٠

مجموعہ سیاست ہے۔ جس کے تین شعبے ہیں۔

اگر حکومت اسلامی نظریئے کے تحت مرزائیوں سے غیر مسلم والا سلوک کرتی تو نہ کوئی جانی نقصان ہوتا نہ مالی۔ نہ مارشل لا لگانے کی ضرورت پیش آتی۔ لیکن جب حکومت نے اپنے فرض کا احساس نہ کیا تو اس تحریک کے ذریعہ اظہار ناراضگی کیا گیا۔ جس سے حکومت نے یہ سمجھا کہ اس تحریک کا مقصد ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانا ہے۔ حاشا وکلا!

یہ تو موجودہ تحریک کی طرف سے صفائی پیش کی گئی ہے۔ لیکن ہمارا ایک مشورہ حدیث نبوی کی روشنی میں اس سے بالا تر ہے۔ جس کا کئی دفعہ ہم وعظوں، تقریروں میں اظہار کر چکے ہیں۔ حضور خاتم النبیین کا ارشاد ہے: ”عن ابی الدرداء قال قال رسول الله ﷺ ان الله تعالى يقول انا الله لا اله الا انا، مالك الملك و ملك الملوك قلوب الملوك فى يدى وان العباد اذا طاعونى حولت قلوب ملوكهم عليهم بالرحمة والرافة وان العباد اذا عصونى حولت قلوبهم بالسخطة والنقمة فسلموهم سوء العذاب فلا تشغلوا انفسكم على الملوك ولكن اشغلوا انفسكم بالذكر و التضرع كى اكفيكم ملوككم (رواه ابو نعيم فى الحلية، مشكوة كتاب الامارة)“ {خدا تعالیٰ فرماتے ہیں۔ میں اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں مالک الملک ہوں شہنشاہ ہوں۔ بادشاہوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں اور میرے بندے جب میری اطاعت کرتے ہیں تو میں بادشاہوں کے دل بندوں کے حق میں نرم کر دیتا ہوں۔ پس وہ ان کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آتے ہیں اور جب بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں بادشاہوں کے دل بندوں کے حق میں سخت کر دیتا ہوں۔ پس وہ ان کو سخت تکلیف دیتے ہیں۔ تم بادشاہوں کو بددعا دینے کی بجائے خدا کو یاد کرو اور اس کے حضور میں گریہ زاری کرو۔ خدا ان کی طرف سے تمہاری کفایت کرے گا۔}

یہ صادق المصدوق سردار دو جہاں کا فرمان ہے۔ جس میں ہماری جملہ مشکلات کا حل ہے اور پھر اس پر عمل کرنا بھی سہل ہے۔ تمام مشکلات کا حل اس لئے ہے کہ خدا کی طرف رجوع ہے۔ جو قادر مطلق ہے۔ بادشاہوں کے دلوں کا مالک ہے اور ماں باپ سے زیادہ مہربان ہے اور سہل اس لئے ہے کہ ہمارے اختیار کی شے ہے۔ ہمیں کسی سخت دل کے حوالے نہیں کیا۔ واللہ

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨١

الموفق!

خاتم النبیین کا معنی

آخر میں ہم چاہتے ہیں کہ اس لفظ کا معنی واضح کر دیں۔ کیونکہ مرزائی عموماً اس میں دھوکہ دیتے ہیں اور اس کے معنی یہ کرتے ہیں کہ جناب سرور کائنات ﷺ نبیوں کی تصدیق کی مہر ہیں۔ یعنی آئندہ وہ نبی ہوگا۔ جس پر آپؐ کی اتباع کی مہر ہوگی اور اس بناء پر مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ سردار دو جہاں کے کامل متبع ہیں۔

کیونکہ یہ معنی آج تک نہ کسی صحابی کی سمجھ میں آئے۔ نہ تابعی نہ تبع تابعی۔ نہ ائمہ دین میں سے کسی نے یہ معنی کئے کہ آئندہ نبی وہ ہوگا۔ جس پر سردار دو جہاں ﷺ کے اتباع کی مہر ہوگی۔ اگر مرزائیوں میں ہمت ہے تو سلف صالحین سے اس کا ثبوت پیش کریں۔

اور جب یہ لفظ کا معنی ہی نہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی کا اپنا اختراع (من گھڑت) ہے تو پھر کامل متبع تو کجا سرے سے اتباع ہی سے خارج ہو گئے اور مسلمان ہی نہ رہے۔

پر تین قرأتیں ہیں۔

عربی زبان میں خَاتَم اور خَاتِم کے دو معنی آتے ہیں۔ آخری اور مہر۔ اگر یہاں پہلا معنی مراد ہو تو مطلب واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی اور اگر دوسرے معنی ہوں تو مہر سے مراد ایسی مہر ہوگی۔ جیسے کسی شے کو بند کر کے اس پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ اس صورت میں بھی مطلب وہی ہو گیا کہ آپؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے اور تیسری قرأت اس کی مؤید ہے۔ کیونکہ ختم النبیین کے دو معنی ہیں۔

ایک یہ کہ آپؐ نے نبیوں کو ختم کر دیا۔

دوسرا یہ کہ آپؐ نے نبیوں کو مہر لگا دی۔

دوسرا معنی یہاں نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس صورت میں یہاں تین چیزیں چاہئیں۔ ایک

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٢

مہر، ایک مہر لگانے والا ۔ ایک جس پر مہر لگائی جاتی ہے۔ جب آپؐ مہر لگانے والے ہوئے تو خود مہر نہ ہوئے۔ حالانکہ پہلی دو قرأتوں میں آپؐ کو مہر کیا گیا ہے۔ پس یہ معنی پہلے دو معنوں کے خلاف ہوا۔ اس لئے پہلا مراد ہوگا۔ تاکہ تینوں قرأتوں کا مطلب ایک ہو جائے۔ یعنی پہلی دو قرأتوں کی رو سے آپؐ چونکہ مہر ہیں اور مہر لگنے سے معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے آپؐ نبیوں کو ختم کرنے والے ہوئے اور یہ مہر خدا کی طرف سے لگائی گئی۔ اس لئے خدا مہر لگانے والا ہوا۔

مکان سے تشبیہ دی۔ جس میں ایک اینٹ کی کمی ہے اور فرمایا کہ میں بھی وہی اینٹ ہوں۔ ”ختم بی النبیون“ {میرے ساتھ نبی ختم کئے گئے} اس طرح کی اور بھی بہت سی احادیث میں اس سے بھی معلوم ہوا کہ آپؐ کے ساتھ نبوت ختم ہو گئی۔ آپؐ تصدیق کی مہر نہیں۔ جیسے مرزائیوں کا خیال ہے۔

{میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔} اس حدیث میں حضرت ﷺ نے خاتم النبیین کا معنی یہ بیان فرما دیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس آپؐ کا بیان فرمودہ معنی سب پر مقدم ہے۔ اس کے مقابلہ میں کسی معنی کا اعتبار نہیں۔

آخر المساجد (مسلم ج ١ ص ٣٢٦)“ {میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔} یعنی نبیوں کی مسجدوں سے۔

اسی کے قریب نسائی وغیرہ میں الفاظ آئے ہیں اور کنز العمال میں بحوالہ دیلمی وغیرہ ”خاتم مساجد الانبیاء“ کے الفاظ ہیں۔ یعنی میری مسجد نبیوں کی آخری مسجد ہے۔ اس حدیث سے معاملہ بالکل صاف ہو گیا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا۔

خلاف ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ تصدیق کے لئے مہر مضمون وغیرہ کے بعد لگائی جاتی ہے۔ اگر کسی کو کہا جائے کہ پہلے مہر لگا دے یا دستخط پہلے کر دے۔ تو فوراً اس کے دل میں ٤٢٠ کا خطرہ دوڑ جاتا ہے۔ ہاں فیس کی مہر پہلے ہوتی ہے۔ جیسے اسٹامپ وغیرہ۔ مگر یہاں فیس سے کوئی تعلق

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٣

نہیں۔

اس بناء پر خاتم النبیین میں نبیوں سے مراد نئے نبی نہیں ہو سکتے۔ بلکہ گذشتہ نبی مراد ہوں گے۔ کیونکہ نئے نبیوں کا تو اس وقت وجود ہی نہیں تھا تو ان کے لحاظ سے آپ کو خاتم نہیں کہا جاسکتا۔

پاکٹ بک مرزائیہ (مرتبہ عبدالرحمن خادم گجراتی) میں خاتم النبیین کے معنی نبیوں کی زینت کے بھی کئے ہیں اور مرزا محمود نے تحقیقاتی عدالت میں جو بیان دیا ہے۔ اس کی قسط مندرجہ اخبار مورخہ ١٨؍ جنوری ١٩٥٤ء میں بھی یہی معنی کئے ہیں۔ لیکن کسی معتبر لغت عرب سے اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور بعض نے مجمع البحرین کا حوالہ دیا ہے۔ حالانکہ وہ معتبر نہیں اور پاکٹ بک مرزائیہ میں مجموعہ بنہانی جز ٤ کے حوالہ سے ابن معتوق شاعر کا یہ شعر پیش کیا ہے ؎

طوق الرسالة تاج الرسل خاتمهم
بل زينة لعباد الله كلهم

اس شعر کے مصرعہ دوم میں لفظ بل اور اس کے بعد لفظ زینۃ سے مرزائیوں نے یہ دھوکا کھایا ہے کہ پہلے مصرعہ میں طوق، تاج اور خاتم تینوں الفاظ کے معنی زینت کے ہیں۔ حالانکہ یہ کئی وجوہ سے غلط ہے۔

حجت نہیں۔

تشبیہات سے بلند ہے۔

طوق اور تاج (مالا) بنانے کی اصل غرض زینت ہوتی ہے اور خاتم میں۔ اگرچہ بالتبع زینت ہے۔ مگر خاتم کی اصل غرض قدیم دستور میں صرف مہر ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اصل لغت عرب میں خاتم کے معنی زینت نہیں آئے۔

اس سے واضح ہوا کہ شاعر نے بل کا لفظ پہلے مصرعہ کے صرف دو الفاظ طوق اور تاج کو ملحوظ رکھ کر استعمال کیا ہے۔ نہ کہ خاتم کے لحاظ سے۔

ہے کہ نبی اکرم ﷺ صرف انبیاء کی زینت نہیں۔ بلکہ تمام بندوں کی زینت ہیں اور یہ ظاہر ہے

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٤

کہ جب آپ انبیاء علیہم السلام کے لئے زینت ہوئے تو دوسرے لوگوں کے لئے بطریق اولیٰ زینت ہوئے۔ ایسے معنی کو لفظ بل کے ساتھ بیان نہیں کیا جاتا۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے۔ ماں باپ کو اف نہ کہو۔ اس سے گالی دینے کی ممانعت بطریق اولیٰ سمجھی جاتی ہے۔ اس کو اگر کوئی یوں بیان کرے کہ ماں باپ کو اف نہ کہو۔ بلکہ اس کے ساتھ گالی بھی نہ دو۔ تو یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ اس سے معنی مطلب میں ترقی نہیں بلکہ تنزل ہوا۔ ہاں یوں کہنا صحیح ہے کہ ماں باپ کو گالی نہ دو بلکہ اف بھی نہ کہو۔ اس بناء پر اس شعر میں یوں کہنا چاہئے تھا کہ نہ صرف تمام بندوں کی زینت ہیں۔ بلکہ انبیاء کی بھی زینت ہیں۔ پس یہ شعر عربیت کی رو سے غلط ہے اور اس سے استدلال کرنا واقعی مرزائیت کا ہی کمال ہے۔

اس کے علاوہ خاتم بمعنی زینت سے بھی نبی ﷺ کا آخری نبی ہونا لازم آجاتا ہے۔ کیونکہ خاتم جس کی زینت بنائی جاتی ہے۔ وہ پہلے ہوتا ہے اور یہاں نبی اکرم ﷺ جن کے لئے زینت ہیں۔ وہ انبیاء علیہم السلام ہیں۔ پس وہ آپ سے پہلے ہوئے اور آپ ان سب کے بعد۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں۔ سچ ہے ؎

عباراتنا شتی وحسنک واحد
فکل الی ذالک الجمال یشیر

مرزائیوں کی دورنگی

مرزائیوں کے الفضل اخبار کا ایک نمبر ٢٧؍جولائی ١٩٥٢ء کو خاتم النبیین کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اس میں اس بات پر زور دیا تھا کہ خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا۔ گویا اس لفظ میں نبیوں سے مراد صاحب شریعت نبی ہوئے اور وہ گذشتہ نبی ہیں اور یہ مرزائیوں کے مذکورہ بالا معنی کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس میں آئندہ نبی مراد لئے ہیں۔ جن پر تصدیق کی مہر ہو۔ اصل میں جھوٹے کی بات کوئی ٹھکانے کی نہیں ہوتی۔

دورنگی کی ایک اور مثال، مرزائی ادھر تو کہتے ہیں۔ صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ نبی وہ آسکتا ہے۔ جس پر رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی مہر ہو۔ حالانکہ صاحب شریعت نبی کو بھی اتباع کا حکم ہے تو گویا صاحب شریعت بھی آسکتا ہے۔

محمد رسول اللہ ﷺ جو صاحب شریعت نبی ہیں۔ ان کو بھی اتباع کا حکم ہورہا ہے۔ ’’فبہداہم اقتدہ‘‘ یعنی اے محمدؐ ! تو پہلے نبیوں کی اتباع کر۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ’’ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفاً‘‘ یعنی

٢٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٥

اے محمدؐ! تو ملت ابراہیمی کی اتباع کر۔

خاتم النبیین میں الف لام کا معنی

الف لام کے چار معنی آتے ہیں۔

ہے۔ جو رب ہے تمام جہانوں کا۔}

جنس خدا کے لئے ہے۔

فرعون نے معین رسول موسیٰ علیہ السلام کی نافرمانی کی۔

بھیڑیئے نے یوسف کو کھالیا۔

اب سوال یہ ہے کہ آیت خاتم النبیین میں الف لام کون سی قسم ہے۔ اخیر کی دو قسمیں تو مراد نہیں ہوسکتیں۔ چوتھی اس لئے کہ غیر معین نبیوں کے خاتم ہونے کا کوئی مطلب نہیں اور تیسری قسم مراد ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ تعیین کے لئے پہلے کوئی قرینہ چاہئے۔ پس پہلی دو قسمیں مراد ہوں گی اور معنی یہ ہوا کہ آپ تو (تشریعی، غیر تشریعی) تمام انبیاء کے خاتم ہیں۔ یا حقیقت اور جنس انبیاء کے خاتم ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جب کسی شے کی جنس ہی ختم ہو جائے تو اصل شے ہی ختم ہوگئی۔ اب یہ کہنا کہ غیر تشریعی نبی پیدا ہوسکتا ہے۔ اس آیت کریمہ کے صریح خلاف ہے۔

نوٹ: مرزائی بعض دفعہ کہا کرتے ہیں کہ نبوت رحمت ہے۔ رحمت بند نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن آپ صاحب شریعت نبی کا آنا خود ہی بند کر رہے ہیں۔ کیا یہ صاحب شریعت نبی رحمت نہیں۔ مرزائیوں کے دلائل ایسے ہی بے سروپا ہوتے ہیں۔ اپنی تردید آپ ہی کر جاتے ہیں۔ مگر ان کو پتہ نہیں لگتا۔

مغالطہ دہی

اس نمبر میں بعض بزرگان سلف اور اہل سنت کا یہ عقیدہ لکھا ہے کہ صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا۔ غیر صاحب شریعت نبی آسکتا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ ان بزرگوں کی عبارتوں کا غلط مفہوم لیا گیا ہے۔ مقصد ان کا یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ آئیں گے اور وہ

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٦

صاحب شریعت نبی ہیں۔ مگر ان کی دوبارہ آمد صاحب شریعت کی حیثیت سے نہیں ہوگی۔ بلکہ شریعت محمدیہ پر عمل کریں گے اور بعض بزرگوں کا مقصد یہ ہے کہ خاتم کے معنی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نبوت کے درجہ میں انتہاء کو پہنچ گئے ہیں۔ گویا آپؐ پر نبوت کے کمالات کا خاتمہ ہو گیا اور ظاہر ہے کہ جب شئے انتہائے کمال کو پہنچ جاتی ہے تو ختم ہو جاتی ہے۔ پس اس سے بھی لازم آیا کہ آپؐ کے بعد نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ یعنی نئی نبوت کا دروازہ بند ہے۔ کیونکہ سارے منازل طے ہو چکے ہیں۔ اس لئے نئی نبوت کی گنجائش نہیں اور اسی بناء پر آپؐ نے سلسلہ نبوت کو مکان سے تشبیہ دیتے ہوئے خود کو آخری اینٹ فرمایا ہے۔ چنانچہ پہلے حدیث گذر چکی ہے۔

بہرصورت ان بزرگوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نئی نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ جیسے مرزائیوں کا خیال ہے۔ اگر ہمت ہے تو کوئی صریح ایسی عبارت دکھاؤ کہ جس میں انہوں نے خاتم النبیین کا یہ معنی کیا ہو کہ سرکار دو جہاں ﷺ آئندہ نبیوں کی مہر ہیں اور اگر کسی نے ایسا کیا ہو تو اہل سنت نہیں۔ بلکہ گمراہ ہے۔ کیونکہ وہ قرآن و حدیث اور خیر قرون کے خلاف ہے۔

حضرت عائشہؓ اور مسئلہ ختم نبوت

اسی نمبر میں تکملہ مجمع البحار کے حوالہ سے حضرت عائشہؓ کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو۔ ”لا نبی بعدہ“ {آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔} اور اس کا مطلب یہ لکھا ہے کہ حضرت عائشہؓ کے نزدیک نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ اگر خاتم النبیین سے آئندہ نبیوں کی نفی ہوتی تو پھر حضرت عائشہؓ لا نبی بعدہ کہنے سے کیوں روکتیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو حضرت عائشہؓ کے اس قول کی منقطع السند کا ہی اعتبار نہیں۔ ایسے غیر معتبر قول پر اتنے بڑے مسئلہ کی عمارت کھڑی کرنا کون سی عقل مندی ہے۔

دوم...... حضرت عائشہؓ کا اس ”لا نبی بعدہ“ کے روکنے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی طرف اشارہ ہے۔ نہ کہ نئی نبوت کا اجراء۔ چنانچہ تکملہ مجمع البحار میں اسی مقام میں اس کی تصریح کی ہے۔ مگر مغالطہ دینا مرزائیوں کی فطرت ہے۔ اس لئے تکملہ کی پوری عبارت نقل نہیں کی۔

البتہ پاکٹ بک مرزائیہ میں پوری عبارت نقل کی ہے۔ لیکن اس کا مطلب غلط لیا ہے۔ تکملہ کی پوری عبارت یہ ہے۔

”قولوا انه خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعده هذا ناظر الی نزول عیسیٰ وهذا ایضاً لا ینافی حدیث لا نبی بعدی لانه اراد لا نبی ینسخ شرعه (تکملہ

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٧

ص ٨٥) "{ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔ خاتم الانبیاء کہو اور لا نبی بعدہ یہ نہ کہو۔ حضرت عائشہؓ کا فرمان نزول عیسیٰ علیہ السلام کی بنا پر ہے اور نزول عیسیٰ علیہ السلام حدیث لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے) کے بھی خلاف نہیں۔ کیونکہ اس حدیث سے مراد ہے کہ کوئی ایسا نبی آپؐ کے بعد نہیں۔ جو آپؐ کی شریعت کو منسوخ کرے۔} چونکہ عیسیٰ علیہ السلام آپؐ کی شریعت کو منسوخ نہیں کریں گے۔ بلکہ اس کو جاری کریں گے۔ اس لئے نزول عیسیٰ اس حدیث کے خلاف نہیں اور اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ نیا نبی جو صاحب شریعت نہ ہو۔ وہ آ سکتا ہے۔

جیسے کہ پاکٹ بک مرزائیہ والے کا خیال ہے۔ بلکہ حدیث کا مطلب کہ صاحب شریعت نبی نہیں آئے گا۔ صرف نزول عیسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے ہے نہ کہ نئی نبوت کی خاطر۔ اسی لئے بعض علماء نے اس حدیث کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ میرے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ یعنی نیا نبی نہیں آئے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام چونکہ پہلے کے نبی ہیں۔ اس لئے ان کا نزول اس حدیث کے خلاف نہیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر کشاف ج ٢ ص ٢١٥) وغیرہ خلاصہ یہ کہ اس حدیث کے مطلب میں صرف نزول عیسیٰ علیہ السلام کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اجراء نبوت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ علاوہ اس کے اگر نبوت کا سلسلہ جاری ہوتا تو پھر نزول عیسیٰ علیہ السلام کی کیا ضرورت تھی؟ الغرض یہ سب مرزائیوں کی مغالطہ دہی ہے۔ ورنہ تکملہ کی عبارت کا مطلب بالکل واضح ہے۔

حضرت علیؓ اور مسئلہ ختم نبوت

ایسے ہی الفضل کے اس نمبر میں تفسیر در منثور کے حوالہ سے حضرت علیؓ کا قول ذکر کیا ہے کہ ابو عبدالرحمن السلمیؓ، حسنؓ، حسینؓ کو قرآن پڑھا رہے تھے تو حضرت علیؓ نے ان کو فرمایا کہ خاتم النبیین میں خاتم کو تَ کی زبر کے ساتھ پڑھاؤ اور اس سے حضرت علیؓ کا مقصد یہ تھا کہ خاتم زیر کے ساتھ ہو تو اس کے معنی ختم کرنے والے کے ہیں اور اگر خاتم زبر کے ساتھ ہو تو اس کے معنی مہر کے ہیں اور نبوت چونکہ ختم نہیں ہوئی۔ اس لئے حضرت علیؓ نے زبر کے ساتھ پڑھانے کی ہدایت فرمائی۔ حالانکہ یہ وجہ نہ تھی۔ بلکہ ان کی قرأت زیر کے ساتھ تھی۔ اس لئے زبر کے ساتھ پڑھنے کی ہدایت فرمائی۔ ورنہ خاتم اگر زبر کے ساتھ ہو اور اس کے معنی مہر کے ہوں۔ تب بھی اس کا مطلب وہی ہے۔ جو زیر کے ساتھ ہے۔ چنانچہ اوپر ذکر ہو چکا ہے اور چونکہ زیر کے ساتھ بھی قرآن مجید کی ایک قرأت ہے۔ اس لئے دونوں کا مطلب ایک ہونا ضروری ہے۔ تا کہ آپس میں مخالفت نہ ہو۔ لیکن مرزائیوں کو اس کی کیا پرواہ۔ وہ مغالطے دے کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ خدا ان فتنوں سے بچائے۔ آمین!

٢٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨٨

مسلمان اور مرتد کی تعریف

تحقیقاتی عدالت میں مسلمان کی تعریف میں بھی بڑا اختلاف ہوا ہے۔ یہاں تک کہ عدالت کے بڑے رکن مسٹر محمد منیر نے یہ کہہ دیا کہ دو علماء بھی مسلمان کی تعریف پر متفق نہیں ہوئے۔

(اخبار آثار مورخہ ٢٦ صفر ١٣٧٣ھ، مطابق ٥ نومبر

١٩٥٣ء)

حالانکہ یہ بنیادی چیز ہے اور بنیادی چیز میں اختلاف اصل شے کو متزلزل کر دیتا ہے۔ جس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہوا کہ دنیا میں اسلام ایک ایسا مہمل سا لفظ ہے۔ جس کے معنی نہیں اور اس سے بڑھ کر کسی مذہب کی کمزوری کیا ہوگی کہ اس کے اندر حقانیت کے دلائل تو کجا اس کی تصویر ہی سامنے نہیں۔

یہ دراصل ہماری اسلام سے دوری۔ دین سے غفلت اور دنیوی تعلیمات کو اندازہ سے زیادہ اہمیت دینے کا نتیجہ ہے۔ ورنہ اسلام تو ایسی واضح شے ہے جو آفتاب آمد دلیل آفتاب کی مثال ہے۔ یہ کیوں اخفاء میں رہ سکتا ہے؟

کون نہیں جانتا کہ قرآن مجید کلام الٰہی ہے۔ اس کی ایک آیت بلکہ ایک لفظ کا انکار بھی کفر ہے اور کلام الٰہی ماننے سے مسلمان کی تعریف سامنے آ جاتی ہے۔ قرآن مجید میں ”لا الہ الا اللہ“ بھی ہے اور ”محمد رسول اللہ“ بھی۔ اب جو اس سے ایک کا منکر ہو وہ بالاتفاق کافر ہے۔

اسی طرح قرآن مجید میں خاتم النبیین بھی ہے۔ اس کا منکر بھی کافر ہے۔ ایسے عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا یا عین خدا کہنے کی وجہ سے کافر ہیں۔ اس بناء پر جو محمد رسول اللہ ﷺ کو عین خدا کہے یا آپؐ میں خدائی صفات مانے۔ یا اس کے نور سے تھا۔ کہے تو وہ بھی عیسائیوں کی طرح کافر ہے۔ ایسے ہی کوئی شخص محمد رسول اللہ ﷺ تو کہے۔ لیکن آپؐ نے جو خدا کی طرف سے پیغام دیا ہے۔ اس کا انکار کرے وہ بھی کافر ہے۔ اس بناء پر متواتر احادیث کا منکر کافر ہے۔ مثلاً پانچ نمازوں کی ١٧ رکعت سے منکر ہو یا ایک رکعت میں دو سجدوں کا منکر ہو یا ان کے اوقات کی اتفاقی حدود سے انکار کرے یا اس قسم کے دیگر مسائل کا انکار کرے۔ (جیسے منکرین حدیث) تو اس کے کفر میں بھی کوئی شک نہیں۔ قرآن مجید میں ہے: ”وما اٰتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا“ {جو رسول تمہیں دے لے لو اور جس سے روکے رک جاؤ۔}

علیٰ ہٰذا القیاس! قرآن مجید میں جتنا غور کیا جائے۔ اتنا ہی دماغ روشن ہوتا ہے اور

٢٦

صفحہ ٨٩

ایک ایک شئے بتائید الٰہی آفتاب نیمروز کی طرح سامنے آجاتی ہے۔ خاص کر عقائد کے باب میں تو کلام الٰہی نے اتنی وضاحت کی ہے کہ آج تک دنیا میں نہ اتنی ہوئی ہے اور نہ قیامت تک ہوگی۔ رہا اعمال کا معاملہ۔ سو نفس اعمال کا بیان تو قریب قریب قرآن مجید نے کر دیا ہے۔ ہاں ان کی ادائیگی کا طریقہ جو عملی چیز ہے۔ اس کو زیادہ تر تعلیم نبوی کے سپرد کر دیا۔

جیسے طبابت یا ڈاکٹری یا دیگر سائنس وغیرہ کی تعلیم پانے والا صرف کتابی معلومات سے کامیاب نہیں ہوتا۔ بلکہ تجربہ یا ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے عملی شرعی احکام کو سمجھ لینا چاہئے۔ جن میں اوّل نمبر نماز ہے۔ جس کی امامت کے لئے جبرئیل علیہ السلام آئے۔ گویا محمد ﷺ کو بھی اس کی ٹریننگ دی گئی۔ جیسے اس کی فرضیت سب احکام سے نرالی ہے کہ آسمان پر بلاکر کی گئی۔ ایسے ہی اس کی ٹریننگ کی بھی صورت نرالی ہے کہ پہلے نبی ﷺ کو اس کی ٹریننگ دی گئی۔ عملی لحاظ سے، اسی قسم کی خصوصیات کی بناء پر اس کی اہمیت بڑھ گئی اور سب اعمال پر مقدم ٹھہری اور دین کا ستون بن گئی۔ یہاں تک کہ کلمہ توحید کی صحت کے لئے شرط ہو گئی۔ خلاصہ یہ کہ: مسلمان وہ ہے جو ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کو قرآن کی تعلیم کے ماتحت ماننے والا اور اقرار کرنے والا ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔ اس کے بعد کچھ اختلاف ہے۔ مثلاً نماز، کلمہ توحید کی صحت کے لئے شرط اور اسلام کی تعریف میں داخل ہے یا نہیں۔ اس میں اختلاف ہے۔ لیکن کلام الٰہی کی ہدایت کے موافق کہ جب کسی امر میں نزاع ہو تو خدا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹاؤ۔ یہ اختلاف آسانی سے مٹ سکتا ہے۔ چنانچہ آگے ترکِ نماز کی بابت کفر بواح (صریح کفر) کا فیصلہ مدلل آئے گا۔ انشاء اللہ!

مسلمان کی صحیح تعریف

کلمہ توحید زیرِ تعلیمات قرآنیہ تسلیم کرنے کے بعد نماز کی پابندی کرنے والا اور اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ جس میں ذکر ہے کہ کلمہ توحید جنت کی کنجی ہے۔ چنانچہ مشکوٰۃ کتاب الایمان میں ہے کہ وہب بن منبہ سے کسی نے سوال کیا کہ کیا کلمہ توحید جنت کی کنجی نہیں؟ فرمایا کنجی دندانے بغیر نہیں ہوتی۔ اگر دندانوں والی کنجی لائے گا تو جنت کا دروازہ کھلے گا۔ ورنہ نہیں۔

گویا ان کا اشارہ اسی طرف تھا کہ کسی عمل کا تسلسل کلمہ توحید کی صحت کے لئے لازمی ہے۔ (جس میں اوّل نمبر نماز ہے) اور اگر کوئی زبردستی اس میں اختلاف کرے۔ (حالانکہ جس اختلاف کو قرآن، حدیث

٢٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٠

مٹادے۔ اس کو اختلاف نہیں کہنا چاہئے۔ بلکہ اسکا نام غلطی یا کچھ اور رکھنا چاہئے ) تو کلمہ توحید نیز تعلیمات قرآنیہ ماننا اور اقرار کرنا۔ اس کی تسلیم پر تو اتفاق ہے۔ پس بہر صورت مسلمان کی متفقہ تعریف ثابت ہو گئی۔ اصل میں جو عدالت میں علماء جاتے ہیں۔ ان سے اکثر اپنی تقریروں کی وجہ سے اور سیاسیات میں زیادہ حصہ لینے کی وجہ سے عوام میں خاص کر انگریزی خواں حضرات میں وہ بڑے مولانا مشہور ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر:

مرتد کی تعریف

مسٹر محمد باقر امیر جماعت اسلامی ملتان ...... نے عدالت میں مرتد کی تعریف یہ کی ہے۔ جو ان بنیادی اصولوں کو جن پر اسلامی مملکت کی اساس (بنیاد) رکھی گئی ہو۔ تباہ کرنے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرے ١۔“

(اخبار آثار مورخہ ١٩؍ صفر ١٣٧٤ھ، مطابق

٢٩؍ اکتوبر ١٩٥٣ء)

یہ تعریف اسلامی رواداری بیان کرتے ہوئے کی۔ جس کا مطلب یہ کہ اسلامی حکومت میں خواہ کوئی اسلام ترک کر دے اس کو بھی قتل نہیں کر سکتے جب تک بغاوت نہ کرے۔ گویا مرتد کو دوسرے کفار کی طرح سمجھتے ہیں کہ جیسے وہ حکومت اسلامی میں رہ سکتے ہیں۔ مرتد بھی رہ سکتا ہے۔ حالانکہ دونوں میں بڑا فرق ہے۔ ارتداد سے دوسروں کے دلوں میں شکوک پیدا ہوتے ہیں اور کفر کا راستہ کھلتا ہے اور پہلے سے کافر ہونے میں یہ بات نہیں۔ چنانچہ قرآن مجید پارہ ٣ رکوع ١٦ میں اس کا بیان ہے اور پھر آج تک کسی نے مرتد کی یہ تعریف نہیں کی۔ نیز یہ حدیث کے بھی صریح خلاف ہے۔ چنانچہ بخاری میں حدیث ہے: ”من بدل دینہ فاقتلوہ (مشکوٰۃ باب قتل اہل الردۃ

١۔ مودودی صاحب کا بھی یہی نظریہ ہے۔ ملاحظہ ہو بیان مودودی در تحقیقاتی عدالت قسط ٢ زیر عنوان ”مرتد کی سزا اسلام میں“ مندرجہ روز نامہ نوائے پاکستان لاہور۔

٢٨؍ اپریل ١٩٥٤ء

فصل اول) ”{ جو دین بدل دے اس کو قتل کر دو۔}

اور رسول اللہ ﷺ نے معاذؓ کو یمن بھیجا۔ وہاں وہ ابو موسیٰؓ کو ملے ۔ ان کے پاس ایک شخص مشکیں باندھے پڑا ہوا تھا۔ معاذؓ ابھی سواری سے نہیں اترے تھے کہ فرمایا یہ کون ہے؟ کہا یہ دین سے پھر گیا ہے۔ فرمایا واللہ میں سواری سے نہیں اتروں گا۔ جب تک یہ قتل

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩١

نہ کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے۔ ”من بدل دينہ فاقتلوہ“ جب قتل کر دیا گیا تو پھر سواری سے اترے۔ یہاں دین بدلنے پر قتل کا حکم ہو رہا ہے اور مسٹر محمد باقر نے بغاوت کی شرط ساتھ رکھ دی اور اس بناء پر مرتد کی تعریف بدل دی۔ حالانکہ بغاوت کا مسئلہ اس سے الگ ١؎ ہے اور اس میں بھی قتل ہے۔ مسٹر محمد باقر نے خلط ملط کر کے ایک ہی کر دیا۔ انا للہ! خدا ان کو سمجھ دے اور ہدایت کرے کہ ایسے مسائل میں خود دخل دینے کی بجائے ان کو اہل علم کے حوالے کر دیں۔

بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ قتل مرتد آیت کریمہ ”لا اکراہ فی الدین“ کے خلاف ہے۔ حالانکہ ”لا اکراہ“ کے معنی ہیں کہ دین منوانے میں کسی پر جبر نہیں اور قتل مرتد دین منوانے پر نہیں ہوتا۔ بلکہ اس بناء پر ہوتا ہے کہ دوسرے کے دلوں میں شکوک نہ پیدا ہوں اور کفر کا راستہ نہ کھلے۔ جیسا کہ ابھی بیان ہوا ہے۔ ”والحمد اللہ رب العالمين“

حکومت مرزائیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرے

از نقاش پاکستان علامہ اقبالؒ

علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کے ایک مذہبی ادارہ انجمن حمایت اسلام لاہور کو مرزائیت سے پاک کیا تھا اور کشمیر کمیٹی کی رکنیت اس وقت تک قبول نہ کی جب تک کہ اس کا صدر مرزا محمود قادیانی رہا۔ پھر علامہ اقبالؒ نے اس وقت کی فرنگی حکومت سے جو خود فتنہ مرزائیہ کی بانی تھی اور یہ اس کا خود کاشتہ پودا تھا۔ مطالبہ کیا کہ وہ مرزائیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرے۔ چنانچہ کتاب ”حرف اقبال“ سے عبارت کا ضروری حصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

”انسان کی تمدنی زندگی میں غالباً ختم نبوت کا تخیل سب سے انوکھا ہے۔“

”اس کا صحیح اندازہ مغربی اور وسط ایشیا کے مؤبدانہ تمدن کی تاریخ کے مطالعہ سے ہوسکتا ہے۔“

١؎ بغاوت اور ارتداد میں دو طرح سے فرق ہے۔ ایک یہ کہ ارتداد میں قتل واجب ہے اور بغاوت میں حاکم کو اختیار ہے۔ دوم بغاوت مسلمان کو بھی شامل ہے۔

”میرے نزدیک بہائیت قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے۔ لیکن مؤخر الذکر اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔“

٢٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٢

”مسلمانوں نے قادیانی تحریک کے خلاف جس شدت احساس کا ثبوت دیا ہے۔ وہ جدید اجتماعیات کے طالب علم کے لئے بالکل واضح ہے۔ عام مسلمان جسے پچھلے دنوں ”سول اینڈ ملٹری گزٹ“ میں ایک صاحب نے ملازدہ کا خطاب دیا تھا۔ اس تحریک کے مقابلہ میں حفظ نفس کا ثبوت دے رہا ہے۔“

”نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس کے جذبہ سے بھی عاری کر دیا ہے۔ بعض ایسے ہی مسلمانوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو رواداری کا مشورہ دیا ہے۔“

حکومت کو موجودہ صورتحال پر غور کرنا چاہئے اور اس اہم معاملہ میں جو قومی وحدت کے لئے اشد اہم ہے۔ عام مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہئے۔ اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے سوا چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے۔ کیا یہ مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے۔ حالانکہ اس کی وحدت خطرے میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ اگرچہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔ اس مقام پر یہ دہرانے کی غالباً ضرورت نہیں کہ مسلمانوں کے بیشمار مذہبی فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے پر الحاد کا فتویٰ ہی دیتے ہیں۔

(حرف اقبال ص ١٢١ تا ١٢٧)

قادیانیوں کی تفریق کی پالیسی کے پیش نظر جو انہوں نے مذہبی اور معاشرتی معاشرت میں ایک نئی نبوت کا اعلان کر کے اختیار کی ہے۔ خود حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے بنیادی اختلافات کا لحاظ رکھتے ہوئے آئینی قدم اٹھائے اور اس کا انتظار نہ کرے کہ مسلمان کب مطالبہ کرتے ہیں اور مجھے اس احساس میں حکومت کے سکھوں کے متعلق رویہ سے بھی تقویت ملی۔ سکھ ١٩١٩ء تک آئینی طور پر علیحدہ سیاسی جماعت تصور نہیں کئے جاتے تھے۔ لیکن اس کے بعد ایک علیحدہ جماعت تسلیم کر لئے گئے۔ حالانکہ انہوں نے کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ بلکہ لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا تھا کہ سکھ ہندو ہیں۔

اب چونکہ آپ نے یہ سوال پیدا کیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلہ کے متعلق جو برطانوی اور مسلم دونوں کے زاویہ نگاہ سے بہت اہم ہے۔ چند معروضات پیش کروں۔ آپ چاہتے ہیں کہ میں واضح کروں کہ حکومت جب کسی جماعت کے مذہبی اختلافات کو تسلیم کرتی ہے تو

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٣

میں اسے کس حد تک گوارا کر سکتا ہوں۔ سو عرض ہے کہ:

اولاً....... اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے۔ جس کے حدود مقرر ہیں۔ یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء پر ایمان اور رسول کریم ﷺ کی ختم رسالت پر ایمان۔ دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لئے فیصلہ کن ہے کہ کوئی فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں۔ مثلاً برہمو خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کرسکا۔

ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کر لیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔ لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول کریم ﷺ کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔

میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں۔ یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ جائیں۔

ثانیاً....... ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ بانی تحریک نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ سے اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا دین کے بنیادی اصولوں سے انکار۔ اپنی جماعت کا نیا نام (احمدی) مسلمانوں کی قیام نماز سے قطع تعلق، نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ تمام دنیائے اسلام کافر ہے۔ یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔ بلکہ واقع یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں۔ جتنے سکھ ہندوؤں سے کیونکہ سکھ ہندوؤں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ہندو مندروں میں پوجا نہیں کرتے۔

ثالثاً....... اس امر کو سمجھنے کے لئے کسی خاص ذہانت یا غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے کہ

٣١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٤

جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں۔

علاوہ سرکاری ملازمتوں کے فوائد سے ان کی موجودہ آبادی جو ٥٦٠٠٠ (چھپن ہزار) ہے۔ انہیں کسی اسمبلی میں ایک نشست بھی نہیں دلا سکتی اور اس لئے انہیں سیاسی اقلیت کی حیثیت بھی نہیں مل سکتی۔

یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ قادیانیوں نے اپنی جداگانہ سیاسی حیثیت کا مطالبہ نہیں کیا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مجالس قانون ساز میں ان کی نمائندگی نہیں ہو سکتی۔ نئے دستور میں ایسی اقلیتوں کے تحفظ کا علیحدہ لحاظ رکھا گیا ہے۔ لیکن میرے خیال میں قادیانی حکومت سے بھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔

ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔ کیونکہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا سکے۔ حکومت نے ١٩١٩ء میں سکھوں کی طرف سے علیحدگی کے مطالبے کا انتظار نہ کیا۔ اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبے کے لئے کیوں انتظار کر رہی ہے۔

(حرف اقبال ص ١٣٥ تا ١٣٨، بحوالہ اخبار سٹیٹسمین مورخہ ١٠ جون ١٩٣٥ء)

پاکستان کے طول وعرض میں اقبالؒ کی یاد میں یوم اقبالؒ منایا جاتا ہے۔ اقبالؒ سے پیار کرنا، یوم اقبالؒ منانا، اقبالؒ کے فلسفہ، حکمت علم اور فکر کی صحت وصداقت اور وسعت و رفعت پر فخر و ناز کرنا۔ مگر اقبالؒ کے مسلک و مذہب کو عملاً ٹھکرا دینا انصاف و اخلاص کا کوئی اچھا مظاہرہ نہیں ہے۔

(منقول از تنظیم اہل سنت ہفت روزہ لاہور)

متعلقہ چند مسائل

راعی اور رعیت میں کشمکش کے بہت سے اسباب ہیں۔ کوئی دینی کوئی دنیوی۔

دینی مثال کے طور پر یہی تحفظ ختم نبوت کا مسئلہ ہے اور دنیوی جیسے اقتدار پسند جماعتوں میں اکثر ہوتا ہے۔ لیکن سب سے بڑا سبب انتخاب کا صحیح نہ ہونا ہے۔ یا انتخاب کے بعد اپنے فرائض سے ناواقفی یا غفلت ہے۔ اس لئے ہم قرآن وحدیث اور اسلامی روایات سے اس پر مختصر سی روشنی ڈالتے ہیں۔ تا کہ راعی اور رعیت اپنے فرائض کو سمجھیں اور ایسے حالات پیدا کرنے سے احتراز کریں جو ”خسر الدنيا والآخرة“ کا باعث بنیں۔ ”والله الموفق“

٣٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٥

تقرر امارت تین طرح سے ہوتا ہے۔ ایک انتخاب سے، خواہ انتخاب قوم کی طرف سے ہو۔ جیسے حضرت ابوبکرؓ کو خلافت کے لئے منتخب کیا گیا۔ یا مرنے والا اس کو منتخب کر جائے۔ جیسے حضرت عمرؓ کی خلافت، حضرت ابوبکرؓ کے انتخاب سے ہوئی اور حضرت عثمانؓ کی خلافت بھی اسی کے قریب تھی۔ کیونکہ حضرت عمرؓ نے وفات کے وقت خلافت چھ صحابہ کے سپرد کی تھی کہ یہ اپنے میں سے جس کو چاہیں خلیفہ منتخب کرلیں۔ عثمانؓ، علیؓ، طلحہؓ، زبیرؓ، سعدؓ، عبد الرحمن بن عوفؓ۔

یہ چھ صحابہ عشرہ مبشرہ سے ہیں۔ یعنی دس صحابہؓ جن کے نام لے کر رسول اللہ ﷺ نے ان کو جنت کی خوشخبری دی ہے۔ یہ چھ ان سے ہیں۔ آخر الذکر چار تو خلافت سے دستبردار ہوگئے۔ باقی حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ رہے۔ ان کو عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا تم اپنا معاملہ میرے سپرد کردو۔ میں جن کو چاہوں تم میں سے خلیفہ بنادوں۔ انہوں نے سپرد کردیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے حضرت عثمانؓ کو منتخب کیا اور حضرت عثمانؓ کے بعد حضرت علیؓ کی خلافت قوم کے انتخاب سے ہوئی۔

چنانچہ کتب تاریخ وغیرہ میں ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنا حق فائق بتانے کے لئے حضرت معاویہؓ کو لکھا کہ مجھے ان لوگوں نے امیر بنایا ہے۔ جنہوں نے ابوبکر صدیقؓ اور عمر فاروقؓ کو امیر بنایا تھا۔ یعنی مہاجرین اور انصار اور حضرت علیؓ کی فوقیت کے بعض اور وجوہ بھی ہیں۔ اس بناء پر حضرت معاویہؓ کی خلافت کا ابتدائی حصہ صحیح نہیں رہتا۔ البتہ حضرت علیؓ کی وفات کے بعد حضرت معاویہؓ کی خلافت صحیح ہوگئی۔ کیونکہ قریباً سب ان کی خلافت پر متفق ہوگئے اور حدیث میں بھی اس طرف اشارہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے حسنؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ میرا یہ بیٹا سید ہے۔ اس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا۔

چنانچہ اس پیش گوئی کا ظہور یوں ہوا کہ حضرت علیؓ کے بعد حضرت حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی اور حضرت حسنؓ بڑی جمعیت (چالیس ہزار کی فوج) کے ساتھ حضرت معاویہؓ کے مقابلہ میں آئے۔ قریب تھا کہ ان کے اور معاویہؓ کے درمیان جنگ چھڑ جائے۔ مگر معاویہؓ کی طرف سے فیصلہ کے لئے قرآن مجید پیش کیا گیا۔ ادھر سے کیا دیر تھی۔ فوراً منظوری دے دی گئی۔

آخر حضرت حسنؓ معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے اور طے پایا کہ تا حین حیات معاویہؓ خلیفہ رہیں۔ ان کے بعد حضرت حسنؓ خلیفہ ہوں ۔ لیکن خدا کی شان حضرت حسنؓ، معاویہؓ کی زندگی ہی میں رحلت فرما گئے اور معاویہؓ نے یزید کو ولی عہد بنا کر اس کے لئے

٣٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٦

بیعت لینی شروع کر دی اور حضرت حسینؓ اس وقت اگرچہ حیات تھے۔ لیکن یہ معاویہؓ کو خلافت سپرد کرنے پر حضرت حسنؓ سے ناراض تھے۔ اس لئے معاویہؓ بھی ان کی خلافت نہیں چاہتے تھے اور معاویہؓ نے خیال کیا کہ خلیفہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کرے۔ جیسے حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کو خلیفہ مقرر کیا۔ چنانچہ اس خیال کے مطابق معاویہؓ نے جب اہل مدینہ سے یزید کے حق میں بیعت لینے کی غرض سے اپنا آدمی بھیجا تو اس نے اہل مدینہ کو یزید کی بیعت کے لئے ترغیب دیتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ یہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کی سنت ہے۔

حضرت عائشہؓ کے بھائی عبدالرحمن بن ابوبکر صدیق نے اس کے جواب میں فرمایا۔ ”هذه كسروانية“ یہ حضرت صدیقؓ اور فاروقؓ کی سنت نہیں۔ بلکہ کسریٰ کی سنت ہے۔ کیونکہ خلافت کوئی وراثت نہیں کہ باپ کے بعد بیٹا مستحق ہو۔ نہ حضرت صدیقؓ اور عمرؓ نے ایسا کیا۔ بلکہ حضرت عمرؓ نے خلافت کا معاملہ جن چھ صحابہؓ کے سپرد فرمایا۔ ان کو وصیت فرمائی کہ میرے بیٹے عبداللہ کو دل جوئی کے لئے مشورہ میں شامل کر لینا۔ لیکن خلافت میں اس کا کوئی حق نہیں۔ دراصل حضرت معاویہؓ کو انتخاب میں غلطی لگی۔ انتخاب خواہ قوم کی طرف سے ہو یا خلیفہ کرے۔ دونوں صورتوں میں انتخاب ایسے شخص کا ہو۔ جو باوجود اہلیت کے امارت کا حریص نہ ہو۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ”والله لا نولى على هذا الامر احدا ساله او حرص عليه (متفق عليه مشكوة كتاب الامارة)“ {ہم عہدہ امارت ایسے شخص کے سپرد نہیں کریں گے جو اس کا طالب یا حریص ہو۔}

یزید کی دینی حالت بہت کمزور تھی۔ باوجود اس نااہلیت کے حریص اتنا تھا کہ حضرت حسنؓ کو ان کی بیوی سے اسی نے زہر دلوایا۔ تاکہ وہ ختم ہو جائیں اور معاویہؓ کے بعد ان کی بجائے اس کی خلافت قائم ہو جائے۔ چنانچہ حسنؓ آخر کار اسی زہر سے شہید ہو گئے۔ البتہ یہ معلوم نہیں کہ معاویہؓ کو اس زہر کا علم ہوا یا نہیں۔

مگر یہ چیز تو مخفی نہیں رہ سکتی کہ یزید ایک اقتدار پسند دنیا دار اور حریص انسان ہے اور ایسا انسان طمع نفسانی کے لئے سب کچھ کر گزرتا ہے۔ اس سے عدل وانصاف کی توقع بہت کم ہے۔

اگر حضرت حسینؓ سے ناراضگی تھی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک نااہل کو ان پر ترجیح دی جاتی۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ معاویہؓ کی حیات میں بظاہر یزید کی دینی حالت اتنی پست نہ تھی۔ جتنی بعد ہو گئی۔ لیکن پھر بھی حسینؓ سے اس کو کیا نسبت تھی۔ معاویہؓ کو چاہئے تھا کہ نفس پر بوجھ ڈال کر

٣٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٧

ناراضگی کا خیال نہ کرتے ہوئے خلافت کا معاملہ حسینؓ پر چھوڑ جاتے۔ مگر افسوس کہ وہ اتنی قربانی نہ کر سکے۔ البتہ یزید کو یہ وصیت کی کہ حسینؓ اگر تمہارے خلاف بھی ہو جائے تو قرابت نبوی کا خیال کرتے ہوئے ان سے درگذر کرنا۔ یہ بھی صحابیت اور رسول اللہ ﷺ کی دعا (کہ یا اللہ اس کو ہادی مہدی کر۔ مشکوٰۃ وغیرہ) کا اثر تھا۔ ورنہ ہمارے ایسے شاید اتنا بھی نہ کر سکتے۔ پھر آخری وقت ان کو کچھ اس کا زیادہ احساس ہوا۔ تو فرماتے......کاش! میری زندگی مکہ مکرمہ میں گذرتی اور میں خلافت میں حصہ نہ لیتا۔

پھر کچھ تبرکات کا سہارا ڈھونڈھا۔ چنانچہ ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کے تین کپڑے تھے۔ تہ بند، قمیص، چادر اور کچھ بال......اور ناخن تھے۔ وفات کے وقت وصیت کی کہ ان کپڑوں میں مجھے کفنانا اور بال اور ناخن میرے نتھنوں اور منہ میں دے دینا اور کچھ سجدے کے اعضا پر رکھ دینا اور مجھے ارحم الراحمین کے حوالے کر دینا۔ خیر جو کچھ ہونا تھا ہو گیا۔ خدا معاف کرے۔ آمین!

خلاصہ یہ کہ تقرر امارت کی تین صورتوں میں ایک صورت انتخاب ہے۔ لیکن اس میں حریص آدمی اور سائل آدمی سے حتی الامکان پرہیز رکھنا چاہئے۔ پھر اس میں یہ بھی شرط ہے کہ انتخاب کرنے والے اہل حل والعقد (سیاست شرعی کے ماہر) ہوں اور ان میں وہ مقدم ہیں۔ جو زیادہ متدین ہوں اور جن کی قربانیاں زیادہ ہوں۔ جیسے حضرت علیؓ نے اپنا حق فائق جتانے کے لئے معاویہؓ کو لکھا کہ مجھے ان لوگوں نے امیر منتخب کیا ہے۔ جنہوں نے ابوبکرؓ اور عمرؓ کا انتخاب کیا ہے۔ یعنی مہاجرین اور انصار اور تاریخ الخلفاء وغیرہ میں ہے کہ جب قاتلین عثمانؓ نے حضرت علیؓ کو امیر منتخب کرنا چاہا تو اس وقت بھی حضرت علیؓ نے یہی جواب دیا کہ یہ حق مہاجرین اور انصار کا ہے۔ جس کو وہ امیر بنائیں گے وہ امیر ہو گا اور عام صورت انتخاب کی یہی ہے اور احادیث میں بھی اسی کا ذکر ہے۔ چنانچہ مسند احمد میں حدیث ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”تین مسلمان بھی جنگل میں رہتے ہوں۔ وہ جب تک اپنے میں سے کسی کو اپنا امیر مقرر نہ کر لیں ان کو رہنا حلال نہیں۔“ (منتقی)

اس حدیث میں انتخاب کا حق انہی کو دیا ہے جن پر امارت ہو گی۔ لیکن اس میں اہل حل والعقد مقدم ہوں گے۔ جیسے ابھی ذکر ہوا۔

دوسری صورت تقرر امارت کی یہ ہے کہ اللہ کی کتاب اور اس کے حدود و احکام کو ضائع ہوتے ہوئے دیکھ کر کوئی نیک انسان امارت کی باگ دوڑ سنبھالنے کی کوشش کرے یا اس کا سوال

٣٥ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٩٨

کرے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے۔

”قال اجعلنی علیٰ خزائن الارض انی حفیظ علیم“ {یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کو کہا مجھے وزیر خزانہ بنادو۔ کیونکہ میں محافظ واقف کار ہوں۔}

حضرت حسینؓ امارت کی کوشش کرتے کرتے کربلا کے میدان میں شہید ہو گئے۔ اگر ان کی امارت قائم ہو جاتی تو وہ بھی اسی قسم سے ہوتی۔ چنانچہ تاریخ ابن جریر وغیرہ میں ہے کہ انہوں نے کتاب اللہ ہاتھ میں لے کر کہا۔ ”یا اللہ تو جانتا ہے کہ مجھے امارت کی حرص نہیں۔ یزید نے تیری کتاب کو ضائع کر دیا۔ میں اس کو قائم کرنا چاہتا ہوں۔“

تیسری صورت یہ کہ کوئی اقتدار پسند انسان تغلب (زور بازو یا لطائف الحیل) کے ساتھ امیر بن جائے۔ جیسے یزید کی امارت اسی قسم سے ہے۔ کیونکہ اس کا مقصد اقتدار تھا۔ نہ کہ حدود اللہ قائم کرنا۔

بیعت یا حلف وفاداری

پہلی دو صورتیں تقرر امارت کا صحیح طریقہ ہے اور شرعی حدود کے اندر ہے۔ اسی لئے اس میں شمولیت ضروری ہے۔ اگر ایسی امارت کی بیعت سے گریز کرے یا حلف وفاداری نہ اٹھائے تو ایسے شخص کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے: ”واولی الامر منکم“ اور حدیث شریف میں ہے: ”مات میتۃ جاہلیۃ (مشکوۃ کتاب الامارۃ)“

رہی تیسری صورت سو اس کا حکم اوپر بیان ہو چکا ہے کہ بادشاہوں کو لعن طعن کرنے کی بجائے خدا کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ تاکہ خدا ان کے دل نرم کرے اور تمام مشکلیں حل ہو جائیں۔ کیونکہ مصائب کا اصل باعث انسان کے اپنے اعمال ہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”کماتکونون کذالک یؤمر علیکم (مشکوۃ کتاب الامارۃ)“ {تم جیسے ہوگے۔ ویسے ہی تم پر امیر مقرر ہوں گے۔}

ایسے امراء سے بیعت یا حلف وفاداری کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ عبداللہ بن عمرؓ نے یزید اور عبدالملک بن مروان کے ساتھ بیعت کر لی اور لکھا کہ خدا اور رسول ﷺ کی اطاعت پر بیعت ہے اور حضرت حسنؓ، عبداللہ بن زبیرؓ اور عبدالرحمن بن ابی بکرؓ وغیرہ نے بیعت نہ کی اور عبداللہ بن عمرؓ نے بھی اس وقت بیعت کی جب سب لوگ قریباً ایک امیر پر متفق ہو گئے۔ جب تک اختلاف رہا علیحدہ رہے۔ ملاحظہ ہو بخاری ج٢ کتاب الفتن ص١٠٥٣، کتاب الاحکام ص١٠٦٩، مع فتح الباری وغیرہ۔

٣٦

صفحہ ٩٩

نکث بیعت یا نقض حلف وفاداری

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بڑے کے خلاف چھوٹے کی بات نہیں مانی جاتی۔ مثلاً پٹواری تحصیلدار کے خلاف یا سپاہی تھانیدار کے خلاف یا کسی اور محکمے کے آدمی اپنے افسر کے خلاف کوئی حکم دے وہ قابل سماعت نہیں ہوتا۔ خدا چونکہ احکم الحاکمین ہے۔ اس لئے جہاں اس کا حکم آ جائے وہاں دنیا کے بڑے سے بڑے کا حکم ٹھکرا دیا جاتا ہے۔ اسی بناء پر قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: ”ان الحکم الا للہ“ {حکم صرف اللہ کے لئے ہے ۔}

اور حدیث شریف میں ہے : ”لا طاعة لمخلوق فى معصية الخالق (مشكوة شریف)“ {یعنی جہاں خدا کی نافرمانی ہو وہاں مخلوق کی کوئی تابعداری نہیں۔}

اگر کوئی حکومت اس کے خلاف مجبور کرے تو وہ طاغوتی حکومت ہوگی اور اس کے متعلق قرآن مجید کا فیصلہ ہے۔ ”واجتنبوا الطاغوت“ {یعنی طاغوت سے بچو اور اس سے الگ ہو جاؤ۔} دوسرے لفظوں میں اس کی بیعت یا حلف وفاداری توڑ دو۔

احادیث میں اس کی کچھ زیادہ وضاحت ہے۔ مشکوٰۃ شریف کتاب الامارۃ کی چند احادیث ملاحظہ ہوں۔

بايعنا رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم على السمع والطاعة فى العسر واليسر والمنشط والمكره وعلى اثرة علينا وعلى ان لا ننازع الامر اهله وعلى ان نقول بالحق اينما كنا لا نخاف فى الله لومة لائم وفے رواية وعلى ان لا ننازع الامر اهله الا ان تروا كفرا بواحاً عندكم من الله فيه برهان (متفق علیہ، بخاری، مسلم) “{رسول اللہ ﷺ نے ...... سے تین باتوں پر بیعت لی۔ (الف) حکم سننا اور فرمانبرداری کرنا۔ خواہ سختی ہو یا نرمی، خوشی ہو یا ناخوشی اور خواہ ہم پر دوسرے کو ترجیح دی جائے۔ (ب) جو حکومت کا اہل ہے۔ اس سے حکومت چھیننے کی کوشش نہ کرنا۔ مگر یہ کہ صریح کفر دیکھو۔ جس کے ثبوت پر خدا کی طرف سے تمہارے پاس قطعی دلیل ہو۔ (ج) ہر جگہ حق کہیں خدا کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کریں۔}

قال رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يكون عليكم امراء تعرفون وتنكرون فمن انكر فقد برئ ومن كره فقد سلم ولكن من رضى وتابع قالوا افلا نقاتلهم قال لا ما صلوا لا ما

٣٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠٠

سلم اى من كره بقلبه وانكر بقلبه (رواه مسلم، مشکوۃ)‘‘ {رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ تم پر امیر ہوں گے۔ جن کی اچھی بری باتیں تم دیکھو گے۔ جس شخص نے بری باتوں پر انکار کیا وہ بچ گیا اور جس نے ان کو برا جانا وہ سلامت رہا۔ لیکن جو راضی رہا اور ان کی موافقت کی (وہ ہلاک ہو گیا) صحابہ نے عرض کیا ایسے امیروں سے ہم جنگ نہ کریں۔ فرمایا نہ جب تک نماز پڑھیں۔ نہ جب تک نماز پڑھیں ، انکار اور برا جاننے سے مراد دل سے انکار اور دل سے برا جاننا ہے۔}

ہیں: ”عن عوف بن مالك الاشجعي عن رسول الله ﷺ قال خيار ائمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم وتصلون عليهم ويصلون عليكم وشر ائمتكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنونهم ويلعنونكم قال قلنا يا رسول الله افلا ننابذهم عند ذالك قال لا ما اقاموا فيكم الصلوٰة لا ما اقاموا فيكم الصلوٰة الا من ولى عليه والٍ فرأه ياتي شيئاً من معصية الله فليكره ما ياتي من معصية الله ولا ينز عن يداً من طاعته (رواه مسلم)‘‘ {تمہارے بہتر امام وہ ہیں جن سے تم محبت رکھو اور وہ تم سے محبت رکھیں۔ تم ان کے لئے دعائیں کرو اور وہ تمہارے لئے دعائیں کریں اور بدترین امام وہ ہیں جن کو تم برا جانو اور وہ تمہیں برا جانیں۔ تم ان پر لعنت کرو۔ وہ تم پر لعنت کریں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ہم اس وقت ایسے حکام کے ساتھ اعلان جنگ نہ کریں۔ فرمایا نہ جب تک تم میں نماز قائم کریں۔ نہ جب تک تم میں نماز قائم کریں۔ خبردار جس پر کوئی حاکم مقرر کیا جائے اور دیکھے کہ وہ کوئی گناہ کا کام کرتا ہے۔ تو گناہ کو برا جانے اور اس کی بیعت نہ توڑے ۔}

یہ تینوں احادیث قریباً ایک ہی مضمون کی ہیں۔ ان سے حسب ذیل باتیں ثابت ہوئیں۔

ورسول ﷺ کی نافرمان ہو۔

اور اس کو برا جانے اور حق بیان کرنے سے نہ رکے اور اس بارے میں کسی کا دباؤ نہ مانے۔ نہ کسی کی پرواہ کرے۔

شرعی دلیل ہو تو بیعت یا حلف وفاداری توڑ دے۔ کیونکہ ایسی صورت میں حکومت اسلامی نہیں ۔ بلکہ

٣٨

صفحہ ١٠١

کفر کی حکومت ہے۔ جس کے مٹانے کے لئے اسلام آیا ہے اور جس سے حسب طاقت جنگ کا حکم ہے۔

حدیث میں کفر صریح کی جگہ ترک نماز کا ذکر ہے اور پہلی حدیث میں حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ بغیر کفر صریح کے حکومت سے نزاع کی اجازت نہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ ترک نماز کفر صریح ہے۔

اپنا نماز پڑھنا کافی نہیں بلکہ اس کے ذمہ لوگوں میں نماز قائم کرنا بھی ہے۔ جیسے تیسری حدیث میں تصریح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر حکومت اس ذمہ داری کو چھوڑ دے اور تارکین نماز سے تعرض یا باز پرس نہ کرے تو یہ بھی اسلامی حکومت نہیں۔

حکومت پاکستان کے لئے یہ کتنی خطرناک چیز ہے۔ وہ تو تحفظ ختم نبوت میں پس و پیش کر رہی ہے۔ یہاں تحفظ نماز پر بھی وہی دفعہ لگ رہی ہے۔ خدا حکومت پاکستان کو سوچ و سمجھ دے اور اس کو اسلام کی محافظ بنائے۔ آمین!

یزید کی بیعت

یزید اگر نمازی تھا تو حسینؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ نے اس کی بیعت کیوں نہ کی اور اگر تارک نماز تھا تو عبداللہ بن عمرؓ کیوں اس کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یزید کا تارک نماز ہونا ثابت نہیں۔ ہاں شراب خوری وغیرہ کا ذکر فتح الباری اور بعض دیگر کتب میں ہے اور ٦٠ھ میں جو اہل مدینہ کی طرف سے یزید کی بغاوت ہوئی اور یزید نے ان پر فوج کشی کی۔ اس کی وجہ بھی یہی شراب خوری وغیرہ لکھی ہے۔ اگر تارک نماز ہوتا تو بغاوت کی یہ وجہ (ترک نماز) چھوڑ کر صرف شراب خوری وغیرہ کے ذکر پر علماء اکتفا نہ کرتے اور یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن عمرؓ نے اہل مدینہ پر اعتراض کیا کہ یہ بہت بڑا غدر ہے کہ ایک شخص سے بیعت کر کے پھر علم بغاوت بلند کیا جاتا ہے۔ چنانچہ بخاری ج٢ ص ١٠٥٣ میں ذکر ہے۔

رہا حسینؓ وغیرہ نے کیوں بیعت نہ کی؟ اس کی تین وجہیں ہیں۔

پروپیگنڈا کرنے سے روکا ہے۔ تاکہ انتشار اور بدامنی نہ پھیلے۔ بیعت کے لئے یا حلف وفاداری کے لئے مجبور نہیں کیا۔

٣٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠

ہے ۔ جب تک صریح کفر نہ پایا جائے ۔ اس کی اجازت نہیں اور احادیث مذکورہ کا یہی منشا ہے اور حسینؓ وغیرہ نے تو شروع سے ہی بیعت نہیں کی۔ کیونکہ ان کی نظر میں یزید کا انتخاب ہی صحیح نہ تھا۔ اس لئے وہ بیعت کے لئے مجبور نہیں کئے جاسکتے تھے۔

تھے۔ چنانچہ معاویہؓ نے وفات کے وقت یزید کو وصیت کی کہ اہل عراق تمہارے مقابلہ میں حسینؓ کو کھڑا کریں گے ۔ مگر قرابت نبوی کا لحاظ کرتے ہوئے ان سے درگذر کرنا۔ جب اتنی دنیا حسینؓ کے ساتھ تھی ۔ بلکہ اہل مکہ کی بھی حمایت ان کو حاصل تھی تو ان حالات میں یزید کو حسینؓ کی بیعت کرنی چاہئے تھی۔ نہ کہ اس کا الٹ ۔

چنانچہ حضرت علیؓ اور معاویہؓ اور حضرت عائشہؓ کے جھگڑے میں کئی صحابہ غیر جانبدار رہے ۔ ملاحظہ ہو بخاری ج ٢ ص ١٠٥٣ مع فتح الباری وغیرہ اور حضرت علیؓ اگرچہ حق پر تھے۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غیر جانبدار وہی رہے جن کو اس استحقاق کا علم نہیں ہوا، اور یزید پر بھی لوگ متفق نہیں ہوئے تھے۔ ابھی جھگڑا چل رہا تھا۔ اس لئے کئی لوگ علیحدہ رہے اور بیعت نہیں کی اور عبداللہ بن عمرؓ کا مذہب یہی ہے کہ اختلاف جھگڑے میں غیر جانبدار رہنا چاہئے۔ چنانچہ بخاری ج ٢ ص ١٠٥٣ میں ہے کہ جب مکہ میں عبداللہ بن زبیرؓ اور شام میں عبیداللہ بن زیاد اور مروان بن حکم اور بصرہ میں قراء برسر اقتدار ہو گئے تو عبداللہ بن عمرؓ علیحدہ رہے اور مسند احمد میں ہے کہ ابوسعید خدریؓ نے عبداللہ بن زبیرؓ سے بیعت کر لی۔ جب شام والوں نے مجبور کیا تو ان سے بھی کر لی ۔ اس پر عبداللہ بن عمرؓ ان سے ناراض ہوئے اور کہا کہ ایک طرف فیصلے ہونے کی انتظار کیوں نہ کی۔ پھر اس کے بعد جب لوگ قریباً عبدالملک بن مروان پر متفق ہو گئے تو پھر عبداللہ بن عمرؓ نے عبدالملک بن مروان سے بیعت کر لی ۔

(ملاحظہ ہو بخاری ج ٢ ص ١٠٥٣)

اس بناء پر چاہئے تھا کہ عبداللہ بن عمرؓ یزید سے بھی بیعت نہ کرے ۔ جب تک لوگ اس پر متفق نہ ہوتے ۔ مگر چونکہ معاویہؓ کی حیات میں یزید کی بیعت منظور کر چکے تھے۔ جس کی وجہ ایک یہ تھی کہ معاویہؓ کی زندگی میں یزید کے حالات اتنے مخدوش نہ تھے۔ جتنے بعد میں ہو گئے۔

دوسرے حضرت علیؓ کے بعد معاویہؓ کی خلافت پر سب لوگ متفق ہو گئے تھے اور یزید کی بیعت معاویہؓ ہی نے لینی شروع کی تھی۔ ان حالات میں بظاہر یہی توقع تھی کہ معاویہؓ کی

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 105

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

اور

حضرت مہدی علیہ الرضوان

کی چند علامات

حضرت مولانا منظور احمد حسینیؒ

صفحہ ١٠٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم !

برادران اسلام ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

قرآن وحدیث کی روشنی میں تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت خدا کے حکم سے زندہ آسمانوں میں موجود ہیں اور وہ قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔ امام مہدی علیہ الرضوان حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں سے اسی امت میں پیدا ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد تمام عیسائی مسلمان ہو جائیں گے۔ یہودیوں کی اس وقت ایک بڑی قوت ہوگی۔ ان کا سرغنہ دجال ہوگا۔ مسلمان اس وقت حضرت مہدی علیہ الرضوان اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں یہودیوں سے جنگ کریں گے۔ یہاں تک کہ یہودی اور ان کا سرغنہ دجال مارے جائیں گے۔ کفر مٹ جائے گا۔ پوری دنیا میں ایک مذہب اسلام ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہایت عدل وانصاف کے ساتھ پوری دنیا پر حکومت فرمائیں گے۔ آسمان سے تشریف آوری کے بعد شادی بھی فرمائیں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی۔ انتقال فرمانے کے بعد حضور اقدس ﷺ کے روضہ اقدس میں آپ ﷺ کے پہلو میں دفن ہوں گے۔

جبکہ ان قادیانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ (نعوذ باللہ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور وہ نہیں آسکتے۔ لہٰذا اسی امت میں سے ہی ایک شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ پیدا ہوگا جو آپ کی خُوبو (صفات) والا ہوگا اور وہ تمام کام کرے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آکر کرنے تھے اور مہدی بھی وہی شخص ہوگا۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی ہی مسیح موعود اور مہدی ہے جس کا امت کو انتظار ہے۔

حضور ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک سو سے زائد نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان میں آپ ﷺ کی بیان کردہ ایک ایک نشانی پائی جائے گی۔ ہم یہاں ان میں سے چند نشانیاں ذکر کرتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک نشانی کا کروڑواں حصہ بھی مرزا قادیانی میں نہیں پایا جاتا۔ یہ نشانیاں پڑھ کر قارئین کرام خود فیصلہ فرمائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ان نشانیوں کے مطابق مسیح اور مہدی ہے یا جھوٹا اور کذاب ہے؟۔ ہم فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں:

مرزا غلام احمد قادیانی چراغ بی بی کا بیٹا ہے۔

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠٥

غلام احمد اور والد کا نام غلام مرتضیٰ ہے۔

جس کا رنگ سفید ہوگا دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے نازل ہوں گے۔ جبکہ مرزا قادیانی، قادیان ضلع گورداسپور (انڈیا) میں اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔

کرتا۔ اس کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دیکھنا ہی نصیب نہیں ہوا۔

گے۔ صلیبیں توڑ دی جائیں گی۔ جبکہ آج عیسائیت اور صلیب اسی طرح سے ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کے آنے کے بعد اور بھی ترقی پر ہے۔ مرزا قادیانی کو مرے ہوئے تقریباً سو سال ہونے والے ہیں۔ لیکن ابھی تک نہ عیسائی حکومتیں ختم ہوئیں نہ عیسائی ختم ہوئے اور نہ ہی صلیبیں توڑی گئیں۔

قتل فرمائیں گے۔ جبکہ مرزا قادیانی نے یہودیوں سے کبھی جنگ نہیں کی۔ بلکہ مرزا قادیانی کے آنے کے بعد یہودیوں کا ملک معرض وجود میں آ گیا۔ حتیٰ کہ قبلہ اول بیت المقدس بھی ان کے قبضہ میں چلا گیا۔

کے ایک چپہ پر ایک دن بھی حکومت کرنا نصیب نہیں ہوئی اور نہ اب تک سو سال گزرنے کے باوجود اس کے چیلوں یا چمچوں کو۔ یہ سب در در کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔

و خیرات لے کر پھریں گے۔ کوئی لینے والا نہ ہوگا۔ جبکہ مرزا قادیانی نے خود بھی چندہ مانگا اور اس کی امت بھی آج تک چندے مانگ رہی ہے اور مسلمانوں میں بھی زکوٰۃ نکالنے والوں کی تعداد کم ہے اور لینے والوں کی زیادہ۔

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤

ہوگی۔ جبکہ مرزا قادیانی نے یہ شادی محمدی بیگم سے بتائی اور پیشین گوئی کی کہ اس حدیث کے مطابق میری شادی محمدی بیگم سے ہوگی اور ضرور ہوگی۔ زمین و آسمان ٹل جائیں گے مگر یہ شادی ہو کر رہے گی اور اس سے میری اولاد بھی ہوگی۔ قادیانی بتلائیں کہ کیا محمدی بیگم سے یہ شادی ہوئی اور اولاد ہوئی؟۔

ہی میں دفن ہوں گے اور حضور اقدس ﷺ کے پہلو میں ان کی چوتھی قبر مبارک ہوگی۔ جبکہ مرزا قادیانی کی موت لاہور میں وبائی ہیضہ سے، پاخانہ کی جگہ پر آئی اور دفن قادیان میں ہوا۔

وامان کا زمانہ ہوگا۔ پوری دنیا میں محبت قائم ہوگی۔ عدل وانصاف کا بول بالا ہوگا۔ بغض، حسد اور دشمنیاں جاتی رہیں گی۔ زمین صلح سے بھر جائے گی۔ امن اس قدر ہوگا کہ شیر، اونٹ گائے، بکریاں اور بھیڑیئے ایک جگہ پانی پئیں گے۔ بچے سانپوں سے کھیلیں گے۔ زہریلے جانوروں کا زہر جاتا رہے گا۔ جبکہ مرزا قادیانی کے بعد دو عظیم جنگیں ہوئیں۔ تیسری جنگ عظیم کی تلوار سب کے سر پر لٹک رہی ہے۔ امن وامان دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ کسی کی جان ومال اور عزت و آبرو محفوظ نہیں۔ شیر اور گائے ایک گھاٹ سے کیا پانی پیتے ۔ بھائی بھائی کا گلہ کاٹ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹ کے مطابق دنیا میں مختلف مقامات پر جاری کشیدگی اور مسلح جھڑپوں کی وجہ سے روزانہ ایک گھنٹہ میں بتیس افراد ہلاک ہوتے ہیں اور سال میں سولہ لاکھ سے زائد افراد مارے جاتے ہیں۔ گزشتہ صدی میں مسلح جھڑپوں اور جنگ کی وجہ سے انیس کروڑ دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ جبکہ ہلاک ہونے والے ہر فرد کے ساتھ چالیس زخمی ہوئے۔

(جنگ لندن ١٦؍ اکتوبر ٢٠٠٢ء

ص ٣)

اور تو اور مرزا قادیانی کی اولاد کو ہی دیکھ لیجئے۔ ان کو پہلے اپنا شہر قادیان جس کو وہ دارالامان کہتے تھے چھوڑ کر اور بھاگ کر پاکستان میں پناہ لینا پڑی اور پھر پاکستان میں ١٩٨٢ء میں مرزا ناصر کے انتقال کے موقع پر مرزا رفیع اور مرزا طاہر کے درمیان حصول اقتدار پر خوب رسہ کشی اور جھگڑا ہوا اور جعلی مسیح کے پیروکاروں میں بھی آپس میں شدید بغض وحسد پایا جاتا ہے اور

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 109

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مرزا قادیانی

کے

وجوہ کفر

حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ

صفحہ ١٠٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

برادران اسلام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام تحریرات ہی کفر کا ڈھیر ہیں۔ جس میں ہزاروں کفر موجود ہیں۔ اس کی ایک ایک عبارت مرقع کفر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ مسیلمہ کذاب اور مسیلمہ پنجاب کا کفر فرعون کے کفر سے بڑھ کر ہے۔ ہم ذیل میں ان میں سے چھ وجوہ کفر کو دلائل کے ساتھ آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں:

١......ختم نبوت کا انکار

آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت قرآن کریم کی نصوص قطعیہ، احادیث کے تواتر اور امت کے اجماع سے ثابت ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کرنا انکار ختم نبوت کی صریح دلیل ہے۔ جبکہ ختم نبوت کا منکر قطعی کافر ہے۔ اس سلسلے کا ایک حوالہ ملاحظہ ہو:

”وکونہ ﷺ خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب وصدعت بہ السنة ٠ واجمعت علیہ الامة فیکفر مدعی خلافہ ویقتل ان اصر (روح المعانی ج ٨ ص ٩٣)“

ترجمہ: ...... ”آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے پر کتاب اللہ ناطق ہے اور احادیث نے کھول کر سنادیا اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ پس اس کے خلاف جو دعویٰ کرے کافر ہو جائے گا اور اگر اصرار کرے تو قتل کر دیا جائے گا۔“

٢......مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت

(دافع البلاء ص ١١، خزائن

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٠٩

(ج ١٨ ص ٢٣١)

(ملفوظات ج١٠ ص ١٢٧)

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن

ص ١٥٢ ج ٢٢)

(تذکرہ ص ٣٥٢، مجموعہ الہامات مرزا)

فرعون رسولا“

(تذکرہ ص ٦١٠، مجموعہ الہامات مرزا)

٣...... ادّعاء وحی اور اپنی وحی کو قرآن کی طرح قرار دینا

ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن

ج ٢٢ ص ٢٢٠)

سے پاک سمجھتا ہوں۔ قرآن کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے۔ یہ میرا ایمان ہے۔ خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے جو خدائے پاک یکتا کے منہ سے نکلا ہے جو یقین عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی وحی پر، موسیٰ علیہ السلام کو تورات پر اور حضور اکرم ﷺ کو قرآن مجید پر تھا۔ میں از روئے یقین ان سب سے کم نہیں ہوں۔ جو جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے۔“

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ص ٤٧٧ ج ١٨)

مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٠

ہیں ۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن

ص ١٤٠ ج ١٩)

ہم صرف ان تین حوالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی وحی کو قرآن کے برابر کہتا ہے۔ بلکہ اس نے احادیث کی بھی توہین کی ہے۔

٤...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن

ص ٢٣٣ ج ١٨)

شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن

ص ١٥٢ ج ٢٢)

ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“

(کشتی نوح ص ٥٦، خزائن ج ١٩ ص ٦٠)

قرآن شریف کی آیتیں پیشگوئی کے طور پر حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب تھیں وہ سب آیتیں میری طرف منسوب کر دیں اور یہ بھی فرما دیا کہ تمہارے آنے کی خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے۔“

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٨٥، خزائن

ص ١١١ ج ٢١)

اس آخری حوالہ میں اس نے اپنی کتاب براہین احمدیہ کو خدا تعالیٰ کی کتاب قرار دیا

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١١

ہے جو کہ ایک مستقل کفر ہے۔

٥......آنحضرت ﷺ کی توہین

مرزا قادیانی نے اپنی تصنیفات میں تقریباً تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین و تنقیص کی ہے۔ ذیل میں آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخیوں اور توہین پر مبنی مرزا قادیانی کی چند عبارات ملاحظہ ہوں :

بهم‘ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام ”محمد“ اور ”احمد“ رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ص ٢١٢ ج ١٨)

میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ص ١٨٣، ج١٩)

نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا ہے۔ سورج کی کرنوں کی تاب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں (مرزا قادیانی) ہوں۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن

ص ٢٤٥، ٢٤٦ ج ١٧)

اور اس نبی کریم ﷺ کے لطف اور وجود کو میری طرف کھینچا۔ یہاں تک کہ میرا (مرزا قادیانی) وجود اس (آنحضرت ﷺ) کا وجود ہو گیا۔ پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنی ”وآخرین منھم“ کے لفظ کے بھی ہیں۔ جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفی میں تفریق کرتا ہے۔ اس نے

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦

مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص٧١، خزائن

ص٢٥٨ ج١٦)

ہے: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار“ اس وحی الٰہی میں میرا (مرزا قادیانی) نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٣، خزائن ج١٨

ص٢٠٧)

٦...... امت محمدیہ کی تکفیر

پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات ص٦٠٧ طبع

سوم)

آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوم یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص١٧٩، خزائن

ص١٨٥ ج٢٢)

اسی طرح مرزا محمود اپنی کتاب آئینہ صداقت میں لکھتا ہے:

نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص٣٥)

اور اسی طرح مرزا بشیر احمد اپنی کتاب کلمۃ الفصل میں لکھتا ہے:

مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 115

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

ترجمہ: میرے بعد کوئی نبی نہیں

شرمناک فرار

حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ

صفحہ ١١٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

گزارش واحوال

١٩٤٧ء سے قبل انگریز کے دور حکومت میں قادیانیوں کو کنری (سندھ) اور اس کے گردونواح کے علاقہ میں ایک بہت بڑی جاگیر جس کا رقبہ ٩٠ ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے۔ انگریز کی طرف سے بہت معمولی قیمت پر الاٹ ہوئی تھی اور اس رقم کی وصولی بھی معمولی اقساط میں کئی سال میں وصول کرنے کے احکامات انگریز کی طرف سے جاری کئے گئے تھے۔ اس وقت سندھ کے لوگ سادہ لوح اور دیہاتی زندگی بسر کرتے تھے۔ قادیانیوں نے مکاری اور چالاکی سے سیدھے اور سادہ لوح لوگوں کو بہکانا شروع کیا اور غیر مسلم طبقہ پر بھی اپنے قادیانی مذہب کی تبلیغ اسلام کے نام سے شروع کی۔

کنری اور گردونواح کی آمدنی سے ربوہ کا سالانہ بجٹ کا کافی حصہ اور اخراجات چلتے ہیں۔ ان کی کلی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ وہ زمین ہے جو ان کو انگریز نے معمولی قیمت پر ٹالہی اور کنری کے نواحی علاقوں میں الاٹ کی تھی۔

انہوں نے ١٩٣٦ء کے قریب کنری کے مقام پر ایک کاٹن فیکٹری قائم کی جو اس وقت بھی سندھ کاٹن فیکٹری کے نام سے کام کر رہی ہے۔ اس وقت بھی اس کارخانہ میں تمام کارندے قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ صرف مزدور طبقہ ایسا ہے جس میں مسلمان بھی کام کر رہے ہیں۔ اس کارخانہ کے قیام سے کچھ ہی وقت قبل اس علاقہ میں ریلوے لائن بچھائی گئی تھی اور کنری کا ریلوے اسٹیشن قائم ہوا تھا۔

دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کا قیام ١٩٥٤ء میں عمل میں آیا۔ اس وقت پسماندہ علاقہ میں رد مرزائیت پر کام کرنے کی اشد ضرورت تھی۔ قادیانیوں کے اثر و رسوخ اور ان کے وسیع جاگیرداری نظام کے باوجود مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے کنری شہر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر قائم کیا اور خود اپنے دست مبارک سے دفتر کا افتتاح فرمایا اور دعا فرمائی۔ اس کے ساتھ ہی ایک مقامی جماعت کی تشکیل بھی کی گئی اور اعزازی عہدیداروں کا چناؤ کیا گیا۔ اس طرح کنری شہر میں باقاعدگی سے رد مرزائیت کے لئے کام شروع ہوا۔ جو اس وقت بھی جاری ہے

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٥

اور یہ جماعت اپنے مشن کے مطابق کام کر رہی ہے۔ کنری کی تاریخ میں کبھی کوئی مناظرہ نہیں ہوا۔ اس وقت جو مناظرہ مورخہ ١١؍ نومبر ١٩٨١ء کو کنری قادیانی جماعت کے مربی مرزا مختار احمد سے طے پایا تھا۔ اس کو سننے اور دیکھنے کے لئے مسلمانان کنری میں بہت جوش وخروش پایا جاتا تھا۔ لیکن جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اس لئے قادیانی گروپ کا سرکردہ مربی مختار احمد دم دبا کر بھاگ گیا اور اسے ہمارے مبلغین حضرات سے بات کرنے کی جرأت اور ہمت نہ ہوئی۔ اس طرح قادیانیوں کے جھوٹ کا پول کھل گیا۔

روئداد مناظرہ

عید الاضحیٰ سے چار دن قبل مولانا جمال اللہ الحسینیؒ مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کنری تشریف لائے ہوئے تھے کہ ایک صاحب مسٹر ایم جمیل ناز جو کنری شہر میں رہتے ہیں۔ مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کنری کا قادیانی مبلغ شہر میں اپنی باطل تبلیغ جاری رکھے ہوئے ہے اور مناظرے کا چیلنج دیتا پھرتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی نمائندہ ہم سے مناظرہ نہیں کر سکتا۔ اگر آپ قادیانی مبلغ سے گفتگو کریں تو میں انہیں لے آتا ہوں۔ دوسرے دن علی الصبح ساڑھے چھ بجے ایم جمیل صاحب، مختار احمد مربی ومبلغ کنری کو مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کے دفتر مولانا کے پاس لے آئے۔ دفتر میں مولانا اور قادیانی مربی ومبلغ کے درمیان پون گھنٹہ تک ہونے والے مناظرے کے شرائط کے بارے میں گفتگو چلتی رہی اور پھر متفقہ طور پر دفتر مجلس کنری میں یہ اقرار نامہ لکھا گیا جس پر فریقین کے دستخط ہیں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

مجلس تحفظ ختم نبوت کنری سندھ ضلع تھرپارکر تاریخ: ١٧؍اکتوبر ١٩٨١ء

مختار احمد صاحب اور مولوی جمال اللہ صاحب کے مابین یہ موضوع قرار پایا ہے کہ اگر وفات مسیح ثابت ہو جائے تو مولوی جمال اللہ، احمدیت قبول کرلیں گے اور اگر حیات مسیح ثابت ہو جائے تو مولوی مختار احمد صاحب احمدیت چھوڑ دیں گے۔ اس گفتگو کے مآخذ سب سے پہلے قرآن مجید اور حدیث اور اس کے بعد بزرگان دین اور مرزا غلام احمد وبشیر الدین وغیرہم کے

٣

صفحہ ١١٦

مترجم اور کتابوں سے بھی دلائل ہوں گے۔ مرزا قادیانی کی کتب ١٨٨٩ء کے بعد کی ہوں گی۔

مولوی جمال اللہ کی طرف سے ثالث ثالث مختار احمد مرزائی کی طرف سے حبیب اللہ مرزا محمد عتیق دستخط مناظر ختم نبوت دستخط مناظر جماعت احمدیہ جمال اللہ الحسینی مختار احمد تاریخ مناظرہ: ١١ نومبر ١٩٨١ء مقام مناظرہ: چوہدری جلیل الرحمٰن صاحب کا مکان نمبر ٦٦ نوٹ: مختار احمد صاحب نے آخر میں یہ چند الفاظ بھی لکھے ۔ ”اس گفتگو میں چند آدمی مزید شریک ہو سکتے ہیں۔“

مولانا جمال اللہ طے شدہ پروگرام کے مطابق بروز منگل مورخہ ١٠؍نومبر ١٩٨١ء نماز عصر کے وقت کنری شہر پہنچ گئے۔ جب کہ آپ کے ساتھ مولانا محمد طفیل مبلغ مجلس حیدرآباد بھی تشریف لائے۔ ادھر کراچی سے مولانا جمال اللہ کی معاونت کے لئے مولانا منظور احمد الحسینی اور مولانا عاشق الٰہی مبلغ مجلس کراچی بعد نماز عشاء وارد ہوئے۔

بروز بدھ ١١؍ نومبر ١٩٨١ء صبح آٹھ بجے مولانا مع اپنے رفقاء اور کتب کے جناب چوہدری جلیل الرحمٰن کے گھر پہنچ گئے،۔ تمام رفقاء اب قادیانی مناظر کے منتظر تھے۔ تقریباً سوا نو بجے قادیانی مناظر کمرہ میں داخل ہوئے اور حسب ذیل مولانا سے مکالمہ ہوا۔

قادیانی مناظر: ہمیں شکوہ ہے کہ اس مناظرے کی تشہیر کی گئی ہے۔ مسلمان مناظر: بلکہ آپ نے تشہیر کی تھی کہ مسلمان مناظر بھاگ گیا۔ قادیانی مناظر: اگر ایسی تشہیر کرنی تھی تو ہم تیار نہیں کہ مناظرہ کریں۔ مسلمان مناظر: ہم میں جو شخص آپ کو خطرناک نظر آتا ہو اس کو آپ نکال دیں۔ اگر آپ نے تلاشی لینی ہو تو آپ ہماری اچھے طریقہ سے تلاشی لے لیں۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اور ہم میں سے صرف دو تین جوان ہیں۔ باقی سب بوڑھے ہیں۔ جتنے افراد آپ چاہیں گے شمولیت کر سکیں گے۔ قادیانی مبلغ: دو تین آدمی میرے گھر آجائیں وہاں مناظرہ ہوگا۔

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٧

مسلمان مناظر: اگر آپ نئی شرائط طے کریں تو ہم حاضر ہیں۔ نیز آپ کے گھر مناظرہ کے لئے بھی تیار ہیں۔ لیکن آپ قادیانیوں کی ذمہ داری قبول کرلیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ پریس کلب میں آ جائیں وہ آزاد جگہ ہے۔ وہاں کسی کی اجارہ داری نہیں۔

معاون مسلمان مناظر: مولانا عاشق الہی صاحب۔ کیا آپ افہام وتفہیم کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔

قادیانی مناظر: ہماری جماعت والے گھبراتے ہیں کہ فساد ہوگا۔

اسی دوران مالک مکان چوہدری جلیل الرحمن صاحب نے کہا کہ آپ یہاں میرے گھر مناظرے کے لئے تیار نہیں تو کسی چوک یا پارک میں مناظرہ رکھ لیں یا پریس کلب میں چلے جائیں۔

قادیانی مناظر: مجھے کوئی شکوہ نہیں مگر میری جماعت کو شکوہ ہے کہ پروپیگنڈہ بہت کیا گیا ہے۔

اس مکالمے کے بعد قادیانی مبلغ نے کہا کہ ہم تھوڑی دیر میں آتے ہیں۔ پونے دس بجے قاصد نے آ کر کہا کہ پندرہ منٹ تک جگہ کے بارے میں بتلا دیا جائے گا۔

١١ بجے اطلاع آئی کہ آپ ہمارا انتظار نہ کریں ہم نہیں آئیں گے۔ مولانا نے ایم جمیل ناز کو کہا کہ آپ ان سے لکھوا کر لائیں کہ ہم مناظرہ نہیں کرنا چاہتے۔ ایک ساتھی کو ایم جمیل کے ساتھ بھیجا گیا اور قادیانی مبلغ نے ساڑھے گیارہ بجے مناظرہ نہ کرنے کی تحریر لکھ کر بھیج دی۔ آخر میں چوہدری جلیل الرحمن صاحب صدر پریس کلب کنری نے ایک حلفی بیان لکھ دیا۔ جس پر سب حاضرین نے دستخط ثبت کئے۔

حلف نامہ

میں مسمی جلیل الرحمن اختر ولد حاجی علی اکبر ساکن کنری شہر تعلقہ عمرکوٹ یہ حلفیہ بیان لکھ کر دے رہا ہوں کہ مورخہ ٧؍ اکتوبر ١٩٨١ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کے دفتر میں قادیانی جماعت کے موجودہ مبلغ مرزا مختار احمد اور دوسرے قادیانی حضرات نے ہمارے مبلغ حضرت مولانا جمال اللہ صاحب سے بات طے کی کہ حیات مسیح پر مناظرہ کریں گے اور اس کے لئے

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦

شرائط طے پائیں اور یہ طے پایا کہ مورخہ ١١؍نومبر ١٩٨١ء کو بروز بدھ کو میرے ذاتی مکان پر چند حضرات کی موجودگی میں یہ مناظرہ ہوگا اور قادیانی حضرات نے ہمارے مبلغ اور دیگر حضرات کی موجودگی میں تحریر لکھ کر دی ہے۔

تحریر کردہ اقرار نامہ کے مطابق آج مورخہ ١١؍نومبر ١٩٨١ء کو میرے مکان پر مولانا جمال اللہ صاحب (مسلمانوں کی طرف سے) اور مرزا مختار احمد قادیانی مربی کنری (قادیانیوں کی طرف سے) تشریف لائے۔ لیکن مرزا مختار احمد نے کہا میں ابھی پندرہ منٹ تک اپنی کتب اور ساتھیوں کو لے کر حاضر ہوتا ہوں۔ لیکن صبح ٨؍ بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک انتظار کرنے کے بعد قادیانیوں کی طرف سے کوئی شخص نہیں آیا۔ ان کو کئی پیغام بھجوائے گئے۔ لیکن قادیانیوں نے میرے مکان پر رکھا ہوا مناظرہ کرنے سے انکار کیا۔ حضرت مولانا جمال اللہ صاحب اور ان کے ساتھیوں نے مختار احمد قادیانی اور اس کے ساتھیوں کا ساڑھے تین گھنٹے تک انتظار کیا۔ لیکن قادیانیوں نے سابقہ روایات کے مطابق اور سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے مناظرہ سے راہ فرار اختیار کی اور مناظرہ کے لئے میرے گھر نہیں پہنچے۔ ٹھیک ساڑھے گیارہ بجے ان کی طرف سے ایک تحریری ثبوت موصول ہوا۔ جس میں تحریر ہے کہ ہماری جماعت کسی قسم کی بات کرنے کو تیار نہیں ہے اور اگر آئندہ حالات نے اجازت دی تو آپ سے بات کریں گے۔

میں نے یہ تحریر لکھ دی ہے کہ وقت ضرورت کام آئے اور سند رہے۔ میرے ساتھ معززین شہریوں کے دستخط ہیں جو متواتر ساڑھے تین گھنٹہ انتظار کرتے رہے۔

دستخط کنندگان کے نام

جلیل الرحمن اختر، میاں عبدالواحد ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کنری، عبدالرؤف عفی عنہ خطیب مسجد اقصیٰ، مولانا محمود، منظور احمد الحسینی، حبیب اللہ بخاری مسجد کنری، غلام حسین خطیب مکہ مسجد کنری، ڈاکٹر سبطین لکھنوی کنوینر سندھ اہل حدیث مطالبات کمیٹی، ایم جمیل ناز کنری، ودیگر شرکاء۔

ق ... ٭ ... ٭ ... ق

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 121

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مقام مرزا

جناب محمد اسماعیل سہامؔ

صفحہ ١٢٠

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ

برادرانِ اسلام! اس رسالہ ہذا کے مقالہ میں مرزا قادیانی کی تردید بطرز جدید کی گئی ہے۔ لہٰذا آپ بنظر غور اس کا مطالعہ فرماویں۔ ’’ان ارید الا الاصلاح ما استطعت . . . الخ‘‘

دجال کسے کہتے ہیں؟

حدیث میں ارشاد ہوا ہے: ’’لا تقوم الساعۃ حتی یبعث دجالون کذابون قریباً من ثلثین کلھم یزعم انہ رسول اللہ (مسلم)‘‘ پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ قیامت سے قبل قریباً تیس دجالین ظاہر ہوں گے۔ جو کہ نبوت کا دعویٰ کریں گے۔

اس حدیث میں جھوٹے مدعی نبوت کو دجال کہا گیا ہے اور ان تیس میں سے ایک بڑا دجال ہے۔ جسے حدیثوں میں ’’المسیح الدجال‘‘ کے نام سے بیان کیا گیا ہے اور جسے دجال اکبر کہا جاتا ہے۔

دجال اکبر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے گا

اور دجال اکبر کو بھی اسی لحاظ سے دجال کہا جاتا ہے کہ وہ بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے گا۔ چنانچہ حدیث میں صاف مذکور ہے۔ ’’وان اللہ لم یبعث نبیا الا حذر امتہ الدجال‘‘ پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ تمام پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کو دجال سے ڈرایا۔

’’وانا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم انہ یبدأ فیقول انا نبی ولا نبی بعدی (ابن ماجہ، حاکم، طبرانی، ابن خزیمہ، کنز العمال)‘‘ {اور میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ فرمایا، دجال اپنے فتنے کی ابتداء کرنے والا ہے ١؎ ۔ پھر وہ یہ کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (لہٰذا یہ اس کا دعویٰ سراسر کذب و افتراء ہوگا)}

کرے گا۔ پھر اس کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ مرزا قادیانی نے ایسا ہی کیا۔ پہلے مجدد اور محدث ہونے کا دعویٰ کیا اور دعویٰ نبوت کے لئے مختلف مراحل سے لوگوں کو گزار کر پھر موقعہ پا کر نبوت کا دعویٰ کر دیا۔

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢١

ذی لب (کذا فی الفتح ج٢٩) ”پھر اس کے بعد دجال نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ جس سے دانا لوگوں میں گھبراہٹ پھیل جاوے گی۔

(رواہ نعیم بن حماد فتح الباری جز ٢٩) ”الحاصل دجال اکبر نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ولہٰذا نتیجہ ظاہر ہے۔

اور یہ کوئی کنایہ اور مجاز نہیں۔ کیونکہ جہاں احادیث میں لا نبی بعدی آیا ہے۔ وہاں ہر جگہ حقیقی اور اصطلاحی نبوت کی نفی ہی مراد ہے۔

دجال اکبر مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا

احادیث میں دجال کو ”المسيح الدجال“ کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ لفظ دجال سے تو وہی مراد ہے۔ یعنی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا۔ پھر ساتھ ہی لفظ مسیح کو بیان کر کے یہ بتلادیا کہ وہ مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا۔

الدجال وهو المسيح الكذاب (كنز العمال ج٧)“ پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ دجال ظاہر ہوگا اور وہ مسیح الکذاب ہوگا۔ یعنی مسیح ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

دجال اکبر مثیل ہونے کا دعویٰ کرے گا

”قال رايتني الليلة عند الكعبة فرايت رجلا أدم كاحسن ما انت رای متكا على عواتق رجلين يطوف بالبيت فسالت من هذا فقالوا هذا المسيح ابن مريم ثم قال انا برجل جعد فی رواية رجلا ورائه واضعا يديه على منكبى رجلين يطوف بالبيت فسالت من هذا فقالوا هذا المسيح الدجال“ یعنی پیغمبر ﷺ کو خواب میں حضرت مسیح علیہ السلام اور دجال اکبر دونوں ایک ساتھ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دکھلائے گئے۔ اس طور پر کہ آگے آگے حضرت مسیح علیہ السلام دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کعبہ کا طواف کر رہے تھے اور آپ کے پیچھے پیچھے بعینہ دجال اکبر بھی اسی طرح دو آدمیوں کے کندھوں

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٢

پر ہاتھ رکھ کر کعبہ کا طواف کرتے ہوئے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی نقل و مشابہت کرتے ہوئے دکھلایا گیا اور یہ دراصل اس امر کی مثالی صورت تھی کہ دجال اکبر مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا کہ میں مسیح ابن مریم کا مثیل ہوں اور میں اس کے قدم بقدم ہوں اور مجھے ان سے پوری پوری مشابہت اور مماثلت حاصل ہے اور میں ان کی خو بو پر آیا ہوں۔ جب ہی وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نقل و مشابہت کرتے ہوئے دکھلایا گیا۔ چنانچہ یہ علامت بھی صاف مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے۔ ولہذا نتیجہ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی ہی المسیح الدجال ہیں۔ (اس حدیث کی دوسری جزئیات طواف کعبہ وغیرہ کی تعبیر پھر بیان کی جاوے گی)

دجال اکبر بعثت عامہ کا اور اولوالعزم رسول ہونے کا دعویٰ کرے گا

دجال اکبر نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ جیسا کہ ثابت کیا گیا ہے۔ پھر دوسری طرف حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ اپنے دعویٰ کی تبلیغ واشاعت کے لئے تمام ممالک کا دورہ کرے گا اور مختلف قوموں کے سامنے اپنے دعویٰ کو پیش کرے گا۔

”فیأتی علی القوم فیدعوہم فیؤمنون بہ . . . ثم یاتی القوم فیدعوہم فیردون علیہ قولہ (مسلم، مشکوٰۃ)“ اور مختلف قوموں کے لوگ اس کے پیرو ہوں گے اور یہ صاف اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ بعثت عامہ کا مدعی ہوگا کہ میں تمام دنیا کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں اور تمام قوموں کی اصلاح کے لئے آیا ہوں اور اس طرح سے وہ اولوالعزم رسول ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ٹھیک اسی طرح دعویٰ کیا ہے۔

دجال اکبر، تابع اور امتی نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا

دجال نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ پھر اس کے متعلق حدیث میں آتا ہے۔ ”فیدعوالی الدین فیتبع (طبرانی)“ کہ وہ لوگوں کو دین کی طرف دعوت دے گا۔ مبلغ اسلام کے روپ میں ظاہر ہوگا اور یہ اس کا نبوت کا دعویٰ کرنا اور دوسری طرف لوگوں کو دین کی دعوت دینا اسلام کی تبلیغ کرنا اس کو لازم ہے کہ وہ تابع نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ یعنی یہ کہے گا کہ جو دین کہ پیغمبر اسلام پر نازل ہوا ہے۔ میں لوگوں کو اس دین کی دعوت دینے اور اس کی تبلیغ واشاعت کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ایسا ہی دعویٰ کیا ہے۔

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٣

الرجل لیاتیہ وهو یحسب انه مؤمن (ابوداؤد) ”خدا کی قسم جب آدمی دجال کے پاس آوے گا تو وہ اسے بڑا مؤمن پختہ مسلمان گمان کرے گا اور یہ دجال کا اپنے آپ کو بڑا مؤمن ظاہر کرنا اس کو ثابت کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں میں سے نکلے گا اور وہ اپنے کو پیغمبر اسلام ﷺ کا امتی اور تابع کہلائے گا۔ ولہٰذا اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ وہ تابع اور امتی نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ چنانچہ دیکھ لو۔ مرزا قادیانی کا ٹھیک یہی دعویٰ ہے۔

دجال اکبر، مطیع اور محب رسول ہونے کا دعویٰ کرے گا

اور یہ دجال اکبر کا تابع اور امتی نبی ہونے کا دعویٰ کرنا اس امر کو بھی ثابت کر رہا ہے کہ وہ بظاہر نبی ﷺ کو اپنا مطاع اور پیشوا کہے گا اور آپ کی اطاعت اور محبت کا بڑا اظہار کرے گا اور اس طرح وہ مسلمانوں کو اپنے فریب میں لائے گا۔ اب دیکھ لو یہ علامت بھی صاف طور پر مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے۔

دجال اکبر، بکثرت قیاسی اور منگھڑت پیش گوئیاں کرے گا

اوپر ثابت کیا گیا ہے کہ دجال اکبر نبوت اور وحی کا اور اولوالعزم رسول ہونے کا دعویٰ کرے گا اور یہ صاف اس کو لازم ہے کہ وہ بکثرت قیاسی پیش گوئیاں کرے گا اور یہ کہے گا کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے امور غیبیہ کی بکثرت اطلاع دی جاتی ہے اور چونکہ وہ مدعی کاذب ہوگا۔ اس لئے اس کی پیش گوئیاں قیاسی من گھڑت اور گول مول ہوں گی جو واقع میں غلط ثابت ہوں گی اور وہ ان کے غلط ہونے پر حسب موقع ان میں ترمیم اور ردو بدل بھی کرتا رہے گا اور ان کے کذب کو چھپانے کے لئے قسم قسم کے حیلوں اور طرح طرح کی تاویلوں سے کام لیتا رہے گا۔ چنانچہ دیکھ لو یہ علامت بھی صاف مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے جو ظاہر بات ہے۔ تفصیل وتشریح کی ضرورت نہیں۔

دجال اکبر، کی ایک امت اور جماعت بھی ہوگی

ابن ماجہ اور حاکم کی حدیث میں ہے کہ پیغمبر ﷺ نے اپنی امت کو فتنہ دجال سے ڈراتے ہوئے فرمایا: ”انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم“ کہ میں سب سے آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تم سب سے آخری امت ہو۔ تمہارے بعد کوئی امت نہیں اور یہ انداز بیاں یعنی فتنہ دجال سے ڈراتے ہوئے آپ کا ایسا فرمانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ دجال

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٤

اکبر نبوت کا دعویٰ کرے گا اور بحیثیت مدعی نبوت ہونے کے اپنی ایک علیحدہ امت اور جماعت بھی بنا دے گا۔ جب ہی آپ نے فتنہ دجال کے ضمن میں ایسا ارشاد فرمایا۔ سو یہ علامت بھی مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اپنی ایک امت اور جماعت بھی تیار کی ہے۔ جس کا نام جماعت احمدیہ رکھا ہے اور اسے اپنی امت قرار دیا ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں: ”پہلا مسیح صرف مسیح تھا۔ اس لئے اس کی امت گمراہ ہو گئی...... لیکن میں مہدی اور محمد کا بروز بھی ہوں۔ اس لئے میری امت کے دو حصے ہوں گے۔“

(الفضل ج٣ نمبر ٨٣، جنوری

١٩١٦ء)

دجال اکبر، اپنے آپ کو خدا بھی کہے گا

”فانہ یزعم انہ اللہ (مستدرک، حاکم، بیہقی) فیقول انا اللہ (طبرانی)“ یعنی اپنے آپ کو اللہ کہے گا اور اپنے کو اللہ گمان کرے گا۔ نیز وہ اپنے کو خالق بھی کہے گا۔ چنانچہ حدیث میں ہے: ”ینادی بصوت الی اولیائی الی اولیائی الی احبائی فانا الذی خلق فسوی (کنز العمال)“ دجال یہ آواز دے گا۔ اے عزیزو، پیارو! دوستو میری طرف آؤ۔ میں وہ ہوں جس نے ہر چیز پیدا کیا اور درست کیا۔

سو یہ علامت بھی نہایت صفائی سے مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے کہ اس نے اپنے آپ کو اللہ اور خالق کہا ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے: ”رایتنی فی المنام عین اللہ تیقنت اننی هو... فكانت الالوهية نفذت فى عروقى واوتارى واجزاء اعصابى... ثم خلقت السموات والارض ثم خلقت السماء الدنيا“ (میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ میں واقعی اللہ ہوں اور الوہیت میرے رگ و ریشہ میں نفوذ کر گئی۔ پھر میں نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا۔ پھر ستاروں کو بنایا۔ پھر ارادہ کیا کہ انسان کو پیدا کروں) پس اس سے بھی مرزا قادیانی کا مسیح الدجال ہونا صاف طور پر ثابت ہو گیا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

دجال کی چند علامات

اب اس جگہ ایک جامع حدیث نقل کی جاتی ہے جس میں دجال کی چند علامات مذکور ہوئی ہیں۔ جو کہ سب کی سب ٹھیک طور پر مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہیں۔ وہ حدیث یہ ہے۔

”قال رسول اللہ ﷺ الدجال ليس به خفاء يجيئ من قبل المشرق

٦

صفحہ ١٢٥

فیدعوا الى الدين فيتبع ويظهر فلا يزال حتى يقدم الكوفة فيظهر الدين ويعمل به فيتبع ويحث على ذالك ثم يدعى انه نبى فيفزع من ذلك كل ذي لب ويفارقه فيمكث بعد ذالك فيقول انا الله فتغشى عينه وتقطع اذنه ويكتب بين عينيه كفر فلا يخفى على كل مسلم فيفارقه كل احد من الخلق فى قلبه مثقال حبة من خردل ايمان (طبرانی کذا فی فتح الباری ج٢٩)“

میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں۔ وہ مشرق کی طرف سے ظاہر ہوگا۔

چنانچہ مرزا قادیانی مشرق کی طرف سے ہی ظاہر ہوئے ہیں۔ قادیان عرب اور مدینہ کے عین مشرق کی طرف ہے۔

دے گا۔ مبلغ اسلام کے روپ میں ظاہر ہوگا۔ سو اس وجہ سے لوگ اس کے تابع ہوں گے اور اس کا چرچا ہوگا۔ سو یہ علامت بھی مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے کہ یہ مبلغ اسلام کے روپ میں ظاہر ہوئے۔ مجدد دین ہونے کا دعویٰ کیا۔ لوگوں کو دین کی دعوت دی اور اس دعوت دین اور تبلیغ اسلام کی وجہ سے بہت سے لوگ ان کے تابع ہوئے اور ان کا خوب چرچا ہوا۔

آخری دم تک دعوت دین کا علمبردار بنا رہے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی آخری دم تک دعوت دین کے علمبردار بنے رہے۔

ذالك“ یہاں تک کہ وہ ایک شہر میں آوے گا۔ ( جسے بعد والے راوی نے اپنے خیال میں کوفہ سمجھا۔ کیونکہ اس وقت یہ مرکز تھا) سو وہ اس شہر میں آکر خدمت اسلام اور دعوت دین کا بڑا اظہار کرے گا اور عملی کارروائی کرے گا اور لوگ اس کی متابعت اور پیروی کریں گے۔

یہ بھی اسی طرح ہوا کہ اس کے بعد مرزا قادیانی شہر لدھیانہ میں آگئے۔ وہاں کافی عرصہ قیام کیا اور وہاں تبلیغ اسلام اور دعوت دین کا بڑا اظہار کیا اور عملی کارروائی کی۔ اپنے سلسلہ کی بنیاد رکھی۔ لوگوں سے بیعت لی جو ایک ظاہر بات ہے۔

٧

صفحہ ١٢٦

دجال اس کے بعد نبوت کا دعویٰ کر دے گا۔ جس سے دانا لوگوں میں گھبراہٹ پھیل جاوے گی اور وہ اس سے کنارہ کش ہو جاویں گے اور اس کے مخالف بن جاویں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پھر اس کے بعد مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر دیا تو ان کے اس دعویٰ نبوت کی وجہ سے مسلمانوں میں ان کے خلاف بڑا ہیجان برپا ہوا اور ان کی بڑی مخالفت ہوئی اور ان پر کفر کے فتوے لگائے گئے اور تمام دانا اور سمجھدار مسلمان اس سے کنارہ کش ہو گئے۔

کش ہو جاویں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کے دعویٰ نبوت سے قبل لوگ اس پر حسن ظن رکھتے ہوں گے۔ پھر اس کے دعویٰ نبوت کے بعد اس کے مخالف بن جاویں گے۔ یہ بھی اسی طرح واقعہ میں ہوا کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے قبل اہل اسلام ان پر حسن ظن رکھتے تھے اور ان کو خادم دین گمان کرتے تھے۔ مولوی محمد حسین بٹالوی نے ان کی تعریف کی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب ملنے کے لئے قادیان گئے۔ مگر جب انہوں نے دعویٰ نبوت کیا تو یہ ان سے کنارہ کش ہو گئے اور سب سے بڑے مخالف بن گئے۔

وباقی رہے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی اخیر تک اسی دعویٰ نبوت پر قائم رہے۔

نبوت کے ساتھ اپنے کو اللہ بھی کہے گا تو اس کی آنکھوں پر پردہ پڑ جاوے گا اور اس کے کان کٹ جاویں گے۔ یعنی وہ عقل وفکر سے کچھ بھی کام نہ لے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو اللہ بھی کہا ہے۔ جیسا کہ پیچھے بیان کیا گیا ہے۔

كل احد من الخلق فى قلبه مثقال حبة من خردل من الايمان“ اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کفر لکھا ہوگا۔ یعنی اس کا کفر واضح ہوگا اور اس کا کافر ہونا کسی مؤمن پر مخفی نہیں رہے گا۔ تمام مسلمان اسے کافر کہیں گے اور ہر مسلمان اس سے کنارہ کش ہو جاوے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا کفر بھی ان کے دعاوی سے صاف واضح ہے اور ہر مسلمان انہیں کافر یقین کرتا ہے۔ مشرق مغرب کے جمیع علمائے اسلام نے ان کو کافر کہا ہے اور متفقہ طور پر ان پر کفر کے فتوے دے دیئے ہیں۔ چونکہ یہ تمام علامات مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہیں۔ ولہٰذا واقع میں یہی المسیح الدجال ہیں۔ لاغیر!

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٧

دجال، بظاہر بڑا مومن معلوم ہوگا

”من سمع بالدجال فلينأ عنه فواللہ ان الرجل لياتيه وهو يحسب انه مؤمن فيتبعه (ابوداؤد، حاکم، احمد)“ پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص دجال کی خبر سنے تو چاہئے کہ وہ اس سے کنارہ کش رہے۔ خدا کی قسم جب آدمی دجال کے پاس آوے گا تو وہ اسے بڑا مومن پختہ مسلمان گمان کرے گا۔ تو اس وجہ سے وہ اس کا تابع اور مطیع ہو جائے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی ایسے ہی تھے اور انہوں نے اپنے آپ کو بڑا مومن پاکباز اور خیر خواہ اسلام ظاہر کیا اور موافق خبر حدیث کے بہت سے سادہ لوح مسلمان ان کی ظاہری حالت اور پرہیز گاری کو دیکھ کر ان کے تابع اور مرید ہو گئے۔

اللہ اکبر! مرزائی جس چیز کو مرزا قادیانی کی صداقت کی دلیل قرار دیتے تھے۔ آج اسی سے ان کا المسیح الدجال ہونا ثابت ہو رہا ہے۔

گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی مسلمانوں میں سے ظاہر ہوئے ہیں۔

دجال عالم دین ہوگا

کہ وہ لوگوں کو دین کی دعوت دے گا۔ مبلغ اسلام کے روپ میں ظاہر ہوگا اور یہ اس کو ثابت کرتا ہے کہ وہ کوئی جاہل نہیں ہوگا۔ بلکہ دین کا عالم ہوگا۔ قرآن وحدیث کو جانتا ہوگا۔ کیونکہ دین کی تبلیغ وہی کر سکتا ہے اور دعوت دین کا مدعی ہو سکتا ہے۔ جو کہ دین کا عالم ہو۔ قرآن وحدیث کو جانتا ہو۔ مرزا قادیانی میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ ولہٰذا نتیجہ بھی صاف ظاہر ہے۔

دجال کا فتنہ مسلمانوں میں پھیلے گا

میری امت میں مسلمانوں میں ظاہر ہوگا۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی مسلمانوں ہی میں ظاہر ہوئے ہیں۔

محالة (ابن ماجه، حاکم) احذركم المسيح وانذركموه وكل نبى قد حذر قومه وهو

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٨

فيكم (طبرانی، كنزالعمال) ” کہ دجال لامحالہ تمہارے درمیان ہی سے نکلنے والا ہے اور تمہارے درمیان ہی اس کا فتنہ پھیلنے والا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی مسلمانوں ہی کے درمیان سے نکلے ہیں اور مسلمانوں ہی میں ان کا فتنہ پھیلا ہے۔

دجال کے پیرو بکثرت ہوں گے

پیغمبر ﷺ نے فرمایا: ”يتبع الدجال من امتى سبعون الفاً (مشكوة)“ کہ میری امت کے ستر ہزار لوگ دجال کے تابع اور پیرو ہو جاویں گے۔ مرزا قادیانی اپنے متعلق لکھتے ہیں: ”اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ستر ہزار کے قریب بیعت کرنے والوں کا شمار پہنچ گیا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٥،٤، خزائن ج ١٨

ص ٣٨٣،٣٨٢)

ولہذا نتیجہ ظاہر ہے۔ تشریح کی حاجت نہیں۔ حدیث ہٰذا میں دجال کے کامل مطیعین کی تعداد ستر ہزار بتلائی گئی ہے۔ جو کہ باقاعدہ اس کی جماعت میں شامل ہوں گے۔ لطف یہ ہے کہ اس وقت مرزا قادیانی کے کامل مطیعین ومریدین کی تعداد بھی ستر ہزار ہی ہے۔ چنانچہ مرزا بشیر احمد صاحب اپنی کتاب (تبلیغ ہدایت ص ٧٢) میں لکھتے ہیں۔

”اگرچہ ہماری جماعت کی تعداد اس وقت کئی لاکھ سمجھی جاتی ہے۔ لیکن دراصل باقاعدہ اعانت کرنے والوں اور چندہ دینے والے منظم حصہ کی تعداد غالباً ساٹھ ستر ہزار سے زیادہ نہیں ۔“

دجال اکبر، تمام ممالک کا دورہ کرے گا

والمدينة (مسلم) قد وطئت البلاد كلها غير طيبة (مسلم) وانه لا يبقى شئ من الارض الا وطئه وظهر عليه الا مكة والمدينة (ابن ماجه)“ یعنی دجال اپنے سلسلہ اور دعاوی کی تبلیغ کے لئے دنیا کے تمام ممالک کا دورہ کرے گا اور تمام ممالک پر ظاہر ہوگا اور اس کا اثر پھیلے گا۔ سوائے مکہ اور مدینہ کے کہ نہ تو وہاں ظاہر ہو کر تبلیغ کر سکے گا اور نہ ہی اس کا کچھ اثر پھیلے گا۔ چنانچہ دیکھ لو۔ مرزا قادیانی کے مبلغین نے اس کے سلسلہ کے دعاوی کی تبلیغ کے لئے تمام ممالک کا دورہ کیا ہے اور تمام ممالک میں ظاہر ہوئے ہیں۔ تبلیغی مشن قائم کر رکھے ہیں۔ مگر مرکز اسلام مکہ اور مدینہ میں نہ تو ظاہر ہو کر تبلیغ کر سکتے ہیں اور نہ ہی تبلیغی مشن قائم کر سکے ہیں اور نہ ہی ان کا کچھ اثر

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٩

پھیلا ہے۔

چونکہ وہ مدعی کاذب ہوگا۔ اس لئے یہ اس کا دورہ کرنا اپنے دعاوی کی تبلیغ واشاعت کے لئے ہوگا۔ پھر دوسری طرف اس کے متعلق آتا ہے۔ ”فیدعواالی الدین فیتبع“ کہ وہ لوگوں کو دین کی دعوت کرے گا۔ مبلغ اسلام کے روپ میں ظاہر ہوگا اور اس وجہ سے اس کا فتنہ ترقی کرے گا تو اب اس سے یہ صاف معلوم ہوا کہ وہ تمام ممالک میں اپنے سلسلہ باطلہ کی تبلیغ اسی دعوت دین اور اشاعت اسلام کی آڑ لے کر کرے گا۔ چنانچہ دیکھ لو۔ ٹھیک اسی طرح واقعہ میں ہوا کہ مرزا قادیانی کے مبلغین کا ان کے سلسلہ کی تبلیغ کے لئے تمام دنیا کا دورہ کرنا دراصل مرزا قادیانی کا اپنا دورہ کرنا ہے۔ جیسا کہ لکھتے ہیں: ”اور ہر ایک آدمی سمجھ سکتا ہے کہ متبعین کے ذریعہ سے بعض خدمات کا پورا ہونا درحقیقت ایسا ہی ہے کہ گویا ہم نے اپنے ہاتھ سے وہ خدمات پوری کیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٤١٥، خزائن ج ٣ ص ٣١٦)

دجال کا فتنہ منظم ہوگا

اور اس سے یہ بھی صاف معلوم ہوا کہ دجال کا فتنہ نہایت منظم ہوگا۔ کیونکہ اس کے مبلغین کا اس کے سلسلہ اور دعاوی کی تبلیغ کے لئے تمام ممالک کا دورہ کرنا بغیر تنظیم عظیم کے نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا فتنہ نہایت منظم ہے۔

دجال کے مبلغ

حدیث میں آتا ہے۔ ”ویبعث معہ الشیاطین تکلم الناس (کنز العمال ج ٧)“ دجال کے ساتھ بہت سے شیاطین ہوں گے۔ یعنی گمراہ گر شیطان سیرت لوگ ہوں گے۔ جو کہ (اس کے دعاوی کی تبلیغ کے لئے) لوگوں سے مکالمے مناظرے کرتے پھرتے ہیں۔ اس حدیث میں مرزائی مبلغین کو شیطان کہا گیا ہے۔

وهو المسيح الكذاب يبعث الله الشياطين من مشارق الارض ومغاربها فيقولون له استعن بناعلى ماشئت فيقول نعم انطلقوا فاخبروا الناس انی ربهم ٭ فينطلق الشياطين فيدخل علے الرجل اكثر من مائة شيطان فيتمثلون له بصورة والده وولده واخوة ومواليه ورفيقه ٭ ثم قال رسول اللہ ﷺ انما احدثکم ھذا

١١

صفحہ ١٣٠

لتعقلوه وتفقهوه وحدثوا به من خلفكم وليحدث الاخر الاخر فان فتنة اشد الفتن (كنز العمال ج ٧) ” {پیغمبر ﷺ نے فرمایا: دجال ظاہر ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے پاس مشرق اور مغرب کے شیاطین یعنی شیطان سیرت گمراہ لوگوں کو جمع کر دے گا۔ (جو کہ اس کے دعاوی کی تصدیق کریں گے) اور اس سے کہیں گے کہ ہم سے جو کام چاہے لے (ہم اپنی خدمات تیرے لئے وقف کرتے ہیں) وہ کہے گا۔ ہاں جاؤ لوگوں کو خبر کر دو۔ ”انی ربہم“ یعنی جاؤ لوگوں میں میرے دعاوی کی تبلیغ واشاعت کرو۔ سو وہ اس مقصد کے لئے (زمین میں ہر طرف) نکل پڑیں گے اور وہ (بعض اوقات) کسی کسی آدمی پر سو سو سے بھی زیادہ داخل ہوں گے اور وہ اس آدمی کے سامنے اس کے ماں، باپ، اولاد اور بہن بھائیوں اور دوستوں رفیقوں کا لباس پہن کر یعنی ان کی طرح ناصح مشفق بن کر آویں گے اور اسے گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ پھر پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تم کو اس کی علامت بتلادی ہے۔ لہٰذا تم اسے سمجھو اور سوچو اور اس سے خبردار رہو اور اس بات کو ایک دوسرے تک پہنچا دو۔ کیونکہ اس کا فتنہ نہایت ہی عظیم ہوگا۔

ف...... چنانچہ اسی طرح واقعہ میں ہوا کہ مرزا قادیانی کے پاس مشرق مغرب کے یعنی ہر طرف کے گمراہ لوگ جمع ہوئے۔ جنہوں نے ان کے دعاوی کی تصدیق کی اور ان کے دعاوی کی تبلیغ کے لئے ان کے سامنے اپنی خدمات پیش کیں اور اس مقصد کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں اور وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے زمین میں ہر طرف نکل پڑے ہیں اور بڑی محبت اور شفقت کا اظہار کر کے جو بوڑھے ہیں۔ وہ والدین کی طرح ناصح مشفق بن کر اور جو ہم عمر ہیں۔ وہ بھائیوں اور دوستوں، رفیقوں کا لباس پہن کر لوگوں کو تبلیغ کرتے پھرتے ہیں جو ظاہر بات ہے۔ ”اللهم انا نعوذ بك من شر فتنة المسيح الدجال“ پھر حدیث میں آتا ہے۔ ”معه من كل لسان (مسند احمد ج ٣ ص ٧٩)“ {کہ دجال کے ساتھ ہر زبان کے لوگ ہوں گے۔ جو کہ مختلف زبانوں میں اس کے دعاوی کی تبلیغ کریں گے۔} چنانچہ مرزا قادیانی کے پیرو بھی ہر زبان کے لوگ ہیں۔ جو کہ مختلف زبانوں میں بذریعہ تحریر اور تقریر کے ان کے سلسلہ کی تبلیغ کرتے پھرتے ہیں۔

”معه اصناف الناس (كنز العمال)“ یعنی دجال کے ساتھ قسم قسم کے لوگ ہوں گے۔ مرزا قادیانی کے ساتھ بھی علماء، مناظر، مدرس، ڈاکٹر، حکیم، وکیل وغیرہ ہر قسم کے لوگ تھے اور ان کی جماعت میں شامل ہیں۔ جو ظاہر بات ہے۔

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣١

دجال اکبر اور شام و عراق

پیغمبر ﷺ نے فرمایا ہے: ”انہ خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا يا عباد الله فاثبتوا (مسلم ابن ماجہ)“ دجال شام اور عراق کے راستوں سے نکلنے والا ہے۔ یعنی یہاں تک اس کا اثر پھیلنے والا ہے اور ان ممالک کے دائیں بائیں پھرنے والا اور فتنہ پھیلانے والا ہے۔ ولہٰذا اے اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا اور اس کے فریب میں نہ آنا۔ چنانچہ دیکھ لو مرزا قادیانی کے فتنہ کا اثر شام اور عراق اور اس کے اطراف تک پھیل چکا ہے اور یہاں ان کے مبلغین نے تبلیغی مشن قائم کر کے رکھے ہیں۔ جو ظاہر بات ہے۔

دوسری حدیث میں ہے: ”انہ یخرج من قبل المشرق يتبعه حشارة العرب (حاکم)“ دجال مشرق کی طرف سے ظاہر ہوگا (اور اس کا اثر ممالک عربیہ تک پہنچے گا) عرب کی ردی لوگ اس کے تابع ہو جائیں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی مشرق کی طرف سے ظاہر ہوئے ہیں اور ان کے فتنہ کا اثر ممالک عربیہ تک پہنچ چکا ہے اور عرب کے گمراہ لوگوں کی مختصر سی جمعیت ان کے تابع ہو چکی ہے۔

دجال مدینہ میں داخل ہوگا

آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”على نقاب المدينة ملائكة لا يد خلها الطاعون ولا الدجال (بخاری، ترمذی) ولا يدخلها الدجال (حاكم)“ یعنی دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے۔

رعب اور شر مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ یہ ایسا ہی ہوا۔ مرزا قادیانی کا رعب اور اثر مدینہ میں نہیں جا سکا اور ان کے مبلغین وہاں تبلیغی مشن قائم نہیں کر سکے اور نہ ہی تبلیغ کر سکتے ہیں۔

یعنی دجال کے زمانہ میں مدینہ طیبہ کے سات دروازے ہوں گے۔ مرزا قادیانی کے زمانہ میں بھی مدینہ طیبہ کے سات دروازے ہی تھے۔

(ملاحظہ ہو مشکوۃ غزنویہ مطبوعہ ١٩٠٦ء)

بہت سخت اور تیز ہوں گے اور اس کے فتنہ کے بڑے مخالف ہوں گے۔ چنانچہ اہل نجد بنو تمیم میں

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٢

سے ہیں اور وہ مرزا قادیانی کے بڑے دشمن اور ان کے سلسلہ کے بڑے مخالف ہیں اور کسی مرزائی مبلغ کی مجال نہیں کہ ان کے عہد حکومت میں سر زمین حجاز اور مرکز اسلام مدینہ اور مکہ میں مرزائیت کی تبلیغ کر سکے۔

دجال کے مصاحب

حدیث میں ہے: ”لیصحبن الدجال اقوام یقولون انا لنصحبہ وانا لنعلم انہ الکافر ولکنا نصحبہ ناکل من طعامہ ونرعی من الشجر (کنزالعمال ج٧)“ کچھ لوگ دجال کے مصاحب بھی ہوں گے۔ وہ آپس میں یا دل میں کہیں گے کہ ہم یہ خوب جانتے ہیں کہ یہ شخص کافر ہے۔ لیکن ہم تو اس کے پاس سے کھانا کھانے کے لئے اور اس کے کھیتوں سے مویشی چرانے کے لئے اس کے مصاحب بنے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے بعض مصاحب ایسے بھی تھے جو ان کے پاس سے کھانا کھاتے تھے اور ان سے تنخواہیں پاتے تھے۔

لنگر طعام بھی ہوگا۔ جس سے اس کے مصاحب کھانا کھاتے ہوں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا لنگر طعام بھی تھا۔ جس سے ان کے مصاحبین کھانا کھایا کرتے تھے۔

جاگیردار بھی ہوگا اور اس کے پاس درخت یعنی باغات بھی ہوں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی زمیندار، جاگیردار بھی تھے اور ان کے اپنے باغات تھے اور ان کے باغوں کے قصے تو مشہور ہی ہیں۔

دجال کا فتنہ نہایت عظیم اور وسیع ہوگا

”ان بین یدی الساعۃ کذابین منہم صاحب الیمامۃ ومنہم الاسود العنسی ومنہم صاحب حمیر ومنہم الدجال وہو اعظمہم فتنۃ (کنز العمال) قال النبی ﷺ الدجال اعور وہو اشد الکذابین (مسند احمد ج ٣ ص ٣٣٣)“ یعنی دجال اکبر کا فتنہ تمام کذابین جھوٹے مدعیان نبوت سے بڑا ہوگا اور حدیث ”ما بین خلق الی قیام الساعۃ امر اکبر من الدجال (مسلم، مشکوٰۃ)“ کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کا فتنہ تمام دجاجلہ سے عظیم ہوگا۔

سو یہ علامت بھی مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے کہ ان کا فتنہ تمام جھوٹے مدعیان نبوت سے عظیم اور وسیع ہے جو ظاہر بات ہے۔

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٣

”والله لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلثون كذابا اخرهم الاعور الدجال (حاكم)“

دجال اکبر اور مردِ مؤمن کا مقابلہ اور ان کے درمیان آخری فیصلہ

”قال رسول الله ﷺ يخرج الدجال فيتوجه قبله رجل من المؤمنين“

”فيخرج اليه رجل (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ)“ یعنی جب دجال کا خروج ہوگا تو اس کے مقابلہ میں ایک مرد مؤمن مستعد ہو کر نکل آوے گا۔ چنانچہ موافق خبر حدیث کے مرزا قادیانی کے مقابلہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب نکل آئے۔

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٤

فی الناس الا ان ھذا المسیح الکذاب (حاکم کنز) “ اور اسے مخاطب کر کے کہے گا۔ ”انت المسیح الکذاب (مسلم) “ کہ تو مسیح الکذاب ہے۔ تیرا دعویٰ مسیح ہونے کا سراسر کذب ہے۔ چنانچہ مولانا صاحب نے مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کی اسی طرح تردید وتکذیب کی۔ جو ظاہر بات ہے۔

ھذا الکذاب ایھا الناس لا یغرنکم فانہ کذاب یقول باطلا (کنز العمال ج٧)“ وہ مرد مؤمن کہے گا۔ لوگو اس شخص مدعی نبوت ومسیحیت کے فریب میں نہ آنا۔ یہ بڑا مکار کذاب ہے اور اس کا دعویٰ سراسر باطل ہے۔ چنانچہ مولوی صاحب نے ٹھیک اسی طرح اعلان کیا ؎

رسول قادیانی کی رسالت
بطالت ہے بطالت ہے بطالت

عام خطاب کرنا ”ثم نادی فی الناس الا ان ھذا المسیح الکذاب“ اور اس کے مسیح ہونے کا اعلان کرنا اس کو ثابت کرتا ہے کہ اس مرد مؤمن کے پاس اعلان اور خطاب عام اور تشہیر واشاعت کا سامان موجود ہوگا۔ چنانچہ مولوی صاحب کو یہ سامان حاصل تھے۔ ان کا اپنا اخبار تھا اور مصنف بھی تھے۔

المؤمنین لا صحابہ لا نطلقن الی ھذا الرجل فانظر ان اھو الذی انذرنا رسول اللہ ﷺ ام لا (کنزالعمال ج٧) “ پھر وہ مؤمن کہے گا کہ میں اس شخص مدعی نبوت ومسیحیت کی طرف (اس کے گاؤں میں) جاتا ہوں اور بحث مکالمہ کر کے دیکھنا چاہتا ہوں کہ آیا یہ ایسا شخص ہے کہ جس سے پیغمبر ﷺ نے ہمیں ڈرایا ہے۔ یعنی جھوٹا مدعی نبوت ہے۔ یا کہ کوئی اور ہے۔ چنانچہ جب مرزا قادیانی نے نبوت ومسیحیت کا دعویٰ کیا تو مولوی صاحب ان کو دیکھنے بھالنے کے لئے اور ان سے بحث مکالمہ کرنے کے لئے قادیان میں بھی گئے۔ مگر وہ مقابلہ میں نہ آئے۔ جس پر آپ نے ان کے کذاب ہونے کا اعلان کیا۔

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٥

مؤمن دجال کو ساکت اور لاجواب کردے گا۔ چنانچہ مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کی ایسی پرزور تردید کی کہ وہ چلا اٹھے اور اشتہار آخری فیصلہ شائع کرنا پڑا۔

في الامر (متفق عليه)“ یعنی جب دجال اس مرد مؤمن کے مقابلہ میں تنگ آجاوے گا۔ تو پھر یہ کہے گا لوگو یہ بتلاؤ۔ اگر میں اس شخص کو ماردوں پھر اسے زندہ کردوں تو کیا پھر بھی تم میری صداقت میں شک لاؤ گے۔ اس فقرہ ”ان قتلت ھذا ثم احييته“ میں موت وحیات کے لفظ کا مذکور ہونا اس پر دلالت کر رہا ہے کہ یہاں اس حدیث میں دجال اور مرد مؤمن کے متعلق کوئی موت وحیات کا مضمون مذکور ہوا تھا۔

صداقت میں شک لاؤ گے۔ اس سے یہ صاف معلوم ہو رہا ہے کہ دجال اکبر اور رجل مؤمن کے درمیان موت وحیات کا سوال بطور معیار صدق وکذب واقع ہوگا کہ جو جھوٹا ہو۔ وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو۔ کیونکہ دو آدمیوں کے درمیان موت وحیات کا سوال بطور معیار صدق وکذب واقع ہونے کی یہی صورت ہوا کرتی ہے۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کی پرزور تردید وتکذیب کی تو یہ چلا اٹھے اور اشتہار آخری فیصلہ شائع کیا۔ جس میں موت وحیات کو معیار صدق وکذب مقرر کیا اور خدا تعالیٰ سے فیصلہ چاہا کہ ہم سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو۔

میری صداقت میں شک لاؤ گے۔ یہ اس کو ثابت کرتا ہے کہ یہ صورت فیصلہ دجال کی طرف سے پیش ہوگی اور وہی لوگوں کے سامنے اس کو بیان کرے گا۔ چنانچہ اسی طرح واقعہ میں ہوا کہ یہ صورت فیصلہ مرزا قادیانی نے پیش کی اور اسے آخری فیصلہ کے نام سے شائع کیا اور لوگوں کے سامنے بیان کیا۔ جو ظاہر بات ہے۔

دمکتا ہوگا اور وہ خوشی سے ہنستا ہوتا اور یہ اس کا ہنسنا اور خوش ہونا اس امر کو ثابت کر رہا ہے کہ اس صورت فیصلہ میں وہ مرد مؤمن کامیاب ہوگا کہ جسے دجال نے پیش کیا تھا۔ یعنی اس کی زندگی میں

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٦

دجال ہلاک ہو جاوے گا۔ سو یہ بھی اسی طرح واقعہ میں ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیار کی رو سے مولوی صاحب کی زندگی ہی میں ہلاک ہو گئے اور اس روز مولوی صاحب نہایت خوش و خرم تھے اور خوشی سے ہنستے تھے۔

العالمین (مسلم)“ یعنی وہ مرد مومن خدا تعالیٰ کے نزدیک از راہ شہادت حق کے سب لوگوں سے بڑھ کر ہوگا۔ یعنی وہ سب لوگوں سے بڑھ کر دجال کی تردید و تکذیب کرے گا اور اس کے کذب کی شہادت دے گا اور یہاں شہادت کے معنی یہی ہیں۔ جیسا کہ حدیث کے الفاظ ”اشهدانک الدجال الذی حدثنا رسول الله ﷺ فی حدیثه“ سے ثابت ہورہے ہیں۔ سو یہ بات بھی مولوی صاحب میں پائی جاتی ہے کہ انہوں نے سب لوگوں سے بڑھ کر مرزا قادیانی کی تردید و تکذیب کی تھی جو ظاہر بات ہے۔

دجال کا فرضی بہشت

پیغمبر ﷺ نے فرمایا: ”انه یجئی معه بتمثال الجنة والنار فالتی یقول انها الجنة هی النار (بخاری کتاب الانبیاء، مشکوۃ)“ جب دجال ظاہر ہوگا تو اس کے ساتھ ایک مثالی فرضی بہشت بھی ہوگا اور نار بھی۔ سو جسے وہ بہشت (بہشتی قطعہ کہے گا) وہ دراصل نار ہوگی۔ یعنی اس کے پاس صرف ایک چیز ہی چیز ہوگی۔ جسے وہ جنت یعنی بہشتی قطعہ کہے گا۔ حدیث میں اس کے مقابلہ میں اسی چیز کو نار کہا گیا ہے کہ یاد رکھو وہ بہشتی قطعہ نہیں بلکہ قطعہ نار ہے اور جو شخص دجال کے دعاوی کی تصدیق کر کے اس میں داخل ہوگا۔ وہ بہشت میں نہیں بلکہ سیدھا دوزخ میں جاوے گا۔

چنانچہ یہ علامت بھی مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے کہ ان کے پاس ایک فرضی بہشت بھی تھا۔ یعنی بہشتی مقبرہ۔ اسی کو حدیث میں نار کہا گیا ہے۔

دجال اکبر اور کسوف و خسوف

بخاری شریف میں ہے کہ پیغمبر ﷺ کے زمانہ میں کسوف (سورج گرہن) ہوا تو آپ نے عین اس موقعہ پر لوگوں کو جمع کر کے فتنہ دجال سے ڈرایا اور فرمایا: ”وانه قد اوحی الی انکم تفتنون فی القبور قریباً من فتنة المسیح الدجال“ حاکم و بیہقی کی حدیث میں ہے کہ آپ نے اس موقعہ پر دجال کی چند علامات کو بھی بیان فرمایا اور یہ طریق بیان یعنی آپ کا

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٧

عین گرہن کے موقعہ پر وحی الہی سے خبر پا کر فتنہ دجال سے ڈرانا یہ صاف اس پر دلالت کرتا ہے کہ گرہن (کسوف وخسوف) دجال کی علامات میں سے ہے کہ اس کے زمانہ میں گرہن ہوگا۔ جو اس کے فتنہ کی ترقی کا موجب ہوگا۔ جب ہی آپؐ نے خاص گرہن کے موقعہ پر فتنہ دجال سے ڈرایا۔ سو یہ علامت بھی مرزا قادیانی میں صاف طور پر پائی جاتی ہے کہ ان کے زمانہ میں گرہن کسوف وخسوف ہوا۔ جس سے ان کے فتنہ نے بڑی ترقی کی۔ جو ظاہر بات ہے۔

اور یہ گرہن کسوف وخسوف کا دجال کی علامات میں سے ہونا خود مرزا قادیانی کو بھی مسلم ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں ؎

درسن غاشی دو قرآن خواهد بود
از پئے مہدی ودجال، نشان خواهد بود

(حقیقت الوحی ص١٩٧، خزائن ج٢٢ ص٢٠٤)

یعنی کسوف وخسوف سورج گرہن و چاند گرہن دونوں کا ایک ساتھ ١٣١١ھ میں واقع ہونا دجال کی علامات میں سے ہے۔ چنانچہ ١٣١١ھ میں مرزا قادیانی کے زمانہ میں اسی طرح کسوف وخسوف ہوا۔ ولہذا نتیجہ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی ہی واقعہ میں ”المسیح الدجال“ ہیں۔

دجال اکبر اور دم دار ستارہ

”قالوا اطلع الکوکب ذوالذنب فخشیت ان یکون الدجال (مستدرک، حاکم)“ ابن عباس نے ابن ملیکہ سے کہا۔ لوگ کہتے ہیں کہ دم دار ستارہ طلوع ہوا ہے۔ سو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں دجال کا خروج نہ ہوا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ دم دار ستارے کا طلوع ہونا دجال کی علامات میں سے ہے۔ سو مرزا قادیانی کے زمانہ میں بھی دم دار ستارہ بھی طلوع ہوا۔ ولہذا نتیجہ ظاہر ہے۔

دجال اکبر اور طاعون

پیغمبر ﷺ نے فرمایا: ”علی انقاب المدینۃ ملائکۃ لا یدخلھا الطاعون ولا الدجال (بخاری)“ مدینہ طیبہ میں دجال اور طاعون داخل نہیں ہوگا۔ یہ انداز بیان یعنی دجال اور طاعون کو ایک ساتھ بیان کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ طاعون دجال کی علامات میں سے ہے۔ اس کے زمانہ میں طاعون بھی پڑے گا۔ جو اس کی ترقی کا موجب بھی ہوگا۔ سو ایسا ہی ہوا۔ مرزا قادیانی کے زمانہ میں طاعون بھی پڑا اور زور سے پھوٹا۔ جس سے ان کے فتنہ نے بڑی ترقی

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٣٨

کی اور یہ دجال کے زمانہ میں طاعون کا پڑنا مرزائیہ کو بھی مسلم ہے۔ مرزا محمود صاحب نے (دعوت الامیر ص ١٧٧) میں تسلیم کیا ہے۔

”چنانچہ حضرت انس سے ترمذی میں روایت ہے کہ جب دجال ظاہر ہوگا تو اس وقت طاعون بھی پڑے گا۔“

دجال اکبر اور جنگ عظیم

حدیث میں ہے: ”الملحمة العظمی وفتح القسطنطنية وخروج الدجال فی سبعة اشهر (ابوداؤد، ترمذی، حاکم) “ دوسری حدیث میں ہے۔ ”قال بین الملحمة (العظمی) وفتح القسطنطنية ست سنین ويخرج الدجال فى السابعة وقال ھذا اصح (ابوداؤد واحمد ونعیم بن حماد، مشکوٰۃ، کنز العمال)“ یعنی ملحمۃ العظمی (جنگ عظیم) اور دجال کے درمیان چھ سات سال کا وقفہ ہوگا اور ساتواں سال دجال کے خروج کا ہوگا۔

چنانچہ دیکھ لو۔ جنگ عظیم اور مرزا قادیانی کے درمیان ٹھیک چھ سال کا وقفہ ہے اور ساتویں سال مرزا قادیانی زندہ موجود تھے۔

دجال اکبر اور مسجد اقصیٰ

”قال رايت ليلة اسرى بی ... ورايت مالکا خازن النار والدجال (متفق عليه، مشکوٰۃ)“ یعنی شب معراج میں نبی ﷺ نے خازن نار اور دجال دونوں کو دیکھا۔ مسلم کی حدیث میں ہے کہ خازن نار کو آپ نے بیت المقدس (مسجد اقصیٰ) کے پاس دیکھا۔ ولہٰذا ثابت ہوا کہ اسی موقعہ پر آپ نے دجال کو بھی دیکھا اور یہ دجال کا مسجد اقصیٰ کے پاس دکھلایا جانا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق ظاہر کرے گا۔ جب ہی وہ اس موقع پر دکھلایا گیا۔ سو مرزا قادیانی میں یہ علامت بھی پائی جاتی ہے کہ انہوں نے مسجد اقصیٰ کے مقابلہ میں قادیان میں مسجد اقصیٰ تعمیر کی اور یہ دعویٰ کیا۔

”مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی مسجد ہے۔ جو قادیان میں واقع ہے۔..... معراج میں جو آنحضرت ﷺ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے۔ وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ج، ح، خزائن ج ١٦

ص ٢٢،٢١)

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٩

دجال اکبر اور دمشق

”اخرج نعیم بن حماد فی کتاب الفتن قال یتوجہ الدجال فینزل عند باب دمشق الشرقی ثم یظھر بالمشرق فیعطی الخلافۃ“ پیغمبر ﷺ نے فرمایا۔ دجال اکبر متوجہ ہوگا۔ سو وہ دمشق کے شرقی جانب شرقی دروازے کے پاس اترے گا۔ پھر مشرق کی طرف ظاہر ہوگا۔ (یعنی اپنے مرکز مشرق میں آوے گا) سو وہ خلافت دیا جاوے گا۔ یعنی مسند خلافت پر بیٹھ جاوے گا۔

(کذا فی فتح الباری ج٢٩)

یتوجہ کا لفظ بتلا رہا ہے کہ وہ کسی بڑے کام کی تیاری کرے گا اور ”فینزل عند باب دمشق الشرقی“ سے معلوم ہو رہا ہے کہ وہ کسی اہم سفر کی تیاری کرے گا۔ جس میں وہ دمشق میں بھی آوے گا اور شہر کے مشرقی جانب ٹھہرے گا اور لفظ ”فیعطی الخلافۃ“ سے ثابت ہورہا ہے کہ اس میں کسی خلیفہ دجال کا ذکر ہے۔ سو یہ علامت بھی مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے کہ ان کے فرزند و خلیفہ مرزا محمود احمد نے سفر ولایت کی تیاری کی اور اس سفر میں وہ دمشق میں بھی گئے اور شہر کے شرقی جانب ٹھہرے۔ پھر اس سفر کو طے کر کے مشرق کی طرف اپنے مرکز قادیان میں آگئے اور بدستور مسند خلافت پر بیٹھ گئے۔

دجال صدی کے سر پر ظاہر ہوگا

چنانچہ حجج الکرامہ میں لکھا ہے۔ ”دربارہ دجال لعین آمدہ کہ خروج وے برسر مائتہ خواہد بود۔“

(حجج الکرامہ

ص١٣٤، ٣٩٤)

چنانچہ مرزا قادیانی بھی ٹھیک صدی کے سر پر ظاہر ہوا۔

دجال کا خروج غیر اسلامی حکومت میں ہوگا

پیغمبر ﷺ نے فرمایا: ”فتكون اية خروجه تركهم الامر بالمعروف والنهي عن المنكر ٭ وضيعوا الحكم وكثرت القراء وقلة الفقهاء وعطلت الحدود (کنز العمال ج٧)“ یعنی خروج دجال کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے زمانہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر متروک ہوگا اور اسلامی حدود معطل ہوں گی۔ چنانچہ مرزا قادیانی ایسے ہی وقت میں ظاہر ہوا۔

٢١

صفحہ ٢٢

اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزمانہ خروج دجال غیر اسلامی سلطنت ہوگی۔ جس میں حدود اسلامی کی بجائے طاغوتی قوانین وحدود کا نفاذ ہوگا اور اس غیر اسلامی حکومت میں وہ ظاہر ہوگا اور اس کے زیر سایہ وہ اپنے فتنہ کو پھیلائے گا۔ چنانچہ ٹھیک اسی طرح واقع میں ہوا۔ تفصیل وتشریح کی کوئی حاجت نہیں۔

دجال کا اپنے مرکز سے اخراج

پیغمبر ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”فيخرج الدجال فى اعراض الناس فيهزم من قبل المشرق فاول مصر يرده المصر الذى بملتقى البحرين (اخرجه احمد وطبراني والحاكم، درمنثور)“

دجال لوگوں کے درمیان ہو کر نکلے گا اور وہ مشرق کی طرف سے شکست دیا جاوے گا۔ یعنی شکست کھا کر اپنے مرکز مشرق سے نکلے گا۔ سو پہلا شہر کہ جہاں وہ وارد ہوگا۔ وہ ایسا ہوگا کہ جہاں دو دریا آپس میں ملتے ہوں گے۔ پھر لوگوں کے درمیان ہو کر نکلنے سے یہ بھی معلوم ہورہا ہے کہ اس وقت اور بھی بہت سے لوگ مشرق کی طرف سے نکالے جاویں گے۔ جس پر وہ انہیں کے درمیان ہو کر نکلے گا۔

چنانچہ دیکھ لو یہ علامت بھی نہایت صفائی سے مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے کہ ان کا سب خاندان اور خلیفہ اور متبعین اور مبلغین مشرق کی طرف سے یعنی مرکز قادیان سے ہزیمت خوردہ ہو کر نکالے گئے ہیں۔ پھر یہ سب دوسرے لوگوں کے درمیان ہو کر نکلے ہیں۔ پھر اس کے بعد موافق خبر حدیث کے انہوں نے شہر چنیوٹ میں آ کر ڈیرہ لگایا ہے۔ جو ملتقى البحرین ہے۔ جو دریا کے کنارے واقع ہے اور جہاں دو دریا ہو کر آپس میں پھر اسی مقام پر مل جاتے ہیں۔ پھر حدیثوں میں آتا ہے کہ وہاں پہاڑیاں بھی ہوں گی۔ سو یہاں پہاڑیاں بھی ہیں۔

تو بتلایئے! کیا ایسی تصریحات کے بعد پھر بھی مرزا قادیانی کے المسیح الدجال ہونے میں کچھ شک و شبہ رہ جاتا ہے؟

اگرچہ دجال کی چند اور علامات بھی ہیں۔ مگر سردست انہی علامات پر اکتفا کی جاتی ہے اور اگر ناظرین نے اس سلسلہ کو پسند کیا تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی پیش گوئیاں بیان کی جاویں گی۔ جو کہ خاص مرزا قادیانی کے بارہ میں ارشاد ہوئی ہیں۔

PDF 143

انا خاتم النبیین ﷺ لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

حیات عیسیٰ علیہ السلام

حضرت مولانا مہر الدینؒ

صفحہ ١٤٢

پیش لفظ

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

الحمد لله رب العالمين والعاقبة للمتقين والصلوة والسلام على خاتم النبيين واله الطاهرين واصحابه الكاملين اجمعين ٠ اما بعد!

یہ کمترین ہیچمدان محمد مہر الدین بن چوہدری روشن الدین حفظہما اللہ عن کل عیب ورین حضرات باانصاف سے عرض پرداز ہے کہ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جس طرح دین اسلام اپنی ظاہری اور باطنی حقیقت کی مثال نہیں رکھتا۔ اسی طرح برعکس اس کے ہر دور میں بعض بد باطن افراد ایسے پیدا ہوتے رہے، جن کا مقصد حیات اسلامی نظریات پر کیچڑ اچھالنے کے سوا اور کچھ نہ رہا مگر یہ موجودہ دور اس اعتبار سے زیادہ ہی خطرناک ہے۔ کیونکہ خود مسلمانوں میں شومی قسمت سے ایسے اشخاص نمودار ہو گئے ہیں۔ جنہوں نے حصار اسلام کی سنگین اور مستحکم بنیادوں کو اپنے ناپاک حربوں سے کھوکھلا کرنے کی سعی مطرود شروع کر رکھی ہے۔ بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جتنا نقصان ان گندم نما اور جو فروش حضرات نے اسلام کو پہنچا ہے۔ وہ کفار ومشرکین اور دیگر متعصبین کے نقصان سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن اب تو حد ہو گئی کہ یہ بداندیش مصلحین و متقین کا لباس اوڑھ کر عوام کے سامنے رونما ہوتے ہیں اور اپنے دجل و فریبی تصورات سے دوسروں کو متاثر کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں اور پھر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ملک وملت کی بے مثال خدمت کی ہے اور قوم کو شاہراہ ترقی پر گامزن کر دیا ہے اور اقوام عالم کی فہرست میں قوم کو ایک مرتبہ پر لا کھڑا کیا ہے۔ حالانکہ ملک وملت کی تباہی وبربادی اور اسلامی نظریات میں تزلزل معتقدات شرعیہ میں تذبذب انہی مکاروں اور منافقین کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان منافقین اور مفسدین نے اپنی ابلیسانہ فریبوں سے محض اپنی خواہشات نفسیہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے جس طرح اسلامی مسائل کو تختہ مشق بنا رکھا ہے۔ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ مگر الحمد للہ کہ دین وملت کی حفاظت اور نگرانی کے لئے قدرت ایسے مخلص اور نیک طینت افراد پیدا کرتی رہی جو ایسے مکاروں کی عیاریوں اور فریب کاریوں سے قوم اور عوام کو لگا تار آگاہ کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ علمائے ربانی کثرہم اللہ سوادہم کے متواتر تنبیہ اور آگاہ کرنے کے ساتھ پھر بھی بعض افراد خطرناک اور مہلک ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو کہ ملت ومذہب کے لئے انتہائی طور پر قلق واضطراب کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ان سے ایک

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٣

مرزائی گروہ ہے کہ انگریز نے جھوٹی نبوت کی تخلیق و ایجاد کر کے اور اس کی بڑے اہتمام سے اپنے زیر سایہ پرورش کر کے اسلام پر جو گہری ضرب لگائی ہے وہ ملت اسلامیہ کے لئے خطرناک نتائج کا پیش خیمہ بن رہی ہے۔ مولیٰ تعالیٰ اس کے مفاسد سے اہل اسلام کو محفوظ رکھے۔

مرزائیت انگریز کا خودکاشتہ پودا

مختصر یہ کہ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی مسلمان اور انگریز کے مابین اسلام اور کفر کی آخری جنگ تھی جو لڑی گئی۔ جس میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور مسلمانوں کے دل جس کی وجہ سے دو نیم ہو گئے۔ مگر زخم خوردہ شیر غراں کی طرح موقع کی تلاش میں رہے کہ موقع پا کر شکست کا بدلہ لیں۔ مگر انگریز کی شاطرانہ پالیسی نے دوبارہ موقعہ نہ دیا۔ بلکہ اس نے اپنے قدم مضبوط کرنے کے لئے سازشی تحریکوں کا آغاز کیا۔ منجملہ ان دیگر قسم کی تحریکوں کے خلاف دینی اور مذہبی محاذ پر قادیانی سازش کی بنیاد ڈال کر اسے اپنے زیر سایہ کماحقہ پروان چڑھایا۔ نیز ایک کمیشن لندن سے ہندوستان بھیجا۔ تاکہ وہ انگریزوں کے متعلق مسلمانوں کا مزاج معلوم کرے اور آئندہ مسلم قوم کو دائمی طور پر مطیع کرنے کی تجاویز مرتب کرے۔ اس کمیشن نے سال کے بعد ہندوستان رہ کر جو حالات معلوم کئے ان کی رپورٹ پیش کی۔ ١٨٧٠ء میں وائٹ ہاؤس لندن میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں کمیشن مذکور کے نمائندگان کے علاوہ ہندوستان میں متعین مشنری کے پادری بھی دعوت خاص میں شریک ہوئے۔ جس میں دونوں نے علیحدہ علیحدہ رپورٹ پیش کی جو کہ ”دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا“ کے نام سے شائع کی گئیں۔

رپورٹ سر براہ کمیشن سرولیم ہنٹر

مسلمانوں کا مذہباً عقیدہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کے زیر سایہ نہیں رہ سکتے اور ان کے لئے غیر ملکی حکومت کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے۔ جہاد کے اس تصور میں مسلمانوں کے لئے ایک جوش اور ولولہ ہے اور وہ جہاد کے لئے ہر وقت ہر لمحہ تیار ہیں۔ ان کی یہ کیفیت کسی وقت بھی انہیں حکومت کے خلاف ابھار سکتی ہے۔

ناظرین! ان الفاظ کو بار بار پڑھیں اور اندازہ لگائیں کہ مسلمانوں کے لئے جہاد کتنی اہمیت رکھتا ہے؟ گویا مسلمان اور جہاد لازمی اور دائمی طور پر لازم ملزوم ہیں کہ دونوں میں افتراق ناممکن ہے۔

٣

صفحہ ١٤٤

بڑی رپورٹ پادری صاحبان

”یہاں تک کے باشندوں کی ایک بہت اکثریت پیری مریدی کے رجحانات کی حامل ہے۔ اگر اس وقت ہم کسی ایسے غدار کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں جو ظلی نبوت کا دعویٰ کرنے کو تیار ہو جائے تو اس کے حلقہ نبوت میں ہزاروں لوگ جوق در جوق شامل ہو جائیں گے۔ لیکن مسلمانوں میں اسے اس قسم کے دعویٰ کے لئے کسی کو تیار کرنا ہی بنیادی کام ہے۔ یہ مشکل حل ہو جائے تو اس شخص کی نبوت کو حکومت کے زیر سایہ پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ ہم اس سے پہلے برصغیر کی تمام حکومتوں کو غدار تلاش کرنے کی حکمت عملی سے شکست دے چکے ہیں۔ وہ مرحلہ اور تھا اس وقت فوجی نقطہ نظر سے غداروں کی تلاش کی گئی تھی۔ لیکن اب جب کہ ہم برصغیر کے چپہ چپہ پر حکمران ہیں اور ہر طرف امن وامان بحال ہو چکا ہے تو ان حالات میں ہمیں کسی ایسے منصوبے پر عمل کرنا چاہئے جو یہاں کے باشندوں کے داخلی انتشار کا باعث ہو۔“

اقتباس از مطبوعہ رپورٹ کانفرنس وائٹ ہال لندن منعقدہ ١٨٧٠ء دی آرائیول آف برٹش ان انڈیا۔

ناظرین! ملاحظہ فرمائیں۔ ان الفاظ کو مکرر، سہ کرر مطالعہ فرمائیں کہ ہندوستان کی دینی اور ملکی اقتدار کی صورت کو ختم کرنے کے لئے دینی اور دنیاوی غداروں کا سہارا لیا گیا اور یہ کہ ظلی نبوت کے اجراء کو اس مقصد کے حصول کے لئے خاص اہمیت دی گئی اور یہ کہ ظلی نبوت اور ایسے ہی بروزی، مجازی، عرفی وغیرہ ساری نبوتوں کا محسن اعلیٰ باوا انگریز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ انعام ہرگز نہیں اور یہ کہ یہ ظلی نبوت انگریزی اقتدار کے سہارے پروان چڑھی اور چڑھ رہی ہے اور یہ کہ اس ظلی نبوت کو داخلی انتشار اور فتنہ و فساد وغیرہ کا سبب بنایا گیا اور یہ کہ اسی انگریزی ظلی نبوت کے انکار کو کفر و الحاد اور اس پر ایمان لانے کو حصول جنت کا ذریعہ بنایا گیا اور یہ کہ جہاد مسلم جو کہ شرعاً تا قیامت جاری رہے گا۔ مسلمان کی ذات کو لازم ہے۔ کس قدر واضح ہے کہ مرزا قادیانی کی یہ نبوت انگریز کا عطیہ ہے۔ جو مقاصد مذکورہ بالا کی تکمیل کے لئے عطا ہوا۔ چونکہ اسی جہاد سے انگریز کی غاصبانہ مفسدانہ اقتدار کو خطرہ لاحق ہونے کا امکان تھا۔ اس واسطے جہاد کی ممانعت انگریز کے اشارہ پر اور اس کی رضا کے لئے اس قدر مرزا قادیانی نے کتابیں لکھ ماریں کہ پچاسوں الماریوں میں نہ سما سکیں۔ افسوس مرزا قادیانی نے حرص و ہوا سے مرتد ہونا پسند کیا اور دامن مصطفیٰ ﷺ کو ہاتھ سے چھوڑ دیا۔

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٥
بریں علم وایمان بباید گریست

اور حقیقت یہ ہے کہ ١٨٧٠ء کی لندن کانفرنس کا انعقاد ایک رسمی کارروائی تھی۔ حالانکہ اس سے پیشتر حکومت برطانیہ ہندوستان میں ایک پشتینی خوشامدی حکومت پرست خانوادے کی تلاش میں کامیاب ہو چکی تھی۔ یہ خاندان شروع ہی سے حکومت کے کاسہ لیس اور وفاداری کا دم بھرنے والے لوگوں میں سے صف اوّل کا خاندان تھا۔ جس کی تصدیق کے لئے مرزا قادیانی کا اپنا بیان کافی ہے۔ مرزا قادیانی اپنے خاندان اور حکومت برطانیہ کے دیرینہ تعلقات کے ثبوت میں تحریر فرماتے ہیں۔

”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس حکومت کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریز کی مدد کی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریز کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں۔ مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں۔ ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے دادا صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی غلام قادر خدمات سرکار میں مصروف رہا اور جب ترموں کے گذر پر مفسدوں کا سرکار انگریز کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریز کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔“

(حوالہ اشتہار واجب الاظہار مورخہ ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٤٥٩)

مرزا قادیانی کی انگریزی ظلی نبوت اور اس کی پیداوار

مرزا قادیانی ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء قادیان میں پیدا ہوئے۔ چند کتابیں گھر پر پڑھیں۔ والد کے حکم سے پھر زمینداری کے کام سرانجام دینے لگے۔ والد کے انتقال کے بعد والدہ کی مرضی سے سیالکوٹ کسی دفتر میں پندرہ روپے پر ملازم ہو گئے۔ پھر چار سال کے بعد مختار کاری کا امتحان دیا۔ مگر فیل ہو گئے۔ عرصہ ملازمت میں ایک دو کتابیں انگریزی کی بھی پڑھ لیں۔ گزارہ نہ ہوتا تھا۔ ملازمت چھوڑ کر گھر آ گئے۔ قرآن اور حدیثوں کا مطالعہ شروع کر دیا۔

(کتاب البریہ ص ١٥٩ تا ١٦٣، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧ تا ١٨١، سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٣٣، ١٥٥، ١٥٦)

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٦

مرزا قادیانی کی مالی حالت

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”مجھے اپنے دستر خوان اور روٹی کی فکر تھی۔“

(نزول المسیح ص ١١٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٦)

”اسی قصبہ قادیان کے تمام لوگ اور دوسرے ہزار ہا لوگ جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں در حقیقت میں اس مردہ کی طرح تھا جو قبر میں صد ہا سال سے مدفون ہو اور کوئی نہ جانتا ہو کہ یہ قبر کس کی ہے۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢

ص ٤٦١)

”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں...... بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧

ص ٤٧٠)

ناظرین! اندازہ لگائیں کہ مرزا قادیانی کی ابتدائی زندگی کس نوعیت کی تھی۔ مگر آخری زندگی کہ جب ظلی نبوت انگریز بالا نے عطا کی، پھر کیا کہنا کہ جب انگریز سازشی کھونٹے پر باندھ کر اس کی پرورش کرتا ہے تو وہ بحق انگریز ایسی مداحی کرتا ہے کہ انگریزی حکومت پر رحمت الٰہی کا گمان ہونے لگتا ہے اور دوسری طرف اپنے مخالفین کی قولاً و فعلاً وہ یلغار کرتا ہے کہ شیطان کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کیا مجال کہ دوران تبلیغ مرزا قادیانی کو کہیں کسی قسم کی رکاوٹ یا نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ بلکہ آج تک اسے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ بہر صورت ظلی نبوت کے محسن حضرات نے اس کو اس قدر پروان چڑھایا کہ مرزا قادیانی نے مرتے دم تک نہ یہ کہ اس کی حمایت میں سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ بلکہ اس کی وصیت بھی کر دی۔ تسلی کے لئے ایک دو حوالے اور سماع فرمائیے۔ ١٨٥٧ء کے انقلاب (یا غدر دہلی) کے متعلق لکھتے ہیں: ”ان لوگوں نے یعنی مسلمانوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسنہ گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کر دیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٤٧٢، خزائن

ج ٣ ص ٤٩٠)

”سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا رسول سے سرکشی کرتے ہیں...... جب ہم ایسے بادشاہ کی صدق دل سے اطاعت کرتے ہیں تو گویا اس وقت عبادت کر رہے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن گورنمنٹ کی توجہ کے لئے ص ٨٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨١)

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٧

” (گورنمنٹ انگلینڈ) خدا کی نعمتوں سے ایک نعمت ہے۔ یہ ایک عظیم الشان رحمت ہے۔ یہ سلطنت مسلمانوں کے لئے آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے۔“

(شہادۃ القرآن گورنمنٹ کی توجہ کے لئے ص ٩٢، خزائن ج ٦ ص ٣٨٨)

”میں نے سترہ سال مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل وجان خیرخواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ پرچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔“

(کتاب البریہ ص ١٠، گورنمنٹ عالیہ قیصرہ ہند، خزائن ج ١٣ ص ١٠)

مرزا قادیانی اور مسئلہ جہاد

”گورنمنٹ انگلینڈ خدا کی نعمتوں سے ایک نعمت ہے۔ یہ کہ ایک عظیم الشان رحمت ہے۔ یہ سلطنت مسلمانوں کے لئے آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے۔ خداوند کریم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لئے ایک باران رحمت بھیجا۔ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا حرام ہے۔“

(شہادۃ القرآن ضمیمہ گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٩٢، ٩٣، خزائن ج ٦ ص ٣٨٨، ٣٨٩)

”جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ہی مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح ومہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(ضمیمہ کتاب البریہ اشتہار بحضور نواب ص ١١، خزائن ج ١٣ ص ٣٢٧)

”مرزا قادیانی کی عرضی بخدمت گورنمنٹ پنجاب ٢٤ فروری ١٨٩٨ء میں نے مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابیں تمام ممالک عرب مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچادی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

”میں ایک حکم لے کر آپ کے پاس آیا ہوں۔ یہ کہ تلوار سے جہاد کا خاتمہ ہے۔

اقتباس از فیصلہ جناب محمد اکبر۔“

(ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی مورخہ ٣ جون

١٩٥٥ء)

٧

صفحہ ١٤٨

”اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے۔ میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں۔“

(حوالہ منیر رپورٹ)

”اس زمانہ میں جہاد کرنا یعنی اسلام کے لئے لڑنا بالکل حرام ہے۔ مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

(اربعین نمبر ٤ حاشیہ ص ١٣، خزائن ج ١٧

ص ٤٤٣)

ان حوالہ جات مذکورہ بالا کا ماحصل

ناظرین کرام! آپ کو مندرجات بالا سے مندرجہ ذیل امور روز روشن کی طرح واضح ہوگئے ہوں گے۔

کرنے کے لئے یہ سازش کی تھی کہ اقوام ہند بالخصوص مسلمانوں کو خارجی اور داخلی انتشار میں مبتلا کرنے کی سازشیں کریں۔ تاکہ ان کے اقتدار اور حکومت کو کسی طرح کا خطرہ نہ رہے اور وہ ہر طرح کی من مانی کاروائی کرسکیں۔ اس کے معنی یہ کہ کسی ایسے غدار کی تلاش کرے جو کسی لالچ کی وجہ سے ہمارا آلہ کار بن سکے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا خاندان جو کہ پہلے سے انگریز کا وفادار تھا۔ اس بات کا ذمہ دار بنے گا۔

اثر رسوخ سے بھی ہمارا حلقہ اقتدار مکمل کرے۔

کے مرتکب کو جہنمی وغیرہ قرار دیا۔

کرتے ہوئے اپنی اختراعی و نفسانی تبلیغ کی۔

اپنے تمام عقیدت مندان کو اپنی بیعت لینے میں یہ شرط کر دی کہ وہ ظاہری و باطنی طور پر انگریز کے فرمانبردار رہیں اور اس کی تبلیغ کریں۔

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤٩

نعمت اور برکت جائے پناہ وغیرہ قرار دیا ہے۔

علمائے کرام مثلاً مولانا فضل الحق خیر آبادی، حافظ محمد نعیم الدین مراد آبادی وغیرہم بھی شامل تھے۔ ان مجاہدین کو چور ڈاکو بداندیش وغیرہ غیر مہذب الفاظ سے موسوم کیا ہے۔ مرزا قادیانی کا خاندان اس جنگ میں انگریز کے ساتھ رہا۔ عملی طور پر پچاس گھوڑ سوار دے کر امداد کی مسلمانوں کو پریشان کیا اور مرزا قادیانی نے جہاد کے خلاف پچاس الماریوں کی مقدار کتابیں اور اشتہارات چھپوا کر عرب و عجم کے چپہ چپہ میں پھیلا دیں۔

شمار رعایتیں دے کر مالا مال کیا اور آج تک کر رہا ہے۔

تمام انبیاء سے بڑھ گئے۔ بلکہ خود خدا بھی بن گئے۔ استغفر اللہ!

حقائق کا انکار

ناظرین حضرات! بلاشبہ مرزا قادیانی نے باوجودیکہ اپنے کو مسلمان اور حضور اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا امتی کہنے میں کس قدر جسارت اور بے باکی کا ثبوت دیا ہے۔ قرآن وحدیث امت کے مقررات ومسلمات کا انکار کر دیا اور دائرہ اخلاقیات سے نکل گئے۔ انگریز جس کو قرآن وحدیث وحالات نے اسلام اور اہل اسلام کا بدترین دشمن قرار دیا ہے۔ جس انگریز کو ایک لمحہ کے لئے مسلمانوں کی خیر و بہبود برداشت اور گوارا نہیں۔ اس کو مسلمان کے لئے نعمت، رحمت باران کرم وغیرہ کہنا کس قدر قدرت کو چیلنج ہے۔ کیا جس انگریز نے دھوکہ، مکروفریب اور غاصبانہ، مفسدانہ طور پر مسلمانوں کے ملک پر لاکھوں میل دور سے آکر حملہ کیا۔ ایسے خونخوار حملہ آور کا عزت و ناموس اور شعائر اسلامیہ کو بچانے کے لئے دفاع کرنا حرام ہے۔ ناجائز ہے؟ اور کیا ایسے خونخوار حملہ آور کا اپنے ملک سے لاکھوں میل دور آکر کون سی شرافت اور قابل تعریف اقدام ہے؟ کیا انگریز کو انجیل وبائبل ایسی اجازت دیتا ہے؟ ہر گز نہیں، ہر گز نہیں۔ کیا ایسے دشمن کی امداد کرنا یہ اسلام دشمنی نہیں ہے؟ اور اسلام دشمنی شرعی نقطہ نظر سے مسلمانوں کو جائز ہے؟ کیا دشمن اسلام کے لئے شریعت کو بدلنا اور امت کے مسلمات کو ٹھکرانا یہ ایمان ہے؟ کیا قرآن وحدیث کو چھوڑ کر انجیل وغیرہ کی پناہ

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٠

لینا نا قابل عفو جرم نہیں ہے؟ کیا انگریز کے نظریات جو کہ سراسر اسلامی نظریات کی ضد ہیں، کو دنیا بھر میں پھیلانا حتیٰ کہ اپنی اولاد اور متبعین کو بھی اس کی وصیت کرنا، کیا یہ اسلام ہے؟ ایمان ہے؟ ہرگز ہرگز نہیں یہ مرزا قادیانی کی نیت فاسدہ کا پس منظر ہے۔ اسی طرح جہاد کا مسئلہ جو کہ شرعی حیثیت کے علاوہ دنیاوی طور پر بھی قوم کی بقا و فنا کا مسئلہ ہے جو قوم مجاہدانہ زندگی بسر کرے گی محنتی ہوگی ، جفاکش ہوگی ۔ وہ یقینی طور پر دنیا میں کامران اور فتح یاب ہوگی۔ آزادی کی دولت سے سرشار ہوگی۔ اس کی عزت و ناموس اور معمولات زندگی شرافت، سیادت، امارت، سیاست وغیرہ پر کبھی آنچ نہیں آئے گی اور پھر جب کہ مسلمان کو شرعی ہدایت ہو کہ اس کا سودا ہو چکا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کا نام بلند کرنے کے لئے دائمی طور پر برسر پیکار اور سر بکف مجاہد اور سپاہی ہے، تو بھلا فرمائیے کہ پھر مسلمان کیسے جہاد کو ترک کر سکتا ہے؟ اور کیسے وہ غافل اور محنت چھوڑ کر اپنے مال و جان ، عزت و وقار کو خطرہ میں ڈال سکتا ہے۔ کیا وہ عمداً وارادۃً اور پھر دشمن اسلام کے کہنے پر دشمن کو راضی کرنے کے لئے شریعت کی مخالفت کر سکتا ہے۔ ہرگز ہرگز نہیں۔ بہر صورت جہاد اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی نگہداشت جو کہ جہاد کا ثمرہ ہے۔ مسلمان کا شرعی بلکہ فطری نقطہ حیات ہے۔ جس کو وہ زندگی بھر ہر وقت ہر طرح معمول بنانے پر مجبور ہے۔ کیونکہ اس کی یہی بقا ہے۔ الغرض مرزا قادیانی نے جو کچھ کیا وہ محض اپنی دنیاوی حرص و ہوا کی تکمیل کے لئے کیا ہے اور عزت و وقار کے لئے کیا ہے۔ حالانکہ عزت، ذلت، فقر وغنا، راحت بقا وفنا سب اللہ سبحانہ کے ہاتھ ہے۔ مرزا قادیانی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ مگر افسوس صد افسوس کہ وہ کر گئے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون! والی اللہ المشتکی

بہر صورت مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد فاسدہ باطلہ تو ایک طویل فہرست رکھتے ہیں ۔ جو کہ اپنی مصنوعی نبوت کے ثبوت وبقا کے لئے جمہور اسلام کے برخلاف کھڑے کئے گئے ہیں اور ان کی صحت اور استحکام ہی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔ ان میں سے ایک عقیدہ فاسدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور جس عیسیٰ بن مریم کے آنے کی احادیث میں خبر آئی ہے۔ اس کا مصداق صرف اور محض میں ہوں اور اہل اسلام کا یہ عقیدہ کہ عیسیٰ بن مریم آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اور قیامت کے قریب وہ آسمان سے اتریں گے۔ بالکل غلط ہے اور جو ایسا عقیدہ رکھتے ہیں اور مجھ کو مسیح اور نبی نہیں مانتے وہ نہ صرف یہ کہ گمراہ ہیں۔ بلکہ بے

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥١

دین، کافر، جہنمی ہیں۔ لہذا قرآن واحادیث وادلہ شرعیہ سے مسئلہ حیات مسیح ودیگر بعض ضروری امور پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اللہ سبحانہ، وتعالیٰ ہم سب کو صحیح عقیدہ رکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین!

مسئلہ حیات مسیح

حیات مسیح کے مسئلہ سے یہ یقین کر لینا ضروری ہے کہ اس مسئلہ کو مسئلہ ختم نبوت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ بالفرض والتقدیر اگر حیات مسیح ثابت نہ ہو سکے تو بھی حضور پرنور ﷺ سب سے آخری نبی ورسول ہیں۔ آپ کے زمانہ یا بعد میں کسی قسم کی نبوت کے جائز ہونے کا دعویٰ کرنا قرآن وحدیث اور مسلک جمہور اسلام کا صریح انکار ہے جو کہ کفر ہے۔

منشاء نزاع

اہل اسلام اور جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، خدا تعالیٰ کے اولوالعزم نبی ورسول جو کہ بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے وہ بوقت صعود الی السماء بقید حیات تھے اور ان کو روح وجسم ہر دو کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا اور وہ آج تک آسمان پر زندہ ہیں اور قیام قیامت سے پہلے آسمان سے زمین پر اتریں گے۔

مسئلہ کی تنقیح کے لئے معیاری امور

ناظرین! پہلے اس کے کہ مسئلہ حیات مسیح پر شرعی دلیلوں سے روشنی ڈالی جائے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند ضروری امور جو کہ مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ایک معیاری حیثیت رکھتے ہیں۔ ذکر کرتے جائیں تاکہ ان کی روشنی میں مسئلہ کو سمجھنے میں سہولت ہو اور بغیر کسی دقت کے صحیح نظریہ پر پہنچا جا سکے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ہر شخص کا اپنے ہی خیال سے اس کا صحیح العقیدہ ہونا درست نہیں ہوسکتا۔ تا وقتیکہ وہ کسی معیار صداقت، عقلی اور نقلی کے ماتحت ہوکر اپنے خیالات کا اظہار نہ کرے۔ آج گو روئے زمین پر متعدد گروہ اپنے اپنے لباس میں نمودار ہیں اور ہر ایک اپنی ہی حقانیت کا بآواز دہل چیلنج کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ لیکن درحقیقت صحیح وہی ہوسکتا ہے جو کہ نقلی وعقلی اور قدرتی قانون اور ضابطہ کے موافق ہوگا اور جو اس کا مخالف ہوگا بالخصوص اپنے تسلیم کردہ اصول وضوابط کا ہی، وہ کاذب اور یقینی طور پر جھوٹا ہوگا۔

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٢

قرآن مجید اور معیار صداقت

”یایھاالذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شیئ فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الأخر“

{اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحب امر لوگوں کی، پھر اگر کسی چیز میں تنازع پیدا ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لے جاؤ۔ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہو۔}

دیکھئے! کیسا صاف فیصلہ فرمایا ہے کہ متنازعہ فیہ امر میں فیصلہ کرنے والی فقط دو چیزیں ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کا کلام پاک، قرآن مجید اور دوسری حدیث پاک، تیسری کوئی چیز نہیں۔ کیونکہ اور سب دلیلیں ان دونوں کی طرف رجوع کرتی ہیں۔ پھر کس قدر اس پر تنبیہ فرما کر اس کو مستحکم کیا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ اور قیامت کو مانتے ہو تو فیصلہ کن صرف دو ہی امر ہیں۔ پس انہی دو سے فیصلہ کرو۔ ورنہ تم ایمان دار نہیں۔ بہرصورت ثابت ہوا کہ مسلمان بحیثیت مسلمان ہونے کے اس صریح اور ناطق فیصلے سے گریز نہیں کر سکتا۔ جب کبھی امر متنازعہ فیہ میں فیصلہ لے گا تو انہی دو سے لے گا۔

مرزا قادیانی بانی فرقہ مرزائیہ کا نظریہ

اشتہار ١٢؍اکتوبر ١٨٩١ء میں مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“ (مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣٠)

”میں اسلامی عقائد کو مانتا ہوں۔ اہل سنت و جماعت کے ہاں جو چیزیں اور عقائد قرآن وحدیث کی رو سے ثابت ہیں۔ ان سب کو مانتا ہوں اور آنحضرت ﷺ ختم المرسلین کے بعد اور کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو پکا کافر جانتا ہوں۔“ خلاصہ یہ کہ ہر امر میں قرآن وحدیث فیصلہ ناطق ہے۔ پس (ایام صلح ص٨٧، خزائن ج١٤ ص٣٢٣) میں مرزا قادیانی

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٣

لکھتے ہیں: ”غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کا اعتقادی و عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو کہ اہل سنت و جماعت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں۔ ان سب کا ماننا فرض ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٦٦)

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”یاد رہے کہ ہمارے مخالفین کے صدق و کذب کو آزمانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات و حیات ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں اور اگر وہ درحقیقت قرآن کریم کی رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں۔ اب قرآن درمیان ہے اس کو سوچو۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠٢، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٤)

مرزا قادیانی اور معیار تفسیر قرآن مجید

(کتاب برکات الدعاء ص ١٨، ١٩، خزائن ج ٦ ص ١٨، ١٩) پر ہے کہ: ”قرآن مجید کی ایک آیت کے معنی معلوم کریں تو ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ان معنوں کی تصدیق کے لئے دوسرے شواہد قرآن کریم سے ملتے ہیں یا نہیں۔“

سب سے زیادہ قرآن کے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت محمد ﷺ تھے۔ پس اگر آنحضرت ﷺ سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ تسلیم کرے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور زندقہ فلسفیت کی رگ ہوگی۔ تیسرا معیار تفسیر صحابہؓ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہ کرامؓ آنحضرت ﷺ کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی۔“

ہے۔“

وسائل آپ اس قدر قائم کر دیئے ہیں کہ چنداں لغت عرب کی تفتیش کی حاجت نہیں۔“ الحمدللہ ! کہ مرزا قادیانی نے اہل سنت و جماعت کے مقرر کردہ معیاروں سے چار تسلیم کر لئے ہیں۔ صرف

١٣

صفحہ ١٥٢

تابعین کی تفسیر کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ تفسیر بالرائے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ قرآن کریم کی تفسیر کسی نے اپنے خیال سے کی، اچھی کی، تب بھی اس نے بری تفسیر کی۔ قرآن مجید کے معانی و مطالب سب سے زیادہ قابل قبول ہوں گے۔ جن کی تائید قرآن مجید کی دوسری آیات سے ہوتی ہو۔ یعنی شواہد قرآنی سے۔ (تفسیر ابن کثیر جلد اوّل ص ٤ تا ٧ اور تفسیر ترجمان القرآن لطائف البیان ج ١ ص ١٥ تا ١٧) پر قرآن مجید کے اصول تفسیر ملاحظہ ہوں۔

ہوتی ہے اور دوسری جگہ مفصل۔ جو تفسیر قرآن حکیم کی آنحضرت ﷺ نے کی ہے وہ ہر چیز پر مقدم ہے۔ بلکہ وہی ساری امت پر حجت ہے۔ اس کے خلاف کرنا یا کہنا ہرگز جائز نہیں۔ اس کی تقلید سب پر واجب ہے۔ حضرت امام شافعیؒ نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو دیا ہے وہ قرآن سے سمجھ کر دیا ہے۔

سے تفسیر کرنی چاہئے۔ اس لئے کہ انہوں نے احوال قرائن اس وقت کے دیکھے بھالے تھے۔ وقت نزول قرآن وہ حاضر و موجود تھے۔ فہم قرآن میں کمال حاصل رکھتے تھے۔

اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ تابعین کے قول کو معیار مقرر کر لیا جائے۔

پھر سنت مطہرہ سے، پھر قول صحابی سے، پھر اجماع تابعین سے، پھر لغت عرب سے یہ پانچ اصول ہیں اور اپنی طرف سے کوئی بات نہ کہے۔ اگرچہ اچھی ہی کیوں نہ ہو اپنی رائے سے تفسیر کرنے والے کو جہنمی فرمایا ہے۔

تفسیر کی تو وہ شخص اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ اس روایت کو ترمذی نے حسن کہا ہے۔ نسائی اور ابو داؤد نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔

مجددین امت و صوفیاء ملت اگر کوئی بیان فرمائیں یا کلام الٰہی یا حدیث اور اقوال صحابہؓ کی تفہیم میں الجھن واقع ہو اور گمراہی کا خطرہ ہو اور یہ حضرات کسی طرح اسے حل فرمائیں تو ان کا

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٥

فیصلہ قبول کیا جائے گا۔ جیسا کہ ”فردوہ الی الذین یستبطونہ ٠ ...... فاسئلوا اھل الذکر“ وغیرہ آیات سے ثابت ہوتا ہے، حدیث میں ہے: ”ان اللہ یبعث لھذا الامۃ علی راس کل مائہ سنۃ من یجدد لھا دینھا... لن تجتمع امتی علی الضلالۃ“ وغیرہ سے ظاہر ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”جولوگ خدا کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں۔ وہ نرے استخوان فروش نہیں ہوتے۔ بلکہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انہیں تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں۔“

(فتح اسلام ص٩، خزائن ج٣ ص٧)

”مجدد کا علوم لدنیہ اور آیات سماویہ کے ساتھ آنا ضروری ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٥٤، خزائن ج٣ ص١٧٨، ١٧٩)

”گم شدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں۔ یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے وہ فرماتا ہے۔ ”و من کفر بعد ذالک فاولئک ھم الفاسقون“

(شہادۃ القرآن ص٤٨، خزائن ج٦

ص ٣٤٤)

”مجددوں کو فہم قرآن عطا ہوتا ہے۔“

(ایام الصلح ص ٥٥، خزائن ج ١٤

ص ٢٨٨)

”مجدد مجملات کی تفصیل اور کتاب اللہ کے معارف بیان کرتا ہے۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٥، خزائن ج ٧ ص٢٩٠)

”مجدد خدا کی تجلیات کا مظہر ہوتا ہے۔“

(سراج دین عیسائی ص ١٥، خزائن ج ١٢

ص ٣٤١)

خلاصہ یہ ہوا کہ کلام اللہ اور حدیث صحیح کا مفہوم مجددین امت بیان کریں وہ قابل قبول ہے۔ اس کی مخالفت کرنے والا فاسق ہوتا ہے۔

”حدیث بالقسم میں تاویل او استثناء ناجائز ہے۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٢٦، خزائن ج ٧ ص١٩٢ حاشیہ)

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٦

”جو شخص کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے تو اس پر خدا اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور یہی مقصود ہے اور یہی میرا مدعیٰ ہے۔ مجھے اپنی قوم سے اصول اجماعی میں کوئی اختلاف نہیں ۔“

(انجام آتھم ص١٤٤، خزائن ج١١

ص١٤٤)

”مومن کا کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔“

(ازالہ اوہام ص٣٢٨، خزائن ج٣

ص٢٦٧)

خلاصہ ارشادات مذکورہ

فیصلہ کے لئے قرآن وحدیث اجماع اور صوفیاء کرام ،مجددین ملت کے قول وعمل کا اعتبار کیا جائے گا اور یہ کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات قرآن مجید سے ثابت ہو جائے تو ہم جھوٹے اور ہمارے سب دعوے جھوٹے ، اور یہ کہ پہلے حکم قرآن سے پھر حدیث ،پھر اجماع سے بہ ترتیب اخذ کیا جائے گا اور یہ کہ اہل سنت و جماعت کے عقائد اعمال حجت اور واجب العمل ہیں اور یہ کہ قرآن مجید وحدیث کے کسی معنی کی تفسیر میں قرآن مجید ،حدیث ،اقوال صحابہ ،لغت عرب، صرف نحو ،معانی، بیان بدیع کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ کیونکہ قرآن عربی زبان میں ہے جو کہ امور مذکورہ کے بغیر سمجھی نہیں جاسکتی۔

سوال...... جب نقل قرآن ہو یا حدیث۔ امور بالا پر موقوف ہے اور وہ چونکہ سب کے سب ظنی ہیں تو احتمال مجاز وغیرہ کا بھی ہو سکتا ہے تو قرآن ،احادیث کسی امر کی قطعیت کا کب مفید ہو سکیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اگر ثابت بھی ہو جائے تو قطعی طور پر نہ ہوگی۔

جواب...... جب ایسے امور وقرائن موجود ہوں جن کی وجہ سے یقین کا فائدہ حاصل ہو تو توقف اور احتمال مذکورہ کی وجہ سے نقل کی قطعیت باطل نہیں ہوتی۔ جیسے:

١...... ”لم يحج هو ﷺ بعد الهجرة الا حجة واحده“ یعنی آنحضرت ﷺ نے ہجرت کے بعد فقط ایک ہی حج کیا ہے۔

٢...... ”القرآن لم يعارضه احد“ یعنی قرآن مجید کا کسی نے معارضہ اور مقابلہ نہیں کیا۔

٣...... ”لم يؤذن فى العيدين والكسوف والاستسقاء“ یعنی عیدین

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٧

اور کسوف اور استسقاء میں آذان نہیں دی گئی۔

(شیخ طبرانی)

بہر صورت اگر سوال کو مان لیا جائے تو یہ خبریں سمعی قطعی الدلالۃ نہ رہیں گی جو کہ باطل ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ قرآن وحدیث وغیرہ سے جو چیز ثابت ہوگی وہ واجب الاتباع ہوگی۔

فائدہ...... جب کہ نقل وعقل ہر دو متعارض ہوں تو وہاں پر تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ دونوں قطعی، دونوں ظنی۔ ایک قطعی اور دوسری ظنی۔ تیسری صورت میں قطعی کو عقلی ہو یا نقلی، ظنی پر تقدیم حاصل ہے اور دوسری صورت میں باعتبار دلیلوں کے ترجیح دی جائے گی اور پہلی صورت فقط ایک احتمال ہی احتمال ہے۔ واقع میں اس کا وجود نہیں۔ کیونکہ دلیل قطعی اس کو کہتے ہیں جو کہ نفس الامر اور واقع میں ضروری واجب ہو۔ پس اگر دونوں ہی واقع میں ضروری اور واجب العمل ہوئیں تو اجتماع نقیضین لازم آئے گا جو کہ باطل ہے اور عقلی طور پر محال اور ناممکن ہے۔ اگر کوئی ایسی صورت بظاہر نظر آتی ہو تو وہاں پر واقع میں ایک ہی ضروری اور قطعی ہوگی اور دوسری غیر قطعی۔

قرآن مجید اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی

”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما

(النساء: ١٥٨، ١٥٧) ”{اور انہوں نے یقینی طور پر اس (عیسیٰ علیہ السلام) کو قتل نہیں کیا بلکہ اس کو اللہ نے اپنی طرف آسمانوں پر اٹھا لیا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔}

آیت مذکورہ سے وجوہ استدلال کا معیار

قرآن مجید کی اس آیت کریمہ سے حیات مسیح پر استدلال قائم کرنا بعض امور ضروریہ پر موقوف ہے۔ تا وقتیکہ ان کو بیان نہ کر دیا جائے۔ فہم مطالب میں نہایت دقت پیش آتی ہے۔ لہٰذا ان امور کو نہایت مختصر طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔

بحث القصر

قصر لغت میں حبس اور قید کو کہتے ہیں اور اصطلاح میں ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ایک خاص طریقہ سے خاص کر دینے کو کہتے ہیں۔ یعنی ان چار طریقوں میں سے ایک طریقہ کے ساتھ جن کا ذکر ابھی آتا ہے۔ جیسے ”انما زید قائم“ یعنی زید فقط قائم ہی ہے۔ اس میں لفظ انما کے ساتھ جو کہ قصر اور تخصیص کا مفید ہے، زید کو قیام پر مقصور کر دیا گیا ہے۔

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٨

قصر کی دو قسمیں ہیں۔ اصطلاحی اور غیر اصطلاحی۔ غیر اصطلاحی وہ ہے کہ ان الفاظ کے بغیر جو کہ قصر اور تخصیص کے مفید ہیں۔ کلام میں حصر اور تخصیص پیدا کر دی جائے۔ جیسے مثال مذکورہ میں یوں کہا جائے۔ ”زید مقصور علی القیام“ یعنی زید قیام پر ہی بند ہے۔

قصر اصطلاحی کی دو قسمیں ہیں۔ حقیقی و غیر حقیقی۔ حقیقی وہ ہے کہ ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ اس طور پر خاص کرنا کہ بغیر اس کے اس کے لئے اور کوئی چیز حقیقت اور واقع میں ثابت نہ ہو۔ جیسے ”ما خاتم الانبیاء الا محمدﷺ“ یعنی خاتم الانبیاء بجز جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے اور کوئی نہیں۔ یہاں پر وصف ختم نبوت کو آنحضرت ﷺ پر اس طور پر خاص کیا گیا ہے کہ کسی غیر کے لئے ثابت ہی نہیں۔ قصر غیر حقیقی و اضافی یہ ہے کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے لئے کسی خاص چیز کے لحاظ سے خاص کر دیا جائے۔ جیسا کہ ما زید الا قائم یعنی زید فقط قائم ہی ہے۔ یہاں پر زید کو وصف قیام پر بلحاظ وصف قعود کے مقصور کیا ہے۔ یعنی قعود زید کے لئے ثابت نہیں۔ گو دوسری کوئی وصف ثابت ہو، قصر حقیقی کی دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ ایک امر کو بطریق خاص ایک خاص وصف یعنی معنی پر بند کر دیا جائے۔ حتی کہ اس کے لئے اور کوئی وصف ثابت نہ ہو۔ جیسے ما زید الا کاتب، یعنی زید کے لئے بجز وصف کتابت کے اور کوئی چیز ثابت نہیں اور یہ قصر اگر واقع اور حقیقت کے لحاظ سے اعتبار کیا جائے تو قصر حقیقی کہلاتا ہے۔

اور اگر صرف مبالغہ اور ادعاء کے طور پر ہو تو اس کو قصر حقیقی ادعائی کہتے ہیں۔ یعنی قصر موصوف کا وصف پر تحقیقاً ہو یا ادعاءً اور یہ قسم واقع میں نہیں پائی جاتی کیونکہ یہ تب ہی متصور ہو سکتی ہے کہ ایک شئی کی جملہ اوصاف کا ہمیں علم ہو بعد ازاں ان میں سے ایک فقط ثابت کی جائے اور چونکہ ایک شئی کی تمام اوصاف کا احاطہ کرنا متعذر اور محال ہے اور انسانی قدرت سے خارج ہے۔ لہٰذا یہ قسم واقع میں موجود نہیں۔ دوسری قسم یہ ہے کہ ایک وصف کو دوسری چیز کے لئے اس طور پر مخصوص کر دیا جائے کہ یہ وصف کسی اور کے لئے ثابت نہ ہو۔ گو وہ چیز دوسری کسی اور وصف کے ساتھ متصف ہو۔ جیسے ما قام الا زید یعنی وصف قیام فقط زید کے لئے ثابت ہے۔ نہ غیر کے لئے تو زید دیگر اوصاف سے بھی متصف ہو یہ بھی اگر واقع اور حقیقت کے لحاظ سے اعتبار کیا جائے تو اس کو قصر حقیقی تحقیقی کہتے ہیں اور اگر محض مبالغہ اور ادعاء ہی ہو تو قصر حقیقی ادعائی کہتے ہیں۔ یعنی قصر صفت کا موصوف پر تحقیقاً ہو یا ادعاءً، اور یہ قسم کثرت سے پائی جاتی ہے۔

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٥٩

بہر صورت قصر حقیقی کی چار قسمیں ہوئیں ۔ قصر غیر حقیقی و اضافی کی قسمیں ۔ ایک یہ کہ ایک امر کو ایک وصف پر مخصوص کر دیا جائے ۔ جیسے ما زید الا قائم یعنی زید فقط قائم ہی ہے اور بس اس کو قصر موصوف علی الصفۃ کہتے ہیں اور اس کی تین قسمیں ہیں ۔ قصر افراد ، قصر قلب ، قصر تعیین، اور دوسری یہ کہ ایک وصف کو ایک امر پر بند کر دیا جائے ۔ حتی کہ اوروں کے لئے وہ ثابت ہو ۔ جیسے ما ضرب الا عمرو یعنی عمرو نے فقط مارا ہے نہ غیر نے اس کو قصر صفت علی الموصوف کہتے ہیں ۔ اس کی بھی تین قسمیں ہیں ۔ قصر افراد ، قصر قلب ، قصر تعیین ، مجموعہ چھ قسمیں ہوئیں ۔ قصر افراد یہ ہے کہ مخاطب کسی امر میں شرکت کا معتقد ہوتا ہے اور در حقیقت وہاں شرکت نہیں ہوتی ۔ لہذا متکلم اپنے قصری کلام سے اس کی معتقدانہ شرکت کو اڑا دے گا ۔ مثلاً قصر موصوف علی الصفۃ میں وہ یوں خیال کرتا ہے کہ موصوف کے لئے دو وصفیں ثابت ہیں ۔ حالانکہ ایک ثابت تھی ۔ جیسے ما زید الا کاتب یعنی زید فقط کاتب ہے ۔ یہاں مخاطب کا یہ خیال تھا کہ موصوف کے لئے دو وصفیں یعنی کتابت اور شاعریت ثابت ہیں اور واقع میں چونکہ ایک وصف تھی ۔ لہذا متکلم بلیغ نے اپنے قصری کلام سے شرکت کی نفی کر دی اور فقط ایک وصف رہنے دی ۔ اسی وجہ سے اس کو قصر موصوف علی الصفۃ قصر افراد کہتے ہیں اور قصر صفت علی الموصوف میں کہیں گے ۔ ما کاتب الا زید یعنی کاتب بجز زید کے اور کوئی نہیں ۔ مخاطب کا اعتقاد یہ تھا کہ وصف کتابت زید اور عمرو ہر دو کے لئے ثابت ہے ۔ لیکن واقع میں چونکہ درست نہ تھا ۔ لہذا متکلم بلیغ نے اپنے قصری کلام سے اس شرکت کو باطل کر دیا اور ایک کے لئے وصف کتابت کو ثابت کیا ۔ مختصر المعانی وغیرہ میں ہے ۔

” والمخاطب بالاول من جزأی کل من قصر الموصوف علی الصفة وقصر الصفة علی الموصوف من یعتقد الشركة ای شركة صفتین فی موصوف واحد فی قصر الموصوف علی الصفة وشركة موصوفین فی صفة واحدة فی قصر الصفة علی الموصوف“

شرط تحقیق وجود قصر افراد

قصر افراد کے پائے جانے کی شرط یہ ہے کہ دونوں وصفوں میں تنافی اور ضدیت ہو، تا کہ شرکت متصور ہو ۔ کیونکہ آپس میں اگر ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں تو شرکت قطعاً غیر متصور ہوگی ۔ تلخیص المفتاح وغیرہ میں موجود ہے ۔ ” وشرط قصر الموصوف علی الصفة افراداً عدم

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٠

تنافی الوصفین‘‘ اور قصر الصفت علی الموصوف کا بھی یہی حال ہے۔ قصر قلب، قصر قلب یہ ہے کہ متکلم جس حکم کو ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اس کی ضد اور منافی کا مخاطب معتقد ہوتا ہے۔ مثلاً ما زید الا قائم یعنی زید کھڑا ہے۔ یہاں اعتقاد مخاطب یہ تھا کہ زید بیٹھا ہے۔ یہ چونکہ حکم متکلم کے برعکس اور مخالف ہے۔ لہٰذا اس نے اپنے کلام قصری سے اس کو رد کر دیا۔ تلخیص المفتاح وغیرہ میں ہے۔ ’’ والمخاطب بالثانی من یعتقد العکس ‘‘

شرط وجود قصر القلب

اس کے پائے جانے کی شرط یہ ہے کہ قصر الموصوف علی الصفۃ و قصر القلب میں تو یہ ہے کہ دونوں وصفیں اس میں واقع ہوں یا مخاطب اور متکلم کے اعتقاد میں یا فقط متکلم کے خیال میں منافی ہوں اور ضدیت رکھتی ہوں یا کم از کم ایک وصف دوسرے کو لازم نہ ہو۔ ورنہ قصر قلب یقینی نہ ہوگا۔ کتب معانی متداولہ میں بیان شروط قصر قاصر ہے۔ دیکھو سید شریف دسوقی عبد الحکیم وغیرہ جیسے اوپر کی مثال میں وصف قعود و قیام آپس میں منافی ہیں اور ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں اور قصر الصفت علی الموصوف میں تنافی بین الوصفین شرط نہیں۔ کیونکہ اس میں کبھی وصف دو موصوفوں میں پائی جائے گی اور کبھی نہیں۔ قصر تعین یہ ہے کہ جس میں دونوں امر مخاطب کے نزدیک برابر ہوتے ہیں۔ یعنی قصر الموصوف علی الصفت میں صفت اور قصر الصفت علی الموصوف میں موصوف مذکور وغیرہ مذکور ہر دو کے ساتھ اتصاف کا اعتقاد رکھتا ہے۔ جیسا کہ ما زید الا قائم، ما قائم الا زید پہلی صورت میں قیام و قعود اور دوسری صورت میں بھی ایسے ہی بلا تعیین خیال رکھتا ہے۔ ایک کی متکلم تعیین کر دے گا اور یہ ہر جگہ متحقق ہوگا۔ برابر ہے کہ وصفیں منافی ہوں یا نہ ہوں۔ یہ دس صورتیں قصر اصطلاحی کی ہیں اور ایسے ہی غیر اصطلاحی کی جملہ بیس ہوئیں۔

اقسام قصر

مشہور اور متبادر قصر کے طریقے چار ہیں۔ قصر العطف، قصر بالاستثناء، قصر بانما، قصر بالتقدیم۔ قصر بالعطف وہ ہے جو کہ صرف عطف سے کیا جائے۔ ’’ لا بل لکن ‘‘ وغیرہ اور جیسے قصر موصوف علی الصفۃ، قصر افراد میں یوں کہیں گے۔ زید شاعر لا کاتب یعنی زید فقط شاعر ہے نہ کہ کاتب اور قصر صفۃ علی الموصوف میں یوں کہیں گے۔ زید شاعر لا عمرو یعنی زید ہی شاعر ہے نہ عمرو اور موصوف علی الصفۃ قصر قلب میں کہیں گے۔ زید قائم لا قاعد یعنی زید کے لئے فقط

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦١

وصف قیام ثابت ہے نہ کہ قعود اور قصر صفت علی الموصوف قصر قلب میں یوں کہیں گے۔ عمرو شاعر بل زید یعنی شاعر فقط زید ہے نہ عمرو ۔ یہاں پر یہ امر نہایت ملحوظ ہے کہ قصر بالعطف میں واجب اور ضرور ہے کہ متکلم وصف اثبات اور نفی پر تصریح کرے ۔ کیونکہ مطلق کلام قصری کو متکلم خطا اور صواب میں تمیز کرنے کے لئے ہی بولتا ہے تا کہ مخاطب کے اعتقاد میں حق و باطل خطاء صواب میں جو خلط ہو چکا ہے وہ نکل جائے اور خاص کر قصر عطف میں وصف مثبت اور منفی کی تصریح کسی طرح ترک کرنا جائز ہی نہیں ۔ کذافی المختصر للمعانی والتجرید والد سوقی وغیرہا من الاسفاد ٠ فان قلت اذا تحقق تنافی الوصفین فی قصر القلب فاثبات احدهما یکون مشعرا بانتفاء الغیر فما فائده نفی الغیر واثبات المذکور بطریق القصر قلت الفائده فیه التنبیه علی رد الخطاء اذا المخاطب اعتقد العکس “

قصر النفی الاستثناء

اگر قصر موصوف علی الصفہ ہو تو یوں کہیں گے ۔ ما زید الا شاعر یعنی زید فقط شاعر ہے اور بس اور اگر قصر صفت علی الموصوف ہو تو یوں کہیں گے۔ ما شاعر الا زید یعنی شاعر فقط زید ہے اور اگر قصر قلب ہو تو پہلی قسم کے لئے یوں کہیں ۔ ما زید الا قائم یعنی زید فقط قائم ہے اور دوسری قسم کے لئے یوں کہیں ۔ ما شاعر الا زید یعنی شاعر فقط زید ہے۔

قصر بانما

قصر موصوف علی الصفۃ قصر قلب میں انما قائم زید یعنی قائم فقط زید ہی ہے۔ فائدہ ...... قصر انما میں آخر خبر پر ہمیشہ قصر اور حصر ہوتا ہے۔

قصر بالتقدیم

یعنی بعض چیزیں جو کہ مرتبہ کے لحاظ سے پیچھے ہوا کرتی ہیں۔ ان کو بغرض تخصیص مقدم کر لینا قصر موصوف علی الصفۃ میں تمیمی انا یعنی میں تمیمی ہی ہوں۔ قصر صفت علی الموصوف میں انا کفیت فی مہمک تیری مشکل میں میں نے ہی کفایت کی۔

کلمہ بل اور اس کا اثر

کلمہ بل کے بعد اگر مفرد ہو تو ماقبل بل کے اگر امر یا اثبات ہوا تو اس وقت ما بعد بل

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٢

کے لئے کلمہ اثبات ہوگا اور ماقبل بل کے لئے مسکوت عنہ کے حکم میں رہے گا اور اگر ماقبل بل کے نہی یا نفی لفظی یا معنوی ہو تو ماقبل بل کا حکم بحال رہے گا اور مابعد بل کے لئے اس کی ضد ثابت ہوگی۔ اثبات کی مثال قام زید بل عمرو کھڑا زید بلکہ عمرو (امر کی مثال) لیقم بکر بل خالد چاہئے کہ بکر کھڑا رہے۔ بلکہ خالد (نہی کی مثال) ”لم اکن فی مربع بل تیھاً“ میں منزل میں نہیں تھا۔ بلکہ میدان میں (نفی لفظی کی مثال) ”لا تضرب زیداً بل عمراً“ نہ مار زید کو بلکہ عمرو کو (مثال نفی معنوی کی) ”ام یقولون بہ جنۃ بل جاءھم الحق“ کیا کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے۔ بلکہ ان کے پاس سچی بات آئی ہے اور اس وقت کلمہ بل اعراض کے لئے ہوگا اور اگر مابعد کلمہ بل جملہ ہو تو پھر یا تو پہلے جملہ کے مضمون کے ابطال کے لئے اور مابعد کے مضمون جملہ کو ثابت کرنے کے لئے آئے گا۔ جیسے بل عباد مکرمون۔ یعنی فرشتوں کے متعلق ذکورت وانوثت کا خیال غلط ہے۔ بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں اور یا ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف انتقال کرنے کے لئے آئے گا۔ جیسے ”بل تؤثرون الحیوۃ الدنیا“ یعنی تم لوگ حقیقی مقصد کو نہیں لیتے ہو۔ بلکہ حیات دنیا کو اختیار کرتے ہو۔

کلمہ بل اور اختلاف

نحویوں کے نزدیک یہ مشہور ہے کہ کلمہ بل عطف اور ابتداء انقطاع میں مشترک ہے۔ اگر اس کے بعد مفرد ہو تو عطف کے لئے ہوگا اور اگر اس کے بعد جملہ ہو تو ابتداء کے لئے ہوگا۔ مگر محققین کا مذہب یہ ہے کہ بل ہر دو صورتوں میں عطف کے لئے ہوگا۔ کیونکہ قول اشتراک سے جو پہلے مذہب سے لازم آتا ہے۔ عدم اشتراک بہتر بلکہ صحیح ہے۔ بحرالعلوم مسلم الثبوت میں ہے۔

”وبل یکون فی الجملۃ لانتقال والابطال وما قیل بل ھذا لیست بعاطفۃ بل ابتدائیۃ وذھب الیہ ابن ھشام من النحاۃ واختارہ فی التحریر فممنوع لابد من اقامۃ دلیل علیہ بل قام الدلیل علی خلافہ لا نہ یوجب الاشتراک فی العطف والابتداء وعدم الاشتراک خیر کما مر بل ھو حقیقۃ فی الاعراض“

کلمہ بل اور معنی وضعی

بعض وقت یہ دھوکا لگ جاتا ہے کہ ایک لفظ ایک معنی میں استعمال کیا جاتا ہے اور انسان خیال کر لیتا ہے کہ یہ اس لفظ کا وضعی معنی ہے اور درحقیقت وہ وضعی اور اصلی معنی لفظ کا نہیں ہوتا۔ لہٰذا وضع اور استعمال کا فرق لکھا جاتا ہے تاکہ کسی لفظ کے فہم میں کسی طرح کا خبط

٢٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٣

واقع نہ ہو۔ وضعی معنی وہ ہوتا ہے جو کہ واضع نے لفظ کے مقابل معین کیا ہوتا ہے اور مستعمل فیہ وہ ہوتا ہے کہ وضعی اور اصل معنی چھوڑ کر کسی دوسرے مجازی معنی میں بوجہ کسی مناسبت کے استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ کہا جائے کہ میں نے انسان کو دیکھا تو مراد اس سے وہی زید، بکر اور خالد وغیرہ افراد وضعی ہوں گے اور اگر کہا جائے کہ میں نے شیر کو دیکھا ہے اور مراد وہی انسان ہے تو ظاہر ہے کہ شیر کا یہ معنی اصلی اور وضعی نہیں ہے۔ کیونکہ اصلی معنی تو اس کا وہ جانور دم دار پھاڑ کھانے والا ہے۔ پس شیر سے مراد انسان رکھنا اور اس میں استعمال کرنا مجازی معنی میں بوجہ کسی مناسبت کے استعمال کرنا ہے۔ بہرصورت شیر کا اصل معنی، جانور پھاڑ کھانے والا ہے۔ پس شیر سے مراد انسان رکھنا فقط مستعمل فیہ ہے۔ نہ کہ وضعی معنی اور جیسے توفی کا لفظ اس کا وضعی معنی فقط کسی شے کا پورا لے لینا اگر پورا لے لینا روح سے ہو یا غیر روح سے۔ اگر روح سے ہو تو پھر مع الامساک ہے۔ یا مع الارسال۔ یہ سب کے سب معنی وضعی کے افراد اور معانی استعمالیہ ہیں۔ نہ کہ معنی وضعی اور پھر ظاہر ہے کہ جب استعمال مجازی معنی میں لفظ کو محض ایک گونہ مناسبت استعمال کیا گیا ہے تو درحقیقت یہ لفظ کا معنی ہی نہیں۔

معنی وضعی اور لغت وتفسیر

یہ امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ لغت اور تفسیر لفظ بالخصوص لفظ مشتق کا معنی مستعمل فیہ ذکر کرتے ہیں اور وضعی کو چھوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً الٰہ جس کا معنی وضعی معبود مطلق ہے۔ واجب ہو یا ممکن، آدمی ہو یا جن، کواکب ہوں یا ملائکہ۔ حالانکہ لغت اور تفسیر میں اکثر جگہ الٰہ کی تفسیر بتوں سے کر جاتے ہیں۔ دیکھو تفسیر ابن عباسؓ اموات احیاء کی تفسیر کرتے ہیں۔ اموات اصنام کے ساتھ اور کتب لغت لفظ الٰہ کے متعلق بھی اسی طرح درفشاں ہیں تو کیا یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اصنام لفظ الٰہ کا حقیقی وضعی معنی ہے۔ ہرگز ہرگز نہیں۔ بلکہ معبود مطلق جو وضعی معنی لفظ الٰہ کا ہے کا ایک فرد ہے اور معنی مستعمل فیہ بہر نہج یہ امر غور سے ملحوظ رکھنے کے قابل ہے کہ وضعی معنی اور ہے اور مستعمل فیہ اور پہلا اصل اور حقیقی معنی ہے۔ دوسرا مستعمل فیہ اور مجازی معنی ہے۔ بعض سادہ لوحوں کو اسی وجہ سے کہ وہ حقیقی اور مجازی اور مستعمل فیہ معنی میں امتیاز نہیں کر سکتے۔ سخت دھوکہ لگ جاتا ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ مجازی اور مستعمل فیہ معنی وہی حقیقی اور اصل وضعی معنی ہے۔

لفظ رفع اور استعمال

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٤

رفع کا حقیقی اور وضعی اصلی معنی کسی چیز کا اوپر اٹھا لینا ہے۔ (دیکھئے صراح ج ٢ ص ١٦) ”رفع برداشتن وهو خلاف الوضع“ یعنی رفع کا معنی اوپر اٹھانے کسی شئے کا ہے۔ (قاموس ص ٥١٢) ”رفعه ضد وضعه“ یعنی رفع کا معنی کسی چیز کو اوپر اٹھانا ہے۔ جیسا کہ وضع کا معنی کسی چیز کو زمین پر رکھنا ہے۔ (منتہی الارب ص ١٧٦) ”رفعه رفعاً بالفتح“ برداشت آزاں خلاف وضعہ یعنی کسی چیز کا اٹھانا پس رفع اجسام میں حقیقی طور پر اوپر کی طرف حرکت دینی اور انتقال مکانی مراد ہوگی اور رفع معانی میں مناسب مقام پھر اگر کسی دوسرے معنی میں استعمال کیا گیا تو وہ معنی مستعمل فیہ مجازی کہلائے گا۔ جیسے تقریب منزلت وغیرہ اور یہ خیال کہ جس وقت رفع کا صلہ لفظ الیٰ ہو اس وقت رفع کا معنی تقریب اور مرتبہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ صراح میں ہے۔ ”نزدیک گردانیدن کس صلتہ الیٰ کسی صلہ اول“ یعنی جب رفع کا صلہ الیٰ ہو تو معنی رفع کا رفع مرتبہ ہوتا ہے اور بالخصوص جب کہ رفع کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو اور مفعول ذی روح چیز ہو اور صلہ لفظ الیٰ ہو تو بغیر رفع رتبی کے اور کوئی معنی متصور ہو ہی نہیں سکتا۔ بلکہ اس وقت اگر لفظ سما کا بھی لفظ رفع کے ساتھ موجود ہو تب بھی معنی رفع منزلت اور مرتبہ کا ہی ہوگا۔ جیسے حدیث شریف میں آیا ہے۔ ”اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء السابعة“ یعنی جب کوئی بندہ خاکساری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ساتویں آسمان تک رفع اور مرتبہ بلند فرماتا ہے محض غلط ہے۔ کیونکہ رفع کا معنی ہر ایسی جگہ میں جہاں اس کا صلہ الیٰ واقع ہو رفع مرتبہ لینا ایک خبط ہے۔ مجمع البحار میں ہے۔

فيفطرون“ یعنی آنحضرت ﷺ نے اس کو اپنے بازو برابر اوپر اٹھایا تا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر روزہ افطار کرلیں۔

مرفوعاً بیان کیا۔ ”يرفعه الى النبى صلى الله عليه وآله وسلم“ یعنی راوی نے آنحضرت ﷺ سے حدیث کو مرفوع بیان کیا۔

الى يوم الجزا“ یعنی اعمال روز سے پیش تر اعمال رات اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی اس جگہ اور مقر کی طرف جس میں اعمال تا قیامت واسطے دینے جزا کے اٹھا رکھے جاتے ہیں اور

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٥

اسی طرح وہ رفع جو کہ رفع یدین میں استعمال کیا جاتا ہے اور صحاح ستہ میں موجود ہے۔ ان سب محاوروں میں رفع مستعمل بالیٰ ہے۔ مگر رفع مرتبی کا معنی نہیں ہو سکتا۔ بہر صورت یہ امر ثابت ہوا کہ ایسی ہر جگہ میں جہاں رفع کا صلہ الیٰ آیا ہو۔ وہاں پر یہ خیال کہ وہاں پر رفع مرتبی کے سوا اور معنی نہیں ہو سکتا۔ غلط ہے باقی رہا حوالہ صراح کے سوا اس کے متعلق معروض ہے کہ صراح کا حوالہ پیش کرنا بالکل ناواقفی ہے۔ کیونکہ صراح والے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جہاں کہیں رفع کا صلہ الیٰ آتا ہے۔ وہاں مراد رفع منزلت ہی ہوگا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی رفع کا معنی رفع مرتبی بھی ہوتا ہے۔ جب کہ اس کا صلہ الیٰ واقع ہو۔ یعنی یہ معنی بھی لے سکتے ہیں یا یوں کہیے۔ رفع مرتبی کا معنی لفظ رفع ہے۔ اس وقت ہوگا جب کہ اس کا صلہ الیٰ واقع ہو، نہ عکس۔ یعنی یہ نہیں کہ جس جگہ رفع کا صلہ الیٰ ہوگا وہاں رفع منزلت ہی مراد ہوگا۔ جیسے کہا جائے گا کہ پانی کیا چیز ہے۔ جواب میں کہا جائے گا۔ ایک رقیق سیلابی چیز ہے۔ اب اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ جو رقیق اور سیلابی چیز ہوگی وہ پانی ہی ہوگی اور بس۔ محض ایک جنون اور خبط ہے۔ اسی طرح مفردات امام راغب میں بھی لفظ رفع کے متعلق مذکور ہے۔ ”الرفع یقال تارة فی الاجسام الموضوعة اذا اعلیتها من مقرها وتارة فی البنا اذا طولته وتارة فی الذکر اذا نزهته وتارة فی المنزلة اذا شرفتها“ یعنی لفظ رفع چار معنوں پر بولا جاتا ہے۔ ایک تو جسموں کو ان کی اپنی جگہ سے اوپر کی طرف اٹھانا اور دوسرا عمارت پر جب کہ اس کو بلند کیا جائے۔ تیسرا ذکر پر جبکہ اس کو شہرت دی جائے۔ چوتھا مرتبہ پر جب کہ اس کو بزرگی دی جائے اور اسی طرح لسان العرب میں یہ ہے۔ جو لفظ رفع کے متعلق ہے۔ ”فی اسماء الله الرافع هو الذی یرفع المؤمن بالاسعاد واولیاء بالتقریب والرفع ضد الوضع“ یعنی اللہ تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں الرافع (بلند کرنے والا) آیا ہے۔ یعنی مؤمن سعید اور نیک بنا کر اور اپنے اولیاء اور دوستوں کو قرب عنایت فرما کر بلند اور رفیع الشان کرتا ہے۔ پھر اس میں لکھا ہے کہ زجاج اس آیت کریمہ ”خافضة رافعة“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ ”تخفض اهل المعاصی وترفع اهل الطاعة“ یعنی گناہ گاروں کو پست کرے گی اور نیکوں کا مرتبہ بلند کرے گی۔ (یعنی قیامت) اور اس میں رفع کا معنی ایک اور بھی لکھا ہے کہ ”تقریب الشئ من الشئ“ ایک شئی کو دوسرے کے قریب لے جانا اسی طرح نساء مرفوعات کے معنی لکھے ہیں۔ ”نساء مکرمات“ یعنی وہ عورتیں جن کی تکریم کی جائے اور ”رفع فلاناً الیٰ الحاکم“ کے معنی لکھے ہیں۔ ”قربہ منہ“ اس کو اس کے قریب کر دیا اور ”رفع البعیر فی

٢٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٦

السیر‘‘ کے معنی میں لکھا ہے۔ ”بالغ وسار ذالک السیر“ یعنی کمال کو پہنچایا اور وہ سیر چلایا، جس کو سیر مرفوع کہتے ہیں اور قرآن مجید میں آتا ہے۔ ”رفعنا بعضہم فوق بعض درجات“ یعنی ہم نے بعض کو بعض پر بلند اور رفع القدر بنایا ہے اور قرآن مجید میں آتا ہے۔ ”ولوشئنا لرفعناہ بہا“ اگر ہم چاہتے تو ان کی وجہ سے اس کا مرتبہ بلند کرتے۔ اس کی تفسیر میں ابن کثیر فرماتے ہیں: ”لرفعناہ بہا ای لرفعناہ من التدنس عن قاذورات الدنیا بالایات التی آتیناہ ایاہا“ یعنی اس کو ہم اپنی آیتوں کے سبب جو کہ ہم نے اس کو دی ہیں۔ دنیا کی غلاظت سے رفع القدر بناتے۔ بیضاوی اور فتح البیان میں اسی کے قریب لکھا ہے۔ ابن جریر اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”وللرفع معانی کثیرۃ منہا الرفع فی المنزلۃ عندہ ومنہا الرفع فی شرف الدنیا ومکارمہا ومنہا الرفع فی الذکر الجمیل والثناء الرفیع وجائز ان یکون اللہ عنی کل ذالک انہ لو شاء لرفعہ فاعطاہ کل ذالک“ یعنی رفع بہت سے معنوں کو مشتمل ہے۔ ایک اللہ تعالیٰ کے حضور میں مرتبہ کی بلندی دوسرا دنیا میں بزرگی اور اس کے حصول مکارم میں تیسرا اچھے ذکر اور بلند تعریف اور جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سب معنی مراد ہوں اور اگر وہ چاہتا تو سب دیتا اور اسی طرح حدیث میں اس دعا میں جو بین السجدتین پڑھی جاتی ہے۔ رفع کا لفظ آیا ہے اور مراد اس سے مرتبہ ہے: ”اللہم اغفرلی وارحمنی واہدنی وارزقنی وارفعنی واجبرنی“ اے اللہ میرے گناہ معاف کر مجھ پر رحم فرما۔ مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ۔ مجھے رزق دے۔ مجھے رفع المرتبہ فرما اور کمی کو پورا فرما۔ ترمذی کی ایک روایت میں ہے: ”یرید الناس ان یضعوہ ویابی اللہ الا ان یرفعہم“ لوگ ان کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ انہیں عزت اور مرتبہ میں بڑھائے گا۔ کنز العمال میں ہے: ”فتوا ضعوا یرفعکم اللہ“ تواضع کرو اللہ تعالیٰ تمہارا مرتبہ بلند کرے گا۔ بخاری میں ہے: ”رفع الی السماء رفعہ ضد وضعہ ومنہ الدعاء اللہم ارفعنی واللہ یرفع من یشاء ویخفض“ یعنی رفع الی السماء وضع کی ضد ہے اور اسی پر دعا ہے کہ اے اللہ میرا مرتبہ بلند کر اور ذلیل نہ کر۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بلند کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے پست کرتا ہے۔ یہ سب کی سب عبارتیں ایسی ہیں۔ جن سے ایک بھی ایسی عبارت نہیں جو کہ اس امر پر قطعاً دلالت کرے کہ رفع کا معنی حقیقی اور وضعی بس رفع مرتبی ہے۔ جو کچھ ثابت ہے وہ صرف یہ کہ رفع کا اطلاق رفع جسمی اور رفع مرتبی پر ہوتا ہے۔ نہ یہ کہ رفع کا معنی مرتبی وضعی اور حقیقی معنی ہے اور رفع ٢٦ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٧

سے رفع جسمی کبھی مراد لے بھی نہیں سکتے کہ اپنی طرف سے لغت میں قیاس کرنا ہے جو کہ بالکل ناجائز ہے اور پھر اس وقت جب کہ ہم نے بیان کر دیا ہے کہ لغت اور تفسیر میں اکثر استعمال معنی لکھے جاتے ہیں۔ کسی طرح بھی جائز نہیں کہ یہ کہا جائے کہ رفع کا معنی رفع مرتبی ہوتا ہے اور بس بلکہ حق یہ ہے کہ رفع کا اصل اور وضعی معنی یہی ہے کہ ایک چیز کا اوپر اٹھانا اجسام میں باعتبار حرکت اپنی اور انتقال مکانی کے ہوگا اور معانی بلحاظ مقام اور پھر جب کہ قرائن خارجیہ قرآن پاک، حدیث شریف اور اجماع سیاق وسباق سے رفع سے رفع جسمی ہی مراد متعین ہو جائے تو دوسرا معنی یعنی رفع مرتبی مراد لینا ہرگز جائز اور مناسب نہیں۔

قاعدہ محدثہ اختراعیہ

بعض لوگ کہا کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید بھی اسی خیال کے آدمی ہیں کہ لفظ رفع کا فاعل جب کہ اللہ تعالیٰ ہو اور صلہ اس کا لفظ الیٰ ہو اور مفعول اس کا ذی روح ہو تو اس کا معنی سوائے تقرب اور مرتبہ کے اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا بل رفعہ اللہ میں بھی بوجہ شرائط مذکورہ متحقق ہونے کے یہی تقرب الیٰ اللہ مراد ہوگا۔ مگر یہ سب غلط ہے۔ کیونکہ اوّل تو یہ لوگ قواعد کی اور اصطلاحات کی قید کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ مگر جہاں کہیں ان کا مطلب ثابت ہو۔ دوسرا یہ قاعدہ کسی ایسی کتاب میں نہیں جو کہ قواعد اور اصطلاحات میں لکھی گئی ہیں اور لغت میں ہونا کوئی مفید نہیں۔ کیونکہ لغت کا یہ وظیفہ ہی نہیں کہ وہ قواعد بیان کرے۔ تیسرا اس لئے کہ یہ دلیل ظنی استقرائی غیر مفید ہے جو کہ محض ظن کی مفید ہے نہ کہ یقین کی۔ چوتھا یہ کہ اس سے یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ رفع کا معنی ایسی ترکیب میں ہمیشہ رفع روحی ہی کا ہوا کرے گا۔ فقط اتنا ثابت ہوا کہ رفع ایسی ترکیب میں مفید رفع منزلت کا بھی ہوتا ہے۔ پانچواں یہ کہ ایسی قیودوں کو بڑھانا خود ایک زبردست ثبوت ہے کہ رفع کا معنی حقیقی رفع روحی نہیں۔ ورنہ قیدوں کا زیادہ کرنا محض بیکار ہے۔ کیونکہ اصل اور وضعی معنی محتاج قرینہ اور کسی امر خارجی کا ہرگز نہیں ہوتا۔ چھٹا یہ کہ اگر اس قاعدہ اختراعیہ کو مان لیا جائے تو وہ قواعد جن کے بغیر قرآن مجید کا سمجھنا نہایت ہی دشوار اور متعذر ہے اور قرآن کریم کی فصاحت اور بلاغت کا علم سوا ان کے ہو ہی نہیں سکتا۔ ان کو کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا۔ جن سے روز روشن کی طرح رفع جسمی ثابت ہوتا ہے۔

ساتواں یہ کہ یہ قاعدہ اختراعیہ اگر مان لیا جائے تو اس مثال سے ٹوٹ جاتا ہے۔

(صحیح

٢٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٨

بخاری جلد اوّل ص ٥٤٩) میں ہے: ”ثم رفعت الی سدرۃ المنتھیٰ“ {یعنی پھر میں سدرۃ المنتھیٰ کی طرف اٹھایا گیا۔}

دیکھئے یہاں صیغہ رفعت گو ماضی مجہول الفاعل ہے۔ لیکن یہ فعل ایسا ہے جس کا فاعل در حقیقت اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسا کہ خلقت گو ماضی مجہول الفاعل ہے۔ لیکن فاعل اس کا درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی ہے اور مفعول بہ ذی روح (یعنی آنحضرت ﷺ) ہیں اور صلہ بھی لفظ الیٰ ہے اور معنی مراد سدرۃ المنتھیٰ پر اٹھائے جانے کے ہیں۔ نہ کہ رفع مرتبہ گو بطور کنایہ اس رفع کو رفع مرتبہ اور تقرب لازم ہے۔ کیا کوئی مرزائی وغیرہ اس کے خلاف کہہ سکتا ہے؟ کہ اس سے رفع جسمی مراد نہیں ہے۔ بلکہ رفع سے مراد رفع روحانی ہے۔ ہرگز نہیں اور پھر اس کتاب کے خلاف جس کو مرزا قادیانی بھی بعد کتاب اللہ اصح الکتب مانتے ہیں۔ آٹھواں اس لئے یہ قاعدہ اختراعیہ غلط ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ لفظ خلق کا جہاں فاعل اللہ تعالیٰ ہو اور مفعول بہ ذی روح بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آدم اور حوا علیہم السلام کے ہو۔ وہاں خلق سے مراد نطفہ سے پیدا کرنا ہے تو کیا اس سے خلق کا معنی نطفہ ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں بالکل غلط بلکہ دیکھا جائے گا۔ جہاں کہیں قرینہ اس امر پر قائم ہوا کہ نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہاں یہ مراد لیں گے نہ کہ ہر ایک جگہ ایسے ہی رفع کا لفظ جب قرائن خارجیہ اور سیاق سباق سے رفع جسمی مراد ہو۔ وہی لیں گے حاصل یہ کہ رفع کا معنی ہر جگہ رفع رتبی لینا گو قرائن اور سیاق و سباق اس کے مخالف ہوں۔ ہرگز جائز نہیں۔ ہاں جس جگہ قرائن وغیرہ سے رفع رتبی اور تقرب روحانی کے مخالف نہ ہوں۔ وہاں پر مراد لے سکتے ہیں۔ یعنی یوں خیال فرمایا جائے کہ بلحاظ قرائن و سیاق و سباق ہمیشہ رفع جسمی لیں گے اور ان کے بغیر رفع روحانی لے سکتے ہیں نہ کہ یہ جہاں رفع مستعمل بالیٰ ہوتا ہے اور فاعل اللہ تعالیٰ اور مفعول بہ ذی روح ہو وہاں رفع مرتبی ہی مراد لیں گے۔ ترکیب دلیل یوں ہوسکتی ہے۔ یہ رفع مقید یعنی بلحاظ قرائن و سیاق و سباق ہے اور جو ایسا رفع ہوتا ہے وہ مفید رفع جسمی کا ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ رفع مفید رفع جسمی کا ہے۔ یہ عرفیہ عامہ ہے جو بالکل صحیح ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ چونکہ یہ رفع مستعمل بالیٰ ہے اور جو رفع ایسا ہوتا ہے وہ رفع منزلت پر دلالت کرتا ہے تو لہٰذا یہ رفع رفع منزلت پر دلالت کرتا ہے۔ تو ظاہراً ہے کہ اس میں دوام نہیں ہے۔ بلکہ یہ مطلقہ عامہ ہے۔ کیونکہ مطلقہ عامہ وہی قضیہ ہوا کرتا ہے جس میں حکم بالثبوت یا بالسلب فی وقت من اوقات وجود الموضوع کیا جائے اور یہاں اوقات ذات الموضوع مطابقت باصل واقعہ اور سیاق و سباق اور دلالت اور ارادہ یا عدم ان کا

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٦٩

ہے۔ پس بعض اوقات الذات میں یعنی بوقت مطابقت باصل واقعہ وسیاق وسباق ودلالت وارادہ مراد رفع منزلت ہوگی اور ان کے علاوہ اوقات میں دلالت رفع منزلت پر ہرگز نہیں ہوگی اور طالبِ علم جانتا ہے کہ یہ قضیہ عرفیہ عامہ جو مفید دوام ہوتا ہے ہرگز نہیں۔ بلکہ مطلقہ عامہ ہے جو کہ ثبوت الحکم فی وقت من الاوقات کا مفید ہوتا ہے۔ کیونکہ عرفیہ عامہ میں حکم بدوام السلب مابدوام الثبوت بشرط الوقت یعنی بوصف العنوان کیا جاتا ہے۔ جیسے کل کاتب متحرک الاصابع بالدوام مادام کاتباً اور قضیہ مذکورہ میں یعنی الرفع المستعمل بالیٰ میں وقت مطابقت یا عدم مطابقت وغیرہ کو وصف اور عنوان موضوع نہیں ٹھہرایا گیا اور نیز یہ شکل منتج نہیں ہے۔ ”ھذا الرفع مستعمل بالیٰ وکل الرفع ھکذا فھو یدل علی الرفع الروحانی فھٰذا یدل علی الرفع الروحانی“ کیونکہ کبریٰ اگر مطلقہ عامہ ہے تو نتیجہ وہی مطلقہ نکلا جو کہ دوام کا قطعاً مفید نہیں اور اگر عرفیہ عامہ ہے تو حد اوسط مکرر نہیں۔ کیونکہ صغریٰ میں محمول مطلقہ عامہ ہے اور کبریٰ میں موضوع عرفیہ عامہ ہے۔

گیارھواں یہ کہ اگر اس قاعدہ کو مان لیا جائے اور رفع سے مراد رفع روحی مراد رکھا جائے تو قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اور اجماع کا خلاف لازم آتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کا انکار موجب کفر ہے۔ العیاذ باللہ!

رفع الی اللہ سے مراد

رفع الی اللہ صعود الی اللہ اور عروج الی اللہ وغیرہ سے مراد حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات مقدسہ نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی مکان مقرر نہیں کرسکتے۔ وہ لامکان ہے اور بلحاظ وصف علم کے اس کو تمام مکانوں اور مکینوں کی طرف نسبت برابر ہے۔ بلکہ مراد رفع الی اللہ سے آسمان کی طرف اٹھانا ہے جو کہ ملائکہ مقربین کا محل اور مقر ہے۔ قرآن مجید میں وارد ہے۔ ”والیہ یصعد الکلم الطیب“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف کلمات طیبات چڑھ جاتے ہیں۔ ”والعمل الصالح یرفعہ“ اور نیک عمل کو اللہ تعالیٰ اٹھا لیتا ہے اور معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مکان کی طرف اٹھا لیتا ہے۔ کیونکہ وہ لامکان ہے۔ بلکہ معنی یہ ہے کہ اسی جگہ اور محل میں جو کہ اعمال صالحہ کے لئے اس نے مقرر کیا ہے۔ اٹھا لیتا ہے۔ جس کا نام علیین ہے اور حدیث میں ہے۔ (بخاری ج١ ص٤٥٧) ”عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال الملئکة یتعاقبون ملائکة باللیل وملائکة بالنھار ویجتمعون فی صلوٰة الفجر والعصر ثم یعرج الیہ الذین باتوا فیکم فیسالھم وھو اعلم بھم کیف ترکتم عبادی فقالوا ترکناھم یصلون

٢٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧٠

وہم یصلون“ یعنی حضرت ابو ہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے آگے پیچھے آتے ہیں۔ کچھ رات کو اور کچھ دن کو اور نماز صبح اور عصر میں دونوں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ پھر چڑھ جاتے ہیں طرف اللہ تعالیٰ کی وہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری۔ پھر اللہ تعالیٰ سوال کرتا ہے۔ حالانکہ وہ زیادہ جاننے والا ہے۔ کس حالت میں تم نے میرے بندوں کو چھوڑا تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھتے تھے۔ اس حدیث میں عروج الی اللہ سے عروج الی السماء ہی مراد ہے۔ نہ کوئی معنی اور عروج الی اللہ اور رفع اللہ کی ایک ہی صورت ہے اور (صحیح مسلم ج ١ ص ٩٩) میں ہے: ” یرفع الیہ عمل اللیل قبل عمل النہار“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دن کے عمل سے پیش تر رات کے عمل اٹھائے جاتے ہیں۔ یہی معنی ہے جو کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔ نہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی مکان ہے۔ اس کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔ بلکہ صاف طور پر یہ حدیثیں آیت مذکورہ کی تفسیریں ہیں اور مرزا قادیانی کو یہ بھی تسلیم ہے کہ رفع الی اللہ سے مراد یہی ہے کہ آسمان کی طرف اٹھانا اور محل مقربین میں پہنچانا جس کو اعلیٰ علیین کہتے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٣٨٦، خزائن ج ٣ ص ٢٩٩) آیت ”بل رفعہ اللہ“ کے متعلق لکھتے

ہیں ۔ رفع سے مراد روح کا عزت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی جانی ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٥٩٩، خزائن ج ٣ ص ٤٢٤) پر لکھتے ہیں کہ جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٢٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٣٣) پر لکھتے ہیں: ”بلکہ صریح اور بدیہی طور پر

سیاق و سباق قرآن مجید سے ثابت ہو رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے فوت ہونے کے بعد ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی ۔“ اور نیز جب کہ رفع الی اللہ سے بقرائن خارجیہ الی السماء مراد ہوگا۔ تو وہی متعین اور مراد ہوگا۔ بہرنہج عبارات متذکرہ بالا سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی رفع الی اللہ سے مراد آسمان کی طرف اٹھائے جانے کا نام ہے۔ اس لئے کہ جب آپ ارواح کے اٹھائے جانے کے جو کہ آسمان کی طرف ہے قائل ہیں۔ جیسا کہ خود اس کو علیین اور آسمان کے لفظ سے تعبیر کر رہے ہیں تو اب بل رفعہ اللہ الیہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ بجسدہ العنصری اٹھائے جانے کا بیان ہے یا کہ بعد موت ان کے رفع روحانی کا ذکر ہے اور یہ کہنا کہ ”رافعک الیٰ

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧١

ورفعه الله اليه وانى ذاهب الى ربى وياتيها النفس المطمئنة ارجعى الى ربك واتخذ الى ربه سبيلا“ وغیرہ الفاظ میں لفظ الیہ یا الیٰ ربی وغیرہ سے محض قرب ورفع مراد ہے اور بس محض بودا پن ہے۔ اس لئے کہ ہم نے مرزا قادیانی کی تفسیر سے ثابت کر دیا ہے کہ اس سے مراد آسمان ہے۔ دوسرے اس لئے کہ جب تفسیروں میں یہ معنی آ چکا ہے اور مفصلاً بیان کیا گیا ہے کہ مراد آسمان اور علیین ہے تو صرف قرب اور رتبہ وغیرہ معنی کرنا تفسیر بالرائے نہیں تو اور کیا ہے۔ تیسرا اس لئے کہ الیٰ ربی وغیرہ الفاظ سے اگر کبھی قرب اور منزلت کا بھی معنی لیا جائے تو کیا اس سے قاعدہ کلیہ نکل آیا کہ خلاف اس کا جائز نہیں۔ گو قرائن خارجیہ اس کے مخالف ہوں۔ چوتھا اس لئے کہ ارجعی الیٰ ربک میں مراد نفس انسان ہے نہ کہ جسم مع الروح اور اس کا قیاس فاقتلوا انفسکم وخلقکم من نفس واحدہ وغیرہ پر کرنا محض بے جا ہے۔ کیونکہ قتل نفس پر واقع نہیں ہو سکتی اور اسی طرح نفس اور روح سے ایجاد بھی عادت الٰہیہ کے خلاف ہے۔ لہٰذا لامحالہ جسم اور ذات ہی مراد ہوگی۔ بخلاف ارجعی الیٰ ربک کے کہ اس میں نفس ہی مراد ہے۔ کیونکہ جب خود نظم قرآنی میں لفظ نفس کا آ چکا ہے اور کوئی محذور وخدشہ عقلی و شرعی لازم بھی نہیں آتا تو بلاوجہ کیسے مان لیا جائے کہ یہاں سے مراد مع الروح ہے نہ کہ نفس فقط لفظ صلب صلب جیسا کہ مجمع البحار اور لسان العرب میں صلیب سے مشتق ہے۔ جس کا معنی خون اور چربی ہے۔ لسان العرب میں ہے۔ ”الصليب هذا القتلة المعروفة مشتق من ذالك لان ودكه وصديده يسيل“ یعنی صلب قتل کا ایک مشہور طریقہ ہے۔ کیونکہ اس کی (جس کو صلیب دیا جائے ) مخ اور پیپ بہہ نکلتی ہے۔ دیکھئے صلب کا اصل معنی مخ اور پیپ کہہ رہے ہیں اور قتل کا خاص ایک فرد متحقق وموجود بتاتے ہیں کہ وہ قتل معروف ہے۔ تاج العروس میں ہے۔ ”الصليب الودک“ یعنی صلیب ودک یا مخ کو کہتے ہیں اور اس کے آگے کہتے ہیں۔ ” وسمى المصلوب لما يسيل من ودكه والصليب هذا القتلة المعروفة مشتق من ذالک لان ودکه وصديده يسيل“ یعنی مصلوب کو مصلوب کہنے کی وجہ یہی ہے کہ اس کی مخ اور پیپ بہہ نکلتی ہے اور صلب قتل کا ایک معروف طریقہ ہے جو اس سے یعنی صلیب سے مشتق ہے۔ کیونکہ مصلوب کی مخ اور پیپ بہہ نکلتی ہے۔ کس قدر صاف ہے کہ صلب کا معنی مخ اور چربی اور پیپ ہے۔ مگر چونکہ سولی پر چڑھانے اور چار میخ کرنے سے خون اور چربی بہتی ہے۔ لہٰذا اس شخص کو جس کو سولی پر چڑھایا جائے مصلوب کہا جاتا ہے۔ ”تسميه السبب باسم المسبب مجازاً“ اور یہ بالکل جائز ہے۔ مختصر المعانی میں ہے۔ ”او تسمية الشي باسم مسببه نحو امطرت السماء

٣١

صفحہ ١٧٢

بناتاً ای غیثاً لکون النبات مسبباً عنہ” آسمان نے انگوری برسائی یعنی بارش برسائی۔ دیکھئے بارش سبب ہے۔ انگوری مسبب ہے اور مسبب کا اطلاق سبب پر کر دیا ہے۔ وھکذا فی المطول والتجرید والدسوقی وغیرھا من الکتب اور یہ نہیں کہ مصلوب کا اطلاق وحمل قبل از مقتولیت ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک تو اس لئے کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ دوسرا اس لئے کہ مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٤٧٨ خزائن ج ٣ ص ٢٩٤) پر خود لکھتے ہیں۔ ”منشاء ماصلبوہ کے لفظ سے ہرگز نہیں کہ مسیح صلیب پر چڑھایا نہیں گیا۔ بلکہ منشا یہ ہے کہ جو صلیب پر چڑھانے کا اصل مدعا تھا یعنی قتل کرنا اس سے خدا تعالیٰ نے مسیح ٭ رکھا۔“ تیسرا اس لئے کہ خود مانتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور مصلوب یہی ہوتا ہے کہ صلیب پر چڑھایا ہوا۔ چوتھا اس لئے کہ صلیب بروزن فعیل ہے جو بمعنی مفعول آیا کرتا ہے۔ جیسا کہ جریح بمعنی مجروح قتیل بمعنی مقتول اور جب امر مسلم ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے تو قبل از مقتولیت کیا صلیب یعنی مصلوب نہیں ہوسکتا اور اس وقت فعیل بمعنی مفعول نہیں آسکتا ہے؟ بہرصورت یہ ثابت ہوا کہ قبل مقتولیت مصلوب کہہ سکتے ہیں۔ لہٰذا گو صلب کا معنی بوجہ اپنے اشتقاق کے خون اور چربی ہے۔ لیکن اگر کوئی قرینہ اس بات پر قائم ہوگیا کہ یہاں صلیب کا معنی مجازی ہی بوجہ قرائن خارجیہ متعین ہوچکا ہے اور اسی طرح چونکہ سولی پر چڑھانا بھی منجملہ اسباب قتل سے ہے۔ صلب کا اطلاق مجازی طور پر مسبب یعنی قتل پر ہوسکتا ہے۔ چنانچہ لسان العرب سے مذکور ہوا۔ ”الصلب القتلة المعروفة“ یعنی صلب سے مراد قتل ہے اور یہ بھی جائز ہے۔ مختصر المعانی میں ہے۔ ”تسمیة الشئ باسم سببه نحو رعينا الغيث اى النبات الذی سببه الغيث“ یعنی ہم نے بارش کو چرایا۔ یعنی انگوری کو یہاں غیث سبب ہے اور انگوری مسبب ہے اور مسبب پر سبب کا معنی غیث کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ”هکذا من التجريد ودلائل الاعجاز والمفتاح وغيرها من الاسفار“ اور یہ کہنا کہ صلب کا معنی ہڈی توڑنا ہے۔ قاموس میں ہے۔ ”ولما قدم مكة اتاه اصحاب الصلب اى الذین يجمعون العظام ويستخرجون ودكها وياتدمون به“ یعنی جب آپ مکہ معظمہ میں آئے تو آپ کے پاس اصحاب صلب آئے۔ یعنی وہ لوگ جو کہ ہڈیوں کو جمع کرتے ہیں اور چکنائی اور شوربا نکالتے تھے۔ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ قاموس کا مفہوم صرف چکنائی کا نکالنا اور شوربا نکالنا ہے۔ اس لئے کہ صلب کا معنی چربی اور اصحاب الصلب کا معنی چربی نکالنے والے نہ یہ کہ صلب کا معنی ہڈی توڑنا ہے اور اس خیال سے بھی صلب کا معنی ہڈی توڑنا نہیں ہو سکتا کہ چربی

٣٢

صفحہ ١٧٣

اور چکنائی وغیرہ بغیر ہڈی توڑنے کے نکل نہیں سکتی۔ ورنہ چاہئے کہ ایسی ہر چیز کو صلب کہا جائے۔ جس کے بغیر چربی اور چکنائی نہ نکل سکے۔ جیسے ذبح اور موت طبعی وغیرہ اور جب کہ صلب کا اطلاق ذبح اور موت طبعی پر نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان کو صلب کا معنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ تو ہڈی توڑنا بھی صلب کا معنی ہرگز نہیں ہو سکتا۔ پس ثابت ہوا کہ صلب کا معنی صرف خون اور پیپ و چربی کا نکالنا ہے اور قبل از قتل کسی شخص کو مصلوب کہنا مجازی طور پر ہوتا ہے۔

لفظ قتل

لسان العرب میں ہے۔ ”قتله اذا اماته بضرب او حجر او سم او علة“ اس نے اس کو قتل کر دیا۔ جب کہ ضرب زہر وغیرہ سے اس کی موت واقع کر دی۔ تاج العروس میں اس کے قریب ہے۔ مفردات امام راغب میں ہے۔ ”اصل القتل ازالة الروح عن الجسد“ اصل معنی قتل کے یہ ہیں کہ روح کو جسم سے علیحدہ کر دیا جائے۔ مندرجہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ قتل کا اصل معنی جان سے مار دینا ہے۔ کسی چیز سے ہو۔ لہٰذا جان سے مار دینے کے بغیر اگر کسی معمولی ضرب میں اطلاق کیا گیا تو معنی مجازی ہوگا۔ مگر یاد رہے کہ گو قتل کا وضعی اور اصل معنی جان سے مار دینے کا ہے اور عندالاطلاق یہی مراد ہوگا۔ مگر جب کہ کوئی خارجی امر اصلی معنی لینے سے مانع ہو تو مجازی معنی ہی مراد ہوں گے۔ جیسا کہ آیت قتلوہ میں مجازی معنی قتل کا ہے۔

تشبیہ

تشبیہ یہ ہوتی ہے کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ کسی مناسبت کی وجہ سے آپس میں مشابہت دینا۔ جیسے کہا جائے کہ زید بہادری میں مثل شیر ہے تو زید کو ایک نسبت یعنی بہادری کی وجہ سے شیر کے ساتھ ہم نے مشابہت دی ہے اور جس جگہ مشابہت ہوتی ہے وہاں چار چیزیں ہوں گی۔ ایک مشبہ یعنی جس کو دوسری چیز کے ساتھ مشابہ بنایا جائے اور دوسری مشبہ بہ یعنی جس کے ساتھ مشابہت دی جائے اور تیسری وجہ شبہ یعنی وہ چیز جس کی وجہ سے ہم نے مشابہت دی ہے اور چوتھی آلہ تشبیہ یعنی وہ حرف جو کہ تشبیہ مذکور پر دلالت کرے۔ جیسے مثال مذکور میں زید مشبہ ہے اور شیر مشبہ بہ اور بہادری وجہ شبہ اور لفظ مثل آلہ تشبیہ۔ مگر یاد رہے کبھی تشبیہ میں بعض چیزیں حذف کر دی جاتی ہیں۔ کبھی مشبہ کبھی وجہ مشابہت وغیرہ۔

یقین، علم، ظن، شک

٣٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧٤

یقین، مستحکم اور جازم اعتقاد کو کہتے ہیں۔ مگر قابل زوال ہوتا ہے اور علم بھی اعتقاد جازم اور مستحکم کو کہتے ہیں۔ مگر قابل زوال نہیں ہوتا اور ظن اعتقاد جانب راجح کو کہتے ہیں اور شک جس میں حکم کی دونوں طرفوں میں برابر ہوں اور کبھی یقین ظن شک عدم علم پر بولے جاتے ہیں۔ یعنی غیر اعتقاد جازم مستحکم پر۔

حقیقت و مجاز و کنایہ

حقیقت یہ ہے کہ ایک لفظ کو اس کے وضعی اور اصل معنی میں استعمال کیا جائے اور مجاز یہ کہ ایک لفظ کو وضعی معنی کے علاوہ کسی اور معنی میں بوجہ کسی مناسبت کے استعمال کیا جائے اور اس میں شرط ہے کہ جس وقت مجازی معنی میں لفظ کو استعمال کریں گے اس وقت حقیقی معنی اس سے مراد نہیں لے سکتے اور کنایہ بھی مجاز ہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس وقت کنائی معنی لیں گے حقیقی معنی بھی لے سکتے ہیں۔

ظاہری معنی اور تاویل

واضح رہے کہ آیت حدیث سے جو ظاہری معنی سمجھ میں آتا ہے۔ وہی ماننا پڑے گا۔ بشرطیکہ کوئی مانع عقلی یا شرعی موجود نہ ہو۔ یہ امر ایسا روشن ہے کہ مسلم اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی کے خلیفہ اوّل مولوی نور الدین نے بھی جن کی بڑے زور سے مرزا قادیانی نے توثیق کی ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٥٣١، خزائن ج ٣ ص ٦٣١) میں لکھا ہے۔ ”ہر جگہ تاویلات و تمثیلات استعارات و کنایات سے اگر کام لیا جائے تو ہر ایک ملحد منافق، بدعتی اپنی آراء ناقصہ اور خیالات باطلہ کے موافق الٰہی کلمات طیبات کو لا سکتا ہے۔ اسی لئے ظاہر معانی کے علاوہ اور معانی لینے کے واسطے اسباب قویہ امور موجبات حقہ کا ہونا ضروری ہے۔“ دیکھئے کس قدر صاف ہے کہ بغیر قرینہ، واضحہ کے اور حجت قاطعہ کے آیت اور حدیث کے ظاہری معنی ہرگز نہیں چھوڑے جائیں گے۔ ورنہ دین ایک کھیل اور بازیچہ اطفال بن جائے گا اور ہر ملحد بے دین اپنی رائے کے موافق قرآن مجید اور حدیث پاک کے معنی لے کر نیا مذہب ثابت کر دے گا۔

اب ہم امور متذکرہ بالا کے بعد ہم آیت مذکورہ الصدر سے وجوہ استدلال بیان کرتے ہیں۔ جن کی وجہ سے امر متنازعہ فیہ میں یعنی فقرہ بل رفعہ اللہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ بجسد العنصری اٹھائے جانے کا بیان ہے یا کہ روح فقط کے اٹھائے جانے کا تذکرہ ہے۔ روز روشن کی طرح حق حق اور باطل باطل ممتاز ہو جائے گا۔

٣٤

صفحہ ١٧٥
”وماتوفيقى الا بالله ومااريدالاالاصلاح“

وجوۂ استدلال

بعض وہ امور جن پر آیت مذکورہ کا سمجھنا موقوف تھا۔ بیان کرنے کے بعد اب آیت متعلقہ کو دوبارہ نئے سرے سے ذکر کرتے ہوئے اس سے حیات مسیح علیہ السلام پر استدلال بیان کیا جاتا ہے۔ غور سے سماع فرمائیے۔

قرآن مجید: ”وبكفرهم وقولهم على مريم بهتاناً عظيماً وقولهم انا قتلنا المسيح بن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما (النساء)“ { (اور یہودیوں پر اس وجہ سے بھی لعنت ہوئی) بسبب ان کے کفر کے اور بوجہ مریم (صدیقہ) پر بہتان عظیم لگانے سے اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ نہ انہوں نے اس کو قتل کیا اور نہ ہی اس کو سولی دیا۔ بلکہ ان کے لئے اس کی طرح کا ایک شبیہ بنا دیا گیا اور بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے اختلاف کیا (عیسیٰ علیہ السلام) کے بارے میں وہ شک وشبہ میں ہیں۔ ان کے پاس اس کا کوئی صحیح ثبوت اور علم نہیں۔ بجز گمان کی پیروی کے اور انہوں نے یقینی طور پر اس (عیسیٰ علیہ السلام) کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اس کو اللہ نے اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھا لیا اور وہ غالب حکمت والا ہے۔}

انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے مسیح کو قتل کر دیا ہے۔ لہٰذا مسیح کو مقتول ومصلوب کہنا ملعون بننا ہے۔ ثابت ہوا کہ مسیح ابن مریم زندہ ہے۔

بات۔ واقعیت سے اس کو کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ واقع میں انہوں نے مسیح کو نہ قتل کیا نہ سولی دیا۔ بلکہ کسی اور یہودی کو مسیح کا ہم شکل بنا دیا گیا۔ جس کو مسیح سمجھ کر انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔ تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے اشتباہ میں پڑے رہیں۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا تو یہ یہودی اس شخص کے قتل پر حیران ہو گئے کہ اس شخص کا چہرہ دیکھتے ہیں تو مسیح کا چہرہ لگتا ہے اور باقی بدن کسی اور کا معلوم ہوتا ہے۔ جس پر بعض نے کہا کہ اگر یہ مسیح ہے تو وہ شخص جو پہلے گھر میں دیکھنے کے لئے

٣٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧٦

گیا تھا وہ کدھر گیا اور اگر یہ وہ آدمی ہے تو مسیح کہاں گیا۔ غرض اس میں کثرت سے اختلاف رونما ہوا۔ یہود و نصاریٰ کے اکثر فرقے آج تک اسی اختلاف کا شکار ہیں اور محض اٹکل اور گمان کی پیروی کرتے چلے آرہے ہیں اور قطعی طور پر کچھ نہیں کہہ سکے۔ ثابت ہوا کہ جب مسیح کی موت کی کوئی قطعی رائے ان کے پاس نہیں ہے تو مسیح زندہ ہے۔

اٹھالیا۔ وجہ یہ کہ رفعہ کی ضمیر سے اسی چیز کی طرف اشارہ ہے۔ جس سے قتل اور صلب کی نفی کی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ قتل اور صلب روح معہ جسم کا ہوسکتا ہے۔ نہ صرف روح کا لہٰذا رفعہ سے بھی اسی روح اور جسم ہر دو کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اللہ نے مسیح کو جسم اور روح دونوں کے ساتھ اٹھالیا ہے۔

آتا ہے۔ جیسا قرآن میں وارد ہے۔ ”وقالوا اتخذ الرحمن ولداً سبحنه بل عباد مکرمون“ {کفار نے یہ کہا کہ رحمٰن نے اولاد بنالی ہے۔} فرمایا کہ وہ اولاد بنانے سے پاک ہے۔ وہ ملائکہ معزز بندے ہیں۔ یہاں پر بل کے پہلے ولدیت اور بعد میں عبودیت ہے اور دونوں میں تضاد اور تنافی ہے اور آیت میں بل کے لئے پہلے قتل و صلب ہے اور بعد میں رفع الیٰ اللہ ہے۔ اب اگر رفع الیٰ اللہ سے مراد رفع روحانی لی جائے تو ”ماقبل اور مابعد“ بل میں تضاد نہ رہا۔ بلکہ دونوں جمع ہو سکتے ہیں۔ دیکھئے شہداء کا وجود قتل ہو جاتا ہے اور روح آسمان پر اٹھالی جاتی ہے۔ دونوں کا اجتماع ہو گیا۔ لہٰذا ضروری اور لازمی ہوا کہ رفع الیٰ اللہ سے مراد وہی رفع جسمانی مراد رکھا جائے۔ جس کا پہلے ذکر آ رہا ہے۔

اور اس ذات کو چند اوصاف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ مسیح، ابن مریم، رسول اللہ، ابن مریم عرفی نام ہے اور مسیح اور رسول اللہ اوصاف ہیں۔ اور یہ تسمیہ اور اوصاف ذات پر اطلاق کی جاتی ہیں نہ کہ روح پر۔

طاہر رکھنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ ”ومطهرک من الذین کفروا“ اور ”اذکففت بنی اسرائیل عنک“ اس پر دلالت کرتا ہے۔ اب اگر مسیح کو قتل یا سولی چڑھانا وغیرہ مان لیا جائے تو

٣٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧٧

وعدہ میں خلاف لازم آتا ہے جو کہ ناممکن ہے۔ ثابت ہوا کہ مسیح زندہ ہے۔

وہ رفع یہود کے قتل اور صلب سے پہلے واقع ہوا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ ”ام یقولون به جنه بل جاءهم بالحق“ یہاں پر ملاحظہ فرمائے کہ ”مجیئت بالحق“ ان کے مجنون کہنے سے پہلے متحقق ہے۔ نیز فرمایا: ”ویقولون ائنا لتاركوا الهتنا لشاعر مجنون بل جاء هم بالحق“ دیکھئے یہاں بھی ”مجیئت بالحق“ ان کے شاعر مجنون کہنے سے پہلے ثابت ہے۔ لہٰذا چاہئے کہ آیت کریمہ زیر بحث میں بھی رفع روحانی بمعنی موت یہود کے قتل وصلب سے پہلے ہونا چاہئے۔ حالانکہ ہمیں خود مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ رفع روحانی بمعنی موت قتل و صلب یہود کے بعد متحقق ہوا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام یہود سے نجات پا کر فلسطین سے کشمیر گئے اور وہاں عرصہ دراز تک یعنی ستاسی سال تک زندہ رہے۔ پھر وفات پائی اور سری نگر کے محلہ خانیار میں مدفون ہوئے۔ وہیں آپ کا مزار ہے۔ (نعوذ باللہ)

ادریس علیہ السلام کے لئے ”رفعه الله الیه“ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ”ورفعناه مكاناً علیاً“ یہ ادریس علیہ السلام کے لئے اور ادریس علیہ السلام کا رفع قطعی اور حتمی طور پر جسمانی انداز پر ہے۔ جیسا کہ تفاسیر معتبرہ میں ہے۔ (روح المعانی ج٥ ص١٨٧، کبیر ج٥ ص٥٤٥، معالم التنزیل ج٣ ص٢٧، در منثور ج٤ ص٢٧٦، خصائص کبریٰ ج١ ص١٧٤، فتوحات مکیہ ج٣ ص٣٤١) پر بھی یوں ہی ہے۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کا بھی رفع جسمانی ہونا چاہئے۔ دونوں میں رفع اللہ ہی کا فعل ہے۔

ثابت ہوا کہ مسیح زندہ ہیں

مسیح کی روح اللہ یعنی جبرائیل سے تائید کی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح کا رفع جسمانی ہوا۔ کیونکہ رفع روحانی پر حضرت عزرائیل علیہ السلام مقرر ہیں۔

عیسیٰ علیہ السلام قتل وصلب پر مقصور ہیں۔ رفع جسمانی ان کے لئے ثابت نہیں اور قصر قلب میں ہر دو صفتیں آپس میں متغائر اور متنافی ہوتی ہیں۔ جیسا کہ مختصر المعانی مطول وغیرہ کتب بلاغت میں مذکور ہے اور یہاں پر دو صفتیں ایک قتل وصلب ہے اور دوسری رفع الی اللہ ہے۔ اب اگر رفع سے رفع روحانی مراد لیا جائے تو ہر دو وصف قتل وصلب اور رفع روحانی میں منافاۃ اور تغائر نہیں ہوگا۔ بلکہ

٣٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧٨

دونوں کا اجتماع جائز ہے۔ جیسا کہ مقتول فی سبیل اللہ میں قتل اور رفع روحانی ہر دو جمع ہوجاتے ہیں تو اس وقت علم بلاغت کا مسلمہ قاعدہ ٹوٹ گیا اور یہ درست نہیں۔ کیونکہ یہ قواعد قرآن مجید سمجھنے کا معیار ہیں اور اگر رفع سے مراد رفع جسمانی مراد لیں۔ جیسا کہ سیاق و سباق چاہتا ہے تو اس تقدیر پر دونوں کا اجتماع ناممکن ہے۔ جس پر مدعی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی ثابت ہے۔ ”وهو المطلوب“

چند اوصاف میں سے صرف ایک کو اس کے لئے ثابت کرنا اور بقیہ اوصاف کی نفی کرنا۔ اور ”قصر الصفة علی الموصوف“ کا معنی یہ ہے کہ ایک وصف کو جو کہ چند اشخاص کی صفت بن سکتی ہے۔ صرف ایک کے لئے ثابت کرنا اور باقی افراد سے نفی کرنا۔ قصر قلب یہ ہوتا ہے کہ متکلم مخاطب کے اعتقاد کے برعکس حکم کرے۔ اوّل کی مثال ”ما زید الا قائم“ دوسرے کی ”ما قائم الا زید“ تیسرے کی ”ما زید الا قائم“ جب کہ مخاطب ”ما زید الا قاعد“ اعتقاد رکھتا ہو۔ یہود کا دعویٰ تھا کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو یقینی طور پر قتل کر دیا ہے۔ جیسا کہ ”انا قتلنا المسیح“ کہ ان کا کئی وجہوں سے مؤکد کر کے لانا اس پر صریح دلالت کرتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے ”ما قتلوه یقینا“ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ یہود کا مسیح کو یقینی قتل کرنا ظاہری دعویٰ ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ ہم نے ان کو کلی طور پر یہودی ہتھکنڈوں سے بچاتے ہوئے اوپر اٹھا لیا ہے۔ اس سے یہ وہم بھی اڑ گیا کہ یہود کو مسیح علیہ السلام کے قتل میں ”بفحواء لفی شک منه“ شک تھا۔ کیونکہ یہ شک مقتول میں تھا کہ یہ کون ہے۔ نہ کہ مسیح میں۔ کیونکہ وہ تو مجسم اٹھا لئے گئے۔

عزیزاً حکیماً“ ارشاد فرمانا موزوں معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایسا کلام اس وقت کہا جاتا ہے۔ جب وہاں کوئی خلاف عادت یا اہم کردار کا سامنا کرنا پڑے۔ اور ظاہر ہے کہ رفع روحانی جو کہ قابض الارواح ملائکہ کا دائمی معمول ہے۔ قطعاً اس کا متقاضی نہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنی سطوت اور قدرت کاملہ کا اظہار کرے اور نہ ہی رفع روحانی کسی حکمت کا داعی ہے کہ حکیم کہا۔ کیونکہ ارواح کا محل و مقام متعین ہے۔ البتہ رفع جسمانی عام حالات کی وجہ سے واقعی ایک اہم معاملہ معلوم ہوتا ہے۔ جس پر ارشاد فرمایا کہ انسانی قوت کے

٣٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٧٩

لحاظ سے گو یہ ایک اہم واقعہ ہے۔ لیکن ہماری قدرت کے مقابلہ میں یہ کوئی بات نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ہو تو رفع سے مراد رفع روحانی ہوتا ہے اور آیت میں ایسا ہی ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ آیت میں رفع سے مراد رفع روحانی ہے۔

جواب...... یہ کہ یہ قاعدہ کسی ایسی کتاب میں نہیں ہے جو قواعد ضروریہ پر مشتمل ہو۔

اصطلاحی و عرفی قواعد کا ذکر نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ کتب لغت کا وظیفہ ہے۔

ہے۔ نہ یہ کہ ایسی ترکیب ہمیشہ رفع روحانی کی مفید ہوتی ہے۔

کیونکہ یہ حقیقی اور وضعی معنی قرینہ اور امر خارجی کا محتاج نہیں ہوتا۔

بخاری شریف میں ہے۔ ”ثم رفعت الی سدرۃ المنتھی“ پر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کی طرف اٹھایا گیا۔ یہاں بھی فاعل درحقیقت اللہ ہی ہے۔ کیونکہ یہ فعل بجز اللہ کے اور سے متصور نہیں ہو سکتا اور مفعول بہ ذی روح ہے۔ یعنی حضور علیہ السلام ہیں اور صلہ بھی لفظ الیٰ ہے۔ مگر معنی سدرۃ المنتہیٰ پر بجسمہ اٹھائے جانے کے ہیں۔ نہ کہ رفع روحانی۔ اس کی مثال یوں بھی دی جاسکتی ہے کہ لفظ خلق کا فاعل جہاں پر اللہ ہو اور مفعول بہ ذی روح ہو۔ بجز عیسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام کے وہاں خلق سے مراد نطفہ سے پیدا کرنا ہے۔ تو کیا اس سے خلق کا معنی نطفہ ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ دیکھا جائے گا کہ اگر کوئی قرینہ خلق سے نطفہ مراد لینے پر قائم ہوا تو نطفہ مراد لیں گے۔ ایسے ہی رفع جب قرائن و امور خارجیہ کی وجہ سے رفع جسمانی پر دلالت کرے۔ رفع جسمانی مراد لیں گے۔ و رنہ رفع روحانی۔ حاصل یہ کہ جہاں پر قرائن خارجیہ رفع روحانی مراد لینے کے خلاف نہ ہوں۔ وہاں پر رفع روحانی ہوگا۔ ورنہ رفع جسمانی متعین ہوگا۔

٣٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٠

کا خلاف لازم آتا ہے جو کہ ناجائز ہے۔

سوال ...... لفظ ”الى انتهاء غاية“ اور مکان کے لئے ہوتا ہے تو لازم کہ اللہ کے لئے کوئی مکان ہو۔ جس کی طرف وہ اٹھا لیتا ہے۔ حالانکہ وہ مکان وجہت سے منزہ اور پاک ہے۔

جواب ...... یہ ہے کہ رفع الی اللہ سے مراد آسمان کی طرف اٹھایا ہے۔ جو کہ ملائکہ مقربین اور اعمال صالحہ کا مقام ومحل ہے۔ دیکھئے قرآن میں ہے۔ ”واليه يصعد الكلم الطيب“ یعنی اللہ کی طرف کلمات طیبہ چڑھتے ہیں۔ یعنی اس مکان اور محل کی طرف اٹھا لیتا ہے جو کہ اعمال صالحہ کے لئے اس نے متعین کر رکھا ہے۔ جس کا نام علیین ہے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے رفع الی اللہ کا یہی معنی کیا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٥٩٩، خزائن ج ٣ ص ٤٢٤) پر لکھتے ہیں کہ جیسا کہ مقربین کے لئے یہ بات ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں اور (ازالہ اوہام ص ٣٨٦، خزائن ج ٣ ص ٢٩٩) پر آیت بل رفعہ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں۔ رفع سے مراد روح کا عزت کے ساتھ اٹھائے جانا ہے۔ جیسا کہ وفات کے بعد بموجب نص قرآن اور حدیث کے ہر ایک مؤمن کی روح عزت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی جاتی ہے۔ اسی طرح (ازالہ اوہام ص ٤٤٤) پر ہے۔ صاف ثابت ہے کہ رفع الی اللہ سے مراد مقام مقربین میں اٹھایا جانا ہے۔ نہ یہ کہ کوئی مقام اللہ کا ہے۔ جس کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔

نصوص شرعیہ کے ظاہر کے خلاف ہے لہٰذا باطل ہے۔ کیونکہ مسلمہ ہے کہ نصوص شرعیہ کو ظاہری معنی پر رکھا جائے گا۔ (شرح عقائد وغیرہ) جیسا کہ خلیفہ اوّل حکیم نور الدین صاحب کے ضمیمہ (ازالہ اوہام ص ٥٣١، خزائن ج ٣ ص ٦٣١) پر تحریر ہے۔ ”ہر جگہ تاویلات وتمثیلات، استعارات اور کنایات سے اگر کام لیا جائے تو ہر ایک ملحد منافق بدعتی اپنی آراء ناقصہ اور خیالات باطلہ کے موافق کلمات طیبات کو لا سکتا ہے۔“

کس قدر صاف و روشن ہے کہ آیات ونصوص کو ظاہر پر محمول کیا جائے گا۔ ثابت ہوا کہ رفع سے مراد رفع جسمانی ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھا لیا گیا۔

گیا اور نہ ہی جان سے مارا گیا۔ یہ معنی نہیں کہ ان کو سولی پر چڑھایا بھی نہیں گیا اور نہ ہی انہیں

٤٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨١

مار پیٹ ہوئی۔ بلکہ ان کو سولی پر چڑھایا گیا اور مارا پیٹا بھی گیا۔

جواب ...... یہ ہے کہ یہ نصوص شرعیہ اور آیات کے ظاہری معنی کے خلاف ہے۔ نیز یہاں پر ماصلبوہ وماقتلوہ کا آیات واحادیث واجماع امت کے پیش نظر مجازی معنی مراد ہے۔ یعنی مسیح علیہ السلام کو نہ سولی پر چڑھایا گیا اور نہ ہی مارا پیٹا گیا۔ بلکہ صحیح وسالم اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔

١٧...... نیز اگر یہ معنی لیا جائے کہ مسیح کو سولی پر چڑھایا گیا اور مارا پیٹا گیا۔ ہاں سولی پر قتل نہیں ہوئے تو معنی ماقتلوہ کا یہ ہوا کہ مسیح قتل نہیں ہوئے اور سب کچھ ہوا تو دوسری آیات سے تعارض آتا ہے۔ دیکھئے قرآن مجید میں آپ کی حمایت میں ارشاد ہے۔ ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک“ یعنی میری یہ نعمت بھی یاد رکھئے کہ میں نے اپنی قدرت کاملہ سے یہود کو تمہارے نزدیک آنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ بلکہ اپنی حکمت عملی سے ان کی ہر سازش سے تم کو بال بال بچایا۔ اب اگر کہیں کہ مسیح کو قتل نہیں کئے گئے۔ ان کو سولی پر چڑھایا گیا اور ان کو مارا پیٹا بھی گیا تو ظاہر ہے کہ اس کلام کے خلاف ہوگا۔ ثابت ہوا کہ مسیح زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھا لئے گئے اور اب تک وہاں بقید حیات موجود ہیں اور قرب قیامت آسمان سے زمین پر اتریں گے۔ بہر نہج اس آیت کریمہ سے روز روشن کی طرح واضح ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بقید حیات زمین پر سے اٹھائے گئے اور اب تک وہاں پر زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے آسمان سے زمین پر اتریں گے۔

”ھذا ھو المرام والمقصود ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین“ {اور انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازش کی اور اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے خلاف خفیہ تدبیر کی اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کرنے والا ہے۔}

رہی یہ بات کہ یہود کی خفیہ سازش کیا تھی اور اللہ کی خفیہ تدبیر کیا۔ سو مفسرین کی وضاحت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہود کی خفیہ سازش حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی تھی اور اللہ کی تدبیر خفیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچانے اور زندہ آسمان پر اٹھانے کی تھی تو یہودیوں کی خفیہ سازش ناکام یاب ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر غالب اور کامیاب ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر تدبیر فرمانے والا ہے۔ ناممکن ہے کہ کسی کی سازش اللہ تعالیٰ کی تدبیر پر غالب آئے۔

٤١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٢

قرآن مجید میں اس کی تائید موجود ہے۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ ان کی قوم نے خفیہ طور پر یہ طے پایا کہ رات کو صالح علیہ السلام اور اس کے اہل وعیال پر شب خون مارا جائے اور سب کو قتل کیا جائے۔ بعدہ ان کے ورثاء کو کہہ دیں کہ ہم تو اس موقعہ پر موجود ہی نہ تھے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ومکروا مکراً ومکرنا مکراً وہم لا یشعرون“ {انہوں نے (صالح علیہ السلام) کے قتل کی خفیہ سازش کی اور ہم نے بھی (ان کو بچانے کے لئے) خفیہ تدبیر کی کہ ان کو پتہ تک نہ ہوا تو دیکھ لو ان کے مکر کا کیا حال ہوا۔ بلاریب ہم نے ان کو اور ان کی ساری قوم کو ہلاک کر دیا۔}

ملاحظہ فرمائیے اس آیت کریمہ میں بھی مکروا کے بعد مکرنا ہے۔ قوم ثمود نے صالح علیہ السلام کے قتل کی خفیہ سازش کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچانے کی تدبیر کی۔ آخر کار اللہ تعالیٰ ہی کی تدبیر غالب آئی کہ صالح علیہ السلام زندہ وسلامت رہے اور قوم کلی طور پر تباہ وبرباد ہوگئی اور ملاحظہ کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ السلام کے ذکر میں فرمایا: ”واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک ویمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر الماکرین“ {اور (اے پیغمبر) یاد کرو۔ جب کفار تمہارے متعلق سازش کر رہے تھے کہ تمہیں قید کر دیں یا قتل کر دیں یا جلاوطن کر دیں اور وہ بھی خفیہ سازش کر رہے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔}

غور فرمائیے کہ اس آیت کریمہ میں بھی یمکرون کے بعد ویمکر اللہ ہے۔ کفار مکہ نے حضور ﷺ کے خلاف آپ کے قتل وغیرہ کی خفیہ سازش کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کی حفاظت کے لئے خفیہ تدبیر کی آخر الامر اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر غالب آئی کہ آپ کو صحیح وسالم مدینہ طیبہ پہنچا دیا اور کفار کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔

١...... یونہی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرہ میں فرمایا: ”ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین“ کہ یہود نے ان کے قتل کی سازشیں کیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کی خفیہ تدبیر کی، کہ دشمنوں سے بال بال بچا کر آسمان کی طرف ہجرت کرا دی۔ ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بقید حیات آسمان پر موجود ہیں۔

فائدہ...... حضور علیہ السلام کی ہجرت مدینہ منورہ میں ہوئی۔ اس لئے کہ آپ کے اجزائے جسمیہ مدینہ طیبہ کی مبارک زمین سے لئے گئے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہجرت

٤٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٣

آسمان کی طرف ہوئی۔ اس وجہ سے کہ ان کے اجزائے جسمیہ آسمان سے حضرت جبرائیل امین لائے تھے اور جہاں سے کسی کے اجزائے جسمیہ آتے ہیں۔ اسی جگہ اس کی ہجرت ہوتی ہے اور ہجرت کے بعد واپسی ضرور ہوتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ حضور نبی کریم ﷺ ہجرت کے کچھ عرصہ کے بعد مکہ فتح کرنے کے لئے تشریف فرما ہوئے اور اہل مکہ آپ پر ایمان لائے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام بھی فتح اسلام کے لئے ضرور زمین پر تشریف لائیں گے اور اہل کتاب (جو اس وقت موجود ہوں گے) آپ پر ایمان لائیں گے۔

عربی قاعدہ کی بنا پر جملہ اسمیہ ہو یا فعلیہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جملہ کی صفت نکرہ ہوتی ہے اور مشہور ہے کہ نکرہ کا اعادہ بصورت مغائرت حقیقی کو چاہتا ہے اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ ہر دو تدبیر آپس میں منافی اور متغائر ہوں اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر بصورت رفع جسمانی ہو اور یہود کی بصورت قتل کہ اس صورت میں تغائر ہو گیا اور خدا تعالیٰ کی تدبیر کا غلبہ بھی بصورت اتم ثابت ہو گیا۔ حیات مسیح کا ثبوت بھی واضح ہو گیا اور اگر اللہ کی تدبیر رفع روحانی الی السماء ہو تو یہود کی مراد پوری ہو گی کہ وہ آپ کا قتل ہی چاہتے تھے۔ وہ ہو گیا جس سے لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر مقابلہ کامیاب نہ ہوئی اور یہ صریح باطل ہے۔

”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیھم شھیداً“ {اور کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں ہوگا۔ مگر وہ البتہ ضرور ایمان لائے گا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی موت سے پہلے اور وہ (عیسیٰ علیہ السلام) ان پر قیامت کے دن گواہ ہوں گے۔}

اس آیت مبارکہ کی جمہور مفسرین نے تفسیر کی ہے کہ بہ اور موتہ کی ہر دو ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہی راجع ہوتی ہیں۔ جیسا کہ سیاق و سباق کا بھی یہی تقاضا ہے۔ بلکہ خود نبی کریم روف رحیم ﷺ اور صحابہ کرام اور تابعین عظام اور آئمہ کرام رحمہم اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ملاحظہ ہو ...... حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

”والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدة خيراً من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابو ہریرہ واقروا ان شئتم وان

٤٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٢

من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيداً (بخاری ج ١ ص ٢٩٠، مسلم ج ١ ص ٨٨) ”{اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ بے شک عنقریب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے۔ درآں حالانکہ وہ حاکم عادل ہوں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جنگ کو ختم کریں گے اور اس قدر مال بہائیں گے کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا اور اس وقت ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر ابو ہریرہؓ نے فرمایا اگر چاہو تو اس کی تصدیق کے لئے یہ آیت پڑھو۔}

اس پر مرزائی حضرات یہ سوال کرتے ہیں۔ یہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد نہیں یعنی ”واقرؤا ان شئتم“ بلکہ حضرت ابو ہریرہؓ کا اپنا استنباط ہے جو کہ حجت اور دلیل نہیں ہو سکتا۔ مطلب یہ کہ یہ حدیث مرفوع نہیں ہے۔ مگر اس کا جواب یہ ہے کہ سیرین تابعی فرماتے ہیں کہ: ”كل حديث ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم“ کہ ابو ہریرہؓ کی تمام احادیث مرویہ مرفوع ہیں۔

(شرح معانی الآثار ج ١١)

گو بظاہر موقوف دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت مرفوع ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ”يوشك ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلا يقتل الخنزير ويكسر الصليب ويضع الجزية ويفيض المال حتى تكون السجدة الواحدة لله رب العالمين واقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته موت عيسى ابن مریم (در منثور ج ٢ ص ٢٤٢)“ {عنقریب تم میں سے ابن مریم نازل ہوں گے۔ اس حال میں کہ وہ حاکم عادل ہوں گے۔ دجال اور خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے اور مال کو بہا دیں گے۔ یہاں تک کہ سجدہ صرف رب العالمین کے لئے ہی ہوگا۔}

اور اگر چاہو تو تصدیق کی خاطر یہ آیت پڑھو۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته عيسى بن مریم“ دیکھئے یہ روایت مرفوع ہے اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ جس میں ”مرقوم قبل موته موت عيسى ابن مریم“ اسی طرح حضرت قتادہ اور حضرت ابن عباسؓ بھی یہی فرماتے ہیں۔

(ابن جریر ج ٦ ص ١٢، در منثور ج ٢ ص ٢٤١)

٤٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٥

بہر نہج روز روشن سے زیادہ ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ وہ آسمان پر زندہ اٹھا لئے گئے اور قیامت سے پیش تر دوبارہ آسمان سے زمین پر تشریف لائیں گے اور حکم دیں گے کہ صلیب کو توڑ دو اور خنزیر کو قتل کر دو اور دجال کو قتل کریں گے اور عادل حکومت کریں گے۔ وغیرہ وغیرہ!

قرآن مجید میں ہے: ”اذ قال الله يعيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة ثم الى مرجعكم فاحكم بينكم فيماكنتم فيه تختلفون“ {آپ اس وقت کو یاد کریں جب کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ بے شک میں تجھے پورا پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف (یعنی آسمان پر) اٹھانے والا ہوں اور تجھے پاک کرنے والا ہوں۔ ان لوگوں کی (سازشوں اور تہمتوں) سے جنہوں نے تیرا انکار کیا ہے، اور جنہوں نے تیری پیروی کی ان کو تا قیامت (تیرے) منکروں پر غالب کرنے والا ہوں۔ پھر تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پس (اس وقت) میں فیصلہ کروں گا۔ تمہارے درمیان (ان امور کا) جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔}

وجہ استدلال

اس طرح ہے کہ یہاں متوفی کا لفظ وفا سے نکلا ہے اور وفیٰ کا اصل وضعی معنی اور حقیقی معنی ”اخذ الشئ وافیاً“ یعنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا کہ کچھ باقی نہ رہے۔ (تفسیر صاوی ج١ ص ٢٩٨ بر حاشیہ جلالین تفسیر جلالین ج١ ص ٢٩٨)”والتوفی اخذ الشئ وافیاً“ یعنی توفی کسی چیز کو پورے اور کامل طور پر پکڑنے کو بولتے ہیں۔ (جامع البیان ص١١١) پر ہے۔ ”والتوفی اخذ الشئ وافیاً“ توفی کسی چیز کے پورے طور پر لینے کو کہتے ہیں۔

(ابو سعود ج٤ ص ٣٣٣)

”فان التوفیٰ اخذ الشیئے وافیاً“ بلاشبہ توفی کسی پورے طور پر لینے کو بولتے ہیں۔ (تفسیر فتح البیان ج٣ ص ١٣٣) میں ہے۔ ”فلما توفيتنى الى السماء واخذتنى وافياً بالرفع“ یعنی توفیتنی کا مطلب یہ ہے کہ جب کہ تو نے مجھ کو پورے طور پر آسمان پر اٹھا لیا۔ روح المعانی میں ہے۔ ”فلما توفيتنى ای قبضتنی بالرفع الى السماء“ اسی طرح (معالم ص ٣٠٨، جمل ج١ ص ٦٥٨، بیضاوی ج١ ص ٢١٩، درمنثور ج١ ص ٢٤٩، سراج المنیر ج١ ص ٢٠٥، مدارک ج١ ص ٢٤١) وغیرہ تفاسیر معتبرہ میں ہے۔

٤٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٦

قرآن مجید کی بعض آیات کریمہ سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔ ”وانما توفون اجوركم يوم القيامة“ {اور بجز اس کے نہیں کہ تم بروز قیامت اپنے (نیک اعمال کا) پورا پورا اجر دیئے جاؤ گے۔}

”ثم توفى كل نفس ماكسبت وهم لا يظلمون“ {پھر ہر نفس پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ جو اس نے کیا اور ان پر ظلم ہرگز نہیں کیا جائے گا۔}

ان ہر دو آیات کریمہ سے واضح ہوگیا کہ توفی کا معنی پورا پورا لینا ہے۔

توفی کا مجازی معنی

مذکورہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ توفی کا اصل اور حقیقی معنی تو کسی چیز کو پورا پورا لینا ہے۔ مگر کسی مناسبت کی وجہ سے مجازی طور پر اور معنی میں بھی اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً کبھی موت کے معنی میں توفی کو لیا جاتا ہے۔ کیونکہ موت کے وقت روح کو پورا پورا لے لیا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں وارد ہے۔ ”الله يتوفى الانفس حين موتها“ اور ”حتى يتوفاهن الموت“ اور کبھی نیند میں توفی کو استعمال کر لیا جاتا ہے۔ کیونکہ نیند، عقل، ادراک، تمیز، شعور، اصعاد الی السماء میں کو پورا پورا لیا جاتا ہے۔ جیسا قرآن میں فرمایا: ”وهو الذي يتوفاكم بالليل“ اور وہی ہے جو تمہیں رات کو پورا پورا لے لیتا ہے اور کبھی اجر وثواب میں توفی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ”وانما توفون اجوركم يوم القيامة“ بلاشبہ روز قیامت تم پورا پورا اجر دیئے جاؤ گے۔ (علامہ زمخشری، اساس البلاغۃ ج٢ ص٣٠٤) مصری پر ہے: ”ومن المجاز توفى وتوفاه الله اى ادركته الوفاة“ (تاج العروس شرح قاموس ج١٠ ص٣٩٤) پر ہے۔ ”ومن المجاز ادركته الوفاة اذا وردت عليه الموت“ ثابت ہوا کہ توفی کا حقیقی معنی تو وہی کسی چیز کو پورا پورا لینا ہے۔ لیکن مجازی طور پر بوجہ کسی مناسبت کے اور معنی پر بھی اس کو بولا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ توفی کو مجازی طور پر موت، نیند، اجر، رفع الی السماء وغیرہ بولا جاتا ہے۔ مگر حقیقی اور اصلی وضعی معنی وہی کسی چیز کو پورا پورا لینا ہے۔ اس بنا پر آیت کریمہ کا معنی یہ ہوا۔ جب کہ کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ بے شک میں تجھے پورا پورا لینے والا ہوں اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ صرف روح کا نام نہیں ہے۔ بلکہ روح و جسم ہر دو کا نام ہے۔ نیز متوفیک اور رافعک میں کاف خطاب سے مراد صرف روح نہیں بلکہ روح اور جسم دونوں مراد ہیں۔ اسی طرح تطہیر کا تعلق بھی جسم سے ہے نہ کہ روح۔ یونہی فوقیت و غلبہ جسم سے ہی متعلق ہے۔ جس سے واضح

٤٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٧

ہوتا ہے کہ معنی یہ ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو پورا پورا یعنی روح مع الجسم ہر دو کو اٹھانے والا ہوں۔ ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں۔

نیز فرض کیجئے کہ توفی تمام معنی میں برابر اور ایک طرح پر استعمال ہوتی ہے۔ تو گویا توفی سب معنوں میں مشترک ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ جو لفظ مشترک ہو یعنی اس کے متعدد معنی ہوں تو جب تک کسی معنی پر قرینہ نہ پایا جائے تو اس وقت تک اس کا کوئی معنی مراد نہیں لے سکتے اور ظاہر کہ قرآن وحدیث، اجماع سیاق سباق واقعات سب قرینہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ ہیں۔ لہٰذا توفی کا معنی مراد یہی رفع الیٰ السماء ہی ہوسکتا ہے۔

اسی طرح دلیل میں اگر ایسا لفظ لایا جائے جس میں کئی ایک احتمال نکل سکیں تو بفحوائے ”اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال“ پس اس آیت کریمہ سے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر دلیل لانا قطعاً درست نہیں۔

تنبیہ

مفسرین کرام کا اس آیت کریمہ کی تشریح و تفصیل میں ذرا سا نزاع ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک جماعت اس آیت میں تقدیم و تاخیر کی قائل ہے۔ یعنی لفظ میں گو متوفیک پہلے ہے۔ لیکن در حقیقت وہ پیچھے ہے۔ اصل عبارت یوں ہے۔ ”رافعک الیٰ ثم متوفیک“ اور دوسری جماعت تقدیم و تاخیر کی قائل نہیں اور کہتی ہے کہ جیسے نظم قرآن میں لکھا ہوا ہے یہی صحیح ہے۔ موخر الذکر حضرات یعنی جو تقدیم و تاخیر کے قائل نہیں وہ معنی یوں بیان کرتے ہیں۔ مثلاً: ”انی متوفیک ای متمم عمرک اتوفاک فلا ترکهم حتٰی تقتلوک بل انی رافعک الیٰ سمائی (کبیر ج ٢ ص ٦٨٩)“

اسی طرح (فتح البیان ج ٢ ص ٤٩، کشاف ج ٢، سراج المنیر ج ١ ص ٢٠٦، خازن ج ١ ص ٢٢٨) وغیرہ۔ ”انی اجعلک کالمتوفی لانه اذا رفع الیٰ السماء وانقطع اثره عن الارض کانه کالمتوفی ٭ انی متوفیک عن شهواتک وحظوظ نفسک ٭ انی متوفیک ای عملک بمعنى مستوفی عملک ورافعک الیٰ ٭ متوفیک ای ورافعک الیٰ“

اور اوّل الذکر حضرات جو تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں وہ حضرت ابن عباس، ضحاک، قتادہ، فراء وغیرہ بزرگ ہیں۔ جیسا کہ (در منثور، تنویر المقیاس ج ١ ص ١٧٧، مدارک التنزیل ج ١ ص ١٢٦،

٤٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٨٨

مجمع البحار ج ٣ ص ٤٥٤) وغیرہ میں مذکور ہے۔ اور یہ تقدیم و تاخیر جب کوئی مانع موجود نہ ہو۔ بلکہ سیاق و سباق اس کا معاون ہو تو حرج نہیں اور پھر جب کہ واؤ حرف عطف ہے۔ جو ترتیب کے لئے نہیں بلکہ معطوف علیہ اور معطوف کو جمع کرنے کے لئے آتی ہے تو اس میں قطعاً کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ دیکھئے قرآن میں ”والسارق والسارقة“ اور ”والزانية والزانی“ وغیرہ میں واؤ موجود ہے۔ لیکن ترتیب کے لئے نہیں ہے۔

علامہ شوکانی ارشاد الفحول میں فرماتے ہیں۔ ”الواو للجمع“

اور (لسان العرب ج ٢ ص ٣٧٩) پر ہے۔ ”ان الوا ويعطف بها جملة على جملة ولا تدل على الترتيب“ بہر نہج قرآن حدیث کتب النحو وغیرہ سب سے تصریح ہے کہ واؤ محض عطف کے لئے ہے۔ نہ ترتیب کے لئے لہٰذا تقدیم و تاخیر کی تقدیر پر قرآن مجید کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ دیکھئے قرآن میں ”الم“ کے پہلے صفحہ ”والذين يؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلك“ موجود ہے۔ اگر واؤ ترتیب کے لئے ہو تو لازم کہ قرآن کا نزول تورایت وانجیل سے پہلے ہو۔ حالانکہ یوں نہیں ہے۔ مگر یاد رکھو کہ ابن عباسؓ سے گو یہ تفسیر ”انی متوفیک ای ممیتک قال ابن عباس (بخاری شریف)“ میں مذکور ہے۔ مگر اس سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ صیغہ اسم فاعل کا ہے اور نحو کا بچہ بھی جانتا ہے کہ اسم فاعل میں زمانہ نہیں ہوتا تو اس سے زمانہ ماضی میں موت عیسیٰ پر دلیل لانا محض لاعلمی اور خوش فہمی ہے۔ اس کا صرف معنی یہ ہے کہ میں ہی تجھ کو مارنے والا ہوں۔ (نہ کہ یہود) اور مطلقاً موت عیسیٰ کا کوئی بھی منکر نہیں اور ہو کیسے سکتا ہے؟ جب کہ ”کل نفس ذائقة الموت“ موجود ہے۔ دوسرا یہ حدیث (ممیتک والی) ضعیف ہے۔ کیونکہ اس میں ایک راوی علی بن طلحہ ہے۔ سند اس کی یوں ہے۔ ”حدثنی معاوية عن علی عن ابن عباسؓ“ (حافظ ابن جریر طبری ج ٣ ص ١٨٢) اور یہ ضعیف ہے۔ جیسا کہ (میزان الاعتدال ج ٢ ص ٢٧٢، تہذیب التہذیب ج ٧ ص ٢٣٩، تقریب التہذیب ص ١٨٢) وغیرہ میں ہے اور اس حدیث کا بخاری میں ہونا اس کی صحت کا موجب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بخاری میں انہی احادیث کی صحت کا التزام ہے جو کہ مرفوع ہیں نہ کہ تعلیقات اور موقوفات کا بھی جیسا کہ (فتح المغیث ص ١٩، ٢٠، مقدمہ ابن الصلاح ص ٣٠) ”وبما تقدم تأيد قول البخاری ما ادخلت فی كتابی هذا الا ماصح... وهو الاحاديث الصحيحة مستندة دون التعاليق والاثار الموقوفة على الصحابه فمن بعدهم والاديث

٤٨

صفحہ ١٨٩

المتوجة بھا ونحو ذالک“

حضرت ابن عباسؓ کا مذہب

یعنی روایت مذکورہ سے بظاہر گو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پر رفع الی السماء سے پہلے ان پر تین روز تک جیسا کہ (درمنثور ج٢ ص٧٦) یا سات ساعتیں جیسا کہ (روح المعانی ج١ ص٥٥٦) یا تین ساعات جیسے (فتح البیان ج٢ ص٤٩) وغیرہ موت واقع ہوئی ہے۔ لیکن ان کا صحیح مذہب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت واقع نہیں۔

”هو الصحیح کما قال القرطبی ان الله رفعه من غیر وفاة ولا نوم وهو الاختیار الطبری الروایة الصحیحة عن ابن عباس کذافی (فتح البیان ج٢ ص٣٤٢، ابن کثیر ج٢ ص٢٢٨، روح المعانی ج١ ص٥٩٥، ج٢ ص٢٠٢، معالم ج٢ ص١٦٢)“

”فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیهم“ (یعنی جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے عیسیٰ ابن مریم کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری والدہ کو اللہ کے سوا دو معبود بنالو۔ اس کے جواب میں جو کچھ کہیں گے اس میں یہ بھی کہیں گے) میں نے انہیں نہیں کہا۔ مگر جس کا تو نے مجھے حکم دیا کہ عبادت کرو اللہ کی، جو کہ میرا بھی اور تمہارا بھی پروردگار ہے اور میں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تو ہی ان پر نگہبان تھا۔ تو ہر چیز کا دیکھنے والا ہے۔

(تفسیر فتح البیان ج٣ ص١٣٣) مصری میں ہے: ”وانما المعنی فلما رفعتنی الی السماء واخذتنی وافیا بالرفع (ارشاد الساری ج١ ص١١٤، معالم ج١ ص٣٠٨، مدارک ج١ ص٢٤٢، جمل ج١ ص٦٥٨، بیضاوی ج٢ ص٢١٩، درمنثور ج٢ ص٢٤٩، سراج المنیر ج١ ص٤٠٥، کتاب الوجیز ج١ ص٤٢٩، روح المعانی ج٣ ص٤١٤)“ ہے۔

”فلما توفیتنی ای قبضتنی بالرفع الی السماء روی هذا عن الحسن وعلیه الجمهور“

خلاصہ یہ کہ توفیتنی کا معنی رفع الی السماء ہے اور یہی مسلک جمہور ہے۔

سوال...... اگر عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو پھر اپنی ذمہ داری کی نفی کیوں فرما رہے ہیں۔

جواب...... یہ ہے کہ یہ نفی اس وجہ سے نہیں ہے کہ قوم کا کردار آپ کے علم میں نہیں

٤٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٠

ہے ۔ بلکہ اس وجہ سے ہے کہ رفع آسمان کا زمانہ آپ کے فرض منصبی سے باہر ہے ۔ کیونکہ آپ قوم میں موجود نہیں ہیں ۔ بلکہ آسمان پر ہیں تو جواب درست ہے کہ یہ میری ڈیوٹی کا زمانہ نہیں ہے۔ ہاں جب وہ اتر کر قوم میں موجود ہوں گے تو ان سے کردار قوم سے متعلق باز پرس ہو سکتی ہے۔ ثابت ہوا کہ مسیح حیات ہیں۔

”فاقول كماقال العبد الصالح وكنت عليهم شهيدا فلما توفيتنى“ یعنی بروز قیامت کردار قوم سے سوال پر میں وہی کہوں گا۔ جو کہ عبدصالح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں ان پر اس وقت نگہبان تھا۔ جب ان میں تھا اور جب تو نے ...... الخ ) یہاں پر حضور علیہ السلام نے اپنے قصہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور ظاہر ہے کہ مشبہہ بہ میں وجہ شبہ، مشبہ سے اقویٰ ہوتی ہے اور حضور علیہ السلام کی توفی جو کہ مشبہ ہے۔ یوں ہے کہ آپ کی روح کو اٹھا لیا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کی توفی مشبہ بہ ہے۔ لہٰذا وہ اقویٰ ہونی چاہئے اور اس کی صورت یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی روح اور جسم پر دونوں سے ہو۔ یعنی جب آپ کو معہ جسم آسمان پر اٹھا لیا۔ ثابت ہوا مسیح زندہ ہیں۔

”قال عيسى بن مريم اللهم ربنا انزل علينا مائدة من السماء تكون لنا عید الاولنا واخرنا واية منك“ {عیسیٰ بن مریم نے کہا اے پروردگار ہمارے لئے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار، تا کہ ہمارے اولین کے لئے اور ہمارے آخرین کے لئے عید ہو اور وہ تیری طرف سے ایک نشانی ہو۔ یہاں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے اولین اور اپنے آخرین کا ذکر کیا ہے اور ظاہر ہے کہ اولین و آخرین آپ کے وہ اسی وقت ہو سکتے ہیں کہ ان میں موجود ہوں۔ یعنی آپ کی حیات طیبہ کے دو دور ہیں۔ اوّل و آخر ۔ دور اوّل کے ماننے والے اولین اور دور آخر کے ماننے والے آخرین ہوں گے۔ ثابت ہوا کہ آپ زندہ ہیں اور آسمان سے اتر کر آخرین میں رونق افروز ہوں گے ۔ }

”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها“ {اور بے شک وہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی علامت ہیں۔ پس اس میں تم ہرگز شبہ نہ کرو۔}

اس آیت کی توضیح میں ’اقوال سلف‘ ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں۔ ”وانه لعلم للساعة قال نزول عيسى بن مریم (ابن جریر ص ٢٩ ، ٢٥ ، در منثور ج ٦ ص ٣٠)“

٥٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩١

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں ۔ ’’ وانہ لعلم للساعة قال خروج عيسى يمكث فى الارض اربعين سنة (درمنثور ج ٦ ص ٢٠)‘‘

حضرت قتادہ، مجاہد، حسن بصری، ضحاک، ابو مالک، ابن زیدؓ اور جمہور مفسرین فرماتے ہیں: ’’ وانه لعلم للساعة اى اية للساعة خروج عيسى بن مريم عليه السلام قبل يوم القيامة هكذا روى عن هريره وابن عباس وابى العاليه وابى مالك وعكرمة والحسن وقتاده والضحاك وغيرهم وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله ﷺ بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيامة اماما عادلا وحكما مقسطا (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ١٣٣)‘‘ ترجمہ ظاہر ہے۔

ناظرین کرام! ان مذکورۃ الصدر آیات کریمہ اور بیسیوں مثل دیگر کئی ایک آیات مبارکہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسدی اور رفع آسمانی اور نزول آسمانی روز روشن سے زیادہ طور پر ثابت ہوگیا ۔ آپ قرآن مجید کے مفسرین کرام کی حیات مسیح پر تصریحات بھی سماع فرمائیے۔

’’ وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افامات او قتل انقلبتم على اعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيا ويجزى الله الشاكرين‘‘ {اور نہیں ہیں محمد (ﷺ) مگر رسول بلاشبہ ان سے پیش تر سب رسول آچکے ہیں۔ پس اگر یہ فوت ہو جائے یا قتل ہو جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔

وجہ استدلال

خلاء کا معنی موت ہے۔ لسان العرب میں ہے: ’’خلا فلان اذا مات خلا الرسل اذا مات‘‘ اور (اقرب الموارد ج ١ ص ٢٩٩) میں اسی طرح ہے اور الرسل میں ال استغراقی ہے۔ جیسا کہ بعض تفسیرات سے ظاہر ہے۔ تفسیر بحر مواج میں معنی اس آیت کا یوں ہے۔ معنی ایں است کہ بدرستی پیش ازو پیغمبران گذشتہ اندر ہمہ از جہاں رفتہ اند...... اسی طرح دوسری تفسیروں میں بھی یوں ہی معنی لکھا ہے اور گزرنے کے صرف دو طریقے ہیں۔ موت طبعی یا قتل کیونکہ آیت میں انہی دو کا ذکر ہے۔ اگر گزرنے کا کوئی اور طریقہ بھی ہوتا۔ یعنی آسمان کی طرف اٹھا لینا تو اس کا بھی ضرور تذکرہ ہوتا اور جب کہ نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ موت صرف انہی دو معنوں میں منحصر ہے۔ اب مطلب اس آیت کریمہ کا یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ محض رسول ہیں اور آپ سے پہلے جملہ انبیاء

٥١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٢

علیہم السلام فوت ہو چکے ہیں۔ بعض بذریعہ قتل اور بعض بذریعہ موت طبعی تو کیا آنحضرت ﷺ بھی اگر ان کی طرح بذریعہ موت طبعی یا قتل ہو جائیں تو تم اسلام سے پھر جاؤ گے۔ (یعنی ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے) مطلب بالکل صاف اور واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آپ سے چونکہ پہلے ہوئے ہیں اور جملہ انبیاء علیہم السلام میں بحیثیت رسول ہونے کے داخل ہیں تو جہاں پر دوسروں کی موت واقع ہوئی آپ بھی وہاں موت سے متاثر ہوئے۔ ”وھو المطلب“

اور اگر خلا کا معنی موت اور الرسل میں الف ولام استغراقی نہ لیا جائے۔ جیسا کہ غیر احمدی صاحبان کا خیال ہے۔ تو آیت کریمہ میں جو افائن مات کو اپنے ماقبل پر مرتب فرمایا ہے اور صدر آیت پر تفریع بٹھائی ہے۔ وہ غلط ہو جائے گی۔ کیونکہ اس وقت تفریع خاص کی عام پر ہوگی۔ اس وجہ سے کہ انتقال جو انقلبتم سے مفہوم ہوتا ہے اور قتل وموت طبعی خاص ایسے ہی جب کہ الرسل جملہ انبیاء کرام علیہم السلام کو شامل نہ ہو۔ بلکہ بعض کو تو سب کے لئے فوتیدگی بذریعہ موت طبعی یا قتل کا حکم دینا یا سب کا اس کے اثر سے متاثر ہونا باطل ہے۔ کیونکہ ممکن ہے کہ جو افراد الرسل سے خارج ہوں۔ ان کی فوتیدگی کی صورت یہ نہ ہو۔ پس اسی صورت میں افائن مات کا ماقبل عام ہوا اور یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مرتب اور مرتب علیہ میں علاقہ استلزام ہوا کرتا ہے۔ یعنی مرتب علیہ کا وجود بدون مرتب کے نہیں ہو سکتا۔ اب چونکہ مرتب علیہ اور مرتب میں عموم وخصوص نکل آیا جو کہ علاقہ استلزام سے خالی ہوتا ہے۔ یعنی یہ نہیں کہہ سکتے کہ عام کا وجود بغیر خاص کے ہو نہیں سکتا۔ لہٰذا افائن مات کا اپنے ماقبل پر مرتب اور متفرع ہونا کسی طور پر ثابت نہ ہوسکا۔ خلاصہ سب کا یہ ہوا کہ آیت میں خلا کا معنی موت اور الرسل میں الف ولام کا استغراقی لینا متعین ہے۔ جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عدم حیات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے اور یہی مطلب ہے۔

جواب...... استدلال مذکور الصدر کی صحت چند امروں پر موقوف ہے۔

صادق آتے ہیں۔

ہو جائے گی۔

٥٢

صفحہ ١٩٣

امور صحیح اور درست ثابت ہو جائیں تو استدلال بالکل صحیح ہوگا اور مطلب ثابت ۔ ورنہ اگر یہ سب کے سب یا ان سے بعض امور غلط ہو جائیں تو استدلال مذکور ساقط الاعتبار ٹھہرے گا اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ جملہ امور جن پر مرزائی صاحبان نے وفات حضرت مسیح علیہ السلام کے استدلال کو بڑے زوروشور سے قائم کیا ہے۔ غلط اور غیر صحیح ہیں غور فرمائیں۔

وانتقال ہے۔ عام ازیں کہ انتقال ایک زمانہ سے دوسرے زمانہ کی طرف ہو یا ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف ایک حالت اور کیفیت سے دوسری حالت اور کیفیت کی طرف ہو، قتل کی وجہ سے ہو یا موت طبعی سے ہو۔ اوپر کی طرف ہو یا نیچے کی طرف ہو۔ یا یوں کہو کہ بصورت اشتراک معنوی خلا کا معنی صرف انتقال ہے اور باقی جملہ معانی مستعمل فیہ ہیں۔ یا یوں سمجھو کہ مطلق انتقال بمنزلہ جنس اور باقی معانی بدرجہ انواع رکھئے۔ خلا بمعنی

انفردت معہ“ اسی طرح (صراح ص ٥٥٥) پر ہے۔

یستعمل فی الزمان والمکان“

مضیٰ وارسل“

یقطع وکذا المفردات“

مفردات میں ہے۔ ”فخلوا سبیلہم ناقہ خلیۃ امراۃ خلیۃ خلاہ عن

٥٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٤

الروح“ بمعنی تاسف صراح میں ہے۔ ”خلا خلوہ بالفتح“ تنہائی ساختن وافسوس داشتن خلا کے ان معانی متعددہ مذکورہ میں غور کرنے سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ یہ سب کے سب کسی نہ کسی اعتبار سے معنی انتقال پر مشتمل ہیں اور خلا کا معنی موت متعین نہیں۔ پس بنا بریں اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر استدلال قائم کرنا درست اور صحیح نہیں۔ کیونکہ جب استدلال اس پر موقوف ہے کہ خلا کا معنی موت ہے تو یہ اسی صورت میں صحیح ہو سکتا ہے کہ خلا کا وضعی معنی موت ہو اور جب یہ باطل ہوا تو استدلال جو اس پر موقوف تھا وہ بھی باطل ہو گیا۔

متساوی الصدق اور متحد المعنی ہونا کیسے مانا جا سکتا ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ خلا اور موت چونکہ دو کلی مفہوم ہیں۔ لہٰذا ان میں نسبت تباین تساوی عام خاص مطلق عام خاص من وجہ چاروں میں سے کوئی ضرور متحقق ہوگی۔ تباین بالکل باطل ہے۔ کیونکہ بعض جگہ خلا بمعنی موت مستعمل ہے اور تساوی بھی غیر متصور ہے۔ کیونکہ بعض جگہ خلا مستعمل ہے۔ مگر وہاں پر معنی موت نہیں لے سکتے۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ ایسے ہی عموم و خصوص من وجہ بھی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جانب موت میں عموم نہیں ہے۔ باقی رہا عموم و خصوص مطلق وہ قطعی طور پر ہو سکتی ہے۔ یعنی خلا معنی انتقال عام مطلق ہے اور موت خاص مطلق۔ پس جب کہ موت اور خلا متساوی الصدق متحد المعنی ثابت نہ ہوئے تو استدلال بھی چونکہ دونوں کے اتحاد پر موقوف تھا تو عدم اتحاد کی صورت میں بھی وہ باطل ہوا۔

ہی کوئی قاعدہ کلیہ ہے۔ دیکھئے قرآن مجید میں ہے: ”واذ قالت الملائکۃ یا مریم ان اللہ یبشرک الایۃ واذ قالت الملئکۃ یا مریم ان اللہ اصطفک، الایۃ • قال لہم الناس“ ملاحظہ فرمائیے۔ الملائکۃ سے دونوں آیتوں میں فقط حضرت جبرائیل علیہ السلام مراد ہیں اور تیسری آیت میں الناس سے مراد نعیم بن مسعود، شجعی مراد ہے۔ علیٰ ہذا القیاس ایسی متعدد آیات واحادیث مل سکتی ہیں جو کہ بصورت جمع ہیں اور ان پر الف و لام بھی داخل ہے۔ لیکن وہ استغراق کی مفید نہیں ہیں۔ پس جب کہ الرسل پر الف لام مفید استغراق نہ ہو تو استدلال جو اس پر موقوف تھا وہ باطل ہو گیا۔ بلکہ مرزائی صاحبان کو خود مسلم ہے کہ یہاں پر الف لام استغراق کے لئے نہیں

٥٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٥

ہے ۔ کیونکہ آیت کریمہ ”ما المسیح بن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل“ میں ان کے ہاں الف ولام استغراق کا نہیں ہے۔ چنانچہ (پاکٹ بک جدید احمدیہ ص ٣٥٤) میں تحریر ہے۔

بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ چونکہ آیت ”ما المسیح بن مریم الا رسول“ میں سے حضرت مسیح باہر رہ جاتے تھے۔ تو جب اس میں الف لام استغراق کا نہ ہوا تو آیت ”ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل“ میں بھی الف لام استغراق کا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دونوں کا اسلوب جب ایک ہی شکل ہیئت پر ہے۔ تو ایک کا حکم دوسرے پر قطعاً جاری ہوگا۔

پھر بھی وفات مسیح علیہ السلام اس سے قطعاً ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ کسی عام چیز کا کسی نوع کے لئے ثابت ہونا قطعاً اس بات کو مستلزم نہیں کہ جو چیز اس عام کے ماتحت داخل ہو وہ اس نوع یا اس کے ہر ایک فرد کے لئے ثابت ہو۔ مثلاً ایک عام چیز ہے جو متعدد معنی پر دلالت کرتا ہے۔ مثلاً ایجاب سلب، خطاب اللہ تعالیٰ، اثر مرتب اذعان، اعتقاد وغیرہ تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اگر اب ایک چیز کا علم حاصل کریں۔ وہاں علم کے جملہ معانی پائے جائیں یا ایک جگہ آپ نے حکم جزوی لگایا ہے تو کیا اس سے یہ لازم آجائے گا کہ اس جگہ حکم کے جملہ معانی متحقق ہو جائیں۔ بناء علیہ اگر خلا انبیاء علیہم السلام کے لئے ثابت ہو یا ان میں سے ایک کے لئے ثابت ہو تو کیا اس سے یہ لازم آ جائے گا کہ جتنے معنی خلا کے ہیں۔ حتیٰ کہ موت بھی وہاں ثابت ہوں۔ حاشا وکلا ء بلکہ ممکن ہے کہ بعض کے لئے خلا کسی دوسرے معنی سے۔

درست نہیں ہوتی۔ بلکہ غیر صحیح ہے۔ کیونکہ تفریع گو بظاہر افان مات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر غور کی جاوے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے احکام شرعیہ کی تبلیغ اور اسلامیات کی نشر و اشاعت کے بعد اسی دارفنا سے دار بقا میں تشریف لے جانے کی تقدیر پر صحابہ کرامؓ کے اور دین حق سے پھر جانے کی نفی اور استعباد کو مرتب فرمایا ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ رسول ہیں۔ آپ سے پہلے رسول گزر گئے تو کیا تم دلیل حق کی تکمیل ہو جانے کے بعد اسلام سے پھر جاؤ گے۔ اگر آپ تم میں سے بوجہ قتل یا موت طبعی یا قتل جس کی بنا پر اسلام سے پھر جانے کی نفی فرمائی ہے کہ

٥٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٦

تفریع قد خلت پر صحیح ہے۔ کیونکہ خلا بمعنی مضی و انتقال اور انتقال متساوی اور متحد ہیں اور ایک مساوی کی دوسرے مساوی پر تفریع صحیح ہے۔ جیسا کہ کہا جائے کہ میں نے حیوان ناطق دیکھا ہے۔ پس وہ انسان ہے۔ پس وہ انسان چونکہ حیوان ناطق کے ساتھ مساوی ہے۔ لہٰذا تفریع صحیح ہے۔

اور اگر کوئی فرد اور بھی ہوتا۔ مثلاً آسمان کی طرف اٹھانا تو اس کا آیت کریمہ میں ضرور تذکرہ ہوتا۔ بالکل غیر صحیح ہے۔ اس وجہ سے کہ گذرنے کا ایک اور بھی طریقہ ہے۔ یعنی آسمان پر اٹھانا اور یہاں آیت کریمہ میں گو آپ کا انتقال اس طریقہ سے کہ آسمان پر اٹھا لیا جائے۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو باتفاق اہل اسلام آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے یا بذریعہ موت طبعی یا بطریقہ قتل عالم فانی سے ہو جائے تو تم اسلام سے پھر جاؤ گے؟ رہا یہ امر کہ اس تیسری شق کا بیان آیت کریمہ میں کیوں ضروری نہیں سمجھا گیا۔ سو وجہ اس کی یہ ہے کہ موت طبعی کا ذکر تو اس لئے ہے کہ یہ واقع کے مطابق ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ کا انتقال اللہ تعالیٰ کے علم ازل میں چونکہ بصورت موت طبعی تھا۔ لہٰذا اس تقدیر کو ظاہر کر دیا اور قتل کا تذکرہ گو حقیقت کے خلاف ہے۔ لیکن جب کہ شیطان لعین نے آواز کی کہ آنحضرت ﷺ قتل کئے گئے تو جن صحابہ کرامؓ نے سنا ان کی کمر ہمت ٹوٹ گئی۔ بیقراری و پریشانی میں مبتلا ہوئے۔ اپنی موت و زیست کے مختلف منصوبے خیال کرنے لگے۔ کسی نے کہا کہ اب جینے سے کیا فائدہ۔ چلو خدا کی راہ میں شہید ہو جائیں اور کسی نے کچھ اور بہر حال آپ کے قتل کا خیال بعض کے دل میں مستحکم ہو چکا تھا اور پھر جبکہ تائید اس سے بھی ہو جاتی تھی کہ پہلے متعدد انبیاء کرام علیہم السلام کو قتل کر دیا گیا۔ جیسا قرآن مجید میں وارد ہے۔ ”ویقتلون النبیین بغیر الحق“ صاف الفاظ میں اس کا تذکرہ موجود ہے کہ بنی اسرائیل نے متعدد نبیوں کو بلا وجہ قتل کے گھاٹ اتار دیا۔ جس کی وجہ سے وہ ابدالاباد کے لئے جہنم رسید ہوئے تو اس خیال کا صحابہ کے دلوں میں پیدا ہو جانا کوئی بعید از عقل امر نہیں۔

بہرحال آپ کے قتل کا خیال بڑے زور سے دلوں میں چونکہ بیٹھ چکا تھا۔ لہٰذا قتل کی تصریح کر دی گئی۔ باقی رہا یہ کہ آسمان پر اٹھانے کی باوجودیکہ مراد ہے۔ پھر تصریح نہیں کی سو اس کی وجہ یہ ہے کہ آسمان پر اٹھایا جانا جبکہ حقیقت یعنی علم الٰہی کے خلاف تھا اور نہ ہی اس کا دلوں میں استقرار تھا کہ آپ اوپر اٹھائے جائیں گے۔ جیسا کہ قتل ذہنوں میں مستحکم ہو چکا تھا۔ بیان نہیں

٥٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٧

کیا گیا اور پھر جس وقت آپ سے پیش تر اس طرح کا انتقال یعنی آسمان پر اٹھایا جانا بھی قلیل الوجود اور نادر الوقوع ہو۔ کسی طرح سے اس بات کی تصریح ضروری خیال نہیں کی جاسکتی کہ اگر آپ آسمان پر اٹھائے جائیں تو ...... الخ!

ناظرین! باتمکین آپ کو اس بیان کے سن لینے کے بعد یہ امر واضح ہو گیا ہو گا کہ مرزائی صاحبان کا یہ کہنا کہ گزر جانے کے صرف دو طریقے قرار دیئے ہیں۔ اگر کوئی تیسری صورت گزرنے کی ہوتی تو اس کا بھی آیت میں ذکر ہوتا اور معنی یہ کرنا کہ سب رسول گزر چکے ہیں۔ یعنی فوت ہو چکے ہیں۔ بالکل بے انصافی ہے اور قرآن مجید میں ناجائز تصرف کا ارتکاب ہے۔

اسی طرح یہ کہنا کہ اگر کوئی کہے کہ چونکہ آنحضرت ﷺ نے آسمان پر نہ جانا تھا تو میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ نے قتل بھی نہ ہونا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے۔ ”واللہ یعصمک من الناس“ پھر اس کا ذکر کیوں کیا۔ (پاکٹ بک احمدیہ ص ٣٥٥) بھی نادرست ہے۔ ہمارے بیان میں ادنیٰ تامل کرنے سے اس کا ظاہر البطلان ہونا ظاہر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں ہے۔ بلکہ وجہ وہ ہے جو کہ اوپر بیان ہوچکی۔

مفسرین کرام اور حیات مسیح علیہ السلام

امام جلال الدین سیوطی، شیخ جلال الدین محلی، تفسیر اتقان و تفسیر جلالین ”ومکروا ومکر اللہ خیر الماکرین بان اللہ شبہ عیسیٰ علیٰ من قصد قتل ورفع عیسیٰ الیٰ السماءِ“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشبیہ اس شخص پر ڈالی گئی۔ جس نے آپ کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا اور آپ کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ محمد طاہر گجراتی (مجمع البحار ص ١٠٢) ”فیبعث اللہ عیسیٰ ای ینزل من السماءِ“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔ حافظ ابو محمد حسین البغوی تفسیر (معالم التنزیل ج ١ ص ٤٦٣) ”بل رفع اللہ عیسیٰ الیٰ السماءِ“ یعنی بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا۔ قاضی نصیر الدین بیضاوی (تفسیر بیضاوی ج ٢ ص ٨٢) ”روی ان عیسیٰ ینزل من السماء حین یخرج الدجال فیقتلہ“ یعنی جب دجال نکلے گا اتریں گے اور اس کو قتل کریں گے۔ سید معین الدین محمد، (تفسیر جامع البیان ص ١٠١) ”فلما توفیتنی الیٰ السماءِ“ یعنی اٹھایا مجھے آسمان پر۔ علاؤ الدین خازن (تفسیر خازن ج ١ ص ٥٣١) ”فلما توفیتنی فلمّا رفعتنی الیٰ السماءِ“ یعنی جب کہ تو نے مجھے آسمان پر اٹھالیا۔ ابوالبرکات عبداللہ بن احمد حنفی

٥٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٨

(تفسیر مدارک ، التنزیل ج ١ ص ٢٠٦) ”روی ان عیسیٰ ینزل من السماء فی أخر الزمان“ یعنی اخیر زمانہ میں آپ آسمان سے اتریں گے۔ محمد بن عمر زمخشری تفسیر (کشاف ج ١ ص ٣٠٦) ” رافعك الی سمائی“ یعنی تجھے آسمان پر اٹھانے والا ہوں ۔ شیخ زین الدین (تفسیر تیسیر المناف بصیر الرحمن ج ١ ص ١١٣)”رافعك الی سمائی“ یعنی تجھے آسمان پر لے جانے والا ہوں۔ شیخ کمال الدین (تفسیر کمالین برحاشیہ جلالین) ”ان الله رفع عيسى من روزنة في البيت الى السماء“ یعنی آپ کو آسمان پر روشندان سے آسمان پر اٹھالیا۔ امام زاہدی (تفسیر زاہدی قلمی ورق ج ٢ ص ١٦٤) چوں کار مومناں تنگ آید حق سبحانہ ، عیسیٰ را ز آسمان فرستد ، دجال را بکشید ۔ یعنی آپ کو زمین پر اتارا جائے گا۔ تاکہ دجال کو قتل کریں گے۔ مولوی احتشام الدین تفسیر (اکسیر اعظم ج٦ ص٤٠) خدا نے عیسیٰ کو آسمان پر اٹھالیا۔ قاضی شوکانی یمنی تفسیر (فتح البیان ج ١ ص ١٧٥) ” تواترت الاحادیث بنزول عیسیٰ جسماً“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے نزول جسمی پر متواتر حدیثیں آ چکی ہیں۔

امام فخر الدین رازی (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤٢٠) ”بل رفعه الله اليه رفع عیسیٰ الی السماء ثابت بھذا“ یعنی آپ کا رفع جسمی آسمان کی طرف اس آیت سے ثابت ہے ۔ حافظ ابن کثیر (تفسیر ابن کثیر بحاشیہ فتح البیان مطبوعہ مصر ج ٢ ص ٢٢٩)” نجاه الله من بينهم ورفعه من روزنة ذالك البيت الى السماء (ج ٣ ص ٢٣٣) بقى حياته (ای عیسیٰ) فی السماء وانه سینزل الى الارض قبل يوم القيامة“ یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ نے ان سے نجات دی اور روشن دان سے آسمان کی طرف اٹھالیا۔ اب آپ زندہ آسمان میں ہیں ۔ قیامت سے پیش تر زمین پر اتریں گے۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی مجدد مائتہ تاویل الاحادیث مترجم اور (قصص الانبیاء مطبع احمدی ص ٦٠) ”واجمعوا على قتل عيسىٰ ومكروا ومكر الله والله خير الماكرين فجعل فيه متشابهة ورفعه الى السماء“ یعنی یہود عیسیٰ علیہ السلام کے قتل پر جمع ہوئے۔ پس مکر کیا انہوں نے اور مکر کیا اللہ تعالیٰ نے اور اللہ غالب مکر کرنے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شبیہ عیسیٰ کی ڈال دی ایک پر اور اٹھالیا عیسیٰ کو آسمان پر ۔ یہ وہ مجدد صاحب ہیں جن کو مرزائی صاحب مانتے ہیں ۔ مگر افسوس کہ صرف یہ زبانی ہی دعویٰ ہے ۔ ورنہ عقیدہ مجدد صاحب میں جو کہ اجماع کے

٥٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٩٩

موافق ہے۔ متحد ہوتے۔ بہر صورت یہ سب وہ تفسیریں ہیں جو کہ نہایت ہی معتبر ہیں اور سب میں حیات مسیح علیہ السلام مذکور اور لفظ آسمان کی صاف تصریح موجود ہے۔ ماننے کے لئے ایمان چاہئے۔ صاحب تنویر (تفسیر تنویر المقباس بحاشیہ در منثور ج ١ ص ٣٧٨) ”رفعتنی من بینھم“ یعنی یہود میں سے مجھے اٹھا لیا۔

ابو جعفر محمد بن جریر طبری شافعی (تفسیر ابن جریر ج ١ ص ٧٢، ج ٢٨ ص ١٨٩) ابو ہریرہؓ نے روایت کی ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے تو تمام دنیا والے ان کے تابع ہو جائیں گے۔ تفسیر ابو سعود بحاشیہ کبیر ج ٧ ص ١٣، اخبار الطبری ”ان الله رفع عیسیٰ من غیر موت“ یعنی آپ کو بلا موت آسمان پر اٹھا لیا گیا۔

(تفسیر قادری ج ٢ ص ٤٠٨) پر ہے۔ اس واسطے کہ قیامت کی علامات میں سے ایک عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا ہے۔ (تفسیر مجمع البیان ج ٢ ص ٣٣٤) یعنی ”ان نزول عیسیٰ علیه السلام من اشراط الساعة“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا علامات قیامت سے ہے۔

(تفسیر غرائب القرآن ج ٢٥ ص ٦٤) ”وانه یعنی عیسیٰ علیه السلام لعلم للساعة لعلامة من علامات القيامة كما جاء فی الحدیث“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی علامت ہیں۔ یعنی آپ کے اترنے کے بعد فوراً قیامت آئے گی۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا۔

(بحر المحیط ج ٨ ص ٢٥) ”وهو نزوله من السماء فی اخر الزمان“ یعنی مراد علامت سے عیسیٰ علیہ السلام کا اخیر زمانہ میں آنا ہے۔ (النہر الماد ج ٨ ص ٢٤) ”وهو نزوله من السماء فی اخر الزمان“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا ہے۔ (فتح البیان ج ٢ ص ٤٢٢) پر ہے۔ اسی واسطے کہ اترنا اس کا آسمان سے قیامت کے نزدیک ہونے کی علامتوں میں سے ہے۔ (اعظم التفاسیر حصہ ٢٥ ص ٣١٨) کیونکہ قیامت کی علامت میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول کرنا ہے۔

(فتح المنان ج ٦ ص ٢٣٤) اور نیز وہ قیامت کی نشانی ہے کہ قریب قیامت کے دنیا پر اترے گا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آتا ہے۔ (اکلیل بر حاشیہ جامع البیان ص ٣٥٩) ”وانه لعلم للساعة ای فی نزول عیسیٰ علیه السلام قریباً“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے میں قرب قیامت ہے۔ (لسان العرب ج ١٥ ص ٣١٤) ”المعنى ان ظهور عيسىٰ ونزول الیٰ

٥٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٠

الارض علامة تدل على اقتراب الساعة“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر دوبارہ اترنا علامت قرب قیامت ہے۔ (تاج التفاسیر ج ٢ ص ١٤١) ”وانه لعلم الساعة الضمیر لعيسىٰ عليه السلام“ یعنی آپ قیامت کی علامت ہیں۔ (شرح فقہ اکبر المعروف بہ شرح ملاعلی قاری ص ١٤٦) ”قبل موته ای قبل موت عيسىٰ بعد نزوله عند قيام الساعة فتصير الملل واحدة وهی ملة الاسلام الحنيفية“ یعنی آپ قیام قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اور اس وقت سب کا مذہب صرف اسلام ہوگا۔ (کتاب الوجیز ج ٤ ص ٢٧٨) ”ای بنزول يعلم قيام الساعة“ یعنی آپ کا اترنا قرب قیامت کی علامت ہے۔ (التفسیر الاحمدی ص ٦٥٢) ”وانه لعلم للساعة هذه الاية التي يفهم منها ان نزول عيسىٰ يدل على قرب القيامة“ یعنی اس آیت سے مفہوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا علامت قرب قیامت ہے۔ (سراج المنیر ج ٣ ص ٥٧٠) ”لعلم للساعة ای نزول سبب للعلم بقرب القيامة“ یعنی آپ کا اترنا علم قرب قیامت کے لئے ہے۔ (روح البیان ج ٣ ص ٥٨٤) ”وانه ای ان عيسىٰ عليه السلام بنزول فی اخر الزمان“ یعنی علامت قرب قیامت ہیں اس وجہ سے کہ آپ اخیر زمانہ میں اتریں گے۔ (روح المعانی ج ٨ ص ٣٦٢) ”ای انه بنزوله شرط من اشراطها“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا علامت قیامت ہے۔ (عرائس البیان ج ٢ ص ٣٦٢) ”وذالك كان نزوله من اشراط الساعة“ یعنی آپ کا اترنا قیامت کی شرطوں سے ہے۔

آنحضرت ﷺ اور مسیح علیہ السلام کی حیات جسدی

......١ (کنز العمال ج ٧ ص ٢٦٨، منتخب کنز العمال ج ٦ ص ٥٦، حجج الکرامۃ ص ٤٢٣) پر

ہے۔ ”قال ابن عباس رضی اللہ عنہ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فعند ذالك ينزل اخى عيسىٰ ابن مريم من السماء على جبل افيق اماماً هادياً وحكماً عادلاً عليه برنس له مربوع الخلق اصلت سبط الشعر بيده حربة يقتل الدجال يضع الحرب اوزارها فكان السلم . فيلقى الرجل الاسد فلا يهيجه وياخذ الحية فلا تضره وتنبت الارض كنباتها على عهد أدم ويؤمن به اهل الارض ويكون الناس اهل ملة واحدة“ {یعنی عبداللہ بن عباسؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ پس اس وقت میرے بھائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے جبل افیق پر نازل ہوں گے اور آپ امام ہادی حاکم عادل

٦٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠١

ہوں گے۔ آپ پر ایک چادر ہوگی۔ سبط الاخلاق مضبوط سیدھے بالوں والے ہوں گے اور ان کے ہاتھ میں ایک حربہ ہوگا۔ جس سے دجال کو قتل کریں گے۔ پس جب کہ دجال قتل ہو جائے گا لڑائی بند ہو جائے گی اور بالکل امن ہوگا۔ پس ایک آدمی شیر سے ملے گا وہ کچھ نہیں کہے گا اور سانپ کو پکڑے گا وہ ضرر نہ دے گا اور زمین پر اسی طرح انگوری آجائے گی جیسا کہ حضرت آدم کے وقت اگاتی تھی اور آپ کے ساتھ سب ایمان لائیں گے اور اس وقت سب لوگ ایک مذہب پر (یعنی اسلام پر) ہوں گے۔}

علامہ بیہقی کی کتاب (الاسماء والصفات ص ٣٠١) پر ہے: ”ان اباھریرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم“ {بالضرور حضرت ابو ہریرہؓ نے یوں فرمایا کہ حضور علیہ السلام نے یوں فرمایا۔ تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا۔ جب ابن مریم آسمان سے اترے گا تم میں، اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔}

ابن عساکر اور اسحق بن بشیر نے روایت کیا ہے۔ ”عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فعند ذالك ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السماء“ {عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ پس اس وقت میرا بھائی عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوگا۔}

نوٹ: ہر دو حدیث میں آسمان کا لفظ موجود ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا اپنی کتاب (حمامة البشریٰ حاشیہ ص ١٨، خزائن ج ٧ ص ١٩٦) اور (حمامة البشریٰ ص ٢١، خزائن ج ٧ ص ٢٠٢) پر یا کسی مرزائی کا یہ کہنا کہ حدیث میں آسمان کا لفظ موجود نہیں ہے۔ محض اپنی زیادتی ہے۔ ہرگز درست نہیں ہے۔ محض غلط ہے۔

صحیح مسلم شریف ج ١ ص ٢٠٦ میں ہے: ”یحدث عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال والذی نفسی بیده لیھلن ابن مریم بفج الروحاء حاجا او معتمراً او یثنیھما“ {یعنی حضرت ابو ہریرہؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے۔ البتہ ضرور گزرے گا ابن مریم روحاء کے راستے سے حج کرتے ہوئے یا عمرہ کرتے ہوئے یا دونوں۔}

٦١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٢

نوٹ: اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اپنا حلفیہ اور قسمیہ بیان فرمایا ہے جو کہ اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ مضمون اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہے اور ہرگز قابل تاویل نہیں اور مضمون کا اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہونا خود مرزا قادیانی کو تسلیم ہے۔ اپنی کتاب (حمامتہ البشریٰ حاشیہ ٥ ص ٤١ تا ٤٤، خزائن ج ٧ ص ١٩٢) میں لکھتے ہیں۔ کیونکہ آنحضرت کے ایسے ارشاد کا تب اختلاف ہوسکتا ہے۔ جو وحی الہی اور موکد بہ حلف ہو اور قسم صاف بتلاتی ہے کہ یہ خبر ظاہری معنوں پر محمول ہے۔ نہ اس میں کوئی تاویل ہے اور نہ استثنائی۔ ورنہ قسم میں کون سا فائدہ ہے۔ تو ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے بھی چونکہ بہ حلف بیان فرمایا ہے اور کوئی استثناء نہیں فرمایا، لہذا وہ بھی اپنے ظاہری معنوں پر بلا تاویل محمول ہونا چاہئے اور وہ معنی یہی ہیں کہ وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو کہ نبی تھے اور بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ وہی آئیں گے نہ کہ کوئی اور۔

(تفسیر جامع البیان ج ٣ ص ١٨٣، ١٨٤ تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٢٢٩، ٢٣٠)

الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة “ {حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہود کو فرمایا کہ یقینا حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں اور ضرور وہ قیامت سے پیش تر تمہاری طرف دوبارہ تشریف لائیں گے۔}

اخبرنا ابو الزبير انه سمع جابر بن عبدالله يقول سمعت النبي ﷺ يقول لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة“ {یعنی حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں سے ایک گروہ تاقیامت حق کے لئے لڑتا رہے گا اور غالب رہے گا۔ پھر فرمایا پس عیسیٰ ابن مریم اتریں گے۔ پس مسلمانوں کا امام کہے گا کہ آئیے نماز پڑھائیے۔ آپ فرمائیں گے نہ، تمہارے بعض ایک دوسرے پر امیر ہیں بوجہ شرافت اس امت کے۔}

اور یہی ابن حزم اپنی کتاب (الفصل ج ٤ ص ١٨٠) پر لکھتا ہے۔ ”ولكن رسول الله

٦٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٣

وخاتم النبيين وقول رسول الله عليه وسلم فى الاثار المستندة الثابتة فكيف يستجيز مسلم ان يثبت بعده عليه السلام نبيا فى الارض حاشاه استثناه رسول اللهﷺ فى الاثار الثابتة فى نزول عيسى بن مريم عليه السلام فى اخر الزمان‘‘ {ولکن رسول اللہ خاتم النبیین اور آپ کے ارشاد لا نبی بعدی کے کوئی مسلمان ایسا نہیں کہہ سکتا کہ کوئی نبی آئے گا۔ مگر جس کو آپ نے خود مستثنیٰ فرمایا ہے۔ جیسا کہ روایت صحیحہ میں وارد ہے کہ عیسیٰ بن مریم آخر زمانے میں آئیں گے۔}

یہی صاحب اپنی کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل میں کہتے ہیں۔ ”انه اخبرانه لا نبى بعدى الاماجأت الاخبار الصحيحة من نزول عيسى عليه السلام الذى بعث الى بنى اسرائيل وادعى اليهود قتله وصلبه فوجب الاقرار بهذا الجملة وصح ان وجود النبوة بعده عليه السلام باطل‘‘ {یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مگر جس کو احادیث صحیحہ نے مستثنیٰ کیا۔ جیسا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو کہ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور یہود نے ان کو قتل اور مصلوب کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پھر دوبارہ اتریں گے۔ پس تمام کے ساتھ اقرار واجب ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔}

(فتوحات مکیہ ج٣ باب ٣٦٢ ص ٣٤١) پر ہے۔ ”فلما دخل اذا بعيسى عليه السلام بجسده بعينه فانه لم يمت الى الان بل رفعه الله الى هذا السماء واسكنه بها‘‘ {پس جب کہ آنحضرت ﷺ دوسرے آسمان میں گئے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ملاقات کی۔ اس لئے کہ وہ ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس آسمان کی طرف اٹھا لیا ہے اور وہاں ان کو مکین ٹھہرایا ہے۔}

(صحیح مسلم ج٢ ص٣٦٣، المعلم ج٦ ص٢٧، ٢٨، ٣٠، ٦٩، سنن ابن ماجہ تفسیر ابن کثیر ج٧ ص٢٣١، ٢٣٢، مسند امام احمد ج٤ ص٧) پر ہے۔ ”حضرت حذیفہ بن اسید غفاریؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں ایسے وقت میں دیکھا جس وقت ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ عرض کیا گیا کہ قیامت کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ جب تک تم دس نشانیوں کو نہ دیکھ لو تو قیامت نہیں آسکتی۔ پس آپؐ نے

٦٣

صفحہ ٢٠٤

علامتوں کا تذکرہ فرمایا۔ دجال کا نکلنا، دابتہ الارض اور مغرب سے سورج کا نکلنا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا اترنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا اور تین خسفوں کا ہونا۔ ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں اور ایک عرب میں اور وہ علامت جو کہ سب کے بعد ہوگی۔ ایک آگ ہوگی جو عدن کے پرلے کنارے سے نکلے گی اور لوگوں کو زمین میں حشر کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔‘‘

(صحیح بخاری ج ١ ص ٣٨٩، صحیح مسلم ج ١ ص ٨٧، فتح الباری ص ٢٨١، عمدۃ القاری ج ٧ ص ٤٥١، ارشاد الباری ج ٥ ص ٤١٨، ٤١٩، مشکوٰۃ مترجم ج ٤ ص ١٢٧، ١٢٨، مرقات ج ٥ ص ٢٢٠، ٢٢١، اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٣٧٣، ٣٧٤، مظاہری ج ٤ ص ٣٧٦) پر ہے۔ ’’حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس خدا کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے۔ ضرور تم میں اتریں گے ابن مریم، ایسی حالت میں کہ وہ حاکم عادل ہوں گے۔ پس صلیب کو توڑیں گے اور سور کو قتل کریں گے۔ (یعنی ان کا حکم دیں گے) اور جنگ کو بند کر دیں گے (اور مسلم میں ہے کہ جزیہ رکھ دیں گے) اور بہت مال ہوگا۔ حتیٰ کہ ایک سجدہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہوگا۔ پھر حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو (یہ آیت پڑھ لو کہ) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے (جو حضرت مسیح علیہ السلام کے اترنے کے وقت موجود ہوں گے) مگر یہ کہ ضرور حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے پیشتر ایمان لائے گا اور وہ ان پر قیامت کے دن گواہ ہوگا۔‘‘

کتاب (انتباہ الاذکیاء فی حیاۃ الانبیاء ص ٥،٤) پر ہے۔ ’’بروایت ابی ہریرہؓ کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یوں فرماتے سنا کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ ضرور عیسیٰ بن مریم تم میں اتریں گے۔ پھر میری قبر پر کھڑے ہو کر پکاریں گے کہ اے محمد (ﷺ) تو میں ضرور ان کو جواب دوں گا۔‘‘

نوٹ: مرزائی بتلائیں کیا مرزا قادیانی روضہ اقدس آنحضرت ﷺ پر گئے۔ اگر نہیں گئے اور یقیناً نہیں گئے تو اپنے دعوٰی میں کیسے سچے ہو سکتے ہیں؟ (اشعات اللمعات ج ٤ ص ٣٧٤) پر ہے۔ بہ تحقیق ثابت شدہ است با حادیث صحیحہ کہ عیسیٰ علیہ السلام فرو می آید از آسمان بر زمین و می باشد تابع دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم را و حکم می کند شریعت آنحضرت ﷺ۔ یعنی احادیث صحیحہ سے ثابت ہوا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے زمین پر اتریں گے اور آنحضرت ﷺ کے تابع ہوں گے اور آپ کی شریعت کے ساتھ حکم دیں گے۔

٦٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٥

(مسند امام احمد ج٦ ص٧٥، کنز العمال ص١٩٧) پر بروایت ام المومنین حضرت عائشہؓ صدیقہؓ ”فينزل عيسى عليه السلام فيقتله ثم يمكث عيسى عليه السلام فى الارض اربعين سنة اماماً عدلاً وحكماً مقسطاً“ {یعنی آپ فرماتی ہیں کہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ پس اتریں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ پس دجال کو ختم کریں گے، پھر زمین میں چالیس برس تک امام عادل اور حاکم منصف ہو کر رہیں گے۔}

(تفسیر مجمع البیان مطبوعہ ایران ج٢ ص٣٣٤) پر ہے۔ ”وقال ابن جريج اخبرنى ابوزبير انه سمع جابر بن عبدالله يقول سمعت النبی ﷺ يقول ينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل بناء فيقول ان بعضكم على بعض امراء تكرمة من الله هذا الامة“ {یعنی جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ عیسیٰ بن مریم اتریں گے۔ پس ان کا امیر کہے گا کہ آپ نماز پڑھائیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام انکار فرمائیں گے اور کہیں گے کہ اسی امت کی یہ شرافت اور امتیازی شان ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعض کو بعض پر امیر بنایا۔}

حاکم اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔ ”عن ابن عباسؓ قال قال رسول الله ﷺ وان من اهل الكتاب الا ليؤمن به قبل موته قال خروج عيسى عليه السلام“ {یعنی حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہو کہ اس پہ ایمان نہ لائے اور کہا آپ کی مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا ہے۔}

ابن جریر، ابن ابی حاتم نے بروایت ربیعؒ نقل کیا ہے۔ ”عن الربيع قال النصارى اتوا النبی ﷺ تخاصموا فى عيسى ابن مريم الى ان قال لهم النبی ﷺ الستم تعلمون ان ربنا حى لا يموت وان عيسى يأتى عليه الفناء“ {یعنی نصاریٰ نے آنحضرت ﷺ کے ہاں آکر عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے متعلق گفتگو شروع کی۔ آپ نے جواب دیا۔ حتیٰ کہ آپؐ نے فرمایا کہ کیا تم یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے۔ اس پر موت نہیں آسکتی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ضرور موت آئے گی۔ کس قدر صاف ہے کہ ابھی تک عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ ورنہ آپؐ فرماتے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تو موت واقع ہو چکی ہے۔}

امام احمد، ابن ابی شیبہ، سعید، بیہقی، ابن ماجہ، حاکم بطریق حضرت عبداللہ بن مسعودؓ

٦٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٦

نقل فرماتے ہیں۔ ”عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ شب معراج میں میں نے (حضرت) ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے ملاقات کی۔ پس انہوں نے قیامت کا تذکرہ کیا۔ پس حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا گیا آپ نے فرمایا مجھے علم نہیں۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام نے انکار فرمایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ قیامت کا علم بجز ذات باری کے اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں اتنا مجھے علم دیا گیا ہے کہ جب دجال نکلے گا تو وہ میرے ہی ہاتھوں سے قتل کیا جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا مجھ سے عہد ہے کہ میں عندالنزول، دجال کو قتل کروں گا۔“

(کنز العمال بر حاشیہ مسند امام احمد ج٢ ص٥٧)”اخرج ابن عساکر عن عائشة قالت قلت يارسول الله انى ارى انى احيى بعدك فتاذن ان ادفن الى جنبك فقال وانى لى بذالك الموضع مافيه الا موضع قبرى وقبر ابى بكر وعمر وعيسى بن مريم“ {یعنی حضرت ام المؤمنین صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ کے بعد تک زندہ رہوں گی۔ پس آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں بھی آپ کے پہلو رحمت میں دفن ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ وہاں تو فقط ایک میری قبر کی جگہ ہے اور (حضرت) ابوبکر اور عمر اور عیسیٰ ابن مریم کی ۔}

مشکوٰۃ شریف باب نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ ”یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے اور نکاح کریں گے۔ ان کی اولاد ہوگی اور تقریباً پینتالیس سال زندہ رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے اور میرے پاس میرے پہلو میں دفن ہوں گے۔ پھر قیامت کے دن، میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ایک قبر سے اٹھیں گے۔ اسی طرح کہ (حضرت) ابوبکر اور عمر کے درمیان ہوں گے۔“

صحابہ کرامؓ اور حیات مسیح علیہ السلام

ابوہریرہؓ (مشکوٰۃ مترجم ج٤ ص١٢٧، ١٢٨، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم)”عن ابی هريرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله ﷺ والذى نفسى بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد وتكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها ثم يقول ابوهريرة فاقروا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمن به قبل موته“ {یعنی کہا

٦٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٧

حضرت ابوہریرہؓ کہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ ضرور عیسیٰ بیٹے مریم کے تم میں اتریں گے۔ بحالت یہ کہ حاکم عادل ہوں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور خنزیر کو (یعنی حکم فرمائیں گے) اور مال اس قدر ہوگا کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا اور ایک سجدہ دنیا اور دنیا بھر کی چیزوں سے بہتر ہوگا۔}

ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اگر تم کو شک ہو تو پڑھو قرآن مجید کی یہ آیت (اہل کتاب سے کوئی ایسا نہیں جو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پیشتر ان پر ایمان نہ لائے اور قیامت میں ان پر گواہ ہوں گے) اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ یہ حضرت ابوہریرہؓ کا عقیدہ ہے۔ بلکہ تمام صحابہؓ کا جن کے روبرو آپ نے یہ حدیث پڑھی۔ کیونکہ کسی نے اس حدیث کا آپ پر انکار نہیں کیا۔ ابن ماجہ مصری ج٢ ص ٢٦٨ ترجمہ عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ شب معراج میں میں نے (حضرت) ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے ملاقات کی، قیامت کا تذکرہ ہوا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ قیامت کا علم بجز باری تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں میرے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اتنا وعدہ کیا ہے کہ جب دجال نکلے گا تو میں اتروں گا اور اس کو قتل کروں گا۔

”ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور دجال جب آپ کو دیکھے گا تو نمک کی طرح پگھلے گا۔ پس آپ دجال کو قتل کریں گے۔“

(تجلی آسمانی حصہ اوّل ص ٤٧)

عبداللہ بن سلام (درمنثور ج ص٢٤٥) ”اخرج البخاری فی تاریخہ عن عبداللہ بن سلام قال یدفن عیسیٰ مع رسول اللہ ﷺ وابی بکر و عمر فیکون قبرہ رابعاً“ یعنی حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے مقبرے میں دفن ہوں گے۔ آپؐ کے اور ابوبکرؓ اور عمرؓ کے ساتھ دفن ہوں گے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ابھی تک ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام مدفون ہوں گے۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ ”اخرج احمد وابن ابی شیبہ عن

٦٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٨

عائشہﷺ قال فينزل عيسىٰ فيقتل الدجال‘‘ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ (بجلی آسمانی ص ٤٩)

اور ایک دوسری حدیث اس مضمون کی (منتخب کنز العمال حاشیہ مسند امام احمد ج٢ ص٥٧) پر بھی موجود ہے۔ ثابت ہوا کہ ام المؤمنینؓ کا یہی مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ آسمان سے اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور مدینہ منورہ میں مدفون ہوں گے۔

اسی طرح ایک اور روایت آپ ہی سے ہے۔ جو کہ (مسند امام احمد ج٦ ص٧٥) پر ہے۔ ”فينزل عيسىٰ عليه السلام فيقتله ثم يمكث عيسىٰ عليه السلام فى الارض اربعين سنة اماماً عدلاً وحكماً مقسطاً‘‘ یعنی آپ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے۔ پس دجال کو قتل کریں گے۔ پھر زمین میں چالیس سال برابر امام عادل اور حاکم منصف ہو کر رہیں گے۔ اسی طرح آپ سے ایک اور روایت بھی ہے جو کہ (کنز العمال ج٧ ص٢٦٧) پر ہے۔ ”عن على ابن ابى طالب قال ليقتله الله تعالىٰ بالشام على عقبه يقال ما عقبه رفيق لثلاث ساعات يمضين من النهار علىٰ يدى عيسىٰ بن مريم (کتاب الاشاعة ص٢٠٧)‘‘ یعنی آپ فرماتے ہیں کہ دجال کو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے عقبہ افیق پر جو شام کے علاقہ میں ایک پہاڑی ہے۔ جس وقت تقریباً تین گھڑیاں گزر جائیں گی۔ قتل کرے گا۔

حضرت عمرؓ (کنز العمال ج٧ ص٧٠٧) جب آنحضرت ﷺ ابن صیاد کے پاس ایک جماعت صحابہؓ کے ساتھ تشریف لے گئے اور دجال کی کچھ علامتیں ابن صیاد میں پائیں۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ آپ اجازت فرماتے ہیں کہ میں اس کو قتل کردوں۔ فرمایا کہ دجال کا قاتل عیسیٰ بن مریم ہے تو اس کا قاتل نہیں۔ (رواہ احمد عن جابر)

اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ خلاصہ موجودات ﷺ اور جملہ صحابہؓ کا یہی مذہب تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام ہی اتر کر دجال کو قتل کریں گے اور مراد وہی مسیح ناصری صاحب کتاب (انجیل) آپ اور صحابہ کا مفہوم تھا۔ اس لئے کہ اگر آپ اور آپ کے صحابہ کا یہ مذہب ہوتا کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو کر کشمیر میں مدفون ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا خیال ہے تو آپ ہرگز نہ فرماتے کہ دجال کا قاتل عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہے۔

٦٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٠٩

کمال کو پہنچ چکی تھی۔ آنحضرت ﷺ سے یہ سن کر کہ دجال کو عیسیٰ علیہ السلام اتر کر قتل کریں گے۔ خاموش ہونا ایک زبردست دلیل ہے کہ آپ کا مذہب یہی تھا کہ آپ کا رفع الی السماء جسمانی بحالت حیات ہوا اور اسی طرح نزول بھی جسمانی ہوگا۔ ورنہ آپ کہہ دیتے کہ یا رسول اللہ! ایسا اعتقاد رکھنا کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت تک زندہ رہیں گے۔ ایک ناجائز خیال ہے۔ آپ کس طرح فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آ کر دجال کو قتل کریں گے۔ حالانکہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔

قتل کریں گے۔ خاموش رہنا اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ آپ کا یہ فرمانا بالکل برحق ہے۔ ورنہ کوئی تو ان میں سے یہ کہہ اٹھتا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ تو فوت ہو چکے ہیں۔ اب کیسے اتریں گے اور اس میں آپ کی سخت ہتک ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو قیامت تک آسمان پر زندہ رہیں اور آپ زمین پر اور ان کو اتنی عمر دی جائے اور آپ کو اس کے عشر عشیر بھی نہیں۔ شیخ اکبر محی الدین عربیؒ اپنی کتاب مستطاب فتوحات مکیہ میں لکھتے ہیں اور یہ وہ حضرت ہیں جن کا صاحب کشف ہونا مرزا قادیانی کو بھی مسلم ہے۔ ”حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت عمرؓ نے سعد بن وقاصؓ کی طرف پیغام بھیجا کہ نضلہ انصاری کو حلوان عراق کی جانب بھیجو تا کہ وہاں جا کر جہاد کرے۔ پس سعد بن وقاصؓ نے نضلہ انصاریؓ کو ہمراہ ایک جماعت مہاجرین کو ادھر روانہ کر دیا۔ ان لوگوں کو وہاں فتح نصیب ہوئی۔ بہت سا مال غنیمت ملا۔ جب واپس ہوئے تو مغرب کا وقت قریب ہو گیا۔ پس نضلہ انصاریؓ نے گھبرا کر سب کو کنارہ پہاڑ پر ٹھہرایا اور خود آذان دینی شروع کی۔ جب اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو پہاڑ سے ایک مجیب نے کہا کہ اے نضلہ! تو نے خدا کی بہت بڑائی کی۔ پھر نضلہ انصاری نے اشہد ان لا الہ الا اللہ کہا تو اس مجیب نے کہا کہ اے نضلہ یہ اخلاص کا کلمہ ہے اور جس وقت اس نے اشہد ان محمد رسول اللہ کہا تو اس نے جواب دیا کہ یہ اس ذات کا نام پاک ہے جس کی خوشخبری ہم کو عیسیٰ بن مریم نے دی تھی اور یہ بھی فرمایا کہ اس نبی کی امت کے اخیر میں قیامت ہوگی۔ پھر جب اس نے حی علی الصلوٰۃ کہا تو اس نے جواب میں کہا کہ خوشخبری ہے اس کو جس نے ہمیشہ نماز ادا کی۔ پھر جب اس نے حی علی الفلاح کہا تو اس نے جواب دیا کہ جس نے محمد ﷺ کی اطاعت کی اس نے نجات پائی۔ پھر جب اس نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو مجیب نے وہی پہلا جواب دیا۔ جب اس نے لا الہ الا اللہ پر آذان ختم کی تو مجیب نے جواب دیا

٦٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٠

کہ اے نضلہ تم نے اخلاص کو پورا کیا۔ تمہارے بدن پر خداوند کریم نے آگ کو حرام کیا۔ جب نضلہ اذان سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا کہ اے صاحب! آپ کون ہیں۔ فرشتہ یا جن یا انسان۔ جیسے آپ نے اپنی آواز ہم کو سنائی ہے ویسے ہی اپنے آپ دکھائے بھی۔ اس لئے کہ ہم خدا اور اس کے رسول اور نائب رسول عمرؓ بن الخطاب کی جماعت ہیں۔ پس اس وقت وہ پہاڑ پھٹ گیا اور اس میں سے ایک شخص نکلا۔ جس کا سر بہت بڑا چکی کے برابر تھا اور بال بالکل سفید تھے اور اس پر دو صوف کے کپڑے تھے اور ہمیں السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ کہا۔ ہم نے وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ کہہ کر دریافت کیا کہ آپ کون ہیں کہ میں زریب بن برثما وصی عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ مجھے عیسیٰ ابن مریم نے اس پہاڑ پر ٹھہرایا ہے اور میرے لئے آپ نے آسمان سے اترنے تک درازیٔ عمر کی دعا فرمائی ہے۔ جب وہ اتریں گے صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور نصاریٰ کی اختراعی باتوں سے بیزار ہوں گے۔ فرمایا کہ وہ نبی صادق فی الحال کس طرح سے ہیں۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ کا وصال ہو گیا ہے۔ پس وہ بہت روئے۔ یہاں تک ان کی تمام داڑھی بھیگ گئی۔ پھر فرمایا بعد ازاں تم سے کون خلیفہ ہوا۔ ہم نے عرض کیا کہ ابو بکرؓ، پھر فرمایا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا وہ وفات پا گئے ہیں۔ فرمایا بعد ازاں کون خلیفہ ہوا۔ عرض کیا گیا کہ عمرؓ پھر فرمایا کہ محمد ﷺ کی زیارت تو مجھے میسر نہ ہوئی۔ پس تم لوگ میرا سلام عمرؓ کو پہنچائیو اور کہیو کہ اے عمرؓ جس وقت یہ خصلتیں پر ظاہر ہو جائیں تو کنارہ کشی کے سوا مفرد چارہ نہیں۔ جس وقت مرد مردوں کی وجہ سے بے پرواہ ہوں۔ (یعنی اغلام بازی کریں) اور عورت عورتوں کی وجہ سے (یعنی رنڈی بازی کریں) اور ادنیٰ لوگ اپنے آپ کو اعلیٰ کی طرف منسوب کریں اور بڑے چھوٹوں پر رحم نہ کریں اور چھوٹے بڑوں کی توقیر نہ کریں۔ امر بالمعروف اس طرح چھوڑ دیا جائے کہ کوئی مامور نہ کیا جائے اور نہی عن المنکر اس طرح چھوڑ دیں کہ کسی کو برائی سے نہ روکیں اور ان کے عالم تحصیل علم بغرض حصول دنیا کریں اور گرم بارش ہو۔ (یعنی غیر مفید) اور بڑے منبر بنائیں اور قرآن کو نقری طلائی کریں اور مسجدوں کی از حد زینت ہو اور پختہ پختہ مکان بنائیں اور خواہشات کی اتباع کریں اور دین کو دنیا کے بدلے بیچیں اور خوں ریزیاں کریں اور صلہ رحمی منقطع ہو جائے اور حکم فروخت کیا جائے اور بیاج (سود) لیا جائے اور حکومت فخر ہو جائے اور دولت مندی عزت بن جائے اور ادنیٰ شخص کی تعظیم اعلیٰ کرے اور عورتیں زین پر سوار ہوں۔ پھر ہم سے غائب ہو گئے۔ پس اس قصہ کو نضلہ انصاریؓ سے سعد بن ابی وقاصؓ نے حضرت عمرؓ کی طرف لکھا۔ پھر حضرت عمرؓ نے سعدؓ کو لکھا کہ تم اپنے ہمراہیوں کو ساتھ لے کر اس پہاڑ کے

٧٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١١

پاس اترو۔ جس وقت ان کے پاس اترو۔ میری طرف سے سلام کہنا۔ اس واسطے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض وصی عراق کے پہاڑوں میں اترے ہوئے ہیں۔ پس چار ہزار مہاجرین اور انصار کے ہمراہ اس پہاڑ کے قریب اترے اور چالیس روز تک ہر نماز کے وقت آذان کہتے رہے۔ مگر ملاقات نہ ہوئی۔

اس حدیث کو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ازالۃ الخفاء میں نقل کیا ہے اور یہ حدیث اگرچہ اس میں محدثین کو بوجہ ابن ازہر کے کلام ہے۔ لیکن صاحب کشف والوں کے نزدیک بالکل صحیح ہے۔ جیسا کہ خود شیخ صاحب نے تصریح فرمائی ہے۔ اس حدیث سے کئی امور ثابت ہوئے۔

سلام وصی علیہ السلام کی طرف بھیجنا۔

کے نزول من السماء کو صحیح خیال کرنا نہ کہ اس کا کوئی مثیل آئے گا۔

عیسیٰ بن مریم کی حیات جسدی پر اجماع قطعی۔

نکلتی اور نہ کسی کی توہین ہوتی ہے۔ ورنہ صحابہ یہ اعتقاد نہ رکھتے۔ عبداللہ بن عباسؓ (طبقات کبریٰ جلد اول ص ٢٦، مطبوعہ لندن جرمنی) پر ہے۔ ”اخبرنا ھشام بن محمد بن السائب عن ابیہ عن ابی صالح عن ابن عباسؓ قال کان بین موسیٰ بن عمران وعیسیٰ بن مریم الف سنة وتسعة مائة سنة فلم تکن بینہما فترہ وان عیسیٰ علیہ السلام حین رفع کان ابن اثنین وثلاثین سنة وکانت نبوتہ ثلث وثلاثون سنة وان اللہ رفع بجسدہ وانہ حی الان وسیرجع الی الدنیا فیکون فیہا ملکاً ثم یموت کما یموت الناس“

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ کہا آپ نے کہ درمیان موسیٰ بیٹے عمران اور عیسیٰ ابن مریم کے ایک ہزار نو سو برس گذرے جو کہ زمانہ فترہ کا نہ تھا اور ضرور جب کہ حضرت عیسیٰ بن مریم

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٢

آسمان پر بمعہ جسم اٹھائے گئے۔ ان کی عمر ٣٢ برس کی تھی اور ان کی نبوت کا زمانہ تیس برس کا تھا اور یقیناً وہ جلد واپس آنے والے ہیں۔ دنیا میں اور آپ بادشاہ ہوں گے اور پھر آپ کی لوگوں کی طرح وفات ہو گی۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ وہ ہیں جو کہ آنحضرت ﷺ کے چچازاد بھائی ہیں اور حبر امت کا خطاب رکھتے ہیں اور لیاقت علمیہ خصوصاً معارف قرآنیہ میں اوّل نمبر ہیں اور آنحضرت ﷺ نے ان کی زیادتی علم کے لئے دعا فرمائی تھی اور مرزا قادیانی کو بھی یہ امر مسلم ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٢٢٧، خزائن ج ٣ ص ٢٢٥) میں لکھتے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی دعا بھی ہے۔ حدیث مذکورہ سے کئی باتیں ثابت ہوئیں۔

ڈھکوسلا باطل ہوا۔

قبر کشمیر مرزا قادیانی کی ایجاد کردہ باطل ہوئی۔

اٹھائے گئے۔ وہی نازل ہوں گے۔

ہے کہ جزیہ معاف کر دیں گے اور یہ حق صرف بادشاہ کو ہے نہ کہ رعیت کو اور مرزا قادیانی تمام عمر غلامی میں رہے۔

یموت کما یموت الناس‘‘ بتلا رہا ہے۔ ’’روی اسحق بن بشر وابن عساکر عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فعند ذالک ینزل اخی عیسٰی بن مریم من السماءِ‘‘ یعنی حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت میرا بھائی آسمان سے اترے گا۔

(النہر الماد ج ٨ ص ٢٣) پر ہے۔ ’’وقر ابن عباس رضی اللہ عنہ وجماعة لعلم ای لعلامة للساعة يدل على قرب ميقاتها اذ خروجه شرط من اشراطها ونزوله من السماء فى

٧٢

صفحہ ٢١٣

اٰخر الزمان“ یعنی عبداللہ ابن عباسؓ اور ایک جماعت نے لعلم پڑھا ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک علامت ہیں۔ جس سے قرب قیامت متصور ہے۔ اس لئے کہ آپ قیامت کی شرطوں میں سے ایک شرط ہیں اور وہ یہ کہ اخیر زمانہ میں آپ آسمان سے اتریں گے۔ اور تفسیر درمنثور میں ہے۔ ”فلما توفیتنی ای رفعتنی“ یعنی حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے توفیتنی کا ترجمہ رفعتنی کیا ہے۔ یعنی تو نے مجھے جب اٹھالیا۔ تفسیر عباس میں حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کی یہی تفسیر لکھی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کا مذہب یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ بجسدہ عنصری موجود ہیں اور قبل قیامت آسمان سے اتریں گے اور اسی طرح

(مسند احمد جلد اول ص ٣١٧، ٣١٨، ابن کثیر ج٩ ص ١٤٤، درمنثور ج٦ ص٢٠، فتح البیان ج٨ ص٣١١، ٣١٢، ترجمان القرآن ج٤ ص٦٦، مواہب الرحمٰن ص٢٥، ١٤٤، مستدرک حاکم ج٢ ص ٤٤٨، تفسیر ابن جریر ج٢٥ ص٢٨، ٤٩)

(تفسیر درمنثور ج٦ ص٦٠) پر بھی حضرت ابن عباسؓ کا یہی مذہب ہے۔

ترجمہ: یعنی یہود کے ایک گروہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی والدہ کو گالی دیں۔ آپ نے بددعا کی جس سے ان کی صورتیں مسخ ہوگئیں۔ پس یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل پر اتفاق کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی اور وہ آپ کو آسمان پر اٹھا لے گا اور صحبت یہود سے پاک کردیا۔

صحیح نسائی میں ہے۔ ”عن ابن عباس ﷺ ان رھطاً من الیهود سبوه وامه فدعا علیھم فمسخھم قردة وخنازیر فاجتمعت الیهود علی قتله فاخبره الله بانه یرفعه الی السماء ویطهره من صحبة الیهود ابن ابی حاتم ابن مردویة قال ابن عباس ﷺ سیدرک اناس من اهل الکتاب عیسٰی حین یبعث فیؤمنون به (فتح البیان)“ یعنی ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے اس وقت اہل کتاب آپ کے ساتھ ایمان لائیں گے۔

اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ آپ نے جو متوفیک کی تفسیر ممیتک سے کی ہے۔ اس سے یہ امر ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کی موت زمانہ گذشتہ میں واقع ہوئی۔ ایک تو اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمی کی تصریح موجود ہے۔ جیسا کہ ابھی گذرا اور دوسرا اس لئے کہ ممیتک زمانہ گذشتہ پر دلالت کرتا ہی نہیں۔ جیسا کہ متوفیک نہیں کرتا۔ کیونکہ یہ اسم فاعل ہے جو کہ زمانہ پر وصفاً دلالت نہیں کرتا۔ اگر کسی قرینہ صارفہ سے اسم فاعل زمانہ پر دلالت کرے بھی تو یہاں زمانہ

٧٣

صفحہ ٢١٤

استقبال پر ہی کرے گا۔ نہ کہ ماضی پر جس کے معنی یہ ہوئے کہ میں تجھے تیرے وقت میں مارنے والا ہوں۔ جیسا کہ تفسیر کشاف وغیرہ میں یہی معنی لکھا ہے اور نیز یہ صاف ہوا کہ جب کہ عبداللہ ابن عباسؓ کا مذہب متوفیک کی ممیتک سے تفسیر کرنے سے وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت نہ ہوا۔ بلکہ آپ رفع جسمی اور نزول بعینہ کے قائل ہیں تو جس کسی نے اس تفسیر کو نقل کیا ہے۔ ان کا مذہب حیات مسیح علیہ السلام اور نزول بعینہ کا ہے۔ جیسا کہ ابھی آتا ہے۔ عبداللہ بن مغفل!

(کنزالعمال ج ٧ ص ١٩٩، حدیث نمبر ٢٠٩٣)

ترجمہ: یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نازل ہوں گے اور امام وحاکم وعادل ہوں گے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے مصدق ہوں گے۔

عبداللہ بن عاصؓ (تجلی آسمانی ص ٤٢) دجال کے قصہ میں ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں عبداللہ ابن عاص سے اخراج کیا ہے کہ بعد نزول حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مسلمانوں کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

ابوسعید (تجلی آسمانی ص ٤١) ”اخرج ابی نعیم فی الحلیة عن ابی سعیدؓ قال قال رسول الله ﷺ ینزل عیسی بن مریم فیقول امیر مهدی تعال صل لنا فیقول لا ان بعضکم علی بعض امراء“ {آپ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم سے امام مہدی کہیں گے کہ آئیے ہمیں نماز پڑھائیے۔ آپ انکار فرمائیں گے۔}

ابو امامہ الباہلیؓ (سنن ابن ماجہ باب فتنہ الدجال ونزول عیسیٰ علیہ السلام ج ٢ ص ٢٧، کنز العمال ج ٧ ص ٢٦٥) ”قال قال رسول الله ﷺ فیبعث الله المسیح ابن مریم فینزل عند المنارة البیضاء شرقی دمشق“ {یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جامع دمشق کے مشرقی منارے پر اتریں گے۔}

حدیث سے یہ امر ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل اور اترنے سے پیشتر منارہ بنا ہوا ہوگا۔ اس پر آپ اتریں گے نہ کہ بعد میں بنایا جائے گا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے کہا ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ وہاں فقط ایک منارہ نہیں ہوگا۔ بلکہ چار مینارے ہوں گے۔ آپ شرقی پر اتریں گے نہ کہ ایک منارہ جیسا کہ مرزا قادیانی نے سمجھا۔ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی جیسے بناوٹی نبوت اور خانہ ساز رسالت ہے۔ ویسے ہی معنی بھی بناوٹی اور خانہ ساز ہے۔ جابر بن عبداللہ (کنز العمال ج ٧ ص ٢٠٢) ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور مسلمانوں کا امیر کہے گا کہ آپ

٧٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٥

نماز پڑھائیں تو آپ فرمائیں گے کہ نہیں تم سب ایک دوسرے کے امیر ہو اور یہ وقت کی بزرگی ہے۔“

حذیفہ بن اسید غفاریؓ (کنز العمال ج ٧ ص ١٨٥) میں ہے۔ ”یعنی ہم قیامت کے بارے میں ذکر کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور دریافت فرمایا کہ کیا ذکر کر رہے تھے۔ ہم نے عرض کی کہ قیامت کا، آپ نے فرمایا قیامت نہ آئے گی۔ جب تک یہ دس نشانیاں نہ دیکھو۔ دھواں، دجال، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے طلوع کرنا، عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا۔“

اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ صحابہ کرام کا اجماع تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں اور وہی بعینہ نازل ہوں گے۔ کیونکہ ایک مجمع تھا جس نے یہ حدیث سنی اور اگر آپ بحیات نہ ہوتے تو جھٹ کہہ دیتے کہ آپ تو مر چکے ہیں۔ پھر کیسے اتریں گے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ جن دس علامتوں کا آپ نے ذکر فرمایا۔ وہ سب خلاف عادت ہیں تو جب دس میں سے نو چیزیں باوجودیکہ وہ خلاف عقل ہیں۔ ہر مسلمان کو بلکہ مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہیں تو نزول بعینہ جو کہ خلاف عادت ہے۔ وہ کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا اور اتنی چیخ و پکار کی جاتی ہے۔

حضرت ثوبانؓ (کنز العمال ج ٧ ص ٢٠٢) ”ینزل عیسیٰ بن مریم عند المنارۃ البیضاء دمشق“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم جامع دمشق کے مشرقی کنارے پر اتریں گے۔

(کیسان) عبدالرحمن بن ثمرہ (تجلی آسمانی جلد اوّل ص ٤٩) ”یعنی قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے سچا رسول بنا کر بھیجا کہ عیسیٰ بن مریم میرے خلفاء میں سے ہوگا۔“

(تجلی آسمانی جلد اوّل ص ٤٦) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم اترے گا اور محمد ﷺ کی تصدیق کرے گا اور دجال کو قتل کرے گا اور پھر قیامت ہوگی۔“

(مجمع بن جاریہ، ترمذی ترجمہ اردو ج ٢ ص ١٢١، کنز العمال ج ٧ ص ٢٠٢، مرقات ج ٥ ص ١٩٨) آپ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سرور دو عالم ﷺ کو یوں فرماتے سنا کہ عیسیٰ بن مریم اتریں گے اور دجال کو دروازہ لد پر قتل کریں گے۔ واثلہؓ (کنز العمال ص ١٩٨) (آپ روایت کرتے ہیں) (ج ٧ ص ١٨٦) وہی دس نشانیاں اس حدیث میں ہیں جو کہ پہلے مذکور ہو چکی ہیں۔ (ابو شریحہ کنز العمال ج ٧ ص ١٨٥) وہی دس نشانیاں کو بیان ہے جو کہ اوپر گزریں۔ عروہ بن رویم اور انس بن مالک کا یہی مذہب ہے۔ (کنز العمال ج ٦ ص ٦٢٦) یحییٰ بن عبدالرحمن الثقفی (در منثور ج ٢ ص ٢٥)

٧٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٦

”یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم نے نکاح نہیں کیا۔ یہاں تک کہ آپ اٹھائے گئے۔“

حاطب بن ابی بلتعہ (خصائص الکبریٰ ج٢ ص١٢) بیہقی نے ان سے تخریج کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان میں اٹھالیا ہے۔

سفینہ (در منثور ج ٥ ص ٣٩٤) ”یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور عقبہ افیق کے پاس اتریں گے۔“

اسی طرح سمرہ بن جندب اور عمرو بن عوف عمران بن حصین، عائشہ صدیقہؓ وغیرہم رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کا یہی مسلک ہے۔

تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ اور حیات مسیح علیہ السلام

امام اعظم نعمان بن ثابتؒ (فقہ اکبر ص١٦) ”خروج الدجال وياجوج وماجوج وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسىٰ عليه السلام من السماء وباقی علامات يوم القيمة على ما وردت به الاخبار الصحيحة حق كائن“ یعنی دجال اور یاجوج وماجوج کا نکلنا اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اور باقی تمام قیامت کی علامتیں جو کہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہیں۔ بالکل حق ہیں اور وہ یقینا ہونے والی ہیں۔ یہ وہ امام ہیں جن کی تقلید کا مرزا قادیانی دم بھرتے ہیں اور ان کی فراست اور فہم کو باقی اماموں سے بڑھ کر مانتے ہیں۔ دیکھئے (ازالہ اوہام ج٢ ص٥٣٠، ٥٣١، خزائن ج٣ ص٥٣٥) میں لکھتے ہیں۔ ”امام اعظم اپنی قوت اجتہادی اور اپنے علم وفراست اور فہم وروایت میں آئمہ باقی ثلاثہ سے افضل اور اعلیٰ تھے اور ان کی خداداد قوت اور قدرت فیصلہ بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت وعدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن کے سمجھنے میں ایک دست گاہ تھی۔“ کئی باتیں ثابت ہوئیں۔

نے ایک چیز کا اقرار کر لیا تو اس سے ادنیٰ شخص کو اس بات کا مان لینا از بس ضروری ہے۔ پس نتیجہ صاف ہے کہ چاروں اماموں کا مذہب یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک اسی جسم سے

٧٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٧

زندہ ہیں اور قبل از قیامت اتریں گے۔ وغیرہ وغیرہ! جیسا کہ تفصیل بھی ابھی آتی ہے۔

امام محمد بن ادریس الشافعی! آپ کا یہی مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک حیات ہیں۔ اس لئے کہ آپ سے اعلیٰ یعنی امام اعظمؒ کا مذہب یہی ہے۔ دوسرا اس لئے کہ یہ شاگرد ہیں امام اعظم کے، اور ان کا مذہب اوپر بیان ہوچکا ہے کہ وہ حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ لہٰذا یہ بھی اس بات کے معتقد ہوں گے۔ تیسرا اس لئے کہ اگر اس عقیدہ میں یہ مخالف ہوتے تو ضرور امام اعظمؒ کی مخالفت کرتے اور بالخصوص جبکہ ایک امر اعتقادی ہو تو کسی طرح سکوت جائز نہیں۔ پس اختلاف نہ کرنا زبردست دلیل ہے کہ اس عقیدہ میں سب امام اعظمؒ کے ساتھ متحد ہیں۔ چوتھا اس لئے کہ آپ کے سب مقلد صحاح ستہ وغیرہ والوں کا یہی مذہب ہے۔

گویا آپ نے اپنی خاموشی سے سکوتی اجماع پر مہر تصدیق کر دی۔ (امام احمد مسند امام احمد ج ١ ص ٣١٨) ابن عباسؓ سے روایت ہے۔ ”انه لعلم للساعة“ یہ عیسیٰ بن مریم کا قبل از قیامت نکلنا اور اترنا ہے اور دوسرا اس لئے کہ ان سے اعلیٰ یعنی امام اعظم کا یہی مذہب ہے۔ تیسرا اس لئے کہ آپ سے مخالفت اور تصریح وفات ثابت نہیں۔ بلکہ تصریح حیات ثابت ہے۔

امام مالکؒ آپ کا بھی یہی مذہب ہے۔

اکمال اکمال المعلم (شرح صحیح مسلم ج ١ ص ٢٦٦) پر ہے۔ ”فی العتبة قال مالک بین ان الناس قیام یستمعون لاقامة الصلوٰة فتغشاهم غمامة فاذا عیسیٰ قد نزل“ یعنی عتبہ میں ہے کہ امام مالکؒ نے فرمایا کہ لوگ اس حالت میں کھڑے ہوں گے۔ اقامت نماز سنتے ہوں گے کہ اچانک ان کو ایک بادل ڈھانک لے گا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام یقیناً اس وقت اتریں گے۔

نوٹ: یاد رہے کہ یہ کتاب امام مالکؒ کی نہیں ہے۔ بلکہ امام عبدالعزیز اندلسی قرطبیؒ کی ہے۔ دیکھو (کشف الظنون ج اول ص ١٠٦، ١٠٧) اور دوسرا اس لئے کہ آپ سے اعلیٰ یعنی امام اعظمؒ کا یہی مذہب ہے۔ تیسرا اس لئے کہ آپ کے مقلدوں کا یہی مذہب ہے۔ ورنہ ضرور مخالفت کرتے اور وفات مسیح علیہ السلام کی تصریح کرتے۔ مگر یہاں تو حیات مسیح علیہ السلام کی تصریح موجود ہے۔ علامہ زرقانی مالکی شرح مواہب قسطلانی میں فرماتے ہیں۔ ”فاذا نزل سیدنا عیسیٰ (ابن مریم) علیه السلام فانه یحکم بشریعة نبیناﷺ بالهام او اطلاع علی الروح المحمدی او بما شاء الله من استنباط لها من الکتاب والسنة ونحو ذالک فهو علیه السلام وان کان خلیفة فی الامة المحمدیة فهو رسول ونبی کریم

٧٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٨

على حاله لا كما يظن بعض الناس انه يأتى واحد من هذه الامة بدون نبوة ورسالة وجهل انها لا تزول بالموت كما تقدم فكيف بمن هو حي نعم هو واحد من هذه الامة مع بقائه على نبوة ورسالة“ {یعنی جبکہ عیسیٰ بن مریم اتریں گے آنحضرت ﷺ کی شریعت کے موافق حکم صادر فرمائیں گے۔ بوجہ الہام یا اطلاع فیوض نبویہ علیٰ صاحبہا الصلوٰة والسلام کے یا جیسا کہ منظور خدا ہوگا۔ کتاب وسنت سے استخراج فرمائیں گے۔ پس حضرت مسیح علیہ السلام گو امت محمدیہ میں ایک خلیفہ ہوں گے۔ مگر وہ رسول اور نبی ہوں گے۔ جیسا کہ پہلے نبی اور رسول تھے۔ جس نے یہ اعتقاد کیا ہے کہ وہ اس وقت نبی اور رسول نہیں ہوں گے۔ غلطی پر ہے۔ کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ نبوت ورسالت ہر دو بوجہ موت زائل نہیں ہوتیں۔ جیسا کہ گزرا پس اس انسان کے متعلق کیسے متصور ہو سکتا ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے اور جب آئے گا تو بلا نبوت ورسالت آئے گا۔ ہاں باوجود یکہ آپ نبی اور رسول ہوں گے۔ آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ایک امتی ہوں گے ۔}

ایسا ہی شیخ الاسلام احمد نفراوی مالکی نے دوانی میں تصریح کی ہے۔ چوتھا اس لئے کہ جب آپ نزول بعینہ کے قائل ہیں تو رفع بعینہ کے بھی قائل ہوں گے۔ کیونکہ نزول بعینہ فرع ہے رفع بعینہ کی، پانچواں اس لئے کہ مسیح علیہ السلام پر اجماع ہے تو پھر کیسے علیحدہ شمار کئے جا سکتے ہیں۔

علامہ سیوطیؒ کتاب الاعلام میں تحریر فرماتے ہیں ۔ ”انه یحکم بشرع نبینا ووردت به الاحادیث وانعقد علیه الاجماع“ {یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب اتریں گے تو آنحضرت ﷺ کی شریعت کے ساتھ حکم فرمائیں گے۔ جیسا کہ صحیح حدیثوں میں آیا ہے اور اس پر اجماع منعقد ہوا ہے۔}

فتح البیان میں ہے۔ ”وقد تواترت الاحادیث بنزول عیسیٰ جسما اوضح ذالک الشوکانی فی مؤلف مستقل“ {یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کے بعینہ اترنے پر اور اسی جسم کے ساتھ نازل ہونے کے متعلق متواتر حدیثیں آئی ہیں، اور علامہ شوکانی نے ایک کتاب مستقل میں ان کا تذکرہ فرمایا ہے۔}

اور یہ یاد رہے کہ اجماع آپ کی اس حیات میں ہے جو کہ عند رفع اور اٹھائے جانے کے وقت ثابت ہے نہ اس حیات پر جو اٹھائے جانے سے پیشتر متحقق ہے۔ کیونکہ یہ حیات یعنی اٹھائے جانے سے پہلے مختلف فیہ ہے۔ بعض اہل سنت والجماعت اور بعض نصاریٰ کا یہ مذہب ہے کہ اٹھائے جانے سے پیشتر عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو چکی۔ بعد میں آپ کو زندہ کیا گیا اور

٧٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢١٩

آسمان پر اٹھا لیا گیا اور جمہور اہل سنت والجماعت اور اکثر نصاریٰ اس کے مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے جانے کے وقت زندہ تھے۔ اسی طرح زندہ اٹھائے جانے سے پہلے بھی زندہ تھے اور آپ پر قطعاً موت واقع نہیں ہوئی۔

”قال شيخ الاسلام الحرانى وصعود الادمى ببدنه الى السماء قد ثبت فى امر المسيح عيسى بن مريم عليه السلام فانه صعد الى السماء وسوف ينزل الى الارض وهذا ما توافق النصارى عليه المسلمين فانهم يقولون المسيح صعد الى السماء ببدنه وروحه كما يقول المسلمون وانه سوف ينزل الى الارض ...... وهذا كما يقوله المسلمون وكما اخبر به النبى ﷺ فى الاحاديث الصحيحة لكن كثيراً من النصارى يقولون انه صعد بعد ان صلب وانه قام من قبره اما المسلمون وكثير من النصارى يقولون انه لم يصلب ولكن صعد الى السماء بلا صلب والمسلمون ومن وافقهم من النصارى يقولون انه ينزل الى الارض قبل يوم القيامة وان نزوله من اشراط الساعة كما دل على ذالك الكتاب والسنة“ {یعنی شیخ اسلام حرانیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اوپر اٹھائے جانے سے یہ امر ثابت ہو گیا کہ آدمی بمعہ جسم آسمان پر جا سکتا ہے۔ اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام بمعہ جسم اوپر اٹھائے گئے اور عنقریب آسمان سے اتریں گے اور یہ ایسا امر ہے جس پر نصاریٰ بھی مسلمانوں کے ساتھ متفق ہیں۔ کیونکہ نصاریٰ بھی مسلمانوں کی طرح مانتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور عنقریب اتریں گے۔ اکثر نصاریٰ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دیا گیا اور آپ کی وفات واقع ہو گی۔ بعد ازاں آپ کو زندہ کیا گیا۔ لیکن بعض نصاریٰ اور مسلمانوں کا یہی مذہب ہے کہ آپ کو بلاسولی آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اور آپ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اور آپ کا اترنا قیامت کی نشانی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید اور حدیث صحیح سے ثابت ہے۔}

بیضاوی شریف میں ہے۔ ”قيل اماته الله سبع ساعات ثم رفعه الله الى واليه ذهب النصرى“ {یعنی یہ قول (کہ اٹھانے سے پہلے سات ساعت تک مرے رہے) نصاریٰ کا قول ہے۔}

اور معالم التنزیل وابن کثیر میں ہے۔ ”قال وهب توفى الله عيسى ثلث ساعات من النهار ثم احياه ثم رفعه الله اليه وقال محمد بن اسحاق ان النصارى يزعمون ان الله توفاه سبع ساعات من النهار ثم احياه ورفعه اليه“ {یعنی وہب

٧٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٠

کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو دن میں تین ساعت تک وفات دی۔ پھر زندہ کیا اور آسمان کی طرف اٹھالیا اور محمد بن اسحق کہتے ہیں کہ اکثر نصاریٰ کا یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو دن میں سات ساعت تک وفات دی بعد ازاں زندہ کیا اور آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ } پہلے قول ( یعنی سات ساعت ) کو سب نے نصاریٰ کی طرف منسوب کیا ہے اور دوسرے قول کے بعض اہل اسلام قائل ہیں اور امام مالک بھی انہی میں سے ہیں۔ پس اس سے یہ مسئلہ حل ہو گیا کہ جب امام مالک وفات کے قائل ہیں تو اجماع کے کیا معنی؟

مجمع البحار میں ہے۔ ”قال مالک مات“ کیونکہ امام مالک کا خلاف صرف اس حیات میں ہے جو کہ اٹھائے جانے سے پیشتر ہے۔ نہ کہ اس حیات میں جو کہ رفع کے وقت ثابت اور متحقق ہے۔ اسی واسطے شیخ محمد طاہر صاحب مجمع البحار اس کی یہ تاویل کرتے ہیں۔ ”ولعلہ اراد رفعہ الی السماء او حقیقة ویجئ فی اخر الزمان لتواتر خبر النزول“ یعنی امام مالکؒ کی مراد یہ ہے کہ آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا یا حقیقی طور پر آپ کی وفات ہو چکی ہے اور اخیر زمانہ میں آپ اتریں گے۔ جیسا کہ متواتر حدیثوں سے آپ کا اترنا ثابت ہے۔ اب نتیجہ صاف ہے کہ امام مالک اس حیات میں خلاف کر رہے جو کہ رفع سے پہلے ہو۔ ورنہ اگر آپ کا مطلب یہ ہوتا کہ آپ کو قطعی موت دی گئی اور زندہ اٹھائے نہیں گئے تو نزول بعینہ کے کیسے قائل ہوتے۔ کیونکہ نزول بعینہ فرع ہے رفع بعینہ و بجسمہ کا۔ بہر صورت آپ کا یہی مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسد عنصری زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ جیسے کہ آپ کے مقلدوں کا مذہب ہے اور دیگر ائمہ اکابر کا۔

امام حسن بصری (فتح الباری ج ١٣ ص ٢٨١، عمدة القاری ج ٧ ص ٢٥٢، در منثور ج ٢ ص ٢٤١) ”اخرج ابن جریر حسن بصری وان من اهل الکتاب الا لیؤمن به قبل موته قال قبل موت عیسیٰ والله انه حی الان عند الله ولکن اذا نزل آمن به اجمعون“ { یعنی آپ فرماتے ہیں۔ قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے اور وہ اللہ کی قسم ابھی تک آسمان پر زندہ ہیں۔ ولیکن جس وقت اتریں گے سب کے سب آپ پر ایمان لائیں گے۔ }

کعب الاحبار (عمدة القاری ج ٧ ص ٤٥٣) ”اخرج ابو نعیم فی الحلیة عن کعب الاحبار فیرجع امام المسلمین المهدی فیقول عیسیٰ بن مریم تقدم“ { یعنی امام المسلمین حضرت مہدیؑ جب واپس تشریف لائیں گے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کو فرمائیں گے کہ بڑھیئے نماز پڑھائیے ۔}

٨٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢١

اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ امام مہدی اور ہیں نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام ۔ ربیع بن انس (درمنثور ج ٢ ص ٣، تفسیر کبیر ج ٢ ص ٣٩٤، تفسیر ابوداؤد ج ٢ ص ٥٨) ”یعنی حضور ﷺ کے پاس نصاریٰ آئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بحث ہوئی تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ زندہ ولا یموت ہے۔ یعنی اس کو موت نہیں آتی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔“

اس سے ثابت ہوا کہ ابھی تک موت واقع نہیں ہوئی اور آئندہ واقع ہوگی۔

حریث بن مخشی (درمنثور ج ٢ ص ٣٦) ”اخرج حاکم فی المستدرک عن حرث بن مخشی قال ولیلۃ اسریٰ بعیسیٰ یعنے رفع الی السمائ“ {یعنی اس رات جس رات عیسیٰ علیہ السلام کو اسریٰ نصیب ہوا یعنی آپ کو آسمان کی طرف اٹھایا گیا ۔}

مجاہد (درمنثور ج ٢ ص ٢٣٨) ”اخرج عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر عن مجاہد فی قولہ تعالیٰ شبہ لہم قال صلبوا غیر عیسیٰ ورفع اللہ الیہ عیسیٰ حیاً“ {یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور ان کے علاوہ غیر کو صلیب پر دیا گیا۔}

قتادہ ”اخرج ابن جریر ومنع اللہ نبیہ ورفعہ الیہ“ {یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھا لیا ۔}

عکرمہ، ضحاک، ابو مالک، ابو العالیہ، (تفسیر ترجمان القرآن ص ٤١، ٤٢) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا قیامت کی نشانی ہے۔

وہب بن منبہ (درمنثور جلد اوّل) ”اخرج ابن عساکر وحاکم عن وہب بن منبہ قال امات اللہ عیسیٰ ثلاث ساعات ثم احیاہ ورفعہ“ {یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو تین ساعات تک وفات دے کر زندہ کیا اور پھر آسمان کی طرف اٹھا لیا ۔}

یہ تفسیر اناجیل مروجہ کے مطابق ہے۔ عطاء ابن ابی رباح (تفسیر فتوحات الہیہ ج ١ ص ٥٣٥) ”قال عطاء اذا نزل عیسیٰ الی الارض لا یبقی یہودی ولا نصرانی الا امن بعیسیٰ“ {یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے تو کوئی یہودی اور نصرانی نہ ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے ۔}

امام جعفر، امام باقر، امام زین العابدین، امام حسین (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٦١) ”اخرج عن جعفر الصادق عن ابیہ محمد باقر عن جدہ امام حسین ابی زین العابدین قال

٨١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٤

قال رسول الله ﷺ کیف تھلک امۃ انا اولھا والمھدی وسطھا والمسیح اخرھا‘‘ {یعنی کیونکر ہلاک ہوسکتی ہے وہ امت جس کے اوّل میں ہوں اور درمیان مہدی اور آخر میں مسیح علیہ السلام۔} کس قدر روشن ہے کہ مہدی اور مسیح علیہ السلام دو علیحدہ شخصیات ہیں۔

حسین بن الفضل (تفسیر خازن جلد اول ص ٢٤٤، تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٥٦) ”قول الحسین بن الفضل ان المراد بقوله وكهلاً بعد ان ينزل من اخر الزمان ويكلم الناس ويقتل الدجال“ {یعنی مراد اللہ تعالیٰ کے اس قول یعنی کہلا سے یہ ہے کہ آخیر زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔ لوگوں سے کلام کریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔}

یہی مضمون (تفسیر فتح البیان ج ٢ ص ٤٤) میں ہے۔ ابن زید آپ فرماتے ہیں کہ: ”وانه لعلم للساعة“ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا ہے۔

(تفسیر ابن جریر ج ٢٥ ص ٤٩، ضحاک) آپ فرماتے ہیں کہ: ”وانه لعلم للساعة“ سے مراد یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پیش تر دنیا میں اتریں گے۔

محدثین رحمہم اللہ اور حیات مسیح علیہ السلام

حافظ ابو عبداللہ البخاری (صحیح بخاری نزول عیسیٰ بن مریم کتاب ذکر الانبیاء ج ١ ص ٤٩٠) میں ہے۔ ”قال قال رسول الله ﷺ والذی نفسی بیده لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلاً مقسطاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الحرب ويفيض المال حتى لا يقبل احد وتكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها ثم فيقول ابو هريرة فاقروا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“

(درمنثور ج ٢ ص ٢٤٥) ”اخرج البخاري في تاريخه عن عبدالله بن سلام قال يدفن عيسى مع رسول الله ﷺ وابي بكر وعمر ويكون قبره رابعاً“

دونوں حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم ضرور تم میں حاکم وعادل بن کر آئیں گے۔ پس سولی کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور لڑائی کو بند کریں گے اور مال کو اس قدر بہائیں گے کہ کوئی قبول نہ کرے گا اور ایک سجدہ دنیا و فیہا سے بہتر شمار ہوگا۔ پھر ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ تمہیں شک ہو تو یہ آیت ”وان من اهل الكتاب“ پڑھ لو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے مقبرہ میں آپؐ اور ابی بکرؓ وعمرؓ کے ساتھ دفن کئے جائیں گے اور آپ کی چوتھی قبر ہوگی۔

٨٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٣

حضرات سامعین! یہ وہی بخاری ہے۔ جس کو مرزا قادیانی قرآن مجید کے بعد اصح الکتب مانتے ہیں۔ اس میں قرآن مجید کی رو سے مسیح علیہ السلام کی حیات اور نزول بعینہ ثابت ہے اور یہ بھی کہ مدینہ منورہ میں فوت ہو کر آنحضرت ﷺ کے روضہ مطہرہ میں مدفون ہوں گے۔ نہ یہ کہ کشمیر اور قادیان میں۔ یہی امام بخاری کا مذہب ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسی عقیدہ کے اظہار کے لئے باب بھی اسی عنوان سے شروع کیا ہے۔ (باب نزول عیسیٰ بن مریم) اور یہی وجہ ہے کہ آپ کا چونکہ مذہب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام زندہ اٹھالئے گئے اور قبل از قیامت بعینہ اتریں گے۔ اپنی صحیح بخاری میں اس آیت ”واذ قال اللہ یعیسیٰ اانت قلت“ میں قال بمعنی یقول اور اذ کو صلہ یعنی زائدہ دیا ہے اور کہا ہے یہ سوال وجواب قیامت میں ہوگا اور قال بمعنی یقول خلیفہ اوّل مرزا قادیانی مولوی نورالدین صاحب نے بھی لیا ہے۔

(مقدمہ اہل

کتاب ص ١٧٨)

پس اس سے ثابت ہوا کہ آپ نے صحیح بخاری کی کتاب التفسیر میں آل عمران کے لفظ متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کی ہے۔ اس سے یہ ہرگز نہیں ثابت ہوتا کہ آپ کا مذہب وفات مسیح ہے۔ کیونکہ اوّل متوفیک سے تحقق موت کے معنی نکلتے ہی نہیں۔ دوسرا اس لئے کہ جب عبداللہ بن عباسؓ کا مذہب وفات مسیح علیہ السلام نہیں۔ جس کا تذکرہ گزر چکا تو امام بخاری کا جو کہ ناقل محض ہیں۔ کیسے یہ مذہب ہوسکتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔

ابوعبداللہ محمد بن ماجہ قزوینی (ابن ماجہ ج ٢ ص ٢٦٥) ”عن نواس بن سمعان ان المسیح ینزل عند منارة البیضاء شرقی دمشق“ {یعنی مسیح علیہ السلام جامع دمشق کے مشرقی منارہ پر اتریں گے۔}

حافظ ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمذی (ترمذی ج ٢ ص ٤٧) ”عن نواس ان المسیح ینزل عند المنارة البیضاء دمشق“ {یعنی آپ مشرقی منارہ پر اتریں گے۔}

سلیمان بن اشعث سجستانی (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٢٤٦) ”عن ابی ھریرة ؓ عن النبی ﷺ قال لیس نبی بینی و بینہ ای عیسیٰ و انہ نازل“ {یعنی آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے مابین کوئی نبی نہیں اور وہ اترنے والے ہیں۔}

ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی سنن النسائی (کتاب الجہاد ص ٤٩٧) ”عن النواس

٨٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٤

عن النبى صلى الله عليه وآله وسلم قال قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عصابتان من امتى احرزهم الله من النار عصابة تغزوا الهند وعصابة تكون مع عيسى بن مريم“ {یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے دو جماعتوں کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے دور کیا ہے۔ ایک ہند سے جہاد کرے گی اور دوسری عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگی (اور کفار سے لڑائی کرے گی)}

یہ صحاح ستہ والوں کا مذہب ہے۔ محمد بن سیرین (بجلی آسمانی ج١ ص ٤٤) ”اخرج ابن ابى شيبة فى مصنفه عن ابن بشر قال المهدى من هذا الامة وهو الذى يصلى خلفه عيسى بن مريم“ {یعنی امام مہدی اس امت سے ہوں گے اور امام مہدی وہ ہیں۔ جس کے پیچھے عیسیٰ بن مریم نماز پڑھیں گے۔}

اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام دو الگ الگ شخص ہیں۔ ابوداؤد طیالسی (کنز العمال ج٧ ص ٢٠٢) ”اخرج ابوداؤد طيالسی فى مسنده عن ابى هريرة ؓ عن النبى صلى الله عليه وآله وسلم قال لم يسلط على الدجال الاعيسى بن مريم“ {یعنی بجز عیسیٰ علیہ السلام کے اور کوئی دجال کو قتل نہیں کرے گا۔}

ابو عبداللہ محمد المعروف بصاحب عون المعبود (شرح ابی داؤد ج٤ ص٢٠٥) ”اخرج الحاكم عن ابى هريرة عن النبى صلى الله عليه وآله وسلم قال ليهبطن عيسى اماما مقسطاً“ {یعنی عیسیٰ علیہ السلام عادل ہو کر اتریں گے۔}

امام عبدالرزاق (درمنثور ج٦ ص٢٠) ”اخرج عبدالرزاق عن قتادة وانه لعلم للساعة قال نزول عيسى عليه السلام للساعة“ {یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا علامات قیامت میں سے ہے۔}

ابن حاتم ، ابن مردویہ ، عبد بن حمید ، سعید بن منصور ، طبرانی (تفسیر درمنثور ج٦ ص٢٠) میں مذکور ہے کہ یہ (مفسرین) محدثین حضرت ابن عباسؓ سے آیت ”وانه لعلم للساعة“ کی تفسیر کرتے ہیں کہ قیامت کے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا نشانی قیامت سے ہے۔

ابونعیم (آسمانی بجلی ج١ ص٤٨) ”اخرج ابونعيم عن عبدالله بن مسعود فى الحديث الطويل حتى ينزل عليهم عيسى بن مريم فيقاتلون مع الدجال“ {یعنی مسلمان حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ مل کر دجال کا مقابلہ کریں گے۔}

اسحق بن بشیر ابن عساکر (کنز العمال ج٧ ص٢٦٨) میں ہے۔ ”اخرج اسحق بن

٨٤

صفحہ ٢٢٥

بشیر وابن العساکر عن ابن عباس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فیعند ذالک ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السمائ“ {یعنی اس وقت عیسیٰ ابن مریم آسمان سے اتریں گے۔}

ابوبکر ابن ابی شیبہ (مجلی آسمانی ص٤٩) میں ہے۔ ”اخرج ابن ابی شیبہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فینزل عیسیٰ فیقتل الدجال“ {یعنی عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے۔}

ابن جوزی مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰ بن مریم میں ہے۔ ”یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین کی طرف اتریں گے۔ شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور ٤٥ برس رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے اور مدینہ منورہ میں مدفون ہوں گے۔“

ابن حبان اسعاف (اسرامین برحاشیہ مشارق الانوار مطبوعہ مصر ص ١٤٤) ”اخرج ابن حبان مرفوعاً ینزل عیسیٰ فیقول امیر المہدی تعال صل بنا فیقول لہ انما بعضکم ائمۃ علیٰ بعض تکرمۃ لھذہ الامۃ“ {یعنی عیسیٰ علیہ السلام جب اتریں گے تو امام مہدی کہیں گے کہ نماز پڑھائیے۔ آپ انکار فرمائیں گے اور کہیں گے کہ بوجہ خصوصیت اس امت کے اسی میں سے امام ہونا چاہئے۔}

دیلمی (کنز العمال ج٦ ص١٢٦) میں ہے۔ ”اخرج دیلمی عن انس قال کان طعام عیسیٰ الباقلا حتٰی رفعہ“ {یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا طعام باقلا تھا اور اسی حالت پر ان کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔}

بیہقی (کتاب الاسماء والصفات ص٣٠١) میں ہے۔ ”عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیف انتم اذ ینزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم“ {یعنی تمہارا کیا حال ہوگا؟ جس وقت ابن مریم آسمان سے تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم سے ہوگا۔}

بزاز (مجلی آسمانی ص٤٦) میں ہے۔ ”اخرج البزاز عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینزل عیسیٰ بن مریم مصدقاً لمحمد وعلی ملتہ فیقتل الدجال ثم انما ھو قیام الساعۃ“ {یعنی عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے۔ درحالیکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کریں اور آپ کے مذہب پر ہوں گے۔ پس دجال کو قتل کریں گے۔ پھر قیامت قائم ہو جائے گی۔}

احمد بن علی ابویعلیٰ (مجلی آسمانی ص٤٧) میں ہے۔ ”عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدرکونہ رجال من امتی عیسیٰ بن مریم“ {یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم

٨٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٦

فرماتے ہیں کہ بہت سے آدمی میری امت کے عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے۔}

بزرگان دین، علماء کرام وحیات مسیح علیہ السلام

شیخ عبدالحق محدث دہلوی (مدارج النبوۃ ج١ ص١١٢) میں ہے۔ اللہ عزوجل عیسیٰ را ب آسمان برداشت۔ یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا۔

(اشعۃ اللمعات ج٤ ص٤٤٤) میں ہے۔ فرود آید عیسیٰ از آسمان برزمین۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر اتریں گے۔

(اشعۃ اللمعات ج٤ ص٣٧٢) میں ہے۔ بہ تحقیق ثابت شدہ است باحادیث صحیحہ کہ عیسیٰ علیہ السلام فرود می آید از آسمان برزمین و می باشد تابع دین محمد ﷺ و حکم می کند بشریعت آنحضرت ﷺ ۔ یعنی صحیح حدیثوں سے البتہ ثابت ہوا کہ آپ آسمان سے زمین پر اتریں گے اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مطابق حکم فرمائیں گے۔

(اشعۃ اللمعات ج٤ ص٣٧٢) میں ہے۔ سوگند بخدائے تعالیٰ کہ بجان پاک من در دست قدرت اوست ہر آئینہ نزدیک است کہ فرود آید از آسمان در میان شما عیسیٰ پسر مریم علیہما السلام۔ یعنی قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ ضرور بضرور عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین میں اتریں گے۔

کتاب (منہاج النبوۃ ترجمہ مدارج النبوۃ ج١ ص٢٤٠) میں ہے۔ لیکن اٹھانا اور لے جانا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر ہمارے پیغمبر کو شب معراج میں بالا تر اس سے اس جگہ لے گئے کہ کسی کو نہ لے گئے تھے۔ یہ حضرت شیخ کا مذہب جو لوگ ماثبت بالسنۃ وغیرہ سے شیخ صاحب کا مذہب وفات مسیح بتلاتے ہیں۔ وہ محض دھوکہ دیتے ہیں اور اپنی نافہمی سے شیخ صاحب پر افتراء باندھتے ہیں۔

شیخ شہاب الدین المعروف ابن حجر (تلخیص الحبیر ج٢ ص٢١٩) میں ہے۔ ”واما رفع عيسى فاتفق اصحاب الاخبار والتفسير على انه رفع ببدنه حيا“ {یعنی اہل تفسیر اور احادیث کا اتفاق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ اسی جسم سے اٹھائے گئے۔ کس قدر صاف تصریح ہے کہ فریقین کا اتفاق ہے کہ آپ کو بمعہ جسم زندہ اٹھایا گیا۔}

کیا اب بھی کوئی صاحب کہنے کا مجاز ہے کہ کوئی ضعیف حدیث بھی ایسی نہیں جس سے حیات مسیح ثابت ہو؟ سید بدرالدین علامہ عینی (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ج١١ ص٣٧١) میں ہے۔ ”ان عيسى يقتل الدجال بعد ان ينزل من السماء“ {یعنی عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتر

٨٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٧

کر دجال کو قتل کریں گے۔}

(عمدۃ القاری ج ٧ ص ٤٥٣) میں ہے۔ ”ان عیسی دعا الله لما رای صفۃ محمد وامتہ ان یجعلہ منھم استجاب الله دعاہ وابقی حتی ینزل فی اخر الزمان ویجدد امر الاسلام“ {یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے جب کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کی انجیل وغیرہ میں صفت دیکھی تو یہ خواہش کی کہ مجھے بھی آپ کی امت بنا دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور زندہ باقی رکھا۔ یہاں تک کہ آپ اخیر زمانہ میں اتریں گے اور امر اسلام کی تجدید فرمائیں گے۔}

(عمدۃ القاری ج ٧ ص ٣٢٧) میں ہے۔ ”القول الصحیح بان عیسیٰ رفع وھو حی“ {یعنی صحیح قول یہ ہے کہ آپ کو زندہ اٹھا لیا گیا۔}

علامہ قسطلانی ارشاد الساری (شرح صحیح بخاری ج ٥ ص ٤١٩) میں ہے۔ ”ینزل عیسیٰ من السماء الی الارض“ {یعنی آپ زمین پر آسمان سے اتریں گے۔}

(شرح صحیح بخاری ج ٧ ص ١١٤) میں ہے۔ ”فلما توفیتنی ای بالرفع الی السماء“ {یعنی جب کہ تو نے مجھے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔}

حافظ شمس الدین ابن قیم (ہدایۃ الحیاری فی اجوبۃ الیہود والنصاریٰ ص ٦٣) میں ہے۔ ”ان المسیح رفع وصعد الی السماء“ {یعنی آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔}

(ہدایۃ الحیاری فی اجوبۃ الیہود والنصاریٰ ص ١٠٤) میں ہے۔ ”ان المسیح نازل من السماء فیکم بکتاب الله وسنۃ رسولہ“ {یعنی آپ آسمان سے تم میں اتریں گے اور کتاب وسنت کے ساتھ حکم کریں گے۔}

علامہ ملا علی قاری (مرقاۃ ج ٥ ص ١٦٠) میں ہے۔ ”ینزل من السماء منارۃ المسجد دمشق“ {یعنی آپ آسمان سے منارۂ مشرقی پر اتریں گے۔}

(مرقاۃ ج ٥ ص ٣٢٣، رسالہ مہدی ص ١٥) میں ہے۔ ”ان عیسیٰ رفع بہ الی السماء“ {یعنی آپ کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔}

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی (فتوحات مکیہ مصری ج ٣ باب ٣٦٧ ص ٣٤١) حدیث معراج میں فرماتے ہیں۔ ”دخل اذ بعیسیٰ بجسدہ عینہ فانہ لم یمت الی الان بل رفعہ الله الی ھذہ السماء“ {یعنی جس وقت آپ داخل ہوئے تو عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ملاقات ایسی صورت میں ہوئی کہ آپ بیعنہ بجسمہ موجود تھے۔ اس لئے کہ آپ ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔

٨٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٨

بلکہ آپ کو آسمان کی طرف اٹھالیا گیا ہے۔}

کتاب (فصوص الحکم معہ شرح جامی ص ٣١٣) پر ہے۔ ”وعیسیٰ علیہ السلام ثم یمیت بل رفعہ اللہ الی السماء فلما توفیتنی ولما کان التوفی ظاہراً فی الامامۃ فسرہ رضی اللہ عنہ بقولہ ای رفعتنی الیہ“ {یعنی توفی سے ہر موت معلوم ہوتی ہے اور عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں۔ لہٰذا آپ نے رفعتنی کے ساتھ تفسیر فرمائی ہے۔ یعنی تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا۔}

(فتوحات مکیہ ج ٣ باب ٣٦٩، ص ٣٢٧، ٣٢٨) پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”وینزل عیسیٰ ابن مریم بالمنارة البیضاء بشرقی دمشق“ {یعنی عیسیٰ علیہ السلام منارہ شرقی دمشق پر اتریں گے۔}

اسی طرح (فتوحات مکیہ ج ٢ باب ٧٣ ص ٣، ج ١ باب ٢٢ ص ١٨٥، ج ١ ص ٢٢٤، ج ١ باب ١٠ ص ١٣٥ ص ١٤٢، ج ٢ ص ٢٩، ج ٢ ص ١٢٥، ج ٣ ص ١٥٣، ١٥٤) میں بھی حضرت مسیح بن مریم کے اترنے کا ذکر بڑی صراحت سے موجود ہے۔ یہ ہے شیخ فتوحات کا مذہب جو لوگ آپ کے متعلق خیال کرتے ہیں کہ آپ وفات مسیح کے قائل ہیں۔ وہ محض دھوکہ اور افتراء ہے۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں۔ (الفوز الکبیر میں) ”نیز از ضلالت ایشاں یعنی نصاریٰ یکے آنست کہ جزم میکنند کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول شدہ است وفی الواقع واقعہ غایت اشتباہ واقع شدہ بود رفع بر آسمان را قتل گمان کردند وکابراً عن اکابر ہمان غلط روایت نمود“ یعنی نصاریٰ کی ایک یہ بھی جہالت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ مقتول ہوئے اور اسی غلط بات کو اپنے بڑوں سے روایت کرتے آئے۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھالیا ہے۔

(ترجمہ القرآن) میں لکھتے ہیں۔ ”فلما توفیتنی“ پس ہرگاہ کہ برداشتی مرا یعنی جس وقت تو نے مجھے آسمان پر اٹھالیا۔ اس سے یہ بھی صاف ہوگیا کہ جو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے فیوض الحرمین میں اور حضرت ابن عربی نے فتوحات مکیہ میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی و روحی ہوا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ آپ کا رفع روحانی ہوا۔ کیونکہ اس رفع سے رفع روحانی مراد لینا ان کے مذہب اور تصریحات کے بالکل خلاف ہے۔ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسلوب الشہوات کرنے کے بعد زندہ اٹھالیا

٨٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٩

گیا۔ یعنی ان دونوں حضرات کا صرف اسی امر میں اختلاف ہے کہ آپ کو بلاسلب کرلینے شہوات طعام وغیرہ کے زندہ آسمان پر اٹھالیا گیا اور دیگر حضرات نے اس امر کو ملحوظ نہیں فرمایا اور بلاتفصیل ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ اٹھالیا گیا۔

امام عبدالوہاب شعرانی (الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ٢٩١) میں فرماتے ہیں۔ ”والحق ان المسیح رفع بجسده الی السماء والایمان بذالك واجب قال الله تعالیٰ بل رفعه الله الیہ“ {یعنی حق یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بجسدہ آسمان پر اٹھالیا گیا ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔}

جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”بل رفعہ الله الیه“ آپ تحریر فرماتے ہیں۔ ”اگر تو سوال کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر کیا دلیل ہے؟ تو جواب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ”وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته“ ہے۔“ یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو سب اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے۔ ہاں معتزلہ، فلاسفہ، یہود، نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کے رفع جسمی سے انکار کیا ہے۔ صاف ہو گیا کہ جو لوگ آپ کا قول وفات مسیح علیہ السلام پر پیش کرتے ہیں۔ یا آپ کا مذہب بیان کرتے ہیں۔ محض مفتری ہیں۔ آپ تو وفات کے قائلوں کو معتزلی، فلاسفی، یہودی، نصرانی کا خطاب دے رہے ہیں۔ نہ کہ اپنا عقیدہ بیان کر رہے ہیں۔

علامہ ابوطاہر قزوینی (الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ٢٩١) میں فرماتے ہیں۔ ”قال ابو طاهر قزوینی فاعلم ان كیفية رفع عیسٰی ونزوله وكیفیته مكثه فی السماء الی ان ینزل من غیر طعام وشراب یتقاصر عن درکه العقل“ یعنی آسمان پر اٹھائے جانے اور اترنے تک آسمان پر بغیر کھانے پینے کے رہنے کی کیفیت عقل میں نہیں آسکتی۔

”قال قرطبی والصحیح ان الله رفع عیسٰی من غیر موت“

(تفسیر ابومسعود

ج ١ ص ٣٧) یعنی صحیح ہے کہ آپ کو بلاموت زندہ آسمان پر اٹھالیا گیا ہے۔

یحییٰ بن اشرف محی الدین علامہ نووی ”فبعث الله عیسیٰ بن مریم ای بدله من السماء حاكماً بشریعتنا“ {یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ مبعوث فرمائے گا۔ یعنی آپ کو آسمان سے بدل کر ہماری شریعت کا امام حاکم بنائے گا۔}

(شرح مسلم ج ٢

ص ٣٠٣)

علامہ تفتازانی شرح عقائد نسفی ”یعنی آنحضرت ﷺ نے قیامت کی علامتوں میں

٨٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣٠

سے دجال، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج کا نکلنا اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اور سورج کا مغرب سے طلوع کرنا بیان فرمایا ہے۔“

شیخ محمد بن احمد الاسفرائنی (بحوالہ لوامع الانوار البہیہ ج٢ ص٨٩) میں فرمایا ہے۔ ”من علامات الساعۃ العظیمۃ ان ینزل من السماء عیسیٰ بن مریم ونزولہ ثابت بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ“ {یعنی علامات قیامت سے ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم آسمان سے اتریں گے اور آپ کا اترنا کتاب وسنت اجماع سے ثابت ہے۔}

حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ (کشف المحجوب ص ٥٢) پر ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرقع رکھتے تھے۔ جس کو وہ آسمان پر لے گئے۔ کس قدر واضح ہے کہ رفع جسمی ہے۔ کیونکہ گوڈری رکھنا روح کا کام نہیں۔ حضرت خواجہ عثمان ہارونی، حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رئیس الارواح ص ٩ پر ہے۔ محمد بن عبداللہ یعنی امام مہدی بیرون آید از شرق تا غرب عدل وی بگیر د و حضرت عیسیٰ علیہ السلام از آسمان فرود آید۔

قاضی عیاض (صحیح مسلم ج٢ ص ٢٠٣) ”قال القاضی نزول عیسیٰ وقتل الدجال حق وصحیح عند اہل السنۃ والجماعۃ بالاحادیث الصحیحۃ“ (عون المعبود ج٤ ص٢٠٣) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا اور دجال کو قتل کرنا احادیث صحیحہ کی رو سے اہل سنت والجماعت کے نزدیک بالکل حق ہے۔

شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی اردو ترجمہ علامات قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کاندھوں پر تکیہ لگائے آسمان سے دمشق کی جانب مسجد کے شرقی منارہ پر رونق افروز ہوں گے۔

شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی (قرآن مجید مترجمہ صاحب ص ١٣٨) فائدہ موضح القرآن نمبر ٢ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ جب یہود میں دجال پیدا ہوگا تب اسی جہاں میں آکر اس کو ماریں گے۔

مولانا عبدالحق صاحب حقانی (عقائد الاسلام ص ١٨) بوقت رات ملائکہ حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان پر لے گئے تھے اور آپ آسمان پر زندہ ہیں۔

نواب صدیق حسن خان (تفسیر ترجمان القرآن ج ٢ ص ١٠٢) ”اس بات پر خبریں متفق ہیں کہ عیسیٰ نہیں مرے۔ بلکہ آسمان میں اسی حیات دنیوی پر باقی ہیں۔“ نواب قطب الدین دہلوی (مظاہر الحق ج٤ ص٣٣٩) جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ اس

٩٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣١

وقت ٣٣ برس کے تھے۔

ابوالحسن محمد بن حسین الابری السجزی (رسالہ مہدی ص ٣٥، فتح الباری ج ١٣ ص ٢٨٢) یعنی اس بارے میں خبریں متواتر آتی ہیں کہ امام مہدی اس امت سے ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس پیچھے نماز ادا فرمائیں گے۔

(مورخ ابن الاثیر تاریخ کامل ج ١ ص ١٠٩) ” فرفع الی السماء من تلک الروزفة “ یعنی آپ کو اس روشن دان سے اوپر اٹھا لیا گیا۔

مورخ خادم علی فاروقی (تاریخ جدولیہ ص ٥٠٩) حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٧٥٦١ ہبوط آدم میں آسمان پر اٹھائے گئے۔

مؤرخ ابن خلدون (تاریخ ابن خلدون ج ٢ ص ٢٠٧) میں فرماتے ہیں۔ ”ان المہدی الاکبر الذی یخرج فی أخر الزمان وان عیسیٰ یکون صاحبہ ویصلی خلفہ“ یعنی مہدی اکبر وہ ہیں جو کہ آخیر زمانہ میں ظہور فرمائیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام آپ کے ساتھی ہوں گے اور آپ کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے۔

مؤرخ مسعودی تاریخ مروج الذہب (ابن الاثیر ج ١ ص ٥٨) میں فرماتے ہیں۔ ”رفع الله عيسى وهو ابن ثلاث وثلاثين سنة“ یعنی ٣٣ برس میں آپ کو اٹھا لیا گیا۔

تاریخی واقعات سے بھی کس قدر ثابت ہے کہ آپ ابھی تک زندہ ہیں۔ افسوس کہ بعض صاحب اسلامی تاریخ کو جن سے روز روشن کی طرح حیات ثابت ہوتی ہے۔ چھوڑ کر غیر مذاہب کے رطب و یابس تاریخی واقعات کو وفات مسیح علیہ السلام پر بطور حجت پیش کرتے ہیں۔

ابوالقاسم اندلسی (عمدۃ القاری علامہ عینی ج ١١ ص ٣١٤) میں فرماتے ہیں۔ ”قال ابو القاسم الاندلسی لاشک ان عیسیٰ فی السماء وھو حی“ یعنی اس میں شک نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ موجود ہیں۔ حضرت مولانا جلال الدین رومی مثنوی، (مثنوی جزو اوّل ص ٧) جسم خاک از عشق بر افلاک شد بایت کریمہ کہ در سورۃ النساء در شان عیسیٰ علیہ السلام ”بل رفعه الله الیه“ یعنی برداشت او را بسوئے خود۔ یعنی اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔

مولوی اسماعیل دہلوی (تقویۃ الایمان باب ٢ ص ١٣١) قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے آگے یوں عرض کریں گے۔ میرے آسمان پر جانے کے بعد لوگوں نے مجھ کو اور میری ماں کو پوجا اور پرستش کی۔ جب تو نے مجھ کو اپنی طرف پھیر لیا اور میں آسمان پر آ گیا۔

علامہ مناوی مشارق (الانوار ص ١٠٩) ”قال الامام المناوی فی جواھر العقدین

٩١

صفحہ ٢٣٢

وفی مسلم خروج الدجال فيبعث الله عيسى فيقتله ويهلكه“ یعنی دجال نکلے گا اور عیسیٰ علیہ السلام آ کر اس کو قتل کریں گے۔

علامہ نفراوی مشارق (الانوار ص ١١٠) ”ان جبرائيل ينزل على عيسى بعد نزول عیسیٰ من السماء“ یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو جبرائیل آپ پر آیا کریں گے۔

علامہ زرقانی شرح مواہب الدنیہ ”فاذا نزل سیدنا عیسیٰ فانه يحكم بشريعتنا“ یعنی پس جب کہ عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے تو ہماری شریعت کے ساتھ حکم فرمائیں گے۔

امام تورپشتی المعتمد فی المعتقد ۔ بعد از ظہور دجال و فساد در زمین نزول عیسیٰ از آسمان۔ یعنی دجال کے فساد کے فرو کرنے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔

شیخ محمد اکبر صابری (اقتباس الانوار ص ٧٢) در اکثر احادیث صحیح و متواتر از حضرت رسالت پناہ ﷺ ورود یافتہ کہ مہدی از بنی فاطمہ خواهد بود و عیسیٰ باو اقتدا کردہ نماز خواهد گزارد و جمیع عارفاں صاحب تمکین بر ایں متفق، یعنی آنحضرت ﷺ سے روایت ہے کہ امام مہدی بنی فاطمہ سے ہوگا اور عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے اور تمام عارف صاحب مرتبہ لوگ اس پر متفق ہیں۔ یہ وہی صاحب ہیں جن کے متعلق مرزا قادیانی نے جھوٹ لکھ دیا کہ آپ لامہدی الا عیسیٰ یعنی مہدی فقط عیسیٰ ہیں کے قائل ہیں اور اس کے بھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کا روح مہدی علیہ السلام میں بروز کرے گا۔ یعنی آپ وفات عیسیٰ علیہ السلام کے معتقد ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا مذہب وہ ہے جو بیان ہوا جس سے صاف ظاہر ہوا کہ آپ کے نزدیک مہدی اور عیسیٰ دو الگ الگ شخص ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں۔

علامہ دمیری (حیات الحیوان ج ١ ص ٤) ”ينزل عيسى الى الارض وكان راسه يقطر الماء“ یعنی آپ زمین پر اتریں گے۔ درحالانکہ آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوں گے۔

شیخ برکت اللہ مہاجر مکی (ازالۃ الشکوک ج ١ ص ٥٢) آسمان کی طرف عیسیٰ کی روح معہ بدن اٹھائی گئی۔ کوئی فقط روح کو بغیر بدن کے نہ سمجھے۔ دیکھئے رفع روحانی کی کس قدر تردید ہے۔

آل حسن استفسار بر حاشیہ (ازالہ اوہام مطبوعہ سید المطابع ص ٢٥٨) عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔

٩٢

www.besturdubooks.wordpress. .wordpress.com

صفحہ ٢٣٣

رضی الدین حسن بن احسن صغانی (مشارق الانوار مصری ص ١١٠) ”ان عیسیٰ حی فی السماء الثانية لا ياكل ولا يشرب“ یعنی بلا اکل وشرب دوسرے آسمان پر عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ مولوی خرم علی جونپوری تحفۃ الاخیار ترجمہ اردو (مشارق الانوار ص ٣٤٦) قیامت کے قریب امام مہدی کے وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور نصرانی دین کو مٹائیں گے۔

مولوی محمد قاسم بانی مدرسہ دیوبند (ہدیۃ الشیعہ ص ٢١) حضرت عیسیٰ علیہ السلام حافظ انجیل باتفاق شیعہ وسنی آسمان چہارم پر زندہ ہیں۔ شیخ شرقاوی (مشارق الانوار مصری ص ١٠٧) ”قال الشيخ الشرقاوى ان عيسىٰ فينزل فى زمان المهدى بالمنارة البيضاء شرقى دمشق“ یعنی امام مہدی کے زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام دمشق کی جامع مسجد کے شرقی منارہ پر اتریں گے۔

مولوی احمد علی محدث سہارنپوری (صحیح البخاری مطبع احمدی ج ٢ ص ٦٦٥، کتاب التفسیر حاشیہ) ”فلما توفيتنى بالرفع الى السمائ“ (ص ١٤٠ حاشیہ نمبر ١٠) ”لا شک ان عیسیٰ فی السماء وهو حی“ (ص ١٠٥٥ حاشیہ نمبر ٧) ”ان عيسىٰ يقتل الدجال بعد ان ينزل من السماء فيحكم بشريعة المحمدية“ یعنی آپ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور آپ آسمان سے اتر کر دجال کو قتل کریں گے اور شریعت اسلام (محمدیہ) کے ساتھ حکم فرمائیں گے۔

مولوی محمود الحسن دیوبندی شرح (ابوداؤد ج ٢ ص ٢٣٥ حاشیہ) ”ان عيسىٰ يقتل الدجال بعد ان ينزل من السمائ“ یعنی آپ آسمان سے اتر کر دجال کو قتل کریں گے۔

مولوی صدر الدین بروڈوی (عقائد الاسلام ص ١١٠) عیسیٰ چوتھے آسمان سے اتر کر امام مہدی کی مدد کریں گے۔

مولوی نجم الغنی صاحب بریلوی (مذاہب الاسلام ص ٦٥) دجال اور دابۃ الارض کا ظاہر ہونا اور یاجوج ماجوج کا خروج کرنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مسلمانوں کی مدد کے لئے آسمان سے اترنا اور تین خسفوں کا ہونا یہ سب باتیں ہونے والی ہیں۔

مولوی وحید الزمان دکنی الملتقطات علی حاشیہ (مشکوٰۃ ج ٤ ص ٩٩) قیامت کے قریب امام مہدی علیہ السلام کے وقت میں عیسیٰ آسمان سے اتریں گے۔

مولوی حافظ حاجی احمد حسین صاحب دکنی (مقدمہ احسن التفاسیر ج ٦ ص ٦، ٧) عیسیٰ کی

٩٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣٤

شبیہ قتل کی گئی اور وہ زندہ ہی آسمان پر اٹھائے گئے اور قیامت کے نزدیک اتریں گے۔

علامہ کاشفی (معارج النبوۃ قلمی ورق ٥٣ ص١) عیسیٰ را با سمان چہارم بردند کہ ”بل رفعہ اللہ الیہ“ یعنی آپ کو چوتھے آسمان پر لے گئے۔

(ورق ٢٤١) عیسیٰ بامداد خداوند تعالیٰ ب آسمان رفت۔ یعنی آپ بامداد خداوندی آسمان پر تشریف لے گئے۔

محمد بن نصیر الدین بن جعفر کتاب بحر المعانی ”ینزل عیسیٰ من السماء الرابع“ یعنی آپ چوتھے آسمان سے اتریں گے۔

مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی (زجر الناس ص٨٥) ”یاتی عیسی بن مریم فی اخر الزمان علی شریعۃ محمد وھو نبی“ یعنی آپ شریعت اسلام پر اخیر زمانہ میں آئیں گے۔

حافظ محمد لکھنوی (احوال آخرت ص٣٠) آسماناں تھیں ۔ حضرت عیسیٰ موڑ ملکاں آوے۔ اور منارۃ شرقی مسجد جامع آن ہلاوے۔

مولوی محمد مظہر الدین صاحب (دہلوی مظہر العقائد ص ١٦، ٢٢) عیسیٰ اخیر زمانہ میں آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔ قیامت کے نزدیک مسیح پھر اتریں گے۔

علامہ عبدالرحمن بن مکی الدیبع الشیبانی الزبیدی الشافعی۔ (تیسر الوصول الی جامع الاصول مطبوعہ مصر ج٤ ص٢١٧) کتاب القیامت فصل چہارم۔ ”اخرج مسلم عن جابر عن النبی ﷺ قال فینزل عیسی بن مریم فیقول امیرھم تعال صل لنا“ یعنی مسیح علیہ السلام اتریں گے تو امام مہدی علیہ السلام فرمائیں گے کہ نماز پڑھائیے۔

علامہ مجدالدین فیروز آبادی (قاموس ج١ ص٣٤٨) ”یقتل عیسیٰ الدجال فی الشام بالمنارۃ البیضاء ویقتل الدجال“ یعنی آپ شام میں منارہ شرقی پر اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔

قاری حافظ خلیل الرحمان صاحب سہارنپوری (قصص اکابرین ص٤٣) عیسیٰ قریب قیامت کے آسمان سے نزول فرما کر امت حبیب خدا میں داخل ہوں گے۔

محمد بن عبدالرسول برزنجی ثم المدنی (اشراط الساعۃ ص ٢٨٧) ”اولھا خروج المھدی وانہ یأتی فی اخرالزمان من ولد فاطمۃ یملاء الارض عدلاً کما ملئت ظلماً وانہ یقاتل الروم وینزل عیسیٰ ویصلی خلفہ“ مختصراً یعنی پہلی علامت قیامت یہ ہے کہ

٩٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣٥

اخیر زمانہ میں مہدی علیہ السلام حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے تشریف لائیں گے اور زمین کو جس طرح کہ وہ ظلم وستم سے پر ہوگی۔ عدل وانصاف سے بھردیں گے اور آپ روم سے مقاتلہ کریں گے اور عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور امام مہدی کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے۔

شیخ فرید الدین عطار (مثنوی عطار ص ٢٠) عشق عیسیٰ را بگردوں میبرد۔ یافتہ ادریس جنت از صمد۔ یعنی آپ کو عشق خداوندی آسمان پر لے گیا اور ادریس علیہ السلام کو الہ العالمین سے جنت ملی۔

سید الطائفہ حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی (غنیۃ الطالبین ج ٢ ص ٤٨) ”والتاسع رفع الله عز وجل عيسى بن مريم الى السماء“ یعنی آپ کو آسمان کی طرف اٹھالیا گیا۔

شرف الدین ابوعبداللہ محمد بن سعید (شرح ابن حجر علی متن فی مدح خیر البریۃ ص ٣٢) ”ولما رفع عيسى الى السماء“ یعنی جس وقت آپ کو آسمان کی طرف اٹھالیا۔

شیخ محمد الحنفی حاشیہ۔ ”وحکمه نزول عيسى دون غيره من الانبياء الرد على اليهود فى زعمهم انهم قتلوه فبين الله كذبهم“ یعنی فقط آپ کے پھر دوبارہ زمین میں آنے کی حکمت یہ ہے کہ یہود کے عقیدہ کی تردید کرنی ہے۔

خطیب شربینی (عرائس البیان ج ١ ص ٨٤) ”وقيل يكلم الناس فى المهدى صبيّاً وعند نزوله من السماء كهلاً“ یعنی آپ آسمان سے اترنے کے بعد بھی زمانہ کہالت میں کلام فرمائیں گے۔ جیسا کہ بچپن میں فرماتے تھے۔

علامہ فیض احمد فیضی (سواطع الالہام ص ١٤٠) ”وصعد روح الله مصاعد السماء“ یعنی آپ کو آسمان پر اٹھایا گیا۔ شاہ رؤف احمد مجددی (روفی ج ١ ص ٢٨٧) حق تعالیٰ نے عیسیٰ کو رات کے وقت آسمان پر پہنچایا تھا۔

امام نیشاپوری (تفسیر غرائب البیان ج ٦ ص ١٩) ”ثم تنبه بقوله وكان الله عزيزاً حكيماً على ان فى قدرته سهلاً“ یعنی آپ کا اٹھانا اور زندہ آسمان پر لے جانا ہماری قدرت میں کوئی مشکل نہیں۔

مصنف عجائب (القصص ج ٢ ص ٤٨٦) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر چلے گئے۔

امام ابوحیان (بحر المحیط ج ٤ ص ٦١) ”ان الاخبار تواترت برفع عيسى حيا وانه فى السماء حى وانه منزل ويقتل الدجال“ یعنی احادیث متواترہ سے ثابت ہوا ہے کہ آپ آسمان پر زندہ ہیں اور آپ اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔

٩٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣٦

مصنف (تفسیر النہر الماد ج ٢ ص ٦١) ”وتواتر الاخبار الصحيحة عن رسول الله انه فى السماء حى وانه ينزل ويقتل الدجال“ یعنی احادیث متواترہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔

مصنف تفسیر (خلاصہ التفاسیر ج ١ ص ٤٧٣) بلکہ خدا نے اسے (عیسیٰ) کو اپنی حضوری میں بلایا اور آسمان پر اٹھا لیا۔

امام ابوالحسن علی ابن احمد الواحدی (کتاب الوجیز ج ١ ص ٢٢٩) ”اى قبضتنى ورفعتنى اليك الى السماء“ یعنی تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا۔ شیخ محمد نووی (مراح لبید ج ١ ص ٨٣) ”قال كثير من المتكلمين ان اليهود لما قصدوا قتله رفعه الله الى السماء“ یعنی جب کہ یہود مردود نے جب آپ کے قتل کا ارادہ کیا تو آپ کو آسمان پر اٹھا لیا۔

یوسف بن اسماعیل (النبهانی حجة الله علی العالمین ص ٣٩٣) ”ان الله تعالى رفع عيسى الى السماء“ یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا۔

(سراج المنیر ج ١ ص ١٤١) ”رفع عيسى الى السماء“ یہی آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔

(تحفۃ الباری ج ٧ ص ٢٠٩) ”باب نزول عيسى اى من السماء الى الارض“ یعنی وہ باب جس میں آپ کے زمین پر دوبارہ اترنے کا بیان ہے۔ مصنف (نزہۃ المجالس ج ٢ ص ٦٨) ”رفع الله عيسى الى السماء“ یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا۔

مصنف توضیح العقائد۔ عصر کے وقت دمشق کی جامع مسجد کے شرقی منارہ پر دو فرشتوں کے بازوں پر ہاتھ رکھے ہوئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔ حضرت معروف کرخی علامہ دمیری کی (کتاب حیات الحیوان ج ١ ص ٣٦) ”عن ابی نعیم قال سمعت معروف کرخی یقول فاوحی الله عز وجل الى جبرئيل ان ارفع عبدى الى“ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کو وحی کی کہ میرے بندے کو میری طرف اٹھا۔ شیخ محمد حبان (اسعاف الراغبین برحاشیہ مشارق الانوار مصری ص ١٢٧) ”ان عيسى يقتل الدجال بباب اللد بارض فلسطين“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام دجال کو زمین بیت المقدس میں مقام لد پر قتل کریں گے۔

اس سے یہ ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے جو لد کی تاویل لدھیانہ سے کی ہے۔ بالکل

٩٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣٧

غلط ہے۔ کیونکہ لدھیانہ علاقہ پنجاب میں ہے۔ نہ کہ بیت المقدس میں۔ ولی الدین تبریزی مشکوٰۃ المصابیح باب نزول مسیح علیہ السلام یعنی اس میں مسیح علیہ السلام کا اترنا بیان کیا جائے گا۔ اس باب میں بہت سی حدیثیں نقل کی ہیں جو چاہے وہاں دیکھ لے۔

انجیل اور حیات مسیح

(انجیل یوحنا ١٤/٢٨) تم سن چکے ہو کہ میں نے تم کو کہا کہ میں جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں۔

(انجیل متی ٢٤ ، ٣ ، ٤) اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگردوں نے خلوت میں اس کے پاس آ کر کہا کہ یہ کب ہوگا اور تیرے آنے کا اور زمانہ کے اخیر ہونے کا۔ نشان کیا ہے تب یسوع نے جواب میں ان سے کہا۔ خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔

آیت ان دنوں کی مصیبت کے بعد ترت سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گر جائیں گے اور آسمان کی قوتیں ہل جائیں گے۔ تب ابن آدم کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور اس وقت زمین کے سارے گھرانے چھاتی پیٹیں گے اور ابن آدم (عیسیٰ) کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔

(انجیل برنباس ص ٩٧ آیت ١٤) اور اس بناء پر پس مجھ کو اس بات کا یقین ہے کہ جو شخص مجھے بیچے گا وہ میرے ہی نام سے قتل کیا جائے گا۔

(آیت ١٥) اس لئے کہ اللہ مجھ کو زمین سے اوپر اٹھائے گا اور یہودا کی صورت بدل دے گا۔ یہاں تک کہ اس کو ہر ایک یہی خیال کرے گا کہ میں ہوں۔

(آیت ١٦) مگر مقدس رسول محمد رسول اللہ ﷺ آئے گا۔ وہ اس بدنامی کے دھبہ کو مجھ سے دور کرے گا۔

نوٹ: انجیل برنباس وہ ہے جس کا مرزا قادیانی نے بھی اعتبار کیا ہے اور بڑا معتبر گردانا ہے۔

(سرمہ چشمہ آریہ ص ١٨٤، ١٨٥ حاشیہ، خزائن ج ٢

ص ٢٨٧، ٢٨٨)

(انجیل مذکور فصل ٨ ص ١٣٨) مگر اللہ مجھ کو چھڑا لے گا۔ ان کے ہاتھوں سے اور مجھے دنیا سے اٹھا لے گا۔

٩٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣٨

(فصل ٢١٥) تب پاک فرشتے آئے اور یسوع کو دکھن کی طرف دکھائی دینے والی کھڑکی سے لے لیا۔ پس وہ اس کو اٹھا کر لے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں رکھ دیا جو کہ ابد تک اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے۔

(فصل ٢١٦) اور یہودا اکیلا اس کمرہ میں داخل ہوا۔ جس میں سے یسوع کو اٹھایا گیا تھا اور شاگرد سب کے سب سو رہے تھے۔ جب اللہ نے ایک عجیب کام کیا۔ پس یہودا روئے اور چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اعتقاد کیا کہ وہی یسوع ہے۔

(آیت ٩) اور اسی اثناء میں کہ وہ یہ بات کر رہا تھا۔ سپاہی داخل ہوئے اور انہوں نے اپنا ہاتھ یہودا پر ڈالا۔ اس لئے کہ وہ ہر ایک وجہ سے یسوع کے مشابہ تھا۔

(فصل ٢١٧) اور یہودا نے کچھ نہیں کیا۔ سوائے اس چیخ کے کہ اے اللہ تو نے مجھ کو کیوں چھوڑ دیا۔ اس لئے کہ مجرم تو بچ گیا اور میں ظلم سے مر رہا ہوں۔

(فصل ٢١٨) میں سچ کہتا ہوں کہ یہودا کی آواز اور اس کا چہرہ اور اس کی صورت یسوع سے مشابہ ہونے میں اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ یسوع کے سب ہی شاگردوں اور اس پر ایمان لانے والوں نے اس کو یسوع ہی سمجھا۔

(آیت ٨٨) تب اس کو صلیب پر سے ایسے رونے دھونے کے ساتھ اتارا جس کو کوئی باور نہ کرے گا۔

(آیت ٨٩) اور اس کو یوسف کی نئی قبر میں ایک سو رطل خوشبو میں بسانے کے بعد دفن کر دیا۔

(فصل ٢١٩) اور وہ فرشتے جو کہ مریم پر محافظ تھے۔ تیسرے آسمان کی طرف چڑھ گئے۔ جہاں کہ یسوع فرشتوں کے ہمراہی میں تھا اور اس سے سب باتیں بیان کیں۔

لہٰذا یسوع نے اللہ سے منت کی کہ وہ اس کو اجازت دے کہ یہ اپنی ماں اور شاگردوں کو دیکھ آئے۔

تب اس وقت رحمٰن نے اپنے چاروں نزدیکی فرشتوں کو جو کہ جبرائیل اور میخائیل اور رافائیل اور اورئیل ہیں۔ حکم دیا کہ یہ یسوع کو اس کی ماں کے گھر اٹھا کر لے جائیں۔

اور یہ کہ متواتر تین دن کی مدت تک وہاں اس کی نگہبانی کریں اور سوائے ان لوگوں کے جو اس کی تعلیم پر ایمان لائے ہیں اور کسی کو اسے دیکھنے نہ دیں۔

(فصل ٢٢١) لیکن یسوع نے ان کو اٹھا کر کھڑا کیا اور یہ کہہ کر انہیں تسلی دی۔ تم

٩٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٣٩

ڈرو مت میں تمہارا معلم ہوں اور اس نے ان لوگوں میں سے بہتوں کو ملامت کی۔ جنہوں نے اعتقاد کیا تھا کہ وہ یسوع مر کر پھر جی اٹھا ہے۔ یہ کہتے ہوئے آیا تم مجھ کو اور اللہ دونوں کو جھوٹا سمجھتے ہو۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں نہیں مرا ہوں۔ بلکہ یہودا خائن مرا ہے۔ پھر اس کو چاروں فرشتے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آسمان کی طرف اٹھا کر لے گئے۔

(انجیل لوقا باب ٢٤ آیت ٥٠ تا ٥٢) ”تب وہ (عیسیٰ علیہ السلام) انہیں وہاں سے باہر بیت عنیا تک لے گیا اور اپنے ہاتھ اٹھا کر انہیں برکت دی اور ایسا ہوا کہ جب وہ انہیں برکت دے رہا تھا۔ ان سے جدا ہوا اور آسمان پر اٹھایا گیا۔“ کس قدر صاف تصریح ہے۔ رفع جسمی کی کیونکہ روح کے ہاتھ ہی کہاں ہیں کہ ان سے دعا کرے۔

(اعمال باب ١ آیت ٩، ١٠) اور یہ کہہ کے ان کے دیکھتے ہوئے اوپر اٹھایا گیا اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا اور اس کے جاتے ہوئے جب وہ آسمان کی طرف تک رہے تھے۔ دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس کھڑے تھے اور کہنے لگے کہ اے جلیل مردو! تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو۔ یہی جو یسوع تمہارے پاس سے آسمان کی طرف اٹھایا گیا اسی طرح جس طرح تم نے اسے آسمان پر جاتے دیکھا۔ پھر آوے گا۔

(انجیل مرقس باب ١٦ آیت ١٩) غرض خداوند یسوع (عیسیٰ علیہ السلام) انہیں ایسا فرمانے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا۔

(انجیل لوقا باب ٢٤ آیت ٣٦) ”میرے ہاتھ پاؤں دیکھ کہ میں ہوں اور مجھے چھوؤ اور دیکھو کیونکہ روح کو ہڈی اور جسم نہیں۔ جیسا مجھ میں دیکھتے ہو اور یہ کہہ کے انہیں اپنے ہاتھ پاؤں دکھلائے۔“ کس قدر آپ خود رفع روحانی کی تردید فرما رہے ہیں کہ فقط یہی نہیں ہوا بلکہ رفع جسمی مع رفع روحانی ہوا ہے۔ مرزا قادیانی اپنی الہامی کتاب (براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) پر تحریر کرتے ہیں: ”اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“ یہ مضمون چونکہ الہامی ہے۔ لہٰذا بالکل صادق ہے اور اس لئے بھی سچا ہے کہ قرآن وحدیث پر اجماع کے موافق ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ آپ تو ابھی تک زندہ ہیں اور بعینہ اتریں گے۔

(براہین احمدیہ ص ٤٦١، خزائن ج ١ ص ٤٣١) مصنفہ مرزا قادیانی میں ہے۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو انجیل کو ناقص کی ناقص چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھے۔“ دیکھئے کس قدر زبردست تصریح ہے

٩٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٠

کہ رفع بجسم ہوا نہ روحہ۔

حضرات ناظرین! بالتمکین یہ تین سو بتیس سے زائد حوالہ جات ہیں۔ جن سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بجسمہ آسمان پر اٹھائے گئے اور اب تک وہ بلا اکل وشرب زندہ ہیں۔ وہ مقتول ومصلوب ہرگز نہیں ہوئے۔ بلکہ نہ سولی پر چڑھائے گئے اور نہ ہی کسی نے ان کو چھوا۔ آپ کا شبیہ کوئی بھی ہو مقتول ومصلوب ہوا اور بوجہ چغل خوری اور بددیانتی کے اس کو یہ سزا دی گئی اور لوگوں نے بوجہ کمال مشابہت اور مماثلت کے اسی شبیہ کو عیسیٰ علیہ السلام خیال کیا اور عیسیٰ علیہ السلام بعینہ وبجسدہ العنصری پھر دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ امام مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ آپ کی شادی ہوگی۔ اولاد ہوگی۔ پھر وفات ہوگی اور آنحضرت ﷺ کے روضۂ اطہر میں آپ کے آغوش رحمت میں مدفون ہوں گے وغیرہ وغیرہ اور نیز ان حوالہ جات سے یہ ثابت ہوا کہ قرآن مجید اور حدیث میں مسیح علیہ السلام کی حیات کے متعلق تصریح ہے اور اسی پر اجماع قطعی اہل سنت والجماعت ہے اور یہی مذہب ہے اہل سنت والجماعت کا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے معیار صداقت مقرر کردہ کے مطابق کہ جو عقیدہ قرآن وحدیث سے ثابت ہوا اور اہل سنت والجماعت کا اتفاقی مسئلہ ہوا اور امور دینیہ سے اجماعی طور سے ثابت ہو وہی حق ہے۔ خلاف اس کے سراسر گمراہی اور بدامنی ہے اور کفر کو اختیار کرنا ہے۔

ایام الصلح، تحفہ گولڑویہ، آئینہ احمدیت وغیرہ، (توضیح المرام ص٣، خزائن ج٣ ص ٥٢)

بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو ہی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے اور دوسرا مسیح بن مریم۔ جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ چاہئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسدی وبدنی کا اقرار کیا جائے اور یہی عقیدہ رکھا جائے۔ کیونکہ قرآن وحدیث اجماع وغیرہ سے یہی عقیدہ ثابت ہے۔ پس مرزا قادیانی اور آپ کے جملہ معتقدین مرزا قادیانی کے اپنے معیار مقرر کردہ ہی کے لحاظ سے اہل سنت سے خارج ہیں اور صراط مستقیم سے الگ اور یقیناً باطل پر ہیں۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

مرزا قادیانی کی مختصر سوانح حیات

برادران اسلام! حدیث میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد تقریباً تیس دجال کذاب پیدا ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک کا یہی دعویٰ ہوگا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں

١٠٠

صفحہ ٢٤١

خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔

(مسلم ، ترمذی ، ابوداؤد)

اس حدیث پاک کی رو سے متعدد دجال پیدا ہو چکے ہیں اور اسی سلسلہ کا ایک شخص ہمارے زمانہ میں سرزمین پنجاب سے پیدا ہوا۔ جس کو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کہا کرتے تھے۔ پنجاب ضلع گورداسپور سے متعلق ایک چھوٹا سا قصبہ قادیان ہے۔ امرتسر سے شمال مشرق کو جو ریلوے لائن جاتی ہے۔ اس میں ایک بڑا اسٹیشن بٹالہ ہے جو کہ پرانا مشہور قصبہ ہے۔ بٹالہ سے گیارہ میل پر موضع قادیان واقع ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی اس موضع قادیان کے رہنے والے تھے۔ جس کو انہوں نے مل ملا کر قادیان سے مشہور کر دیا۔ صحیح نام کادیان ہی ہے۔ اہل پنجاب اب بھی اس کو کادیان ہی کہتے ہیں۔ پنجابی میں کادی کیوڑہ کو کہتے ہیں۔ اس میں بھی کیوڑہ فروش رہا کرتے تھے۔ لہٰذا کادیان نام پڑ گیا۔ مرزا قادیانی نے زر کثیر صرف فرما کر اس کو سرکاری کاغذات میں قادیان لکھوایا اور کہا کہ اصل لفظ قاضیان تھا۔ کثرت تلفظ سے اس قدر تغیر رونما ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ سب غلط فاحش ہے۔...... مرزا قادیانی ١٢٦١ھ کے مطابق ١٨٤٥ء میں پیدا ہوئے اور چوبیس ربیع الثانی ١٣٢٠ھ مطابق ٢٦ مئی ١٩٠٨ء میں مر گئے۔ مرزا قادیانی کے والد مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی طب کا پیشہ معمولی طور پر رکھتے تھے اور مختصر سی زمینداری بھی تھی۔ مرزا قادیانی نے ابتداء عمر میں کچھ فارسی اور عربی پڑھی۔ ابھی درسی کتابیں ختم نہ ہونے پائی تھیں کہ فکر معاش لاحق ہوئی اور اس قدر پریشان ہوئے کہ تحصیل علم چھوڑ کر نوکری کی تلاش کی اور ابتدائی زمانہ نہایت ہی گمنامی اور عسرت میں گزرا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (البریہ ص ١٤٤ تا ١٤٧ ، خزائن ج ١٣ ص ١٦٢ تا ١٦٥) میں بڑی تفصیل سے اپنی مفلسی و تنگ دستی کو بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ میرے باپ دادا بھی انہی سختیوں میں مر گئے۔ المختصر کہ مرزا قادیانی سب سرگرانی اور پریشانی کے بعد بمشکل سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپیہ ماہوار پر ملازم ہوئے۔ مگر اس قلیل رقم کے ساتھ فراغت کے ساتھ بود و باش مشکل تھی۔ لہٰذا سوچا کہ مختاری کا قانون پاس کر کے مختاری شروع کر دی جائے۔ چنانچہ بڑی محنت سے قانون شروع کیا۔ مگر قسمت میں لکھا پیش آیا۔ امتحان دیا تو ڈبل فیل ہوئے۔ لیکن آدمی چونکہ چلتے پھرتے تھے۔ اپنی معاش کی وسعت اور فراخی کے لئے ایک اور راستہ تلاش کیا۔ اشتہار اور تالیف و تصنیف کے ذریعے سے شہرت حاصل کرنے کے در پے ہوئے۔ سب سے پہلے آریوں سے منہ لگایا اور بڑے زور و شور اور آب و تاب سے اشتہار نکالے اور اسی کی وجہ سے مسلمانوں سے ہزاروں روپوں کا چندہ ہضم کر گئے اور یہ کہہ کر کہ میں مسلمانوں کی طرف سے آریہ مذہب کا مقابلہ کر رہا ہوں۔ خوب روپیہ بٹورا اور غالباً اسی

١٠١

صفحہ ٢٤٤

وقت سے مرزا قادیانی کے دماغ میں یہ بات جگہ کر گئی تھی کہ تدریجاً مجددیت، مسیحیت، نبوت و رسالت مہدویت وغیرہ کے دعویٰ کرنے چاہیں۔ اگر یہ جال پورے طریقے سے چل گیا تو پھر کیا ہے۔ ایک بڑی سلطنت کا لطف آجائے گا اور اگر نہ چلا تو اب کون سی عزت ہے۔ جس کے جانے کا خوف و ہراس ہو۔

چنانچہ ابتدائی زمانہ میں کچھ دنوں سرسید احمد خان علی گڑھ سے بھی ملاقات کا اتفاق ہوا اور وہ چونکہ ایک صوفی منش ایک نئی روشنی کا آدمی تھا۔ اس کے روشنی آمیز خیالات نے مرزا قادیانی کے مجوزہ پروگرام کو اور بھی آسان کر دیا۔ سرسید احمد نے اسی زمانہ میں ایک نیا مسئلہ اختراع کیا ہوا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ اب تک وہ ہرگز زندہ نہیں رہ سکتے۔ اتنی مدت تک انسان کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔ پس مرزا قادیانی نے اپنے مدعوی مراتب اور دعاوی کے لئے اسی مسئلہ سے آغاز مناسب تصور کیا اور فوراً اعلان کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک ہرگز زندہ نہیں ہیں۔ وہ فوت ہو گئے ہیں۔ کسی آیت اور حدیث سے ان کی زندگی ثابت نہیں ہوتی۔ بڑے بڑے اشتہار دیئے۔ علاوہ اپنے خانہ زاد الہاموں کے کئی آیات اور احادیث نبویہ ﷺ کو بھی دور از کار تاویلات کر کے اپنے استدلال میں پیش کیا۔ چنانچہ بہت جگہ مناظرہ بھی کیا۔ مگر کمال یہ کہ جہاں بھی مناظرہ کیا غیر معمولی زق اٹھائی۔ چونکہ یہ مسئلہ انگریزی دانوں کے مذاق کے مطابق تھا۔ لہٰذا اس طبقہ نے مرزا قادیانی کی طرف توجہ کی اور مرزا قادیانی کا مقصود بھی یہی تھا کہ ایسے طبقہ کو اپنی طرف مبذول کیا جائے۔ تا کہ پیسے تو آئیں۔ پس اس موقع کو مرزا قادیانی نے غنیمت خیال کرتے ہوئے اپنے آپ کو پہلے ایک روشن ضمیر صوفی ظاہر کیا اور خفیہ طور پر دلال مقرر کئے کہ لوگوں کو ترغیب دے کر مرزا قادیانی کا مرید بنائیں۔ جب دیکھا کہ چند لوگ مرید ہو گئے ہیں تو مجدد ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ پھر مثیل مسیح ہونے کا پھر مہدی ہونے کا پھر مریم۔ پھر ابن مریم پھر ختم نبوت کا انکار کیا اور جھٹ اپنے نبی، رسول، صاحب وحی، صاحب شریعت ہونے کا اعلان کر دیا اور اپنے آپ کو جملہ انبیاء علیہم السلام سے اعلیٰ و افضل قرار دیا اور آخر کار کرشن ہونے کا بھی شرف حاصل کر لیا۔ ان مختلف دعوؤں میں مرزا قادیانی نے عجیب و غریب رنگ بدلے کہ کبھی یہ کہا کہ میں نہ نبی ہوں نہ رسول، نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو چکی ہے اور کبھی یہ بھی کہا میں نبی ہوں۔ رسول ہوں۔ صاحب شریعت ہوں۔ سب رسولوں سے افضل ہوں۔ حتیٰ کہ جو مجھے نہ مانے وہ کافر مرتد ہے۔ الغرض مرزا قادیانی نے خوب مقام پیدا کیا اور خوب عیش کیا اور نہایت ہی مرغن غذائیں کھائیں۔ عمدہ اور نفیس لباس پہنے۔ جوان

١٠٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٣

کے باپ دادا کو نصیب نہ ہوئے تھے اور اپنی اولاد کو بھی خوب عیش وعشرت و سرور سے مالا مال کیا کہ ان سے ہر ایک فرد دعویٰ نبوت کی استعداد رکھنے لگا۔ آخر الامر مرزا قادیانی اس باغ و بہار کو چھوڑ کر دارالجزاء میں چل بسے۔ مرزا قادیانی کے بعد ان کے دوست حکیم نورالدین خلیفہ ہوئے اور وہ بھی اپنے عیش وعشرت میں سرشار ہو کر چل بسے۔ اب آج کل ان کے خلیفہ دوم ان کے فرزند ارجمند مرزا محمود بیگ صاحب ہیں۔ خلیفہ دوم ہیں۔ مرزا قادیانی کے متبعین میں باہمی افتراق پڑ گیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اس وقت مرزائی جماعت گروہوں میں بٹ گئی۔

صاحب ہیں۔

وزیر آباد جو علاقہ پنجاب کے پاس ہے۔ یہ شخص وہاں کا باشندہ ہے۔ قادیانی پارٹی اور لاہوری پارٹی میں بظاہر ایک حد تک اختلاف ضرور ہے۔ جس کی بنا یوں پڑی کہ مسٹر محمد علی حکیم نورالدین کے بعد چاہتے تھے کہ میں خلیفہ ہوں۔ مگر خلیفہ محمود کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ لہٰذا دونوں ان بن ہوگئی۔ لیکن حقیقت میں دونوں پارٹیوں کا کوئی اختلاف نہیں۔ دونوں کے عقائد متحد اور مشترک ہیں۔ یہ بناوٹی شکل جو بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ لاہوری پارٹی مرزا قادیانی کو مقتداء پیشوا مسیح موعود مجدد اور مہدی وغیرہ مانتی ہے اور ان کی نبوت سے متعلق یہ عقیدہ ظاہر کرتی ہے کہ ظل و بروزی نبی تھے۔ حقیقی نبی نہ تھے اور مرزا قادیانی نے جن لفظوں میں دعویٰ نبوت کیا۔ ان کی دور از کار تاویلات کرتے ہوئے حقیقت حال پر پردہ ڈالتی ہے اور محمودی پارٹی کہتی ہے کہ مرزا قادیانی حقیقی نبی تھے۔ جیسے کہ دوسرے نبی تھے اور اس کو نبی نہ ماننے والا قطعی کافر اور جہنمی ہے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا منکر جہنمی اور کافر ہے اور مرزا قادیانی کے کسی لفظ کی جن سے دعویٰ نبوت ثابت ہوتا ہے۔ تاویل نہیں کرتی اور ان کی نبوت کو چھپانا پسند نہیں کرتی۔ بلکہ ختم نبوت کا انکار کرتی ہے۔ لاہوری پارٹی دراصل بڑی منافقت سے کام لے رہی ہے۔ کیونکہ جب اس نے

١٠٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٤

دیکھا کہ مسلمان دعویٰ نبوت سے کلی نفرت کرتے ہیں اور ہرگز نہیں مانتے تو جھٹ اپنا تیور بدلا اور کہہ دیا کہ ہم لوگ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے اور نہ ہی اس کے نہ ماننے والے کو کافر خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ اس پالیسی سے انہوں نے بہت کچھ فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں کا لاکھوں روپیہ اسی بہانہ سے گڑپ کر گئے۔ بلکہ ان کی دولت ایقان و سرمایہ ایمان کو چٹ کر گئے اور محمودی پارٹی اس کی پرواہ نہیں کرتی۔ کیونکہ اس کے امام محمود صاحب کو اپنے باپ کے ترکہ اور وراثت نے پورے طور پر بے نیاز کر دیا ہے۔ وہ دیکھتی ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کسی تاویل سے چھپ نہیں سکتا۔ لاہوری و محمودی چونکہ بڑی پارٹیاں ہیں۔ لہٰذا یہاں ان کا رد کیا جاتا ہے اور تفصیل سے واضح کر دیا جاتا ہے۔ دونوں پارٹیاں بوجہ عقائد فاسدہ کے اسلام سے خارج ہیں۔ باقی تین پارٹیاں گو ان دو کے باطل ہونے سے وہ بھی باطل ہو جاتی ہیں۔ مگر تاہم مختصر طور پر ان کی اجمالی حقیقت پر اظہار خیال کیا جاتا ہے۔ ظہیری پارٹی مرزا قادیانی کو نبی اور رسول سے بالاتر خدا کا مظہر قرار دیتی ہے۔ اس اعتقاد کے ثبوت میں مرزا قادیانی کے وہ کلمات پیش کرتی ہے۔ جن میں الوہیت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ظہیر الدین اروپی جو اس فرقہ کا امام ہے۔ وہ یوسف ہے۔ مرزا قادیانی نے ایک پیش گوئی یہ بھی کی تھی کہ میرے بعد یوسف آئے گا۔ پس اسے ہی سمجھ لو کہ خدا ہی اترا ہے۔ ظہیر الدین کہتا ہے کہ وہ یوسف میں ہوں اور میں بھی خدا کا مظہر ہوں۔ اس پارٹی کا یہ بھی خیال ہے کہ نماز قادیان کی طرف منہ کر کے پڑھنا چاہئے۔ قادیان مکہ ہے۔ وہاں خدا کے ایک رسول نے جنم لیا تھا۔ تیاپوری پارٹی بھی مرزا قادیانی کو نبی ورسول مانتی ہے۔ مگر اس کا پیشوا عبداللہ تیاپوری ہے جو مرزا قادیانی سے سبقت لے گیا۔ وہ کہتا ہے کہ خود اپنے بازو سے الہام ہوتا ہے۔ اس شخص نے اپنی (تفسیر) کتاب تفسیر آسمانی میں حضرت آدم علیہ السلام کو حضرت حوا علیہا السلام کے ساتھ خلاف فطرت فعل سے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ سمہڑیالی پارٹی سب سے آگے بڑھ گئی۔ محمد سعید جو اس کا پیشوا ہے وہ کہتا ہے خدا نے مجھے قمر الانبیاء فرمایا اور کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نئی شریعت ملی تھی۔ وہ شریعت محمدیہ کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے۔ مگر اس کا موقعہ پورے طور پر ان کو نہ ملا۔ یہ شخص جو اصلاحات شریعت محمدیہ کی اب تک پیش کر چکا ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں۔ شراب حلال ہے۔ اپنی رشتہ داری میں مثلاً خالہ، پھوپھی، چچی، ماموں کی لڑکی سے

١٠٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢٥

نکاح حرام ہے۔ ختنہ حرام ہے۔ (استغفر اللہ) یہ پانچوں پارٹیاں آپس میں اس قدر اختلاف کرتی ہیں کہ ایک دوسرے کو کافر کہتی ہیں۔ مگر دین اسلام کے تباہ کرنے اور مسلمانوں کے ٹوٹنے کی سعی کر رہی ہیں۔ سب کی یہ اتفاقی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح آنحضرت ﷺ کے سایہ رحمت سے نکال کر مرزا قادیانی کی امت بنایا جائے۔ اللہ سب کو غارت کرے۔

تنبیہ: مسلمانو! یاد رکھنا چاہئے کہ مرزائیوں کی بالخصوص لاہوری و محمودی پارٹی کی یہ خواہش ہے کہ ہم کو احمدی پکارا جائے۔ مگر ان کی اس خواہش کو ہرگز نہ پورا کیا جائے۔ کیونکہ ان کو احمدی کہا جائے تو ایک تو یہ اشتباہ ہو گا کہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کے فرمانبردار ہیں۔ حالانکہ یہ سب کے سب مخرب اسلام ہیں۔ دوسرا اس لئے کہ کئی برس سے احمدی حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقیؒ کے متبعین کے نام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ لہٰذا ان کو جب پکارا جائے تو مرزائی، قادیانی، غلمدی وغیرہ نام سے پکارا جائے۔ تاکہ کسی طرح کا اشتباہ واقع نہ ہو۔

توہین الوہیت

حقیقت الوحی پر ہے۔ ”انما امرک اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون“ یعنی خدا نے کہا اے مرزا تیری یہ شان ہے کہ جب تو کسی چیز کو کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

”انت منی بمنزلة ولدی“ یعنی اللہ نے فرمایا کہ اے مرزا تو میرے بیٹے کے برابر ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں ہے۔ ”رايتنی فی المنام عین الله وتيقنت اننی هو فخلقت السموات والارض وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں اور میں نے یقین کیا کہ میں ہی خدا ہوں۔ پھر میں نے آسمانوں کو اور زمینوں کو پیدا کیا اور میں نے کہا ہم نے، دنیا کو چراغوں سے زینت دی ہے۔ میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا اور میں جاگتا اور سوتا ہوں۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)

”يعد و لا يوفی“ یعنی اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور بعض وقت اسے پورا نہیں کرتا۔ یہ قول خلیفہ اوّل حکیم نور الدین کا بہت مشہور ہے۔ دیکھو ریویو بابت ماہ مئی، جون ١٩٠٨ء (بظاہر گو یہ قول نور الدین کا ہے۔ لیکن درحقیقت تعلیم ان کے مسیح موعود کی ہے) ”او عطيت صفة

١٠٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٦

الافناء والاحیاء ”مجھ کو مارنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔ (خطبہ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٥) ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی ۔ (حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) خدا کی تصویر بھی کھنچ سکتی ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٢٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) مرزا قادیانی ایک خاص مرید میاں یار محمد صاحب بی اے ایل ایل بی۔ پلیڈر نے اپنے ٹریکٹ موسومہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر ص ١٢) پر لکھا ہے۔ جیسے مسیح علیہ السلام (مرزا قادیانی) نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔

ناظرین! یہ حوالہ جات پڑھیں اور کسی نتیجہ تک از خود پہنچیں اور اندازہ لگائیں کہ کیا یہ مسلمان کی شان ہو سکتی ہے؟ اور مرزا قادیانی نے خدائی قدرت کے تاثرات زمین و آسمان وغیرہ جو بنائے ہیں کہاں ہیں؟

آنحضرت ﷺ کا بارگاہ رب العزت میں مقام

حضرات با تمکین! جناب تاجدار مدینہ سردار امجد ، بدر ابہر ، نور مجسم، فیض مقسم، فخر موجودات، مفتخر کائنات ، حبیب الہ العالمین، رحمت اللعالمین ، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس مالک کون و مکان، رب السماء والارض ، منعم حقیقی، خالق حقیقی، منبع عالم ، مصدر خاتم جل جلالہ وعم نوالہ نے اپنے فضل جسیم و کرم عمیم سے بقعۂ عدم سے منصۂ ظہور میں جلوہ افروز فرمایا۔ وہ جو کسی نے پایا اسی در سے ہو کر پایا۔ جو ادھر سے محروم رہا۔ اس نے در حقیقت کچھ نہ پایا۔ جو کچھ بنایا آپ کے لئے بنایا۔ جو منظور خاطر آنحضور تھا۔ وہی بنایا جملہ انبیاء علیہم السلام کا سردار بنایا اور ان کے واجب الوقار ہونے کا حکم سنایا۔ اس کی اطاعت کو اپنی اطاعت ، اس کی محبت کو اپنی محبت ، بلکہ ایمان آپ کی محبت کا نام بتایا۔ آپ کے قول و فعل کو ضروری اور واجب العمل اور اسوۂ حسنہ قرار دیا۔ آپ کے وطیرہ و طریقہ کو معیار ایمان و علامت صداقت و ایقان بنایا۔ آپ کی حرکت و نشست سیرت و خصلت کی اتباع کو موجب فلاح و خلاصی بتایا۔ آپ کے مخالف و معاند کو مرتد ، لعین، کافر ، بے دین، ابو جہل، ابولہب کی مثل بنایا اور دوزخی قطعی ناری بنایا اور ابدی جہنمی قرار پایا۔ مگر مرزائی صاحبوں کے گھروں کے نبی و رسول ہیں۔ جو کچھ منہ میں آتا ہے کہتے چلے جا رہے ہیں۔ نہ خوف خدا نہ شرم رسول مشہور ہے کہ بے حیا باش ہر چہ خواہی کن۔

١٠٦ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٧

اور تعجب یہ ہے کہ ساتھ ہی اپنے کو آنحضرت ﷺ کا متبع، فدائی، امتی، آپ کے جملہ کمالات کا مظہر بھی کہے جاتے ہیں۔ ناظرین کے لئے چند ایک حوالہ جات پیش کئے جاتے ہیں۔ تا کہ دیکھیں اور اندازہ لگائیں۔ خیال فرمائیں کہ کیا ایسا آدمی مسلمان بھی ہو سکتا ہے؟ مزید برآں یہ کہ اس کو نبی ورسول مجدد، ومحدث امام الزمان مہدی و موعود وغیرہ کہا جائے؟

انبیاء علیہم السلام کا دربار الہی میں مقام

ناظرین کرام! کون اس سے ناواقف ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا وجود پاک عالم کے لئے سراسر رحمت ہوا کرتا ہے۔ ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی حاجات کو پورا فرماتا ہے۔ تکالیف کو دور کرتا ہے۔ دربار الہی سے انہیں ایک خاص اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے تمام مخلوقات پر ایک خصوصی امتیاز حاصل ہوتا ہے۔ ان کی اطاعت مخلوق پر فرض اور ان کی فرمانبرداری خدا کی اطاعت ہوتی ہے۔ ان کے مخالف اور معاند کو سخت ترین عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ ان کو قطعی جہنمی ناری قرار دیتا ہے۔ جس نے ان میں ذرا تفریق کی کسی کو مانا اور کسی کو ترک کر دیا۔ اس کو لعین، مرتد، مردود، لعنتی قرار دیتا ہے۔

قرآن میں فرماتا ہے۔ ”كل امن بالله وملائكته وكتبه ورسله لا نفرق بين احد منهم“ یعنی تمام لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو اس طرح مانتے ہیں کہ کسی میں فرق نہیں کرتے۔ چنانچہ جب سمجھ والا ہوتا ہے تو اس کو یہی مضمون سکھایا جاتا ہے۔ صفت ایمان رٹائی جاتی ہے کہ اس کی قوت ایمانی مستحکم ہو جائے اور تا کہ کسی فریبی کے دام تزویر میں آکر اپنے ایمان کو کمزور نہ کر دے۔ بہر صورت انبیاء کرام علیہم السلام کی بارگاہ رب العزت میں بے پناہ عزت ہے۔ احترام ہے۔ اعزاز ہے۔ مگر مرزائیوں کے مایہ ناز نبی مرزا قادیانی ہیں کہ کسی کی بھی پرواہ نہیں کرتے اور ایمان سے علیحدہ ہو کر وہ کہے جا رہے ہیں جو کہ مسلمان کی شان سے بعید ہے۔

جملہ انبیاء علیہم السلام کی توہین

(حقیقت الوحی ص ٨٩ ج ٢٢ ص ٩٢) پر ہے۔ تمام دنیا میں کئی تخت اترے۔ پر میرا تخت (یعنی مرزا قادیانی کا) سب سے اونچا بچھایا گیا ہے۔ (استفتاء ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٨١٥) پر ہے۔ ”اتانی مالم یؤت احداً من العلمین“ یعنی خدا نے جو مجھے دیا سارے جہاں میں سے

١٠٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤٨

کسی کو نہیں دیا ۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٢) پر ہے۔ ”بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی آئے ہیں۔ جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا کہ باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے باقی انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔“ (اعجاز احمدی ص ٧٢، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣) کوئی نبی نہیں جس نے کبھی نہ کبھی اپنے اجتہاد میں غلطی نہ کھائی ہو۔ (اربعین نمبر ٢ ص ٢٢، خزائن ج ١٧ ص ٣٧٩) جس شخص کو مسیح موعود کر کے بیان فرمایا گیا ہے۔ وہ کچھ معمولی آدمی نہیں ہے۔ بلکہ خدا کی کتابوں میں اس کی عزت انبیاء علیہم السلام کے ہم پہلو رکھی گئی ہے۔ ”تیرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے۔ جس پر ہر ایک بلندی ختم ہو گئی۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن

ج ١٦ ص ٧٠)

انبیاء اگرچہ بودہ اند بسے من بعرفان نہ کمترم زکسے۔ نبی اگرچہ بہت ہو چکے ہیں۔ لیکن معرفت الٰہی میں کسی سے میں کم نہیں ہوں۔

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

زندہ شد ہر نبی بآمدنم
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

ہر نبی میرے آنے سے زندہ ہوا اور ہر ایک نبی میرے پیراہن میں چھپا ہوا ہے۔

آنچہ دادہ است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام

(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

ضرورت امام

(ازالہ اوہام ص ٤٤٧، خزائن ج ٣ ص ٣٣٧) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”علامت امام ان کی تقریر و تحریر میں اللہ جل شانہ ایک تاثیر رکھ دیتا ہے جو علماء ظاہری کی تحریروں اور تقریروں سے نرالی ہوتی ہے اور اس میں ایک ہیبت اور عظمت پائی جاتی ہے اور بشرطیکہ حجاب نہ ہو دلوں کو پکڑ لیتی ہے۔“

١٠٨

صفحہ ٢٤٩

(ازالۃ اوہام ص ٤٤٢، خزائن ج ٣ ص ٣٣٤، ٣٣٥) پر لکھتے ہیں۔ ”بلاشبہ میں اقرار کرتا ہوں کہ میری کلام سے مردے زندہ نہ ہوں اور اندھے آنکھیں نہ لیں اور مجذوم صاف نہ ہوں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٤٥، خزائن ج ٣ ص ٣٣٦، علامت ١٠) ”ان کی اخلاقی حالت سب سے اعلیٰ درجہ کی کی جاتی ہے۔ جس سے تکبر نخوت اور کینہ کی خود پسندی ریا کاری حسد، بخل اور تنگدلی اور تنگدستی سب کی دوا کی جاتی ہے۔“

”اس کی قوت اخلاق چونکہ ان کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تاکہ ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابلِ شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر بداخلاقی میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرہ بھی متحمل نہ ہوسکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں جھاگ لائے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوں۔ وہ کسی طرح امام زمان نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اس آیت ”انک لعلیٰ خلق عظیم“ کا پورے طور پر صادق آجانا ضروری ہے۔“

مرزا قادیانی نے اپنی تعریف یوں کی ہے

(ضرورت امام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥) پر لکھتے ہیں۔ ”امام الزمان میں ہوں اور یاد رہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی و رسول و محدث مجددیت سب داخل ہیں۔ مجھ میں خدا تعالیٰ نے وہ علامتیں اور شرطیں جمع کی ہیں۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٥) ”خلقت لک لیلاً و نہاراً اعمل ماشئت فانی قد غفرت لک“ (ص ٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٨) پر یوں ہے۔ تیرے لئے میں نے دن رات کو پیدا کیا تو جو چاہے کر کہ تو مغفور ہے۔

(اربعین ص ٢٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٩) میں ہے۔ جس انسان کو مسیح موعود کر کے بیان فرمایا گیا ہے۔ وہ کچھ معمولی آدمی نہیں ہے۔ بلکہ خدا کی کتابوں میں اس کی عزت انبیاء علیہم السلام کے ہم پہلو رکھی گئی ہے۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٩) سو اس امت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں۔ جس کو اپنے نبی کریم کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں تیس برس کی مدت دی گئی ہے اور تیس

١٠٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٠

برس یہ سلسلہ وحی کا جاری رکھا گیا ہے۔ جس طرح آنحضرت ﷺ کی وحی تھی۔ اسی طرح میری وحی ہے۔“ (نمونہ کا لفظ ملحوظ ہو کہ نہ صرف بڑائی بلکہ نبوت کا دعویٰ صریح ہے)

مرزا قادیانی کا وجود کیا ثابت ہوا؟

(دافع البلاء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) پر ہے۔ ”خدا ایسا نہیں کہ قادیان کے لوگوں کو عذاب دے۔ حالانکہ تو ان میں رہتا ہے۔ وہ اس گاؤں کو طاعون کی دست و برد و تباہی سے بچائے گا۔ اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اور اکرام مدنظر نہ ہوتا تو میں اس گاؤں کو ہلاک کر دیتا۔ میں رحمن ہوں جو دکھ کو دور کرنے والا ہوں۔ میرے رسولوں کو میرے پاس کچھ خوف اور غم نہیں۔ میں نگاہ رکھنے والا ہوں۔ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اس کو ملامت کروں گا۔ جو میرے رسول کو ملامت کرتا ہے۔“

(الحکم ج ٩ مطبوعہ ١٠؍ اپریل ١٩٠٥ئ) یکم ؍ اپریل کی رات کے وقت نزول وحی ہوا۔ ”محونا نار جہنم“ ”ہم نے جہنم کی آگ کو محو کیا۔ جس پر فرمایا۔ اجتہادی طور پر ایسا خیال ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ اب قریباً دنیا سے طاعون کو اٹھانے والا ہے۔ واللہ اعلم! یا کہ اس گاؤں سے اٹھانے والا ہے۔“ (یعنی قادیان سے جہاں پر مرزا قادیانی مقیم تھے) صاف ظاہر ہے کہ قادیان مبتلا طاعون ہوا۔

(الحکم مورخہ ٣٠؍ اپریل ١٩٠٥ء ج ٩ ص ٢) پر ہے۔ ”میں اس قدر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہماری اس جماعت کو ایک قسم کا دھوکہ لگا ہوا ہے۔ شاید اچھی طرح میری باتوں پر غور نہیں کی۔ وہ غلطی اور دھوکہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہماری جماعت میں سے طاعون سے فوت ہو جاتا ہے تو اس قدر بے رحمی اور سردمہری سے پیش آتے ہیں کہ جنازہ اٹھانے والا بھی نہیں ملتا۔“ کس قدر صاف ہے کہ قادیان میں کس زور سے طاعون نازل ہوئی۔ لہٰذا مرزا قادیانی بجائے رحمت کے زحمت ثابت ہوئے۔

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”قادیان میں ستر برس تک طاعون نہیں آئے گی۔ کیونکہ قادیان خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے اور تمام امتوں کا نشان ہے۔“ حالانکہ مرزا قادیانی کے ہوتے ہوئے قادیان میں سخت طاعون پڑی۔ جیسا کہ اوپر گزرا۔ ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ ایسے حالات میں نبوت، ولایت کا دعویٰ کرنا مناسب ہے؟

مرزا قادیانی اور آپ کی قرآن دانی

١١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥١

مرزا قادیانی کو اپنے علم پر وہ ناز تھا کہ جملہ عالم کو ہیچ تصور کرتے تھے اور کیوں نہ ہوتا۔ جب کہ وہ بزعم خود مامور من اللہ اور ملہم تھے۔ لہٰذا ناظرین حضرات کو ہم دکھاتے ہیں کہ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا پایۂ علم کیا تھا۔ بالخصوص آپ کی قرآن مجید میں کس قدر مہارت تھی۔

(براہین احمدیہ ص ٤٢٩ حاشیہ) پر لکھتے ہیں۔ ”لا تسجدوا للشمس ولا للقمر“ حالانکہ قرآن مجید میں یوں ہے۔ ”ولا تسجدوا للشمس ولا للقمر“ یہاں پر واؤ عاطفہ کو چھوڑ گئے۔

(براہین احمدیہ ص ٤٢٩ حاشیہ) ”وان يسلبهم الذباب شيئاً لا يستنقذوه ضعف الطالب والمطلوب“ حالانکہ قرآن مجید میں یوں ہے۔ ”يستنقذوا منه“ یہاں پر لفظ منہ چھوڑ گئے۔

(براہین احمدیہ ص ٤٢٨، ست بچن ص ١٠٠) پر لکھتے ہیں۔ ”فمن يرجوا القاء ربه“ یہاں پر لفظ کان چھوڑا کیونکہ قرآن میں یوں ہے۔ ”فمن كان يرجوا“

(براہین ص ٤٢٨ حاشیہ) ”وهم من خشية ربهم مشفقون“ یہاں ضمیر ہ چھوڑی اور لفظ ربہم زیادہ کر دیا کہ قرآن میں یوں ہے۔ ”وهم من خشيته مشفقون“ ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص ١٢ حاشیہ) پر ہے۔ ”انک فی ضلالک القدیم“ یہاں لام چھوڑ دیا کہ اصل میں آیت یوں ہے۔ ”انک لفی ضلالک القديم“

(الحق مباحثہ دہلی ص ٣٥) پر ہے۔ ”وانزلنا من الانعام ثمينة“

(حمامتہ البشریٰ عربی ص ١٧، ٧٤) پر ہے۔ یہاں پر تینوں جگہ لکم نہیں لکھا۔ اصل آیت یوں ہے۔ ”وانزل لكم من الانعام“

(سراج المنیر ص ٢٩، اربعین نمبر ٣ ص ٣٥، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ) پر لکھتے ہیں۔ ”آمنت بالذی امنت بہ بنواسرائیل“

اور (رسالہ استفتاء حاشیہ ص ٢٢) پر یوں ہے۔ ”امنت بالذي امنوا به بنو اسرائیل“ حالانکہ قرآن مجید میں یوں ہے۔ ”امنت انه لا اله الا الذي امنت به بنواسرائيل“

(حمامتہ البشریٰ ص ٣٢) پر ہے۔ ”ونزلنا عليكم لباسا“

اور (حمامتہ البشریٰ ص ١٧) پر ہے۔ ”وانزلنا عليكم لباساً“ حالانکہ قرآن مجید میں

١١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٢

یوں ہے۔ ”قد انزلنا علیکم لباساً یواریٰ“ وغیرہ اور ہزاروں حوالہ جات دیئے جاسکتے ہیں ۔ جن سے نیم روز سے زیادہ واضح ہو جاتا ہے کہ مرزا قادیانی قرآن مجید میں کمزور اور کچے تھے۔ ورنہ زبردست کمزوریاں کا مکرر سہ کرر اعادہ ان سے نہ ہوتا۔

ناظرین با تمکین ! جب آپ نے مرزا قادیانی کی یہ کمزوری قرآن مجید میں محسوس کر لی اور ان کی ہمہ دانی کا پتہ چل گیا تو خیال فرمائیں کہ پھر احادیث مبارکہ میں کیا گل کھلائے ہوں گے اور پھر جب کہ باقاعدہ طور پر مرزا قادیانی نے فن حدیث کو کسی ماہر استاذ سے پڑھا بھی نہ ہو، تو پھر کیا رنگ چڑھایا ہوگا۔ حیرانگی ہے کہ مرزا قادیانی نے احادیث سے استدلال کس جرأت سے کیا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی حدیث سے زیادہ مانوس نہ تھے اور اسی وجہ سے پردہ پوشی کی خاطر مرزا قادیانی نے یہ کہہ دیا ہے کہ جو حدیث میرے الہام کے خلاف ہوگی میں اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دوں گا۔ استغفر اللہ ! خاک بدہن یہ جرأت؟ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو ایسے بے باکانہ انداز حیات سے بچا رکھے۔ آمین ثم آمین !

مرزا غلام احمد قادیانی مثیل مسیح موعود کیسے؟

مرزا قادیانی اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ میں وہ مسیح نہیں ہوں جو کہ بنی اسرائیل کی طرف نبی ہو کر آئے تھے۔ کیونکہ وہ تو فوت ہو چکے ہیں۔ ہاں ان کا کوئی مثیل بموجب احادیث صحیحہ ضرور آئے گا اور وہ میں ہی ہوں۔ مجھے مسیح علیہ السلام کے ساتھ مشابہت تامہ ہے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ (ازالۃ اوہام ج ٢ ص ٦٨٢ ، خزائن ج ٣ ص ٤٦٨) پر آپ لکھتے ہیں۔ وہ مسیح جس کے آنے کا قرآن مجید میں وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ عاجز ہے اور (کتاب ص ٦٨٦ ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠) پر ہے۔ سو مسیح موعود جس نے اپنے تئیں ظاہر کیا۔ وہ یہی عاجز ہے۔ اسی طرح کتاب ( تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢١، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٢) پر ہے اور کتاب (مصفی ج ٢ ص ٦٢٨، بحوالہ اشتہار مورخہ ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء) پر بھی ہے۔ کتاب (براہین احمدیہ ص ٢٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ) پر ہے۔ اس عاجز (مرزا قادیانی) کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے۔ کتاب ( کشتی نوح ص ٤٩، خزائن ج ١٩ ص ٥٣) پر ہے۔ اس مسیح کو ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔ پس اب دیکھنا ہے کہ مرزا قادیانی کو واقعی مسیح علیہ السلام کے ساتھ مشابہت تامہ حاصل ہے یا کہ معاملہ برعکس ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی سیرت اوپر بیان کی گئی ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کورے ہیں۔ حضرت

١١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٣

مسیح علیہ السلام بلا باپ پیدا ہوئے اور مرزا قادیانی کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ ہے۔ مسیح نے مہد میں باتیں کیں۔ (تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٧) اور مرزا قادیانی نے نہیں کیں۔ حضرت مسیح کی بیوی نہ تھی۔ (رسالہ ریویو بابت ماہ اپریل ١٩٠٢ء ص ١٢٤) اور مرزا قادیانی کی شادی ہوئی اولاد ہوئی۔ مسیح کی آل نہ تھی۔ (تریاق القلوب ص ٩٩ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٣٦٣، مواہب الرحمن ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ٢٩٥) بقول مرزا قادیانی مسیح علیہ السلام ساڑھے بتیس سال میں پھانسی پر چڑھائے گئے تھے۔ (تحفہ گولڑویہ طبع ثانی ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ١١٤) اور مرزا قادیانی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔ حضرت مسیح ناصری کی ذات مبارک جملہ امراض سے پاک تھی اور مرزا قادیانی بیمار تھے۔

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مئی ١٩٠٧ء ص ٢٦) پر ہے کہ مرزا قادیانی دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت بول اور مراق وغیرہ تھا۔ حضرت مسیح میں محض جمالی رنگ تھا۔ مرزا قادیانی اپنے متعلق (نزول المسیح ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٥٠٥) پر لکھتے ہیں کہ آدم کی طرح میں جمالی اور جلالی دونوں رنگ رکھتا ہوں۔ (تحفہ گولڑویہ ص ١١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥) پر ہے کہ حضرت مسیح کی عمر ١٢٠ برس کی ہوئی اور مرزا قادیانی کی عمر ٦٩ برس۔ بحساب شمسی تھی۔ کتاب (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) کہ حضرت مسیح صاحب شریعت نبی تھے اور مرزا قادیانی بقول خود غیر تشریعی اور امتی نبی ہیں۔ (حقیقت النبوۃ ص ١١١) بہرصورت ایسے سینکڑوں حوالے دیئے جاسکتے ہیں۔ جن سے ثابت ہوسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کو مسیح علیہ السلام کے ساتھ کسی طرح کی مشابہت و مماثلت نہ تھی۔

توہین مسیح علیہ السلام

(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥) پر ہے۔ ”خدا ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لاسکتا جس کے پہلے فتنہ نے ہی دنیا کو تباہ کردیا۔“

(فتح مسیح ص ١٩، خزائن ج ٩ ص ٣٩٤) پر ہے۔ ہاں مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے۔ اس کا جواب کبھی آپ نے سوچا ہوگا ہم تو سوچ کر تھک گئے اور اب تک عمدہ جواب خیال میں نہیں آیا کیا خوب خدا ہے جس کی دادیاں نانیاں اس کمال کی ہیں۔ (اعجاز احمد ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥) ”جس قدر عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہاد میں غلطیاں ہیں۔ اس کی نظیر کسی نبی میں بھی نہیں پائی جاتی۔ شاید خدائی کے لئے یہ بھی ایک شرط ہوگی۔“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

١١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٢

شراب پیا کرتے تھے۔ (کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١) ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“ (کشتی نوح حاشیہ ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١) کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ سے ہیں۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں۔ جیسے بہرہ، گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفت کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔ (مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٨، فتح مسیح ص ١٧، خزائن ج ٩ ص ٣٩٢) مسیح درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔

(کتاب ست بچن

ص ١٧١، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥)

ناظرین! آپ پڑھیں اور اندازہ لگاتے رہیں۔ مسیح یوسف نجار کے بیٹے تھے۔ (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ حاشیہ) مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو شرابی نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار، متکبر خود بین۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والے (مکتوبات احمدیہ نمبر ٤ ج ٣ ص ٢٣، ٢٥، فتح مسیح ص ١٢، خزائن ج ٩ ص ٣٨٧) عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم ۔ یعنی عیسیٰ کا رتبہ کیا ہے جو میرے منبر پر قدم تو رکھے۔ (ازالہ خورد ج ١ ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠) ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد قادیانی ہے۔ (دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) مگر تعجب ہے کہ عیسائی لوگ کیوں متعہ کا ذکر کرتے ہیں۔ جو صرف ایک نکاح موقت ہے اور اپنے یسوع مسیح کے چال چلن کو نہیں دیکھتے۔ وہ ایسی جوان عورتوں پر نظر ڈالتا جن پر نظر ڈالنا اس کو درست نہ تھا۔ (فتح مسیح ص ٧٥، خزائن ج ٩ ص ٤٥٠) اور یہ کہنا بالکل بے سود ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ سب عیسائیوں کے یسوع کو کہا ہے جو مسیح کا غیر تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے تسلیم کیا ہے کہ مسیح اور یسوع ایک ہیں۔ لکھتے ہیں کہ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) اور عیسائیوں کی حضور علیہ السلام کے حق میں گستاخی کے پیش نظر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہماری گستاخی جائز نہیں۔ کیونکہ ہر دو معزز نبی و رسول ہیں۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ بعض جاہل مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔

(اشتہار مرزا مندرجہ تبلیغ

رسالت، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٤)

١١٤ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٥

ناظرین کرام! اندازہ لگائیں کیا ایک ایماندار یوں کہہ سکتا ہے ہرگز نہیں۔ (حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩) پر ہے: ”اور جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخر زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطان کا وسوسہ ہے کہ کیوں تم مسیح بن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) پر ہے: ”خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح بن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ دکھلا نہ سکتا۔“ (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) پر ہے: ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے سے تمام نشانیوں میں بڑھ کر ہے اور اس کا نام غلام احمد رکھا گیا۔“

نشانات صداقت مسیح موعود

(چشمہ معرفت ص ٨٢، ٨٣، خزائن ج ٢٣ ص ٩٠، ٩١) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی امت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے...... یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو۔ اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“

نوٹ: ناظرین! کیا اسی مدعی مسیح موعود کے وقت سب قومیں ایک مذہب پر متفق ہوگئیں۔ کیا سب کا ایک مذہب ہوگیا ہے؟ ہرگز نہیں۔

مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢) پر لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے آنے والے مسیح کو ایک امتی ٹھہرایا اور خانہ کعبہ کا طواف کرتے رہتے دکھایا۔ (فارسی ایام الصلح ص ١٤٧) پر ہے۔ فی الحقیقت مارا وقتے حج راست درمیامد کہ دجال از کفر و دجل دست برداشته ایماناً واخلاصاً در گرد کعبه بگردد۔ چنانچه از قرار حدیث مسلم عیاں میشود که جناب

١١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٦

نبوت انتساب صلوات اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدند دجال و مسیح ہر دو در آں واحد طواف می کنند۔ یعنی مسیح موعود (مرزا قادیانی) و (قوم نصاریٰ) کو مسلمان کر کے ان کو ساتھ لے کر حج کریں گے۔

(ایام الصلح اردو ص ١٦٩، خزائن ج ١٤ ص ٤١٧)

نوٹ: مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔ حالانکہ ان کو حج کرنا لازمی تھا۔ جیسا کہ ان کو مسلم ہے۔

مرزا قادیانی اشتہار چندہ منارۃ المسیح میں لکھتے ہیں۔ ’’اور مسیح موعود کا نزول اس غرض سے ہے کہ تاکہ صلیب کے خیالات محو کر کے پھر ایک خدا کا جلال دنیا میں قائم کرے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨)

اور (شہادت القرآن ص ١٦، خزائن ج ٦ ص ٣١٢) پر ہے۔ آنحضرت ﷺ کے مسیح موعود کے آنے کی خبر دی اور فرمایا کہ اس کے ہاتھ سے عیسائی دین کا خاتمہ ہوگا اور فرمایا کہ وہ ان کی صلیب کو توڑے گا۔

نوٹ: مسیح موعود آیا اور چلا بھی گیا۔ کیا تثلیث عیسائیت بالکل فنا ہو گئی ہے یا اور بھی زوروں پر ہے۔ مسیح موعود کے زمانہ میں جزیہ نہیں لیا جائے گا۔ کیونکہ مال کی مسلمانوں کو کچھ ضرورت نہ ہوگی۔ مگر بخلاف مرزا قادیانی کہ باوجود مسیح موعود دعویٰ کرنے کے اور تو کیا خود ہی ہزاروں روپیہ بطور چندہ وغیرہ لے کر ہضم کر گئے۔ مسیح موعود کے وقت مسلمان اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا اور اس کو زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ ملے گا۔ سب مالدار ہوں گے اور بے نیاز ہوں گے۔ مگر مرزا قادیانی کے وقت تمام اقوام عالم میں سے سب سے زیادہ مفلس اور غریب مسلمان ہیں۔ زکوٰۃ دینے والے بہت تھوڑے ہیں۔ مسیح موعود کے وقت ذاتی کاوشیں بغض و عداوت وغیرہ باقی نہ رہے گی۔ سب میں اتحاد و محبت ہوگی۔ مگر مرزا قادیانی کے وقت اتحاد تو کیا ایسا تفرقہ ہوا کہ مرزا قادیانی نے خود ہی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد علیحدہ بنائی اور اہل اسلام سے جدا ہو کر صراط مستقیم اور اہل سنت والجماعت کو چھوڑ دیا اور جملہ اہل اسلام کو کافر بتایا۔ مسیح موعود کے وقت زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا۔ آدمی کے بچے سانپ سے کھیلیں گے۔ وہ کچھ ضرر نہ دے گا۔ بھیڑیا بکری کے ساتھ چرے گا۔ بھیڑیا بکری کے ساتھ ملنا گوارا نہیں کرتا۔ مسیح موعود کے وقت زمین صلح سے بھر جائے گی اور زمین کو حکم ہوگا کہ اپنے پھل پیدا کر اور اپنی برکت لوٹا دے۔ اس دن ایک انار کو ایک گروہ کھائے گا اور انار کے چھلکہ کو بنگلہ سا بنا کر اس کے سائے میں بیٹھیں گے۔ دودھ میں برکت ہوگی۔ یہاں تک کہ ایک دودھار اونٹنی آدمیوں کے ایک بڑے گروہ کو اور دودھ گائے ایک

١١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٧

برادری کے لوگوں کو کفایت کرے گی۔ گھوڑے سستے فروخت ہوں گے کیونکہ لڑائی نہ ہوگی۔ بیل گراں قیمت ہوں گے کہ تمام زمین کاشت ہو جائے گی۔ وغیرہ وغیرہ۔ مگر بخلاف مرزا قادیانی کے کہ آپ کے وقت کسی کا ظہور نہیں ہوا۔ بلکہ الٹ ہوا۔

سیرت مسیح علیہ السلام

عیسیٰ علیہ السلام جامع دمشق میں مسلمانوں کے ساتھ نماز عصر پڑھیں گے۔ پھر اہل دمشق کو ساتھ لے کر طلب دجال میں آرام سے چلیں گے۔ زمین ان کے لئے سمٹ جائے گی۔ ان کی نظر قلعوں کے اندر گاؤں کے اندر تک اثر کر جاوے گی۔ جس کافر کو ان کے سانس پر اثر پہنچے گا وہ فوراً مر جائے گا۔ یہ بیت المقدس کو بند پائے گا۔ دجال نے اس کا محاصرہ کر لیا ہوگا۔ اس وقت نماز صبح کا وقت ہوگا۔ ان کے وقت میں یاجوج ماجوج خروج کریں گے۔ تمام خشکی وتری پر پھیل جائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کو کوہ طور پر پہنچائیں گے۔ آپ روضہ آنحضرت ﷺ کے روضۂ اطہر میں مدفون ہوں گے۔ مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔ دجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔ اس کا خون اپنے نیزوں پر لوگوں کو دکھلاویں گے۔ بخلاف مرزا قادیانی کے کوئی چیز بھی مذکورہ بالا چیزوں سے ان کو حاصل نہیں ہوئی۔

قادیانی کے الہامات کی تقسیم

ہے تو سر نہیں۔

اور پھر وجوہ فاسدہ اور استدلالات فاسدہ کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس کو شیطان معنوی کہا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہہ دیتا ہے کہ جس شخص پر امور غیبیہ منکشف ہوں تو وہ شخص نبی و رسول ہے۔ پس مجھ پر کشف ہوتا ہے۔ لہٰذا میں نبی و رسول ہوں۔ علیٰ ہذا القیاس!

ناظرین قارئین حضرات! مرزا قادیانی کے الہامات اسی قسم کے ہیں۔ مگر چونکہ یہ

١١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٨

سب شریعت پاک کے خلاف ہیں۔ لہٰذا نامقبول ہیں۔

مرزا قادیانی کے معتقدات

(ازالہ اوہام ص ١٢٨، ١٢٩، خزائن ج ٣

ص ١٦٧)

(اشتہار مورخہ ١٥؍مارچ ١٨٩٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٥٩)

سے ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔

(توضیح المرام ملخص ص ٣٣، ٣٧، ٣٨، خزائن ج ٣

ص ٦٧ تا ٧٠)

(توضیح المرام ملخص ص ٧٠، خزائن ج ٣ ص ٨٧)

(ازالہ اوہام ص ٦٢٨، ٦٢٩، خزائن ج ٣

ص ٤٣٩)

(ازالہ اوہام ص ٦٨٨، خزائن

ج ٣ ص ٤٧١)

نے خبر نہیں دی۔

(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣

ص ٤٧٣)

ہوں گے۔ (ازالہ اوہام ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣) اور دجال پادری صاحبان وغیرہ وغیرہ۔

(ازالہ اوہام ص ٢٩٥، خزائن ج ٣ ص ٣٦٥)

(ازالہ اوہام ص ٣١٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٩)

١١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٥٩

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٣)

(ازالہ اوہام ص ٣٨٧، ٣٨٣، خزائن ج ٣

ص ١٢١)

(ازالہ اوہام ص ٤٧٨ تا ٤٨٣، خزائن ج ٣ ص ٥٠٣ تا ٥٠٥)

(ازالہ اوہام ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ)

ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠

حاشیہ)

مثیل حرم کعبہ ہے۔ ”من دخلہ کان امنا“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٨، خزائن ج ١ ص ٦٦٦)

کہ مرزا قادیانی کے والد نے بنائی اور مرزا قادیانی نے اس میں توسیع کی۔

(اشتہار منارۃ المسیح، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٦، ٢٨٧)

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠ ملخص)

(اشتہار معیار الاخیار ص ٤٢١، ٤٢٢)

کیا)

(ٹائٹل پیج ازالہ اوہام ص ٢، خزائن ج ٣ ص ١٥٢)

١١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٠

(ازالہ اوہام ص ٥١٨، خزائن ج ٣

ص ٣٧٨)

(ازالہ اوہام ص ٤١٥، خزائن ج ٣ ص ٣١٦)

(ست بچن ص ٨٤، خزائن ج ١٠

ص ٢٠٨)

(ازالہ اوہام ص ٢٦، خزائن ج ٣ ص ١١٥

حاشیہ)

نوٹ: ناظرین کرام! یہ مرزا قادیانی کے اعتقادات ہیں۔ باقی مرزائیوں کی پانچوں پارٹیوں لاہوری پارٹی، قادیانی پارٹی، ظہیری پارٹی، تیمار پوری پارٹی، سمبھڑیالی پارٹی کے اعتقادات ونظریات کی مختصر سی کیفیت عنوان مرزا قادیانی کی مختصر سی تاریخ حیات کے ماتحت ذکر کر دی گئی ہے۔ وہاں سے ملاحظہ فرمائیں اور پھر گذشتہ مرزائیت انگریز کا خودکاشتہ کے مضمون کو بھی پاس رکھ کر انداز فکر کو موقعہ دیں تو آپ پر پوری حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ مرزا قادیانی اور ان کی عقیدت مند جماعتوں کو اسلام وایمان اہل اسلام کے ساتھ دلی طور پر کتنی وابستگی ہے۔ یہ فیصلہ آپ کو خود کرنا ہے۔

مرزا قادیانی کے دعوؤں کا اجمالی نقشہ

ناظرین کرام! مرزا غلام احمد قادیانی کی مصنفہ کتابوں سے ان کے عقائد ان کے خیالات ان کے اقوال کا مختصر سا تصور وتخیل آپ حضرات کے سامنے کھینچ دیا گیا ہے۔ ضرورت کے مطابق مسائل کی تحقیق کر دی گئی ہے۔ ان تمام مذکورہ عقائد کو پھر ایک اجمالی نظر سے ملاحظہ فرمائیں۔

(١) دعویٰ الوہیت۔ (٢) دعویٰ ابنیت۔ (٣) نبوت۔ (٤) مہدویت۔ (٥) مسیحیت۔ (٦) وحی شریعت۔ (٧) تناسخ۔ (٨) حلول۔ (٩) انکار ختم نبوت۔ (١٠) اکتساب نبوت۔ (١١) حضور علیہ السلام کے ساتھ دعویٰ مماثلت۔ (١٢) توہین الوہیت۔ (١٣) توہین ختم نبوت۔ (١٤) توہین انبیائے۔ (١٥) انبیاء پر فضیلت۔ (١٦) توہین صحابہ۔

١٢٠

صفحہ ٢٦١

(١٧) انکار معجزات۔ (١٨) حضور کو بے علم کہنا۔ (١٩) خدا کو مجسم کہنا۔ (٢٠) رحمۃ للعالمین بننا۔ (٢١) حضور کا مظہر بننا۔ (٢٢) تمام انبیاء کا بروز ہونا۔ (٢٣) توہین اولیاء۔ (٢٤) حضرت عیسیٰ کا عیبی بتانا۔ (٢٥) ضروریات دین کا انکار کرنا وغیرہ وغیرہ۔

ان بے شمار دعوؤں کا سبب

مرزا قادیانی خود ارشاد فرماتے ہیں۔ ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی...... جو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی یعنی مراق اور ایک نیچے کی دھڑ کی یعنی کثرت بول۔“

(ملفوظات

ج٨ ص٣٤٥)

”نیز حضرت اقدس نے فرمایا کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج٢٤ نمبر٤، ص٤٥، ماہ اپریل ١٩٢٥ء)

مراق کیا ہے؟

(شرح اسباب ج١ ص٧٢) پر ہے۔ مالیخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں۔ (حدود الامراض ص٥١) پر ہے۔ شیخ بو علی سینا نے کہا ہے کہ مالیخولیا کی ایک قسم ہے۔ جس کو مالیخولیا مراقی کہتے ہیں۔

(بیاض نورالدین جز اوّل ص٢١١ مصنفہ حکیم نورالدین قادیانی خلیفہ اوّل

مرزا قادیانی)

آپ فرماتے ہیں۔ چونکہ مالیخولیا جنون کا ایک شعبہ ہے اور مراق مالیخولیا کی ایک شاخ ہے اور مالیخولیا مراقی میں دماغ کو ایذاء پہنچتی ہے۔ اس لئے مراق سر کے امراض میں لکھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مراق مالیخولیا کی ایک قسم ہے۔ یعنی مراق مالیخولیا کا اثر اور مالیخولیا جنوں کا اثر ہوا اور جنوں پاگل پنے کو کہتے ہیں۔ تو گویا جس کو مراق ہے وہ دراصل پاگل پنے کا شکار ہے۔

علامات مالیخولیا

بعض مریضوں کو یہ فساد اس حد تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ علم غیب کا دعویٰ کرنے لگتا ہے اور اکثر آئندہ واقعات کی خبر پہلے سے دے دیتا ہے۔

(شرح اسباب ج١ ص٧٩)

بعض عالم اس مرض میں مبتلا ہو کر پیغمبری کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں اور اپنے بعض اتفاقی واقعات کو معجزات قرار دینے لگتے ہیں۔

(مخزن حکمت ج٢ ص١٣٥٢)

١٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٢٢

حکیم نور الدین خلیفہ اوّل مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ مالینخولیا کا کوئی مریض کبھی خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں۔

(نور الدین حصہ اوّل ص ٢١٢)

اس میں شک نہیں کہ جو شخص مراق مالینخولیا جنوں کا بزبان خود مقر ہو وہ ہرگز نبی نہیں ہو سکا۔

(ریویو بابت اگست ١٩٢٦ء ص ٧٠٦)

ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مالینخولیا مرگی کا مرض تو اس کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔

(ریویو اگست ١٩٢٦ء)

نیز مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ میری بی بی کو بھی مراق کی بیماری ہے۔ شاید میاں محمود صاحب کے مراقی ہونے کی یہی وجہ ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح ثانی (میاں محمود احمد) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔ (مسئلہ اجرائے نبوت اسی کا نتیجہ ہے)

مراقی کی عزت و احترام کیا ہے؟

(کتاب البریہ ص ٢٥٦، خزائن ج ١٣ ص ٢٧٢) کے حاشیہ پر مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے متعلق لکھتے ہیں۔ ”مگر یہ بات تو جھوٹا منصوبہ یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا۔“ یعنی بے اعتبار ہے تو جب مراقی کی بات کا اعتبار نہیں تو مرزا قادیانی جس وقت کہ وہ خود اقراری مراقی ہیں تو ان کے دعاوی کیونکر قابل اعتبار ہو جائیں گے۔

خلاصتہ الکلام یہ کہ چوٹی کے حکماء واطباء کی تحقیق یہ ہے کہ مراق مالینخولیا وغیرہ دماغی امراض جس میں پائی جائیں تو وہ مختلف دعویٰ مثلاً خدائی پیغمبر علم غیب پیش گوئیاں فرشتہ ہونا، بادشاہ ہونا، نبی، رسول، مہدی وغیرہ بیسیوں قسم دعویٰ کرنے کا عادی ہو جاتا ہے اور جب مرزا قادیانی بقول خود اقراری ہیں کہ میں مراق وغیرہ کا مریض ہوں تو یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ مرزا قادیانی نے جتنے دعوے کئے ہیں۔ وہ سب کے سب مراق مالینخولیا وغیرہ دماغ امراض کا اثر ہے اور ان کا ذرا بھر اعتبار نہیں۔ بلکہ یہ مصیبت بالا مصیبت بڑھ جائے گی کہ جیسے مرزا قادیانی کے جملہ دعاوی بے اعتباری ہو گئے۔ اسی طرح مرزا محمود خلیفہ المسیح ثانی بلکہ ان کی والدہ کے اقوال وافعال بھی درجہ

PDF 265

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

کذاب نبی

جناب محمد سلطان نظامیؔ

صفحہ ٢٦٤

بسم الله الرحمن الرحیم!

نذر عقیدت

حقیر پیش کش، بارگاہ خاتم النبیین ﷺ کے حضور، جن کی بعثت پر انبیاء کا وہ مقدس سلسلہ ختم ہوا۔ جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا۔ دین فطرت اسلام اور ضابطۂ حیات قرآن آپ ہی کی ذات بابرکات پر مکمل ہوئے اور وحی الٰہی جیسی نعمت منقطع ہوئی۔

اکملت لکم دینکم اسلام کو بس ہے
باقی ہے اگر کچھ تو وہ دنیا کی ہوس ہے

(اکبر الہ آبادی مرحوم)

معذرت کے ساتھ

عرض ہے یہ میرا اخلاقی فرض تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نام کے ساتھ لفظ ”صاحب“ لکھتا۔ چونکہ خالق کون و مکاں نے خاتم الانبیاء کے صادق رفیق غار سیدنا ابوبکر الصدیقؓ کو اس سے ملقب فرمایا ہے۔ اس لئے کذاب کے نام کے ساتھ لکھا جانا مناسب نہیں۔

”اذ اخرجہ الذین کفروا ثانی اثنین اذ ھما فی الغار اذ یقول ”لصاحبہ“ لا تحزن ان الله معنا (التوبہ:٤٠)“

احقر الناس

محمد سلطان نظامی

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٥

بسم الله الرحمن الرحيم!

افتتاح

الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى!

قرآن حکیم اور ختم نبوت

ضرورت نبی ورسول

جب اللہ تبارک و تعالیٰ زمین و آسمان کا نظام استوار فرما چکا تو مختلف انواع کی مخلوق پیدا فرما کر اس کائنات کو رونق بخشی اور اس ساری مخلوق میں انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔ نسل انسانی کی فلاح و بہبود کے لئے انہیں میں سے اپنا خلیفہ منتخب فرمایا۔ جس کو امام، نبی اور رسول کے ناموں سے بھی خطاب فرمایا۔

امام کے معنی رہبر و پیشوا ہیں۔ نبی کے معنی خالق اور اس کی مخلوق کے درمیان قاصد کے ہیں اور رسول کے معنی ہیں۔ قاصد، ایلچی یا بھیجا ہوا۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک ہی ہستی کو بعض وقت امام، نبی اور بعض وقت رسول کہہ کر خطاب فرمایا ہے۔ امام، نبی اور رسول کو اللہ منتخب فرماتا ہے اور اس پر بذریعہ فرشتہ اپنا کلام بطور وحی کے نازل فرماتا ہے۔ تاکہ اس مقدس کلام کی روشنی میں نسل آدم کو خلق عظیم کی تعلیم دی جائے اور انہیں خالق حقیقی کا فرمانبردار اور تابعدار بنایا جائے۔ اسی تابعداری کا نام اسلام ہے اور جس قدر انبیاء، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور رحمۃ اللعالمین ﷺ تک مبعوث ہوئے۔ قرآن مجید میں ان سب کو مسلم کہا گیا ہے۔ انبیاء اور رسولوں کا یہ سلسلہ ہمارے نبی اکرم حضور خاتم النبیینؐ پر اختتام پذیر ہوا۔ دین فطرت اسلام مکمل ہوا اور وحی کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے منقطع ہو گیا۔

قومی نبی

حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت سے قبل مختلف اقوام میں نبی ورسول مبعوث ہوتے رہے۔ تاکہ اس قوم کی اصلاح فرمائیں۔ جیسے فرمایا: ”لقد ارسلنا نوحاً الٰی قومه فقال یٰقوم اعبدوا الله (الاعراف: ٥٩)“ {بے شک ہم نے نوح علیہ السلام کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔}

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٦

”الى عاد اخاهم هوداً قال يقوم اعبدوا الله (الاعراف:٦٥)“ {اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود علیہ السلام کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔}

”الى ثمود اخاهم صالحاً قال يقوم اعبدوا الله (الاعراف:٧٣)“ {اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔}

”الى مدين اخاهم شعيباً قال يقوم اعبدوا الله (الاعراف:٨٥)“ {اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب علیہ السلام کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔}

”ولقد ارسلنا موسى بأيتنا ان اخرج قومک من الظلمات الى النور (ابراهيم:٥)“ {اور موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیرے سے روشنی کی طرف نکال لائے۔}

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: ”رسولاً الى بنى اسرائيل (آل عمران:٤٩)“ {اور (عیسیٰ علیہ السلام) بنی اسرائیل کی طرف رسول تھا۔}

حضور ﷺ کا نسل انسانی کے لئے مبعوث ہونا

اسی طرح دیگر انبیاء بھی اپنی اپنی قوم کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے۔ مگر حضور نبی آخر الزمان ﷺ تمام نسل آدم کے لئے بشیر اور نذیر بن کر تشریف لائے۔ آپؐ کی بعثت عظمیٰ کے متعلق رب کائنات فرماتا ہے۔

”قل يايها الناس انى رسول الله اليكم جميعا الذين له ملک السموات والارض (الاعراف:١٥٨)“ {(محمد ﷺ) کہہ کہ لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں۔ جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔}

پھر فرمایا: ”وما ارسلنک الا رحمة للعلمين“ {اور ہم نے تجھے (محمد ﷺ) تمام قوموں کی طرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔}

”قل انما يوحى الى انما الهكم اله واحد فهل انتم مسلمون (الانبياء:١٠٨،١٠٧)“ {کہہ میری طرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو کیا تم (اللہ) کے فرمانبردار بنتے ہو۔}

اور مزید فرمایا: ”وما ارسلنک الا كافة للناس بشيراً ونذيراً ولكن اكثر

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٧

الناس لا یعلمون (السبا:٢٨)“ {اور ہم نے تجھے تمام نسل انسانی کے لئے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔}

اور حضور خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا: ”وکان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ (مشکوۃ باب ٤٤)“ {ہر پیغمبر اپنی قوم کے لئے مبعوث ہوا۔ لیکن میں کل نسل انسانی کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔}

اسلام اور خاتم النبیین

بعثت انبیاء ﷺ کا مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ”کما ارسلنا فیکم رسولاً منکم یتلوا علیکم أیتنا ویزکیکم ویعلمکم الکتب والحکمۃ ویعلمکم ما لم تکونوا تعلمون (البقرۃ: ١٥١)“ {جیسا کہ ہم نے تم میں تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ جو تم پر ہماری آیات پڑھتا ہے اور تم کو پاک کرتا ہے اور تم کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور تم کو وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے۔}

اور پھر تمام انبیاء علیہم السلام سے عہد لیا کہ جب خاتم النبیین ﷺ مبعوث ہوں گے تو وہ تمام اور ان کی امتیں اس پر ایمان لائیں گی اور آپؐ کی مدد کریں گے۔

فرمایا: ”واذا اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب وحکمۃ ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال ء اقررتم واخذتم علی ذالکم اصری قالوا اقررنا قال فاشہدوا وانا معکم من الشہدین (آل عمران: ٨١)“ {اور جب اللہ نے نبیوں کے ذریعے سے عہد لیا کہ جو کچھ میں نے تمہیں کتاب اور حکمت سے دیا ہے پھر تمہارے پاس وہ رسول (آنحضرت ﷺ) آئے جو اس کی تصدیق کرنے والا ہو۔ جو تمہارے پاس ہے۔ تو تم ضرور اس پر ایمان لاؤ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔ سب نے کہا ہم اقرار کرتے ہیں۔ کہا پس گواہ رہو اور میں تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔}

تصدیق کے متعلق فرمایا: ”فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ مصدقا لما بین یدیہ وہدی وبشری للمؤمنین (البقرۃ: ٩٧)“ {اس نے تو اللہ کے حکم سے اس کو تیرے دل پر اتارا۔ اس کی تصدیق کرتا ہوا جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔}

اور اس مصدق حقیقی اور نبی آخر الزمان ﷺ کے متعلق فرمایا: ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئ علیما

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٦٨

(الاحزاب:٤٠) ”{محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں (کے سلسلے) کو ختم کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔}

اللہ علیم وخبیر نے اس آیت مبارکہ میں چار چیزوں کو خاص طور پر بیان فرمایا۔ پہلے یہ کہ حضرت محمد ﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ حالانکہ آپ کے دو صاحبزادے قاسمؓ اور عبداللہؓ بھی پیدا ہوئے۔ مگر وہ بچپن ہی میں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے۔ اس علیم وخبیر کو علم تھا کہ حضور ﷺ کے نواسوں کو خواہ مخواہ ان کا بیٹا مشہور کیا جائے گا۔ اسی لئے فرما دیا کہ حضور ﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ یعنی ان کی کوئی اولاد نرینہ اب باقی نہیں۔

دوسرا یہ بیان فرمایا کہ آپؐ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ یہاں آپؐ کے لئے رسول اور نبیؐ دونوں لفظ استعمال فرمائے ہیں۔ اس علیم وخبیر کو علم تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان جیسے کئی اور جن کے دل میں اقتدار کی ہوس اور بیماری ہے۔ ان الفاظ کو کئی طرح کے لغوی معانی پہنا کر ظلی و بروزی طور پر اپنی نبوت ورسالت سے اندھی تقلید کرنے والوں کو گمراہ کر کے اپنے دام فریب میں پھنسائیں گے۔ اس لئے یہاں رسول اللہ ﷺ اور خاتم النبیین کہہ کر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں فرمادی کہ یہ دونوں منصب الٰہی بھی نبی آخرالزمان ﷺ کی ذات واجب الاحترام پر ختم ہو چکے ہیں اور آخر میں فرمایا: ”وكان الله بكل شئ عليما“ {اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ جو اس بین حقیقت کے بعد لوگ کریں گے۔}

چنانچہ جس طرح حضور نبی آخرالزمان ﷺ کے نواسوں کو حضور ﷺ کی اولاد نرینہ کہا گیا۔ اسی طرح اختتام سلسلۂ نبوت کے بعد تیس کذابوں نے اپنی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تاکہ حضور ﷺ کے بعد بھی سلسلۂ امامت ونبوت ورسالت کو جاری سمجھا جائے۔

تکمیل دین اور انقطاع وحی

نسل انسانی کی فلاح وبہبود کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے مختلف اقوام عالم میں گاہے بگاہے انبیاء مبعوث فرمائے۔ دین فطرت اسلام کی نشر واشاعت کے لئے اپنی الہامی کتب بھیجیں اور جب اقوام عالم کی عقل پختہ ہوگئی اور رسل ورسائل کی آسانی سے تمام اقوام عالم قریب تر ہوگئیں تو ان سب انبیاء کے مصدق جناب خاتم النبیین ﷺ کو تمام نسل انسانی کا معلم وپیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا اور تمام الہامی کتب کی مصدق اور جامع کتاب قرآن عظیم آپؐ کو مرحمت فرمائی اور پھر سلسلۂ انبیاء اور سلسلۂ الہامی کتب اور دین فطرت کی تکمیل کرتے ہوئے

٦

صفحہ ٢٦٩

فرمایا: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (المائدہ:٣) “ {آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت ( مکالمہ و مکاشفہ الہیہ ) کو پورا کر دیا اور تمہارے دین اسلام پر راضی ہوا۔}

اور مزید فرمایا: ”وتمت کلمۃ ربک لأملن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین (ھود:١١٩) “{اور تیرے رب کا کلمہ (وحی) پورا ہو گیا اور دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھر دے گا۔}

اب اس تکمیل دین کے بعد کوئی نیا دین پیش کرے گا یا اس مکمل ضابطۂ حیات اور دستور عمل کے کسی ایک امر و نہی کا منکر ہوگا۔ نہ صرف وہ واصل جہنم ہوگا۔ بلکہ جو بھی یہ کہے گا کہ سلسلۂ وحی مکمل ہونے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرتا ہے تو وہ کذاب اور جہنمی ہوگا۔

حضور نبی آخر الزمان ﷺ کے بعد صرف قرآن عظیم ہی کل نسل انسانی کا امام، ہادی اور مہدی ہے اور یہی مسیح (روحانی زندگی دینے والا) ہے۔ جس کو سمجھنے کے بعد انسان کو حیات جاودانی نصیب ہوتی ہے اور اسی کے متعلق شاہکار رسالت، فاروق اعظم حضرت امیر المؤمنین سیدنا عمرؓ نے فرمایا تھا ۔”حسبنا کتاب اللہ“

قرآن حکیم اور امام آخر الزمان

قرآن حکیم نسل انسانی کی فلاح و بہبود کے لئے وہ مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ جس کی تکمیل کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ تک لاکھوں انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے۔ کروڑوں فرزندان توحید نے اس کی نشر و اشاعت کے لئے جام شہادت نوش کیا اور کئی صدیاں اس کی تکمیل کے لئے گزریں۔ یہ تمام انبیاء کی بعثت اور ان کی کتب و تعلیم کی تصدیق کرتا ہے۔ حضور نبی آخر الزمان ﷺ نے اس کی تعلیم کی روشنی میں زندگی بسر کی۔ یعنی آپؐ کی زندگی تعلیمات قرآنی کا عملی نمونہ تھی۔ حضور نبی آخر الزمان ﷺ کی وفات حسرت آیات کے بعد قرآن حکیم ہی قیامت تک نسل انسانی کا رہبر، پیشوا، مسیح (زندگی دینے والے) اور امام ہے۔ اس لاریب کتاب کا خود خالق کائنات محافظ ہے۔ جیسے وہ خود فرماتا ہے۔ ”انا له لحافظون (الحجر:٩) “ اور حی و قیوم اللہ سے اعلیٰ محافظ کون ہو سکتا ہے۔ پس جب تک کائنات قائم ہے۔ کتاب اللہ باقی رہے گی۔ نسل انسانی کی یہی رہبر ہے اور حضور کی نبوت و رسالت اور امامت قائم اور دائم ہے۔ اس لئے ایمان کا ثریا پر جانے کا سوال ہی

٧

صفحہ ٢٧٠

پیدا نہیں ہوتا اور اگر کوئی ایسا خیال بھی کرتا ہے تو اس کا ایمان اس حی وقیوم اللہ پر نہیں ہوسکتا۔ جس کے حکم میں ارض وسما کا ذرہ ذرہ ہے۔ اس لاریب کتاب کے ”امام آخر الزمان“ ہونے کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”افمن کان علی بینة من ربہ ویتلوہ شاہد منہ ومن قبلہ کتب موسیٰ اماماً ورحمة اولئک یؤمنون بہ ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ فلا تک فی مریة منہ انہ الحق من ربک ولکن اکثر الناس لا یؤمنون (ھود: ١٧)“ {تو کیا وہ شخص جو اپنے رب سے کھلی دلیل (قرآن حکیم) رکھتا ہے اور اس کی طرف سے ایک گواہ (نبی وامام ﷺ) اس پر عمل کرتا ہے اور اس (قرآن کریم) یعنی امام سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب امام اور رحمت تھی۔ یہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی فرقوں میں سے اس (امام) کا انکار کرتا ہے تو اس میں کسی شک میں نہ رہ۔ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے۔}

پس معلوم ہوا کہ جب تک حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم میں موجود رہے۔ وہ ان کے امام تھے اور ان کی وفات کے بعد توریت بنی اسرائیل کی امام تھی۔ اسی طرح حضور ﷺ جب تک مسلمانوں میں موجود رہے وہ ان کے امام تھے۔ پھر آپؐ کی وفات کے بعد قرآن حکیم صحابہؓ اور نسل آدم کے مسلمانوں کا امام ہوا۔ چنانچہ حضور ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں قرآن مجید کا جو نسخہ مرتب فرمایا تھا۔ صحابہؓ اس کو امام کہتے تھے۔ چونکہ یہ لاریب آخری الہامی کتاب ہے۔ جس نے دین اسلام یعنی ضابطہ حیات نسل انسانی کو مکمل کر دیا ہے۔ اس لئے تاقیامت کل نسل آدم کا یہی امام و رہبر ہے۔

اور پھر فرمایا: ”ومن قبلہ کتب موسیٰ اماماً ورحمة وهذا کتب مصدق لسانا عربیاً لینذر الذین ظلموا وبشریٰ للمحسنین (الاحقاف: ١٢)“ {اور اس (امام) سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب امام اور رحمت تھی اور یہ کتاب (قرآن حکیم) اس کی تصدیق کرتی ہے جو عربی زبان میں ہے۔ تاکہ وہ انہیں ڈرائے جو ظالم ہیں اور خوشخبری دے نیکی کرنے والوں کو۔}

اور قرآن مجید کے امام آخرالزمان ہونے کے متعلق مزید فرمایا: ”وکل شئ احصینہ فی امام مبین (یٰسٓ: ١٢)“ {اور ہر چیز کو ہم نے اس امام مبین میں محفوظ کر لیا ہے۔}

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧١

اور حجة الوداع کے موقع پر خاتم النبیین ﷺ نے قرآن حکیم جیسے امام آخرالزمان کے متعلق امت مسلمہ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ”قد تركت فيكم ما تضلوا بعده ان اعتصتم به کتاب الله (بخاری باب حجة الوداع)“ {میں تم میں ایک چیز چھوڑ چلا ہوں کہ اگر تم نے اسے تھامے رکھا تو تم کبھی گمراہ نہ ہو گے اور وہ ہے ”کتاب اللہ“۔}

دعا ختم القرآن اور امام وہادی و رحمت

جب مسلمان قرآن حکیم کی تلاوت کو ختم کرتے ہیں تو عموماً ذیل کی دعا پڑھتے ہیں۔ جس میں اس لاریب کتاب اللہ کو امام، نور، ہادی اور رحمت سے موسوم کرتے ہیں: ”اللهم انس وحشتى فى قبرى اللهم ارحمنى بالقرآن العظيم واجعله لى اماماً ونوراً وهدى ورحمة اللهم ذكرنى منه ما نسيت وعلمنى منه ما جهلت وارزقنى تلاوته اناء اليل وانا النهار واجعله لى حجة يارب العالمين“

اور یہ دعا حضور ﷺ، صحابہ کرامؓ اور وہ تمام بزرگ جن کو مسلمانوں کے مختلف طبقے امام کے القاب سے یاد کرتے ہیں۔ وہ سب ہی دعا پڑھتے ہوں گے اور وہ بھی کتاب اللہ ہی کو امام، نور، ہادی اور رحمت یقین کرتے تھے اور حق تو یہ ہے اس آخری الہامی لاریب کتاب جس کا محافظ خود خالق کون ومکاں ہے۔ حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد نسل انسانی کا اور کون امام تا قیامت ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ کیونکہ کسی فانی انسان کو مدام نہیں۔ اگر لامتناہی حیات ہے تو رب کائنات یا اس کی آخری الہامی لاریب کتاب قرآن حکیم کو جو تا قیامت امام آخرالزمان ہے اور جس کا محافظ خالق کون ومکان ہے۔ جسے فنا نہیں۔

نبی اللہ اور امامت

الہامی کتب اور قرآن حکیم کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو بھی امام فرمایا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنا کلام جبرئیل کے ذریعے نبی اور رسول کے قلب پر نازل فرماتا ہے۔ جس کی تعلیم کی روشنی میں وہ اپنی قوم اور نسل آدم کی فلاح وبہبود کے لئے کوشاں ہوتے ہیں۔ جیسے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا: ”واذ ابتلى ابراهيم ربه بكلمت فاتمهن قال انى جاعلك للناس اماماً قال ومن ذريتى قال لاينال عهدى الظلمين (البقرہ: ١٢٤)“ {اور جب ابراہیم علیہ السلام کو اس کے رب نے چند احکامات سے آزمایا تو اس نے ان کو پورا کیا۔ فرمایا میں تجھے لوگوں کے لئے امام بنانے والا ہوں۔ (ابراہیم علیہ السلام) نے

٩

صفحہ ٢٧٢

کہا اور میری اولاد سے؟ فرمایا میرا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔}

اور پھر فرمایا کہ قیامت کے دن ہر امت اپنے امام یعنی پیغمبر، رسول اور نبی کے ساتھ بارگاہ ایزدی میں پیش ہوگی اور ان کے اعمال واعتقادات کے متعلق رب العزت ان کے امام وپیغمبر سے سوال کرے گا۔

فرمایا: ”يوم ندعوا کل اناس بامامہم فمن اوتی کتبہ بیمینہ فاولئک يقرؤن کتبہم ولا یظلمون فتیلا (بنی اسرائیل: ٧١)“ {جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے اماموں (پیغمبروں) کے ساتھ بلائیں گے تو جسے اس کی کتاب اس کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو پڑھیں گے اور ان پر ذرہ بھر ظلم نہ ہو گا۔}

فرمایا کہ یہ امت اپنے امام یعنی نبی کے ساتھ پیش ہو گی۔ جو ان کا گواہ ہو گا اور امت مسلمہ کے امام پیغمبر آخر الزمان ﷺ ہوں گے۔ آپؐ کی امت میں خلفائے راشدینؓ حضرت حسنینؓ ان کی آل واولاد، امہات المؤمنینؓ تمام دنیا کے ولی، قطب ودیگر بزرگ ہوں گے اور ان سب کے امام و پیشوا حضور نبی آخرالزمان ﷺ ہوں گے اور اگر اس دن شیعہ حضرات اپنے بارہ اماموں کے ساتھ پیش ہوں گے تو حضرت علیؓ سے لے کر بارھویں امام تک منقسم ہو جائیں گے اور اہل سنت والجماعت لاتعداد اماموں میں تقسیم ہو جائیں گے اور یہ سب امت اور ان کے مفروضہ امام حضور رحمت للعالمین ﷺ کی شفاعت سے محروم ہو جائیں گے۔ حالانکہ ہر نبی اپنی امت کا امام ورہبر ہوتا ہے۔ اس پر کتاب اللہ نازل ہوتی ہے۔ جس کے احکام اوامر ونہی وہ اپنی امت کو تعلیم کرتا ہے اور اسی کی موجودگی میں اس کی امت کو بارگاہ ایزدی میں پیش کر کے جزا وسزا دی جائے گی اور قوم کے اعمال وعقائد کے متعلق اس امام ونبی سے بھی باز پرس ہو گی۔ چنانچہ عیسائیوں کے متعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا جائے گا۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا جائے گا۔

”واذ قال اللہ یعیسٰی ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الٰہین من دون اللہ قال سبحٰنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ط ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوب ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی وربکم وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم وانت علٰی کل شئ شہید (المائدہ: ١١٧، ١١٦)“

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٣

{اور جب اللہ کہے گا۔ اے عیسیٰ ابن مریم کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنالو۔ عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے تو پاک ہے۔ مجھے حق نہیں تھا۔ اگر میں نے ایسا کہا تھا تو تجھے ضرور اس کا علم ہوگا تو جانتا ہے جو کچھ میرے جی میں تھا اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے۔ تو ہی غیب کی باتیں جاننے والا ہے۔ میں نے ان سے کچھ نہیں کہا۔ مگر وہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب اور تمہارا رب ہے اور میں ان پر گواہ تھا۔ جب تو نے مجھے پورا پورا لے لیا تو تو ہی ان پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔}

امام کے متعلق قرآن حکیم میں ایک دعا بھی ہے۔

فرمایا: ”والذين يقولون ربنا هب لنا من ازواجنا وذريتنا قرة اعين واجعلنا للمتقين اماما (الفرقان: ٧٤)“ {اور وہ جو کہتے ہیں۔ اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں سے اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔}

یہاں تو انسان کی خواہش کا اظہار پیش کیا ہے کہ اس کی بیوی بچے نیک ہوں اور اللہ تبارک وتعالیٰ خود اسے نیک اعمال کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔ جو دوسروں کی رہبری کا موجب ہوں ۔ یہ نہیں کہ دعا کرنے سے وہ امام و نبی ہو جائے ۔ کیونکہ نبوت دعا و اکتساب سے نہیں ملتی۔ بلکہ یہ موہبت ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”الله اعلم حيث يجعل رسالته (الانعام: ١٢٤)“ {اللہ خوب جانتا ہے کہ کہاں اپنی رسالت رکھے ۔}

اور فرما کر اس حقیقت کو واضح کر دیا کہ متقی انسان کی رہبری وہدایت کا موجب بھی صرف یہی لاریب کتاب ہے جو سب متقیوں کی امام ہے۔

فرمایا: ”ذالك الكتب لا ريب فيه هدى للمتقين (البقرة: ٢)“ {یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ۔ متقیوں کی ہادی اور ان کی ہدایت کا موجب ہے۔}

پس ثابت ہوا کہ نسل آدم کی فلاح وبہبود کے لئے اللہ تعالیٰ نے نبی و امام مبعوث فرمائے ۔ جو دعا سے نہیں بنتے ۔ بلکہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اس اعزاز مقدس کا اہل سمجھا۔ اس کو نسل انسانی کی امامت کے لئے خود منتخب فرمایا۔ پھر اس کے قلب اطہر پر بذریعہ جبرائیل اپنے کلام وحی کو نازل فرمایا اور نازل شدہ کتب اللہ کی روشنی میں اس امام و نبی نے نسل آدم کو اعمال خیر کرنے اور اعمال شر سے بچنے کی ہدایت فرمائی ۔ جب تک وہ نبی ان میں زندہ رہا وہ ان کا امام و پیشوا رہا اور اس کی وفات کے بعد دوسرے نبی کی بعثت تک اس نبی پر نازل شدہ کتاب ان کی امام و پیشوا

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٤

رہی۔ بالآخر نسل آدم کی اصلاح کے لئے حضور خاتم النبیین ﷺ مبعوث ہوئے۔ جن کی تشریف آوری کی گذشتہ تمام انبیاء نے بشارت دی تھی۔ آپؐ کی بعثت نے آپؐ جیسے عظیم الشان اور آخر الزمان امام منتظر کے لئے انتظار کی گھڑیوں کو ختم کیا اور رب کائنات نے دین حق کو آپؐ کی ذات پر مکمل فرمایا اور آپؐ کو اپنی آخری الہامی کتاب دی اور اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود لے لیا۔ جب تک حضور ﷺ زندہ رہے۔ وہ امت مسلمہ کے امام و پیشوا رہے اور آپؐ کی وفات حسرت آیات کے بعد قرآن کریم جیسی لاریب کتاب امت مسلمہ کی قیامت تک امام و پیشوا ہے اور جب تک ہستی باری تعالیٰ قائم و دائم ہے۔ اس وقت تک نبی آخر الزمان ﷺ امام آخر الزمان ہیں۔ یعنی آپؐ کی ذات واجب الاحترام قیامت تک امام و پیشوا ہے۔ اس لئے قیامت تک کسی اور امام کی حضور ﷺ کی امامت کی موجودگی میں قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ جو خواہ مخواہ تجدید دین کر کے گناہ کبیرہ کا موجب ہو اور حضور ﷺ کی امت کو گمراہ کرے۔

اور قرآن مجید ہی وہ امام الزمان ہے جو لاریب ہے۔ جس کا (نازل کرنے والا) خالق ہے۔ اس کا محافظ و نگہبان ہے۔ جس کے متعلق خود خدا محافظ حقیقی ہے۔ ان الفاظ میں دعویٰ فرمایا: ’’قل لئن اجتمعت الانس والجن على ان ياتوا بمثل هذا القرآن لا يأتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا ولقد صرفنا للناس فى هذا القرآن من كل مثل فابىٰ اكثر الناس الا كفورا (بنی اسرائیل: ٨٩، ٨٨)‘‘ {اور یقیناً ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر قسم کی نادر باتیں بار بار بیان کر دی ہیں۔ مگر اکثر لوگوں کو سوائے انکار کے کچھ منظور نہیں۔}

اور یہ وہ امام الزمان ہے کہ نہ اس کی مثل کوئی بنا سکتا ہے اور نہ ہی قیامت تک اس کے احکامات و تعلیمات میں کوئی کمی بیشی کر سکتا ہے۔ حضور نبی ﷺ کی وفات حسرت آیات کے بعد یہی اللہ تبارک و تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب نسل انسانی کی راہ نما ہادی، مہدی اور امام ہے۔ مگر افسوس محدثین جو سب کے سب عجمی اور اہل فارس تھے۔ انہوں نے اس مقدس کتاب کے تقدس کو ختم کرنے کے لئے اس کے پیروکاروں اور متعلموں کو امام اور ’’امام آخر الزمان‘‘ کا مقام دے دیا اور ان احادیث کی وجہ سے کئی ایک نے امام، مجدد، مسیح موعود، مہدی اور بشیر و نذیر ہونے کا دعویٰ کیا۔ جن میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہے اور لطف یہ کہ ان کا تعلق بھی اہل فارس ہی سے ہے۔

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

.

besturdubooks

.

wordpress

.

Wait, actually, I noticed I split the URL. I shouldn't do that.

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٥

اہل فارس نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا کچھ کیا اس کو تفصیلاً میں اپنی کتاب ’’اسلام، اہل فارس اور سلمانؓ فارسی‘‘ میں پیش کر چکا ہوں۔ یہاں صرف ان کے ارادوں کی چند جھلکیاں پیش ہیں۔

قاسم زادہ ایرانی اپنی کتاب ’’تجلیات روح ایران‘‘ میں رقمطراز ہے۔ (اس کا اردو ترجمہ پیش ہے) ’’قدیم ایرانیوں کا مذہب جو کہ زرتشت کا مذہب تھا۔ بہت سادہ اور قدرتی مذہبوں میں سے ایک ہے۔ اس دین کا فلسفہ اتنا روشن اور سادہ رہا ہے کہ علماء اور اہل فلسفہ کے ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ دنیا کی تمام قومیں اس مذہب کو قبول کر لیں گی۔‘‘

اس مذہب کی بنیاد یہ ہے کہ خداوند آھورا آمزدا نے دو عناصر پیدا کئے ہیں۔ ایک عنصر نیکی و روشنی ہے اور اس کا نام یزداں ہے اور دوسرا عنصر بدی اور تاریکی ہے کہ اس کا نام اہرمن ہے۔

یزداں اور اہرمن ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں۔ آخر کار یزداں جیت جائے گا اور نیکی اور پاکیزگی سے اس دنیا کو بھر دے گا۔ اس لئے ہم شیعان کا یہ عقیدہ ہے کہ امام دوازدہم مہدی صاحب الزمان ظہور کریں گے اور اس کام کو سرانجام دیں گے۔ اس وجہ سے اس مذہب میں سورج اور آگ کو جو نور کا بڑا منبع ہے بہت اہمیت ہے۔

(تجلیات روح ایران ص ١٥، ١٦)

اور پھر فرمایا کہ قیامت تک قرآن امام الزمان ہے: ”ما فرطنا فی الکتب من شئ ثم الی ربھم یحشرون (الانعام:٣٨)“ {ہم نے کتاب (اللہ) میں کسی چیز کو بیان کرنے سے نہیں چھوڑا۔ پھر (اس کے منکر) اپنے رب کے حضور روز حشر اکٹھے کئے جائیں گے۔}

واقعہ تحکیم اور امام آخرالزمان

پھر فرمایا کہ قیامت تک یہی امام آخرالزمان امت مسلمہ کے فیصلے کرے گی۔ ”یا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شئ فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الاخر ذلک خیر و احسن تاویلا (النساء: ٥٩)“ {اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اس کی جس کو تم نے اپنا امیر چنا ہے۔ پھر اگر کسی چیز میں (امیر

١٣

صفحہ ٢٧٦

سے) باہم جھگڑا ہو جائے تو اس کا فیصلہ اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف لے جاؤ۔ (یعنی قرآن کی روشنی میں حل کرو) اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہو۔ یہ بہتر اور انجام کا اچھا ہے۔}

اور جنگ صفین کے موقعہ پر جب قصاص عثمانؓ کے حصول کی غرض سے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ برسر پیکار تھے تو صحابہؓ نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ اس تنازعہ کا فیصلہ قرآن حکیم کی روشنی میں کیا جائے۔ چنانچہ فریقین نے ہتھیار رکھ دیئے۔ اس واقعہ کو تاریخ اسلام میں ”واقعہ تحکیم“ کہا جاتا ہے۔ تفصیل کے لئے میری کتاب ”قصاص سیدنا عثمانؓ و تکمیل بیعت رضوان“ ملاحظہ فرمائیں۔

احادیث اور ختم نبوت

حضور نبی آخر الزمان ﷺ کے زمانہ میں ہی مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کر دیا تھا جسے راز دار نبوت اور خلیفۃ الرسول سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ خاتم الرسل والنبیین مخبر صادق ﷺ کو علم تھا کہ ان کے بعد اس منصب جلیلہ کو حاصل کرنے کے لئے کئی کذاب، نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ چنانچہ آپؐ نے قیامت تک مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ وہ ان جھوٹے مدعیان نبوت کے جال میں نہ پھنسیں۔

”عن ثوبانؓ قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وانه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى الله (وفى رواية البخارى والمسلم كلهم يزعم انه رسول الله) وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (رواه ابوداؤد والترمذى، مشكوة باب ٣٩)“ {ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ نبی اللہ ہے۔ (بخاری و مسلم میں ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میری امت میں تیس کے قریب دجال اور کذاب پیدا ہوں گے۔ ان میں ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ رسول اللہ ہے) حالانکہ میں (سلسلہ) انبیاء ختم کرنے والا ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔}

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد ظلی یا بروزی یا کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرنے والا کذاب اور دجال ہوگا۔

”عن ابن عمرؓ قال خرج علينا رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يوما كالمودع

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٧

فقال انا النبى الامى انا النبى الامى انا النبى الامى ولا نبى بعدى (الى قوله) فاسمعوا واطيعوا مادمت فيكم فاذا ذهب بى فعليكم بكتاب الله واحلوا حلاله وحرموا حرامه (رواه احمد، تفسیر ابن کثیر ج ٨ ص ٩١٠)“ {ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ہم میں تشریف لائے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی آخری وصیت فرمانے والے ہیں۔ پس آپؐ نے فرمایا میں ہی نبی امی ہوں۔ میں ہی نبی امی ہوں، میں ہی نبی امی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس تابعداری کرو۔ میری جب تک میں تم میں موجود ہوں اور جس وقت میں اس جہاں کو خیر باد کہوں تو کتاب اللہ (امام) پر مضبوط سے قائم رہنا اور اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنا۔}

لیکن مرزا غلام احمد قادیانی دو اہم فریضوں کے تارک ہیں۔ باوجود یکہ ان کا دعویٰ مجدد، محدث اور نبی کا ہے۔ پہلے کا مقصد اسلام کے مرکز کو قائم رکھنا وہ ہے۔ ”حج بیت اللہ“ اور دوسرا جہاد۔ استطاعت ہوتے ہوئے حج بیت اللہ نہ کرنا بہت بڑی بدبختی ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی رئیس قادیان تھے اور مریدوں سے لاکھوں روپیہ وصول کرتے تھے اور جہاد جس سے اسلام کی بقاء اور کفر کو نیست و نابود کرنا مقصود ہے۔ اس کو حرام قرار دے کر ہمیشہ کے لئے مسلمانان ہند کو سکھوں، ہندوؤں، بت پرستوں اور انگریز تثلیث پرستوں کا غلام بنانا جرم عظیم اور اسلام سے غداری ہے۔

”عن عبدالله ابن ثابتؓ قال جاء عمرؓ الى النبى ﷺ فقال یا رسول الله امرت باخ لى من قریظه فكتب لى جوامع من التوراة عرضها علیك فتغیر وجه رسول الله ﷺ قال والذی نفس محمد بیده لو اصبح فیكم موسىٰ ثم بیعتموه لضللتم انكم حظى من الامم وانا حظكم من النبیین (رواه احمد بن حنبل ج ثالث ص ٤٧٠)“ {عبداللہ بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ عمرؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ بنی قریظہ کے ایک شخص کے پاس سے میں گزرا تو اس نے مجھے توریت کے کچھ جامع کلمات لکھ دیئے۔ تاکہ آپؐ کی خدمت میں پیش کروں۔ پس غصے سے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا اور فرمایا کہ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ اگر تمہارے درمیان خود موسیٰ علیہ السلام بھی آ جائیں اور تم ان کی تابعداری بھی کرنے لگو تو یقیناً تم گمراہ ہو جاؤ گے۔ (اس واسطے) کہ تحقیق تم

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٨

میری امت ہو اور میں تمہارا نبی ہوں ۔}

اس حدیث میں نبی آخرالزمان ﷺ نے یہ فرما کر کہ ”اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے درمیان آجائیں اور تم ان کی تابعداری بھی کرنے لگو تو یقیناً تم گمراہ ہو جاؤ گے (اس واسطے) کہ تحقیق تم میری امت ہو اور میں ہی تمہارا نبی ہوں ۔“ اس حقیقت کا بہ بانگ دہل اعلان کیا ہے کہ اب تاقیامت کل نسل انسانی کے آپؐ ہی پیغمبر ہیں اور آپؐ کے بعد آپؐ پر نازل شدہ آخری لاریب کتاب ہی نسل آدم کی فلاح و بہبود کے لئے امام الزمان ہے۔ بلکہ اور کسی پیغمبر امام یا کتاب کی پیروی گمراہی کا موجب ہے۔

”عن انس ابن مالک ؓ قال قال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (رواه ترمذی)“ {انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تحقیق (سلسلہ) رسالت ونبوت بے شک ختم ہوچکا ہے۔ پس نہیں کوئی رسول میرے بعد اور نہ ہی کوئی نبی ۔}

اس حدیث سے دونوں منصب رسالت ونبوت حضور ﷺ پر ختم ہو چکے ہیں اور ان جامع کلمات کے بعد دعوٰی نبوت ورسالت خواہ وہ بروزی رنگ میں ہو یا ظلی۔ محض کذب وافتراء ہے۔

”عن عائشة ؓ قالت قال رسول الله ﷺ انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم مساجد الانبیاء (رواه الدیلمی وبزار)“ {حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں ختم کرنے والا ہوں ۔ (سلسلہ) انبیاء کا، اور میری مسجد ختم کرنے والی ہے مساجد انبیاء کی ۔}

اس حدیث میں جہاں یہ فرمایا کہ آپؐ پر سلسلہ انبیاء ختم ہوچکا ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ مسجد نبوی (مدینہ) انبیاء کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے۔ اس حدیث کے بعد قادیان کی مسجد اور مینارۃ المسیح الدجال کا کیا مقام رہ جاتا ہے۔

”عن ابی ھریرة ؓ قال قال رسول الله ﷺ مثلی ومثل الانبیاء کمثل قصر احسن بنیانه ترک منه موضع لبنة فطاف به النظار یتعجبون من حسن بنیانه الا موضع تلک اللبنة فکنت انا سددت موضع اللبنة ختم بی البنیان وختم بی الرسل وفى رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبیین (متفق علیه مشکوٰة

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٧٩

باب ٤٤) ”{ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے میری اور دوسرے انبیاء کی مثال ایک محل کی ہے۔ جس کی عمارت نہایت شاندار بنائی گئی ہو۔ مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ہو۔ پس اس کے گرد گھومنے والے حیران ہوئے کہ اتنی شاندار عمارت میں ایک اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی گئی ہے۔ پس وہ آخری اینٹ میں ہوں۔ جس نے اس خالی جگہ کو پر کیا اور اس (انبیاء) کے محل کی عمارت کو مکمل کیا۔ یقیناً میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ ہی کوئی نبی۔}

دین فطرت کی تکمیل کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جس قدر انبیاء مبعوث ہوئے۔ ان سے اللہ تعالیٰ نے نبوت کی خوبصورت عمارت کو بنایا۔ صرف اس کی تکمیل کے لئے آخری ایک اینٹ کی ضرورت تھی جو حضور ﷺ کی بعثت سے مکمل ہو گئی۔ اب خاتم النبیین ﷺ کے بعد جو بھی دعویٰ نبوت ورسالت کرے گا وہ مفتری وکذاب ہی ہوگا۔

”عن جبير ابن مطعم ؓ قال سمعت النبی ﷺ يقول ان لی اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذی یمحوا الله بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعده نبی (متفق علیه، مشکوٰۃ

باب ٤٤) ”{جبیر ابن مطعمؓ سے روایت ہے کہ سنا میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے کہ میرے بہت سے نام ہیں۔ میرا نام محمد ہے اور احمد ہے اور ماحی ہے۔ تحقیق میں مٹانے والا ہوں کفر کو اور میں حاشر ہوں اور باقی لوگ میرے بعد قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ میرے قدموں پر اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ آئے۔}

ان احادیث کے بعد بھی اگر کوئی کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ سوائے کذاب کے اور کون ہو سکتا ہے۔

لا نبی بعدی ز احسان خداست
پردۂ ناموس دین مصطفیٰ است

(اقبال)

امام منتظر

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٠

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جس قدر انبیاء مبعوث ہوئے۔ وہ سب وعدہ میثاق النبیین کے مطابق آخری آنے والے امام الانبیاء والمرسلین جناب خاتم النبیین ﷺ کے تشریف لانے کی بشارت دیتے رہے۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو قومی اور علاقائی نبیوں میں سب کے بعد آئے۔ انہوں نے کل نسل انسانی کے پیغمبر کی آمد کی اطلاع ان الفاظ میں دی۔

”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (الصف: ٦)“ {اور ایک رسول کی خوشخبری دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا۔ اس کا نام احمد ہوگا۔}

اور نبی آخرالزمان ﷺ کے متعلق ان کے جد اعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی دعا کی تھی کہ وہ نبی جس کی آمد کی سب دنیا منتظر ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء بھی بشارت دے گئے ہیں۔ وہ میری اولاد میں سے ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ربنا وابعث فیہم رسولاً منہم یتلوا علیہم ایتک ویعلمہم الکتب والحکمۃ ویزکیہم انک انت العزیز الحکیم (البقرہ: ١٢٩)“ {اے ہمارے رب ان ہی میں سے ایک رسول اٹھا جو ان پر تیری آیات پڑھے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھائے اور ان کو پاک کرے تو غالب حکمت والا ہے۔}

اور امام منتظر سید المرسلین وخاتم النبیین ﷺ نے فرمایا: ”ساخبرکم باول امری دعوۃ ابراہیم وبشارۃ عیسیٰ (مشکوٰۃ باب ٤٤)“ {میں تمہیں بتادوں کہ میں ہی ابراہیم کی دعا ہوں اور میں ہی وہ ہوں جس کی بشارت عیسیٰ نے دی تھی۔}

اسی لئے حضور ﷺ کو آنحضرت ﷺ کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ مقدس ہستی جس کا انتظار تھا اور حضور ﷺ کو جہاں اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین فرمایا۔ آپؐ پر دین اسلام کی تکمیل کی۔ سلسلۂ وحی کو منقطع کیا اور قرآن جیسی لاریب کتاب کو امام آخرالزمان ٹھہرایا۔

وہاں یہ بھی فرمایا: ”یایہا النبی انا ارسلنک شاهداً ومبشراً ونذیراً وداعیاً الیٰ اللہ باذنہ وسراجاً منیرا (الاحزاب: ٤٥، ٤٦)“ {اے نبی ہم نے تجھے گواہ بنا کر بھیجا ہے اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کی طرف سے اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن کرنے والا سورج ۔}

یہاں سراجاً منیرا فرما کر اس حقیقت کو عیاں فرمایا کہ جب تک نظام شمسی قائم

١٨

صفحہ ١٩

ہے۔ حضور ﷺ کی نبوت ورسالت قائم رہے گی۔ آپؐ کے بعد کسی اور امام و بشیر ونذیر کی ضرورت نہیں۔

اتنی بین آیات واحادیث کے بعد بھی اگر کوئی امامت، محدثیت، رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرے وہ کذاب اور مفتری نہیں تو اور کیا ہے؟

تمام مدعیان مجددیت کا ماخذ اور مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ

مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی عجمی اور خصوصاً اہل فارس کی دیرینہ سازش کی بنیاد پر ہی مجدد صدی چہار دہم کا دعویٰ کیا۔ جس کی بنیاد ذیل کی حدیث ہے۔ جس کے ذریعے اہل فارس نے یہ ضروری ٹھہرایا کہ ہر صدی میں مجدد آنا ضروری ہے۔ تاکہ تجدید دین کر سکے۔ یہ حدیث نہ بخاری میں ہے اور نہ ہی مسلم میں جو اہل سنت والجماعت کی معتبر کتب حدیث ہیں۔ علاوہ ازیں صحاح ستہ کی اور کسی کتاب میں نہیں ماسوا ابو داؤد کے اور وہ حدیث یہ ہے: ”قال رسول الله ﷺ ان الله يبعث لهذا الامة على راس كل مائة من يجدد لها دينها (ابوداؤد ج ١ ص ٤٢٨)“ {فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ ہر ایک صدی کے سر پر اس امت کے لئے ایک شخص مبعوث فرمائے گا۔ جو اس کے لئے دین کو تازہ کرے گا۔}

دین حق ”اسلام“ جو کل کائنات کا دین ہے۔ جس کی تبلیغ واشاعت کے لئے لاکھوں انبیاء مبعوث ہوئے۔ کئی ایک الہامی کتب نازل ہوئیں۔ لاتعداد اہل حق کی قربانیوں سے یہ

تیرہویں صدی ختم ہوچکی تو خدا نے چودھویں صدی کے سر پر مجھے اپنی طرف سے مامور کر کے بھیجا۔“ (چشمہ معرفت ص ٣١٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٢٨) اور جب ان کے مذکورہ بالا دعویٰ کے ثبوت میں ان سے پہلے تیرہ مجددین کا نام پوچھا تو کہا۔ ”ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ تمام مجددین کے نام ہمیں یاد ہوں۔“ (حقیقۃ الوحی ص ١٩٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠١) اب اگر اس سلسلۂ مجددین کو دیکھا جائے تو اہل سنت والجماعت کے مجددین اور ہیں اور اہل تشیع کے اور۔ جیسا کہ (الشافی ترجمہ الکافی ص ٨) پر محمد بن یعقوب الکلینی متوفی ٣٢٩ھ مصنف الکافی اور دوسرے شیعہ مجددین کے متعلق لکھا ہے کہ: ”ابن اثیر جزری نے جامع الاصول میں ان کو قرن ثالث کا مجدد مذہب لکھا ہے۔ جبکہ قرن دوم کا مجدد حضرت امام رضا علیہ السلام کو لکھا ہے اور قرن چہارم کا سید مرتضیٰ علم الہدیٰ کو شمار کیا ہے۔“

پروان چڑھا اور بالآخر اس کی تکمیل خاتم النبیین ﷺ کی بعثت پر ہوئی اور اللہ تبارک وتعالیٰ

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٢

کی آخری الہامی کتاب قرآن حکیم میں ”اکملت لکم دینکم“ فرما کر مہر ثبت کر دی کہ دین مکمل ہو چکا ہے اور پھر اس کی حفاظت تا قیامت کا ذمہ لیتے ہوئے خود خالق کائنات نے فرمایا: ”انا لہ لحافظون“ اس کے بعد یہ نظریہ قائم کرنا کہ دین کی تجدید کے لئے انبیاء کا سلسلہ تو ختم ہو چکا ہے۔ اب مجدد آتے رہیں گے۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور دعویٰ محدث و نبی

شیعہ حضرات نے حضرت علیؓ اور ان کی اولاد میں سے گیارہ کو امام معصوم اور محدث قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ان سے بھی اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتہ کے ذریعے کلام کرتا ہے۔ شیعہ حضرات کی کتاب حدیث الکافی جس کا ترجمہ الشافی کے نام پر طبع ہو چکا ہے۔ اس میں ذیل کی روایت ہے۔

”زرارہ سے مروی ہے کہ میں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے آیہ ”کان رسولاً نبیاً“ کے متعلق سوال کیا اور پوچھا کہ نبی اور رسول میں کیا فرق ہے۔ فرمایا نبی وہ ہے جو فرشتہ کو خواب میں دیکھتا ہے۔ اس کی آواز سنتا ہے۔ لیکن ظاہر بظاہر حالت بیداری میں نہیں دیکھتا اور رسول وہ ہے جو آواز بھی سنتا ہے۔ خواب میں بھی دیکھتا اور ظاہر میں بھی۔ میں نے پوچھا امام کی منزلت کیا ہے۔ فرمایا وہ فرشتہ کی آواز سنتا ہے۔ مگر دیکھتا نہیں۔ پھر یہ آیت پڑھی وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی ولا محدث!“

(الشافی جلد اوّل ص ٢٠٣)

اور مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنے دعویٰ محدثیت میں اسی آیت کو پیش کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کی بنیاد یہی روایات اہل تشیع ہیں۔ جن سے اس نے رہنمائی حاصل کی ہے۔

قرآن حکیم کی مندرجہ بالا آیت سورۂ الحج کی ٥٢ویں آیت ہے۔ جو درج ذیل ہے۔

”وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنیٰ (الحج: ٥٢)“ {اور ہم نے تجھ سے پہلے (اے محمدؐ) کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ نبی۔ مگر جب اس (کی قوم) نے آرزو کی۔}

قرآن کریم میں مذکورہ بالا الفاظ ہیں۔ لیکن محدث کے الفاظ نہیں۔ مگر اصول کافی (عربی) میں اس روایت کے نیچے حاشیہ میں لکھا ہے۔

”ولا محدث انما ھو فی قراۃ اھل بیت علیھم السلام“ کہ اہل بیت (علیؓ)

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٣

اسی طرح اس آیت کو پڑھتے تھے۔

اس آیت کے متعلق شیعہ حضرات کی معتبر کتاب حدیث الکافی میں روایت ہے کہ:

”حکیم بن عتیبہ سے مروی ہے کہ میں حضرت علی بن الحسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا یا ابن رسول اللہ ﷺ مجھے اس آیت سے آگاہ کیجئے۔ فرمایا خدا کی قسم وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے ”وما ارسلنا قبلك من رسول ولا نبي ولا محدث وكان علي بن ابي طالب محدثا“ ہم نے تم سے پہلے نہ کسی رسول کو بھیجا اور نہ نبی اور محدث کو اور علی بن ابی طالب محدث تھے۔“

(الشافی ترجمہ اصول کافی جلداول باب ٥٣ ص ٣١٠)

امام اور محدث

اور پھر امام اور محدث کے متعلق شیعہ حضرات کی معتبر کتاب حدیث الکافی میں ہے:

”محدث وہ ہے جو ملائکہ سے ہم کلام ہوتا ہے۔ ان کا کلام سنتا ہے۔ لیکن اسے دیکھتا نہیں اور نہ خواب میں نظر آتا ہے۔“

(الشافی ترجمہ اصول کافی جلداول ص ٢٠٤)

مزید روایت ہے: ”حضرت علیؑ نے فرمایا کہ میں اور میرے صلب سے گیارہ امام محدث ہیں۔“

(الشافی ج ١ ص ٢٨١)

الہام اور سلسلہ وحی الٰہی منقطع نہیں ہوا

اور شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے کہ خاتم الانبیاء ﷺ پر وحی الٰہی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔ بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جاری ہے۔ کیونکہ ان کا امام غائب ایسا روپوش ہوا ہے کہ وہ قیامت کے قریب آئے گا اور جب تک امام غائب نہیں آئے گا۔ سلسلہ وحی الٰہی منقطع نہیں ہوگا۔ کیونکہ جو احکام من اللہ ہیں۔ وہ بغیر امام کے وسیلہ کے حاصل نہیں ہوتے۔ ان کی معتبر کتاب حدیث الکافی میں روایت ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اس (امام) کا علم اس وسیلہ سے ...... جو آسمان تک کھینچا ہوا ہے۔ تاکہ وحی الٰہی کا سلسلہ منقطع نہ ہو اور جو احکام من اللہ ہیں وہ نہیں حاصل ہوتے۔ مگر بوسیلہ امام۔

(الشافی ترجمہ اصول کافی ج ١ ص ٢٣٥، ٢٣٦)

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٤

الٰہی کی یہ سب سے آخری لاریب کتاب ہے جو بعد از خاتم النبیین ﷺ امت مسلمہ کی پیشوا، ہادی، مسیح اور امام ہے اور جس کی حفاظت کا ذمہ خود اس کتاب مبین کے نازل کرنے والے خالق نے تا قیامت اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ہر مصلح بھی اسی قرآن حکیم یعنی امام آخرالزمان کے وسیلے سے ہی احکام الٰہی حاصل کرتا ہے اور تاقیامت امت مسلمہ کرتی رہے گی۔ (مؤلف)

الہام کے متعلق بھی روایات ہیں۔ جن میں سے دو درج ذیل ہیں۔ ”راوی کہتا ہے میں نے امام رضا علیہ السلام سے کہا مجھے بتائیے کہ امام کو کب پتہ چلتا ہے کہ وہ امام ہے۔ جب اس کو یہ خبر ہوتی ہے کہ امام سابق مر گیا ١ یا موت کے وقت ہی معلوم ہو جاتا ہے۔ فرمایا موت کے وقت ہی میں نے کہا کیسے؟ فرمایا اللہ اس کو الہام کرتا ہے۔“

(الشافی ترجمہ اصول کافی ج ١ ص ٤٦١)

فرمایا امام جعفر صادق علیہ السلام نے آیا تم جانتے ہو کہ لمبی مصیبت کیسے کوتاہ ہو جاتی ہے۔ فرمایا جب خدا کی طرف سے کسی کو دعا کا الہام ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ بلا کوتاہ ہو گئی۔

(الشافی ترجمہ اصول کافی جلد دوم ص ٤٧٠)

ایک اور روایت ہے: ”راوی کہتا ہے میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا کہ آئمہ علیہم السلام نبیوں جیسے ہیں۔ مگر وہ نبی نہیں ہیں ...... ان کے علاوہ جتنی فضیلتیں اور خصوصیتیں آنحضرت ﷺ کو دی گئی ہیں ان سب میں آئمہ ٢ علیہم السلام رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ٣ ہیں۔“

(الشافی ترجمہ اصول کافی

ج ١ ص ٣١٠)

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کے ماخذ

جیسا کہ آپ روایات تشیع ملاحظہ فرما چکے۔ ختم نبوت کی مہر توڑنے کے لئے اس کے مقابل امامت و محدثیت کا دروازہ کھولا گیا اور سلسلہ وحی کو جاری رکھنے کے لئے کشف والہام کے دروازے کھولے گئے۔ جن سے دعویٰ نبوت کے روشن امکان پیدا ہو گئے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد

٢٢

صفحہ ٢٨٥

کے احکام کے مطابق فیصلے ہوں گے۔ (مؤلف)

ہیں اور انہیں کی تقلید میں مرزائی مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی علیہ السلام کہتے ہیں۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی یہی کہتا ہے کہ: ”اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس (محمد مصطفیٰ ﷺ) میں ہو کر اور اس کے نام محمدؐ اور احمدؐ سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١) حالانکہ حضور ﷺ نے فاروق اعظم سیدنا عمرؓ کو بھی محدث فرمایا ہے۔ مگر مسلمان انہیں ”رضی اللہ“ ہی کہتے ہیں۔ کیونکہ علیہ السلام صرف انبیاء کے لئے مخصوص ہے۔ (مؤلف)

اور اپنے آئمہ کو قرآن ناطق کا عقیدہ اختراع کیا۔ (مؤلف)

قادیانی نے پہلے مجدد کا دعویٰ کیا۔ پھر محدث کا اور لکھا۔ ”ہمارے سید الرسول اللہ، خاتم النبیین ﷺ ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اس لئے شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں۔“

(شہادت القرآن ص ٢٨، خزائن

ج ٦ ص ٣٢٣)

اور پھر محدث سے نبی کا دعویٰ کیا تھا اور لکھا: ”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا‘ تو پھر بتلاؤ کس نام سے پکارا جائے۔ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ان جیسے مدعیان نے جو مجدد، محدث، ابدال، اقطاب، غوث، نقیب، نجیب، اوتار، ظلی نبی اور بروزی نبی وغیرہ اصطلاحیں استعمال کی ہیں۔ ان کا قرآن حکیم میں کہیں وجود نہیں۔ بلکہ عجمیوں یعنی اہل فارس نے وضع کی ہیں۔ مرزائیوں کا ہفت روزہ اخبار یوں نقاب کشائی کرتا ہے۔

”ان اصطلاحات کا قرآن مجید اور احادیث میں تو کوئی ذکر نہیں اور آنحضرت ﷺ کے پانچ چھ سو سال بعد تک ہمیں ان کا وجود نظر نہیں آتا۔ لیکن جب ہم تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے۔ یہ اصطلاحات صوفیاء کرام نے وضع کی تھیں۔“

٢٣

صفحہ ٢٨٦

(پیغام صلح بابت مورخہ ١١؍ جولائی ١٩٧٣ء)

اور جس طرح محدث کے متعلق شیعہ حضرات نے سورۂ الحج کی ٥٢ ویں آیت میں ”ولا نبی“ کے بعد ”ولا محدث“ (الشافی ج ١ ص ٢٠٣) بڑھا کر ثابت کیا کہ محدثین کا سلسلہ جاری ہے اور ان میں حضور ﷺ کی تمام صفات ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے مکالمہ و مکاشفہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی جب محدث کا دعویٰ کیا تو اسی سورۂ الحج کی ٥٢ ویں آیت کو ہی اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کرتے ہوئے لکھا۔

”آنحضرت ﷺ بشارت دے چکے ہیں کہ اس آیت میں بھی پہلی امتوں کی طرح محدث پیدا ہوں گے اور محدث بفتح دال وہ لوگ ہیں جن سے مکالمات ومخاطبات الہیہ ہوتے

ا؎ اس سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی خود ہی اپنا نام مجدد، محدث اور نبی رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کبھی ان کو ان ناموں سے نہیں پکارا۔ (مؤلف)

ہیں۔ قرأت میں آیا ہے: ”وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی ولا محدث الا اذا تمنیٰ“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٣٨، خزائن ج ١ ص ٦٥٤، ٦٥٥)

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے دعویٰ امامت، محدثیت، رسالت اور نبوت کے متعلق جس قدر تشریحات کی ہیں ان کا ماخذ شیعہ حضرات کی کتب و تشریحات ہیں۔ مگر انہوں نے اپنی کتب میں ان کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ بھولے بھالے مسلمانوں کو یہ معلوم ہو کہ ان مناصب کی جو تشریح اور معارف مرزا غلام احمد قادیانی بیان کر رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں جو بذریعہ وحی ان پر نازل ہوئے ہیں۔ اس لئے انہوں نے یہ کیا کہ دعویٰ کے ثبوت میں سنت والجماعت کی احادیث پیش کیں اور ان کی تشریح وغیرہ شیعہ روایات کی تقلید و روشنی میں کی اور ان ہر دو مجموعہ احادیث کے سنگم میں خلط ملط سے انہوں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے مجدد، محدث، امام، نبی اور رسول کے دعویٰ کئے اور مسلمانوں کو گمراہ کیا۔

دیگر موضوع احادیث، مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ

اور الہام کہ وہ اہل فارس ہیں

مرزا غلام احمد قادیانی مغل تھے اور تعلق برلاس قوم سے تھا۔ جس کے متعلق انہوں نے

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٧

پہلے لکھا کہ: ”ہماری قوم برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو اب تک ملتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک (ہندوستان) میں سمرقند سے آئے تھے۔“

(کتاب البریہ حاشیہ ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ١٦٣)

اور اس وقت سمرقند روسی ترکستان میں تھا۔ لیکن جب مرزا غلام احمد قادیانی کو معلوم ہوا کہ بعض احادیث میں ہے کہ مہدی موعود اہل فارس میں سے آئے گا تو فوراً ایک الہام وضع کیا اور لکھا کہ: ”یاد رہے کہ اس خاکسار کا خاندان بظاہر مغلیہ خاندان ہے۔ کوئی تذکرہ ہمارے خاندان کی تاریخ میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ وہ بنی فارس کا خاندان تھا۔ ہاں بعض کاغذات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ہماری بعض دادیاں ١؎ شریف اور مشہور سادات میں سے تھیں۔ اب خدا کے کلام سے معلوم

لئے حضرت حسینؓ کی اولاد کو ساسانی الاصل قرار دیا۔ کیونکہ بعض مورخین نے لکھا ہے (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

ہوا کہ دراصل ہمارا خاندان فارسی خاندان ہے۔ سو اس پر ہم پورے یقین سے ایمان لاتے ہیں۔ کیونکہ خاندانوں کی حقیقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔ کسی دوسرے کو ہرگز معلوم نہیں۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ١٧ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٥)

اور اہل فارس ہونے کے متعلق مزید فرماتے ہیں کہ: ”میرے پاس فارسی ہونے کے لئے بجز الہام ١؎ الٰہی کے اور کچھ ثبوت نہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧

ص ١١٦)

لیکن نبی کا دعویٰ کرنے اور سلسلہ وحی و نبوت کو جاری کرنے ، حج بیت اللہ کو ترک کرنے اور جہاد کو منسوخ کرنے والے کو اہل فارس ہی سے ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ حضور ﷺ کے نامہ مبارک کو اگر کسی نے پھاڑا تو اہل فارس نے ، حضرت فاروق اعظمؓ کو شہید کیا تو اہل فارس نے، حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کیا تو اہل فارس نے، حضرت علیؓ کو مدینۃ الرسول چھوڑ کر کوفہ جانے پر مجبور کیا تو اہل فارس نے ، اور کیا کچھ نہ کیا اہل فارس نے۔ اس لئے کذاب نبی کے لئے مرزا غلام

٢٥

صفحہ ٢٨٨

احمد قادیانی کا ’’اہل فارس‘‘ ہونا ضروری امر تھا۔ ان سے قبل اہل فارس میں سے بہاء اللہ نے بھی حج بیت اللہ کو ترک کیا اور جہاد فی سبیل اللہ کو حرام قرار دیا۔ اپنی الوہیت کا دعویٰ کیا اور قرآن جیسی لاریب کتاب کے احکام کو منسوخ کرنے کے لئے اپنی ’’کتاب اقدس‘‘ کو پیش کیا تھا۔

بقول اہل فارس حضرت علیؓ اور سلمانؓ فارسی دونوں محدث تھے

شیعہ حضرات کی معتبر کتاب حیات القلوب میں ملا باقر مجلسی تحریر فرماتے ہیں:

’’شیخ

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) کہ ان کی بیوی شہر بانو جو حضرت علی بن الحسینؓ کی والدہ تھیں۔ جن سے باقی آئمہ کا سلسلہ چلا وہ شاہ فارس یزدجرد کی بیٹی تھی۔ حالانکہ خاندان کا حسب نسب والد سے چلتا ہے والدہ سے نہیں۔ ’’آئمہ خود را از نسل شہر بانو دختر یزدجرد رساندہ واغلب پادشاہاں را بدعویٰ انتساب بخاندان ساسانی را داشتہ است۔‘‘ اور اپنے اماموں کے نسب کو یزدجرد کی بیٹی شہر بانو کی نسل سے شمار کیا اور بہت سے بادشاہوں کو انتساب کے دعویٰ میں ساسانی خاندان سمجھا۔

١؎ اور آگے کبھی ان روایات میں یہ ہوتا کہ چودھویں صدی میں جو مجدد اور محدث آئے گا۔ اس کا تعلق اہل یونان سے ہوگا۔ تو مرزا قادیانی کو فوراً یہ الہام ہوتا کہ ان کے آباؤ اجداد خواہ برلاس مغل ہیں۔ لیکن وہ یونان سے آئے تھے اور وہ یونانی ہیں۔ اس لئے مجدد ہیں۔

(مؤلف)

کشی نے بسند معتبر حضرت امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ حضرت علیؓ ابن ابی طالب محدث تھے اور سلمانؓ (فارسی) بھی محدث تھے۔ یعنی ان دونوں بزرگوں سے فرشتے باتیں کرتے تھے۔‘‘

(حیات القلوب مترجم اردو باب فضائل سلمان فارسی ص ١٠٠٥)

اور سلمانؓ فارسی کے متعلق ایک اور روایت ہے کہ: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سلمانؓ (فارسی) ہم اہل بیت میں سے ہیں۔‘‘ (طبقات کبیر جزو سابع باب سلمانؓ فارسی)

اور انہیں سلمانؓ فارسی کے متعلق شیعہ مصنف ملا باقر مجلسی اپنی دوسری کتاب بحار الانوار میں رقمطراز ہے کہ: ’’حضرت محمد باقر کے پاس جب سلمانؓ فارسی کا ذکر کیا گیا تو فرمایا کہ

٢٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٨٩

سلمان فارسی نہ کہو بلکہ سلمان محمدی کہو وہ ایک مرد ہے ہم اہل بیت سے۔“

سورۃ محمد اور موضوع روایت

ان روایات کے باعث اہل فارس نے سب سے پہلے سلمانؓ فارسی کے ذریعے اپنے آپ کو رسول مقبول ﷺ کے قریب تر کیا اور پھر سلسلۂ نبوت کو جاری کرنے کے لئے قرآن حکیم کی متشابہ آیات کی تاویل میں کسی اور مبعوث ہونے کے متعلق روایات وضع کیں۔ جس طرح سورہ جمعہ کی ٥٢ویں آیت میں ”ولا نبی ولا محدث“

(الشافی ج ١

ص ٢٠٣)

بڑھا کر خاتم النبیین ﷺ کے بعد محدثین کی بعثت کا دروازہ کھولا۔ اسی طرح سورہ محمد کی مندرجہ ذیل ٣٨ویں آیت کی تاویل میں ایک حدیث سلمانؓ فارسی اور اہل فارس کے لئے وضع کی کہ ان میں سے کوئی آئے گا۔ جو دین قائم کرے گا۔

”ان تتولوا يستبدل قوماً غيركم ثم لا يكونوا امثالكم (محمد:٣٨)“

{اور اگر تم پھر جاؤ تو وہ تمہارے سوا کسی اور قوم کو بدل کر لے آئے گا۔ پھر وہ تمہاری مثل نہ ہوں گے۔}

روح المعانی میں ہے کہ: ”جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں۔ جن کے لانے کا یہاں ذکر ہے تو آپؐ نے سلمان فارسیؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا یہ اور اس کی قوم اور پھر فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر ہو تو فارس کے کچھ لوگ اسے واپس لائیں گے۔“

حالانکہ سورہ محمد کا زمانہ نزول ١ھ ہے اور سلمانؓ فارسی بعض کے نزدیک ٣ھ اور بعض کے نزدیک ٥ھ میں مسلمان ہوئے تھے۔ وہ نزول کے وقت مسلمان ہی نہ ہوئے تھے۔ لہٰذا روایت موضوع ہے۔

اہل فارس کے عزائم

اہل فارس کے ان قبیح عزائم کے متعلق خالق کون و مکان قرآن حکیم میں یوں انکشاف

٢٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٠

فرماتا ہے۔ ”هو الذي انزل عليك الكتب منه أيت محكمت هن ام الكتب واخر متشبهت فاما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ماتشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تاويله وما يعلم تاويله الا الله (آل عمران:٧)“ {وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری۔ اس میں سے (کچھ) محکم آیات ہیں۔ جو کتاب کی اصل ہیں اور کچھ متشابہ ہیں۔ پھر جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جو اس میں سے متشابہ ہے۔ فتنہ پیدا کرنے کے لئے اور یہ چاہتے ہوئے کہ اس کی (من مانی) تاویل کریں اور اس کی تاویل کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے۔}

سورہ جمعہ اور ابو ہریرہؓ سے متعلق موضوع روایت

جو مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کی بنیاد ہے

جس طرح سورہ محمد کی آیت ٣٨ ویں کے تحت بعد از خاتم النبیین ﷺ سلسلہ نبوت جاری کرنے کے لئے اس متشابہ آیت کی تفسیر میں اہل فارس نے حضرت سلمان فارسیؓ اور اہل فارس کو تمام صحابہؓ اور اہل ایمان پر فضیلت دی ہے۔ حالانکہ آخرین میں تا قیامت کل نسل انسانی کے وہ متقی افراد شامل ہیں جو اسلام کا بول بالا کرنے کے لئے تن من دھن کی قربانی سے گریز نہ کریں گے۔ خواہ وہ مسلمان عرب ہوں یا عجم۔ ایشیا کے ہوں یا یورپ و امریکہ کے۔ مگر بقول اللہ تبارک و تعالیٰ متشابہ آیات کی تاویل فتنہ پیدا کرنے کے لئے کرنا ان منافقین کی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وآخرين منهم لما يلحقوا بهم وهو العزيز الحكيم (الجمعه:٣)“ {اور ان میں سے اوروں کو بھی جو ابھی ان کو نہیں ملے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔}

اس آیت کے نزول کے متعلق حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک روایت بخاری میں ان الفاظ میں درج ہے جو قابل غور ہے۔

”عن ابى هريرة ؓ قال كنا جلوساً عند النبى ﷺ فانزلت عليه سورة الجمعة واخرين منهم لما يلحقوا بهم قال قلت من هم يا رسول الله فلم يراجعه حتى سال ثلثاً وفينا سلمان الفارسى وضع رسول الله ﷺ يده على

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩١

سلمان ثم قال لوکان الایمان عند الثريا لناله رجال او رجل من هؤلا (بخاری پارہ:٢٠، تفسیر سورہ جمعہ) ”{ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپؐ پر سورہ جمعہ نازل ہوئی۔ جب آپؐ اس آیت پر پہنچے۔ ”وآخرین منھم لما یلحقوا بھم“ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں۔ آپؐ نے جواب نہ دیا میں نے تین بار یہی پوچھا اس وقت ہم لوگوں میں سلمان فارسیؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ سلمان پر رکھا پھر فرمایا۔ اگر ایمان ثریا پر ہو تب بھی ان لوگوں یعنی اہل فارس میں سے کئی ایک آدمی اس تک پہنچ جاتے یا یوں فرمایا ایک آدمی ان لوگوں میں سے اس تک پہنچ جاتا۔}

بخاری کی اس حدیث میں ابوہریرہؓ کی زبان سے ”فانزلت“ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سورہ جمعہ کی تیسری آیت کے نزول کے وقت ابوہریرہ اور سلمانؓ فارسی حضور ﷺ کی صحبت میں دیگر صحابہؓ کے ساتھ موجود تھے اور پھر قلت سے ان کی زبان سے یہ مراد ہے کہ یہ کون لوگ ہوں گے اور پھر سلمانؓ فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر رسول مقبول ﷺ کی زبان مبارک سے ذیل کے الفاظ ہوئے ہیں۔ تا کہ یہ ثابت کیا جائے کہ نبی آخرالزمان ﷺ نے یہ فرمایا کہ ان کے بعد بھی امامت نبوت ورسالت کا دروازہ کھلا ہے اور جو کوئی بھی آئے گا وہ اہل فارس میں سے ہوگا۔

”لوکان الایمان عند الثريا لناله رجال او رجل من هؤلائ“ اور جیسا کہ آپ پڑھ چکے امامت ونبوت وغیرہ کا دعویٰ کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی جن کا تعلق مغلوں کی برلاس قوم سے تھا۔ جو روسی ترکستان سے وارد ہندوستان ہوئے۔ وہ اپنے وضع کردہ الہام و وحی کے دروازہ سے اہل فارس میں داخل ہو گئے۔

مرزا قادیانی کو یہ بخوبی علم تھا کہ مذکورہ بالا حدیث جس کی بنیاد پر دعویٰ کر رہا ہے۔ وہ فٹ نہیں آتی ہے۔ اس لئے خواب اور وحی کا سہارا لیا اور کہا: ”اس کی تصدیق آنحضرت ﷺ نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا۔ ”سلمان منا اہل البیت علی مشرب الحسن“ میرا نام سلمان رکھا گیا۔ یعنی دو سلم اور سلم عربی میں صلح کو کہتے ہیں۔ یعنی مقدر ہے کہ دو صلح میرے ہاتھ پر ہوں گی...... معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جو سلمان آیا ہے اس سے بھی میں مراد ہوں ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص٨، خزائن ج١٨ ص٢١٢)

معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو خواب اور وحی وغیرہ وضع کرنے میں خاص ملکہ حاصل

٢٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٢

تھا اور انہیں یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ ان دونوں کے ذریعے وہ بھولے بھالے مسلمان کو اپنے دام فریب میں پھنسا سکتے ہیں۔

سورہ جمعہ کا زمانہ نزول بھی سورہ محمد کی طرح ابتدائی مدنی دور ہے اور دیگر مفسرین قرآن کی طرح محمد علی مرزائی لاہوری بھی اس کا زمانہ نزول، حمائل شریف کے ص الف پر ١ھ ہی تحریر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کا زمانہ ایمان ٧ھ ہے۔ آپ فتح خیبر کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے اور ان کو حضور خاتم النبیین ﷺ کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف تقریباً تین سال ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ حضرت ابو ہریرہؓ جو ٧ھ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ وہ ١ھ میں نہ سورہ محمدؐ کے نزول کے وقت حضور ﷺ کی صحبت میں بیٹھے ہوئے تھے اور نہ ہی سورہ جمعہ کے نزول کے وقت انہیں حضور ﷺ کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف نصیب تھا۔ یہی نہیں بلکہ سلمانؓ فارسی جن کے متعلق ان دونوں سورتوں کی متشابہ آیات کی تاویل میں احادیث ہیں۔ انہیں بھی ١ھ میں حضور ﷺ کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف نصیب نہیں ۔ ١ھ میں ان ہر دو سورتوں سورۃ محمد اور سورہ جمعہ کے نزول کے وقت چونکہ دونوں صحابی ابوہریرہؓ اور سلمانؓ فارسی، مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے مذکورہ بالا روح المعانی اور بخاری کی دونوں روایات قابل غور ہیں۔ اس لئے ان کی بنیاد پر جو بھی دعوٰی ہوگا باطل ہوگا۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعوٰی باطل تھا۔

مادۂ فاروقیؓ ، کھڑکی سیرت صدیقیؓ اور قرآن علیؓ

چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی عربی، فارسی کے صرف ونحو اور منطق سے محروم تھے۔ انہوں نے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں جس طرح عربی، اردو، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی وحی کے الفاظ کو ملا کر اپنی وحی کی عبارت تیار کی۔ اسی طرح انہوں نے لکھا کہ ان میں مادۂ فاروقیؓ ہے۔ سیرت صدیقیؓ کے ذریعے وہ نبوت کے قصر میں داخل ہوئے ہیں اور انہیں تفسیر قرآن علیؓ نے دی ہے۔ تاکہ اہل سنت والجماعت اور شیعہ حضرات سب ان کے دعویٰ کو قبول کر لیں۔ مگر یہ الہام اور وحی انہیں کبھی نہیں ہوا کہ ان میں مادہ عثمانیؓ بھی ہے۔ اس لئے کہ وہ غنی تھے۔ مگر خود مرزا غلام احمد قادیانی روپیہ پیسہ خرچ کرنے میں بخیل واقع ہوئے تھے اور یہ وحی بھی انہیں کبھی نہیں ہوئی کہ ان میں سیدنا خالد بن ولیدؓ کا مادہ شجاعت و جہاد بھی ہے۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی منکر جہاد تھے۔

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٣

مادۂ فاروقی

اپنا ایک الہام لکھتے ہیں: ”انت محدث اللہ فیک مادة فاروقیة“ یعنی تو محدث ہے تجھ میں مادہ فاروقی ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٥٩، خزائن ج ١ ص ٦٦٦)

حالانکہ احادیث میں متعدد جگہ آیا ہے کہ حضور ﷺ نے سیدنا عمر فاروقؓ کو محدث فرمایا۔ لیکن حضرت فاروق اعظمؓ نے کبھی اپنے متعلق یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ محدث ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے باتیں کرتا ہے۔ غیب کی بیشمار خبریں دیتا ہے۔ لہٰذا وہ نبی ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی صرف مادۂ فاروقیؓ کی وجہ سے مجدد، محدث، نبی، رسول اور امام ہونے کے مدعی ہیں۔ جو محض افتراء و کذب ہے۔

سیرت صدیقی کی کھڑکی

مرزا غلام احمد قادیانی نے جس طرح اہل سنت والجماعت اور شیعہ روایات کے سنگم سے امام، مجدد، محدث، رسول اور نبی کے دعویٰ کئے۔ اسی طرح وہ قصر نبوت میں ”صدیقی کھڑکی“ کے ذریعے داخل ہوئے اور دعویٰ کیا کہ قرآن انہیں حضرت علیؓ نے دیا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا کہ : ”آنحضرت ﷺ کے بعد پیش گوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں۔ مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی فنا فی الرسول کی پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے۔ اس کو ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

مرزا غلام احمد قادیانی اس صدیقی سیرت کے دروازے سے کیوں داخل ہو رہے ہیں۔ اس لئے کہ بخاری اور مسلم میں اس کے متعلق درج ذیل حدیث ہے۔

”بخاری اور مسلم میں ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ حضرتؐ نے فرمایا کہ سب آدمیوں میں سے مجھ پر بڑا احسان کرنے والا ساتھ دینے والا اور اپنے مال کے خرچ کرنے میں ابوبکرؓ (صدیق) ہے اور اگر میں اپنے رب کے سوائے کسی اور کو جانی دوست ٹھہراتا تو ابوبکرؓ (صدیق) ہی کو جانی دوست کرتا۔ لیکن اسلام کی برادری اور محبت اس کے درمیان ہے۔ مسجد کی طرف سے

٣١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٤

سب کے دروازے بند کر دیئے جاویں۔ مگر ابوبکرؓ (صدیق) کا دروازہ کھلا رہے۔“

(مشارق الانوار ص ٥٤٠، بخاری ترجمہ اردو پارہ ١٤)

حضور ﷺ نے اس ارشاد کی تعمیل میں اپنی وفات حسرت آیات کے قریب سب اصحابؓ کے دروازے جو مسجد نبوی کی طرف کھلتے تھے۔ بند کر دیئے تھے۔

”اس حدیث سے ابی بکر صدیقؓ کی سب اصحابؓ پر فضیلت ثابت ہوئی اور اس میں صاف اشارہ کیا ان کی خلافت کا۔“

(مشارق الانوار ص ٥٤٠)

اور صرف حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی حضور نبی آخر الزمان ﷺ کے خلیفہ ہیں اور حضرت عمرؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے خلیفہ ہیں۔ حضرت عثمانؓ، حضرت عمرؓ کے خلیفہ ہیں اور حضرت علیؓ حضرت عثمانؓ کے خلیفہ ہیں۔ اسی لئے جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات ہوئی تو حضرت علیؓ نے کہا: ”الیوم انقطعت خلافة النبوة“ {آج خلافت نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔}

(سیرة الصدیق ص ١٣٠، خلفائے راشدین ص ٥٥٥، اولیات صدیقی ص ١٢)

لیکن حضرت علیؓ کے اس کہنے کے بعد بھی کہ: ”آج خلافت نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔“ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو حضور خاتم الانبیاء کا خلیفہ سمجھتے ہیں اور جس سیرت صدیقی کے دروازے سے قصر نبوت میں گھسنا چاہتے ہیں۔ اس صدیق اکبرؓ نے بڑے واضح الفاظ میں فرمایا کہ وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ انہوں نے خود ملہم و محدث و امام و نبی و رسول ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی جو صدیق اکبرؓ کی وساطت سے سیرت صدیقی کی کھڑکی میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ ملہم، محدث، امام، نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

ایں خیال است و محال است و جنوں

جب حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی وفات کے بعد خلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر صدیقؓ کو پیغام آئے کہ لوگوں سے ”زکوٰۃ“ وصول نہ کی جائے اور یہ مطالبہ اس وقت کیا گیا۔ جب کہ مسلمانوں کا بہترین لشکر سیدنا اسامہؓ کی سرکردگی میں رومیوں کی سرکوبی کے لئے جا چکا تھا اور مدینہ افواج اسلامیہ سے خالی ہو چکا تھا۔ ایسے نازک دور میں جلیل القدر صحابہؓ جن میں سیدنا عمر فاروقؓ جیسے راسخ العقیدہ اور جبار بھی شامل تھے۔ جن کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا تھا: ”حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم سے اگلی امتوں میں سے کچھ لوگ محدث ہوئے تھے تو میری امت میں اگر کوئی ہوگا تو وہ عمرؓ ہیں۔“

٣٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٥

(بخاری ترجمہ اردو پارہ ١٤)

ان سب نے مل کر خلیفۃ الرسول سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ تالیف قلوب اور نرم برتاؤ کیا جانا مناسب ہے۔ اسے سن کر نائب رسول آخر الزمانؐ نے فرمایا: ”یہ کیا کہ تم جاہلیت میں تو بڑے جبار تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد ذلیل و خوار ہوگئے۔ وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا اور دین مکمل ہو گیا۔ کیا میری حیات میں اس کی قطع و برید کی جائے گی۔ واللہ اگر لوگ ایک رسی کا ٹکڑا بھی (فرض زکوٰۃ میں سے) دینے سے انکار کریں گے تو میں ان پر جہاد کروں گا۔“

(سیرۃ الصدیقؓ ص١٥٠، اولیات صدیقیؓ

ص ٤)

اللہ اکبر! یہ ہے وہ سیرت صدیق اکبرؓ کا دروازہ جنہوں نے فرمایا کہ وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا۔ دین مکمل ہو گیا اور وہ زکوٰۃ نہ ادا کرنے والوں سے جہاد کریں گے۔ لیکن اسلامی احکام میں کسی قسم کی قطع و برید نہیں ہونے دیں گے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی سیرت صدیقی کے دروازہ سے داخل ہو کر وحی اور نبوت کے سلسلہ کو جاری سمجھتے ہیں۔ دین کو نامکمل سمجھتے ہیں اور جہاد کو حرام قرار دیتے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب مسلمانوں کی حالت دگرگوں تھی اور ہندو مشرک اور تثلیث پرست انگریز انہیں نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ لیکن ابوبکر صدیقؓ ان لوگوں سے بھی جہاد کرنے کو تیار ہیں۔ جو دین اسلام کے صرف ایک فریضہ زکوٰۃ کو ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

قرآن علیؓ

اب مرزا غلام احمد قادیانی نے دوسرا حربہ استعمال کیا اور اپنا کشف بیان کرتے ہوئے لکھا کہ: ”پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آ گئے۔ یعنی جناب پیغمبر خدا ﷺ و حضرت علیؓ و حسنینؓ و فاطمہ زہراؓ اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔ پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی۔ جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے۔

٣٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٦

جس کو علیؓ نے تالیف کیا ہے اور اب علیؓ وہ تفسیر تجھ کو دیتا ہے۔“

(حاشیہ براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٠٤، خزائن ج ١ ص ٥٩٩)

اور شیعہ حضرات کی کتاب حدیث الکافی میں حضرت علیؓ کے اس قرآن کے متعلق سالم بن سلمہ سے روایت ہے کہ: ”ایک شخص نے حضرت ابو عبداللہ علیہ السلام کے سامنے قرآن پڑھا۔ میں کان لگا کر سن رہا تھا۔ اس کی قرأت عام لوگوں کی قرأت کے خلاف تھی۔ حضرت نے فرمایا اس طرح نہ پڑھو۔ بلکہ جیسے سب لوگ پڑھتے ہیں تم بھی پڑھو۔ جب تک ظہور ١؎ قائم آل محمد نہ ہو جب ظہور (مہدی) ہوگا تو وہ قرآن کی صحیح صورت میں تلاوت ٢؎ کریں گے اور اس قرآن کو نکالیں گے جو حضرت علیؓ نے لکھا تھا اور فرمایا جب حضرت علیؓ جمع قرآن اور اس کی کتابت سے فارغ ہوئے تو آپ نے اس کو حکومت ٣؎ کے سامنے پیش کر کے فرمایا تھا۔ یہ ہے کتاب اللہ جس کو میں نے اس ترتیب سے جمع کیا ہے۔ جس طرح حضرت رسول خدا پر نازل ہوئی تھی۔ میں نے اس کو دو لوحوں

١۔ اور قائم آل محمدؐ کے متعلق الکافی میں ہے کہ: ”راوی کہتا ہے میں نے امام علی نقی علیہ السلام سے سنا کہ میرا جانشین میرے بعد حسن ہے۔ پس کیا حال ہوگا۔ تمہارا میرے جانشین کے بعد آنے والے جانشین کے متعلق میں نے کہا یہ کیوں فرمایا۔ اس لئے کہ تم اس کے وجود کو نہ دیکھو گے اور اس کا ذکر اس کے نام سے نہ کر سکو گے۔“ (الشافی ترجمہ الکافی ج ١ کتاب الحجت ص ٣٨٨) اور مزید لکھا: ”راوی کہتا ہے۔ میں نے امام رضا علیہ السلام سے سنا کہ حضرت سے جب قائم آل محمدؐ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا۔ ان کا جسم نہیں دیکھا جائے گا اور ان کا نام نہیں لیا جائے گا۔“ اور مزید روایت ہے کہ: ”راوی کہتا ہے حضرت ابو عبداللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ صاحب الامر کو ان کے نام سے نہ پکارے گا مگر کافر۔“ (الشافی ترجمہ الکافی جلد اول کتاب الحجت ص ٣٩٥) جب مہدی کا وجود نہیں ہوگا اور نام سے بھی نہیں پکارا جائے گا تو حضرت علیؓ کا مجسم قرآن کون پیش کرے گا۔ مؤلف!

٢۔ گویا اہل سنت والجماعت کی طرح تمام شیعہ حضرات بھی مہدی کے ظہور تک غلط قرآن ہی پڑھتے رہیں گے۔ مؤلف!

٣۔ مراد خلیفۃ الرسول سیدنا ابوبکرؓ صدیق ہیں۔ جنہوں نے نبی آخرالزمانؐ کے مرتب شدہ قرآن جس کو امام کہا جاتا تھا۔ اس کی نقول کرا کر امت مسلمہ میں پھیلایا اور جو آج بھی من وعن موجود ہے اور قیامت تک محفوظ اور موجود رہے گا۔ مؤلف!

٣٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٧

سے جمع کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس جامع قرآن موجود ہے۔ ہمیں آپ کے قرآن کی ضرورت نہیں۔ حضرت نے فرمایا اس کے بعد اب تم کبھی اس کو نہ دیکھو گے۔“

(الشافی ترجمہ اصول کافی جلد دوم باب فضل القرآن ص ٦٣٠، ٦٣١)

یہ تھے مرزا قادیانی کے عزائم اور دعوے کہ قصر نبوت میں داخل تو سیرت صدیقی کی کھڑکی سے ہورہے ہیں۔ مگر ان کے اس قرآن کو قبول نہیں کر رہے۔ جسے خود ہادی برحق ، امام آخر الزمان حضرت خاتم النبیین ﷺ نے خود اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں جمع اور مرتب فرمایا تھا اور جسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ان علينا جمعہ وقرانہ (القیمۃ: ١٧)“ {ہمارے ذمے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا ہے۔ } اور جس کی نشر واشاعت خلیفۃ الرسول سیدنا ابوبکرؓ صدیق نے کی اور جو تمام دنیا میں آج بھی اسی حالت میں موجود اور قیامت تک نسل انسانی کی فلاح و بہبود کے لئے امام و پیشوا اور رہبر رہے گا۔ جس کی حفاظت کا ذمہ خود خالق کون ومکان نے اپنے اوپر فرض ٹھہرایا ہے۔ مگر قرآن بھی وہ لیا جو بقول شیعہ حضرات، حضرت علیؓ نے نزولی طریقے سے مرتب فرمایا تھا اور جسے خلیفۃ الرسول سیدنا ابوبکرؓ صدیق اور اصحابؓ رسول مقبولؐ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ان کے پاس امام آخر الزمان ﷺ کا مرتب کردہ ”جامع قرآن موجود ہے ہمیں آپ کے قرآن کی ضرورت نہیں“ اور اس قرآن کے متعلق بقول شیعہ حضرات خود حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ : ” اب تم کبھی اس کو نہ دیکھو گے۔“

اہل سنت والجماعت اور شیعہ حضرات نے حضرت علیؓ کا قرآن کہاں دیکھنا تھا۔ بلکہ بقول شیعہ محدثین یہ وہ قرآن تھا جسے خود حضرت علیؓ کے بعد ان کے کسی امام نے بھی نہیں دیکھا۔ کیونکہ آپؓ نے فرمایا تھا کہ: ”جب ظہور (مہدی) ہوگا تو وہ قرآن کی صحیح صورت میں تلاوت کریں گے اور اس قرآن کو نکالیں گے۔“ (جو حضرت علیؓ نے لکھا تھا) اور اس قرآن کو مرزا غلام احمد قادیانی نے نکالا اور امت مسلمہ میں فریضہ جہاد کو حرام قرار دیا۔ جو ان کو نہ مانے اسے کافر وکذاب کہا، یہاں تک کہ مسلمان بچے کی نماز جنازہ تک کو پڑھنا جائز نہ سمجھا اور خود اسلام کے مقدس فریضہ حج کو ترک کیا اور خنزیر مارنے کی بجائے اس تثلیث پرست انگریز قوم کی پشت پناہی

٣٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٨

کیوں تارک ہیں تو اس کے جواب میں کہا۔ ”میرا پہلا کام خنزیروں (یعنی علمائے اسلام) کا قتل صلیب کی شکست ہے۔ ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں۔ بہت سے خنزیر مر چکے ہیں اور بہت سخت جان ابھی باقی ہیں۔ ان سے فرصت اور فراغت ہولے۔“

(ملفوظات احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٦٤،

مرتبہ منظور الٰہی)

کو حلال سمجھا۔ جو خنزیر کو کھانا ثواب سمجھتی ہے۔ شراب پینا جائز سمجھتی ہے۔ جواء کھیلنا فریضہ سمجھتی ہے اور زنا کرنا جزو ایمان سمجھتی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام، وحی اور پیش گوئیاں

مرزا غلام احمد قادیانی باوجودیکہ پنجابی تھے۔ مگر ان کو جس قدر الہام اور وحی ہوئے وہ عربی، عبرانی، فارسی، اردو، سنسکرت اور انگریزی میں نازل ہوئے۔ حالانکہ سنت اللہ ہے کہ امام، نبی اور رسول جس قوم میں مبعوث ہوا۔ اسی قوم کی زبان میں اس پر وحی کا نزول ہوا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ليبين لهم (ابراہیم:٤)“ {اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا۔ مگر اپنی قوم کی زبان میں (اس پر وحی ہوتی ہے) تاکہ انہیں کھول کر بتادے۔}

لیکن مرزا غلام احمد قادیانی ہی کائنات میں ایک ایسا انوکھا نبی ہے جس پر اس کی قومی زبان پنجابی میں وحی کا نزول نہیں ہوا۔ بلکہ عربی، فارسی، ہندی، عبرانی اور انگریزی اور دیگر غیر ملکی زبانوں میں وحی کا نزول ہوا اور بعض دفعہ تو ایسی وحی کا نزول ہوا۔ جس کو یہ مفتری نبی خود بھی نہیں سمجھ سکا۔ بلکہ ہندوؤں اور دیگر انگریزی دان حضرات سے سمجھنے کا محتاج ہوا۔ جو اللہ تبارک و تعالیٰ پر صریحاً بہتان عظیم ہے کہ اس نے اپنے پیغام وحی کے لئے ایسے نااہل شخص کا انتخاب کیا جو خود خالق حقیقی کی وحی کو سمجھنے سے بھی قاصر تھا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”الله اعلم حيث يجعل رسالته (انعام:١٢٤)“ {اللہ خوب جانتا ہے کہ کہاں اپنی رسالت رکھے۔}

پنجابی نبی پر انگریزی الہام کا نزول

یہ الہامات (براہین احمدیہ ص ٤٨٠ تا ٤٨٣، خزائن ج ١ ص ٥٧١ تا ٥٧٥) پر درج ہیں۔ جن سے صرف تین الہام بطور نمونہ پیش ہیں۔

٣٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٩٩

چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزی کی صرف ایک دو کتب پڑھے تھے۔ اس لئے اتنی ہی انگریزی تعلیم کی استعداد کے مطابق الہام و وحی وضع کر سکے۔ اگر زیادہ پڑھے ہوتے تو اعلیٰ قسم کے الہامات و وحی وضع کرتے۔

اور اپنے الہامات کے متعلق لکھا: ”بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں ۔ جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں ۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی۔“

(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)

اور اپنی علمی استعداد کے متعلق اپنے ایک مرید کو لکھا کہ وہ بعض الہامات کو خود سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ”چونکہ اس ہفتے میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں اور اگرچہ بعض ان میں سے ایک ہندو لڑکے سے دریافت کئے ہیں۔ مگر قابل اطمینان نہیں اور بعض منجانب اللہ بطور ترجمہ الہام ہوا تھا اور بعض کلمات عبرانی ہیں۔ ان سب کی تحقیق و تنقیح ضرور ہے۔ آپ جہاں تک ممکن ہو بہت جلد دریافت کرکے صاف خط میں جو پڑھا جاوے۔ اطلاع بخشیں ۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ٦٨)

ماشائ اللہ ایک مدعی محدثیت ، امامت ، نبوت اور رسالت جسے یہ دعویٰ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس پر وحی نازل فرماتا ہے اور وہ تمام نسل آدم کے لئے بشیر ونذیر ہو کر مبعوث ہوا ہے۔ اس کی علمی استعداد یہ ہے کہ وہ خالق حقیقی کے الہامات کی زبان اور مقصد و مطلب و معارف بھی سمجھنے سے قاصر ہے۔ انہیں سمجھنے کے لئے وہ ایک بت پرست ہندو عالم و فاضل کے پاس نہیں گیا۔ بلکہ ایک ہندو لڑکے کی خدمت میں حاضر ہوا اور باقی الہامات کے لئے اپنے مرید خاص میر عباس علی شاہ کی خدمت میں مندرجہ بالا خط کے ذریعے استدعا کر رہا ہے کہ ان الہامات کی تحقیق و تنقیح و دریافت کر کے جلد بھجوائے۔

مرزا قادیانی کے کذب دعویٰ کے متعلق اس سے بڑی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کی فلاح و بہبود کے لئے نبی آخر الزمان ﷺ کی امت میں سے ایک ایسے شخص کو نبوت و محدث و رسالت و امامت کے منصب جلیلہ کے لئے منتخب فرمایا۔ جو خالق باری

٣٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠٠

تعالیٰ کے کلام و وحی کے معانی و مطالب اور معارف سمجھنے کے لئے خود بھی ان لوگوں کا محتاج ہے۔ جن کی طرف وہ بشیر و نذیر بنا کر مبعوث کیا گیا تھا اور جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جس نے اسے نہ پہچانا وہ کافر کی موت مرا۔ لیکن وہ خود اپنے آپ کو بھی نہ پہچان سکا کہ وہ کیا ہے اور کیا دعویٰ کر رہا ہے۔ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ جیسے خالق اور عقل کل کو مرزا غلام احمد قادیانی کے انتخاب کے وقت یہ بھی معلوم نہ ہوسکا کہ مرزا غلام احمد قادیانی تو اس کی وحی کو سمجھنے کا بھی اہل نہ ہوگا اور وہ دوسروں کو کیا سمجھا جائے گا۔ جو خالق کائنات پر سراسر افتراء اور بہتان عظیم ہے۔

جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی چونکہ عربی زبان سے واقف تھا۔ اسے صرف نحو اور منطق کا شعور تھا۔ دنیا کو بیوقوف بنانے اور اپنی مفروضہ امامت ورسالت ومحدثیت ونبوت کا ڈھونگ رچانے کے لئے قرآن حکیم جو بشکل وحی خاتم النبیین ﷺ پر نازل ہوا۔ اس کی بعض آیات کے ٹکڑوں کو من وعن اور بعض مختلف آیات کے ٹکڑوں کو ملا کر اپنی وحی کے طور پر پیش کرتا تھا۔ حالانکہ یہ وحی کے کلمات خاتم النبیینؐ پر نازل ہوئے تھے۔ کتاب اللہ اور دین حق مکمل ہوچکا تھا۔ اس لئے دوبارہ ان کا کسی پر نازل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ اللہ اپنی سنت کے خلاف کبھی نہیں کرتا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی آخری کتاب (حقیقت الوحی) بھی عجیب چوں چوں کا مربہ ہے۔ اس کا ص ٧٠ تا ص ١٠٨ آیات قرآنی، اردو، انگریزی اور دیگر غیرملکی زبانوں میں الہامات و وحی کی آمیزش کا ایسا خود ساختہ مجموعہ ہے۔ جس سے ان کے عزائم اور ارادوں کی حقیقت منکشف ہوجاتی ہے اور آمیزش کسی چیز میں صرف دھوکا دینے اور دنیاوی منفعت چاہنے کے لئے ہی کی جاتی ہے۔ مثلاً دودھ میں پانی اسی لئے ملایا جاتا ہے کہ دھوکا دے کر زیادہ پیسہ کمایا جائے۔ یا اصلی گھی میں ڈالڈا وغیرہ ملانے کا مقصد بھی دھوکا وفریب دینا اور دنیاوی مال ودولت کمانا ہی مقصود ہوتا ہے۔ مگر آخرت برباد ہوجاتی ہے۔ بطور نمونہ صرف ایک ٹکڑا ملاحظہ فرمائیں۔ جس میں قرآنی وحی کے الفاظ انگریزی لفظ (Feeling) اور اردو کی عبارت کی آمیزش کر کے عوام کو دھوکا دیا گیا ہے کہ یہ الفاظ ان (مرزا غلام احمد قادیانی) پر بطور وحی نازل ہوئے ہیں۔

”الم تعلم ان اللّٰه علی کل شئی قدیر ٭ یلقی الروح علی من یشاء من عبادہ کل برکة من محمد ﷺ فتبارک من علم وتعلم “خدا کی فیلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا

٣٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠١

کام کیا ۔ ”انی معک ومع اھلک ومع کل من احبک“

(حقیقت الوحی ص ٩٦،٩٥،خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)

کیا اللہ تعالیٰ نے کسی نبی پر تین ایسی زبانوں میں وحی نازل کی جو خود اس نبی کی قومی زبانیں نہ تھیں ۔ ماسوا مرزاغلام احمد قادیانی کے جو پنجاب کے ضلع گورداسپور کے ایک پسماندہ گاؤں قادیان میں پیدا ہوا۔ جہاں سکھوں کی حکومت تھی اور جس ضلع اور گاؤں کی ٹھیٹھ پنجابی زبان تھی۔

حالانکہ حضور نبی آخر الزمان ﷺ کل نسل انسانی کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ پھر بھی اس پر وحی ان کی قومی زبان عربی میں نازل ہوئی۔ جو بشکل قرآن ہم میں موجود ہے۔ بعض منافقین نے یہ کہا کہ حضور کو کوئی غیر عرب عجمی یہ وحی سکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں منکشف فرمایا: ”ولقد نعلم انہم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی وھذا لسان عربی مبین (النحل:١٠٣)“ {اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اسے تو ایک انسان سکھاتا ہے۔ اس کی زبان جس کی طرف یہ (سکھانے کی) نسبت کرتے ہیں۔ عجمی ہے اور یہ فصیح عربی زبان ہے۔}

پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے مختلف زبانوں میں وحی والہام وضع کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے اور آئندہ کے لئے کذاب، مدعیان نبوت کے کذب وافتراء کو پرکھنے کے لئے جو کسوٹی اللہ تعالیٰ نے قائم کی۔ وہ خاتم النبیین ﷺ کی حیات طیبہ ہے۔ جس کو کسوٹی اور نمونہ ٹھہراتے ہوئے خالق کائنات فرماتا ہے: ”لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (الاحزاب: ٢١)“ {رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ تمہارے لئے نمونہ ہے۔}

حضور ﷺ کل نسل انسانی کے پیغمبر، رسول، امام اور نبی ہیں۔ اگر ان پر وحی صرف اپنی قومی زبان ”عربی“ میں نازل ہوئی تو یہ ناممکن ہے کہ کسی پنجابی پر جس کا دعویٰ نبوت کا ہو۔ اس پر وحی عربی، فارسی، اردو، عبرانی، سنسکرت اور انگریزی میں آتی ہے۔ بلکہ یہ اس کے کذب کی نشانی ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی اور تنسیخ جہاد

٣٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠٢

مرزا غلام احمد قادیانی جنگ آزادی ١٨٥٧ء کے موقعہ پر سولہ سترہ سال کے نوجوان تھے۔ انگریزوں کی حکومت کے استحکام کے لئے ان کے والد مرزا غلام مرتضیٰ جو انگریزوں کے خیر خواہ تھے۔ انہوں نے ان تثلیث پرستوں کو پچاس آدمیوں اور گھوڑوں سے مدد دی۔ جس کے متعلق خود مرزا غلام احمد قادیانی معترف ہے۔ لکھتے ہیں کہ ان کے والد نے: ”مفسدہ ١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جوان جنگجو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٨، خزائن

ج ١٢ ص ٢٧)

اور جہاد کی ممانعت کے متعلق لکھتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

اور پھر درثمین میں یوں لکھا:

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

لوگوں کو یہ بتاؤ کہ وقت مسیح ہے
اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے

(تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٨٠)

اور مندرجہ بالا الفاظ اس داعی کے ہیں جو کہتا ہے کہ مجھے جو مقام بھی حاصل ہوا ہے۔ نبی آخر الزمان ﷺ کی کامل اتباع سے حاصل ہوا اور وہ حضور کا ظل اور بروز ہے۔ مگر حضور ﷺ جہاد کے متعلق فرماتے ہیں: ”ابو ہریرہؓ نبی ﷺ سے راوی ہیں کہ آپؐ نے فرمایا۔ اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو کبھی کسی سریہ (چھوٹے لشکر) کے پیچھے بھی نہ بیٹھ رہتا

٤٠

صفحہ ٣٠٣

اور یقینا اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارا جاؤں ۔ پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں ۔ پھر زندہ کیا جاؤں ۔ پھر مارا جاؤں ۔“

(بخاری مترجمہ اردو پاره

اول باب الوحی )

پس معلوم ہوا۔ مرزا قادیانی حضور خاتم النبیین ﷺ کا ظل اور بروز نہیں ۔ وگرنہ حضور کے پسندیدہ فعل کے خلاف عمل اور فتویٰ نہ دیتا ۔

انگریزوں کا خود کاشتہ پودا

جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ انگریز تثلیث پرستوں کی حکومت کو ہندوستان میں مستحکم کرنے کی غرض سے مرزا غلام احمد قادیانی نے مجدد، محدث اور نبی کے دعوؤں کا ڈھونگ رچایا۔ بلکہ اسلام اور خود سلطنت مغلیہ سے غداری کی ۔ جس کا انکشاف اور اعتراف وہ اپنی اس درخواست میں کرتے ہیں ۔ جو انہوں نے ٢٤ فروری ١٨٩٨ء کو لیفٹیننٹ گورنر برطانیہ کے نام لکھی : ” میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں ۔ مدعا یہ ہے کہ اگر چہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی ١؎ کے لئے کی ہے ۔ عنایت خاص کا مستحق ہے ۔ صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ..... اس خود کاشتہ پودا ٢؎ کی نسبت نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق سے کام لے اور اپنے ماتحت کو ارشاد فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری ٣؎ اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں ...... اس لئے کہ یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ مورد مراحم گورنمنٹ ہے ۔“

(مجموعہ اشتہارات

ج ٣ ص ٢١)

ہر حال میں حق بات کا اظہار کریں گے
منبر نہیں ہو گا تو سردار کریں گے
جب تک بھی دہن میں ہے زباں سینے میں دل ہے
کاذب کی نبوت کا ہم انکار کریں گے

(سید امین گیلانی)

٤١

صفحہ ٣٠٤

ا۔ مرزا قادیانی نے اللہ تبارک و تعالیٰ اور حضور ﷺ کی خوشنودی کے لئے جہاد فی سبیل اللہ تو نہیں کیا۔ البتہ تثلیث پرست انگریزی حکومت کی خوشنودی کے لئے حج ترک کیا اور جہاد منسوخ کرنے کے لئے ضرور تبلیغ واشاعت کی۔ مؤلف!

٢۔ اس سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح منکشف ہو جاتی ہے کہ مرزا قادیانی کے دعوؤں کی حقیقت کیا تھی۔ اس کی پشت پناہی کون کر رہا تھا اور مرزا قادیانی کے دعوؤں کا مقصد کیا تھا۔ محض خاتم النبیینؐ کے بعد نبوت کو تاقیامت جاری سمجھنا، وحی والہام کو ہر خاص و عام کے لئے عام کرنا، حج ترک کر کے اسلام کی مرکزیت کو تباہ کرنا اور جہاد کو منسوخ قرار دے کر مجاہدین کے جذبہ شہادت کو کچلنا تا کہ تثلیث پرست انگریزوں کی حکومت مستحکم ہو جائے۔ مؤلف!

٣۔ جو ان کے خاندان نے اپنے مغل خاندان یعنی شہنشاہان مغلیہ سے غداری۔ ان کا قتل اور گرفتاری وغیرہ کرا کر حاصل کی۔ مؤلف!

مرزا قادیانی کے ایمان اور دعویٰ میں تناقض

اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں فرماتا ہے کہ میری نازل کردہ وحی اور خاتم النبیین ﷺ کے کلام میں تناقض نہیں ہو سکتا۔ ”افلا يتدبرون القرآن ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيراً (النساء: ٨٢)“ { پھر کیا قرآن میں تدبر نہیں کرتے اور اگر یہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت اختلاف پاتے ۔}

لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام کتب تناقض سے بھری پڑی ہیں اور ان کے کلام میں تناقض کو پیش کرنے کے لئے کئی جلدیں درکار ہیں۔ نمونہ کے لئے چند تناقض پیش کئے جاتے ہیں۔ جن سے معلوم ہو گا کہ وحی جو وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ان کی اپنی وضع کردہ ہے اور تناقض سے بھرپور ہے اور جن مدعیان کے کلام میں تناقض ہے۔ اس کے متعلق خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

الف ...... ”کسی سچیار عقل مند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور ہاں میں ہاں ملا دیتا ہے۔ اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔“

(ست بچن ص ٣٠، خزائن ج١٠

ص ١٤٢)

٤٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠٥

کیونکہ ایسے طریق سے انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠

ص ١٤٣)

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

مرزا غلام احمد قادیانی کے کلام تو کیا؟ ایمان میں بھی تناقض تھا۔ کہیں حضورؐ کے متعلق لکھتے ہیں: ”آپؐ کے فیض برکت سے مجھے نبوت کا مقام ملا۔“ اور پھر یہ بھی لکھتے ہیں کہ: ”اے قیصرہ ہند، ملکہ وکٹوریہ تیرے بابرکت زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کی خو اور طبیعت (مجھے) دی گئی۔ اس لئے مسیح کہلایا۔“ ذیل میں مرزا قادیانی کے ایمان وکلام میں تناقض کے چند نمونے پیش ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

١؎ جیسے مرزا قادیانی نے حکومت برطانیہ کی خوشامد میں اپنی تحریروں سے پچاس الماریاں بھری تھیں۔ مؤلف!

اقرار انکار

حضورؐ کی برکت سے نبوت کا مقام حاصل ہوا۔ قیصرہ ہند برطانیہ کے بابرکت زمانہ میں مسیح کی خو اور طبیعت ملی۔

٤٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠٦

”خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ﷺ کے افاضۂ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔“

(حقیقت الوحی ص١٥٠ حاشیہ، خزائن ج٢٢

ص١٥٤)

”(قیصرہ ہند ملکہ وکٹوریہ) اس لئے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی بھی عہد سلطنت ایسا نہیں ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے موزوں ہو۔ سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا۔ کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا...... ایسا ہی ہوا کہ ایک کو تیرے بابرکت زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کی خو اور طبیعت دی گئی۔ اس لئے مسیح کہلایا۔“

(ستارہ قیصرہ ص٦، ٧، خزائن ج١٥ ص١١٧)

مرزا قادیانی کا محدث ہونے کا دعویٰ۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ محدث سے انکار۔

”میں نے لوگوں سے سوائے اس کے جو میں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور کچھ نہیں کہا کہ میں محدث ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے اسی طرح کلام کرتا ہے جس طرح محدثین سے۔“

(حمامۃ البشریٰ ٨٩، خزائن ج٧ ص٢٩٧)

”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اسے پکارا جائے۔ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٥، خزائن ج١٨ ص٢٠٩)

مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیح موعود اور مہدی موعود۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ وہ مسیح موعود اور مہدی موعود نہیں۔

(١) ”میں اپنے تئیں مسیح موعود، مہدی موعود سمجھتا ہوں۔“ (اربعین نمبر٢ ص٢٨، خزائن ج١٧ ص٤٧٧)

(١) میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میں وہ مہدی ہوں۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٨٥، خزائن ج٢١ ص٣٥٦)

٤٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠٧

(٢) ”ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

(٢) ”آنے والا مسیح موعود یہی عاجز ہے۔ اس پر ایمان رکھتا ہوں جیسا کہ میں قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٠، خزائن ج ٢١

ص ٢٩٦)

”ممکن ہے کہ میرے بعد کوئی اور مسیح ابن مریم بھی آوے اور بعض احادیث کی رو سے وہ موعود بھی ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٨٨، خزائن ج ٣ ص ٣٦٢)

(٣) ”مجھے اس خدا کی قسم ہے۔ جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افتراء کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

مرزا قادیانی کا اپنے تشریعی نبی ہونے سے انکار۔

مرزا قادیانی کا اپنے تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ۔

(١) ”من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب، نہ ہی میں رسول ہوں اور نہ ہی کوئی الہامی کتاب لایا ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

(١) ”خدا وہی ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)

اور رسول کی حقیقت وماہیت یوں بیان کی کہ: ”رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم بذریعہ جبرئیل حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا کہ وحی رسالت تاقیامت منقطع ہوچکی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)

”اور رسول کی تشریح یوں بیان کی کہ: بحسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں۔ جس نے احکام وعقائد دین جبرئیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٣٤، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧)

٤٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠٨

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

(چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

(حق الیقین ص ١٦٢)

اوصاف نبی اور مرزا قادیانی

٤٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٠٩

(١) نبوت ورسالت موہبت ہے۔ اکتساب سے حاصل نہیں ہوتی۔

مرزا قادیانی سیرت صدیقی کی کھڑکی سے نبوت حاصل کرنے کا مدعی ہے۔

(٢) نبوت دعا سے نہیں ملتی۔

مرزا قادیانی خاتم النبیینؐ کی مہر سے نبوت کا مدعی ہے۔

١۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی لئے شریعت کے احکام کی تجدید میں خود حج بیت اللہ ترک کیا اور جہاد فی سبیل اللہ کو حرام قرار دیا تھا۔ مؤلف!

(٣) نبی صاحب کتاب ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی پر کوئی الہامی کتاب نازل نہیں ہوئی۔

(٤) نبی مطاع ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی انگریزوں کا مطیع اور ان کا خودکاشتہ پودا تھا۔

(٥) نبی شاعر نہیں ہوتا۔

مرزا قادیانی شاعر تھا۔

(٦) نبی دین سکھانے کی اجرت نہیں مانگتا۔

مرزا قادیانی اپنی کتابوں کی طباعت واشاعت کے لئے ہمیشہ اجرت طلب کرتا رہا۔

(٧) نبی پر اس کی قومی زبان میں وحی کا نزول ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی پر سنسکرت، فارسی، اردو، عبرانی اور انگریزی میں وحی ہوئی۔ جن میں سے بعض کو وہ خود بھی نہیں سمجھ سکا۔

(٨) نبی اکمل العقل والحفظ ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی کا حافظہ کمزور تھا۔ یہاں تک کہ گڑ کے ڈھیلے اور مٹی کے ڈھیلے میں تمیز نہ کر سکا۔

(٩) نبی کسی کا ملازم یا نوکر نہیں ہوتا۔

مرزا قادیانی پندرہ روپے ماہوار مشاہرہ پر سیالکوٹ کی کچہری میں ملازم تھا۔

(١٠) نبی کامل الاخلاق ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی بدگو اور بدکلام تھا۔

٤٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١٠

مرزا قادیانی کا نام جمع یعنی دو ناموں غلام اور احمد کا مرکب ہے۔ یعنی غلام ہو کر آقا کے تخت پر بیٹھنے کا حریص ہے۔

مرزا قادیانی کے اردو، فارسی، عربی اور انگریزی کے کئی استاد تھے۔ جن میں فضل الہی، فضل احمد، گل علی شاہ اور ڈاکٹر امیر شاہ مشہور ہیں۔

مرزا قادیانی تقریباً سو کتابوں کا مصنف ہے۔

مرزا قادیانی کی تمام تصانیف تضاد سے بھری پڑی ہیں۔

مرزا قادیانی لاہور میں مرا اور قادیان میں دفن ہوا۔

مرزا قادیانی وحی الہی کے مفہوم کو سمجھنے کے لئے ہندو لڑکوں اور اپنے مریدوں کا محتاج تھا۔

مرزا قادیانی تثلیث پرست انگریزوں کی حکومت کے استحکام کی خاطر جہاد فی سبیل اللہ کو منسوخ کرنے کے لئے تا حین حیات کوشاں رہا۔

مرزا قادیانی نے ہجرت نہیں کی۔

مرزا قادیانی نے کفار اور مشرکین کے خلاف جہاد حرام قرار دیا۔

٤٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١١

(٢١) نبی کی ذات اور اس پر نازل شدہ کتاب اس کے دعویٰ کی صداقت کے لئے کافی ہوتے ہیں۔

مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کی صداقت میں ایک سو کتب تصنیف کیں ۔ مگر اس کی موت تک عوام الناس اور اس کے کئی مرید اسے کذاب کہتے رہے۔

(٢٢) نبی عورت نہیں ہو سکتی۔

مرزا قادیانی کو الہام ہوا کہ وہ مریم ہے اور یہ بھی کشف ہوا کہ وہ عورت ہے اور اللہ تعالیٰ نے نعوذ باللہ اس سے رجولیت کی ہے۔

(٢٣) نبی کو مراق کی بیماری نہیں ہوتی۔

مرزا قادیانی خود اعتراف کرتا ہے کہ اسے مراق اور کثرت بول کے امراض تھے۔

چونکہ مرزا قادیانی کو مراق کی مرض تھی۔ لہٰذا مخبوط الحواس تھا اور بے سروپا باتیں، بڑے بڑے دعوے اور عجیب وغریب پیش گوئیاں کرتا تھا۔ کہیں لکھتا ہے وہ اہل فارس سے ہے۔ کہیں اہل چین سے اپنا تعلق جوڑتا ہے۔ پھر لکھتا ہے وہ اسرائیلی یہودی بھی ہے اور فاطمی بھی ہے۔ کہیں بروزی صورت میں نبی بنتا ہے اور لکھتا ہے: ”مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمدؐ اور احمدؐ ہوا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)

کہیں لکھتا ہے: ”میرے پاس فارسی ہونے کے لئے بجز الہام الٰہی کے اور کچھ ثبوت نہیں ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧

ص ١١٦)

مزید لکھتا ہے: ”خاتم الخلفاء جس کا دوسرا نام مسیح موعود ہے۔ چینی الاصل ہوگا۔ یعنی اس کے خاندان کی اصل جڑ چین ہوگی۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٦، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٠)

پھر لکھا: ”خدا نے مجھے یہ شرف بخشا ہے کہ میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی اور دونوں خونوں سے حصہ رکھتا ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)

مذکورہ بالا دعوے ہی مرزا قادیانی کے کذب کا بیّن ثبوت ہیں۔

اے کہ بعد از تو نبوت شد بہر مفہوم شرک

٤٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١٤
بزم را روشن زنور شمع ایماں کردہ

(علامہ اقبالؒ)

مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں اور اپنے متعلق کذاب ہونے کا فتویٰ

مرزا غلام احمد قادیانی جنہیں بشیر ونذیر ہونے کا دعویٰ ہے۔ ان کی تمام کتب اپنے دعویٰ کے ثبوت میں اپنی اولاد کی ولادت کی پیش گوئیوں سے، اپنی شادیوں اور مخالفین کی موت کی پیش گوئیوں سے بھری پڑی ہیں۔ جن میں سے یہاں صرف دو تین پیش گوئیوں کے جھوٹا ہونے کے متعلق اختصاراً عرض ہے۔ کیونکہ عقلمند کے لئے صرف اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔

محمدی بیگم سے نکاح بحالت کنواری یا بیوہ

اس کے خاوند کی موت کی پیش گوئیاں جو جھوٹی ثابت ہوئیں

١٨٨٨ء میں پیش گوئی کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر منکشف فرمایا ہے کہ: ”مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاما بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں (محمدی بیگم) انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی....... باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔“

(اشتہار مورخہ ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ محمدی بیگم کے خاوند پہلے فوت ہو جائیں گے۔ محمدی بیگم بیوہ ہو جائے گی اور پھر وہ مرزا غلام احمد قادیانی سے نکاح کرے گی۔

مگر مرزا غلام احمد قادیانی ١٩٠٨ء میں فوت ہو گیا اور محمدی بیگم اور ان کے رفیق حیات ایک عرصہ تک زندہ رہے۔ یہاں تک کہ محمدی بیگم کے خاوند نے ١٤؍ نومبر ١٩٣٠ء کو اخبار اہل حدیث (امرتسر) کو لکھا کہ وہ تاحال زندہ ہیں۔ محمدی بیگم ان کے گھر میں آباد ہیں۔ وہ مرزا قادیانی اور اس کے دین کو برا سمجھتے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی بشارت اپنی عمر کے متعلق جو جھوٹی ثابت ہوئی

”وموت ما خواستند و دراں پیش گوئی کردند پس خدا ما را بشارت ہشتاد سال عمر داد بلکہ شاید ازیں زیادہ۔ یعنی بشارت ہوئی کہ میری عمر اسی سال ہوگی یا اس سے زیادہ۔“

(مواہب الرحمٰن ص ٢١، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٩)

لیکن مرزا غلام احمد قادیانی اڑسٹھ سال کی عمر میں ہی چل بسے اور پیش گوئی غلط ثابت

٥٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١٣

ہوئی۔ یہ ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے۔ (جیسا کہ انہوں نے اپنی پیدائش کے متعلق خود لکھا ہے) اور ١٩٠٨ء میں مر گئے۔

گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے

آخر میں مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنے کذب کے متعلق الہام اور پیش گوئی پیش ہے جو انہوں نے اپنے مرید خاص میاں عبدالحکیم خان صاحب کے متعلق کی جو بیس ١؎ برس تک ان کا حلقہ بگوش رہا۔ وہ مرزا قادیانی کے ہر مفروضہ دعویٰ اور سازش کو بھانپ چکا تھا۔ اس نے نہ صرف مرزا قادیانی کو کاذب اور دجال کہا بلکہ پیش گوئی بھی کی کہ چونکہ مرزا قادیانی کذاب اور مفتری ہے۔ اس لئے وہ تین سال کے اندر اندر مر جائے گا وغیرہ وغیرہ۔

(مجموعہ اشتہارات حصہ سوم ص ٥٥٨)

١؎ خاتم النبیین ﷺ نے صرف ٢٣ سال کی قلیل مدت میں عرب جیسی اجڈ اور اکھڑ قوم کو خدا رسیدہ بنا دیا اور لاکھوں مخلص مرید و صحابیؓ پیدا کئے۔ مگر مرزا قادیانی جو اپنے آپ کو حضور کا ظل اور بروز کہتا ہے۔ بیس سال کی طویل مدت میں بھی میاں عبدالحکیم خان صاحب اور ان جیسے لا تعداد مریدوں کو بھی اپنا گرویدہ نہ بنا سکا۔ بلکہ انہوں نے ان کو کذاب اور مفتری وغیرہ کے القاب دیئے۔ مؤلف!

مرزا غلام احمد قادیانی نے میاں عبدالحکیم خان صاحب کے اس چیلنج کو قبول کیا اور بذریعہ اشتہار مورخہ ١٦؍اگست ١٩٠٦ء میاں عبدالحکیم خان صاحب اور اپنی یعنی ہر دو کی پیش گوئیاں بھی طبع کرا دیں۔ ان کا مکمل اشتہار درج ذیل ہے۔ تا کہ امت مسلمہ آگاہ ہو جائے۔

(یہ اشتہار مرزا قادیانی کی آخری کتاب حقیقت الوحی کے ص ٣٩٢ کے بعد ہے)

باسمہ تعالیٰ

بسم اللہ الرحمن الرحیم !

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

خدا سچے کا حامی ہو ...... آمین !

اس امر سے اکثر لوگ واقف ہوں گے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب جو تخمیناً بیس برس

٥١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢

تک میرے مریدوں میں داخل رہے۔ چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہو کر سخت مخالف ہو گئے ہیں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں میرا نام کذاب، مکار، شیطان، دجال، شریر، حرامخور رکھا ہے اور مجھے خائن اور شکم پرست اور نفس پرست اور مفسد اور مفتری اور خدا پر افتراء کرنے والا قرار دیا ہے اور کوئی ایسا عیب نہیں ہے جو میرے ذمہ نہیں لگایا۔ گویا جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔ ان تمام بدیوں کا نمونہ میرے سوا کوئی نہیں گذرا اور پھر اسی پر کفایت نہیں کی۔ بلکہ پنجاب کے بڑے بڑے شہروں کا دورہ کر کے میری عیب شماری کے بارہ میں لیکچر دیئے اور لاہور اور امرتسر اور پٹیالہ اور دوسرے مقامات میں انواع اقسام کی بدیاں عام جلسوں میں میرے ذمہ لگائیں اور میرے وجود کو دنیا کے لئے ایک خطرناک اور شیطان سے بدتر ظاہر کر کے ہر ایک لیکچر میں مجھ پر ہنسی اور ٹھٹھا اڑایا۔ غرض ہم نے اس کے ہاتھ سے وہ دکھ اٹھایا جس کے بیان کی حاجت نہیں اور پھر میاں عبدالحکیم صاحب نے اسی پر بس نہیں کی۔ بلکہ ہر ایک لیکچر کے ساتھ یہ پیش گوئی صدہا آدمیوں میں شائع کی کہ مجھے خدا نے الہام کیا ہے کہ یہ شخص تین سال کے عرصہ میں فنا ہو جائے گا اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کیونکہ کذاب اور مفتری ہے۔ میں نے اس کی ان پیش گوئیوں پر صبر کیا۔ مگر آج جو ١٤؍ اگست ١٩٠٦ء ہے۔ پھر اس کا ایک خط ہمارے دوست فاضل جلیل مولوی نورالدین صاحب کے نام آیا۔ اس میں بھی میری نسبت کئی قسم کی عیب شماری اور گالیوں کے بعد لکھا ہے کہ ١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء کو خدا تعالیٰ نے اس شخص کے ہلاک ہونے کی خبر مجھے دی ہے کہ اس تاریخ سے تین برس تک ہلاک ہو جائے گا۔ جب اس حد تک نوبت پہنچ گئی تو اب میں بھی اس بات میں کچھ مضائقہ نہیں دیکھتا کہ جو کچھ خدا نے اس کی نسبت میرے پر ظاہر فرمایا ہے۔ میں بھی شائع کروں اور درحقیقت اس میں قوم کی بھلائی ہے۔ کیونکہ اگر درحقیقت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک کذاب ہوں اور پچیس برس سے دن رات خدا پر افتراء کر رہا ہوں اور اس کی عظمت اور جلال سے بے خوف ہو کر اس پر جھوٹ باندھتا ہوں اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھی میرا یہ معاملہ ہے کہ میں لوگوں کا مال بددیانتی اور حرام خوری کے طریق سے کھاتا ہوں اور خدا کی مخلوق کو اپنی بدکرداری اور نفس پرستی کے جوش سے دکھ دیتا ہوں تو اس صورت میں تمام بدکرداروں سے بڑھ کر سزا کے لائق ہوں۔ تاکہ لوگ میرے فتنہ سے نجات پاویں اور اگر میں ایسا نہیں ہوں۔ جیسا کہ میاں عبدالحکیم خان نے سمجھا ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ خدا مجھ کو ایسی ذلت کی موت نہیں دے گا کہ میرے

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 317

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد

مسیح قادیان

کے

حالات کا بیان

جناب سید احسن شاہؒ

صفحہ ٣١٦

بسم الله الرحمن الرحیم!

عاشقان سید الکونین و پیروان رسول الثقلین کو ضروری اطلاع

برادران اسلام ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ نے ملاحظہ کیا ہوگا یا سنا ہوگا کہ مرزا غلام احمد ملک پنجاب کے قصبہ قادیان کا رہنے والا معمولی پڑھا لکھا شخص تھا۔ پہلے کچہری میں پندرہ روپیہ کا نوکر تھا۔ مختار کاری کا امتحان دیا۔ اس میں ناکام رہا اور مزاج میں چونکہ تکبر اپنے علم کا تھا۔ اس وجہ سے غصہ میں آکر نوکری چھوڑ دی۔ اس وقت امرتسر میں مولوی عبداللہ صاحب غزنوی ایک بزرگ تھے۔ ان کے پاس جاکر یہ درخواست کی کہ تسخیر کا کوئی عمل یا وظیفہ بتائیے۔ تاکہ مسلمانوں کو میری طرف توجہ ہو۔ معلوم نہیں کہ ان بزرگ نے کیا جواب دیا۔ مگر مرزا قادیانی نے کمانے کی دوسری فکر سوچی۔ اتفاق سے اس وقت پادریوں نے ہر جگہ زور کیا تھا اور اسلام پر اعتراض کرتے تھے۔ اس میں مرزا قادیانی کو مسلمانوں کے متوجہ کرنے کا موقع ملا اور ایک کتاب لکھنا شروع کی اور اسلام کی حقانیت پر ایک دلیل لکھی اور اسے ایک نہایت موٹے اشتہار کے ساتھ مشتہر کیا۔ اس کا حاصل یہ تھا کہ ہم حقانیت اسلام پر اسی طرح کی تین سو دلیلیں لکھیں گے۔ اس کی قیمت پیشگی دو۔ تاکہ ہم اسے چھپوا کر مشتہر کریں۔ چونکہ اس وقت مسلمان پادریوں کی یورش سے پریشان ہو گئے تھے۔ اس لئے اس اشتہار نے ان پر بہت اثر کیا اور مرزا قادیانی کو روپیہ بھیجنا شروع کیا۔ ان کے بعض پرانے احباب نے لکھا ہے کہ دس ہزار روپیہ اس ذریعہ سے انہیں ملے۔ اسی اثناء میں ایک پادری سے چھیڑ چھاڑ ہو گئی اور انہوں نے اپنی طبعی شہرت پسندی کی وجہ سے اس سے خوب اشتہار بازی اور دعوے کئے اور مناظرہ اس سے کیا اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی پادری اسلام کے مقابلہ میں کبھی سرسبز نہیں ہوا۔ وہ پادری بھی ناکام رہا اور مسلمانوں میں ان کی وقعت ہوئی۔ اس وجہ سے مرزا قادیانی کا دماغ بہت بلند ہوا اور دعویٰ کیا کہ میں اس وقت کا امام ہوں۔ مجدد ہوں۔ اس کو کچھ لوگ مان گئے۔ پھر انہوں نے اور ترقی کی جس کا بیان آئندہ آئے گا۔

جب علمائے کاملین نے دیکھا کہ ان کے دعوؤں سے مسلمان گمراہ ہوگئے اور ہورہے ہیں۔ اس لئے ان کی حالت کے بیان میں رسالے لکھے۔ خصوصاً فیصلہ آسمانی اور دوسری شہادت

٢

صفحہ ٣١٧

آسمانی وغیرہ خانقاہ رحمانیہ مونگیر صوبہ بہار سے شائع ہوئے۔ پہلے رسالہ میں مرزا قادیانی کی نہایت مستحکم پیش گوئیوں کو جھوٹا ثابت کر کے مرزا قادیانی کو توریت مقدس اور قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے جھوٹا ثابت کیا ہے۔

ناظرین! ان کتابوں کو ضرور دیکھئے۔ ان کتابوں کا جواب کسی مرزائی سے نہ ہوسکا اور نہ ہو سکتا ہے۔ دوسرے رسالہ میں ان کی آسمانی شہادت کو خاک میں ملا دیا ہے اور انہیں نہایت جھوٹا و فریبی ثابت کیا ہے۔ مگر یہ رسالے آپ کے پیش نظر نہ ہوں گے اور ہمارے بھائیوں کو اس قدر توجہ بھی نہیں ہے کہ اس عظیم الشان فتنہ کی طرف توجہ کر کے ان کتابوں کے ذخیرے کو ملاحظہ کریں۔ (الحمد للہ! احتساب قادیانیت میں یہ سب رسالے شائع ہو چکے ہیں) اس لئے میں مرزا قادیانی کی حالت کا نمونہ ان کتابوں سے انتخاب کر کے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ تاکہ ہر ایک طالب حق آسانی سے حق و باطل کا فیصلہ کر سکے اور یقینی طور سے معلوم کرے کہ یہ شخص اپنے آپ کو حامی اسلام بتا کر درپردہ اسلام کی بیخ کنی کرتا ہے۔ اس کا اختلاف دوسرے کلمہ گوؤں کی طرح نہیں ہے۔ وہ در پردہ مخالف اسلام بلکہ عام مذہب کا مخالف اور ایک قسم کا دہریہ ہے۔ اس کے دعوے اور عقائد باطلہ دیکھ کر آپ خود ہی اس کا فیصلہ کر لیں گے اور بے اختیار میرے قول کی تصدیق فرمائیں گے۔

مگر عجب نہیں کہ مرزا قادیانی کے دعوے حمایت اسلام اور وہ تحریریں آپ نے دیکھی ہوں جو بالکل ہمارے اسلام کے مطابق ہیں۔ جنہیں مرزائی ناواقفوں کے سامنے پیش کیا کرتے ہیں۔ مگر اس کا آپ یقین کرلیں کہ وہ باتیں ایسی ہی ہیں جیسے وہ عمدہ دانہ جسے شکاری جانور کے پھانسنے کے لئے ڈالتا ہے اور جس کی وجہ سے شکار اس کے دام میں آتے ہیں۔ اگر وہ شکاری پہلے دانہ نہ ڈالے تو شکار کا دام میں آنا دشوار ہوتا ہے۔ اسی طرح قادیانی حضرات نے مسلمانوں کو دام میں لانے کے لئے عجیب عجیب طرح سے تخم پاشی کی ہے اور خوب باتیں بنائی ہیں اور اکثر رسالوں میں وہی باتیں لکھی ہیں جو اسلام کے بالکل مطابق ہیں۔ مگر جب مسلمانوں کے ایک گروہ نے اپنی ناواقفی سے انہیں بزرگ اور امام مان لیا تو پھر انہوں نے اسلام کے خلاف دعوے کئے۔ جن سے ان کی اصلی حالت معلوم ہوتی ہے۔

چونکہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ میرے بعد میری امت میں جھوٹے مدعی نبوت پیدا

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١٨

ہوں گے۔ مگر علمائے حقانی کی جماعت غالب رہے گی۔ اس لئے ہمارے علماء نے ان کی حالت معلوم کر کے ان کے کذب کو آفتاب کی طرح روشن کر کے اپنے رسالوں میں دکھایا ہے۔ البتہ ہمارے بھائیوں کو دینی امور کی طرف توجہ نہیں ہے۔ مذہبی باتوں کو فضول جھگڑا خیال کرتے ہیں۔ یہ خیال نہیں کرتے کہ ہمارے بزرگ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ عظام وغیرہ نے دین اسلام کی اشاعت میں کیسی جان توڑ کوششیں کی ہیں اور جان و مال کو صرف کیا ہے۔ افسوس ہے کہ اب ہمارے بھائیوں سے اس کی حفاظت بھی نہیں ہوسکتی۔ اس لئے خیرخواہانہ کہتا ہوں کہ آپ کا یہ فرض ہے کہ اس اشتہار کو آپ غور سے ملاحظہ کریں اور ناواقف مسلمانوں کو اس کے مضمون سے اطلاع دیں اور اسے خوب مشتہر کریں اور جہاں جہاں مسلمان ہو وہاں اس کو پہنچائیں۔ جس طرح آپ کے امکان میں ہو اور عوام بے پڑھوں کو اچھی طرح سمجھائیں کہ جو مرزا قادیانی کا نام لے اور اسے اچھا بتائے اس سے پرہیز کریں اور خوب سمجھ لیں کہ یہ ہمیں جہنم کا راستہ بتاتا ہے۔ ہمارا ایمان لینا چاہتا ہے۔ یہ وہی مرزا غلام احمد قادیانی ہے جس نے دنیا کے سارے مسلمانوں کو کافر جہنمی قرار دے کر حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عظمت و شان کو اور بہترین امت محمدیہ کے مرتبہ کو خاک میں ملایا ہے اور اپنے عہد میں اپنے کلام سے دنیا کو اسلام سے گویا خالی کردیا ہے۔ مرزا محمود کے (رسالہ تشحیذ الاذہان ج ٦ بابت ماہ اپریل ١٩١١ء) وغیرہ کو دیکھو۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے اور عقائد

یہ معلوم کرلینا چاہئے کہ عام مرزائی محض فریب سے اپنے وہی عقیدے ظاہر کرتے ہیں جو اہل سنت کے ہیں۔ مگر میں یہاں ان کے وہ عقیدے لکھتا ہوں جو ان کے مرشد اور ان کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے کلام سے ثابت ہیں:

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣١٩

ہونے کے انتظار میں رکھ کر اور یہ کہہ کر کہ انجام کار اسے ضرور پورا کروں گا۔ مگر پھر بھی پورا نہیں کرتا۔

بندہ انہیں کیونکر پورا کر سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ بالضرور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے غیر معتبر ہیں۔

والہام کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔

منکوحہ آسمانی کے نکاح میں نہ آنے سے یہ سب الزام مرزا قادیانی کے خدا پر ضرور آئے اور تمام مخلوق ان کو جھوٹا ماننے پر مجبور ہو گئی۔ چنانچہ مرزا قادیانی ایک اشتہار مرقومہ دہم جولائی ١٨٨٨ء میں لکھتے ہیں: ”خدا نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ (احمد بیگ) کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١٥٨)

اس پر خوب غور کیا جائے کہ ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس کے نکاح میں آنے کو لکھتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ علم الٰہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے۔ پھر ازالہ اوہام میں اپنا الہام بیان کرتے ہیں:

کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔

(ازالہ الاوہام ص ٣٩٧، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)

اس عبارت میں ٦ جملے ہیں۔ جن سے مرزا قادیانی قطعی یقینی طور سے یہ کہہ رہے ہیں

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٠

کہ منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی ضرور پوری ہوگی۔ کوئی شے اسے روک نہیں سکتی۔ اس میں شرط وغیرہ سب آ گئی۔ اس پر بھی خیال کرنا چاہئے کہ یہ قطعی الہامات انہیں ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء میں شروع ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی کا انتقال ہے۔ اب خیال کیا جائے کہ بیس برس تک ان کا اس الہام پر زور وشور رہا کہ ضرور پورا ہوگا اور جب ان کا یہ الہام پورا نہ ہوا تو میں نے جو کچھ ان کے عقائد کا اظہار اس رسالہ میں کیا ہے۔ وہ سب سچ ہوئے، اس کے علاوہ جب ایسے قطعی الہامات غلط ہو گئے تو ان کے اور الہامات ودعووں پر کون صاحب عقل اعتبار کر سکتا ہے۔ مثلاً مسیح موعود ہونے کا الہام ہے۔ اس کے سچا ماننے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ کوئی وجہ نہیں۔ تمام الہامات ان کے جھوٹے اور غلط اس نے ثابت کر دئیے۔ اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی میں اچھی طرح دیکھنا چاہئے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ جس خدا کے یہ صفات ہوں جو ذکر کئے گئے۔ اسے کون دانشمند خدا مان سکتا ہے اور جس مدعی رسالت کو خدا اپنے مخلوق کے روبرو علانیہ جھوٹا ثابت کر دے۔ اس کو کون صاحب عقل سچا مان سکتا ہے اور بالفرض ایسے شخص سے اگر کوئی عجیب بات بھی ظہور میں آئے تو وہ جعل وفریب یا اتفاقی بات سمجھنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ خدا اپنے رسول کو اس کی وحی والہام میں اسے جھوٹا ہرگز نہیں کر سکتا۔ خصوصاً اس وحی والہام میں جسے اس نے اپنا معیار صداقت قرار دیا ہو۔

آٹھواں عقیدہ یہ ہے کہ نبی یعنی خدا کا رسول جھوٹ بولتا ہے۔

کسی وقت وحی الٰہی کے معنی نہیں سمجھتا۔

کسی وقت وحی کے معنی غلط سمجھتا ہے اور وہی غلط معنی مخلوق سے بیان کر کے جھوٹا ٹھہرتا ہے اور خدا تعالیٰ اس غلطی سے اطلاع نہیں دیتا۔ تاکہ مخلوق کے روبرو کاذب قرار نہ پائے اور مخلوق اس کی تکذیب پر مجبور نہ ہو۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ فریب دیتا ہے۔ نعوذ باللہ!

چونکہ مرزا قادیانی بہت جھوٹ بولتے ہیں۔ اس لئے مرزائی عام طور سے کہتے ہیں کہ رسول جھوٹ بولتے ہیں اور عقل ایسی سلب ہوگئی ہے کہ جب رسول کا جھوٹ ثابت ہو گیا تو تمام دنیا کے صاحب عقل اس کی شہادت دیتے ہیں کہ اس کے کسی وحی والہام پر اعتبار نہ رہا۔ اسی طرح اگر وحی کے معنی نہ سمجھے یا غلط سمجھے اور اس غلط معنی کو خلق پر ظاہر کرے تو اس کی تمام وحی کا بیان غیر معتبر ہوجائے گا۔ کیونکہ ہر وحی میں غلطی کا احتمال ہوگا۔

غرضیکہ مرزائیوں کے خیال کے بموجب خدا کی باتیں اور اس کے رسول کے اقوال

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢١

کوئی لائق اعتبار نہیں ہو سکتے اور خدا کا رسول کو بھیجنا اور ان پر اپنا کلام نازل کرنا بیکار ہے۔ ان عقائد سے تو خدا کی اور اس کے تمام رسولوں کی حالت معلوم ہوئی۔ جس سے صاف طور سے دہریوں کی تائید اور اسلام کی ہتک ہوتی ہے۔ اب مرزا قادیانی کی تعلّی کے الہامات ملاحظہ ہوں۔

جنون ہوا کہ کہہ دیا منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد۔ یعنی جو مرتبہ ان انبیاء کا ہے۔ وہ میرا بھی ہے۔ اس برابری دکھانے کے لئے انہوں نے اور بھی الہامات بیان کئے ہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ:

رسول اللہ ﷺ قیامت کے روز مقام محمود میں کھڑے ہو کر گنہگاروں کی شفاعت کریں گے۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس مقام کا مستحق میں ہوں۔

برادران اسلام غور کریں کہ جس نے دنیا میں آ کر کسی جہنمی کو مستحق جنت نہیں بنایا اور چالیس کروڑ مسلمانوں کو جہنم کا مستحق کر دیا۔ اس کے منہ پر یہ دعویٰ زیب دیتا ہے کہ میں قیامت کے روز مقام محمود میں کھڑا ہو کر شفاعت کروں گا۔ (استغفر اللہ) یہ بھی دعویٰ ہے کہ میں معصوم ہوں۔ سبحان اللہ جس کے سینکڑوں جھوٹ علانیہ چھپے ہوئے موجود ہوں۔ اس بے شرم کو معصوم ہونے کا دعویٰ ہو۔ یہ بھی دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین مجھے بنایا ہے۔ یعنی سارے جہاں کے لئے میں رحمت ہوں۔ یہ صفت خاص حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہے۔ اب چونکہ مرزا قادیانی حضور انور ﷺ کی برابری ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے یہ الہام اوتارا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ ان کے دوسرے الہامات اس کو غلط بتا رہے ہیں۔ کیونکہ پہلے تو ان کا مقولہ تھا کہ کوئی کلمہ گو کافر نہیں ہے۔ پھر یہ کہا کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ جہنمی ہے، کافر ہے۔ اب آپ کے ماننے والوں میں نہ کوئی جماعت یہود و نصاریٰ کی ہے نہ ہنود آریہ کی صرف چند ہزار یا بقول مرزائیوں کے چند لاکھ مسلمان انہیں مان گئے ہیں۔ اب مرزائی رحمت کا نتیجہ ملاحظہ کیجئے کہ تمام کفار کی جماعتیں جو پہلے سے جہنم کی مستحق تھیں۔ وہ اسی حال پر رہیں۔ اہل اسلام کی جماعت چالیس کروڑ تھی۔ جو مرزا قادیانی کے پہلے قول کے بموجب سب جنت کے مستحق تھے۔ ان میں کوئی کافر نہ تھا۔ مگر مرزائی رحمت نے یہ جوش مارا کہ بجز دو چار لاکھ کے سب کو جہنم میں دھکیل دیا۔

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٢

یہ تو آخرت کے لئے رحمت ہوئی۔ اب دنیا کی رحمت دیکھئے۔ کہتے ہیں کہ اس وقت یعنی جب سے مرزا قادیانی کا دعویٰ شروع ہوا۔ اس وقت سے جس قدر بلائیں۔

طاعون کی، قحط کی، ملیریا وغیرہ امراض عامہ مخلوق خدا پر آرہے ہیں۔ یہ سب مرزا قادیانی کے نہ ماننے کا طفیل ہے۔ مگر لطف یہ ہے کہ ان کے ماننے والے بھی شریک ہیں۔ ان کا ماننا کچھ کام نہیں آتا۔ اب ان دونوں جہان کی آفتوں کو ملاحظہ کیجئے۔ جو مرزا قادیانی کے وجود شریف سے تمام مخلوق خدا پر آئیں اور آرہی ہیں اور ان کے جھوٹے دعویٰ رحمت کو دیکھئے۔ الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوئی رحمت کو زحمت سے بدل کر ان کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیا۔ اس کے بعد اور ترقی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام سے میں ہر شان میں بڑھ کر ہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اولوالعزم انبیاء میں ہیں۔ صاحب کتاب اور صاحب شریعت ہیں۔ قرآن مجید میں ان کی بار بار تعریف آئی ہے۔ ان سے اپنے آپ کو ہر شان میں افضل کہتے ہیں اور اسی پر بس نہیں ہے۔ بلکہ تمام انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ ہے۔ کہتے ہیں کہ میرے لئے تین لاکھ سے زیادہ معجزے ہوئے اور کسی نبی کے لئے اس قدر معجزے نہیں ہوئے۔ (حقیقت الوحی ص ١٢٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٢٣) یہاں تک کہ ہمارے رسول اللہ ﷺ کے تین ہزار معجزے کہتے ہیں۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے نزدیک میرا مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے سو حصے زیادہ ہے۔ ان متکبرانہ دعوؤں سے سچے مسلمانوں کے دل کو کس قدر صدمہ ہوتا ہے۔

یہ دعوئی تو درجہ نبوت تک کے تھے۔ مگر مرزا قادیانی کی بلند حوصلگی اسی پر بس نہیں کرتی۔ بلکہ اور زیادہ ترقی کر کے خدائی اختیارات ملنے کا دعویٰ بھی آپ کو ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ مجھے کن فیکون کا اختیار دیا گیا ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ جس وقت جس بات کے ہو جانے کو میں کہہ دوں وہ فوراً ہو جائے گی۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ خدائی اختیارات مرزا کو مل گئے۔ جو چاہیں وہ کر سکتے ہیں۔ مگر خدا نے یہ فضل کیا کہ ادنیٰ ادنیٰ ان کی دلی آرزوئیں پوری نہ ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دعویٰ میں جھوٹا ثابت کر دیا۔ اب اس عظیم الشان دعوئی پر نظر کی جائے کہ کسی پیغمبر نے یہ دعویٰ نہیں کیا۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہ مرتبہ مجھے ملا۔ جس سے معلوم ہوا کہ پیغمبری کے درجہ سے ترقی کر گئے اور خدائی اختیارات انہیں مل گئے۔ (اس کا حوالہ اور تفصیل رسالہ دعوئی نبوت مرزا قادیانی میں

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٣

دیکھنا چاہئے) مگر افسوس یہ ہے کہ تمام عمر محمدی بیگم کے لئے رویا کئے اور اس کے شوہر کے مرنے کی تمنا میں رہے۔ مگر یہ آرزو پوری نہ ہوئی اور اس کے وصال کی حسرت قبر میں لے گئے۔ واہ رے خدائی اختیارات۔ یہ تو الہامی دعویٰ تھا۔ اب کشفی دعویٰ بھی ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔ میں نے آسمان و زمین پیدا کیا۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) لیجئے جناب الہام کے ذریعہ سے تو خدائی اختیارات ملے تھے۔ اب کشف کے دعوے سے پورے خدا ہو گئے اور آسمان و زمین کے قلابے ملا دئیے ۔ یہ سب کچھ ہوا مگر محمدی کی آرزو میں اور مولوی ثناء اللہ صاحب اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کی موت کی تمنا میں مر گئے۔ مگر یہاں نہ خدائی اختیارات کام آئے۔ نہ کشفی خدائی نے مطلب برآری کی اور دنیا سے نامراد گئے اور دنیا کے نزدیک قرآن مجید کے نصوص قطعیہ کے بموجب جھوٹے قرار پائے، ۔ ان کی کبر وتعلی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے تمام انبیائے کرام کی سخت توہین کی ہے۔ چنانچہ وہ اپنے کبر میں بدمست ہو کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ موجب تخلیق عالم میں ہوں۔ (حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢) میرے طفیل سے تمام انبیائے کرام اور اولیائے عظام اور ساری مخلوق پیدا ہوئی اور یہ مراتب علیا تمام انبیاء اور اولیاء کو میرے وسیلہ اور میرے طفیل سے ملے۔ حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ بھی اس میں داخل ہیں اور انہیں بھی یہ مدعی اپنا طفیلی بتاتا ہے اور سچے مسلمانوں کے دلوں کو پاش پاش کرتا ہے۔ یہ دعویٰ ایسا ہے کہ کوئی چمار معززین اسلام اور بادشاہ اسلام کے مقابلہ میں یہ کہے کہ یہ سب ہمارے طفیلی ہیں۔ ہماری وجہ سے انہیں یہ عزت اور بادشاہت ملی ہے۔ اب خیال کیا جائے کہ یہ ادنیٰ چمار اسلام اور تمام معززین اسلام کی کس قدر توہین کرتا ہے اور کیسی سخت سزا کا مستحق ہے۔ اب وہ مرزائی جو یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو جناب رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے نبوت ملی ہے۔ وہ اپنے مرشد کے اس دعویٰ کو دیکھیں کہ تمہارا مرشد تو تمہارے خلاف کہہ رہا ہے۔ اب یہ بتاؤ کہ تم جھوٹے ہو یا تمہارے مرشد کا الہام جھوٹا ہے۔ یہ تو ایک دعویٰ کے ضمن میں تمام انبیائے کرام اور اولیائے عظام کی تحقیر تھی۔ اب علانیہ توہین اور تذلیل ملاحظہ ہو۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت یہ لکھا ہے کہ:

”ان کے پاس سوائے مکر و فریب کے کچھ نہ تھا اور حق بات یہ ہے کہ ان سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠، ٢٩١)

اس کا نتیجہ ضرور یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو انہیں ”وجیھاً فی الدنیا والآخرة“

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٤

کہا ہے اور انہیں مقربین میں فرمایا ہے اور ان کے معجزات بیان کئے ہیں۔ وہ سب غلط ہیں۔ اس علانیہ انکار کے بعد اگر باتیں بنائی جائیں تو محض فریب کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ انبیاء کی تحقیر کسی طرح جائز نہیں ہے۔ وہ (یعنی حضرت مسیح علیہ السلام) مسمریزم کے ذریعہ سے اور تالاب کی مٹی سے کچھ علاج کیا کرتے تھے۔ انکا اعجاز کچھ نہیں تھا۔ ان کی نانیاں اور دادیاں کسبی اور زنا کار عورتیں تھیں اور وہ کسبیوں اور کنجریوں سے میل جول بہت رکھتے تھے۔ ان سے تیل ملواتے تھے اور ان نامحرموں کو چھوتے تھے۔ (نعوذ باللہ) یہ سب باتیں حضرت مسیح کی مذمت میں بیان کر کے لکھتے ہیں کہ: ”سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا آدمی کس چال چلن کا ہو سکتا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج١١ ص٢٩١ حاشیہ)

اہل اسلام دیکھیں کہ یہ شخص ایک اولو العزم نبی کی نسبت کیسے سخت الزامات لگا رہا ہے اور عوام کو بدگمانی کا موقع دے رہا ہے۔ یہ تمام اقوال ان کے پکے دہریہ ہونے کو ثابت کر رہے ہیں۔ وہ درحقیقت خدا اور رسول کو نہیں مانتے تھے۔ سب میں نہایت عیوب دکھا کر دہریوں کو در پردہ مدد دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مریدوں کے دلوں میں انبیائے کرام کی کوئی وقعت وعظمت نہیں ہے۔ انہیں شریعت محمدیہ سے واسطہ نہیں ہے۔ مگر جس وقت جو کچھ شریعت کے موافق کہہ دیں یا کر گزریں وہ فریب کی غرض سے ہے۔

خواجہ کمال کا لندن میں اشاعت اسلام کرنا اور مرزائی نبوت سے انکار کرنا محض روپیہ کمانے کے لئے ہے۔ اس وقت نہایت معتبر اور علانیہ دو شہادت تعلیم یافتہ حضرات کے پیش کرتا ہوں۔ تمام مسلمانوں اور خصوصاً باریافتگان رئیسہ معظمہ بھوپال ملاحظہ کریں۔ نہایت مشہور اور بے طرفدار اخبار وکیل امرتسر ٨؍دسمبر ١٩١٧ء کے ص ٣ میں لکھتا ہے۔ (جناب ابوالمنصور صاحب علی گڑھ) کی طرف سے ایک طویل مراسلہ موصول ہوا ہے۔ جس میں انہوں نے دکھایا ہے کہ در پردہ خواجہ صاحب بھی لوگوں کو احمدی بنانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ وہ اس کا اظہار پبلک پر نہیں ہونے دیتے۔ (ابوالمنصور صاحب) نے اس کی تصدیق میں ایک واقعہ بھی لکھا ہے کہ جب خواجہ صاحب دوران قیام ہند میں دورہ کرتے ہوئے علی گڑھ پہنچے تو انہوں نے علی گڑھ کالج کی عالیشان مسجد کی طرف نگاہ تک نہ کی اور قادیانیوں کی قلیل جماعت کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرہ میں نماز پڑھی اور اسی پر اکتفاء نہیں کی۔ بلکہ اپنے دوستوں سے انہوں نے کہا کہ میاں تم گھبراتے کیوں ہو ایک وقت آئے گا کہ میں انشاء اللہ تمام مسلمانوں کو احمدی بناؤں گا۔ وہ حضرات اس پر غور کریں جو

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٥

فرماتے ہیں کہ خواجہ صاحب تو تبلیغ میں مرزا قادیانی کا نام بھی نہیں لیتے۔ یہ محض غلط ہے۔ البتہ جہاں موقع نہیں دیکھتے وہاں نہیں لیتے۔ ورنہ انہوں نے اکثر مقام پر بڑی عظمت سے مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور مہدی مسعود کہا ہے۔ دوسرا شاہد یہ ہے۔ مولوی عبدالمجید صاحب پورنیوی بھاگلپوری بی اے بی ایل علی گڑھ کالج کے تعلیم یافتہ ہیں۔ خواجہ صاحب جس وقت علی گڑھ میں آئے تھے وہ وہاں موجود تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب خواجہ صاحب نے مسجد میں نماز نہ پڑھی تو خاص طلباء کی مجلس میں طلباء نے پوچھا کہ آپ ہمارے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ کیا ہمیں آپ مسلمان نہیں سمجھتے۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہاں۔ ہمارا اسلام اور ہے اور آپ کا اسلام اور۔ یہ کسی مولوی عربی داں کا مقولہ نہیں ہے۔ لائق انگریزی داں کا قول ہے۔ اب دیکھا جائے کہ صاف بات نہیں کہتے۔ مگر اسلام میں فرق بتا رہے ہیں۔ اس طرح کہتے ہیں کہ بات بنانے کی بہت گنجائش رہے۔ تیسرا شاہد ان کا رسالہ ہے۔ جس میں انہوں نے خاص حضور نظام والی دکن کو تبلیغ کی ہے اور اس کا نام تبلیغ بحضور نظام رکھا ہے اور صحیفہ ؎١ آصفیہ بھی اسے لکھا ہے اور چھپوا کر ہزاروں تقسیم کیا ہے۔ اس رسالہ کے ص ٢٨ سے مرزا قادیانی کی پیشین گوئی لیکھرام کے متعلق بڑے زور دار الفاظ میں بیان کی ہے اور ص ٣٠ میں اس کے پورا ہونے کو علم غیب قرار دے کر لکھتے ہیں کہ علم غیب کے راز کسی نجوم ؎٢ یا جفر کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ انہی پر ظاہر ہوتے ہیں جو خدا کے برگزیدہ مرسل ہوتے ہیں۔ (اس میں صاف طور سے مرزا قادیانی کو خدا کا برگزیدہ رسول قرار دیا ہے۔ کیونکہ ان کے خیال میں غیب کی بات انہوں نے بیان کی ہے) پھر اپنے دعویٰ پر آیت پیش کرتے ہیں۔ ”عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احداً“ اللہ کسی کو غیبی امور سے اطلاع نہیں دیتا۔ مگر اپنے خاص رسول کو، جب لیکھرام کی پیشین گوئی سچی ہوگئی تو قرآن پر ایمان رکھنے والوں کا فرض تھا کہ اس غیب کے بتلانے والے کو قبول کرتے۔ لیکن ایسا نہ کیا گیا۔ لوگوں نے نص قرآنی کی تکذیب کی اس لئے ان کا وہی حشر ہوا۔ جو مکذبین آیات الہی کا ہوا کرتا ہے۔

١؎ یہ رسالہ دوسری مرتبہ رفاہ عام پریس لاہور ١٩٠٩ء میں ساڑھے تین ہزار چھپ کر اس میں سے ایک ہزار صرف حیدرآباد میں مفت تقسیم ہوا ہے اور حکیم نورالدین کی طرف سے حضور نظام دکن کی خدمت میں پیش ہوا ہے۔ مسلمان اس جوش اور تدبیروں پر غور کریں۔

١١ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٦

طور سے اخباروں میں پیشین گوئیاں چھپتی ہیں اور تمام ناظرین اخبار انہیں دیکھتے ہیں اور اکثر پیشین گوئیوں کا پورا ہونا بھی معائنہ کرتے ہیں۔ مگر خواجہ صاحب کی جرأت کو دیکھئے کہ اس سے صاف طور سے انکار کرتے ہیں اور اس کی خبر نہیں رکھتے کہ جس طرح متعدد علوم عقلیہ ہیں۔ اسی طرح ایک علم نجوم ورمل بھی ہے۔ جس طرح اور علوم کی باتیں عقل سے معلوم ہوتی ہیں۔ اسی طرح نجوم ورمل سے بھی معلوم ہوتی ہیں۔ مگر انہیں علم غیب کہنا جہالت ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ علم غیب کسے کہتے ہیں۔

ناظرین ملاحظہ کریں کہ یہاں خواجہ صاحب اپنے خیال میں آیت قرآنی سے مرزا قادیانی کی نبوت کو ثابت کر کے ان کے منکر کا وہی حشر بتاتے ہیں۔ جو منکر آیت قرآنی کا ہے۔ یعنی جہنم، اور یہ بیان ایک ہی جگہ نہیں بلکہ متعدد جگہ ہے۔ (ص ١٠ تا ١٣) دیکھا جائے مگر ہر مقام پر اس طریقہ سے لکھا ہے کہ اکثر عوام دیکھ کر خوش ہوں۔ مگر ان کا دلی مقصد ہر ایک نہ سمجھے۔ اس رسالہ کا اصلی مقصد یہی ہے کہ حضور عالی نظام دکن خلد اللہ ملکہ کو مختلف طریقہ سے متوجہ کر کے مرزا قادیانی کی نبوت کو ثابت کریں اور انکے منکر کو جہنمی بتا کر حضور عالی کو توجہ دلائیں۔ اب ایسی کھلی کھلی معتبر شہادتوں اور ان کی صریح تحریر کے ہوتے ہوئے۔ یہ سمجھنا کہ خواجہ کمال الدین کا عقیدہ اور ان کا اسلام وہی اسلام ہے۔ جس کو حضرت نبی کریم ﷺ نے پہنچایا ہے اور جس کی صحابہ کرام، سلف صالحین نے پیروی کی ہے۔ واقعہ کے خلاف ہے۔ نیز خواجہ کمال الدین کے متعلق یہ حسن ظن رکھنا کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی اور رسول نہیں مانتے ہیں۔ ان کی تحریری شہادتوں کے بالکل خلاف ہے۔ پس خواجہ کمال کی یہ دورنگی کہ زبان سے مرزا قادیانی کی نبوت اور رسالت کا انکار کریں اور تحریر میں مرزا قادیانی کی رسالت کی تبلیغ کریں۔ یہ ایسی منافقت پروری اور فریب ہے کہ عوام کیا بعض خواص بھی اس کے دام میں آگئے اور اس منافقت تک ان کی نظر نہ پہنچی اور ان کی دلفریب باتوں کو ایک سچے مسلمان کا سچا بیان سمجھا۔ مگر ہم مسلمانوں کو ان کی خیر خواہی کے لئے صاف لفظوں میں بتا دینا چاہتے ہیں کہ خواجہ کمال کی دلفریب باتوں پر ہرگز یقین نہ کریں اور سمجھیں کہ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نقش قدم پر وہی چال چل رہے ہیں جو روش مرزا غلام احمد قادیانی نے ابتداء میں مسلمانوں کو اپنے فریب میں لانے کے لئے اختیار کی تھی اور جب کامل شہرت ہو گئی اور ایک جماعت کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تو پھر پردہ سے نکل کر علانیہ صاف لفظوں

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٧

میں اپنی نبوت اور رسالت کا اعلان کیا اور اپنے نہ ماننے والوں کو کافر اور جہنمی ٹھہرایا۔

برادران اسلام! آپ خوب یاد رکھیں کہ ہمیشہ ایسے لوگوں نے جو درپردہ اسلام کے دشمن تھے۔ پہلے دنیا پر اپنے کو اسلام کا سب سے بڑا خیر خواہ اور متبع شریعت اور مبلغ اور اسلام کا بہترین نمونہ بنا کر پیش کیا ہے اور اس ذریعہ سے ایک جماعت کو اپنا ہم خیال بنا کر پھر اپنی منافقت اور بدطینتی کا اظہار کیا ہے۔ جو تاریخ کے دیکھنے والے حضرات پر پوشیدہ نہیں ہے۔ اس جگہ ہم بہ نظر اختصار کامل ابن اثیر کی جلد دہم سے ایک واقعہ مختصر لفظوں میں نقل کرتے ہیں۔ اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی کے حصہ دوم میں ملاحظہ ہو۔ ”انتہائے مغرب میں ایک پہاڑ ہے۔ جس کا نام سوس ہے۔ وہاں کا رہنے والا ایک شخص محمد بن تومرت تھا۔ بہت بڑا عالم فقیہ تھا۔ حدیث کا حافظ تھا۔ اصول فقہ اور علم کلام کا پورا ماہر تھا۔ ادیب بھی تھا نہایت متقی پرہیزگار اور زاہد تھا۔ ایک زمانہ تک اس نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تبلیغ نہایت زور وشور سے کی۔ بلا تخصیص جس کسی کو برے کام کرتے دیکھا۔ اسے منع کیا اور نیک کام کی رغبت دی۔ اس زہد وتقویٰ نے خلقت کو اس کا مسخر و مطیع کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ٥١٢ھ میں اپنی سحر بیانی سے اپنے مجدد اور مہدی ہونے کی تمہید شروع کر دی اور کچھ دنوں کے بعد یہ ہوا کہ ایک روز وعظ کی حالت میں دس آدمی کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ جو خوبیاں امام مہدی کی آپ بیان کرتے ہیں۔ یہ تو سب آپ ہی میں پائی جاتی ہیں۔ آپ ہی امام مہدی ہیں۔ لائیے ہاتھ ہم بیعت کریں۔ محمد بن تومرت نے ان سب سے بیعت لی۔ پھر تو قبیلے کے قبیلے لوگ اس کے مطیع ہونا شروع ہو گئے۔ بادشاہ وقت کو جب معلوم ہوا تو فوج لے کر اس کی طرف چلا۔ جب وہ قریب آ گیا تو ابن تومرت اپنے معتقدوں سے یہ پیشین گوئی کر کے کسی طرف چلا گیا کہ میں تمہیں فتح یابی کی بشارت دیتا ہوں۔ تمہارا تھوڑا گروہ مخالف کی بیخ و بنیاد اکھیڑ دے گا اور ہم اس کے ملک کے مالک ہوں گے۔ چنانچہ بادشاہ سے جب لڑائی ہوئی تو بادشاہ کو شکست ہوئی اور ابن تومرت کی جماعت کو فتح ہوئی۔“

ابن تومرت کی طرح اور بھی ایسے آدمی گزرے ہیں جو پہلے کسی طرح قوم کے سردار اور معتمد ہوگئے۔ اس کے بعد پھر اس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مثلاً طریف جو انتہائے مغرب میں قوم برغواطہ سے تھا۔ ابتداء میں یہ غریب شخص تھا۔ مگر جب یہ کسی طرح قوم کا سردار اور بادشاہ ہوگیا تو پھر اس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

اسی طرح صالح بن طریف جو پہلے اپنی قوم میں عالم اور صاحب خیر یعنی نہایت دیندار مشہور تھا۔ جب اس کے ہاتھ میں ایک جماعت اور قوم کی سیادت اور سلطنت آئی تو اس

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١٤

نے بھی اپنے پہلے خیال کو خیر باد کہہ کر ترک کیا اور اپنے کو نبی بلکہ خاتم الانبیاء کہنے لگا اور جدید قرآن کے نازل ہونے کا دعویٰ کیا۔ جس کی چند سورتوں کے نام یہ ہیں۔ سورۃ الدیک، سورۃ الحمر، سورۃ الفیل، سورۃ ہاروت و ماروت وغیرہ۔ اسی طرح اور لوگ بھی ہیں۔ جن کی تفصیل فیصلہ آسمانی حصہ دوم اور رسالہ عبرت خیز میں ملاحظہ ہو۔ مسلمانو! اس فتنہ اور پر آشوب زمانہ میں خواجہ کمال الدین صاحب کی موجودہ روش بالکل ابن تومرت کے ایسی ہے اور ان کی یہ سب دلفریب باتیں محض اسی غرض سے ہیں کہ پہلے مسلمانوں کو تبلیغ اسلام کے نام سے اپنی طرف متوجہ کر کے تبلیغ مرزائیت کی زمین تیار کر لی جائے۔ پھر اس کے بعد صاف لفظوں میں مرزا قادیانی کی نبوت و رسالت کا اعلان کیا جائے۔ لہٰذا میں نہایت بہی خواہی کی نظر سے اپنے برادران ملت کو اس طرح متوجہ کرتا ہوں کہ خواجہ کمال الدین کی تبلیغ حقیقی اسلام کی نہیں ہے اور جیسا کہ خواجہ صاحب کہتے ہیں کہ ہم اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اس سے مراد وہ اسلام ہے جو اسلام ان کے مرشد مرزا غلام احمد قادیانی کا تھا۔ جیسا کہ پہلے ناظرین کو معلوم ہو چکا ہے کہ خواجہ کمال الدین کو خود بھی اس کا اقرار ہے کہ میرا اسلام اور ہے اور عام مسلمان اہل سنت و جماعت کا اور ہے۔ کیونکہ خواجہ کمال الدین کے متعلق اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں کہتے ہیں۔ بلکہ مجدد اور خدا کا برگزیدہ سمجھتے ہیں اور ان کو جھوٹا نہیں سمجھتے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ مرزا قادیانی کے ان خیالات کو جو نبوت کے علاوہ ہیں سچ سمجھتے ہیں اور ان کی سب پیشین گوئیوں کو سچی سمجھتے ہیں اور قرآن وحدیث اور احکام اسلام کے متعلق مرزا قادیانی کے جو خیالات ہیں وہ سب خواجہ کمال الدین تسلیم کر لیتے ہیں۔ تو پھر حیرت ہے کہ ایسی حالت میں خواجہ صاحب کو کیسے کہا جاتا ہے کہ وہ اسلام حقہ کی تبلیغ کرتے ہیں اور دین الٰہی اور قرآن وحدیث کو صحیح اور اصلی رنگ میں غیر قوموں تک پہنچاتے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو حدیث کو ردی بتاتے ہیں اور اپنے الہام کی بناء پر قرآن شریف کی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں خواجہ صاحب اس قرآن کی اشاعت نہیں کرتے ہیں۔ جو نبی کریم نے مسلمانوں کو پہنچایا ہے۔ بلکہ اس قرآن کی جو مرزا قادیانی کی اصلاح شدہ ہے۔ (نعوذ باللہ) کیونکہ جب شریعت اسلام بحسن وجوہ تکمیل کو پہنچ چکی اور اس کی تعلیم باعث رحمت وفلاح ثابت ہوئی تو اب اس میں ترمیم و تنسیخ یا بلفظ دیگر اصلاح کرنا گویا شریعت کو ناقص ثابت کرنا ہے جیسا کہ مرزائی۔ کیا سچی بات تو یہ ہے کہ اسلام کو چنگیز خاں کی تلوار نے جتنا نقصان پہنچایا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ مرزا قادیانی کی بے دینی نے۔ خواجہ کمال تو مرزا صاحب کو نبی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن جہاں جلب منفعت کے نقصان کا ڈر ہوتا

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 331

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مرزائیوں کے

دجالی استدلال کی

حقیقت

جناب سلطان احمد خان

صفحہ ٣٣٠

بسم اللہ الرحمن الرحیم !

مرزائیوں کے دجالی استدلال کی حقیقت

مرزائیوں کے دجالی استدلال نمبر ٣

الفضل ٩؍ اگست ١٩٥٠ء کے حوالہ سے مہتمم نشرو اشاعت جماعت مرزائیہ ربوہ ضلع جھنگ نے ایک ٹریکٹ شائع کیا ہے جس میں خلیفہ صاحب ثانی کا مدلل جواب ”احمدی دوسروں کی اقتداء میں نماز کیوں نہیں پڑھتے“ شائع کر کے ”عذر گناہ بدتر از گناہ“ کا پورا پورا نقشہ کھینچا ہے۔

خلیفہ صاحب کو ہم اس پہلو سے کہ ایک خاصے علاقے کے مالک اور ایک جدید مذہبی جماعت کے قائد ہیں، نظر استخفاف و استحقار سے دیکھنے کی بجائے نظر استحسان سے دیکھنے کے قائل ہیں۔ گو عقیدہ میں کفر و اسلام کا بعد تفرقہ انداز ہے۔ ہمیں وہ کافر کہیں یا ہم انہیں ختم نبوت جیسے حتمی عقیدہ سے انکار کے سبب جو محکمات قرآنی سے ثابت ہے ارتداد اور ترک اسلام کا ملزم گردانیں۔ مقصد، نتیجہ ایک ہی ہے۔ لیکن ہم انہیں برا کہنے اور سب وشتم اختیار کرنے کے برخلاف ہیں۔ اسلام اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کافر یا اس کے معبود کو برا کہیں۔ لیکن اگر کوئی جماعت یا گروہ مسلمانوں کے خلاف اسلامی بہروپ میں یہودیت وعیسائیت کی اشاعت کرے اور اسلامی مصطلحات کو اتباع ہوا کے رنگ میں تاویلات سے پیش کرے تو اپنے فطری جوہر اور اسلامی اخلاق کو ہاتھ سے نہ دیتے ہوئے ان کے پوشیدہ اغراض و مقاصد کا اظہار وانکشاف اور چھپی خواہشات کی قلعی کھولنا کوئی جرم نہیں۔ تا کہ سادہ لوح عوام ان کے دجل و فریب سے بچا رہ سکیں۔

یہاں ہم صرف یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جناب خلیفہ صاحب کو ایک معمولی سے سوال کا جواب تراشنے میں کتنے پہلو تبدیل کرنے پڑے اور کن کن چور دروازوں میں گھسنا پڑا۔ پھر بھی:

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا

کے مصداق ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ کئی پہلو بدلے۔ خوب اچھلے۔ لیکن سر کے بل آئے۔ جو حدیث اپنی تائید میں پیش کی۔ وہی عین تردید تھی۔ جو دلائل پیش کئے بدل کی ضلالت کا

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣١

بین ثبوت ہوئے۔ اس لئے ہم یہاں ان کی بیان کردہ حدیث توجیہات و تائیدات سمیت بے کم وکاست مع اپنے بیان کے قارئین کرام کی تفریح طبع کے لئے پیش کرتے ہیں۔ تدبر اور تفکر کے بعد انصاف کے ترازو پر تولنا اور راجح جانب کا جانچنا غیر متعصب دل اور بے لاگ چشم کا کام ہے۔

خلیفہ صاحب فرماتے ہیں۔ ”یہ سوال اپنے اندر کئی پہلو رکھتا ہے۔ جن میں سے ایک اس کا ”مذہبی پہلو“ ہے۔ ہمارا بانی سلسلہ احمدیہ کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ وہ ان پیش گوئیوں کے مطابق دنیا میں مبعوث ہوئے ہیں جو مسیح و مہدی کے متعلق اسلام میں پائی جاتی ہیں۔ یہ سوال الگ ہے کہ ان کا دعویٰ صحیح تھا یا غلط۔ بہر حال جب ہم انہیں مسیح و مہدی تسلیم کرتے ہیں تو لازماً ہم سے انہی باتوں کی امید کی جائے گی جو رسول کریم ﷺ نے آنے والے کے متعلق بیان فرمائی ہیں اور جب ہم احادیث کو دیکھتے ہیں تو ان میں ہمیں رسول کریم ﷺ کا ارشاد نظر آتا ہے: ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم “ اور ایک روایت میں ہے ”امکم منکم “

یہ ابتدائی تقریر خلیفہ صاحب کی اور حدیث جو سند کے طور پر عدم جواز اقتداء مسلم میں پیش کی ہے۔

مرزائی دوستو! ہمیں حدیث پر اعتراض نہیں اور نہ یہ حق ہے کہ کہیں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ غلط ہے۔ اتباع نہ کرو۔ ”من اسأ فعلیها من ضل فانما یضل علیها“ ہم یہ دعا کرتے ہیں۔ اللہ آپ پر راضی ہو اور ہدایت دے۔ چشم حق بین اور ذہن حق فہم عطا کرے۔ ”تدبروا تفکروا“ کے عامل ہو کر غور وخوض کی عادت پیدا کرو۔ خلیفہ صاحب کی کورانہ تقلید کا قلادہ گلے سے اتار پھینکو۔ یہی حدیث خلیفہ صاحب کے عقیدہ کی دھجیاں فضائے بسیط میں اڑاتی ہے۔ آپ خوش ہیں کہ خلیفہ صاحب نے کیا عمدہ توجیہ بیان فرمائی۔ اس حدیث سے تو مندرجہ ذیل چار باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ جو ہر چہار تمہارے عقیدہ کے خلاف ہیں۔

ہونے کی خواہش ہوگی۔ اسی لئے ”نزل فیکم“ فرمایا کہ تم میں آئے گا۔ ”نزل منکم“ نہیں فرمایا کہ تم میں سے آئے گا۔

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣٢

مسلمانوں سے منقطع ہوکر کسی مسیح کی امت ہونے کا قلادہ پہن لے گا انہیں امامت کا حق نہ ہوگا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نص صریح میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ آنے والا مسیح موعود ”ابن مریم ہوگا۔“ نص محکم اور صریح کی تاویل محض اس لئے کہ کوئی کور چشم دشمن اعتراض کرتا ہے یا اپنا مطلب بر نہیں آتا جائز نہیں۔ جب اشارۃً بھی کہیں بیان نہیں ہوا کہ آنے والا مسیح ابن مریم کے اوصاف رکھتا ہوگا۔ مرزائی دوست بہت سے علماء کے اقوال سند کے طور پر پیش کیا کرتے ہیں کہ تشریعی نبوت ختم ہوئی ہے۔ غیر تشریعی نبوت ختم نہیں ہوئی۔ جس کا جواب اپنے مقام پر آئے گا۔ کہیں سے ٹوٹے پھوٹے دلائل ہی سہی، یہ بتا دیں کہ اس حدیث میں ابن مریم کے معنے ابن مریم کے اوصاف والا نبی مراد ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کے اپنے مطلب کے لئے یہ مفہوم گھڑ لینے سے مقصود حاصل نہیں ہوتا۔ اس کی کوئی دلیل چاہئے۔

ہم تھوڑی دیر کے لئے آپ کو یہ بھی موقع دیتے ہیں کہ ابن مریم سے مراد ابن مریم کے عادات و اخلاق کا انسان مسیح موعود بن کر آئے گا۔ آپ مرزا قادیانی کے اخلاق و عادات کا موازنہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اخلاق کے ساتھ کرنے کو تیار ہیں۔ جبکہ ان کے دشمن مرزا قادیانی کے دشمنوں سے حدت و شدت میں کئی گناہ زیادہ تھے۔ مسیح ناصری (عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے تو مذہب پیش کیا کہ اگر تمہاری گال پر کوئی ایک تھپڑ مارے تو دوسری گال بھی پیش کردو۔ اور مرزا قادیانی ہیں کہ ایسے زمانہ میں ورود فرمایا کہ کسی کو مار سکنے کی طاقت تو نہ رکھتے تھے۔ اگر طاقت ہوتی ایک تھپڑ کے بدلے دس تھپڑ مارتے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر کسی مغضوب الغضب نے ایک گالی دی تو جواب میں دس گناہ بے نقط اور ایسی مغلظ گالی سنائیں کہ ایسی گالی سے قحباؤں کی ضمیر بھی شرماتی ہے اور یہ گالیاں آپ کی کتابوں میں موجود ہیں۔ مرزائیوں کو ان گالیوں سے انکار نہیں۔ البتہ یہ جواب ہے کہ مولویوں کی گالی کے جواب میں یہ گالی ہے:

گربۂ مسکیں اگر پرداشتے
تخم کنجشک از جہاں برداشتے

دوسری صفت جو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام میں خصوصیت سے پائی جاتی تھی مال و زر سے تنفر اور گوشہ نشین فقیر تھے۔ لیکن مرزا قادیانی نے حصول زر کے وہ قانون تراشے کہ

٤

صفحہ ٣٣٣

اقتصادیات کے بانی بھی حیران رہ گئے۔ اسلام میں اڑھائی روپیہ سینکڑہ یعنی سال کے بعد چالیسواں حصہ تھا۔ مگر یہاں ٹیکسوں کی کوئی حد مقرر نہیں۔ پانچواں، دسواں، بیسواں کے علاوہ کل کا کل بھی ہے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی میں تو عیسیٰ علیہ السلام کیا کسی عام با اخلاق انسان کے وصفی معنے بھی نہیں پائے جاتے۔

ابن مریم کے لفظ نے مرزا قادیانی کی نبوت کو ختم کردیا۔ اب ”نزل فیکم“ پر جب نظر دوڑاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس رفع کی تفسیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا بل رفع اللہ الیہ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دوست کو اپنی طرف اٹھالیا جو ایک وقت مقررہ تک وہاں رہے گا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ ﷺ کو اطلاع دے دی کہ آپ اپنی امت کو فرمادیں۔ ایک وقت آئے گا کہ وہ مرفوع ابن مریم تیری امت میں آئے گا۔ تب حضور ﷺ نے فرمایا

”کیف انتم اذانزل ابن مریم فیکم“

اور ”فیکم“ نے یہ بھی روشن کردیا کہ حضور سرور عالم ﷺ صحابہ کو خطاب فرما رہے ہیں کہ ایک وقت ہوگا کہ تم میں ابن مریم تشریف لائیں گے۔ وہ تم میں سے نہیں ہوں گے۔ بلکہ تم میں آئیں گے۔ اگر امت محمدیہ میں سے کسی نے ابن مریم کا درجہ یا مقام پانا ہوتا تو آپ ”نزل فیکم“ کی جگہ ”نزل منکم“ فرماتے۔ معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام خود نزول فرمائیں گے اور یہی ہمارا عقیدہ ہے۔

اب رہا سوال امامت کا۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ جن صحابہ کرامؓ کو رسول اللہ ﷺ خطاب فرما رہے ہیں کہ جب تم میں مسیح موعود آئے گا۔ اس وقت امامت تم میں ہوگی۔ وہ سب کے سب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ ان کا ایک بھی مسیح موعود کی امت میں سے نہیں ہے۔ آپ نے واضح فرمادیا کہ جب ابن مریم تم میں آئے گا۔ امامت کا حق تم میں ہی محصور رہے گا۔ نہ تو ابن مریم خود امامت کا حق رکھتا ہوگا اور نہ اس کے ماننے والوں میں سے کوئی شخص۔ ابن مریم خود اس لئے امام نہیں بن سکیں گے کہ تم یعنی میری امت کے باعمل علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کا درجہ رکھتے ہو اور عیسیٰ علیہ السلام کا اس وقت تشریف لانا نبوی حیثیت سے بھی نہیں۔ وہ تو اپنی نبوت کا زمانہ گزار چکے ہیں۔ میری نبوت کے بعد کوئی نبوت ہے نہ ہوگی۔ ہاں انہوں نے دعا مانگی تھی کہ یابار خدایا مجھے آپ کی امت سے بنا۔ دیکھا یہ اسی دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہوگا۔

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣٤

”اور مسیح موعود کے ماننے والوں میں سے اس لئے کوئی امام نہ ہوگا۔“ کے معنی یہ ہیں کہ مسیح موعود کو اس حیثیت سے تو سب مسلمان مانیں گے کہ یہ وہی ابن مریم ہیں کہ جن کے آنے کی نبی کریم ﷺ نے خبر دی تھی۔ وہ وعدہ پورا ہوا۔ ان معنوں میں ان پر ایمان نہیں لائیں گے کہ آخری نبی آیا۔ ہم ان کو نبی کی حیثیت سے مانیں۔ ہاں ”امَامَکُمْ مِّنکُمْ“ کی قید اس لئے ضروری تھی کہ : ”اگر کسی زمانہ میں کوئی کاذب مدعی نبوت ایک جماعت کھڑی کر کے یہ دعویٰ کر دے کہ جس مسیح موعود کے آنے کی نبی کریم ﷺ نے خبر دی ہے وہ میں ہوں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈال کر ایک الگ جماعت کھڑی کر لے اور حکم لگا دے کہ میرے نہ ماننے والا کافر ہے اور میرے ماننے والوں کو ان کی اقتداء نہیں کرنی چاہئے۔“

ایسی صورت میں بھی امامت تم میں ہی رہے گی۔ ایسے کاذب نبی کی امت تمہاری اقتداء کرے یا نہ کرے۔ تمہیں ہرگز اجازت نہیں کہ ان کے پیچھے نماز پڑھو۔ یہ ہے حدیث کا صحیح مفہوم جس پر تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔

اب وہ تفسیر جو خلیفہ صاحب نے اس حدیث کے متعلق فرمائی ہے۔ بے کسی تصرف کے من وعن لکھتا ہوں۔ وہ حسب ذیل ہے۔ ملاحظہ ہو : ”اب اس کے دو معنے ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کو اس وقت مسلمان ہی نماز پڑھایا کریں گے۔ دوسرے یہ کہ مسیح کی جماعت کو مسیح کے پیرو ہی نماز پڑھایا کریں گے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ گویا پہلے عیسائی، یہودی اور زرتشتی بھی ان کے امام ہوا کرتے تھے۔ مگر مسیح کے آنے کے بعد صرف مسلمان ہی نمازیں پڑھایا کریں گے۔ پس یہ معنے بالبداہت باطل ہیں۔ لازماً اس کے دوسرے معنی ہی ہو سکتے ہیں کہ مسیح کے ماننے والوں کا امام انہی میں سے ہوگا۔“

چہ خوش گفت است سعدی در زلیخا
الا یا ایہا الساقی ادر کاسا وناولہا

اس تفسیر پر چسپاں ہوتا ہے۔ خلیفہ صاحب کے معلومات اور فہم و ذکاء پر شبہ کرنا تو غلط ہے۔ بلکہ اس سے ان کے کمال فن اور عقل دور رس کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ایسی دور از راستی من خواستہ تاویلات کے باوجود ایک جماعت ان کی انگلیوں کے اشارے پر ناچ رہی ہے اور سب معتقدین ”مرید یکہ چرا بگوید بچراگاہ باید فرستاد“ کے قانون پر پابند ہیں۔ کوئی حق کہنے کی جرات نہیں

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣٥

کرسکتا۔ ورنہ معمولی زبان سے واقف انسان بھی مفسر کی تفسیر سے اس کی گہری چالوں کو تاڑ جاتا ہے۔

میں اس پر زیادہ بحث کرنی نہیں چاہتا۔ بلکہ صرف یہ عرض کروں گا کہ خلیفہ صاحب نے حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے دو گروہ بنائے ہیں۔

مسلمانوں کی امامت کو اس لئے ناجائز قرار دیا کہ اس سے یہ سوال پیدا ہوگا۔ کیا پہلے ان کو یہودی، عیسائی، زرتشتی نمازیں پڑھایا کرتے تھے کہ اب کہا گیا ہے کہ مسلمان نمازیں پڑھائیں گے۔ اس لئے معلوم ہوا کہ مسیح کے ماننے والی جماعت کا امام مسیح کے ماننے والا ہی ہوگا۔

اب سوال پیدا ہوا کہ مسیح کے ماننے والے مسلمان ہیں یا کافر۔ اگر وہ مسلمان ہیں تو وہی پہلا اعتراض پیدا ہوتا ہے جو مسلمانوں کی امامت مسلمانوں میں ماننے سے ہوتا تھا اور اگر وہ کافر ہیں تو پھر پوچھیں گے کہ کیا نبی کریم ﷺ اس وقت کافروں سے مخاطب تھے۔ جب فرمایا ”کیف انتم اذ نزل ابن مریم فیکم“

خلیفہ صاحب (اللہ آپ کو ہدایت دے) آپ کے منصب سے یہ توقع نہیں ہونی چاہئے کہ ایسی الجھی ہوئی تاویلوں میں عوام کو ڈال کر اپنے اعتماد اور وقار پر کسی کو حرف گیری کا موقع دیں۔ جناب چاہئے یہ تھا کہ جرأت سے کام لے کر دو لفظی جواب جو صحیح بھی تھا۔ پردہ نہ رکھتے ہوئے حق بے نقاب کر دیتے۔ آپ کا بگڑتا کیا تھا۔ فرما دیتے: ”میرے ابا جان نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ میں نے تصدیق کی اور حصہ میں خلافت ملی۔ ہماری جس جماعت نے اس دعویٰ کو صحیح مانا وہ مسلمان ٹھہرے۔ تم نے تکذیب کی۔ نبی کے انکار سے کافر ہوئے۔ مسلمان کے لئے کافر کی اقتداء جائز نہیں اور یہی میرے ابا جان کا حکم ہے۔“

آخر میں جا کر دبے لفظوں میں معناً اس مفہوم کا اعتراف کیا ہے۔ فرماتے ہیں: ”ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امام متقی ہونا چاہئے۔ ہم خدا تعالیٰ کے ایک مامور پر ایمان رکھتے ہیں۔ تم نہیں رکھتے۔ مامور پر ایمان لانے والا، ایمان نہ لانے والے کی نسبت زیادہ متقی ہوتا ہے۔ اس لئے ہماری نماز دوسرے کے پیچھے جائز نہیں ہوتی۔“

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣٦

یہاں بھی خلیفہ صاحب حق کہنے میں جھجک گئے۔ اتقی یا عدم اتقی کا سوال نہیں۔ بلکہ کفر اور اسلام کا فرق ہے۔ جس پر مرزائیوں کا عقیدہ ہے۔

عقلی پہلو

پھر خلیفہ صاحب فرماتے ہیں کہ: ”اس مسئلہ کا ایک عقلی پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ ہر مامور کے ماننے والے ابتداء میں تھوڑے ہوتے ہیں۔ تھوڑے ماننے والے کثرت سے ملیں تو اپنا جوہر کھو بیٹھیں۔ پس ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ دوسروں سے الگ رہیں۔“

مرزائی دوستو! ذرا غور و فکر سے کام لو۔ ”این تذہبون“ کدھر بھٹکے پھرتے ہو۔ خلیفہ صاحب تمہیں کہاں لئے جارہے ہیں۔ تمام قوانین شرعیہ خصوصاً عبادات بمعہ اپنے جزئیات ولوازمات کے شارع علیہ السلام کی طرف سے منصوص ہوتے ہیں۔ مثلاً یہی نماز ہے۔ اس کی رکعات، رکوع، سجود، جلسہ، طہارت، بدن، لباس، مقام، امامت، اقتداء وغیرہ کے جزئیات ذرہ ذرہ شارع کی طرف سے بتائے ہوتے ہیں اور ان میں انسان جو کمی پیشی کرے اس کا نام بدعت ہے۔ جسے ”کل بدعة ضلالة“ کہا گیا ہے اور شارع علیہ السلام عقل کل سے مستفید ہو کر بیان کرتا ہے۔ عقل ناقص کا کام نہیں کہ اس میں دخیل ہو کر جو جی چاہا من مانی بات مقرر کردی۔ ادھر بار بار بلند آواز سے پکارتے ہو کہ مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی نہیں۔ دوسری جانب مسلمانوں میں تفرقہ ڈال کر ڈیڑھ اینٹ کی علیحدہ مسجد بناتے ہو اور کہتے ہو کہ ہمیں عقل نے رہنمائی کی کہ اگر مسلمانوں سے مل کر رہے تو تمہارا اصلی جوہر باقی نہیں رہے گا۔ اس لئے عقل کا اقتضاء ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں نہ پڑھیں اور ان سے قطع تعلق کر دیں۔

کیا تم دین محمد ﷺ سے کوئی اصول بتا سکتے ہو کہ ذاتی وقار اور ذاتی جوہر کو قائم رکھنے کے لئے نصوص قطعیہ کو عقل کے سانچے میں ڈھال لیا جائے؟

واقعاتی پہلو

پھر مرزا محمود قادیانی نے تیسرا واقعاتی پہلو بھی بیان کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ: ”اس مسئلہ کا ایک واقعاتی پہلو ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے علماء کے فتویٰ کفر کے کئی سال بعد تک نماز کو منع نہیں کیا۔ بلکہ خود بھی ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے۔ مگر علماء اپنے فتویٰ کی شدت

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣٧

میں بڑھتے چلے گئے ........ تو اللہ تعالیٰ نے بھی حکم دے دیا کہ اب ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔ جیسے رسول کریم ﷺ مکہ میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے ............ الخ ۔“

میرے مرزائی دوستو! حوالہ بالا میں منقوطہ جگہ ارادہ خیانت سے آپ کے مطلب کی عبارت کوئی نہیں چھوڑی۔ وہاں صرف یہ لکھا ہے کہ : ” مسلمان ہمیں کتا سے بھی نجس اور پلید ترین جانتے ہوئے مساجد میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے ۔“ ایسا ہو گا ممکن ہے کسی جاہل سے کسی جاہل نے ایسا سلوک کیا ہو۔ یقینا دوطرفہ بگاڑ ہو گا۔ لیکن مامور من اللہ کے لئے عوام کی ایسی حرکات ترک حق کے لئے سند نہیں بن سکتیں ۔

انبیاء کی تاریخ بتاتی ہے کہ تبلیغ کا منصب کتنا مشکل ہے اور کیونکر نبھانا چاہئے ۔ لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو فرماتے ہیں ” وأمر بالمعروف وانهى عن المنکر واصبر على ما اصابک ان ذالک من عزم الامور “ یعنی خدا کا پیغام پہنچانے میں تو بڑی برداشت کا مادہ چاہئے اور یہی چیز سچے اور جھوٹے مبلغ کے لئے کسوٹی ہے۔

خیر ہم لمبی بحث چھیڑنا نہیں چاہتے ۔ خلیفہ صاحب نے مسلم برادری سے قطع تعلق کی جو وجوہ بیان کی ہیں۔ اس میں شکوک ہیں ۔ ہم ان شکوک کا ازالہ چاہتے ہیں۔ خلیفہ صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ علماء کے فتوائے کفر کے کئی سال بعد تک حضرت مسیح موعود نے ہمیں مسلمانوں کی اقتداء سے منع نہیں کیا۔ بلکہ خود بھی ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ:

استدلال کیا ہے کہ امامت مسیح کی جماعت میں رہے گی۔ اس نص صریح کے ہوتے ہوئے مولویوں کے فتوائے کفر کے باوجود کس مصلحت کی بنا پر خود مسیح ان کی اقتداء کرتے رہے اور حدیث پر عمل نہ کیا۔ دب کر یا استرضائے قلوب اعداء کے لئے۔

ایمان لانے کو قرار دیا ہے۔ یہاں بھی وہی سوال ہے۔ مامور من اللہ پر ایمان لانا تو درکنار مامور کو کفر کا فتویٰ دینے والوں کی اقتداء مسیح موعود نے کیوں کی۔ اس جواز کی سند کیا ہے؟

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٣٨

مولوی کافر ہیں۔ پھر اپنے زعم میں نبوت کا درجہ پا کر کئی سال تک کافروں کی اقتداء کرنے کا جواز کہاں سے لیا یا کسی تردد کی وجہ سے اصل پر پردہ ڈالے رکھا؟

یہ معمہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک شخص اپنے آپ کو سچا مامور من اللہ جانتے ہوئے کافر کہنے والوں کی اقتداء و اتباع ان سے دب کر کرے یا استمالت قلوب کے لئے ’’انکم لتقولون قولاً عظیما‘‘ اور یہ تشبیہ تو کس قدر لغو غلط اور بے معنی کہ: ’’اس دوران میں اقتداء اس قبیلہ کی طرح ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مکہ اور کچھ عرصہ مدینہ میں بھی بیت المقدس کو قبلہ بنائے رکھا۔‘‘

بیت المقدس اور مکہ دونوں قبلہ حق ہیں۔ بیت المقدس بھی بہت عرصہ انبیائے کرام علیہم السلام کا ویسے ہی قبلہ رہا جیسے مکہ مکرمہ۔ سب سے پہلا قبلہ اور خدا کا گھر مکہ شریف ہے۔ جسے آدم علیہ السلام نے بنایا۔ ’’اول بیت وضع للناس ببکۃ مبارکاً فیہ‘‘ اس کی دلیل ہے۔ غالباً طوفان نوح علیہ السلام سے مٹ گیا ہوگا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام نے بنایا۔ بعد زمانہ اور انقلاب روزگار سے پھر مسمار ہو گیا۔ تب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس بنوایا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ تک جس قدر بھی انبیاء علیہم السلام آئے ان سب کا قبلہ یہی بیت المقدس رہا۔ غالباً پھر قصی بن کلاب نے بیت اللہ کو از سر نو بنایا۔ جب نبی کریم ﷺ کا زمانہ آیا۔ سابقہ انبیاء کی سنت پر بیت المقدس کو قبلہ مانے رکھا۔ مگر دل میں یہ خواہش تھی کہ میرے جد اعلیٰ ابراہیم علیہ السلام کا بنایا ہوا خدا کا گھر میرا قبلہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے خواہش منظور فرمائی اور قبلہ مکہ بنا۔

اس میں کفار کی اقتداء کہاں اور قبلہ کا رخ تبدیل ہونا کہاں۔ خلیفہ صاحب نے تو صاف فرما دیا کہ جب مسلمان گالی کی شدت پر اتر آئے۔ تب ہم نے ان کی اقتداء چھوڑ دی۔ ان کے کافر کہنے تک کی تو ہم نے پروا نہ کی۔ لیکن جب اس سے بھی آگے بڑھ گئے۔ ہمیں مسیح موعود نے اور مسیح موعود کو خدا نے حکم دیا کہ ان کے پیچھے نمازیں نہ پڑھو۔ ’’ربکم اعلم بما فی نفوسکم‘‘

اس کے بعد خلیفہ صاحب نے ایک عملی پہلو بیان کیا۔ ایک سیاسی پہلو بیان کیا۔ جن میں تضیع اوقات کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس لئے نظر انداز کرتا ہوں اور ایک بار مرزائی دوستوں

١٠

صفحہ ٣٣٩

سے پھر اپیل کرتا ہوں۔ اپنے عنکبوتی دلائل پر غور کرو ۔

پائے استدلال چوبیں بود
پائے چوبیں سخت بے تمکیں بود

مرزائیوں کے دجالی استدلال نمبر ٤

التبلیغ ٧؍ جولائی ١٩٥٢ء شائع کردہ صیغہ نشر و اشاعت ربوہ ضلع جھنگ میں جلی الفاظ میں پہلا عنوان ہے: ”جماعت احمدیہ صدق دل سے آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتی ہے۔“ اس کے نیچے درج ہے: ”احراری مولوی صاحبان ہمارے خلاف محض جھوٹے الزام لگا رہے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔“

”رسول کریم ﷺ کو جو خاتم النبیین نہیں مانتا۔ ہم اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

”وہ شخص نہایت ہی ملعون ہے جو جھوٹ سے باز نہیں آتا اور ہم پر غلط الزام لگا کر ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتا ہے۔“

یہاں سے چار امور ظاہر ہوئے۔

دو باتوں کا اعتراف ہے

دو باتوں میں احتجاج ہے

(حکومت کو چاہئے کہ ان کو روکے)

مرزائی دوستو! اگر آپ کا پہلے دو امور میں اعتراف صحیح ہے۔ دل کی گہرائی سے نکلا ہے۔ مسلمانوں سے دجل و فریب نہیں۔ عیاری کی اوڑھنی اوڑھے ہوئے نہیں۔ مکاری کا مسلک نہیں۔ تقیہ یا منافقت کے مذہب سے گریز ہے تو ہم اور آپ ایک ہیں۔ ہم سے منقطع ہو کر بادیہ

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٠

ضلالت میں کیوں بھٹکے پھرتے ہو۔ ”من شذ شذ فی النار“ کا شکار کیوں بن رہے ہو۔ مگر آپ کی ہم سے نفرت بتاتی ہے کہ آپ اس اعتراف میں مسلمانوں سے دھوکا کر رہے ہیں۔ ہاں! اگر آپ اپنے وعدہ میں سچے ہیں تو ”تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم“ ایک مشترکہ اصول کو مان لو۔ وہ یہ کہ ”لومة لائم“ بلند آواز سے اعلان کر دو۔

”ہماری جماعت احمدیہ چونکہ صدق دل سے آنحضرت ﷺ کو مطلقاً خاتم النبیین مانتی ہے۔ اگر کوئی شخص رسول کریم ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے وہ کاذب ہے۔ ہم اس پر ہزار بار لعنت بھیجتے ہیں۔“

اگر آپ نے ایسا اعلان کر دیا تو آپ سچے اور احراری جھوٹے اور مفسد لیکن ”ان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التى وقودها الناس والحجارة“ اگر ایسا نہ کرو اور یقیناً تم نہیں کرو گے اور نہ کر سکو گے۔ عذاب جہنم سے ڈرو جس کا ایندھن بد اعمال منافق انسان اور پتھر ہیں۔ احراری مولوی سچے اور ان کا مطالبہ صحیح۔

مرزائی دوستو! کیوں دھوکے کی آڑ میں شکار کھیلا کرتے ہو اور سادہ لوح مسلمانوں کی آنکھ میں خاک جھونکنا اور دھوکا دینا انسانیت اور انسانی اخلاق سے کتنا دور ہے۔ اس آزادی کے زمانہ میں جب کوئی بھی کسی کے خیالات اور عقائد میں دخیل نہیں ہو سکتا۔ کوئی لباس عریانی میں رقص کرے یا ننگا ناچے۔ اعتراض کی مجال نہیں۔ تمہارے نبی نے انبیاء کو گالیاں دیں اور دلوائیں۔ مولویوں کو ایک ایک کا نام لے کر کوسا۔ بد باطن اعداء کو گندی گالی دے کر ستایا۔ انہوں نے اس کے عوض نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس صفات پر کیچڑ اچھالا۔ آپ کا کسی نے کیا بگاڑا کہ آپ جرأت کر کے اپنے مذہب کو فاش کرنے میں جھجکتے ہیں۔ نئی نبوت کی امت ہو۔ تمہارا رہبر نبوت کا مدعی ہے۔ پھر جلی الفاظ میں یہ لکھنے سے نہیں شرماتے کہ: ”ہم تو ختم نبوت کو مانتے ہیں اور ختم نبوت نہ ماننے والے پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

مگر سنت الٰہی ہے ”ومن يرد ان يضله يجعل صدره ضيقا حرجا كانما يصعد فی السماء“ جنہیں خداوند کریم کسی ناراضگی کی وجہ سے قعر ضلالت سے نکالنا نہ

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤١

چاہئے۔ ان کا سینہ تنگ ہو جاتا ہے اور حق قبول کرنا اتنا دشوار معلوم ہوتا ہے۔ گویا آسمان پر چڑھنا پڑ گیا۔

ماعلينا الا البلاغ! سلطان احمد خان کوٹ دیوا سنگھ سرگودھا!

مرزائیوں کے دجالی استدلال نمبر ٥

مرزائی صاحبان کی عادت ہے کہ جب دلائل حقہ کے شہاب ثاقب سے انہیں مار بھگایا جائے تو دجل وفریب کی آڑ لے کر عوام مسلمانوں کی توجہ بے حقیقت الجھن میں ڈال کر پہلو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کفر و اسلام کی حد فاصل شبہات کی تاریکی میں چھپا کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں۔

چنانچہ ١٤؍ جولائی ١٩٥٢ء کے (التبلیغ ج ٢ نمبر ٢٦ ص ١) میں ”کیا مولوی عبدالحامد بدایونی کو جرأت ہے“ کے عنوان سے اور ٢٨؍ اگست ١٩٥٢ء کے التبلیغ ج ٢ نمبر ٣٠ میں ”فیصلہ آسان راہ“ کے نام سے اور ٹریکٹ نمبر ٤٧ میں ”کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان حضرات کے بارہ میں جو خاتم النبیین ﷺ کے بعد امت محمدیہ میں امکان نبوت کے قائل ہیں“ ایسے ہی مختلف مضمون والے کئی ٹریکٹوں میں گلا پھاڑ پھاڑ کر یہ پکار کی ہے کہ فلاں فلاں علماء کی رائے بھی مسئلہ ختم نبوت میں ہم سے اتفاق رکھتی ہے۔

جن علمائے کرام کو اپنی حمایت میں سند کے طور پر پیش کیا ہے اور ان کی کتب سے امت ربوہ نے اس قسم کے دم بریدہ حوالے پیش کئے ہیں۔ ان میں سے مشہور شیخ اکبر معروف ابن عربی اور ان کی کتاب فتوحات مکیہ، ملاعلی قاری اور ان کی کتاب موضوعات کبیر، محمد قاسم صاحب نانوتوی اور ان کا رسالہ تحذیر الناس وغیرہ ہیں:

دوسرے مولویوں میں اگر ذرا بھر دیانتداری ہے تو وہ ایک اعلان کے ذریعہ انکار کریں کہ:

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٢

ہے۔

حمایت چاہتے ہوئے ”فیصلہ کی آسان راہ“ کے ص ٢ پر جلی الفاظ میں یہ لکھا کہ: ”اگر آپ کو اپنے مولوی صاحبان کے بیان کی صداقت پر یقین ہے تو انہیں کہیں کہ وہ خانہ خدا میں کھڑے ہو کر دس شریف آدمیوں کے سامنے قسم کھا کر کہیں کہ یہ حوالے جماعت احمدیہ نے اپنی طرف سے بنا لئے ہیں اور اصل کتاب میں ہرگز موجود نہیں۔ اس کے بعد ......... ہمارے دس آدمی خانہ خدا میں کھڑے ہو کر قسم کھا کر بیان کریں گے ......... ہم نے انہیں طبع نہیں کیا۔“

(التبلیغ ج ٢ نمبر ٣٠ ص ٢، ٢٨؍ اگست ١٩٥٢ء)

جہاں تک میں نے غوروخوض کیا۔ مرزائی صاحبان کا مقصد اور مطالبہ دو ہیں:

حوالے ہم نے پیش کئے ہیں۔ جبکہ وہ ہمارے ہم عقیدہ ہیں کو کافر کہنے کی جرأت کیوں نہیں کرتے۔

حوالے غلط ہیں یا کتابیں مرزائیوں نے شائع کر کے خود ان میں یہ چیزیں لکھ دی ہیں۔ پھر دس حلف اٹھا کر تردید کریں گے کہ نہیں ہم نے ایسا نہیں کیا۔

مرزائی دوستو! پہلا سوال جس میں آپ نے مولوی عبدالحامد بدایونی اور دوسرے علماء سے تکفیر علماء کا مطالبہ کیا ہے۔ شاید مولوی صاحب ممدوح دیکھ پڑھ یا سن کر محض نص ”عباد الرحمن“ کے حکم سے سکوت اختیار کئے ہوں۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے پسندیدہ اور مرضیہ بندے کندہ ناتراش جاہلوں کے جواب میں سلامتی کا قول وعمل اختیار کرتے ہیں۔ ان سے الجھنا نہیں چاہتے۔ ایسے ہی دوسرے علمائے کرام ہیں۔ بقول شاعر ؎

اذا نطق السفيه فلا تجبه
فخير من اجابته السكوت

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٤

جواب جاہلاں باشد خموشی کے پابند ہوں۔ مگر میں کمترین بندہ ۔

اگر بینم کہ نابینا و چاہ است
وگر خاموش بنشینم گناہ است

کے حکم سے اندھے کو کنوئیں میں گرنے سے بچانے کے لئے صحیح راستہ دکھانا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ ہاں! راستہ پر چلا نہیں سکتا۔ ہدایت خداوند کریم کی رضا اور پسند سے نصیب ہوتی ہے۔ دعا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ گمراہوں کو گمراہی سے بچائے اور آپ کے مطالبہ اوّل کا جواب دیتا ہوں۔

دوستو! علماء کا جن کے تم نے حوالے پیش کئے ہیں۔ ختم نبوت کے متعلق وہ مذہب نہیں ہے جو تمہارا ہے اور ان کے عقیدے اور تمہارے عقیدے میں بعد المشرقین ہے اور نہ ان کی تحریروں کا وہ مفہوم ہے جو تم بیان کرتے ہو۔ اس کی قلعی ابھی کھولتا ہوں۔ یہاں اتنا بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان پر کفر عائد نہیں ہوتا۔ ہم انہیں کافر نہیں کہتے ۔ نہ مانتے ہیں اور آپ کو اور مرزا قادیانی کو بھی ہم خود کافر ہرگز نہیں کہتے۔ البتہ کافر مانتے ضرور ہیں۔ اگر چہ ہم تمام مسلمانوں کو خود مرزا قادیانی اور ان کے صاحبزادے میاں بشیر احمد خلیفہ ثانی نے پکار پکار کر کافر کہا اور گندی گالیاں بھی دیں۔

نبی باپ کا فیصلہ تمام مسلمانوں کے حق میں یہ ہے : ”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔“

( حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

اور بیٹا خلیفہ ثانی پدری فرمان میں ترمیم یا اضافہ فرماتے ہوئے آئینہ صداقت ص ٣٥ میں یوں فیصلہ صادر فرماتے ہیں : ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے ......... حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔“

یہ ارتقاء اور یہ وہی خلیفہ صاحب ہیں جو مجاہدات کی وساطت سے حضرت محمد ﷺ سے بھی مراتب اور مدارج میں بڑھ جانے کا عقیدہ اپنے ابا کی امت سے منوا چکے ہیں۔

ہاں ! میں یہ کہہ رہا تھا کہ ہم مرزا قادیانی کو، یا اس کی امت کو خود کافر نہیں کہتے ۔ کافر

١٥

صفحہ ٣٤٤

مانتے ضرور ہیں۔ کافر کہنا اور ماننا دو الگ الگ مفہوم ہیں۔ ہمارے مسلک میں کوئی مسلمان کسی انسان کے کفر و اسلام کا فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کر سکتا۔ خدا جسے کافر کہے وہ کافر۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جسے کافر فرمادیں وہ کافر۔ اللہ جسے مسلمان بنائے وہ مسلمان۔ اللہ کا رسول جس پر اسلام کا حکم عائد کرے وہ مسلمان۔ ہمیں تو خدا اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ ماننا ہے۔ اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ نہ مانیں تو مرزائیو! تم خود ہی کہو ہم میں اور تم میں فرق کیا ہوا؟

اب یہ بتانا اور ثابت کرنا کہ مرزا قادیانی یا اس کی امت کو خدا نے کافر کس طرح کہا۔ ہمارے ذمہ ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یوں ہے کہ ہمارا عقیدہ اور ایمان اس بات پر پختہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ مرزا قادیانی کے تمام دعاوی جھوٹے ہیں۔ اس کا یہ دعویٰ کہ اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا۔ مجھے اللہ سے مکالمات ومخاطبات کا شرف شرف حاصل ہوا۔ مکاشفات اور الہامات کثرت سے ہوئے۔ سب کذب وافتراء علی اللہ ہے۔ بناوٹ ہے۔ ایک چال ہے اور اس قسم کے مفتری اور کذاب کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

شئی“ ترجمہ: کون بڑا ظالم ہے اس شخص سے جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور کہے کہ مجھے وحی ہوتی ہے۔ حالانکہ وحی اسے کوئی بھی نہیں ہوتی۔

للکافرین“ ترجمہ: وہ بڑا ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ اللہ کی کلام کی تکذیب کرے۔ کیا ایسے کافروں کا ملجا و ماویٰ جہنم نہیں ہے۔

مرزائیو! جب ہمارا ایمان ہے کہ مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ خاتم النبیین مطلق اور عام کی خود ساختہ تاویل کر کے قرآن کی تکذیب کی۔

پھر اگر یہ کفر کا حکم اور جہنم کا حتمی وعدہ جو مرزا قادیانی ایسے انسانوں پر صادق آتا ہے۔ نہ مانیں۔ کہاں جائیں۔ یہ ہے فیصلہ اللہ کا۔ اب اس کے رسول کا فیصلہ ملاحظہ ہو:

ایسے مفتریوں کے متعلق خود رسول اکرم ﷺ پیش گوئی فرماچکے ہیں۔ ابوداؤد اور ترمذی کتب حدیث میں موجود ہے: ”لا تقوم الساعۃ حتی یبعث دجالون کذابون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ ترجمہ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٢٥

ہوسکتی جب تک کہ بہت سے کذاب اور دجال نہ آئیں۔ جن میں کا ہر ایک اپنے کو نبی سمجھتا ہوگا۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔

مرزائی دوستو! اس حدیث میں جب جھوٹے نبیوں کے آنے کی پیشین گوئی ہے اور لانبی بعدی میں کسی نبی کے آنے کا امکان ہی نہیں رہا۔ پھر اگر جھوٹے نبیوں کو سچا مانتے جائیں۔ حدیث کہاں گئی۔ رسول اللہؐ کے حکم کی تکذیب کرنے والے کا کیا حشر ہوگا۔

تیسری دلیل! خود مرزا قادیانی کی دورخی چال تحریریں ہیں۔ جن سے ان کے توازن دماغ کے تزلزل اور خلجان ذہنی کا شبہ یقین سے بدل جاتا ہے۔ ان کے قوائے فکریہ و ذہنیہ یا تو عقل سلیم کے محکوم نہ تھے یا کمال عیاری و روبہ کاری کا کام ان سے لے کر عوام کو دام فریب میں پھنسا کر اپنی ترقی کا راز دعویٰ نبوت میں سمجھا۔

ان متضاد تحریروں سے یقین ہوتا ہے کہ ان احادیث کا مصداق جن میں مدعیان نبوت کاذبہ دجالوں کا ذکر ہے۔ ان میں سے ایک یہ ضرور ہیں اور غور کیا جائے تو صرف ہمارے شبہ کو یقین کا درجہ حاصل نہیں ہوا۔ بلکہ خود ان کی امت میں پھوٹ کی موجب یہی تحریریں ہیں۔ چنانچہ قادیانی امت کے حصہ کثیر نے نبوت سے انکار کر کے لاہور میں اپنا مرکز قائم کیا اور لاہوری جماعت کہلائی اور اپنی سچائی کے لئے خود مرزا قادیانی کی وہ تحریریں پیش کیں جن میں خود مرزا قادیانی نے مدعی نبوت پر لعنت بھیجی۔ چنانچہ (مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧) میں لکھتے ہیں: ”ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں........... آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان لاتے ہیں۔“ ”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے۔ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد نبی اور رسول ہوں۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٢٥، خزائن ج ٤ ص ٣٣٥) میں لکھتے ہیں: ”لوگو دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو۔ اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے پیش کئے جاؤ گے۔“

دوسری جماعت نے جو قادیانی مرزائیوں کے نام سے مشہور ہے۔ ڈنکے کی چوٹ پر آپ کو نبی بنا کر دکھایا۔ یعنی ان کے نبوت کے دعوے کی تصدیق کی اور سند کے طور پر تصویر کا دوسرا رخ پیش کر دیا جس میں چمکتے دمکتے رنگوں میں جلی قلم سے لکھا تھا:

١٧

صفحہ ٣٤٦

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

مورخہ ٢٣ مئی ١٩٠٨ء)

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن

ج ١٧ ص ٤٥٤)

یہ ہے وہ روشن پہلو جس کے سبب ہم خود مرزائیوں کو کافر نہیں کہتے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم اور خود مرزا قادیانی کی تحریروں کے اقتضاء سے کافر مانتے ضرور ہیں۔ مرزائی دوستو! بتاؤ جو میں نے قرآن کی آیات پیش کیں یا احادیث کا حوالہ دیا یا خود مرزا قادیانی کا فرمان جو تمہارے لئے واجب الاذعان ہے لکھا اپنے پاس سے لکھ لیا؟ ”قد تبین الرشد من الغی“ ہدایت اور غوایت اللہ نے دونوں راستے واضح اور روشن دکھا دیئے۔

راہ“ کے ص ٢ پر جلی قلم سے لکھا ہے کہ: ”پہلے تمہارے مولوی صاحبان قسم کھائیں کہ ہم (مرزائیوں) نے غلط لکھا ہے۔ پھر ہم (مرزائی) قسم کھائیں گے کہ غلط نہیں لکھا۔“

مرزائیو! آپ کا اس قسم کی بہکی بہکی باتیں کرنا ہی تمہاری بے اعتمادی اور کذب بیانی کی غمازی کر رہا ہے اور تمہارا یہ طریق کار بتا رہا ہے کہ تمہیں خود اپنے پر اعتماد نہیں۔ ضمیر کو س رہا ہے۔ اندر سے آواز آ رہی ہے کہ تمہارے اعمال وافعال اور طریق کار تمہارے وقار کو اس قدر مخدوش اور بے کار کر چکے ہیں کہ تمہیں یقین ہے کہ قسم کے بغیر تمہاری کوئی بات نہیں مانی جائے گی اور عقلمندوں کا قول ہے کہ ہر معمولی بات پر وہ قسم اٹھاتا ہے جو دوسروں سے پہلے خود اپنے آپ کو جھوٹا جانتا ہے۔

دوستو! یہود اور نصاریٰ کی طرح ”يكتبون الكتاب بأيديهم ثم يقولون هذا من عند الله“ کی عادت چھوڑ دو۔ ”ولا تكتموا الشهادة ومن يكتمها فانه آثم قلبه“ جو ظاہر

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٧

بات اور حق کو چھپاتا ہے۔ اس کا دل گناہوں سے بھرا ہوا ہے۔

لفظاً سرقہ کرو یا معناً۔ چوری چوری ہی ہے۔ میں تمہارے اخفائے حق اور خیانت کا راز نہ کھولتا۔ مگر مجبور ہوں۔ جب آپ نے حلف اٹھا کر ہمیں یہ اعلان کرنے پر اصرار کیا کہ آپ کے دم بریدہ حوالوں کی ہم تصدیق کریں کہ یہ بالکل سچے ہیں۔

آپ کی سچائی کو کیوں چھپا رکھیں۔ آپ کی یہ راست گفتاری اس بے نماز کی بات کی طرح ہے جسے کسی خدا ترس اللہ کے بندے نے ہدایت کرتے ہوئے کہا۔ میاں نماز پڑھا کرو۔ اس نے جواب میں کہا۔ تمہیں خدا کی قسم تم ہی بتاؤ خدا نے خود نہیں فرمایا ”لا تقربوا الصلوٰۃ“ کہ نماز کے نزدیک ہی نہ جاؤ۔ جب کہا گیا کہ آگے کا جملہ بھی پڑھ لو تو چلا کر کہا کہ بھائی سارے قرآن پر کون عمل کرے؟ تمہارا حال یہی ہے۔

میں صرف ایک ہی حوالہ جو مرزائیوں نے دیا ہے عوام کے سامنے رکھتا ہوں۔ باقیوں کی قلعی کسی اور فرصت میں کھولوں گا۔ جملہ قارئین کرام غور سے پڑھیں۔ خصوصاً مرزائی یا مرزائیت نواز اصحاب کی نظر سے جب میرے یہ محررہ اوراق گزریں تو پڑھ کر غور کریں۔ پھر خدا کو حاضر ناظر جان کر دل سے فیصلہ کریں۔ آیا مرزائی جماعت کے ناشرین نے دیانتداری کی مٹی پلید کی ہے یا نہیں؟

(التبلیغ ١٤؍ جولائی ١٩٥٢ء ج ٢ نمبر ٢٦ ص ١) پر علامہ محمد قاسم نانوتوی کے رسالہ تحذیر الناس ص ٣ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ تحریر فرمایا: ”عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانہ کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم و تاخر زمانی آگے پیچھے آنے میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔ پھر مقام مدح میں ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔

یہ علامہ محمد قاسم نانوتوی کا کلام رسالہ تحذیر الناس سے مرزائی نے اپنی تائید میں ”لا تقربوا الصلوٰۃ“ کے مفہوم میں پیش کیا ہے جو علامہ موصوف نے تمہید کے طور پر بیان کیا اور کلام کا اصل منطوق اثبات ختم نبوت ہے اور یہ جملہ اس مفہوم میں بیان کیا گیا کہ کمال ختم نبوت کی علت صرف تاخر زمانی نہیں۔ بلکہ آپ خاتم زمانی و خاتم ذاتی بھی ہیں۔ خاتم رتبی بھی

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٨

ہیں ۔ جس قدر کمالات اور مراتب نبوت ہیں ۔ سب آپ کی ذات ستودہ صفات میں پائے جاتے ہیں اور سب مراتب ارتقاء آپ پر ختم ہو گئے ہیں ۔ عوام کے خیال کے مطابق صرف تاخر زمانی کو مراتب کمال تصور کر لینا صحیح نہیں ۔ بلکہ آپ تو ہر حیثیت سے خاتم النبیین ہیں۔ صرف ایک ہی پہلو سے خاتم النبیین ماننا مکمل کمال نہیں ۔ جب دوسرے سارے کمال کے پہلو نظر انداز کر دیئے جائیں۔

چنانچہ مولانا صاحب ممدوح کی بعد آنے والی عبارات اسی مضمون کی تائید کرتی ہیں اور سارا رسالہ ختم نبوت میں ادلہ واضح اور روشن سے بھرا پڑا ہے۔

بعد آنے والی عبارات جو مضل وضال نے عمداً نظر انداز کر دیں۔ میں پیش کرتا ہوں ۔ آپ ان کو پہلی عبارت کے ساتھ رکھ کر موازنہ کریں کہ مصنف کی غرض وغایت اس بیان سے کیا ہے اور مرزائی نے کتم حق کر کے کس عیاری سے کام لیا ہے۔

تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصریحات نبوی مثل ”انت منی بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى“ جو بظاہر بطرز مذکور گو اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے ۔ اس باب میں کافی ہے ۔ کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے۔ پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہو گیا ہے۔ گو الفاظ مذکور بسند تواتر منقول نہ ہوں ۔ سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا ۔ جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ باوجود یکہ الفاظ احادیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں ۔ جیسا ان کا منکر کافر ہے ۔ ایسا ہی ان کا منکر کافر ہے۔“

یہ ہے عقیدہ اور فتویٰ مولانا صاحب کا کہ ختم نبوت کا منکر کافر ہے۔ جسے مرزائی بیان کرتے ہیں کہ ان کا عقیدہ بھی ہماری طرح حق سے دور ہے۔

پھر آگے جا کر اسی رسالہ کے ص ١٣ کے حاشیہ پر مولانا صاحب خود ایک نوٹ لکھتے ہیں:

تھے۔ یعنی جس قدر کمالات اور مراتب نبوت ہیں وہ سب آپ کی ذات ستودہ صفات پر ختم ہیں۔ زمانہ نبوت بھی آپ پر ختم ۔ مکان نبوت بھی آپ پر ختم اور مراتب نبوت بھی آپ پر ختم۔“

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٤٩

یہ ہے عقیدہ اور فیصلہ مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کا۔ مگر ”چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد“ اتنا بھی خوف نہیں کہ کل چالیس صفحہ کا رسالہ ہے۔ کسی نے آگے ورق الٹ کر پڑھ لیا تو میری دیانتداری کا کیا حشر ہوگا۔ لیکن صاحب جو اللہ کی کلام میں تحریف سے نہ ڈرے۔ رسول کے فرمان کی تنسیخ کردے۔ مولانا کی کلام میں سرقہ یا ردوبدل معنوی میں اسے کیا ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوگا۔

پھر مولانا صاحب اسی تحذیر الناس کے ص ١٤ پر ایک اور مضمون میں بحث کرتے ہوئے تمثیلا پیش کرتے ہیں:

اطلاق اور نبیین کے عموم کے باعث کسی نے آج تک آئمہ دین میں سے اس میں کسی قسم کی تاویل یا تخصیص کا کرنا جائز نہ سمجھا۔ تورات وانجیل یا کسی پنڈت کی پوتھی میں نہیں جو احتمال تحریف وافتراء ہو۔“

مسلمانو اور انصاف پسند مرزائیو! تین ٹکڑے میں نے رسالہ تحذیرالناس سے لکھے اور ایک ٹکڑا مرزائی کا پیش کیا ہوا ہے۔ چاروں ٹکڑوں کو بالمقابل رکھو۔ پھر مرزائیہ اعلان کی طرف غور کرو۔ کیا انہیں شرم آتی ہے یا اب بھی مولوی حلف اٹھا کر تمہاری تردید کریں۔ اب کسی مرزائی میں یہ جرات ہے کہ وہ یہ کہہ دے کہ:

مولانا محمد قاسم نانوتوی میں سے نہیں ہیں۔

گناہ ہے۔

مرزائیو! دین کوئی اختیار کرو۔ آزادی ہے۔ مگر جھوٹ بولنا، حق پر پردہ ڈالنا تعلّی کی خاطر حق سے منہ موڑنا، سکھوں، یہودیوں کے مذہب میں بھی جائز نہیں۔

تم تو پھر اپنے دعویٰ میں نبی قریب کی امت جدیدہ ہو۔ ابھی کون سا زمانہ گزر گیا کہ

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٢

اخلاق اتنے بگڑ گئے۔ اللہ ہدایت دے۔

مرزائیوں کے دجالی استدلال نمبر ٦

مرزا نبی نے بمصداق ”كل يعمل على شاكلته“ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست اپنی تہذیب کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو مسلمانوں کو بے نقط گالی سنائیں۔ ان میں سے ایک خطاب ”ذرية البغايا“ ہے جس کا معنے ”حرام زادہ“ ہیں۔ تمام مسلمان جو مرزا قادیانی کی نبوت کی تصدیق نہ کریں اور اسے نہ مانیں۔ عالم ہوں، زاہد ہوں، پارسا ہوں، جب مرزا قادیانی کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتے ”ذرية البغايا“ یعنی حرام زادے ہیں۔ یہ ہے مرزائیوں کا مذہب۔

اب مرزائی صاحبان نبی کی زبان سے نکلی ہوئی یہ فصیح اور مہذب گالی کتابوں سے مٹا نہیں سکتے۔ لغت عرب میں جو ایک وسیع زبان ہے اس کا دوسرا مفہوم تلاش کرتے ہیں۔ وہاں نہیں پاتے۔ بد دیانتی سے اعراب کی تبدیلی سے کام لے کر مرزا قادیانی کے اعمال واقوال پر پردہ ڈالتے ہیں۔

چنانچہ ١٤ اگست ١٩٥٢ء کے التبلیغ میں غلط فہمیوں کے ازالہ کے عنوان سے تیسرا حوالہ میں اپنی صفائی پیش کی ہے کہ ”ذرية البغايا“ کے معنے زنا کار عورتوں کی اولاد نہیں اور صفائی میں عرب کی لغت تاج العروس کا حوالہ بایں الفاظ پیش کیا ہے ”البغيه في الولد نقيض الرشد ويقال هوا بن بغية“ اور کہا گویا ”ذرية البغايا“ کا ترجمہ ہوا ”ہدایت سے دور“ جھوٹے کا منہ کالا اور اس کے گلے میں پرانی جوتیوں کا ہار۔ شرم سے کام لو۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارا حوالہ دیکھ کر دوسرا آدمی لغت دیکھے گا یا لغت ملے گی نہیں۔ بغیہ کی نقیض رشد بالکسر اور بالفتح ہے بالضم نہیں۔ جس کی تم آڑ لے ہو۔ دیکھو منتہی الارب رشدۃ بالفتح وبكسر حلال زادہ خلاف زنیہ۔

لسان العرب کو جو زبان عرب کی مستند لغت بیس جلد میں ہے۔ اٹھا کر دیکھو:

وبغاء بالكسر والمد ای فجرت عهرت وزنت وفي التنزيل العزيز وما كانت امك بغيا“

PDF 353

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

تذکرہ حقائق

حضرت مولانا محمد اسحاق قاضیؒ

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٢

بسم الله الرحمن الرحیم!

دیباچہ

امب کے اس قسم کے عبرت خیز اور سبق آموز واقعات کو حوالہ قلم کیا جا کر طبع کرایا جائے۔ جو کہ ریاست کے دور مرزائیت سے تعلق رکھتے ہوں۔ تاکہ واضح ہو جائے کہ اسلام سے مخالفت کا دور ہمیشہ کے لئے اسلام کی فتح و کامرانی کا پیش خیمہ ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا اس خادم اسلام نے بجائے اس کے کہ اس کار خیر کے لئے احباب و اقارب میں سے اور کسی کو مامور کر دیا جائے۔ یہ بہتر سمجھا کہ خود ہی ایک مختصر وقت نکال کر مرزائیت ریاست کی تاریخانہ اور تدریجی واقعات کو جو کہ وہ سب میرے لمحات حیات سے وابستہ اور میری اپنی ہی سرگزشت ہے۔ بنظر صحت و اختصار مرتب کر کے طبع کرانے کی کوشش کرے۔ کیونکہ ”صاحب البیت اعرف بما فی البیت“

بعض ذاتی حالات اور بعضے اسلامی اکابر اور مشاہیر ریاست کے وہ واقعات بھی بطور اجمال سپرد قلم کئے جائیں جو کہ اس خادم اسلام کے عینی معلومات اور مشاہدات میں داخل ہیں۔ ریاست کے باقی ابتدائی کارناموں پر مفصل تبصرہ اس لئے نہیں کیا گیا کہ خدانخواستہ حدیث نبوی ”کفی بالمرء کذباً ان یحدث بکل ما سمع“ کا مصداق نہ ہو جاؤں۔ کیونکہ مجھے ان کی روایات کے سلسلہ میں کوئی موثق اور معتمد ذرائع میسر نہیں ہو سکتے ہیں۔

ذاتی اور منصبی حالات کے تذکرہ کو منظر عام پر لاؤں۔ جن میں کچھ قدر بھی خودستائی اور ترفع کا شائبہ موجود ہو۔ لیکن جب میرے مطمح نظر اصل واقعات کی بلا کم و کاست تشریح و تدوین مطلوب ہے۔ اس لئے مجبوراً بیان کرنا پڑے گا۔ امید کہ قارئین کرام ہمچوں قسم حالات کو کسی تعلی اور خودستائی پر محمول نہ کریں گے۔

ہمہ گیری کے لئے مکتفی نہیں۔ کیونکہ میں اپنی مصروفیات (دارالقضاء اور دارالافتاء) میں

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٣

اس قدر مربوط ہوں کہ ان سے فرصت کا پانا محالات سے ہے۔ ورنہ ہر ایک پہلو پر علمی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مذہبی مسائل کو سپرد قلم کرنے کی بھی کوشش کی جاتی۔ بہر حال میں اس تفصیل و تشریح کے لئے کسی اور مستقل رسالہ کے ذریعہ سے فرصت کا متلاشی رہوں گا۔ ”وما ذالک علی الله بعزیز“

کتبہ: فقیر پر تقصیر خادم اسلام محمد اسحاق قاضی القضاۃ، چیف جج

ریاست انب، ضلع ہزارہ، صوبہ سرحد شمال مغربی ”غفر الله له ولوالدیه آمین“ ١٩٤٢ء

بسم الله الرحمن الرحیم! حامداً ومصلیاً ومسلماً

یہ ایک غیر متزلزل حقیقت ہے کہ موجودہ دور عصیاں میں قرآنی احکام و اسلامی شرائع کے متفقہ طرز عمل کو ہوا پرستی اور قومی و نسلی تعصب کے تیغ باطل نے پارہ پارہ کر دیا۔ اخلاق و انسانیت کی زندگی پر ایک مصیبت افزاء موت طاری ہو چکی ہے۔ جدھر دیکھا جاتا ہے ادھر ہی درندگی و سبعیت وحشت و مظالم کا نوحہ روح فرسا و ماتم کبریٰ نظر آ رہا ہے۔ اس پر اگر تمام طبقات الارض کی آنکھیں آنسوؤں کا وافر اور مزید ذخیرہ لے کر گریہ کریں اور اس انسانیت کے پیش کردہ مقتل پر سینہ کوبی روا رکھیں تو عین صواب ہوگا۔ شرائع سوزی اور بے دینی کے دائرہ نے وہ وسعت حاصل کر لی ہے اور عمومی طور پر دنیائے عالم کو اس قدر گھیر لیا ہے کہ تمدن و اخلاق کی کسی رگ میں بھی جنبش بپا ہونے کی امید نہیں ہو سکتی ہے۔ پس اگر اس پر مصائب انقلاب میں فرزندان اسلام سے کوئی فرد اخلاق کے اس زخمی کردہ چہرے کے اندمال کے لئے کچھ قدر بھی قدم اٹھانے کی جرأت کرے گا تو وہی با قدر ہوگا۔ پس اس کے بعض سبق آموز اور عبرت خیز سوانح حیات کو اگر سپرد قلم کیا جائے تو میرے خیال میں بے جا نہ ہوگا۔

والیان ریاست انب کے مختصر حالات

ریاست انب جو سمت شمال مغربی ضلع ہزارہ میں واقع ہے۔ وہ ایک ممتاز اور قابل فخر قدیمی اسلامی ریاست ہے۔ ابتدائی دور سے اس ریاست پر اسلامی پھریرا اڑایا جاتا ہے۔ اس

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٤

کے تمام حکمرانوں کو نسلاً بعد نسل اسلامی انہماک اور مذہبی شغف کے لحاظ سے لائق قدر انتخاب حاصل ہوتا چلا آیا ہے۔

نواب محمد اکرم خاں والیٔ ریاست کے اجمالی حالات

خصوصاً نواب محمد اکرم خاں صاحب بہادر کے۔سی۔آئی۔ای، کا اسم گرامی سب سے زیادہ فائق اور زبان زد خلائق ہے۔ اگرچہ اس کے باقی اسلاف والیان ریاست و اکابر ملک کے شاندار کارنامے کتابی صورت میں شائع ہونے کے قابل ہیں۔ لیکن افسوس کہ مشاہیر ریاست کے حالات اور ان کے جزوی واقعات کی تدوین کی طرف اس وسعت و جامعیت و احتیاط کے ساتھ کسی نے توجہ مبذول نہیں کی۔ جس سے حالات زندگی کے ہر پہلو کے متعلق کامل اور مفصل بحث ہو سکے۔ اس لئے باقی اکابرین ریاست کے سوانح حیات کو قلم انداز کر کے صرف جناب ممدوح الصدر کے بعضے حالات کو بطور مشت نمونہ از خروارے مختصر طور پر پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ تمام حالات کا استیعاب ہمیں منظور نہیں ہے۔ کیونکہ اس جامعیت و استیعاب کی تشکیل میں ایک تو کتاب ضخیم ہو جائے گی۔ دوئم محروم الفرصتی کی وجہ سے اس اصل مقصد اور مرکزی مدعا کے تذکرہ میں تعویق پیدا ہونے کا نیز خطرہ ہے۔ غرض آپ آئین حکومت، انتظامات ملکی، رفاہ عامہ کے نسبت اپنی مدبرانہ دستور العمل میں لاثانی تھے۔ ان کے عہد حکومت میں ریاست نے بہت حیرت انگیز ترقیاں کیں۔ وسعت مال اور فتوحات ملکی کے کارناموں نے آپ کے شان عظمت کو بہت بڑھا دیا تھا۔ آپ ہمیشہ اپنی ملت و وطن کی حفاظت کے لئے مستعد رہا کرتے تھے۔ شجاعت و دانشمندی کے ساتھ تجربہ و آزمودہ کاری کے صف اوّل میں کھڑے ہونے کے لئے ایک نمایاں امتیاز آپ کو حاصل تھا۔ جو چیز آپ کی تاریخانہ زندگی کو بے حد مزین ہونے کے لئے کافی ہو سکتی تھی۔ وہ آپ کی سادگی اور بے تکلفی تھی۔ مگر باوجود اس قسم کی بے مثال سادگی کے ان کے شاہانہ رعب و حشم کا وہ اثر تھا۔ جو کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کا ہوا کرتا ہے۔ ان کے پایہ تخت کے پاس بعضے آنے والے اشخاص کے قدم مرعوب ہو کر متزلزل ہو جایا کرتے تھے۔ جس سے دیگر امارتیں انگشت بدندان تھیں۔ آپ استقلال و ثبات و پامردی کے ایک آہنی ستون کا حکم رکھتے تھے۔ آپ نے نہ کبھی عیش و طرب کے جلسے منعقد کرائے اور نہ کبھی ناچ و نغمہ سرائی سے بزم عیش کو آراستہ کیا۔ اسلامی تمدن و تہذیب و پابندی صوم و صلوٰۃ کے حالات ان کے محتاج بیان نہیں ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ (روحی فداہ) سے ان کی سچی ارادت و محبت تھی۔ نماز جمعہ و عیدین کی ادائیگی میں

٤

صفحہ ٣٥٥

خاص طور پر دلچسپی لیا کرتے تھے۔ مذہب کے لحاظ سے نہایت راسخ الاعتقاد حنفی تھے۔ جب سے عنان حکومت کو انہوں نے ہاتھ میں لیا۔ تب سے زکوٰۃ وعشر کے حقوق کی مراعات میں زیادہ حصہ لیا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا خزانہ عامرہ ہر وقت لاکھوں روپیہ کا متحمل رہا کرتا تھا۔ ان کے جنگی مہمات کے متعلق چونکہ ہماری واقفیت محدود ہے۔ اس لئے اس کے مفصل تذکرہ سے میری قلم قاصر ہے۔ اسباب جنگ اور قوائے مادیہ دفاع میں سے ان کے پاس کوئی کافی ذخیرہ موجود نہ تھا۔ لیکن جوش حرب کا اسلحہ ضرور تھا۔ غیر قبائل کے ظلم وسفاکی سبعیت و بربریت کی لعنت کو دیکھ کر ان کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا۔ آخر کار فاتح ثابت ہوئے۔ آپ نے اپنی دلیرانہ و شجاعانہ طرز عمل اور مدبرانہ نظام سے ریاست کو بہت وسعت دے دی تھی۔ پایہ شناسی ان کی خاص صفت تھی۔ آپ کو علماء وفقراء سے عموماً اور میرے والد ماجد سے جو کہ ان کے عہد امارت میں قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز تھے ۔خصوصاً دلی محبت اور ارادت تھی۔ علماء وفضلاء کے پاس ادب میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ ہونے دیا۔ تمام مذہبی ضروریات اور اسلامی معلومات کے متعلق آپ کو اس قدر دلچسپی تھی کہ بسا اوقات جناب قبلہ والد صاحب سے استفادہ کیا کرتے تھے اور ان کی اس مذہبی اطاعت واسلامی انقیاد کو اپنے لئے فخر سمجھتے تھے۔ شہر انب سے جو ریاست کا پایہ تخت ہے۔ پانچ چھ فرسخ کے بعد مسافت پر ایک ( شاکوٹ ) نام برفانی سربفلک پہاڑی ہے۔ جو گرمائی ایام کے دوران میں وہ آپ کا قیام گاہ تھا۔ نماز جمعہ کے لئے وہاں سے بمقام انب حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ آپ کو عین اس وقت جب کہ آفتاب کی شعاؤں سے حرارت کی تیزی حد اعتدال سے گذر چکی تھیں۔ باد سموم چل رہا تھا۔ آپ کو جوش مذہبی سے یہ تمنا پیدا ہوتی ہے کہ صلوٰۃ جمعہ کے ذریعہ آپ اپنی جبیں نیاز کو خاک مذلت سے آلودہ کریں تو اس پہاڑ کی دشوار گزار گھاٹیوں سے اتر کر دریائے آبا سندھ سے عبور کرتے ہوئے مقام انب کے قریب پہنچ کر مراسم طہارت کی انجامی کے لئے فروکش ہوتے ہیں اور اپنے قدوم سے اراکین جمعہ کو مطلع اور باخبر کرتے ہیں۔ لیکن ادھر مجسمہ حق پسندی اور پیکر راست گفتاری ( قبلہ والدم) نے جس قدر وقت میں گنجائش تھی انتظار کر کے فرائض جمعہ کو باوقت ادا کر دیا۔ جب آپ تشریف لاتے ہیں تو نماز جمعہ کے فوت ہونے پر اظہار رنج وملال کرتے ۔ مگر قبلہ والدم تبلیغ حق و امر معروف کے فرض کو بدیں الفاظ انجام دیتے ہیں کہ ”لا طاعة لمخلوق فی معصية الخالق“ یعنی صلوٰۃ جمعہ کے فرائض کو باوقت ادا کرنے کے متعلق جب پیغمبر اسلام ﷺ کا ارشاد عام ہے تو اس کے مقابلہ میں زید وعمر کا فرمان کسی

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٦

وقعت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ آپ سن کر سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ نہ ان کو اس سے اپنی کسر شان کا فکر دامنگیر ہوتا ہے اور نہ چہرہ کے اثر سے کسی قسم کی رنجیدگی و ملال تک کا ظہور ہوتا ہے۔ بلکہ آپ اس اتباع حق اور راست گفتاری کو بنظر استحسان دیکھتے ہیں۔ افسوس کہ موجودہ دور عصیاں میں جب کچھ قدر بھی جاہ و جلال اور جبروت و سطوت کا آغاز ہو جاتا ہے تو ساتھ ہی سرکشی و بغاوت خود پسندی و تعلی کا بدنما چہرہ بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ہر وقت ان کے سر بادہ کبر و نخوت سے لبریز ہو جاتے ہیں۔ قبول حق کے مقابلہ میں مغرورانہ صدائیں بلند ہوا کرتی ہیں۔ اشتعال اور مغلوب الغضبی ان کا شیوہ ہو جاتا ہے۔ مومن کا فرض ہے کہ جس طرح پستی کے حالت میں وہ قائم تھا۔ بلندیٔ مراتب اور مطلق العنانی کے دوران میں بھی استواری و استحکام کے ساتھ ثابت قدم رہے اور قبول حق کے لئے سر جھکائے، صدہا حسرت کہ سلاطین اور کبرائے زمانہ کی وہ ناگفتہ بہ حالت ہو چکی ہے کہ خدا ترسی کے آفتاب کی شعاع کسی وقت بھی ان کے دفتر اعمال پر نہیں پڑتی۔ شہوات اور سیئات میں انہماک راتوں میں عورتوں سے میل اور دن میں طرح طرح کے بیہودہ کھیل ان کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ ان کی فطرت پر استغراق فی العصیان کی اس قدر اندھیری چھائی ہوئی نظر آرہی ہے جو نور شریعت سے قطعاً منافی ہے۔ نہ تسلیم حق کے لئے کوئی صحیح جذبہ اور نہ شہنشاہ ارض و سماء کے قوانین کا کوئی احترام۔ ”اولئک کالانعام بل ھم اضل اولئک ھم الغفلون“ {یہ ہیں مانند چار پایوں کے بلکہ وہ زیادہ تر گمراہ ہیں۔ یہی ہیں غافل۔}

جس قدر حکومت کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ اسی قدر اس کے ساتھ محاسبہ الٰہیہ کا دائرہ بھی وسعت اختیار کر لیتا ہے۔ ہر حاکم و راعی کو تمام رعایا کی انتہائی رعایت اور خبر گیری کا فرمان عام ہے۔ بخاری شریف میں صحیح حدیث ہے۔ ”کلکم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ فالحاکم راع ومسؤل عن رعیتہ (الحدیث)“ {تم سب کے سب والی و راعی ہو۔ جیسا راعی اپنی کوتاہی سے مالک کے سامنے مسؤل اور ماخوذ ہوتا ہے۔ اسی طرح حاکم بھی والی و راعی ہے۔ وہ بھی اپنی رعیت کی ہر حرکت سے مسؤل اور ماخوذ ہوگا۔}

حکام کو اس لئے راعی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ جس طرح جانور چرانے والے پر اپنے جانوروں کی تحفظ و پاسبانی لازم ہے۔ اسی طرح حاکم پر رعیت کی ہر گونہ خیر خواہی لازم ہے۔ پس اس حدیث بخاری میں ہر ایک حاکم کو رعایا کی روحانی تربیت، اخلاقی ترقیات، مراحم و الطاف کے مراتب کے لحاظ کی تعلیم اور امن و امان اور حقیقی خدمت خلق اللہ کے متکفل ہونے کا فرمان

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٧

ہے ۔اگر کسی ارباب سیاست اور حکومت کے دماغ کا اختراع کردہ قانون آسمانی نظام کے زیر سایہ نہیں ہے تو یقیناً وہ نظام ہر قسم کے فسادات کا منبع اور جبر واستبداد ظلم وطغیان کا سرچشمہ ہوگا۔ خواہ وہ سوشل ازم ہو یا بالشو زم، نیشنل ازم ہو یا نازی ازم ہو۔ موجودہ دور تمدن کے زیر اثر مسلمانوں کے تنزل وانحطاط کا ایک دوسرا ماتم انگیز منظر موجود ہو چکا ہے۔ یعنی علماء وفضلاء جو در حقیقت اخلاق نبوت فضائل رسالت کے وارث وحامل تھے ۔ ان میں سے بعضوں کی وہ حالت ہو چکی ہے ۔ جو فراعنۂ مصر کے زیر اثر علمائے بنی اسرائیل کی ہوچکی تھی۔ ”قد ضلوا من قبل واضلوا كثيراً وضلوا عن سواء السبيل“ کے مصداق نظر آ رہے ہیں ۔ وہ اپنے دامنوں کو غرور فضیلت و تکبر علمی سے حرکت دیتے ہیں۔ ان کو اپنی پیشوائی و عالمانہ تجربہ کا گھمنڈ ہی رہتا ہے۔ افسوس کہ ان کی پرتعیش زندگی ہے۔ انہیں حق بیانی وصداقت شعاری کے جوہروں سے بالکل محروم کر دیا ہے۔ نہی عن المنکر کو وہ اپنے ذاتی خواہشات کے خلاف سمجھ کر برسر طاق رکھ دیتے ہیں۔ نہ ان کو شریعت اسلامیہ کی علانیہ تذلیل سے جوش غیرت ہے اور نہ پیغمبر اسلام کی سنت کی توہین کے وقت حق گوئی کی کوئی جسارت ہے۔ ہر وقت جاہ و مال کا تذکرہ اور فتوحات و وظائف خور کا پیہم فکر۔ سیم وزر کے لئے طرح طرح مکر وخداعت سے کام ہے۔ تبلیغ تذکیر جو انسانی فطرت کا ایک ضروری اور اہم خاصہ ہے۔ اس میں الٰہیّت کی بو تک بھی نہیں۔ طلب ریاست وشہرت کے لئے ہر وعظ میں اقدام ہے۔ اگر اس غیر فطری امور تمدن کی رفتار دنیا میں اسی طرح باقی رہی تو قلیل عرصہ میں مذہبی زندگی اور ملی انسانیت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ میرے نظریہ میں وہ علمائے سوء ہیں جن کے بارہ میں پیغمبر اسلام نے سبق آموز ارشاد فرمایا: ”ان اکثر الناس عذاباً یوم القیامة عالماً لم ینفعہ اللہ بعلمہ“ {قیامت میں سب لوگوں سے زیادہ عذاب اس عالم کو ہوگا۔ جس کے خداداد علم سے اللہ تعالیٰ نے کسی کو نفع نہیں پہنچایا ہو۔}

پس ایسے علمائے سوء کا وجود دین الٰہی کی تذلیل اور مذہب اسلامی کی توہین ہے۔ ”مثل الذين حملوا التوراة ثم لم يحملوها كمثل الحمار يحمل اسفاراً“ {یعنی جو لوگ توریت کے حامل ہیں اور عمل سے بے بہرہ ہیں۔ ان کی مثال اس گدھے جیسی ہے جس پر کتابیں لدی ہوں۔}

”فمثله كمثل الكلب“ {یعنی بے عمل عالم کی کہاوت کتے جیسی ہے۔}

غرض جن علماء وصوفیاء کا اخلاقی قالب مردہ ہوچکا ہے اور علم وتصوف کے اصلی روح

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٨

تک پہنچنے سے وہ محروم رہ گئے ہیں۔ قرآن حکیم نے ان کو مختلف (کتے، گدھے) کے ناموں سے یاد کیا ہے۔ علم سیکھنے سے اصل مقصد کی تکمیل دو چیزوں سے ہوتی ہے۔ عمل وانذار، تعلیم و تبلیغ ”لولا ینھھم الربانیون (ولینذرو اقومھم)“ میں یہی تعلیم ہے۔ ہاں علماء کے جلالت شان اور ان کے فضائل و بلندی مراتب کے متعلق قرآنی نصوص اور احادیث صحیحہ نیز بکثرت وارد ہیں۔ لیکن ان سے مراد وہ علمائے کرام ہیں۔ جو اپنے علمی تبحر و تفقہ فی الدین کے جذبات سے خلق اللہ کی اصلاح میں انتہائی سعی سے کام لے رہے ہوں۔ نہ ان راست گفتاری کے پرستاروں کو نقد حیات ابدی کے مقابلہ میں دنیوی چند فانی خزف ریزوں کی لالچ حق گوئی سے خاموش کر سکتی ہے اور نہ کوئی مرعوب کن طاقتیں اور ابلیسی قوتیں حق گفتاری کے قدموں کو متزلزل کر سکتی ہیں۔ آج دنیا میں جس قدر تحریکیں پھیل رہی ہیں۔ ان کا اجتماع صحیح معنوں میں نہ اسلام کے اعلان کردہ پروگرام کے لئے نظر آتا ہے اور نہ پیارے مذہب کی اجڑی ہوئی بستی کی تدبیر اور عزیز اسلام کے برباد کردہ آبادی کی تعمیر کے لئے کوئی ہجوم ان کا محسوس ہوتا ہے۔ اسلام کی تاریخی زندگی کن نتائج و افکار پر مشتمل و حاوی تھی۔ قرون اولیٰ میں مسلمانوں کی جدوجہد کا مقصد کیا تھا۔ ترقی وعروج کی منزلیں کس پروگرام کے ماتحت طے پائی تھیں۔ ”فھل من مستمع“ غرض نواب صاحب ممدوح کے تسلیم حق اور قبلہ ام والد صاحب کی حق بیانی کے کارنامے قابل تعریف تھے۔ ممدوح نے زندگی کے کل (چھہتر (٧٦) مراحل) طے کر کے ١٣٢٤ھ کو بمقام انب وفات پائی اور وہاں ہی مقبرہ کے آغوش میں ان کو جگہ دی گئی۔

آپ کے فرزند نواب محمد خانی زمان خان والی ریاست انب کے مختصر

حالات

محمد خانی زماں خاں میجر سر نواب صاحب بہادر کے سی۔ آئی۔ ای نے ١٣٢٤ھ میں سریر حکومت ریاست کو جلوہ افروز کیا۔ ابتدائی مراحل میں اگر چہ خاندانی جھگڑوں نے صدائے مخالفت بلند کر کے اس قسم کے پیچیدہ خطرات پیدا کر دیئے تھے۔ جن سے بنیاد حکومت میں تزلزل پیدا ہونے کا خوف تھا۔ مگر قلیل عرصہ میں آپ کی فیاضانہ مراعات اور مدبرانہ نوازشات نے دوست دشمن کو رام اور مسخر کر دیا۔ آپ کے وہ اصلی واقعات جو شہرت عام کی روشنی میں چمک رہے ہیں۔ ان سب سے آپ کی حیرت انگیز فیاضی کی داستان اور جود و سخاوت کے افسانے مرصع

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٥٩

ثابت ہوتے ہیں۔ آپ کی خداداد ثروت اور غرباء کی دستگیری بینواؤں کی ہمدردی سے تاریخ زندگی کے صفحات روشن ہیں۔ آپ کے فیاضانہ محاسن وفضائل کا دوست دشمن کو علانیہ اعتراف ہے۔ بلکہ ان کی فیاضی مسرفانہ حدود میں داخل ہوچکی تھی۔ ریاست و بیرون ریاست کے اکثر علماء و مدارس دینیہ ان کے دست کرم کے وظیفہ خوار تھے۔ آپ کی حیا چشمی وسادہ وضعی کے دلچسپ حالات اور ان کے سوشل و پرائیویٹ زندگی کے بے تکلف واقعات بہت ہی قابل تحسین تھے۔

عنفوان شباب میں ان کی شجاعت اور پاکیزہ روئی سے ایک حیرت انگیز اوج اور شان کا اظہار ہوتا تھا۔ مذہب حنیف کے لحاظ سے راسخ الاعتقاد تھے۔ رقت قلبی ان کا خاص شیوہ تھا۔ اس خادم اسلام کے مجالس وعظ میں جب وہ کبھی شریک مجلس ہوجاتے تھے تو رقت قلبی کی ان پر ایک عجیب گریہ کن کیفیت طاری ہوجایا کرتی تھی۔ اسلامی اہتمام اور قومی انصرام کے لئے مدارس اور شفاخانہ ریاست کا ایجاد آپ کے عہد حکومت میں آغاز ہوا۔ بمقام انب و دربند میں وہ مسرت انگیز معابد و خوشنما رفیع الشان مساجد جن کو دیدہ فریب اور دل آویز تعمیر کرنے کے لئے معماران اور ماہرین فن نے اپنی انتہائی کارکردگی اور صناعی کو ختم کر دیا تھا۔ آپ کی فیاضی کا ایک یادگار اور نتیجہ ہے۔ تقصیرات کے معاف کرنے میں آپ کو ایک گونہ محبت ودلچسپی تھی۔ خاندانی حکومت وشرافت کے ساتھ آپ کی ذاتی شجاعت وجانبازی بھی زبان زد خلائق ہے۔ اگرچہ آپ کے اسلاف واکابر بھی جنگجو وبہادر تھے۔ مگر آپ کے عہد امارت کے مسلسل فوج کشیوں کے واقعات پر اگر ایک اجمالی نظر ڈالی جائے تو وہ اپنے اسلاف سے دوچار قدم آگے بڑھ گئے تھے۔ چونکہ ریاست کے نواحی اور اس کے قرب وجوار کے حدود میں بہت آزاد مطلق العنان قبائل وعشائر آباد ہیں۔ اس لئے آپ کو ان سے جنگی تصادم رہا کرتا تھا۔ چنانچہ فوجی طاقت کے بڑھانے اور اسلحہ جنگ اور آتش فشاں توپوں کے مہیا کرانے میں ان کو ایک خاص اہتمام رہا کرتا تھا۔ ان کے خزانۃ السلاح میں جنگی سازوسامان افراط سے ہر وقت مہیا رہا کرتا تھا۔ اگرچہ آزاد قبائل پر بارہا فوج کشیوں کی نوبت پہنچی۔ مگر نصرت اور فتح یابی آپ کے ساتھ ساتھ رہا کرتی تھی۔ ملکی فتوحات کی وسعت کی وہ حالت تھی۔ جس کے زیر اثر اکثر غیور وجنگجو قبائل ان کے مطیع اور باجگزار ہوگئے تھے۔ وہ مفتوحہ علاقہ جات جو پہلے آزاد قبائل میں منقسم تھے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ امازئی، جدون، عمر خیل، خدوخیل، اتمان زئی، چملہ، بونیر، مداخیل، حسن زئی۔ اگرچہ آپ کو نقرس کی مزید شکایت بھی پیدا ہوگئی تھی۔ مگر آپ کے جنگی روش اور بازو قوت میں اس سے ذرہ بھر بھی فرق نہ آیا۔ متواتر فتوحات

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٠

سے آپ کے اقتدار اور حشمت نے وہ رنگ جمالیا تھا کہ جس علاقہ پر لشکر کشی کا رخ پیدا ہو جاتا تھا۔ وہی لوگ بلا کسے محاربت اور جنگ کے آستانہ امارت اور سریر حکومت پر سر تسلیم کو خم کر دیتے تھے۔ آپ اپنے غیر معتدل عفو اور رحم کے زیر اثر اپنے ذاتی حقوق کو بھی نظر انداز کر دیتے تھے۔ چنانچہ عین معرکہ جنگ میں مفتوحہ علاقہ جات کے عمائد اور رئیسوں کو پابزنجیر کر کے پھر ان کی اطاعت قبول کرنے پر ان کو رہا کر دیا جاتا تھا اور مفتوحہ علاقہ بھی انہی کے قبضہ میں چھوڑ دیا جاتا۔ حالانکہ جنگی قواعد اور ملکی سیاست کے لحاظ سے یہ لازمی فرض تھا کہ ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا۔ اہل ریاست کی فوجی قوتیں غیر قبائل کے شہروں کو فتح کرتی تھیں۔ چملہ و بنیر کی سرحدوں کو نیز عبور کر گئیں تھیں۔ چنانچہ ١٩٢٣ء میں اس مستعدی و عزم کے ساتھ حدود بنیر پر جنگ کا آغاز ہوا۔ جو جنگی جواہر دکھانے میں ایک لاثانی واقعہ تھا۔ اگرچہ قبائل نے بنیر صف آرا ہو کر محاربانہ طاقتوں کو استعمال میں لایا۔ لیکن آخر کار ہزیمت اور شکست کھا کر اطاعت کو قبول کیا۔ ١٩٢٣ء میں یہاں تک حوصلہ افزائی اور محاربانہ ہمت نے جوش پیدا کیا کہ حدود بنیر سے عبور کر کے حدود ملک سوات پر نیز قبضہ و تسلط جمالیا اور سید عبدالجبار شاہ صاحب جو کہ ریاست کے وزیر اعظم اور اپنی مؤثر خصوصیات کے لحاظ سے ممتاز ریاست تھے۔ ملک سوات و بنیر کے منجانب ریاست حکمران مقرر کئے گئے تھے۔ وہاں آپ نے فوجی حالت کی درستگی اور ملکی اصلاحات پر روز افزوں توجہ کی۔ مگر قلیل عرصہ میں آپ کی مرزائیت کے جراثیم مہلکہ نے ظہور پیدا کر کے چودہ قبائل کو ان کے جوش مذہب کے ماتحت برسر پیکار کر دیا تھا۔ جو وہ اپنی ملت و وطن کی حفاظت کے لئے مقاومت و مقابلہ کی شکل میں مستعد و تیار ہو گئے تھے۔ سید صاحب ممدوح نے قبائل کی سفاکی و بربریت و بہیمیت کی تاب نہ لا کر ریاست کا رخ کیا۔

١٩٢٥ء میں موجودہ والی سوات نے وہاں کے عنان حکومت کو ہاتھ میں لیا اور بلاد سوات و بنیر پر اپنا جابرانہ قبضہ جمایا۔ انہوں نے اپنی مسلسل فوج کشیوں اور محاربانہ سرگرمیوں کے فتوحات سے متأثر ہو کر علاقہ جات مفتوحہ و مقبوضہ ریاست کی طرف آگے بڑھنے کی نیز کوشش کی۔ مگر ادھر والی ریاست انب نے مقابلہ کے لئے فوج کشی کر کے علاقہ چملہ میں پہنچ کر بمقام سورا ان سے جنگی مقابلہ کیا۔ جانبین سے صف آرائی اور حملہ آوری ہوئی۔ ہر ایک فوج نے اپنی جنگی جواہر دکھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ جانبین سے بے شمار جانیں تلف ہوئیں۔ چونکہ حریف مقابل اپنے مستحکم قلعے میں پناہ گزیں تھا۔ لہٰذا غالباً تیس دن تک اس قلعے کا محاصرہ رہا۔ یہ

١٠

صفحہ ٣٦١

وہ معرکہ تھا جس میں غیر محارب انسانوں کے قتل اور معابد و مساجد الٰہی کی آتشزدگی کے فسادات حریف مقابل کے ہاتھوں سے قبائل میں روز افزوں ہورہے تھے۔ میں نے خاص بچشم خود واقعات سے متاثر ہوکر محاصرہ کے دوران میں نواب صاحب والئی انب کو صلح کے لئے توجہ دی۔ جو مزید کوشش اور پیہم اصرار سے انہوں نے اجازت کو ترجیح دے دی۔ چنانچہ والئی سوات کی توجہ مبذول کرنے کے لئے اس خادم اسلام نے جناب باچا صاحب عبدالقیوم مسند آرائے بام خیل کو جو اپنے خدا داد عظمت وقابلیت کے لحاظ سے پیشوایان ملک کی صف اوّل میں جگہ لینے کے حق دار تھے، مجبور کیا۔ جو نامہ پیام ہونے پر جانبین نے صلح اور موافقت پر رضامندی کا اظہار کیا۔ لیکن قبل ازاں کہ صلح کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ ریاست کے سپہ سالاروں نے حریف مقابل کے جانب سے رشوت پا کر یا اپنی بددیانتی سے متاثر ہوکر بے وجہ فوج کو ہزیمت اور پسپائی کا حکم دے دیا۔ حالانکہ ابھی جنگ کے دونوں پہلو برابر تھے۔ بلکہ غلبہ و کامرانی کا پلہ والئی انب کی جانب نظر آرہا تھا۔ ان کے اس حکم دینے سے ریاست کی فوج میں پھوٹ پڑ گئی اور پائے ثبات کو لغزش ہوئی۔

انسان کے لئے استقامت حال اور مداومت عمل ایک بہترین مظہر خلق ہے۔ چاہئے کہ جس کام کا آغاز کرے۔ اس کے واسطے دائمی اور غیر متبدل قدم اٹھائے۔ اگر وہ اس استقلال پر ثابت دم رہے گا تو اس کی مخالفت میں اگر کوئی قوت جامعہ بھی پہاڑ بن کر سامنے آتی ہے تو ناکامی کی ٹھوکریں کھا کر پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ مگر اس پامردی کے لئے شجاعت کی ضرورت ہے۔ جو وصف انسانیت کا ایک بلند ترین جوہر ہے۔ کیونکہ تلون طبعی اور سیماب مزاجی وعہد شکنی وغیرہ مکروہات شجاعت کے ندارد ہونے کے نتائج ہیں۔ غرض نہایت بے ترتیبی سے فوج ریاست پیچھے ہٹ گئی۔ جو اس آخری جنگ میں اس ہزیمت کے زیر اثر والئی انب کو بہت ہی ملکی نقصان پہنچا۔ چنانچہ اکثر مفتوحہ علاقہ جات ان سے خود بخود چھوٹ گئے۔ پس اگرچہ والئی انب اپنے انتقام کے جوش سے لبریز تھے اور ان کے محاربانہ ہمتوں میں اس سے کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ لیکن حکومت سرحد نے کسی مصلحت وقت کے لحاظ سے ہر دو والیان انب وسوات کے درمیان علاقہ امازی و جدون کو حد فاصل مقرر کر کے جانبین کو آئندہ کے لئے ایک دوسرے کے برخلاف محاربت وفوج کشی سے جبراً منع کر دیا۔

ذیل کی نظم جو میں نے اپنے عنفوان شباب کے دوران میں نواب صاحب ممدوح کے بعض حالات کے متعلق لکھی تھی۔ ہدیۂ ناظرین ہے۔

بیار اے سخن سنج طبع آزما بنظم اندرون گوہر خوشنما

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٢
بگو مدح نواب عالی جناب کرم دستگاہ وعنایت مآب
بفال ہمایوں ز پر کار دھر بیرون آمدست ایں ہمایوں بہر
مگر طالعش آمدش از اسد ازاں گردن شیر مرداں زند
بفضل خدا دست گاہ تمام بدارد ز دولت بشمشیر وجام
شجاع وجواں مرد فرخندہ رائے دلیر وخرد مند فرما روائے
بہ میداں ز مجلس چہ راند سمند بہ بالا فراز علم سربلند
بہ سرگل بن وارایتش عندلیب من اللہ نصر و فتح قریب
بگوشہ گزینہ تواضع کند بہمت ازیشاں تمتع برد
حیا دار ہم بر دو بار صبور در آفات در نعمت آمد شکور
کند عفو ہر گاہ کہ بیند گناہ زمجرم کہ گردد از وعذر خواہ
خدا دادش ایں چیرہ دستی وزور کہ از زورش اندر جہانست شور
ہم از خانداں او نظیرش کسے نبو دست از مدت تابسے
بدو ختم شد جاہ پیشینیاں چو بر خاک مشرق خط چینیاں
نہادست بر خط فرمان او کہیں ومہیں سر بہ دوران او
بجائے پدر حکمرانی کند بدور جہاں کوس دولت زند
عجب بارگاہ ہست والا جناب کہ خلق خداہست از وکامیاب
ہمیں نامور دادر دیں پناہ نگہبان خلقت بیگاہ وگاہ
برائے خدا حرمت مصطفیٰ کند عزت عالماں باوفا
چوں خانی زماں شد دلانام او بود دور دوراں باکام او
زپیر فلک باد عمرش مزید مصنوں باد از مکر دیوے مرید
ہمیں دارد اسحاق عاجز دعا بہ دنیا و دیں باد با مدعا

چونکہ آپ کے تفصیلی حالات کا یہ موقعہ نہیں۔ لہٰذا اجمالی حالات پر اکتفا کی گئی۔ پس ممدوح نے اپنے دوران حکومت میں ٣٠ سال ایک ماہ ٢٣ دن کے منازل عمر طے کر کے پیمانہ حیات خود کو لبریز کر دیا اور سن ١٩٣٢ء میں مقبرہ عالیہ اُچ نے ان کو اپنے آغوش میں لے لیا۔

نواب محمد فرید خاں صاحب سی ۔ بی ۔ ای

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٣

موجودہ فرمانروائے ریاست کے دور ترقیات و تنزل پر ایک اجمالی نظر

نواب صاحب محمد خانیزماں خان صاحب مرحوم پر جب جسمانی آلام و اسقام نے ہجوم پیدا کیا۔ خصوصاً مرض نقرس کے اشتداد نے ان کو بے بس کر دیا تھا تو اس وقت کی موجودہ وزارت ریاست نے جو اکثر مرزائیہ عناصر پر مشتمل تھی۔ مطلق العنانی اختیار کر کے بعض اس قسم کے ناموزوں کارناموں کا ارتکاب کیا۔ جو کہ مذہب اور اخلاق کے اصول اساس سے منافی و مخالف نظر آرہے تھے۔ تو موجودہ والیٔ انب کو ان کی یہ جدوجہد نتیجہ کے اعتبار سے ریاست اور خاندان ریاست کے لئے تباہ کن محسوس ہوئی۔ پس انہوں نے ان کے طامعانہ اقدامات اور خود غرضانہ تحریکات کے راستہ میں کچھ روڑوں کے اٹکانے کا آغاز کیا۔ جس سے مخالفین کو غیر متزلزل یقین ہوا کہ یہ آغاز ہمارے مقصد کے راہ میں حائل ہو جائے گا تو ان کے جذبات انتقام میں ایک غیر معمولی تلاطم پیدا ہو گیا تھا اور نواب صاحب مرحوم والیٔ ریاست کے دل و دماغ پر آپ کے خلاف بدظنی اور سوء اعتقادی پیدا کرنے کے لئے انہوں نے وہ تسلط جما لیا تھا۔ جس کے زیر اثر آپ کی زندگی میں رنج و پریشانی کے متعاقب دور گزرتے رہے۔ رفتہ رفتہ جلاوطنی کے صبر آزما و ہوش ربا مشکلات میں نیز ان کو دھکیل دیا گیا۔ اگرچہ اہل ریاست کی آنکھیں اس اضطراب انگیز واقعہ سے اشک آلود تھیں۔ لیکن صبر و سکینت کے مہر نے ان کے دلوں و زبانوں کو مجبوراً خاموش کر رکھا تھا۔ اس بے دست و پا محصور و مظلوم کو اگرچہ تمام دفاعی طاقتوں سے ایک پر نوچے ہوئے کبوتر کے مانند محروم کر دیا گیا تھا۔ لیکن اس نے اولوالعزمی و پامردی کو ہاتھ سے نہیں دیا۔ پریشانی و غموم کا نزول اگرچہ یاس انگیز و ہمت سوز ہوا کرتا ہے۔ لیکن کبھی استقلال و عزم کے افسردہ و مردہ دلوں کو روح حیات نیز بخشا ہے۔ بخت بیدار ہے وہ انسان جو مصائب کے ہجوم کے وقت بجائے عطالت و کسالت کے اپنی جوش ہمت سے کام لیتا ہے۔ صفحات تاریخ شاہد ہیں کہ جب کبھی انسان کا دل اپنے مذہب و وطن کے شرف عزت کے لئے جوش پیدا کر لیتا ہے تو آخر کار وہ اپنی فدا کاری اور جوش ہمت سے ہم آغوش کامرانی بھی ہو جایا کرتا ہے۔ غرض مسلسل تین سال کے عرصہ تک ان کے اس زخم مہاجرت و مفارقت کے کسی قسم اندمال پذیری کے لئے کوئی رخ پیدا نہ کر سکا۔ جب نواب محمد خانی زمان خان صاحب مرحوم کا انتقال ہوا تو کارکنان قضا و قدر نے آپ کو جلاوطنی کے حوصلہ شکن مصائب سے نجات دلا کر ریاست کی عنان حکومت آپ کے ہاتھ میں دے دی۔

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٤

اگرچہ مخالفین ریاست کا دماغ اپنی اس سابقہ نیم کامیابی کے نشۂ تہور سے مخمور تھا اور نواب صاحب مرحوم کے انتقال کے بعد بھی وہ اپنی تمام تر دفاعی طاقتوں کے حربہ کو استعمال میں لا رہے تھے۔ لیکن عروج وزوال کے قانون الہی کے نفاذ کو کوئی مادی قوت وانسانی طاقت روک نہیں سکتی ہے۔ وہ ایک پریشانی وتفکر کی بجلی تھی۔ جو دفعتاً مخالفین پر گری۔ جس نے ان کے ہوش وحواس کو کھو دیا۔ آپ نے جب ١٩٣٤ء کو سریر حکومت پر جلوہ افروزی فرمائی تو اپنے فرائض کے ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے قومی اضطراب اور ملکی خیر خواہی کے پیش نظر ریاست کے ہر ایک پہلو کے اصلاح ودرستگی کے متعلق نگاہ اولین ڈالی۔ ملکی نظم ونسق ، ترقی وسعت کے لئے اپنا مدبرانہ قدم اٹھایا۔ محاکم ومناصب کو منضبط کیا۔ پولیس کے صیغہ کو نہایت ہی موزوں اور شان سے مستقل طور پر قائم کر دیا گیا۔ تمام ارکان دولت وعماید ریاست کے لئے جو جو وظائف وتنخواہیں مقرر تھیں۔ ان کو بحال رکھا۔ پس افتادہ اور درماندہ لوگوں کی اعانت وامداد کے لئے عشر وزکوٰۃ کے ادائیگی کے مراعات ومراسم کو جاری کیا۔ ریاست میں ہر ایک شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے حقوق میں بڑے سے بڑے شخص کے ساتھ ہمسری کا دعویٰ کر سکے۔ ہر صیغہ پر جداگانہ خفیہ نویس اور واقعہ نگار مقرر ہیں۔ اہل ریاست کے غیر معتدل حالات اور والئی ریاست کے اس طرح باخبر زندگی کے مقتضیات کا یہ لازمی نتیجہ ہوسکتا تھا کہ وہ ہر ایک شخص کی آزادی اور اس کی عزت پر حرف پیدا کر دیں۔ کیونکہ اس قسم کی کاوش کا عموماً یہی اثر ہوا کرتا ہے۔ لیکن اس مرحلہ میں ایک حد تک ان کے پائے ثبات کو لغزش نہیں آئی۔ مذہب حنیف کے معتقد اور صوم وصلوٰۃ کے پابند اور اجرائے احکام مذہبیہ میں ایک نمایاں خصوصیت رکھتے ہیں۔ جو چیز ان کے تاریخ حیات کو مزین اور شاندار بتاتی ہے۔ وہ ان کی خندہ جبینی اور منکسر الطبعی ہے۔ غرور وترفع سے عملاً اجتناب ہے۔ دوران ملاقات میں وقار اور متانت ان کا شیوہ ہے۔ بنی نوع انسان کے لئے غرور وافتخار کا وہ خاص موقعہ ہوا کرتا ہے کہ جب وہ دوست دشمن کے ایک اطاعت کیشانہ مجمع کو اپنے حاکمانہ وامیرانہ پرچم کے نیچے فراہم شدہ دیکھتا ہے۔ کیونکہ یہاں تک پہنچ کر اس کو اپنی کامیابی کا گھمنڈ ہو جاتا ہے۔ عزت ودولت کے غرور پر تباہ کن جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں۔ مخالفین کو حقیر وذلیل سمجھا جاتا ہے۔ بیداری اور پامردی کی جگہ نشاط وعیش غفلت وعطالت پیدا ہو جاتی ہے۔ کرہ ارض کے تاریخانہ واقعات شاہد ہیں کہ اس کی یہ حالت زوال وانحطاط کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے۔ سعید الفطرت ہے وہ انسان جس نے اپنے حصول مقصد سے اپنے سر غرور وناز کو بلند نہیں کیا اور نہ اپنے آئینہ دل میں اپنی کامیابی کے نشہ سے سرشار

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٥

و از خود رفتہ ہو کر خود پسندی و غرور کا عکس ڈالا۔ یہ ایک غیر متزلزل حقیقت ہے کہ ہر ایک کامیابی اور ناکامی کے واقعات میں خاص اس قادر مختار کا دست غیر مرئی کام رہا ہے۔ تمام قوتیں اور قدرتیں عالم اسباب سے ایک ماورئی ہستی کے ہاتھ میں ہیں۔ دنیاوی اسباب و علل اگرچہ بظاہر موافق نہیں رکھتے ہوں۔ مگر وہ انسان کے کام میں ذرہ بھر بھی مؤثر نہیں ہو سکتے ہیں۔ کوئی بھی اپنی حسن تدبیر اور بازوئے قوت و رعب سے کامرانی کے مسرت انگیز ہنگاموں کو حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ پس انسان کو لازم ہے کہ ہر حالت میں اپنے تمام کاموں کے سررشتہ کو اس بالا تر و ماورئی ہستی کے ہاتھ میں سمجھے۔ توکل اور اعتماد علیٰ اللہ کے دامن کو مضبوط پکڑتا رہے۔ اگرچہ یہ مختلف النوع مضامین میرے مرکزی مضمون کے ساتھ ایک گونہ ربط و انسلاک ضرور رکھتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ میرے اوقات فرصت میں اس قدر گنجائش نہیں ہے جو کہ موجودہ والئی ریاست صاحب کے تمام جزوی حالات کو سپرد قلم کر سکوں۔

ریاست میں محکمہ قضاء کا آغاز

جناب شیخ المشائخ، علامہ زمان، قاضی القضاۃ ریاست قبلہ ام مولانا محمد علی

والدم کے مختصر سوانح حیات اور میرا شجرہ نسب

ملت اسلام نے تمام قومی امتیازات اور نسلی خصوصیات کو مٹا کر محض ملی امتیاز کو شرف عزت بخشی ہے۔ بنی نوع انسان کے لئے اگر کچھ قدر بھی معیار فضیلت حاصل ہے۔ تو وہ صرف ”ان اکرمکم عنداللہ اتقکم“ کے قانون عام کے ماتحت از خود حاصل کردہ علم وعمل ہی ہو سکتا ہے۔ قوم فروشی کا تعلی نسب نمائی کا غرور ایک بت تھا۔ جس کو اسلام نے انسان کے باقی خود ساختہ بتوں کے ساتھ توڑ کر پارہ پارہ کر دیا ہے۔

کہ اندریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست

پس خاندانی عظمت ہرگز اس قابل نہیں ہو سکتی ہے کہ اس کو پیش نظر رکھ کر نسب فروشی کے بازار کو آراستہ کیا جائے۔ فخر و مباہات کو دل میں جگہ دی جائے۔ ہاں البتہ یہ بات باعث فضل و کرم ہو سکتی ہے کہ انسان کے لئے آبائے صالحین یا اولاد صالح ہوں۔ قرآن میں اس کا تذکرہ بڑی خصوصیت سے کیا گیا ہے۔

”وکان ابوہما صالحاً“ اور ”رب ھب لی من الصلحین“ کا یہی اقتباس

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٦

ہے۔ پس اگر انسان اپنے اس خاندان کے تذکرہ کو حوالہ قلم کر کے خدا کی نعمت کا احداث کرے۔ جس میں صدیوں سے فضیلت علم و شرف ارشاد کا سلسلہ جاری و ساری رہا ہو۔ تو میرے خیال میں یہ بیجا نہ ہوگا۔ میرے جدی سلسلہ نسب میں مورث اعلیٰ سے لے کر کئی پشتوں تک ارباب عزت عظمت والیان دولت و ملک خداوندان شجاعت و رعب گزرے ہیں۔ ان کو یکے بعد دیگرے ایک حد تک ملکی ثروت اور مالی وسعت کا پایہ حاصل تھا۔ میرے جد اور ابوالجد سے علم و ارشاد فقاہت و ذہانت کا دور شروع ہوا۔ وہ اپنے عہد کے مشاہیر اساتذہ درس علم تھے۔ نوع بشری کے اصلاحات میں ان کو ایک گونہ برتری و امتیاز حاصل تھا۔ افسوس کہ ان کے علمی ترقیات کے تفصیلی واقعات کی تدوین میں کسی نے توجہ نہیں کی۔ اس لئے میں ان کے اقتدارانہ حیثیت اور علمی تاریخ سے اس رسالہ کے صفحات کو مزین کرنے سے قاصر ہوں۔ میرے جد کا اصلی مسکن و ماوئی علاقہ سمہ ضلع مردان میں بمقام جلسی تھا۔ سرحدی افغانوں میں یوسف زئی قبیلہ سے ان کی نسبت تھی اور بطن کے لحاظ سے اباخیل اور فصیلہ کے حیثیت سے مفوخیل اور زمرہ و عشیرہ کے جہت سے امار اخیل تھے۔ میرے جدی نسب کے پیہم سلسلہ و شجرہ کی تشریح یہ ہے۔

ابوتراب محمد اسحاق ابن علامہ دہر فہامہ عصر قاضی محمد علی ابن فاضل حقانی قاضی سید علی ابن قاضی محمد دلیل ابن ہمت خان ابن دلاور خان ابن کوخی خاں ابن شاہ ولی خان ابن مبارک خان ابن آصف خان ابن نصرت خان ابن ابا خان۔

جناب قبلہ والدم نے پشاور سے جب سن ١٢٧٠ھ میں نواب صاحب محمد اکرم خان ممدوح کے مزید اصرار اور وافر استدعا پر اپنے قدوم میمنت لزوم سے ریاست انب کو شرف بخشا تو اس وقت ریاست اپنی انتہائی جہالت و بدویت کی تیرگی و تاریکی میں پنہاں ہو چکی تھی۔ قرآنی اور مذہبی تعلیمات سے بالکل بے خبری تھی۔ مگر آپ نے قلیل عرصہ میں اسلامی احکام کے نشر و اشاعت سے وہ کارہائے نمایاں دکھائیں اور صیغہ تعلیم و تدریس کی تکمیل میں وہ پر زور طاقت خرچ کی جس سے ریاست صحیح معنی میں اسلامی ریاست کہلانے کی مستحق ہوگئی۔ آپ کے ذوق عمل سے گویا مسلمانوں میں نئی زندگی پیدا ہو گئی۔ قرآنی تعلیم کی ترویج اور سنت نبوی کی توسیع میں انتہائی حصہ لیا۔ چونکہ اس وقت فصل مقدمات کے لئے صرف چند ایک ملکی رسوم کو دستور العمل قرار دیا گیا تھا۔ شرعی فیصلہ کے لئے باقاعدہ کسی قاضی صاحب کا انتخاب نہیں ہوا تھا۔ لہٰذا قبلہ والدم عہدہ قضا پر ممتاز ہونے کے لئے مجبور کئے گئے۔

١٦ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٧

صیغہ قضا اور اسلامی روایات

صفحات تاریخ شاہد ہیں کہ امام الائمہ امام اعظم ابوحنیفہ کوفیؒ کو بنی امیہ کے آخری گورنر عراق ابن ہبیرہ نے حبس دوام اور کوڑوں کی سزا دی تھی۔ ایک دن نہیں بلکہ پیہم اور مسلسل کئی دنوں تک ان کو تازیانے لگا کر برسر بازار ذلت آمیز اور توہین انگیز تشہیر میں گشت کرائی جاتی تھی۔ اس سزا کی رفتار اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ آپ کے تلمیذ رشید قاضی ابو یوسفؒ کا بیان مظہر ہے کہ ابو جعفر منصور کے حکم سے ابن ہبیرہ گورنر نے آپ کو اس حد تک تازیانے لگائے کہ: ”حتیٰ قطع لحمہ“ یعنی آپ کے جسد مبارک کا گوشت کٹ کٹ کر گر گیا تھا۔ تقریباً تمام مؤرخین کا اس انصاف سوز واقعہ پر اتفاق ہے۔ لیکن جب سوال پیش ہوتا ہے کہ اسلامی حکومتوں بنی امیہ و بنی عباس نے کیوں اس قسم کی سفاکی و بربریت کے لئے اقدام کیا۔ اس مذہب حنیف کے بانی امام اور مؤسس اولین سے جس کی ملی اور مذہبی زندگی میں تقریباً چالیس کروڑ آبادی کا ایک ثلث سے زیادہ مجمع عظیم معتقدانہ جذبات رکھتا ہے۔ کیوں ایسا جابرانہ معاملہ برتا گیا۔ جو جواب میں انتہائی سادگی سے کہا جاتا ہے کہ ان دونوں حکومتوں نے عہدہ قضاء کے تسلیم کرنے کے لئے التماس پیش کی تھی اور امام صاحب نے انکار کیا۔ جس سے وہ اس قسم کی مسلسل سزاؤں کے تختہ مشق بن گئے تھے۔ چنانچہ اس واقعہ کے پیش نظر بعض اہل زمانہ نیز صیغہ قضا کو روایات اسلامیہ سے منافی سمجھتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ آخر کار قضاء اختیار کرنا کس اسلامی روایت کے پیش نظر باعث گناہ ہے۔ جس سے امام اعظمؒ نے اس شدت کے ساتھ انکار و اصرار کیا۔ تاکہ اس ضمن میں جیل کی سزائیں بھگتیں۔ کوڑوں کی سزا منظور کی۔ آخر جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں پیمانہ حیات خود کو لبریز کر دیا۔ اسلامی روایات کا جہاں تک تعلق ہے اور میرا علمی حافظہ جہاں تک رفاقت کرتا ہے۔ فصل قضایا، اقامت عدل، رفع منازعت کا صیغہ صرف جائز اور مباح ہی نہیں بلکہ اسلامی ملت کے ضروری فرائض اور لازمی مقاصد میں داخل ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس فریضہ کی تکمیل کے لئے اس قدر جدوجہد سے کام لیا ہے کہ متعدد مقامات میں مختلف صحابہؓ کو قضات ولاۃ مقرر کیا۔ چنانچہ عمرؓ بن حزم نجران میں، معاذؓ بن جبل یمن میں، علیؓ ابن ابی طالب مدینہ میں، ابو العاصؓ یمن میں، زیادؓ بن لبید شہر بازان میں، عمرؓ بن العاص عمان میں مقرر کئے گئے تھے۔ ہر ایک کو ملکی انتظام فصل مقدمات تحصیل خراج وغیرہ کے لئے متعین کیا گیا تھا۔ جیسا کہ

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٨

باقی نظم و نسق کے لئے ارشاد تھا ویسا ہی فصل مقدمات اور رفع منازعات کے لئے حکم عام تھا۔ پیغمبر اسلام ﷺ اپنی پیغمبرانہ زندگی کے تمام مراحل میں مدینہ اور حوالی مدینہ کے فصل خصومات کے فرائض کو بذات خود انجام دیتے رہے۔ احادیث و تواریخ میں آنحضرت ﷺ کے فیصلوں کا اس قدر وافر ذخیرہ موجود ہے کہ ان کا استقصاء کرنا مشکل ہے۔ کتب احادیث میں کتاب البیوع ان کے دیوانی مقدمات کے فیصلوں سے مملو ہیں اور کتب القصاص میں فوجداری منازعات کے فیصلوں کا اس قدر ذخیرہ موجود ہے کہ اگر تدوین کی جائے تو ضخیم کتاب تیار ہوجائے گی۔ آپ کے بعد خلفائے راشدین یکے بعد دیگرے عہدہ قضا کے مشاغل کو انجام دیا کرتے تھے۔ بلکہ قرآنی معلومات اور باقی الہامی کتب کی تفہیمات سے پایا جاتا ہے کہ ارسال رسل میں سب سے انتہائی غرض یہی تھی کہ وہ اہل زمانہ کے جھگڑوں کا فیصلہ کریں۔

”كان الناس امة واحدة فبعث الله النبيين مبشرين ومنذرين وانزل معهم الکتب بالحق ليحكم بين الناس فيما اختلفوا فيه“ {لوگ ایک ہی گروہ تھے۔ پھر خدا نے انبیاؤں کو مژدہ سنانے اور دھمکی دینے کے لئے بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اس مقصد کے مدنظر نازل فرمائی کہ لوگ باہم جن معاملات میں جھگڑ رہے تھے۔ ان میں فیصلہ کریں۔}

”انا انزلنا اليک الکتب بالحق لتحكم بين الناس بما اراک الله“ {اے پیغمبر! ہم نے تم پر کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے تاکہ لوگوں کے درمیان اس طرز پر آپ فیصلہ کریں۔ جیسا کہ خدا تمہیں سمجھائے۔} بلکہ قضا اور داد رسی کے لئے عام لوگوں کو ارشاد ہے۔

”اذا حكمتم بين الناس ان تحكموا باالعدل“ {جب تم لوگوں میں فیصلے کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔}

حضرت معاذؓ ابن جبل کو جب یمن کے لئے قاضی مقرر کیا گیا تو اولاً ان کا تجربہ علمی اور طرز عمل کا امتحان لیا گیا۔ چنانچہ ترمذی میں ہے: ”قال رسول الله ﷺ لمعاذ بن جبل حين وجهه الى اليمن بما تقضى قال بما فى کتاب الله قال فان لم تجد قال بما فى سنة رسول الله قال فان لم تجد قال اجتهد رائى فقال رسول الله ﷺ الحمد الله الذى وفق رسول رسول الله لما يحب رسول الله“ {رسول اللہ ﷺ نے جب معاذؓ بن جبل کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا کس چیز سے مقدمات کا فیصلہ کرو گے۔ انہوں نے کہا قرآن مجید سے۔ آپؐ نے فرمایا اگر اس میں وہ فیصلہ تم کو نہ ملے۔ انہوں نے کہا احادیث سے،

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٦٩

پھر آپ نے فرمایا اگر احادیث میں بھی اس کے متعلق ہدایت نہ ملے تو انہوں نے کہا میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ اس پر آپ نے فرمایا اس خدا کا شکر ہے۔ جس نے رسول اللہ ﷺ کے رسول کو اس چیز کی توفیق دی۔ جس کو خود اس کا رسول محبوب رکھتا ہے۔}

بہر حال قضا ایک ایسا عمل ہے جس کو خود انبیائے کرام نے انجام دیا ہے اور باقی مسلمانوں کو اس کے لئے مامور فرمایا۔ کیونکہ اسلام ایک ایسا وسیع و جامع حیثیت کا دستور اساسی ہے۔ جو بنی نوع انسان کے تمام شعبوں قومی، اجتماعی، شخصی، معاشرتی، تمدنی، تعزیری، سیاسی وغیرہ پر حاوی ہے۔ جیسا کہ وہ مذہبی تحریک رکھتا ہے۔ ویسا ہی سیاسی تحریک کا مالک ہے۔ شروع سے اسلام نے جہاں جہاں وسعت اختیار کی۔ وہاں ہی قضا کی بنیادیں بھی ڈالی جاتی تھیں۔ کسی حکومت کا تصور بجز اس قسم کے سامانوں کے جن سے فصل منازعات کا تعلق ہے۔ ہرگز نہیں ہوسکتا ہے۔ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ احادیث میں منصب قضا کے اختیار کرنے پر بعض تخویف آمیز اور تہدید انگیز روایات بھی موجود ہیں۔ لیکن اس قسم کی دھمکیوں کا تعلق صرف انہیں لوگوں کے ساتھ ہوسکتا ہے جو فرائض قضا کے انجام دہی کے لئے صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔ یا جو ریا کاری کی جھلک و عیش و لالچ کے بدنما داغ سے معیوب ہوں۔ جو لوگ اس فریضہ کی اہمیت و عظمت کو مدنظر رکھ کر اس کی تکمیل میں حتی الوسع انصاف و عدل سے کام لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال اور قیامت کے ہولناک محاسبہ کا تصور دل میں باندھ کر فیصلہ دیتے ہیں۔ ان کے حق میں انتہائی فضائل و محاسن کا تذکرہ صحیح احادیث میں نیز موجود ہے۔ طبرانی میں بروایت ابن عباسؓ مروی ہے۔

”لیوم من امام عادل خیرا من عبادة الرجل وحدہ ستین عاما“

{ایک دن حاکم عادل کا بہتر ہے۔ اکیلے آدمی کے ساٹھ سال کی عبادت سے۔}

صحیح مسلم میں ہے۔ جنت میں سب سے پہلے تین آدمی داخل ہوں گے۔ ان میں سے ایک حاکم عادل کو بیان فرمایا ہے۔ ہر ایک عبادت دو پہلوؤں پر مشتمل ہوا کرتی ہے۔ ایک ثواب اور دوسرا عتاب۔ کیونکہ عبادات میں سے بعض ایسے ہیں جو کسل اور تہاون کے لحاظ سے باعث گناہ ہیں۔ جیسے نماز، اور بعض بخل کے باعث جیسے زکوٰۃ اور بعض کسل و بخل دونوں کے ذریعہ جیسے حج و جہاد۔ پس اس قسم کی عبادتوں کے متعلق نیز دھمکیاں موجود ہیں۔ مگر ان دھمکیوں کی وجہ سے عبادات الٰہیہ کا ترک کرنا جائز نہیں ہے۔ بلکہ ما بہ التخویف کے ترک کرنے میں سعی کی جائے۔ غرض اگر قضا اس درجہ کا عظیم گناہ تھا۔ جس سے پہلو تہی کرنے کے سلسلہ میں امام اعظمؒ اس قدر

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٠

جور و استبداد کے انصاف سوز واقعات کو برداشت کر رہے ہیں۔ آخر کار موت تک کی بازی نیز لگائی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ بعض راویوں کا بیان مظہر ہے تو امام اعظمؒ صاحب اپنے شاگرد رشید امام ابو یوسفؒ کو کیوں قاضی القضاۃ ہونے کی اجازت بخشتے ہیں۔ بلکہ ایک درجن سے زیادہ وہی مشائخ اعلام اور مجتہدین عظام قضا کی خدمات کو انجام دے رہے تھے۔ جن کو آپ کی تلمیذی کا فخر حاصل تھا۔ چنانچہ قاضی امام محمد بن حسن، قاضی حسن بن زیاد، قاضی حفص بن غیاث، قاضی علی بن ظبیان، قاضی حماد بھی انہیں جلیل القدر ائمہ سے تھے۔ جنہوں نے اپنی ساری زندگی کو قضا کے لئے وقف کر دیا تھا۔ چنانچہ انہیں ائمہ کے متعلق امام اعظمؒ اپنے حلقہ درس میں فرمایا کرتے تھے۔

”ھؤلاء ستة وثلثون رجلاً منھم ثمانية وعشرون يصلحون للقضاء واثنان ابویوسف وظفر یصلحان کتادیب القضاء (مناقب ص ٢٤٦)“ {یہ چھتیس آدمی ہیں۔ جن میں اٹھائیس قاضی ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دو یعنی ابو یوسف اور ظفر قاضیوں کے تربیت و تعلیم کے قابل ہیں۔}

پس جہاں تک تاریخی واقعات کا تعلق ہے۔ امام اعظمؒ کے قتل کے اسباب چند ایک سیاسی معاملات ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ کے شاگرد رشید امام ظفر فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ ابراہیم کی بغاوت کے زمانہ میں انتہائی شدت کے ساتھ آزادانہ طور پر ان کا ساتھ دے رہے تھے اور باقی اہل ملک کو نیز ان کا ساتھ دینے میں ترغیب دے رہے تھے۔ جس سے مطلع ہو کر خلیفہ منصور نے بڑی شدت سے امام ابو حنیفہؒ کو بغداد طلب کیا اور پندرہ دن کے قیام کے بعد آپ کو زہر پلایا۔ جو وہاں ہی آپ نے وفات پائی۔

(موفق ص ١٧١)

صدر الائمہ علامہ ابو سعید المکی آپ کی وفات کی وجہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ متقدمین علمائے احناف سے متصل سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی جاتی ہے کہ ابو منصور کا ایک جرنیل حسن بن قحطبہ جو ایک طویل عرصہ تک لوگوں کے قتل کرنے میں حسب الحکم منصور بڑی سفاکی سے کام لے رہے تھے۔ اس نے امام اعظمؒ صاحب سے اپنی توبہ قبول ہونے کے متعلق دریافت کی۔ آپ نے فرمایا کہ توبہ قبول ہے۔ مگر سچائی و صداقت شرط ہے۔ جس نے توبہ کی اور اس پر قائم رہنے کا عہد باندھا۔ اس دوران میں خلیفہ وقت نے حسن مذکور کے نام ابراہیم بن عبداللہ کے ظہور ہونے پر اس کے ساتھ مقابلہ کے لئے حکم ناطق کیا۔ امام اعظمؒ نے حسن کو توبہ قائم رہنے کی تلقین فرمائی۔ جو حسن نے منصور کے حکم کی تعمیل سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب تک میں لوگوں کو

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧١

آپ کے حکم کی تعمیل میں قتل کرتا چلا آیا ہوں۔ اگر یہ کوئی نیکی کا کام تھا تو یہ نیکی کافی طور پر مجھے حاصل ہو چکی ہے۔ اگر گناہ تھا تو معافی کا خواستگار ہوں۔ منصور کو اس کے اس انکار پر اشتعال پیدا ہوا۔ اس کے محرک کی تلاش کرتے ہوئے امام ابوحنیفہؒ کا سراغ نکالا اور اس کو بغاوت پھیلانے کے جرم کے سلسلہ میں زہر دے کر قتل کرایا۔

”من ھذا الذی یفسد علینا ھذا الرجل فاخبروہ انہ یدخل علیٰ ابی حنیفہ فدعاہ بعلة شئی فسقاہ فماة (مناقب)“ {منصور نے کہا یہ کون ہے جو ہماری حکومت میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ لوگوں نے ابوحنیفہ کو اس کا محرک بتلایا۔ خلیفہ وقت نے امام صاحب کو بہانہ سے طلب کیا اور زہر پلایا۔ جس سے آپ کا انتقال ہوا۔}

پس نہیں معلوم کہ باوجود اس قسم کی صحیح روایات کے اسلامی تاریخ میں کیوں ان کو سرسری طور پر نقل کیا ہے اور کیوں اکثر مؤرخین نے ان کی وفات ہونے کی وجہ میں انکار از قضا کی روایت کو زیادہ اہمیت دے دی ہے۔ غرض اسلامی نقطہ نظر سے قضا کا کام صرف جائز ہی نہیں بلکہ مستحسن اور موجب ثواب بھی ہے۔

قبلہ والدؒ کے عرفانی اور علمی دور کے ترقیات

آپ جب فصل قضایا کے لئے مسجد میں تشریف رکھتے تو آپ کے رعب و داب کا بہت کچھ اثر ہوا کرتا تھا۔ فیصلہ کے وقت امیر و گدا، غلام و آقا میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جاتا۔ لسان وطن نے جو جو قوانین طے کئے ہیں۔ فصل خصومات میں وہی دستورالعمل رہا کرتے تھے۔ عدالت کے وقت کوئی دربان اور نقیب نہیں ہوا کرتا تھا۔ حق گوئی اور راست گفتاری ان کا ایک خاص شیوہ تھا۔ کسی کی حاکمانہ حیثیت کا لحاظ رکھ کر حق بیانی سے آپ نے کبھی بھی پہلوتہی اختیار نہیں کی تھی ۔

خوش دل کش است قصہ خوبان روزگار
تو یوسفی و قصہ تو احسن القصص است

آپ کی مہارت فی القرآن اور معرفت فی الحدیث کا وہ منظر سامنے آتا تھا۔ جس سے ان کی علمی عظمت و جلالت کے داد دینے پر دوست دشمن مجبور تھے۔ اگرچہ وہ عامل بالحدیث تھے۔ مگر غلو اور تعصب سے کوسوں دور بھاگ رہے تھے۔ امام الائمہ ابوحنیفہؒ کی غیر معمولی عظمت و محبت کا ان کے دل میں وہ عالم تھا کہ ان کی تفقہ فی الدین اور ورع اور تقویٰ کو بسا اوقات یاد کر کے

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٢

آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔ فقہی روایات کو عین قرآن وسنت کی تفسیر اور متبین سمجھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ”القیاس مظہر لا مثبت“ فقہا اور مجتہدین کے پیش کردہ روایات کے آگے سر جھکا دینے کا باعث فلاح اور موجب ہدایت ورشد سمجھتے تھے۔ محکمہ قضا کے فیصلوں میں اکثر فقہی روایات سے امداد لیا کرتے تھے۔

”هو مصداق ماقال به الشاعر * ماذا يقول الواصفون له وصفاته جلت عن الحصر * هو حجت الله قاهرة هو بيننا اعجوبة الدهر“

افسوس کہ موجودہ دور تعصب وعصیان میں مذہبی تعصب نے عالم دنیا پر ایک خاص مہلک اثر ڈال دیا ہے۔ جس سے مسلمانوں کا گروہ اپنے مذہبی ترقی میں انتہائی سرعت کے ساتھ تسفل اور تنزل کا رخ اختیار کر رہا ہے۔ ایک فرقہ دوسرے فرقہ کی تکفیر اور تفسیق کو اپنی ایماندارانہ زندگی تصور کرتا ہے۔ گروہ احناف فرقہ محدثین کی توہین وتذلیل میں کوشاں ہے اور غالی محدثین ان کے خلاف تحقیر اور سوئے اعتقادی کو باعث اجر سمجھتے ہیں۔ اگر اس تعصب اور ضلالت کی رفتار دنیا میں اسی طرح رہی تو قلیل عرصہ میں ایماندارانہ زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مجتہدین نے جو اپنے قوت اجتہادی اور طرز استنباط سے مختلف مسائل کا استخراج کیا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان کے اس اختلاف اور تعدد آراء کی وجہ سے ایک فرقہ دوسرے فرقہ کی تذلیل وتحقیر کو روا رکھے یا کسی ایک مجتہد اور امام کی تقلید کرنے میں دوسرے امام کے مسئلہ میں اطاعت سے اپنے آپ کو جماعت اسلامی میں منسلک ہونے کے قابل نہ سمجھے۔ موجودہ عصر میں یہ ہوا پرستی حد اعتدال سے گزر چکی ہے کہ اکثر مقلدین اور محدثین ایک دیگر کو عدم شمولیت جماعت کی وجہ سے غیر طریقہ حق پر سمجھ رہے ہیں۔ بلکہ نماز میں اقتداء کرنے کو ایک فرقہ دوسرے فرقہ کے پیچھے جائز نہیں سمجھتا ہے۔ جہاں تک نصوص اور اسلامی روایات کا تعلق ہے ہر ایک مسلمان کا یہی ایمانی فریضہ ہونا لازمی ہے کہ جماعت اسلامی کا جو عقیدہ اور نصب العین ہے۔ وہی عقیدہ رکھنا چاہئے۔ پس اس مرکزی عقیدہ میں موافقت رکھنے کے بعد عملی پروگرام کے جزوی وفروعی تفصیلات میں اگر کہیں کچھ اختلاف رائے پیدا ہو جائے تو اس کو مذہب میں کچھ اہمیت نہ دی جائے۔ دیکھو خیرالقرون کے دور میں جب کبھی کسی مسئلہ میں باہم اختلاف پیدا ہو جایا کرتا تھا تو حدیث کے پیش آجانے پر وہ اختلاف مرتفع ہو جاتا تھا۔ کسی صحابی اور تابعی نے تعصب اور ضد سے کام نہیں لیا۔ حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کو صدیق اکبرؓ سے پیغمبر اسلامؐ کے میراث کے بارہ میں جب اختلاف ہوا تو

٢٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٣

حضرت صدیقؓ نے حدیث ذیل کی روایت کی۔ ”نحن معاشر الانبياء لا نرث ولا نورث ما تركناه صدقة“ {ہم انبیاء کی جماعت نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے۔ جو کچھ ہم پیچھے چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔} روایت کی تو باہمی جھگڑا مرتفع ہوگیا۔

کلالہ شخص کی تفسیر اور توريث جد میں حضرت ابوبکرؓ سے حضرت عمرؓ کا اختلاف تھا۔ مگر حضرت عمرؓ نے ابوبکرؓ کی رائے کو صحیح سمجھ کر اپنی وفات سے کچھ پہلے حضرت صدیق اکبرؓ کے قول سے اتفاق کر لیا تھا۔ حدیث ”الماء من الماء“ میں صحابہ کرامؓ کا خلافت عمرؓ تک باہم اختلاف تھا۔ آخر کار مہاجرین اور انصار کے اجتماع میں حضرت عمرؓ نے ازواج مطہرات سے اس بارے میں حدیث نبویؐ کا استفسار کیا۔ جب حدیث نبویؐ پیش لائی گئی تو تمام صحابہؓ کو اس پر اجماع واتفاق پیدا ہوگیا۔ علیٰ ہذا القیاس صحابہؓ کرام کو مانعین زکوٰۃ کے قتل میں صدیق اکبرؓ کی رائے سے اختلاف تھا۔ کیونکہ مانعین زکوٰۃ باقی شعائر اسلام نماز، روزہ، حج کے عامل تھے۔ اس لئے صحابہؓ ان کے قتال کو روا نہیں سمجھتے تھے۔ مگر جب حدیث نبویؐ: ”من بدل دينہ فاقتلوہ ومن فرق بين الصلوٰۃ والزکوٰۃ فقد بدل“ {جو اپنا دین بدل دے اس کو مار ڈالو۔ جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا یعنی زکوٰۃ کو فرض نہ سمجھا تو اس نے دین بدل دیا۔ مرتد ہوگیا۔} کو حضرت صدیقؓ نے پیش کیا تو اختلاف رفع ہوگیا۔

غرض نہ کسی مقلد شخص کے لئے جائز ہو سکتا ہے کہ اختلاف کے وقت حدیث نبویؐ کو متروک العمل قرار دے کر کسی فقہی روایت کو حکم ٹھہرا کر اس کو مرجح سمجھیں اور نہ محدث کے لئے یہ جائز ہو سکتا ہے کہ مطلقاً فقہی روایات کو خارج عن الحق سمجھ کر نظر انداز کردیں۔ ”ولنعم ما قيل“

الفقه قال الله قال رسوله
ان صح والاجماع فاالجهد فيه
واخطاء من نسب الخلاف جهالة
بين النبى وبين رائى فقيه

آپ تقویٰ و تصوف میں کمال رکھتے تھے۔ صفات نفسانیہ سے انسلخ اور ثبوت مع اللہ کے حالات کے متعلق سب سے سبقت لے گئے تھے۔ قلبی صفائی کا وہ اوج اور شان تھا کہ ذرا گردن جھکا کر مراقبہ کرتے تو اور امور مخفیہ منکشف ہونے شروع ہو جایا کرتے تھے۔ عمال اور اہل

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٤

دول آپ کی نظر میں پشہ جیسے بھی وقعت نہیں رکھتے تھے۔ ترفع و نمود، فخر و مباہات کے ذلت آمیز کارناموں سے کوسوں دور رہتے۔ بے تعلقی اور سادہ وضعی آپ کا شعار تھا۔ تواضع اور منکسر المزاجی حد اعتدال سے متجاوز ہوچکی تھی۔ جو نبویؐ اطاعت کی یہی حقیقت ہے اور یہ وہ بے بہا جوہر ہے جو بہت ہی کم لوگوں کو حاصل ہے ۔

ملت عشق از ہمہ دینہا جدا است
عاشقاں را مذہب وملت خدا است

آپ نے وعظ وارشاد کے لئے روز جمعہ کو متعین فرمایا تھا۔ ان کے اس مجلس ارشاد اور وعظ میں نواب محمد اکرم خان صاحب والیٔ ریاست بھی شامل جمعہ ہوکر مستفید رہا کرتے تھے۔ آپ نے ان کی اخلاقی خرابیوں کی اصلاح کے لئے اپنی سبق آموز تذکیر سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ جوش بیان کی وہ حالت تھی کہ آنکھوں میں سرخی، آواز میں بلندی، حد اعتدال سے گذر جاتی تھی۔ اہل قلم ہونے کی حیثیت سے انتہائی جرأت وشجاعت کے مالک تھے۔ ظاہری اور باطنی دونوں علوم میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا ۔

احاطہ بکل علم فیہ نفع
فقل ماشئت فی البحر المحیط
؎
اے تو مجموعہ خوبی بچہ نامت خوانم

آپ کے درسگاہ میں کثیر التعداد تلامذہ کا مجمع رہتا تھا۔ بلاد اسلامیہ مثلاً کابل، یارقند، غزنی، بنیر، سوات، کوہستان، پشاور وغیرہ سے فارغ التحصیل طلباء آپ کے حلقہ درس میں داخل ہوکر مستفید ہوا کرتے تھے۔ اطراف واکناف میں صدہا مشاہیر علماء وفضلاء کو آپ کی تلمیذی کا فخر حاصل ہے۔ مجھے آپ کے جزوی اور تشریحی واقعات کی جامعیت اور احاطہ مطلوب نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے کتاب بہت ضخیم ہوجائے گی۔ غرض آپ نے مراحل حیات کے آخر حصہ کو پہنچ کر عہدہ قضاء اور مسند تدریس کو خیر باد کہہ کر اپنی ڈیوٹی قضاء وغیرہ کو اس خادم اسلام کے ہاتھ میں دے کر اپنی باقی ماندہ سہ سالہ زندگی کو عزلت اور گوشہ نشینی کی تشکیل میں خالق اکبر کی یاد کے لئے وقف کردیا تھا۔ چنانچہ اس دوران میں بسا اوقات صحرا نشین رہا کرتے تھے۔ زمانہ عزلت میں آپ کے باطنی تصرفات اور عرفانی واقعات نے انتہائی مدارج کو حاصل کرلیا تھا۔ کرامات

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٥

اور مکاشفات میں مزید سبقت حاصل کرلی گئی۔ جب آپ کا ١٣٢٤ھ میں ماہ رمضان کو بعارضۂ اسہال وصال حق ہوا تو اس حادثہ کبریٰ کی اطلاع دفعتاً تمام اطراف و جوانب میں بجلی کی طرح پھیل گئی اور اہل ملک کے گھر گھر میں ماتم برپا ہوگیا۔ آپ کی تاریخ مرثیہ جو میرے فکر قاصر کا نتیجہ ہے ذیل میں درج ہے۔

گشت فانی گر بدانی ہر کہ آمد در جہاں
دائماً باقی بدان قیوم قادر مستعان
بے وفا و بے قرار و بے بقاؤ بے ثبات
ہست دار دنیوی گر فہم داری بیگمان
شد غروب از دور عالم شمس عالم آنکہ ہست
بے شک از اوصاف او عاجز زبان واصفان
گر تو شہر علم را سازی مرکب بادرش
ہمچنان چوں بعلیک ناش بدانی بعد ازاں
محمد علی محمد علی
سال تاریخش چو جست اسحاق فرزندش ز غیب
گفت ہاتف در نہان بد طائر باغ جنان
١٣٢٤ھ

اس خادم اسلام کی متعلمانہ زندگی پر اجمالی نظر

میری تاریخ زندگی کے صفحات کو شاندار اور مزین بنانے کے لئے جو چیز زیادہ خصوصیت رکھتی ہے۔ وہ قبلہ والدم کی پدری شفقت اور ابدی مرحمت کے نوازشات ہیں۔ میرے ساتھ آپ کی شفقت و محبت کے جذبات اس قدر موجزن رہا کرتے تھے کہ بسا اوقات رات کی گھڑیوں میں بھی میری خبر گیری کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے اوقات سفر اور لمحات حضر کے دونوں حالتوں میں زمانہ طفولیت سے لے کر عہد شباب تک ان کی ہم رکابی کا شرف خاص میرے لئے مختص تھا۔ آپ کے مقتضیات محبت کے پیش نظر آپ کی معلمانہ تدریس و تعلیم، مصلحانہ افہام و تفہیم میں بھی مجھے ایک نمایاں امتیاز کا فخر حاصل تھا۔ ”ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء“ تمام علوم و فنون میں جس قدر جلد تر محیر العقول کامرانی اور غیر متوقع فائز المرامی کا شرف جو

٢٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٦

مجھے حاصل ہوا ہے۔ وہ سب کچھ آپ کی مسلسل دعاؤں اور خاص الخاص تو جہات کا نتیجہ ہے۔ اگر چہ میں قبلہ محترم کے حلقہ درس میں فارغ التحصیل ہو چکا تھا۔ لیکن ان کے وفات ہونے کے بعد خاص دورہ حدیث کے لئے جناب حافظ رمضان صاحب پشاوری و حافظ عبدالمنان صاحب وزیر آبادی کی خدمت میں یکے بعد دیگرے میرے اشتیاق مجھے کشاں کشاں لے گئے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد نواب محمد اکرم خان صاحب کے انتقال ہونے پر جناب نواب محمد خانی زمان خان صاحب نے عنان حکومت کو جب اپنے ہاتھ میں لے لیا تو انہوں نے ضرورت وقتی کے لحاظ کو مدنظر رکھ کر مجھے واپس طلب کیا اور بدستور عہدہ قضاء پر مامور فرمایا۔

صیغہ تدریس اور تعلیم

ابتدائی مراحل میں مذہبی دعوت و تبلیغ حق اور صیغہ قضاء کے فرائض کے بجا آوری کے علاوہ میں نے صیغہ تعلیم و تدریس کو نیز قائم رکھا تھا۔ خدائے تعالیٰ کا فضل تھا کہ میری اس تعلیمی مساعی نے شہرت کا وہ درجہ حاصل کر لیا تھا کہ مختلف اکناف و جوانب سے طلبائے علم کے نزول وورود کے روز افزونی نے میرے حلقہ درس میں مزید اضافہ پیدا کر دیا۔ تقریباً عرصہ پندرہ سال تک میرے اس درسی نظام و انصرام سے کثیر التعداد طلباء مستفید ہوتے رہے۔ جب صیغہ قضا اور صیغہ افتاء کے مشاغل و اغراض کی کثرت نے مجھے اس سے عدیم الفرصت کر دیا تو تدریس کے صیغہ میں جو میری مزید توجہ تھی وہ مجبوراً کم کر دی گئی۔

صیغہ قضاء اور اس کی ہمہ گیری

چونکہ صیغہ قضاء کے اجراء کے لئے جس طرح علمی تبحر کی ضرورت ہے۔ اسی طرح تقویٰ و دیانت کی بھی ضرورت ہے۔ لہٰذا یہ ناچیز فرائض و حقوق قضا کی ہمہ گیر تکمیل و تتمیم کے برداشت کرنے کے لئے اپنے آپ کو قاصر سمجھ رہا تھا۔ کیونکہ حکومت ودیعت کردہ الٰہی ایک بہت ذمہ داری کا مسند ہے۔ یہ وہ پر خطر و قلق نما شعبہ ہے۔ جس میں صدہا علماء و فضلاء کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ مگر جب قبلہ والدم نے جو میرے ظاہری اور روحانی مربی تھے۔ اس مسند کے لئے مجھے مامور فرمایا تھا۔ لہٰذا میں نے ان کے اس خاص ارشاد کے پیش نظر خدائے قدوس پر اعتماد رکھ کر خلق اللہ کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو مجبوراً پیش کیا۔ پس صیغہ قضاء نے اپنی حسن اسلوبی کے ماتحت اس قدر جلد تر وسعت اور ہمہ گیری اختیار کر لی تھی کہ حدود ریاست کے علاوہ باقی تمام ملحقہ آزاد قبائل نے اپنے ان مقدمات کے فیصلہ کے لئے جن کا تعلق شرعی احکام سے وابستہ ہے۔ نیز

٢٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٧

میرے اسلامی محکمہ کو مختص قرار دے دیا۔ جو بڑے اطمینان اور غایت وثوق و اعتماد سے ان کا خاص یہی محکمہ مذہبی مرجع بن گیا۔ اس محکمہ کے لئے جس قدر مذہبی اختیارات کی ضرورت تھی۔ وہ تمام تر تفویض کر دیئے گئے۔ بدنی اور مالی تعزیرات کے لئے محکمہ ہذا کو مختارانہ حیثیت دی گئی۔ فصل خصومات کا صیغہ اگر چہ بعض آئین و اصول کے ماتحت شروع سے چل رہا ہے۔ لیکن وہ آئین خدا کے فضل سے اس قسم کے ہرگز نہیں۔ جن کے ذریعہ انصاف و عدل کی آسانی میں کوئی خلل و نقص واقع ہو سکے۔ دور حاضرہ میں اکثر مہذب اقوام نے جو داد رسی اور انصاف کو ایسے عدالت سوز قیود میں جکڑ بند کر دیا۔ جن کے پیش نظر اکثر اہل مقدمات کو اپنے دعویٰ سے دستبردار ہو جانا آسان ہو جاتا ہے۔ پس اس قسم کے قیود کا محکمہ ہذا میں کوئی شائبہ تک بھی نہیں پایا جاتا۔ اکثر حکام کی مرعوب کن روش سے فریق مقدمہ پر وہ رعب طاری ہو جایا کرتا ہے۔ جس سے وہ اپنے اظہار مدعا میں اکثر نا کامیاب رہ جاتا ہے۔ مگر خدا کے کرم و فضل سے مقدمہ کے سماعت کے دوران میں محکمہ قضاء اس امر کی رعایت میں انتہائی غور سے کام لیتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کسی مبتذل اور کسمپرسی فریق مقدمہ پر محکمہ کا کوئی رعب طاری نہ ہو جائے جو ہر ایک محکمہ کا یہ ایک اوّلین فرض ہے۔ مگر افسوس کہ اکثر حکام اپنی اس اہم ذمہ داری سے بالکل غافل ہیں۔ شرعی جرائم کے پاداش میں کسی کی وقعت و شان کا مطلقاً کوئی پاس روا نہیں رکھا جاتا۔ فصل خصومات میں امتیاز اور خصوصیت کو جرم عظیم سمجھا جاتا ہے۔ افسوس کہ موجودہ دور عصیاں میں مساوات کا لحاظ جو کہ دل کا ایک بڑا لازمہ ہے۔ کبریت احمر اور عنقاء کے مانند معدوم نظر آ رہا ہے۔ فیصلہ کے لئے قرآن اور احادیث اور کتب معتبرہ فقہ حنفیہ کو دستور العمل قرار دیا گیا ہے۔ ان کے بغیر کسی اور قانون کو دخل دینا جرم عظیم سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ خدائے قدوس کو ہر ایک محکمہ سے غایت ہی انصاف اور عدل مطلوب ہے اور عدل اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا ہے جب تک کہ اس محکمہ کے ہاتھ میں شرعی قوانین کے دفعات کی باگ نہ ہو۔ ہر چند کہ انسانی دماغ کے اختراع کردہ قوانین بظاہر دلچسپ کیوں نہ ہوں۔ مگر جب خالق انسان کے منزّل کردہ قوانین کا سایہ ان پر نہیں ہے تو وہ مثمر عدل بھی نہیں ہیں۔ عدل فطرت انسانی کا ایک اہم خاصہ ہے۔ جابجا قرآن حکیم نے عدل کو اس لئے میزان سے تعبیر کیا ہے کہ ظاہری میزان سے جس طرح انسان کا نظام صحیح طور پر قائم رہ سکتا ہے۔ اسی طرح عدل جو انسان کا اخلاقی اور روحانی نظام کا مدار ہے۔ اس کی وجہ سے انسان کا تمام سلسلہ ایک ہی نظم میں منسلک ہے۔ ذرۂ ارضی سے لے کر اجرام سماوی تک سب ایک ہی قانون عدل کے ماتحت چل

٢٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٨

رہے ہیں۔ مگر افسوس کہ موجودہ تمدن نے مسلمانوں کو اس اہم خصوصیت سے بھی بے بہرہ کر دیا ہے۔ جدھر دیکھا جاتا ہے۔ اغراض پرستی خواہشات نفسانی کا ہر ایک محکمہ میں دور دورہ ہے۔ حکام کے لئے قرآن مقدس کا یہ کس قدر تخویف آمیز اور ہیبت انگیز ارشاد عام ہے۔

"ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون . . . ھم الظلمون ھم الفسقون" {اور جو لوگ اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے اتارا ہے۔ تو وہی لوگ کافر ہیں۔ وہی ظالم ہیں۔ وہی نافرمان ہیں۔}

گو کہ قرآن میں اوپر کی آیات سے اہل کتاب کو خطاب ہے۔ لیکن ان تینوں آیتوں کے آخر میں یہ حکم بصیغہ عموم لا کر کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے کافر ہیں، ظالم ہیں، فاسق ہیں۔ اہل اسلام کے حکام کو بھی باخبر کر دیا ہے کہ اگر فیصلہ جات میں قرآن کے مطابق عمل درآمد نہ رکھیں گے تو وہ بھی اس حکم کے عموم میں داخل ہیں۔ چنانچہ ابن جریر مفسر نے کثیر التعداد روایات کے رو سے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ آیات مسلمانوں کے حق میں بھی وارد ہیں۔ البتہ کفر سے مراد کفر دون کفر لیا ہے۔ چونکہ ریا کاری کی جھلک سے پاک رہنا کوہ کندن کاہ بر آوردن کے مصداق ہے۔ یہ ایک نہایت ہی دشوار گزار اور باخطر گھاٹی ہے جہاں اکثر حکام کے پاؤں کو لغزش ہو جاتی ہے۔ اس لئے ہر ایک حاکم کا یہ لازمی فرض ہے کہ کمرہ عدالت میں بیٹھنے سے پہلے باوضو ہو کر دوگانہ استخارہ کی نماز ادا کر کے نہایت ہی تضرع اور زاری کے ساتھ اپنی استقامت اور ثبات قدمی کے لئے دعا مانگ کر فصل خصومات کے صیغہ کو شروع کیا کرے۔ چنانچہ اس عاصی پر معاصی کا نیز یہی دستور العمل اکثر رہا کرتا ہے۔ "ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشائ" ریاست میں شرعی فیصلہ جات کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی ہے۔ ہاں البتہ فریق مقدمہ کی استدعا پر نقل فیصلہ اس کو دلائی جاتی ہے۔ اگر کسی متدین اور مستند عالم کے جانب سے فیصلہ شرعی کے خلاف کوئی شرعی اعتراض پیش ہو تو محکمہ قضا نہایت منصفانہ اور محققانہ طور پر غور کیا کرتا ہے۔ لیکن بفضل خدا شروع سے تاحال کسی مستند اور محقق عالم نے فیصلہ شرعی کے نقل پر کوئی اعتراض پیش نہ کر سکا۔

قضات نواحی اور استیصال رسومات بد

محاکم قضا کے علاوہ باقی مذہبی معاملات کے اجراء کا صیغہ نیز اس خادم اسلام کے

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٧٩

اہتمام سے چل رہا ہے۔ جو متعدد قضات نواحی اس کام کے لئے متعین ہیں۔ ہر ایک قاضی نواحی مذہبی اصلاح اور اسلامی معاملات کے اجراء کے لئے مصروف کار ہیں۔ ساتھ ہی محکمہ احتساب بھی بڑی سرگرمی سے اس محکمہ کے ماتحت کام کر رہا ہے۔

محکمہ افتاء

محکمہ قضا کے ساتھ صیغہ افتاء کو ایک خاص تعلق ہے۔ ریاست میں اس صیغہ کے متعلق پہلے کوئی اہتمام نہیں تھا۔ اس خادم اسلام نے سن ١٣٣٠ھ میں اس صیغہ کو نیز قائم کیا۔ اس صیغہ کا نام محکمہ افتاء ہے۔ یہ محکمہ خاص اس خادم اسلام کے اہتمام اور کوشش سے منظم اور باقاعدہ طور پر چل رہا ہے۔ ریاست اور بیرون ریاست کے تمام اضلاع و املاک کے لوگ اس دارالافتاء سے مستفید ہورہے ہیں۔ خدا کا فضل ہے کہ بڑے بڑے مشاہیر علماء اور فضلاء نے نیز بعض پیچیدہ اور لاینحل مسائل کے لئے اس دارالافتاء کو اپنا مرجع قرار دیا ہوا ہے۔ باوجود یومیہ کثرت کے ہر ایک استفتاء کا جواب بلا کسی مطالبہ فیس وغیرہ کے بہ ترتیب نمبر ورود مفصل اور مدلل دیا جاتا ہے۔ شروع سے اس وقت تک فتاواؤں کا ایک بڑا ذخیرہ فراہم ہو چکا ہے۔ اگر زندگی نے وفا کی تو میں متعدد کتابی شکلوں میں اپنے فراہم کردہ اور ترتیب دادہ فتاوؤں کو طبع کرا کر بغرض افادہ شائع کرنے کی کوشش کروں گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

جستجوئے شیخ طریقت

میں عہد طفولیت میں تھا کہ خواب میں یکا یک جناب سرکردۂ اولیاء برگزیدہ عارفین خواجہ نقشبند بہاؤالدینؒ میرے پاس تشریف لائے۔ ان کا خوبصورت چہرہ مہتاب کی طرح منور اور دل آویز تھا۔ آپ نے ایک مخصوص انداز و دلکش نظر سے میری طرف دیکھا اور میرے کان کو بڑی شدت سے جنبش دے کر فرمایا کہ اٹھ کر بخارا کو چلے جاؤ۔ جب فوراً میری آنکھ کھل گئی تو میرے دل کی گہرائیوں میں جذبات محبت کا ایک طوفان برپا تھا۔ میری آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے۔ میرے کان میں شدید درد کا احساس تھا ؎

رفتم کہ خار از پا کشم محمل نہاں شد از نظر
یک لمحہ غافل بودم صد سالہ راہم دور شد

٢٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٠

قبلہ والدم نے میرے سوز وگداز آہ و بکا سے مطلع اور باخبر ہو کر میرے پاس تشریف لائے اور مجھے اپنے مبارک سینہ سے لگا کر آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا کہ یہ واقعہ آپ کی روحانی ترقیات کا ایک پیش خیمہ ہے۔ قبلہ والدم کو جناب حضرت بہاؤالدینؒ نقشبند سے اس قدر بلند پایہ عقیدت اور انتہائی محبت تھی کہ اکثر اوقات میں ان کے اسم گرامی کو سنتے ہی آپ پر گریہ اور جذبہ طاری ہو جایا کرتا تھا۔ اگرچہ میں نے سن رشد کو پہنچتے ہی قبلہ والدم سے بیعت کا شرف حاصل کر لیا تھا۔ مگر والدم کے انتقال کے بعد میری مزید اشتیاق نے کسی شیخ طریقت کی جستجو کے لئے ایسا مجبور کیا کہ بے ساختہ مجھے اپنے روحانی مدارج کے طے پانے کے لئے شیوخ کی جستجو کی سرگردانی اٹھانی پڑی۔ چنانچہ اس سلسلہ میں جناب پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کی خدمات میں ذیل کا قصیدہ عربیہ حوالہ قلم کیا گیا۔

قصیدۂ عربیہ مدحیہ

من ای شىء دمع العین فیضان والنفس فی قلق والقلب والہان
نعم اتی طیفکم لیلاً فایقظنی لذاک دمع جری والصب حیران
وکیف اسلو وسط القلب مسکنکم انتم لعین العلی والمجد انسان
قد حزتم کلما للناس من شرف کالبحر انتم وکل الناس عطشان
وکامل الخلق ذوالالطاف جامعہا مستبشر الخد طلق الوجہ جذلان
علامة العصر ذوالعرفان ذو ورع وحید العقل فرد الدہر یقظان
ذالک الذی اسمہ الممجد مہر علیشاہ شمس النجابة للمخلوق برہان

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨١
فی العلم فقتم فلا احد یما ثلکم
ولم یضاهکم فی الفضل اقران
فقرّا عیننا فی حسن طلعتکم
من خیر ذکرکم تنشط اذان
فزتم بمرتبۃ للعز جامعۃ
فلیفتخر بکم فی الناس اخوان
عشتم بعیش ہنئ دائماً ابداً
مامسکم یاکریم النفس حدثان
یؤمل الخیر اسحاق بدعوتکم
قاضی التناول فلیجزیہ رحمان

پس قصیدہ مدحیہ ہذا بمعہ ایک مختصر خط کے جناب ممدوح کی خدمت میں مرسل کیا گیا۔

انہوں نے جو جواب تحریر فرمایا۔ وہ ذیل میں درج ہے۔

جناب پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کا مکتوب گرامی

مکرم جناب قاضی القضاۃ صاحب ریاست انب سلمہ اللہ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ! میں آپ کے عقیدت مندانہ جذبات کا ممنون ہوں۔ اگر کبھی آپ نے تشریف لائی تو آپ کے مرام کے انجام میں انشاء اللہ کوشش کی جاوے گی۔ عموماً یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے ریاست میں مرزائیت کے خلاف علم جہاد بلند کیا ہوا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دیوے اور کامیاب کرے۔ فقط ١٦/ اکتوبر ١٩٢٤ء حسب الارشاد۔ پیر مہر علی شاہ گولڑوی۔

پس اگر چہ مجھے آپ کے حلقہ ذوق میں داخل ہونے کا بے حد اشتیاق تھا۔ مگر جب زمام اختیار اس مالک قدوس کے قبضہٴ اقتدار میں ہے۔ لہٰذا صبح مراد کے طلوع ہونے میں کچھ دیر پڑ گئی اور اس دوران میں جناب پیر نذیر احمد صاحب فرزند رشید جناب شمس العارفین پیر صاحب سجادہ نشین موڑہ شریف سے جو کہ علوم عرفانی اور معارف قرآنی کے مشاہیر علماء کی صف اوّل میں جگہ لینے کا رتبہ رکھتے ہیں۔ ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور ان کے وساطت سے جناب پیر صاحب موڑہ شریف کے حلقہ ذوق میں داخل ہونے کے لئے مسارعت سے کام لیا گیا اور ایک قصیدہ مدحیہ اولاً ان کی خدمت میں بھیج دیا گیا۔ (قصیدہ تھا ہم نے اسے حذف کر دیا۔ مرتب)

٣١

صفحہ ٣٨٢

نیابت وخلافت

سن ١٩٢٥ء کو جناب ممدوح کی روحانی کشش نے میرے انہماک اور کوشش نے المقصود کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مجھے حلقہ ارادت میں جب داخل کر دیا تو ایک طویل ملاقات کے دوران میں آپ نے مجھ سے امتحاناً نفس اور روح وقلب وعقل کے متعلق اور نیز خدائے قدوس سے قرب معنوی، قرب حقیقی، قرب وصفی اور ہر ایک قرب کے منازل کی نسبت استفسار فرمایا اور آیت ”فمن شرح الله صدره لاسلام فهو علی نور من ربه“ میں ایمانی انوار کے مراتب اور ان کی تفصیل اور قلبی علوم اور ان کی تفصیل وشرح کے متعلق نیز استفسار کیا۔ خدائے تعالیٰ کے فضل وکرم سے میں نے ہر ایک معاملہ کا مشرح طور پر جواب عرض کر دیا تو آپ نے دوسری ملاقات کے دوران میں اپنی توجہات خاص الخاص سے خلافت و نیابت کے لئے مجھے مجبور کر کے مامور فرمایا کہ موجودہ دور عصیان وفساد میں عوام مسلمانوں کے لئے عموماً اور خواص کے لئے خصوصاً ایثار اور فدائیت کی ضرورت ہے۔ تبلیغ مذہب واشاعت اسلام کے فرائض کی ذمہ داری کے لئے صبر واستقامت دکھانے کا موقعہ ہے۔ خلق اللہ کی روحانی اصلاح کی جائے۔ چنانچہ آپ کی توجہات اور ارشادات کے زیر اثر اس وقت تک میری خلافت اور نیابت کا صیغہ منظم طور پر جاری ہے۔ اطراف اور ممالک میں کثیر التعداد لوگ اس خادم اسلام کے حلقہ بیعت میں داخل ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔

محکمہ قضائے شیر گڑھ

شیر گڑھ جو ریاست کے شمالی حصہ میں ایک بستی کا نام ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ گاؤں ایک خاص اور ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ والئی ریاست صاحب کا گرمائی صدر مقام بھی ہے۔ وہاں ایک الگ محکمہ قضاء مقرر ہے۔ جس کے لئے اخویم جناب قاضی عبداللہ صاحب عرصہ مدید سے مامور ہیں۔ آپ ایک حق گو، کریم النفس، متبحر عالم ہیں۔ معارف قرآن میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اس علاقہ کے دیوانی مقدمات کا انفصال ان کے سپرد ہے۔ وہ اپنی تدین اور ورع میں کافی شہرت رکھتے ہیں۔ قضات نواحی سے قاضی حمید اللہ صاحب اور قاضی عبداللہ صاحب کا نام قابل ذکر ہے۔ افسوس کہ وہ دونوں پیوند خاک ہو چکے ہیں۔ جو قبلہ والد م کے تلامیذ مشاہیر میں سے ایک ممتاز خصوصیت رکھتے تھے۔ اوّل الذکر صاحب اپنے زمانہ کے علمائے راسخین

٣٢

صفحہ ٣٨٣

عاملین سے تھے اور موخر الذکر صاحب ایک جری اور با رسوخ عالم تھے۔

ریاست انبہ اور تحریک مرزائیت کی ابتداء

کرۂ ارضی میں جب کوئی تحریک کسی سیاسی یا مذہبی عندیہ کو لے کر آگے بڑھتی ہے تو اس کے محرکین اپنی پوری آمادگی کے ساتھ اس تحریک کے اصولوں کے خاطر خونی اور قلبی رشتوں تک کو بھی قربان کرنے میں دریغ نہیں کرتے ہیں۔ قید و بند کے مشکلات کے برداشت کرنے کے لئے ہمہ اوقات آمادہ رہتے ہیں۔ فطری طور پر عالم دنیا میں بھی ہر مزاج، ہر ساخت، ہر رجحان کے لوگ موجود ہوا کرتے ہیں جو اس تصور کے ماتحت تحریک کو جاری رکھا جاتا ہے کہ شاید اس تحریک کی طرف بہت جلد وہ لوگ رجوع کر لیں گے جن کی طبیعت اس تحریک کے مقاصد و اصول اپیل کرتے ہیں۔ پس اسی طرح وہ مرزائی تحریک بھی جو اپنے اصول پر دنیا میں تسلط قدیم رکھنے کا داعیہ رکھتی ہے اور بانی تحریک نے اپنے آپ کو اسلامی لباس میں ظاہر کر کے اہل اسلام کو دام تزویر میں لانے کے لئے پرزور اور متعدد دعوے پیش کئے۔ مسلمانوں کے لئے مجدد، مہدی اور نبی، اور ہندوؤں کے لئے کرشن، عیسائیوں کے واسطے مسیح موعود ہونے کی صدائیں بلند کیں۔ بلکہ افضل الرسل ہونے کا دعویٰ پیش کیا۔ دل کھول کر اسلامی روایات کی تضحیک و تنقیص میں کوئی کسر باقی نہیں اٹھا رکھی۔ عوام کے دلوں سے مذہبی وقار اور ملی اعتماد کے نکالنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ جب اس فتنہ نے اپنی دعوت کی آواز کو ریاست کے گوشہ گوشہ میں پہنچا کر ایک مذہبی انقلاب کو برپا کر دیا اور ہر ممکن پہلو سے اپنی دعوت و تبلیغ و عملی تحریک کے سلسلہ کو بڑھانے اور مقابلہ کرنے والوں کے استیصال میں طرح طرح کے وسائل و تدابیر سے کام لینے اور اپنے ساتھ دینے والوں کی تربیت و حوصلہ افزائی میں انتہائی کوشش سے کام لیا تو میں نے یقین کر لیا کہ اب ریاست کے مسلمانوں کا متاع ایمان و سرمایہ اسلام معرض خطر میں ہے۔ پس اس حالت میں اگر ہم جمود و تعطل، تغافل و تساہل سے کام لیں گے تو ایک جرم عظیم کا ارتکاب کریں گے۔ کیونکہ مسلمان خواہ کتنا ہی صوم و صلوٰۃ، حج و زکوٰۃ میں دلچسپی لے گا۔ مگر جب تک اپنی حیثیت اور حوصلہ کے مطابق اعلائے کلمۃ حق کے لئے قربانیاں اور ایثار کو پیش نہ کرے گا تو وہ ضرور ماخوذ و مسئول ہوگا۔ پس اولاً میں نے مرزائی لٹریچر اور ان کی مدون کتابوں اور رسائل کو اپنی محققانہ اور منصفانہ نظروں سے مطالعہ کر کے بانی تحریک کے عقائد اور اصول کا وہ

٣٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٢

ذخیرہ فراہم کر دیا جو کہ وہ سراسر اسلامی روایات کے خلاف تھا۔ چنانچہ مشت نمونہ از خروارے اس کے چند ایک عام فہم عقائد کو ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔

رسول ہے۔

(حقیقت الوحی ص١٠٧،خزائن ج٢٢ ص١١٠)

(حقیقت الوحی ص٣٩١،خزائن ج٢٢ ص٤٠٦)

لوگوں میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔

(مجموعہ اشتہارات ج٣ص٢٧٠،البشریٰ ج٢ ص٥٦)

قرآن کریم پر۔“

(اربعین نمبر٤ ص١١٢، خزائن ج١٧

ص٤٥٤)

تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

(اربعین نمبر٣ ص٣٦، خزائن ج١٧

ص٤٢٦)

ہوں جس طرح قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو مجھ پر نازل ہوتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص٢١١، خزائن ج٢٢

ص٢٢٠)

زمین و آسمان بنائے اور ان کی خلق پر قادر تھا۔“

(کتاب البریہ ص٨٥، خزائن ج١٣

ص١٠٣ تا ١٠٥)

(دافع البلاء ص٦، خزائن ج١٨ ص٢٢٧)

٣٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٧

پھر تم ان کے پیچھے نماز پڑھنے اور ان سے میل جول رکھنے اور نکاح و سلام وغیرہ کرنے کو درست لکھتے ہو اور دوسروں کو اس کا حکم دیتے ہو۔ تو اس کا جو کچھ جواب ہو، وہی ہمارا جواب ہے۔

(٤) ان تمام باتوں سے قطع نظر کر کے ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب تو وہی ہے جو ہمارے علمائے دیوبند نے المہند علی المفند میں لکھا ہے کہ ہمارا اور ہمارے مشائخ کا عقیدہ ہے کہ جو شخص دین کی کسی ضروری بات کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ الخ

تو اب اگر کوئی ہم کو کافر کہتا ہے، جب کہ ہم دین کی کسی ضروری بات کا انکار نہیں کرتے اور وہ خود بھی ہم پر ایسا الزام عائد نہیں کرتا اور نہ یہ بات ان عبارات میں ہے، جن کی بنا پر ہم کو کافر کہا گیا ہے، تو ایسی صورت میں ہم کو کافر کہنے والا خود کافر ہے۔

سنیوں کو کافر کہنے کا حکم :

ہمیں کافر کہنے والے چونکہ سنی کو کافر کہتے ہیں اور سنیوں کو کافر کہنے والا بلاشبہ کافر ہے۔ جس کے ثبوت میں آپ کے گھر کے حوالے پیش کیے جاتے ہیں۔

فتاویٰ رضویہ کی شہادت :

مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی لکھتے ہیں:

کسی سنی مسلمان کو کافر کہنا، خود کفر ہے۔

(فتاویٰ رضویہ ص ١٢٥، ج ٢)

ملفوظات کی شہادت :

نیز مولوی احمد رضا خاں صاحب کا ارشاد ہے کہ:

ایک سنی مسلمان کو کافر کہنا بھی خود اس کے لیے کفر ہے۔

(ملفوظات حصہ اول ص ١٢٧)

احکام شریعت کی شہادت :

نیز مولوی احمد رضا خاں صاحب لکھتے ہیں:

ایک مسلمان کو کافر کہنا کفر ہے۔

(احکام شریعت حصہ اول ص ٣٥، حصہ سوم ص ٦، ٢٥)

سبحان السبوح کی شہادت :

نیز مولوی احمد رضا خاں صاحب رقم طراز ہیں:

ہزارہا مسلمانوں کو کافر کہنے والا، یقیناً خود کافر ہے۔

(سبحان السبوح ص ١٣٥)

خلاصہ کلام :

ان تمام حوالوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ چونکہ ہم (علمائے دیوبند) اہل سنت والجماعت ہیں اور بریلوی حضرات ہم کو کافر کہتے ہیں، اس لیے وہ خود کافر ہوئے۔ اگر ہم سنی نہیں تو ہمارے سنی نہ ہونے کی دلیل پیش کی جائے۔

صفحہ ٣٨٦

دو قسم کی ہے۔ ایک خاص اور ایک عام۔ چنانچہ روح المعانی میں ہے۔ ”اما النبوة عامة وخاصة والتی لا ذوق لهم فیها هی الخاصة اعنی نبوت التشریع وهی مقام خاص فی الولایة واما النبوة العامة وهی مستمرة ساریة فی اکابر الرجال غیر منقطعة“ یعنی نبوت عام ہے اور خاص اور وہ جس میں اس امت کے لئے ذوق نہیں اور وہ ولایت میں مقام خاص ہے اور نبوت عامہ سو وہ اکابر امت میں جاری وساری ہے۔

پس لغوی معنی کے لحاظ سے نبی خبر دینے والے کو کہتے ہیں۔ جو ہر ایک خواب بین یا الہام پانے والے پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ مگر یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ اس کا وہ رویا یا الہام صواب وخطا دونوں کا احتمال رکھتا ہے۔ قطعیت اس میں نہیں ہوا کرتی ہے یہ قطعیت کا منصب تو اسی شخص کے لئے خاص ہے جو شریعت لاتا ہے۔ یا شریعت میں کمی بیشی، ترمیم تنسیخ کرنے کا مجاز ہے۔ پس مرزا قادیانی جب اپنے عقائد مذکورہ نمبر ٢ تا ٦ کے رو سے دین حق یعنی شریعت لانے کا اور نیز اس پر بمنزلہ قرآن کے ایمان رکھنے کا مدعی ہے تو اب اس کے اس دعویٰ میں ظلی یا بروزی نبوت کی تاویل کو دخل دینا محض حق پوشی ہے۔ غرض مرزا قادیانی کا کھلم کھلا یہ دعویٰ ہے کہ میں تشریعی نبی ہوں۔ مگر یہ دعویٰ اس کا نصوص قرآن اور احادیث متواترہ سے جو صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہے۔ خلاف ہے امت مرحومہ کا اس پر اجماع واتفاق ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں۔ دس حدیثوں میں مروی ہے کہ ”لا نبی بعدی“ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں اور چھ حدیثیں ایسی مروی ہیں کہ جن میں آپ کو آخری نبی کہا گیا ہے۔ باوجود اس قدر دلائل کے آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے سے انکار کرنا اصول حق اور دلائل بینات سے انکار ہے اور عقیدہ نمبر ٧ میں اس سے بڑھ کر خدا ہونے کا دعویٰ ہے اور عقیدہ نمبر ٩ میں حیات اور نزول عیسیٰ کے متعلق اقرار ہے اور پھر اس سے بعد میں اس کے موت اور عدم نزول کے متعلق نیز دعویٰ کیا ہے۔ سو بروئے تناقض ہذا بقول خود بمنشاء عقیدہ نمبر ١٠ کے وہ پاگل اور منافق ہوئے۔ عقیدہ نمبر ١٢ میں تصریح کرتے ہیں کہ بخاری شریف میں ہے۔ ”هذا خليفة الله المهدى“ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اور کذب ہے۔ بخاری میں یہ جملہ قطعاً موجود نہیں۔ پس بروئے عقیدہ نمبر ١١ کے بقول خود بوجہ اس جھوٹ بولنے کے وہ مشرک ٹھہرے۔ غرض جب فتنہ مرزائیت اسلام سے بروئے عقائد مذکورہ وغیرہ کے مخالف ومنافی تھا جو اس کی رفتار میں انتہائی سرعت سے کام لیتا

٣٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٧

شروع کر دیا تھا۔ مزید برآں والیٔ ریاست صاحب کے متاثر کرنے کے لئے جو پہلو اختیار کیا گیا تھا۔ وہ از بس خطرناک تھا۔ کیونکہ تخلیہ کی صورت میں ان کی مذہبی تبلیغ کے سلسلہ کی رفتار قدم بڑھائے آگے چلی جارہی تھی۔ خصوصاً ڈاکٹر عصمت اللہ خاں لاہوری جو کہ والیٔ ریاست کے معالج خصوصی تھے۔ ان کا تبلیغی پہلو اس طرز پر کام کرتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ جس کی تصویر کشی سے قلم ناچار ہے۔ چنانچہ قلیل عرصہ میں ریاست کے مطلع پر مرزائیت کی تیرگی و تاریکی کے بادل چھا گئے اور مذہبی گمراہی کی گھنگور گھٹاؤں نے اس طرح پر ریاست کو ڈھانک لیا تھا۔ جس کی اصلاح کوہ کندن و کاہ برآوردن کے مصداق ہو گئی تھی۔ حکومت ریاست کی آنکھوں میں مذہبی وقار کے آفتاب کی کرنیں بالکل ماند ہو چکی تھیں۔ مجتہدین مذہب اور مفسرین احنافؒ کے ساتھ عام محافل میں تمسخر اڑائے جاتے تھے۔ امامنا امام اعظم ابو حنیفہؒ جیسے مقتدائے عالم اور بلند پایہ مجتہد کے برخلاف ایسے دلخراش الفاظ استعمال میں وہ مرزائی طبقہ لا رہا تھا جن کے سننے سے کوئی حساس مؤمن بھی خون کے آنسو بہائے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔

مرزائیت کی تکمیل کے لئے متعدد ذرائع کا استعمال

نیز فتنہ مرزائیت کے بڑھانے کے لئے جو ذرائع انہوں نے استعمال میں لائے تھے۔ وہ بآواز بلند پکار رہے تھے کہ زمانہ دو چار قدم آگے چل کر ریاست کی مذہبی زندگی کا خاتمہ کر دے گا۔ کیونکہ ایک تو انہوں نے اپنی مذہبی آزادی کے لئے گورنمنٹ عالیہ کی جانب سے متعدد مراسلہ جات حاصل کر لئے تھے اور بعض دیگر سرحدی حکام اور بلند پایہ آفیسروں کے رعب کے استعمال سے نواب صاحب جب ممدوح کو اس قدر متاثر کر دیا تھا کہ ان کی مذہبی آزادی کے راستہ میں روڑوں کا اٹکانا حکومتی جرم تھا۔ مزید برآں وزیر ریاست سید عبدالجبار شاہ صاحب نے اپنے سرگرم حواریوں کے ساتھ ریاست کے مظلوم اور مفلوک الحال رعایا کی تالیف القلوبی کے لئے ایک ایسا پہلو اختیار کیا تھا کہ جس کے ذریعہ نواب صاحب ممدوح کی توجہات کو وقتاً فوقتاً ان کے حق میں مبذول کرا کر بمصداق ؎

افلاس عناں از کف تقویٰ بستاند

ان کو پابہ زنجیر مرزائیت کرنے کے لئے کوشش کی جاتی تھی۔ علاوہ ازیں ریاست کے اکثر ارباب بست و کشاد وہی مرزائی عناصر تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنی وجاہت و رعب سے ریاست پر وہ اثر ڈال رکھا تھا کہ جس سے کوئی بھی مرزائیت کے خلاف موثر قدم اٹھا نہیں سکتا تھا۔

٣٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٨

بلکہ ریاست کی موجودہ فضاء اور اس کی پراگندہ حالی کی وہ حالت ہو چکی تھی کہ بعض علمائے وفضلائے ریاست نے ان سے مرعوب ہو کر مرزائیت نوازی کے لئے اقدام کی سعی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ کیونکہ اگر کوئی مولوی مرزائیت کے خلاف کچھ قدر بھی حرکت کرتا تھا تو اس کے خلاف جعلی مقدمات کو برپا کرا کر اس کو گرفتار کر لیا جاتا تھا۔

مولوی عبدالحق صاحب سہیکی کی گرفتاری

چنانچہ مولوی عبدالحق صاحب ساکن سہیکی علاقہ شاہ کوٹ نے جب جامعہ در بند میں مرزائیت کے خلاف مختصر سی تقریر کی تو عبدالحنان صاحب مجسٹریٹ در بند نے ریاست کے خلاف مضمون نگاری کا الزام اس پر عائد کر کے اس کو گرفتار کر لیا اور ان کو جیل کی سزا دی۔

قاضی عبدالقیوم صاحب ساکن فلگوڑا پر مرزائیوں کی حملہ آوری

قضات نواحی میں سے قاضی عبدالقیوم صاحب فلگوڑا نے بمقام شاہ کوٹ جو کہ نواب صاحب ممدوح کا گرمائی مقام تھا۔ مرزائیت کے خلاف کچھ قدر جب لب کشائی سے کام لیا تو شاہجہان نام مرزائی نے جو کہ والئی ریاست صاحب کے درباری اراکین میں سے ایک اعلیٰ رکن تھے۔ حملہ آور ہو کر پستول کے ذریعہ سے ان کو دبانا چاہا۔ مگر حاضرین نے صورتحال پر قابو پا کر معاملہ کو فرو کر دیا۔ علیٰ ہذا القیاس باقی جزوی واقعات کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ اگر ان کی تفصیل کی جائے تو کتاب بہت ضخیم ہو جائے گی۔ پس اگر چہ ریاست میں مرزائیوں کی تعداد وشمار تو زیادہ تھی۔ مگر وہ اراکین جو قائدانہ اور مبلغانہ حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے ناموں کی فہرست یہ ہے۔ سید عبدالجبار شاہ صاحب وزیر ریاست، سید مبارک شاہ صاحب مجسٹریٹ شیر گڑھ، مولوی عبدالحنان صاحب مجسٹریٹ در بند، سمندر خان صاحب تھانہ دار ڈوگہ، بازید خان صاحب افسر جنگلات ریاست، ڈاکٹر عصمت اللہ خان صاحب معالج خصوصی نواب صاحب، سید شاہجہان صاحب وخانو بوجال خاص درباریان نواب صاحب۔ مزید برآں خان صاحب محمد اور نگزیب خان نوابزادہ کے وساطت وشمولیت سے مرزائیوں کو ریاست میں اور بھی طاغوتی قوت اور ہمہ گیری طاقت حاصل ہو چکی تھی۔ لہٰذا اس دور بربریت میں اس خادم اسلام نے جو محض اپنے پیارے نبیؐ (روحی فداہ) اور عزیز اسلام کے ننگ اور ناموس کے تحفظ اور پاسبانی کے لئے جو ایثار اور قربانیاں پیش کی تھیں۔ ان کا تذکرہ نہایت مختصر انداز میں حوالہ قلم کرنے کی کوشش کروں گا۔

٣٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٨٩

اس خادم اسلام کی مرزائیت کے خلاف تبلیغی سرگرمیاں

اور اس فتنہ کے روک تھام کے لئے مجاہدانہ کوششیں

اگر خدائے تعالیٰ کا کرم شامل حال نہ ہوتا اور اس ناگہانی طوفان کی روک تھام کے لئے کوئی مؤثر قدم نہ اٹھایا جاتا تو ریاست اپنے اسلامی دور کے ختم کرنے کے قریب آچکی تھی۔ مگر جب قیومی نصرت نے صبح کی روشنی کو نیز اس تاریکی میں مقدر کیا ہوا تھا تو اس خادم اسلام نے اپنے فرائض کا احساس کرتے ہوئے اس فتنہ کے ابتدائی مرحلہ میں بمقام دربند ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کرایا۔ باقی قصبات و علمائے ریاست کو نیز دعوت دی گئی۔ جلسہ میں تمام مرزائی عقائد اور ان کے اصول سے عوام کو باخبر کیا گیا۔ ریاست میں یہ وہ پہلا جلسہ تھا جو کہ اسلام اور مذہب کو فروغ دینے کے لئے منعقد کیا گیا۔ مسلمانوں میں مذہبی جذبات کا اس درجہ تک فروغ ہوا کہ معمولی سے اشارہ پر فسادات کے واقع ہونے کا اندیشہ تھا۔ تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں نے اپنی جانبازی کے دکھانے میں جس سرعت سے کام لیا۔ وہ قابل حیرت تھی۔ چونکہ مجھے اہل ریاست کی اصلاح مطلوب تھی۔ مزید فسادات کو برپا کرنے میں میرا کوئی مدعا نہیں تھا۔ اس لئے میں نے جلد تر موجودہ حالات پر قابو پالیا اور تقریر کے ذریعہ اہل جلسہ کو آگاہ کیا گیا کہ اسلام دنیا کے لئے امن اور صلح کا پیغام لے کر آیا ہے۔ فسادات ملکی سے بچنا ہر ایک مؤمن کا اولین فرض ہے۔ اگر ہم صداقت پر ہیں اور یقیناً صداقت پر ہیں تو صرف اپنی رواداری اور مہذبانہ طرز سے بہت جلد کامیاب ہو جائیں گے۔ پس جلسہ کے اختتام پر سمندر خان مرزائی نے جو کہ یہ پہلا آدمی تھا جس نے ریاست میں مرزائیت کو اختیار کیا تھا، مرزائیت سے توبہ کی۔ اگرچہ اس جلسہ کے زیر اثر کئی عرصہ تک مرزائیت کی توسیع و اشاعت کے لئے انہوں نے بظاہر دب کر ہاتھ پاؤں مارنے چھوڑ دیئے تھے۔ لیکن اندرونی طور پر اپنی مذہبی سطوت اور جبروت کے بڑھانے کے لئے بدستور مختلف ذرائع کے استعمال کو وہ جاری رکھا کرتے تھے۔ جو اس دوران میں میرے تبلیغی راستہ میں روڑوں کے اٹکانے کے لئے انہوں نے نیز مختلف وسائل پیدا کر دیئے تھے اور طرح طرح کی غلط بیانیوں اور فریب کاریوں سے میرے برخلاف کام لینا شروع کر دیا۔ پس میں نے یہ بہتر خیال کیا کہ اوّلاً والیٔ ریاست صاحب کے اعتقادیات کے تحفظ اور پاسبانی کے لئے کوئی مؤثر قدم اٹھایا جائے اور وقتاً فوقتاً ان کے اعتقادیات کی نگہبانی کا اہتمام رکھا جائے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں اس

٣٩ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٠

خادم اسلام نے جس قدر اپنی حکیمانہ تعلیم اور مواعظت بلیغہ کے لئے جو جو پہلو اختیار کر لئے تھے وہ خدا کے فضل سے ایک حد تک بہت کامیاب ثابت ہوئے۔ میری اس پنج سالہ تبلیغ عامہ اور تعلیم خاصہ نے خدا کے کرم سے وہ حیرت انگیز کارہائے نمایاں ظاہر کر دیئے تھے جن کے ذریعہ فتنۂ مرزائیت اپنے عروج اور ترقی میں بالکل بے نیل مرام رہ گیا اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات میں بہت کچھ اضافہ پیدا ہو گیا تھا۔ نیز اس خادم اسلام کے غیر مختتم سلسلۂ تبلیغ اور نصیحت نے والیٔ ریاست صاحب کے دل اور دماغ پر وہ اثر ڈالا۔ جس سے ان کے مذہبی اعتقادات نے جو کہ آخری مراحل پر پہنچ چکے تھے۔ ازسرنو استحکام حاصل کر لیا اور ان کو یقین پیدا ہو گیا تھا کہ ریاست میں فتنہ مرزائیت کا موجودہ سیلاب صرف مذہبی نقصان پر دال نہیں ہے۔ بلکہ وہ ریاست کے وقار اور اس کی سیاسیات کے لئے نیز زہر ہلاہل کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب کو مرزائیت کی تبلیغ سے ممانعت

چنانچہ میری مواعظت اور تبلیغ کے زیر اثر جناب والیٔ ریاست صاحب نے ڈاکٹر صاحب موصوف کو جو کہ مرزائی جماعت لاہوری کی جانب سے ایک مبلغ ہونے کی حیثیت رکھتا تھا اور محض اسی کام کے لئے ڈاکٹری ملازمت پر انہوں نے ریاست میں بھرتی کرایا تھا اور قلیل عرصہ میں اس نے مرزائیت کے فتنہ کو ریاست میں وہ فروغ دے دیا تھا۔ جس سے اسلام کو انتہائی صدمہ پہنچا۔ طلب فرما کر مرزائیت کی نشر واشاعت سے اس کو جبراً منع کیا اور اس بارہ میں عام تہدیدی اور تخویفی احکام صادر کئے۔

میر احمد مرزائی کا سزائے قید کے بعد تائب ہونا

میر احمد نام مرزائی جو کہ اس وقت خان صاحب آف بھگوائی کا معالج خصوصی تھا۔ اس نے بھی مرزائیوں کے زیر اثر فتنہ مرزائیت کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا تھا۔ مگر اس خادم اسلام نے نواب صاحب والیٔ ریاست سے حکم حاصل کر کے اس کو گرفتار کیا اور سزائے قید بامشقت کا مرتکب کرا کر ایک عرصہ تک اس کو جیل خانہ میں رکھا۔ آخر کار تائب ہونے پر اس کو رہا کر دیا گیا۔

جناب والیٔ ریاست صاحب کا اس بارہ میں تحریری فرمان

جب میر احمد مرزائی کو سن ١٩٢٧ء میں داخل جیل خانہ کر کے تائب ہونے کے بعد پھر اس کو رہا کیا گیا اور جناب والیٔ ریاست صاحب کی خدمت میں اس امر کی اطلاع بھیجی گئی تو انہوں

٤٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩١

نے خاص اپنی قلم سے ذیل کا مکتوب گرامی میرے نام مرسل فرمایا۔ بخدمت فیض درجت برادرم جناب قاضی صاحب انب زادہ عنایتکم! نوازش نامہ جناب شرف صدور فرمودہ از احوال آگاہی شد۔ میر احمد مرزائی چونکہ تائب شدہ بہتر کردند کہ اورا رہائی فرمودند۔ مگر ازو ضمانت گرفتہ باشند کہ باز مرزائی نشود۔ جناب بالکل تسلی فرمایند کہ اگر باز کسے دیگر مرزائی شود۔ ہمیں سزا دادہ باشم۔ وایں جانب بر نصیحت جناب ہروقت قائم است۔ فقط ١٩٢٧ء! دستخط: (جناب والیٔ ریاست صاحب محمد خانی زمان خان بحروف انگریزی)

میر احمد موصوف کے نکاح کا انفساخ و استرداد

جب میر احمد مذکور کو تائب ہونے کے بعد جیل سے رہا کیا گیا تو اس نے کئی عرصہ تک اگرچہ اسلام اور اسلامیان سے وابستگی اختیار کر لی تھی۔ لیکن پھر ریاستی مرزائیوں کے زیر اثر راہ فرار اختیار کر کے بمقام لاہور پہنچ کر مرزا محمد یعقوب بیگ ڈاکٹر کے مطب میں ملازمانہ حیثیت سے اس نے جگہ لی اور پھر اپنی مرزائیت کا اعلان کیا۔ جو اس وجہ سے اس کی عورت کا نکاح جو کہ وہ اپنی مذہب کی پابند تھی اور اپنے باپ کے پاس ریاست میں رہائش رکھتی تھی۔ شرعی احکام کے ماتحت اس خادم اسلام نے فسخ کر دیا اور تفریق اور عدت تفریق کے بعد دوسرے شوہر کے نکاح میں دے دی گئی۔

غلام حیدر مرزائی ساکن ریاست پھلڑہ کے نکاح کی تنسیخ

غلام حیدر مرزائی ولد سلیمان ساکن ریاست پھلڑہ کی عورت جو کہ اسلامی مذہب کے زیور سے آراستہ تھی۔ اس نے اپنے شوہر سے راہ گریز اختیار کر کے بمقام لسان جدید حدود ریاست انب میں اپنے باپ کے پاس پناہ لی اور اس کے استغاثہ پر محکمہ قضا نے شرعی تحقیقات کے بعد اس کے مرزائی شوہر سے بروئے نصوص اسلامیہ علیحدہ کرایا۔

عبدالرحمن ساکن رام کوٹ کے نکاح کا انفساخ

ریاست کے علاقہ شیر گڑھ میں بمقام رام کوٹ عبدالرحمن نام جدید العہد مرزائی کے خلاف رپورٹ ہونے پر شرعی فیصلہ کے رو سے اس کی عورت مسلمہ کو نیز اس سے علیحدہ کرایا گیا۔

٤١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٢

لیکن ان دونوں موخر الذکر مرزائیوں نے جلدی مرزائیت سے توبہ کر کے شرعی تعزیر سے اپنے آپ کو بچا لیا اور ان کی وہ عورتیں جو ان سے علیحدہ کرائی گئی تھیں ۔ جدید عقد نکاح کے ساتھ ان کو واپس دی گئیں۔

اور اول الذکر مرزائی جو کہ بمقام لاہور تھا۔ اپنی باطل آرزو اور کاذب طمع کے زیر اثر میرے اس فیصلہ تنسیخ نکاح کو خارج از صواب سمجھ کر ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیئے۔ چنانچہ لاہور میں نیز ریاستی مرزائیوں نے اس کا ساتھ دیا اور اپنی انتہائی کوشش سے کام لیا۔ ریاست کو وفود آئے مراسلات تخویفی بھیجے گئے۔ میرے ساتھ منازعت اور مزاحمت کی گئی۔ لیکن وہ فائز المرام نہ ہو سکے۔ آخر کار مایوس ہو کر میر احمد مرزائی نے لدھیانہ وغیرہ مقامات سے ججوں کے اس قسم کے مراسلہ جات کی نقول حاصل کر کے جن کے رو سے بیسیوں قسم مقدمات میں مرزائیوں کے نکاح کو بحال رکھا گیا تھا۔ میرے محکمہ میں پیش کر کے یہ استدعا ظاہر کی کہ میری منکوحہ عورت مجھے واپس دلائی جاوے۔ مگر چونکہ زید و عمر کا لغوی فیصلہ خداوندی احکام کے مقابلہ میں کسی وقعت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اس کو یہ مایوس کن جواب دیا گیا کہ کسی مجسٹریٹ اور جج کا فیصلہ جب کہ وہ شرعی آئین کے خلاف ہو ہمارے لئے ہرگز قابل عمل اور لائق تسلیم نہیں ہے۔

میر احمد کے نکاح کے بحال رہنے کے لئے انجمن احمدیہ لاہور کا تہدیدی مکتوب

آخر کار انجمن احمدیہ لاہور نے میرے اس فیصلہ قرآنی کے برخلاف بمقام لاہور مجلس شوریٰ کا انعقاد کیا اور مختلف ذرائع وسائل کے ذریعہ اپنے آپ کو کامیاب بنانے کے لئے انتہائی غور اور خوض سے کام لیا اور جناب نواب صاحب محمد خان زمان خان مرحوم کی خدمت میں ذیل کا مراسلہ بحروف انگریزی مرسل کیا۔ جس کا ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔

از طرف انجمن احمدیہ لاہور

بحضور انور جناب میجر سر نواب صاحب بہادر دام اقبالہ کیا میں احمدیہ انجمن لاہور کی طرف سے حضور کی خدمت میں مفصلہ ذیل عرضداشت پیش کر سکتا ہوں؟ حضور کو معلوم ہے کہ ریاست میں چند کسان لاہوری احمدیہ انجمن کے ممبران ہیں۔ گزشتہ مدت میں ایک دفعہ انجمن کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی تھی کہ وہاں کے احمدیان مقامی ملاؤں کے زیر اثر لوگوں کے ہاتھ

٤٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٣

سے زیر عتاب ہیں۔ جس پر کہ حضور چیف کمشنر صاحب بہادر کی خدمت میں ایک یادداشت انجمن ہٰذا نے بھیجی تھی اور اس میں احمدیوں کی مصیبتوں کا ذکر کرتے ہوئے اس سے استدعا کی تھی کہ وہ برائے مہربانی اس مذہبی تکلیف سے ارتفاع کے لئے آنحضور کے ساتھ سلسلہ جنبانی کریں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تھا اور حضور والا نے بکمال مہربانی جواب دیا تھا کہ ریاست میں احمدیوں کو ہر قسم کی مذہبی آزادی کے فوائد حاصل ہیں۔ حضور کی اس تسلی آمیز چٹھی سے یہ یقین ہو گیا تھا۔ خواہ قبل ازاں نہ بھی ہوا ہو۔ مگر اس کے بعد تو کم از کم حضور کے رعیت سے احمدیوں کو متعصب ملاؤں کے ہاتھ سے کبھی کوئی دکھ نہ پہنچے گا۔ مگر میں بڑے افسوس سے حضور کے نوٹس میں یہ عرض پیش کرتا ہوں کہ اپنی تمام امیدوں سے جو کہ ہم کو اس وقت پیدا ہوئی تھیں۔ محروم ہو چکے ہیں۔ باوجود اس کے حضور نے بحیثیت ایک والیٔ ملک ہونے سے امید بھی دلائی تھی۔ مگر تکلیف مرتفع نہیں ہوئی۔ چنانچہ بطور مثال ذیل کا مقدمہ پیش کرتا ہوں کہ انجمن کے ایک ممبر میر احمد نام نے اپنے قریبی رشتہ داری میں وہاں شریعت محمدی کے مطابق عقد کیا تھا۔ مگر ریاست کے بعض ملاؤں نے یہ حکم دیا کہ میر احمد جو کہ انجمن احمدیہ کا ایک ممبر ہے اور احمدی ہے۔ اس واسطے وہ کافر ہے اور چونکہ وہ لڑکی اس کی منکوحہ احمدیہ نہیں ہے۔ اس کا عقد ناجائز تصور ہو کر محکمہ قضا کے ماتحت تنسیخ کر دی ہے۔ حضور خیال فرماویں کہ یہ فیصلہ مذہبی آزادی کے کس قدر منافی ہے۔ احمدیوں کو اس سے کس قدر ناقابل برداشت رنج اور مصیبت پہنچتی ہے۔ حضور ایک روشن دماغ حکمران ہیں۔ خود موازنہ فرماویں کہ ریاست کے متعصب ملاؤں کا یہ فتویٰ اور یہ فیصلہ کس قدر لایعنی ہے کہ وہ جس کو چاہیں دائرہ اسلام سے خارج کر دیں۔ ہر ایک آدمی جو کہ کلمہ طیب پڑھ کر حلقہ بگوش اسلام ہوا ہے۔ وہ اسی طرح مسلمان ہے جیسا کہ عام مسلمانان، کوئی ملا اور قاضی اس کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ کئی ایک تنقیحات عدالت ہا انگریزی میں وضع ہو کر فیصل ہوئے ہیں کہ احمدی صاف طور پر مسلمان ہیں۔ علاوہ ازیں عدالت ہائے گوجرانوالہ، امرتسر، انبالہ، سیالکوٹ، حتیٰ کہ ہائی کورٹ میں بھی صاف طور پر یہ فیصلہ ہوا ہے کہ احمدی مسلمان ہیں۔ بلکہ مدراس اور سنگ پور کی ہائی کورٹوں میں بھی اسی طرح فیصلے ہوئے ہیں۔ پس میر احمد کے واسطے یہ بہت بڑی مشکل ہے کہ وہ اپنی جائز منکوحہ سے محروم کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا ہم اپیل کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ منسوخ کر دیا جائے اور تمام انجمن کی طرف سے اپیل کی جاتی ہے کہ حضور اپنے روشن دماغ اور انصاف ٤٣ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٤

شاہانہ سے کام لے کر اس مقدمہ پر اپنی خاص توجہ مبذول فرماویں۔

آپ کا سید غلام مرتضیٰ، سیکرٹری انجمن احمدیہ لاہور!

نواب صاحب بہادر کی اس بارہ میں میرے ساتھ مشاورت

پس مندرجہ بالا مراسلہ کو نواب صاحب نے پڑھ کر میرے ساتھ تبادلۂ خیالات کیا اور امورات ذیل پر گفتگو ہوئی۔

نواب صاحب: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ کا فیصلہ تنسیخ نکاح مذہبی فرائض کی اہم ذمہ داریوں کے ماتحت صادر ہوا ہے۔ لیکن جب مرزائیوں کو اس سے اس قدر اضطراب اور بے چینی ہے تو بہتر ہوگا کہ دوبارہ اس مقدمہ میں غور کیا جاوے۔ ورنہ قرآنی دلائل سے ان کی تسکین کی جاوے۔

میں: اگرچہ انتہائی غور اور تامل مذہبی کے بعد یہ فیصلہ صادر کیا گیا ہے۔ خود غرضی کی جھلک سے یہ فیصلہ بالکل پاک ہے۔ مگر چونکہ حق بات کی باگ بہت ہی کم لوگوں کے ہاتھ میں ہوا کرتی ہے اور شریعت کے مسلمہ اصول کو لوگوں نے اپنی ذاتی خواہشات کے سانچہ میں ڈال دیا ہے۔ اس لئے اغراض پرست طبقہ کو ہزار ہا دلائل کے مطالعہ سے بھی تسکین نہیں ہوسکتی ہے۔ بہتر یہ ہوگا کہ مرزائیوں کو جس شخص پر بلحاظ علم و فضل زیادہ تر فخر حاصل ہے۔ اس کو میدان مناظرہ میں حاضر کریں اور جہاں چاہیں وہاں بعد از طے پانے شرائط مناظرہ اور تقرری منصف مسلم الطرفین کے میں بھی بلا عذر حاضر ہوجاؤں گا۔ انشاء اللہ، ورنہ تو ہم کو اس خدائے لایزال کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کرنا چاہئے۔ جس کا اقتدار اور جلال سب مخلوق پر فائق ہے۔ اس کے احکام کے مقابلہ میں کسی انسان کی دلجوئی اور تسکین کے لئے قدم اٹھانا یا کسی کی تغلیط اور ڈانٹ بتلانے سے کچھ قدر بھی مرعوب ہوجانا بہت تسفل اور بے ہمتی ہے۔

نواب صاحب: مجھے کسی کی دلجوئی کی ضرورت نہیں ہے اور نہ میں مناظرہ کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔ جو کچھ حکم آپ نے فیصلہ میں صادر کردیا ہے۔ وہی مجھے منظور ہے۔ ہاں اگر مرزائی لوگ بالا دست حکومت میں اس امر کے برخلاف کچھ کرنا چاہیں تو پھر دیکھا جائے گا۔

میں: بالا دست حکومت کی باز پرس کا میں ذمہ دار ہوں۔ مذہبی معاملات ریاست میں دخل دینے کے لئے وہ مجاز نہیں ہے۔

جب مرزائی طبقہ کو ہر پہلو اور ہر رنگ سے مایوسی اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو بمصداق

٤٤

صفحہ ٣٩٥

”اذا یئس الانسان طال لسانه“ ان کے غیظ اور غضب کی آگ نے اور بھی زیادہ جوش مارا۔ ان کے دلوں پر اضطراب اور فساد کی عام کیفیت مسلط ہوگئی۔ بنا برآں میرے ذاتی وقار اور عزت کے خلاف طرح طرح کے گٹ بندیوں اور ریشہ دوانیوں سے کام لے کر مجھے بدنام کرنے کے لئے ناکام کوششوں کے وہ درپے ہو چکے تھے۔ فتنہ مرزائیت کے خلاف جو میں نے اپنی مسلسل تقریروں کا طریقہ جاری کر رکھا تھا۔ اس کی رکاوٹ میں انتہائی سعی کی گئی اور باقی جو میرے ذاتیات کے خلاف انہوں نے خفیہ وسائل کو بہم پہنچا دیا تھا۔ وہ بظاہر چونکہ از بس خطرناک تھے۔ لہٰذا میرے لئے اپنی ذاتی حفاظت کے واسطے قدم اٹھانا بھی لازم ہو گیا تھا۔ رات کو وہ میرے برخلاف مجلس شوریٰ کا انعقاد کر کے صبح کو وہ طرح طرح کی رنگ آمیز فریب کاریوں اور دروغ بافیوں کے زیر اثر جناب نواب صاحب کی طبیعت کو متزلزل کرنے کے لئے بے تابانہ کوشش کیا کرتے۔ علاوہ ازیں حکومت عالیہ گورنمنٹ انگریزی کے کانوں تک جو میرے برخلاف غلط بیانیوں کے آواز کے پہنچانے کے لئے ذرائع اختیار کر لئے تھے۔ ان کے مطالعہ سے ہر ایک حساس مؤمن کا دل پاش پاش ہوا جاتا تھا۔ مگر چونکہ ادھر تائید آسمانی میرے شامل حال تھی۔ لہٰذا میں نے نہایت ثبات قدمی اور پامردی و صبر واستقلال سے کام لیتے ہوئے ان کی اذیتوں کو برداشت کرنے میں جرأت کو دکھاتے ہوئے بدستور دین حق کی حمایت اور اپنے رسول ﷺ برحق کے ننگ و ناموس کے تحفظ میں کسی قسم کی سستی اور غفلت کو روا نہیں رکھا اور فتنہ مرزائیت کے استیصال کے لئے مہذبانہ شکل میں مختلف پہلو اختیار کر کے اپنی مساعی کو ہاتھ سے نہیں دیا۔ چونکہ آفتاب حقیقت کسی کی غلط بیانیوں کے نقاب میں پوشیدہ نہیں رہ سکتا ہے۔ اس لئے جس بات کو وہ میرے برخلاف اپنی ذاتی خواہشوں کے سانچہ میں ڈال کر اپنی ملمع سازیوں سے حکومت ریاست کو یا کہ حکومت انگریزی کو اس کے متعلق فریب دینا چاہتے تھے۔ اس کی حقیقت خدا کے فضل سے بہت جلد بے نقاب ہو جایا کرتی تھی۔

میری طویل بیماری کے عارضہ سے فتنہ مرزائیت کی رفتار میں ترقی

اور نواب صاحب بہادر کی خدمت میں میری جانب سے مکتوب

اس دوران میں جب مجھے طویل بیماری کے عارضہ نے صاحب فراش کر دیا تھا تو مرزائیوں نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر اپنی مذہبی ترویج کا علم بلند کر دیا۔ چنانچہ خاص طور پر سنا گیا

٤٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٦

تھا کہ انہوں نے بمقام دربند ایک منظم تبلیغی سوسائٹی قائم کر دی ہے اور مرزائی عبادت گاہ کی تعمیر کا ان کو خاص اہتمام ہے۔ پس میں نے بحالت بیماری ذیل کا مکتوب نواب صاحب بہادر کی خدمت میں خاص طور پر بھیج دیا۔

مکتوب مرسولہ

بخدمت جناب نواب صاحب بہادر مدظلکم !

السلام علیکم ! یکم؍اکتوبر ١٩٢٩ء کو جناب والا نے میری عیادت کے لئے بمقام انب تشریف لا کر اثنائے گفتگو میں اپنے مذہبی ایثار کے متعلق جو تبادلہ خیالات فرمایا وہ میرے لئے باعث اطمینان تھا۔ لیکن آج علی اکبر خان ڈیرہ دار کی زبانی سنا گیا کہ ڈاکٹر عصمت اللہ خاں وغیرہ اکابر مرزائیوں نے دربند میں مرزائیت کی اشاعت کے لئے علانیہ تبلیغ جاری کر دی ہے۔ جو ان کے ساتھ نماز میں بیس پچیس تک مسلمانان دربند نیز شامل ہوا کرتے ہیں۔ اگر اس کا انسداد نہیں کیا گیا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ مرزائیت کی آندھیاں فضائے ریاست کو جلد تر مکدر کر کے ریاست کو بے حد بدنام کر دیں گی۔ میں خود بیمار ہوں۔ مزید کچھ نہیں کر سکتا ہوں۔ فقط مورخہ ١٤؍اکتوبر ١٩٢٩ء

میرے نام جناب نواب صاحب کا جوابی مکتوب گرامی

بخدمت جناب برادرم قاضی القضاۃ صاحب سلامت، بعد از سلام مسنون، عرض آنکہ حسب ارشاد آن جناب ڈاکٹر موصوف را طلبیدہ گوشمالی کردہ شد۔ و از تبلیغ مرزائیت منع کردہ شد جناب تسلی فرمایند۔ دیروز از زبانی ڈاکٹر مصدر علی خاں معلوم شدہ کہ جناب را از تپ فرصت نیست۔ لہٰذا فردہ یا پس فردہ ایں جانب خود برائے بیمار پرسی جناب خواہد آمد۔ و دریں باب زبانی عرض خواہم کرد۔ فقط ١٤؍اکتوبر ١٩٢٩ء

دستخط: (نواب صاحب خانی زمان خان والیٔ ریاست انب)

چونکہ میری بیماری نے دوماہ تک طول اختیار کر لیا تھا۔ لہٰذا مرزائیوں نے ریاست کے طول وعرض میں مرزائیت کی اشاعت کے لئے خفیہ کوششیں برپا کر دی تھیں۔ کیونکہ ان کا مطمح نظر مرزائیت کی رفتار کو ریاست میں جاری رکھ کر مسلمانان ریاست کے دل اور دماغ پر تسلط جمانا تھا۔

٤٦

صفحہ ٣٩٧

اس لئے وہ کسی صورت سے باز نہیں آتے تھے۔

ریاست کے طول وعرض میں میرا ہمہ گیر و شاندار تبلیغی دورہ

جب مجھے بیماری سے کچھ قدر صحت عطا ہوئی تو مجھے یہ خوف دامنگیر ہوا کہ خدانخواستہ ریاست کے اہل نواحی اپنی جہالت و بدویت سے مرزائیت کا شکار نہ ہو جائیں۔ اس لئے کہ ریاست کے نواحی میں کوئی اسلامی مبلغ مقرر نہیں تھا۔ پس غور اور خوض کے بعد یہ نصب العین قائم کیا گیا کہ تمام ریاست میں مذہبی دورہ کر کے اسلام کی پاکیزہ تعلیم کی عام بیداری کی روح پھونکی جائے اور جہاں جہاں مذہبی شیرازہ مرزائیت کے زیر اثر خراب شدہ پایا جائے ۔ اس کی اصلاح کی جائے۔ چنانچہ اس خادم اسلام نے جناب نواب صاحب بہادر سے اجازت لے کر ریاست کے طول وعرض میں بمعہ اپنے عملہ و کارکنان کے دورہ کر کے اہل ملک کے مذہبی معیار کو اعلیٰ و ارفع بنانے میں مقدور بھر کوشش کی اور فتنہ مرزائیت کے استیصال و انسداد میں خصوصاً اور باقی وحشیانہ رسومات اور ظالمانہ بدعات کے قلع قمع کرنے میں عموماً انتہائی سعی سے کام لیا۔ اگر چہ پیشتر ازیں نیز مذہبی فسادات کی روک تھام کے لئے میں نے متعدد بار دورے کئے تھے۔ لیکن یہ دورہ اپنی مذہبی جامعیت اور ملکی وملی مفاد کی ہمہ گیر حیثیت کے لحاظ سے ایک خاص امتیاز رکھتا تھا۔ تمام علاقہ جات میں فتنہ مرزائیت کے انسداد کے لئے جو جو ذرائع اور وسائل مناسب معلوم ہوتے تھے۔ ان کو بہم پہنچایا گیا اور دین حنیف کی پاسبانی کے واسطے جگہ بجگہ مقررین علماء کی تقرری کا خاص اہتمام کیا گیا۔ مجالس شوریٰ کے انعقاد کا انتظام ہوا اور ہر سال میں دو دفعہ مذہبی جلسوں کے قیام کے لئے باقاعدہ تنظیم قائم کی گئی کہ بمقام در بند جو کہ ریاست کا صدر مقام ہے۔ مذہب کے ترقی اور عروج کے لئے اور غیر مذاہب کے انسدادی تدابیر کے لئے ریاستی علماء اور بیرونی فضلاء کا باقاعدہ اجلاس ہوا کرے گا۔

علاوہ ازیں اور بھی بہت سے ایسے امورات تھے۔ جن کی تنظیم ریاست کے مستقبل کے لئے بہت مفید نظر آ رہی تھی۔ پس ان تمام کی منظوری والئی ریاست صاحب سے حاصل کر لی گئی۔ ادھر جب میں نے متعین کردہ علمائے مقررین کو اپنے اپنے حلقہ کے لئے دورہ پر بھیج دیا اور ساتھ فتنہ مرزائیت کے استیصال کے لئے سرتوڑ کوشش شروع ہو گئی تو ادھر ریاستی مرزائیوں نے میرے اس تجویزی رنگ کو ریاست کے امن عامہ کے برخلاف بتلا کر نواب صاحب کے دل میں مختلف شکوک اور شبہات پیدا کر دیئے اور ان کے دماغ میں یہ بات راسخ کر دی گئی کہ اگر علمائے

٤٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٨

ریاست کا یہ مذہبی اقتدار بحال رہا تو ریاستی مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل ہو کر امن عامہ کے خلاف بہت فسادات پیدا کر دیں گے۔

قاضی عبداللہ صاحب آف کھمیاں کی مرزائیوں کے ساتھ

میری اس تجویزی کارنامہ اور اقدام عمل کے خلاف موافقت

اگرچہ قاضی صاحب موصوف جو پہلے میرے نقش قدم پر چل کر میرا ساتھ دیا کرتے تھے اور مرزائیت کے خلاف ہونے میں ایک حد تک انہوں نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی۔ مگر مرزائی اکابر کے زیر اثر میرے اس تبلیغی انتظام کے سلسلہ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لئے اپنی ناکام سعی سے اس نے کام لیا اور نواب صاحب والئی ریاست کے متاثر کرنے میں انتہائی سعی کی جو اس سلسلہ میں نواب صاحب والئی ریاست نے میرے نام ذیل کا مکتوب لکھا۔

بخدمت جناب قاضی صاحب انب سلامت!

السلام علیکم! آج قاضی عبداللہ کھمیاں نے بحضور ایں جانب پیش ہو کر آپ کی مرتبہ اور مجوزہ مجریہ ہدایات کے نقول پیش کر کے بحث کی اور کہا کہ بعض معاملات کا اجراء بہتر نہ ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ! پس جہاں تک ایں جانب نے خیال کیا۔ آنجناب پر کام کی بہت کثرت ہے۔ قریباً ساری ریاست کے متعلق شریعت کے فیصلوں کا کاروبار آپ کے سر پر ہے اور تمام مذہبی و اسلامی امورات کا انجام دینا بھی آپ کے ذمہ ہے۔ اندرونی، بیرونی استفتاء جات کا کام بھی آں جناب کے سپرد ہے۔ نظر بریں اگر اشاعت اسلام کا بار بھی آں جناب پر ڈال دیا جائے تو بہت ہی بے انصافی ہوگی۔ پس ایں جانب نے محض آں جناب سے بوجھ ہلکا کرنے کے خاطر صرف اشاعت اسلام یعنی دوروں کا کام قاضی عبداللہ صاحب کھمیاں کے سپرد کرنا مناسب خیال کیا ہے کہ وہ آپ صاحب کے مجریہ اور مجوزہ ہدایات کے مطابق اشاعت کا کام کریں۔ مگر وہ کام اس کا نیز آں جناب کے زیر نگرانی رہے گا۔ وہ آں جناب سے بالا بالا کوئی کام نہیں کریں گے۔

فقط مورخہ ٢؍ اگست ١٩٣٢ء

دستخط: میجر نواب صاحب بہادر آف ریاست انب!

مراسلہ بالا کا میرے جانب سے جوابی مکتوب

بخدمت جناب نواب صاحب بہادر زادہ الطافکم!

٤٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٣٩٩

السلام علیکم! گرامی نامہ مطالعہ کیا گیا۔ پس میں انتہائی افسوس سے عرض کروں گا کہ قاضی صاحب موصوف کی یہ سرعت آمیز کوشش محض اس کی خود غرضی پر مبنی ہے۔ اس کے پیچھے ایک پراسرار اور با اقتدار ہاتھ کام کر رہا ہے۔ یہ بالکل ایک نمایاں حقیقت ہے کہ مرزائی طبقہ کو میرے پیش کردہ تجاویز سے انتہائی مخالفت ہے۔ کیونکہ یہ وہ تجاویز ہیں جو سراسر ریاست کی مذہبی اور ملکی ترقی و عروج کے لئے سرچشمہ ہونے کا حکم رکھتے ہیں۔ مگر وہ جب اپنی مخالفت میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔ اس لئے انہوں نے قاضی صاحب موصوف کو ہم خیال کر کے میرے اس مذہبی سلسلہ عمل اور میرے اس تبلیغی پہلو کے برخلاف ان کو برپا کر دیا ہے۔ میں صداقت سے عرض کروں گا کہ میرا مرزائیوں سے ذاتی کوئی عناد نہیں ہے۔ میں محض اسلامی ننگ و ناموس کے لئے سب کچھ کر رہا ہوں۔ اس بارہ میں ہر قسم کے ایثار اور قربانیوں کے لئے میں تیار ہوں۔ میں قاضی صاحب کا بہت ممنون رہوں گا کہ اگر وہ اسلام کے لئے کوئی عملی پہلو اختیار کریں جو اس صورت میں ان کو اپنا بازو راست سمجھوں گا۔ لیکن امید نہیں ہے کہ وہ صداقت سے کام کریں گے۔ بلکہ خوف ہے کہ اس سے مرزائیت کو اور بھی تقویت مل جائے گی۔ فقط :

مورخہ ٦/اگست ١٩٣٢ء

دستخط : خادم اسلام عاصی محمد اسحاق قاضی القضاۃ ریاست امب!

غرض اس خادم اسلام نے اشاعت اسلام کا کام ان کے سپرد کر دیا۔ مگر قاضی صاحب موصوف نے قلیل عرصہ میں وہ مبلغین جن کو میں نے مرزائیت کے خلاف تبلیغی سلسلہ میں منتخب اور متعین کیا تھا۔ بعض نامعقول عذرات کو پیش کر کے ان کی معزولی کی رپورٹیں پیش کر دیں۔ لیکن وہ اپنی اس کوشش میں ایک حد تک کامیاب نہ ہو سکے اور نہ میں نے مرزائیت کے دیو ہیکل سے مرعوب ہو کر قول حق سے خاموشی اختیار کی۔ کیونکہ شدائد کے مہیب دیو سے وہی لوگ مخوف اور مرعوب ہوا کرتے ہیں جو اپنے نفع و خسران کی باگ کو خالق اکبر کے سوا کسی مخلوق کے ہاتھ میں دیکھتے ہیں۔ بیت

حسد چوے بری اے سست نظم بر حافظ
قبول خاطر ولطف وسخن خدا داد است

٤٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٠

ریاستی مرزائیت کے خلاف سرحدی جلسوں کا انعقاد

نیز صوبہ سرحد میں اکثر مقامات پر کارکنان اسلام نے اپنے مذہبی جذبات سے کام لیتے ہوئے مرزائی ریاست کے خلاف وقتاً فوقتاً مجالس کے انعقاد میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا۔ سو اگرچہ مرزائی طبقہ نے ان کے اس عملی اقدام میں میرا ہاتھ سمجھ کر نواب صاحب کے دل پر میرے برخلاف بہت کچھ اثر ڈالنے کی کوششیں کیں۔ مگر بے سود۔

مرزائیوں کی انتہائی بے اعتدالیوں کے نتائج

اور میرے استقلال واولو العزمی کے ثمرات

ریاستی مرزائیوں نے اپنی اخلاقی کمزوریوں کے زیر اثر بمصداق ”کل اناء یترشح بمافیہ“ میری توہین کے لئے اپنی ناکام تجاویزوں میں سے ایک یہ تجویز نیز پاس کی تھی۔ یعنی انہوں نے خلیل الرحمان نام ایک شخص کو فرضی دیوانہ اور خود ساختہ پاگل مشہور کر کے میرے خلاف سب وشتم کے لئے اس کو آمادہ کر دیا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی فرضی دیوانہ پنی کی آڑ لے کر مختلف مجالس ومحافل میں اپنی اس ڈیوٹی کو باقاعدہ انجام دیا۔ اگرچہ میں حکومت قضا اور سیاست مذہبی کے اقتدار کے ماتحت اسلام کے قانون تعزیرات کی رو سے اس سے انتقام لے سکتا تھا۔ لیکن ”والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس“ کے مدنظر میں نے صبر واستقلال ملاطفت و رفق کو ہاتھ سے نہ دیا اور نہ ان کے اس انسانیت سوز سنگ گراں نے مجھے حق بیانی سے باز رکھا اور میرے آئینہ دل میں ان کی اس توہین آمیز تحریک نے جوش انتقام کا عکس کبھی نہ ڈالا۔ میں اپنے شریفانہ انداز اور مہذبانہ روش کے زیر اثر اسلام کے فضائل ومحاسن کی توضیح اور فتنہ مرزائیت کے نقائص اور عیوب کی نشر و اشاعت کے لئے بغیر کسی تشدد کی رفاقت کے محض صلح وامن کے سایہ میں اپنی آواز بلند کرتا چلا جا رہا تھا۔ کیونکہ دین حق کی خاطر اس قسم کے مصائب وآلام کی تلخی کو خندہ جبینی و کشادہ دلی کے ساتھ گوارا کرنا مؤمن کے لئے آسان بلکہ باعث صدہا مسرت ہوا کرتا ہے۔ حوصلہ شکن وصبر آزما شدائد میں استقلال رکھنا پیغمبرانہ اخلاق کا مظہر ہے۔ توکل علیٰ اللہ کی شان بہت بلند تر ہے۔ چنانچہ قلیل عرصہ میں کسی خاص وجہ سے انہی اعدائے اسلام کے ذریعہ خدائے تعالیٰ کے منتقم اور معذب ہاتھ نے اس خود ساختہ دیوانہ کو جیل خانہ کی تاریک کوٹھریوں کا

٥٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠١

سیر کرایا اور مرزائیوں کی فریب کاریوں کا وہ طلسم از خود ٹوٹ گیا۔ رہائی پانے کے بعد وہ خود ساختہ دیوانہ میرے پاس حاضر ہوا اور اپنی بے اعتدالیوں کی معافی کا خواستگار ہوا۔ جو میں نے اس کو بغیر کسی زجر و توبیخ کے معافی دے دی اور ”واللہ یحب المحسنین“ کی تعمیل میں اس کو کچھ تحائف یعنی اپنی عینک وغیرہ عطاء کئے اور اس سلسلہ میں برادرم قاضی عبدالغنی صاحب نے جو کہ جنگ مرزائیت کے دوران میں میرا بازوئے راست تھا۔ اس نے انتقام لینے کے لئے متعدد بار آمادگی کا اظہار کیا۔ لیکن میں نے اس کے اس اقدام کو پیغمبرانہ اخلاق کے خلاف سمجھ کر اس کو منع کر دیا تھا۔ مزید برآں میں نے اپنی کشادہ دلی سے کام لیتے ہوئے اس کسمپرس فرضی دیوانہ کی حالت پر رحم کھا کر اس کو اپنے دفتر میں منشیانہ حیثیت سے ملازم نیز رکھ لیا۔

ریاست میں مذہبی آزادی حاصل کرنے کے لئے لاہوری وفد

لاہوری مرزائیوں کا ایک وفد جو کہ ڈاکٹر مرزا محمد یعقوب بیگ وغیرہ پر مشتمل تھا۔ جناب نواب صاحب کی خدمت میں پیش ہوا۔ جو ان کی استدعاء اور زوروں کے زیر اثر نواب صاحب نے مجھ سے تبادلہ خیالات کیا اور ذیل کے سوالات پر گفتگو ہوئی۔

نواب صاحب: کیا قرآن مقدس دینی مسائل کے لئے کافی نہیں ہے۔ جو دیگر کتب سے مدد لی جاتی ہے۔

میں: اس میں شک نہیں ہے کہ اسلام کا اصلی قانون قرآن مقدس ہی ہو سکتا ہے۔ مگر جب قرآن حکیم میں مسائل جزئیہ کا مکمل احاطہ نہیں ہے۔ اس لئے حدیث اور اجماع اور قیاس سے مدد لی جاتی ہے۔

نواب صاحب: قرآن میں یہ حکم موجود نہیں ہے کہ دین حق میں جبر و اکراہ جائز نہیں۔

میں: واقعی قرآن میں یہ آیت موجود ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ دین کے قبول کرنے میں کسی پر جبر نہ کیا جاوے۔

نواب صاحب: یہ وہ لوگ جو مرزائی ہو جاتے ہیں ان پر کیوں جبر کیا جاتا ہے۔ قرآن کے اس حکم سے تو مذہب کی آزادی ثابت ہے۔

میں: ”لا اکراہ فی الدین“ جو کہ قرآنی آیت ہے وہ مذہب کی آزادی پر دلالت

٥١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٢

نہیں کرتی ہے۔ جیسا کہ مرزائیوں نے سمجھا ہے۔ بلکہ آیت قرآنی کا صحیح معنی یہ ہے کہ کسی اس غیر مذہب شخص پر دین اسلام میں داخل ہونے کے لئے جبر نہ کیا جاوے۔ جو کہ پیدائشی کافر ہو۔ کیونکہ اسلام ایک واضح اور کھلی چیز ہے۔ اس کے دلائل اور براہین نہایت ہی روشن ہیں۔ وہ اس امر کا محتاج نہیں ہے کہ اس کے ماننے پر کسی کو مجبور کیا جاوے۔ پس آیت مذکور سے یہ مراد لینا کہ جو شخص مسلمان مرتد ہو جاوے۔ اس پر جبر نہ کیا جاوے۔ جیسا کہ مرزائیوں کا خیالی ڈھکوسلہ ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے، بلکہ مرتد شخص یعنی ہر وہ مسلمان جس نے اپنے دین اسلام کو بدل دیا۔ اس کو شریعت مقدسہ نے بلا کسی نقص منکر کے یہ حکم دیا ہے کہ اس کو قتل کر دیا جاوے۔ چنانچہ بخاری شریف میں اس مضمون کی حدیث موجود ہے۔

نواب صاحب: جس قدر نفرت اور بائیکاٹ کرنے کا حکم آپ مرزائیوں سے دیا کرتے ہیں۔ ویسا ہندو مذہب والے شخص سے نہیں دیتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ہندو جو کہ مشرک ہے۔ اس سے زیادہ بائیکاٹ کرائی جاوے۔

میں: اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزائی لوگوں نے اسلامی لباس پہن کر اپنی مکاریوں سے جس قدر مسلمانوں کو دھوکہ میں ڈال کر احکام اسلام کو ٹھکرا دیا ہے۔ اس کی نظیر بہت کم ملے گی۔ اسلام کے استیصال میں انہوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔ جب سادہ لوگ مسلمان ان کو اپنا ہم مذہب سمجھ کر ان کی پالیسی سے باخبر نہیں رہ سکتے ہیں۔ لہٰذا علماء وقت کا اولین فرض ہے کہ عام مسلمانوں کو ان سے اختلاط کرنے کے متعلق باخبر رکھنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ انسانی جسم کا جب کوئی حصہ خراب ہو جاتا ہے اور باقی حصوں کو اس سے نقصان پہنچتا ہے تو اس خراب شدہ حصہ کو قطع کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب مرزائیت کے فتنہ سے مذہبی امن عامہ خطرہ میں ہے۔ تو لازم ہوا کہ اس فتنہ سے عوام مسلمانوں کو ہر رنگ اور ہر طریق سے باخبر رکھا جائے اور ہندو لوگ جو کہ اپنے آپ کو ہندو ہی کہلاتے ہیں۔ مسلمان ہونے کا دعویٰ نہیں رکھتے ہیں۔ اس لئے ان سے اختلاط رکھنا چنداں خطرناک نہیں ہے۔

نواب صاحب: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ ریاست میں جو کہ عرصہ سے مرزائیت کے خلاف جنگ جاری ہے۔ اس کا محرک محمد فرید خاں (یعنی موجودہ والئے ریاست صاحب) ہیں۔ کیونکہ وہ اس مذہبی آڑ میں عبد الجبار شاہ وغیرہ کو دبانا چاہتے ہیں۔

میں: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ موجودہ دور ریاست میں صورت حالات کچھ زیادہ

٥٢

صفحہ ٤٠٣

پیچیدہ ہو چکی ہے۔ لیکن اگر انصاف کی عینک اور غور و تامل کی دوربین سے دیکھا جائے تو واضح ہو جائے گا کہ میری تبلیغی مساعی محض صداقت اور جوش مذہب کا ایک نتیجہ ہے۔ میرے اس متواتر تبلیغ اور پیہم اصلاحات مذہبی کے پیچھے کسی کا سیاسی ہاتھ متحرک نہیں ہے۔ بلکہ میری اپنی ہی ایماندارانہ سیاست میرے لئے کافی ہے۔ پس یہ محض مرزائیوں کا ایک وہمی قضیہ اور قیاس بازی ہے۔ ورنہ جس سال میں مذہبی خلاف کا آغاز ہوا اور مخالفت کی جنگ شروع ہوئی تو اس وقت سید عبدالجبار شاہ صاحب اور محمد فرید خاں صاحب (موجودہ والئے صاحب ریاست) کا آپس میں انتہائی اتفاق اور اتحاد تھا۔ پس اس وقت کس کی تحریک تھی بلکہ مرزائیت کے خلاف ابتدائی جلسہ میں جب کہ مسلمانان ریاست وغیرہ مذہبی ایثار اور اسلامی قربانیوں کے لئے آمادہ ہو کر برسر پیکار ہو چکے تھے۔ اس وقت اس فتنہ کی روک تھام کے لئے جس قدر جناب ممدوح نے میرے ساتھ تبادلۂ خیالات کر کے اس بڑھتی ہوئی آگ فساد کے روکنے میں جو کوشش کی تھی۔ وہ ایک واضح دلیل ہے کہ ان کی اس معاملہ میں کوئی تحریک نہیں ہے۔

اگر بفرض محال وہی محرک مان لئے جاویں تو پھر فتنہ مرزائیت کی اس رفتار کے برخلاف جو ریاست کی ملکی وملی ترقی کے حق میں زہر ہلاہل کا حکم رکھتی تھی۔ ان کی یہ تحریک قابل تبریک ہے۔ یا لائق نفرین۔

نواب صاحب: ہاں بیشک قابل تحسین و تبریک ہے۔ مجھے آپ کی صداقت اور آپ کے ایماندارانہ جذبات اور ملکی خیر خواہی پر کمال وثوق واعتماد ہے واقعی یہ مرزائیوں کی غلط بیانیاں ہیں۔ آپ بلا روک ٹوک اپنا مذہبی کام با اختیار کرتے رہیں۔ غرض لاہوری وفد کو بے نیل و مرام واپس رخصت کر دیا گیا۔

مرزائی عجب خان زبدہ مشیر مال ریاست انب کے ساتھ میرا مذہبی مباحثہ

چونکہ وزیر اعظم صاحب ریاست وغیرہ مرزائی کارکنان کا تمام ریاست پر مرزائی سیاست کا تسلط جمانا اصل مقصود تھا۔ اس لئے انہوں نے ریاست کے اعلیٰ عہدے حاصل کر لئے تھے۔ جو اس سلسلہ میں عجب خاں ساکن زبدہ کو جو کہ مرزائیوں کا قائد اعظم تھا۔ ریاست کے مشیر مالی کے لئے مدعو کیا گیا۔ چنانچہ اس کے دوران حکومت میں اس کے ساتھ میری ملاقات کا ایک دن اتفاق ہوا۔ دوران گفتگو میں خان صاحب موصوف نے کہا کہ کاش علماء مذہب شغل تکفیر سے باز آجائیں۔ بجواب میں نے کہا کہ کاش کم فہم مرزائی اپنے خانہ ساز نبی سے باز آجائیں۔

٥٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٤

عجب خان: میں مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا بلکہ مجدد مانتا ہوں۔ میں: کیا مجدد کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ شرک سے پاک ہو۔ عجب خان: ہاں ضروری ہے۔ میں: کیا مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ حیات مسیح کا قائل مشرک ہے۔ عجب خان: ہاں ضرور تھا۔ میں: کیا مرزا قادیانی آٹھ دس سال تک عیسیٰ مسیح کے حیات کے قائل نہیں تھے۔ دیکھو ازالہ اوہام اور براہین احمدیہ میں، اگر قائل ہے تو قائل ہونے کی صورت میں خود بقول مرزا قادیانی وہ مشرک ہوئے اور بقول آپ کے وہ مجدد نہیں ہیں۔ عجب خان: آپ باقی سوالات جو کچھ کرنے ہوں پیش کریں تین دن کے بعد جوابات تحریر کر کے بھیج دوں گا۔ میں: بہتر ہے۔

سوالات

میں: کیا کوئی مجدد جو امتی ہوا کرتا ہے۔ کسی نبی سے کسی وقت میں بھی زیادہ رتبہ پاسکتا ہے۔ اگر پاسکتا ہے تو کن عقائد کے ماتحت اور نوعیت ان کی کیا ہوگی۔ کیا مرزا قادیانی جو بقول آپ کے مجدد یعنی امتی تھے۔ انہوں نے انبیاؤں سے ہمسری اور فضیلت کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ کیا یہ قول مرزا قادیانی کا نہیں ہے کہ ”میں مہدی مسعود ہوں اور بعض نبیوں سے افضل ہوں۔“

(معیار الاخیار ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣

ص ٢٧٨)

کیا مرزا قادیانی نے (فیصلہ آسمان ص ٤، خزائن ج ٤ ص ٣١٣) میں یہ نہیں لکھا ہے کہ میں نبوت کا مدعی نہیں ہوں۔ بلکہ اس قسم مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔

اور (اشتہار مورخہ ١٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء مقام دہلی، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١) میں یہ نہیں لکھا ہے کہ مدعی نبوت کو کافر کاذب جانتا ہوں۔

اور پھر اس نے (حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠) میں یہ نہیں لکھا ہے کہ مجھے خدا نے کہا: ”انک لمن المرسلین“ یعنی خدا کہتا ہے کہ تو بلاشک رسول ہے۔

اور (اخبار بدر مورخہ ٥؍ مارچ، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) میں یہ دعویٰ نہیں کیا: ”ہم رسول

٥٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٥

اور نبی ہیں۔“

پس جب وہ ایک طرف مدعی نبوت کو کافر کہتے ہیں اور دوسرے طرف خود مدعی نبوت ہیں ۔ تو اندریں صورت آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا ایمان کس پایہ کا ہے۔

کیا مرزا قادیانی نے (ست بچن ص ٣، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢، ١٤٣، ج ٢١، ص ٢٧٥) میں یہ نہیں فرمایا کہ جھوٹے شخص کی کلام میں ضرور تناقض ہوتا ہے۔

اور (ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥) میں نیز یہ مذکور بالا تصریح نہیں کی ہے اور (ست بچن ص ١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢) میں وہ یہ لکھتے ہیں کہ: ”مختلف دعاوی کے قلب اور زبان سے وہی باتیں پیدا ہوں گی جو پاگلوں مجنونوں سے پیدا ہوتی ہیں ۔“ حالانکہ مرزا قادیانی سے ایسی مختلف اور متناقض باتیں ثابت ہوئی ہیں جن سے کوئی مرزائی بھی انکار نہیں کر سکتا ہے۔

دیکھو (اخبار بدر مورخہ ٥/ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”ہم رسول اور نبی ہیں۔“

اور پھر (حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”خدا کی پناہ کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں نبوت کا مدعی بنوں۔“

اور (حاشیہ تجلیات الہیہ ص ٩، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠١) جو کہ اوپر گذر چکا ہے میں لکھتے ہیں کہ: ”آنحضرت ﷺ کے بعد کسی پر لفظ نبی کا اطلاق جائز نہیں ہے۔“

اور پھر نبوت کا دعویٰ بھی کیا غرض ۔ مندرجہ بالا سوالات کو میں نے تحریر کر کے دے دیا اور چونکہ اس مجلس میں جناب اکبر شاہ میاں وغیرہ بعض کاکا خیل صاحبان نیز موجود تھے۔ جو ان کی وساطت سے یہ عہد نامہ جانبین سے لیا گیا کہ جو شخص ہار جائے تو پانچ صد روپیہ دے گا۔ چنانچہ تاریخ مقررہ میں بمقام در بند ہجوم کی کثرت تھی کہ مباحثہ کا وسیع احاطہ اہل اسلام سے کھچا کھچ بھر گیا تھا۔

عجب خان صاحب کی ناکامی اور بھاگڑ

گو کہ عجب خان صاحب کتمان حق اور تلبیس باطل کے لئے بہت کچھ ادھر ادھر ہاتھ پاؤں کو مارتے رہے۔ مگر بفضل خدا تائید آسمانی سے ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور خود مرزا قادیانی کے حوالہ جات اور تصنیفات کے معائنہ سے ان کو خاموش ہونا پڑا۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں

٥٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٦
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

اس مباحثہ کے اختتام اور اس کے نتائج کے لئے بعض متزلزل شدہ مسلمانوں کو جن کا متاع ایمان خطرہ میں تھا، شدید انتظار تھا۔ اگر خدانخواستہ خان صاحب موصوف کچھ قدر بھی کامیاب ہوجاتے تو ریاست میں بہت لوگ مرزائی ہوجاتے۔ چونکہ شرط پر روپیہ کا لینا شرعاً جائز نہیں تھا۔ اس لئے مشروط رقم کا مطالبہ اس سے نہیں کیا گیا۔

عجب خان صاحب موصوف کا میرے نام مراسلہ اور اس کا جواب

فضیلت پناہ جناب قاضی القضاۃ صاحب ریاست انب عمہ فیضکم !

السلام علیکم مزاج گرامی

اس دن کہ آپ کو ولی عہد صاحب محمد فرید خاں نے وعظ اور تقریر کرنے کے لئے بمقام در بند مدعو کیا تھا۔ جو یہ عاصی آپ کی دل پذیر تقریر کو اپنے دائرہ میں جو کہ مجلس وعظ کے قریب تھا سنتا رہا۔ زیادہ لطف حاصل ہوا۔ خصوصاً معلوم کیا گیا کہ تمام ضلع پشاور میں قرآنی معلومات کے لحاظ سے آپ کو تمام علماء سے ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ برائے مہربانی مسئلہ نسخ قرآنی کے متعلق قرآنی دلائل کے رو سے مطلع فرماویں کہ اس کا جواز کہاں تک درست ہے۔ زیادہ حد ادب!

عجب خان مشیر مال ریاست انب

بواپسی والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!

نامہ والا شرف صدور لا کر کاشف احوال ہوا۔ میرے حق میں جو آپ نے حسن ظنی کا اظہار فرمایا۔ وہ آپ کے حسن اخلاق کا نتیجہ ہے۔ آپ کا قرآنی ذوق قابل تحسین ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ اگر قرآنی معلومات کی تصویر کا اصلی رخ سامنے رکھ کر انصاف کی دوربین سے دیکھیں گے تو ثابت ہوجائے گا کہ احمدی طبقہ محض احمدیت زدہ ہیں۔ توہمات کا شکار ہیں۔ اس امر کا شرح وبسط طولانی دفتر کا محتاج ہے۔ کسی مناسب وقت میں تبادلہ خیالات کیا جاکر اس امر کو بے نقاب کرنے کی کوشش کروں گا۔ انشاء اللہ!

باقی نسخ فی الاحکام عقلاً اور سمعاً جائز اور واقع ہے۔ جمہور اہل اسلام کا اس پر اتفاق ہے۔ بغیر یہود کے اور کوئی فرقہ نسخ کے مسئلہ سے منکر نہیں ہے۔ مگر چونکہ توریت کا اکثر حصہ نسخ سے پر ہے۔ اس لئے ان کا یہ انکار نیز فضول ہے۔ دیکھو نوح علیہ السلام اور اس کی اولاد کے لئے

٥٦

صفحہ ٤٠٧

کشتی سے اترتے ہی خون کے بغیر تمام جاندار حیوانات کو حلال کر دیا گیا تھا۔ مگر موسوی شریعت میں بنی اسرائیل پر بہت سے جاندار کو حرام کر دیا گیا۔ توریت کے احکام سے ثابت ہے کہ آدم علیہ السلام بہن بھائی کا نکاح آپس میں کیا کرتے تھے۔ مگر موسوی شریعت کے رو سے اس نکاح کو مطلقاً حرام کر دیا گیا۔ موسوی شریعت میں ختنہ کرنا ثابت ہے۔ مگر عیسائی اس سے منکر ہیں۔ معلوم ہوا کہ سابقہ شرائع میں نسخ فی الاحکام ہوتا چلا آیا ہے۔ یہ کچھ محمدی شریعت کے ساتھ مختص نہیں ہے اور وہ لوگ جو یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ کسی حکم کا منسوخ کرنا پشیمانی اور عیب کی بات ہے اور ندامت خدائے تعالیٰ کی شان کے ساتھ شایان نہیں ہے تو یہ ان کی حماقت ہے۔ کیونکہ اس منسوخ کردہ حکم کی میعاد واجب تعالیٰ کے نزدیک وہی مقرر تھی جس کے ختم ہونے پر وہ میعادی حکم موقوف کر دیا گیا۔ پس یہ کوئی ندامت نہیں ہے۔ بلکہ عین حکمت ہے۔ اگر عقل کی دوربین سے عالم کون وفساد میں دیکھا جائے تو واضح ہوگا کہ جس طرح ہر لمحہ و ہر آن میں طرح طرح کے حوادثات یکے بعد دیگرے پیش آیا کرتے ہیں۔ کبھی صحت ہے، کبھی مرض ہے۔ کبھی فقر اور کبھی تونگری ہے۔ یہ سب کچھ اس قادر مختار کی حکیمانہ کاروائی پر دال ہیں۔ جیسا کہ ان باتوں سے عیب اور پشیمانی ثابت نہیں ہو سکتی ہے۔ اسی طرح نسخ فی الاحکام بھی اس کا حکیمانہ ایک فعل ہے۔ جیسا کہ کوئی حاذق حکیم مریض کے حالات پر غور کرتا ہوا۔ مرض کی تبدیلی سے نسخہ میں نیز تبدیلی کر دیتا ہے۔ حالانکہ آپ لوگ اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتے۔ بلکہ اس حکیم کو اس سے تجربہ کار سمجھتے ہیں۔ فقط!

دستخط: خادم اسلام عاصی محمد اسحاق!

نواب صاحب کے فرزند اکبر اور فرزند صغیر پر

اثر ڈالنے کے متعلق مرزائیوں کی ناپاک کوشش

جب مرزائیوں کی مایوسی کا ہجوم زیادہ ہو گیا تو اپنی کامیابی کے لئے انہوں نے ایک دوسرا پہلو اختیار کر لیا تھا۔ یعنی نواب صاحب کے بیٹوں میں سے ہر ایک کو جداگانہ ولی عہدی کا طمع دے کر مسرت آمیز اطمینان دلایا اور اس ضمن میں ان کی یہ کوشش تھی کہ ان کو مرزائیت کے دائرہ اثر میں لایا جائے۔ لیکن آسمانی تائید سے نواب صاحب کے فرزند رشید جناب محمد فرید خان صاحب (موجودہ والیٔ ریاست صاحب بہادر) نے اپنے عقل راشد سے کام لے کر اس سے اپنے آپ کو بچا رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ آخر کار مرزائیوں نے اس کے متاثر ہونے کو مشکل

٥٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٨

ہی نہیں بلکہ محالات سے سمجھ کر اپنی پالیسی کی تصویر کا رخ بدل دیا۔ یعنی باپ بیٹے کے درمیان میں مخاصمانہ اور کشیدہ حالات کے پیدا کرنے کے لئے اپنی طاغوتی قوت کے استعمال سے کام لیا۔ جس کو بے نقاب کرنے کے واسطے طویل وقت کی ضرورت ہے اور یہ اس لئے کیا کہ شاید وہ باپ کی جانب سے معتوب اور مرعوب ہو کر اپنی افتادگی کے زیر اثر ہمارا ساتھ دے دیں۔ پس اگر چہ رفتہ رفتہ ان کی ذاتیات پر چاروں طرف سے یورش ہونے لگی۔ مگر انہوں نے پامردی اور استقلال کو ہاتھ سے نہیں دیا۔ ادھر جب اس خادم اسلام نے اس بڑھتی ہوئی مخالفت کو دیکھ کر یہ ضروری سمجھا کہ اس اختلاف کی دیوار کو جس نے باپ بیٹے کے درمیان میں بے وجہ حائل ہو کر خطرناک صورت اختیار کر لی ہے اور مستقبل کے لئے ان کے دینی دنیاوی مشکلات کا باعث ہے۔ جہاں تک ہو سکے منہدم کرنے کی کوشش کی جائے۔ تا کہ مرزائی طبقہ اس مرحلہ میں بھی نامراد رہ جائے۔ چونکہ خدائے تعالیٰ کے فضل سے میرے اور نواب صاحب کے درمیان میں وہ خوشگوار تعلقات پیدا ہو چکے تھے۔ جن کو برادرانہ تعلقات کے درجہ پر زیادہ تفوق حاصل تھا۔ لہٰذا میں نے بمقام ڈوگہ ذیل کی گفت و شنید ہونے پر کامیابی حاصل کر لی تھی۔

میں: میں اپنے تجربہ کے لحاظ سے اس بات کے کہنے پر جرأت کر سکتا ہوں کہ ریاست کی تمام تر قوتیں عنقریب اس خانگی افتراق اور اختلاف کی نذر ہو جاویں گی۔ خود غرض لوگوں کے ہاتھوں اس اختلاف کی خلیج اور بھی وسیع ہونے والی نظر آ رہی ہے۔ خدانخواستہ اس سے وہ تلاطم پیدا ہو جائے گا۔ جس سے ریاست کو بہت کچھ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ پس دور حاضرہ کی سیاست کے پیش نظر قرین مصلحت یہ امر ہے کہ جلد تر اس اختلاف کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے۔

نواب صاحب: اس اختلاف کو مٹانا محالات سے نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ کیونکہ ایک تو محمد فرید میرے اوقات حیات میں جانشین ہونے کا متمنی ہے۔ دوئم اس نے میری ذاتیات کے خلاف بہت کچھ کدو کاش شروع کی ہوئی ہے۔

میں: کیا وہ اوّل الذکر معاملہ میں کسی حکومتی آئین کے ماتحت کامیابی حاصل کر سکتا ہے یا نہ؟

نواب صاحب: ہر گز نہیں۔ کیونکہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ وہ میری زندگی میں میرا

٥٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠٩

جانشین ہو سکے۔

میں: تو پھر یہ امر قرین قیاس نہیں ہے کہ وہ باوجود اس قدر فراست اور معاملہ فہمی رکھنے کے اس قسم لاحاصل امر کے لئے تضیع اوقات کریں گے۔ یہ سب کچھ مرزائیوں کے غلط ڈھکوسلے ہیں اور مؤخر الذکر معاملہ میں اگر وہ ایسا کریں گے تو اس کا اثر ریاست پر پڑے گا۔ یا کسی غیر پر۔

نواب صاحب: ہاں ضرور ریاست پر پڑے گا۔

میں: یہ کس قدر خلاف از عقل ہے کہ ایک طرف وہ اپنے آپ کو ریاست کی جانشینی کا مستحق سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف ریاست کے وقار اور اقتدار کے مٹانے کی کوشش کریں گے۔

نواب صاحب: ہاں ٹھیک۔

میں: میں حیران ہوں کہ مخالفین اس قدر بیجا الزامات کو ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ مگر آپ نے حاکم ہونے کی حیثیت سے کبھی بالمشافہ تدارک نہیں فرمایا ہے۔

نواب صاحب: تدارک کی ضرورت نہیں ہے۔

میں: حق اور باطل میں امتیاز کس طرح ہوگا۔ آپ حاکم الوقت ہیں۔ ایسے الزامات سے اغماض کرنا حکومتی اصول کے خلاف ہے۔ بہتر یہ ہوگا کہ ثالثانہ اور منصفانہ تدارک فرما کر اصلاح کی جائے۔

نواب صاحب: بہتر ہے۔ آپ محمد فرید اور اورنگزیب دونوں کو ظہر کی نماز کے بعد ساتھ لائیں۔ چنانچہ میں نے قبل از ظہر ہر ایک سے مصلحانہ تبادلہ خیالات علیحدہ علیحدہ کر کے نماز کے بعد دونوں کو جناب نواب صاحب کی خدمت میں حاضر کیا اور یہ بہتر سمجھا گیا کہ باقی چند ایک بااقتدار اشخاص کا موجود ہونا نیز ضروری ہے۔ جن قاضی صاحبان شیر گڑھ کھیاں اور خان صاحب محمد اسماعیل خان برادر نواب صاحب کو نیز شریک مجلس کیا گیا۔ اگرچہ دونوں بھائیوں کے درمیان یکے بعد دیگر کچھ ایسی باتیں ہوئیں۔ جو ایک دیگر کے خلاف تھیں اور نواب صاحب نے نیز حاکمانہ حیثیت سے دونوں کو یکے بعد دیگر مخاطب کرتے ہوئے عتاب فرمایا۔ مگر آخر کار اس خادم اسلام کی تلقین پر دونوں بھائیوں نے باہم مصالحت کر کے آپس میں معانقہ کیا اور نواب صاحب نے نیز اپنی رضامندی کا اظہار فرمایا اور حلفی وعدہ کے ساتھ باہم اتفاق اور اتحاد رکھنے کا تہیہ کیا گیا۔ اگرچہ

٥٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١٠

کافی عرصہ تک باہمی اتفاق کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن رفتہ رفتہ مرزائیوں کے زیر اثر پھر اسی اختلاف اور شقاق کے منحوس قدم نے آگے بڑھ کر مرزائیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اگرچہ نواب صاحب کے فرزند رشید جناب نواب محمد فرید خان صاحب نے اپنے استقلال مذہبی کو ہاتھ سے نہیں دیا۔ مگر افسوس کہ محمد اورنگزیب خان صاحب نے مرزائیوں کے تاثرات سے متاثر ہوکر ان کا ساتھ دینے میں کوئی سستی روا نہیں رکھی۔

میری ذاتیات کے خلاف مرزائیوں کی آخری جنگ

میں نے اپنی تبلیغی مساعی کو فتنہ مرزائیت کے استیصال کے لئے انتہائی مراحل تک پہنچا دیا تھا اور کسی صورت سے مخالفین کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ تا بحدیکہ ہمارے مابین اس مذہبی مخالفت کی رفتار نے عرصہ چھ سات سال طول کھینچ لیا تھا اور اس عرصہ میں بعض جزوی واقعات فی مابین اس قسم کے پیش آیا کرتے۔ جن کے لحاظ سے غلبہ کا پلہ اکثر میری ہی جانب ہوا کرتا تھا اور گاہے ان کی جانب بھی، لیکن اس مرحلہ تک پہنچ کر مرزائیوں کو اپنے مستقبل کا بہت کچھ فکر لاحق حاصل ہوا۔ جو اس امر میں غور و خوض کرنے کے لئے انہوں نے ایک خاص اجلاس بمقام دربند منعقد کیا اور تمام مشاہیر و مرزائی اکابر نے شمولیت اختیار کی۔ جو میرے اقتدار کے خلاف مختلف تجاویز پر بحث و تمحیص ہوئی۔ آخر کار اس سلسلہ کی پہلی کڑی جو نواب صاحب کے آنکھوں کے سامنے پیش کی گئی تھی۔ وہ یہ بتلایا گیا کہ اس مذہبی مخالفت کے پیچھے جناب (موجودہ فرمانروائے ریاست ) محمد فرید خان کا ہاتھ متحرک ہے اور مرزائیت کے خلاف جس قدر بھی آواز بلند کی جاتی ہے۔ وہ انہی کے زیر اثر ہے۔

فتنہ مرزائیت کے خلاف تبلیغی مساعی پر پابندیاں

مورخہ ٢١؍اگست ١٩٣٢ء کو نواب صاحب والیٔ ریاست نے مجھے طلب کر کے تبادلہ خیالات کیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے۔

نواب صاحب: یہ بات پایۂ یقین کو پہنچ چکی ہے کہ آپ کی یہ مذہبی اشتعال انگیزیاں کسی مخفی ہاتھ کے زیر اثر ہو رہی ہیں۔

میں: یہ مرزائیوں کی تنگ نظری اور مغالطہ دہی کا ایک واضح اور بین نتیجہ ہے کہ میری تبلیغی مساعی اور میرے ایثار و قربانیوں کو کسی ذاتی اغراض اور عصبیت پر محمول کیا جاتا ہے۔ یہ

٦٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١١

سب کچھ میرے ایماندارانہ جذبات کے نتائج اور عواقب ہیں۔ کسی خود غرض شخص کے زیر اثر میری یہ مذہبی تبلیغ ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ میں اس بات کو جرم عظیم سمجھتا ہوں کہ خدائی خدمات کے صلہ میں کسی دنیاوی متاع یا کہ کسی اور کی خوشنودی کو اختیار کروں۔

نواب صاحب: کیا اس مذہبی مخالفت کا محرک محمد فرید خان نہیں ہے؟ یا کہ سید عبدالجبار شاہ صاحب کے دبانے کے لئے والیٔ سوات صاحب کا ہاتھ اس میں نہیں ہے؟

میں: یہ بالکل مرزائیوں کی دروغ بانی اور غلط بیانی ہے۔ سچ ہے۔ ”الغریق یتشبث بکل حشیش“ یعنی ڈوبا ہوا شخص ہر ایک تنکے کے پکڑنے کے لئے ہاتھ لمبا کرتا ہے۔

برعکس نہند نام زنگی کافور

غرض مرزائی طبقہ نے اپنے مختلف خود ساختہ واقعات کے زیر اثر نواب صاحب کو اس بات پر آمادہ کر دیا کہ مرزائیت کے خلاف ریاست میں تبلیغ نہ ہونے پائے۔ چنانچہ اس مضمون کا مراسلہ نواب صاحب نے میرے نام صادر فرما کر پابندیاں عائد کر دیں۔

ریاست سے ہجرت کرنے پر میری آمادگی

اور مسلمانان ریاست و قبائل غیر میں ہیجان و اضطراب

چونکہ یہ خادم اسلام دین حق کی خاطر عزیز سے عزیز چیز کو بھی خیر باد کہنے کے لئے آمادہ رہا کرتا تھا اور ملت حنیف کے لئے ہر مصیبت کو صبر و استقلال سے برداشت کرنے میں کوئی کوتاہی روا نہیں سمجھتا۔ اس لئے خدا کے فضل سے مرزائیت یا کہ ریاست کی کسی طاقت سے مرعوب ہو کر دین حق کے بیان کرنے سے میں نے کوئی خاموشی اختیار نہیں کی۔ بلکہ مذہبی تبلیغ کے سلسلہ کو بدستور جاری رکھا اور مرزائیت کے خلاف میری نقل و حرکت کے متعلق جس قدر پابندیاں منجانب حکومت ریاست عائد کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق میں نے کوئی عمل نہیں کیا۔ رفتہ رفتہ جب بعض ایسے دلخراش اور مذہبی ناگفتہ بہ واقعات در پیش آ گئے۔ جن کے پیش نظر میرے لئے ریاست میں قیام رکھنا باعث گناہ متصور تھا۔ اس لئے میں نے ہجرت کا اعلان کر دیا۔ مگر ادھر اعلان کرنا تھا تو ادھر ملک میں چاروں طرف سے اضطراب و ہیجان کا طوفان بلند ہو گیا۔ بعض مسلمانان ریاست نے میرے ساتھ ہجرت کرنے کا تہیہ کر لیا اور چشم زدن میں اس واقعہ نے اسلامی جرائد و اخبارات کے کانوں تک پہنچ کر ان کے کالم پُر کر دیئے اور اسلامی اخبارات و مذہبی صحائف نے میری

٦١

صفحہ ٤١٢

حمایت میں حصہ لے کر مختلف مضامین کو ریاست کے خلاف شائع کر دیا۔

سرحد کے مختلف مقامات میں جلسوں کا انعقاد

صوبہ سرحد اور نیز پنجاب کے بعض مقامات میں میری حمایت کے متعلق ریاست کے خلاف جلسوں کا انعقاد کیا گیا۔ فتنہ مرزائیت اور ریاست کی اس ناعاقبت اندیشی کے خلاف تقریریں ہوئیں اور نواب صاحب والیٔ ریاست کو توجہ دی گئی کہ جلد تر اس مذہبی خرابی کی اصلاح کی جائے۔

بعض آزاد قبائل کی طرف سے میرے نام خطوط

چونکہ پیشتر ازیں تمام ملحقہ غیور قبائل میں فتنہ مرزائیت کی غلاظت و عفونت کی خبریں پہنچ چکی تھیں اور میرے و مرزائیوں کے مابین جو مذہبی جنگ جاری تھی۔ اس سے تمام آزاد قبائل مطلع اور باخبر تھے۔ لہٰذا میرے اس ارادہ ہجرت سے ان پر بہت کچھ اضطرابی اثر پیدا ہوا اور میری ہمدردی میں انہوں نے مظاہروں کا آغاز کیا۔ ان سے نواب صاحب بہت متاثر ہوئے۔ اکثر اراکین قبائل نے میری ہمدردی میں جو میرے ساتھ نامہ و پیام کا سلسلہ جاری کیا وہ ان کے مذہبی جوش کا نتیجہ تھا۔

جناب نواب صاحب بہادر کی جانب سے میرے پاس وفد کا آنا

اور مجھے ارادہ ہجرت کے فسخ کرنے پر مجبور کرنا

جب نواب صاحب بہادر کو ملک میں اس بے چینی اور ہنگامہ خیز واقعات کا احساس ہوا اور ریاست میں بدامنی پیدا ہونے کا خطرہ معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے ایک خاص الخاص خانوادہ مصاحب کو ان کے چند ایک باقی رفقاء کے ساتھ میرے پاس بھیجا۔ جس نے نواب صاحب کی جانب سے نہایت تسلی بخش اور اطمینان دہ پیغامات لا کر میرے ارادہ ہجرت کے فسخ کرنے کے لئے مزید کوشش کی اور اس بارہ میں متعدد دفعہ آمدورفت کی۔ لیکن وہ ہر بار بے نیل و مرام واپس ہوتا رہا۔ کیونکہ میرا مقصد صرف یہی تھا کہ فتنہ مرزائیت کا استیصال ہو جائے۔ باقی کسی دنیاوی اعزازات کے حاصل کرنے کی توقع نہیں تھی۔ آخر کار نواب صاحب کو جب مایوسی ہوئی تو ایک دوسرا وفد جو کہ میرے عزیز اقارب پر مشتمل تھا۔ یعنی جناب اخویم قاضی صاحب شیر گڑھ و پسرش

٦٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١٣

قاضی غلام یحییٰ و برادرم قاضی عبدالغنی وغیرہ کو میرے پاس بھیجا۔ گفت و شنید ہونے پر انہوں نے اپنی انتہائی کوشش کے زیر اثر مجھے نواب صاحب کے پاس حاضر کرا کر تبادلۂ خیالات کرنے کے لئے مجبور کیا۔ مجلس عامہ میں گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد میرا اور نواب صاحب کا جو خاص تخلیہ ہوا۔ وہ ذیل کے تبادلۂ خیالات پر مشتمل تھا۔

میں: جب تک مرزائیت کے فتنہ کا ریاست میں قلع قمع نہ ہوگا۔ تب تک میرا ریاست میں قیام رکھنا ناممکن ہے۔ کیونکہ ایک طرف مرزائی طبقہ ہمارے عزیز مذہب اور پیشوایان دین کے ساتھ تمسخر اڑائیں اور دوسری طرف خاموشی اختیار کر کے اس جرم عظیم کو کس طرح گوارا کیا جائے۔

نواب صاحب: مرزائیوں کو اس مذہبی آزادی سے قطعاً منع کر دیا جائے گا۔ آپ بدستور استقامت کے ساتھ تبلیغی کوشش کرتے رہیں۔ آپ کے احترام و عزت میں سرمو تک بھی فرق نہ آئے گا۔ چنانچہ آپ نے اس وعدہ کو قرآنی حلف کے ساتھ نیز مؤکد فرمایا۔ اگرچہ مجھے قوی اعتماد نہیں تھا۔ کیونکہ مرزائیوں نے نواب صاحب کے خیالات کو منتشر کرنے کی بلیغ کوشش کی تھی جو وہ ایک حد تک مایوس کن تھی۔ لیکن نصرت قیومی کی بارش کا نزول مایوسی کے ہجوم لانے کے بعد دفعۃً بھی ہو جایا کرتا ہے۔ اس لئے بامید فتح ہجرت کے ارادہ کو فسخ کر لیا گیا۔ بعد ازاں فتنہ مرزائیت کی قوت میں اگرچہ پستی اور کمزوری پیدا ہو گئی تھی۔ مگر تاہم وہ اپنے مذہبی اشاعت سے باز نہ آتے تھے۔

مرزائیوں کے جنازہ سے بائیکاٹ اور اس سلسلہ میں تہدیدی احکام

اس دوران میں بمقام انب احمد نام مرزائی کا انتقال ہوا۔ چونکہ متوفی مرزائی کے قبائل اور عشائر کے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں وہاں آباد تھے۔ لہٰذا اہل قبیلہ نے اس کی تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ میں شمولیت کے لئے تہیہ کر لیا اور ریاستی مرزائیوں کی برسر اقتدار جماعت نیز وہاں حاضر ہو گئی تھی۔ پس اس خادم اسلام نے اپنی فوری تدابیر کے ماتحت اس مرزائی کے جنازہ وغیرہ سے کلی بیزاری کا حکم دے دیا۔ جو چشم زدن میں اس حکم نے جملہ اطراف میں گشت لگا کر اس کے تمام مسلمان قبیلہ کو بائیکاٹ کرنے کے لئے متاثر کر دیا۔ جو اس کے تمام اقارب

٦٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١٤

نے یک لخت اس سے بیزاری اختیار کر کے آئندہ کے لئے نیز بائیکاٹ کرنے کا عہد کیا۔ اگر چہ ذی اقتدار مرزائیوں نے باقی لوگوں کی شمولیت کے لئے انتہائی کوششیں کیں۔ مگر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ نیز مرزائیوں کے جنازہ کے اور بھی کئی ایسے واقعات پیش آتے رہے اور کلی بائیکاٹ بھی ساتھ ہوتا رہا۔ ریاستی مرزائیوں نے اگر چہ مسلمانوں کی اس بیزاری کی تیز رفتاری کو اپنے جذبہ خواہشات کے خلاف سمجھ کر اپنے لئے باعث توہین وتذلیل سمجھا اور پہلو و بہر رنگ سے اس رفتار کے مٹانے کے لئے مقدور بھر کوششیں کیں۔ لیکن مسلمانان ریاست کو حکم مصدرہ شرعیہ کے آگے چاروناچار سر تسلیم خم کرنا پڑتا تھا۔

سمندر خان مرزائی کی مسلمہ ماں کے جنازہ سے مرزائیوں کا اخراج

سمندر خان مرزائی جو ایک قائدانہ اور مبلغانہ حیثیت رکھتا تھا۔ اس کی ماں کا انتقال ہوا۔ چونکہ وہ سنی المذہب تھی۔ اس لئے اس خادم اسلام نے اس کی تجہیز و تکفین کو مسلمانوں کے سپرد کر دیا۔ جس سے مرزائیوں کے طاغوتی جذبات بے حد مشتعل ہو گئے اور ریاست کے برسر اقتدار مرزائیوں نے جمعیت کی شکل میں موقعہ پر پہنچ کر مزاحمت اور فساد کے لئے آمادگی اختیار کی۔ لیکن اسلامی اوج اور شان کا علم ہمیشہ بلند ہی رہا کرتا ہے۔ اس لئے وہ کامیاب نہ ہو سکے اور صلوٰۃ جنازہ کے مراسم کو میں نے خود ادا کیا اور مرحومہ کے مرزائی بیٹوں وغیرہ مرزائی اکابر کو جنازہ کی حدود سے جبراً نکال دیا گیا۔

فتنہ مرزائیت اپنے آخری مراحل پر

بمقام دربند ١٩٣٥ء کو بدستور سابق میں نے جمعہ کے دن مرزائیت کے خلاف تبلیغ کرتے ہوئے مرزائیت کے تباہ کن جراثیم سے مسلمانان ریاست کو آگاہ کیا۔ جس سے مرزائیوں نے اشتعال کھا کر میری تقریر اور تبلیغ کے خلاف مجمع عام میں تمسخر اڑائے اور امامنا امام اعظم ابو حنیفہؒ وغیرہ فقہائے کرام کے خلاف توہین آمیز الفاظ کا استعمال کیا۔ میں نے بمع قاضی صاحب عبداللہ آف کھمیاں کے نواب صاحب کے پاس حاضر ہو کر ان کو فوری توجہ دی اور کہا کہ اگر مرزائیت کے خلاف کوئی جابرانہ قدم نہ اٹھایا جائے تو ملک میں بدامنی اور انقلاب پیدا ہونے کا خطرہ ہے اور ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔ نواب صاحب نے متاثر ہو کر اس موجودہ وقت کے حاضرین

٦٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١٥

مرزائیوں کو اپنے خاص اجلاس میں طلب کر کے جلادوں کے ہاتھ سے عبرتاً ان کو تازیانے لگائے اور بعضوں کو جلاوطن کیا گیا اور بعض سزائے قید کے شکار ہوئے۔ چونکہ بعض مرزائی اکابر اس وقت ریاست میں موجود نہیں تھے۔ اس لئے حکومت ریاست کے اس فوری اور بے پناہ حملہ سے وہ بچ گئے تھے۔ رفتہ رفتہ انہوں نے موقعہ پا کر خارج کردہ اور محبوس شدہ مرزائیوں کو آزادی دلا کر اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر پھر مقرر کرا دیا اور ریاست کے سادہ لوح مسلمانوں پر مرزائی حکام نے پھر وہ تسلط جما لیا تھا۔ جس کی وجہ سے کوئی حساس مومن ان کے خلاف قدم اٹھانے کے لئے جرأت نہیں رکھ سکتا۔ مگر خدا کا فضل اور اس کی نصرت اس عاجز کی کوششوں کے ساتھ شامل حال تھی کہ ریاستی مسلمانوں میں سے بجز دو چار آدمیوں کے اور کسی نے ان کا مذہبی ساتھ نہیں دیا۔ ورنہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا اور اس عاجز کو تن تنہا ان کے مقابلہ کے لئے اس قدر طویل عرصہ میں جرأت اور دلیری نہ دی جاتی تو اس اسلامی ریاست میں جس کی آبادی سو فیصدی مسلمان ہیں۔ وہ مذہبی انقلاب برپا ہو جاتا۔ جس کی اصلاح کے لئے تمام دست اور بازو بیکار رہ جاتے۔ ”ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء“

فتنہ مرزائیت کی آخری موت اور موجودہ فرمانروائے ریاست

جناب محمد فرید خان صاحب بہادر

جناب ممدوح نے جب عنان حکومت کو اپنے ہاتھ میں لیا تو ان کے دور حکومت کی تاریخ گویا مرزائیت ریاست کا آخری صفحہ تھا۔ جناب موصوف نے ریاست کی مالی، سیاسی، اقتصادی حالات کے درست کرنے کے لئے تب قدم اٹھایا۔ جب کہ اپنے ایمانی جذبات کے ماتحت فتنہ مرزائیت کو غبار کے مانند ریاست سے اڑا دیا۔ اہل ریاست کے مذہبی تحفظ کی خاطر مرزائیوں کو جلاوطن کر دیا گیا۔ جو ریاست کی تاریخی زندگی میں یہ ایک ضروری اور جدید انقلاب تھا۔ دراصل یہ شاندار واقعہ اس خدائے قدوس کے منتقم ہاتھ کی حرکت کا ایک واضح نتیجہ تھا۔ یہ واقعات ہر ایک حساس مومن کے لئے باعث عبرت ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ دین حق کی حمایت کے لئے خدائے قیوم کا غیر مرئی ہاتھ ہر وقت متحرک رہا کرتا ہے۔ نشیب و فراز کے پیش آنے پر کبھی مایوس نہ ہونا چاہئے۔

فاعتبروا یا اولی الابصار!

٦٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٦

میری وفادارانہ کارکردگیوں کے صلہ میں جو والیان ریاست سے سندات اور سرٹیفکیٹ ملے ہیں وہ ذیل میں درج ہیں۔ میری پچھلی کارگزاریوں اور وفاداریوں کے لحاظ سے جو نواب صاحب سر محمد خانی زمان خان کے۔سی۔آئی ای۔ والیٔ ریاست انب نے سندات مرحمت فرمائے۔ ان کی تعداد و شمار گو کہ زیادہ ہے۔ لیکن یہاں دو ہی سندات کو حوالہ قلم کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

سند نمبر: ١

از پیش گاہ جناب نواب محمد خانی زمان خان صاحب بہادر والیٔ ریاست انب ضلع ہزارہ، شمالی مغربی صوبہ سرحد۔

مابدولت تصدیق فرماتے ہیں کہ شریعت دستگاہ جناب قاضی القضاۃ، مولانا محمد علی صاحب مرحوم ابتدائے ١٢٧٠ھ لغایت ١٣٢٢ھ تک میرے قبلہ گاہ مرحوم کے عہد حکومت میں نہایت حزم و احتیاط غایت تقویٰ و دیانت داری سے معاملات قضاء کو فیصل فرماتے رہے ہیں۔ بعد از وفات جناب ممدوح کے آغاز ١٣٢٢ھ سے آپ کے خلف الصدق جناب شریعت پناہ قاضی مولوی محمد اسحق صاحب نے مسند قضاء کو رونق بخشی۔ چنانچہ جناب ممدوح نیز ریاست کے دینی و دنیاوی بہبودی کو مدنظر رکھ کر کمال دیانت داری اور تقویٰ سے اپنے فرائض منصبی کو انجام دے رہے ہیں۔ اینجانب تصدیق فرماتے ہیں کہ جناب موصوف نے نہایت بے ریائی اور کمال وفاداری سے معاملات قضاء کو تا حال انجام دیا ہے۔ تاریخ ٢٠؍ ١٣٤٠ھ مطابق ١٩٢٢ء کی۔ دستخط: مہر نواب صاحب محمد خانی زمان خان والیٔ ریاست انب۔

سند نمبر: ٢

از پیش گاہ جناب میجر سر نواب صاحب بہادر خانی زمان خان والیٔ ریاست انب۔

مابدولت تصدیق فرماتے ہیں کہ عرصہ مدید سے جناب شریعت پناہ فضیلت دستگاہ حضرت قاضی القضاۃ برادرم مولوی محمد اسحاق صاحب نے جب سے محکمہ قضاء کو رونق بخشی تو تمام تر معاملات اسلامی متعلق دار القضاء اور دار الافتاء ریاست کو نہایت ہی غور مبنی اور انصاف پرستی و غایت ہی دیانتداری اور احتیاط سے انجام دے رہے ہیں۔ تمام تر نقائص ملکی سے اپنے آپ کو یکسو اور مجتنب رکھ کر اپنی ذاتی اور خاندانی شرافت اور علمی لیاقت کے زیر اثر ملکی اور اسلامی

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 419

انا خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

میں

اور

قادیان

سید عبدالمجید شاہ امجد بخاری بٹالویؒ

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

”الحمد للہ رب العالمین ونصلی علیٰ رسولہ الکریم“

ابھی میری عمر قریباً چھ یا سات برس کی تھی کہ مجھے پہلی دفعہ اپنے تایا صاحب سید نظام الدینؒ کے ہمراہ قادیان جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے تایا صاحب اور مرزا غلام احمد قادیانی کے درمیان بہت گہرے تعلقات تھے اور اس موقعہ پر مرزا قادیانی نے میرے تایا صاحب کو اپنے فرزند ارجمند کے عقیقہ کی تقریب پر مدعو کیا تھا۔ جو غالباً مرزا بشیر الدین کے بڑے بھائی تھے۔ میرے تایا صاحب اپنی اہلیہ کو اور مجھے ساتھ لے گئے۔ مرزا قادیانی کی اہلیہ بحالت زچگی زنانہ کمرے میں آرام فرما تھیں اور میرے تایا صاحب اور مرزا غلام احمد قادیانی دیوانخانہ میں مصروف گفتگو رہے۔ گھر میں میری عمر کا ایک لڑکا تھا جو شاید ڈاکٹر اسماعیل تھا۔ ہم دونوں آپس میں اکٹھے کھیلا کرتے تھے۔ چنانچہ چند روز قادیان میں گزار کر ہم واپس بٹالہ آگئے۔

تایا صاحب مرحوم نے دہلی میں دینی تعلیم حاصل کی تھی اور وہاں علمائے کرام اور بزرگان دین سے فیوض ظاہری اور باطنی حاصل کئے تھے۔ مرزا قادیانی کو جب کبھی قادیان سے باہر جانا ہوتا تو وہ عام طور پر بٹالہ میں تایا صاحب سے مل کر ہی جاتے۔ کیونکہ ان دنوں بٹالہ ہی سے گاڑی پر سوار ہونا پڑتا تھا۔ یہ ملاقاتیں اسی وقت تک تھیں۔ جب تک کہ مرزا قادیانی نے ابھی کسی قسم کا کوئی دعویٰ مسیحیت وغیرہ نہ کیا تھا۔ دعویٰ مسیحیت کے بعد جب وہ تایا صاحب کی ملاقات کے لئے آئے تو تایا صاحب نے فرمایا کہ مرزا قادیانی جب تک آپ مبلغ اسلام یا مناظر اسلام تھے۔ مجھے آپ سے اتفاق تھا۔ مگر اب چونکہ آپ حدود شریعت سے تجاوز کر رہے ہیں۔ اب آپ کی اور میری آپس میں نبھتی معلوم نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس سے میری مراد یہ ہے کہ جس طرح مسیح مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔ اسی طرح میں ان مردہ دلوں کو جو اسلام سے دور جارہے ہیں۔ اپنی وعظ ونصیحت سے زندہ کرتا ہوں۔ تایا صاحب نے فرمایا کہ مجھے آپ کی اس تاویل سے الحاد کی بو آ رہی ہے اور شاید یہ فتنہ قیامت بن کے رہے۔ اس روز سے تایا صاحب نے مرزا قادیانی سے ملنا جلنا ترک کر دیا۔

اس کے بعد میرا طالب علمی کا زمانہ شروع ہوا۔ مڈل پاس کرنے کے بعد جب میں انٹرنس میں داخل ہوا تو میرے رشتے کے بھائی محترم سید شاہ چراغ صاحب قادیانی بھی بٹالہ تشریف لائے اور میرے ساتھ ہی انٹرنس میں داخل ہوئے۔ ان کی رہائش بھی ہمارے ہاں ہی تھی۔ دو چار دفعہ رخصتوں کے موقعہ پر ان کے ساتھ بھی وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس کے بعد

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤١٩

میری ابتدائی ملازمت سپرنٹنڈنٹ ڈاکخانہ امرتسر ڈویژن کے دفتر سے شروع ہوئی اور ملازمت کا کچھ عرصہ سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں ہی گزارا۔

مرزا قادیانی کی وفات

جس روز مرزا قادیانی لاہور میں فوت ہوئے۔ اس دن میں اتفاق سے رخصت پر بٹالہ آیا ہوا تھا۔ اسی روز صبح چھ بجے کے قریب تایا صاحب غریب خانہ پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں۔ مگر تم کہو گے کہ تایا سٹھ (پچھتر ٧٥) گیا ہے۔ اس وقت ان کی عمر ایک سو پانچ برس کی تھی۔ میں نے عرض کی کہ نہیں آپ وہ بات ضرور بتادیں۔ فرمایا کہ مجھے رات ایسا معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی لاہور سے بخیریت قادیان واپس نہیں جائے گا۔ میرے چہرے پر کچھ مسکراہٹ کے آثار دیکھ کر فرمانے لگے کہ وہی بات ہوئی نہ، میرے ایک اور بزرگ پاس بیٹھے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ ابھی بچہ ہے۔ اسے کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسے اسرار سے مطلع کر دیتا ہے۔ چنانچہ ابھی دن کے ساڑھے دس بجے تھے کہ شیخ عبدالرشید صاحب کو جو ہمارے پڑوسی اور مرزا قادیانی سے عقیدت رکھنے والے تھے۔ لاہور سے تار آیا کہ مرزا قادیانی کا لاہور میں دن کے نو بجے انتقال ہوگیا ہے۔ ان کی نعش کو رات کی گاڑی بٹالہ لایا جارہا ہے۔ اسے قادیان لے جانے کے لئے انتظام کر چھوڑیں۔

قادیان میں ملازمت

١٩١٠ء میں محکمہ کی طرف سے مجھے قادیان کی سب پوسٹ ماسٹری کا حکم ملا۔ میں نے سپرنٹنڈنٹ سے گذارش کی کہ قادیان کی فضا میری طبیعت اور حالات کے موافق نہیں۔ میرا وہاں کا تبادلہ منسوخ کیا جاوے۔ کیونکہ پہلے تو امرتسر میں صبح کو استاذی حضرت حاجی الحرمین الشریفین مولانا مولوی نور احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کے درس میں شامل ہوا کرتا تھا اور شام کو جب وہ طالب علموں کو حدیث وفقہ کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ اس میں بھی شامل ہو جایا کرتا تھا۔ اس کے بعد حضرت مولانا مولوی غلام محی الدین صاحبؒ نے مسجد خیر الدین میں صبح کے وقت درس قرآن کے علاوہ حدیث وفقہ کی تعلیم بھی شروع کر دی تھی اور مولانا مولوی محمد حسن صاحبؒ اس درس گاہ میں نائب مدرس تھے۔ ایسے حالات میں مجھے امرتسر چھوڑنا گوارا نہ تھا۔ مگر حکم حاکم مرگ مفاجات سے کم نہیں ہوتا۔ مجھے دسمبر ١٩١٠ء کو امرتسر چھوڑنا پڑا۔

امرتسر سے فارغ ہو کر میں نے دو چار روز بٹالہ میں گزارے اور پھر بال بچوں کو ہمراہ لے کر قادیان پہنچا۔ وہاں سید عبدالغنی شاہ صاحب سب پوسٹ ماسٹر تھے۔ ان کو فارغ کیا۔ ان

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٠

دنوں مولوی (حکیم) نور الدین صاحب گھوڑی سے گر کر صاحب فراش تھے۔ ان کو چوٹوں کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔ ڈاکٹر محمد حسین ، ڈاکٹر یعقوب بیگ اور مرزا کمال الدین وغیرہ ان کی تیمار داری کرتے تھے۔ ایک روز میں بھی فرصت نکال کر بیمار پرسی کے لئے گیا۔ مگر ڈاکٹر صاحبان نے مولوی صاحب کو اطلاع کرنے کی معذوری کا اظہار کیا۔ چنانچہ میں واپس لوٹ آیا۔

(حکیم) مولوی نور الدین صاحب قادیانی سے پہلی ملاقات

جناب مولوی صاحب کی حالت روز بروز بہتر ہونے لگی۔ چنانچہ ایک روز انہوں نے اپنے مریدین سے دریافت کیا کہ ہم نے عرصہ سے سب پوسٹ ماسٹر کو نہیں دیکھا کیا بات ہے۔ چونکہ سید عبدالغنی شاہ سب پوسٹ ماسٹر ہر روز بلا ناغہ مولوی صاحب کی خدمت میں جایا کرتے تھے اور چونکہ ان کے بال بچے وہاں نہ تھے۔ اس لئے روٹی بھی انہیں لنگر سے جایا کرتی تھی۔ مریدین نے عرض کیا کہ پہلا سب پوسٹ ماسٹر یہاں سے تبدیل ہو گیا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا شخص آیا ہوا ہے۔ چنانچہ مولوی صاحب نے ایک خاص آدمی میری طرف بھیجا کہ حضرت صاحب آپ کو یاد فرماتے ہیں۔ مجھے چونکہ سرکاری کام کی زیادتی تھی۔ میں نے کہلا بھیجا کہ اس وقت تو معذور ہوں۔ کل شام چھ بجے حاضر ہونے کی کوشش کروں گا۔ دوسرے روز حسب وعدہ مولوی صاحب کی خدمت میں پہنچا۔ اس وقت مولوی صاحب صحن میں چارپائی پر بیٹھے تھے۔ مرزا محمود صاحب قادیانی ان کے پاس تشریف فرما تھے۔ علیک سلیک کے بعد مولوی صاحب کمال مہربانی سے کھڑے ہو گئے۔ مصافحہ کیا۔ مرزا محمود قادیانی چارپائی کی پائینتی کی طرف ہو گئے اور مولوی صاحب نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔ باقی اکابرین و حاضرین نیچے فرش پر بیٹھے تھے۔ مزاج پرسی کے بعد مولوی صاحب نے فرمایا۔ آپ کو قادیان میں آئے کتنا عرصہ ہوا ہے اور یہاں کسی قسم کی کوئی تکلیف تو نہیں۔ اگر کوئی تکلیف ہو تو بلا تامل بتا دو کہ اسے رفع کیا جاسکے۔

میں نے بعد از شکریہ عرض کی کہ میرے دو عزیز یہاں ہی رہتے ہیں۔ ایک تو برادرم محترم سید شاہ چراغ صاحب دوسرے میرے بزرگ محمد علی شاہ صاحب چونکہ یہ دو گھر میرے اپنے ہی ہیں۔ اس لئے میں اپنے آپ کو اپنے گھر میں ہی سمجھتا ہوں۔ مولوی صاحب کو محمد علی شاہ صاحب کا سن کر مسرت ہوئی۔ کیونکہ وہ ان کے خاص مریدین سے تھے۔

مولوی نور الدین صاحب کا درس

مکمل صحت ہونے پر مولوی صاحب نے حسب دستور درس قرآن حکیم شروع کیا۔ میرے مہربان دوست مجھے ہر روز مجبور کرتے کہ کسی روز مولوی صاحب کا درس سنوں۔ میں نے

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢١

انہیں ہر چند ٹالا کہ میں بڑے بڑے علماء کا درس سن چکا ہوں اور دوسرے مجھے فرصت بھی کم ہے۔ مگر ان کے زیادہ اصرار پر ایک روز میں ان کے ہمراہ درس میں شامل ہوا۔ اس وقت مولوی صاحب حضرت زکریا علیہ السلام کا بیان فرمارہے تھے کہ جب حضرت زکریا علیہ السلام بوڑھے ہوگئے تو دعا کی کہ یا الٰہی میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ قویٰ کمزور ہوچکے ہیں۔ ہڈیاں سست پڑگئی ہیں۔ سر کے بال بھی سفید ہوچکے ہیں۔ تو اپنے رحم وکرم سے مجھے فرزند عطا فرما۔ جو میرا اور یعقوب کی اولاد کا وارث ہو تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دن رات تسبیح وتحلیل کرو۔ میں تم کو فرزند عطا کروں گا۔ اس کا نام یحییٰ علیہ السلام رکھنا اور اس نام کا پہلے کوئی پیغمبر نہیں گزرا۔ چنانچہ مولوی صاحب نے یہ تمام قصہ بیان کر کے فرمایا کہ میری طرف دیکھو کہ جب میں جوان تھا۔ مجھے اولاد نرینہ نصیب نہ ہوئی۔ مگر اب بڑھاپے میں مرزا قادیانی پر ایمان لاکر تسبیح وتحلیل کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے دو فرزند عطا فرمائے۔ مولوی صاحب نے اسے مرزا قادیانی کا معجزہ ثابت کیا۔ جس سے تمام قادیانی حاضرین کے ایمان میں ایک تازگی محسوس ہونے لگی اور سب جھومنے لگے۔ میں نے اپنے ہمراہ ہی سے کہا کہ قران حکیم میں صرف الفاظ ہیں کہ ”کانت امرأتی عاقراً“ کہ (میری بیوی بھی بانجھ ہے) مگر مولوی صاحب کی اہلیہ تو ماشاء اللہ ابھی نوعمر ہیں۔ اگر اس کا بانجھ ہونا تم ثابت کر دو تو میں آج ہی تمہارا ہم خیال ہونے کو تیار ہوں۔ مگر ایسا ثابت کون کرتا۔ اس کا مجھے اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ پھر انہوں نے درس میں جانے کے متعلق کبھی گفتگو نہ کی اور مجھے معلوم ہوگیا کہ مولوی صاحب کس قدر غلط بیانیوں سے کام لیتے ہیں اور کہ ان کو اپنے معتقدین کی کم علمی اور خوش فہمی کا خوب اندازہ ہے۔

قادیان میں پہلی نماز جمعہ

جمعہ کے روز جب میں مسلمانوں کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے گیا تو میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی کہ جمعہ مسجد میں صرف پانچ نمازی ہیں اور قاضی عنایت اللہ صاحب جو اس مسجد کے امام ہیں۔ مولوی عبدالکریم سیالکوٹی (قادیانی) کے مطبوعہ خطبہ کے اشعار پڑھ رہے ہیں۔ نماز ختم ہونے پر ایک بڑے میاں کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ بھائیو! جب تک دس نمازی نہ ہوں نماز جمعہ جائز نہیں۔ میں دو تین جمعہ سے یہی حالت دیکھ رہا ہوں۔ بہتر ہے کہ آئندہ سے نماز جمعہ ملتوی کردو۔ (یہ بڑے میاں مرزا سلطان احمد افسر مال کے منشی تھے جو مرزا قادیانی کی پہلی بیوی سے تھے اور مرزا قادیانی پر عقیدہ نہ رکھتے تھے۔ ان کے مرنے کے بعد یہ مشہور کیا گیا کہ آخر وقت وہ مرزا قادیانی پر ایمان لے آئے تھے۔ واللہ اعلم!)

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٢

میں نے بڑے میاں سے عرض کیا کہ ہم سے تو حقہ نوش بھنگی اور شرابی ہی اچھے ہیں کہ چند روز میں کئی اپنے ہم خیال پیدا کر لیتے ہیں۔ کیا ہم میں سے ہر شخص دو دو چار چار نمازیوں کو ساتھ نہیں لاسکتا کہ تعداد پوری ہو جائے۔ اس وقت قادیان میں سوائے ڈاکخانہ کے کوئی دوسرا سرکاری محکمہ نہ تھا۔ نمازیوں کے لئے میری یہ عرض گویا ایک سرکاری حکم یا ان کی حوصلہ افزائی کا سبب ہوا۔ کیونکہ قادیان کے قریب مسلمانوں پر قادیانی بھائیوں نے مختلف قسم کے دباؤ ڈال کر انہیں قریب قریب بے حس کر دیا ہوا تھا۔ الحمد للہ ! کہ میری یہ آواز ضائع نہ گئی۔ اگلے جمعہ چھ سات آدمی میں ہمراہ لے گیا۔ باقی مقتدی بھی چند ایک مسلمانوں کو ہمراہ لے آئے۔ میں نے قاضی عنایت اللہ صاحب امام مسجد کی اجازت سے وہاں جمعہ میں ختم نبوت اور دعویٰ مسیحیت پر تقریر کا سلسلہ شروع کر دیا۔

تیسرے چوتھے جمعہ میں مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھر گئی۔ اہل حدیث بھائی جو علیحدہ مسجد میں جمعہ پڑھا کرتے تھے۔ وہ بھی سب ادھر آنا شروع ہو گئے۔ کیونکہ میں فروعی مسائل میں نہ پڑتا تھا۔ چند جمعوں کے بعد یہ حالت ہو گئی کہ ہمیں مسجد کی توسیع کرنی پڑی۔ گرچہ اس میں بھی قادیانی دوستوں نے بہت سی رکاوٹیں پیدا کیں۔ مگر الحمد للہ کہ مسلمانوں کو اس میں کامیابی ہوئی۔

نانا جان

مرزا غلام احمد قادیانی کے خسر میر ناصر نواب عجب بامذاق انسان تھے۔ تمام قادیانی انہیں نانا جان کے لقب سے پکارتے تھے۔ ان دنوں انہوں نے دارالضعفاء کے لئے اپنی جماعت والوں سے چندہ کی اپیل کر رکھی تھی اور باہر سے چندہ کافی مقدار میں آرہا تھا۔ ڈاک کی تقسیم کے وقت آپ بنفس نفیس ڈاکخانہ کی کھڑکی پر تشریف لاتے اور فرماتے کہ سائل حاضر ہے کچھ ملے گا۔ چونکہ ڈاکخانہ کی عمارت ان کی صاحبزادی یعنی مرزا قادیانی کی بیوی کے نام پر تھی۔ جس کا کرایہ بھی وہ خود اپنے دستخطوں سے وصول کیا کرتی تھیں۔ اس لئے میں بھی اکثر یہ کہہ دیا کرتا تھا کہ آپ تو ڈاکخانہ کے مالک ہیں۔ ایک دفعہ آپ نے ایک شعر بطور نصیحت مجھے لکھوایا۔ جو میں نے نہ ان سے پہلے کسی سے سنا تھا اور ان کے بعد۔ جس سے اس جماعت کی ذہنیت پورے طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ وہ شعر یہ ہے۔

خوک باش و خرس باش با سگ مردار باش
ہر چہ خواہی باش لیکن اند کے زردار باش

یعنی سور بن یا ریچھ بن اور کتے کی طرح مردار بن جو کچھ دل چاہے بن ۔لیکن تھوڑا

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٣

بہت زر دار ضرور ہو۔ ایک دن میں نے بھی ان سے مذاق ہی میں کہا کہ نانا جان آپ کو ضعیفوں کا فکر کیوں دامنگیر ہے؟ چندہ کافی آرہا ہے۔ بجائے دارالضعفاء کے آپ ناصر آباد یا ناصر گنج کی بنیاد رکھیں اور یہ میری بھی ایک پیشین گوئی ہے کہ آپ اس قطعہ کا نام ان دونوں ناموں میں سے کوئی ایک رکھیں گے اور آپ ہی اس کے واحد مالک ہوں گے۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا۔

ماسٹر محمد یوسف صاحب (قادیانی) ایڈیٹر نور

ماسٹر صاحب بڑے خوش اخلاق، سنجیدہ مزاج اور صاف گو آدمی تھے۔ میری زیادہ تر نشست و برخاست ان کے ساتھ ہی تھی۔ صبح و شام اکثر سیر کو اکٹھے ہی جایا کرتے تھے۔ نانا جان اکثر انہیں کہتے کہ یوسف تمہیں سیر کے لئے کوئی اور دوست نہیں ملتا۔ جس کا جواب وہ اکثر یہی دیتے کہ آپ کو یہ برا کیوں محسوس ہوتا ہے۔ آخر سب پوسٹ ماسٹر میں کون سا عیب ہے کہ آپ مجھے اس سے ملنے سے منع کرتے ہیں۔ بہر حال وہ کسی نہ کسی طریقے سے انہیں خاموش کر دیتے۔ ماسٹر صاحب کی پہلی بیوی مولوی نور الدین صاحب کی ایک پروردہ لڑکی تھی۔ میری اہلیہ اور ماسٹر صاحب کی بیوی میں بھی آپس میں خاصی انسیت تھی۔ جب مرحومہ کا آخری وقت قریب تھا تو مرزا قادیانی کی بیوی تشریف لائیں اور کچھ اس انداز سے مرحومہ کو کہا کہ کیوں گھبرا رہی ہو۔ تم ابھی نہیں مرتی۔ میری اہلیہ اور مرحومہ دونوں کو یہ بات خاص طور پر بری محسوس ہوئی۔ چنانچہ چند ہی منٹ کے بعد وہ اس دارفانی سے رخصت ہو گئی۔ میری اہلیہ اس کے بچوں آصف، موسیٰ اور آمنہ کو گھر لے آئی کہ ان کا دل بچوں میں بہلا رہے اور وہ والدہ کی مفارقت کو محسوس نہ کریں۔

مولوی نور الدین صاحب کا زنانہ درس

مولوی صاحب مستورات کو بھی درس قرآن دیا کرتے۔ اس کے بعد وہ لیٹ جاتے اور مستورات ان کی ٹانگیں دباتیں اور ساتھ ہی خاوندوں کی شکایات شروع کر دیتیں۔ اس پر مولوی صاحب ان کے خاوندوں کو بلوا کر اکثر تو اپنے موعظہ و پند سے سمجھاتے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا ہے کہ عورتیں تمہاری امانتیں ہیں۔ ان کا خیال رکھو اور کبھی کبھار ڈانٹ ڈپٹ سے بھی کام لیتے۔ چنانچہ ایک دن ماسٹر صاحب کی بھی باری آئی۔ انہیں بلوا کر فرمایا کہ دیکھو میں نے تمہیں اپنی لڑکی دی ہے۔ مگر تم اس کی قدر نہیں کرتے اور اسے طرح طرح کی تکلیفیں دیتے ہو۔ مگر ماسٹر صاحب نے اپنی صاف گوئی سے کام لیا اور کہا کہ حضرت آپ میاں بیوی کے معاملات میں دخل نہ دیا کریں۔ عورتیں اکثر غلط بیانی سے کام لے کر ہم کو آپ سے برا بنواتی ہیں۔ اس سے ہمارے تعلقات اور بھی خراب ہو جاتے ہیں۔ اگر واقعی آپ میری بیوی کو اپنی لڑکی ہی سمجھتے ہیں تو آپ

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٤

فرما دیں کہ جتنا جہیز آپ نے اپنی لڑکی کو دیا تھا۔ کیا اسے بھی اسی قدر ہی دیا ہے۔ مرزا قادیانی کو تو ہم نے مسیح موعود تسلیم کیا۔ مگر خلافت تو ہماری قائم کردہ ہے۔ خدا کی طرف سے نہیں۔ چنانچہ اس کے بعد مولوی صاحب نے ان کے کسی معاملہ میں دخل نہ دیا اور اس کے بعد ان میاں بیوی کے تعلقات بھی آپس میں بہت اچھے رہے۔

اخبارات

قادیان میں اخبارات تو کثرت سے نکلتے تھے۔ ان کا عشر عشیر بھی تمام ضلع گورداسپور سے نہ نکلتا تھا اور یہی اخبارات اور رسالے مرزائیوں کو تبلیغ کا کام دیتے ہیں۔ وہ لوگ جن کو پہلے دین کا کچھ علم نہیں ہوتا۔ وہ ان کو پڑھ کر اکثر اس جماعت میں شامل ہو جاتے۔ میرے ایک مہربان شیخ یعقوب علی جو کسی زمانہ میں امرتسر میں وکیل اخبار میں کام کیا کرتے تھے۔ انہوں نے قادیان جا کر الحکم اخبار جاری کیا اور یہی ان کا سب سے پہلا اور معتبر اخبار تھا۔ اس کے صفحہ اوّل پر یہ شعر تحریر ہوتا تھا ؎

بیا در بزم رنداں تا بہ بینی عالمی دیگر
بہشتی دیگر وابلیس دیگر آدمی دیگر

بجائے بہشت کے بہشتی مقبرہ تو قادیان میں میں نے بھی دیکھا۔ باقی ابلیس و آدم یہ شیخ صاحب بہتر جانتے ہوں گے۔ یا شاید قارئین اس کا کچھ اندازہ کر سکیں۔ بہرکیف وہاں کا باوا آدم نرالا ہی تھا۔ مرزا قادیانی پیغمبر ہوئے۔ مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّل ابوبکر ثانی، مرزا بشیر الدین محمود فضل عمر خلیفہ ثانی۔ اب دیکھیں خلیفہ سوئم اور چہارم کون ہوتا ہے اور جنگ جمل کب شروع ہوتی ہے۔

حرمت رمضان شریف اور قادیان

مرزا قادیانی کا قول ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ قادیانی خاندان نبوت کا یہ حال تھا کہ نانا جان تو ہمیشہ رمضان شریف میں مسافر بن جاتے اور چندہ وصول کرنے کے لئے باہر چلے جاتے۔ مرزا محمود قادیانی اور ان کی محترمہ والدہ اتفاق سے اسی مہینہ میں بیمار ہو جاتے۔ کبھی آشوب چشم کی شکایت ہو جاتی۔ کبھی درد سر ہو جاتا اور کسی دن میں دو چار چھینکیں آ جاتیں تو مولوی محمد عارف صاحب امام اقصیٰ کو آرام ہو جاتا کہ دونوں وقت (فدیہ کی) مرغن غذا میسر ہو جاتی۔ ادھر دھرت رام بالائی کی برف والا دعائیں دیتا کہ نبوت خانہ میں اس کی برف کی خوب مانگ رہتی اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ کیونکہ خود مرزا قادیانی بھی روزہ تو کجا مسافری میں

٨

صفحہ ٤٢٥

رمضان شریف کا احترام تک بھی نہ فرماتے تھے۔ چنانچہ امرتسر میں رمضان مبارک کے مہینے میں تقریر فرماتے ہوئے پانی کا گلاس چڑھا جانا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ جب خود جناب مرزا قادیانی کا یہ حال تھا تو اہل بیت اور امتی تو جو کچھ بھی کریں جائز ہے۔

مولانا محمد علی صاحب ایم۔ اے (لاہوری مرزائی)

مولانا محمد علی صاحب جو کبھی ریاضی کے پروفیسر تھے۔ قادیان میں آکر اور مولوی نور الدین صاحب کے درس میں باقاعدہ شامل ہوتے رہنے کے باعث اب مولانا کا لقب حاصل کر چکے تھے۔ پہلے تو ریویو آف ریلیجنز (Review of Religions) کے ایڈیٹر رہے۔ پھر قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ شروع کیا۔ ان دنوں وہ مولوی نور الدین صاحب کے درس کے نوٹ اور چند انگریزوں اور مسلمانوں کے جو قرآن کریم کے انگریزی میں ترجمے کئے تھے۔ ان کی اور مختلف قسم کی ڈکشنریوں کی مدد سے ایک علیحدہ کوٹھی میں جو سکول کے پاس تھی۔ ترجمہ میں مصروف تھے۔ مولوی صاحب نے اپنے ترجمہ میں معجزات انبیاء کا جابجا انکار کیا ہے۔ حالانکہ خود مرزا قادیانی بھی تمام انبیاء کے معجزات کے قائل تھے اور ان کے اس قسم کے اشعار بھی موجود ہیں کہ معجزات انبیاء کا جو انکار کرے وہ اشقیاء سے ہے۔ چنانچہ مولوی صاحب نے حضرت ایوب علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے کہ: ”ارکض برجلك“ کے معنی گھوڑے کو ایڑی لگانا ہے۔ یعنی خدا نے حضرت ایوب علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنے گھوڑے کو ایڑی لگاؤ۔ آگے چل کر پانی ملے گا۔ حالانکہ حضرت ایوب علیہ السلام جب اپنے امتحان میں ثابت قدم رہے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ”ارکض برجلك“ یعنی اپنی ایڑیاں زمین پر مارو۔ یہاں سے پانی نکلے گا۔ جو ٹھنڈا ہوگا اور پینے اور غسل کے کام آوے گا۔ چنانچہ مولوی صاحب نے یہاں بھی اپنا رنگ نہ چھوڑا۔ حضرت موسیٰ کے عبور دریا کے معجزہ کی نسبت تحریر کرتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام فن انجینری میں ماہر تھے۔ انہیں اس علم سے معلوم ہوگیا کہ اس جگہ دریا میں پانی کم ہے۔ وہاں سے اپنے ہمراہیوں کو لے کر دریا عبور کر گئے۔ مگر فرعون کو چونکہ اس کا علم نہ تھا۔ اس نے اپنے اور اپنے لشکر کو گہرے پانی میں ڈال دیا اور غرق ہوگیا۔

بہ بین تفاوت راہ از کجاست تا بکجا

مولوی محمد علی صاحب تو ترجمہ میں مصروف رہے اور مرزا محمود احمد قادیانی جو کچھ عرصہ مصر وغیرہ میں گزار آئے تھے۔ جمعہ کو خطبہ دیا کرتے اور چونکہ وہ ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر بھی رہ چکے تھے۔ اس لئے انہیں تقریر و تحریر میں خاصی دسترس حاصل ہو چکی تھی۔ اس کے برعکس

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٦

مولوی صاحب ایک قسم کے گوشہ نشین ہی ہو چکے تھے۔ مولانا کا خیال تھا کہ مولوی نور الدین صاحب کے بعد وہ خلافت کی گدی پر متمکن ہوں گے۔ کیونکہ ایک خاصی پارٹی ان کی پشت پر تھی۔ مگر انکی گوشہ نشینی، قرآن کا ترجمہ اور دفتر محاسب کی منیجری ان کے کسی کام نہ آئی اور مرزا محمود احمد قادیانی اپنے زور تقریر و تحریر نیز نانا جان کی فراست و سیاست کے باعث اپنا کام نکال لے گئے۔ اس کا مفصل ذکر بعد میں آئے گا۔

قادیان سے میرا تبادلہ

چونکہ میں قادیان میں عارضی طور پر لگا ہوا تھا۔ اس لئے چھ سات ماہ کے بعد میرا تبادلہ پھر امرتسر کا ہو گیا۔

بعثت ثانی

چونکہ قادیان میں میرے کام سے افسر بھی خوش تھے اور قادیان کے اکثر اصحاب سے میرے تعلقات بھی اچھے تھے۔ اس لئے ١٩١٦ء میں جب قادیان کی جگہ خالی ہوئی تو مجھے مستقل طور پر وہاں جانے کا حکم ہوا۔ یعنی چھ سات سال کے انتقال کے بعد قادیان میں پھر بعثت ثانی ہوئی۔ مولوی نور الدین صاحب وفات پا چکے تھے اور مرزا محمود تخت خلافت پر متمکن تھے۔ ان کے خلافت حاصل کرنے کا قصہ بھی لطف سے خالی نہیں۔ نانا جان جو پرانے سیاستدان اور دوراندیش آدمی تھے۔ انہوں نے مولوی محمد احسن صاحب امروہی کو ان کے لڑکے محمد یعقوب کی شادی پر کافی روپیہ بطور قرض دے کر اپنا مرہون احسان کر رکھا تھا کہ یہ وقت ضرورت کام آئے گا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا الہام تھا کہ آسمان سے میرا نزول دو فرشتوں کے کندھوں پر ہوا ہے۔ جن میں سے ایک مولوی نور الدین اور دوسرا مولوی محمد احسن امروہی ہے اور یہ تھا بھی درست۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا نزول و صعود ان دونوں مولویوں کا مرہون منت ہے۔ ورنہ نبوت تو کجا وہ ایک معمولی عالم کی حیثیت بھی نہ رکھتے تھے۔ خیر! مولوی نور الدین صاحب کے انتقال کے بعد جب خلافت کا جھگڑا شروع ہوا تو لاہوری پارٹی مولوی محمد علی صاحب کے حق میں تھی اور جو لوگ میاں محمود احمد کے خطابات وغیرہ سن چکے تھے۔ وہ میاں صاحب کے حق میں تھے۔ اس وقت نانا جان نے مولوی محمد احسن صاحب کو اپنا احسان بتایا اور مدد کی درخواست کی۔ مولانا محمد احسن صاحب نے غنیمت سمجھا کہ اس صورت میں قرض کی بلا تو سر سے ٹلے گی۔ چنانچہ وہ ایک سبز رنگ کا کپڑا لے کر جلسہ عام میں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ بھائیو! تم کو مبارک ہو۔ رات حضرت مرزا قادیانی نے مجھے یہ فرمایا ہے کہ یہ سبز دستار میاں محمود احمد کے سر پر باندھ دو۔ وہی ہمارا جانشین

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٧

ہوگا۔ اب کون تھا جو اس فرشتہ کی بات کا انکار کرتا۔ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ حیران تھے یہ کیا ہو گیا۔ مگر ؎

اے زر تو خدا نہیں ولے بخدا
ستار العیوب وقاضی الحاجاتی

نانا جان کی دی ہوئی رقم کام کر گئی۔ اب مولوی محمد علی صاحب کو اس کے سوا چارہ ہی کیا تھا کہ اپنے رفقاء کو ساتھ لے کر قادیان سے رخصت ہوتے۔ چنانچہ وہ دفتر محاسب کے کچھ کاغذات اور کچھ روپیہ لے کر لاہور پہنچے اور امیرالمؤمنین کا لقب حاصل کر کے لاہور کو اپنا دارالخلافہ بنایا اور وہاں سے اخبار پیغام صلح جاری کر کے اپنا علیحدہ سلسلہ شروع کر دیا۔ مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کر کے انہیں مجدد ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ نانا جان کی سیاست سے مرزا محمود احمد قادیانی کے لئے قادیان کا میدان صاف ہو گیا۔ اب دونوں پارٹیوں میں جنگ زرگری جاری ہے۔ اس دفعہ میرے قادیان آنے پر یہاں کا نقشہ بدل چکا تھا۔ مولوی نورالدین کی وفات کے بعد مرزا محمود احمد قادیانی ہز ہولی نس کا خطاب حاصل کر کے تخت خلافت پر جلوہ افروز ہو چکے تھے۔ گھر سے باہر نکلنا موقوف ہو چکا تھا۔ کسی غیر آدمی کو بغیر اجازت ملنا دشوار تھا اور پوری شان خلافت سے قادیان میں حکومت کر رہے تھے۔ میرے جانے پر انہوں نے میرے پرانے رفیق ماسٹر محمد یوسف کو بھیج کر مجھے بلوایا۔ ہم دونوں وہاں پہنچے مرزا محمود قادیانی مکان کی دوسری منزل پر تشریف فرما تھے۔ علیک سلیک کے بعد آپ نے فرمایا۔ میں نے سنا ہے کہ آپ پہلے بھی یہاں رہ چکے ہیں۔ میں اس تجاہل عارفانہ پر حیران تھا۔ کیونکہ مرزا محمود صاحبزادگی کی حالت میں کئی مرتبہ ڈاکخانہ تشریف لائے اور کئی کئی منٹ تک میرے پاس بیٹھے تھے۔ مگر اب آپ کی کچھ عجب ہی شان تھی۔ پہلی ہی بات جو آپ نے مجھ سے دریافت کی یہ تھی کہ کیا قادیان میں بجائے ایک دفعہ کے، ڈاک دو دفعہ نہیں آسکتی۔ میں نے جواب دیا کہ ڈاک کا ٹھیکیدار اب اسی روپے لیتا ہے۔ امید نہیں محکمہ اور خرچ برداشت کر سکے۔ دوسری بات یہ دریافت کی کہ کیا یہاں تار گھر نہیں بن سکتا۔ میں نے کہا کہ آپ کی تمام مہینے میں بمشکل دس بارہ تاریں آتی ہیں۔ مگر آپ محکمہ کو لکھ دیں۔ شاید وہ دونوں باتوں کا انتظام کر دیں۔ ان دو باتوں کے علاوہ آپ نے تیسری بات کوئی نہیں کی۔ چنانچہ میں اور ماسٹر محمد یوسف صاحب واپس آئے۔ راستہ میں میں نے ماسٹر صاحب سے کہا کہ آپ مولوی نورالدین صاحب اور مرزا محمود احمد قادیانی کی ملاقات کا اندازہ کریں کہ کتنا فرق ہے۔ انہوں نے جتنی باتیں کی تھیں سب میرے فائدہ کی

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٨

تھیں اور مرزا محمود نے سوائے اپنے مطلب کی بات کے کوئی اور بات ہی نہیں کی۔ مرزا محمود ایک بادشاہ کی سی زندگی بسر کر رہے تھے۔ صرف بعد دوپہر مسجد میں درس دینے آتے اس میں قصبہ کی جماعت کے آدمی مدرسہ دینیات اور ہائی سکول کے طلباء شامل ہوتے۔

سکول کے طلباء اکثر ایک ہندو سے مٹھائی وغیرہ خریدا کرتے تھے اور کئی ایک کا ادھار بھی چلتا تھا۔ چنانچہ ایک روز حلوائی نے کسی طالب علم سے اپنے ادھار کا تقاضا کیا۔ طالب علم بھی سختی سے پیش آیا۔ جانبین کے حمایتی اکٹھے ہو گئے۔ آپس میں لڑائی ہوئی۔ جس سے دونوں طرف کے چند آدمی زخمی ہوئے۔ اطلاع میاں صاحب تک پہنچی۔ میاں صاحب نے فوراً حکم جاری فرما دیا کہ کوئی مرزائی کسی غیر مرزائی سے سودا نہ خریدے اور اگر کوئی سودا خریدتا ہوا پایا گیا تو اسے پانچ روپیہ جرمانہ کیا جاوے گا۔ اب چونکہ ان کی جماعت کی اتنی دوکانیں نہ تھیں کہ ان کی ضروریات پوری ہو سکتیں اور ادھر میاں صاحب کے نادر شاہی حکم سے سرتابی کی جرات نہ تھی۔ لہٰذا وہ چوری چھپے اپنے غیر مرزائی دوستوں کے ذریعے سے اشیاء منگوا کر ضرورت پوری کرتے۔ میرے اکثر دوست میرے پاس آتے اور میں انہیں بازار سے اشیاء منگوا دیتا۔

دفتر محاسب میں چٹھی رساں کو زد و کوب

جمعہ کے روز قادیان کے دفاتر اور خصوصاً دفتر محاسب دو بجے تک بند رہتا تھا۔ دفتر والوں نے اپنے طور پر چٹھی رساں سے فیصلہ کر رکھا تھا کہ وہ دفتر کے منی آرڈر وہاں چھوڑ آتا اور دو ڈھائی بجے جا کر واپس لے آتا۔ اکثر اوقات دفتر کا کلرک دیر سے آتا تو چٹھی رساں کی واپسی میں تاخیر ہو جاتی۔ جس کی وجہ سے ہمیں بھی دقت ہوتی۔ چنانچہ میں نے دو تین دفعہ چٹھی رساں کو تنبیہ کی کہ وقت پر واپس دیا کرے۔ ایک جمعہ کو وہ تقریباً ساڑھے تین بجے روتا ہوا دفتر میں آیا اور بتایا کہ کلرک دفتر محاسب منی آرڈروں کی واپسی میں دیر کرتا ہے۔ آج میں نے اسے جلد واپس کرنے کو کہا۔ جس پر اس نے مجھے دفتر میں سب سٹاف کے روبرو مارا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس دفتر کا کوئی آدمی تمہاری شہادت دے سکتا ہے۔ اس نے کہا مجھے امید نہیں کہ اس کلرک کے خلاف کوئی سچی شہادت بھی دے۔ میں نے اس سے تحریری بیان لے کر ناظم دفتر محاسب کو بھیج دیا۔ چونکہ محکمانہ کاروائی تو بغیر شہادت کے فضول تھی۔ میں نے یہ سوچا کہ ان کی دیانت و تقویٰ کا ہی امتحان ہو جائے گا۔ ڈاکٹر رشید الدین، مرزا محمود صاحب کے خسر ان دنوں دفتر کے انچارج تھے۔ بیان کے ساتھ میں نے یہ لکھ دیا کہ جب آپ اس معاملہ کی تحقیقات کریں تو چٹھی رساں کو اور مجھے بھی بلوالیں۔ چند روز تک اس کا کوئی جواب نہ آیا۔ میری دوبارہ یاد دہانی پر مجھے جواب ملا

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٢٩

کہ میں خود تفتیش کر کے جواب دوں گا اور تم یہ بتلاؤ کہ تم اس مقدمے میں کس حیثیت سے پیش ہو سکتے ہو۔ نہ ہی تو تم موقعہ کے گواہ ہو اور نہ ہی کوئی قانون دان کہ چٹھی رساں کی وکالت کر سکو۔ لہٰذا تمہارے آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس تحریر کے لہجہ سے میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی کہ سرکاری عدالتوں میں بھی اتنی سختی سے کام نہیں لیا جاتا کہ سوائے گواہوں اور وکیلوں کے کوئی کمرہ عدالت میں نہ جاوے۔ مگر یہ قادیانی عدالت تھی۔ میں نے اس کا جواب خاموشی سے دیا اور غریب چٹھی رساں کا بھی کچھ نہ بنا۔

قادیان میں انجمن حمایت الاسلام

اس دفعہ بھی مسجد میں جمعہ میں ہی پڑھایا کرتا اور مسجد میں بھی اب خاصی رونق ہو جاتی تھی۔ مسلمانوں میں بیداری کے کچھ آثار پیدا ہو چکے تھے۔ ہم نے وہاں انجمن حمایت الاسلام کی بنیاد ڈالی۔ قاضی عنایت اللہ صاحب صدر مقرر ہوئے۔ مہر الدین سیکرٹری علیٰ ہذا القیاس خزانچی وغیرہ، عید الاضحیٰ کا موقعہ قریب تھا۔ خیال ہوا کہ اس موقعہ پر چندہ اکٹھا کر کے اپنے علماء کو بلوا کر جلسہ کیا جاوے کہ وہ ہمیں ہمارے صحیح عقائد سے آگاہ کریں۔ عید کے روز نصف شب سے بارش ہوئی اور متواتر صبح تک ہوتی رہی۔ ہماری مسجد چھوٹی تھی۔ جس میں عید کی نماز کی گنجائش مشکل تھی۔ مرزا محمود قادیانی نے بارش کی وجہ سے بجائے اس ہماری عید گاہ کے جس پر انہوں نے جابرانہ قبضہ کر رکھا تھا۔ عید اپنی عبادت گاہ اقصیٰ میں پڑھائی۔ ان کا عید کی نماز پڑھنا تھا کہ زور کی آندھی آئی، بادل چھٹ گئے، موسم نہایت خوشگوار ہو گیا۔ لہٰذا ہم نے اسی عید گاہ میں نماز پڑھی۔ بیرونجات سے اس قدر نمازی اکٹھے ہوئے کہ مسلمانوں کا اتنا ہجوم قادیان میں اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ چنانچہ میں نے عید کی نماز پڑھائی اور انجمن کے مقاصد بیان کر کے چندہ کی اپیل کی۔ قریباً ایک سو روپیہ تو وہاں اکٹھا ہو گیا۔ چند روز کی کوشش سے تقریباً چار صد روپیہ جمع ہو گیا۔ حسن اتفاق سے گورداسپور میں ایک جلسہ منعقد ہو رہا تھا۔ جس میں علاوہ علمائے کرام کے اور بزرگان دین بھی شمولیت کر رہے تھے۔ مجھے احباب نے مجبور کیا کہ میں ان کے ساتھ وہاں چلوں اور وہیں قادیان کے جلسہ کے متعلق بھی ان لوگوں سے مشورہ کر کے ان کو دعوت دی جائے۔ میں نے محکمہ سے پانچ روز کی رخصت لی اور دوستوں کے ساتھ گورداسپور پہنچا۔ وہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ میرے محسن و کرم فرما حاجی حرمین الشریفین جناب پیر جماعت علی شاہ صاحب علی پوری بھی تشریف فرما ہیں۔ جب میں امرتسر میں دسویں جماعت میں تعلیم پاتا تھا۔ میرے بزرگ اور رشتہ دار مولانا سید احمد علی صاحب مسلم ہائی سکول میں شعبہ دینیات کے مدرس اعلیٰ تھے۔ ان کے تعلقات حضرت موصوف

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٠

سے بہت گہرے تھے۔ ان کی وجہ سے حضرت صاحب مجھ سے خاص انس رکھتے تھے۔ بلکہ جب کبھی کہیں دعوت پر تشریف لے جاتے تو اپنے خلیفہ خیر شاہ صاحب کو بھیج کر مجھے بلوا لیا کرتے تھے۔ غرضیکہ ان کی گورداسپور میں تشریف آوری کا سن کر مجھے یک گونہ اطمینان ہو گیا۔ نماز عصر کا وقت تھا۔ آپ مسجد حجامان میں تشریف فرما تھے۔ میں اور میرے ساتھی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ مجھے عرصہ کے بعد دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور پوچھا کہ آج کل کہاں ہو۔ میں نے عرض کیا کہ قادیان میں، مسکرا کر فرمایا کہیں مرزائی تو نہیں ہو گئے۔ میں نے عرض کی ابھی سوچ رہا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے ابھی اتریں گے اور وہاں عیسیٰ موجود ہے۔ نقد کو چھوڑ ادھار کون لے؟ خیر میں نے ان سے عرض حال کی۔ آپ نے اپنی حاضری کی تو معذرت فرمائی اور اسی وقت اپنے چند خلفاء کو تحریر کر دیا کہ جس وقت قادیان سے انجمن حمایت الاسلام کی دعوت پہنچے وہ ضرور وہاں پہنچیں اور جلسہ کی کامیابی کے لئے دعاء فرمائی۔ وہاں سے ہم حضرت مولانا سراج الحق صاحب کی قیام گاہ پر گئے۔ مولانا سراج الحق صاحب سے بھی میرے نیاز مندانہ تعلقات تھے۔ جب آپ کے والد صاحب بٹالہ میں تحصیلدار تھے تو آپ کے چھوٹے بھائی اور میں ہم جماعت تھے اور ہم دونوں اکثر ان کے حلقہ ذکر و اذکار میں شامل ہوتے تھے۔ اس لئے وہ مجھے بھی اپنے بھائی جیسا ہی سمجھتے تھے۔ چنانچہ آپ نے بھی مولوی حامد علی صاحب گمٹالوی اور ایک مولوی صاحب جو وہاں موجود تھے۔ انہیں تاکید فرمائی اور مولوی نواب دین صاحب (ستکوہی) کو کہلوا بھیجا کہ قادیان سے اطلاع آنے پر وہ شامل جلسہ ہوں۔ گورداسپور سے فارغ ہو کر میں امرتسر پہنچا اور اپنے محسن و مربی استاذی حاجی الحرمین الشریفین جناب مولانا مولوی نور احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت مولانا قادیان میں جلسہ کا سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ یہ نیک کام تم سے لینا چاہتے ہیں۔ میں نے کچھ رقم بطور کرایہ پیش کی۔ آپ نے فرمایا عزیز تمہیں معلوم ہے کہ میں خود صاحب زکوٰۃ ہوں۔ میں صرف اس نیت سے وہاں جانا چاہتا ہوں کہ شاید میرے وعظ و نصیحت سے کوئی راہ راست پر آ جاوے تو میری بخشش کا باعث ہو۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اب مولوی ثناء اللہ صاحب (امرتسری) کے پاس جاؤ۔ میرا سلام عرض کرو اور کہنا کہ وہ اس موقعہ پر ضرور قادیان پہنچیں۔ کیونکہ انہیں مرزا قادیانی کی تصانیف پر مکمل عبور ہے۔ مولوی صاحب میرے بھی مہربان تھے۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت مولانا کا پیغام بھی دیا۔ مولوی صاحب فرمانے لگے کہ میں تو عرصہ سے اس بات کا خواہاں ہوں کہ قادیان جا کر تقریر کروں۔ عرصہ ہوا بٹالہ سے ایک پولیس کا سپاہی ساتھ لے کر ١٤

صفحہ ٤٣١

وہاں گیا تھا کہ مرزا قادیانی سے کچھ بات چیت کروں۔ مگر مجھے مرزا قادیانی نے روبرو گفتگو کا موقعہ نہ دیا اور صرف دو ایک باتیں تحریری دریافت کرنے کی اجازت دی اور میں وہاں سے بے نیل و مرام واپس لوٹا۔ چونکہ میں نے مرزا قادیانی سے مباہلہ بھی کیا تھا۔ جس کی وجہ سے اب تک مرزائیوں سے میری چھیڑ چھاڑ ہے۔ مجھے خطرہ ہے کہ وہ مجھ پر حملہ نہ کریں یا کھانے میں کسی قسم کا زہر نہ ملا دیں۔ میں نے ان کی تسلی کی کہ اس بات کی ذمہ داری میں لیتا ہوں۔ آپ کے لئے کھانا میں اپنے گھر سے پکواؤں گا۔ بلکہ خود آپ کے ساتھ کھایا بھی کروں گا۔ امرتسر سے فارغ ہو کر اگلے دن میں لاہور گیا۔ میرے بزرگ سید احمد علی شاہ صاحب جن کا ذکر میں نے پہلے بھی کیا ہے۔ ان دنوں لاہور اسلامیہ کالج کے عربی کے پروفیسر اور بادشاہی مسجد کے خطیب بھی تھے۔ ان سے سارا معاملہ بیان کیا۔ آپ بہت خوش ہوئے۔ فرمایا کہ اس بہانہ سے مجھے بہشتی مقبرہ دیکھنے کا موقع بھی مل جائے گا اور بچوں کو بھی دیکھ آؤں گا۔ وہاں سے فارغ ہو کر میں اپنے مہربان (بابو) پیر بخش صاحب پوسٹل پنشنر سے ملنے چلا گیا۔ آپ اس وقت اپنے ماہوار رسالہ (تائید الاسلام) جو قادیانیوں ہی کی تردید کے متعلق ہوتا تھا۔ تحریر کرنے میں مصروف تھے۔ مل کر بہت خوش ہوئے اور قادیان آنے کا وعدہ کیا اور مجھے اپنا ایک رسالہ بھی دیا۔ جس میں مرزا قادیانی کے نکاح آسمانی کا سارا پول کھولا ہوا تھا۔ اس میں مرزا قادیانی کے تمام دعاوی جو محمدی بیگم کے رشتہ داروں کو تحریر کئے تھے کہ اگر محمدی بیگم کا مجھ سے نکاح کر دو گے تو تم پر یہ یہ برکات نازل ہوں گی اور اگر انکار کرو گے تو عذاب الٰہی میں گرفتار ہو گے اور اپنے فرزند سلطان احمد (جو پہلی بیوی سے تھے) اس کے نام خطوط تھے کہ اگر محمدی بیگم کے رشتہ دار محمدی بیگم کا مجھ سے نکاح نہ کریں تو تم اپنی بیوی کو (جو محمدی بیگم کی قریبی رشتہ دار تھی) طلاق دے دو۔ ورنہ تمہیں عاق کر دیا جاوے گا اور بھی بہت سے ایسے راز ہائے درون پردہ کا انکشاف کیا ہوا تھا۔ بہر کیف وہاں سے فارغ ہو کر میں اور محترمی مولانا احمد علی صاحب بعد دوپہر قاضی حبیب اللہ صاحب خوش نویس کے ہاں پہنچے۔ قاضی صاحب نہایت خوش مذاق آدمی تھے۔ وہاں ان کے ہاں ہی جلسہ کی تاریخ مقرر کر کے اشتہارات کی لکھائی چھپوائی اور جہاں جہاں اشتہارات ارسال کرنے تھے۔ سب انتظامات مکمل کر کے ہم واپس گھر آئے۔ دوسرے روز ہم مولانا ظفر علی خاں صاحب کے ہاں پہنچے اندر اطلاع کی گئی۔ ملازم نے ہم کو کرسی پر بٹھا دیا۔ چند منٹ بعد مولانا تشریف لائے۔ ان دنوں مولانا کی عجب شان تھی۔ نیلے رنگ کی سرج کا سوٹ زیب تن تھا۔ کالر، ٹائی، ڈاسن کا بوٹ، بل دار مونچھیں، مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا۔ کیونکہ میرے ذہن میں مولانا کے متعلق مولویوں کا سا نقشہ تھا کہ وہ جبہ دستار سے آراستہ

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٢

ہوں گے۔ بہرحال مولانا حضرت مولوی احمد علی صاحب سے نہایت خوش عقیدتی سے پیش آئے۔ مولوی صاحب نے تمام حال بیان کیا کہ اسے اپنے اخبار میں شائع کردیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مجھے اس کے متعلق کوئی عذر نہیں۔ مگر میرا اخبار زمیندار چند دنوں سے بند ہے۔ اس کی جگہ میں صبح کا ستارہ نکال رہا ہوں اور وہ بھی سینسر ہوتا ہے۔ محکمہ سنسر میں چند مرزائی بھی ہیں۔ میں مضمون دے دوں گا۔ اگر کسی نے کاٹ نہ دیا۔ بہرحال میں وہاں سے واپس قادیان آیا۔ چند روز کے بعد مولانا کا مضمون جلسہ کے متعلق اخبار ستارہ صبح میں شائع ہوگیا۔ جس کا جواب اخبار الفضل قادیان میں بدیں مضمون شائع ہوا کہ ہم کو اخبار ستارہ صبح میں قادیان میں جلسہ ہونے اور یہاں علمائے کرام کے تشریف لانے کا پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ہم تبلیغ کے لئے اپنے آدمی دور دراز کے ملکوں میں بھیجتے ہیں۔ یہ تو ہماری خوش قسمتی ہوگی کہ علمائے کرام یہاں آویں اور ہم ان سے تبادلہ خیالات کریں۔ مگر ہم نے قادیان کی گلی گلی اور کوچہ کوچہ چھان مارا ہے کہ وہ ہستیاں ہمیں نظر آویں۔ جو قادیان میں جلسہ کرا رہی ہیں۔ مگر شاید وہ ابھی عالم بالا میں پرورش پا رہی ہیں۔ یہ مضمون ہمارے لوگوں کی نظر سے گزرا۔ مگر ہم خاموش تھے۔ یہاں تک کہ ہمارے اشتہارات جگہ جگہ پہنچ گئے اور قادیان کے بازاروں میں چسپاں کر دیئے گئے۔ اشتہارات دیکھ کر مرزائی صاحبان کے اوسان خطا ہوگئے۔ خصوصاً جب انہوں نے مولانا ثناء اللہ صاحب مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی اور ستارہ ہند مولانا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے اسمائے گرامی دیکھے۔ اب انہیں فکر لاحق ہوئی کہ کسی طرح سے یہ جلسہ بند کرادیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے مجلس شوریٰ بلوائی۔ جس میں یہ طے ہوا کہ چند معزز مرزائی ڈپٹی کمشنر کو ملیں اور اسے اپنی جماعت کی سرکار انگلشیہ سے وفاداری کے احسانات جتا کر اسے بتائیں کہ اس جلسہ میں ہر فرقہ کے علماء آ رہے ہیں۔ اس لئے خطرہ ہے کہ قادیان میں کسی قسم کا ہنگامہ نہ ہوجائے۔ چنانچہ مرزائیوں کا ایک وفد گورداسپور پہنچا۔ ڈپٹی کمشنر نے اس معاملہ پر غور کرنے کا وعدہ کیا۔ ہمارے آدمیوں کو بھی علم ہوگیا۔ وہ لوگ بھی گورداسپور گئے۔ ڈپٹی کمشنر نیک دل اور پادری منش انگریز تھا۔ اس سے ملے اور قادیان کے حالات سنا کر بتایا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ مگر مرزا قادیانی اپنے آپ کو مسیح موعود کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آسمان پر کوئی مسیح نہیں وہ مسیح میں ہی ہوں۔ ڈپٹی کمشنر نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا واقعی مرزا قادیانی اپنے آپ کو مسیح کہتا ہے۔ ہم نے اس کی کتابوں کے حوالے دیئے اور کہا کہ ہم یہی اپنے علماء سے سننا چاہتے ہیں کہ کیا واقعی مرزا قادیانی مسیح ہیں یا جسے ہم اور آپ مانتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بڑے وثوق سے کہا کہ تم جا کر جلسہ کرو تمہیں کوئی نہیں روک

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٣

سکتا۔ قادیانیوں کو جب یہ معلوم ہوا تو ان کو اور زیادہ تشویش ہوئی۔ جلسہ کا دن قریب آ رہا تھا۔ دوبارہ ان کا وفد ڈپٹی کمشنر سے ملا اور اسے بتایا کہ یہ باہر کے لوگ محض فساد کرنے کی غرض سے آ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ! ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ میں نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو حکم دے دیا ہے کہ وہ پولیس کی کافی تعداد وہاں بھیج دے۔ اگر اس پر بھی تمہیں خطرہ ہے تو ایڈیشنل مجسٹریٹ کو بھی بھیج دوں گا اور اگر وقت ملا تو شاید میں خود بھی آؤں۔ مرزائی اپنا سا منہ لے کر واپس آگئے۔ یہاں آ کر انہوں نے جلسہ کو ناکام بنانے کے لئے باقاعدہ پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ قرب و جوار کے مسلمانوں پر جو انہوں نے مختلف قسم کے دباؤ ڈال رکھے تھے۔ یہ سب لوگ ان سے باغی نہ ہو جائیں۔

جلسہ سے چند روز پہلے قادیان کے ہندوؤں اور سکھوں نے مہمانوں کے لئے اپنے رہائشی مکان خالی کر دیئے اور خود دو دو تین تین کنبوں نے مل کر گزارا کیا۔ کیونکہ ان پر بھی مرزائیوں نے بہت رعب ڈال رکھا تھا۔ سکھوں نے قادیان کے قصبہ کے قریب ہی اپنی جگہ پر جلسہ کا انتظام کیا اور سٹیج وغیرہ بھی انہوں نے خود بنائی۔ ہمیں بٹالہ سے دریوں اور شامیانوں کا بندوبست کرنا پڑا۔ خدا خدا کر کے جلسہ کا دن آیا۔ تاریخ مقررہ سے ایک روز قبل میرے استاد حضرت مولانا نور احمد صاحب اپنے دوست میاں نظام الدین صاحب میونسپل امرتسر اور اپنے چند شاگردوں کے ساتھ تشریف لے آئے۔ مولوی عبدالعزیز صاحب گورداسپوری اسی روز آ گئے۔ دوسرے روز علی الصبح میاں نظام الدین صاحب کی صدارت میں جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی۔ قادیانیوں کا اور تو کوئی جادو نہ چل سکا۔ جلسہ کے ایک روز پہلے انہوں نے قادیان کے اطراف میں اپنے آدمی دوڑا دیئے اور مشہور کر دیا کہ جلسہ نہیں ہوگا۔ گورنمنٹ نے جلسہ کو روک دیا ہے۔ اس لئے حاضرین کی تعداد بہت کم تھی۔ جناب مولانا نور احمد کے ارشاد پر مولوی عبدالعزیز صاحب نے تلاوت قرآن کریم کے بعد اپنی تقریر شروع کی۔ مرزائی مذاق اڑاتے تھے کہ یہ جلسہ نہیں جلسی ہے۔ مگر جوں جوں قرب و جوار کے مسلمانوں کو علم ہوتا گیا کہ جلسہ ہو رہا ہے۔ وہ محض مرزائیوں کی شرارت تھی تو لوگ جوق در جوق آنے شروع ہو گئے۔ دوپہر کو لاہور سے جناب مولانا احمد علی صاحب، ماسٹر پیر بخش صاحب اور تین چار اور عالم جو ان کے دوست تھے آ گئے۔ ہریوال سے مولوی نواب دین صاحب، امرتسر سے مولوی ابوتراب صاحب۔ غرض کہ علماء کی آمد آمد شروع ہو گئی۔ جلسہ میں اس قدر رونق ہو گئی جس کی ہمیں بھی توقع نہ تھی۔ دور دور سے لوگوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی۔ مجسٹریٹ سری کرشن، انسپکٹر و سب انسپکٹر پولیس معہ کافی عملہ کے موجود

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٤

تھے۔ مرزائیوں نے کئی دفعہ جلسہ میں گڑبڑ ڈالی اور فساد کی کوشش کی۔ مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ آخر انہوں نے اس خوف سے کہ کلمہ حق کسی کے کان میں نہ پڑ جائے۔ اپنے لوگوں کو جلسہ میں آنے سے روکنا شروع کر دیا۔ سکول کے مسلمان طلباء کو جلسہ میں شریک نہ ہونے دیا۔ حالانکہ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں غیر حاضری کا کوئی جرمانہ نہ ہوتا تھا۔ مگر ایام جلسہ میں اٹھ آنہ فی غیر حاضری جرمانہ رکھ دیا۔ سقوں اور خاکروبوں کو مجبور کیا کہ وہ جلسہ کا کام نہ کریں۔ مگر ؎

دشمن چہ کند چو مہربان باشد دوست

جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے ہو کے ہی رہتا ہے۔ قادیان کے مسلمانوں نے سب کام بڑی مستعدی سے کئے۔ تیسرے روز علی الصبح مولوی ثناء اللہ صاحب بھی تشریف لے آئے۔ مرزا قادیانی کے مباہلہ وغیرہ کی وجہ سے لوگ ان کو دیکھنے اور ان کی تقریر سننے کے بڑے شائق تھے۔ یہ خبر ہوا کے ساتھ قادیان کے اطراف میں پھیل گئی۔ پھر تو جلسہ گاہ میں اس قدر ہجوم تھا کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ بعد دوپہر مولوی صاحب نے اپنے خاص انداز میں تقریر شروع کی اور مرزا قادیانی کا الہام پیش کیا کہ میں نے دیکھا کہ زمین اور آسمان میں نے بنایا ہے۔ ان دنوں قادیان میں ریل نہیں جاتی تھی اور بٹالہ سے قادیان تک کچی سڑک تھی۔ قادیان سے میل ڈیڑھ میل کا ٹکڑا نہایت خستہ حالت میں تھا۔ جس کا نام ہی پہلو توڑ سڑک رکھا ہوا تھا کہ تین روز تک پسلیاں ہی درد کرتی رہتی تھیں اور واقف کار لوگ اکثر یہ حصہ پیدل ہی طے کیا کرتے تھے۔ مولوی صاحب نے یہ الہام پیش کر کے فرمایا کہ مجھے یہ الہام پڑھ کر تو بہت خوشی ہوئی کہ میرے ایک مہربان نے آسمان اور زمین بنائے ۔ مگر یہ دیکھ کر بہت رنج ہوا کہ قادیان کی سڑک نہ بنائی ۔ شاید انہیں معلوم تھا کہ مولوی ثناء اللہ اس سڑک پر سفر کرے گا۔ اس لئے دانستہ ہی اسے چھوڑ دیا ہو ۔ پھر مرزا محمود کے سفر ہندوستان سے واپسی پر اور دریائے گنگا کے پل عبور کرنے پر جو مضمون الفضل نے شائع کیا تھا کہ گنگا نے مرزا محمود کے پاؤں چومے۔ لہریں ان پر نثار ہوتی تھیں۔ اس پر بڑی پرلطف تنقید کی۔ پھر نکاح آسمانی اور محمدی بیگم کا قصہ شروع کیا۔ مرزائی صاحبان حسب عادت ذرا ذرا سی بات پر مجسٹریٹ کو توجہ دلاتے کہ مولوی صاحب کو یہ بات کرنے سے روکا جاوے ۔ اس سے ہمارے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ مگر مولوی صاحب جو ان کے نبی سے دال روٹی بانٹتے تھے۔ بھلا ان کو خاطر میں کب لاتے ۔ انہوں نے مجسٹریٹ کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ یہ دین کا معاملہ ہے۔ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف دعویٰ کیا پرکھ کر دیکھیں۔ اس وقت جلسہ کے صدر میرے ماموں جناب شیخ محمد صاحب وکیل گورداسپور تھے۔ ان کو مخاطب کر کے مولوی صاحب نے

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٥

کہا۔ جب عدالت میں کوئی دعویٰ کرتا ہے تو کیا فریق ثانی کو قانون یہ حق نہیں دیتا کہ جواب دعویٰ پیش کرے۔ پھر ہمیں جواب دعویٰ سے کوئی روک نہیں سکتا اور اگر دعویٰ باطل ہو جاوے تو مقدمہ خارج ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کر کے ہمیں چیلنج دیا۔ اب ہمیں اس کی تردید میں دلائل پیش کرنے کا پورا حق پہنچتا ہے۔ اس بات سے نہ ہی تو ہمیں اخلاق روک سکتا ہے اور نہ ہی قانون۔ مگر مرزائی تھے کہ واویلا کر رہے تھے۔ آخر مجسٹریٹ کو مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ اگر آپ نے اسی طرح شور مچائے رکھا تو مجھ کو سختی کرنا پڑے گی۔ مولوی صاحب نے محمدی بیگم کے نکاح کو کچھ ایسے پیرایہ میں بیان کیا کہ سننے والوں کے پیٹ میں بل پڑ جاتے تھے۔ خیر جلسہ بخیر و خوبی ختم ہوا۔ دوران جلسہ پندرہ بیس دیہاتی مرزائی تائب ہوئے اور جن کے دلوں میں کچھ شبہات تھے۔ انہوں نے بھی توبہ کی۔ اگرچہ میں ملازمت کے باعث منظر عام پر نہ آیا تھا اور نہ آسکتا تھا۔ مگر ؎

کجا ماند آں رازے کزو سازند محفلھا

ہر جگہ یہ خبر پھیل گئی کہ اس جلسہ کا بانی یہاں کا پوسٹ ماسٹر ہے۔ باہر سے احباب کے مبارک باد کے خطوط آنے شروع ہو گئے۔ مگر ان تمام خطوط میں ایک خط ایسا تھا جس کو میں عمر بھر نہیں بھول سکتا۔ یہ خط جناب حضرت مولوی محمد علی صاحب سجادہ نشین مونگیر شریف کا تھا۔ جنہوں نے مرزا قادیانی کے متعلق چند رسالے بھی شائع کئے تھے۔ اصلی خط تو دوران تقسیم میں بٹالہ ہی رہ گیا۔ مگر اس کا مضمون قریب قریب یہ تھا۔

محبی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی حاصل ہوئی کہ آپ نے قادیان میں مسلمانوں کے جلسہ کی بنیاد رکھی ہے۔ خداوند کریم آپ کو اس کا اجر خیر دے۔ اگرچہ میں اب ضعیف ہوں۔ مگر جب مرزا قادیانی کے خلاف قلم اٹھاتا ہوں تو اپنے آپ کو جوان پاتا ہوں۔ امرتسر میں میرے دوست مولوی نور احمد صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب موجود ہیں۔ انہیں میری جانب سے سلام عرض کریں اور وقت بے وقت اگر کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہو تو انہیں کہہ دیا کریں۔ یہ خط میرے لئے باعث اطمینان و فخر تھا کہ ایسی قابل قدر ہستی نے جس پر ہر دو مولوی صاحبان کو بھی ناز تھا۔ احقر کو یاد فرمایا۔

مجھے اس بات کا یقین ہے کہ اس تمام تگ و دو کی پشت پر میرے آقا مرشدی حضور حضرت خواجہ اللہ بخش صاحب تونسویؒ کی روحانی امداد اور جناب پیر جماعت علی شاہ صاحب علی پوریؒ اور دیگر بزرگان دین کی دعائیں تھیں۔ ورنہ میرے جیسے کم علم، بے بضاعت اور ملازمت

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٦

میں جکڑے ہوئے شخص کی اتنی ہمت وجرأت کب تھی کہ سرکار انگلیشیہ کے خودکاشتہ پودے کے خلاف کچھ کر سکے۔ ھذا من فضل ربی!

اب مرزائیوں کو بھی پورے طور پر یقین ہوچکا تھا کہ پردہ زنگاری کے پیچھے سب پوسٹ ماسٹر کا ہاتھ ہے۔ قصر خلافت میں مشورے شروع ہوئے کہ سب پوسٹ ماسٹر کو قادیان سے تبدیل کرایا جاوے۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ پوسٹ ماسٹر جنرل کی شملہ سے واپسی پر ایک وفد اس کے پاس جاوے۔

الٹے بانس بریلی کو

اس دوران میں نانا جان جو ضرورت سے زیادہ حریص تھے۔ یہ خیال پیدا ہوا کہ مولوی محمد احسن سے جو کام لینا تھا وہ تو لے لیا۔ اب مرزا محمود قادیانی کی خلافت کو کسی قسم کا خطرہ بھی نہ تھا۔ کیونکہ اسے ایک عرصہ گزر چکا تھا۔ چنانچہ انہوں نے مولوی صاحب سے اپنی رقم کا تقاضا کیا اور ایک لمبی چوڑی چٹھی لکھی کہ مولوی صاحب آپ نے جو روپیہ اپنے صاحبزادہ محمد یعقوب کی شادی پر بطور قرض حسنہ لیا، واپس کریں۔ مولوی صاحب اپنی دانست میں اس کا معاوضہ اس سے زیادہ ادا کر چکے تھے۔ مرزا محمود قادیانی کو تخت نشین کرنا ان ہی کی کرامت تھی۔ انہوں نے نانا جان کو بہت سمجھایا کہ اب اس تقاضا کو چھوڑ دیں کہ میں کئی گنا زیادہ حق خدمت ادا کر چکا ہوں۔ نانا جان نے نہ ماننا تھا نہ مانے اور الٹی سیدھی سنانا شروع کیں۔ مولوی صاحب نے بھی تنگ آکر اخبار پیغام صلح اور دیگر اخبارات کا سہارا لے کر مرزا قادیانی کی قلعی کھولنا شروع کی اور مرزا قادیانی کے مبلغ اعظم کا سب کچا چٹھا لکھ مارا۔ جس پر انہیں منافق ومرتد کے خطاب ملنے شروع ہوگئے۔

کچھ عرصہ بعد پوسٹ ماسٹر جنرل شملہ سے واپس آئے۔ مرزائی اکابرین کا وفد ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور گورنمنٹ برطانیہ سے اپنی وفاداری اور خدمات کا تذکرہ کر کے میرے قادیان سے تبادلہ کا مطالبہ کیا۔ پوسٹ ماسٹر جنرل کے لئے یہ معمولی بات تھی۔ اس نے سپرنٹنڈنٹ ڈاکخانہ جات کو فوراً لکھ دیا کہ عبدالمجید پوسٹ ماسٹر کا تبادلہ قادیان سے کر دیا جاوے۔ چنانچہ میری تبدیلی قادیان سے شکرگڑھ کر دی گئی۔ مجھے اس تبادلہ کا ذرا بھی احساس نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے جو کام لینا تھا وہ لے لیا۔

ملازمت میں تبدیلیاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔ چنانچہ گورداسپور کا ڈپٹی کمشنر بھی تبدیل ہوگیا، یا کرا دیا گیا۔ دوسرے ڈپٹی کمشنر سے جو اس کی جگہ آیا۔ مرزائیوں نے اپنا اثر ورسوخ قائم کر کے یہ احکام جاری کروا لئے۔

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٧

Anti Ahmadia meeting should not be held in Qadian in future.

کہ آئندہ کے لئے قادیان میں غیر احمدیوں کا کوئی جلسہ نہ ہو۔ چونکہ اب قادیان کے مسلمانوں میں خاصی بیداری پیدا ہو چکی تھی اور میرے امرتسر بٹالہ اور دیگر شہروں کے احباب کو بھی اس معاملہ سے خاص دلچسپی تھی۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مل کر یہ احکام منسوخ کرا دیئے۔ چنانچہ دو ایک دفعہ ایسا ہی ہوا کہ مرزائی اپنے اثر و رسوخ سے جلسہ کو بند کرا دیتے اور فریق ثانی اسے منسوخ کرا دیتا۔ آخر دو تین جلسے اس کے بعد نہایت دھوم دھام سے ہوئے۔ جن میں دو ایک میں مرزائیوں نے منظم فساد بھی کئے۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ مجلس احرار نے اپنے قدم وہاں جما لئے۔ ایک دینی مدرسہ قائم کیا۔ ایک دو مستقل مبلغ مقرر کر دیئے۔ پھر جو اجلاس وہاں ہوئے۔ ان کے روح رواں سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری تھے۔ میں نے اللہ کا شکر کیا کہ ایک بخاری نے جلسہ کی بنیاد رکھی اور دوسرے نے اس کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی۔

مجھے مرزائی صاحبان سے کوئی ذاتی عداوت نہ تھی اور نہ ہے۔ میرا قادیان جا کر یہ خیال پختہ ہو گیا کہ میرے جو عزیز جماعت مرزائیہ میں داخل ہوئے۔ ان کو اپنے دین سے کچھ واقفیت نہ تھی۔ انگریزی سکولوں میں دینی تعلیم مفقود تھی اور ہے۔ طالب علمی کا زمانہ گزار کر ملازم ہونے پر بھی یہ لوگ علم دین سے بے بہرہ رہے اور مرزا قادیانی کی تعلیم ان نوجوانوں کے مزاج کے مطابق تھی۔ مثلاً یہ کہ آسمان صرف حد نگاہ ہے۔ جب یہ کوئی چیز ہی نہیں تو پھر انسان اس میں کس طرح رہ سکتا ہے۔ نیز لفظ متوفی سے انہوں نے اس بے علم طبقہ کو خوب دھوکا دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ وہ تو آنے سے رہے۔ جس مسیح کے متعلق آنے کا وعدہ تھا۔ وہ میں ہوں۔

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کہ کجا تا بہ نہد پایہ ممبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

نوجوان اس دام تزویر میں پھنس کر صراط مستقیم سے بھٹک گئے۔ پھر انہیں اپنے خود ساختہ دین کے رنگ میں پوری طرح سے رنگ دیا۔

پہلے جو پیغمبر آیا کرتے تھے۔ وہ اس زمانہ کے فاسد و باطل خیالات و عقائد کی مخالفت کر کے اور تکلیفیں برداشت کر کے لوگوں کو راہ راست پر لاتے۔ مگر جناب مرزا قادیانی نے زمانہ کی ہوا کا رخ دیکھا اور اس کے مطابق اپنی تعلیم کو جاری کیا۔ تا کہ بڑے بڑے سرکاری

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٨

عہدیداروں پر قابو پایا جا سکے اور وہ حصول زر کا باعث بن سکیں۔ چنانچہ قادیان میں بہشتی مقبرہ کہ اس میں دفن ہونے والے ہر شخص سے اس کی جائیداد کا دسواں حصہ وصول کرنا اور تنخواہ سے تادوران ملازمت دسواں حصہ وصول کرتے رہنا۔ اس بہشتی رشوت کے علاوہ، زکوٰۃ نذرانہ وغیرہ کی وصولی حصول زر کے ادنیٰ کرشمے ہیں۔

چنانچہ ایک معمر مرزائی جس کے سات لڑکے تھے اور ساتوں مسلمان جب وہ مرا تو اس نے وصیت کی کہ مجھے بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جائے۔ وہ ملازمت کے دوران تنخواہ کا دسواں حصہ ادا کرتا رہا۔ جب وہ مر گیا تو لڑکوں نے مرزا محمود قادیانی سے کہا کہ یہ آپ کا مرید ہے۔ اس نے اپنی تنخواہ سے ہمارا پیٹ کاٹ کر بھی دسواں حصہ ادا کیا ہے۔ اب جائیداد اتنی نہیں کہ ہم بھائیوں کی گذران ہو سکے۔ اس لئے اس کی وصیت کے مطابق بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جاوے۔ مگر دربار خلافت سے حکم ہوا کہ یہ ہمارے آئین کے خلاف ہے۔ اگر اسے بہشتی مقبرہ میں داخل کرنا ہے تو جائیداد کا دسواں حصہ لازمی دینا پڑے گا۔ اسی تکرار میں میت کو تین روز گزر گئے۔ گرمیوں کا زمانہ تھا۔ میت میں سڑاند پیدا ہو گئی۔ مگر مرزا محمود قادیانی نے اپنے خدائی آئین کو نہ توڑا۔ آخر لڑکوں نے مجبور ہو کر جائیداد کا دسواں حصہ دے کر باپ کی وصیت کو پورا کیا۔

قادیان میں جلسہ کرانے سے میرا مقصد صرف اس قدر تھا کہ وہ لوگ جن کے کانوں میں ابھی اسلام کے اصل عقائد کی آواز نہیں پہنچی۔ ممکن ہے ہمارے علمائے کرام کے وعظ اور نصیحت سے فائدہ اٹھا کر راہ راست پر آ جاویں۔ چنانچہ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے۔ جلسہ میں چند اصحاب نے اپنے عقائد سے توبہ کی اور قرب وجوار میں اس کا بہت اچھا اثر ہوا۔

کادیاں سے قادیاں

١٩٠٤ء سے پہلے قادیان کو کادیاں کہا جاتا تھا۔ جس کے معنی مکار اور فریبی کے ہیں اور ڈاکخانہ کی مہروں پر بھی لفظ (KADIAN) کادیاں ہوتا تھا۔ جس کا اکثر اخبارات مذاق اڑایا کرتے تھے۔ آخر مرزائیوں نے تنگ آ کر اس کے متعلق قلمی جہاد شروع کیا اور بالآخر ڈاکخانہ کی مہروں پر لفظ K کی بجائے Q لکھوانے میں کامیاب ہو گئے۔ قادیان ایک اجنبی شخص کے لئے بظاہر بڑا دل خوش کن اور دلفریب تھا۔ ہائی سکول اور بورڈنگ کی خوشنما عمارت، ہیڈ ماسٹر کا بنگلہ قصبہ کے اندر مدرسہ دینیات، لنگر، ظاہری اخلاق کی یہ حالت ہر وقت جزاک اللہ زبان زد، صبح وشام زنانہ ومردانہ درس، گویا یہ چیزیں ایک نو وارد کو اکثر متاثر کر دیتی تھیں۔ مگر افسوس کہ اندرونی

٢٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٣٩

حالات کچھ اچھے نہ تھے اور مرزا محمود قادیانی کے وقت کے واقعات تو کچھ ایسے تھے جس کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔

حکومت وقت سے دھوکا

پہلی جنگ عظیم جو ١٩١٤ء میں شروع ہوئی اور پانچ سال تک جاری رہی۔ اس جنگ کے دوران میں حکومت انگلشیہ نے عوام سے قرضہ لینے کا اعلان کیا۔ جس کی وصولی کے لئے ڈاکخانہ سے کیش سرٹیفکیٹ اجرا کئے جاتے تھے۔ تمام افسران ضلع کو ہدایت تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ سے قرضہ وصول کریں۔ بڑے افسر جب دورہ پر جاتے تو ڈاکخانہ سے پوچھتے کہ یہاں کے لوگوں نے کتنے روپے کے کیش سرٹیفکیٹ خریدے ہیں۔ قادیان میں کسی متنفس نے کوئی کیش سرٹیفکیٹ نہ خریدا۔ کچھ عرصہ کے بعد ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور نے اپنی منزل قادیان میں رکھی۔ مرزائیوں کو یہ معلوم ہوا تو ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین نے جو ان دنوں انچارج دفتر محاسب تھے۔ قریباً پانچ ہزار کے کیش سرٹیفکیٹ دفتر محاسب کے نام کے خرید لئے۔ جو ڈپٹی کمشنر کے آنے پر اسے بڑے فخر سے دکھائے گئے۔ مگر اس کی واپسی کے چند روز بعد ان کا روپیہ وصول کر کے خزانہ دفتر محاسب میں داخل کر دیا۔ جو قوم اپنے پروردگار سے ایسا دھوکا کرے۔ اس پر کسی اور شریف آدمی کو کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔ بہر حال گندم نما جو فروشی میں انہوں نے کمال کی انتہاء کردی۔ سیدھے سادھے مسلمانوں کے دین و ایمان اور جیبوں پر شریفانہ ڈاکہ زنی میں انہیں خاصی مہارت حاصل ہے۔

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ سلطانی بھی عیاری ہے درویشی بھی عیاری

قادیان سے ربوہ

یہ ایک مشہور روایت ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کے ایک مینار سے ہوگا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے قادیان کو دمشق سے تشبیہ دی اور مینار سے یہ تاویل کی کہ عیسیٰ علیہ السلام صاحب مینارہ ہوں گے۔ عبادت گاہ کا نام تو انہوں نے اقصیٰ رکھ ہی لیا تھا۔ اب سوال تھا مینار کا۔ چنانچہ انہوں نے اقصیٰ میں مینارہ کی بنیاد بھی رکھ دی۔ عبادت گاہ کے مشرق کی طرف جدھر مینارہ شروع کیا۔ ہندو برہمنوں کے چند مکانات تھے۔ جن میں ایک مکان ایک ہندو ڈپٹی کا بھی تھا۔ اس نے حکومت میں درخواست گذار دی کہ اس مینار کے بننے سے ہمارے تمام گھر بے

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٢٤

پردہ ہو جائیں گے۔ لہٰذا اسے روک دیا جاوے۔ چنانچہ حکومت نے مرزا قادیانی کی اس پیشین گوئی میں رکاوٹ ڈال دی اور اس کی تعمیر بند ہو گئی۔ مرزا محمود کے وقت میں مرزائیوں نے ہندوؤں کو تنگ کرنا شروع کیا۔ چونکہ ان غریب ہندوؤں کے کچے مکانات کی چھتیں مسجد کی تہ زمین کے برابر تھیں۔ اس لئے نمازی شرارت سے اوپر چلے جاتے۔ بعض اوقات عورتیں بے پردہ نہا رہی ہوتیں تو انہیں تکلیف ہوتی۔ دربار خلافت میں کئی بار پکار ہوئی۔ مگر وہاں تو ارادے ہی دوسرے تھے۔ چنانچہ ان کی عرض کا نتیجہ یہ نکلا کہ گائے کے گوشت کی ہڈیاں اوپر پھینکی جانے لگیں۔ آخر ان غریبوں نے مکانات مرزائیوں کے ہاتھوں میں بیچ دیئے۔ ڈپٹی کی اولاد سری رام وغیرہ بھی نالائق نکلے۔ وہ مکان بھی قادیانی دفتر بن گیا۔ اب کوئی رکاوٹ باقی نہ تھی۔ منارہ کے ساتھ عبادت گاہ بھی فراخ ہوگئی۔ گوصاحب منارہ کو منارہ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ مگر ؎

پدر نتواند پسر تمام خواهد کرد

انقلاب زمانہ نے قادیانیوں کو بھی بادل نخواستہ دارالامان اور بہشتی مقبرہ کافروں کے سپرد کرنا پڑا۔ اگرچہ اب بھی ان کا بس چلے تو بھارت سے ساز باز کر کے شاید وہ جانے سے نہ رکیں۔ مگر چونکہ یہ امر فی الحال انہیں محال نظر آرہا ہے۔ اس لئے اب انہوں نے چنیوٹ کے قریب سستے داموں پر زمین خرید کر ربوہ یعنی بلند جگہ کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ عام مسلمانوں کو تو فی الحال اس نام کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں۔ مگر مرزا محمود قادیانی اپنے باپ کی طرح دور اندیش ہیں۔ چند سال کے بعد اپنے مریدوں کو قرآن حکیم کے اٹھارہویں پارہ کی اس آیت کی طرف توجہ دلائیں گے۔ ”وجعلنا ابن مريم وامه آية واوينها الى ربوة ذات قرار ومعين“ یعنی ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کو بڑی نشانیاں بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک بلند زمین پر لے جا کر پناہ دی۔ جو ٹھہرنے کے قابل اور شاداب جگہ تھی۔ اس آیت کا حوالہ دے کر مریدین کو فرمادیں گے کہ خداوند تعالیٰ نے پہلے ہی مجھے بشارت دے دی تھی کہ تم قادیان چھوڑ کر ربوہ جاؤ گے اور یہ ربوہ وہی جگہ ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں صاف آچکا ہے کہ عیسیٰ اور اس کی والدہ یہاں پناہ لیں گے۔ عیسیٰ کی بجائے ابن مرزا اور والدہ کا بھی غالباً وہ کوئی لطیف نکتہ پیدا کر لیں گے اور شاید مرزا قادیانی کا کوئی الہام بھی چسپاں ہو جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس نیت کو عمل میں کب لاتے ہیں۔ (اب ربوہ کا نام بھی تبدیل ہو کر چناب نگر ہو گیا اور مرزا محمود کا پوتا مرزا مسرور بھی لندن سدھار گیا۔ ربوہ کا نام بھی گیا۔ نشان (خلیفہ) بھی گیا۔ مرتب!)

PDF 443

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

تحقیقاتی عدالت

کی

رپورٹ پر تبصرہ

جناب نعیم صدیقی و سعید احمد ملک

صفحہ ٤٤٢

تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر تبصرہ

پیش لفظ

پچھلے سال پنجاب کے ہنگاموں کی تحقیقات کے لئے جو عدالت مقرر کی گئی تھی۔ اس کی رپورٹ ابھی تین چار مہینے پہلے شائع ہوئی ہے اور اخبارات میں بالعموم لوگوں کی نگاہ سے گزر چکی ہے۔ اس عدالت کے صدر آنریبل جسٹس محمد منیر تھے۔ جو اس زمانے میں پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے اور اب اس رپورٹ کی اشاعت کے تھوڑی مدت بعد فیڈرل کورٹ، پاکستان کے چیف جسٹس ہو گئے ہیں۔ اس کے دوسرے ممبر پنجاب ہائی کورٹ کے جج آنریبل جسٹس کیانی تھے۔ ایک مخصوص قانون کے تحت تین معاملات کی تحقیق اس عدالت کے سپرد کی گئی تھی۔

موجب ہوئے۔

(سول) حکام کی تدابیر کا کافی ہونا یا نہ ہونا۔

عدالت نے جولائی ١٩٥٣ء کے آغاز سے فروری ١٩٥٤ء کے اختتام تک اپنی تحقیقات جاری رکھیں اور ٣٨٧ صفحات کی ایک مفصل رپورٹ حکومت پنجاب کو پیش کی، جو اپریل ١٩٥٤ء کے اواخر میں پبلک کے سامنے آئی۔ رپورٹ کو دیکھ کر ہر شخص کی طرح ہم نے بھی یہ محسوس کیا کہ اس میں صرف مذکورہ بالا تین سپرد کردہ معاملات ہی تک تحقیقات کو محدود نہیں رکھا گیا ہے۔ بلکہ بہت سے دوسرے مسائل پر بھی بحثیں کی گئی ہیں۔ جو نہ صرف بجائے خود بہت غور طلب ہیں۔ بلکہ وہ فاضل ججوں کے قلم سے نکلنے اور سرکاری طور پر شائع ہونے کے باعث دور رس نتائج کی حامل بھی ہیں۔ اسی لئے ہم نے اس پر عجلت کے ساتھ کوئی تبصرہ کر دینا مناسب نہ سمجھا۔ یہ سطور کئی مہینے کے غور و خوض اور تجزیہ و تحلیل کے بعد اب سپرد قلم کی جا رہی ہیں۔

تحقیقات کے لئے حکومت کا غلط طریق کار

قبل اس کے کہ ہم اصل رپورٹ پر تبصرے کا آغاز کریں۔ ہم یہ بات صاف طور پر کہہ دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس طریق کار پر سخت اعتراض ہے جو پنجاب کے ان ہنگاموں کی تحقیقات کے لئے حکومت نے اختیار کیا۔ پنجاب میں اس سے پہلے ١٩١٩ء میں بھی زبردست

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٣

ہنگامے ہو چکے ہیں۔ جن کو دبانے کے لئے اس صوبے کے کئی اضلاع میں مارشل لا جاری کیا گیا تھا۔ مگر اس وقت ان ہنگاموں کی تحقیقات کے لئے بیرونی حکومت نے جو طریق کار اختیار کیا تھا۔ وہ کم از کم موجودہ ”قومی حکومت“ کے طریق کار سے تو بدرجہا زیادہ منصفانہ اور قابل اطمینان تھا۔ دونوں طریقوں کی بنیادی خصوصیات کا مقابلہ کر کے دیکھئے۔ بیک نگاہ نمایاں فرق محسوس ہوگا۔

معاملہ سمجھا گیا تھا۔ کیونکہ ان ہنگاموں کو رفع کرنے کے لئے مرکز نے مداخلت کی تھی۔ اس لئے تحقیقات صوبے کی حکومت نے نہیں بلکہ ہندوستان کی حکومت نے کرائی اور اس طرح صوبے اور مرکز کے تمام حکام کی وہ کارروائیاں زیر بحث آئیں جو انہوں نے ہنگاموں کو رفع کرنے کے لئے کی تھیں۔ مگر ١٩٥٣ء میں باوجود یکہ اب بھی مرکز کا گہرا تعلق ہنگاموں سے تھا۔ پنجاب کے معاملے کو صرف ایک صوبائی معاملہ سمجھا گیا اور تحقیقات مرکز کی طرف سے نہیں بلکہ صوبے کی حکومت کی طرف سے کرائی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مرکزی حکام کی اکثر و بیشتر کارروائیاں سرے سے زیر بحث ہی نہ آسکیں۔

رفع کرنے کے لئے کی گئی تھیں۔ خواہ وہ مارشل لا سے پہلے کی گئی ہوں یا بعد۔ نیز وہ کارروائیاں بجائے خود زیر بحث رکھی گئی تھیں۔ نہ کہ محض ان کا کافی ہونا یا نہ ہونا۔ اس طرح دیوانی اور فوجی حکام، دونوں کے تمام افعال زیر بحث آئے اور صرف اس حیثیت سے زیر بحث نہیں آئے کہ وہ ہنگاموں کو رفع کرنے کے لئے کافی تھے یا نہیں۔ بلکہ اس حیثیت سے بھی زیر بحث آئے کہ وہ جائز اور منصفانہ بھی تھے یا نہیں۔ اس تحقیقات کے نتیجے میں فوج اور پولیس اور مجسٹریٹی پر مباحثے ہوئے۔ جنرل ڈائر ملازمت سے الگ کیا گیا اور ان بہت سے لوگوں کو حکومت نے تاوان ادا کئے۔ جنہیں بے جا طریقے سے نقصان پہنچا تھا۔ لیکن ١٩٥٣ء میں مارشل لا کا نظم و نسق تو سرے سے دائرہ تحقیق سے خارج ہی رکھا گیا اور مارشل لا سے پہلے کے معاملات کی تحقیقات اگر کرائی بھی گئی تو یہ دیکھنے کے لئے نہیں کہ دیوانی حکام کی تدابیر منصفانہ اور جائز تھیں یا نہیں۔ بلکہ صرف یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ ہنگاموں کو دبانے کے لئے کافی تھیں یا نہیں۔ گویا جہاں تک فوج کا تعلق ہے حکومت کی نگاہ میں وہ قانون اور انصاف سے بالاتر ہے۔ جو کچھ بھی وہ کر گزرے اس کے متعلق سرے سے کسی تحقیقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہے دیوانی حکام تو پبلک کے ساتھ ان کے برتاؤ کا صرف یہ پہلو ہی ہماری قومی حکومت کے لئے اہمیت رکھتا ہے کہ وہ کافی سخت تھا یا نہیں۔ جائز و ناجائز کا سوال یہاں بھی خارج از بحث ہے۔

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٤

٣...... ١٩١٩ء میں تحقیقات کے لئے جو کمیٹی مقرر کی گئی تھی۔ وہ صرف ملازمین ریاست ہی پر مشتمل نہ تھی۔ بلکہ اس میں تین غیر سرکاری ہندوستانی ممبر (سر چمن لال سیتلواد، مسٹر جگت نرائن لال اور سر سلطان احمد ) بھی شامل تھے۔ ملازمین ریاست کے ساتھ ان غیر سرکاری ممبروں کی شمولیت کا فائدہ یہ ہوا کہ واقعات کے تمام پہلو سامنے آگئے اور ایک ایسی رپورٹ شائع ہوئی جو صرف ایک ہی نقطہ نظر کی حامل نہ تھی۔ اس کے برعکس ١٩٥٣ء کے ہنگاموں کی تحقیقات میں کوئی ایک بھی غیر سرکاری ، عوامی آدمی (Public Man) شامل نہ کیا گیا۔ کوئی شخص جو ہنٹر کمیٹی رپورٹ اور اس تازہ تحقیقات کی رپورٹ کا مقابلہ کر کے دیکھے گا۔ یہ محسوس کئے بغیر نہ رہے گا کہ ایک جگہ غیر سرکاری ممبروں کے موجود ہونے اور دوسری جگہ ان کے موجود نہ ہونے سے کتنا بڑا فرق واقع ہو گیا ہے۔

پھر ١٩١٩ء میں تحقیقات کے لئے عدالتی ساخت کا کمیشن نہیں۔ بلکہ کمیٹی مقرر کی گئی تھی۔ جس کو قانون توہین عدالت کا تحفظ حاصل نہ تھا اور جس کی کارروائیوں کو آزادی سے شائع کیا جاسکتا تھا اور ان پر پبلک میں نہایت ہی آزادانہ بحث و تنقید ہوتی رہی تھی۔ اس لئے مختلف نقاط نظر کی حامل ہونے کے باوجود رپورٹ میں جو خامیاں باقی رہ گئی تھیں ان کی تلافی پریس کی تنقید سے اچھی طرح کی جاسکتی تھی اور عملاً کی گئی۔ بخلاف اس کے ١٩٥٣ء میں تحقیقات کے لئے کمیٹی کے بجائے عدالتی ساخت کا کمیشن مقرر کیا گیا۔ جسے دوران کارروائی میں پورے پورے عدالتی حقوق و اختیار بھی دیئے گئے ۔ پھر اسے عام قانون شہادت کے تقاضوں سے بالا تر بھی رکھا گیا اور مزید یہ کہ توہین عدالت کے قانون کا تحفظ بھی اسے حاصل تھا۔

ان وجوہ سے ہم اس قانون کو سراسر غلط اور ناروا سمجھتے ہیں۔ جس کے تحت یہ تحقیقات کرائی گئی ہے۔ ہمیں بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری حکومت ان حقوق اور اختیارات کا تو بڑی شدت کے ساتھ مطالبہ کرتی رہتی ہے۔ جو فطری طور پر ایک قومی حکومت کو حاصل ہونے چاہئیں۔ لیکن اپنے فرائض و واجبات کے معاملہ میں وہ پچھلے دور کی بیرونی حکومت سے بھی چند قدم پیچھے ہی رہتی ہے۔

تحقیقاتی عدالت کی حیثیت

رپورٹ کا تجزیہ و تبصرہ کرتے ہوئے ناگزیر ہے کہ اس رپورٹ کی حیثیت مشخص کر لی جائے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ اگرچہ اس عدالت کو کارروائی چلانے کے لئے ہائی کورٹ کے

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٥

اختیارات خاص قانون کے تحت دیئے گئے تھے اور اگرچہ دوران کارروائی میں اسے توہین عدالت کے قانون کا تحفظ حاصل تھا۔ لیکن حقیقت میں یہ عدالت ایک کمیشن کی سی حیثیت رکھتی تھی۔ جس نے ایک متعین معاملے میں اپنا کام کیا اور پھر ازخود ختم ہو گیا۔ اب ایک مستقل عدالت کی طرح اس کا وجود باقی نہیں ہے۔ پھر جو رپورٹ اس نے پیش کی ہے۔ خود اس کا محض ایک رپورٹ ہونا اور ایک عدالتی فیصلہ نہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہ درحقیقت ایک تحقیقاتی کمیشن تھا۔ جس نے کسی واقعاتی معاملے میں چھان بین کر کے کسی پر فرد جرم لگانے اور کوئی متعین عدالتی فیصلہ دینے کے بجائے ایک دور رس صورت حالات کا تجزیہ کیا ہے۔ ایک عمومی تحریک کے محرکات و اسباب اور نتائج و عوامل کا جائزہ لیا ہے اور جماعتوں اور گروہوں کے سیاسی و دینی نظریات پر تبصرہ کیا ہے۔ پس اس رپورٹ کے اندر حالات اور نظریات کا جو تجزیہ جائزہ اور تبصرہ پیش کیا گیا ہے۔ اس پر تبصرہ کرنا ہمارے نزدیک نہ صرف ہر شہری کا حق بلکہ فرض ہے۔

یہ رپورٹ دراصل خالص علمی نقطۂ نظر سے بھی اہمیت رکھتی ہے اور اس نقطۂ نظر سے بھی یہ ایک علمی خدمت ہے کہ اس کے مباحث کا جائزہ لیا جائے۔ اس طرح کے علمی جائزے سے ملک کا مجموعی ذہنی معیار ترقی پا سکتا ہے۔ عام لوگوں میں معاملات کی سوجھ بوجھ پیدا ہوتی ہے۔ اپنے مسائل پر رائے قائم کرنے اور مختلف آراء کو جانچنے کی صلاحیت نشوونما پاتی ہے۔ بلکہ جو کمیشن دنیا میں ایسے کام کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں۔ اپنے کام پر ہونے والے تبصروں سے بڑی فراخدلی اور عالی ظرفی کے ساتھ وہ خود بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔

علاوہ بریں رپورٹ ایسے مسائل پر مشتمل ہے جو ہمارے ملک میں چلنے والی تحریکوں اور ہر محفل میں روزمرہ زیر بحث آنے والے عملی مسائل و معاملات سے متعلق ہیں۔ خصوصاً اسلامی دستور اور اسلامی نظام اور جمہوریت اور خود قادیانی مسئلہ جیسے مباحث ایک مستقل نظریاتی کشمکش کا میدان بن چکے ہیں۔ جس طرح ان مباحث کو کسی ایک تقریر یا کتاب یا مقالہ پر اس طرح ختم نہیں کیا جاسکتا کہ بس اب یہ حرف آخر ہے۔ اس سے آگے کوئی ایک حرف نہ کہے گا۔ اسی طرح کسی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ ان پر پیش کر کے بھی لوگوں سے یہ نہیں منوایا جاسکتا کہ بس اب کوئی زبان نہ کھولے۔ حالات کے جائزوں اور نظریات کے تجزیوں کے میدان میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوسکتی اور کوئی چیز تنقید و تبصرہ سے بالاتر قرار پانے والے صحیفۂ مقدس کا مقام نہیں حاصل کر سکتی۔ یہ چاہا جائے تو اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ ایک خاص چیز سے آگے ذہن سوچنا بند کر دیں۔ دماغ خیالات کے چشموں کا بہاؤ روک دیں اور تاریخ کی جوئے رواں یخ بستہ ہو کر تھم

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٦

جائے۔

پس اس رپورٹ کو بھی ایک علمی کام سمجھا جانا چاہئے اور اس پر ہونے والے تبصروں کو بھی اسی لحاظ سے دیکھنا چاہئے کہ یہ محض ایک علمی خدمت ہے۔ جس طرح رپورٹ کے مصنفین ملک کے خیر خواہوں کی حیثیت سے سوچتے ہیں۔ اسی طرح اس پر تبصرہ کرنے والے بھی ملک کے خیر خواہ ہو سکتے ہیں۔

تبصرے کے تین حصے

اس ضروری توضیح کے بعد اب ہم اصل رپورٹ کی طرف آتے ہیں۔ اس رپورٹ پر اپنے تبصرے کو ہم تین حصوں میں تقسیم کریں گے۔

پہلے حصے میں رپورٹ کے ان مباحث پر نظر ڈالی جائے گی۔ جو براہ راست ان تین معاملات سے متعلق ہیں جن کی تحقیق عدالت کے سپرد کی گئی تھی۔

دوسرے حصے میں ان مباحث پر تبصرہ کیا جائے گا جو اگرچہ سپرد کردہ معاملات کے حدود میں نہیں آتے۔ تاہم رپورٹ میں قلمبند کئے گئے ہیں۔

تیسرے حصے میں اس امر سے بحث کی جائے گی کہ اس رپورٹ نے اس اصل مسئلے کو جس پر پنجاب میں اتنے بڑے ہنگامے برپا ہوئے کچھ سلجھایا ہے یا گول مول چھوڑ دیا ہے۔ یا اور الٹا الجھا کر رکھ دیا ہے۔

حصہ اوّل

سپرد کردہ معاملات کے متعلق رپورٹ کے مباحث

ایک عدالت کے سپرد جو معاملات از روئے قانون کئے گئے ہوں۔ ان پر اس کی تحقیقات اور اس کے اخذ کردہ نتائج مشکل ہی سے کسی آزادانہ تنقید و تبصرہ کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ اگر حدود قانون کے اندر اس کی تھوڑی بہت گنجائش ہے بھی، تو ہم اس ناکافی گنجائش سے کوئی فائدہ اٹھانا نہیں چاہتے۔ اس لئے اس مضمون میں رپورٹ کے اس پہلو پر کوئی بحث نہیں کی جائے گی کہ سپرد کردہ معاملات کے متعلق عدالت نے جو فیصلے دیئے ہیں۔ ان میں کوئی خامی ہے یا نہیں اور ہے تو وہ کیا ہے۔ البتہ اس سلسلے میں کچھ ضمنی مگر اہم نکات ایسے ہیں جن کو بیان کر دینا ضروری ہے۔

غلط سرکاری اطلاعات

اوّلین چیز جو اس رپورٹ کا مطالعہ کرتے وقت ہر پڑھنے والے کو شدت سے محسوس

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٧

ہوسکتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ عدالت نے واقعات کے بیان اور پھر ان سے نتائج اخذ کرنے اور فیصلے دینے میں بہت بڑی حد تک ان سرکاری اطلاعات پر انحصار کیا ہے۔ جو مختلف جماعتوں اور اشخاص کی کارروائیوں کے متعلق زیادہ تر بلکہ تمام تر سی آئی ڈی کی رپورٹوں پر مبنی تھیں۔ ان سرکاری اطلاعات میں متعدد چیزیں ایسی ہیں جو قطعی طور پر خلاف واقعہ ہیں۔ مگر ان کو نہ صرف یہ کہ رپورٹ میں نقل کیا گیا ہے۔ بلکہ اخذ نتائج میں ان سے مدد لی گئی ہے۔ ہم اس کی چند مثالیں یہاں پیش کرتے ہیں۔

مراسلہ ہمیں ملتا ہے جو ٢١؍اکتوبر ١٩٥٢ء کو ڈپٹی ہوم سیکرٹری وزارت داخلہ پاکستان کے نام بھیجا گیا تھا۔ اس میں دو صریح غلط بیانیاں ہیں۔ پہلی غلط بیانی یہ ہے: ”جب دوسری پارٹیوں مثلاً جماعت اسلامی، اسلام لیگ اور شیعوں نے دیکھا کہ ختم نبوت کے مسئلے پر عوامی رائے کو جیت لینے میں احرار ان سے بازی لئے جارہے ہیں تو وہ گذشتہ ماہ اگست کے آغاز میں پوری مستعدی کے ساتھ احمدیوں کی مذمت کرنے میں ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔ جماعت اسلامی نے اپنے آٹھ مطالبات کے ساتھ اس نویں مطالبے کا بھی اضافہ کرلیا کہ مرزائی ایک الگ اقلیت قرار دیئے جائیں اور سر ظفر اللہ خاں اپنے عہدے سے الگ کئے جائیں۔“

ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ جماعت اسلامی کے نویں مطالبے میں سر ظفر اللہ خاں کی علیحدگی کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہ تھا۔ رہے وہ محرکات جو قادیانیت کے خلاف تحریک میں حصہ لینے کے لئے مختلف جماعتوں کی طرف منسوب کئے گئے ہیں تو ان کے متعلق اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ یہ بیورو کریسی کی پست ذہنیت کا ایک معمولی سا نمونہ ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ اس مفروضے پر اپنے خیالات اور احکام کی بنا رکھتے ہیں کہ جو شخص یا گروہ بھی سرکار عالی کے منشاء کے خلاف کچھ کرتا ہے وہ لازماً بدنیتی اور گھٹیا درجے کے خود غرضانہ محرکات ہی کی بناء پر کرتا ہے۔ ایماندارانہ رائے صرف سرکاری دفتروں کے کرسی نشینوں کا اجارہ ہے۔ جو لوگ اپنی خدمات کے صلے میں بڑے بڑے عہدوں پر ترقیاں مارتے ہوں وہ تو ہیں کمال درجہ نیک نیت اور جنہیں اپنے مشن کی راہ میں قدم قدم پر جان و مال کے نقصانات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ وہ سب کچھ خود غرضی اور بدنیتی کی بناء پر کام کرتے ہیں۔ حیرت ہے کہ سرکاری اطلاعات کا یہ معیار ہماری انتظامیہ کی اونچی سے اونچی منزلوں تک رائج ہے اور ان کی بنیاد پر پارٹیوں اور تحریکوں کے بارے میں بڑے بڑے

٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٨

اہم فیصلے کئے جاتے ہیں اور بڑے بڑے اہم امور میں عملی قدم اٹھائے جاتے ہیں۔

کہ لاہور کی مجلس عمل کے سرگرم ارکان اپنی آئندہ راہ عمل کے معاملہ میں متفق نہیں ہیں۔ جو گروہ حکومت سے اپنے مطالبات بزور منوانے کے لئے ڈائرکٹ ایکشن کرنے کا حامی ہے۔ وہ مجلس احرار کے شیخ حسام الدین، جماعت اسلامی کے نصر اللہ خاں عزیز اور امین احسن اصلاحی، اہل حدیث کے داؤد غزنوی اور جمعیت علمائے اسلام کے عبدالحلیم قاسمی پر مشتمل ہے۔ دوسرا گروہ جو آئینی اور پرامن طریقے پر ایجی ٹیشن جاری رکھنے کا حامی ہے وہ مجلس احرار کے ماسٹر تاج الدین انصاری، جمعیت علماء پاکستان کے مولانا ابوالحسنات اور غلام محمد ترنم، حزب الاحناف کے مولانا محمد ارشد پناہوی، شیعہ پارٹی کے حافظ کفایت حسین اور مظفر علی شمسی اور ”زمیندار“ کے مالک مولانا اختر علی خاں پر مشتمل ہے۔“

یہ اور اس کے بعد کی پوری تفصیل جو صفحہ ١١٤ تک پہنچی ہوئی ہے۔ سراسر ایک من گھڑت افسانہ ہے۔ جس میں صداقت کا شائبہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اس وقت مجلس عمل میں صرف شیخ حسام الدین صاحب ڈائرکٹ ایکشن کے حامی تھے اور وہ بھی ملک نصر اللہ خاں صاحب عزیز کے سمجھانے سے اپنی رائے بدل چکے تھے۔ ہمیں یہ دیکھ کر سخت افسوس ہوتا ہے کہ سی آئی ڈی کی ایسی غلط رپورٹوں پر ہمارے حکام عالی مقام رائیں قائم فرمایا کرتے ہیں اور یہ رائیں صرف کاغذ کی زینت ہی نہیں بنتیں بلکہ انہی کی بناء پر لوگوں کے قید اور نظر بند کئے جانے کے فیصلے ہوتے ہیں۔

آگے چل کر ص ١٧٤ پر رپورٹ میں لکھا ہے کہ: ”١٢ اور ١٣ نومبر ١٩٥٢ء کو گوجرانوالہ میں مجلس عمل کے زیر اہتمام ایک پبلک جلسہ ہوا۔ جس میں میاں طفیل محمد، جماعت اسلامی کے ایک نمائندے بھی شریک ہوئے اور اس میں احمدیوں کے معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کی تلقین کی گئی۔“ اس کا یہ حصہ بالکل خلاف واقعہ ہے کہ مذکورہ بالا جلسہ میں جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد شریک ہوئے تھے۔ شریک ہونے والے دراصل جمعیت علمائے اسلام کے مولوی طفیل احمد صاحب تھے۔ جن کو سی آئی ڈی کے رپورٹر نے محض نام کی مشابہت کی بنا پر میاں طفیل محمد بنا دیا۔

پھر صفحہ ١٧٨ پر راولپنڈی کے واقعات بیان کرتے ہوئے گورنمنٹ کالج کے طالب علم مسٹر مسعود ملک کو ایک کمیونسٹ طالب علم لکھ دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کی کوئی بنیاد غلط سرکاری اطلاعات کے سوا نہیں ہے۔ مسعود ملک کے متعلق راولپنڈی کے سینکڑوں طلبہ جانتے ہیں کہ وہ نہ

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٤٩

صرف یہ کہ کمیونسٹ نہیں ہے۔ بلکہ طلبہ کے اس گروہ سے تعلق رکھتا ہے جو کالجوں میں کمیونسٹ اثرات کا شدت سے مقابلہ کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے رپورٹ کے فاضل مصنفین کی توجہ ان سرکاری اطلاعات کی جانچ پرکھ کی طرف منعطف نہ ہوسکی۔ ورنہ وہ کبھی اس پر تیار نہ ہوتے کہ ان کے قلم سے ایک عدالتی تحقیقات کی رپورٹ میں کسی کے خلاف ایک لفظ بھی ایسا بلا تحقیق نکل جائے۔ جس سے اس کا مستقبل مدتوں کے لئے خراب ہو سکتا ہو۔

یہ صرف چند نمایاں مثالیں ہیں۔ ایسی متعدد اور مثالیں ان غلط بیانیوں کی پیش کی جاسکتی ہیں جو سرکاری اطلاعات میں کی گئی تھیں اور رپورٹ میں جوں کی توں نقل ہو گئی ہیں۔

واقعات کا غیر متوازن بیان

رپورٹ کا ایک پہلو یہ بھی قاری کے سامنے آتا ہے کہ واقعات کے بیان میں از اوّل تا آخر مخالفین قادیانیت ہی کی تحریروں، تقریروں اور کارروائیوں کا ذکر پوری طرح چھایا ہوا ہے۔ یہ ذکر خال خال ہی کہیں آیا ہے کہ اس دوران میں قادیانی حضرات کیا کہتے اور لکھتے اور کرتے رہے۔ داستان کے ایک رخ میں بڑی تفصیل ہے اور دوسرے رخ میں انتہائی اجمال بلکہ اشارات۔ ہمارا مدعا یہ ہرگز نہیں ہے کہ کسی جانبداری کی بناء پر ایسا کیا گیا ہے۔ ہم صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بے لاگ نگاہ سے دیکھنے والے ایک عام آدمی کو اس معاملہ میں رپورٹ کا بیان بہت غیر متوازن نظر آتا ہے۔ ایک طرف قادیانیوں کے اقوال و اعمال کا وہ مجمل بیان ہے جو صفحہ ١٩٦ تا ١٩٩ تک اور ٢٦٠ تا ٢٦١ تک (صرف چار پانچ صفحات) میں ہمیں ملتا ہے اور دوسری طرف ان کے مخالفین کی کاروائیاں ہیں۔ جن سے رپورٹ کا بہت بڑا حصہ بھرا ہوا ہے۔ ان دونوں حصوں کو دیکھ کر کم سے کم ایک ناواقف آدمی، ملکی بھی اور غیر ملکی بھی۔ یہی سمجھے گا کہ اس جھگڑے میں ساری زیادتی سالہا سال سے ایک ہی فریق کرتا رہا ہے اور دوسرے ”مظلوم فریق“ کا کوئی نمایاں پارٹ زیر تحقیق صورت حالات کے پس منظر میں موجود نہیں ہے۔ اگر عدالت کا اپنا تاثر ہی ایسا ہو تو چاہئے تھا کہ وہ رپورٹ میں واضح طور پر موجود ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ عدم توازن محض اتفاقی ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا جو غلط اثر ناواقف لوگوں پر پڑ سکتا ہے۔ اس کا کیا علاج؟ اس کا اب کوئی علاج ممکن نہیں۔

طنزیات

رپورٹ کے انداز بیان میں طنز کا اسلوب خوب دل کھول کر استعمال کیا گیا ہے۔ اس

٩

صفحہ ٤٥٠

کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔

”علماء کے ساتھ آمنے سامنے کی ٹکر ایک طرف اور پاکستان کے بین الاقوامی برادری سے نکال دیئے جانے کا خطرہ دوسری طرف ١...... ان دونوں کے درمیان خواجہ ناظم الدین کے لئے بس ایک ہی راستہ کھلا تھا کہ علماء سے رحم کی اپیل کریں۔ اپیل ملک کے نام پر، ان لوگوں کے نام پر جو فاقہ کشی کے فوری خطرے سے دوچار تھے ٢...... مگر بھلا ملک اور باشندوں اور بھوک جیسی مبتذل چیزوں کی بھی اللہ کے حکم اور اس کی خواہش کے مقابلے میں کوئی حقیقت ہے اور علماء اسی حکم اور خواہش کو لے کر خواجہ ناظم الدین کے پاس آئے تھے۔ اس لئے وہ سخت اور غیر متاثر رہے۔ خواجہ ناظم الدین نے ان کو یاد دلایا کہ چوہدری ظفر اللہ خاں کو ان کے منصب پر خود قائداعظم نے مقرر فرمایا تھا۔ کیا وہ مرحوم بانیٔ ریاست کے فیصلے کا احترام نہ کریں گے ٣۔ مگر دنیا کی ہر چیز بدل سکتی ہے۔ علماء کی رائے ایک دفعہ قائم ہو جانے کے بعد نہیں بدلتی۔ خواجہ صاحب کی دلیل ان کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔“

(صفحہ ٢٨٢)

(خواجہ ناظم الدین کی رائے میں) کفر کے فتوے خلفائے اربعہ کے وقت سے اسلام کی ایک خصوصیت رہے ہیں۔ مگر ان کا یہ نتیجہ کبھی نہیں ہوا کہ جن اشخاص یا طبقوں کے خلاف فتویٰ دیا گیا ہو۔ ان کو شہری حقوق سے محروم کر دیا گیا ہو۔ یہ واقعی ایک ایسی ریاست میں بڑی اطمینان بخش بات ہے۔ جہاں فتویٰ اتنے ہی ضروری نظر آتے ہیں۔ جتنی کہ توپیں اور مکھن۔

(صفحہ ٢٩١)

پاکستان بین الاقوامی برادری سے نکال باہر کیا جاتا؟ (اس مسئلے پر آگے تفصیل کے ساتھ بحث آ رہی ہے)

سے فوراً اطلاع آجاتی کہ ہم ان لوگوں کو گیہوں کا ایک دانہ بھی نہیں دے سکتے۔ جو اپنے ملک کی وزارت خارجہ سے فلاں شخص خاص کو ہٹا رہے ہیں۔ اس طرح ان مطالبات کو تسلیم کرتے ہی پاکستان میں ایسا قحط پڑتا کہ لاکھوں آدمی بھوکوں مرجاتے؟

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥١

میں انہوں نے فرمایا تھا کہ میرے کئے ہوئے دوسرے تقررات میں تو ردوبدل ہوسکتا ہے۔ مگر ایک تقرر میں نے خصوصیت کے ساتھ بانی ریاست ہونے کی حیثیت سے کیا ہے۔ اس لئے اس میں کبھی ردوبدل نہ ہونے پائے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی آرک بشپ آف پاکستان۔

(صفحہ ٣٠٢)

عملے کے کلرکوں نے خصوصیت کے ساتھ سیکرٹریٹ اور اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتروں (دو بڑے مذہبی اداروں ١؎) میں کام چھوڑ دیا۔

(ص ٣٥٧)

اسی طرح کے طنزیات سے رپورٹ کا دامن مالا مال ہے۔ ایک سنجیدہ مسئلے میں بحث کرتے ہوئے ایک ایسے اسلوب کا استعمال کرنا جو معمولاً کسی مابہ النزاع مسئلے میں ایک نقطۂ نظر کی حمایت و وکالت اور دوسرے کی تردید و مخالفت کے لئے استعمال ہوا کرتا ہے۔ کس نہ کسی پڑھنے والے کو بے جا طور پر غلط فہمی میں ڈال سکتا ہے۔ ہماری عدلیہ کا وقار اتنی اونچی چیز ہے کہ ہم اسے غلط فہمیوں کے امکان سے بھی بلند و برتر دیکھنے کے متمنی ہیں۔

نیتوں پر اظہار رائے

اس رپورٹ میں ایک خاص بات یہ بھی قاری کے سامنے آتی ہے کہ بہت سے لوگوں کی نیتوں کے خلاف بھی اظہار رائے کیا گیا ہے اور یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ اس اظہار رائے کا حصہ تقریباً سارے کا سارا ان اشخاص کو ملا ہے جو قادیانی مسئلے میں ایک ہی رجحان کے حامل تھے۔ ان تمام اشخاص میں سے صرف ایک خواجہ ناظم الدین صاحب کا معاملہ استثناء رکھتا ہے۔ اس رپورٹ کو پڑھنے والے کی نگاہ میں ان سب کی دیانت مشتبہ ہو جاتی ہے۔ زندہ لوگ تو خیر، جو حضرات رپورٹ کی ترتیب کے وقت (بلکہ ڈائرکٹ ایکشن اور اس کی تحقیقات سے بھی قبل) انتقال فرما چکے تھے وہ بھی نہیں بچے۔ اس اظہار رائے کے چند نمونے ملاحظہ ہوں ۔

’’ایک شخص عبدالغفار اثر بی۔ اے بھی جو اس سے پہلے (گوجرانوالہ میں) طوائفوں کے خلاف اپنی جدوجہد میں کامیاب ہو چکا تھا۔ اپنا حلقۂ اثر بڑھانے کی خاطر اس تحریک میں

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٢

شریک ہوگیا ہے۔“

(ص ١٧٤)

دلچسپی ہونی چاہئے۔ سرکاری دفاتر کے ملازموں کا مذہب سے کیا واسطہ۔

صاحب کی شرکت ایماندارانہ رائے اور دلی جذبے کے بجائے محض اپنا حلقہ اثر بڑھانے کی خاطر تھی۔

”فی الواقع ڈائرکٹ ایکشن میں حصہ لینے والوں میں سے کوئی شخص بھی یہ نہیں مان سکتا تھا کہ یہ مطالبات سیاسی نوعیت کے تھے۔ کیونکہ اسے تسلیم کر کے وہ اپنے آپ کو ہنگاموں کا براہ راست ذمہ دار بنالیتا۔ ان مطالبات کی مذہبی نوعیت کا اقرار ہر ایک متعلق شخص کو مجبوراً کرنا پڑا ہے۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ ایک دنیوی غرض کے لئے ہنگامے برپا کرنے کی ذمہ داری سے بچا جائے ١؂۔“

(ص ١٨٥)

٥؍ مارچ کی سہ پہر کو گورنمنٹ ہاؤس میں شہریوں کا جو جلسہ ہوا تھا۔ اس میں کوئی لیڈر، سیاسی آدمی، یا شہری آدمی اس کے لئے تیار نہ تھا کہ عوام الناس کے اچھے احساسات سے اپیل کرنے کے لئے ایک بیان پر دستخط کر کے غیر ہر دلعزیز یا نشانۂ ملامت بننے کا خطرہ مول لیتا ٢؂۔

(ص ٢٣٤)

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٣

مذہبی اس بناء پر تھے کہ ان کی ابتداء مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان ایک مذہبی نزاع سے ہوئی تھی اور سیاسی اس بناء پر کہ ابتدائی مذہبی نزاع نے عملاً جو معاشرتی اور معاشی خرابیاں پیدا کر دی ہیں۔ ان کو رفع کرنے کے لئے دستوری اور انتظامی تدابیر اختیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس طرح ایک ہی معاملے میں مذہبی اور سیاسی نوعیتیں خلط ملط ہو گئی تھیں اور مطالبات کو سیاسی کے بجائے مذہبی کہنے کی لازماً صرف وہی ایک وجہ نہیں ہو سکتی تھی جو عدالت نے نہ جانے کن شاہد ودلائل کی بناء پر (جن کا رپورٹ میں تو ذکر ہے نہیں) بلا استثناء ہر اس شخص کی طرف منسوب کر رہی ہے۔ جس نے ان مطالبات کو مذہبی نوعیت کا قرار دیا۔ خالص دیانتدارانہ رائے کی بناء پر بھی ایک شخص ان کو مذہبی کہہ سکتا تھا۔ یہاں پھر یہ سوال حل طلب رہ جاتا ہے کہ دو برابر کے امکانات میں سے ایک کو اختیار کرنے کے لئے عدالت کے پاس کون سی معقول وجہ تھی؟ اور افسوس ہے کہ رپورٹ اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیتی۔

ہو سکتا کہ جس وقت حکومت اور عوام میں کسی مسئلے پر تصادم ہو جاتا ہے اور لاٹھی چارج اور فائرنگ کی وجہ سے عام آبادی بھڑک اٹھتی ہے۔ اس وقت اصل مسئلے کے حل کی کوئی قابل اطمینان صورت پیش کئے بغیر محض امن کی اپیل کرنا (خصوصاً جب کہ وہ گورنمنٹ ہاؤس میں بیٹھ کر کی گئی ہو) قطعاً لا حاصل ہوتا ہے اور اس سے صورتحال میں ایک رائی برابر بھی کوئی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا اس مجوزہ اپیل پر دستخط نہ کرنے کی بھی لازماً وہی ایک وجہ نہ ہو سکتی تھی جو عدالت نے بیان کی ہے۔ دوسری وجوہ کا بھی یکساں امکان تھا۔

(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

”یہ بات حیرت انگیز ہے کہ پورا تعلیمات اسلامی بورڈ، جو ایک سرکاری ادارہ ہے۔ اس ڈائرکٹ ایکشن کے کاروبار میں ہمہ تن کود پڑے۔ مولانا سلیمان ندوی ١؎، بورڈ کے صدر، مولانا ظفر احمد عثمانی، بورڈ کے سیکرٹری اور مولانا محمد شفیع ٢؎ اور مولانا احتشام الحق ٣؎، بورڈ کے ممبر، ان قراردادوں کے پاس کرنے میں، جو ڈائرکٹ ایکشن کے متعلق پیش ہوئیں اور ایک مجلس عمل بنانے میں شریک تھے اور مولانا احتشام الحق نہ صرف کنونشن کے داعی تھے۔ بلکہ خود مجلس عمل کے رکن بھی تھے۔ یہ سب حضرات ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کی ملازمت میں ہیں اور اچھی خاصی تنخواہیں لے رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ علماء اپنی ایک الگ دنیا میں رہتے ہوں اور معاملات کو اپنے ہی معیاروں پر جانچتے ہوں۔ مگر کسی شخص نے ابھی تک ہمارے سامنے اس اصول کو واضح نہیں کیا۔

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٤

جس کی بناء پر ایک شخص ایمانداری کے ساتھ حکومت کے نظام میں بھی رہے۔ سرکاری خزانے سے ایک معقول تنخواہ بھی لے اور اس کے ساتھ ایک ایسی تحریک میں حصہ دار بھی ہو جو اسی حکومت کے خلاف بغاوت سے کچھ بھی کم نہیں ہے۔ اگر یہ حضرات قادیانی مسئلے پر ایسے ہی مضطرب تھے تو انہیں ایماندار آدمیوں کی طرح اپنے مستاجر کے خلاف ڈائرکٹ ایکشن کی قرارداد میں حصہ لینے سے پہلے حکومت کے نظام سے اپنا تعلق منقطع کر لینا چاہئے تھا ٣؎“

(ص ٢٤٢)

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) یہاں پھر رپورٹ کے قاری کے دل میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ دو برابر کے امکانات میں سے ایک کو ساقط اور دوسرے کو اختیار کرنے کی کون سی معقول وجہ عدالت کے پاس تھی؟ اور رپورٹ یہاں بھی کوئی جواب دیئے بغیر اسے تذبذب میں چھوڑ دیتی ہے۔

١؎ واضح رہے کہ اس رپورٹ کی اشاعت کے وقت مولانا سید سلیمان ندوی مرحوم انتقال فرما چکے تھے۔

٢؎ رپورٹ کی ابتدائی کاپی جو پریس کو مہیا کی گئی تھی۔ اس میں مولانا احتشام الحق کا نام بورڈ کے ممبر کی حیثیت سے لکھا گیا تھا۔ یہی رپورٹ پریس میں شائع ہوئی۔ بعد میں عدالت کو معلوم ہوا کہ مولانا احتشام الحق صاحب بورڈ کے ممبر کبھی نہیں رہے۔ اس لئے ان کا نام اس کاپی سے حذف کیا گیا۔ جو اب پبلک کو مہیا کی جارہی ہے۔ اسی طرح مولانا ظفر احمد صاحب انصاری کے بجائے مولانا ظفر احمد عثمانی کو پہلے بورڈ کا سیکرٹری لکھا گیا تھا۔ بعد میں اس کی تصحیح کی گئی۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ ریمارک لکھتے وقت عدالت کے سامنے بورڈ کے متعلق ضروری معلومات نہیں تھیں۔ بعد میں فراہم ہوئیں۔

٣؎ کاش کہ ان حضرات کی دیانت کے بارے میں (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

عزتوں پر زد

کچھ مواقع ایسے بھی آتے ہیں۔ جہاں پڑھنے والے کو بعض اصحاب کی عزت پر بھی زد پڑتی معلوم ہوتی ہے۔ ایسے چند مواقع کو ہم ذیل کے اقتباسات کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔

”قاضی مرید احمد سرگودھا میں ایک بے حیثیت آدمی تھا۔ کوئی انکم ٹیکس نہیں دیتا تھا اور صرف بیس کنال زمین کا مالک تھا ١؎“

(ص ٢٧٤)

”مسئلہ قادیانیت کا بچہ ابھی زندہ ہے اور اس کا منتظر ہے کہ کوئی آ کر اسے اٹھالے اور

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٥

اس دولت خداداد پاکستان میں اپنی زندگی بنانے کا موقع ہر شخص کے لئے موجود ہے۔ سیاسی لٹیروں کے لئے، طالع آزماؤں کے لئے، بے حیثیت لوگوں کے لئے۔ صرف دو آدمی ہمارے سامنے ایسے آئے جنہوں نے اپنے لئے زندگی بنانے کا یہ راستہ اختیار کرنے سے انکار کیا اور وہ تھے وزیر مواصلات خان سردار بہادر خاں اور ایڈیٹر نوائے وقت مسٹر حمید نظامی۔ ان دونوں نے اس ٹمپٹیشن کو اس کے تمام نتائج کے ساتھ رد کر دیا٢“۔

(ص ٣٨٦)

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ایسا قطعی فیصلہ دینے سے قبل عدالت کو متعلقہ ضروری معلومات حاصل ہو گئی ہوتیں کہ آیا تعلیمات اسلامی بورڈ کے ارکان ضابطہ ملازمت کے مطابق سرکاری ملازم تھے بھی یا نہیں؟ بورڈ تو بلاشبہ ایک سرکاری ادارہ تھا۔ مگر اس کے ارکان باقاعدہ ملازم سرکار نہ تھے۔ بلکہ ان کی حیثیت سرکاری کمیٹیوں میں حصہ لینے والے غیر سرکاری آدمیوں کی سی تھی اور ان کو تنخواہ نہیں بلکہ ”اعزازی حق الخدمت“ ملتا تھا۔ ان کو قانوناً کوئی چیز ان پابندیوں میں جکڑنے والی نہ تھی۔ جو صرف سرکاری ملازموں پر عائد ہوتی ہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو عدالت سے پہلے خود وہ محکمہ ان پر گرفت کرتا۔ جس کے وہ ملازم سمجھے گئے ہیں۔

١۔ اس مقام سے گزرتے ہوئے قاری اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کیا آدمی کی عزت و حیثیت ناپنے کا پیمانہ بس یہ ہے کہ آدمی انکم ٹیکس دیتا ہے یا نہیں اور کتنی زمین کا وہ مالک ہے؟

٢۔ بات مبہم سی رہ گئی۔ کیا عدالت کا اصل منشا یہ ہے کہ قادیانی مسلم نزاع میں جو لوگ بھی قادیانیت کے مخالف اور تین مطالبات کے حامی تھے۔ وہ سب کے سب سیاسی لٹیرے، طالع آزما اور بے حیثیت لوگ تھے اور ان کے سامنے اپنی زندگی بنانے کے سوا اس مسئلے سے دلچسپی لینے کا کوئی اور مقصد نہ تھا؟ عدالت کے سامنے اس سلسلہ میں جتنے لوگ پیش ہوئے۔ ان میں سے حمید نظامی اور سردار بہادر خاں کے سوا کوئی اس ہمہ گیر ریمارک سے مستثنیٰ نہیں ہے؟ اور یہ دونوں اصحاب کیا صرف اس لئے مستثنیٰ ہونے کا شرف حاصل کر گئے کہ انہوں نے عدالت میں ان مطالبات کو غلط قرار دیا یا کسی دوسری وجہ سے؟ افسوس ہے کہ رپورٹ کا اس موقع پر انداز بیان ایسا ہے کہ مدعا کھلتا نہیں۔

ان ریمارکس کو پڑھتے ہوئے لوگ، ملکی اور غیر ملکی بھی۔ یقیناً اس سوچ میں پڑ جائیں گے کہ جس ملک کے اندر تمام کے تمام (دو افراد کے استثنیٰ کے ساتھ) سیاسی اور مذہبی کارکن ”لٹیرے، طالع آزما“ اور بے حیثیت آدمی ہوں۔ اس کے اور کس میدان اور شعبے میں نیک نیت اور باضمیر لوگ پائے جاتے ہوں گے۔ جہاں یہ طوفان فساد اتنا ہمہ گیر اور سر سے اونچا ہو گیا ہو۔ وہاں کتنے ایک ”جزائر تقدس“ بچے رہ گئے ہوں گے۔ اب اگر اس رپورٹ کو پڑھ کر دنیا یہ سمجھے کہ

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٦

پاکستان لٹیروں اور بے ایمانوں کا ایک ملک ہے تو کیا اس سے ملک کی فلاح و بہبود کو فائدہ پہنچے گا؟

دوسری طرف بجائے خود یہ امر بھی قابل غور معلوم ہوتا ہے کہ آیا لوگوں کی عزتوں کی چھان بین بھی کارروائی سے متعلق اور سپرد شدہ معاملات کا اپنا تقاضا تھی اور اگر یہ نہ کی جاتی یا رپورٹ میں یہ حصے شامل نہ ہوتے تو کیا کارروائی میں کوئی خلا رہ جاتا؟ لیکن اس معاملے میں جب رپورٹ خاموش ہے تو ہر پڑھنے والا بھی خاموش رہ جائے گا۔ تشویش صرف اس چیز پر ہوتی ہے کہ اتنی بڑی ذمہ دارانہ رپورٹ جو اندرون ملک اور بیرون ملک ایک بڑے پیمانے پر پڑھی جائے گی اور جو ہزاروں کی تعداد میں پے در پے شائع ہوتی رہے گی۔ بلکہ آئندہ نسلوں کے ہاتھوں تک بھی پہنچے گی۔ اس میں جس فرد کے دامن عزت پر بھی کوئی دھبہ ایک مرتبہ لگ جائے گا اس کو دھونے کی کوئی تدبیر باقی نہیں ہے۔ اگر اس طرح کا کوئی دھبہ غیر ضروری یا ناروا طور پر لگ گیا ہو تو اس کی تلافی کس شے سے ہوگی؟

لوگوں کے مسلک کی ترجمانی و تعبیر میں سہو

اس رپورٹ کا ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ بعض مقامات پر لوگوں کے مسلک اور اقوال اور افعال غلط مفہوم کا جامہ پہنے نگاہوں کے سامنے آتے ہیں۔ اس کی وجہ معلومات کی کمی ہو یا کسی طرح کا سہو۔ اب نتیجہ بہرحال یہ ہے کہ بعض لوگوں کے نظریہ و مسلک کی ایسی تعبیر سامنے آتی ہے یا کوئی ایسی بات ان سے منسوب ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ جو امر واقعہ سے کسی طرح مطابقت نہیں کھاتی۔ مثلاً صفحہ ٢٠١ پر ارشاد ہوتا ہے۔

’’جو جماعتیں اب ان تین مطالبات کو مذہبی بنیادوں پر تسلیم کرانے کے لئے شور مچا رہی ہیں۔ ان میں سے اہم ترین جماعتیں سب کی سب اسلامی ریاست کے تصور کی مخالف تھیں۔ جماعت اسلامی کے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی تک یہ رائے رکھتے تھے کہ نئی مسلم ریاست اگر کبھی وجود میں آئی بھی تو اس کی شکل غیر دینی ریاست کی ہوگی۔‘‘

ہمارے لئے اس رپورٹ کا یہ بالکل ایک نیا انکشاف ہے کہ جماعت اسلامی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کبھی اسلامی ریاست کے تصور کے مخالف تھے۔ اس ملک میں لاکھوں آدمیوں نے جماعت کا لٹریچر پڑھا ہے۔ وہ یقیناً اس انکشاف کو سن کر حیران رہ جائیں گے۔ کیونکہ ان میں کسی کو بھی اس لٹریچر میں وہ بات نہ ملی جو ہمارے ان دو فاضل ججوں کے قلم سے مولانا مودودی اور جماعت اسلامی سے منسوب ہو گئی۔ رہا آخری فقرہ تو اس سیاق و سباق میں وہ جو معنی دے رہا

١٦

صفحہ ٤٥٧

ہے۔ وہ اصل حقیقت کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے تقسیم ہند سے پہلے جس بناء پر یہ کہا تھا کہ مجوزہ پاکستان ایک اسلامی ریاست نہ بن سکے گا۔ وہ یہ نہ تھی کہ وہ اسلامی ریاست کے قیام کے مخالف تھے۔ بلکہ اس کے برعکس وہ تو مسلم لیگ سے اس لئے الگ رہے کہ ان کو امید نہ تھی کہ اس ذہنیت اور اس کریکٹر کی جماعت کے ہاتھوں کبھی کوئی اسلامی ریاست وجود میں آسکے گی۔ نیز جس وقت یہ بات کہی گئی تھی اس وقت تقسیم کی تجویز میں نہ تو بنگال و پنجاب کی تقسیم شامل تھی اور نہ آبادی کے تبادلے کی کوئی اسکیم کسی کے ذہن میں تھی۔ اس صورت میں متحدہ بنگال کی ٤٦ فیصدی اور مغربی پاکستان (بشمول متحدہ پنجاب) کی تقریباً ٤٠ فیصدی غیر مسلم آبادی کی موجودگی میں جب کہ خود مسلمانوں کے مغرب زدہ اصحاب اقتدار بھی اس کے ہمنوا ہو جائیں۔ بظاہر اس کا کوئی امکان نظر نہ آتا تھا کہ پاکستان میں اسلامی ریاست کا نام بھی لیا جاسکے گا۔ چنانچہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے یہ اظہار رائے اسی استدلال کے ساتھ کیا تھا۔ جس کا مطبوعہ ریکارڈ موجود ہے۔

آگے چل کر صفحہ ٢٤٣ اور ٢٤٤ پر جماعت اسلامی کی پوزیشن پھر ایسی شکل میں سامنے آتی ہے۔ جسے نہ جماعت قبول کرنے پر تیار ہوسکتی ہے۔ نہ جماعت کا لٹریچر اور اس کی عملی تاریخ اس کی تائید کرتی ہے اور نہ جماعت کو جاننے اور سمجھنے والے لوگ آسانی سے اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ بلکہ اس موقع پر ایسے ایسے امور زیر بحث لائے گئے ہیں۔ جن کے بارے میں رپورٹ کا طالب علمانہ مطالعہ کرنے والا کوئی شخص اس سوال سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آیا یہ امور اس تحقیقات میں عدالت کے لئے فی الواقعہ تصفیہ طلب تھے؟ کیا ان کو باقاعدہ تصفیہ طلب مسائل کی حیثیت دے کر جماعت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان میں اپنی پوزیشن کو خود واضح کرے؟ مثلاً یہ سوالات کہ تقسیم سے پہلے پاکستان کے قیام کے معاملہ میں کس جماعت کی کیا پوزیشن تھی یا یہ کہ اپنے نصب العین کے حصول کے لئے کون سی جماعت کن ذرائع و وسائل کے استعمال کی قائل ہے اور کن کی نہیں۔ بظاہر نہ تو یہ اس عدالت میں تصفیہ طلب ہی تھے اور نہ ان کو کبھی باقاعدہ ایک تنقیح بنا کر کسی سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے کہا گیا۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات ہے کہ مطالبات تسلیم کرانے کے لئے ڈائرکٹ ایکشن کے جائز ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں جماعت اسلامی کا جو مسلک پوری وضاحت کے ساتھ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنے دوسرے اور تیسرے بیانات کے آخر میں بیان کر دیا تھا۔ رپورٹ اسے سامنے لانے کے بجائے جماعت

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٨

کو ایک ایسے مسلک کے ساتھ پیش کرتی ہے جو ان بیانات، جماعت کے عملی رویے، اس کے دستور اور لٹریچر سے کوئی میل کھاتا نظر نہیں آتا۔ ملاحظہ ہو: ”جہاں ایک عوامی مطالبہ ہو اور حکومت اسے نہ قبول کرے اور نہ اس پر غور کرنے کے لئے راضی ہو وہاں تمام دستوری ذرائع بالائے طاق رکھے جاسکتے ہیں اور حکومت کو بغاوت (Civil Revolt) کا نوٹس دیا جاسکتا ہے۔“

نظریہ و مسلک کی تعبیر و ترجمانی کا ایسا ہی ایک اور نمونہ ہم کو صفحہ ٣٨١ پر ملتا ہے۔ جس کو ہم بڑے افسوس کے ساتھ یہاں نقل کرتے ہیں۔

”حکومت فوج کو بلا قید و شرط استعمال کرنے میں تامل کر رہی تھی۔ جس کی وجہ جیسا کہ میاں انور علی کہتے ہیں۔ یہ تھی کہ اسے خون خرابے کا اندیشہ تھا اور وزراء سر بر آوردہ شہریوں کے اس احتجاج سے پریشان ہو گئے تھے کہ پولیس تشدد کرنے والے مجمعوں پر بھی کیوں گولیاں برسا رہی ہے۔ ہم پھر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ احتجاج تشدد کرنے والے مجمعوں پر بھی گولیاں برسانے کے خلاف تھا۔ ان مجمعوں پر جنہوں نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا تھا کہ کسی پولیس اسٹیشن پر اینٹیں برسا دیں۔ یا کسی آتی جاتی بس کو کہیں کہیں جلا دیا یا کسی گناہ گار پوسٹ آفس کو آگ لگادی۔ یا مسافروں سے بھری ہوئی کسی ریل پر پتھر برسا دیئے۔ کیونکہ وہ اسٹیشن سے نکلنا چاہتی تھی۔ یا ان تانگے والوں اور دکانداروں کے منہ کالے کر دیئے جو اپنا کاروبار کر رہے تھے۔“

اس طنزیہ انداز بیان سے قطع نظر کرتے ہوئے سوال یہ سامنے آتا ہے کہ گورنمنٹ ہاؤس کے ٥؍مارچ والے اجتماع میں یا اور کسی دوسرے موقع پر کسی سر برآوردہ شہری نے کبھی تشدد کرنے والے مجمعوں پر گولی چلانے کے خلاف احتجاج کیا تھا؟ شکایت ہر جگہ ہر شخص کی طرف سے جب بھی کی گئی ہے۔ اندھا دھند گولی برسانے (Indiscriminate Firing) کے خلاف کی گئی ہے۔ جس سے راہ چلتوں ہی کو نہیں، کوٹھیوں پر سے جھانکنے والوں تک کو شکار کیا گیا۔ یہ احتجاج جب گورنمنٹ ہاؤس کی میٹنگ میں کیا گیا تھا تو آئی جی پولیس سامنے موجود تھے اور ان میں یہ دعویٰ کرنے کی ہمت نہیں تھی کہ فائرنگ اندھا دھند نہیں ہے۔ گورنر اور وزراء میں سے بھی کوئی اس کا انکار نہ کرسکا۔ اس کا وزن اسی لئے محسوس کیا گیا کہ یہ مبنی بر حقیقت اور جائز احتجاج تھا۔ مگر اس رپورٹ کے مطالعہ سے تاثر یہی ہوتا ہے کہ یہ احتجاج اندھادھند فائرنگ پر نہیں بلکہ تشدد کرنے والے مجمعوں پر مجرد فائرنگ کرنے کے خلاف تھا۔ ایسی حقیقت کی تعبیر کا یہ ذرا سا جھول معاملے کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے اور متعلقہ شخص اور جماعت کی پوزیشن کی تصویر کو پڑھنے

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٥٩

والے کے سامنے کتنی مختلف شکل میں نمایاں کرتا ہے۔ حقیقت کی اس تعبیر پر رپورٹ کے مباحث کی بنا رکھی گئی ہے۔ اسے عدالت کے سہو نظر پر محمول کیا جاسکتا ہے۔ بہر حال عدالت بھی عام انسانی افراد پر مشتمل تھی۔ لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ایسے سہو بہت سے افراد اور اداروں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچانے کا موجب ہو جاتے ہیں اور ان کا ازالہ آسانی سے نہیں ہوسکتا۔

کچھ تضاد

رپورٹ کے اندر متعدد ایسے نظریات و خیالات بھی درج ملتے ہیں جن کو ایک متوسط ذہن کا آدمی بھی باہم دگر متضاد محسوس کر سکتا ہے اور ان کے بے جوڑ پن کو کسی تاویل سے رفع کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر ذیل میں ہم چند عبارتوں کو ترتیب وار نقل کرتے ہیں۔ جن کو باہم دگر ہم تطبیق نہیں دے سکے اور نہ اس معاملے میں رپورٹ سے کوئی مدد پاسکے ہیں۔

معاشرتی اور سیاسی عوامل میں پائے جاتے ہیں تو اس کے لئے صاف اور سیدھا راستہ یہ تھا کہ وہ ایک دستوری جہدوجہد میں مشغول ہو جاتی اور دستور ساز اسمبلی کو اپنے نقطۂ نظر سے متفق کرنے کی کوشش کرتی یا آئندہ انتخابات کا انتظار کرتی اور اسی مسئلے پر انتخاب لڑلیتی۔“

(ص ٢٣٤)

ملاقات کے موقع پر) کہا کہ احمدیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دینے یا نہ دینے کا مسئلہ دستور ساز اسمبلی کے طے کرنے کا مسئلہ ہے اور میں وہاں اس کے متعلق کوئی تحریک پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔“

(ص ١٢٩)

کے ٢٧؍جولائی ١٩٥٢ء والے ریزولیوشن) اور ان تقریروں (یعنی مسٹر دولتانہ کی پسرور، حضوری باغ لاہور اور راولپنڈی والی تقریروں) سے واضح طور پر نکلتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ احمدیوں کے متعلق مطالبات اپنی نوعیت کے اعتبار سے در حقیقت دستوری مطالبات ہیں۔ اس لئے صرف مرکزی

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٠

اصحاب اقتدار ہی ان کے متعلق کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ یعنی آل پاکستان مسلم لیگ، مرکزی حکومت اور مجلس دستور ساز پاکستان۔"

(ص ٢٦٣)

تحریک میں دلچسپی رکھتا تھا۔ اس دستوری پوزیشن کو پوری طرح سمجھ گیا کہ صوبہ میں پروپیگنڈا کرنا بے کار ہے اور یہ کہ جب تک باقاعدہ طریقہ سے یہ مطالبات دستور ساز اسمبلی کے سامنے نہ لائے جائیں۔ ایجی ٹیشن سے کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔ اس وجہ سے جتنی پارٹیاں بھی ان مطالبات کو منوانے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی تھیں۔ ان کی تمام سرگرمیوں کا رخ مرکزی حکومت کی طرف مڑ گیا۔ جس کے خواجہ ناظم الدین سربراہ کار تھے۔ لہٰذا اگر خواجہ ناظم الدین نے اپنے آپ کو ان مطالبات کے تسلیم کرنے سے معذور پایا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈائرکٹ ایکشن اور پھر ہنگاموں کی نوبت آئی تو اس سارے ماجرے کی ذمہ داری جس طرح آل مسلم پارٹیز کنونشن پر ہے۔ اسی طرح یہ ذمہ داری صریحاً مسلم لیگ پر بھی عائد ہونی چاہئے۔"

(ص ٢٧٤)

دیکھئے...... فقرہ نمبر: ١ میں عدالت خود تجویز کرتی ہے کہ ان مطالبات کو دستور ساز اسمبلی میں لے جانا چاہئے تھا۔ فقرہ نمبر: ٢ میں خواجہ ناظم الدین صاحب خود بتا رہے ہیں کہ ان مطالبات کا رخ کس طرف مڑنا چاہئے۔ مگر دوسری طرف فقرہ نمبر ٣، ٤ میں پنجاب مسلم لیگ کو اس جرم کا قصور وار بتایا جاتا ہے کہ اس نے ان مطالبات کو دستوری مطالبات اور ان کے تسلیم کرنے یا نہ کرنے کو مرکزی لیڈر شپ کے دائرہ اختیار کی چیز قرار دے کر ایجی ٹیشن کا رخ مرکز کی طرف کیوں موڑ دیا۔

اس سے بھی زیادہ دلچسپ ایک اور مثال ملاحظہ ہو۔ ابھی فقرہ نمبر ایک میں آپ عدالت کی یہ رائے ملاحظہ کر چکے ہیں کہ اگر جماعت اسلامی ان مطالبات کی حمایت معاشرتی اور سیاسی وجوہ سے کر رہی تھی تو اسے یا تو مجلس دستور ساز کی رائے کو ہموار کرنا چاہئے تھا۔ یا پھر وہ انتخابات کا انتظار کرتی اور اس مسئلے پر انتخاب لڑ لیتی۔ بالفاظ دیگر عدالت یہاں اس اصول کو تسلیم کرتی ہے کہ اگر رائے عامہ کو ہموار کر لیا جائے اور اکثریت کا ووٹ کسی مطالبہ کے حق میں فیصلہ

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦١

دے دے تو اس کو عملاً نافذ ہونا چاہئے۔ مگر ایک مقام پر اس عبارت کو پڑھنے کے بعد جب آگے چل کر اس سے برعکس نتیجہ دینے والی عبارت سے آدمی دو چار ہوتا ہے تو وہ ٹھٹک کر رہ جاتا ہے۔

ذیل کے اقتباسات کو پڑھ کر دیکھئے: ”ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا عام آدمی درحقیقت سلیم الطبع ہے اور اگرچہ وہ دنیا کے دوسرے لوگوں کی طرح، بلکہ غالباً دوسرے سب لوگوں سے زیادہ مذہبی رجحانات رکھتا ہے۔ پھر بھی وہ معاملات کو ان کے صحیح پہلو سے سمجھنے کی قابلیت رکھتا ہے ١؎ ۔ بشرطیکہ وہ معاملات اس کے سامنے مناسب طریقہ سے پیش کئے جائیں۔ ایک نئی ریاست کا ایماندار اور محب وطن شہری ہونے کی وجہ سے وہ ہمارے لیڈروں کی بات ضرور سنتا۔ اگر اسے یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی کہ سیاسی نامرادی سے دوچار ہونے والے چند لوگوں نے اپنے پچھلے گناہوں کو دھونے کے لئے عوامی احساسات کو اکسا کر جو طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ اس میں کیا خطرناک امکانات مضمر ہیں۔ بازار میں چلنے پھرنے والا عام آدمی اس بات کو سمجھ لیتا۔ اگر اسے ٹھیک طریقہ سے بتایا جاتا کہ ایک سیاسی جماعت جو مسلم لیگ کے رقیب کی حیثیت سے میدان میں آنا چاہتی ہے۔ دراصل عوام کی نگاہ میں اپنا وقار و اثر بڑھانے کے لئے مذہب کا سہارا لے رہی ہے اور اسے بیوقوف بنا رہی ہے ٢؎ ۔“

(ص٢٧٥)

جس سے آدمی کی سلیم الطبعی میں نقص واقع ہو جاتا ہے اور وہ معاملات کو ان کی صحیح روشنی میں دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کم و بیش کھو دیتا ہے تو پیش نظر رپورٹ قاری کو نہ تو اس تاثر سے بچانے میں کوئی مدد دیتی ہے اور نہ اس سوال کا کوئی جواب دیتی ہے کہ غیر مذہبی یا مخالف مذہب رجحانات کا آدمی کی سلیم الطبعی پر کیا اثر ہوتا ہے۔

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٢

٢۔ اس قابل غور مقام پر پہنچ کر رپورٹ کا طالب علمانہ مطالعہ کرنے والا آدمی بڑی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کیا عدالت درحقیقت یہ کہنا چاہتی ہے کہ سلیم الطبعی اور حب وطن اور ایماندارانہ شہریت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہمارا عام آدمی معاملات کو اس پہلو سے دیکھے اور سمجھے اور قادیانیوں کے متعلق تینوں مطالبات کو رد کر دے۔ لیکن اگر وہ پھر بھی نہ مانے اور مذہبی رجحانات ہی کی بنا پر آخری فیصلہ ان مطالبات کے حق میں دے دے تو لازماً یا تو اس کی سلیم الطبعی کا انکار کرنا پڑے گا۔ یا حب وطن اور ایماندارانہ شہریت کا۔ بظاہر اس کی توقع نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن دیکھنا تو یہ ہے کہ رپورٹ کے الفاظ ہمیں کس مدعا تک لاتے ہیں۔

ہمارے سامنے مختلف جماعتوں کے قابل وکیلوں نے بار بار جمہوری اصولوں کی دہائی دی ہے اور زور شور سے یہ بات پیش کی گئی ہے کہ یہ مطالبات متفق علیہ تھے اور ایک جمہوری ملک میں جب ایک خاص مطالبہ ایسی پرزور اور ہمہ گیر تائید اپنی پشت پر رکھتا ہو تو حکومت کو لازماً اسے مان لینا چاہئے۔ خواہ اس کو مان لینے کے نتائج کچھ بھی ہوں۔ کہا گیا ہے کہ ہمارے سیاسی لیڈر، جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں۔ اپنی موجودہ پوزیشن پر اسی وجہ سے فائز ہیں کہ باشندوں نے ان کو اس جگہ بٹھایا ہے۔ اس لئے ان کو وہی کرنا چاہئے جو ان کے ووٹر چاہتے ہیں کہ کیا کیا جائے۔ یہی اصول ہمارے سامنے خود وزارت اور مسلم لیگ کی جانب سے بھی پیش کیا گیا ہے اور زور دے کر کہا گیا ہے کہ ایک نمائندہ طرز کی حکومت میں ایک سیاسی لیڈر صرف اسی صورت میں لوگوں کا نمائندہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ جب کہ وہ لوگوں کے جذبات، تعصبات اور تمناؤں کا احترام کرے اور ان کو عمل میں لائے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں کے لئے یہ ایک گھٹیا مطمح نظر ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں باشندوں کی عظیم اکثریت غیر تعلیم یافتہ ہے اور خواندہ لوگوں کا اوسط ان میں بہت کم ہے۔ اس اصول کا تسلیم کئے جانا بڑے پریشان کن نتائج کی طرف لے جانے والا ہے کہ ہمارے لیڈر عوام کی جہالت اور ان کے تعصبات کے مظہر بن کر رہیں اور بلند تر افکار و مقاصد سے خالی ہوں۔ جہاں ووٹر اپنے ووٹ کی قدر و قیمت جانتا ہو اور اپنے ملک کے مخصوص مسائل اور وسیع تر دنیا کے واقعات و رفتار احوال کو سمجھنے کے لئے ضروری عقل و شعور رکھتا ہو اور قومی معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کے لئے کافی نشوونما پائے ہوئے ذہن کا مالک ہو۔ وہاں تو ضرور لیڈر کو عوام کے فیصلے کی پابندی کرنی چاہئے۔ ورنہ کرسی خالی کر دینی چاہئے۔ لیکن ایک ایسے ملک میں جیسا کہ ہمارا یہ ملک ہے۔ ہمیں اس امر میں بہت کم شک ہے کہ لیڈروں کا کام باشندوں کو اپنے پیچھے چلانا ہے نہ کہ ان کے پیچھے چلنا۔ مسٹر قربان علی خاں کے بقول بے زبان

٢٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٣

مویشیوں کی طرح چلنا۔

(ص ٢٧٥،٢٧٦)

میں اس عبارت کا موجود ہونا عملی حالات پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور اس کی وجہ سے جمہوریت کے نشوونما میں حائل ہونے والی طاقتوں کے ہاتھ مضبوط ہو سکتے ہیں اور اس بات کو بھی درکنار رکھتے ہوئے یہ کہ حصہ زیر تحقیق واقعات معاملات و مسائل سے ہٹ کر ایک نظریاتی (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

ان تین عبارتوں میں دو بالکل مختلف باتیں سامنے آتی ہیں۔ پہلی اور دوسری عبارت کا حاصل کلام یہ ہے کہ ہمارے ملک کے عوام صحیح الدماغ ہیں۔ معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لئے یہاں جمہوریت کا یہ اصول چل سکتا ہے اور چلنا چاہئے کہ مختلف نقطہ نظر رکھنے والے لوگ عوام کو اپنا نقطہ نظر مناسب طریقے سے سمجھانے کی کوشش کریں اور رائے عامہ کا فیصلہ جس کے حق میں بھی ہو اس کی بات چلے۔ دوسری عبارت اس کے برعکس دوسری بات کہتی ہے۔

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٤

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) واعتقادی بحث کا حامل ہے۔ رپورٹ کا قاری محض یہ جاننا چاہتا ہے کہ عدالت کا اصل منشاء کیا ہے؟ بظاہر تو یہ دیکھتا ہے کہ پہلے ایک مقدمہ قطعی شکل میں بیان کیا گیا ہے کہ پاکستان کے باشندے جمہوریت کے لائق نہیں ہیں۔ پھر اس سے منطقی نتیجہ یہ نکال کے سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ یہاں وہ نہیں ہونا چاہئے جو باشندے چاہیں۔ بلکہ وہ ہونا چاہئے جو لیڈر چاہیں۔ لیکن اگر لیڈروں کی تبلیغ وتلقین کے باوجود باشندوں کی چاہت لیڈروں کی چاہت سے مختلف ہی رہے تو پھر باشندوں کے بجائے لیڈروں کی چاہت نافذ ہونی چاہئے۔ مگر یہ منطقی نتیجہ ایک اور قضیہ سامنے لا رکھتا ہے۔ جسے اگر رپورٹ میں حل کر دیا گیا ہوتا تو بہت اچھا ہوتا کہ خود لیڈر کس کی چاہت سے لیڈر بنیں گے؟ اگر وہ باشندوں کی چاہت سے بنیں گے تو ان کو لیڈر بناتے وقت ان جاہل، ان پڑھ، ووٹ کی قیمت نہ جاننے والے اور مسائل ومعاملات کو سمجھنے کی ضروری عقل وشعور نہ رکھنے والے لوگوں کا فیصلہ صحیح ہوگا یا غلط؟ اگر صحیح ہوگا تو اس سارے حکیمانہ استدلال کی بنیاد منہدم ہوجاتی ہے جو اوپر کیا گیا ہے اور اگر غلط ہوگا تو پھر لیڈروں کے تقرر کی دو ہی صورتیں رہ جاتی ہیں۔ یا تو انہیں کوئی عدالت مقرر کر دیا کرے یا پھر طاقت کے بل پر جو قسمت آزما لوگ بھی ایک دفعہ ملک پر مسلط ہو جائیں وہ دعویٰ کر دیں کہ اب ہم یہاں کے لیڈر ہیں۔ ہم باشندوں کی مرضی پر نہیں چلیں گے۔ بلکہ اپنی مرضی ان پر چلائیں گے۔ اس صورت میں پھر یہ مسئلہ لانیحل رہ جاتا ہے کہ اگر اس شان کے حکمران خود بگڑ جائیں اور مسائل ومعاملات کے سمجھنے میں ضروری عقل وشعور کے نہ ہونے کا ثبوت دے دیں تو ان کی اصلاح کرنے یا ان سے نجات پانے کا قوم کے پاس کیا ذریعہ ہوگا؟ ہاں مگر یہ بحثیں تو تحقیقاتی عدالت کے دائرہ سے خارج ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ تحقیقاتی عدالت نے ایک خاص صورت حالات پر رپورٹ پیش کی ہے۔ نہ کہ پاکستان کے لئے سیاسی نظام تجویز کرنے پر کوئی مقالہ لکھا ہے۔ اس بات کی طرف توجہ جانے پر قاری مجبور ہو جاتا ہے کہ اپنے دل کے سوالات واپس لے لے اور چپ چاپ آگے بڑھ جائے۔

یعنی یہ کہ یہاں کے عوام معاملات کو سمجھنے اور صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انہیں معلوم نہیں ہے کہ اپنا ووٹ کس طرح استعمال کریں۔ اس لئے یہاں جمہوریت کا یہ اصول نہیں چل سکتا کہ لیڈر یا تو عوام کے فیصلے کی پابندی کرے۔ نہیں تو منصب اقتدار سے دست بردار ہو جائے۔ اگر ہم دل سے چاہتے بھی ہوں کہ ان دونوں باتوں میں تطبیق دے لیں تو اس کے لئے کوئی اسلوب ہاتھ نہیں آتا۔ نہ خود رپورٹ کے الفاظ سے کوئی مدد حاصل ہوتی ہے۔

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٥

ہم ان مواقع پر سے گذرتے ہوئے صرف اس لئے تشویش محسوس کرتے ہیں کہ ہماری ایک تاریخی عدالتی رپورٹ کو جب بیرونی دنیا میں پڑھا جائے گا اور خیر خواہانہ نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ناقدانہ اور مخالفانہ نقطہ نظر سے پڑھا جائے گا تو پورے ملک کے بارے میں عجیب و غریب آراء قائم کی جائیں گی۔

جمہوری قدروں کے خلاف اظہار رائے

جمہوریت کے متعلق رپورٹ کے نظریات کی ایک ہلکی سی جھلک اوپر دیکھی جا چکی ہے۔ مگر یہ معاملہ صرف اس حد تک نہیں رہا ہے۔ جمہوریت کی بیشتر اہم قدریں یہاں بری طرح پامال ہو گئی ہیں۔ مثال کے طور پر ہم تین چیزوں کو لیتے ہیں۔

جمہوریت کی اہم ترین، بلکہ بنیادی قدروں میں سے ایک ذمہ دارانہ حکومت ہے۔ یعنی یہ کہ انتظامی حکومت (Executive) عوام کے نمائندہ وزراء کے ماتحت رہے اور یہ وزراء عوام کی منتخب کردہ مقننہ (Legislature) کے سامنے اور بالآخر اپنے رائے دہندوں کے سامنے جواب دہ ہوں۔ ایک غیر جمہوری نظام کا اصلی اور بنیادی عیب جس کی بناء پر آخر کار دنیا جمہوریت کو ترجیح دینے پر مجبور ہوئی۔ یہ ہے کہ اس میں انتظامی حکومت مطلق العنان ہوتی ہے۔ ملک کے عوام کی خواہشات کو نظر انداز کر کے من مانی کارروائیاں کرتی ہے اور عوام جب اپنی شکایت کی تلافی یا اپنے مطالبات کی تکمیل کے لئے کوئی جدوجہد کرتے ہیں تو وہ بات بات پر اسی پولیس اور فوج کو لاکر عوام سے لڑا دیتی ہے۔ جس کو تنخواہیں اور گولی بارود انہی عوام کی جیب سے وصول کئے ہوئے۔ ٹیکسوں سے دی جاتی ہیں۔ یہ چیز اخلاقی حیثیت سے بھی غلط ہے اور اس کے نتائج بھی برے نکلتے ہیں۔ قومی فوج اور پولیس کا خود قوم ہی سے بار بار تصادم اور بات بات پر تصادم، عقل اور اخلاق ہی کے اعتبار سے ناجائز نہیں ہے۔ بلکہ یہ باشندگان ملک کے جذبہ حب وطن اور قومی ریاست کے استحکام کی جڑ کاٹ ڈالنے والی چیز ہے۔ باشندوں کے لئے ایسی صورت میں قومی حکومت اور بیرونی ظالموں کی غلامی میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ جب کہ اپنے ان کے ساتھ وہ سب زیادتیاں کر ڈالتے ہوں۔ جو باہر کا کوئی غیر آ کر کر سکتا ہو۔ نیز جس شخص کی جان، مال، آبرو، عزت نفس، ہر چیز اپنے ملک میں پامال کر ڈالی گئی ہو۔ اس کے لئے پھر وہ کون سی قیمتی چیز باقی رہ جاتی ہے۔ جسے باہر والوں سے بچانے کے لئے وہ ملک کی آزادی کے تحفظ کے لئے قربانی دینے کی ضرورت محسوس کرے۔ اس لئے نہ صرف عقل اور اخلاق کا، بلکہ قومی آزادی، اور

٢٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٦

قومی ریاست کے استحکام کی اہم ترین مصلحت کا بھی یہ تقاضا سمجھا گیا کہ انتظامی حکومت عوام کے چنے ہوئے آدمیوں کے قابو میں ہو اور یہ عوامی آدمی ہر چند سال کے بعد انتخابات میں انہی عوام کے سامنے آنے پر مجبور ہوں۔ جن پر وہ حکومت کرتے ہیں۔ اس طریقے کے دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ عوامی آدمی (ان تمام عیوب کے باوجود جو سیاست بازی سے پیدا ہوتے ہیں) نوکر شاہی کی طرح صرف حکم چلانے اور لاء اینڈ آرڈر کی لاٹھی گھمانے والے نہیں ہوتے۔ بلکہ انہیں ایک مدت تک سیاسی میدان میں کام کرنے کی وجہ سے عوام کی بات سمجھنے اور ان کو اپنی بات سمجھانے کی تربیت مل چکی ہوتی ہے۔ وہ ڈنڈے کے بجائے حکمت اور تدبر سے معاملات کو سلجھا سکتے ہیں۔ ملک کا انتظام ان کے زیر نگرانی ہونے کی وجہ سے اس کی نوبت بہت کم پیش آتی ہے کہ کوئی مسئلہ تمدنی، معاشی، معاشرتی یا سیاسی، افہام وتفہیم اور گفت وشنید سے حل ہونے کے بجائے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بن جائے اور لاٹھی چارج اور گولیوں کی باڑھ سے حل کیا جانے لگے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو سال دو سال یا چار سال بعد پھر انتخابات میں عوام کے سامنے جانا ہو۔ وہ ان لوگوں کی طرح عوام پر گولیاں چلانے میں بے باک اور ان کے سر توڑنے میں بے درد نہیں ہو سکتے۔ جن کی نوکری مستقل ہو اور اس نوکری پر جن کا قائم رہنا یا نہ رہنا عوام کے ووٹ پر موقوف نہ ہو۔

یہ ہے جمہوریت کی جان۔ مگر رپورٹ کے فاضل مصنفین کی نگاہ میں یہی جمہوریت کا عیب ہے۔ جس کی وہ جگہ جگہ شکایت کرتے ہیں۔ رپورٹ معاملے کو اس طرح سامنے لاتی ہے کہ قادیانی مسئلے میں ساری خرابی اس لئے پیدا ہوئی کہ حکومت ان لوگوں کے ہاتھ میں تھی۔ جنہیں عوامی مطالبات کو رد کرنے اور زبردستی دبا دینے میں اس بناء پر تامل تھا کہ کل انتخابات میں انہیں اسی پبلک کے سامنے آنا تھا۔ ان کے نزدیک اگر انتظامی حکومت کے کچھ شیر خدا اور رستم داستان ١؎ پورے اقتدار کے مالک ہوتے تو مطالبات کی کلی کھلنے سے پہلے ہی مسل ڈالی گئی ہوتی اور ان

١؎ ملاحظہ ہو رپورٹ ص ٣٨٢۔

ہنگاموں کی سرے سے نوبت ہی نہ آتی جو پنجاب میں رونما ہوئے۔ اس سلسلے میں ان کے ارشادات یہ ہیں۔

٢٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٧

”انتظامی شعبے کے افسروں نے جن مقدمات سے تعرض کیا ہے۔ ان کا ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ وقتاً فوقتاً یہ تجویزیں پیش کی جاتی رہیں کہ کسی شخص کو (سیفٹی ایکٹ کی) دفعہ ٣ کے تحت پکڑا جائے۔ یا تقریریں کرنے سے روکا جائے۔ یا دفعہ ٥ کے تحت اس کی نقل و حرکت کو کسی خاص علاقے میں محدود کر دیا جائے۔ یا دفعہ ٢١ کے تحت حکومت کی معزز شخصیتوں کو گالیاں دینے یا ان کے فرضی جنازے نکالنے پر ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ مگر سیاسی لیڈر کی نگاہ میں تو پبلک سیفٹی ایکٹ ایک نفرت انگیز قانون تھا‘۔ جب کبھی اس قانون کے تحت کارروائی کرنے کی کوئی سفارش کی گئی تو اس کو سیاسی عینک سے دیکھا گیا اور جو فیصلے کئے گئے ان میں ہمیشہ منتظم پر سیاسی آدمی چھایا رہا۔ ایک منتظم جو لاء اینڈ آرڈر کا انچارج ہو۔ اس کارروائی کو صرف قانون و انتظام کے پہلو سے دیکھتا ہے۔ جس کے کرنے کا اس سے مطالبہ کیا جائے۔ یا جس کو وہ خود کرنا چاہے۔ مگر سیاسی آدمی کے لئے اولین قابل لحاظ پہلو یہ ہوتا ہے کہ تجویز کردہ کارروائی کا خود اس کی اور اس کی پارٹی کی عوام میں مقبولیت پر کیا اثر پڑے گا۔“

اب دیکھئے، سیاسی آدمی کا یہ اصول کہ جب وہ ایک منتظم کی حیثیت میں کام کر رہا ہو اس وقت بھی وہ ایک ایسی کارروائی کو جو قانون کے تحت کی جاسکتی ہو یا جسے ایک معاملے کی ضروریات چاہتی ہیں کہ از روئے قانون کی جائے صرف اس لئے عمل میں نہ لائے کہ اس سے عوام میں بے اطمینانی پیدا ہوگی۔ خطرناک طور پر اس تجویز کے قریب جا پہنچتا ہے کہ اگر ایک قاتل کو پبلک سراہ رہی ہو اور اس پر مقدمہ چلانا پبلک میں ناراضی پیدا کرنے یا ملزم کے لئے ہمدردی کا عام جذبہ ابھار دینے کا موجب ہو تو قاتل کو سزا دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

(ص ٢٧٨)

اونچے درجے کے ججوں کے قلم نے سیفٹی ایکٹ جیسے قانون کی ساکھ بنا دی ہے۔ جس سے انصاف کے کم سے کم درجے کے تقاضے بھی پورے نہیں ہوتے۔ عدالتوں نے دنیا کو ہمیشہ ایسے جابرانہ قوانین سے نجات دلانے کا پارٹ ادا کیا ہے۔ اس پارٹ کے خلاف یہ پہلی مثال پاکستان میں قائم ہوئی ہے۔

”یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ مسلم لیگ اور اس کے لیڈر چاہتے تھے کہ عوام میں مقبول

٢٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٨

رہیں اور ایسی کوئی کارروائی نہ کریں جس کے آئندہ انتخابات پر اثرات لیگ کو وزارت سے بے دخل کر سکتے ہیں۔"

(ص ٢٩٧)

"بے شک (٥/ مارچ کو گورنمنٹ ہاؤس میں) سہ پہر کے وقت ایک اجتماع ہوا تھا۔ جس میں سر برآوردہ شہریوں نے اس شدید فائرنگ کے خلاف احتجاج کیا تھا جو سید فردوس شاہ کے قتل کے بعد برپا ہونے والی لاقانونیت پر شروع ہوا۔ اس احتجاج سے چند وزرا بھی متاثر تھے۔ آخر تو آئندہ انتخابات اس وقتی بحران کی بہ نسبت زیادہ ہی اہمیت رکھتے تھے۔"

(ص ٢٧٣)

اس ساری بحث کا مدعا رپورٹ کی آخری سطروں میں جا کر یوں کھولا گیا ہے۔ "نتیجتاً ہم کو ایک چیز جسے لوگ انسانی ضمیر کہتے ہیں۔ یہ سوال کرنے پر اکساتی ہے کہ کیا سیاسی ارتقاء کے اس مرحلے پر جس میں ہم ہیں۔ لا اینڈ آرڈر کا انتظامی مسئلہ اپنے اس جمہوری شریک بستر سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ جسے وزارتی حکومت کہتے ہیں۔ جس کو سیاست کے ڈراؤنے خواب اس قدر بے رحمی کے ساتھ پریشان رکھتے ہیں؟ لیکن اگر جمہوریت کے معنی لا اینڈ آرڈر کو سیاسی اغراض کے تحت رکھنے ہی کے ہیں تو انجام اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور ہم اس رپورٹ کو ختم کرتے ہیں۔"

(ص ٣٨٧)

یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس فقرے میں جو سوال پیش کیا گیا ہے۔ وہ سوالیہ تجویز ہے یا تمنا۔ مگر خواہ یہ تجویز ہو یا تمنا، دونوں صورتوں میں ہمارے لئے یہ فرض کرنا مشکل ہے کہ دو ایسے فاضل قانون دان، جیسے کہ اس رپورٹ کے مصنفین فی الواقع ہیں۔ نظام حکومت کی اس شکل سے واقف نہ ہوں گے۔ جس کے سوا کسی دوسری شکل میں ان کے اس سوال کا اثباتی جواب حاصل نہیں ہو سکتا۔ لا اینڈ آرڈر کے انتظامی مسئلے کو وزارتی حکومت کے جمہوری شریک بستر سے جدا کرنے کی آخر اس کے سوا اور کیا صورت ہو سکتی ہے کہ وزارتی حکومت کے لئے ایک الگ بستر بچھایا جائے۔ جس پر وہ تعلیم اور لوکل سیلف گورنمنٹ جیسے مسائل پر لیٹی غور کرتی رہے اور لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ کسی ایسے عہدیدار کے حوالہ کیا جائے جو کسی اسمبلی یا پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ نہ ہو۔ جسے انتخابات میں عوام کا سامنا کرنے کا ڈراؤنا خواب کبھی رات کو یا دن کو پریشان نہ کر سکے۔ اب لامحالہ اس عہدیدار کو یا تو خود مطلق العنان بادشاہ ہونا چاہئے۔ یا پھر وہ کسی ایسے بالا تر فرمانروا کو جواب دہ ہونا

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٦٩

چاہئے۔ جو خود عوام کے سامنے جواب دہ نہ ہو۔ یعنی جمہوریت کا صدر نہیں بلکہ برٹش کراؤن کے نمائندہ گورنر جنرل یا وائسرائے کی طرح کا کوئی عہدہ دار۔ گویا اس رپورٹ کی روشنی اگر قبول کر لی جائے تو تقسیم ہند سے پہلے بلکہ ١٩١٩ء کی اصلاحات سے بھی پہلے کی پوزیشن پر واپس چلے جانا چاہئے۔ جب کہ مانٹیگو چیمسفورڈ ریفارم اسکیم کے مطابق یہاں دو عملی نافذ تھی۔ تعلیم اور لوکل سیلف گورنمنٹ جیسے محکموں کو وزیر چلاتے تھے اور لا اینڈ آرڈر کی مسند اقتدار پر اگزیکٹو کونسل کا وہ دیوتا بیٹھا تھا۔ جسے انتخابات میں رائے دہندوں کے سامنے جانے کا خواب کبھی نہ ڈراتا تھا۔ یہ ہے لا اینڈ آرڈر کا وہ تصور جو ہماری اس تاریخی عدالتی رپورٹ سے اخذ ہوتا ہے۔

جمہوریت کی دوسری اہم قدر قانون کی فرمانروائی (Rule of Law) ہے۔ جس کے بنیادی تصورات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی شخص کی جان و مال اور آزادی پر انتظامی حکومت من مانے طریقے سے ہاتھ نہ ڈال سکے۔ بلکہ وہ از روئے ضابطہ اس امر پر مجبور ہو کہ جس کے خلاف بھی وہ کاروائی کرنا چاہے۔ اسے باقاعدہ الزام لگا کر کھلی عدالت میں پیش کرے اور عدالت میں اس کا جرم ثابت کرے۔ سیفٹی ایکٹ اور سیکورٹی ایکٹ جیسے قوانین اس لحاظ سے قطعاً لا قانونی کے قوانین ہیں۔ ایک مدت سے سارا ملک چیخ رہا ہے کہ ان کو ختم کیا جائے اور لوگوں کے مستلزم سزا ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ عدالتوں کے سپرد کیا جائے۔ جو معروف قانونی ضابطہ کے مطابق استغاثے اور صفائی کو مساوی مواقع دینے کے بعد حکم سنائیں۔ مگر یہ دیکھ کر ہماری مایوسی کی کوئی حد نہیں رہتی کہ یہ اونچے درجے کی عدالتی رپورٹ اپنا وزن سیفٹی ایکٹ کے آزادانہ استعمال کی پرزور حمایت میں انتظامیہ کے پلڑے میں ڈالتی ہے۔ جو پہلے ہی کافی بھاری ہے۔ یہ پوری شدت کے ساتھ دولتانہ وزارت کو اس بات پر مطعون کرتی ہے کہ اس نے ان قوانین کے استعمال میں کیوں تامل کیا۔ یہ مضمون اگرچہ رپورٹ میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مگر ص ٢٧٧ تا ٢٧٨ تک عدالت نے اس پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔ یہاں عدالت یہ مانتی ہے کہ مسلم لیگ نے اپنے انتخابی منشور میں پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ سے اپنی بیزاری کا صاف صاف اظہار کیا تھا اور پبلک سے یہ وعدہ کر کے انتخاب جیتا تھا کہ یہ قانون منسوخ کر دیا جائے گا۔ پھر بھی وہ اصرار کرتی ہے کہ مسلم لیگی وزارت کا فرض تھا کہ اپنے منشور کے خلاف اور اپنے ان وعدوں کے خلاف جن کی بناء پر انتخابات میں اس کو کامیابی ہوئی تھی۔ سیفٹی ایکٹ کا استعمال کرتی اور اب عدم استعمال پر وہ ملامت کی مستحق ہے۔ یہ چیز نہ صرف فرمانروائی قانون (Rule of

٢٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧٠

Law) کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔ بلکہ ساتھ ساتھ جمہوریت کے اس بنیادی اصول کا بھی خاتمہ کر دیتی ہے کہ جس منشور کے ذریعہ سے ایک پارٹی انتخاب جیتی ہے۔ وہ دراصل حکومت کے لئے رائے دہندوں کا فرمان تفویض (Mandate) ہے۔ اگر جمہوریت کے معنی یہ ہیں کہ ملک کسی شخص کا یا گروہ کا نہیں بلکہ باشندوں کا ہے تو جس منشور کو قبول کر کے باشندوں کی اکثریت اپنے ملک کی حکومت ایک پارٹی کے سپرد کرتی ہے۔ وہ فرمان نہیں تو اور کیا ہوا؟ اس فرمان کی تعمیل کرنا گناہ اور تعمیل نہ کرنا فرض ہو تو پھر ہمیں چاہئے کہ جمہوریت کو لپیٹ کر رکھ دیں اور سیدھی طرح شاہی یا ڈکٹیٹر شپ کو اپنا لیں۔

جمہوریت کی تیسری اہم قدر پریس کی آزادی ہے۔ جس کے بغیر کوئی جمہوری نظام نہیں چل سکتا۔ یہاں ہم پریس کی آزادی کے پورے موضوع سے اس کی تمام وسعتوں کے ساتھ بحث نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ اس کے صرف اس حصے سے ہم کو بحث ہے۔ جس پر اس رپورٹ کے بعض ارشادات سے زد پڑتی ہے۔ نیز اس بحث کی ابتداء ہی میں ہم یہ بات بھی واضح کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم پریس کی اس بے قید آزادی کے حامی نہیں ہیں جو فتنہ خیز اور فساد انگیز ہو اور جس میں ملک کے کسی بڑے یا چھوٹے شخص یا گروہ پر گالیوں کی بوچھاڑ اور اس کے خلاف اشتعال انگیزی کی جائے۔ بعض اخبارات کی اس روش پر عدالت نے جو گرفت کی ہے۔ ہم کو اس سے پورا اتفاق ہے۔ البتہ ہمیں جس چیز سے اتفاق نہیں ہے وہ یہ ہے کہ یہ روپیہ دے کر اخبارات کے ضمیر خریدے جائیں۔ لالچ سے ان کی پالیسی کو متاثر کیا جائے اور ان سے یہ چاہا جائے کہ وہ ملک میں پیش آنے والے ان واقعات کی خبروں کو بلیک آؤٹ کریں۔ جنہیں پیش آنے سے تو باز نہ رکھا جا سکتا ہو۔ مگر جن کی خبروں کی اشاعت اس بہانے سے روکی جائے کہ اس طرح کسی ’’ناپسندیدہ‘‘ تحریک کے پھیلاؤ کو روکنا مقصود ہے۔ ہمیں افسوس ہے رپورٹ پڑھنے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ عدالت نے اس پالیسی کی گویا پر زور وکالت کی ہے۔ (ص ٢٨٠، ٢٨١) پر پریس کی ذمہ داری سے بحث کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ”زمیندار کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کی تو مقبولیت اور اشاعت ہی احمدیوں کا مذاق اڑانے اور انہیں گالیاں دینے کی بدولت تھی۔ مگر ہم یہ باور نہیں کرتے کہ اگر محکمہ تعلقات عامہ کا ڈائریکٹر اس معقول (مالی) امداد کی بناء پر جو حکومت اس پرچے کو دے رہی تھی۔ اس کی سرگرمیوں کو قابو میں لانا چاہتا تب بھی یہ پرچہ اپنے طرز عمل پر اصرار کیے چلا جاتا۔ خصوصیت کے ساتھ ان تعلقات کو دیکھتے ہوئے جو مولانا اختر علی

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧١

خان اور خود مسٹر دولتانہ کے درمیان تھے۔ یہ باور کرنا اور بھی مشکل ہے۔ ”احسان“ اور ”مغربی پاکستان“ یقینا محکمہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر کو ناراض نہیں کر سکتے تھے۔ مقدم الذکر پرچے کے لئے تو سرکاری امداد گویا اس دولت کی طرح تھی جو کسی کو چھپر پھاڑ کر ملی ہو اور موخر الذکر پرچے کی قلیل اشاعت کو دیکھتے ہوئے وہ امداد اچھی خاصی وزنی معلوم ہوتی ہے جو اسے دی جا رہی تھی۔“

”احمدیوں کو ایک الگ گروہ ثابت کرنے کے لئے طویل اور استدلالی مضامین، ایجی ٹیشن کے متعلق واقعات وحوادث کی ہیجان انگیز خبریں، ملاقاتوں کے نتائج، جلسوں میں ہونے والی تقریریں اور مساجد وغیرہ میں پاس کی ہوئی قراردادیں، ان چیزوں کی اشاعت، ایجی ٹیشن کو پھیلانے اور تیز کرنے کے سوا اور کوئی نتیجہ پیدا نہ کرسکتی تھی اور یہ نتیجہ نہ صرف یہ کہ ان اخبارات کو معلوم تھا۔ بلکہ ان کی نیت بھی یہ تھی کہ یہ رونما ہو۔“

ان عبارات کو پڑھ کر اگر عام لوگوں کو یہ غلط فہمی ہو۔ بشرطیکہ اسے غلط فہمی ہی کہا جاسکے کہ عدالت یہ کہنا چاہتی ہے کہ وہ سراسر ناجائز رشوت جو سرکاری خزانے سے ان اخبارات کو دی گئی تھی۔ ان کی پالیسی خریدنے، یا کم از کم ان کی پالیسی پر اثر انداز ہونے میں استعمال ہونی چاہئے تھی اور غلطی کی گئی جو ضمیر کی خرید و فروخت کا یہ کاروبار نہ کیا گیا تو نہیں کہا جاسکتا کہ عدالت اس کا کس حد تک ازالہ کرسکے گی۔ دوسرا سوال جو ان عبارات کے پڑھنے سے پیدا ہوئے بغیر نہیں رہتا یہ ہے کہ آیا خود عدالت کے نزدیک خبروں کا بلیک آؤٹ کرنا اور ملک میں پیش آنے والے واقعی حالات پر قصداً پردہ ڈالنا ایک صحیح طریق کار ہے؟

کیا یہ دونوں باتیں واقعی درست ہیں؟ کیا پبلک کے خزانے کا یہ مصرف صحیح ہے کہ حکومت اس سے ملک کے اخبارات کی پالیسی خریدے یا اس پر اثر انداز ہو؟ کیا یہ صریح رشوت نہیں؟ کیا اس کو ایک معاملہ میں جائز ٹھہرا دینے کے بعد کوئی حد ایسی قائم کی جاسکتی ہے۔ جس پر اسے روکا جاسکتا ہو اور اس کا دائرہ تمام قومی معاملات تک وسیع نہ ہوسکے؟ پھر کیا اس ملک میں جمہوریت زندہ رہ سکتی ہے اور ڈکٹیٹر شپ مسلط ہونے سے رک سکتی ہے۔ جہاں برسر اقتدار جماعت کو پبلک کے سرمائے سے اس طاقت پر اثر ڈالنے کا حق حاصل ہو جائے جو پبلک کی رائے کو تیار کرنے والی سب سے بڑی طاقت ہے؟ دوسری طرف کیا یہ واقعی جائز ہے اور معقول اور مفید ہے کہ جو تحریکیں ملک میں عملاً چل رہی ہوں۔ ان کا مقابلہ بلیک آؤٹ کی پالیسی سے کیا جائے؟ کیا یہ وہی شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپانے والی غلطی نہیں ہے۔ جس کا طعنہ خود عدالت نے

٣١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧٢

خواجہ ناظم الدین کو دیا ہے؟ کیا وہ اخبار نویس صحافتی بددیانتی اور ملک کے ساتھ غداری کا مرتکب نہ ہوگا۔ جو قصداً ملک کے صحیح حالات پر پردہ ڈالے اور باشندگان ملک کو ان سے بے خبر رکھنے کی کوشش کرے؟ اس پردہ داری میں آخر کیا فائدہ ہے اور کس کا فائدہ ہے؟ اخبارات سے اگر صحیح خبریں نہ ملیں گی تو غلط افواہیں پھیلیں گی۔ جو پبلک کے لئے بہر حال گمراہ کن ہوں گی اور اخبارات اگر ملک کے اصل حالات سامنے نہ لائیں گے تو حکومت کے لئے باخبر رہنے کا صرف ایک ہی ذریعہ باقی رہ جائے گا۔ یعنی سی آئی ڈی کی رپورٹیں، جو ہمیشہ تصویر کا ایک ہی رخ پیش کرتی رہیں گی اور حکومت کو بھی گمراہ کر کے چھوڑیں گی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس صورت میں ایک طرف پبلک کا اور دوسری طرف حکومت کا غلط فہمیوں میں مبتلا ہونا اور کسی کا بھی حالات کی اصل تصویر سے واقف نہ ہونا آخر کس نقطۂ نظر سے مفید ہے؟

اس کے جواب میں اگر یہ عذر سامنے آئے کہ اس پالیسی کی سفارش ”ناپسندیدہ“ تحریکوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کی جاتی ہے تو یہ کوئی معقول اور وزنی عذر نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کس کے لئے ناپسندیدہ؟ اگر کوئی تحریک پبلک کے لئے ناپسندیدہ ہے تو وہ آپ ہی مر جائے گی۔ کسی کو اس کے لئے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر وہ پبلک کے لئے پسندیدہ اور چند حکام عالی مقام کے لئے ناپسندیدہ ہے تو حکومت کو کیا حق ہے کہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے پریس کی رائے خریدنے میں پبلک کا روپیہ استعمال کرے اور اس کی خبریں چھپانے کے لئے اخبارات کے منہ بند کرتی پھرے؟ یہ حرکت نہ صرف ناجائز ہے۔ بلکہ غیر مفید بھی ہے۔ عوامی تحریکوں کا مقابلہ صرف ایک ہی طریقہ سے کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو ان کا مخالف ہو وہ خود میدان میں آئے اور عوام کی پسند کو معقول اور جائز طریقوں سے بدلنے کی کوشش کرے۔ اس میدان میں جو شکست کھا جائے گا وہ ان تدبیروں سے کوئی پائیدار کامیابی حاصل نہ کر سکے گا۔ جو بالعموم ملازمت پیشہ ذہن سوچا کرتے ہیں۔

اصل میں جب بھی زندگی کے وسیع اور متنوع مسائل کو اس کے کسی محدود تقاضے کے ایک ہی گز سے ناپا جائے گا تو ہمیشہ رائے قائم کرنے اور فیصلہ دینے میں الجھنیں پیدا ہوں گی۔ یہاں بھی سیاسی و اجتماعی زندگی کے وسیع تقاضوں کو صرف ایک ”لا اینڈ آرڈر“ کے گز سے ناپ ڈالا گیا ہے۔ یہ وہی یک رخے ذہن (Single Track Mind) کی کمزوری ہے جس کا طعنہ رپورٹ میں علماء کو دیا گیا ہے۔

(ص ٢٩٨)

٣٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧٣

تین اہم معاملات جن کو صاف نہیں کیا گیا

ان ضمنی مباحث کے بعد ہم اپنے تجزیہ و تبصرہ کے دوسرے حصے کی طرف بڑھنے سے پہلے یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ عدالت کے سپرد جن معاملات کی تحقیق کی گئی تھی۔ ان کے دائرے میں تین اہم مسائل تصفیہ طلب تھے۔ مگر ہمیں اندازہ نہیں ہوسکا کہ یہ طے ہونے سے کیوں رہ گئے اور رپورٹ ان کے بارے میں کیوں خاموش ہے؟

کیا پولیس کا فائرنگ بے تحاشانہ تھا؟

پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ٤/ مارچ کی شام سے ٦/ مارچ کی دوپہر تک پولیس نے جو فائرنگ کیا وہ اندھا دھند (Indiscriminate) اور بے تحاشا (Excessive) تھا یا نہیں اور پبلک کو مشتعل کرنے اور ہنگاموں کی آگ کو تیز کر دینے میں اس کا بھی کوئی حصہ تھا یا نہیں؟ یہ سوال ہنگاموں کی ذمہ داری کے مسئلہ سے بھی گہرا تعلق رکھتا تھا اور مارشل لاء کے نفاذ تک نوبت پہنچانے والے حالات سے بھی۔ خصوصاً ذمہ داری کی تشخیص میں اس کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ پھر یہ بھی واقعہ ہے کہ تحقیقات میں حصہ لینے والی جماعتوں نے عدالت کے سامنے بار بار یہ کہا ہے کہ پولیس کا بے تحاشا ظلم و تشدد فسادات کی آگ بھڑکانے کا اہم سبب تھا۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ٥/ مارچ کے اجتماع میں گورنر اور وزراء اور آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری سب کے سامنے ممتاز شہریوں نے فائرنگ کی زیادتی کا شکوہ کیا اور کوئی اس کی تردید نہ کر سکا۔ عدالت کے سامنے یہ بات بھی لائی جا چکی تھی کہ سرکاری دفتروں میں ہڑتال کی اصل وجہ وہ غم وغصہ ہی تھا جو عام شہریوں پر اندھا دھند گولیاں چلاتے دیکھ کر ہر شخص محسوس کر رہا تھا۔ چنانچہ سیکرٹریٹ، اے جی آفس، اور دوسرے بہت سے دفاتر میں ملازمین کے عملے نے جو احتجاجی جلسے کئے۔ ان میں سے ہر ایک کی پاس کی ہوئی قرارداد میں ’’اندھا دھند‘‘ اور بے تحاشا فائرنگ کا شکوہ موجود ہے اور یہی شکوہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی قرارداد میں بھی کیا گیا ہے۔ عدالت نے خود واقعات کا جو خلاصہ (ص ١٥١ تا ١٦٦) تک دیا ہے۔ وہ اگر پوری طرح عدالت کے پیش نظر رہتا تو اغلباً وہ بھی اسی نتیجے پر پہنچتی کہ ٤/ مارچ کی شام کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (فردوس شاہ) کے قتل سے پہلے کے حالات اور اس کے بعد کے حالات بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ٤/ مارچ کی سہ پہر تک ایک طرف سے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں اور دوسری طرف سے گرفتاریاں،

٣٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧٤

صرف چار مرتبہ لاٹھی چارج اور ایک مرتبہ فائرنگ ہوتا ہے اور پبلک کی طرف سے بھی پولیس پر سنگ باری کے صرف دو واقعات پیش آتے ہیں۔ اس پوری مدت میں کوئی علامت ایسی نظر نہیں آتی جو یہ ظاہر کرتی ہو کہ لاہور شہر کی عام آبادی بھڑک اٹھی ہے اور آبادی کے تمام طبقے اس کشمکش میں شامل ہو گئے ہیں۔ ٤/ مارچ کی سہ پہر کو یکا یک جلسہ عام میں ایک شخص نمودار ہوتا ہے اور پبلک کو یہ واقعہ سناتا ہے کہ چوک دالگراں میں پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور اس سے زخمی ہو کر ایک رضا کار سڑک پر گر گیا۔ جس کے گلے میں قرآن مجید لٹکا ہوا تھا اور پولیس کے افسر نے آگے بڑھ کر قرآن کو ٹھوکر ماری۔ یہ واقعہ سنا کر وہ قرآن کے منتشر اوراق مجمع کے سامنے پیش کرتا ہے۔ یہ چیز شہر میں اشتعال پھیلا دیتی ہے اور اس کے تھوڑی ہی دیر بعد مسجد وزیر خاں پر وہ پولیس افسر مار ڈالا جاتا ہے۔ جس کے متعلق یہ مشہور ہوا تھا کہ توہین قرآن کا مرتکب وہی ہے۔ اس کے بعد حالات کا رنگ یک لخت بدل جاتا ہے۔ ایک طرف جگہ جگہ فائرنگ ہوتا ہے۔ دوسری طرف پبلک کھلم کھلا تشدد پر اتر آتی ہے اور تیسری طرف آبادی کے وہ طبقے بھی کشمکش میں شامل ہو جاتے ہیں جو اب تک بالکل الگ تھلگ تھے۔ یعنی طلبہ اور سرکاری ملازمین یہ ایک ایسا معنی خیز فرق ہے جس کو آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی وجہ کا مشخص کرنا اس لئے ضروری تھا کہ ذمہ داری کی تشخیص سے اس کا گہرا تعلق تھا اور ذمہ داری کی تشخیص ان تین معاملات سے ایک تھی جن کی تحقیق از روئے قانون عدالت کے سپرد کی گئی تھی۔ مگر عدالت یہ کہتی ہے کہ: ”ہمارے سپرد جن شرائط کے تحت اس تحقیقات کا کام کیا گیا ہے۔ ان کی رو سے ہمیں صرف اس امر کی رپورٹ دینی ہے کہ آیا تدابیر کافی تھیں یا نہیں۔ فائرنگ کی شدت و کثرت ان شرائط کے دائرے میں نہیں آتی۔ الا یہ کہ ایسی فائرنگ ہنگاموں کی یا ان کے تیز تر ہو جانے کی موجب بنی ہو۔“

(ص ١٦١)

ہم اس کے متعلق صرف اتنا ہی کہنے پر اکتفاء کریں گے کہ بکثرت لوگوں کی طرف سے اور خود تحقیقات میں حصہ لینے والی پارٹیوں کی طرف سے، بار بار اور حتمی طور پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ فائرنگ کی شدت و کثرت ہنگاموں کی اور ان کے تیز تر ہو جانے کی موجب بنی، لہٰذا ہم یہ رائے رکھتے ہیں کہ عدالت کے لئے یہ فیصلہ دینا ضروری تھا کہ یہ الزام درست ہے یا نہیں۔

٣٤

صفحہ ٤٧٥

ا۔ یہ معلوم کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ جس شخص نے مجمع عام میں یہ قصہ سنا کر قرآن مجید کے اوراق پیش کئے تھے۔ وہی بعد میں مولانا عبدالستار نیازی اور سید خلیل احمد صاحب کے مقدموں میں پولیس کے گواہ کی حیثیت سے فوجی عدالت کے سامنے آیا اور اس وقت پتہ چلا کہ یہ خود پولیس کا آدمی تھا۔ جماعت اسلامی کے وکیل چوہدری نذیر احمد صاحب نے اس قصے کی پوری تفصیل تحقیقاتی عدالت میں بیان کر دی تھی۔

پراسرار موٹر کا معاملہ

دوسرا مسئلہ جس پر عدالت نے کوئی واضح فیصلہ نہیں دیا ہے۔ یہ ہے کہ ٤؍مارچ کو جو پراسرار موٹر گاڑی مسلمانوں پر گولیاں چلاتی پھر رہی تھی۔ اس پر کون لوگ سوار تھے؟ یہ سوال اس لئے تصفیہ طلب تھا اور اس کی بڑی اہمیت تھی کہ اس گاڑی کے متعلق مسلمانوں کا عام خیال یہ تھا کہ اس پر قادیانی سوار ہیں اور وہی مسلمانوں کو بے تحاشا گولیوں سے ہلاک اور زخمی کرتے پھر رہے ہیں۔ اس چیز نے اشتعال کا رخ قادیانیوں کی طرف پھیر دیا اور قادیانیوں کا جتنا نقصان بھی ٤ اور ٦؍ مارچ کے درمیان ہوا۔ اس واقعہ کے بعد ہوا۔ اس سے پہلے کے کسی حادثے کی اطلاع ہمیں اس رپورٹ میں نہیں ملتی۔ عدالت اس کے متعلق یہ لکھتی ہے: ”یہ الزام کہ چند احمدی ایک جیپ میں فوجی وردی پہنے ہوئے لوگوں کو اندھا دھند گولیوں کا شکار بناتے پھر رہے تھے۔ ہمارے سامنے ثبوت طلب معاملے کی حیثیت سے پیش ہوا اور اس کی تائید میں چند گواہ لائے گئے۔ لیکن اگرچہ یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس روز کوئی پراسرار گاڑی چند غیر معروف آدمیوں کو لئے پھر رہی تھی۔ مگر ہمارے سامنے اس امر کی کوئی شہادت نہیں ہے کہ وہ لوگ جو اس پر سوار تھے۔ احمدی تھے یا وہ گاڑی بجائے خود ایک احمدی کی ملکیت تھی۔“

رپورٹ کے انداز بیان کا تقاضا یہ ہے کہ اس الزام کا شمار ان چالوں (Tactics) میں کیا جانا چاہئے جو ایجی ٹیٹروں نے نفرت پھیلانے کے لئے اختیار کی تھیں۔ دوسرے لفظوں میں اس عبارت کا ظاہر مطلب یہ نکلا کہ ٤؍مارچ کو ایسی گاڑی پھر تو ضرور رہی تھی۔ مگر یہ بات کہ اس پر احمدی سوار تھے۔ ایجی ٹیٹروں کی پھیلائی ہوئی تھی۔ کیونکہ ان لوگوں کے احمدی ہونے کا کوئی ثبوت شہادتوں سے نہیں ملا۔ مگر قرائن کیا کہتے ہیں؟ اگر وہ جیپ پولیس یا فوج کی ہوتی تو لا محالہ

٣٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧٦

عدالت کو سرکاری ریکارڈ سے اس کا پتہ چل جاتا۔ ظاہر ہے وہ سرکاری جیپ نہ تھی۔ جس پر پولیس یا فوج کے آدمی یہ حرکت کرتے پھر رہے ہوں۔ یہ بھی توقع نہیں کی جاسکتی کہ سرحد پار سے ہندو اور سکھ مسلمانوں پر گولیاں چلانے آگئے تھے۔ ایک آخری صورت یہ باقی رہ جاتی ہے کہ خود مسلمان اس ہنگامے کے موقع پر اپنے بھائیوں کو بلا امتیاز نشانہ بناتے پھر رہے تھے اور اگر یہ تینوں قرائن کے فریم میں درست نہ بیٹھیں تو الزام پھر قابل غور ہو جاتا ہے۔ لیکن رپورٹ اس بارے میں پوزیشن کو صاف کئے بغیر ختم ہو جاتی ہے۔

کس قسم کا مارشل لاء ضروری تھا؟

تیسرا سوال، اور نہایت اہم سوال جس سے عدالت نے سرے سے کوئی تعرض ہی نہیں کیا ہے۔ یہ ہے کہ ٦/ مارچ کی دوپہر تک کے حالات، جو مارشل لاء نافذ کرنے کے موجب ہوئے۔ فی الواقع کس نوعیت کے مارشل لاء کے متقاضی تھے؟ خود لاہور ہائیکورٹ کا ایک اجلاس کامل، جس میں جسٹس منیر اور جسٹس کیانی دونوں شریک تھے۔ مولانا عبدالستار خان نیازی کے مقدمے میں یہ فیصلہ دے چکا ہے کہ مارشل لاء کے لئے ”ضرورت“ کے سوا اور کوئی وجہ جواز نہیں ہے۔ نیز اس فیصلے میں وہ خود مارشل لاء کی اقسام پر بحث کرتے ہوئے یہ بتا چکے ہیں کہ ایک قسم کا مارشل لاء وہ ہے جس میں دیوانی اقتدار (Civil Rule) کی امداد کے لئے فوج آتی ہے اور صرف امن قائم کر کے چلی جاتی ہے اور دوسری قسم کا مارشل لاء وہ ہے جس میں فوج پورے نظم ونسق کے اختیارات (انتظامی، عدلی اور تشریعی، Legislative) اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ حالات جن میں مارشل لاء کی ”ضرورت“ پیش آئی تھی۔ ان دونوں قسموں میں سے کس قسم کے مارشل لاء کا تقاضا کر رہے تھے؟ اگر بات صرف اتنی ہی تھی کہ بدنظمی و بدامنی کا طوفان پولیس اور مجسٹریٹی کے قابو سے باہر ہو گیا تھا تو ظاہر ہے کہ ضرورت پہلی قسم کے مارشل لاء کے لئے داعی ہو سکتی تھی۔ لیکن اگر ریاست ”بجائے خود“ کے خلاف کوئی بغاوت ہوگئی تھی اور ریاست کا اقتدار اپنے تمام شعبوں میں الٹ پھینکا گیا تھا تو البتہ دوسری قسم کے مارشل لاء کا جواز پیدا ہو سکتا تھا۔ یہ ایک اہم سوال ہے جس پر بحث کرنے اور فیصلہ دینے کی ضرورت تھی۔ مگر افسوس ہے کہ اسے چھوا تک نہیں گیا۔

قانون دان طبقہ اس بات سے بے خبر نہیں ہوگا کہ اینگلو سیکسن نظام قانون، جو اس

٣٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧٧

وقت ہمارے ملک میں رائج ہے اور جس کی پیروی ہماری عدالتیں کر رہی ہیں۔ اس مسئلے میں کیا کہتا ہے۔ ہم محض اپنے قارئین کی یاد دہانی کے لئے اس نظام قانون کے چند اماموں کی رائیں یہاں نقل کرتے ہیں۔ ڈائسی لکھتا ہے: ”مارشل لاء اپنے پورے اصطلاحی معنوں میں جن میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ عام ملکی قانون معطل کر دیا جائے اور ایک ملک کی یا اس کے کسی حصے کی حکومت عارضی طور پر فوجی عدالتوں کے ذریعہ سے چلائی جائے۔ قانون انگلستان کے لئے ایک انجانی چیز ہے۔“

(Law of the Constitiution. 9th Edition. P-287)

آگے چل کر اس بحث کے سلسلے میں وہ لکھتا ہے: ”اس نوعیت کا مارشل لاء انگلستان میں قطعی طور پر دستور کے لئے ایک اجنبی چیز ہے۔ سپاہی ایک فساد کو اس طرح دبا سکتے ہیں جس طرح وہ ایک بیرونی حملے کو دفع کر سکتے ہیں۔ وہ باغیوں سے اسی طرح جنگ کر سکتے ہیں۔ جس طرح وہ غیر ملکی دشمنوں سے کر سکتے ہیں۔ مگر وہ از روئے قانون اس کا کوئی حق نہیں رکھتے کہ فساد یا بدامنی کی سزا لوگوں کو دیں۔ امن قائم کرنے کی کوشش کے دوران میں لڑتے ہوئے باغیوں کو قتل کیا جاسکتا ہے اور قیدیوں کو اگر وہ بھاگ نکلنے کی کوشش کر رہے ہوں، گولی سے مار دیا جا سکتا ہے۔ مگر کوئی ایسی سزائے موت جو ایک کورٹ مارشل کی طرف سے دی جائے، غیر قانونی ہے۔ بلکہ اصولاً ایک مجرمانہ قتل ہے۔“

اسی کتاب میں وہ دوسری جگہ کہتا ہے: ”وہ (یعنی مارشل لاء) جنگی ضروریات سے پیدا ہوتا ہے اور یہی ضرورت اس کے حدود متعین کرتی ہے۔ ایک ضرورت ہی قاعدے کو پیدا کرتی ہے اور اسی طرح وہی اس قاعدے کے نفاذ کی مدت مقرر کر دیتی ہے۔ اگر حکومت (یعنی فوجی قاعدے پر حکومت) اس وقت بھی جاری رہے جب کہ عدالتیں پھر سے کام کرنے لگی ہوں تو یہ صریح طور پر اختیارات کا غصب ہے۔ مارشل لاء اس جگہ ہرگز موجود نہیں رہ سکتا۔ جہاں عدالتیں کھلی ہوں اور اپنے اختیارات کو پوری طرح بلا مزاحمت استعمال کر رہی ہوں۔“

ہنٹر کمیٹی کی مائناریٹی رپورٹ میں سرجیمس اسٹیفن کی یہ رائے ان کی ”تاریخ قانون فوجداری انگلستان“ کے حوالہ سے نقل کی گئی ہے: ”وہ (یعنی فوجی حکام) مزاحمت کے دب جانے کے بعد اور اس حد تک امن قائم ہو جانے کے بعد کہ عام عدالتہائے انصاف کھل سکیں۔ لوگوں کو سزائیں دینے میں حق بجانب نہیں ہیں۔“

(ہنٹر کمیٹی رپورٹ

ص ١٠٣)

٣٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٧٨

١٨٣٨ء میں سرجان کیمبل اور سر آر ایم رالف نے کینیڈا کے گورنر کی طرف سے مارشل لاء نافذ کئے جانے کے اختیارات پر بحث کرتے ہوئے لکھا تھا: ”جب باقاعدہ عدالتیں کھلی ہوں اور مجرموں کو ان کے حوالے کیا جاسکتا ہو تا کہ وہ عام قانون کے مطابق ان کے بارے میں کارروائی کر سکیں تو جہاں تک ہم سمجھتے ہیں۔ فوج کو دوسرا کوئی طریق کارروائی اختیار کرنے کا حق نہیں ہے۔۔۔۔۔ اس معاملے کو ہم جس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کے لحاظ سے مارشل لاء عام دیوانی یا فوجداری اغراض کے لئے ہرگز نہیں لگایا جا سکتا۔ البتہ فوجداری اغراض کے لئے اس کو صرف اس حد تک استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں تک کہ بالفعل مزاحمت سے پیدا شدہ ضرورت اس کے استعمال پر مجبور کرے۔“

١٨٦٨ء میں جمیکا کی بغاوت کو کچلنے کے لئے جو مارشل لاء لگایا گیا تھا۔ اس پر انگلستان کے دو ممتاز ماہرین قانون نے ایک نہایت مفصل قانونی بحث کی تھی۔ اس بحث میں وہ لکھتے ہیں: ”بغاوتوں کو فوجی طاقت سے دبانا بلاشبہ قانونی فعل ہے۔ مگر غیر قانونی عدالتوں کے ذریعہ سے بعد میں جرائم کے مرتکبین کو سزا دینا ایک ایسی کارروائی ہے جو دستاویز حقوق (Rights Charter) کے ذریعہ سے ممنوع ہے۔“

”جونہی کہ تصادم عملاً ختم ہو چکا تھا۔ فوجی حکام کا یہ فرض تھا کہ قیدیوں کو دیوانی اقتدار کے حوالے کر دیتے۔“

”وہ (یعنی فوجی آدمی) مزاحمت کے دب جانے کے بعد، جب کہ عام عدالتہائے انصاف کھل سکتی ہوں۔ لوگوں کو سزا دینے میں حق بجانب نہیں ہیں۔“

”یہ بات کہ مسٹر گارڈن قانونی حراست میں تھے۔ خود ظاہر کرتی ہے کہ وہ کوئی مزید خرابی برپا کرنے کے قابل نہ رہے تھے۔ خواہ پہلے کیسے ہی قصور وار رہے ہوں۔۔۔۔۔ جو افسر خلیج موارنٹ پر کورٹ مارشل کی حیثیت سے بیٹھے تھے۔ ان کے قانونی اختیارات کے بارے میں ہم یہ رائے رکھتے ہیں کہ وہ کورٹ مارشل کی حیثیت سے قطعاً کوئی اختیارات نہ رکھتے تھے۔ وہ مسٹر گارڈن کی سزائے موت کو صرف اس وقت اور اسی حد تک حق بجانب ثابت کر سکتے تھے۔ جب کہ وہ یہ دکھا سکتے کہ یہ قدم اٹھانا امن کو برقرار اور ازسرنو نظم قائم کرنے کے لئے فوری طور پر اور ناگزیر طور پر ضروری تھا۔ اگر مسٹر گارڈن نے فی الواقع غداری کی بھی تھی تو وہ اس کو سزا دینے کا کوئی حق نہ رکھتے تھے۔ ان کا دائرہ اختیار صرف طاقت کو طاقت کے ذریعہ سے دبا دینے تک محدود تھا۔ نہ یہ

٣٨

صفحہ ٤٧٩

کہ وہ جرائم کی سزا بھی دینے لگیں۔“ (یہ پوری بحث فورسائتھ نے اپنی محولہ بالا کتاب میں ص ٥٥١ سے ٥٦٢ تک نقل کی ہے)

یہ سب ماہرین قانون اس بات پر متفق ہیں کہ بغاوت یا فساد کو طاقت سے کچلنے کے لئے تو مارشل لاء لگانا جائز ہے۔ مگر جہاں عام ملکی عدالتیں کھلی ہوئی ہوں یا کھل سکتی ہوں۔ وہاں مکمل مارشل لاء نافذ کر دینا اور فوجی عدالتیں قائم کر کے لوگوں کو سزائیں دینا بالکل ناجائز ہے۔ اس قانونی پوزیشن کو سامنے رکھ کر تحقیقاتی عدالت کو یہ بتانا چاہئے تھا کہ ٦؍مارچ کی دوپہر تک وہ کون سے حالات پیدا ہو چکے تھے جن کی بناء پر ایسا مکمل مارشل لاء نافذ کر دینا حق بجانب قرار دیا جا سکتا ہو۔ جیسا کہ لاہور میں نافذ کیا گیا۔ کیا واقعی لاہور میں عدالتیں بند ہو چکی تھیں اور اس قدر سخت بغاوت برپا ہوئی تھی کہ سوا دو مہینے تک کوئی جج اور منصف اپنی کرسی پر نہ بیٹھ سکتا تھا؟ اس سلسلے میں یہ جاننا شدید خالی از دلچسپی نہ ہو کہ مارشل لاء کے پورے دوران میں عدالتیں برابر کھلی رہی ہیں اور رپورٹ کے اپنے بیان کے مطابق ”بغاوت“ کا زور بس اتنا تھا کہ فوج نے آکر ٦ گھنٹے کے اندر صورتحال کو قابو میں کر لیا۔

(رپورٹ ص ٣٦٤)

حصہ دوم

وہ معاملات جو سپرد کردہ امور سے بظاہر غیر متعلق معلوم ہوتے ہیں

اوپر حصہ اوّل کی آخری سطور میں ہم یہ دکھا چکے ہیں کہ عدالت نے تین ایسے معاملات کو صاف کئے بغیر چھوڑ دیا ہے جو تحقیقات کی شرائط تحویل (Terms of Reference) کے دائرے میں آتے تھے۔ اب ہم یہ دکھائیں گے کہ عدالت نے بعض ایسے معاملات پر پورے زور کے ساتھ اور بڑی تفصیل کے ساتھ اظہار رائے کیا ہے۔ جو رپورٹ کے ایک عام قاری کو شرائط تحویل سے باہر معلوم ہوتے ہیں اور جن کے بارے میں رپورٹ خود پوری طرح یہ واضح نہیں کر سکی کہ وہ کس بناء پر اس تحقیقات میں متعلق (Relevent) قرار پاتے ہیں۔ ہم ان سے ایک ایک مسئلے کو لے کر اس پر عدالت کی آراء نقل کریں گے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتے جائیں گے کہ یہ آراء کہاں تک وزنی ہیں۔

مطالبات پر عدالت کی بحث

٣٩

صفحہ ٤٨٠

ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ عدالت کے سپرد جن معاملات کی تحقیقات کا کام کیا گیا تھا۔ ان میں یہ سوال شامل نہ تھا کہ وہ مطالبات جن کی حمایت میں مخالف قادیانیت ایجی ٹیشن شروع ہوا۔ بجائے خود صحیح تھے یا نہ تھے اور ان کے قبول کر لینے کا ملک پر کیا اثر پڑتا۔ لیکن رپورٹ میں عدالت کا یہ احساس بار بار ہمارے سامنے آتا ہے کہ ان مطالبات کا مقابلہ نظریاتی حیثیت سے کرنا ضروری تھا اور حکومت کا یہ پہلو بہت کمزور تھا کہ وہ انہیں غلط اور نقصان دہ ثابت نہ کر سکی۔ چنانچہ ص ١٤٥ پر عدالت یہ بتاتی ہے کہ جب ٢٢ /جنوری کو ڈائرکٹ ایکشن کا الٹی میٹم دیا گیا تو پنجاب میں سول نافرمانی کا کیا سروسامان تیار تھا اور اس سلسلے میں وہ یہ چیزیں شمار کرتی ہے: ”رضا کار، فنڈس، کارروائی کے مراکز، مجالس عمل، ڈکٹیٹروں کی فہرستیں، ایک آبادی جو حکومت کے خلاف نفرت سے بھری ہوئی تھی اور کسی قسم کی نظریاتی مدافعت کا قطعی موجود نہ ہونا۔“

(ص ٢٧٢) پر پھر یہ فقرہ ہمارے سامنے آتا ہے: ”اس تمام مدت میں مسلم لیگ یا اس کے کسی لیڈر کی طرف سے اس تحریک کی مزاحمت یا عوام کے سامنے کوئی جواب آئیڈیالوجی پیش کرنے کے لئے کچھ نہ کیا گیا۔“

(ص ٢٨٣) پر عدالت پھر کہتی ہے: ”اس طرح کی صورت حالات میں جب کہ پوری آبادی مذہبی جوش میں بھری ہوئی ہو۔ قانونی اور انتظامی مشین کو حرکت میں لانے سے بڑھ کر کچھ اور کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ”کچھ اور“ نہ پنجاب میں موجود تھا اور نہ کراچی میں اس کی فکر کی گئی۔“

عدالت ”کچھ اور“ نہ کرنے پر محض واقعات صورت حالات کا جائزہ لے کر ہی نہیں رہ گئی۔ بلکہ اس ”کچھ اور“ کی واضح نشاندہی بھی رپورٹ میں ملتی ہے۔ بحث اسی حد تک محدود نہیں رہی کہ کیا ہوا تھا اور کیا ہونے سے رہ گیا۔ بلکہ مواد اس پر بھی ملتا ہے کہ کیا ہونا چاہئے تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے عدالت گزرے ہوئے واقعات کی چھان بین سے آگے بڑھ کر ارباب سیاست کو مستقل مشورے بھی دے رہی ہے۔ گمان ہو سکتا ہے کہ بحث کا ایسی حد تک جا پہنچنا ہی اس امر کا موجب ہوا ہوگا کہ عدالت نے مطالبات کے حسن و قبح پر اس رنگ میں بحث کی کہ غالباً خواجہ ناظم الدین نے مطالبات پر غور کرتے ہوئے یہ اور یہ اور یہ سوچا ہوگا۔ حالانکہ زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ جب خواجہ صاحب خود عدالت میں گواہ کی حیثیت سے تشریف لائے تھے۔ ان سے پوچھ لیا جاتا کہ آپ نے کیا کچھ سوچا تھا اور کیا نہ سوچا تھا۔ ذیل میں ہم اس دلچسپ بحث کا خلاصہ نقل کرتے

٤٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨١

ہیں ۔ جو رپورٹ میں (ص ٢٣٣ تا ٢٣٤) تک مسلسل کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ”ان طویل اور بار بار کے مباحثات کو دیکھتے ہوئے جو خواجہ ناظم الدین اور علماء کے درمیان ہوئے ۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ دینیاتی بنیادوں پر ان مطالبات کا صحیح اور حق بجانب ہونا ضرور زیر بحث آیا ہوگا۔ خواجہ ناظم الدین ایک مخلص مذہبی آدمی ہیں اور چونکہ انہوں نے صاف صاف ان مطالبات کو رد نہیں کیا۔ اس لئے غالباً وہ ان کی ظاہر فریب خوش نمائی سے متاثر ہوئے ہوں گے۔ مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے ضرور یہ محسوس کیا ہوگا کہ یہ مطالبات محض چھینی کے پتلے سرے کی حیثیت رکھتے ہیں اور اگر ایک مرتبہ یہ اصول تسلیم کر لیا گیا کہ اس طرح کے مذہبی معاملات پر بحث اور تصفیہ کرنا ریاست کا کام ہے تو آئندہ انہیں زیادہ نازک اور نرالے مطالبات سے سابقہ پیش آئے گا۔ انہوں نے یہ بھی ضرور سوچا ہوگا کہ ان مطالبات کو قبول کرنے کے کیا اثرات نہ صرف عالم اسلام پر بلکہ بین الاقوامی دنیا پر مرتب ہوں گے ۔“

دوسروں کے ذہن کو بطور خود پڑھنے کا ایک اسلوب انسانی فکر و کلام میں رائج تو ضرور ہے۔ لیکن ہم غلط یا صحیح ...... یہ رائے رکھتے ہیں کہ عدالتی کارروائیوں اور فیصلوں میں بھی اگر یہ اسلوب آ داخل ہو تو شہادت کا پورا نظریہ بدل جائے گا۔ بلکہ انصاف کے مسلمہ اصولوں میں بھی ترمیم ناگزیر ہو جائے گی۔ چنانچہ اس موقع پر اس اسلوب کے آجانے سے خواجہ ناظم الدین کی لوح خیال کو جب ہم پڑھتے ہیں تو حسب ذیل دلائل ترتیب وار سامنے آنا شروع ہوتے ہیں:

میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق بنیادی طور پر مختلف ہیں۔

ریاست کے عام فرائض میں سے ہے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ہے۔

ہیں۔ ان کی علیحدگی ضرور دنیا بھر میں شائع ہوتی اور اس پر رائے زنیاں کی جاتیں۔ اس کی کوئی ایسی توجیہ جو بین الاقوامی ضمیر کو مطمئن کر سکے، دریافت ہونی مشکل تھی۔ اس مسئلے کے متعلق دوسری جگہ رپورٹ میں پھر جب ہم خواجہ ناظم الدین کا ذہن پڑھتے ہیں تو وہاں یہ مضمون پاتے ہیں۔

”خواجہ ناظم الدین صاحب ان مطالبات کو قبول نہ کر سکتے تھے۔ کیونکہ انہیں قبول کرنا یقیناً پاکستان کو دنیا میں مضحکہ بنا دیتا اور بین الاقوامی دنیا میں اس کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہو جاتا کہ وہ ایک ترقی پذیر جمہوری ریاست ہے۔“

(ص ٢٦٥،٢٦٤)

٤١

صفحہ ٤٨٢

آگے چل کر پھر خواجہ صاحب ہی کی لوح کے ایک اور عکس میں ہمیں یہ مضمون ملتا ہے: ’’اگر مطالبات قبول کر لئے جاتے تو پاکستان بین الاقوامی برادری سے نکال باہر کیا جاتا۔‘‘

(ص ٢٨٢)

سرکاری مناصب پر ہیں اپنے عہدے سے صرف اس بناء پر نہیں ہٹائے جاسکتے کہ وہ ایک خاص مذہبی عقیدہ رکھتے ہیں۔

چکی ہے۔ جس کی رو سے ہر شہری اپنی قابلیت کے لحاظ سے سرکاری ملازمت میں لئے جانے کا اہل ہے۔ بلا اس لحاظ کے کہ اس کا مذہب، نسل، برادری، صنف اور خاندان کیا ہے اور اس کی جائے پیدائش کون سی ہے۔ نیز ہر شہری کے لئے اس میں ضمیر کی آزادی اور اپنا ایک مذہب رکھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی آزادی کا ذمہ لیا گیا ہے۔

کی جنرل اسمبلی کے مقرر کئے ہوئے ایک کمیشن نے تیار کیا ہے اور جس پر دستخط کرنے والوں میں ایک پاکستان بھی ہے۔ اس کی دفعہ ١٨ اس مضمون پر مشتمل ہے کہ ہر شخص کو، خیال، ضمیر اور مذہب کی آزادی حاصل ہوگی اور اس میں یہ آزادی بھی شامل ہے کہ ایک شخص اپنا مذہب اور عقیدہ تبدیل کر سکے اور اپنے مذہب یا عقیدے کو تعلیم، عمل اور عبادت میں ظاہر کر سکے۔ لہٰذا ان مطالبات کا قبول کر لیا جانا بین الاقوامی کبوتر خانوں میں ایک ہلچل برپا کر ڈالتا اور بین الاقوامی دنیا کی توجہ کسی نہ کسی رنگ میں ان حالات کی طرف منعطف ہو جاتی جو پاکستان میں پیش آ رہے ہیں۔ کیونکہ ان مطالبات کی قبولیت گویا دنیا بھر کے سامنے اس بات کے اعلان کے ہم معنی تھی کہ پاکستان اپنی شہریت کی بنیاد دوسری قوموں کی شہریتوں سے مختلف بنیادوں پر رکھ رہا ہے اور پاکستان میں غیر مسلموں کے لئے محض مذہبی عقائد کی بناء پر سرکاری مناصب کا دروازہ بند ہے۔

ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ہرگز دریغ نہ کرتا ١؎۔ وہ اس کو ضرور یہ الزام دیتا کہ ...... وہ اس سمجھوتے سے پھر گیا ہے۔ جو ٨؍ اپریل ١٩٥٠ء کو حکومت ہند اور حکومت پاکستان میں ہوا تھا اور جس کی رو سے دونوں ریاستوں نے اقلیتوں کو اس بات کی ضمانت دی تھی کہ انہیں اپنے ملک کی اجتماعی زندگی میں حصہ لینے، سیاسی اور دوسرے مناصب پر فائز ہونے اور

٤٢

صفحہ ٤٨٣

دیوانی و فوجی ملازمتوں میں داخل ہونے کے مواقع اکثریت والے گروہ کے برابر حاصل ہوں گے۔ ان حقوق کو اس سمجھوتے میں بنیادی حقوق مانا گیا تھا۔ باوجودیکہ ہندوستان کو احمدیوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ نہ وہ ان مذہبی جھگڑوں سے کوئی دلچسپی رکھتا ہے۔ جن سے وہ دامن جھاڑ کر الگ ہو گیا ہے۔ مگر وہ ان مطالبات کی قبولیت کے لازمی نتائج ضرور محسوس کر لیتا اور بجا طور پر یہ استدلال کرتا کہ اگر اس ریاست میں احمدی سرکاری مناصب نہیں رکھ سکتے تو ہندو جن سے ہندوستان کو دلچسپی ہے۔ بدرجہ اولیٰ نہ رکھ سکیں گے۔

١۔ ہندوستان کے ردعمل کو معیار بنا کے سوچیں تو پھر تو ہمیں یہ اندیشہ بھی بجا طور پر ہو سکتا ہے کہ وہ تو خود اس رپورٹ سے بھی فائدہ اٹھائے گا۔ بلکہ یہ بات کہ وہ اس معاملہ میں فائدہ کس طرح اٹھائے۔ اگر اسے پہلے معلوم نہ بھی ہوگی تو یہ رپورٹ یقینا اسے راستہ دکھا دی گی۔ پھر کیا یہ بھی امکانی بات نہیں ہے کہ اگر ہندوستان وہ استدلال کرے تو خود ہمارے ہی ہاں کی ایک اہم عدالتی رپورٹ کو وہ سند بنا کے پیش کرے گا۔

”ظاہر ہے کہ یہ تضمنات ضرور خواجہ ناظم الدین کے ذہن کے سامنے ہوں گے اور انہوں نے ضرور خود اپنے مذہبی اعتقادات اور مطالبات کی قبولیت کے ان تضمنات میں ایک تصادم محسوس کیا ہوگا۔“

(ص ٢٣٤)

”خواجہ بزرگ“ کے ذہن کی یہ کیفیت دیکھ کر خدا کا شکر ادا کرنا پڑتا ہے کہ انہیں مطالبات کی قبولیت میں چاند سے زمین کے ٹکرا جانے اور اوپر سے سورج کے آ پڑنے کا خطرہ لاحق نہ ہوا۔

فی نفسہ یہ دلائل بھی اس قابل ہیں کہ رپورٹ کے قارئین ان کا جائزہ لیں اور اپنی رائے قائم کریں۔

پہلی دلیل پیش کرتے ہی مطالبات اپنے واقعاتی پس منظر سے منقطع ہو کر بالکل ایک نظریاتی بحث کے دائرے میں داخل ہو گئے ہیں اور پھر یہاں رپورٹ ان پر وہ چوٹ لگاتی ہے۔ جو ”جدید“ ذہن کو بڑی کاری محسوس ہوتی ہے۔ مطالبات کا واقعاتی پس منظر یہ ہے کہ قادیانی ایک سخت قسم کے گروہی تعصب میں مبتلا ہیں اور مسلمانوں کو ہر شعبہ زندگی میں سالہا سال سے یہ تجربہ ہے کہ یہ لوگ بالعموم اپنی پوزیشن سے قادیانیت کی اشاعت اور قادیانیوں کی جا و بیجا حمایت کا

٤٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٤

فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس کی شہادت پنجاب کے سابق گورنر سردار عبدالرب نشتر عدالت کے سامنے دے چکے ہیں۔ اس کا علانیہ اعتراف پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ مسٹر دولتانہ نے ایک بھرے جلسے میں کیا۔ (رپورٹ ص٩٧، ٩٨) اس کا صریح اقرار خود مرکزی حکومت نے اپنے ١٤ اگست ١٩٥٢ء کے سرکاری کمیونک میں کیا۔ (رپورٹ ص١٢٧، ١٢٨) حتیٰ کہ اس امر واقعی کو عدالت خود اپنی رپورٹ میں تسلیم کر چکی ہے۔ (رپورٹ ص٢٦١) اب اگر مسلمان ان مسلسل تلخ تجربات کے بعد یہ مطالبات کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو (تمام سرکاری مناصب سے نہیں بلکہ) صرف ان کلیدی مناصب سے ہٹایا جائے۔ جن سے ناروا فائدہ اٹھانے کا ان کو بہت زیادہ موقع ملتا ہے تو ان کے مطالبے کو کسی حال میں بھی اس واقعاتی پس منظر سے الگ کر کے نہیں جانچا جا سکتا۔ یہ مطالبات جہاں اپنے واقعاتی پس منظر سے الگ ہو جاتے ہیں۔ وہاں رپورٹ یہ کہتی سنائی دیتی ہے کہ مطالبہ کرنے والے حقائق و واقعات کی بناء پر نہیں بلکہ صرف اس نظریاتی بنیاد پر کرتے ہیں کہ: ”مسلمان کے حقوق غیر مسلم کے حقوق سے مختلف ہیں۔“ مطالبات جب مجرد اس نظریاتی بنیاد پر رکھ کر دیکھے جائیں تو واقعی حالت سے کہیں زیادہ کمزور اور بے وزن ہو کر سامنے آتے ہیں۔ اتنے کمزور کہ اگر عدالت خود ان کی عمارت کو جوں کا توں بھی قائم رہنے دے تو رپورٹ کے عام قاری کی ایک تنقیدی نگاہ کی چوٹ بھی انہیں گرا سکتی ہے۔ لیکن دوسری طرف ہم جب اس نظریاتی بنیاد کو عامیانہ فکر سے ہٹ کر ذرا گہری نظر سے دیکھتے ہیں تو فی الحقیقت یہ بھی بالکل بودی نہیں ہے۔ اگر معاملہ عدالتی رپورٹ کا نہ ہوتا اور اسی نظریاتی بنیاد کو عام میدان بحث میں کوئی چیلنج کرتا تو ہم اس چیلنج کو قبول کر لیتے اور مدعی سے کہتے کہ کاغذی اور زبانی دعوؤں سے قطع نظر کر کے ذرا براہ کرم دنیا کی کسی ایسی ریاست کا نام لیجئے۔ جس میں ریاست کی حقیقی فرمانروا قوم اور دوسری قومی (سیاسی نہیں بلکہ قومی) اقلیتوں کے حقوق فی الواقع، عملاً مساوی ہیں؟ کیا امریکہ میں ایسا ہے؟ کیا یورپ کے کسی ملک میں ہے؟ کیا ایشیاء کے کسی ملک میں ہے؟ کیا آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ میں ہے؟ کیا روس میں ہے؟ جواب میں ہمارے سامنے لکھے ہوئے دستور نہ لایئے۔ ہمیں الفاظ نہیں واقعات درکار ہیں۔ ہم بڑے شکر گزار ہوتے اگر رپورٹ کے فاضل مصنفین ہی نے کسی ایک ایسے ملک کی مثال پیش کر دی ہوتی جہاں حقیقی معنوں میں قومی اقلیتیں موجود ہوں اور پھر قومی اکثریتوں کے ساتھ ان کو عملاً مساوات حاصل ہو۔

دوسری دلیل منطقی طور پر غلط ہے اور تعجب ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک تناقض دو فاضل

٤٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٥

ججوں کی نگاہ سے کسی طرح مخفی رہ گیا۔ اس دلیل کا صاف منشاء یہ ہے کہ کسی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا ریاست کے فرائض میں سے نہ ہونا چاہئے اور اس بناء پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ رد کر دیا جانا چاہئے۔ اب دیکھئے! جب مسلمان یہ کہیں کہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں۔ اس لئے انہیں ہم سے الگ کیا جائے اور ریاست ان کے اس مطالبہ کو رد کر دے تو کیا اس طرح ریاست یہ فیصلہ نہ کر دے گی کہ قادیانی مسلمان ہیں؟ پھر اس منطقی غلطی سے قطع نظر کرتے ہوئے ہم پوچھتے ہیں کہ جب تقسیم سے پہلے برطانیہ کی غیر اسلامی، دنیوی ریاست نے سکھوں کے ہندو نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور جب اچھوتوں کو ہندوؤں سے الگ ایک اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت ریاست نے کون سا فریضہ انجام دیا تھا؟

تیسری دلیل کو پڑھتے وقت ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کس بین الاقوامی برادری کا ذکر ہے جو چوہدری صاحب مکرم و محترم کی علیحدگی کا فیصلہ ہوتے ہی ہمارا حقہ پانی بند کر دیتی۔ کیا اسی برادری کا ذکر ہے جس کا ایک رکن انگلستان ہے۔ جس نے اپنے ایک بادشاہ کو اس لئے تخت سے اتار دیا کہ وہ طبقہ عوام کی ایک عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا اور جس کے ہاں آج یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ مسٹر ایڈن، ایک طلاق زدہ آدمی، برطانیہ کے وزیر اعظم ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ جس کا دوسرا رکن امریکہ ہے۔ جس کے حدود میں ریڈ انڈین اور نیگرو آبادی کی حالت کسی سے پوشیدہ نہیں؟ جس کا تیسرا رکن جنوبی افریقہ ہے۔ جہاں کالے اور گورے کی تفریق کا حال سب کو معلوم ہے؟ جس کا چوتھا رکن روس ہے۔ جس کے جبری محنت کے کیمپوں کی خبریں آئے دن دنیا میں پھیلتی رہتی ہیں؟ جس کا پانچواں رکن ہندوستان ہے۔ جس کی مسلم آبادی روز بھاگ بھاگ کر کھوکھرا پار سے پاکستان چلی آ رہی ہے؟ اگر یہ اسی کا ذکر ہے تو بڑی اچھی ہے۔ یہ بین الاقوامی برادری جو اپنی چھلنی میں سینکڑوں چھید لے کر ہمارے سامنے منہ کھولے گی۔

چوتھی یا پانچویں دلیل کا جواب یہ ہے کہ جن لوگوں کی روش کے متعلق پبلک میں عام شکایات ہوں اور جن کی زیادتیوں کے خلاف سارا ملک چیخ اٹھے۔ ان کے متعلق نہ دستور مملکت میں اور نہ بنیادی حقوق کی ابتدائی رپورٹ میں کہیں یہ لکھا ہے کہ ان کو ہرگز نہیں ہٹایا جا سکتا۔ در حقیقت وہ حکومت ایک بڑی ہی نادان حکومت ہوگی۔ جو باشندگان ملک کی عام شکایات کے مقابلے میں اس طرح کے اصطلاحی بہانوں کا سہارا لے۔

چھٹی دلیل کا جواب بڑی حد تک تیسری دلیل کے جواب میں آ گیا ہے۔ ہمیں معلوم

٤٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٦

ہوا ہے کہ ایک اس طرح کا بین الاقوامی میثاق تیار کیا گیا ہے۔ جس پر پاکستان نے بھی دستخط کئے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ دنیا کا کوئی ملک ان خوشنما نظریات پر عمل نہیں کر رہا ہے اور اپنے نظام زندگی میں ان کو بس اسی حد تک جگہ دیتا ہے۔ جہاں تک اس کے حالات، ضروریات اور روایات اس کی اجازت دیتے ہیں۔ پھر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان کے سوا دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں باشندگان ملک اور ان کے احساسات و جذبات اور ان کے حقیقی مسائل زندگی کو نظر انداز کر کے محض بین الاقوامی رائے کو اہمیت دی جاتی ہو ١؎۔

١؎ ص ٢٨٢ پر عدالت خود تسلیم کرتی ہے کہ : ”اگر یہ مطالبات تسلیم کر لئے جاتے تو کوئی گڑ بڑ بھی نہ ہوتی۔ کسی قسم کے ہنگامے نہ ہوتے۔ خواجہ ناظم الدین پاکستان کے ہر دلعزیز ہیرو بن جاتے۔ احمدیوں کا چھوٹا سا فرقہ کوئی مزاحمت نہ کر سکتا۔ نہ کوئی ہنگامہ کھڑا کر سکتا۔ چوہدری ظفر اللہ خاں کی علیحدگی پر بین الاقوامی حلقوں میں کچھ ہلچل برپا ہوتی۔ مگر خود پاکستان کی آبادی اس فعل کا پر جوش خیر مقدم کرتی۔“ سوال یہ ہے کہ جب ملک میں اس کے یہ اثرات ہوتے تو پھر مطالبات کو رد کر کے یہ ہنگامے کیوں کھڑے کرائے گئے؟ رپورٹ کی بحثوں سے ناظر کے سامنے ایک ہی جواب آتا ہے کہ اگر ایسا کیا جاتا تو پاکستان بین الاقوامی برادری سے نکال باہر کیا جاتا۔

اور اسے تمام فیصلوں اور اقدامات کا معیار مان لیا جاتا ہو۔ یہ تو صرف ہم ہی ہیں جنہوں نے اپنا حال اس زن بازاری کا سا کر رکھا ہے۔ جس کے لئے گھر والے کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور ساری اہمیت بس بازار کے تماشائیوں ہی کی ہے۔ رہا یہ بین الاقوامی کبوتر خانہ تو اس کے کبوتروں کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی طفلک ناداں ڈرتا جھجکتا اس کی طرف دیکھتا ہے تو یہ کبوتر بہت پھڑ پھڑاتے ہیں۔ مگر جب روس یا ہندوستان یا ایسے ہی کسی ملک کا کوئی بلّا اس میں درانہ گھس آتا ہے تو سارے کبوتروں کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔

ساتویں دلیل کے متعلق ہم بس اتنا کہیں گے کہ اس ہندوستان کے سمجھوتوں کو بنائے استدلال نہ بنایا جاتا تو اچھا تھا۔ جس کا دامن کشمیر اور جونا گڑھ اور نہری پانی اور نہ معلوم ایسے ہی کتنے معاملات کے متعلق سمجھوتوں کے خون سے آلودہ ہے اور جس کا طرز عمل خود اس سمجھوتے کے معاملے میں بھی ساری دنیا کو معلوم ہے۔ جس کا رپورٹ کی بحث میں حوالہ دیا گیا ہے۔ ہمارے لئے شاید اس سے زیادہ بدقسمتی کا کوئی اور وقت نہ ہوگا۔ جب ہماری کابینہ کی تشکیل اور ترکیب تک میں ہندوستان کو دخل دینے کی اجازت دے دی جائے گی۔ (اور ہو سکتا ہے کہ اس کے لئے سند

٤٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٧

اس رپورٹ سے پکڑی جائے) یہاں پھر رپورٹ کے قاری کو ذہن و فکر کے ایک طرفہ جھکاؤ کی ایک جھلک سی محسوس ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے معاملات کا گوشہ اتنا زیادہ اہمیت پا جاتا ہے کہ دوسرے گوشوں کی اہمیت سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ حالانکہ بحث کی ایسی غیر محتاط پیش قدمی سے نہ جانے کیا کیا اثرات و نتائج وسیع پیمانے پر نمودار ہو سکتے ہیں۔

قرارداد مقاصد پر اظہار رائے

مطالبات کے حسن و قبح کی بحث اور آگے چل کر قرارداد مقاصد کے حسن و قبح کی بحث تک پہنچتی ہے۔ بظاہر جس منطقی قیاس پر بحث کا یہ ارتقاء مبنی ہے وہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہنگامے مطالبات کی پیداوار ہیں اور مطالبات کو قرارداد مقاصد نے جنم دیا ہے۔ لہٰذا فتنے کی اصل جڑ قرارداد مقاصد ہے اور اس کے اس تصور کو مٹانے کی ضرورت ہے کہ اس نے فی الواقع یہاں اسلامی ریاست کی کوئی بنیاد رکھی ہے۔ عدالت کے اپنے الفاظ اس مضمون کو یوں ادا کرتے ہیں۔

”تقریباً تمام علماء نے جن سے ہم نے اس موضوع پر سوالات کئے۔ یہ بتایا ہے کہ یہ مطالبات اس قرارداد مقاصد کا نتیجہ ہیں جو دستور ساز اسمبلی نے ١٢؍ مارچ ١٩٤٩ء کو منظور کی تھی اور دینی سیاسی نظام کی پیداوار ہیں۔ جسے یہ لوگ اسلام کہتے ہیں“۔ یہ بات بڑے زور سے کہی گئی ہے کہ پاکستان کا اس لئے مطالبہ کیا گیا تھا اور اسی لئے وہ وجود میں لایا گیا کہ اس نئی ریاست کا آئندہ سیاسی نظام قرآن اور سنت پر مبنی ہو اور یہ کہ اس مطالبے کا عملاً پورا ہو جانا اور اس کی اس بنیاد کا صریح طور پر قرارداد مقاصد میں تسلیم کر لیا جانا، علماء اور باشندگان پاکستان کے ذہن میں اس یقین کی پیدائش کا موجب ہوا ہے کہ کوئی مطالبہ جو مذہبی بنیادوں پر ثابت کر دیا جائے۔ نہ صرف یہ کہ مان لیا جائے گا۔ بلکہ ان لوگوں کی طرف سے اس کا پر جوش خیر مقدم کیا جائے گا۔ جو ریاست کے سربراہ کار ہیں اور جو پچھلے کئی برسوں سے خود یہ پکارتے رہے ہیں کہ ہم پاکستان میں ایک اسلامی ریاست، اسلامی طرز کے سیاسی، اجتماعی اور اخلاقی ادارات کے ساتھ قائم کرنا چاہتے ہیں۔“

(ص١٨٦)

اس مرحلے پر قبل اس کے کہ ہم قرارداد مقاصد کے متعلق عدالت کی رائے نقل کر کے اس پر کوئی بحث کریں۔ یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ اوّل تو تمام علماء نے نہیں بلکہ ان میں سے صرف چند نے ہی ان مطالبات کو قرارداد مقاصد کی پیداوار قرار دیا تھا۔ (جب کہ ماسٹر تاج الدین انصاری اور سید مظفر علی شمسی جیسے حضرات سے ہمارا حسن ظن یہ ہے کہ وہ کبھی بھی عالم دین ہونے کی ذمہ داریاں قبول کرنے پر تیار نہ ہوں گے) دوسرے خواجہ ناظم الدین صاحب نے

٤٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٨

عدالت میں یہ بات واضح کر دی تھی کہ اگر قرارداد مقاصد پاس نہ بھی ہوتی تو اس طرح کے مطالبات ایک خالص دنیوی حکومت میں پیش کئے جاسکتے تھے اور ان دونوں سے زیادہ اہم حقیقت یہ ہے کہ ان مطالبات کو قرارداد مقاصد کی پیداوار قرار دینے پر تاریخی امر واقعہ اٹھ کر خود تردید کر دیتا ہے۔ یہ بات کسی کو معلوم نہیں ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ تقسیم ہند سے بہت پہلے انگریزی حکومت کے زمانے میں کیا گیا تھا اور علامہ اقبال مرحوم نے اس کی پرزور وکالت کی تھی اور یہ بات کس سے چھپی ہوئی ہے کہ انگریزی حکومت کے زمانے میں جب چوہدری ظفر اللہ خاں ایگزیکٹو کونسل کے ممبر بنائے گئے تھے۔ اس وقت مسلمانوں کی طرف سے اس پر احتجاج ہوا تھا اور صاف صاف کہا گیا تھا کہ کونسل میں ان کی شرکت سے مسلمانوں کی نمائندگی نہیں ہوتی اور کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ چوہدری صاحب کی قادیانی نواز اور جانب دارانہ روش کے خلاف شکایات کا سلسلہ انگریزی دور حکومت میں اکثر جاری رہا؟ اب رہ جاتا ہے کلیدی اسامیوں کا معاملہ۔ بلاشبہ اس سوال کو اس

میں متعدد مقامات پر دہرایا گیا ہے۔ جس سے صاف طور پر یہ مترشح ہوتا ہے کہ عدالت کے نزدیک یہ ”اسلام“ علماء کا اپنا تصنیف کردہ ہے۔ بجائے خود یہ اسلام نہیں ہے۔

وقت نہیں اٹھایا گیا تھا۔ مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر ایک فرقے کے افسروں کی وہ روش ہو جو قادیانی افسروں کی ہے تو ایک غیر مذہبی حکومت میں پبلک وہ مطالبہ نہیں کرسکتی جو قادیانیوں کے بارے میں کیا گیا ہے؟ اس لئے ہم جیسے عام لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان مطالبات کا جوڑ قرارداد مقاصد سے کیسے جا لگتا ہے؟

اب دیکھئے کہ خود قرارداد مقاصد کے متعلق عدالت کی رائے گرامی کیا ہے: ”یہ بات کھلے بندوں تسلیم کی گئی ہے کہ یہ قرارداد اگرچہ الفاظ، فقروں اور دفعات میں بڑی پرشکوہ ہے۔ مگر ایک فریب کے سوا کچھ نہیں ہے اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ اس میں ایک اسلامی ریاست کے جنین کا شائبہ تک موجود نہیں بلکہ اس کی دفعات خصوصاً وہ جو بنیادی حقوق سے متعلق ہیں۔ براہ راست اسلامی ریاست کے اصولوں کی ضد ہیں۔“

(ص ٢٠٣)

اس عبارت کے تین اجزاء ہیں اور تینوں محل نظر ہیں۔

اوّل! یہ کہ قرارداد مقاصد محض ایک فریب ہے اور اس کا فریب ہونا عموماً تسلیم کیا جاتا

٤٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٨٩

ہے۔ حالانکہ اسے خواہ پہلے کسی نے بطور فریب استعمال کرنے کا بھی ارادہ کیا ہو تو بھی باشندگان ملک نے اسے اپنے دلوں کی آواز سمجھ کے اپنا لیا اور رپورٹ کی ترتیب کے وقت تک تو اس کی بنیاد پر دستور ساز اسمبلی دستور کا ایک ایسا خاکہ بنا چکی تھی جسے دیکھتے ہوئے قرار داد مقاصد کو کسی طرح بھی فریب نہیں گردانا جاسکتا تھا۔

دوم ! یہ کہ اس قرار داد میں اسلامی ریاست کے جنین کا شائبہ تک موجود نہیں ہے۔ حالانکہ شائبہ کیا معنی خود جنین موجود تھا اور وہ جب پرورش پا کر ولادت کے قریب آلگا تو اس کو ایک خطرہ سمجھنے والوں کو اس سے بچنے کے لئے اس کی والدہ کو ولادت سے قبل قتل کر دینے کے سوا اور کوئی راہ نجات نہیں مل سکی۔

سوم ! یہ کہ اس کی دفعات خصوصاً وہ جو بنیادی حقوق سے متعلق ہیں۔ اسلامی ریاست کے اصولوں سے متصادم ہیں۔ حالانکہ اگر ایسا ہو بھی تو یہ سوال کہ پاکستان میں اسلامی ریاست کا نظریہ وہ اصل ہے۔ جس پر باقی ساری چیزوں کو ڈھلنا چاہئے یا دوسری چیزیں وہ اصل ہیں۔ جن پر اسلامی ریاست کے نظریے کو قربان ہونا چاہئے۔ آخر کار کسی عدالت کے نہیں، بلکہ باشندگان پاکستان کے طے کرنے کا ہے۔ اگر باشندوں کی اکثریت اسلامی ریاست کے نظریے کی واقعی معتقد ہوئی تو موجودہ دستور ساز اسمبلی اپنے بنائے ہوئے دستور میں خواہ کتنے ہی نقائص چھوڑ جائے۔ آخر کار دستور کی ترمیمات سے وہ سب دور ہو کر رہیں گے۔ اب تک جو کچھ ہوا ہے۔ وہ باشندوں کی مرضی کے دباؤ ہی سے ہوا ہے اور یہی دباؤ آئندہ فیصلہ کرے گا کہ دو متصادم نظریات میں سے کس کو فنا ہونا اور کس کو باقی رہنا ہے۔ لہذا محض اس تصادم کی موجودگی اس بات کی دلیل نہیں ٹھہرائی جاسکتی کہ یہاں سرے سے اسلامی ریاست کی کوئی بنیاد ہی نہیں رکھی گئی ہے۔

بعض دوسری بحثیں

قرار داد مقاصد پر یہ بحث صرف اسی حد پر نہیں رک گئی کہ وہ فی الواقع ایک اسلامی ریاست کی بنا رکھتی ہے یا نہیں۔ بلکہ آگے چل کر وہ دو راستوں پر بڑھتی چلی گئی ہے۔ ایک یہ کہ پاکستان کا بنیادی تصور اور مطمح نظر کیا تھا؟ آیا ایک اسلامی ریاست یا ایک قومی جمہوری دنیوی ریاست؟ دوسرے یہ کہ بجائے خود اسلامی ریاست کا تصور کیا ہے؟ علماء اس کو کیا سمجھتے ہیں اور اگر پاکستان اس طرح کی ایک ریاست بن جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟

٤٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٠

ص ٢٠٠ کی آخری سطروں میں عدالت کہتی ہے کہ: ”چونکہ ان مطالبات کی بنیاد اسلامی ریاست کے اس نظریہ پر قائم ہے کہ ریاست میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق یکساں نہیں ہیں۔ اس لئے ہمیں علماء کی مدد سے اس امر کا تفصیلی جائزہ لینا پڑا کہ اسلامی ریاست کا یہ نظریہ فی الواقع ہے کیا اور اس کے تضمینات کیا ہیں ۔“ اس کے بعد مسلسل ٣٠ صفحے تک اسلام ، اسلامی ریاست ، اس میں قانون سازی کا ہو سکنا یا نہ ہو سکنا ، اس میں غیر مسلموں کی پوزیشن ، مسلمان کی تعریف اور اس میں علماء کے اختلافات ، مرتد کی سزا ، دوسرے مذاہب کا حق تبلیغ ، نظریہ جہاد، دارالاسلام و دارالحرب، مسلمانوں اور غیر مسلموں کی جنگ میں کافر حکومت کی مسلم رعایا کا موقف، اسیران جنگ کی پوزیشن ، غیر مسلم ممالک میں مسلم رعایا کا اندیشہ ناک انجام، بین الاقوامی قانون سے اسلامی قانون کا تصادم ، دارالاسلام میں فنونِ لطیفہ کا خطرناک مستقبل، غرض ہر وہ مسئلہ زیر بحث آیا ہے۔ جس کے آئینے میں پاکستان کی وہ بھیانک تصویر دیکھی جاسکے جو اس کے ایک اسلامی ریاست ہونے سے بن جائے گی ۔ پھر ص ٢٣١ پر اس بحث کے لئے عذر یہ پیش کیا گیا ہے۔

”ہم نے اسلامی ریاست کے موضوع پر یہ ذرا طویل بحث اس لئے نہیں کی ہے کہ ہم اس طرح کی ایک ریاست کے خلاف یا اس کے حق میں ایک مقالہ لکھنا چاہتے تھے۔ بلکہ ہمارے

پیش نظر صرف یہ امر تھا کہ ان متعدد امکانات کی ایک واضح تصویر پیش کریں جو آئندہ رونما ہو سکتے ہیں ١؎ ۔ اگر اس نظریاتی الجھاؤ کے اسباب کی ٹھیک ٹھیک نشان دہی نہ کر دی جائے جس نے ہنگاموں کی شدت و وسعت میں حصہ لیا ہے ...... اگر اس تحقیقات میں کوئی چیز قطعی طور پر کھل کر سامنے آگئی ہے تو وہ یہ ہے کہ آپ کا عوام الناس کو بس یہ یقین دلا دینا شرط ہے کہ جس بات کے لئے ان سے کہا جا رہا ہے۔ وہ مذہبی حیثیت سے حق ہے یا مذہب نے اس کا حکم دیا ہے۔ پھر آپ ان سے جو کچھ چاہیں کرا سکتے ہیں ۔ بغیر اس کے کہ وہ کسی ڈسپلن، وفاداری، شائستگی، اخلاق اور احساس مدنیت کا کوئی لحاظ کر جائیں ۔“

یہ حصہ پڑھ کر ہم یہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ محترم عدالت نے اس تیس صفحات کی بحث (جو مقالہ کے ظرف سے بڑھ کر ایک مستقل کتاب کی حد تک پہنچ جاتی ہے) میں کہاں ان چیزوں

٥٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩١

کی نشان دہی کی ہے جو اسلامی ریاست کے نظریے میں یا اس کے اس تصور میں جسے عدالت علماء کا تصور کہتی ہے۔ ایسی موجود ہیں کہ عوام الناس کا اخلاق وشائستگی اور نظم وضبط کے سارے حدود کو پھاند جانا لازماً انہی کا نتیجہ قرار دیا جا سکے۔

پاکستان کا بنیادی تصور اور مطمح نظر

اب ہم پہلے اس بحث کو لیتے ہیں جو عدالت نے پاکستان کے بنیادی تصور اور مطمح نظر پر کی ہے۔ اس بحث میں ہمیں ایک عجیب چیز ملتی ہے۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف متعدد مقامات پر ”لیڈروں“ کے ان بیانات، اعلانات اور وعدہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جو انہوں نے تقسیم ہند سے پہلے اور بعد، پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کے متعلق کیے تھے۔ مگر نہ جانے کیسے یہ سہو ہو گیا کہ کسی ایک جگہ اشارۃً بھی یہ ذکر نہیں ملتا کہ ایسے ”لیڈروں“ میں سب سے نمایاں اور سب سے بڑھ چڑھ کر قائد اعظم مرحوم خود تھے۔ لیکن جہاں وطنی قومیت پر مبنی ایک جمہوری ولا دینی ریاست کو پاکستان کا بنیادی تصور اور مطمح نظر قرار دینے کی بحث آئی ہے۔ اس موقع پر قائد اعظم ”بانی پاکستان“ کا حوالہ سلسلۂ کلام کی روح ورواں بنا نظر آتا ہے۔

ملاحظہ کیجئے! حسب ذیل عبارتوں میں جہاں پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا ذکر آیا ہے۔ اس چیز کو مقصد ونصب العین قرار دینے والے ”لیڈروں“ میں کہیں کسی ایک جگہ بھی قائد اعظم کا مذکور ہے؟

”یہ بات پیش کی گئی ہے کہ چند لیڈروں نے اس نصب العین کے حصول کو علانیہ اپنی زندگی کا مقصود قرار دیا تھا۔“

(ص ١٨٦)

”اور تحقیقات کے دوران میں ہر ایک شخص اس امر کو ایک حقیقت مسلمہ سمجھ کر بات کرتا رہا ہے کہ یہ مطالبات اس آئیڈیالوجی کا نتیجہ ہیں۔ جس کی بنیاد پر پاکستان میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا اور بعض حلقوں کی طرف سے اس کا وعدہ کیا گیا تھا۔“

(ص ٢٠٠)

”جو اہم لیڈر پاکستان کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔ ان کی بعض تقریریں بلاشبہ یہ موقع دیتی ہیں کہ ان کو یہ معنی پہنائے جائیں۔ یہ لیڈر اسلامی ریاست یا اسلامی قوانین کے تحت چلائی جانے والی ریاست کا ذکر کرتے وقت غالباً اپنے ذہن میں ایک ایسی سیاسی عمارت کا مخلوط

٥١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٢

تصور رکھتے تھے جو اسلامی عقائد، پرسنل لاء، اخلاقیات اور اداروں پر مبنی یا ان کے ساتھ ملی جلی ہو۔“

(ص ٢٠١)

دوسری طرف یہ عبارت ملاحظہ فرمائیے: ”تقسیم سے پہلے پاکستان کی پہلی پبلک تصویر جو قائد اعظم نے دنیا کے سامنے پیش کی وہ اس ملاقات کے دوران میں کھینچی گئی تھی جو انہوں نے رائٹر کے نامہ نگار مسٹر ڈون کیمبل کو دی تھی۔ قائد اعظم نے کہا کہ نئی ریاست ایک جدید طرز کی جمہوری ریاست ہوگی۔ جس میں حاکمیت باشندوں کو حاصل ہوگی اور نئی قوم کے افراد بلالحاظ مذہب وعقیدہ وذات برابر کے شہری حقوق رکھیں گے۔ جب پاکستان باقاعدہ نقشے پر آ گیا تو قائد اعظم نے مجلس دستور ساز پاکستان میں اپنی وہ ١١؍ اگست ١٩٤٧ء والی تقریر ارشاد فرمائی۔ جس میں نئی ریاست کے بنیادی اصول بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔“

(ص ٢٠١)

اس کے بعد تقریر کے متعلقہ حصے لفظ بلفظ نقل کئے گئے ہیں۔ پھر ان پر یوں اظہار خیال کیا گیا ہے۔

”قائد اعظم پاکستان کے بانی تھے اور وہ موقع جب کہ انہوں نے یہ تقریر کی پاکستان کی تاریخ میں اولین نشان راہ تھا۔ تقریر اپنے لوگوں کو سنانے کے لئے بھی تھی اور دنیا کو سنانے کے لئے بھی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ جہاں تک ممکن ہو زیادہ سے زیادہ وضاحت کے ساتھ اس مطمح نظر کو بیان کر دیا جائے۔ جس کے حصول کے لئے نئی ریاست کو اپنی تمام قوتیں صرف کر دینی تھیں۔ اس تقریر میں بار بار ماضی کی تلخیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ اپیل کی گئی ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے، بدل دیا جائے اور جھگڑوں کو ختم کر دیا جائے۔ ریاست کی رعایا کے ہر فرد کو آئندہ ایک شہری کی حیثیت سے رہنا ہے۔ جس کے حقوق، رعایات اور فرائض دوسروں کے برابر ہوں گے۔ بلالحاظ اس کے کہ اس کا رنگ کیا ہے۔ اس کی ذات کیا ہے۔ اس کا عقیدہ کیا ہے اور وہ کس گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ لفظ ”قوم“ ایک سے زیادہ مواقع پر استعمال کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مذہب کا ریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کو محض فرد کے لئے ایک شخصی دین و اعتقاد کی حیثیت سے رہنا ہے۔“

(ص ٢٠٣)

٥٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٣

ہمیں اس رپورٹ کے کسی حصے پر تبصرہ کرنے میں وہ مشکل پیش نہیں آئی ہے جسے ہم اس حصے کے تبصرے میں محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے لئے یہ فرض کرنا بہت مشکل ہے کہ عدالت قائداعظم کی ان تقریروں سے واقف نہ تھی جو انہوں نے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے اور اس کا نظام اسلامی شریعت پر (محض عقائد، پرسنل لاء اور اخلاقیات پر نہیں بلکہ اسلامی قوانین پر) قائم کرنے کے متعلق تقسیم سے پہلے بھی کی تھیں اور بعد میں بھی۔ ١١ اگست والی تقریر سے ایک مہینہ پہلے تک بھی کی تھیں اور اس کے کئی مہینے بعد بھی۔ ان تقریروں کا ذکر خواجہ ناظم الدین اور سردار عبدالرب نشتر نے خود عدالت کے سامنے شہادت دیتے ہوئے کیا تھا۔ ان تقریروں کے پورے پورے فقرے لفظ بلفظ مولانا مودودی صاحب نے اپنے دوسرے بیان میں جو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ نقل کر دیئے تھے۔ ان میں سے ایک تقریر میں قائداعظم فرماتے ہیں: ’’مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جہاں وہ خود اپنے ضابطہ حیات کے مطابق اور خود اپنے تہذیبی ارتقاء، روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق حکمرانی کر سکیں۔‘‘

(مورخہ ٢١ نومبر ١٩٤٥ء فرنٹیئر مسلم لیگ کانفرنس میں)

دوسری تقریر میں ان کا ارشاد ہے: ’’ہمارا مذہب، ہماری تہذیب اور ہمارے اسلامی تصورات ہی وہ محرک قوتیں ہیں۔ جو ہمیں آزادی حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھاتی ہیں۔‘‘

(مورخہ ٢٤ نومبر ١٩٤٥ء فرنٹیئر مسلم لیگ کی دوسری تقریر)

تیسری تقریر میں ان کے الفاظ یہ ہیں: ’’لیگ اس لئے اٹھی ہے کہ ہندوستان میں ایسی ریاستیں الگ بنوائے جہاں مسلمان عددی اکثریت میں ہوں تاکہ اسلامی قانون کے تحت ان پر حکمرانی کی جائے۔‘‘

(نومبر ١٩٤٥ء، اسلامیہ کالج پشاور کی

تقریر)

پھر ١١ اگست والی تقریر سے ٹھیک ایک مہینہ ١٢ دن پہلے ٢٩ جون ١٩٤٧ء کو وہ ایک بیان میں خان عبدالغفار خاں اور ڈاکٹر خان صاحب کے اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ: ’’پاکستان کی دستور ساز اسمبلی شریعت کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کر دے گی۔‘‘ اور ١١ اگست والی تقریر کے ساڑھے چار مہینے بعد وہ مورخہ ٢٥ جنوری ١٩٤٨ء کو بار ایسوسی ایشن کراچی کی دعوت میں تقریر کرتے ہوئے پورے زور سے ان لوگوں کے خیال کی تردید کرتے ہیں جو کہتے

٥٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٤

ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا۔

اب، افسوس ہے کہ رپورٹ کے ذریعے ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگست والی تقریر کا حوالہ دیتے وقت اور اس سے نتائج نکالتے وقت قائد اعظم مرحوم کے یہ صاف اور صریح اور بار بار کے بیانات کیسے نظر انداز ہو گئے اور اس امر واقعہ کا تذکرہ کیسے چھوٹ گیا کہ جن لیڈروں نے پاکستان کا تصور ”اسلامی شریعت پر مبنی اور اسلامی قانون کے تحت چلائی جانے والی ریاست“ کی صورت میں پیش کیا تھا اس میں قائد اعظم بھی شامل تھے۔

ہو سکتا ہے کہ عدالت کی نگاہ میں قائد اعظم کی وہ ملاقات جو ڈون کیمبل کو دی گئی اور وہ تقریر جو دستور ساز اسمبلی میں کی گئی ان تقریروں سے زیادہ اہم تھی۔ یا ان کی ناسخ تھی جو وہ پاکستان کی تحریک کے دوران میں برسوں مسلمانوں کے بڑے بڑے اجتماعات کے سامنے کرتے رہے تو سوچنا یہ پڑے گا کہ یہ پیمانہ قدر کیا بجائے خود ایک صحیح پیمانہ ہے۔ جن تقریروں کو سن کر اور جن پر اعتماد کر کے دس کروڑ مسلمانوں نے اپنی جان و مال کی بازی لگائی اور لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان و مال ہی نہیں آبرو تک قربان کر دی۔ ان کا ایک ایک لفظ قائد اعظم اور مسلمانوں کے درمیان ایک عہد و پیماں کی حیثیت رکھتا تھا۔ جس کی قدر و قیمت سے کسی ڈون کیمبل کے انٹرویو اور کسی دستور ساز اسمبلی کی تقریر کو قطعاً کوئی نسبت نہیں ہو سکتی۔ مسلمان اس عہد و پیمان پر اعتماد کر کے قربانیاں نہ دیتے تو نہ کوئی ڈون کیمبل پاکستان کے معنی پوچھنے کے لئے قائد اعظم کے پاس حاضر ہوتا اور نہ کوئی پاکستان دستور ساز اسمبلی وجود میں آتی جس میں ١١ اگست والی تقریر کی جا سکتی۔ لہٰذا جو تصور اس ریاست کی پیدائش کا سبب بنا ہے۔ وہی پاکستان کا بنیادی تصور اور مطمح نظر قرار پا سکتا ہے۔ نہ کہ کوئی اور مصنوعی تصور جو قائد اعظم اور مسلمانوں کے باہمی عہد و پیمان میں شامل نہ تھا اور جسے قبول کر کے کوئی ایک مسلمان بھی قیام پاکستان کے لئے اپنی نکسیر تک پھڑوانے کے لئے تیار نہ ہو سکتا تھا۔

”لیکن اگر عدالت کو یہ اہتمام اس لئے کرنا ضروری معلوم ہوا ہو کہ قائد اعظم کی دونوں طرح کی تقریروں کا حوالہ دینے کے بعد ناگزیر ہو جائے گا کہ یا تو بانیٔ پاکستان کو تضاد بیانی کا الزام دیا جائے یا پھر ان دونوں تصورات میں تطبیق دینے کی کوشش کی جائے اور عدالت نے ان دونوں باتوں میں سے کسی کو پسند نہ کیا ہو تو ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ اس صورت میں مرحوم کی ایک

٥٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٥

طرح کی تقریروں کا پردۂ اخفاء میں رہ جانا اور دوسری طرح کی تقریر کا نمایاں ہو کر ”بانی پاکستان“ کے حوالہ سے پاکستان کے بنیادی تصور کی مستند تعبیر قرار پانا خود قائد اعظم کی شخصیت اور آپ کے تصورات کے بارے میں بے شمار لوگوں کے مغالطہ میں جا پڑنے کا موجب ہو سکتا ہے۔ بہر حال قائد اعظم کا یہ نظریہ ہو یا نہ ہو۔ عدالت کا نظریہ یہی متبادر ہوتا ہے کہ مذہب کا ریاست سے کوئی تعلق نہ ہونا چاہئے ا۔ اس کو افراد کے ذاتی ایمان اور اعتقاد تک محدود رہنا چاہئے اور پاکستان کے سب باشندوں کو مل کر ایک ”پاکستانی قوم“ بن جانا چاہئے ٢۔ یہ حصے دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ گویا کہ پاکستان کے تصور اور مطمح نظر کا سوال بھی

ا۔ آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ عدالت نے خود اسلام کی جو تشریح کی ہے۔ اس کی رو سے اسلام کا تقاضا یقینا یہی ہے کہ مذہب کا تعلق ریاست سے ہو۔ بلکہ ریاست مذہب ہی پر مبنی ہو۔ اس سے خود بخود یہ عجیب نتیجہ نکلتا ہے کہ عدالت کے نزدیک اگرچہ یہ اس کے اپنے تسلیم کردہ اسلام کا تقاضا ہے۔ مگر یہ ایک غلط تقاضا ہے۔ جسے پورا نہ ہونا چاہئے۔

٢۔ اس ”پاکستانی قوم“ کا تصور جس طرح رپورٹ میں پیش کیا ہے۔ اسے دیکھ کر ہم سوچ میں ڈوب جاتے ہیں کہ آخر کس طرح کسی متوسط درجے کے صاحب عقل کی نگاہ میں یہ ممکن بات ہے کہ تقسیم ہند سے پہلے ١٤؍ اگست ١٩٤٧ء کو رات کے ١٢؍ بجے تک جو لوگ دو قوم تھے اور اسی پاکستان کے تخیل کی حمایت اور مخالفت میں باہم لڑ رہے تھے۔ وہ ١٥؍ اگست کا پہلا منٹ شروع ہوتے ہی یکا یک ایک قوم بن گئے۔ آخر کوئی ہمیں بتائے کہ اگر پاکستان مذہبی قومیت کے تصور پر نہ بنایا گیا ہوتا تو کوئی معقول وجہ تھی اور آج بھی اس کی کوئی معقول وجہ ہے کہ مشرقی بنگال کے لوگ مغربی بنگال کو چھوڑ کر پنجاب اور سندھ اور سرحد والوں کے ساتھ قومیت کا رشتہ جوڑیں اور مغربی پنجاب کے لوگ مشرقی پنجاب کو چھوڑ کر مشرقی بنگال والوں کے ساتھ ایک قومی برادری بنائیں؟ ایک قوم کا یہ تصور صریح طور پر ایک خلاف عقل اور خلاف فطرت بات ہے۔ جسے حقائق سے بالکل آنکھیں بند کر کے محض اپنے چند فکری و نظری تعصبات کی خاطر کوئی فرض کرنا چاہے تو کرلے۔ لیکن یہ توقع کس بنیاد پر رکھی جاسکتی ہے کہ دوسرے بھی اس پر ایمان لے آئیں گے۔

ایک تحقیقاتی فیصلے کا تقاضا کر رہا تھا اور اب رپورٹ نے یہ فیصلہ دے کر پاکستان کے ایک تصور کو مستند اور دوسرے تصور کو ساقط الاعتبار قرار دیا ہے۔ یہاں پھر چونکہ بحث نظریاتی و اعتقادی میدان میں جا داخل ہوتی ہے۔ اس لئے ججوں کی ذاتی رائے کو عدالتی رائے سے الگ رکھنے

٥٥

صفحہ ٤٩٦

والی کوئی حد فاصل باقی رہ نہیں سکتی۔ اب اس رپورٹ کے مباحث دوسرے تصور اور مطمح نظر کی حمایت کرنے والے تمام کے تمام فریقان کارروائی اور دوسرے عام لوگوں کو ایک عجیب بودی اور مضحکہ انگیز پوزیشن میں پیش کرتے ہیں اور اس کا ازالہ کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ پاکستان کے تصور اور مطمح نظر کی بحث کسی اور میدان میں اٹھتی تو لوگ دلائل سے اس کے پرخچے اڑا کے رکھ دیتے۔ اس سے قبل متعدد وزراء اور عہدہ داروں اور اہل قلم کو اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔ تاہم عملاً اس بات کا فیصلہ کرنا اب بھی پاکستان کے عام لوگوں کا اپنا کام ہے کہ آیا پاکستان کا مستند تصور و مطمح نظر وہ ہے جو فسادات پنجاب کی تحقیقات کرنے والی عدالت پیش کرتی ہے یا وہ جو تحریک پاکستان کا محرک بنا اور جسے پاکستان کی رائے عامہ نے قرارداد مقاصد اور اس کے مطابق بننے والے دستوری خاکے کی شکل تک پہنچا دیا۔ نظریات، مقاصد، نظام حیات کے تصورات اور ریاستوں کے مطمح ہائے نظر کے میدان میں ایسی رپورٹیں فیصلہ کن نہیں ہو سکتیں۔ بلکہ قوموں کے اجتماعی ذہن کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔

اسلام اور اسلامی ریاست

اب ہم بحث کے دوسرے گوشے کو لیتے ہیں۔ جس میں عدالت نے خود اپنے تصور اسلام کی (جسے وہ خود اسلام کہتی ہے) تشریح کرنے کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ علماء کس چیز کو اسلام کہتے ہیں اور اس میں کیا قباحتیں ہیں اور اس کے کیا نتائج ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ یہ بحث اس تحقیقات سے متعلق ہے یا غیر متعلق۔ ہم اسے اس رپورٹ کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ خوش قسمتی سے بالواسطہ طور پر اس میں پہلی مرتبہ ہمارے سامنے ان لوگوں کا مقدمہ پوری تفصیل اور بڑے زور دار دلائل کے ساتھ آیا ہے۔ جو پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے مخالف ہیں۔ اس سے پہلے کسی کو اتنے زور کے ساتھ یہ خیال پیش کرنے کی جرأت نہ ہوئی تھی۔

عدالت کا اپنا تصور اسلام

ترتیب کلام کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے ہم خود عدالت کے اپنے پیش کردہ تصور اسلام سے واقف ہو جائیں۔ اس تصور کو اور اس سے پیدا ہونے والی ریاست کے تصور کو رپورٹ میں ص ٢٠٥ سے ٢١٠ تک خوب وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس بحث کا خلاصہ ہم زیادہ تر عدالت کے اپنے ہی الفاظ میں یہاں درج کرتے ہیں۔

”اسلام اس عقیدے پر زور دیتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی ہی وہ ایک زندگی نہیں ہے جو

٥٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٧

انسان کو دی گئی ہے۔ بلکہ ابدی زندگی اس موجودہ زندگی کے خاتمے کے بعد شروع ہوتی ہے اور دوسری دنیا میں ایک انسان کا مرتبہ و مقام منحصر ہے۔ اس عقیدے اور عمل پر جو وہ اس دنیا میں اختیار کرتا ہے۔ اب چونکہ موجودہ زندگی بجائے خود منزل مقصود نہیں ہے۔ بلکہ منزل مقصود تک پہنچنے کا راستہ اور ذریعہ ہے۔ اس لئے صرف فرد ہی کی نہیں بلکہ ریاست کی بھی یہ سعی ہونی چاہئے کہ انسانی طرزِ عمل وہ ہو جو ایک شخص کے لئے دوسری دنیا میں بہتر مرتبے کا ضامن ہو سکے۔ یہ نظریہ اس لادینی (Secular) نظریے کے برعکس ہے جو تمام سیاسی اور معاشی ادارات کی بنیاد ان اثرات و نتائج سے بے پروائی پر رکھتا ہے۔ جو ان کے عمل سے دوسری دنیا کی زندگی پر مترتب ہوں گے۔“

(ص ٢٠٥)

”قطع نظر اس سے کہ ان فاضل علماء نے اپنے خیالات کو کس طرح بیان کیا ہے۔ ہم اسلام کا جو تصور رکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسا سسٹم ہے جو ہر باقاعدہ مذہب کی طرح حسب ذیل پانچ امور پر مشتمل ہے:

ان تمام امور کے متعلق قواعد و احکام کی بنیاد وحی ہے نہ کہ عقل۔ اگرچہ دونوں باہم مطابق ہو سکتی ہیں۔ ان کا باہم مطابق ہونا بہر حال ایک امر اتفاقی ہے۔ کیونکہ انسانی استدلال غلطی کر سکتا ہے اور اپنے احکام کے حتمی وجوہ صرف اس خدا ہی کو معلوم ہوتے ہیں جو لوگوں کی رہنمائی و ہدایت کے لئے اپنا پیغام اپنے برگزیدہ پیغمبروں کے ذریعہ سے بھیجتا ہے۔ لہٰذا آدمی کو وہ عقیدہ قبول کرنا چاہئے۔ ان عبادات پر عمل کرنا چاہئے۔ ان اخلاقیات کی پابندی کرنی چاہئے۔ اس قانون کی اطاعت کرنی چاہئے اور ان ادارات کو قائم کرنا چاہئے۔ جنہیں خدا نے وحی کے ذریعہ سے بتایا ہے۔ خواہ وہ انسانی عقل کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں‘۔ چونکہ خدا سے غلطی سرزد ہونا محال ہے۔ لہٰذا کوئی بات جو خدا نے بذریعہ وحی بیان کی ہے۔ خواہ اس کا موضوع غیبی اور ماورائے طبیعت امور سے تعلق رکھتا ہو یا تاریخ، مالیات، قانون، عبادات یا کسی اور ایسی چیز سے جو انسانی

٥٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٨

خیال کے مطابق علمی تحقیقات کو راہ دے سکتی ہو۔ مثلاً انسان کی پیدائش، ارتقائی علم کائنات اور علم ہیئت ۔ بہرحال اس کو ایک قطعی صداقت کی حیثیت سے ماننا پڑے گا۔ عقل کی کسوٹی کوئی حتمی کسوٹی نہیں ہے اور اس کا (یعنی خدا کی بات کا ) انکار اللہ کی حکمت بالغہ اور اس کے بالاتر منصوبوں کا انکار ہے۔ یہ کفر ہے۔

(ص٢٠٦،٢٠٥)

اس کے بعد عدالت یہ بتاتی ہے کہ مذکورہ بالا پانچ امور کے متعلق خدا نے جس آخری نبی کو بذریعہ وحی علم عطا کیا تھا وہ ہمارے رسول محمد ﷺ ہیں اور قرآن اسی علم پر مشتمل ہے۔ لہٰذا جو شخص اسلام پر ایمان رکھتا ہو اس کا کام بس یہ ہے کہ اس علم وحی کو سمجھے، مانے اور اس پر عمل کرے۔

(ص٢٠٦)

قرآن کی اس حیثیت کو بیان کرنے کے بعد عدالت سنت کے مسئلے کو لیتی ہے: ”چونکہ ایک نبی کا ہر فعل اور قول من جانب اللہ ہوتا ہے اور ہمارے نبی ﷺ کے قول وعمل کی یقیناً یہی حیثیت ہے۔ اس لئے غلطی سے مبرا ہونے میں اس کا درجہ وہی ہے جو خود وحی منزل من اللہ کا ہے۔ کیونکہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔ مرضی الٰہی کے خلاف کوئی بات کہہ اور کر نہیں سکتے۔ یہ اقوال اور افعال سنت ہیں اور ویسے ہی بے خطاء ہیں۔ جیسے قرآن، حدیث اسی سنت کا ریکارڈ ہے۔ جو ان متعدد کتابوں میں ملتا ہے۔ جنہیں مسلم علماء نے مدتہائے دراز تک طویل، محتاط اور پُر از مشقت تحقیقات کے بعد مرتب کیا۔“

(ص٢٠٦)

یہ ریکارڈ کسی چیز کے سنت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے میں کس حد تک مددگار ہوسکتا ہے۔ اس کے متعلق عدالت یہ رائے ظاہر کرتی ہے: ”جدید زمانے کے قوانین شہادت کے مطابق جن میں ہمارے ہاں کا قانون شہادت بھی شامل ہے۔ احادیث سنت کی شہادت نہیں مانی

٥٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٩٩

تھا۔ بعض انسان بلاشبہ ایسے ہو سکتے ہیں جن کو خدا کے احکام اور ارشادات خلاف عقل نظر آئیں۔ لیکن یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ خدا کا کوئی فرمان مطلقاً انسانی عقل کے خلاف ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے فاضل ججوں سے یہ غلطی محض لغزش قلم کی بدولت سرزد ہو گئی ہے۔ ورنہ یہ بات بالکل واضح سی ہے۔

جاسکتیں۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک مسموعات کی بہت سی کڑیوں پر مشتمل ہے۔ مگر اس معاملے میں کہ قانون کیا ہے۔ وہ سند کے طور پر قابل قبول (Prio- Vigori) ہیں۔ ان مجموعوں کا اصل وصف یہ نہیں ہے۔ (جیسا کہ بسا اوقات غلطی سے کہا جاتا ہے) کہ ان کے مرتب کرنے والوں نے پہلی مرتبہ یہ فیصلہ کیا کہ ان بہت سی حدیثوں میں جو اس وقت شائع تھیں ۔ کون سی صحیح اور کون سی غلط تھی۔ بلکہ ان کا اصل وصف یہ ہے کہ انہوں نے ہر اس چیز کو جمع کر دیا جو اس وقت کے دین دار حلقوں میں صحیح تسلیم کی جاتی تھی۔“

(ص ٢٠٧)

اس کے بعد عدالت اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات بیان کرتی ہے: ”چونکہ اسلامی قانون کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ وحی اور رسول خدا ﷺ غلطی سے پاک ہیں۔ اس لئے قرآن اور سنت میں جو قانون پایا جائے وہ تمام انسانی ساخت کے قوانین سے بالاتر ہے اور دونوں میں جب کبھی تصادم ہو۔ انسانی ساخت کے قانون کو، خواہ اس کی نوعیت کچھ بھی ہو۔ خدائی قانون کے مقابلہ میں دب جانا چاہئے۔ پس اگر قرآن یا سنت میں کوئی ایسا قاعدہ ہو جو ہمارے موجودہ تصورات کے مطابق دستوری قانون یا بین الاقوامی قانون کے دائرے سے تعلق رکھتا ہو تو اس قاعدے کو لازماً نافذ ہونا چاہئے۔ الا یہ کہ خود اس قاعدے میں یہ گنجائش رکھی گئی ہو کہ اس سے ہٹ کر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔“

(ص ٢٠٩)

اس تمام بحث سے چند باتیں قطعی طور پر ثابت ہوتی ہیں:

(Religio-Political System) ہی ہے۔ محض ایک مذہبی نظام نہیں ہے۔ لہٰذا عدالت اور علماء کا اختلاف اس امر میں نہیں ہے کہ اسلام ایک دینی سیاسی نظام ہے یا نہیں؟ بلکہ اس امر میں ہے کہ عدالت ایک طرح کے دینی سیاسی نظام کو اسلام کہتی ہے اور علماء دوسری طرح کے نظام کا نام اسلام رکھتے ہیں۔ (اب رہی یہ بات کہ ان دونوں میں سے اصلی اسلام کون سا ہے تو اس کے متعلق فریقین میں سے جو بھی کچھ کہے گا اپنے زعم کے مطابق ایک دعویٰ ہی کرے گا)

٥٩

صفحہ ٥٠٠

فیصلہ آخر کار عدالتوں کو نہیں بلکہ باشندگان ملک کو کرنا ہے کہ وہ کس کو اصلی اسلام مانتے ہیں۔ عدالتیں زیادہ سے زیادہ تعبیر دستور کے اختیارات سے کام لے کر اپنے فیصلے دے سکتی ہیں۔ لیکن اگر جمہور خود دستور میں ترمیم کر دیں تو حاکمان عدالت کو یا تو ان کے فیصلے کے آگے سر جھکانا ہوگا یا کرسی عدالت چھوڑنی پڑے گی۔

دوم...... یہ کہ عدالت کے اپنے تصور اسلام کے مطابق بھی ایک شخص کے مسلمان ہونے اور اسلام پر ایمان رکھنے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ عقائد، عبادات اور اخلاقیات ہی تک احکام الٰہی کی پیروی کو محدود نہ رکھے۔ بلکہ ان تمدنی، معاشی اور سیاسی ادارات کو بھی قائم کرے۔ جو اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر مبنی ہوں اور خدا کے قانون کو بھی زندگی کے ان تمام شعبوں میں نافذ کرے۔ جن پر اس قانون کا دائرہ حاوی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام بہر حال افراد کا محض انفرادی مذہب بن کر رہنے پر راضی نہیں ہے۔ وہ بہر حال یہی کہتا ہے کہ اگر تم واقعی مجھ پر ایمان رکھتے ہو تو اپنی ریاست بھی میرے ہی قانون پر قائم کرو اور میرے قانون کے مقابلے میں انسانی ساخت کے قوانین کو رد کردو۔ (ظاہر ہے کہ اس کے بعد مسلمانوں سے یہ کہنا کہ جہاں حکومت کی شکل اور اس کے نظام اور اس کے قوانین کا تعین تمہارے اپنے ووٹ پر منحصر ہے وہاں تم خود اپنے اختیار سے مذہب اور ریاست کا تعلق توڑ دو اور مذہب کو صرف انفرادی عقیدہ وعمل تک محدود کر کے ریاست کو کسی دوسری بنیاد پر قائم کرو۔ دراصل یہ کہنے کا ہم معنی ہے کہ تم اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کرو۔ یہ بات اگر بالفرض قائد اعظم نے بھی کہی ہوتی تو کسی صاحب ایمان مسلمان کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ مسلمان کے لئے قائد اعظم کی اہمیت خواہ کچھ بھی ہو۔ خدا اور اس کے رسولؐ سے بہر حال کم ہی ہے)

سوم...... یہ کہ عدالت خود صریح الفاظ میں اسلام کے نظریے اور لادینی نظریے (Secular Theory) کو ایک دوسرے کی ضد تسلیم کرتی ہے۔ وہ مانتی ہے کہ اپنے اصول اور مقصد میں یہ دونوں بالکل برعکس ہیں۔ ایک کی بنیاد آخرت کی مقصودیت پر ہے اور اسی پر وہ انفرادی زندگی ہی نہیں ریاست کی تعمیر بھی کرنا چاہتا ہے۔ دوسرے کی بنیاد آخرت سے بے پروائی پر ہے اور اسی پر وہ تمام سیاسی و معاشی ادارات کی تعمیر کرتا ہے۔

اس سے یہ بات خود بخود لازم آجاتی ہے کہ اسلامی نظریے اور لادینی نظریے کو بیک وقت ایک زندگی میں جمع نہیں کیا جاسکتا۔ ایک کو اختیار کرنے کے معنی آپ سے آپ دوسرے کو چھوڑ دینے کے ہیں۔ انفرادی زندگی میں اسلام پر ایمان رکھنا اور پھر اجتماعی زندگی کے لئے

٦٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠١

لا دینی نظریے کو اختیار کر لینا اس رپورٹ کے ہر سوچنے والے طالب علم کے لئے قطعاً نا قابل فہم تجویز ہے۔

چہارم...... یہ کہ عدالت کی اپنی تحقیق کے مطابق بھی اسلامی نقطۂ نظر سے قانون کا اصلی اور اولین ماخذ خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت ہے۔ جس کے احکام کو تمام انسانی احکام سے بالاتر ہونا چاہئے۔ نیز عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ سنت کا ریکارڈ بہر حال احادیث کے مجموعے ہی ہیں۔ جن کی طرف یہ معلوم کرنے کے لئے رجوع کرنا ہوگا کہ سنت کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ علماء کا مطالبہ بھی اس سے زیادہ نہیں ہے کہ قرآن اور سنت کو اصولی طور پر ماخذ قانون اور حدیث کو سنت کے معلوم کرنے کا ذریعہ مان لیا جائے۔ اب اس کے بعد یہ امر کہ قرآن اور سنت سے کیا ثابت ہے اور کیا نہیں ہے۔ بہر حال ایک علمی تحقیق کا موضوع ہوگا۔ جس کا فیصلہ مختلف اہل علم کے دلائل پر ہوگا۔ نہ کہ اشخاص اور گروہوں کے ادّعا پر۔ دلیل کے بغیر نہ علماء ہی کی بات چل سکے گی نہ کسی جج اور جسٹس کی ، نہ کسی وزیر اور گورنر کی۔

علماء کے تصور اسلام پر عدالت کی قدح

یہ تو تھا وہ اسلام جسے عدالت اسلام کہتی ہے۔ اب دیکھئے کہ عدالت کی نگاہ میں علماء کا اسلام کیا ہے اور کیسا ہے؟

طریق تحقیق

اس سلسلے میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ عدالت نے یہ بات کس ذریعہ سے معلوم کی کہ علماء کس چیز کو اسلام کہتے ہیں۔ اس سوال کی تحقیق کے لئے جب ہم رپورٹ کو اور شہادتوں کے اس ریکارڈ کو، جو پچھلے سال اخبارات میں شائع ہوتا رہا ہے۔ غور سے دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عدالت نے علماء کے اسلام کا پتہ چلانے کے لئے دو طریقوں سے کام لیا ہے:

اوّل...... یہ کہ اس نے ہر اس شخص کو عالم دین فرض کیا ہے جو اسلامی نظام کی حمایت کرنے والی کسی جماعت سے تعلق رکھتا تھا اور گواہ کی حیثیت سے عدالت میں حاضر ہو گیا۔ یہاں اگر ایک طرف مفتی محمد شفیع اور مولانا محمد ادریس اور مولانا ابو الحسنات عالم دین ہیں تو دوسری طرف ماسٹر تاج الدین انصاری، غازی سراج الدین منیر، میاں طفیل محمد وغیرہ حضرات بھی عالم دین ہی ہیں اور مستند ہے سب کا فرمایا ہوا۔

دوم...... یہ کہ ان حضرات کا نقطۂ نظر معلوم کرنے کے لئے ٹھیٹھ عدالتی جرح کا

٦١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠٢

طریقہ اختیار کیا گیا۔ جس میں سوال کرنے والے کو (خصوصاً جب کہ سائل خود عدالت ہو) پوری آزادی ہوتی ہے کہ جو کچھ چاہے اور جس طرح چاہے پوچھے اور گواہ پابند ہوتا ہے کہ خود سے کچھ نہ کہے۔ بس اتنی بات کا جواب دے جتنی اس سے پوچھی جارہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ طریق تحقیق جو واقعاتی امور کی چھان بین کے لئے ناگزیر ہے۔ کیا علمی ونظریاتی مسائل کو طے کرنے کے لئے بھی یہ کافی اور مفید ہو سکتا ہے؟ اگر یہ کافی اور مفید ہو سکتا ہے تو کیا قانون، فلسفے، معاشیات وغیرہ میں سے کسی کے دائرے میں بھی کوئی علمی وفنی ماہر اس پوزیشن میں آکر اپنے نظریات وتصورات کی صحیح اور مکمل ترجمانی کرنے پر قادر ہو سکتا ہے کہ وہ تو گواہوں کے کٹہرے میں کھڑا ہو اور دوسری طرف ”اصحاب تحقیق“ عدالت کی کرسی پر تشریف فرما ہوں۔ سوالات کی جو رودگاہ اصحاب تحقیق کی طرف سے بنادی جائے۔ جوابات کو بالکل انہی کی حدود میں بہنا ہو۔ مثلاً تھوڑی دیر کے لئے فرض کیجئے کہ اگر یہی پیش نظر ترتیب بدل جائے اور علماء عدالت کی کرسی پر ہوں اور کچھ دوسرے لوگ سیکولرزم، جمہوریت، کمیونزم یا کسی دوسرے نظریہ ونظام کی وضاحت کے لئے ان کے سامنے گواہوں کے کٹہرے میں لائے جائیں تو اس طرح ان گواہوں کے خیالات کی جو تصویر مرتب ہو کر خود ان کے سامنے رکھی جائے گی کیا وہ واقعی ان کے ذہن کے خدوخال پیش کرنے کے لحاظ سے پوری طرح ایک مطابق حقیقت تصور ہو سکے گی۔

اس طریقہ سے تحقیقات کر کے یہ معلوم کیا گیا ہے کہ جس دینی سیاسی نظام کو علماء ”اسلام“ کہتے ہیں وہ کیا ہے اور جس اسلامی ریاست کا تصور وہ پیش کرتے ہیں وہ کس نوعیت کی ریاست ہے۔ اس بحث میں عدالت نے جن جن مسائل کو جس ترتیب سے لیا ہے۔ ہم بھی ان کو اسی ترتیب سے لے کر ان پر گفتگو کریں گے۔

قانون سازی اور مجلس قانون ساز

پہلا سوال جو اس سلسلہ میں چھیڑا گیا ہے۔ یہ ہے کہ آیا اسلام میں قانون سازی اور مجلس قانون ساز کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں۔ عدالت کی اپنی رائے اس باب میں یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جس چیز کو مجلس قانون ساز کہتے ہیں وہ اسلامی نظام کے لئے ایک اجنبی چیز ہے۔ لہٰذا جونہی کہ یہاں ایک اسلامی ریاست قائم ہو۔ ایک شخص اٹھ کر پارلیمنٹ کے پاس کئے ہوئے کسی قانون کو سپریم کورٹ میں اس بنیاد پر چیلنج کر سکتا ہے کہ اسلام تو سرے سے ایک قانون ساز ادارے کا قائل ہی نہیں ہے۔ پھر یہ پارلیمنٹ کیسی؟ اس رائے کے دلائل عدالت نے خود دیئے ہیں۔ مگر اس کے لئے سہارا مولانا ابوالحسنات کے اس قول سے لیا گیا ہے کہ قانون ساز ادارہ

٦٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠٣

اسلامی ریاست کا کوئی جزو نہیں ہے اور مزید سہارا ”امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ “ کی ایک تقریر سے لیا گیا ہے۔ جو ٢٢؍اپریل ١٩٤٧ء کے اخبار ”آزاد“ میں شائع ہوئی تھی ١؎۔ تقسیم کار اگر

١؎ واضح رہے کہ اس موقع پر شاہ صاحب کا ذکر خاص طور پر امیر شریعت کے لقب کے ساتھ ہوا ہے۔ اس لقب کے استعمال کی معنویت کہیں یہی تو نہیں کہ اسلام کے دستوری مسائل میں شاہ صاحب ایک قوی سند کی حیثیت سے سامنے آئیں؟

کوئی چیز ہے تو یہی ماننا پڑے گا کہ شاہ صاحب دعوت، وعظ اور خطابت کے میدان میں جو نمایاں مقام رکھتے ہیں وہ لازم نہیں ٹھہراتا کہ شاہ صاحب دین کے تمام شعبوں میں ماہرانہ حیثیت رکھنے کا ادّعا کرتے ہوں اور اسلام کے دستوری مسائل میں ان کی رائے کو سند مانا جائے۔ رہے مولانا ابوالحسنات صاحب تو بلاشبہ وہ علماء میں سے ہیں۔ لیکن اوّل تو ان کی ایک رائے یہ معنی نہیں رکھتی کہ تمام علماء کا اس مسئلے میں یہی نقطۂ نظر ہے۔ دوسرے اگر خود ان سے بھی مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقی سوالات کئے جاتے تو معلوم ہو جاتا کہ وہ بھی قانون سازی کی ان صورتوں کے منکر نہیں ہیں۔ جو فقہائے اسلام کے ہاں (بجز ایک فرقۂ ظاہریہ کے) ہمیشہ معروف اور مسلّم رہی ہیں۔ مولانا نے جس چیز کا انکار کیا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام میں اس طرح کے مطلق قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ جیسی موجودہ دور میں ایک مجلس قانون ساز کیا کرتی ہے اور یہ بالکل صحیح ہے۔ کیونکہ اس نوعیت کی قانون سازی خدا اور رسول کو چھوڑ کر خود شارع بن جانے کی ہم معنی ہے۔ جسے کوئی مسلمان بھی جائز نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اسلام میں جو قانون سازی جائز، اور بعض حالات میں ناگزیر ہے اور جو خلفائے راشدین کے دور سے آج تک ہوتی رہی ہے۔ وہ تین طرح کی ہے۔

قانون کی حیثیت دے دینا ١؎۔

قانون کی حیثیت بخش دینا۔ یہ قیاس یا اجتہاد انفرادی طور پر کسی ایک عالم یا بعض علماء نے کیا ہو تو اس کی حیثیت محض ایک قیاس یا اجتہاد کی ہے۔ لیکن اگر ایک مجلس مجاز یہی فعل کرے یا کسی قیاس و اجتہاد کو قبول کرے تو یہی چیز قانون بن جائے گی۔

اصطلاح میں مصالح مرسلہ) ان میں اپنے حالات اور ضروریات کے لحاظ سے قواعد بنانا اور احکام

٦٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠٤

جب تک اس طرح کا کوئی فیصلہ نہ ہو۔ ہر عالم دین اپنی تعبیر پر فتویٰ اور ہر قاضی اپنی تعبیر پر مقدمات کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ لیکن اگر کسی ایک تعبیر پر اجماع ثابت ہو جائے تو ایک با اختیار قانون ساز ادارے کے بغیر بھی اسے پوری امت کے علماء اور قضاۃ ایک قانون تسلیم کر لیں گے اور اگر ایک با اختیار مجلس شوریٰ موجود ہو جیسی کہ خلفاء راشدین کے زمانے میں تھی تو اس کا جمہوری فیصلہ بھی قانون قرار پائے گا اور پھر کسی مفتی یا قاضی کو اس کے خلاف فتویٰ اور فیصلہ دینے کا حق نہ رہے گا۔ وضع قانون کا یہ فعل بھی کوئی فرد کرے تو محض ایک تجویز ہے۔ لیکن اگر ایک ادارہ مجاز کرے تو پھر یہی قانون ہے۔

کون صاحب علم، جو اسلامی فقہ سے کچھ بھی واقفیت رکھتا ہے۔ اس نوعیت کی قانون سازی کے جائز ہونے سے انکار کر سکتا ہے؟ خلفائے راشدین کے زمانے میں اہل شوریٰ یا اہل الحل والعقد جن لوگوں کو کہا جاتا تھا۔ وہ یہ تینوں کام کرتے تھے اور ان کے فیصلے قانون ہی کی حیثیت سے نافذ ہوتے تھے۔ آج یہ مصحف عثمانی جو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اسی قانون کی بدولت آپ تک پہنچا ہے۔ جو ایک معیاری مصحف کو نافذ کرنے اور قرآن کی تمام مختلف قرأتوں کو جو اس وقت رائج تھیں۔ منسوخ کر دینے کے متعلق حضرت عثمانؓ کے زمانے میں بنایا گیا تھا۔ شراب کی سزا ٨٠ کوڑے بھی اسی طرح کی قانون سازی سے حضرت عثمانؓ کے عہد میں مقرر ہوئی تھی۔ تضمین الصانع کا حکم بھی اسی طریقے پر خلافت راشدہ میں قانون بنا تھا۔ غیر اہل کتاب رعیت کو ذمی بنانے کا قانون، مفتوحہ ممالک کی اراضی پر ان کے سابق مالکوں کو بحال رکھنے کا قانون اور اسی طرح کے بے شمار قوانین اس دور میں ”خلیفہ ان کونسل“ ہی کے بنائے ہوئے تھے اور اس قانون سازی کی حیثیت ان فیصلوں کی حیثیت سے مختلف مانی جاتی تھی جو کوئی خلیفہ راشد خود بحیثیت قاضی کرتا تھا۔ خلفائے اربعہ میں سے کسی کے بھی اس طرح کے فیصلے کو قانون تسلیم نہیں کیا گیا اور بعد کے خلفاء قضاۃ اور ائمہ مجتہدین نے ایسے بہت سے فیصلوں سے اختلاف کیا۔ مگر جو بات ایک دفعہ خلافت راشدہ کی مجلس شوریٰ میں طے ہو گئی وہ آج تک ”قانون“ مانی جاتی ہے۔

یہ باتیں اگر تفصیل کے ساتھ مولانا ابوالحسنات، یا کسی عالم سے بھی پوچھی جاتیں تو یہ جواب ملنا ممکن نہیں ہے کہ اسلام میں ہر طرح کی قانون سازی مطلقاً ممنوع ہے اور کسی نوعیت کا قانون ساز ادارہ سرے سے ایک اسلامی ریاست میں ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن بدقسمتی سے محض عدالتی

٦٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠٥

طریق تحقیق نے اسلامی نظام کے ایک اہم اور واضح علمی مسئلے کے بارے میں عجیب وغریب الجھاؤ اس رپورٹ میں پیش کر دیا ہے اور علماء کے ذہن کی ایک دلچسپ تصویر کھینچ گئی ہے۔ اب اس کی وجہ سے اگر علماء اور علماء سے بڑھ کر خود اسلام کے بارے میں ہمارے اپنے تعلیم یافتہ طبقے (Intelligentia) اور غیر ملکی تحقیقی حلقوں میں جو پہلے سے اسلامی تصورات کے متعلق تعصب زدہ ہیں۔ گوناگوں غلط فہمیاں پیدا ہوں اور ان کے تعصبات اور زیادہ غذا اس رپورٹ

لئے اس کے سپرد کی گئی ہو۔ مثلاً دھوبی ان کپڑوں کا ضامن ہے جو اسے دھونے کے لئے دیئے گئے ہوں۔

سے حاصل کر لیں تو کون سا ذریعہ ہے جو اس کی تلافی کر سکے گا۔ اب تو جو کوئی بھی رپورٹ کو پڑھے گا وہ یہ سمجھے گا کہ لیجیے علماء کے تصور کی اسلامی ریاست میں سرے سے لیجسلیچر ہی غائب ہے۔

غیر مسلموں کی حیثیت

دوسرا مسئلہ جسے اس رپورٹ میں ایک جگہ نہیں جگہ جگہ چھیڑا گیا ہے اور بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی حیثیت کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ رپورٹ کی شہادت کے مطابق عدالت کے نزدیک سر ظفر اللہ خاں کی علیحدگی اور کلیدی مناصب سے قادیانی افسروں کو ہٹائے جانے کا مطالبہ اسی مسئلے پر مبنی ہے اور اس کی جڑ کاٹنے کے لئے اس کی جڑ کاٹنا ضروری ہے۔ عدالت نے اس مقصد کو متعدد مقامات پر خود ظاہر کر دیا ہے۔

اس صریح مقصد کو نگاہ میں رکھ کر وہ ایک جگہ علماء سے پوچھتے ہیں کہ ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلم رعایا کی پوزیشن کیا ہے؟ کیا وہ قوانین کے بنانے اور نافذ کرنے میں حصہ لے سکتے ہیں؟ کیا وہ حکومت کے عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں؟ کیا صدر ریاست اپنے اختیارات کا کوئی حصہ انہیں سونپ سکتا ہے؟ پھر جب ان سوالات کا جواب نفی میں ملتا ہے تو آگے چل کر دوسری جگہ وہ اس کا خوفناک نتیجہ ہمارے سامنے لا کر رکھتے ہیں کہ پھر غیر مسلم بھی اپنے ہاں مذہبی حکومت قائم کریں گے اور اپنی مسلمان رعایا کو یہی پوزیشن دے کر انہیں حکومت میں حصہ لینے کے تمام حقوق سے محروم کریں گے۔ بلکہ ہندوستان میں تو مسلمان شودر اور ملیچھ بن کر رہیں گے اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں ٣٠ کروڑ مسلمانوں کا کام بس لکڑیاں کاٹنا اور پانی بھرنا رہ جائے گا۔ آخر میں ایک مقام پر پہنچ کر وہ بڑے زور کے ساتھ علماء کو یہ الزام دیتے ہیں۔

٦٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠٦

”علماء نے ہم سے صاف صاف کہہ دیا کہ ان کو اس کی کچھ پروا نہیں کہ مسلمانوں کا دوسرے ملکوں میں کیا حشر ہوتا ہے۔ بشرطیکہ ان کے اپنے ٹھپے کا اسلام یہاں رائج ہو جائے۔ یہ بات کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو تو کیا ذرا سی جھجک تک نظر نہ آئی۔ اس کی محض ایک مثال کے لئے امیر شریعت کا یہ قول ملاحظہ ہو کہ بقیہ ٦٤ کروڑ مسلمان (تعداد ان کی اپنی دی ہوئی ہے) اپنی قسمت کی آپ فکر کریں۔“

(ص ٢٩٩)

مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت کے اپنے ٹھپے کا اسلام بھی وہی کچھ ہے جو علماء کے ٹھپے کا اسلام ہے۔ خلافت راشدہ کے بارے میں وہ خود کہتے ہیں کہ اس کی مجلس شوریٰ میں کفار شامل نہیں کئے جاسکتے تھے۔ خلیفہ اپنے اختیارات کا کوئی حصہ کسی کافر کو نہیں سونپ سکتا تھا۔ کوئی غیر مسلم کسی اہم عہدے پر مقرر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ قانون سازی میں ان کا شریک ہونا یا قانون کی تعبیر اور اس کی تنقید کے اختیارات ان کو حاصل ہونا قانوناً غیر ممکن تھا اور اس کے وہ دلائل اس قدر ظاہر و باہر ہیں کہ بیان کی حاجت نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ صرف علماء ہی کا تصور اسلام نہیں ہے۔ خود عدالت کا اپنا تصور اسلام بھی یہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں رپورٹ کچھ اس قسم کا تصور پیش کرتی ہے کہ گویا دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کی پوزیشن مبادلے کے اصول پر مبنی ہے کہ جو سلوک ایک مسلمان ریاست میں غیر مسلموں کے ساتھ ہوگا۔ وہی اس کے بدلے میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم ریاستوں میں ہوگا۔ حالانکہ اجتماعی زندگی کے قوانین کو دیکھتے ہوئے یہ بداہۃً غلط معلوم ہوتا ہے اور عملی مشاہدات کے خلاف ہے۔ ہر ملک میں ہر عنصر آبادی کی پوزیشن اس کی اپنی ہی تاریخ اور اس کے اپنے ہی اجتماعی حالات سے متعین ہوتی ہے۔ ایک جگہ کے مسلمان اگر اپنے تاریخی و تمدنی حالات کے لحاظ سے گرے ہوئے ہوں تو ہیزم کش اور آب رساں ہی بن کر رہیں گے۔ خواہ مسلم ریاست میں غیر مسلموں کو آپ زرگر اور آب حیات نوش ہی کیوں نہ بنا کر رکھیں اور اس کے برعکس اگر کسی ملک کے مسلمان اپنی کوئی قومی طاقت اور وقعت رکھتے ہیں تو ان کی پوزیشن آپ کے کسی فعل سے کچھ بھی متاثر نہ ہوگی۔ ترکی میں عثمانی حکومت نے مدتہائے دراز تک غیر مسلموں کو جو امتیازی مراعات عطاء کیں ان کا کوئی بدلہ بھی مغربی قوموں کے غلام مسلمانوں کو نہ مل سکا اور آج مشرقی بنگال میں جو امن ہندوؤں کو حاصل ہے۔ اس کا کوئی معاوضہ ہندوستان کے وہ مسلمان نہیں پارہے ہیں جنکی کھیپ کی کھیپ ہر روز کھوکھرا پار سے چلی آتی ہے۔ لہٰذا یہ مبادلے کا تصور محض ایک

٦٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠٧

سطحی تصور ہے۔

پھر اندیشہ ہوتا ہے کہ ہمارے فاضل جج غالباً مذہب کو بھی ایک جنس مبادلہ سمجھتے ہیں کہ جہاں ہم نے اپنے مذہب پر عمل کیا اور بس دوسرے فوراً آستین چڑھا کر کہیں گے کہ اچھا۔ اب ہم اپنے مذہب پر عمل کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر دوسروں کو ان کے مذہبی رویے سے روکنا ہے تو ان کے ساتھ یہ لین دین کا معاملہ کر لو کہ آؤ، بھائیو تم اپنا مذہب چھوڑو۔ ہم اپنے مذہب کو طلاق دیتے ہیں۔ حالانکہ دوسرے اگر اپنے معاملات سے اپنے مذہب کو بے دخل کر رہے ہیں تو ہم سے کسی سمجھوتے کی بناء پر نہیں بلکہ اپنے مذہب کو اپنی قومی ضروریات کے لئے ناقص یا مضر سمجھ کر کر رہے ہیں۔ وہ ہماری ضد میں اپنی ناک نہیں کاٹ لیں گے۔ ہم بھی اپنے مذہب کے متعلق کوئی فیصلہ کریں گے تو اس کی اپنی قدر و قیمت پر کریں گے۔ نہ کہ اس کی قیمت تبادلہ کے تخمینے پر۔ وہ ناقص اور نقصان دہ ہے تو اس کا نقص اور نقصان ثابت کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ ریاست ہی سے نہیں گھر اور مسجد تک سے بے دخل ہو جائے گا۔ لیکن اگر قوم اس کے برحق اور بابرکت ہونے کا یقین رکھتی ہے تو اسے دنیا بھر کے ہؤے کتنے ہی دکھائے۔ ان ہؤوں سے کچھ بھی کام نہ چلے گا۔

اس کے علاوہ رپورٹ کے فاضل مصنفین کا شاید یہ خیال بھی ہے کہ دنیا میں ایک اسلامی ریاست کی قدر و قیمت کا سارا انحصار بس ایک سوال پر ہے اور وہ یہ کہ اس ریاست میں غیر مسلموں کو شہریت کے وہ چند مخصوص حقوق دیئے جاتے ہیں یا نہیں جو نظام حکومت میں حصہ دار ہونے سے متعلق ہیں۔ حالانکہ یہ خود غیر مسلموں کی بھی پوری پوزیشن ناپنے کے لئے بہت چھوٹا پیمانہ ہے۔ کجا کہ اس سے ایک اصولی ریاست کی ساری قدر و قیمت ناپ ڈالی جائے۔ یہ ریاست اگر دنیا میں جانچی اور پرکھی جائے گی تو اپنے ان نتائج کے لحاظ ہی سے جانچی اور پرکھی جائے گی جو اس کے اصولوں کے عملی نفاذ سے پورے ملک کی مجموعی زندگی میں رونما ہوں گے اور اس کے اندر غیر مسلموں کی پوزیشن بھی چند دستوری حقوق کے ملنے یا نہ ملنے سے نہیں بلکہ اس مجموعی حالت سے ظاہر ہوگی۔ جس میں یہاں کے غیر مسلم باشندے دیکھے جائیں گے اور خود اپنے آپ کو پائیں گے۔ شہریت کے چند دستوری حقوق لے کر اگر کوئی آبادی وہ زندگی بسر کرتی ہو جو ہندوستان میں مسلمان، امریکہ میں حبشی اور روس میں غیر اشتراکی لوگ بسر کر رہے ہیں تو اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ ایک آبادی کو یہ چند حقوق نہ ملیں۔ مگر اس کی جان، مال، عزت، آبرو اور آزادیٔ عمل رہے۔ سیاست کے سوا ہر شعبۂ زندگی میں اس کے لئے ترقی و خوشحالی کے سارے راستے کھلے ہوں، قانون کی نگاہ میں اس کے حقوق و واجبات دوسرے تمام عناصر کے بالکل برابر ہوں اور

٦٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠٨

انتظامی حکومت کے برتاؤ یا معاشرتی زندگی کے رویے میں اس کو کہیں بے انصافی، امتیازی سلوک یا تذلیل وتحقیر سے سابقہ نہ پیش آئے۔

ان تمام پہلوؤں کو نگاہ میں رکھ کر اگر کوئی کہتا ہے کہ جناب والا ہم یہاں اپنے ملک میں وہی کریں گے جسے ہم ایمانداری کے ساتھ حق سمجھتے ہیں اور اپنے ملک کے لئے حق اور باطل کا فیصلہ ہم باہر والوں سے پوچھ کر نہ کریں گے تو رپورٹ کی عبارتیں اسے طعنہ دیتی ہیں کہ تم اپنے ٹھپے کا اسلام رائج کرنے کے لئے ساری دنیا کے مسلمانوں کو برباد کرا دینا چاہتے ہو۔

مگر ذرا ٹھہریئے! یہ سب تو بعد کی باتیں ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ سر ظفر اللہ خاں کی علیحدگی اور کلیدی مناصب سے قادیانی افسروں کو ہٹانے کے مطالبے پر یہ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی پوزیشن کا اتنا بڑا مسئلہ اپنے سارے امکانی اور خیالی نتائج سمیت سامنے کیونکر آگیا؟ آخر کس نے یہ کہا تھا کہ ان لوگوں کو اس لئے ہٹاؤ کہ یہ غیر مسلم ہیں اور اسلامی ریاست میں ان مناصب پر نہیں رہ سکتے؟ کب یہاں دوسرے غیر مسلم عہدہ داروں کے ہٹانے کا سوال اٹھایا گیا؟ غیر مسلم وزیر تک ہمارے مرکز میں رہ چکا ہے۔ کس نے کہا کہ اسے نکال دو؟ ہماری مرکزی اسمبلی میں بھی اور صوبوں کی اسمبلیوں میں بھی غیر مسلم ارکان موجود ہیں۔ کب یہاں کسی نے کہا کہ ان کی رکنیت منسوخ کر دو؟ آئندہ دستور میں غیر مسلموں کو وہ سارے حقوق دیئے جا رہے ہیں جنہیں آپ شہریت کے حقوق کہتے ہیں۔ پاکستان میں کب اس کے خلاف کوئی ایجی ٹیشن کیا گیا۔ یا اور کچھ نہیں تو آواز ہی اس کے خلاف اٹھائی گئی؟ علماء خود جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کے مخصوص حالات اور تاریخی اسباب اس معاملے میں وسعت برتنے کے متقاضی ہیں اور اسلام کے احکام میں حالات کے لحاظ سے اس طرح کی وسعت کے لئے گنجائش موجود ہے۔ غیر مسلموں کو حکومت میں حصہ دار بنانا قطعی حرام نہیں کر دیا گیا ہے۔ اسی لئے علماء نے عام مسلمانوں نے کبھی وہ سوال چھیڑا ہی نہیں جو کارروائی میں اس شرح وبسط کے ساتھ بار بار چھڑا ہے۔ قادیانیوں کے بارے میں تو بار بار یہی کہا گیا کہ ان کے سالہا سال کے رویے سے جو شکایات پیدا ہوئی ہیں۔ ان کو رفع کرنے کے لئے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مگر کارروائی رپورٹ میں بحث کی طنابیں کھینچتے کھینچتے اتنی دور جا پہنچی ہیں کہ اس تاریخی دستاویز کو پڑھ کر ہندو، عیسائی، اچھوت، متوحش ہو جائیں گے کہ اب یہاں پاکستان میں ہماری یہ پوزیشن بننے والی ہے۔ پورا ہندوستان متوجہ ہو گا کہ اچھا اب یہ سلوک پاکستانی ہندوؤں سے ہونے والا ہے۔ دنیا بھر کے ملک کان کھڑے کریں گے کہ مسلمان حکومت پاتے ہی اپنے زیر دست غیر مسلموں کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنے کی تجویزیں سوچ رہے ہیں اور ان تاثرات کا لازمی

٦٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٠٩

نتیجہ یہ ہوگا کہ علماء (اگرچہ یہ حلقہ ایسا ہے کہ اس کی عزت اور ساکھ ہر ایک کے لئے مباح عام ہے) خود اسلام اور اسلامی دستور بالکل بدنام ہو کر رہ جائیں گے اور پاکستان کے غیر مسلموں ، ہندوستان والوں اور بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے احیائے اسلام کی ہر کوشش کی مزاحمت ہوتی رہے گی۔ حالانکہ عدالت اور ہمارے فاضل ججوں میں سے کسی کا بھی منشاء یہ نہیں ہوگا۔

مسلمان کی تعریف

اسلامی ریاست میں مسلم اور غیر مسلم کے امتیاز سے قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہو گیا کہ کسی شخص یا گروہ کے مسلم ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کس طرح ہوگا۔ یوں اس تحقیقات میں مسلمان کی تعریف کا مسئلہ زیر بحث آیا اور عدالت نے علماء کے ساتھ غیر علماء سے بھی اس کو دریافت فرمایا۔ اس تحقیقات اور جرح کے نتائج جس دردمندانہ انداز سے بیان ہوئے ہیں۔ وہ بھی ایک نگاہ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ پہلے ہم اسے پیش کرتے ہیں۔ پھر اس پر غور کریں گے کہ آیا فی الواقع مختلف علماء کی بیان کردہ تعریفات میں کوئی چیز ایسی پائی جاتی ہے جو ہمیں غم افسوس میں مبتلا کردے یا مایوسی کی حد تک جا پہنچائے۔ ایک جگہ ارشاد ہوا ہے : ”ہم یہاں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ہمارے لئے یہ بے انتہاء افسوس کا موجب تھا کہ وہ علماء جن کا اولین فرض یہ تھا کہ اس مسئلے میں قطعی اور حتمی رائے رکھیں۔ مایوس کن حد تک باہم مختلف الرائے پائے گئے ۔“

(ص ٢٠٥)

دوسری جگہ پھر فرماتے ہیں: ” تحقیقات کے اس حصے کا نتیجہ بہر حال اطمینان بخش نہ تھا اور اگر علماء کے ذہن میں ایسے ایک سادہ سے سوال کے متعلق بھی اتنا گھپلا ہے تو ایک شخص آسانی سے اندازہ کر سکتا ہے کہ زیادہ پیچیدہ مسائل کے بارے میں اختلافات کی کیا کیفیت ہوگی۔“

(ص ٢١٥)

پھر بحث کا خاتمہ ان الفاظ پر ہوتا ہے: ” علماء نے (مسلمان کی) جو مختلف تعریفیں بتائی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم اس کے سوا اور کیا رائے زنی کریں کہ کوئی دو فاضل علماء بھی ایسے نہ تھے جن کے درمیان اس بنیادی مسئلے میں اتفاق رائے ہو۔ اب اگر ہم اپنی طرف سے کوئی تعریف پیش کرنے کی کوشش کریں۔ جس طرح ہر ایک فاضل بزرگ نے کی ہے اور ہماری وہ تعریف دوسرے سب سے مختلف ہو تو ہم بالاتفاق خارج از اسلام قرار پائیں گے اور اگر ہم علماء میں سے کسی ایک کی دی ہوئی تعریف قبول کرلیں تو اس عالم کی رائے کے مطابق ہم مسلمان ہوں گے۔ مگر دوسرے ہر عالم کی تعریف کے لحاظ سے کافر ہی رہیں گے۔“

٦٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٠

(ص ٢١٨)

اچھا، اب ذرا اس گھپلے کا جائزہ لے دیکھئے جو علماء کی پیش کردہ تعریف مسلم میں عدالت کو نظر آیا اور اس قدر دردناک اور مایوس کن ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ دنیا کی شاید ہی کوئی معروف حقیقت ایسی ہو جس کی تعریف بیان کرنے میں اہل علم کے درمیان اختلاف نہ ہو۔ صحت کی تعریف کیا ہے اور کیا چیز اس کے اور مرض کے درمیان وجہ امتیاز ہے؟ یہ سوال آپ دنیا بھر کے

کو اس رپورٹ میں بیان کر دیتے۔ جیسے کہ دوسرے بہت سے مسائل میں ان کی رائے سامنے آگئی ہے۔ اس سے نہ صرف علماء کو رہنمائی ملتی بلکہ علم و تحقیق کی دنیا میں نئی راہیں کھل جاتیں۔ خصوصاً جب اس رپورٹ میں دوسروں سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمہیں ٥/ مارچ کو لاہور کے بپھرے ہوئے عوام کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجانا چاہئے تھا۔ خواہ لوگ تمہاری تکا بوٹی کر ڈالتے تو پھر ایک حق بات کو ایسی تاریخی دستاویز میں ثبت کرنے میں اس بناء پر تامل کیونکر حق بجانب ہوسکتا ہے کہ ہم بالاتفاق خارج از اسلام قرار پائیں گے۔

طبیبوں اور ڈاکٹروں سے کر کے دیکھ لیں۔ ہر ایک کا بیان دوسرے سے مختلف ہوگا۔ وفاداری کسے کہتے ہیں اور کیا چیز ہے اس کو بغاوت سے ممیز کرتی ہے؟ ہر قانون دان اسے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کرے گا کہ دوسرے کے بیان سے وہ بالکل مطابق نہ ہوگا۔ ریاست اور حاکمیت اور قوم کی تعریفیں علمائے سیاست نے مختلف بیان کی ہیں اور یہی حال دوسرے ان گنت حقائق کا بھی ہے۔ حتیٰ کہ عقل اور نفس اور شعور اور زندگی تک کی تعریفیں یکساں نہیں ہیں۔ مگر یہ سب اختلافات زیادہ تر تعبیر کے اختلافات ہیں۔ بجائے خود اس معنی کے تصور میں کوئی جوہری فرق کم ہی ہوتا ہے۔ جسے ادا کرنے کے لئے مختلف اہل علم مختلف پیرایہ بیان اختیار کیا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے تعریفات کے اختلاف کے باوجود اس چیز کے ساتھ برتاؤ کرنے میں سب کا رویہ قریب قریب یکساں ہوتا ہے۔ جس کی تعریف میں ان کے الفاظ مختلف ہوتے ہیں۔

ایسا ہی حال مسلمان کی تعریف کا بھی ہے کہ ایک ہی حقیقت کو مختلف اہل علم نے مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے۔ ان کے درمیان حقیقت شے میں نہیں، انداز بیان میں اختلاف ہے۔ ایک شخص کہتا ہے کہ جو کوئی قرآن اور ”ماجاء بہ محمد“ (جو کچھ محمد ﷺ لائے

٧٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١١

ہیں) کو مانتا ہو وہ مسلمان ہے۔

دوسرا کہتا ہے کہ جو خدا کی توحید، محمد ﷺ اور تمام انبیاء سابقین کی نبوت، محمد ﷺ کی ختم المرسلین، قرآن اور آخرت کو مانے اور محمد ﷺ کے فرمان کو واجب الاطاعت تسلیم کرے وہ مسلمان ہے۔

تیسرا کہتا ہے کہ جو توحید اور انبیاء اور کتب الہی اور ملائکہ اور یوم آخر کو مانے وہ مسلمان ہے۔

چوتھا کہتا ہے کہ مسلمان وہ ہے جو کلمہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کا قائل ہو اور محمد ﷺ کا اتباع قبول کرے۔

پانچواں کہتا ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے ایک شخص کو خدا کی توحید اور انبیاء اور آخرت پر ایمان اور خدا کی بندگی اختیار کرنی چاہئے اور ہر اس چیز کو ماننا چاہئے جو محمد ﷺ سے ثابت ہو۔

چھٹا کہتا ہے کہ توحید، نبوت اور قیامت کو ماننا اور ضروریات دین (مثلاً احترام قرآن اور وجوب نماز، وجوب روزہ، وجوب حج مع الشرائط) کو تسلیم کرنا مسلمان ہونا ہے۔

ساتواں کہتا ہے کہ جو پانچ ارکان اسلام اور رسالت محمدیہ کو تسلیم کرتے ہیں اس کو مسلمان مانتا ہوں۔

آٹھواں کہتا ہے کہ محمد ﷺ کے فرمان کی اطاعت کرتے ہوئے جو ضروریات دین کو تسلیم کرے میرے نزدیک وہ مسلمان ہے۔

(رپورٹ ص ٢١٥ تا ٢١٧)

ان مختلف تعریفات کا تقابل اور تجزیہ کر کے دیکھئے۔ کیا ان کے درمیان مسلمان کی نفس حقیقت میں کوئی فرق ہے؟ ضروریات دین وہی تو ہیں جو محمد ﷺ سے ثابت ہیں۔ اسی چیز کے لئے دوسرے الفاظ ما جاء بہ محمد ہیں۔ محمد ﷺ کی رسالت کو مان لینے میں قرآن، توحید، آخرت، ملائکہ، انبیاء اور کتب آسمانی سب کا مان لینا آپ سے آپ شامل ہو جاتا ہے اور یہی کچھ قرآن کو مان لینے کا نتیجہ بھی ہے۔ کوئی شخص خواہ قرآن کو ماننے کا اعلان کرے یا یہ کہے کہ میں نے محمد ﷺ کی رسالت مان لی یا ایک ایک چیز کا الگ الگ نام لے کر اس کے ماننے کا اقرار کرے۔ تینوں صورتوں میں لازماً ایک ہی اسلام کو قبول کرنے کا اعلان واقرار ہوگا اور محض کلمہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کو مان لینے کا حاصل بھی اس سے ذرہ برابر مختلف نہ ہوگا۔ لہٰذا ان آٹھوں آدمیوں نے مختلف الفاظ میں جس حقیقت کو بیان کیا ہے۔ وہ بعینہ ایک حقیقت ہے۔ مسلمان کے تصور اور اس کے معنی میں ان کے درمیان ایک بال کے برابر بھی فرق نہیں ہے۔

٧١

صفحہ ٥١٢

آپ جب چاہیں ان آٹھوں آدمیوں میں سے کسی ایک کی بیان کی ہوئی تعریف دنیا کے کسی عالم دین کے سامنے رکھ دیں۔ وہ بلا تکلف کہہ دے گا کہ یہ مسلمان کی صحیح تعریف ہے۔ خود ان آٹھوں آدمیوں سے پوچھ دیکھئے۔ ان میں سے ہر ایک تسلیم کرے گا کہ دوسرے کی بیان کردہ تعریف غلط نہیں ہے۔ رہا یہ خیال کہ آپ ان میں سے جس کی تعریف کو بھی قبول کریں گے اس کے سوا باقی سب لوگ الٹی آپ کی تکفیر کر ڈالیں گے۔ تو یہ بات اگر محض گفتگو کو مزاح اور لطافت کا رنگ دینے کے لئے نہ کہی گئی ہو تو رپورٹ کا ناظر کچھ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ اندیشہ کدھر سے کوئی وزن رکھتا ہے۔ ١

بظاہر مولانا امین اصلاحی کی بیان کردہ تعریف دوسروں سے مختلف نظر آتی ہے۔ لیکن غور سے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ دراصل وہ حقیقی مسلمان اور سیاسی (یا بالفاظ دیگر قانونی) مسلمان کا فرق ظاہر کر کے ایک غلط فہمی کو دور کرنا چاہتے ہیں جو ایک شخص کو مسلمان کی تعریف سن کر لاحق ہو سکتی ہے۔ ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ چند ضروریات دین کے مان لینے والے کو جو ہم مسلمان کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نے دین کے سارے مطالبے پورے کر دیئے اور اب وہ خدا کے ہاں ان تمام وعدوں کا مستحق ہو گیا۔ جو قرآن و حدیث میں ایک مؤمن و مسلم سے کئے گئے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دنیا میں ایک مسلم سوسائٹی ایسے

١۔ زیادہ سے زیادہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ علماء ہر اختلاف پر لازماً تکفیر ہی کیا کرتے ہیں۔

شخص کو اپنا رکن تسلیم کر لے گی اور اس کے ساتھ وہ معاملہ کرے گی جو ایک مسلمان سے کیا جانا چاہئے۔ اس بات کو اگر سمجھ لیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ مولانا اصلاحی اور دوسرے علماء میں فی الواقع اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

ارتداد کی سزا

اس کے بعد عدالت ارتداد کے مسئلے کو لیتی ہے۔ کیونکہ ”مسلمان کون ہے اور کون نہیں ہے“ کے بعد منطقی طور پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ مسلمان کون رہا اور کون نہیں رہا۔ اس سوال پر عدالت نے اپنا پورا زور بیان صرف کیا ہے اور علماء کی وہ خبر لی ہے کہ باید و شاید۔ اس بحث کے متعدد اجزاء کو ناظرین کی سہولت کے لئے ہم الگ الگ نقل کرتے ہیں۔ تاکہ عدالت کا نقطہ نظر پوری طرح سمجھ میں آجائے۔ اس کے بعد ہم پوری بحث پر تبصرہ کریں گے۔

٧٢

صفحہ ٥١٣

ہونے کا فتویٰ جس پر مسٹر ابراہیم علی چشتی ١؎ سمیت تمام علماء کا اتفاق ہے۔ پاکستان میں کیا گل کھلائے گا۔ اگر یہاں علماء میں سے کسی گروہ کی حکومت قائم ہوگئی۔ اولین سانحہ قتل تو سر ظفر اللہ خان کا پیش آئے گا۔ اگر انہوں نے اپنے والدین سے قادیانیت میراث میں نہیں پائی ہے۔ پھر اگر مولانا ابوالحسنات یا بریلوی گروہ کے کوئی دوسرے عالم صدر ریاست ہوئے تو وہ سارے دیوبندی اور وہابی قتل کئے جائیں گے۔ جو پیدائشی دیوبندی اور وہابی نہیں ہیں اور اگر مفتی محمد شفیع صدر ہوگئے تو پھر ان بریلویوں کی خیر نہیں جنہوں نے دیوبندیوں کی تکفیر کی۔ اس کے بعد شیعوں کی شامت آئے گی۔ کیونکہ علمائے دیوبند کا فتویٰ ہے کہ جو لوگ صدیق اکبرؓ کی صحابیت نہیں مانتے اور حضرت عائشہؓ پر تہمت رکھتے ہیں اور تحریف قرآن کے قائل ہیں۔ وہ سب کافر ہیں اور مسٹر ابراہیم علی چشتی صاحب کا فتویٰ ہے کہ حضرت علیؓ کو نبی ﷺ کے ساتھ رسالت میں شریک ماننے کی وجہ سے شیعہ کافر ہیں۔ دوسری طرف شیعوں کے نزدیک تمام سنی کافر ہیں۔ پھر اہل قرآن کے کفر پر تو سب ہی کا اتفاق ہے اور یہی پوزیشن تمام آزاد رائے لوگوں کی بھی ہے۔

”خالص نتیجہ جو اس سب سے برآمد ہوتا ہے۔ یہ ہے کہ نہ شیعہ مسلمان ہیں نہ سنی، نہ دیوبندی، نہ اہل حدیث، نہ بریلوی اور ایک عقیدے کو چھوڑ کر دوسرا عقیدہ اختیار کرنے سے ایک اسلامی ریاست میں لازماً سزائے موت نافذ ہو کر رہے گی۔ اگر حکومت اس گروہ کے ہاتھ میں ہوئی جس کے نزدیک دوسرا گروہ کافر ہے اور یہ اندازہ کرنے کے لئے کچھ بہت زیادہ غور و فکر کی

١۔ جی ہاں یہ بھی علماء دین و مفتیان شرع متین میں شامل ہیں۔

حاجت نہیں کہ اس قاعدے کے نتائج کیا ہوں گے۔ جب کہ یہ بات آدمی کی نگاہ میں رہے کہ ہمارے سامنے پیش ہونے والے علماء میں سے دو عالم بھی ایسے نہ تھے جو مسلمان کی تعریف پر متفق ہوں۔“

(ص ٢١٩)

ہے۔ جو بعد میں شیخ الاسلام پاکستان ہو گئے تھے ١؎ ۔ ان کی کتاب ”الشہاب“ کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ اس میں مولانا نے قرآن، سنت اور قیاس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام میں ارتداد کی سزا بس موت ہی ہے اور اس کے بعد اس واقعہ سے استدلال کیا ہے کہ صدیق اکبرؓ اور بعد کے خلفاءؓ کے زمانے میں عرب کے وسیع علاقوں کی زمین مرتدوں کے خون سے بار بار سرخ ہوئی تھی۔ ہم اگرچہ اس کام پر مامور نہیں کئے گئے ہیں کہ اس اصول کی صحت یا غلطی کے

٧٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٤

متعلق کوئی رائے ظاہر کریں۔ لیکن یہ معلوم ہونے کے بعد کہ پنجاب گورنمنٹ کو اس پمفلٹ کی ضبطی کا مشورہ اس وقت کے وزیر داخلہ (خواجہ شہاب الدین صاحب) نے دیا تھا۔ ہم نے اپنی جگہ غور کیا کہ یہ مشورہ تو اس اصول کو رد کر دینے کا ہم معنی تھا۔ جسے مولانا قرآن اور سنت سے ماخوذ بتا رہے تھے۔ ضرور ہے کہ وزیر داخلہ نے مولانا کی اس رائے کو غلط سمجھا ہوگا۔ کیونکہ وہ خود (یعنی خواجہ شہاب الدین) بھی مذہبی معاملات میں خوب نظر رکھتے تھے ٢؎۔

شہاب الدین کے ذہن میں یہ رائے قائم کرتے وقت ہوں گے اور حسب ذیل دلائل اس کے سامنے آجاتے ہیں۔

”ارتداد کے لئے موت کی سزا بڑی دور رس نوعیت کے نتائج کی حامل ہے اور اسلام پر خونی دیوانگی کے دین کا ٹھپہ لگا دیتی ہے۔ جس میں ہر آزاد خیالی مستوجب سزا ہے۔ قرآن تو بار بار عقل اور فکر پر زور دیتا ہے۔ رواداری کی ہدایت کرتا ہے اور مذہبی معاملات میں جبر و اکراہ کی

١؎ ہمیں اس کا علم نہیں ہوسکا کہ پاکستان میں شیخ الاسلام کا منصب کب قائم ہوا تھا اور مولانا مرحوم اس پر کس روز مقرر کئے گئے تھے۔ ان الفاظ کو اپنے ملک کے اخباری شذروں میں تو ہم پڑھنے کے عادی ہیں۔ لیکن سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا یہ عدالتی رپورٹ کے لئے موزوں تھے؟

٢؎ پچھلی عبارت کو پڑھتے پڑھتے توقع بڑے مضبوط الفاظ کی قائم ہوتی ہے۔ یعنی بس اب یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ علم دین میں خواجہ صاحب کے سامنے مولانا کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔ لیکن رپورٹ کی عبارت ناظر کی توقعات کو پورا نہیں کرتی۔

مخالفت کرتا ہے۔ مگر ارتداد کے متعلق جو اصول اس رسالے (الشہاب) میں پیش کیا گیا ہے۔ وہ آزادی خیال کی جڑ ہی کاٹ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو کوئی مسلمان پیدا ہوا ہے یا اسلام قبول کر چکا ہے۔ وہ اگر مذہب کے موضوع پر اس ارادہ سے غور کرنے کی کوشش کرے کہ اپنے لئے جو دین چاہے انتخاب کرلے گا۔ اس کے لئے سزائے موت تیار رکھی ہے۔ یہ چیز تو اسلام کو مکمل عقلی فالج کا ظہور مجسم بنا دیتی ہے اور یہ جو اس رسالے میں کہا گیا ہے کہ عرب کے وسیع علاقے بار بار انسانی خون سے رنگے گئے تھے۔ یہ اگر صحیح ہے تو اس کے معنی تو پھر یہی ہوئے کہ جب اسلام اپنی عظمت کے بام عروج پر تھا اور عرب پر مکمل اقتدار رکھتا تھا۔ اس وقت بھی عرب میں ایسے لوگوں کی کثیر تعداد

٧٤

صفحہ ٥١٥

موجود تھی۔ جنہوں نے اس مذہب کو چھوڑ دیا اور اس کے نظام میں رہنے سے مرجانا زیادہ بہتر سمجھا ١؎۔ وزیر داخلہ کے ذہن پر اس پمفلٹ کا ایسا ہی کچھ اثر پڑا ہوگا ٢؎ جس نے انہیں اس کی ضبطی کے لئے پنجاب گورنمنٹ کو مشورہ دینے پر ابھارا...... انہوں نے ضرور یہ خیال کیا ہوگا کہ رسالے کے مصنف نے جو نتیجہ نکالا ہے جس کی بنیاد زیادہ تر بائبل کے پرانے عہد نامے کی آیات ٢٦، ٢٧، ٢٨ میں بیان کردہ نظیر پر رکھی گئی ہے اور جسے قرآن میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر ٥٤ میں محض جزوی طور پر بیان کیا گیا ہے ٣؎۔ اس کا اطلاق کسی طرح اسلام سے مرتد ہونے کے معاملے پر نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا فی الواقع مصنف کی رائے غلط ہے۔ کیونکہ قرآن میں ارتداد کی سزا موت ہونے کے لئے کوئی صریح عبارت موجود نہیں ہے۔ اس کے برعکس دو باتیں جو قرآن میں کہی گئی ہیں۔ ایک وہ جو سورۂ کافروں کی مختصر سی چھ آیتوں میں اور دوسری وہ جو سورۂ بقرہ کی آیت ”لا اکراہ فی الدین“ میں انہیں بس سمجھ لینا ہی ”الشہاب“ کی پیش کردہ غلط رائے کو رد کردینے کے لئے کافی ہے۔“

١؎ ان الفاظ کو پڑھتے ہوئے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہئے کہ عرب کے جن حصوں میں ارتداد کا طوفان اٹھا تھا وہ زیادہ تر نبی ﷺ کے آخری زمانے میں مسلمان ہوئے تھے اور ان کو سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ ڈیڑھ سال سے زیادہ مدت نہ گزری تھی۔ بعد کی تاریخ میں بڑے پیمانے پر اس قسم کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ محض اکا دکا افراد کے واقعات کھوج کرید سے مل سکتے ہیں۔

٢؎ عدالتی کارروائیوں میں معروف طریقے کے لحاظ سے قاری اس کا متوقع ہوتا ہے کہ تمام استدلال ”ہے“ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ لیکن جب یہ ”ہوگا“ کی بنیاد پر شروع ہوجاتا ہے تو اس کی توقع ٹھٹک کر رہ جاتی ہے۔

٣؎ اس حوالے کی تفصیل یہ ہے کہ سورۂ بقرہ میں جہاں بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کے واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اور یاد کرو وہ واقعہ جب کہ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

پھر ان آیات قرآنی کی ایک مختصر تفسیر ١؎ بیان کرنے کے بعد عدالت اس بحث کو ان الفاظ پر ختم کرتی ہے۔ ”مگر ہمارے علماء (Chauvinism) کو اسلام سے کبھی جدا نہ کریں گے۔“

ہم نے عدالت کی پوری بحث قریب قریب اس کے اپنے الفاظ میں یہاں نقل کردی

٧٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٦

ہے۔ مقدمہ جیسا کچھ بھی ہے۔ جوں کا توں آپ کے سامنے ہے۔ اب اس کے متعلق ہماری گزارشات پر توجہ فرمائیے۔

اوّلین سوال، جس پر ٩٠ فیصدی بحث کا فیصلہ منحصر ہے۔ یہ ہے کہ آیا اسلام میں واقعی ارتداد کی سزا موت ہے یا نہیں۔ یہ اصول ہر ایک کو طوعاً یا کرہاً بہرحال ماننا پڑے گا کہ قرآن جب کسی معاملے پر براہ راست اور واضح طور پر ایک حکم بیان کر دے تو اس معاملے میں اسی حکم کو اسلام کا قانون تسلیم کیا جائے گا اور اس صورت میں قرآن کے بیان کردہ وسیع اصولوں اور کلیات کو سامنے لا کر یہ نہیں کہا جا سکے گا کہ اسلامی قانون وہ نہیں، یہ ہے۔ مولانا شبیر احمد صاحب نے جس

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اوپر بڑا ظلم کیا ہے۔ لہٰذا اپنے خالق کے حضور توبہ کرو۔ پھر اپنے آدمیوں کو قتل کرو۔‘‘ (یعنی ان آدمیوں کو جنہوں نے گوسالہ پرستی کی تھی)

اس واقعہ کی مزید تفصیل بائبل کی کتاب خروج، باب ٣٢، آیت ٢٦ تا ٢٨ میں ہم کو یہ ملتی ہے کہ حضرت موسیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اس رشتہ دار یا پڑوسی کو قتل کرے۔ جس نے یہ گناہ کیا تھا اور اس کی تعمیل میں اس روز ٣ ہزار آدمی قتل کئے گئے۔

اگر عدالت کے استدلال کو قبول کر لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ موسیٰ علیہ السلام پر خدا نے جو دین نازل کیا تھا۔ اس میں تو یہ مذہبی دیوانگی ضرور موجود تھی۔ مگر محمد ﷺ پر اسی خدا نے جب دین نازل کیا تو وہ اپنی اس غلطی سے تائب ہو چکا تھا۔ اگر چہ اس میں اتنی اخلاقی جرأت پھر بھی پیدا نہ ہوئی کہ قرآن میں اپنے اس پچھلے کارنامے کا ذکر کرتے ہوئے ندامت یا اظہار افسوس کا ایک کلمہ کہہ دیتا۔ نعوذ باللہ من ذالک!

اب رپورٹ کا ناظر طالب علم ان تفسیری اجزاء کو دیکھ کر الجھن میں پڑ جاتا ہے کہ ایک طرف علماء بطور گواہ آتے ہیں اور متعین سوالات کے جوابات دے کر چلے جاتے ہیں۔ ان کو اپنے نقطہ نظر کے مطابق قرآن کی تفسیر کرنے اور اسے رپورٹ میں لانے کا کوئی موقع حاصل نہیں۔ دوسری طرف فاضل جج قرآن کی جس تفسیر کو صحیح مان کر قلمبند کر دیں۔ وہ چار دانگ عالم میں پھیلے گی۔ اس حالت میں کیا حقیقت معلوم کرنے والوں کو یہ رپورٹ مشکلات میں نہ ڈال دے گی۔

آیت کا حوالہ دیا ہے۔ اس سے یہ بات تو قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ خدا نے جو دین موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا۔ اس میں یقیناً ارتداد کی سزا موت تھی۔ قطعی نظر اس سے کہ یہ سزا نافذ کی گئی یا

٧٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٧

نہیں ۔ پیغمبر کا اسے بیان کرنا، اور قرآن کا اس کو بلا تردید بلا ادنیٰ مذمت نقل کر دینا اسے دین موسوی علیہ السلام کی ایک قانونی سزا ثابت کر دیتا ہے۔ اب گفتگو اس میں ہے کہ آیا محمد ﷺ پر نازل شدہ دین میں بھی یہ قانون باقی تھا یا منسوخ ہو گیا۔ اس کے لئے سورۂ توبہ (نویں سورۃ) کی آیت ایک سے بارہ تک ملاحظہ ہوں۔ ہم ان کا لفظی ترجمہ یہاں درج کرتے ہیں اور آپ سلسلۂ عبارت پر اچھی طرح غور کر کے خود دیکھیں کہ ان سے کیا حکم نکل رہا ہے۔

”اعلان برأت ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کئے تھے۔ پس (اے مشرکو) تم ملک میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے اور اطلاع عام ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج کے بڑے دن تمام لوگوں کے لئے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہے۔ اب اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے ہی لئے بہتر ہے اور اگر تم منہ پھیرتے ہو (یعنی توبہ نہیں کرتے) تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو اور (اے نبی) انکار کرنے والوں کو دردناک سزا کی خبر دے دو۔ بجز ان مشرکین کے (یعنی اس برأت اور سزا کی دھمکی سے مستثنیٰ وہ مشرکین ہیں) جن سے تم نے معاہدے کئے۔ پھر انہوں نے وفائے عہد میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہ کی اور تمہارے خلاف کسی کی مدد نہ کی۔ پس ان کے معاہدے کی مدت تک ان کے ساتھ عہد پورا کرو۔ یقیناً اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔ پھر جب حرام مہینے (یعنی وہ چار مہینے جن میں اوپر مشرکوں کو چلنے پھرنے کی آزادی دی گئی تھی) گزر جائیں تو مشرکین کو (یعنی ان مشرکین کو جن سے اعلان برأت کیا گیا ہے) قتل کرو۔ جہاں پاؤ اور ان کو پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کے لئے بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ یقیناً اللہ معاف کرنے والا رحیم ہے اور اگر مشرکین میں سے کوئی تجھ سے پناہ لے کر آنا چاہے تو اسے پناہ دے۔ یہاں تک کہ وہ خدا کا کلام سن لے۔ پھر اسے اس کے امن کی جگہ پہنچا دے۔ یہ اس لئے کہ وہ علم نہیں رکھتے۔ کیسے ہو سکتا ہے مشرکین کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد ۔ بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا۔ تو جب تک وہ عہد پر قائم رہیں تم بھی قائم رہو۔ کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔ جب کہ ان کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو تمہارے معاملے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی عہد و پیماں کا۔ وہ منہ سے تمہیں راضی کرتے ہیں اور دل ان کا انکار کرتا ہے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے مقابلے میں تھوڑی سی قیمت قبول کر لی۔ پھر اللہ کے راستے سے روکنے لگے۔ بڑے

٧٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٨

کرتوت تھے جو وہ کرتے رہے۔ وہ کسی مؤمن کے معاملے میں قرابت اور عہد و پیماں کا لحاظ نہیں کرتے اور وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔ ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم احکام کھول کر بیان کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی شروع کردیں تو جنگ کرو۔ کفر کے سرداروں سے۔ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ وہ باز آجائیں۔“

اس عبارت میں عرب کے مشرکوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک وہ جن سے مسلمانوں کے معاہدات تھے اور وہ اپنے عہد پر قائم رہے۔ ان کے متعلق حکم دیا گیا کہ تم بھی ان سے وفائے عہد کرو۔ دوسرے وہ جو عہد شکنیاں کرتے رہے۔ مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کی کارروائیاں کرتے رہے اور جب موقع پایا، قرابت اور عہد و پیماں کا لحاظ کئے بغیر عداوت پر تل گئے۔ اس دوسری قسم کے لوگوں کو چار مہینے کا نوٹس دیا گیا اور اعلان کر دیا گیا کہ یہ چار مہینے گزر جانے کے بعد ان کے خلاف بے محابا جنگ کی جائے گی۔ ان سے کوئی معاہدہ نہ کیا جائے گا اور وہ قتل سے صرف اسی صورت میں بچ سکیں گے جب کہ توبہ کرکے اسلام قبول کرلیں ١۔ اس سلسلۂ بیان کو ختم کرتے ہوئے جب یہ کہا گیا کہ: ”اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں“ تو اس سے لا محالہ اسلام قبول کرنے کا عہد اور اسی کی قسمیں مراد ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ ان سے اب اور کوئی معاہدہ ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے متعلق یہ بات پہلے ہی کہی جا چکی ہے کہ ان کے ساتھ کوئی عہد و پیماں کیسے ہو سکتا ہے۔ جب کہ ان کا رویہ اب تک یہ کچھ رہا ہے۔ لہٰذا آخری فقرے میں کفر کے جن سرداروں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان سے مراد مرتدین کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

ممکن ہے کوئی شخص یہ کہے کہ ان سے مراد پہلی قسم کے مشرکین ہیں جو وفائے عہد کرتے رہے تھے اور یہ بات ان کے متعلق کہی گئی ہے کہ اگر وہ بھی عہد توڑ دیں تو ان سے بھی جنگ کرو۔ لیکن یہ تاویل اس لئے غلط ہے کہ ان مشرکین کا ذکر آخری بار جس آیت میں آیا ہے۔ اس کے اور

١۔ یہ بات نگاہ میں رہے کہ ان کو ذمی بنانے اور ان سے جزیہ قبول کرنے تک کی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ بالفاظ دیگر وہ معاہدہ بھی ان سے نہ ہو سکتا تھا۔ جو ایک اسلامی اور اس کی ذمی رعایا کے درمیان، مکتوب یا غیر مکتوب ہوا کرتا ہے۔

اس آیت کے درمیان پوری چار آیتیں حائل ہیں۔ ”ان نکثوا ايمانهم“ کی ضمیر کو اٹھا کر اتنی دور لے جانے کے بجائے آخر ان لوگوں کی طرف کیوں نہ پھیرا جائے۔ جن کا ذکر اوپر کی چار

٧٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥١٩

آیتوں میں متصلاً بیان ہوا ہے۔

اور اگر کہا جائے کہ قبول اسلام کے لئے عہد اور ایمان کا طرز تعبیر قرآن کے لئے ایک اجنبی چیز ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں بارہا ایمان کو خدا اور بندے کے درمیان عہد اور میثاق سے تعبیر کیا گیا ہے۔ رہے ایمان (یعنی قسمیں) تو یہ لفظ خاص طور پر اس جگہ قبول اسلام کے لئے اس وجہ سے استعمال ہوا ہے کہ پرانے عہد شکن دشمن جب عین حالت جنگ میں ایمان لائیں گے تو ضرور ایمان سے اپنے ایمان کا یقین دلانے کی کوشش کریں گے۔ لہٰذا محض ”عہد“ اور ”ایمان“ کے الفاظ سے کوئی ایسا فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ جس کی بناء پر ”ان نکثوا ايمانهم“ کی ضمیر بیچ کی چار آیتوں سے جست لگا کر پانچویں آیت کے ساتھ جڑ سکے۔

اب ذرا حدیث کی طرف آئیے۔ جس کو خود ہمارے دونوں فاضل جج بھی سنت کا ریکارڈ تو بہر حال مانتے ہی ہیں۔ جن احادیث میں قتل مرتد کا حکم اور اس کے عملی نظائر بیان ہوئے ہیں۔ وہ صرف تعداد میں کثیر ہی نہیں ہیں اور صرف سند کے اعتبار سے مضبوط ہی نہیں ہیں۔ بلکہ ان کے معتبر ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ تمام فقہائے اسلام نے بالاتفاق ان کے مضمون کو صحیح مانا ہے اور آج تک کسی فرقے اور کسی مکتبہ فکر کے کسی فقیہ نے بھی اس سے اختلاف نہیں کیا ہے۔ فقہا کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ احکامی حدیثوں کو جن سے کوئی چیز حرام یا حلال ہوتی ہو یا کوئی حق ثابت یا سلب ہوتا ہو۔ بڑی چھان بین کے بعد قبول کرتے ہیں اور خصوصاً ایسی حدیث کی تو انتہائی چھان بین کی جاتی ہے۔ جس سے کسی انسان کا خون حلال ہوتا ہو۔ اس طرح کی کسی حدیث میں اگر کوئی ذرا سا رخنہ بھی ہو تو ایک نہ ایک امام مجتہد ایسا ضرور نکل آتا ہے جو اسے رد کر دیتا ہے۔ لیکن ارتداد کی سزا کے متعلق احادیث کے حکم کو بلا استثناء سارے ہی فقہاء نے صحیح تسلیم کیا ہے اور یہ کہنے کے لئے بڑی جسارت کی ضرورت ہے کہ شروع سے آج تک تمام فقہائے امت ایک بے سرو پا بات کو شریعت کے سر مڑھ گئے ہیں۔

حدیث اور سنت کے بعد اسلامی قانون میں تیسری سند اجماع ہے اور یہ اجماع صرف اسی سے ثابت نہیں ہے کہ فقہ اسلامی کے تمام مدارس ارتداد کی سزا پر متفق ہیں۔ حتیٰ کہ کسی ایک قابل ذکر فقیہ کا قول بھی اس کے خلاف نہیں ملتا۔ بلکہ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے چند ہی مہینے بعد تمام صحابہؓ نے بالاتفاق مرتدین کے خلاف جنگ کی اور یہ جنگ بر بنائے بغاوت نہ تھی۔ بلکہ بر بنائے ارتداد تھی۔ جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے اعلان عام (Proclamation) میں بالفاظ صریح مذکور ہے۔ یہ تاریخ کی ایک ثابت شدہ حقیقت

٧٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٠

ہے۔ جس کے مقابلے میں یہ کہنا محض بے معنی ہے کہ: ”اگر ایسا ہے تو اس سے یہ اور یہ قباحت لازم آتی ہے۔“ تاریخ جو واقعات بیان کرتی ہے۔ ان کی تردید اگر ہو سکتی ہے تو تاریخی ثبوت ہی سے ہو سکتی ہے۔ نہ کہ قباحتوں کے لازم آنے سے۔ اگر کسی شخص کے پاس اس کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو وہ لائے۔ ورنہ تاریخ اس انتظار میں نہ بیٹھی رہے گی کہ اس شخص کو اس کے واقعات کا پیش آنا گوارا ہو تو وہ کہے کہ یہ پیش آئے ہیں اور اس کی رائے میں ان سے کوئی قباحت لازم آتی ہو تو وہ اعلان کر دے کہ یہ پیش ہی نہیں آئے۔

اب ہمیں بتایا جائے کہ جو قرآن، سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ وہ اسلامی قانون نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ کسی کی رائے میں یہ اگر مذہبی دیوانگی ہے، عقلی فالج ہے، آزادی خیال کی بیخ کنی ہے تو وہ کیوں نہ صاف صاف یہ کہے کہ اسلام کا یہ قانون میرے نزدیک غلط ہے اور میرا اسلام بیزار ہے اس دین سے جو میری رائے کے بموجب زبردستی مار مار کر لوگوں کو اپنے دائرے میں رکھتا ہے۔ مگر یہ آخر کیا پالیسی ہے کہ اسلام کی جو چیز لوگوں کے مذاق اور مزاج اور طرز فکر کے خلاف ہو اسے وہ اسلام کی چیز مان کر اس کی مذمت نہیں کرتے۔ بلکہ طرح طرح کی من گھڑت دلیلوں سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ اسلام کی چیز ہے ہی نہیں۔ یہ تو علماء نے گھڑ لی ہے۔ کسی کا یہ طرز عمل اگر علم کی کمی کی وجہ سے ہے تو افسوسناک ہے اور اگر اس کی وجہ اخلاقی جرأت کی کمی ہو تو اور بھی زیادہ افسوسناک۔

رہیں وہ قباحتیں جو رپورٹ کے فاضل مصنفین کی نگاہ میں اسلام کے اس قانون سے لازم آتی ہیں تو ان کے متعلق مختصر گذارش یہ ہے کہ ارتداد کی سزا اس صورت میں نہیں دی جاتی کہ اسلام ایک مذہب ہو، بلکہ اس صورت میں دی جاتی ہے جب کہ وہ ایک ریاست کی شکل اختیار کر لے اور ریاست کے تقاضے بنیادی طور پر ایک مذہب، ایک مدرسۂ فکر اور ایک جماعت کے تقاضوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ مذہب یا جماعت یا مدرسۂ فکر کے معاملے میں ہر شخص کو پوری آزادی ہے کہ اسے حق پائے تو قبول کرے اور جب اس کی رائے بدل جائے تو اس سے نکل جائے۔ بلکہ اس سے نکل کر اس کی مخالفت کرنا، اس کے مخالفین سے جا ملنا اور اس سے غداری کرنا بھی کوئی فوجداری جرم نہیں ہے۔ مگر کیا ریاست کے معاملے میں یہ آزادی کہیں تسلیم کی جاتی ہے؟ کیا برطانوی قوم کا کوئی فرد، یا کوئی ایسا فرد جس نے برطانوی قومیت کو قبول کر لیا ہو۔ برطانوی حدود میں رہتے ہوئے برطانوی قومیت سے نکل سکتا ہے اور اپنے ذاتی رجحان کی بناء پر کسی اور ریاست کی وفاداری کا اعلان کر سکتا ہے؟ کیا کوئی امریکی شہری ریاستہائے متحدہ امریکہ کے حدود میں رہتے ہوئے امریکی شہریت چھوڑ دینے اور روسی ’ یا کوئی اور قومیت اختیار کر لینے کا مجاز ہے؟

٨٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢١

کیا امریکہ میں کوئی شخص یہ اعلان کرنے کا مجاز ہے کہ میں امریکی دستور کو تسلیم نہیں کرتا۔ میرا ضمیر روسی دستور کو قبول کرتا ہے؟ کیا آپ کے اپنے قانون میں غداری (Hightreason) جرم نہیں ہے؟ کسی شخص کا یہ حق آپ کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ اس کا ضمیر اگر آپ کو برسر باطل اور آپ کی کسی ہمسایہ ریاست کو حق پر سمجھتا ہے تو وہ آپ کے مقابلے میں اس ہمسایہ ریاست کا ساتھ دے؟ اس کے جواب میں آپ یہی تو کہیں گے کہ ایک ریاست جو ایک وسیع علاقے میں لاکھوں کروڑوں انسانوں کے امن اور منظم زندگی کا ذمہ لیتی ہے۔ انفرادی خیال و ضمیر کی آزادی کو اتنی اہمیت نہیں دے سکتی کہ اس پر اپنے بقا واستحکام کو قربان کر دے۔ جن ”اجزائ“ کی ترکیب سے وہ وجود میں آئی ہے ان کو وہ منتشر نہیں ہونے دے سکتی۔ ان کو وہ کل کے خلاف کشمکش کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ان کو وہ کسی مد مقابل نظام میں جا ملنے کی آزادی نہیں دے سکتی۔ جب یہ آپ کا استدلال ریاست کے بارے میں ہے تو پھر آپ کو مذہبی دیوانگی اور عقلی فالج اور آزادی خیال کی بیخ کنی کے یہ تصورات اس وقت کیوں ستاتے ہیں۔ جب اسلام بحیثیت مذہب نہیں بلکہ بحیثیت ریاست اپنے اجزائے ترکیبی کو انتشار، غداری اور مقابل نظاموں کے ساتھ انضمام سے روکنے کے لئے ارتداد کی سزا کا قانون نافذ کرتا ہے؟

اس کے بعد وہ اندیشے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ جو عدالت نے ابتداء میں ظاہر کئے ہیں کہ اگر آج پاکستان میں اسلامی ریاست قائم ہو جائے اور علمائے کرام میں سے کوئی صدر ریاست بن جائے تو اس کے اپنے گروہ کے سوا سب دار پر چڑھا دیئے جائیں گے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ارتداد کی سزا مفتیوں کے فتوؤں پر نہیں بلکہ قاضی (حاکم عدالت) کے فیصلے پر دی جاتی ہے۔ ایک عالم مفتی (یعنی قانونی مشیر) کی حیثیت سے فتویٰ دیتے وقت بڑی بے احتیاطیاں کر سکتا ہے۔ لیکن اسی کو اگر قاضی بنا دیا جائے اور وہ ضابطہ قانون کے مطابق تحقیقات کر کے فیصلہ دینے پر مجبور ہو تو وہ عدالت کی کرسی پر دارالافتاء والا کھیل نہیں کھیل سکتا اور اگر وہ ایسا کرے بھی تو اس سے اوپر کی عدالت اپیل کی سماعت میں اس کھیل کو بمشکل دہرا سکتی ہے۔ تاہم اگر صورتحال وہی پیش آجائے جس کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے تو کوئی بڑی حیرت کے قابل بات نہ ہوگی۔ جہاں سیاسی اختلافات کی بناء پر ہر گروہ دوسرے گروہ کو بے تکلف غدار کہہ دیتا ہو اور بیرونی حکومتوں سے پیسہ تک کھا جانے کا علانیہ الزام دے ڈالتا ہو۔ جہاں انتظامی حکومت کے بڑے بڑے ذمہ دار افسر سرکاری مراسلات میں لوگوں پر جھوٹی تہمتیں لگاتے ہوں۔ جہاں مذہبی رجحانات کو کچلنے کے لئے

٨١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٢

پولیس اور فوج کے کسی بدتر سے بدتر ظلم کو بھی ظلم کہنے پر کوئی حاکم عدالت تیار نہ ہو۔ جہاں ”قادیانی مسئلہ“ جیسے پمفلٹ کی تصنیف پر سزائے موت اور اس سے اتر کر سزائے حبس دوام تجویز کی جاتی ہو اور جہاں ملک کی مرکزی مجلس قانون ساز اس طرح کی سزاؤں کو برقرار رکھنے کے لئے باقاعدہ قانون پاس کر دیتی ہو۔ وہاں اگر ایک بریلوی کسی دیوبندی کو یا ایک دیوبندی کسی بریلوی کو سزائے ارتداد دے ڈالے تو آخر یہ کون سی عجیب بات ہو جائے گی۔ بگڑی ہوئی قوم، جس کے سیاسی لیڈر، انتظامی حکام، قانون ساز، اور دوسرے شعبوں میں کام کرنے والے سب ہی بگڑے ہوئے ہوں۔ اس کے مولوی ہی آخر بگاڑ سے کیسے بچے رہ جائیں گے۔

آگے بڑھنے سے پہلے ہم عدالت کی یہ غلط فہمی بھی رفع کر دینا چاہتے ہیں کہ اسلامی قانون میں ارتداد کی سزا لازماً ہر حال میں موت ہی ہے۔ فقہ اسلامی کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ اکثر فقہاء جن میں حضرت عمرؓ جیسی جلیل القدر شخصیت بھی شامل ہے۔ ارتداد کے لئے سزائے موت کو واحد سزا نہیں بلکہ انتہائی سزا قرار دیتے ہیں۔ حضرت عمرؓ سے ایک مرتبہ چند مرتدوں کے بارے میں ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”کنت اعرض علیہم الاسلام فان ابوا اودعتہم السجن“ {میں ان کے سامنے اسلام پیش کرتا، اگر وہ قبول نہ کرتے تو میں ان کو قید کر دیتا۔} مذہب حنفی میں مرتد عورتوں کو مستقلاً سزائے موت سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ابراہیم نخعی مرتد کو رجوع کرنے کی غیر محدود مہلت دینے کے قائل ہیں۔ (نیل الاوطار ج ٧ ص ١٦٠ تا ١٦٣) اسی طرح کی اور مثالیں بھی مختلف فقہاء کے مذاہب میں ملتی ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سزائے موت کو ارتداد کی واحد سزا سمجھنے کا خیال صحیح نہیں ہے۔

غیر مسلموں کا حق تبلیغ

ارتداد کی سزا سے منطقی طور پر یہ سوال ١ پیدا ہوا کہ اسلامی حکومت میں غیر مسلم مبلغین کو اپنے مذہب کی علانیہ تبلیغ کا حق حاصل ہوگا یا نہیں۔ اس سوال کے بارے میں علماء کا نقطہ نظر متعین کرنے کے لئے عدالت نے مولانا ابوالحسنات کے ساتھ ساتھ ماسٹر تاج الدین انصاری اور غازی سراج الدین منیر سے بھی معلومات فراہم کی ہیں اور حسب ذیل نتائج تحقیق پیش کئے ہیں۔

اب دیکھئے! کس طرح سوال سے سوال پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔ اب چونکہ پہلا سوال زیر تحقیق امور سے کسی نہ کسی درجے میں متعلق ٹھہرا۔ لہٰذا آگے ہر وہ سوال جو اس سوال سے کوئی تعلق رکھتا ہو۔ خود بخود تحقیقاتی کارروائی سے متعلق ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ”جو اصول ایک مرتد کو موت کی سزا دیتا ہے۔ وہ لازمی طور پر کفر کی علانیہ تبلیغ واشاعت

٨٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٣

پر بھی عائد ہوگا۔“

”اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کی علانیہ تبلیغ اس ریاست میں نہ ہونے دی جائے گی۔“

”ہر غیر اسلامی مذہب کی علانیہ تبلیغ کا ممنوع ہونا لازماً ایک منطقی نتیجہ کے طور پر اس تجویز سے نکلتا ہے کہ ارتداد کے جرم میں موت کی سزا دی جائے گی اور اسلام پر ہر حملے یا اسلام کے لئے ہر خطرے کا تدارک اس طرح کیا جائے گا۔ جس طرح غدر اور بغاوت کا تدارک کیا جاتا ہے اور اس کی سزا ویسی ہی دی جائے گی جیسی ارتداد کی سزا۔“

(ص ٢٢١)

اثر و نتیجہ کے لحاظ سے یہ گویا ایک تنبیہہ ہو جائے گی۔ تمام عیسائی مشنریوں، اور ان کی پشت پناہ مغربی قوموں کے لئے کہ مُلاّ کا راج یہاں کیا رنگ لانے والا ہے۔ مگر رپورٹ کا طالب علم سکتے میں رہ جاتا ہے کہ آیا اس طرح کے دور رس اور وسیع مسائل مہمہ میں یہ طریق تحقیق کن دلائل کی بناء پر موزوں قرار پائے گا کہ ایک آدھ عالم دین اور چند دوسرے لیڈروں سے عدالتی جرح میں دس پانچ متعین اور سرسری سوالات کر کے ان کے مختلف الفاظ کو لیا جائے۔ پھر ایک رائے قائم کی جائے۔ رائے بھی ایسی کہ جسے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں درج ہو کر تاریخی حیثیت اختیار کرنا ہے اور ہزار ہا افراد تک پھیلنا ہے۔ اس طریقے کے بجائے اگر مسئلے کی باقاعدہ علمی طریقے پر تحقیقات کی جاتی تو حسب ذیل حقائق سامنے آسکتے تھے۔

کہ ہر مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب میں شامل ہو جانا ایک غیر مسلم اگر ایک غیر اسلامی مذہب کو چھوڑ کر کسی دوسرے غیر اسلامی مذہب میں داخل ہوتا ہے تو کوئی جرم نہیں کرتا۔ فقہائے اسلام کی عظیم اکثریت اس پر متفق ہے۔

کے لئے جس کے اثر سے متاثر ہو کر کوئی مسلمان مرتد ہو جائے۔ یہ بات کسی فقیہ نے نہیں لکھی ہے کہ مرتد ہونے والے کے ساتھ اس شخص کو بھی گرفتار کرنا چاہیے۔ جس کے اثر سے وہ مرتد ہوا ہے اور یہ کسی منطق کی رو سے بھی نتیجہ کے طور پر اس قانون سے نہیں نکلتی۔ عدالتیں خود آئے دن ان مجرموں کو سزا دیتی ہیں۔ جنہوں نے سینما سے جرم کے طریقے سیکھے ہیں۔ مگر ہمیں کوئی ایسی مثال نہیں ملی کہ مجرم کے ساتھ آپ نے کبھی اس فلم ساز یا سینما گھر کے اس مالک کو بھی سزا دی ہو۔ جس کے تماشے سے اس نے یہ سبق سیکھا۔

٨٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٤

ان خوبیوں کو جو اس کے نزدیک اس کے مذہب میں ہیں۔ تحریر و تقریر میں بیان کر سکتا ہے اور قانون کے حدود میں رہتے ہوئے مسلمانوں سے مذہبی مباحثہ بھی کر سکتا ہے۔ بلکہ اپنے وہ اعتراضات اور شبہات بھی بیان کر سکتا ہے۔ جو وہ اسلام کے بارے میں رکھتا ہو۔ اس کی کوئی ممانعت ہمیں کہیں نہیں ملی۔ خود نبی ﷺ کے زمانے میں عیسائی، یہودی اور دوسرے لوگ دارالاسلام میں آتے تھے اور حضور ﷺ سے برسر عام مذہبی مباحثہ کرتے تھے۔ مذہبی مباحثہ اس بات کو مستلزم ہے کہ فریق ثانی اپنے مذہب کی خوبیاں بھی بیان کرے اور اسلام پر تنقید بھی کرے۔ اسلام اپنے آپ کو دلائل کے لحاظ سے مفلس نہیں پاتا کہ وہ استدلال کے میدان میں مقابلہ کرنے کے بجائے فوجداری عدالت کے ذریعہ سے مخالف مذہبوں اور مسلکوں کا مقابلہ کرے۔

تحریک کا اٹھنا ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ دنیا میں وہ کون سی ریاست ہے جو اپنی اساس و بنیاد کے خلاف کسی دعوت اور تحریک کو اٹھنے دیا کرتی ہو۔ برطانیہ، امریکہ، روس، فرانس سب اپنے اپنے دستوری نظام کی حفاظت میں ویسے ہی مستعد ہیں جیسے ہم اسلامی ریاست کے بنیادی اصولوں کی حفاظت میں مستعد ہونا چاہتے ہیں۔ بلکہ اس معاملہ میں جو اندھا دھند سختی وہ کرتے ہیں۔ شاید مسلمان اتنی سختی نہ کریں۔ ایک قاعدے اور اصول کو الفاظ میں بیان کرنا اور چیز ہے اور عملاً اس کو نافذ کرنا اور چیز۔ عمل میں لاتے وقت ہر دانشمند آدمی یہ دیکھے گا کہ خطرہ کس نوعیت و مرتبے کا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے میں کتنی سختی یا نرمی برتنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی ریاست کا انتظام بہر حال ڈاک خانے کے چپراسی نہیں کریں گے کہ ہر خط پر آنکھیں بند کر کے ایک ہی مہر لگاتے چلے جائیں۔

جہاد اور اس سے تعلق رکھنے والے مسائل

آگے چل کر عدالت مسئلہ جہاد کو لیتی ہے اور اس سلسلہ میں جہاد کے تصور، دارالاسلام و دارالحرب کے امتیاز، اسیران جنگ کی پوزیشن، غنیمت اور خمس کے مسائل اور غیر مسلم رعایا کے انجام سے تفصیلی بحث کر کے یہ ثابت کرتی ہے کہ علماء کے تصور کی اسلامی ریاست اگر وجود میں آئی تو:

٨٤

صفحہ ٥٢٥

ہوں گے۔

مشتبہ بلکہ قوم و وطن کے غدار قرار پا کر رہیں گے۔

اس بات میں عدالت کے نتائج تحقیق کو ہم علی الترتیب نمبر وار لے کر ان پر تبصرہ کریں گے:

غیر مسلم رعیت، یعنی ذمی، صرف اہل کتاب بن سکتے ہیں۔ بت پرست نہیں بن سکتے۔

(رپورٹ ص ٢٢١) ہمیں نہیں معلوم کہ یہ بات کہاں سے لی گئی ہے۔ فقہ اور تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ عرب کے باہر افغانستان اور ماوراء النہر سے لے کر شمال افریقہ تک کے علاقے خلافت راشدہ کے تحت آئے اور تمام مذاہب کے لوگوں کو ذمی بنایا گیا۔ خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا نہ ہوں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ غیر اہل کتاب ذمی نہیں بنائے جا سکتے تو وہ ہمیں بتائے کہ خلفائے راشدین نے آیا ان ممالک کے غیر اہل کتاب باشندوں کا قتل عام کر دیا تھا یا ذمی اور مسلم کے درمیان رعایا کی کوئی اور قسم ایجاد کی تھی؟

غیر مسلم ملک کے ساتھ ابداً برسر جنگ ہوتی ہے۔ جو ہر وقت دارالحرب بن سکتا ہے اور دارالحرب بن جانے کی صورت میں اس ملک کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اسے چھوڑ کر اپنے مسلمان بھائیوں کے ملک میں آ جائیں۔ (رپورٹ ٢٢١) اس رائے کی بنیاد کیا ہے؟ صرف یہ کہ عدالت نے پوچھا تھا۔ کیا ایک ملک جو دارالاسلام کی سرحد پر ہو اسلامی ریاست کے بالمقابل دارالحرب کی حیثیت میں نہ ہوگا؟ اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے جواب دیا تھا۔ نہیں اگر کوئی معاہدہ نہ ہو تو اسلامی ریاست بالقوہ (Potentially) اس غیر مسلم ملک سے برسر جنگ ہوگی۔ ایک غیر مسلم ملک صرف اس صورت میں دارالحرب ہوتا ہے جب اسلامی ریاست اس کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کر دے۔ اوّل تو اس جواب سے وہ نتیجہ نکالنا ہی حیرت انگیز ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ اگر عدالت کو واقعی اس مسئلے کی تحقیق مطلوب تھی تو جماعت اسلامی ایک شریک کارروائی کی حیثیت سے خود اس تحقیقات میں شریک تھی۔ اس سے اس مسئلے کی تشریح کے لئے لٹریچر مانگا جا سکتا تھا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس مسئلے کو اپنی کتاب ”سود“ حصہ اوّل میں وضاحت کے ساتھ

٨٥

صفحہ ٥٢٦

بیان کیا ہے۔ (سود حصہ اوّل ص ١١٩ تا ١٢٣، ص ١٤٣ تا ١٤٠) اس کو دیکھ کر معلوم کیا جاسکتا تھا کہ مسئلے کی حقیقی نوعیت کیا ہے۔ بالقوۃ برسرِ جنگ ہونے کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ جس ملک سے کسی ریاست کا کوئی معاہدہ نہ ہو اور کسی قسم کے سفارتی تعلقات نہ ہوں۔ اس سے ہر وقت جنگ ہونی ممکن ہے۔ مصلحت اگر مانع نہ ہو اور کوئی چیز ان کے درمیان جنگ میں مانع نہیں ہے۔ کیا یہ بات موجود بین الاقوامی قانون جنگ کے تصور سے کچھ بھی مختلف ہے؟

رہی ہجرت تو وہ صرف اس صورت میں فرض ہوتی ہے جب کہ ایک ملک کے مسلمانوں کے لئے اسلام کے کم سے کم مطالبات کو بھی پورا کرنا دشوار کر دیا گیا ہو اور وہ ہجرت پر قادر ہوں اور ایک دارالاسلام ان کو اپنے ملک میں آجانے کی دعوت دے دے۔ رپورٹ کے مطالعہ سے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ عدالت نے اس مسئلے میں کس بنیاد پر ایک ایسی رائے قائم کر لی۔ جسے سامنے رکھیں تو یہ تصور ہوتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست بنتے ہی کروڑوں مسلمان مہاجرین کا سیلاب ہر طرف سے اس پر ٹوٹ پڑے گا اور ٹڈی دل کی طرح چار دن میں سارے ملک کو چٹ کر جائے گا۔

اللغات اور مختصر انسائیکلو پیڈیا آف اسلام جیسے مآخذ کی طرف رجوع کیا ہے۔ حالانکہ غیاث فارسی کی لغات میں ایک تیسرے درجے کی لغت ہے اور انسائیکلو پیڈیا آف اسلام ان مغربی مستشرقین کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔ جنہوں نے اسلام کے خلاف غلط فہمیاں پھیلانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ اگر عدالت کو اس چیز کی تحقیق کرنی ہی تھی اور فقہ اسلامی کی معتبر کتابوں سے رجوع نہیں کیا جا سکتا تھا تو کم از کم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ”سود“ حصہ اوّل ہی پڑھ لینا مفید ہوتا۔ جس میں مسئلہ سود اور دارالحرب پر کلام کرتے ہوئے دارالحرب اور اس کی قانونی حیثیت پر مفصل بحث کی گئی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ غیاث اور مختصر انسائیکلو پیڈیا کے چند فقروں کو علمی تحقیقات کے لئے کافی سمجھ کر یہ خوفناک نتیجہ ہمارے سامنے لا کر رکھ دیا گیا۔

”اس طرح اگر پاکستان ایک اسلامی ریاست ہو تو ہندوستان سے اس کی جنگ کی صورت میں ہمیں پاکستان کی سرحدوں پر چار کروڑ مسلمانوں کے استقبال کے لئے تیار رہنا چاہئے۔“

(رپورٹ ص ٢٢٢)

رپورٹ کی رو سے گمان گزرتا ہے کہ کہیں ہمارے فاضل ججوں کا خیال یہ تو نہیں کہ اگر پاکستان اسلامی ریاست نہ ہو تو دونوں ملکوں کی لڑائی اطمینان سے ہوتی رہے گی اور ہندوستان کے

٨٦

صفحہ ٥٢٧

مسلمان پھولوں کی سیجوں پر لیٹے رہیں گے اور اب جو کھوکھرا پار سے ہندوستان کی مسلم آبادی بھی چلی آرہی ہے۔ یہ سب غالباً اسی وجہ سے ہے کہ یہاں سات سال سے ایک اسلامی ریاست قائم ہے اور علماء اس کو چلا رہے ہیں۔

کے مضمون ”جہاد“ کا پہلا ہی فقرہ یہ ہے: ”اسلام کو ہتھیاروں کے زور سے پھیلانا عمومیت کے ساتھ مسلمانوں پر ایک مذہبی فرض ہے۔“

اور اس کے چند سطروں بعد یہ عبارت ہمیں ملتی ہے: ”یہ بات مشتبہ ہو سکتی ہے کہ آیا محمدؐ کو خود بھی یہ احساس تھا یا نہیں کہ اس نے جو پوزیشن اختیار کی ہے۔ وہ پوری غیر مومن دنیا کے خلاف ایک ایسی بے محابا جنگ چھیڑ دینے کی متقاضی ہے۔ جو کسی وجہ اشتعال کے بغیر چھیڑی جائے اور اس وقت تک نہ رکے جب تک یہ غیر مومن دنیا اسلام کی تابع نہ ہو جائے۔ احادیث تو اس معاملے میں بالکل واضح ہیں۔ مگر قرآن کی عبارات ہر جگہ یہ بتاتی ہیں کہ جن کافروں کو زیر کرنا ہے وہ خطرناک اور بے وفا (یا نا قابل اعتماد) قسم کے لوگ ہیں۔ تاہم جو خطوط اس نے اپنے گردو پیش کی حکومتوں کو لکھے تھے۔ ان کی داستان یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس طرح کی عالمگیر پوزیشن اس کے ذہن میں چھپی ہوئی تھی اور وہ قطعیت کے ساتھ نشو ونما پا کر اس کی موت کے فوراً ہی بعد ظاہر ہو گئی۔ جب کہ مسلمان فوجیں عرب کے باہر آگے بڑھنی شروع ہو گئیں۔“ (رپورٹ ص ٢٢٢)

غور فرمائیے کہ یہ تصور جہاد ہمارے بدترین دشمنوں کا پیدا کردہ ہے۔ بدقسمتی سے اس کو انہی دشمنان اسلام کی سند سے نقل کرنے کے بعد اس طرح زیر بحث لایا گیا ہے۔ جیسے کہ یہی خود مسلمانوں کا تصور بھی ہے اور اسی کو علماء بھی پیش کر رہے ہیں: ”جو کچھ یہاں بتانا مقصود ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس عقیدۂ جہاد کا نتیجہ کیا ہو گا۔ اگر یہ ہتھیاروں اور فتوحات کے ذریعہ سے اسلام کی اشاعت کا تخیل اپنے اندر رکھتا ہے۔ جیسا کہ مختصر انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کے مضمون سے اور ان دوسری تحریروں سے ظاہر ہو رہا ہے۔ جنہیں ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ جن میں ایک تحریر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی ہے اور دوسری مولانا شبیر احمد عثمانی کی۔ اب ”جارحانہ حملہ“ اور ”نسل کشی“ انسانیت کے خلاف جرائم سمجھے جاتے ہیں۔ جن کی پاداش میں جرمنی اور جاپان کے جنگی سرداروں کو نیورمبرگ اور ٹوکیو کے مقدمات میں مختلف بین الاقوامی عدالتوں نے موت کی سزائیں دیں اور اسلام کی اشاعت بذریعہ اسلحہ و فتوحات میں اور جارحانہ حملے اور نسل کشی میں مشکل ہی سے کوئی

٨٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٨

فرق کیا جاسکتا ہے۔ نسل کشی کے خلاف ایک بین الاقوامی میثاق عنقریب طے ہونے والا ہے اور پاکستان غالباً اس کے دستخط کرنے والوں میں سے ایک ہوگا۔“

(رپورٹ ص ٢٢٤)

اس کے متعلق پہلا سوال یہ ہے کہ اگر عدالت کے پاس مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم کی ایسی تحریریں موجود تھیں۔ جن سے عقیدۂ جہاد کی تشریح ”اشاعت اسلام بذریعہ اسلحہ و فتوحات“ ثابت ہوتی تھی۔ تو کیا زیادہ مناسب یہ نہ ہوتا کہ ان کی تحریروں کی ضروری عبارتیں نقل کردی جاتیں؟ حد یہ کہ رپورٹ ان کی طرف اتنا اشارہ بھی نہیں کرتی کہ وہ کس کتاب یا رسالے میں اس کے کس صفحہ پر ہیں۔ اس کے بجائے عبارت نقل کی جاتی ہے۔ مختصر انسائیکلو پیڈیا آف اسلام سے اور پھر سلسلۂ بحث میں ان دو اشخاص کا نام اس طرح آتا ہے کہ رپورٹ کے طالب علم کا تاثر اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ یہ دونوں اشخاص اس عبارت کے سارے معنی و مفہوم کو عقیدہ قرار دیتے ہیں علمائے اسلام کا ، اس طرح اس بحث کے نتیجے میں ان پر یہ الزام چسپاں ہو جاتا ہے کہ وہ اشاعت اسلام کے لئے جارحانہ حملے اور نسل کشی کے طریقے اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

ہم اس مقام پر ایک بار پھر یہی محسوس کرتے ہیں کہ ایسے ایسے مسائل مہمہ کے میدان میں علمی تحقیق کی جارہی ہو یا عدالتی تحقیق اس سے کئی گنا زیادہ احتیاط کی ضرورت تھی۔ جس سے عدالت نے کام لیا ہوگا۔ وہ حضرات یقیناً اپنے آپ کو ایک بے بس، مظلوم کی پوزیشن میں محسوس کریں گے۔ جن کے بارے میں رپورٹ کے قارئین کی ایک غلط رائے قائم ہو جائے گی اور وہ ان کو جہاد کے ایک ایسے تصور کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے جو دراصل ان کا نہیں ہے۔ اس موقع پر یہ فقرہ کہ : ”اب جارحانہ حملہ اور نسل کشی انسانیت کے خلاف جرائم سمجھے جاتے ہیں۔“ ایک اور پہلو سے غور و توجہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس سے صرف یہی نہیں معلوم ہوتا کہ پہلے دنیا کو ان افعال کی برائی کا کوئی احساس نہ تھا۔ بلکہ مختصر انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کی شہادت کے بعد اس فقرہ کا محل وقوع ایسا ہے کہ قاری کچھ اس قسم کا تاثر لیتا ہے کہ خصوصیت کے ساتھ مسلمان اپنے تصور جہاد کے لازمی تقاضوں کی بنا پر جارحانہ حملوں اور نسل کشی کے ہمیشہ مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ محمد ﷺ اور خلفائے راشدین کی ذہنیت بھی یہی تھی اور اسی کے زیر اثر عرب کے باہر تمام اسلامی فتوحات ہوئیں۔ البتہ اب انگلستان و امریکہ کی رہنمائی میں دنیا کو یہ اخلاقی شعور میسر آیا ہے کہ وہ ان افعال کو جرائم سمجھے۔ خیر ، اخلاقی ترقی کی سعادت جس ذریعہ سے بھی میسر آجائے۔ مبارک باد ہی کے قابل ہے۔ مگر پتہ نہیں کہ اب دنیا کو یہ اخلاقی شعور کس تاریخ سے میسر آیا ہے؟ حیدرآباد کا پولیس

٨٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٢٩

ایکشن جارحانہ حملہ بھی تھا اور نسل کشی بھی۔ مگر ہمیں نہیں معلوم کہ کب کسی بین الاقوامی عدالت یا مجلس نے اس پر کوئی کارروائی کی ۔ کیا صرف یہ بات کہ فاتح نے مفتوح قوم کے لیڈروں کو سیدھے سیدھے انتقامی طریقے سے گولی کا نشانہ بنانے کے بجائے عدالت کا ڈھونگ رچایا تھا۔ اس بات کی دلیل بن سکتی ہے کہ دنیا اب واقعی جارحانہ حملے اور نسل کشی کو جرم سمجھنے لگی ہے؟

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا ابوالحسنات سے کرنے کے بعد جو فیصلہ صادر کیا گیا ہے وہ یہ ہے:

”اسیران جنگ کے متعلق اسلام کا قانون شریعت اسلامی کی ایک اور شاخ ہے جو بین الاقوامی قانون سے ضرور متصادم ہوکر رہے گی۔“

(رپورٹ ص ٢٢٥)

ہم نے رپورٹ کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی بہت کوشش کی کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنی شہادت میں اور اپنے دوسرے بیان کے پیراگراف نمبر ١٢ میں اسیران جنگ کے مسئلے کی جو توضیح کی ہے۔ اس کے بعد یہ نتیجہ کہاں سے اور کیسے نکالا گیا۔ لیکن اس میں ہمیں کامیابی نہیں ہوسکی۔ دونوں جگہ یہ صاف تصریح ہے کہ شریعت اسیران جنگ کے تبادلہ کی نہ صرف اجازت دیتی ہے۔ بلکہ اس کو ترجیح دیتی ہے۔ پھر بین الاقوامی قانون سے تصادم کی وجہ کیا ہے؟ البتہ سوال صرف یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسیران جنگ کے تبادلے کا کوئی انتظام نہ ہو تو اسیران جنگ کا انجام کیا ہوگا؟ اس کے متعلق اسلامی قانون پر مستشرقین کی متعصبانہ تحریروں کی روشنی میں اعتراض کرنے سے پہلے چاہیے کہ ہم لوگ آنکھیں کھول کر اس انجام کو دیکھ لیں جو آج اخلاقی شعور کی اس ترقی کے دور میں جرمنی اور جاپان کے اسیران جنگ کا ہوا ہے اور ہورہا ہے۔ اگر اسیران جنگ کا تبادلہ نہ ہوسکے اور ان کی قوم فدیہ دے کر بھی انہیں نہ چھڑائے اور وہ خود بھی فدیہ ادا کر کے رہائی نہ حاصل کریں تو ان کے ساتھ کیا کیا جانا چاہئے٢؎۔ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں ویسے ہی کیوں نہ چھوڑ دیا جائے۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ ویسے ہی چھوڑ دینا اس صورت میں تو ممکن

٨٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٠

بھی اس سے متعلق ہے۔

و خلافت میں جنگی قیدیوں کے بارے میں اختیار کیا گیا تھا۔ قطع نظر اس سے کہ موجودہ دور میں جنگی قیدیوں کو جبری محنت کے کیمپوں میں رکھ کر جو سلوک ان سے کیا جاتا ہے۔ کیا اس سے وہ انتظام بہتر تھا یا نہیں کہ قیدیوں کو آبادی میں پھیلا دیا جاتا تھا اور اس صورت میں ایک ایک فرد کا ایک ایک فرد سے معاملہ انسانی طریقے پر ہو سکتا تھا۔ آج کی اسلامی ریاست یقیناً اس نئے انتظام کو اختیار کرے گی۔ کیونکہ شرعاً بین الاقوامی امور سمجھوتے اور تبادلے کے اصول ہی پر طے ہوتے ہیں۔ ہے۔ جب کہ انگلستان، امریکہ اور فرانس کی طرح غنیم پر مکمل فتح پا کر ایک فریق اپنے قیدیوں کو رہا کرا چکا ہو۔ مگر جب ایک فریق کے آدمی دوسرے کے پاس قید ہوں۔ تو کیا اس صورت میں بھی مشورہ یہی ہوگا کہ وہ دوسرے فریق کے آدمیوں کو بہر حال رہا کر دے۔ خواہ اس کے اپنے آدمی رہا ہوں یا نہ ہوں؟ کسی رائے کے نتائج کا اندازہ لگائے بغیر رائے قائم کرنا کسی حال میں مناسب نہیں اور اب تو آپ خود ایک آزاد مملکت لئے بیٹھے ہیں۔ اجتماعی اور بین الاقوامی معاملات میں بات وہ کرنی چاہئے جو عملاً چل سکے۔ ورنہ ہماری کی ہوئی باتیں (اور خصوصاً عدالتی آراء) کل خود ہمارے ہی لئے مصیبت بن سکتی ہیں۔ آپ یقین رکھیں جس روز دنیا کو معلوم ہو گیا کہ آپ دشمن کے قیدی بہرحال چھوڑ دیں گے۔ خواہ آپ کے قیدی چھوٹیں یا نہ چھوٹیں اس کے بعد پھر کسی جنگ میں آپ کا کوئی آدمی قید ہونے کے بعد رہائی نہ پا سکے گا اور دو چار لڑائیوں میں آپ کی آدھی آبادی دشمن ملکوں کی اسیر ہو کر رہ جائے گی۔

کی گئی ہے: ”ظاہر بات ہے کہ اگر غنیمت اور خمس کو جہاد کے لازمی ثمرات میں شمار کیا جاتا ہے تو بین الاقوامی سوسائٹی اس کو محض ایک ڈاکہ زنی قرار دے گی۔“

(رپورٹ ص ٢٢٧)

اس رائے کی بنیاد کیا ہے؟ سرے سے کوئی بھی نہیں۔ یہاں کسی گواہ کی شہادت یا کسی غیاث اللغات یا مختصر انسائیکلو پیڈیا تک کا حوالہ نہیں ملتا۔ اب ذرا غنیمت اور خمس کی یہ تشریح ملاحظہ ہو۔ جو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ”سود“ حصہ اوّل میں امام ابو یوسف کی کتاب الخراج ص ١٠ کے حوالہ سے دی ہے: ”غنیمت کا اطلاق صرف ان اموال منقولہ پر ہوتا ہے۔ جو

٩٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣١

جنگی کارروائی (War Like Operation) کے دوران میں غنیم کے لشکروں سے ہاتھ آئیں۔“

(سود حصہ اول ص ١٤١)

اور اسی سے چند سطر اوپر یہ عبارت بھی موجود ہے: ”وہ اموال منقولہ (Moveable Property) جن پر رقبۂ جنگ میں اسلامی فوج اپنے اسلحہ کی طاقت سے قابض ہو۔ اموال غنیمت ہیں۔ ان کا ١/٥ حصہ (یعنی خمس) حکومت کا حق ہے اور ٤/٥ ان لوگوں کا جنہوں نے ان کو لوٹا ہو۔“

سوال یہ ہے کہ اس غنیمت اور موجودہ بین الاقوامی قانون جنگ کے (Spiols of War) میں آخر کیا فرق ہے کہ ایک چیز تو ہو فاتح کا جائز حق اور دوسری چیز ہو محض ڈاکہ زنی؟ فرق اگر ہے تو یہ ہے کہ موجودہ زمانے کی حکومتیں تمام اموال غنیمت پر خود قابض ہو جاتی ہیں اور اس کی وجہ سے سپاہیوں کو چوری کی عادت پڑتی ہے۔ مگر اسلامی قانون یہ رکھا گیا ہے کہ جنگ کے دوران میں غنیم کے لشکر سے جو کچھ ہاتھ آئے اسے کمانڈر کے پاس لا کر رکھ دو۔ کمانڈر اس کا پانچواں حصہ حکومت کے لئے نکال لے گا اور باقی ٤ حصے انہی فوجیوں میں برابر تقسیم کر دے گا۔ جن کی جانفشانی سے یہ اموال ہاتھ آئے ہیں۔ کیا یہ لوٹ اور ڈاکہ زنی ہے؟

ریاستوں کی مسلم رعایا اور خصوصیت کے ساتھ نام لے کر ہندوستان کے مسلمانوں کی پوزیشن زیر بحث لائی گئی ہے۔ عدالت نے ایک ایک شخص سے کھود کھود کر یہ پوچھا تھا کہ: ”کیا ایک مسلمان کو ایک کافر حکومت کی اطاعت کرنی چاہئے؟“ ”کیا ہندوستان کے چار کروڑ مسلمانوں کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنی ریاست کے وفادار شہری ہوں؟ اگر ہندوستان اور پاکستان کی جنگ ہو جائے تو ہندوستان کے مسلمان کا فرض کیا ہوگا؟ اور پھر ان سوالات کے وہی جوابات جو ایک مسلمان کا ضمیر دے سکتا ہے۔ حاصل کر کے نہ صرف ان کو ایک سرکاری رپورٹ میں درج کیا ہے۔ بلکہ ان پر یہ رائے زنی بھی کی ہے: ”جس آئیڈیالوجی پر پاکستان میں ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کی خواہش کی جاتی ہے۔ وہ لازماً ان مسلمانوں کے لئے، جو غیر مسلم حکمرانوں کے ماتحت ممالک میں رہتے ہیں۔ اپنے اندر کچھ مخصوص نتائج رکھتی ہے۔“

(رپورٹ ص ٢٢٧)

”ہمارے سامنے جس آئیڈیالوجی کی وکالت کی گئی ہے۔ اگر ہندوستان کے مسلمان اس کو اختیار کر لیں تو وہ اس ریاست میں کلی طور پر سرکاری ملازمتوں کے استحقاق سے محروم ہو

٩١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٢

جائیں گے۔ بلکہ صرف ہندوستان ہی میں نہیں۔ دوسرے تمام ان ممالک میں بھی وہ ملازمت کے قابل نہ رہیں گے جو غیر مسلم حکومتوں کے ماتحت ہیں۔ ہر جگہ مسلمان ہمیشہ کے لئے مشتبہ ہو جائیں گے اور کہیں بھی ان کو فوج میں نہ لیا جائے گا۔ کیونکہ اس آئیڈیالوجی کی رو سے تو ایک مسلمان ملک اور غیر مسلم ملک کے درمیان جنگ ہو جانے کی صورت میں غیر مسلم ملک کے مسلمان سپاہیوں کو یا تو مسلمانوں کا ساتھ دینا ہو گا یا اپنی ملازمت سے دست بردار ہو جانا پڑے گا۔" (رپورٹ

ص ٢٢٩)

اس ارشاد کو پڑھ کر بڑے غور کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ پاکستان کے جن علماء اور دوسرے با اثر سیاسی آدمیوں کے خیالات پر یہ رائے زنی کی گئی ہے۔ انہوں نے کب اپنے ان خالص نظریاتی خیالات کا اشتہار دیا تھا؟ کب وہ ان کی تبلیغ کرنے اٹھے تھے؟ کب انہوں نے ہندوستان اور بیرونی ممالک کے مسلمانوں یا ان کی حکومتوں کو خطاب کر کے کہا تھا کہ ہماری آئیڈیالوجی کے یہ تقاضے ہیں؟ یہ باتیں تو عدالت نے خود جرح کر کر کے ان سے پوچھی ہیں اور جب انہوں نے مجبوراً اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق اس کا جواب آپ کو عدالت کے کمرے میں دیا تو اس کے بعد اب ان کو ایک تحقیقاتی رپورٹ میں شامل کرنے کی ذمہ داری عدالت پر اور اسے شائع کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے بعد یہ مقام تشویش پیدا ہوا ہے کہ اس سے تو ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر کے غیر مسلم ممالک میں رہنے والوں کی پوزیشن مشتبہ ہو کر رہ جائے گی۔ ان کی پوزیشن مشتبہ کرنے کی خدمت تو سب سے بڑھ کر اس رپورٹ نے انجام دی ہے۔ آخر کس نے آپ کو مجبور کیا تھا کہ آپ گواہوں سے یہ سوالات کریں؟ اور پھر انہیں اور ان کے جوابات کو اور ان سے نکلنے والے نتائج کو عدالتی تحقیقات کی رپورٹ میں درج کرنے کی فی الواقع کیا خاص ضرورت پیش آئی تھی؟ کیا اس تحقیقات کے سلسلے میں واقعی یہ بڑے ضروری اور ناگزیر سوالات تھے؟ کیا واقعی امور تحقیق طلب کے لحاظ سے یہ ناگزیر تھا کہ عدالت ان سوالات کو اٹھائے اور اتنی دور تک خیالات کی کھوج کرید کرے۔ پھر کیا یہ بھی تحقیقات کا کوئی لازمی تقاضا تھا اور قادیانی مسئلہ یا ڈائرکٹ ایکشن کے کسی پہلو کی اس سے وضاحت ہوتی تھی کہ ان خیالات کو رپورٹ کا جز بنایا جائے۔ مزید برآں کیا یہ بھی قابل حذر چیز نہیں رہی تھی کہ ایسی چیزوں کی اشاعت نہ کی جاتی؟ اصل زیر بحث مسئلہ اگر یہ ہوتا کہ پاکستان میں اسلامی ریاست قائم ہونی چاہئے یا نہیں اور یہ کہ اسلامی ریاست کا تصور قابل عمل ہے یا نہیں تو شاید صورت دوسری ہوتی۔ لیکن رپورٹ کا قاری تو اصل زیر تحقیق مسائل کی ضرورت کو سامنے رکھ کر سوچنے پر مجبور ہے۔ لیکن

٩٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٣

اگر زیر تحقیق مسائل کا تقاضا اسلامی ریاست کی بحث پر بھی جا منتہی ہوا ہو تو بھی سیاسی، ریاستی اور بین الاقوامی مسائل میں نظریاتی اور عملی دونوں حیثیتوں سے بے شمار ایسی باتیں پیدا ہوتی ہیں اور سوچی جاسکتی ہیں۔ جن کو علمی نظریات اور عملی پالیسی کی تہ میں تو رہنے دیا جا سکتا ہے۔ لیکن جن کو الم نشرح کرنے کے درپے ہونا کبھی موزوں نہیں قرار دیا جاسکتا۔ خود حکومتیں اپنی پالیسی کے پس منظر میں بہت سے ایسے نظریے رکھتی ہیں۔ جن کا اشتہار نہیں دیا جاسکتا۔ اپنی قومی حکومتوں اور پارٹیوں کے ایسے معاملات جب عدالتوں کے سامنے بھی آتے ہیں تو عدالتیں اپنے گھر کے رازوں کو طشت از بام کرنے میں کبھی بے باک نہیں ہوتیں۔ مثلاً پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسئلہ کشمیر، باہمی معاہدات، مہاجرین، مغویہ عورتوں، تبادلۂ اموال متروکہ، نہری پانی کے جو مسائل کشمکش موجود ہیں۔ ان کے بارے میں دونوں طرف کی حکومتوں، وزارتوں اور سیاسی پارٹیوں کے سامنے ایسے ایسے امکانات، ایسے ایسے لاینحل پہلو ان کو حل کرنے کے لئے ایسے ایسے نقطہ ہائے نظر رہتے ہیں۔ جن کو برسر عام جوں کا توں ہانک دینے پر صداقت و دیانت کا اونچے سے اونچا معیار بھی تقاضا نہیں کرتا۔ ورنہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے ذہن کا ہر گوشہ پردے ہٹا ہٹا کر ایک دوسرے کے سامنے رکھ دیا جائے تو دونوں طرف کی اقلیتوں ہی کی زندگی تنگ نہیں ہو جاتی۔ بلکہ دونوں سلطنتوں کے درمیان ایک لحظہ کے لئے حالت امن قائم نہیں رہ سکتی۔ ہم نہیں سمجھ سکے کہ اس موٹی سی حقیقت کو کس چیز نے اتنے ذمہ دار عدالتی کمیشن کی نگاہ نکتہ رس سے مخفی رکھا۔ پھر افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہو چکنے پر رپورٹ اس چیز کی ساری کی ساری ذمہ داری دوسروں پر ڈال رہی ہے کہ تمہاری ان باتوں کا اثر ہندوستان اور دوسرے ممالک کے مسلمانوں پر یہ اور یہ پڑے گا۔

کون اس پوزیشن میں ہے کہ وہ فاضل ججوں سے پوچھ سکے کہ آپ کے سوالات کے جواب میں علماء نے جو کچھ کہا ہے۔ وہ اگر غلط ہے تو ان سوالات کے بارے میں آپ کے اپنے خیالات کیا ہیں؟ کیا آپ کی رائے یہ ہے کہ اگر ایک غیر مسلم ملک سے پاکستان کی جنگ ہو جائے تو پچاس لاکھ کافروں کے ساتھ ساتھ وہاں کے دس بیس لاکھ مسلمان بھی پاکستان پر چڑھ آئیں اور پاکستانیوں کو مارنے اور ان کے شہروں کو برباد کرنے میں وہی جوش وخروش دکھائیں جو کافر دکھا رہے ہوں ١؟

پھر کیا آپ کے نزدیک حق اور باطل کی تقسیم سیاسی جغرافیے کی سرحدی لکیروں کے لحاظ سے ہوتی ہے کہ پاکستان کا ایک مسلمان جب پاکستان کا دفاع کر رہا ہو تو وہ بھی حق پر ہو اور کسی

٩٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٤

غیر مسلم ملک کا مسلمان جب دوسری طرف سے آ کر اس کے سینے میں سنگین بھونکے تو وہ بھی حق پر ہو؟ اگر یہ آپ کا خیال ہے تو پھر مولانا محمد علی کاندھلوی پر آپ کو کیا اعتراض ہے۔ جن کے متعلق آپ ایک جگہ لکھتے ہیں : ”غالباً ان کروڑوں مسلمانوں کے لئے پھر تو زیادہ سے زیادہ وہی حل قابل عمل ہو گا۔ جو مولانا محمد علی کاندھلوی نے تجویز کیا ہے۔ یعنی اپنی آئیڈیالوجی اور مذہبی خیالات کو جگہ کے لحاظ سے بدل لیا کریں۔ لاہور میں ہوں تو ایک آئیڈیالوجی ہو اور دہلی یا ٹمبکٹو میں ہوں تو دوسری آئیڈیالوجی۔“

(رپورٹ ص ٢٩٩)

عجیب معاملہ ہے کہ جو ہر جگہ ایک ہی آئیڈیالوجی رکھیں۔ ان پر ایک اعتراض اور جو جگہ کے لحاظ سے اسے تبدیل کریں ان پر دوسرا اعتراض۔

ہم کہتے ہیں کہ علماء نے عدالت کی جرح پر جو جوابات دیئے ہیں۔ اگر وہ اس کے وہ جوابات نہ دیتے یا ان کے برعکس جوابات دیتے تو آخر ایک ایک مسلمان کے دل سے قرآن کی وہ

ا۔ اور دونوں کی جنگ ہو بہر حال ”جہاد فی سبیل اللہ“ ہی، کیونکہ مسلمان ”فی سبیل الطاغوت“ لڑنے کو تو حرام سمجھتا ہے۔

آیات کون کھرچ کر مٹا سکتا تھا۔ جن میں کہا گیا ہے کہ : ”انما المؤمنون اخوۃ“ {تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں} اور ”ماکان لمؤمن ان یقتل مؤمنا الا خطأ“ {کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مسلمان کو قتل کرے۔ الا یہ کہ غلطی سے یہ حرکت اس سے سرزد ہو جائے۔} اور ”من یقتل مؤمنا متعمداً فجزاؤہ جہنم خلداً فیہا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعد لہ عذاباً عظیما“ {جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے۔ اس کے لئے جہنم ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اس کے لئے اللہ نے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔} قرآن کی یہی تعلیمات تو ہیں جن کی بدولت مسلمان اپنی ساری بدبختیوں اور نالائقیوں کے باوجود مسلمان کا خون بہانے میں کبھی اتنے دلیر نہ ہو سکے۔ جتنے عیسائی، عیسائیوں کا خون بہانے میں ہوئے ہیں اور اسلامی برادری کا یہی احساس تو تھا جس کی بدولت انتہائی جہالت اور اخلاقی انحطاط کے باوجود انگریز، فرانسیسی، اطالوی اور دوسرے ظالم آقا اپنے مسلمان غلاموں کی فوج کو مسلم ممالک کے خلاف اس زور شور سے بھی استعمال نہ کر سکے۔ جس سے وہ استعمال کرنا چاہتے تھے۔ کیا اب چاہا یہ جاتا ہے کہ یہ ذرا سا بند جو ابھی تک لگا ہوا ہے۔ یہ بھی ٹوٹ جائے۔ تاکہ مسلمان اور مسلمان اس انتہائی جوش وطنیّت کے ساتھ آپس میں لڑیں جو جرمنی اور فرانس کی

٩٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٥

لڑائیوں میں پایا جاتا ہے۔ ایسے معاملات میں دنیا بھر کا روایتی معمول یہ ہے کہ جو نظریاتی وتواریخی عوامل کسی گروہ میں عملاً کام کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔ وہ بجائے خود معلوم رہتے ہیں اور ان میں نہ کسی کو مخاطب کر کے اعلان کیا جاتا ہے اور نہ کسی سے ان کا اقبال کرایا جاتا ہے۔ وقت آنے پر وہ عوامل بہر حال اپنا عمل کرتے ہیں اور ان کے عمل کے مطابق حکومتیں اپنا رویہ تجویز کرتی ہیں۔

اسلامی ریاست میں فنون لطیفہ کا حشر

بحث کو ختم کرتے ہوئے عدالت نے دو مسئلے اور لئے ہیں۔ پہلا مسئلہ فنون لطیفہ کا ہے۔ جن کے بارے میں مولانا عبدالحلیم قاسمی کی شہادت سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے: ”اسلامی ریاست کے دوسرے حوادث میں سے ایک یہ ہے کہ تمام مجسمے، تاش کے کھیل، مصوری، انسانی ہستیوں کے فوٹو، موسیقی، ناچ، مخلوط ایکٹنگ، سینما اور تھیٹر بند کر دینے پڑیں گے ١؎۔“

(رپورٹ ص ٢٣٠)

١؎ اوپر کی دو سطریں اپنے اثر کے لحاظ سے مڈل کلاس کو اسلامی نظام کے خلاف تیار کرنے میں ہر قسم کے عقلی استدلال سے زیادہ کامیاب ثابت ہو سکتی ہیں۔

اس کے متعلق اتنی گذارش کافی ہے کہ شراب اور زنا کے ساتھ ساتھ ان میں سے بھی اکثر چیزیں بند کرنی پڑیں گی اور بعض کی شکل بدلنی پڑے گی۔ ہمیں امید ہے کہ جب وقت آنے پر ہمارے ملک کی پارلیمنٹ یہ قوانین بنائے گی تو ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ہماری عدالتیں اسی طرح سزائیں دیں گی۔ جس طرح انگریزی دور کے قوانین کی خلاف ورزی پر دیتی رہی ہیں۔ یہ تو وہ حوادث ہیں جو پیش آنے سے پہلے چاہے کتنے ہی ہولناک ہوں۔ مگر جب پیش آجاتے ہیں تو ہر ایک کو ان سے موافقت کرنی ہی پڑتی ہے۔

مسلمان سپاہی کے فرائض

دوسرا حادثہ جو اسلامی ریاست میں رونما ہوگا۔ وہ مولانا ابوالحسنات صاحب کی شہادت کے مطابق یہ ہوگا: ”فوجی سپاہی یا پولیس کے سپاہی کو یہ حق ہوگا کہ مذہبی بنیاد پر اپنے افسران بالا کے احکام کی نافرمانی کر دے۔“

(رپورٹ ص ٢٣٠)

مولانا ابوالحسنات کی شہادت جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ حسب ذیل ہے: ”میں

٩٥

صفحہ ٥٣٦

یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ اگر ایک پولیس کے سپاہی کو کوئی ایسا کام کرنے کا حکم دیا جائے۔ جسے ہم اپنے مذہب کے خلاف سمجھتے ہیں تو اس سپاہی کا یہ فرض ہے کہ حکم دینے والے اقتدار کی فرمانبرداری نہ کرے۔ یہی میرا جواب اس صورت میں بھی ہوگا۔ اگر پولیس کی جگہ فوج کا لفظ رکھ دیا جائے۔“

سوال...... آپ نے کل کہا تھا کہ اگر ایک پولیس یا فوج کے سپاہی سے حکام بالا کوئی ایسا کام لینا چاہیں۔ جسے آپ مذہب کے خلاف سمجھتے ہیں تو اس سپاہی کا یہ فرض ہوگا کہ ان کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔ کیا آپ اس سپاہی کو یہ حق دیں گے کہ وہ خود ہی یہ فیصلہ کرے کہ جو حکم اسے حکام بالا کی طرف سے دیا جارہا ہے۔ وہ مذہب کے خلاف ہے؟

جواب...... یقینا۔

سوال...... فرض کیجئے! پاکستان اور ایک دوسرے مسلمان ملک میں جنگ چھڑ جاتی ہے۔ سپاہی یہ خیال کرتا ہے کہ پاکستان حق پر نہیں ہے اور دوسرے ملک کے سپاہی کو گولی مارنا مذہب کے خلاف ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کمانڈنگ آفیسر کا حکم نہ ماننے میں وہ حق بجانب ہوگا؟

ہٹا کر لیں تو) کے دائرے میں ”حلال“ کا میدان بھی خاصا وسیع ہے۔ بلکہ فوٹو اور تصویر اور فلم بھی واقعی تمدنی ضروریات اور اعلیٰ مقاصد کی تعلیم کے سلسلے میں استعمال ہوتے رہیں گے۔

جواب...... اس طرح کی نازک صورتحال میں اسے علماء سے فتویٰ دریافت کرنا چاہئے۔

اس سوال و جواب اور اس سے اخذ کردہ نتیجے پر ہمیں اس سے زیادہ کوئی کلام کرنے کی ضرورت نہیں کہ جس نظام قانون پر ہماری عدالتیں اس وقت تک عمل پیرا ہیں۔ اسی کے ایک امام کی رائے اس مسئلے میں نقل کر دیں۔ ڈائسی اپنی کتاب (Law of The Constitution) میں انگلستان کے (Rule of Law) کی تشریح کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتا ہے کہ جو کچھ والٹیر کے ساتھ فرانس میں ہوا۔ اگر کہیں وہ انگلستان میں ہوا ہوتا تو والٹیر ان تمام افسروں اور اہل کاروں پر مقدمہ چلا دیتا۔ جو اس کے ساتھ ظلم کے مرتکب ہوئے تھے اور عدالت ان سب کو دھر لیتی۔ اس سلسلہ میں وہ کہتا ہے: ”والٹیر کے دشمنوں میں سے کوئی ذمہ داری سے یہ کہہ کر بری نہ ہو سکتا تھا کہ اس نے جو کچھ کیا اپنی سرکاری حیثیت میں کیا یا اپنے افسران بالا کے حکم سے کیا۔“

(رپورٹ ص ٢٠٩)

٩٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٧

” (فرمانروائی قانون کے) اصولوں میں سے اولین یہ ہے کہ ہر غلط کار آدمی انفرادی حیثیت سے ہر اس خلاف قانون یا ناجائز فعل کے لئے جواب دہ ہے۔ جس میں وہ حصہ لیتا ہے اور ایک دوسرے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اسی اصول میں یہ بات بھی آ جاتی ہے کہ اگر اس شخص کا فعل ناجائز ہے تو وہ اپنی صفائی میں یہ عذر پیش نہیں کر سکتا کہ اس نے وہ فعل کسی آقا یا افسر بالا کے حکم سے کیا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ شخصی ذمہ داری کا قاعدہ اس قانونی اصول کی حقیقی بنیاد ہے کہ خود بادشاہ کا حکم بھی ایک ناجائز یا خلاف قانون فعل کے ارتکاب کے لئے وجہ جواز نہیں ہو سکتا۔“

(رپورٹ ص ٢١٠، ٢١١)

”جن ذرائع سے عدالتوں نے دستور کے قانون کو برقرار رکھا ہے۔ وہ یہ ہیں کہ انہوں نے دو قاعدوں کی سخت پابندی کی ہے۔۔۔۔۔۔ دوسرا قاعدہ ”غلط کاروں کی شخصی ذمہ داری“ کا ہے جو اس خیال کی نفی کرتا ہے کہ ایک ماتحت کا کوئی خلاف قانون فعل اس بنا پر حق بجانب ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنے حکام بالا کے حکم سے اس کا ارتکاب کیا ہے۔“

(رپورٹ ص ٢٨٧)

اب ہر صاحب عقل آدمی دیکھ سکتا ہے کہ اگر ایک ایک سپاہی اور ایک ایک اہل کار کا شخصی ذمہ داری کا اصول صحیح ہے تو اس سے خود بخود یہ لازم آتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو اپنی ذاتی سمجھ اور شعور سے کام لے کر یہ دیکھنا چاہئے کہ اقتدار بالا کی طرف سے اسے جو حکم دیا جا رہا ہے۔ وہ جائز ہے یا نہیں، قانون کے مطابق ہے یا نہیں۔ بجا ہے یا بے جا۔ پھر اس کا لازماً یہ حق بھی ہونا چاہئے کہ ایک ناجائز، خلاف قانون اور بیجا حکم کو ماننے سے وہ انکار کر دے۔ یہ ذاتی صوابدید، اور نافرمانی کا حق اگر اسے نہ دیا جائے تو پھر یہ بات سخت ظلم ہوگی کہ ناصواب سمجھتے ہوئے جب وہ مجبوراً اپنے حکام بالا کے احکام کی تعمیل کرے تو ایک عدالت اسے اس فعل کے لئے شخصی طور پر ذمہ دار ٹھہرا کر سزا دے۔ اگر یہ قاعدہ درست تسلیم کر لیا جائے تو مولانا ابوالحسنات کے قول پر اعتراض کرنے کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔

ہم ایک مثال دے کر پوچھتے ہیں۔ بالفرض ایک سپاہی کو اس کا افسر بالا دست یہ ہدایت کرتا ہے کہ اگر عدالت استغاثے کے خلاف فیصلہ کر دے تو فوراً اس کو گولی سے اڑا دینا۔ فرمائیے! اس سپاہی کو اس حکم کی تعمیل کرنی چاہئے یا اطاعت سے انکار کر دینا چاہئے؟ اگر انکار کرنا چاہئے تو بروقت یہ فیصلہ کون کرے گا کہ یہ فعل ناجائز ہے؟ خود سپاہی یا کوئی اور؟

اس سلسلہ میں اتنی گذارش اور ہے کہ دنیا میں ظالموں اور جباروں کو جن چیزوں نے

٩٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٨

کسی نہ کسی حد پر جا کر روک دیا ہے۔ ان میں سے ایک اہم چیز یہ ہے کہ جن سپاہیوں اور دوسرے ملازموں کے ذریعہ سے وہ اپنے احکام نافذ کرتے تھے۔ وہ بالکل مشین کے بنے ہوئے آدمی نہ تھے۔ بہرحال دل، دماغ اور کچھ نہ کچھ ضمیر رکھنے والے انسان تھے اور کوئی نہ کوئی ان کا اپنا مذہب اور اخلاقی نظریہ بھی ہوتا تھا۔ اگر ظالموں کو یہ خوف نہ ہوتا کہ جن لوگوں سے وہ کام لے رہے ہیں۔ ان کا ضمیر کسی حد پر جا کر اطاعت سے منحرف ہو جائے گا تو جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا ہے۔ شاید اس سے ہزار گنا زیادہ کر دکھاتے۔ حکومت کو خالص فرعونیت میں تبدیل ہو جانے سے روکنے والی آخری چیز اگر کوئی ہے تو یہی کہ اس کو ایسے سپاہی اور کارکن نہ مل سکیں۔ جن کے لئے دنیا میں کوئی چیز بھی مقدس اور قابل احترام نہ ہو اور جو پیٹ کی خاطر ہر برے سے برا کام کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ اس طرح کی دو ٹانگوں پر چلنے والی مشینیں جس حکومت کو مل جائیں۔ وہ حکومت نہیں، زمین پر خدا کا عذاب ہے۔

خلاصۂ کلام

اسلام اور اسلامی ریاست کے موضوع پر اس مقالے کو ختم کرتے ہوئے عدالت نے اپنے خیالات کا جو خلاصہ پیش کیا ہے۔ وہ اس کے اپنے الفاظ میں یہ ہے : ”پاکستان اگرچہ اسلامی ریاست نہیں ہے۔ مگر عام آدمی اس کو ایسا ہی سمجھ رہا ہے۔ اس یقین کو مزید تقویت اسلام اور اسلامی ریاست کے لئے اس پیہم چیخ پکار سے پہنچی ہے جو قیام پاکستان کے وقت سے ہر طرف برپا ہے‘۔ اسلامی ریاست کا خیالی معشوق ہر زمانے میں مسلمان کے ذہن پر سوار رہا ہے اور یہ اس شاندار ماضی کی یاد کا نتیجہ ہے۔ جب کہ اسلام دنیا کے سب سے زیادہ غیر متوقع گوشے ...... عرب کے صحراؤں ...... سے ایک طوفان کی طرح اٹھ کر دیکھتے دیکھتے دنیا پر چھا گیا اور اس نے ان خداؤں کو جو آغاز آفرینش سے انسان پر فرمانروائی کر رہے تھے۔ ان کی اونچی گدیوں سے اتار پھینکا، صدیوں کے جمے ہوئے اداروں اور توہمات کی جڑ اکھاڑ دیں اور ان تمام تہذیبوں سے اپنے لئے جگہ خالی کرا لی جو بند غلامی میں جکڑی ہوئی انسانیت پر تعمیر ہوئی تھیں ...... عرب کے بدوؤں کا یہی شاندار کارنامہ، جس کی نظیر دنیا نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ وہ چیز ہے۔ جو آج کے مسلمان کو ماضی کے سپنوں میں محو کئے ہوئے ہے اور وہ اس شوکت و عظمت کے لئے مشتاق ہو رہا ہے۔ جو کبھی اسلام تھا وہ ایک دوراہے پر ماضی کا لبادہ اوڑھے صدیوں کا ثقیل بوجھ پیٹھ پر لادے حیران و مایوس کھڑا ہے اور سخت متأمل ہے کہ کس طرف مڑے۔ اس کے دین کی

٩٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٣٩

وہ تازگی و سادگی جس نے کبھی اس کے ذہن کو عزم اور اعصاب کو زور عمل بخشا تھا۔ اب اس سے چھینی جاچکی ہے۔ وہ نہ اب کچھ فتح کرنے کے ذرائع رکھتا ہے۔ نہ اس کی قابلیت اس میں ہے اور نہ دنیا میں ایسے ملک ہی موجود ہیں۔ جنہیں فتح کیا جائے۔ اس کی سمجھ میں یہ بات کم ہی آتی ہے کہ آج جو طاقتیں اس کے مقابلے میں صف آراء ہیں۔ وہ ان طاقتوں سے بالکل مختلف ہیں۔ جن سے ابتدائی اسلام کو نبرد آزما ہونا پڑا تھا اور انسانی ذہن اس کے اپنے بزرگوں کے دیئے ہوئے سراغوں کی مدد سے ان نتائج تک پہنچ چکا ہے۔ جنہیں سمجھنے تک کی صلاحیت اب اس میں نہیں ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو ایک بے بسی کی حالت میں پاتا ہے اور منتظر ہے کہ کوئی آئے اور تذبذب اور الجھاؤ کی اس دلدل سے اس کو نکالے اور وہ یونہی انتظار میں بیٹھا رہے گا۔ بغیر اس کے کہ اس سے کچھ حاصل ہو۔ اسلام کی ایک ایسی تجدید کے سوا جو اس کے بے جان اجزاء کو جاندار اجزاء سے پوری جرأت کے ساتھ الگ کر ڈالے۔ کوئی چیز نہ تو اسلام ہی کو ایک عالمی تخیل (World Idea) کی حیثیت سے باقی رکھ سکتی ہے اور نہ مسلمان ہی کو اگلے وقتوں کے بے ہنگام آدمی سے بدل کر حال اور مستقبل کا شہری بنا سکتی ہے۔

اور یہ بات بھی اوجھل رہ گئی کہ اس چیخ پکار کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر قائد اعظم پر ہے۔ جنہوں نے ١١ اگست والی تقریر کے علاوہ اور بھی خطابات فرمائے تھے اور بیانات دیئے تھے۔

اس تشخیص مرض اور تجویز علاج کے بعد پاکستان کے لیڈروں کی طرف روئے سخن پھرتا ہے اور ان کو بتایا جاتا ہے کہ یہاں ایسے مختلف خیالات، نظریات اور مقاصد کی کشمکش برپا ہے۔ جن کے درمیان مصالحت ممکن نہیں ہے۔ جو ہنگامے برپا ہوئے ہیں وہ اس کشمکش اور اس سے پیدا ہونے والی الجھنوں کا نتیجہ ہیں اور جب تک واضح طور پر ایک نصب العین اور اس تک پہنچنے کا ایک راستہ متعین نہ ہوجائے۔ یہ کشمکش اور الجھن برقرار رہے گی اور ایسے ہی ہنگامہ خیز خیالات پے در پے پیش آتے رہیں گے: ”متصادم اصول اگر اپنے حال پر چھوڑ دیئے جائیں تو الجھاؤ اور بد نظمی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا اور محض ٹھنڈا کرتی رہنے والی ایک ایجنسی کوئی مفید نتیجہ پیدا نہ کر سکے گی۔ دو فکری نظاموں میں جب تصادم ہو رہا ہو۔ اس وقت اگر ہمارے لیڈر کسی ایک نظام فکر کو انتخاب کر لینے کی قابلیت اور خواہش نہ رکھتے ہوں تو تردد اور تذبذب کی حالت جاری رہے گی۔ جب تک ہم ریتی کی ضرورت ہتھوڑے سے پوری کرتے رہیں گے اور جب تک ہم اسلام کو زبردستی ان حالات و مسائل

٩٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٠

سے عہدہ برا ہونے کے لئے مجبور کرتے رہیں گے۔ جن سے عہدہ برآ ہونے کے لئے وہ بنایا ہی نہیں گیا تھا۔ نامرادی اور مایوسی ہمارے قدم روکتی رہے گی۔ وہ بلند پایہ دین جس کا نام اسلام ہے زندہ رہے گا۔ خواہ ہمارے لیڈر اس کو نافذ کرنے کے لئے موجود نہ ہوں۔ وہ فرد کے اندر زندہ ہے۔ اس کی روح اور اس کی نظر میں خدا اور انسانوں کے ساتھ اس کے تعلقات میں گہوارے سے قبر تک کارفرما ہے اور ہمارے سیاسی آدمیوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر خدائی احکام ایک آدمی کو مسلمان نہیں بنا، یا رکھ سکتے تو ان کے قوانین بھی ایسا نہ کر سکیں گے۔"

(رپورٹ ص٢٣١، ٢٣٢)

سپردشدہ امور تحقیق کی ضرورت سے اسلام، اسلامی نظام اور اسلامی دستور پر جو بحثیں شروع ہوئیں اور پھیلتے پھیلتے رپورٹ کا اہم ترین حصہ بن گئیں۔ وہ جب ان عبارتوں کے مرحلے تک آ جاتی ہیں تو قاری ایسا محسوس کرتا ہے کہ جیسے اس کے سامنے رپورٹ کا اصل مرکزی خیال پوری طرح فاش ہو رہا ہے۔ گویا یہی نکات اصل حاصل تحقیقات محسوس ہونے لگتے ہیں۔ ان بحثوں اور ان کے اس حاصل کلام کو دیکھیں تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ عدالت کی نگاہ میں یہ ہنگامے صرف اس مذہبی، معاشرتی اور معاشی و سیاسی کشمکش کا نتیجہ نہ تھے۔ جو مسلم سوسائٹی کے اندر ایک الگ امت کی تشکیل و توسیع کی کوششوں نے پچھلے پچاس برس سے برپا کر رکھی تھی۔ بلکہ یہ دراصل اس نظریاتی کشمکش کا نتیجہ تھے جو پاکستان میں اسلامی ریاست چاہنے والوں اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے درمیان برپا ہے۔

بالفاظ دیگر ایک آئیڈیالوجی کے حامیوں نے قادیانیوں کے متعلق جب اپنے مطالبات پیش کئے تو دوسری آئیڈیالوجی کے حامیوں نے ان کو اس نظر سے نہیں دیکھا کہ یہ مطالبات قادیانیوں کے متعلق ہیں۔ بلکہ اس نظر سے دیکھا کہ یہ مطالبات ہماری مخالف آئیڈیالوجی کے بھالے کی انی ہیں۔ جس ١؎ کے گھستے ہی پورا بھالا اندر اتر جائے گا۔ اس لئے انہوں نے گربہ کشتن روز اوّل کے اصول پر عمل کر کے وہ کارروائی کی جس کا خاتمہ مارشل لاء پر ہوا۔ عدالت کہتی ہے کہ ایسے ہنگامے مسلسل ہوتے رہیں گے۔ اگر اس کشمکش کا ایک قطعی اور واضح فیصلہ نہ ہوا اور دو میں سے ایک آئیڈیالوجی کا حتمی طور پر انتخاب نہ کر لیا جائے۔

یہ انتخاب کیسے ہو اور کون کرے؟ عدالت کی رائے میں انتخاب کا یہ کام ہمارے لیڈروں کو کرنا چاہئے۔ یعنی پاکستان کے باشندے اپنے ملک کے لئے اور اپنی اجتماعی زندگی کے لئے آئیڈیالوجی کا انتخاب نہیں کریں گے۔ بلکہ لیڈر (اور ان سے مراد بہر حال وہ سیاسی لیڈر ہیں جو اس وقت ملک کی انتظامی حکومت اور قانون ساز و دستور ساز مشینری پر قابض ہیں) انتخاب کر کے

١٠٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤١

باشندوں کو تحفۃً دیں گے۔ اس مقام پر عدالت نے یہ بات نہیں کھولی کہ اگر لیڈروں کی انتخاب کردہ آئیڈیالوجی ”اگلے وقتوں کے اس بے ہنگام آدمی“ کے دھڑ میں نہ اتری جس کا نام مسلمان ہے تو کیا کیا جائے گا؟ مار مار کر اتاری گئی تو پھر وہی کشمکش سارے ہنگاموں سمیت رونما ہو سکتی ہے۔ جس کا حل یہ پیش کیا گیا ہے اور اگر اس آئیڈیالوجی کا نفاذ اس پر موقوف ہے کہ مسلمان حال اور مستقبل کا شہری بننے کے لئے خود بخوشی راضی ہو جائے تو معلوم ہوا کہ آئیڈیالوجی کا اصل انتخاب لیڈر نہیں بلکہ عام مسلمان کرے گا۔

عدالت نے اس پر اکتفاء نہیں کیا ہے کہ ہنگاموں کی جڑ کاٹنے کے لئے بس نظریاتی کشمکش ختم کرنے کا مشورہ دے دیتی اور اس کشمکش کو ختم کرنے کے لئے دو نظریوں اور فکری نظاموں میں سے ایک کے انتخاب کر لینے کا کام لیڈروں کو سونپ کر الگ ہو جاتی۔ بلکہ اس رپورٹ کے مختلف الفاظ اور اسالیب بیان سے یہ رہنمائی بھی صریحاً ملتی ہے کہ ان دو نظریوں میں سے کس کو انتخاب کیا جائے اور کسے رد کر دیا جائے۔ رپورٹ میں اس رہنمائی کا موجود ہونا جس شخص کے بھی علم میں آئے گا۔ وہ بہرحال اس سوال سے دوچار ہوگا کہ کیا یہ بات بھی واقعی اس تحقیقاتی ادارے کی ذمہ داریوں میں شامل تھی کہ وہ ایک آئیڈیالوجی کے مقابلے میں دوسرے آئیڈیالوجی کو اختیار کرنے کی رہنمائی دے؟

خیر اس سوال سے کوئی دوچار ہو یا نہ ہو اور اس کا کوئی اطمینان بخش جواب سامنے آسکے ١۔ یا عدالت کے اپنے استعارے کے مطابق ”چینی کا پتلا سرا“ (رپورٹ

ص ٢٣٣)

یا نہ آسکے۔ رپورٹ میں اسلام کی آئیڈیالوجی بہرحال ایک ایسے رنگ و روغن، ایک ایسے نک سک اور ایک ایسے حلئے کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ جو بھی اس کا چہرہ دیکھے۔ گھن کھا جائے۔ البتہ اس کے ساتھ ساتھ اسلام کے حق میں رپورٹ کے یہ الفاظ ہر مسلمان کے دل میں جذبہ تشکر پیدا کر دینے والے ہوں گے کہ وہ فرد کے اندر زندہ ہے۔ اس کی روح اور اس کی نظر میں، خدا اور انسانوں کے ساتھ اس کے تعلقات میں، گہوارے سے قبر تک کارفرما ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ یہ کہ اجتماعی زندگی سے اسلام، جلاوطن رہ کر انفرادی اور نجی زندگی کا سرمایہ رونق بنا رہے۔

اب ہم ان خیالات کو بجائے خود زیر بحث لانا چاہتے ہیں۔ جو اوپر کی عبارت کے پہلے پیراگراف میں اور دوسرے پیراگراف کے آخری فقروں میں پیش کئے گئے ہیں۔

١٠١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٢

”اسلامی ریاست کا خیالی معشوق“ ہر زمانے میں مسلمان کے ذہن پر کیوں سوار رہا ہے؟ اس کی جو وجہ ہمارے دونوں فاضل ججوں نے بیان کی ہے۔ وہ بالکل ایک خیالی وجہ ہے۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ وجہ قلمبند کرتے وقت ان محترم حضرات کو شاید یاد نہ رہا ہو کہ اس ارشاد سے صرف ٢٥ صفحہ پہلے اسلام کی تشریح کرتے ہوئے وہ خود کیا لکھ چکے ہیں۔ انہوں نے خود اپنی تحقیق سے جو کچھ اسلام کو (علماء کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ اصلی اسلام کو) سمجھا اور بیان کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایک با قاعدہ مذہب کی حیثیت سے وہ پانچ امور اپنے دائرے میں لیتا ہے۔ عقیدہ، مذہبی اعمال و رسوم، اخلاقی کردار کے قواعد، معاشی و تمدنی اور سیاسی ادارات اور قانون۔ (رپورٹ ص ٢٠٥) اس کے بعد وہ خود لکھتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں چونکہ وحی پر مبنی ہیں اور خدا کی طرف سے اس کا رسول انہیں لے کر آیا ہے۔ اس لئے جو بھی خدا اور رسول پر ایمان رکھتا ہو اسے عقیدہ قبول کرنا چاہئے۔ عبادات پر عمل کرنا چاہئے۔ اخلاقی احکام کا اتباع کرنا چاہئے۔ قانون کی پیروی کرنی چاہئے اور ان سیاسی و معاشی اور تمدنی ادارات کو قائم کرنا چاہئے۔ جن کا اسلام تقاضا کرتا ہے۔ خواہ ان میں سے کسی چیز کی وجہ اور مصلحت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ خدا کی حکمت اور اس کے تجویز کردہ نقشے میں شک کرنا کفر ہے۔

(رپورٹ ص ٢٠٦)

آگے چل کر وہ پھر لکھتے ہیں کہ کوئی قاعدہ کسی معاملے کے متعلق جو قرآن یا رسول مقدس کی سنت سے نکلتا ہو۔ ہر مسلمان کے لئے واجب الاطاعت ہے۔ (رپورٹ ص ٢٠٧)

آخر میں اسلامی ریاست کی جوہری خصوصیات بیان کرتے ہوئے وہ پھر بیان کرتے ہیں کہ اسلامی قانون کی بنیاد یہ اصول ہے کہ وحی اور رسول مقدس کی تعلیمات بالکل بے خطا ہیں۔ قرآن اور سنت میں جو قانون پایا جاتا ہے۔ وہ تمام انسانی ساخت کے قوانین سے بالا تر ہے اور دونوں قسم کے قوانین میں جب بھی تصادم ہو، دوسری قسم کے قانون کو پہلی قسم کے قانون کے آگے جھک جانا چاہئے۔ (رپورٹ ص ٢٠٩)

یہ عدالت کی اپنی تصریحات ہیں اور ان کے بعد یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں رہتا کہ: ”اسلامی ریاست کا خیالی معشوق“ کیوں مسلمان کے ذہن پر سوار ہے۔ اس کے سوار ہونے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ پڑا ہوا اس صدیوں پرانے دور کے خواب دیکھ رہا ہے۔ جب عرب کے بدوؤں نے صحرا سے نکل کر سندھ سے اٹلانٹک تک کے علاقے فتح کر لئے تھے اور وہ بیتاب ہے کہ کاش میں بھی اس طرح دنیا بھر کو فتح کر لوں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ عام مسلمان، خواہ کتنا ہی بگڑ چکا ہو، اپنے

١٠٢

صفحہ ٥٢٣

خدا اور اپنے دین کے ساتھ یہ مکاری کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ جو قانون اسے خدا کی طرف سے ملا ہے۔ اس کے صرف شخصی حصے (Personal Law) کو لے لے اور باقی پورے قانون کو نا قابل عمل قرار دے کر پھینک دے اور جن سیاسی و معاشی اور تمدنی ادارات کا اسلام تقاضا کرتا ہے۔ ان کو معطل کر کے اپنی اجتماعی زندگی کے لئے وہ لا دینی (Secular) ادارات پسند کرے۔ جن کی بنیاد ہی عدالت کے اپنے بیان کے مطابق ”آخرت سے بے پروائی پر ہے۔“

(رپورٹ ص ٢٠٥)

ایک عام پڑھا لکھا مسلمان جب قرآن کا ترجمہ پڑھتا ہے اور اس میں عقائد و عبادات کے ساتھ دیوانی و فوجداری قوانین، معاشی و تمدنی احکام، سیاسی معاملات کے متعلق ہدایات، جنگ اور صلح اور بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں قواعد و ضوابط اس کے سامنے آتے ہیں۔ نیز جب وہ نبی ﷺ اور خلفائے راشدین کی سیرتیں پڑھتا ہے اور اس کے سامنے ایک پوری ریاست کا نقشہ عملی اور قولی ہدایات و احکام کے ساتھ آجاتا ہے تو اس کے لئے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں۔ یا تو ان سب کو برحق مانے اور اسے اپنی شخصی اور قومی زندگی کے راستے کی حیثیت سے قبول کرے۔ یا پھر اس پورے نظام کو اس کے عقائد اور عبادات سمیت کھلم کھلا رد کر دے اور سیدھی طرح کہہ دے کہ میں مسلمان نہیں ہوں۔ عام آدمی بدترین اخلاقی کمزوریوں میں مبتلا ہو کر بھی کم از کم اپنے عقیدہ و خیال میں مخلص ضرور ہوتا ہے۔ خدا کو خدا اور رسول کو رسول مان لینے کے بعد پھر وہ اس کے ساتھ منافقانہ چال بازیاں نہیں کر سکتا۔

پھر جس وجہ سے ایک عام مسلمان کا ذہن ترکی اور مغل دور سے لے کر عباسی و اموی دور تک کی پوری تاریخ کو پھلانگ کر بار بار عہد نبوت اور عہد خلافت راشدہ کی طرف جاتا ہے اور وہ ایک بلند ترین مطمح نظر کی حیثیت سے اس پر نگاہ جمائے رکھنے سے کسی طرح باز نہیں آتا۔ وہ یہ نہیں ہے کہ اس دور میں عرب کے بدو صحراؤں سے اٹھ کر روم و ایران پر چھا گئے تھے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دور اسے پوری انسانی تاریخ میں سچی خدا پرستی، اخلاقی طہارت، اجتماعی و انفرادی خیر و صلاح، سیاسی دیانت، معاشرتی انصاف، حقیقی جمہوریت اور انسانی ہمدردی و مساوات کا ایک مثالی دور نظر آتا ہے اور اسے پورا یقین ہے کہ جن اصولوں نے اس دور میں انسان کو بھلائیاں بخشی تھیں۔ وہ اصول آج بھی نہ صرف ہم کو، بلکہ پوری انسانیت کو ان بھلائیوں سے مالا مال کر سکتے ہیں۔ اسی لئے وہ چاہتا ہے کہ اس کی قومی ریاست ان اصولوں پر قائم ہو۔ تاکہ نہ صرف ہم ان کی برکتوں سے متمتع ہوں۔ بلکہ دنیا بھر کے لئے ذریعہ ہدایت بھی بنیں۔ یہی یقین

١٠٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٤

ہے کہ جس نے ”پاکستان کے معنی کیا لا الہ الا اللہ“ کے نعرے پر ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کو مر مٹنے پر آمادہ کر دیا اور یہی یقین ہے جو پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کو اس ریاست کے ساتھ، تمام مایوس کن حالات کے باوجود، دل و جان سے وابستہ کئے ہوئے ہے۔ آپ مسلمان کی ان امیدوں کا خاتمہ کر دیجئے جو وہ اس یقین کی بناء پر اسے ایک اسلامی ریاست دیکھنے کے لئے اپنے دل میں رکھتا ہے۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ جس طرح، میاں انور علی کے بیان کے مطابق، اسلامی ریاست اور اسلامی دستور کی باتیں سن سن کر پاکستان کے ساتھ یہاں کے اعلیٰ افسروں کی دلچسپیاں سرد پڑ گئی ہیں۔ ٹھیک اسی طرح اسلامی ریاست کے مطمح نظر سے مایوس ہو جانے کے بعد عام مسلمانوں کی دلچسپیاں سرد ہو جائیں گی اور کوئی طاقت پھر ان کے جذبات کو کبھی گرما نہ سکے گی۔ بس بڑے بڑے افسر اور اونچے دولت مند طبقوں کے لوگ ہی پھر اس سے دلچسپی رکھنے والے رہ جائیں گے۔

مسلمان اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہے کہ اسلام کے اصول صرف انہی طاقتوں سے کامیاب نبرد آزمائی کر سکتے تھے۔ جو پہلی صدی ہجری میں اس کے خلاف صف آراء تھیں اور آج کی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کی سکت ان میں نہیں ہے۔ وہ اس وقت کی طاقتوں اور آج کی طاقتوں کے جوہری فرق کو سمجھنے میں اتنا سطحی النظر نہیں ہے۔ جتنے ہمارے بالائی طبقہ کے مغرب زدہ اصحاب ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ آج کی طاقتوں کا غلبہ اپنے نظریۂ کائنات اور تصور انسان اور فلسفۂ حیات کی وجہ سے نہیں ہے۔ بلکہ اپنے علم کائنات اور علم اشیاء اور تمدنی زندگی میں اس علم کے عملی استعمال کی وجہ سے ہے۔ ان علوم میں وہ آج کی غالب قوموں کی برتری تسلیم کرتا ہے۔ انہیں ان سے سیکھنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور اسلام کا کوئی عقیدہ یا قاعدہ ان کے حاصل کرنے میں مانع نہیں ہے۔ لیکن اسے یقین ہے کہ اس کا اپنا نظریۂ کائنات اور تصور انسان اور فلسفۂ حیات جس طرح پہلی صدی کے تمام نظریوں اور فلسفوں سے برتر تھا۔ اسی طرح آج کے نظریوں اور فلسفوں سے بھی برتر ہے۔ ان میں سے کوئی چیز اسے دوسروں سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ سائنس کی طاقت سے اگر وہ اپنی مادی کمزوری کا مداوا کر لے اور اپنے فلسفۂ زندگی کا ایک کامیاب مظاہرہ اپنے ریاستی نظام میں کر سکے تو وہ آج بھی دنیا کو مسخر کر سکتا ہے۔ دنیا کی تسخیر کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ایک ملک کی فوجیں دوسرے ملک پر چڑھ دوڑیں۔ کمیونزم کے لئے روس کی فوجیں چین پر نہیں چڑھ دوڑی تھیں۔ چین کو کمیونزم کے لئے خود چین ہی کے اس فعال عنصر نے فتح کیا جو اشتراکی فلسفۂ زندگی کا معتقد ہو چکا تھا۔

١٠٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٥

اسلام کی تجدید یا مرمت جیسی کچھ بھی کوئی کرنا چاہے بڑی خوشی کے ساتھ کرے۔ وہ اگر معقول دلائل کے ساتھ بتائے گا کہ اسلام کے بے جان اجزاء کون کون سے ہیں۔ کیوں بے جان ہیں اور کیسے وہ الگ کئے جاسکتے ہیں۔ نیز اس کے جاندار اجزاء اس کی رائے میں کون سے ہیں اور کس شکل میں وہ ان کو باقی رکھنا چاہتا ہے۔ تو خواہ کتنی ہی جرأت و بے باکی کے ساتھ وہ اس خدمت کو انجام دے۔ اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ لیکن دو باتیں اس کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیں۔ ایک یہ کہ ہم مقدمات کے فیصلے تو عدالتوں سے لے سکتے ہیں۔ مگر نظریات اور فلسفے عدالتی زور کے بل پر قبول نہیں کر سکتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کا ذہن ایک بات کو یا تو قرآن اور حدیث کی دلیل سے مان سکتا ہے۔ یا پھر مستقل عقلی دلائل سے۔ مگر اسلام امریکہ اور انگلستان اور ہندوستان اور بین الاقوامی برادری کے دوسرے پیشواؤں کے سامنے یہ کہہ کر رکھ دیا جائے کہ حضرات اس میں سے جو کچھ آپ کو پسند نہ آئے کاٹ دیجئے۔ جو کچھ پسند آئے باقی رکھئے اور جو کچھ آپ ضروری سمجھیں اضافہ کر دیجئے اور پھر اس اصلاح و ترمیم اور حذف و اضافے سے جو چیز تیار ہو اسے لا کر اسلام کے نام سے پیش کر دیا جائے۔ وہ خواہ ہمارے اعلیٰ افسروں اور اونچے دولتمند طبقے کو کتنا ہی اپیل کرے۔ عام مسلمان کے پاس اس کے لئے ایک حقارت آمیز ٹھوکر کے سوا کوئی دوسری صورت استقبال نہیں ہے۔

رہی یہ بات کہ اگر خدائی احکام ایک آدمی کو مسلمان بنائے رکھ نہیں سکتے تو ریاست کے قوانین بھی ایسا نہ کر سکیں گے۔ یہ ہمارے نزدیک ایک مغالطہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب خدائی احکام نے ایک آدمی کو مسلمان بنا دیا اور پھر اس کے سامنے اسی خدا کے وہ احکام آگئے جو حکومت کی مشینری اور عدالتی نظام کے ذریعہ ہی سے نافذ ہو سکتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ شخص کیا کرے۔ جو مسلمان بن چکا ہے اور اب مسلمان رہنا چاہتا ہے؟ آیا احکام کے اس حصے کو (نعوذ باللہ) ردی کی ٹوکری میں ڈال دے۔ یا اس بات کے لئے زور لگائے کہ اس کی آزاد قومی ریاست ان احکام پر عمل درآمد کرے؟

حصہ سوم

قادیانی مسئلہ کے سلجھانے میں رپورٹ نے کیا حصہ لیا ہے؟

اپنے تبصرے کے اس حصے میں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ وہ اصل قضیہ، جس کی وجہ سے ملک میں اتنے بڑے ہنگاموں تک نوبت پہنچ گئی۔ اس کو سلجھانے میں بھی یہ رپورٹ کچھ مدد دیتی ہے؟ یا

١٠٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٦

اس کو گول مول چھوڑ دیا ہے۔ یا اسے اس رپورٹ نے الٹا اور الجھا کر رکھ دیا ہے؟ اس سلسلے میں رپورٹ کا جائزہ لینے سے پہلے اس حقیقت کو ذہن میں تازہ کر لیجئے جو ابھی ابھی اس تبصرے کے حصہ دوم میں آپ دیکھ آئے ہیں۔ اس حصے کے آخری صفحات میں ہم نے خود اس رپورٹ کی اندرونی شہادت سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس میں سارے قضیے کو محض قادیانی مسلم قضیے کی حیثیت سے دیکھا ہی نہیں گیا۔ بلکہ اسے اس نظریاتی کشمکش کے ایک جز کی حیثیت سے دیکھا گیا ہے۔ جو پاکستان میں اسلامی ریاست چاہنے والوں اور نہ چاہنے والوں کے درمیان برپا ہے اور چونکہ اس کشمکش میں رپورٹ کے استدلال کا رجحان قطعیت ہی کے ساتھ نہیں، شدت کے ساتھ بھی پہلے گروہ کے خلاف ہے۔ اس لئے قادیانی مسلم قضیے کے بارے میں رپورٹ کا انداز قدرتی طور پر اس کے اس رجحان سے متاثر ہوا ہے اور ہونا چاہئے تھا۔ اس بات کو نگاہ میں رکھ کر اب ذرا دیکھئے کہ خود اس رپورٹ کی رو سے قادیانی مسئلے کے بارے میں کیا کیا واقعات اور حقائق عدالت کے سامنے آئے ہیں۔

قادیانی مسلم اختلافات

اولین چیز قادیانی مسلم اختلافات ہیں۔ جن کے بارے میں حسب ذیل باتیں رپورٹ میں یا تو تسلیم کی گئی ہیں۔ یا کم از کم امر واقعہ کے طور پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔

قادیانیوں کے نزدیک کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور اس معاملہ میں انجمن احمدیہ ربوہ کی تازہ تاویلات سے فی الواقع پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

(رپورٹ ص ١٩٩)

قادیانیوں کی تازہ تاویل کے باوجود ان کی سابق پوزیشن برقرار ہے۔ یعنی یہ کہ ایک غیر قادیانی چونکہ کافر ہے۔ اس لئے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جاسکتی۔

(رپورٹ ص ١٩٩)

غیر قادیانیوں کو لڑکی نہ دینا آیا بربنائے مصلحت ہے یا اس بناء پر ہے کہ ان کے نزدیک غیر قادیانی مسلمان عیسائیوں اور یہودیوں کے حکم میں ہیں۔

(رپورٹ ص ١٩٨)

لیکن اس کے متعلق قادیانیوں کے مذہبی لٹریچر سے جو صاف اور صریح حوالے عدالت کے سامنے پیش کئے گئے تھے۔ ان کو کسی جگہ بھی غلط ثابت نہیں کیا گیا ہے۔

١٠٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٧

مقابلے میں اپنی فضیلتیں جتانا اور قادیانیوں کا اپنے اکابر کے لئے وہ اصطلاحات استعمال کرنا جو مسلمان صرف نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ اور امہات المؤمنین کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو ناگوار ہے اور فطرتاً ناگوار ہونا چاہئے۔ (رپورٹ ص ١٩٧)

غیر احمدیوں کے متعلق ان کی دل آزار تلمیحات، بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کے ارادے، مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر کوئٹہ، ١٩٥٢ء تک غیر احمدیوں کو سرنگوں کر دینے کا اعلان اور مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں کو دشمن اور مجرم کہنا۔ یہ سب باتیں مسلمانوں کے لئے بجا طور پر وجہ اشتعال تھیں۔

(رپورٹ ص ٢٦١)

قادیانیت کی تبلیغ کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ (رپورٹ ص ١٩٧، ٢٦٠، ٢٦١)

کی خوشامد کرنا، ”مذہبی آزادی“ کی بناء پر برطانوی حکومت کو رحمت قرار دینا اور اسلامی ممالک میں برطانوی فتوحات پر خوشیاں منانا، مسلمانوں کے لئے ایک اہم وجہ شکایت تھا۔ (رپورٹ

ص ١٩٦)

واقعی ایک اشتعال انگیز مضمون تھا۔ (رپورٹ ص ١٩٧، ١٩٨)

بٹالین کشمیر میں خدمت انجام دے رہی تھی۔ (رپورٹ ص ١٩٨)

١٤؍اگست ١٩٥٢ء والے سرکلر نے ختم کر دیا ہے۔ لیکن حکومت کے سرکلر ہماری آبادی کے مختلف عناصر کی ناجائز کارروائیوں کا سدباب کرنے میں جس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کا حال آج پاکستان کے کسی فرد بشر سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ سب باتیں عدالت کی اپنی رپورٹ میں موجود ہیں اور یہ مانا گیا ہے کہ اس نزاع کی

١٠٧

صفحہ ٥٤٨

عمر نصف صدی سے زیادہ ہو چکی ہے جو ان امور کی وجہ سے مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان برپا ہے۔

(رپورٹ ص ٢٦٠)

اب ایک سوچنے والا ذہن لازماً ایسے نتیجے پر پہنچے گا کہ قادیانی مسلم اختلاف کے یہ عناصر واجزاء محض ایک دینیاتی جھگڑے تک محدود نہیں رہ سکتے تھے۔ بلکہ لامحالہ ان کے اثرات معاشرتی زندگی پر پڑنے چاہئیں تھے۔ مسلم معاشرے کے اندر ایک دوسرا منظم معاشرہ پیدا ہوتا ہے اور مسلسل اپنی جارحانہ تبلیغ سے اپنی توسیع کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی توسیع جیسے جیسے بڑھتی ہے۔ خاندانوں اور برادریوں میں تفریق بھی بڑھتی جاتی ہے۔ ایک ہی کنبے کے افراد میں باہم شادی بیاہ بند ہوتا ہے۔ باپ کی نماز جنازہ بیٹا نہیں پڑھتا اور بھائی کے جنازہ پر بھائی نہیں آتا۔ کیا یہ چیز دینیاتی نزاع کو معاشرتی کشمکش اور تلخی میں تبدیل کئے بغیر رہ سکتی تھی؟ پھر یہ منظم معاشرہ، مسلم معاشرے میں شامل رہتے ہوئے اپنے سیاسی عزائم اور مقاصد اس کے بالکل برعکس رکھتا ہے اور صرف برعکس ہی نہیں رکھتا بلکہ اس پر سیاسی غلبہ حاصل کرنے کے حوصلے بھی کھلم کھلا ظاہر کرتا ہے۔ کیا اس کے بعد یہ نزاع سیاسی کشمکش کی شکل اختیار کرنے سے بچ سکتی تھی؟ پھر اس معاشرے سے تعلق رکھنے والے سرکاری افسر اپنی پوزیشن سے ناجائز فائدے اٹھا کر مسلمانوں کو زک دینے اور قادیانیت کو تقویت پہنچانے کی علانیہ کوششیں کرتے ہیں۔ کیا یہ چیز قادیانی عہدہ داروں کے خلاف جذبات پیدا کرنے کی موجب نہ ہونی چاہئے تھی؟ اور اس سے آگے بڑھ کر یہ لوگ مسلمانوں کو کھلی کھلی دھمکیاں دینے پر اتر آتے ہیں۔ جن کا موجب اشتعال ہونا خود عدالت نے بھی تسلیم کیا ہے۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ مذکورہ بالا اسباب کی وجہ سے فطری طور پر قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان ایک سخت معاشرتی و سیاسی کشمکش کا مواد پوری طرح تیار تھا۔ عدالت کا اپنا اعتراف اس سلسلے میں یہ ہے: ”ہم اس بات پر مطمئن ہیں کہ اگرچہ احمدی ان ہنگاموں کے براہ راست ذمہ دار نہیں ہیں۔ لیکن ان کے طرز عمل نے ان کے خلاف عام بے چینی پیدا کرنے کا ایک موقع فراہم کر دیا۔ اگر ان کے خلاف لوگوں کا جذبہ اس قدر سخت نہ ہوتا تو ہم نہیں سمجھتے کہ احرار اپنے گرد اتنے مختلف الخیال مذہبی گروہوں کو جمع کر لینے میں کامیاب ہو جاتے۔“ (رپورٹ

ص ٢٦١)

مسلمانوں کا عام جذبۂ ناراضی

دوسری بات جو اس رپورٹ کے صفحات میں ایک قطعی ثابت شدہ حیثیت سے ہمارے سامنے آتی ہے۔ یہ ہے کہ یہ نزاع پاکستان بننے سے بہت پہلے قادیانیوں کے خلاف مسلمانوں

١٠٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٤٩

میں ایک عام جذبہ ناراضی پیدا کرچکی تھی اور پاکستان بننے کے بعد یہ ناراضی اس قدر بڑھ چکی تھی کہ (رپورٹ سے حاصل ہونے والے تاثر کے مطابق) احرار جیسی غیرمقبول جماعت جس کے لیڈر پبلک میں منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہے تھے۔ قادیانیوں کے خلاف تحریک اٹھا کر اس ناراضی کی بدولت نئے سرے سے ہر دلعزیز ہو گئے۔ حتیٰ کہ مسلم لیگ کے لیڈروں کو بھی ان کی ہمنوائی کئے بغیر چارہ نہ رہا۔

رپورٹ کے آغاز ہی میں احرار کی تاریخ بیان کرتے ہوئے عدالت ہمیں بتاتی ہے کہ ١٩٣١ء کے کشمیر ایجی ٹیشن کے سلسلے میں احرار اور قادیانیوں کے درمیان اختلاف رونما ہوا اور اس اختلاف کا بدلہ لینے کے لئے احرار نے قادیانی مسلم نزاع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش شروع کی۔

(رپورٹ ص ١١، ١٢)

اس کے بعد پاکستان کے ذمہ دار حکام کی پے درپے تحریرات ہمارے سامنے آتی ہیں جو اس امر کی شہادت دیتی ہیں کہ مسلمانوں میں قادیانیوں کے خلاف جذبات کا کیا عالم تھا۔ جس سے احرار کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملا۔ جون ١٩٥٠ء میں میاں انورعلی، اس وقت کے ڈی آئی جی، سی آئی ڈی ایک طویل نوٹ لکھتے ہیں۔ جس کے یہ فقرے لائق غور ہیں: ”مجلس احرار برصغیر ہند کی تقسیم کے خلاف تھی۔ احرار لیڈروں کو کانگریس کا اعتماد حاصل تھا اور وہ کانگریسی کارکنوں کے ساتھ ہم پیالہ و ہم نوالہ تھے۔ تقسیم کے بعد وہ یکا یک گر گئے۔ ایک زمانے تک وہ پبلک کے غصے سے ڈرتے رہے اور وقتاً فوقتاً ایسے بیانات دیتے رہے جن سے ثابت ہو کہ وہ پاکستان کے وفادار ہیں۔ وہ بالکل اپنی پوزیشن بچانے کی فکر میں لگ گئے تھے اور انہوں نے پناہ گزینوں کے کیمپوں اور دوسرے مقامات پر امدادی خدمت انجام دینی شروع کر دی۔ ان کے ارکان منتشر ہوگئے اور کچھ دیر کے لئے پارٹی ٹوٹ گئی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے لاہور چھوڑ کر مظفر گڑھ کے ایک گاؤں میں جاپناہ لی۔ شیخ حسام الدین نے اعلان کر دیا کہ ان کی سیاسی زندگی ختم ہوگئی اور انہوں نے ہندوستان و پاکستان کے درمیان تجارت کرنے کے لئے مشترک سرمائے کی ایک کمپنی کھول لی...... احرار نے اپنا سارا زور احمدیوں کے خلاف صرف کرنا شروع کیا اور بڑے شرمناک طریقے سے ان پر حملے کرنے لگے۔ جب ذرا ان کا اعتماد بحال ہوا تو سر ظفر اللہ خاں پر حملے شروع ہوئے اور ان کو غدار کہا جانے لگا۔ اب احرار اپنی مدافعت نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ وہ حملہ آور کی حیثیت سے آگے بڑھ رہے ہیں۔“

(رپورٹ ص ١٩، ٢٠)

آگے چل کر اسی نوٹ میں میاں انورعلی پھر لکھتے ہیں: ”پبلک کا حافظہ بھی افسوسناک

١٠٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٠

حد تک کمزور ہے۔ دو سال پہلے تک یہ حال تھا کہ احرار لیڈر مشتبہ اور ناقابل اعتماد سمجھے جاتے تھے۔ آج یہ حال ہے کہ جہاں وہ تقریر کرتے ہیں۔ کثیر التعداد سامعین جمع ہو جاتے ہیں۔ کم ہی لوگ ہیں جو ان کی نیک نیتی میں شک کرتے ہوں یا یہ پوچھنے کی زحمت اٹھاتے ہوں کہ یہ احمدیوں کے خلاف سارا شور کس لئے ہے۔ احرار نے ایک حد تک اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی پوزیشن بحال کر لی ہے اور بہت جلدی وہ ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت سے نکل آئیں گے۔ جس کا مسلم لیگ کے ساتھ ہونا کچھ ضروری نہیں ہے۔...... اگر وہ مخلص ہیں تو ان کو اپنا نظام ختم کر دینا چاہئے اور مسلم لیگی بن جانا چاہئے ١؂“

(رپورٹ ص ٢١)

چند سطر آگے جا کر میاں صاحب مرکزی حکومت کے وزیر داخلہ خواجہ شہاب الدین صاحب کی یہ رائے نقل کرتے ہیں: ”انہوں نے بالکل بجا طور پر یہ کہا ہے کہ اگر احرار پارٹی اور اس کے کارکنوں کے خلاف اس وقت کوئی کارروائی نہ کی گئی تو اس کی مقبولیت بدرجہا زیادہ بڑھ جائے گی اور بعد میں کوئی کارروائی کرنے سے ان کو مرتبۂ شہادت نصیب ہوگا اور عملی مشکلات میں الگ اضافہ ہوگا۔“

(رپورٹ ص ٢٢)

اس زمانے میں پنجاب کے گورنر سردار عبدالرب نشتر اپنے ایک نوٹ میں لکھتے ہیں: ”میں نے ماسٹر تاج الدین سے یہ بھی کہا کہ یقین کیا جاتا ہے اور ایسا سمجھنا کچھ غلط بھی نہیں ہے کہ ختم نبوت کے پردے میں جو کانفرنس احرار کر رہے ہیں۔ وہ دراصل سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے ہے۔ مقصد دراصل مسلمان عوام میں مقبولیت حاصل کرنا ہے جو احرار کی قبل تقسیم کارروائیوں کی وجہ سے فطرتاً ان کے خلاف ہیں۔“

(رپورٹ ص ٢٣)

اس کے بعد خود عدالت اس امر واقعہ کو ریکارڈ کرتی ہے کہ ١٩٥١ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ مگر لیگ کے ٹکٹ پر جتنے قادیانی کھڑے کئے گئے تھے۔ سب ناکام ہو گئے۔

(رپورٹ ص ٢٩)

١؂ یہ فقرہ قابل غور ہے۔ یہ پنجاب مسلم لیگ کا کوئی سیکرٹری نہیں لکھ رہا ہے۔ بلکہ حکومت پنجاب کا ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ایک سرکاری نوٹ میں اظہار خیال کر رہا ہے۔ ایسی متعصبانہ بات لیگ کا کوئی عہدہ دار بھی لکھتا تو افسوسناک ہوتی۔ مگر دنیا کی جمہوری حکومتوں میں شاید ایک پاکستان ہی وہ نرالی حکومت ہے، جس کے افسر برسر اقتدار پارٹی کے کھلے کھلے جانبدار بن گئے ہیں اور اپنی سرکاری تحریرات میں اس جانبداری کے اظہار سے نہیں چوکتے۔ یہاں کی ایڈمنسٹریشن پر اظہار رائے کرتے ہوئے غالباً عدالت کے ذہن سے یہ فقرہ اتر گیا۔ ورنہ اس سے جو خطرناک نتائج نکلتے ہیں وہ قابل ذکر تھے۔

١١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥١

جون ١٩٥١ء میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ کا یہ نوٹ ہمارے سامنے آتا ہے جو انہوں نے احرار کے اشتعال انگیز خطبات کی سرکاری رپورٹ پر لکھا تھا: ”احرار تو بس اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ایک ایسے مسئلے کا سہارا لے کر سیاست میں اپنے لئے جگہ بنائیں جو پاکستان میں عوام کے لئے اپنے اندر نمایاں جاذبیت رکھتا ہے۔“

(رپورٹ ص ٣٠)

پھر اپریل ١٩٥٢ء میں پنجاب کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس خان قربان علی خان کا ایک نوٹ ہمیں ملتا ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ: ”احرار کی نہ کوئی اہمیت ہے نہ ان کا کوئی پروگرام ہے۔ نہ ان کے پیرو کسی بڑی تعداد میں ہیں۔ مگر وہ زور پکڑنے کے لئے کسی وقت کے منتظر ہیں۔ اسی غرض کے لئے وہ مخالف احمدیت جذبات کو بھڑکائے رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ آگ بجھ جائے تو احرار کے پاس پھر کوئی چیز نہیں رہتی جو لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کر سکے۔ بس یہی چیز ان کے لئے امید کا سہارا ہے۔“ ان خیالات کو ثبت کرنے کے بعد خان صاحب اپنی سی آئی ڈی سے پوچھتے ہیں کہ احرار کی طاقت کتنی ہے۔ کس حد تک وہ حکومت کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اگر قادیانیت کے مسئلے کو ایک بنائے نزاع بنا کر ان کے خلاف کارروائی کی جائے تو عوام کا رد عمل کیا ہوگا۔

(رپورٹ ص ٥٠، ٥١)

مئی ١٩٥٢ء میں سی آئی ڈی کی طرف سے خان قربان علی خان کے استفسار کا جواب بھیجا جاتا ہے جس کے یہ فقرے لائق غور ہیں: ”احرار نے پنجاب کے مسلم عوام میں وہ اثرات قریب قریب پھر حاصل کر لئے ہیں جنہیں وہ قیام پاکستان کی مخالفت کر کے کھو چکے تھے۔ یہ اس لئے ممکن ہوا کہ انہوں نے سیاسی حیثیت سے اپنے آپ کو مسلم لیگ میں مدغم کر دیا اور مرزائیت کے خلاف وسیع پیمانے پر مہم شروع کر دی۔ پہلی چیز کی بدولت ان کو برسر اقتدار پارٹی کی حمایت حاصل ہو گئی اور دوسری چیز نے ان کو مسلم عوام میں مقبول بنا دیا۔ بلکہ مسلمان پبلک ہمیشہ ان لوگوں کو پسند کرتی ہے جو اسلام میں نئی نبوت کے سر اٹھانے کی مخالفت کریں...... بدقسمتی سے عام مسلمان پبلک کے رجحانات احمدیوں کے اس قدر خلاف ہو چکے ہیں کہ خود مسلم لیگ کے کارکن بسا اوقات عوام میں اپنے اثر کو قائم رکھنے کے لئے ان عوامی جذبات کا ساتھ دینے پر مجبور ہوتے ہیں ۔“

(رپورٹ ص ٥٢، ٥٣)

اسی مئی ١٩٥٢ء میں ایک اور نوٹ میاں انور علی ڈی آئی جی، سی آئی ڈی لکھتے ہیں۔ جس میں وہ کہتے ہیں: ”احرار لیڈر جو تقسیم کے بعد عوام کے سامنے آتے ہوئے ڈرتے تھے۔ آج ہیرو بن چکے ہیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جو دو سال تک مظفر گڑھ کے ایک دور دراز گاؤں میں

١١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٢

منہ چھپائے بیٹھے رہے تھے اور جلسوں میں تقریر کرنے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا کرتے تھے۔ اب بالعموم سارے صوبے میں تقریریں کرتے پھر رہے ہیں اور اب انہیں اپنی پوزیشن بچانے کی کوئی فکر لاحق نہیں ہے۔“

(رپورٹ ص ٥٦)

جولائی ١٩٥٢ء میں خان قربان علی خان اس وقت کے آئی جی پولیس جو اس رپورٹ کے اسٹیج پر اچھے خاصے حکیم الامت کی حیثیت سے دکھائی دیتے ہیں پھر لکھتے ہیں: ”احرار بجائے خود اتنی طاقت نہیں رکھتے کہ یہ مطالبہ لے کر اٹھ سکتے۔ مگر ان میں کوئی نہ کوئی ہوشیار آدمی ہے جو اس بات کی پیش بینی کر گیا کہ نام نہاد مذہبی جماعتوں میں سے کوئی ایسی بے وقوف نہیں ہے جو ایک ایسے معاملہ میں پیچھے رہ جائے۔ جس کے بارے میں ہر مسلمان قادیانیوں کے خلاف شدید احساسات رکھتا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر مسلمان اس مسئلے پر اٹھ کھڑا ہوگا....... تاہم قیام پاکستان کے بعد یہ وہ سخت ترین مسئلہ ہو گا جس پر لیگ کو اس امید پر چیلنج کیا جائے گا کہ اگر برسر اقتدار حکومت ان مطالبات کو رد کر دے تو مسلمانوں کی اکثریت اس کے خلاف ہو جائے گی۔ اس صورتحال کے رونما ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اگر اس دوران میں حکومت ایسے ذرائع اور طریقے اختیار نہ کرے جو اس شرارت کا مقابلہ کر سکیں اور یہ شرارت اب پورے زور کے ساتھ شروع ہونے کو ہے۔ حکومت اس کے لئے کیا ذرائع اور طریقے تلاش یا استعمال کر سکتی ہے۔ یہ سوچنا اس کا اپنا کام ہے۔ مگر اب ذرا وقت ضائع نہ کرنا چاہئے۔ اب ایک دوڑ شروع ہو چکی ہے اور حکومت کو اب چل پڑنا چاہئے۔ اسے اپنے پاؤں تلے گھاس نہ اگنے دینی چاہئے۔“

(رپورٹ ص ٨٠، ٨١)

یہ تمام شہادتیں جو سرکاری دستاویزوں سے اس رپورٹ میں مسلسل نقل کی گئی ہیں صریح طور پر یہ ثابت کرتی ہیں کہ قادیانی مسئلہ پنجاب کے مسلم عوام میں ایک زندہ مسئلہ تھا۔ اپنے قدرتی اسباب کی بناء پر موجود تھا۔ لوگوں میں بے چینی پیدا کئے ہوئے تھا اور یہ بے چینی اس حد تک پائی جاتی تھی کہ جب اسے لے کر کوئی نہ اٹھا تو لوگ ایک ایسی جماعت کے پیچھے لگ گئے جس کے لیڈر تقسیم کی مخالفت کرنے کے باعث عوام سے منہ چھپاتے پھرتے رہتے تھے اور اس مسئلے کو لے

١١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٣

تصور تک کرنا مشکل ہے کہ دنیا میں کوئی شخص اخلاص کے ساتھ بھی کچھ کر سکتا ہے۔

انور علی دیکھے جاچکے ہیں۔ ایک سرکاری افسر کو یہ فکر لاحق ہے کہ آئندہ انتخابات میں یہ مسئلہ مسلم لیگ کو ہرا نہ دے۔

اٹھنے کے باعث یہ مری ہوئی جماعت پھر سے عوام کی رہنما بن کر کھڑی ہو گئی۔ نہ جانے ہمارے فاضل ججوں کی گہری نگاہ سے یہ بات چھپی ہوئی کیسے رہ گئی کہ ان شہادتوں سے درحقیقت کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ یہ سوچتے وقت قاری کے کانوں میں رپورٹ کے ابتدائی حصہ کے یہ الفاظ گونجنے لگتے ہیں کہ: ”ایک موجود بے چینی سے فائدہ اٹھانے اور خود ایک بے چینی پیدا کر دینے میں بس ایک قدم ہی کا فرق ہے۔“

(رپورٹ ص ١٤)

لیکن قطع نظر اس سے کہ یہ نظریہ بجائے خود صحیح ہے یا نہیں۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایک ملک کے وہ سربراہ کتنے نادان ہیں جو ملک میں عام بے چینی پیدا کر دینے والے ایک مسئلے کو موجود پاتے ہیں۔ اس کے خطرناک امکانات کو اچھی طرح محسوس کرتے ہیں۔ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس سے کوئی چاہے تو کتنا غلط فائدہ اٹھا سکتا ہے اور پھر اسے حل کرنے کی کوئی فکر کرنے کے بجائے قصداً نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔

رائے عامہ کی شدت اور ہمہ گیری

مذکورہ بالا شہادتیں تو صرف اتنا ہی ثابت کرتی ہیں کہ پنجاب کے عوام میں قادیانی مسئلے پر ایک عام بے چینی موجود تھی۔ لیکن اس سے آگے بڑھ کر مزید سرکاری شہادتیں ہمارے سامنے ایسی آتی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس مسئلے پر رائے عامہ اس قدر ہمہ گیر، اس قدر سخت اور اتنی پرزور تھی کہ احرار ایک مدت دراز تک علانیہ خلاف قانون کارروائیاں کرتے رہے۔ مگر حکومت ان پر کوئی گرفت کرنے سے اس لئے ڈرتی رہی کہ قادیانی مسئلے پر کسی مسلمان کے خلاف قدم اٹھانا یا کوئی ایسی کارروائی کرنا جو مسلمانوں کے مقابلے میں قادیانیوں کی پشت پناہی سمجھی جاسکے۔ عام مسلمانوں کے لئے سخت وجہ اشتعال بن جائے گا۔

جنوری ١٩٥٠ء میں بعض احرار لیڈروں کی ”منافرت انگیز تقریروں“ کے متعلق ایک مقدمہ تیار ہوا اور پولیس کی طرف سے ان کے خلاف کارروائی کی تجویز پیش کی گئی۔ اس پر حکومت کے مشیر قانون ملک محمد انور صاحب یہ نوٹ لکھتے ہیں: ”احمدیت کے معاملے میں مسلمانوں کے

١١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ١١٤

لوگوں میں کوئی احساسات موجود نہ ہوں اور جس پر بے چینی پیدا ہونے کے لئے کسی قسم کے واقعی اور فطری اسباب نہ پائے جاتے ہوں۔ اس پر کسی وقت اشتعال انگیز تقریر سے چند آدمیوں کا بھڑک اٹھنا تو ممکن ہے۔ لیکن یہ قطعاً ناممکن ہے کہ لاکھوں اور کروڑوں آدمی کسی کے بھڑکانے سے اس پر بھڑک اٹھیں اور برسوں تک پیہم بھڑکے رہیں۔

جذبات بڑے نازک ہیں اور احمدیوں کے خلاف زہریلی تقریریں کرنے پر اگر احرار کو پکڑا گیا تو یہ چیز ان کو پبلک کی نگاہ میں شہید بنادے گی۔ جس کے وہ درحقیقت مستحق نہیں ہیں۔ اس لئے میں سردست ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کا مشورہ نہ دوں گا۔“

(رپورٹ ص ١٦)

اسی رائے کا اعادہ ایک اور مقدمے کے بارے میں ملک صاحب پھر فروری ١٩٥٠ء میں کرتے ہیں۔ (رپورٹ ص ١٧) اور جون ١٩٥٠ء میں مسٹر فدا حسین چیف سیکرٹری حکومت پنجاب بھی یہی خیال ظاہر کرتے ہیں۔ (رپورٹ ص ١٨) پھر اسی ماہ جون میں ملک محمد انور اور سردار عبدالرب نشتر (اس وقت کے گورنر پنجاب) دونوں اس خیال پر متفق نظر آتے ہیں کہ احمدیوں کے معاملے میں اگر احرار پر ہاتھ ڈالا گیا تو ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو جائے گا۔

(رپورٹ

ص ٢٢)

مئی ١٩٥٢ء میں میاں انور علی، ڈی آئی جی، سی آئی ڈی احرار کی کارروائیوں کے خلاف ایک طویل نوٹ پیش کرتے ہیں اور خان قربان علی خاں آئی جی پولیس اس پر یوں اظہار رائے فرماتے ہیں: ”میں جانتا ہوں کہ یہ فیصلہ کرنا (یعنی احرار کے خلاف کارروائی کا فیصلہ) ایک مشکل کام ہے۔ مگر کسی نہ کسی کو تو یہ کام کرنا ہی پڑے گا۔ مرکزی حکومت اس ذمہ داری میں حصہ لیتی نظر نہیں آتی کہ وہ کسی ایسے معاملہ میں الجھ جائے جو ایک اور مخالف جماعت کھڑی کر دینے کے بعید ترین امکانات بھی رکھتا ہو۔ خصوصاً ایسے مسئلے میں تو وہ اپنے اوپر کوئی ذمہ داری نہ لے گی۔ جو احمدیوں کے مقابلے میں تمام مسلمانوں کا مسئلہ بنایا جاسکتا ہو۔“

(رپورٹ ص ٥٩)

جون ١٩٥٢ء میں حکومت یہ پالیسی بناتی ہے کہ قادیانیوں کے خلاف تقریریں کرنے پر صرف بڑے بڑے احراریوں کو پکڑا جائے اور عام احراری و غیر احراری لوگوں پر ہاتھ نہ ڈالا جائے۔ حکومت پنجاب کے ہوم سیکرٹری صاحب اس پالیسی کی وجہ ایک نیم سرکاری گشتی مراسلے میں یہ بتاتے ہیں: ”اگر ہم اپنا جال وسیع پیمانے پر پھینکتے ہیں...... تو جو کچھ ہم حاصل کریں گے وہ یہ ہوگا کہ عام پبلک نظم و نسق کے خلاف بھڑک اٹھے گی۔“

(رپورٹ ص ٦١)

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 557

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

فتنہ قادیان

جناب چوہدری افضل حقؒ

صفحہ ٥٥٦

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

لوگ بجا طور پر پوچھتے ہیں کہ احرار کو کیا ہو گیا کہ مذہب کی دلدل میں پھنس گئے۔ یہاں پھنس کر کون نکلا ہے جو یہ نکلیں گے؟ مگر یہ کون لوگ ہیں؟ وہی جن کا دل غریبوں کی مصیبتوں سے خون کے آنسو روتا ہے۔ وہ مذہب اسلام سے بھی بیزار ہیں۔ اس لئے کہ اس کی ساری تاریخ شہنشاہیت اور جاگیرداری کی دردناک کہانی ہے۔ کسی کو کیا پڑی کہ وہ شہنشاہیت کے خس و خاشاک کے ڈھیر کی چھان بین کر کے اسلام کی سوئی کو ڈھونڈے تاکہ انسانیت کی چاک دامانی کا رفو کر سکے؟ اس کے پاس کارل مارکس کے سائنٹیفک سوشلزم کا ہتھیار موجود ہے۔ وہ اس کے ذریعے سے امراء اور سرمایہ داروں کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے۔ اسے اسلام کی اتنی لمبی تاریخ میں سے چند سال کے اوراق کو ڈھونڈ کر اپنی زندگی کے پروگرام بنانے کی فرصت کہاں؟ سرمایہ داروں نے ان برسوں کی تاریخ کے واقعات کو سرمایہ داری کے رنگ میں رنگا اور مساوات انسانی کی تحریک جس کو اسلام کہتے ہیں۔ مذہبی لحاظ سے عوام کی تاریخ نہ رہی اور نہ اس میں کوئی انقلابی سپرٹ باقی رہی۔ عامتہ المسلمین، امیروں، جاگیرداروں کے ہاتھ میں موم کی ناک بن کر رہ گئے۔ ہندوستان میں اس وقت بھی وہ سب سے زیادہ مفلوک الحال مگر حال مست ہیں۔ انہیں اپنے حال کو بدلنے کا کوئی احساس نہیں۔ یہ کیوں ہوا؟ اس لئے کہ خود علمائے مذہب انقلابی سپرٹ سے نا آشنا ہیں اور وہ اب تک مذہب کی اموی اور عباسی عقائد کے مطابق تشریح کر رہے ہیں۔

تاہم کسی کی بے خبری یا کسی گروہ کا تعصب، واقعات کو نہیں بدل سکتا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ نئے دور کے انقلابی تھے۔ درانتی اور کلہاڑا تو اب مزدوروں کی نشانی بنا۔ لیکن جس نے سرمایہ داری پر پہلے کلہاڑا چلایا اور قومی امتیاز کے ان ریشوں کو کاٹ کر رکھ دیا جس نے انسان کو انسان سے علیحدہ کر دیا تھا؟ صرف سرمایہ ہی طبقات پیدا نہیں کرتا۔ بلکہ انسانوں میں گروہ بندی کرنے والے اور بھی محرکات ہیں۔ ان سب سے بڑا ذریعہ مختلف نبیوں پر ایمان ہے۔ قومیں خدا پر ایمان کے نزاع پر مختلف نہیں بلکہ مختلف نبیوں پر ایمان لانے کے باعث الگ الگ ہیں۔ پہلے آمدورفت کے وسائل کی کمی کی وجہ سے ہر ملک ایک الگ دنیا تھی۔ الگ الگ پیغمبروں کے ذریعے ہر ملک کی روحانی تربیت ضروری تھی۔ ایک ملک میں بیٹھ کر سب ملکوں میں پیغام نہ پہنچایا جا سکتا تھا۔ محمد رسول اللہ ﷺ پر دین مکمل ہوا۔ آپ نے ”لا نبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کا اعلان کر کے دنیا کو اتحاد کا مژدہ سنایا کہ آئندہ نبیوں کی بنا پر

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٧

قوموں کی تربیت ختم ہوگئی۔ آؤ ایک محکم دین کی طرف آؤ۔ یہ سب کے حالات کے مطابق ہے۔ اسلام تمہارے سارے عوارض کا مکمل نسخہ ہے۔ زمانہ نے دیکھ لیا کہ حضور ﷺ کے بعد بتدریج دور دور کے ملک آمدورفت کے سلسلوں میں آسانیوں کے باعث نزدیک تر ہوتے گئے۔ اب تو دور دراز ملک ایک شہر کے محلوں سے بھی قریب معلوم ہونے لگے ہیں۔ اس لئے ملک ملک کے لئے علیحدہ پیغمبر کی ضرورت نہ رہی تھی۔

اب انسانی دماغ کافی نشوونما پا چکا تھا۔ لوگ اپنا بھلا برا خود سمجھنے لگے۔ اب ایک سچائی پیش کرنا کافی ہے۔ باقی معاملہ لوگوں کی سمجھ پر چھوڑنا کفایت کرتا ہے۔ مذہب کی سچائی اب سمجھ سے بالا نہیں۔ بلکہ تعصب کے باعث اسے قبول کرنے میں دقت ہے۔ دنیا نے دیکھ لیا سرور کائنات ﷺ کے آتے ہی اہل دنیا کی عقل اور علم نے حیرت انگیز ترقی کی۔

محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے معنی یہ تھے کہ اب انسانیت سن شعور کو پہنچ چکی ہے۔ اب کسی سکول ماسٹر کی ضرورت نہیں۔ جو لوگ دنیا کے حالات کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ سچی اور جھوٹی بات میں فرق کر کے صحیح راہ تلاش کر سکتے ہیں۔ اب مکمل سچائی یعنی اسلام ہم تک پہنچ گیا۔ اب کسی نبی کی ضرورت نہ رہی۔ اگر ہم نبوت کا سلسلہ ابھی تک جاری مان لیں تو پھر مختلف نبیوں پر ایمان کے باعث قوموں، ملکوں اور انسانیت میں تقسیم در تقسیم کا عمل جاری رہے گا۔ پہلے تو ملک ملک ایک الگ دنیا تھی۔ الگ الگ نبیوں کی ضرورت تھی۔ اب جب دنیا سمٹ کر ایک کنبہ میں رہتی ہے تو نبوت کے مختلف دعویداروں کا آنا دنیا کو تقسیم بلاضرورت کرنے سے کم نہ تھا۔ رسول کریم ﷺ کا ”لا نبی بعدی“ کا ارشاد دنیا کے لئے رحمت کا پیغام اور انسانیت کے لئے خوشخبری تھی۔

ہندوستان کی سرزمین عجیب ہے۔ قادیان میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ٣٠، ٤٠ برس مسلمانوں کی توجہ تعمیری کاموں کی بجائے اس متنبی کی طرف لگی رہی۔ ایک حصہ کٹ کے الگ ہو گیا۔ انگریزی حکومت کے زیر سایہ جہاں چھوٹے بڑے راجے نواب پرورش پا کر سرکار کے گن گاتے ہیں۔ اسی طرح حکومت کو اعتراض نہ تھا۔ اگر متعدد نبی اور کئی ایک سرکاری ولی پیدا ہو کر ان کے دعا گو بنے رہیں۔ انہیں امور سلطنت میں سہولت درکار تھی۔ مسلمانوں کو قابو میں رکھنے کی تدبیروں میں سے یہ بھی حکومت انگریزی کی کارگر تدبیر تھی کہ روحانی اداروں پر ان کے ہوا خواہ قابض ہوں اور یوں سرکار انگریزی کی وفاداری مسلمانوں کا جزو مذہب

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٨

بن جائے۔ پنجاب اور سندھ میں ہر پیر خانہ سرکاری تعلق داری اور وظیفہ خواری پر پرورش پا رہا ہے۔ یہ تو پیر تھے۔ مگر حکومت کو قادیان کا پیغمبر ہوا خواہی کے لئے مل گیا۔ مسلمان سیاسی اور مذہبی طور پر انگریزی غلامی پر مطمئن ہو گئے۔ مسلمانوں کی موجودہ مدہوشی کی بڑی وجہ انگریز کی یہ کامیاب تدبیر ہے۔ پھر تو ساری اسلامی آبادی حکومت کی منقولہ جائیداد بن کے رہ گئی تھی۔ جہاں سے اٹھائیں جہاں ڈالیں۔ مخالفت کی ایک آواز نکالنا مشکل تھی۔ انگریزی حکومت کی سب سے زیادہ حمایت قادیان کی جماعت کو حاصل تھی۔ یہ تائیدی اتنی زیادہ تھی کہ اکثر سرکاری محکموں میں وہ بہت اثر و رسوخ کے مالک ہو گئے۔ بعض جگہ تو سارے کا سارا ضلع ان کے اثر و رسوخ میں آگیا۔ لوگ حکومت کی تائید حاصل کرنے کے لئے قادیانی کی تائید حاصل کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ محکمہ سی آئی ڈی تو الگ رہا۔ قادیانی، مرزائی حکومت کو تفصیلی خبریں پہنچاتے تھے۔ حکومت وقت کے خلاف آزادی کی ہر آواز کو دبانے کے لئے اس جماعت کے افراد سب سے پیش پیش تھے۔ اسی لئے لوگ قادیانی آواز کو حکومت کی آواز کی صدائے بازگشت سمجھتے تھے اور بے حد خائف تھے۔ یہ لوگ معمولی آئینی ایجی ٹیشن کو بڑھا چڑھا کر سرکار کے دربار میں بیان کرتے تھے۔ انتخابات میں حال یہ تھا کہ ہر امیدوار قادیان کی حمایت حاصل کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ جسے یہ تائید حاصل ہو گئی۔ اسے گویا سرکاری تائید حاصل ہو گئی۔ پس قادیانی تحریک کی مخالفت سیاسی اور مذہبی دونوں وجوہات کی بنا پر تھی۔ جس اسلامی جماعت نے مسلمانوں کو آزاد اور توانا قوم دیکھنے کا ارادہ کیا ہو۔ اسے سب سے پہلے اس جماعت سے ٹکرانا ناگزیر تھا۔ اس جماعت کے اثر و رسوخ کو کم کیے بغیر آزادی کا تصور کرنا ممکن نہ تھا۔ شاید ہماری آئندہ نسلیں قادیانیوں کے خلاف ہماری جدوجہد کی قدرو قیمت کا اندازہ لگانے میں اس طرح کی غلطی کھائیں۔ جس طرح مذہب سے بیزار اور اشتراکیت کا شیدائی کہہ رہا ہے۔ تعجب ہے کہ اقتصادی مساوات کے حامی لوگ صرف ہمارے مذہبی رجحانات کو دیکھتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ احرار سرمایہ داری کے مضبوط قلعے پر حملہ آور ہیں۔

خدا سے انکار بھی مذہب کی شاخ ہے

خدا کا شکر ہے کہ ہندوستان کا مذہب آشنا طبقہ احرار کی قادیان کے خلاف جدوجہد کو استحسان کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہاں ایک طبقہ ہمیں مذہبی دیوانہ اور خود کو فرزانہ قیاس کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مذہب افیون ہے۔ اس سے قوٰی مضمحل ہو جاتے ہیں اور زندگی کے اصل مسائل کو سمجھنے کی

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٥٩

قابلیتیں اور کامیاب جدوجہد کی فرصتیں کم ہوجاتی ہیں۔ مگر مذہب کیا ہے؟ خدا کے متعلق ایک خاص تصور اور عقیدہ۔ کوئی گروہ اس کا اقرار کر کے مذہبی ہے، کوئی انکار کر کے، منکر خدا بھی تو خدا کے متعلق سوچتا ہے۔ وہ خدا کے اقراری کے خلاف ایسے ہی جذبات رکھتا ہے جیسے منکر خدا کے متعلق خدا کو ماننے والے۔ پس نفی واثبات کی عملی دنیا میں بحث فضول ہے۔ کیونکہ ذہنی اعتبار سے دونوں کے خیالات کا مرجع و مرکز خدا ہی ہے۔ سب اسی کے متعلق نفی اور اثبات میں سوچتے ہیں۔ اس لئے ہمیں مذہبی دیوانہ کہنے والے خود بھی اسی طرح خطاب کئے جانے کے مستحق ہیں۔ لیکن عمل کی دنیا میں جو کمزور ہے۔ وہ بے شک اپنے مذہب میں کمزور ہے۔ پس احرار، اسلام کو دنیا و آخرت کی سیدھی راہ سمجھتے ہیں۔ مذہبی دیوانہ ہونا ہمارے لئے کچھ چڑ نہیں۔ بشرطیکہ عمل کی دنیا میں ہم مبارک سپاہی ثابت ہوں۔ اگر ہم کام چور اور بے ہمت ہیں تو بے شک مذہب اسلام کے افیونی ہونے کا ہم ثبوت بہم پہنچا رہے ہیں۔ احرار پختہ عمل مذہب کے دیوانے ہیں۔ وہ ہم جانتے ہیں کہ سرکاری نبی اور سرکاری ولی اس دور میں کیوں پیدا ہو رہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ مسلمانوں میں وہی انتشار اور نئے نئے گروہ پیدا کرنے کا باعث ہوں اور کہیں مسلمانوں کی قوت ایک مرکز پر جمع نہ ہونے پائے۔

نئی نبوت کے دعوے کے ساتھ مسلمانوں کا ایک حصہ مستقل طور پر کٹ کر الگ ہو جاتا ہے۔ مرزائیوں کا کیا حال ہے؟ وہ سب مسلمان کہلانے والوں کو کافر کہتے ہیں اور ہر دم ان کی بیخ کنی کے درپے رہتے ہیں۔ کیونکہ وہ رسول کریم ﷺ پر ایمان لانے کو کافی نہیں سمجھتے۔ جو مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے۔ ان کے لئے وہ مسلمان بھی یہودی اور عیسائی کی طرح ہے۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو قریبی دشمن سمجھتے ہیں۔ جس کو سب سے پہلے نیچا دکھانا وہ اپنی ہستی کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری قیاس کرتے ہیں۔ اگر ان کے مسلمانوں کے ساتھ باہم روابط ہیں تو وہ اس لئے کہ سیاسی طور سے مسلمانوں کا جزو بنے رہنا ان کو بے حد مفید ہے۔ اگر مسلمانوں سے علیحدہ رہیں تو ہندوستان میں انہیں کوئی دو کوڑی کو نہ پوچھے۔ اب وہ اکثر سرکاری محکموں میں نمایاں حیثیتوں میں نظر آتے ہیں۔ مرزائی ہم مسلمانوں سے سیاسی اتحاد رکھنا چاہتے ہیں۔ تاکہ مسلمانوں کی ملازمتوں اور سیاست پر قبضہ رہے اور ان کی جڑ کاٹنے میں بھی آسانی ہو۔ عیسائی گو اہل کتاب ہیں۔ مگر نبی کریم ﷺ پر ایمان نہ لانے کے باعث ہم ان کو مذہبی لحاظ سے مخالف گروہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح مرزائیوں کا ہمارے متعلق قیاس ہے۔

٥

صفحہ ٥٦٠

اس زمانے میں ہر قوم یہ حق سمجھتی ہے کہ اپنے اندر ففتھ کالم سے خبردار رہے اور ان کی سازشوں سے بچے، ان کی میٹھی میٹھی باتوں اور ان کی ہمدردیوں سے دھوکہ نہ کھائے۔ کھلے دشمن کا مقابلہ آسان ہے۔ مگر بغلی گھونسوں کا کوئی علاج نہیں۔ بجز اس کے کہ انسان ہر وقت چوکس رہے۔ ہم مرزائیوں کے بحیثیت انسان مخالف نہیں۔ نہ ان کی عزت و آبرو کے دشمن ہیں۔ البتہ ان کی مضرت سے بچنا اپنا قدرتی حق سمجھتے ہیں۔

مرزائیت میں اگر فاش خامیاں نہ بھی ہوتیں اور وہ غلط دعوؤں کا عبرت انگیز مرقع نہ بھی ہوتی تو بھی نبوت کا دعویٰ بجائے خود اسلام پر ضرب کاری اور مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کا سبب ہے۔ اس دعوے کے ساتھ ہی یہ گروہ مسلمانوں کی کڑی نگرانی کا سزاوار ہو جاتا ہے۔ پس ہم نے دیکھا کہ مرزائی لوگ

ذریعوں سے انہیں مرعوب کرنا ان کا دھندا ہے۔

ٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹ دے گی۔

اکثریت کے ارادے مخفی نہیں ہوتے۔ مگر کمزور اقلیتوں کے لئے جو اکثریت کے خلاف محاذ بنانا چاہیں۔ ضروری ہے کہ وہ اپنے ارادوں کو مخفی رکھیں۔ ان احتمالات کے پیش نظر خیال آتا تھا کہ ان مخالفین اسلام کی نگرانی ضروری ہے۔ قادیان میں مسلمان پر مظالم کی دل خراش داستان متواتر ہمارے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ مرزائی لوگ باہر سے آ کر دھڑا دھڑ وہاں آباد ہو رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ پر ایمان رکھنے اور غریب ہونے کے باعث مسلمانوں پر باہر سے آئے ہوئے سرمایہ دار مرزائی عرصۂ حیات تنگ کر رہے تھے۔ یہ سب کچھ قادیانی خلیفہ کے ایماء پر ہو رہا تھا۔ تمام ہندوستان کے علماء فتویٰ بازی تو کرتے تھے۔ مگر مقابلے کی تاب نہ تھی۔ بٹالہ ضلع گورداسپور میں درد دل رکھنے والے مسلمانوں نے شبان المسلمین نام کی ایک جماعت بنائی۔ علماء کو اکٹھا کرتے رہے۔ سالانہ اجلاس کے اختتام پر قادیان بھی ایک دن گئے۔ ان علماء کا قادیان جانا سرکاری نبوت کے حاملوں کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ دوسرے سال انہوں نے مار پیٹ کی پوری

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦١

تیاری کر لی۔ چنانچہ مرزائی نوجوان بوڑھے علماء پر ٹوٹ پڑے۔ لاٹھیوں کا مینہ برسایا۔ ان کا بند توڑا۔ کس کی رپٹ، کہاں کی رپورٹ؟ تھانہ مرزائیوں کا دجیل تھا۔ داد رسی کی کیا توقع تھی؟ یہ بیچارے جوں توں کر کے بٹالہ پہنچے جو قیامت ان پر گزری تھی اس کی داستان درد لوگوں کو سنائی۔ پھر کئی سال کسی کا حوصلہ نہ ہوا کہ کوئی عالم دین قادیان مارچ کرے۔

احرار کا قادیان میں داخلہ ...... اکتوبر ١٩٣٤ء

جس طرح بے کسی کشمیر کی غریب آبادی کی مصیبتوں کو دیکھ کر فریاد و فغاں کر رہی تھی اور ہم اس کے درد ناک نالوں کو سن کر اٹھے۔ اسی طرح ہم نے قادیان کے تباہ حال اور ستائے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں کی پکار کو سن کر کان کھڑے کئے۔ قادیان کے مرزائی سرمایہ داروں کو یقین تھا کہ زمین کے درد ناک نالے آسمان کے خداوند تک نہیں پہنچتے۔ انہیں دنیا کے خداوندوں کا سہارا تھا اور وہ من مانی کارروائیاں اسی لئے کرتے تھے کہ حکام تک ان کی رسائی تھی۔ لیکن دیکھو یوں معلوم ہوا کہ گویا آسمان کے خداوند نے کہا کہ اے ارباب غرور یہ تمہاری متشددانہ زندگی کی انجیل کے اوراق اب بند ہو جانے چاہئیں۔ پس اس نے جھوٹے مسیحا اور اس کے حواریوں کے مظالم کو روکنے کے لئے ایک خاک نشینوں کی جماعت کے دل میں تحریک کی۔ جس نے چند نوجوان والنٹیروں کو قادیان میں بھیجا۔ تاکہ مسلمانوں کی مساجد میں جا کر نماز ادا کریں۔ لیکن ایسا نہ کرنا کہ کہیں مرزائیوں کی عبادت گاہ میں جا گھسو اور مرزائیوں کو تم پر تشدد کا معقول بہانہ مل جائے۔ لیکن قادیانی مرزائیوں کو مسلمانوں کی مسجد میں آوازۂ اذان کی برداشت کہاں تھی؟ مسلمانوں پر ان کا لاٹھی کا ہاتھ رواں تھا ہی، آئے اور لاٹھی کے جوہر دکھانے لگے۔ بے دردوں نے لاٹھیوں سے احرار والنٹیروں کو اس قدر پیٹا کہ پناہ بخدا۔ بزدل دشمن قابو پا کر ایسے ہی غیر شریفانہ مظاہرے کرتا ہے۔ والنٹیر جان سے بچ گئے۔ مگر مدت تک ہسپتال میں پڑے رہے۔ اس کے بعد احرار نے بٹالہ میں کانفرنس کر کے حکومت اور قادیانی ارباب اقتدار کو للکارا۔ مرزائیوں اور سرکار نے سمجھا کہ احرار کی خاک میں شعلے کہاں۔ پروا تک نہ کی، کسی مرزائی کی گرفتاری عمل میں نہ آئی۔ لیکن اتنا ہوا کہ رپورٹروں نے حکام اور مرزائی صاحبان سے کہہ دیا کہ احرار کی کشمیر کی یلغار کو سامنے رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ گرد میں سوار نکل آئیں۔ احرار جس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ پھر پیچھا نہیں چھوڑتے اور ہموار کر کے دم لیتے ہیں۔ مار کھا کے چپکے بیٹھ جانا شریفوں کا شیوہ نہیں۔ اس لئے جولائی ١٩٣٠ء میں امرتسر میں ٧ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٢

ورکنگ کمیٹی ہوئی۔ فیصلہ ہوا کہ جو ہو سو ہو۔ احرار کا قادیان میں مستقل دفتر کھولنا چاہئے۔ معلوم کیا کہ ہم میں کون ہے۔ جو علم میں پورا اور عمل میں پختہ ہے۔ جو موت کی مطلق پروا نہ کرے اور اللہ کا نام لے کر کفر کے غلبے کو مٹانے کے عزم سے اس جگہ اقامت اختیار کرے اور مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں کی نگرانی کرے؟ خدا نے مولانا عنایت اللہ کو توفیق دی۔ وہ شادی شدہ نہ تھے۔ اس لئے جماعت کو یہ غم نہ تھا کہ ان کی شہادت کے بعد کنبہ کا بوجھ اٹھانا ہے اور بچوں کی پرورش کا سامان کرنا ہے۔

مولانا عنایت اللہ

غرض خطرات کے ہجوم میں مولانا کو دفاع مرزائیت کا کام سپرد کیا گیا۔ دارالکفر میں اسلام کا جھنڈا گاڑنا معمولی سی اولوالعزمی نہیں تھی۔ افسوس مسلمانوں نے دنیا کے لئے زندہ رہنا سیکھ لیا ہے اور ان کے سارے تبلیغی ولولے سرد پڑ گئے ہیں۔ اب جب کہ فتنہ مرزائیت نے سر اٹھا لیا تو انہوں نے مصلحت اختیار کی۔ باوجود یکہ مرزائی مسلمانوں کو صریح کافر کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جنازہ تک پڑھنے کے روادار نہ تھے۔ لیکن لوگ انہیں انگریز کا سمجھ کر منہ نہ آتے تھے۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں نے تو حد کر دی تھی۔ وہ اس خانہ برانداز قوم کا تعاون حاصل کرنے کو حصول ملازمت کا ضروری مرحلہ خیال کرتے تھے۔ بہت ہیں جنہوں نے دنیا حاصل کرنے کے لئے دین کو فروخت کر دیا۔ دین فروشوں کا گروہ ہر زمانے میں موجود رہا ہے۔ قوموں کے زوال میں اس گروہ کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے۔ مرزائی لوگ انسانی فطرت کی اس کمزوری سے پورا فائدہ اٹھاتے رہے۔ ضلع گورداسپور کے سارے حکام ان کا اس وجہ سے پانی بھرتے تھے کہ قادیانی گمراہوں کی رسائی انگریزی سرکار تک ہے۔ ضلع کے حکام کے ذریعہ عوام کو مرعوب کرنا، سرکار کا وفادار فریق بتا کر تعلیم یافتہ لوگوں کو ملازمتوں کے سبز باغ دکھانا، ان کا کام تھا۔ انگریزی سلطنت کی مضبوطی کو دیکھ کر اور سرکار سے مرزائیوں کا گٹھ جوڑ دیکھ کر کسی تبلیغی جماعت کا حوصلہ نہ تھا کہ وہ خم ٹھونک کر میدان مقابلہ میں نکلتی۔ اللہ نے احرار کو توفیق دی کہ وہ حق کا علم لے کر کفر کے مقابلے میں نکلے۔ مرزائی متعدد قتل کر چکے تھے۔ قادیان میں انہیں کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ مولانا عنایت اللہ کو دفتر لے دیا گیا۔ قادیان میں احرار کا جھنڈا لہرانے لگا۔ سرخ جھنڈے کو دیکھ کر مرزائی روسیاہ ہو گئے۔ آہ ان کے سینوں کو توڑتی نکل گئی۔ یہ ان کی آرزوؤں کی پامالی کا دن تھا۔ مرزائیوں نے اپنی امیدوں کا جنازہ

٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٣

نکلتے دیکھا تو سر پیٹنے لگے۔ سرکار کی دہلیز پر سر دھر کر پکارے۔ حضور، قادیان مرزائیوں کی مقدس جگہ ہے۔ احرار کے وجود سے یہ سرزمین پاک کر دی جائے۔ جب مرزائیت نصرانیت کا آسرا ڈھونڈھنے نکلی تو ہم نصرانیوں اور قادیانیوں کے اتحاد سے ڈرے ضرور۔ مگر خدا کو حامی و ناصر سمجھ کر اس کے تدارک میں لگ گئے۔ ڈرنا اور ہمت ہار دینا عیب ہے۔ ڈرنا اور پہلے سے زیادہ چوکنے ہو کر مقابلہ کرنا بڑی خوبی ہے۔ بساط سیاست پر نرد کو بڑھا کر اس کو تنہا چھوڑنا غلطی ہوتی ہے۔ ہم نے اوّل ان احباب کی فہرست تیار کر لی جو مولانا عنایت اللہ کی شہادت کے بعد یکے بعد دیگرے یہ سعادت حاصل کرنے کے لئے ٢٤ گھنٹے کے اندر قادیان پہنچ جائیں۔ کیونکہ مرزائیوں نے قادیان کو قانونی دسترس سے پرے ایک دنیا بنا رکھا تھا۔ جہاں مسلمانوں ، ہندوؤں اور سکھوں پر بلا خطا مظالم توڑے جاتے تھے۔ قتل ہوتے تھے۔ مگر مقدمات عدالت تک نہ جاسکتے تھے۔ دوسرے ہم نے فوراً مولوی عنایت اللہ کے نام قادیان میں مکان خرید دیا تا کہ مرزائیوں اور حکام کا یہ عذر بھی جاتا رہے کہ مولوی صاحب موصوف ایک اجنبی ہیں اور ان کا قادیان سے کوئی تعلق نہیں۔ تیسرے قادیان کی تقدیس کے دعوے کو باطل کرنے کے لئے ہم نے ”احرار تبلیغ کانفرنس“ قادیان کا اعلان کیا۔ اس پر تو گویا قادیانی ایوان میں زلزلہ آ گیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی مرزائی سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے اور سر حکام کے پاؤں پر رکھ دیا کہ تمہاری خیر ہو۔ ہماری خبر لو کہ خانہ خراب ہوا جاتا ہے۔ ہم سے کہا گیا کہ کانفرنس سے باز رہو۔ قادیان میں مرزائیوں کی اکثریت ہے۔ اقلیت کا حق نہیں کہ ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے۔ ہم نے حکام کو جواب دیا۔ سوائے قادیان کے مرزائیوں کی اکثریت کہاں ہے؟ سوائے قادیان کے سب جگہ ان کی تبلیغ بند کر دی جائے۔ اس جواب معقول سے وہ لاجواب ہو گئے۔ مگر رخنہ اندازیوں میں برابر مصروف رہے۔ مگر اٹھایا ہوا قدم واپس نہ ہو سکتا تھا۔ حکومت نے سراسر نا انصافی سے بچنے کے لئے کہا کہ کانفرنس کرو۔ لیکن مسلح ہو کر قادیان میں داخل نہ ہو۔ اس میں ہمیں عذر کیا تھا؟ کانفرنس کی کامیابی نے دوست اور دشمن کو حیران کر دیا۔ مرزائی تو جل گئے اور جلدی جلدی حکام کے پاس پہنچے کہ لو سرکار! بخاری نے دل کا بخار نکالا۔ بڑے مرزا قادیانی کی توہین کی۔ چھوٹے مرزا کے الگ بخیے ادھیڑے۔ اگر اب مدد نہ کی تو کب کام آؤ گے؟ سرکار نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ بخاری صاحب کو گرفتار کر کے عدالت میں لا کھڑا کیا۔

٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٤

خدا کی حکمت گناہ گاروں کی عقل پر مسکراتی ہے۔ مرزائی تو احرار کو مرعوب کرنے کے لئے عطاء اللہ شاہ صاحب پر مقدمہ چلا رہے تھے۔ لیکن قدرت مرزائیت کے ڈھول کا پول کھولنے کے لئے بے تاب تھی۔ خدا کی مہربانی سے مرزائیت کے خلاف وہ ثبوت بہم پہنچے کہ کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ ہم میں ایسے ثبوت مہیا کرنے کی صلاحیت ہے۔ ہم نے اس مقدمہ میں مرزائیت کے مذہب و اعتقاد پر بحث نہیں کی۔ بلکہ مرزائیت کے ان اعمال کو پیش کیا۔ جس سے ابتدائی عدالت بھی متاثر ہوئی۔ اگرچہ اس نے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو چھ ماہ کی سزا دے دی۔

تاہم سننے والی پبلک پر گہرا اثر ہوا۔ سب کو یقین تھا کہ شہادت صفائی ایسی مضبوط ہے کہ یہ سزا بحال نہیں رہ سکتی۔ لیکن مرزائی ہیں کہ شاہ صاحب کی سزایابی پر پھولے نہ سماتے تھے۔ ان کے گھر میں گھی کے چراغ جلائے گئے۔ لیکن سیشن جج مسٹر کھوسلہ نے مرزائیوں کی خوشیوں کو اپنے فیصلہ اپیل میں ماتم سے بدل دیا۔ اس نے وہ تاریخی فیصلہ لکھا۔ جس سے اسے شہرت دوام حاصل ہوگئی۔ اس فیصلہ کا ہر حرف مرزائیت کی رگ جان کے لئے نشتر ہے۔ اس فیصلہ میں مسٹر کھوسلہ نے چند سطروں میں مرزائیت کی ساری اخلاقی تاریخ لکھ ڈالی۔ اس کے فیصلے کا ہر لفظ دریائے معانی ہے۔ اس کی ہر سطر مرزائیت کی سیاہ کاریوں اور ریا کاریوں کی پوری تفسیر ہے۔ مسٹر کھوسلہ کے قلم کی سیاہی مرزائیت کے لئے قدرت کا انتقام بن کر کاغذ پر پھیلی اور مرزائیت کے چہرے پر نہ مٹنے والے داغ چھوڑ گئی۔ ہرچند انہوں نے ہائی کورٹ میں سر سپرو جیسے مقنن کی معرفت چارہ جوئی کی۔ تاکہ مسٹر کھوسلہ کے فیصلے کا داغ دھویا جائے۔ مگر انہیں اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ مرزائی آج تک یہی سمجھتے تھے کہ قدرت ظلم ناروا کا انتقام لینے سے قاصر ہے۔ مگر اس فیصلہ نے ثابت کر دیا کہ خدا کے حضور میں دیر ہے۔ اندھیر نہیں۔

اس فیصلہ کو تاریخ احرار میں خاص اہمیت حاصل رہے گی۔ دراصل یہ فیصلہ مرزائیت کی موت ثابت ہوا۔ جس غیر جانبدار نے اس کو پڑھا وہ مرزائیت کے نقش و نگار کو دیکھ کر اس سے نفرت کرنے لگا۔ علامہ سر اقبال اور مرزا سر ظفر علی کے بیانات نے بھی تعلیم یافتہ طبقے کے رجحان خیال کو بدل دیا۔ الیاس برنی نے ”قادیانی مذہب“ لکھ کر مرزائیت کے مقابلہ میں اسلام کی بہت بڑی خدمت انجام دی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ مسٹر کھوسلہ نے جو مرزائیت کے قلعے پر بم پھینکا۔ اس نے کفر کے اس قلعے کی بنیادیں ہلا دیں۔ ان قلعہ بندیوں کو مسمار کرنے میں آسانی ہوگئی۔ جہاں چار مرزائی بیٹھے ہوں۔ ان میں مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ پھینک دو۔ یہ بم پھینکنے کے برابر ہوگا۔ وہ سراسیمہ

١٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٥

ہو کر بھاگ جائیں گے۔

مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ

مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے تاریخی مقدمہ میں ان کی اپیل پر مسٹر کھوسلہ سیشن جج گورداسپور نے بزبان انگریزی جو فیصلہ صادر کیا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔

مرافعہ گزار سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو تعزیرات ہند کی دفعہ ١٥٣۔الف کے ماتحت مجرم قرار دیتے ہوئے۔ اس تقریر کی پاداش میں جو انہوں نے ٢١؍اکتوبر ١٩٣٤ء کو تبلیغ کانفرنس قادیان کے موقعہ پر کی۔ چھ ماہ کی قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔

مرزا اور مرزائیت

مرافعہ گزار کے خلاف جو الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس پر غور وخوض کرنے کے قبل چند ایسے حقائق و واقعات بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ جن کا تعلق امور زیر بحث سے ہے۔ آج سے تقریباً پچاس سال قبل قادیان کے ایک باشندے مسمیٰ غلام احمد نے دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی اس نے اسقف اعظم کی حیثیت بھی اختیار کر لی اور ایک نئے فرقہ کی بنا ڈالی۔ جس کے ارکان اگرچہ مسلمان ہونے کے مدعی تھے۔ لیکن ان کے بعض عقائد واصول عام عقائد اسلامی سے بالکل متبائن تھے۔ اس فرقہ میں شامل ہونے والے لوگ قادیانی یا مرزائی یا احمدی کہلاتے ہیں اور ان کا مابہ الامتیاز یہ ہے کہ یہ لوگ فرقہ مرزائیہ کے بانی (مرزا غلام احمد قادیانی) کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔

قادیانیت کی تاریخ

بتدریج یہ تحریک ترقی کرنے لگی اور اس کے مقلدین کی تعداد چند ہزار تک پہنچ گئی۔ مسلمانوں کی طرف سے مخالفت ہونا ضروری تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کی اکثریت نے مرزا قادیانی کے دعویٰ بلند بانگ خصوصاً اس کے دعویٰ تفوق دینی پر بہت ناک منہ چڑھایا اور مرزا قادیانی نے ان لوگوں پر کفر کا جو الزام لگایا۔ اس کے جواب میں ان لوگوں نے بھی سخت لہجہ اختیار کیا۔ مگر قادیانی حصار میں رہنے والے اس بیرونی تنقید سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے اور اپنے مستقر یعنی قادیان میں مزے سے ڈٹے رہے۔

١١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٦

قادیانیوں کا تمرد اور شورہ پشتی

قادیانی مقابلتاً متمول تھے۔ اس حالت نے ان میں متمردانہ غرور پیدا کر دیا۔ انہوں نے اپنے دلائل دوسروں سے منوانے اور اپنی جماعت کو ترقی دینے کے لئے ایسے حربوں کا استعمال شروع کیا۔ جنہیں ناپسندیدہ کہا جائے گا۔ جن لوگوں نے قادیانیوں کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا۔ انہیں مقاطعہ قادیان سے اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی مکروہ تر مصائب کی دھمکیاں دے کر دہشت انگیزی کی فضا پیدا کی۔ بلکہ بسااوقات انہوں نے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا کر اپنی جماعت کے استحکام کی کوشش کی۔ قادیان میں رضاکاروں کا ایک دستہ (والنٹیر کور) مرتب ہوا اور اس کی ترتیب کا مقصد غالباً یہ تھا کہ قادیان میں ”لمن الملک الیوم“ کا نعرہ بلند کرنے کے لئے طاقت پیدا ہو جائے۔ انہوں نے عدالتی اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ دیوانی اور فوجداری مقدمات کی سماعت کی۔ دیوانی مقدمات میں ڈگریاں صادر کیں اور ان کی تعمیل کرائی گئی۔ کئی اشخاص کو قادیان سے نکالا گیا۔ یہ قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ بلکہ قادیانیوں کے خلاف کھلے طور پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے مکانوں کو تباہ کیا۔ جلایا اور قتل تک کے مرتکب ہوئے۔ اس خیال سے کہ کہیں ان الزامات کو احرار کے تخیل ہی کا نتیجہ نہ سمجھ لیا جائے۔ میں چند ایسی مثالیں بیان کر دینا چاہتا ہوں۔ جو مقدمہ کی مسل میں درج ہیں۔

سزائے اخراج

کم از کم دو اشخاص کو قادیان سے اخراج کی سزا دی گئی۔ اس لئے کہ ان کے عقائد مرزا قادیانی کے عقائد سے متفاوت تھے۔ وہ اشخاص حبیب الرحمن گواہ صفائی نمبر ٢٨ اور مسمی اسماعیل ہیں۔ مسل میں ایک چٹھی (ڈی۔ زیڈ ٣٣) موجود ہے۔ جو موجودہ مرزا (مرزا محمود قادیانی) کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور جس میں یہ حکم درج ہے کہ حبیب الرحمن (گواہ نمبر ٢٨) کو قادیان میں آنے کی اجازت نہیں۔ مرزا بشیر الدین گواہ صفائی نمبر ٣٧ نے اس چٹھی کو تسلیم کر لیا ہے۔ کئی اور گواہوں نے (قادیانیوں کے) تشدد و ظلم کی عجیب و غریب داستانیں بیان کی ہیں۔ بھگت سنگھ گواہ صفائی نے بیان کیا ہے کہ قادیانیوں نے اس پر حملہ کیا۔ ایک شخص مسمی غریب شاہ کو قادیانیوں نے زدوکوب کیا۔ لیکن جب اس نے عدالت میں استغاثہ کرنا چاہا تو کوئی اس کی شہادت

١٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٧

دینے کے لئے سامنے نہ آیا۔ قادیانی ججوں کے فیصلہ کردہ مقدمات کی مسلیں پیش کی گئی ہیں۔ (جو شامل مسل ہذا ہیں) مرزا بشیر الدین محمود نے تسلیم کیا ہے کہ قادیان میں عدالتی اختیارات استعمال ہوتے ہیں اور میری عدالت سب سے آخری عدالت اپیل ہے۔ عدالت کی ڈگریوں کا اجراء عمل میں آتا ہے اور ایک واقعہ سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ڈگری کے اجراء میں ایک مکان فروخت کر دیا گیا۔ اسٹامپ کے کاغذ قادیانیوں نے خود بنارکھے ہیں جو ان درخواستوں اور عرضیوں پر لگائے جاتے ہیں۔ جو قادیانی عدالتوں میں دائر ہوتی ہیں۔ قادیان میں ایک والنٹیر کور کے موجود ہونے کی شہادت گواہ نمبر ٤٠ مرزا شریف احمد نے دی ہے۔

عبدالکریم کی مظلومی اور محمد حسین کا قتل ١٩٢٩ء

سب سے سنگین معاملہ عبدالکریم (ایڈیٹر مباہلہ) کا ہے۔ جس کی داستان ’’داستان درد‘‘ ہے۔ یہ شخص مرزا قادیانی کے مقلدین میں شامل ہوا اور قادیان میں جا کر مقیم ہو گیا۔ وہاں اس کے دل میں (مرزائیت کی صداقت کے متعلق) شکوک پیدا ہوئے اور وہ مرزائیت سے تائب ہو گیا۔ اس کے بعد اس پر ظلم و ستم شروع ہوا۔ اس نے قادیانی معتقدات پر تبصرہ و تنقید کرنے کے لئے مباہلہ نامی اخبار جاری کیا۔ مرزا بشیر الدین محمود نے ایک تقریر میں جو دستاویز ڈی۔زیڈ (الفضل مورخہ یکم اپریل ١٩٣٠ء میں درج ہے) مباہلہ شائع کرنے والوں کی موت کی پیش گوئی کی ہے۔ اس تقریر میں ان لوگوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جو مذہب کے لئے ارتکاب قتل پر بھی تیار ہوجاتے ہیں۔ اس تقریر کے بعد جلد ہی عبدالکریم پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ لیکن وہ بچ گیا۔ ایک شخص محمد حسین جو اس کا معاون تھا اور ایک فوجداری مقدمہ میں جو عبدالکریم مباہلہ کے خلاف چل رہا تھا۔ اس کا ضامن بھی تھا۔ اس پر حملہ ہوا اور قتل کر دیا گیا۔ قاتل پر مقدمہ چلا اور اسے پھانسی کی سزا کا حکم ملا۔

محمد حسین کے قاتل کا رتبہ مرزائیوں کی نظر میں

پھانسی کے حکم کی تعمیل ہوئی اور اس کے بعد قاتل کی لاش قادیان میں لائی گئی اور اسے نہایت عزت و احترام سے بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔ مرزائی اخبار ’’الفضل‘‘ میں قاتل کی مدح سرائی کی گئی۔ قتل کو سراہا گیا اور یہاں تک لکھا گیا کہ قاتل مجرم نہ تھا۔ پھانسی کی سزا سے پہلے ہی اس

١٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٨

کی روح قفس عنصری سے آزاد ہو گئی اور اس طرح وہ پھانسی کی ذلت انگیز سزا سے بچ گیا۔ خدائے عادل نے یہ مناسب سمجھا کہ پھانسی سے پہلے ہی اس کی جان قبض کر لے۔

مرزا محمود کی دروغ گوئی

عدالت میں مرزا محمود نے اس کے متعلق بالکل مختلف داستان بیان کی اور کہا کہ محمد حسین کے قاتل کی عزت افزائی اس لئے کی گئی کہ اس نے اپنے جرم پر تأسف وندامت کا اظہار کیا تھا اور اس طرح وہ گناہ سے پاک ہو چکا تھا۔ لیکن دستاویز ڈی۔ زیڈ ١٤ اس کی تردید کرتی ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کی دلی کیفیت کا پتہ چلتا ہے۔

عدالت عالیہ کی توہین

میں یہاں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس دستاویز کے مضمون سے عدالت عالیہ لاہور کی توہین کا پہلو بھی نکلتا ہے۔

محمد امین کا قتل

محمد امین ایک مرزائی تھا اور جماعت مرزائیہ کا مبلغ تھا۔ اس کو تبلیغ مذہب کے لئے بخارا بھیجا گیا۔ لیکن کسی وجہ سے بعد میں اسے اس خدمت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس کی موت کلہاڑی کی ایک ضرب سے ہوئی۔ جو چودھری فتح محمد گواہ صفائی نمبر ٢١ نے لگائی۔ عدالت ماتحت نے اس معاملہ پر سرسری نگاہ ڈالی ہے۔ لیکن یہ زیادہ غور وتوجہ کا محتاج ہے۔ محمد امین پر مرزا (مرزا محمود قادیانی) کا عتاب نازل ہو چکا تھا اور اس لئے مرزائیوں کی نظر میں وہ موقر ومقتدر نہیں رہا تھا۔ اس کی موت کے واقعات خواہ کچھ ہوں۔ اس میں کلام نہیں کہ محمد امین تشدد کا شکار ہوا اور کلہاڑی کی ضرب سے قتل کیا گیا۔ پولیس میں وقوعہ کی اطلاع پہنچی۔ لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہ آئی۔ اس بات پر زور دینا فضول ہے کہ قاتل نے حفاظت خوداختیاری میں محمد امین کو کلہاڑی کی ضرب لگائی اور یہ فیصلہ کرنا اس عدالت کا کام ہے۔ جو مقدمہ قتل کی سماعت کرے۔ چوہدری فتح محمد کا عدالت میں بہ اقرار صالح یہ بیان کرنا تعجب انگیز ہے کہ اس نے محمد امین کو قتل کیا۔ مگر پولیس اس معاملہ میں کچھ نہ کر سکی۔ جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ مرزائیوں کی طاقت اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ گواہ سامنے آ کر سچ بولنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے

١٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٦٩

کہ عبدالکریم کو قادیان سے خارج کرنے کے بعد اس کا مکان نذر آتش کر دیا گیا اور قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریق پر اسے گرانے کی کوشش کی گئی۔

قادیان کی صورت حالات اور مرزا قادیانی کی دشنام طرازی

یہ افسوس ناک واقعات اس بات کی منہ بولتی شہادت ہیں کہ قادیان میں قانون کا احترام بالکل اٹھ گیا تھا۔ آتش زنی اور قتل تک کے واقعات ہوتے تھے۔ مرزا قادیانی نے کروڑوں مسلمانوں کو جو اس کے ہم عقیدہ نہ تھے۔ شدید دشنام طرازی کا نشانہ بنایا۔ اس کی تصانیف ایک اسقف اعظم کے اخلاق کا انوکھا مظاہرہ ہیں۔ جو صرف نبوت کا مدعی نہ تھا۔ بلکہ خدا کا برگزیدہ انسان اور مسیح ثانی ہونے کا مدعی بھی تھا۔

حکومت مفلوج ہو چکی تھی

معلوم ہوتا ہے کہ ( قادیانیت کے مقابلہ میں ) حکام غیر معمولی حد تک مفلوج ہو چکے تھے۔ دینی ودنیوی معاملات میں مرزا (محمود قادیانی) کے حکم کے خلاف کبھی آواز بلند نہ ہوئی۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایت پیش ہوئی۔ لیکن وہ اس کے انسداد سے قاصر رہے۔ مسل پر کچھ اور شکایات بھی ہیں۔ لیکن یہاں ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے۔ اس مقدمہ کے سلسلہ میں صرف یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ قادیان میں جورستم رانی کا دور دورہ ہونے کے متعلق نہایت واضح الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قطعاً کوئی توجہ نہ ہوئی۔

تبلیغ کانفرنس کا مقصد

ان کارروائیوں کے سد باب کے لئے اور مسلمانوں میں زندگی کی روح پیدا کرنے کے لئے تبلیغ کانفرنس منعقد کی گئی۔ قادیانیوں نے اس کے انعقاد کو بہ نظر ناپسندیدگی دیکھا اور اسے روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ اس کانفرنس کے انعقاد کے لئے ایک شخص ایشر سنگھ نامی کی زمین حاصل کی گئی تھی۔ قادیانیوں نے اس پر قبضہ کر کے دیوار کھینچ دی اور اس طرح احرار اس قطعہ زمین سے بھی محروم ہو گئے۔ جو قادیان میں انہیں مل سکتا تھا۔ مجبوراً انہوں نے قادیان سے ایک میل کے فاصلے پر اپنا اجلاس منعقد کیا۔ دیوار کا کھینچا جانا اس حقیقت پر مشعر ہے کہ اس وقت فریقین کے تعلقات میں کتنی کشیدگی تھی اور قادیانیوں کی شورہ پشتی کس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ وہ اپنی دست

١٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧٠

درازی کے قانونی نتائج سے اپنے آپ کو بالکل بالاتر خیال کرتے تھے؟

مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا مقناطیسی جذب

بہر حال کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت کے لئے اپیلانٹ سے کہا گیا۔ وہ بلند پایہ خطیب ہے اور اس کی تقریر میں بھی جذب مقناطیسی موجود ہے۔ اس نے اس اجلاس میں ایک جوش انگیز خطبہ دیا۔ اس کی تقریر کئی گھنٹوں تک جاری رہی بتایا گیا ہے۔ حاضرین تقریر کے دوران میں بالکل مسحور تھے۔ اپیلانٹ نے اس تقریر میں اپنے خیالات ذرا وضاحت سے بیان کئے اور اس کے دل میں مرزا اور اس کے معتقدین کے خلاف جو نفرت کے جذبات موج زن تھے۔ ان پر پردہ ڈالنے کی اس نے کوئی کوشش نہ کی۔ تقریر پر اخبارات میں اعتراض ہوا۔ معاملہ حکومت پنجاب کے سامنے پیش ہوا۔ جس نے عطاء اللہ شاہ بخاری کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی۔

تقریر پر اعتراض

اپیلانٹ کے خلاف جو الزام ہے۔ اس کے ضمن میں اس تقریر کے سات اقتباسات درج ہیں۔ جنہیں قابل گرفت ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ اقتباسات یہ ہیں۔

اردو، پنجابی، فارسی میں ہر معاملہ میں بحث کرے۔ یہ جھگڑا آج ہی ختم ہو جائے گا۔ وہ پردہ سے باہر آئے۔ نقاب اٹھائے۔ کشتی لڑے، مولا علی کے جوہر دیکھے۔ وہ ہر رنگ میں آئے۔ وہ موٹر میں بیٹھ کر آئے۔ میں ننگے پاؤں آؤں۔ وہ ریشم پہن کر آئے۔ میں گاندھی جی کی کھچڑی کھدر شریف، وہ مزعفر، کباب، یاقوتیاں اور پلومر کی ٹانک وائن اپنے ابا کی سنت کے مطابق کھا کر آئے اور میں اپنے نانا کی سنت کے مطابق جو کی روٹی کھا کر آؤں۔

١٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧١

کے بوٹ کی ٹو صاف کرتا ہے۔ میں تکبر سے نہیں کہتا بلکہ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھ کو اکیلا چھوڑ دو۔ پھر میرے اور بشیر کے ہاتھ دیکھو۔ کیا کروں لفظ تبلیغ نے ہمیں مشکل میں پھنسا دیا ہے۔ یہ اجتماع سیاسی اجتماع نہیں ہے او مرزائیو! اگر باگیں ڈھیلی ہوتیں، میں کہتا ہوں۔ اب بھی ہوش میں آؤ۔ تمہاری طاقت اتنی بھی نہیں جتنی پیشاب کی جھاگ ہوتی ہے۔

مثال موجود ہے کہ جو فیل ہوا وہ نبی بن گیا۔

احرار ہے۔ اس نے تم کو ٹکڑے کر دینا ہے۔

رکھتے۔

مرافعہ گزار نے عدالت ماتحت میں بیان کیا کہ اس کی تقریر درست طور پر قلم بند نہیں کی گئی۔ جملہ نمبر ٥ کے متعلق اس نے بصراحت کہا ہے۔ وہ اس کی زبان سے نہیں نکلا اور اگرچہ اس نے تسلیم کیا کہ باقی جملوں کا مضمون میرا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس نے یہ کہا ہے کہ عبارت غلط ہے۔ عدالت ماتحت نے قرار دیا ہے کہ ایک جملہ کی رپورٹ غلط ہے اور اس کے سلسلہ میں مرافعہ گزار کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لہٰذا مرافعہ گزار کی سزایابی کا مدار دوسرے ٦ فقروں پر ہے۔ مرافعہ گزار کے وکیل نے تسلیم کیا کہ فقرات ١، ٢، ٣، ٤، ٦، ٧ مرافعہ گزار نے کہے۔ اب میرے سامنے یہ امر فیصلہ طلب ہے کہ کیا یہ ٦ جملے جو مرافعہ گزار نے کہے۔ ١٥٣ الف کے ماتحت قابل گرفت ہیں اور یہ کہ الفاظ کہنے سے مرافعہ گزار کس جرم کا مرتکب ہوا ہے؟

عدالت کا استدلال

میں نے اس سے قبل وہ حالات و واقعات بہ تفصیل بیان کر دیئے ہیں۔ جن کے

١٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧٢

ماتحت تبلیغ کانفرنس منعقد ہوئی۔ مرافعہ گزار نے بہت سی تحریری شہادتوں کی بناء پر یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کے مقلدین کے ظلم وستم پر جائز اور واجبی تنقید کرنے کے سوا اس کا کچھ مقصد نہ تھا۔ اس کا بیان ہے کہ اس کی تقریر کا مدعا سوئے ہوئے مسلمانوں کو جگانا اور مرزائیوں کے افعال ذمیمہ کا بھانڈا پھوڑنا تھا۔ اس نے اپنی تقریر میں جابجا مرزا (محمود) کے ظلم وتشدد پر روشنی ڈالی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جو مسلمان مرزا قادیانی کی نبوت سے انکار کرنے اور اس کے خانہ ساز اقتدار کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے مورد آفات وبلیات ہیں۔ ان کی شکایات رفع کی جائیں۔ میں نے قادیان کے حالات کی روشنی میں مرافعہ گزار کی تقریر پر غور کیا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ تقریر مسلمانوں کی طرف سے صلح کا پیغام تھی۔ لیکن اس تقریر کے سرسری مطالعہ سے ہر معقول شخص اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اعلان صلح کے بجائے یہ دعوت نبرد آزمائی ہے۔ ممکن ہے کہ مرافعہ گزار نے قانون کی حدود کے اندر رہنے کی کوشش کی ہو۔ لیکن جوش فصاحت وطلاقت میں وہ ان امتناعی حدود سے آگے نکل گیا ہے اور ایسی باتیں کہہ گیا ہے جو سامعین کے دلوں میں مرزائیوں کے خلاف نفرت کے جذبہ کے سوا اور کوئی اثر پیدا نہیں کر سکتی۔ روما کے مارک انٹونی کی طرح مرافعہ گزار نے یہ اعلان تو کر دیا ہے کہ وہ احمدیوں سے طرح آویزش نہیں ڈالنا چاہتا۔ لیکن صلح کا یہ پیغام ایسی گالیوں سے پر ہے۔ جن کا مقصد سامعین کے دلوں میں احمدیوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔

تنقید کے جائز حدود

اس میں کلام نہیں کہ مرافعہ گزار کی تقریر کے بعض حصے مرزا قادیانی کے افعال کی جائز اور واجبی تنقید پر مشتمل ہیں۔ غریب شاہ کو زد و کوب کرنے کا واقعہ محمد حسین اور محمد امین کے واقعات قتل اور مرزا (محمود) کے جبر و تشدد کے بعض دوسرے واقعات جن کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ایسے ہیں۔ جن پر تنقید کرنے کا ہر سچے مسلمان کو حق ہے۔ نیز اس تقریر کے دوران میں ان توہین آمیز الفاظ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ جو قادیانی پیغمبر اسلام محمد (ﷺ) کی شان میں استعمال کرتے رہتے ہیں اور جو مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا باعث ہوتے ہیں۔

مرزائی اور مسلمان

١٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧٣

مسلمانوں کے نزدیک محمد (ﷺ) خاتم المرسلین ہیں۔ لیکن مرزائیوں کا اعتقاد یہ ہے کہ محمد ﷺ کے بروز میں کئی نبی مبعوث ہو سکتے ہیں اور وہ سب مہبط وحی ہو سکتے ہیں۔ نیز یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی اور مسیح ثانی تھا۔ اس حد تک مرافعہ گزار کی تقریر قانون کی زد سے باہر ہے۔ لیکن جب وہ دشنام طرازی پر آتا ہے تو مرزائیوں کو ایسے ایسے ناموں سے پکارتا ہے۔ جنہیں سننا بھی کوئی آدمی گوارا نہیں کر سکتا تو وہ جائز حدود سے تجاوز کر جاتا ہے اور خواہ اس نے یہ باتیں جوش فصاحت میں کہیں۔ یا دیدہ دانستہ کہیں۔ قانون انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔

تقریر کے اثرات

مرافعہ گزار کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ اس کے سامعین میں اکثریت جاہل دیہاتیوں کی تھی۔ نیز یہ کہ اس قسم کی تقریر ان کے دلوں میں نفرت و عناد کے جذبات پیدا کرے گی۔ واقعات مظہر ہیں کہ تقریر نے سامعین پر ایسا ہی اثر ڈالا اور مقرر کی لسانی سے متاثر ہو کر انہوں نے کئی بار جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سامعین نے اس وقت کیوں مرزائیوں کے خلاف کوئی تشددانہ اقدام نہ کیا؟ اگر چہ فریقین کے تعلقات عرصہ سے اچھے نہ تھے۔ مگر اس تقریر نے راکھ میں دبے ہوئے شعلوں کو ہوا دے کر بھڑکا دیا۔

تقریر کی قابل اعتراض نوعیت

فرد جرم میں جن سات فقروں کو قابل گرفت قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے تیسرا اور ساتواں سب سے زیادہ قابل اعتراض ہیں۔ ان میں اپیلانٹ نے مرزائیوں کو برطانیہ کے دم کٹے کتے کہا ہے۔ میرے نزدیک دوسرے حصے دفعہ ١٥٣۔ الف تعزیرات ہند کے ماتحت قابل گرفت نہیں ہیں۔ پہلا حصہ یعنی فرعونی تخت الٹا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک قابل اعتراض نہیں۔ دوسرے حصے کا تعلق مرزا قادیانی کی خوراک اور غذا سے ہے۔ اس کے متعلق یہ امر قابل ذکر ہے کہ مرزائے اوّل نے اپنے مریدوں میں سے ایک کے نام چٹھی لکھی تھی۔ جس میں ان کی خوراک کی یہ تمام تفصیلات درج تھیں۔ یہ خطوط کتابی شکل میں چھپ چکے ہیں اور ان کے مجموعہ کا ایک مطبوعہ نسخہ اس مثل میں بھی شامل ہے۔

شراب اور مرزا

١٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧٤

معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ایک ٹانک استعمال کرتا تھا۔ جس کا نام پلومر کی شراب تھا۔ ایک موقعہ پر اس نے اپنے مریدوں میں سے ایک کو لکھا کہ پلومر کی شراب لاہور سے خرید کر مجھے بھیجو۔ پھر دوسرے خطوط میں یاقوتی کا تذکرہ ہے۔ مرزا محمود نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس کے باپ نے ایک دفعہ پلومر کی شراب دوائی استعمال کی۔ چنانچہ میرے نزدیک یہ حصہ بھی قابل اعتراض نہیں۔ چوتھے حصہ میں مرزا قادیانی کے امتحان میں ناکام ہونے کا تذکرہ ہے۔ چھٹے حصہ میں مرزا قادیانی پر لابہ گوئی اور کاسہ لیسی کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چاپلوسی اور لابہ گوئی پیغمبر کی شان کے خلاف ہے۔

عدالت کا تبصرہ

میری رائے میں تیسرے اور ساتویں حصہ کے سوا اور کوئی حصہ تقریر کا قابل گرفت نہیں۔ اس کا یہ مقصد نہیں کہ مرافعہ گزار تمام تقریر میں صرف دو حرف قابل اعتراض ہیں۔ تقریر کے انداز سے معلوم ہوا کہ جہاں مرافعہ گزار مرزائیوں کے افعال شنیعہ کی دھجیاں بکھیرنا چاہتا تھا۔ وہاں وہ مسلمانوں کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت بھی پیدا کرنا چاہتا تھا۔ یہ امر کہ سامعین اس کی تقریر سے متاثر ہو کر امن شکنی پر نہ اتر آئے؟ اس کے جرم کو ہلکا کرنے کا موجب ہوسکتا ہے۔

مجھے اس میں کلام نہیں کہ اپیلانٹ مرزائیوں پر تنقید کرنے میں حق بجانب تھا۔ لیکن وہ اس حق کو استعمال کرنے میں جائز حدود سے تجاوز کر گیا اور تقریر کے قانونی نتائج بھگتنے کا سزاوار بن گیا۔ مرافعہ گزار کے اس فعل کی مدح وثناء کرنا آسان ہے۔ لیکن ایسے حالات میں جہاں جذبات میں پہلے ہی سے ہیجان واشتعال ہو۔ اس قسم کی تقریر کرنا جلتی پر تیل ڈالنے کے مرادف ہے اور اگر چہ مرافعہ گزار نے صرف ایک اصطلاحی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ لیکن قانون کی ہمہ گیری کا احترام از قبیل لوازم ہے۔

فیصلہ (نومبر ١٩٣٥ء)

مقدمہ کے تمام پہلوؤں پر نظر غائر ڈالنے اور سامعین پر مرافعہ گزار کی تقریر کے اثرات کا اندازہ کرنے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مرافعہ گزار تعزیرات ہند دفعہ ١٥٣ کے ماتحت جرم کا مرتکب ہوا ہے اور اس کی سزا قائم رہنی چاہئے۔ مگر سزا کی سختی ونرمی کا اندازہ کرتے وقت ان واقعات کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ جو قادیان میں رونما ہوئے۔ نیز یہ بات نظر

٢٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧٥

انداز کئے جانے کے قابل نہیں کہ مرزا قادیانی نے خود مسلمانوں کو کافر، سؤر اور ان کی عورتوں کو کتیوں کا خطاب دے کر ان کے جذبات کو بھڑکایا۔ میرا خیال یہی ہے کہ اپیلانٹ کا جرم محض اصطلاحی تھا۔ چنانچہ میں اس کی سزا کو کم کر کے اسے تا اختتام عدالت قید محض کی سزا دیتا ہوں۔

دستخط: گورداسپور جی ڈی کھوسلہ ٦ /جون ١٩٣٥ء سیشن جج

یہ فیصلہ مسلمانوں کی دینی حس اور فطرتی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا باعث ہوا۔ گویا ایسی بہار آئی کہ دلوں کے کنول کھل گئے۔ اہل حق نے اس فتنے کو اصلی رنگ میں دیکھ لیا اور دوسروں کو خبردار کرنے لگے۔ علامہ سر محمد اقبالؒ ذہنی طور سے احرار تھے۔ انہیں مرزائیوں کے عزائم میں اسلام کے لئے خطرہ نظر آتا تھا۔ وہ مرزائیوں کی اسلام دشمنی کے اوّل سے قائل تھے اور کبھی آنکھوں میں جگہ نہ دیتے تھے۔ کشمیر کمیٹی کے صدر مرزا بشیر الدین تھے۔ وہ ضرور ممبر ہو گئے تھے۔ لیکن یہ کیفیت اضطراری تھی۔ وہ فوراً سنبھل کر کشمیر کمیٹی کی تخریب میں لگ گئے اور احرار کی تنظیم کی ہر طرح حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ عرف عامہ میں ان کے مرزائی شکن بیانات نے تعلیم یافتہ طبقے پر گہرا اثر کیا اور ہوا کا رخ بالکل ادھر سے ادھر پھر گیا۔ مرزا سر ظفر علی سابق جج پنجاب ہائی کورٹ معاملات دین میں پڑے تھے۔ انہوں نے اپنے اعلان میں خدا لگتی بات کہی کہ نبوتوں کی بناء پر قومیں الگ الگ شمار ہوتی ہیں۔ جب مرزائیوں نے اپنا نیا نبی مان لیا تو وہ لازمی طور سے مسلمانوں سے الگ ہو گئے۔ غرض مرزائیوں کے لئے دنیا تنگ ہو گئی۔ مولانا ثناء اللہ اور مولانا ظفر علی خان نے مرزائیت کے خلاف ضرور محاذ قائم کیا۔ ان کا سب کو ممنون ہونا چاہئے۔ مگر وہ سو سنار کی تھیں۔ اب لوہار کی پڑنے لگیں تو مرزائی بوکھلا گئے۔ ملاّں کی دوڑ مسجد تک اور مرزائیوں کی دوڑ انگریزی سرکار تک، جوں جوں عوام کی ہمدردیاں احرار سے زیادہ ہوتی جاتی تھیں۔ توں توں سرکار اور احرار کے تعلقات اور کشیدہ ہوتے جاتے تھے۔

جناب الیاس برنی کی مرزائی قلعے پر گولہ باری کے سلسلے میں خدمات کا اعتراف نہ کرنا ناشکر گزاری ہوگی۔ انہوں نے قادیانی مذہب شائع کر کے قادیانی مرزائیوں کے بدنما چہرہ سے ریاء کاری کا نقاب بالکل ہی الٹ دیا ہے۔ کتاب کی ترتیب میں اپنی رائے سے متأثر کرنے کی

٢١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧٦

ذرہ بھر کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ مرزائیوں کی مستند کتابوں کے حوالہ جات ہی کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ کتاب رد مرزائیت کا کارگر نسخہ بن گئی ہے۔ جو طرز اس کتاب میں برنی صاحب نے اختیار کیا وہ بالکل اچھوتا ہے اور ایسا دل نشین ہے کہ ہزاروں مسلمانوں کو گمراہی سے بچانے کا باعث ہوا۔ غرض مرزائیت کی بیخ کنی کے بہت سے اسباب فراہم ہوگئے۔ من جملہ ان کے مولانا عبدالکریم مباہلہ کی احرار میں شمولیت تھی۔ یہ کفر کے آسمان کا ٹوٹا ہوا ستارہ قادیانیوں کے جراثیم سے مسلمانوں کو پاک کرنے کے کام آرہا تھا۔ مولوی عبدالکریم راز دار خلافت تھا۔ خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی بدعنوانیوں کو دیکھ کر قادیانی مذہب سے برگشتہ ہوا۔ قادیان سے جان بچا کر بھاگا۔ اس بھاگ دوڑ میں حاجی محمد حسین صاحب ساکن بٹالہ مرزا بشیر الدین کے ایک مرید کے ہاتھوں شہید ہوگئے اور مولانا عبدالکریم بچ نکلے۔ مولانا موصوف نے عدالت میں حلفی بیان دیا کہ وہ خود آخر تک مخلص تھے۔ لیکن بعض دوسرے لوگوں سے الزامات انہوں نے سنے اور تحقیق کر کے انہیں سچا پایا۔ اس وجہ سے الگ ہوگئے۔ مولانا کے سارے خاندان نے قادیانیوں کے ہاتھوں سخت تکالیف اٹھائیں۔ اخبار مباہلہ بند کرنا پڑا، جیل بھگتی۔ مگر مرزائیوں کا ناطقہ بند کر کے چھوڑا۔ شاید ہی کسی نے کسی سے ایسا کامیاب انتقام لیا ہو۔ جیسا کہ مباہلہ والوں نے لیا۔ آج ان کی آنکھوں کے سامنے مرزائیت بے توقیر ہے۔ آج مرزائیوں پر بے بھاؤ کی پڑرہی ہیں۔ علماء ہی نہیں بلکہ مسلمان عوام بھی مرزائیوں کے نام سے بیزار ہیں۔

شہید گنج کی گونج

ہاں یہ سچ ہے کہ مرزائیوں کی نامقبولیت کا ذمہ دار انگریزی سرکار نے احرار کو ٹھہرایا اور بقول مرزا غلام احمد احمدیت برٹش حکومت کا خود کاشتہ پودا تھی۔ اس کو خشک ہوتے دیکھ کر حکومت کا خون خشک ہوتا تھا۔ چنانچہ سوچ بچار کے بعد یہ اعلان کیا کہ قادیان میں نماز جمعہ پڑھانے باہر سے کوئی عالم نہ آئے۔ خیال یہ تھا کہ کہیں علاقے سے قادیانی اثر و رسوخ کم نہ ہوجائے۔ ایک ہی فریق کی تبلیغ کے دروازے کھولنا اور دوسروں پر یہ دروازہ بند رکھنا انصاف نہ تھا۔ مگر محبت میں انصاف کے تقاضوں کو کون پورا کرتا ہے۔ لیکن ایسے احکام کھلے طور پر احرار کے بڑھے ہوئے اثر و رسوخ کی دلیل تھی۔ درمیان میں ایک واقعہ ایسا بھی رونما ہوا۔ جس سے حکومت کے حواس اور پراگندہ سے ہوگئے۔ مجلس احرار نے ایک نو مسلم بیرسٹر خالد لطیف گابا کو جو سابق وزیر لالہ ہرکشن لعل کا فرزند تھا۔ اپنی طرف سے امیدوار کھڑا کیا۔ مسلمانوں کے سرکار پسند اعلیٰ طبقے نے خان

٢٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧٧

بہادر حاجی رحیم بخش صاحب سابق سیشن جج کو مقابلے کے لئے کھڑا کیا۔ مگر انہیں ناکامی ہوئی۔ اس انتخابی شکست سے حکومت کو احرار کی طاقت سے بجا طور پر خوف معلوم ہوا۔ پنجاب کو ہندوستان کی سیاسیات میں خاص درجہ حاصل ہے۔ حکومت کے اپنے عزائم اور منصوبے اسی ایک خطے سے وابستہ تھے۔ حکومت نہ چاہتی تھی کہ احرار برسر اقتدار آ جائیں اور انگریزی سرکار کو بیچ بازار للکاریں اور آڑے وقت میں اڑیل ٹٹو بن جائیں۔ ان بے جا احتمالات کے پیش نظر حکومت کا احرار کے مٹانے پر کمر بستہ ہو جانا دلیل دانائی تھی۔

اسی زمانے میں احرار نے میاں سر فضل حسین کو جو بساط سیاست کے کامیاب کھلاڑی تھے۔ جن کی چالیں بے حد گہری اور جن کی تدبیریں بہت مؤثر ہوتی تھیں۔ ناراض کر لیا۔ بلکہ اس کے خلاف ایک محاذ قائم کیا۔ سر ظفر اللہ کو میاں سر فضل حسین نے یہاں تک نوازا کہ اس کی سفارش حکومت ہند تک کی۔ حکومت ہند گویا اس سفارش کی منتظر ہی تھی۔ مرزائیت کا حکومت انگریزی سے جو تعلق ہے۔ اس پر مزید بحث کی ضرورت نہیں۔ حکومت ہند کے ایگزیکٹو کونسلر کے عہدہ پر ایک مرزائی ظفر اللہ کا تقرر تو در حقیقت انگریز کے خود کاشتہ پودے کی آبیاری تھی۔ مگر احرار کو صدمہ یہ تھا کہ میاں صاحب جیسے بالغ النظر شخص نے دیکھ کر قادیانی مکھی کیسے نگلی؟ ادھر میاں صاحب کی مجبوری یہ تھی کہ سر سکندر حیات خان کے تیور بے حد بگڑے نظر آتے تھے۔ وہ سر سکندر حیات کے گروپ کے مقابلے میں اپنے ونگ کو مضبوط کرنے میں مصروف تھے۔ ایسی مصروفیتوں میں بعض اوقات غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ یہ فاش غلطی ہو گئی۔ اب وہ غلط قدم واپس کیا لیتے؟ پھر انہوں نے اسے اپنے وقار کا سوال بنا لیا۔ مرزائیوں کی مخالفت احرار کی تبلیغ کا اہم جزو تھا۔ انہوں نے میاں صاحب کو للکارا۔ اس طرح احرار نے ہندوستان کے مضبوط ترین مدبر کو اپنا بیری بنا لیا۔ لیکن اس زمانے میں احرار کا بول بالا تھا۔ کسی مخالف کی کچھ پیش نہ جاتی تھی۔ مگر سب گھات میں تھے کہ موقعہ پائیں تو چاروں شانے چت گرائیں۔ احرار کا جتنا نام تھا اسی نسبت سے مخالف خار کھا رہے تھے۔

ہمارے دوستوں کا وہ طبقہ جسے میں نے اوائل باب میں طبقہ اولیٰ قرار دیا تھا۔ جو اپنی امیدیں کانگرس سے وابستہ سمجھے ہوئے تھے۔ کباب سیخ ہو رہا تھا۔ راولپنڈی میں کچھ پخت و پز ہوئی۔ مولانا ظفر علی خان ان کے سرگروہ چنے گئے۔ مولانا لائل پور احرار کانفرنس پر آئے تو خلاف توقع قادیانیوں کے خلاف احرار کے محاذ بنانے پر برسے۔ جس نے سنا تعجب کیا کہ مولانا کی عمر بھر کی خدمات اسلامی کا طول و عرض تو یہی مرزائیت کی مخالفت ہے۔ یہ اب احرار پر اچانک حملہ

٢٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧٨

آور کیوں ہوئے؟ اس پر کسی نے تقریر میں اسی خیال کا اظہار کیا۔ اس پر مولانا بگڑے اور کانفرنس سے ناراض ہو کر چلے آئے۔

ابھی ہم لائل پور میں تھے کہ دوسرے دن لاہور سے اطلاع ملی کہ سکھوں نے شہید گنج کو گرانا شروع کر دیا ہے۔ مولانا مظہر علی صاحب لاہور میں تھے۔ ان سے معلوم کر کے اطمینان ہوا کہ حالات پر قابو پا لیا گیا ہے اور مولانا نے مسلمانوں کو مناسب ہدایات دی ہیں۔ غرض احرار مطمئن سے ہو گئے۔

میں اور مولانا مظہر علی شملے کونسل کی ایک سب کمیٹی میں شامل ہونے چلے گئے۔ یک بیک ہمیں شملے میں معلوم ہوا کہ لاہور میں حالات بگڑ گئے ہیں۔ ہم دونوں لاہور پہنچے۔ حالات اشتعال انگیز تھے۔ مگر پولیس کے چوکی پہرے لگے ہوئے تھے۔ کیونکہ رات مسجد شہید گنج شہید کر دی گئی تھی۔ آتے ہی حالات معلوم کئے تو پتہ چلا کہ ہر خیال کے مسلمانوں کی مجلس میاں عبدالعزیز بیرسٹر کے مکان پر بلائی جا چکی ہے اور بڑے بڑے مفتی اور صاحب اثر حضرات اس میں شامل ہیں۔ مسجد کا معاملہ سب مسلمانوں کا مشترکہ تھا۔ اسے پارٹی کا سوال بنانا خلاف دانش تھا۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ ایک مضبوط جماعت اس کام کو سرانجام دینے کے لئے بنائی جا چکی ہو۔ لیکن اندر ہی اندر ہمارے خلاف زہر پھیلانی شروع کر دی گئی۔ حالانکہ اس عرصہ میں مولانا ظفر علی خاں صاحب سے فاش غلطیاں ہوئیں۔ انہوں نے جلسہ عام میں عدالتی طور پر انہدام مسجد کے سلسلے میں حکم امتناعی حاصل کرنے کا مسلمانوں کی طرف سے اختیار حاصل کیا۔ لیکن عدالت کا دروازہ نہ کھٹکھٹایا۔ بلکہ ڈپٹی کمشنر کے وعدے پر اعتماد کر لیا اور اس طرح مسلمانوں کو قانونی طاقت سے محروم کر دیا۔ مسلمانوں کو قانونی طور پر بے بس کر کے شرارت پسند سکھوں اور ان کی امداد کرنے والی قوتوں کو مسجد کے شہید کرنے کا موقعہ مہیا کر دیا۔ پھر سکھ لیڈر مسلمانوں سے مسجد کے معاملہ میں باعزت سمجھوتے کے خواہاں تھے۔ مگر مولانا ظفر علی خاں نے اسلام کے مفاد کے خلاف صاف انکار کر دیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو مسجد انہدام سے بچ جاتی۔ لیکن ان کے ذہن میں بھی بات ان کے دوستوں نے ڈالی تھی کہ کوئی کارنامہ ایسا کر کے دکھاؤ کہ احرار مات کھا جائیں؟ ان کے پیش نظر مسجد کو بچانا نہ تھا۔ بلکہ احرار کو گرانا تھا۔ اس لئے سرکاری درباری لوگوں نے بھی مولانا کی ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی۔ کیونکہ احرار کا عروج ان کی موت تھا۔ اپنی زندگی کے لئے وہ احرار کو مارنا ضروری سمجھتے تھے۔ سرمایہ دار جماعتوں کا عروج سرمایہ دار برداشت کر لیتے ہیں۔ لیکن غریبوں کا اقبال

٢٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٧٩

سرمایہ داری کا خاتمہ ہے۔ یہ دنیا دار ایمان بیچ کر مفلسوں کا خون نچوڑ کر دولت جمع کرتے ہیں اور اس کے ذریعے لوگوں میں اثر و رسوخ بڑھاتے ہیں۔

مسجد شہید اور حکام

حکام جو صوبے کے امن کے ذمہ دار تھے۔ ان کی پوزیشن اور بھی مضحکہ خیز تھی۔ اگر وہ صاف طور پر ارادہ کرتے تو مسجد کو انہدام سے بچا سکتے تھے۔ کیا کوئی قوم حکومت کے اقتدار سے باہر تھی؟ حکومت انگریزی کو اپنے اثر اور طاقت پر ناز رہا ہے۔ حکومت نے نہ صرف متکبرانہ لاپروائی برتی۔ بلکہ شرارت پسندوں کو مواقع اور سہولتیں بہم پہنچائیں۔ کیا حکومت خود مسجد کو پولیس اور فوج کے ذریعے ☒ نہ کر سکتی تھی؟ کیا یہ واقعہ نہ تھا کہ باوجود سکھ ڈیپوٹیشن کے گورنر پنجاب سر ہر برٹ ایمرسن کو یقین دلانے کے کہ ان کا ارادہ مسجد گرانے کا نہیں۔ پھر بھی مسجد ☒ نہ کیا گیا؟ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی ورکنگ کمیٹی گورنر سے کئے گئے وعدہ کی تصدیق کرنے کے لئے جمع ہوئی تھی کہ انہیں اطلاع ملی کہ مسجد راتوں رات منہدم ہو گئی۔ پربندھک کمیٹی نے پھر بھی منہدم کرنے والوں کو باز رکھنے کے لئے سردار منگل سنگھ ایم۔ایل۔اے کو بھیجا۔ مگر حکام نے انہیں مسجد شہید تک جانے سے روک دیا۔ تاآنکہ مسجد ہموار کر دی گئی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی مضبوط عمارت رات بھر میں کیسے شہید کر دی گئی؟ کہا گیا کہ سرکاری کرین استعمال ہوئی۔ پھر حکومت نے سوچا کہ ہم تو پھنس گئے۔ پھر کہا گیا کہ کرین نہیں ونچ استعمال ہوئی اور یہ ونچ گوجرانوالہ کے فلاں سکھ ٹھیکیدار کی تھی۔ تعجب ہے کہ اس ٹھیکیدار نے اعلان کر دیا کہ مجھے ناحق بدنام کیا جا رہا ہے۔ نہ میری ونچ استعمال ہوئی نہ میں ان دنوں لاہور گیا۔ نہ انہدام میں میرا کوئی ہاتھ ہے۔ غرض حکومت کا کیس ایسا کمزور تھا کہ اگر مسلمان بروئے انصاف ساری ذمہ داری حکومت پر ڈالتے تو وہ دو قوموں میں باعزت سمجھوتہ کرا دیتی۔ لیکن حکومت کے سکھ بندھوں کو پریشانی میں ڈالنا منظور نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت کا قانون سکھوں کا طرف دار ہو گیا۔ اعلیٰ طبقہ بلوں میں گھس گیا۔

طبقہ اولیٰ کی شرارت

مولانا ظفر علی خان ہندوستان کی سیاست میں متلون مزاجی اور بے سود ہنگامہ آرائی کا مظہر رہا ہے۔ اس کے اس وقت کے ساتھی وہی طبقہ اولیٰ تھا۔ یعنی مولانا عبدالقادر قصوری، ڈاکٹر محمد

٢٥

صفحہ ٥٨٠

عالم وغیرہ جانتے تھے کہ یہ ہنگامہ قوم کی رسوائی ہے۔ مگر میاں عبدالعزیز صاحب بیرسٹر کے مکان پر اکٹھے ہوئے بولے احرار کو کچھ کرنا چاہئے۔ تمام حالات پر بحث کر کے وہ یہ بات مان گئے کہ صورتحال ایسی نہیں جس کا آسانی سے فیصلہ ہو سکے۔ اس لئے فیصلہ ہوا کہ کسی اور تاریخ پر اکابرین قوم کو جمع کر کے استصواب کیا جائے۔ کیونکہ یہ مسئلہ سول وار تک لے جانے والا ہے۔ اسی جگہ یہ بھی فیصلہ ہوا کہ دوسرے دن جو جلسہ عام ہونے والا ہے۔ اس میں احرار شریک نہ ہوں۔ اسے مولانا ظفر علی خاں اور ان کے ساتھی بھگتا لیں۔ اب تک بھی ہم اس گروہ کے عزائم سے نا آشنا تھے۔ لیکن اس گفتگو میں میں مولانا عبدالقادر صاحب کے طرز عمل سے بڑا پریشان ہوا۔ وہ خود رہنمائی نہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر احرار پر زور دیتے تھے کہ وہ کچھ کریں اور وہ یہ بھی مانتے تھے کہ احرار کا اقدام قوم کے لئے خطرات کا باعث ہوگا۔ بہر حال ہم اس پر پیچ مسئلے کو ایک بڑے اجتماع کی رائے کے مطابق حل کرنے پر مطمئن تھے۔ دوسرے روز عام جلسہ تھا۔ یک بیک مولانا ظفر علی خاں کو رقعہ آیا کہ جلسہ میں نہ جائیے۔ اتنے میں مولانا سید حبیب جو ان دنوں مولانا ظفر علی خاں کے زیر ہدایت کام کر رہے تھے۔ آئے اور انہوں نے مولانا اختر علی خاں کے خلاف سخت بے اعتمادی کا اظہار کیا۔ وہ چلے گئے۔ تو ہم ایسی بد اعتمادی کی فضا میں کام کرنے کی مشکلات پر غور کر رہے تھے کہ معلوم ہوا کہ ملک لعل خاں صاحب نے جلسہ میں نیا گل کھلایا۔ لوگوں کو ہمارے خلاف جھوٹ بھڑکایا۔ اس واقعہ کے بعد تو گویا ہمارے خلاف منظم جھوٹ کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ کبھی کہا گیا کہ احرار مسجد کو سکھوں سے لینے کے حق میں نہیں ہیں۔ کبھی کہا گیا کہ وہ گورنمنٹ کے ہتھے چڑھ گئے۔ عوام کو اندر ہی اندر بھڑکایا گیا۔ بالآخر حکومت نے مولانا ظفر علی، ملک لعل خاں، سید حبیب وغیرہ کو نظر بند کر لیا۔ پھر تو اخبار زمیندار نے نت نیا جھوٹ تصنیف کرنے کا معمول کر لیا۔ سرکاری فریق نے اندر ہی اندر مسلمانوں کو ابھارا کہ اگر کوئی اقدام کرو تو مسجد ضرور مل جائے گی۔ ان علانیہ اور خفیہ ریشہ دوانیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ دہلی دروازہ کے باہر گولی سے کئی ایک مسلمان شہید ہوئے۔ یہ ساری داستان درد مولانا مظہر علی صاحب نے خوفناک سازش کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی ہے۔ اس لئے سارے واقعات کی تفصیل اس کتاب سے معلوم ہو سکتی ہے۔ ہم نے ہر چند چاہا کہ مسلمان صورتحال کا صحیح جائزہ لیں اور ایسے اقدامات سے بچ جائیں جس کا نتیجہ کچھ نہ ہو۔ جتنا ہم نے روکنا چاہا اتنا ہی غلط فہمیوں کا شکار بنا لئے گئے۔

مرزائیوں کی شرارت

٢٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٨١

احرار پر ایسا ابتلاء کا زمانہ آیا کہ شاید ہی کسی جماعت پر آیا ہو۔ مسلمانوں کو ہمارے خلاف بھڑکانے کا اہم کام مرزائیوں نے سرانجام دیا۔ روپے کو پانی کی طرح بہایا۔ اخبارات کو مالی مدد پہنچائی گئی۔ افراد کو وظائف دیئے گئے اور سات سو کے قریب مرزائی قادیان سے لاہور، امرتسر اور بڑے بڑے مقامات پر خاص ہدایات دے کر بھیجے گئے۔ تاکہ احرار کے دشمن اسلام اور ملت کے غدار ہونے کا پروپیگنڈہ کریں۔ اتنی کثیر تعداد میں ہمارے خلاف اشتہارات شائع کئے گئے کہ شاید ہی ہندوستان میں کسی جماعت کے خلاف اتنی اشتہار بازی ہوئی ہو۔ اس طوفانی مخالفت کا مقابلہ آسان نہ تھا۔ خصوصاً جب کہ سرکاری درباری لوگوں کا اثر ورسوخ اس سارے پروپیگنڈہ کی پشتیبانی کر رہا ہو۔ ضرورت کے مطابق پیشین گوئی کرنا موجودہ خلیفہ نے باپ سے سیکھا ہے۔ احرار کے خلاف بڑے زور سے جھوٹی پیشین گوئیاں شائع کی گئیں اور مرزا بشیر الدین نے احرار کو تباہ کرنے کے لئے اتنا روپیہ خرچ کر دیا۔ جس سے جماعت مرزائیہ تڑپ اٹھی۔ قادیان میں کانا پھوسی شروع ہو گئی اور اس کے خلاف جماعت میں ہی محاذ بن گیا۔ اس لئے اپنے اس خرچ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے بہت کچھ تسلیم کرنا پڑا۔ ہر مرزائی کو سمجھایا گیا تھا کہ ہندوستان میں یہی ایک جماعت مرزائیت کے راستے میں کارگر رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ احرار کو مار لو تو میدان مارا ہوا سمجھو۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس فرقہ ضالہ کے ہر فرد نے احرار پر زخم لگانے کی پوری سعی کی۔ اسلام اور کفر کے مقابلے میں احرار اسلام، مرزائی کافروں سے نیکی کی امید نہیں رکھ سکتے۔

مخالفوں کے پروپیگنڈے میں خامی

ہمارا ہر مخالف سچائی کو اپنے دل میں نہ پاتا تھا۔ اصل مسئلے کے متعلق وہ جانتا تھا کہ احرار اس میں حق بجانب ہیں۔ انہوں نے محض ہماری مخالفت کے لئے جھوٹ کی بنیاد پر عمارت کھڑی کرنا چاہی۔ سب جانتے تھے کہ مقدمہ کرنے کے بعد بھی کوئی کامیابی نہیں۔ یہی مسجد تھی انجمن اسلامیہ اگر چاہتی تو کوڑیوں کے بھاؤ خرید سکتی تھی۔ مگر اس نے ایسا نہ کیا۔ اسی ایجی ٹیشن سے پہلے اسی مسجد کے متعلق دعویٰ دائر کر کے پوری پیروی تک نہ کی۔ اب جب ہم نے درست رہنمائی کر کے کہا کہ صبر وسکون سے کام لو تو یہی نصیحت ہمارا جرم ہو گیا۔ ہمارے مخالفوں کا مقصد عوام کو بھڑکانا تھا۔ خود کوئی قربانی کرنا نہ تھا۔ مولانا ظفر علی خاں نظر بند ہوئے اپنا وظیفہ بڑھانے میں لگ گئے۔ پھر سید جماعت علی شاہ صاحب کو امیر ملت بنایا گیا۔ وہ قید و بند کو کیا جانیں؟ ہمارا ہر مخالف

٢٧ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٨٢

اپنی جان بچا کر دوسروں کو قربان کرنا چاہتا تھا۔ یہ ہماری اور ملت اسلامیہ کی خوش قسمتی تھی کہ تحریک شہید گنج کے علم بردار متذبذب اور بزدل تھے۔ انہیں کامل یقین تھا کہ وہ محض اغراض پرستی کے لئے احرار کی مخالفت کر رہے ہیں۔ رہ رہ کے ان کا ضمیر انہیں ملامت کرتا تھا کہ ایک جماعت کو فنا کرنے کے لئے ہم یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ وہ مخالفت جس میں سچائی نہ ہو کمزور ہو جاتی ہے۔ لیکن افراد اگر حوصلہ مند ہوں تو جھوٹ کو بھی فروغ دے دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے نہ مرزائیوں میں حوصلہ تھا اور نہ ہمارے دوسرے مخالفوں میں دلیری تھی۔ اگر وہ جھوٹ کے لئے بھی بہادری دکھاتے تو ہماری مصیبتوں میں اور اضافہ کر سکتے تھے۔

احرار سیسہ پلائی ہوئی دیوار

دنیا میں تھوڑے ہی بچے ایسے پیدا ہوتے ہیں جو اچھے ناموں سے پکارے جائیں اور وہ اسم بامسمیٰ نکلیں۔ احرار ہندوستان میں خوش قسمت ہے۔ جس کا نام اور کام باہم مناسبت اور مطابقت رکھتے ہیں۔ آزادی کی طلب اور شرافت کا مسلک احرار کی گھٹی ہے۔ شہید گنج کے واقعہ ہائلہ نے جماعت کو بہت جلد دشواریوں میں ڈال کر اس کے نام کے مطابق اس کے کام کا جائزہ لیا۔ سیاسیات میں شرافت کا ثبوت یہی ہے کہ جماعت خود مٹ جائے۔ مگر قوم پر آنچ نہ آئے۔ غلط کاروں کی ہاؤ ہو سے ڈر کر قوم کے بچوں کو ایسی بھینٹ نہ چڑھائے۔ جس بھینٹ کا نتیجہ کچھ نہ ہو۔ ہمارے مخالفوں کو قطعی طور پر معلوم تھا کہ ان کی سعی بے نتیجہ ہے۔ پھر بھی وہ قوم کو بے سود عمل پر ابھارتے تھے اور ساتھ ہی انہیں احرار کی دیانت داری پر یقین تھا کہ احرار کبھی قوم کو بے سود خطرے میں نہ ڈالیں گے۔ بس یہی شرانگیز دانائی ہمارے مخالفوں کو بلند بانگ کر رہی تھی۔ لیکن قدرت کو ہم سے جیل خانوں سے سخت تر امتحان لینا منظور تھا۔ مفسد مخالفوں کی نتیجے کے اعتبار سے فضول مگر طوفانی مخالفت اٹھانے کے لحاظ سے بے حد مؤثر غوغا آرائی نے بے شک ہمارا ناطقہ بند کر دیا اور خدا کی زمین ہم پر تنگ کر دی گئی۔ لیکن ابتلاء کے اس زمانے میں جماعت کے ایک والنٹیر کے منہ سے بھی مخالفانہ آواز تو سنائی نہ دی۔ ہمارا ہر شخص جانتا تھا کہ مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار نے ١٩٢٥ء میں مسجد شہید گنج کی بازیابی کی آواز ہی کو شرانگیز صدا قرار دیا تھا۔ ڈاکٹر محمد عالم مسجد شہید کی تقدیس کے قائل نہ تھے کہ اس کے لئے قربانی پر آمادہ ہوتے۔ ہمارے ہر کارکن کے ضمیر کی آواز اور عقل کی رہنمائی اسی طرف تھی کہ یہ تحریک محض احرار کی مخالفت کے لئے اٹھائی گئی ہے۔ اس کی محرک سچائی اور صداقت نہیں بلکہ احرار کو انتخابات میں پچھاڑ کر خود اسمبلی میں

٢٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٨٣

پہنچنا ہے۔ اسی بناء پر سب احرار اغراض پرستوں کے خلاف نبرد آزما تھے۔ ایک ایک نوجوان مضبوط چٹان کی طرح اپنی جگہ کھڑا تھا۔ طوفان کا سمندر امڈ آتا تھا اور سر ٹکرا کر لوٹ جاتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مرد مجاہد سمندروں کے بگڑے تیوروں کو دیکھ کر خوف و ہراس کے بجائے بے پروائی سے کھڑا مسکراتا ہے۔ ہماری آنے والی نسلیں نہ اس ابتلاء کا اندازہ کر سکتی ہیں۔ نہ اس استقلال کا صحیح تصور کر سکتی ہیں۔ جو جماعت کے ہر فرد نے دکھایا۔ نہ دوسری قوموں اور جماعتوں نے ہماری عظیم الشان خدمات کا اعتراف کیا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر جماعت ہماری موت پر خوش تھی۔ کانگریس کے اکابر یہ سمجھتے تھے کہ ہم مسلمانوں کو کانگریس کی شمولیت سے روکے ہوئے ہیں۔ سکھ سمجھتے تھے کہ یہی مسلمانوں میں انقلابی جماعت ہے جو ایثار اور قربانی کی بناء پر ان کے عزائم میں حائل ہے۔ مسلمان امراء اس امر سے پریشان تھے کہ یہ غریب جماعت موری کی اینٹ چوبارے میں لگنے کی آرزو مند ہے اور حکومت پر چھا جانے کی امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ ہو تو ہو یہ کہ جماعت نذر طوفان ہو۔ مولانا ظفر علی خاں، مولانا عبد القادر، ڈاکٹر عالم وغیرہ حضرات یہ قیاس کرتے تھے کہ احراری کباب میں ہڈی ہیں۔ انہیں نکال دیا جائے تو مزے ہی مزے ہیں۔ احرار سب میں گھرے کھڑے تھے۔ انہیں چومکھی لڑائی لڑنی پڑ رہی تھی۔ احرار لیڈروں کی برملا بے عزتی کی جاتی تھی۔ ان پر قاتلانہ حملے شروع ہو گئے تھے۔ صبر و سکون کی ہدایت کی جاتی تھی۔ تا آنکہ پانی سر سے گزرنے لگا۔ ہمارے مخالفوں نے شرافت کے سارے آئین کو بالائے طاق رکھ دیا۔ آخر ہمیں معلوم ہوا کہ جبر، جبر کی حد سے بڑھ گیا ہے۔ اب ترکی بہ ترکی جواب دینے کے سوا چارہ نہیں۔ ہم مدافعانہ جنگ میں پسپا ہوتے ہوتے اس مدافعتی خط پر پہنچ گئے۔ جہاں مزید پسپائی کی گنجائش نہ تھی۔ ہمارے خلاف ہر روز نیا جھوٹ تراشا جاتا تھا۔ کبھی کہا جاتا تھا کہ دہلی دروازے کے شہداء کو کتے کی موت مرنے والا کہا گیا۔ ہمارے مخالف جانتے تھے کہ شہداء کے متعلق یہ ناقابل برداشت فقرہ ہے۔ جب ہم تردید کرنا چاہتے تھے تو اخباروں میں ہماری تردید کوئی شائع نہ کرتا تھا۔

ایک تائیدی آواز پھر بزن

مخالفت کے نقار خانے میں جہاں دشمنوں کے شور میں ہماری آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ پنجاب کے سوشلسٹوں کی آواز تھی جو گاہے ماہے قوم کو خانہ جنگی سے متنبہ کرتی تھی اور عملاً احرار کے ساتھ ہم آہنگ تھی اور جو واضح طور پر اس رائے کی تھی کہ مسجد شہید گنج کی شہادت خوفناک سازش

٢٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٨٤

ہے اور اس کی ساری ذمہ داری حکومت پر ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ آواز کسی حد تک بعض لوگوں کی توجہ کا مستحق بنی۔ لیکن سوشلسٹوں کے لیڈر جلد ہی دھر لئے گئے اور انہیں سخت سزائیں دی گئیں۔ پھر حق وصداقت کے لئے کوئی آواز بلند نہ ہوئی۔ ہماری حالت یہ تھی کہ ہم مسلمانوں میں خوں ریزی اور سر پھٹول کے خوف سے جلسہ نہ کرتے تھے۔ مخالفوں نے غلط اندازہ لگایا کہ ہم مخالفت کے خوف سے معتکف ہیں۔ آخر میں ہمیں اس کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہ آیا کہ ہم شیر کی طرح مخالفت کے بہاؤ میں سیدھے تیریں اور خم ٹھونک کر میدان میں نکلیں۔ چنانچہ بعض احتمالات کے پیش نظر لاہور میں یک روزہ کانفرنس کی گئی۔ تاکہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔ مولانا ظفر علی اور ان کے ساتھیوں نے خود پس پردہ بیٹھ کر اپنے ہم خیال نوجوانوں کے مضبوط جتھے کو دہلی دروازے کے باہر بھیجا کہ احرار کو جلسہ نہ کرنے دیا جائے۔ ہم نے ہر چند چاہا کہ ہم پرامن جلسہ کریں۔ ان نوجوانوں کو یقین دلایا کہ ہم آپ کو زیادہ سے زیادہ وقت دے سکتے ہیں۔ مگر انہوں نے کوئی دلیل اپیل نہ سنی۔ اپنی سی کہتے رہے کہ احرار کو ہرگز جلسہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے سٹیج پر قبضہ کرلیا اور غنڈہ گردی شروع کردی۔ جب ہمارے لئے باعزت بھاگنے کی بھی راہ نہ رہی تو احرار والنٹیروں کے سالار نے بھی بزن کا حکم دے دیا۔ احرار کے والنٹیر دست بدست لڑائیوں میں زیادہ سلجھے ہوئے تھے۔ ان کا ہاتھ دوسروں کی نسبت زیادہ رواں تھا۔ آدھ گھنٹہ کی دھینگا مشتی اور لٹھم لٹھا کے بعد مولانا ظفر علی کی فوج ظفر موج اس طرح پسپا ہوئی کہ جوتے پگڑیاں وہیں چھوڑ گئی۔ زمیندار، احسان، انقلاب وغیرہ تمام مخالف اخباروں نے خطرناک سرخیاں دے کر خبریں شائع کیں۔ اس طرح کونے کونے کے احرار کو خبر پہنچ گئی کہ اب مرکز کی پالیسی یہ ہے کہ مخالفوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔ غریبوں میں زخم کھانے اور زخم لگانے کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ ہمارے مخالفوں کو جلدی ہی معلوم ہو گیا کہ زدوخور کے معاملہ میں ابھی احرار کے مقابلہ کو مدت چاہئے۔ دو ہی ماہ کے عرصہ میں تمام مخالف ہتھیار ڈال کر دور جا کھڑے ہوئے۔ اب صرف اخباروں کے کالموں میں جھوٹ کے پلندے باندھ باندھ کر ہمیں ڈرانے لگے۔

احرار اور عدم تشدد

مجلس احرار بے شک سیاسیات میں عدم تشدد کی قائل ہے۔ یعنی حکومت کے تشدد کو صبر سے برداشت کیا جائے۔ اسی اصول سیاست کو ہم نے کئی ماہ شہید گنج کے ایجی ٹیشن میں بھی استعمال کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مولانا ظفر علی خان اور ان کے رفقاء نے ہمارے خلاف غنڈہ گردی کی

٣٠

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٨٥

انتہاء کر دی کہ چلنا پھرنا مشکل ہو گیا۔ ہم پر تیزاب ڈالے گئے۔ ہمارے صبر نے ہمارے مخالفوں کا حوصلہ بہت بڑھا دیا۔ لیکن جب اس غنڈہ گردی کا نظام اور انتظام کے ساتھ مقابلہ کیا تو دوماہ کے اندر اندر مخالفت کے بادل چھٹ گئے اور صرف تحریر تک معاملہ محدود ہو گیا۔ ہم نے اپنا روزنامہ مجاہد نکال رکھا تھا۔ وہ ترکی بہ ترکی جواب دیتا رہا۔ پھر ہمارا اثر و رسوخ بڑھنے لگا۔ بالآخر حکومت نے اخبار کی ضمانت طلب کر لی۔ غریبوں کا یہ اخبار کسی بڑے مالی نقصان کو برداشت کرنے کے قابل نہ تھا۔ لاچار اسے بند کرنا پڑا۔ اب پھر مخالفوں کے لئے میدان صاف ہو گیا۔ پھر ہمارے خلاف جھوٹ کا طوفان اٹھایا گیا۔ ہمارے عدم تشدد کی پھبتیاں اڑانے لگے۔ احرار کے لئے عدم تشدد سیاسی پالیسی ہے مذہب نہیں۔ جب جان اور آبرو پر بن آئے تو ہر ہتھیار کا اٹھانا جائز ہے۔

جھوٹ کی دیوار گرنا شروع ہوگئی

مجلس اتحاد ملت آخر کیا ہے؟ اس میں وہ تمام عناصر شامل تھے جنہیں احرار کی مخالفت منظور تھی۔ مگر ان میں کوئی ذہنی اتحاد نہ تھا۔ زیادہ تر وہ اصحاب شامل تھے جو خالص کانگریسی ذہن رکھتے تھے اور مسلمانوں کی کسی اور جماعت کا عروج دیکھنا پسند نہ کرتے تھے۔ خصوصاً مجلس احرار کی سی غریبوں کی جماعت سے انہیں اسی لئے بیر تھا۔ وہ غریبوں کو منظم اور طاقتور دیکھ کر کچلے سر سانپ کی طرح پیچ و تاب کھاتے تھے۔ ظاہر ہے کوئی جماعت کسی اور جماعت کی مخالفت پر زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس کا اپنا پروگرام ہونا چاہئے۔ مگر شہید گنج کے حامیوں کا تو کسی مسجد کی تقدیس پر ہی اتفاق نہ تھا۔ کہاں ڈاکٹر عالم اور کہاں مسجد شہید گنج؟ وہ تو الیکشن جیتنے کے لئے مسجد کی آڑ لے رہے تھے۔ مجلس احرار کے ساتھ غریب جماعت ہونے کے باعث انہیں تعاون سے گھن آتی تھی۔ اس لئے اکثر واقعی ان میں جوتا چلا۔ رپٹ رپورٹ تک بھی نوبت پہنچی۔ اتحاد ملت میں ایسے لیڈر پیدا ہو گئے جو کسی سیاسی اخلاق کے مالک نہ تھے۔ ہر روز کے رگڑے جھگڑے سے مولانا ظفر علی خاں کی اتحاد ملت کا وقار کم ہونے لگا۔ سیاست اسلامی کے اس شاطر کامل یعنی میاں سر فضل حسین کی عقابی نظر نے دلہوزی کی بلندیوں سے دیکھا کہ کیا کرایا کام بگڑ رہا ہے۔ اس لئے مولانا ظفر علی خاں کو جو، اب سرکاری مہرے کے طور پر کام کر رہے تھے۔ پہاڑ پر بلایا۔ میاں سر فضل حسین کا خیال تھا کہ احرار کا اثر و رسوخ زیادہ تر ان کی اپنی تنظیم اور بہادری پر قائم ہے۔ کچھ اثر مرزائیت کی مخالفت کے باعث بھی ہے۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ مرزائیت کو نقصان پہنچائے بغیر تردید

٣١

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٨٦

مرزائیت کا کام مولوی ظفر علی کے ہاتھ میں دیا جائے۔ اس طرح پبلک کی رہی سہی توجہ احرار سے ہٹا کر اتحاد ملت اور مولانا ظفر علی خاں کی طرف کر دی جائے۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ احرار کو اس منصوبے کی خبر ایک ایسے شخص نے دی جس کو میاں صاحب اپنا معتمد سمجھتے تھے۔ لیکن وہ دل سے میاں صاحب کے عروج کا مخالف تھا۔ اس نے اپنے خاص آدمی کی معرفت پیغام بھیجا کہ تجویز یوں ہوئی ہے کہ مرزائیوں کے خلاف مقدمہ دائر کر کے انہیں خارج از اسلام قرار دلایا جائے۔ مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کی توجہ فضول مقدمہ بازی کی طرف مبذول ہو جائے گی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انگریزی عدالت بالآخر مرزائیوں کے حق میں فیصلہ دے گی۔ مرزائیوں کا اسلام بھی ثابت ہو جائے گا اور کئی سال تک مذہبی رجحان رکھنے والے مسلمانوں کی ہمدردی بھی احرار سے کم ہو جائے گی۔ جوں ہی معتبر ذریعہ سے یہ رپورٹ ہمیں پہنچی۔ ہم نے اسے اخبارات میں شائع کر دیا اور اسی اشاعت میں اخبار زمیندار نے میاں سر فضل حسین کی تجویز کو اپنی تجویز ظاہر کر کے شائع کیا۔ ہماری اطلاع بہت پہلے صبح ہی اخبارات میں پہنچ چکی تھی۔ تمام اخبارات اور پبلک کو یقین آ گیا کہ مولانا فریب افرنگ میں آ گئے ہیں۔ مولانا نے خود بھی محسوس کیا کہ گویا وہ گناہ کبیرہ کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ تجویز کا بھانڈا پھوٹ جانے پر مولانا نے ایسی چپ سادھی کہ پھر کچھ نہیں بولے۔ مولانا صاحب اور میاں صاحب کی ملی بھگت کا شہرہ ہر طرف پھیلا۔ اس سے ان کے مداحوں میں اور مایوسی پھیلی۔ لوگوں نے سمجھ لیا کہ مولانا سستے داموں بک گئے۔

داخلۂ اسمبلی کا ریزولیوشن

مجلس اتحاد ملت جو مولانا ظفر علی کی واحد ملکیت تھی۔ اس میں ڈاکٹر محمد عالم کے اصرار پر اسمبلی میں داخل ہو کر شہید گنج کو حاصل کرنے کا ریزولیوشن پاس کیا گیا۔ یہ ریزولیوشن اتحاد ملت کے تابوت میں آخری میخ ثابت ہوا۔ سب نے سمجھ لیا کہ جو احرار نے کہا تھا وہ سچ ثابت ہوا۔ اتحاد ملت کا تو عملاً خاتمہ ہو گیا۔ البتہ ڈاکٹر عالم اور ملک لعل خاں کو اسمبلی میں امیدوار کھڑے ہونے کے لئے ایک مردہ جماعت کا نام مل گیا۔ یہ ساری خون ریزی یہ سارا ایجی ٹیشن گویا اس لئے تھا کہ دو دوستوں کو اسمبلی میں جانے کا موقعہ مہیا کیا جائے۔ سعید روحوں نے اس جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ چند کرایہ کے ٹٹو رہ گئے۔ جو الیکشنوں میں تھوڑی بہت مالی امداد کی امید پر اتحاد ملت کی ٹوٹی کشتی سے چمٹے رہے۔ اب پھر احرار کا بول بالا ہونے لگا۔ ہم مستعد ہو کر ان زہریلے اثرات کو دور کرنے میں لگ گئے۔ کسی کے خلاف بدظنی پھیلانا کیسا آسان ہے؟ مگر اس کا ازالہ کرنا کیسا دشوار

٣٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٨٧

ہے۔ بدظنی باز کی طرح تیز رفتار ہوتی ہے۔ حسن ظن چیونٹی کی طرح سست رو ہوتا ہے۔ ہم نے بہت محنت کی۔ شہروں میں تو سوائے ابدی نامرادوں کے سب ہمارے ہم خیال ہو گئے۔ البتہ دور دراز مقامات میں ہم نہ پہنچے۔ وہاں ہمارے خلاف تعصب موجود رہا۔

احرار کی سول نافرمانی

اسلام اگر ایک طرف کفر کا سر نیچا کرتا ہے تو یہ دوسری طرف سر جا نکالتا ہے۔ مرزائیت یوں تو ہر گوشہ ملک میں نامراد و ناکام ہو چکی تھی۔ لیکن شہید گنج کے ایجی ٹیشن میں احرار کی کمزوری اور اس کی توجہ مدافعانہ کارروائیوں کی طرف دیکھ کر اسے اپنی زندگی کی امید پیدا ہوگئی اور مرزائیوں نے اسی عرصہ میں تمام علاقے گورداسپور کو اپنے زیر اثر لانے کی سعی کی۔ حکومت کی مہربانی سے احرار کا داخلہ سارے ضلع میں بند کر دیا گیا تھا۔ اب ہمارے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہ تھا کہ ہم قربانی کر کے ضلع بھر کے مسلمانوں کو یقین دلائیں کہ ہم کسی مصیبت میں بھی مرزائیت کی اسلام دشمنی کو بھولے نہیں اور احرار ہر حال میں تمہارے ساتھ ہیں۔ چنانچہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ باوجود امتناعی احکامات کے قادیان میں جمعہ پڑھانے چلے گئے اور گرفتار ہو کر سزایاب ہوئے۔ اسی طرح یو۔پی سے مولانا محمد قاسمؒ اور پنجاب سے قاضی احسان احمدؒ اور میں سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کر کے گرفتار ہوئے۔ پھر ہمارے مہربانوں نے انگریزی سرکار کو سمجھایا کہ یہ تو تم نے مردہ جماعت کو زندہ کر دیا۔ مرزائیوں نے بھی محسوس کیا کہ یہ تو الٹی آنتیں گلے پڑ گئیں۔ سرحد اور علاقہ غیر میں اس سول نافرمانی کا بہت زیادہ اثر ہوا۔ آخر حکومت کو اپنا تھوکا چاٹنا پڑا اور حکم امتناعی واپس لے کر عام ہیجان کو روکنے کے سوا کوئی چارہ نہ دیکھا۔

مسلم لیگ سے ہمارا تعاون

ایک مدت سے مسلمانوں کے آئین پسند طبقے میں میاں سر فضل حسین اور مسٹر محمد علی جناح (قائد اعظمؒ) رہنمائی کے دعویدار تھے۔ ان دونوں کا ڈکٹیٹرانہ دل و دماغ تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے حق میں شمشیر برہنہ تھے اور کوئی شخص ان کے مزاج میں دخیل نہ تھا اور وہ کسی کی نہ سنتے تھے۔ اس لئے کسی کو حوصلہ نہ تھا کہ ہمت کر کے ان کو کہتا کہ جنگ سے صلح بہتر ہے۔ دونوں میں میاں فضل حسین زیادہ باتدبیر تھے۔ میں نے ہندوستان میں ان سے زیادہ کایاں شخص کوئی نہیں دیکھا۔ وہ سیدھی بات کرنے کے قائل نہ تھے۔ ہوشیار سے ہوشیار آدمی کا آسانی سے شکار کھیل لیتے

٣٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٨٨

تھے۔ کوے کا شکار کرنا ہو تو بندوق کی نالی دوسری سمت رکھ کر کندھوں کے برابر اٹھانا چاہئے۔ پھر اچانک رخ کوے کی طرف کر کے نشانہ باندھنا چاہئے۔ تا کہ زیرک جانور شکاری کی چال سے بے خبر رہے اور اڑنے کا موقعہ نہ پائے۔ ایسی ہی میاں صاحب کی تدبیریں ہوتی تھیں۔ وہ بڑے مزاج شناس تھے۔ اسی اندازہ سے بات کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ پر پیچ راستوں سے گذر کر مخالف کی پشت پر آ نکلتے تھے۔ خاتمہ کر کے بھی دشمن کی موت کا الزام سر نہ لیتے تھے۔ برخلاف اس کے مسٹر جناح سیدھی راہ سامنے سے آکر چوٹ کرتے تھے۔ دشمن کو ہوشیار اور خبردار کر کے وار کرنا مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔ اسی لئے مسٹر محمد علی جناح (قائد اعظم) مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی کے مقابلے میں کانگریس سے پٹ کر نکلے اور مسلمانوں کے اعلیٰ طبقہ میں میاں صاحب کے جیتے جی معقول جگہ حاصل نہ کر سکے۔ حکومت ہند کی نظر میں مسٹر محمد علی جناح ، میاں سر فضل حسین کے سامنے ایک بے اثر شخصیت رہی۔ اب جب الیکشن کی گہما گہمی ہوئی تو قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح نے دوڑ گھوم کر مسلم لیگ کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنا چاہا۔ وہ لاہور آ کر میاں صاحب پر ڈورے ڈالنے لگے۔ مگر میاں صاحب کچی گولیاں نہ کھیلے تھے۔ انہوں نے صاف جواب دیا کہ خالص اسلامی جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنا عملی سیاسیات میں مفید نہیں۔ کیونکہ اسلامی صوبوں میں مشترکہ حکومت کے سوا کوئی اور صورت نہیں۔ ہندوستان کی سیاسیات میں ایک بڑی الجھن یہ ہے کہ ہندو مسلمان عملاً دو دشمن قومیں ہندوستان میں آباد ہیں۔ مسلمان چونکہ محسوس کرتا ہے کہ ہندو اسے بطور اچھوت کے سلوک کرتا ہے۔ اس لئے عام حالات میں کسی قسم کے تعاون کے لئے تیار نہ تھے۔

دنیا کی سیاسیات کے دو رخ ہیں۔ اصلاح پسند لیڈر نیکی اور اخلاق کا بیج بوجانے پر پر اطمینان زندگی حاصل کرتے ہیں۔ لیکن بعض لوگ فوری کامیابی کو کامیاب زندگی کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ مسٹر جناح اور میاں سر فضل حسین دونوں آخری خیال کے علم بردار ہیں۔ ان کے سیاسی جوڑ توڑ فوری کامیابی کے کفیل ہوتے ہیں۔ وہ دونوں سرمایہ دارانہ نظام کی موجودہ صورت سے فائدہ اٹھانے کے قائل ہیں۔ اس نظام میں تبدیلی کی سردردی مول لینا پسند نہیں کرتے۔ اگر میاں سر فضل حسین اور مسٹر جناح میں فرق ہے تو یہ کہ میاں صاحب حکومت کی مشین کا پرزہ بن کر زندہ رہے۔ اپنے مفاد اور قومی مفاد دونوں کے پلڑے برابر رکھے۔ یعنی شخصی شان کو برقرار رکھ کر اپنی صواب دید کے مطابق قومی خدمت کو جاری رکھا۔ مسٹر جناح کامیاب بیرسٹر تھے۔ اس لئے حکومت کی

٣٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٨٩

مشینری سے بے نیاز تھے۔ لیکن اپنی شخصیت کو نمایاں رکھنے کے لئے کسی سے کم بے تاب نہ تھے۔ نتیجہ یہ تھا کہ میاں صاحب اور مسٹر جناح اسلامی سیاسیات کی نیام میں دو تلواروں کی طرح گنجائش نہ پا کر ہمیشہ الگ الگ اور برسر پیکار رہے۔ تاہم میاں صاحب بڑے ہوشیار تھے۔ مسٹر جناح نے ان کے مقابلے میں ہمیشہ خاک چاٹی۔ میاں صاحب کی کامیاب چالوں نے تو مسٹر جناح کو قطعی مایوس کر دیا تھا۔ لیکن نئی اصلاحات کی گرما گرمی نے پھر مسٹر جناح کی عروق میں خون دوڑا دیا۔ انہوں نے پھر پھریری لی اور میاں صاحب کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔ میاں صاحب کی عام سیاسیات سے احرار کو کبھی اتفاق نہ ہوا۔ ہاں مسلمانوں کے حقوق حاصل کرنے میں ہم نے کبھی کوتاہی نہیں برتی۔ اگر میاں صاحب سے اتفاق کرنا پڑا تو اس سے گریز نہیں کیا۔ لیکن آزادی ہند کے مسئلہ میں وہ زیادہ بے تاب نہ تھے۔ اس لئے ہماری ہمدردیاں مسٹر جناح کے ساتھ رہی ہیں۔ لیکن یہ قیاس نہ کیا جائے کہ ہم مسٹر جناح کو انقلابی شخص سمجھتے تھے۔ نہیں بلکہ میاں صاحب کی نسبت مسٹر جناح کو اپنی سیاسیات کے قدرے قریب سمجھتے تھے۔ اس لئے کہ جب کانگریس اور جمعیت العلماء نے بھی لیگ کے ساتھ تعاون کا اعلان کر دیا تو ہمیں اپنی جگہ سوچنا پڑا کہ کانگریس نے بطور ملکی جماعت اور جمعیت نے بطور مذہبی جماعت لیگ کو قبول کر لیا تو ہمیں تعاون میں کیا عذر ہے؟ اس لئے اسلامی سیاسیات کی صورت یہ تھی کہ ملک کا رجعت پسند طبقہ زیر سایہ برطانیہ منظم ہو رہا تھا۔ تاکہ آزاد خیال افراد کا مقابلہ کرے۔ لیگ اور احرار کا باہمی تعاون ناگزیر تھا۔ اس لئے ہم نے لیگ کے ٹکٹ پر کھڑا ہونا قبول کر لیا۔

لیگ کا سرمایہ دارانہ نظام

اگرچہ عقل کا تقاضا یہ تھا مگر تجربے کی تلخی نے عمل میں اور رنگ پیدا کر دیا۔ جوں ہی ہم نے لیگ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ امراء کے ایوان میں زلزلہ آیا۔ امراء نے سوچا کہ مفلسی ہمارے گھر میں کیسے گھس آئی؟ کوئی تدبیر لڑاؤ کہ احرار مکھن سے بال کی طرح نکال دیئے جائیں۔ سرمایہ دار بے حد ہوشیار تھا۔ احرار کا اخلاص تدبیر سے لاپروا رہا۔ مگر تدبیر کیا کرتے جہاں سرمایہ کا سوال ہو وہاں اخلاص کو ہتھیار ڈال دینے ہوتے ہیں۔ پہلے لیگ کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے ٥٠ روپے کی رقم مقرر تھی۔ اب احرار کو لیگ کے ٹکٹ کا خریدار دیکھ کر ارباب لیگ نے بھاؤ بڑھا کر ٧٥٠ روپے کر دیا۔ تاکہ غریب احرار کا کوئی امیدوار اتنی رقم دے کر ٹکٹ نہ حاصل کر

٣٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٩٠

سکے۔ ہم نے ہزار چاہا کہ یہ رقم ٢٥٠ ہی ہو جائے۔ تو مشکل آسان ہو۔ مگر اس میں کامیابی بہت دور دکھائی دی۔ ناچار احرار نے اپنی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ جب امرائے لیگ نے سمجھا کہ اب خطرہ ٹل گیا۔ کھل کھیلے اب پھر وہی ٥٠ روپے شرح ٹکٹ ٹھہری۔ غریبوں کا امیروں کے نظام میں گھس آنا آسان نہیں جو اسے کھیل سمجھے ہیں۔ تجربے کی تلخی سے بال آخر منہ بسورتے ہیں۔ جمہوری ادارے جن پر سرمایہ دار قابض ہوں۔ ان میں داخل ہونا بڑا کٹھن کام ہے۔ پھر اس پر قابض ہو کر عوام کے مفید مطلب کام چلانا کھیل نہیں جو بچے کھیلیں۔ بابو سبھاش چندر بوس کی کوششوں کا کیا نتیجہ نکلا۔ کانگریس کے سرمایہ دارانہ نظام پر قابض ہونے چلا تھا۔ آخر روپوش ہونا پڑا۔ سوشلسٹ بھی نیشنل فرنٹ بنا کر کانگریس میں اقتدار پیدا کرنے گئے۔ اپنی جماعتی افادیت بھی کھو بیٹھے اور کان نمک میں نمک ہو کر رہ گئے۔

جب بھی احرار کو ایسا مرحلہ درپیش ہو۔ انہیں اپنے موجودہ تجربہ سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ خوب سوچ بچار کر اور پوری تیاری سے کسی سرمایہ دارانہ نظام میں داخل ہونا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ منہ کی کھا کر واپس لوٹنا پڑے۔

سرسکندر حیات اور احرار

سرسکندر حیات خاں کی سیاسیات نے اگرچہ میاں سرفضل حسین کے زیرسایہ پرورش پائی۔ مگر انہوں نے میاں صاحب کی امیدوں کو مایوسیوں میں بدل دیا۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ میاں صاحب سرفضل حسین ہندوؤں کی نظر میں اورنگزیب کا بروز تھے۔ سرسکندر نے بڑھ کر امید دلائی کہ ہندوؤں کے لئے وہ اکبر ثابت ہوں گے۔ اس طرح وہ ہندوؤں کا سہارا پا کر ابھرے۔ خاندانی خدمات کے باعث انگریزوں نے ان کا ہاتھ تھاما۔ یہ گمنامی کی سطح سے اونچے اٹھے۔ پہلی دفعہ پولیس کمیٹی کے ممبر بنائے گئے۔ پھر سائمن کمیشن کی تعاونی کمیٹی کے صدر بنے۔ اس صدارت میں راجہ نریندر ناتھ لیڈر ہندو پارٹی کے اثرورسوخ نے بڑا کام کیا۔ پنجاب کے ہندوؤں کو میاں صاحب کے مقابلے میں مہرہ درکار تھا۔ سرسکندر بھی انہیں پوری پوری امید اور حوصلہ دیتے رہے۔ ہندوان سے خوش، یہ ہندوؤں سے راضی، راضی خوشی دونوں آنے والے دور کے دن گننے لگے۔ وہ ایگزیکٹو کونسلر اسی خوبی کے باعث بنائے گئے کہ برخلاف میاں صاحب کے ہندو پارٹی کو آپ پر اعتماد تھا۔ سرسکندر کی یہی خوبی ان کی گورنری کا باعث ہوئی۔

میاں سرفضل حسین اگرچہ انگریزی سیاسیات کی کل کا بہترین پرزہ تھے۔ لیکن انہیں

٣٦

صفحہ ٥٩١

اپنی لیاقت اور کامیاب سیاسی چالوں پر اتنا ناز تھا کہ وہ انگریز افسران کی ناز برداری کے بجائے ان سے خوشامد کی توقع رکھتے تھے۔ انگریز اعلیٰ افسران سے ان کا رات دن کا رگڑا جھگڑا تھا اور ہر مرحلے پر من مانی منواتے تھے اور خود کسی کی نہ مانتے تھے۔ اس لئے انگریز حکام جہاں ان کے کانگریس کے مقابلے میں کامیاب سیاسی ہتھکنڈوں کے معترف تھے۔ وہاں ان کی تحکمانہ دراز دستیوں کے شاکی تھے۔ میاں صاحب کئی انگریز اعلیٰ افسروں کو ذلیل کر کے نکال چکے تھے۔ جس کو ذرا سرکش پاتے تھے۔ اس کی سرکوبی پر آمادہ ہو جاتے تھے۔ میاں صاحب کی یہ ادا انگریز کو نہ بھاتی تھی۔ برخلاف اس کے سرسکندر حیات خاں انگریزوں کے معاملہ میں ایسی مروت برتتے تھے کہ حاکم ہو کر محکوم نظر آتے تھے۔ انگریزی حسیات کے احترام میں وہ ہندوستانی یا اسلامی حقوق کے لئے بلند بانگ نہ تھے۔ مطالبات کے بجائے عرضداشتوں کے قائل تھے۔ مبادا انگریز کا مزاج برہم ہو جائے اور لینے کے دینے پڑ جائیں۔

ظاہر ہے کہ میاں صاحب کے مقابلہ میں احرار کو سرسکندر حیات سے کوئی دل بستگی نہ تھی۔ مگر مصیبت یہ آئی کہ میاں صاحب نے سرسکندر حیات کے مقابلہ میں مرکزی حکومت میں اپنا اقتدار رکھنے کے لئے ظفر اللہ خاں قادیانی کو بڑھایا اور مسلمانوں کے جذبات کو پامال کر کے سیاسیات میں اپنا الو سیدھا کرنا چاہا۔ انہوں نے اس مسئلے کی اہمیت کو نہ سمجھا اور نہ احرار کی قوت کا ابتداء میں پورا اندازہ کیا۔ لیکن جب طوفان مخالفت بڑھ گیا تو احرار کو فنا کے گھاٹ اتارنے کے لئے اور کامیاب تدبیریں کیں۔ بے شک ان تدبیروں سے احرار کمزور ہو گئے۔ لیکن میاں صاحب کے اثر و رسوخ کو بھی ایسا دھکا لگا کہ وہ پھر سنبھل نہ سکے اور ان کا اپنے ہی غلط عمل سے دل ٹوٹ گیا۔ جب میاں صاحب فوت ہوئے تو سرسکندر کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ پہلے تو وہ لیگ سے وابستہ اس لئے ہو گئے تھے کہ مسلمانوں میں میاں صاحب کا کامیاب مقابلہ ہو سکے۔ ان دنوں احرار سے دل بستگی کی بظاہر وجہ یہی تھی۔ لیکن اب انہیں آئینی کامیابی کے لئے میدان صاف نظر آیا اور مسٹر جناح کو دھتا دیا اور احرار کو بھی ٹھینگا دکھایا۔

لیگ میں صرف شہری سرمایہ دار تھے۔ دیہات کی جامد آبادی کے سردار زمیندار انگریز افسروں کی ٹھوکر میں ہیں۔ دیہات میں کون زمیندار ہے جو سرکار کے اشارے کو سمجھ کر سرتابی کرے؟ اسمبلی میں ممبروں کی بڑی اکثریت دیہات سے آئی ہے۔ اس لئے سرسکندر کو لیگ کی چنداں پروا نہ تھی۔ معرکہ صرف احرار اور سرسکندر حیات کی یونینسٹ پارٹی سے تھا۔ کیونکہ بعض

٣٧

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٩٢

دیہاتی حلقوں میں احرار کا باوجود شہید گنج گرانے کی کامیاب چال کے اب بھی کافی اثر ورسوخ تھا۔ احرار اگرچہ آزادی ہند کے ان تھک سپاہی ہیں۔ مگر ہندو سرمایہ داروں کو اس کی پروا نہیں۔ وہ ہر حال میں مسلمان سرمایہ داروں کے ساتھ ہیں۔ احرار سے دونوں خائف تھے۔ اس لئے ہندوؤں کے اونچے طبقے کی ہمدردی سر سکندر کے ساتھ تھی۔

جعلی اشتہار بازی

جس طرح لیبر پارٹی کو گذشتہ الیکشن انگلستان کی انتخابی مہم میں تارے دیکھنے پڑے تھے۔ کیونکہ لیبر پارٹی پر بولشویکوں سے ساز باز کا افسانہ تراش کر اس کی اشاعت کی گئی تھی۔ اس طرح ہمارے خلاف شہید گنج کے سلسلہ میں مولانا مظہر علی کا میرے نام فرضی خط اشتہارات کی صورت میں لاکھوں کی تعداد میں شائع کیا گیا۔ اس سارے کام میں مرزائیوں کا ہاتھ کام کر رہا تھا۔ ان دنوں ہمارے خلاف قادیانی جماعت نے اخبارات کو خاص امداد دی۔ یہ اشتہار الیکشن کے عین ایک دن قبل شائع کیا گیا۔ جہاں احرار امیدوار کھڑے تھے۔ یہ اشتہار خاص طور پر تقسیم ہوا۔

میرا حلقہ انتخاب سر سکندر اور اس کے ساتھیوں کی توجہ کا مرکز رہا۔ ہمارا سب سے زیادہ زور ان حلقوں میں رہا جہاں مرزائی اور مرزائی امیدوار کھڑے تھے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ موجودہ اسمبلیوں سے پہلے جب صوبہ جات میں دو عملی تھی۔ اس وقت کی کونسلوں کے ابتدائی برسوں کے انتخاب میں گھوڑا گاڑی کا خرچ ناجائز تھا۔ اس لئے بعض غریب اور درمیانے طبقے کے لوگ بھی کامیاب ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کونسلوں میں انتہاء پسندوں کا زور ہو گیا۔ حکومت نے فوراً معاملہ کو بھانپ لیا اور غریب طبقے کو غریبوں کی نمائندگی سے محروم کرنے کے لئے انہوں نے موٹروں اور موٹر کاروں کی عام اجازت دے دی۔ تاکہ ووٹر پیدل نہ آئیں۔ اس ایک حکم نے غریب امیدواروں کا کامیاب ہونا مشکل بنا دیا۔ پھر تو کونسلیں اور اسمبلیوں کے انتخابات صرف سرمایہ داری کے کرتب رہ گئے۔ اب صرف کانگریس اور لیگ کے امراء کے لئے کامیابی ہے۔ غریب عوام کا اسمبلیوں میں عمل دخل ممکن نہیں۔

میری شکست

میرے حلقہ انتخاب میں سرگرمی زیادہ رہی۔ میرے علاقہ کے امراء غیر راجپوت مجھ

٣٨

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٩٣

سے زیادہ خوش نہ تھے۔ انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ راجپوت قوم کا پہلے ہی زیادہ اثر ہے۔ اگر اس دفعہ یہ کامیاب ہو گیا تو شاید حکومت پر قبضہ جما بیٹھے۔ اس لئے راجپوتوں کا اقتدار اور بڑھ جائے گا۔ یہ قطعی غیر اسلامی تصور تھا۔ مگر ہندوستان کا مسلمان اسلامی اسپرٹ سے نا آشنا ہے کہ وہ ہر جگہ چند امراء کے زیر اثر ہے۔ امراء کے ایمان کی کائنات اس اعتقاد سے خالی ہوتی ہے کہ مسلمان سب بھائی ہیں۔ اس لئے عوام بھی ان ہی کے رنگ میں رنگے ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں علاقہ مالی لحاظ سے کمزور اور تعلیم ندارد ہے۔ لازمی طور سے ہر نوجوان کی زندگی کی امید سرکاری ملازمت ہے۔ میں زندگی بھر حکومت کا مخالف رہا۔ یہ امیدیں میری معرفت پوری نہ ہوتی تھیں۔ یوں بھی امراء کے لڑکوں کے سوا عوام کو ملازمت کہاں ملتی ہے؟ سر سکندر حیات خاں نے لوگوں کو بڑے سبز باغ دکھائے۔ ہر نوجوان یہ سمجھا کہ افضل حق کو نیچا دکھایا تو ڈپٹی ہوئے۔ علاوہ ازیں اعلیٰ ادنیٰ ہر ملازم کو خیال تھا اور برملا حوصلہ افزائی ہوتی تھی کہ افضل حق سرکار کا دشمن اور اس کا ساتھی حکومت کا باغی سمجھا جائے گا۔ کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ سر سکندر خود افضل حق کے خلاف دوڑا بھاگا پھرتا ہے۔

میری شکست کی سب سے موثر وجہ یہ ہوئی کہ لاہور کے لولے لنگڑوں کو مولانا ظفر علی خاں، مولانا عبدالقادر اور ڈاکٹر عالم کی جماعت اتحاد ملت نے اس غرض سے بھیجا تا کہ وہ علاقہ میں پھر کر لوگوں میں یہ پروپیگنڈا کریں کہ افضل حق نے مسجد شہید گنج گروائی۔ اور اسی نے خود کھڑے ہو کر مسلمانوں پر گولی چلوائی۔ دیکھو اسی ظالم نے گولی چلوا کر ہمیں لولا لنگڑا کر دیا۔ وہ درد ناک لفظوں میں اپیل کرتے تھے۔ ایک دو پولنگ اسٹیشنوں پر اس کا بہت برا اثر ہوا۔ ایک عام آگ سی لگ گئی۔ اس طرح مجھے اس حلقہ سے شکست ہوئی۔ جہاں سے مجھے شکست کی امید نہ تھی۔ میری شکست یونینسٹ پارٹی کی بڑی فتح تھی۔ کیونکہ میں انتخابی مہم کا لیڈر تھا۔

لیکن ایک شکست میں فتح کے پھریرے اڑا کر شاد کام لوٹنے کا کوئی موقعہ نہ تھا۔ کم از کم بارہ ممبر ایسے تھے جو احرار کی مدد سے کامیاب ہوئے تھے۔ چونکہ وہ درمیانے اور اعلیٰ طبقے سے متعلق تھے۔ اس لئے امراء کی آواز میں ان کے لئے زیادہ کشش تھی۔ علاوہ ازیں یاد رکھنا چاہئے کہ اونچی کرسی پر بیٹھ کر غریب بھی اونچے طبقے کی سی سوچنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ احرار کے سب ممبر امراء کے کان نمک میں پڑ کر نمک ہو گئے اور احرار سے تعلق توڑ بیٹھے۔ یہ صورتحال صرف اسمبلی کے الیکشنوں میں ہی نہیں ہوئی۔ بلکہ میونسپل انتخابات میں بھی یہی صورت در پیش ہوئی۔ لودھیانہ، جالندھر، لائل پور میں غریب اور درمیانہ طبقہ کے لوگوں نے احرار کے نام پر فتح پائی اور

٣٩

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٤٠

بڑے بڑے سرمایہ داروں کا ٹھاٹ الٹ دیا۔ لیکن جوں ہی کامیاب ہوئے اور سوسائٹی میں ایک درجہ حاصل کرلیا۔ پھر کرسی نشین ہو کر خاک نشین احرار کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگے۔ یہ صرف احرار کا ہی تلخ تجربہ نہیں۔ بلکہ مجلس خلافت نے پنجاب میں الیکشن لڑے۔ گمنام لوگوں کو ممبر بنایا۔ ان لوگوں نے نامور ہو کر مجلس خلافت کی پرکاہ کے برابر پروا نہ کی۔ دونوں جماعتوں کے تلخ تجربہ کی بناء ہی پر اصول وضع کرنا پڑتا ہے کہ انتخابات میں غریب جماعتیں بے حد احتیاط برتیں۔ اپنی پارٹی کے تجربہ کار اور ایثار پیشہ ممبروں کو آگے بڑھائیں۔ ہر سائل کو جماعت کا ٹکٹ نہ دیں۔ جماعت سے وفاداری بڑے ایثار کا کام ہے۔ بلند درجہ پر پہنچ کر اور بلند ہونے کی آرزوئیں ۔ دل میں چٹکیاں لینے لگتی ہیں اور کمتر درجہ کے لوگوں کی خدمت کا پاک جذبہ خود غرضیوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سیاسیات میں ہمیشہ یہ خیال رہے کہ بھان متی کا کنبہ مضبوط پارٹی کا کام نہیں دے سکتا۔ پارٹی کے ممبر پختہ خیال ہوں اور پارٹی کے پروگرام پر جان دینے والے ہوں۔ سیاسی پارٹی فوجی مشین سے زیادہ مضبوط ہو تو بات ہے۔ ورنہ ریت کی دیوار بھلی۔

فوجی حکومت کا قیام

سرسکندر بقول مسٹر جناح ، مسٹر ایمرسن گورنر پنجاب کی پیداوار تھے۔ ہماری غلطی یہ تھی کہ ہمارے دیہاتی امیدوار پرانی جاگیرداری کے نمائندہ تھے۔ ہم نے ان کے وعدے پر اعتبار کر کے اپنی انقلابی مشین کے پرزے ثابت ہونے کی توقع کر لی۔ وہ جونہی اسمبلی میں آئے۔ فطرت کے قانون کا عام عمل ان کی طبیعتوں پر حاوی ہو گیا۔ ان کے رجحانات انقلابی ہونے کے بجائے سرمایہ دارانہ تھے۔ انقلابی جماعتیں ہمیشہ غریب ہوتی ہیں۔ سرمایہ داروں کو غرباء سے قلبی نفرت ہوتی ہے۔ البتہ غرباء سے غرض پوری کرنے اور ان پر حکومت جاری رکھنے کے خیال سے نفرت کو چھپانا ہوتا ہے۔ آبرو باختہ عورت چاہے کسی کو چاہے نہ چاہے۔ مگر وہ چہرے پر شیریں تبسم کا خوش نما نقاب اوڑھے رکھتی ہے اور یوں دل کی کدورت چھپی رہتی ہے۔ اعلیٰ طبقے کے ظاہری اطوار بہت بلند ہونے چاہئیں۔ تا کہ عوام ان کے شکار رہیں۔ مکاری اعلیٰ طبقے کا خاص فن ہے۔ جس کے بغیر حاکم خاندان عموماً برباد ہوتے ہیں اور ان کو انقلاب کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ غریب اور انقلابی جماعتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اعلیٰ طبقہ کے ممبروں کو دیر تک زیر تربیت رکھنے کے بعد انہیں

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 597

خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

تکمیل دین

اور

ختم رسالت

جناب چوہدری افضل حقؒ

صفحہ ٥٩٦

بسم الله الرحمن الرحيم!

تکمیل دین اور ختم رسالت

مشیت ایزدی نے دنیا کے کامل انسان پر دین حق کی تکمیل کر دی۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اسلام کی عمارت کے آخری معمار قرار پائے۔

”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی“ {آج میں نے تمہارے لئے دین مکمل کر دیا اور تم پر نعمت پوری کر دی} کے جانفزا پیغام کے معنی آنحضرت ﷺ نے خود ہی ”لا نبی بعدی“ {میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔} کے ارشاد سے واضح کر دیئے۔

حضرت محمد رسول اللہ ﷺ رحمۃ اللعالمین اسی لئے قرار دیئے گئے کہ ان کے بعد نئی نئی تعلیمات اور نئے نئے رسولوں پر بنی نوع انسان تقسیم در تقسیم ہونے سے بچ جائے۔

آنحضرت ﷺ کے تشریف لانے کے ساتھ ہی دنیا کی تمام ترقیوں کے راستے کھل گئے۔ یہ آپ ہی کے وجود باجود کا اعجاز ہے کہ آپ کے ظہور کے ساتھ ملکوں اور قوموں میں باہم میل جول اور ربط ضبط کے مواقع پیدا ہو گئے۔

زمانہ بتدریج ترقی کرتا کرتا یہاں تک پہنچ گیا کہ لاکھوں میلوں کی مسافت دنوں میں طے ہونے لگی اور برسوں کے سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگے۔ اسلام کا یہ دعویٰ کہ میں تمام زمانوں اور تمام قوموں کے لئے ایک ہی مشترکہ پیغام لایا ہوں۔ حالات اور واقعات سے سچ ثابت ہونے لگا۔ اسلام سے قبل دنیا کے حالات کے مطابق نبی الگ الگ قوموں اور ملکوں کے لئے مبعوث ہوتے رہے۔ کیونکہ اپنے ملک کے باہر دعوت و اشاعت میں ناقابل عبور مشکلات تھیں۔ تا آنکہ رحمت حق جوش میں آئی۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ظہور ہوا۔ اس شمع کے نور سے دنیا میں روشنی پھیلی۔

اب دنیا کو معلوم ہوا کہ اختلافات مذہب کی بنا پر انسان گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ اس لئے ہر شخص نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ دنیا کو ایک مشترکہ مذہب کی ضرورت ہے۔ ظاہر

٢

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٩٧

ہے کہ اب زمانے کے حالات اتنے بدل چکے ہیں کہ لوگ یوں بھی اختلاف مذہب کی بنا پر ایک دوسرے کو جہنمی قرار دینے کو نا پسند کرتے ہیں۔ گویا زمانہ نئے نئے نبیوں کے دعوؤں کی بنا پر گروہ در گروہ تقسیم ہونے سے بالکل انکار پر آمادہ ہے۔ اب زمانے کی سپرٹ کو ”لانبی بعدی“ کے ارشاد اور ”اکملت لکم دینکم“ کے ربانی حکم کو ملا کر پڑھو تو منشائے ایزدی صاف معلوم ہو جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ظہور اور ان پر دین کی تکمیل سے اس زمانہ کی سپرٹ اور ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کے علم میں اس زمانے کے حالات اور اس زمانے کے انسانوں کی سپرٹ پورے طور سے موجود تھی۔ یا یوں کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام دنیا کے لوگوں میں خود بخود یہ سپرٹ پیدا کر دی کہ اب تمام دنیا ایک ہی پیغام اور ایک ہی پیغمبر کے تابع ہو جائے۔

ادھر تکمیل دین کی آیت اتری۔ ”لانبی بعدی“ سے آنحضرت ﷺ نے اس کی وضاحت فرما دی۔ ساتھ ہی آنے والے زمانے کی سپرٹ نے ”لانبی بعدی“ اور ”اکملت لکم دینکم“ کی تصدیق کر دی۔

مرزائی احباب کہتے ہیں کہ باب نبوت بند ہونے کے دعویٰ کے یہ معنی ہیں کہ اللہ کی رحمت کا دروازہ بند ہو گیا۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ لوگوں کو رشد و ہدایت کے لئے نبیوں کا ظہور تا قیامت ضروری ہے۔ دیکھو سلامتی کے مذہب یعنی دین اسلام میں ایک حد تک اس ضرورت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ یعنی مجددوں کے آنے کا اقرار موجود ہے۔ مگر مرزا قادیانی اس کے بھی مصداق نہیں ہیں۔ لیکن کسی ایسے نبی کے آنے کا انکار ہے جس کے دعویٰ کی بنا پر اس کے نہ ماننے والے لوگ قابل مواخذہ سمجھے جائیں گے۔

غور کرو کہ بنی نوع انسان کے لئے اسلام کی پیش کردہ صورت باعث رحمت ہے یا مرزائیوں کا مذہبی دعویٰ دنیا کے لئے بہتر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی یا اسی قسم کے بعد کے

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٩٨

آنے والے نبیوں پر ایمان نہ لانے والا کافر ہے۔

بعض اوقات دانا بھی بیوقوفوں کی سی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ مرزائیوں میں سے اکثر اس دعویٰ کے بودا پن کے قائل ہیں۔ یعنی ایک خاص جماعت لاہوری مرزائیوں کے نام سے مشہور ہے۔ اسی بنا پر مرزا قادیانی کی نبوت سے منکر ہے۔ لیکن قادیانی مرزائیوں میں سے تعلیم یافتہ طبقہ مرزا قادیانی کو نبی مان کر نہ صرف عالم اسلام بلکہ زمانہ بھر کے لئے مذاق کا باعث بن رہا ہے۔

اگر اسلام کے اصول اور زمانہ کے سپرٹ کے خلاف مرزائیوں کی طرح یہ تسلیم کر لیا جائے کہ باب نبوت تا قیامت کھلا رہے گا اور ہر آنے والے نبی پر ایمان نہ لانے والا جہنمی قرار دیا جائے گا تو غور کرو کہ نسلوں کی نسلیں یونہی کفر کی موت مریں گی اور نبیوں کے حلقۂ احباب سے باہر سب دنیا جہنم میں جائے گی اور بار بار نسل انسانی بیش از پیش مذہبی گروہوں میں تقسیم ہوتی چلی جائے گی اور مذہبی تنازعوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

قادیانی کہتے ہیں کہ نبوت کے دروازے کا بند کرنا ایک انوکھی بات ہے۔ حالانکہ وہ اس انوکھی بات کے قائل ہیں کہ اسلام اور اسلام کے بانی کی دعوت تمام دنیا اور قیامت تک کے لئے ہے۔ اب اس تعلیم میں کمی بیشی کی گنجائش نہیں۔ جب ایک نبی برخلاف تمام پچھلے نبیوں کے تمام دنیا کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے آچکا تو ...... پھر کسی نئے مدعی نبوت کی ضرورت ہی پیدا نہیں ہوتی۔

ہاں! اگر مرزائی حضرات اس امر کا باطل دعویٰ کریں کہ جس طرح آنحضرت ﷺ سے پہلے نبی مخصوص ملکوں اور مخصوص قوموں کے لئے آئے۔ اسی طرح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کسی ایک قوم یا کسی ایک خاص ملک کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور مرزا قادیانی کسی اور ملک اور کسی اور قوم کے لئے نازل ہوئے اور خاص خاص ملکوں اور قوموں کی ہدایت کے لئے خاص خاص نبیوں کو بھیجنے کی سنت ابھی جاری ہے۔ لیکن وہ ایسا تسلیم

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٥٩٩

نہیں کرتے۔ بلکہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ تمام قوموں اور تمام زمانوں کے لئے آفتاب ہدایت ہیں تو اس آفتاب کے سامنے مرزائی نبوت کا دیا جلانا بیشک بے عقلی کی بات ہے۔ اسلام کا یہ دعویٰ کہ وہ تمام آنے والی نسلوں اور زمانے کی ضرورتوں کا کفیل ہے اور قرآن پر مسلمانوں اور قادیانیوں کا مشترکہ یقین کہ اس کے مخاطب تمام قومیں، تمام نسلیں اور تمام آنے والا زمانہ ہے۔ اس اعتقاد کو ختم کر دیتا ہے کہ نبوت کا باب بدستور کھلا ہے۔

کاش! مرزائی اتنی موٹی بات کو سمجھیں کہ جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان یہ ہے کہ وہ تمام ملکوں اور قوموں کے لئے مشعل ہدایت ہیں اور قرآن تا قیامت مومنین کی جان کا نور رہے گا تو باب نبوت کا وا سمجھنا سوائے فتنہ کے دروازہ کھولنے کے اور کیا مطلب رکھتا ہے۔

عزیزو! اس سچی بات پر یقین رکھو کہ اسلام تمام قوموں، تمام ملکوں اور تمام زمانوں کے لئے بہترین دستور عمل ہے۔ اس لئے اس پیغام کو لانے والا تمام قوموں اور ملکوں کے لئے واجب التسلیم پیغمبر ہے۔ عقل انسانی اور ضرورت زمانہ کو تو اب اس بات پر اصرار ہے کہ قومیں نئے نئے نبیوں کے دعوؤں کی بنا پر گروہوں میں تقسیم نہ ہوں۔ دنیا کا ایک ہی مشترکہ مذہب ہو جو امن و سلامتی اور بنی نوع انسان کے اتحاد کا ضامن ہو۔ یہ مذہب اسلام ہے۔ اس کو لانے والے کے فیض کو تمام زمانوں کے لئے کافی قرار دیا جائے۔

میری بحث کے تین جزو ہیں

خاص قوموں اور خاص خاص ملکوں کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ ان کا فیض عام نہ تھا۔ یہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات تھی جو رحمۃ للعالمین کہلائے اور تمام دنیا کے لئے ہادی قرار پائے۔ اس دعویٰ کی بنا پر عقل کو تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبوت کی ضرورت نہیں رہتی۔

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦

کے لئے بہترین دستور عمل ہے اور اس کلام کی محافظت کی ذمہ داری خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر لی ہے۔ لاکھوں قرآن پاک کے حفاظ اس کے شاہد عادل ہیں۔ اس لئے ایسی ہمہ گیر اور تا قیامت باقی رہنے والی تعلیم دینے والا نبی آخر الزمان ہی کہلا سکتا ہے اور اس کے بعد کسی نبی کے آنے کا خیال باطل ہے۔

کے آنے کی سرے سے ضرورت ختم ہو چکی ہے۔ کیونکہ اللہ کے فضل اور رسول عربی ﷺ کے فیض سے زمانہ ترقی کے ان مراحل پر پہنچ چکا ہے جہاں ایک مذہب ایک حکومت اور ایک زبان کی ضرورت تسلیم کی جا رہی ہے۔ زمانہ زبان حال سے مذہبی گروہ بندیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہا ہے۔ اس لئے منشائے ایزدی بنی نوع انسان میں جاری ہے اور طاری سپرٹ سے ظاہر ہو رہا ہے اور وہ یہی ہے کہ آئندہ نسل انسانی نئے نئے نبیوں کے دعوؤں کی بنا پر گروہوں میں تقسیم نہ ہو۔ بلکہ ایک ہی سلامتی کے مذہب کو قبول کریں اور ایک ہی سلامتی کے شہزادے کی حکومت کو تسلیم کریں اور وہ سلامتی کا مذہب اسلام ہے اور اس کے شہزادہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 603

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

میٹھی چھری

مرزائی بدعقلی اور حماقت کی انتہاء

جناب چوہدری فضل حقؒ

صفحہ ٦٠٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

دہقان کی حسرتناک سادہ لوحی پر کون خون کے آنسو نہ بہائے۔ جو کھیت کی جھاڑ بوٹیوں کو اپنی محنت کا حاصل اور قابل ذخیرہ جنس قرار دے لے اس مسلمان کی بدعقلی اور حماقت اس سے زیادہ کیا ہے۔ جو مرزائیوں جیسی اسلام دشمن جماعت کو اپنا قوت بازو سمجھ لے کسی کی ریاکاری سے انسان فریب کھا سکتا ہے۔ لیکن اسلام کی بیخ کنی کے کھلے عزائم رکھنے والی جماعت کو سینہ سے لگائے رکھنا، سانپوں کو آستینوں میں پرورش کرنے کے برابر ہے۔ مرزائی کو اسلام دوست سمجھنا دھوکہ کھا جانے کی بات نہیں۔ بلکہ حقائق کو اپنی ہٹ دھرمی پر قربان کرنا ہے میں مانتا ہوں کہ مجھے مذہبی علوم پر عبور نہیں۔ مگر مذہب کے علمبرداران کی دیں دشمنی سے نالاں ہوں اور وہ کون سا مسلمان ہے جس سے ان کی دشمنی نہیں۔ ہمارے معاصر ان کو لاکھ اپنائیں۔ مگر ان کا فتویٰ یہی رہے گا۔

’’ساری دنیا ہماری دشمن ہے۔ بعض لوگ جب ان کو ہم سے مطلب ہوتا ہے تو ہمیں شاباش کہتے ہیں۔ جس سے بعض احمدی یہ خیال کرلیتے ہیں کہ وہ ہمارے دوست ہیں۔ حالانکہ جب تک ایک شخص خواہ وہ ہم سے کتنی ہمدردی کرنے والا ہو۔ پورے طور پر احمدی نہیں ہو جاتا۔ ہمارا دشمن ہے۔‘‘

(تقریر خلیفہ قادیانی ٢٥؍ اپریل

١٩٣٠ء)

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اسلامی دنیا میں کوئی دین کا عالم ایسا نہیں جو سانپوں کو دودھ پلانے کا فتویٰ دے سکے۔ البتہ بعض سیاسین مذہب جن کے نزدیک مذاق ہے۔ سعی لاحاصل میں مصروف ہیں کہ مرزائیوں کو سیاسی مسلمان سمجھ لیا جائے۔ حالانکہ یہ گروہ اسلام کا شدید مخالف ہے تو اسلامی سیاست کا شدید ترین دشمن ہے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ مرزائیوں کے دوست دار لیڈروں کے پیش نظر اسلامی سیاست نہیں۔ بلکہ پنجابی سیاست ہے۔ وہ پنجاب میں کسی قیمت پر اپنے وہم کا اطمینان چاہتے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ وہ پنجاب کے پانیوں میں ڈوب رہے ہیں۔ اس لئے ڈوبتے کو تنکا سمجھ کر سہارے کے لئے ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہیں وہ تنکا سہارا بھی نہ دے گا۔ بلکہ اپنی مقتضیات سے باز نہ آئے گا۔ اوّل تو پنجاب کے سیاسی فارمولا کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ

٢

صفحہ ٦٠٣

حکومت نے تقسیم کے دو گروہ تسلیم کئے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم۔ مسلم کو جو ملنا تھا مل چکا غیر مسلم کو جو دیا جانا تھا دیا جاچکا۔ اس کے علاوہ اڑھائی کروڑ کی آبادی میں پچاس ہزار مرزائیوں کو پاسنگ موجودہ توازن کو آئندہ بھی بدلنے کے ناقابل ہے۔ اگر آپ کے نزدیک مرزائی ہی حل المشکلات ہیں تو یہ سہاگ دو دن کا مہمان ہے۔ کیا اعتبار کہ یہ میٹھی چھری کلیجے سے لگ کر کب جدا ہو جائے۔

مرزائیت سے اتحاد کے متمنی مسلمان اس حقیقت کبریٰ کو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اس مذہب کی بنیاد افتراق پر ہے۔ حضور ﷺ سرور کائنات نے خدا سے حکم پا کر ختم نبوت کا دعویٰ کیا۔ تا کہ آئندہ ملت اسلامیہ مختلف نبیوں کے دعوؤں کی بناء پر تقسیم در تقسیم ہونے سے بچ رہے اور ہر مسلمان کو مبلغ قرار دیا۔ تا کہ باقی مذاہب کے پیرو بتدریج اسلام قبول کر کے لوائے محمدی کے نیچے جمع ہو جائیں۔ کون نہیں جانتا کہ ملک اور مذہب کی حد بندیوں کے علاوہ اختلاف مذہب سب سے بڑی حد بندی ہے۔ جو نسل انسانی کی تفریق کا باعث ہے۔ مذہبی حد بندی مختلف نبیوں اور رسولوں کی پیروی کی بناء پر ہے۔ قادیانی مذہب کا دعویٰ درحقیقت تاج مصطفوی ﷺ پر ہاتھ ڈالنے کا چور دروازہ ہے۔ تعجب ہے کہ فرزندان اسلام اس اسلامی ہتک کو تو خوشی سے برداشت کرلیں اور فتنہ پرداز کو اسلامی شیرازہ بکھیرنے کی کھلی اجازت دیں۔ لیکن پنجاب کی اکثریت کے موہوم خطرے سے بے تاب ہو جائیں۔ خدا حکم فرمائے محمد رسول اللہ ﷺ تمام انسان کے لئے کافی ہیں۔ غضب خدا کا مرزا قادیانی درمیان سے ہانک لگا دے کہ ؎

منم مسیح زماں و منم کلیم خدا
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)

مرزا غلام احمد قادیانی کی ایسی جسارت پر احتجاج کرنے کی بجائے خود آنکھیں نیچی کر لی جائیں۔ مبادا ان کے دل تمہارے اقدام سے مجروح ہو جائیں۔ وہ ملت اسلامیہ کو نقصان پہنچائیں۔ سرور عالم محمد رسول اللہ ﷺ کے منہ آئیں۔ بالکل معاف مگر پنجاب میں تمہاری اکثریت کو موہوم خطرہ لاحق نہ ہو جائے۔ اگر مذہب کی ذلت اور ملت کی بربادی کو خاطر میں نہ لا کر

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٠٤

مرزائیوں کو ساتھ ملانے پر کسی کو اصرار ہے تو مجلس احرار کا ایسی قوتوں سے مقابلہ کرتے رہنا سب سے بڑا جہاد ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص مرزائیوں کی اسلام کی خلاف گہری منصوبہ بازی سے ناواقف ہو تو آگاہ کرنا ضروری ہے۔

مرزائیوں کے مرکز قادیان میں ان کی سیاسی اخلاق کا نظارہ دیکھو۔ برسوں سے مسلمانوں کو بدترین مصیبتوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت میں مرزا غلام احمد قادیانی کو ساجھی نہ کرنے کے جرم میں اراضی سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ غریب مسلمانوں کا کوئی سانس خطرے سے خالی نہیں جاتا۔ لاہور میں بیٹھ کر مرزائیوں کو امن پسندی کی سند کوئی عطاء کرتا رہے۔ مگر انگریزی عدالت کا فیصلہ شاہد عادل ہے۔

انہوں نے اپنے دلائل دوسروں سے منوانے اور اپنی جماعت کو ترقی دینے کے لئے ایسے حربوں کا استعمال شروع کیا۔ جنہیں ناپسندیدہ کہا جائے گا۔ جن لوگوں نے قادیانیوں کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا۔ انہیں مقاطعہ قادیان سے اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی مکروہ تر مصائب کی دھمکیاں دے دے کر دہشت انگیزی کی فضا پیدا کی۔ بلکہ بسا اوقات انہوں نے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا کر اپنی جماعت کے استحکام کی کوشش کی۔

(فیصلہ مسٹر کھوسلہ)

خدا بہتر جانتا ہے کہ واقعات کے اظہار میں تنکے کے برابر مبالغہ نہیں کیا گیا۔ ایسے بے فیض گروہ سے فیض کی امید اور ان سے دوستی کی توقع آزمائے ہوئے کو آزما کر ذلت کا منہ دیکھنا ہے۔ خون نوشی اور المناک شورہ پشتی کی داستان مباہلہ والوں سے پوچھو۔ شہید محمد حسین کے پسماندگاں سے دریافت کرو۔ مسلمانوں کی جان پر چھریاں چلانے والوں کو اخبار کے دفتر میں قلم چلا کر بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا۔ مجلس احرار کی قادیان کے مخالف سرگرمیوں پر کوئی کتنی پھبتیاں اڑائے۔ لیکن مجلس احرار موجودہ مرزا کی تعلی کو بھول نہیں سکتی کہ جب اس نے بر ملا کہا۔

”قادیان میں ایک غیر احمدی کا وجود اس کے لئے باعث تردد ہے۔“ اس کے ساتھ کوئی شوق سے محبت کی پینگیں بڑھائے۔ مگر کسی ایک شخص کی راہ و رسم مرزائیوں کے خطرناک عزائم

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٠٥

کو روک نہیں سکتی۔ وہ مسلمان اخبار نویس جو مرزائیوں کے خلاف آواز سنتے ہی اندھے کا لٹھ گھمانا شروع کر دیتے ہیں اور جو بولے اس کی تواضع کرنے میں بخل نہیں کرتے ۔ شاید اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ مسلمانوں کو مرزائی نہ صرف مذہبی لحاظ سے کافر اور سیاسی لحاظ سے دشمن سمجھتے ہیں ۔ بلکہ اقتصادی طور پر دشمن کا سا سلوک کرتے ہیں ۔ ہر مرزائی مرزائی سے خرید و فروخت پر مجبور ہے۔ خلاف ورزی کرنے والا سخت سزا کا مستوجب ہے۔ مرزائیوں کے بائیکاٹ کا معاملہ سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ کے مقدمہ میں زیر بحث رہا ہے۔ مرزائی سرکلر کی نقل شاید ہمارے کوتاہ بین مخالفوں کی آنکھیں کھول دے اور وہ مجلس احرار کی دور بینی کے قائل ہو جائیں۔

نقل اقرار نامہ

’’سودا احمدیوں سے خریدوں گا‘‘

قادیان کی احمدیہ جماعت نے جو معاہدہ ترقی تجارت تجویز کیا ہے ۔ مجھے منظور ہے میں اقرار کرتا ہوں کہ ضروریات جماعت قادیان کا خیال رکھوں گا اور قادیانی مدیر تجارت جو حکم کسی چیز کے بہم پہنچانے کا دیں گے۔ اس کی تعمیل کروں گا اور جو حکم ناظر امور عامہ دیں گے۔ اس کی بلا چون و چرا تعمیل کروں گا۔ نیز جو اور ہدایات وقتاً فوقتاً جاری ہوں گی ان کی پابندی کروں گا۔ اگر میں کسی حکم کی خلاف ورزی کروں گا تو جو جرمانہ تجویز ہوگا وہ ادا کروں گا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ جو میرا جھگڑا احمدیوں سے ہو گا اس کے لئے امام جماعت احمدیہ (مرزا بشیر) کا فیصلہ میرے لئے حجت ہو گا ۔ ہر قسم کا سودا احمدیوں سے خریدوں گا۔ معاہدہ کی خلاف ورزی کی صورت میں ٢٠ روپیہ سے لے کر ١٠٠ روپیہ تک جرمانہ ادا کروں گا اور بیس روپیہ پیشگی جمع کراؤں گا ۔ اگر میرا جمع شدہ روپیہ ضبط ہو جائے تو مجھے اس کی واپسی کا حق نہ ہوگا۔ نیز میں عہد کرتا ہوں کہ احمدیوں کی مخالف مجلس میں کبھی شریک نہ ہوں گا ۔

دیکھا آپ نے بیوی بڑے پیار محبت سے نتھ کی فرمائش کر رہی ہے اور میاں ناک

٥

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٠٦

کاٹنے کی فکر میں لگا ہوا ہے۔ مسلمان و مرزائیوں کو ساتھ ملانے کے لئے بے تاب ہیں اور مرزائی مسلمانوں کے بائیکاٹ پر عمل پیرا ہیں۔

کوئی صاحب عقل ایک بدعقل کے پاس سے گزرا۔ دیکھا کہ وہ قیمتی جواہرات کو گھر کے باہر پھینک رہا ہے اور کوئلوں کو سات پردوں میں چھپا کر احتیاط سے الماری میں بند کر رہا ہے۔ عقل مند کا دل اس کی حماقت کو دیکھ کر پسیج گیا۔ بولا عقل کے اندھے ان لعل وجواہر کو سمیٹ ان میں سے ایک ایک درّ شاہوار ہے۔ تیرے آباؤ اجداد نے خون پسینہ ایک کر کے یہ دولت جمع کی ہوگی۔ تجھ سے زیادہ بدعقل اور پراز حماقت اور کون...... جو......

صاحب ہوش کی بات ختم نہ ہوئی تھی کہ وہ عقل سے عاری پلٹ کر بولا۔ اے صاحب علم وعقل، مجھ بدعقل کی پھبتی نہ اڑا۔ بدعقلی اور حماقت کے بھی مدارج ہیں۔ بے عقل مقدسین میں ان کا درجہ مجھ سے بلند ہے۔ جو قادیان کی چولی کو مکہ کے دامن سے باندھنا چاہتے ہیں اور پنجاب کی اکثریت کے موہوم خطرہ کی بنا پر قادیانیوں کا سر سینے سے لگا کر اسلام اور دنیائے اسلام کے متعلق ان کے خوفناک ارادوں کو بھول جاتے ہیں۔

عبرت مسلمانوں کے حال پر خون کے آنسو کیوں نہ رووے۔ جن کی مؤمنانہ فراست سلب کر لی گئی اور کھوٹے کھرے کی پہچان ان سے چھین لی گئی۔ وہ دوست جو کل اسلامی سلطنتوں کی اینٹ سے اینٹ بجتے دیکھ کر بے تاب ہو گئے تھے اور حکومت کے غصہ کا شکار ہو کر پابند سلاسل کر دیئے گئے تھے۔ آج وہی قادیانی اتحاد کے علمبردار بن گئے۔ ان کے کفریہ عقائد کو قابل صد نفرت قرار دینے کے باوجود اس شجر خبیثہ کو بارآور کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ حالانکہ مرزائی سیاسی طور سے اسلام کا سب سے بڑا حریف ہے اور انہیں ان دولتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ جن کا قصر و سطوت اسلامی سلطنتوں کے کھنڈرات پر تعمیر ہوا ہے۔

جنگ فرنگ کا وہ الم آفرین زمانہ جب دامان خلافت تار تار ہو کر اسلامی عظمت کا علم سرنگوں ہورہا تھا اور صلیب، ہلال کے خلاف کامیاب جنگ کر کے صدیوں کے بعد بیت المقدس

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦٠٧

واپس لینے میں مصروف تھی اور مشرق و مغرب میں ہر اسلامی گھر غم کدہ بنا ہوا تھا۔ عین اس زمانہ میں مرزائیت اسلام کی شکست پر اپنے مرکز قادیان میں جشن شادمانی منا رہی تھی۔

قادیان میں جشن مسرت

”١٣؍ تاریخ جس وقت جرمنی کے شرائط منظور کر لینے اور التوائے جنگ کے کاغذ پر دستخط ہو جانے کی اطلاع قادیان پہنچی تو خوشی اور انبساط کی ایک لہر برقی سرعت کے ساتھ تمام لوگوں کے قلوب میں سرایت کر گئی اور جس نے اس خبر کو سنا نہایت شاداں و فرحاں ہوا۔ دونوں سکولوں انجمن ترقی اسلام اور صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں تعطیل کر دی گئی۔ بعد نماز عصر مسجد مبارک میں ایک جلسہ ہوا۔ جس میں مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے تقریر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی طرف سے گورنمنٹ برطانیہ کی فتح و نصرت پر دلی خوشی کا اظہار کیا اور اس فتح کو جماعت احمدیہ کے اغراض و مقاصد کے لئے نہایت فائدہ بخش بتایا۔ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ کی طرف سے مبارک باد کے تار بھیجے گئے اور حضور نے پانچ سو روپے اظہار مسرت کے طور پر ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر گورداسپور کی خدمت میں بھجوایا کہ آپ جہاں پسند فرمائیں۔ خرچ کریں۔ پیشتر ازیں چند روز ہوئے کہ ترکی اور...... کے ہتھیار ڈالنے کی خوشی میں حضور نے پانچ ہزار روپے جنگی اغراض کے لئے ڈپٹی کمشنر صاحب کی خدمت میں بھجوایا تھا۔“

(الفضل سرورق ج٦ نمبر ٣٧ ص١،

١٦؍نومبر ١٩١٨ء)

ارباب بصیرت میں سے کوئی یوں نہ سمجھ لے کہ یہ جشن، جشن نوروز تھا کہ اس میں سب نے رنگ کھیلا اور ارباب غرض سب ہی شامل ہوئے۔ نہیں یہ بات نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انگریزی سیاست کا اس شجر خبیثہ کے ساتھ خاص پیوند ہے۔ اسی لئے ان کی ریشہ دوانیاں اسلام کی جڑ پر کلہاڑا ثابت ہو رہی ہیں۔ اسلام میں فرقے بے شک ہیں۔ لیکن مرزائیت گلشن اسلام کے لئے ”امربیل“ ہے۔ جو کوئی دشمن راہ جاتے ہمارے ہرے بھرے باغ میں پھینک گیا ہے۔ یاد

٧

صفحہ ٨

رکھو جوں جوں یہ بیل بڑھے گی۔ توں توں اسلام کمزور ہوگا۔

مرزا محمود کا اعلان ضروری

”ایک بات جس کا فوراً آپ لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ اس وقت کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ سلسلہ احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ سے جو تعلق ہے۔ وہ باقی تمام جماعتوں سے نرالا ہے۔ ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائد ایک ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی آگے قدم بڑھانے کا موقعہ ہے اور اس کو خدانخواستہ اگر کوئی نقصان پہنچے تو اس صدمہ سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اس لئے شریعت اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کے ماتحت اور خود اپنے فوائد کی حفاظت کے لئے اس وقت جب کہ جنگ وجدل جاری ہے۔ ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ ہر ممکن طریق سے گورنمنٹ کی مدد کرے۔“

(الفضل ج ٦ نمبر ٨ ص ١، ٢٧؍جولائی

١٩١٨ء)

کون نہیں جانتا کہ انگریز کا نزلہ مسلمان کے عضو ضعیف پر گرتا ہے۔ اس لئے مرزا للکار کر کہتا ہے کہ سرکار کا سایہ ہر جگہ پڑنے دو جہاں سرکار جائے گی۔ وہاں اس کا خودکاشتہ پودا جائے گا۔ اس پودے کی نگہبانی کے لئے انگریزی مالی کی تمنا رہتی ہے۔ باوا اپنی تمناؤں میں مر گیا۔ بیٹا اپنی خواہشوں پر بسر اوقات کر رہا ہے۔ ایک عاقبت نا اندیش مسلمان ہے کہ دشمن کی چھری اپنے گلے پر پھیر رہا ہے۔

انگریزوں کی فتح ہماری فتح ہے

”جماعت احمدیہ کے لئے نہایت خوشی کا مقام ہے کہ جنگ میں انگریزوں کی سلطنت فاتح ہوئی اور اس خوشی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ انگریزوں کی قوم ہماری محسن ہے اور اس کی فتح ہماری فتح ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے مسیح علیہ السلام کی دعا نہایت زبردست رنگ میں قبول ہوئی اور صحابہ کی طرح یومئذ یفرح المؤمنون بنصر اللہ کا انعام ہمیں عطاء ہوا ۔“

www.besturdubooks.wordpress.com

PDF 611

بسم الله الرحمن الرحيم

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

عقیدہ ختم نبوت

اور

مسلمانوں کی ذمہ داریاں

حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ

صفحہ ٦١٠

بسم الله الرحمن الرحيم!

الحمدلله وحده والصلاة والسلام على من لا نبى بعده ولا رسول بعده

ولا امة بعده امة صلى الله عليه وسلم وعلى آله وصحبه اجمعين ٠ اما بعد!

اسلام کی بنیاد توحید، رسالت اور آخرت کے علاوہ جس بنیادی عقیدے پر ہے۔ وہ عقیدۂ ختم نبوت ہے۔ حضرت محمد ﷺ پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ آپؐ سلسلہ نبوت ورسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی شخص کو اس منصب پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ یہ عقیدہ اسلام کی جان ہے۔ ساری شریعت اور سارے دین کا مدار اسی عقیدے پر ہے۔ قرآن کریم کی ایک سو سے زائد آیات اور آنحضرت ﷺ کی سینکڑوں احادیث اس عقیدہ پر گواہ ہیں۔ تمام صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ، تبع تابعینؒ، ائمہ مجتہدینؒ اور چودہ صدیوں کے مفسرینؒ، محدثینؒ، فقہاءؒ، متکلمینؒ، علماء اور صوفیا کا اس پر اجماع ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے: ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (الاحزاب: ٤٠)“ {حضرت محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کو ختم کرنے والے آخری نبی ہیں ۔}

تمام مفسرینؒ کا اس پر اتفاق ہے کہ ”خاتم النبیین“ کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ ”آخری نبی“ ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی کو منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ عقیدۂ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے۔ اسی طرح آپؐ کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے۔ اس سلسلے میں آپؐ کے چند ارشادات ملاحظہ ہوں ۔

(ترمذی، مسند احمد)

ان ارشادات نبوی ﷺ میں اس امر کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ آپؐ آخری نبی ورسول ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی کو اس عہدے پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ آپؐ سے پہلے جتنے انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے۔ ان میں سے ہر نبی نے اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دی اور گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی تصدیق کی۔ آپؐ نے گذشتہ انبیاء کرام کی تصدیق کی۔ مگر کسی نئے آنے والے نبی کی بشارت نہیں دی بلکہ فرمایا:

٢ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦١١

پیدا نہ ہوں۔ جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“ (بخاری ومسلم)

نیز ارشاد فرمایا:

نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ (ابوداؤد، ترمذی)

ان دو ارشادات میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ایسے مدعیان نبوت کے لئے ”دجال وکذاب“ کا لفظ استعمال فرمایا۔ جس کا معنی ہے کہ وہ لوگ شدید دھوکے باز اور بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں پھنسائیں گے۔ لہٰذا امت کو خبردار کر دیا گیا کہ وہ ایسے عیار ومکار مدعیان نبوت اور ان کے ماننے والوں سے دور رہیں۔ آپؐ کی اس پیش گوئی کے مطابق ١٤٠٠ سالہ دور میں بہت سے کذاب ودجال مدعیان نبوت کھڑے ہوئے۔ جن کا حشر اسلام کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے خوب جانتے ہیں۔ آپؐ کی زندگی کے آخری دور میں اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا۔ اسود عنسی نے کافی قوت پکڑ لی اور اس کا فتنہ یمن میں پھیل گیا۔ خاتم الانبیائؐ نے اپنے ایک صحابی فیروز دیلمیؓ (جو یمن میں رہتے تھے) کو خط ارسال فرمایا کہ اس فتنہ کا مقابلہ کرو اور اسود عنسی کا خاتمہ کردو۔ چنانچہ آپ ﷺ کے انتقال سے کچھ ہی عرصہ پہلے حضرت فیروز دیلمیؓ نے موقع تاک کر اسود عنسی کو تہہ تیغ کر کے اس کے فتنے کو ختم کر دیا۔ جس رات اسود عنسی مارا گیا۔ اس کے اگلے روز آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو ان الفاظ میں خوشخبری سنائی: ”قتل الاسود العنسی البارحه قتله رجل مبارک من اهل بیت مبارکین، فقيل له من يا رسول الله فقال فیروز فاز فیروز“ {گذشتہ رات اسود عنسی قتل کر دیا گیا۔ اس کو مبارک گھر والوں میں سے ایک مبارک شخص نے قتل کر دیا۔ آپؐ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ! یہ کام کس نے انجام دیا؟ آپؐ نے فرمایا فیروز نے۔ فیروز کامیاب ہو گیا۔}

آپؐ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد مسیلمہ کذاب کا فتنہ بھی زور پکڑ چکا تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی معیت میں صحابہ کرامؓ کا ایک لشکر اس کی سرکوبی کے لئے روانہ فرمایا۔ یمامہ کے میدان میں صحابہ کرامؓ اور مسیلمہ کذاب کے لشکر کے درمیان ایک خوفناک اور خونریز جنگ ہوئی۔ جس میں صحابہ کرامؓ نے ٢٨ ہزار مسیلمہ کذاب کے ماننے والوں کو مع مسیلمہ کذاب کے تہہ تیغ کیا۔ جب کہ صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد مرتدین کے مقابلہ میں

٣

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦١٢

شہید ہوئے۔ مورخین نے لکھا ہے کہ آپؐ کے مدنی دس سالہ دور میں جو جہاد ہوئے۔ ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرامؓ کی تعداد ٢٥٩ ہے۔ جب کہ تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں مرتدین کا مقابلہ کر کے شہید ہونے والے صحابہ کرامؓ اجمعین کی تعداد ١٢٠٠ ہے۔ جس میں سے ٧٠ بدری اور ٧٠٠ صحابہ کرامؓ قرآن کے قاری اور حفاظ تھے۔ جن میں مسجد قبا کے امام، چار بڑے قاریوں میں ایک بڑے قاری حضرت سالم مولیٰ حذیفہؓ، حضرت عمر بن خطابؓ کے بڑے بھائی حضرت زید بن خطاب، حضور اکرمؐ کے خطیب ثابت بن قیس بن شماس انصاری، مشہور صحابہ حضرت طفیل بن عمرو دوسی اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم اجمعین شامل ہیں۔ اسوۂ رسول اکرم ﷺ، اسوۂ صدیقیؓ اور اسوۂ صحابہ کرامؓ ہمارے سامنے ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے مشرکین مکہ سے صلح حدیبیہ نامی معاہدہ کیا۔ مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے بعد یہودیوں سے میثاق مدینہ ہوا۔ عیسائیوں کا مشہور وفد، وفد نجران مسجد نبوی میں آ کر ٹھہرا۔ مگر آپؐ نے جھوٹے مدعی نبوت اسود عنسی، حضرت صدیق اکبرؓ و دیگر صحابہ کرامؓ نے مسیلمہ کذاب سے کوئی صلح نہیں کی اور کسی قسم کی نرمی نہیں برتی اور نہ ہی کوئی وفد اس کو سمجھانے یا تبلیغ کرنے کے لئے بھیجا۔ اسی پر بس نہیں۔ بلکہ مسیلمہ کذاب کے بعد جس بدبخت نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اس کا یہی حشر ہوا۔ مشہور عالم قاضی عیاضؒ اپنی کتاب ’’الشفاء‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’خلیفہ عبدالملک بن مروان نے مدعی نبوت حارث کو قتل کر کے سولی پر لٹکایا تھا اور بے شمار خلفاء اور سلاطین نے اس قماش کے لوگوں کے ساتھ یہی سلوک کیا اور اس دور کے تمام علماء نے بالا جماع ان کے اس فعل کو صحیح اور درست قرار دیا اور جو شخص مدعی نبوت کے کفر میں اجماع کا مخالف ہو وہ خود کافر ہے۔‘‘

(الشفاء ج٢ ص٢٧٥)

انیسویں صدی کے اوائل میں مغربی استعمار اسلامی ممالک کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔ اس نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے اپنی سرپرستی میں بہت سی باطل تحریکوں کی بنیاد رکھی۔ جن میں ایک تحریک ’’قادیانیت‘‘ ہے۔ جس کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ اس نے اسلام کا صحیح راستہ چھوڑ کر ارتداد کا راستہ اختیار کیا اور نہ صرف نبوت کا دعویٰ کیا بلکہ حق تعالیٰ شانہ کی شان میں ہرزہ سرائی کا بھیانک مظاہرہ کیا۔ حضور اکرم ﷺ کی توہین کی۔ اپنے آپ کو بعینہ محمد رسول اللہ کہا اور آپؐ کی شان، نام و منصب اور مرتبہ سب پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء کرام کی توہین وتحقیر کی۔ وحی نبوت کا دعویٰ کیا۔ قرآن کریم کو منسوخ قرار دیا۔ اپنی جعلی وحی کا نام قرآنی نام پر ’’تذکرہ‘‘ رکھا۔ اپنی خود ساختہ وحی کو قرآن کی طرح ہر خطا سے پاک سمجھا۔ قرآن پاک میں لفظی اور معنوی تحریفات کیں اور اسلام کو نعوذ باللہ مردہ اور لعنتی قرار دیا۔ صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ کے بارے میں بازاری زبان استعمال کی اور ان پر طعن وتشنیع کے نشتر چلائے۔ مرزا قادیانی نے اپنے ماننے والے مرتدوں کی جماعت کو ’’صحابہ رسول‘‘ کے نام سے پکارا۔ اپنی

٤

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦١٣

بیوی کو ”ام المؤمنین“ کے نام سے تعبیر کیا۔ اپنے گھر والوں کو ”اہل بیت“ کا نام دیا۔ اصحاب الصفہ کے مقابلہ میں ”اصحاب الصفہ“ رسول مدنی کے مقابلے میں ”رسول قدنی“ گنبد خضراء کے مقابلے میں گنبد بیضا، روضہ اطہر کے مقابلے میں روضہ مطہر، تین سو تیرہ بدری صحابہ کے مقابلے میں اپنے تین سو تیرہ چیلوں کی فہرست تیار کی۔ جہاد کو حرام، انگریز کی اطاعت کو فرض قرار دیا۔ مرزا قادیانی نے اپنی ”جنم بھومی“ قادیان کو مکہ اور روضہ سے افضل اور قادیان آنے کو ”ظلی حج“ قرار دیا۔ جنت البقیع کے مقابلے میں بہشتی مقبرہ تیار کرایا۔ احادیث رسول اللہ ﷺ کو بگاڑا۔ اقوال صحابہ و بزرگان کو مسخ کیا۔ اولیاء امت اور علماء کرام کو مغلظات سنائیں۔ اپنے نہ ماننے والوں کو کافر، جہنمی، عیسائی، یہودی اور مشرک قرار دیا۔ مسلمانوں کو جنگلوں کے سور اور رنڈیوں کی اولاد کہا۔ تمام مسلمانوں سے معاشرتی مقاطعہ کا اعلان کیا۔ شادی بیاہ سے لے کر جنازہ، کفن، دفن اور تمام معاملات میں بائیکاٹ کی تعلیم دی۔ اس سلسلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے چند حوالے ملاحظہ ہوں:

(تذکرہ)

(دافع البلائ)

(دافع

البلائ)

اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات احمدیہ ج٢

ص ١٢٢)

کربلا ایست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص٩٩)

ترجمہ: ہر وقت میں کربلا کی سیر کرتا ہوں اور سو حسین میرے گریبان میں ہیں۔

متکبر خود بیں، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج٣

ص ٢١ تا ٢٤)

مرزا غلام احمد قادیانی کا آخری عقیدہ، جس پر اس کا خاتمہ ہوا۔ یہی تھا کہ وہ ”نبی“ ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے آخری خط میں جو ٹھیک اس کے انتقال کے دن شائع ہوا۔ واضح الفاظ میں لکھا: ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں

٥

صفحہ ٦١٤

خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر اس سے انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔"

(اخبار عام مورخہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ مباحثہ راولپنڈی ص ١٣٦)

یہ خط مورخہ ٢٣ مئی ١٩٠٨ء کو لکھا گیا اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو اخبار عام لاہور میں شائع ہوا اور ٹھیک اسی دن مرزا قادیانی کا انتقال ہوا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک سو سال پہلے ١٨٨٩ء میں اپنی جماعت کی بنیاد رکھی۔ ١٩٠٨ء میں جب اس کا انتقال ہوا تو اس کی جماعت میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ دونوں گروپ کے لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی، رسول، مسیح موعود، مہدی معہود اور نجات دہندہ مانتے تھے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے انتقال کے بعد اس جماعت کا پہلا سربراہ حکیم نورالدین بنا۔ جس کا انتقال ١٩١٤ء میں ہوا۔ اس وقت تک بھی جماعت قادیان اور جماعت لاہور کوئی الگ الگ جماعتیں نہ تھیں۔ اس چھ سالہ عرصے میں بھی محمد علی لاہوری، خواجہ کمال الدین، صدر الدین اور لاہوری پارٹی کے تمام افراد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول کہتے اور مانتے رہے۔ ١٩١٣ء میں محمد علی لاہوری اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے اخبار پیغام صلح میں حلفیہ بیان شائع ہوا جس میں انہوں نے لکھا: ”ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔"

(پیغام صلح مورخہ ١٦ اکتوبر ١٩١٣ء)

حکیم نورالدین کے مرنے کے بعد اقتدار و اختیارات کے حصول کا جھگڑا ہوا کہ اب سربراہ کون بنے گا؟ محمد علی لاہوری نے مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور اسے سربراہ ماننے سے انکار کر دیا اور قادیان چھوڑ کر لاہور چلے آئے۔ لاہور آ کر لاہوری گروپ نے عام مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد اور مسیح موعود کہنے کا ڈھونگ رچایا۔ مگر جس شخص نے خود اپنی زندگی میں نبوت ملنے اور وحی آنے کا دعویٰ کیا ہو۔ ایسے شخص کو مجدد تو کیا ایک مسلمان بھی نہیں کہہ سکتے۔ وہ صرف کافر و دجال اور کذاب ہی ہو سکتا ہے اور اس کے تمام پیرو چاہے وہ اپنا کوئی سا نام رکھیں۔ اسی زمرہ کفار میں شامل ہوں گے۔ یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی مدعی نبوت دعویٰ کرے گا تو لامحالہ فوراً کفر و ایمان کا سوال اٹھ کھڑا ہوگا۔ اس کے ماننے والے ایک امت اور نہ ماننے والے دوسری امت قرار پائیں گے اور یہ اختلاف فروعی اختلاف نہ ہوگا۔ بلکہ بنیادی اور اصولی ہوگا۔ جب مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں دعویٰ نبوت و رسالت سے بھری ہوئی ہیں اور نام نہاد خود ساختہ الہامات سے جن کو وہ ”وحی“ کہتا ہے، پر ہیں۔ اب یہ سوال نہیں کہ لاہوری، مرزائی، مرزا غلام احمد کو کیا مانتے ہیں یا کیا سمجھتے ہیں؟ بلکہ ہمیشہ یہی دیکھا

٦

www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٦١٥

جاسکتا ہے کہ مدعی اپنے بارے میں کیا کہتا ہے؟ کیونکہ مدعی کا قول سب سے مضبوط دلیل ہوتی ہے:

”مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری“

مثلاً اگر ایک شخص ڈاکٹر ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں ڈاکٹر ہوں اور فلاں میڈیکل کالج سے میں نے ”ایم بی بی ایس“ کیا ہے۔ دوسرا اس کو کہے کہ نہیں صاحب آپ ڈاکٹر نہیں ہیں۔ انجینئر ہیں۔ ظاہر ہے کہ بات مدعی کی مانی جائے گی اور اس کو ڈاکٹر ہی سمجھا جائے گا۔ جب مرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹا مدعی نبوت ہونا ثابت ہوچکا ہے تو اسے مجدد، مصلح عالم یا عام مسلمان ماننا کھلا ہوا کفر اور زندقہ ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ جیسے کوئی شخص ابوجہل کو کہے کہ وہ مسلمان تھا۔ نعوذ باللہ!

پوری دنیا کے علماء اور مسلمانوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی خود اس کے ماننے والے دونوں گروپ جو اپنے آپ کو ”احمدی“ کہتے ہیں۔ (احمدی، لاہوری اور احمدی قادیانی گروپ) کافر، زندیق، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ وہ ہرگز ہرگز اسلامی برادری کے فرد نہیں۔ بلکہ ہمارے نزدیک لاہوری گروپ قادیانی گروپ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ یہ ”مجدد، مجدد“ کا ڈھونگ رچا کر عام مسلمانوں کے لئے زیادہ دھوکے کا باعث بن رہا ہے۔ ١٩٧٤ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ان دونوں گروپ کے سربراہوں، مرزا ناصر احمد اور صدرالدین لاہوری کو اسمبلی میں بلایا۔ ان دونوں نے وہاں اپنے دلائل دیئے۔ علماء اسلام کی طرف سے جواب دعویٰ داخل کیا گیا۔ پھر قادیانی سربراہ مرزا ناصر احمد پر گیارہ دن اور لاہوری سربراہ صدرالدین پر دو دن تک جرح ہوتی رہی۔ مگر دونوں مسلمانوں کی کسی دلیل کا جواب نہ دے سکے۔ لہٰذا ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو علم و دلائل کی روشنی میں دونوں گروپوں کو اتفاقی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا۔

ایک اہم مسئلہ جس کی جانب میں آپ حضرات کی توجہ مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ ان دونوں گروپوں کے ساتھ معاشرتی و مذہبی میل جول ہے۔ جو شریعت اسلامیہ کے اعتبار سے قطعاً ناجائز ہے۔ میں اس سلسلہ میں رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد دلیل کے طور پر پیش کروں گا۔ جو اپریل ١٩٧٤ء کے ایک بڑے اجتماع میں مکہ مکرمہ میں منظور ہوئی۔ جس میں اسلامی ممالک اور ١٤٤ مسلم آبادیوں کی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔ جس کی شق ٣ یہ ہے کہ: ”مرزائیوں (دونوں گروپ) سے مکمل عدم تعاون اقتصادی، معاشرتی اور ثقافتی ہر میدان میں مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے کفر کے پیش نظر ان سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے“۔ اس شق کے پیش نظر تمام دنیا کے وہ مسلمان جو ان دونوں گروپوں کی ضرر رسانی اور ان کے کفر و زندقہ کا بخوبی علم رکھتے ہیں اور وہ اس بات کو بھی جانتے ہیں کہ ان دونوں گروپوں کی آمدنی کا ایک کثیر حصہ حضرت محمد ﷺ کے عقیدۂ

٧ www.besturdubooks.wordpress.com

صفحہ ٨

ختم نبوت کے خلاف خرچ ہوتا ہے۔ انہوں نے ان دونوں گروپوں کا سوشل بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ کیونکہ ان کے ذہن میں ہے کہ ان کے ساتھ ادنیٰ سا تعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور جو نہیں جانتے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان جہاں کہیں بھی رہتے ہیں۔ ان دونوں گروپوں سے مکمل بائیکاٹ کریں۔ ان کے ساتھ میل جول، اٹھنا بیٹھنا، خرید و فروخت، ان کی دعوت میں شریک ہونا یا ان کو دعوت پر مدعو کرنا بند کر دیں۔ اگر یہ مر جائیں تو ان کے کفن، دفن، جنازے میں شریک نہ ہوں اور ان کے مردوں کو اپنے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیں۔ جب کہ میں پہلے بتلا چکا ہوں کہ اسلام، عیسائی اور یہودی وغیرہ دیگر غیر مسلموں کو برداشت کرتا ہے۔ سوائے موالات (قلبی دوستی) کے، مواسات (ہمدردی نفع رسانی) مدارات (ظاہری خوش اخلاقی) سماجی تعلقات اور معاملات کی اجازت دیتا ہے۔ عیسائی کافر ہیں۔ مگر ان کا نبی سچا تھا۔ یہودی خود غلط ہیں مگر جن کو وہ نبی مانتے ہیں وہ صادق تھے۔ سچے نبی کے جھوٹے پیروکاروں سے تعلقات ہو سکتے ہیں۔ مگر کذاب و دجال کے پیروکاروں، حضرت محمد ﷺ کے باغیوں اور کفر کو اسلام کا لبادہ پہنا کر دھوکہ دینے والوں سے تعلقات نہیں رکھے جاسکتے۔ اسلام کی غیرت کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمانوں سے محبت کی جائے اور گستاخان رسول (ﷺ) گستاخان اسلام سے نفرت کی جائے۔ ہم مانتے ہیں کہ مغربی ممالک میں ایسا نہیں ہوتا۔ مگر مسلمان جہاں بھی ہے۔ وہ پہلے مسلمان ہے۔ بعد میں کچھ اور۔ اگر چہ شریعت کے اصل حکم کو ہم یہاں جاری نہیں کر سکتے۔ مگر کم از کم جس عمل کو ہم اپنا سکتے ہیں وہ تو اپنائیں۔ وہ یہ ہے کہ ہم مرزائیوں کے دونوں گروپوں خواہ وہ لاہوری ہوں یا قادیانی، ان سے مذہبی، سماجی اور معاشرتی کسی قسم کا کوئی تعلق نہ رکھیں۔ ہم نے اپنا فرض سمجھتے ہوئے۔ آپ پر اس بات کو کھول دیا ہے اور اس سلسلے میں ملی رہنمائی کا مکمل فریضہ ادا کر دیا ہے۔ اب آپ اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ آپ حضرات سے آخری گذارش یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی مرزائی (قادیانی یا لاہوری گروپ) کو ہدایت دے دیں اور وہ مسلمان ہونا چاہے تو اس کے مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ مرزا قادیانی سے اپنی علیحدگی اور برأت کا کھلم کھلا اظہار کرے۔ عام مجمع میں ثقہ گواہوں کے سامنے حلفیہ اقرار نامہ لکھے اور منہ سے کہتا جائے کہ میں فلاں بن فلاں سکنہ فلاں مرزا غلام احمد قادیانی کو دجال، کذاب، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اور اس کو نبی، رسول، مسیح موعود، مہدی معہود، مجدد، مصلح، عالم یا مسلمان نہیں مانتا اور اسی طرح اس کے ماننے والے گروہوں کو خواہ وہ مرزائی قادیانی ہوں یا مرزائی لاہوری (جو اپنے آپ کو احمدی قادیانی اور احمدی لاہوری کہتے ہیں) کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ آج سے میرا تعلق ان سے ختم ہے اور آئندہ میں ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھوں گا۔ جو میرا مرزا مرزائی لاہوری یا قادیانی گروہ (جو اپنے کو احمدی

www.besturdubooks.wordpress.com