سرزمین کفر پر اسلام کی فتح · مولانا منظور احمد چنیوٹی
Islam ki Fatah · Maulana Manzoor Ahmad Chinioti
صفحہ 1

سرزمین کفر پر اسلام کی فتح

موجودہ قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد کا بھی مباہلہ سے فرار اور اعتراف شکست

نحمده و نصلی علی رسوله الکریم اما بعد !

حق و باطل کی کشمکش اور محاذ آرائی کا سلسلہ روز اول سے جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا باطل کی سرکوبی کیلئے حق نے کئی طریقے اختیار کئے مثلاً دعوت و تبلیغ ، مباحثہ و مناظرہ ، جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ ۔ ان طریقوں کے علاوہ ایک طریقہ مباہلہ بھی ہے۔

مباہلہ کا مطلب یہ ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے رفقاء کے ساتھ ایک معین جگہ پر معین وقت کے ساتھ جمع ہوں اور اللہ رب العزت سے دعا کریں کہ وہ جھوٹے کو ہلاک کر کے سچے کو عزت بخشے ۔ ”مباہلہ“ حق اور باطل میں فرق معلوم کرنے کا ایک اہم طریقہ ہے جس کا نتیجہ جلد سامنے آتا ہے ۔ مباہلہ میں ایک جگہ جمع ہونا شرط ہے۔ گھر بیٹھے دعا کر دینے کو مباہلہ نہیں کہتے ۔ نبی کریم ﷺ نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کرنے کیلئے اپنے اہل بیت کو ساتھ لیکر مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے گئے تھے لیکن عیسائی ان کے مقابلہ میں نہ آئے ۔ احادیث ، تاریخ و سیرت کی کتابوں سے یہی واضح ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام باقاعدہ ایک مقرر جگہ پر تشریف لے گئے تھے آپ ﷺ نے گھر بیٹھے دعا نہیں فرمائی ۔ یہی بات مرزا قادیانی نے اپنی کتاب انجام آتھم میں لکھی ہے ۔

آنجہانی مرزا قادیانی سے بعض علمائے کرام کا مباہلہ ہوا جس کی تفصیل

صفحہ 2

رئیس قادیان مؤلفہ مولانا محمد رفیق دلاوری ، تحفہ قادیانیت جلد اول مؤلفہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور میری تصنیف کردہ کتاب ردّ قادیانیت کے زریں اصول میں درج ہے ان مباہلوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا بہت جلد ہلاک ہو گیا اور اسے قادیانیوں کا خود ساختہ معیار ”تیئس سالہ دور نبوت“ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔

حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ اور دیگر کئی علماء کرام کے مقابلہ میں مرزا نے مناظرہ ومباہلہ کی دعوت قبول نہ کی۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی طرف مرزا کا آخری اشتہار جسے قادیانی مباہلہ قرار دیتے ہیں وہ مباہلہ نہ تھا بلکہ یک طرفہ دعا تھی اگر وہ اشتہار مباہلہ ہوتا تو اس میں جگہ، تاریخ اور وقت مقرر کیا جاتا لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ اگر بالفرض اسے مباہلہ قادیانیوں کے قول کے مطابق مان بھی لیا جائے تو پھر قادیانیوں کو یہ بات بھی ماننی چاہیے کہ مرزا اس مباہلہ کے نتیجہ میں اشتہار شائع ہونے کے ایک سال ایک ماہ گیارہ دن بعد ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں ہیضہ کی موت مر گیا اور مرزا کی دعا کے مطابق اللہ تعالیٰ نے مرزا کی موت کے ذریعہ سے مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور ان کی جماعت کو خوش کر دیا۔

راقم الحروف نے بھی علمائے اسلام کی روایات کے عین مطابق قادیانی پروپیگنڈہ (کہ علماء ومشائخ نے مرزا کی دعوت مباہلہ سے راہ فرار اختیار کی تھی) کو ختم کرنے کیلئے مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانیوں کے دوسرے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کو دعوت مباہلہ دی اس نے کسی مذہبی تنظیم کی سندات نمائندگی کی شرط لگائی جو کہ بحمداللہ بندہ نے یہ شرط اس طرح پوری کر دی کہ ملک کی چار مشہور دینی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام ،جمعیت اشاعت التوحید والسنۃ، تنظیم اہل سنت اور مجلس تحفظ ختم

صفحہ 3

نبوت کی طرف سے سندات نمائندگی حاصل کر کے اس کو ارسال کر دیں لیکن اس کے باوجود اسے راقم کے مقابلہ میں آنے کی جرأت نہ ہوسکی اس کے مرنے کے بعد بندہ نے مرزا ناصر اور پھر اس کی موت کے بعد مرزا طاہر کو دعوت مباہلہ دی لیکن ہر دو قادیانی سربراہان نے بھی اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آنجہانی مرزا طاہر کی خود ساختہ لندن جلاوطنی کے دوران مورخہ 5 اگست 1995 کو ہائیڈ پارک لندن میں پہنچنے کی دعوت دی۔ راقم دنیا بھر کے بیسیوں علماء کے ساتھ وہاں مقررہ وقت پر پہنچ گیا لیکن مرزا طاہر یا اس کا کوئی نمائندہ نہ آیا۔ ان مباہلوں کی مکمل تفصیل ردّ قادیانیت کے زریں اصول اور ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد، چنیوٹ کے دیگر لٹریچر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

قادیانیوں کے چوتھے سربراہ مرزا طاہر کے آنجہانی ہونے کے بعد بندہ نے قادیانیوں کے پانچویں موجودہ سربراہ مرزا مسرور (مفرور) کو بھی دعوت مباہلہ اور دعوت ایمان دی جس کا متن درج ذیل ہے:

” میں مرزا مسرور اور ان کی پوری جماعت کو مباہلہ کی دعوت دیتا ہوں اگر وہ مباہلہ کرنے کی جرأت نہیں رکھتے (اور ہرگز جرأت نہ کر سکیں گے ) تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں " فاتقو النار التي وقودها الناس و الحجارة “ مرزا قادیانی کا اس کے تمام دعاوی میں جھوٹا ہونے کا برملا اعلان کر کے (جس کا آپ دل میں یقین رکھتے ہیں مگر ظاہر داری، دنیاوی شان وشوکت او ر خاندانی روایات کی پاسداری کی بنا پر ایسا نہیں کر رہے اور ہزاروں متبعین کی گمراہی کا وبال اپنی نازک جان پر لئے ہوئے ہیں) اس سے برأت کرتے ہوئے اپنی اور اپنے

صفحہ 4

ساتھ ہزاروں متبعین کی عاقبت سنوارلیں۔ امید ہے کہ آپ اپنی اور اپنے تمام متعلقین کی ہدایت اور نجات کیلئے میری اس مخلصانہ دعوت پر غور کریں گے اور اسے قبول کرتے ہوئے امت مسلمہ کے اجتماعی دھارے میں شامل ہو کر اپنی اور اپنے متعلقین کی عاقبت سنوارنے کی بھر پور کوشش کریں گے اور اپنے پیش روؤں کی طرح ضد اور عناد سے کام لے کر عبرت کا نمونہ نہیں بنیں گے میں تو یہی کہتا ہوں کہ:

”ان اريد الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا باللہ“

قادیانیوں کا سچا خیرخواہ منظور احمد چنیوٹی جنرل سیکرٹری انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ ملک کی چار مشہور دینی جماعتوں کا متفقہ نمائندہ

﴿﴿﴿﴿ سندات نمائندگی ﴾﴾﴾﴾

صفحہ 5

مذکورہ دعوت تو بندہ نے پاکستان میں رہتے ہوئے دی تھی ۔ مثل "جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانا چاہیے" کے مصداق راقم جب ماہ ستمبر 2003 میں لندن گیا تو وہاں جاکر مرزا مسرور کو دوبارہ دعوت دی۔ جس میں مرزا مسرور کو پندرہ دن کی مہلت دی کہ اس دوران مباہلہ کیلئے میدان میں آجاؤ ورنہ تمہاری شکست کا اعلان کر دیا جائے گا یہ اعلان روزنامہ جنگ لندن میں مورخہ 24 ستمبر 2003 کو شائع ہوا ۔ جبکہ پاکستان میں یہی اعلان روزنامہ امت کراچی مورخہ 17 ستمبر 2003 اور روزنامہ اوصاف مورخہ 26 ستمبر 2003 کو شائع ہو یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مرزا مسرور احمد نے نہ صرف بذریعہ انٹرنیٹ خود میری دعوت مباہلہ قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ پوری جماعت کو بھی اس قسم کی کسی سرگرمی سے روک دیا۔ جب میں نے لندن جا کر مرزا مسرور کو دعوت مباہلہ دی تو اس نے حسب توقع قبول کرنے سے انکار کر کے اپنے جھوٹا ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق مرزا مسرور کی جگہ اس کے تنخواہ دار ملازم رشید چودھری نے شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفاداری کرتے ہوئے جو بیان اخبارات کو جاری کیا اس کا خلاصہ یہ ہے:

"مولانا چنیوٹی ایک عرصہ سے ایسے چیلنج دے کر سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ مباہلہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں دعا کے ذریعہ فیصلہ طلبی کا نام ہے تا کہ دنیا پر واضح ہو جائے کہ فریقین میں سے کون جھوٹا اور کون سچا۔ اس کیلئے کسی خاص مقام پر اکٹھے ہونا ضروری نہیں قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت 62 میں مباہلہ کیلئے کسی

صفحہ 6

مقام یا وقت کے تعین کا سرے سے ذکر ہی موجود نہیں“

(روزنامہ نیشن 30 ستمبر 2003)

بنیادی سوال تو یہ ہے کہ مرزا سرور قادیانی خود کیوں نہیں بولتا؟؟؟ سوال گندم جواب چنا والی صورت حال ہے۔ چیلنج مرزا سرور کو کیا جا رہا ہے لیکن جواب رشید چوہدری دے رہا ہے اور جواب بھی ایسا جس میں میرے چیلنج کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا کوئی ذکر تک نہیں ملتا۔ رشید چوہدری مباہلہ کی تعریف میں شک وشبہ پیدا کرنا چاہتا ہے اور بار بار کہتا ہے کہ مباہلہ کیلئے ایک جگہ اور وقت مقرر کرنا ضروری نہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر مباہلہ کے لئے وقت اور جگہ مقرر کرنا ضروری نہیں تو پھر اولاً سورہ آل عمران آیت 61 میں ”تعالوا“ کا کیا مفہوم ہے؟ ”تعالوا“ کا مفہوم ہی یہ ہے کہ آؤ میدان میں۔ اگر مباہلہ کیلئے گھر بیٹھ کر دعا کرنا کافی ہوتا تو آیت مذکور میں ”تعالوا“ کا لفظ نہ ہوتا۔ قادیانی تشریح کو درست مانا جائے تو لفظ ”تعالوا“ کا قرآن مجید میں بے فائدہ ہونا لازم آتا ہے حالانکہ قرآن مجید کا کوئی بھی لفظ بے فائدہ نہیں ہے اور کوئی مسلمان اس کا تصور تک نہیں کر سکتا کہ قرآن کریم میں ایک لفظ بھی زائد یا بے فائدہ ہے۔

ثانیاً مرزا قادیانی تحریر کرتا ہے کہ مباہلہ فریقین کے ایک جگہ جمع ہو کر دعا کرنے کا نام ہے (انجام آتھم، روحانی خزائن ص 40 جلد 11)۔ مرزا قادیانی کے اس اعتراف کے بعد مباہلہ کے معنی میں تحریف سے قادیانی عمارت زمیں بوس ہو جاتی ہے۔ 30 ستمبر 2003 کی مقررہ تاریخ جب گذر گئی اور مرزا سرور مباہلہ کیلئے میدان میں نہ آیا تو یکم اکتوبر 2003 کو ہم نے ختم نبوت سنٹر سینٹ جارجز روڈ فاریسٹ

صفحہ 7

گریٹ لندن میں ایک فتح مباہلہ کانفرنس منعقد کی جس میں علماء کرام کے علاوہ بے شمار کارکنان ختم نبوت انگلینڈ نے شرکت کی۔ اس موقع پر میں نے مباہلہ کی حقیقت اور مرزا بشیر الدین محمود سے مرزا مسرور تک قادیانی سربراہوں کو دی گئی دعوت مباہلہ کے بارے میں تفصیلی تقریر کی کہ مباہلہ کے معنی ہی دو فریق ایک جگہ اکٹھے ہو کر اللہ تعالیٰ سے سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ طلب کریں۔ اخبارات کے ذریعے دی گئی میری دعوت مباہلہ کا مرزا مسرور نے مقررہ تاریخ تک کوئی جواب نہ دیا ہے اور نہ میدان مباہلہ میں وہ خود یا اس کا کوئی نمائندہ نہیں آیا اس لئے آج قادیانیوں کی شکست کا اعلان کیا جاتا ہے میں نے تمام قادیانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے سربراہ کی واضح شکست کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ یقین کرتے ہوئے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر کے اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں۔

(روزنامہ نیشن لندن لاہور اکتوبر 2003)

دعوت مباہلہ کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:

قادیانی ترجمان رشید چودھری کے اخباری بیان کے جواب میں عالمی مبلغ ختم نبوت مولانا عبد الرحمن یعقوب باوا مقیم لندن نے لندن کے اردو اخبارات کو ”جواب آں غزل“ درج ذیل بھجوایا:

”سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی کی دعوت مباہلہ کے جواب میں قادیانی جماعت کے ترجمان رشید چودھری کا بیان اور مراسلہ لندن کے اخبارات میں شائع ہوئے۔ مذکورہ بیان اور مراسلہ کو جواب ہرگز نہیں کہا جاسکتا اس لئے کہ مولانا چنیوٹی نے ۱۵ ستمبر ۲۰۰۳ کو لندن پہنچ کر قادیانیوں کے نئے سربراہ مرزا مسرور کو مباہلہ

صفحہ 8

کیلئے بلایا تھا اور ۳۰ ستمبر ۲۰۰۳ کو اس کی آخری تاریخ مقرر کی اور اعلان کیا کہ اگر مقررہ تاریخ کو مباہلہ کے لئے نہ آئے تو پھر یکم اکتوبر ۲۰۰۳ کو مرزا مسرور کی مباہلہ سے شکست کا اعلان کر دیا جائے گا۔ چنانچہ ۳۰ ستمبر ۲۰۰۳ کی تاریخ گذر گئی اور مرزا مسرور کی طرف سے مباہلہ کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کا کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر لندن میں ایک تقریب فتح مباہلہ کے نام سے منعقد کی گئی جس میں مولانا منظور احمد چنیوٹی نے مباہلہ کے موضوع پر تفصیلی بیان کیا اور مرزا مسرور کی مباہلہ سے شکست کا اعلان کیا۔ ۳۰ ستمبر ۲۰۰۳ اور ۲ اکتوبر ۲۰۰۳ کے اخبارات میں رشید چودھری نے بجائے یہ کہ مباہلہ قبول کرنے یا نہ کرنے کا بیان دینے کے ایک ایسی بے معنی اور لا حاصل تحریر لکھی اور مولانا چنیوٹی کی جانب ایسی باتیں منسوب کیں جو انہوں نے نہیں کی تھیں بلکہ بعض اخبارات نے خود غلطی سے لکھ دیں جس کے بارے میں مولانا چنیوٹی نے سینکڑوں مرتبہ پمفلٹ اور اخباری بیان کی شکل میں وضاحت کر دی۔

حیرت تو یہ ہے کہ ایک سیدھا سادا مسئلہ تھا کہ مولانا چنیوٹی نے مرزا مسرور کو مباہلہ کی دعوت دی اور مطالبہ کیا کہ تاریخ وقت اور مقام آپ خود مقرر کر لیں اور مباہلہ بھی قرآن اور مسنون طریقہ پر ہو اس طریق پر جو مرزا غلام احمد قادیانی نے امرتسر کے میدان میں مولانا عبد الحق غزنوی کے ساتھ آمنے سامنے مباہلہ کیا تھا پھر کیا بات تھی کہ اس سیدھے سادھے مسئلہ کو پیچیدہ بنا دیا گیا اور یہ مشہور کر دیا گیا کہ مباہلہ کے لئے ایک جگہ اکٹھا ہونا ضروری نہیں۔

مرزا مسرور اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو خدا کا سچا نبی اور مسیح موعود اور مہدی سمجھتے ہیں اور یہ یقین کرتے ہیں کہ قادیانیوں کا اسلام ہی حقیقی اسلام ہے اور یہ کہ مرزا

صفحہ 9

مسرور جیسے کہ وہ کہتے ہیں وہ خدا کے مقرر کردہ خلیفہ ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کو ذلیل نہیں کرتا تو پھر اسے مولانا چنیوٹی کی دعوت مباہلہ قبول کرنے سے کون سی چیز مانع ہے؟؟ کس چیز کا خوف و ڈر ہے؟ یہ سمجھ نہیں آتا۔

کہا جاسکتا ہے کہ مرزا طاہر نے 1988 میں علمائے کرام کو مباہلہ کیلئے بلایا تھا یہ تو ایک ڈھونگ تھا جو قادیانی جماعت میں پھیلتی ہوئی مایوسی کو دور کرنے کے لئے رچایا گیا۔ علمائے کرام نے مرزا طاہر کے چیلنج مباہلہ کو قبول کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ میدان مباہلہ میں آؤ لیکن مرزا طاہر بھی مباہلہ سے فرار ہوگئے۔

مرزا مسرور کو چاہیے تھا کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی کی دعوت مباہلہ کو قبول کر کے میدان میں اترتے لیکن انہوں نے فرار ہونے میں عافیت سمجھی جہاں تک قادیانیوں کی تعداد کے بارے میں یہ کہنا کہ ہر سال لاکھوں لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں اس سلسلہ میں اتنا کہنا کافی ہو گا کہ مرزا طاہر کے زمانہ میں ہزاروں سے لاکھوں اور لاکھوں سے کروڑوں اور مرزا طاہر کے آخری دور میں تقریباً 17 سے 20 کروڑ قادیانی بتانے کا دعویٰ کیا گیا تھا اب رشید چوہدری کے مطابق یہ تعداد کم ہو کر کروڑوں سے دوبارہ لاکھوں میں پہنچ گئی ہے اسی سے قادیانی تعداد کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ اگر رشید چوہدری قادیانیوں کی دنیا میں صحیح تعداد کا ثبوت کسی غیر جانبدار انٹرنیشنل ایجنسی کے ذریعے فراہم کردیں تو قادیانی تعداد کی حقیقت کا پول بھی دنیا پر واضح ہو جائے گا۔“

(روزنامہ نیشن لندن مورخہ 4 اکتوبر 2003 بروز ہفتہ)

قارئین کرام! قرآن مجید کا واضح اعلان ہے:

” قل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا “

صفحہ 10

(ترجمہ): کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا بیشک باطل بھاگنے والا ہے حق غالب ہونے کے لئے ہے مٹنے کیلئے نہیں لیکن باطل خواہ وقتی طور پر کتنی ہی شان وشوکت کا مالک کیوں نہ ہو ہر دور میں مٹتا رہا ہے اور اب بھی مٹ کر رہے گا باطل حق کے سامنے اور مرزائیت اسلام کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی کبھی نہیں ٹھہر سکتی۔

وہ بھاگتے ہیں اس طرح مباہلہ کے نام سے
فرار کفر جس طرح ہو بیت الحرام سے
صفحہ 11

ضمیمہ

اسلام کی ایک اور فتح ، مرزائیت کی ایک اور کھلی شکست

”اللہ تعالیٰ نے حال ہی میں اسلام کو ایک اور فتح سے نوازا ہے وہ یہ کہ شیخ راحیل احمد جو کہ جماعت احمدیہ (قادیانیہ) جرمنی کے مرکزی رہنما تھے ۔ انہوں نے قادیانی گھرانے میں آنکھ کھولی اور قادیانی مذہب، عقائد، نظریات، افکار اور قائدین کے حالات زندگی کا گہرا مطالعہ کیا ان کی طلب حق کی جستجو انہیں کشاں کشاں دین مبین کی طرف راغب کرتی رہی اور گزشتہ دنوں انہیں ایمان کی نعمت نصیب ہوئی انہوں نے 56 سال کی عمر میں اس بات کا اعلان کیا کہ قادیانی مذہب جھوٹ، منافقت اور مذہب کے نام پر پیسہ اکٹھا کرنے کا نام ہے یہ کوئی اسلامی فرقہ، مذہب، عقیدہ یا نظریہ نہیں ہے بلکہ اسلام کے درخت پر پروان چڑھائی جانے والی آکاس بیل ہے۔“

شیخ راحیل احمد کا قبول اسلام حق کی واضح فتح ہے ۔ شیخ صاحب قادیانیت کے گہرے مطالعہ اور قادیانی اکابرین کے سوانح حیات کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس یقین پر پہنچے کہ:

صفحہ 12

شیخ صاحب نے ہدایت و کفر، اسلام اور قادیانیت کے واضح فرق کو پا لینے کے بعد دنیوی مفادات کو لات ماری اور حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ ہم پوری دنیا کے قادیانیوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ شیخ راحیل احمد کی پیروی کریں قادیانی لٹریچر میں مستور اصل حقائق کو آنکھوں سے عقیدت کی پٹی اتار کر، کھلے دل و دماغ سے مطالعہ کریں تا کہ انہیں دولت ایمان نصیب ہو۔

قارئین کرام! چند دن بعد یعنی 7 ستمبر 2003 کو چناب نگر میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس جو کہ 7 ستمبر 1974 کے دن، جب قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا بل متفقہ طور پر منظور کیا تھا کی یاد میں منعقد ہونا تھی میں نے شیخ راحیل صاحب سے گزارش کی کہ شرکاء کانفرنس کو خوشخبری سنانے کیلئے وہ اپنا پیغام بھیجیں۔ چنانچہ شیخ صاحب نے اپنا پیغام بذریعہ فیکس ارسال کیا جو نذر قارئین ہے:

شیخ راحیل احمد کا پیغام بنام شرکائے کانفرنس

7 ستمبر 2003ء بمقام چناب نگر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

میرے محترم علمائے کرام، میرے پیارے مسلمان بھائیو!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

دو دن قبل اس ناچیز کو برادر محترم عبید اللہ صاحب نے انٹرنیٹ کے ذریعہ

صفحہ 13

جناب جرنیل ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب مدظلہ کا حکم پہنچایا کہ چناب نگر میں 7 ستمبر 1974 کے تاریخی دن کی یاد میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کے شرکاء کے سامنے بیان کرنے کیلئے اپنے مسلمان ہونے کا واقعہ لکھ کر بھجواؤں۔ اسوقت ایک طرف نظر اپنی تہی دامنی اور سیاہ کاریوں پڑی تو دوسری طرف اس غفور رحیم کی بے انتہا نوازشوں پر پڑتے ہی دل سے آواز اٹھی کہ اللہ تو بے نیاز ہے میری خطاؤں سے اور مجھے ڈھانپ رکھا ہے اپنی عطاؤں سے۔ اتنے بڑے بڑے بزرگان دین و علمائے کرام کے پرمغز و روح پرور ارشادات کے درمیان اس جاہل، بے علم و بے عمل کا واقعہ قبول اسلام و پیغام پڑھ کر سنایا جائے گا۔ یقیناً یہ اللہ ہی ہے جو عزت دیتا ہے۔ بھائیو! یہ جو قبول اسلام کی سعادت ملی ہے مجھے اور میرے خاندان کو اس میں میرا اپنا کوئی کمال نہیں اور کوئی حصہ نہیں بلکہ قرآن پاک کی ابدی صداقت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے جو جس کو چاہتا ہے ہدایت کے نور سے نوازتا ہے اور جو ہدایت نہیں چاہتے انہیں ظلمت کے اندھیروں میں بھٹکنے کیلئے چھوڑ دیتا ہے۔ خدائے واحدہ لاشریک نے ہمیشہ مجھ پر فضل کئے ہیں لیکن ان سب فضلوں میں سے بڑھ کر جو فضل مجھ سے بے مایہ پر کیا کہ میں جس نے قادیانیوں کے گھر آنکھ کھولی اور قادیانیت میں تیسری رچوتھی نسل تھی اور خالص قادیانی ماحول میں سدھایا گیا۔ ہاں بھائیو قادیانت میں بندہ پرورش نہیں پاتا بلکہ سدھایا جاتا ہے۔ چناب نگر (ربوہ) میں تعلیم پائی اور عمر بھر مختلف عہدوں پر فائز رہا اور 56 سال کی عمر میں خدائے پاک مجھے ظلمت سے نکال کر روشنی میں لایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل یہیں پر ہی نہیں رکتا بلکہ میرے ساتھ میرے خاندان کے مزید 19 افراد کو بھی حضرت محمد ﷺ کے ہاتھوں سے جلائی

صفحہ 14

ہوئی شمع کی روشنی میں لا بٹھاتا ہے اور اپنے حبیب کے صدقے مجھے میرے خاندان کے ساتھ قبول حق کی توفیق دی۔ الحمد للہ۔

۱۹۶۶ کی بات ہے کہ کراچی میں میری واقفیت ایک بہت پیارے اور نیک فطرت انسان سے ہوئی اور یہ واقفیت وقت کے ساتھ ساتھ گہری دوستی اور بے لوث دوستی میں ڈھل گئی کچھ عرصہ کے بعد یہ دوست کہنے لگے کہ دیکھو یار مسلمان ہو جاؤ یا پھر مجھے قادیانی بنالو۔ بات مذاق میں ٹل گئی لیکن وہ میرا پیارا بھائی مذاق نہیں کر رہا تھا بلکہ سنجیدہ تھا آخر طے پایا کہ ہم کچھ عرصہ بعد اکٹھے بیٹھیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ دلیل سے بات کر کے کسی نتیجہ پر پہنچیں گے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ غلطی خوردہ بھائی ہے اور سعید فطرت ہے میرے پاس سچائی ہے جب بھی بیٹھیں گے میں منٹوں میں اس کو قائل کر کے احمدی بنالوں گا بلکہ عالم تصور میں اس کو احمدی کے طور پر دیکھنا بھی شروع کر دیا اور اس وقت کے مربی کو بھی کہا کہ جلد ہی آپ کو خوشخبری دوں گا لیکن شاید قدرت میری اس ناسمجھی پر ہنس رہی ہوگی کہ اس کے مقدر میں کیا لکھا ہے اور یہ کیا سوچ رہا ہے۔ ہمارا یہ پروگرام کسی نہ کسی وجہ سے آج سے کل پر ٹلتا رہا۔ پھر میں کراچی چھوڑ کر چناب نگر (اُس وقت ربوہ) آ گیا اور وہ پروگرام بظاہر وہیں ٹھہر گیا مگر میرے اس عزیز بھائی کے ذہن میں زندہ رہا ہم پھر اس طرح اکٹھے نہیں بیٹھ سکے میں جرمنی آگیا لیکن دلوں کے اندر ایک دوسرے کی چاہت کی شمع اسی آب و تاب سے روشن رہی جب بھی رابطہ ہوتا تو اس کا ایک ہی سوال ہوتا کہ مسلمان کب ہو رہے ہو یا مجھے کب قادیانی بنا رہے ہو اس کی دعائیں خدا نے سنیں اور کئی سال پہلے ایک دو باتیں خدا تعالیٰ میرے سامنے لایا کہ میں کچھ سوچنے پر مجبور ہو گیا اور جیسے ہی اللہ تعالیٰ نے

صفحہ 15

میری آنکھوں سے پٹی ہٹائی اور میں نے کھلے دل سے مطالعہ شروع کیا تو میرا دن بدن یقین پختہ ہوتا گیا کہ مرزا صاحب کچھ بھی ہو سکتے ہیں پر نبی اور امام مہدی و مجدد نہیں اور جماعت احمدیہ کا مذہب کچھ بھی ہو سکتا ہے مگر محمد ﷺ والا اسلام نہیں۔ آئیے میں آپ کو اس شخص کا نام بتاؤں جو سینتیس (37) سال تک ہمت نہیں ہارا اور آج وہ بھی میری طرح ہی آپ کی محبتوں اور دعاؤں کا سزاوار ہے کہ وہ سائے کی طرح ساتھ لگا رہا اور ضمیر کی چبھن بن کر مجھے کچوکے لگاتا رہا اور دعاؤں میں یاد رکھتا رہا اس کا نام ہے جمشید بھٹی الیکٹریکل انسٹرکٹر پاک بحریہ کراچی۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ جب میرے لئے اور میرے اہل خانہ کیلئے دعا کریں تو اس کو اور اس کے اہل خانہ کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

میں یہاں مسئلہ ختم نبوت یا وفات حیات عیسیٰ علیہ السلام پر کوئی بات نہیں کروں گا کہ جید علماء کرام ان چیزوں پر مجھ سے کہیں زیادہ بہتر اور مدلل طریق پر روشنی ڈال چکے ہیں لیکن ایک چیز کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ عام قادیانی سے محبت کے ساتھ پیش آئیں اسکو گالی مت دیں وہ غریب تو سدھایا ہوا ہے۔ اس کے لئے دعا کریں حکمت کے ساتھ اس سے بات کریں اور وفات عیسیٰ علیہ السلام یا ختم نبوت کے مسئلہ کی بجائے جناب مرزا صاحب کی ذات و کردار کی طرف توجہ دلائیں جو بہت ضروری ہے آپ قادیانی دوستوں سے پوچھئے کہ وہ مرزا صاحب کو کیا مانتے ہیں؟ وہ آپ کو بتائیں گے کہ وہ مسیح موعود، مہدی معہود مانتے ہیں نبی مانتے ہیں یا محدث مانتے ہیں تو اب ان سے کہئے کہ آئیں مرزا صاحب کی ذات اور شخصیت پر گفتگو کرتے ہیں اور ان سے پوچھیں اگر مرزا صاحب اپنی ہی تحریروں، اقوال، گفتگو، اپنے

صفحہ 16

صحابہ کی تحریروں اور ان کی اپنی اولاد کی تحریروں سے ہی اس حیثیت کے اہل ثابت نہ ہوں تو پھر ان کا کیا ردعمل ہوگا۔ ان سے کہیں کہ مرزا صاحب کی کریڈی بلٹی ثابت کر دو تو پھر کسی بات کی ضرورت نہیں۔ اس موضوع کو عام آدمی بھی ڈسکس کر سکتا ہے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ اس میدان میں کبھی نہیں ٹھہر سکیں گے ان کی زندگی کے ایسے گوشے دبیز پردوں میں چھپائے گئے ہیں مگر علمائے حق نے عرق ریزی کے ساتھ ایسے ایسے گوشوں کو بھی کھنگھالا ہے کہ بندہ ان کاوشوں پر عش عش کر اٹھتا ہے احمدیوں کی آنکھوں پر جیسی بھی عینک چڑھائی گئی ہے جب آپ حکمت سے ان کے سامنے یہ چیزیں پیش کریں گے تو ان پر ضرور اثر ہوگا۔ ان شاء اللہ۔

میں پچھلے سالوں کے مطالعے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جماعت احمدیہ یقیناً اسلام نہیں اور نہ ہی اسلامی فرقہ ہے بلکہ ایک نیا مذہب ہے جو آکاس بیل کی طرح اسلام کے درخت پر چڑھا دیا گیا ہے اسلام کے بانی حضرت محمد ﷺ تھے اور احمدیت کے بانی مرزا غلام احمد صاحب تھے۔ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو مان کر کوئی بھی شخص مسلمان ہو سکتا ہے لیکن مرزا صاحب کو مان کر کوئی شخص صرف احمدی یا قادیانی تو ہو سکتا ہے مگر مسلمان نہیں کیونکہ اسلام اللہ کا عطا کردہ دین ہے اور قادیانیت انسان کا بنایا ہوا مذہب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانی حضرات کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ ہی پڑھتے ہیں لیکن اس میں وہ مرزا صاحب کو شامل سمجھتے ہیں اگر کوئی انکار کرے تو اسے کہیں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی کتاب کلمۃ الفصل پڑھ لے لیکن جب مسلمان کلمہ پڑھتے ہیں تو خدا کی قسم اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوتی اور وہ کلمہ خالص محمد مصطفےٰ ﷺ کا کلمہ ہوتا ہے رسول اکرم ﷺ صحابہ کبار رضوان اللہ کی جماعت

صفحہ 17

پیدا کر کے گئے تھے اور مرزا صاحب صرف منافقین کی جماعت پیدا کر کے گئے ہیں۔ جماعت احمدیہ میں صرف وہی رہ سکتا ہے جو منافق بن کر رہے خود مرزا محمود صاحب کی منطق 99% سے زیادہ احمدی منافق ہیں جماعت احمدیہ مذہب کے نام پر پیسہ اکٹھا کرنے والی جماعت ہے جو چندہ نہیں بلکہ جگا ٹیکس لیتی ہے۔

اب میں اپنے احمدی / قادیانی دوستوں سے (جو یہاں موجود ہیں اور ان کی وساطت سے باقی دوستوں سے) ایک سوال کرتا ہوں کہ چلیں ہم کچھ دیر کیلئے آپ کی بات مان لیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب نبی ہیں نبی کی دعائیں اس کی امت کیلئے قبول کرتا ہے یا نہیں اور نبی کی دعاؤں میں اس کی امت میں نیک متقی پرہیز گار اور امامت کے قابل لوگوں کے پیدا ہونے کی دعا شامل ہوتی ہے یا نہیں؟ اب یا تو مرزا صاحب کی دعاؤں کو قبولیت نہیں تھی یا پھر انہوں نے اپنی امت میں نیک لوگوں کے پیدا ہونے کی دعا ہی نہیں کی دونوں طرح سے ان کی نبوت مشکوک ٹھہرتی ہے کیونکہ جماعت کے دعویٰ کے مطابق جماعت کی تعداد بیس کروڑ ہے (حالانکہ تعداد محل نظر ہے مگر وقتی طور پر یہ بھی مان لیتے ہیں) کیا بیس کروڑ احمدیوں میں ایک بھی تقویٰ ، پاکیزگی اور دیانت و قیادت کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا جس کو آپ خلیفہ بنا سکتے کیا تقویٰ پاکیزگی اور قیادت کے قابل صرف مرزا صاحب کا خاندان ہے جب آپ اس جماعت میں رہ کر پچھلے ایک سو سال سے زیادہ کے عرصہ میں بھی خاندان مرزا غلام احمد صاحب سے باہر ایک بھی متقی نہیں پیدا کر سکے تو پھر آپ کیلئے قابل غور لمحہ ہے کہ اس بانجھ جماعت میں آپ کو کیا مل رہا ہے؟ آئیے اسلام میں آئیے ، آج بھی امت محمدیہ میں آپ کو لاکھوں متقی ملیں گے ۔ صرف آپ مرزا صاحب کی زندگی کا مطالعہ کیجئے۔

صفحہ 18

ان کی کتابیں دیکھئے ان کے اقوال پڑھیے انکے اصحاب کی تحریریں دیکھیے ان کے بیٹوں کی تحریریں دیکھئے لیکن وہ تحریریں نہیں جو یہ آپ کو دکھاتے ہیں بلکہ وہ جو انہوں نے شائع کیں اور اب ان کو چھپاتے پھرتے ہیں تو یقیناً میری طرح آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ مرزا صاحب کچھ بھی ہو سکتے ہیں مگر نبی یا محدث نہیں ہو سکتے اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کو ایمان کی روشنی میں رکھے اور آپ کو بھی محمد عربی ﷺ کی اصلی غلامی میں آنے کی توفیق دے۔ آمین۔

میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ مجھ جیسے گناہ گار اور بے مایہ شخص کو آپ نے عزت بخشی اللہ تعالیٰ ہم سب کا مددگار ہو۔ آمین۔ والسلام

آپ کا بھائی اور خادم شیخ راحیل احمد جرمنی 6 ستمبر 2003

صفحہ 19

قادیانیت کی دوسری اہم شکست

جماعت احمدیہ کے گولڈ میڈلسٹ شاعر مظفر احمد مظفر

کی قادیانیت سے توبہ

شیخ راحیل احمد کے بعد جرمنی میں مقیم قادیانی گولڈ میڈلسٹ شاعر مظفر احمد مظفر نے بھی اسلام قبول کر لیا ۔ مظفر احمد مظفر کے قبول اسلام کی خبر لندن کے اردو اخبارات میں شائع ہوئی یہ خبر بذات خود ایک تجزیہ و تبصرہ ہے اخبار سے خبر نقل کرنے کے بعد مزید کسی تجزیہ کی حاجت نہیں رہتی۔ خبر یہ ہے:

”گولڈ میڈلسٹ شاعر، جماعت احمدیہ اور بیت المال احمدیہ کے اہم شاعر مظفر احمد مظفر نے قادیانی جماعت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنے خاندان کے 5 افراد کے ہمراہ اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ آج جمعہ کے روز آفس باغ مسجد توحید ہوزم جرمنی میں اسلام قبول کریں گے ۔ ذرائع کے مطابق جماعت احمدیہ سے علیحدگی کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے جرمنی کی جماعت احمدیہ کے مرکزی رہنما شیخ راحیل کی قادیانیت سے علیحدگی اور اسلام قبول کئے جانے کے بعد جماعت احمدیہ کے گولڈ میڈلسٹ شاعر اور بیت المال احمدیہ کے اہم رکن مظفر احمد مظفر نے بھی قادیانی جماعت اور قادیانی عقائد سے تائب ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ آج بروز جمعہ ہوزم جرمنی کے آفس باغ مسجد توحید میں اسلام قبول کرنے کی سعادت کا باقاعدہ اعلان کریں گے وہ مبلغ ختم نبوت محمد اعظم کے ہمراہ آج آفس باغ پہنچ رہے ہیں ۔

صفحہ 20

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں ہوزم جرمنی کے امیر جماعت احمدیہ منیر احمد اور نیشنل امیر عبداللہ واگس ہاؤزر کو بھی تحریری طور پر مطلع کر دیا ہے جس کے بعد قادیانی جماعت کی جانب سے ان کو اور ان کے اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں انہوں نے اس ضمن میں ریجنل امیر کولبس خان کے نام بھی ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی ہیں اور یہ سلسلہ بند کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ 36 سالہ مظفر احمد مظفر کا تعلق پشاور سے ہے اور وہ قادیانیوں کے اہم شاعروں میں شمار کئے جاتے رہے ہیں ان کی خدمات کے عوض انہیں گولڈ میڈل بھی ملا ہے جبکہ انہوں نے جماعت احمدیہ کے بیت المال کے اہم رکن کی حیثیت سے بھی قادیانیوں کے لئے بہت اہم کام کئے ہیں ذرائع کے مطابق انہوں نے علاقائی قادیانی امیر کولبس خان کے نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ میں جماعت کی اجتماعی اور آپ حضرات کی انفرادی کاوشیں عدالت میں طشت از بام نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی جسم جماعت پر نوک نشتر بن کر کوئی ابدی ناسور پیدا کرنا چاہتا ہوں با ایں ہمہ اگر جماعت نے میرے متعلق دجال فطرت ، خبیث، خصلت فرسودہ و بے ہودہ روایتی پالیسی ترک نہ کی تو پھر ہماری ملاقات کمرہ عدالت میں ہوگی۔

دریں اثنا معروف علماء اسلام مولانا منظور احمد چنیوٹی اور عبد الرحمن باوا نے مظفر احمد مظفر کی جانب سے قبول اسلام کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے اسلام کی حقانیت سے تعبیر کیا ہے اور انہیں مبارکباد دی ہے جبکہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے شیخ راحیل کے قبول اسلام کے حوالے سے قادیانی ترجمان کے بیان کی مذمت کرتے

صفحہ 21

ہوئے کہا ہے کہ آج قادیانی جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ایک دھماکہ خیز صورت حال پیدا ہوچکی ہے اور بہت بڑی تعداد میں قادیانی اسلام کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔

سابق قادیانی شاعر مظفر احمد مظفرؔ گولڈ میڈلسٹ نے ہماری تنظیم انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ جرمنی کے امیر مولانا مشتاق الرحمٰن صاحب کی مسجد التوحید میں جمعۃ المبارک کے روز جو ایمان قبول کیا اور اپنا بیان جاری کیا آپ حضرات کی دلچسپی کیلئے وہ بھی ذیل میں دیا جارہا ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عزیز از جان مسلمان برادران! السلام علیکم۔ آج کا دن ہمارے واسطے نہایت مبارک ہے کہ ہم جملہ افراد خانہ کفر، مکر اور دجل کی پر پیچ وادیوں سے نکل کر اسلام کی سیدھی اور روشن شاہراہ پر گامزن ہو رہے ہیں۔ حضرات! قادیانیت کی ریشہ دوانیوں ، زہر ناکیوں اور دسیسہ کاریوں کی داستان سو سال پر محیط ہے اس مختصر وقت میں چہرہ قادیانیت سے ارتداد و تلبیس کا پردہ چاک کرنا یقیناً سعی لاحاصل ہوگی۔ آمد برسر مطلب بایں ہمہ۔ یہ معاملات ہرگز خارج از بیان نہیں رکھوں گا مجھ پر اتمام حجت کے اسباب یہ ہیں اس ردعمل کے پیچھے سات برس کی شبانہ روز کتب بینی، ذاتی مشاہدات، جماعت کا داخلی کردار، سنت نبوی سے جماعت کا اجتناب، جماعت کا غیر فطری وغیر شرعی شعار، سلسلہ کے لاتعداد کفریہ عقائد، سلسلہ کا قرآن کریم کے معنی ومفہوم میں تاویلات وتحریفات کے دریا رواں کرنا، الغرض مرزا صاحب نے ۱۸۸۵ء میں سب سے پہلے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ۱۸۸۸ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ورظلی وبروزی

صفحہ 22

سے ہوتے ہوئے آخرش ۱۹۰۱ میں مکمل نبوت کا دعویٰ کردیا کہتے ہیں کہ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں (ازالہ اوہام) دوسری طرف مدعی نبوت پر لعنت بھیج رہے ہیں لہذا کہتے ہیں ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں (ازالہ اوہام) اور کبھی خود کو کرشن ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں نہ صرف یہ بلکہ سمجھتے ہیں میں ہندوؤں کیلئے بطور اوتار رہوں (لکچر سیالکوٹ) پھر آگے چل کر خدائی کا دعویٰ کردیا جس سے مرزا صاحب کے دماغی خلل کی نشاندہی ہوگئی لکھتے ہیں میں خود خدا ہوں (کتاب البریہ) یہ ایک مکمل روداد ہے جس میں مرزا صاحب خالق اور مالک ارض و سماء کی حیثیت سے رقم طراز ہیں الغرض یقیناً کفر کا دوسرا نام قادیانیت ہے۔

ہم ایسے سادہ لوحوں کی نیاز مندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا

سو ہم جملہ افراد خانہ اس بھری مجلس میں آپ حضرات کے روبرو قادیانیت کے مکروہ عقائد و مسلک سے تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوتے ہیں۔ ہم ذاتی طور پر مکرم مولانا مشتاق الرحمن صاحب اور مولانا محمد احمد صاحب، مکرم افتخار احمد صاحب، مکرم شیخ راحیل احمد صاحب اور دیگر آپ تمام برادران کے تہہ دل سے مشکور ہیں ان تمام افراد کی رہنمائی اور خلوص سے آج ہم اس محفل پر رونق میں موجود ہیں۔

والسلام خاکسار مظفر احمد مظفر اہلیہ فرزانہ احمد و بچگان کنول، آفاق، بلال

صفحہ 23

نوٹ: ہم اپنے احمدی احباب کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں اور ان احباب کے قبول اسلام پر جو بھی آپ کا ردعمل ہے ہم سائیٹ پر اسے ویسے ہی لگائیں گے جیسے آپ لکھیں گے۔ شکریہ

اس خوشخبری اور حوصلہ افزاء خبر کے بعد میں نے جناب مظفر احمد مظفر کو اسلام کی آغوش میں آنے پر دین فطرت دین اسلام کو حق سمجھتے ہوئے اس کو قبول کرنے پر مبارک اور حوصلہ افزائی کے طور پر مبارک باد کا خط ارسال کیا۔ جس کے جواب میں موصوف ممدوح نے واپسی شکریہ کا جو خط ارسال کیا ہے اسے بھی ملاحظہ فرمائیں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مورخہ ۲۳/۹/۰۳ پیر

عزیز از جان!

حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی!

السلام علیکم

آپ کا مکتوب گراں قدر پر شفقت ملا بعد مطالعہ دل فرط جذبات سے بے قابو سا ہو گیا اور آپ کے لئے بے اختیار دعا گو ہوا۔ آپ کی اس عنایت و محبت کا میں عمر بھر مشکور رہوں گا۔ خداوند کریم آپ کو اپنے عزائم و مقاصد میں کامران کرے تا کہ آپ اسی حدت سے جرنیل ختم نبوت کا جھنڈا ہاتھوں میں لئے قادیانیت کے ہر خیمہ و

صفحہ 24

مورچہ تک پہنچ کر ”لا نبی بعدی“ کی مشعل سے مرزائیت کا بوسیدہ و پر نجاست جامہ جلا کر خاکستر کر سکیں ۔

مجھے اس امر پر نہایت خوشی اور فخر ہے کہ ہمارے ہر دلعزیز جرنیل نے مرزا سرور کو مباہلہ کا برملا چیلنج دے دیا ہے مرزا سرور جماعت کی روایتی پالیسی اختیار کرتے ہوئے مباہلہ کیلئے ہرگز نہ آوے گا اور اپنے مکان میں بھیگی بلی کی طرح بیٹھا رہے گا بایں ہمہ آپ کل بھی فاتح تھے اور آج بھی فاتح ہیں قادیانی کل بھی آپ کی گرج و شعلہ بیانی کا اعتراف کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہے آپ نے بفضل خداوند کریم ہر نام نہاد قادیانی مربی کو لوہے کے چنے چبوائے اور قادیانی گرو گھنٹال مرزا طاہر کو برقعہ پہن کر چناب نگر سے فرار ہونا پڑا۔ ہمیں فخر ہے کہ آپ کا نام سن کر قادیانی گوریلوں کے دانت بجنے لگتے ہیں اور پوری جماعت کا ڈھانچہ لرزہ براندام ہونے لگتا ہے آپ کی اس فتنہ کیلئے نصف صدی سے زائد بے لوث خدمت سے کون آگاہ نہیں خداوند کریم آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرماویں اور ہمیں بھی دین کامل پر استقامت نصیب فرمائیں ۔

میں اپنے پیارے اور بے حد محترم برادرم سے ملنے کا بے حد مشتاق ہوں میرا لندن آنا تو بعض مسائل کی وجہ سے ممکن نہ ہو گا لیکن آپ اگر جرمنی آسکیں تو آپ کی خدمت کا شرف ضرور حاصل کروں گا ۔

میں دوبارہ آپ کا نہایت مشکور اور احسان مند ہوں کہ آپ نے برادرانہ پیار و شفقت کی دنیا سے آگاہ کیا جہاں ہر لمحہ آپ کی مہک اور خوشبو دل کو آباد رکھے گی ۔

صفحہ 25
بڑا ہی خوش ہوا حالی سے مل کر
ابھی کچھ لوگ اچھے ہیں جہاں میں

والسلام مظفر احمد مظفر (جرمنی) ۲۳/۰۹/۰۳

مرزا سرور اور اس کے متبعین سے ہمدردانہ اپیل

مرزا سرور سمیت تمام گم کردہ راہ قادیانیوں سے میں ہمدردانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی اور اپنی اولادوں کی عاقبت سنوارنے کیلئے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے راہِ حق، مذہب اسلام کو اپنا لیں اور نبی آخر الزمان آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی ختم نبوت پر کامل ایمان لاتے ہوئے ہمیشہ کی راحتوں کی طرف آجائیں اور بچیں اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ ورنہ فرمان رسول ﷺ کے مطابق آپ کے متبعین کی گمراہی کا بوجھ بھی آپ کے ذمہ ہوگا۔ ” فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ اَرِيسِيِّين “

آپ کا سچا خیر خواہ احقر منظور احمد چنیوٹی جنرل سیکرٹری انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ