دجّالِ قادیان · محمد طاہر رزاق
Dajal Qadyan · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

دجّالِ قادیان

مُحمّد طاہر رزّاق

PDF 2

دجّالِ قادیان

محمّد طاہر رزّاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان

PDF 3

انتساب !

جس دل کے آئینے میں محمدؐ کا نام ہے
دوزخ کی آگ اس پہ یقیناً حرام ہے

تحفّظ ختم نبوّت کیلیے اک دھڑکتے دل اک متفکّر دماغ اک مضطرب روح

جناب الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ کے نام

PDF 4

آئینہ مضامین

صفحہ ٥

حرف سپاس

ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک، جناب محمد متین خالد، جناب محمد صدیق شاہ بخاری، جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری، جناب طارق اسماعیل ساگر، جناب حافظ شفیق الرحمن، جناب عبد الرؤف روفی، جناب ممتاز اعوان، جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)

میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ، خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ، نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ، جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ، پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ، مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ کا جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)

محمد طاہر رزاق

صفحہ ٦

حرف ریزے

میں نے ایک چور دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پہ داڑھی تھی
اس کے سر پہ پگڑی تھی
اس کی بغل میں قرآن تھا
اس کے ہاتھوں میں تسبیح تھی
اس کے لبوں پہ اسلام کے ترانے تھے
اس کے ماتھے پہ سجدوں کے نشان تھے
اس کے منہ پر رنگ و روغن کا میک اپ تھا
اس کی آواز درد و سوز میں ڈوبی تھی
اس کا لہجہ ایک ناصح کا لہجہ تھا
اس کا طرز تکلم ایک واعظ کا طرز تکلم تھا
اس کی باتیں نیکی اور فلاح کی پیغمبر تھیں
وہ گلی گلی۔۔۔۔۔۔ کوچہ کوچہ۔۔۔۔۔۔ قریہ قریہ۔۔۔۔۔۔ نگر نگر۔۔۔۔۔۔ شہر شہر گھوم رہا
صفحہ ٧

تھا۔۔۔۔۔اور اپنا پیغام پھیلا رہا تھا

میں نے جب اسے احتسابی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔۔ تو اس نے آنکھیں چرا لیں۔۔۔۔۔جب دوبارہ آنکھیں چار ہوئیں۔۔۔۔تو اس کی آنکھوں سے خوف ٹپک رہا تھا۔۔۔۔۔ میں نے گھن گرج سے جب اسے آواز دی۔۔۔۔۔تو اس کے ماتھے پہ ٹھنڈے پسینے کے قطرے تیر رہے تھے۔۔۔۔جب میں اس کی جانب بڑھا تو اس کے پاؤں ڈگمگا رہے تھے۔۔۔۔۔ جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس کا جسم کپکپا رہا تھا۔۔۔۔جب میں نے اسے کلائی سے پکڑا تو اس کے جسم کی حرارت ٹھنڈک میں تبدیل ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔اور وہ سردی میں سکڑا ہوا سانپ تھا!

میں نے اس کی بغل سے قرآن چھین لیا۔۔۔۔۔اس کے ہاتھوں سے تسبیح نوچ لی۔۔۔۔ اس کے سر سے پگڑی اتار لی۔۔۔۔۔اس کے چہرے سے جعلی داڑھی کھینچ لی۔۔۔۔۔ اور اس کے منہ سے رنگ و روغن کا میک اپ کھرچ ڈالا۔۔۔۔۔

جب میں نے بغور دیکھا تو وہ قادیان کا جھوٹا نبی مرزا قادیانی تھا۔

میں نے اسے کہا کہ سب کو اپنا اصلی چہرہ دکھا۔۔۔۔۔۔

سب کو اپنی اصلیت بتا۔۔۔۔۔۔

سب کو اپنی غلیظ زندگی کے خفیہ گوشے دکھا۔۔۔۔۔۔

سب کے سامنے اپنے خبث باطن کا اظہار کر۔۔۔۔۔۔۔

سب کے سامنے اپنا کفر زندقہ اور ارتداد بیان کر۔۔۔۔۔۔۔

سب کے سامنے اپنے عقائد باطلہ کو رونما کر۔۔۔۔۔۔۔

سب کے سامنے اپنی جھوٹی نبوت کے راز سے پردہ اٹھا۔۔۔۔۔۔

سب کے سامنے فرنگی کی سازشوں کو بے نقاب کر۔۔۔۔۔۔

اس نے کیا بیان کیا؟

اس کے چند گوشے ”دجال قادیان“ کی صورت میں آپ کے سامنے ہیں۔۔۔۔۔۔

صفحہ ٨

”دجال قادیان“ آپ کے ہاتھوں میں دینے کے بعد ہم قادیانیت کے خلاف آپ کے ایمانی ردعمل کے منتظر ہیں۔۔۔۔۔

یاد رکھئے۔۔۔۔۔۔۔جتنا شدید آپ کا رد عمل ہو گا۔۔۔۔اتنا ہی آپ کو نبی کریم ﷺ سے عشق ہو گا۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ جسے قادیانیت سے نفرت نہیں‘ اسے جناب محمد عربی ﷺ سے محبت نہیں! آئیے ہم اس کسوٹی پہ اپنے ایمان کو پرکھتے ہیں۔

رشتہ نہ ہو قائم جو محمد سے وفا کا
جینا بھی برباد مرنا بھی اکارت

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی ایس۔ سی‘ ایم۔ اے (تاریخ) یکم اکتوبر 1998ء لاہور

صفحہ ٩

کرنیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وحدہ والصلوہ والسلام علی من لا نبی بعدہ

جناب محمد طاہر رزاق صاحب نے قادیانی فتنے کی تردید میں متعدد رسائل و کتب لکھ کر قیمتی خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے قلم سے نکلی ہوئی چند کتابیں حسب ذیل ہیں: ”قادیانیت شکن“، ”مرگ مرزائیت“، ”قادیانی افسانے“، ”فتنہ قادیانیت کو پہچانئے“، ”قادیانیت کش“، ”نغمات ختم نبوت“، ”تحفظ ختم نبوت“، ”شعور ختم نبوت اور قادیانیت شناسی“

امید ہے ان کی تازہ تالیف ”دجال قادیان“ بھی ان کی پہلی کتابوں کی طرح پسند کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور بروز حشر حضور خاتم النبین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت سے سرفراز فرمائے۔

احقر نفیس الحسینی ١١ جمادی الاخریٰ ١٤١٩ھ ٣ اکتوبر ١٩٩٨ء

صفحہ ١٠

گفتگو

دو اڑھائی برس پرانی بات ہے میرا بڑا بیٹا اس وقت بمشکل دو برس کا تھا۔ اس نے ابھی توتلی زبان میں باتیں شروع ہی کی تھیں۔ ایک روز ہمارے گھر میرے ایک باریش دوست تشریف لائے۔ میں ان کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہو گیا۔ میرا بیٹا خاموشی سے پاس بیٹھ گیا۔ یہ میرے لیے بڑے اچنبھے کی بات تھی۔ کیونکہ سیانوں کا کہنا ہے جب بچہ خاموش بیٹھا ہو تو سمجھ لیں وہ کوئی گل کھلا رہا ہے۔ میں نے بچے کی خاموشی پر غور کیا تو پتہ چلا وہ ہر چیز سے لاتعلق ہو کر مہمان کے "رخ انور" پر نظر جمائے بیٹھا ہے۔ میں نے اسے گدگدا کر اس "نظر التفات" کی وجہ دریافت کی تو اس نے تھوڑا سا شرما کر کہا "پاپا اس انکل نے اتنی گرمی میں داڑھی کیوں پہن رکھی ہے؟" یہ سن کر میرے دوست نے فلک شگاف قہقہہ لگایا جبکہ مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔

قصور دراصل بچے کا بھی نہیں تھا۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ میں نے اسے کھلونوں کی دکان سے ایک نقلی داڑھی اور مونچھ لا کر دے دی تھی جسے وہ "بوقت ضرورت" پہن کر ہم سب کو ڈراتا رہتا تھا۔ جس سے میری بیوی بڑی نالاں تھی۔ جب بچے کی یہ بزرگانہ عادت پختہ ہونے لگی تو اس نے ایک روز اسے پاس بٹھا کر سمجھایا "بیٹا گرمیوں میں داڑھی نہیں پہنا کرتے۔ اس سے منہ پر پھوڑے نکل آتے ہیں" میری بیوی کا یہ نسخہ بڑا کارگر ثابت ہوا اور میرے بیٹے نے یہ "حرکت بد" ترک کر دی لیکن میری "عنایت" اور میری بیوی کی "تادیبی کارروائی" سے میرے بیٹے کے ذہن میں دو گرہیں پڑ گئیں۔ اول داڑھی پہننے والی

صفحہ ١١

چیز ہے جسے پہن کر لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے۔ دوم یہ چیز گرمیوں میں نہیں پہنی جاتی۔ لہٰذا جوں ہی اس کے سامنے ایک ایسا ”مجرم“ آیا جس نے گرمی کی پروا نہ کرتے ہوئے چہرہ داڑھی سے مزین کر رکھا تھا تو اس کا سہم جانا اور سوال کرنا فطری تھا۔

یہ واقعہ میرے لیے بڑا ”الارمنگ“ تھا کیونکہ مجھے محسوس ہوا اگر بچے کو فوری طور پر اصل صورت حال نہ بتائی گئی تو وہ کسی روز کسی ”اہل ایمان“ کے ساتھ وہ سلوک نہ کر دے جو حضرت موسیٰؑ نے بچپن میں فرعون کی گود میں بیٹھ کر اس کے ساتھ کیا تھا۔ چنانچہ میں نے مہمان کی رخصتی کے بعد اسے پاس بٹھا کر سمجھانا شروع کر دیا لیکن بدقسمتی سے میرے بیٹے کے ننھے سے ذہن میں داڑھی پہنے اور داڑھی رکھنے کا باریک سا فرق نہ سمایا۔ جب میں بری طرح تھک گیا تو میں نے اس کے سامنے ایک ایسا شخص ”بطور نمونہ“ پیش کرنے کا فیصلہ کیا جس نے واقعی داڑھی رکھی ہوئی ہو۔

قارئین کرام کرنے کو میں نے یہ فیصلہ تو کر لیا لیکن آج مجھے یہ اعتراف کرتے ہوئے بڑا افسوس ہو رہا ہے کہ آنے والے دو برسوں میں مجھے ایک بھی ایسا شخص نہیں ملا جس نے داڑھی پہن نہ رکھی ہو جو سنت رسولؐ سے خلقت خدا کو ڈرانے کا کام نہ لیتا ہو۔ جس کے چہرے پر چند ہزار بال نہ ہوں‘ نور کے دھارے ہوں۔ لیکن ٹھہریے۔ مجھے یہ اعتراف بھی کرنے دیں کہ جب میں اس تلاش سے بری طرح تھک گیا تو مجھے لوگوں کے ہجوم میں ایک ایسا انسان نظر آ گیا جس کے چہرے پر نظر ڈالنے کے بعد دل بے اختیار محبت پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پلکیں جھک جاتی ہیں‘ کانوں کے پردے ”ہارڈ ڈسک“ بن جاتے ہیں اور ذہن کے اندر یہ خواہش انگڑائی لینے لگتی ہے کہ یہ شخص اسی طرح بولتا رہے‘ بولتا رہے اور ہم سنتے رہیں‘ سنتے رہیں۔..... اس شخص کا نام محمد طاہر رزاق ہے۔

طاہر بھائی سے میری ملاقات ٨٧-٨٦ء میں ہوئی تھی۔ ان دنوں انہوں نے ختم نبوت پر نیا نیا کام شروع کیا تھا۔ میں ان دنوں کالج میں ایف۔اے کا طالب علم تھا۔ لاہور میاں میر میں ختم نبوت پر ایک جلسہ ہو رہا تھا جس میں میں نے تقریر کی تو مجھے انعام میں طاہر بھائی مل گئے۔ اس دور میں ان سے میری بڑی ملاقاتیں رہیں‘ وہ ختم نبوت کے محاذ کے بڑے جوشیلے سپاہی تھے۔ ان کی باتیں سن کر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنے کو جی چاہتا تھا

صفحہ ١٢

کہ اس نے ہمیں مرزائی نہیں بنایا ورنہ طاہر بھائی ہمارا وہی حشر کرتے جو کبھی صلاح الدین ایوبی نے رچرڈ شیر دل کے لشکر کا کیا تھا۔ میں آج بارہ برس بعد اس وقت کے طاہر بھائی کے بارے میں سوچتا ہوں تو وہ مجھے ساون کا دریا لگتے ہیں جسے بہنا نہیں آتا۔ کنارے توڑنا اور دور دور تک تباہی اور بربادی پھیلانا آتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ ان دنوں ہم جیسے ”ڈھیلے مٹھے“ مسلمانوں کو بھی ”قادیانیوں“ کا ایجنٹ ہی سمجھتے تھے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا جو مسلمان سر پر آہنی خود اور سینے پر زرہ بکتر پہن کر ہاتھ میں تلوار اٹھا کر ”ربوہ“ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے نہیں نکلتا اسے محمد عربی کا نام لینے کا کوئی حق نہیں۔ کفر و اسلام کی جنگ میں کافروں کے لیے بہتر سلوک کی درخواست کرنے والے لوگ مسلمان نہیں کافروں کے ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ یقین فرمائیے میں طاہر بھائی کے ان ”باغیانہ خیالات“ سے پریشان ہو کر فوراً آگے پیچھے ہو گیا کیونکہ مجھے خطرہ تھا اگر میں مزید چند روز ان کی صحبت میں رہا تو یقیناً کسی روز گھوڑے پر سوار ہو کر ”ربوہ“ پر حملہ آور ہو جاؤں گا اور مجھے حکومت پکڑ کر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دے گی۔

پچھلے ماہ بارہ برس بعد طاہر بھائی سے ملاقات ہوئی تو مجھے اس طاہر بھائی اور اس طاہر بھائی میں زمین آسمان کا فرق محسوس ہوا۔ کہاں ساون کا چڑھا دریا اور کہاں ایک پر سکون عمیق سمندر، کہاں نعرے لگانے، جھنڈے لہرانے اور جبڑے توڑنے والا جیالا اور کہاں ایک متحمل صوفی، عشق رسولؐ میں ڈوبا ایک وضع دار عاشق، دلیل اور منطق سے بنا ایک عالم اور دلوں پر دستک دینے والا ایک دانشور۔ مجھے نہیں معلوم ان بارہ برسوں میں طاہر بھائی پر کیا گزری۔ یہ سلوک کی کن کن منزلوں سے گزرے۔ انہوں نے عشق کے کون کون سے مراحل طے کیے، ان کا گزر کن کن ہستیوں کی بارگاہوں سے ہوا اور انہوں نے عشق کے کون کون سے چشموں کا پانی پیا لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں طاہر بھائی کا شمار تاریخ کے ان چند حضرات میں ہوتا ہے جن کے عشق کی ایک ہی جست سارے قصے تمام کر دیتی ہے۔ جو جب سوز و گداز کے گہرے پانیوں سے باہر آتے ہیں تو لفظ ان کے غلام بن چکے ہوتے ہیں۔ فقرے ”کمیوں“ کی طرح ان کی چوکھٹ پر ماتھا رگڑ رہے ہوتے ہیں اور زبان ہاتھ باندھ کر ان کے ایک اشارہ چشم کی منتظر ہوتی ہے۔

صفحہ ١٣

میرا ذاتی خیال ہے لکھنا کوئی بڑی بات نہیں جس نے بھی چند برسوں تک استادوں کی جوتیاں سیدھی کی ہوں‘ چند کتابیں پڑھی ہوں اور غلطی سے اس کے ہاتھ ایک قلم اور چند کاغذ آ گئے ہوں وہ تحریر کا حشر نشر کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ لفظوں میں تاثیر صرف محمد طاہر رزاق جیسے لوگوں ہی کو عطا کرتا ہے۔ آپ ان کی کوئی سطر اٹھا کر پڑھیں‘ ان کی درجنوں کتابوں میں سے کسی ایک کتاب کا کوئی ایک صفحہ کھول کر دیکھیں لفظ آپ کے ذہن میں اس طرح اتر جائیں گے جس طرح صحرا کے سینے میں شبنم کے قطرے اترتے ہیں۔ ذرا ایمان سے بتائیے ہمارے عہد میں کون ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اتنا نوازا ہو‘ جسے لفظوں کا ایسا جادو ودیعت کیا ہو کہ وہ ختم نبوت جیسے خشک‘ علمی اور مذہبی موضوع کو ادب بنادے۔ لوہے کو پانی کی طرح بہنے پر مجبور کردے۔

خدا گواہ ہے اگر اب طاہر بھائی میرے ہاتھ آگئے تو میں فوراً اپنے بیٹے کو ان کے سامنے بٹھا کر کہوں گا ”بیٹا دیکھو“ ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے داڑھیاں پہنی نہیں ہوتیں‘ تم جب بڑے ہو جاؤ تو جاوید چودھری نہ بننا‘ طاہر بھائی بننا۔ یقین فرمائیے میری اس خواہش میں ذرہ بھر بھی صحافیانہ مبالغہ شامل نہیں۔

جاوید چودھری روزنامہ ”جنگ“ اسلام آباد

صفحہ ١٤

قادیانی------اسلام اور پاکستان کے غدار

قادیانی دجال کے دجل و فریب سے دنیا بھر کے انسانوں، مسلمانوں اور خود قادیانیوں کو آگاہ کرنا عین عبادت ہے۔ تاکہ وہ اس گمراہی اور کفر و ضلالت سے محفوظ رہ سکیں۔ تاجدار ختم نبوت جناب رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عقیدت اور محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کی عزت و ناموس کی جان و مال سے حفاظت کریں اور سارق تاج ختم نبوت کا ہر کہیں تعاقب کریں۔ مبارک ہیں وہ لوگ جنہوں نے قادیانیت کے خلاف جہاد میں حصہ لیا اور نبی پاکؐ سے اپنی محبت کو امر بنا دیا۔ ایسے تمام عشاق رسولؐ کے لیے دین و دنیا کی بشارتیں ہیں اور مردود ہیں وہ لوگ جو اس قادیانی دجال کو کسی بھی درجے میں انسان بھی گردانتے ہیں۔

قادیانیت کے خلاف جہاد کرنے والے لائق افتخار لوگوں میں محمد طاہر رزاق صاحب بھی ایک مرد مجاہد اور عاشق رسولؐ ہیں جو قادیانیت کے خلاف درجن سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ انہوں نے قادیانیت کے خلاف اس جہاد میں اپنی عمر عزیز کا ایک حصہ صرف کیا ہے۔ خدا انہیں اس کی جزا دے۔ آمین۔

زیر نظر کتاب کا نام ”دجال قادیان“ ہے۔ محمد طاہر رزاق نے اپنی اس کتاب میں جن موضوعات پر قلم اٹھایا ہے، ان میں مرزا قادیانی کا بچپن، قادیان کا بدکردار، مرزا قادیانی کا حافظہ، مسٹر گالی گلوچ، مرزا قادیانی کو نبی کیوں بنایا گیا؟ ایک منہ دو زبانیں، مجرم اعتراف جرم کرتا ہے اور اللہ کا گستاخ مضامین شامل ہیں۔ پھر وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم رسول اللہ کے امتی ہیں کہ ایسے دریدہ دہن کی ”امت“ کو برداشت کر رہے ہیں۔ آخر میں انہوں نے ختم نبوت کے ان پاسبانوں کا ذکر کیا ہے، جنہوں نے اس راہ میں جہاد کیا اور قادیانیت

صفحہ ١٥

کے خلاف اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔

محمد طاہر رزاق نے اس کتاب میں تمام حوالے قادیانیوں کی کتابوں سے دیے ہیں۔

مرزا قادیانی کی تحریروں سے اس کے بچپن کے احوال بیان کیے گئے ہیں جس سے ایک ایسے شخص کی تصویر بنتی ہے، جس کا بچپن کسی پاکیزہ تربیت سے خالی ہو اور جو شائستگی سے ہمیشہ دور رہا ہو۔ ”قادیان کا بدکردار“ ایک ایسے شخص کا سراپا بیان کرتا ہے جو طاقتور وائن (شراب) کا رسیا، افیون کا عادی، غیر محرم عورتوں سے ٹانگیں دبوانے والا، غلیظ گالیاں بکنے والا، مراق اور ہسٹریا کا دائمی مریض اور مخبوط الحواس، نالائق اور ٹیچی ٹیچی، خیراتی فرشتوں کے نام رکھ کر اردو، پنجابی اور انگریزی میں وحی بیان کرنے والا ایک ایسا شخص نظر آتا ہے، جو مقدس اور پاکیزہ شخصیات اور وظائف کو تماشا، تمسخر اور مذاق بنانے پر تلا ہوا ہے۔ جو ہر لحظہ ہذیان، یاوہ گوئی اور جھوٹ بکتا ہے اور جو نبوت و رسالت تو کیا ایک اوسط درجے کے شریف انسان کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔

”مرزا قادیانی کا حافظہ“ میں محمد طاہر رزاق نے اس کی کمزور یادداشت اور حافظہ کی داستان خود اس کی اپنی زبان سے بیان کی ہے۔ وہ جو فارسی کا محاورہ ہے ناکہ ”دروغ گو را حافظہ نہ باشد“ یہ مکار اور جھوٹا اس کی تصویر ہے۔ یہ شخص مسلمانوں کو کافر کہتا، اپنے مخالفین کو گالیاں بکتا، ان کے بارے میں پیش گوئیاں کرتا اور لعنت ملامت کرتا ہے جو طاہر صاحب نے اپنے مضمون مسٹر ”گالی گلوچ“ میں بے نقاب کیا ہے اور بتایا ہے کہ اسے نبی اس لیے بنایا گیا تاکہ وہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو سرد کر سکے۔ اس میڈ ان انگلینڈ نبی نے انگریزوں کی چاپلوسی اور چمچہ گیری میں جہاد کی تنسیخ اور اس کے خاتمے کا اعلان کیا مگر اس کی ناکامی دیکھئے کہ اسی دور میں پوری دنیا میں مسلمان جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے انگریزی استعماریت کو جزیرہ برطانیہ میں قید کر دیا ہے۔

مرزا قادیانی ہذیان بکتے ہوئے کبھی خود کو مجدد کہتا، کبھی مسیح موعود، کبھی مہدی، کبھی ظلی نبی، کبھی بروزی نبی، کبھی خدا بن جاتا ہے، کبھی رسول۔ یہ شخص جو انسانیت کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتا، ان مقدس مراتب کا جس قدر بے غیرتی سے استعمال کرتا رہا ہے، اس پر تو اسے راجپال سے بھی بدتر سزا دینی چاہیے تھی تاکہ ایسے کذاب جہنم میں قیامت تک کے

صفحہ ١٦

لیے بند ہو جاتے مگر شاید قدرت کو اسے لعنت ملامت کے ذریعے قیامت تک نشان عبرت بنانا تھا۔ لہٰذا اس پلید اور ننگ انسانیت کی رسی کو دراز رکھا۔ ایک اور مضمون میں ”مجرم اعتراف جرم کرتا ہے“ مصنف نے مرزا قادیانی کے نبوت کے تمام دعوؤں کو یکجا کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ بیرون ملک اور ناواقفان حال کو قادیانی یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ قادیانی کسی نبوت کے مدعی نہیں بلکہ وہ اسے مجدد یا ایک فرقے کا بانی تصور کرتے ہیں۔ جس طرح دوسرے فرقے ہیں۔ اس طرح وہ لوگوں کو اپنے دام فریب میں پھانس لیتے ہیں۔ کبھی عورت کا لالچ دے کر‘ کبھی نوکری اور روزگار کا فریب دے کر۔ کبھی مالی اعانت اور تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کا جھانسہ دے کر پھنسا لیتے ہیں۔ خود علامہ اقبال کے بھتیجے اعجاز کو چودھری ظفر اللہ نے سب ججی کا لالچ دی کر قادیانی بنایا۔ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

طاہر صاحب نے اس کے نبوت کے جھوٹے دعاوی کو خود اس کی کتابوں سے عیاں کر دیا ہے۔ یہ بھی کتنے ستم کی بات ہے کہ دنیا میں یہ واحد مدعی نبوت ہے جو اپنے دعویٰ کی ساتھ ساتھ اپنے کردار اور قول و فعل میں بھی شرمناک حد تک جھوٹا اور عیار ہے اور متضاد دعوؤں سے سادہ لوح لوگوں کو پھانس کر اپنے جال میں لے آتا ہے۔

اس بدبخت کا سب سے شرمناک کردار یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی گستاخیاں اور ہملیں کرنے سے باز نہیں آتا۔ ایک مضمون میں طاہر رزاق صاحب نے قادیانیوں کی بالخصوص مرزا کی ہذیان گوئی کی وہ ساری بکواس اکٹھی کر دی ہے‘ جو خدائے ذوالجلال کے حضور شرمناک گستاخیوں کی صورت میں وہ کرتا رہا ہے۔ اسی طرح نبی پاک ﷺ کی شان میں اور دیگر انبیاء کے حضور بھی اس گستاخ کی ہرزہ سرائیوں کو اس کتاب میں ان ہی کی کتب سے بے نقاب کیا گیا ہے۔ اسلام کے اندر اس فتنہ ارتداد کے بانی مرتد غلام قادیانی کی سزا رجم اور قتل ہونی چاہیے تھی۔ افسوس راجپال تو واصل جہنم ہو گیا مگر مرتدین کی یہ اولاد انگریز کی چھتر چھایا تلے قوت پکڑتی رہی اور آج کل بین الاقوامی اسلام دشمن قوتیں اور عالمی صہیونیت اس کی مربی اور پشت پناہ ہے اور وہ پوری دنیا میں کفر و ضلالت پھیلا رہے ہیں۔ یہ اسرائیل کے ایجنٹ‘ ہندو کے گماشتے‘ مغربی طاقتوں کے آلہ کار اور پاکستان اور عالم اسلام کے دشمن نمبر ایک ہیں۔

صفحہ ١٧

اقبال نے جن کے قرب وجوار میں قادیانیوں کے گڑھ تھے، سب سے پہلے سیاسی، عمرانی اور تہذیبی سطح پر ان کے خطرناک عزائم کا ادراک کیا اور انہیں اسلام اور ہندوستان (مراد مسلم ہندوستان جو آج کل پاکستان ہے) کا غدار قرار دیا۔ اس لیے کہ قادیانی اسلام کے بنیادی عقیدے ختم نبوت کے سارق تھے اور ہندوؤں، انگریزوں اور یونینسٹوں کے ساتھ مل کر ١٩٣٥ء کے آئین کی آڑ میں مسلم نشستوں پر قبضہ کر کے تحریک پاکستان کو سبوتاژ کرنا چاہتے تھے۔ اقبال نے اسی بنا پر ان کو کافر قرار دے کر ان کو الگ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا جبکہ علماء کرام دینی اور مذہبی حوالے سے ان کے خلاف مورچہ بند تھے۔ قادیانی علامہ اقبال کے خلاف یہ پراپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ اقبال نے ١٩٣٥ء میں حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، جو ختم نبوت کے مجاہد اعظم تھے، کے کہنے پر قادیانیوں کے خلاف سرگرمی دکھائی۔ حالانکہ وہ ان کے بارے میں پہلے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ قادیانیوں کا یہ بیان سراسر جھوٹ ہے۔

اقبال نے ١٩٠٢ء میں سب سے پہلے قادیانیت پر وار کیا۔ ١٩٠٢ء میں انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں انہوں نے مرزا قادیانی کے دعوئی نبوت کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ :

اے کہ بعد از تو نبوت شد بہ ہر مفہوم شرک
بزم را روشن ز نور شمع عرفان کردہ

اپنی مرتبہ کتاب ”سرود رفتہ“ میں ص ٣٠ پر غلام رسول مہر نے ایک نوٹ میں کہا کہ یہ ١٩٠٢ء کا کلام ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے لکھنے کی ضرورت مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ بروزیت کی بنا پر ہوئی۔ یعنی کہتے ہیں کہ تیرے بعد نبوت کا دعویٰ ہر لحاظ سے شرک فی النبوت ہے۔ خواہ اس کا مفہوم کوئی ہو۔ یعنی ظلی اور بروزی نبوت بھی اس سے باہر نہیں۔

مئی ١٩٠٢ء میں مخزن لاہور اور ١١ جون ١٩٠٢ء میں محمد دین فوق کے رسالے پنجہ فولاد میں قادیانی مذہب کے نتائج کا تجزیہ یوں کیا۔ یاد رہے کہ یہ قادیان کی طرف سے بیعت کے جواب میں شعر لکھے۔

تو جدائی پہ جان دیتا ہے
وصل کی راہ سوچتا ہوں میں
صفحہ ١٨
بھائیوں میں بگاڑ ہو جس سے
اس عبادت کو کیا سراہوں میں
مرگ اغیار پر خوشی ہے مجھے
اور آنسو بہا رہا ہوں میں

یاد رہے مرزا قادیانی اپنے مخالفین کی موت کی پیش گوئیاں کرتا رہتا تھا۔

١٩٠٣ء انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں ”فریاد امت“ منعقدہ مارچ ١٩٠٣ء میں اقبال نے ایک نظم پڑھی جس کا دوسرا عنوان ابر گہر بار تھا۔ اس میں انہوں نے یہ شعر پڑھا:

مجھ کو انکار نہیں آمد مہدی سے مگر
غیر ممکن ہے کوئی مثل ہو پیدا تیرا

اقبال نے اس شعر کے ذریعے مرزا قادیانی کے اس دعوے کو رد کر دیا کہ وہ مثل مسیح یا مثل محمدؐ ہے۔

١٩١١ء۔۔۔۔ ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر میں انہوں نے قادیانیوں کو ٹھیٹھ اسلامی سیرت کا نمونہ کہنے کے ساتھ ساتھ انہیں نام نہاد قادیانی فرقہ کہا۔ مولانا ظفر علی خان نے اس مقالے کے ترجمے میں "So-called" نام نہاد کا لفظ غلطی سے چھوڑ دیا جس کو قادیانیوں نے ایکسپلائٹ کیا اور اصل انگریزی مضمون دیکھنے کی کسی نے زحمت نہ کی۔ کیونکہ قادیانیوں نے اس مضمون کا انگریزی ورشن مارکیٹ سے غائب کر دیا تھا۔

١٩١٤ء میں اقبال نے لکھا کہ قادیانی جماعت نبی اکرم کے بعد نبوت کی قائل ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

رموز بے خودی ١٩١٥ میں شائع ہوئی۔ اقبال نے عقیدہ ختم نبوت کا واشگاف اعلان کیا

پس خدا بر ما شریعت ختم کرد
بر رسول ما رسالت ختم کرد
لا نبی بعدی ز احسان خدا ست
پردۂ ناموس دین مصطفیٰ است
صفحہ ١٩
حق تعالیٰ نقش ہر دعویٰ شکست
تا ابد اسلام را شیرازہ بست

١٩١٦ء اقبال نے ١٩١٦ء میں ایک بیان میں کہا: ”جو شخص نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی ایسے نبی کا قائل ہو جس کا انکار مستلزم کفر ہو تو وہ خارج از اسلام ہوگا۔ اگر قادیانی جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔

جون ١٩٣٣ء اقبال نے کشمیر میں قادیانیوں کی سازشوں کے بارے میں بیان دیا کہ ”آخر میں مسلمانان کشمیر سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ ان تحریکوں سے خبردار رہیں جو ان کے خلاف کام کررہی ہیں اور اپنے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کریں“۔ (٧ جون ١٩٣٣ء، اقبال نامہ، حصہ اول)

٢٠ جون ١٩٣٣ء کو اقبال نے کشمیر میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کی بناء پر کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔

١٤ اکتوبر ١٩٣٣ء اقبال نے قادیانی اہل قلم جن میں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ پیش پیش تھے، کی سازشوں کے خلاف بیان دیا اور کشمیر کمیٹی کے عہدہ صدارت کی پیشکش کو فریب قرار دیا اور کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان حالات کے پیش نظر ایک مسلمان کسی ایسی تحریک میں شامل ہو سکتا ہے جس کا اصل مقصد غیر فرقہ واری کی ہلکی سی آڑ میں کسی مخصوص جماعت کا پراپیگنڈہ کرنا ہے“۔ (حرف اقبال، ص ٢٠٤)

١٩٣٤ء نو فروری ١٩٣٤ء کو نعیم الحق وکیل پٹنہ کو لکھتے ہیں: جس مقدمے کی پیروی کے لیے میں نے آپ سے درخواست کی تھی، اس کی پیروی چودھری ظفراللہ کریں گے۔ چودھری ظفراللہ خان کیونکر اور کس کی دعوت پر وہاں جا رہے ہیں، مجھے معلوم نہیں۔ شاید کشمیر کانفرنس کے بعض لوگ ابھی تک قادیانیوں سے خفیہ تعلقات رکھتے ہیں“۔ (اقبال نامہ، ص ٤٣٥)

١٩٣٥ء اقبال نے ضرب کلیم میں اپنی نظم جہاد میں قادیانیوں پر تنقید کی:

فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
صفحہ ٢٠
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ‘ یورپ سے درگزر

دوسری نظم نبوت میں لکھتے ہیں:

وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام

ایک نظم امامت میں لکھتے ہیں:

فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلمان کو سلاطین کا پرستار کرے

انگریز کی قادیانیوں کی چاکری پر لکھتے ہیں

ہو اگر قوت فرعون کی در پردہ مرید
قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللہی
محکوم کے الہام سے اللہ بچائے
غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز

٧ اگست ١٩٣٦ء کو ایک خط میں لکھتے ہیں ”الحمد للہ کہ اب قادیانی فتنہ پنجاب میں رفتہ رفتہ کم ہو رہا ہے“۔

پس چہ باید کرد ١٩٣٦ء میں شائع ہوئی۔ اقبال لکھتے ہیں:

عصر من پیغمبرے ہم آفرید
آنکہ در قرآں بغیر از خود ندید
شیخ او مرد فرنگی را مرید
گرچہ گوید از مقام بایزید
گفت دیں را رونق ز محکومی است
زندگانی از خودی محرومی است
صفحہ ٢١
دولت اغیار را رحمت شمرد
رقص ہا گرد کلیسا کرد و مرد

١٩٣٧ء قادیانی مذہب از پروفیسر الیاس برنی‘ موصول ہونے پر اقبال نے لکھا: ” قادیانی تحریک یا یوں کہئے کہ بانی تحریک کا دعویٰ مسئلہ بروز پر مبنی ہے۔ مسئلہ بروز کی تحقیق تاریخی لحاظ سے از بس ضروری ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے‘ یہ مسئلہ عجمی مسلمانوں کی ایجاد ہے اور اصل اس کی آرین ہے۔ نبوت کا سامی تخیل اس سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے۔ میری ناقص رائے میں اس مسئلہ کی تاریخی تحقیق قادیانیت کا خاتمہ کر دے گی“۔

ہماری اس تحریر سے واضح ہو گیا ہو گا کہ اقبال نے کسی اضطراری کیفیت میں قادیانیوں کے خلاف مہم جوئی نہیں کی تھی بلکہ ایک پورے تسلسل کے ساتھ ١٩٠٢ء سے اپنی وفات تک قادیانیت کے خلاف جہاد کیا۔ علمائے عظام نے دینی اور مذہبی محاذ پر اور اقبال نے عمرانی‘ تہذیبی‘ اور سیاسی محاذ پر اس کفرستان پر پیہم حملے کیے اور ١٩٣٥ء میں تحریک پاکستان جو مسلمانوں کی برصغیر میں آزادی کی آخری کوشش تھی‘ کو سبوتاژ کرنے کی قادیانی کوششوں کی وجہ سے کھل کر انہیں اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ مسلمانوں کی نشستوں پر منتخب ہو کر مسلمانوں کو ہندو اور انگریز کا غلام نہ بنا دیں۔ برصغیر میں قادیانی ریاست کی تشکیل کے لیے قادیانیوں نے کبھی پنجاب‘ کبھی کشمیر اور کبھی بلوچستان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جنہیں بندگان خدا نے ناکام بنا دیا۔

اقبال کے نزدیک قادیانی ۔۔۔۔۔ اسلام اور پاکستان کے غدار ہیں۔ یہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں پر ایک دوسرے کو مبارک بادیں دیتے ہیں اور پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے خلاف بھارت کی حمایت کرتے ہیں اور اسے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ”قادیانیت کے کرتوت“ کے نام سے روزنامہ امت کراچی میں میرا کالم شائع ہوا۔ جو نقیب ختم نبوت ملتان میں بھی شائع ہوا۔ یہ دیباچہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو گا جب تک اس میں میں اپنا کالم شامل نہ کردوں۔ تو وہ نذر قارئین ہے:

امت مسلمہ سے جذبہ جہاد کو ختم کرنے اور مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے

صفحہ ٢٢

کے لیے انگریز استعماریت نے برصغیر بالخصوص پنجاب میں قادیانیت کا شرمناک پودا کاشت کیا جو مسلمانوں کے لیے برگ حشیش سے بھی زیادہ زہرناک اور افسوس ناک ثابت ہوا ہے۔ یہ مسلمانوں کے سینے کا ناسور ہے جو گزشتہ ایک صدی سے فتنہ در فتنہ پھیل رہا ہے۔ انگریز کی غلامی کو مرغوب بنانے کی رومانیت اس کا بنیادی وظیفہ رہا ہے۔ ختم نبوت کے چور جسے اقبال نے شرک فی النبوت قرار دیا، ایک ایسے بدبخت، ہذیان گو، جنس پرست اور غلیظ انسان کو نبی، مجدد اور مسیح موعود کے طور پر پیش کرتے رہے جو اپنی اخلاق باختگی کے سبب انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں تھا۔ انگریز کی ٹوہ چاٹنے والا یہ شخص اور اس کی کافر امت شروع سے ہی مسلمانوں کو کافر قرار دیتی اور ان کے خلاف سازشیں بنتی نظر آتی ہے۔ اسی لیے اقبال نے اسے غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا اعلان کیا تاکہ عام مسلمان ان سے دھوکہ نہ کھائیں اور یہ مسلمانوں کے اندر نقب نہ لگا سکیں۔

مرزا بشیر الدین محمود جو قادیانیوں کا دوسرا خلیفہ تھا، ایک بہت بڑا سازشی ذہن تھا۔ اس نے کشمیر کمیٹی کی آڑ میں اور کشمیری مسلمانوں کی آزادی کے پردے میں کشمیر میں قادیانی مبلغ بھیجے اور انگریز کی ملی بھگت سے کشمیر کو قادیانی ریاست میں تبدیل کرنے کا کھیل کھیلتا رہا۔ وہ کشمیر کمیٹی کی کارروائیوں کا مخبر تھا اور کشمیر کی آزادی کے لیے ہونے والی کوششوں سے انگریزوں کو آگاہ رکھتا۔ علامہ اقبال اور کچھ دوسرے لوگوں نے اسی لیے اس کشمیر کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرلی اور اس بدبخت کو اس کی صدارت سے مستعفی ہونا پڑا۔ قادیانیوں کی فرمانبرداری کے صلے میں چودھری ظفر اللہ کے ذریعے پنجاب میں قادیانیت کو منظم کیا۔ ظفر اللہ نے اور دوسرے بااثر قادیانیوں نے مسلمان نوجوانوں کو نوکریوں، عورتوں اور دولت کے لالچ دے کر قادیانیت کی طرف راغب کیا۔ خود شیخ اعجاز احمد جو علامہ اقبال کے سگے بھتیجے تھے، ظفر اللہ کی طرف سے سب ججی کے لالچ میں آکر قادیانی ہو گئے۔ خاندان اقبال میں یہ واحد روسیا تھا جس نے اپنے مقدر میں قادیانیت کی ذلت لکھی۔ جبکہ اس کے باپ، بیٹوں اور بیٹیوں نے قادیانیت کو دھتکار دیا۔

قادیانیت نے سر فضل حسین اور چودھری ظفر اللہ کے توسط سے یونینسٹ پارٹی اور مسلم لیگ میں گھس کر ١٩٣٥ء کے دستور کے تحت ہونے والے انتخابات میں مسلم

صفحہ ٢٣

نشستوں پر قادیانی امیدوار کھڑے کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ یہ قادیانی مسلم نشستوں پر منتخب ہو کر اور مسلم عوام کے نمائندے بن کر قیام پاکستان کے مطالبے کو سبوتاژ کر سکیں اور انگریز کی غلامی کو رحمت قرار دے کر برصغیر کی تقسیم کو ناکام بنادیں۔ علامہ اقبال نے ١٩٣٥ء سے جب شدومد سے قادیانیوں کے کافر اور غیر مسلم اور امت اسلامیہ سے اخراج کا جو مطالبہ کیا‘ اس کے پیچھے ان کی تحریک پاکستان کو ناکام بنانے کی سازش کو توڑنا تھا۔ چنانچہ قیام پاکستان کے بعد جب انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا تو یہ بھی اقبال کے ہی خواب کی تعبیر تھی۔ کیونکہ برصغیر کے تمام علماء متفقہ طور پر انہیں غیر مسلم اور کافر قرار دے چکے تھے۔ خود قادیانی بھی اپنی تحریروں میں مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ صرف وہ مسلمانوں میں نقب لگانے کے لیے چولے پر چولا بدلتے رہتے ہیں۔ کتنی ستم ظریفی ہے کہ وہ تو مسلمانوں کو کافر سمجھیں۔ مسلم قائدین اور عوام کے جنازوں میں شرکت نہ کریں۔ (چودھری ظفر اللہ نے وزیر خارجہ ہوتے ہوئے بھی قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی تھی) مگر چاہیں کہ انہیں مسلمانوں سے الگ نہ کیا جائے۔ ختم نبوت کی ان کی بھونڈی اور ناکارہ تاویلات جھوٹ اور فریب کاری کا پلندہ ہیں۔ اقبال کے بقول

اے کہ بعد از تو نبوت شد بہ ہر مفہوم شرک

نبی پاکؐ کے بعد نبوت کا خفی‘ جلی‘ بروزی‘ ظلی‘ مہدویت‘ مسیح موعودیت اور مجددیت کا دعویٰ کفر و زندقہ کے سوا کچھ معنی نہیں رکھتا جبکہ اس کا مدعی قادیانی کذاب جیسا جھوٹا‘ جنس پرست‘ انگریز کے تلوے چاٹنے والا‘ اخلاق باختہ انسان ہو۔ یہ امت مسلمہ میں نفاق کا فتنہ تھا جو ذلیل و رسوا ہوا۔

غلام قادیانی کی امت کاذبہ نے بلوچستان میں بھی اپنی مرکزیت قائم کرنے کی کوشش کی مگر کشمیر اور پنجاب کی طرح یہاں بھی وہ ذلیل و خوار ہوئی۔ ان کی پاکستان دشمنی یوں تو ان کے ہر اقدام سے واضح ہے تاہم ان کے چند بیانات ملاحظہ ہوں:

”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور ہم کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائیں“۔ (الفضل‘ ١٦ مئی ١٩٤٧ء‘ خطبہ مرزا محمود)

صفحہ ٢٤

”ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی ہے اور اب بھی کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک پاکستان کا بننا اصولاً غلط ہے“ ۔ (الفضل ٤‘ ١٣ اپریل ١٩٤٧ء)

”ممکن ہے عارضی طور پر کچھ افتراق (علیحدگی) ہو اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں (ہندو و مسلم) جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہو گی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے ۔ بہرحال ہم چاہتے ہیں اکھنڈ ہندوستان بنے“ ۔ (الفضل‘ ٧ مئی ١٩٤٧ء)

قادیانی خود مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں ۔ مرزا محمود لکھتا ہے : ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے‘ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا‘ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“ ۔ (”آئینہ صداقت“ ص ٣٥ ۔ قادیانیوں کی کتاب)

قادیانیت سے بیزاری کے بارے میں علامہ اقبال لکھتے ہیں : ”ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا جب ایک نئی نبوت ۔۔۔ بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت ۔۔۔ کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا ۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرتؐ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا“ ۔ (اقبال اور احمدیت‘ ص ٥٩‘ بی ۔ اے ڈار)

مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ بات واضح ہے کہ یہ گستاخانِ نبوت کافر اور پاکستان دشمن ہیں اور اکھنڈ بھارت کے منصوبے پر عمل کر رہے ہیں لہٰذا ان کا وجود پاکستان میں ناقابل برداشت ہے اور وہ پاکستان میں بیٹھ کر اور پاکستان سے باہر آئین پاکستان کو اس لیے ختم کرنے کے درپے ہیں کہ اس میں انہیں کافر اور غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اور یہ آئین پاکستان میں ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں رکھتا ۔ مرزا طاہر نے موجودہ عدلیہ‘ انتظامیہ اور صدر لغاری کے تنازعے میں قادیانیت کے اس مذموم مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی کہ کسی طرح یہ بحران شدید ہو‘ آئین معطل ہو جائے اور قادیانیوں کو کھل کھیلنے کا موقع مل جائے ۔ مگر خدا نے انہیں ننگا کر کے ان کے مقاصد ناکام بنا دیے ہیں ۔ مشہور قادیانی

صفحہ ٢٥

سائنس دان عبدالسلام نے بھی پاکستان دشمنی میں پاکستان کے ایٹمی پلانٹ کے راز حکومت امریکہ کو پہنچائے جس پر جنرل ضیاء نے کہا کہ ”اس کتیا کے بچے کو کبھی میرے سامنے نہ لانا۔ یہ امریکہ‘ برطانیہ اور یہودیوں کا گماشتہ ہے“ اور اس لیے اسے نوبل انعام دے دیا گیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہید اسلام صدر جنرل محمد ضیاء الحق امریکہ تشریف لے گئے اور انہوں نے کہا کہ پاکستان کوئی ایٹم بم نہیں بنا رہا۔ ہم تو پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں تو امریکیوں نے غصے میں آکر جنرل ضیاء کو ایک کمرے میں جانے کو کہا جہاں کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ کا ماڈل رکھا ہوا تھا۔ جب جنرل ضیاء اس کمرے میں داخل ہو رہے تھے تو دوسرے دروازے سے نکلتے ہوئے جنرل ضیاء نے ڈاکٹر عبدالسلام کو دیکھ لیا تھا۔

عالمی تحریک تحفظ نبوت کے ممتاز راہنما حضرت مولانا حافظ محمد یوسف لدھیانوی نے بھی ١٥ جون ٩٨ء کے روزنامہ جنگ لاہور میں ایک بیان میں کہا کہ صدر ایوب خان مرحوم کی بڑی خواہش تھی کہ پاکستان ایٹمی طاقت بن جائے۔ چنانچہ انہوں نے وفاقی وزیر قانون شیخ خورشید کے بھائی منیر احمد خان کی سربراہی میں ایٹمی کمیشن تشکیل دیا مگر ڈاکٹر عبدالسلام کے یہ شاگرد تھے اور حلقہ اثر میں تھے۔ چنانچہ ان دونوں کی وجہ سے اس سمت میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ یہ دونوں امریکہ اور برطانیہ کو پاکستان کی ان سرگرمیوں سے باخبر رکھتے رہے۔ ١٩٧١ء کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار پر آئے تو انہوں نے ایٹمی طاقت بننے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو اس منصوبے پر کام سونپا گیا۔ ان کے خلاف بھی ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر منیر احمد خان سازشیں کرتے رہے جنہیں جنرل ضیاء الحق نے ناکام بنایا۔ جب تک ڈاکٹر عبدالسلام زندہ رہا‘ پاکستان ایٹمی طاقت نہ بن سکا۔ اس مردود کے واصل جہنم ہونے کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر کی سربراہی میں پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔ یوں قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف یہ سازش بھی ناکام ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا یہ اعزاز ہے کہ انہوں نے پاکستان میں ایٹمی توانائی کا آغاز کیا اور انہوں نے ہی قادیانیوں کو سیاسی مصلحت کے تحت ہی سہی‘ اقلیت قرار دے کر اس فتنے کا گھیرا تنگ کر دیا۔

ہر قادیانی جہاں بھی بیٹھا ہے‘ وہ کافر اور غدار ہے۔ پاکستان اور اسلام کا دشمن ہے۔

صفحہ ٢٦

رسول پاکؐ گستاخ ہے لہٰذا انہیں تمام اہم اور کلیدی مناصب سے فوراً الگ کر دیا جائے۔ ان پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ ان کی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے اور اگر ممکن ہو تو انہیں آہستہ آہستہ پاکستان سے نکال دیا جائے۔ اس لیے کہ ہمارے ایمان اور پاکستان کی سلامتی کا یہ تقاضا ہے۔ پاکستان کے خلاف سازشوں میں عیسائیوں، ہندوؤں اور یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ ان کو پالنا اور ان سے صرف نظر خودکشی کا راستہ ہے۔ حکومت پاکستان کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ ان کے گرد گھیرا تنگ سے تنگ ہوتا چلا جائے۔ یہ ہمارے ایمان اور ملک کی سلامتی کا تقاضا ہے۔ ان سے ہر رعایت خود سے دشمنی کے مترادف ہے۔

ملک کے حساس اور مالیاتی اداروں میں جہاں قادیانی گھس کر سازشیں کر رہے ہیں، وہاں خوشی اس بات کی بھی ہے کہ وہاں قادیانیت کے خلاف بھی کئی مجاہد صف آرا ہیں۔ محمد طاہر رزاق ان ہی سرفروشان اسلام میں سے ایک ہیں۔ محمد متین خالد اور محمد سلیم ساقی بھی انہی میں شامل ہیں۔ میں اس بات پر ناز کر سکتا ہوں کہ مجھ جیسے حقیر اور بے مایہ شخص کو انہوں نے اعزاز بخشا کہ میں ان کی کتاب کا دیباچہ لکھوں۔ میں نے شیخ اعجاز احمد کی ”مظلوم اقبال“ اور قادیانی مشنری، شیخ عبد الماجد کی زہرناک تحریروں پر تنقید کی جس پر قادیانی میرے خلاف محاذ آرائی کر رہے ہیں۔ میں اس مہم بازی کا مکمل جواب اپنی زیر تصنیف کتاب ”قادیانی کذاب“ میں دوں گا۔ اس کے لکھنے میں بعض میری نجی مشکلات حارج ہیں مگر میں اپنے فرض سے غافل نہیں۔ عبد المجید ساجد خان صاحب بھی میری تحریک پر مسکت جواب دے چکے ہیں۔ انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ غلامان محمد ﷺ کسی چور اچکے کو تاج ختم نبوت چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کاش مسلمان فرقہ پرستیوں کے حصار سے نکل کر ایک دوسرے کے خلاف الجھنے کی بجائے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ان گستاخوں کو لگام ڈالیں اور آپس کی فرقہ بندیوں میں توانائی ضائع کرنے کی بجائے متحد ہو کر اسلام اور پاکستان کے ان غداروں کا محاصرہ کریں۔

ڈاکٹر وحید عشرت ڈپٹی ڈائریکٹر اقبال اکادمی، پاکستان

PDF 27

اللہ

کا

گستاخ

مرزا قادیانی جہنم مکانی کی اللہ کی بارگاہ میں کی گئی سنگین گستاخیوں کی چند جھلکیاں۔

صفحہ ٢٨

اللہ تعالیٰ جو ہم سب کا خالق ہے۔

جو ہم سب کا مالک ہے۔

جو ہم سب کا رازق ہے۔

جو ہم سب کا رب ہے۔

جس نے انسان کو اس دنیا میں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا۔

جو ماں سے زیادہ کریم اور باپ سے زیادہ شفیق ہے۔

جو انسانوں سے سمندروں کی گہرائیوں اور آسمان کی وسعتوں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔

جس کی طرف بندہ اگر چل کے جائے تو وہ بندے کی طرف بھاگ کے آتا ہے۔

جو ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں بچے کے لیے غذا کا اہتمام کرتا ہے۔

جو انسان کے دنیا میں آتے ہی ماں کی چھاتیوں سے دودھ کے چشمے جاری کر دیتا ہے۔

جس نے انسانوں کی مہمانداری کے لیے سبزے کی مخملی چادریں بچھائیں۔

جس نے دراز قامت اشجار کا ٹھنڈا سایہ مہیا کیا۔

جو آسمان سے بارش برساتا اور زمین سے غلہ اگاتا ہے۔

جس نے پھلوں سے لدے باغات اور مہکتے گلستان سجائے۔

جس نے چرخ نیلوفری پر مہ و نجوم کی محفلیں آراستہ کی ہیں۔

جس نے بزم ہستی میں قوس و قزح کے رنگ بکھیرے ہیں۔

جس کے حکم سے اس عروس کائنات میں تتلیاں رقصاں اور عنادل نغمہ سرا ہیں۔

جس نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کو دنیا میں مبعوث فرمایا۔

صفحہ ٢٩

جس نے اپنے محبوب خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیج کر انسانیت پر احسان عظیم کیا۔

جس نے قرآن مجید جیسی کتاب ہدایت نازل کر کے ہمیں ہدایت کی روشنی سے نوازا ہے۔

جس نے ہمیں امت محمدیہ میں پیدا کر کے ہمارے سروں پر خیر الامم کا تاج سجایا ہے۔

اس کے ہم پر اتنے احسانات کہ اگر ہمیں عمر نوح ملے اور زبان ہر لمحہ اس منعم حقیقی کا شکر ادا کرتی رہے تو اس کا شکر ادا نہیں ہو سکتا۔

اس کے ہم پر اتنے انعامات کہ انعامات کے بوجھ سے ہماری گردن نہیں اٹھ سکتی۔

اس کی ہم پر اتنی عنایات کہ اگر ہمارے جسم کے ہر رگ و ریشے کو زبان ملے تو اس عظیم محسن کی عنایات شمار نہیں ہو سکتیں۔

اس لیے۔۔۔۔ ساری حمد اس کے لیے۔۔۔۔ ساری ثناء اس کے لیے۔۔۔۔ ساری تعریفیں اس کے لیے۔۔۔۔ ساری توصیفیں اس کے لیے۔۔۔۔ ساری بڑائی اس کے لیے۔۔۔ ساری کبریائی اس کے لیے۔۔۔۔ ساری عظمتیں اس کے لیے۔۔۔۔ ساری رحمتیں اس کے لیے۔۔۔۔ ساری عبادتیں اس کے لیے۔۔۔۔ ساری ریاضتیں اس کے لیے۔۔۔۔ سارے رکوع اس کے لیے۔۔۔۔ سارے سجود اس کے لیے۔۔۔۔ لیکن فرنگی نے غلام ہندوستان میں اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس پر حملہ آور ہونے کے لیے ایک خوفناک منصوبہ تیار کیا اور اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قادیان کے ایک بدطینت مرزا غلام احمد قادیانی سے نبوت کا دعویٰ کرایا اور اس کے منہ میں انتہائی زہریلی زبان رکھی۔ اس دریدہ دہن نے اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کے بارے میں وہ ہذیان بکے کہ چٹانوں کے جگر پاش پاش ہو جائیں اور نمرود، شداد اور فرعون کے ماتھوں پر بھی شرم سے پسینہ آ جائے۔ فرنگی نے یہ بھیانک سازش اس لیے تیار کی کہ وہ غلام ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں سے اللہ کی عظمت و کبریائی نکالنا چاہتا تھا۔ وہ اسلامیان ہند کے ذہنوں سے اللہ کا تقدس نوچ لینا چاہتا تھا۔ وہ ملتِ اسلامیہ

صفحہ ٣٠

کے خیالوں سے اللہ کی محبت میں روشن چراغوں کو بجھا دینا چاہتا تھا۔ وہ اللہ اور مسلمانوں کے درمیان تعلق کی مضبوط رسی کو کاٹ دینا چاہتا تھا۔ مرزا قادیانی نے رب ذوالجلال کے بارے میں جو آوارہ زبان استعمال کی، جو ہرزہ سرائی کی، جو ہذیان بکے، جو بکواس کیے، جو مغلظات تھوکیں، جو خرافات کہیں، جو زہر اگلا، جو ارتدادی و زندیقی تیر چلائے، جس لچر پن کا مظاہرہ کیا، جس بے ہودگی کا کھیل کھیلا اور خداوند قدوس پر جو تہمتیں لگائیں، جو الزامات دھرے اور اللہ سے جو جھوٹ منسوب کیے، انہیں بیان کرنے کو قطعاً جی نہیں چاہتا۔ انہیں لکھنے سے طبیعت پر گرانی اور دل پر شدید بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ لیکن میں قلم کی زبان اور کاغذ کے لاؤڈ سپیکر سے ایک صدا لگانا چاہتا ہوں اور اس صدا کو ہر مسلمان کے کانوں سے گزار کر ذہنوں میں پیوست کرنا چاہتا ہوں تاکہ ہر مسلمان کو معلوم ہو جائے کہ قادیانی اس کے رب کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟ کیونکہ اگر روز جزا اللہ نے ہم سے پوچھ لیا:

مجھ سے جنت مانگنے والے!
مجھ سے آتش جہنم سے پناہ مانگنے والے!
میرے عرش کے زیر سایہ آنے کی درخواست کرنے والے!

جب قادیانیوں نے میری عزت و ناموس پر حملہ کیا تھا۔۔۔ اس وقت میرے لیے تو نے کیا کیا؟

آئیے! بوجھل دل اور غمناک آنکھوں کے ساتھ جگر سوز قادیانی عقائد پڑھتے ہیں۔۔۔۔ اور آخرت کے سوال کے جواب کے لیے قادیانیوں کے خلاف اپنے دلوں میں جہاد کی منصوبہ بندی کرتے ہیں!!!

کہ میں وہی ہوں“۔ (آئینہ کمالات اسلام، ص ٥٦٢، مندرجہ روحانی خزائن، ص ٥٦٢، ج ٥، مصنفہ مرزا قادیانی)

قادیانی)

صفحہ ٣١

(البشریٰ جلد دوم، ص٧٩، مصنفہ مرزا قادیانی)

(البشریٰ جلد دوم، ص٧٩، مصنفہ مرزا قادیانی)

منیر‘ ص ٥٥‘ مندرجہ روحانی خزائن‘ ص ٥٧‘ ج ١٢‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا“۔ (تجلیات الٰہیہ‘ ص ١‘

مندرجہ روحانی خزائن‘ ص ٣٩‘ ج ٢٠)

ہاتھ‘ بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں“۔ (توضیح المرام‘ ص ٧٥‘ مندرجہ

روحانی خزائن‘ ص ٩٠‘ ج ٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

٢٦ فروری ١٩٠٨ء)

جیسا ہے“۔ (اربعین ٤ حاشیہ ص ٢٣‘ مندرجہ روحانی خزائن‘ ص ٤٥٢‘ ج ١٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اللہ نزل من السماء۔ گویا خدا آسمانوں سے اتر آیا“۔ (حقیقۃ الوحی‘ ص ٩٥‘ مندرجہ روحانی خزائن‘ ص ٩٨-٩٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

سے ایسا ہے جیسا کہ میں (خدا) ہی ظاہر ہوگیا ہوں۔ (سرورق آخری ریویو‘ جلد ٥‘ شمارہ ٣‘ ١٥‘ مارچ ١٩٠٦ء کا الہام‘ تذکرہ ص ٦٠٤‘ طبع ٤)

صفحہ ٣٢

سے یہ کہہ کر خطاب کیا کہ اے میرے بیٹے سن"۔ (البشریٰ، جلد١، ص٤٩)

مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان، اپریل ١٩٠٢ء)

(انجام آتھم، ص٥٦، اربعین نمبر٣، ص٤٤، مصنفہ مرزا قادیانی)

نمبر٢، ص٣٥)

(البشریٰ، جلد دوم، ص١٠٢، ٢٦ دسمبر ١٩٠٥ء، مصنفہ مرزا قادیانی)

بمنزلہ میرے عرش کے ہے"۔ (انت منی بمنزله عرشی) (البشریٰ جلد دوم، ص٩٠، ص١٣٥، مصنفہ مرزا قادیانی)

مصنفہ مرزا قادیانی)

روحی) (البشریٰ، جلد دوم، ص١٣٧، مصنفہ مرزا قادیانی)

قربانی" میں لکھتا ہے۔

"حضرت مسیح موعود (مرزا) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر طاری ہوئی گویا کہ آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے"۔ (ص١٢)

کے رنگ میں حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی مہینہ کے بعد جو (مدت حمل) دس مہینہ سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا"۔

(کشتی نوح، ص٤٦-٤٧ مندرجہ روحانی خزائن، ص٥٠، جلد١٩، مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ ٣٣

پائے لیکن خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھائے گا جو متواتر ہوں گے۔ تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے“۔ (تتمہ حقیقت الوحی‘ ص ١٤٣‘ اربعین نمبر ٤‘ ص ١٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

مگر بولتا نہیں (یعنی وحی نہیں بھیجتا) پھر اس کے بعد یہ سوال ہو گا کہ بولتا کیوں نہیں کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہو گئی ہے“۔ (ضمیمہ براہین پنجم‘ ص ١٤٤‘ مندرجہ روحانی خزائن‘ ص ٣١٢‘ جلد ٢١‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

خزائن‘ ص ٢٢١‘ ج ١٨‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

کے کہ میرا نام پورا ہو“۔ (انجام آتھم‘ ص ٥٢‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اور حرکت اور سکون سب اس کا ہو گیا۔ اس حالت میں میری زبان پر جاری تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا‘ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے مطابق ترتیب اور تفریق کی اور میں دیکھتا ہوں کہ میں اس کی خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا وغیرہ“۔ (کتاب البریہ‘ ص ١٠٤‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ہے“۔ (ضمیمہ تریاق القلوب‘ ص ٤٣‘ نشان ٤٨‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ہے“۔ (حقیقت الوحی‘ ص ١٦‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اور آسمان تیرے ساتھ ہیں‘ جیسے میرے ساتھ ہیں۔ تو میرے پاس بمنزلہ توحید اور

صفحہ ٣٤

تفرید کے ہے"۔ (رسالہ انجام آتھم، ص٥٢، مصنفہ مرزا قادیانی)

ہے جہاں تو کھڑا ہوتا ہے"۔ (ضمیمہ انجام آتھم، ص١٧، مصنفہ مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی)

(دافع البلاء، ص٤، مصنفہ مرزا قادیانی)

وحی ہے"۔ (اربعین نمبر ٣، ص٤٤)

الوحی، ص٧٨، مصنفہ مرزا قادیانی)

موسیٰ اور مثل ابراہیم کہا اور احمد کے نام سے بار بار پکارا"۔ (ازالہ اوہام، ص٢٥٣، مصنفہ مرزا قادیانی)

اس بات پر قادر ہوں کہ ماروں اور زندہ نہ رکھوں"۔ (خطبہ الہامیہ، ص٢٣، مصنفہ مرزا قادیانی)

جا پس وہ ہو جاتی ہے"۔ (البشریٰ جلد دوم، ص٩٤، مصنفہ مرزا قادیانی)

قادیانی)

مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ ٣٥

مرزا قادیانی)

دین حق اور تہذیب و اخلاق کے ساتھ بھیجا"۔ (اربعین نمبر ٢‘ ص ٤٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ہے‘ اس لیے عذاب بھی اس قسم کے نازل ہو رہے ہیں جو انبیاء کے وقتوں میں ہوتے ہیں"۔ (اخبار بدر‘ مورخہ ٢٤ نومبر ١٩٠٤ء)

سید الانبیاء اور رحمتہ اللعالمین۔ پھر وہ خطاب الہام میں مجھے دیے گئے ہیں۔ (اربعین نمبر ٢‘ ص ٤)

وحی اللہ پاتے ہوئے تیس برس کی مدت ہو گئی اور ٢٣ برس تک سلسلہ وحی جاری رکھا گیا"۔ (اربعین نمبر ٣‘ ص ٣٠)

اور رحم کرنے والا ہے"۔ (حقیقت الوحی‘ ص ١٠٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشانات ظاہر کیے جو تین لاکھ تک پہنچے ہیں"۔ (تتمہ حقیقت الوحی‘ مطبوعہ میگزین قادیان‘ ص ٦٨)

شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کیے سو وہ میں ہوں"۔ (براہین احمدیہ‘ حصہ پنجم‘ ص ٩٠‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

٤‘ ص ٢٥)

صفحہ ٣٦

رکھتا ہوں“۔ (حقیقت الوحی، ص٢١١، مصنفہ مرزا قادیانی)

اللہ کچہری میں:

”اور پھر ایک بار دیکھا کہ کچہری میں گیا ہوں تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر عدالت کی کرسی پر بیٹھا ہے اور ایک سر رشتہ دار کے ہاتھ میں ایک مثل ہے جو وہ پیش کر رہا ہے۔ حاکم نے مثل دیکھ کر کہا کہ مرزا حاضر ہے۔ تو میں نے غور سے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک خالی کرسی پڑی ہے۔ مجھے اس پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر میں بیدار ہو گیا“۔ (تذکرہ، ص١٢٩)

مرزا قادیانی کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ:

”اور فرمایا کہ جو شخص تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا، اس نے تیرے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا“۔ (تذکرہ، ص١٦٨)

اللہ کے ہاتھ مرزا کے گلے میں

میں نے ایک دفعہ کشف میں اللہ تعالیٰ کو تمثیل کے طور پر دیکھا۔ میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر فرمایا ” جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو“۔ (تذکرہ،

ص٤٧١)

اللہ کا انداز گفتگو:

”حضور نے فرمایا مجھے خدا اس طرح مخاطب کرتا ہے اور مجھ سے اس طرح باتیں کرتا ہے کہ اگر میں ان میں سے کچھ تھوڑا سا بھی ظاہر کر دوں تو یہ جتنے معتقد نظر آتے ہیں سب پھر جاویں“۔ (سیرت المہدی، حصہ اول، ص٧٢، مصنفہ مرزا بشیر

الدین ابن مرزا قادیانی)

خدا کی انگریزی شان:

ایک دفعہ کی حالت یاد آئی ہے کہ انگریزی میں یہ الہام ہوا ”آئی لو یو“۔ یعنی

صفحہ ٣٧

میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا "آئی ایم ود یو" یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں۔ پھر الہام ہوا "آئی شل ہیلپ یو" یعنی میں تمہاری مدد کروں گا۔ (انگریزی محاورہ کی رو سے اگر آئی کے ساتھ شل کی جگہ ول ہوتا تو الہام اور بھی قوی ہو جاتا۔ للمولف) پھر الہام ہوا "آئی کین وہاٹ آئی ول ڈو"۔ یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ پھر اس کے بعد بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا "وی کین وہاٹ وی ول ڈو" یعنی ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے"۔

(براہین احمدیہ، ص ٤٨٠، مصنفہ مرزا قادیانی)

خدا کے دستخط

١٠/ جنوری ١٩٠٦ء ایک رویا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو آئے ہیں اور ایک کاغذ پیش کیا کہ اس پر دستخط کر دو۔ میں نے کہا، میں نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا پبلک نے کر دیے ہیں۔ میں نے کہا میں پبلک نہیں یا پبلک سے باہر ہوں۔ ایک اور بات بھی کہنے کو تھا کہ کیا خدا نے اس پر دستخط کر دیے ہیں مگر یہ بات نہیں کی تھی کہ بیداری ہو گئی"۔ (ارشاد مرزا قادیانی، مندرجہ مکاشفات، ص ٤٨، مؤلفہ بابو منظور الہی قادیانی لاہوری)

اللہ کی روشنائی کے دھبے

ایک میرے مخلص عبداللہ نام پٹواری غوث گڑھ علاقہ ریاست پٹیالہ کے دیکھتے ہوئے اور ان کی نظر کے سامنے یہ نشان الہی ظاہر ہوا کہ اول مجھ کو کشفی طور پر دکھلایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضا و قدر کے اہل دنیا کی نیکی بدی کے متعلق اور نیز اپنے لیے اور اپنے دوستوں کے لیے لکھے ہیں اور پھر تمثیل کے طور پر میں نے خدائے تعالیٰ کو دیکھا اور وہ کاغذ جناب باری کے آگے رکھ دیا کہ وہ اس پر دستخط کر دیں۔ مطلب یہ تھا کہ یہ سب باتیں جن کے ہونے کے لیے میں نے ارادہ کیا ہے ہو جائیں۔ سو خدائے تعالیٰ نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کر دیے اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑا اور معاً جھاڑنے کے ساتھ ہی اسی سرخی کے قطرے

صفحہ ٣٨

میرے کپڑوں اور عبداللہ کے کپڑوں پر پڑے اور چونکہ کشفی حالت میں انسان بیداری سے حصہ رکھتا ہے اس لیے مجھے جبکہ ان قطروں سے جو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے گرے اطلاع ہوئی ساتھ ہی میں نے بہ چشم خود ان قطروں کو بھی دیکھا اور میں رقت دل کے ساتھ اس قصے کو میاں عبداللہ کے پاس بیان کر رہا تھا کہ اتنے میں اس نے بھی وہ تر بہ تر قطرے کپڑوں پر پڑے ہوئے دیکھ لیے اور کوئی چیز ایسی ہمارے پاس موجود نہ تھی جس سے اس سرخی کے گرنے کا کوئی احتمال ہوتا اور وہ وہی سرخی تھی جو خدا تعالیٰ نے اپنے قلم سے جھاڑی تھی۔ اب تک بعض کپڑے میاں عبداللہ کے پاس موجود ہیں جن پر وہ بہت سی سرخی پڑی تھی۔ (تریاق القلوب، ص ٤٣، حقیقت الوحی، ص ٢٥٥، باختلاف الفاظ، مصنفہ مرزا قادیانی)

اے اللہ! یہ مرزا قادیانی!۔۔۔۔۔۔ یہ عہد حاضر کا فرعون۔۔۔۔ یہ زمانہ رواں کا نمرود۔۔۔۔ یہ مرتد عصر۔۔۔۔ یہ زندیق زماں۔۔۔۔ یہ منہ پھٹا گستاخ۔۔۔۔ اے رب ذوالجلال! یہ تیری ذات کا گستاخ۔۔۔۔ یہ تیری صفات کا گستاخ۔۔۔۔ یہ تیرے نبیؐ کا گستاخ۔۔۔۔ یہ تیرے سارے نبیوں کا گستاخ۔۔۔۔ یہ تیرے قرآن کا گستاخ۔۔۔۔ یہ تیرے نبیؐ کی احادیث کا گستاخ۔۔۔۔ یہ تیرے نبیؐ کے صحابہؓ کا گستاخ۔۔۔۔ یہ تیرے نبیؐ کے شہر کا گستاخ۔۔۔۔ یہ تیرے پیارے نبیؐ کی پیاری امت کا گستاخ۔۔۔۔ یہ تیرے گھر، بیت اللہ کا گستاخ۔۔۔۔ یہ تیرے فرشتوں کا گستاخ۔۔۔۔

خداوند قدوس! اس مردود کے فتنے نے تیرے دین کی روح کو گھائل کر دیا ہے۔۔۔۔ امت محمدیہؐ کے جسم کو مجروح کر دیا ہے۔۔۔۔ یہ اسلامی عقائد کے رفیع الشان قصر کو تاخت و تاراج کر رہے ہیں۔۔۔۔ مسلمانوں کے ایمانوں پر ڈاکہ زنی کر کے انہیں مرتد بنا رہے ہیں۔۔۔۔

اے دعاؤں کے قبول کرنے والے رب! اس فتنہ کی اتنی رسی دراز کیوں؟۔۔۔۔ اس فتنہ کو اتنی ڈھیل کیوں؟۔۔۔۔ گستاخوں کو اتنی لمبی مہلت کیوں؟۔۔۔۔ مولا! اب اس فتنے کی شہ رگ کٹ دے۔۔۔۔ جھوٹی نبوت کے ڈرامے کے کرداروں کو ان کے ہولناک انجام پہ پہنچا دے۔۔۔۔ اب ان کی بساط پلٹ دے۔۔۔ اب ان کے قدموں سے زمین سمیٹ لے۔۔۔۔ زمین کا سینہ ان مردودوں کا بوجھ اٹھا

صفحہ ٣٩

اٹھا کے تھک چکا ہے۔۔۔۔ اب ان کے وجودوں کو زمین کے پیٹ کے حوالے کر دے۔۔۔۔ جو انتقام کی آگ میں تڑپ تڑپ کر ان کا انتظار کر رہا ہے۔

مرزائیوں کا نام ذرا دیر میں مٹا
حق کے جلال سے یہی ایک ڈھیل ہو گئی
PDF 40

کیا ھم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کے

اُمّتی ھیں؟

صفحہ ٤١

ایک نام! بہت ہی عظیم نام بہت ہی محترم نام بہت ہی مبارک نام جسے بولنے سے پہلے لب ایک دوسرے کا بوسہ لیتے ہیں۔ جسے ادا کرتے ہی دہن سے درود شریف کے پھول برستے ہیں۔ جسے دیکھتے ہی آنکھوں میں ستارے چمکنے لگتے ہیں۔ جسے پڑھتے ہی وادی دل میں سکون کی شبنم کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔ جسے سنتے ہی جسم و روح میں کیف و نشاط اتر جاتا ہے۔ جس کا ورد کرتے ہی رحمتوں کے قافلے سوئے دل اترنے لگتے ہیں۔ وہ نام نامی اسم گرامی ”محمد“ ﷺ ہے۔

مسلمانوں نے اس نام سے پروانہ وار محبت کی ہے۔ یہ نام ان کی آنکھوں کا نور اور دلوں کا سرور ہے۔ یہ نام ان کی حیات کی علامت ہے۔ یہ نام ان کی محبتوں کا محور ہے۔ یہ نام ان کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔ یہ نام ان کے ایمان کی حلاوت ہے۔ یہ نام ان کی روح کی ٹھنڈک ہے اور یہ نام ان کی زندگی کا اثاثہ ہے۔ تاریخ کے لمحات گواہ ہیں کہ جب بھی اس نام پر آواز دی گئی۔۔۔ جب بھی اس نام پر پکار پڑی تو مسلمانوں نے اس نام کی حرمت کے لیے اپنی جانیں نچھاور کردیں۔ اپنے بچے کٹوا دیے۔ اپنا مال و اسباب لٹا دیا۔ اپنے گھروں کو خیر باد کہہ دیا۔ اپنے وطن کو داغ مفارقت دے دیا‘ عزیز و اقارب کو چھوڑ دیا لیکن اس نام کی حرمت پر آنچ نہ آنے دی۔

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اس میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محمد کی محبت آن ملت‘ شان ملت ہے
محمد کی محبت روح ملت‘ جان ملت ہے
صفحہ ٤٢
محمد کی محبت خون کے رشتوں سے بالا ہے
یہ رشتہ دنیاوی قانون کے رشتوں سے بالا ہے
محمد ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا
پدر‘ مادر‘ برادر‘ مال‘ جان‘ اولاد سے پیارا

غلام ہندوستان میں ظالم فرنگی نے مسلمانوں سے عشق رسول کی دولت چھیننے کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور مہلک سازش تیار کی‘ جس کا تصور کرتے ہیں تو جسم پر کپکپاہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ فرنگی کو معلوم تھا کہ جب تک ہم مسلمانوں کے دل سے محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں نکالیں گے ہم انہیں غلام نہیں بنا سکیں گے کیونکہ جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا غلام ہوتا ہے وہ کائنات میں کسی اور کی غلامی کبھی قبول نہیں کرتا۔

کفر کے بڑے دماغ مل بیٹھے اور ایک لمبی سوچ کے بعد یہ ہولناک فیصلہ ہوا کہ ایک جعلی محمد بنایا جائے (نعوذ باللہ) اور وہ شخص دنیا سے کہے کہ میں محمدؐ ہوں۔ وہ کہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں ہوئیں۔ پہلی دفعہ مکہ مکرمہ میں اور دوسری دفعہ قادیان میں ۔ وہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو جب فسق و فجور اور کفر و معصیت سے بھرا پایا تو اللہ کو دنیا میں نبی بھیجنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو اپنی کتاب میں ختم نبوت کا اعلان کر چکا تھا۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ اگر نئے نبی کو بھیجتا تو ختم نبوت کے عقیدہ پر زد پڑتی۔ لہٰذا اللہ پاک نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں دوبارہ اشاعت اسلام کے لیے بھیج دیا اور وہ کہے کہ میں ہی وہ محمدؐ ہوں جو تیرہ سو برس قبل مکہ مکرمہ میں تشریف لائے تھے۔

قادیان کے ایک ذلیل و رذیل‘ بد فطرت و بد طینت‘ دین فروش و ایمان فروش اور غدار دین مرزا قادیانی ملعون کو ”محمد“ (نعوذ باللہ) بنا دیا گیا اس نے خود کو محمدؐ کہہ کر متعارف کرانا شروع کر دیا۔ فرنگی نے سوچا تھا کہ یہ جعلی محمد (نعوذ باللہ) مسلمانوں کی عقیدتوں اور محبتوں کو اپنی جانب کھینچ لے گا اور مسلمان مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے محمدؐ کو بھول کر قادیان کے محمد کے گرد اکٹھے ہو جائیں گے (نعوذ باللہ) اور اس طرح دین محمدیؐ ختم ہو جائے گا۔ (نعوذ باللہ)

صفحہ ٤٣

مرزا قادیانی نے روایتوں کے فلسفہ کے تحت خود کو ”محمد“ ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ چند حوالے پیش خدمت ہیں:

دعوے اور نئے نام کے بلکہ اس نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پا کر اور اسی میں ہو کر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ہوں۔“

(”نزول المسیح“ ص ٢، ”روحانی خزائن“ ص ٣٨٠-٣٨١، ج ١٨، مصنفہ مرزا غلام

قادیانی)

تاوقتیکہ وہ مسیح موعود کی صداقت پر ایمان نہ لائیں جو فی الحقیقت وہی ختم المرسلین تھا کہ خدائی وعدے کے مطابق دوبارہ آخرین میں مبعوث ہوا۔

وہ وہی فخر اولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمتہ للعالمین بن کر آیا تھا اور اب اپنی تکمیل تبلیغ کے ذریعہ ثابت کر گیا کہ واقعی اس کی دعوت جمیع ممالک وملل عالم کے لیے تھی۔ (اخبار ”الفضل“ قادیان، ج ٣، نمبر ٤١، مورخہ ٢٦ ستمبر ١٩١٥ء)

نے پھر محمدؐ کو اتارا تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔ (”کلمتہ الفصل“ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ ص ١٠٥، نمبر ٣، جلد ١٤)

مبعوث کرے گا جیسا کہ آیہ و آخرین منھم سے ظاہر ہے کہ پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔

(”کلمتہ الفصل“ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، مندرجہ ”رسالہ ریویو آف ریلیجنز“

ص ١٥٨، نمبر ٣ جلد ١٤)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
صفحہ ٤٤
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

از قاضی محمد ظہور الدین اکمل قادیانی‘ منقول از اخبار ”پیغام صلح“ مورخہ ١٤ مارچ ١٩١٦ء‘ اخبار ”بدر“ قادیان‘ نمبر ٤٣‘ ج ٢‘ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء‘ ص ٤

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے ہیں۔

(مرزا غلام قادیانی‘ مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان‘ ٣٠ نومبر ١٩٠١ء منقول از جماعت

مبایعین کے عقائد صحیحہ رسالہ منجانب قادیانی جماعت‘ قادیان‘ ص ١٧)

ہونا چاہیے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے۔ اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس کا بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقوی اور اکمل اور اشد ہے۔ آپ کا انکار کفر نہ ہو“ (”کلمۃ الفصل“ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ ص ١٤٦۔١٤٧‘ نمبر ٣‘ جلد ١٤)

احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا گویا آنحضرت کے بعثت ثانی اور آپ کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا ہے جو منکر کو دائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافر بنا دینے والا ہے“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ٣‘ نمبر ٣‘ مورخہ ٢٩ جون ١٩١٥ء)

نے بھی مسیح موعود کی تعلیم کے خلاف قدم مارا کیونکہ مسیح موعود صاف فرماتا ہے کہ من فرق بینی و بین المصطفی فما عرفنی و ما رای (دیکھو خطبہ الہامیہ‘ ص ١٧١‘ ”روحانی خزائن“ ص ٢٥٩‘ ج ١٦) اور وہ جس نے مسیح موعود کی بعثت کو نبی کریم کی

صفحہ ٤٥

بعثت ثانی نہ جانا اس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا کیونکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ محمد رسول اللہ ایک دفعہ پھر دنیا میں آئے گا۔“

(”کلمتہ الفصل“ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“

قادیان‘ ص ١٠٥‘ نمبر ٣‘ جلد ١٤)

ہیں اور آپ میں اور آنحضرت صلعم میں ذرا بھر بھی فرق نہیں سوائے اس کے کہ مسیح موعود شاگرد اور آنحضرت صلعم استاد ہیں لیکن یہ فرق نام‘ کام اور مقام کے اعتبار سے نہیں بلکہ ذریعہ یا حصول نبوت کے اعتبار سے ہے“۔ (کلمتہ الفصل‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد

قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ قادیان‘ ص ١١٥‘ نمبر ٣‘ جلد ١٤)

میں ایک جماعت ہے اور جیسا کہ آنحضرت صلعم کا فیض صحابہ پر جاری ہوا‘ ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے مسیح موعود کی جماعت پر بھی آنحضرت صلعم کا فیض ہوا۔ پس یہ امر روز روشن کی طرح ظاہر ہو رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی جماعت کا عین صحابہ کی ایک جماعت ہونا اور آپ کی جماعت پر عین بعین وہی آنحضرت صلعم کا فیض جاری ہونا جو صحابہ پر ہوا تھا‘ اس امر کی پختہ دلیل ہے کہ مسیح موعود در حقیقت محمدؐ اور عین محمدؐ ہیں اور آپ میں اور آنحضرت صلعم میں باعتبار نام‘ کام اور مقام کے کوئی دوئی یا مغائرت نہیں“۔ (اخبار

”الفضل“ قادیان‘ ج ٣‘ نمبر ٧٦‘ مورخہ یکم جنوری ١٩١٦ء)

ہدایت کے لیے‘ دوسرا بعثت تکمیل اشاعت ہدایت کے لیے۔“

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ١٨‘ نمبر ٨٦۔٨٧‘ ص ١٠‘ مورخہ ٢٤ جنوری ١٩٣١ء)

صفحہ ٤٦

المصطفی ماعرفنی و مارائی یعنی جس نے میرے اور حضرت محمد مصطفیٰ کے درمیان فرق کیا اور دونوں کو الگ الگ سمجھا اس نے نہ مجھے شناخت کیا اور پہچانا اور نہ ہی دیکھا اور سمجھا پس حضور کے اس ارشاد کے مطابق حضور کا دیکھنا ان ہی معنوں میں ہے کہ حضور (مرزا صاحب) کو محمد مصطفیٰ ہی یقین کیا جائے"۔ (اخبار "الفضل" قادیان، جلد ٢، نمبر ١٥٦، ص ٧، مورخہ ١٧ جون ١٩١٥ء)

صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک کہ جس پر وہ بدرالدجیٰ بن کے آیا
محمد پئے چارہ سازی امت ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعثت ثانی کی ہم پر کہ جب مصطفیٰ مرزا بن کے آیا

(اخبار "الفضل" قادیان، ج ١٣، نمبر ١١٤، مورخہ ٢٨ مئی ١٩٢٨ء)

اور جانیں قربان کر دیتے تو بھی صحابہ کرام میں شامل نہ ہو سکتے۔ یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ غوث، قطب، ولی جتنے بزرگ امت محمدیہ میں گزرے ہیں، ان کا ایمان صحابی کے ایمان کے برابر نہیں ہو سکتا..... اللہ نے تمہیں محمد رسول اللہ کا چہرہ مبارک دکھا کر اس کی صحبت سے مستفید کر کے صحابہ کرام کے گروہ میں شامل کر دیا"۔ (تقریر سرور شاہ قادیانی، مندرجہ اخبار "الفضل" قادیان، مورخہ ٢٨ دسمبر ١٩١٤ء)

دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی" ("کلمتہ الفصل" مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، مندرجہ رسالہ 'ریویو آف ریلیجنز' قادیان، ص ١٥٨، نمبر ٤، جلد ١٤)

"تحفہ گولڑویہ" اور "خطبہ الہامیہ" میں بیان فرمایا ہے کہ سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی

صفحہ ٤٧

اللہ علیہ وسلم کے دو ظہور اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرر تھے۔ ظہور اول اسم محمد اور ظہور دوم اسم احمد کے ماتحت۔ ظہور اول جو اسم محمد کے ماتحت تھا، وہ آج سے قریباً چودہ سو سال قبل مکہ معظمہ میں ہوا...... ظہور ثانی جو اسم احمد کے ماتحت، تیرہویں صدی ہجری میں حضرت احمد قادیانی کی صورت میں ہوا“۔ (اخبار ”الفضل“ جلد ٢٨، نمبر ١١٥، ٢١ مئی ١٩٢٠ء)

قرار دینا لیکن ان کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیات اللہ سے استہزاء ہے“۔ (”الفضل“ قادیاں، جلد ٣، نمبر ١٠، مورخہ ١٥ جولائی ١٩١٥ء)

وحی اللہ ہے ھو الذی ارسل رسوله بالھدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله دیکھو ص ٤٩٨ براہین احمدیہ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا پھر.... اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول الله والذین معه اشداء علی الکفار ورحماء بینھم اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول اللہ بھی.... اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا ہے“۔

(”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ٢، ”روحانی خزائن“ ص ٢٠٧، ج ١٨، اشتہار مرزا

قادیانی، مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد دہم، ص ١٤، ”مجموعہ اشتہارات“ ص ٤٣١،

٤٣٢، ج ٣)

ہے ۔۔۔۔ شائع کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔ اور اس ظلم عظیم کی تشہیر کی جا رہی ہے۔

آج وقت پوچھتا ہے؟

صفحہ ٤٨

امتی ہیں؟

رسولؐ اللہ کے امتی ہیں؟

ہیں؟

وغیرہم رسولؐ اللہ کے امتی ہیں؟

رسولؐ اللہ کے امتی ہیں؟

آیئے اپنے دل سے پوچھتے ہیں۔۔۔۔ اپنے دماغ سے پوچھتے ہیں۔۔۔۔ گریبان میں منہ ڈالتے ہیں۔۔۔۔ اور اپنے جسم میں ایمان تلاش کرتے ہیں۔۔۔۔ کہ ہمارے جسموں میں ایمان ہے بھی کہ نہیں؟

کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا
کہ جو میرے غم میں گھل گیا اسے میں نے دل سے بھلا دیا
جو جمال روئے حیات تھا جو دلیل راہ نجات تھا
اسی راہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا
تیرے حسن خلق کی اک رمق‘ مری زندگی میں نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا
ترے ثور و بدر کے باب کے میں ورق الٹ کے گزر گیا
مجھے صرف تیری حکایتوں کی روایتوں نے مزا دیا
کبھی اے عنایت کم نظر ترے دل میں یہ بھی کسک ہوئی؟
جو تبسم رخ زیست تھا اسے تیرے غم نے رلا دیا
PDF 49

مرزا قادیانی

کو

نبی کیوں بنایا گیا؟

صفحہ ٥٠

انگریز ہندوستان پر مکمل قابض ہو چکا تھا۔ اس نے مسلمانوں کی فوجی اور سیاسی قوت کو جلا کر راکھ بنا دیا تھا۔ لیکن اس کے دماغ میں ابھی تک خوف کی آندھیاں چل رہی تھیں۔ اس کا دل جہادی للکار کے زلزلوں سے کانپ رہا تھا۔ اسے راکھ سے چنگاریاں‘ چنگاریوں سے آگ اور آگ سے اٹھتے ہوئے منہ زور شعلے اپنی جانب لپکتے نظر آرہے تھے۔

وہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے خائف تھا۔ وہ ابھی تک صلاح الدین ایوبیؒ کی یلغار کو نہیں بھولا تھا۔ اسے ابھی تک نور الدین زنگیؒ کی تلوار کی کاٹ یاد تھی۔ وہ ابھی تک طارق بن زیادؒ کے کشتیاں جلانے کے منظر سے خوفزدہ تھا۔ اس کے کانوں میں ابھی تک محمد بن قاسمؒ کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ وہ ابھی تک سلطان محمود غزنویؒ کی تکبیروں سے کپکپا رہا تھا۔ وہ ابھی تک سلطان شہاب الدین غوریؒ کی جرات و شجاعت سے خائف تھا اور وہ ابھی تک احمد شاہ ابدالیؒ کی جنگی حکمتوں کے سامنے سرنگوں تھا۔

اس نے اسلامی تاریخ سے یہ اخذ کرلیا تھا کہ مسلمانوں کی عزت جہاد سے ہے اور مسلمانوں کی ذلت عدم جہاد سے ہے۔ پھر ان کے شہ دماغوں نے فیصلہ دیا کہ مسلمانوں سے جذبہ جہاد چھین لیا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے ایک ”کرائے کے نبی“ (مرزا قادیانی) کی خدمات مستعار لیں اور اس نے اعلان کیا کہ میں بطور نبی یہ کہتا ہوں کہ اب اسلامی شریعت میں جہاد ختم ہوچکا ہے۔ اب جو شخص جہاد کرے گا، وہ اللہ اور اس کے رسول کا باغی ہوگا۔ فرنگی منصوبہ سازوں نے مرزا قادیانی سے کہا کہ تجھے ”نبی“ اس لیے بنایا گیا ہے کہ تو ۔۔۔۔۔۔!!!

صفحہ ٥١

جہاد کے بارے میں بطور نمونہ قادیانیوں کے چند حوالے پیش خدمت ہیں۔ انہیں پڑھئے اور سوچئے کہ عالم اسلام کے خلاف کس قدر بھیانک سازش ہوئی ہے۔

”اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے! دین کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے‘ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد“

(ضمیمہ ”تحفہ گولڑویہ“ ص ٣٩‘ مصنف مرزا قادیانی)

اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے‘ وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔“ (”خطبہ الہامیہ“ مترجم‘ ص ٢٨-٢٩‘ مصنف مرزا قادیانی)

ہے۔ یہ سلطنت مسلمانوں کے لیے برکت کا حکم رکھتی ہے۔ خداوند رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لیے باران رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا قطعی حرام ہے۔“ (”شہادت القرآن“ ضمیمہ‘ ص ١٢-١١‘ مصنف مرزا قادیانی)

نہیں‘ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے‘ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض ہے اور واجب ہے‘ اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک بدکار اور حرامی آدمی کا کام ہے۔“ (مرزا قادیانی کی کتاب ”شہادت القرآن“ کا

صفحہ ٥٢

ضمیمہ بعنوان ”گورنمنٹ کی توجہ کے لائق“ ص ٣٠، منقول از اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ٢٧، ص ٢٠٩، مورخہ ١٢/ ستمبر ١٩٣٩ء)

خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے“ (”از ریویو آف ریلیجنز“ ص ٥٣٨-٥٣٧)

اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔“ (رسالہ گورنمنٹ ”انگریز اور جہاد“ ص ١٤، مصنف مرزا قادیانی)

ص ١٧، مصنف مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی)

عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعی حرام ہے۔ کیونکہ مسیح آچکا، خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ اس کو بننا پڑا ہے۔“ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، ضمیمہ، ص ٧، مصنف مرزا قادیانی)

جہاد کی مخالفت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔ اسی وجہ سے میری عربی کتابیں عرب کے ملک میں بھی شہرت پا گئی ہیں۔“ (تحریر مرزا قادیانی، مورخہ ١٨/ نومبر ١٩٠١ء مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد ص ٢٦)

اس کے علاوہ روم کے پایہ تخت، قسطنطنیہ، بلاد شام، مصر اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا، ان کی اشاعت کی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ مجھے اس خدمت پر فخر ہے، کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی کوئی نظیر کوئی مسلمان نہیں دکھلا

صفحہ ٥٣

سکتا۔" (”تبلیغ رسالت“ جلد ہفتم، مصنف مرزا قادیانی)

کیونکہ مجھے مسیح و مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“ (”تبلیغ رسالت“ جلد ہفتم‘ ص ١٧‘ مصنف مرزا قادیانی)

مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔“ (”تبلیغ رسالت“ جلد سوم‘ ص ١٩٦‘ مصنف مرزا قادیانی)

نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں‘ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔ (”تریاق القلوب“ ص ١٥‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٥٦‘ ١٥٥‘ ج ١٥‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایسی جماعت تیار ہوتی جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔ (عریضہ بحالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی منجانب مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت‘ جلد ششم ص ٦٥‘ مجموعہ اشتہارات‘ ص ٣٦٧‘ ٣٦٦‘ ج ٢)

خیالات کے روکنے کے لیے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام

صفحہ ٥٤

لیا گیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے؟ (کوئی) نہیں۔ (کتاب البریہ اشتہار‘ مورخہ ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء‘ ص٧‘ روحانی خزائن‘ ص٨‘ ج١٣‘ مجموعہ اشتہارات‘ ص٤٦٤‘ ج٢‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب)

اے مرزا قادیانی ! تو ساری زندگی جہاد کو حرام حرام کہتا رہا اور یہی شیطانی ورد کرتا کرتا تو ہاویہ میں جا پہنچا۔ ۔۔۔تو نے سوچا تھا کہ تو ملت اسلامیہ کے شاہینوں کو کرگسوں میں تبدیل کر دے گا۔ ۔۔۔جذبہ جہاد کو حب دنیا میں بدل دے گا۔ ۔۔۔شوق شہادت کو شوق سیم و زر میں منتقل کر دے گا۔ ۔۔۔جنگجو قوم کو جنگ فرار قوم میں بدل دے گا۔ ۔۔۔اللہ کے آگے جھکنے والوں کو فرنگی کے سامنے جھکادے گا۔ ۔۔۔لیکن۔۔۔۔

مرزا قادیانی۔۔۔۔ دیکھ۔۔۔۔ ملت اسلامیہ نے اسی جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر اور شہادتوں کے جام پی کر تیرے آقا انگریز ملعون کی حکومت کا ہندوستان سے بستر گول کر دیا اور اسے دھکیل کر برطانیہ پہنچا دیا۔ ۔۔۔اور پھر اسی سر زمین پر ایک آزاد اسلامی ملک ”پاکستان“ کی بنیاد رکھی۔ پھر پاکستان میں ایک جہادی تحریک چلا کر تیرے شیطانی چیلوں کو پارلیمنٹ کے ذریعے کافر قرار دلایا۔۔۔۔ اور پھر ایک اور جہادی یلغار کر کے تیرے پوتے اور نام نہاد خلیفہ مرزا طاہر کو پاکستان سے بھگا کر تیرے آقا کے ہاں برطانیہ پہنچایا اور اب اس کا تعاقب کرتے ہوئے برطانیہ پہنچ چکے ہیں۔ ۔۔۔برطانیہ کے شہروں میں ختم نبوت کے دفاتر کھل چکے ہیں۔۔۔ ختم نبوت کانفرنسیں ہو رہی ہیں اور برطانیہ کی فضاؤں میں ختم نبوت زندہ باد کے نعرے گونج رہے ہیں تاکہ انگریز بھی سن لے کہ اس کی جھوٹی نبوت کے تار و پود بکھر چکے ہیں۔

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمدؐ سے اجالا کر دے

مرزا قادیانی ! دیکھ۔۔۔۔ جن مسلمانوں سے تو نے جذبہ جہاد چھیننے کی کوشش کی تھی۔۔۔ انہی مسلمانوں نے جذبہ جہاد سے لیس ہو کر دنیا کی دوسری سپر پاور روس کے پرخچے اڑا دیئے اور آج بھی چیچنیا کا مسلمان۔۔۔۔ کشمیر کا مسلمان۔۔۔۔ فلسطین کا مسلمان۔۔۔ بوسنیا کا مسلمان۔۔۔۔ بلغاریہ کا مسلمان اور دیگر کئی ملکوں کے مسلمان جذبہ جہاد سے لیس ، کفار سے

صفحہ ٥٥

برسر پیکار ہیں۔۔۔۔۔ اور عنقریب جہاد کی برکت سے وہ وقت آنے والا ہے جب پوری دنیا پر مسلمانوں کی حکومت ہوگی۔۔۔۔ اور پورے عالم پر اسلام کا پرچم لہرائے گا۔ (انشاء اللہ)

وہ سنگ گراں جو حائل ہیں‘ رستے سے ہٹا کر دم لیں گے
ہم راہ وفا کے رہرو ہیں منزل ہی پہ جا کر دم لیں گے
یہ بات عیاں ہے دنیا پر ہم پھول بھی ہیں تلوار بھی ہیں
یا بزم جہاں مہکائیں گے یا خوں میں نہا کر دم لیں گے
ہم ایک خدا کے قائل ہیں پندار کا ہر بت توڑیں گے
ہم حق کا نشاں ہیں دنیا میں باطل کو مٹا کر دم لیں گے
جو سینہ دشمن چاک کرے باطل کو مٹا کر خاک کرے
یہ روز کا قصہ پاک کرے وہ ضرب لگا کر دم لیں گے
یہ فتنہ و شر کے پروردہ تخریب کے سامان لاکھ کریں
ہم بزم سجانے آئے ہیں ہم بزم سجا کر دم لیں گے
PDF 56

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ

لَا نَبِیَّ

بَعْدِیْ

ختم نبوت

کے پاسبان

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

ننکانہ صاحب

ضلع شیخوپورہ

☎ 2329

صفحہ ٥٧

اک مجاہدہ ختم نبوت کا ایثار

چودھری افضل حق مرحوم و مغفور لاہور میں بیٹھ کر قادیان کی ڈائری سے حالات کا مطالعہ کر رہے تھے۔ مولانا عنایت اللہ انہیں تبلیغی میدان کی کیفیت سے آگاہ کرتے اور کبھی کبھی لاہور آ کر مرحوم سے ہدایات حاصل کر کے قادیان واپس چلے جاتے تھے۔ چودھری صاحب نے تبلیغی میدان کو وسعت دینے کا پروگرام بنا لیا۔ ایک مکان مولانا عنایت اللہ صاحب کے نام پر خریدا جا چکا تھا۔ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ احرار قادیان کے باشندے بن گئے۔ دل میں خلوص اور ارادے نیک ہوں تو قدرت امداد کرتی ہے۔ انہی دنوں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے دہلی کی تبلیغ کانفرنس میں مسلمانان دہلی سے قادیان کے محاذ کے لیے امداد کی اپیل کی۔ ایک مخیر اور نیک دل معزز خاتون نے زمین خریدنے کے لیے چھ ہزار روپے کا چیک بھیج دیا۔ زمین خرید لی گئی، کچھ اور رقم آئی تو کچھ اور زمین خرید لی گئی۔ غرضیکہ احرار نے مضبوطی سے کفرستان میں جھنڈا گاڑ دیا۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ٤٢‘ مولانا اللہ وسایا)

مگر وطن کے امیرو! سوال کرتا ہوں
دیا ہے مال کبھی شاہ دو جہاں کے لیے

اتحاد امت کا ایک منظر

صاحبزادہ گولڑہ شریف اور راولپنڈی کے مشہور عالم دین مولانا غلام اللہ خاں کا اختلاف کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں لیکن حضرت پیر گولڑہ شریف نے اعلان کیا:

”حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے میں مولانا غلام اللہ خان کے جوتے بھی اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔“

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ١٧٩‘ مولانا اللہ وسایا)

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر
صفحہ ٥٨

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تڑپ

شاہ جی پورے جوبن پر تھے، بے انداز مجمع گوش بر آواز، عشق رسولؐ کی بھٹی گرم، اکابر اور اساطین ملت جلوہ افروز، شہر میں مکمل ہڑتال اور سناٹا، تحریک ختم نبوت کے لیے مسلمان جانیں دینے کے لیے آمادہ۔ کسی نے کہا کہ خواجہ ناظم الدین لاہور پہنچ گئے۔ شاہ جی نے فرمایا ساری باتوں کو چھوڑیے لاہور والو کوئی ہے اور یہ کہتے ہوئے اپنے سر سے ٹوپی اتار لی اور ٹوپی کو ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی جذبات انگیز الفاظ میں فرمایا جاؤ میری اس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جاؤ۔ میری یہ ٹوپی کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکی۔ اسے خواجہ صاحب کے قدموں پر ڈال دو۔ اس سے کہو ہم تیرے سیاسی حریف اور رقیب نہیں ہیں۔ ہم الیکشن نہیں لڑیں گے، تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے۔ ہاں ہاں جاؤ اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ بھی کہو کہ اگر پاکستان کے بیت المال میں کوئی سور ہیں تو عطاء اللہ شاہ بخاری تیرے سوؤروں کا وہ ریوڑ چرانے کے لیے بھی تیار ہے۔ مگر شرط صرف یہ ہے کہ رسول اللہ فداہ ابی و امی کی ختم رسالت کی حفاظت کا قانون بنادے، کوئی آقا کی توہین نہ کرے۔ آپ کی دستار ختم نبوت پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے۔ شاہ جی بول رہے تھے، اور مجمع بے قابو ہو رہا تھا۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ چشم فلک نے اس جیسا سماں بھی کم دیکھا ہوگا۔ عوام و خواص سب رو رہے تھے۔ شاہ جی پر خاص وجد کی سی کیفیت طاری تھی۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ٢٥٤، مولانا اللہ وسایا)

ہم نے ہر دور میں تقدیس رسالت کے لیے
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلہ رسم سیاست کا فسوں
اک فقط نام محمدؐ سے محبت کی ہے
ہم نے بدلا ہے زمانے میں محبت کا مزاج
ہم نے ہر دل کو نئی راہ و نوا بخشی ہے
مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرہ دار و رسن کو بھی ضیاء بخشی ہے
صفحہ ٥٩

غیبی مدد

شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی اپنی جیل کا واقعہ بیان کرتے ہیں:

”میانوالی جیل سے صبح میں رہا ہونے والا تھا مگر مجھے خطرہ تھا کہ میری سرگرمیوں کے پیش نظر میری سزا جیل کے اندر ہی بڑھانے کا حکم نہ آجائے۔

داروغہ جیل بھلا آدمی تھا اور حافظ قرآن بھی تھا۔ وہ شام کو ہماری بارک میں آیا۔ میں نے کہا حافظ صاحب صبح میری رہائی ہے یا کوئی نیا حکم آگیا ہے۔ کہنے لگا دو دفعہ لاہور سے ٹیلی فون آیا ہے مگر گڑ بڑ بہت ہے۔ کچھ سنا سمجھا نہ گیا‘ کٹ ہوتا رہا۔ خیر صبح ہوئی‘ مجھے دفتر بلایا گیا اور دفتری کارروائی کر کے رہا کر دیا گیا۔ میں جب دوسرے دن شیخوپورہ پہنچا تو سب حیران ہو گئے۔ پتہ چلا کہ یہاں کے سی۔ آئی ڈی انسپکٹر نے مجھے خطرناک ثابت کر کے سنٹر سے سزا بڑھانے کا حکم نامہ میانوالی بھجوا دیا ہے اور فون پر داروغہ جیل میانوالی کو اطلاع دی تھی کہ امین گیلانی کو رہا نہ کیا جائے۔ تحریری حکم نامہ بذریعہ ڈاک آ رہا ہے لیکن میں رہا ہو چکا تھا اور اب نئے وارنٹ تیار کر کے ہی دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا تھا لیکن نیا خطرہ مول لینے کے ڈر سے ایسا نہ کیا گیا۔ یوں مرزائی آفیسر فخر الدین کے کیے دھرے پر پانی پھر گیا“۔

جو وہ چاہے سو ہی ہو

(”عجیب و غریب واقعات“ ص ٢٠‘ سید امین گیلانی)

غمگساری و سرپرستی

قطب عالم حضرت عبدالقادر رائے پوری کو مجاہدین ختم نبوت سے جو محبت و چاہت تھی اس کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیے:

”مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانوی سے جو قلبی تعلق تھا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ ان حضرات کے جیل جانے کے بعد ان کے خاندان اور پسماندہ افراد کی فکر رکھتے اور ان سب کی ذمہ داری محسوس فرماتے“۔

مولانا محمد علی جالندھری لکھتے ہیں:

صفحہ ٦٠

”مولانا حبیب الرحمن منٹگمری جیل میں جب نظر بند تھے، ملاقات کی کسی کو اجازت نہ تھی۔ میں رائے پور حاضر ہوا۔ فرمایا کہ مولانا حبیب الرحمن سے ملاقات اگر کسی طرح ہو جائے تو بہت اچھا ہے، دل ملاقات کو چاہتا ہے۔ میں نے عرض کیا حضرت میں انتظام کروں گا۔ اس پر بہت ہی خوشی کا اظہار فرمایا۔ فرمایا ضرور کوئی انتظام کریں۔ سخت سردی کا زمانہ تھا۔ میں نے ایک ایم۔ ایل اے کے ذریعہ جو میرا ملاقاتی تھا وزیر جیل منوہر لال سے اجازت لی۔ بذریعہ تار ملتان اجازت کی اطلاع ملی۔ میں نے رائے پور اطلاع دی۔ حضرت والا سخت سردی میں منٹگمری تشریف لائے۔ میں اسٹیشن پر پہلے سے موجود تھا۔ رات منٹگمری میں ایک دوست کے ہاں قیام کرایا، صبح مولانا حبیب الرحمن سے ملاقات ہوئی“۔

(”سوانح حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری“ ص ٢٩٢ از مولانا سید ابوالحسن ندوی)

وہ لوگ اب کہاں ہیں وہ چہرے کدھر گئے
یہ شہر حسن کس کی تجھے بد دعا لگی

حضرت رائے پوریؒ اور شاہ جیؒ

مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاری کے متعلق بڑے بلند کلمات فرماتے تھے اور ان سے اور ان کی وجہ سے ان کے خاندان سے بڑی محبت و شفقت کا برتاؤ کرتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ تم بخاری صاحب کو یوں ہی نہ سمجھو کہ صرف لیڈر ہی ہیں۔ انہوں نے ابتدا میں بہت ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ یقین تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا نصیب فرمایا ہے کہ باید و شاید میاں حالات و کیفیات کیا چیز ہے اصل تو یقین ہی ہے، اللہ تعالیٰ جس کو عطا فرمادے۔ مولانا محمد علی صاحب جالندھری فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت کے سامنے بخاری صاحب کے لڑکوں کا تذکرہ آیا۔ فرمایا کہ شاہ صاحب کے لڑکے ہیں، میں تو ان کا نوکر ہوں۔

(”سوانح حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری“ ص ٢٩٣ از مولانا سید ابوالحسن ندوی)

درد کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب
کس طرف سے آئے تھے کدھر چلے
صفحہ ٦١

ہمیں اللہ نے بچالیا

یہ اس زمانے کی بات ہے جب خواجہ ناظم الدین کا دور حکومت تھا اور قادیانی فتنہ کے خلاف مشرقی اور مغربی پاکستان کے تمام صلحاء علماء اور زعما کراچی میں جمع ہو کر اس فتنے کے استیصال کا طریقہ کار سوچ رہے تھے۔ ایک روز ہم دفتر مجلس ختم نبوت بندر روڈ کراچی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مرزا غلام احمد دجال کی ذات موضوع سخن تھی۔ ایک مولانا جن کی عمر اس وقت پچاس پچپن برس کی ہوگی‘ وہ بھی تشریف رکھتے تھے۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ صاحب دارالعلوم دیوبند کے فارغ ہیں اور ان کے بڑے بھائی دارالعلوم میں مدرس بھی رہ چکے ہیں۔ ان مولانا کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ انہوں نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے فرمایا کہ طالب علمی کے زمانہ میں ہم غالباً آٹھ طالب علم ایک دفعہ مرزائی مبلغ و مناظر کے پھندے میں پھنس گئے۔ ہم اپنی کم علمی اور کم عمری کے باعث اس کے دلائل کو وقیع سمجھ کر مرزا غلام احمد کے نبی ہونے کا نعوذ باللہ گمان کرنے لگے اور باہم یہ مشورہ کیا کہ فی الحال اس بات کو پوشیدہ رکھیں گے تاکہ دارالعلوم سے ہمیں خارج نہ کردیا جائے اور ہم اپنے والدین کو بھی کیا منہ دکھائیں گے۔ یہ طے کر کے ہم سب طالب علم واپس دارالعلوم میں آگئے۔ رات جب سوگئے تو سب نے ایک ہی خواب دیکھا۔ کیونکہ صبح جب آپس میں ملے تو سب نے اپنا اپنا خواب بیان کیا تو وہ ایک ہی خواب تھا۔ جو بیک وقت ہم سب نے دیکھا۔

خواب

کوئی شہر ہے‘ بازار میں منادی ہو رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فلاں مسجد میں تشریف لائے ہوئے ہیں۔ جس نے زیارت کرنی ہو وہاں پہنچ جائے۔ چنانچہ ہر طالب علم نے کہا کہ میں بھی وہاں پہنچا تو دیکھا واقعی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے صحن میں تشریف فرما ہیں۔ میں حاضر خدمت ہو کر سلام عرض کرتا ہوں۔ پھر یہ عرض کرتا ہوں کہ یا رسول اللہ غلام احمد قادیانی واقعی نبی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انا خاتم النبیین لا نبی بعدی پھر ایک طرف انگلی سے اشارہ فرما کر کہا کہ ادھر دیکھو! دیکھا تو ایک گول دائرہ ہے جس میں آگ بھڑک رہی ہے اور ایک شخص اس آگ میں جل رہا ہے اور تڑپ تڑپ کر چیخ

صفحہ ٦٢

رہا ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ غلام احمد ہے“ اس خواب کے بعد ہم سب نے توبہ کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر یقین محکم ہو گیا۔

(”حدیث خواب“ ص ٢٢-٢٣ از سید امین گیلانی)

الہی محفوظ رکھنا ہر بلا سے
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے

مسلمانوں کے ایمان کا محافظ

مولانا محمد علی (مونگیری) کا ایک اہم کارنامہ جس کے ذکر کے بغیر ان کی تاریخ نامکمل رہے گی‘ قادیانیت کا مقابلہ اور سرکوبی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر دی اور جب تک اس مہم میں کامیاب نہ ہوئے‘ اطمینان کی سانس نہ لی۔ انہوں نے قادیانیت کی تردید میں سو سے زائد کتابیں اور رسائل تصنیف کیے ہیں جس میں سے صرف ٤٠ کتابیں ان کے نام سے طبع ہوئیں اور بقیہ دوسرے نام سے۔ انہوں نے اس کو وقت کا افضل ترین جہاد قرار دیا اور اس کے لیے لوگوں کو ہر قسم کی کوشش اور قربانی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور بڑی دلسوزی کے ساتھ اس کی اہمیت سمجھائی۔ ان کوششوں سے بہار (جس پر قادیانیوں نے اس زمانہ میں بھرپور حملہ کیا تھا اور بڑی تعداد میں مسلمان اس کا شکار ہو رہے تھے) اس خطرہ سے محفوظ ہو گیا اور ہندوستان کے اور دوسرے علاقوں میں بھی جہاں کہیں مولانا کی تصنیفات پہنچیں یا مولانا کے مبلغین پہنچے قادیانیت کے قدم اکھڑ گئے۔ مسلمانوں پر اس نئے دین کی حقیقت اچھی طرح واضح ہو گئی اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس فتنہ سے محفوظ ہو گئے۔

(”سیرت مولانا محمد علی مونگیری“ ص ٢٩١-٢٩٢ از سید محمد الحسنی)

ہوشیار اے ختم نبوت کے محافظ
کس کام میں مصروف ہے باطل کی ہوا دیکھ

فخر المحدثین سید انور شاہ کشمیریؒ کی نصیحت

٢٠ سال کی عمر میں دارالعلوم دیوبند سے وہ مروجہ درس نظامی کی سند تکمیل لے کر نکلے

صفحہ ٦٣

اور یوں ان کی پر عبرت کتاب زندگی کا ایک سبق آموز باب مکمل ہو گیا۔ جس دن دارالعلوم سے نکل رہے تھے اس دن سید انور شاہ کشمیری نے الگ بلا کر کہا ”تحفظ ختم نبوت کو اپنا مشن بنا لینا“ فرمایا کرتے تھے جب میں دارالعلوم سے نکلا تو میرے ذہن میں دو باتوں سے سوا کچھ نہیں تھا۔ ایک انگریز سے نفرت‘ دوسرا مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کے خلاف جہاد کا جذبہ۔ گویا کہ میری سند میں انہیں دو مضمونوں سے فراغت کی شہادت درج تھی۔

(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ٤٠۔٤١ از ڈاکٹر نور محمد غفاری)

جلا رہا ہوں اس سے نفس میں چراغ
تیری نظر نے جو بخشی تھی آنچ ہلکی سی

حضرت رائے پوری کی شاہ جی سے والہانہ محبت

مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاری کے متعلق بڑے بلند کلمات فرماتے تھے اور ان سے اور ان کی وجہ سے ان کے خاندان سے بڑی محبت و شفقت کا برتاؤ فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ تم بخاری صاحب کو یونہی نہ سمجھو کہ صرف لیڈر ہی ہیں۔ انہوں نے ابتدا میں بہت ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ یقین تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا نصیب فرمایا ہے کہ باید و شاید۔ فرماتے یہاں حالات و کیفیات کیا چیز ہیں اصل تو یقین ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو عطا فرما دے۔ حضرت کو شاہ صاحب سے جو محبت اور خصوصیت تھی وہ ان کے اخلاص‘ خود فراموشی‘ دینی خدمت میں انہماک اور اس نفع کی بنا پر تھی جو ان کی ذات اور ان کی ایمان افروز تقریروں سے عظیم مجمعوں میں پہنچتا تھا۔ خود شاہ صاحب اپنی تقریروں کی روح اور اپنی زبان کے اثر اور محبت و جفاکشی اور قید و بند کے تحمل کا راز اللہ کے ایک مخلص اور مقبول بندہ یعنی حضرت اقدس کے ساتھ تعلق اور ان کی دعاؤں اور محبت کو سمجھتے تھے اور اس پر ان کو بڑا ناز اور اعتماد تھا۔

(”حیات طیبہ“ ص ١٣٠‘ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے
صفحہ ٦٤

حضرت عبدالقادر رائے پوریؒ تحریک ختم نبوت کے جرنیل

اس دور کا ایک بہت بڑا فتنہ انکار ختم نبوت سے پیدا ہوا اور منکرین ختم نبوت نے برصغیر پاک و ہند کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی تبلیغ اسلام کے نام سے ہزاروں مسلمانوں کو مرتد کیا۔ حضرت اقدس نے قادیانیت کے آغاز اور اس کے سب ادوار اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ خود بانی قادیانیت اور حکیم نور الدین وغیرہ کو قریب سے دیکھا تھا۔ آپ اس تحریک کے حقیقی مقاصد اور اس کے اندرونی حالات سے بخوبی آگاہ تھے اور انگریز کے اس خود کاشتہ پودے کو اسلام کی بیخ کنی اور تخریب کا ذریعہ سمجھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے عشق و محبت کا جو تعلق اور حضور کے خاتم النبیین ہونے پر جو اعتماد و یقین تھا اس کی بنا پر آپ نبوت کے ہر مدعی کو نبوت محمدی کا رقیب و حریف سمجھتے تھے اور اس سے آپ کو ایسی نفرت اور غیرت آتی تھی، جیسے ایک غیرت مند عاشق اور ایک وفادار غلام کو آنی چاہیے۔ یہی جذبہ تھا جس نے آپ سے پہلے مولانا سید محمد علی مونگیریؒ، مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ اور دوسرے اکابرین اسلام کو مضطرب اور بے قرار بنا رکھا تھا اور انہوں نے قادیانیت کی مخالفت کو اپنے لیے افضل عبادت اور افضل جہاد سمجھا تھا۔

حضرت اقدس نے اس میدان میں بھی نمایاں کام کیا۔ آپ نے ”مجلس احرار اسلام“ اور ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کو مستقل طور پر قادیانیت کی بیخ کنی اور استیصال کے کام پر لگا دیا۔ ”مجلس احرار اسلام“ اور ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ میں درحقیقت آپ ہی کا جذبہ اور آپ ہی کی روح کام کر رہی تھی۔ آپ اس سلسلہ کی ہر کوشش کو وقت کا اہم فریضہ اور دین کی اہم خدمت سمجھتے تھے اور ہر طرح اس کی ہمت افزائی اور سرپرستی فرماتے تھے اور اپنی ہمت باطنی اور قلبی و روحانی توجہ سے اس کام کی تقویت کو ضروری سمجھتے تھے اور ان کوششوں کے تذکرہ سے آپ کے اندر شگفتگی اور تازگی پیدا ہوتی تھی اور وہ آپ کی روح کی غذا بن گئی تھی۔

صفحہ ٦٥

اس سلسلہ میں جو لوگ نمایاں حصہ لیتے تھے اور جنہوں نے رات دن ایک کر رکھا تھا جیسے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ان سے حضرت کو نہایت محبت تھی اور ان کی بڑی قدر کرتے تھے اور مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد مولانا محمد علی جالندھریؒ پیش پیش تھے۔ حضرت ان سے بھی بڑی محبت و شفقت فرماتے تھے اور ان کا بڑا اکرام فرماتے تھے۔ اسی طرح مولانا حیات صاحب (جن کو قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کی کتابیں ازبر تھیں) قاضی احسان احمد صاحب اور مولانا لال حسین اختر کو بلا بھیجتے اور ان کے مرزائیوں کے ساتھ جو مناظرے اور مباحثے ہوتے، ان کی روداد سنتے تھے۔ آخری عمر میں حضرت اقدس کی رد مرزائیت کی طرف بہت زیادہ توجہ ہو گئی تھی اور صبح شام کی مجالس میں بھی مذکورہ بالا حضرات کے مباحث سنتے تھے اور ان سے کسی طرح سیری نہیں ہوتی تھی۔ جیسا کہ قارئین کو اس کتاب کے آخر میں حضرت کی چند مجالس کی روداد سے معلوم ہوگا۔

اس سلسلہ میں مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کی کتاب ”شہادت القرآن“ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اسے کئی بار مجالس میں پڑھوایا تھا اور اس کے دوبارہ اشاعت کا اہتمام کیا گیا جو علما ادھر ادھر کے مسائل اور فقہی اور اختلافی مسائل میں الجھے رہتے تھے، حضرت کو ان سے بڑا صدمہ ہوتا تھا۔ حضرت ان ابحاث میں نہیں پڑتے تھے بلکہ اہم کام رد مرزائیت کو قرار دیتے تھے۔

١٩٥٣ء میں پاکستان میں جو تحریک ختم نبوت چلی تھی، حضرت اس کی طرف ہمہ تن متوجہ رہے۔ اپنے بہت سے متوسلین مولانا محمد صاحب انوریؒ اور دوسرے حضرات کو احرار رہنماؤں کے دوش بدوش اس کام پر لگایا اور یہ سب لوگ جیلوں میں رہے۔ خود حضرت کو اس تحریک کے دوران بڑی فکر مندی رہی اور اس کا اثر پورے طور پر آپ کی طبیعت، قویٰ فکریہ اور اعضاء و جوارح پر مستولی رہا۔ بھائی محمد افضل صاحب (سلطان فاؤنڈری لاہور والے) کا بیان ہے کہ جس زمانہ میں تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں پر مقدمہ چل رہا تھا اور مولوی مظہر علی اظہر احرار رہنماؤں کے پیروکار اور وکیل تھے، حضرتؒ نے لاہور میں ایک روز مجھ سے فرمایا کہ کل ذرا سویرے موٹر لے آنا، کہیں چلیں گے۔ میں موٹر لے کر حاضر ہوا۔ حضرت مولوی مظہر علی اظہر کی کوٹھی پر تشریف لے گئے اور تنہائی میں دیر تک ان کے ساتھ

صفحہ ٦٦

گفتگو کی اور مشورے دیئے۔ خاصی دیر کے بعد باہر تشریف لائے۔

چونکہ قادیانی تبلیغی مشن کے نام سے یورپ کے علاوہ عرب ممالک میں بھی کام کر رہے تھے اور عرب ممالک کے اکثر لوگ اس تحریک کی حقیقت سے ناواقف تھے اور عربی زبان میں کوئی کتاب قادیانیت پر نہ تھی اس لیے حضرت اقدس نے خاص طور پر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی مدظلہ کو حکم دیا کہ آپ عربی زبان میں قادیانیت پر ایک کتاب لکھ دیں۔ اس کے لیے ان کو خود اپنے پاس لاہور میں ٹھہرایا اور صوفی عبدالحمید خان صاحب کی کوٹھی کا ایک کمرہ ان کے لیے مختص کر دیا گیا اور مولانا محمد حیات صاحب اور قاضی احسان احمد صاحب کو فرمایا کہ مرزا صاحب کی کتابیں اور ان کے رد میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ مولانا کو مہیا کریں۔ چنانچہ مولانا موصوف نے صرف ایک ماہ میں ٧ فروری ١٩٥٨ء کو عربی زبان میں قادیانیت پر ایک تحقیقی اور جامع کتاب "القادیانی والقادیانیہ" مرتب کی جو خوبصورت عربی ٹائپ میں طبع ہوگئی اور مصر و شام نیز افریقہ کے ان حصوں میں، جہاں قادیانیت نے فروغ حاصل کرنا شروع کیا تھا اس نے بڑی مفید خدمت انجام دی اور کہیں کہیں اس نے پشتہ کا کام دیا۔ پھر ایک سال کے بعد اس عربی کتاب کا حضرت نے اردو ترجمہ کرنے کا حکم دیا اور ایک ماہ کے اندر اندر یہ کام بھی ہو گیا اور بہت سے اضافوں کے ساتھ "قادیانیت" کے نام سے یہ کتاب لاہور سے شائع ہوئی اور اس نے سنجیدہ حلقوں کو بہت متاثر کیا اور اخبارات و رسائل نے اس پر بڑے وقیع تبصرے شائع کیے۔ قادیانی حلقہ نے اس کتاب کا وزن محسوس کیا۔ خود حضرت نے مجلس میں کتاب پڑھوا کر سنی۔ اس تفصیل سے حضرت اقدس کے شغف اور اس فکر و اہتمام کا اندازہ ہو سکتا ہے جو آپ کو قادیانیت کے رد کے بارے میں تھا۔

(”حیات طیبہ“ ص ١٤٢ - ١٤٣ - ١٤٤ - ١٤٥ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

جب بھی ماضی کے دریچوں پہ نظر جاتی ہے
دل میں طوفان اٹھاتی ہیں تمہاری یادیں

ہتھکڑیاں توڑ دیں

حضرت مولانا سید نیاز احمد شاہ صاحب گیلانی، امیر جمعیت علماء اسلام پنجاب اس تحریک

صفحہ ٦٧

میں گرفتار ہوئے۔ آپ کی جوانی کا عالم تھا۔ آل رسولؐ مجاہد فی سبیل اللہ اور عالم دین تھے۔ ان کو ہتھکڑی لگائی گئی۔ جلال میں آکر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا‘ بازوؤں کو جھٹکا دیا تو ہتھکڑی ٹوٹ گئی۔ ہتھکڑی بدلی تو پھر اسی طرح ہوا۔ بالآخر پولیس والے قدموں میں گر گئے اور بغیر ہتھکڑی کے آپ کو گرفتار کر لیا۔

("تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء" ص ٧١ از مولانا اللہ وسایا)

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

یہ انداز محبت

قطب عالم حضرت میاں عبد الہادی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سجادہ نشین دین پور شریف اپنے بڑھاپے اور بیماری کے باعث چلنے پھرنے سے معذور تھے مگر اس تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء سے آپ کی قلبی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے حکم کی تعمیل میں آپ کی چارپائی کو خان پور جلوس میں لایا گیا۔ ویگن پر چارپائی رکھی گئی۔ ان حالات میں آپ نے جلوس کی قیادت کی۔ خان پور کے اس جلوس میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی دیوبندی اور حضرت حافظ سراج احمد صاحب بریلوی آپ کے دائیں بائیں ہمراہ تھے۔ شرکاء جب ختم نبوت کا نعرہ لگاتے تو حضرت میاں عبد الہادی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اپنی تمام تر توانائیوں کو جمع کر کے ”زندہ باد“ سے جواب دیتے۔ مرزائیت مردہ باد کہتے تو آپ پر جلال کی کیفیت طاری ہوتی۔ رفقاء کو اشارہ سے بلا کر فرماتے کہ میاں دیکھو‘ گواہ رہنا۔ کل قیامت کے دن رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ شفاعت میں گواہی دینا کہ یہ عاجز (آگے جو اپنی انکساری کے جملے ارشاد فرمائے‘ فقیر لکھ نہیں سکتا) عبد الہادی محض اس عمل کے صدقہ سے نجات و شفاعت کی بھیک مانگے گا۔ گواہی دینا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ ہی سے نجات ہوگی۔ نجات اور شفاعت حاصل کرنے کا یہ ”شارٹ کٹ“ راستہ ہے۔ انہیں حضرات کی ان اخلاص بھری دعاؤں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ دشمن اپنے کیے کی پا رہا ہے اور اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔

("تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء" ص ١١٠ از مولانا اللہ وسایا)

صفحہ ٦٨
اٹھوں گا عاشقان محمد کے ہمرکاب
لکھا گیا ہے میری شفاعت کے باب میں

خون سے دستخط

لاہور‘ لائل پور‘ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ‘ ساہیوال‘ راولپنڈی‘ سرگودھا اور دوسرے تمام شہروں اور قصبوں میں حالت یہ تھی کہ رضاکار اپنے اپنے بھرتی کے مراکز پر آتے، جسم میں بڑی دلیری سے زخم لگاتے اور خون سے حلف نامے پر دستخط یا انگوٹھا ثبت کر دیتے تھے۔ رضاکاروں کا وہ جذبہ گفتنی نہیں‘ دیدنی تھا۔ بس ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے ان نوجوانوں کے سینوں میں قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کے دل دھڑکنے لگ گئے ہیں اور یہ دنیا و مافیہا سے منہ موڑ کر خواجہ غریبؐ کی حرمت پر قربان ہو جانا چاہتے ہیں۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ٣٦٥ از مولانا اللہ وسایا)

لکھتا ہوں خون دل سے یہ الفاظ احمریں
بعد از رسول ہاشمی کوئی نبی نہیں

اور آنسو گرنے لگے

جب خواجہ ناظم الدین سے قاضی احسان احمد صاحب کی متعدد ملاقاتیں اور گفتگوئیں ہو چکیں‘ خواجہ صاحب کو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت کا علم ہوا اور ساتھ ہی انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزائی افسروں کی سرگرمیاں سخت قابل اعتراض ہیں تو انہوں نے ایک سرکلر کیا کہ کوئی سرکاری افسر اپنے فرقہ کی تبلیغ میں حصہ نہیں لے گا۔ یہ سرکلر خاص طور پر مرزائیوں کی جارحانہ تبلیغی سرگرمیوں کے خلاف جاری ہوا تھا جیسا کہ اوپر ان کا ذکر ہو چکا ہے۔ ان دنوں قاضی صاحب مرحوم کوئٹہ پہنچے اور وہاں کے پولیٹیکل ایجنٹ میاں امین الدین سے ملے۔ میاں امین الدین لاہور کے مشہور کشمیری راہنما میاں امیر الدین کے بھائی تھے۔ میاں امیر الدین میاں صلاح الدین جو کہ علامہ اقبال کے داماد ہیں‘ کے والد تھے۔ دونوں بھائیوں کی طبیعت میں بڑا فرق ہے۔ میاں امیر الدین عوامی قسم کے رہنما تھے

صفحہ ٦٩

اور میاں امین الدین متکبر قسم کے صاحب لوگ تھے۔ قاضی صاحب نے ان سے ملاقات کا وقت مانگا۔ ١٥ منٹ وقت ملا۔ آپ بھاری صندوق جو قادیانیوں کی کتابوں اور رسالوں سے بھرا ہوا تھا‘ اٹھا کر اندر پہنچ گئے۔ میاں صاحب کی گردن اکڑی ہوئی تھی۔ بولے کہ مختصر بات کریں۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔ قاضی صاحب نے کہا کہ میں آپ سے ایک پاکستان گیر فتنہ کے متعلق بات کرنے آیا ہوں‘ جس کے عزائم میں یہ بات شامل ہے کہ وہ بلوچستان پر قبضہ کر لینا چاہتا ہے اور اسے احمدی صوبہ بنانے کا متمنی ہے۔ میاں صاحب نے بڑی رعونت سے کہا کہ آپ احمدیوں کی فکر نہ کریں‘ ہم اوپر بیٹھے ہوئے ہیں اور بلوچستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ قاضی صاحب نے فرمایا یہی تو بتانے آیا ہوں کہ خطرہ ہے۔

مرزائی سرکاری افسر تنخواہ حکومت کے خزانہ سے وصول کرتے ہیں اور کام اپنی جماعت کا کرتے ہیں۔ میاں صاحب نے بڑے عجیب طریقہ سے منہ بنا کر کہا کہ آپ اس کو چھوڑیے ہم نے اس کا بندوبست کر دیا ہے۔ ہم نے سرکلر کر دیا ہے کہ کوئی سرکاری افسر اپنے فرقہ کی تبلیغ نہ کرے۔ قاضی صاحب نے فرمایا کہ میں اس سلسلہ میں خواجہ صاحب سے کئی ملاقاتیں اور بحثیں کر چکا ہوں۔ تب جا کر یہ سرکلر ہوا۔ اب مرحلہ اس سرکلر پر عمل درآمد کا ہے‘ جو اب آپ حضرات کی ذمہ داری ہے اور میں آج اسی ذمہ داری کی طرف توجہ دلانے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ میاں صاحب کی اکڑی ہوئی گردن میں خم آگیا اور ذرا متواضع ہو کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ فرمائیے۔ قاضی صاحب نے صندوق کھولا‘ حوالے پڑھنے شروع کر دیے۔ قادیانیوں کے کافرانہ عقائد‘ انبیاء و اولیاء کی توہین پر مشتمل عبارتیں‘ ملک کے خلاف عزائم اور عمل سنانا شروع کیا۔ جوں جوں قاضی صاحب پڑھتے جاتے‘ میاں صاحب کی گردن اور کمر میں خم بڑھتا جاتا۔ قاضی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مسئلہ ختم نبوت اس ذات عالی صفات کا مسئلہ ہے جس کے جلال اور جمال کی عظمت کا صدقہ کہ میں نے اس دن میاں امین الدین گورنر بلوچستان کے گریبان میں ہاتھ ڈال لیا۔ میں اسے شفقت سے کھینچتا تھا‘ پھر پیچھے لے جاتا‘ پھر کھینچتا تھا اور وہ بیچارہ خاموش‘ آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور کہتا تھا:

”قاضی صاحب ہمیں ان چیزوں کی پہلے خبر نہ تھی“۔ اڑھائی گھنٹے ملاقات ہوئی۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ٤٦٩۔٤٧٠ از مولانا اللہ وسایا)

صفحہ ٧٠
ہیں مٹانے والے ہم سب فتنہ اشرار کو
اے خدا تو فتح دے اسلام کے احرار کو

ہار نہیں ہتھکڑیاں لاؤ

صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب دوسرے دن تقریر کے لیے سٹیج پر تشریف لائے تو ایک رضاکار نے ان کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈال دیا۔ صاحبزادہ نے ہار کو توڑا اور سٹیج پر بیٹھے ہوئے لوگوں کی جانب پھینک کر فرمایا میرے عزیز یہ وقت ہار پہننے کا نہیں۔ سرور کونین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو کو خطرہ درپیش ہو اور میں ہار پہنوں‘ ہتھکڑیاں اور بیڑیاں لاؤ‘ ہمیں پابہ زنجیر کر کے دیکھو کہ ہمارے ماتھے پر شکن بھی آتا ہے۔ اس کے بعد اپنے مخصوص انداز میں صاحبزادہ نے موتی بکھیرنے شروع کیے۔ جلسے پر ایک سکوت طاری تھا اور صاحبزادہ صاحب حسب عادت ساون بھادوں کی طرح برس رہے تھے۔ صاحبزادہ کی تقریر نے مسلمانوں کے جذبہ ایمان کو اس طرح ابھارا کہ بسا اوقات لوگوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس طرح رات کے ١٢ بجے تک جلسہ ہوتا رہا۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ١٢٧ از مولانا اللہ وسایا)

گلوں نے آ کے مستی میں گریباں چاک کر ڈالے
چمن میں ہم نے کچھ غزل خواں یوں بھی دیکھے ہیں

مرزا غلام احمد قادیانی کو الو کا پٹھا کہہ دیا

مشہور مبلغ مولانا محمد لقمان علی پوری نے شیخوپورہ میں تقریر کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کو الو کا پٹھا کہہ دیا جس پر وہ گرفتار کرلیے گئے۔ جب کیس عدالت میں آیا تو ہمارے وکیل نے مجسٹریٹ سے کہا کہ جناب از روئے شریعت مرزا غلام احمد کافر اور مرتد (واجب القتل) ہے۔ مزید اس نے اپنی کتابوں میں تمام اہل اسلام کو فحش گالیاں دی ہیں۔ اگر ہمارے مبلغ نے جذبات میں آکر الو کا پٹھا کہہ دیا تو یہ معمولی بات ہے۔ مجسٹریٹ نے کہا کہ آپ آئندہ پیشی پر وہ کتابیں پیش کریں جس میں اس نے مسلمانوں کو گالیاں دی ہیں اور کوئی مستند عالم

صفحہ ٧١

دین بھی عدالت میں از روئے قرآن و حدیث ثابت کرے کہ مرزا کافر ہے۔ میں نے ملتان مرکزی دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کو لکھا کہ وہ فلاں تاریخ کو مولانا لال حسین اختر کو بمعہ حوالہ جات شیخوپورہ بھیج دیں اور خود حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوری کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضرت مقررہ تاریخ پر تشریف لا کر مرزا کو کافر و مرتد ثابت کریں۔ میں کس کارکن کو اس روز بھیج دوں گا۔ آپ اس کے ساتھ تشریف لے آئیں۔ حضرت نے فرمایا ”آدمی بھیجنے کی ضرورت نہیں، تاریخ مقررہ پر میں خود ہی پہنچ جاؤں گا“ مختصراً تاریخ مقررہ پر حضرت تشریف لائے اور عدالت کی کارروائی کے بعد مولانا سید امین الحق صاحب مرحوم جو جامع مسجد شیخوپورہ کے خطیب تھے، ان کے ساتھ ان کے حجرہ میں آئے۔ انہوں نے چائے وغیرہ کا بندوبست کیا۔ اس وقت حجرہ میں صرف ہم تینوں تھے۔ حضرت لاہوری، مولانا امین الحق صاحب مرحوم اور راقم الحروف۔ مولانا امین الحق حضرت سے مصروف گفتگو تھے اور میں حضرت کے سامنے دو زانو بیٹھا ہوا تھا۔ بار بار میرے جی میں خیال آئے کہ میں سید ہوتے ہوئے بھی اپنے اعمال بد کے ہاتھوں جہنمی ہوں اور حضرت نو مسلم کی اولاد ہونے پر بھی اپنے اعمال خیر کے باعث جنتی ہیں۔ گویا ایک جہنمی، ایک جنتی کی زیارت کر رہا ہے۔ معاً حضرت مجھ سے مخاطب ہوئے ”نہ بیٹا! نہ نہ بیٹا نہ اللہ تعالیٰ کسی کو جہنم میں نہیں پھینکنا چاہتے۔ لوگ تو زبردستی جہنم میں کودتے ہیں“۔ میں فوراً سنبھلا اور سوچا کسی نے سچ کہا ہے: ”پادشاہوں کے سامنے آنکھ کی حفاظت کر اور اولیاء اللہ کے سامنے دل کی“۔

(”عجیب و غریب واقعات“ ص ٢١-٢٢ از سید امین گیلانی)

حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری کا عقیدہ ختم نبوت سے عشق

مولانا محمد علی صاحب فرماتے ہیں: ”مرزائیت کی نسبت جس قدر متفکر رہتے آپ کو معلوم ہی ہے۔ جب میں حاضر ہوتا، فرماتے مرزائیوں کا کیا حال ہے۔ اگر کوئی خوشی کی بات بتائی جاتی اکثر فرماتے الحمد للہ، اگر ہنسی والی بات ہوتی تو ایسا ہنستے کہ تمام بدن مبارک متحرک ہو جاتا“۔ ایک دفعہ حاضر ہوا تو ایک نوٹ نکال کر عطا فرمایا کہ ختم نبوت کے کام کی امداد میری

صفحہ ٧٢

طرف سے۔ پھر مجلس میں حاضرین کو توجہ دلائی۔ سب نے امداد کی۔ حضرت مولانا فضل احمد صاحب نے دس روپیہ کا نوٹ نکال کر دیا۔ فرمایا پانچ روپیہ رکھ لو۔ میں پانچ کا نوٹ واپس کرنے لگا۔ حضرت نے فرمایا ”واپس کیوں لیتے ہو‘ یہ بھی دے دو“ انہوں نے وہ بھی دے دیا۔

اس سلسلہ میں جو لوگ نمایاں حصہ لیتے تھے اور جنہوں نے رات دن ایک کر رکھا تھا‘ ان سے حضرت کو نہایت محبت تھی اور ان کی نہایت قدر فرماتے تھے اور اپنی محبت و پیار کا اظہار فرماتے۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد مولانا محمد علی جالندھری اس میں پیش پیش تھے۔ حضرت ان سے بڑی محبت و شفقت فرماتے تھے اور ان کا بڑا اکرام کرتے تھے۔

مولانا لکھتے ہیں:

”ایک دفعہ صبح آٹھ بجے کے قریب لائل پور حاضر ہوا۔ زمین کے فرش پر دھوپ میں تشریف فرما تھے۔ آگے ہو کر فرش پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ میں تھوڑا آگے ہوا۔ بالکل برابر بٹھا کر سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا ”میرا چاند آیا“۔

میری موجودگی میں جب حضرت والا کی خدمت میں دودھ پیش کیا جاتا تب فرماتے مولوی صاحب کو پلاؤ‘ میں پی کر کیا کروں گا۔ یہ تو کام کرتے ہیں‘ خدام اصرار کر کے پلاتے اور کہتے اور دودھ مولوی صاحب کو پلا دیں گے۔ پھر بھی پورا نہ پیتے بلکہ چھوڑ کر فرماتے مولوی صاحب کو پلا دو۔ اس طرح بارہا حضرت کا تبرک ملا۔

مولانا محمد صاحب انوری لکھتے ہیں:

”آخر عمر میں حضرت اقدس کو رد مرزائیت کی طرف بڑی توجہ ہو گئی تھی۔ مولوی محمد حیات صاحب کو (جنہیں قادیانیوں اور لاہوریوں کی کتابیں ازبر ہیں) بلا کر مباحثہ سنتے تھے اور مولوی لال حسین اختر کو بلا بھیجتے تھے۔ مولانا محمد ابراہیم میر صاحب سیالکوٹی کی ”شہادت القرآن“ کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ دوبارہ اس کو طبع کرانے کے بڑے متمنی تھے۔ آخر کار حضرت اقدس نور اللہ مرقدہ کی توجہ مبارک سے اس کی دوبارہ اشاعت ہو گئی اور ایک علمی خزانہ ہاتھ آگیا۔ علماء جو ادھر ادھر کے مسائل میں الجھے رہتے ہیں‘ حضرت کو بڑا صدمہ ہوتا تھا۔ ان ابحاث میں حضرت نہیں پڑتے تھے بلکہ اہم کام رد مرزائیت کو قرار دیتے تھے“۔

صفحہ ٧٣

(”سوانح حضرت مولانا عبد القادر لاہوری“ ص ٢٩٥-٢٩٦ از مولانا ابوالحسن ندوی)

آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

اے مسلمان! یہ وہ عظیم لوگ تھے جن کی زندگی کا ہر ہر سانس تحفظ ختم نبوت کے لیے وقف تھا۔ جنہوں نے زندگی کی ساری بہاریں ناموس رسولؐ کی حفاظت کے لیے وقف کر رکھی تھیں۔ جو قادیانیت کے منہ زور سیلاب کو روکنے کے لیے ہمالیہ بن گئے۔ جنہوں نے اس جہادی راستے کے سارے کانٹوں کو پھول سمجھ کر سینوں سے لگایا۔ جنہوں نے گھر کی راحت بخش زندگی پر جیل کی زندگی کو ترجیح دی۔ جن کے پرعزم قدموں کو مال اور اولاد کی زنجیریں راہ قربانی سے نہ روک سکیں۔

لیکن۔۔۔ اے مسلمان! آج قادیانی ڈش انٹینا کے زبردست ہتھیار سے مسلح ہو کر ہوا کی لہروں کے ذریعے ارتداد کی تبلیغ کر رہا ہے۔ وائس آف اسلام کے نام سے ریڈیو سٹیشن کا ہولناک منصوبہ تیار ہوچکا ہے۔ قادیانی روزنامے چھپ رہے ہیں۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن و حدیث کے دجل و فریب پر مبنی تراجم پھیلائے جا رہے ہیں۔۔۔ درجنوں قادیانی ماہنامے اور ہفت روزے شائع ہو رہے ہیں۔۔۔ ہزاروں قادیانی مبلغین مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کا زہر ملت اسلامیہ کی رگوں میں گھول رہے ہیں۔ لیکن۔۔۔ ہم غفلت و بے حیائی کی چادر اوڑھے مردوں سے شرط باندھ کر سو رہے ہیں۔ ہمارا دکاندار کہتا ہے ’میں دکانداری میں مصروف ہوں۔۔۔ زمیندار کہتا ہے ’میں زمینداری میں مصروف ہوں۔۔۔ ملازم کہتا ہے ’مجھے ملازمت سے فرصت نہیں۔۔۔ طلبا کہتے ہیں ’ہم حصول تعلیم میں مشغول ہیں۔۔۔ ڈاکٹر اور انجینئر کہتے ہیں ’ہمارے پاس وقت نہیں۔۔۔ وکلا کہتے ہیں ’ہم اپنے دھندوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔۔۔ صحافی اس عظیم کام کی طرف توجہ نہیں دیتے۔۔۔ عورتیں اپنے مشاغل میں مست ہیں۔۔۔ تو۔۔۔ اے مسلمان! پھر ناموس رسولؐ کی حفاظت کون کرے گا؟

تاج و تخت ختم نبوت کی چوکیداری کون کرے گا؟

قادیانیوں کے ظالم ہاتھوں سے اسلام کو قطع و برید سے کون بچائے گا؟

صفحہ ٧٤

ارتداد کے بدمست ہاتھی کو زنجیر کون پہنائے گا؟

کیا جانے یہ کیا کھوئے گا، کیا جانے یہ کیا پائے گا
مندر میں پجاری جاگتا ہے، مسجد کا نمازی سوتا ہے

اے مسلمان! اگر ہم نے ناموس رسول کی پرواہ نہ کی تو پھر اللہ تعالیٰ کو بھی ہماری عزتوں کی کوئی پرواہ نہ ہوگی۔۔۔ جو شخص محمد رسول اللہ کی ذات اقدس پہ غیرت نہیں کھاتا، اللہ کو بھی اس پہ غیرت نہیں آتی۔۔۔ کیونکہ جس کا محمد رسول اللہ سے تعلق نہیں، اس کا اللہ سے بھی کوئی تعلق نہیں۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
PDF 75

مرزا قادیانی کا حافظہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب

ضلع شیخوپورہ

صفحہ ٧٦

ایک دن میں قادیانی لٹریچر کا مطالعہ کر رہا تھا۔ مطالعہ کرتے کرتے میری نظر سے چند حوالے گزرے۔ حوالے کیا تھے، کفر و ارتداد کے زہر میں ڈوبے ہوئے پیالے تھے، جو آنکھوں کے رستے شعلہ بن کر دل پر گرے اور میرا پورا جسم جل کر رہ گیا۔ ”نقل کفر کفر نہ باشد“ کے مصداق میں وہ حوالے ملت اسلامیہ کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔

رحمت عالم محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں لکھی گئی یہ گستاخانہ تحریریں پڑھ کر طبیعت جتنی بے چین ہو۔۔۔۔ قلب جتنا مجروح ہو۔۔۔۔ روح جتنی گھائل ہو۔۔۔ اعصاب جتنے مضطرب ہوں۔۔۔ ماتھے پر تشویش کی جتنی سلوٹیں ہوں، اتنا ہی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گہرا تعلق ہو گا۔ اگر یہ غلیظ تحریریں پڑھ کر طبیعت پر کوئی اثر نہ ہو تو اپنے جسم میں اپنا ایمان تلاش کیجئے کہ کہیں اس جسم میں ایمان ہے بھی کہ نہیں۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایمان کبھی کا داغ مفارقت دے چکا ہو اور یہ جسم اس کا مقبرہ بن چکا ہو۔۔۔۔ اور اس پر آپ نے اپنے لباس کی چادریں چڑھا رکھی ہوں۔ حوالے پڑھئے۔

پہلے ”براہین احمدیہ“ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے“۔ (”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ١٠، مصنفہ مرزا قادیانی) (نعوذ باللہ)

صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد صلعم کو اتارا تاکہ اپنے وعدے کو پورا کرے“۔ (نعوذ باللہ) (”کلمۃ الفصل“ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز، ص ١١٥، نمبر ٣، جلد ١٤)

صفحہ ٧٧

اور مصطفیٰ میں کوئی تفریق پکڑتا ہے، اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے"۔ (نعوذ باللہ) ("خطبہ الہامیہ" ص ١٧١‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

مسیح موعود کی بعثت کو نبی اکرم کی بعثت ثانی نہ جانا‘ اس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا۔ کیونکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ محمد رسول اللہ ایک دفعہ پھر دنیا میں آئے گا“۔ (”کلمۃ الفصل“ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ قادیان‘ ص ١٠٥‘ نمبر ٣‘ جلد ١٤)

در حقیقت محمد اور عین محمد ہیں اور آپ میں اور آنحضرت صلعم میں باعتبار نام‘ کام اور مقام کے کوئی دوئی یا مغائرت نہیں"۔ (نعوذ باللہ) (اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ٣‘ نمبر ٢٦‘ مورخہ یکم جنوری ١٩١٦ء)

ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے"۔ (نعوذ باللہ) (اخبار ”الفضل“ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)

اترے مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا"۔ (نعوذ باللہ) (”مرزا قادیانی کا الہام“ مندرجہ ”تذکرہ“ ص ٣٤٦)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار ”بدر“ قادیان‘ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦‘ بحوالہ ”قادیانی مذہب“ ص ٢٣٦)

صفحہ ٧٨

”ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں (یعنی پہلی بعثت میں) اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ ایسی روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا‘ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی“۔ (نعوذ باللہ) (”خطبہ الہامیہ“ ص 177‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ تھا۔۔۔۔۔ اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو آنحضرت صلعم پر حاصل ہے۔ نبی کریم کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی۔ اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ان کا پورا ظہور ہوا“۔ (نعوذ باللہ) (”ریویو“ مئی 1929ء بحوالہ ”قادیانی مذہب“ ص 266‘ اشاعت نہم‘ مطبوعہ لاہور)

یہ خوفناک اور روح فرسا تحریریں کیوں تیار کی گئیں؟ کفر کو ان کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

جائے۔ (نعوذ باللہ)

دیا جائے۔ (نعوذ باللہ)

باللہ)

نبوت پر بٹھایا جائے۔ (نعوذ باللہ)

اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ اس کے دل سے عظمت نبوت محمدیؐ ختم

صفحہ ٧٩

کی جائے اور اس اصول کے حوالہ سے مرزا قادیانی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے افضل قرار دیا جائے۔ (نعوذ باللہ)

میرے مسلمان بھائیو! بات چل نکلی ہے مرزا قادیانی کے ذہنی ارتقاء کی۔۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی کے دماغ کی۔۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی کی ذہنی استعداد کی۔۔۔۔۔۔!!!

اس نشست میں ہم مرزا قادیانی کے دماغ پر بحث کریں گے، جس کے بارے میں قادیانیوں کو خبط ہے کہ (نعوذ باللہ) اس کا ذہنی ارتقاء نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ ہے۔

مرزا قادیانی کا دماغ کیا تھا؟ اس کا ذہن کیا تھا؟ اس کی علمی حیثیت کیا تھی؟ اس کی فکری صلاحیت کیا تھی؟

اس سے پہلے کہ میں آپ کے سامنے مرزا قادیانی کے دماغ کا پوسٹ مارٹم کروں۔۔۔۔۔۔ اس کے دماغ کے اجزاء کی ساخت سے آپ کو آشنا کروں۔۔۔۔۔۔ اس کی ذہنی قوتوں سے آپ کو روشناس کراؤں۔۔۔۔۔۔ اس کے حافظہ سے آپ کو آگاہ کروں۔۔۔۔۔۔ میں انتہائی اختصار کے ساتھ امت محمدیہؐ کے چند افراد جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کے غلاموں کے غلاموں کے غلام ہیں‘ ان کے ذہنی ارتقاء‘ دماغی استعداد اور قوت حافظہ سے آپ کو متعارف کرانا چاہتا ہوں تاکہ اس طریقہ سے آپ مرزا قادیانی کے دماغ کو بہتر طریقہ سے سمجھ سکیں۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

اور ارتجالاً بغیر کسی تیاری کے سو سو اشعار کے قصیدے سنا دیا کرتا اور فرمائش کرنے پر پھر اس کو دہرا دیتا تھا“۔ (”اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے“ ص ٨٣‘ از مولانا حکیم محمد یوسف ہاشمی)

ہمیشہ مجھے قرآن مجید یاد نہ کرنے پر لعنت ملامت کیا کرتے تھے۔ ایک دن مجھے بڑی غیرت آئی۔ میں ایک گھر میں بیٹھ گیا اور قسم کھائی کہ جب تک کلام باری حفظ نہ کر لوں گا‘ اس گھر سے باہر نہ نکلوں گا۔ چنانچہ میں نے پورے تین دن میں قرآن کریم کو حفظ کر کے اپنی

صفحہ ٨٠

قسم پوری کرلی“۔ (”وفیات الاعیان لابن خلکان“ ج ٥‘ ص ١٣١)

میں ”دائرۃ المعارف“ حیدر آباد نے شائع کیا ہے۔ ایک شخص ابن مجنین کو لغت کی یہ ساری جلدیں حفظ تھیں“۔ (”وفیات“ ج ٤‘ ص ٢٦)

تین لاکھ اشعار‘ عرب کے جو سب کے سب قرآن مجید کے الفاظ کے شواہد ہیں‘ ازبر تھے۔ اور سنئے: فرماتے ہیں کہ ”مجھے تیرہ صندوق کتابیں یاد ہیں اور قرآن مجید کی ایک سو بیس تفسیریں مع سندوں کے یاد ہیں“۔ (”وفیات الاعیان“ ج ٣‘ ص ٣٦٤‘ ”الاحمد فی تراجم اصحاب احمد“ ج ٢‘ ص ١٩)

رہنے والے تھے۔ سرور عالم‘ فخر آدم و بنی آدم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح میں بلا مبالغہ اتنے قصائد تحریر فرمائے ہیں کہ ان کا مجموعہ بیس جلدوں تک پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ اشعار عرب اور ادب کے ماہرین میں ان کی ذات منتہا مانی جاتی تھی۔ قصائد مدحیہ کیوجہ سے حسان وقت شمار کئے جاتے تھے۔ سب سے عجب بات یہ ہے کہ صحاح فی اللغۃ جوہری کو بتمام و کمال حفظ کیا تھا“۔ (”شذرات الذہب“ ج ٥‘ ص ٢٨٦)

صحاح لغت کی بہت بڑی مشہور اور قدیم کتاب ہے۔

تھا کہ انہیں لغت کی مشہور اور ضخیم کتاب ”قاموس“ اول تا آخر ازبر تھی“۔ (”ماثر الکرام“ ج ٢‘ ص ٢٥٤)

علامہ زرکلی صاحب الاعلام فرماتے ہیں: ”بخاری شریف اور مسلم شریف کو مع احادیث کے سندوں کے ساتھ حفظ فرمایا بلکہ بیس ہزار بیت مختلف علوم و فنون کے بھی ازبر تھے“۔ (”الاعلام“ ص ٣٣)

صفحہ ٨١

محمد بن ابی الحسین یونینی المتوفی ٦٥٨ھ کے متعلق فرماتے ہیں: ”میرے والد نے کتاب الجمع بین الصحیحین (یعنی وہ کتاب جس میں بخاری و مسلم کی حدیثیں یکجا کی گئی ہوں) اور مسند امام احمد بن حنبل کا بڑا حصہ زبانی یاد فرما لیا تھا۔ مسلم شریف کو صرف چار ماہ میں یاد فرما لیا تھا اور سورۂ انعام ایک دن میں اور حریری کے تین مقامات کو چند گھنٹوں میں ازبر کر لیا تھا“۔ (شذرات الذھب“ ج ٥، ص ٢٩٤)

عبدالحق محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے شیخ ”قاموس“ کے حافظ تھے۔ ان کے حافظہ کے بارے میں لکھا ہے کہ جو شاگرد جس ملک کا ہوتا، اس کو اسی کی زبان میں سبق سمجھاتے“۔ (”اسلاف کے حیرت انگیز واقعات“ ص ٩٦، حکیم محمد یوسف ہاشمی)

حفظ کر لیا“۔ (”شذرات الذھب“ ج ٦، ص ١٤٩)

احادیث کے حافظ تھے“۔ (”وعظ ضرورت العلماء“ ص ٢٩٠، از مولانا تھانویؒ)

ترہتی، الیانع الجنی میں تحریر فرماتے ہیں: ”ستر ہزار احادیث کو مع اس کے اسناد کے نیز مع راویوں کے جرح و تعدیل کے یاد کیا تھا اور احکام فقہ میں درجہ اجتہاد حاصل ہو گیا تھا“۔ (”نزھۃ الخواطر“ ص ٢٢٢، ج ٦)

کرامت“ حصہ دوم، ص ١٩٤)

آپ جس کتاب کو ایک دفعہ پڑھ لیتے، بیس سال تک یاد رہتی“۔ (”اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے“ ص ١٠٤، مولانا حکیم محمد یوسف ہاشمی)

صفحہ ٨٢

ایک شخص نے شیخ کے روبرو ذکر کیا کہ ایک آدمی نے قسم کھا لی ہے کہ اگر حافظ عبدالغنی مقدسی ایک لاکھ حدیثوں کے حافظ نہ ہوں تو میری بیوی کو طلاق۔ شیخ نے سن کر فرمایا کہ اگر اس سے زیادہ کے بارے میں قسم کھاتا تو حانث نہ ہوتا”۔ (”ذہبی“ جلد ٤، ص ١٤٧٥)

پڑے تھے کہ انہیں حفظ قرآن کا شوق اٹھا اور بیماری کی حالت میں بستر پر پڑے پڑے ایک سال میں قرآن مجید حفظ کر لیا“۔ (”اسلاف کے حیرت انگیز واقعات“ ص ٢٠٣، مولانا حکیم محمد یوسف ہاشمی)

لیا“۔ (”اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے“ ص ٢٠٥، مولانا حکیم محمد یوسف ہاشمی)

رمضان المبارک کے بیس دنوں میں پورا قرآن مجید حفظ کر لیا“۔ (”اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے“ ص ٢٠٦، حکیم مولانا محمد یوسف ہاشمی)

سمندر میں جہاز پر رمضان شریف کا چاند دیکھا گیا۔ رفقاء کی خواہش ہوئی کہ تراویح پڑھی جائے مگر اتفاق سے کوئی بھی حافظ قرآن نہ تھا۔ خود مولانا بھی حافظ نہ تھے مگر لوگوں کے اصرار پر ایک پارہ روزانہ حفظ فرماتے اور رات کو تراویح میں سنا دیا کرتے تھے۔ اس طرح پورا قرآن یاد کر کے سنا دیا“۔ (”سوانح قاسمی“ مرتبہ مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتویؒ)

لاکھ احادیث یاد تھیں“۔ (”اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے“ ص ٢٢٦، مولانا حکیم محمد یوسف ہاشمی)

مولانا سید احمد شہیدؒ کی ملاقات ایک عالم سید محمدؒ نامی سے ہوئی جن کو صحیح معہ اس کی شرح

صفحہ ٨٣

قسطلانی کے حفظ تھی۔" (سیرت سید احمد شہید‘ ص ٢٤٢‘ از مولانا غلام رسول مہر)

میں عرب کے تین لاکھ اشعار حفظ تھے۔ ایک سو بیس تفاسیر سندوں کے ساتھ یاد کی تھیں۔ علامہ سیوطی نے بغیۃ الوعاۃ میں ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک دن بیمار ہوئے تو ان کے والد بڑے پریشان ہوئے۔ لوگوں نے تسلی دینا چاہی کتابوں سے بھری ہوئی الماری کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے میں اس بیٹے کی بیماری پر پریشان کیوں نہ ہوں۔ جس کو یہ سب کتابیں حفظ ہیں۔ ("متاع وقت اور کاروان علم" ص ١٥٤‘ ابن الحسن عباسی)

کیا۔ ("متاع وقت اور کاروان علم" ص ٢٤٧‘ از ابن الحسن عباسی)

الایوبی فقیہ فقہ حنفی متوفی ٦٢٤ھ نے فقہائے احناف کو یہ حکم دیا کہ مذہب امام ابو حنیفہ کو ترتیب دیں اور یہ ترتیب اس طرح ہو کہ اس میں صاحبین کے اقوال نہ ہوں۔ فقہاء نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی اور ایسے تمام مسائل کو ایک کتاب میں تحریر کر دیا جو دس جلدوں میں مکمل ہوئی۔

اس کتاب کا نام "تذکرہ فی الفروع علیٰ مذہب ابی حنیفہ" تجویز کیا۔ بادشاہ نے وہ کتاب بہت پسند کی اور سفر و حضر میں ہمہ وقت اپنے پاس رکھتا اور برابر اس کا مطالعہ کیا کرتا اور ہر جلد کے اوپر یہ لکھ دیا کرتا تھا کہ عیسیٰ نے اس کو زبانی یاد کیا ہے۔ لوگوں کو بہت تعجب ہوا کہ یہ کیونکر ممکن ہے۔

لوگوں نے پوچھا کہ آپ امور مملکت میں منہمک رہتے ہیں تو کس طرح یاد کر لی یہ کتاب؟

بادشاہ نے کہا‘ الفاظ کا کیا اعتبار؟ آؤ بسم اللہ کرو اور اس کے تمام مسائل مجھ سے پوچھ لو۔ اس سے بادشاہ کے حفظ کامل کا پتہ چلتا ہے۔ (کشف الظنون‘ ج ١‘ ص ٢١٣ بحوالہ "اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے" ص ٢٨٠‘ حکیم محمد یوسف ہاشمی)

صفحہ ٨٤

بچہ لایا گیا جس نے قرآن مجید پڑھ لیا تھا۔ مسائل شرعی سے بھی واقف تھا مگر جب بھوکا ہوتا تو بچوں کی طرح رونے لگتا۔ یعنی بچوں کا خاصہ موجود تھا۔

قرآن حفظ کر لیا تھا۔ جب چار سال کا تھا تو سماعت حدیث کے لئے ابو بکر بن المقری کے پاس لے جایا گیا۔ تو بعض لوگوں نے فرمایا کہ سورۂ کافرون سناؤ تو میں نے سنا دی۔ پھر سورۂ کوثر سنانے کی فرمائش کی تو اس کو بھی سنا دیا۔

حاضرین میں سے کسی نے سورۂ مرسلات پڑھنے کی فرمائش کی۔ میں نے فرفر سنا دی اور کہیں بھی غلطی نہیں کی۔ محدث ابن المقری نے فرمایا کہ ان سے حدیث سننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ ("مقدمہ ابن صلاح" ص ٦٢‘ بحوالہ "اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے" ص ٢٠٢‘ حکیم محمد یوسف ہاشمی)

اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے:

"قاضی وصی الدین صاحب کانپور میں قرق امین تھے اور نہایت ثقہ اور معتمد و معتبر آدمی تھے۔ گو جنید بغدادی نہ ہوں لیکن تاہم ایک ثقہ اور معزز آدمی تھے اور جو لوگ معزز ہوتے ہیں وہ عادتاً جھوٹ نہیں بولتے ہیں"۔

وہ کہتے تھے کہ ایک مرتبہ حافظ صاحب کانپور تشریف لائے اور میں نے درخواست کی کہ آپ کا حافظہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ فرمایا کہ کوئی کتاب لا کر طویل عبارت کی میرے سامنے پڑھ دو۔

وہ کہتے ہیں کہ میں کتب خانہ میں سے "افق المبین" نکال لایا جو بہت باریک لکھی ہوئی تھی اور بڑی تقطیع پر تھی اور اس کے دو صفحے ان کے سامنے پڑھے۔ انہوں نے بعینہ تمام عبارت سنا دی۔ (مجموعہ‘ ص ٣١‘ طبع ملتان‘ بحوالہ "اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے"‘ حکیم محمد یوسف ہاشمی)

صفحہ ٨٥

کر یاد کر لیا کرتے جب کہ دوسرے ہم سن بغیر لکھے ہوئے یاد نہ رکھ سکتے تھے۔ ایک نوعمر بچہ کا یہ فعل ہم عصروں کے لئے تعجب کا باعث ہوا۔ آخر کار لوگوں سے نہ رہا گیا اور چھیڑ دیا۔ میاں بچے لکھتے نہیں تو پھر کس طرح یاد کرو گے۔ امام نے فرمایا تم کئی بار ٹوک چکے ہو۔ لاؤ اپنا لکھا ہوا ذخیرہ۔ لایا گیا جو پندرہ ہزار حدیثوں پر مشتمل تھا۔ آپ نے سب کا سب فرفر سنا دیا۔ اس کے بعد فرمایا میں یونہی اپنا وقت ضائع نہیں کر رہا ہوں۔ اسی وقت لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ اس شخص سے کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (”تذکرہ“ ص ٢٥٦)

بیکندی کے پاس پہنچا تو فرمانے لگے کہ کچھ پہلے آئے ہوتے تو ایک بچے سے ملاقات ہو جاتی۔ ستر ہزار احادیث کا حافظ ہے۔ مجھے بڑا تعجب معلوم ہوا اور میں ان کی تلاش میں نکلا۔ چنانچہ ملاقات ہو گئی۔

میں نے پوچھا تم ستر ہزار احادیث کے حافظ ہو؟ فرمانے لگے جی ہاں! بلکہ اس سے بھی زیادہ کا حافظ ہوں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ راویان حدیث صحابہ و تابعین کے سن پیدائش و وفات و جائے سکونت بھی بتا سکتا ہوں۔ (”طبقات الشافعیۃ الکبریٰ“ ج ٢، ص ٥)

آپ بغداد تشریف لے گئے۔ وہاں علماء و محدثین کو معلوم ہو گیا کہ یہ شخص لاکھوں احادیث کے حافظ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو آپس میں ایک مجلس منعقد کرنے کی تجویز ہوئی، جس میں امام بخاریؒ کا امتحان لینا طے ہوا۔ دس آدمی منتخب ہوئے اور دس دس حدیثیں سند اور متن میں گڑبڑ کرنے کی تجویز ہوئی۔ چنانچہ مجلس امتحانی منعقد ہوئی اور امام کے سامنے پہلے ایک شخص نے ایک حدیث کا حلیہ بری طرح بگاڑ کر پیش کیا۔ امام نے فرمایا لا اعرفہ یعنی یہ حدیث اس طرح مجھے نہیں پہنچی۔ اسی طرح دسوں حدیثیں پڑھ دی گئیں اور ہر حدیث کے بعد امام اپنا جملہ لا اعرفہ دہراتے رہے۔ پھر دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور اسی طرح دس حدیثیں بگاڑ کر پڑھیں۔ یہاں تک کہ دس آدمیوں نے

صفحہ ٨٦

سو حدیثیں پڑھیں اور امام ہر حدیث سننے کے بعد وہی جملہ دہراتے رہے۔ پھر آپ گویا ہوئے اور پہلے آدمی کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ نے پہلی حدیث اس طرح پڑھی تھی حالانکہ وہ اس طرح ہے۔ اس کو مفصل بیان فرمایا۔ پھر دوسری اور تیسری‘ چوتھی وغیرہ پر تبصرہ فرمایا۔ یہاں تک کہ پوری سو احادیث کو بالترتیب درست طریقہ پر سنا دیا۔ حاضرین مجلس ان کے استحضار ذہن‘ ذکاوت اور قوت حافظہ کے معترف ہو گئے۔ (”ہدی الساری“ مقدمہ ”فتح الباری“ ج٦‘ ص٢٠٠)

لاکھ احادیث غیر صحیحہ حفظ ہیں۔ (”ہدی الساری“)

ایک ماہ میں قرآن پاک حفظ کیا“۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ ١٨ جولائی ١٩٩٥ء)

لیجئے اب قادیانی نبی مرزا قادیانی کی ذہنی استعداد اور قوت حافظہ ملاحظہ فرمائیے۔

گرگابی: ”ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لیے گرگابی لے آیا۔ آپ نے پہن لی مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لیے نشان لگا دیے تھے مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ٦٧‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

جب ذہن الٹا سیدھا ہو تو پُتر الٹے سیدھے کی پہچان کیسے ہو؟ (مولف)

جوتی کی دوات: ”ایک مرتبہ فرمانے لگے میرے لیے کسی نے بوٹ بھیجے ہیں۔ میری سمجھ میں اس کا دایاں بایاں نہیں آتا۔ آخر اس کو سیاہی ڈالنے کے لیے بنا لیا“۔ (الحکم‘ ١٤ دسمبر ١٩٣٤ء ص ٥‘ کالم نمبر ٢)

قادیانیو! اسے پڑھ کر بھی مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہو۔ خدا کو کیا جواب دو گے؟ (مولف)

صفحہ ٨٧

چابی: ”شیخ صاحب نے عرض کیا حضور گھڑی تو اچھی چلتی ہے۔ آپ نے ایک رومال کو فرش پر رکھ کر اور ایک دو گانٹھیں کھول کر اس میں سے گھڑی نکالی۔ معلوم ہوا کہ بند ہے۔ چابی دی گئی۔ وقت درست کیا گیا۔ مولوی محمد علی صاحب نے آہستہ سے کہا اب جس دن پھر آؤ گے‘ چابی دے دینا“۔ (یاد ایام‘ از قاضی محمد ظہور الدین قادیانی‘ مندرجہ اخبار الحکم قادیانی)

کسے؟ گھڑی کو یا مرزا قادیانی کو؟ (مولف)

لٹکتی جرابیں: ”زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر نیچے چڑھا لیتے۔ مگر بارہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتیں۔ کبھی تو سر آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آجاتی۔ کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ٤٧‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

قادیانیو! اسے پڑھ کر ہی توبہ کرلو۔ (مولف)

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مسجد مبارک میں نماز ظہر یا عصر شروع ہوچکی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام درمیان میں سے نماز توڑ کر کھڑکی کے راستہ گھر میں تشریف لے گئے اور پھر وضو کرکے نماز میں آملے اور جو حصہ نماز کا رہ گیا تھا‘ وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد پورا کیا۔ یہ معلوم نہیں کہ حضور بھول کر بے وضو آگئے تھے‘ یا رفع حاجت کے لئے گئے تھے“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ سوم‘ ص ٢٦٧‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

بے وضو آگیا ہوگا یا بیگم نے آواز دی ہوگی۔ کیونکہ مسٹر قادیانی بیگم سے بہت ڈرتا تھا۔ (مولف)

جیب کی اینٹ: ”آپ کے ایک بچے نے آپ کی واسکٹ کی جیب میں ایک بڑی اینٹ (روڑا) ڈال دی۔ آپ جب لیٹتے تو وہ چبھتی۔ کئی دنوں تک ایسا رہا۔ ایک دن آپ ایک خادم کو کہنے لگے کہ میری طبیعت خراب ہے اور پسلی میں درد ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چبھتی ہے۔ وہ حیران ہوا اور آپ کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا ہاتھ اینٹ پر جالگا۔ جیب سے اینٹ نکال لی۔ دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ چند روز ہوئے

صفحہ ٨٨

محمود نے میری جیب میں ڈالی تھی اور کہا تھا کہ اسے نکالنا نہیں۔ میں اس سے کھیلوں گا"۔ ("حضرت مسیح کے مختصر حالات" ملحقہ "براہین احمدیہ" طبع چہارم، ص ١٤)

مرزائیو! اسے پڑھو اور توبہ کر لو۔ ابھی وقت ہے، ابھی مہلت ہے۔ (ناقل)

تیل: "ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں آپ کی لڑکی عصمت ہی صرف ایسی تھی جو قادیان سے باہر پیدا ہوئی اور باہر ہی فوت ہوئی۔ اس کی پیدائش انبالہ چھاؤنی کی تھی اور فوت وہ لدھیانہ میں ہوئی۔ اسے ہیضہ ہوا تھا۔ اس لڑکی کو شربت پینے کی عادت پڑ گئی تھی۔ یعنی وہ شربت کو پسند کرتی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے لئے شربت کی بوتل ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ رات کو وہ اٹھتی تو کہتی ابا شربت پینا ہے۔ آپ فوراً اٹھ کر شربت بنا کر اسے پلا دیا کرتے تھے۔ ایک روز لدھیانہ میں اس نے اسی طرح رات کو اٹھ کر شربت مانگا۔ حضرت صاحب نے اسے شربت کی جگہ چنبیلی کا تیل پلا دیا، جس کی بوتل اتفاقاً شربت کی بوتل کے پاس ہی پڑی ہوئی تھی"۔ ("سیرت المہدی" حصہ سوم، ص ٥٩، مصنفہ

مرزا بشیر احمد قادیانی)

ہر قادیانی کے ساتھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ (مؤلف)

جوتے کی تلاش: "ایک مرتبہ آپ کا جوتا عجیب طرز سے گم ہوا جو ایک لطیفہ سے کم نہیں۔ دراصل آپ کے استغراق الی اللہ کی ایک مثال ہے۔ سردی کا موسم تھا۔ آپ نے چمڑے کے موزے پہنے ہوئے تھے۔ رات کو سونے لگے تو پاؤں سے جوتا نکالا۔ ایک جوتا تو نکل گیا، دوسرا پاؤں ہی میں رہا اور اس جوتے سمیت ہی تھوڑا بہت حصہ رات کا جو سوتے تھے، سوئے رہے۔ اٹھے تو جوتے کی تلاش۔ ادھر ادھر دیکھا تو پتہ نہیں چلتا۔ ایک پاؤں موجود تھا اور یہ خیال بھی نہ آیا کہ پاؤں میں رہ گیا ہوگا۔ خادم نے کہا شاید کتا لے گیا ہوگا۔ اس خیال سے وہ ادھر ادھر دیکھنے بھالنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد جو اتفاقاً پاؤں پر ہاتھ لگا تو معلوم ہوا کہ اوہو! وہ تو پاؤں میں ہی پھنسا ہوا ہے اور ہم خیال کرتے رہے کہ صرف جراب ہی ہے۔ خیر خادم کو آواز دی "جوتا مل گیا، پاؤں ہی میں رہ گیا تھا"۔

("حیات النبی" جلد ١-٢، ص ١٩١، مصنفہ شیخ یعقوب علی تراب)

صفحہ ٨٩
وہی جوتا سر پر برسایا جاتا تو شاید دماغی خلل درست ہو جاتا۔ (مولف)

بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا۔ انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت نے کہا نہیں یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں۔ سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر راکھ سے کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا"۔ (سیرت المہدی‘ ص ٢٣٥‘ حصہ اول‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

اور جو اسے نبی مانتے ہیں وہ بھی سر پہ راکھ ڈال کر بیٹھے ہوئے ہیں (مولف)

(جوتا) ہدیہ لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں۔ چنانچہ اس تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتا پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھانا کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا ہے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ٥٨‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

افیم کے کرشمے (مولف)

خیال سے قادیاں سے چلے۔ کلانور کے قریب ایک نالے سے گزرتے ہوئے مرزا صاحب کی جوتی کا ایک پاؤں نکل گیا۔ مگر اس وقت تک انہیں معلوم نہ ہوا جب تک وہاں سے بہت دور جا کر یاد نہیں کرایا گیا" (حیات النبی‘ جلد اول‘ ص ٥٨‘ مولفہ یعقوب علی قادیانی)

جوتا بھی ہنستا ہو گا (مولف)
صفحہ ٩٠

استعمال ہوتا تھا۔ مگر پاخانہ کے واسطے کوٹھے کے اوپر اور جگہیں بھی تھیں۔ پس اس نیچے والے کمرے کو حضور نے صاف کرایا اور اسے خوب دھویا گیا اور اس میں فرش کیا گیا دوپہر کے وقت دو یا تین گھنٹے کے قریب حضور بالکل علیحدہ اندر سے کنڈی لگا کر اس میں بیٹھے رہتے تھے“۔ (ذکر حبیب ص ١٣٤ از مفتی محمد صادق قادیانی) کیا کوئی صحیح الدماغ انسان ایسی حرکتیں کرتا ہے؟ لیٹرین سے زندگی بھر بڑی محبت رہی۔ اسی لیے زندگی کا آخری سانس بھی لیٹرین میں لینا پسند کیا۔ (مولف)

ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے“۔ (مضمون میاں محمود احمد۔ اخبار الفضل جلد ١٧ نمبر ٤ مورخہ ١٩ جولائی ١٩٢٩ء)

”افیم کا صدقہ جاریہ“ (مولف)

بشکل ایک پھلکا آپ کھاتے۔ اور جب آپ اٹھتے تو روٹی کے ٹکڑوں کا بہت سا چورہ آپ کے سامنے سے نکلتا۔ آپ کی عادت تھی کہ روٹی توڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے جاتے پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈال لیتے اور باقی ٹکڑے دسترخوان پر رکھے رہتے معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسا کیوں کرتے تھے مگر کئی دوست کہا کرتے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان روٹی کے ٹکڑوں میں سے کون سا تسبیح کرنے والا ہے اور کون سا نہیں۔ (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان، جلد ٢٢، نمبر ١٠٥، مورخہ ٣؍ مارچ ١٩٣٥ء)

مرزا قادیانی خود کو مرغا سمجھ کر اپنے لیے چورے کرتا جاتا ہوگا (مولف)

صفحہ ٩١

حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب مقدمہ گورداسپور کے ایام میں عدالت کے انتظار میں لب سڑک گورداسپور میں گھنٹوں تشریف فرما رہتے تو بسا اوقات لوگ خیال کرتے کہ آپ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ مگر آپ اکثر کسی اور خیال میں مستغرق ہوتے تھے۔ اور بعض اوقات مجلس میں بیٹھے ہوئے بھی مجلس سے جدا ہوتے تھے۔ (سیرت المہدی‘ حصہ

سوم‘ ص ٢٥٣‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

مقدمہ میں جھوٹا جو تھا اور سزا کے خوف سے یہ حالت بنی ہوگی (مولف)

حضرت خلیفہ اول کے بڑے لڑکے میاں عبدالحی مرحوم کا نکاح بہت چھوٹی عمر میں حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے پیر منظور محمد صاحب کی چھوٹی لڑکی (حامدہ بیگم) کے ساتھ کرا دیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہیں۔ اس پر علماء جماعت کی معرفت اس مسئلہ کی چھان بین ہوئی کہ رضاعت سے کس قدر دودھ پینا مراد ہے۔ اور کیا موجودہ صورت میں رضاعت ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ آخر تحقیقات کر کے اور مسئلہ پر غور کر کے یہ فیصلہ ہوا کہ واقعی یہ ہر دو رضاعی بہن بھائی ہیں۔ اور نکاح فسخ ہو گیا۔ (سیرت المہدی‘

حصہ سوم‘ ص ٦٣‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

پتہ تو ہوگا۔ لیکن دونوں طرف سے کمیشن بھی تو لینا تھی۔ یاد رہے مرزا قادیانی رشتے ناطے کروانے کا بھی کام کرتا تھا (مولف)

صاحب یا کوئی اور بزرگ مجلس میں کہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ جس بزرگ کی ضرورت ہوتی۔ خصوصاً جب حضرت مولوی نور الدین صاحب کی ضرورت ہوتی تو آپ فرمایا کرتے مولوی صاحب کو بلاؤ۔ حالانکہ اکثر وہ پاس ہی ہوتے تھے۔ (سیرت المہدی‘ حصہ سوم‘ ص ٥٦‘

مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اور کبھی کہتا ہوگا۔ مجھ کو بلاؤ۔ میں کہاں ہوں؟ (مولف)

صفحہ ٩٢

صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا۔ تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا۔ اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ بس پھر کیا تھا۔ میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد آیا کہ ایک دفعہ گھر میں میٹھی روٹیاں پکیں کیونکہ حضرت صاحب کو میٹھی روٹی پسند تھی۔ جب حضرت صاحب کھانے لگے تو آپ نے اس کا ذائقہ بدلا ہوا پایا۔ مگر آپ نے اس کا خیال نہ کیا کچھ اور کھانے پر حضرت صاحب نے کڑواہٹ محسوس کی۔ اور والدہ صاحبہ سے پوچھا۔ کہ یہ کیا بات ہے کہ روٹی کڑوی معلوم ہوتی ہے؟ والدہ صاحبہ نے پکانے والی سے پوچھا اس نے کہا میں نے تو میٹھا ڈالا تھا۔ والدہ صاحبہ نے پوچھا کہ کہاں سے لے کر ڈالا تھا؟ وہ برتن لاؤ۔ وہ عورت ایک ٹین کا ڈبہ اٹھا لائی دیکھا تو معلوم ہوا کہ کونین کا ڈبہ تھا۔ اور اس عورت نے جہالت سے بجائے میٹھے کے روٹیوں میں کونین ڈال دی۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ٢٤٤‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

معلوم ہوتا ہے کہ دماغی طور پر سارا گھر ہی معذور تھا (مولف)

حقیقی ماموں تھے۔ (جن کا نام مرزا جمعیت بیگ تھا) ان کے ہاں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوئے اور ان کے دماغ میں کچھ خلل آگیا تھا۔ لڑکے کا نام مرزا علی شیر تھا۔ اور لڑکی کا حرمت بی بی۔ لڑکی حضرت صاحب کے نکاح میں آئی۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص

٢٥٥‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

دو پاگلوں کا ملاپ (مولف)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر کا کام آخری زمانہ میں ٹیڑھے نب سے کیا کرتے تھے۔ اور بغیر خطوط کا سفید کاغذ استعمال فرماتے تھے۔ آپ کی عادت تھی کہ کاغذ لے کر اس کی دو جانب شکن ڈال لیتے تھے۔ تاکہ دونوں طرف سفید حاشیہ رہے اور آپ کالی روشنائی

صفحہ ٩٣

سے بھی لکھ لیتے تھے۔ اور بلیو بلیک سے بھی اور مٹی کا ٹیلہ سا بنوا کر اپنی دوات اس میں نصب کروا لیتے تھے تاکہ گرنے کا خطرہ نہ رہے۔ آپ بالعموم لکھتے ہوئے ٹہلتے بھی جاتے تھے یعنی ٹہلتے بھی جاتے تھے اور لکھتے بھی۔ اور دوات ایک جگہ رکھ دیتے تھے۔ جب اس کے پاس سے گزرتے۔ نب کو تر کر لیتے۔ اور لکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی تحریر کو پڑھتے بھی جاتے تھے۔ اور آپ کی عادت تھی کہ جب آپ اپنے طور پر پڑھتے تھے۔ تو آپ کے ہونٹوں سے گنگنانے کی آواز آتی تھی۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ٢٠‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

ایک مکمل پاگل کی مکمل نشانیاں موجود ہیں (مولف)

عقل کا نوحہ : ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لیے گرگابی ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں۔ چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتی پہنتے تھے۔ اس طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا ہے۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ٥٨‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

تم عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے (مولف)

ذکر غائب کے صیغہ میں فرماتے تھے حالانکہ وہ آپ کے ساتھ ساتھ جا رہا ہوتا تھا اور پھر کسی کے جتلانے پر آپ کو پتہ چلتا تھا کہ وہ شخص آپ کے ساتھ ہے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ٧٧‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

کیونکہ خود بھی ذہنی طور پر غائب رہتا تھا (مولف)

صفحہ ٩٤

گڑ اور وٹوانیاں: ”آپ کو (یعنی مرزا قادیانی) کو شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے“۔ (مرزا قادیانی کے حالات زندگی مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی تتمہ براہین احمدیہ جلد اول ص ٦٧)

اور یہ بات ضرب المثل کی طرح مشہور تھی کہ مرزا گڑ سے استنجا کر لیتا ہے اور وٹوانیاں منہ میں ڈال لیتا ہے (مولف)

ہوتے تھے۔ بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ٤٧ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

دماغ کے بٹن بھی ایسے ہی لگے ہوئے تھے (مولف)

دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کا مقدمہ تھا ایک دن حضرت صاحب کچہری کی طرف تشریف لے جانے لگے اور حسب معمول پہلے دعا کے لیے اس کمرہ میں گئے جو اس غرض کے لیے پہلے مخصوص کر لیا تھا۔ میں اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ باہر انتظار میں کھڑے تھے اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں اس وقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی۔ حضرت صاحب دعا کر کے باہر نکلے تو مولوی صاحب نے آپ کو چھڑی دی۔ حضرت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اسے دیکھا اور فرمایا کس کی چھڑی ہے؟ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ اچھا میں تو سمجھا تھا کہ یہ میری نہیں ہے۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ وہ چھڑی مدت سے آپ کے ہاتھ میں رہتی تھی“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ٢٤٥‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

کیسے بد نصیب ہیں وہ جو اسے رہنما مانتے ہیں (مولف)

صفحہ ٩٥

پیش آئی۔ اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ تھا۔ اس لیے حضرت صاحب اس چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے۔ مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری پھیرنے کی غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی جس سے بہت خون گیا۔ (سیرت المہدی حصہ دوم، ص ٤، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

کاش چھری اپنی گردن پہ پھیر لیتا (مولف)

زور ہے۔ دماغ بہت ضعیف ہو گیا ہے۔ آپ کے دوست ٹھاکر رام کے لیے ایک دن بھی توجہ کرنے کے لیے مجھے نہیں ملا۔ صحت کا منتظر ہوں۔

جو کبھی نہ ہوئی (مولف)

والسلام

(خاکسار غلام احمد مورخہ یکم جنوری ١٨٩٠ء)

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٢ مولفہ

یعقوب علی عرفانی قادیانی)

جوں جوں ضعف دماغ بڑھتا گیا توں توں نبوت کا جنون بھی بڑھتا گیا (مولف)

کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔

(خاکسار غلام احمد از صدر انبالہ احاطہ ناگ پھنی)

(مکتوب احمدیہ جلد پنجم نمبر ٣، ص ٣١، مجموعہ مکتوبات مرزا قادیانی)

تف ہے ان لوگوں پر جو اس تحریر کو پڑھ کر بھی تجھے نبی مانتے ہیں (مولف)

خلیفۃ المسیح الاول نے حضرت مسیح موعود سے فرمایا کہ حضور غلام نبی کو مراق ہے تو حضور نے فرمایا۔ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے اور مجھ کو بھی ہے۔ (سیرت المہدی، حصہ سوم، ص ٣٠٤، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

صفحہ ٩٦

لیکن مراق صرف جھوٹے نبیوں کے لیے ہوتا ہے (مولف)

کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوئے ہضم تھا۔ جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا۔ (رسالہ ریویو قادیان، ص ١٠ بابت اگست ١٩٢٦ء)

سارا فساد دماغ ہی کا تھا۔ دماغ درست ہو جاتا تو دعویٰ نبوت سے توبہ بھی کر لیتا (مولف)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا، ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک۔ (سیرت المہدی، حصہ دوم ص ٥٥، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

شیطان جب جسم میں داخل ہوتا ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ (مولف)

قادیانیو! یہ ہے تمہارے مرزا قادیانی کا دماغ — یہ ہے تمہارے مرزا قادیانی کا ذہن — یہ ہے تمہارے مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء — یہ ہے تمہارے مرزا قادیانی کی دماغی پرواز — مرزے کا دماغ عقل کا نوحہ ہے — مرزے کا ذہن خرد کا ماتم ہے — مرزے کی سوچ فہم و فراست کی موت ہے — اس کا حافظہ پاگل کا قہقہہ اور اس کی یادداشت پاگل کی چیخ ہے۔ اے گم کردہ راہ لوگو! اگر تم اپنی آنکھوں سے تعصب کی عینک اتار دو — اگر تم اپنے کانوں سے ہٹ دھرمی کی روئی نکال دو — اگر تم اپنے دماغوں کے قفل کھول دو — اگر تم اپنی سوچوں سے

صفحہ ٩٧

شیطان کے پہرے ہٹا لو۔۔۔۔۔۔ تو میں تم سے کچھ باتیں کرنا چاہوں گا۔

قادیانیو! بتاؤ

اگر تم وکیل ہو تو کیا تم ایسے شخص کو اپنا منشی رکھنا گوارا کرو گے؟

اگر تم ڈاکٹر ہو تو کیا تم ایسے بندے کو اپنا ڈسپنسر رکھنا قبول کرو گے؟

اگر تم افسر ہو تو کیا تم ایسے آدمی کو اپنا ڈرائیور رکھنا پسند کرو گے؟

اگر تم صاحب ثروت ہو تو کیا تم ایسے فرد کو اپنا باورچی رکھنا منظور کرو گے؟

اگر تم باپ ہو تو کیا ایسے انسان کو اپنے بچے کا استاد بننا مان لو گے؟

اگر تم محلے کی کمیٹی کے سربراہ ہو تو کیا تم ایسے شخص کو محلے کا چوکیدار بننا تسلیم کر لو گے؟

نہیں۔۔۔۔۔ قطعا نہیں۔۔۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔۔۔ اس لیے کہ اگر تم اسے اپنا منشی رکھو گے تو یہ فاتر العقل سول کورٹ کا کیس ہائی کورٹ میں، ہائی کورٹ کا کیس سیشن کورٹ میں، سیشن کورٹ کا کیس سپریم کورٹ میں اور سپریم کورٹ کا کیس کسی مجسٹریٹ کی عدالت میں لگا دے گا۔

اگر تم اسے اپنا ڈسپنسر رکھو گے تو یہ مخبوط الحواس بخار کے مریض کو یرقان کی دوائی اور یرقان کے مریض کو بواسیر کی دوائی دے گا۔

اگر تم اس افیم خور کو اپنا ڈرائیور رکھو گے تو یہ جھومتا جھامتا، سوتا جاگتا بہت جلد عزرائیل سے آپ کی ملاقات بمعہ اہل و عیال کرا دے گا۔

اگر تم اس مراق زدہ کو اپنا باورچی رکھو گے تو یہ تمہیں نمکین زردہ، میٹھا پلاؤ، مرچوں والا حلوہ اور کبھی خوشی میں آکر گنڈیریاں کریلے بھی کھلائے گا۔ اگر تم اس بے وقوف کو اپنے بچے کا استاد بناؤ گے۔ تو یہ افیم کی ایک گولی خود اور ایک بچے کو کھلائے گا۔ دونوں راکٹ بن کر فضا میں اڑیں گے اور زمین پر بیٹھ کر آسمان کی باتیں کریں گے۔

اگر تم اسے اپنے محلے کا چوکیدار بناؤ گے۔۔۔۔۔ تو یہ دشمن فہم و دانش جو ساری زندگی اپنے جوتوں کی چوکیداری نہ کر سکا لوگوں کے مال کی خاک چوکیداری کرے گا۔

صفحہ ٩٨

قادیانیو! تم اسے اپنا منشی بنانا قبول نہیں کرتے----- اسے باورچی رکھنا بھی منظور نہیں کرتے----- اسے اپنے بچے کا استاد بھی نہیں مانتے----- اسے اپنا ڈرائیور بنانا بھی گوارا نہیں کرتے----- اسے ڈسپنسر رکھنے کے لیے بھی تیار نہیں ----- اسے چوکیدار رکھنا بھی تسلیم نہیں کرتے-----!!!

لیکن----- ہائے تمہارا انتخاب----- تم نے اسے نبی مان لیا----- اپنا راہنما مان لیا----- مرزے کو نبی ماننا عقل کی توہین ہے----- اور تم اس دنیا میں سب سے بڑے فاتر العقل ہو-----

قادیانیو! خاتم النبین جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد جو بدبخت کسی نئے نبی کی تلاش میں نکلتا ہے تو شیطان اس کا رابطہ فوراً مرزا قادیانی سے کرا دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس بدبخت پر مہریں لگ جاتی ہیں۔ وہ آنکھیں تو رکھتا ہے۔ مگر دیکھتا نہیں----- اس کے پاس کان تو ہوتے ہیں لیکن وہ سنتا نہیں----- اس کا دماغ تو ہوتا ہے مگر سوچتا نہیں----- قدرت اسے یہ سزا انکار ختم نبوت کی وجہ سے دیتی ہے----- کیونکہ انکار ختم نبوت انکار قرآن ہے----- انکار ختم نبوت انکار احادیث ہے----- انکار ختم نبوت انکار کتب سماوی ہے----- انکار ختم نبوت اللہ کی حقانیت پر ہذیان ہے----- اور انکار ختم نبوت رسول اللہ پر بہتان ہے-----!!!

دیکھو گے برا حال محمدؐ کے عدو کا
منہ پر ہی گرا جس نے چاند پہ تھوکا
PDF 99

مسٹر

گالی گلوچ

گالی ساز، گالی باز اور گالی بار مرزا کا گالی نامہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب

ضلع شیخوپورہ

صفحہ ١٠٠

یورپ! جسے ایڈز کی بیماری کی جنم بھومی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ جہاں حیا سر پیٹتی اور شرافت نوحہ خواں ہے۔ جہاں شراب اور خنزیر کی حکمرانی ہے۔ جہاں کتا ہر گھر کا نہایت اہم فرد ہے۔ جہاں قانون کے حصار میں لواطت ہوتی ہے اور فاعل و مفعول معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ جہاں بہنوں کے بطنوں سے بھائیوں کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ جہاں انسانی اقدار کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ جس نے دنیا میں ”بوائے فرینڈز“ جیسا غلیظ رشتہ متعارف کرایا ہے۔ جس نے دنیا کو وائف ایکسچینج کلبوں سے آشنا کیا ہے۔ جہاں کے صلیب کے پجاریوں نے ہندوستان میں جھوٹی نبوت کی داغ بیل ڈالی۔ جو شاتمان رسولؐ کی پناہ گاہ ہے۔ جہاں لعین سلمان رشدی کو تحفظ ملتا ہے۔ جہاں ملعونہ تسلیمہ نسرین اپنے آقاؤں کی گود میں بیٹھ کر اللہ کے حبیبؐ اور اللہ کے دین پر ہرزہ سرائی کرتی ہے۔ جہاں مسیلمہ ثانی مرزا قادیانی کے جانشین، کذاب عصر مرزا طاہر کو جعلی نبوت کے لیے مرکز مہیا کیا جاتا ہے۔

یورپ کے اسی گندے معاشرے اور گندی تہذیب کے ایک فرد کے دل میں یہ شوق انگڑائی لیتا ہے کہ دنیا میں بکی جانے والی ساری گالیوں کو ایک جگہ اکٹھا کر دیا جائے۔ اپنے اس پاپی اور گلابی شوق کی تکمیل کے لیے وہ نگر نگر گیا، شہر شہر گھوما، ملک ملک کا سفر کیا، جنگلوں اور ریگستانوں میں رہنے والے قبائلیوں کے پاس گیا، خانہ بدوشوں سے ملاقات کی اور ایک لمبے عرصے کے بعد گالیوں کی ایک ضخیم کتاب مرتب کر ڈالی۔ راقم نے جب اس سفر نامہ کی تفصیل پڑھی تو مرتب کی عقل و خرد پر بڑا افسوس ہوا کہ بے چارے نے خواہ مخواہ ہزاروں میلوں کا سفر کیا۔ لاکھوں روپے کی

صفحہ ١٠١

خطیر رقم خرچ کر ڈالی۔ موسموں کی سختیاں برداشت کیں۔ گھر بار‘ عزیز و اقارب اور دوست احباب کو صدمہ جدائی دیا۔ گالیوں کے ماہرین کی منتیں سماجتیں کیں۔ اگر مرتب کو مرزا قادیانی اور اس کی تصانیف کے بارے میں معلوم ہوتا تو اسے ان کٹھن مراحل سے نہ گزرنا پڑتا۔ وہ کہیں سے مرزا قادیانی کی کتابوں کا سیٹ حاصل کرتا اور اپنے سٹڈی روم میں بیٹھ کر پندرہ بیس دنوں میں ساری کتابیں پڑھ جاتا اور جہاں جہاں گالیاں آتیں انہیں انڈر لائن کرتا جاتا اور بعد میں جب ان گالیوں کی ورائٹی کو اکٹھا کرتا تو موجودہ کتاب سے ضخیم کتاب اس کے ہاتھ میں ہوتی۔

اسے معلوم ہونا چاہیے تھا کہ جعلی نبی سب سے بڑا گالی ساز‘ گالی باز اور گالی بار ہوتا ہے۔ وہ پھکڑ بازی میں مہارت تامہ رکھتا ہے‘ وہ یاوہ گوئی میں ید طولیٰ رکھتا ہے‘ وہ بکواس دانی میں لاثانی ہوتا ہے‘ وہ فحش گوئی میں بے نظیر ہوتا ہے‘ وہ بدکلامی میں بے مثیل ہوتا ہے‘ یہ سارے اوصاف اسے شیطان کی طرف سے عطا کردہ معجزے ہوتے ہیں اور وہ ان ”معجزوں“ سے شریفوں کو عاجز کر دیتا ہے۔ مرزا قادیانی کے سامنے غلیظ گالیاں سیاہ لباس پہنے کنیزوں کی طرح لائن میں کھڑی ہوتیں اور وہ سر جھکائے مرزے کی زبان کے انتخاب کا انتظار کرتیں۔ حکم ملتے ہی گالی مرزے کی زبان پر ہوتی اور اگلے لمحے مرزا کی زبان کی لپلپی اسے حریف پر پھینک دیتی۔ مرزا قادیانی کی کتابوں میں گالیوں کے انبار یوں نظر آتے ہیں جیسے فلتھ ڈپوؤں پر گندگی کے انبار! جس طرح ان فلتھ ڈپوؤں سے گندگی کے انبار اٹھانے سے کارپوریشن کے ٹرک بھر جاتے ہیں‘ اسی طرح مرزا قادیانی کی کتابوں سے بھی گالیوں کے ٹرک بھرے جاسکتے ہیں۔ اب ہم آپ کی خدمت میں مرزا قادیانی کی قادیانی نبوت کی زبان سے نکلی ہوئی چند گالیاں بطور نمونہ پیش کرتے ہیں۔ آپ یہ عارفانہ‘ عاجزانہ‘ ملیحانہ‘ مشفقانہ اور شریفانہ کلام پڑھئے اور سوچئے کہ کیا کائنات میں کسی ماں نے اس سے بڑا گالی باز پیدا کیا ہے۔

حقیقت الوحی‘ ص ١٤‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

معلوم ہوتا ہے کہ تیرے رگ و ریشے میں گالیاں رچی بسی تھیں۔ (ناقل)

صفحہ ١٠٢

ص ١٤‘ مصنفہ مرزا قادیانی) نہیں مہر تیرے دل‘ تیرے دماغ‘ تیرے کانوں اور تیری آنکھوں پر لگی تھی۔ (ناقل)

لیں“۔ (چشمہ معرفت‘ ص ٤١‘ مصنفہ مرزا قادیانی) جیومیٹری کو خوب سمجھتا تھا۔ (ناقل)

کار کنجریوں کی اولاد‘ جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے‘ وہ مجھے قبول نہیں کرتے“۔ (آئینہ کمالات اسلام‘ ص ٥٤٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی) مرزا قادیانی! تیرا حقیقی بیٹا مرزا فضل احمد تجھ پر ایمان نہ لایا۔ اس لحاظ سے وہ بھی زنا کار اور کنجری کی اولاد ٹھہرا اور ذرا بتا‘ تو اور تیری بیوی کیا ٹھہرے؟

مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں“۔ (حیات احمد‘ جلد ١۔ ٢‘ ص ٢٥) لگتا ہے یہ مرزا قادیانی کی آپ بیتی ہے کیونکہ جھوٹے نبی سے لوگ ثبوت مانگتے ہوں گے۔ (ناقل)

اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔ اب تک اس کی عورت کے پیٹ سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا“۔ (ضمیمہ انجام آتھم‘ ص ٢٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی) لوگوں کے گھروں کی خبر رکھنے والے‘ کیا تجھے اپنے گھر کی خبر تھی؟

ع ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

معرفت‘ ص ٣١٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ ١٠٣

تو ہے کیا؟ پرائمری فیل انگریزی نبی!

اے بھیڑیئے، اے عورتوں کی عار ثنا اللہ، اے جنگلوں کے غول تجھ پر ویل" (اعجاز

احمدی، ص٨١، مصنفہ مرزا قادیانی)

ویسے تمہارا سانس کافی لمبا ہے۔ (ناقل)

O چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے
نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بے قراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط یار اس کی آہ و زاری ہے
دس سے کروا چکی ہے زنا لیکن پاک دامن ابھی بے چاری ہے
زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے

(آریہ دھرم، ص٧٦۔٧٧، مصنفہ مرزا قادیانی)

تمام قادیانی اپنے ہر جلسے میں نہایت ترنم کے ساتھ اسے مل کر گائیں۔

(ناقل)

نکالنے کے لیے چھوڑ دیا"۔ (آسمانی فیصلہ، ص١٤، مصنفہ مرزا قادیانی)

ویسے تیرے تو اس جملے کے منہ سے بھی جھاگ نکل رہی ہے۔ (ناقل)

نجاست خوری کا کیوں شوق ہو گیا"۔ (آسمانی فیصلہ، ص٣٢، مصنفہ مرزا قادیانی)

پھر تو تم نے ٹنوں کے حساب سے نجاست کھائی ہے۔ (ناقل)

———— وہ انسان کتوں سے بدتر ہوتا ہے کہ جو بے وجہ بھونکتا ہے"۔ (اعجاز

احمدی، ص٢٣، مصنفہ مرزا قادیانی)

موضع "مد" ضلع امرتسر کا ایک گاؤں تھا جہاں مولانا ثناء اللہ امرتسری اور قادیانیوں کے درمیان مباحثہ ہوا تھا۔ وہاں مولانا موصوف نے قادیانیوں کی خوب مرمت کی۔ مرزا قادیانی میدان کی اس شکست کا بدلہ گالیاں دے کر لے رہا ہے۔

صفحہ ١٠٤

(ناقل)

عصائے موسیٰ کو ایسا بھر دیا ہے جیسا کہ ایک نالی اور بدرو گندی کیچڑ سے بھر جاتی ہے یا جیسا کہ سنڈاس پاخانہ ہے۔"

(حاشیہ اربعین، نمبر ٤، ص ٢٧)

ویسے تیرے دماغ کا بھی یہی حال ہے۔

(ناقل)

بڑے غصہ سے بدن پر رعشہ تھا اور دہان مبارک سے خوب گالیاں دیتے تھےــــــ چند الفاظــــــ یہ ہیں۔ خبیث، سور، کتا، بدذات، گوں خور، ہم اس (ثناء اللہ) کو کبھی (جلسہ عام) میں نہ بولنے دیں گے۔ گدھے کی طرح لگام دے کر بٹھائیں گے اور گندگی اس کے منہ میں ڈالیں گے"۔

(الہامات مرزا، از ثناء اللہ حاشیہ ص ١٢٢)

لگتا ہے مولانا ثناء اللہ امرتسری کا پاؤں مرزا قادیانی کی دم پر آگیا تھا۔

(ناقل)

کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا، وہی عوام کالانعام کو پلایا"۔ (انجام آتھم، حاشیہ ص ٢١، مصنفہ مرزا قادیانی)

لگتا ہے دل میں گالیوں کا پلانٹ لگایا ہوا تھا۔

(ناقل)

ہیںــــــ یہ دل کے مجذوم اور اسلام کے دشمنــــــ دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لیے حق اور دیانت کی گواہی چھپاتے ہیں۔ اے مردار خوار مولویو! اور گندی روحو!ــــــ اے اندھیرے کے کیڑو (ضمیمہ انجام آتھم، حاشیہ ص ٢١، مصنفہ مرزا قادیانی)

گالیوں کا عالمی چیمپئن۔

(ناقل)

صفحہ ١٠٥

(ضمیمہ انجام آتھم، ص ٢٥، مصنفہ مرزا قادیانی) مولوی تیری جھوٹی نبوت کے چھکڑے کو چلنے جو نہ دیتے تھے۔ (ناقل)

جائیں گی------ اس دن------ نہایت صفائی سے (ان کی) ناک کٹ جائے گی اور رات کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے"۔ (ضمیمہ انجام آتھم، ص ٥٣، مصنفہ مرزا قادیانی) افسوس، صد افسوس! تیری محمدی بیگم کی پیشین گوئی پوری نہ ہوئی اور تیری پکوڑے جیسی موٹی ناک کٹ گئی۔ (ناقل)

بدذات، خبیث، دشمن اللہ اور رسول کے تو نے یہ یہودیانہ تحریف کی مگر تیرا جھوٹ اے نابکار پکڑا گیا"۔ (ضمیمہ انجام آتھم، ص ٥٠، مصنفہ مرزا قادیانی) شاید خود کو مخاطب کر کے کہہ رہے ہو۔ (ناقل)

---- اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں ہے"۔ (انوار الاسلام، ص ٣٠، مصنفہ مرزا قادیانی) ویسے تو نے اتنی گالیاں سیکھی کہاں سے تھیں؟ (ناقل)

والو! تم جھوٹ مت بولو اور نجاست مت کھاؤ جو عیسائیوں نے کھائی"۔ (ضمیمہ انجام آتھم، ص ٢١، مصنفہ مرزا قادیانی) اور عیسائیوں نے ہی تجھے نبی بنایا۔ (ناقل)

تو میں جھوٹا ہوں"۔ (تتمہ حقیقت الوحی، ص ٥، مصنفہ مرزا قادیانی)

پلی ہے مغربی تہذیب کے آغوش عشرت میں
نبوت بھی رسیلی ہے، پیغمبر بھی رسیلا ہے
صفحہ ١٠٦

(ناقل)

سعد اللہ ہے"۔ (ضمیمہ انجام آتھم، ص٥٦، مصنفہ مرزا قادیانی)

خدائی کا دعویٰ شیخ محمد بٹالوی اور سعد اللہ شاہ نے نہیں بلکہ تو نے کیا تھا۔ اس لیے فرعون اور ہامان تو ہے۔ (ناقل)

ایسی تیسی ہے۔" (اشتہار انعامی تین ہزار، حاشیہ ص٥)

محسوس ہوتا ہے مرزا قادیانی قمیض اتار کر لڑنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔

(ناقل)

نیش زن ہے۔ اے گولڑہ کی سرزمین تجھ پر لعنت، تو ملعون کے سبب، ملعون ہو گئی۔" (اعجاز احمدی، ص٧٥، مصنفہ مرزا قادیانی)

نہیں! قادیان کی زمین ملعون کے سبب، ملعون ہو گئی۔ (ناقل)

O مر گیا بدبخت اپنے وار سے کٹ گیا سر اپنی ہی تلوار سے
کھل گئی ساری حقیقت سیف کی کم کرو اب ناز اس مردار سے

(نزول المسیح، ص٢٤، مصنفہ مرزا قادیانی)

بدبودار انسان———— بدبودار شاعری (ناقل)

چوری کی ہے—— نہ صرف چور بلکہ کذاب بھی لعنت اللہ علی الکاذبین، رہا محمد حسن—— جس نے جھوٹ کی نجاست کھا کر وہی نجاست پیر صاحب کے منہ پر رکھ دی—— اس کے مردار کو چرا کر پیر مہر علی نے اپنی کتاب میں کھایا"۔ (نزول المسیح، حاشیہ ص٧٠۔٧١، مصنفہ مرزا قادیانی)

کیوں اپنی زبان سے اپنے وجود اور روح پر لعنت بھیج رہے ہو۔ (ناقل)

مکفر یا مکذب ہیں وہ تمام اس کامل لعنت مکالمہ الہیہ سے بے نصیب ہیں اور محض

صفحہ ١٠٧

یاوہ گو اور ژاژخا ہیں—— کذابین کے دلوں پر خدا کی لعنت ہے"۔ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم‘ ص١٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

تیرا منہ ہے یا لعنت کی توپ؟ (ناقل)

یہودیوں کے لیے خدا نے اس گدھے کی مثال لکھی ہے جس پر کتابیں لدی ہوں مگر یہ خالی گدھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو شخص ایسا سمجھتا ہے وہ گدھا ہے‘ نہ انسان"۔ (ضمیمہ انجام آتھم‘ ص٤٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

کہیں یہ کتابیں تم پر تو نہیں لدی تھی؟ (ناقل)

کسوف میں بھی ایک امر خارق عادت رکھا ہے"۔ (ضمیمہ انجام آتھم‘ ص٤٨‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ذرا یہ تو بتا‘ ٹٹی خانہ میں مرکر کس کا منہ کالا ہوا تھا۔ (ناقل)

ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے"۔ (ضمیمہ انجام آتھم‘ ص٥٢‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

آئینہ دیکھ کر بات کیا کرو۔ (ناقل)

یہودی سیرت مولوی سخت ذلیل ہوگئے"۔ (حاشیہ انجام آتھم‘ ص٤٤‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

پرائمری فیل تو تم تھے اور نالائق ہوگئے مولوی؟

ہیں"۔ (آئینہ کمالات اسلام‘ ص٣٠٤‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

چلو یہ عبارت پڑھنے سے تیرے خمیر کا تو پتہ چل گیا۔ (ناقل)

ہے"۔ (آئینہ کمالات اسلام‘ ص٥٩٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ ١٠٨

ساری دنیا نے دیکھا کہ مرض ہیضہ سے لیٹرین میں مرنے کے بعد تیرے منہ سے نجاست بہہ رہی تھی۔ (ناقل)

المسیح‘ ص٦٤‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

یعنی تیرے جیسا ہو جاتا ہے۔ (ناقل)

پردہ ڈال رہے ہیں اور وہ نہ صرف دروغ گو ہیں بلکہ سخت دروغ گو ہیں“۔ (نزول المسیح‘ ص٤٦‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

تو پھر آ جاتا نہ شاہی مسجد میں مقابلے کے لیے! (ناقل)

مصنفہ مرزا قادیانی)

یعنی تجھ جیسا۔ (ناقل)

قدر طمانچے کھا کر پھر سامنے آتے ہیں۔ (حاشیہ تتمہ حقیقت الوحی‘ ص١٤٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

کیوں اپنے منہ کا تعارف کرا رہے ہو۔ (ناقل)

ص١٥٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ابے اپنے چھوٹوں کا تو لحاظ کر۔ (ناقل)

مصنفہ مرزا قادیانی)

خود کلامی۔ (ناقل)

صرف ایک کیڑا۔ اے دروغ آراستہ کرنے والے“۔ (براہین احمدیہ‘ ص٨٥‘ ج٥‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ ١٠٩

آنکھیں تو ویسے آپ کی بھی تقریباً دونوں بند تھیں۔ (ناقل)

ثناء اللہ ہے“۔ (اعجاز احمدی‘ ص٣٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

لگتا ہے مولانا ثناء اللہ امرتسری تجھے خوابوں میں بھی ڈراتے تھے۔ (ناقل)

ہوگئے۔۔۔۔۔۔ ثناء اللہ جو ہوا و ہوس کا بیٹا تھا۔۔۔۔۔۔ حالانکہ ثناء اللہ کو علم و ہدایت سے ذرہ مس نہیں۔ پس تعجب ہے اس مچھر پر کہ کرگس بننا چاہتا ہے“۔ (اعجاز احمدی‘ ص٤٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

مچھر کرگس بنے تو تعجب اور تو نبی بنے تو کوئی تعجب نہیں۔ (ناقل)

اب ہم مرزا قادیانی کی گالیوں کی لغت آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جو حروف تہجی کے لحاظ سے آپ کے سامنے حاضر ہے۔ یاد رہے کہ ہم اس لغت کو آپ کی خدمت میں انتہائی مختصر کر کے پیش کر رہے ہیں۔ اگر ہم اختصار سے کام نہ لیتے تو ہم لکھتے لکھتے تھک جاتے اور آپ پڑھتے پڑھتے ٹوٹ جاتے۔ لہٰذا گھبرائیے نہیں‘ پڑھنا شروع کیجئے۔

(الف) اے زود رنج‘ اے بد قسمت بدگمانو‘ اے مردار خور مولویو‘ اندھیرے کے کیڑو‘ اندھے مولوی‘ اے اندھو‘ اے بدذات‘ اے خبیث‘ اے پلید دجال‘ ان احمقوں‘ اے نادانوں‘ آنکھوں کے اندھو‘ اسلام کے عار مولویو‘ احمق‘ اے نابکار‘ اے بدذات فرقہ مولویان‘ اعداء الاعداء‘ امام المتکبرین‘ اعمٰی‘ اغوٰی‘ انعام‘ استخواں فروش‘ اے بدبخت قوم‘ اے سست ایمانو‘ الو‘ ایہا الغوی‘ ایمان و دیانت سے عاری‘ اس فرومایہ‘ اے دیو‘ ان شریروں‘ آگ کے لادو ٹڈؤں‘ اے دروغ گو‘ ایہا الجہول‘ ابلہ‘ اے مردار‘ اے احمق‘ اسلام کے دشمنو‘ ابولہب‘ اے شریر مولویو‘ اسلام کے عار‘ امام الفتن‘ اول درجہ کا متکبر‘ انسانوں سے بدتر اور پلید تر‘ اسلام کے دشمن‘ اسلام کے بدنام کرنے والے‘ اے بدبخت مفتریو‘ اے ظالم مولویو‘ ایہا المکذبون الضالون‘ اے شیخ احمقان‘ ایہا الشیخ الضال‘ اے بد قسمت انسان‘ اول درجہ کے کاذب‘ اے اس زمانہ کے ننگ اسلام مولویو‘ اے کوتاہ نظر مولوی‘ اے نفسانی مولویو‘ اے خشک

صفحہ ١١٠

مولویو، اے اندھے، اے دیوانہ، اے دروغ آراستہ کرنے والے، اے غبی، اے مسکین انسانیت کے پیرایہ سے بے بہرہ اور برہنہ، اکڑ باز، اے بے ایمانو۔

مولویوں، بیوقوف اندھے، بے ایمان، بدذات، بے نصیب، بدگوہر، بیوقوفوں، بندروں، باطل پرست بطالوی، بطال، بدذات مولوی، بیہودہ بدقسمت انسان، بدقسمت ایڈیٹر، بے حیا، بدمعاش، بدگو، بدکار آدمی، برہنہ، بھیڑیئے، بچھو، بے شرم، بالکل جاہل، بالکل بے بہرہ، بداطوار، بخیل، بدخلق، بے ایمانو، بے عزتوں، بخیل طبع مولویوں، بدبخت، بڑا خبیث، بخیلوں، بدبخت جھوٹوں، بیراہ، بے خوف۔

پلید آدمی، پاگل، پربدعت زاہدو، پلیدوں۔

اندھا ہو جاتا ہے، تو ملعون، تجھ پر ویل، تکبر کا کیڑا، تمہاری ایسی تیسی ہے، تکفیر کا بانی، تقویٰ و دیانت سے دور، تزویر و تلبیس۔

پلایا گیا ہے۔

جاہل، جارخوی، جاہلین، جانور، جاہل مخالف، جنگلوں کے غول، جلدباز مولویوں، جھوٹوں، جاہل اخبار نویس، جھوٹ کا گوہ کھایا، جاہلوں، جھوٹ بولنے کا سرغنہ۔

کے جنگل کے شیطان، حرص کی وجہ سے مکار، حلال زادہ نہیں، حاطب اللیل، حق کے مخالف۔

صفحہ ١١١

خون پسند، خیانت پیشہ، خبیث طینت، خبیث فرقہ، خناسوں، خسیس ابن خسیس، خراب عورتوں کی نسل، خبیث النفس، خبیث القلب، خشک دماغ، خدا کا ان مولویوں پر غضب ہوگا، خسرالدنیا والآخرہ، خبیث فطرت۔

و دانش، دجال، دشمن دین مولوی، دروغ گو، دیوانہ، دنیا کے کیڑے، دلوں کے اندھو، دروغ گو مخبر، دروغی اختیار کرنے والا، دیو، درندوں، دابتہ الارض، دنیا کے کتے، دشمن حق، دجال اکبر، دشنام دہ، دل کے اندھے، دجال کے ہمراہی، دیوثون، دنیا پرست مولوی، دین فروش، دیوانہ، درندوں، درندہ طبع، دجال فربہ، دروغ آراستہ کرنے والے، دل کے اندھے، دجال کمینہ۔

اندر غرق۔

کی اولاد، رئیس المتکبرین، رسول اللہ کے دشمن، روحانیت سے بے بہرہ۔

اسلام مولویو، زیادہ بدبخت۔

سفیہوں کا نطفہ، سخت دل ظالم، سادہ لوح، سانپوں، سفلی مخلوقات، سخت جاہل، سخت نادان، سخت نالائق، سفلہ دشمن، سفلہ دشمنوں، سفیہ سخت دل مولویو، سخت ذلیل، سخت دروغ گو، سست ایمانو، سواد الوجہ فی الدارین، سڑے گلے مردہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ تعریف کی جا رہی ہے۔ معاذ اللہ) سخت بدذات، سخت بے باک، سودائی، سخت دل قوم۔

الضال، شیطان، شقی شغال، شیطنت کی بدبو، شیخ نامہ سیاہ، شریر، شیخ مضل، شیخ مزور، شیخی باز، شریروں، شرر، بھیڑیئے، شرابیوں، شیخ چلی کے بڑے بھائی، شریر مولویو، شیخ

صفحہ ١١٢

شقی بٹالوی‘ شیخ الضالہ‘ شیخ چالباز‘ شیاطین‘ شریر النفس‘ شریر پنڈت۔

کے عار‘ عدو اللہ‘ عبدالحق کا منہ کالا‘ علم اور وراثت اور عفتہ سے سخت بے بہرہ۔

ناپاک سکھو‘ غزنویوں کی جماعت پر لعنت۔

فریبی آدمی‘ فرومایہ‘ فتنہ انگیز مولوی۔

کذاب‘ کیڑا‘ کینہ پرور کمینگی‘ کم سمجھ‘ کج دل‘ کمینوں‘ کمینہ‘ کمینہ طبع‘ کتوں‘ کاذب۔

گدھوں‘ گندہ زبان‘ گرگ‘ گرگس‘ گندہ پانی‘ گمراہی کے جنگل کے شیطان‘ گمراہ۔

منحوس چہروں‘ مفتریوں‘ منافق مولوی‘ مولویان خشک‘ متکبرین‘ مجرمین‘ ملعونین‘ مخنثون‘ معلم الملکوت‘ مفتری‘ مردار‘ ملعون‘ مفسد‘ متعصب نادان‘ مفتری نابکار‘ متعفن‘ مسکین‘ مار سیرت‘ مضل جماعت‘ مچھر‘ مٹی سیاہ‘ مردک‘ متعصب‘ متکبر مولویوں‘ مضل‘ مزور‘ مگس طینت مولویوں‘ مخبط الحواس‘ مردہ پرست‘ مردار‘ مکار‘ مخذول۔ موٹی سمجھ‘

صفحہ ١١٣

مولوی انسانوں سے بدتر اور پلید‘ مخالفوں کا منہ کالا‘ مولویوں کا منہ کالا‘ مولوی سخت ذلیل‘ مکذبون‘ منحوس‘ مغرور‘ معمولی انسان‘ مجنون دجال‘ محجوب مولوی۔

نااہل مولویوں‘ ناسمجھ‘ نابکار‘ نادان‘ نابینا علماء‘ نادان بٹالوی‘ نالائق مولویوں‘ نفاق زدہ مولوی‘ نالائق نذیر حسین‘ نیم ملا‘ ننگ اسلام مولویو‘ نجاست خور‘ نفسانی مولویو‘ نالائق‘ نادان مولویو‘ نادانوں‘ ناقص الفہم‘ نابکاروں‘ نیم عیسائیو‘ ناخدا ترس‘ نادان ہند و زادہ‘ نہایت پلید طبع‘ ناسعادت مند شاگرد محمد حسین‘ نابینا‘ نذیر حسین خشک معلم‘ نادان صحافی‘ نادان قوم‘ ناقص العقل چیلوں‘ نالائق چیلوں‘ نادان غبی‘ ناپاک فرقہ‘ نادان پادریوں‘ نالائق متعصب۔

بیٹا‘ واشی‘ وا لغبی المخذول‘ ولدالحرام‘ ولدا لحلال نہیں‘ واہ رے شیخ چلی کے بڑے بھائی‘ وحشی فرقہ‘ والدجال ابطال۔

ہیجڑے‘ ہیچمدان۔

نادان خون پسند‘ یہ لوگ حیوانات‘ یہودی‘ یا شیخ الضلالہ‘ یک چشم مولویوں‘ یاجوج یہ اندھے مولوی‘ یہ جہلاء‘ یہودیت کا خمیر‘ یہ دل کے مجذوم‘ یہ سب مولوی جاہل‘ یہ شریر مولوی‘ یہ سیاہ دل‘ یہ جاہل یہ منافق مولوی‘ یا غول البراری۔

جب اتنی گالیاں بکنے کے باوجود مرزا قادیانی کا ابلتا ہوا دل ٹھنڈا نہ ہوا تو وہ ایک دن شیطانی جوش میں کاغذوں کا دستہ اور اپنا بدمعاش قلم لے کر بیٹھا اور لعنت‘ لعنت لکھنا شروع کی۔ قلم کے منہ سے نکلتے زہر سے کاغذ پر لعنت ہی لعنت بکھرتی گئی۔ کئی پہر لکھنے کے بعد گالیوں کے عالمی چمپیئن مرزا قادیانی نے ایک ہزار لعنت مکمل کر دی۔ مزے کی بات یہ کہ ہر لعنت کے اوپر اس کا نمبر بھی ڈالتا گیا۔ گویا اس نے لعنت کا رجسٹریشن آفس قائم کر رکھا تھا۔ ملاحظہ فرمائیے!

صفحہ ١١٤

اے مرزا قادیانی! اگر اپنے مخالفوں پر لعنت بھیجنا تیرے لیے اتنا ہی ضروری تھا تو تو خوامخواہ اتنے پہروں قلم کو گھسیٹتا اور دماغ کو پیٹتا رہا اور پھر کہیں جا کر ہزار مرتبہ لعنت مرتب کی۔ تجھ سے سمجھ دار تو وہ خاکروب عورتیں ہیں، جو کبھی آپس میں جھگڑ پڑتی ہیں تو فوراً ایک دوسری کو کہتی ہے ”جا تیرے تے لکھ لعنت“ اور پھر اگلے لمحے جھاڑو پھیرنے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ یعنی انتہائی مختصر وقت میں اتنی بڑی لعنت ڈال کر فارغ ہو جاتی ہے اور تو صرف ایک ہزار لعنت ڈالنے میں اتنا وقت صرف کرتا رہا۔ ہٹ تیرے کی!

اتنی گالیاں بکنے کے باوجود، اتنی غلاظت اگلنے کے باوجود مجسمہ اخلاق بھی بنتا تھا اور پیکر پارسائی بھی کہلواتا تھا۔ وہ معلم اخلاق بھی بنتا تھا اور اپنی زبان سے پند و نصائح بھی جاری رکھتا تھا۔ لیکن اخلاق و مروت پر اس کا لیکچر جھاڑنا ایسے ہی تھا جیسے کوئی رنڈی عصمت نسواں پر تقریر کرے۔ جیسے چنگیز خان رحم دلی پر درس دے۔ جیسے ابوجہل حقانیت اسلام پر دلائل دے اور جیسے راجپال ناموس رسولؐ پر خطابت کے جوہر دکھائے۔

اللہ رے اسیری بلبل کا اہتمام
صیاد عطر مل کے چلا ہے گلاب کا

اب اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کے چند اقوال ملاحظہ فرمائیے۔

مسیحی“ ص ٩، مصنفہ مرزا قادیانی)

ویسے تو نے اپنے اخلاق رذیلہ خوب دکھلائے ہیں۔ (ناقل)

ہوتا“۔ (”ازالہ“ ص ٦٦٠، مصنفہ مرزا قادیانی)

تم نے زندیقیت کے منصب پر بیٹھ کر یہ کام خوب نبھایا۔ (ناقل)

انتہا تک پہنچانا۔ کیا اس عادت کو خدا پسند کرتا ہے یا اس کو شیوۂ شرفا کہہ سکتے ہیں؟

صفحہ ١١٥

(”آسمانی فیصلہ“ ص ٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی) ایسا کرنا شیوۂ بدمعاشاں ہے اور تم خوب بدمعاش ٹھہرے‘ جس کی زبان زہرناک سے خدا اور نبی کریم بھی محفوظ نہ رہے۔ (ناقل)

فیصلہ“ ص ١٠‘ مصنفہ مرزا قادیانی) تمہارے منہ پر ساری زندگی تلخی کے سوا رہا ہی کیا ہے؟ (ناقل)

اور گالیوں کے بدلے گالیاں دینا نہیں چاہتا اور نہ کچھ کہنا چاہتا ہوں“۔ (”آسمانی فیصلہ“ ص ٣٢٥‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

شیطان اس کو دیکھ کر کہتا تھا رشک سے
بازی یہ مجھ سے لے گیا تقدیر دیکھئے

(ناقل)

ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے“۔ (”ازالہ“ جلد اول‘ ص ٦‘ مصنفہ مرزا قادیانی) گالی کو گالی نظر نہیں آتی۔ (ناقل)

گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے“۔ طریق شرافت کے مبلغ! کسی کی ماں بہن تو تیری زبان سے محفوظ نہ رہی۔

(ناقل)

بدتر ہر ایک بد سے ہے جو بدزبان ہے
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے

(”درثمین“ اردو ص ١٧‘ از مرزا قادیانی)

بہت خوب اپنا تعارف خود ہی کرا دیا۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
صفحہ ١١٦

(ناقل)

ص ٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ع تیرے ہر قول سے پناہ تیرے ہر فعل سے اماں۔ (ناقل)

بدذات آدمیوں کا کام ہے۔ ("آریہ دھرم" ص ٦٤‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اس تعریف کی رو سے تم کیا ٹھہرے؟ خود ہی بتاؤ۔ (ناقل)

گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے

("دافع الوساوس" ص ٢٢٥ مصنفہ مرزا قادیانی)

شاید تمہاری لغت میں گالی کو دعا اور دعا کو گالی کہتے ہیں۔ (ناقل)

گالی کا نرمی سے جواب دو۔ ("نسیم دعوت" ص ٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اور خود تمہارے نفس نے ساری زندگی تم پر سواری کی۔ (ناقل)

مرزا قادیانی)

"سفلوں" اور "کمینوں" کی جگہ اگر اپنا نام لکھ دیتے تو زیادہ وضاحت ہو جاتی۔ (ناقل)

اب ایک اور پہلو پر نظر ڈالیے۔

بھی گالی دوں گا"۔ ("حجۃ اللہ" ص ٩٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

پہلے کون سی کسر اٹھا رکھی ہے تو نے مسٹر گالی گلوچ! (ناقل)

سے پہلے خود بدزبانی میں سبقت کی ہو"۔ ("تتمہ حقیقت الوحی" ص ٢١‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

چلو شکر ہے تم نے اپنی بدزبانی کو قبول تو کیا ہے۔ (ناقل)

صفحہ ١١٧

اب ایک اور پہلو پر نگاہ ڈالیے۔

احمدیہ" ج ٥‘ ص ١١‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

"لکھ دی لعنت" (ناقل)

پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں۔ کیونکہ جب میں عربی اردو میں لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔ ("نزول المسیح" ص ٥٦‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

"در فٹے منہ" (ناقل)

ہے"۔ ("نزول المسیح حاشیہ" ص ٢‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

کبھی تو شرم کر لیا کر اے بے حیا! (ناقل)

نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔ ("خطبہ الہامیہ" ص ١٧١‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

کبھی تو نے آئینہ میں اپنی شکل دیکھی تھی۔ تیری شکل دیکھ کر مجید لاہوری کا وہ شعر یاد آتا ہے۔

خرس کا سر‘ شکل بندر کی‘ منہ خنزیر کا
ایک پہلو یہ بھی ہے انسان کی تصویر کا (ناقل)

مسلمانو! اگر یہ شخص صرف گالی باز ہوتا تو ہم اس سے صرف نظر کر جاتے۔ اگر یہ صرف فحش گو اور بدگو ہوتا تو ہم اس کی بدگوئی کو سنی ان سنی کر دیتے۔ اگر یہ کسی دنیاوی لالچ میں کوئی محفل سجا کر وہاں بکواس بازی اور پھکڑ بازی کرتا تو شاید ہم ان زہرناک باتوں کا کوئی نوٹس نہ لیتے۔ لیکن مسئلہ نازک یہ ہے کہ یہ شخص مدعی نبوت ہے۔— اپنی نبوت کو محمدیؐ نبوت کہتا ہے (نعوذ باللہ) اپنے وجود کو وجود محمدؐ کہتا ہے۔ (نعوذ باللہ)— اپنی صورت کو صورت محمدؐ قرار دیتا ہے (نعوذ باللہ)— اپنی بکواسیات والی زبان کو زبانِ محمدیؐ کہتا ہے (نعوذ باللہ)— اپنی لغو باتوں کو احادیث

صفحہ ١١٨

محمدؐ کہتا ہے (نعوذ باللہ)—— اپنے خود ساختہ مذہب کو اسلام کا نام دیتا ہے (نعوذ باللہ)—— خاتم النبین فداہ ابی و امی کے تخت ختم نبوت پر بیٹھنے کی ناپاک جسارت کرتا ہے (نعوذ باللہ)—— تاج ختم نبوت اپنے غلیظ سر پر رکھنے کی غلیظ جسارت کرتا ہے (نعوذ باللہ)—— ختم نبوت کی خلعت فاخرہ اپنے ارتدادی جسم پر پہننے کی ارتدادی جسارت کرتا ہے۔ (نعوذ باللہ)—— یہ سب کچھ ہمارے پیارے آقاؐ کی نبوت پر ایک وحشت ناک حملہ ہے۔—— جو دین اسلام کے سارے نظام کو تہہ و بالا کر دیتا ہے۔—— یہ جعلی نبی اسلام کی نمائندگی کر کے ساری دنیا میں اسلام کو رسوا کر دیتا ہے۔————

اس لیے مسلمانو! اس شخص اور اس کے فتنہ کا راستہ روکنا ہر مسلمان کا اولین فرض ہے۔—— اور اس فرض سے غفلت کائنات کا بدترین گناہ ہے۔—— اس فرض سے غفلت اللہ اور اس کے پیارے حبیب جناب محمد مصطفیٰ فداہ روحی و جسدی سے اعلان لاتعلقی کے مترادف ہے۔——

مسلمانو! آؤ اپنے آپ کو اس جہاد کی صفوں میں کھڑا کر کے شفاعت محمدیؐ کو اپنی جانب متوجہ کریں۔—— اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک مضبوط تعلق پیدا کر لیں۔—— کیونکہ یہی عظیم تعلق ہماری اول و آخر پہچان ہے۔——

رشتہ نہ جو قائم ہو محمدؐ سے وفا کا
پھر جینا بھی برباد ہے مرنا بھی اکارت

صاحبو! حضرت یوسف علیہ السلام کے دور میں مصر میں قحط پڑا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی حکمت و دانائی سے غلہ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ محفوظ کر رکھا تھا۔ جب بھوکے لوگوں کی صدا بلند ہوئی تو حضرت یوسف علیہ السلام نے ملک بھر میں اعلان کرا دیا کہ جسے غلہ کی ضرورت ہو، وہ میرے ذخیرے سے مفت غلہ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ روح افزا اعلان سنتے ہی لوگ حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف چل دیے۔ جو بھی سائل آتا، جناب یوسف علیہ السلام ایک پیمانے سے ماپ ماپ کر سب کو غلہ دیتے اور خالی دامن جھولیاں بھر کے خوشی خوشی واپس لوٹتے۔ یہ سلسلہ عنایت جاری تھا کہ ایک شخص آیا اور آکر غلہ طلب کیا۔ جناب یوسف علیہ السلام نے اسے پیمانے سے ناپ کر غلہ دے دیا۔ غلہ لینے کے بعد اجنبی نے مزید غلہ کا سوال کیا۔ حضرت

صفحہ ١١٩

یوسف علیہ السلام نے اسے کہا کہ تمہیں تمہارا حصہ مل چکا۔ اجنبی نے حضرت یوسف علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

”اے یوسف! اگر میں تجھے بتا دوں کہ میں کون ہوں تو تو مجھے یہ سارا غلہ دے دے“۔

”بھائی تو کون ہے؟“ حضرت یوسف علیہ السلام نے پوچھا۔

”اے یوسف! میں وہ بچہ ہوں جس نے پنگوڑے میں تیری گواہی دی تھی، جب زلیخا نے تجھ پر الزام لگایا تھا“۔ اجنبی نے جواب دیا۔

یوسف علیہ السلام خوشی سے جھوم اٹھے اور اپنے کارندوں سے کہا ”اس کے لیے گودام کے سارے دروازے کھول دو اور یہ جو کچھ لے جانا چاہے لے جانے دو“۔

جب یوسف علیہ السلام نے یہ بات کہی تو اللہ پاک نے فوراً جبرائیل امین کو وحی دے کر بھیج دیا کہ جاؤ میرے یوسف سے کہہ دو کہ یوسف جو تیری گواہی دے تو خوش ہو کر اسے غلے کا سارا ذخیرہ دینے کے لیے تیار ہے اور جو مجھ اللہ تعالیٰ کی گواہی دے میں خوش ہو کر اسے کس کس انعام سے نوازوں گا“۔

ساتھیو! ایک قحط یوسف علیہ السلام کے دور میں پڑا تھا اور ایک قحط حشر کے میدان میں پڑے گا۔۔۔ یہ قحط یوسف علیہ السلام کے قحط سے اربوں گنا زیادہ بڑا ہوگا۔۔۔ وہاں شدید بھوک ہوگی۔۔۔ بڑی شدید پیاس ہوگی۔۔۔ شدت بھوک سے انسان اپنا گوشت کہنیوں تک کھا جائیں گے۔۔۔ پورے میدان حشر میں العطش العطش کی صدا ہوگی۔۔۔ زبانیں سوکھ کر کانٹا بن جائیں گی۔۔۔ وہاں کوئی شدت بھوک اور شدت پیاس سے مر بھی نہ سکے گا۔۔۔ مصر کے قحط میں تقسیم کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام ہیں اور اس قحط میں تقسیم کے لیے حوض کوثر پر تاجدار ختم نبوت جناب محمد رسول اللہ ہوں گے۔۔۔ مصر کے قحط میں جو یوسف علیہ السلام کی گواہی دے، اس کے لیے سب کچھ حاضر ہے۔۔۔ اور اس قحط میں جس نے تاجدار ختم نبوت کی اس دنیا میں ختم نبوت کی گواہی دی ہوگی، اس کے لیے کیسے کیسے انعامات حاضر ہوں گے؟

صفحہ ١٢٠

اگر اللہ کے نبی جناب یوسف علیہ السلام اپنی گواہی دینے والے پر اتنے احسانات کی بارش کرتے ہیں تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کی گواہی دینے والے پر سرور کون و مکان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احسانات کا معیار کیا ہوگا۔

آقائے نامدار ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں حوض کوثر پر بیٹھوں گا اور جام کوثر تقسیم کروں گا اور جو کوئی میرے حوض کوثر سے ایک جام پی لے گا، دوبارہ اسے پیاس نہیں لگے گی۔

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ حشر کے روز اللہ تعالیٰ مجھے منصب شفاعت پر فائز کرے گا۔ میں جس کی شفاعت کروں گا، اللہ پاک اسے قبول کرے گا۔ جس خوش قسمت کو پروانہ شفاعت مل جائے گا، اسے پروانہ جنت مل جائے گا، جہاں جنت کی نعمتیں اس کے لیے چشم براہ ہوں گی۔ انشاء اللہ ان دو عظیم جگہوں پر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ختم نبوت کے پروانوں یعنی ختم نبوت کے گواہوں کو ضرور پہچانیں گے اور ان کی مہمانداری کریں گے۔

صاحبو! آؤ ہم بھی ختم نبوت کی گواہی دیں۔—— ختم نبوت کی منادی کریں۔—— اپنے گھر میں—— اپنے محلہ میں—— اپنے گاؤں میں—— اپنی بستی میں—— اپنے قصبہ میں—— اپنے شہر میں—— اپنے ملک میں—— سارے ملکوں میں—— سارے عالم میں کیونکہ یہ بڑے اعزاز کا کام ہے۔ یہ بڑا اعلیٰ و ارفع کام ہے کیونکہ——

اللہ تعالیٰ خود ختم نبوت کا گواہ ہے۔—— ہر نبی ختم نبوت کا گواہ ہے۔—— ہر رسول ختم نبوت کا گواہ ہے۔—— ہر آسمانی کتاب ختم نبوت کی گواہ ہے۔—— ہر صحابی ختم نبوت کا گواہ ہے۔—— ہر مومن ختم نبوت کا گواہ ہے۔——

ساتھیو! آؤ ہم بھی گواہی دیں۔—— اپنی زبان سے—— اپنے قلم سے—— اپنے مال سے—— اپنی اولاد سے—— اور کبھی میدان جہاد میں شہادت کی سرخ قبا

صفحہ ١٢١

پہن کر اپنے خون سے یہ گواہی دے دیں—

لکھتا ہوں خون دل سے یہ الفاظ احمریں
بعد از رسول ہاشمی کوئی نبی نہیں
PDF 122

LAW

مُجرم

اعتراف جرم

کرتا ہے!

صفحہ ١٢٣

میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ مسلمان کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا جبکہ مرزا قادیانی مدعی نبوت ہے۔ اس لیے مرزا قادیانی کافر ہے۔

اس کی یہ بات سن کر قادیانی شکاری میٹھی میٹھی ہنسی ہنستے ہیں اور منہ بنا بنا کر بڑے ملائم لہجے میں اسے کہتے ہیں کہ بھائی۔۔۔۔ توبہ توبہ ۔۔۔۔ مرزا قادیانی نے قطعاً نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہم اسے نبی مانتے ہیں۔ ہم تو مرزا قادیانی کو ایک ”بزرگ“ اور ”پیر“ مانتے ہیں۔ جس طرح آپ لوگوں کے بزرگ اور پیر ہوتے ہیں۔ اسی طرح مرزا قادیانی ہمارا بزرگ اور پیر ہے۔ جس طرح آپ اپنے بزرگ کی بیعت کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی اپنے بزرگ مرزا قادیانی کی بیعت کرتے ہیں۔

وہ مسلمان کہتا ہے کہ آپ نے مسلمانوں سے الگ اپنی ایک جماعت بنا رکھی ہے۔ جواباً قادیانی شکاری کہتے ہیں کہ ہماری مسلمانوں سے الگ کوئی جماعت نہیں۔ جس طرح آپ کے ہاں مختلف سلسلے ہیں جیسے سلسلہ قادریہ‘ سلسلہ نقشبندیہ‘ سلسلہ سہروردیہ‘ سلسلہ چشتیہ وغیرہم۔ اسی طرح ہمارا بھی سلسلہ ہے جسے ”سلسلہ احمدیہ“ کہتے ہیں۔

اکثر مسلمان ان کی باتوں سے مطمئن ہو جاتے ہیں اور ان گستاخان رسولؐ سے ان کی نفرت کا لاوا کچھ ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور قادیانی مسلم معاشرے میں اپنے لیے کچھ جگہ بنا لیتے ہیں۔

لیکن مسلمانو! یہ قادیانیوں کا بہت بڑا فراڈ ہے۔۔۔۔ مرزا قادیانی مدعی نبوت ہے اور اس نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ سینکڑوں مرتبہ اعلان نبوت کیا ہے۔ ہمارے پاس اس کے بین ثبوت موجود ہیں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ یہ نکتہ بھی یہاں بتاتا جاؤں کہ مرزا قادیانی کا بزرگ ہونا تو بڑی دور کی بات ہے‘ مرزا قادیانی کو مسلمان ماننا بھی کفر ہے۔ اب ہم آپ کی خدمت میں بطور ثبوت مرزا قادیانی کے چند حوالے پیش کرتے ہیں۔ جن میں اس نے کھلم کھلا اپنی نبوت کا اعلان کیا ہے۔

صفحہ ١٢٤

سے ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو، دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور ان ہی امور کی کثرت کی وجہ سے میرا نام نبی رکھا گیا ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے، تو میں کیوں کر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو دنیا سے گزر جاؤں۔"

(مرزا قادیانی کا خط، مورخہ ٢٣ مئی بنام اخبار عام لاہور، "حقیقتہ النبوت" ص

٢٧٠-٢٧١)

ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے، وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے.........ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔"

("ایک غلطی کا ازالہ" ص ٢، "روحانی خزائن" ص ٢٠٦، ج ١٨، مصنفہ مرزا

قادیانی)

پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جب کہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کردوں....یا اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔"

("ایک غلطی کا ازالہ" روحانی خزائن" ص ٢١٠، ج ١٨، مصنفہ مرزا قادیانی)

ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے...... لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں، وہ نہیں مانتے"۔

("چشمہ معرفت" ص ٣١٧، روحانی خزائن" ص ٣٣٢، ج ٢٣، مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ ١٢٥

ہیں جن کی یہ تائید کی گئی ۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں، وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے"۔

(”تتمہ حقیقتہ الوحی“ ص ١٣٨، ”روحانی خزائن“ ص ٥٨٧، ج ٢٢، مصنفہ مرزا

قادیانی)

مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔"

(”تتمہ حقیقۃ الوحی“ ص ٦٨، ”روحانی خزائن“ ص ٥٠٣، ج ٢٢ مصنفہ مرزا قادیانی)

تک طاعون دنیا میں رہے گا، گو ستر برس تک رہے، قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لیے نشان ہے۔... سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔"

(”دافع البلا“ ص ١٠۔١١، ”روحانی خزائن“ ص ٢٣٠، ٢٣١، ج ١٨ مصنفہ مرزا

قادیانی)

نے جو دعویٰ کیا ہے، اس کی سچائی کے دلائل کیا ہیں۔ مرزا صاحب نے فرمایا میں کوئی نیا نبی نہیں۔ مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں۔...... جن دلائل سے کوئی سچا نبی مانا جاسکتا ہے وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔ میں بھی منہاج نبوت پر آیا ہوں۔"

(اخبار ”الحکم“ قادیان، مورخہ ١٠ اپریل ١٩٠٨ء ”ملفوظات“ ص ٢١٧، ج ١٠، منقول

از اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ٢٢، نمبر ٨٥، مورخہ ١٥ جنوری ١٩٣٥ء)

ہو۔"

(اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ١٨، نمبر ٧، ص ٧، مورخہ ١٥ جولائی ١٩٣٠ء)

صفحہ ١٢٦

اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں..... اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا..... جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا“۔

(”حقیقت الوحی“ ص ٣٩١، ”روحانی خزائن“ ص ٤٠٧-٤٠٦‘ ج ٢٢‘ مصنفہ مرزا

قادیانی)

ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی ہے، جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے‘ وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا“۔

(”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ٦، ”روحانی خزائن“ ص ٢١٠‘ ج ١٨‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

جیسا کہ قرآن شریف اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں“۔

(”حقیقتہ الوحی“ ص ٢١١‘ روحانی خزائن“ ص ٢٢٠‘ ج ٢٢‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ہوں کہ تورات اور انجیل اور قرآن مقدس پر ایمان رکھتا ہوں“۔

(”تبلیغ رسالت“ جلد ہشتم‘ ص ٦٤‘ اشتہار مورخہ ٤ اکتوبر ١٨٩٩ء مجموعہ اشتہارات‘

ص ١٥٢ ج ٣)

(”اربعین“ نمبر ٤‘ ص ٢٥‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

مرتبہ بلحاظ کلام الٰہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور تورات اور انجیل کا“۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ٢٢‘ نمبر ٨٤‘ مورخہ ١٣ جنوری ١٩٣٥ء)

صفحہ ١٢٧

(”منکرین خلافت کا انجام“ ص ٤٩‘ مصنفہ جلال الدین قادیانی)

دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(”اعجاز احمدی“ ص ٣٠‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٤٠‘ ج ١٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“

(”تحفہ گولڑویہ“ ص ١٠‘ ”روحانی خزائن“ حاشیہ ص ٥١‘ جلد ١٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا‘ وہی صاحب شریعت ہو گیا..... میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی“۔

تجدید ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے‘ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا.... اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے“۔

(”حاشیہ اربعین“ نمبر ٤‘ ص ٧‘ ٨ ”روحانی خزائن“ ص ٤٣٥‘ ج ١٧‘ حاشیہ‘

مصنفہ مرزا قادیانی)

میں اس کو اس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز میں بیٹھ گیا لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا‘ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اس کے پاس نہیں“۔

صفحہ ١٢٨

(”دافع البلاء“ ص ١٣، ”روحانی خزائن“ ص ٢٣٣، ج ١٨ مصنفہ مرزا قادیانی)

جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں، اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔ اب اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنے کا وقت ہے یعنی جمالی طور کی خدمات کے ایام ہیں اور اخلاقی کمالات کے ظاہر کرنے کا زمانہ ہے"۔

(”اربعین نمبر ٤“ ص ١٧، ”روحانی خزائن“ ص ٤٢٥، ج ١٧، مصنفہ مرزا قادیانی)

ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کیے جاویں، سو وہ میں ہوں۔"

(”براہین احمدیہ“ ص ١٠١، ٩٨ ”روحانی خزائن“ ص ١١٧، ج ٢١، مصنفہ مرزا قادیانی)

اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے"۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد نمبر ٩ ص ٢٧)

فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی"۔

(آئینہ کمالات اسلام، ص ٥٤٧، مصنفہ مرزا قادیانی)

اور حلال زادہ نہیں"۔

(انوار اسلام، ص ٣٠، مصنفہ مرزا قادیانی)

مندرجہ بالا مثالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ:

صفحہ ١٢٩

باللہ)

ہیں۔ (نعوذ باللہ)

(نعوذ باللہ)

کی صورت میں دکھا دیا۔ (نعوذ باللہ)

قادیانیو! ہم نے بڑی جانفشانی سے مرزا قادیانی کو مدعی نبوت ثابت کر دیا۔۔۔ اس کی انگریزی نبوت کا سارا ڈھانچہ تمہاری آنکھوں کے سامنے بکھیر دیا۔ مجرم کی زبان و قلم سے اعتراف جرم کروا دیا۔

اگر اب بھی تم آنکھیں نہ کھولو۔۔۔ اب بھی تم ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہ آؤ۔۔۔ تو تمہیں جہنم کے گڑھے میں گرنے سے کون روک سکتا ہے۔

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا
PDF 130

مرزا قادیانی

کا

بچپن

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوة

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون 2329

صفحہ ١٣١

ایک دن میرے دل کے آنگن میں اک عجب خواہش نے انگڑائی لی کہ مرزا قادیانی کی شخصیت میں کوئی خوبی تلاش کی جائے۔ یہ منہ زور خواہش ایسے ہی تھی جیسے ابوجہل کے دل میں ایمان کی روشنی تلاش کی جائے، جیسے کیکر کے درخت کی شاخوں پر سیب ڈھونڈے جائیں۔ جیسے دہکتے انگاروں سے ٹھنڈک حاصل کرنے کی تمنا کی جائے، جیسے گیدڑ کے سینے میں شیر کا دل تلاش کیا جائے۔

میں نے مرزا قادیانی کی جوانی کا مطالعہ کیا تھا۔ اس کی ادھیڑ عمری کو ملاحظہ کیا تھا، اس کے بڑھاپے کو پڑھا تھا اور اس کے سیاپے پر بھی مطالعاتی نظر ڈالی تھی۔ اس کی جوانی ابلیس کا شباب تھا، اس کا ادھیڑ پن گناہوں کی غلاظت کی پوٹ تھی۔ اس کا بڑھاپا شراب اور عورتوں سے رنگین و سنگین تھا اور اس کا سیاپا ساری کائنات کے لیے نمونہ عبرت تھا۔ مجھے مرزا قادیانی کے بچپن کا مطالعہ کرنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ پھر ایک دن میں نے اپنی لائبریری سے کتابیں نکالیں اور اس کے بچپن کو عمیق نگاہوں سے پڑھنا شروع کر دیا۔ مطالعہ کے بعد میری انگلی دانتوں میں دب کے رہ گئی اور میں بے ساختہ پکار اٹھا کہ یہ شخص تو پوتڑوں کا بگڑا ہوا تھا۔ میں نے کیا پڑھا؟ میں نے کیا دیکھا؟ آپ بھی پڑھئے۔ آپ بھی دیکھئے!!!!

پیدائش : "یہ عاجز (مرزا قادیانی) بروز جمعہ چاند کی چودھویں تاریخ کو بوقت صبح پیدا ہوا۔ ("تریاق القلوب" ص ١٥٧ مصنفہ مرزا قادیانی)

تعارف کی کیا ضرورت تھی۔ شکل ہی سب کچھ بتا رہی ہے۔ (مولف)

کیسے پیدا ہوا : "میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام جنت تھا۔ اور پہلے وہ لڑکی پیٹ سے باہر نکلی تھی اور بعد میں اس کے میں نکلا تھا اور میرا سر اس کے پاؤں میں تھا۔" ("تریاق القلوب" ص ٣٧٩ مصنفہ مرزا قادیانی)

دنیا میں انوکھی پیدائش----- گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام آنا

صفحہ ١٣٢

چاہیے۔۔۔۔۔ پیدا ہوا تو ماں کو مصیبت۔۔۔۔۔ پیدا ہونے کے بعد مسلمانوں کو مصیبت۔۔۔۔۔ اور مرنے پر موت کے فرشتوں کو ٹٹی خانہ میں مارنے کی مصیبت!!! مصیبت ہی مصیبت!!!!

سندھی : ”والدہ صاحبہ نے فرمایا ایک دفعہ چند بوڑھی عورتیں وہاں سے آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا کہ سندھی ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ میں سندھی کا مفہوم نہ سمجھ سکی۔ آخر معلوم ہوا کہ سندھی سے مراد حضرت صاحب ہیں“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ اول‘ ص ٤٥‘ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

سندھی نہیں سونڈی ہوگا اور سونڈی بھی انگریزی۔۔۔۔۔ جو انگریز نے اسلام کی فصل تباہ کرنے کے لیے تیار کی تھی۔۔۔ (مولف)

دسوندی : ”والدین نے بچپن میں مرزا قادیانی کا نام دسوندی رکھا تھا“۔ (”تکذیب براہین احمدیہ“ ص ١٣٧ بحوالہ رئیس قادیان‘ جلد اول‘ ص ١‘ مصنفہ مولانا رفیق دلاوری)

لاجواب نام۔۔۔۔۔۔۔ لاجواب کام۔۔۔۔۔۔ (مولف)

سیاحت : ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میں والدہ کے ساتھ ہوشیار پور جاتے تھے تو چوہوں میں پھرا کرتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ضلع ہوشیار پور میں کئی برساتی نالے ہیں جن میں بارش کے وقت پانی بہتا ہے۔ ان نالوں کو پنجابی میں چوہ کہتے ہیں“۔ (”حیات النبی“ مرتبہ یعقوب علی تراب مرزائی‘ جلد اول‘ ص ١٤٨)

بچپن میں چوہوں میں پھرتا رہا اور بڑا ہو کر چوہوں کی طرح شجر اسلام کی جڑوں کو کترتا رہا۔۔۔۔۔ (مولف)

شکاری : ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں گاؤں سے باہر ایک کنوئیں پر بیٹھا لاسا بنا رہا تھا کہ اس وقت مجھے کسی چیز کی ضرورت محسوس ہوئی جو گھر سے لانی تھی۔ میرے پاس ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا۔

صفحہ ١٣٣

میں نے اسے کہا کہ میں تمہاری بکریاں چراؤں گا اور تم مجھے یہ چیز لا دو۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ لاسا ایک لیس دار چیز ہوتی ہے جو بعض درختوں کے دودھ وغیرہ سے تیار کی جاتی ہے اور جانور پکڑنے کے کام آتی ہے"۔ ("سیرت المہدی" حصہ اول، ص ٢٥، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی)

اور بڑا ہو کر مرزائیت کے "لاسے" سے انسانوں کو پکڑنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔

(مولف)

چڑی مار : "بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ہماری دادی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم اپنی والدہ کے ساتھ بچپن میں کئی دفعہ ایمہ گئے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کر لیتے تھے"۔ ("سیرت المہدی" حصہ اول، ص ٤٥، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

بڑے ہو کر یہی سرکنڈا قرآن و حدیث کے گلے پر چلا دیا۔۔۔۔۔۔ (مولف)

نمک اور چینی : "بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر آیا اور بغیر کسی کے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ بس پھر کیا تھا میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا"۔ ("سیرت المہدی" حصہ اول، ص ٢٤٤، مولفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

نمک اور چینی کی چوری سے چوری کی ابتداء کی اور نبوت چوری کرنے پر انتہا کی۔۔۔۔۔۔ (مولف)

چور : "بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانے میں حضرت مسیح موعود تمہارے دادا کی پنشن مبلغ ٧٠٠ روپے وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو آپ کو پھسلا کر اور دھوکا

صفحہ ١٣٤

دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور جگہ چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے گھر واپس نہیں آئے“۔ (”سیرت المہدی“ جلد اول‘ ص ٣٥ - ٤٣‘ مولفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

آج سے سوا سو سال پہلے کا ٧٠٠ روپیہ آج کے ٧ لاکھ سے بھی زیادہ بنتا تھا۔ پنشن کی اتنی رقم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دراصل مرزا قادیانی کا باپ مرزا غلام مرتضیٰ انگریزوں کا بہت بڑا ایجنٹ تھا۔ اسے ملت اسلامیہ سے غداری کے عوض انگریزوں سے تجوریاں بھر بھر کے رقم ملتی تھی۔ مرزا قادیانی نے باپ سے کہا ہوگا کہ اگر انگریز کی رقم پر تیرا حق ہے تو میرا بھی ہے اور وہ باپ کی اتنی خطیر رقم لے کر بھاگ گیا اور ایک لمبی عیاشی کرنے کے بعد گھر واپس آیا اور نام امام الدین کا لگا دیا۔۔۔۔۔۔۔(مولف)

روٹی اور راکھ : ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا۔ انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ دیا کہ یہ لے لو۔ حضرت نے کہا یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی۔ حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں۔ سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر راکھ سے کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا“۔ (”سیرت المہدی“ ص ٢٤٥‘ حصہ اول‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد)

کیا اس وقت پاگل خانہ موجود نہیں تھا؟۔۔۔۔۔۔۔(مولف)

استاد : ”آپ (مرزا) فرمایا کرتے تھے میرا ایک استاد تھا جو افیم کھایا کرتا تھا۔ وہ حقہ لے کر بیٹھا رہتا تھا۔ کئی دفعہ پینک میں اس سے حقہ کی چلم ٹوٹ جاتی۔ ایسے استاد نے پڑھانا کیا تھا“۔ (اخبار ”الفضل“ ٢٩ - ٢ - ٥)

باکمال استاد۔۔۔۔۔۔۔ باکمال شاگرد۔۔۔۔۔۔۔(مولف)

چھپڑ کا تیراک : ”پھر فرمایا کہ بچپن میں اتنا تیرنا تھا کہ ایک وقت میں ساری

صفحہ ١٣٥

قادیان کے ارد گرد تیر جاتا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ برسات کے موسم میں قادیان کے ارد گرد اتنا پانی جمع ہوتا ہے کہ قادیان ایک جزیرہ بن جاتا ہے“۔ ("سیرت المہدی"

جلد اول، ص ٢٧٦، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اب پتہ چلا۔۔۔ ساری عمر تجھے خارش کیوں لگی رہی۔۔۔۔۔ بچپن میں گندے پانی میں جو نہاتا تھا۔۔۔۔۔(مولف)

بچ گیا: ”اسی ڈھاب میں تیرتے تیرتے مرزا صاحب ایک دفعہ ڈوب بھی چلے تھے“۔

("سیرت المہدی" حصہ اول، ص ٢٧١، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

کاش ڈوب جاتا اور ہزاروں لوگ دریائے ارتداد میں ڈوبنے سے بچ جاتے۔۔۔۔۔(مولف)

لوٹا: ”لالہ بھیم سین وکیل سیالکوٹ کا بیان ہے کہ جب میں اور مرزا غلام احمد بٹالہ میں پڑھا کرتے تھے تو ان کی عادت تھی کہ مٹی کا ایک لوٹا (سبوچہ گلی) پانی سے بھرواتے اور دو لڑکوں سے کہتے کہ اسے ہاتھ میں ایک ایک انگلی سے اٹھائے رہو۔ لڑکے انگلیوں کے سہارے لوٹے کو تھام رکھتے۔ اس کے بعد مرزا صاحب کیمیا کے نسخوں کی دوائیں جدا کاغذ کے پرزوں پر لکھ کر گولیاں بناتے اور ایک ایک گولی اس لوٹے میں ڈالتے جاتے اور ساتھ ہی کوئی اسم پڑھتے جاتے تھے۔ جس گولی کی نوبت پر لوٹا گھوم جاتا تھا، اس گولی کا نسخہ پڑھ کر علیحدہ رکھ لیتے تھے اور پھر اس نسخہ کا تجربہ کرتے تھے لیکن کیمیا گری میں کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا“۔ (”چودھویں صدی کا مسیح“ مطبوعہ امرتسر، طبع ١٣٢٤ھ، ص ١١)

لوٹا گھماتے گھماتے شیطان نے اس کے دماغ کا لوٹا بھی گھما دیا۔۔۔۔۔۔

(مولف)

شعبدہ بازی: ”مولوی محمد حسین بٹالوی اور مرزا قادیانی بٹالہ میں ہم سبق تھے۔ ایک مرتبہ مولوی محمد حسین، مرزا غلام احمد اور چند لڑکے رات کے وقت قصبہ بٹالہ سے باہر کھیتوں میں قضائے حاجت کے لیے گئے۔ گرمی کا موسم تھا۔ جگنو (کرمک شب تاب) اڑ رہے تھے۔ رفع حاجت کے وقت ایک جگنو مرزا غلام احمد کے گریبان میں آگیا۔

صفحہ ١٣٦

مرزا صاحب نے اسے ہاتھ میں دبا لیا۔ جب سب لڑکے جمع ہوئے تو غلام احمد صاحب نے ہم جولیوں سے کہا ”دیکھو میرے پیرہن کے نیچے درخشاں چیز کیا ہے؟ اور کہا اگر اسی طرح کوئی شعبدہ کیا جائے تو لوگوں کو پھانسا جا سکتا ہے یا نہیں“۔ (”رئیس

قادیان“ ص ١٦‘ مولفہ مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری)

شروع سے ہی طبیعت میں مداری پن پایا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔ (مولف)

گھر سے بھاگ گیا: مرزا محمود احمد کہتا ہے

”اور ایسا ہوا کہ ان دنوں میں آپ گھر والوں کے طعنوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے لیے قادیان سے باہر چلے گئے اور سیالکوٹ جا کر رہائش اختیار کر لی اور گزارہ کے لیے ضلع کچہری میں ملازمت بھی کر لی“۔ (”تحفہ شہزادہ ویلز“ ص ٣٤١‘ بحوالہ

رئیس قادیان)

کس بات کے طعنے؟ آوارہ گردی کے؟ سکول سے بھاگ جانے کے؟ نشہ کرنے کے؟ باپ کی رقم خردبرد کرنے کے؟ اہل محلہ کی شکایتوں کے؟ کچھ وضاحت کی ہوتی۔۔۔۔ کچھ وجوہات بتائی ہوتیں۔۔۔۔ چلئے چھوڑیئے۔۔۔۔۔ شاید کوئی ایسی حیا باختہ اور شرمناک وجہ ہو۔۔۔۔ جو ذکر کرنے کے قابل نہ ہو۔۔۔۔۔۔ (مولف)

جوتی نکل گئی: ”ایک مرتبہ مرزا صاحب اور سید محمد علی شاہ تلاش روزگار کے

خیال سے قادیان سے چلے۔ کلانور کے قریب ایک نالے سے گزرتے ہوئے مرزا صاحب کی جوتی کا ایک پاؤں نکل گیا مگر اس وقت تک انہیں معلوم نہ ہوا جب تک وہاں سے بہت دور جا کر یاد نہیں کرایا گیا“۔ (”حیات النبی“ جلد اول‘ ص ٥٨‘ مولفہ

یعقوب علی قادیانی)

معلوم ہوتا ہے کہ افیم بچپن سے ہی شروع کر دی تھی۔۔۔۔۔۔ (مولف)

محترم قارئین! میں نے آپ کے سامنے انگریزی نبی مرزا قادیانی کی زندگی کے چند واقعات پیش کیے ہیں۔ اب میں چند اولیائے کرام کے بچپن کے واقعات آپ کے مطالعے کی نذر کرتا ہوں۔

حضرت سید شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو ان کی والدہ محترمہ نے بچپن میں جب

صفحہ ١٣٧

تحصیل علم کے لیے بغداد روانہ کیا تو ان کی ضروریات کے لیے چالیس اشرفیاں ان کی آستین میں سی دیں۔ رخصت کرتے ہوئے بیٹے کو نصیحت کی، ”بیٹا! ہمیشہ سچ بولنا چاہیے، کیسا ہی وقت آ پڑے“۔

حضرت شیخ قافلے کے ساتھ بغداد روانہ ہو گئے۔ راستے میں ایک مقام پر ڈاکوؤں نے قافلے پر دھاوا بول دیا۔ تمام مسافروں سے رقوم اور قیمتی اشیاء چھین لیں۔ ایک ڈاکو حضرت شیخ کے پاس آیا اور کہنے لگا، ”اے بچے! تیرے پاس بھی کچھ ہے؟“

”ہاں میرے پاس چالیس اشرفیاں ہیں“۔ حضرت شیخ نے جواب دیا۔

”کہاں رکھی ہیں؟“ ڈاکو نے پوچھا۔

”میرے کرتے کی آستین میں سلی ہوئی ہیں“۔ حضرت شیخ نے جواب دیا۔

ڈاکو نے جب آپ کے کرتے کی آستین کو پھاڑا تو وہاں سے واقعی پوری چالیس اشرفیاں نکلیں۔ ڈاکو حیران رہ گیا۔ اس نے حیرت زدہ ہو کر حضرت شیخ سے کہا کہ ”بچے اگر تم مجھے نہ بتاتے تو تمہاری یہ اشرفیاں محفوظ رہ سکتی تھیں۔ تم نے مجھے کیوں بتایا؟“

”گھر سے چلتے ہوئے میری اماں جی نے کہا تھا، بیٹا جھوٹ نہ بولنا“۔ حضرت شیخ نے جواب دیا۔

ڈاکو شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ وہ آپ کو لے کر اپنے سردار کے پاس گیا اور ساری کہانی سنائی۔ اپنی گناہ آلود زندگی اور آپ کے حسن کردار سے ڈاکو سخت نادم ہوئے اور ڈاکہ زنی سے تائب ہو گئے۔

حضرت غوث الاعظم سیدنا عبد القادر جیلانیؒ کی والدہ محترمہ بھی طریقت میں بہرۂ کامل رکھتی تھیں۔ ان کا بیان ہے کہ میرا بچہ عبد القادر رمضان المبارک میں دن کے وقت دودھ نہیں پیا کرتا تھا۔ انہی ایام رضاعت میں ایک سال ہلال عید کی رویت میں بڑی دشواری پیش آئی۔ لوگ دن بھر میرے پاس آ آ کر دریافت کرتے رہے کہ آج صبح سے تمہارے بچہ نے دودھ پیا ہے یا نہیں؟ میں انہیں جواب دیتی رہی کہ نہیں پیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج روزہ کا دن ہے۔ چنانچہ بعد میں اس

صفحہ ١٣٨

تواتر کے ساتھ اس دن روزہ ہونے کی خبریں آئیں کہ عبد القادر کے رمضان میں دودھ نہ پینے کا گھر گھر چرچا ہونے لگا۔ (طبقات الکبریٰ‘ امام عبد الوہاب شعرانیؒ جلد اول‘

ص ١٠٨)

جب حضرت سلطان العارفین بایزید بسطامیؒ شکم مادر میں تھے تو اسی وقت سے ان کی کرامتیں ظاہر ہونے لگی تھیں۔ آپ کی والدہ محترمہ فرماتی ہیں کہ جب میں کوئی ایسا نوالہ منہ میں رکھتی تھی کہ اس میں کسی طرح کا شبہ ہوتا تھا تو بایزیدؒ میرے شکم میں تڑپنے لگتے اور جب تک میں اس لقمہ کو منہ سے نہ نکال ڈالتی‘ قرار نہ پکڑتے۔ اور جب سفیان ثوریؒ شکم مادر میں تھے تو ان کی مادر محترمہ کوٹھے پر تشریف لے گئیں۔ وہاں ہمسایہ کی ترشی سے ایک انگلی بھر کر چاٹ لی۔ سفیانؒ پیٹ میں بے چین ہو گئے اور شکم میں اس قدر سر دے دے مارا کہ ان کی والدہ تاڑ گئیں اور جھٹ پڑوسن کے پاس جا کر اس کی معافی مانگی۔

ایک دن ایک خوش الحان قاری نے حضرت فضیل بن عیاضؒ کے سامنے خوش آوازی سے قرآن پڑھا۔ آپ نے فرمایا کہ میرے گھر کی طرف جاتے ہوئے میرے بیٹے کو بھی قرآن سناتے جانا لیکن کوئی ایسی سورت نہ پڑھنا جس میں قیامت کا تذکرہ ہو۔ کیونکہ میرا فرزند قیامت کا ذکر سننے کی تاب نہیں لا سکتا۔ سوء اتفاق سے قاری نے سورۃ القارعہ پڑھ دی۔ اس پاک ذات بچے نے چیخ ماری اور جان بحق تسلیم ہوا۔ (تذکرۃ الاولیا)

امام عبد الوہاب شعرانیؒ نے ”طبقات الکبریٰ“ میں لکھا ہے کہ عارف باللہ محمد وفا رحمتہ اللہ نے ایام طفلی میں کہ ان کی عمر دس سال سے بھی کم تھی‘ متعدد کتابیں تصنیف فرمائیں۔ (”طبقات الکبریٰ“ جلد ٢‘ ص ٦)

ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید اور اس کی ملکہ زبیدہ خاتون میں کچھ رنجش ہوئی اور زبیدہ خاتون کے منہ سے نکل گیا ”اے دوزخی!“ ہارون رشید غضبناک ہو کر کہنے لگا اگر میں دوزخی ہوں تو تجھے طلاق ہے اور اسی وقت ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے لیکن چونکہ خلیفہ کو زبیدہ خاتون سے انتہا درجہ کی محبت تھی‘ اس کی جدائی میں سخت بے چین ہوا۔ آخر اس مشکل کا حل تجویز کرنے کے لیے دار الخلافہ کے تمام علماء

صفحہ ١٣٩

کو جمع کیا اور صورت حال پیش کی۔ تمام علماء اس کا جواب دینے سے قاصر رہے اور بالاتفاق کہنے لگے کہ خدائے علام الغیوب کے سوا کوئی نہیں جان سکتا کہ خلیفہ ہارون دوزخی ہے یا بہشتی۔ علماء کی جماعت میں سے ایک لڑکا باہر نکل کر کہنے لگا کہ اگر حکم ہو تو میں جواب دوں۔ لوگ حیرت زدہ ہو کر کہنے لگے لڑکے! شاید تو دیوانہ ہے۔ بھلا جب تمام نامی گرامی علماء جواب دینے سے عاجز ہیں تو تیری کیا بساط ہے؟ خلیفہ نے اس لڑکے کو دیکھ لیا اور اپنے پاس بلا کر کہا ہاں تم جواب دو۔ لڑکے نے کہ حضرت امام شافعیؒ تھے کہا امیر المومنین! آپ کو میری احتیاج ہے یا مجھے آپ کی؟ خلیفہ نے کہا مجھ کو تمہاری ضرورت ہے۔ یہ سن کر لڑکے نے فرمایا کہ آپ تخت سے نیچے اتر آئیے۔ کیونکہ علماء کا رتبہ بلند تر ہے۔ خلیفہ نے انہیں تخت پر بٹھایا اور خود تخت سے نیچے اتر آیا۔ لڑکے نے کہا پہلے میرے ایک سوال کا جواب دیجئے۔ خلیفہ نے کہا اچھا پوچھو۔ لڑکے نے کہا کیا آپ کبھی قدرت رکھنے کے باوجود کسی گناہ سے محض خوف خدا سے باز رہے ہیں؟ خلیفہ نے کہا ہاں بے شک! یہ سن کر امام شافعیؒ نے فرمایا میں فتویٰ دیتا ہوں کہ آپ جنتی ہیں۔ تمام علماء یکبارگی پکار اٹھے کس دلیل سے؟ امام شافعیؒ نے فرمایا حق تعالیٰ کا ارشاد ہے و اما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوی فان الجنته ھی الماویٰ (جس شخص نے گناہ کا قصد کیا اور پھر خشیت الٰہی نے اس کو اس گناہ سے باز رکھا تو اس کا ملجا و ماویٰ جنت ہے) یہ سن کر تمام علماء عش عش کرنے لگے اور کہا کہ جس شخص کا لڑکپن میں یہ حال ہے، نہیں معلوم کہ بڑا ہو کر کس عظمت کا مالک ہوگا۔ (تذکرۃ الاولیاء)

حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمتہ اللہ نے فرمایا ہے کہ میں اس وقت کے تمام حالات بھی جانتا ہوں جب کہ میں ہنوز شکم مادر میں تھا اور فرمایا میں تین برس کا تھا جب کہ میں اپنے ماموں محمد بن سوارؒ کے ساتھ نماز تہجد پڑھا کرتا تھا۔ وہ مجھ کو اپنے ساتھ جاگتے اور نماز پڑھتے دیکھ کر فرمایا کرتے اے سہل سو جا! کیونکہ میرا دل تیری وجہ سے مشوش ہوتا ہے۔

اسی طرح حضرت ابوبکر وراقؒ کا ایک فرزند مکتب جایا کرتا تھا۔ ایک دن انہوں نے دیکھا کہ رو رہا ہے اور اس کے چہرے کا رنگ فق ہے۔ پوچھا بیٹا! کیا ہوا؟ کہا آج

صفحہ ١٤٠

استاد نے ایک آیت پڑھائی ہے جس کی وجہ سے میرا دل سخت بے چین ہے۔ پوچھا وہ کون سی آیت ہے کہا یوما یجعل الولدان شیبا (وہ ایسا دن ہوگا جب کہ لڑکے بھی بوڑھے ہو جائیں گے) غرض وہ لڑکا اس آیت کے خوف سے بیمار رہ کر جان بحق ہو گیا۔

حضرت جنید بغدادیؒ لڑکپن سے محبت الٰہی سے معمور باادب اور صاحب فراست تھے۔ ایک روز مکتب سے گھر آئے تو باپ کو روتے دیکھ کر پوچھا اباجان! رونے کا کیا سبب ہے۔ انہوں نے کہا ”آج مال کی زکوٰۃ میں سے کچھ رقم تمہارے ماموں (شیخ سری سقطی رحمتہ اللہ) کو (جو اولیائے کاملین میں سے تھے) بھیجی تھی لیکن انہوں نے قبول نہیں کی۔ میری آرزو تھی کہ یہ چند درہم اللہ کے دوستوں میں سے کسی کے کام آئیں۔ جنیدؒ نے فرمایا مجھے دیجئے! میں ان کو دے کر آتا ہوں۔ غرض وہ درہم لے کر اپنے ماموں کے ہاں پہنچے اور دروازے پر دستک دی۔ حضرت سری سقطیؒ نے پوچھا کون ہے؟ کہا میں جنید ہوں۔ دروازہ کھولو اور یہ فریضہ زکوٰۃ لو۔ ماموں جو بہت نادار تھے، فرمانے لگے میں نہیں لوں گا۔ حضرت جنیدؒ نے فرمایا آپ کو اس خدا کی قسم جس نے آپ پر فضل اور میرے باپ کے ساتھ عدل کیا، اس کو لے لیجئے۔ حضرت سری سقطیؒ نے فرمایا جنید! مجھ پر کیا فضل کیا اور تمہارے باپ کے ساتھ کیا عدل کیا۔ کہا آپ پر یہ فضل کیا کہ آپ کو اپنی معرفت کے شرف سے نوازا اور میرے والد سے یہ عدل کیا کہ اس کو دنیا میں مشغول کیا اور یہ فریضہ زکوٰۃ تو بہرحال کسی حقدار کو پہنچانا ہے۔ حضرت شیخ کو یہ بات پسند آئی اور فرمایا کہ پہلے اس سے کہ یہ زکوٰۃ قبول کروں، میں نے تجھے قبول کیا اور دروازہ کھول کر زکوٰۃ لے لی اور حضرت جنید کو اپنے آغوشِ عاطفت میں بیعت کرنے لگے۔ حضرت جنیدؒ سات سال کے تھے کہ حضرت سری سقطیؒ ان کو اپنے ساتھ حج بیت اللہ کے لیے مکہ معظمہ لے گئے۔ ایک موقع پر خانہ کعبہ میں چار سو پیروں کے درمیان مسئلہ شکر درپیش تھا۔ ہر ایک نے مسئلہ شکر پر اپنے اپنے خیال کا اظہار کیا۔ سری سقطیؒ کہنے لگے جنید! تم بھی کچھ کہو۔ جنیدؒ نے فرمایا کہ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ حق تعالیٰ انسان کو جو نعمت عطا فرمائے، بندہ اس نعمت کے سبب سے اس کا نافرمان نہ بنے اور اس کو معصیت و نافرمانی کا ذریعہ نہ

صفحہ ١٤١

بتائے۔ مشائخ کرام بے ساختہ بول اٹھے اے نورالعین! تم نے شکر کی بالکل صحیح تعریف کی اور کہا صاحبزادے! اس سے بہتر اور کوئی تعریف نہیں ہو سکتی۔ (تذکرۃ الاولیاء)

ساتھ محض حدیث سن کر یاد کر لیا کرتے جب کہ دوسرے ہم سن بغیر لکھے ہوئے یاد نہ رکھ سکتے تھے۔ ایک نو عمر بچہ کا یہ فعل ہم عصروں کے لیے تعجب کا باعث ہوا۔ آخرکار لوگوں سے نہ رہا گیا اور چھیڑ دیا‘ میاں بچے لکھتے نہیں تو پھر کس طرح یاد کرو گے۔ امام نے فرمایا‘ تم کئی بار ٹوک چکے ہو‘ لاؤ اپنا لکھا ہوا ذخیرہ۔ لایا گیا جو پندرہ ہزار حدیثوں پر مشتمل تھا۔ آپ نے سب کا سب فرفر سنا دیا۔ اس کے بعد فرمایا‘ میں یونہی اپنا وقت ضائع نہیں کر رہا ہوں۔

اسی وقت لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ اس شخص سے کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا۔

(تذکرہ‘ ص٢٥٦)

بیکندی کے پاس پہنچا تو فرمانے لگے کہ کچھ پہلے آئے ہوتے تو ایک بچے سے ملاقات ہو جاتی۔ ستر ہزار احادیث کا حافظ ہے۔ مجھے بڑا تعجب معلوم ہوا اور میں ان کی تلاش میں نکلا۔ چنانچہ ملاقات ہو گئی۔

میں نے پوچھا‘ تم ستر ہزار احادیث کے حافظ ہو؟ فرمانے لگے‘ جی ہاں! بلکہ اس سے بھی زیادہ کا حافظ ہوں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ راویان حدیث صحابہ و تابعین کے سن پیدائش و وفات و جائے سکونت بھی بتا سکتا ہوں۔

(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ‘ ج٢‘ ص٥)

بچہ لایا گیا جس نے قرآن مجید پڑھ لیا تھا۔ مسائل شرعی سے بھی واقف تھا مگر جب بھوکا ہوتا تو بچوں کی طرح رونے لگتا یعنی بچوں کا خاصہ موجود تھا۔

قاضی ابو عبداللہ بن محمد اصبہانی نے فرمایا کہ میں نے پانچ سال کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا تھا۔ جب چار سال کا تھا تو سماعت حدیث کے لیے ابوبکر بن المقری

صفحہ ١٤٢

کے پاس لے جایا گیا۔ تو بعض لوگوں نے فرمایا کہ سورۂ کافرون سناؤ تو میں نے سنا دی۔ پھر سورۂ کوثر سنانے کی فرمائش کی تو اس کو بھی سنا دیا۔

حاضرین میں سے کسی نے سورۂ مرسلات پڑھنے کی فرمائش کی۔ میں نے فرفر سنا دی اور کہیں بھی غلطی نہیں کی۔ محدث ابن المقری نے فرمایا کہ ان سے حدیث سننے میں کوئی حرج نہیں ہے، میں اس کا ذمہ دار ہوں۔

(مقدمہ ابن صلاح، ص ٦٢، بحوالہ اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے، ص ٢٠٢، حکیم محمد

یوسف ہاشمی)

صاحبو! وہ ڈاکوؤں کے سامنے سچ بول کر اپنے پیسے ان کے حوالے کر دیتے تھے اور یہ باپ کی پنشن کی رقم لے کر بھاگ جاتا تھا وہ علم کے بحر بے کنار کے تیراک تھے اور یہ قادیان کے چھپڑ میں تیرتا تھا۔ وہ علم کی تلاش میں گھر سے نکلتے تھے اور یہ آوارہ گردی کی وجہ سے والدین کی ڈانٹ ڈپٹ سے گھر سے سیالکوٹ بھاگ جاتا تھا۔ وہ اپنے علم کی تلوار سے جہالت کے گلے کاٹتے تھے اور یہ سرکنڈوں سے چڑیوں کے گلے کاٹتا تھا ان کے استاد اپنے وقت کے اولیاء اللہ ہوتے تھے اور اس کا استاد افیمی تھا ان کے دودھ پینے یا نہ پینے سے رمضان المبارک کا پتہ چلتا تھا اور اس نے ساری عمر روزہ ہی نہیں رکھا۔ وہ حصول علم کے لیے دیس دیس پھرا کرتے تھے اور یہ قادیان کے گندے برساتی نالوں میں پھرا کرتا تھا۔ وہ قرآن کے عاشق صادق تھے اور اس نے قرآن میں تحریف کے طوفان اٹھائے۔ وہ حرام کا ایک چھوٹا سا لقمہ ہضم نہ کر سکتے تھے اور یہ ساری زندگی انگریز کا مال کھاتا رہا۔ وہ اپنے نبی پر سو جان سے فدا تھے اور اس بدطینت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تخت نبوت پر بیٹھنے کی ناپاک جسارت کی وہ اللہ کے خوف سے لرزتے تھے اور یہ شقی القلب خود خدا بن بیٹھا۔

مرزا قادیانی کو یہ عاداتِ رذیلہ کیسے پڑیں؟ وہ کون سی تہذیب تھی، جس نے اسے بدتہذیب بنا دیا۔ وہ کون سا کلچر تھا جس نے اسے آوارہ گرد اور بے شرم بنا دیا؟ وہ کون سا ماحول تھا جس کی آغوش میں اس نے تربیت پائی تھی؟ قادیانی کتب کے مطالعہ سے ہی ان سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ حوالہ پیش خدمت ہے۔

"ڈاکٹر میر محمد اسمعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے قادیان کی وہ حالت

صفحہ ١٤٣

دیکھی ہے جب کہ یہاں کے عام لوگ اردو سمجھ نہیں سکتے تھے۔ بڑی بڑی عمر کے لوگ لنگوٹی باندھتے تھے اور قریباً برہنہ رہتے تھے۔ رات کو عورت مرد کپڑے اتار کر سرہانے رکھ لیتے تھے اور ننگے لحاف میں گھس جاتے تھے۔ بچے بڑی عمر تک ننگے پھرتے تھے۔ سروں میں بیچ میں سے بال منڈے ہوئے ہوتے تھے۔ (سیرت المہدی" حصہ سوم‘ ص ٢٥٦‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے اپنے گھر کا بھی یہی حال تھا۔۔۔۔۔

(مولف)

قادیانیو! اندھے کو راستہ دکھانا کار ثواب ہے۔ بھولے بھٹکوں کو راہ راست پر ڈالنا نیکی کا کام ہے۔ فریب خوردہ لوگوں کو حقائق سے آشنا کرنا انسانیت کی خدمت ہے۔ لٹنے والوں کی مدد کرنا مسلمانوں کا فرض ہے۔

اے قادیانیو! تم بھی اندھے ہو کہ تم نے آنکھوں پر قادیانیت کی دبیز شیشوں والی عینک لگا رکھی ہے۔ تم بھی بھٹکے ہوئے ہو کہ تم جہنم کو اپنی منزل سمجھ رہے ہو۔ تم بھی فریب خوردہ ہو کہ مرزا قادیانی جیسے دجال کو نبی مان رہے ہو۔ تم بھی لٹے ہوئے ہو کہ ختم نبوت کے ڈاکو مرزا قادیانی نے تمہاری متاع ایمان لوٹ لی ہے!

خدارا! ہوش میں آؤ۔ اس سے پہلے کہ موت کا بگل تمہارے ہوش اڑا دے۔

صفحہ ٢٨
PDF 145

قادیان

کا

بدکردار

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٥۔حسن سٹریٹ مسلم ٹاؤن لاہور پاکستان

صفحہ ١٤٦

سوال: جناب عالی ہم نے مختلف لوگوں سے یہ سنا ہے کہ مرزا قادیانی

کیا یہ باتیں ہوائی یا فرضی ہیں یا کہ ان کے ثبوت بھی ہیں؟ اگر ثبوت موجود ہیں اور قادیانیوں کی ایک کثیر تعداد کو ان باتوں کا پتہ بھی ہے تو پھر وہ اسے کیوں اپنا نبی اور راہنما مانتے ہیں۔ (از طرف‘ فیاض اختر ملک)

جواب: جن باتوں کا آپ نے تذکرہ کیا یہ ہوائی نہیں ہیں بلکہ ہمارے پاس ان تمام کے بین ثبوت موجود ہیں۔ لیجئے ثبوت پیش خدمت ہیں۔

شراب

”محبی اخویکم محمد حسین سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔

صفحہ ١٤٧

اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیائے خریدنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن‘ ای پلومر کی دکان سے خریدیں۔ مگر ٹانک وائن چاہیے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے"۔ والسلام (خطوط امام بنام غلام‘ ص ٥)

سودائے مرزا کے حاشیہ پر حکیم محمد علی پرنسپل طبیہ کالج امرتسر لکھتے ہیں ’ٹانک وائن کی حقیقت لاہور میں ای پلومر کی دکان سے ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی معرفت معلوم کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جواباً تحریر فرماتے ہیں حسب ارشاد ای پلومر کی دکان سے دریافت کیا گیا۔ جواب حسب ذیل ہے:

"ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ساڑھے پانچ روپے ہے"۔

(٢١ دسمبر ١٩٣٢ء‘ ”سودائے مرزا“ ص ٣٩‘ حاشیہ)

افیون

”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ”تریاق الٰہی“ دوا‘ خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔“

(مضمون میاں محمود احمد‘ اخبار ”الفضل“ جلد ١٧‘ نمبر ٤‘ مورخہ ١٩ جولائی ١٩٢٩ء)

غیر محرم عورتیں

”حضرت ام المومنین (محترمہ نصرت جہاں بیگم زوجہ مرزا قادیانی) نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی۔ وہ ایک رات جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی‘ حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی اس لیے اسے پتہ نہ لگا کہ کس چیز کو دبا رہی ہوں۔ وہ حضور کی ٹانگیں نہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا ”بھانو آج بڑی سردی ہے۔“ بھانو کہنے لگی ”ہاں جی! تدے تے تہاڈیاں لتاں لکڑی وانگ ہویاں ہویاں نیں“ (جبھی تو آپ کی ٹانگیں لکڑی کی

صفحہ ١٤٨

طرح سخت ہو رہی ہیں۔) خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں غالباً یہ جتانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہو رہی ہے۔“ (”سیرت المہدی“ جلد ٣، ص ٢١٠، مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

سینما یا تھیٹر

مرزا قادیانی کا نام نہاد صحابی مفتی محمد صادق بیان کرتا ہے: ”ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا جو مکان کے قریب ہی تھا اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات کو تھیٹر چلے گئے تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا 'ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے۔'“ (”ذکر حبیب“ ص ١٨، مصنفہ مفتی محمد صادق)

غلیظ گالیاں

ص ١٤)

(چشمہ معرفت، ص ١١٦)

کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے۔ وہ مجھے قبول نہیں کرتے“۔ (آئینہ

کمالات اسلام، ص ٥٤٧)

مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔“ (حیات احمد، جلد نمبر ١۔ ٣، ص ٢٥)

صفحہ ١٤٩

اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔ اب تک اس کی عورت کے پیٹ سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا"۔ (ضمیمہ انجام آتھم ،ص ٢٧)

مراق۔ ہسٹریا

"ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی مشقت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک"۔ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٥ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

دایاں بایاں

"بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لیے گرگابی (جوتا) ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں، بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں، دائیں میں۔ چنانچہ اس تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتا پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے، ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں، جب کھانا کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آجاتا ہے"۔

("سیرت المہدی" حصہ دوم، ص ٥٨، مصنفہ بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

بٹن اور کاج

"بارہا دیکھا گیا ہے کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوئے ہوتے تھے۔ بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے"۔

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٢٦ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

صفحہ ١٥٠

جوتی کی دوات

"ایک دفعہ فرمانے لگے میرے لیے کسی نے بوٹ بھیجے ہیں۔ میری سمجھ میں اس کا دایاں بایاں نہیں آیا۔ آخر اس کو سیاہی ڈالنے کے لیے بنالیا۔"

(الحکم ١٤ دسمبر ١٩٣٤ء ص ٥ کالم نمبر ٢)

مختاری کے امتحان میں فیل

”چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں کرتے تھے اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی اور قانون کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا، پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے۔“

(”سیرت المہدی“ حصہ اول، ص ١٣٨، بشیر احمد قادیانی)

فرشتے

”ٹیچی ٹیچی“: ”٥ مارچ ١٩٠٥ء کو خواب میں ایک فرشتہ دیکھا جس نے اپنا نام ”ٹیچی ٹیچی“ بتایا“

(”حقیقت الوحی“ ص ٢٣٢، مصنفہ مرزا قادیانی)

”درشنی“: ”ایک فرشتہ میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا۔ صورت اس کی مثل انگریزوں کی تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے کہا۔ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں اس نے کہا میں درشنی ہوں۔“

(”تذکرہ“ ص ٣١)

”خیراتی“: ”تین فرشتے آسمان سے آئے اور ایک کا نام خیراتی تھا۔“

(”تریاق القلوب“ ص ١٩٢، مصنفہ مرزا قادیانی)

پنجابی، ہندی اور انگریزی وحی

پنجابی: ”ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے یہ الہام سنایا کہ ”پئی پٹی گئی“۔

(”تذکرہ“ ص ٨٠١)

ہندی: ”ہے کرشن جی رودر گوپال“

(”البدر“ جلد دوم، نمبر ٤١، ٤٤، مورخہ ٢٩ اکتوبر ٨ نومبر ١٩٠٣ء ص ٣٢٢)

انگریزی:

صفحہ ١٥١

میں تم سے محبت کرتا ہوں "I love you." میں تمہارے ساتھ ہوں "I am with you" میں تمہاری مدد کروں گا "I shall help you."

(”حقیقۃ الوحی“ ص ٣٠٣ مصنفہ مرزا قادیانی)

جہاد

”اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے!
دین کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد“

(ضمیمہ ”تحفہ گولڑویہ“ ص ٣٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے۔ وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نافرمانی کرتا ہے۔“ (”خطبہ الہامیہ“ مترجم‘ ص ٢٨-٢٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

کافر ہے!

”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔“ (”حقیقۃ الوحی“ ص ١٦٣‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

”جو شخص میری پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل نہ ہو گا وہ خدا‘ رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے“۔ (اشتہار معیار الاخیار ص ٨‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ ١٥٢

شاعری

چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے
نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بے قراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط یار کی اس کو آہ و زاری ہے
دس سے کروا چکی ہے زنا پاک دامن ابھی بے چاری ہے
زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے

(”آریہ دھرم“ ص ٧٦-٧٧، مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ ١٥٣

لیکن جس رب نے اسے بنایا اسے خدا نہیں کہتا۔ محترم بھائی! جس طرح مرزا قادیانی کو پتہ تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خدا کے آخری نبی ہیں لیکن اس نے دعویٰ نبوت کیا‘ اسی طرح قادیانیوں کی اکثریت کو بھی معلوم ہے کہ مرزا قادیانی اللہ کا نبی نہیں ہے لیکن وہ پھر بھی اپنے مفادات کے لیے اسے نبی مانتے ہیں۔

برادر عزیز! جب مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا اور بہت سے لوگوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسا لیا تو انہی دنوں مسیلمہ کذاب کا ایک دوست باہر سفر پر تھا۔ جب وہ گھر پلٹا تو لوگ اس کے پاس آئے اور اسے بتایا کہ تیرے دوست مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ اسے بڑا تعجب ہوا۔ اس نے انہیں کہا کہ تم سب میرے ساتھ آؤ‘ ہم مسیلمہ کے پاس چلتے ہیں۔ جب وہ مسیلمہ کے مکان پر پہنچا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم باہر ٹھہرو میں اندر بند کمرے میں مسیلمہ سے گفتگو کر کے اسے پرکھتا ہوں کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا؟

وہ ایک بند کمرے میں مسیلمہ کے ساتھ طویل گفتگو کرتا رہا۔ اس سے مختلف سوال و جواب کرتا رہا‘ اسے پرکھتا رہا اور پھر جب وہ کافی دیر بعد مسیلمہ کذاب کے مکان سے باہر آیا تو لوگ اس کے منتظر تھے۔ وہ فوراً اس کے گرد اکٹھے ہو گئے اور اس سے پوچھا کہ بتا مسیلمہ کو کیا پایا۔ اس نے جواب دیا کہ میں نے مسیلمہ کو ہر زاویے سے پرکھا اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے لیکن ہم اسے سچا ہی مانیں گے کیونکہ باہر کے سچے نبی سے گھر کا جھوٹا نبی بہتر ہے۔

PDF 154

ایک منہ

دو زبانیں

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون 2329

صفحہ ١٥٥

بوڑھے آسمان کی تجربہ کار نگاہوں نے بہت سے جھوٹے منہ دیکھے ہوں گے جو جھوٹ سازی، جھوٹ بازی اور جھوٹ باری میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ لیکن آسمان کی نظروں نے مرزا قادیانی جیسا ماہر جھوٹ کا منہ کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔ تخلیق آدم سے لے کر لمحہ موجود تک سارے انسانوں نے مشترکہ طور پر اتنے جھوٹ نہیں بولے جتنے مرزا قادیانی نے انفرادی طور پر بولے ہیں۔ کذاب اعظم مرزا قادیانی نے جھوٹ کے چوکے چھکے لگا کر جو سنچریاں بنائی ہیں ان سنچریوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ مرزا قادیانی مرے ہوئے جھوٹ کو زندہ کر کے اس کا نیا جھوٹ بنا سکتا تھا اور وہ ایک جھوٹ سے مزید درجنوں جھوٹ پیدا کر لیتا تھا گویا اس کا جھوٹ بچے بھی جنتا تھا۔ اس کا دماغ جھوٹ کا سمندر تھا جس میں جھوٹ کے سارے دریا آکر گرتے تھے۔ اس کا منہ جھوٹ کا ایٹمی پلانٹ تھا جس سے جھوٹ کے بم، میزائل اور راکٹ لانچر وغیرہم نکلتے تھے۔ جھوٹ کی کمیونیکیشن (Communication) کے لیے اس کا شیطان سے ہر وقت پاک ٹیل (Paktel) پر رابطہ رہتا تھا۔ اس نے جھوٹ کا جو کوہ ہمالیہ تعمیر کیا اس کا بیان ہم کسی اور طویل نشست پر اٹھا رکھتے ہیں۔ اس نشست میں ہم اس کے جھوٹوں کی صرف ایک قسم ”تضاد بیانی“ کو بیان کرتے ہیں۔

قارئین محترم! آپ دیکھیں گے کہ مرزا قادیانی کے منہ میں ایک کی بجائے دو زبانیں ہیں۔ جو نائی کے استروں سے زیادہ تیز اور سکھوں کی کرپان سے زیادہ کاٹ دار ہیں۔ وہ ان زبانوں کو بڑی مہارت سے ہر وقت استعمال کرتا ہے اور بڑی ہنرمندی سے اپنی ایک زبان کو اپنی دوسری زبان سے کاٹتا ہے اور پھر دوسری کو پہلی سے انتہائی چابکدستی سے کاٹتا ہے۔ ایک زبان سے کسی بات کی تائید کرتا ہے اور پھر دوسری زبان سے تردید کر دیتا ہے۔ ایک زبان سے ہاں (Yes) اور دوسری سے نہیں (No) کہہ دیتا ہے۔ ایک زبان سے کسی چیز کی تصدیق کرتا ہے اور دوسری زبان سے اس کی تکذیب کرتا ہے۔ ایک زبان سے کسی عقیدہ کو ٹھیک کہتا ہے اور دوسری زبان سے اسے مسترد کر دیتا ہے۔ لہٰذا اب آپ کے سامنے مرزا قادیانی کی

صفحہ ١٥٦

زبانوں کی قلابازیاں اور نوسربازیاں پیش کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی منہ میں انگلی داب کر پڑھئے۔۔۔۔۔

نہیں بھیجا جائے گا۔ (ازالہ اوہام، ص١٤٠، ج٢، مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر٢: سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ (دافع البلاء، ص١١، مطبوعہ ١٩٠٢ء، مصنفہ مرزا قادیانی)

عقبیٰ کی باز پرس سے جاتا رہا خیال
دنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی

(ناقل)

کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا۔ (حمامتہ البشریٰ، مطبوعہ ١٨٩٤ء، مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر٢: صحیح مسلم کی حدیث میں یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔ (ازالہ اوہام، ص٩١-٩٢ مطبوعہ ١٨٩١ء، مصنفہ مرزا قادیانی)

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونا دے کے بہلایا گیا ہوں

(ناقل)

سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کی کتابیں مجھے پڑھائیں۔ (کتاب البریہ، ص١٤٩، مطبوعہ ١٨٩٧ء، مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر٢: میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہو۔ (ایام صلح، ص١٤٧، مطبوعہ ١٨٩٩ء، مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ ١٥٧
ہوتا ہے اک پل میں کھنڈر دنیا بسا ہوا
پانی بھی مانگتا نہیں تیرا ڈسا ہوا

(ناقل)

زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔ (چشمہ معرفت‘ ص٢٠٩‘ مطبوعہ ١٩٠٩ء‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ واقفیت نہیں جیسے انگریزی‘ سنسکرت‘ عبرانی وغیرہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں کچھ نمونہ ان کا لکھا گیا۔ (نزول المسیح‘ ص٥٧‘ مطبوعہ ١٩٠٢ء‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

میری بے نور سی آنکھوں پہ تعجب نہ کرو
یہ دیے خود ہی بجھائے ہیں تمہیں کیا معلوم

(ناقل)

قرآن کریم سے ثابت ہے پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھی"۔ (آئینہ کمالات اسلام‘ ص٦٨‘ مطبوعہ ١٨٩٣ء‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان پرندوں کا پرواز قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ (ازالہ اوہام‘ ص٣٠٧‘ طبع اول ١٨٩١ء‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اب تو ہے عشق بتاں میں زندگانی کا مزا
جب خدا کا سامنا ہوگا تو دیکھا جائے گا

(ناقل)

بدل دیا۔ (نور القرآن‘ جلد اول‘ نمبر٦‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

انجیل اور تورات ناقص اور محرف اور مبدل کتابیں ہیں۔ (دافع البلاء‘

صفحہ ١٥٨

(ص ١٩، مصنفہ مرزا قادیانی)

چاروں انجیلیں نہ اپنی صحت پر قائم ہیں اور بہ سبب اپنے بیان کی رو سے الہامی ہیں اور اس طرح انجیلوں کے واقعات میں طرح طرح کی غلطیاں پڑ گئیں اور کچھ کا کچھ لکھا گیا۔ (براہین احمدیہ، حصہ چہارم، ص ٣٣١، طبع قدیم، مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف و مبدل ہیں ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ایسی بات وہی کرے گا جو خود قرآن شریف سے بے خبر ہے“۔ (چشمہ معرفت، ص ٢٥٧، حاشیہ مطبوعہ ١٩٠٨ء، مصنفہ مرزا قادیانی)

راہ زن جب رہبری کا مدعی بن کر اٹھے
ہر دور اپنے سے نہ کیوں اک فتنہ محشر اٹھے

(ناقل)

(٧) زبان نمبرا: حضرت مسیح تو ایسے خدا کے متواضع اور حلیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے جو انہوں نے یہ بھی روا نہ رکھا کہ کوئی ان کو نیک آدمی کہے۔ (حاشیہ براہین احمدیہ، ص ١٠٤، مصنفہ مرزا قادیانی)

حضرت مسیح تو وہ بے نفس انسان تھے جنہوں نے یہ بھی نہ چاہا کہ کوئی ان کو نیک انسان کہے۔ (چشمہ مسیحی، ص ٣٤، مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چال چلن۔ (ست بچن، ص ١٧٢، مصنفہ مرزا قادیانی)

شیطان اس کو دیکھ کے کہتا تھا رشک سے
بازی یہ مجھ سے لے گیا تقدیر دیکھئے

(ناقل)

(٨) زبان نمبرا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور اسی گرجا میں حضرت مریم

صفحہ ١٥٩

صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں قبریں علیحدہ ہیں۔ (اتمام الحجۃ، مصنفہ مرزا صاحب شہادت محمد سعید طرابلس، ص٢٠)

زبان نمبر ٢: خدا کا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ مر گیا اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یعنی ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہاتھ سے بچا کر ایک ایسے پہاڑ میں پہنچا دیا جو آرام اور خوشحالی کی جگہ تھی اور مصفی پانی کے چشمے جاری تھے۔ سو وہی کشمیر ہے اسی وجہ سے حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں۔ (حقیقۃ الوحی، ص١٠١، حاشیہ مصنفہ مرزا قادیانی)

نئے صنم کدوں میں آ گئے نئے نئے بت
نئے بتوں کی نئی گھات سے خدا کی پناہ

(ناقل)

مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔ (اخبار البدر، ٥ مارچ ١٩٠٨ء، مصنفہ مرزا قادیانی)

خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
آنکھوں سے شرم سرور کون و مکان گئی

(ناقل)

مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لیے کہ ان میں رب کا کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ (اخبار بدر، ٥ مارچ ١٩٠٨ء، مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم اور صاحب فضل نے ہمارے نبی صلعم کو بغیر کسی استثنا انبیاء کے خاتم النبیین نام رکھا اور ہمارے نبی نے اہل قلب کے لیے اس کی تفسیر اپنے قول ”لانبی بعدی“ میں واضح طور پر فرما دی۔

صفحہ ١٦٠

(حمامۃ البشریٰ‘ ص ٣٤‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ہلاکت آفریں اس کی ہر بات
عبارت کیا‘ اشارت کیا‘ ادا کیا

(ناقل)

کافر نہیں ہو سکتا۔ (تریاق القلوب‘ ص١٣٠‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر٢: جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔ وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے۔ (حقیقت الوحی‘ ص١٦٣۔ ١٦٤‘ مصنفہ مرزا قادیانی) (مجموعہ فتاویٰ‘ جلد اول‘ ص١٥)

اپنی حالت پہ میں ہنستا بھی رہا ہوں اکثر
اپنے ہی حال پہ آنسو بھی بہائے میں نے

(ناقل)

سات ماہ کے اندر ہی فوت ہو گیا۔ (سراج المنیر‘ ص٦‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر٢: آتھم میرے آخری اشتہار سے پندرہ ماہ کے اندر مر گیا۔ (حاشیہ حقیقت الوحی‘ ص٢٠٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

احمقوں کی کمی نہیں غالب
ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں

(ناقل)

دین حق کے ساتھ۔ (البشریٰ‘ جلد دوم‘ ص١٠‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر٢: قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ (ازالہ اوہام‘ ص٧٦١ مصنفہ مرزا قادیانی)

ڈھیٹ اور بے شرم بھی عالم میں ہوتے ہیں مگر
سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
صفحہ ١٦١

(ناقل)

ص٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: اس میں یعنی مسیح کی ولادت بے پدر میں ایک عجوبہ قدرت ہے۔

(اخبار البدر‘ ص٣‘ ١٦ مئی ١٩٠٧ء مصنفہ مرزا قادیانی)

کوئی اس دور میں وہ آئینے تقسیم کرے
جس میں باطن بھی نظر آتا ہو ظاہر کی طرح

(ناقل)

انجام آتھم‘ ص٣٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: یسوع مسیح خدا کا پیارا اور قابل انسان تھا۔ (تحفہ قیصریہ‘ ص٢٢ و

ص٢٥‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں بدل جاتے ہیں لوگ
دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ

(ناقل)

تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چال چلن ناخدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا بد نتیجہ ہے۔ (ست

بچن‘ ص١٧٢‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: (الف) جس کو عیسائیوں نے خدا بنا رکھا ہے اس سے کسی نے کہا کہ اے نیک استاد تو اس نے جواب دیا کہ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔ نیک کوئی نہیں سوائے خدا کے۔ یہی تمام اولیاء کا شعار رہا سب نے استغفار کو اپنا شعار بنایا۔ (ضمیمہ

براہین احمدیہ‘ جلد پنجم‘ ص١٠٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

بندے تھے کہ انہوں نے یہ روا نہ رکھا کہ کوئی ان کو نیک آدمی کہے۔ (براہین

احمدیہ‘ حاشیہ‘ ص١٠٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ ١٦٢
وہ جن کے جسم پہ چہرے بدلتے رہتے ہیں
انھیں بھی ضد ہے کہ ان کا بھی احترام کروں

(ناقل)

(١٧) زبان نمبر ١: وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے۔ (البشریٰ‘ جلد اول‘ ص ١٥٠‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں۔ (پیغام صلح‘ ص ١١‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

دیکھ کے دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ
سانپ ہوتے ہیں آستینوں میں

(ناقل)

(١٨) زبان نمبر ١: آپ نے ایک جوان کنجری کو موقع دیا کہ وہ آپ کے سر پر ناپاک ہاتھ لگائے اور زناکاری کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔ (ضمیمہ انجام آتھم‘ ص ٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: اگر کوئی حضرت مسیح کی نسبت یہ زبان پر لائے کہ وہ طوائف کے گندے مال کو کام میں لایا تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی فطرت ان ناپاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہے اور شیطان کی فطرت کے موافق اس پلید کا مادہ اور خمیر ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام‘ ص ٥٩٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

مقید کر دیا سانپوں کو یہ کہہ کر سپیروں نے
یہ انسانوں کو انسانوں سے ڈسوانے کا موسم ہے

(ناقل)

(١٩) زبان نمبر ١: میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں۔ (کتاب البریہ‘ ص ٨٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: آپ نہیں جانتے کہ ہمارے نزدیک وہ نادان ہر ایک زناکار سے بدتر ہے جو انسان کے پیٹ میں سے نکل کر خدا ہونے کا دعویٰ کرے۔ (نور القرآن‘ جلد دوم‘ ص ١٢٠‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

صفات میں تو درندوں سے کم نہیں ازہر
اگرچہ شکل سے انسان دکھائی دیتا ہے
صفحہ ١٦٣

(ناقل)

(٢٠) زبان نمبر ١: مسیح ایک لڑکی پر عاشق تھا جب استاد کے سامنے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کرنے لگا تو استاد نے اسے عاق کر دیا۔ (اشتہار الحکم‘ فروری ١٩٠٢ء‘ مصنفہ مرزا قادیانی) زبان نمبر ٢: یہودی کہتے ہیں کہ مسیح ایک لڑکی پر عاشق تھا مگر یہ بات بے اعتبار ہے۔ (اعجاز احمدی‘ ص ٢٥‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

وقت پہنچائے گا جس دن کیفر کردار تک
خود الٹ دیں گے یہ مجرم اپنے چہروں سے نقاب

(ناقل)

(٢١) زبان نمبر ١: بائبل اور ہماری احادیث کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اپنے وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو ہی ہیں‘ ایک یوحنا جس کا نام ایلیاء‘ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ یعنی یسوع بھی کہتے ہیں۔ (توضیح الرام‘ ص ٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی) زبان نمبر ٢: حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اور اس کا زندہ آسمان پر جانا اور اب تک زندہ رہنا اور پھر کسی وقت بمعہ جسم عنصری زمین پر آنا یہ سب ان پر تہمت ہیں۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ‘ جلد پنجم‘ ص ٢٣٠‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ان سے ضرور ملنا سلیقے کے لوگ ہیں
سر بھی قلم کریں گے بڑے احترام سے

(ناقل)

(٢٢) زبان نمبر ١: حضرت مسیح ۔۔۔۔۔۔۔۔ قریباً دو گھنٹے تک صلیب پر رہے۔ (ریویو آف ریلیجنز‘ جلد دوم‘ ص ٤٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی) زبان نمبر ٢: چند ہی منٹ گزرے تھے کہ مسیح کو صلیب پر سے اتار لیا۔ (ازالہ اوہام‘ ص ٣٨٠‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

لٹ گیا وہ تیرے کوچے میں رکھا جس نے قدم
اس طرح کی بھی کہیں راہ زنی ہوتی ہے

(ناقل)

صفحہ ١٦٤

رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔ (دافع البلاء‘ ص ٥‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: ایک دفعہ کسی قدر شدید طاعون قادیان میں ہوئی۔ (حقیقت الوحی‘ ص ٢٣٢‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

جھوٹ بولا ہے تو اس پر قائم بھی رہو ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے

(ناقل)

جلد دوم‘ ص ١٤٠‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: طاعون کے دنوں میں جب طاعون زور پر قادیان میں تھی میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہو گیا۔ (حقیقت الوحی‘ ص ٨٤‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ع یہ وہ تلبیس ہے‘ ابلیس کو خود ناز ہے جس پر

(ناقل)

دور رہا مگر قادیان طاعون سے پاک ہے بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ قادیان میں آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔ (دافع البلاء‘ ص ٥‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: جب صبح ہوئی تو میر صاحب کے بیٹے اسحاق کو تپ تیز ہوا اور سخت گھبراہٹ شروع ہو گئی اور دونوں طرف ران میں گلٹیاں نکل آئیں۔ (حقیقت الوحی‘ ص ٣٢٩‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

چہار سمت سے گھیرے ہوئے ہیں آدم خور
میرے خدا مجھے اپنی امان میں رکھنا

(ناقل)

(ازالہ اوہام‘ ص ٤٧٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: حضرت عیسیٰ نے سری نگر کشمیر میں وفات پائی اور آپ کا مزار سری نگر محلہ خان یار میں موجود ہے۔ (کشف الغطاء ص ١٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ ١٦٥
اللہ رے امیری بلبل کا اہتمام
صیاد عطر مل کے چلا ہے گلاب کا

(ناقل)

(٢٧) زبان نمبر ١: حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں۔ (حقیقت الوحی‘ ص ١٠١‘ حاشیہ ٢‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: حضرت مریم صدیقہ کی قبر بیت المقدس کے بڑے گرجے میں ہے۔ (اتمام حجت‘ حاشیہ ص ١٩‘ ص ٢١‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

الٰہی محفوظ رکھنا ہر بلا سے
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے

(ناقل)

(٢٨) زبان نمبر ١: حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ (براہین احمدیہ‘ ص ٤٩٧‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اور وہ دنیا میں دوبارہ نہیں آئیں گے۔ (ازالہ اوہام‘ ص ٤٧٣‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں پرکھا تو ان کی روح
بے پیرہن تھی جسم سراپا لباس تھا

(ناقل)

(٢٩) زبان نمبر ١: عیسائیوں نے یسوع کے بہت سے معجزے لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا۔ (ضمیمہ انجام آتھم‘ حاشیہ ص ٦‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: اور صرف اس قدر سچ ہے کہ یسوع نے بھی بعض معجزات دکھلائے جیسا کہ اور نبی دکھلاتے تھے۔ (ریویو ‘ بابت ستمبر ١٩٠٢ء‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اس کے قامت سے اسے جان گئے لوگ فراز
جو لباس بھی وہ چالاک پہن کر نکلا

(ناقل)

(٣٠) زبان نمبر ١: میرے الہامات کی رو سے ہمارے آباء اولین فارسی تھے۔ (کتاب البریہ‘ ص ١٣٥‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ ١٦٦

زبان نمبر ٢: بنی فاطمہ میں سے ہوں۔ میری بعض دادیاں مشہور اور صحیح النسب سادات میں سے تھیں۔ (نزول المسیح، ص ٥٠، مصنفہ مرزا قادیانی)

بدگمان ہو جس کو خود سے جمال
راستہ وہ بدلتا رہتا ہے

(ناقل)

(٣١) زبان نمبر ١: کرشن میں ہی ہوں۔ (تذکرہ، ص٣٨١، مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: امین الملک جے سنگھ بہادر۔ (تذکرہ، ص٤٧٢، مصنفہ مرزا قادیانی)

کیوں قادیانیو! تمہارا مرزا ہندو تھا یا سکھ (ناقل)

سجاتا رہتا ہوں کاغذ کے پھول پیڑوں پر
میں تتلیوں کو پریشان کرتا رہتا ہوں

(ناقل)

(٣٢) زبان نمبر ١: الہام ہوا کہ تو فارسی جوان ہے۔ (تذکرہ، ص ٦٣٤، مصنفہ مرزا قادیانی)

زبان نمبر ٢: بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔ (البشریٰ، ص ٦٥، جلد ٢، مصنفہ مرزا قادیانی)

بولو قادیانیو! مرزا قادیانی مرد تھا یا عورت؟ شاباش بولو۔ (ناقل)

تیرے محیط میں کوئی گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف

(ناقل)

قادیانیو! ذرا خالی الذہن ہو کر سوچو کیا اس کردار کے لوگ نبی ہوتے ہیں؟ کیا اس گفتار کے لوگ رسول ہوتے ہیں؟ کیا اس معیار کے لوگ مہدی و مسیح ہوتے ہیں؟ کیا اس قماش کے لوگ ہادی و راہنما ہوتے ہیں؟ کیا تم کسی ایسے جھوٹے کو دوست بنانا پسند کرو گے؟ کیا تم کسی ایسے تضاد بیان سے رشتہ ناتا کرنا پسند کرو گے؟

صفحہ ١٦٧

کیا تم کسی ایسے چکر باز کو معمولی سی رقم ادھار دینا پسند کرو گے؟ کیا تم کسی ایسے نو سرباز کی عدالت میں ضمانت دینا پسند کرو گے؟ خدارا! مرزا قادیانی کو منصب نبوت پر بٹھانے سے پہلے منصب نبوت کی عظمت و رفعت کو سمجھو اور اسے سمجھنے کے لیے سیرت الانبیاء اور بالخصوص سیرت سید الانبیاءؐ کا مطالعہ کرو۔

منصب نبوت انسانی ترقی و کمال کا آخری زینہ ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر نبوت انسانیت کی معراج ہوتی ہے۔ نبی اپنے وقت میں ہر لحاظ سے سب سے بہترین انسان ہوتا ہے۔ انسانی خوبیوں اور محاسن میں کوئی شخص اس کا مقابل نہیں ہو سکتا۔ نبی کا کردار و گفتار آفتاب و مہتاب سے زیادہ روشن ہوتا ہے۔ اس کی زندگی لوگوں کے لیے نمونہ ہوتی ہے۔ اسے لوگوں کی قیادت سونپی جاتی ہے اور وہ زندگی کے ہر گوشے میں ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کی شخصیت اتنی اجلی اور منور ہوتی ہے کہ وہ معصوم عن الخطاء ہوتا ہے۔

کسی نے منصب نبوت اور نبی کی کیا خوب تعریف کی ہے:

”ہم نبوت کی حقیقت اور ماہیت کو تو نہیں جان سکتے لیکن قرآن کریم نے مقام نبوت کا جو تصور پیش کیا ہے وہ اس قدر عظیم اور بلند ہے کہ ساری کائنات اس کے سامنے جھکی ہوئی نظر آتی ہے۔ نبوت کا مقام اس قدر عظیم المرتبت ہے کہ اس کے تصور سے روح میں بالیدگی‘ نگاہوں میں بصیرت‘ ذہن میں جلاء‘ قلب میں روشنی‘ خون میں حرارت‘ بازوؤں میں قوت‘ ماحول میں درخشندگی‘ فضا میں تابندگی اور کائنات کے ذرہ ذرہ میں زندگی کے آثار نمودار ہو جاتے ہیں۔ نبی کا پیغام انقلاب آفرین دین و دنیا کی سرفرازیوں اور سربلندیوں کا امین ہوتا ہے۔ وہ مردوں کی بستی میں صور اسرافیل پھونک دیتا ہے۔ اس سے قوم کے عروق مفلوج میں پھر سے خون حیات رقص کرنے لگ جاتا ہے۔ وہ اپنی ملت کو زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے‘ وہ اپنی ہو شربا تعلیم اور محیر العقول عمل سے باطل کے تمام نظام ہائے کہنہ کی بنیادیں اکھیڑ کر آئین کائنات کو ضابطہ خداوندی پر منتقل کر دیتا ہے۔ اس سے زندگی ایک نئی

صفحہ ١٦٨

کروٹ لیتی ہے۔ آرزوئیں آنکھیں ملتی ہوئی اٹھتی ہیں۔ ولولے جاگ پڑتے ہیں۔ ایمان کی حرارتیں دلوں میں سوز اور جگر میں گداز پیدا کرتی ہیں۔ روح کی مسرتوں کے چشمے ابلتے ہیں۔ قلب و جگر کی نورانیت کی سوتیں پھوٹتی ہیں، تازہ امیدوں کی کلیاں مہکتی ہیں۔ زندہ مقاصد کے غنچے چٹکتے ہیں اور اس خوش بخت قوم کا چمن دامان صد باغبان و کف ہزار گل فروش کا فردوسی منظر پیش کرتا ہے۔ حکومت الہیہ کا قیام اس کا نصب العین اور قوانین خداوندی کا نفاذ اس کا منتہیٰ ہوتا ہے۔ جب اس کے ہاتھ خدا کی بادشاہت کا تخت اجلال بچھتا ہے تو باطل کی لہر، طاغوتی طاقت، پہاڑوں کی غاروں میں منہ چھپاتی پھرتی ہے۔ جور و استبداد کے قصر فلک بوس کے کنگورے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ طغیان و سرکشی کے آتش کدے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں کی قدوسی جماعت کے ساتھ اعلائے کلمۃ الحق کے لیے باہر نکلتا ہے تو فتح و ظفر اس کا رکاب چومتی ہے۔ شوکت و حشمت اس کے جلو میں چلتی ہے۔ سرکش اور خود پرست قوتیں اس کے خدائے واحد القہار کا کلمہ پڑھتی ہیں۔ خدا اور اس کے فرشتے ان انقلاب آفرین ملکوتی کارناموں پر تحسین و تبریک کے پھولوں کی بارش کرتے ہیں“۔

اس تعریف کو چشمان عقل و خرد سے پڑھئے۔ بار بار پڑھئے۔۔۔۔ اور پھر اس تعریف کے آئینہ میں مرزا قادیانی کی سیرت کی تصویر دیکھئے۔۔۔۔ ہر زاویہ نگاہ سے دیکھئے۔۔۔۔ ہر ہر سمت سے دیکھئے۔۔۔۔ ہر ہر پہلو سے دیکھئے۔۔۔۔ اور سوچئے۔۔۔۔ خوب سوچئے۔۔۔۔ سر تھام کر اتھاہ گہرائیوں میں جا کر سوچئے۔۔۔۔ کیونکہ مسئلہ بڑا نازک ہے۔۔۔۔ معاملہ حق و باطل کے درمیان ہے۔۔۔۔ معاملہ اسلام و کفر کے مابین ہے۔۔۔۔ معاملہ آخرت میں ہمیشہ کے لیے جنت یا ہمیشہ کے لیے دوزخ کا ہے۔۔۔۔ اس لیے مسئلہ جتنا بڑا ہو، سوچ بچار بھی اتنی ہی بڑی ہونی چاہیے۔۔۔۔!!!

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سرعام رکھ دیا