اسلام کو قادیانیت سے بچائیے
اللہ اکبر
تحقیق و تدوین
محمد طاہر عبدالرزاق
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
ختم نبوت - زندہ باد
اسلام کو
قادیانیت سے بچائیے!
تحقیق وتدوین : محمد طاہر عبدالرزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
کتاب کو شائع کر سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر کر دیا جائے تو یہ ان کی مہربانی ہوگی۔
*
------ اسلام کو قادیانیت سے بچائیے! ------ محمد طاہر عبدالرزاق ------ گیارہ سو ------ فراز کمپوزنگ سنٹر، اردو بازار، لاہور ------ عنایت اللہ رشیدی ------ 100 روپے ------ جنوری 2006ء ------ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ، ملتان ------ شرکت پرنٹنگ پریس نسبت روڈ، لاہور
ملنے کا پتہ عرفان پبلشرز 34- اردو بازار، لاہور 7352332 تالیفات ختم نبوت کتاب مارکیٹ، غزنی سٹریٹ اردو بازار، لاہور فون: 7232926
انتساب
- ★ جسے خطیب اعظم حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی
رفاقت میسر رہی۔
- ★ جسے شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کی صحبتیں اور محبتیں
نصیب ہوئیں۔
- ★ جن کا سینہ نصف صدی کی تاریخ ختم نبوت کی لائبریری تھی۔
- ★ جو سرکاری آفیسر ہونے کے باوجود پورے جذبے اور ولولے سے
تحفظ ختم نبوت کا کام سرانجام دیتے رہے۔
- ★ جن کی پوری زندگی توکل اور رزق حلال کے ستونوں پر قائم رہی۔
جناب محمد افضل ملک
اور ان کے فرزند ارجمند مجاہد ختم نبوت
جناب محمد رضوان ملک
کے نام جو اپنے عظیم باپ کے مشن کے وارث اور امین ہیں
تحفظ
ل
قرینہ
قادیانیوں اور عام کافروں میں کیا فرق ہے؟ محمد طاہر عبدالرزاق 6
صدائے دل پروفیسر حافظ محمد کمال بٹ 11
تقدیم سید محمد کفیل شاہ بخاری 16
شعلۂ عشق محمد اصغر عبداللہ 21
خلفائے راشدین اور قتل مرتد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع 23
مسئلہ ختم نبوت اور سلف صالحین مولانا محمد نافع 33
فنافی الرسول ﷺ اور مرزا قادیانی سید مہر علی شاہ گولڑویؒ 66
عقیدہ ختم نبوت...... دلائل و براہین کی روشنی میں مولانا مودودیؒ 71
آزادی ضمیر اور قادیانیت محمد عطاء اللہ صدیقی 92
کسی دینی، دنیاوی اور سیاسی مفاد کے لیے قادیانیوں کو اسلام میں شامل نہیں کیا جاسکتا سید مرتضی حسن چاند پوریؒ 100
حب نبی کریم ﷺ ڈاکٹر حافظ محمد یونس 105
اجرائے نبوت پر الفضل کے دلائل اور ان کے جوابات مولانا محمود احمد رضویؒ 120
حیات عیسیٰ علیہ السلام مولانا محمد امین اوکاڑویؒ 135
قادیانی معجزات پروفیسر منور احمد ملک 155
اسلام و مرزائیت عتیق الرحمن آروی 166
قادیانیوں اور دوسرے کافروں میں کیا فرق ہے؟
محمد طاہر عبدالرزاق
آپ گھر بیٹھے ہیں۔ آپ کے گھر کے دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ آپ اپنے بیٹے سے کہتے ہیں ”بیٹا! باہر دیکھو کون آیا ہے؟“
بیٹا آ کر کہتا ہے ”ابو جی! بوٹا سنگھ آیا ہے، مہند سنگھ آیا ہے۔“
آپ اندر بیٹھے سمجھ گئے کہ میرا ملاقاتی ایک سکھ ہے۔
اگر بیٹا آ کر کہتا ہے ”ابو جی! رام داس آیا ہے، پریم چندر آیا ہے۔“
آپ اندر بیٹھے سمجھ گئے کہ میرا ملاقاتی ایک ہندو ہے۔
اگر بیٹا آ کر کہتا ہے ”ابو جی! پیٹرک آیا ہے جوزف آیا ہے۔“
آپ اندر بیٹھے سمجھ گئے کہ میرا ملاقاتی ایک عیسائی ہے۔
اگر بیٹا آ کر کہتا ہے ”ابو جی! محمد حسین قریشی آیا ہے، احمد علی عباسی آیا ہے۔“
آپ اندر بیٹھے سمجھ گئے کہ میرا ملاقاتی ایک مسلمان ہے۔
آپ جذبہ اشتیاق سے اٹھتے ہیں کہ میرا ایک مسلمان بھائی مجھ سے ملنے کے لیے آیا ہے۔ جب آپ باہر جاتے ہیں تو آپ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں کہ آپ کے سامنے ایک قادیانی ملعون کھڑا ہے۔
پہلی تینوں صورتوں میں آپ مختلف کافروں کو ان کے نام سے پہچان گئے۔ لیکن جب قادیانی کافر آیا تو وہ آپ کو دھوکہ دے گیا۔ کیونکہ اس کافر نے اپنا نام مسلمانوں جیسا رکھا ہوا ہے۔
آپ کسی عیسائی سے پوچھیں ”تیرے مذہب کا کیا نام ہے؟“
وہ فوراً کہے گا ”عیسائیت“
آپ کسی ہندو سے پوچھئے ”تیرے مذہب کا کیا نام ہے؟“
وہ فوراً بولے گا ”ہندومت“
آپ کسی سکھ سے سوال کریں ”تیرے مذہب کا کیا نام ہے؟“
وہ فوراً کہے گا ”سکھ مت“
آپ کسی قادیانی کافر سے پوچھیں ”تیرے مذہب کا کیا نام ہے؟
وہ فوراً کہے گا ”اسلام“
دنیا کا کوئی کافر اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہتا جبکہ قادیانی دنیا کا واحد کافر ہے جو اپنے کفر کو اسلام کہتا ہے۔
آپ کسی عیسائی سے سوال کریں ”تیری کتاب کا کیا نام ہے؟“
وہ کہے گا ”انجیل“
آپ کسی ہندو سے سوال کریں ”تیری کتاب کا کیا نام ہے؟“
وہ کہے گا ”وید“
آپ کسی سکھ سے پوچھیں ”تیری مذہبی کتاب کا کیا نام ہے؟“
وہ جواباً کہے گا ”گرنتھ“
آپ کسی قادیانی کافر سے پوچھیں ”تیری مذہبی کتاب کا کیا نام ہے؟“
وہ فوراً کہے گا ”قرآن مجید“
پہلی تینوں صورتوں میں ہر کافر نے اپنی اپنی مذہبی کتابوں کے نام بتائے ہیں۔ لیکن مکار قادیانی کافر نے اپنی مذہبی کتاب کا نام ”قرآن مجید“ بتا کر مسلمانوں کی کتاب پر قبضہ کیا ہے۔
آپ کسی عیسائی سے پوچھیں ”تیری عبادت گاہ کا کیا نام ہے۔“
وہ بولے گا ”گرجا“
آپ کسی ہندو سے پوچھیں ”تیری عبادت گاہ کا کیا نام ہے؟“
وہ کہے گا ”مندر“
آپ کسی سکھ سے پوچھیں ”تیری عبادت گاہ کا کیا نام ہے؟“
وہ کہے گا ”گورودوارہ“
آپ عیار قادیانی کافر سے پوچھیں ”تیری عبادت گاہ کا کیا نام ہے؟“
وہ فوراً اپنا منہ کھول کر کہے گا ”مسجد“
پہلی تمام صورتوں میں سارے کافروں نے اپنی اپنی عبادت گاہ کا نام بتایا۔ لیکن جب قادیانی کافر آیا تو اس نے مسلمانوں کی مسجد پر قبضہ کرنے کی ناپاک جسارت کی۔
محترم قارئین! دنیا کے سارے کافر اسلام کے لیے سانپ ہیں۔ ہر سانپ کا علیحدہ علیحدہ رنگ ہے۔ ہر سانپ کے چلنے کی اپنی اپنی سرسراہٹ ہے۔ ہر سانپ کی اپنی اپنی پھنکار ہے۔ لیکن قادیانی سانپ کا رنگ ہمرنگ زمین ہے۔ یہ ”کپرا“ سانپ ہے۔ اس کے چلنے کی کوئی سرسراہٹ نہیں۔ اس کی کوئی پھنکار نہیں۔ اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب یہ ڈنک مار کر ایمان کا چراغ گل کر دیتا ہے۔
دنیا کے سارے کافر زہر کو زہر کے نام پر بیچتے ہیں لیکن قادیانی کافر زہر کو تریاق کے نام پر بیچتا ہے۔ دنیا کے سارے کافر شراب کو شراب کے نام پر بیچتے ہیں لیکن قادیانی کافر شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل لگاتا ہے۔ دنیا کے سارے کافر خنزیر کے گوشت کو خنزیر کے گوشت کے نام پر فروخت کرتے ہیں لیکن قادیانی کافر خنزیر کے گوشت کو بکرے کے گوشت کے نام پر بیچتا ہے۔ دنیا کے سارے کافر شراب خانے پر شراب خانے کا بورڈ لگاتے ہیں لیکن قادیانی کافر شراب خانے پر مسجد کا بورڈ لگاتا ہے۔ عام کافر تلوار سے حملہ کرنے والا دشمن ہے لیکن قادیانی کافر کھانے میں زہر ملانے والا دشمن ہے۔ عام کافر اسلام کے قلعہ کے مین دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہونا چاہتا ہے لیکن قادیانی کافر قلعہ میں سرنگ لگا کر داخل ہوتا ہے۔
آپ کسی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کھڑے ہوں۔ آپ کسی شخص کو دیکھتے ہیں جس نے گلے میں صلیب لٹکا رکھی ہے تو آپ فوراً سمجھ جائیں گے کہ وہ شخص عیسائی ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو دیکھیں جس کے گلے میں مورتی لٹک رہی ہو تو آپ سمجھ جائیں گے کہ وہ شخص ہندو ہے۔ اگر آپ کسی شخص کو دیکھتے ہیں جس کے بازو میں کڑا، چہرے پر داڑھی اور سر پر مخصوص طرز کی پگڑی ہو تو آپ فوراً سمجھ جائیں گے کہ وہ شخص سکھ ہے۔ اگر آپ کسی شخص کو دیکھیں کہ اس کے گلے میں ”اللہ“ کا لاکٹ ہے یا سینہ پر کلمہ طیبہ کا بیج ہے یا اس نے ہاتھ میں تسبیح پکڑ رکھی ہے۔ آپ اسے مسلمان سمجھ کر اس کے پاس جائیں تو وہ آپ کو یہ بتا کر حیران و ششدر کر سکتا ہے کہ وہ قادیانی ہے اور پھر اپنا زہریلا منہ کھول کر اور متعفن دانت نکال کر آپ پر زہریلی ہنسی ہنس سکتا ہے۔
صیاد عطر مل کے چلا ہے گلاب کا
نوں میں سارے کافروں نے اپنی اپنی عبادت گاہ کا نام بتایا۔ لیکن ں نے مسلمانوں کی مسجد پر قبضہ کرنے کی ناپاک جسارت کی۔ ا دنیا کے سارے کافر اسلام کے لیے سانپ ہیں۔ ہر سانپ کا علیحدہ پ کے چلنے کی اپنی اپنی سرسراہٹ ہے۔ ہر سانپ کی اپنی اپنی پھنکار کا رنگ ہم رنگ زمین ہے۔ یہ ”کبرا“ سانپ ہے۔ اس کے چلنے کی س کی کوئی پھنکار نہیں۔ اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب یہ ڈنک مار کر ہے۔
ے کافر زہر کو زہر کے نام پر بیچتے ہیں لیکن قادیانی کافر زہر کو تریاق کے سارے کافر شراب کو شراب کے نام پر بیچتے ہیں لیکن قادیانی کافر م زم کا لیبل لگاتا ہے۔ دنیا کے سارے کافر خنزیر کے گوشت کو خنزیر خت کرتے ہیں لیکن قادیانی کافر خنزیر کے گوشت کو بکرے کے گوشت کے سارے کافر شراب خانے پر شراب خانے کا بورڈ لگاتے ہیں لیکن نے پر مسجد کا بورڈ لگاتا ہے۔ عام کافر تلوار سے حملہ کرنے والا دشمن ہے نے میں زہر ملانے والا دشمن ہے۔ عام کافر اسلام کے قلعہ کے مین ل ہونا چاہتا ہے لیکن قادیانی کافر قلعہ میں سرنگ لگا کر داخل ہوتا ہے۔
نیشنل ایئر پورٹ پر کھڑے ہوں۔ آپ کسی شخص کو دیکھتے ہیں جس نے ا ہے تو آپ فوراً سمجھ جائیں گے کہ وہ شخص عیسائی ہے۔ اگر آپ کسی کے گلے میں مورتی لٹک رہی ہو تو آپ سمجھ جائیں گے کہ وہ شخص ہندو کو دیکھتے ہیں جس کے بازو میں کڑا، چہرے پر داڑھی اور سر پر مخصوص فوراً سمجھ جائیں گے کہ وہ شخص سکھ ہے۔ اگر آپ کسی شخص کو دیکھیں کہ ’کالا کوٹ ہے یا سینہ پر کلمہ طیبہ کا بیج ہے یا اس نے ہاتھ میں تسبیح پکڑ لمان سمجھ کر اس کے پاس جائیں تو وہ آپ کو یہ بتا کر حیران و ششدر تا ہے اور پھر اپنا زہریلا منہ کھول کر اور متعفن دانت نکال کر آپ پر ۔
صیاد عطر مل کے چلا ہے گلاب کا
محتشم قارئین! حضرت سلیمان علیہ السلام کا عہد تھا۔ بہار کا موسم تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ گلوں کی خوشبو نے فضا میں مستی پیدا کر رکھی تھی۔ درخت کی ایک شاخ پر ایک ہدہد کا جوڑا خوش گپیوں میں مصروف تھا۔ سامنے سے ایک شخص آ رہا تھا۔ ہوا کے جھونکوں سے جھولتی شاخ پر بیٹھی مادہ ہدہد نے جب اس شخص کو درخت کی جانب آتے دیکھا تو وہ چونک اٹھی اور اپنے خاوند سے کہا ”سرتاج! اڑ چلیں۔ شکاری آ رہا ہے۔“
نر ہدہد نے صورتحال کا جائزہ لے کر کہا ”پگلی! دیکھ، کیا شکاری اس طرح کے ہوتے ہیں۔ دیکھتی نہیں اس نے گیروے رنگ کا پھٹا پرانا لباس پہنا ہوا ہے۔ پاؤں سے ننگا ہے۔ بال گرد سے بھرے ہوئے ہیں۔ چہرہ غبار آلود ہے۔ وہ اپنی مستانی چال میں چلا جا رہا ہے۔ اسے تو اپنے آپ کی بھی ہوش نہیں۔ یہ تو کوئی سادھو ہے جو جنگل کی سیاحت کر رہا ہے۔ مادہ ہدہد اپنے خاوند کے دلائل سے مطمئن ہو گئی اور وہ دونوں پھر اپنی رسیلی باتوں میں مگن ہو گئے۔
شکاری نے انہیں غافل پا کر نشانہ لیا اور غلیل چلا دی۔ نشانہ ہدہد کو لگا اور وہ تڑپتا پھڑکتا زمین پر آ گرا۔ ظالم شکاری دھم دھم بھاگتا آیا۔ اس نے تڑپتے ہوئے ہدہد کو پکڑا جیب سے خنجر نکالا اور اسے ذبح کر کے تھیلے میں ڈالا اور اپنا راستہ لیا۔ مادہ ہدہد روتی دھوتی، آہ و فغاں کرتی حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں پہنچی اور کہا کہ فلاں شخص نے میرے خاوند کو قتل کر دیا ہے۔ میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم پر شکاری کو دربار میں حاضر کیا گیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شکاری سے کہا کہ تو نے اس کے خاوند کو کیوں قتل کیا ہے؟ شکاری نے جواب دیا ”حضور میں نے اس کے خاوند کو قتل نہیں کیا۔ میں نے تو اسے شکار کیا ہے اور شکار کرنا آپ کی شریعت میں جائز ہے۔“
حضرت سلیمان علیہ السلام مادہ ہدہد کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا ”شکاری نے شکار کیا ہے۔ اور شکار کرنا جائز ہے۔ اس لیے یہ مجرم نہیں“ مادہ ہدہد آنسو برساتی ہوئی بولی ”اللہ کے نبی! میرا مقدمہ یہ ہے کہ اگر یہ شکاری ہے تو شکاریوں والا لباس پہنے۔ یہ سادھوؤں والا روپ دھار کے شکاریوں والا کام کرتا ہے۔ یہ اپنے لباس اور اپنی وضع قطع سے دھوکا دیتا ہے۔ میرا خاوند صرف اس لیے مارا گیا کہ اس نے اس کے روپ سے دھوکا کھایا۔“
دوستو! آج ہم بھی یہی رونا روتے ہیں کہ قادیانی شکاری مسلمانوں والا لباس پہن کر، مسلمانوں والا حلیہ بنا کر اور خود کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کے ایمانوں کو شکار کر رہے
ہیں۔ ہم بھی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے سروں سے عمامے اور ٹوپیاں اتاری جائیں۔ ان کی داڑھیاں مونڈیں جائیں، ان کے ہاتھوں سے تسبیحاں چھینی جائیں۔ ان کے گھروں، عبادت گاہوں اور دفاتر سے قرآن مجید، احادیث رسول اور دیگر اسلامی لٹریچر ضبط کیا جائے۔ انہیں مسلمانوں جیسے نام نہ رکھنے دیئے جائیں۔ انہیں اپنی عبادت گاہوں کو مسجد نہ کہنے دیا جائے۔ ان کی عبادت گاہوں کو جو انہوں نے مسجد کی طرز پر بنا رکھی ہیں۔ انہیں ”مسجد ضرار“ قرار دے کر منہدم کیا جائے اور پھر نذر آتش کر کے سنت نبوی کو زندہ کیا جائے۔ کیونکہ حضور خاتم النبیین ﷺ نے منافقین کی بنائی ہوئی ”مسجد ضرار“ کو گرا کر اسے آگ لگوائی تھی۔
ایک بہت بڑے وکیل صاحب کے گھر ڈکیتی ہو گئی۔ لوگ پرسش احوال کے لیے ان کے گھر جمع ہوئے۔ انہوں نے وکیل صاحب سے کہا کہ آپ جیسا ہوشیار اور چالاک شخص ڈاکوؤں سے دھوکا کیوں کھا گیا؟ آپ جیسے ذہین اور ذکی شخص نے ڈاکوؤں کے لیے گیٹ کیوں کھول دیا؟ وکیل صاحب نے ٹھنڈی آہ بھری اور نظریں جھکا کر کہنے لگے کہ ڈاکو ”پولیس کی وردی“ میں آئے تھے۔
مسلمانو! پوری دنیا میں ہر قادیانی پولیس کی وردی پہن کر اسلام اور مسلمانوں پر ڈاکہ زنی کر رہا ہے۔ وہ محافظ اسلام کا لباس پہن کر ایمان کی رہزنی کر رہا ہے۔ وہ چوکیدار کا روپ دھار کر ڈکیتیاں کر رہا ہے۔
مسلمانو! اگر جناب محمد عربی ﷺ سے تمہارا عشق و غیرت کا رشتہ ہے تو ان چوروں، ان ڈاکوؤں ...... کو پکڑنے کے لیے اپنے سارے وسائل اور ساری صلاحیتیں صرف کر دو۔ ورنہ یہ سفاک جگہ جگہ مسلمانوں کے ایمانوں کے مقتل تعمیر کر دیں گے۔
کفر حق کے بھیس میں آیا ہے حق کے سامنے
خادم تحریک تحفظ ختم نبوت محمد طاہر عبدالرزاق بی ایس سی، ایم اے (تاریخ)
صدائے دل
کیا نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی ممکن ہے؟ اس کا جواب سوائے انکار و ناممکن کے کچھ نہیں۔ تمام مسلمانوں کا یہ متفق علیہ عقیدہ ہے۔ بلکہ مدعی نبوت سے دلیل نبوت طلب کرنا بھی کفر ہے۔
قرآن پاک کی آفاقیت، جامعیت و ہمہ گیریت اور لا ریب و بے مثل ہونا نیز محفوظ اور واجب الاتباع ہونا سب کے سب ختم نبوت کے تصور کی تفاصیل ہیں۔ حضور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا جمیع بنی نوع انسان کیلئے نبی و رسول ہونا ختم نبوت ہی کا تقاضہ ہے۔
معلوم ہوا کہ ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ ہونا ہر مسلمان کیلئے لازم و ضروری ہے۔ خصوصاً اس دور میں جبکہ اسلام دشمن ممالک اور اداروں کی پشت پناہی کے ذریعے فتنہ قادیانیت نئے نئے انداز سے اسلام دشمنی کے حربے استعمال کر رہا ہے، اہل ایمان کو فتنہ قادیانیت سے بچانا بہت ضروری ہو چکا ہے۔
مسلمان، ختم نبوت کے معاملہ میں ہمیشہ حساس رہے ۔ جب تک مسلمانوں کو غلبہ و اختیار رہا کسی بد بخت کو موقع نہ دیا گیا کہ وہ ختم نبوت سے منحرف ہو کے شان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر انگلی اٹھا سکے۔ افسوس یہ اقتدار غلامی میں بدلا۔ مسلمان زوال کا شکار ہوئے اور سیاہ بختوں کو اسلام پر چر کے لگانے کا موقعہ ہاتھ لگا۔
تثلیث پرست فرنگی نے خود کو رب کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نعوذ باللہ اللہ کا اکلوتا بیٹا قرار دیگر انہیں تین خداؤں میں سے دوسرا خدا گھڑ لیا۔ لیکن محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و شان نبوت اسے ایک آنکھ نہ بھائی۔ اس نے سب سے پہلے عظمت تصور نبوت کو پامال کرنا چاہا اور بعض شوریدہ سر افراد کو آلہ کار بنا کر ایسی تحریروں کو فروغ دیا کہ جن سے مسلمان آپس میں دست و گریباں ہو گئے۔ تاثر یہ دیا گیا کہ شاید تصور توحید اور تعظیم رسالت اک دوسرے سے محارب و متصادم ہیں۔ بات بات پر شرک و کفر کے فتوے لکھ مارے گئے اور
پھر بتدریج فضا اس قدر مکدر ہوئی کہ وہ ذات اقدس جس کے نام پر سر کٹانا ہر دو جہاں کی کامیابی سمجھا جاتا تھا۔ موضوع بحث و مناظرہ ہو گئی افسوس! بہت سوں نے قرآن پڑھا۔ مگر تنقیص عظمت رسالت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے۔ حال یہ رہا کہ سارے کمالات و مراتب اور القابات تو اپنے حضرت و مولانا کیلئے مختص ہوئے اور وہ جن کیلئے سب کچھ بنایا گیا ان کیلئے بشر جیسی تعریف کافی سمجھی گئی۔
تمام انبیائے کرام کا چناؤ روز ازل ہوا تھا (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ) نبی معصوم عن الخطا ہوتا ہے۔ نبی تربیت الٰہی سے بہرہ یاب ہوتا ہے۔ نبی مطلع علی الغیب ہوتا ہے۔ نبی واجب التعظیم ہوتا ہے۔ نبی واجب الاطاعت ہوتا ہے۔ نبی مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے قریب ہوتا ہے۔ نبی کے فیصلے کے خلاف کسی مومن و مومنہ کو کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ امتی نبی کے حکم کو بلاچون و چرا مانتا ہے۔ خدا وہی خدا ہے جس کی نشاندہی نبی نے فرمائی۔ نبی معظم کی تعلیم سے ہٹ کر نہ کوئی تصور توحید ہے نہ تصور رسالت و نبوت اور نہ ہی کوئی تصور آخرت بلکہ ہر ہر عقیدہ اور ہر ایک عمل کی اساس نبی کی تعلیم ہوتی ہے۔
اور اب وہ زمانہ آیا بچپن کا چڑی مار غلیظ چھپڑوں کا تیراک فرنگ کی عدالت کا منشی، کفار فرنگ کا خود کاشتہ پودا کہلانے پر فخر کرنے والا ”ریونڈر بٹلر“ نامی فرنگی سے (جو برطانوی انٹیلی جنس سیالکوٹ مشن کا انچارج تھا) 1868ء میں ملاقات کرتا ہے اور چند روز بعد عدالت کی نوکری چھوڑ کر مناظر بن جاتا ہے اور پھر بتدریج وہ اپنی ہوائے نفس کو الہام قرار دیکر مجدد، محدث، مہدی موعود، مسیح موعود، ظلی نبی اور پھر اصلی نبی کے من گھڑت دعوے شروع کر دیتا ہے۔
ایمان والو! حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو پیدا ہوتے ہی پنگھوڑے میں ارشاد فرماتے ہیں۔
اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ نے مجھے کتاب نَبِیًّا (سورہ مریم) عطا فرمائی ہے مجھے نبی بنایا ہوا ہے۔
اور مثیل مسیح ہونے کے جھوٹے مدعی کو برس ہا برس پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ آیا کہ وہ صرف مناظر ہے۔ مجدد ہے یا محدث ہے، مہدی ہے یا عیسیٰ۔ بالآخر خدا اور خدا کا بیٹا بلکہ خدا کی جورو (ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ان ہفوات سے) ہونے کے کشفوں سے لیکر جے سنگھ بہادر بشر کی
در ہوتی کہ وہ ذات اقدس جس کے نام پر سر کٹانا ہر دو جہاں کی وع بحث و مناظرہ ہو گئی افسوس! بہت سوں نے قرآن پڑھا، مگر طفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے۔ حال یہ رہا کہ سارے کمالات و مراتب و مولانا کیلئے مختص ہوئے اور وہ جن کیلئے سب کچھ بنایا گیا ان کیلئے رہا۔
رام کا چناؤ روز ازل ہوا تھا (وَإِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّيْنَ) نبی نبی تربیت الٰہی سے بہریاب ہوتا ہے۔ نبی مطلع علی الغیب ہوتا ہے۔ ہے۔ نبی واجب الاطاعت ہوتا ہے۔ نبی مومنوں کی جانوں سے بھی ہے۔ نبی کے فیصلے کے خلاف کسی مومن و مومنہ کو کوئی اختیار نہیں بلاچون و چرا مانتا ہے۔ خداوہی خدا ہے جس کی نشاندہی نبی نے سے ہٹ کر نہ کوئی تصور توحید ہے نہ تصور رسالت و نبوت اور نہ ہی کوئی عقیدہ اور ہر ایک عمل کی اساس نبی کی تعلیم ہوتی ہے۔
زمانہ آیا بچپن کا چڑی مار غلیظ چھپڑوں کا تیراک، فرنگ کی عدالت کا منشی، سودا کہلانے پر فخر کرنے والا ”ریونڈر بٹلر‘ نامی فرنگی سے (جو برطانوی کا انچارج تھا) 1868ء میں ملاقات کرتا ہے اور چند روز بعد عدالت بن جاتا ہے اور پھر بتدریج وہ اپنی ہوائے نفس کو الہام قرار دیکر مجدد ح موعود، ظلی نبی اور پھر اصلی نبی کے من گھڑت دعوے شروع کر دیتا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو پیدا ہوتے ہی پنگھوڑے میں ارشاد فرماتے
الْكِتَابَ وَ جَعَلَنِي میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ نے مجھے کتاب (سوره مریم) عطا فرمائی ہے مجھے نبی بنایا ہوا ہے۔
جھوٹے مدعی کو برس ہا برس پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ آیا کہ وہ صرف مناظر ہے، مہدی ہے یا عیسیٰ۔ بالآخر خدا اور خدا کا بیٹا بلکہ خدا کی جو رو (ہم ان ہفوات سے) ہونے کے کشفوں سے لیکر جے سنگھ بہادر بشر کی
جائے نفرت اور انسانوں کی عار کے مابین کودتا پھاندتا رہا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نہ کوئی اُستاد تھا اور نہ سکول ماسٹر۔ مثیل مسیح ہونے کا مدعی بڑے فخر سے اپنے استادوں کے نام بیان کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نہ کوئی گھر تھا نہ ٹھکانہ۔ مثیل عیسیٰ کا من گھڑت مدعی مکانات و باغات کا مالک تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کوئی کتاب نہ لکھی اور مثیل مسیح ہونے کا کذاب دعویدار براہین احمدیہ کو پچاس جلدوں میں لکھنے کے وعدے پر اس زمانہ میں ہزاروں کما گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کسی کی کاسہ لیسی نہیں کی۔ جبکہ مسیح الدجال بڑے فخر سے لکھتا ہے کہ میں نے انگریز کی حمایت میں اتنی کتابیں لکھی ہیں کہ ان سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روح القدس کی تائید حاصل رہی جبکہ مثیل عیسیٰ علیہ السلام ہونے کا جھوٹا مدعی خود کو انگریز کا خودکاشت پودا کہتا رہا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کنوارے رہے اور مثیل عیسیٰ ہونے کا دعویدار دو بیویوں سے شادی کرنے کے بعد اپنے قریبی رشتہ داروں کی نوجوان بچی سے جو عمر میں اس کی بیٹیوں کے برابر تھی۔ جھوٹے الہامات تراشتا رہا، منتیں کرتا رہا، اموات و عذاب کے ڈراوے دیتا رہا، لالچ و ترغیبات دیتا رہا، اس نے بیٹے کو عاق کیا، بیوی کو طلاق دی مگر محمدی بیگم ہاتھ نہ آئی البتہ ذلت و رسوائی و نامرادی حصہ میں آئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لب ہلیں تو مردے زندہ ہو جائیں، مٹی کے پرند ہوا میں اڑیں۔ مادر زاد اندھے بینا ہوں، برص والے تندرست ہوں۔ مثیل مسیح ہونے کے مدعی کے منہ سے گالیاں صادر ہوں، عدالتوں میں معافی نامے داخل کرائے، لوگوں کی موت کے دعوے کرے اور ان کی زندگی اس کی رسوائیاں بڑھائے۔ خود آفتاب گولڑہ کو لاہور میں مناظرہ کی دعوت دے اور وقت مقررہ پر گھر میں گھس کے بیٹھا رہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آسمان سے ”مائدہ“ اتاریں اور مثیل عیسیٰ ہونے کا مدعی طاعون کو دلیل نبوت ٹھہرائے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو اللہ تعالیٰ زندہ آسمانوں پر لے جائے اور مثیل مسیح ہونے کا جھوٹا مدعی ہیضہ و پیچش کے امراض میں مبتلا ہو کر اپنے پاخانہ میں سرتا قدم لت پت ہو کر اپنے وجود سے دنیا کو پاک کرے۔
ایمان والو! خدائے لم یزل کی قسم، کیا ایسا شخص مثیل مسیح ہو سکتا ہے؟ نبی ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں چہ جائیکہ کہ وہ اس سے بھی بلند بانگ دعاوی کی لاف زنی کرتا پھرے۔
اور سبحان اللہ! اسلام اوتاروں کا مذہب نہیں۔ اللہ کا چنیدہ دین ہے۔ اوتار ومثیل تو
ہندو مذہب میں ہیں جیسے رام، کرشن، مہاویر گوتم بدھ وغیرہ وشنو کے اوتار و مثیل ہے۔ قرآن پاک تو مثیل عیسیٰ کے تصور سے بالکل پاک ہے۔ اور مرزا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مثیل عیسیٰ بھی اور کرشن کا اوتار بھی۔
اگر آپ کو کسی قادیانی سے گفتگو کرنے کا موقعہ ملے تو اس سے پوچھیں آپ ”مرزا“ کو کیا مانتے ہیں۔ تو قادیانی یہ دیکھتے ہوئے کہ سوال کرنے والا کس حیثیت علمی کا مالک ہے۔ جواب مختلف انداز میں دے گا۔ اگر آپ اس کی بات تسلیم کرتے جائیں تو وہ بالآخر مرزا کو مثیل محمد قرار دے گا اور اگر اس سے بحث کرنے لگیں تو وہ پسپائی اختیار کرتا چلا جائے گا یہاں تک کہ وہ یہ بھی کہہ دے گا کہ ہم تو ”مرزا“ کو محض بزرگ اور نیکوکار مانتے ہیں اور پھر آپ سے بہر صورت جان چھڑانے کی کوشش کرے گا۔
دوستو! کبھی آپ کو اتفاق ہوا ہو، کسی ایسے دکاندار کا، جو جعلی اشیاء بیچتا ہو۔ آپ اس کی اشیاء کی تعریف کریں تو وہ نتھنے پھلا کر اپنے مال کی تعریف کے پل باندھے گا اور اگر آپ اس کی اشیاء کے نقائص بیان کرنا شروع کر دیں تو اس کی کوشش ہوگی کہ اس شخص سے جان چھڑا لے کہ کہیں یہ دوسرے گاہکوں کو ”خراب“ نہ کرے۔ یہی حال قادیانیت کا ہے۔
دوستو! قادیانیت کذب وافتراء ہے۔ جعل سازی ہے۔ تنقیص رسالت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اور اس کا سدباب قادیانیت کشی ہے۔ رَدّ قادیانیت پڑھیے۔ سمجھئے اور اسلام کو قادیانیت سے بچائیے۔ یہ کتاب ایک دردمند دل رکھنے والے کی تالیف ہے۔ محترم محمد طاہر عبدالرزاق میرے لیے اور ہر اس شخص کیلئے محسن ہیں جو عظمت اسلام، عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور تحفظ ختم نبوت کا علمبردار ہے۔ محترم مؤلف درحقیقت ان معدودے چند افراد میں سے ہیں جو لوگوں کو قول، فعل، علم، کردار، تدبر اور تفکر کے ذریعے قادیانیت کی آگ سے بچا رہے ہیں۔ محترم مؤلف اس سے پیشتر بھی درجنوں تصانیف آپ کے مطالعہ کی نذر کر چکے ہیں۔ مگر زیر نظر کتاب درحقیقت ایک شاہکار ہے۔ اس کتاب میں مدنی اور قادیانی عقائد کو بالکل واضح اور الگ الگ ظاہر کر دیا گیا ہے۔ یہ کتاب عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامت رکھنے والی، بلکہ بے انتہا بڑھا دینے والی ہے۔ یہ ختم نبوت کے دلائل سے بھی مزین ہے اور قادیانی شکوک وشبہات کا بھی ازالہ کرتی ہے۔ نیز قادیانیت کے مکروہ چہرے سے مظلومیت کا خود ساختہ نقاب بھی نوچ ڈالتی ہے۔
ام، کرشن، مہاویر، گوتم بدھ وغیرہ وشنو کے اوتار و مثیل ہے۔ قرآن سے بالکل پاک ہے۔ اور مرزا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مثیل عیسیٰ بھی
ادیانی سے گفتگو کرنے کا موقعہ ملے تو اس سے پوچھیں آپ ’’مرزا‘‘ یہ دیکھتے ہوئے کہ سوال کرنے والا کس حیثیت علمی کا مالک ہے۔ ے گا۔ اگر آپ اس کی بات تسلیم کرتے جائیں تو وہ بالآخر مرزا کو ر اس سے بحث کرنے لگیں تو وہ پسپائی اختیار کرتا چلا جائے گا یہاں گا کہ ہم تو ’’مرزا‘‘ کو محض بزرگ اور نیکوکار مانتے ہیں اور پھر آپ نے کی کوشش کرے گا۔
پ کو اتفاق ہوا ہو، کسی ایسے دکاندار کا، جو جعلی اشیاء بیچتا ہو۔ آپ اس تو وہ نتھنے پھلا کر اپنے مال کی تعریف کے پل باندھے گا اور اگر آپ بیان کرنا شروع کر دیں تو اس کی کوشش ہو گی کہ اس شخص سے جان گاہکوں کو ’’خراب‘‘ نہ کرے۔ یہی حال قادیانیت کا ہے۔
یت کذب وافتراء ہے۔ جعل سازی ہے۔ تنقیص رسالت مصطفیٰ صلی کا سدباب قادیانیت کشی ہے۔ رد قادیانیت پڑھیے۔ سمجھئے اور اسلام ے۔ یہ کتاب ایک دردمند دل رکھنے والے کی تالیف ہے۔ محترم محمد طاہر اور ہر اس شخص کیلئے محسن ہیں جو عظمتِ اسلام، عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ علمبردار ہے۔ محترم مؤلف درحقیقت ان معدودے چند افراد میں سے ، علم، کردار، تدبر اور تفکر کے ذریعے قادیانیت کی آگ سے بچا رہے سے پیشتر بھی درجنوں تصانیف آپ کے مطالعہ کی نذر کر چکے ہیں۔ مگر ایک شاہکار ہے۔ اس کتاب میں مرزائی اور قادیانی عقائد کو بالکل واضح یا گیا ہے۔ یہ کتاب عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامت رکھنے والی، والی ہے۔ یہ ختم نبوت کے دلائل سے بھی مزین ہے اور قادیانی شکوک کرتی ہے۔ نیز قادیانیت کے مکروہ چہرے سے مظلومیت کا خود ساختہ ہے۔
ایمان والو! قادیانیت ایک عفریت ہے جو اسلام اور محبت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو نگلنا چاہتی ہے۔ عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی موت ہے۔ سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ہوتے ہوئے کسی ’’مرزے ورزے‘‘ کی محبت نہیں ہو سکتی۔ جس دل میں مدینہ اور مدینے والا ہو اس کے لیے قادیان کیا اور قادیانی کیا۔
عرض فقط یہی ہے، جس دل میں حُبّ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں وہ ایمان والا نہیں۔ اور جس دل میں قادیانی سے محبت ہو وہ ’’حُبّ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) والا نہیں‘‘
اللہ ایمان و محبت مصطفیٰ میں وافر حصہ عطا فرمائے۔ آمین
پروفیسر حافظ محمد کمال بٹ صدر ادارہ فروغ تعلیم قرآن لاہور
FC
تقدیم
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی مخلوق کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیاء و رسل کو مبعوث فرمایا۔ نبوت و رسالت کا سلسلہ سیدنا آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور تکمیلِ دین کا یہ ارتقائی عمل سیدالاولین والآخرین محمد رسول اللہ ﷺ کو تاجِ ختم نبوت پہنا کر مکمل ہوا۔
رب رحیم و کریم کا ہم پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہمیں اپنے آخری نبی و رسول سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی امت میں پیدا کیا۔ جن کی ذات اقدس پر دین مکمل ہوا، نبوت ختم ہوئی، آخری کتاب قرآن مجید نازل ہوئی اور آپ ہی کی نبوت و شریعت کو طلوعِ صبح قیامت تک بنی نوع انسان کی ہدایت، نجات اور مغفرت کا ذریعہ قرار دیا۔
اللہ جل شانہ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ زمین پر بسنے والے تمام انسان براہِ راست اس پر ایمان لے آئیں۔ لیکن اللہ کا چاہنا یہ ہوا کہ مخلوق اس کے بھیجے ہوئے رسول کی اتباع، اطاعت اور فرمانبرداری کر کے معرفتِ حق اور نورِ ایمان و ہدایت حاصل کرے۔
عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس، ایمان کی روح اور وحدتِ امت کی ضمانت ہے۔ قرآن کریم کی حفاظت کی طرح منصبِ ختم نبوت کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ اس کی بے پناہ مہربانیوں میں سے ایک مہربانی یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو تحفظ ختم نبوت کی خدمت کے لیے قبول کیا اور اس کی توفیق و سعادت بھی نصیب فرمائی۔
اسلام اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان انہی فتنوں سے پہنچا جو اسلام کے نام اور عنوان کا لبادہ اوڑھ کر نمودار ہوئے۔ چنانچہ تاریخ اسلام کے مطالعے سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے لیے برپا ہونے والی جنگِ یمامہ میں غزوۂ بدر کی نسبت مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان زیادہ ہوا۔ امیر المؤمنین خلیفۂ بلافصل رسول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے جب تک جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب اور اس
تقدیم
وق کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیاء و رسل کو مبعوث آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور تکمیل دین کا یہ ارتقائی ﷺ کو تاج ختم نبوت پہنا کر مکمل ہوا۔
ایمان یہ ہے کہ ہمیں اپنے آخری نبی و ت میں پیدا کیا۔ جن کی ذات اقدس پر دین مکمل ہوا، حید نازل ہوئی اور آپ ہی کی نبوت و شریعت کو طلوع صبح نجات اور مغفرت کا ذریعہ قرار دیا۔
حاصل ہے کہ زمین پر بسنے والے تمام انسان براہِ راست چاہنا یہ ہوا کہ مخلوق اس کے بھیجے ہوئے رسول کی اتباع، حق اور نور ایمان و ہدایت حاصل کرے۔
ی اساس، ایمان کی روح اور وحدت امت کی ضمانت منصب ختم نبوت کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود ا سے ایک مہربانی یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو تحفظ ختم نبوت ی توفیق و سعادت بھی نصیب فرمائی۔
سے زیادہ نقصان انہی فتنوں سے پہنچا جو اسلام کے نام ے۔ چنانچہ تاریخ اسلام کے مطالعے سے یہ حقیقت منکشف ے برپا ہونے والی جنگ یمامہ میں غزوہ بدر کی نسبت ہوا۔ امیر المومنین خلیفہ بلافصل رسول سیدنا ابو بکر صدیق نہ بیٹھے جب تک جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب اور اس
کے لشکر ارتداد کا مکمل قلع قمع نہ کر دیا۔ تحفظ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ نبی خاتم ﷺ کی حیات طیبہ میں دفاع اسلام کے لیے شہید ہونے والے اہل ایمان کی کل تعداد ٢٥٩ ہے اور قتل ہونے والے کفار کی تعداد ٧٥٩ ہے جبکہ منصب ختم نبوت کی حفاظت کے لیے جنگ یمامہ میں ١٢٠٠ صحابہ کرام شہید ہوئے جن میں ٧٠٠ کے قریب صحابہؓ تو حفاظ قرآن تھے۔ معرکہ یمامہ میں بعض بدری صحابہؓ نے بھی اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا مگر عقیدہ ختم نبوت پر آنچ نہ آنے دی۔
جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی خاتم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنی مخلوق کی ہدایت کے لیے منتخب کیا بعینہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اپنے حبیب کریم ﷺ کی معیت و نصرت اور آپ کے منصب ختم نبوت کی حفاظت کے لیے چن لیا تھا۔ ان کے قلوب کو ایمان کی نعمت سے خود منور فرمایا اور مصائب و امتحانات کی دشوار گھاٹیوں سے کامیابی کے ساتھ گزار کر نہ صرف ان کی مغفرت کا اعلان فرمایا بلکہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے انہی کے ایمان کو معیار اور حجت قرار دے کر ان کے نقش قدم پر چلنے کا حکم فرمایا۔
مسیلمہ کذاب سے لے کر مسیلمہ پنجاب (مرزا قادیانی) تک جتنے بھی ملعون آئے مسلمانوں نے نہ صرف ان کی جھوٹی نبوت کا انکار کیا بلکہ شدید مزاحمت و استقامت کے ساتھ ان کا راستہ روکا اور امت مسلمہ کو ان فتنوں کی ہمہ جہت گمراہی سے بھی خبردار کیا۔
ہندوستان کے قصبہ قادیان کے ایک ساکن بدباطن اور دریدہ دہن مرزا قادیانی (١٨٣٩ء، ١٩٠٨ء) نے انگریزوں کے ایماء پر ١٨٨٣ء سے مختلف دعوے کرنے شروع کیے اور آخر ١٩٠١ء میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی نفی کی، فریضہ جہاد کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی سعی مذموم کی۔ مرزا قادیانی انگریزوں کا پشتنی وفادار تھا۔ اس کے آباؤ اجداد نے ١٨٥٧ء کی جہاد آزادی میں مسلمانوں کے مقابلہ میں انگریزوں کی مدد کی اور غداریوں کے عوض مال و منصب حاصل کیا۔ مرزا قادیانی انہی غداروں کی کوکھ سے جنم لینے والا ایک غدار تھا، اس نے اپنی کتاب ”تبلیغ رسالت“ (جلد ٧، صفحہ ١٩) میں خود کو ”انگریز کا خود کاشتہ پودا“ لکھا ہے۔
مرزا قادیانی کی ابتدائی تحریروں اور دعوؤں کو دیکھ کر رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ کے اجداد علماء لدھیانہ حضرت مولانا محمد لدھیانویؒ، حضرت مولانا عبداللہ لدھیانؒ،اللہ لدھیانویؒ
اور حضرت مولانا عبدالعزیز لدھیانوی رحمہم اللہ نے سب سے پہلے (١٣٠١ھ، ١٨٨٤ء) اس کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا۔ حالانکہ اس وقت مرزا قادیانی نے کھل کر نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا اسی وجہ سے دیگر علماء خاموش تھے لیکن علماء لدھیانہ کی ایمانی بصیرت نے مرزا قادیانی کے خبث باطن کو بھانپ لیا اور مسلمانوں کو بروقت خبردار کیا۔ بعد میں حضرت پیر سید مہر علی شاہ اور مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہم اللہ نے مرزا قادیانی کی تحریروں کے جواب لکھے۔ مناظرہ و مباہلہ کا چیلنج دیا نتیجتاً مرزا میدان سے بھاگ گیا۔ علمی اور تحریری میدان میں علماء حق کی ایک بڑی جماعت نے اخلاصِ کامل کے ساتھ فتنہ قادیانیت کا مقابلہ کیا، اسے بھرے میدان میں پچھاڑا، اس کی جڑوں کو اکھاڑا اور سرِ بازار رسوا کیا۔
انگریز حکمران، مرزا قادیانی، اس کے خاندان اور پیروکاروں کی مکمل حوصلہ افزائی اور پشت پناہی کر رہے تھے۔ اسی گروہ خبیث کے ذریعے وہ اسلام اور مسلمانوں پر ہر طرف سے حملہ آور تھے۔ علماء حق نے ضرورت محسوس کی کہ اب فتنہ قادیانیت کا عوامی سطح پر محاسبہ کیا جائے۔ چنانچہ محدثِ کبیر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ نے اپنے ہونہار شاگردوں کو محاذِ ختم نبوت پر منظم اور سرگرم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فوج ختم نبوت کی سالاری کے لیے ان کی نگاہ بصیرت اپنے ایک بہادر اور فرمانبردار شاگرد سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ پر پڑی۔ انہوں نے ١٩٣٠ء میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی انجمن خدام الدین لاہور کے سالانہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
”عطاء اللہ شاہ بخاریؒ صاحب نیک بھی ہیں اور بہادر بھی، قادیانیت کے خلاف ان کی ایک تقریر ہماری کئی تصانیف پر بھاری ہے۔ قادیانیت اسلام کے خلاف سب سے بڑا فتنہ ہے۔ اس کی سرکوبی کے لیے میں عطاء اللہ شاہ صاحب کو ”امیر شریعت“ منتخب کر کے ان کی بیعت کرتا ہوں۔“
بس پھر کیا تھا.....؟ پانچ سو علماء نے حضرت انور شاہ کے حکم پر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے دستِ حق پرست پر تحفظ ختم نبوت کے لیے سعی و جدوجہد کی بیعت کی اور انہیں اپنا امیر شریعت منتخب کیا۔
مجلس احرار اسلام کا قیام بھی حضرت علامہ انور شاہ قدس سرہ کے مشورہ و حکم اور
حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ کی سرپرستی سے ہوا۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ، مفکر احرار چودھری افضل حقؒ اور دیگر اکابر احرار رحمہم اللہ نے اپنی تمام صلاحیتیں اور توانائیاں فتنہ قادیانیت کے استیصال اور محاسبہ و تعاقب کے لیے وقف کر دیں۔ قادیان میں حضرت امیر شریعتؒ کے فاتحانہ داخلے، مجلس احرار کے شعبہ تبلیغ تحفظ ختم نبوت کے دفتر کا قیام، مدرسہ و مسجد کی تعمیر اور احرار تبلیغ کانفرنس (١٩٣٤ء) کے انعقاد نے قادیانیت کی چولیں ڈھیلی کر دیں۔ مجلس احرار اسلام نے ہندوستان کے طول و عرض میں مرزائیت و قادیانیت کو گالی اور نفرت کی علامت بنا دیا۔ پاکستان میں ١٩٥٣ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت مجلس احرار کی طرف سے قادیانیت کے عوامی محاسبے کی ایک تاریخ ساز جدوجہد تھی۔ جنرل اعظم خان کے حکم پر دس ہزار فدائین ختم نبوت کے سینے امپورٹڈ گولیوں سے چھلنی کئے گئے۔ ختم نبوت کے پروانے ایک ایک کرکے فدا ہوتے رہے مگر شمع ختم نبوت کی لو مدھم نہیں ہونے دی۔ وہ شمع آج بھی روشن ہے اور قیامت تک روشن رہے گی۔ یہی تحریک ١٩٧٤ء میں نتیجہ خیز بن کر ظاہر ہوئی اور پھر ١٩٧٦ء میں جانشین امیر شریعت حضرت سید ابوذر بخاری اور ابن امیر شریعت سید عطاء الحسن بخاری رحمہم اللہ (ربوہ) چناب نگر میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے۔ وہاں مسلمانوں کی پہلی جامع مسجد ”احرار“ کا سنگ بنیاد رکھا اور نماز جمعہ ادا کی۔
محمد طاہر عبدالرزاق بھی شمع ختم نبوت کے پروانوں میں سے ایک پروانہ ہے۔ وہ عساکر ختم نبوت کا ایک جانباز سپاہی ہے۔ اس کا دل جذبہ تحفظ ختم نبوت سے معمور و منور ہے۔ اس نے تحفظ ختم نبوت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی ہے، وہ تقریر و تحریر دونوں میدانوں کا شہہ سوار ہے۔ اس نے زبان کھولی تو ختم نبوت زندہ باد کا فلک شگاف نعرہ بلند کیا، قلم اٹھایا تو اس سے تلوار کا کام لیا۔ قصر مرزائیت پر وہ شعلہ بن کر لپکا اور برق بن کر کڑکا۔ اس نے اپنے نشتری قلم کے ساتھ پوری قوت سے رگِ مرزائیت کو کاٹا۔ اس نے تحفظ ختم نبوت کے مشن کی آبیاری اور مرزائیت کو بے نقاب کرنے کے لیے دو درجن سے زائد کتابیں لکھیں۔ اس نے مرزائیت کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا اور اسلام کے خلاف ان کی شرمناک سازشوں کو طشت از بام کیا۔ وہ اپنی تحریروں میں قادیانیت کو لتاڑتا، پچھاڑتا اور للکارتا ہوا نظر آتا ہے۔
”اسلام کو قادیانیت سے بچائیے“ طاہر عبدالرزاق کی مرتب کردہ تازہ ترین کتاب ہے۔ رد قادیانیت کے مطالعے کے دوران انہوں نے جو موتی چنے اور پھول جمع کیے، انہیں انگشتری میں جڑ کے اور گل دستے میں سجا کر پیش کر دیا ہے۔ اس کتاب میں حضرت پیر سید مہر علی شاہ، سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، مولانا عتیق الرحمٰن آرویؒ، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، مولانا محمد نافع، مولانا محمود احمد رضویؒ، ڈاکٹر حافظ محمد یونس، عطاء اللہ صدیقی، پروفیسر منور احمد ملک اور دیگر حضرات کی عقیدۂ ختم نبوت اور محاسبۂ قادیانیت کے حوالے سے علمی و تحقیقی تحریریں شامل ہیں۔ طاہر عبدالرزاق نے ان تحریروں کو حسن و خوبصورتی کے ساتھ مرتب و یکجا کر کے اپنے اعلیٰ ذوق اور تحفظ ختم نبوت سے محبت کا اظہار کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کے جذبوں کو جوان رکھے، ان کے عمل میں برکت دے، ان کی خدمت کو قبول فرمائے اور ان کی مرتب کردہ کتابوں کو قادیانیوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)
خاکپائے شہدائے ختم نبوت
سید محمد کفیل شاہ بخاری
ڈپٹی سیکرٹری جنرل، مجلس احرار اسلام پاکستان
دفتر احرار: 68/C حسین سٹریٹ، نیو مسلم ٹاؤن، لاہور
شعلہ عشق
یہ ایک تاریخی سچائی ہے کہ کوئی بھی انسانی معاشرہ کسی نمونۂ عمل کے بغیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا۔ نمونۂ عمل، انسانی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ خالق کائنات نے اس ناگزیر انسانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہر دور میں انبیائے کرامؑ کو نمونۂ عمل بنا کے مبعوث فرمایا ہے۔ پھر انسانی معاشرے کی ایک خاص زمانی عمر میں اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کو کامل ترین نمونۂ عمل سے سرفراز کر دیا۔ اس پس منظر میں نبوت محمدیﷺ ظہور پذیر ہوئی، جس کے بارے میں واضح طور پر اعلان کر دیا گیا کہ یہ انسانیت کے لیے رہتی دنیا تک بہترین نمونۂ عمل ہے۔ بہترین نمونۂ عمل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے سارے زمانوں کے لیے نبوت محمدیﷺ ہی کافی ہے، یہی راہ عمل ہے، یہی راہ راست ہے۔
نبوت محمدیﷺ کی اس تاریخی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت کا لازمی تقاضا ہے کہ نبوت محمدیﷺ کی خاتمیت کو غیر متنازعہ تقدس اور غیر معمولی تحفظ حاصل ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رسول اللہﷺ کی ذات گرامی قدر، اسلامی معاشرے کو مربوط اور منظم رکھنے والا مرکزی عامل ہے۔ اس لیے اسوۂ حسنہﷺ کی مرکزیت، کاملیت اور خاتمیت کو جو کوئی نشانہ بناتا ہے، وہ دراصل اسلامی معاشرے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے وہ قابل معافی نہیں ہے۔ ظہور اسلام کے ساتھ ہی دشمنان اسلام نے رسول اللہﷺ کی ذات گرامی کو اس مقصد کے لیے اپنا ہدف بنالیا تھا۔ رسول اللہﷺ کے وصال کے بعد بھی دشمنان اسلام نے اپنی روش نہیں بدلی اور اپنے گھناؤنے عزائم کی تکمیل کے لیے رسول اللہﷺ کی ذات گرامی پر مسلسل حملے کرتے رہے ہیں۔ اس مکروہ سلسلے کی ایک کڑی، ہندوستان میں مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کی شکل میں نمودار ہوئی۔ لیکن جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، شرار بولہبی کے
حملوں سے چراغ مصطفوی ﷺ کی لو اور تیز ہوئی ہے، مرزا غلام احمد کے اس دعویٰ نبوت کو زبردست ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلامی معاشرے نے اپنی قوت مدافعت سے نبوت محمدی ﷺ پر اس حملے کو ناکام بنا دیا۔
محمد طاہر عبدالرزاق بڑے جوشیلے آدمی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے سچے عاشق ہیں۔ ختم نبوت ﷺ کا تحفظ ان کی زندگی کا نصب العین ہے۔ اسی میں ان کے دن کا سکون اور رات کا چین ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھ یہ عہد باندھ رکھا ہے کہ مرزا غلام احمد کی باقیات کو نیست و نابود کرنے کے فرض سے غافل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اس بارے میں اتنا کچھ لکھا ہے اور اتنا کچھ چھاپا ہے کہ یقین نہیں آتا کہ یہ کام کسی اکیلے آدمی نے کیا ہے۔ اسے عشق رسول ﷺ کا کرشمہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ میں جب بھی ان کی لکھی ہوئی یا مرتب کی ہوئی کتاب پڑھتا ہوں، میرے دل سے ان کے لیے دعا نکلتی ہے۔ ان کی زیر نظر تالیف، ان مضامین کا مجموعہ ہے، جو ختم نبوت ﷺ کے حوالے سے برصغیر کے نامور علماء کرام نے قلمبند کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ محمد طاہر عبدالرزاق کو جزائے خیر دے اور ان کی کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین
محمد اصغر عبداللہ روزنامہ ”نوائے وقت“ انچارج: سنڈے میگزین
طریق السداد فی عقوبۃ الارتداد
خلفائے راشدین اور قتل مرتد
حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ
٣١ اگست ١٩٢٤ء کابل میں قادیانی مبلغ نعمت اللہ کو بجرم ارتداد سزائے موت دی گئی۔ اس پر قادیانی اور قادیانی نواز گروہ نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اخبارات میں لے دے شروع ہو گئی۔ اکابر علمائے دیوبند نے والیٔ افغانستان کے اسلامی فیصلہ کی بھرپور تائید کی۔ ارتداد کی اسلامی سزا قتل پر رسائل لکھے۔ اس زمانہ میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اخبارات کو بیان جاری کیا۔ بعد میں معمولی ترمیم واضافہ سے اسے رسالہ کی شکل میں شائع کر دیا۔ (مرتب)
خلافت اسلامیہ کی ساڑھے تیرہ سو سالہ عمر میں ہمیشہ مرتد کو سزائے موت دی گئی ہے!
قادیانی مذہب اور اس کی تحریفات نے جن ضروریات اسلامیہ کو تختہ مشق بنایا ہے وہ غالباً ہمارے ناظرین سے مخفی نہیں۔ ختم نبوت کا انکار، نزول مسیح کا انکار، فرشتوں کا زمین پر آنے سے انکار وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کچھ تھا۔ مگر ہم سمجھتے تھے کہ یہ سب مرزا قادیانی کے دم تک ہیں۔ کیونکہ : ”وہ اپنے آپ کو خدا کا نبی کہتے تھے اور اس کا مستحق سمجھتے تھے کہ حدیث نبوی کے ذخیرہ میں سے جس حصہ کو چاہیں لیں اور جس کو چاہیں (نعوذ باللہ) ردی کی ٹوکری میں ڈال دیں۔“ جس کا خود مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر ٣ ص ١٥ خزائن ج ١٧ ص ٤٠١ ملخصاً وغیرہ میں) کھلے بندوں اعلان کیا ہے۔ لیکن آج نعمت اللہ خان مرزائی کے قتل نے یہ بات دکھلا دی کہ:
مرزا قادیانی کے مرنے سے بھی نصوص شرعیہ کی تحریف اور بدیہی الثبوت مسائل اسلامیہ کے انکار کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ بلکہ ان کا روحانی فیض آج تک اپنے لوگوں میں کام کر رہا ہے۔ جس کی ایک نظیر یہ ہے کہ شریعت اسلام کا کھلا ہوا فیصلہ ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہونے کی سزا قتل ہے۔ آیات قرآنیہ کے بعد احادیث نبویہ کا ایک بڑا دفتر اس حکم کا صاف طور سے اعلان کر رہا ہے۔ جن میں سے تقریباً تیس حدیثیں ہمارے زیر نظر ہیں۔ جن کو اگر ضرورت سمجھی گئی تو کسی وقت پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر خلافت اسلامیہ کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو چاروں خلفائے راشدین ؓ سے لے کر بعد کے تمام خلفاء کا متواتر عمل بتلا رہا ہے کہ یہ مسئلہ ان بدیہیات اسلامیہ سے ہے کہ جس کا انکار کسی مسلمان سے متصور نہیں۔ بایں ہمہ آج جبکہ دولت افغانستان نے اس شرعی اور قطعی
فیصلہ کے ماتحت نعمت اللہ خان مرزائی کو قتل کر دیا تو فرقہ مرزائیہ کی دونوں پارٹیاں قادیانی اور لاہوری اور بالخصوص اس کا آرگن پیغام صلح سرے سے اس حکم کے انکار پر تل گئے اور دولت افغانستان پر طرح طرح کے بیہودہ عیب لگانے اور ان کے عین شرعی فیصلہ کو وحشیانہ حکم ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا۔ ہمیں اس دیدہ دلیری معاصر سے سخت تعجب ہوا کہ وہ ملت اسلامیہ کو چیلنج دیتا ہے کہ: ”از روئے شریعت اسلامیہ مرتد کی سزا قتل ہونا ثابت کریں۔“ حالانکہ یہ مسئلہ اسلام میں اس قدر بدیہی الثبوت ہے کہ ہم کسی مسلمان پر بلکہ خود ایڈیٹر پیغام صلح پر یہ بدگمانی نہیں کر سکتے کہ وہ اس قدر ناواقف اور احکام شرعیہ سے غافل ہوں گے کہ ان کو قتل مرتد کی کوئی دلیل ادلۂ شرعیہ میں نہیں ملی۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے دلائل اور اس کے محیّر العقول لطائف ان کی پرواز سے بالاتر ہونے کی وجہ سے ان کی نظر سے اوجھل رہے ہوں۔ لیکن یہ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ احادیث کا اتنا بڑا دفتر ایک ایسے شخص پر بالکل مخفی رہے جو منہ بھر بھر کر علم کی ڈینگ مارتا ہے اور علمائے اسلام کے منہ آتا ہے؟۔ ہاں میں ان کو اس میں بھی معذور سمجھتا کہ یہ سب حدیثیں غیر درسی کتابوں میں ہوتیں۔ لیکن حیرت تو یہ ہے کہ ان میں سے دس بارہ حدیثیں وہ ہیں جو حدیث کی درسی کتابوں (صحاح) پر ایک سرسری نظر ڈالنے والے کے بلا تکلف سامنے آجاتی ہیں۔ جن سے معمولی درجہ کے طالب علم ناواقف نہیں رہ سکتے۔ مگر ایڈیٹر پیغام صلح ہیں کہ نہایت دلیری کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ سنتِ نبوی میں قتل مرتد کا کوئی اسوہ نہیں ملتا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ کلام غیظ و غضب کی بدحواسی میں ان کے قلم سے نکل گیا ہے۔ جس پر وہ افاقہ کے بعد قرآن وحدیث کو دیکھ کر پشیمان ہوئے ہوں گے۔ یا واقع میں ان کی تحصیل اور مبلغ علم یہی ہے کہ جس حکم سے قرآن وحدیث اور تعامل سلف کے دفتر بھرے ہوئے ہوں ان کا دماغ اس کے علم سے ایسا کورا ہے کہ علمائے اسلام کو اس کے اثبات کا اس بیہودہ خیال پر چیلنج دے رہے ہیں کہ وہ ثابت نہ کرسکیں گے۔ اور اگر ایسا ہے تو ہم ایڈیٹر صاحب کو اس معاملہ میں بھی معذور سمجھیں گے۔ کیونکہ ان کو مرزا قادیانی ایک ایسے کام میں لگا گئے ہیں جس سے وہ کسی وقت فارغ نہیں ہو سکتے۔ مرزا قادیانی کے متہافت اور متعارض اقوال کی گتھیوں کا سلجھانا ہی عمر گنوادینے کے لئے کافی ہے۔ ان کو کہاں فرصت کہ وہ خاتم الانبیاء ﷺ کے دین کی طرف متوجہ ہوں اور آپ ﷺ کی احادیث کو پڑھیں اور سمجھیں۔ اگر چہ مرزائی فرقہ کی حالت کا تجربہ رکھنے والے حضرات یہاں بھی یہی کہیں گے کہ یہ سب شقیں غلط ہیں۔ دراصل یہ سب احکام قرآن وحدیث ان کے ضرور سامنے ہیں مگر وہ جان بوجھ کر دیکھتی آنکھوں ان کا انکار کر رہے ہیں۔ اور وہ اس میں بھی معذور ہیں۔ کیونکہ ان کے آقا مرزا قادیانی کی یہی تعلیم ہے جس پر ان کی زندگی کے بہت سے کارنامے شاہد ہیں۔ بہر حال صورت کچھ ہو۔ آج پیغام صلح دنیائے اسلام کو پیغام جنگ دے کر یہ چاہتا ہے کہ اس مسئلہ کو اخباری گھوڑ دوڑ کا میدان بنائے ۔ اگر اس کے نزدیک اسی کی ضرورت ہے کہ اس بدیہی الثبوت مسئلہ پر بحث کر کے اخبار کے کالموں کو پر کیا جائے تو ہمیں بھی کچھ ضرورت نہیں کہ اس کو غیر ضروری ثابت کریں۔ لہٰذا ہم مختصر طور پر یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ مرتد کے لئے کیا سزا تجویز کرتی ہے اور خلفائے راشدین ؓ اور بعد کے تمام خلفاء نے مرتدین کے ساتھ کیا معاملہ کیا ہے؟۔
قرآن عزیز اور قتل مرتد
اس بحث کو چونکہ مجھ سے کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ قال تعا آیت ان لوگوں کے بارہ میں نازل ہو کتب حدیث وتفسیر میں موجود ہے او جیسا کہ (صحیح بخاری ج یحاربون اللہ ) وغیرہ تمام معتبر کت سے استدلال کرنے کے لئے احکام حضرت سعید ابن جبیرؓ سے نقل کیا ہے ج٢ ص ٦٦٣ اور فتح الباری میں بحوا تجویز کرتی ہے۔ پھر قتل کے معنے مط کہ امام راغب اصفہانیؒ نے مفردات
حدیث نبوی اور قتل مرتد
ہم نے نقل کیا ہے کہ کثی حدیثیں ایک سرسری نظر ڈالنے س معلوم ہوتے کہ ان میں اس قدر ا ہے جو کتب صحاح یعنی احادیث کی زائد ہے۔
- ١............”من بدل
بعذاب اللہ عن ابن عباسؓ
- ٢............حضرت ابو
یمن پہنچے تو دیکھا کہ ان کے پاس ا قضاء اللہ ورسولہ ثلاث اس وقت تک نہ بیٹھوں گا جب تک قتل کیا گیا۔ ( روایت کیا اس کو بخا
- ٣............حضرت علیؓ
قرآن عزیز اور قتل مرتد
اس بحث کو چونکہ مجھ سے پہلے اور افاضل بھی مفصل لکھ چکے ہیں۔ اس لئے صرف ایک آیت کو مختصراً پیش کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ قال تعالیٰ: ”انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ، المائدہ ٣٣“۔ آیت ان لوگوں کے بارہ میں نازل ہوئی ہے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مرتد ہو گئے تھے۔ جس کا طویل واقعہ ائمہ کتب حدیث و تفسیر میں موجود ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس آیت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان لوگوں کو قتل کیا جیسا کہ (صحیح بخاری ج٢ ص ٦٦٣ اور فتح الباری ج٨ ص ٢٠٦ باب انما جزاء الذین یحاربون اللہ ) وغیرہ تمام معتبر کتب حدیث و تفسیر میں موجود ہے اور امام بخاریؒ نے قتل مرتد کے بارہ میں اس آیت سے استدلال کرنے کے لئے احکام مرتد کے ابواب کو اس آیت سے شروع فرمایا ہے۔ نیز سورۃ مائدہ کی تفسیر میں حضرت سعید ابن جبیرؒ سے نقل کیا ہے کہ آیت میں: ”یحاربون اللہ“ سے مراد کافر ہونا ہے۔ بخاری ج٢ ص ٦٦٣ اور فتح الباری میں بحوالہ ابن حاتمؒ اس کی تائید کی گئی ہے۔ الغرض آیت مذکورہ مرتد کے لئے سزائے قتل تجویز کرتی ہے۔ پھر قتل کے معنے مطلقاً جان لینے کے ہیں۔ خواہ تلوار سے یا سنگساری سے یا کسی اور طریق سے۔ جیسا کہ امام راغب اصفہانیؒ نے مفردات القرآن میں اور صاحب اقرب الموارد نے اقرب میں نقل کیا ہے۔
حدیث نبوی اور قتل مرتد
ہم نے نقل کیا ہے کہ کثیر تعداد احادیث اس مسئلہ کے ثبوت میں وارد ہوئی ہیں۔ جن میں سے تقریباً تیس حدیثیں ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن اخبار کے کالم اس کام کے لئے زیادہ موزوں نہیں معلوم ہوتے کہ ان میں اس قدر احادیث کا سلسلہ نقل کیا جائے۔ اس لئے صرف ان گیارہ احادیث پر اکتفا کیا جاتا ہے جو کتب صحاح یعنی احادیث کی درسی کتابوں میں موجود ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھی اخباری دنیا کے لئے بہت زائد ہے۔
- ١............. ”من بدل دینہ فاقتلوہ ، رواہ البخاری ج١ ص ٤٢٣ باب لا یعذب
بعذاب اللہ عن ابن عباسؓ “ جو شخص اپنے دین اسلام کو بدلے اس کو قتل کر ڈالو۔
- ٢............. حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ آنحضرت ﷺ کی طرف سے والی یمن تھے۔ ایک مرتبہ حضرت معاذؓ
یمن پہنچے تو دیکھا کہ ان کے پاس ایک مرتد قید کر کے لایا گیا ہے۔ حضرت معاذؓ نے فرمایا: ”لا اجلس حتی یقتل، قضاء اللہ ورسولہ ثلاث مرات فامربہ فقتل ، بخاری ج٢ ص ١٠٢٣ باب حکم المرتد “ میں اس وقت تک نہ بیٹھوں گا جب تک کہ اس کو قتل نہ کیا جائے۔ یہی ہے اللہ اور رسول کا حکم۔ تین مرتبہ یہی کہا۔ چنانچہ اس کو قتل کیا گیا۔ (روایت کیا اس کو بخاری، مسلم، نسائی، ابو داؤد وغیرہ نے)
- ٣............. حضرت علی کرم اللہ وجہہ روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایسی ہی ایک جماعت کے متعلق
حکم فرمایا: ”اينما لقيتموهم فاقتلوهم فان فى قتلهم اجراً لمن قتلهم يوم القيامة ، بخارى ج ٢ ص ١٠٢٤ باب قتل الخوارج والملحدین“ ان کو جہاں پاؤ قتل کر ڈالو۔ اس لئے کہ ان کے قتل کرنے میں ثواب ہے۔ (صحیح بخاری ومسلم)
- ٤........... اسی مضمون کی ایک حدیث ابو داؤد نے ج ٢ ص ٢٩٩ باب قتل الخوارج میں حضرت
بوسعید خدریؓ سے نقل کی ہے۔
- ٥........... جب قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مرتد ہو گئے تو خود آنحضرت ﷺ نے ان کو قتل کیا۔ جس کا طویل واقعہ
اکثر کتب حدیث بخاری ج ٢ ص ٦٦٣ وغیرہ میں موجود ہے۔
- ٦........... حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کا قتل ہرگز حلال
نہیں ۔ مگر تین شخص کو قتل کیا جائے گا: ”النفس بالنفس والثيب الزاني والمارق لدينه التارك للجماعة بخارى ومسلم ج ٢ ص ٠٩ باب مايباح به دماء المسلم “ جان کے بدلے میں جس کی جان لی جائے اور بیاہا ہونے کے بعد زنا کرنے والا اور اپنے دین اسلام اور جماعت مسلمین کو چھوڑنے والا۔
- ٧........... اور جب عثمان غنیؓ گھر کے اندر محصور تھے تو ایک روز گھر کی دیوار پر چڑھے اور لوگوں سے خطاب
کر کے فرمایا کہ میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کسی مسلم کا قتل اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس سے تین کاموں میں سے کوئی کام سرزد نہ ہو۔ اور وہ تینوں یہ ہیں: ”زنى بعد احصانه وكفر بعد اسلام وقتل نفساً بغير نفس ، نسائى ج ٢ ص ١٦٥ باب مايحل به دم المسلم / ترمذى / ابن ماجه “ بیاہا ہونے کی صورت میں زنا کرنا اور اسلام کے بعد کافر ہونا اور کسی شخص کو بغیر حق کے قتل کرنا۔
- ٨........... اور حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بھی اسی مضمون کی کئی حدیثیں مروی ہیں۔ دیکھو مسلم ج ٢ ص ١٥٩
باب مايحل به دم المسلم اور مستدرک حاکم وغیرہ !
- ٩........... ”من غيّر دينه فاضربوا عنقه عن زيد ابن اسلم ، كنزالعمال ج ١ ص ٩١ باب
الارتداد “ جو شخص اپنے دین اسلام کو بدلے اسے قتل کر دو۔ (بخاری ومسلم)
- ١٠........... ”اذا ابق العبد الى الشرك فقد حل دمه ، رواه ابوداؤد عن جبير
ج ٢ ص ١٣٩ باب الحكم فيمن ارتد “ جب کوئی اسلام چھوڑ کر کفر کی طرف بھاگے تو اس کا خون حلال ہے۔
- ١١........... ”من جحد آيت من القرآن فقد حل ضرب عنقه ، ابن ماجه عن ابن عباس
ص ١٨٢ باب اقامة الحدود “ جو شخص قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے اس کی گردن مار دینا حلال ہو گیا۔ یہ سب حدیثیں ہیں جو صحاح کی کتابوں میں موجود ہیں اور اکثر صحیحین بخاری و مسلم میں مذکور ہیں۔ ان تمام فرامین نبویہ کے ہوتے ہوئے ایڈیٹر پیغام صلح کا یہ کہنا کس قدر ان کے علم کی داد دیتا ہے کہ: ”سنت نبویہ میں قتل مرتد کا کوئی اسوہ نہیں ملتا“ اس کے جواب میں ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے دین اور آپ ﷺ کی احادیث میں دخل دینا ہی ان کی
اصولی قطعی اور خواہ مخواہ دخل در معقولات ہے۔ ان کو چاہئے کہ وہ اپنے مہدی، مسیح، نبی، میکائیل، عیسیٰ، موسیٰ، ابراہیم، آدم، مرد عورت، حاملہ، حائضہ، غرض ہر رنگ کی مقتدا کی عبارات اور اس کے ادھیڑ بن میں لگے رہیں اور احکام اسلامیہ کو ان لوگوں کے سپرد کریں جو اس کے اہل ہیں۔
خلفائے راشدین ؓ اور قتل مرتد
اس بحث میں سب سے پہلے افضل الناس بعد الانبیاء خلیفہ اول سیدنا حضرت صدیق اکبر ؓ کا عمل ملاحظہ فرمائیے۔
- ١........... شیخ جلال الدین سیوطیؒ تاریخ الخلفاء میں حضرت عمرؓ سے نقل کرتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ کی
وفات ہوئی اور مدینہ کے ارد گرد میں بعض عرب مرتد ہو گئے تو خلیفہ وقت صدیق اکبرؓ شرعی حکم کے مطابق ان کے قتل کے لئے کھڑے ہو گئے اور عجب یہ کہ فاروق اعظمؓ جیسا اسلامی سپہ سالار اس وقت ان کے قتل میں بوجہ نزاکت وقت تامل کرتا ہے۔ لیکن یہ خدا کی حدود تھیں جن میں مساہلت سے کام لینا صدیق اکبرؓ کی نظر میں مناسب نہ تھا۔ اس لئے فاروق اعظمؓ کے جواب میں بھی یہی فرمایا: ’’هيهات هيهات مضى النبى ﷺ وانقطع الوحى والله لا جاهد هم ما استمسك السيف فى يدى ، تاريخ الخلفاء ص ٦١ فصل فى ما وقع فى خلافته ،‘‘ ’’ہیہات ہیہات آنحضرت ﷺ کی وفات ہو گئی اور وحی منقطع ہو گئی۔ خدا کی قسم میں ضرور ان سے اس وقت تک جہاد کرتا رہوں گا جب تک میرا ہاتھ تلوار پکڑ سکے گا۔‘‘ یہاں تک کہ فاروق اعظمؓ کو بھی بحث کے بعد حق واضح ہو گیا اور اجماعی قوتوں سے مرتدین پر جہاد کیا گیا اور ان میں سے بہت سے تہ تیغ کر دیئے گئے۔
- ٢........... حوالی مدینہ سے فارغ ہو کر صدیق اکبرؓ مسیلمہ کذاب کی طرف متوجہ ہوئے جو نبوت کا دعویٰ
کرنے کی وجہ سے باجماع صحابہؓ مرتد قرار دیا گیا تھا۔ چنانچہ ایک لشکر حضرت خالدؓ کی سرکردگی میں اس کی طرف روانہ کیا جس نے مسیلمہ کذاب کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ (فتح الباری، تاریخ الخلفاء ص ٦٣ فصل فى ما وقع فى خلافته، طبع اصح المطابع کراچی) اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت مرتد ہے۔ اگر چہ وہ کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرے یا کوئی تاویل کرے۔ کیونکہ مسیلمہ کذاب جس کو صدیق اکبرؓ نے قتل کرایا ہے وہ آنحضرت ﷺ کی نبوت ورسالت کا منکر نہیں تھا۔ بلکہ اپنی اذان میں اشهد ان محمداً رسول الله ، کا اعلان کرتا تھا۔ (تاریخ طبری ج ١ حصه دوم ص ١٠٠، اردو نفیس اکیڈمی لاہور) پھر جس جرم میں اس کو مرتد، واجب القتل، سمجھا گیا وہ صرف یہ تھا کہ آپ ﷺ کی نبوت کو ماننے کے باوجود اپنی نبوت کا بھی دعویٰ کرتا تھا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا بعینہ یہی حال ہے۔
- ٣........... پھر ١٢ ہجری میں بحرین میں کچھ لوگ مرتد ہو گئے تو آپؓ نے ان کو قتل کے لئے علاء ابن الحضرمیؓ
کو روانہ کیا۔
(تاریخ الخلفاء ص ٦٣)
- ٤......... اسی طرح عمان میں بعض لوگ مرتد ہو گئے تو ان کے قتل کے لئے عکرمہؓ بن ابی جہل کو حکم فرمایا۔
- ٥......... اہل بحرین میں سے چند لوگ اسلام سے پھرے تو صدیق اکبرؓ نے بعض مہاجرین کو ان کے قتل کے
لئے بھیجا۔
(تاریخ الخلفاء ص ٦٣)
- ٦......... اسی طرح زیاد بن لبید انصاریؓ کو ایک مرتد جماعت کے قتل کے لئے حکم فرمایا۔
(تاریخ الخلفاء ص ٦٣)
یہ تمام واقعات وہ ہیں جو اسلام کے سب سے پہلے خلیفہ اور افضل الناس بعد الانبیاء کے حکم سے ہوئے اور صحابہ کرامؓ کے ہاتھوں ان کا ظہور ہوا۔ صحابہ کرامؓ کی جماعت تھی جو کسی خلاف شرع حکم کو دیکھنا موت سے زیادہ ناگوار سمجھتی تھی۔ کیسے ہو سکتا تھا کہ اگر معاذ اللہ صدیق اکبرؓ بھی کسی خلاف شریعت حکم کا ارادہ کرتے تو تمام صحابہ کرامؓ ان کی اطاعت کر لیتے اور خون ناحق میں اپنے ہاتھ رنگتے؟۔ لہٰذا یہ واقعات اور اسی طرح باقی تمام خلفائے راشدینؓ کے واقعات تنہا صدیق اکبرؓ وغیرہ کا عمل نہیں بلکہ تمام صحابہ کرامؓ کا اجماعی فتویٰ ہے کہ شریعت میں مرتد کی سزا قتل ہے۔
خلیفہ ثانی فاروق اعظمؓ اور قتل مرتد
- ١......... آپ معلوم کر چکے ہیں کہ مذکور الصدر تمام واقعات میں فاروق اعظمؓ بھی صدیق اکبرؓ کے ساتھ اور
شریک مشورہ تھے۔
- ٢......... فاروق اعظمؓ نے چند مرتدین کے متعلق اپنے لوگوں سے کہا کہ ان کو تین روز تک اسلام کی طرف بلانا
چاہئے اور روزانہ ان کو ایک ایک روٹی دی جائے۔ اگر تین روز تک نصیحت کے بعد بھی ارتداد سے توبہ نہ کریں تو قتل کر دیا جائے۔ (کنز العمال ج ١ ص ٣١٢ تا ٣١٦ اس قسم کی متعدد روایات ہیں)
خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنیؓ اور قتل مرتد
- ١......... جو احادیث ہم اوپر نقل کر آئے ہیں ان میں گزر چکا ہے کہ حضرت عثمانؓ قتل مرتد کو آنحضرت ﷺ
کا فرمان سمجھتے تھے اور لوگوں سے اس کی تصدیق کراتے تھے۔
- ٢......... کنز العمال میں بحوالہ بیہقی نقل کیا ہے کہ حضرت عثمانؓ فرماتے ہیں: ”من کفر بعد ایمانہ طائعا
فانہ یقتل ٠ کنز العمال ج ١ ص ٣١٣ حدیث ١٤٧٠ باب حکم الاسلام ٠“ جو شخص ایمان کے بعد اپنی خوشی سے کافر ہو جائے اس کو قتل کیا جائے۔
- ٣......... سلیمان ابن موسیٰؒ نے حضرت عثمانؓ کا دائمی طرز عمل یہی نقل کیا ہے کہ مرتد کو تین مرتبہ توبہ کرنے
کے لئے فرماتے تھے۔ اگر قبول نہ کرتا تو قتل کر دیتے تھے۔
(کنز العمال ج ١ ص ٣١٣ حدیث ١٤٧١)
- ٤......... امام الحدیث عبدالرزاقؒ نے نقل کیا ہے کہ ایک مرتد حضرت ذی النورینؓ کی خدمت میں لایا گیا۔
آپ نے اس کو تین مرتبہ توبہ کی طرف بلایا۔ اس نے قبول نہ کیا تو قتل کر دیا۔ (کنز العمال ج ١ ص ٣١٣ حدیث ١٤٧٢)
- ٥......... حضرت عبداللہ
سزا کے بارے میں مشورہ کے لئے حض دین الحق فأن قبلوها حدیث ١٤٧٣‘‘ ان پر دین حق پیش
خلیفہ رابع حضرت علی کرم اللہ
- ١......... امام بخاریؒ نے
- ٢......... حضرت ابوطا
اس میں، میں بھی شریک تھا۔ ہم نے اور اسی پر ثابت قدم رہے۔ اور بعض چھوڑ کر مسلمان ہو گئے تھے اور پھر ا خیال سے توبہ کرو۔ اور پھر مسلمان مردوں کو قتل اور بچوں کو گرفتار کر لیا۔
- ٣......... عبدالمالک ب
مستورداً بن قبیصہ گرفتار کر کے لایا گ مار ڈالا جائے۔
یہ ان خلفائے راشدین آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے: ”عل الاعتصام بالكتاب والسنة
کیا قتل مرتد کے لئے محاربہ ا
ہماری مذکورہ بالا تحریر : میں نقل کی گئی ہیں۔ ان میں کوئی لوگوں کو خلفائے راشدینؓ نے سزا کے بعد محاربہ کے لئے کمر بستہ ہو، کو یہ کہہ کر اڑا دینا چاہتے ہیں کہ ا آمادہ ہوں وہ آنکھیں کھولیں اور ا
- ٥........حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ایک مرتبہ اہل عراق میں سے ایک مرتد جماعت کو گرفتار کیا اور ان کی
سزا کے بارے میں مشورہ کے لئے حضرت عثمانؓ کی خدمت میں خط لکھا۔ آپ نے جواب میں تحریر فرمایا: ”اعرض عليهم دين الحق فان قبلوها فخل عنهم وان لم يقبلوها فاقتلهم ، كنز العمال ج ١ ص ٣١٣ حديث ١٤٧٣“ ان پر دین حق پیش کرو۔ اگر قبول کر لیں تو ان کو چھوڑ دو۔ ورنہ قتل کر دو۔
خلیفہ رابع حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور قتل مرتد
- ١............ امام بخاریؒ نے نقل کیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بعض مرتدین کو قتل کیا۔
(بخاری ج ٢ ص ١٠٢٣ باب حكم المرتد والمرتده)
- ٢............ حضرت ابو الطفیلؒ فرماتے ہیں کہ جب علی کرم اللہ وجہہ نے بنی ناجیہ کے قتال کے لئے لشکر بھیجا تو
اس میں میں بھی شریک تھا۔ ہم نے دیکھا کہ ان لوگوں میں تین فرقے ہیں۔ بعض پہلے نصاریٰ تھے پھر مسلمان ہوئے اور اسی پر ثابت قدم رہے۔ اور بعض نصاریٰ تھے اور ہمیشہ اسی مذہب پر رہے۔ اور بعض لوگ وہ تھے کہ پہلے نصرانیت چھوڑ کر مسلمان ہو گئے تھے اور پھر نصرانیت کی طرف لوٹ گئے۔ ہمارے امیر نے اس تیسرے فرقے سے کہا کہ اپنے خیال سے توبہ کرو۔ اور پھر مسلمان ہو جاؤ۔ انہوں نے انکار کیا تو امیر نے ہمیں حکم دیا۔ ہم سب ان پر ٹوٹ پڑے اور مردوں کو قتل اور بچوں کو گرفتار کر لیا۔
(کنزالعمال ج ١ ص ٣١٤ حدیث ١٤٧٦ باب الارتداد واحكامه)
- ٣............ عبدالملک بن عمیرؒ روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ
مستورد ابن قبیصہ گرفتار کر کے لایا گیا جو اسلام سے مرتد ہو کر نصرانی ہو گیا تھا۔ آپ نے حکم دیا کہ ٹھوکروں میں مسل کر مار ڈالا جائے۔
(کنزالعمال ج ١ ص ٣١٤ حدیث ١٤٧٧)
یہ ان خلفائے راشدین کا عمل ہے جن کے اقتداء کے لئے تمام امت اسلامیہ مامور ہے اور جن کے متعلق آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے: ”عليكم بسنتى وسنة الخلفاء الراشدين ، مشكوة ص ٣٠ باب الاعتصام بالكتاب والسنة“ تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کی اقتداء کرو۔
کیا قتل مرتد کے لئے محاربہ اور سلطنت کا مقابلہ شرط ہے؟
ہماری مذکورہ بالا تحریر میں اس کا کافی جواب آ چکا ہے۔ کیونکہ اول تو جو احادیث سزائے مرتد کے بارے میں نقل کی گئی ہیں۔ ان میں کوئی محاربہ اور مقابلہ کی شرط نہیں۔ بلکہ عموماً مرتد کے قتل کا اعلان ہے۔ اس کے بعد جن لوگوں کو خلفائے راشدینؓ نے سزائے ارتداد میں قتل کیا ہے۔ ان میں دونوں قسم کے آدمی ہیں۔ وہ بھی جو مرتد ہونے کے بعد محاربہ کے لئے کمر بستہ ہوئے اور وہ بھی جن سے کسی قسم کا ارادہ فساد یا محاربہ کا ظاہر نہیں ہوا۔ وہ لوگ جو قتل مرتد کو یہ کہہ کر اڑا دینا چاہتے ہیں کہ اسلام میں صرف انہیں مرتدین کے قتل کا حکم ہوا ہے جو محاربہ اور سلطنت کے مقابلہ پر آمادہ ہوں وہ آنکھیں کھولیں اور احادیث اور عمل سلف پر نظر ڈالیں کہ وہ کیا بتلا رہے ہیں؟۔
کیا سزائے ارتداد میں سنگسار بھی کیا جا سکتا ہے؟
مذکورۃ الصدر احادیث اور واقعات سلف نے اس سوال کو بھی طے کر دیا ہے۔ کیونکہ ان سے واضح ہو چکا ہے کہ اصل سزائے ارتداد قتل ہے اور ہم بحوالہ امام راغب اصفہانی اور دیگر اہل لغت یہ نقل کر چکے ہیں کہ قتل کے معانی جان لینا ہے۔ خواہ تلوار سے یا سنگساری سے یا کسی اور ذریعہ سے۔ لہذا جب سزائے قتل مرتد کے لئے ثابت ہو گئی تو امام وقت کو اختیار ہے کہ مصالح وقت کو دیکھ کر جس صورت سے چاہے قتل کرے۔ چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا واقعہ ابھی نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک مرتد کو زیادہ سرکش سمجھ کر پاؤں میں سل کر مارنے کا حکم کر دیا۔
خلفائے راشدین ؓ کے بعد باقی خلفاء اسلام اور قتل مرتد
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں مختار ابن ابی عبید کو اسی جرم میں قتل کیا تھا جو آج مرزا قادیانی کے لئے معراج ترقی ہے۔ یعنی اس کے دعوے نبوت کو ارتداد قرار دے کر قتل کیا گیا ہے۔
(فتح الباری ص ٤٥٥ ج ٦ تاریخ الخلفاء ص ١٦٤)
خالد قسری نے اپنے زمانہ حکومت میں جعد ابن درہم کو ارتداد ہی کی سزا میں قتل کیا۔
(فتح الباری ص ٢٢٩ ج ١٢ باب حكم المرتد والمرتده)
عبدالملک ابن مروان نے اپنے زمانہ خلافت میں حارث نامی ایک شخص کو اسی جرم میں قتل کیا جو آج مرزا قادیانی کا دعویٰ اور ان کی امت کا مذہب ہے۔ (یعنی دعویٰ نبوت)
(شفاء قاضی عیاض ص ٢٥٧ و ٢٥٨ ج ٢)
خلیفہ منصور نے اپنے عہد خلافت میں فرقہ باطنیہ کے مرتدین کو قتل کیا۔
(فتح الباری ص ٢٢٩ ج ١٢ باب حكم المرتد والمرتده)
یہ بھی یاد رہے کہ فرقہ باطنیہ کا بانی بھی ابتداء میں ایک صوفی مزاج آدمی تھا۔ مسلمانوں کی عموماً اور اہل بیت کی خصوصاً بہت ہمدردی کا دعویٰ کرتا تھا۔ شروع میں مرزا قادیانی کی طرح لوگوں پر تصوف کا رنگ ظاہر کیا اور کچھ لوگ معتقد ہو گئے تو نبوت کا دعوے دار بن گیا اور اسی جرم میں واجب القتل سمجھا گیا۔
خلیفہ مہدی منصور کے بعد جب تخت خلافت پر جلوہ افروز ہوئے تو باقی ماندہ باطنیہ کی استیصال کی فکر کی اور ان میں سے بہت سے آدمی موت کے گھاٹ اتار دیئے۔
(فتح الباری ص ٢٢٩ ج ١٢ باب حكم المرتد والمرتده)
خلیفہ معتصم باللہ نے اپنے عہد خلافت میں ابن ابی العزاقیر کو اس لئے قتل کیا کہ وہ اسلام سے مرتد ہوا تھا۔
(شفاء ص ٢٥٨ ج ٢)
قاضی عیاضؒ نے شفاء میں بہت سے مرتدین کے قتل کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: "وفعل ذالك غير و احد من الخلفاء والملوك باشباهم واجمع علماء وقتهم على صواب فعلهم" اور بہت سے خلفاء اور بادشاہوں نے مرتدین کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا ہے اور ان کے زمانہ کے علماء نے ان کے فعل کو موافق شرع ہونے پر
یا جاسکتا ہے؟
سنت سلف نے اس سوال کو بھی طے کر دیا ہے ۔ کیونکہ ان سے واضح ہو چکا ہے کہ امام راغب اصفہانی اور دیگر اہل لغت یہ نقل کر چکے ہیں کہ قتل کے معانی سے یا کسی اور ذریعہ سے۔ لہذا جب سزائے قتل مرتد کے لئے ثابت ہو گئی تو مگر جس صورت سے چاہے قتل کرے۔ چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا واقعہ زیادہ سرکش سمجھ کر پاؤں میں مسل کر مارنے کا حکم کر دیا۔
خلفاء اسلام اور قتل مرتد
زمانہ خلافت میں مختار ابن ابی عبید کو اسی جرم میں قتل کیا تھا جو آج مرزا قادیانی ہے نبوت کو ارتداد قرار دے کر قتل کیا گیا ہے۔
(فتح الباری ص ٥٥٥ ج ٦ تاريخ الخلفاء ص ١٦٤)
خلافت میں جعد ابن درہم کو ارتداد ہی کی سزا میں قتل کیا۔
(فتح الباری ص ٢٣٩ ج ١٢ باب حكم المرتد والمرتده)
کہ زمانہ خلافت میں حارث نامی ایک شخص کو اسی جرم میں قتل کیا جو آج مرزا -(یعنی دعویٰ نبوت )
(شفاء قاضی عیاض ص ٢٥٨ ج ٢)
میں فرقہ باطنیہ کے مرتدین کو قتل کیا۔
(فتح الباری ص ٢٣٩ ج ١٢ باب حكم المرتد والمرتده)
وہ بھی ابتداء میں ایک صوفی مزاج آدمی تھا۔ مسلمانوں کی عموماً اور اہل بیت کی اس نے مرزا قادیانی کی طرح لوگوں پر تصوف کا رنگ ظاہر کیا اور کچھ لوگ معتقد اسے واجب القتل سمجھا گیا۔ تخت خلافت پر جلوہ افروز ہوئے تو باقی ماندہ باطنیہ کی استیصال کی فکر کی اور ان کو قتل کر دیئے۔
(فتح الباری ص ٢٣٩ ج ١٢ باب حكم المرتد والمرتده)
خلافت میں ابن ابی الغرا تیر کو اس لئے قتل کیا کہ وہ اسلام سے مرتد ہوا تھا۔
(شفاء ص ٢٥٨ ج ٢)
نے مرتدین کے قتل کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: ’’وفعل ذالك غيرو هم واجمع علماء وقتهم على صواب فعلهم‘‘ اور بہت سے خلفاء اور عمل کیا ہے اور ان کے زمانہ کے علماء نے ان کے فعل کو موافق شرع ہونے پر
اتفاق کیا ہے۔
(شفاء ص ٢٥٨ و ٢٥٧ ج ٢)
ہمیں اس مختصر گزارش میں تمام خلفاء کی تاریخ اور ان کے قتل کے واقعات کا استیعاب کرنا نہیں ہے۔ بلکہ چند خلفاء اسلام کے طرز عمل کا نمونہ پیش کر کے ایڈیٹر پیغام صلح کو یہ دکھلا دینا ہے کہ آج نعمت اللہ مرزائی کے قتل پر کسی وجہ سے جو طرح طرح کے الزام دولت کابل پر لگائے جا رہے ہیں وہ درحقیقت نہ صرف تمام خلفائے اسلام اور اسلامی سیاست پر عیب لگانا ہے۔ بلکہ خلفائے راشدین کی سنت پر بیہودہ اعتراض اور احکام قرآنیہ اور احادیث نبویہ پر افتراء ہے۔ (نعوذ باللہ)
آئمہ اربعہ اور قتل مرتد
ایڈیٹر پیغام صلح نے جہاں تمام احکام قرآنیہ اور احادیث نبویہ اور تعامل سلف کو پس پشت ڈال کر قتل مرتد کا انکار کر دیا تو کیا عجب ہے کہ اس نے فقہ حنفی کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا اور نہایت وقاحت کے ساتھ کہہ دیا کہ : ’’ فقہ حنفی میں اس کی کوئی تصریح نہیں ملتی۔‘‘ ہم یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ مرتد کے لئے سزائے موت قتل نہ فقط فقہ حنفی کا متفق علیہ مسئلہ ہے بلکہ کل فقہائے امت اور بالخصوص آئمہ اربعہؒ کا اجماعی حکم ہے۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ
دیکھو جامع صغیر ص ٢٥١ باب الارتداد والحاق بدار الحرب مصنفہ حضرت امام محمدؒ : ”ویعرض علی المرتد حراً كان او عبداً الاسلام فان ابى قتل ، “ مرتد پر اسلام پیش کیا جائے ۔ خواہ وہ آزاد ہو یا غلام ۔ پس اگر انکار کرے تو قتل کر دیا جائے۔ اور ملاحظہ ہو: ”قال محمد ان شاء الامام آخر المرتد ثلاثا ان طمع فى توبة اوساله عن ذالك المرتد وان لم يطمع فى ذالك ولم يساله المرتد فقتله فلا باس بذالك . موطا امام محمدؒ باب المرتد ص ٣٧١ “ حضرت امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ اگر امام کو یہ توقع ہو کہ یہ مرتد توبہ کرلے گا یا خود مرتد مہلت طلب کرے تو امام کو اختیار ہے کہ تین روز تک اس کے قتل کو مؤخر کر دے ۔ اور اگر نہ اس کو توبہ کی توقع ہو اور نہ خود مہلت طلب کرے ۔ ایسی صورت میں اگر امام اس کو بلا مہلت دیئے قتل کر دے تو مضائقہ نہیں۔
حضرت امام مالکؒ
حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک مرتد کے معاملہ میں وہی قول قابل عمل ہے جو حضرت فاروق اعظمؓ نے فرمایا۔ یعنی مرتد کو تین روز مہلت دے کر توبہ کی طرف بلایا جائے ۔ اگر توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے ۔ حضرت امام شافعیؒ سے اس مسئلہ میں دو روایتیں ہیں ۔ اول یہ کہ مرتد کو کوئی مہلت نہ دی جائے ۔ بلکہ اگر وہ
ہیں توبہ نہ کرے تو فوراً قتل کر دیا جائے۔ اور دوسری یہ کہ تین دن کی مہلت دینے کے بعد توبہ نہ کرنے کی صورت میں قتل کر دیا جائے۔
(شفاء ص ٢٦٦ ج ٢)
حضرت امام احمد بن حنبلؒ
امام احمد بن حنبلؒ کا بھی یہی مذہب نقل کیا جاتا ہے۔
(شفاء ص ٢٦٦ ج ٢)
اس قدر گزارش کے بعد ہمارے خیال میں کسی مسلمان کو جس طرح اس مسئلہ کے حکم میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ اسی طرح اس میں بھی شبہ نہیں رہتا کہ مرزائی حضرات قطعیات اسلامیہ سے انکار کر دینے اور بے حیائی کے ساتھ نصوص شرعیہ سے ٹھٹھے اڑانے کو کوئی بڑی بات نہیں سمجھتے۔ ويحسبونه هيناً وهو عندالله عظيم!
دل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان عہد حاضر میں سچے مسلمانوں کی درخشاں روایات کے امین ہیں۔ اس دور میں اگر کسی نے میدان خطابت کے شہسوار اور پیر طریقت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی خطابت کی جھلک دیکھنی ہو تو وہ مولانا کی خطابت کی جولانی، روانی، طغیانی، شعلہ بیانی اور گلفشانی کو دیکھے۔ مولانا کی تقریر کا ہر ہر جملہ وادی دل کے لئے باد بہاری کا ٹھنڈا جھونکا ہوتا ہے جس کی خوشبو سے قلب و دماغ معطر ہو جاتے ہیں۔ دین محمدیؐ کے اس سپاہی اور فدائی کا عشق خاتم النبیینؐ میں ڈوبا ہوا ایک ایمان پرور واقعہ ہدیہ قارئین ہے۔ ”ربوہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہونا تھی۔ مولانا کو کانفرنس میں شمولیت کی دعوت دی گئی، جسے آپ نے بصد شکریہ قبول کیا اور پہنچنے کا وعدہ کر لیا۔ کانفرنس سے چند روز قبل آپ کو دل کا شدید دورہ پڑا۔ کمزوری اور نقاہت سے اٹھا نہ جاتا تھا۔ احباب نے کانفرنس میں جانے سے روکا لیکن آپ نے دوٹوک الفاظ میں فرمایا۔ جان جاتی ہے تو جائے میں ضرور بالضرور جاؤں گا۔ کانفرنس میں سٹیج پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔ مجھے بیماری نے اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ دوستوں نے کہا نہ جاؤ لیکن مجھے فخر المحدثین حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ یاد آگئے۔ شدید بیماری میں شاہ صاحب ڈابھیل سے بہاولپور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے وکیل بن کر آئے تھے۔ میں بھی کانفرنس میں لاہور سے ”ربوہ“ اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا وکیل بن کر آیا ہوں۔ شاہ صاحب نے کہا تھا میرے نامہ اعمال میں کچھ نہیں، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا شفیع بنانے کے لئے بہاولپور آیا ہوں۔ میرے بھی دفتر اعمال میں کچھ نہیں، میں بھی شفاعت محمدیؐ حاصل کرنے کے لئے ربوہ ”صدیق آباد“ آیا ہوں۔ پھر فرمایا، گھر سے چلتے میرے بیمار دل نے میرے قدم روکے۔ لیکن اچانک مجھے گنبد خضرا میں تڑپتا ہوا دل مصطفیٰ یاد آیا۔ میں نے کہا میرا دل دھڑکے یا نہ دھڑکے لیکن میرے آقا کا دل نہ تڑپے میرے کروڑوں دل و جان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان۔
زندگی ...... مجاہد ملت، مرد غازی مولانا عبدالستار خان نیازی کو ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں پروانہ شمع ختم نبوت ہونے کے جرم میں سزائے موت کا حکم ہوا۔ جیل میں اور پھر موت کی سزا سن کر مولانا نے جس جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ عشق رسالتؐ کا ایک روشن باب ہے۔ مولانا فرماتے ہیں ”جب تحریک ختم نبوت کے مقدمہ کے بعد میری رہائی ہوئی تو پریس والوں نے میری عمر پوچھی اس پر میں نے کہا تھا کہ ”میری عمر وہ سات دن اور آٹھ راتیں ہیں جو میں نے ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کی خاطر پھانسی کی کوٹھڑی میں گزار دی ہیں کیونکہ یہی میری زندگی ہے اور باقی شرمندگی۔ مجھے اپنی اس زندگی پر ناز ہے“۔
مسئلہ ختم نبوت اور سلف صالحینؒ
حضرت مولانا محمد نافع صاحب
الحمدلله رب العالمين والصلوة والسلام علیٰ خاتم الانبياء والمرسلين وعلیٰ آله واصحابه واتباعه باحسان الیٰ یوم الدين.
امت مرزائیہ نے پیش آمدہ واقعات اور پیدا شدہ مشکلات کے تحت (جون جولائی اگست ١٩٥٢ء) سے خاص طور پر شور برپا کر رکھا ہے کہ ہم حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خاتم النبیین ہی تسلیم کرتے ہیں۔ نبوت اور رسالت آپ پر ختم ہے۔ مسئلہ ختم نبوت کے متعلق اپنی برأت ثابت کرنے کے لیے ان دنوں انہوں نے بڑے بڑے مضامین، رسالے اور مقالے شائع کیے ہیں۔ (الفضل لاہور ٢١ جون ١٩٥٢ء ١٣ جولائی ١٩٥٢ء ١٢ اگست ١٩٥٢ء کے پرچے اس نوعیت کے مضامین کے لیے ملاحظہ ہوں) اور الفضل لاہور کا ایک مستقل خاتم النبیین نمبر ٢٧ جولائی ١٩٥٢ء کو طبع کیا گیا ہے۔ اس خاص نمبر کے موٹے موٹے عنوانات عموماً دو قسم کے ہیں۔ ایک طرف تو اپنی سچائی اور برأت معصومانہ انداز میں ذکر کی گئی ہے کہ ہم سچے دل سے مسلمان ہیں۔ محمد ﷺ پر ہماری جان فدا ہے۔ محمد ہست برہان محمد۔ ہمارا رسول فی الحقیقت تمام نبیوں اور رسولوں کا خاتم ہے۔ مجھ پر اور میری جماعت پر یہ افتراء عظیم ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ وغیرہ وغیرہ۔
ان سرخیوں کے ماتحت مرزا قادیانی کی عبارتوں کو ٢٧ حوالوں میں ان کی کتابوں
سے پیش کیا گیا ہے۔
دوسری طرف ان عنوانات کے ماتحت کہ جماعت احمدیہ کا عقیدہ مسئلہ ختم نبوت کے متعلق وہی ہے جو قرآن مجید اور احادیث اور علماء سلف صالحین کے اقوال سے ثابت ہے۔ مسئلہ ختم نبوت بزرگان دین کی نظروں میں وغیرہ وغیرہ۔ اکابر امت وسلف صالحین کی عبارات میں لفظی و معنوی قطع برید کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی شاطرانہ سعی کی گئی ہے اور ظاہر یہ کرنا مقصود ہے کہ یہ بزرگان دین (حضرت عائشہ صدیقہؓ، سیدنا علی المرتضیٰؓ، محی الدین ابن عربی شیخ اکبرؒ، مولانا جلال الدین رومیؒ، علامہ طاہر صاحبؒ، صاحب مجمع البحار، امام راغب اصفہانیؒ، شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ، ملا علی قاریؒ، امام ربانی مجدد الف ثانیؒ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ مولانا محمد قاسم صاحبؒ نانوتویؒ، مولانا عبدالحئی صاحب لکھنویؒ قدس اللہ اسرارہم و نور اللہ مقابرہم) بھی معاذ اللہ اجرائے نبوت کے قائل ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے بعد کسی دوسری ذات کے لیے نبوت ملنے کو جائز سمجھتے ہیں۔ چنانچہ مذکورہ بالا عنوان کے ساتھ ایڈیٹر الفضل نے لکھا ہے کہ:
’’اس مضمون میں بزرگان دین کے ایسے حوالہ جات پیش کیے گئے ہیں کہ جن سے پتہ چلتا ہے کہ امت کے مقتدر علماء کا یہ عقیدہ تھا کہ رسول کریم ﷺ کی غلامی میں اور حضور ﷺ کی پیروی میں غیر تشریعی امتی نبوت جاری ہے۔‘‘
(الفضل خاتم النبیین نمبر ٢٧ جولائی ١٩٥٢ء ص ١٧)
حالانکہ ان بزرگان دین کا وہی عقیدہ ہے جو تمام جمہور اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ حضور ﷺ تمام انبیاء علیہم السلام سے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کو شرف نبوت و رسالت حاصل نہیں ہو سکتا۔ نبوت ظلی ہو یا بروزی، حقیقی ہو یا غیر حقیقی، تشریعی ہو یا غیر تشریعی، مستقل ہو یا بالتبع، ہر طرح سے ختم ہو چکی ہے۔ ہاں فیضان نبوت ہو سکتا ہے۔ اجزائے نبوت باقی ہیں۔ کمالات و انوار اور بشارتیں نبوت سے حاصل ہیں۔ (جیسا کہ آگے چل کر ان چیزوں کی تفصیل آئے گی۔ انشاء اللہ!)
مذکورہ سلفؒ کی عبارتوں میں تحریف و تاویل کر کے قادیانی مربیوں نے سلف صالحینؒ پر بہت بڑا بہتان باندھا ہے اور بڑی چالاکی کے ساتھ یہ افتراء عظیم تیار کیا گیا ہے کہ صحابہ کرامؓ کے زمانہ خیر القرون سے لے کر تیرہویں صدی تک ہر زمانہ کے کسی نہ کسی بڑے بزرگ عالم
دین کو اس الزام میں شریک کیا گیا ہے۔
ان چند صفحات میں (بتوفیق اللہ تعالیٰ) اس بہتان کی تردید اور افتراء علی السلف کا جواب دینا مقصود ہے تا کہ عام مسلمانوں کو بزرگان دین کے اس اجماعی مسئلہ میں کسی قسم کا شک وشبہ واقع نہ ہو اور سلف کے ساتھ سوء ظنی پیدا ہونے کا احتمال نہ رہے۔
اول: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ پر غلط الزام اور اس کا جواب
مرزا کی امت حضرت عائشہ صدیقہؓ کا قول : ”قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لانبی بعدہ“ پیش کرکے آپ کا اجرائے نبوت کے عقیدہ کے ساتھ متفق ہونا ثابت کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا اپنے زعم میں یہ بڑا مایہ ناز استدلال ہے۔ اس پر بہت کچھ حاشیہ آرائی کی جاتی ہے۔
اولاً یہ واضح رہے کہ یہ مذکورہ قول در منثور ج ٥ ص ٢٠٤ میں تحت آیت خاتم النبیین اور مجمع البحار ج ٥ کے تکملہ ص ٥٠٢ پر بلا سند واسطہ درج ہے۔ قادیانی بزرگوں نے مذکورہ قول نقل کرتے وقت اس کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اپنے موافق الفاظ ذکر کئے ہیں۔ اس کا ماقبل اور مابعد ذکر کرنے میں ان کو خسارہ تھا۔ اس لیے ترک کر دیا گیا ہے۔ اس لیے ہم ذرا تفصیل کے ساتھ تکملہ مجمع البحار کی عبارت مذکورہ کو نقل کرتے ہیں تا کہ خود صاحب کتاب کی زبان سے مطلب واضح ہو جائے:
”وفی حدیث عیسی انہ یقتل الخنزیر و یکسر الصلیب و یزید فی الحلال ای یزید فی حلال نفسہ بأن یتزوج ویولدلہ وکان لم یتزوج قبل رفعہ الی السماء فزاد بعد الہبوط فی الحلال فحینئذٍ یومن کل احد من اہل الکتاب للیقین بانہ بشر و عن عائشۃ قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لانبی بعدہ وھذا ناظر الی نزول عیسی و ھذا ایضاً لاینافی حدیث لانبی بعدی لانہ اراد لانبی ینسخ شرعہ۔ تکملہ مجمع البحار ج ٥ ص ٥٠٢ طبع ١٩٩٢ مدینہ منورہ“
ترجمہ :۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور حلال چیزوں میں زیادتی کریں گے یعنی نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی۔ آسمان کی طرف چلے جانے سے پہلے انہوں نے شادی نہیں کی تھی۔ ان کے آسمان سے اترنے کے بعد حلال میں اضافہ ہوگا۔ (شادی سے اولاد ہوگی) اس زمانے میں ہر ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا۔ یقیناً یہ بشر ہیں (یعنی خدا نہیں ہیں جیسا کہ عیسائیوں نے عقیدہ گھڑ رکھا ہے) اور صدیقہؓ فرماتی ہیں۔ حضور ﷺ کو خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ یہ صدیقہؓ کا فرمان ”لا تقولوا لا نبی بعدہ“ اس بات کے مدنظر مروی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور یہ نزول علیہ السلام حدیث شریف لا نبی بعدی کے مخالف نہیں ہے۔ اس لیے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کے دین کا ناسخ ہو (اور عیسیٰ علیہ السلام دین محمدی کی اشاعت اور ترویج کے لیے نازل ہوں گے نہ کہ اس دین کو منسوخ کرنے کے لیے۔)
تکملہ: مجمع کی تمام عبارت پر نظر کرنے سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ حضرت صدیقہؓ کا لا نبی بعدہ کہنے سے منع فرمانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے یقیناً ہوگا اور حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں کے الفاظ سے ان کے عموم کے اعتبار سے عوام کو شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ پھر تو عیسیٰ علیہ السلام بھی نہیں آئیں گے۔ اس شبہ اور وہم کو دور کرنے کے لیے حضرت صدیقہؓ نے بعض اوقات ایسا کہنے سے منع فرمایا ہے۔
ثانیاً: حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہؓ امت مسلمہ کے متفقہ عقیدہ کے موافق ختم نبوت کی قائل ہیں اور اس اجماعی عقیدہ اور متفقہ مسئلہ پر خود انہوں نے نبی کریم ﷺ سے صحیح روایات بیان فرمائی ہیں:
پہلی روایت: ”عن عائشة ان النبی صلی الله علیه وسلم قال لایبقی بعدی من النبوة شی الا المبشرات قالوا یارسول الله ماالمبشرات قال الرؤیا الصالحه یراها الرجل اوترى له۔ مسند امام احمد ص ١٢٩ ج ٤، ورواہ البیہقی فی شعب الایمان وکنز العمال ج ١٥ ص ٣٧١ حدیث ٤١٣٢٣ بروایته خطیب“
ترجمہ:..... ”حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی بھی نبوت باقی نہیں رہی۔ ہاں صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مبشرات کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ اچھے خواب ہیں۔ آدمی ان کو خود دیکھتا ہے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا آدمی دیکھتا ہے۔“
دوسری روایت: ”عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم انا خاتم الانبیاء ومسجدى خاتم مساجد الانبیاء کنز العمال ج ١٢ ص ٢٧٠ حدیث نمبر ٣٢٩٩٩“
ترجمہ:..... ”یعنی حضرت صدیقہؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمام نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں اور میری مسجد کے بعد کسی دوسرے نبی کی مسجد نہیں ہوگی۔“
ختم نبوت کی ان احادیث کو خود عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں۔ دوسرے صحابہ کرامؓ کی طرح کسی تاویل و تشریح کے بغیر ذکر کرتی ہیں تو اس کا صاف مقصد یہ ہے کہ حضرت اُمّ المومنین اس مسئلہ پر مہر تصدیق ثبت کر رہی ہیں کہ ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ تشریعی ہو یا غیر تشریعی، مستقل یا غیر مستقل۔
ثالثاً: یہ مرزائی امت کے استدلال کے متعلق نرالے اصول ہیں۔ ایک طرف تو حضرت صدیقہؓ کی طرف جو مجہول الاسناد قول منسوب ہے معتبر و مستند مانا جا رہا ہے اور اس کو بڑے آب و تاب کے ساتھ ہمیشہ پیش کیا جاتا ہے اور باوجود تلاش کے اس قول کی صحیح تخریج، صحیح اسناد کے ساتھ مرزائیوں کو تاحال نہیں مل سکی۔ دوسری طرف صحیح احادیث مرفوعہ کا ذخیرہ جس میں ختم نبوت روز روشن کی طرح واضح ہے ناقابل قبول ہے۔
سچ ہے کہ:
اس مقام پر ناظرین کرام کو معلوم ہونا چاہیے کہ قادیانی جماعت رسول کریم ﷺ کی احادیث صحیحہ کے متعلق یہ عقیدہ رکھتی ہے جو حدیث ان کے مسلک کے موافق ہو اس کو تسلیم کر لیا جائے اور جو روایت قادیانی مذاق کے خلاف واقع ہو اس کو رد کر دیا جائے۔
مندرجہ ذیل حوالہ جات میں مرزا قادیانی نے اس مسئلہ کو بڑا صاف کر دیا ہے:
اول: ”اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کرے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠ خزائن ج ١٧ ص ٥١)
دوم: ”اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
حضرات! مرزائیوں کے نزدیک حضور کے فرمان پاک کو قبول اور رد کرنے کا معیار یہ ہے جو مرزا قادیانی نے مذکورہ عبارت میں واضح کر دیا ہے۔ استدلال حدیث کے معاملہ میں مرزائیوں کے لیے یہی اصل الاصول ہے۔ دوسری کوئی صحیح سے صحیح حدیث ان کے ہاں قابل قبول نہیں۔ عوام کی آگاہی کے لیے یہ تحریر کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ بالا تفصیل کے ساتھ حضرت صدیقہؓ کا نظریہ جہاں واضح ہوا ہے وہاں ساتھ ہی صاحب مجمع البحار کا مسلک بھی اپنی جگہ بالکل صاف ہے۔ ان کا اعتقاد جمہور اہل اسلام کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔ یہ مرزائی دوستوں کا کمال ہے۔ عبارتی ہیر پھیر کر کے انہوں نے اپنی ہم نوائی میں متعدد حضرات کو شمار کر لیا ہے۔
دوم: سیّدنا حضرت علی المرتضیٰؓ پر بہتان اور اس کا جواب
ابو عبدالرحمٰن بن سلمی ذکر کرتے ہیں کہ میں حسن و حسینؓ کو پڑھا رہا تھا۔ ایک دفعہ حضرت علیؓ میرے پاس سے گزرے: ”قال لی اقراء ھما و خاتم النبیین بفتح التاء“ (یعنی مجھے حضرت علیؓ نے کہا کہ خاتم النبیین کی فتح تاء کے ساتھ ان دونوں کو پڑھانا) یہاں سے اجرائے نبوت کے متعلق قادیانیوں کا استدلال سننے کے قابل ہے: ”زیر کے ساتھ پڑھانے سے حضرت علیؓ کو اس بات کا خطرہ تھا کہ کہیں بچوں کے ذہن میں نبوت کے متعلق خلاف حقیقت عقیدہ نہ بیٹھ جائے۔“ (الفضل لاہور ٢٧ جولائی ١٩٥٢ء)
سبحان اللہ چمگلی استدلال پر قربان جائیے۔ کہاں فن تجوید میں قرات کا مسئلہ؟ کہاں اجرائے نبوت کے متعلق مرزائیوں کا اختراعی احتمال؟ صاف بات ہے۔ بچوں کو تعلیم کے وقت مختلف قرأۃ جتلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن مجید کی عبارت ضبط کرانی ان کو فی الحال مقصود ہوتی ہے۔ لہٰذا معلم کو حضرت علیؓ نے ہدایت فرمادی ایک ہی مشہور قرأۃ پر عبارت قرآن ضبط کرائی جائے۔ بکثرت قراء والی قرأۃ سکھلانے کی ان کو فی الحال کوئی حاجت نہیں۔ مرزائی حضرات یہاں سے جو دوسرا راہ اختیار کر رہے ہیں خواہ مخواہ سیدنا علی المرتضیٰؓ پر اجرائے نبوت کا افتراء اور بہتان باندھ رہے ہیں۔ اس پر ان کے پاس کون سے دلائل موجود ہیں۔ یہ مذکورہ عبارت میں: ”خطرہ ہی خطرہ“ والا استدلال تو ماشاء اللہ بڑا قوی ہے۔ اس کو تو رہنے دیجئے۔ کوئی اور دلیل آپ کے پاس ہے تو بیان فرمائیے گا۔ ہم سیدنا علی المرتضیٰ کا مسلک مسئلہ ختم نبوت کے متعلق اس باب علم کی زبانی واضح کرتے ہیں تا کہ ”خطرات“ پیدا کرنے اور احتمالات نکالنے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے۔
پہلی روایت: حضرت علیؓ حضور نبی کریم ﷺ کے بدن مبارک کا حلیہ شریف بیان فرماتے ہوئے ذکر کرتے ہیں کہ: ”بین کتفیہ خاتم النبوۃ وہو خاتم النبیین“ مشکوۃ شریف ص ٥١٨‘ ترمذی ج ٢ باب ماجاء فی صفۃ النبی ص ٢٠٥“ یعنی آپ ﷺ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی اور آپ ﷺ تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔
دوسری روایت: اس میں حضرت علیؓ اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں۔ غزوہ تبوک کے موقعہ پر آنحضرت ﷺ مع اپنے صحابہ کرام و مجاہدین اسلام جہاد کے لیے مدینہ شریف سے تبوک کی طرف روانہ ہونے لگے تو نبی کریم ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ میں تجھے اس مدّتِ سفر تک اپنا خلیفہ اور قائم مقام تجویز کر کے مدینہ چھوڑ جانا چاہتا ہوں۔ اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ مجھے ساتھ لے جانے کی بجائے پیچھے چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں تو حضور ﷺ نے مجھے تسلی دلاتے ہوئے فرمایا: ”الا ترضیٰ ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی“ (اس واقعہ کو بخاری ج ٢ باب غزوہ تبوک ص ٦٣٣‘ مسلم ج ٢ باب فضائل علی بن ابی طالب وطبرانی ج ٥ ص ٢٠٣ حدیث نمبر ٥٠٩٤ صاحب کنز العمال ج ١٣ ص ١٥٨
حدیث نمبر ٤٦،٤٨ وغیرہم محدثین نے سعد بن ابی وقاصؓ سے خود حضرت علیؓ سے اور حضرت عمرؓ سے ابن عباسؓ سے حبشی ابن جنادہؓ سے اسماء بنت عمیسؓ سے ذکر کیا ہے۔)
ترجمہ: ...... ”اے علیؓ تیرا مقام اور درجہ میری بہ نسبت وہی ہے جیسے ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کی بہ نسبت حاصل ہوا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“
حضرت علیؓ کی اس روایت کے بعد بشرط انصاف اس خیال کی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ علی المرتضیٰؓ بھی نبوت کے اجزاء کو صحیح تسلیم کرتے ہوں۔ ہرگز نہیں حضرت علیؓ دوسرے تمام صحابہ کرامؓ کی طرح حضور نبی کریم ﷺ کو آخری نبی یقین کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے خود امت مسلمہ پر مذکورہ بالا روایات کے ذریعہ اس چیز کو روشن فرما دیا ہے۔
بلکہ یہاں اس روایت: ”ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الا انہ لانبی بعدی“ نے اس تاویل و توجیہ کو ختم کرکے رکھ دیا ہے جو مرزائی صاحبان ذکر کیا کرتے ہیں کہ حدیث لا نبی بعدی میں مستقل نبی صاحب شریعت نبی کی نفی حضور ﷺ نے فرمائی ہے غیر مستقل اور غیر تشریعی نبی بالتبع نبی کی نفی مراد نہیں ہے۔
حضرات! ہر ایک اہل علم جانتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام مستقل صاحب شریعت اور صاحب کتاب نبی تھے اور ہارون علیہ السلام ان کے بھائی غیر مستقل اور تشریعی نبی تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کے تابع ہو کر تبلیغ دین کا کام کرتے تھے۔ ان دونوں پیغمبروں کے آپس میں نائب مناب ایک دوسرے کا خلیفہ اور تابع متبوع ہونے کی حیثیت کو آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد علی المرتضیٰؓ کے درمیان تشبیہ دی۔ اس پر شبہ ہوسکتا تھا۔ ہارون جیسے تابع ہو کر نبی ہیں ایسے ہی حضرت علیؓ کو بھی تابع ہو کر نبوت حاصل ہوسکتی ہے تو اس وہم فاسد اور خیال فاسد کو آپ ﷺ نے رد فرمایا۔ کہ الا انہ لا نبی بعدی جس کا صاف مطلب ماقبل کے اعتبار سے یہی ہے کہ میرے بعد بالتبع نبوت اور غیر مستقل نبوت بھی کسی کو ہرگز حاصل نہیں ہے اور قیامت تک کسی قسم کا کوئی نبی ظلی ہو بروزی بالتبع ہو یا غیر مستقل نہیں ہوگا۔
ناظرین کرام خیال فرمائیں خاتم النبیین کو فتح التاء کے ساتھ تعلیم دینے کے متعلق حضرت علیؓ کے ارشاد فرمانے سے ان کے اجزائے نبوت کے عقیدہ کو استنباط کرنا کہاں تک درست ہوسکتا ہے؟
سوم: شیخ محی الدین ابن عربی پر اجرائے نبوت کا الزام
اولاً قبل اس کے کہ ہم شیخ اکبر پر افتراء کا جواب ذکر کریں اس سے مطلع کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ مرزائیوں کو شیخ کی عبارت سے اپنے مسلک کی تائید حاصل کرنے کا انصافاً کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اس لیے کہ مرزا قادیانی نے جو اس طبقہ کے روحانی باپ ہیں اپنی تصانیف (فتویٰ الحاد ایک خط اور تقریر) میں شیخ اکبر کو مسئلہ وحدۃ الوجود کے سلسلہ میں ملحد اور زندیق (بے دین) قرار دیا ہے۔ مرزائیوں کو شرم کرنی چاہیے کہ جس شخص کو آپ کا ابا جان ملحد زندیق بے دین یقین کرتا ہو اس کی عبارات سے سہارا پکڑنا تمہارے لیے قطعاً ناجائز ہے بلکہ ایسا کرنے میں اپنے نبی کی عملاً نافرمانی ہے۔ لہٰذا اس وبال نافرمانی سے آپ لوگوں کو خوف کرنا چاہیے۔
شیخ اکبرؒ دوسرے جمہور اہل اسلام کی طرح قائل ہیں کہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔ نبی کریم ﷺ سب نبیوں کے آخری پیغمبر ہیں۔ حضور علیہ السلام کے بعد دروازہ نبوت بند ہو چکا ہے۔ آسمان سے وحی دین الٰہی کسی آدمی پر نبی کریم ﷺ کے بعد قیامت تک ہرگز نہیں آسکتی۔ ہاں! کمالات نبوت انوار نبوت فضائل و شمائل رسالت اور بشارتیں نبوت کے اس فیضان کو شیخ ہمیشہ جاری تسلیم کرتے ہیں اور اکابر امت بھی ان چیزوں کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اور ان نبوت کے فضائل و کمالات کو اجزائے نبوت سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ:
- ١- ”ذهبت النبوة وبقيت المبشرات ۔ ابن ماجه باب الرؤيا الصالحة ص ٢٧٨ ۔“ نبوت
گزر چکی ہے البتہ اس کے مبشرات باقی ہیں۔)
- ٢- اور حدیث میں فرمایا گیا: ”الرؤيا الصالحة جزء من ستة واربعين جزءاً من
النبوة بخاری ج ٢ باب رؤيا الصالحة ص ١٠٣٥، مسلم ج ٢ کتاب الرؤیا ص ٢٤٢، مشکوٰة شریف ص ٣٩٤“ (یعنی: سچا خواب اجزائے نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے)
- ٣- ”قال السمت الحسن والتؤدة والاقتصاد جزء من اربع و عشرين
جزءا من النبوة۔ مشکوٰة بحوالہ ترمذی ص ٤٣٠“ (یعنی اچھا خلق اور آہستگی سے کام کرنا اور ہر امر میں میانہ روی اختیار کرنا نبوت کے اجزاء میں سے
(چوبیسواں جزو ہے۔)
یہ روایات صحیحہ صاف بتلا رہی ہیں کہ کمالات نبوت اور فضائل رسالت کو آنحضور ﷺ نے نبوت کی جزوں کے نام سے ذکر فرمایا ہے اور اس قسم کے اجزائے نبوت ہر زمانہ میں بعد اختتام نبوت بھی باقی ہیں اور خالص مومنوں میں پائے جاتے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے ان اجزائے نبوت کے پائے جانے سے خود نبوت کے اجزاء کو تسلیم کیا جاسکتا ہے؟ اور کہا جاسکتا ہے کہ نبوت باقی ہے؟
ثانیاً: اس گزارش کے بعد اب فتوحات مکیہ میں سے شیخ کی دو عبارتیں پیش کی جاتی ہیں جس میں شیخ اکبرؒ نے مسئلہ کے متعلق خاص تحقیق ذکر کی ہے:
"فاخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الرؤيا جزء من اجزاء النبوت فقد بقى للناس فى النبوة هذا وغيره ومع هذا لايطلق اسم النبوة ولا النبى الا على المشرع خاصة فحجز هذا الاسم لخصوص وصف معين فى النبوة. فتوحات مكيه ص ٢٩٥ ج ٢"
ترجمہ:..... "نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا کہ نبوت کی جزؤں میں سے اچھا خواب ایک جز ہے۔ پس نبوت میں سے لوگوں کے لیے یہ رؤیا وغیرہ باقی رہ گیا ہے۔ مگر اس کے باوجود خصوصی طور پر بجز صاحب دین وشریعت کے کسی دوسرے پر لفظ نبوت اور نبی کے نام کا اطلاق قطعاً درست نہیں۔"
ایک خاص وصف معین کی بنا پر اس نام (نبی) کی بندش کردی گئی ہے:
"فما تطلق النبوة الا لمن اتصف بالمجموع فذالك النبى وتلك النبوة التى حجزت علينا وانقطعت فان جملتها التشريع بالوحى الملكى فى التشريع وذالك لايكون الا لنبى خاصة. فتوحات ص ٥٦٨"
ترجمہ:..... "نبوت کا اطلاق صرف اسی وقت درست ہوسکتا ہے جبکہ وہ ذات تمام اجزائے نبوت کے ساتھ متصف ہو۔ پس اس قسم کا نبی اور ایسی نبوت ( جو تمام اجزا کو جامع اور
سب کو شامل ہو) ہم (اللہ کے صالح بندوں) سے بند کر دی گئی اور بالکل منقطع ہو گئی ہے۔ اس لیے کہ اس نبوت کے جملہ اجزاء میں سے احکام دینی و شرعی ہیں جو فرشتہ کی وحی سے ہوں اور یہ کام صرف نبی کے ساتھ مخصوص ہے اور کسی کے لیے نہیں ہو سکتا۔“
خلاصہ یہ ہے کہ:
- ١- شیخ کے نزدیک کمالات و اجزائے نبوت لوگوں میں باقی ہیں۔
- ٢- اجزائے نبوت کے بقا کے باوجود اس پر اسم نبوت اور لفظ نبی کا اطلاق شیخ کے
نزدیک بالکل ناجائز ہے۔
- ٣- ہاں صرف اس وقت نبی کا لفظ اور نبوت کا اطلاق درست ہے جس وقت تمام
اجزائے نبوت بجمیعہا مجتمع ہوں اور ان جملہ اجزاء میں سے احکام دینی و شرعی ہیں جو فرشتہ کی وحی سے نازل ہوتے ہیں۔
- ٤- نبوت کا اصل دارومدار احکام شرعیہ پر ہے جس نبوت میں یہ اجزاء (یعنی احکام شرعی
و دینی جو وحی ملکی سے حاصل ہوتے ہیں) نہ پائے جائیں اس کو شیخ نبوت ہی نہیں قرار دیتے اور بغیر ان احکام کے شیخ کے نزدیک نبوت متحقق ہی نہیں ہو سکتی۔
الغرض شیخ اکبر جس چیز کے اجرا و ابقاء کے قائل ہیں (اجزاء نبوت و مبشرات و کمالات وغیرہا) وہ نبوت نہیں ہے اور جو نبوت ہے اس کے اجراء و ابقاء کے قائل نہیں۔
ثالثاً: اس مقام میں شیخ اکبر کی وہ عبارت جو علامہ عبدالوہاب شعرانی نے الیواقیت والجواہر میں نقل کی ہے وہ قابل ملاحظہ ہے۔ اس کو بلفظہ نقل کیا جاتا ہے:
”واعلم ان الملک یاتی النبی بالوحی علی حالین تارۃ ینزل بالوحی علی قلبہ وتارۃ یاتیہ فی صورۃ جسدیۃ من خارج فیلقی ما جاء بہ الی ذالک النبی علی اذنہ فیسمعہ او یلقیہ علی بصرہ فیبصرہ فیحصل لہ من النظر مثل ما یحصل لہ من السمع سواء قال (شیخ اکبر) ھذا باب اغلق بعد موت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فلا یفتح لاحد الی یوم القیامہ لکن بقی للاولیاء وحی الالہام الذی لا تشریع فیہ
(الیواقیت والجواہر بعبد الوہاب شعرانی) جلد دوم
ص ٣٧ طبع مصر“
ترجمہ: ”عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں کہ جاننا چاہیے کہ نبی کے پاس وحی دو طریقوں پر نازل ہوتی ہے کبھی فرشتہ وحی کو نبی کے دل پر نازل کرتا ہے اور کبھی صورت جسدیہ
-٢
کے ساتھ خارج میں آ کر اس وحی کو اس کے کانوں پر اور آنکھوں کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ پس اس نبی کو آنکھوں کے دیکھنے اور کانوں سے سننے سے پورا یقین حاصل ہو جاتا ہے اور کوئی شک نہیں رہ جاتا۔ شیخ اکبرؒ نے فرمایا یہ دروازہ (وحی کے نزول کا) نبی کریم ﷺ کی وفات کے
-٣
بعد بند کر دیا گیا ہے۔ پس اب قیامت تک کسی کے لیے یہ دروازہ نہیں کھل سکتا لیکن اولیاء اللہ کے لیے الہام (اور کشف) کا القاء جس میں کوئی احکام دینی نہیں ہوا کرتے باقی ہے۔“
مذکورہ عبارت میں شیخ اکبرؒ اور شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ دونوں حضرات کا نظریہ بالکل عیاں ہو چکا ہے کہ حضور ﷺ کے بعد قیامت تک وحی ختم ہوچکی ہے اور اولیاء اللہ کو الہام یا کشف ہوا کرتا ہے۔ اس کا نام نبوت نہیں ہے۔ اس لیے کہ جب تک احکام شرعی و دینی (یعنی تشریع) نہ پائے جائیں تب تک نبوت متحقق نہیں ہوتی۔ (جیسا کہ شیخ نے سابقاً واضح کر دیا ہے) لہٰذا الہامات وکشوف وغیرہ سے ختم نبوت میں کوئی فرق نہ آئے گا۔ نیز شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ کی
-٤
کسی دوسری عبارت سے ان کی ایسی تصریح وتشریح کے بعد بزور اجرائے نبوت ثابت کرنا مصنف کے مقصود کے خلاف ہے۔ مرزائیوں کا استدلال اسی طرح ہوتا ہے کہ ایک واضح بیان کو چھوڑ کر ایک موہوم عبارت کو پکڑ کر بڑا شور مچایا کرتے ہیں۔
رابعاً: یہ بھی یاد رکھیے شیخ اکبرؒ نے جن جن چیزوں کی نفی کر دی ہے اور ان کے انقطاع اور اختتام کا قول کرتے ہیں مرزا قادیانی ان سب کے لیے ایک ایک کر کے اجرا کے مدعی ہیں۔ انصاف کے ساتھ مندرجہ ذیل حوالہ جات ملاحظہ فرما کر شیخ کے عقائد ونظریات اور مرزا قادیانی کے مزعومات کا توازن کیجئے:
- ١- ”اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے
اور خدا کے بزرگ مقربین سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا
علیہم السلا
تھا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی
ہو چکا ہے
طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“ (خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٤ حقیقت الوحی ص ١٤٩ ١٥٠)
- -٢ ”میں خدا تعالیٰ کی ٢٣ برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک
وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں ۔“ (حقیقت الوحی ص ١٥٠‘ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)
- -٣ ”حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے
الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ (ذرا آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ) ..... چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے : ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلّہ (دیکھو ص ٤٩٨ براہین احمدیہ)“ اس میں صاف طور اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، ٢ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧، ٢٠٦ ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦١)
- -٤ ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ
سے چند امر اور نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی ۔ مثلاً یہ الہام ”قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذالک ازکی لہم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی ..... الخ۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦‘ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
حضرات! شیخ اکبر غیر مبہم اور صاف الفاظ میں بار بار کہہ رہے ہیں کہ وحی ملکی جو انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوتی تھی اس کا دروازہ قیامت تک حضور نبی کریم ﷺ کے بعد قطعاً بند ہو چکا ہے اور کسی شخص کے لیے کھلا نہیں جا سکتا۔ صرف اولیاء اللہ اور صلحاء امت کے لیے الہام و
کشف و دیگر اوصاف و کمالات نبوت باقی ہیں جو یقیناً نبوت نہیں اور مرزا قادیانی بے چارے بڑے زور شور سے کہہ رہے ہیں کہ مجھ پر بارش کی طرح وحی نازل ہوتی ہے اور میری وحی جو ٢٣ برس سے متواتر نازل ہو رہی ہے امر بھی ہے اور نہی بھی اور میرا نام وحیوں میں نبی اور رسول اور مرسل رکھا گیا ہے۔ اگر ذرہ بھر بھی انصاف ہے تو:
خامساً: اب ضروری ایک چیز یہ باقی ہے کہ شیخ اکبر کی بعض عبارتیں موہم اور مجمل ہوتی ہیں ان کو مرزائی لوگ لے کر ساتھ کچھ حاشیہ آرائی کر کے اور اپنے مقصد موافق تشریح کر کے بڑے بڑے جلی عنوانوں سے اور موٹی سرخیوں سے پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک حوالہ فتوحات مکیہ جلد دوم ص ٣ والا ہے جس کو ”الفضل“ والے اور دوسرے قادیانی بھی مکرر سہ مکرر دفعہ پیش کر رہے ہیں۔ اس کی وضاحت مختصراً ضروری معلوم ہوتی ہے:
”هذا معنی قوله صلی الله علیه وسلم ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی ای لانبی بعدی یکون علی شرع یخالف شرعی بل اذا کان یکون تحت حکم شریعتی فتوحات مکیه ص ٣ ج ٢“
قادیانی کہتے ہیں کہ اس حدیث کا ترجمہ و تشریح شیخ جو کر رہے ہیں اس سے صاف مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے لا نبی بعدی میں اس شریعت کے خلاف کوئی دوسری شریعت لانے والے نبی کی نفی کی ہے۔ ہاں ایسا نبی جو اس شریعت کے تحت ہو وہ ہو سکتا ہے اور یہی اجرائے نبوت ہے اور کیا ہے؟ (روزنامہ الفضل ج ٣٩/٦ ص ١٧٧ ص ١٧ ٢٧ جولائی ١٩٥٢ء)
ہم اس کے متعلق شیخ کی اس عبارت اور دوسری عبارات پر بھی نظر کرنے کے بعد پورے وثوق کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ شیخ نے یہ تشریح ہی نزول عیسیٰ علیہ السلام کے پیش نظر کی ہے چونکہ شیخ آسمان سے نزول مسیح علیہ السلام کے جمہور اہل اسلام کی طرح صحیح طور پر قائل ہیں۔ اس وجہ سے حدیث: ”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی“ کا مطلب ایسا بیان کر رہے ہیں جس کی بنا پر قیامت سے قبل جو عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا اس کے متعلق کوئی استبعاد کوئی اعتراض پیدا نہ کیا جا سکے۔ مطلب یہ ہے: ”لا رسول بعدی ولا
نبی“ کے ظاہری عموم سے یہ وہم ہوتا ہے کہ کسی قسم کا کوئی رسول نہیں آئے گا نہ نیا نہ پرانا۔ حالانکہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے خلاف ہے تو اس کا رفع وہم کیا گیا کہ جب وہ آئیں گے اس وقت کوئی اپنی شریعت پر الگ عمل درآمد نہیں کریں گے بلکہ اسی شریعت کی ترویج و اشاعت کریں گے۔
ناظرین کرام! یاد رکھیں ہمارا یہ کہنا کہ شیخ بھی نزول مسیح کے جمہور کی طرح قائل ہیں اور مذکورہ حدیث کی تشریح بھی انہوں نے نزول مسیح کے پیش نظر ہی کی ہے۔ کوئی دوسرا مطلب اس کا نہیں ہے۔ اس کے متعلق شیخ اکبر کی عبارت جو انہی صفحات پر درج ہے شاہد ہے۔ عبارت ملاحظہ ہو:
"وقد علمنا ان عیسیٰ علیہ السلام ینزل ولا بدمنہ مع کونہ رسولاً ولکن لا یقول بشرع بل یحکم فینا بشرعنا فعلمنا انہ اراد بانقطاع الرسالۃ والنبوۃ بقولہ لا رسول بعدی ولا نبی ای لا مشرع ولا شریعۃ"
(فتوحات مکیہ ص ٣ ج ٢، بحوالہ الفضل ٢٧ جولائی ١٩٥٢ء)
رہا یہ سوال کہ اپنی شریعت جو نبی نہیں رکھتا ہے دوسرے نبی کا ماتحت ہو کر آتا ہے (جیسا کہ مرزائی بغیر شریعت کے نبی ہونے کے قائل ہیں) سو اس کے متعلق شیخ کی سابقہ عبارات میں جواب آ چکا ہے کہ جب تک تمام اجزائے نبوت نہ پائے جائیں شیخ کے نزدیک نبوت متحقق ہی نہیں ہو سکتی اور تشریع (احکام شرعیہ دینیہ) نبوت کے اعظم جزؤں میں سے ایک جزء ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ جو صاحب تشریع اور صاحب شریعت نہیں ہے وہ نبی ہی نہیں ہے۔ (بلکہ شیخ ان کو ولی کہتے ہیں نہ کہ نبی، مقصد ولایت جاری، نبوت بند) لہٰذا جس طریقہ سے مرزائی اپنا مطلب شیخ کی عبارت سے ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ شیخ کی ہی تصریحات کے پیش نظر ہرگز ثابت نہیں کر سکتے۔
چہارم: امام راغب اصفہانیؒ کا مذہب
تفسیر بحر محیط میں امام راغب کی ایک عبارت نقل ہے ”الفضل“ والے نے اصل
عبارت مع ترجمہ اپنے مطلب کے موافق ذکر کیا ہے۔ ہم آپ کو الفضل کی زبانی اس عبارت کا ترجمہ پیش کر دیتے ہیں...... امام راغبؒ نے کہا ہے کہ خدا تعالیٰ ان چار گروہوں میں شامل کرے گا۔ مقام اور نیکی کے لحاظ سے نبی کو نبی کے ساتھ اور صدیق کو صدیق کے ساتھ، شہید کو شہید کے ساتھ اور صالح کو صالح کے ساتھ اور راغبؒ نے جائز قرار دیا ہے کہ: ”من النبیین“ کا تعلق: ”ومن یطع اللہ والرسول“ سے ہو۔ (تفسیر بحر محیط ص ٢٨٧ ج ٣ مطبوعہ مصر، الفضل خاتم النبیین نمبر ج ٦ / ٣٩ شمارہ نمبر ٧٧‘ ٢٧ جولائی ٥٢ء ص ١٨ کالم ٢)
حضرات! امام راغبؒ نے یہ ایک احتمال ذکر کیا ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو نبی نبیوں میں سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ اللہ سے انعام پانے والوں کے ساتھ ہوگا۔ اس میں اشکال کیا ہے۔ اگر اس کو صحیح تسلیم کر لیا جائے کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کر کے انعام پانے والوں کی جماعت میں شامل ہوں گے مگر بات یہ ہے کہ اس ضعیف سے احتمال سے بے چارے امام راغبؒ کو خواہ مخواہ اجرائے نبوت کے مدعیوں کی صف میں کیوں شمار کیا جا رہا ہے۔ امام راغبؒ تو صاف طور پر خود اپنی تصنیف ”مفردات القرآن“ میں علی الاعلان ختم نبوت کے قائل ہیں۔ آنحضور ﷺ کی آمد سے نبوت کے اتمام واختتام پر بالتصریح اقرار کرتے ہیں۔ مرزائیوں کو کیا حق ہے۔ ان اعلانات واضح کے بعد بھی ان کے مسلک کو احتمالات و اشارات میں ڈال کر مشتبہ بنا دیں۔ سنئے کہتے ہیں کہ:
”خاتم النبیین لانہ ختم النبوة اى تممها بمجیئہ“ (مفردات امام راغبؒ ص ١٤٢ تحت معنی ختم)
ترجمہ:...... ”آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ نے اپنی آمد سے اس نبوت کو تمام کر دیا اور مکمل کر دیا ہے۔“
مرزائیو! آپ کے ہاتھوں ہی انصاف ہے۔ وہ اشارہ و احتمال بہتر ہے جو امام راغبؒ کا کوئی دوسرا شخص نقل کر رہا ہے یا یہ صاف تصریح اچھی ہے جس کو خود امام راغبؒ نے اپنی مصدقہ تصنیف میں بلا احتمال ذکر کیا ہے۔
پنجم: حضرت مولانا جلال الدینؒ کے اشعار مثنوی سے بے جا استدلال
مثنوی شریف سے چند اشعار ملتقط نقل کر کے ایسے ترتیب دیئے ہوئے ہیں کہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی مقام سے علی الترتیب منقول ہیں۔ پہلا شعر یہ ہے:
تا نبوت یابی اندر امتے
دوسرا شعر:
تا کہ باز آید خرد زان خوئے بد
دوسرا شعر: ”عقل کامل را ...... الخ“ پہلے شعر تفکر کن کے قریب کہیں نہیں ملتا۔ آس پاس بہت سی تلاش کے باوجود کوئی پتہ نہیں چلا۔ اسی طرح متصل کر کے انہوں نے یہاں چھ شعر ذکر کیے ہیں۔ یہ سب متفرق مقامات سے لے کر ان کو یکجا کیا گیا ہے۔ ذکر میں سیاق و سباق کا کوئی لحاظ نہیں کیا گیا۔ اس قسم کی چھوٹی موٹی چالاکیاں مرزائیوں کا ادنیٰ سا کرتب ہے۔ خیر یہ معمولی بات ہے کہ کہیں کا شعر کہیں سے جوڑ دیا (مرزائیوں کے نزدیک) کوئی بڑی بات نہیں۔ بہر کیف اوّل الذکر شعر سے اجرائے نبوت کے مسلک کی تائید حاصل کرنا مرزائیوں کا مقصد ہے۔ ترجمہ شعر مذکور یہ ہے کہ اچھی خدمت کے راستہ میں تو فکر اور تدبیر کر تا کہ امت کے اندر نبوت پاسکے گا۔ (دفتر پنجم مثنوی ص ٤٠٢ باب در تفاوت عقول از اصل فطرت...... الخ مطبع نولکشور لکھنؤ)
ہم جواباً عرض کرتے ہیں کہ ساری مثنوی شریف میں یہی وہ چند اشعار آپ کو نظر آئے ہیں دوسرے مواقع جہاں مولانا رومؒ نے اس مسئلہ ختم نبوت کو صاف ظاہر کیا ہے وہ اشعار بھی ساتھ ساتھ ذکر کر دیتے تاکہ ہر ایک نتیجہ اخذ کرنے میں متردد نہ ہوتا اور ٹھیک اور صحیح مطلب مولانا کے کلام سے بسہولت حاصل کرسکتا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ صاحب مثنوی اس مسئلہ میں جمہور مسلمانوں کے ساتھ بالکل متفق ہیں۔
- ١۔ ”چنانچہ دفتر چہارم کی آخری حکایت میں یہود و نصاریٰ کی حالت جو حضور ﷺ کی
بعثت کے وقت تھی اس کو بیان کرتے ہوئے مولانا روم فرماتے ہیں:
چوں درآمد سید آخر زماں
(دفتر چہارم مثنوی شریف حکایت در بیان اعتقاد یہود و نصاریٰ......الخ طبع نولکشور لکھنؤ)
”یعنی جب سردار آخر الزمان ﷺ تشریف لائے اس زمانہ میں یہود و نصاریٰ کا سارا سرمایہ کفران ہی کفران تھا۔“
آخر الزمان کے لقب کے ساتھ مولانا کا حضرت نبی کریم ﷺ کو تعبیر کرنا صاف ختم نبوت جتلا رہا ہے اور بغیر کسی تاویل کے یہ الفاظ مستعمل ہیں۔
- ٢- دوسری جگہ دفتر پنجم میں نبی کریم ﷺ کے ایک مہمان کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے
فرماتے ہیں۔
تو نمودی ہمچو شمس بیغمام
یعنی اے اللہ کے رسول جیسے بادل کے بغیر سورج چمک رہا ہو ایسے آپ ﷺ نے رسالت کو تمام فرما دیا ہے۔ رسالت کی تمامیت میں کوئی شبہ و اشتباہ باقی نہیں رہا۔ (دفتر پنجم ص
٣٩٨‘ ایمان عرض کردن مصطفیٰ علیہ السلام مہمان را‘ طبع نولکشور لکھنؤ)
مولانا کے ان اقوال واشعار کو سامنے رکھنے کے بعد اس مذکور بیت کا مطلب بشرط انصاف اپنی جگہ صحیح اور درست ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ نیک راہ میں سعی و تدبیر کرنے سے فیضان نبوت اور کمالات رسالت سے مومن شرف یاب ہو سکتا ہے جیسا کہ اہل اللہ لوگ حسب استعداد مراتب حاصل کرتے ہیں۔
- ٣- نیز مولانا روم اپنی مثنوی میں نبوت کے دعویٰ کرنے والوں کے کئی مقامات میں
واقعات ذکر کرتے ہیں اور ان کے جھوٹ اور کذب پر پورا تبصرہ فرماتے ہیں۔ اگر مولانا کے نزدیک نبوت کا سلسلہ جاری ہے تو ایسے لوگوں کے حالات کی تائید کرنی چاہیے تھی اور ان کے واقعات کو درست قرار دینا چاہیے تھا۔ الٹا ان کی کذب بیانی واضح کی جاتی ہے۔
ششم: حضرت ملّا علی قاریؒ اور مسئلہ ختم نبوت
ملا علی قاریؒ نے اپنے موضوعات کبیر ص ١٠٠ پر حدیث: ”لو عاش ابراهیم لکان نبیا“ کے متعلق قوت ضعف کے اعتبار سے بحث کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ: ”قلت ومع ھذا لو عاش ابراهيم و صار نبياً و كذا لو صار عمر نبياً لكان من اتباعه عليه السلام کعیسیٰ و خضر والیاس علیہم السلام فلا يناقض قوله تعالى خاتم النبيين اذا لمعنى انه لا ياتى نبى بعده ينسخ ملته ولم يكن من امته ويقوى حديث لو كان موسیٰ عليه السلام حياً لما وسعه الا اتباعى.......“
ناظرین کرام کو معلوم ہونا چاہیے کہ قبل اس کے کہ اس مسئلہ پر ملا علی قاریؒ کی تحقیقات پیش کریں مذکورہ حوالہ مرزائیوں نے پیش کرتے وقت: ”کعیسیٰ و خضر والیاس علیھم السلام“ کا ٹکڑا کاٹ دیا ہے۔ یہ حضرات سمجھدار ہیں۔ اس ٹکڑا کو روایت کرنے میں انہیں ایک سخت خسارہ پڑتا ہے۔ اس لیے کہ عیسیٰ و خضر و الیاس کی مثال ان کی حیات اور زندگی کی بنا پر دی گئی ہے۔ اس طرح کہ اگر آپ ﷺ کے صاحبزادہ ابراہیمؑ زندہ رہتے اور نبی ہوتے اسی طرح اگر حضرت عمرؓ نبی ہوتے تو ہر دو نبی کریم ﷺ کے متبعین اور تابعداروں میں سے ہوتے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام حضرت الیاس علیہ السلام زندہ ہیں اور ان لوگوں کی نبوت و نبی ہونا ان کا آنحضور ﷺ کے متبعین کی صورت میں ہے۔ قادیانی ان کی حیات کے قائل نہیں بلکہ ممات کے قائل ہیں تو حوالہ پیش کردہ کا آدھا حصہ ان کی تردید کرتا تھا اور بقیہ سے تائید حاصل کرنی تھی۔ سو اس صورت میں چارہ ناچار رنگ میں بھنگ ڈالنے والے فقرے ان قادیانیوں نے حذف ہی کر دیئے۔
اس کے بعد اصل مطلب کی طرف آئیے۔ وہ یہ ہے کہ ملا علی قاریؒ نے خاتم النبیین کے مفہوم کی وضاحت میں جو معنی ذکر کیا ہے کہ ایسا نبی جو آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی ملت کا ناسخ ہو اور آپ ﷺ کی امت میں سے نہ ہو نہیں آئے گا۔ یہ بھی نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیش نظر کلام کیا گیا ہے۔ باقی یہ مطلب لینا کہ تابع ہو کر نبی آنے کا جواز اور اجرائے نبوت غیر مستقلہ کی خاطر ان کا یہ کلام ہے۔ اس چیز کے متعلق ہم اپنی طرف سے کچھ ذکر کرنے کی
بجائے خود صاحب کلام کی تشریح کی خاطر ان کی ہی کلام ان کی تصانیف سے چند حوالوں کی صورت میں پیش کی جاتی ہے:
- ١- "ان ختمهم اى جاء آخرهم فلا نبى بعده اى لا يتنباء
احد بعده فلا ينافى نزول عيسىٰ عليه السلام متابعاً شريعته مستمداً من القرآن والسنه...... الخ" (جمع الوسائل شرح شمائل ص ٣٣ جلد اول باب اول)
ترجمہ:...... "تحقیق نبی ﷺ نے انبیاء کو ختم کیا ہے۔ اس طرح کہ آپ ﷺ سب سے آخر میں تشریف لائے ہیں۔ پس آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یعنی کسی ایک کو حضور کے بعد نبوت نہیں دی جائے گی۔ پس نزول عیسیٰ علیہ السلام کے مخالف نہ ہوا جبکہ وہ آپ ﷺ کے تابع شریعت ہو کر اور قرآن وسنت سے امداد حاصل کرنے والے ہو کر آئیں گے۔"
اس مقام میں ملا علیؒ نے واضح کر دیا ہے۔ آنحضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت مل ہی نہیں سکتی اور عیسیٰ علیہ السلام تو پہلے ہی سے نبوت کے حامل ہیں۔ البتہ نزول کے بعد عمل اپنی شریعت کے بجائے شریعت مصطفویہؐ پر کریں گے۔ کیا اسی کا نام اجرائے نبوت کا قول کرنا ہے۔ گر چہ ظلی ہو یا اصلی۔
- ٢- ملا علیؒ مرقات شرح مشکوٰۃ شریف میں نبی کریم ﷺ کے اسماء گرامی کی تشریح
کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: "والمقفى بكسر الفاء المشدة فى جميع الاصول المصححة اى المتبع من قفا اثره اى قفاه يعنى انه آخر الانبياء الاتى على اثرهم لانبى بعده." (مرقات شرح مشکوٰۃ ج ١ ص ٧١)
ترجمہ:...... "مقفّی کا لفظ تمام صحیح طرق میں فاء مکسورہ شد والی کے ساتھ پڑھنا درست ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ پیچھے آنے والا قفا اثر کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ جب کوئی کسی کے پیچھے چلے اسے قفا اثرہ کہتے ہیں۔ یعنی نبی کریم ﷺ تمام انبیاء سے آخری پیغمبر ہیں۔ ان سب انبیاء کے نقش قدم پر تشریف لائے ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔"
مرزائیو! یہ وہ علی قاریؒ ہیں جن کو آپ کی مسلمہ کتابیں دسویں صدی کا مجدد یقین کرتی ہیں۔ اگر شک ہو تو کتاب عسل مصفیٰ ص ١١٠‘ ١١٩‘ ١٢٠ کا پھر ملاحظہ کر لیا جائے۔ آپ کا یہ
دسویں صدی کا مجدد کس صفائی کے ساتھ ختم نبوت کے مسئلہ کو تمام کر رہا ہے۔ آپ لوگوں کی تمام تاویلات من گھڑت کو ایک ایک کر کے ختم کر رہا ہے۔ اسی پر بس نہیں اور وضاحت سنئے۔ یہ قرن عاشر میں دین کی تجدید کرنے والا فاضل حضور ﷺ کے بعد وحی کو بالکل منقطع تسلیم کرتا ہے اور مرزا قادیانی ٢٣ برس سے اپنے اوپر وحی کو بارش کی طرح برسا رہے ہیں۔ ملا علی قاری کا فتویٰ سن لو۔ حدیث شریف: ”لم یبق من النبوۃ الا المبشرات ......الخ“ کی شرح میں امام سیوطیؒ سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
- ٣- ”قال السیوطی ای الوحی منقطع بموتی ولا یبقی ما یعلم منہ
ما سیکون الا الرؤیا“
(مرقات شرح مشکوٰۃ شریف ج ٩ ص ٢٣)
ترجمہ: ...... ”سیوطی نے کہا ہے کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میری موت (وفات) کے ساتھ وحی خداوندی منقطع ہو جائے گی اور آئندہ چیزوں کے معلوم کرنے کی رؤیا صالحہ کے بغیر کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔“
مرزائیوں کے متعلق مزید لطف کی بات یہ پیدا ہو گئی ہے۔ مرزائیوں کے نزدیک امام سیوطیؒ بھی نویں صدی کے مجدد ہیں اور ملا علی قاریؒ دسویں صدی کے مجدد۔ (عسل مصفیٰ ج ١ ص ١٦٤‘ ١٦٥) پھر دو مجدد مل کر ایک مسئلہ کو واضح کر دیں تو پھر انحراف کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ دو مسلمہ مجدد اس پر اتفاق کر رہے ہیں کہ حضور ﷺ کی وفات کے ساتھ وحی الٰہی منقطع ہو گئی ہے۔ اگر نبوت غیر مستقلہ کے اجزاء کے یہ بزرگ قائل ہوں تو بغیر وحی خداوندی کے وہ نبوت کیسے چلے گی؟
اگر اب بھی کچھ اخفاء باقی ہو تو اس مجدد قرن عاشر کا فتویٰ یا مرزائی الزامات سے برات کا اعلان صاف لفظوں میں بگوش ہوش سن لیجئے:
”ودعویٰ النبوۃ بعد نبینا کفر بالا جماع“
(شرح فقہ اکبر ملا علی قاریؒ طبع
مجتبائی دہلی ص ٢٠٢)
ترجمہ: ...... ”ہمارے نبی پاک ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالا تفاق کفر ہے۔“
اس کے بعد صرف تین دعاوی (دعوے) مرزا قادیانی کی زبان سے ان کے اپنے متعلق دل پر ہاتھ رکھ کر سن لیجئے:
- ١- ”یعنی محمد ﷺ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے
مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٧‘ خزائن ج ١٨ ص ٢١١‘ ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٥)
- ٢- ”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور
تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٦‘ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
- ٣- ”اور اس بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت
میں میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد ﷺ ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢‘ خزائن ج ١٨ ص ٢١٦‘ ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٩)
مجدد ملا علی قاریؒ کے فتویٰ اور مرزا قادیانی آنجہانی کے دعویٰ پر کسی تبصرہ کی غالباً کوئی حاجت نہیں۔ اہل اسلام غور و فکر کے بعد خود فیصلہ فرمائیں گے۔
٧: امام ربانی شیخ احمد سرہندیؒ کیا اجرائے نبوت
(مستقلہ یا غیر مستقلہ (کے قائل ہیں؟
مرزائیوں نے خاتم النبیین نمبر ”الفضل ٢٧ جولائی ١٩٥٢ء میں جہاں اور بزرگان دین کی جو ان کے نزدیک قائلین اجرائے نبوت سمجھے گئے ہیں فہرست تجویز کی ہے۔ وہاں امام ربانی صاحبؒ کو بھی ان میں بزور شمار کر ڈالا ہے۔ جس عبارت امام ربانی سے ان لوگوں نے استدلال اخذ کیا ہے وہ یہ ہے:
”حصول کمالات نبوت متابعان را بطریق تبعیت و وراثت بعد از بعثت خاتم الرسل علیہ وعلی جمیع الانبیاء والرسل الصلوۃ والتحیات منافی خاتمیت او نیست فلا تکن من الممترین۔ مکتوبات ج اول مکتوب نمبر ٣٠١“
(الفضل لاہور ص ١٨ کالم ٣‘ ٢٧ جولائی ٥٢)
پہلے تو دیکھنا ہے کہ امتی نبی ہونے اور غیر مستقل نبوت کے اجراء کے جواز کو کس طرح عبارت مذکور سے ثابت کر لیا گیا ہے۔ امام ربانیؒ فرما رہے ہیں کہ خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد دین کے صحیح تابعدار لوگوں کو اس اتباع کے بدولت نبوت سے کمالات اور فضائل حاصل ہوں تو یہ حضور کی ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ فضائل و کمالات اجزائے نبوت ہیں اور بعض اجزاء شے کے حصول و تحقیق سے کل شے کا تحقق لازم نہیں آتا جیسا کہ حدیث شریف میں رؤیائے صالحہ کو اجزاء نبوت شمار کیا گیا ہے۔ کون اس بات کا قائل ہے کہ جسے رؤیا صالحہ نصیب ہوا اسے نبوت مل گئی۔ ٹھیک اسی طرح کمالات نبوت کے حصول سے نبوت نہیں مل جاتی۔ لہٰذا ان فضائل کا حصول ختم واختتام نبوت کے منافی و مناقض نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے۔ اسی عبارت میں امام ربانیؒ آنحضور ﷺ کو خاتم الرسل کہہ رہے ہیں اور یہ لفظ کیوں نہ کہا جائے کہ امام کے عقیدہ کو واضح کر رہا ہے۔ اب ہم امام ربانی صاحبؒ کے مکتوبات شریف سے ان کا عقیدہ پیش کرتے ہیں تاکہ ہر قسم کا شک و شبہ زائل ہو سکے:
- ١۔ مکتوبات امام ربانی دفتر دوم ص ١٨٤ حصہ ہفتم مکتوب شصت و ہفتم میں اعتقادیات
اہلسنت بیان فرماتے ہوئے دہم عقیدہ میں ذکر کرتے ہیں کہ:
”وخاتم انبیاء محمد رسول الله است صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم وعلیٰ آلہ وعلیہم اجمعین ودین او ناسخ ادیان سابق ست و کتاب او بہترین کتب ما تقدم ست و شریعت او را ناسخے نخواهد بود بلکہ تا قیام قیامت خواهد ماند و عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کہ نزول خواهد نمود عمل بشریعت او خواهد کرد و بعنوان امت او خواهد بود.“
- ٢۔ ایضاً دفتر سوم حصہ ہشتم عقیدہ ہشتم ص ٣٠٤، ٣٠٥ مکتوب ہفت و دہم ١٧ میں اعتقادیات
کو واضح فرمایا ہے کہ:
”اول انبیاء حضرت آدم ست علی نبینا و علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والتسلیمات والتحیات و آخر ایشان و خاتم نبوت
شان حضرت محمد رسول الله است به جمیع انبیاء ایمان باید آورد عليهم الصلوة والتسلیمات وهمه را معصوم وراست گو باید دانست عدم ایمان بیکی ازیں بزرگواران مستلزم عدم ایمان است بجمیع ایشان عليهم الصلوات والتسلیمات چه کلمه ایشان متفق است واصول دین ایشان واحد و حضرت عیسیٰ علی نبینا و عليه الصلوة والسلام که از آسمان نزول خواهد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواهد نمود و عليه وعليهم الصلوة والتسليمات.“
خط کشیدہ عبارات مجدد شیخ احمد صاحب کا مذہب کتنا صاف بیان کر رہی ہے۔ قارئین کرام کو معلوم ہو کہ امام ربانی کو بھی مرزائیوں نے گیارھویں صدی کا مجدد تسلیم کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو عسل مصفیٰ ج ١ ص ١٦٥، ١٧٠) اور مجددین کا قول ماننا مرزائیوں کو لازم ہے۔ دیکھو شہادت القرآن میں مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ:
”اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ: ”ومن کفر بعد ذالک فاولئک ھم الفاسقون“
(شہادت القرآن ص ٢٨‘ خزائن ج ٦ ص ٣٢٤)
مجدد الف ثانی نے مذکورہ عبارات میں فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ سب نبیوں سے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ ان کی نبوت کو ختم کرنے والے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہو کر آپ ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اس کے بعد مرزائیوں کو تو ضرور تسلی ہونی چاہیے۔ یہ اعتقاد مذکورہ درست ہیں۔ آخر مجدد اور مسلمہ مجدد کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ہدایت نصیب فرمائیں۔
ہشتم : حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ پر اجرائے نبوت کا بہتان
عبارت یہ ہے جو مرزائیوں نے مخصوص نمبر ص ١٨ کالم ٢‘ ٢٧ جولائی ١٩٥٢ء میں پیش
کی ہے:
”ختم بہ النبیون ای لایوجد من یامرہ اللہ سبحانہ بالتشریع علی الناس“ (تفہیمات الہیہ تفہیم ج ٢ ص ٥٥‘ ٧٢)
ترجمہ:...... ”نبی کریم ﷺ پر انبیاء ختم ہو چکے ہیں۔ یعنی ایسا شخص عدم سے وجود میں نہیں لایا جائے گا جس کو اللہ تعالیٰ احکامِ دینیہ و شرعیہ کے ساتھ لوگوں کی طرف مامور کرے۔“
اس عبارت سے یہ استنباط کیا جا رہا ہے کہ مستقل شریعت اور مستقل دین والے نبی کی نفی مصنف کی مراد ہے۔ علی الاطلاق اور ہر نبوت کی نفی مراد نہیں ہے۔ بلکہ امتی نبی آ سکتے ہیں۔ بالتبع نبوت جاری ہے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ ”لا یوجد“ کا ترجمہ ذرا غور سے ملاحظہ کر لیا جائے تو بات صاف ہے۔ (ایجاد از عدم بوجود آوردن)
تاہم ان بزور عائد کردہ الزامات کا جواب ہم اپنی زبان سے ادا کرنے کی بجائے خود صاحب کلام شاہ صاحب محدثؒ کی زبان سے پیش کرنا ضروری خیال کرتے ہیں تا کہ تاویل کرنے سے ایک صاف بات مسخ ہو کر نہ رہ جائے۔ تاویلات کا تانا بانا بننا مرزائیوں کا موروثی وطیرہ ہے۔ ہم شاہ صاحبؒ کا کلام بغیر کسی ہیر پھیر کے پیش کرتے ہیں:
اولاً ...... اسی تفہیمات الہیہ میں شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے آدم علیہ السلام سے لے کر حضور علیہ السلام تک انبیاء علیہم السلام کے مختلف دور قائم کر کے اس پر اس تفہیم میں تبصرہ کیا ہے۔ آخر میں اس تفہیم کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے کہ:
- ١- ”وصار خاتم ھذا الدورۃ فلذالک لایمکن ان یوجد
بعدہ نبی صلوات اللہ علیہ وسلامہ تفہیمات الہیہ ص ١٣٧ ج ٢“
ترجمہ:...... ”اس دورہ کے ختم کرنے والے نبی کریم ﷺ ٹھہرے۔ اسی وجہ سے یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی عدم سے وجود میں آئے۔“
دوسرا مقام اسی تفہیمات کا ملاحظہ ہو۔ اس تفہیم میں ضروری ضروری عقائد (مثلاً ملائکہ، شیاطین و قرآن مجید و معاد جسمانی و جنت دوزخ و شفاعت وغیرہا) بیان فرماتے ہوئے مسئلہ ختم نبوت کو بھی واضح کیا ہے۔
- ٢۔ ”ومحمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین لا نبی بعدہ
دعوتہ عامۃ لجمیع الانس والجن وھوا فضل الانبیاء بھذہ لخاتمیتہ وبخواص اخریٰ بحوالہ تفہیمات الہیہ تفہیم نمبر ٦٥ ج اول ص ١٤٧“
ترجمہ:...... ”آنحضور ﷺ تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ تمام انسانوں اور جنوں کے لیے آپ ﷺ کی دعوت عام ہے۔ آپ ﷺ تمام نبیوں سے افضل ہیں۔ اس خاص امر اور دوسرے خواص کی بنا پر۔“
اس کے بعد حجۃ اللہ البالغہ کا صرف ایک مقام ہی دیکھ لیا جائے۔ یہ بشرط انصاف کافی ہے:
- ٣۔ حدیث شریف میں آتا ہے: ”ان ھذا الامر بدأ رحمتہ ونبوۃ ثم یکون
خلافتہ ورحمتہ ...... الخ کنز العمال ج ٦ ص ١٢٠“ یعنی یہ دین اسلام کی ابتدا نبوت اور رحمت کی صورت میں ہوئی ہے پھر یہ خلافت اور رحمت کے رنگ میں زمانہ ہوگا ...... الخ۔ اس حدیث کی تشریح شاہ صاحبؒ نے اس طرح شروع کی ہے: ”اقول فالنبوۃ انقضت بوفاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم والخلافۃ التی لاسیف فیھا بمقتل عثمان والخلافۃ بشہادۃ علی کرم اللہ وجہہ وخلع الحسن ....... الخ ’حجۃ البالغہ‘ بحث فی الفتن ج ٢ ص ٢١٢“
ترجمہ:...... ”میں کہتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ کی وفات سے نبوت پوری اور ختم ہوگئی اور ایسی خلافت جس میں تلوار اسلام میں نہ چلی ہو وہ حضرت عثمان کی شہادت سے ختم ہوگئی اور اصل خلافت راشدہ حضرت علیؓ کی شہادت اور امام حسنؓ کی معزولی سے ختم ہوگئی ...... الخ“
حضرت شاہ صاحب کی یہ صاف صاف تصریحات مسئلہ ختم نبوت کے متعلق ہیں کہ ہر قسم کی نبوت ختم ہوگئی ہے۔ مرزائی تاویلات کی طرف جانے کے بڑے شائق ہیں۔ ہر عبارت میں کچھ نہ کچھ تاویل کیے بغیر ان کا جی نہیں ٹھہرتا۔ اس کا علاج ہمارے پاس کیا ہوسکتا ہے؟
اب شاہ صاحب کا ایک اور حوالہ نقل کر کے ہم اس کو ختم کرتے ہیں۔ فتح الرحمٰن ترجمۃ القرآن میں ”خاتم النبیین“ کا معنی شاہ صاحبؒ نے ان الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے: ”نیست محمد صلی اللہ علیہ وسلم پدر ہیچکس از مردمان شما ولیکن پیغمبر
خداست و مهر پیغمبران است یعنی بعد ازوی هیچ پیغامبر نباشد“ (فتح الرحمن تحت آیت: ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين. الخ)
قارئین کرام پر واضح ہو کہ مرزائی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کو بارھویں صدی کا مجدد مانتے ہیں۔ عسل مصفیٰ ج ١ ص ١٦٥‘ ١٤٧ پر ہر صدی کے مجددین کو شمار کیا ہے۔ وہاں شاہ صاحبؒ اور مرزا جان جاناں شہیدؒ کو بارھویں صدی کا مجدد تسلیم کیا ہے۔ نویں صدی کے مجدد امام سیوطیؒ دسویں صدی کے مجدد علی قاریؒ گیارھویں صدی کے مجدد شیخ احمد سرہندیؒ بارھویں صدی کے مجدد شاہ ولی اللہ صاحبؒ سب کے سب کہہ رہے ہیں کہ نبوت ختم ہو گئی ہے۔ وحی تاقیامت منقطع ہو گئی ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی عدم سے وجود میں نہیں آسکتا۔ ممکن ہی نہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی و رسول پیدا ہو۔ آپ ﷺ کے مسلمہ مجددین بیک آواز بلا تاویل یہ کہہ رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ امتی نبی آسکتے ہیں۔ انصاف کرو کون سچا ہے؟
نہم : حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ اور ختم نبوت
مرزائیوں نے اپنے مسلک (اجرائے نبوت) کی تائید میں مولانا محمد قاسمؒ کی ایک دو عبارتوں کو پیش کرنے میں بڑی سعی کی ہے۔ حالیہ سہ ماہی (جون جولائی اگست ١٩٥٢ء) میں تو مختلف عنوان بدل بدل کر الفضل میں ان عبارتوں کو بار بار شائع کیا ہے۔ ایک ان کا تبلیغی ہفتہ وار اخبار ”التبلیغ“ ربوہ سے شائع ہوتا ہے۔ اس کا ایک نمبر (١٤ جولائی ١٩٥٢ء ج ٢ نمبر ٢٦) مستقل مثلاً علی قاریؒ مولانا محمد قاسمؒ مولانا عبدالحئیؒ ہر سہ حضرات کے لیے وقف کیا ہے۔ ان حضرات کی عبارتیں ”مخصوصہ متعینہ“ ذکر کر کے بڑے زور دار چیلنج کیے ہیں کہ ہے کسی کو جرات کہ ان عبارات کا جواب پیش کرے۔ ان ہر سہ حضرات کی برأت و صفائی کا دم بھرے۔ پھر اسی پر بس نہیں۔ چھوٹے چھوٹے پمفلٹ اور ٹریکٹ شائع کئے ہیں جن میں مولانا نانوتوی مرحوم کی عبارت مطلب کے موافق نقل کر کے عوام پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مولانا بھی اجرائے نبوت کے قائل ہیں۔ ختم نبوت زمانی کے منکر ہیں۔ لہٰذا قادیانیوں کے عقیدہ اور مولانا کے عقیدہ میں کچھ فرق نہیں۔ (لعنة الله على الكاذبين)
حضرات! جس طرح سابقہ سطور میں واضح کیا گیا ہے۔ ان مذکور سلف صالحین میں سے کوئی صاحب بھی اجرائے نبوت کا قائل نہیں ہے اور نہ ہی ختم نبوت زمانی کا کوئی فرد منکر ہے۔ ٹھیک اسی طرح مولانا نانوتوی مرحوم کا عقیدہ ختم نبوت کے متعلق جمہور اہل اسلام کا عقیدہ ہے۔ اجرائے نبوت ان کے نزدیک باطل ہے۔ ختم نبوت زمانی کے صحیح طور پر اقرار کرنے والے ہیں جو ختم نبوت زمانی کا قائل نہ ہو اور آنحضور ﷺ کے بعد نبوت جاری تسلیم کرے اسے کافر سمجھتے ہیں۔
ذیل میں مولانا کی عبارتیں درج کی جاتی ہیں جو ہماری اس بات پر شہادت صادقہ ہیں۔ ملاحظہ ہوں:
- ١- شان نبوت بیان کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں: ”ایسے ہی خاتم مراتب نبوت
کے اوپر اور کوئی عہدہ یا مرتبہ ہوتا ہی نہیں جو ہوتا ہے اس کے ماتحت ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے احکام اوروں کے احکام کے ناسخ ہوں گے اوروں کے احکام اس کے احکام کے ناسخ نہ ہوں گے اور اس لیے یہ ضرور ہے کہ وہ خاتم زمانی بھی ہو۔ کیونکہ اوپر کے حاکم تک نوبت سب حکام ماتحت کے بعد آتی ہے اور اس لیے اس کا حکم اخیر حکم ہوتا ہے۔
(مباحثہ شاہجہانپور ص ٢٥)
اس مباحثہ کی عبارت میں مولانا مرحوم آنحضرت ﷺ کو نبوت کے مراتب کو ختم کرنے والے تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ زمانہ کے اعتبار سے بھی ”خاتم زمانی“ صاف طور پر تسلیم کرتے ہیں۔
تحذیر الناس کی عبارت جو پیش کی جاتی ہے وہ ایک طویل بحث میں سے سیاق سباق سے کاٹا ہوا ٹکڑا ہے۔ کسی جگہ ماقبل کی رعایت نہیں کی جاتی۔ کہیں مابعد کی پرواہ نہیں ہوتی۔ اب ناظرین کی خدمت میں خود تحذیر الناس کی عبارت پیش کی جاتی ہے۔ اس میں خاتمیت زمانی کیسی صاف ثابت کی جارہی ہے۔
- ٢- سو اگر اطلاق اور عموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے۔ ورنہ تسلیم لزوم
خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصریحات نبوی ﷺ ”مثل انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لانبی بعدی او کما قال علیہ
الصلوٰۃ باب میں ہو گیا۔ گو ہوں۔ ٣ رکعات فر اس کا (اج کا منک کتاب ”
- ٣- ”خاتمیت
(مناظرہ
- ٤- ”بعد رسو
کو کافر سم ناظرین ! اجرائے نبوت کا قائل کشی کا کیا ٹھکانہ ہے پھر ان ا بمالا یرضی بہ“ ت وضاحت درکار ہو تو بھی اس کا جواب آ ہیں۔
دہم: حضرت مو
مولانا ع کرتے ہیں وہ پہلے
الصلوٰۃ والسلام“ جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے۔ اس باب میں کافی۔ چونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے۔ پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہو گیا۔ گو الفاظ مذکورہ ”الا انہ لا نبی بعدی...... ناقل“ بسند تواتر منقول نہ ہوں۔ سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ باوجودیکہ الفاظ حدیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں جیسا اس کا (اعداد رکعات فرائض...... ناقل ) منکر کافر ہے ایسا ہی اس کا ”لانبی بعدی“ کا منکر بھی کافر ہوگا۔ ( تحذیر الناس ص ٩ طبع کتب خانہ امدادیہ دیوبند )
کتاب ”مناظرہ عجیبہ“ میں اس مسئلہ کی مزید توضیح مولانا نے کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ:
- ٣۔ ”خاتمیت زمانی اپنا دین ایمان ہے۔ ناحق کی تہمت کا البتہ کچھ علاج نہیں ۔“
( مناظرہ عجیبہ ص ٣٩)
- ٤۔ ”بعد رسول اللہ ﷺ کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تامل کرے اس
کو کافر سمجھتا ہوں ۔“ ( مناظرہ عجیبہ ص ١٠٣)
ناظرین کرام! مولانا محمد قاسم مرحوم کی ان واضح عبارات کے بعد بھی آپ کو خواہ مخواہ اجزائے نبوت کا قائل گردانا جائے اور ختم نبوت زمانی کا منکر قرار دیا جائے تو اس ظلم اور انصاف کشی کا کیا ٹھکانہ ہے۔ ان اقوال پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ۔ اپنے مضامین آپ واضح ہیں۔
پھر ان اقوال کو چھوڑ کر محتمل اور مجمل حوالہ کو اخذ اور گرفت کرنا: ”توجیہ القول بمالا یرضی بہ“ قائلہ کا مصداق ہے اور مولانا پر افتراء عظیم ہے۔ اگر کچھ اور اس مسئلہ پر مزید وضاحت درکار ہو تو مولانا کا رسالہ مناظرہ عجیبہ پورا ملاحظہ کیجئے اور قبلہ نما اور انتصار الاسلام میں بھی اس کا جواب آپ کو ملے گا۔ طوالت مضمون کے خوف سے مزید حوالے ترک کیے جاتے ہیں۔
دہم : حضرت مولانا عبدالحیؒ لکھنوی پر اجزائے نبوت کا افتراء عظیم
مولانا عبدالحیؒ کی عبارت جس سے مرزائی اپنے مطلب کی تائید میں استدلال قائم کرتے ہیں وہ پہلے بالفاظ درج ہے:
”علماء اہلسنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے عصر میں کوئی نبی صاحب شرع جدید نہیں ہوسکتا اور نبوت آپ کی تمام مکلفین کو شامل ہے اور جو نبی آپ کے ہم عصر ہوگا وہ متبع شریعت محمدیہ ہوگا۔ پس بہر تقدیر بعثت محمدیہ عام ہے۔“ (دافع الوساوس فی اثر ابن عباس ص ٣، منقول از الفضل ٢٧ جولائی ٥٢ خاتم النبیین نمبر)
خط کشیدہ عبارت کا مطلب مرزائی یہ لے رہے ہیں کہ آنحضور ﷺ کے بعد تابع شریعت ہو کر نبی آسکے گا۔ یعنی امتی نبی ۔ آپ کے بعد بطریق تبعیت نبوت جاری ہے ...... ان کا استدلال و استنباط کہاں تک درست ہے؟ اس کا جواب مولانا عبدالحئی کے قلم سے نقل کیا جاتا ہے اور ساتھ لطف یہ ہے کہ مولانا کی جو عبارت ہم نقل کرنا چاہتے ہیں وہ اس مذکورہ بالا عبارت سے بعد کی تحقیق ہے۔ ذرا انصاف کو قریب لا کر سنئے ۔ پہلے تمہیدی عبارت ذکر ہے:
”قد کتبت قبل ھذا فی ھذا الباب رسالة سمیتھا بالآیات البینات علی وجود الانبیاء فی الطبقات واخری مسماة بدافع الوسواس فی اثر ابن عباس وکلاھما باللسان الھندیة وھذہ رسالة ثالثة بلغة اھل الجنة العربیة مرتبة علی مابنیھما لتحقیق المقاصد کالاصلین‘ (زجر الناس علی انکار اثر ابن عباس ص اول مجموعه خمسه رسائل)“
ترجمہ: ...... ”اس سے پہلے اس مسئلہ میں میں نے دو رسالے لکھے ہیں۔ ایک کا نام ”آیات بینات علی وجود الانبیاء فی الطبقات“ ہے۔ دوسرے رسالہ کا نام ”دافع الوساوس فی اثر ابن عباس“ ہے۔ یہ دونوں رسالے اردو زبان میں ہیں۔ یہ تیسرا رسالہ ”زجر الناس علی انکار اثر ابن عباس“ جنتیوں کی عربی زبان میں ہے۔ ان دونوں رسالوں میں جو مضامین تحقیق مقاصد کے لیے مرتب تھے انہی پر یہ تیسرا رسالہ بھی مرتب ہے۔“
اس تیسرے رسالہ زجر الناس میں اس مسئلہ کو مولانا نے اس طرح واضح فرمایا ہے:
”ختم نبینا صلی اللہ علیہ وسلم حقيقي بالنسبة الی انبیاء جميع الطبقات بمعنی انه لم یعط بعدہ النبوة لاحد فی طبقة (زجر الناس علی انکار اثر ابن عباس ص ٦/ ٨٤ مجموعه
خمسه رسائل)“
ترجمہ:......”تمام طبقات کے انبیاء کے اعتبار سے ہمارے نبی ﷺ کی خاتمیت بالکل حقیقی ہے۔ اس معنی کر کے کہ کسی ایک کو کسی طبقہ میں آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت نہیں عطا ہوسکتی۔“
مولانا کا کلام مذکور کسی تشریح کا محتاج نہیں ہے۔ اپنے مطلب کو خود صاف کر رہا ہے۔ آخر میں صرف ایک اور حوالہ حضرت مولانا عبدالحیؒ صاحب کے فتاویٰ سے مرزائیوں کی تسلی کے لیے پیش کر کے اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔
استفتاء نمبر ١٠٧ ج اول ص ٩٩
...... کیا حکم ہے اس صورت میں کہ ایک شخص بہ مثل رسول اللہ ﷺ متحقق و موجود عالم میں کہتا ہے۔ یہ صحیح العقیدہ ہے یا فاسق العقیدہ ہے؟ اور وہ شخص مذکور کافر ہے یا فاسق و گنہگار؟ بینوا توجروا المکلف الفقیر علی وجہ اللہ علی احمد قادری کان اللہ لہ.
الجواب
اگر مراد مماثلت نبوی سے مماثلت جمیع صفات نبویہ ہے حتیٰ کہ صفت رسالت میں بھی تو یہ قول کفر ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کی صفت مذکور موجود ہے۔ پس دعویٰ کرنا دوسرے نبی کا مخالف نص قطعی کے ہے۔ علامہ ابوشکور سلمی تمہید میں لکھتے ہیں:
”اعلم ان الواجب علی کل عاقل ان یعتقد ان محمداً کان رسول اللہ والآن ھو رسول اللہ وکان خاتم الانبیاء ولا یجوز بعدہ ان یکون احد نبیاً ومن ادعی النبوة فی زماننا یکون کافراً. انتھی.“
(فتاویٰ مولانا عبدالحی لکھنوی ج اول ص ٩٩
مطبوعہ یوسفی لکھنو)
عربی عبارت کا ترجمہ:......”جاننا چاہیے کہ ہر عاقل پر واجب ہے کہ یہ اعتقاد رکھے
کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ کے رسول تھے اور ابھی وہ اللہ کے رسول ہیں اور آپ ﷺ تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کا نبی بننا جائز نہیں اور جو آج ہمارے زمانے میں نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔“
حضرات! مولانا عبدالحئیؒ نے مسئلہ ختم نبوت کے تمام پہلو روشن کر دیئے ہیں۔ مرزائیوں کے تمام شبہات کا خوب ازالہ کر دیا ہے۔ کسی تاویل کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ اس کے بعد مرزائی اگر مولانا لکھنوی کے کلام سے استدلال ہم نوائی کرنے سے باز نہ آئیں تو یہ علم و دیانت اور یہ فہم و فکر جس میں قدم قدم پر دجل و فریب اور بات بات پر مکر و خیانت چھائی ہوئی ہو یہ ان خداوندان ربوہ ہی کو مبارک ہوں ۔
اپنے برادران اسلام سے آخر میں ایک ضروری گزارش
مرزائی لوگ اپنے نبی کی سنت کے موافق ہر معاملہ میں حد درجہ کی چالاکی سے کام لیتے ہیں۔ حوالہ اخذ کرنے میں بھی اپنے معصومانہ مکر و فریب کا کمال کر دیتے ہیں۔ صاحب تصنیف کا مقصد کچھ کا کچھ ہوتا ہے لیکن ان کو اندھیرے میں بڑے دور کی سوجھتی ہے۔ لہٰذا میں اپنے عام مسلمان بھائیوں سے بڑی تاکید سے عرض کروں گا کہ جب اس قسم کا کوئی حوالہ سلف صالحینؒ کی تصنیف سے مرزائی لوگ شائع کریں تو اس کے مفہوم کی جب تک اصل ماخذ سے پوری تسلی نہ کر لی جائے اس سے ہرگز متاثر نہ ہوں۔ ضرور اس میں کچھ نہ کچھ مرزائیوں کا بابرکت جھوٹ کام کر رہا ہوگا جس طرح ان کے ابا جان مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تصنیف میں اکاذیب طیبہ سے جگہ جگہ پر کام لیا ہے۔ اسی طرح ان کی امت شریفہ بھی جھوٹ مبارک کہنے سے اجتناب نہیں کرتی۔ اس پر تجربہ شاہد ہے:
اپنے اہل مسلم حضرات کی تسلی کی خاطر عرض کیا جاتا ہے کہ مذکورہ حوالہ جات جو ہماری اپنی کتب سے لیے گئے ہیں ان کے اصل ماخذ سے تسلی کر کے درج کیے ہیں۔ انشاء اللہ! اس میں خلاف واقع نہ ہوگا۔ دیانت کے ساتھ کام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ منظور فرمائے۔ نیز
رسول تھے اور ابھی وہ اللہ کے رسول ہیں اور آپ ﷺ تمام انبیاء ﷺ کے بعد کسی کا نبی بننا جائز نہیں اور جو آج ہمارے وہ کافر ہے۔“
اللہ نے مسئلہ ختم نبوت کے تمام پہلو روشن کر دیئے ہیں۔ اب ازالہ کر دیا ہے۔ کسی تاویل کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ اس کے کلام سے استدلال ہم نوائی کرنے سے باز نہ آئیں تو یہ ظلم قدم قدم پر دجل وفریب اور بات بات پر مکر وخیانت چھائی ہوئی دیکھتا ہوں ۔
آخر میں ایک ضروری گزارش
نبی کی سنت کے موافق ہر معاملہ میں حد درجہ کی چالاکی سے کام لیتے ہیں اور اپنے معصومانہ مکر وفریب کا کمال کر دیتے ہیں۔ صاحب ہے لیکن ان کو اندھیرے میں بڑے دور کی سوجھتی ہے۔ لہٰذا میں بڑی تاکید سے عرض کروں گا کہ جب اس قسم کا کوئی حوالہ سلف لوگ شائع کریں تو اس کے مفہوم کی جب تک اصل ماخذ سے سے ہرگز متاثر نہ ہوں۔ ضرور اس میں کچھ نہ کچھ مرزائیوں کا اس طرح ان کے ابا جان مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تصنیف سے کام لیا ہے۔ اسی طرح ان کی امت شریفہ بھی جھوٹ مبارک اس پر تجربہ شاہد ہے: امت کی تسلی کی خاطر عرض کیا جاتا ہے کہ مذکورہ حوالہ جات جو میں ان کے اصل ماخذ سے تسلی کر کے درج کیے ہیں۔ انشاء اللہ ! دیانت کے ساتھ کام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ منظور فرمائے۔ نیز
اپنے علمی بزرگوں سے استدعا ہے کہ وہ اس موضوع کے متعلق جو ان چند اوراق میں درج ہے مزید معلومات وتحقیقات سے ہمیں مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ اس بحث کو مزید مکمل کرنے میں سہولت ہو۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
دعاء غائبانہ کا خواستگار ناچیز محمد نافع عفا اللہ عنہ صدر تنظیم اہلسنت والجماعت محمدی ومدرس جامعہ محمدی ضلع جھنگ ذوالحجہ ١٣٧١ھ
------- O -------
اور ایمان کی روشنی مل گئی
میں نے ایک دفعہ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر سے پوچھا آپ مرزائیت سے کیسے تائب ہوئے تو انہوں نے اپنا خواب سنایا:
خواب: ”دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ لوگ قطار میں کھڑے ہو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا بات ہے۔ مجھے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہوئے ہیں۔ ان کی زیارت کے لیے بندوبست ہو رہا ہے۔ یہ سن کر میں بھی قطار میں لگ گیا اور لوگ آہستہ آہستہ آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ہر آدمی کے سر کے اوپر ایک بلب روشن ہے۔ میں نے اپنا سر اوپر کر کے دیکھا تو میرے سر کے اوپر بلب تو ہے مگر بجھا ہوا ہے۔ میں بہت افسردہ اور شرمندہ ہوا کہ سب کے سروں پر بلب روشن ہیں، میں ہی بدقسمت ہوں کہ میرا بلب بجھا ہوا ہے۔ اسی ندامت کے ساتھ آگے بڑھتا جا رہا ہوں۔ آخر میں بھی رسول اکرمؐ کے حضور پہنچ گیا مگر بہت شرمندہ ہوں۔ آنجناب نے فرمایا لال حسین تم چاہتے ہو کہ تمہارا بلب بھی روشن ہو جائے۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوپر دیکھو۔ میں نے دیکھا تو میرا بلب بھی روشن تھا۔ آنکھ کھلی تو یقین ہو گیا کہ اب تک میرے ایمان کا بلب بجھا ہوا تھا۔ اب خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ التفات سے روشن ہو گیا۔ لہٰذا مرزائیت سے توبہ کر کے از سرنو مسلمان ہوا۔
(”حدیث خواب“ ص ٢٧ از سید امین گیلانی)
فنافی الرسول اور مرزا قادیانی
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ
اگر صرف مقام فنافی الرسول ہی مرزا قادیانی کو رسول اور نبی کہلانے کی اجازت دیتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ صدیق اکبرؓ نے جس کی شان میں لو کنت متخذاً خلیلاً لا تخذت ابابکر خلیلاً فرمایا گیا اور ایسا ہی عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باوجود لقب محدثیت کے اور عثمانؓ نے باوجود کمال اتباع صوری و معنوی کے اور علی مرتضیٰ ؓ نے باوجود بشارت انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ کے اور سیّد شباب اہل الجنۃ حسنینؓ ؒ نے جن کا مجموعہ بعینہ جمال باکمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آئینہ تھا رسول اور نبی کہلوانے پر جرأت نہ کی اور ہزارہا اہل اللہ جن کے فنا فی الرسول ہونے پر ان کے سایہ کا گم ہو جانا بھی شہادت دیتا تھا کسی نے نبی اور رسول نہیں کہلوایا۔ قطب الاقطاب سیدنا الغوث الاعظم رضی اللہ عنہ مکالمات الہیہ میں سے کسی مکالمہ میں باوجود شان (خضنا بحراً لَّم یقف علی ساحلہ الانبیاء) کے یعنی فناء فی النبی الاُمی الذی ھو کالبحر فی السخاء (نبی) اور (رسول) کے لفظ سے نہ پکارے گئے۔ یہ سب تو اسی قاعدہ مسلمہ میں محدود رہے کہ الولی لا یبلغ درجۃ النبی
1 حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ایھا الناس من عرفنی فقد عرفنی ومن لم یعرفنی فانا الحسن بن علی وانا ابن النبی وانا ابن الوصی وانا ابن البشیر و انا ابن النذیر و انا ابن الداعی الی اللہ باذنہ وانا ابن السراج المنیر وانا من اھل البیت الذی کان جبرائیل ینزل الینا و یصعد من عندنا وانا من اھل البیت الذین ذھب اللہ عنھم الرجس وطھرھم تطھیرا و انا من اھل البیت الذی افترض اللہ مودتھم علی کل مسلم فقال تبارک وتعالیٰ ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسنا فاقتراف الحسنۃ مودتنا اھل البیت۔ (ازالۃ الخفاء)
اور قادیانی صاحب باوجود اوصاف منافرہ عن مقام الفنا کے نبوت تک پہنچ گئے بلکہ الوہیت مستقلہ مقابلہ لالوہیۃ الباری عزاسمہ بھی العیاذ باللہ حاصل کر لی۔ چنانچہ اپنی تالیف کتاب البریہ کے صفحہ ٧٩ سطر ٤ پر لکھتے ہیں کہ ”اور اس حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی۔ الخ۔ اس عبارت مسطورہ میں ہم ناظرین کی صرف اسی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہ آسمان دنیا جس کو قادیانی صاحب نے پیدا کیا ہے۔ وہ کہاں ہے۔ اگر کہیں رکھا ہے تو پتہ بتلا دیں۔ ورنہ کشف اپنی غیر واقعی اور محض از قبیل اضغاث احلام ہونے پر صاف شہادت دے رہا ہے۔ کیا ایسے ہی مکاشفات و الہامات غیر واقعیہ قادیانی صاحب کی نبوت و رسالت کی چھت کے لیے شہتیر بن سکتے ہیں؟ ہاں بدیں وجہ ہو سکتے ہیں کہ خیالی چھت کی شہتیریں بھی خیالی ہونی چاہیں۔
جاننا چاہیے کہ ولی کے منکر کو کافر نہیں کہا جاتا جیسا کہ تصدیق بولایت کو ایمان نہیں کہتے ورنہ آمنت بالله وملئکته و کتبه و رسله و اولیائه الخ ایمانی طور پر ہر مومن کو ماننا لازم ہوتا۔ قادیانی کا یہ کہنا کہ میں ظلی طور پر نبی ورسول ہوں اور میرا ماننا ہر مسلمان پر ضروری ہے۔ اس کو ایک تمثیل عام فہم کے پیرایہ میں سمجھنا چاہیے۔ مثلاً زید کہتا ہے کہ میں فقیر مسکین ہوں اور میرا نافرمان مستوجب سزا ہے اور قید کیا جائے گا۔ کیا زید کو بسبب دوسرے فقرہ دعویٰ کے سلطنت و حکومت کا مدعی خیال نہ کیا جائے گا۔ اہل عقل پر ظاہر ہے کہ زید فی الحقیقت قول مذکور سے بادشاہی کا دعویٰ کر رہا ہے اور (میں فقیر مسکین ہوں) کے فقرہ کو سپر بنا رکھا ہے۔ ایسا ہی قادیانی بھی فنا فی الرسول اور بروز اور ظلیت کی آڑ میں مطاعن سے بچنا چاہتا ہے اور فی الواقع مطلب اس کا دوسرے فقرہ سے متعلق ہے۔ جو خاصہ لازمہ انبیاء کے لیے سمجھا گیا ہے۔
١؎ یعنی ہم ایسے سمندر میں غوطہ زن ہوئے جس کے کنارے پر انبیاء علیہم السلام نہ ٹھہرے۔ سمندر سے مراد حضور علیہ السلام کی ذات ہے جو سخاوت میں سمندر کی طرح ہے اور غوطہ زنی سے مراد فنائے کامل ۔۔۔۔۔ کمال اتباع نصیب ہوتی ہے۔ ١٢۔ منہ۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ قادیانی نے اپنے چیلوں کو اپنے غیر مقلدین کے پیچھے نماز پڑھنے سے روک دیا ہے اور ایسا ہی ناطہ وغیرہ سے بھی۔ وجہ اس کی یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے منکرین کو کافر سمجھا ہوا ہے۔ حالانکہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہٗ فتوحات میں لکھتے ہیں کہ میں فلاں شخص کو (جس کا نام اب میں بھول گیا ہوں اور جو فتوحات میں مندرج ہے) مبغوض اور برا سمجھتا تھا بہ سبب اس کے کہ وہ میرے شیخ ابو مدین مغربی قدس سرہٗ کو نہیں مانتا تھا۔ پس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار فیض آثار سے خواب میں مشرف ہوا اور آپؐ نے فرمایا کہ تو فلاں شخص کو کس لیے برا مانتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ وہ ابو مدین مغربی کا منکر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا وہ توحید اور میری رسالت کے ساتھ ایمان نہیں رکھتا؟ شیخ فرماتے ہیں کہ میں نے سویرے جا کر اس شخص کو کچھ دے کر بڑی عجز و منت سے خوش کیا۔ (اس وقت فتوحات کا اتنا ہی مضمون مجھے یاد ہے۔ شاید کم و بیش ہو۔ واللہ اعلم)
بڑے افسوس کی بات ہے کہ ابو مدین جیسے ولی کامل سے منکر ہونا تو بعد الایمان باللہ و رسولہ کے موجب بغض و کراہت نہیں ہو سکتا۔ بلکہ محی الدین ابن عربی جیسے شخص کو اس پر ناخوش ہونے کے باعث آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تنبیہ فرماتے ہیں اور قادیانی صاحب کے منکرین با وجود ایمان باللہ و رسولہ کے کافر سمجھے جا رہے ہیں۔
ناظرین خدارا انصافے اگر یہ نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں تو اور کیا ہے۔ مسلمانو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ’’نبی‘‘ اور ’’رسول‘‘ کا لقب کسی مسلمان کے لیے شرعی نظر سے جائز نہیں۔ نہ اصلی اور نہ ظلی۔ اگر ظلی طور پر یہ لقب متبع نبی کو عطا ہو سکتا اور فنا فی الرسول کا مقام مجوز اس کا ہوتا تو اس کے سب سے زیادہ مستحق مہاجرین و انصار تھے۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کا ذکر خیر کتاب و سنت میں موجود ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے قرآن مجید کی سورہ فتح میں اصحاب کرام علیہم الرضوان کو صرف وَالَّذِيْنَ مَعَهُ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا (سورت فتح ٢٩) سے یاد فرمایا اور رسالت کا لقب خاص سرور عالم و سید ولد آدم ہی کے لیے رکھا۔ کما قال عز من قائل۔ محمد رسول اللہ۔ اس آیت کے نزول کے وقت صحابہ عظام علیہم الرضوان کو حدیبیہ سے واپس ہونے کے باعث اور دخول مکہ سے مشرکین کی رکاوٹ کے سبب سے اپنی ناکامی کا سخت رنج و ملال تھا۔ جس کے رفع کرنے کے لیے انھیں اس آیت میں ان القاب سے
اطمینان دلایا گیا۔ یعنی مَعَهُ اور اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ اور رُحَمَاءُ بَیْنَهُمْ اور رُکَّعًا سُجَّدًا پس نظر بمقتضائے مقام ان کی اطمینان دہی اور دفع ملالت کے لیے ایسے اعلیٰ القاب ضروری تھے جن کے اوپر اور کوئی تمغہ و لقب متصور نہ ہو۔ یعنی نبوت و رسالت، جس کے اوپر صرف الوہیت ہی رہ جاتی ہے اور بجائے اوصاف مذکورہ فی الآیۃ کے والذین معه انبیاء و رسول ہونا چاہیے تھا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو اس سے اہل انصاف سمجھ سکتے ہیں کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ”نبی“ اور ”رسول“ کا لقب ظلی طور پر کسی کا استحقاق نہیں۔ بڑی تعجب کی بات ہے کہ صحابہ کرام میں سے خلفاء اربعہ رضی اللہ عنہم جن میں اقویٰ اور اعلیٰ موجبات تشبہ بالنبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قوت عاقلہ و عاملہ دونوں کی جہت سے موجود تھی۔ وہ تو ”نبی“ اور ”رسول“ کے لقب سے محروم کیے جائیں اور تیرہ سو برس کے بعد ایک شخص جس کے قوت عاقلہ کے کمال پر اس کے استدلالات بآیاتِ قرآنی، اور قوت عاملہ کے جلال پر ان کا طرزِ تقریر لسانی و انحصار درقلمرانی شاہد ہیں، بلا جھجک ”نبی“ اور ”رسول“ کا لقب حاصل کرے بلکہ حقیقی نبی بھی بن بیٹھے یعنی یہ کہے کہ میری ازواج کو امہات المومنین کے لقب سے پکارا کرو وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ نہایت ہی حیرت کا مقام ہے کہ علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو تو باوجود بیان کمال اتحاد کے جو قریب بعینیت ہے اس لقب کی اجازت نہ دی جائے بلکہ صریح لفظوں میں روک دیا جائے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں بروایت سعد حدیث طویل کے ضمن میں مذکور ہے کہ فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم اما ترضى ان تكون منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبوة بعدى یعنی علی کرم اللہ وجہہ کو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض غزوات میں تشریف لے جاتے وقت خلیفہ بنا کر مدینہ طیبہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں چھوڑ کر جانے لگے۔ تو علی نے عرض کیا کہ آپ نے مجھ کو عورتوں اور لڑکوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیا ہے بجواب اس کے آپ نے فرمایا کیا میرے قائم مقام ہونے پر تو خوش نہیں جیسا کہ موسیٰ کا قائم مقام ہارون علی نبینا وعلیہم السلام تھا اور میرے قائم مقام ہونے کی نعمت تو تم کو ملی ہے۔ مگر نبی کا لقب خاص میرے ہی لیے ہے۔ تم کو نہیں ملتا کیونکہ میرے پیچھے نبوت نہیں اور قادیانی کو جو نبوت و رسالت کے اوصاف صوری و معنوی سے بہ مراحل بعید ہے اور ہر جگہ اس کی قرآن دانی اور تفسیر بیانی اس کے قلت علم کی شہادت دے رہی ہے اسے ”نبی“ اور ”رسول“ کہلوانے کی اجازت مل جائے۔ ہاں وجہ اس کی شاید یہ ہو کہ قادیانی نے سوچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے جب علی کرم اللہ وجہہ جیسے قریبی کو نبی کہلوانے سے روک دیا ہے تو آپ سے اس لقب کا حاصل کرنا ناممکن ہے۔ چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ہی نہ ہو اور میں پیش قدمی کر کے جھٹ اللہ جل شانہ سے یہ تمغہ حاصل کر لوں۔ لہٰذا مکالمات الہیہ سے بزعم خود کامیاب ہوتے ہی لگاتار اشتہار دینے شروع کیے۔ مگر دقت یہ ہے کہ ان مکالمات میں بھی بعض آیات وہی ہیں جو افضل الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی اتری تھیں۔ جن کے ساتھ استدلال پکڑنے سے لازم آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم العیاذ باللہ ان آیات سے اجازت عامہ ہر ایک فانی فی الرسول کے لیے نبی و رسول کہلوانے کی نہیں سمجھی تھی۔ لہٰذا علی کرم اللہ وجہہ کو باوجود کمال فنا کے (الا انه لا نبوة بعدی) فرما کر محروم رکھا۔ اور اس آیۃ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهِ اَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ (جن۔٢٦) کو جس طرح قادیانی صاحب نے سمجھا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں سمجھا۔ نعوذ بالله من هذيان الجاهلين.
دوسری دقت یہ ہے کہ بقول قادیانی اگرچہ فنا فی الرسول کے حاصل ہونے سے یہ لقب ملتا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خیرات اور آپ ہی کے طفیل یہ عنایت ہوتی ہے مگر خود رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے بے خبر ہیں۔ العیاذ باللہ۔ لہٰذا علی کرم اللہ وجہہ کو صرف تین ہی لقب عطا ہوئے۔ چنانچہ حاکم نے مستدرک میں بروایت اسعد بن زرارہ اخراج کیا ہے کہ قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم اُوْحِيَ إِلَيَّ فِى عَلِيٍّ ثَلثٌ انه سیّد المومنین و امام المتقين و قائد الغر المحجلین اور نبی و رسول کے لقب سے مشرف نہ فرمایا باوجود اس کے کہ خیبر کے دن (یحب الله و رسوله و يحبه الله و رسوله) سے ان کی محبیت اور محبوبیت کل اصحاب کے سامنے ظاہر ہوئی۔
عقیدہ ختم نبوت دلائل و براہین کی روشنی میں
مولانا مودودیؒ
ایک گروہ جس نے اس دور میں نئی نبوت کا فتنہ عظیم کھڑا کیا ہے‘ لفظ خاتم النبیین کے معنی ”نبیوں کی مہر“ کرتا ہے اور اس کا مطلب یہ لیتا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد انبیاء بھی آئیں گے‘ وہ آپؐ کی مہر لگنے سے نبی بنیں گے‘ یا بالفاظ دیگر جب تک کسی کی نبوت پر آپؐ کی مہر نہ لگے‘ وہ نبی نہ ہو سکے گا۔
جس آیت میں حضورﷺ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے‘ اور اس کے الفاظ یہ ہیں: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْئٍ عَلِيْمًا -
لیکن جس سلسلہ بیان میں یہ آیت وارد ہوئی ہے‘ اس کے اندر رکھ کر اسے دیکھا جائے تو اس لفظ کا یہ مفہوم لینے کی قطعاً کوئی گنجائش نظر نہیں آتی‘ بلکہ اگر یہی اس کے معنی ہوں تو یہاں یہ لفظ بے محل ہی نہیں‘ مقصود کلام کے بھی خلاف ہو جاتا ہے۔ آخر اس بات کا کیا تک ہے کہ اوپر سے تو نکاحِ زینبؓ پر معترضین کے اعتراضات اور ان کے پیدا کیے ہوئے شکوک و شبہات کا جواب دیا جا رہا ہو اور یکا یک یہ بات کہہ ڈالی جائے کہ محمد نبیوں کی مہر ہیں۔ آئندہ جو نبی بھی بنے گا‘ ان کی مہر لگ کر بنے گا۔ اس سیاق و سباق میں یہ بات نہ صرف یہ کہ بالکل بے تکی ہے‘ بلکہ اس سے وہ استدلال الٹا کمزور ہو جاتا ہے‘ جو اوپر سے معترضین کے جواب میں چلا آ رہا ہے۔ اس صورت میں تو معترضین کے لیے یہ کہنے کا اچھا موقع تھا کہ آپ یہ کام اس وقت
نہ کرتے تو کوئی خطرہ نہ تھا۔ اس رسم کو مٹانے کی ایسی ہی کچھ شدید ضرورت ہے تو آپ کے بعد آپ کی مہر لگ لگ کر جو انبیاء آتے رہیں گے ان میں سے کوئی اسے مٹا دے گا۔
ایک دوسری تاویل اس گروہ نے یہ بھی کی ہے کہ ”خاتم النبیین“ کے معنی افضل النبیین کے ہیں، یعنی نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوا ہے البتہ کمالات نبوت حضور ﷺ پر ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ مفہوم لینے میں بھی وہی قباحت ہے جو اوپر ہم نے بیان کی ہے۔ سیاق و سباق سے یہ مفہوم بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتا، بلکہ الٹا اس کے خلاف پڑتا ہے۔ کفار و منافقین کہہ سکتے تھے کہ حضرت! کم تر درجے کے ہی سہی، بہر حال آپ کے بعد بھی نبی آتے رہیں گے۔ پھر کیا ضرور تھا کہ اس رسم کو بھی آپ ہی مٹا کر تشریف لے جاتے۔
لغت کی رو سے خاتم النبیین کے معنی
پس جہاں تک سیاق و سباق کا تعلق ہے وہ قطعی طور پر اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں خاتم النبیین کے معنی سلسلہ نبوت کو ختم کر دینے والے ہی کے لیے جائیں اور یہ سمجھا جائے کہ حضور کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ لیکن یہ صرف سیاق ہی کا تقاضا نہیں ہے، لغت بھی اسی معنی کی مقتضی ہے۔ عربی لغت اور محاورے کی رو سے ”ختم“ کے معنی مہر لگانے، بند کرنے، آخر تک پہنچ جانے اور کسی کام کو پورا کر کے فارغ ہو جانے کے ہیں۔
ختم العمل کے معنی ہیں فرغ من العمل ”کام سے فارغ ہو گیا“
ختم الاناء کے معنی ہیں ”برتن کا منہ بند کر دیا اور اس پر مہر لگا دی کہ نہ کوئی چیز اس میں سے نکلے اور نہ کچھ اس کے اندر داخل ہو“
ختم الکتاب کے معنی ہیں ”خط بند کر کے اس پر مہر لگا دی تا کہ خط محفوظ ہو جائے“
ختم علی القلب ”دل پر مہر لگا دی کہ نہ کوئی بات اس کی سمجھ میں آئے نہ پہلے سے جمی ہوئی کوئی بات اس میں سے نکل سکے“
ختام کل مشروب ”وہ مزا جو کسی چیز کو پینے کے بعد آخر میں محسوس ہوتا ہے“
خاتمہ کل شیء عاقبتہ و اخرتہ ”ہر چیز کے خاتمہ سے مراد ہے اس کی عاقبت اور آخرت“
ختم الشیء، بلغ اخرہ ”کسی چیز کو ختم کرنے کا مطلب ہے اس کے آخر تک پہنچ جانا“ اسی معنی میں ختم قرآن بولتے ہیں اور اسی معنی میں سورتوں کی آخری آیات کو خواتیم کہا جاتا ہے۔
خاتم القوم اخرهم ”خاتم القوم سے مراد ہے قبیلے کا آخری آدمی (ملاحظہ ہو لسان العرب، قاموس اور اقرب الموارد )
اسی بنا پر تمام اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالاتفاق خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے لیے ہیں۔ عربی لغت و محاورے کی رو سے خاتم کے معنی ڈاک خانے کی مہر کے نہیں ہیں، جسے لگا لگا کر خطوط جاری کیے جاتے ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ مہر ہے جو لفافے پر اس لیے لگائی جاتی ہے کہ نہ اس کے اندر سے کوئی چیز باہر نکلے نہ باہر کی کوئی چیز اندر جائے۔
ختم نبوت کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے ارشادات
قرآن کے سیاق و سباق اور لغت کے لحاظ سے اس لفظ کا جو مفہوم ہے اس کی تائید نبی ﷺ کی تشریحات کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر چند صحیح ترین احادیث ہم یہاں نقل کرتے ہیں:
- ١۔ نبی ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی مر جاتا
تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا بلکہ خلفاء ہوں گے۔
(بخاری کتاب المناقب باب ما ذکر عن بنی اسرائیل)
- ٢۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے
جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (یعنی میرے آنے پر نبوت کی عمارت مکمل ہو چکی ہے اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے جسے پُر کرنے کے لیے کوئی آئے) بخاری کتاب المناقب باب خاتم النبیین)
اسی مضمون کی چار حدیثیں مسلم، کتاب الفضائل باب خاتم النبیین میں ہیں اور آخری حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ فَجِئْتُ فَخَتَمْتُ الْاَنْبِيَاءَ ”پس میں آیا اور میں نے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا ۔“
یہی حدیث انہی الفاظ میں ترمذی، کتاب المناقب باب فضل النبیؐ اور کتاب الآداب باب الامثال میں ہے۔
مسند ابو داؤد طیالسی میں یہ حدیث جابر بن عبداللہ کی روایت کردہ احادیث کے سلسلے میں آئی ہے اور اس کے آخری الفاظ یہ ہیں: خُتِمَ بِیَ الْاَنْبِيَاءُ ”میرے ذریعہ سے انبیاء کا سلسلہ ختم کیا گیا ۔
مسند احمد میں تھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ اس مضمون کی احادیث حضرت ابی بن کعبؓ حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے نقل کی گئی ہیں۔
- ٣- رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے چھ باتوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے۔ (١) مجھے
جامع ومختصر بات کہنے کی صلاحیت دی گئی (٢) مجھے رعب کے ذریعہ سے نصرت بخشی گئی (٣) میرے لیے اموالِ غنیمت حلال کیے گئے (٤) میرے لیے زمین کو مسجد بھی بنا دیا گیا اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی (یعنی میری شریعت میں نماز صرف مخصوص عبادت گاہوں میں ہی نہیں، بلکہ روئے زمین پر ہر جگہ پڑھی جاسکتی ہے اور پانی نہ ملے تو میری شریعت میں تیمم کر کے وضو کی حاجت بھی پوری کی جاسکتی ہے اور غسل کی حاجت بھی) (٥) مجھے تمام دنیا کے لیے رسول بنایا گیا (٦) اور میرے اوپر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ (مسلم، ترمذی، ابن ماجہ )
- ٤- رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ میرے بعد اب نہ
کوئی رسول ہے اور نہ نبی ۔ (ترمذی، کتاب الرؤیا باب ذہاب النبوة، مسند احمد، مرویات انس بن مالکؓ )
- ٥- نبی ﷺ نے فرمایا: میں محمد ہوں۔ میں احمد ہوں۔ میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ
سے کفر محو کیا جائے گا۔ میں حاشر ہوں کہ میرے بعد لوگ حشر میں جمع کیے جائیں گے (یعنی میرے بعد اب بس قیامت ہی آنی ہے) اور میں عاقب ہوں، اور عاقب
وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ (بخاری و مسلم، کتاب الفضائل، باب اسماء النبیؐ ترمذی، کتاب الأداب، باب اسماء النبیؐ؛ المستدرک للحاکم، کتاب التاریخ، باب اسماء النبیؐ)
- ٦۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا۔ جس نے اپنی امت کو
دجال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو (مگر ان کے زمانے میں وہ نہ آیا) اب میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ لامحالہ اب اس کو تمہارے اندر ہی نکلنا ہے۔
(ابن ماجہ کتاب الفتن، باب الدجال)
- ٧۔ عبدالرحمٰن بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص کو یہ کہتے سنا کہ ایک
روز رسول اللہ ﷺ اپنے مکان سے نکل کر ہمارے درمیان تشریف لائے، اس انداز سے کہ گویا آپ ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: ”میں محمدؐ نبی امی ہوں ۔“ پھر فرمایا: ”اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔“
(مسند احمد مرویات عبداللہ بن عمرو بن العاص)
- ٨۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے، صرف بشارت دینے
والی باتیں ہیں ۔“ عرض کیا گیا وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں، یا رسول اللہ؟ فرمایا اچھا خواب یا فرمایا صالح خواب (یعنی وحی کا اب کوئی امکان نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اشارہ ملے گا بھی تو بس اچھے خواب کے ذریعہ سے مل جائے گا)
(مسند احمد مرویات ابوالطفیل، نسائی، ابوداؤد)
- ٩۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطابؓ ہوتے۔
(بخاری و مسلم، کتاب فضائل اصحاب)
- ١٠۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: میرے ساتھ تمہاری نسبت وہی ہے، جو
موسیٰؑ کے ساتھ ہارونؑ کی تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ بخاری و مسلمؒ نے یہ حدیث غزوہ تبوک کے ذکر میں بھی نقل کی ہے۔ مسند احمد میں اس مضمون کی دو حدیثیں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت کی گئی ہیں۔ جن میں سے ایک کا آخری فقرہ یوں ہے (اِلَّا اَنَّہٗ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ) ”مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“ ابوداؤد و
طیالسی، امام احمدؒ اور محمد بن اسحاق نے اس سلسلے میں جو تفصیلی روایات نقل کی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوۂ تبوک کے لیے تشریف لے جاتے وقت نبی ﷺ نے حضرت علیؓ کو مدینہ طیبہ کی حفاظت ونگرانی کے لیے اپنے پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ منافقین نے اس پر طرح طرح کی باتیں ان کے بارے میں کہنی شروع کردیں۔ انہوں نے جاکر حضور ﷺ سے عرض کیا:
”یارسول اللہ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟“ اس موقع پر حضور ﷺ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ”تم میرے ساتھ وہی نسبت رکھتے ہو، جو موسیٰ کے ساتھ ہارون رکھتے ہیں۔“ یعنی جس طرح حضرت موسیٰ نے کوہِ طور پر جاتے ہوئے حضرت ہارون کو بنی اسرائیل کی نگرانی کے لیے پیچھے چھوڑا تھا، اسی طرح میں تم کو مدینے کی حفاظت کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی حضور ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ حضرت ہارون کے ساتھ یہ تشبیہ کہیں بعد میں کسی فتنے کی موجب نہ بن جائے، اس لیے فوراً آپ نے یہ تصریح فرمادی کہ میرے بعد کوئی شخص نبی ہونے والا نہیں ہے۔
- ١١- ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :......اور یہ کہ میری امت میں تیس
کذاب ہوں گے، جن میں سے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(ابو داؤد، کتاب الفتن)
اسی مضمون کی ایک اور حدیث ابو داؤد نے کتاب الملاحم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے۔ ترمذی نے بھی حضرت ثوبانؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے دونوں روایتیں نقل کی ہیں اور دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں :حتی يُبعث دجالون كذابون قریب من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله ”یہاں تک کہ اٹھیں گے تیس کے قریب جھوٹے فریبی، جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“
- ١٢- نبی ﷺ نے فرمایا، تم سے پہلے جو بنی اسرائیل گزرے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ
ہوئے ہیں، جن سے کلام کیا جاتا تھا، بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوں۔ میری امت میں اگر کوئی ہوا تو وہ عمرؓ ہوگا۔
(بخاری، کتاب المناقب)
مسلم میں اس مضمون کی جو حدیث ہے اس میں مکلَّمون کے بجائے محدَّثون کا لفظ ہے۔ لیکن مکلَّم اور محدَّث دونوں کے معنی ایک ہی ہیں، یعنی ایسا شخص جو مکالمہ الٰہی سے سرفراز ہو،
یا جس کے ساتھ پردۂ غیب سے بات کی جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کے بغیر مخاطبہ الٰہی سے سرفراز ہونے والے بھی اس امت میں اگر کوئی ہوتے تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے۔
- ١٣- رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت
(یعنی کسی نئے آنے والے نبی کی امت) نہیں۔
(بیہقی‘ کتاب الرؤیا‘ طبرانی)
- ١٤- رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد
(یعنی مسجد نبوی ہے۔ (مسلم کتاب الحج‘ باب فضل الصلاۃ مسجد مکہ والمدینہ) (منکرین ختم نبوت اس حدیث سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ ”جس طرح حضور ﷺ نے اپنی مسجد کو آخر المساجد فرمایا‘ حالانکہ وہ آخری مسجد نہیں ہے‘ بلکہ اس کے بعد بھی بے شمار مسجدیں دنیا میں بنی ہیں‘ اسی طرح جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں آخر الانبیاء ہوں تو اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ آپ کے بعد نبی آتے رہیں گے‘ البتہ فضیلت کے اعتبار سے آپ آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے۔“ لیکن درحقیقت اسی طرح کی تاویلیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ لوگ خدا اور رسول کے کلام کو سمجھنے کی اہلیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ صحیح مسلم کے جس مقام پر یہ حدیث وارد ہوئی ہے‘ اس سلسلے کی تمام احادیث کو ایک نظر ہی آدمی دیکھ لے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ حضور ﷺ نے اپنی مسجد کو آخری مسجد کس معنی میں فرمایا ہے۔ اس مقام پر حضرت ابو ہریرہؓ‘ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور ام المومنین حضرت میمونہؓ کے حوالہ سے جو روایات امام مسلمؒ نے نقل کی ہیں‘ ان میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں صرف تین مساجد ایسی ہیں‘ جن کو عام مساجد پر فضیلت حاصل ہے‘ جن میں نماز پڑھنا دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا زیادہ ثواب رکھتا ہے اور اسی بنا پر صرف انہی تین مسجدوں میں نماز پڑھنے کے لیے سفر کر کے جانا جائز ہے۔ باقی کسی مسجد کا یہ حق نہیں ہے کہ آدمی دوسری مسجدوں کو چھوڑ کر خاص طور پر اس میں نماز پڑھنے کے لیے سفر کرے۔ ان میں سے پہلی مسجد الحرام ہے‘ جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا۔ دوسری مسجد اقصیٰ ہے‘ جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیا اور تیسری مسجد‘ مدینہ طیبہ کی مسجد نبوی ہے‘ جس کی بنا حضور نبی اکرم ﷺ نے رکھی حضور ﷺ کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ اب چونکہ میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے‘ اس لیے میری اس مسجد کے بعد دنیا میں کوئی چوتھی مسجد ایسی بننے والی نہیں ہے جس
หน้า@PAGE 78 میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مسجدوں سے زیادہ ہو اور جس کی طرف نماز کی غرض سے سفر کر کے جانا درست ہو۔)
یہ احادیث بکثرت صحابہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی ہیں اور بکثرت محدثین نے ان کو بہت سی قوی سندوں سے نقل کیا ہے۔ ان کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے مختلف مواقع پر‘ مختلف طریقوں سے‘ مختلف الفاظ میں اس امر کی تصریح فرمائی ہے کہ آپؐ آخری نبی ہیں‘ آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ نبوت کا سلسلہ آپؐ پر ختم ہو چکا ہے اور آپ کے بعد جو لوگ بھی رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کریں وہ دجال و کذاب ہیں۔ قرآن کے الفاظ ’’خاتم النبیین‘‘ کی اس سے زیادہ مستند و معتبر اور قطعی الثبوت تشریح اور کیا ہوسکتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد تو بجائے خود سند و حجت ہے۔ مگر وہ قرآن کی ایک نص کی شرح کر رہا ہو تب تو وہ اور بھی زیادہ قوی حجت بن جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر قرآن کو سمجھنے والا اور اس کی تفسیر کا حق دار اور کون ہوسکتا ہے کہ وہ ختم نبوت کا کوئی دوسرا مفہوم بیان کرے اور ہم اسے قبول کرنا کیا معنی قابل التفات بھی سمجھیں۔
صحابہ کرامؓ کا اجماع
قرآن و سنت کے بعد تیسرے درجے میں اہم ترین حیثیت صحابہ کرام کے اجماع کی ہے۔ یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ کی وفات کے فوراً بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جن لوگوں نے ان کی نبوت تسلیم کی‘ ان سب کے خلاف صحابہ کرامؓ نے بالاتفاق جنگ کی تھی۔
اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ مسیلمہ کذاب کا معاملہ قابل ذکر ہے۔ یہ شخص نبی ﷺ کی نبوت کا منکر نہ تھا‘ بلکہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اسے حضور ﷺ کے ساتھ شریک نبوت بنایا گیا ہے۔ اس نے حضور ﷺ کی وفات سے پہلے جو عریضہ آپ ﷺ کو لکھا تھا‘ اس کے الفاظ یہ ہیں:
مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کی طرف آپ پر سلام ہو۔ آپ کو معلوم ہو کہ میں آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں۔
(طبری‘ جلد دوم‘ ص ٣٩٩‘ طبع مصر)
علاوہ بریں مؤرخ طبری نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ مسیلمہ کے ہاں جو اذان دی جاتی تھی، اس میں اشہد ان محمدا رسول اللہ کے الفاظ کہے جاتے تھے۔ اس صریح اقرار رسالت محمدی ﷺ کے باوجود اسے کافر اور خارج از ملت قرار دیا گیا اور اس سے جنگ کی گئی۔ تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ بنو حنیفہ نیک نیتی کے ساتھ (In good Faith) اس پر ایمان لائے تھے اور انہیں واقعی اس غلط فہمی میں ڈالا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو خود شریک رسالت کیا ہے۔ نیز قرآن کی آیات کو اس کے سامنے مسیلمہ پر نازل شدہ آیات کی حیثیت سے ایک ایسے شخص نے پیش کیا تھا، جو مدینہ طیبہ سے قرآن کی تعلیم حاصل کر کے گیا تھا، البدایہ والنہایہ لابن کثیر، جلد ٥، ص ٥١) مگر اس کے باوجود صحابہ کرام نے ان کو مسلمان تسلیم نہیں کیا اور ان پر فوج کشی کی۔ پھر یہ کہنے کی بھی گنجائش نہیں کہ صحابہؓ نے ان کے خلاف ارتداد کی بنا پر نہیں، بلکہ بغاوت کے جرم میں جنگ کی تھی۔ اسلامی قانون کی رو سے باغی مسلمانوں کے خلاف اگر جنگ کی نوبت آئے تو ان کے اسیران جنگ غلام نہیں بنائے جاسکتے، بلکہ مسلمان تو درکنار، ذمی بھی اگر باغی ہوں تو گرفتار ہونے کے بعد ان کو غلام بنانا جائز نہیں ہے۔ لیکن مسیلمہ اور اس کے پیروؤں پر جب چڑھائی کی گئی تو حضرت ابوبکرؓ نے اعلان فرمایا کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا جائے اور جب وہ لوگ اسیر ہوئے تو فی الواقع ان کو غلام بنایا گیا۔ چنانچہ انہی میں سے ایک لونڈی حضرت علیؓ کے حصے میں آئی، جس کے بطن سے تاریخ اسلام کی مشہور شخصیت محمد بن حنیفہ (حنیفہ سے مراد ہے قبیلہ بنو حنیفہ کی عورت) نے جنم لیا۔ (البدایہ والنہایہ جلد ٦، ص ٣١٦، ٣٢٥) اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ صحابہؓ نے جس جرم کی بنا پر اس سے جنگ کی تھی، وہ بغاوت کا جرم نہ تھا، بلکہ یہ جرم تھا کہ ایک شخص نے محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے لوگ اس کی نبوت پر ایمان لائے۔ یہ کارروائی حضور ﷺ کی وفات کے فوراً بعد ہوئی ہے، ابوبکرؓ کی قیادت میں ہوئی ہے اور صحابہؓ کی پوری جماعت کے اتفاق سے ہوئی ہے۔ اجماع صحابہؓ کی اس سے زیادہ صریح مثال شاید ہی کوئی اور ہو۔
تمام علمائے اُمت کا اجماع
اجماع صحابہؓ کے بعد چوتھے نمبر پر مسائل دین میں جس چیز کو حجت کی حیثیت حاصل
ہے وہ دور صحابہؓ کے بعد کے علمائے امت کا اجماع ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلی صدی سے لے کر آج تک ہر زمانے کے اور پوری دنیائے اسلام میں ہر ملک کے علماء اس عقیدے پر متفق ہیں کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا اور یہ کہ جو بھی آپ ﷺ کے بعد اس منصب کا دعویٰ کرے یا اس کو مانے وہ کافر خارج از ملت اسلام ہے۔ اس سلسلہ کے بھی چند شواہد ملاحظہ ہوں:
- ١- امام ابوحنیفہؒ (٨٠ھ، ١٥٠ھ) کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا:
”مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں۔“ اس پر امام اعظمؒ نے فرمایا کہ: ”جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا‘ وہ بھی کافر ہو جائے گا‘ کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں کہ لا نبی بعدی“ (مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ لابن احمد المکی ج ١ ص ١٦١‘ مطبوعہ حیدرآباد ١٣٢١ھ)
- ٢- علامہ ابن جریر طبریؒ (٢٢٤ھ، ٣١٠ھ) اپنی مشہور تفسیر قرآن میں آیت ولکن رسول
اللہ و خاتم النبیین کا مطلب بیان کرتے ہیں۔ ”جس نے نبوت کو ختم کر دیا اور اس پر مہر لگا دی‘ اب قیامت تک یہ دروازہ کسی کے لیے نہیں کھلے گا“ (تفسیر ابن جریرؒ جلد ٢٢‘ صفحہ ١٢)
- ٣- امام طحاویؒ (٢٣٩ھ، ٣٢١ھ) اپنی کتاب ”عقیدۂ سلفیہ“ میں سلف صالحین‘ اور خصوصاً
امام ابوحنیفہؒ‘ امام ابو یوسفؒ اور امام محمد رحمہم اللہ کے عقائد بیان کرتے ہوئے نبوت کے بارے میں یہ عقیدہ تحریر فرماتے ہیں: اور یہ محمد ﷺ اللہ کے برگزیدہ بندے‘ چیدہ نبی اور پسندیدہ رسول ہیں اور وہ خاتم الانبیاء‘ امام الاتقیاء‘ سید المرسلین اور حبیب رب العالمین ہیں اور ان کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ گمراہی اور خواہش نفس کی بندگی ہے۔“ (شرح الطحاویہ فی العقیدہ السلفیہ‘ دار المعارف مصر‘ صفحات ١٥‘ ٧٦‘ ٩٦‘ ٩٧‘ ١٠٠‘ ١٠٢)
- ٤- علامہ ابن حزم اندلسیؒ (٣٨٤ھ، ٤٥٦ھ) لکھتے ہیں: ”یقیناً وحی کا سلسلہ نبی ﷺ کی
وفات کے بعد منقطع ہو چکا ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ وحی نہیں ہوتی مگر ایک نبی کی طرف‘ اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے کہ محمد ﷺ نہیں ہیں تمہارے مردوں میں سے کسی
کے باپ مگر وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔‘‘ (المحلی، ج ١، ص ٢٦)
- ٥- امام غزالی (٤٥٠ھ ٥٠٥ھ) فرماتے ہیں: اگر یہ دروازہ (یعنی اجماع کو حجت ماننے
سے انکار کا دروازہ) کھول دیا جائے تو بڑی قبیح باتوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ مثلاً اگر کہنے والا کہے کہ ہمارے نبی محمد ﷺ کے بعد کسی رسول کی بعثت ممکن ہے تو اس کی تکفیر میں تامل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن بحث کے موقع پر جو شخص اس کی تکفیر میں تامل کو ناجائز ثابت کرنا چاہتا ہو اسے لا محالہ اجماع سے مدد لینی پڑے گی، کیونکہ عقل اس کے عدم جواز کا فیصلہ نہیں کرتی۔ اور جہاں تک نقل کا تعلق ہے اس عقیدے کا قائل لا نبی بعدی اور خاتم النبیین کی تاویل کرنے سے عاجز نہ ہوگا۔ وہ کہے گا کہ خاتم النبیین سے مراد اولو العزم رسولوں کا خاتم ہونا ہے اور اگر کہا جائے کہ نبیین کا لفظ عام ہے تو عام کو خاص قرار دے دینا اس کے لیے کچھ مشکل نہ ہوگا اور لا نبی بعدی کے متعلق وہ کہہ دے گا کہ لا رسول بعدی تو نہیں کہا گیا ہے رسول اور نبی میں فرق ہے اور رسول کا مرتبہ نبی سے بلند تر ہے۔ غرض اس طرح کی بکواس بہت کچھ کی جاسکتی ہے اور محض لفظ کے اعتبار سے ایسی تاویلات کو ہم محال نہیں سمجھتے، بلکہ ظواہر سمعیہ کی تاویل میں ہم اس سے بھی زیادہ بعید احتمالات کی گنجائش مانتے ہیں اور اس طرح کی تاویلیں کرنے والے کے متعلق ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ نصوص کا انکار کر رہا ہے۔ لیکن اس قول کے قائل کی تردید میں ہم یہ کہیں گے کہ امت نے بالاتفاق اس لفظ (یعنی لا نبی بعد) سے اور نبی ﷺ کے قرائن احوال سے یہ سمجھا ہے کہ حضور ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ آپ کے بعد کبھی نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول ۔ نیز امت کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ اس میں کسی تاویل اور تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کو منکر اجماع کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ (الاقتصاد فی الاعتقاد المطبعۃ الادبیہ، مصر،
ص ١١٤)
- ٦- محی السنۃ بغوی (متوفی ٥١٠ھ) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”اللہ نے آپ کے ذریعہ
سے نبوت کو ختم کیا۔ پس آپ انبیاء کے خاتم ہیں...... اور ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اس آیت میں) یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ
ہوگا۔“ (جلد ص ١٦٥٨)
- ٧- علامہ زمحشری (٤٦٧ھ ٥٣٨ھ) تفسیر کشاف میں لکھتے ہیں: ”اگر تم کہو کہ نبی ﷺ
آخری نبی کیسے ہوئے‘ جبکہ حضرت عیسیٰؑ آخر زمانے میں نازل ہوں گے؟ تو میں کہوں گا کہ آپؐ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا۔ اور عیسیٰؑ ان لوگوں میں سے ہیں‘ جو آپؐ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے۔ اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ کے پیرو اور آپؐ کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے‘ گویا کہ وہ آپ ہی کی امت کے ایک فرد ہیں۔“
(جلد ٢ ص ٢١٥)
- ٨- قاضی عیاض (متوفی ٥٤٤ھ) لکھتے ہیں‘ جو شخص خود اپنے حق میں نبوت کا دعویٰ
کرے یا اس بات کو جائز رکھے کہ آدمی نبوت کا اکتساب کر سکتا ہے اور صفائی قلب کے ذریعہ سے مرتبہ نبوت کو پہنچ سکتا ہے‘ جیسا کہ بعض فلسفی اور غالی صوفی کہتے ہیں اور اسی طرح جو شخص نبوت کا دعویٰ تو نہ کرے مگر یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے ...... ایسے سب لوگ کافر اور نبی ﷺ کے جھٹلانے والے ہیں۔ کیونکہ آپؐ نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پہنچائی ہے کہ آپؐ نبوت کے ختم کرنے والے ہیں اور تمام انسانوں کی طرف آپؐ کو بھیجا گیا ہے اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر مفہوم پر محمول ہے۔ اس کے معنی و مفہوم میں کسی تاویل و تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ان تمام گروہوں کے کافر ہونے میں قطعاً کوئی شک نہیں‘ بربنائے اجماع بھی بربنائے نقل بھی۔“ (شفاء جلد ٢ ص ٢٧٠‘ ٢٧١)
- ٩- علامہ شہرستانی (متوفی ٥٤٨ھ) اپنی مشہور کتاب الملل والنحل میں لکھتے ہیں: ”اور
اسی طرح جو کہے ...... کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہے (بجز عیسیٰ علیہ السلام کے) تو اس کے کافر ہونے میں دو آدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہیں ہے۔“ ( جلد ٣ ص ٢٤٩)
- ١٠- امام رازی (٦٠٦،٥٤٣ھ) اپنی تفسیر کبیر میں آیت خاتم النبیین کی شرح کرتے
ہوئے فرماتے ہیں: ”اس سلسلہ بیان میں و خاتم النبیین اس لیے فرمایا کہ جس نبی کے بعد کوئی دوسرا نبی ہو وہ اگر نصیحت اور توضیح احکام میں کوئی کسر چھوڑ جائے تو اس کے بعد آنے والا نبی اسے پورا کر سکتا ہے، مگر جس کے بعد کوئی آنے والا نبی نہ ہو وہ اپنی امت پر زیادہ شفیق ہوتا ہے اور اس کو زیادہ واضح رہنمائی دیتا ہے کیونکہ اس کی مثال اس باپ کی ہوتی ہے جو جانتا ہے کہ اس کے بیٹے کا کوئی ولی و سرپرست اس کے بعد نہیں ہے۔“
جلد ٦، ص ٥٨١)
- ١١- علامہ بیضاوی (متوفی ٦٨٥ھ) اپنی تفسیر انوار التنزیل میں لکھتے ہیں: ”یعنی آپؐ
انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں، جس نے ان کا سلسلہ ختم کر دیا یا جس سے انبیاء کے سلسلے پر مہر کر دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپؐ کے بعد نازل ہونا اس ختم نبوت میں قادح نہیں ہے، کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپ ہی کے دین پر ہوں گے۔“
جلد ٤ ص ١٦٤)
- ١٢- علامہ حافظ الدین النسفی (متوفی ٧١٠ھ) اپنی تفسیر ”مدارک التنزیل“ میں لکھتے ہیں:
اور آپؐ خاتم النبیین ہیں ..... یعنی نبیوں میں سب سے آخری۔ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا۔ رہے عیسیٰ تو وہ ان انبیاء میں سے ہیں، جو آپ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدؐ پر عمل کرنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ گویا کہ وہ آپ کی امت کے افراد میں سے ہیں۔“
(ص ٤٧١)
- ١٣- علامہ علاؤ الدین بغدادی (متوفی ٧٢٥ھ) اپنی تفسیر ”خازن“ میں لکھتے ہیں:
”وخاتم النبیین، یعنی اللہ نے آپؐ پر نبوت ختم کر دی۔ اب نہ آپؐ کے بعد کوئی نبوت ہے نہ آپؐ کے ساتھ کوئی اس میں شریک ..... وكان الله بكل شئ عليماً یعنی یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔“
(ص ٢٧١-٢٧٢)
- ١٤- علامہ ابن کثیر (متوفی ٧٧٤ھ) اپنی مشہور و معروف تفسیر میں لکھتے ہیں: ”پس یہ
آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور جب آپؐ کے بعد نبی کوئی نہیں تو رسول بدرجہ اولیٰ نہیں ہے‘ کیوں کہ رسالت کا منصب خاص ہے اور نبوت کا منصب عام‘ ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا...... حضور ﷺ کے بعد جو شخص بھی اس مقام کا دعویٰ کرے‘ وہ جھوٹا‘ مفتری‘ دجال‘ گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے‘ خواہ وہ کیسے ہی خرق عادت اور شعبدے اور جادو اور طلسم اور کرشمے بنا کر لے آئے۔ یہی حیثیت ہر اس شخص کی ہے‘ جو قیامت تک اس منصب کا مدعی ہو۔“ (جل ٣ ص ٤٩٣-٤٩٤)
- ١٥- علامہ جلال الدین سیوطیؒ (متوفی ٩١١ھ) تفسیر جلالین میں لکھتے ہیں: وكان الله
بكل شيء عليماً یعنی اللہ اس بات کو جانتا ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد کوئی نبی نہیں اور عیسیٰ جب نازل ہوں گے تو آپؐ کی شریعت ہی کے مطابق عمل کریں گے۔“
(ص ٧٦٨)
- ١٦- علامہ ابن نجیم (متوفی ٩٧٠ھ) اصول فقہ کی مشہور کتاب الاشباہ والنظائر‘ کتاب
السیر‘ باب الردّہ میں لکھتے ہیں: ”اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے‘ کیونکہ یہ ان باتوں میں سے ہے‘ جن کا جاننا اور ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔“ (ص ١٧٩)
- ١٧- ملا علی قاری (متوفی ١٠٩٦ھ) شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں: ”ہمارے نبی ﷺ کے
بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔“ (ص ٢٠٢)
- ١٨- شیخ اسماعیل حقی (متوفی ١١٣٧ھ) تفسیر روح البیان میں اس آیت کی شرح کرتے
ہوئے لکھتے ہیں: ”عاصم نے لفظ خاتم ت کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے‘ جس کے معنی ہیں آلہ ختم کے جس سے مہر کی جاتی ہے۔ جیسے طابع اس چیز کو کہتے ہیں‘ جس سے ٹھپا لگایا جائے۔ مراد یہ ہے کہ نبی ﷺ انبیاء میں سب سے آخر تھے‘ جن کے ذریعہ سے نبیوں کے سلسلے پر مہر لگا دی گئی۔ فارسی میں اسے ”مہر پیغمبران“ کہیں گے۔ یعنی آپؐ سے نبوت کا دروازہ سر بمہر کر دیا گیا اور پیغمبروں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ باقی قاریوں نے اسے ت کے زیر کے ساتھ خاتم پڑھا ہے‘ یعنی آپؐ مہر کرنے والے
تھے۔ فارسی میں اس کو ”مہر کنندۂ پیغمبراں“ کہیں گے۔ اس طرح یہ لفظ بھی خاتم کا ہم معنی ہی ہے...... اب آپؐ کی امت کے علماء آپؐ سے صرف ولایت ہی کی میراث پائیں گے۔ نبوت کی میراث آپؐ کی ختمیت کے باعث ختم ہو چکی اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپؐ کے بعد نازل ہونا آپؐ کے خاتم النبیین ہونے میں قادح نہیں ہے، کیونکہ خاتم النبیین ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ بنایا جائے گا...... اور عیسیٰ آپؐ سے پہلے نبی بنائے جا چکے تھے اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمد ﷺ کے پیرو کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ آپؐ کے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں گے۔ آپؐ کی امت کے ایک فرد کی طرح ہوں گے۔ نہ ان کی طرف وحی آئے گی اور نہ وہ نئے احکام دیں گے۔ بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ہوں گے۔ اور اہلسنت والجماعت اس بات کے قائل ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا۔ ولکن رسول الله و خاتم النبیین اور رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا: لا نبی بعدی اب جو کوئی کہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی ہے تو اس کو کافر قرار دیا جائے گا، کیونکہ اس نے نص کا انکار کیا۔ اور اسی طرح اس شخص کی بھی تکفیر کی جائے گی، جو اس میں شک کرے، کیونکہ حجت نے حق کو باطل سے ممیز کر دیا ہے اور جو شخص محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، اس کا دعویٰ باطل کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔“ (جلد ٢٢ ص ١٨٨)
- ١٩- فتاویٰ عالمگیری جسے بارہویں صدی ہجری میں اورنگزیب عالمگیر کے حکم سے ہندوستان
کے بہت سے اکابر علماء نے مرتب کیا تھا، میں لکھا ہے: ”اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلم نہیں ہے اور اگر وہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا میں پیغمبر ہوں تو ان کی تکفیر کی جائے گی۔“ (جلد ٢ ص ٢٦٣)
- ٢٠- علامہ شوکانی (متوفی ١٢٥٥ھ) اپنی تفسیر فتح القدیر میں لکھتے ہیں: ”جمہور نے لفظ
خاتم کو ت کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور عاصم نے زیر کے ساتھ۔ پہلی قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ نے انبیاء کو ختم کیا، یعنی سب کے آخر میں آئے اور دوسری
قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپ ان کے لیے مہر کی طرح ہو گئے، جس کے ذریعہ سے ان کا سلسلہ سر بمہر ہو گیا اور جس کے شمول سے ان کا گروہ مزین ہوا ۔“
(جلد ٤ ص ٢٧٥)
- ٢١- علامہ آلوسی (متوفی ١٢٧٠ھ) تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں: ”نبی کا لفظ رسول
کی بہ نسبت عام ہے۔ لہذا رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے خود بخود لازم آتا ہے کہ آپ خاتم المرسلین بھی ہوں اور آپ کے خاتم انبیاء و رسل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں وصف نبوت سے آپ کے متصف ہونے کے بعد اب جن و انس میں سے ہر ایک کے لیے نبوت کا وصف منقطع ہو گیا ۔“ (جلد ٢٢ ص ٣٢) ”رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص وحی نبوت کا مدعی ہو اسے کافر قرار دیا جائے گا۔ اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔“ (جلد ٢٢ ص ٣٨) ”رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایک ایسی بات ہے جسے کتاب اللہ نے صاف صاف بیان کیا، سنت نے واضح طور پر اس کی تصریح کی اور امت نے اس پر اجماع کیا۔ لہذا جو اس کے خلاف کوئی دعویٰ کرے اسے کافر قرار دیا جائے گا ۔“
(جلد ٢٢ ص ٣٩)
یہ ہندوستان سے لے کر مراکش اور اندلس تک اور ٹرکی سے لے کر یمن تک ہر مسلمان ملک کے اکابر علماء و فقہاء اور محدثین و مفسرین کی تصریحات ہیں۔ ہم نے ان کے ناموں کے ساتھ ان کے سنین ولادت و وفات بھی دے دیئے ہیں، جن سے ہر شخص بیک نظر معلوم کر سکتا ہے کہ پہلی صدی سے تیرہویں صدی تک تاریخ اسلام کی ہر صدی کے اکابر ان میں شامل ہیں۔ اگر چہ ہم چودہویں صدی کے علماء اسلام کی تصریحات بھی نقل کر سکتے ہیں۔ مگر ہم نے قصداً انہیں اس لیے چھوڑ دیا کہ ان کی تحریر کے جواب میں ایک شخص یہ حیلہ کر سکتا ہے کہ ان لوگوں نے اس دور کے مدعی نبوت کی ضد میں ختم نبوت کے یہ معنی بیان کیے ہیں۔ اس لیے ہم نے پہلے علماء کی تحریریں نقل کی ہیں، جو ظاہر ہے کہ آج کے کسی شخص سے کوئی ضد نہ رکھ سکتے تھے۔ ان تحریروں سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ پہلی صدی سے آج تک پوری دنیائے اسلام متفقہ طور پر ”خاتم النبیین“ کے معنی ”آخری نبی“ ہی سمجھتی رہی ہے، حضور ﷺ کے بعد
نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے اور اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اس کے دعوے کو مانے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
اب یہ دیکھنا ہر صاحب عقل آدمی کا اپنا کام ہے کہ لفظ خاتم النبیین کا جو مفہوم لغت سے ثابت ہے، جو قرآن کی عبارت کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے، جس کی تصریح نبی ﷺ نے خود فرما دی ہے، جس پر صحابہ کرام کا اجماع ہے، اور جسے صحابہ کرام کے زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان بلا اختلاف مانتے رہے ہیں، اس کے خلاف کوئی دوسرا مفہوم لینے اور کسی نئے مدعی کے لیے نبوت کا دروازہ کھولنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے اور ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان تسلیم کیا جا سکتا ہے جنہوں نے باب نبوت کے مفتوح ہونے کا محض خیال ہی ظاہر نہیں کیا ہے، بلکہ اس دروازے سے ایک صاحب حریم نبوت میں داخل بھی ہو گئے ہیں اور یہ لوگ ان کی نبوت پر ایمان بھی لے آئے ہیں۔
اس سلسلے میں تین باتیں اور قابل غور ہیں:
کیا اللہ کو ہمارے ایمان سے کوئی دشمنی ہے؟
پہلی بات یہ ہے کہ نبوت کا معاملہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ ہے۔ قرآن مجید کی رو سے یہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے، جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصار ہے۔ ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو کافر ایسے ایک نازک معاملے میں تو اللہ تعالیٰ سے کسی بے احتیاطی کی بدرجہ اولیٰ توقع نہیں کی جا سکتی۔ اگر محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ خود قرآن میں صاف صاف اس کی تصریح فرماتا، رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے اس کا کھلا کھلا اعلان کراتا اور حضور ﷺ دنیا سے کبھی تشریف نہ لے جاتے، جب تک اپنی امت کو اچھی طرح خبردار نہ کر دیتے کہ میرے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور تمہیں ان کو ماننا ہوگا۔ آخر اللہ اور اس کے رسول کو ہمارے دین و ایمان سے کیا دشمنی تھی کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوتا اور کوئی نبی
آنے والا بھی ہوتا، جس پر ایمان لائے بغیر ہم مسلمان نہ ہو سکتے، مگر ہم کو نہ صرف یہ کہ اس سے بے خبر رکھا جاتا، بلکہ اس کے برعکس اللہ اور اس کا رسول دونوں ایسی باتیں فرما دیتے، جن سے تیرہ سو برس تک ساری امت یہی سمجھتی رہی اور آج بھی سمجھ رہی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔
اب اگر بفرض محال نبوت کا دروازہ واقعی کھلا بھی ہو اور کوئی نبی آ بھی جائے تو ہم بے خوف وخطر اس کا انکار کر دیں گے۔ خطرہ ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی باز پرس ہی کا تو ہو سکتا ہے۔ وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا تو ہم یہ سارا ریکارڈ برسر عدالت لا کر رکھ دیں گے ۔ جس سے ثابت ہو جائے گا کہ معاذ اللہ اس کفر کے خطرے میں تو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہی نے ہمیں ڈالا تھا۔ ہمیں قطعا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ اس ریکارڈ کو دیکھ کر بھی اللہ تعالیٰ ہمیں کسی نئے نبی پر ایمان نہ لانے کی سزا دے ڈالے گا۔ لیکن اگر نبوت کا دروازہ فی الواقع بند ہے اور کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، اور اس کے باوجود کوئی شخص کسی مدعی کی نبوت پر ایمان لاتا ہے تو اسے سوچ لینا چاہیے کہ اس کفر کی پاداش میں سزا سے بچنے کے لیے وہ کون سا ریکارڈ خدا کی عدالت میں پیش کر سکتا ہے، جس سے وہ رہائی کی توقع رکھتا ہو۔ عدالت میں پیشی ہونے سے پہلے اسے اپنی صفائی کے مواد کا یہیں جائزہ لے لینا چاہیے اور ہمارے پیش کردہ مواد سے مقابلہ کر کے خود ہی دیکھ لینا چاہیے کہ جس صفائی کے بھروسے پر وہ یہ کام کر رہا ہے، کیا ایک عقل مند آدمی اس پر اعتماد کر کے کفر کی سزا کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟
اب نبی کی آخر ضرورت کیا ہے؟
دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ نبوت کوئی ایسی صفت نہیں ہے، جو ہر اس شخص میں پیدا ہو جایا کرے، جس نے عبادت اور عمل صالح میں ترقی کر کے اپنے آپ کو اس کا اہل بنا لیا ہو۔ نہ یہ کوئی ایسا انعام ہے، جو کچھ خدمات کے صلے میں عطا کیا جاتا ہو۔ بلکہ یہ ایک منصب ہے جس پر ایک خاص ضرورت کی خاطر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مقرر کرتا ہے۔ وہ ضرورت جب داعی ہوتی ہے تو ایک نبی اس کے لیے مامور کیا جاتا ہے اور جب ضرورت نہیں ہوتی یا باقی نہیں رہتی تو خواہ مخواہ انبیاء پر انبیاء نہیں بھیجے جاتے۔
قرآن مجید سے جب ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کے تقرر کی ضرورت کن کن حالات میں پیش آئی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ایسی ہیں، جن میں انبیاء مبعوث ہوئے ہیں۔
اول یہ کہ کسی خاص قوم میں نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے ہو کہ اس میں پہلے کبھی کوئی نبی نہ آیا ہو اور کسی دوسری قوم میں آئے ہوئے نبی کا پیغام بھی اس تک نہ پہنچ سکتا ہو۔
دوم یہ کہ نبی بھیجنے کی ضرورت اس وجہ سے ہو کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کی تعلیم بھلا دی گئی ہو، یا اس میں تحریف ہو گئی ہو، اور اس کے نقش قدم کی پیروی کرنا ممکن نہ رہا ہو۔
سوم یہ کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کے ذریعہ مکمل تعلیم و ہدایت لوگوں
حضور ﷺ کے زمانے میں آپؐ کے ساتھ مقرر کیا جاتا۔ ظاہر ہے کہ جب وہ مقرر نہیں کیا گیا تو یہ وجہ بھی ساقط ہو گئی۔
اب ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ پانچویں وجہ کون سی ہے جس کے لیے آپؐ کے بعد ایک نبی کی ضرورت ہو؟ اگر کوئی کہے کہ قوم بگڑ گئی ہے اس لیے اصلاح کی خاطر ایک نبی کی ضرورت ہے تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ محض اصلاح کے لیے نبی دنیا میں کب آیا ہے کہ آج صرف اس کام کے لیے وہ آئے؟ نبی تو اس لیے مقرر ہوتا ہے کہ اس پر وحی کی جائے اور وحی کی ضرورت یا تو کوئی نیا پیغام دینے کے لیے ہوتی ہے یا پچھلے پیغام کی تکمیل کرنے کے لیے یا اس کو تحریفات سے پاک کرنے کے لیے قرآن اور سنت محمد ﷺ کے محفوظ ہو جانے اور دین کے مکمل ہو جانے کے بعد جب وحی کی سب ممکن ضرورتیں ختم ہو چکی ہیں، تو اب اصلاح کے لیے صرف مصلحین کی حاجت باقی ہے نہ کہ انبیاء کی۔
نئی نبوت اب امت کے لیے رحمت نہیں بلکہ لعنت ہے
تیسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ نبی جب بھی کسی قوم میں آئے گا، فوراً اس میں کفر و ایمان کا سوال اٹھ کھڑا ہوگا۔ جو اس کو مانیں گے وہ ایک امت قرار پائیں گے اور جو اس کو نہ مانیں گے وہ لامحالہ دوسری امت ہوں گے۔ ان دونوں امتوں کا اختلاف محض فروعی اختلاف نہ ہوگا، بلکہ ایک نبی پر ایمان لانے اور نہ لانے کا ایسا بنیادی اختلاف ہوگا جو انہیں اس وقت تک جمع نہ ہونے دے گا، جب تک ان میں سے کوئی اپنا عقیدہ نہ چھوڑ دے۔ پھر ان کے لیے عملاً بھی ہدایت اور قانون کے ماخذ الگ الگ ہوں گے، کیونکہ ایک گروہ اپنے تسلیم کردہ نبی کی پیش کی ہوئی وحی اور اس کی سنت سے قانون لے گا اور دوسرا گروہ اس کے ماخذ قانون ہونے کا سرے سے منکر ہوگا۔ اس بنا پر ان کا ایک مشترک معاشرہ بن جانا کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔
اپنا ہادی و رہبر مانے اور ان کی دی ہوئی تعلیم کے سوا کسی اور ماخذ ہدایت کی طرف رجوع کرنے کا قائل نہ ہو وہ اس برادری کا فرد ہے اور ہر وقت ہو سکتا ہے۔ یہ وحدت اس امت کو کبھی نصیب نہ ہو سکتی تھی اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہو جاتا، کیونکہ ہر نبی کے آنے پر یہ پارہ پارہ ہوتی رہتی۔
آدمی سوچے تو اس کی عقل خود یہ کہہ دے گی کہ جب تمام دنیا کے لیے ایک نبی بھیج دیا جائے اور جب اس نبی کے ذریعہ سے دین کی تکمیل بھی کر دی جائے اور جب اس نبی کی تعلیم کو پوری طرح محفوظ بھی کر دیا جائے تو نبوت کا دروازہ بند ہو جانا چاہیے تاکہ اس آخری نبی کی پیروی پر جمع ہو کر تمام دنیا میں ہمیشہ کے لیے اہل ایمان کی ایک ہی امت بن سکے اور بلا ضرورت نئے نئے نبیوں کی آمد سے اس امت میں بار بار تفرقہ نہ برپا ہوتا رہے۔ نبی خواہ ”ظلی“ ہو یا ”بروزی“ امتی ہو یا صاحب شریعت اور صاحب کتاب۔ بہرحال جو شخص نبی ہوگا اور خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ہوگا اس کے آنے کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ اس کے ماننے والے ایک امت بنیں اور نہ ماننے والے کافر قرار پائیں۔ یہ تفریق اس حالت میں تو ناگزیر ہے جب کہ نبی کے بھیجے جانے کی فی الواقع ضرورت ہو۔ مگر جب اس
آزادی ضمیر اور قادیانیت
محمد عطاء اللہ صدیقی
جب سے قادیانیوں کو آئینی ترمیم کے ذریعے اقلیت قرار دیا گیا ہے وہ پاکستان میں اپنے انسانی حقوق کی پامالی کا مسلسل واویلا کر رہے ہیں۔ 1984ء میں امتناع قادیانیت آرڈینینس اور 298C کی منظوری کے بعد تو ان کے ذرائع ابلاغ نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر عملاً مسلمانوں سے جارحانہ نفسیاتی سرد جنگ کا آغاز کر دیا ہے چونکہ جدید مغرب میں انسانی حقوق اپنے مخصوص مفہوم میں بے حد پذیرائی حاصل کر چکے ہیں اس پذیرائی نے ان کے اجتماعی سیاسی جسد میں ایک حساس موضوع کے طور پر اہمیت حاصل کر لی ہے۔ آزادی اظہار، آزادی مذہب، آزادی ضمیر، آزادی تحریر وغیرہ کو ان کے انسانی حقوق کے تصور میں سرفہرست سمجھا جاتا ہے۔ قادیانیوں نے اہل مغرب کی اسی کمزوری کو اپنے حق میں Exploit کیا ہے۔ عالم اسلام کے خلاف مغرب کے تعصب اور منفی مسابقت کے جذبات کی وجہ سے قادیانی پراپیگنڈہ کو مغربی ذرائع ابلاغ نے بغیر کسی کھود کرید کے قبول کر لیا ہے۔ ایک اعتبار سے قادیانیوں کی خود تشہیری مظلومیت کو بنیاد بنا کر مغرب کو پاکستان کو بدنام کرنے کا ایک بہانہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تمام رپورٹوں میں بے حد غیر حقیقت پسندانہ اور مبالغہ آمیز طریقے سے قادیانیوں کے انسانی حقوق کی پامالی اور پاکستان میں ان پر ڈھائے جانے والے مبینہ مظالم کی روح فرسا تصویریں کھینچی جاتی ہیں۔
انسانی حقوق کی نام نہاد علمبردار این جی اوز اور قادیانی ذرائع ابلاغ کے ”نیٹ ورک“ نے قادیانیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا اس قدر متواتر اور جارحانہ اسلوب میں پراپیگنڈہ کیا ہے کہ اب ہمارے پریس میں قادیانیوں کے خلاف خبریں یا مضامین اتنے جرات مندانہ انداز میں شائع نہیں ہوتے جس طرح کہ 1970ء کی دہائی میں شائع ہوتے تھے۔ منفی پراپیگنڈہ کا بنیادی ہدف فریق مخالف کی اخلاقی قوت اور ذہنی صلاحیتوں کو اس طرح ہدف بنانا ہوتا ہے کہ اس میں احساس مرعوبیت پیدا ہو جائے اس احساس کا پیدا ہو جانا ہی درحقیقت نفسیاتی سرد جنگ میں
آزادی ضمیر اور قادیانیت
محمد عطاء اللہ صدیقی
کو آئینی ترمیم کے ذریعے اقلیت قرار دیا گیا ہے وہ پاکستان میں مسلسل واویلا کر رہے ہیں۔ 1984ء میں امتناع قادیانیت ری کے بعد تو ان کے ذرائع ابلاغ نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر تی سرد جنگ کا آغاز کر دیا ہے چونکہ جدید مغرب میں انسانی حقوق پذیرائی حاصل کر چکے ہیں اس پذیرائی نے ان کے اجتماعی سیاسی کے طور پر اہمیت حاصل کر لی ہے۔ آزادی اظہار آزادی مذہب کو ان کے انسانی حقوق کے تصور میں سرفہرست سمجھا جاتا ہے۔ ی کمزوری کو اپنے حق میں Exploit کیا ہے۔ عالم اسلام کے مسابقت کے جذبات کی وجہ سے قادیانی پراپیگنڈہ کو مغربی ذرائع ل کر لیا ہے۔ ایک اعتبار سے قادیانیوں کی خود تشہیری، مظلومیت کو قائم کرنے کا ایک بہانہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمنسٹی حد غیر حقیقت پسندانہ اور مبالغہ آمیز طریقے سے قادیانیوں کے ن میں ان پر ڈھائے جانے والے مبینہ مظالم کی روح فرسا
اعلمبردار این جی اوز اور قادیانی ذرائع ابلاغ کے ”نیٹ ورک“ پامالی کا اس قدر متواتر اور جارحانہ اسلوب میں پراپیگنڈہ کیا ہے یوں کے خلاف خبریں یا مضامین اتنے جرات مندانہ انداز میں 1970ء کی دہائی میں شائع ہوتے تھے۔ منفی پراپیگنڈہ کا بنیادی اور ذہنی صلاحیتوں کو اس طرح ہدف بنانا ہوتا ہے کہ اس میں س احساس کا پیدا ہو جانا ہی درحقیقت نفسیاتی سرد جنگ میں
”نفسیاتی فتح“ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ راقم الحروف کا یہ تاثر ہے کہ آج ہمارے صحافی قادیانیت کے خلاف لکھتے ہوئے ایک احساس مرعوبیت کا شکار ہوتے ہیں انہیں خدشہ لگا رہتا ہے کہ اس طرح ان کی ”رواداری“ کو کہیں شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے کہیں ان کی ”روشن خیالی“ اور ”ترقی پسندی“ کا بھرم نہ ٹوٹ جائے۔ اس عمومی ذہنی فضا میں اگر کبھی کبھار کسی مرد حریت کے قلم سے قادیانی دجل و فریب اور ان کی منفی سرگرمیوں کا ذکر پڑھنے کو ملتا ہے تو اسے غنیمت سمجھا جانا چاہیے۔
جناب اصغر علی کوثر وڑائچ نے اپنے ایک حالیہ کالم (روزنامہ پاکستان لاہور 5 اپریل) میں پاکستان میں فوجی انقلاب کے پس پشت قادیانیوں کے کردار پر روشنی ڈالی ہے جس پر ایم ایس خالد، ایم اے قادیانی نے نہ صرف شدید خفگی اور برہمی کا اظہار کیا ہے بلکہ دہائی دی ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو آزادی ضمیر کا بنیادی انسانی حق تک استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ موصوف جو یقیناً قادیانی ہیں، لکھتے ہیں:
1974ء کی دستوری ترمیم نمبر 2 کے بعد تو پاکستان کے احمدیوں کو اپنے ضمیر کے مطابق ”آزادی ضمیر“ کا حق استعمال کرنے سے بھی محروم کر دیا گیا تھا کیونکہ اگر اس حق کو عملاً استعمال کرتے ہوئے وہ اپنا مذہب اسلام یا خود کو ”مسلمان کہہ دیں تو تین سال قید با مشقت کی سزا دی جاتی ہے، وہ قادیانیوں کی مظلومیت اور خود ساختہ بے بسی کو یوں بیان کرتے ہیں،
آپ مخلوط انتخاب کے اندر بھی بے شک احمدیوں کو ووٹ کا حق نہ دیں لیکن پاکستانی احمدیوں کو خدا اور اس کے رسول پر ایمان کا اقرار کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا بنیادی انسانی حق آزادی ضمیر کا ناقابل تنسیخ حق تو ضرور دیں۔ آزادی ضمیر کے حق کے بغیر تو کوئی فرد بحیثیت قادیانی انسانی زندگی نہیں گزار سکتا اور جس سوسائٹی میں کل کائنات کی سب سے بڑی آفاقی سچائی کلمہ طیبہ پڑھنے یا اس کا بیج سینہ پر آویزاں کرنے کے جرم میں احمدیوں کو قید و بند میں ڈال دیا جائے، وہاں جھوٹ اور سچ کی تمیز ہی ممکن نہیں رہے گی۔ (روزنامہ پاکستان 18 اپریل 2000ء)
ایم ایس خالد نے محولہ بالا سطور میں جس ”ذہنی کرب“ کا اظہار کیا ہے بالکل انہی خیالات کا اظہار قادیانیوں کے اخبارات و رسائل ان کے مفرور خلیفہ مرزا طاہر احمد کے خطبات پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن جس کے اہم ذمہ داران مثلاً عاصمہ جہانگیر اور آئی اے رحمن قادیانی ہیں کی رپورٹوں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹوں جن کا سرچشمہ یہی کمیشن ہے میں بھی کیا
جاتا ہے۔ ہمیں ٹھنڈے دل سے درج ذیل سوالات کے جوابات دینے چاہئیں۔
- 1- کیا واقعی پاکستان میں ”احمدیوں“ کو ”آزادی ضمیر“ کا حق استعمال کرنے کی
اجازت نہیں ہے؟ یا یہ محض پاکستان کو بدنام کرنے کی پراپیگنڈہ مہم ہے؟
- 2- پاکستان میں دیگر اقلیتوں مثلاً عیسائی، سکھ ہندو پارسی وغیرہ کو کیا ”احمدیوں“ کی
”آزادی ضمیر“ پر پابندیوں کی شکایات لاحق ہیں اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟
- 3- ”آزادی ضمیر“ کی حدود کیا ہیں؟ جن معنوں میں پاکستان کے قادیانی
”آزادی ضمیر“ کا حق مانگتے ہیں، کیا انہیں یہ حق پاکستان کے 14 کروڑ مسلمانوں کے مذہبی حقوق کو مجروح کیے بغیر بھی دیا جاسکتا ہے۔؟
- 4- پاکستان کے قادیانیوں کو کائنات کی سب سے بڑی سچائی کلمہ طیبہ پڑھنے اور سینہ
پر اس کا بیج آویزاں کرنے کی آخر کیوں اجازت نہیں ہے؟ اس کا فکری پس منظر کیا ہے اور اس کی اجازت دے دی جائے تو پھر اس کے مضمرات کیا ہوں گے؟
یہ ایک مسلمہ عالمی اصول اور آفاقی صداقت ہے کہ آزادی اظہار اور آزادی ضمیر لامحدود نہیں ہیں۔ ایک فرد یا گروہ کے آزادی اظہار کے حق کو استعمال کرنے سے دوسرے فرد یا گروہ کے انسانی حقوق مجروح ہوتے ہوں تو اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا اعلامیہ ہو یا کسی جدید جمہوری ریاست کا آئین اس طرح کی مادر پدر آزادی کی اجازت کبھی نہیں دیتے کیونکہ اس طرح معاشرے میں فکری انارکی اور انتشار پھیل سکتا ہے۔ پاکستان کے قادیانی آزادی ضمیر کا حق جس طور اور جس رنگ میں استعمال کرنا چاہتے ہیں، وہ پاکستان کے 14 کروڑ انسانی حقوق سے براہ راست متصادم ہے۔ قادیانیوں کو اگر مسلمانوں سے کوئی شکوہ شکایت ہے تو مسلمانوں کو ان سے کہیں بڑھ کر شکایات ہیں اور یہ شکایات بے جا بھی نہیں ہیں۔
مسلمانوں کو قادیانیوں سے کیا شکایات ہیں؟ منجملہ دیگر باتوں کے پاکستان کے مسلمانوں کو قادیانیوں سے اہم ترین شکایت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں سے ہر اعتبار سے مختلف ہونے کے باوجود ”بضد“ ہیں کہ اپنے آپ کو ”مسلمان“ کہلائیں اور دوسروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ انہیں ”مسلمان“ ہی سمجھیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی خانہ ساز جھوٹی نبوت کے نہ ماننے والوں کو واضح طور پر ”کافر“ کہا اور مرزا قادیانی کے بعد آنے والے قادیانی خلفاء کے سینکڑوں بیانات اور تحریریں ریکارڈ ہیں جن میں انہوں نے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہوئے ان سے کسی قسم کا لین دین نہ رکھنے کی سخت ہدایات دی ہیں۔ مرزا قادیانی نے شاید ”آزادی ضمیر“ کا حق
استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو ان الفاظ سے نوازا تھا:
”ہر مسلمان میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر بدکار عورتوں کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص 547)
مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود قادیانی خلیفہ ثانی کا درج ذیل اعلان ملاحظہ کیجیے:
”حضرت مسیح موعود کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں، آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کی ذات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“
(الفضل، 30 جولائی 1931ء)
مرزا قادیانی کے ایک فرزند مرزا بشیر احمد قادیانی کا ہفواتی فتویٰ ذرا دیکھیے:
”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا یا عیسیٰ علیہ السلام کو تو مانتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ (کلمۃ
الفصل، ج 14، ص 110)
مرزا قادیانی اور اس کے خلفاء کی طرف سے مسلمانوں کو کافر قرار دینے والے بیانات اس قدر زیادہ اور واضح ہیں کہ ان کا انکار آج بھی قادیانی نہیں کرتے اسی لیے ایسے مزید بیانات کو نقل کرنا مضمون کو بے جا طوالت دینے کے مترادف ہوگا۔ مسلمان علماء نے ایسے بیانات کو جا بجا اپنی کتابوں میں نقل کر کے مرزا قادیانی کی مسلمانوں کے خلاف تکفیری مہم کی نشاندہی کی ہے۔
قادیانیوں کی طرف سے مسلمانوں کو کافر قرار دینے میں پہل کی گئی، اسی پہلو کی طرف عطاء الحق قاسمی صاحب نے نشاندہی کرتے ہوئے اپنے ایک کالم میں یہ خیال ظاہر کیا:
”چنانچہ میرے نزدیک یہ بہت بڑا مغالطہ ہے کہ مسلمانوں نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر مسلم قرار دیئے جانے سے بہت عرصہ قبل احمدی مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دے چکے تھے۔“
(نوائے وقت، 24 دسمبر 1991ء)
علامہ اقبالؒ نے قادیانیوں کی اسی حرکت کی طرف اپنے ایک شعر میں اشارہ کیا ہے فرماتے ہیں
کہتی ہے کہ یہ مومن پارینہ ہے کافر
علامہ اقبال چند مسلم اکابرین اور فلسفیوں میں شامل تھے جنہوں نے مرزا قادیانی اور ان کے خلفاء کے عقائد اور بیانات کے مطالعہ کے بعد ان کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا ۔ 14 مئی 1935ء کو دہلی کے معروف انگریزی اخبار Statesman میں ان کا ایک مضمون شائع ہوا‘ انہوں نے لکھا:
”میں سمجھتا ہوں کہ قادیانیوں کی تفریق کے پیش نظر جو انہوں نے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں ایک نئی نبوت کا اعلان کر کے اختیار کی ہے‘ خود حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے بنیادی اختلاف کا لحاظ رکھتے ہوئے آئینی اقدام اٹھائے۔ ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔“
جعل سازی‘ ملاوٹ‘ دھوکہ اور فریب مختلف فیکٹریوں کی تیار کردہ اشیاء میں ہو یا مذہب کے اساسی عقائد میں انہیں کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ پوری دنیا میں کوکا کولا‘ پیپسی وغیرہ اور اس طرح کی عالمی سطح پر معروف اشیائے استعمال کے ٹریڈ مارک اور کاپی رائٹس ان اشیاء کو تیار کرنے والی فرموں کے نام کے ساتھ مخصوص ہیں۔ پوری دنیا میں کوئی دوسری فرم کوکا کولا کے نام سے کوئی مشروب مارکیٹ میں لائے گی تو اس کی اصلی فرم اس کے خلاف دعویٰ دائر کرنے کا حق رکھتی ہے اور ریاستی ادارے اس کے اس حق کو تسلیم کرتے ہوئے کسی جعل ساز فرم کو ان کے نام کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تمام ملکوں میں فوج اور پولیس کی وردی مخصوص ہوتی ہے کوئی بھی پرائیویٹ سیکیورٹی فرم نہ فوج کی وردی استعمال کر سکتی ہے اور نہ پولیس کے لیے مخصوص شدہ بیج استعمال کر سکتی ہے‘ کوئی بھی خاندان وراثت کے جعلی دعوے داروں کو قبول نہیں کرتا۔ ہر مذہب کے کچھ بنیادی عقائد اور شعائر ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ اپنا الگ تشخص قائم رکھتا ہے۔ ایک شخص ان کے بعض اساسی عقائد کو ڈھٹائی سے جھٹلاتا ہے مگر پھر بھی اپنے آپ کو اس مذہب کا پیروکار قرار دیتے ہوئے اس مذہب سے وابستہ لوگوں کو حاصل شدہ سماجی و معاشی سیاسی حقوق میں شراکت کا دعویٰ کرتا پھرے تو پھر ایسے جعل ساز اور دھوکہ باز کو اس مذہب کے پیروکاروں میں شامل نہیں سمجھا جائے گا۔ قادیانی آزادی ضمیر کے نام پر جعل سازی کا حق طلب کرتے ہیں تو یہ کسی بھی طرح ان کا انسانی حق نہیں ہے۔
ایم ایس خالد جیسے قادیانیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کے دامن
سے ہی وابستہ رہنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان کا اقرار کرنے کی تکرار بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کا ان پر بنیادی اعتراض یہ نہیں ہے کہ وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کیوں کرتے ہیں جیسا کہ بعض لاہوری قادیانی گروہ کے افراد کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اگر واقعی کائنات کی سب سے بڑی سچائی کلمہ طیبہ پڑھنے میں وہ مخلص ہیں تو پھر اس کا منطقی تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ وہ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کے دعویٰ کو نہ صرف برملا جھٹلائیں بلکہ ایسے کذاب‘ دھوکہ باز اور بدکار شخص کی مذمت بھی کریں جب تک وہ ایسا نہیں کریں گے‘ مسلمان انہیں ”اسلام اور اسلامی شعائر“ سے متعلق اصطلاحات کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ یہ ان کا مذہبی اور انسانی حق ہے کہ وہ اپنے مذہب کو جعل سازوں سے بچا کر رکھیں۔ مسلمانوں کا یہ اعتراض اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ قادیانیت کی تاریخ۔ علامہ اقبالؒ اپنے مذکورہ بالا مضمون میں قادیانیوں کی اس اُلجھن اور دھوکہ بازی پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:
- 1- اوّلاً اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کی حدود مقرر ہیں یعنی وحدت الوہیت
پر ایمان‘ انبیاء پر ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم رسالت پر ایمان۔ دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں؟ مثلاً برہمن خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔
- 2- جہاں تک مجھے معلوم ہے کہ کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت
نہیں کرسکا۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں۔ ہمارا دین ہے کہ اسلام بحیثیت دین خدا کی طرف سے ظاہر ہوا لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔ میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں اور ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلا دیں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو پورے مفہوم کے ساتھ قبول کرلیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔
قادیانی مرزا غلام احمد کو ”نبی“ اس کی بیویوں کو ”اُمہات المومنین“ مرزا قادیانی کے حواریوں کو ”صحابی“ اپنے قبرستان کو ”جنت البقیع“ اپنی مسجد کو ”مسجد اقصیٰ“ اپنے آپ کو ”مسلمان“ اور اپنے مذہب کو ”اسلام“ قرار دیتے ہیں۔ ان کی یہ روش ہی ان کے اور مسلمانوں کے درمیان تنازعہ کا اصل سبب ہے۔ وہ جو کچھ ہیں اُسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ عطاء الحق قاسمی صاحب لکھتے ہیں:
”احمدی اور مسلمانوں میں جو چیز وجہ نزاع بنی وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی جعلی نبوت کے علاوہ اس نومولود مذہب کی طرف سے مسلمانوں کی اس تمام ٹرمنالوجی (Terminology) پر قبضہ تھا جو بزرگانِ دین اور مقامات مقدسہ کے لیے مخصوص تھی۔“
جناب مجیب الرحمن شامی نے قادیانیوں کی اس بیزار کن حرکت پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھا:
”مصیبت یہ ہے کہ اپنا نبی ایجاد کرنے اور مسلمانوں سے الگ تشخص کا دعویٰ رکھنے کے باوجود یہ گروہ اپنے آپ کو غیر مسلم کہلوانے سے انکاری ہے۔ قادیانی حضرات اپنے آپ کو مظلوم اور ستم رسیدہ قرار دینے کی کوشش میں بھی لگے ہوئے ہیں ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقوں کو خاص طور پر نشانہ بنا کر رواداری اور فراخ دلی کے نام پر انسانی ہمدردیاں حاصل کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔“
(قومی ڈائجسٹ جولائی 1985ء)
شامی صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
”کہ میں نے اس نکتہ پر بہت غور کیا کہ یہ جھگڑا اور فساد کیوں ہوتا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ سمجھ میں آئی کہ قادیانی حضرات پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ اتفاق رائے سے یہ ترمیم کی گئی کہ قادیانی ملتِ اسلامیہ کا حصہ نہیں بلکہ غیر مسلم ہیں اب قادیانی آئین کی اس شق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور درحقیقت ان کا یہ دعویٰ ہی فساد کا باعث بنتا اور فتنے کے دروازے کھولتا ہے جب تک قادیانی حضرات اپنی روش نہیں بدلیں گے ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی جا سکے گی۔“
پاکستان میں دیگر اقلیتوں کو شکایت نہیں ہے کہ ان کی آزادی ضمیر کے حق پر کسی قسم کی قدغنیں عائد کی گئی ہیں۔ پاکستان کے مسلمان بھارت سے دیرینہ چپقلش کی وجہ سے ہندوؤں سے نفرت کرتے ہیں مگر آج تک کسی ہندو کو مندر میں جانے سے نہیں روکا گیا نہ جذباتی ردِعمل کے طور پر ہندوؤں کی عبادت گاہوں کو کبھی مسمار کیا گیا۔ پاکستان میں عیسائی سب سے بڑی اقلیت ہے وہ
بڑے آزادانہ طریقہ سے اپنے چرچ میں عبادت کرتے ہیں، کبھی مسلمانوں کے کسی گروہ نے ان کے چرچ کو آگ نہیں لگائی نہ ان کے مذہبی حقوق میں مداخلت کی ہے۔ چرچ سے بجنے والی گھنٹیوں کی آواز کو کبھی نہیں روکا گیا۔ دوسری اقلیتوں سے اس فراخ دلانہ سلوک کے پیش نظر قادیانیوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر بھی دیکھنا چاہیے کہ آخر ان سے بھی کوئی کوتاہی سرزد ہوئی ہے یا سارا قصور مسلمانوں کا ہے۔
قادیانیوں کا ایک اور مسئلہ بڑا اہم ہے کہ ان کے جھوٹے نبی نے ایک تو مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اپنے گروہ کے لیے الگ نام یا اصطلاحات استعمال نہ کیں۔ دوسری اہم وجہ یہ بھی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنا سارا زور قلم فضول مناظرہ بازی‘ مراقی الہامات‘ بے کار پیش گوئیاں‘ گالی گلوچ اور جھوٹے دعووں کی تشہیر میں صرف کرتے رہے۔ ان کی 80 کے لگ بھگ کتابوں کے موضوعات یہی ہیں۔ اخلاقیات‘ کردار سازی‘ عبادات‘ شعائر وغیرہ کے متعلق ان کی تحریریں کچھ رہنمائی نہیں کرتیں اسی لیے ان کے پیروکاروں کو مسلمانوں کے شعائر کے استعمال پر ہاتھ صاف کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
آخر میں ہم ایم ایس خالد اور دیگر قادیانیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر واقعی وہ آزادی ضمیر کا ناقابل تنسیخ حق بطور مسلمان کے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو جناب زیڈ اے سلہری‘ حسن محمود عودہ فلسطینی سابقہ خاص مرید مرزا طاہر احمد‘ میجر جنرل ریٹائرڈ فضل احمد‘ بریگیڈیئر ریٹائرڈ احمد نواز خان‘ ایئر کموڈور ریٹائرڈ رب نواز‘ جناب بشیر طاہر سابق رکن اسمبلی‘ پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل (نائیجیریا) مولانا اکبر شاہ خان نجیب آبادی‘ شیخ عبدالرحمن مصری‘ شیخ بشیر احمد مصری‘ ڈاکٹر فداء الرحمن فضل عمر ہسپتال ربوہ‘ قاضی خلیل احمد صدیق سابق معلم جامعہ احمدیہ ربوہ کے حالات و بیانات کا مطالعہ کریں کہ کس طرح ان حضرات نے قادیانیت کے اندھیروں سے نکل کر اسلام کے اُجالوں میں پناہ لی۔ جناب محمد متین خالد نے اپنی تالیف ”قادیانیت سے اسلام تک“ میں مذکورہ بالا سابق قادیانیوں کے مضامین اور حالات کو یکجا کر دیا ہے اگر ایم ایس خالد قادیانیوں کی اداؤں پر غور کریں تو شاید پکار اُٹھیں
کسی دینی، دنیوی اور سیاسی مفاد کے لیے
قادیانیوں کو اسلام میں شامل نہیں کیا جاسکتا
مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
یہ سوال سیاسی حلقوں میں (جب سے سیاست کو مذہب سے علیحدہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے) بڑی قوت سے گشت کر رہا ہے۔ اس کا مجھے بھی اعتراف ہے کہ اکثر سیاست دان اور تعلیم یافتہ طبقہ محض خلوص نیت اور ہمدردی کی بنا پر یہ چاہتا ہے کہ مرزائیوں کو اگر مسلمانوں میں شامل کر لیا جائے تو سیاسی نقطہ نظر سے یہ مسلمانوں کے لیے بہت مفید ہے۔ ورنہ ایک اتنی بڑی جماعت کے عدد کا مسلمانوں میں سے کم ہو جانا مسلمانوں کے لیے سیاسی نقطہ نظر سے بہت مضر ہے۔ علماء ملکانوں کے لیے تو جو برائے نام مسلمان ہیں اتنی سعی و کوشش کرتے ہیں جس کی کوئی حد نہیں اور آریوں سے ہر قسم کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور مرزائی جماعت جو تمام شعائر اسلام اور حدود اللہ کی پابند ہے، نماز نہایت خشوع خضوع کے ساتھ پڑھتے ہیں آپس میں بیحد اتفاق ہمدردی ہے تبلیغ اسلام کے لیے بڑی جانفشانی اور سعی کرتے ہیں۔ ہندوستان ہی نہیں یورپ کے عیسائی بھی ان کی جانفشانی اور کوشش کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہ مولوی اس قدر ضدی اور ہٹی ہیں کہ ان کے ساتھ مل کر ملکانوں میں کام بھی کرنا نہیں چاہتے۔ اپنے ناکارہ ہونے کو اس طرح سے چھپاتے ہیں کہ ایک کارگزار قوم کو کام کرنے کا میدان نہیں دیتے۔ سچ ہے کہ کتا نہ کھاوے اور نہ کھانے دے وغیرہ وغیرہ۔
اس وجہ سے جی چاہتا ہے کہ اس سوال کا جواب بھی قدرے تفصیل سے دیا جائے۔
اگر انسانوں کی کوئی جماعت آدم خور ہو اور آدمیوں کے بچے اور بوڑھے قریب آٹھ نو لاکھ کے کھا چکی ہو اور ایک سفر درپیش ہو جس میں اندیشہ ہو کہ شاید بھیڑیے اور درندے جانور
غفلت پا کر ایک دو جانوروں پر یا بچوں پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ اب سفر کے لیے ایک جماعت تو کہتی ہے کہ ہم اس آدم خور جماعت کو اپنے ساتھ نہ رکھیں گے اور دوسری جماعت کہے کہ تمہارا یہ خیال ناتجربہ کاری پر مبنی ہے۔ یہ ہزاروں کا مجمع ہے۔ راستہ میں اگر شیر بھیڑیوں سے مقابلہ ہوا تو ان کی کثرت ہمارے لیے مفید ہوگی۔
دوسری جماعت کہتی ہے کہ ہم ہمیشہ سفر کرتے اور آتے جاتے ہیں مگر شیر اور بھیڑیوں سے اتنا کبھی صدمہ نہ پہنچا جتنا اس آدم خور جماعت نے پہنچایا ہے تنہا سفر کرنے میں نقصان کا احتمال ہے اور ان کے ساتھ تیقن اب سیاست دان جماعت فیصلہ کرے کہ اس مرزائی جماعت ایمان اسلام خور کو جو اپنے کہنے کے مطابق دس١ پندرہ لاکھ مسلمانوں کو مرتد بنا چکے ہیں شریک کار کرنا سیاست ہے یا علیحدہ رکھنا۔ آریوں اور عیسائیوں کے قبضہ میں اوّل تو مسلمان آتے نہیں اور اگر آتے بھی ہیں تو وہ کس درجہ کے ہوتے ہیں اور مرزائی جال میں پھنس کر جو لوگ تباہ ہوئے ہیں وہ کس درجہ کے ہیں۔
دوسری بات قابل لحاظ یہ ہے کہ ہندوستان کی اسلامی سطح ساکن کو متحرک کس نے کیا؟ اس میں تلاطم اور طغیانی کا باعث کون ہے؟ اگر مسلمان مرزا صاحب سے کہتے کہ آپ مجدد محدث مسیح موعود نبی حقیقی کا دعویٰ کیجئے اور پھر مسلمان خلاف کرتے تو ایک درجہ میں ملزم قرار پا سکتے تھے مگر جب ان تمام امور کی ابتداء مرزا صاحب اور مرزائیوں ہی کی طرف سے ہوئی اور بجائے اس کے کہ مسلمانوں کو انھوں نے مرتد بنایا عیسائیوں اور آریوں اور دوسری غیر مسلم اقوام کو اپنے مذہب میں داخل کرتے اور پھر بھی مسلمان ان سے دست بگریباں ہوتے تو اسوقت سیاسی حیثیت سے کوئی کہہ سکتا تھا کہ برائے نام ہی سہی منکرین اسلام کو اسلام کا مقوی بناتے ہیں گو وہ مسلمان نہیں سیاستاً ان سے لڑنا جھگڑنا غیر مناسب ہے لیکن جب تجربہ نے ثابت کر دیا کہ مرزا صاحب کے ہاتھ پر نہ انگریز مرزائی ہوئے نہ پادری نہ آریہ سماج نہ سناتن دھرم بلکہ باولے ہاتھی کی طرح سے مرزا صاحب اپنے ہی لشکر اسلام کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ تو اب ایک جماعت کہتی ہے کہ ان مردوں کو اپنے سے علیحدہ کرو اور جلد قبروں میں پہنچاؤ۔ ورنہ ان کی زہریلی ہوا سے عام وبا پھیلنے کا گمان غالب ہے۔
سیاست داں قوم کہتی ہے کہ ہمیں ایک دشمن سے لڑنا ہے۔ اگر تم نے ان کو دفن کر دیا
١ گویا دعویٰ بھی بالکل غلط ہے گوجرانوالہ کے اشتہار سے معلوم ہوا کہ ان کی تعداد کل چند ہزار ہے١٢منہ
تو ہماری تعداد کم ہو جائے گی۔ زیادتی تعداد کے لیے ان کو اپنے ہی میں شامل رکھو۔ تو کیا سیاست اسی کو مقتضی ہے؟ یا جب مرزا صاحب سے برائے نام بھی اسلام کی تعداد نہ بڑھی بلکہ گھر کے ہی بہت سے حقیقی مسلمان کافر ہو کر نام کے مسلمان رہ گئے اور اس وقت مسلمان فطرۃً مجبور تھے کہ مرزائیوں کے شر سے بچنے کے لیے مرزائیوں کے کفر کو ظاہر کرتے تو اس پر مرزائیوں نے تو تمام روئے زمین کے مسلمانوں کو کافر کہا۔ مگر ہمارا سیاست داں فرقہ یہ چاہتا ہے کہ چاہے مسلمان سب معاذ اللہ کافر اور مرتد ہو جاتے لیکن دیگر اقوام سے کثرت حاصل کرنے کے لیے ہم ان کو مسلمان ہی کہے جاتے۔
بیشک حقوق کے حاصل کرنے اور ان کے تحفظ کا حتی الوسع لحاظ ضروری ہے لیکن اسلام کے تحفظ اور بقا کا خیال بھی مسلمانوں کو کسی درجہ میں ضروری ہے یا نہیں؟
مفید تر ہے مگر دلوں کو رجوع سوئے الٰہ کرنا
تیسرا جواب یہ ہے کہ جب ان کا کفر و ارتداد بیان سابق سے متحقق ہو گیا تو اب کوئی شخص یوں کہے کہ نماز کے لیے وضو شرط نہیں یا وضو تو ہو مگر بدن اور کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا ضروری نہیں یا یہ سب ہوں مگر قبلہ کی طرف منہ ہونا لازمی نہیں یا یہ بھی ہوں مگر باوجود قدرت کے قیام اور قرآن کا پڑھنا یہ ضروری نہیں۔ یا رکوع اور سجدہ نماز کے فرائض میں نہیں۔ اب نمازیوں کی کثرت رائے کی ضرورت ہے۔ فقط اس وجہ سے کہ کہیں بے نمازیوں کی کثرت نہ ہو جائے۔ ان سیاسی نماز والوں کو بھی نمازیوں میں شمار کر لیا جائے تو کیا یہ کھیل اور مذاق نہیں؟
چوتھا جواب ۔ سیاست داں طبقہ اسی مصلحت کو ظاہر فرما کر مرزا محمود اور ان کی جماعت سے کہے کہ جو لوگ مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں اور آپ صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ اگر یہ کثرت رائے آپ کے ساتھ نہ ہوئی اور دوسری قوموں کے ساتھ ہوئی۔ جب کہ تمام امور کا فیصلہ کثرت رائے پر ہوتا ہے تو ان کروڑوں مسلمانوں کا مرزائی اسلام سے نکل جانا بڑی مضرت کا باعث ہے۔ لہٰذا آپ تمام غیر مرزائیوں کو مسلمان ہی کہیں اور مرزا صاحب کے اور اپنے فتوے کو واپس لیں۔ یا خواجہ صاحب کمال الدین کے دربار میں صدائے احتجاج بلند فرمائیں کہ مرزا محمود اور ان کی تمام جماعت جو مرزائیوں میں بقول ان کے لاہوریوں سے دوگنی یا سہ گنی ہے۔ آپ نے جو ان کو اسلام سے
خارج کہا ہے۔ وقت کی نزاکت اور حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اس اپنے فتوے کو واپس لے لیجئے اور ان کے مسلمان ہونے کا حکم صادر فرمائیے۔
دیکھئے قادیان سے اور مدینۃ المسیح لاہور سے کیا جواب ملتا ہے۔ اگر جواب نفی میں ملے جس کی امید قوی ہے تو پھر سیاست داں طبقہ کو نہایت غیرت کے ساتھ شرمندہ ہونا چاہیے کہ کفار اور مرتد اپنے کفر و ارتداد کو سیاست پر قربان کرنا نہیں چاہتے اور ہمارا سیاست داں طبقہ فقط ایک وہمی نقصان اور نفع کے خیال پر اسلام جیسی عزیز اور قرآن جیسی محبوب نعمتوں کو قربان کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر جواب اثبات میں ہو تو پھر ہم بھی خدا چاہے وہ بات عرض کریں گے جس کو سیاست داں طبقہ بھی تسلیم فرمائے گا لیکن پہلے یہ سوال مرزائیوں سے کر لیا جائے پھر ہم سے کیا جائے کیونکہ ہمارے فتویٰ سے مسلمانوں کی تعداد ساڑھے سات کروڑ سے بقول مرزائیوں کے چند ١ لاکھ ہی کم ہوتی ہے اور مرزائیوں کے فتوے سے اگر زائد سے زائد مرزائی کل پندرہ لاکھ مانے چاہیں تو کل مسلمان تو مرزا محمود کے فتوے سے اور دس لاکھ مرزائی خواجہ کمال الدین کے فتوے سے اسلام سے خارج ہوئے تو مرزائی دھرم کے مطابق کل ہندوستان میں صرف پانچ لاکھ مسلمان باقی رہتے ہیں تو اب دیکھ لیجئے کہ مسلمانوں کی تعداد کون زیادہ گھٹاتا ہے۔ لہٰذا پہلے مرزائیوں سے ہی یہ سوال کرنا چاہیے۔
پانچواں جواب یہ ہے کہ جس خطرے کا آپ کو خوف ہے اس سے آپ مطمئن رہیں، کیونکہ آپ کو اس وقت سیاسی نقطہ نگاہ سے دفتری مسلمانوں کی ضرورت ہے کہ جو مردم شماری میں اپنے کو مسلمان لکھوا دیں یہ بات آپ کو بہر صورت حاصل ہے۔ گورنمنٹ گو سب کچھ جانتی ہے مگر مذہب کا فیصلہ خود نہیں کرتی۔ جب مرزائی اپنے کو مسلمان بلکہ خاص اپنے آپ ہی کو مسلمان کہتے ہیں تو گو ہم ان کے اسلام سے خارج ہونے پر فتوے دیں لیکن حقوق ملکی میں اس سے کیا مضرت ہے؟
اور اگر یہ کہا جاوے کہ گو وہ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں مگر جب مسلمان ان کو اسلام سے خارج بتلاتے ہیں تو غیر مسلم اقوام حقوق کے وقت یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزائیوں کی تعداد سے مسلمان نفع نہیں اٹھا سکتے کیونکہ وہ ان کو اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ غیر مسلم اقوام اس قدر ناواقف نہیں ہیں۔ وہ خود بھی جانتی
١ جو واقعہ میں پندرہ ہزار بھی شاید ہی ہوں ١٢ منہ
ہیں کہ قرآن اور حدیث کے مطابق مرزائی اسلام سے خارج ہیں۔ بلکہ اگر آج آریہ سماج سیاست داں طبقہ سے اس پر مناظرہ کرے کہ مرزائی کس قاعدہ سے مسلمان ہیں تو میں نہایت وثوق سے کہتا ہوں کہ اور تو اور مسٹر محمد علی صاحب سنی بھی اس کو ثابت نہیں کر سکتے۔
تو فرمایئے اب اگر آپ مرزائیوں کو سیاسی اغراض کی بنا پر مسلمان کہیں تو نہ یہ قرآن کا حکم ہے نہ امانت اور دیانت کا۔ دین تو گیا ہی مگر سیاست بھی ہاتھ سے گئی۔ اس وجہ سے آپ مسلمان کو مسلمان کہیں اور کافر کو کافر اپنی فرضی مصالح اور منافع کی غرض سے خدا کے لیے اسلام اور ایمان اور احکام قرآن کو تختہ مشق نہ بنایئے۔ اگر اسلام یورپ کا بنایا ہوا مذہب ہوتا تو ممکن تھا کہ عیسائیت کی طرح چند دنوں کے بعد اس میں بھی تغیر ہو جایا کرتا۔ مگر یہ تو اس کا دین ہے جس کا ارشاد تھا مَا يُبَدَّلُ القول لدى اور لا تبديل لِكَلِمٰتِ اللّٰه ہے۔ اپنے کلام کو وہ خود ہی بدلے تو بدلے۔ کسی انجمن کے ممبروں کو تو یہ قدرت نہیں کہ اس کو جس طرح چاہیں باتفاق یا کثرت رائے سے بدل دیں۔ افسوس ہے کہ جس قوم کا کل یہ مقولہ تھا کہ اسلام اور سیاست ایک ہے دو نہیں۔ اسلام سیاست سے جدا نہیں۔ آج وہی قوم یوں کہے کہ شرعی اسلام اور ہے اور سیاسی اور۔ کیا ہر شہر اور گاؤں کا اسلام علیحدہ بنا کر رہو گے۔ خدا سے شرم کرنا چاہیے اور اس حکم خداوندی کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ فلا تموتن إلّا وانتم مُّسْلِمُوْنَ و اخر دعوانا ان الحمد للّٰه رب العلمين و صلى اللّٰه تعالیٰ على خير خلقہ سيدنا و مولانا محمد و الہ و صحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
حُبّ نبی کریم ﷺ
تحریر: ڈاکٹر حافظ محمد یونس
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کوئی جان بھی نبی کریم سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ مکرم ومحترم اور اشرف پیدا نہیں کی۔ میں نے خدا کو نہیں سنا کہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان عزیز کے علاوہ کسی دوسری جان کی قسم کھائی ہو۔
یہ ہیں وہ الفاظ جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمائے۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اولادِ آدم کا سردار ہوں، اس میں کوئی فخر اور گھمنڈ کی بات نہیں (مسلم ترمذی ص ٢٤٧ ج ٥)
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: سب سے پہلے جو چیز اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ میرا نور تھا (اسمعیل بن محمد، کشف الخفا، ص ٢٦٥ ج ١)
اور میں اس وقت بھی نبی تھا جب کہ آدم علیہ السلام ابھی پانی اور مٹی میں تھے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سید المرسلین ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء اور رسولوں کے سردار ہیں۔ (الشفا قاضی عیاض ج ١ ص ٣٣٤ البدایہ والنہایۃ ج ٢ ص )
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں جن کو خالق کائنات نے اپنے ساتھ رکھا۔
اذا قال فی الخمس المؤذن اشہد
وشق لہ من اسمہ لیجلہ
فذو العرش محمود و ھذا محمد
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام اپنے نام کے ساتھ ملا دیا ہے جب کہ موذن پانچوں وقت میں ”اشھد“ کی صدا بلند کر کے اس کا اظہار کرتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام اللہ تعالیٰ نے اپنے نام سے نکالا ہے تاکہ آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روشن اور واضح کر دے۔ عرش والا تو محمود ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محمد ہیں۔“
صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں جن کو خداوند کریم نے معراج کروائی اور اپنی بارگاہ میں باریابی عطا کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں جن کو انبیاء ورسل کی امامت عظمیٰ کا شرف حاصل ہوا‘ اور تمام انبیاء نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امام تسلیم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ”رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ“ بنایا۔ ارشادِ خداوندی ہے۔
ترجمہ: ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
(الانبیاء آیت نمبر ١٠٧)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت ورسالت کو ختم کر دیا اور ”خاتم النبیین“ کے معزز لقب سے نوازا گیا۔
ترجمہ: ”محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمھارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں‘ بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں کی نبوت کی مہر (نبوت کو ختم کر دینے والے) ہیں“
(الاحزاب آیت نمبر ٤٠)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔
ترجمہ: ”لوگو! تمھارے لیے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کریم میں بہترین نمونے موجود ہیں۔“
(الاحزاب آیت نمبر ٢١)
اور مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔
ترجمہ: ”جو کچھ تمھیں میرا رسول عطا کرتا ہے‘ اسے لے لو اور جس سے روکتا ہے اس سے رک جاؤ
(الحشر آیت نمبر ٧)
کیونکہ
ترجمہ: جو کچھ میرا محبوب بولتا ہے وہ وحی ربانی ہوتی ہے
(النجم آیت نمبر ٣‘ ٤)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا۔
ترجمہ : ”تم میں سے اس وقت تک کوئی مومن نہیں ہے جب تک وہ مجھے اپنے ماں باپ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھے۔
خداوند کریم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخلیق پر ناز ہے۔ اسی لیے فرمایا ہے۔
ترجمہ : ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے اپنے رسول کو مبعوث فرمایا۔“ (آل عمران، آیت نمبر ١٦٤)
یہی نہیں بلکہ یہ بھی فرمایا:
ترجمہ : ”جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کی۔ (النساء آیت نمبر ٨٠)
پھر پوری کائنات کو حکم دیا:۔
ترجمہ : مجھے تیرے رب کی قسم اس وقت تک کوئی مومن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ آپ کے فیصلے کو سر بسر تسلیم نہ کر لے (النساء آیت نمبر ٦٥)
پھر خداوند کریم نے اپنی محبت کا معیار یہ مقرر فرمایا:
”اے رسول ! ان لوگوں سے فرما دیجئے کہ اگر مجھ سے محبت کا دم بھرتے ہو تو پہلے میری اتباع اور تابعداری کرو، اللہ تعالیٰ تمھیں خود بخود اپنا محبوب بنا لے گا اور آپ کی محبت کے صدقے تمہاری خطاؤں کو بھی معاف کر دے گا۔“ (آل عمران، آیت نمبر ٣١)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا۔
ترجمہ : جس نے مجھے دیکھا اس نے حق ( گویا خداوند کریم) کو دیکھا (الجامع الصغیر، السیوطی، ص ١٧١)
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس قدر تعظیم وتکریم کرتا ہے کہ اس نے ایک دفعہ بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں پکارا، بلکہ جہاں کہیں پکارا ہے تو تکریم سے ہی آواز دی ہے کہ یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک...... یا ایھا النبی جاھد الکفار و المنافقین...... یا پھر محبت سے یا ایھا المزمل ”یا ایھا المدثر“ کہہ کر پکارا ہے۔ جب کہ قرآن مجید میں اولوالعزم انبیاء کو جگہ جگہ ان کا اصل نام اور اسم سے پکارا گیا ہے۔ جیسے ”يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ“ ”تِلْكَ بِيَمِيْنِكَ يَا مُوْسٰی“ ”يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً“ ”يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ
بِغُلَامٍ اِسْمُهُ يَحْيٰی" "يَا يَحْيٰی خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ" "يَانُوْحُ اِهْبِطْ بِسَلَامٍ" "يَا عِيْسٰی اِنِّی مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ"
اس طریق مخاطب کے مطابق چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی "یَا مُحَمَّدُ! یَا اَحْمَدُ" کہہ کر پکارتا، مگر اللہ تعالیٰ کو اس درجہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احترام کرنا مقصود تھا کہ تمام قرآن مجید میں ایک جگہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نام لے کر مخاطب نہیں کیا۔ بلکہ تعظیم و تکریم سے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کے ساتھ تعظیمی الفاظ ضرور بولے جائیں کیونکہ جو نام دل کو محبوب و محترم ہو وہ زبان پر گزرے تو محبت و احترام سے خالی نہیں ہونا چاہیے۔
بعض لوگ کہتے ہیں، تعظیم کی اصل جگہ دل ہے، اس لیے سچا ادب اور احترام وہی ہے جو دل سے ہو نہ کہ زبان سے۔ اگر یہ بات ہے تو پھر یہ بھی قابل لحاظ امر ہے کہ دل کے اعتقاد کا ترجمان ابوذَر غفاری (رضی اللہ عنہ) ہے، یا یہ دل ابوجہل بدبخت کا ہے، یہ درست ہے کہ نیت اور ارادے کو پوری طرح جگہ دی جاتی ہے، لیکن اگر عدالت میں جا کر مجسٹریٹ کو یور آنر Your) (Honour کی جگہ محض تم کر کے خطاب کریں گے تو گو آپ کتنا ہی کہیں، کہ تعظیم کی جگہ دل ہے زبان نہیں، لیکن امید نہیں کہ وہ آپ کو مقدمے سے بری کردے۔
آج کل تحریر و تقریر میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لوگوں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام نامی کے تعظیمی الفاظ کی طوالت سے گھبرا کر "بانی اسلام" کی ایک اصطلاح وضع کر لی ہے۔ وہ بلا تامل اپنی تحریر و تقریر میں "بانی اسلام" نے یوں کہا، بولتے اور لکھتے ہیں، اس طرح ٹھیک ٹھیک ان کی زبان ان کے دلی الحاد کی ترجمانی کرتی ہے۔ اگر یہ سچ ہے کہ ان کے دل میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم ہے تو ان کو تو بار بار محبوب و مطلوب کا اسم گرامی درود و صلوٰۃ کے ساتھ لینا چاہیے تھا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد کی جتنی تقریبیں نکل آئیں عین مقصودِ محبت ہیں۔
ایک جلیل القدر محدث سے جب پوچھا گیا کہ علم حدیث سے اس درجہ شوق کیوں ہے۔ تو انھوں نے کہا، اس لیے کہ اس میں بار بار قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جملہ آتا ہے اور اس طرح اس اسم گرامی کے ذکر اور اس پر درود اور صلوٰۃ عرض کرنے کی تقریب ہاتھ آ
جاتی ہے۔ یہ خیال نہ کیا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کا اعتقاد صرف قلبی اعتقاد اور اسلامی جوش تعظیم و احترام کی وجہ سے ہی ہے۔ حقیقت میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کی تعظیم نص قطعی (بالکل واضح قرآنی حکم) سے ثابت ہے جس کا انکار کوئی قرآن کا قائل نہیں کر سکتا۔ سورہ حجرات میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم اور احترام کرنے کی پوری تفصیل سے تعلیم دی ہے۔
جب بنی تمیم کا ایک وفد مدینہ منورہ میں آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرہ مبارک میں تشریف رکھتے تھے۔ نادانوں نے دروازے سے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لے کر پکارنا شروع کر دیا کہ "يَا مُحَمَّد اُخْرُجْ إِلَيْنَا" ”اے محمد ہمارے پاس باہر نکلیے“ تو اللہ تعالیٰ کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اتنی گستاخی بھی گوارا نہ ہوئی اور ارشاد فرمایا۔
ترجمہ: ”اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو لوگ آپ کو مکان کے باہر سے نام لے لے کر پکارتے ہیں۔ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جن کو بالکل عقل اور تمیز نہیں۔
(سورۃ الحجرات: ٤)
ترجمہ: بہتر تھا کہ وہ صبر کرتے اور جب آپ باہر نکلتے تو مل لیتے۔
(سورۃ الحجرات: ٥)
اس آیت سے پہلے کی آیت میں فرمایا۔ ترجمہ: ”اے مسلمانو! جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں عرض حال کرو تو اپنی آوازوں کو ان کی آواز سے بلند کر کے گفتگو نہ کرو اور نہ بہت زور سے بات چیت کرو۔ جیسا کہ تم آپس میں کیا کرتے ہو ایسا نہ ہو کہ اس گستاخی کے سبب سے تمھارے تمام اعمال ضائع جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو (سورۃ الحجرات آیت: ٢)
اللہ تعالیٰ کو اتنا بھی گوارا نہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جناب میں کوئی اونچی آواز سے گفتگو کرے۔ چہ جائیکہ تعظیم و تکریم کے بغیر نام لیا جائے۔
اللہ تعالیٰ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی عزت و احترام کی مثال کیوں نہ قائم کرتا جب کہ جس شہر کی خاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پائے اقدس سے مس ہوئی وہ بھی اس کو اس درجہ محبوب ہے کہ اس کی بھی قسم کھاتا ہے۔
ترجمہ: ”اے پیغمبر! میں شہر مکہ کی قسم کھاتا ہوں اس لیے کہ آپ اس میں مقیم ہیں۔
(سورۃ البلد‘ آیت ١‘٢)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ چلا ہوں‘ اللہ کی کتاب اور اپنی سنت‘ تم لوگ جب تک ان پر عمل کرتے رہو گے کبھی گمراہ نہیں ہو گے‘ اس لیے ان کو مضبوطی سے پکڑ لو۔“
حقیقت یہ ہے کہ بزم کائنات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس حسنِ ازل کا مظہرِ اتم اور شئونِ الٰہیہ کا آئینۂ اکمل ہیں۔ چاند کی دلفریبی‘ سورج کا جلال‘ شبنم کی پاک دامنی‘ نجم سحر کی رعنائی‘ غنچہ کا تبسم‘ قوسِ قزح کی رنگینی جہاں ختم ہوتی ہے وہاں سے شاہکارِ فطرت کے حسن و خوبی کا آغاز ہوتا ہے۔ بارہا چاند اپنی بھرپور چاندنی میں سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسنِ فروزاں کے سامنے گھٹنے ٹیک گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر ادا‘ ادائے خداوندی کا جلوہ اور ہر شان‘ شانِ الٰہی کا پرتو ہے۔ کائنات میں کمالاتِ ربانی اور ہدایتِ رحمانی کا ظہور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے وجودِ گرامی سے ہوا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اللہ تعالیٰ کی جمالی شان بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے اور جلالی شان بھی بدرجہ اکمل نمایاں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں وہی کچھ کیا جو صفاتِ الٰہیہ نے کرنا تھا۔ گویا صفاتِ الٰہی کا ظہور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے ہوا۔
خداوندِ قدوس نے اپنے پیغمبروں کو گوناگوں فضل و کرم کی شانوں سے آراستہ فرما کر انسانوں کی ہدایت اور قوموں کی رہنمائی کے لیے مبعوث فرمایا اور ان اولوالعزم پیغمبروں کے کمالات اور صفات کا تذکرہ قرآن مجید میں کیا۔ جس سے ان کی افضلیت‘ محبوبیت اور شان و شکوہ کا نمایاں اظہار ہوتا ہے‘ لیکن تاج محبوبیت صرف حضور سیّد المرسلین‘ سرور کائنات‘ فخر موجودات‘ احمد مجتبیٰ‘ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اقدس پر رکھا اور انبیاء علیہم السلام کے جملہ کمالات و صفات مجموعی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو عطا فرمائے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو سیّد المرسلین‘ خاتم النبیین کے معزز ترین خطابات سے نوازا گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت تکمیلِ ایمان کی نشانی ہے۔ اگر اس میں خامی ہوگی تو ایمان نامکمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت مومن کا گراں بہا سرمایہ
ہے اور کسی مومن کا دل اس سے خالی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی محبت مقصود حقیقی کے قرب اور اس کی ذات وصفات کے صحیح تصور کا واحد ذریعہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت ہوگی تو حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع اور اطاعت کا جذبہ پیدا ہوگا۔ قدرتی بات ہے کہ جس کے ساتھ محبت ہوا کرتی ہے اس کی ہر ادا پسند ہوتی ہے اور انسان دل و جان سے فدا ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اگر ہمارے عمل اور کام اسی طرح کے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیے ہیں یا حکم دیا ہے تو ہم ایمان دار ہیں۔ ورنہ نہ تم ہم غلامان رسول کہلانے کے حقدار ہیں اور نہ ہی ہمارا ایمان کامل ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جس پرہیز گاری اور خوش دلی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے تھے۔ اس کے متعلق احادیث میں نہایت کثرت کے ساتھ واقعات ملتے ہیں۔ مثلاً
ایک بار حضرت زینب اپنے کپڑے رنگوا رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں آئے تو اُلٹے پاؤں واپس چلے گئے۔ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگرچہ منہ سے کچھ نہیں فرمایا تھا تاہم حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ ناپسندیدگی کو تاڑ گئیں۔ انھوں نے فوراً تمام کپڑوں کے رنگ دھو ڈالے۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابیؓ کو ایک رنگین چادر اوڑھے ہوئے دیکھا تو فرمایا ”یہ کیا ہے۔“ وہ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسند فرمایا ہے۔ فوراً واپس گھر آئے اور اس کو چولہے میں ڈال دیا۔
(ابوداؤد کتاب اللباس)
حضرت خریم اسدیؓ ایک صحابی تھے جو نیچا تہ بند باندھتے تھے اور اسے لٹکا لٹکا کر چلتے تھے اور لمبے لمبے بال رکھتے تھے۔ ایک روز حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”اسدی کتنا اچھا آدمی ہے اگر لمبے بال نہ رکھتا اور تہ بند لٹکا کر نہ باندھتا۔“ اسدیؓ کو جب حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا علم ہوا تو انھوں نے فوراً قینچی منگوائی اس سے اپنے بال کاٹ ڈالے اور تہبند کو اونچا کر لیا۔
(ابوداؤد باب ماجاء فی اسبال الازار)
ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بازار میں سے گزر رہے تھے ایک گنبد نما مکان پر نگاہ پڑی تو پوچھا: ”یہ کس کا مکان ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری کا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کاش اسے آخرت کی بھی فکر ہوتی۔ مالک مکان کو جب حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناگواری کا علم ہوا تو فوراً کدال لے کر مکان کو بنیاد تک اکھاڑ دیا کہ جس مکان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا میں اس میں قیام نہیں کر سکتا۔ (ابو داؤد‘ کتاب الادب)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا سب سے نمایاں واقعہ تو وہ ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تین شخصوں سے گفتگو ممنوع قرار دی تھی جو غزوہ تبوک نہ جا سکے تھے۔ ان میں حضرت کعبؓ بھی شامل تھے۔ اس پر تمام صحابہؓ نے حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم مانا اور مدینہ ان تینوں کے لیے شہر خموشاں بن گیا‘ جہاں کوئی ان سے بات کرنے والا اور بات کا جواب دینے والا نہ تھا۔ حضرت کعبؓ کہتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تینوں سے گفتگو منع فرمادی تھی۔ لوگ ہم سے کترانے لگے اور ان کی نگاہیں بدل گئیں۔ حتیٰ کہ مجھے زمین تنگ محسوس ہونے لگی۔ گویا وہ زمین ہی نہ تھی جس کو میں جانتا تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگوں کی میرے ساتھ بے رخی بہت بڑھ گئی تو میں اپنے جگری دوست اور چچا زاد بھائی ابو قتادہ کے پاس ان کے باغ میں دیوار پھاند کر ملنے چلا گیا۔ میں نے ان کو سلام کیا‘ قسم خدا کی! انھوں نے مجھے جواب بھی نہ دیا تو میں نے ان سے کہا: ”اے ابو قتادہ! میں تم کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں‘ کیا تم کو علم ہے کہ میں اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔“ وہ خاموش رہے۔ میں نے پھر اپنی بات دھرائی‘ ان کو اللہ کا واسطہ دیا‘ لیکن وہ پھر خاموش رہے۔ میں نے جب کئی بار ان کو واسطہ دے کر بار بار اپنی محبت کا اظہار کیا تو وہ بولے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ علم ہے اور پھر خاموش ہو کر آنکھیں دوسری طرف پھیر لیں۔ میری آنکھیں بھر آئیں اور میں پلٹ پڑا اور دیوار پھاند کر اسی طرح باہر نکل گیا۔“
عین اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد آتا ہے اور کہتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم کو حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیوی سے بھی علیحدہ رہو۔ پوچھا! طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ وہ بولا نہیں بلکہ صرف الگ رہو‘ تو انھوں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا اپنے والدین کے پاس چلی جاؤ‘ انہی کے پاس رہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں کچھ فیصلہ کر دے۔ (بخاری)
اس کے باوجود ان کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اتنی محبت و تعلق تھا کہ عین انہی ایام میں غسان کا عیسائی بادشاہ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور اپنے دربار کی پیش کش کرتا ہے۔ اس زمانے میں حقیقتاً یہ سخت آزمائش تھی، لیکن وہ رد کر دیتے ہیں۔ ”وہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں مدینہ منورہ کے بازار سے گزر رہا تھا تو اسی بادشاہ کا ایلچی ایک خط میرے حوالے کرتا ہے۔ میں نے جب اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا۔
”ہم کو یہ خبر ملی ہے کہ تمھارے آقا نے تم سے بے رخی اختیار کر لی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم کو ذلت کے لیے نہیں رکھا اور وہ تم کو ضائع کرنا نہیں چاہتا ہے۔ بس تم ہم سے مل جاؤ۔ ہم تمہارا بہت خیال کریں گے۔“
وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ خط پڑھا تو میں نے سوچا۔ یہ بھی ایک آزمائش ہے۔ میں نے اس خط کو تنور میں ڈال دیا۔
مثلاً: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں تمام صحابہ کرام میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاص طور پر ممتاز تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب آخری حج فرمایا تھا تو وہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے۔ جہاں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سفر میں اترے تھے یا نماز پڑھی تھی یا کسی مقام پر آرام فرمایا تھا۔ حضرت ابن عمر ہمیشہ ان ان مقامات کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہی کچھ کیا کرتے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا، میں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے، اسی لیے میں بھی اس کو پسند کرتا ہوں۔
شاید کہ وہ گزرے ہوں اسی رہگزر سے
ایک بار ابن عمر سفر میں تھے۔ دیکھا کہ کچھ لوگ نفل پڑھ رہے ہیں۔ اپنے رفیق سفر سے کہنے لگے کہ: ”اگر مجھے نفل پڑھنے ہوتے تو میں نماز ہی کیوں نہ پوری پڑھ لیتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت سے زیادہ کبھی نہیں پڑھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر کیا ہے۔ انھوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ کبھی نہیں پڑھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر کیا ہے انھوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ کبھی نہیں پڑھی اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”تمھارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ذات پاک میں تقلید کے لیے بہترین مثال ہے۔“
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو مسکرا دیتے تھے۔ ان کی بیوی نے مذاقاً کہا کہ:
اس عادت کو ترک کر دیجئے تو وہ بولے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب کوئی بات کہتے تو مسکرا دیتے تھے تو میں اس عادت کو کیسے چھوڑ دوں؟
ایک بار حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوار ہونے لگے تو رکاب میں بسم اللہ کہہ کر پاؤں رکھا۔ جب بیٹھ گئے تو الحمدللہ کہا۔ اس کے بعد آیت پڑھی۔
سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ.
پھر تین بار ”الحمدللہ“ اور تین بار اللہ اکبر کہا۔ اس کے بعد یہ دعا پڑھی۔
سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ.
پھر ہنس پڑے۔ لوگوں نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے۔ ”ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح سوار ہوئے اور آخر میں ہنس پڑے۔ میں نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو فرمایا‘ کہ جب بندہ پورے علم اور یقین کے ساتھ یہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت خوش ہوتے ہیں (ابوداؤد کتاب الجہاد)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کانوں کو صرف اور صرف قرآن کریم کی آواز ہی خوش آئند معلوم ہوتی تھی‘ اس لیے وہ سارنگی باجے اور چنگ و رباب کی آواز پر کان نہیں دھرتے تھے۔ ایک بار حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے طبل (ڈھول) کی آواز سنی تو کان بند کر لیے اور فرمایا۔ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ (ابن ماجہ)
ایک بار اونٹ پر سوار جا رہے تھے چرواہے کی بانسری کی آواز کان میں آئی تو فوراً کانوں میں انگلیاں دے لیں اور پہلا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیا اور بار بار اپنے خادم نافع سے پوچھتے جاتے تھے کہ آواز آتی ہے کہ بند ہو گئی ہے۔ جب انھوں نے کہا کہ نہیں آتی‘ تو کانوں سے انگلیاں نکال لیں اور کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کے موقع پر ایسا ہی کیا تھا (طبقات ابن سعد)
ایک بار بازار سے گزر رہے تھے تو دیکھا کہ مغنیہ گا رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ذات پاک میں تقلید کے لیے
اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو مسکرا دیتے تھے۔ ان کی بیوی
پوچھتے تو وہ بولے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسکرا دیتے تھے تو میں اس عادت کو کیسے چھوڑ دوں؟ ی اللہ تعالیٰ عنہ سوار ہونے لگے تو رکاب میں بسم اللہ کہہ کر کہا۔ اس کے بعد آیت پڑھی۔ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ. تین بار اللہ اکبر کہا۔ اس کے بعد یہ دعا پڑھی۔ مْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ. نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے۔ ”ایک بار رسول اللہ صلی ہوئے اور آخر میں ہنس پڑے۔ میں نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو یقین کے ساتھ یہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت خوش
کے کانوں کو صرف اور صرف قرآن کریم کی آواز ہی خوش سارنگی باجے اور چنگ و رباب کی آواز پر کان نہیں دھرتے نے طبل (ڈھول) کی آواز سنی تو کان بند کر لیے اور فرمایا۔ مناہی کرتے تھے۔ (ابن ماجہ) جا رہے تھے چرواہے کی بانسری کی آواز کان میں آئی تو فوراً پہلا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیا اور بار بار اپنے خادم آتی ہے کہ بند ہو گئی ہے۔ جب انھوں نے کہا کہ نہیں آتی، تو ہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کے موقع پر
رہے تھے تو دیکھا کہ مغنیہ گا رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا: ”اگر شیطان کسی کو بہکانے سے رک جاتا تو اس کو نہ بہکاتا۔ (الادب المفرد)
ایک بار ایک گھر میں تقریب تھی اور ایک شخص گا رہا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیکھا کہ وہ گردن ہلا ہلا کے گا رہا ہے، تو فرمایا۔ اُف یہ شیطان ہے، اس کو نکالو، اس کو نکالو۔“
اطاعت رسول اور فوری تعمیل حکم کی ایک مثال وہ واقعہ ہے جو شراب کے حرام ہونے کے وقت پیش آیا ہے۔ حضرت ابو بردہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”ہم مجلس میں بیٹھے شراب پی رہے تھے کہ میرا جی چاہا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضری دوں اور سلام کروں۔ جب وہاں پہنچا تو شراب کے حرام ہونے کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ جس کی تفصیل سورۂ مائدہ میں ہے۔ میں یہ حکم سن کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور قرآن پاک کی آیت پڑھی۔ ”ھل انتم منتھون.“ ’کیا تم رک جاؤ گے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے ہاتھ میں پیالا تھا، کچھ پی چکے تھے اور کچھ باقی تھے، جو شراب ہونٹوں میں پہنچ چکی تھی وہ بھی تھوک دی گئی، لوگوں نے مٹکے توڑ دیے پیالے ہاتھ سے گرا دیے اور مدینہ کی گلیوں میں شراب اس طرح بہتی پھرتی تھی جیسے سیلاب کا پانی بہتا ہے۔
(بخاری کتاب التفسیر سورۂ مائدہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبویؐ میں نماز میں آنے جانے کے لیے عورتوں کے لیے ایک دروازہ مخصوص کر دیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی اتنی پابندی کی کہ تادمِ مرگ اس دروازے سے مسجد میں داخل نہیں ہوئے۔
(ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شوہر کے علاوہ دوسرے عزیزوں کے سوگ کے لیے صرف تین دن مقرر فرمائے تھے۔ صحابیاتؓ نے اس کی شدت کے ساتھ پابندی کی۔ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کے بھائی (حضرت عبداللہ بن جحش شہداء احدؓ) کا انتقال ہو گیا تو انھوں نے چوتھے دن خوشبو منگا کر لگائی اور کہا کہ مجھے اس کی ضرورت تو نہیں تھی، لیکن میں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منبر پر سنا ہے کہ کسی مسلمان عورت کو شوہر کے سوا تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے میں نے اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حکم کی تعمیل میں ایسا کیا ہے (ابو داؤد کتاب الطلاق)
حضرت حذیفہؓ کے سامنے مدائن کے ایک رئیس نے چاندی کے ایک برتن میں پانی پیش کیا‘ انھوں نے اُٹھا کر پھینک دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کے برتن میں کھانے پینے سے منع فرمایا ہے
(ابوداؤد‘ کتاب الاشربہ)
حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جماعت کے انتظار میں صحابہ کرام سخت تکلیفیں برداشت کرتے تھے لیکن اس کی پابندی میں کوئی فرق نہیں آتا تھا۔ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی کام پیش آ گیا۔ اس لیے عشاء کی نماز میں بہت تاخیر ہو گئی۔ یہاں تک کہ صحابہ کرام سو گئے لیکن نماز کا روحانی ثواب کیوں کر بھلایا جا سکتا تھا‘ پھر جاگے‘ پھر سوئے‘ پھر اُٹھے‘ پھر نیند آ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے تو ارشاد فرمایا ”آج دنیا میں تمھارے سوا کوئی دوسرا نماز کا انتظار نہیں کرتا۔“
(ابوداؤد)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نمازِ عشاء کا انتظار اتنی دیر تک کرتے تھے کہ نیند کے مارے ان کی گردنیں جھک جھک جاتی تھیں۔
(ابوداؤد‘ کتاب الطہارۃ)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس قدر محبت تھی کہ وہ مختلف طریقوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے برکت حاصل کرتے رہتے تھے۔ مثلاً بچے بیمار پڑتے یا پیدا ہوتے تو ان کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتے‘ اپنے دہن مبارک میں کھجور ڈال کر اس کے منہ میں ڈالتے اور اس کے لیے برکت کی دعا مانگتے۔ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار پڑا تو میری خالہ مجھ کو حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا فرمائی۔ اس کے بعد حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا پانی پیا۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام رکھا۔ اپنے منہ میں کھجور ڈال کر اس کے منہ میں ڈالی اور اس کو برکت کی دعا دی۔
(بخاری کتاب الدعوات)
نمازِ فجر کے بعد صحابہ کرام برتنوں میں پانی لے کر حاضر ہوتے تو حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ان میں دست مبارک ڈال دیتے۔ وہ متبرک ہو جاتا۔ (مسلم کتاب الفضائل) جب پھل پک جاتے تو سب سے پہلا پھل حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برکت کی دعا فرماتے اور مجلس میں سب سے چھوٹے بچے کو عطا فرما دیتے (سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمہ)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نکالا اس طرح کا بچا کھچا پانی صحابہ کرام کے لیے آب حیات تھا‘ جس پر وہ جان دیتے تھے۔ صحابہ نے اس پانی کو جھپٹ کر لیا۔ (نسائی کتاب الطہارت)
ایک دن حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا۔ پانی بچ گیا تو صحابہ کرام نے اس کو لے کر جسم پر مل لیا۔ (بخاری‘ کتاب الوضو)
ایک بار حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے موئے مبارک کٹوائے۔ صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے۔ حجام بال کاٹتا جاتا تھا اور صحابہ کرام اوپر ہی اوپر سے بالوں کو اُچک لینا چاہتے تھے۔ (مسلم‘ کتاب الفضائل)
ایک بار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سعد کے گھر تشریف لے گئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا۔ انھوں نے آہستہ سے جواب دیا۔ ان کے صاحبزادے نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی دعوت کیوں نہیں دیتے۔ وہ بولے چپ رہو مقصد یہ ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر بار بار سلام کریں۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ سلام کیا‘ پھر اسی قسم کا جواب ملا۔ تیسری بار سلام کر کے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے تو حضرت سعد پیچھے پیچھے دوڑے ہوئے آئے اور عرض کیا کہ: ”میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام سنتا تھا‘ لیکن جواب اس لیے آہستہ دیتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر بار بار سلامتی بھیجیں۔ (ابوداؤد کتاب الادب)
ایک بار حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی پیشانی پر ہاتھ پھیر دیا۔ ان کے بعد انھوں نے عمر بھر نہ تو سر کے آگے کے بال کٹوائے اور نہ مانگ نکالی‘ بلکہ ان بالوں کو متبرک یادگار کے طور پر ہمیشہ قائم رکھا (ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اکثر یادگاریں صحابہ کرام کے پاس موجود تھیں‘ جن کو وہ جان سے زیادہ عزیز رکھتے تھے اور ان سے برکت حاصل کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک جبہ مبارک تھا۔ جب کوئی آدمی بیمار ہوتا تھا تو شفاء حاصل کرنے کے لیے وہ دھو کر اس کا پانی پلاتی تھیں۔
(مسند ابن
حنبل ج:٤ ص:٣٤٨)
حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت انسؓ کے گھر تشریف لاتے تھے تو ان کی والدہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ اطہر کو ایک شیشی میں بھر کر خوشبو میں ملا دیتی تھیں۔ چنانچہ جب حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتقال کیا تو انھوں نے وصیت کی کہ وہ خوشبو ان کے کفن چہرے اور جسم پر لگائی جائے۔
(بخاری کتاب الاستئذان)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند موئے مبارک حضرت اُم سلمہؓ نے بطور یادگار محفوظ رکھے تھے۔ جب کوئی شخص بیمار ہوتا تھا تو ایک برتن میں پانی بھر کر بھیج دیتا تھا اور وہ اس میں موئے مبارک کو غسل دے کر واپس کر دیتی تھیں جس کو وہ شفا حاصل کرنے کے لیے پی جاتا تھا یا اس سے غسل کر لیتا تھا۔ اس سے شفا ہو جاتی تھی۔
(بخاری کتاب اللباس)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب و احترام کرتے تھے۔ اس کا اظہار سینکڑوں طریقہ سے ہوتا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو دربار نبوت کے ادب و عظمت کے لحاظ سے خاص طور پر کپڑے زیب تن کر لیتے۔
(ابوداؤد کتاب الطلاق)
وہ طہارت کے بغیر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصافحہ کرنے کی جسارت نہ کرتے تھے۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھتے تو فرط ادب سے تصویر بن جاتے۔ ان کی حالت یہ ہوتی تھی کہ کانما علی رؤسہم الطیر ”گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ۔“ اگر کبھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کھانے کا اتفاق ہوتا تو جب تک حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانا شروع نہ کرتے تو تمام صحابہ کرامؓ فرط ادب سے کھانے میں ہاتھ نہ ڈالتے۔
(ابوداؤد کتاب الاطعمۃ)
اس ادب و احترام کا نتیجہ یہ تھا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں کسی قسم کی سوء ادبی گوارا نہ کرتے تھے۔
(مسلم کتاب الاشربہ)
صحابہ کرامؓ کے گھر میں بچے پیدا ہوتے تو ادب سے ان کے نام ”محمد“ نہ رکھتے تھے۔
پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک جبہ مبارک تھا۔ جب نے کے لیے وہ دھو کر اس کا پانی پلاتی تھیں۔
(مسند ابن
لہ وسلم حضرت انس کے گھر تشریف لاتے تھے تو ان کی کے پسینہ اطہر کو ایک شیشی میں بھر کر خوشبو میں ملا دیتی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتقال کیا تو انھوں نے وصیت کی کہ وہ جائے
(بخاری کتاب الاستذان )
م کے چند موئے مبارک حضرت ام سلمہ نے بطور یادگار ہوتا تھا تو ایک برتن میں پانی بھر کر بھیج دیتا تھا اور وہ اس کر دیتی تھیں جس کو وہ شفا حاصل کرنے کے لیے پی جاتا عطا ہو جاتی تھی۔
(بخاری کتاب اللباس )
طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب واحترام نہ سے ہوتا تھا۔ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو دربار نبوت کے ادب و زیب تن کر لیتے ۔
(ابوداؤد کتاب الطلاق )
ں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا اور نافر کرنے کی جسارت نہ کرتے تھے۔
لہ وسلم کے سامنے بیٹھتے تو فرط ادب سے تصویر بن کانما علی روسہم الطیر ”گویا ان کے سروں پر ر پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کھانے کا اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانا شروع نہ کرتے تو تمام صحابہ کرام ۔
(ابوداؤد کتاب الاطعمہ )
تھا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں کسی
م کتاب الاشربہ )
پیدا ہوتے تو ادب سے ان کے نام ”محمد“ نہ رکھتے تھے۔
اس پر حضور پر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو۔
(ابوداؤد کتاب الطب )
ایک شخص کا نام ”محمد“ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک آدمی اس کو گالی دے رہا ہے۔ آپ نے اسے بلا کر فرمایا کہ ”دیکھو تمھاری وجہ سے ”محمد“ کو گالی دی جارہی ہے۔ اب تا دمِ مرگ اس نام سے پکارے نہیں جاسکتے۔ چنانچہ اسی وقت اس کا نام ”عبدالرحمٰن“ رکھ دیا گیا۔ پھر بنوطلحہ کے پاس پیغام بھیجا کہ جو لوگ اس نام کے ہوں‘ سب کے نام بدلے جائیں۔ اتفاق سے اس نام کے سات آدمی تھے اور ان کے سردار کا نام بھی محمد تھا۔ لیکن اس نے کہا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نام ”محمد“ رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ اب میرا اس پر کچھ زور نہیں چل سکتا۔“
(مسند ابن حنبل‘ ج:٤، ص ٢١٦)
شادی بیاہ کا معاملہ نہایت نازک ہوتا ہے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اطاعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان معاملات میں غور وفکر کرنے سے بے نیاز کر دیا تھا۔ حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ ایک نہایت مفلس صحابی تھے۔ ایک بار حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نکاح کرنے کا مشورہ دیا اور فرمایا کہ ”جاؤ انصار کے فلاں قبیلہ میں نکاح کر لو۔“ وہ وہاں گئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تمھارے یہاں فلاں لڑکی سے نکاح کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ سب نے ان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایلچی ناکام واپس نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ انھوں نے فوراً حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کی۔
(مسند احمد بن حنبل‘ ج:٤‘ ص:٥٨)
پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت
اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لیتا ہے اور اپنی دلی خواہشات خود غرضی اور نام ونمود کی پروا نہیں کرتا۔ یہی اس کے کامل ایمان دار ہونے کی نشانی ہے۔ اس میں اس کی عزت ہے اور اسی میں اس کی کامیابی ہے‘ کیونکہ محبت کا تقاضا یہی ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل تابعداری اور اتباع کی جائے اور ان کی ہر بات کو تسلیم کیا جائے اور جتنی بھی خلافِ شرع باتیں ہیں ان کو ترک کر دیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے اسوۂ حسنہ پر عمل کیا جائے۔
اجرائے نبوت پر الفضل کے دلائل اور ان کے جوابات
مولانا محمود احمد رضویؒ
پہلی دلیل:
اللّٰهُ يَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ پ ١٧ ع ١٧
(ترجمہ) اللہ ہی چنتا ہے یا چنے گا فرشتوں میں سے رسول اور انسانوں میں سے۔“
اس آیت میں یصطفی مضارع کا صیغہ ہے جو حال اور استقبال دونوں کے لئے آتا ہے۔ پس یصطفی کے معنی ہیں چنتا ہے یا چنے گا مگر اس آیت میں یصطفی سے حال مراد نہیں لیا جاسکتا لفظ رسل جمع ہے اس سے مراد آنحضرت واحد نہیں ہو سکتے۔ پس ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے اور یصطفی مستقبل کے لئے ہے۔
الجواب: مرزائیو! ہوش کرو کہاں مسئلہ ختم نبوت کے صریح دلائل اور کہاں اس قسم کی یہودیانہ تحریفات ”إِذَا فَاتَكَ الْحَيَاءُ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ“ تم یصطفی کا زمانہ حال میں اس لئے ترجمہ نہیں کرتے کہ آنحضرت ﷺ چونکہ واحد ہیں وہ اس کے مصداق نہیں بن سکتے یہ تو بتاؤ کہ پھر مرزا اس کا مصداق کس طرح بن جائے گا کیا وہ جمع ہے پھر یہ دیکھئے کہ آیت مذکورہ میں انبیاء پر نازل ہونے والے فرشتے کو بھی تو جمع کے صیغے سے بیان کیا گیا ہے کیا انبیاء پر دو چار فرشتے اترتے تھے۔ انبیاء تو پھر بھی ہزار ہا ہوئے ہیں لیکن ان پر نازل ہونے والا فرشتہ تو صرف ایک ہی ہے جیسا کہ تمہاری پاکٹ بک کے ٥٣٣ پر ہے۔ جبرائیل انبیاء کی طرف وحی لانے پر مقرر ہیں ان کے سوا کوئی دوسرا فرشتہ اس کام پر مقرر نہیں۔ قرآن پاک بھی شاہد ہے کہ نَزَّلَهُ عَلٰی قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ (جبرائیل نے) اس قرآن کو تیرے
قلب پر اتارا ہے۔
”رسولوں کی ق جبرائیل علیہ السلام کے ا اوہام ص ٥٣٣/١ ، ٢/
پس جب کہ ذکر کیا گیا ہے تو پھر آنح اعتراض کی حقیقت تو واض نہیں لئے جا سکتے اور اگ چنے گا فرشتوں میں سے نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ عل یہی لکھا ہے کہ مضارع ح گیا کہ اگر یصطفی کا ترج مذکورہ کے معنے یہ ہوں گ کیونکہ سرور انبیاء اس وق عقلاً ونقلاً مردود ہے۔
اس آیت کا میں کلام الٰہی میں تعارض المبین ہونا ثابت کرنا ہ ہے جیسا کہ خداوند تعالیٰ كَثِيْراً پ ٥ ع ١٩ جاتا تو باری تعالیٰ نے م معلوم ہوا کہ اس میں مخا کا ترجمہ چنتا ہے کریں۔
آیت کا مفہو جب منکرین اسلام کے
قلب پر اتارا ہے۔
”رسولوں کی تعلیم اور اعلام کے لئے یہی سنت اللہ قدیم سے جاری ہے جو بواسطہ جبرائیل علیہ السلام کے اور بذریعہ آیات ربانی کلام رحمانی کے سکھائے جاتے ہیں ۔“ ازالہ اوہام ص ٥٣٤/١ ‘ ٢٢١/٢ ۔
پس جب کہ پیغام رساں فرشتے کو باوجود واحد ہونے کے جمع کے صیغہ رسل سے ذکر کیا گیا ہے تو پھر آنحضرت پر اس کا استعمال کیوں ناجائز ہے۔ الحمد للہ کہ مرزائیوں کے اعتراض کی حقیقت تو واضح ہوگئی کہ آیت میں جمع کا صیغہ ہے اس لئے آنحضرت واحد مراد نہیں لئے جا سکتے اور اگر آیت کا وہی ترجمہ کیا جائے جو کہ مرزائی کرتے ہیں یعنی اللہ ہی چنے گا فرشتوں میں سے رسول اور انسانوں میں سے تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں چنتا ہے نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ علم صرف کی کتابوں میں میزان الصرف سے لے کر فصول اکبری تک یہی لکھا ہے کہ مضارع حال یا استقبال کے لئے آتا ہے۔ نہ کہ دونوں کیلئے اکٹھا تو معلوم ہو گیا کہ اگر یصطفیٰ کا ترجمہ چنے گا کیا جائے تو چنتا ہے کرنا ناجائز ہوگا اس صورت میں آیت مذکورہ کے معنے یہ ہوں گے کہ اللہ رسول کو چنے گا اب تک چنا نہیں حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ سرور انبیاء اس وقت موجود تھے اور آیت بھی انہیں پر نازل ہوئی معلوم ہوا کہ یہ ترجمہ عقلاً ونقلاً مردود ہے۔
اس آیت کا ترجمہ چننے گا کرنے میں دوسرا استحالہ یہ لازم آتا ہے کہ اس صورت میں کلام الہی میں تعارض لازم آئے گا اس لئے ہم پہلے متعدد آیت قرآنی سے حضور کا خاتم النبین ہونا ثابت کر آئے ہیں اور حالت تعارض میں کلام ربانی کا من جانب اللہ ہونا محال ہے جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے خود فرمایا: لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيراً پ ٥ ع ١٩ اگر قرآن مجید غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں مخالف وتناقض پایا جاتا تو باری تعالیٰ نے عدم مخالف کو اس کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل ٹھہرایا ہے پس معلوم ہوا کہ اس میں مخالف و تناقص نہیں اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب ہم آیت کا ترجمہ چنتا ہے کریں۔ فالحمد لله على ذالك۔
آیت کا مفہوم تو صرف اس قدر ہے جو کہ سیاق وسباق کلام سے واضح ہے کہ جب منکرین اسلام کے روبرو کلام خداوندی پڑھا جاتا۔ تو وہ نہ صرف بگڑتے بلکہ مارنے کو
دوڑتے خدا نے فرمایا تم اس قدر کیوں بگڑتے اور برہم ہوتے ہو کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری مرضی کے مطابق رسول بنا کر بھیجا جاتا۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کیونکہ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (پ ٨ ع ٣) اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے اس میں تمہاری عقل نارسا کو کوئی دخل نہیں اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ ہی چنتا ہے فرشتوں میں سے رسول جو اس کے احکام انبیاء کے پاس لاتے ہیں اور انسانوں میں رسول چنتا ہے جو تبلیغ کا کام کرتے ہیں، الغرض اس آیت میں آئندہ رسولوں کے آنے کا کوئی ذکر نہیں اور اگر بالفرض محال ہو بھی تو نبی تشریعی کا نہ کہ غیر تشریعی کا اور نبی تشریعی کا آنا تمہارے نزدیک بھی ممکن نہیں۔ چنانچہ اس صورت میں یہ آیت تمہارے خلاف بھی جائے گی۔
”اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کر دیا۔“
دوسری دلیل:
يٰبَنِیْ اٰدَمَ اِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ (پ ٨ ع ١١)
ترجمہ: ”اے بنی آدم البتہ ضرور آویں گے تمہارے پاس رسول۔“
یہ آیت آنحضرتؐ پر نازل ہوئی اس میں تمام انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے یہاں یہ نہیں لکھا ہم نے گزشتہ زمانہ میں یہ کہا تھا سب جگہ آنحضرت اور آپؐ کے بعد کے زمانہ کے لوگ مخاطب ہیں (سبز پاکٹ بک احمدیہ ٥٠٣۔)
اس آیت سے بھی اجراء نبوت پر استدلال چند وجوہ سے باطل ہے۔
اولاً: اس لئے کہ مرزا اور اس کے ہمنواؤں کے نزدیک رسول سے مراد محدث اور مجدد بھی ہو سکتا ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔
اقوال مرزا:
رسول سے ہر جگہ مراد خدا کا رسول نہیں کیونکہ اس لفظ میں محدث اور مجدد بھی شامل ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے:
- ١. فَلَا يُظْهِرُ عَلٰی غَيْبِهِ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ.
رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی محدث داخل ہیں ۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٢)
- ٢۔ کامل طور پر غیب کا بیان کرنا صرف رسولوں کا کام ہے دوسرے کو یہ مرتبہ عطا نہیں
ہوتا رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں خواہ نبی ہوں یا رسول یا محدث یا مجدد ہوں (ایام صلح حاشیہ ص ١٧١)
- ٣۔ مرسل ہونے میں نبی اور محدث ایک ہی منصب رکھتے ہیں اور جیسا کہ خدا تعالیٰ
نے نبیوں کا نام مرسل رکھا۔ ایسا ہی محدثین کا نام مرسل رکھا اور اسی اشارہ کی غرض سے قرآن شریف میں وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ آیا ہے اور یہ نہیں آیا وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالْاَنْبِيَاءِ پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہو یا نبی یا محدث ہوں چونکہ ہمارے سید و رسول خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں ۔ (شہادت القرآن ص ٢٧)
مرزائیوں کی ان تصریحات سے واضح ہو گیا ہے کہ ان کے نزدیک رسول سے مراد محدث بھی ہو سکتا ہے اور مجدد بھی۔ چنانچہ مرزائیوں کے خیال فاسد کے مطابق اس آیت میں رسول سے مراد کوئی نبی یا مجدد یا محدث ہو سکتا ہے۔ اس لئے اس آیت سے مرزائیوں کا تخصیص کے ساتھ یہ استدلال کہ نبی غیر تشریعی آسکتا ہے باطل ہوا۔
واضح رہے کہ مسلمانوں کے نزدیک (رسول) سے مراد محدث یا مجدد لینا جائز نہیں ہے ۔
ثانياً: اگر بالفرض محال آیت مذکور سے جریان نبوت کا ثبوت ملتا ہے تو نبوت تشریعی کا نہ کہ غیر تشریعی کا جو امر نبی تشریعی کے آنے سے مانع ہے وہی غیر تشریعی نبی کے آنے سے مانع ہے۔ فَمَا هُوَ جَوَابُكُمْ فَهُوَ جَوَابُنَا ۔
ث ثالثاً: اِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ میں اگر ہمیشہ رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے تو اِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّیْ هُدًی میں دوامی طور پر ہدایتوں کے آنے کا وعدہ ہے اگر آپ کے بعد رسول
آسکتے ہیں تو قرآن مجید کے بعد کتاب بھی آسکتی ہے۔
متنبی غلام احمد کا قول:
(خدا) وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت کے کوئی رسول بنا کر نہیں بھیجا جائے گا۔
(ازالہ اوہام ص ٥٨٦)
تیسری دلیل:
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (پ ١ ع ١)
مرزائیوں کے استنباطات عجیبہ سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے سورہ فاتحہ سے جریان نبوت کی دلیل پکڑی ہے صورت استدلال یوں بیان کی جاتی ہے کہ جن لوگوں پر خدائے تعالیٰ کے انعامات ہیں وہ چار ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے:
وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيْنَ وَحَسُنَ اُولٰئِكَ رَفِيْقًا (پ ۔ ٥)
یعنی وہ لوگ خدا اور رسول کے کہنے پر چلے تو ان کو ان لوگوں کا ساتھ نصیب ہوگا جن پر خدا نے انعام کیا ہے اور وہ انبیاء ہیں اور صدیقین ہیں اور شہداء ہیں اور صالحین ہیں اور یہ سب اچھے رفیق ہیں۔
مرزائی کہتے ہیں کہ جب ہم اللہ اور رسول کی اطاعت بھی کرتے ہیں اور صراط الذین انعمت علیہم سے دعا بھی کرتے ہیں اور اس سے ہم صدیقیت اور شہادت اور صالحیت کے مقام پر ترقی کر سکتے ہیں تو ان سب کے ساتھ انبیاء کی رفاقت کا بھی ذکر ہے تو اگر آنحضرت کے بعد نبوت بالکل بند ہو اور کوئی شخص بھی نبی نہ بن سکے تو یہ دعا بھی اکارت جائے گی اور اطاعت بھی بے ثمر رہے گی پس لازم ہے کہ اس دعا کی قبولیت اور اس کی اطاعت کا ثمر درجہ نبوت کی عطا کی صورت میں بھی ہو (اعجاز المسیح مصنف مرزا صاحب)
جواب: مرزائیوں کا یہ استنباط و استدلال بوجوہ از سرتاپا باطل محض ہے اس لئے کہ۔
- ١۔ یہ استنباط متعدد آیات قرآنیہ کے خلاف اور کثیر التعداد احادیث نبوی صریحیہ کے
منافی ہے اور جو استنباط قرآن وحدیث کے خلاف ہو وہ باطل ہوتا ہے نیز اس آیت میں دنیا کے اندر نبوت وغیرہ کے مقام ملنے کا کوئی ذکر نہیں بلکہ یہ ہے کہ جو شخص مومن ہے وہ آخرت میں انبیاء وصدیق وشہداء صالحین کے ساتھ ہوگا چنانچہ اگلے الفاظ حَسُنَ اُولٰئِكَ رَفِيْقاً رفاقت پر دال ہیں اور آیت میں مع کا لفظ بھی موجود ہے۔ جس کے معنی ہیں ساتھ کے۔ خود مرزائی مانتا ہے کہ مع کے معنی ساتھ کے بھی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ کہ خدا نیک لوگوں کے ساتھ ہے (پاکٹ بک ص ٥٠٣۔)
مرزائی کہتے ہیں کہ اگر اس جگہ مع کے معنی ساتھ کے لئے جائیں تو مسلمانوں کو کوئی درجہ بھی نہ ملا نہ صدیقیت کا نہ شہادت کا نہ صالحیت کا یہ محض ان کے ساتھ جوتیاں چٹاتے پھریں گے۔
جواب: مرزائیو اس آیت میں درجات کے ملنے کا ذکر نہیں اور نہ ہی درجات کی نفی ہے یہاں تو صرف قیامت میں نیک رفاقت کی خوشخبری ہے ہاں کلام مقدس میں درجات کے ملنے کا دوسرے مقام پر یوں ذکر کیا گیا ہے۔ وَالَّذِينَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ فِي الصَّالِحِيْنَ جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے وہ صالحین میں داخل کئے جائیں گے۔
- ٢۔ اس لئے کہ آیت زیر بحث یعنی صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں مُنْعَمْ عَلَيْهِمْ کی راہ پر
چلنے کی دعا ہے نہ کہ نبی بننے کی جس کے یہ معنے ہیں کہ ان کی ہدایتوں پر عمل کریں اور ان کے طریق عمل کو نمونہ بنائیں جیسا کہ فرمایا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ یعنی تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ قابل اقتدا نمونہ ہیں اگر انبیاء کے راستے کا یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ ہم نبی بن جائیں تو کیا خدا کے راستے کی پیروی سے ہم خدا بھی بن سکیں گے دیکھئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاِنَّ
هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ یعنی میرا راستہ یہ ہے اس کی پیروی کرنا۔
- ٣۔ تیسری دلیل استدلال کے باطل ہونے کی یہ ہے کہ نبوت ایک وہبی چیز ہے کسبی
نہیں اگر نبوت کا ملنا دعاؤں اور التجاؤں پر موقوف ہوتا تو یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ضرور ملتی کیونکہ وہ بھی ہر نماز میں آیت مذکور پڑھا کرتے تھے۔
غور طلب نتائج:
- ١۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ یہ دعا سید کون و مکاں ﷺ نے بھی مانگی۔ بلکہ یہ
دعا مانگنا آپؐ نے ہی امت کو سکھایا لیکن یہ دعا آپؐ نے اس وقت مانگی۔ جب آپؐ نبی منتخب ہو چکے تھے اور آپؐ پر قرآن مجید اترنا شروع ہو گیا تھا۔ ظاہر ہوا کہ آپؐ اس دعا سے نبی نہیں ہوئے۔ پھر اس دعا کا فائدہ کیا ہوا۔
- ٢۔ اسلام نے عورتوں پر بھی یہ دعا ممنوع نہیں کی لیکن ایک عورت بھی نبیہ نہیں ہوئی۔
- ٣۔ نبوت یا شریعت بھی نعمت ہے بلکہ ڈبل نعمت مگر امت اس نعمت سے کیوں محروم
ہے اگر کہو کہ اب جدید شریعت یا کتاب اس لئے نازل نہیں ہو سکتی کہ شریعت قرآن مجید میں آ کر کامل ہو گئی ہے تو اسی طرح اب کوئی نبی اور رسول نہیں آ سکتا اس لئے کہ نبوت اور رسالت سردار انبیاء حبیب کبریا محمد مصطفیٰ ﷺ پر کامل ہو چکی ہے۔
چوتھی دلیل:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا (١٥ ع ٢) جب تک کوئی رسول نہ بھیج لیں ہم عذاب نازل نہیں کرتے موجودہ عذاب اس امر کا مقتضی ہے کہ خدا نے کوئی نہ کوئی رسول ضرور بھیجا ہے۔
جواب: اگر یہ تسلیم کر لیا جائے تو موجودہ عذاب منشی غلام احمد کے انکار کی وجہ سے ہے تو جو عذاب مرزا صاحب سے قبل نازل ہوتا رہا ہے وہ کس کے انکار کی وجہ سے تھا اگر کہو کہ وہ عذاب حضورؐ کے انکار کی وجہ سے تھا تو موجودہ عذاب حضورؐ کے انکار کی وجہ سے کیوں
مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ یعنی میرا راستہ یہ ہے اس کی پیروی کرنا۔ دلال کے باطل ہونے کی یہ ہے کہ نبوت ایک وہبی چیز ہے کسبی کا ملنا دعاؤں اور التجاؤں پر موقوف ہوتا تو یہ صحابہ کرام رضی اللہ ونکہ وہ بھی ہر نماز میں آیت مذکور پڑھا کرتے تھے۔
الْمُسْتَقِيمَ یہ دعا سید کون ومکاں ﷺ نے بھی مانگی۔ بلکہ یہ نے ہی امت کو سکھایا لیکن یہ دعا آپؐ نے اس وقت مانگی۔ بی ہو چکے تھے اور آپؐ پر قرآن مجید اترنا شروع ہو گیا تھا۔ اس دعا سے نبی نہیں ہوئے۔ پھر اس دعا کا فائدہ کیا ہوا۔ پر بھی یہ دعا ممنوع نہیں کی لیکن ایک عورت بھی نبیہ نہیں ہوئی۔ ی نعمت ہے بلکہ ڈبل نعمت مگر امت اس نعمت سے کیوں محروم ب جدید شریعت یا کتاب اس لئے نازل نہیں ہو سکتی کہ شریعت کر کامل ہو گئی ہے تو اسی طرح اب کوئی نبی اور رسول نہیں آسکتا ت اور رسالت سردار انبیاء حبیب کبریا محمد مصطفیٰ ﷺ پر کامل ہو
نَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُولًا (پ ١٥ ع ٢) جب تک کوئی رسول نہ بھیج لیں موجودہ عذاب اس امر کا مقتضی ہے کہ خدا نے کوئی نہ کوئی رسول
کر لیا جائے تو موجودہ عذاب منشی غلام احمد کے انکار کی وجہ سے سے قبل نازل ہوتا رہا ہے وہ کس کے انکار کی وجہ سے تھا اگر کہو کی وجہ سے تھا تو موجودہ عذاب حضورؐ کے انکار کی وجہ سے کیوں
نہیں ہو سکتا حضور سید یوم النشور ﷺ چونکہ تمام جہاں کی طرف رسول ہیں اس لئے تمام عذاب حضورؐ کے انکار کی وجہ سے ہے۔ (جیسے کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے) خدا وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت کے کوئی رسول بنا کر نہیں بھیجے گا (ازالہ اوہام ص ٥٨٦)
پانچویں دلیل:
فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ (پ ٢٠ ع ١٥) ہم نے اس کی (ابراہیم کی) اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت جاری ہے۔
جواب: اگر اس آیت سے نبوت جاری معلوم ہوتی ہے تو کتاب بھی جاری معلوم ہوتی ہے جو امر کتاب کے جاری ہونے سے مانع ہے وہی نبوت کے جاری ہونے سے مانع ہے۔
چھٹی دلیل:
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ط قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ط قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ط قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ (پ ١ ع ١٥)
ترجمہ ”اور جس وقت ابراہیم کے رب نے اس کو کئی باتوں کے ساتھ آزمایا ان کو پورا کیا کہا میں تجھ کو لوگوں کے واسطے امام کرنے والا ہوں‘ کہا میری اولاد سے‘ کہا میرا عہد ظالموں کو نہ پہنچے گا۔ اگر نبوت کو بند مانا جائے تو لازم آئے گا کہ یہ امت ظالم ہے۔“
جواب: اگر آیت کا مفہوم یہ ہو کہ غیر ظالم کو نبوت ضرور ملے گی تو کیا صحابہ کرام سے لے کر اب تک یہ امت ظلم کرتی رہی ہے۔ ہاں اگر حضورؐ کے بعد نبوت جاری ہوتی تو غیر ظالم کو مل سکتی تھی۔ مگر خدائے لایزال نے فرما دیا ہے کہ وَلٰكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (پ ٢٢ ع ٣) (مرزا صاحب لکھتے ہیں) یہ آیت صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی اکرم کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ (ازالہ اوہام ص ١١٨١) حضرت ابراہیمؑ نے دعا مانگی تھی جو قبول ہوئی مگر حضورؐ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ساتویں دلیل:
وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِىْ شَكٍّ مِّمَّا جَاءَكُمْ بِهٖ ط حَتّٰى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا (پ٢٤ ع٩)
(اے باشندگان مصر) تمہارے پاس حضرت یوسف علیہ السلام اس سے قبل روشن دلائل لے کر آئے پس تم اس سے جو وہ لے کر آئے شک ہی میں رہے حتیٰ کہ جس وقت وہ فوت ہو گئے تو تم کہنے لگے کہ خداوند تعالیٰ اس کے بعد اب ہرگز رسول نہ بھیجے گا ۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار مصر حضرت یوسف علیہ السلام پر نبوت کو ختم سمجھتے تھے اس آیت سے ثابت ہوا کہ ختم نبوت کا عقیدہ کفار کا ہے۔
جواب: یہ ان لوگوں کا مقولہ ذکر کیا گیا ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام پر ایمان نہ لائے تھے۔ انہوں نے از روئے کفر منشا خداوندی کے خلاف ایک عقیدہ قائم کر لیا تھا کہ حضرت یوسف خاتم النبیین ہیں حالانکہ خدا کے علم میں ابھی سینکڑوں انبیاء باقی تھے اور نہ ہی حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں خاتم النبیین ہوں بخلاف اس کے حضور خاتم النبیین ہونے کے مدعی ہیں۔ جیسا کہ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّنَ سے ظاہر ہے نیز یہ لوگ (آل فرعون) توحید خداوندی کے منکر تھے۔ یہ رسالت کے کس طرح قائل ہو سکتے تھے لہٰذا اہل اسلام کو کافروں پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔
ف: جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف اس امر کا اثبات جس کے وہ مدعی نہ تھے۔ (یعنی ختم نبوت) کافروں کا کام ہے ایسے ہی حضورؐ سے اس امر کا سلب کرنا جس کے آپ مدعی ہیں کافروں کا کام ہے۔
آٹھویں دلیل :
یٰاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا (پ١٨‘ ع٤)
ترجمہ ”اے رسولو پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو۔“
یہ جملہ اسمیہ ہے حال اور استقبال پر دلالت کرتا ہے اور لفظ رسل صیغہ جمع کم از کم
ایک سے زیادہ رسولوں کو چاہتا ہے اور آنحضرت تو اکیلے رسول تھے آپ کے زمانہ میں کوئی اور رسول نہ تھا لہذا ماننا پڑے گا کہ آپؐ کے بعد رسول آئیں گے ورنہ کیا خدا وفات یافتہ رسولوں کو کہہ رہا ہے کہ اٹھو کھانے کھاؤ۔ (پاکٹ بک مرزائیہ)
جواب: لفظ واحد کو جمع کے صیغے سے تعبیر کرنا صحیح ہے جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے ہم اختصاراً ایک آیت نقل کرتے ہیں:
وَاِذَا قَالَتِ الْمَلٰئِكَةُ يَا مَرْيَمُ.
اور جب کہا ملائکہ نے (یعنی جبرائیل) نے اے مریم اس آیت میں جبرائیل واحد ہے مگر اس پر ملائکہ کا اطلاق کیا گیا ہے جو کہ جمع ہے نیز مرزائی اپنی شب و روز کی بول چال تحریر و تقریر میں مرزا کے واحد ہونے کے باوجود جب کبھی اس کا نام لیتے ہیں تو جمع کے صیغے سے لیتے ہیں اگر ان سے سوال کیا جائے ۔ کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو تو وہ یہی کہیں گے کہ ہم مرزا کا نام تعظیماً جمع کے صیغے سے لیتے ہیں۔
مرزائیو! شرم کا مقام ہے کہ مرزا پر تو جمع کا اطلاق تعظیماً صحیح ہو مگر سید کونین ﷺ پر ممنوع، شرم شرم شرم۔
شرم بادا کہ ازیں راہ قدم باز کشی
جامی
چنانچہ علامہ اسمعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ آیت کے تحت لکھتے ہیں۔
اِنَّهُ خِطَابٌ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ وَحْدَهُ عَلٰی دَأْبِ الْعَرَبِ فِی مُخَاطَبِ الْوَاحِدِ بِلَفْظِ الْجَمْعِ لِلتَّعْظِيْمِ فِيْهِ اِبَانَةٌ لِفَضْلِهِ وَقِيَامِهِ مَقَامَ الْكُلِّ فِی حِيَازَةِ كَمَالَاتِهِمْ.
(تفسیر روح البیان ص ٧٨ ج ٢ آیت مذکورہ)
ترجمہ: ”اس آیت میں لفظ جمع کے ساتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام واحد تعظیماً مخاطب کئے گئے ہیں اور اس مخاطبہ میں حضور کے فضائل اور کمالات کا اظہار مقصود ہے تا کہ معلوم ہو جائے کہ حق جل مجدہ نے
جتنے کمالات جمیع انبیاء کرام صلوات اللہ علیہم اجمعین کو انفرادی صورت میں عطا فرما دیئے ہیں وہ سب آپؐ میں موجود ہیں۔“
آنچه خوباں همه دارند تو تنها داری
ان دلائل سے اس حقیقت کا انکشاف ہو گیا کہ اس آیت میں حضورؐ سے مخاطبہ فرمایا گیا ہے یہ آیت کسی جدید نبی کے آنے کی مقتضی نہیں۔
تحریف اول از احادیث:
لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيْمُ لَكَانَ صِدِّيْقًا نَبِيًّا
(ابن ماجہ)
اگر ابراہیم زندہ ہوتے تو ضرور وہ سچے نبی ہوتے
(پاکٹ بک مرزائیہ ص ٢٥١)
جواب: یہ حدیث ہی صحیح نہیں اس لئے کہ محدثین نے اس کی صحت میں ایک طویل کلام کیا ہے جہاں سے مرزائیوں نے اس حدیث کو نقل کیا ہے یعنی ابن ماجہ اس کے حاشیہ پر ہی لکھا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اس لئے کہ اس کا راوی ابو شیبہ بن عثمان ہے۔ شیخ عبد الغنی رحمۃ اللہ علیہ دہلوی مدنی محشی ابن ماجہ فرماتے ہیں: وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ النَّاسِ فِی صِحَّةِ هَذَا الْحَدِيْثِ كَمَا ذَكَرَهُ السَّيِّدُ جَمَالُ الدِّيْنِ الْمُحَدِّثُ یعنی بعض محدثین نے اس کی صحت میں کلام کیا ہے جیسا کہ سید جمال الدین محدث نے اس کو ذکر کیا ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: در سند ایں حدیث ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان (واسطی) است و وے ضعیف است
(مدارج النبوۃ ص ٢٦٧)
یعنی اس حدیث کی سند میں ابراہیم بن عثمان واسطی ہے اور وہ ضعیف ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی تہذیب التہذیب میں ابراہیم بن عثمان کے متعلق فرماتے ہیں قَالَ اَحْمَدُ وَيَحْيٰی وَاَبُوْدَاوُدُ ضَعِيْفٌ ۔ احمد اور یحییٰ اور ابو داؤد نے کہا کہ وہ ضعیف ہے۔
وَقَالَ الْبُخَارِی سَكَتُوْا عَنْهُ اور بخاری نے کہا ہے کہ محدثین نے اس سے سکوت کیا ہے۔ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ مُنْكَرُ الْحَدِيْثِ اور ترمذی نے کہا کہ وہ منکر الحدیث ہے۔ وَقَالَ يَحْيٰی أَيْضًا لَيْسَ بِثِقَةٍ یحییٰ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ثقہ نہیں وَقَالَ النِّسَائِیُّ
مَتْرُوكُ الْحَدِيْثِ اور نسائی نے اس کو متروک الحدیث کہا ہے ملا علی قاری فرماتے ہیں وَفِي سَنَدِهِ أَبُوْ شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ عُثْمَانَ الْوَاسِطِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ (مرقاۃ ص ٣٩٥ جلد ٥ ہکذا فی مواہب اللدنیہ ص ٢٠ ج ١) یعنی اس حدیث کی سند میں ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان آتا ہے اور وہ ضعیف ہے اور مرقات کے اسی صفحہ پر ہے نیز مواہب الدنیہ کے ص ٢٠ ج ١ پر وَقَالَ النَّوَوِيُّ فِي تَهْذِيْبِهِ وَمَارُوِيَ عَنْ بَعْضِ الْمُتَقَدِّمِيْنَ حَدِيْثُ لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا فَبَاطِلٌ یعنی نووی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب تہذیب میں فرماتے ہیں کہ بعض متقدمین سے جو حدیث روایت کی گئی ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے یہ باطل ہے اور مرقات کے اسی صفحہ پر اور ابن ماجہ میں اس حدیث کے حاشیہ پر اور مدارج النبوۃ ص ٢٦٧ ج ٢ اور مواہب اللدنیہ کے ص ٢٠ پر ہے۔ قَالَ عَبْدُ الْبَرِّ لَا أَدْرِيْ مَا هٰذَا میں ابن عبد البر نے کہا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ یہ روایت کیسی ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ودر روضۃ الاحباب ایں را ایں چنیں نقل کردہ گفتہ کہ آنچہ از سلف منقول است کہ ابراہیم پسر پیغمبر ﷺ در حالت صغر وفات یافت اگر می زیست پیغمبر میشود بصحت نرسید و اعتبارے ندارد۔ (مدارج النبوۃ ص ٢٦٧) روضۃ الاحباب میں ہے کہ وہ روایت جو سلف سے منقول ہے کہ حضور علیہ السلام کے صاحبزادے ابراہیم زمانہ طفولیت ہی میں رحلت فرما گئے اگر وہ زندہ رہتے تو نبی ہوتے صحت کو نہیں پہنچتی اور اعتبار نہیں رکھتی۔
مرزائیو اگر ساتھ والی حدیث جو کہ ابن ماجہ ہی میں آئی ہے اس کو بھی نقل کر لیتے تو کیا حرج تھا مگر نقل کرتے بھی کس طرح جب کہ منحوس وجود کی غرض و غایت ہی مخلوق خدا کو گمراہ کرنا ہے۔ لیجئے ہم اس حدیث کو نقل کرتے ہیں جس سے تمہاری آبلہ فریبی کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ حضرت اسمعیل بن خالد نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ سے فرمایا أَرَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ کیا آپ نے حضور علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کو دیکھا ہے تو انہوں نے فرمایا مَاتَ وَهُوَ صَغِيْرًا وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ نَبِيٌّ لَعَاشَ ابْنُهُ وَلٰكِنْ لَّا نَبِيَّ بَعْدَهُ (ابن ماجہ مطبوعہ فاروقی دہلی ص ١٠٩) وہ بچپن ہی میں رحلت فرما گئے اگر قضاء الٰہی میں یہ ہوتا کہ حضور علیہ السلام کے بعد کوئی نبی ہو تو البتہ وہ زندہ رہتے لیکن حضور کے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں اس لئے ان کو زندہ نہیں رکھا گیا۔ یہ حدیث بخاری شریف میں بھی ہے ص ٦١٣ یہ حدیث صحیح ہے چنانچہ شیخ عبد الغنی محشی
ابن ماجہ فرماتے ہیں۔ اَلَّذِي أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي بَابِ التَّسَمِّي بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ صَحِيحٌ لَا شَكَّ فِي صِحَّتِهِ وَقَدْ أَخْرَجَ الْمُؤَلِّفُ أَيْضًا بِهَذَا الطَّرِيقِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ نُمَيْرٍ...... برحاشیہ ابن ماجہ ص ١٢ یعنی اس حدیث کا بخاری نے باب تسمی باسماء الانبیاء میں اخراج کیا ہے وہ صحیح ہے اس کی صحت میں کوئی شک نہیں اور حدیث کا محمد ابن عبداللہ بن نمیر سے اسی طریق سے ابن ماجہ نے اخراج کیا۔ اس قدر تصریحات کے باوجود مذکورہ حدیث سے جریان نبوت کی دلیل حماقت نہیں تو کیا ہے۔
اگر یہ صحیح ہے کہ ابراہیم علیہ السلام زندہ ہوتے تو نبی ہوتے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ زندہ رہ کر نبی کیوں نہ ہو گئے۔ حالانکہ ان کے متعلق حضور کا فرمان موجود ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو عمر ہوتا۔
تحریف دوم:
قُولُوا إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ
(مجمع البحار ص ٨٥)
یعنی حضور کو خاتم الانبیاء تو کہو مگر یہ نہ کہو کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (الفضل)
الجواب: یہ قول بے سند ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں اس لئے کہ حضور یہ کبھی نہ کہتے۔ یہ محض حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر افتراء بہتان ہے۔ ان کا یہ قول ہرگز نہیں نہ ہی عقیدہ ہے کہ حضور کے بعد معاذ اللہ کوئی جدید نبی آسکتا ہے اور یہ خیال فاسد کر بھی کس طرح سکتی تھیں جبکہ حضور سرور عالم ﷺ نے کثیر التعداد احادیث میں فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی اگر ہو سکتا تو عمر ہوتا۔ میرے بعد جو مدعی نبوت ہوگا وہ دجال اور کذاب ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
مرزائیو تمہیں ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر افترا باندھتے ہوئے شرم نہ آئی آخر آتی بھی تو کس طرح جبکہ تم اللہ اور رسول پر افترا باندھتے ہوئے نہیں شرماتے۔ سنئے ام المومنین کا وہی عقیدہ ہے جو کہ جمہور اہل اسلام کا ہے۔ حضرت صدیقہ ہی حضور سے مرفوعاً روایت فرماتی ہیں۔
عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ إِنَّهُ قَالَ لَا يَبْقَى بَعْدِى مِنَ النُّبُوَّةِ
إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ الصَّالِحَةُ يَرَاهَا حضرت عائشہ رضی نبوت میں سے کوئی جزو باقی یا رسول اللہ مبشرات کیا چیزیں کے لئے کوئی اور دیکھے۔
تحریف سوم:
فَأَنَا آخِرُ الْأَنْبِيَا ترجمہ: ”میں آخر ﷺ کی مسجد ۔ نہیں تو آپ کے کیوں ہوگا۔“ جواب: حدیث الْمَسَاجِدِ الْأَنْبِيَاءِ (کنز میں سے آخری مسجد ہے یعنی فلاں نبی کی مسجد ہے۔
تحریف چہارم:
عَنْ شِهَابٍ مُرْ خَاتَمُ الْمُهَاجِرِي اس حدیث میں اب ہجرت بند ہے۔ جس ط ہونے کے منافی نہیں اسی ہونے کے منافی نہیں۔
إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ مَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ يُرٰى لَهُ.
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے کوئی جزو باقی نہیں رہے گا۔ سوائے مبشرات کے صحابہ کرام نے عرض کی کہ یا رسول اللہ مبشرات کیا چیزیں ہیں آپ نے فرمایا کہ اچھی خواب جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے لئے کوئی اور دیکھے۔
تحریف سوم:
فَأَنَا آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَإِنَّ مَسْجِدِيْ آخِرُ الْمَسَاجِدِ
ترجمہ: ”میں آخر الانبیاء ہوں اور میری مسجد آخر المساجد ہے اگر حضور ﷺ کی مسجد کے بعد مسجدوں کا بننا آخر المساجد ہونے کے منافی نہیں تو آپ کے بعد نبی کا آنا آپ کے آخر الانبیاء ہونے کے منافی کیوں ہوگا۔“
جواب: حدیث کے صحیح الفاظ یہ ہیں۔ أَنَا خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدِيْ خَاتَمُ الْمَسَاجِدِ (کنز العمال) یعنی میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے یعنی نہ کوئی نبی حضور کے بعد پیدا ہوگا اور نہ ہی یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ فلاں نبی کی مسجد ہے۔
تحریف چہارم:
عَنْ شِهَابٍ مُرْسَلاً قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ اِطْمَئِنَّ يَا عَمُّ فَإِنَّكَ خَاتِمُ الْمُهَاجِرِيْنَ.
اس حدیث میں حضور نے اپنے چچا حضرت عباس کو خاتم المہاجرین فرمایا ہے کہ اب ہجرت بند ہے۔ جس طرح حضرت عباس کے بعد ہجرت کرنا ان کے خاتم المہاجرین ہونے کے منافی نہیں اسی طرح آنحضرت کے بعد کسی نبی کا آنا حضور کے خاتم الانبیاء ہونے کے منافی نہیں۔
جواب: اس روایت کو اگر صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی ہمیں مضر نہیں بلکہ ہماری موید ہے اس لئے کہ حضور نے حضرت عباس کو جن مہاجرین کا ختم فرمایا ہے وہ وہی ہیں جنہوں نے خدا اور رسول کے ارشاد کے مطابق ہجرت کی تھی سب سے آخر حضرت عباس نے ہجرت کی تھی اس لئے حضور نے ان کو خاتم المہاجرین فرمایا۔ اس کی مزید وضاحت طبرانی ابونعیم ابن عساکر ابو یعلیٰ اور ابن نجار کی روایت میں یوں مرقوم ہے کہ حضرت عباس نے جب ہجرت کرنے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا:
يَا عَمُّ أَقِمْ مَكَانَ أَنْتَ بِهِ فَإِنَّ اللّٰهَ قَدْ خَتَمَ بِكَ الْهِجْرَةَ كَمَا خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّوْنَ .
ترجمہ ”چچا آپ ابھی ہجرت نہ کریں اپنے مکان میں ٹھہریں عنقریب اللہ تعالیٰ اس ہجرت کے سلسلہ کو آپ سے ختم کرے گا جیسا کہ اس نے نبوت کے سلسلے کو مجھ پر ختم کیا ہے۔“
دوسری روایت جو تفسیر صافی کی پیش کی ہے جس میں حضرت علی کو خاتم الاولیاء کہا گیا ہے۔ یہ تفسیر چونکہ شیعہ کی ہے اس لئے اس روایت کی بھی وہی حیثیت ہے جیسے کہ لف حریر جیسی روایات لہٰذا اس کا جواب بھی انہی سے طلب کیجئے اور اگر بالفرض والتقدیر اس روایت کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ احادیث متواترہ کے سامنے کوئی وقعت نہیں رکھتی لہٰذا قابل اعتبار نہیں اصل میں بات یہ ہے کہ مرزائی کچھ عجیب اوندھی کھوپڑی والے انسان ہیں۔ ان کی ہر حرکت عقل و دانش سے دور فہم و فراست سے بعید ہے۔ اگر کثیر التعداد احادیث متواترہ صحیح کے مقابل میں کوئی ایک آدھ بے سند اور غیر معتبر کتاب کی روایت مل جائے تو عقل کی بات ہے کہ اس بے سند روایت کے ایسے معنے کئے جائیں گے جو ان تمام احادیث صحیحہ کے مطابق ہوں مگر مرزائیوں کو بے سند روایت بھی مل جائے تو اس کے ایسے معنے کرتے ہیں جو تمام احادیث کے خلاف ہوں بریں عقل و دانش بباید گریست۔
کو اگر صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی ہمیں مضر نہیں بلکہ نے حضرت عباس کو جن مہاجرین کا ختم فرمایا ہے وہ وہی ارشاد کے مطابق ہجرت کی تھی سب سے آخر حضرت لئے حضور نے ان کو خاتم المہاجرین فرمایا۔ اس کی مزید ابو یعلیٰ اور ابن نجار کی روایت میں یوں مرقوم ہے کہ نے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا : تُ بِهِ فَإِنَّ اللّٰهَ قَدْ خَتَمَ بِكَ الْهِجْرَةَ كَمَا رت نہ کریں اپنے مکان میں ٹھہریں عنقریب کے سلسلہ کو آپ سے ختم کرے گا جیسا کہ اس ھ پر ختم کیا ہے۔“
نسائی کی پیش کی ہے جس میں حضرت علی کو خاتم الاولیاء ہے اس لئے اس روایت کی بھی وہی حیثیت ہے جیسے کہ اب بھی انہی سے طلب کیجئے اور اگر بالفرض والتقدیر اس یہ احادیث متواترہ کے سامنے کوئی وقعت نہیں رکھتی لہٰذا یہ ہے کہ مرزائی کچھ عجیب اوندھی کھوپڑی والے انسان ا سے دور فہم و فراست سے بعید ہے۔ اگر کثیر التعداد کوئی ایک آدھ بے سند اور غیر معتبر کتاب کی روایت مل بے سند روایت کے ایسے معنے کئے جائیں گے جو ان تمام مرزائیوں کو بے سند روایت بھی مل جائے تو اس کے ایسے خلاف ہوں‘ بریں عقل و دانش بباید گریست۔
حیات عیسیٰ علیہ السلام
سالانہ ختم نبوت کانفرنس صدیق آباد (ربوہ) ١٨ اکتوبر ١٩٩٢ء
پیش فرمودہ : مولانا محمد امین اوکاڑوی صاحب
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَحْدَهُ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنْ لَّا نَبِیَّ بَعْدَهُ وَلَا بُنُوَّةَ بَعْدَهُ وَلَا رَسُوْلَ بَعْدَهُ وَلَا رِسَالَةَ بَعْدَهُ. اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
وقال النبى صلى الله عليه وسلم ان عيسىٰ لَمْ يَمُتْ وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة صدق الله العظيم وبلغنا رسول النبى الكريم
اما بعد! دوستو‘ بزرگو! میں نے آپ کے سامنے عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں دو چار گزارشات عرض کرنی ہیں۔
پہلے یہ بات سمجھیں کہ جس طرح عدالت کے مقدمہ میں دو فریق ہوتے ہیں ایک مدعی دوسرا مدعا علیہ۔ اسی طرح بحث و مناظرہ میں بھی دو مناظر ہوتے ہیں ایک کو مدعی کہتے ہیں دوسرے کو سائل کہتے ہیں۔ مدعی مناظر کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا دعویٰ دلیل سے ثابت کرے۔ سائل مناظر کے ترتیب وار تین کام ہوتے ہیں۔ اصول مناظرہ میں پہلے کو منع کہتے ہیں کہ وہ
اس کے دلیل ہونے سے انکار کر دے کہ میں نہیں مانتا کہ یہ حدیث ہے۔ اب مدعی کے ذمہ یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ واقعتاً یہ حدیث ہے‘ جو میں بیان کر رہا ہوں۔ اگر اس سے مدعی نکل جائے تو دوسرا جو طریقہ ہوتا ہے سائل کے پاس وہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر نقض وارد کرے گا جو مطلب حدیث یا آیت کا تو بیان کر رہا ہے وہ میں نہیں مانتا‘ اس کا مطلب اور ہے اب مدعی کے ذمہ یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ واضح کرے‘ کہ یہ جو مطلب میں بیان کر رہا ہوں یہی دلیل کے زیادہ موافق ہے۔ اگر یہاں سے بھی مدعی کامیاب نکلا ہے تو پھر تیسرا کام سائل مناظر کے پاس یہ ہوتا ہے کہ اس پر معارضہ وارد کرے۔ یعنی اس کی دلیل کے خلاف کوئی دلیل بیان کرے جب تک مدعی تعارض کو رفع نہیں کرے گا مدعی اپنا دعویٰ میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
اس کے بعد ایک بات ذہن میں یہ رکھیں کہ ایک ہوتا ہے مسئلہ بتانا اور ایک ہوتا ہے مسئلہ بنانا۔ مسئلہ بتانے کا مطلب یہ ہے کہ جب سے قرآن پاک نازل ہوا اس وقت سے قرآن پاک پڑھنے والے عربی ہوں یا عجمی ہوں‘ وہ قرآن پاک کے نام سے یہی مسئلہ بتاتے چلے آ رہے ہیں کہ بھئی رسول اقدسﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا۔ یہی بتاتے چلے آ رہے ہیں کہ نماز باجماعت ادا کرنی چاہیے قرآن و حدیث میں یہی لکھا ہوا ہے اور ایک ہوتا ہے مسئلہ بنانا کہ مسئلہ آج بنا لیا اور اس کو قرآن کے ذمہ لگا لیا۔ تا کہ قرآن کے ماننے والے بیچارے دھوکے میں آ جائیں کہ بھئی شاید تو بھی قرآن کی آیتیں پڑھ رہا ہے۔ اس بتانے اور بنانے پر ایک عام فہم مثال سمجھیں۔ آپ ابھی نماز باجماعت سے فارغ ہوتے ہیں ایک آدمی اب یہاں یہ اختلاف پیدا کر دے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سرے سے ثابت ہی نہیں۔ آپ سوچیں گے کہ اتنے علماء حضرات تشریف لائے ہوئے ہیں آج تک جو لوگ قرآن پڑھتے پڑھاتے آ رہے ہیں؟ اس نے شور مچا دیا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا قرآن کے خلاف ہے اب نام قرآن کا لے رہا ہے ”ثبوت پیش کرو“ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا کہیں قرآن میں لکھا ہے۔ ایک مولوی صاحب نے قرآن پاک کی آیت تلاوت فرمائی: وَارْكَعُوْا مَعَ الرَّاكِعِيْنَ۔ کہ بھئی قرآن میں آتا ہے کہ رکوع کرنے والوں کے ساتھ مل کر تم بھی رکوع کرو۔ اس سے علماء نے جماعت کا ثبوت نکالا ہے اس نے شور مچا دیا کہ یہاں رکوع کا لفظ ہے نماز کا تو نہیں ناں‘ نماز کا لفظ دکھاؤ‘ نماز کا ! مولوی صاحب نے پوچھا کہ رکوع حج میں ہوتا ہے یا روزے میں یا زکوٰۃ میں۔ کہا میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا کہ رکوع حج میں ہوتا ہے یا
ے کہ میں نہیں مانتا کہ یہ حدیث ہے۔ اب مدعی کے ذمہ یہ واقعتاً یہ حدیث ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔ اگر اس سے ہے سائل کے پاس وہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر نقض وارد کرے ن کر رہا ہے وہ میں نہیں مانتا، اس کا مطلب اور ہے اب واضح کرے، کہ یہ جو مطلب میں بیان کر رہا ہوں یہی ا سے بھی مدعی کامیاب نکلا ہے تو پھر تیسرا کام سائل مناظر وارد کرے۔ یعنی اس کی دلیل کے خلاف کوئی دلیل بیان ں کرے گا مدعی اپنا دعوی میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ن میں یہ رکھیں کہ ایک ہوتا ہے مسئلہ بتانا اور ایک ہوتا ہے ہے کہ جب سے قرآن پاک نازل ہوا اس وقت سے یا عجمی ہوں، وہ قرآن پاک کے نام سے یہی مسئلہ بتاتے ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا۔ یہی بتاتے چلے آ چاہیے قرآن و حدیث میں یہی لکھا ہوا ہے اور ایک ہوتا س کو قرآن کے ذمہ لگا لیا۔ تا کہ قرآن کے ماننے والے شاید تو بھی قرآن کی آیتیں پڑھ رہا ہے۔ اس بتانے اور آپ ابھی نماز باجماعت سے فارغ ہوتے ہیں ایک آدمی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سرے سے ثابت ہی نہیں۔ تشریف لائے ہوئے ہیں آج تک جو لوگ قرآن پڑھتے دیا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا قرآن کے خلاف ہے پیش کرو، جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا کہیں قرآن میں لکھا پاک کی آیت تلاوت فرمائی: وَارْكَعُوْا مَعَ الرَّاكِعِين۔ ہے کہ رکوع کرنے والوں کے ساتھ مل کر تم بھی رکوع کرو۔ لا ہے اس نے شور مچا دیا کہ یہاں رکوع کا لفظ ہے نماز کا ! مولوی صاحب نے پوچھا کہ رکوع حج میں ہوتا ہے یا ں بحث میں پڑنا نہیں چاہتا کہ رکوع حج میں ہوتا ہے یا
روزے میں اگرچہ وہ نماز میں ہی ہوتا ہے مگر میں رکوع کے لفظ سے دلیل نہیں مانتا میں کہتا ہوں نماز کے لفظ کے ساتھ دکھاؤ اب مولوی صاحب نے سوچا کہ اچھا آپ جو منع کہہ رہے ہیں بار بار، اس کی بھی کوئی دلیل ہے۔ اس نے کہا ہاں ”نماز کے لفظ کے ساتھ“ کہا : ان الصلوٰۃ تنھی۔
بے شک نماز تنہا ہی ہونا چاہیے دیکھو! نماز کا لفظ ہے ناں۔ اس میں کوئی رکوع نہیں سجدہ کا ذکر نہیں نماز کے لفظ سے آیت دکھا رہا ہوں۔
إِنَّ الصَّلَوةَ تَنْهَى ۔ ”نماز تنہا ہی ہونی چاہیے ۔“
اب لوگ بیچارے بڑے پریشان مولوی صاحب بھی پریشان کہ یا اللہ قرآن کا یہ نیا ترجمہ کہاں سے آ گیا ہے۔ مولوی صاحب نے مشکوٰۃ شریف اٹھالی یا کوئی اور حدیث کی کتاب کہ دیکھئے جن پر قرآن پاک نازل ہوا انہوں نے جماعت کے بارے میں کیسی تاکیدیں ارشاد فرمائیں، کیسے فضائل اس کے بیان فرمائے ہیں۔ اب اس کا ایک ہی جواب تھا کہ یہ ساری حدیثیں قرآن کے خلاف ہیں۔ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والے جتنی حدیثیں بیان کرتے ہیں وہ ساری قرآن کے خلاف ہیں کیونکہ قرآن میں آگیا ہے کہ ان الصلوٰۃ تنھی۔ کہ نماز تنہا ہی ہونی چاہیے۔
اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا واقعتاً یہی بات ہے کہ ساری حدیثیں قرآن کے خلاف ہیں؟ کسی نے سوچا بھئی اس نے تو ترجمہ ہی غلط کیا ہے اس کو حدیثیں دکھانے کی کیا ضرورت ہے چلو اس کو کوئی ترجمہ ہی لا کر دکھاؤ۔ شاہ عبدالقادر صاحبؒ شاہ رفیع الدینؒ کا ، لوگ دو چار ترجمے قرآن کے اٹھا کر لے آئے۔ اب اسے پتہ ہے کہ انہوں نے ترجمہ سنانا شروع کر دیا تو میری غلطی واضح ہو جائے گی وہ بند کراتا ہے کہ بند کرو یہ میں کلام اللہ پیش کرتا ہوں تم رحمۃ اللہ اٹھا کر لے آئے ہو۔ کہ شاہ رفیع الدینؒ نے یوں لکھا ہے۔ بالکل یہی حشر مرزا قادیانی نے مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام کے ساتھ کیا جس طرح اس نے ان الصلوٰۃ تنھی۔ کا ترجمہ بالکل غلط کر دیا۔ اس نے بھی بعض آیتوں کا ترجمہ غلط کیا، اب اسے خدشہ یہی تھا کہ متواتر احادیث جو حیات مسیح علیہ السلام پر موجود ہیں ان کا جواب کیا ہو گا تو اس کا ایک ہی جواب نکلا کہ وہ قرآن کے خلاف ہیں۔ بات واضح ہو گئی ناں۔
تو اس لئے ایک ہوتا ہے مسئلہ بتانا اور ایک ہوتا ہے مسئلہ ......... بنانا۔ مسلمان حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ بتاتے ہیں مرزا قادیانی نے اپنا یہ مسئلہ بنا لیا اور بنا کر قرآن کے ذمہ لگا دیا۔ اب لوگ بیچارے نعتیں لیے بیٹھ گئے یہ نہیں سوچا کہ جب سے لوگ قرآن پاک پڑھتے چلے آ رہے ہیں آخر ان میں سے اہل عرب بھی تھے، اہل عجم بھی تھے ان میں آپس میں اس مسئلے میں کوئی ضد بھی نہیں تھی کسی ایک مفسر نے کسی ایک آیت کے تحت پورے قرآن پاک میں کہیں لکھا ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں اور فوت ہو گئے ہیں تو ہمیں بھی مطلع کرو لیکن جب سارے مفسرین آیات کے تحت قرآن پاک سے بدلالت النص اور احادیث صحیحہ متواترہ سے بعبارت النص یہ ثابت کرتے چلے آ رہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام حیات ہیں تو چونکہ اس میں الفاظ بالکل واضح تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں فوت نہیں ہوئے احادیث میں ان کا تو پتہ اس طرح کاٹ دیا کہ یہ ساری قرآن کے خلاف ہیں بات ہی ختم ہو گئی۔ رہیں قرآن پاک کی آیات تو اس سلسلے میں براہین احمدیہ کی تصنیف تک تو خود مرزا قادیانی قرآن پاک سے حیاتِ مسیح علیہ السلام کو ثابت کرتا رہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں قرآن پاک کی آیات: ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ . کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دینِ اسلام کو غالب کرنے کا جو وعدہ فرمایا ہے ایک ہے دلیل سے اس کا غلبہ تو وہ نبی اقدس ﷺ کے زمانہ میں ہوا پھر سیف و سنان سے غلبہ، اور یہ خلافتِ راشدہ میں ہوا اس کی تکمیل مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں ہو گی جب کہ کوئی کافر بھی دنیا میں نہیں رہ جائے گا سب مسلمان ہو جائیں گے اس آیت سے مرزا غلام احمد قادیانی خود حیاتِ مسیح علیہ السلام کا مسئلہ ثابت کرتا ہے۔
اب جب انگریز نے یہ سبق پڑھایا کہ ١٨٥٧ء کی جنگِ آزادی میں مسلمانوں نے جہاد میں بدر و احد کی یاد تازہ کر دی ہے اور یہ جہاد کا ایک ایسا مسئلہ ہے جسے لارڈ گلیسٹو نے کہا اپنے لارڈ آف چیمبر میں کہ جب تک دنیا میں قرآن موجود ہے اور قرآن میں مسئلہ جہاد موجود ہے۔ میں کبھی نیند بھر کر نہیں سو سکتا۔ کیوں؟ یہ جہاد کا ایک مسئلہ ایسا ہے مسلمان سارا دن نوافل پڑھتے رہیں روزہ رکھیں سارا دن تلاوت میں صرف کرتے رہیں تو کافر کے نکسیر بھی نہیں پھوٹتی نہ اس کے سر میں درد ہوتا ہے کافر اگر اسلام کے کسی مسئلے سے خائف ہے تو اس کا نام ہے
”مسئلہ جہاد“ لارڈ گلیسٹو آپ نے کبھی پارہ دیکھ ٹھہرا نہیں سکتے۔ یہ جہا کس طرح اس جہاد کو خ کہ مسیح علیہ السلام کے آ ظاہر ہے جہاد ختم ہو جا جہاد کے ختم ہونے کا یح کو نبوت دینے کا تھا’ اِک کہ آپ یہ اعلان کریں
یہ درشین میں اور ہیں۔ اس لئے جب لئے کرسی خالی نہیں ہوتی پیغمبر تھے اس لئے ختم ہ ایسی نکل آئے نبوت کی چند سال کی کہ ایک شخص ربوہ سے صبح کر لیں گے کہنے لگا چاہتا ہے۔ موضوع تو ک کہا کونسا؟۔ کہ اجرائے کہ جی ہم تو طے کر آ نبوت کی حقیقت‘‘ وہ اِک گئے۔ میں نے کہا بھئی ت
"مسئلہ جہاد"
لارڈ گلیسٹو نے کہا کہ جہاد کے لفظ میں کوئی پارے کی سی خاصیت ہے۔ تو جیسے آپ نے کبھی پارہ دیکھا ہو تو پارہ میں سکون نہیں ہوتا ہر وقت وہ متحرک رہتا ہے اس کو آپ ٹھہرا نہیں سکتے۔ یہ جہاد کا جذبہ مسلمان میں ایسا ہے کہ اس کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا۔ اب کس طرح اس جہاد کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ مستشرقین نے کچھ احادیث نکال کر سامنے رکھیں کہ مسیح علیہ السلام کے آخری زمانہ میں جب سارے مسلمان ہوں گے کافر کوئی بھی نہ ہو گا تو ظاہر ہے جہاد ختم ہو جائے گا انہوں نے سوچا کہ بہتر یہی ہے کہ کسی کو مسیح بنا لیا جائے۔ تاکہ وہ جہاد کے ختم ہونے کا یہی اعلان اس حدیث کی رو سے کرے۔ اصل مقصد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت دینے کا تھا، انگریز نے نبوت دی تھی ناں! چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت دی گئی کہ آپ یہ اعلان کریں۔
جنگ اور جہاد اب حرام قبیح ہے
یہ درثمین میں مرزے کا شعر ہے اب چونکہ مسیح علیہ السلام خدا کے پیغمبر تھے زندہ تھے اور ہیں۔ اس لئے جب تک ان کو مردہ ثابت نہ کیا جاتا (معاذ اللہ) اس وقت تک مرزے کے لئے کرسی خالی نہیں ہوتی تھی اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ گڑھا گیا چونکہ وہ پیغمبر تھے اس لئے ختم نبوت کے عقیدے میں بھی تاویلیں کی گئیں، کہ کسی طریقے سے کوئی قسم ایسی نکل آئے نبوت کی، جس کو جاری کیا جاسکے۔
چند سال کی بات ہے میں گھر میں سویا ہوا تھا کوئی رات گیارہ بجے دو تین ساتھی آئے کہ ایک شخص ربوہ سے آیا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے بحث کرنی ہے مناظرہ کرنا ہے میں نے کہا صبح کرلیں گے کہنے لگا نہیں جی! صبح اس نے چلے جانا ہے۔ میں نے کہا 'وہ اتنا تیز آیا تیز جانا چاہتا ہے۔ موضوع تو کوئی طے نہیں کیا' کہنے لگا ہو گیا ہے جی موضوع طے ہو گیا ہے۔ میں نے کہا کونسا؟۔ کہ اجرائے نبوت کہ نبی آ سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس موضوع کا فائدہ کیا ہو گا؟ کہ جی ہم تو طے کر آئے ہیں۔ خیر میں اٹھ کر چلا گیا مرزے بشیر احمد کی ایک کتاب ہے "ختم نبوت کی حقیقت" وہ ایک میں نے ہاتھ میں لے لی۔ وہ بیٹھے تھے، ہم بھی پانچ سات آدمی چلے گئے۔ میں نے کہا بھئی مسئلہ پہلے لوگوں کو سمجھاؤ کہ ہمارا اور آپ کا اختلاف کیا ہے۔ کیونکہ جب
تک نقطہ اختلاف سامنے نہیں آئے گا دلیل کے بارے میں انسان کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا کہ دلیل دعوے کے موافق ہے یا نہیں۔ مجھے کہنے لگا آپ ہی سمجھا دیں۔ میں نے کہا مرزا قادیانی کی کتابوں سے میں نے جو سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ نبیوں کی وہ قسمیں کرتا ہے، تشریعی اور غیر تشریعی ۔ (مرزائی مبلغ نے کہا) جی بالکل ٹھیک ہے۔ وہ مرزا کہتا ہے کہ غیر مسلم جو ہیں ہندو، عیسائی، یہودی، وغیرہ ان میں نہ کوئی نبی تشریعی پیدا ہو سکتا ہے اور نہ غیر تشریعی پیدا ہو سکتا ہے (اس نے پھر کہا) جی بالکل ٹھیک ہے۔
مسلمانوں میں نبی تشریعی تو پیدا نہیں ہو سکتا غیر تشریعی پیدا ہو سکتا ہے اور میں (مرزا) غیر تشریعی نبی ہوں یہ تین حصے ہیں اس کے دعوے کے۔ (مرزائی مبلغ کہنے لگا) جی بالکل اسی طرح ہے۔ میں نے کہا ابھی بات واضح نہیں ہوئی یہ جو لوگ دیہاتی بیٹھے ہیں۔ انہیں پتہ نہیں تشریعی نبی کسے کہتے ہیں اور غیر تشریعی نبی کسے کہتے ہیں۔ جب تک انہیں یہ سمجھ نہ آئے بات سمجھ نہیں آئے گی کہنے لگا۔ اچھا آپ یہ سمجھا دیں۔ میں نے بشیر احمد ایم اے کی کتاب ”ختم نبوت کی حقیقت“ سے ایک روایت نکالی۔ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی بھیجے جن میں تین سو تیرہ رسول تھے اس پر بشیر احمد نے لکھا ہے کہ رسول سے مراد صاحب شریعت نبی ہوتے ہیں اور نبی سے وہ لوگ مراد ہیں جو صاحب شریعت نہ ہوں میں نے پوچھا۔ اس کو آپ مانتے ہیں؟ (مرزائی کہنے لگا) جی بالکل مانتا ہوں۔ میں نے کہا نتیجہ کیا نکلا؟ مرزا کے دعویٰ کا، خلاصہ یہ ہے کہ غیر مسلموں میں نہ کوئی رسول پیدا ہو گا اور نہ نبی پیدا ہو گا مسلمانوں میں بھی رسول کوئی نہ پیدا ہو گا نبی پیدا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ نبی غیر تشریعی کو کہتے ہیں۔ (مرزائی مبلغ کہنے لگا) بالکل ٹھیک ہے جی، بالکل ٹھیک ہے۔ اب اس بیچارے کو کیا پتہ تھا کہ میں کہاں پھنسا ہوں، میں نے کہا بات سمجھ آ گئی ہے کہنے لگا آ گئی ہے۔ میں نے کہا پھر سمجھ لو بھئی ساری بات، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ غیر مسلموں میں کوئی نہ رسول آ سکتا ہے نہ نبی، نہ تشریعی نبی نہ غیر تشریعی نبی۔ میں نے کہا آپ (اپنے دعوے) کے اس پہلے حصے پر کوئی دلیل بیان کریں، کہ کوئی نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ کے بعد نہیں آئے گا۔
کہنے لگا جی اس کو چھوڑ دیں۔ میں نے کہا کیوں؟ مسئلہ تو پورا سمجھنا چاہیے ناں، ہم اس پیغمبر کی امت ہیں جو دین کو کامل سمجھا کر گئے ہیں۔ کسی ادھورے نبی کے تو ہم ماننے والے نہیں ہیں۔ مسئلہ تو پورا ہونا چاہیے ادھورا تو نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے کہا پہلے دعوے کا پہلا حصہ
دلیل سے ثابت کریں پھر دوسرا اور اس کے بعد تیسرا کہ مرزا نبی ہے کہ نہیں اور کیسا نبی ہے؟ مرزائی مبلغ نے اپنے دعوے کے پہلے حصے پر یہ دلیل بیان کی: ماکان محمد ابا اَحَدٍ من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین. اب اگر یہ آیت میں پڑھتا اور میں اس کا ترجمہ کرتا کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ تو اس نے سو حیلے بہانے کرنے تھے۔ میں نے مسئلہ رکھا ہی اس انداز میں کہ آیت بھی یہ پڑھے ترجمہ بھی یہ کرے۔ اب اس نے آیت پڑھی ترجمہ کیا۔ میں نے اس سے کہا آپ کو اپنا دعویٰ یاد نہیں رہا۔ اس نے کہا کیا۔ میں نے کہا آپ نے کہا تھا کہ رسول نہ آئے گا نبی آئے گا، نبی تو آپ کے نزدیک آ سکتا ہے ناں، غیر تشریعی نبی۔ مسلمانوں میں بھی رسول نہ آئے گا نبی آئے گا۔ اور آپ پڑھ رہے ہیں ”خاتم النبیین“ کہ آپ ﷺ آخری نبی (غیر تشریعی) ہیں۔
اب اسے ہوش آیا کہ میں نے جو دعویٰ کیا دلیل اس کے خلاف ہے کہنے لگا۔ آپ نے تو مجھے باندھ ہی لیا ہے۔ میں نے کہا کہ کس بات میں، میں نے باندھ لیا ہے۔ دعویٰ بھی آپ نے کیا ہے، قرآن پاک کی آیت بھی آپ نے پڑھی ہے۔ میں نے ابھی بات ہی شروع نہیں کی۔ اس نے کہا آپ نے مجھے چکر دے دیا ہے۔ میں نے کہا کون سا چکر ہے مجھے سمجھائیں۔ آپ مانتے ہیں کہ مرزا قادیانی تشریعی نبی ہے، کہنے لگا نہیں۔ رسول ہے؟ کہنے لگا بس یہیں کہیں آپ نے چکر ڈال دیا ہے۔ آخر وہ بیچارا اس چکر میں ایسا پھنسا کہ اٹھ کر بھاگا اور کہا جی میں تو بات نہیں کر سکتا۔ یہ آپ نے رسول اور نبی، تشریعی اور غیر تشریعی کا جو چکر ڈالا ہے۔ میں نے کہا یہ تو مرزا کے ڈالے ہوئے ہیں۔
تو مقصد میرا یہ واقعہ بیان کرنے کا یہ ہے کہ بات اس انداز میں پیش کرنا کہ سب کے ذہن میں اتر جائے اصل کامیابی ہوتی ہے بحث میں۔ اصل موضوع تو میرا حیات مسیح علیہ السلام ہے۔ اس پر میں اپنا ایک مناظرہ عرض کرتا ہوں۔ حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒ نے مجھے انجیل برنباس دی کہ اس کے کچھ ریفرنس اور حوالے غلط ہیں انہیں ٹھیک کر کے اس پر مقدمہ لکھ کر چھپوا دو۔ ہم نے وہ چھپوا دی وہ دکاندار جس نے انجیل برنباس چھپوائی تھی وہ انجیل بیچنے کے لئے ربوہ میں قادیانیوں کے جلسے میں آ گیا۔ انہوں نے کتاب تو بہت خریدی، لیکن ساتھ اس کو تبلیغ کرتے رہے وہ دوکاندار کہنے لگا، میں تو مولوی نہیں ہوں۔ اگر آپ کو مناظرہ کا شوق ہے تو آپ اوکاڑہ آ جائیں آنے جانے کا کرایہ میں دے دوں گا آپ کو۔ اب
اس نے تو جان چھڑائی یہ کہہ کر۔ آٹھ دن بعد محمد منشاء نامی ایک چلا گیا یہاں سے وہ چوہدری عبدالمجید صاحب جو دوکاندار تھے وہ لے کر میرے پاس آ گئے اور کہنے لگے۔ میں نے تو سرسری بات کی تھی مگر یہ تو پیچھے ہی آ گئے ہیں۔ خیر میں نے اس سے پوچھا بھئی آپ کس مسئلہ پر بات کریں گے۔ یہ سوچ کر جس مسئلہ میں آپ اپنے آپ کو بڑا ایکسپرٹ سمجھتے ہوں ناں کہ آپ کا بڑا مطالعہ ہے اس مسئلہ پر آج بات کریں۔
کہنے لگا کہ حیات مسیح علیہ السلام پر آج تک میں بتیس مناظرے کر چکا ہوں آج تینتیسواں ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن اس تینتیسویں مناظرے سے پہلے چاہتا ہوں کہ آپ اوکاڑہ کے مربی سے بھی مل لیں اور دیگر قادیانیوں سے بھی تا کہ وہ آپ کے ساتھ سہارا بن جائیں اور آپ کے دل میں یہ نہ رہے کہ میں اکیلا تھا۔ سب کو ساتھ ملا لیں پھر بات کریں گے اور بات بھی دوکان پر ہو گی بازار میں جہاں سارے لوگ ہوں گے۔ ”انشاء اللہ“ کہ میں جی مرزا کو امام مہدی اور مسیح موعود مانتا ہوں۔ میں نے کہا یہ وہیں بتا دیں لیکن مسیح اور مہدی تو الگ الگ ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام جماعت کرائیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیچھے پڑھیں گے اور دوسری میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جماعت کرائیں گے اور حضرت مہدی پیچھے پڑھیں گے تو مقتدی اور امام دو الگ الگ ہوتے ہیں۔ ایک تو نہیں ہوتا کہ وہی مقتدی ہو وہی امام ہو۔ جب میں نے حدیث پڑھی تو وہ سوچ میں پڑ گیا۔ کہتا ہے پھر میں جاتا ہوں مربی کے پاس۔ تین چار گھنٹے کے بعد پچاس ساٹھ قادیانی آ گئے۔ کچھ ہم تھے اکٹھے ہو گئے دوکان پر کتابوں کی دوکان تھی۔ میں نے کہا پہلے ان لوگوں کو مسئلہ سمجھا دیں کہ میرا اور آپ کا اختلاف کس مسئلہ میں ہے۔ حیات و وفات مسیح میں مرزائی نے کہا۔ میں نے کہا پتہ چلے کیا اختلاف ہے ضرورت کیا پڑی۔ کہنے لگا اچھا آپ سمجھا لیں اگر آپ نے کوئی بات غلط کہی تو میں ٹوک لوں گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ (میں نے بات شروع کی) میں اور آپ یہ دونوں جانتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا تذکرہ احادیث متواترہ میں موجود ہے قرآن پاک میں بھی اشارات موجود ہیں۔ کہنے لگا ”جی بالکل ٹھیک ہے۔ آگے اختلاف یہ ہے کہ میں یہ کہتا ہوں کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ نہیں وہ فوت ہو چکے ہیں۔ اب ان کی خوبیوں پر ان کی صفات والا کوئی آدمی اس امت میں پیدا ہو گا اور وہ مسیح موعود کہلائے گا۔ کہنے لگا جی بالکل ٹھیک ہے ہم یہی کہتے ہیں۔
میں نے کہا اب اس کو مثال سے سمجھیں یہ بالکل ایسا ہے کہ جیسے ایک عدالت میں ایک آدمی درخواست دے کہ فلاں آدمی زید جو تھا وہ فوت ہو گیا ہے اور میں اس کا وارث ہوں۔ اس لئے اس کی جو جائیداد ہے اس کا انتقال میرے نام کر دیا جائے۔ اب عدالت اس سے دو سرٹیفکیٹ مانگے گی۔ پہلا یہ کہ زید فوت ہو گیا ہے' یہ سرٹیفکیٹ جمع کراؤ عدالت میں۔ دوسرا سرٹیفکیٹ یہ کہ تو زید کا کیا لگتا ہے۔ تو جو اس کی جائیداد اپنے نام منتقل کروانا چاہتا ہے تیرا اس کے ساتھ کیا رشتہ ہے یہ سرٹیفکیٹ جمع کراؤ۔ میں نے کہا عدالت مانگے گی یا نہیں' کہنے لگا بالکل مانگے گی۔ میں نے کہا اب بالکل یہاں یہ پوزیشن ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں ان کی خوبیوں پر ان سے مشابہت رکھتا ہوں اس لئے ان کے اوپر جو ایمان لانا ہے وہ میری طرف منتقل ہو جانا چاہیے کہ مجھے اب مسیح علیہ السلام ماننا چاہیے۔ تو آپ پہلے پیش کریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی سرٹیفکیٹ قرآن سے یا احادیث سے کہیں ہو' ماضی کے صیغے سے' کہ جس کا ترجمہ ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ وہ آپ مجھے دکھائیں۔ وہ آیت میں کسی جج کے سامنے رکھ دوں وہ لکھ دے کہ سرٹیفکیٹ صحیح ہے۔ ثابت ہو گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔ کہنے لگا ہاں۔ میں نے کہا فرمائیے: ما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل
پھر میں نے کہا سرٹیفکیٹ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا آتا ہے ان کا تو نام ہی اس آیت میں نہیں ہے۔ کہنے لگا جی آپ ترجمہ سنیں ناں۔ میں نے کہا سنائیں۔ کہنے لگا نہیں محمد ﷺ مگر رسول۔ مر گئے آپ ﷺ سے پہلے سارے رسول۔ میں نے کہا بس یہ دو باتیں ذرا صاف کر دیں کہ مر گئے یہاں کس لفظ کا ترجمہ ہے اور سارے کس لفظ کا ترجمہ ہے۔ اب وہ کتابوں کی دوکان تھی میں نے کہا بھئی ترجمے یہاں رکھے ہیں سب آدمی ایک ایک ترجمہ اٹھا لو اور ترجمہ دیکھو کہ کیا لکھا ہے۔ اب ترجمہ سب نے یہی لکھا ہے کہ گزر گئے آپ ﷺ سے پہلے کئی رسول۔ میں نے کہا آپ نے ترجمہ کیا ہے مر گئے یہ ترجمہ کرتے ہیں گزر گئے آپ نے ترجمہ کیا ہے سارے رسول یہ ترجمہ کرتے ہیں کئی رسول۔ آپ سارے کس لفظ کا ترجمہ کرتے ہیں۔ جی جمع کا صیغہ ہے ناں۔
میں نے کہا جمع تو تین پر بھی آ جاتی ہے سارے تو نہ آئے۔ کہنے لگا: کل نفس ذائقۃ الموت
”کل“ کا لفظ ہے کل نفس ذائقۃ الموت : میں نے کہا ذرا آہستہ پڑھو اونچی نہ پڑھو۔ کہنے لگا کیوں؟ میں نے کہا یہی آیت میں لکھ کر تیرے گھر تیری بیوی کو بھیج دیتا ہوں۔ کہ منشاء مر گیا ہوا ہے اس لئے تو آگے نکاح کر لئے دیکھیں ”کل“ لفظ بھی آ گیا ہے۔ کہنے لگا وہ کیوں جی۔ میں نے کہا اگر یہ تیری موت کا سرٹیفکیٹ نہیں بن سکتا تو عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا سرٹیفکیٹ کیسے بن سکتا ہے۔ کہنے لگا جی میں تو مروں گا۔ میں نے کہا وہ تو زیر بحث ہی نہیں مریں گے تو عیسیٰ علیہ السلام بھی۔ بحث تو یہ ہے کہ اب فوت ہو گئے ہوں میں نے کہا اگر کل نفس ذائقۃ الموت ۔ان کی موت کا سرٹیفکیٹ ہے تو پہلے تو آپ کی موت کا ہونا چاہیے ناں۔ آپ کی جائیداد جو ہے میں لکھ کر بھیج دیتا ہوں کہ میرے نام منتقل ہو جائے۔ مرزائی کہنے لگا جی میں وہ آیت پڑھتا ہوں جس میں عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے۔ میں نے کہا پھر کیوں وقت ضائع کر رہے ہو وہ آیت پیش کریں جو عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا سرٹیفکیٹ ہو۔ مرزائی نے یہ آیت پڑھی:
واذ قال الله یعیسی اِنِّی مُتَوَفِّیکَ ور افعک الی.
اب یہ پڑھ کر عوام سے پوچھتا ہے کہ آپ کے گاؤں اور شہروں میں جو چوکیدار کے پاس ایک رجسٹر ہوتا ہے موت اور پیدائش کا لکھا ہوتا ہے’ المتوفی فلاں‘ المتوفی فلاں‘ انہیں پتہ تھا کہ یہ بیچارے کون سے عربی جانتے ہیں یہ’ اسم فاعل ہے‘ یہ اسم مفعول ہے۔ کیونکہ المتوفی اور المتوفیٰ تو لکھا ایک ہی طرح جاتا ہے۔ وہ کہنے لگے ہاں لکھا ہوتا ہے۔ کہا ’ اس کا کیا معنی ہوتا ہے۔ کہنے لگے اس کا معنی ہوتا ہے کہ فلاں مر گیا‘ فلاں مر گیا یا فلاں مرا ہوا۔ کہنے لگا دیکھو آپ مولوی نہیں ہیں ناں اس لئے آپ میں ضد نہیں ہے یہ مولوی بڑے ضدی ہوتے ہیں۔ کہنے لگا جی ثابت ہو گیا۔ میں نے کہا کیا ثابت ہو گیا؟ مرزائی نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ۔ میں نے کہا نہیں‘ کہ آپ نے مان نہیں لیا کہ متوفی کا معنی مرا ہوا۔ میں نے کہا یہ معنی ماننے سے اللہ کی موت ثابت ہوتی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نہیں۔ بڑا حیران ہوا‘ وہ کیسے۔ میں نے کہا کرو ترجمہ و معنی اور اِذْ بمعنی جب قال اللہ کہا اللہ نے‘ کون کہہ رہے ہیں‘ اللہ‘ کس کو‘ عیسیٰ کو اے عیسیٰ علیہ السلام‘ انی بے شک میں‘ متوفی‘ مرا ہوا ہوں‘ چوکیداروں والا معنی کرنا ہے ناں۔ گویا اللہ‘ عیسیٰ علیہ السلام کو بتا رہے ہیں کہ میں مرا ہوا ہوں۔ اب منشاء کے تو ہوش اڑ گئے۔ کہنے لگا یہ ترجمہ کیسے ہو گیا۔ میں نے کہا چوکیدار کے رجسٹر سے جو آپ چاہتے ہیں وہی ترجمہ میں نے کرایا ہے تو
یہاں عیسیٰ علیہ السلام کی موت تو ثابت نہیں ہو جاتی اللہ تعالیٰ کی موت (معاذ اللہ) ثابت ہوتی ہے۔ مرزائی مبلغ کہنے لگا یہ بات تو پہلے کسی مناظرے میں کسی نے نہیں کی۔ میں نے کہا :
" ضروری نہیں ہر مناظرے میں وہی باتیں ہوں اور پھر مرزے نے بھی ہر بات نئی کی ہے۔ اور پھر میں نے تو آپ والا معنی مان کر ترجمہ کیا ہے۔ مرزائی مبلغ نے کہا نہیں اس کا معنی ہے میں موت دوں گا۔ میں نے کہا پھر یہ میرے خلاف نہیں اور میں بھی یہی مانتا ہوں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو موت آئے گی۔ تو اس دلیل کا آپ کو کیا فائدہ ہوا‘ پھر وہی بات ہوئی سرٹیفکیٹ تو نہ بنا ناں۔ یہ تو وعدہ موت ہوا۔ اگر آپ والا ترجمہ مانا جائے نہ کہ سرٹیفکیٹ موت کا۔ کہنے لگا‘ آپ اس آیت کا کیا ترجمہ کرتے ہیں۔ میں نے کہا آپ کر لیں پھر میں بتاؤں گا کہ ہم اس آیت کا ترجمہ کیا کرتے ہیں۔ پچھلی آیت بھی ساتھ ملائیں:
وَمَکَرُوْا مَکَرَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ.
اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرما رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں ایک خفیہ تدبیر یہودی کر رہے تھے اور ایک خفیہ تدبیر میری طرف سے ہو رہی تھی۔ اب یہودیوں کی خفیہ تدبیر کیا تھی؟ اس کو سب جانتے ہیں کہ وہ مسیح علیہ السلام کو گرفتار کرنا چاہتے تھے۔ گرفتار کرنے کے بعد دوسرا ان کا ارادہ کیا تھا؟ کہ مسیح علیہ السلام کو صلیب پر مار دیا جائے‘ شہید کر دیا جائے۔ تیسرا ان کا ارادہ یہ تھا کہ ان کو شہید کرنے کے بعد (معاذ اللہ) ان کی لاش کو ذلیل کیا جائے کہ یہ کہتا تھا کہ میں خدا یا بیٹا یا نبی ہوں۔ (معاذ اللہ) چوتھا یہ تھا کہ اس سے عیسیٰ علیہ السلام کے نام لیوا دنیا سے ختم ہو جائیں اور ان کا نام ہی مٹ جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بتایا کہ ان کی تدبیر نہیں چلی میری تدبیر غالب ہوئی وَاِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ متوفیک. اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر بیان فرمائی کہ اے عیسیٰ وہ تجھے گرفتار کرنا چاہتے ہیں بالکل کامیاب نہیں ہوں گے میں تجھے پورا پورا اپنے قبضے میں لے لوں گا۔
ان کی پہلی تدبیر تھی گرفتار کرنا اس کے جواب میں پہلا وعدہ یہ دیا گیا۔ مجھے کہنے لگا اس کا یہ معنی کہیں ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا مرزا نے خود کیا ہے‘ مرزے والا معنی سنا دوں۔ سراج منیر میں‘ مرزا لکھتا ہے‘ یہی آیت اللہ کی طرف سے مجھ پر بطور الہام نازل ہوئی ہے۔ کب نازل ہوئی ہے‘ جب پنڈت لیکھرام قتل ہو گیا تھا۔ اب اس مقدمے کی تفتیش میں مرزا قادیانی کے
کاغذات اور گھر کی تلاش بھی شروع ہوئی تو بہت مجھے پریشان کیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے تسلی دینے کے لیے یہ آیت نازل فرمائی۔ بطور الہام اب وہاں مرزا کیا ترجمہ کرتا ہے سراج منیر میں اذ قال اللہ یٰعیسیٰ انی متوفیک۔ اللہ تعالیٰ نے کہا اے عیسیٰ جو مراد یہ عاجز ہے انی متوفیک میں تجھے بچاؤں گا تیرا بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔
تو میں نے کہا عجیب بات ہے یہی لفظ مرزے کے لیے نازل ہو تو بال بھی بیکا نہیں ہو گا اور یہی مسیح علیہ السلام کے لیے نازل ہو تو (معاذ اللہ) کچھ بھی نہیں بچے گا۔ عجیب ترجمہ ہے اس کا۔ تو میں نے کہا مرزے نے بھی اس ترجمے پر تصدیق کر دی ہے۔ تو پہلا وعدہ تھا کہ وہ مسیح علیہ السلام کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس میں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ قادیانی کیوں یہ زور لگاتے ہیں کہ حیات مسیح پر بات ہو دلائل ہیں ان کے پاس کچھ بھی نہیں، صرف اس لیے زور لگاتے ہیں کہ اس میں وہ قرآن پاک کی کچھ آیتوں کا ترجمہ غلط کرتے ہیں۔ جب لوگوں کے سامنے اب لوگ تو ہوتے ہیں بے چارے پنجاب کے (دیہات) یا کسی اور (دیہاتی) علاقے کے رہنے والے۔ دیہاتیوں اور ان پڑھوں کے سامنے جب وہ عربی زبان کے نئے نئے قاعدے بیان کرتے ہیں خود بنا بنا کر جس کو خود عربی والے بھی نہیں جانتے اس پر چیلنج دینے شروع ہو جاتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں بڑا عربی کا علامہ ہے۔ حالانکہ عرب والوں کو خود خواب میں بھی ان قاعدوں کا علم نہیں ہوتا۔ اس لیے لوگوں میں یہ ایک غلط تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مرزائی بھی قرآن کو مانتے ہیں۔ دیکھ قرآن پڑھ رہا ہے۔ یہ تاثر جو ہے بڑا غلط تاثر ہے۔
اس لیے میں جب بحث شروع کرتا ہوں تو پہلے یہی تاثر ختم کرتا ہوں کہ بات الگ ترتیب سے ہونی چاہیے۔ سب سے پہلے مسیح علیہ السلام کی گرفتاری کا مسئلہ ہے قرآن پاک میں دوسری جگہ بھی سورہ مائدہ میں لفظ قطعی موجود ہیں اللہ پاک قیامت کے روز مسیح علیہ السلام پر احسان جتلائے گا کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے دور رکھا تھا۔ ”عن“ بعد کے لیے آتا ہے کہ گرفتاری کرنے والے قریب بھی نہیں آ سکے۔ چہ جائیکہ مسیح علیہ السلام کو گرفتار کر لیا۔ قرآن پاک کی اس نص قطعی کے مطابق تمام امت محمدیہ کا عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام گرفتار نہیں ہو سکے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن کو چھوڑا، پوری امت کے عقیدے اور احادیث کو چھوڑا اور یہودیوں اور عیسائیوں کی بات پر ایمان لے آیا کہ مسیح علیہ السلام گرفتار ہو گئے ہیں۔ بات
یہودیوں کی اور نام قرآن کا‘ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے۔ قرآن کے خلاف یہودیوں کی بات کو مانتا ہے گرفتاری کے بعد اس کا عقیدہ یہ ہے۔ ہم گرفتاری ہی نہیں مانتے کہ (معاذ اللہ) عیسیٰ علیہ السلام کو بہت ذلیل کیا گیا۔ سر پر کانٹوں کا تاج رکھا گیا داڑھی میں شراب انڈیلی گئی اس کی آنکھیں لوگ بند کر لیتے تھے کوئی ادھر سے چٹکی کاٹتا تھا کوئی ادھر سے مارتا تھا۔ کہ تو اگر خدا کا بیٹا ہے تو بتا کہ کس نے تجھے مارا ہے۔ انتہائی طور پر (معاذ اللہ) مسیح علیہ السلام کو ذلیل کیا گیا۔ یہ عقیدہ یہودیوں اور عیسائیوں کا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ”وجیہا فی الدنیا والآخرۃ“ کہ مسیح علیہ السلام دنیا میں بھی باوقار رہے اور آخرت میں بھی باوقار رہیں گے۔ اب مسلمان قرآن پاک کی اس قطعی الدلالت آیت کے مطابق عقیدہ رکھتے ہیں۔ کہ مسیح علیہ السلام کو یہود ذلیل کرنے میں قطعی کامیاب نہیں ہوئے‘ سرے سے گرفتاری ہی نہیں کر سکے۔
مرزا قادیانی بالکل قرآن پاک کے خلاف یہودیوں کی بات کو لکھتا ہے۔ اس کے بعد یہودی یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ذلیل کرنے کے بعد (معاذ اللہ) عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکا دیا۔ قرآن پاک نے تردید کر دی وما قتلوہ وما صلبوہ ۔ قتل عربی زبان میں انہی معنوں میں آتا ہے جن میں انگریزی زبان میں لفظ (Kill) آتا ہے۔ ایک ہوتا ہے تھپڑ مارنا کسی کو اس کو بضرب یضربو کہتے ہیں۔ ایک ہے کسی کو جان سے مار ڈالنا‘ آپ گلا گھونٹ کر مار دیں‘ تلوار سے ٹکڑے کر دیں‘ پانی میں غرق کر کے مار دیں‘ آگ میں جلا کر مار دیں کسی طریقے سے بھی کسی کو جان سے مار ڈالنا اس کو عربی میں قتل کہتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں یہ سمجھا دیا ”وما قتلوہ“ حضرت مسیح علیہ السلام کو کسی نے جان سے نہیں مارا بلکہ آگے ترقی کر کے فرماتے ہیں کہ جان سے مارنے کا جو ذریعہ یہودی بیان کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہتے کہ ہم نے گلا گھونٹا تھا ان کا۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم نے انھیں آگ میں جلایا تھا۔ وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ (معاذ اللہ) ہم نے تلوار سے ان کے ٹکڑے کر دیے تھے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ صلیب پر پھانسی دے کر ان کو مارا ہے۔ تو قرآن نے بتایا ”وما صلبوہ“ اور لکڑی پر تو سرے سے لٹکائے ہی نہیں گئے عیسیٰ علیہ السلام مرنا تو بعد کی بات ہے ناں۔ سرے سے لٹکائے ہی نہیں گئے۔ قرآن نے بالکل واضح طور پر یہ بات بیان فرما دی۔ مرزا قادیانی نے قرآن پاک کی اس نص قطعی کا انکار کیا اور اس کے خلاف اس کتاب مسیح ہندوستان میں لکھ دیا کہ دو چوروں کے درمیان عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی پر لٹکایا گیا اور چھ گھنٹے وہ پھانسی کے تختے پر یہ کفریہ نعرے لگاتے اور چیختے رہے ”ایلی ایلی لما
سکتی” اے اللہ اے اللہ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اب یہ صلیب پر لٹکانا عقیدہ یہودیوں کا ہے یا قرآن کا ہے۔ مرزا قادیانی نے یہودیوں کا عقیدہ لوگوں کو بتایا اور دھوکہ یہ دیا کہ نام ساتھ قرآن کا لگا لیا کہ (معاذ اللہ) یہ قرآن پاک کا عقیدہ ہے۔
تو میں عرض یہ کر رہا تھا کہ مسیح علیہ السلام کو یہودیوں کی تدبیر کے مطابق یہودی گرفتار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں میں تمھیں پورا پورا اپنے قبضے میں لے لوں گا۔ اب یہودی گرفتار کر کے کیا کرنا چاہتے تھے کہ پھانسی پر چڑھائیں گے فرمایا نہیں پھانسی پر وہ نہیں چڑھائیں گے۔ رافعک الی میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا۔ ان کی اس تدبیر کے مقابلے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی تدبیر کا ذکر فرمایا پھر پھانسی پر وہ آپ کی لاش کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ مطھرک من الذین کفروا، ان کے گندے ہاتھوں سے بھی تجھ کو پاک رکھوں گا کہ وہ آپ کی لاش مبارک کو یا آپ کو ذلیل و رسوا کر سکیں اور یہ سب کچھ کس لیے کر رہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نام لینے والے دنیا سے مٹ جائیں۔ وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ۔ یہودی ہرگز اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے بلکہ آپ کے نام لینے والے جھوٹے جو عیسائی بعد میں رہیں گے یا مسلمان ہمیشہ ان پر غالب رہیں گے۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس تدبیر کے مقابلے میں اس تدبیر کا ذکر فرمایا۔ محمد منشاء کے سامنے جب میں نے یہ آیت پڑھی ما صلبوہ ولکن شبہ لھم۔ استدراک کے لیے ہے جس چیز سے پہلے کسی کی نفی کی جائے بعد میں کسی دوسری چیز کے لیے وہ ثابت ہو جاتی ہے جیسے کوئی کہے زید نہیں آیا مگر عمر (تو مطلب ہو گا کہ عمر) آیا ہے۔ جس سے نفی زید کی کی گئی ہے اس کو بعد میں ثابت کر دیا گیا کہ وہ عمر آ گیا تو میں نے کہا اب آگے تقدیر تطبیق کیا نکلے گی۔ ولکن قتلوہ و صلبوہ من شبہ لھم۔ انھوں نے جان سے مارا ضرور صلیب پر لٹکا کر مارا ضرور کس کو؟ مسیح کو نہیں۔ مثیل مسیح کو۔ ولکن شبہ لھم کا ترجمہ میں نے اس مرزائی کے سامنے کیا مثیل مسیح کہ مثیل مسیح کو مارا ہے۔ مسیح علیہ السلام کو نہیں مارا۔
شاہدرے میں عیسائیوں سے مناظرہ تھا۔ پادری مجھے کہنے لگا کہ مولوی صاحب تواتر کا انکار تو کوئی قوم بھی نہیں کرتی۔ میں نے کہا ہاں کوئی بھی نہیں کرتی۔ کہنے لگا قرآن پاک نے تواتر کا انکار کیا ہے۔ میں نے پوچھا کہاں؟ کہنے لگا یہودیوں اور عیسائیوں دونوں میں یہ بات متواتر ہے کہ مسیح علیہ السلام جو ہیں وہ صلیب پر مر گئے اور قرآن پاک نے اس متواتر بات کا
انکار کیا ہے۔ میں نے کہا پادری صاحب آپ نے متواتر کا لفظ معلوم ہوتا ہے کسی مولوی صاحب سے سن رکھا ہے لیکن کاش ان سے اس کا معنی بھی پوچھ لیتے کہ اس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ آپ کو متواتر اور افواہ ان دو لفظوں کا فرق یاد نہیں ہے۔ قرآن پاک نے کسی متواتر چیز کا انکار نہیں کیا بلکہ ایک غلط افواہ کا انکار کیا ہے انگریزی میں جیسے (Baseless) بے بنیاد بات کہتے ہیں۔ گو افواہ بھی ہر زبان پر چڑھ جاتی ہے لیکن اس کے پیچھے بنیاد کوئی نہیں ہوتی۔ بھئی کہاں سے سنا جی اس بازار سے سنا تھا وہ کون تھا، جی پتہ نہیں وہاں کون بات کر رہا تھا۔ وہاں گئے پتہ چلا جی وہاں (دوسری کسی جگہ) سنا تھا۔ اب اس کی بنیاد کا کوئی پتہ نہیں۔ تواتر وہ چیز ہے کہ شروع میں بنیاد میں دیکھنے والے اتنے لوگ ہوں کہ جن کے جھوٹ پر جمع ہونا ناممکن ہو۔ تو مسیح علیہ السلام کا صلیب پر مرنا آپ متواتر کہہ رہے ہیں میں کہتا ہوں سرے سے خبر واحد ہی سے ثابت نہیں۔ کیونکہ یہ بات تو تاریخی طور پر یقینی ہے کہ مسیح علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے لیے جو پولیس بھیجی گئی ہے وہ رومی حکومت کی رومی پولیس ہے اسرائیلی پولیس نہیں۔ وہ مسیح علیہ السلام کو پہچانتے بھی نہیں پولیس والے۔
اس لیے حضرت مسیح علیہ السلام کے ایک منافق شاگرد کو تیس روپے رشوت دینی پڑی کہ بھئی ہمیں بتاؤ کہ وہ (مسیح علیہ السلام) کون ہیں۔ اب جو پولیس مسیح علیہ السلام کو پکڑنے گئی ہے وہ آپ کو جانتی پہچانتی نہیں انھوں نے ایک آدمی کو رشوت دی اور آگے کمرے میں گیا انتظار کے بعد جب یہ کمرے میں پہنچے تو وہاں ایک ہی آدمی تھا اب یہ پولیس والے پریشان تھے کہ اگر یہ وہ آدمی ہے جو ہم نے بھیجا ہے تو مسیح علیہ السلام کہاں ہیں اور اگر یہی مسیح علیہ السلام ہیں تو ہمارا آدمی جو ہم نے بھیجا وہ کہاں ہے؟ اس کی شکل میں ایسی تبدیلی آچکی تھی کہ نہ وہ یقین سے یہ کہہ سکتے تھے کہ یہ وہی آدمی ہے اور نہ یہ کہہ سکتے کہ یہ دوسرا ہے۔ آخر جو تھانیدار ساتھ تھا اس نے کہا جو بھی ہے پکڑ کر پھانسی پر چڑھا دو یہ فتنہ ختم ہو۔ ہمیں اس سے کیا کون ہے کون نہیں۔ وہ اس مثیل مسیح کو پکڑ کر ساتھ لے گئے اب مسیح علیہ السلام کے شاگردوں میں سے ایک بھی ساتھ نہیں تھا جو یہ گواہی دے کہ میرے سامنے انھیں (مسیح علیہ السلام) صلیب دی گئی۔ اس پر انھوں نے شور مچایا تین پادری کہنے لگے انجیل سے ثابت ہے۔ میں نے کہا نکالیں کہاں ہے؟ ریفرنس بکس لے کر بیٹھ گئے دو گھنٹے لگے رہے آخر کہنے لگے ظہر تک آپ ہمیں اجازت دیں۔ ظہر کے بعد آپ آئیں ہم تسلی سے دیکھ لیں گے اب آپ بیٹھے ہیں
تو ذرا دوسرا فریق بیٹھا ہو تو رعب تو ہوتا ہی ہے ناں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میں ظہر کے بعد آ جاؤں گا۔ ظہر کے بعد میں گیا تو یوحنا کی انجیل سے ایک فقرہ نکال کر انھوں نے مجھے دکھایا کہ مسیح کا پیارا شاگرد جو تھا وہ اس بھیڑ کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ دیکھو جو پیارا شاگرد یوحنا تو ساتھ تھا۔ میں نے کہا وہ تو بھیڑ کے پیچھے تھا اس کو تو یہ پتہ نہیں کہ کس کو پکڑا ہے پھر آگے یہ نہیں لکھا کہ وہ ساتھ گیا ہے صلیب تک۔ کہتے ہیں کہ تھوڑی دور جانے کے بعد کسی نے کہا کہ یہ اس کا شاگرد ہے اس کو پکڑنے لگے تو اس کی چادر پکڑنے والوں کے ہاتھ میں رہ گئی اور وہ ننگا وہاں سے مجاہد بھاگ گیا۔
ان کا ایک پادری ہے گوجرانوالے میں عنایت اللہ مجاہد اس کا نام ہے۔ اس کی تقریر تھی اوکاڑہ میں۔ میں بھی چلا گیا میں نے اسے یہی سوال لکھ کر بھیجا کہ مجاہد کیوں رکھا ہے آپ نے اپنا نام۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان تو انسان جانوروں کو بھی اپنے دفاع کا حق دیا ہے۔ کوئی جانور اڑ کر آپ سے اپنی جان بچا لے گا کسی کو اللہ نے سینگ دیے ہیں وہ سینگ سے آپ کا مقابلہ کرے گا کسی کو ڈنگ دیا ہے کسی کو تیز دوڑنے کی قوت دی ہے وہ آپ سے اپنا دفاع کر سکتا ہے لیکن عیسائی کو دفاع کا کوئی حق نہیں دیا۔ ان کا عقیدہ ہے کہ تیرے ایک رخسار پر کوئی تھپڑ مارتا ہے تو تو دوسرا رخسار اس کے سامنے کر دے جانوروں سے گزر گیا۔ اگر کوئی تیرا چوغہ اتارتا ہے تو تو تہہ بند بھی اتار کر اس کو دے دے شریر کا مقابلہ نہ کر۔ اس لیے میں کہا کرتا ہوں کہ خدا نہ کرے خدا نہ کرے اگر انجیل کو بطور قانون نافذ کر دیا جائے تو اس دن سورج بعد میں غروب ہو گا اور شرفاء پر قیامت پہلے ٹوٹ پڑے گی۔ کوئی شریف دنیا میں نہیں رہ سکتا۔ یہ جو یورپ نے شور مچایا ہے کہ سیاست الگ ہے دین الگ ہے یہ اسی وجہ سے مچایا ہے۔ کیونکہ وہ اگر اس انجیل کو اپنی سیاست میں اپنا راہنما مان لیں تو ایک دشمن ملک اگر عیسائی سے ایک صوبہ چھینے تو اسے یہ حق حاصل نہیں کہ صوبہ واپس لے۔ بلکہ اسے یہ حکم ہے کہ دوسرا صوبہ بھی اس کے حوالے کر دے۔
اگر ایک چور ایک پادری کے ایک کمرے کا سامان چرا کر لے جائے تو پادری کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ سامان تلاش کر کے واپس لے بلکہ یہ ہے کہ چور کو تلاش کر کے دوسرے کمرے کا سامان بھی اسے دے دے۔ اگر کسی پادری کی ایک لڑکی کسی نے اغوا کر لی ہے تو اس پادری کا فرض ہے کہ اغوا کرنے والے کو تلاش کرے اور دوسری لڑکی بھی اسے دے دے۔ تو میں نے
اس پادری سے کہا کہ عیسائیت کو تو جانوروں سے بھی بدتر بنا دیا گیا ہے کہ اس کو اپنے دفاع کا کوئی حق نہیں ہے وہ مجاہد اپنا لقب رکھتا ہے اور وہ مجاہد جو تیس کھوٹے روپوں میں اپنے خدا کو بیچ کر بھاگ گئے ایسے لوگوں کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ لفظ مجاہد لکھیں۔ اب وہ چٹ پڑھنے کے بعد اس نے سٹیج پر شور مچا دیا کہ پولیس کہاں ہے‘ ہمارے جلسے کو خراب کیا جا رہا ہے۔ میں سٹیج پر چلا گیا میں نے کہا آپ نے دس مسجدوں میں یہ رقعے لکھ کر بھیجے ہیں کہ۔ کوئی محمدی اگر ہم سے بات کرنا چاہے تو آئے۔ تو میں دس مسجدوں کی طرف سے نمائندہ بن کر آیا ہوں جب آپ نے ہمیں بلایا ہے‘ تو آپ اب پانچ منٹ مجھے یہاں تقریر کا موقع دیں۔ سب نے شور مچا دیا کہ یہ مسیحی سٹیج ہے۔ میں نے کہا آپ نے ہمیں دعوت دی ہے ہم آئے ہیں۔ آخر تھانیدار جو تھا وہ کہنے لگا مولوی صاحب ”چھوڑو چوہڑے تو ہیں ہی“ تو مقصد یہ ہے کہ اس پادری نے یہ جھوٹ بات کہی غلط کہی کہ (معاذ اللہ) قرآن پاک نے تواتر کا انکار کیا ہے تواتر کا نہیں بلکہ ایک جھوٹی افواہ جو پھیلا دی گئی تھی اس کا قرآن پاک نے انکار کیا ہے اس بیچارے کو تو‘ تواتر اور افواہ کا فرق ہی یاد نہیں۔ ہاں ایک خدشہ شاید آپ کے ذہن میں بھی ہوگا۔ خشاء کے ذہن میں بھی تھا کہ چلو یہ بات مان لی کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ انھیں لٹکایا ہی نہیں گیا۔ لیکن اس واقعہ صلیب کے بعد جو بھی مثیل مسیح(مرزا) اس کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی تو کہیں دیکھا بھی نہیں گیا ناں۔ کہ وہ کہیں چلتے پھرتے دیکھے ہوں گے۔ کہاں گئے وہ۔ تو قرآن پاک نے اس کا جواب دیا:
وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ.
”بل“ کے بعد ”رفع“ ماضی کا صیغہ ہے اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ سمجھا یہ رہے ہیں کہ جب کسی مثیل مسیح کو صلیب پر چڑھایا جا رہا تھا اس سے پہلے زمانے میں مسیح علیہ السلام کو تو اٹھا بھی لیا گیا تھا۔ ”وما قتلوہ یقینا “ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یقینی طور پر کسی نے جان سے نہیں مارا تھا۔ ”بل رفعہ اللہ الیہ“ اب جب میں نے یہ ترجمہ کیا تو محمد خشاء کو بھی تھوڑا جوش آ گیا اور ہلا اور پوچھا کہ جی ”رفع“ کا کیا معنی ہوتا ہے۔ میں نے کہا‘ آپ فرما دیں۔ مجھے جو آتا تھا کر دیا ہے۔ کہنے لگا ”رفع“ کی بے شمار قسمیں ہوتی ہیں۔ میں نے کہا کوئی دو کروڑ‘ چار کروڑ کتنی ہوں گی۔ دس کروڑ قسمیں بھی ہوں مگر یہاں رفع جسمانی ہی ہے اور کوئی قسم نہیں۔ وہ کیسے؟ میں نے کہا کلام خود متعین کیا کرتا ہے کہ یہاں کون سے معنی مراد ہیں۔
دیکھئے شیر کا لفظ حقیقی معنوں میں بھی ہزاروں مرتبہ دنیا نے استعمال کیا اور مجازی
معنوں میں بھی ہزاروں لاکھوں مرتبہ دنیا نے استعمال کیا۔ اس کے نہ حقیقی معنی کا کوئی انکار کر سکتا ہے اور نہ مجازی معنی کا کوئی انکار کر سکتا ہے لیکن آج تک کسی بات کرنے والے کو اپنے کلام میں شبہ واقع نہیں ہوا کہ یہاں یہ حقیقی معنوں میں ہے یا مجازی معنوں میں۔ مثلاً میں فقرہ بولتا ہوں کہ ابھی اخبار میں خبر دیکھی کہ ایک شیر نے ایک آدمی پر حملہ کر دیا اور وہ بے چارہ آدھ گھنٹے بعد دم توڑ گیا اب اگر آپ یہاں دس ہزار اشعار پڑھ جائیں جن میں شیر کا معنی مجازی ہو بہادر کے معنی میں تو خبر سننے والے کا ذہن کبھی اس طرف نہیں جائے گا ہر آدمی یہی سمجھے گا کہ یہاں شیر سے مراد درندہ مراد ہے۔ میں نے کہا میں دوسرا فقرہ بولتا ہوں بھئی تسلی رکھیے ہمارا شیر غسل کر کے کپڑے پہن چکا ہے ابھی سٹیج پر آ کر تقریر کرے گا۔ اب آپ ایک دو نہیں دس کروڑ اشعار اور فقرے اس میں پیش کر دیں جس میں شیر بمعنی درندہ آیا ہو لیکن یہاں کوئی ان پڑھ بھی نہیں سوچے گا کہ اس کا معنی درندہ ہے۔ (بات سمجھ آ رہی ہے کہ نہیں) جی تو اس طرح سیاق و سباق کو دیکھا جاتا ہے جو سیاق و سباق اس آیت میں ہے وہی اب یہاں فرض کر لیتے ہیں یہاں درس ہو رہا ہے تین چار آدمی بالفرض دوڑے آئے کہ فلاں کوٹھی جو تھی اس کے مالک کو اس کے دشمنوں نے گھیر لیا ہے اور وہ اس کو قتل کرنے آئے ہیں عین موقع پر اس کے دو دوست کار لے کر پہنچے اور وہ اس کو اٹھا کر لے گئے اور اس کی جان بچ گئی۔ اب کوئی آدمی یہ سمجھے گا کوئی بے وقوف سے بے وقوف بھی کہ یہاں اٹھانے کا معنی یہ ہے کہ اس کو تو دشمنوں نے مار دیا تھا اس کی میت کو اٹھا کر لوگ کار میں رکھ کر لے گئے یا اس کو تو مار دیا تھا وہ چونکہ حاجی صاحب ہے ان کا حج جو تھا وہ کار میں رکھ کر لے گئے تھے اس کا کوئی مرتبہ اس کی کوئی صفت کار میں رکھ کر لے گئے تھے۔ کوئی پرلے درجے کا بے وقوف بھی ایسی بات کہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
آپ آخر یہاں کیا ترجمہ کریں گے کہ رفع رتبی بھی ہو سکتا ہے ناں مرتبہ۔ انسان کو آخری مرتبہ جو اللہ تعالیٰ دیتے ہیں وہ نبوت کا ہی ہوتا ہے اب انھیں خدا بنانا تھا آخر وہ رتبہ بتائیں کون سا رہ گیا تھا۔ جی رفع روح بھی مراد ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا رفع روح کے لیے پہلے شرط ہے کہ اس کا مردہ ہونا ثابت کیا جائے جو ثابت ہی نہیں اس لیے یہاں تو سوائے رفع جسمانی کے اور معنی کوئی ہو سکتا ہی نہیں۔ اب محمد منشاء دیکھ رہا ہے میری طرف۔ میں نے کہا آپ تو کہتے تھے بتیس مناظرے کیے ہیں اس مسئلہ میں اور میں بڑا ایکسپرٹ ہوں تو اس وقت تو
آپ کو کوئی بات نہیں آ رہی۔ اور آگے ہے: وكان الله عزيزاً حكيما. اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے دو وصف بیان فرمائے ایک عزیز ہونا غالب ہونا اس سے بھی پتہ چلا کہ ایسا کوئی خرق عادت واقعہ بیان ہوا ہے۔ ”خاص غلبہ“ سے جس کا ذکر فرمایا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت حکیم بھی بیان فرمائی کہ آپ کو تا وقت مقررہ تک زندہ رکھنا اللہ تعالیٰ کی چند خاص حکمتوں کا خاص تقاضہ تھا۔ تو شبہ جو تھا وہ ختم ہو گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کسی کو نظر نہیں آئے کہاں گئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس اٹھا لیا۔ ہاں ایک خلش ابھی ذہن میں باقی ہے وہ کیا؟ کہ کل نفس ذائقۃ الموت. کے تحت ان پر موت آئے گی بھی یا نہیں۔ تو اس کا جواب اگلی آیت میں دے دیا: وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة ليكون عليهم شهيدا. قرآن پاک میں یہی ایک آیت ہے جہاں موت کا لفظ صراحتاً آ گیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق۔ لیکن اس زمانے کو موت سے قبل کا زمانہ قرار دیا گیا ہے کہ ضرور ضرور ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ یہ لوگ مسیح علیہ السلام پر اپنی موت سے پہلے ایمان لائیں گے یا مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔
اس پر محمد منشاء نے اعتراض کیا کہنے لگا کہ جی اس کا تو مطلب ہے کہ سب ایمان لائیں گے۔ میں نے کہا ”یہ سب“ ابھی بھولا نہیں آپ کو۔ تو جو مر رہے ہیں وہ کیا کریں گے؟
میں نے کہا دنیا جب بات کرتی ہے یہ سمجھ کر کرتی ہے کہ لوگ بات کو سمجھ جاتے ہیں۔ مرزے کا اپنا بھی یہ خیال تھا کہ جو میں بات کرتا ہوں نہ مجھے سمجھ آتی ہے نہ کسی اور کو سمجھ آتی ہے۔ اس لیے ایک بات کو بیس مرتبہ دھراتا تھا کہ اس کا مطلب یہ سمجھ آیا اب اس کا مطلب یہ سمجھ آیا اور اب یہ سمجھ آیا۔ میں نے کہا میں بات ان لوگوں میں کر رہا ہوں جو بات سمجھنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔ کہ جی سب ایمان لائیں گے۔ میں نے کہا چلو سب ہی ہو جائے گا مگر اس زمانے کے۔ یہ کیسے۔ میں نے کہا اس کو بالکل ایک عام فہم مثال سے سمجھو۔ میں نے کہا ان ماسٹر احسان صاحب کے نرینہ اولاد نہیں ہے ماسٹر احسان صاحب یہاں بیٹھے اب یہ کہیں کہ بھئی دیکھو جس دن اللہ تعالیٰ
نے مجھے بیٹا دیا میں انشاء اللہ پورے محلے کی دعوت کروں گا یہ وعدہ ان کا صحیح ہے یا نہیں۔ قابل قبول ہے ناں۔ اس وعدے کا مطلب کیا ہو گا جس دن یعنی آج سے دس سال بعد پندرہ سال بعد بیس سال بعد ماسٹر احسان صاحب کے ہاں لڑکا ہو گا اس دن جو لوگ محلے میں رہتے ہوں گے ان کی دعوت ہو گی۔ اس کا یہ مطلب سمجھنا کہ اس مجلس میں جو بیٹھے ہیں نہ ان میں سے کوئی مرے گا اور نہ محلے میں کوئی اور پیدا ہو گا۔
اس مجلس والوں کی دعوت کر رہے ہیں یہ سمجھنا درست نہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ ماسٹر احسان صاحب کو بیٹا دیں گے۔
(ماہنامہ لولاک۔ جلد 2۔ شمارہ 3-4)
قادیانی معجزات
پروفیسر منصور احمد ملک (سابق قادیانی)
قادیانی جماعت میں معجزات کا بہت تذکرہ ہوتا ہے، بات بات پر قادیانی جماعت کے حق میں معجزات کے ظہور کا تذکرہ ہو جاتا ہے۔ فلاں آدمی کو نوکری مل گئی۔ دیکھو یہ قادیانی جماعت کی سچائی کی نشانی ہے، فلاں آدمی کی لاٹری نکل آئی، قادیانی جماعت کا معجزہ ملاحظہ ہو؟ فلاں آدمی قتل ہو گیا، فلاں حادثے میں مر گیا، یہ ہے قادیانی جماعت کا معجزہ!!!
بندہ نے چونکہ قادیانی جماعت میں چالیس (40) سال سے زائد عرصہ گزارا ہے اور ایک کٹر قادیانی فیملی میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے میری گھٹی میں قادیانیت کی تعلیم و معجزات کا رس گھول کر مجھے لبالب پلایا جاتا رہا ہے۔ بچپن سے ہی قادیانی مربیوں کی زبانی قادیانیت کے معجزات کا تذکرہ سنتے آ رہے تھے اب جبکہ قادیانیت کا سارا اندرونہ دیکھنے کے بعد بقائمی ہوش و حواس قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کر چکا ہوں تو ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ ان ”معجزات“ پر بات کر لی جائے کیونکہ ایک غیر قادیانی باہر سے ان معجزات کو صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتا اور ایک قادیانی ان معجزات کی صحت پر شک نہیں کر سکتا ورنہ اس کا جینا حرام کر دیا جائے گا۔
قادیانیوں سے اگر پوچھیں کہ قادیانیت کے معجزات کیا ہیں؟ تو ان میں لیکھرام کا قتل، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، ضیاء الحق کا سانحہ شہادت اور ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نوبل انعام کی بات کریں گے۔ ان کے علاوہ چند افراد کے طاعون کا ذکر بھی کریں گے۔ آئیے ان پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔
لیکھرام کا قتل
پنڈت لیکھرام آریوں کا ایک پنڈت تھا، اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام کے خلاف بہت کچھ کہا۔ مرزا غلام احمد قادیانی پہلے کیونکہ اسلام کے دفاع کے نعرہ
کے ساتھ میدان میں آیا تھا لہٰذا اس سے مقابلہ کرنے والے اسلام کے خلاف بدزبانی کرتے تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسے بدزبانی سے روکا مگر ندارد۔ آخر اس کی ہلاکت کی پیش گوئی کی اور باقاعدہ ایک عرصہ مقرر کیا اور عید سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد اس کی ہلاکت کی پیش گوئی کی۔ واضح رہے کہ میری معلومات قادیانی جماعت کے نقطہ نظر سے ہیں، دوسری طرف سے فی الحال میں کچھ نہیں جانتا۔
قادیانی جماعت کی کتابوں میں ذکر ہے بلکہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اس کا اظہار کیا ہے کہ جب اس کی ہلاکت کی پیش گوئی کے چھ سال گزر گئے اور چند دن باقی رہ گئے تو سخت پریشانی پیدا ہوئی۔ مرزا غلام احمد قادیانی آخری دن بے چینی سے انتظار کر رہا تھا کہ کب لیکھرام کے قتل کی خبر آتی ہے۔ آخر اس کی خبر آ گئی کہ لیکھرام قتل ہو گیا ہے اور قاتل تلاش کے باوجود نہیں مل سکا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے کیونکہ اس کے قتل کے بارے میں پہلے سے اشتہار دے رکھا تھا لہٰذا ان پر قتل کا مقدمہ بنا مگر بوجوہ بچ گیا۔
قادیانی لٹریچر میں موجود ہے کہ ایک خونخوار قسم کا آدمی لیکھرام کے پاس مرید کے طور پر آیا اور تین دن تک اس کے ساتھ ساتھ رہا۔ آخر ایک دن موقع پا کر قتل کر کے بھاگ گیا۔ قادیانی جماعت کہتی ہے وہ ایک فرشتہ تھا جسے خدا نے بھیجا تھا، اس کا نہ ملنا ہی قادیانیت کے معجزے کی دلیل ہے۔
اس واقعہ پر تھوڑا سا غور کرنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ اس کے قتل کا انتظار کرنے والا اور بے چینی سے انتظار کرنے والا ہی اس خونخوار قسم کے شخص کو بھیجنے والا تھا۔ کسی اور شک سے پہلے عرض کروں کہ اس دور میں ایسے معجزات کی بہتات ہے۔ ایک سال میں کئی درجن معجزے صرف پاکستان میں ہو رہے ہیں، بہت سی شخصیات ان معجزوں کی وقوع پذیری کے لیے سخت قسم کے انتظار میں مبتلا رہتی ہیں۔ آئے دن کے دھماکوں اور بوری بند قتل اور دن دیہاڑے قتل بہت سی شخصیات کے لیے معجزات ہوتے ہیں۔ وہ شخصیات نہ صرف انتظار کرتی ہیں بلکہ پوری طرح ”دعا“ بھی کرتی ہیں اگر لیکھرام کے قتل سے کسی کی سچائی ظاہر ہوتی ہے اور ایک آدمی کے لیے نبوت تک کی سچائی اس قتل سے ثابت ہوتی ہے تو اس طرح تو یورپ میں اور بہت سے ایسے نبی (نعوذ باللہ) بیٹھے ہوئے ہیں جن کے لیے پاکستان میں ہر روز ایک معجزہ ہو رہا ہے۔ معجزہ کے لیے کیا یہی ایک بڑی نشانی ہے تا کہ قاتل پکڑا نہیں جاتا تو یہ اعلیٰ شان کے معجزے تو اب روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں، صرف ان شخصیات کو ان معجزات کا ادراک نہیں ورنہ وہ فوراً ان کو ”کیش“ کروا لیتیں۔
شہزادہ عبداللطیف قادیانی
اگر کوئی قادیانی جماعت کو چھوڑ جائے اور اس کا کوئی نقصان ہو جائے تو قادیانی جماعت میں برملا تذکرہ ہوتا ہے کہ دیکھو فلاں شخص نے قادیانی جماعت چھوڑی تو اسے یہ نقصان ہو گیا۔ اسے فلاں مالی یا جانی نقصان ہوا اور اگر کوئی نیا قادیانی ہو اور اس کے تمام رشتے دار اس سے ناراض ہو جائیں‘ اس کے مکان کو تباہ کر دیں۔ اس کے والدین اسے جائیداد سے عاق کر دیں اس سے سب کچھ چھین کر گھر سے نکال دیں تو اسے قادیانی جماعت میں کہا جاتا ہے کہ یہ آزمائش ہے‘ ابتلا ہے۔ ایسی قربانیاں تو دینی ہی پڑتی ہیں اور اگر کوئی قادیانی جماعت چھوڑنے کے بعد فوت ہو جائے تو یہ قادیانیت کے سنہری معجزات میں سے ہوگا مگر اتفاق کی بات ہے کہ ابھی تک ایسے معجزات قادیانی جماعت کے پاس جمع نہیں ہوئے۔ شاید خدا تعالیٰ قادیانیت کو چھوڑنے والوں کو خاص دیر تک زندہ رکھتا ہے تاکہ ان کی موت پر قادیانی اپنا ”مذہب“ نہ چمکا سکیں۔
عبداللطیف قادیانی افغانستان کے بادشاہ کے قریبی افراد میں سے تھا وہ ہندوستان آیا تو مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں سنا‘ قادیان چلا گیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی بیعت کر کے قادیانی ہو گیا وہ جب واپس افغانستان گیا تو ان کے حلقہ احباب میں پتہ چل گیا کہ یہ قادیانی ہو گیا ہے۔ یہ بات بادشاہ تک پہنچی‘ اس نے مفتی کے پاس کیس بھیجا تو انہوں نے واجب القتل (سنگسار) قرار دے دیا۔ سب احباب نے اس کو قادیانیت چھوڑنے کے لیے کہا مگر وہ نہ مانا۔ چنانچہ اس سزا پر عمل کرتے ہوئے اسے کھلے میدان میں کمر تک زمین میں گاڑا گیا اور پھر چاروں طرف سے پتھروں کی بارش شروع ہو گئی اور آخر پتھر مار مار کر مار دیا گیا۔ قادیانی لٹریچر سے ہی پتہ چلتا ہے کہ پتھروں کا اتنا بڑا ڈھیر لگ گیا کہ عبداللطیف قادیانی نظر نہ آتا تھا پھر پہرہ لگ گیا کہ کوئی اس کی لاش نہ لے جا سکے۔ چند دن بعد رات کے اندھیرے میں کسی مرید نے اس کی لاش نکال کر کسی نامعلوم جگہ پر دفن کی مگر بعد میں وہاں سے کسی نے نکال کر غائب کر دی۔
اب ذرا غور کرنے والی بات ہے کہ ایک آدمی جو پہلے باعزت زندگی گزار رہا تھا‘ صوم و صلوٰۃ کا پابند‘ نیک‘ متقی‘ پرہیزگار شخص تھا (یہ اوصاف خود قادیانی بتاتے ہیں) جب وہ قادیانیت قبول کرتا ہے تو اسے سرعام پتھر مار مار کر سنگسار کر دیا جاتا ہے نہ اس کا جنازہ پڑھا جاتا ہے اور وہ بے گور و کفن پڑا ہے۔ کیا یہ قادیانیت قبول کرنے پر خدا کی طرف سے سخت ترین سزا نہیں تھی؟ اگر ایک آدمی قادیانیت کو چھوڑ کر اس انجام کو پہنچتا پھر کیا یہ سزا ہوتی؟ مگر قادیانی اسے ”شہید“ کا لقب
دے کر فخر سے بتاتے ہیں۔
جو چاہے آپ کا حسن معجزہ ساز کرے
کہتے ہیں مرزا غلام احمد قادیانی نے افغانستان کی سرزمین کے لیے بددعا کی اور حکمرانوں کے لیے بہت کچھ کہا۔ کیا عبداللطیف قادیانی کی موت یا مرزا غلام احمد قادیانی کی دعائیں یا بد دعائیں رنگ لائیں؟ کیا افغانستان میں قادیانیت تیزی سے پھیلی اور وہاں قادیانیت تناور درخت کی طرح موجود ہے؟ بلکہ اس کے بالکل اُلٹ ہے۔ عبداللطیف قادیانی کے اس افسوس ناک انجام کا تذکرہ اس لیے کر دیا گیا ہے کیونکہ آگے اسی قسم کے ”معجزات“ کا ذکر ہوگا، یہ ان کے لیے تریاق کا کام دے گا۔
ذوالفقار علی بھٹو
1970ء کے عام الیکشن میں قادیانی جماعت نے کھل کر پیپلز پارٹی کی حمایت کی۔ قادیانی نوجوان پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے بھی زیادہ سرگرمی سے الیکشن میں مصروف رہے۔ پیپلز پارٹی کو کامیابی ملی، ذوالفقار علی بھٹو صدر و وزیراعظم بن گئے۔ 1974ء میں (سابقہ ربوہ) چناب نگر کے ریلوے سٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء کے ساتھ ایک جھگڑے پر چلنے والی تحریک، تحریک ختم نبوت کے طور پر سامنے آئی اور معاملہ تحقیقات تک پہنچا اس وقت کی قومی اسمبلی سے متفقہ مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو قادیانیوں کو اپنا محسن سمجھتے تھے لہٰذا وہ ان کے خلاف کچھ نہ کرنا چاہتے تھے، معاملہ قومی اسمبلی میں زیر بحث آیا تو قومی اسمبلی میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو طلب کیا گیا۔ 11 دن تک ان سے قادیانی جماعت کے بارے میں پوچھا جاتا رہا، قادیانی جماعت نے تفصیل سے اپنا موقف بیان کیا مگر انداز بیان ایسا تھا کہ تمام ممبران کو اپنا مخالف کر لیا۔ قومی اسمبلی کی کارروائی پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا ناصر نے اپنے انداز بیان سے ممبران کو قائل کرنے کے بجائے ان کو خلاف کر کے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ خلاف فیصلہ دیں۔ چنانچہ قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تو ذوالفقار علی بھٹو اس فیصلہ کو ماننے کے پابند تھے لہٰذا یہ فیصلہ ہو گیا۔
اب ظاہر ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا براہِ راست اس فیصلہ میں عمل نہ تھا بلکہ اس فیصلہ تک لانے میں اہم کردار مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا شاہ احمد نورانی اور دیگر علماء
اسلام نے ادا کیا۔ قادیانیوں کو جانی و مالی نقصان ہوا تو وہ بھی علماء اسلام نے مسلمانوں میں غیرت ایمانی کو اُجاگر کیا تو ردّعمل کے طور پر یہ نقصان سامنے آیا جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور انہیں پابند سلاسل کر دیا گیا تو 1977ء کے جلسہ سالانہ (ربوہ) چناب نگر پر قادیانی شاعر ثاقب زیروی نے ”انجام“ کے عنوان سے ایک نظم لکھی جس میں فرعون اور ہامان کے انجام کا تذکرہ کر کے ذوالفقار علی بھٹو کو بھی اسی لائن پر کھڑا کیا گیا جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی تو قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کا الہام دریافت کر لیا کہ لکھا ہے ”کلب یموت علی کلْب“ کہ ایک کتا ہے، وہ کتے کی موت مرے گا یعنی کتے کے جتنے اعداد بنتے ہیں اس کے مطابق تفصیل یہ بنائی گئی کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں یہ پیش گوئی ہے کہ اس کی عمر 52 سال ہوگئی ہے اور اعداد کا مجموعہ بھی 52 بنتا ہے لہٰذا اب یہ نہیں بچے گا۔ (حالانکہ لاہوری گروپ کے نزدیک اس لفظ کتے کا مصداق مرزا محمود تھا کہ وہ خلافت کے 52 سال میں مر گیا)
اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ جنہوں نے قادیانیوں کو کافر قرار دلوایا، وہ تو بچ گئے اور جس کی نہ نیت تھی اور نہ ہی براہِ راست کردار ادا کیا تھا، وہ پھنس گیا۔ کیا نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کو اصل مجرم نظر نہیں آئے اور یہ اوپر تھا، اسے رگڑ دیا گیا پھر اگر اس طرح کا انجام (پھانسی) ذلت ناک ہے اور یہ کوئی معجزہ ہے تو ایک بار عبداللطیف قادیانی کے انجام کو پڑھیں، وہ بھی تو کسی جماعت کے لیے معجزہ بن گیا ہو گا۔
مزید سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر خدا نے قادیانیوں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مجرم کو سزا دی تو جو جرم اس نے کیا تھا اور جس کی وجہ سے قادیانیوں کو تکلیف ہوئی، وہ بھی تو ختم کرتا۔ قانون ختم ہو جاتا، اسمبلی کے ارکان معافی مانگتے، جنہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، وہ سزا پاتے اور قادیانی ایک بار پھر پہلے سے بہتر شان سے فیلڈ میں آ جاتے مگر ایسا نہیں ہوا۔ لہٰذا بھٹو کی موت کو کسی اور کے لیے ہی رہنے دیں، قادیانیوں کو اسے اپنی طرف کھینچ کر کیش نہیں کروانا چاہیے۔
پھر خدا کی طرف سے کیسی سزا ہے کہ پاکستان کے 3/4 کروڑ عوام اسے شہید سمجھتے ہیں اس کے لیے قرآن خوانی کرتے ہیں، اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ اتنے دل تو مرزا غلام احمد قادیانی کے لیے نہیں دھڑکتے جتنے بھٹو کے لیے دھڑکتے ہیں۔ حالانکہ یہ عام قسم کا ایک سیاسی لیڈر تھا، کوئی مذہبی یا روحانی شخص نہ تھا۔
جنرل ضیاء الحق
1974ء کے بعد قادیانیوں کا معاشرے میں جینا دو بھر ہو گیا‘ قادیانی چوری چھپے نوکری کرتے‘ اس خوف میں مبتلا رہتے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے کہ میں قادیانی ہوں۔ سفر کے دوران‘ کھیل کے دوران‘ تعلیم کے دوران اور شاپنگ کے دوران قادیانی بے حد محتاط رہنے لگے‘ کسی پر ظاہر نہ ہونے دیتے کہ میں قادیانی ہوں۔ بھٹو کی وفات کے بعد قادیانی ایک بار پھر شیر ہو گئے مگر ابھی پوری طرح شیر نہیں ہوئے تھے کہ ضیاء الحق نے قادیانیوں کے خلاف ”ٹھنگھرو“ ڈنڈے مارا۔ 1983ء سے قادیانیوں کے خلاف ایک بار پھر تحریک زور پکڑنے لگی اور اب قادیانیوں پر مزید پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ چنانچہ اپریل 1984ء میں جنرل ضیاء الحق نے ایک آرڈینینس کے ذریعہ قادیانیوں کو مسلمانوں کی طرز پر اذان دینے سے روک دیا۔ اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد“ کہنے‘ اپنے آپ کو مسلمان کہنے یا ظاہر کرنے پر بھی پابندی لگا دی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشینوں کے لیے ”امیر المومنین“ کے الفاظ مرزا غلام احمد قادیانی کی بیگمات کے لیے ”ام المومنین“ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھیوں کے لیے ”صحابی“ جیسے الفاظ استعمال کرنے سے روک دیا گیا۔
اب قادیانی بالکل زمین پر لگ گئے۔ مرزا طاہر قادیانی سربراہ مئی 1984ء میں انگلینڈ بھاگ گیا‘ وہاں سے خطبات کے ذریعے قادیانیوں کے حوصلے بلند کرنے کی کوشش کرنے لگا اور ساتھ ساتھ نئے الہامات اور اشارات کا تذکرہ ملتا رہا اور قادیانی جماعت کو حوصلہ دیا جاتا رہا کہ ابھی جماعت کے حق میں یہ معجزہ ہو گا اور ابھی یہ ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ 1987ء کے شروع میں علماء اسلام کو للکارتے ہوئے مباہلہ کا چیلنج کر دیا مگر کئی مہینے اور سال گزرنے کے باوجود کسی عالم کو کچھ نہ ہوا۔ 1988ء اگست کے مہینہ میں جنرل ضیاء الحق ایک حادثے میں شہید ہو گئے۔ قادیانی جماعت کی طرف سے سخت قسم کی خوشی کا اظہار کیا گیا‘ نعرہ تکبیر بلند ہوئے کہ مباہلہ ہو گیا اور جنرل ضیاء الحق انجام کو پہنچا‘ اسے بہت بڑا معجزہ قرار دیا گیا۔
اب ذرا اس بات پر غور کیا جائے کہ ضیاء الحق اگر قادیانیوں کے خلاف کچھ کرنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے آئے تو باقی 31 افراد کا کیا قصور تھا؟ مرزا طاہر قادیانی نے اس بارے میں موقف اختیار کیا کہ فرعون کے ساتھ بھی کئی ہلاک ہوئے حالانکہ یہ 31 افراد ضیاء الحق کے ساتھی نہ تھے چند ایک کے علاوہ باقی اپنی اپنی ڈیوٹی ادا کر رہے تھے۔ کوئی پائلٹ تھا تو کوئی ٹیکنیشن۔ یہ سب فرعون کے ساتھی کیا ف گرفت کے بعد و نے کسی دوسرے ہوتا ہے تو عدالت ہے۔ اغوا شدگان ہیں۔ کیا خدا تعالیٰ نہیں کی یا تو خدا ۔ ممکن ہے ) اس و اُٹھا کر دیکھیں پاک پر تنقید ہو رہی تھی کہ والے ”الفاظ“ ک پیپلز پارٹی تو پہلے اپنے خلاف کر لیا اس کے ساتھ حا لوگوں کی آنکھیں کہ اس کی نظیر نہیں ضیاء الحق اپنی ڈیو مگر اس کا کیا کر ہو گئے۔ یہ محض ال کا مزار فیصل مسجد میں لاکھوں عقید اور ہر وقت کچھ نہ مگر پھر بھی لوگ ہو۔
ٹیکنیشن۔ یہ سب افراد ضیاء الحق کے ساتھ مل کر قادیانیوں پر حملہ آور نہیں ہوئے تھے جس طرح فرعون کے ساتھی اس کے ساتھ مل کر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حملہ آور ہوئے تھے۔
کیا خدا تعالیٰ اس بات پر قادر نہ تھا کہ وہ اسے علیحدہ ہلاک کرتا؟ پھر جنرل ضیاء الحق کی گرفت کے بعد وہ فیصلہ یا آرڈیننس ختم ہو گیا اور قادیانیوں کی داد رسی ہوگئی؟ ہوتا تو یوں ہے کہ کسی نے کسی دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہوتی ہے‘ کوئی نقصان کیا ہوتا ہے یا کسی کو جس بے جا میں رکھا ہوتا ہے تو عدالت مجرم کو نہ صرف سزا سناتی ہے بلکہ متاثرہ فریق کے نقصان کی تلافی بھی کی جاتی ہے۔ اغوا شدگان کو بازیاب بھی کرایا جاتا ہے یا مالی نقصان پورا کرنے کے احکامات صادر ہوتے ہیں۔ کیا خدا تعالیٰ کی ہستی پر الزام نہیں کہ اس نے انصاف کرتے ہوئے متاثرہ فریق کی داد رسی نہیں کی یا تو خدا نے غلط فیصلہ دیا (نعوذ باللہ ) یا پھر اس فیصلے کا قادیانیوں کے ساتھ تعلق نہیں (یہی ممکن ہے ) اس واقعہ کا دوسرا پہلو بھی غور طلب ہے کہ 17 اگست 1988ء سے قبل کے اخبارات اُٹھا کر دیکھیں‘ پاکستان میں جگہ جگہ جنرل ضیاء الحق کے خلاف جلوس نکل رہے تھے‘ اس کی پالیسیوں پر تنقید ہو رہی تھی بلکہ ایک جلوس کا میں خود عینی شاہد ہوں جس میں ضیاء الحق کے خلاف جنرل ایوب والے ”الفاظ“ کا ورد کیا جا رہا تھا اور یوں عوام میں جنرل ضیاء الحق کے خلاف سخت نفرت تھی۔
پیپلز پارٹی تو پہلے ہی خلاف تھی‘ مسلم لیگ کی حکومت توڑ کر (محمد خان جونیجو کی حکومت ) اسے بھی اپنے خلاف کر لیا تھا اور علماء کے شریعت بل کو روک کر انہیں بھی اپنے خلاف کر رکھا تھا مگر جوں ہی اس کے ساتھ حادثہ پیش آیا‘ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے ہمدردی بھر گئی‘ لوگوں کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور اس کے جنازہ میں اس کثرت کے ساتھ عوام شامل ہوئے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی اور لوگوں کے اس کے حق میں جذبات دیکھنے اور سننے والے تھے۔ جنرل ضیاء الحق اپنی ڈیوٹی کے دوران وردی میں فوت ہو کر شہید تو ہو گیا‘ قادیانی اس سے انکار نہیں کر سکتے مگر اس کا کیا کریں کہ جو لوگ ایک دن قبل اس کے سخت خلاف تھے وہ فوراً ہی اس کے حق میں ہو گئے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا‘ خدا تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں کو اس طرف پھیر دیا‘ اس کا مزار فیصل مسجد کے احاطہ میں بنا دیا۔ آج اس واقعہ کو 12 سال ہو چکے ہیں مگر ہر سال اس کی برسی میں لاکھوں عقیدت مند جاتے ہیں‘ یہ عقیدت مند کون ہیں؟ پھر سارا سال اس کے مزار پر ہر روز اور ہر وقت کچھ نہ کچھ لوگ دعا کرنے اس کے مزار پر جا رہے ہوتے ہیں‘ اس کا مزار راستے میں نہیں مگر پھر بھی لوگ اس طرف جاتے ہیں۔ شاید ہی کوئی اور سربراہ ایسا گزرا ہو جسے اتنی عقیدت ملی ہو۔
اگر تو یہ قادیانیوں کی طرف سے ایک سزا اور انجام ہے تو ایسا انجام تو ہر مسلمان خوشی سے قبول کرلے گا جس سے لاکھوں کروڑوں انسانوں کے دلوں میں نفرت کے بجائے ہمدردی اور عقیدت بھر جائے۔ قادیانی تو جس خدا کو پیش کرتے ہیں، اس کی بڑی تعریفیں کرتے تھے کہ ہر مشکل کام کو آسان کر سکتا ہے مگر تجربات نے ثابت کیا کہ قادیانیوں کا خدا مسلمانوں کے خدا کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اس کی ایک اور وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں نے ایک خدا کو ساری طاقت کا سرچشمہ سمجھ رکھا ہے جبکہ قادیانیوں کے سینکڑوں خدا ہیں اس طرح طاقت تقسیم ہوگئی ہوگی۔ (قادیانی جماعت کے مبینہ خداؤں کا تذکرہ اگلے کسی مضمون میں) بھٹو کی موت پیپلز پارٹی کے مخالفین کے لیے معجزہ تھی تو جنرل ضیاءالحق کی موت پیپلز پارٹی کے لیے۔ قادیانی خوامخواہ اپنا ”سچ تلنے“ کی کوشش کرتے ہیں۔
علماء اسلام
اگر قادیانیوں کے خلاف کام کرنے یا مخالفت کرنے پر کسی کو سزا ہو سکتی تھی تو آج تک کئی سو علماء اسلام عبرتناک انجام کا شکار ہو چکے ہوتے کیونکہ سینکڑوں علماء کی کوششوں سے قادیانی اتنا نقصان اٹھا چکے ہیں کہ اس کی تلافی ناممکن ہے۔ ان کے خلاف اتنا لٹریچر تیار ہو چکا ہے جس کا عشر عشیر بھی قادیانی نہیں کر سکتے۔ عوام الناس کے ذہنوں میں قادیانیوں کے خلاف اتنا کچھ بھر دیا گیا کہ اب قادیانیوں کے بارے میں کسی بھی اچھے تاثر کا پیدا ہونا ناممکن ہے۔ 1974ء سے 2000ء تک مسلسل قادیانیوں کا گراف نیچے جارہا ہے اور وہ اس نہج تک پہنچ چکا ہے کہ اوپر اٹھ ہی نہیں سکتا۔ 1974ء کے بعد پیدا ہونے والا بچہ جو اب 25 سال کے قریب ہے اور اپنی تعلیم بھی مکمل کر چکا ہے۔ گویا عاقل بالغ ہو چکا ہے اس نے اب تک قادیانیوں کو غیر مسلم اور کافر ہی جانا ہے وہ کبھی بھی قادیانیوں کو مسلمان نہیں سمجھ سکتا بلکہ ایک اسی عمر کا ایک قادیانی نوجوان بھی خود کو مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہی کہے گا۔
مذکورہ بالا کئی سو علماء اسلام کی کارگزاری اگر خدا کو ناپسند تھی تو انہیں اس دنیا میں عبرت کا نشان بناتا، ہمارے دور کے مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شورش کاشمیریؒ اور مولانا مودودیؒ جیسے اکابر اپنی طبعی وفات کے ساتھ قادیانیوں کو مایوس کر گئے اب اگر ایک سو میں سے کوئی حادثے میں وفات پا جاتا ہے تو کیا ہوا؟ مرزا محمود قادیانی پر بھی تو قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور آخر دم تک اس زخم سے پریشان رہا بلکہ اس حملے کے اثرات کے نتیجہ میں آخری دور معذوری کی حد تک جا
پہنچا۔ قادیانی جماع ہوئے قادیانیوں کا ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی سائنس دان ثابت انہیں نوبل انعام ۔ جماعت نے بھی قادیانیوں نے مز تھا کہ: ”میر قادیا ایک شخص کو عالمی ا یا ثبوت ہے نہا سالانہ میں اس ا سالوں میں 100 جانے لگا۔ یونیو جانے لگے۔ مز ریکمنڈ کیا گیا ۔ لیکچر دیئے گئے کریں۔ مرکز 1982ء میں 10 روپے فی ک اب بھی اس با دستیاب ہے۔ کہ 10 سالوں
طرف سے ایک سزا اور انجام ہے تو ایسا انجام تو ہر مسلمان خوشی سے کروڑوں انسانوں کے دلوں میں نفرت کے بجائے ہمدردی اور س خدا کو پیش کرتے ہیں، اس کی بڑی تعریفیں کرتے تھے کہ ہر تجربات نے ثابت کیا کہ قادیانیوں کا خدا مسلمانوں کے خدا کے ایک اور وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں نے ایک خدا کو ساری قادیانیوں کے سینکڑوں خدا ہیں اس طرح طاقت تقسیم ہو گئی خداؤں کا تذکرہ اگلے کسی مضمون میں) بھٹو کی موت پیپلز پارٹی ل ضیاء الحق کی موت پیپلز پارٹی کے لیے۔ قادیانی خوامخواہ اپنا
کام کرنے یا مخالفت کرنے پر کسی کو سزا ہو سکتی تھی تو آج تک شکار ہو چکے ہوتے کیونکہ سینکڑوں علماء کی کوششوں سے قادیانی کافی ناممکن ہے۔ ان کے خلاف اتنا لٹریچر تیار ہو چکا ہے جس کا عام الناس کے ذہنوں میں قادیانیوں کے خلاف اتنا کچھ بھر دیا میں کسی بھی اچھے تاثر کا پیدا ہونا ناممکن ہے۔ 1974ء سے ف نیچے جا رہا ہے اور وہ اس سٹیج تک پہنچ چکا ہے کہ اوپر اٹھ ہی ہونے والا بچہ جواب 25 سال کے قریب ہے اور اپنی تعلیم بھی چکا ہے اس نے اب تک قادیانیوں کو غیر مسلم اور کافر ہی جانا نہیں سمجھ سکتا بلکہ ایک اسی عمر کا ایک قادیانی نوجوان بھی خود کو
کی کارگزاری اگر خدا کو ناپسند تھی تو انہیں اس دنیا میں عبرت کا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شورش کاشمیریؒ اور مولانا کے ساتھ قادیانیوں کو مایوس کر گئے اب اگر ایک سو میں سے کوئی ہوا؟ مرزا محمود قادیانی پر بھی تو قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور آخر دم تک کے اثرات کے نتیجہ میں آخری دور معذوری کی حد تک جا
پہنچا۔ قادیانی جماعت کے کتنے ”قادیانی“ دن دیہاڑے قتل ہو گئے، کتنے حادثوں میں ہلاک ہوئے، قادیانیوں کو توبہ کرنی چاہیے۔ (مگر نہیں کریں گے)
ڈاکٹر عبدالسلام کا نوبل انعام
قادیانی جماعت ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو پاکستان کا مشہور اور عالمی شہرت یافتہ سائنس دان ثابت کرنا چاہتی ہے، ان کے بقول ان کی سائنسی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ ان کی وجہ سے پاکستان کی عزت میں بھی اضافہ ہوا اور قادیانی جماعت نے بھی اپنا قد بڑھانے کی کوشش کی۔ 1979ء میں ان کو نوبل انعام ملا تو فوراً بعد قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک قول کو دریافت کر لیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا تھا کہ:
”میرے فرقہ کے لوگ علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے۔“
قادیانی جماعت کے لیے تو یہ خوشی کی بات تھی کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو عالمی انعام ملا ہے مگر اس کو اس حد تک لے جانا کہ یہ قادیانیت کی سچائی کی ایک علامت یا ثبوت ہے، نہایت مضحکہ خیز بات ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اس انعام کے بعد مرزا ناصر نے جلسہ سالانہ میں اس انعام کو بہت زیادہ اچھال کر اور جذبات میں آ کر کہا تھا کہ ”ہمیں آئندہ 10 سالوں میں 100 عبدالسلام جیسے سائنس دان چاہئیں“ اور پھر اس کے بعد طلباء میں علمی جوش بھرا جانے لگا۔ یونیورسٹی اور کالجوں سے پوزیشن لینے والوں میں حوصلہ افزائی کے لیے انعام دیئے جانے لگے۔ مزید یہ کہ ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنے اور دماغی طاقت کو بڑھانے کے لیے سویا بین کو ریکمنڈ کیا گیا۔ جلسہ سالانہ کی تقاریر اور دیگر اجتماعوں کے خطبات میں سویا بین کے فوائد پر تفصیلی لیکچر دیئے گئے اور قادیانی جماعت کے افراد پر زور دیا گیا کہ اس کا تیل اور دیگر پروڈکٹ استعمال کریں۔ مرکزی سطح پر تحریر و تقریر کے ذریعہ سویا بین کے حق میں مہم چلائی گئی۔ مجھے یاد ہے کہ 1982ء میں بیرون ملک سے سویا بین آئل کے کیپسول منگوائے گئے اور طلباء میں 5 روپے تا 10 روپے فی کیپسول فروخت کیے گئے اگر سویا بین فائدہ مند تھی یا ہے تو اس مہم کو ختم کیوں کرا دیا گیا اب کبھی اس بارے میں تبلیغ نہیں کی جاتی اب تو عام استعمال کے لیے سویا بین آئل مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اتنی کوششوں کے باوجود قادیانی سربراہ مرزا ناصر کی خواہش کہ 10 سالوں میں 100 عبدالسلام کی سطح کے سائنس دان چاہئیں، بالکل پوری نہ ہو سکی بلکہ ایک
فیصد بھی پوری نہ ہوئی بلکہ آج 20 سال گزر چکے ہیں اس کے باوجود قادیانیوں میں ایک بھی سائنس دان اس سطح کا پیدا نہ ہوسکا۔
قادیانی جماعت نے یہ تاثر دیا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کو قادیانیت کی وجہ سے ترقی ملی ہے‘ ان سے کوئی پوچھے کہ آج تک جو ڈیڑھ دو سو دیگر عالمی سائنس دانوں کو یہ انعام مل چکا ہے‘ کیا وہ بھی قادیانیت کی وجہ سے ملا ہے؟ یا قادیانیت کی مخالفت کی وجہ سے؟ اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ قادیانی جماعت کے اس فارمولے کے مطابق جس مذہبی جماعت کے نوبل انعام یافتگان کی تعداد زیادہ ہوگی‘ وہ سچی ہوگی۔ ڈاکٹر عبدالسلام کی اس کامیابی کو خوامخواہ اپنی طرف کھینچ کر اسے متنازعہ بنادیا اور تعصب کا مظاہرہ کر کے عوام کی اکثریت کو ان کے خلاف کر دیا حالانکہ اگر وہ ایک قومی ہیرو تھے تو قادیانی جماعت نے انہیں زیرو کر دیا۔
طاعون اور قادیانی جماعت
1900ء کے لگ بھگ مرزا غلام احمد قادیانی نے اعلان کیا کہ ملک میں خصوصاً پنجاب میں طاعون پھوٹنے والی ہے اور اس سے بہت تباہی آئے گی مگر قادیانی اس سے محفوظ رہیں گے اور یہ ایک معجزہ کی حیثیت رکھے گی کہ باقی لوگ مریں گے مگر قادیانی اس سے محفوظ رہیں گے۔
طاعون نے کئی سال لگا کر پورے ہندوستان میں تباہی مچائی اس کی لپیٹ میں قادیانی آئے یا نہیں یہ کیونکہ بہت پرانی بات ہے اس کا ریکارڈ کتابوں اور اخبارات میں تو ہوگا مگر اس وقت میں وہ بات بتانا چاہتا ہوں جو شاید اخبارات اور کتابوں میں نہ ہو مگر یہ ہمارے اپنے گاؤں محمود آباد جہلم کے متعلق ہے۔
1980ء میں میں نے محمود آباد کی تاریخ لکھنے کے لیے اس وقت کے موجود بزرگوں سے معلومات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا کہ 1900ء تا 1924ء تقریباً ہر سال ان علاقوں میں طاعون نے تباہی مچائی تھی جبکہ 1918ء اور 1924ء میں اس کی شدت زیادہ تھی۔ 1918ء اور 1924ء کے حالات کے بارے میں بتایا گیا کہ محمود آباد کے لوگ گھروں سے باہر نکل کر زمینوں میں کیمپ (جھونپڑیاں) لگا کر رہنے لگے۔ 1918ء اور 1924ء میں تقریباً 35 افراد اس طاعون کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
محمود آباد کی اس وقت کی آبادی 80 فیصد قادیانی افراد پر مشتمل تھی۔ طاعون سے فوت ہونے والوں کی اکثریت قادیانی تھی‘ اس میں ہمارے قریبی رشتہ دار بھی تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے
محمود آباد کے باہر ایک نیا قبرستان آباد ہو گیا۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ طاعون کا قادیانی بھی اسی طرح شکار ہوئے جس طرح دیگر عام لوگ۔ قادیانی معجزات پر بڑا یقین رکھتے ہیں مگر سو سال میں قادیانی جماعت کی جھولی میں کوئی خاص معجزہ نہ آسکا جن معجزات کا وہ ذکر کرتے ہیں‘ ان پر تبصرہ ہو چکا ہے البتہ کسی مخالف کے کان میں درد ہو یا سائیکل سے گر جائے یا کوئی مالی نقصان ہو جائے تو قادیانی خوش ہو جاتے ہیں کہ معجزہ ہو گیا۔ چلو ”لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ“ کے مطابق دل کو خوشی اور لہو کو گرم رکھنے کا ان کا بھی حق ہے۔ ہمیں یہ حق تسلیم ہے اس حق کو استعمال کریں شاید حق کو استعمال کرتے کرتے ”حق“ کو پالیں۔
سید انور شاہ کشمیریؒ کا جلال فخر المحدثین سید انور شاہ کشمیریؒ کے دورۂ حدیث میں کچھ طالب علم ضلع اعظم گڑھ سے بھی آئے ہوئے تھے۔ اعظم گڑھ کا ایک بااثر قادیانی‘ جو ضلع سہارنپور میں کسی اہم عہدہ پر فائز تھا‘ ایک دن اپنے شہر کے طلباء سے ملنے کے لیے دارالعلوم پہنچ گیا اور طلباء کو شکار کے بہانے باہر لے گیا تاکہ انہیں قادیانیت کی تبلیغ کر سکے۔ کسی طرح سے حضرت شاہ صاحبؒ کو اس واقعہ کا پتہ چل گیا۔ طلباء کی دینی بے حمیتی پر حضرت شاہ صاحبؒ کو سخت دلی رنج ہوا۔ رات کو طلباء واپس آئے اور طلباء کو جب حضرتؒ کی ناراضگی کا پتہ چلا تو سہم گئے۔ ان میں سے ایک طالب علم حضرتؒ کے کمرے میں معذرت کے لیے گیا۔ اسے دیکھ کر حضرتؒ سخت جلال میں آگئے اور قریب پڑی چھڑی اٹھا کر اس طالب علم کی خوب مرمت کی اور فرمایا! بے شرمو! رسول اللہ کی ختم نبوت کے باغی کے ساتھ میل جول رکھتے تمہیں حیا نہیں آتی۔ تمام طالب علم حضرتؒ کی خدمت میں معافی و معذرت کے مجسمے بنے پیش ہوئے اور آئندہ ایسی غلطی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اسلام و مرزائیت
الحمدللہ وکفی وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ اما بعد
ہندوستان میں مسلمانوں کی بہت سی مختلف الخیال جماعتیں آباد ہیں بعض میں فروعی و جزوی اختلاف ہے، اور بعض میں اصولی، پھر اصولی اختلاف رکھنے والے فرقوں میں باہمی فرق ہے.. بعض فرقے بالکل ہی اسلام کے اصول قطعیہ کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور بعض اصل الاصول کو مان کر ان کے ماتحت اصول میں مختلف ہیں۔ عوام اور جدید تعلیم یافتہ حضرات جو اسلام کے اصول و فروع سے پوری واقفیت نہیں رکھتے عموماً ان سب جماعتوں اور فرقوں کو ایک ہی درجہ میں سمجھتے ہیں جسکی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان عظیم پہنچتا ہے کیونکہ جس طرح جزوی اور فروعی اختلاف کی بناء پر آپس میں لڑنا جھگڑنا اور تشدد برتنا مذموم و ناجائز ہے اسی طرح اصولی اختلاف کو نظر انداز کر کے ایسے فرقوں کو جن کے عقائد اسلامی عقائد اور قرآن و حدیث کی تعلیمات کے قطعاً خلاف ہوں مسلمان سمجھنا اس سے زیادہ مضر اور مذموم ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت نے جس فرقہ کی بنیاد پنجاب میں ڈالی ہے وہ اس قسم سے ہے کہ اسکے عقائد کسی طرح عقائد اسلامیہ پر منطبق نہیں ہو سکتے لیکن چونکہ وہ اپنے آپکو مسلمان کہتے ہیں اور ظاہر میں نماز روزہ اور تلاوت قرآن میں عام مسلمانوں کے ساتھ شریک نظر آتے ہیں اسلئے عام مسلمان اور بالخصوص جدید تعلیم یافتہ حضرات فریب میں آجاتے ہیں۔
علماء اگر ان کو متنبہ کرتے ہیں تو سمجھا جاتا ہے کہ علماء کا اختلاف تو ہمیشہ سے ہی چلا آیا ہے اور بعض حضرات تو خود ان حضرات علماء پر الزام رکھتے ہیں کہ
یہ ہمیشہ لڑتے رہتے ہیں اور کفر کے فتویٰ دینے کی انکو عادت ہو گئی ہے اسلئے احقر کے اساتذہ نے بالخصوص استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد رسول صاحب بھاگلپوری سابق مدرس دارالعلوم دیوبند نے ایک ایسا رسالہ لکھنے کا حکم فرمایا جس میں ہم اپنی طرف سے کچھ نہ لکھیں بلکہ عقائد مرزائیہ کو عقائد اسلامیہ کے مقابلہ میں رکھ کر لوگوں کے سامنے پیش کر دیں تاکہ ہر عقل و انصاف والا خود بخود یہ فیصلہ کر سکے کہ اس فرقہ کے عقائد اسلامی عقائد سے کس قدر متضاد واقع ہوئے ہیں اور حضرات علماء اور تمام اسلامی فرقے کس مجبوری کی وجہ سے مرزائیوں کے کفر و ارتداد پر متفق ہوئے ہیں اسلئے احقر نے اس رسالہ میں عقائد اسلامیہ قرآنی آیات اور مستند حدیثی روایات کے حوالہ سے جمع کئے ہیں اور اسکے بالمقابل دوسرے کالم میں اسکے متعلق مرزا صاحب کے عقائد خود انکی کتابوں سے اور انکے خلیفہ جانشین مرزا محمود اور انکے خاص مبلغین کی تصانیف سے مع انکی اصلی عبارت اور صفحہ کے نقل کر دیئے ہیں ان دونوں کالموں میں ہمارا کوئی خیال اور کوئی مضمون نہیں ہے جدید تعلیم یافتہ حضرات سے میری درخواست ہے کہ برائے کرم اپنے وقت کا تھوڑا سا حصہ ہمیں صرف فرما دیں اور دونوں عقائد کا موازنہ و مقابلہ کر کے نتیجہ نکالیں کہ فرقہ مرزائیہ کو مسلمان کہنا چاہئیے یا خارج از اسلام واللہ الہادی الی سبیل السداد.
عتیق الرحمٰن آروی
ذات و صفات باری تعالیٰ
(١) ابوت و نبوت
اسلام
- (١) وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَداً
لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئاً اِدًّا . تَكَادُ السَّمٰوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا . وَمَا يَنْبَغِی لِلرَّحْمٰنِ اَنْ يَتَّخِذَ وَلَداً
(مریم ع٦)
اور یہ (کافر) لوگ (عیسائی یا مرزائی) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد (بھی) اختیار کر رکھی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (کہ) تم نے (جو) یہ (بات کہی تو) ایسی سخت حرکت کی ہے کہ اس کے سبب کچھ بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے اڑ جائیں اور پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑیں اس بات سے کہ یہ لوگ خدا کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ خدا کی شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے۔
- (٢) وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَداً
سُبْحَانَهُ
(یونس ع٧)
اور (کافروں نے) کہا اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا
مرزائیت
- (١) اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزَلَةِ وَلَدِیْ
(اے مرزا) تو بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے
(حقیقۃ الوحی ص٨٦ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
- (٢) اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزَلَةِ اَوْلَادِیْ
(اے مرزا) تو بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔
(البشریٰ ص٦٥ ج٢ مرتبہ محمد منظور الٰہی قادیانی)
- (٣) اِسْمَعْ وَلَدِیْ
سن اے میرے بیٹے (مرزا)
(البشریٰ ص٤٩ ج١)
- (٤) اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر
٤، ص١٩ میں بابو الٰہی بخش کی نسبت یہ الہام ہے "بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائیگا جو متواتر ہونگے۔ تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ (حیض) بچہ ہو گیا ہے جو بمنزلہ اطفال اللہ (اللہ کے بیٹے) کے ہے
(تتمہ حقیقۃ
الوحی ص١٤٣)
- (٥) اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ
مظهر الحق وَالْعُلٰی كَاَنَّ
صفات باری تعالیٰ
(١) بنوت و نبوت
ن وَلَداً لِلسَّمٰوَاتِ الْاَرْضِ الرَّحْمٰنِ مِنْ اَنْ ) کہتے ہیں یار کر رکھی م نے (جو) ت کی ہے کہ آسمان جائیں اور ے کہ یہ کرتے ہیں اولاد اختیار هُ وَلَداً ہ بیٹا بنا لیا
مرزائیت
(١) اَنْتَ مِنِّىْ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِىْ (اے مرزا) تو بمنزلہ میرے بیٹے کے
ہے (حقیقتہ الوحی ص ٨٦ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
(٢) اَنْتَ مِنِّىْ بِمَنْزِلَةِ اَوْلَادِىْ (اے مرزا) تو بمنزلہ میری اولاد کے
ہے۔ (البشریٰ ص ٤٩ ج ٢ مرتبہ محمد منظور الہی قادیانی)
(٣) اِسْمَعْ وَلَدِىْ سن اے میرے بیٹے (مرزا) (البشریٰ ص ٤٩ ج ١)
(٤) اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر ٤، ص ١٩ میں بابو الٰہی بخش کی نسبت یہ الہام ہے "بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ مجھے اپنے انعامات دکھلائیگا جو متواتر ہونگے۔ تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ (حیض) بچہ ہو گیا ہے جو بمنزلہ اطفال اللہ (اللہ کے بیٹے) کے ہے (تتمہ حقیقتہ
الوحی ص ١٤٣)
(٥) اِنَّامُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ مظهرالحق وَالْعَلٰى كَاَنَّ
ہے۔ وہ اللہ پاک ہے اس سے (کہ کسی کو اپنا بیٹا بناوے)
(٣) سُبْحَانَهُ اَنْ يَّكُوْنَ لَهُ وَلَدٌ پاک ہے اللہ تعالیٰ اس سے کہ اسکو بیٹا یا اولاد ہو۔
(٤) لَمْ يَلِدْ (اخلاص) نہیں جنا اللہ نے کسی کو
(٥) وَلَمْ يُولَدْ (اخلاص) اور نہ جنا گیا وہ یعنی اللہ تعالیٰ نہ کسی کا باپ اور نہ کسی کا بیٹا ہے۔
(٦) من اعترف بالهیه الله تعالى ووحدانيته ولكنه ادعى الله ولداً اوصاحبة اووالداً فذلك كله كفر باجماع
المسلمين (شرح شفا ص ٥١٣، ج٢)
جو شخص اقرار کرے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور خدائی کا اور اس کے ایک ہونے کا لیکن خدا کے لئے بیٹا یا باپ یا بی بی ہونے کا مدعی ہو تو یہ کفر ہے بالاتفاق یعنی ایسے شخص کے کافر ہونے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔
الْمُنْزَلُ مِنَ السَّمَاءِ ہم تجھکو (اے مرزا) خوش خبری دیتے ہیں ایک لڑکے کی۔ (جو بھگوان ہو گا) جو حق اور عُلٰی کا ظاہر کرنے والا ہو گا۔ گویا اللہ تعالیٰ خود بخود آسمان سے اتر آئے گا۔
(مطلب اس الہام کا یہ ہے کہ خود خدا
آسمان سے اتر کر تیرا بیٹا بن جائیگا)
(الاستفتاء ص ٨٥ ملحقہ حقیقتہ الوحی مصنفہ مرزا
غلام احمد قادیانی)
(٦) انت منی وانا منک (اے مرزا) تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے
ہوں۔ (البشریٰ ص ٩٣ ج ٢)
(٢) زوجیت
(١) اَنّٰى يَكُوْنُ لَهُ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَئْى وَهُوَ بِكُلِّ شَئْىٍ عَلِيْمٌ (انعام ع ١٢)
(١) حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی
اسکے کہاں سے بیٹا پیدا ہوا۔ اسکی تو کوئی بی بی نہیں۔ اس نے سب چیزوں کو پیدا کیا اور وہی ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا (یعنی جو کام بوقت شہوت میاں اپنی بی بی سے کرتا ہے (العیاذ باللہ) خدا نے مرزا صاحب کے ساتھ وہی کام کیا (اسلامی قربانی مصنفہ یار محمد صاحب قادیانی)
(٣) مماثلت
- (١) لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ
السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (شوریٰ ع٢) نہیں ہے مانند اس کے کوئی چیز وہی تمام چیزوں کا سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
- (٢) لَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُواً اَحَدٌ (اخلاص)
اور نہیں کوئی اس سے برابری کرنے والا۔
- (٣) ای لم یکافئه احد ولم
يما ثله ولم يشاكله (روح البیان ص ١١٩ ج ٤) یعنی نہ تو کوئی خدا کے برابر ہے اور نہ اس کے مانند ہے اور نہ اس کے ہم شکل ہے۔
- (٤) ومن اعترف بالهيته
الله ووحدانيته ولكنه اعتقدانه مصور بصورة فذلک کفربالاجماع (شفاج ٢ ص ٥١٤) اگر کوئی خدا کو ایک مانتے ہوئے یہ اعتقاد رکھے کہ وہ صورت اور شکل والا ہے تو وہ کافر ہے بالاتفاق۔
- (١) دانیال نبی نے کتاب میں میرا نام
میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنے میکائیل کے ہیں خدا کے مانند ۔ مطلب یہ ہے کہ میں خدا کے مانند ہوں اور دوسرے نبیوں نے بھی مجھ کو خدا کے مانند بتایا ہے۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ حاشیہ)
- (٢) اور تندوسے کی طرح اس وجودِ اعظم (اللہ
تعالیٰ) کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں (توضیح مرام ص ٧٥)
- (١) وَمَا اَرْسَلْنَا
رَسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ اور نہیں بھیجے ہم ۔ وحی کرتے تھے ہم نہیں ہے کوئی معب عبادت کرو۔
- (٢) وَمَنْ يَّقُلْ
دُوْنِهِ فَذٰلِكَ كَذٰلِكَ نَجْزِي ال اور جو کوئی کہے ان بھی اللہ ہوں اللہ دینگے اسکو دوزخ ۔ ا ظالموں کو۔
- (٣) وَقَالَ ال
اثْنَيْنِ اِنَّمَا هُوَ فَارْهَبُوْنِ (نحل اور کہا اللہ تعالیٰ اسکے نہیں کہ وہ م پس مجھ ہی سے ڈرو
- (٤) اِلٰهُكُمْ اِلٰہ
(٤) الوہیت
(١) وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْ اِلَيْهِ اَنَّهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ
(انبیاء 17/2)
اور نہیں بھیجے ہم نے پہلے تجھ سے پیغمبر مگر وحی کرتے تھے ہم ان لوگوں کی طرف یہ کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر میں ۔ پس میری ہی عبادت کرو۔
(٢) وَمَنْ يَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّيْ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهِ فَذٰلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ
(انبيا 17/2)
اور جو کوئی کہے ان میں سے کہ بیشک میں بھی اللہ ہوں اللہ تعالیٰ کے سوا پس ہم بدلہ دینگے اسکو دوزخ۔ اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم ظالموں کو۔
(٣) وَقَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْا اِلٰهَيْنِ اثْنَيْنِ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ
(نحل 14/7)
اور کہا اللہ تعالیٰ نے نہ بناؤ دو خدا سوائے اسکے نہیں کہ وہ معبود (اللہ) اکیلا ہی ہے ۔ پس مجھ ہی سے ڈرا کرو۔
(٤) اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ
(نحل 14/3)
(١) رَاَيْتُنِيْ فِي الْمَنَامِ عَيْنِ اللّٰهِ وتيقنت اننى هو میں نے خواب دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں اور پھر میں نے یقین کر لیا کہ میں ہی خدا ہوں (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
(٢) فخلقت السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ اَوَّلاً بِصُوْرَةِ اجمالية لَّا تفريق فيها ولا ترتيب ثم خلقت السَّمَاءَ الدُّنْيَا وَقُلْتُ اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ ثم قلت الآن نخلق الانسان من سلالة من طين. فخلقت آدم انا خلقنا الانسان في احسن تقويم وكنا كذالك الخالقين. پس میں نے پہلے آسمان و زمین اجمالی شکل میں بنائے جن میں کوئی ترتیب نہ تھی پھر میں نے آسمان کو پیدا کیا اور کہا بیشک زینت دیا ہم آسمان دنیا کو چراغوں سے پھر میں نے کہا انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کرینگے پس میں نے آدم کو بنایا اور ہم
تم لوگوں کا معبود ایک اللہ ہے۔
(٥) اِذْ قَالَ اِبْرَاهِيْمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيٖ وَيُمِيْتُ (بقرہ 3/35) جبکہ کہا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہ میرا پروردگار وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔
(٦) اِنَّمَا اَمْرُهٗ اِذَا اَرَادَ شَيْئاً اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (یسین 23/5) جب وہ (اللہ تعالیٰ) کسی چیز (کے پیدا کرنے) کا ارادہ کرتا ہے تو بس اسکا معمول تو یہ ہے کہ اس چیز کو کہدیتا ہے کہ ہو جا پس وہ ہو جاتی ہے۔
نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا اور اس طرح سے میں خالق ہو گیا۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٥)
(٣) اعطيت صفة الافناء والاحیاء (خطبه الهاميه ص٢٣) مجھکو فنا کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔
انما امرک اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون (البشریٰ، ج٢، ص٩٤، مجموعہ الہامات مرزا) بیشک تیرا (مرزا صاحب) ہی حکم ہے جب تو کسی شے کا ارادہ کرے تو اسے کہدے کہ ہو جا پس ہو جاتی ہے۔
(٥) نوم ویقظہ ۔ جہل و غلطی وغیرہ
(١) اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَأْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ
(بقرہ 3/1)
اللہ تعالیٰ (ایسا ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں۔ زندہ ہے سنبھالنے والا ہے (تمام عالم کا) نہ اسکو اونگھ دبا سکتی ہو اور نہ نیند۔
(٢) قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا
(١) اصلی واصوم اسهر وانام (اللہ تعالیٰ مرزا صاحب کے الہام میں کہتا ہے) میں نماز پڑھتا ہوں۔ اور روزہ رکھتا ہوں۔ میں جاگتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ (البشریٰ ص ٧٩ ج ٢)
(٢) انی مع الرسول اقوم افطر
فَاطِرِ السَّمٰوَاتِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَ آپ کہیے کہ کیا اللہ اور زمین کے پیدا کر کہ (سب کو ) کھلانے کو کوئی کھلانے کو نہیں د قرار دوں ۔
(٣) ولَا يَصِح ع الكذب لانهما عليه محال (شرح اور نہیں صحیح ہے اس اسلئے کہ دونوں نقص نقص خدا کے لئے محال
(٤) ويكفر الله تعالى مما جعل لِلَّهِ شريكا ا او نسبة الى الـ او النقص (فتاوی ج ٢ ص ٢٣٦) ، ج ٥ ص ١٢٠) جبکہ کوئی شخص اللہ وصف ثابت کرے مناسب نہ ہو یا اس کے
... الَّذِي ...م نے کہ ...مارتا ہے۔ ...دُ شَيْئاً ...23/5) ...کے پیدا ...کا معمول ...ہے کہ ہوجا
نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا اور اس طرح سے میں خالق ہو گیا۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٥)
- (٣) اعطيت صفة الافناء
والاحياء (خطبه الهاميه ص٢٣) مجھکو فنا کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔
انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول له كن فيكون (البشریٰ، ج٢، ص٩٤، مجموعہ الہامات مرزا) بیشک تیرا (مرزا صاحب) یہی حکم ہے جب تو کسی شے کا ارادہ کرے تو اسے کہدے کہ ہوجا پس ہوجاتی ہے۔
وم ويقظہ ۔ جہل و غلطی و غیرہ
...الْحَيُّ ...لَا نَوْمٌ ...سوا کوئی ...بچانے ...د با سکتی ...وَلِيّاً
- (١) اصلی واصوم اسهر وانام
(اللہ تعالیٰ مرزا صاحب کے الہام میں کہتا ہے) میں نماز پڑھتا ہوں۔ اور روزہ رکھتا ہوں۔ میں جاگتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ (البشریٰ ص ٧٩ ج٢)
- (٢) انى مع الرسول اقوم افطر
فَاطِرِ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ (انعام 7/3) آپ کہیے کہ کیا اللہ کے سوا جو کہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ہیں اور جو کہ (سب کو) کھانے کو دیتے ہیں اور ان کو کوئی کھانے کو نہیں دیتا کس کو (اپنا) معبود قرار دوں۔
- (٣) ولا يصح عليه الجهل ولا
الكذب لا نهما نقص والنقص عليه محال (شرح عقائد جلالی) اور نہیں صحیح ہے اسپر جہل اور نہ جھوٹ اسلئے کہ دونوں نقص اور عیب ہیں اور نقص خدا کے لئے محال ہے۔
- (٤) ويكفر اذا وصف
الله تعالى مما لايليق به او جعل لله شريكاً او ولداً او زوجة او نسبة الى الجهل او العجز او النقص (فتاویٰ عالمگیری ج٢ ص٢٣٦)، و بحرالرائق ج٥ ص١٢٠) جبکہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے لئے ایسا وصف ثابت کرے جو اسکی شان کے مناسب نہ ہو یا اس کے لئے کسی کو شریک
واصوم میں اپنے رسول کے ساتھ ساتھ کھڑا ہوتا ہوں اور میں افطار کرتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں۔
(حقیقة الوحی ص ١٠٣، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
- (٣) انی مع الاسباب آتیک
بغتةً انی مع الرسول اجیب اخطئ واصيب انی مع الرسول محیط میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آونگا۔ میں اپنے رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا خطا اور غلطی بھی کرونگا۔ اور بھلائی کرونگا میں اپنے رسول کے ساتھ محیط ہوں۔
- (٤) یانبی الله کنت لا اعرفک
(خدائی الہام ہوتا ہے) اے اللہ کے نبی! میں تجھے نہیں پہچانتا۔
(مجموعہ الہامات "البشریٰ" ص ١٠٧، ج٢)
ٹھہرائے یا اولاد یا بی بی ثابت کرے۔ یا خدا کی طرف جہل، خطا عجز یا نقص و عیب کو منسوب کرے تو ایسا شخص کافر ہو جاتا ہے۔
(٦) حدوث و قدم عالم
(١) اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ
(قرآن)
اللہ ہی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے
فمن قال بقدم العالم فهو كافر
(شرح فقه اكبر ص٢)
جو شخص قدم عالم کا قائل ہو وہ کافر ہے۔
(٢) ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ (پ٧، سوره انعام ع ١٢) اللہ پروردگار تمہارا ہے نہیں کوئی معبود مگر وہ پیدا کرنے والا ہر چیز کا (اور ظاہر ہے کہ پیدا کرنے والا اور بنانے والا پہلے ہوگا اور جو چیز پیدا کی گئی ہے اور بنائی گئی ہے وہ اسکے بعد ہوگی اس سے معلوم ہو گیا کہ خالق کے ساتھ مخلوق کو قدیم ماننا بالکل غلط ہے اور قرآن مجید کی آیتوں کا انکار کرنا ہے۔)
(٣) كَانَ اللّٰهُ وَلَمْ يَكُنْ مَّعَهُ شَیْءٌ
(ترمذی مسلم بخاری)
(١) ہم جانتے ہیں کہ خدا کی تمام صفات کبھی ہمیشہ کے لئے معطل نہیں ہوئی اور خدا تعالیٰ کی قدیم صفات پر نظر کر کے مخلوق کے لئے قدامت نوعی ضرور ہے۔ (چشمہ معرفت ص ١٦٠ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
(٢) ہمارا ایمان ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے مالک ہے اسی طرح وہ ہمیشہ سے خالق بھی ہے وہ ہمیشہ سے پیدا کرتا اور فنا کرتا چلا آیا ہے۔ ہر زمانہ میں کوئی نہ کوئی مخلوق اس کے ساتھ چلی آرہی ہے (حدوث روح و مادہ ص ٣ مصنفہ میر محمد اسحاق صاحب ماموں مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ
اللہ ہی تھا اسکے ساتھ کوئی روح نہ مادہ اور نہ سلسل دوسری مخلوق)
(٤) لا نزاع فی کفر المواظب طول ا الطاعات باعتقاد ونفی الحشر والعلـ او نحو ذلک وکذا من موجبات الکفـ مقاصد بحث سابـ مخالف الحق من ص ٣٦٨ تا ٣٧٠، ج٢)
ایسے شخص کے کافر ہونے نہیں جو اعتقاد رکھتا ہو کہ قیامت نہ ہوگی۔ یا جزئیات کو نہیں یا اس کے مثل ا اسی طرح موجبات کفر صادر اگرچہ وہ اہل قبلہ ہو اور پابندی اور بجا آوری دائمی اور اپنی زندگی عبادت میں ہو جاتا ہے۔
(٥) فمن واظب بـ على الطاعات والـ
اللہ ہی تھا اسکے ساتھ کوئی چیز نہیں تھی (نہ روح نہ مادہ اور نہ سلسلہ عالم، اور نہ کوئی دوسری مخلوق)
(٤)لا نزاع فی کفر اهل القبله المواظب طول العمر علی الطاعات باعتقاد قدم العالم ونفی الحشر والعلم بالجزئیات او نحو ذلک و کذا بصدور شئی من موجبات الکفر. (شرح مقاصد بحث سابع فی حکم مخالف الحق من اهل القبله ص ٢٦٨، ٢٧٠، ج ٢)
ایسے شخص کے کافر ہونے میں کسی کا خلاف نہیں جو اعتقاد رکھتا ہو کہ عالم قدیم ہے یا قیامت نہ ہوگی۔ یا جزئیات کا علم اللہ تعالیٰ کو نہیں یا اس کے مثل اور کفریہ عقائد اور اسی طرح موجبات کفر صادر ہونے سے بھی اگرچہ وہ اہل قبلہ ہو اور اسلامی احکام کی پابندی اور بجا آوری دائمی طور پر کرتا ہے اور اپنی زندگی عبادت میں گزارتا ہے۔ کافر ہوجاتا ہے۔
(٥) فمن واظب طول عمره علی الطاعات والعبادات مع
قادیانی)
(٣) یہی مذہب صحیح ہے کہ قدیم سے خدا تعالیٰ مخلوقات پیدا کرتا آیا ہے اور ابد تک پیدا کرتا رہیگا
(حدوث روح و مادہ ص ٧)
(٤) جاننا چاہیئے کہ چونکہ بعض ناواقف مناظر جو اسلام کی تعلیم سے کما حقہ واقفیت نہیں رکھتے سلسلہ کائنات کی ابتدا مانتے ہیں اور خدا کی صفت خلق کا ایک خاص وقت سے کام شروع کرنا تسلیم کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ خدا کے خلق کرنے کی کوئی ابتدا نہیں بلکہ جب سے خدا ہے (اور ہمیشہ سے ہے) تب ہی سے وہ مخلوق پیدا کرتا چلا آیا ہے اور جب تک وہ رہیگا (اور وہ ہمیشہ رہیگا) اس وقت تک وہ مخلوق پیدا کرتا چلا جاویگا ۔ نہ خدا کے خلق کرنے کی ابتدا ہے اور نہ انتہا۔ نہ کوئی پہلی مخلوق گذری نہ آخری مخلوق پیدا ہو گی۔ بلکہ ہر مخلوق کے
اعتقاد قدم العالم ونفى علمه تعالى بالجزئيات والكليات فلا يكون من اهل القبله.
(شرح فقه اكبر ص ١٨٥)
جو شخص ساری عمر طاعات و عبادات پر مداومت کرے مگر قدم عالم یا نفی حشر کا قائل (قیامت کا منکر) ہے تو وہ اہل قبلہ یعنی مسلمان نہیں ہے بلکہ کافر ہے۔
بعد مخلوق ہو گی اور سلسلہ پرواہ (١) سے
انادی (قدیم) ہے۔
(حدوث روح و ماده ص ٢٤٤)
نبوت و رسالت
(١) نبوت کو وہبی و کسبی ہونا
- (١) اَللّٰهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلٰئِكَةِ
رُسُلاً وَّ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ. (پ ١٧، سورہ حج کا آخری رکوع)
اللہ تعالیٰ (کو اختیار ہے رسالت کے لئے جسکو چاہتا ہے) منتخب کر لیتا ہے۔ فرشتوں میں سے (جن فرشتوں کو چاہے) احکام
- (١) میں عیسیٰ مسیح کو ہر گز ان امور میں سے
اپنے پر کوئی زیادت (فضیلت) نہیں دیکھتا یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا اور جیسے اسکی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں میں یقینی طور پر ان
(١) مرزائیوں اور آریوں میں کوئی فرق نہ رہا کیونکہ وہ بھی عالم کے سلسلہ کو پرواہ سے قدیم مانتے ہیں دیکھو ستیارتھ پرکاش باب ٨ ص ٣٣٦ سوال نمبر ٤٣ اور مرزائی بھی سلسلہ دنیا کو قدیم اور عالم کو ازلی ابدی مانتے ہیں اسکے بعد قیامت اور حشر و نشر ایک خواب پریشان ٹھریگا اور قیامت کا انکار کرنا ضروری ہو گا کما لا يخفى على المتامل۔ اس عقیدہ کے بعد یہ شور مچانا کہ ہم آریوں اور عیسائیوں میں تبلیغ کرتے ہیں۔ مناظرہ و مقابلہ کرتے ہیں۔ دروغ بے فروغ نہیں تو اور کیا ہے ١٢ عتیق الرحمن آروی)
پہنچانیوالے (مقر طرح) آدمیوں میں اللہ تعالیٰ خوب سننے
- (٢) قَالَتْ رُسُ
بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَلٰكِ مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِ
اور کہا ان (واقعی) ہم بھی تم (اللہ کو اختیار ہے جس پر چاہے احسا اور رسالت سے نو
- (٣) اَللّٰهُ اَعْلَ
رسالته (پ ٨
اس موقع کو تو خدا اپنا پیغام بھیجتا ہے (
(نوٹ) ان تینوں بتایا گیا ہے کہ الل رسالت سے چاہے احسان فرما میں سے جس دوسرے کے کوشش کر کے حا سے یہی تمام ام
17 بعد مخلوق ہو گی اور سلسلہ پرواہ (١) سے انادی (قدیم) ہے۔
(حدوث روح و مادہ ص ٢٤٤)
رسالت
نبوت کسبی ہونا
- (١) میں عیسیٰ مسیح کو ہرگز ان امور میں سے
اپنے پر کوئی زیادت (فضیلت) نہیں دیکھتا یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا اور جیسے اسکی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں میں یقینی طور پر ان
آریہ بھی عالم کے سلسلہ کو پرواہ سے قدیم مانتے ہیں دیکھو مرزائی بھی سلسلہ دنیا کو قدیم اور عالم کو ازلی ابدی ماننا پڑیگا اور قیامت کا انکار کرنا ضروری ہوگا حالانکہ ہم آریوں اور عیسائیوں میں تبلیغ کرتے ہیں۔ کیا ہے۔ (عبد الرحمن آروی)
پہنچانیوالے (مقرر فرمادیتا ہے) اور (اسی طرح) آدمیوں میں سے یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔
- (٢) قَالَتْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَحْنُ اِلَّا
بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ (پ ١٣، سورہ ابراہیم رکوع ٢)
اور کہا ان سے ان کے رسولوں نے کہ (واقعی) ہم بھی تمہارے جیسے آدمی ہیں لیکن (اللہ کو اختیار ہے کہ) اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرماوے اور اسکو نبوت اور رسالت سے نوازے۔
- (٣) اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ
رِسَالَتَه (پ ٨ سورہ انعام ع ١٢)
اس موقع کو تو خدا ہی خوب جانتا ہے جہاں اپنا پیغام بھیجتا ہے (یعنی کس کو نبوت دینی چاہئیے)
(نوٹ) ان تینوں آیتوں میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسکو چاہے نبوت و رسالت سے سرفراز کرے وہی جس پر چاہے احسان فرما کر نبی بنا دے اور لوگوں میں سے جس کو چاہے چن لے کسی دوسرے کے قبضہ میں نہیں ہے کہ وہ کوشش کر کے حاصل کر لے۔ ان آیتوں سے یہی تمام امت نے سمجھا ہے جیسا کہ ہم
معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں بلکہ ان سے زیادہ۔ اور یہ تمام شرف (خدا سے ہمکلامی اور نبوت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت وغیرہ) مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے۔
(چشمہ مسیحی ص ٢٣ سطر ٩ مصنفہ مرزا غلام
احمد قادیانی، مطبوعہ مطبع میگزین قادیان ١٩٠٦ء)
- (٢) مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و
مخاطبت الہیہ ہے۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع سے حاصل ہے۔
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
- (٣) آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی
آپکی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپکی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ٩٧)
- (٤) اگر امتی کو جو محض پیروی آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم سے درجہ وحی اور الہام اور نبوت کا پاتا ہے اور نبی کا نام دیا جائے تو
نے بیان کیا۔ ثبوت حسب ذیل ہیں۔
- (٤) ومن زعم انها (ای النبوة)
مكتسبة فهو زنديق يجب قتله لانه يقتضى كلامه واعتقاده ان لاتنقطع وهو مخالف للنص القرآنی والاحاديث المتواترة بان نبينا صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين . (شرح عقائد سفارینی ج٢، ص٢٥٧)
اور جو شخص یہ سمجھے کہ نبوت کوشش اور سعی سے حاصل ہو سکتی ہے وہ زندیق ہے اس کا قتل کرنا واجب ہے، اسلئے کہ اس کا یہ عقیدہ تو اسکو مقتضی ہے کہ سلسلہ نبوت کبھی ختم نہ ہو گا اور یہ نص قرآنی اور احادیث متواترہ کے خلاف ہے، جن میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا بیان کیا گیا ہے۔
- (٥) قال شيخ الاسلام ابن
تيميه وهؤلاء (ای الفلاسفه)عندهم النبوة مكتسبة وكان جماعته من زنادقه الاسلام يطلبون ان يصيروا نبياً والحاصل ان النبوة فضل من
اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹی (چشمہ مسیحی ص ٦٩ حاشیہ)
- (٥) اور میں اُسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ
جیسا کہ اس نے ابراہیم علیہ السلام سے مکالمہ و مخاطبہ کیا اور پھر اسحاق علیہ السلام سے اور اسمعیل علیہ السلام سے اور یعقوب علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام سے اور موسیٰ علیہ السلام اور مسیح بن مریم علیہما السلام سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف بخشا مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا۔
(تجلیات الٰہیہ ص ٢٤ مصنفہ مرزا صاحب)
- (٦) انسانی ترقی کے آخری درجہ کا نام نبی
ہے جو انسان محبت الٰہی میں ترقی کرتا ہوا صالحین سے شہداء میں اور شہدا سے
الله وموهبه سبحانه ويعط يكرمه بالنبو ولا يستحقهـ لها عن اسـ يخص بها من يشاء
فرمایا شیخ الاسلام علا لوگوں (یعنی فلسفہ کسبی ہے اور ز فرقے اور زندیق لو اور مقصد اس سے نبی بن جائیں اور یہ بالکل غلط اور خداوندی اور انعـ چاہتا ہے اس نعـ کوئی شخص نبوت نہیں حاصل کـ استعداد ولایت ۔
- (٦) (فان
مكتسبة او ليست النبـ يتوسل والرياضات
ں۔ النبوة) ب قتله ناده ان للنص متواترة وسلم عقائد ں اور سنی ہے اس کا اس کا یہ لمہ نبوت قرآنی اور جن میں کا خاتم
ابن (ای مكتسبة زنادقه وا نبياً ل من
اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی (چشمہ مسیحی ص ٢٩ حاشیہ)
- (٥) اور میں اُسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ
جیسا کہ اس نے ابراہیم علیہ السلام سے مکالمہ و مخاطبہ کیا اور پھر اسحاق علیہ السلام سے اور اسمعیل علیہ السلام سے اور یعقوب علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام سے اور موسیٰ علیہ السلام اور مسیح بن مریم علیہما السلام سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف بخشا مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا۔
(تجلیات الٰہیہ ص ٢٤ مصنفہ مرزا صاحب)
- (٦) انسانی ترقی کے آخری درجہ کا نام نبی
ہے جو انسان محبت الٰہی میں ترقی کرتا ہوا صالحین سے شہداء میں اور شہدا سے
الله وموهبه ونعمة يمن بها سبحانه ويعطيها لمن يشاء ان يكرمه بالنبوة فلا يبلغها بعلمه ولا يستحقها بكسبه ولا ينا لها عن استعداد ولايه بل يخص بها من يشاء (شرح عقائد سفارینی ج ٢، ص ٢٥٧)
فرمایا شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ نے: اور ان لوگوں (یعنی فلسفیوں) کے نزدیک نبوت کسبی ہے اور مسلمانوں میں بعض گمراہ فرقے اور زندیق لوگوں کا بھی یہی خیال ہے اور مقصد اس سے فقط یہ ہے کہ ہم لوگ بھی نبی بن جائیں اور دعوائے نبوت کریں لیکن یہ بالکل غلط اور باطل ہے بلکہ نبوت فضل خداوندی اور انعام الٰہی ہے اللہ تعالیٰ جسکو چاہتا ہے اس نعمت سے نوازتا ہے۔ پس کوئی شخص نبوت کو اپنے کسب اور علم سے نہیں حاصل کر سکتا اور نہ ریاضت اور استعداد ولایت سے نبی بن سکتا ہے۔
- (٦) (فان قلت) فهل النبوة
مكتسبة او موهبة فالجواب ليست النبوة مكتسبة حتى يتوسل اليها بالنسك والرياضات كما ظنه جماعة
صدیقوں میں شامل ہو جاتا ہے وہ آخر جب اس درجہ سے بھی ترقی کرتا ہے تو صاحب سر الٰہی (نبی) بن جاتا ہے۔ (حقیقۃ النبوہ
ص ١٥٣، ص ١٥٤ مصنفہ مرزا محمود احمد
صاحب خلیفہ ثانی قادیان)
- (٧) یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص
ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے (ڈائری میاں محمود
احمد صاحب خلیفہ ثانی قادیان مندرجہ اخبار
الفضل قادیان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
- (٨) میرا پیار اور میرا وہ محبوب آقا سید
الانبیاء ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص اسکی غلامی میں داخل ہو کر کامل اتباع و وفاداری کے بعد نبیوں کا رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور عزت ہے کہ آپکی
من الحمقى. وقد افتى المالكيه وغيرهم بكفر من قال ان النبوة مكتسبة. (اليواقيت والجواہر، ج ١، ص ١٤٧ مصنفہ شیخ عبد الوہاب شعرانی)
پس اگر سوال کرے تو کہ نبوت کسبی ہے یا وہبی تو جواب اس کا یہ ہے کہ نبوت اکتساب سے حاصل نہیں ہو سکتی تاکہ کوئی شخص عبادت اور ریاضت کر کے نبوت حاصل کر سکے جیسا کہ بعض احمقوں نے خیال کیا ہے بلکہ علمائے مالکیہ نیز ان کے علاوہ دیگر علما نے بھی ایسے شخص کو جو نبوت کو وہبی کہتا ہو کافر کہا ہے اور کفر کا فتویٰ دیا ہے۔
- (٧) وكذالك من ادعى النبوة
لنفسه او جوز اكتسابها والبلوغ بصفاء القلب الى مرتبتها كالفلاسفه وغلاة المتصوفة وكذالك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة فهولاء كلهم كفار مكذبون للنبى صلى الله عليه وسلم لانه اخبر انه خاتم النبيين لا نبى بعدى واخبر عن الله انه
کبھی غلامی میں نبی پیدا ہو سکتا ہے۔ (تقریر میاں محمود احمد مندرجہ اخبار الفضل ٢١ مارچ ١٩١٣ء منقولہ از قادیانی مذہب ص ٩١)
- (٩) براہ راست خدا تعالیٰ سے فیض وحی (و
نبوت) پانا بند ہے اور یہ نعمت بغیر اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو ملنا محال و ممتنع ہے اور یہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فخر ہے کہ ان کے اتباع میں یہ برکت ہے کہ جب ایک شخص پورے طور پر آپ کی پیروی کرنے والا ہو تو وہ خدا تعالیٰ کے مکالمات و مخاطبات سے مشرف ہو جائے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
- (١٠) اس امت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی اس کثرت فیضان کی سی
خاتم النبیین اور ایسے ہی کافر اپنے لئے نبوت حاصل کرنا جا نبوت کے مرتب کہ فلاسفہ اور غ صوفی کہلانیوالوں شخص دعوے کر ہوتی ہے گو وہ پس یہ تمام کے اللہ علیہ وسلم کو کہ آپ نے النبیین میں آ
- (١) مَا كَانَ
رِجَالِكُمْ وَلَـ النَّبِيِّينَ وَكَـ عَلِيمًا ترجمہ : نہیں تمہارے مردوں آپ اللہ کے ختم پر ہیں
18
بھی غلامی میں نبی پیدا ہو سکتا ہے۔ (تقریر میاں محمود احمد مندرجہ اخبار الفضل ٢١ مارچ ١٩١٤ء منقول از قادیانی مذہب ص ٩١)
- (٩) براہ راست خدا تعالیٰ سے فیض وحی (و
نبوت) پانا بند ہے اور یہ نعمت بغیر اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو ملنا محال و ممتنع ہے اور یہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فخر ہے کہ ان کے اتباع میں یہ برکت ہے کہ جب ایک شخص پورے طور پر آپ کی پیروی کرنے والا ہو تو وہ خدا تعالیٰ کے مکالمات و مخاطبات سے مشرف ہو جائے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
- (١٠) اس امت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی اس کثرت فیضان کی سی
خاتم النبیین۔ (شرح شفاء ج ٢، ص ٥٢٠) اور ایسے ہی کافر کہتے ہیں ہم اس شخص کو جو اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرے یا نبوت کا حاصل کرنا جائز سمجھے اور صفائی قلب سے نبوت کے مرتبہ تک پہنچنا ممکن سمجھے جیسا کہ فلاسفہ اور حدود شرعیہ سے نکلے ہوئے صوفی کہلانیوالوں کا خیال ہے۔ اسی طرح جو شخص دعویٰ کرے کہ اسکو منجانب اللہ وحی ہوتی ہے گو وہ نبوت کا دعویٰ نہ کرے پس یہ تمام کے تمام لوگ کافر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے ہیں۔ اسلئے کہ آپ نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
نبی میں نظیر نہیں مل سکتی۔ (حقیقۃ الوحی حاشیہ ص ٢٨)
(٢) ختم نبوت
- (١) مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ
رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا. (پ٢٢، سورہ احزاب ع ٥) ترجمہ : نہیں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کی
- (١) نعنی بختم النبوۃ ختم
کمالاتها على نبينا الذى هو افضل رسل الله وانبياءہ ونعتقد بانه لا نبی بعده الا الذى هو من امة ومن اكمل اتباعه (مواهب الرحمن ص ٦٧ ،
مصلحت کو خوب جانتا ہے۔
- (٢) ولكنه رسول الله و خاتم
النبيين الذى ختم النبوة فطبع عليها تفتح لاحد بعده الى قيام الساعة وبنحو الذى قلنا قال اهل التاویل (ابی جریر ص ١١ ج ٢٢ مصنفہ ابو جعفر بن جریر طبری)
ترجمہ: لیکن آپ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں یعنی وہ شخص جس نے نبوت کو ختم کر دیا اور اس پر مہر لگا دی پس وہ (نبوت کا دروازہ) آپ کے بعد کسی کے لئے نہ کھولی جائے گی قیامت کے قائم ہونے تک۔ اور ایسا ہی ائمہ تفسیر صحابہ و تابعین نے فرمایا ہے۔
- (٣) والمراد بكونه عليه
الصلوة والسلام خاتمهم انقطاع حدوث وصف النبوة فی احد من الثقلین بعد تحلیہ عليه السلام بها فی هذه النشأة۔ (روح المعانی ص ٦٠ ج ٧ سید محمود آلوسی بغدادی)
ترجمہ: اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ کے اس عالم میں وصف نبوت کے ساتھ متصف ہونے کے بعد وصف نبوت کا پیدا
مصنفہ مرزا غلام احمد)
ترجمہ: ختم نبوت سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمال نبوت کا ختم ہونا اور وہ تمام پیغمبروں سے افضل ہے۔ اور ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر جو آپکی امت سے ہو اور کامل متبعین سے ہو (از ازہاق الباطل ص ٤٩ مصنفہ منشی قاسم علی قادیانی)
- (٢) یہ شرف (نبوت) مجھے محض آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔
(تجلیات الٰہیہ ص ٢٤ مصنفہ مرزا غلام احمد
قادیانی)
- (٣) نبی کے معنے صرف یہ ہیں کہ خدا سے
بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور اشرف مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جسکی
ہونا بالکل منقطع ہو کسی میں یہ وصف پی خاتم النبیین خ فلانبوة بعدہ خازن ص ٣٧٠ ج ٣
ترجمہ: خاتم النبیین پر نبوت ختم کر د نبوت ہے، اور نہ آ
- (٥) عن انس
قال رسول الله وسلم ان الرسا انقطعت فلار نبی (رواہ الترمذی ص
ترجمہ: رسول اللہ صلی ہے کہ رسالت و نبو ہے پس میرے بعد ن
- (٦) عن ابی
عنہ عن النبی وسلم قال کا تسو سهم الا نبی خلفہ نبی بعدی وسیکون فی کتاب احادیث الا
مصنفہ مرزا غلام احمد)
ترجمہ: ختم نبوت سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمال نبوت کا ختم ہونا اور وہ تمام پیغمبروں سے افضل ہے۔ اور ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ مگر جو آپکی امت سے ہو اور کامل متبعین سے ہو (ازہاق الباطل ص ٤٩ مصنفہ
منشی قاسم علی قادیانی)
- (٢) یہ شرف (نبوت) مجھے محض آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔ (تجلیات الٰہیہ ص ٢٤ مصنفہ مرزا غلام احمد
قادیانی)
- (٣) نبی کے معنے صرف یہ ہیں کہ خدا سے
بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور اشرف مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جسکی
ہونا بالکل منقطع ہو گیا۔ جن و انس میں سے کسی میں یہ وصف پیدا نہیں ہو سکتا۔
خاتم النبيين ختم الله به النبوة فلانبوة بعده ولا معه (تفسیر
خازن ص ٣٧٠ ج ٣)
ترجمہ : خاتم النبیین یعنی اللہ تعالٰی نے آپ پر نبوت ختم کر دی پس نہ آپ کے بعد نبوت ہے، اور نہ آپ کے ساتھ۔
- (٥) عن انس بن مالک قال
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلارسول بعدی ولا نبی (رواہ الترمذی ص ٥١ ج ٨ واحمد فی مسندہ)
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رسالت و نبوت منقطع (ختم) ہو چکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا اور نہ نبی۔
- (٦) عن ابی هریرة رضى الله
عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال كانت بنوا اسرائيل تسو سهم الانبياء كلما هلک نبی خلفه نبی اخر و انه لا نبی بعدی و سيكون الخلفاء (رواہ البخاری فی کتاب احادیث الانبیاء ص ٤٢٩ ج و مسلم فی
متابعت سے انسان خدا تعالٰی سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا۔ کہ مکالمات الٰہیہ سے مشرف ہو سکے (یعنی نبی نہ ہو سکے) وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے، جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٣٨ ج ٥ مصنفہ
مرزا غلام احمد قادیانی)
(نوٹ) مطلب اسی پوری عبارت کا یہ ہے کہ جو دین یہ عقیدہ سکھلائے کہ اب اس میں وحی الٰہی کا دروازہ اور نبوت کا سلسلہ بند ہے جیسے اسلام ۔ تو وہ دین لعنتی ہے اور جس نبی نے اس دین کی تبلیغ کی ہے وہ نبی نہیں۔
(عتیق الرحمن آروی)
- (٤) ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں
نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے۔ اور اللہ تعالٰی کی نشانی اسکے صدق کی گواہی
کتاب الامارة واحمد فی مسند ص ٢٧٩ ج ٢) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اللہ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں البتہ خلفاء ہونگے۔
- (٧) قال رسول الله صلى الله
عليه وسلم انه سيكون فى امتی کذابون ثلاثون کلہم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبی بعدی (رواه مسلم و ترمذی وابو داؤد وغيرهم) میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہونے والے ہیں۔ ان میں ہر ایک یہی کہے گا میں نبی ہوں اور خدا کا رسول ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
- (٨) قال رسول الله صلى الله
عليه وسلم لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب (رواه الترمذی) ۔
دے چکی ہے اسی لئے ہم نبی ہیں۔ (ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی منقول از حقیقتہ النبوہ ص ٢٧٢ مصنفہ مرزا محمود خلیفہ ثانی قادیان)
- (٥) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور آپکی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس انعام (نبوت) کو بند کر دیا اب بتاؤ کہ اس عقیدہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف (نعوذ باللہ) اگر اس عقیدہ (ختم نبوت) کو تسلیم کیا جائے تو اسکے یہ معنی ہونگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (رسول اللہ صلعم) نعوذ باللہ دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ لعنتی اور مردود ہے (حقیقتہ النبوہ ص ١٨٦ مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی قادیان)
- (٦) یہ بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے
کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
کمی ہے اسی لئے ہم نبی ہیں۔ رزا غلام احمد قادیانی منقول از حقیقتہ ن ٢٧٤ مصنفہ مرزا محمود خلیفہ ثانی قادیان) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور شت کے بعد اللہ تعالی نے اس انعام ا) کو بند کر دیا اب بتاؤ کہ اس عقیدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف باللہ) اگر اس عقیدہ (ختم نبوت) کو م کیا جائے تو اسکے یہ معنی ہونگے کہ صلی اللہ علیہ وسلم (رسول اللہ صلعم) ر دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور ئے تھے اور جو شخص ایسا خیال کرتا لعنتی اور مردود ہے (حقیقتہ النبوہ ص صنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی قادیان) بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔
- (٩) اذالم یعرف ان محمداً
(صلے اللہ علیہ وسلم) آخر الانبیاء فلیس بمسلم لانه من ضروریات الدین (الاشباہ والنظائر ص ٢٩٦ کتاب السیر والردة) جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہ یقین کرے تو وہ مسلمان نہیں ہے بلکہ کافر ہو جاتا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا ضروریات دین سے ہے۔
نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے (حقیقتہ النبوۃ ص ٢٢٨)
- (٧) اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار
رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہونگا کہ تو جھوٹا ہے کذاب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔ (انوار خلافت ص ٦٥ مصنفہ محمود احمد خلیفہ قادیان)
- (٨) ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں
نبی اور ہوں گے (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد) (انوار خلافت ص ٦٢)
(٣) دعویٰ نبوت
- (١) اذالم یعرف الرجل ان
محمداً (صلے اللہ علیہ وسلم) اخر الانبیاء فلیس بمسلم و كذلك لوقال انا رسول الله اوقال بالفارسيته من پیغمبرم يريدبه من پیغام مى برم يكفر (فتاوى عالمگیری ص ٢٦٣ ج ٢)
- (١) سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا
رسول بھیجا (دافع البلاء ص ١١ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
- (٢) اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں
جسکے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے
مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨)
- (٣) ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی
ہیں (اخبار بدر ٥ مارچ ١٩٠٨ء)
- (٤) الہامات میں میری نسبت بار بار بیان
کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ۔ خدا کا مامور۔ خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔ (انجام آتھم ص ٦٢ مصنفہ مرزا غلام احمد صاحب)
- (٥) خدا وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول
یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا (اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
- (٦) ماسوا اسکے یہ بھی تو سمجھ لو کہ شریعت
کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے
ترجمہ: جب کوئی آدمی یہ عقیدہ نہ رکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے اور اگر کہے کہ میں رسول ہوں یا فارسی میں کہے کہ من پیغمبرم (میں پیغمبر ہوں) اور مراد یہ ہو کہ پیغام پہنچاتا ہوں تب بھی کافر ہو جاتا ہے۔
- (٢) ودعوی النبوة بعد نبینا
صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالاجماع (شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاتفاق کفر ہے۔
- (٣) وکذالک نکفر من ادعی
النبوہ احد مع نبینا صلی اللہ علیہ وسلم ای فی زمنہ کمسیلمہ الکذاب والاسود. العنسی اوتنبأ احدٌ بعدہ فانہ خاتم النبیین بنص القرآن والحدیث. فہذا تکذیب اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نسیم الریاض ص ٥٠٦ ج٤) ایسا ہی ہم اس شخص کو کافر کہتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی شخص کی نبوت کا قائل ہو جیسے حضور کے
زمانہ میں مسیلمہ اور اسود نے آپ کے بعد ن کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ ہیں۔ قرآن حکیم اور حد پس یہ اللہ اور اس کے ہے۔
- (٤) من اعتقد
محمد صلی اللہ فقد کفر باجما
(فتاویٰ علامہ اب
جو شخص آنحضرت صلی بعد وحی کا اعتقاد رکھے وہ ہے۔
- (٥) وکذالک قا
فیمن تنبأ وزعم ا انہ کالمرتد سو ذلک الی متابعہ کان او جھراً کمسیل وقال اصبغ بن ا زعم انہ نبی کالمرتد فی احکا کفر بکتاب اللہ صلی اللہ علیہ و
بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام پکارا ہے۔
حقیقۃ الوحی ص ٦٨)
) ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی
(اخبار بدر ٥ مارچ ١٩٠٨ء)
الہامات میں میری نسبت بار بار بیان ا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ۔ خدا کا مامور۔ کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ ما پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ے۔ (انجام آتھم ص ٦٢ مصنفہ مرزا غلام صاحب) خدا وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول نی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور ہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا (اربعین ٣ ص ٣٦ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی) ماسوا اسکے یہ بھی تو سمجھ لو کہ شریعت چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ ر امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے
زمانہ میں مسیلمہ اور اسود عنسی نے کیا یا کسی نے آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ قرآن حکیم اور حدیث کی نص سے۔ پس یہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب ہے۔
- (٤) من اعتقد وحیاً بعد
محمد صلی اللہ علیہ وسلم فقد کفر باجماع المسلمین
(فتاویٰ علامہ ابن حجر مکی)
جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی کا اعتقاد رکھے وہ باجماع مسلمین کافر ہے۔
- (٥) وکذالک قال ابن القاسم
فیمن تنبأ وزعم انہ یوحی الیہ انہ کالمرتد سواء کان دعا ذلک الی متابعہ نبوتہ سراً کان اوجہراً کمسیلمہ لعنہ اللہ وقال اصبغ بن الفرج ھوا من زعم انہ نبی یوحى الیه کالمرتد فی احکامہ لانہ قد کفر بکتاب اللہ لانہ کذبہ صلی اللہ علیہ وسلم فی قولہ
لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی ہیں۔۔۔۔۔ اسی پر تیس برس کی مدت گذر گئی۔ اور ایسا ہی ابتک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔ (اربعین نمبر ٤ صفحہ ٦)
(نوٹ) ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب نبی بھی ہیں اور رسول صاحب شریعت ہونے کے مدعی بھی ہیں۔
- (٧) اور جس قدر مجھ سے (مرزا صاحب سے)
پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گذر چکے ہیں انکو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ ان میں پائی نہیں جاتی (حقیقۃ الوحی ص ٣٩١)
- (٨) میں حضرت مرزا صاحب کی نبوت کی
انه خاتم النبيين لا نبي بعده مع افريته على الله (خفاجی شرح شفا ص ٤٣ ج ٤) ترجمہ: اور ایسے ہی ابن قاسم رحمہ اللہ نے اس شخص کے متعلق کہا ہے جو دعویٰ نبوت کرے اور کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے ۔ وہ مثل مرتد کے ہے برابر ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی نبوت کی اتباع کی دعوت دے یا نہ دے اور پھر یہ دعوت خفیہ ہو یا علانیہ جیسے مسیلمہ کذاب اور اصبغ بن الفرج، اور فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ کہے کہ میں نبی ہوں اور مجھ پر وحی آتی ہے وہ احکام میں مثل مرتد (جو مسلمان ہونیکے بعد کافر ہو جائے) کے ہے اسلئے کہ وہ قرآن کا منکر ہو گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قول میں جھٹلایا کہ آپ خاتم النبیین ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اور اسکے ساتھ اللہ تعالیٰ پر افترا بھی باندھا کہ اس نے مجھے نبی بنایا ہے۔
- (٦) وامامن قال ان بعد
محمد صلی الله عليه وسلم نبياً غير عيسى بن مريم فانه لا يختلف اثنان في تكفيره
نسبت لکھ آیا ہوں کہ نبوت کے حقوق کے لحاظ سے وہ ایسی ہی نبوت ہے جیسے اور نبیوں کی صرف نبوت کے حاصل کرنے میں فرق ہے پہلے انبیاء نے بلاواسطہ نبوت پائی اور آپ (مرزا صاحب) نے بالواسطہ (القول الفصل صفحہ ٤٣ مصنفہ میاں محمود احمد)
- (٩) پس شریعت اسلامیہ نبی کے جو معنی
کرتی ہے اس معنی سے حضرت (مرزا) صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں (حقیقتہ النبوۃ صفحہ ١٧٤)
- (١٠) ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں
کہ ہمارا ایمان یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے آج آپکی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ چھوڑ نہیں سکتے (اخبار
لصحه قيام الـ الفصل لعلامـ ص ١٨ ج ٤ ص ٩ ترجمہ: جو شخص کہے کـ وسلم کے بعد سواـ کوئی اور نبی ہے تو اس مسلمانوں کا بھی اختلاـ صحیح قائم ہے (یعنی ایسے شخص کو کافر کہا ۔
- (٧) ويكفر بنـ
ماقال الانبياء حـ بقوله انا رسول اـ ص ١٣٠ ج ٥) اگر کوئی کلمہ شک کـ انبیاء کا فرمان صحیح و سچ ۔ اسی طرح اگر یہ کہے ہوں تو بھی کافر ہو جاتا ۔
توہین حضرت عیـ
- (١) اِذْ قَالَتِ الْمـ
اِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عيـ
نسبت لکھ آیا ہوں کہ نبوت کے حقوق کے لحاظ سے وہ ایسی ہی نبوت ہے جیسے اور نبیوں کی صرف نبوت کے حاصل کرنے میں فرق ہے پہلے انبیاء نے بلاواسطہ نبوت پائی اور آپ (مرزا صاحب) نے بالواسطہ (القول الفصل صفحہ ٣٣ مصنفہ میاں محمود احمد)
- (٩) پس شریعت اسلامیہ نبی کے جو معنی
کرتی ہے اس معنی سے حضرت (مرزا) صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں
(حقیقتہ النبوت صفحہ ١٧٤)
- (١٠) ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں
کہ ہمارا ایمان یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے آج آپکی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ چھوڑ نہیں سکتے
(اخبار
لصحه قیام الحجه (کتاب الفصل لعلامته ابن حزم ص ١٨ ج ٤ ص ٢٤٩ وج ٣ ترجمہ: جو شخص کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سوائے عیسیٰ بن مریم کے کوئی اور نبی ہے تو اس کے کافر کہنے میں دو مسلمانوں کا بھی اختلاف نہیں کیونکہ حجت صحیح قائم ہے (یعنی تمام مسلمانوں نے ایسے شخص کو کافر کہا ہے)
- (٧) ويكفر بقوله ان كان
ماقال الانبياء حقاً او صدقاً و بقوله انا رسول الله
(بحرالرائق
ص ١٣٠ ج ٥)
اگر کوئی کلمہ شک کے ساتھ یہ کہے کہ اگر انبیاء کا فرمان صحیح و سچ ہو تو کافر ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر یہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو بھی کافر ہو جاتا ہے۔
پیغام صلح جلد اول نمبر ٣٥ مورخہ 7/9/1913 مسٹر محمد علی لاہوری مرزائی پارٹی کا ترجمان)
- (١١) ہم تمام احمدی (مرزائی) جنکا کسی نہ
کسی صورت میں اخبار پیغام و صلح سے تعلق ہے خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو اس زمانہ کا نبی رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں جو درجہ حضرت مسیح (مرزا صاحب) نے بیان فرمایا اس سے کم و بیش کرنا سلب ایمان سمجھتے ہیں
(اخبار
پیغام صلح جلد نمبر ١ ۔ نمبر ٢٢ مورخہ
16/10/1913
(٤) توہین انبیاء علیہم الصلوہ والسلام
توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام
- (١) اِذْ قَالَتِ الْمَلٰئِكَةُ يٰمَرْيَمُ
اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ
- (١) ہاں آپکو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو)
گالیاں دینی اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی
وَجِيهاً فِى الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ (پ ٣ سورہ العمران) (اس وقت کو یاد کرو) جبکہ فرشتوں نے (یہ بھی) کہا کہ اے مریم بیشک اللہ تعالیٰ تم کو بشارت دیتے ہیں ایک کلمہ کی جو منجانب اللہ ہو گا اسکا نام (و لقب) مسیح عیسیٰ بن مریم ہو گا (خدا کے نزدیک) با آبرو ہونگے۔ دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) اور منجملہ مقربین کے ہونگے۔
(٢) اِنَّه وجيهٌ فِي الدُّنْيابسبب انه كان مبرأً من العيوب التى وصفه اليهود ووجيهٌ فى الآخره بسبب كثره ثوابه وعلو درجه عندالله تعالے (تفسير كبير ص ٤٤٩ ج ١٢ ام فخرالدین رازی)
(٣) مَا الْمَسِيحُ ابْن مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قدخلت مِنْ قبله الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيْقَةٌ. (پ ٦ سوره مائده ع ١٠) حضرت مسیح ابن مریم (عین خدا یا جزو خدا) کچھ بھی نہیں صرف ایک پیغمبر ہیں جن سے پہلے اور بھی پیغمبر گزر چکے ہیں اور ان
ادنی ادنی بات میں اکثر غصہ آجاتا تھا اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے (انجام آتھم صفحہ ٥ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
(٢) یہ بھی یاد رہے کہ (آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی (انجام آتھم حاشیہ صفحہ ٥)
(٣) اور نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے پہاڑی تعلیم جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے گویا میری تعلیم ہے لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ (انجام آتھم)
(٤) پس ہم ایسے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اسکو نبی قرار دیں (انجام آتھم حاشیہ نمبر ٩)
(نوٹ) مسلمان ان گالیوں کو دیکھیں اور سمجھیں کہ ایک اولوالعزم نبی صاحب کتاب و شریعت کو کن کن ناپاک الفاظ سے یاد کیا
19 ادنی ادنی بات میں اکثر غصہ آجاتا تھا اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے (انجام آتھم صفحہ ٥ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
- (٢) یہ بھی یاد رہے کہ (آپ حضرت عیسیٰ
علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی (انجام آتھم حاشیہ صفحہ ٥)
- (٣) اور نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ
(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے پہاڑی تعلیم جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے گویا میری تعلیم ہے لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔
(انجام آتھم)
- (٤) پس ہم ایسے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام)
ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اسکو نبی قرار دیں (انجام آتھم حاشیہ نمبر ٩)
(نوٹ) مسلمان ان گالیوں کو دیکھیں اور سمجھیں کہ ایک الوالعزم نبی صاحب کتاب و شریعت کو کن کن ناپاک الفاظ سے یاد کیا
گیا ہے کیا جھوٹا متکبر ناپاک خیال چور زانی نبی ہو سکتا ہے اگر نہیں ہو سکتا اور یقیناً نہیں ہو سکتا تو کیا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار نہیں اور کیا ان گالیوں کا دینے والا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کا انکار کرنیوالا کبھی مسلمان ہو سکتا ہے۔ ہاں ممکن ہے کہ مرزائیوں کی طرف سے کہا جائے کہ اس میں گالیاں حضرت یسوع کو دیگئی ہیں حضرت عیسیٰ کو نہیں تو یاد رکھنا چاہئیے۔ کہ مرزا غلام احمد صاحب نے یسوع عیسیٰ علیہ السلام مسیح ابن مریم۔۔ ان چاروں اسموں کا مسمیٰ ایک ہی ٹھہرایا ہے اور وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ صاحب کتاب انجیل ہیں دیکھو توضیح مرام صفحہ ٣ راز حقیقت مصنفہ مرزا صفحہ ١٩ چشمہ مسیحی ص ١٨ وعظ ٢٠ ست بچن صفحہ ١٥٩)
- (٥) عیسائیوں نے بہت سے معجزات آپ
(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور انہوں (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے اپنے معجزہ مانگنے والوں کو گالیاں
کی والدہ (بھی صرف ایک ولی بی بی ہیں۔
- (٤) اِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ
مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَ رُوحٌ مِنْهُ (پ٦ سورہ النساء)
مسیح عیسیٰ بن مریم تو اور کچھ بھی نہیں البتہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ ہیں جسکو اللہ تعالیٰ نے مریم تک پہنچایا تھا اور اللہ کی طرف سے ایک جان ہیں۔
(نوٹ) ان آیتوں میں بار بار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا رسول اور اس کا نبی اور روح اللہ اور کلمتہ اللہ اور وجیہ فی الدنیا والآخرہ اور مقرب خدا وغیرہ بتایا گیا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی عظمت کو ظاہر کیا گیا ہے اور دوسری طرف مرزا صاحب ان کو بد اخلاق چور جھوٹا مکار فریبی کہہ رہے ہیں بلکہ ان کی نبوت اور معجزات کا انکار کر رہے ہیں۔ خدا انکی ماں کو صدیقہ (ولیہ کاملہ) کا خطاب دے رہا ہے۔ فرشتے ان کے سامنے آکر خدا کا پیغام پہنچا رہے ہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کو خیر النساء (بہترین عورت) اور افضل النساء العالمین (دنیا کی عورتوں سے افضل
سوائے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہ کے) بتارہی ہیں مگر مرزا غلام احمد قادیانی ان کو زانیہ وغیرہ قرار دے رہے ہیں۔ (العیاذ باللہ) کیا یہ صریح خدا اور رسول کا مقابلہ نہیں ہے۔ کیا یہ قرآن و حدیث کا انکار نہیں ہے۔ فاعتبروا یا اولی الالباب۔
- (٥) وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ
بِالْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِط
(پ ٣ بقرہ ع ٣٢)
اور دیا ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو معجزات اور تائید کی ہم نے ان کی روح القدس کے ذریعہ سے۔
- (٦) هوالذی رباه فى جميع الا
حوال وكان يسير معه حيث سار وكان معه حيث صعدالى السَّمَاء
(تفسیر کبیر)
جبرئیل علیہ السلام انکی ہر وقت نگہداشت کرتے اور کسی وقت ان سے جدا نہیں ہوتے تھے یہاں تک کہ ان کو آسمان پر اٹھا کر لے گئے۔
- (٧) والمعنى اعناہ بجبريل
عليه السلام فى اول امره وفى
دیں حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں
(ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ٦)
- (٦) ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر
کے ساتھ کسی شبکور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو مگر آپ کی بدقسمتی سے اس زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہونگے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نادان عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧)
- (٧) یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب
نے نقصان پہنچایا ہے اسی کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ شراب پیا کرتے تھے شاید کسی
وسطہ واخر امرہ (تـ
ص ٣٠٤ ج ٢)
اور معنی اس آیت کا یہ ہے کی امداد بذریعہ جبرئیل علیہ میں بھی اور وسط عمر میں بھـ میں بھی۔
- (٨) اِنِّیْ قَدْ جِئْتُـ
رَّبِّكُمْ اِنِّیْٓ اَخْلُقُ لَكُـ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ طَیْراً بِاِذْنِ اللّٰهِ وَ اَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمـ اللّٰهِط
(پ ٣ آل
ترجمہ: تحقیق آیا ہوں مـ ساتھ معجزہ اور نشانی کے کی جانب سے (وہ یہ کـ تمہارے لئے مٹی سے ماننـ پس پھونکتا ہوں میں اس ہے اڑنے والی چڑیا۔ اللہ اور چنگا کرتا ہوں مادر زاد ا داغ والے کو۔ اور جلاتا کے حکم سے۔
دیں حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ٦)
- (٦) ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر
کے ساتھ کسی شبکور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو مگر آپ کی بدقسمتی سے اس زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہونگے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نادان عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ٧)
- (٧) یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب
نے نقصان پہنچایا ہے اسی کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ شراب پیا کرتے تھے شاید کسی
وسطه واخر امره (تفسیر کبیر ص ٣٠٤ ج ٢) اور معنی اس آیت کا یہ ہے کہ ہم نے ان کی امداد بذریعہ جبرئیل علیہ السلام کرائی اول عمر میں بھی اور وسط عمر میں بھی اول اخیر عمر میں بھی۔
- (٨) اَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِنْ
رَّبِّكُمْ اَنِّي اَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْراً بِاِذْنِ اللّٰهِ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْيِ الْمَوْتٰي بِاِذْنِ اللّٰهِ ج اِنَّ فِي ذٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ط (پ ٣ آل عمران)
ترجمہ: تحقیق آیا ہوں میں تمہارے پاس ساتھ معجزہ اور نشانی کے تمہارے پروردگار کی جانب سے (وہ یہ کہ) میں بناتا ہوں تمہارے لئے مٹی سے مانند صورت چڑیا کے پس پھونکتا ہوں میں اس میں پس ہو جاتی ہے اڑنے والی چڑیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور چنگا کرتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو ۔ اور جلاتا ہوں مردوں کو اللہ کے حکم سے۔
بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے (کشتی نوح صفحہ ٦٥)
(نوٹ) جاننا چاہیئے کہ شراب گو زمانہ سابقہ میں حلال تھی۔ لیکن کسی نبی کا شراب پینا ہرگز ہرگز ثابت نہیں کیونکہ نبی کا ہر قول و فعل امت کے لئے واجب العمل ہوا کرتا ہے۔ نشہ کی وجہ سے انسان کو اپنی عقل میں رہنے نہیں دیا کرتا۔ حالانکہ یہ امر تبلیغ کے سراسر منافی ہے لہٰذا یہ مرزا کا ذاتی افترا ہے اور محض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین مقصود ہے۔
- (٨) پھر افسوس نالائق عیسائی ایسے شخص کو
خدا بنا رہے ہیں۔ آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک و مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپکی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا وجود پذیر ہوا مگر شاید خدائی کیلئے ایک شرط ہو گی۔ آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا کنجریوں (کسبی) سے میلان اور صحبت بھی
البتہ اسکے اندر (یعنی ان معجزات میں) نشانی ہے (اللہ کی طرف سے میرے نبی ہونے کی) تمہارے لئے اگر ہو تم ایمان والے۔
(٩) إِنَّ مَثَلَ عِيسٰى عِندَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ہ (پ٣ آل عمران ع٥) بیشک مثال عیسیٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مثل آدم کے ہے کہ پیدا کیا ان کو مٹی سے اور پھر کہا کہ ہو جا پس ہو گئے۔
(١٠) اجمع المفسرون على ان هذه الا يه نزلت عند حضور وفد نجران على الرسول صلى الله عليه وسلم وكان من جمله شبههم ان قالوا يا محمد (صلى الله عليه وسلم) لَمَّا سَلَّمْتَ انه لا اب لهُ من البشر وجب يكون ابوه هو الله تعالیٰ فقال ان آدم ماكان له اب ولام ولم يلزم ان يكون ابن الله تعالیٰ فكذا القول فى عيسىٰ عليه السَّلام الخ
شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری (کسی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اسکے سر پر ملے۔ اور اپنے بالوں کو اسکے پیروں پر ملے سمجھنے والے انسان سمجھ لیں کہ ایسا انسان کسی چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ٧)
(٩) حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس سال کی مدت تک نجاری (بڑھئی لوہار) کا کام کرتے رہے۔ (ازالہ اوہام صفحہ ٣٠٣ ج١ خورد و ج١، صفحہ ١٢٥ کلاں)
(١٠) مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح میں تو ان کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے نہ صرف اس پر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدس سمجھتا ہوں۔ کیونکہ
(تفسیر کبیر خلاصہ کلام یہ ۔ اتری ہے جبکہ آ کے پاس نجران کا قسم کے اعتر تھے۔ منجملہ اعتر کہ آپ (حضر نے حضرت عیس ہونا تسلیم کر بشر (آدمی) باپ باپ خدا ہو تو اس گیا کہ آدم علیہ ا تو کیا اس سے کے بیٹے ہو جا (عیسائی) لوگوں ایسے ہی عیس سمجھنا چاہیے کہ ا بھی وہ خدا ۔ حضرت آدم خ صلی اللہ علیہ و سلم کو بلا باپ کا ما اجماع بھی ہو صفحہ ٣٠٣ میں
شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنواری (کسی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اسکے سر پر ملے۔ اور اپنے بالوں کو اسکے پیروں پر ملے سمجھنے والے انسان سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ٧)
- (٩) حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ
یوسف کے ساتھ بائیس سال کی مدت تک نجاری (بڑھئی لوہار) کا کام کرتے رہے۔ (ازالہ اوہام صفحہ ٣٠٣ ج ١ خورد و ج ١، صفحہ ١٢ کلاں)
- (١٠) مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے
بکتا ہے کہ مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح میں تو ان کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے نہ صرف اس بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدس سمجھتا ہوں۔ کیونکہ
(تفسیر کبیر ص ٢٤١ ج ٢)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ آیت اس وقت اتری ہے جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجران کا وفد آیا ہوا تھا اور مختلف قسم کے اعتراضات و جوابات ہو رہے تھے۔ منجملہ اعتراضوں کے ایک یہ بھی تھا کہ آپ (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بلا باپ کے ہونا تسلیم کر لیا ہے، اور جب کسی کا بشر (آدمی) باپ نہ ہو گا تو ضروری ہو اسکا باپ خدا ہو تو اس آیت میں اسکا جواب دیا گیا کہ آدم علیہ السلام کو نہ باپ تھا نہ ماں ۔ تو کیا اس سے لازم آتا ہے کہ وہ بھی خدا کے بیٹے ہو جائیں ۔ ہر گز نہیں چنانچہ تم (عیسائی) لوگوں کو بھی تسلیم نہیں ہے تو ایسے ہی عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی سمجھنا چاہیے کہ اگر آدمی ان کا باپ نہیں تو بھی وہ خدا کے بیٹے نہیں ہو سکتے۔ جیسے حضرت آدم خدا کے بیٹے نہیں (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو حضرت مسیح علیہ السلام کو بلا باپ کا مانیں اور تمام امت کا اسی پر اجماع بھی ہو۔ مگر مرزا صاحب ازالہ اوہام صفحہ ٣٠٣ میں مسیح کو بلاباپ نہیں مانتے
یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے کہ جس نے ایک مدت تک اپنی تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل نکاح کر لیا گو لوگ اعتراض کرتے تھے کہ برخلاف تعلیم توریت نکاح عین حمل میں کیونکر کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کا ناحق کیوں توڑا گیا۔ اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے۔ نہ قابل اعتراض (کشتی نوح صفحہ ١٦ مصنفہ مرزا صاحب قادیانی)
(نوٹ) مرزا صاحب اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چار بھائی اور دو بہنیں بتاتے ہیں یعنی یہ سب ساتوں کے ساتوں یوسف نجار اور مریم کی اولاد تھیں لیکن یاد رہے کہ حقیقی بہن بھائی ان بچوں کو کہتے ہیں جن بچوں کے ماں اور باپ ایک
بلکہ یوسف نجار کو ان کا باپ بتاتے ہیں کیا اب بھی وہ مسلمان باقی رہیں گے۔
(١١) إِنَّ اللهَ اصْطَفٰى اٰدَمَ وَنُوْحاً وَّآلَ إِبْرٰهِيْمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِيْنَ ہ (پ ٣ آل عمران)
بیشک اللہ نے برگزیدہ کیا اور چن لیا آدم علیہ السلام کو اور نوح کو اور ابراہیم کے کنبے کو اور عمران کے خاندان کو تمام عالم پر (مگر مرزا عمران کی اہلیہ کو العیاذ باللہ زانیہ بتائے۔ کیونکہ حضرت مسیح کے نانا حضرت عمران ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے مگر پھر بھی مرزا مسلمان ہی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
ہی ہوں۔ مرزا صاحب کے اقرار کی رو سے حضرت مریم کا حمل جو نکاح سے پہلے تھا اگر اسکو قدرتی یا غیر کا تسلیم کیا جائے تو دوسری باقی اولاد یوسف نجار اور مریم کی حضرت عیسیٰ کے لئے حقیقی بہنیں اور بھائی نہیں بن سکتے البتہ اگر اس حمل کی نسبت یوسف کی طرف بقول مرزا صاحب کی جاویگی تو مرزا صاحب کا کلام صحیح ہو سکتا ہے لیکن اس صورت میں حضرت مسیح علیہ السلام کی والدہ مریم صدیقہ کا زانیہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ولد الحرام ہونا اظہر من الشمس ہو جائیگا۔
توہین حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
(١) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ۔ (پ ٢٦ حجرات)
(١) اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گذر گیا اور دوسری فتح باقی ہے جو پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور اعظم ہے اور مقدر تھا کہ وقت مسیح موعود (مرزا صاحب) کا وقت ہو (خطبہ الہامیہ صفحہ
اے ایمان والو آواز سے بلند ایسے کھل کر ب کرتے ہو کہی جائیں (جب نبی کرنے سے انسان اسکے سارے ن جاتے ہیں تو جو علیہ وسلم سے آگ ہو وہ کیسے مسلما
(٢) تلک بعضهم عل التفسیر ا بعضہم د صلی اللہ علیٰ سائر متعددہ و وظہرت ع الکثیرہ ول اعطی فض
(١) اس عبارت کریم صلی اللہ عل اکبر وغیرہ ہو
ہی ہوں ۔ مرزا صاحب کے اقرار کی رو سے حضرت مریم کا حمل جو نکاح سے پہلے تھا اگر اسکو قدرتی یا غیبی نہ تسلیم کیا جائے تو دوسری باقی اولاد یوسف نجار اور مریم کی حضرت عیسیٰ کے لئے حقیقی بہنیں اور بھائی نہیں بن سکتے البتہ اگر اس حمل کی نسبت یوسف کی طرف بقول مرزا صاحب کی جائیگی تو مرزا صاحب کا کلام صحیح ہو سکتا ہے لیکن اس صورت میں حضرت مسیح علیہ السلام کی والدہ مریم صدیقہ کا زانیہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ولد الحرام ہونا ٹھہرنا طے ہو جائیگا۔
صلی اللہ علیہ وسلم
- (١) اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت
ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گذر گیا اور دوسری فتح باقی ہے جو پہلے غلبہ سے بہت بڑھی اور زیادہ ظاہر ہے اور اعظم ہے اور مقدر تھا کہ وہ وقت مسیح موعود (مرزا صاحب) کا وقت ہو (خطبہ الہامیہ صفحہ
اے ایمان والو تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے آپس میں بولا کرتے ہو کبھی تمہارے اعمال برباد ہو جائیں (جب نبی کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے سے انسان کافر و مرتد ہو جاتا ہے اور اسکے سارے نیک اعمال حبط اور بیکار ہو جاتے ہیں تو جو شخص اپنے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اکمل افضل اعظم اکبر سمجھتا ہو وہ کیسے مسلمان باقی رہ سکتا ہے)
- (٢) تلك الرسل فضلنا
بعضهم على بعض قال اهل التفسير المراد بقوله ورفع بعضهم درجات ای محمد صلی اللہ علیہ وسلم ای رفعه على سائر الانبياء من وجوه متعدده و مراتب متباعده وظهرت على يديه المعجزات الكثيره وليس احد من الانبياء اعطے فضيلة وكرامته الاوقد
١٩٣ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی) (١)
- (٢) اپنے معجزات کو حقیقۃ الوحی صفحہ ٦٧
میں تین لاکھ سے زیادہ لکھتے ہیں اور براہین احمدیہ صفحہ ٥٦ جلد پنجم میں اپنے معجزات کی تعداد دس لاکھ بتاتے ہیں۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام معجزات کی تعداد اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ صفحہ ٦٣ میں صرف تین ہزار لکھتے ہیں (ناظرین خود حساب کر کے دیکھیں کہ اپنا مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنا زیادہ بتایا ہے۔
- (٣) واتانی مالم یؤت احد من
العالمین (الاستفتاء ص٨٧، ملحقه حقیقته الوحی اور مجھکو وہ مرتبہ دیا کہ تمام جہان میں کسی نبی اور ولی کو نہیں دیا گیا۔
وان لی خسفا القمر ان
(١) اس عبارت میں مرزا صاحب نے کھلے لفظوں میں اقرار کیا ہے کہ میری فتح اعظم اکبر اظہر ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح اعظم واکبر نہ تھی جس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ میں حضور صلعم سے اعظم و اکبر وغیرہ ہوں (نعوذ باللہ) معین الدین آروی
اعطے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مثلها اى مثل تلک الفضيله والكرامة مع الزياده ممالا يعده ولا یحصى (شرح شفا ص ١١١ ج ١)
یہ حضرات مرسلین ایسے ہیں کہ ہم نے ان میں سے بعضوں کو بعض پر فضیلت و فوقیت بخشی ہے۔ مفسرین نے کہا ہے مراد اللہ تعالیٰ کے قول ورفع بعضھم درجات (اور بعضوں کو ان میں بہت درجوں میں سرفراز کیا) سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کو بلند و سرفراز فرمایا۔ تمام نبیوں کے درجہ پر بہت سے وجوہ سے (مصنف اس پر دلائل لکھنے کے بعد فرماتے ہیں) اور اسلئے بھی کہ آپ کے دست مبارک سے معجزات کثیرہ کا ظہور ہوا ہے کیونکہ جو فضل وکمال انبیائے کرام علیہم السلام کو الگ الگ دیا گیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ تمام فضل و کمال مع زیادتی کے عطاء فرمایا گیا۔ اور آپ کے معجزات اسقدر زیادہ ہیں جو حد شمار سے باہر ہیں۔
- (٣) عن ابن عباسٍ قال ان
اللہ فضل محمداً صلی اللہ
المشرقان اتنکر (ترجمہ از مرزا صاحب) اسکے لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کریگا (اعجاز احمدی صفحہ ٧١)
- (٥) ایک صاحب نے (مرزا صاحب سے)
پوچھا شق القمر کی نسبت حضور کیا فرماتے ہیں فرمایا۔ ہماری رائے میں وہ ایک قسم کا خسوف تھا۔ (اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٤ مئی ١٩٠٨ء)
- (٦) ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقی کا انتہا نہ تھا بلکہ اسکے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اسوقت (میرے زمانہ میں) پوری طرح تجلی فرمائی (خطبہ الہامیہ صفحہ ١٧٧ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
علیہ وسلم علی الانبیاء واہل السماء الحدیث۔ (رواہ الدارمی) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیشک فضیلت دی ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام نبیوں اور رسولوں پر اور تمام آسمان والوں (فرشتوں) پر
- (٦) ظھر علی بن ابی طالب
من بعید فقال علیہ السلام ھذا سید العرب فقالت عائشہ الست انت سید العرب فقال انا سید العالمین وھو سید العرب
(رواہ البیہقی فی فضائل الصحابہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ دور سے ظاہر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمام عرب کے سردار ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کیا آپ سید العرب (تمام عرب کے سردار) نہیں ہیں؟ اسکے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میں سید العالمین (تمام جہان کا سردار) ہوں اور یہ (علی رضی اللہ عنہ) سید العرب ہیں۔
- (٧) قال رسول اللہ صلی
- (٨) پس میرا ایمان ہے کہ حضرت مسیح
موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) اس قدر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلے کہ وہی ہو گئے لیکن کیا استاد و شاگرد کا ایک مرتبہ ہو سکتا ہے۔ گو شاگرد علم کے لحاظ سے استاد کے برابر بھی ہو جائے تاہم استاد کے سامنے زانوے ادب خم کر کے بیٹھے گا۔ یہی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) میں ہے۔
(ذکر الہی صفحہ ١٨ مصنفہ محمود احمد صاحب)
- (٩) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معلم ہیں
اور مسیح موعود (مرزا صاحب) ایک شاگرد شاگرد خواہ استاد کے علوم کا وارث پورے طور پر بھی ہو جائے یا بعض صورتوں میں بڑھ بھی جائے۔ مگر استاد استاد ہی رہتا ہے۔ اور شاگرد شاگرد ہی۔
(تقریر محمود احمد صاحب مندرجہ اخبار الحکم
قادیان ٢٨ اپریل ١٩١٤ء)
الله عليه وسلم انا سيد ولد آدم يوم القيامه ولا فخر وبيدى لواء الحمد ولا فخر وما من نبی یومئذ آدم فمن سواه الا تحت لوائی الحدیث۔ (رواہ الترمذی ج٢، ص٢٠٢، وفى روایته انا اکرم ولد آدم علی ربی ولا فخر (ترمذی)
فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تمام بنی آدم کا سردار ہوں قیامت کے دن اور نہیں کہتا ہوں میں ازراہ فخر کے اور میرے ہی ہاتھ میں لواء حمد (تعریف کا جھنڈا) ہوگا اور نہیں کہتا ہوں میں ازروئے فخر اور کوئی پیغمبر قیامت کے دن خواہ آدم علیہ السلام ہوں خواہ ان کے سوا اور تمام پیغمبر مگر میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔
- (٦) اقترب السَّاعته وَانشَقَّ
القَمَر وان يَرَوْا آيَةً يُّعْرِضُوا ويقولون سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ (پ٢٧ قمر)
قیامت نزدیک آپہنچی اور چاند شق ہوگیا اور یہ لوگ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ٹال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے جو ابھی ختم
(اس میں صاف اقرار موجود ہے کہ مرزا صاحب نے آپ کے تمام علوم حاصل کر لئے یعنی مرزا صاحب علم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہیں بلکہ بعض صورتوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ گئے۔ ہیں یعنی مرزا صاحب کا علم۔ حضور سے زائد ہے (نعوذ باللہ)
- (٩) پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم
کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔ (کلمتہ الفصل ص ١١٣)
- (١٠) حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کا
ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حاصل ہے۔ (مضمون ڈاکٹر شاہ نواز خان قادیانی)
ہوجاتا ۔
- (٧) عن
القمر صلی فرقتہ فقال وسلم ا حضرت ہے۔ رسـ میں چاند د آتا تھا آپ نے
- (٨) حـ
فرمائے کتابوں کـ اولین و اللہ علیہ و کے برابر
- (٩) و
بعض بعض افضل مـ تمام ا
(اس میں صاف اقرار موجود ہے کہ مرزا صاحب نے آپ کے تمام علوم حاصل کر لئے یعنی مرزا صاحب علم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہیں بلکہ بعض صورتوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ گئے ہیں یعنی مرزا صاحب کا علم۔ حضور سے زائد ہے (نعوذ باللہ)
- (٩) پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم
کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا ۔
(کلمۃ الفصل ص ١١٣)
- (١٠) حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کا
ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حاصل ہے ۔
(مضمون ڈاکٹر
شاہ نواز خان قادیانی)
ہوا جاتا ہے۔
- (٧) عن ابن مسعود قال انشق
القمر على عهد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فرقتین فرقته فوق الجبل وفرقته دونه فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشہدوا
(بخاری)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا ایک ٹکڑا پہاڑ پر نظر آتا تھا اور دوسرا پہاڑ کے دوسری جانب آپ نے فرمایا کہ گواہ رہو ۔
- (٨) حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں کہ میں نے اکثر آسمانی کتابوں کو پڑھا ان میں یہ لکھا ہوا تھا کہ تمام اولین و آخرین کی عقلیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں ایک ذرہ ریت کے برابر ہیں
(ترجمہ شرح شفا، ج ١، ص ١٦٨)
- (٩) واجتمعت الامته على ان
بعض الا نبياء افضل من بعض وعلى ان محمداً صلعم افضل من الکل
(تفسیر کبیر ج ٢، ص ٣٠٠)
تمام امت کا اسپر اجماع و اتفاق ہے کہ
مندرجہ ریویو آف ریلیجنز قادیان بابتہ ماہ مئی ١٩٢٩ء)
- (١١)
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(قاضی ظہور الدین قادیانی مندرجہ الفضل جلد ٣٤)
- (١٢)
من بعرفان نہ کمترم زکسے
آنچہ دادست ہر نبی را جام
داد آں جام مرا بتمام
(ترجمہ) اگرچہ دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں میں عرفان میں ان نبیوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں ۔ خدا نے جو پیالے ہر نبی کو دئے ہیں ان تمام پیالوں کا مجموعہ مجھے دیدیا ہے
(در ثمین فارسی صفحہ ١٦٣
مصنفہ مرزا صاحب)
- (١٣)
بعض انبیاء بعض سے افضل ہیں اور اس پر بھی اجماع ہو چکا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں سے افضل ہیں۔
- (١٠) اور جس مسلمان نے گالی دی رسول
صلی اللہ علیہ وسلم کو یا عیب لگایا یا جھٹلایا یا تنقیص کی پس تحقیق کافر ہو گیا وہ۔
(شرح شفا صفحہ ٥١٧ شامی الاشباہ والنظائر وغیرہ)
ہر رسولے نہاں بہ پیرا ہن من
(ترجمہ) میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا ہر رسول میرے پیراہن میں چھپا ہوا ہے
(در ثمین فارسی صفحہ ١٦٥)
سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات
اور مرزا کا دعویٰ ہمسری
"قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر بعض آیات میں حق تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات کا ذکر فرمایا ہے جن میں اولین و آخرین میں کوئی آپ کا سہیم و شریک نہیں اور یہی وجہ ہے کہ آجتک تمام مسلمانان عالم ان آیات کا مصداق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے چلے آئے۔ لیکن چودہویں صدی کے مدعی نبوت غلام احمد نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تمام خصوصیات کا انکار کر کے ان آیات قرآنی کا مصداق اپنے آپکو قرار دیکر تمام مسلمانان عالم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خدا اور خدا کے کلام کو جھٹلانے کی کوشش کی جس کا مختصر نمونہ درج ذیل ہے۔"
اسلام
- (١) وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ
لَمَا اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتَابٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ قَالُوْا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ
مرزائیت
- (١) واذاخذاللہ میثاق النبیین (الایہ)
جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا النبیین میں سب انبیاء علیہم السلام شریک ہیں کوئی نبی بھی مستثنیٰ نہیں۔ (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس النبیین کے لفظ میں داخل ہیں)
الشَّاهِدِيْنَ.
اور جبکہ اللہ تعالیٰ کچھ میں تم تمہارے پاس آ وسلم) کو سچا کتاب کو تو تم ض لانا اور اسکی مدد بہ اقرار کیا اور اسپر رسول بولے ہم تم لوگ گواہ رہ گواہوں میں سے
- (٢) قال عـ
ابن عباس الانبياء الا لئن بعث الـ ليؤمنن به
(تفسیر ابن
وتفسیر ابن
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آ جتنے انبیاء دنیا میں نبیوں سے اللہ تعال حضرت محمد صلی
2
ہر رسولے نہاں بہ پیرا ہن من
(ترجمہ) میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا ہر رسول میرے پیرا ہن میں چھپا ہوا ہے
(در ثمین فارسی صفحہ ١٦٥)
یہ و سلم کی خصوصیات
عویٰ ہمسری
آیات میں حق تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تائیں کوئی آپ کا سہیم و شریک نہیں اور یہی وجہ صداق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے چلے آئے۔ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تمام خصوصیات پہلو قرار دیکر تمام مسلمانانِ عالم، رسول اللہ صلی اللہ ش کی جس کا مختصر نمونہ درج ذیل ہے۔
مرزائیت
- (١) واذ اخذ اللہ میثاق النبیین (الایہ)
جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا النبیین میں سب انبیاء علیہم السلام شریک ہیں کوئی نبی بھی مستثنیٰ نہیں۔ (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس النبیین کے لفظ میں داخل ہیں)
الشَّاهِدِينَ۔ (پ١٣ سورہ آلِ عمران ع ٩) اور جبکہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا انبیاء سے کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم دوں پھر تمہارے پاس آئے رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو سچا بتا دے تمہارے پاس والی کتاب کو تو تم ضرور اس رسول پر ایمان بھی لانا اور اسکی مدد بھی کرنا۔ فرمایا کہ آیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا تو تمام رسول بولے ہم نے اقرار کیا۔ ارشاد فرمایا کہ تم لوگ گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔
- (٢) قال علی بن ابی طالب و
ابن عباس ما بعث نبیاً من الانبیاء الا اخذ عليه الميثاق لئن بعث الله محمداً وهو حى ليومنن به ولينصرنه الحديث
(تفسير ابن كثير ج ٢، ص ١٧٨
وتفسير ابن كثير ج ٢ ص ٢٨٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ و ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ جتنے انبیاء دنیا میں تشریف لائے ان تمام نبیوں سے اللہ تعالیٰ نے عہد و اقرار لیا کہ اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں مبعوث
کہ جب کبھی تم کو کتاب اور حکمت دوں یعنی کتاب سے مراد توریت و قرآن کریم ہے اور حکمت سے مراد سنت اور منہاج نبوت وحدیث شریف ہے پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے۔ مصدق ہو ان تمام چیزوں کا جو تمہارے پاس کتاب وحکمت سے ہیں۔ یعنی وہ رسول مسیح موعود (مرزا صاحب) ہے جو قرآن وحدیث کی تصدیق کرنے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اے نبیو! تم سب ضرور اس پر ایمان لانا اور ہر طرح سے اسکی مدد فرض سمجھنا۔ جب تمام انبیاء کو عملاً حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا اور اسکی نصرت کرنا فرض ہوا تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں۔
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٩ - ٢١
ستمبر ١٩١٥ء)
- (٢) ومبشراً برسول ياتى من
بعد اسمه احمد قرآن کریم میں جو احمد کی بشارت ہے وہ احمد میں ہوں۔
(ازالہ اوہام صفحہ ٦٧٢ ج ٢)
- (٣) ہم تو ظنی طور پر آپ (مرزا صاحب) کو
اسمہ احمد والی پیشگوئی کا مصداق نہیں مانتے
بنا کر بھیجے جائیں اور اس وقت تم لوگ زندہ موجود ہو، تو ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا اور یہی عہد و اقرار تم لوگ اپنے اپنے متبعین سے بھی لینا۔
- (٣) ان الميثاق هذا مختص
بمحمد صلعم وهو مروى عن على و ابن عباس وقتاده والسدى (تفسير كبير ج ٢ ص ٢٨٣)
بے شک یہ میثاق (جو آیات بالا میں ہے) خاص ہو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اور یہی مروی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ و ابن عباس رضی اللہ عنہ و قتادہ و سدی و غیر ہم سے۔
- (٤) وَ إِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ
يبَنِى إِسْرَائِيلَ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَّأْتِى مِنۢ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ (پارہ ٢٨ سوره الصف ع ١)
اور جبکہ عیسیٰ علیہ السلام بن مریم نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے جو پہلے توراہ ہے اسکی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والے ہیں
بلکہ ہمارے نزدیک آپ ہی (مرزا صاحب) اسکے حقیقی مصداق ہیں۔
(الفضل قادیان - ٢-٥ دسمبر ١٩١٦ء)
- (٤) اور ہمارا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح
موعود (مرزا صاحب) ہی وہ رسول ہیں جن کی خبر اس آیت میں دیگئی ہے۔ (انوار خلافت ص ٣١)
- (٥) اس آیت کے اصل مصداق حضرت
مسیح موعود (مرزا صاحب) ہیں۔ (ایضاً ص ٣٧)
- (٦) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا واقع میں
احمد نام نہ تھا (القول الفصل ص ٢٩ رسالہ احمد ص ٣)
- (٧) پس اس آیت میں جس رسول احمد
نام والے کی خبر دی گئی ہے وہ آنحضرت صلعم نہیں ہو سکتے۔
(انوار خلافت ص ٣٣ مولفہ مرزا محمود احمد)
- (٨) جب اس آیت میں ایک رسول کا
جس کا نام ذات احمد ہو ذکر ہے دو کا نہیں اور اس شخص کی تعیین ہم حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) پر کرتے ہیں تو اس سے خود نتیجہ نکل آیا کہ دوسرا اس کا مصداق نہیں۔
(الفضل مورخہ ٣-٥ دسمبر ١٩١٦ء)
جسکا نام احمد ہو گا۔ ان کی ہوں۔ اس آیت کی تفسیر طرح ہے۔
- (٥) عن ابی امامة
الْبَاهِلِي اَنَّه عَلَيْهِ و سَأُخْبِرُكُم بِاَوَّلِ اَ ابْرَاهِيم وَبِشَارِ الحديث. وفى بعض عن العرباض بن سـ احمد ج٤، ص١٢٧ ومشكوة المصابيح جـ
فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو اپنی نبوت کی ابتداء کے ہوں۔ میں ابراہیم علیہ السلا علیہ السلام کی بشارت ہو میں ہے)
- (٦) عن جبير بن
سمعت النبي صـ وسلم يقول ان انا محمد وانا احمد
(صحیح بخاری ج١، ص٥٠١
ج٢، ص٢٦١، مشكوة جـ
حضرت جبیر بن مطعم فر
بلکہ ہمارے نزدیک آپ ہی (مرزا صاحب) اسکے حقیقی مصداق ہیں۔
(الفضل قادیان ۔ ٣-٥ دسمبر ١٩١٦ء)
- (٤) اور ہمارا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح
موعود (مرزا صاحب) ہی وہ رسول ہیں جن کی خبر اس آیت میں دیگئی ہے۔ (انوار
خلافت ص ٣١)
- (٥) اس آیت کے اصل مصداق حضرت
مسیح موعود (مرزا صاحب) ہیں۔ (ایضاً ص ٣٧)
- (٦) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا واقع میں
احمد نام نہ تھا (القول الفصل ص ٢٩ رسالہ احمد ص ٣)
- (٧) پس اس آیت میں جس رسول احمد
نام والے کی خبر دی گئی ہے وہ آنحضرت صلعم نہیں ہو سکتے۔
(انوار خلافت ص ٢٣ مولفہ مرزا محمود احمد)
- (٨) جب اس آیت میں ایک رسول کا
جس کا نام ذات احمد ہو ذکر ہے دو کا نہیں اور اس شخص کی تعیین ہم حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) پر کرتے ہیں تو اس سے خود نتیجہ نکل آیا کہ دوسرا اس کا مصداق نہیں۔
(الفضل مورخہ ٣-٥ دسمبر ١٩١٦ء)
جنکا نام احمد ہوگا۔ ان کی بشارت دینے والا ہوں۔ اس آیت کی تفسیر حدیث میں اس طرح ہے۔
- (٥) عن ابی امامۃ عن رسول
اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہ قال سأخبرکم باول امری دعوۃ ابراهیم وبشارۃ عیسیٰ الحدیث۔ وفی بعض الروايات عن العرباض بن سارية (مسند احمد ج ٤، ص ١٢٧)، ومشكوة المصابيح ج ٢، ص ٥١٣)
فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں تم کو اپنی نبوت کی ابتداء کے متعلق ابھی سناتا ہوں۔ میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں (جو آیت بالا میں ہے)
- (٦) عن جبیر بن مطعم قال
سمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول ان لی اسماء انا محمد وانا احمد الحدیث (صحیح بخاری ج ١، ص ١٠٥، صحیح مسلم، ج ٢، ص ٢٦١، مشکوۃ ج ٢، ص ٥١٥)
حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ میں
- (٩) قل یا ایھاالناس انی
رسول اللّٰہ الیکم جمیعا (ای مرسل من اللّٰہ (اے غلام احمد) اے تمام لوگوں میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں (البشریٰ صفحہ ٥٦، ج ٢ مجموعہ الہامات مرزا صاحب)
- (١٠) وماارسلناک الا رحمتہ اللعالمین
اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ کو (اے مرزا) مگر تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر (حقیقۃ الوحی صفحہ ٨٢)
- (١١) ماینطق عن الھویٰ ان
ھوالا وحی یوحیٰ (اربعین ٢، ص ٣٦) مرزا اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتا بلکہ خدا کی وحی سے گفتگو کرتا ہے۔
- (١٢) انا اعطیناک الکوثر
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٢)
بیشک ہم نے تجھ کو (اے مرزا) کوثر دیا۔
- (١٣) یٰسٓ والقرآن الحکیم
. انک لمن المرسلین علٰی صراط المستقیم (ایضاً ص ١٠٧)
- (١٣) محمد رسول اللّٰہ والذین
معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم
اس الہام میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ خدا نے مجھے کہا ہے۔
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ۔ تبلیغ رسالت
ج ١٠، الفضل جلد نمبر ١٠)
- (١٥) ان الذین یبایعونک
انما یبایعون الله یدالله فوق ایدیهم (حقیقتہ الوحی ص ٨٠)
- (١٦) انا فتحنا لک فتحاً
مبینا لیغفرلک اللّٰہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر (ایضاً ص٩٧)
- (١٧) ارادالله ان یبعثک
مقاماً محموداً (ایضا ص ١٠٢)
- (١٨) هوالذی ارسل رسوله
بالہدے ودین الحق لیظهره علی الدین کله (حقیقتہ الوحی ص ٧١
- (١٩) داعیاً الی الله وسراجاً
منیراً (ایضاً ص ٧٥)
- (٢٠) قل ان کنتم تحبون الله
فاتبعونی یحببکم الله (ایضاً ص ٧٩)
- (٢١) انا ارسلنا الیکم رسولاً
شاھداً علیکم کما ارسلنا الی
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے لیئے متعدد نام ہیں میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں۔
- (٧) قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي
رَسُولُ اللّٰهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعاً. (اعراف ع٢٠) آپ فرما دیجئے (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کہ اے لوگو! میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف۔
- (٨) قال النبی صلی اللّٰہ علیہ
وسلم فضلت علی الانبیاء بست (وفيه) وارسلت الی الخلق کافة وفى رواية البخارى وكل نبى يبعث الى قومه خاصة وبعثت الى الناس عامة
(بخاری شریف و مسلم شریف ج ١، ص ١٩٩)
فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مجھ کو فضیلت دی گئی ہے تمام نبیوں پر چھ چیزوں کی وجہ سے (اس حدیث میں ان چیزوں کا بیان ہے اور اسی میں ہے) اور میں رسول بنا کر تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں (اور بخاری کی روایت میں ہے) اور تمام نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں تمام قوموں کے تمام افراد کی طرف بھیجا گیا ہوں۔
206
اس الہام میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ خدا نے مجھے کہا ہے۔
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ۔ تبلیغ رسالت جلد ١٠، الفضل جلد نمبر ١٠)
- (١٥) ان الذین یبایعونک
انما یبایعون اللہ یداللہ فوق ایدیھم (حقیقته الوحی ص ٨٠)
- (١٦) انا فتحنا لک فتحاً
مبینا لیغفرلک اللّٰہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر (ایضاً ص٩٧)
- (١٧) اراداللہ ان یبعثک
مقاماً محموداً (ایضا ص١٠٢)
- (١٨) ھوالذی ارسل رسوله
بالھدے ودین الحق لیظھرہ علی الدین کله (حقیقته الوحی ص٧١
- (١٩) داعیاً الی اللہ وسراجاً
منیراً (ایضاً ص٧٥)
- (٢٠) قل ان کنتم تحبون اللہ
فاتبعونی یحببم اللہ (ایضاًص٧٩)
- (٢١) انا ارسلنا الیکم رسولاً
شاھداً علیکم کما ارسلنا الی
- (٩) وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً
لِّلْعٰلَمِيْنَ (پ ١٧ سوره انبیاء ع٧)
اور ہم نے آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر
- (١٠) اِنَّا اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ (پ ٣٠ سوره کوثر)
بیشک ہم نے آپکو (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کوثر عطا فرمائی۔
فرعون رسولاً (ایضاً ص١٠١)
- (٢٢) سبحان الذی اسری
بعبده لیلاً (حقیقته الوحی ص٧٨)
- (٢٣) دنی فتدلی فکان قاب
قوسین اوادنی (ایضاً ٧٦)
- (٢٤) مارمیت اذ رمیت ولکن
اللہ رمیٰ (ایضاً ص٧٠)
(٧) ملئکہ
- (١) اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اَلَنْ
يَّكْفِيَكُمْ اَنْ يُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلَافٍ مِّنَ الْمَلٰئِكَةِ مُنْزَلِيْنَ (پ ٤ سوره آل عمران ع١٣)
جبکہ آپ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) مسلمانوں سے (مقام بدر میں) یوں فرما رہے تھے کہ کیا تم کو یہ امر کافی نہ ہوگا کہ تمہارا رب تمہاری امداد کرے تین ہزار فرشتوں کے ساتھ جو اتارے جائینگے۔
- (٢) اجمع اهل
التفسير والسير ان اللّٰہ تعالیٰ
- (١) پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح
آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اسکی گرمی اور روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر ایک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور ویدوں کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا نہایت سیدھے اور موحدانہ طریق سے
انزل الملئکة يوم بدر وانهم قاتلوا الكفار قال ابن عباس لم تقاتل الملئکة سوى یوم بدر الخ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٦٥)
تمام مفسرین و مورخین کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن فرشتوں کو نازل فرمایا اور انہوں نے کفار کے ساتھ جنگ کی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے بدر کے دن کے علاوہ کبھی قتال نہیں کیا۔
- (٣) واعلم ان هذه الشبهة انما
تليق بمن ينكر القرآن والنبوة فاما من يقربهما فلا يليق به شئى من هذه الكلمات فما كان يليق .........انكار هذه الا شياء مع ان نص القرآن ناطق بها ووردها فى الاخبار قريب من التواتر (تفسیر کبیر ج ٥، ص ٦٦)
یوم بدر میں فرشتوں کے نازل ہونے پر بعض لوگوں کے اعتراضات کے جواب کے سلسلہ میں امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جان لو کہ اس قسم کے (فرشتوں کے نزول وغیرہ پر) اعتراضات ان لوگوں
ملایک اللہ کا ان کو لقب دیں۔ (توضیح مرام صفحہ ٣٢، ٣٣ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی مطبوعہ ریاض ہند امرتسر)
- (٢) وہ نفوس نورانیہ (یعنی فرشتے) کواکب و
سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں اور ان کے جدا ہو جانے سے ان کی حالت وجودیّہ میں بکلی فساد راہ پا جانا لازمی اور ضروری امر ہے (توضیح مرام صفحہ ٣٨)
- (٣) فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو ان
کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں ایک ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ (توضیح مرام صفحہ ٣٢)
- (٤) در حقیقت یہ عجیب مخلوقات (یعنی
فرشتے) اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہیں۔
(توضیح مرام صفحہ ٣٣)
- (٥) محققین اہل اسلام ہرگز اس بات کے
وانهم عباس م بدر
- (٦)
ماع ہے شتوں کو کے ساتھ اللہ عز ون کے يۃ انما النبوة يق به ت فما هذه القرآن لاخبار كبير ہونے پر ہیں- کے جواب اللہ علیہ (فرشتوں ن لوگوں
ملائک اللہ کا ان کو لقب دیں۔ (توضیح مرام صفحہ ٣٢، ٣٣ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی مطبوعہ ریاض ہند امرتسر)
- (٣) وہ نفوس نورانیہ (یعنی فرشتے) کواکب و
سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں اور ان کے جدا ہو جانے سے ان کی حالت وجودیہ میں بکلی فساد راہ پا جانا لازمی اور ضروری امر ہے (توضیح مرام صفحہ ٣٨)
- (٤) فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو ان
کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں ایک ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ (توضیح مرام صفحہ ٣٢)
- (٤) در حقیقت یہ عجیب مخلوقات (یعنی
فرشتے) اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہیں۔
(توضیح مرام صفحہ ٣٣)
- (٥) محققین اہل اسلام ہر گز اس بات کے
کے لئے زیبا ہے جو قرآن اور نبوت کا انکار کرتے ہوں ان کے لئے مناسب نہیں جو قرآن وحدیث پر ایمان رکھتے ہوئے ان قسم کی چیزوں کا انکار کریں کیونکہ قرآنی نصوص اس پر ناطق ہیں اور یہ چیزیں احادیث متواترہ میں وارد ہیں۔
- (٤) تَنَزَّلُ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا
بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ (پ ٣٠، سورہ قدر)
اس رات میں (یعنی لیلۃ القدر میں) فرشتے اور روح القدس اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لیکر نازل ہوتے ہیں۔
امام رازی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ احادیث کثیرہ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ فرشتے زمین پر تمام ایام میں جہاں مجالس ذکر اور دین پاتے ہیں نازل ہوتے ہیں لیلۃ القدر میں تو ان کا آسمان سے زمین پر نازل ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہے (تفسیر کبیر صفحہ ٤٣٦، ج ٨)
تَعْرُجُ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوْحُ إِلَيْهِ (پ ٢٩ سوره معارج) فرشتے اور روحیں اسکے پاس چڑھا کرتی ہیں۔
- (٦) عن ابي هريرة قال قال
قائل نہیں کہ ملائکہ اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں اور یہ خیال کہ بداہت باطل بھی ہے (توضیح مرام صفحہ ٢٩ و صفحہ ٣٠)
- (٦) جبریل جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے
اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیر (آفتاب) سے تعلق رکھتا ہے ........... وہ فرشتہ اگرچہ ہر ایک شخص پر نازل ہوتا ہے جو وحی الہی سے مشرف کیا گیا ہو۔ نزول کی اصلی کیفیت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے نہ واقعی طور پر یاد رکھنی چاہئے۔ (توضیح مرام صفحہ ٦٨)
- (٧) اس وقت جبریل اپنا نورانی سایہ اس
مستعد دل پر ڈال کر ایک عکسی تصویر اپنی اس کے اندر رکھدیتا ہے، تب جیسے اس فرشتہ کا جو آسمان پر مستقر ہے جبریل نام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یتعاقبون فیکم ملئکۃ باللیل وملئکۃ بالنھار ویجتمعون فی صلوٰۃ الفجر و صلوٰۃ العصر ثم یعرج الذین باتوا فیکم الحدیث (بخاری شریف و مسلم شریف)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پے در پے آتے رہتے ہیں تمہارے پاس کچھ فرشتے رات کو اور کچھ فرشتے دن کو اور جمع ہوتے ہیں یہ سب نماز فجر اور عصر میں پھر چڑھ جاتے ہیں (آسمان کی طرف) وہ فرشتے جو پہلے تمہارے پاس تھے۔
- (٧) فان قالوا نحن لا نقول
ان جبرئیل جسم ینتقل من مکان الی مکان انما نقول المراد من نزول جبرئیل ھو زوال الحجب الجسمانیہ عن روح محمد صلی اللہ علیہ وسلم حتیٰ یظھر فی روحہ من المکاشفات والمشاھدات بعض ماکان حاضراً متجلیاً فی ذات
ہے اس عکسی تصویر کا نام بھی جبرئیل ہی ہوتا ہے یا مثلاً اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے تو عکسی تصویر کا نام بھی روح القدس ہی رکھا جاتا سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینہ قلب میں نمودار ہو جاتا ہے۔ (توضیح مرام صفحہ ٧٠)
- (٨) پس یہی مثال جبرئیل کی تاثیرات کی
ہے ادنیٰ سے ادنیٰ مرتبہ کے ولی پر بھی جبرئیل ہی تاثیر وحی کی ڈالتا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر بھی وہی جبرئیل تاثیر وحی کی ڈالتا رہا ہے۔ (توضیح مرام صفحہ ٧١)
(نوٹ) ان تمام عبارتوں کا مطلب یہ ہے کہ مرزا صاحب کے نزدیک ملائکہ (فرشتے) مستقل وجود نہیں رکھتے بلکہ نفوس فلکیہ اور
ہے اس ملکی تصویر کا نام بھی جبرئیل ہی ہوتا ہے یا مثلاً اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے تو عکسی تصویر کا نام بھی روح القدس ہی رکھا جاتا سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینہ قلب میں نمودار ہو جاتا ہے۔ (توضیح مرام صفحہ ٧٠)
- (٢) پس یہی مثال جبرئیل کی تاثیرات کی
ہے ادنی سے ادنی مرتبہ کے ولی پر بھی جبرئیل ہی تاثیر وحی کی ڈالتا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پر بھی وہی جبرئیل تاثیر وحی کی ڈالتا رہا ہے۔ (توضیح مرام صفحہ ٧١)
- (ث) ان تمام عبارتوں کا مطلب یہ ہے
کہ مرزا صاحب کے نزدیک ملائکہ (فرشتے) مستقل وجود نہیں رکھتے بلکہ نفوس فلکیہ اور
ارواح کواکب کا نام ہے اسی لئے وہ اپنے اپنے مقامات سے ذرہ برابر بھی ادھر ادھر نہیں جاسکتے۔ مرزائیت کے اس عقیدہ کی تردید چونکہ آیات قرآنی اور احادیث نبوی کھلے لفظوں میں کر رہی تھیں اور بار بار جبرئیل کے لئے نزول وغیرہ ثابت کر رہی ہیں تو نزول کی تاویل کی کہ مراد نزول سے صرف اثر اندازی ہے واقعی نہیں یعنی حضرت جبرئیل حضور کے پاس نہیں آتے تھے بلکہ اپنے مقام پر رہتے ہوئے حضور پر اثر ڈالتے تھے۔ (جیسا کہ ملحدوں اور فلسفیوں نے لکھا ہے) مسلمان ان عبارتوں کو غور سے دیکھیں کہ مرزا صاحب اور مرزائی ملائکہ پر ایمان نہیں رکھتے۔ پھر مسلمان کیسے کہا جاسکتا ہے۔
عتیق الرحمن آروی۔
جبرئیل. قلنا تفسیر اللوحی بہذا الوجہ ہو قول الحکماء واما جمہور المسلمین فہم مقرون بان جبرئیل جسم وان نزولہ عبارۃ عن انتقالہ من عالم الافلاک الی مکۃ
(تفسیر کبیر ج ٥، ص ٣٦٨)
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جبرئیل علیہ السلام جسم نہیں ہیں جو ایک جگہ سے منتقل ہو کر دوسری جگہ جائیں اور ان کے نازل ہونے کے یہ معنی نہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روح سے جسمانی پردہ اٹھ جانے کی وجہ سے جبرئیل کی ذات میں جو تجلیات موجود تھیں۔ وہ مکاشفہ اور مشاہدہ کے طور پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پر ورود ہونے لگیں ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نزول اور وحی لانے کے یہ معنی یونانی فلسفیوں جو بالکل ملحد و دہریہ تھے) کے نزدیک ہیں۔ تمام دنیا کے مسلمان اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام مجسم ہو کر عالم افلاک سے مکہ میں اترتے تھے۔
(٨) حیات عیسیٰ علیہ السلام
اسلام مرزائیت
(١) وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا (١) فمن سوء الادب ان يقال لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ ان عيسىٰ ما مات ان الْقِیٰمَةِ (پ ٦، سورہ نساء ع ٢٢) هو الا شرك عظيم يا كل ترجمہ: از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ) الحسنات نباشد ہیچ کس از اہل کتاب الا البتہ ایمان آورد یعنے پیش از مردن عیسیٰ و روز قیامت یہ بے ادبی ہے کہ کہا جائے کہ بیشک عیسیٰ باشد عیسیٰ گواہ بر ایشان علیہ السلام نہیں مرے (بلکہ زندہ ہیں) یہ یعنی قیامت کے قریب ایک ایسا زمانہ یقیناً بہت بڑا شرک ہے جو نیکیوں کو کھا جاتا آئیگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں ہے۔ گے اور اسی وقت تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئینگے اور اسکے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا دینگے (استفتاء ملحقہ حقیقتہ الوحی صفحہ ٣٩ مصنفہ اور قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔ مرزا غلام احمد قادیانی)
(٢) وَقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ (٢) كلا بل هو ميت ولا يعود عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا الى الدنيا الى يوم يبعثون ومن قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ قال متعمداً خلاف ذٰلك فهو لَهُمْ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْافِيْهِ لَفِيْ من الذين هم بالقران يكفرون۔ شَكٍّ مِّنْهُ وَمَا لَهُمْ مِّنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا
عیسیٰ علیہ السلام
مرزائیت
- (1) فمن سوء الادب ان يقال
ان عيسىٰ ما مات ان هو الا شرک عظیم یا کل الحسنات
یہ بے ادبی ہے کہ کہا جائے کہ بیشک عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے (بلکہ زندہ ہیں) یہ بہت بڑا شرک ہے جو نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔
(الاستفتاء ملحقہ حقیقۃ الوحی صفحہ ٣٩ مصنفہ
مرزا غلام احمد قادیانی)
- (٢) كلابل هو ميت ولا يعود
الى الدنيا الى يوم يبعثون ومن قال متعمداً خلاف ذلک فھو من الذين هم بالقرآن يكفرون۔
حَكِيماً۔ (پ ٦ سوره نساءع٢٢) اور یہود اس کہنے سے بھی مورد لعنت ہوئے کہ بیشک ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو جو کہ رسول ہیں اللہ تعالیٰ کے قتل کر دیا حالانکہ انہوں نے نہ انکو قتل کیا اور نہ انکو سولی پر چڑھایا لیکن ان کا اشتباہ ہو گیا جو لوگ ان کے بارہ میں اختلاف کرتے ہیں۔ وہ غلط خیال میں ہیں انکے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اور انہوں نے ان (حضرت مسیح) کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا بلکہ ان کو خدا نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست حکمت والے ہیں۔
- (٣) وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا
بیشک وہ (حضرت عیسیٰ کا نزول) قیامت کی علامت اور یقین کا ذریعہ تو تم لوگ اس میں شک مت کرو۔
- (٤) قال رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم كيف انتم اذا انزل ابن مريم من السماء فيكم و امامكم منكم (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص ٣٠١)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا
یاد رکھو بلکہ وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) مر چکا ہے اور وہ قیامت تک واپس نہیں آئیگا اور جو شخص اس کے خلاف کہے وہ ان لوگوں میں ہے جو قرآن کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ (یعنی وہ کافر ہے)
(الاستفتاء صفحہ ٤٧ ملحقہ حقیقۃ الوحی)
- (٣) ولا شک ان حيوة عيسےٰ
وعقيدة نزوله باب من ابواب الاضلال ولا يتوقع منه الا افواج الوبال۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے نزول کا عقیدہ گمراہی کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اس سے سوائے قسم قسم کے مصیبتوں کے اور کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ (الاستفتاء
صفحہ ٤٧)
- (٤) خلاصة الكلام ان
حال ہوگا تمہارا جبکہ عیسیٰ علیہ السلام بن مریم آسمان سے تم میں نازل ہوں گے اور حالانکہ امام تمہارا تم میں سے ہوگا۔
(٥) عن عبدالله ابی عمر قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ينزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى الخ (مشکوۃ المصابیح ج٢ ص٣٨٠)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے اور ان کے اولاد ہو گی اور پھر وفات پائینگے اور میرے مقبرہ میں مدفون ہوں گے۔
(٦) قال الحسن قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لليهود ان عيسىٰ لم يمت وانه لراجع اليكم قبل يوم القيامه
(تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٢٣٠
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے مرسلاً روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی نہیں مرے ہیں (بلکہ زندہ ہیں) اور
قولكم برفع عیسے باطل و مضر للدين كانه قاتل.
پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ بیشک تم لوگوں کا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی اور حیات کا قول باطل اور غلط ہے گویا کہ دین کا قاتل ہے (الاستفتاء صفحہ ٤٥)
(٥) اور در حقیقت صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور ان کو کسی طرح یہ بات گوارا نہ تھی کہ عیسیٰ جس کا وجود شرک عظیم کی جڑ قرار دیا گیا ہے زندہ ہو اور آپ فوت ہو جائیں۔
(حقیقۃ الوحی صفحہ ٣٥)
(٦) اس جگہ مولوی احمد حسن امروہی کو ہمارے مقابلہ کے لئے خوب موقع مل گیا ہے ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں کہ کسی طرح مسیح ابن مریم کو
قیامت کے قریب ضرور (٧) عن ابن عبا (انه لعلم للس عيسى قبل يوم القيام ج ٦ ، ص ٢٠ ، ابن جر ، مسند احمد ج ١ حضرت ابن عباس رضی ہے کہ آیت مذکورہ پہلے حضرت عیسیٰ علیہ ال (٨) واجتمعت ا تضمنه الحديث ا عيسى فى الس ينزل فى آخر (تفسير بحرال ص٤٧٣، تفسیر ص٤٧٣ وفتح ص٣٤٤ وتلخ ص ٣١٩ واليواقيت ترجمہ : تمام امت کا ا کہ حضرت عیسیٰ علیہ ا موجود ہیں اور قیامت گے۔ جیسا کہ حدیث ہے۔
مضر للدین کانه قاتل.
پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ بیشک تم لوگوں کا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی اور حیات کا قول باطل اور غلط ہے گویا کہ دین کا قاتل ہے
(الاستفتاء صفحہ ٤٥)
- (٥) اور در حقیقت صحابہ رضی اللہ عنہم
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور ان کو کسی طرح یہ بات گوارا نہ تھی کہ عیسیٰ جس کا وجود شرک عظیم کی جڑ قرار دیا گیا ہے زندہ ہو اور آپ فوت ہو جائیں۔
(حقیقتہ الوحی صفحہ ٣٥)
- (٦) اس جگہ مولوی احمد حسن امروہی کو
ہمارے مقابلہ کے لئے خوب موقع مل گیا ہے ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں کہ کسی طرح مسیح ابن مریم کو
قیامت کے قریب ضرور لوٹ کر آئینگے۔
- (٧) عن ابن عباس قوله تعالیٰ
(انه لعلم للساعة الخ) خروج عیسٰی قبل یوم القیامة (تفسیر درمنثور ج٦،ص٢٠، ابن جریر ج٢٥ ص٢٩ ، مسند احمد ج١،ص٣١٧ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت مذکورہ کے معنی قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا ہے۔
- (٨) واجتمعت الامة علٰی ما
تضمنة الحدیث المتواتر من ان عیسٰی فی السماء حی وانه ینزل فی آخر الزمان الخ (تفسير بحر المحیط، ج٢، ص٤٧٣، تفسیر النهر الماد، ج٢ ص٤٧٣ وفتح البیان ج٢ ص٣٤٤ وتلخیص الجبیر ص٣١٩ والیواقیت والجواہر ص١٣٠) ترجمہ: تمام امت کا اسپر اجماع ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ موجود ہیں اور قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔ جیسا کہ حدیث متواتر سے معلوم ہوتا ہے۔
موت سے بچا لیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنا دیں بڑی جانکاہی سے کوشش کر رہے ہیں۔
(دافع البلاء صفحہ ١٥ مصنفہ مرزا غلام احمد
قادیانی)
- (٧)
داخل جنت ہوا وہ محترم
کیوں تمہیں اتنا براصرار ہے
ہے یہ دین یا سیرت کفار ہے
کیوں بنایا ابنِ مریم کو خدا
سنت اللہ سے وہ کیوں باہر رہا
مر گئے سب پر وہ مرنے سو بچا
اب تلک آئی نہیں اس پر فنا
مولوی صاحب یہی توحید ہے
سچ کہو کہ کس دیو کی تقلید ہے
(ازالہ اوہام صفحہ ٣١١، ج٢)
اسلام کو قادیانیت سے بچائیے!
تحقیق و تدوین محمد طاہر عبدالرزاق
فہم ختم نبوت سیریز 6
موضوعات
مسئلہ ختم نبوت اور سلف صالحین مولانا محمد نافع فنا فی الرسول اور مرزا قادیانی سید مہر علی شاہ گولڑویؒ عقیدہ ختم نبوت ...... دلائل وبراہین کی روشنی میں مولانا مودودیؒ آزادی ضمیر اور قادیانیت محمد عطا اللہ صدیقی کسی دینی، دنیاوی اور سیاسی مفاد کے لیے قادیانیوں کو اسلام میں شامل نہیں کیا جاسکتا مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ حب نبی کریم ﷺ ڈاکٹر حافظ محمد یونس اجرائے نبوت پر الفضل کے دلائل اور ان کے جوابات مولانا محمود احمد رضویؒ حیات عیسیٰ علیہ السلام مولانا محمد امین اکاڑویؒ قادیانی معجزات پروفیسر منور احمد ملک اسلام ومرزائیت عتیق الرحمٰن آروی
بہترین کاغذ، اعلیٰ پرنٹنگ ، چار رنگا خوبصورت ٹائٹل صفحات: 208، قیمت-/ 90 روپے،مجاہدین ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، حضوری باغ روڈ ، ملتان