محاصرۂ قادیانیت · محمد طاہر رزاق
Muhasra Qadyaniyat · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

محاصرۂ قادیانیت

قادیانیت

تحقیق و تدوین

مُحَمَّد طاہر رزّاق

PDF 2

تاریخ تحفظ ختم نبوت سیریز 6

محاصرہ قادیانیت

ترتیب و تحقیق

محمد طاہر رزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 3

انتساب

خطابت کا ابھرتا ہوا آفتاب
کردار و گفتار کا مہتاب
لفظ و لہجہ کا دلکش امتزاج
صوت و صولت کا حسن تابناک
خطیب اسلام کا چمنستان آرزو
تحفظ ناموس رسالت کی ایک توانا آواز
قادیانیت کے لیے تیغ برآں

مولانا محمد امجد خان

کے نام
جن سے ہمارے ہزاروں سہانے خواب وابستہ ہیں
PDF 4

حرفِ سپاس

ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمٰن‘ جناب عبدالرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصئہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)

میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ فقیہ العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی مدظلہ‘ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ میر صحافت ختم نبوت جناب حامد میر مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ‘ متکلم ختم نبوت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ‘ محب ختم نبوت جناب جاوید مغل مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت جناب طارق مغل‘ مجاہد ختم نبوت جناب جمشید مغل مدظلہ وکیل ختم نبوت جناب سید محمد کفیل شاہ بخاری مدظلہ کا‘ جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔

(آمین ثم آمین)

محمد طاہر رزاق

PDF 5

آئینہ مضامین

قادیانی خود کو مسلمان کیوں کہتے ہیں؟ (محمد طاہر رزاق) 7 ایسا وقت نہ آئے۔۔۔ (الحاج محمد نذیر مغل) 16 ضرب پاپوش۔۔۔ (جی۔ آر۔ اعوان) 18 قادیانی تحریک 22 چودھری ظفر اللہ قادیانی کا اصل روپ 28 فرار کے وقت مرزا طاہر کے محافظ دستے کے ڈرائیور 46 اختر حسین رانا کا قبول اسلام امریکی قونصل جنرل ربوہ میں۔۔۔ معاملہ کیا ہے؟ 50 ذوالفقار علی بھٹو اور فتنہ قادیانیت 53 اکھنڈ بھارت۔۔۔ مرزائیوں کا عقیدہ 70 قادیانیوں کے ہاتھوں مسجد کی شہادت 77 حق دار دیکھتے رہ گئے۔۔۔ قادیانی لے اڑے 82 جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں مسلمانوں کے خلاف مرزائیوں 86 کے مقدمہ کی روداد

PDF 6

قادیانی افسروں پر بے جا نوازشات کیوں؟ 95

قادیانیوں کا سیمینار اور مشاعرہ کس طرح ناکام ہوا؟ 108

پاک فوج میں ہونے والی بغاوتوں کے پیچھے قادیانی سازشیں 114 کارفرما تھیں

جماعت احمدیہ کے نئے خلیفہ کے انتخاب کے موقع پر 126 ربوہ میں ہنگامہ آرائی— خلافت کے ایک امیدوار مرزا رفیع احمد کو اغوا کرنے کی کوشش— جماعت سخت انتشار کا شکار

ہندو سرکار کی زیر سرپرستی قادیانیت کے فروغ کی کوششیں 128

قادیانی تخریب کاری ملکی اخبارات کے آئینے میں 136

نجم سیٹھی قادیانی ہے— فحش لٹریچر امپورٹ کرتا رہا 142

پنڈورا باکس 143

جب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا 156

مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اسلم قریشی— 164 پر اسرار اغوا— ڈرامائی برآمدگی

سندھ کی سرحد پر بھارتی فوج کی پر اسرار نقل و حرکت 182

کشمیر اور قادیانی 186

یہ فتنے کون برپا کرتا ہے— ایک خفیہ ہاتھ کی نشاندہی 188

حکومت بتائے قادیانی زندیقوں کو آزادی کیوں؟ 191

قادیانیوں کے عالمی اجتماع لندن میں تین مسلمان صحافی کیسے 196 داخل ہوئے—— کیا سنا؟ کیا دیکھا؟

اسپین اور قادیانی 201

صفحہ 7

قادیانی خود کو مسلمان کیوں کہتے ہیں؟

ایک تعلیم یافتہ دوست مجھے کہنے لگا: جناب طاہر صاحب! آپ کی کتابیں پڑھنے کے بعد ۔۔۔۔۔ میری لاہور ہائی کورٹ کے ایک قادیانی وکیل سے قادیانیت کے متعلق بات ہوئی ۔۔۔۔۔ تو اس نے مجھے کہا کہ جناب ہم تو قرآن و سنت کو ماننے والے مسلمان ہیں۔ ہم پر کفریہ الزامات متشدد مولویوں نے لگا رکھے ہیں۔ قادیانی وکیل سے میں نے کہا ۔۔۔۔۔ کہ جناب!

صفحہ 8

جناب ! پھر ہم کافر کیسے ہوگئے ؟ ہمارے سارے کام اور سارے عقائد تو مسلمانوں والے ہیں !!!

میرا سادہ لوح دوست مجھے کہنے لگا ----- ” جناب طاہر صاحب ! بات تو اس کی معقول ہے “ (نعوذ باللہ)

میں نے اس کی آنکھوں میں بغور جھانک کے دیکھا ----- اور اس سے کہا ----- کہ سلطان نور الدین زنگی کے دور میں ایک ہولناک سازش کے تحت یہود و نصاریٰ نے اپنے دو جاسوس مدینہ منورہ میں روضہ رسول اکرم ﷺ پر بھیجے تھے ----- تاکہ وہ نعوذ باللہ روضہ رسول ﷺ کو سرنگ لگا کر نبی اکرم ﷺ کے جسم اطہر کو نکال کر لے جائیں ----- اس ہولناک کام کے لیے وہ دونوں موذی مسلمانوں کا روپ دھار کر مدینہ منورہ پہنچے ----- مسلمانوں میں گھل مل گئے ----- مسجد نبوی میں داخل ہوئے ----- روضہ رسولؐ کے پاس ڈیرہ لگایا ----- اپنے آپ کو بطور مسلمان شناخت کرایا ----- اپنے اعتماد کی

صفحہ 9

تسلی ہو جانے پر اپنے غلیظ مشن میں مصروف ہوگئے ۔۔۔۔۔ وہ سارا دن روضہ رسولؐ کے پاس بیٹھ کر مختلف عبادات میں مصروف رہتے ۔۔۔۔۔ جو نہی رات کی سیاہی پھیلتی ۔۔۔۔۔ یہ سیاہ باطن روضہ رسولؐ کو سرنگ لگاتے۔۔۔۔۔ جو مٹی نکلتی‘ اسے مسجد نبویؐ سے باہر پھینک آتے ۔۔۔۔۔ صبح ہونے پر سرنگ والی جگہ پر چٹائیاں وغیرہ بچھا کر سرنگ والے حصہ کو چھپا لیتے ۔۔۔۔۔

سرنگ جب کافی گہری ہو گئی ۔۔۔۔۔ تو ایک رات رحمت دو عالم ﷺ سلطان نور الدینؒ زنگی کو خواب میں ملتے ہیں ۔۔۔۔۔ اور سلطان نور الدین زنگی سے کہتے ہیں کہ یہ دو موزی مجھے تکلیف پہنچا رہے ہیں ۔۔۔۔۔ انہیں پکڑو ۔۔۔۔۔ جناب سرور کائنات ﷺ ان دونوں مردودوں کی شکلیں بھی سلطان نور الدینؒ کو دکھاتے ہیں ۔۔۔۔۔ سلطان غیرت رسولؐ میں پارے کی طرح تڑپنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔ وہ دھاڑیں مار مار کے روتا ہے ۔۔۔۔۔ اور کہتا ہے ۔۔۔۔۔ کہ آقا ﷺ میرے زندہ ہوتے ہوئے آپ کو کوئی تکلیف پہنچا جائے ۔۔۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔ سلطان اس وقت مدینہ منورہ سے سینکڑوں میل دور تھا ۔۔۔۔۔ وہ ایک لشکر کو ساتھ لیتا ہے ۔۔۔۔۔ اور گھوڑے کو بجلی کی طرح دوڑاتا ہوا مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ جب مدینہ طیبہ میں داخل ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ تو گھوڑے سے اتر جاتا ہے ۔۔۔۔۔ پاؤں سے جوتے اتار دیتا ہے ۔۔۔۔۔ مدینہ طیبہ میں ننگے پاؤں چلتا ہے ۔۔۔۔۔

جب روضہ رسولؐ کی حد میں آتا ہے ۔۔۔۔۔ گھٹنوں کے بل چلنا شروع کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔ بلک بلک کے روتا ہے ۔۔۔۔۔ المختصر ۔۔۔۔۔ سلطان ان دونوں شیطانوں کو پکڑتا ہے ۔۔۔۔۔ روضہ رسولؐ کے قریب ہی انہیں ذبح کرتا ہے ۔۔۔۔۔ ان کی لاشوں کو آگ لگوا کر خاکستر کرتا ہے ۔۔۔۔۔ اور دنیا کو بتا دیتا ہے ۔۔۔۔۔ کہ اگر محمد کریم ﷺ کا غلام زندہ ہو ۔۔۔۔۔ تو وہ دشمن رسولؐ کو اس طرح کیفر کردار تک پہنچاتا ہے ۔۔۔۔۔ پھر سلطانؒ روضہ رسولؐ کے گرد ایک اتنی گہری خندق کھدواتا ہے ۔۔۔۔۔ کہ زمین سے پانی نکل آتا ہے ۔۔۔۔۔ سلطان اس خندق کو مضبوط پتھروں اور سیسے سے بھر کر روضہ رسولؐ کے گرد قیامت تک کے لیے ایک حصار قائم کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔

یہ سارا واقعہ اپنے دوست کو سنانے کے بعد ۔۔۔۔۔ میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔۔۔ کہ

صفحہ 10

وہ دو ملعون یہودی جب مدینہ طیبہ میں مسلمان بن کے داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ جو مسجد نبوی میں رہتے تھے ۔۔۔۔۔ جو روضہ رسول کی ہمسائیگی میں بستے تھے ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔ مسلمانوں کے سامنے ۔۔۔۔۔ کس کو اپنا رب مانتے تھے؟

”اللہ کو“ اس نے جواب دیا۔

اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے تشویش کی لہریں نکلیں اور اس کی پیشانی پر شکنیں ابھریں ۔۔۔۔۔ میں نے قریب پڑے پانی کے جگ سے اسے گلاس میں پانی ڈال کے پیش کیا ۔۔۔۔۔ اور پھر اس سے جو سوال و جواب کی کارروائی ہوئی‘ وہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

وہ کس کو اپنی کتاب مانتے تھے؟

”قرآن کو“

وہ کس کی نبوت کا اعلان کرتے تھے؟

”رسول اللہ ﷺ کی“

وہ کس کے فرامین کو احادیث کہتے تھے؟

”رسول اللہ ﷺ کے“

وہ مسلمانوں کے سامنے کون سا کلمہ طیبہ پڑھتے تھے؟

”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“

کیا وہ نمازیں پڑھتے تھے؟

”جی ہاں“

وہ کہاں نمازیں پڑھتے تھے؟

”مسجد نبویؐ میں“

وہ کس کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے؟

”امام مسجد نبویؐ کے پیچھے“۔

وہ نماز جمعہ پڑھتے تھے؟

”جی ہاں“

وہ وہاں بیٹھ کر صدقہ و خیرات کرتے تھے؟

صفحہ 11

”جی ہاں“

ان کے چہروں پہ داڑھیاں تھیں؟

”جی ہاں“

ان کے ہاتھوں میں تسبیحاں تھیں؟

”جی ہاں“

ان کے سروں پر عمامے اور پگڑیاں تھیں؟

”جی ہاں“

وہ کس کتاب کی تلاوت کرتے تھے؟

”قرآن مجید“

”وہ دن میں کتنی فرض نمازوں کے قائل تھے؟

”پانچ“

وہ فجر کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟

”چار“

وہ ظہر کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟

”بارہ“

وہ عصر کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟

”آٹھ“

وہ مغرب کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟

”سات“

وہ عشاء کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟

”سترہ“

کیا وہ دیگر اسلامی شعائر اور اسلامی اصطلاحات کو مانتے اور استعمال کرتے تھے؟

”جی ہاں“

تو۔۔۔۔۔کیا وہ مسلمان ہوئے؟

صفحہ 12

توبہ توبہ ۔۔۔۔۔ استغفراللہ ۔۔۔۔۔ معاذاللہ ۔۔۔۔۔ پکے کافر ۔۔۔۔۔ پکے مردود ۔۔۔۔۔ وہ چیخ اٹھا ۔۔۔۔۔

تو کیا قادیانی کافر، مسلمان کا روپ دھار کے مسلمانوں میں گھس جائے تو کیا وہ مسلمان ٹھہرا؟

توبہ توبہ ۔۔۔۔۔ اللہ معافی ۔۔۔۔۔ پکا کافر ۔۔۔۔۔ پکا بے ایمان
جو مرزا قادیانی ملعون کو حضور اکرم ﷺ کی جگہ نبی بنائے (نعوذ باللہ)
جو مرزا قادیانی کی ہفوات کو وحی الٰہی قرار دے (نعوذ باللہ)
جو مرزا قادیانی کی باتوں کو احادیث رسول کہے (نعوذ باللہ)
جو مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المومنین کہے (نعوذ باللہ)

اگر وہ شخص مسلمان کا بھیس بدل کر ہماری صفوں میں آگھسے ۔۔۔۔۔ کیا ہم اسے مسلمان تسلیم کرلیں گے؟

”بالکل نہیں ۔۔۔۔۔ بالکل نہیں ۔۔۔۔۔“ اس نے گرجدار آواز میں کہا۔

میں نے اسے کہا ۔۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔۔ قیام پاکستان سے قبل ہندوستان پر جب فرنگی سامراج کی حکومت تھی ۔۔۔۔۔ پنجاب کے کسی شہر کی مسجد میں ایک بڑے ہی نیک، پارسا اور صالح امام مسجد تھے ۔۔۔۔۔ گورا رنگ جس سے سرخی جھلکتی تھی ۔۔۔۔۔ وہ عرب شریف سے تشریف لائے تھے ۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنی زندگی کے چالیس سال اسی مسجد میں گزار دیے ۔۔۔۔۔ چالیس سال نمازوں کی امامت کی ۔۔۔۔۔ جمعے پڑھائے ۔۔۔۔۔ نکاح پڑھائے ۔۔۔۔۔ جنازے پڑھائے ۔۔۔۔۔ ہزاروں بچوں کو قرآن پاک پڑھایا ۔۔۔۔۔ لوگوں کو دینی مسائل بتائے ۔۔۔۔۔ لوگ ان پر فریفتہ تھے ۔۔۔۔۔ ان کے ہر حکم کو بجالانا اپنے لیے بہت بڑی سعادت سمجھتے تھے ۔۔۔۔۔

ایک جمعہ کے خطبہ میں اس بزرگ نے کہا ۔۔۔۔۔ کہ اب میں بہت بوڑھا ہو گیا ہوں ۔۔۔۔۔ قوٰی کمزور ہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔ کمزوری اور نقاہت بڑھتی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔ اب میں اپنے گھر عرب شریف واپس جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔ مسجد میں چیخ و پکار شروع ہو گئی ۔۔۔۔۔

صفحہ 13

لوگ بچوں کی طرح سسک سسک کر رونے لگے انہوں نے بزرگ کے پاؤں پکڑ لیے----- خدارا! آپ نہ جائیے----- ہم آپ کے غم فراق میں مرجائیں گے----- آپ ہمارے مائی باپ ہیں----- ہم آپ کو اپنے ماں باپ کی طرح سنبھالیں گے----- لیکن وہ بزرگ نہ مانے۔

آخر روانگی کا دن آگیا----- پورا علاقہ سوگ میں ڈوبا ہوا تھا----- ہر آنکھ پرنم تھی----- مرد کہہ رہے تھے ”ہمارے سروں سے سحاب کرم اٹھ گیا“----- عورتیں رو رہی تھیں----- ”ہم روحانی باپ سے محروم ہو گئیں“----- بچے کہہ رہے تھے----- ”اب ہمیں قرآن کون پڑھائے گا؟“

سب رو رہے تھے----- گریہ و زاری کر رہے تھے----- آہ و فغاں کر رہے تھے----- ہچکیوں اور سسکیوں کا ایک سماں تھا----- آنسوؤں کی ایک نہ تھمنے والی بارش تھی----- یہ جذباتی مناظر بزرگ سے بھی نہ دیکھے گئے----- ان کا دل بھی پسیج گیا----- بوڑھی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے----- اور وہ بزرگ ریلوے پلیٹ فارم کی دیوار پر چڑھ کر ہزاروں کے مجمع سے یوں مخاطب ہوئے-----

”مسلمانو! تمہاری یہ غمناک کیفیت دیکھ کر آج میرا بھی دل پھٹ گیا ہے----- مسلمانو! اپنی چالیس سال کی نمازیں دہرا لینا----- کیونکہ میں عیسائی ہوں----- برطانوی حکومت نے مجھے ہندوستان میں جاسوسی کے لیے بھیجا تھا----- میں مسجد میں بیٹھ کر جاسوسی کا کام کرتا تھا----- میں عرب نہیں----- بلکہ انگریز ہوں“ لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے----- بہتے آنسو تھم گئے----- اور حرکت کرتے ہوئے جسم ساکت ہوگئے----- اور اتنے میں وہ بزرگ اپنے ساتھیوں کے ساتھ روپوش ہوچکے تھے۔

ایک سفید براق جعلی بگلا بنا کر کھیت میں رکھ دیتے ہیں----- اٹھکیلیاں کرتے، اڑتے بگلے جب کھیت کے اوپر سے گزرتے ہیں----- تو وہ اپنے بھائی کو زمین پہ بیٹھا دیکھتے ہیں اور اس کے پاس وافر مقدار میں دانہ بکھرا ہوا بھی دیکھتے ہیں۔ وہ اسے اپنے بھائی کی دعوت سمجھتے

صفحہ 14

ہیں ۔۔۔۔۔ اور فوراً دانہ چگنے کے لیے زمین پر اتر آتے ہیں ۔۔۔۔۔ چند لمحوں بعد وہ شکاری کے جال میں ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد شکاری کا ظالم خنجر ان کی گردنوں پر چل رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ وہ موت کا رقص کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ جعلی بگلے بڑے سکون سے یہ دلخراش منظر دیکھ رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ فریب خوردہ بگلے تڑپ تڑپ کر ٹھنڈے ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ اور جعلی بگلہ پھر کھیت میں بیٹھا ۔۔۔۔۔ اپنے گرد دانہ بکھیرے نئے شکاروں کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔

اگر وہ دونوں موذی یہودی مسلمانوں کا روپ نہ دھارتے ۔۔۔۔۔ تو کیا وہ مسجد نبوی میں داخل ہو سکتے تھے؟

اگر وہ عیسائی جاسوس ایک عالم دین کے بھیس میں نہ آتا تو کیا وہ مسلمانوں کا پیش امام بن سکتا تھا؟

اگر بگلے کے شکاری نے جعلی بگلے کی جگہ کوے یا چیل کو کھیت میں بٹھایا ہوتا ۔۔۔۔۔ تو کیا وہ اڑتے ہوئے بگلوں کو شکار کر سکتا تھا؟

کہنے لگا ۔۔۔۔۔ ”بالکل نہیں ۔۔۔۔۔ بالکل نہیں“

ہے ۔۔۔۔۔ اور اسے اس پر کوئی شرم نہیں آتی ۔۔۔۔۔ بلکہ وہ اس پر فخر کرتا ہے ۔۔۔۔۔ ایک ہندو خود کو ہندو کہتا ہے۔ ایک سکھ خود کو سکھ کہتا ہے۔ ایک عیسائی خود کو عیسائی کہتا ہے۔ ایک پارسی خود کو پارسی کہتا ہے۔ ایک یہودی خود کو یہودی کہتا ہے۔ لیکن ۔۔۔۔۔ ایک قادیانی خود کو مسلمان کہتا ہے۔

کیونکہ ۔۔۔۔۔ بین الاقوامی اسلام دشمن طاقتوں نے اسے مسلمان کا لبادہ پہنا کر مسلمانوں کی صفوں میں داخل کر دیا ہے ۔۔۔۔۔ تاکہ وہ مسلمانوں کے معاشرے میں گھل مل

صفحہ 15

جائے ۔۔۔۔۔ ان کے رسم و رواج کو اپنا لے۔۔۔۔۔ اور اس کی شناخت بھی اسلامی ہو جائے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔ ایک مسلمان معاشرے میں آرام و سکون سے رہ کر ان کی جاسوسی کر سکے۔

اسلام کے نام پر اسلام میں تخریب کر سکے۔

اسلام کے نام پر اپنی کفریہ تبلیغ کر سکے۔

اسلام کے نام پر لوگوں کو مرتد بنا سکے۔

اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے مسلمانوں کو رنگ‘ نسل‘ زبان اور علاقہ کے نام پر دست و گریبان کرا سکے۔ ایک مسلمان ملک کے کلیدی عہدوں پر قبضہ کر سکے اور ملک کے راز باہر منتقل کر سکے۔

این۔جی۔اوز بنا کر غریبوں کے ایمانوں کو ذبح کر سکے۔

اپنی تعلیمی پالیسی کے تحت سکول کھول کر مسلمانوں کی نوخیز نسل کو ملحد بنا سکے۔

مسلمانوں کی نشستوں پر منتخب ہو کر ایم۔ پی۔ اے‘ ایم۔ این۔ اے اور سینٹر بن سکیں۔

اور پھر ۔۔۔۔۔ کوئی خطرناک سازش کر کے ایک مسلمان ملک کے اقتدار پر قبضہ کر سکیں۔

نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا۔۔۔۔۔ کہ دشمن کی پچاس ہزار فوج پر اپنی فوج کا ایک جاسوس بھاری ہوتا ہے۔

پیارے مسلمانو ! اندازہ لگائیے۔۔۔۔۔ ایک جاسوس کتنا خطرناک ہوتا ہے۔۔۔۔۔ کسی جاسوس کا کسی دشمن کے ملک کے حساس اداروں میں داخل ہو جانا ۔۔۔۔۔ اس ملک کی شہ رگ پر نشتر رکھنے کے مترادف ہے۔۔۔۔۔ اور ہمارے حساس اداروں میں قادیانی جاسوس بھرے پڑے ہیں۔۔۔۔۔ اور ہم بارودی سرنگوں کے اوپر کھڑے ہیں۔

چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
صفحہ 16

ایسا وقت نہ آئے !

تاریخ عالم کے دامن میں جتنی بھی باطل اور اسلام دشمن تحریکیں گزری ہیں قادیانیت نے اُن سب سے خوب خار چینی کی ہے اور کانٹا کانٹا اکٹھا کر کے اپنا خارستان بسایا ہے کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا۔ کہیں سے کفر ، کہیں سے الحاد ، کہیں سے دجل اور کہیں سے تلبیس۔ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جن سے قادیانیت مرکب ہے۔

ایک عرصہ سے محمد طاہر رزاق اس مرکب کے اجزاء الگ الگ کر کے امت کے سامنے اُن کے اصل رنگ و روپ میں پیش کرنے کا فریضہ بطریق احسن اور بطرز جدید انجام دے رہے ہیں اور اسی ضمن میں اب اُن کی گراں قدر خدمت اُن سب اہل ایمان اور صاحبان عشق کے احوال و واقعات کو امت کے حضور پیش کرنا ہے جنہوں نے اپنے گرم خون سے یہودیت کے اس چربہ کے آگے بند باندھا ہے۔ انہیں حضرات باوفا کی قربانیاں ہیں کہ آج قادیانیت دم دبا کر اپنے آقا کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور ہے۔

ہمارے لئے اصل لمحہ فکریہ یہ ہے کہ یہ سب اسلاف تو اپنا اپنا کام پورا کر کے کامرانیوں کے پھول لینے اللہ کے حضور پہنچ چکے۔ ہمارے لئے ابھی وقت اور موقع باقی ہے اور ہمارے سروں پہ اُن کا قرض بھی باقی ہے۔ اگر ہم نے اپنے حصے کا فرض ادا کر دیا اور موقع

صفحہ 17

سے فائدہ اٹھالیا اور وقت کو قیمتی بنالیا تو امید کی جاسکتی ہے کہ ہم بھی ان حضرات کی صف میں جگہ پالیں گے وگرنہ اخروی زندگی کا خسارہ اپنے وحشت ناک پنجے ہم پہ کچھ اسطرح گاڑے گا کہ پھر اُن سے چھٹکارا کسی صورت ممکن نہ ہوگا ایسا نہ ہو کہ ہم بھی اُسوقت اُن خواہش کرنے والوں کی طرح ہوں جو یہ چاہیں گے کہ کاش ہمارے بدلے پوری کائنات فدیہ میں لے لی جائے اللہ نہ کرے کہ ایسا وقت کسی مسلمان پہ آئے!

خادم تحریک ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل

صفحہ 18

ضرب پاپوش

یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ مرزا غلام احمد علیہ ماعلیہ اللہ تعالیٰ کا نبی نہیں تھا۔ لیکن یہ چیز شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ مرزا غلام احمد کی نبوت سازی میں ولیم ہنٹر کا بہت ہاتھ ہے جس کی ۱۸۷۰ء میں تیار کی گئی رپورٹ کی بنا پر انگریز نے مسلمانان ہند کے لیے ایک نئی پالیسی اختیار کی، جس کے تحت ۱۸۸۸ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت وجود میں آئی۔

قادیان کے پیغمبر نے اپنی معبود ملکہ برطانیہ کی خوشنودی کی خاطر ”اولوالامر منکم“ کی یہ تشریح کر کے کہ ”حاکم وقت کی اطاعت کی جائے چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم“ اپنی انگریز خالق کا حق بندگی ادا کر دیا۔

ولیم ہنٹر کی رپورٹ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا واحد مقصد یہ تھا کہ مسلمان عقیدتاً برطانوی حکومت کا سایہ قبول کر لیں اور ان کے دماغ سے جہاد اور غیر ملکی سامراج کے خلاف بغاوت کا جذبہ نکال دیا جائے لیکن انگریز آقا اور غلام پیغمبر کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ کالی کملی والے کے غلام جہاد سے جتنی محبت تب کرتے تھے، اتنی اب بھی کرتے ہیں اور آج دو صدیوں بعد بھی ہر مسلمان مرزائیت اور انگریزوں کے خلاف یکساں طور پر برسرپیکار ہے۔

محمد طاہر رزاق صاحب رد قادیانیت کے ایکسپرٹ ہیں۔ قلم سے مرزائیت کا قیمہ بنانے کا انہیں ملکہ حاصل ہے۔ انہوں نے قلم کے وار سے مرزائیت کے خلاف جو یلغار شروع کر رکھی ہے زیر نظر کتاب اسی کا تسلسل ہے۔ ”محاصرہ قادیانیت“

صفحہ 19

نہایت دلچسپ‘ مرزائیت سوز اور قادیانیت کش کتاب ہے جس میں قادیانیت کی گود میں پلنے والے بے شمار ایسے لوگوں کے قصے ہیں جو فرعون کے گھر پل کر موسیٰ بنے اور پھر فرعون کو عمر بھر لوہے کے چنے چبواتے رہے۔ جناب زیڈ۔ اے سلہری مرحوم انہی سپوتوں میں سے تھے۔ انہوں نے مرزائی پیغمبر‘ اس کی ذریت اور امت کو ایسا آئینہ دکھایا کہ وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

ساٹھ کی دہائی میں جب میں کفر نگر میں پڑھا کرتا تھا جو پہلے ربوہ مگر اب چناب نگر بن چکا ہے‘ تو میرے اکثر مرزائی ہم جماعت مجھے باور کرانے کی کوشش کیا کرتے تھے کہ ”اگر قادیانیت جھوٹا مذہب ہوتا تو چودھری سر ظفراللہ خان جیسے اکابر اسے کیوں قبول کرتے“۔

میرے دل نے تو ان خرافات نما دلیلوں کو کبھی مانا ہی نہیں تاہم میں انہیں یہ جواب دے دیا کرتا تھا کہ ”یہ سر ظفراللہ نہیں ”آشفتہ سر“ ہے جس نے مرزائیت کو مذہب اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانا“ لیکن آج محمد طاہر رزاق صاحب کی ”محاصرہ قادیانیت“ پڑھی تو یہ جانا کہ تب جو میں کہتا تھا‘ بالکل سچ ہی تھا۔ چودھری سر ظفراللہ خان مرزائیوں کی نظر میں بلاشبہ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والا مطمئن اور آسودہ خاطر شخص تھا مگر در حقیقت اس شخص نے جتنی کھوکھلی نا آسودہ اور عبرتناک زندگی گزاری‘ اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسے اپنی تین بیویاں تو راس نہ آسکیں مگر وہ مرزا محمود کی ساتویں بیوی 19 سالہ بشریٰ المعروف مہر آپا کی عمر بھر دلداریاں کرتا رہا لیکن موت چودھری سر ظفراللہ خان کو اپنی اسی بیوی کے در پر آئی‘ جس کی بیٹی کو اس نے عمر بھر اپنی شفقت سے محروم رکھا۔

”محاصرہ قادیانیت“ میں مرزائیت کوبی کرنے والی بے شمار قد آور شخصیات کو تاریخ میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔ ان سرکردہ لوگوں میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی ہیں۔ یہ محمد طاہر رزاق صاحب کی ناقابل فراموش خدمت ہے کہ انہوں نے مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے عظیم کارنامے کو تفصیل سے اجاگر کیا۔ بھٹو صاحب نے 7 ستمبر 1974ء کو شجر مرزائیت کو جڑ سے کاٹ کر اپنی زندگی داؤ پر لگا دی۔ مرزائیوں نے بھٹو صاحب کی مخالفت میں چودھری ظفراللہ خان کے بھتیجے سابق ایئر مارشل ظفر

صفحہ 20

چودھری اور اس کے ہم زلف مرزائی میجر جنرل نذیر کے ذریعے بھٹو حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کی بھی سازش کی۔ جب کچھ نہ بن پڑا تو مسعود محمود قادیانی نے وعدہ معاف گواہ بن کر بھٹو صاحب کی زندگی کا سفینہ ڈبو ڈالا۔ بھٹو صاحب کی پھانسی پر مرزائیوں نے جشن منائے اور مٹھائیاں تقسیم کیں اور پھر مرزا غلام احمد کی کتابوں سے اس کا ایک نام نہاد الہام تلاش کیا جس میں کہا گیا تھا ”کلب یموت علی کلب“ یعنی ”وہ کتا ہے اور کتے کے عدد پر مرے گا“ اس من گھڑت الہام کو سچ ثابت کرنے کے لیے مرزائیوں نے کتے کے عدد نکالے جو باون بنتے تھے کیونکہ بھٹو صاحب کو باون سال کی عمر میں پھانسی ہوئی۔ لہٰذا کہا گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ الہام بھٹو صاحب کے لیے تھا حالانکہ علمائے کرام کے مطابق یہ الزام ٹھیک نہیں تھا بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک بار شرارت کرنے پر اپنے بیٹے مرزا محمود احمد کو بددعا دی تھی ”تو کتا ہے اور کتے کی موت مرے گا“۔

اور پھر مرزا محمود جس ہولناک اور عبرت ناک موت کا شکار ہوا، اس کے بارے میں مرزائی پوری طرح آگاہ ہیں۔ قیام ربوہ کے دوران میں نے خود دیکھا مرزائیوں میں یہ ”کوسنا“ عام تھا بلکہ ہمارے سکول میں اساتذہ طلبہ کو سرزنش کے طور پر اکثر کہا کرتے تھے ”تو کتا واں، تو کتے دی موت مریں گا“۔

محمد طاہر رزاق صاحب نے یوں تو اپنی ہر کتاب میں مرزائیوں کی خوب خبر لی ہے لیکن زیر نظر کتاب میں انہوں نے اس امت اور اس کے نبی کی تاریخ کے تناظر میں گت بنائی ہے۔ بھارتی صحافی جمنا داس کے حوالے سے اکھنڈ بھارت کی باتیں، پاکستان کو توڑ کر بھارت کو مستحکم کرنے کے خواب ٹھوس ثبوت کے ساتھ پیش کیے ہیں۔ مرزا محمود کا وہ خواب بھی تحریر کیا ہے جس میں اسے گاندھی جی ملے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مرزا محمود کے خوابوں میں گاندھی جی نہیں آئیں گے تو اور کون آئے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا کہ چودھری سر ظفراللہ خان تو پاکستان آنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ یہ تو سردار پٹیل کی مخالفت اور دھتکار کا اعجاز ہے کہ سر ظفراللہ قائد اعظم کے قدموں میں بیٹھنے پر مجبور ہو گیا۔

محمد طاہر رزاق کی رد قادیانیت کے لیے بے پناہ خدمات ہیں۔ ان کی ہی تحریک

صفحہ 21

پر مجھے ”احمقوں کی جنت“ اور ”شیشوں کا مسیحا“ لکھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ ایک مرزائیوں کی معاشرتی، سماجی اور مذہبی زندگی کا کچا چٹھا ہے، دوسری میں حضرت پیر جماعت علی شاہ کا اللہ پاک کے نبی اور شیطان کے نبی کے درمیان فرق کا فتویٰ بیان کیا گیا ہے۔

مرزائی قوم جھوٹ اور ڈھٹائی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ایک بار مجھے علامہ انور طاہر صاحب کے ہمراہ مرزا قادیانی کے ”خلیفہ اول“ حکیم نور الدین کے پوتے منور عمر قادیانی کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں مرزا قادیانی کے ایک قول پر مناظرہ کرنا تھا۔ منور عمر منصف کے اپنے خلاف فیصلے اور اپنے دعویٰ میں جھوٹا ثابت ہونے کے باوجود پڑوں پر پانی نہیں پڑنے دے رہا تھا۔ ایسے میں علامہ انور طاہر صاحب کی میں نے حضرت صوفی فضل کریم کے اس قول زریں سے تشفی کرائی کہ مرزائی نبی، اس کی ذریت اور امت اخلاق، اخلاص اور دعوت کی زبان کو کبھی خاطر میں نہیں لاتی جبکہ ضرب پاپوش سے ان کی ہر کل سیدھی ہو جاتی ہے۔

دعا ہے محمد طاہر رزاق صاحب نے ”محاصرہ قادیانیت“ لکھ کر جو ضرب پاپوش لگائی ہے وہ رنگ لائے اور مرزائیوں کو مسلمان ہونا نصیب ہو۔ (انشاء اللہ)

جی۔ آر اعوان روزنامہ جنگ، لاہور 5 فروری 2000ء

صفحہ 22

قادیانی تحریک

زیڈ اے سلیری

پس منظر۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ پیش منظر

”زیڈ ۔ اے سلیری کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ صف اول کے کہنہ مشق اور اصول پرست صحافی ہیں۔ انہوں نے مرزائیت کی گود میں جنم لیا، اسی ماحول میں پرورش پائی، لیکن انگریز کے اس خود کشتہ پودے کے دام تزویر میں نہ آسکے اور ان کے جرات مندانہ ذہن نے مرزائیت کے دجل و فریب اور مکر و تلبیس کے خلاف بغاوت کر دی۔ زیر نظر مضمون ان کا تحقیقی شہ پارہ ہے جو آج سے تیس برس قبل تحریر کیا گیا۔ اس میں مرزائیت کے خد و خال کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ ان حالات و واقعات کا بھی تجزیہ ہے جن کے تحت مرزا غلام قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور وہ اس کے محرک بنے۔ مضمون اپنی اہمیت و افادیت کے پیش نظر ہدیہ قارئین ہے۔“

احمدیہ تحریک جسے عرف عام میں قادیانی تحریک کہا جاتا ہے، کیسے معرض وجود میں آئی، اس سوال کا جواب اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتا جب تک ہم ولیم ہنٹر کی اس رپورٹ کا تفصیلی جائزہ نہ لیں جو انہوں نے ”ہمارے ہندوستانی مسلمان“ کے عنوان سے برطانوی حکومت کو پیش کی تھی اور جس پر : ”کیا وہ برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کے مذہباً پابند ہیں۔“ کا اشتعال انگیز ذیلی عنوان ثبت تھا۔ یہ رپورٹ ۱۸۷۰ء میں کتابی شکل میں شائع ہوئی۔ وہائٹ ہال میں اس پر گہرا غور و فکر ہوا اور اس رپورٹ کے مندرجات کی اساس پر

صفحہ 23

مسلمانان ہند کے متعلق ایک نئی پالیسی اختیار کی گئی۔ ۱۸۸۸ء میں مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ایک ایسی نبوت‘ جس کا مقصد اولیٰ یہ تھا کہ مسلمانوں پر جہاد کی پابندی ختم کی جائے اور انہیں برطانوی حکومت کے زیر سایہ امن و امان سے رہنے کی تلقین کی جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس کتاب کا مرزا قادیانی کی نبوت سے کیا تعلق ہے؟

سر ولیم ہنٹر کو جو ملکہ ہند کی حکومت میں ایک اعلیٰ افسر تھے۔ مسلمانوں کے معاندانہ رویہ پر بے حد تشویش تھی جس کا مظاہرہ سید احمد شہید کی ملک گیر تحریک میں ہوا تھا۔ جس نے مسلمانوں کو یہ بات ذہن نشین کرا دی تھی کہ وہ کسی بھی غیر ملکی اور غیر مسلم حکومت کے زیر سایہ مسلمان نہیں رہ سکتے اور یہ کہ ہندوستان دارالحرب بن چکا ہے۔ دارالحرب کے اس تصور کے بعد مسلمانوں کے سامنے صرف دو راستے تھے:

اولاً ۔۔۔۔ غیر ملکی حکومت کے خلاف جہاد کیا جائے اور ہندوستان کو ایک بار پھر دارالاسلام میں تبدیل کیا جائے جہاں مذہب کا علم لہرائے ۔۔۔۔۔ یا

ثانیاً ۔۔۔۔۔ کسی ایسی جگہ ہجرت کی جائے جہاں اسلامی تعلیمات پر بلا روک ٹوک نہ صرف عمل کیا جاسکے بلکہ ان کی توسیع و اشاعت بھی ہوسکے۔

اس انداز فکر نے مسلمانوں کو جھنجھوڑا اور انہیں ملکہ ہند کی حکومت کے خلاف اگر عملی طور پر نہیں تو ذہنی طور پر بغاوت کے لیے ابھارا۔

وہابی تحریک‘ جس کے عروج کا علم چالیس برس تک پورے شمال مشرقی اور شمال مغربی ہندوستان پر لہراتا رہا۔ اس وقت برطانوی حکومت کے جور و استبداد کا نشانہ بنی ہوئی تھی‘ لیکن سر ولیم کے نقطہ نظر میں یہ جسمانی جبر و ایذا مسلمانوں کے مسئلہ کا مناسب اور دیرپا حل نہیں تھا۔ اس کے نزدیک اصل حل یہ تھا کہ مسلمان عقیدۃً ”برطانوی حکومت کا سایہ قبول کرلیں یا کم از کم اسلامی تعلیمات کی توضیح و تشریح اس انداز سے نہ کریں جس سے انگریزی حکومت کے خلاف دشمنی اور نفرت کے جذبات ابھریں۔ یہ کیسے ہو؟

ظاہر ہے کہ اس کا ایک ہی حل تھا کہ مسلمانوں کے دل و دماغ سے جہاد اور غیر ملکی سامراج کے خلاف بغاوت کا جذبہ نکال دیا جائے لیکن مسلمانوں کی عام رائے اس قسم کی مفاہمت کے لیے تیار نہیں تھی۔

احمدیہ تحریک کے ایک سرسری جائزے سے ہی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو

صفحہ 24

جاتی ہے کہ اس تحریک کا مقصد عظیم اسلامیان ہند کے دلوں میں برطانوی حکومت کے لیے صلح و آشتی کا وہ جذبہ پیدا کرنا تھا جس کی سرولیم کو آرزو تھی۔ چنانچہ مرزا غلام احمد کی تعلیمات میں جہاد کو منسوخ کر دیا گیا اور آیت ”اولو الامر منکم“ کا مطلب یوں ڈھالا گیا کہ ”اولو الامر“ سے مراد بر سر اقتدار حکومت ہے۔ خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ اس لیے:

”عامۃ المسلمین کا یہ سمجھنا کہ احمدی انگریز کا خود کاشتہ پودا ہیں‘ بلاوجہ نہیں تھا۔“ اور احمدی رہنماؤں کے مسلسل فخریہ اعلانات نے کہ انگریزوں کے ساتھ ان کے گہرے تعلقات ہیں‘ اس تاثر میں اور وزن پیدا کر دیا۔ یہ بات عام تھی کہ انگریز سرکاری ملازمتوں میں احمدیوں کو ترجیح دیتے ہیں چنانچہ:

”وائسرائے ایگزیکٹو میں ایک ممبر کی حیثیت سے سر ظفراللہ کا تقرر اس کی ذاتی قابلیت سے زیادہ اسی حقیقت کی وجہ سے تھا۔“

یہ پس منظر اس احمدیہ تحریک کے متعلق مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے کافی تھا۔ مسلمان ۔۔۔۔۔ جو اپنے زوال اور اپنی تہذیب کی جگہ مغربی تہذیب کے آجانے سے بے حد مضطرب تھے۔ برتر تہذیب کا یہ احساس اتنا شدید تھا کہ وہ بجا طور پر یہ سمجھنے لگے کہ مغربی تہذیب صرف اسی صورت میں یہاں قدم جما سکتی ہے کہ مسلمانوں کے طریقہ تعلیم کو نیست و نابود کر دیا جائے ۔۔۔۔۔ سر ولیم ہنٹر کی کتاب اس حقیقت اور خاص طور پر مسلمانان بنگال کی صورت حالات کی غماز ہے۔

تاہم جس چیز نے مسلمانوں کے دلوں میں احمدیت کے خلاف انتہائی نفرت اور دشمنی پیدا کر دی تھی وہ یہ تھی کہ مرزا قادیانی نے اپنی تحریک اور مشن کی اساس ختم نبوت کے مسلمہ عقیدہ کی قطعی تنقیص پر رکھی۔ یہ بات تو خیر قرین قیاس ہے کہ ایک نئے عقیدے کے عنوان سے ایک نئی نبوت کی بنیاد رکھی جائے۔ جیسا کہ بہاء اللہ نے کیا۔ لیکن اسلام میں ایک نئی نبوت کا دروازہ کھولنا اسلام کی بنیادی قدروں کے لیے خطرناک طور پر تباہ کن ہے اور اگر اس بات کی سند مل جائے کہ کسی کلمہ گو کو کافر کہا جاسکتا ہے تو:

”دائرہ اسلام میں احمدیوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ احمدی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لا کر مسلمان نہیں ہو جاتے۔ جس طرح عیسائی حضرت موسیٰؑ کو

صفحہ 25

مان کر یہودی نہیں ہو جاتے یا خود مسلمان حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ پر ایمان رکھ کر عیسائی یا یہودی نہیں بن جاتے۔“

یہ ختم نبوت کا عقیدہ ہی تو ہے جس پر مسلمان ایک امت کی حیثیت سے منسلک اور منظم ہیں۔ ختم نبوت کا تصور ----- جسے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں قرآن مجید میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کی نفی سے اجماع امت کی بنیادیں متزلزل ہو کر رہ جاتی ہیں۔

علاوہ ازیں ختم نبوت کا تصور محض رسول اللہ ﷺ کی عظمت کا اعتراف ہی نہیں بلکہ یہ عقیدہ قرآنی نقطہ نظر سے انسانیت کے ارتقا کے بنیادی اصولوں کا جزو لاینفک ہے اور اسے علامہ اقبال نے اپنے لیکچروں میں خوب واضح کیا ہے۔ علامہ کی نگاہ میں ختم نبوت انسان کی تکمیل کا نشان ہے۔ جسے قرآن کے ذریعہ وہ تمام ہدایات عطا کر دیں جن کی اسے اپنی روحانی اور مادی ترقی کے لیے ضرورت ہو سکتی تھی اور اسے اپنی قسمت خود تعمیر کرنے کا مختار بنایا گیا۔ قرآن نے اپنی ذمہ داریوں کا پرزور اعتراف کیا ہے۔ خدا نے رسول اکرم ﷺ سے بار بار کہا ”اے رسول کہہ دے کہ اگر میں چاہتا تو دنیا میں کوئی کافر نہ ہوتا۔ لیکن یہ انسان کے منصب اختیار کے خلاف ہوتا۔ اس لیے اسے فرمان خداوندی قبول یا رد کرنے میں اختیار دیا گیا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان کو ایمان لانے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ دین مکمل ہو جانے کے بعد ”اتممت علیکم نعمتی“ (القرآن) انسانیت کو خدائے برتر کے مقاصد کو اپنی سعی و کوشش کے مطابق پورا کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔

اس بحث کی روشنی میں مرزا قادیانی کے مشن میں کوئی جان نہیں اور ان کے پیرو کار امت مسلمہ میں شمار ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔

تاہم یہ بات تحقیق طلب ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنے مشن میں اتنی بڑی کامیابی کیسے حاصل ہوئی۔ دراصل اس کے اسباب ان حالات کی پیداوار ہیں، جن میں انہوں نے کام کیا۔ برطانوی حکومت کی مذہبی رواداری کی پالیسی کا مطلب ہر قسم کے مذہبی اور فرقہ وارانہ مناقشات کے لیے صلائے عام تھا۔ مسلمانوں کا شیرازہ پہلے ہی بکھر چکا تھا۔ جب کہ ان کے طریقہ ہائے تعلیم اور قوانین تعزیر سے جس نے انہیں مجلسی، مذہبی اور قانونی طور پر ایک لڑی میں منسلک کر رکھا تھا، ختم کر دیے گئے اور اسی طرح مذہبی تعلیمات اور ان کی

صفحہ 26

تشریح و توضیح کا کام ان جاہل علماء کے ہاتھوں میں چلا گیا جو ان کے ساتھ کھیلنے لگے۔ اس کے برعکس عیسائی مشن اور آریہ سماج جیسے انقلابی ہندو اسلام پر رکیک حملے کر رہے تھے کہ جنگ آزادی میں شکست کھا جانے کے بعد مسلمانوں کی زندگی کا یہ کمزور ترین پہلو سمجھا جاتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس تثلیثی کش مکش کی قوتیں نابرابر تھیں۔ ایک طرف روپیہ اور تعلیم تھے تو دوسری طرف تعلیم کی کمی اور تنظیم کا فقدان۔ اس کشمکش میں مسلمان پستے چلے گئے۔ ان حالات میں مرزا قادیانی نے اسلام کی طرف داری کا بہروپ اختیار کیا۔ فریب خوردہ عوام نے سراہا تو مرزا قادیانی مطلق العنان لیڈر شپ کے خواب دیکھنے لگے۔

اس کامیابی کے ساتھ برطانوی حکومت کی ضرورت بھی ابھری کہ حکومت اور مسلمانوں کے درمیان مفاہمت کی راہ پیدا کی جائے لیکن یہ مفاہمت جہاد اور دار الحرب کے تصورات کو ختم کیے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ ان خطوط پر پہلے بھی کوشش کرائی جا چکی تھی۔ بعض مدرسہ فکر کے رہنما غیر ملکی حکومت کے ساتھ صلح و آشتی سے رہنے کا اعلان کر چکے تھے۔ لیکن یہ کوششیں مسلمانوں میں قبولیت عامہ حاصل نہ کر سکیں۔ مرزا قادیانی کو اپنی بڑھتی ہوئی آرزو کے لیے انگریز کی ضرورت تھی‘ جس نے اسے نبوت جیسے بلند مقام پر ہاتھ مارنے کے لیے ابھارا۔ سمجھا یہ گیا کہ ان تصورات اور عقائد کی تنقیص کے لیے جن کا ماخذ وحی اور الہام ہو‘ ایک اوتار اور نبی ہی کی ضرورت ہے۔ یہ کام خاصا نازک ہی نہیں‘ مشکل بھی تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا قادیانی نے ایک نبوی جوش و خروش سے جہاد کے تصور کی نفی اور انگریز کی وفاداری کے لیے بے پناہ کام کیا۔ گویا مسلمان مذہبی راہنماؤں کی کمزوری اور برطانوی حکومت کی اس ضرورت نے کہ ہندوستان میں جسے انہوں نے مسلمانوں سے ہی چھینا تھا۔ ایک مضبوط حکومت کے لیے موافق حالات پیدا کیے جائیں مرزا قادیانی کے مشن کو جنم دیا۔

لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ احمدی جماعت نشو و نما پاتی رہی حالانکہ وہ خوشگوار حالات‘ جن میں اس جماعت کی تخلیق اور پرورش ہوئی اور تمام ذہنی تصورات دن کی روشنی کی طرح واضح ہو چکے تھے اور علم کا نور پھیل چکا تھا‘ جس کا مظاہرہ اقبال کے لافانی کلام میں ہوا ہے۔ لیکن مسلمانوں کی تقدیر ایک اور پلٹا کھا چکی تھی۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد

صفحہ 27

احمدی تحریک ایک متروک اور مہمل تحریک ہو چکی ہے۔ غیر موافق حالات کے باوجود اس جماعت کی تنظیم کا سبب برسر اقتدار خاندان کے ذاتی مفادات ہیں۔ جس کے مختلف حصے پروپیگنڈا اور تنظیم کے کام میں مصروف ہیں اور شاید سب سے بڑا سبب اس گروہ کے افراد میں تعاون باہمی کا جذبہ ہے۔ اس طرح کہ اس جماعت کی ممبر شپ باہمی تحفظ اور یقین کی ضمانت ہو جاتی ہے۔ لیکن اس جماعت کی مضبوطی کا انحصار پاکستان میں اس کی تنظیم پر نہیں۔ آزادی کا آفتاب طلوع ہونے کے بعد بہت کم لوگ ایسے ہیں، جنہوں نے مرزائیت قبول کی، لیکن کھلم کھلا علیحدگی اور افتراق کے بے شمار واقعات ظہور پذیر ہو چکے ہیں۔

اب جماعت صرف اپنے بیرون ملک اور خاص طور پر افریقہ کے بعض حصوں میں، جہاں لوگ اسلام کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے ہر وقت گوش بر آواز رہتے ہیں۔ اپنے پروپیگنڈے کے سہارے زندہ ہے۔ ربوہ میں صرف جماعت کا صدر مقام ہے۔ لیکن اس کے سارے اثر و رسوخ کا دارو مدار بیرون ملک کام پر ہے۔

اس جماعت کی پوزیشن کا صحیح جائزہ لینے کے لیے اس کام کے اس پہلو پر نگاہ رکھنا بے حد ضروری ہے۔

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان۔ اپریل ۱۹۸۸ء)

صفحہ 28

چودھری ظفر اللہ قادیانی کا اصل روپ

(تحریر: م۔ ب (سابق قادیانی)

چودھری ظفر اللہ خاں مشہور و معروف سیاست دان‘ قادیانیت کا ستون اور مثالی انگریز نواز تھے۔ وہ برٹش سامراج کی غلامانہ خدمات اور ان کے خود کاشتۂ پودے (قادیانی مذہب) کے سرگرم رکن ہونے کے باعث دنیوی ترقی کی منازل بہت تیزی سے طے کرتے چلے گئے۔ سر ظفر اللہ چونکہ ساری زندگی بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ اس لیے اکثر نادان ان کی زندگی بڑی خوشگوار اور مطمئن خیال کرتے تھے۔ اور اب بھی اکثر لوگ سمجھتے ہیں‘ خاص طور پر قادیانی حضرات تو ان کی بظاہر شاندار زندگی اور بڑے عہدوں پر تعیناتی کو قادیانی مذہب کی حقانیت پر دلیل قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سر ظفر اللہ کی بظاہر شاندار زندگی اندر سے بالکل کھوکھلی اور عبرتناک تھی۔ ان کو ساری عمر گھریلو سکون نصیب نہ ہوا۔ انہوں نے تین شادیاں کیں۔ تینوں کا انجام حسرت ناک رہا۔ کوئی شادی کامیاب نہ رہی۔ کوئی نرینہ اولاد نہ ہوئی۔ اس کا بھی انہیں ساری عمر قلق رہا۔ سر ظفر اللہ کو اعلیٰ صلاحیتوں کا مالک ہوتے ہوئے نیز حکومت اور اپنے مذہبی سربراہوں کی مکمل تائید و مدد کے باوجود ساری عمر جن جن حسرتوں‘ ناکامیوں اور نامرادیوں کا سامنا رہا‘ اور بالآخر نہایت عبرت ناک ذلت آمیز موت سے ہم آغوش ہونا پڑا۔ اس کا مفصل حال قارئین درج ذیل سطور میں پڑھیں گے۔ ان حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف نوع کے عذاب ان پر وارد کیے گئے تاکہ انہیں خبردار کیا جائے کہ قادیانیت سے توبہ کرلیں مگر انہوں نے اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا۔

صفحہ 29

سر ظفر اللہ ۱۸۹۳ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا غلام احمد سے متاثر تھے اور قادیان آتے رہتے تھے۔ ظفر اللہ بھی کبھی کبھار ان کے ساتھ قادیان جانے لگے۔ حکیم نور الدین کی دور بین نظر نے لڑکے کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور ان کے والد کو خط لکھا کہ بیٹے کی بیعت کرا دو۔ یہ ۱۹۰۷ء کی بات ہے۔ پوسٹ کارڈ ظفر اللہ نے بھی پڑھا۔ جب والد کے ساتھ قادیان گئے‘ تو ان کا خیال تھا والد بیعت کے لیے کہیں گے۔ مگر نہ جانے کیوں انہوں نے بیٹے سے اس سلسلے میں کچھ بھی نہ کہا۔ حتیٰ کہ واپس سیالکوٹ جانے لگے۔ لیکن ظفر اللہ پر چونکہ حکیم نور الدین کا اثر تھا‘ اس لیے ان کے خط کے پیش نظر ستمبر ۱۹۰۷ء میں مرزا غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ ابتدائی تعلیم مشن اسکول سیالکوٹ میں حاصل کر کے ۱۹۱۱ء میں گورنمنٹ کالج سے گریجویشن کیا۔ ۱۹۱۱ء سے ۱۹۱۴ء تک کنگز کالج کیمبرج انگلینڈ میں پڑھے اور بیرسٹری پاس کی۔ نیز انگلستان‘ سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کا سفر کیا۔ ان حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ ظفر اللہ بچپن سے ہی مشن اسکول‘ قادیانیت اور برٹش سامراج کے جال میں پھنس گئے۔ نوعمری میں ہی انگلینڈ میں انہیں اپنی خاص نگرانی میں انگریزوں نے اعلیٰ تربیت دی اور پھر ساری عمر اس لڑکے کی عقل‘ علم‘ ہوشیاری اور صلاحیتوں کو جس طرح چاہا استعمال کیا۔

یورپ سے واپسی کے بعد ظفر اللہ قدرے ماڈرن ہو گئے تھے۔ ان کا گھرانہ زمیندارانہ تھا۔ ان کے والد اپنے خاندان کی ایک سیدھی سادی لڑکی سے ان کی شادی کرنا چاہتے تھے۔ جبکہ ظفر اللہ کسی ماڈرن لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن والد کے سامنے پیش نہ چلی اور مجبوراً شادی ہو گئی۔ لیکن ظفر اللہ نے عملی طور پر اس لڑکی کو کبھی بیوی کے طور پر قبول نہ کیا۔ نہ اس سے میل جول رکھا۔ حتیٰ کہ ۱۹۲۶ء میں والد کا انتقال ہو گیا۔ والد کے انتقال کے بعد سر ظفر اللہ نے اپنی مرضی سے ایک ماڈرن‘ تعلیم یافتہ‘ اپنی پسند کی تیز طرار لڑکی ”بدر“ سے شادی کر لی۔ جس سے ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی‘ جس کا نام امت الحئی ہے۔ اس کے بعد کوئی اور اولاد نہ ہوئی۔ سر ظفر اللہ کو نرینہ اولاد کی بہت خواہش تھی۔ اس کے لیے وہ ساری عمر بہت دعائیں‘ دوائیں‘ مجاہدے‘ خیرات‘ صدقے اور سب حیلے کرتے رہے۔ مگر نصیب میں بیٹا نہ تھا اور یہ نعمت قادیانی پیر اور برطانوی سامراج بھی دینے میں ناکام رہا۔ بعض بزرگوں نے تو ظفر اللہ سے کہہ دیا تھا کہ چونکہ تم نے

صفحہ 30

پہلی بیوی سے اچھا سلوک نہیں کیا اور دوسری شادی والد کی مرضی کے خلاف کی‘ اس طرح اس کی روح کو دکھ پہنچایا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ تم سے سخت ناراض ہے اور تمہارے ہاں بیٹا نہیں ہو گا۔ اس ماڈرن بیوی نے ویسے بھی چودھری صاحب (سر ظفر اللہ) کو وہ تگنی کا ناچ نچایا کہ چودھری صاحب اس سے زیادہ تر دور ہی رہنے لگے۔ اور اپنے پیر و مرشد مرزا کی فیملی میں دلچسپی لینے لگے۔ مرزا بشیر الدین محمود‘ مرزا غلام احمد کے بیٹے جو کہ ۱۹۱۴ء میں قادیانیوں کے خلیفہ دوم بن چکے تھے۔ یہ سر ظفر اللہ کے قریباً ہم عمر تھے۔ مرزا بشیر الدین محمود بہت ہوشیار چالاک‘ تیز فہم آدمی تھے۔ انہوں نے شروع سے ہی ظفر اللہ سے یاری گانٹھ لی۔ ظفر اللہ کا بھی گھریلو چپقلش کے باعث اپنے گھر دل نہ لگتا تھا۔ اس لیے اپنے پیر کے لڑکے لڑکیوں میں دلچسپی لینے لگ گئے۔ یہ دلچسپی اتنی بڑھی کہ بیرون ملک سے پاکستان واپسی پر اپنے گھر کی بجائے مرزا محمود کے گھر ہی قیام کرتے۔ ادھر ان کی بیوی (والدہ امت الحئی) ان کی عدم توجہی سے شاکی رہنے لگی۔ غالباً ۶۲ء میں اس نے ظفر اللہ سے علیحدگی اختیار کر لی اور مشہور قادیانی سرمایہ دار شاہنواز سے شادی کر لی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ظفر اللہ کا بشریٰ ربانی‘ ایک فلسطینی سے شادی کا سلسلہ بن رہا تھا جو ان کی بیوی پر گراں گزرا ہو۔ جب سابقہ بیوی نے شاہنواز سے شادی کر لی تو ظفر اللہ نے جو شائد اسی موقع کے منتظر تھے‘ فوراً فلسطینی خوبرو دوشیزہ بشریٰ ربانی سے شادی رچا لی۔ ظفر اللہ اس وقت ستر برس کے پیٹے میں تھے اور بشریٰ ربانی نو عمر دوشیزہ تھی۔ اس شادی پر مرزا غلام احمد کے صاحبزادے مرزا بشیر احمد نے قادیانی آرگن ”الفضل“ میں مضمون شائع کیا جس میں اس شادی پر بڑی خوشی کا اظہار کیا اور سب قادیانیوں سے بیٹے کی پیدائش کے لیے دعا کی درخواست کی اور خود بھی دعا کی کہ اللہ پاک چودھری صاحب (سر ظفر اللہ) کو بیٹا عنایت کرے۔

مگر وائے افسوس کسی قادیانی کی دعا اس بارے میں شرف قبولیت نہ پاسکی۔ ہو سکتا ہے اس طویل مہلت سے فائدہ اٹھا کر چودھری صاحب قادیانیت سے تائب ہو جاتے تو اللہ تعالیٰ انہیں اولاد نرینہ سے بھی نواز دیتا۔ یہ تیسری شادی بھی بے ثمر رہی۔ بڈھا گھوڑا لال لگام کے مصداق خوبصورت فلسطینی دوشیزہ کی ان سے نبھ نہ سکی۔ شنید ہے کہ بشریٰ ربانی کا نوجوان ناکام منگیتر اس سے ملنے کسی نہ کسی بہانے آتا رہتا تھا اور اس نے چودھری صاحب

صفحہ 31

پر پستول بھی اٹھایا تھا۔ بالاخر اس قسم کے ناگفتنی حالات کی بنا پر یہ شادی بھی ناکام ہوئی اور علیحدگی ہو گئی۔ اور ظفر اللہ بھری دنیا میں اکیلے بے یار و مددگار رہ گئے۔ ان کی بیٹی بھی اپنی ماں کا ساتھ دیتی تھی۔ اس لیے چودھری صاحب پر بیٹی کا گھر بھی بند تھا۔ مرزا محمود جو ان کا پیر اور یار تھا‘ کئی سال سے مفلوج پڑا تھا۔ دو بھائی تکلیف دہ اموات سے مر چکے تھے اور چھوٹا بھائی اسد اللہ خان بھی فالج سے معذور تھا۔ کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ کہنے کو ان دنوں ہالینڈ میں ہیگ کی انٹر نیشنل کورٹ میں جج تھے۔ بظاہر بڑی شان تھی لیکن اندرونی حالت یہ رہی کہ قریباً پندرہ سال ہالینڈ میں قادیانی مشن کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے رہے اور اس کے بعد ۱۹۷۳ء سے ۱۹۸۳ء تک انگلینڈ کے قادیانی مشن کے ساتھ ایک کوٹھڑی میں گزارے۔ کوئی عزیز پرسان حال نہ تھا۔ قادیانی مشنریوں کی بیویوں اور لڑکیوں سے دل بہلاتے رہتے۔ اکثر جب وہ ہوائی جہاز سے اترتے تو ان کے ساتھ کوئی نہ کوئی نو عمر لڑکا ہوتا۔ نو عمر لڑکوں سے ان کی دلچسپی مشہور عام تھی۔

ہم نے اوپر جو کچھ لکھا‘ وہ بلا ثبوت نہیں بلکہ اکثر باتیں قادیانیوں کی اپنی کتابوں‘ رسالوں‘ اخباروں میں ہی درج ہیں۔ مثال کے طور پر قادیانی ماہنامہ ”خالد“ کے ظفر اللہ خاں نمبر میں مرزا محمود کی سب سے چھوٹی بیوی ”مہر آپا“ چودھری ظفر اللہ سے اپنے تعلقات کا اظہار یوں کرتی ہیں:

”اپنی کوٹھی تعمیر ہونے سے قبل جب کبھی آپ حضرت فضل عمر (مراد مرزا محمود) سے ملاقات کے لیے آتے اور مرکز سلسلہ میں قیام فرماتے تو اپنے جس گھر میں حضور (مرزا محمود) کی باری ہوتی (مرزا محمود کی کئی بیویاں تھیں۔ ہر بیوی کے گھر باری باری جاتے) آپ بھی اسی گھر کے مہمان شمار ہوتے۔ جب کبھی مجھے آپ کی میزبانی کا موقعہ ملتا تو میں آپ کی بیماری کے پیش نظر مناسب غذا تیار کرواتی۔ ایک دفعہ آپ نے حضور سے کہا کہ مہر آپا میرے کھانے کا بہت تکلف سے اہتمام کرتی ہیں..... حضرت فضل عمر (مرزا محمود) کے سفر یورپ میں آپ تمام وقت حضور کے ساتھ ساتھ رہے۔ حضور کا تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتے۔ آپ کا سامان خود اٹھاتے رہے کیونکہ وہاں ہمارے ہاں کی طرح سامان اٹھانے کے لیے قلی وغیرہ عام نہیں ہوتے....... دوران سفر وینس اٹلی پہنچے تو وہاں نہ کوئی قلی تھا نہ مزدور۔ حضرت چودھری صاحب نے تمام سامان اپنے کندھوں پر اٹھا اٹھا کر کار سے

صفحہ 32

گنڈوے تک پہنچایا اور مسکراتے ہوئے فرمایا دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ اس قدر سامان نہ لے جائیں۔ خیر بیبیوں کو پتہ تھا ظفر اللہ ساتھ ہے۔ خود ہی سامان اٹھاتا پھرے گا۔ وہ (چودھری ظفر اللہ) تو اپنے حبیب حضرت فضل عمر (مرزا محمود) کے عشق و محبت میں اپنی ذات سے بے نیاز ہو کر سب کام کر رہے تھے"۔

اس طرح کے واقعات رائل فیملی (خاندان مرزا) کے لوگ بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں۔ جن سے بڑے بڑے قادیانیوں کی غلامانہ خدمات کا اظہار ہوتا ہے۔ مقصد یہ کہ عام قادیانی جب یہ پڑھے گا کہ ظفر اللہ جیسا پائے کا قادیانی بزرگ ”رائل فیملی“ کا اتنا غلام اور گر کر خدمت کرتا ہے تو وہ بھی ہر طرح غلامی اور خدمت میں ترقی کرے گا۔ نہ صرف خود بلکہ اپنی بیویوں اور بیٹیوں سے بھی ”رائل فیملی“ کی خدمت کروائے گا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قادیانی اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو رائل فیملی کے افراد سے پردہ نہیں کرواتے اور ان کو مجبور کرتے ہیں کہ رائل فیملی کی ہر طرح تن من دھن سے سیوا کریں۔ ان کی اطاعت ایسے کریں جیسے کوئی چیز بے حس و حرکت ہو اور اس سے کچھ بھی کر گزرا جائے وہ چوں نہ کرے۔ چنانچہ اسی ماہنامہ ”خالد“ کے ص ۱۲۹ پر ایک قادیانی مسمی عبدالمالک چودھری ظفر اللہ کی قادیانی خلیفہ مرزا ناصر سے ملاقات کا حال یوں بیان کرتے ہیں ”ملاقات کے دوران میں نے دیکھا کہ آپ حضور (مرزا ناصر) کے سامنے اس طرح سے کھڑے ہیں گویا کوئی چیز بے حس و حرکت ہے۔ اس روز خاکسار نے اندازہ لگایا کہ ہم میں اطاعت کی وہ روح تاحال موجود نہیں جو امام کی قدرومنزلت کے لحاظ سے ضروری ہے۔

قارئین اندازہ لگائیں کہ ایک طرف تو قادیانی اپنے مذہب کو اصل اسلام کہتے ہیں اور اہل اسلام کو گمراہ اور کافر قرار دیتے ہیں اور اپنے تئیں اسلام کے اندر سے برائیاں دور کر کے صحیح اسلام پر کار بند قرار دیتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں منہ ڈال کر تو دیکھیں کہ یہ کہاں کا اصلی اسلام ہے کہ اپنے آپ اور اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں غرضیکہ ہر چیز کو گدی نشینوں کے اس طرح قدموں میں ڈال دو کہ مکمل اطاعت ہو جس سے وہ جو چاہیں، کر گزریں۔ جائز ناجائز اور حلال و حرام کا فرق ہی نہ رہے۔ انسان کو خدائے لم یزل بنالینا، قادیانی مذہب کا شیوہ تو ہو سکتا ہے، اسلام کا ہر گز نہیں۔ جن قادیانیوں کی بیویاں رائل فیملی کی خدمت سے انکار کر دیتی ہیں، ان کا حال وہی ہوتا ہے جو ظفر اللہ کی بیویوں کا ہوا کہ خاوند

صفحہ 33

نے اپنا ایمان کامل مرزا پر ثابت کرنے کے لیے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا۔ قادیانی نبی اور ان کے خود ساختہ خلفا ہی نہیں' دیگر بعض نام نہاد دنیا پرست اور گدی نشینوں کو بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی دولت مند ان کے چکر میں پھنس جائے یا کار آمد شخص مریدی کے جال میں آ جائے تو کوشش کر کے اس کو گھر بار سے متنفر کر کے اپنے ڈیرے کے لیے وقف کر لیتے ہیں تاکہ اس کی صلاحیتوں اور دولت سے اپنی ذات کے لیے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ یہی قادیانی "خلیفہ" مرزا محمود نے ظفر اللہ کے ساتھ کیا کہ اسے گھر بار سے متنفر کر کے اپنی ذات کے لیے اس سے نوکر چاکر کی طرح کام لیا اور ذاتی فائدے کے لیے اپنی فیملی کی مستورات تک کو اس کے سپرد کر دیا اور ظفر اللہ کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ حاصل کیا اور اس سے قادیانی مذہب کے لیے عالمی مبلغ کا کام لیا اور دنیا میں کئی جگہ ظفر اللہ کے ذاتی خرچ سے مشن ہاؤس تعمیر کروائے۔ اس سے ساری دولت وصیت نامے کے ذریعے قادیانی مشن (یعنی مرزا قادیانی کی آل اولاد جس کی وارث ہے) کے نام لکھوالی۔

"مہر آپا' جو مرزا محمود کی ساتویں بیوی تھیں' مرزا محمود کی عمر ۶۰ سال کے قریب تھی اور مہر آپا قریباً ۱۹ برس کی تھی۔ جب یہ شادی ہوئی' سر ظفر اللہ اپنی سروس کے دوران زیادہ تر یورپ میں ہی رہے۔ اپنی بیویوں ' بیٹی ' گھر بار کی تو کبھی خبر نہ لی لیکن مرزا محمود اور ان کی فیملی کو خوب سیر و سیاحت کراتے۔ "مہر آپا" میں خصوصی دلچسپی لیتے تھے۔ محترمہ اپنے مضمون میں آگے چل کر تحریر کرتی ہیں:

"اس احساس کے تحت کہ میں گوشت کی کوئی چیز نہیں کھا رہی' چودھری صاحب نے حضور سے کہا (حضور سے مراد مرزا محمود ہے) حضور! میں حسب سابق شرع کی پابندی ملحوظ رکھتے ہوئے مہر آپا کے لیے ایک خاص ڈش کا انتظام کرتا ہوں۔ ان کو وہ ضرور پسند آجائے گی۔ یہ کہہ کر آپ نے اس ڈش کا آرڈر دیا۔ جب وہ ڈش تیار ہو گئی تو چودھری صاحب نے حضور سے کہا کہ یہ خاص طور پر مہر آپا کے لیے بنوائی گئی ہے۔ ان سے کہیں اب تو کھا لیں۔ ڈش دیکھنے میں خوش نما تھی مگر میرا دل کسی طور راضی نہ ہوا اور میں نے ڈش چپکے سے چھپادی.......

........ اسی طرح آسٹریا میں ایک دفعہ کھانے کا وقت ہوا تو ہم ہوٹل میں آگئے۔ چودھری صاحب نے میرے لیے بھی انڈوں کا سوپ منگوایا۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ مجھے یہ اچھا

صفحہ 34

نہیں لگتا۔ جب چودھری صاحب کو پتہ چلا کہ میں وہ نہیں پی رہی تو آپ نے ”زہری خورم“ کہتے ہوئے پی لیا۔

ایک بار وینس میں چودھری صاحب نے ہم مستورات کے لیے کھلے سمندر کی سیر کا انتظام کیا...... صاحبزادی امت الجمیل‘ صاحبزادی امت المتین‘ (مرزا محمود کی صاحبزادیاں جو کہ دوسری بیویوں سے ہیں) اور میں سیر کے لیے گئے۔ سیر کے دوران چودھری صاحب بہت سے اہم تاریخی مقامات دکھاتے چلے گئے اور ساتھ ساتھ ان کا تاریخی پس منظر بھی بتاتے رہے۔ طوالت کے خوف سے صرف مختصر اقتباسات ہی درج کیے ہیں۔ قادیانیوں کے اپنے لٹریچر سے ثابت ہے کہ چودھری صاحب اپنے پیر اور ان کے کنبہ میں اس قدر مست تھے کہ انہیں اپنے گھر بار تک کا ہوش نہ تھا۔ اپنی ۹۳ سالہ عمر میں ۹۰ سال تک انہوں نے گھر کا رخ نہ کیا۔ تا آنکہ صحت نے بالکل جواب دے دیا اور موت سر پر منڈلاتی نظر آنے لگی تو ۱۹۸۳ء میں بیٹی کے پاس لاہور آگئے۔ اسی بیٹی کے گھر ان کی سابقہ بیوی بھی رہتی تھی۔ ساری عمر بیٹی کے گھر نہ ٹھہرتے تھے کہ ماں کو وہاں سے نکالو۔ مگر بیٹی اس کے لیے تیار نہ ہوئی۔ آخر مرن کنارے ذلیل ہو کر اسی بیٹی اور سابقہ بیوی کے سامنے اسی کے گھر رہ کر چل بسے۔

مرزا محمود نے بھی ظفر اللہ کو خوب پھانسے رکھا۔ ایک دفعہ مرزا محمود نے لندن میں میموں کا ڈانس دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو چودھری صاحب انہیں ایسی جگہ لے گئے جہاں میموں کا عریاں ڈانس ہو رہا تھا۔ اس اجمال کی تفصیل معہ حوالہ جات کے ”ختم نبوت انٹرنیشنل“ کے ایک گزشتہ شمارے میں تحریر ہو چکی ہے۔

بعض اور مشہور نامور مسلمان ہستیاں مثلاً مولانا محمد حسین بٹالوی‘ علامہ اقبال‘ سر فضل حسین‘ شیخ تیمور وائس چانسلر خیبر یونیورسٹی‘ ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی‘ میر عباس علی لدھیانوی‘ مولانا لال حسین اختر‘ زیڈ اے سلیری وغیرہ بھی شروع میں قادیانی تحریک سے متاثر ہوئے لیکن اپنی خداداد ذہانت اور بصیرت کے باعث وہ جلد ہی قادیانیت کے جال سے نکل گئے۔ اہل اسلام کو اور خاص کر ہندوستان کے نامور مسلمان لیڈروں کو سر ظفر اللہ سے بھی امید تھی کہ وہ جلد یا بدیر دوبارہ اہل اسلام میں واپس شامل ہو جائیں گے مگر جیسا کہ اوپر کے حالات سے معلوم ہوتا ہے‘ مرزا محمود نے ان کے ارد گرد ایسا تانا بانا بن دیا تھا کہ وہ اس

صفحہ 35

میں سے نکل نہ سکے۔ مرزا محمود کو بھی دھڑکا تھا کہ سر ظفر اللہ ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ اس لیے وہ چودھری صاحب پر ہر طرح کی نوازشات کرتے تھے۔ مثلاً یہ کہ بڑے بڑے پاکستان کے شہر مثلاً لاہور اور کراچی کی امارت ہمیشہ کے لیے چودھری صاحب کے خاندان کے نام کر دی۔ یعنی لاہور اور کراچی کی قادیانی جماعتوں کا سربراہ (جسے امیر جماعت کہا جاتا ہے) ہمیشہ چودھری ظفر اللہ کے خاندان سے ہو۔ چنانچہ لاہور کا پہلا امیر جماعت چودھری ظفر اللہ کا چھوٹا بھائی چودھری اسد اللہ رہا۔ جب وہ مفلوج ہو گیا تب سے چودھری ظفر اللہ کا بھتیجا اور داماد حمید نصر اللہ لاہور کی قادیانی جماعت کا امیر ہے۔ اسی طرح کراچی کی جماعت کا امیر سر ظفر اللہ کا بھائی چودھری عبد اللہ خان ساری عمر رہا۔ جب وہ بلڈ کینسر کی بیماری میں مبتلا ہو کر ١٩٥٩ء میں مر گیا تو ان دنوں شیخ رحمت اللہ نائب امیر تھا۔ وہ چودھری عبداللہ کی موت کی وجہ سے امیر جماعت ہو گیا۔ اس پر چودھری خاندان نے احتجاج کیا۔ چنانچہ فوری طور پر ربوہ سے مرزا محمود نے ایک وفد' مولوی اللہ دتہ جالندھری' مولوی جلال الدین شمس اور مولوی غلام احمد فرخ (جو چوٹی کے قادیانی مربی تھے) پر مشتمل' کراچی بھیجا جس نے سمجھا بجھا کر نیز کچھ لوگوں سے الزامات لگوا کر شیخ رحمت اللہ کو امارت سے علیحدہ کیا اور اس کی جگہ چودھری ظفر اللہ کے قریبی عزیز چودھری احمد مختار کو امیر جماعت کراچی نامزد کر دیا۔ جو تب سے امیر چلا آ رہا ہے۔ یہاں یہ امر بھی خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ قادیانی قوانین کے مطابق کوئی امیر جماعت تین سال سے زائد نہیں رہ سکتا۔ تین سال بعد انتخابات کر کے دوسرا امیر بنانا ہوتا ہے لیکن چودھری احمد مختار ٢٦ سال سے امیر جماعت چلا آ رہا ہے۔

اسی طرح لاہور کا امیر جماعت چودھری ظفر اللہ کا بھتیجا ہے جو سالہا سال سے امیر جماعت چلا آ رہا ہے۔ اگر کسی جماعت کا امیر قادیانی خلیفہ کی مرضی کا نہ منتخب ہو تو وہ اس کا انتخاب کالعدم قرار دے کر اپنا کوئی پٹھو نامزد کر دیتا ہے۔ ان خاندانی مراعات کے علاوہ ظفر اللہ خاں کو پوری دنیا میں قادیانی سرکاری ترجمان کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ جس ملک میں بھی جاتے' قادیانی مشن کا پورا عملہ ان کے استقبال اور خدمت کو حاضر رہتا۔ وہ مشن ہاؤس میں رہتے اور وہاں کے مشنری اور ان کے بیوی بچوں کا فریضہ ہوتا کہ وہ ان کی ہر خدمت کریں۔ چنانچہ ہیگ میں عالمی عدالت کے جج کے دوران وہ ہیگ کے قادیانی مشن ہاؤس میں پندرہ سال ١٩٥٨ء سے ١٩٧٣ء تک قیام پذیر رہے۔ اس کے بعد لندن کے

صفحہ 36

قادیانی مشن ہاؤس میں فروری ۱۹۷۳ء سے ۱۹۸۳ء تک قیام پذیر رہے۔ قادیانی مشنری بھی اپنے خلیفے کی خوشنودی کے لیے اپنی فیملی کو چودھری صاحب کی سیوا کے لیے وقف کر دیتے۔ چنانچہ ہالینڈ کے قادیانی مشنری اپنے نو عمر بیٹے سے سر ظفر اللہ کے لگاؤ اور بے تکلفی کا اظہار فخریہ یوں کرتے ہیں ”ایک دفعہ میرا بیٹا عزیزم عزیز اللہ جب ہالینڈ آیا تو حضرت چودھری صاحب اسے مشن ہاؤس میں اپنا کمرہ دکھانے لگے ....... میرے لیے یہ امر خوشی کا باعث ہے کہ حضرت چودھری صاحب کا سلوک میرے لڑکے عزیزم عزیز اللہ کے ساتھ بھی بڑا مشفقانہ تھا۔ آپ بعض دفعہ بڑی بے تکلفی سے اس کے ساتھ گفتگو فرماتے۔

لندن کے قادیانی مشن کے مشنری کی بیگم صاحبہ تحریر فرماتی ہیں:

اس عاجزہ کو متواتر دس سال حضرت چودھری صاحب کی خدمت کی توفیق عطا ہوئی۔ یوں تو ۱۹۵۹ء سے ہی حضرت چودھری صاحب سے اس تعلق کا آغاز ہوا۔ آپ ان دنوں جب بھی لندن تشریف لاتے‘ ہمارے ہاں تشریف لاتے اور ایک وقت کا کھانا ضرور ہمارے ساتھ تناول فرماتے۔ لیکن ۱۹۷۳ء میں جب ہیگ سے مستقلاً نقل مکانی کر کے لندن تشریف لائے تو لندن مشن کے ایک فلیٹ میں‘ جو ہمارے فلیٹ سے ملحق تھا‘ رہائش پذیر ہوئے۔

جب میری بچی امت الجمیل کی شادی ہوئی تو آپ روزانہ ہی شادی کے انتظامات کے بارے میں دریافت فرماتے۔ شادی سے چند روز قبل فرمایا ...... میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اسے کوئی اچھا سا تحفہ پیش کروں کیونکہ اس نے میری بڑی خدمت کی ہے۔ میری دوسری بیٹی امت النصیر کی شادی پاکستان آکر ہوئی۔ رخصتانہ سے قبل آپ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ امت النصیر سے الگ ملنا چاہتے ہیں۔ اس کا انتظام کر دیا گیا۔ آپ اندر تشریف لے گئے ....... الخ

ہمارے پاکستان آنے کے بعد حضرت چودھری صاحب جب بھی ربوہ تشریف لاتے ہمارے گھر ضرور قدم رنجہ فرماتے۔ میرے خاوند نے کئی بار اصرار بھی کیا کہ آپ کو ہمارے ہاں آنے سے زحمت اٹھانی پڑتی ہو گی۔ اس لیے آپ جب ربوہ تشریف لائیں تو ہمیں اطلاع فرمادیں ہم حاضر ہو جائیں گے لیکن نہ مانتے"۔ (ایضاً‘ ص ۱۶۴-۱۶۳) طوالت سے بچنے کے لیے مختصر اقتباسات دیے گئے ہیں۔

صفحہ 37

سو قارئین حضرات ! یہ وہ حالات تھے جن میں مست ہو کر ظفر اللہ صاحب ساری عمر اپنا گھر بار ، بیوی بچے تج کر قادیانیت اور رائل مرزا فیملی کے بندہ بے دام بنے رہے۔ کاش کہ وہ اپنی ساری صلاحیتیں اور دولتیں اور عقیدتیں اس چھوٹے سے قادیانی سازشی گروہ پر نچھاور کرنے کی بجائے آنحضرت ﷺ کی عقیدت و محبت اور پوری دنیائے اسلام اور امت محمدیہ کے لیے وقف کر دیتے۔ اس طرح وہ دین و دنیا اور آخرت سب میں سرخرو ہو جاتے۔ مگر انہوں نے سمندر کی وہیل بننے کے بجائے کنوئیں کا مینڈک بننے کو ترجیح دی۔ اور ہمہ صلاحیت و عقل و دانش گھریلو زندگی میں بھی نامرادی میسر آئی اور جس تحریک کے لیے تن من دھن حتی کہ اپنا مذہب دین اسلام چھوڑ بیٹھے تھے، اس کا بھی مرنے سے پہلے حسرت ناک انجام دیکھ لیا اور موت ایسے عبرت ناک حالات میں ہوئی کہ غیر مسلم قرار پا چکے تھے اور ان کا پیر و مرشد فرار ہو کر اپنی ولی نعمت ملکہ کی آغوش میں لندن پناہ لے چکا تھا۔

چودھری ظفر اللہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ خسیس ہونے کی حد تک کنجوس تھے۔ ان کی خساست کے بہت سے دلچسپ واقعات ان کے نہایت قریبی عزیزوں اور دوستوں نے بیان کیے ہیں۔ جن میں سے نمونے کے طور پر چند ایک قارئین کی ضیافت طبع کے لیے پیش خدمت ہیں۔

گاہ کا احوال یوں بیان کرتی ہیں ”چوتھی منزل کے اوپر ایک بہت ہی چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اس میں ایک ٹوٹا پھوٹا سا پلنگ پڑا تھا اور دوسری عام ضروریات بھی اچھی طرح مہیا نہ تھیں۔ میں یہ حالت دیکھ کر سمجھی کہ غالباً یہاں چوکیدار رہتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ بھئی یہ کس کا کمرہ ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہاں پاکستان کے وزیر خارجہ رہتے ہیں۔۔۔۔۔ مجھے تو بہت برا لگا۔ میں نے کہا کہ یہ کیا ہے۔ ان کو اتنا الاؤنس ملتا ہے، اتنی تنخواہ ملتی ہے، ان کے سارے اخراجات گورنمنٹ ادا کرتی ہے اور یہ ایسی پھٹیچر جگہ پڑے ہوئے ہیں اور یہ بات ہماری بدنامی کا باعث ہے کہ ہمارا وزیر خارجہ اس طرح پڑا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ چونکہ میرے اور ان کے بہت بے تکلفی کے اور برسوں پرانے تعلقات تھے۔ چنانچہ پہلی فرصت میں ، میں نے ان سے بہت جھگڑا کیا۔ میں نے کہا ظفر اللہ صاحب آپ کو کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ آپ اس طرح پڑے ہوئے ہیں“۔

(قادیانی ماہنامہ ”خالد“ دسمبر ۱۹۸۵ء)

صفحہ 38

کنجوس ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ ہونے کے دوران ایک دوست آپ کے دفتر کے باتھ روم میں گئے اور دیکھا کہ ایک پرانے صابن کے ٹکڑے کے ساتھ نیا صابن جڑا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ حیران ہوئے اور اس کا ذکر مکرم چودھری صاحب سے کیا۔ آپ نے فرمایا یہ ٹھیک ہے۔ میں پرانا بچا ہوا صابن کبھی ضائع نہیں کرتا بلکہ اسے نئے صابن سے جوڑ کر استعمال کرتا ہوں"۔ (ایضاً ص ۱۲۳)

نے پوچھا آپ کے پاس رومال ہے‘ فرمایا ہاں ہے اور اپنا رومال دے دیا۔ اس نے سارے رومال سے اپنے دونوں ہاتھ پونچھ لیے۔ نہایت شفقت سے فرمایا آپ کو دراصل تولیہ کی ضرورت تھی۔ رومال تو ہنگامی ضرورت کے لیے ہے۔ پھر فرمانے لگے ”میں رومال کی مختلف تہیں کر کے ایک تہہ عموماً ایک ہفتہ استعمال کرتا ہوں اور پھر دوسری اور پھر تیسری اور اس طرح ایک دھویا ہوا رومال قریباً دو ماہ کفایت کرتا ہے۔ میرے پاس دو رومال ہیں اور جس دوست نے یہ رومال تحفتاً دیے تھے‘ ان کی وفات کو ۲۷ سال ہو چکے ہیں“۔ اسی طرح ایک دفعہ فرمایا ”میں اپنے رومال‘ بنیان‘ جراب اور قمیض وغیرہ ہالینڈ میں خود دھوتا ہوں“۔ (یہ ان کی ناکام اور پریشان کن ازدواجی اور گھریلو زندگی کے انتشار کا خمیازہ بھی تھا) جبکہ اس وقت ان کی ماہوار آمدن تقریباً ۶۰ ہزار روپے سے زائد تھی۔ (ایضاً، ص ۱۳۰)

تو پھر وہ کسی کام کی نہیں رہتی“۔ (ص ۱۶۹)

ڈھونڈنے لگے تو فرمایا ”تم رہنے دو میں خود ڈھونڈتا ہوں۔ تم ابھی کہہ دو گے کہ نہیں ملتا اور لا دیتا ہوں اور میرے پاس یہ بٹن ۴۵ سال سے ہے“۔ (ایضاً ص ۱۳۰)

جس میں دو زردیاں ہوتی ہیں۔ ایک زردی میں ایک دن کھاتا ہوں اور دوسری اگلے روز“۔ (ص ۱۵۳)

صفحہ 39

ایک دفعہ موسم سرما کے شروع میں لندن سے لاہور تشریف لانے والے تھے۔ مجھے محترمہ امت الحئی بیگم صاحبہ نے فرمایا کہ ابا تشریف لا رہے ہیں اور ان کا کوٹ بہت بوسیدہ ہو چکا ہے۔ اسے بھجوا رہی ہوں۔ اسے مرمت کروا دیں۔ کوٹ کا نہ صرف استر پھٹ چکا تھا بلکہ بیرونی کپڑے میں بھی جگہ جگہ سوراخ ہو چکے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ نئے کپڑے کے چند نمونے بھجوا رہا ہوں۔ آپ پسند کر لیں۔ میں ابا حضور کی آمد سے پہلے درزی سے نیا کوٹ سلوا دوں گا۔ بیگم صاحبہ نے فرمایا رشید ! یہ ناممکن ہے۔ ابا ہرگز نیا کوٹ نہیں پہنیں گے۔ بلکہ ہم پر شدید ناراض ہوں گے اور ایسا ہی واقعہ آپ کے ایک جوتے کی مرمت کا بھی ہے“۔ (ص ۱۴۸)

دفعہ ان کی بڑی بیٹی عزیزہ صادقہ کو اپنی ایک قمیص بھجوائی کہ اس کا کالر پھٹ چکا ہے‘ اسے الٹ دیں۔ جب کئی دن گزر گئے اور قمیص درست ہو کر نہ آئی تو حضرت چودھری صاحب نے فرمایا کہ قمیص ابھی تک درست ہو کر واپس کیوں نہیں آئی۔ اس پر عزیزہ نے جواب دیا کہ اس قمیص کا کالر تو پہلے ہی الٹایا جا چکا ہے۔ اب اسے مزید الٹانے کی گنجائش نہیں“۔

(ص ۷۲)

میں چودھری صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔ کوئی چیز چودھری صاحب سے گر گئی۔ میں نے میز پر موجود وہی چیز آگے کر دی۔ مگر اسی اثناء میں انہوں نے گری ہوئی شے اٹھالی۔ میں نے عرض کیا یہ رہنے دیں۔ یہاں سے اور لے لیں۔ فرمایا کہ یاد نہیں؟ بچپن میں اگر کوئی چیز گر جاتی تھی تو مائیں کہا کرتی تھیں اٹھا کر پھونک مار کر کھا لو“۔ (ص ۷۳)

دودھ پھٹ گیا ہے۔ چودھری صاحب نے فرمایا کہاں ہے لے آؤ۔ جواب ملا پھینک دیا ہے۔ چودھری صاحب نے فرمایا ..... پھٹے ہوئے دودھ اور دہی میں کیا فرق ہے۔ مگر انسان ایک کو ضائع کر دیتا ہے۔ دوسرے کو شوق سے کھاتا ہے۔ پھر ایک واقعہ سنایا کہ میں چند دن کے لیے لندن سے باہر گیا ہوا تھا۔ اس دوران میرے میزبان ڈاکٹر آسکر برونڈر کو باہر جانا پڑا۔ وہ جانے سے پہلے گھر میں موجود اشیائے خوردنی کی ایک فہرست میز پر رکھ گئے۔ میں

صفحہ 40

واپس آیا تو دیکھا کہ دہی پر الی لگی ہوئی ہے۔ میں نے وہ ہٹا کر دہی کھالی۔ جو دوست چائے پلا رہے تھے' انہوں نے بڑی حیرت سے کہا چودھری صاحب آپ نے الی (پھپھوندی) لگا ہوا دہی کھا لیا۔ محترم چودھری صاحب نے بڑے پیار سے جواب دیا ”ہاں کھا لیا۔ (ص ۷۳)

سر ظفر اللہ نے لاکھوں کروڑوں کمائے مگر خود اچھا کھانا اور اچھا پہننا تک نصیب نہ ہوا۔ اور یہ دولت کبھی کسی غریب قادیانی کی مصیبت دور کرنے کے کام نہ آئی بلکہ ساری دولت جائیداد مرزا کے خاندان (رائل فیملی) کے لیے وقف ہو گئی۔ نیز اپنی آل اولاد پسماندگان کے نام بھی کچھ نہ کیا۔

اللہ تعالیٰ نے سر ظفر اللہ کو علم و عقل و دانش اور اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا۔ ان کو طویل مہلت قریباً ایک صدی کی دی۔ (۹۳ سال) کہ وہ قادیانی تحریک کا اندر اور باہر اچھی طرح چھان پھٹک کر پرکھ لیں اور تائب ہو کر دین اسلام کی طرف پلٹ آئیں۔ مگر انہوں نے ہمہ صلاحیت و دانش اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا اور طرح طرح کے عذاب جو مختلف ناکامیوں' نامرادیوں' عزیزوں کی بیماریوں اور قادیانیت کے زبردست زوال اور دیگر مصائب جھیل کر بالآخر ایک حسرت ناک اور المناک موت مرے۔ اس عذاب کی ایک جھلک درج ذیل ہے:

گناہ کی بد دعائیں لیں۔

ناک میں دم کر دیا کہ بیوی کے پاس رہنا مشکل ہو گیا۔ اس بیوی نے بے وفائی کر کے ایک دوسرے شخص شاہنواز سے شادی رچالی۔

نے ہر طرح کا لاسہ ڈال کر ساری دولت اور جائیداد بٹور لی اور زندگی بھر اس دولت اور صلاحیت کو جس طرح چاہا' استعمال کیا۔ غلام اور ذلیل بنا کے رکھا۔ قلیوں تک کا کام لیا۔

صفحہ 41

پسماندگان کو کچھ نصیب نہ ہوا۔ یعنی ایک دیمک زدہ بے ثمر درخت اہل خانہ اور پسماندگان کے لیے ثابت ہوا۔

کر مرا۔

لے کر یورپ میں جگہ جگہ علاج کے لیے مارا مارا پھرتا رہا مگر معمولی افاقہ ہونے کے بعد فالج کا حملہ ہوا اور نو سال تک مفلوج ہو کے پٹے پر پڑا رہنے کے بعد عبرتناک موت مرا۔ (یاد رہے مرزا غلام احمد نے فالج کو جھوٹوں اور لعنتیوں کی بیماری لکھا ہے)

نے نہ پوچھا اور مرزا محمود وصیت کر گیا کہ آئندہ خلیفہ صرف اس کی اپنی اولاد میں سے ہوگا۔

کی مرگ کے قریبی دنوں میں مرا۔

سے جگ ہنسائی کروائی۔ قادیانی پیشواؤں کی دعائیں بیٹے کے لیے قبول نہ ہوسکیں۔

علمائے اسلام کی طرف سے کفر کے فتوے، بالآخر اقلیت قرار پائے۔ مرنے کے وقت صورت حال یہ تھی کہ پوری دنیائے اسلام کا اجماع ہو چکا تھا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ کلمہ، نماز، مساجد اور شعائر اسلام کا استعمال ممنوع ہو چکا تھا۔ پیر و مرشد مرزا طاہر مفرور ہو چکا تھا۔ بعض قادیانی پھانسی کی سزا پا چکے تھے۔

قادیانی سے ہوئی تھی مگر شادی کے بعد ہی ان بن رہنے لگی اور باوجود سر ظفراللہ کی ہر طرح کوشش کے بیٹی کو طلاق ہو گئی۔ جس کا ظفراللہ کو زبردست صدمہ ہوا۔ بعد میں اس کی

صفحہ 42

شادی ظفر اللہ نے اپنے بھتیجے سے کروائی۔

میں علیحدگی حاصل کر کے شاہنواز قادیانی سے شادی کر لی تھی۔ مگر یہ شادی چند سال تک ہی نبھی اور اس عورت نے شاہنواز سے بھی طلاق حاصل کر لی اور اپنی بیٹی امت الحئی (جو ظفر اللہ سے تھی) کے ساتھ رہنے لگ گئی۔ سر ظفر اللہ اپنی بیٹی اور سابقہ بیوی کے گھر جانا اپنی توہین سمجھتے تھے۔ اس لیے پاکستان آتے تو ربوہ میں مرزا فیملی کے مہمان بنتے اور مرزا محمود اور ان کے گدی نشینوں کے ہاں ہی رہائش رکھتے۔ لیکن نومبر ۸۳ء میں لندن میں صحت بہت خراب رہنے لگی اور آخری وقت نظر آنے لگا تو مجبوراً اپنی بیٹی اور سابقہ بیوی کے پاس وطن واپس آنے کا ارادہ کیا۔ لندن میں اپنے دوستوں سے اپنا عندیہ ظاہر کیا۔ دوست بھی حیران ہوئے کیونکہ سب سمجھتے تھے کہ ظفر اللہ کا گھر اور ٹھکانہ تو لندن ہی ہے۔ اس لیے احباب نے کہا اب آخر وقت میں جا کر کیا کرو گے۔ یہیں رہ جاؤ۔ بقول شاعر۔

عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں غالب
آخری عمر میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

چنانچہ جب ایک خاص محب منصور بی ٹی نے پوچھا کہ چودھری صاحب یہ کیا سن رہا ہوں تو سر ظفر اللہ نے جواب دیا "I Do Not Like To Go In A Box Mansoor" میں تابوت میں بند ہو کر واپس جانا نہیں چاہتا۔ صحت اس قدر خراب ہو چکی تھی کہ Wheel Chair پہیوں والی کرسی سے جہاز میں لے جایا گیا اور لندن سے لاہور پہنچ کر اپنی سابقہ بیوی اور بیٹی کے ہاں قیام پذیر ہوئے اور اپنی ساری عمر کی بے رخی پر بہت روئے دھوئے۔ اپنی بیٹی اور اس کے بچوں سے التجا کی کہ اب ہر وقت اور کھانے کی میز پر سب ان کے ساتھ اکٹھے کھانا کھایا کریں اور اپنی سابقہ بیوی کی طرف دیکھ کر فرمایا "اگر آپ بھی اس پروگرام میں شامل ہو جائیں تو یہ مجھ پر عنایت ہو گی"۔ (ص ۴۷ ظفر اللہ نمبر) لیکن سابقہ بیوی نے ان کے کسی پروگرام میں شرکت نہ کی۔ بلکہ ان سے کلام تک نہ کیا اور یہ حسرت دل میں ہی رہ گئی۔ لندن سے نومبر ۸۳ میں سخت جان کنی کی حالت میں لاہور آئے کہ بچوں کے سامنے آرام سے جان دیں گے مگر جان بھی آسانی سے نہ نکلی۔ دو سال سخت

صفحہ 43

تکلیف میں مبتلا رہے۔ آخری دو ماہ تقریباً مسلسل بے ہوشی کی حالت میں گزارے اور کبھی ہوش میں آتے تو سخت اضطراب اور گھبراہٹ میں ہوتے۔ ایک دم چلاتے اور کبھی شدید غصے میں برسنے لگ جاتے۔ کبھی شدت بیماری سے طبیعت بے چین ہو جاتی اور راتوں کو نیند نہ آتی۔

آخری دنوں کی کیفیت ان کی بیٹی امت الحئی یوں بیان کرتی ہیں ”ایک مہینہ اور ۱۰ دن کی اس آخری بیماری میں پہلے پانچ دن تو آپ مکمل بے ہوش رہے۔ یہ محض خدا تعالیٰ نے آسمان سے صبر اتارا تھا ورنہ ان کی گرتی ہوئی صحت بلکہ ٹمٹماتی ہوئی زندگی نے ان کے کمرے کا جو ماحول بنا رکھا تھا‘ اس کو برداشت کرنا میرے لیے ناممکن ہو رہا تھا۔ (گویا بیٹی بھی اس انتظار میں تھی کہ باپ مرے تو سکھ کا سانس لیں)...... وصال سے کوئی سات آٹھ گھنٹے قبل ہر روز انہیں کئی کئی دفعہ مکمل ہوش آجاتا تھا...... آنکھوں سے آنسوؤں کی مسلسل بارش جاری ہوتی تھی...... مرض الموت کے آخری ہفتہ میں آپ بہت سنجیدہ ہو گئے اور چہرے پر ایسا اثر رہنے لگ گیا کہ بیہوش بھی ہوتے تھے تو کچھ کہنے سے پہلے یا کوئی دوا دینے سے پہلے ہم لوگوں کو گھبراہٹ ہوتی تھی کہ کہیں ہوش آگیا تو طبیعت پر ناگوار نہ گزرے (یعنی ایسی دہشت ناک حالت تھی کہ لواحقین بے ہوشی میں بھی قریب پھٹکنے ڈرتے تھے) اس عرصہ میں جب بھی ہوش میں آتے تو صرف حضور (مرزا طاہر) کے بارے میں پوچھا کرتے۔ (پیر و مرشد کی در بدری جانکنی میں کتنی تکلیف دیتی ہو گی العیاذ باللہ) میری طرف دیکھتے رہتے۔ میں انہیں بوسہ دیتی مگر وہ کچھ نہ کہتے۔ عائشہ کی عادت بھی میری طرح تھی۔ ایک دن میں نے عرض کی کہ میں ترس گئی ہوں خدا کے لیے کچھ تو کہئے تو فرمایا "Darling The Century Is Over" (ص ۴۶‘ ظفر اللہ نمبر) اسی عبرتناک اور وحشت انگیز کیفیت میں یکم ستمبر ۱۹۸۵ء کو پرلوک سدھار گئے۔

مجموعی طور پر ظفر اللہ خاں کی زندگی پر اجمالی نظر ڈالئے تو وہ ناکامی‘ نحوست اور حرمان نصیبی کی تصویر ہے۔ وہ اپنے والد اور بیوی بچوں یعنی اہل خانہ کے لیے منحوس وجود ثابت ہوئے بلکہ وہ اپنی ذات کے لیے بھی منحوس ثابت ہوئے کہ اتنی کثیر مال و دولت میسر ہونے کے باوجود انہیں اچھا کھانا‘ پہننا نصیب نہ ہوا۔ پیوند لگے سوراخوں والے کپڑے اور جوتے‘ کھانے میں پھپھوندی وغیرہ کھاتے تھے۔ جیسا کہ اوپر ان کے عزیزوں نے بیان کیا

صفحہ 44

ہے ۔ ملک وملت کے لیے بھی وہ منحوس وجود ثابت ہوئے اور جس جگہ بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، وہاں ناکامی اور نامرادی ہاتھ آئی۔ مثلاً پنجاب کی تقسیم کے وقت مسلم لیگ نے اپنا کیس ریڈ کلف کمیشن کے سامنے ان سے پیش کرایا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جن علاقوں کی پوری امید تھی، وہ بھی ہاتھ سے نکل گئے اور پنجاب کے کئی مسلم اکثریت کے علاقے بھی ہاتھ سے نکل گئے، نتیجتاً کشمیر بھی پاکستان کے ہاتھ سے قریباً سارا ہی جاتا رہا۔ اسی طرح اقوام متحدہ (U.N.O) میں کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کے لیے حکومت پاکستان نے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہا، ظفر اللہ نے بھی لمبی تقریروں کے ریکارڈ توڑ دیے مگر انجام وہی ناکامی و نامرادی۔ بلکہ اس کے بعد کشمیر میں جنگ بندی ہو گئی اور کشمیر میں مقامی جنگ سے جو تھوڑے بہت علاقے آزاد ہو کر پاکستان کو مل رہے تھے، وہ بھی وہیں رک گئے اور اے قادیانیو ! تمہارے لیے بھی ظفر اللہ کا وجود منحوس ثابت ہوا۔ کیونکہ سر ظفر اللہ کی وجہ سے عامتہ المسلمین نے ان کو وزارت خارجہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور انہی کے قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھنے کے باعث مسلمانوں میں قادیانیوں سے شدید نفرت کا آغاز ہوا اور بالآخر ۱۹۵۳ء میں عظیم تحریک قادیانیت کے خلاف چلی۔ وہ اس اعتبار سے بھی منحوس وجود تھے کہ جس تحریک کے لیے انہوں نے اپنی ساری صلاحیتیں، مال و دولت، عزت سب کچھ وقف کر دیا تھا، مرنے سے پہلے اس کی اینٹ سے اینٹ بجتے دیکھ لی۔ غیر مسلم اقلیت قرار پانے اور مساجد، نماز اور شعائر اسلام پر پابندی کے علاوہ مرنے سے پہلے اپنے پیرو مرشد کا ملک سے چوروں کی طرح فرار ہونا دیکھنا پڑا۔ اس صدمے سے تو ان پر جانکنی کی کیفیت بن گئی جو ان کے ساتھ ان کی ساری نحوستوں کو بھی سمیٹ گئی۔ بالآخر قادیانی احباب سے بے لوث اور پر خلوص التجا انہی کے فائدے اور بہتری کے لیے ہے کہ وہ بصیرت سے کام لیں۔

آپ حضرات ظفر اللہ خاں کو اپنے مذہب کے بانی کا صحابی قرار دیتے ہیں اور پھر اپنے صحابی کو رسولِ کریمؐ کے صحابہؓ کے ہم پلہ یا ان سے برتر قرار دیتے ہیں۔ آپ نے مندرجہ بالا احوال پڑھے، آپ پر واضح ہے کہ یہ سب مشہور واقعات ظفر اللہ صاحب کے دوستوں، عزیزوں کے بیان کردہ ہی ہیں۔ آپ خود غیر جانبدارانہ اور خوفِ خدا سے کام لے کر سوچیں کہ کیا ایسا ناکام، نامراد، منحوس اور حرماں نصیب شخص صحابہؓ رسولؐ کے مرتبہ کا ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ آپ کو اپنے اس قسم کے فرسودہ عقائد سے فوراً توبہ کر کے دامان

صفحہ 45

محمدی میں واپس لوٹ آنا چاہیے اور اپنی عاقبت اور دنیا کو تباہی سے بچا لینا چاہیے۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے تم اے قادیاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۵‘ شمارہ ۱۹-۲۰-۲۱)

صفحہ 46

فرار کے وقت مرزا طاہر کے محافظ دستے کے ڈرائیور

اختر حسین رانا کا قبول اسلام

صدیق آباد میں ۲۷، ۲۸ اکتوبر کو آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں احقر بھی شریک ہوا‘ وہاں ایک نشست میں اعلان ہوا کہ : "اب آپ کے سامنے وہ نوجوان آتا ہے جو قادیانی پیشوا مرزا طاہر کے فرار کے وقت اس کے محافظ دستے کا ڈرائیور تھا۔"

چنانچہ وہ نوجوان آیا جس کا حاضرین سے تعارف کرایا گیا‘ بزرگوں نے اسے سینے سے لگایا اور اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا‘ اس نوجوان کا نام ہے "اختر حسین رانا"۔ جب اس کا نام اسٹیج پر لیا گیا تو میں نے مولانا محمد اکرم طوفانی مبلغ سرگودھا سے اس کے بارے میں معلومات حاصل کیں‘ کیونکہ اس نوجوان نے انہی کے ہاتھ پر اور انہی کی کوششوں سے اسلام قبول کیا تھا۔ مولانا طوفانی نے کہا کہ بجائے اس کے کہ میں اس کا تعارف کراؤں‘ خود اسی کو بلا لیتا ہوں۔ جو کچھ پوچھنا ہے‘ اسی سے پوچھ لیں۔ میں نے کہا‘ یہ تو اور بھی اچھا ہے کہ براہ راست اسی سے گفتگو ہو جائے گی‘ چنانچہ اسے بلایا گیا۔ ملاقات ہوئی تو اس نے کہا کہ میری بھی آپ سے ملاقات کی خواہش تھی۔ اچھا ہوا کہ یہ کانفرنس ملاقات کا ذریعہ بن گئی۔

ندیم : آپ کا سابقہ گاؤں اور ضلع کونسا ہے؟ اور یہ کہ کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟ رانا اختر : میرا تعلق ارلانہ تحصیل نیسنگ ضلع کرنال سے ہے اور میں آپ کو جانتا ہوں؟

صفحہ 47

ندیم : وہ کیسے؟

رانا اختر : آپ کا تعلق روڈہ ضلع خوشاب سے ہے؟

ندیم : کبھی تعلق زیادہ رہا ہے، اب بہت کم آنا جانا ہے، ویسے میں سب کو جانتا ہوں۔

رانا اختر : میرا وہاں رشتہ داری کا تعلق ہے۔

ندیم : آپ کسی کا نام بتائیں گے؟

رانا اختر : رانا محمد شفیع اور رانا نثار میرے انتہائی قریبی رشتہ دار ہیں۔

ندیم : تب تو آپ کافی قریب ہوئے۔ ----- لیکن یہ بتائیں کہ یہ قادیانیت کے جال میں کیسے پھنس گئے؟

رانا اختر : میں کراچی میں تھا تو وہاں ایک قادیانی لیڈر کے ہتھے چڑھ گیا۔ اس نے میرے ذہن کو خراب کیا، مختلف قسم کے لالچ بھی دیئے، بس میں ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

ندیم : اس کے بعد کیا ہوا؟ اور آپ کی ڈیوٹی کیا لگی؟

رانا اختر : اس کے بعد انہوں نے مجھے پنجاب بھیج دیا اور میں قادیانی جماعت کے صوبائی امیر مرزا عبدالحق کا ڈرائیور ہو گیا۔ قبول اسلام تک وہیں ڈرائیور رہا۔ یہ جو مرزا عبدالحق ہے، صوبائی امیر کے علاوہ قادیانی اسٹیٹ کی سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بھی ہے۔ تمام تنازعے، فیصلے کے لیے اسی کے پاس پہنچتے ہیں۔

ندیم : ابھی جلسہ میں اعلان کیا گیا تھا کہ آپ کو قادیانی جماعت کے پیشوا مرزا طاہر کے فرار کا علم ہے اور آپ اس محافظ دستے کے ڈرائیور تھے جو مرزا طاہر کی حفاظت پر مامور تھا کیا یہ صحیح ہے۔

رانا اختر : یہ صحیح ہے۔ مرزا طاہر رات کی تاریکی میں فرار ہوا تھا، اس کی کار کے پیچھے قادیانی کمانڈوز کی گاڑی تھی جو سب کے سب مسلح تھے۔ میں اس گاڑی کا ڈرائیور تھا۔ میری یہ ڈیوٹی صوبائی امیر مرزا عبدالحق نے لگائی تھی۔

ندیم : وہ کس راستے سے بھاگا---اور بھاگنے کی وجہ کیا تھی؟

رانا اختر : عام افواہ جو سننے میں آئی اور وہ لوگ جو آپس میں گفتگو کرتے تھے۔ ان سے

صفحہ 48

یہی بات واضح ہوتی ہے کہ مولانا محمد اسلم قریشی اغوا کیس کی وجہ سے مرزا طاہر کو گرفتاری کا خطرہ تھا۔ اس لیے اس نے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی۔

ندیم : تو کیا مولانا محمد اسلم قریشی کو انہوں نے اغوا کیا تھا؟ اور کیا اس بارے میں کچھ معلومات ہیں؟

رانا اختر : مولانا اسلم قریشی کے متعلق چودھری اعظم گھمن نے قادیانی جماعت کی صوبائی میٹنگ میں کہا تھا کہ ہمارے امام نے ہمارے ذمے جو کام لگایا وہ کر دیا۔ قدرتی بات ہے جب اعظم گھمن نے یہ مبہم سی بات کہی تو مجھے جستجو پیدا ہوئی کہ وہ کیا کام تھا، بعد میں تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ وہ مولانا اسلم قریشی کا اغوا اور ان کا قتل تھا۔ ثابت ہوا کہ مولانا محمد اسلم قریشی کا اغوا مرزا طاہر کی ہدایت پر ہوا اور اعظم گھمن اس کا اصل کردار ہے جو اب فرار ہو چکا ہے۔

ندیم : اچھا یہ بتائیے کہ مرزا طاہر کس رستے سے بھاگا؟

رانا اختر : مرزا طاہر ربوہ سے لالیاں اور وہاں سے نہر کے راستے جھنگ روڈ سے ہوتا ہوا ملتان پہنچا۔ ملتان میں اس نے ڈاکٹر شفیق امیر ضلع کے پاس ڈیڑھ گھنٹہ قیام کیا۔ سکھر کے قادیانی کمانڈوز مرزا طاہر کو لینے کے لیے ملتان پہنچے ہوئے تھے، وہ مرزا طاہر کو سکھر لے گئے۔ سکھر میں بھی پروگرام کے مطابق ڈیڑھ گھنٹہ قیام کیا۔ وہاں کراچی کے قادیانی کمانڈوز پہنچ گئے جو کراچی لے گئے۔ کراچی میں زرتشت منیر اور احمد مختار ایڈووکیٹ نے پہلے سے کاغذات مکمل کر رکھے تھے، کراچی پہنچتے ہی وہ لندن چلے گئے۔ پی آئی اے میں بہت سے قادیانی بھی موجود ہیں، ان کی وجہ سے یہ مرحلہ مکمل ہوا۔

ندیم : کیا قادیانیت میں کوئی خوبی دیکھی۔ آخر اسلام قبول کیا، اس کی وجہ کیا ہے؟ رانا اختر : خوبی نام کی تو کوئی چیز نہیں۔ دور کے ڈھول سہانے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ بہت اچھی جماعت اور بہت اچھا مذہب ہے۔ لیکن جتنی بداخلاقی، عیاشی، زنا کاری، اس جماعت خصوصاً ربوہ میں ہے، ایسی شاید ہی کہیں ہو۔ اسی صورت حال کی وجہ سے میں بددل تھا۔ پھر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد اکرم طوفانی سے ملا تو انہوں نے جو کچھ بتایا وہ بالکل صحیح اور درست

صفحہ 49

تھا‘ اس وجہ سے میں نے مولانا طوفانی صاحب کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر لیا۔ مجھے بہت سی داستانیں یاد ہیں‘ میں مرزا طاہر اور مرزا خاندان کی رنگینیوں اور عیاشیوں کو خوب جانتا ہوں‘ جنہیں تحریری صورت میں قوم کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ ہے۔

ندیم : رانا صاحب ! آپ سے ملاقات کی بہت خوشی ہوئی۔ خدا آپ کو استقامت عطا فرمائے۔ آمین‘ پس دیوار یا پس پردہ قادیان کی رائل فیملی جو کرتوت کرتی ہے‘ اسے ضرور منظر عام پر لائیں۔ ممکن ہے وہ حالات کسی غیرت مند اور شریف قادیانی کی ہدایت کا ذریعہ بن جائیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت‘ کراچی‘ جلد ۶‘ شمارہ ۲۱‘ نومبر ۱۹۸۷ء)

(از قلم : حافظ محمد حنیف ندیم)

صفحہ 50

امریکی قونصل جنرل ربوہ میں ۔۔۔۔ معاملہ کیا ہے؟

روزنامہ جسارت کراچی ، ۲۴ فروری ۱۹۸۸ء نے پی پی آئی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ :

"امریکی قونصل جنرل البرٹ تھیسالٹ نے گزشتہ روز ربوہ کا دورہ کیا اور سرائے محبت کے احمدیہ گیسٹ ہاؤس میں جماعت احمدیہ کے رہنماؤں سے ڈیڑھ گھنٹے تک ملاقات کی۔ ان رہنماؤں میں مرزا منصور احمد ناصر ، مرزا غلام احمد ، مقصود احمد خان ، چودھری حمید اللہ اور حمید نصر اللہ خان شامل ہیں۔ تاہم ملاقات کی تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں۔"

آج سے کچھ عرصہ پہلے حکومت نے غیر ملکی سفیروں اور نمائندوں پر پابندی عائد کی تھی کہ وہ حکومت سے پیشگی اجازت لیے بغیر کوئی دورہ نہ کریں اور نہ ہی کسی کی (موت وغیرہ میں شریک ہوں ، چنانچہ اس پابندی پر کچھ عرصہ تو عمل ہوتا رہا ، لیکن اب پھر غیر ملکی نمائندوں خصوصاً امریکیوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ انہی سرگرمیوں میں امریکہ کے قونصل جنرل کی ربوہ آمد اور وہاں ڈیڑھ گھنٹہ تک قادیانی رہنماؤں سے ملاقات بھی شامل ہے۔ اس ملاقات کے بارے میں ہمیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے ممتاز رہنما مولوی فقیر محمد صاحب نے کچھ تفصیلات بتائی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی قونصل جنرل ، قادیانی جماعت لاہور کے امیر کی دعوت پر ربوہ آیا تھا اور ملاقات ڈیڑھ گھنٹہ سے زیادہ ہوئی ہے۔ اس ملاقات کے بارے میں ربوہ میں یہی افواہ ہے کہ اس میں قادیانیوں نے پاکستان کے خلاف درخواست پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہم پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ ہمارے حقوق پامال کیے جا

صفحہ 51

رہے ہیں۔ یہ تو طے شدہ بات ہے کہ قادیانیت مغربی استعمار کا خود کاشتہ پودا یا دوسرے لفظوں میں ایک جاسوس ٹولہ ہے جو نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں مغربی استعمار کے مفادات کی نگہداشت کر رہا ہے اور ان کا براہ راست امریکن سی آئی اے سے تعلق ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج کل امریکہ اپنے لے پالک ٹولے کی حمایت میں کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ گزشتہ دنوں امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے اپنی قرارداد میں ایک شرط یہ بھی رکھی ہے کہ "امریکی صدر ہر سال اس مفہوم کا سرٹیفکیٹ جاری کریں گے کہ حکومت پاکستان اقلیتوں مثلاً احمدیوں کو مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز آ رہی ہے اور ایسی سرگرمیاں ختم کر رہی ہے جو مذہبی آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہیں"۔ (دیکھئے روزنامہ جنگ، لاہور، ۵ مئی ۱۹۸۷ء ارشاد احمد حقانی کا مضمون)

ہم حیران ہیں کہ آخر امریکہ کے پیٹ میں قادیانیوں کے بارے میں مروڑ کیوں اٹھی ہوئی ہے۔ کبھی وہ امداد دینے کے لیے شرائط عائد کرتا ہے کبھی وہ ان پر پاکستان میں ہونے والے مبینہ مظالم پر آواز بلند کرتا ہے۔ حالانکہ اگر امریکہ والوں کو انسانی حقوق کا اتنا ہی خیال ہے تو وہ فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے یہودی ظلم و ستم پر کیوں منہ میں گھنگنیاں ڈال لیتے ہیں اور فلسطینیوں کے حق میں جو قرارداد بھی آتی ہے، اسے کیوں ویٹو کر دیتے ہیں؟

ہم سمجھتے ہیں کہ قادیانیت چونکہ مغربی استعمار کا خود کاشتہ پودا ہے، لہٰذا امریکہ اسی لیے قادیانیت کی حمایت میں کھل کر سامنے آگیا ہے۔ گزشتہ سال جب یہ خبر آئی تھی کہ امریکہ پاکستان کی امداد کو قادیانیوں کی مذہبی آزادی کے ساتھ مشروط کر رہا ہے اور یہ کہ امریکی کانگریس نے مرزا طاہر کو تقریر کرنے کی بھی دعوت دی ہے تو قادیانی پیشوا مرزا طاہر نے یہ تردید کی تھی کہ ان کے یا ان کی جماعت کے امریکی کانگریس سے کسی قسم کے روابط موجود نہیں۔ (دیکھئے روزنامہ ملت، لندن، ۱۲ اکتوبر ۱۹۸۷ء)

لیکن امریکی قونصل جنرل کے ربوہ میں جانے اور قادیانی لیڈروں کے ساتھ خفیہ میٹنگ کرنے سے یہ بھانڈہ پھوٹ چکا ہے اور ثابت ہو گیا ہے کہ قادیانی امریکی روابط موجود ہیں۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ قادیانی اسلام اور ملت اسلامیہ دونوں کے غدار ہیں۔ نیز یہ

صفحہ 52

جس ہنڈیا میں کھاتے ہیں اسی میں سوراخ کرتے ہیں۔ اسلام کے غدار تو اس لیے ہیں کہ انہوں نے سرکار دو عالم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقابلے میں ایک بھٹیارے (سراپا مغلظات و نجاست) کو تخت نبوت پر بٹھایا۔ ملت اسلامیہ کے غدار اس لیے ہیں کہ یہودیوں کے شانہ بشانہ فلسطین کے نہتے مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں اور پاکستان جہاں یہ رہتے ہیں، اس کے بارے میں اکھنڈ بھارت کا نظریہ رکھتے ہیں اور لسانی، قومی، صوبائی عصبیتیں پھیلا کر اس کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔

امریکہ کی طرف سے قادیانیوں کی پر زور انداز میں سرپرستی یا وکالت اور باہمی رابطے سے یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ امریکہ پاکستان کا دوست نما دشمن ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو امریکی قونصل جنرل کی ربوہ آمد اور قادیانی لیڈروں کے درمیان ہونے والی اس خفیہ میٹنگ کے بارے میں تحقیقات کرنی چاہیے اور امریکی قونصل جنرل کو تنبیہ کرنی چاہیے۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۶، شمارہ ۴۱، مارچ ۱۹۸۸ء)

(از قلم: حافظ حنیف ندیم)

صفحہ 53

ذوالفقار علی بھٹو اور فتنہ قادیانیت

رانا محمد رفیق (سیکرٹری اطلاعات‘ پاکستان پیپلز پارٹی‘ ننکانہ صاحب)

قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنے دور حکومت میں بے شمار اسلامی اقدامات کیے۔ جن میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد‘ شراب پر پابندی‘ گھڑ دوڑ‘ جواء بازی پر پابندی‘ جمعتہ المبارک کی تعطیل اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا شامل ہے۔

بھٹو مرحوم نے مولانا مفتی محمود‘ مولانا غلام غوث ہزاروی‘ مولانا شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد کی نظام شریعت کے متعلق سفارشات کو من و عن ۱۹۷۳ء کے دستور میں شامل کر لیا تھا اور پانچ سال کے اندر اندر اس پر قانون سازی کے لیے اسمبلی سے بل بھی پاس کروا لیا تھا۔ جناب بھٹو مرحوم کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم کا مسلمان ہونا ضروری قرار دیا۔ مزید برآں آئین میں مسلمان کی باوضاحت شق بھی شامل کی۔ جس پر تمام علماء دین نے اتفاق کیا۔ جبکہ جونیجو کے مسلم لیگی دور حکومت میں وزیر اعظم کے لیے مسلمان ہونے کی شرط کو ختم کر دیا گیا۔ اور اب جونیجو دور کی برکات کی وجہ سے ہر غیر مسلم خواہ عیسائی ہو یا یہودی‘ قادیانی ہو یا سکھ مملکت اسلامیہ پاکستان کا وزیر اعظم بن سکتا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اگر بھٹو مرحوم نام کے مسلمان ہوتے تو شاہ فیصلؒ انہیں اسلامی سربراہ کانفرنس کا پاکستان میں صدر منتخب نہ کرتے۔ مرحوم بھٹو نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ وہ مسلمان ہیں اور صرف خدا کے سامنے گڑگڑائیں گے‘ ایک دفعہ نصرت بھٹو صاحبہ جناب بھٹو مرحوم سے ملنے کے لیے جیل گئیں تو مرحوم نے کہا کہ "نصرت‘ تم جانتی ہو کہ میں کسی فرقہ واریت کا قائل نہیں۔۔۔۔ لیکن قادیانی مجھے قتل کروانے کے در پے ہیں۔" پھر بھٹو مرحوم نے خود

صفحہ 54

کلامی کے انداز میں کہا:

"I can sacrifice my thousand lives for the sake of Holy Prophet P.B.U.H"

(میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنے آپ کو ہزار مرتبہ قربان کر سکتا ہوں"۔

(در دوالم شہید ذوالفقار علی بھٹو اور قادیانی، ص ۷)

جناب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی سے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلا کر اپنے دور حکومت کو منفرد اعزاز دیا اور ۹۰ سالہ پرانا مسئلہ حل کرنے کی سعادت حاصل کی‘ قادیانی ظاہر و باطن سامراجی طاقتوں کے ایماء پر ہمیشہ پاکستان اور عالم اسلام کے خلاف سازشوں میں شریک رہے ہیں، بھٹو مرحوم نے قادیانیوں کے امریکہ سے خفیہ تعلقات کے بعض گوشوں سے نقاب اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ”بر سر اقتدار آنے کے بعد جب میں سربراہ مملکت کی حیثیت سے پہلی مرتبہ امریکہ کے دورہ پر گیا تو امریکی صدر نے مجھے ہدایت کی کہ پاکستان میں قادیانی جماعت ہمارا سیکٹ (فرقہ۔ Sect) ہے۔ آپ ان کا ہر لحاظ سے خیال رکھیں۔ دوسری مرتبہ جب امریکہ کا سرکاری دورہ ہوا، تب بھی یہ بات دہرائی گئی۔ یہ بات میرے پاس امانت تھی‘ ریکارڈ کی خاطر پہلی مرتبہ انکشاف کر رہا ہوں ۔“

(قادیانیت کا سیاسی تجزیہ از صاحبزادہ طارق محمود، ص ۳۵)

اور یہی وجہ ہے کہ محمد خان جونیجو اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں امریکی استعمار کی طرف سے قادیانیوں کی اعلانیہ حمایت کی گئی۔

امریکی سینٹ کی ۱۷ رکنی خارجہ تعلقات کی کمیٹی نے پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد کے لیے اپنی قرارداد میں جو شرائط بیان کیں، ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ:

”امریکی صدر ہر سال اس مفہوم کا ایک سرٹیفکیٹ جاری کریں گے کہ حکومت پاکستان اقلیتوں‘ مثلاً احمدیوں کو مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز آ رہی ہے اور ایسی تمام سرگرمیاں ختم کر رہی ہے جو مذہبی آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہیں"۔

(بحوالہ مضمون جناب ارشاد احمد حقانی ادارتی صفحہ ۳‘ روزنامہ جنگ‘ ۵ مئی ۱۹۸۷ء)

قادیانیوں کی مکمل مذہبی اور شہری آزادی کا مطلب کیا ہے؟ یہ کہ وہ:

صفحہ 55

اور مسلمانوں کے مخصوص مذہبی شعائر استعمال کر کے دھوکہ اور اشتباہ کی جو فضا قائم رکھنا چاہتے ہیں‘ وہ بدستور قائم رہے۔

لیے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو فیصلہ کیا ہے‘ وہ ختم ہو جائے۔

نام اور اصطلاحات استعمال کرنے سے جو روکا گیا ہے‘ اسے غیر موثر بنایا جائے۔

متعین کرانے کے لیے جن جائز قانونی مطالبات اور اقدامات کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں‘ ان کا راستہ روک دیا جائے۔

امریکی سینٹ کی یہ قرارداد قادیانیوں کے خود ساختہ حقوق کی حمایت سے زیادہ ملت اسلامیہ کے دینی تشخص اور مذہبی اعتقادات پر براہ راست اور ناقابل برداشت حملہ تھی۔

اتفاق سے بھٹو مرحوم کے دور میں بعض بڑے اہم عہدے قادیانیوں کے کنٹرول میں آگئے اور انہوں نے اپنی جماعت کے افراد کی بھرتی کو اپنا دینی فریضہ خیال کر لیا۔ پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر مارشل ظفر چوہدری بڑے متعصب قادیانی اور سخت گیر طبیعت کے مالک تھے‘ انہوں نے ایئر فورس پر مرزائیوں کو قابض کرانے کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا؟ جب کبھی بھرتی کا مرحلہ آیا تو ہم عقیدہ افراد کو فوقیت دی گئی۔ امریکہ وغیرہ میں کسی نوجوان کو بغرض تربیت بھیجنے کا سوال اٹھا تو قادیانی افسر کا چناؤ ہوا۔ حتیٰ کہ فضائیہ میں ان قادیانی افراد کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔ اسی لیے تاحال وہ محکمہ دفاع کے بعض اہم اور نازک عہدوں پر چھائے ہوئے ہیں اور سرکاری اعلان کے مطابق اس وقت فوج میں ۱۴۲۸ افسران قادیانی ہیں۔ ایک بار ظفر چوہدری کے ہاتھوں کورٹ مارشل کی بھینٹ چڑھنے والے ایک مسلمان فضائی افسر نے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو تک رسائی حاصل کی اور انہیں ظفر چوہدری کی گھٹیا ذہنیت اور اسلام و ملک دشمن سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

یہ لرزہ خیز داستان سن کر مسٹر بھٹو بہت حیران ہوئے۔ کہتے ہیں اس روز بھٹو صاحب بہت پریشان تھے‘ ان کے ماتھے پر معنی خیز شکن ابھر آئی اور کہا ”اچھا‘ یہ ہے ان کا اصل

صفحہ 56

روپ“۔ (موید قومی ہیرو مسٹر ایم ایم عالم‘ تحریک ختم نبوت‘ ص ۱۸۳-۱۸۴‘ نوائے وقت‘ ۸ اگست ۱۹۷۳ء)

شاید بھٹو صاحب اس بات کو زیادہ اہمیت نہ دیتے لیکن ایک واقعہ نے انہیں عملی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا اور وہ درگزر نہ کر سکے کہ چند روز بعد مرزائیوں کا ایک سالانہ جلسہ دسمبر ۱۹۷۳ء کو ربوہ میں ہو رہا تھا۔ نام نہاد قادیانی خلیفہ مرزا ناصر تقریر کر رہا تھا کہ پاکستان ایئر فورس کا ایک جہاز اڑتا ہوا آیا‘ اس نے فضا میں غوطہ لگا کر مرزا ناصر کو سلامی دی‘ دوسرا آیا‘ اس نے بھی یہی عمل دہرایا‘ تیسرے نے بھی یہی فعل قبیح کیا۔ یہ سارے مرزائی پائلٹ تھے جنہوں نے ایئر فورس کے ایئر مارشل ظفر چودھری کے حکم سے ایسا کیا۔ اس پر قادیانی خلیفہ مرزا ناصر خوشی سے پھولے نہ سمایا۔ اس نے اپنا دامن پھیلایا اور آسمان کی طرف منہ کر کے حاضرین سے مخاطب ہوا ”میں دیکھ رہا ہوں کہ احمدیت (قادیانیت) کا پھل پک چکا ہے اور جلد ہی میری جھولی میں گرنے والا ہے“۔

یہ رپورٹ جرائد و رسائل میں پوری آب و تاب کے ساتھ شائع ہوئی۔ خفیہ ذرائع سے جناب مسٹر بھٹو بھی اس کی تصدیق کر چکے تھے۔ ان حقائق کے پیش نظر حکومت نے ظفر چوہدری کو رخصت کر دیا۔ اس خبر سے پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ فضائیہ کے ہر اسٹیشن پر جانبازوں نے یوم تشکر منایا۔ یہ پہلا موقع تھا جب مرزائی بزرجمہر اور ذوالفقار علی بھٹو صاحب میں نفرتوں نے جنم لیا اور قادیانی مسٹر بھٹو کے خلاف زبان درازی پر اتر آئے۔

چند برس قبل گروپ کیپٹن عبدالستار کے بقول انہوں نے جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو ان کی حکومت کے تختہ الٹنے کی قادیانی سازش سے باخبر کیا تھا۔ (روزنامہ نوائے وقت‘ ۸ اگست ۱۹۷۳ء)

۲۵ جولائی ۱۹۷۴ء کو جسٹس صمدانی کی عدالت میں فوجی نوعیت کا بیان سماعت کیا گیا۔ فاضل ٹربیونل نے ۳۱ اگست کو اس کے اہم اجزاء خبر رساں ایجنسیوں کے حوالے کیے جو آئندہ روز اشاعت پذیر ہوئے۔ بیان ہوا کہ جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد کی صدارت میں بعض سرکردہ قادیانیوں نے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو راستے سے ہٹا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ پروگرام یہ بنا کہ ایک تقریب میں انہیں قتل کر دیا جائے۔ اس سے پہلے ایئر

صفحہ 57

مارشل ظفر چوہدری کو جو متعصب اور کٹڑ قادیانی ہے اور رشتہ کے لحاظ سے سر ظفر اللہ خان قادیانی کا حقیقی بھتیجا اور میجر جنرل نذیر احمد قادیانی ان کا ہم زلف ہے‘ نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جو ناکام بنادی گئی۔

قتل کی سازش حکومت کے علم میں ہے۔ مزید برآں تفتیشی ادارے مسٹر ایم ایم احمد قادیانی کے ایک رشتہ دار کے گھر سے وائرلیس ٹرانسمیٹر برآمد کرچکے ہیں۔

(رپورٹ جسٹس صمدانی ٹربیونل‘ مندرجہ اردو اخبارات بتاریخ یکم اکتوبر ۱۹۷۴ء)

اور پھر مسٹر بھٹو کے عہد ہی میں قادیانی جرنیل میجر آدم خان نے حکومت کا تختہ الٹنے کی خطرناک سازش تیار کی اور سادہ لوح مسلمان نوجوانوں کو بھی اس میں ملوث کرلیا۔ سازش پکڑی گئی‘ قادیانی جرنیل جنرل آدم اور اس کے بیٹے میجر فاروق اور میجر افتخار قید کر لیے گئے اور قادیانی امت سردی میں سکڑے ہوئے سانپ کی طرح بیٹھ گئی۔

(آستین کے سانپ از طاہر رزاق)

جب ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت چلی‘ اس وقت مسٹر ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیر اعظم تھے۔ دوران تحریک آغا شورش کاشمیری اپنے دوست مولانا تاج محمود کے ساتھ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملے۔ اس ملاقات کی روداد ہفت روزہ ”چٹان“ ۲۹ اکتوبر ۱۹۷۹ء میں موجود ہے جو مسٹر بھٹو کی بیان کردہ ہے۔ اس روداد کی تلخیص یوں ہے۔ مسٹر بھٹو کہتے ہیں ”شورش اپنے دوست مولانا تاج محمود کے ساتھ میرے پاس آئے۔ شورش نے چار گھنٹے تک مسئلہ ختم نبوت اور قادیانیوں اور پاکستان کے بارے میں عقائد و عزائم پر گفتگو کی۔ دوران گفتگو شورش نے ایک عجیب حرکت کی۔ شورش نے باتوں کے دوران انتہائی جذباتی ہو کر میرے پاؤں پکڑ لیے۔ شورش جیسے بہادر اور شجاع آدمی کو ایسی حالت میں دیکھ کر میں لرز اٹھا‘ شورش کی عظمت کو دیکھ کر میں نے اسے اٹھ کر گلے سے لگالیا۔ پھر وہ ہاتھ ملا کر پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا۔

”بھٹو صاحب! ہم جیسی ذلیل قوم کسی ملک نے آج تک پیدا نہیں کی ہوگی کہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تاج و تخت ختم نبوت کی حفاظت نہ کرسکے۔“ پھر شورش نے روتے ہوئے میرے سامنے اپنی جھولی پھیلا کر کہا ”بھٹو صاحب! میں آپ سے اپنے اور آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم المرسلینی کی بھیک مانگتا ہوں۔ آپ میری زندگی کی تمام

صفحہ 58

خدمات اور نیکیاں لے لیں، میں خدا کے حضور خالی ہاتھ چلا جاؤں گا۔ خدا کے لیے محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی حفاظت کر دیجئے‘ اسے میری جھولی نہ سمجھئے بلکہ فاطمہ بنت محمد ﷺ کی جھولی سمجھ لیجئے"۔ اب اس سے زیادہ مجھ میں کچھ سننے کی تاب نہ تھی۔ میرے بدن میں ایک جھرجھری سی آگئی ۔۔۔۔ میں نے شورش سے وعدہ کر لیا کہ میں قادیانی مسئلہ ضرور بالضرور حل کروں گا۔ (عشق خاتم النبیین از طاہر رزاق)

اس تاریخی ملاقات کے بعد بھٹو نے فرمایا تھا کہ : ”قادیانی اتنے خطرناک ہیں‘ اس کا احساس مجھے ان دو دنوں میں ہوا ہے‘ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ قادیانی مذہب کے لوگ اس قدر خوفناک ارادے رکھتے ہیں۔“

(مقالہ مولانا تاج محمود‘ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی ‘ ۱۹۹۱ء)

مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے فرمایا کہ ”پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ یہاں اسلامی قوانین رائج ہوں گے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ﷺ ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ پاکستان کا نظام اسلامی شریعت کے مطابق چلایا جائے گا۔

(روزنامہ امروز ‘ ۱۱ جولائی ۱۹۷۴ء)

مزید فرمایا کہ ”جو شخص ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا‘ وہ مسلمان نہیں ہے اور قادیانیوں کا مسئلہ حل کرنے کا شرف انشاء اللہ انہیں حاصل ہو گا اور یہی اعزاز انہیں خدا کے حضور سرخرو کرے گا۔“

(قادیانیت کا سیاسی تجزیہ از صاحبزادہ طارق محمود)

چنانچہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی سے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلا کر اپنے دور حکومت کو منفرد اعزاز دیا اور ۹۰ سالہ پرانا مسئلہ حل کرنے کی سعادت بھی مرحوم بھٹو نے حاصل کی۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے جناب بھٹو نے فرمایا کہ ”منکرین ختم نبوت (قادیانیوں) کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ پوری قوم کی خواہشات کا آئینہ دار ہے۔ اس مسئلہ کو دبانے کے لیے ۱۹۵۳ء میں ظالمانہ طور پر طاقت استعمال کی گئی تھی"۔

(قاطع قادیانیت از مصباح الدین‘ ص ۱۲۰)

صفحہ 59

مزید فرمایا کہ ”قادیانی مسئلہ کے حل ہونے سے پاکستان کو سیاسی استحکام حاصل ہو گیا ہے“۔ (الحق اکوڑہ خٹک‘ نومبر ۱۹۷۴ء)

اور ایک دفعہ اپنے خلاف مارشل لاء کے وائٹ پیپر کے جواب میں کہا کہ ”ہم نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا ہے۔ جب کہ سابقہ حکومتوں نے عوام کی تحریکوں کو کچل کر مرزائیوں کو اعلیٰ عہدے دیے۔ ہمارے بعض سیاستدان‘ علماء اس حکومت کی حمایت میں تھے۔ جس نے اپنی کابینہ میں ظفراللہ خاں (قادیانی) کو وزیر خارجہ رکھا ہوا تھا۔ کسی نے مطالبہ نہ کیا تھا کہ وہ مرتد کے ساتھ بیٹھیں گے یا نہیں بیٹھیں گے۔ کیا وہاں سب شریعت کے مطابق تھا“۔ (درد و الم‘ ذوالفقار علی بھٹو اور قادیانی از احمد طاہر)

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر پورے عالم اسلام میں جناب بھٹو کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخی فیصلہ کی اہمیت اپنی جگہ‘ مگر اس کی جو قیمت بھٹو مرحوم کو ادا کرنا پڑی یہ صرف انہی کو احساس تھا۔ انہیں ایک سازش کے تحت اقتدار سے ہٹایا گیا اور پھانسی کی سزا دی گئی۔ حالانکہ بے شمار اسلامی ممالک نے ان کی اسلامی خدمات کے پیش نظر ان کی جان بخشی کی اپیل کی تھی۔ اور اس دوران قادیانی لابی پوری مستعدی سے کام کرتی رہی اور ایسے مواقع تلاش کرتی رہی کہ ان سے اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کرے۔ راؤ عبدالرشید صاحب نے اپنی کتاب ”جو میں نے دیکھا“ میں لکھا ہے کہ بھٹو مرحوم کی حکومت ختم کرنے کے لیے قادیانی العقیدہ لوگوں نے بے حد کام کیا۔

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے فوراً بعد جناب بھٹو مرحوم نے مولانا سید محمد یوسف بنوری سے کہا تھا کہ ”قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کا فیصلہ ان کے گلے میں پھانسی کا پھندا ہے“۔ وہ پھانسی کا پھندا کیا تھا؟ وہ قادیانیوں کی سازشیں تھیں۔ ظفراللہ خاں‘ ایم ایم احمد‘ ایئر مارشل ظفر چوہدری اور مرزا ناصر احمد ایسے قادیانیوں کے کمانڈوز ایکشن اور دیگر جوڑ توڑ تھے۔

مولانا تاج محمود کی روایت کے مطابق جو ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد میں شائع بھی ہو چکی ہے‘ قادیانی پیشوا آنجہانی مرزا ناصر نے چوہدری ظفراللہ خاں قادیانی کی معیت میں اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج سے خفیہ ملاقات کی۔ یہ ملاقات رات کو ۱۲ بجے یا اس کے بعد ہوئی‘ ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں‘ اس پر وہ جج صاحب ہی روشنی ڈال

صفحہ 60

سکتے ہیں، جن سے ملاقات ہوئی تھی۔ کیونکہ ملاقات کرنے والے دونوں سرکردہ لیڈر آنجہانی ہو چکے ہیں۔ تاہم یہ خبر شائع ہو جانے کے بعد نہ تو جج صاحب نے ملاقات کی تردید کی اور نہ ہی قادیانیوں نے۔ بہر حال یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ قادیانیوں نے اس مقدمے میں خصوصی دلچسپی لی تھی۔ بلکہ جس شخص کی گواہی سے بھٹو کے خلاف فیصلہ ہوا وہ (وعدہ معاف گواہ) مسعود محمود قادیانی تھا۔

یہ شخص ایف ایس ایف کا ڈائریکٹر اور متعصب قادیانی تھا۔ بھٹو صاحب کے زوال میں اس کے خفیہ ہاتھ اور سازشوں کا گہرا تعلق تھا۔ بھٹو صاحب نے اپنی کتاب If I am Assasinated میں اس نمک حرام کے متعلق لکھا کہ ”میں ایک خاص بات کی نشاندہی اور کرنا چاہتا ہوں کہ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری مسٹر اے زیڈ فاروقی، مسٹر این اے فاروقی کے بھتیجے بھی ہیں، جن کی بیوی میرے مقدمے میں وعدہ معاف گواہ مسعود محمود کی بیوی کی بہن ہے، جہاں تک میری اطلاعات کا تعلق ہے، این اے فاروقی نے مسعود محمود کے وعدہ معاف گواہ بننے سے قبل مسعود محمود اور مارشل لاء حکام کے در میان رابطہ کا کام کیا تھا۔ یہاں میں یہ بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری مسٹر اے این فاروقی جن کے بیانات کو وائٹ پیپر میں بنیاد بنایا گیا، وہ قادیانی ہیں اور انہوں نے مجھ سے اس بات کا بدلہ لیا کہ میں نے قادیانیوں کو غیر مسلم کیوں قرار دیا تھا“۔

مسعود محمود قادیانی سازشی ٹولہ کی پیداوار تھا اور ان کے لیے اس نے مہرے کا کردار ادا کرنا تھا۔ اس کی ملازمت کے دوران جتنے قتل ہوئے اور جتنی بدامنی پیدا کی گئی یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت جناب بھٹو کی شہرت کو داغدار کرنے کے لیے مسعود محمود نے کیا۔

بھٹو مرحوم نے فوج کی بار بار سیاست میں مداخلت اور بیورو کریسی کی اجارہ داری کا توڑ فیڈرل سکیورٹی فورس کے قیام کی شکل میں سوچا مگر ڈائریکٹر جنرل مسعود محمود مرزائی کا تقرر ہو گیا۔ جس کی مذہبی پوزیشن کا مرحوم بھٹو کو علم نہ ہو سکا، بعد میں اس کی سرگرمیوں پر مرحوم کو جب شبہ ہوا تو جناب بھٹو مرحوم کے استفسار پر مسعود محمود نے لاعلمی کا اظہار کیا اور اس کے نتیجہ میں مسعود محمود قادیانی نے وعدہ معاف گواہ بن کر بھٹو کو پھانسی دلوائی اور یوں قادیانی اپنے مشن میں کامیاب ہو گئے۔

صفحہ 61

مرحوم بھٹو کے مندرجہ بالا الفاظ پر تبصرہ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں رہی۔ صرف اتنا ضروری ہے کہ ان کے مطابق ان کے قاتل مرزائی ہیں جو کافر ہیں، کیا کافر کے ہاتھوں مرنا شہادت کی موت نہیں۔

مارشل لاء کی حکومت نے اے زیڈ فاروقی قادیانی کو تحفظ دینے کے لیے وائٹ پیپر میں بھٹو مرحوم کو دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ایک کافر کے بیان کو شہادت بنا کر ابتداء ہی سے وائٹ پیپر کو ناپاک کر دیا۔ بھٹو مرحوم نے اپنی کتاب If I am AssasInated کے صفحہ نمبر ۵۵ پر لکھا کہ ”قادیانی سیکرٹری الیکشن کمیشن فاروقی کا بیان بھی پاکستانی عوام کو مجھ سے ناراض کرنے کے لیے وائٹ پیپر میں شامل کیا گیا ہے“۔

مزید فرمایا کہ ”اس وائٹ پیپر کو یہ بھی نہیں معلوم کہ بسمہ اللہ کیسے کی جاتی ہے۔ جس کی ابتدا ہی ایک کافر (زیڈ ۔ اے فاروقی) کے نوٹ سے ہوئی ہے، جھوٹ سے کسی چیز کی ابتداء ہو تو سچائی پر خاتمہ نہیں ہو سکتا۔“ (میرے دوست میرے قاتل، ص ۱۴)

بھٹو مرحوم کے مندرجات مقام فکر بھی ہیں اور سوالیہ نشان بھی! ان کا مطلب ہے کہ ایک کافر کی شہادت ایک مسلمان کے خلاف جائز نہیں۔ کیا ایک کافر کی گواہی، ایک ایسے مسلمان کے خلاف جو اپنے قلم سے اس کو غیر مسلم اور مرتد قرار دے چکا ہو، شرعاً جائز ہے؟“

مزید برآں بھٹو صاحب کی پھانسی پر قادیانیوں نے جشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کیں اور اپنے جھوٹے مدعی نبوت اور انگریز کے خود کاشتہ پودے پر مرزا قادیانی علیہ ما علیہ کی کتابوں کو کھنگالنا شروع کر دیا کہ شاید کوئی ایسا لفظ مل جائے جسے وہ الہام بنا کر جناب بھٹو پر چسپاں کر سکیں، طویل تلاش و بسیار کے بعد مرزائی قادیانی کی ایک نام نہاد وحی ملی کہ:

”ایک شخص کی موت کی نسبت خدا تعالیٰ نے اعداد جفری میں مجھے خبر دی جس کا ماحصل یہ ہے کہ (کلب یموت علیٰ کلب“ یعنی وہ کتا ہے اور کتے کے عدد پر مرے گا۔ جو باون سال پر دلالت کر رہے ہیں یعنی اس کی عمر باون سال سے تجاوز نہیں کرے گی، جب باون سال کے اندر قدم دھرے گا، تب اسی سال کے اندر اندر راہی ملک بقاء ہو گا۔“ (ازالہ

اوہام، مصنفہ مرزا قادیانی، ص ۱۸۷۔۱۸۶، تذکرہ مجموعہ الہامات، ص ۱۸۰۔۱۷۹)

اس خود ساختہ اور من گھڑت الہام کو سچا ثابت کرنے کے لیے کتے کے اعداد نکالے

صفحہ 62

گئے جو ۵۲ بنتے ہیں۔ پھر اسے بھٹو مرحوم پر چسپاں کر دیا گیا چونکہ بھٹو صاحب کو ۵۲ سال کی عمر میں پھانسی ہوئی اور مرزا قادیانی کا یہ الہام بھٹو صاحب کے بارے میں ہے، لہٰذا کتا (بھٹو) کتے کی موت مرگیا۔ (استغفر اللہ)

اس موقع پر مولانا تاج محمودؒ نے اپنے پرچہ ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد میں لکھا تھا کہ ”یہ الہام نہیں بلکہ مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے محمود کو کسی شرارت پر جھڑکا ہو گا اور کہہ دیا ہو گا کہ ”یہ کتا ہے، کتے کی موت مرے گا“۔ ماں باپ خواہ مسلمان ہوں یا مرزا قادیانی کی طرح کافر و مرتد اور زندیق ہوں، ان کی بددعا اکثر و بیشتر اولاد کے بارے میں اپنا اثر دکھاتی ہے چنانچہ مرزا قادیانی کی اس بددعا نے (جسے الہام بنا دیا گیا) اپنا اثر دکھایا اور مرزا محمود گیارہ سال تک خارش زدہ باؤلے کتے کی طرح ایک علیحدہ کمرے میں قید رہا، جس کے ساتھ کسی کو ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ آخری دنوں میں تو اس کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ کتے کی طرح بھونکتا تھا۔ چونکہ مرزا محمود کی عمر باون سال تھی اور ”کلب“ کے عدد بھی ۵۲ ہوتے ہیں، لہٰذا یہ بددعا مرزا محمود کو لگی اور وہ کتے کے عدد پر مرگیا“۔

قادیانیوں کا بھٹو کے خلاف فیصلہ کے بارے میں جو نقطہ نظر تھا، وہ مشہور قادیانی چوہدری ظفر اللہ خاں کے ایک انٹرویو کی صورت میں سیاسی اتار چڑھاؤ (از منیر احمد خاں) میں شائع ہو چکا ہے۔ جس میں اس نے بھٹو صاحب کے بارے میں اس قسم کی بکواس کی ہے اور ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران لندن میں ایک پریس کانفرنس میں سر ظفر اللہ خاں نے بھٹو مرحوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ بدعہد ہیں، ناقابل اعتماد ہیں، احسان فراموش ہیں“۔ (ہفت روزہ چٹان، ۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء، جلد ۱۱، شمارہ ۳۹)

حالانکہ بھٹو مرحوم نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر وہ تاریخی کارنامہ سرانجام دیا کہ رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔ ان کی یہ شاندار خدمات تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں اور اس معاملے میں ہم انہیں ملک وملت کا محسن گردانتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ایک طویل عرصہ تک پاکستان میں صدر کے سائنسی مشیر رہ چکے ہیں، وہ مسٹر بھٹو کے سائنسی مشیر بھی رہ چکے تھے۔ ڈاکٹر عبدالسلام جب تک مسٹر بھٹو کے مشیر رہے، ان کی تمام صلاحیتیں قادیانی لابی کے لیے سرگرم رہیں۔ جناب بھٹو کچھ کچھ قادیانیوں کے عزائم سے باخبر ہو گئے تھے، انہیں بالاخر احساس ہو گیا تھا کہ ان کے اقتدار کے

صفحہ 63

گرد دائرہ تنگ ہوتا جارہا ہے۔

مسٹر بھٹو کے دور میں ایک سائنس کانفرنس ہو رہی تھی، کانفرنس میں شرکت کے لیے ڈاکٹر عبدالسلام کو دعوت نامہ بھیجا گیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب قومی اسمبلی نے آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ یہ دعوت نامہ جب ڈاکٹر عبدالسلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے مندرجہ ذیل ریمارکس کے ساتھ اسے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو واپس بھیج دیا۔

I do not want to set foot on this accursed land until the Constitutional amendment is withdrawn.

ترجمہ: ”میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا، جب تک آئین میں کی گئی ترمیم واپس نہ لی جائے۔“

مسٹر بھٹو نے جب یہ ریمارکس پڑھے تو غصے سے ان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ انہوں نے اشتعال میں آ کر اسی وقت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری وقار احمد کو لکھا کہ عبدالسلام کو فی الفور برطرف کر دیا جائے اور بلا تاخیر نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے۔ وقار احمد نے یہ دستاویز ریکارڈ میں فائل کرنے کی بجائے اپنی ذاتی تحویل میں لے لی تاکہ اس کے آثار مٹ جائیں۔ وقار احمد بھی قادیانی تھا۔ یہ کس طرح ممکن تھا کہ اتنی اہم دستاویز فائلوں میں محفوظ رہتی، اتنی دریدہ دہنی اور ڈھٹائی کے باوجود جب ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان آتے ہیں تو ان کی پذیرائی میں باچھیں کھل جاتی ہیں اور ان کا شایان شان خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ وطن عزیز کی رسوائی اور حد درجہ بے حرمتی کرنے والے اس ڈاکٹر کی پذیرائی کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ (ڈاکٹر عبد القدیر اور کہوٹہ سنٹر از یونس خلش، ص ۸۰)

ستمبر ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم نے قادیانی جماعت کا ذہنی توازن ہی بگاڑ دیا تھا۔ وہ دن اور آج کا دن ”ربوہ“ سے ایک ہی رٹ سننے میں آتی ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کو آئین کے اندر کافر اور مسلمان کے بارے میں کسی بھی امتیازی شق کو منظور کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا، انہوں نے بھٹو مرحوم اور ان کی پارلیمنٹ کے خلاف بکواس کرنا شروع کر دی۔ پندرہ روزہ قادیانی جریدہ ”لاہور“ کے ایڈیٹر ثاقب زیروی قادیانی نے ۱۱ فروری ۱۹۷۹ء

صفحہ 64

کی اشاعت میں ان معزز ممبران اسمبلی جنہوں نے مسلمانوں کے دیرینہ مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے اسلام دشمن قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دیا، کے خلاف بکواس کرتے ہوئے لکھا کہ :

”یہ سب شرابی، زانی، منشیات کے اسمگلر، مرتشی، بد عنوان، غاصب، جابر، متشدد المزاج، لاف زن، شیخی خورے، سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں سے عاری، آزادانہ جنسی تعلقات کے عادی، بد کردار، بڑی بے شرمی اور بے حیائی سے شادیاں رچا کر پھر ان عورتوں کو بازار حسن کی زینت بنا دینے والے، پرمٹ، لائسنس اور ویزا فروش، بحری قزاق، مجرمانہ ذہنیتوں کے حامل، رسہ گیر، قاتل اور قاتلوں کے پشت پناہ، قوم کی بیٹیوں پر برملا دست درازیاں کرنے والے، ناجائز در آمد و بر آمد میں ملوث اور کسٹم ڈیوٹی میں ہیرا پھیری کے ذریعہ خزانہ عامرہ کو نقصان پہنچانے والے، بھٹو دور کے وہ مفتیان دین و شرع متین ہیں جنہوں نے ستمبر ۱۹۷۴ء میں بھٹو کے اقتدار کو دوام بخشنے کی غرض سے احمدیوں کو بزور سیاست و اغراض کے لیے ”ناٹ مسلم“ قرار دیا تھا۔“

مزید بکواس کرتے ہوئے لکھا تھا کہ :

”قومی اسمبلی کی ہیئت ترکیبی سراسر ناموزوں اور خلاف ضابطہ شرع متین تھی اور اس نے آئین میں متذکرہ ترمیم کرنے میں بے اعتدالی سے کام لیا۔۔۔۔ غرضیکہ ایک طرف ختم نبوت کا اہم ترین دینی مسئلہ اور دوسری طرف تعیش پسند چھوکرے، جن کی شکلیں دیکھ کر گھن آتی ہے۔ ان کے ہاتھوں میں یہ مسئلہ دے دینا ایسا ہی تھا، جیسے کسی بوڑھے بزرگ کی داڑھی شریر بچوں کے ہاتھوں میں آجائے۔ نتیجہ معلوم ! پھر اس ڈاڑھی کا جو حشر ہو سکتا ہے، ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے“۔ (ماسٹر امیر عالم قادیانی کا مقالہ بعنوان جدید آئینی ترامیم، قادیانی جریدہ پندرہ روزہ لاہور، ۲۵ نومبر ۱۹۷۴ء)

بھٹو مرحوم، جس نے آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیت کے بڑھتے ہوئے ناسور کو روکا اور نوے سالہ تاریخی مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آئینی طور پر حل کیا، اور وہ آئینی اقدام نہ صرف بروقت تھا، بلکہ پاکستان کو پیش آمدہ خطرات سے بچانے کے لیے ایک کوشش بھی۔ بھٹو مرحوم کے اس تاریخی فیصلہ پر قادیانی جریدہ طنز کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :

”کیسی عجیب بات ہے کہ ستمبر ۱۹۷۴ء میں جب اس جماعت کو قومی اسمبلی نے غیر

صفحہ 65

مسلم قرار دیا تو وزیر اعظم بھٹو نے اپنے آپ کو ”محافظ نبوت“ کے طور پر پیش کرتے ہوئے بڑے طمطراق سے یہ اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اس جماعت کا نوے سالہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔ حالانکہ اس وقت جماعت کی عمر صرف ۸۴ سال تھی اور اس کے ۵ سال بعد ۱۹۷۹ء میں جب یہ جماعت واقعی نوے (۹۰) سال کی ہوئی تو جناب بھٹو کا اپنا مسئلہ حل ہو چکا تھا“۔

(پندرہ روزہ قادیانی جریدہ لاہور‘ ۱۰ ستمبر ۱۹۸۸ء مضمون نگار ہدایت اللہ قادیانی)

اور اس کے برعکس ”چٹان“ کے بانی شورش کاشمیری‘ جنہوں نے مسٹر بھٹو کے خلاف ایک طولانی جنگ لڑی‘ جیل میں گئے‘ مگر جب بھٹو نے آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی ترمیم کی تو انہوں نے تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر انہیں خراج تحسین پیش کیا حالانکہ ان کے رفقاء ان سے متفق نہ تھے۔ مگر آغا صاحب نے انہیں کہا کہ آج اگر مسٹر بھٹو کے اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی نہ کی گئی تو وہ آئندہ کوئی اچھا کام نہیں کریں گے۔ تم اگر میرا ساتھ نہیں دینا چاہتے تو نہ دو‘ میں تنہا اس شخص کو مبارک باد پیش کروں گا‘ جس نے ناموس رسالت ﷺ کی حرمت کو قائم رکھا۔ چنانچہ یہ کہنا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دینا محض علماء کی بصیرت کی تنگی ہے‘ سراسر خلاف حقیقت ہے۔

بھٹو مرحوم کی قادیانیوں سے نفرت کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ انہوں نے مفتی محمود سے کہا تھا کہ وہ آئینی ترمیم میں بدبخت مرزا غلام احمد قادیانی کا نام لکھوا کر آئین پاکستان کو پلید نہ کرائیں۔

(درد و الم‘ ذوالفقار علی بھٹو اور قادیانی از احمد طاہر)

بھٹو صاحب کے دور میں پاسپورٹ فارم میں ایک عہد نامہ شامل کیا گیا تھا کہ ”میں مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا دعویدار نبوت سمجھتا ہوں‘ اس کے ماننے والے کو میں کافر سمجھتا ہوں۔“

یہ حلف نامہ شائع ہوا تو قادیانیوں کے لیے بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا وہ اس پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ چنانچہ مارشل لائی دور میں فارم سے یہ حلف نامہ ختم کر دیا گیا۔ پاسپورٹ آفس میں ایک مہر بھی بنائی گئی تھی۔ انہیں ہدایت کر دی گئی کہ فارم پر مہر بھی نہ لگائی جائے کیونکہ قادیانی تو حلفاً کہہ سکتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین سمجھتا ہے۔ حلفیہ کہنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد جھوٹا دعویدار نبوت تھا۔

صفحہ 66

(ہفت روزہ ”چٹان“ جلد ۳۹‘ شمارہ ۱۱‘ ۱۷ مارچ ۱۹۸۷ء)

یہ اعزاز بھٹو صاحب مرحوم سے کوئی نہیں چھین سکتا کہ وہ پاکستان میں غداران ختم نبوت کے دشمن اور ختم نبوت کے محافظ تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر پر رحمت فرمائے اور پیپلز پارٹی کو منکرین ختم نبوت‘ جو بھٹو صاحب کے قاتل ہیں‘ ان کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مزید آئینی اقدام کی توفیق بخشے۔

دختر مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے دور حکومت میں بھی قادیانیوں نے پر پرزے نکالنے شروع کیے تو محترمہ نے اس کا سختی سے نوٹس لیا۔ صوبہ سندھ کے چیف سکرٹری کنور ادریس قادیانی کو سندھ کے امن وامان کی صورت حال کا ذمہ دار قرار دے کر فوری تبادلہ کیا۔ جس کے بعد صورت حال مکمل کنٹرول میں رہی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو چونکہ وفاق کی علامت ہیں‘ جبکہ علیحدگی پسند تنظیم جیئے سندھ میں بے شمار قادیانی ہیں۔ جو اپنے خلیفہ بشیر الدین محمود قادیانی کی پیشین گوئی کو سچا ثابت کرنے کے لیے جی ایم سید کے ساتھ مل کر اکھنڈ بھارت کے لیے کوشش کر رہے ہیں‘ قادیانیوں کی کوشش تھی کہ منافقت کا لبادہ اوڑھ کر بے نظیر بھٹو صاحبہ کے گرد گھیرا تنگ کر کے انہیں اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے والد بھٹو مرحوم کی طرف سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کی ترمیم منسوخ کر دیں مگر محترمہ نے اسلام دوستی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کوئٹہ میں ایک عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ:

”قادیانیوں کے بارے میں آئینی ترمیم ملک کی منتخب اسمبلی میں اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی۔ اس لیے وہ ترمیم درست ہے اور اسے ختم نہیں کیا جائے گا۔ ایک عشائیہ کے موقع پر سوالوں کے جواب دیتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی برسر اقتدار آکر ملک کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھے گی۔ طاہر محمد خاں کے عشائیہ میں ایک وکیل نے اپنا تعارف محترمہ بے نظیر سے کرایا کہ وہ احمدی ہے۔ پیپلز پارٹی کی احمدیوں کے بارے میں کیا پالیسی ہے؟ اس پر بے نظیر نے کہا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے سے قبل قومی اسمبلی میں بلا کر یہ موقع دیا گیا تھا کہ وہ ثابت کر سکیں کہ وہ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں لیکن قادیانی سربراہ نے قومی اسمبلی میں آکر جو موقف بیان کیا‘ وہ ختم نبوت سے مکمل انکار تھا۔ اس لیے منتخب اسمبلی نے قرار دیا کہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز

صفحہ 67

پارٹی نے کسی کو کافر قرار نہیں دیا۔ اس نے ایک فریم ورک دیا اور کہا کہ جو اس کے اندر نہیں آئے گا، وہ مسلمان نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کے بارے میں ترمیم ۱۹۷۳ء کے آئین کا لازمی حصہ رہے گی"۔

(روزنامہ جنگ لاہور، جون ۱۹۸۷ء)

محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ اکثر اپنے والد مرحوم کے اس کارنامے کا تذکرہ بڑے فخر سے کرتی ہیں لیکن قادیانی اس سے چڑتے ہیں اور لندن میں قادیانیوں کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے جب ایک مقرر نے یہ کہا کہ ”اس سال جنوری میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے یہ اعلان کیا ہے کہ ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم، جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا‘ میرے والد (بھٹو مرحوم) کے عظیم کارناموں میں سے ایک بڑا کارنامہ ہے تو قادیانی سامعین نے زور زور سے شیم شیم (شرم شرم) کے نعرے لگائے“۔

(قادیانی جریدہ پندرہ روزہ ”لاہور“ ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۹ء۔۔۔۔۔ ایشین ٹائمز ۸ ستمبر ۱۹۸۹ء)

جون ۹۰ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے موہڑہ شریف کے سالانہ عرس میں شرکت فرمائی، محترمہ کی اسلامی سرگرمیوں کو دیکھ کر قادیانی بوکھلا اٹھے۔ ملاحظہ فرمائیے‘ قادیانی جریدہ کی رپورٹنگ اور طوفان بدتمیزی!

”ٹیلی ویژن پر ۹ جون کو ”حالات حاضرہ“ کے پروگرام میں وزیراعظم پاکستان کی (اپنے میاں سمیت) مری کے نزدیک موہڑہ کے مقام پر مدفون ایک پیر صاحب کے سالانہ عرس کی تقریبات میں شرکت کے مناظر دکھائے گئے۔ جہاں موصوفہ نے مزار پر چادر چڑھائی اور مزار کا شاندار دروازہ لگوانے کے علاوہ زائرین کی سہولت کے لیے سات کلومیٹر لمبی سڑک تعمیر کرانے کا اعلان کیا۔ یہیں محترمہ نے زائرین سے خطاب کرتے ہوئے اپنے لیے ”بیٹی اسلام“ کا لقب استعمال فرمایا اور یہاں ایک چڑھی ہوئی آنکھوں والے مجاور یا سجادہ نشین نے ان کی موجودگی میں وطن عزیز کی ایک (قادیانی) جماعت کے خلاف جی بھر کر خبث باطن کا مظاہرہ کیا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اسے نہ موصوفہ نے ٹوکا، نہ ان کے شوہر نامدار نے روکا اور نہ تقریب میں شریک کسی دوسرے وزیر یا وزیر مملکت نے۔ جس سے صائب الرائے حلقوں کے اس تاثر کی ایک بار پھر توثیق ہو گئی کہ موصوفہ کا مسلک نہ شیعیت ہے نہ حنفیت نہ بریلویت اور نہ دیوبندیت و وہابیت۔ ان کا مسلک و مذہب صرف سیاست ہے اور بس، جس کا پہلا اصول اقتدار پر بہرطور مسلط رہنے کے لیے ہر سانچے میں

صفحہ 68

ڈھل جاتا ہے۔۔۔۔۔ کیا وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی دل آزار سیاست کی ”بانگی“ دکھانے کے لیے شومی تقدیر وطن کہ ہمارے یہاں تاریخ سے سبق سیکھنے کا رواج نہیں ورنہ اس خطہ ارض میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسان آج بھی زندہ موجود ہیں، جو ان کے دو پیشرو حکمرانوں کی ایسی دل آزار سیاست کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔“

(پندرہ روزہ ”لاہور“ ۲۳ جون ۱۹۹۰ء)

محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی قادیانیوں سے نفرت اور ان کی سرگرمیوں کی سرکوبی کے نتیجہ میں قادیانیوں نے بوکھلا کر انہیں موت کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ملاحظہ فرمائیے ۱۰ جولائی ۱۹۹۰ء کو روزنامہ نوائے وقت لاہور میں شائع ہونے والی خبر۔

قادیانیوں کے خلاف سخت اقدامات‘ بے نظیر کے لیے موت

کا پروانہ ثابت ہوں گے‘ بھٹو اور ضیاء سزا بھگت چکے ہیں‘

بے نظیر سبق سیکھیں۔ قادیانی اخبار

اوٹاوا۔ ۹ جولائی (انٹرنیشنل ڈیسک) وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت‘ پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے والی ہے‘ اس امر کا انکشاف کینیڈا سے شائع ہونے والے اخبار ”نیو کینیڈا“ نے اپنے ایک اداریے میں کیا ہے۔ یہ اخبار امریکہ اور کینیڈا میں قادیانیوں کے ہیڈ کوارٹر کا ترجمان ہے۔ اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ بے نظیر نے ملائشیا کے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قادیانیوں وغیرہ سے جلد اپنی جان چھڑا لیں گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنے والی ہیں۔ ”نیو کینیڈا“ نے خبردار کیا ہے کہ اگر بے نظیر حکومت نے ایسی کوئی حرکت کرنے کی کوشش کی تو یہ بے نظیر کے اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہوگا۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ بے نظیر کے والد ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق دونوں نے قادیانیوں کے خلاف جو اقدامات کیے‘ وہ اس کی سزا بھگت چکے ہیں اور بے نظیر کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔

(روزنامہ نوائے وقت لاہور‘ ۱۰ جولائی ۱۹۹۰ء)

صفحہ 69

محترمہ بے نظیر بھٹو نے ۲ جون ۱۹۹۱ء کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پیش گوئی کی تھی کہ ”ایٹمی پلانٹ پر بھارت یا اسرائیل حملہ نہیں کرے گا بلکہ ملک کے اندر سے تخریب کاری ہوگی۔“ وہ سو فیصد درست ثابت ہو رہی ہے کہ ۱۵ ستمبر ۱۹۹۱ء کو روزنامہ پاکستان لاہور نے خبر دی کہ کہوٹہ پر حملہ کے لیے بھارت سے اڑنے والے اسرائیلی طیارے منصوبہ کے انکشاف پر واپس مڑ گئے۔

پاکستان میں ایجنٹوں کا حصول اسرائیل کے لیے مشکل نہیں۔ پاکستانی قادیانیوں کا مرکز حیفہ (اسرائیل) میں موجود ہے اور یہودیوں اور قادیانیوں کے مقاصد مشترکہ ہیں‘ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسلحہ اور بعض اہم آلات کی سمگلنگ میں بعض سابق افسر بھی شامل ہیں‘ جن کا تعلق قادیانی گروپ سے ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایٹمی توانائی کمیشن میں ۲۵ سے ۳۰ تک قادیانی اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہیں اور ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے‘ جن کے متعلق مایہ ناز سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل پرائز یہودیوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دیا ہے‘ کہوٹہ پلانٹ کے تمام نقشہ جات‘ ایٹم بم کا ماڈل اور اہم معلومات یہودی سائنس دانوں کو فراہم کیں۔

(ڈاکٹر عبدالقدیر اور اسلامی بم از زاہد ملک)

ان حالات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے کارکنوں کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں‘ ان کی تمام اسلام دشمن سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ تاکہ بھٹو مرحوم کی روح خوش ہو۔

صفحہ 70

اکھنڈ بھارت‘ مرزائیوں کا عقیدہ

محمود الحسن قریشی

بھارتی صحافی جمنا داس اختر کے انکشافات

تحریک تحفظ ختم نبوت کے اکابر شروع دن سے قوم اور حکمرانوں کو خبردار کرتے چلے آرہے ہیں کہ مرزائی ”اکھنڈ بھارت“ کے حامی ہیں اور اس کا قیام موسیو بشیر الدین کے جھوٹے الہام کی بنیاد پر ان کے عقیدہ میں شامل ہے۔ اگر مرزائی اس مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو ان کی بھر پور کوشش ہوگی کہ پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنا دیا جائے کیونکہ قادیانی مذہب کی نشر و اشاعت اور تبلیغ کے لیے ایک لادین ریاست کا ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے جہاں مرزائی اپنی بھر پور توانائیاں پاکستان توڑنے میں صرف کر رہے ہیں‘ وہاں ان کی کوشش یہ بھی ہے کہ بعض لادین سیاسی لیڈروں سے گہرے روابط قائم کرکے پاکستان کی اسلامی حیثیت کو ختم کیا جائے اور اسے سیکولر سٹیٹ قرار دلوایا جائے۔ یہ ایک گھناؤنی سازش ہے‘ جس کو پروان چڑھانے کے لیے نہ صرف لادین اور ملک دشمن سیاست دانوں کو خریدا گیا بلکہ بے ضمیر قلم فروشوں کے ایک طائفہ خبیثہ سے بھی سودا بازی کی گئی‘ جس کے تحت نام نہاد دانشور اپنے اخباری کالموں‘ فضول قسم کے مقالات اور کرائے پر لکھے جانے والے مضامین میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ”قائد اعظم پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنانا چاہتے تھے۔“ حالانکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ دوسری طرف اسرائیل واحد ملک ہے جو یہودیت کے نام پر وجود میں آیا لیکن مرزائیوں نے پاکستان کے استحکام و بقا کی بجائے اسرائیل مفادات کے تحفظ کے لیے کام کیا‘ جس کا ثبوت اسرائیل میں قادیانی مشن کا قیام

صفحہ 71

ہے ۔ یہ قادیانیوں کی منافقانہ اور مسلم کش پالیسیاں ہی تھیں جن کی وجہ سے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچا۔ ایم ایم احمد (قادیانی) نے اقتصادی مشیر کی حیثیت سے ملک کی اقتصادی پالیسیوں کو برباد اور کھوکھلا کر کے رکھ دیا اور آنجہانی سر ظفر اللہ نے وزارت خارجہ میں رہ کر ملک دشمن خارجہ پالیسیاں بنائیں اور وزارت خارجہ کو مرزائیت کی تبلیغ کے لیے وقف کر دیا۔ اس نے قائد اعظم کی وفات پر اس لیے جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا کہ وہ قادیانی عقیدہ کے مطابق تمام مسلمانوں اور قائد اعظم کو کافر سمجھتا تھا، سر ظفر اللہ نے قائد اعظم کا ساتھ کیوں دیا؟ وہ مسلم لیگ میں کس لیے شامل ہوا؟ ممتاز بھارتی صحافی جمنا داس اختر نے اپنے ایک کالم میں اس راز سے پردہ اٹھایا ہے، جسے روزنامہ جنگ لاہور نے ۲۴۔ مئی کی اشاعت میں صفحہ اول پر کچھ اس طرح سے شائع کیا ہے:

"نئی دہلی (رپورٹ مقبول دہلوی) بھارت کے صحافی جمنا داس اختر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ پاکستان کے سابق قادیانی وزیر سر ظفر اللہ خان تقسیم ہند کے خلاف تھے۔ خلیفہ قادیانی مرزا بشیر الدین محمود تقسیم ہند سے بہت پہلے کانگریس کے بہت نزدیک آگئے تھے۔ تقسیم ہند سے دو سال پہلے انجمن احمدیہ قادیان کے سالانہ جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے خلیفہ قادیانی نے کانگریس کی تعریف کی تھی۔ وہ احمدیوں کو انڈین کانگریس میں شرکت کرنے کی ہدایت جاری کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے کہ سر ظفر اللہ خان نے خلیفہ قادیان کو بتا دیا تھا کہ برطانوی حکومت ہند کو بہر صورت تقسیم کرنا چاہتی ہے اور پاکستان میں قادیانیوں کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس لیے احمدیوں کو بھارت میں ہی رہنا چاہیے۔ مگر سردار پٹیل نے سر ظفر اللہ خان کو انڈین وزارت میں لیے جانے کی تجویز کی شدید مخالفت کی اور یوں سر ظفر اللہ نے قائد اعظم سے سمجھوتہ کر لیا اور مسلم لیگ میں شامل ہو کر عبوری وزارت میں شامل ہو گئے۔"

اس پوری خبر میں بہت سے سوالات کا شافی جواب موجود ہے۔ قادیانیوں نے پاکستان کا ساتھ صرف اپنا سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے دیا بلکہ شروع دن سے ہی اس

صفحہ 72

ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ پاکستان کا خاتمہ اور اکھنڈ بھارت کا وجود نہ صرف قادیانیوں کی سیاسی ضرورت ہے بلکہ ان کا مذہبی عقیدہ بھی ہے اور اسی عقیدے کے تحت یہ ”عارضی پاکستان“ کے حامی بنے اور اب اسی عقیدہ کے تحت اسے توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ثبوت مرزا بشیر الدین محمود کا وہ الہام ہے جو ان کے اپنے اخبار ”الفضل“ قادیان میں شائع ہوا۔ اکھنڈ بھارت کا پورا الہام ملاحظہ فرمائیں:

”امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ کا تازہ ترین الہام۔

اکھنڈ ہندوستان

مجلس عرفان۔ مورخہ ۳ ماہ شہادت

قادیان ۳/ ماہ شہادت۔ آج بعد نماز مغرب حضور نے چودھری اعجاز نصر اللہ صاحب ابن جناب چودھری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر ایٹ لاء کا نکاح محترمہ امۃ الحفیظ صاحبہ بنت خلیفہ عبد الرحیم صاحب جموں کے ساتھ تین ہزار روپیہ حق مہر پر پڑھا اور دعا فرمائی اور اس کے بعد مجلس میں رونق افروز ہو کر جو ارشادات فرمائے، ان کا ملخص پیش کیا جاتا ہے:

ابتداء میں حضور نے اپنا ایک رویا بیان فرمایا۔ جس میں ذکر تھا کہ گاندھی جی آئے ہیں اور حضور کے ساتھ ایک ہی چارپائی پر لیٹنا چاہتے ہیں..... اور ذرا سی دیر لیٹنے پر اٹھ بیٹھے اور گفتگو شروع کر دی۔ دوران گفتگو حضور نے گاندھی جی کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سب سے اچھی زبان اردو ہے۔ گاندھی جی نے بھی اس کی تصدیق کی۔ اس کے بعد حضور نے فرمایا دوسرے نمبر پر پنجابی ہے۔ گاندھی جی نے اس پر اظہار تعجب کیا، مگر مان گئے۔ اس کے بعد رویا میں نظارہ بدل گیا اور حضور گاندھی جی کے کہنے پر عورتوں میں تقریر کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔ مگر وہ بہت تھوڑی آئی ہوئی تھیں، اس لیے حضور نے تقریر نہ فرمائی۔

صفحہ 73

اس رویاء کی تعبیر میں حضور نے فرمایا کہ یہ موجودہ فسادات سے متعلق ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہندو مسلم تعلقات اس حد تک نہیں پہنچے کہ صلح نہ ہو سکتی ہو ۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد کوئی بہتر صورت پیدا ہو جائے‘ اس کے بعد ایک دوست نے اپنی دو خوابیں بیان کیں۔ جو موجودہ فسادات کے متعلق تھیں:

سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا جہاں تک میں نے ان پیش گوئیوں پر نظر دوڑائی جو مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس فعل پر جو مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے وابستہ ہے‘ غور کیا ہے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندوستان میں ہمیں دوسری اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہیے اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مشارکت رکھنی چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کی گئی پیش گوئیاں بھی جو ہندوؤں کے متعلق ہیں‘ اسی طرف اشارہ کرتی ہیں (مثلاً جے سنگھ بہادر) مرزا غلام احمد کی جے اور رودر گوپال تیری مہا گیتا میں لکھی ہے) کہ اللہ تعالیٰ ہندو قوم میں بھی ہمیں کامیابی دے گا اور انہیں حلقہ بگوش احمدیت ہونے کی توفیق ملے گی۔ ہندوستان میں تین مذہبی جماعتیں پائی جاتی ہیں اور ساری دنیا میں بھی ان کو بہت بڑی اکثریت حاصل ہے۔ باقی قومیں کل آبادی کا پانچواں چھٹا حصہ ہیں۔ مسلمان اور عیسائی پچاس پچاس کروڑ کے قریب ہیں اور ہندو تیس کروڑ۔ یہ کل ایک ارب تیس کروڑ عظیم ترین اکثریت ہے۔ دنیا کی کل آبادی دو ارب ہے اور باقی ساری قومیں اور مذاہب صرف ستر کروڑ بنتے ہیں۔ ان تینوں قوموں کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خاص طور پر مبعوث فرمایا گیا ہے اور ان تینوں قوموں کو راہ راست پر لانا حضور کا اصل کام ہے۔ مسلمانوں کے لیے حضور کو مہدی مقرر کیا گیا ہے۔ ہندوؤں کے لیے کرشن اور عیسائیوں کے لیے مسیح بن کر آئے ہیں اور یہ صاف بات ہے کہ یہ تینوں قومیں اگر صرف ہندوستان میں احمدیت کو مان لیں تو باقی دنیا کا ماننا کوئی مشکل نہیں۔ ہندوستان بہت وسیع ملک ہے اور اسے احمدی بنانا بہت مشکل کام ہے۔ مگر یہ جتنا مشکل کام ہے‘ اتنے ہی اس کے نتائج شاندار ہیں۔ یہ اتنی مضبوط اور وسیع بیس ہے کہ اس پر جتنی بڑی عمارت بنائی جائے‘ بن سکتی ہے اگر سارا ہندوستان احمدی ہو جائے تو باقی دنیا کو احمدی بنانے کے لیے ایک احمدی کے حصہ میں صرف تین چار آدمی آتے ہیں جنہیں وہ نہایت آسانی سے احمدی بنا سکتا ہے اور کوئی مشکل نہیں‘ حقیقت یہی ہے کہ :

صفحہ 74

”ہندوستان جیسی مضبوط بیس جس قوم کو مل جائے اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی اس مشیت سے کہ اس نے احمدیت کے لیے اتنی وسیع بیس مہیا کی ہے‘ پتہ لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک اسٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔ بے شک یہ بہت مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں تاکہ احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے۔ چنانچہ اس رویا میں اسی طرف اشارہ ہے۔ ممکن ہے عارضی طور پر افتراق ہو (اسی لیے جماعت احمدیہ کا الہامی عقیدہ ہے کہ پاکستان کا وجود عارضی ہے) اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں جدا جدا رہیں۔۔۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔“

(مرتبہ: منیر احمد و نفیس احمدی‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ مورخہ ۱۵ اپریل ۱۹۴۷ء)

اس الہام کی روشنی میں قادیانیوں کے کردار کا ۱۹۴۷ء سے لے کر اب تک کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ انہوں نے اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل کے لیے باؤنڈری کمیشن میں ظفر اللہ کی شرکت سے ہی کام شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ یہ مسلم لیگی وکیل تھا اس لیے اس نے کیس کچھ اس طرح تیار کیا کہ مسلم اکثریتی ضلع گورداسپور کو طشتری میں سجا کر بھارت کو پیش کر دیا۔ جس سے راوی کا پانی اور کشمیر میں داخلے کا راستہ خود بخود انڈیا کو مل گیا۔ ان احمقانہ اور تباہ کن تجاویز کے پیچھے کون سے ہاتھ کار فرما تھے؟ ان کو دیکھنے کے لیے مرزا بشیر الدین محمود کا یہ الہام اور سر ظفر اللہ کی کتاب ”تحدیث نعمت“ میں ان کا یہ انکشاف ملا کر دیکھیے:

”خلیفہ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود نے مسلم لیگ کا کیس تیار کرنے میں گرانقدر مدد فرمائی اور اپنے خرچ پر دفاعی امور کے ماہر پروفیسر سپیٹ کی خدمات انگلستان سے حاصل کی گئیں جو نقشہ جات کی مدد سے تمام دفاعی پہلو سر ظفر اللہ کو سمجھاتا رہا۔“

صفحہ 75

تقسیم ہند کے موقع پر سر ظفر اللہ کے گھناؤنے سازشی کردار کا تجزیہ کرتے ہوئے جناب سلیم الحق صدیقی اپنے مضمون ”تقسیم ہند اور مرزائی“ میں لکھتے ہیں:

”اس سلسلہ میں ایک نظریہ یہ ہے کہ قادیانی اپنے مرکز قادیان کا کسی صورت میں بھی پاکستان میں شامل ہونا پسند نہ کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قادیان ہندوستان میں زیادہ محفوظ رہے گا اور اگر کبھی پاکستان سے انہیں فرار ہونا پڑے تو وہ بھاگ کر اپنے اصل مرکز میں واپس آسکیں۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ قادیان میں مرزائی لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اب بھی موجود ہے۔ قادیان کیونکہ ضلع گورداسپور میں واقع تھا اور یہ ضلع پاکستان کو عارضی تقسیم میں مل گیا تھا۔ لہٰذا مرزا محمود سخت پریشان تھا اور حد بندی کمیشن کے روبرو بحث میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی لینا اور وہاں جاکر گھنٹوں بیٹھے رہنا اس کی بے قراری کو ظاہر کرتا تھا۔ پروفیسر اسمتھ جو غالباً جغرافیہ کا پروفیسر تھا۔ اس سے نقشے بنوا کر دیکھنا صرف ایک ایسے حل کی تلاش تھی جو ضلع گورداسپور کو پاکستان سے نکال دے۔“

موجودہ دور میں بھی قادیانی ۱۹۴۷ء والے الہام کی روشنی میں اپنے مذہبی عقیدے کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان میں ثقافت کے نام پر دین سے بیزاری کا ماحول پیدا کرنا‘ مذہبی منافرت کو عام کرنا‘ لسانی عصبیتوں کو ہوا دے کر پاکستان میں صوبائی تعصب پیدا کرنا‘ ماڈرن ازم اور وسیع النظری کی آڑ میں مذہب کا مذاق اڑانا‘ پاکستان میں فسادات برپا کرنا‘ قادیانی لابی کا نصب العین ہے۔ انہوں نے پاکستان کو کس حد تک تسلیم کیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ انہوں نے آج تک جتنے مردے دفن کیے ہیں۔ سب امانتاً رکھے ہیں تاکہ اکھنڈ بھارت جیسا خوفناک خواب شرمندہ تعبیر ہونے کی صورت میں انہیں قادیان دفن کیا جاسکے اور ان تمام قبروں پر اس قسم کی عبارت کے کتبے آج بھی درج ہیں۔ یہ وصیت گاندھی کے قاتلوں سے ملتی ہے کیونکہ انہوں نے بھی وصیت کی تھی کہ ہماری راکھ کو اکھنڈ بھارت بننے کے بعد دریائے سندھ میں بہایا جائے۔

اس وقت سندھ میں جو فسادات رونما ہو رہے ہیں اور جس طرح خاک و خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ اس میں قادیانی نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی ہر ممکن یہ کوشش ہے کہ خدانخواستہ پاکستان کو نقصان پہنچا کر کسی نہ کسی طرح اکھنڈ ہندوستان کا ناپاک منصوبہ مکمل کیا جائے۔ علامہ اقبال مرحوم نے قادیانیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے پنڈت نہرو کو

صفحہ 76

ایک خط میں لکھا تھا کہ ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں ۔“ اس کے علاوہ اپنے ایک مقالہ میں انہوں نے تحریر کیا تھا کہ ”قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے۔“ لہٰذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام محب وطن حلقے ان غداران دین و وطن کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور حکومت ان کا مکمل محاسبہ کرے تاکہ ان کی ملک دشمن سازشیں کامیاب نہ ہو سکیں ۔“

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“، جون ۱۹۸۸ء)

صفحہ 77

قادیانیوں کے ہاتھوں مسجد کی شہادت

نوکوٹ (منور علی راجپوت:) انگریزوں نے سندھ میں بھی قادیانیوں کو اپنا بنانے کی خاطر تقریباً ۱۸ ہزار ایکڑ جاگیر عطا کی اور اس کا زیادہ تر حصہ سندھ کے ضلع میرپور خاص میں آتا ہے۔ فضل عمر و نفیس نگر کنری کے گرد و نواح میں موجود ہے۔ اسی طرح نوکوٹ کے قریب ایک نصرت آباد فارم ہے۔ اس کے علاقہ دہیہ اکونہ چک نمبر ۴ کے قریب آج سے تقریباً چالیس سال پہلے ایک مسلمان رحیم بخش گجر نے ایک زمین مقاطعہ پر لی اور تقریباً پچیس ۲۵ سال اس زمین کا مقاطعہ دار رہا۔ اس پر اس نے ایک مسجد تعمیر کی اور جب تک وہ اس جگہ رہا مسجد بھی آباد رہی۔ آج سے چار پانچ سال قبل ایک قادیانی اللہ رکھا نے اس زمین کو مقاطعہ پر لے لیا۔ اللہ رکھا قادیانی نے ۲۲ اگست کی شام مغرب سے قبل ٹریکٹر کے ذریعے اس مسجد کو شہید کر دیا اور اس میں موجود قرآن مجید بھی جو اس مسجد میں تھے‘ اس کی بے حرمتی ہوئی اور وہ بھی عمارت کے ملبہ میں دب گئے۔ یہ علاقہ اگرچہ قادیانیوں کا تھا۔ چند چیدہ چیدہ ہاری مسلمان تھے۔ وہ اس بات کو لے کر نوکوٹ آئے۔ نوکوٹ کے سرکردہ مسلمان مقامی انتظامیہ کے نوٹس میں لاتے ہوئے مسجد کی شہادت کا کیس داخل کرانے کے لیے مقامی تھانہ پہنچے‘ تو انتظامیہ نے اس بات کا کوئی نوٹس نہ لیا بلکہ سنی ان سنی کردی۔ اس سے نوکوٹ کے سکول کے طلباء کرام نے پرامن احتجاجی جلوس ۲۲ اگست کو صبح ساڑھے نو بجے کے بعد نکالا‘ جلوس انتہائی پرامن تھا اور اپنے مطالبے کے لیے مٹھی روڈ‘ نوکوٹ کا مشہور روڈ سے گزر رہا تھا۔ اسی روڈ پر قادیانیوں کی عبادت گاہ ہے‘ جلوس جب قادیانی عبادت گاہ سے گزر گیا تو قادیانی عبادت گاہ سے مسلمانوں کے جلوس پر قادیانیوں نے فائرنگ کردی۔ جس سے دو مسلمان شدید زخمی ہوئے۔ اس سے مزید اشتعال پھیلا اور اس

صفحہ 78

سے شہر میں ایک بلوہ ہوا۔ ۴ قادیانی مسلح گرفتار کر لیے گئے۔ مسلمان اس سانحہ کے بارے میں پھر انتظامیہ کے پاس گئے۔ لیکن مقامی انتظامیہ کے ایس ایچ او‘ ڈی ایس پی‘ ڈی ایم نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ہم نے قادیانی گرفتار کر لیے ہیں‘ نوکوٹ کے اس واقعہ کے بعد شہر میں ہڑتال ہو گئی۔ نوکوٹ کے احباب نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا احمد میاں حمادی سے رابطہ کیا۔ مولانا نے وہاں کے دوستوں کو تسلی دی۔ مولانا احمد میاں حمادی‘ مولانا محمد نذر عثمانی‘ مولانا محمد علی صدیقی‘ اور کنری کے احباب موقع پر پہنچے تو جامع مسجد میں ایک اجلاس ہو رہا تھا۔ صبح کو انتظامیہ سے ملاقات ہوئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے جہاں مسجد شہید ہوئی تھی۔ وہاں جانے پر زور دیا۔ لیکن مقامی انتظامیہ اس طرف آنے کو تیار نہیں تھی۔ مجلس کے رہنماؤں کے اصرار پر موقعہ کا مشاہدہ کیا گیا۔ وہاں جانے سے قبل ایک نوجوان میاں داد نے آکر مزید رپورٹ دی‘ کہ یہ مسجد اللہ رکھا قادیانی نے شہید کرائی ہے۔ نبی احمد قادیانی کا ٹریکٹر استعمال ہوا ہے اور نبی احمد قادیانی کا لڑکا نذیر اس ٹریکٹر کو چلا رہا تھا‘ اور اس وقت یہ قادیانی نشے میں تھے جب میں نے قادیانی اللہ رکھا سے کہا کہ تو نے مسجد کیوں شہید کرائی؟ اس میں تو قرآن مجید بھی موجود تھے۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میاں داد نے حلفیہ بیان عالمی مجلس تحفظ نبوت کے لیٹر پیڈ پر لکھ کر دیا۔ اس سلسلہ میں حضرت مولانا احمد میاں حمادی کے حکم پر مولانا محمد علی صدیقی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیس درج کرانے کی خاطر ایک درخواست جمع کرادی۔ اس موقع پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ انتظامیہ اس کیس کو دبانے کے چکر میں ہے۔ حالات جو انتظامیہ بیان کر رہی ہے اس کے برعکس ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ یہ تھا کہ مسجد بوسیدہ تھی لیکن ایسا نہیں تھا۔ مولانا احمد میاں حمادی نے حیدر نامی آدمی سے پوچھا کہ یہ مسجد تو نے گرائی ہے۔ اس نے کہا ہاں‘ میں نے اس کو گرایا ہے۔ پوچھا کس لیے۔ کہنے لگا‘ نئی تعمیر کرنے کے لیے۔ مولانا محمد علی صدیقی نے پوچھا کہ یہ مسجد کتنی پرانی ہے۔ کہنے لگا‘ تقریباً چالیس سال پرانی۔ مولانا حمادی نے پوچھا بے آباد کب سے ہے؟ کہنے لگا چار پانچ سال سے۔ آپ نے پہلے کیوں نہیں گرائی‘ اب کیوں‘ اور پھر آپ اس میں نماز پڑھتے تھے؟ اس نے کہا نہیں‘ پوچھا آپ نے کبھی اس کی صفائی کی‘ پانی کا انتظام کیا‘ کبھی پمپ چلایا‘ اس کا جواب نفی میں تھا۔ پوچھا کہ مسجد تو بڑی تھی چھوٹی کیوں بنائی؟ کہنے لگا۔ رات کو بنائی۔ رات کو کیوں بنائی؟ کہنے لگا۔ ڈی ایس پی

صفحہ 79

صاحب کے حکم پر رات کو ٹریکٹر کی روشنی میں بنائی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے انتظامیہ سے کہا کہ ہماری ابھی تسلی نہیں ہوئی۔ لہٰذا اس حیدر علی کو نوکوٹ لے چلیں‘ وہاں باتیں کریں گے۔ اس پر انتظامیہ خاموش رہی اور اس دوران پولیس افسران خود ایک طرف الگ تھلگ کھڑے رہے جیسے اس واقعہ سے ان کا کوئی تعلق بھی نہ ہو۔ کیونکہ مقامی انتظامیہ قادیانیوں کے سربراہ چوہدری محمود کے کہنے اور کئی لاکھ رشوت لینے کے بعد اس معاملہ کو دبا رہی تھی۔ نوکوٹ پہنچ کر مجلس کے رہنماؤں نے دیکھا کہ مقامی انتظامیہ پوری طرح اس واقعہ میں ملوث ہے۔ لہٰذا ہم میرپور خاص جائیں اور مولانا فیض اللہ صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو لے کر ڈی۔ سی صاحب کو ملیں اور حالات سے آگاہ کریں۔ بعد نماز جمعہ مقامی مسجد سے ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا‘ بعد نماز عصر مولانا فیض اللہ صاحب کی صدارت میں مقامی علمائے کرام کا اجلاس ہوا جس میں مجلس کے رہنماؤں نے تمام حالات سامنے رکھے اور اس کے بعد تمام احباب نے ڈی۔ سی صاحب سے ملاقات کا مشورہ دیا۔ رات کو مولانا فیض اللہ صاحب کی قیادت میں ڈی۔ سی صاحب سے ملاقات ہوئی اور حالات سے آگاہ کیا۔ ڈی۔ سی سید ممتاز شاہ صاحب نے حالات کو غور سے سنا اور ایس ڈی ایم میرپور خاص جناب راشد محمود کو جوڈیشل انکوائری آفیسر مقرر کیا۔ ۲۹ اگست بروز ہفتہ کنری میں مسجد کی شہادت کے سلسلہ میں ایک جلوس نکلا۔ جس کی قیادت حمادی صاحب نے کی اور وہاں پر مجلس کے رہنماؤں کو اطلاع ملی کے نبی سر شہر میں مسلمانوں پر ضلع عمرکوٹ کے ڈی۔ سی نے بلا اشتعال لاٹھی چارج کرائی۔ مجلس کے رہنماؤں نے ۳۰ اگست کو نبی سر جانے کا اعلان کیا۔ رات کنری میں قیام کیا۔ کنری مجلس کے رہنماؤں کو اطلاع ملی کہ تحصیل ڈگری انتظامیہ نے قادیانی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے پر ۱۲ مسلمانوں کے خلاف کیس درج کر لیا ہے اور جو مسلمان زخمی میرپور خاص ہسپتال میں تھے ان کو گرفتار کر رہے ہیں۔ ۳۰ اگست کی صبح یہ حضرات نبی سر ہو کر نوکوٹ پہنچے۔ وہاں کے جماعتی ساتھیوں سے ملاقات ہوئی۔ ۳۱ اگست کو میرپور خاص سے مولانا فیض اللہ صاحب‘ مولانا بشیر احمد اور ڈی ایس پی شیر خان حالات کا جائزہ لینے اور مسلمانوں سے مذاکرات کے لیے نوکوٹ آئے۔ مولانا احمد میاں حمادی‘ مولانا محمد علی صدیقی‘ مولانا نذر عثمانی کے کہنے پر وہاں مسلمان کمشنر صاحب سے ملاقات کے لیے تیار تھے۔ یوں یکم ستمبر کو ایک بیس رکنی وفد کمشنر

صفحہ 80

صاحب سے مولانا فیض اللہ، مولانا احمد میاں حمادی کی قیادت میں ملا۔ جس میں نوکوٹ کے سرکردہ مسلمان موجود تھے۔ کمشنر صاحب نے ڈی۔سی صاحب، ڈی آئی جی اور ایس پی صاحب کو بھی اپنے دفتر میں بلایا، حالات کمشنر صاحب اور دیگر افسران نے سنے تو کمشنر صاحب کو ڈی سی صاحب نے واضح کہہ دیا کہ ہمیں وہاں کی انتظامیہ نے حالات سے بالکل بے خبر رکھا اور کہا کہ حالات پر امن ہیں۔ ہم اس لیے اس طرف نہیں آئے۔ اس کے ساتھ جناب ڈی۔سی صاحب نے فوراً قادیانیوں کے خلاف پرچہ درج کرنے اور مسلمانوں کے خلاف جو کیس درج ہو چکا تھا۔ اس کو واپس لینے کا اعلان کیا اور علاقہ کے ایس ایچ او کو فوری طور پر جھڈو تھانہ سے تبدیل کر کے پرچہ درج کرنے کا حکم دیا۔ رات گئے قادیانیوں کے خلاف ۲۹۵ سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور اس کے ساتھ ۱۴ قادیانی فائرنگ کیس میں گرفتار ہوئے اور مسجد کی شہادت کے سلسلہ میں ایک قادیانی گرفتار ہوا اور باقی قادیانی فی الحال مفرور ہیں، چوہدری محمود، اللہ رکھا اور نبی احمد کی گرفتاری کے سلسلہ میں انتظامیہ پوری کوشش کر رہی ہے۔ ۲ ستمبر کو ریسٹ ہاؤس فضل بھمبھر میں جناب راشد محمود صاحب SDM میرپور خاص نے وہاں کے مسلمانوں کے مسجد کی شہادت اور نوکوٹ کے واقعہ کے بارے میں بیانات ریکارڈ کیے اور ایک بھی قادیانی اس موقع پر کوئی بیان ریکارڈ کرانے نہیں آیا۔ اس موقع پر نصرت خداوندی یہ ہوئی کہ وہ شخص حیدر علی، جو اس مسجد کے خلاف گواہی دے رہا تھا، اس نے آ کر ایس ڈی ایم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا کہ یہ مسجد قادیانیوں نے گرائی ہے اور مجھے مجبور کیا کہ میں اس کیس کو اپنے ذمہ لے کر قادیانیوں کو بچا لوں اور اس کے ساتھ جناب غلام نبی ایس ایچ او صاحب نے موقعہ واردات کا معائنہ کیا تو محراب کی طرف ملبہ سے شہید شدہ قرآن مجید برآمد ہوئے۔ جن کی بے حرمتی ہوئی تھی، جو متعلقہ ڈگری کے مختار کار کی سربراہی میں برآمد کیے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں اور دیگر مسلمانوں کی انتھک محنت رنگ لائی اور اس علاقہ میں نصر آباد فارم جو قادیانیوں کی اسٹیٹ خیال کی جاتی تھی اور پورے سندھ جہاں قادیانیوں کو کوئی خطرہ ہوتا تھا اس چوہدری محمود قادیانی کی پناہ میں آ جاتے تھے۔ آج اس چوہدری محمود کو خود پناہ کی ضرورت ہے۔ مسجد کی شہادت کے سلسلہ میں جو کیس تیار کیا۔ اس کیس کے مدعی جناب حاجی محمد اشرف قائم خانی ہیں۔ اور نوکوٹ فائرنگ اور توہین رسالت کے سلسلہ میں جو کیس

صفحہ 81

درج ہوا۔ اس کے مدعی جناب محمد سرور آرائیں ہیں اور اس کیس کی پیروی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے انتھک مبلغ مولانا محمد علی صدیقی اور مولانا محمد نذر عثمانی کر رہے ہیں جبکہ تمام واقعہ اور کیس کی نگرانی حضرت مولانا احمد میاں حمادی کر رہے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے ۲۵ ستمبر کو نوکوٹ، جھڈو، اور ۲۶ کو کنری اور میرپورخاص میں ختم نبوت کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ تمام جگہوں پر پروگرام انتہائی کامیاب رہے۔

(ماہنامہ ”لولاک“ ملتان۔ نومبر ۱۹۹۸ء)

صفحہ 82

حق دار دیکھتے رہ گئے‘ قادیانی لے اڑے

فاروق عادل

۷ جون ۱۹۹۶ء کو لاہور سے بہاولپور روانہ ہونے والا ایک چارٹرڈ طیارہ رائے ونڈ کے قریب ہنگامی طور پر اترنے پر مجبور ہوا‘ طیارے میں قومی اسمبلی کے رکن اور قائد حزب اختلاف کے بھائی میاں عباس شریف کے علاوہ مسلم لیگ کے چار دیگر رہنما سوار تھے۔ اس حادثہ کی تحقیقات کے لیے کراچی سے سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ایک جماعت فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچی‘ مفصل معائنہ کے بعد اس ٹیم نے جائے حادثے کا ایک عجیب و غریب نکتہ تلاش کر لیا‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ حادثہ جہاز کے ٹینک میں موجود پیٹرول سوکھ جانے کے سبب پیش آیا۔ حادثہ کی وجوہات معلوم کرنے والے حکام نے قرار دیا کہ جہاز کا پائلٹ فیول گیج کے غلط اشاروں کی وجہ سے غلط فہمی کا شکار ہو گیا تھا۔ جس کی بنیادی وجہ وہ شدید گرمی ہے۔ جس کا ان دنوں پنجاب شکار ہے۔ اس تفتیش کے مطابق دس نشستوں والے اس جہاز میں پرواز سے قبل بارہ بجے دن پیٹرول بھرا گیا‘ اس کے بعد وہ چار گھنٹے تک دھوپ میں کھڑا رہا‘ جس کی وجہ سے یہ خرابی پیدا ہوئی۔

جب جہاز نے ملتان کے لیے پرواز شروع کی تو اس وقت گیج یہ ظاہر کر رہا تھا کہ ۳۵ گیلن پیٹرول ٹینک میں موجود ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی‘ جس وقت جہاز نے ہنگامی لینڈنگ کی‘ اس وقت بھی گیج یہ ظاہر کر رہا تھا کہ دو انجن کے اس جہاز میں ہر انجن کے لیے دس دس گیلن پیٹرول موجود ہے۔ حالانکہ ٹینک بالکل خالی تھا۔ اس ٹیم کی تحقیقات کے برعکس پائلٹ کا دعویٰ ہے کہ سول ایوی ایشن کے ماہر کی تحقیقات کے برعکس جہاز میں مزید چار گھنٹے کی پرواز کے لیے پیٹرول موجود تھا۔ مسلم لیگ کے رہنماؤں کی تحقیق بھی جہاز کے

صفحہ 83

پائلٹ کی رائے سے اتفاق کرتی ہے اور وہ اس حادثہ کی وجہ سیاسی قرار دیتے ہیں۔ پائلٹ کی بات درست مان لی جائے تو سی۔اے۔اے کی تحقیقاتی ٹیم کی اہلیت کے بارے میں ایک بڑا سوالیہ نشان نمودار ہوتا ہے۔

طیارہ کے اس حادثہ کی تحقیقات سول ایوی ایشن اتھارٹی کے چیف پائلٹ انوسٹی گیٹر ایئر کموڈور ریٹائرڈ رشید احمد بھٹی نے کیں۔ جن کا تقرر کچھ عرصہ ہی قبل اس منصب پر ہوا ہے ”تکبیر“ نے ان کی تحقیقات سے متعلق ماہرین کی آراء جمع کیں تو معلوم ہوا کہ انہوں نے مسلم لیگی رہنماؤں کے جہاز کے حادثہ سے متعلق جو رائے دی ہے، اگر اسے درست تسلیم کر لیا جائے تو یہ دنیا میں فضائی حادثوں اور کریش لینڈنگ کی ایک نئی مثال ہوگی۔ سول ایوی ایشن میں ہی فضائی حادثات کے امور کے ایک ماہر نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے ”تکبیر“ کو بتایا کہ مذکورہ حادثہ کی تحقیق کے متذکرہ نتائج کسی بھی پائلٹ انوسٹی گیٹر کی نااہلی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا اور نہ ممکن ہے کہ سخت گرمی یا دھوپ کے سبب جہاز کے ٹینک میں پیٹرول سوکھ جائے۔ پیٹرول اس طرح کبھی سوکھتا ہی نہیں، جہاز میں تو پیٹرول کی حفاظت کے لیے کئی انتظامات موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ پیٹرول تو عام گاڑیوں میں بھی نہیں سوکھتا۔ اگر پیٹرول نہ سوکھنے کے اس مفروضہ کو تسلیم کر لیا جائے، جس پر پائلٹ کے بیان کے بعد یقین نہیں آتا ہے تو پھر لازمی طور پر اگلا سوال تحقیقی افسر کی اہلیت کے بارے میں اٹھتا ہے، اس سوال کا جواب ڈھونڈا گیا تو مذکورہ انوسٹی گیٹر کے بارے میں کئی دلچسپ انکشافات ہوئے۔

”تکبیر“ کی معلومات کے مطابق سی۔اے۔اے میں یہ اہم ترین منصب گزشتہ دس برسوں سے خالی رہا ہے تاہم اس عرصہ میں سول ایوی ایشن کے کارپوریٹ منیجر اس خالی منصب کی ذمہ داریاں بھی سنبھالے ہوئے تھے، یکم مارچ ۱۹۹۲ء کے اخبارات میں اس خالی آسامی کو پر کرنے کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک اشتہار جاری کیا۔ اس اشتہار کے جواب میں متعدد افراد کے انٹرویوز ہوئے اور ایک مناسب امیدوار کو اس منصب کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ ان امیدواروں میں موجود چیف پائلٹ انوسٹی گیٹر شامل نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس منصب کے لیے مشتہر کی گئی شرائط پر پورے نہیں اترتے تھے۔ جن میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ مشتہر کردہ اسامی کے خواہش مند امیدوار کی عمر ۴۵

صفحہ 84

برس سے زائد نہ ہو جبکہ ان کی عمر اس سے بہت زیادہ تھی۔ چنانچہ انہیں انٹرویو کے لیے ہی طلب نہیں کیا گیا تھا۔

ان انٹرویوز میں ایک امیدوار کی سلیکشن کے بعد کارروائی روک دی گئی اور منتخب امیدوار کو یہ منصب تفویض نہیں کیا گیا، لیکن ۶ جون ۱۹۹۳ء کو اسی منصب کے لیے دوبارہ انٹرویو دئیے گئے۔ جن میں موجودہ انوسٹی گیٹر رشید احمد بھٹی بھی شریک کرلیے گئے۔ ان انٹرویوز میں مسٹر بھٹی کو فلائٹ سیفٹی کے ایک غیر ملکی ماہر Mr.Royescaife نے مسترد کر دیا، جو انٹرویو پینل میں شامل تھے اور سی۔اے ۔اے کے مشیر تھے، انہوں نے بھٹی صاحب کے انٹرویو چارٹ پر اپنے دستخطوں کے ساتھ واضح طور پر لکھا ”نامنظور“ (Not Recmemded) مسٹر بھٹی نے اپنے انٹرویو میں ۲۶ نمبر حاصل کیے، جبکہ سابقہ انٹرویو میں ٹاپ کرنے والے امیدوار گروپ کیپٹن ریٹائرڈ ظہیر الحسن نے انٹرویو میں ۸۰ نمبر حاصل کیے تھے۔

ملک قاسم کمیٹی نے سول ایوی ایشن کے بعض دوسرے معاملات کے ساتھ اس معاملہ کی تفتیش کی تو سول ایوی ایشن کے سابق قائم مقام ڈائریکٹر ایڈمن اور جنرل منیجر ٹریننگ ایئر کموڈور ریٹائرڈ عبد الرشید ساجد نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا کہ ”میں نے چیف پائلٹ آفیسر کے منصب پر منتخب امیدواروں کی تقرری کے لیے متعلقہ فائلیں تین مرتبہ (سابق) ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن انور محمود کو پیش کیں، لیکن انہوں نے ہر بار تاخیری حربوں سے کام لیا، اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ میں نے بار بار یہ فائلیں ان تک اس لیے پہنچائیں کہ میں بھی کامیاب امیدواروں میں سے ایک تھا۔

”بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ایئر کموڈور ریٹائرڈ رشید احمد بھٹی کو منتخب کرنے کے لیے سلیکشن بورڈ میں تبدیلی کر کے اس کا اجلاس طلب کر لیا گیا، بھٹی کے انتخاب پر اس سے پہلے کی نامکمل شرائط کی وجہ سے غور نہیں کیا گیا تھا۔ رشید بھٹی کے تقرر کو جواز فراہم کرنے اور مقابلے پر موجود دوسرے امیدواروں کو بے اثر بنانے کے لیے ان کی تقرری میں بڑی چالاکی سے منصب اور تنخواہ کے گروپ کو تبدیل کر دیا گیا تاکہ ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن ان کے تقرر کرنے والی اتھارٹی رہیں۔ لیکن اس (چالاکی) کے باوجود صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، کیونکہ رشید بھٹی کے تقرر کے بعد ان کو چیف پائلٹ انوسٹی گیٹر کی

صفحہ 85

ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ حالانکہ اس منصب پر تقرر کرنے والی اتھارٹی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے بورڈ کے سربراہ اور سیکرٹری دفاع ہیں۔ (سی۔اے۔اے کے چیئرمین نہیں) حال ہی میں اس شخص کو انسپکٹوریٹ ڈویژن میں قائم مقام چیف انسپکٹر اور صدر سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (انور محمود) کی انتظامی بدعنوانی، بدنیتی اور جانبداری کا کھلا ثبوت ہے جو انہوں نے حق دار امیدواروں کو جو چیف پائلٹ انوسٹی گیٹر کے منصب کے لیے درکار تجربہ رکھتے ہیں، نظر انداز کر کے دیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (ایسا کر کے) سول ایوی ایشن کے حفاظتی معیارات پر کمپرومائز کر رہے ہیں جو ان کی بنیادی ذمہ داری ہے، یعنی سول ایئر لائنز لائنوں کے ذریعے فضائی سفر کرنے والے مسافر کی حفاظت۔

ایئر کموڈور ریٹائرڈ رشید احمد بھٹی جو اس منصب کے لیے ضروری اہلیت نہیں رکھتے اور اس لیے وہ پہلی مرتبہ انٹرویو میں طلب نہیں کیے گئے اور دوسری مرتبہ انہیں واضح طور پر مسترد کر دیا گیا۔ اس پر مستزاد ان کی نااہلی، جس کا ثبوت حال ہی میں حزب اختلاف کے قائد کے بھائی کے طیارے کے حادثہ کے سلسلے میں تحقیقات کر کے انہوں نے دیا۔ ایسی کون سی اہلیت رکھتے ہیں۔ جس کے باعث ان کا تقرر کیا گیا۔ اس کا جواب تو یہ ملتا ہے کہ ان کی قرابت داری بانی سلسلہ احمدیہ یعنی فتنہ قادیانیت کے پیشوا و امام غلام احمد قادیانی سے جا ملتی ہے۔

قادیانیوں کے سابق خلیفہ مرزا ناصر احمد ان کے ماموں ہوتے ہیں، اگر محض ایسی اہلیت کی بنیاد پر حساس مناصب پر تقرر ہوتے رہے تو پھر طیاروں میں پیٹرول خشک ہوتے رہیں گے۔ اینٹی کرپشن کمیٹی کی سفارش پر سی۔اے۔اے کے ڈائریکٹر جنرل انور محمود کے خلاف کارروائی کر کے انہیں برخواست کیا جاچکا ہے۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ موجودہ ڈائریکٹر جنرل سابقہ ڈی۔جی کے فیصلوں اور ان کی لابی کے اہم افراد کے تقرر کو بھی برقرار رکھیں۔ جن کا تقرر بھی خلاف قاعدہ کیا گیا ہے اور جن کی اہلیت اور ملک کے ساتھ وفاداری بھی ان کے عقائد کی وجہ سے مشکوک ہے۔

(ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی، ۷ جولائی ۱۹۹۶ء)

صفحہ 86

جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں مسلمانوں

کے خلاف مرزائیوں کے مقدمہ کی روداد

انٹرویو : سعود ساحر (نمائندہ جسارت)

سید ریاض الحسن گیلانی بیان کرتے ہیں : جنوبی افریقہ کے مرزائیوں نے وہاں کی سپریم کورٹ میں جو مقدمہ دائر کیا تھا، ”احمدیہ انجمن اشاعت اسلام“ ان میں مدعی تھی۔ مقدمہ میں تین نکات کو بنیاد بنایا گیا۔

غلام احمد کے پیروکار ہونے کی وجہ سے کافر کہتے ہیں۔ اس سے ہمارے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ہتک عزت ہوتی ہے۔ ہمیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھنے کے لیے مسلمانوں کے پاس کوئی معقول وجہ نہیں۔ عام قانون (کامن لاء) اور عدالتی نظام کے تحت کئی دفعہ یہ بات عدالتوں میں گئی۔ ہمارا اسلام زیر بحث آیا، عدالتوں نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا۔ ان فیصلوں کو غیر مؤثر قرار دینے کے لیے ہمیں کافر کہہ کر ہماری ہتک کرتے ہیں۔ ایک تو اس کا ہرجانہ دلوایا جائے۔ دوسرے انہیں مستقل طور پر منع کیا جائے کہ اپنی تقریر یا تحریر میں ہمیں کافر نہ کہیں۔

عبادت گاہ کا نام ہے۔ ہر مسلمان کا حق ہے کہ مسجد میں نماز پڑھے۔ کوئی شخص کسی مسلمان کو

صفحہ 87

مسجد میں نماز پڑھنے سے نہیں روک سکتا۔ ہم بھی مسلمان ہیں یہاں کے سنی مسلمان کو پابند کیا جائے کہ ہمیں مسجد میں نماز ادا کرنے سے نہ روکیں۔

کرنے سے روکتے ہیں۔ انہیں مستقل طور پر پابند کیا جائے کہ ہمیں مسلمانوں کے لیے مخصوص قبرستانوں میں اپنے مردے دفن کرنے سے نہ روکیں۔

مرزائیوں نے وہاں کی اسلامی تنظیموں کے سربراہ و مسلم علماء کی عظیم تنظیم جس کا نام جوڈیشل کونسل ہے‘ مختلف مساجد کے امام صاحبان‘ مسلم قبرستان کے نگران سمیت کل نو افراد کو فریق بنایا۔ مرزائیوں نے عارضی حکم امتناعی مانگا۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے عارضی حکم امتناعی جاری کر دیا۔

جنوبی افریقہ کی مسلم تنظیموں نے رابطہ عالم اسلامی اور مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان سے رابطہ قائم کیا اور اس دوران مرزائیوں کے دعویٰ کا جواب داخل کر دیا۔ رابطہ عالم اسلامی اور مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے لبیک کہتے ہوئے مشترکہ وفد تشکیل دیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے تین وکلاء اور تین علماء تھے۔ وکلاء میں میرے علاوہ سابق اٹارنی جنرل پاکستان حاجی شیخ غیاث محمد‘ انوار احمد قادری ایڈووکیٹ شامل تھے۔ علماء میں ملتان کے مولانا عبد الرحیم اشعر (یہ فیصل آباد والے عبد الرحیم اشرف نہیں ہیں) فیصل آباد کے مفتی زین العابدین اور سپریم کورٹ شریعت اپیلانٹ بینچ کے جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی تھے۔ رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے مولانا ظفر احمد انصاری اور جسٹس ریٹائرڈ محمد افضل چیمہ تھے۔ پروفیسر خورشید احمد کو لندن سے جنوبی افریقہ پہنچ کر وفد میں شامل ہونا تھا۔

۵ ستمبر کو نماز مغرب کے بعد ہم کراچی سے نیروبی (کینیا) روانہ ہوئے۔ نیروبی سے ہم نے جنوبی افریقہ کے مسلمانوں سے فون پر رابطہ قائم کیا۔ مفتی زین العابدین‘ جناب جسٹس محمد تقی عثمانی تبلیغ کے لیے پہلے بھی جنوبی افریقہ جاتے رہے ہیں، وہاں کے مسلمانوں سے ان کے ذاتی مراسم ہیں۔ ان سے ہمارا رابطہ ہوا تو انہیں بے حد مسرت ہوئی اور اپنی وزارت داخلہ سے دو گھنٹے کے اندر ہمارے لیے اجازت نامہ حاصل کیا۔

نیروبی کے مسلمانوں کو جب معلوم ہوا کہ غلامان محمدؐ کا وفد جنوبی افریقہ میں تحفظ ختم نبوت کے پروانوں کی قانونی امداد کے لیے آیا ہے تو انہوں نے دیدہ و دل فرش راہ کیے۔

صفحہ 88

اس موضوع پر کھل کر باتیں ہوئیں۔ علاوہ ازیں معلوم ہوا کہ نیروبی میں مسلمانوں کی حالت بڑی مخدوش ہے۔ ہمارے جانے سے ایک ہفتہ پہلے وہاں کی حکومت کی گرفت ذرا ڈھیلی پڑی تو حبشی النسل لوگوں نے ایشیائیوں کو بری طرح لوٹا۔ ان کے کاروباری مراکز پر حملے کیے۔ عورتوں سے غیر انسانی سلوک کیا، مسلمان اس پر سہمے ہوئے تھے۔

نیروبی سے ہم جوہانسبرگ پہنچے۔ مسلمانوں نے بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا۔ وہاں واٹر وال، اعلیٰ پائے کی دینی درس گاہ ہے۔ شاندار لائبریری مفید کتابوں سے بھری ہوئی ہے۔ مسلمان بچوں کو یہاں دینی تعلیم دی جاتی ہے۔ اسی دارالعلوم کے بورڈنگ ہاؤس میں ہمارے قیام کا اہتمام ہوا۔ مقامی وکلاء سے ملاقات ہوئی۔ ہمیں مقامی قانون، ضابطے اور مقدمے کے بارے میں پوری معلومات حاصل کرنے میں بڑی مدد ملی۔ مقدمہ سپریم کورٹ کیپ ٹاؤن میں زیر سماعت تھا۔ تاریخ سماعت ۹ ستمبر تھی۔ ہم وہاں ۷ ستمبر کو پہنچ گئے۔ کیپ ٹاؤن کے مسلمانوں نے ایئرپورٹ پر ہمارا شاندار استقبال کیا۔ مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ سب سے پہلے ان وکلاء سے ملاقات ہوئی جو مرزائیوں کے دعویٰ کا جواب دائر کر چکے تھے۔ یہ وکیل مسلمان تھے۔ وکلاء کی ٹیم مقدمہ کی تیاری میں مصروف ہو گئی۔ ہم نے جن خطوط پر کیس چلانے کی تجاویز دیں، مسلمانوں کے مقامی وکیل جناب اسماعیل محمد ایڈووکیٹ نے وہ تجاویز پسند اور منظور کیں۔ طے کیا گیا کہ تحریری بحث تیار کر کے عدالت میں پیش کر دی جائے۔ اس کی روشنی میں وضاحت طلب باتیں عدالت میں کی جائیں۔ یہ بھی طے ہوا کہ تحریری بحث کی روشنی میں بحث مقامی وکیل ہی کریں گے۔ یہ ۸ ستمبر کا دن تھا۔ اسی شام لندن سے پروفیسر خورشید احمد بھی پہنچ گئے۔

اگلی صبح ہم عدالت میں پہنچے تو کمرۂ عدالت کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سامعین کی تعداد کے پیش نظر سماعت بڑے کورٹ روم میں ہو رہی تھی۔ سپریم کورٹ کے سنگل جج نے سماعت کی جو جسٹس ہیفر (Heever) پر مشتمل تھی۔ جنوبی افریقہ کا عدالتی نظام اور طریقہ ہم سے ملتا جلتا ہے۔ کارروائی انگریزی زبان میں ہوئی۔ ہمارے لیے ماحول اجنبی نہیں تھا۔

جنوبی افریقہ میں عدلیہ کی تنظیم اس صورت میں ہے کہ پورے ملک کی اعلیٰ عدالت کا نام سپریم کورٹ ہے۔ یہ ملک چار صوبوں پر مشتمل ہے۔ جن کے نام یہ ہیں: (۱) ٹرانسوال (۲) آرنج فری سٹیٹ (۳) نیٹال (۴) کیپ ٹاؤن۔

صفحہ 89

ہر صوبہ میں سپریم کورٹ کی ایک بنچ ہے۔ ہمارا کیس کیپ ٹاؤن میں تھا۔ پارلیمنٹ کیپ ٹاؤن میں ہے۔ انتظامیہ کے سربراہ پری ٹوریا میں بیٹھتے ہیں جو صوبہ ٹرانسوال کا ایک شہر ہے۔ سپریم کورٹ کا اپیل بنچ آرنج فری سٹیٹ میں واقع ہے۔

قادیانیوں کی طرف سے مشہور اور ممتاز سینئر وکلاء کی ایک ٹیم تھی۔ یہ تمام وکلاء یہودی تھے۔ ان کی معاونت قادیانی کر رہے تھے۔ یہودی وکلاء کی ٹیم کے قائد سپریم کورٹ کے ایک سابق جج مسٹر بیگ تھے اور وہی مقدمہ کے بڑے وکیل (لیڈنگ ایڈووکیٹ) تھے۔ ہم دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہودی اس مقدمہ میں مرزائیوں سے بھی زیادہ سرگرم تھے۔ وہ اپنی سرگرمیوں اور تائید و معاونت کے حوالے سے اسے اپنا مقدمہ سمجھے ہوئے تھے۔ جنوبی افریقہ بڑا امیر ملک ہے۔ ہیرے، جواہرات، لوہے اور کوئلے کی کانیں نجی ملکیت ہیں اور تمام مالکان یہودی ہیں۔ وہاں کا پریس بھی یہودیوں کے قبضہ میں ہے۔ یہودی اثر و رسوخ کی وجہ سے اخبارات میں مقدمہ کی رپورٹنگ کا جھکاؤ قادیانیوں کے حق میں تھا اور اخبارات قادیانیوں کے بارے میں حقائق کو مسخ کر رہے تھے۔ کورٹ روم میں باقاعدہ پریس گیلری تھی۔ وہاں بڑی دلچسپ صورت حال دیکھنے میں آئی۔ اخبار نویسوں کے ساتھ ایشین نژاد نوجوان قادیانی لڑکیاں میک اپ سے لدی پھندی اور خوشبو سے مہکی لہکی بیٹھی تھیں۔

مسٹر بیگ نے بحث کا آغاز کیا۔ عدالت کا وقت ختم ہونے میں نصف گھنٹہ باقی تھا کہ اس کی بحث ختم ہوئی۔ مسلمانوں کے وکیل جناب اسماعیل محمد نے اپنی تحریری بحث دائر کر کے جوابی بحث کا خاکہ بتایا۔ ساتھ ہی ہمارا تعارف کرایا کہ پاکستان سے ماہر وکلاء اور جید علماء کی ٹیم پیروی کے لیے آئی ہے۔

مسلمانوں کی تحریری بحث کے اہم نکات یہ تھے:

نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ اس کے آخری نبی ہونے پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ جس طرح سچے عیسائی حضرت عیسیٰؑ کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ ان کو آخری نبی بھی مانتے ہیں اور جو عیسائی نبی اکرم حضرت محمدؐ پر ایمان لے آئے تو وہ عیسائیت سے خارج ہو کر

صفحہ 90

حضرت محمد کی امت میں شامل ہو جاتا ہے۔ جو عیسائی حضرت عیسیٰ کو آخری نبی مانتا ہے‘ عیسائی رہتا ہے۔ اسی طرح حضرت محمد کی امت میں شامل ہونے کے لیے بھی دو ہی امور لازمی ہیں۔

جو شخص آپ کی نبوت کے بعد کسی اور پر ایمان لائے‘ وہ امت مسلمہ سے خارج ہو جائے گا۔ یہ وہ اصول ہے جس کو کسی بھی صورت میں کوئی معقول آدمی جھٹلا نہیں سکتا۔

سیدھے الفاظ میں اس نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے ”اس پر وحی کی بارش ہوتی ہے‘ اس پر ایمان لانا واجب ہے‘ اور جو شخص اس پر ایمان نہیں لاتا‘ وہ کافر ہے اور اس کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھنی چاہیے ۔ لہٰذا خود مرزا غلام احمد کے اپنے موقف کے مطابق مرزائی‘ مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ وہ خود مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اسلام کا مسلمہ حکم‘ اصول اور فرمان ہے کہ جو کوئی کسی مسلمان کو کافر قرار دے‘ وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔

قرار دینے والے ”کافر“ ہیں۔ دونوں گروپوں کے سربراہوں خصوصاً لاہوری گروپ کے سربراہ مولوی محمد علی کی کتاب ”رد تکفیر اہل قبلہ“ میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ غلام احمد کو کافر قرار دینے والے یقیناً ”کافر“ ہیں۔ مسلمان مرزا غلام احمد کو مدعی نبوت اور کافر قرار دینے میں متفق ہیں۔ اس لیے مرزائیوں کے دونوں نقطہ ہائے نظر سے مسلمان ”کافر“ ہیں۔ اس طرح بھی مرزائیوں کے اپنے موقف کے مطابق وہ مسلمانوں سے الگ گروہ ہیں۔

صورت حال بدل دی جائے۔ اس عدالت سے انہوں نے جو حکم امتناعی حاصل کیا‘ اس سے صورت حال جوں کی توں رہنے کی بجائے بالکل تبدیل ہو جاتی ہے۔ مسلمان ایک صدی سے مرزائیوں کو کافر قرار دیتے آئے ہیں۔ مسلمانوں نے انہیں کبھی بھی مسجدوں میں داخل

صفحہ 91

نہیں ہونے دیا۔ اپنے قبرستانوں میں مرزائیوں کو مردے دفن کرنے کی اجازت نہیں دی۔ لہٰذا اس مقدمہ میں حکم امتناعی حاصل کرتے وقت انہوں نے عدالت کے سامنے صحیح صورت حال پیش نہیں کی ورنہ فاضل عدالت سے حکم امتناعی حاصل نہ کر سکتے۔

گزار کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ جرمانے اور ہرجانے کی صورت میں اس کی تلافی نہیں کی جاسکے گی۔ یہاں پر اگر ان کو مسجد میں نماز نہ پڑھنے دی جائے تو یہ مسجد سے باہر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کے لیے مخصوص قبرستان میں مردے دفن کرنے کی اجازت نہ دی جائے تو یہ کہیں اور دفن کر سکتے ہیں۔ ان کے خرچ میں تھوڑا فرق پڑے گا۔ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی صورت میں ساٹھ رینڈ مساوی ایک ڈالر اور حکومت کی اجازت سے کسی اور جگہ دفن کرنے کی صورت میں ۲۴۰ رینڈ خرچ کرنا پڑیں گے۔ ظاہر ہے یہ ناقابل تلافی نقصان نہیں ہے۔

احمد نے انبیائے کرام بالخصوص حضرت عیسیٰ کی شان میں بڑی دیدہ دلیری سے گستاخیاں کی ہیں۔ جو شخص جناب رسول مقبولؐ یا کسی اور نبی کی توہین کا مرتکب ہو‘ وہ ہرگز مسلمان نہیں ہے۔

ابتدائی عذر کے طور پر سابق اٹارنی جنرل حاجی شیخ غیاث محمد نے یہ نکتہ اٹھایا کہ یہ مقدمہ ایک انجمن کی طرف سے دائر کیا گیا ہے۔ جبکہ مقدمہ کی نوعیت صرف اسی صورت میں از روئے قانون چلنے کے قابل ہو سکتی ہے کہ مخصوص افراد کی طرف سے دائر کیا جاتا۔ چونکہ یہ ایک انجمن کی طرف سے دائر کیا گیا ہے‘ لہٰذا صرف اسی بنیاد پر ہی خارج کر دیے جانے کے قابل ہے۔ جب ہم عدالت میں پہنچے تو یہ بات ہمارے علم میں آئی کہ مرزائیوں کے یہودی وکیل اپنے دعویٰ میں اسی نوعیت کی ترمیم پیش کر چکے ہیں۔

بحث کے دوران جب مرزائیوں کے جواب کی باری آئی تو مرزائیوں کا وکیل جو کہ یہودی ہی تھا‘ اس نے ہماری تحریری بحث کی روشنی میں فاضل عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دینے کی بے حد کوشش کی مگر ایک بھی تسلی بخش جواب سامنے نہ آسکا۔ اس نے جب یہ کہا کہ میرے موکل مرزائیوں کے لاہوری گروہ سے تعلق رکھتے ہیں

صفحہ 92

جو مرزا کو نبی نہیں سمجھتے بلکہ مصلح (Reformer) مانتے ہیں اور یوں ختم نبوت کے منکر نہیں تو فاضل جج نے کہا کہ مرزا غلام احمد موجودہ دور کا آدمی ہے۔ اس کی اپنی کتابیں موجود ہیں۔ جن میں اس نے صراحت کے ساتھ سب کچھ لکھ دیا ہے۔ تو اگر لاہوری مرزائی مرزا کے دعویٰ نبوت کو نہیں مانتے تو وہ اس کے پیرو کار نہیں ہو سکتے۔

وکلاء کی بحث ختم ہوتے ہی فاضل عدالت نے قرار دیا کہ تفصیلات بعد میں لکھی جائیں گی۔ فیصلہ ابھی سنایا جاتا ہے کہ یہ عدالت قادیانیوں کا مقدمہ بمعہ خرچہ خارج کرتی ہے۔ قادیانیوں نے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے سامنے اپیل کی اجازت مانگی۔ ساتھ ہی مزید حکم امتناعی مانگا۔ عدالت نے حکم امتناعی کی درخواست مسترد کر دی۔ کمرہٴ عدالت نعرہٴ تکبیر‘ اللہ اکبر ‘ نعرہ رسالت یا رسول اللہ کے کفر شکن شور سے گونج اٹھا۔ مسلمان ہمارے ساتھ باہر آئے اور اجتماعی دعا کی گئی۔

اسی دوران کچھ غیر معمولی باتیں سننے دیکھنے میں آتی رہیں۔ مثلاً یہ کہ عدالت کا آغاز ہوا تو ہمیں کمرہ عدالت میں دیکھ کر مرزائی غصہ سے بھر گئے۔ اس سے پہلی شام کو ہمارے میزبانوں کو انتہائی باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی کہ ہم (علماء اور وکلاء کے وفد) پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ بن چکا ہے۔ مسلمانوں کی طرف سے بحث کے آغاز سے پیشتر ہی اس منصوبے پر عمل درآمد کا امکان ہے۔ ہم نے اس کا مطلب یہی سمجھا کہ یہ ہمیں خوف زدہ کرنے کی چال ہے تاکہ مسلمان مقدمہ کی مناسب اور موثر پیروی سے باز آ جائیں۔ مسلمانوں نے ہماری رہائش گاہ، کمرہٴ عدالت اور اس کے باہر ہمارے لیے انتہائی منظم حفاظتی انتظامات کیے۔

ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزائی لیڈر چودھری ظفر اللہ خاں مسلمانوں کے خلاف اپنے وکلاء کو قانونی مشورے اور ہدایات دینے کے لیے کیپ ٹاؤن پہنچ گئے ہیں۔ مرزائیوں کے یہودی وکلاء جس مقام پر اپنے مقدمے کی تیاری کرتے رہے ‘ ظفر اللہ نے وہیں قیام کیا۔ ہمیں وہ کمرہٴ عدالت میں نظر نہیں آئے۔

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ قادیانیوں نے جنوبی افریقہ ہی کی عدالت میں اس ڈرامہ کا اسٹیج کیوں سجایا تو عرض یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ قادیانیوں اور یہودیوں کا گٹھ جوڑ اور مفاہمت جنوبی افریقہ میں نقطہ عروج پر ہے۔ یک جان دو قالب کی سی صورت ہے۔ ملک کے تمام وسائل یہودیوں کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بنے ہوئے

صفحہ 93

ہیں اور حکومت کی نسل پرستانہ پالیسی کی وجہ سے مہذب دنیا کے بڑے حصہ نے جنوبی افریقہ سے تعلقات منقطع کر رکھے ہیں۔ خاص طور پر مسلم دنیا کی پہنچ سے یہ ملک باہر ہے۔ مرزائیوں کا گمان تھا کہ کیپ ٹاؤن کے مسلمان ایشیائی نسل سے تعلق نہ رکھنے کی وجہ سے مرزائیت کے پس منظر اور کافرانہ اصلیت سے کماحقہ آگاہ نہیں ہیں۔ اس لیے وہ مقدمہ میں نہ تو زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کریں گے اور نہ ہی موثر پیروی کر سکیں گے۔ ٹرانسوال اور نیٹال میں کہیں کہیں ہندو پاک سے تعلق رکھنے والے مسلمان مل جاتے ہیں۔ اس لیے یہاں مقدمہ دائر نہ کیا گیا۔ کیپ ٹاؤن، جوہانسبرگ سے ایک ہزار میل دور ہے۔ مرزائیوں کے خیال میں باہر سے اور خصوصاً پاکستان سے وہاں کوئی قانونی اور نظریاتی امداد کی کمک نہیں پہنچ سکتی تھی اور وہاں یہودی اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھا کر یہ مقدمہ جیت لیا جائے گا۔ اس طرح پاکستان میں غیر مسلم قرار دیے جانے کے عدیم المثال فیصلے کے مقابلہ میں جنوبی افریقہ کی اعلیٰ عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ لے لیں گے اور اسے دنیا بھر میں پبلسٹی کے لیے استعمال کریں گے۔

وہاں یہ دیکھ کر بے حد مسرت ہوئی اور مسلمانوں کا ایمان دیکھ کر ہم گناہگاروں کو جینے کا حوصلہ ملتا ہے اور طبیعت خوش ہو جاتی ہے۔ اہل ثروت مسلمان خدا اور اس کے رسولؐ کی راہ میں روپیہ پانی کی طرح بہاتے ہیں۔ انفاق فی سبیل اللہ کی سچی تصویر ہیں۔ بڑی اسلامی درس گاہیں چلانے، دارالعلوم قائم کرنے، مساجد تعمیر کرنے اور انہیں آباد رکھنے میں بے حد فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پکے نمازی ہیں۔ اسلامی معلومات اور ضروری دینی تعلیم و شعور سے بہرہ ور ہیں۔ گھروں کا ماحول اسلامی ہے۔ اس دور میں ان رویوں اور جذبوں پر ہم نے خوشگوار حیرت و مسرت کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیاں ہر وقت ہمارے سامنے رہتی ہیں جو انہوں نے یہاں اسلام کو زندہ رکھنے کے لیے دی ہیں۔

ابتداء میں اس علاقے میں ولندیزیوں کی حکومت تھی۔ مسلمان ملائیشیا میں اعلان جہاد کر کے کفر کا تسلط ختم کرنا چاہتے تھے۔ ولندیزی انہیں گرفتار کر کے کیپ ٹاؤن لے آتے اور انہیں غلام بنا لیا جاتا۔ انہیں نہ مسجد بنانے کی اجازت تھی نہ نماز پڑھنے کی۔ مگر اسلام کے ساتھ ان کا رشتہ اس قدر مضبوط تھا کہ وہ چوری چھپے قریبی غاروں میں جا کر نماز پڑھتے

صفحہ 94

تھے۔ وقت گزرتا رہا اور انگریزوں اور ولندیزیوں میں جنگ چھڑ گئی۔ انگریزوں نے مسلمانوں سے تعاون کی درخواست کی۔ مسلمانوں نے اس شرط پر انگریزوں کا ساتھ دینے کا معاہدہ کیا کہ انگریزوں کی کامیابی کی صورت میں مسلمانوں کو کیپ ٹاؤن میں ایک مسجد تعمیر کرنے کی اجازت ہو گی۔ اعلانیہ نماز پڑھنے میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے گی۔ انگریز رضامند ہو گئے۔ اس جنگ میں انگریز کامیاب ہوئے تو مسلمانوں نے کیپ ٹاؤن میں مسجد تعمیر کی۔ وہ مسجد تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ اسی صورت میں موجود ہے۔ جسٹس مولانا تقی عثمانی اور میں نے وہاں عشاء کی نماز ادا کی۔ اس مسجد کے امام صاحب ابتدائی امام کی اولاد میں سے ہیں۔ وہاں کے مسلمان صدق دل سے سمجھتے ہیں کہ اگر اسلام کی قدرشناسی میں ذرا سی کوتاہی ہوئی تو یہ رویہ اپنے آباء واجداد کی قربانیوں پر پانی پھیر دینے اور غدار کہلوانے کے مترادف ہو گا۔

سید ریاض الحسن گیلانی رواں اور مربوط انداز میں کیپ ٹاؤن کی روداد سنا رہے تھے۔ ٹیپ ریکارڈر ان کی گفتگو محفوظ کرتا چلا جا رہا تھا اور میرے ذہن میں ماضی کے دریچے کھلتے جارہے تھے۔ سینکڑوں دیکھے اور ان دیکھے منور اور نورانی چہرے ذہن کی اسکرین پر ابھرتے، آوازوں کا ملا جلا شور تھا۔ یہ وہ چہرے اور آوازیں تھیں جنہوں نے برصغیر میں اسلام کے خلاف ہر سازش کے خلاف اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔ یہ وہ صاحبان آواز و قلم تھے جن کی تقریر و تحریر نے ابتداء ہی میں جھوٹی نبوت کے تبلیغی سوتے خشک کر دیے تھے اور اسٹیٹ پاور کے بل بوتے پر قادیانیوں کی جانب سے کی جانے والی سازشوں کے خلاف زندگی کے آخری لمحے تک سینہ سپر رہے تھے۔ میں عالم تصور ہی میں تھا کہ شاہ صاحب کی آواز نے مجھے چونکا دیا جو کہہ رہے تھے ”تو جناب یہ سب اللہ کی مہربانی تھی کہ جھوٹ ایک بار پھر شکست کھا گیا“۔

(بہ شکریہ روزنامہ ”جسارت“ کراچی، ۲۷ اکتوبر ۱۹۸۲ء)

صفحہ 95

قادیانی افسروں پر بے جا نوازشات کیوں؟

انتہائی باوثوق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ بات وزیراعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف اور دیگر متعلقہ اداروں کے علم میں لائی جارہی ہے کہ صوبہ پنجاب میں قادیانی افسران پر کیونکر نوازشات کی جا رہی ہیں۔ یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اس معاملے کے بعض پہلو یقیناً ایسے ہیں جن کا خود وزیراعلیٰ پنجاب بھی سخت نوٹس لینے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ انہیں حقائق سے باخبر رکھنے کی ذمہ داری درست طریقے سے نہیں نبھائی جا رہی ہے۔ اطلاعات مظہر ہیں کہ قادیانی مذہب کے پیروکاروں کا یہ معروف طریقہ کار ہے کہ وہ جارحانہ تبلیغ کے ذریعے اپنے مذہب کو پھیلانے اور مسلم معاشرت کو شکست و ریخت کا شکار بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں ان کی متعصبانہ جتھہ بندی بھی اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔

۱۹۷۴ء میں جب ایک تاریخ ساز تحریک کے نتیجے میں قادیانیوں کو آئینی طور پر ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا تو اس کے بعد سے اس گروہ کے افراد پاکستان‘ قائد اعظم اور صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے بارے میں جو زبان نجی محفلوں میں استعمال کرتے ہیں‘ وہ ایک غیرت مند مسلمان اور محب وطن پاکستانی کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے طریقہ واردات کو اور زیادہ پر فریب بنا دیا ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ان پر کڑی نظر رکھی جائے۔

محکمہ امداد باہمی پنجاب میں ڈپٹی رجسٹرار کوآپریٹوز ایک اہم اور کلیدی پوسٹ کہی جا سکتی ہے۔ یہ گریڈ نمبر ۱۸ کی پوسٹ ہے اور ایسی کل ۱۶ اسامیاں ہیں۔ ان میں سے ۸

صفحہ 96

ڈویژنل سطح پر ہیں یعنی ہر ڈویژن میں‘ رجسٹرار کوآپریٹوز پنجاب کے دفتر میں‘ اور ایک ایک کوآپریٹوز ٹریننگ کالج فیصل آباد‘ پاک جرمن انسٹی ٹیوٹ آف کوآپریٹوز ایگری کلچرل‘ فیض آباد ملتان اور سول سیکرٹریٹ پنجاب لاہور میں ہے۔ ان ۱۶ میں سے ۲ اسامیوں پر قادیانی افسر فائز ہیں۔ جون ۷۸ء تک ان کی تعداد تین تھی لیکن ایک قادیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ تعداد ۲ رہ گئی ہے۔ جو کل آبادی کے تناسب سے کئی گنا زیادہ ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس محکمہ میں قادیانیوں پر بہت نوازشیں ہوتی ہیں اور انہیں عملاً مسلمان افسروں پر بالا دستی حاصل ہے۔ ان کے تبادلے ان کی مرضی سے ہوتے ہیں۔ انہیں ہر قسم کی رعایات ملتی ہیں اور جو مسلمان افسران کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہوتا‘ اسے دور دراز مقامات پر بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کی وجوہ حسب ذیل ہیں:

سفارش کرتا ہے جو روادار اعلیٰ افسر کبھی مسترد نہیں کرتے۔

انہیں بڑے بڑے لوگوں اور افسروں سے روابط بڑھانے کا موقع ملے۔

کے اس پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں۔ خدمات‘ خوشامد‘ عیش و عشرت اور روپیہ پیسہ غرض ہر چیز فراہم کرنے پر آمادہ ہیں۔ یوں یہ افسران اعلیٰ کو اپنی مٹھی میں لے کر اپنا کھیل کھیلتے رہتے ہیں۔

ذیل میں محکمہ امداد باہمی پنجاب میں قادیانی افسروں پر کی جانے والی نوازشوں کی ایک ہلکی سی جھلک پیش کی جاتی ہے شاید ارباب اقتدار اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور قادیانیوں کی ناجائز امداد کا سلسلہ بند کر دیں کہ یہ ان کا قومی اور ملی فریضہ بھی ہے اور موجودہ حکومت سے وفاداری اور اخلاص کا تقاضہ بھی۔

سے زائد عرصہ لاہور میں تعینات نہیں رہ سکتا۔ (ملاحظہ ہوں ایس اینڈ جی اے ڈی لیٹرز نمبری SAGADA-1150×11 مورخہ ۲۶۔۸۔۶۳ ، مورخہ ۶۶۔۱۱۔۸ ‘ مورخہ ۶۶۔۱۲۔۱۳ ‘ مورخہ ۶۷۔۱۰۔۱۶ وغیرہ۔ نام ملک عبدالرحمٰن‘ عہدہ ڈپٹی رجسٹرار / انڈر سیکرٹری لاہور میں

صفحہ 97

تعیناتی کی تاریخ ۱۹۷۵ء۔۷۔۱۷ (از ابتدائے ملازمت)

نام چودھری منیر مسعود، عہدہ اسسٹنٹ رجسٹرار / ڈپٹی رجسٹرار کوآپریٹوز لاہور میں تعیناتی کی تاریخ اپریل ۱۹۷۷ء۔ نام مس تسلیم عبداللہ بٹ، عہدہ اسسٹنٹ رجسٹرار / ڈپٹی رجسٹرار، لاہور میں تعیناتی کی تاریخ ۲۴.۱.۷۶، جولائی ۷۸ء میں ریٹائر ہوئی۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ قادیانی افسر اس قاعدہ یا حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ اگر ایسا نہیں تو انہیں دس دس اور بارہ بارہ سال سے مسلسل لاہور میں کیوں رکھا گیا ہے۔

کی زیادہ سے زیادہ حد ۲۵ سال رکھی گئی ہے لیکن ایک قادیانی افسر ملک عبدالرحمٰن کو بطور ڈپٹی رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز ۷۔۷۔۸۱ کو سرکاری ملازمت میں لیا گیا جبکہ اس کی عمر ۴۱ سال ہو چکی تھی۔ اس طرح مس تسلیم عبداللہ بٹ کو ۲۴.۱.۷۶ کو بطور اسسٹنٹ رجسٹرار بھرتی کیا گیا۔ تب اس کی عمر ۴۰ سال کے قریب تھی۔

گیا ہے جو یوں ہے:

۱ سروسز کے لوگ عاریتاً یعنی Deputation پر لگائے جا سکتے ہیں۔

مذکورہ قادیانی افسر یعنی ملک عبدالرحمٰن کو ۱۹۷۵ء میں اس قانون یا قاعدہ کے علی الرغم بطور ڈپٹی رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز بھرتی کیا گیا۔ حالانکہ وہ نہ سی ایس پی تھا نہ پی سی ایس، نہ ہی حکومت پنجاب کے تحت کسی اور کلاس ۱ اسامی کا حامل تھا۔ نیز اس کی تعیناتی عاریتاً یعنی Deputation پر نہ ہوئی بلکہ مستقل طور پر کی گئی۔ سرکاری ملازمین (بھرتی اور شرائط ملازمت) کے قواعد مجریہ ۱۹۷۴ء کے رول نمبر ۳ میں مذکور ہے کہ کسی بھی اسامی پر تعیناتی یا تو بذریعہ ترقی ہو سکتی ہے یا تبادلہ کے ذریعہ اور یا پھر براہ راست بھرتی کے ذریعے۔ ملک عبدالرحمٰن کی تعیناتی اس قاعدہ کے بھی سراسر خلاف ہے۔ کیونکہ وہ تعیناتی کے وقت نہ تو کسی اور سرکاری ملازمت میں تھا کہ اس کا تبادلہ محکمہ امداد باہمی میں ہو سکتا اور نہ ہی اسے براہ راست بھرتی کیا گیا بلکہ اس کے احکامات تعیناتی کی رو سے اس کی

صفحہ 98

Absorption ہوئی ہے حالانکہ اس کی قانون میں گنجائش نہ ہے۔ وہ ایک نیم سرکاری ادارہ کا ملازم تھا۔ جو آج بھی قائم ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس ادارہ کی اسامی پر بھی اس کا قبضہ ہے۔ یوں Absorption ہوئی ہے۔

سے اوپر کی اسامیوں کے لیے بھرتی پبلک سروس کمیشن کی سفارش پر ہو سکتی ہے۔ (حوالہ قاعدہ ۱۶) ملک عبدالرحمٰن کی تعیناتی پبلک سروس کمیشن سے رجوع کیے بغیر کی گئی۔

نوازش کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ لہٰذا طریقہ کار یہ اپنایا گیا کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اس کی بھرتی یا Absorption کی منظوری لی گئی اور تمام متعلقہ قواعد کو نرم یا ختم کر دیا گیا۔ (ملاحظہ ہو محکمہ کو آپریٹوز حکومت پنجاب کے احکام نمبر ۷۰۸/۷۴ (SOC III مورخہ ۱۸/۷/۱۹۷۵)

نرمی یا Relaxation کی بابت یہ کہا گیا ہے کہ گورنمنٹ کسی رول کو Relax کر سکتی ہے لیکن اس کے لیے اسے خاص وجوہات کو ضبط تحریر میں لانا ہو گا۔ لیکن ایسی کوئی وجوہ درج نہیں کی گئیں حتیٰ کہ یہ بھی نہیں لکھا گیا کہ کس کس رول سے اس تعیناتی کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے یا ....... Relaxation کس حد تک کی گئی ہے۔ مختلف رولز کی Relaxation بیک جنبش قلم خود اس رول کے خلاف ہے جس کے تحت رولز کو Relax کیا گیا۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قادیانیوں اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان اس وقت گاڑھی چھنتی تھی۔ اسی بنا پر ایسے غیر معمولی احکامات جاری ہوئے۔ وزیر اعلیٰ لاکھ بااختیار ہوں لیکن قانون کی حاکمیت بھی کوئی چیز ہے۔ بھٹو صاحب نے اگر LATERAL ENTRY کا طریقہ ایجاد کیا تھا تو اس کے لیے قانونی بنیاد بھی فراہم کی تھی۔ محض RELAXATION کا سہارا تو انہوں نے بھی لیا نہ تھا۔

کردہ نہ تھی۔ بلکہ وہ اس وقت کے ڈپٹی سیکرٹری نے تیار کی اور سیکرٹری کی بجائے انہوں

صفحہ 99

نے یہ لکھتے ہوئے دستخط کیے کہ سیکرٹری راولپنڈی دورہ پر ہیں۔ اگر یہ معمول کا کوئی کیس ہوتا تو لازمی طور پر سیکرٹری صاحب کا انتظار کیا جاتا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ایک سیاسی جانبداری کا کیس تھا اور اس کا اشارہ اوپر سے ہوا تھا۔

عبدالرحمٰن کو باقاعدہ تربیت لینا ہوگی۔ (حوالہ وزیراعلیٰ کے سیکرٹری کا نوٹ‘ مورخہ ۱۰.۷.۷۵‘ پر صفحہ نمبر ۷۵‘ فائل نمبر SO(E)۷/۸/۷۴)

لیکن ۱۸.۷.۷۵ کو ملک عبدالرحمٰن مذکورہ کو جو شرائط پیش کی گئیں‘ ان میں ٹریننگ کا ذکر غائب ہے۔ حوالہ چٹھی نمبری SOC(III)۷/۸/۷۴ مورخہ ۱۸.۷.۷۵۔ ایسا ہونا اس قادیانی افسر کی سازش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بہرحال اس نے آج تک کوئی تربیت نہیں لی۔

کنفرم نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک وہ ویسی ٹریننگ نہ لے لے جو گورنمنٹ نے اس کے لیے مقرر کی ہو۔ (ملاحظہ ہو کوآپریٹو سروس کلاس ۱ رولز ۱۹۷۳ء کا رول نمبر ۶ (۴)

ملک عبدالرحمٰن نے وزیراعلیٰ کی طرف سے مقرر شدہ ٹریننگ مکمل نہیں کی۔ اس کے باوجود اسے ملازمت میں مستقل کر دیا گیا۔ (ملاحظہ ہوں حکومت پنجاب محکمہ کوآپریٹوز کے احکام نمبر SO(E)۷-۸/۷۴ مورخہ ۳۱.۱.۸۱

ع خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے

نہیں۔ حکومت نے ایک چٹھی مورخہ ۱۱.۷.۷۵ کو براہ راست پرنسپل کوآپریٹو ٹریننگ کالج کو ارسال کی کہ ملک عبدالرحمٰن کے لیے ٹریننگ پروگرام وضع کرکے ایک ہفتہ کے اندر ارسال کیا جائے۔ جب وہ پروگرام بھیجا گیا تو زیر نمبری SOC(III)۷.۸.۷۴ مورخہ ۱۰.۱۲.۷۵ پرنسپل کو مطلع کیا گیا کہ ملک عبدالرحمٰن کے لیے صرف چار ماہ کی ٹریننگ کا بندوبست کیا جائے۔ حالانکہ اسسٹنٹ رجسٹرار کے لیے دو سال کی تربیت لازمی ہے۔ اس پر پھر رجسٹرار کوآپریٹوز نے لکھا کہ میرے خیال میں شخص مذکور کو سات ماہ کی ٹریننگ کلاس کرنی چاہیے۔ کیونکہ چار ماہ کی ٹریننگ سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ تاہم اگر حکومت

صفحہ 100

چار ماہ کی ٹریننگ کا فیصلہ برقرار رکھتی ہے تو پرنسپل اس کے لیے ایک علیحدہ ٹریننگ پروگرام مرتب کریں گے۔ رجسٹرار کی اس چٹھی کا جواب یہ دیا گیا کہ معاملہ وزیر خوراک و امداد باہمی کو پیش کیا گیا جنہوں نے ٹریننگ کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔ لہٰذا ملک عبدالرحمٰن کو سات ماہ کی ٹریننگ سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قادیانی افسر کو ہر معاملہ میں استثناء کیوں حاصل ہو جاتا ہے۔ پھر سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ ٹریننگ جو وزیر اعلیٰ نے اس کی بھرتی کے وقت منظور کی تھی‘ وہ ایک وزیر کے حکم سے ختم ہو سکتی تھی۔ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہے۔ حکومت کے مراسلہ نمبری S4GADSCR(III)۱/۷/۵ مورخہ ۱۸.۱۲.۷۷ سے بھی اس کی تائید و توثیق ہوتی ہے۔

۱۱۔ جس وقت ملک عبدالرحمٰن قادیانی کو محکمہ امداد باہمی میں ٹھونسا گیا‘ اس وقت درج ذیل افراد پہلے سے بطور ڈپٹی رجسٹرار کام کر رہے تھے۔ جنہیں مذکورہ قادیانی افسر سے مختلف حیلے بہانوں سے جونیئر بنا دیا گیا۔

معاملہ اگر صرف مذکورہ قادیانی کو محکمہ امداد باہمی میں کھپانے کا ہوتا تو اسے بطور اسسٹنٹ رجسٹرار بھی لیا جا سکتا تھا کہ اس کیڈر میں ۵۰ فیصد اسامیاں براہ راست بھرتی اور بقیہ ۵۰ فیصد بذریعہ ترقی پر کی جاتی ہیں۔ اگر اسے ڈپٹی رجسٹرار ہی لگانا تھا تو کم از کم اسے مذکورہ بالا افسران کے نیچے تو آنا ہی چاہیے تھا۔ لیکن وہاں تو سوچ ہی اس سے بھی آگے بڑھنے کی تھی اور جائز و ناجائز اثر و رسوخ بطور قادیانی تھا ہی۔ لہٰذا کیا یہ گیا کہ اسے ایک مستقل اسامی پر لیا گیا۔ حالانکہ اس کا تو ہرگز کوئی جواز نہ تھا۔ کیونکہ مستقل تو سینیارٹی کے لحاظ سے ہوتی ہے لیکن لائن میں کون لگے اور کیوں لگے؟ پھر ان سب کی ٹانگیں کھینچی گئیں۔ کیونکہ قادیانیوں میں یہ فن بھی درجہ کمال کی حد تک موجود ہوتا ہے اور پھر ان سب سے

صفحہ 101

سینئر بن گیا اور اب بطور جوائنٹ رجسٹرار ترقی کے خواب دن کے وقت دیکھ رہا ہے۔ دھاندلی کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔

۱۲- ۱۹۶۲ء میں کو آپریٹو ڈویلپمنٹ بورڈ کے نام سے ایک ادارہ قانون کے تحت وجود میں لایا گیا جس میں کچھ لوگ محکمہ امداد باہمی سے عاریتاً لیے گئے اور کچھ لوگوں کو براہ راست اس میں بھرتی کیا گیا۔ ۱۹۶۶ء کے آخر میں اس بورڈ کو توڑنا پڑا۔ کیونکہ یہ تجربہ کامیاب ثابت نہ ہو سکا۔ ملک عبدالرحمن کو بورڈ کے زمانہ میں لایا گیا۔ بورڈ کے ٹوٹنے پر باقی لوگ جو براہ راست لیے گئے تھے‘ فارغ کر دیے گئے۔ ماسوائے دو قادیانیوں کے ایک یہی ملک عبدالرحمن اور دوسرے نسیم عبداللہ بٹ جس کا ذکر آگے آئے گا۔

بہر حال کو آپریٹو بورڈ (تحلیل) ایکٹ ۱۹۶۶ء کی دفعہ ۷ کے تحت ایک کو آپریٹو ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کیا گیا جسے مذکورہ ایکٹ کی دفعہ ۴ کے تحت مقرر ہونے والے ایڈمنسٹریٹر نے استعمال کرنا تھا۔ مذکورہ فنڈ لاکھوں روپے کا تھا۔ اس کا ایڈمنسٹریٹر سیکرٹری کو آپریٹوز کو بنایا گیا۔ ملک عبدالرحمن کو اس فنڈ میں بطور ڈائریکٹر لے لیا گیا۔ یوں ملک عبدالرحمن کو سیکرٹری کو آپریٹوز کا قرب حاصل کرنے کا موقع ملا۔ چونکہ قادیانیوں کو اپنے افسروں کو شیشے میں اتارنے کا فن آتا ہے۔ لہٰذا معاملہ آگے چل پڑا اور چلتا ہی چلا گیا۔ بورڈ تو صرف چار سال کے قریب رہا لیکن اس کے ٹوٹنے کے بعد ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ اور کو آپریٹو ڈویلپمنٹ فنڈ ۲۱ سال سے قائم و دائم ہیں۔ ۱۹۷۵ء میں ملک عبدالرحمن کو محکمہ میں ڈپٹی رجسٹرار تو اس بناء پر لیا گیا کہ مذکورہ فنڈ کے ختم ہونے پر ملک عبدالرحمن بے کار ہو جائے گا لیکن ساڑھے بارہ سال ہو چکے ہیں۔ فنڈ قائم ہے‘ ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتا کہ اس سے کئی مفادات وابستہ ہیں۔

اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈائریکٹر فنڈ و پراجیکٹس کا عہدہ ہمیشہ سے ملک عبدالرحمن کے پاس ہی ہے اور موجودہ حالات میں اس کی ریٹائرمنٹ تک اس کے پاس ہی رہے گا۔ جو ۱۹۹۴ء کے اوائل میں ہوگی اور اس وقت کے لیے بھی جانے کیا کیا منصوبے ترتیب دیے جا چکے ہوں۔ ملازمت میں توسیع بھی مل سکتی ہے۔ بعد از ملازمت فنڈ کی کیا بری حالت ہے۔ یہ الگ بات کہ

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
صفحہ 102

۱۳- ۱۹۷۷ء میں مارشل لاء لگنے کے بعد مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پنجاب کے جاری کردہ ایک حکم یا ضابطے کے تحت ملک عبدالرحمن کی تعیناتی کے معاملہ پر بھی نظر ثانی ہوئی جس کے نتیجہ میں ملک عبدالرحمن کو سرکاری ملازمت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ (حوالہ نمبر SOCIII-7/8/77 مورخہ ۱۴.۴.۷۷) تاہم اسے بطور ڈائریکٹر پروجیکٹس بحال رکھا گیا۔ (حوالہ احکام مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پنجاب زون اے مورخہ ۶.۶.۷۸ در کیس نمبر 8051/C/E/M2) اس فیصلہ کو ملک عبدالرحمن نے دل سے قبول نہ کیا۔ اور بالآخر اس نے پنجاب سول سروس ٹریبونل کے پاس اپیل کی۔ جس کا نمبر ۳۰/۳۱۰ سال ۱۹۷۹ء تھا۔ وہاں حکومت کی طرف سے اس کیس کی پیروی نہ کی گئی۔ ٹریبونل کے الفاظ میں:

"اپیل کے دوران محکمہ نے اس کیس پر نظر ثانی کی اور وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ اپیلانٹ کا کیس خاص نوعیت کا تھا اور وہ مطلوبہ قابلیت و تجربہ رکھتا تھا۔ اس کی تعیناتی کی نوعیت سیاسی نہ تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محکمہ کو آخر کار اس کی ABSORPTION پر اس کی بحالی پر کوئی اعتراض نہ ہے۔ لیکن مجاز افسر نے محض اس لیے از خود احکام جاری نہیں کیے کہ معاملہ اس ٹریبونل کے سامنے زیر سماعت ہے"۔

ایسی صورت میں ٹریبونل کا فیصلہ اس کی بحالی کے سوا کیا ہو سکتا تھا؟ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اسے بحال کر دیا گیا۔ (حوالہ ٹریبونل کا کیس مذکورہ میں دیا گیا فیصلہ اور حکومت پنجاب کے احکامات نمبری SOCIII-7/8/74 مورخہ ۱۷.۱۰.۱۹۷۹

۱۴- اب ایک اور قادیانی افسر چودھری منیر مسعود کا معاملہ دیکھئے۔ اس پر جو نوازش ہائے بیجا ہوئیں، ان کے ذکر سے پہلے یہ بتانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چودھری منیر مسعود رشتہ میں ملک عبدالرحمن کا بھانجا ہے اور اسی کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔

۱۵- چودھری منیر مسعود دس دیگر افراد کے ہمراہ جون ۱۹۶۹ء میں بطور اسسٹنٹ رجسٹرار کو آپریٹو سوسائٹیز بھرتی ہوا۔ پبلک سروس کمیشن کے دیے گئے میرٹ کے لحاظ سے وہ ان لوگوں میں کافی جونیئر بنا اور اسے ایک عارضی پوسٹ کے لیے بھرتی کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ ان اسسٹنٹ رجسٹراروں سے بھی جونیئر ہوا جو اس وقت پہلے سے بطور اسسٹنٹ رجسٹرار کام کر رہے تھے جن میں سے چند ایک کے نام درج ذیل ہیں:

(الف) قریشی محمد اسلام (ب) خورشید اعظم زاہدی (ج) سعد اللہ مفتی

صفحہ 103

(د) چودھری محمد علی (ھ) شیخ محمد مکرم (و) چودھری محمد اسلم ۔ (حوالہ کو آپریٹو سروس، کلاس II کا رول نمبر (۲۱۹) ۹) بعد ازاں دو سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار محکمہ کو چھوڑ گئے۔ ان لوگوں کو مستقل اسامیوں پر لیا گیا تھا۔ ان خالی اسامیوں کو سینیارٹی کے لحاظ سے پر کیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن چودھری منیر مسعود کی درخواست پر دوسرے متاثرین کو لیے بغیر مسعود اور ایک دوسرے شخص کو مستقل اسامیوں پر ADJUST کر دیا گیا۔ (حوالہ احکام رجسٹرار کو آپریٹو سوسائٹیز پنجاب نمبری ۸۶-۷۸/۲۲/RCS/EA-۱/۶/۶۰-A مورخہ ۲۷.۲.۷۲)

۱۶۔ جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ چودھری منیر مسعود اپریل ۱۹۷۷ء میں بطور اسسٹنٹ رجسٹرار لاہور تعینات ہوا (اس سے قبل وہ کئی برس تک اپنے ہوم ڈسٹرکٹ یعنی ساہیوال میں تعینات رہا) ۱۹۷۷ء سے لے کر آج تک وہ بدستور لاہور میں تعینات ہے۔ ۱۹۷۷ء سے ۱۹۷۹ء تک بطور اسسٹنٹ رجسٹرار، اور ۱۹۷۹ء سے اوائل ۸۰ء تک بطور سرکل رجسٹرار، اوائل ۸۰ء سے ۸۱ء کے وسط تک LDA میں ڈیپوٹیشن پر جولائی ۸۲ء سے اب تک بطور ڈپٹی رجسٹرار اس کا مسلسل لاہور میں رہنا سراسر حکومت کی اپنی پالیسی کے خلاف ہے۔

۱۷۔ جنوری ۱۹۸۷ء سے چودھری منیر مسعود کو ڈپٹی رجسٹرار لاہور ڈویژن تعینات کیا گیا۔ یہ ایک اہم اور کلیدی پوسٹ ہے۔ جس پر ایک قادیانی کی تعیناتی مسلمانوں کے لیے دل آزاری کا باعث ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ وہ بڑے دھڑلے کے ساتھ قادیانی مذہب کے پیروکاروں کی سرپرستی کرتا ہے اور دینی ذہن رکھنے والے مسلمان ماتحتوں کو ناروا طور پر تنگ کرتا ہے۔ ۱۹۸۷ء میں پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام سے ایک انجمن لاہور میں بنائی گئی۔ چودھری منیر مسعود اس وقت اسسٹنٹ رجسٹرار لاہور تھا۔ تب سے اب تک وہ اس انجمن کا اعزازی سیکرٹری ہے۔ اس انجمن کے تمام قابل ذکر ملازمین قادیانی ہیں۔ حسب ذیل ریٹائرڈ قادیانی ملازمین اس انجمن میں کھپائے گئے ہیں: نام عہدہ محمد بشیر بھٹی، ریٹائرڈ اسسٹنٹ رجسٹرار منیجر ملک ثناء اللہ ریٹائرڈ اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ

صفحہ 104

اس انجمن کے چیئرمین ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب بر بنائے عہدہ ہیں۔ چودھری منیر مسعود نے بطور سیکرٹری موصوف کا قرب حاصل کیا اور بہت سے بااثر افراد اور اعلیٰ افسران سے تعلقات استوار کر لیے۔ ان لوگوں نے مذکورہ انجمن میں پلاٹ بھی حاصل کیے۔

عام طور پر ایسی انجمنوں میں سیکرٹری بھی یا تو بلحاظ عہدہ ہوتے ہیں اور یا پھر ہمہ وقتی اور تنخواہ دار۔ لیکن چودھری منیر مسعود اس ”سونے کی چڑیا“ کا خود مالک بننا چاہتا تھا۔ لہٰذا وہ ذاتی حیثیت میں اس کا سیکرٹری بنا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ انجمن کے بائی لاز میں آنریری سیکرٹری کا عہدہ موجود ہے۔ اس کے اختیارات بھی مذکورہ ہیں۔ لیکن اس کی تعینات اور علیحدگی کا کوئی طریقہ درج نہیں کیا گیا۔ گویا یہ عہدہ چودھری منیر مسعود کو خدا کی طرف سے ملا ہوا ہے۔

۱۹- ۱۹۷۵ء میں چودھری منیر مسعود کا ایک بھائی قتل کیس میں ملوث ہو گیا۔ مذکور کو اس کیس کے سلسلے میں آزادانہ بھاگ دوڑ کرنے کا موقعہ فراہم کرنا ضروری تھا۔ لہٰذا سرکاری ملازمین کی تعیناتی اور شرائط ملازمت کے قواعد مجریہ ۱۹۷۴ء کو نرم کرتے ہوئے اسے مذکورہ انجمن میں ڈیپوٹیشن پر بھیج دیا گیا اور وہاں سے تنخواہ وصول کرتا رہا۔ اس زمانہ میں کسی کو انجمن کا آنریری سیکرٹری نہ لگایا گیا۔ کیونکہ یہ PRIVILEGES کی پامالی کے مترادف ہوتا۔

۲۰- ایک اور قادیانی رشید احمد ہاشمی بھی مارچ ۱۹۸۷ء میں ڈپٹی رجسٹرار کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق ملک سلیم اقبال وزیر امداد باہمی نے اس کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے ایک نوٹ لکھا لیکن وزیراعلیٰ کی منظوری حاصل نہ ہو سکی۔ (حوالہ حکومت پنجاب کی چٹھی نمبری SOC(E)I.۵۲/۶۶۱۱۱ مورخہ ۲۳.۸.۸۷)

۲۱- پھر ۱۵.۸.۸۷ سے اسے پنجاب ڈویلپمنٹ کوآپریٹو کارپوریشن لمیٹڈ میں پانچ سال کے لیے کوآپریٹو ایڈوائزر کے طور پر -/۶۰۰۰ روپے ماہوار پر ملازم رکھوا دیا گیا۔ جو قادیانی اثر و رسوخ کی بدولت ہوا۔ (حوالہ چٹھی نمبر PDCC/۲/۳۴/ESTB مورخہ ۱۵.۶.۸۷) اس کے بعد اس کے مشاہرہ میں قدر -/۴۲۰۰ روپے اضافہ کر دیا گیا۔ گویا اب وہ -/۱۰۲۰۰ روپے ماہوار لے رہا ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ ہاتھی زندہ ایک لاکھ کا اور مردہ سوا

صفحہ 105

لاکھ کا۔

۲۲۔ ایک اور قادیانی خاتون مس تسنیم عبداللہ بٹ بھی محکمہ میں اسسٹنٹ رجسٹرار تھی۔ دو ماہ کے قریب ڈپٹی رجسٹرار بھی رہی۔ ابھی حال ہی میں ریٹائر ہوئی۔ اس کی سالانہ خفیہ رپورٹیں عام طور پر ناموافق ہوا کرتی تھیں۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

سال ناموافق رپورٹ کا خلاصہ / ریمارکس

۱۹۶۷ کو آپریٹو کے اصولات اور عملی طریقوں میں تربیت کی ضرورت ہے۔ عام رویہ اور اسٹاف کے ساتھ موافقت میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔

۱۹۷۰ء فیصلہ توازن کا احساس‘ پہل کرنے کی صلاحیت اور قوت عملی‘ منصوبہ بندی اور کام کی نگرانی کی اہلیت‘ صبر و تحمل اور کام کی لگن۔ ماتحتوں کی رہنمائی اور تربیت کی صلاحیت اور تعاون و عملی فراست اوسط سے کم تر ہیں۔

مجموعی طور پر اوسط سے فروتر افسر ہے۔

پابندی وقت نہیں ہے۔

ترقی کی اہل نہیں ہے۔

یہ عورت اس محکمہ میں فٹ نہیں۔ اسے نظامت سوشل ویلفیئر جیسے ادارے میں منتقل کر دینا چاہیے۔

۱۹۷۱ء ایضاً۔

اس نے بمشکل ہی کوئی کام کیا ہے جس پر رائے دی جاسکے۔ اسسٹنٹ رجسٹرار (ٹیکنیکل) کی آسامی پر کام کر رہی ہے لیکن اپنے منصب کی باریکیوں اور گہرائیوں سے بالکل آگاہ نہیں ہے۔

تین بار رجسٹرار سے شکایت ملی۔ ایک جھگڑالو شخصیت ہے۔ سیکرٹری کو آپریٹوز کو بتلایا گیا کہ یہ اس محکمہ میں کام کی نہ ہے۔ اسے کسی اور اسامی پر کھپایا جائے۔

۱۹۷۲ء بطور رجسٹرار میں نے اس افسر کو اوسط سے کم تر پایا۔

۱۹۷۴ء ترقی کی اہل نہ ہے۔ مجموعی کار کردگی اوسط سے کم تر ہے۔

۱۹۷۶ء اپنے ماتحتوں سے بہتر کام لینے کے لیے ان کی رہنمائی کرنی چاہیے۔

۱۹۷۸ء اسے ابھی اپنی قدر و قیمت کا ثبوت دینا ہے۔

صفحہ 106

۱۹۸۰ء اس افسر نے اپنے فرائض خلوص اور دیانت داری سے سرانجام نہیں دیے۔ محکمہ میں غیر موزوں (MISFIT) ہے۔ اس نے اپنے کام کبھی سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ دفتر میں وہ ہر وقت مزید سٹاف اور اضافی سہولتوں کی طلب گار رہتی ہے۔ دفتری اوقات میں اکثر بلا اجازت دفتر سے باہر رہتی ہے اور اس کی کوشش یہ رہتی ہے کہ جیسے بھی بن پڑے، اپنے خلاف دیے گئے ریمارکس کو حذف کروایا جائے۔ اسے پابندی وقت اور قاعدے قانون کی مطابقت کی قطعاً کوئی پرواہ نہ ہے۔ اس کے خلاف نامناسب رویہ، نااہلی اور غیر حاضری کی بابت فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

۱۹۸۳ء وہ اپنی موجودہ تعیناتی کے لیے اپنی اہلیت ثابت کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ وہ کام میں دلچسپی لے۔

اسے مختلف مواقع پر مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ کام میں دلچسپی لے لیکن اس کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس کی کارکردگی دوران سال اوسط درجہ کی رہی۔

۱۹۸۴ء یہ افسر اپنے موجودہ فرائض سے بمشکل ہی عہدہ برآ ہو رہی ہے۔

دوران سال کام اوسط درجہ کا رہا۔

اتنی خراب کارکردگی کے باوجود یہ عورت ۱۹۸۵ء میں بطور سرکل رجسٹرار اور ۱۹۸۷ء میں بطور ڈپٹی رجسٹرار ترقی یاب ہو گئی۔

اس کے لیے اس نے طریقہ یہ اختیار کیا کہ ۱۹۷۲ء، ۱۹۷۶ء اور ۱۹۸۰ء کے ریمارکس سیکرٹری کوآپریٹو سے ۱۹۸۳ء میں حذف کروا لیے۔ (حوالہ حکومت کی چٹھی نمبری ۵۱۱ / ۷۲۲ (۵ مورخہ ۴.۴.۸۳) اور ۱۹۸۳ء کے ریمارکس نومبر ۱۹۸۴ء میں سیکرٹری کوآپریٹو سے حذف کروا لیے۔ (حوالہ چٹھی نمبر ۶۶۱۱ / ۱۳۱-۱ (SO(E مورخہ

(۲۵-۱۱-۱۹۸۴

اور اس کے بعد پرانی تاریخوں سے ترقی حاصل کر کے بقایا جات بھی حاصل کیے۔ قادیانیت کے علاوہ عورت ہونا بھی اس کی بہت بڑی سفارش ثابت ہوتی رہی۔

طور پر ۳۴ سال کی عمر میں بھرتی کیا گیا۔ حالانکہ سرکاری ملازمت میں لیے جانے کے لیے عمر کی زیادہ سے زیادہ حد ۲۵ سال ہے۔

صفحہ 107

کوآپریٹو ڈویلپمنٹ بورڈ کے نام سے ایک قانون کے تحت وجود میں لایا گیا۔ کمشنر کے دفتر کے جن اہلکاروں کی خدمات بورڈ میں منتقل کی گئیں‘ ان میں مذکورہ مس تسنیم عبداللہ بٹ کا نام شامل نہیں تھا۔ (حوالہ حکومت پنجاب کے احکامات نمبر ۶۲-SXI/۹۶ مورخہ ۷-۵-۶۲)

تاہم مس بٹ نے بعد میں بورڈ کے ٹوٹنے پر رخصت کی بجائے‘ رخصت کے استحقاق کے برابر تنخواہ بورڈ سے وصول کی۔ حوالہ احکامات نمبر ۲۵۵۳-۵۸/CB/E‘ مورخہ ۳۰.۱۱.۶۶

بحال کر دیا گیا۔ مس بٹ ۲۴ روز اپنے گھر بے کار بیٹھی رہی۔ ۲۴-۱-۶۷ کو اسے بطور اسسٹنٹ رجسٹرار محکمہ شمار کیا جا رہا ہے اور اسی بنا پر اس کی پنشن کا کیس مرتب ہو رہا ہے۔

اسسٹنٹ رجسٹراروں کے لیے مقررہ ٹریننگ (جو دو سال کے عرصہ پر محیط ہوتی ہے) لینے کی زحمت گوارا نہ کی اور کوئی اسے پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ کوآپریٹو سروس کلاس ۱۱ رولز ۱۹۶۳ء کے رول نمبر ۸ (۴) اور (۵) کی صریح خلاف ورزی تھی۔

(بہ شکریہ ”چٹان“ ۱۴ تا ۲۱ جنوری ۱۹۸۸ء)

صفحہ 108

قادیانیوں کا سیمینار اور مشاعرہ

کس طرح ناکام ہو گیا

مغربی جرمنی کی ایک اہم رپورٹ

گزشتہ دنوں مرزائیوں نے ایک سیمینار اور مشاعرہ مورخہ ۱۲؍مئی ۹۰ء کا ایک اشتہار برادران اسلام میں تقسیم کیا۔ بعض احباب نے ہماری توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ منتظمین کی اکثریت فتنہ قادیان سے ہے۔ تحقیق کرنے پر خبر درست ثابت ہوئی‘ چنانچہ فوری طور پر فرینکفرٹ (مغربی جرمنی) کے مسلمانوں کو اس سازش سے آگاہ کرنے کے لیے دینی حلقے متحرک ہو گئے اور پاکستانی مساجد ”پاک دارالاسلام“ اور ”پاک محمدی مسجد“ کی انتظامیہ اور اراکین کا مشترکہ اجلاس مورخہ ۶؍مئی ۹۰ کو مسجد پاک دارالاسلام میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد دونوں مساجد کے خطیب اور انتظامیہ کے چیدہ چیدہ ارکان نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنی تحقیقات کے مطابق شرکاء اجلاس کو بتایا کہ سیمینار اور مشاعرہ کی انتظامیہ کمیٹی آٹھ افراد پر مشتمل ہے۔ جس میں سے صرف دو افراد شہزاد عالم صدیقی اور شیخ مظہر الحسن مسلمان ہیں۔ جبکہ باقی چھ ارکان مرزائی ہیں۔ اسی طرح مقررین اور شرکاء میں مرزائی افراد مدعو کیے گئے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ یہ مرزائیوں کی ایک سیاسی چال ہے۔ انہوں نے دو مسلمان افراد کو انتظامیہ میں شامل کر کے اور جناب الطاف گوہر‘ جناب جمیل الدین عالی‘ جناب افتخار عارف اور جناب شوکت صدیقی کو مدعو کر کے جرمن گورنمنٹ اور سادہ لوح مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ مسلمان اور مرزائی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ ایک ہی

صفحہ 109

مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں انہوں نے گورنمنٹ کو دھوکہ دینے کی کوشش کی۔ وہاں دوسرے نمبر پر مرزائیوں نے یہ کوشش کی تھی کہ اگر جرمن میں بسنے والے مسلمانوں نے اس پر احتجاج کیا تو ہم (مرزائی) جرمن گورنمنٹ کے سامنے مگرمچھ کے آنسو بہانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ پاکستانی مسلمان ہمیں یورپ میں بھی چین نہیں لینے دیتے تو پاکستان میں ہم پر کس قدر مظالم ہوتے ہوں گے اور اگر ہمارا یہ فنکشن کامیاب ہو گیا تو یہ جواز پیدا ہو جائے گا کہ قادیانیت اسلام کا ایک حصہ ہے اور محض علماء اسلام نے مسلمانوں اور مرزائیوں میں تفرقہ ڈال رکھا ہے۔

چنانچہ دونوں مساجد کی انتظامیہ اور اراکین نے فوری طور پر دشمنان اسلام کے خلاف متحد ہو کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کا فیصلہ کر لیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے دونوں مساجد کی انتظامیہ کے منتخب افراد پر مشتمل "تحفظ ختم نبوت" ایکشن کمیٹی کا اعلان کیا گیا۔ ایکشن کمیٹی نے اس سازش سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا اور ابتدائی طور پر مندرجہ ذیل فیصلے کیے:

جائے گا۔

لیے کہ پروگرام قادیانیوں کی سازش ہے کثیر تعداد میں پمفلٹ شائع کیے جائیں گے اور تمام مسلمان بھائیوں کو اس سازش سے آگاہ کیا جائے گا۔

کر کے پروگرام سے دست برداری کے لیے کہا جائے گا۔

جائے گا اور انہیں پروگرام میں عدم شرکت کی درخواست کی جائے گی۔

حاصل کی جائے گی۔

صفحہ 110

ایکشن کمیٹی کا دوسرا اجلاس پاک محمدی مسجد میں ۷ مئی ۹۰ء بروز پیر شام ساڑھے سات بجے منعقد ہوا۔ جس میں جناب شہزاد عالم صدیقی‘ جناب مظفر شیخ‘ جناب طفیل خلش‘ جناب شریف مبین صاحب نے بھی شرکت کی۔ جناب شہزاد عالم صدیقی اور ان کے رفقاء نے حقیقت حال معلوم ہونے پر مذکورہ پروگرام سے دست بردار اور اپنے مسلمان بھائیوں کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ چنانچہ ایکشن کمیٹی اور شہزاد عالم صدیقی معہ رفقاء نے مسلمان شعراء اور ادباء سے رابطہ قائم کر کے پروگرام میں عدم شرکت کی درخواست کی۔ اسی دوران جناب جمیل الدین عالی صاحب اور کچھ دوسرے شعراء فرینکفرٹ (جرمنی) تشریف لاچکے تھے۔ اس لیے انہوں نے ایکشن کمیٹی کی ترغیب پر پروگرام میں شرکت نہ کر کے نہ صرف جذبہ ایمانی کا ثبوت دیا بلکہ جرمن میں بسنے والے مسلمانوں کے دل جیت لیے۔ اسی طرح لندن سے جناب الطاف گوہر‘ جناب افتخار عارف‘ جناب شوکت صدیقی صاحب و دیگر اکابر نے پروگرام میں عدم شرکت کی یقین دہانی کرائی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایکشن کمیٹی کے پے در پے متعدد اجلاس ہوئے اور ہونے والی تمام پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا رہا۔

سفارت خانہ پاکستان نے حقیقت حال واضح ہونے پر بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ اس دوران نماز جمعہ کے اجتماعات پر خطباء حضرات نے مسلمانوں پر حقیقت حال واضح کی۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ جس نے حق کو فتح اور باطل کو شکست دی۔ پروگرام کے مطابق کسی بھی مسلمان شاعر و دانشور نے شرکت نہ کی اور سامعین کی تعداد ناگفتہ بہ‘ وہ بھی مخصوص قادیانی‘ اس طرح خالصتاً یہ صرف اور صرف مرزائیوں کی محفل ثابت ہوئی۔

لیکن بڑے افسوس کے ساتھ یہ بیان کرنے پر مجبور ہیں کہ جنگ لندن نے قیمتاً ہمارا بائیکاٹ کا اشتہار شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ اخبار جنگ لندن پر کسی مرزائی کا تسلط ہے۔ جنگ لندن کی اس مرزائی نواز پالیسی پر تمام مسلمان برادری خصوصاً مغربی جرمنی کے مسلمان سخت احتجاج کرتے ہیں اور وضاحت چاہتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ اس سلسلہ کی ایک فیکس بنام جناب میر خلیل الرحمٰن ایڈیٹر اخبار جنگ کراچی پاکستان فوری طور پر روانہ کر دی گئی تھی۔ تاحال جواب سے محروم ہیں۔ کیا جرمنی میں بسنے والے پاکستانی مسلمان اتنا حق نہیں رکھتے کہ قومی اخبار ہونے کا دعویٰ کرنے والے روزنامہ میں قیمتاً اپنا اشتہار شائع

صفحہ 111

کروا سکیں یا یہ سمجھ لیا جائے کہ اس کے پیچھے دشمنان اسلام کی سازش ہے؟ تاہم تحفظ ختم نبوت ایکشن کمیٹی تمام مسلمان بھائیوں کے تعاون کی بے حد ممنون ہے۔ خصوصاً جناب الطاف گوہر‘ جناب افتخار عارف‘ جناب شوکت صدیقی‘ جناب جمیل الدین عالی اور دیگر شعراء اور دانشور ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔ اس سلسلہ میں جو تعاون جناب شہزاد عالم صدیقی‘ جناب مظفر الحسن شیخ کی طرف سے کیا گیا۔ اس کے لیے ایکشن کمیٹی ان حضرات کی شکرگزار ہے اور امید کرتی ہے کہ آئندہ بھی کفر و باطل کے اس معرکہ میں حق کا ساتھ دیا جاتا رہے گا۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ مسلمان بھائیوں کے تعاون سے فتنہ قادیانیت کو بری طرح شکست ہوئی۔ کیونکہ ہزاروں کی متوقع تعداد میں سے تقریباً اڑھائی فیصد کی شرکت ان کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بلکہ بعض مرتدین نے خوف کی وجہ سے گھر سے باہر بھی نکلنے کی جرات نہ کی۔

برادران اسلام سرزمین جرمنی کا یہ واقعہ فتنہ قادیانیت کے خلاف پہلا وار تھا۔ اب تمام مسلمانوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے باطل عزائم کو مزید عیاں کر دیا ہے۔ تحفظ ختم نبوت ایکشن کمیٹی ماہ رواں کے آخر میں اپنے اجلاس میں اپنے آئندہ لائحہ عمل کو واضح کرے گی۔ اس کے لیے ہم خدا کے حضور کامیابی کے لیے دست بدعا ہے۔ (مئی ۱۹۹۰)

گزشتہ دنوں قرارداد پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریبات کے سلسلہ میں ایک اشتہار بعنوان ”تخلیق پاکستان سے تعمیر پاکستان تک“ فرانکفورٹ (جرمنی) کی مساجد اور جرمنی میں مقیم مسلمانوں میں تقسیم کیا گیا۔ دیار غیر میں بسنے والے پاکستان ۱۲ مئی کو ہونے والے اس سیمینار اور مشاعرے کے انعقاد پر بہت خوش تھے۔ چنانچہ فرانکفورٹ میں مقیم مسلمان پاکستانی بھائیوں نے مذکورہ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے آپس میں رابطہ کیا تو عقدہ کھلا کہ اس سیمینار اور مشاعرہ کے منتظمین میں سے اکثر لوگوں کا تعلق قادیانی گروہ سے ہے۔ چنانچہ اس شبہ کی تصدیق کے لیے مختلف ذرائع سے جو معلومات اکٹھی کی گئی۔ ان کی روشنی میں یہ راز

صفحہ 112

منکشف ہوا کہ یہ سیمینار مرتدوں کی سازش ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے دونوں مسجدوں نے مل کر اس کام کو روکنے کا بیڑا اٹھایا اور مورخہ ٦-٥-٩٠ بروز اتوار بوقت سہ پہر ٢ بجے دونوں مساجد کا باہمی اجلاس مسجد پاک دارالاسلام میں منعقد ہوا۔ جلسے کی کارروائی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی۔ جلسہ میں دونوں مساجد کی انتظامیہ کے علاوہ آئمہ صاحبان اور کثیر تعداد میں غلامان مصطفیٰ ﷺ نے شرکت کی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد پاک محمدی مسجد کے خطیب ' ممتاز عالم دین اور نمائندہ ختم نبوت قاری مشتاق الرحمن صاحب نے قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیا کہ قادیانیت کا عقیدہ شرعی احکام کی رو سے عیسائیت اور یہودیت سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔ کیونکہ یہ لوگ خود کو مسلمان اور پوری امت محمدیہ کو (نعوذ باللہ) کافر قرار دیتے ہیں ' مزید برآں مذکورہ مرتدین ہمیشہ پاکستان ' قائد اعظم اور دیگر علماء اسلام کی مخالفت اور ان کی شان میں گستاخی کرتے رہے۔ قاری صاحب نے دلائل سے ثابت کیا کہ مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف میں خود کو معاذ اللہ کبھی مہدی موعود ' کبھی مسیح موعود ' کبھی رسول اللہ ' کبھی خدا کا بیٹا اور نہ جانے کیا کیا بکواس کی ہے۔ جناب مولانا صاحب نے مزید کہا کہ شرعی اعتبار سے ان لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ' لین دین کرنا بالکل جائز نہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ مکمل بائیکاٹ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ تمام مسلمانوں کو اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر جذبہ ایمانی کی روشنی میں اس پہلو پر سوچنا چاہیے۔ مسجد پاک دارالاسلام کی جانب سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے قاری و حافظ عزیز الرحمن صاحب نے فرمایا کہ یہ لوگ نہ صرف پاکستان اور اسلام بلکہ تمام امت محمدیہ ﷺ کے دشمن ہیں۔ ہم سب مسلمان بھائی باہم متحد ہو کر اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے ہر ممکن اقدام کریں اور آپس میں باہمی رنجشوں کو بھلا کر اتفاق اور اتحاد کی ایسی مثال قائم کریں کہ ان کی تمام شیطانی چالیں نیست و نابود ہو کر رہ جائیں۔ حافظ فاروق محمود کیانی صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ فتنہ مرزائیت کی طرف سے ہر سال لوگوں کو بہکانے کے لیے کوئی نہ کوئی پالیسی بنائی جاتی ہے۔ یہ سیمینار بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ تاکہ یہ نئے انداز میں مسلمانوں کی صفوں میں اپنے لیے ہمدردیاں پیدا کر سکیں۔ انہوں نے صحابہ کرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرام نے تحفظ ناموس رسالت کی خاطر اپنے تن من دھن کی قربانی پیش کی اور آج بھی اسی جذبہ ایمانی کی ضرورت ہے اور زیادہ سے زیادہ عملی

صفحہ 113

اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ دیگر احباب قاضی لطیف صاحب‘ ڈاکٹر عتیق صاحب‘ شفیق الرحمن صاحب‘ مرزا اسد صاحب‘ راجہ امجد صاحب‘ راشد غوری صاحب‘ تبسم صاحب‘ شاہد علی صاحب‘ چاچا میر راشد صاحب‘ لطیف الرحمن صاحب اور رفیع الزمان صاحب نے پر جوش انداز میں یقین دلایا کہ ہم ان کے خلاف ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہیں چنانچہ اجلاس میں متفقہ طور پر قادیانی پروگرام ”تخلیق پاکستان سے تعمیر پاکستان“ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔

(ہفتہ وار ”ختم نبوت“، جلد ۹‘ شمارہ ۳)

صفحہ 114

پاک فوج میں ہونے والی بغاوتوں کے پیچھے

قادیانی سازشیں کار فرما تھیں

بریگیڈیئر (ر) گلزار احمد کا شمار دانشوروں میں ہوتا ہے جو صاحب سیف بھی ہیں اور صاحب قلم بھی۔ ان کی ولادت یکم جنوری ۱۹۰۹ء کو ضلع چکوال کے ایک گاؤں میں ہوئی۔ والد کی فوجی ملازمت کے باعث ابتدائی تعلیم کراچی میں پائی۔ مڈل کا امتحان سندھ مدرسۃ الاسلام سے پاس کیا۔ گاؤں کے اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد ایف۔ اے تک گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پائی۔ ۱۹۲۹ء میں علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ کچھ عرصہ کچہری میں کلرک کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ ۱۹۳۱ء میں فوج میں سپاہی بھرتی ہو گئے۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باعث ۱۹۳۲ء میں کمیشن مل گیا۔ اسی سال ڈیرہ دون میں ملٹری اکیڈمی قائم ہوئی۔ گلزار احمد اس کے اولین کیڈٹس میں سے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران مشرق وسطیٰ اور برما کے محاذوں پر رہے۔ قیام پاکستان کے وقت آپ لیفٹیننٹ کرنل تھے۔ ان کی پلٹن کو کراچی میں قیام پاکستان کی اولین تقریب پرچم کشائی میں سلامی دینے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ۱۹۴۸ء میں جنگ کشمیر میں ایک بریگیڈ کی کمان کی۔ ملٹری انٹیلی جنس کے

صفحہ 115

ڈائریکٹر رہے۔ سوشل ویلفیئر، امور خارجہ اور اطلاعات کی وزارتوں میں جوائنٹ سیکرٹری کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ ۴۳ سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ اس پیرانہ سالی میں بھی کوہستانی نمک کا پروردہ یہ مرد جفاکش ہر لمحہ مصروف کار رہتا ہے۔ پوٹھوہار کی تہذیبی و سماجی زندگی دیر تک بریگیڈیئر گلزار احمد کی خوشبو محسوس کرتی رہے گی۔

معروف عسکری دانشور بریگیڈیئر (ر) گلزار احمد سے خصوصی انٹرویو

بریگیڈیئر صاحب آپ عسکری دانشور کی حیثیت سے منفرد مقام رکھتے ہیں، ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر بھی رہے ہیں، کچھ بتائیں گے کہ ہمارے ہاں آئے دن فوج کے اندر سے بغاوتیں کیوں پھوٹتی رہتی ہیں؟

یہ واقعی بڑا اہم مسئلہ ہے اور اس پر ضرور سوچا جانا چاہیے۔ میں حالیہ معاملے کی تفصیل سے واقف نہیں ہوں، لیکن ضیاء الحق مرحوم کے دور تک فوج کے اندر ہونے والی تمام سازشوں یا ناکام بغاوتوں کے پیچھے قادیانیوں کا ہاتھ تھا۔ یہ بات میں اپنے تجربے، مشاہدے، مطالعے اور براہ راست معلومات کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ آپ خود غور کریں، ہندوستانی اور پاکستانی فوج کا پس منظر ایک ہی ہے۔

دونوں انگریز کی تربیت یافتہ ہیں اور دونوں کو کڑے نظم و ضبط کی ایک جیسی روایت ورثے میں ملی ہے۔ آج تک دونوں فوجوں کی ٹریننگ کا عمومی انداز وہی ہے، جو انگریز نے دیا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بھارتی فوج میں اس طرح کی سازشیں نہیں ہوتیں۔ لیکن ہمارے ہاں آئے دن یہ مسئلہ پیدا ہوتا رہتا ہے۔ اس کا ایک بڑا سبب قادیانی فیکٹر ہے۔ قادیانی افسران یا قادیانیت کے زیر اثر افسران نے ہمیشہ سازشوں کے جال پھیلائے اور اس ملک پر قبضہ کر کے ایک قادیانی ریاست بنانے کا منصوبہ بنایا جو اللہ کے فضل و کرم سے آج تک کامیاب نہ ہو سکا۔

س: آپ کچھ وضاحت کریں گے کہ ضیاء الحق دور تک کی فوجی سازشوں میں قادیانی ملوث تھے؟

ج: جناب اب تو بہت سی باتیں واضح ہو چکی ہیں۔ راولپنڈی سازش کیس ۱۹۵۱ء میں سامنے آیا۔ لیکن اس سے تقریباً دو سال قبل ۱۹۴۹ء کے اوائل میں جنرل نذیر احمد اور اس

صفحہ 116

وقت کے لیفٹیننٹ کرنل عبداللطیف (جو بعد ازاں بریگیڈیئر کی حیثیت میں پنڈی سازش میں ملوث ہوئے) ایبٹ آباد میں میری رہائش گاہ پر آئے، میں بریگیڈیئر تھا۔ گویا جنرل نذیر میرا باس تھا اور کرنل لطیف میرا جونیئر تھا۔ انہوں نے رات کا کھانا میرے ساتھ کھایا اور تین گھنٹے تک وہیں ٹھہرے رہے۔ یہ دونوں مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ خان لیاقت علی خان کی حکومت ٹھیک کام نہیں کر رہی۔ اس لیے اس کا تختہ الٹ دینا چاہیے۔ وہ فوجی انقلاب بپا کرنا چاہتے تھے۔ میں نے کہا: اگر آپ لوگ سیاست کرنا چاہتے ہیں تو وردی اتار دیں۔ یہ حلف سے غداری ہے اور نظم و ضبط کے خلاف ہے۔ اس پر جنرل نذیر نے کہا ”ڈسپلن کے بارے میں تمہارے خیالات بہت فرسودہ ہیں۔“ اور یہی جملہ میری سالانہ خفیہ رپورٹ میں بھی لکھ دیا۔ اس سے قبل میں تحریری طور پر جنرل نذیر احمد کو یہ اطلاع دے چکا تھا کہ میرے پڑوس میں بریگیڈیئر اکبر کے بریگیڈ کے اندر فوجی انقلاب کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں۔ لیکن نہ صرف میری اس اطلاع کو نظر انداز کر دیا گیا بلکہ جنرل نذیر خود سازشیوں کی سرپرستی فرمانے لگے اور دوسروں کو بھی اس میں شرکت پر آمادہ کرنے لگے۔

جنرل نذیر کی اہلیہ قادیانی تھیں۔ اس سازش کا پہلا اجلاس اٹک قلعے میں نذیر احمد کی صدارت ہی میں ہوا تھا۔ دستیاب ہونے والے ریکارڈ کے مطابق نذیر احمد نے ملک کا صدر اور اکبر خان نے کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالنا تھا۔ دراصل نذیر احمد کا پروگرام یہ تھا کہ صدارت پر قبضہ مستحکم کرنے کے بعد اکبر خان کو چھٹی دے دی جائے گی اور اس کی جگہ اپنے ہم زلف جنرل حمید کو کمانڈر انچیف بنا دیا جائے گا۔ یوں فوج کو قادیانیت کے شکنجے میں جکڑنے کے بعد خلیفہ قادیان کو ”امیرالمومنین“ بنا کر خود وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس کے بعد آپ ۱۹۷۳ء کی سازش کو دیکھ لیجئے۔ اس میں شامل دو تین افسروں کو چھوڑ کر سب کے سب قادیانی تھے۔ اس سازش کے سرغنہ بریگیڈیئر شاہ کا تعلق لاہوری گروپ سے تھا۔ میجر نادر پرویز اور میجر فاروق کے سوا کم و بیش سب کے سب لوگ قادیانی تھے۔ ان میں جنرل اختر ملک کا بیٹا شامل تھا۔ جس نے فوجی عدالت کے سامنے کہا کہ: ”میں نے جو کچھ کیا، اس پر مجھے فخر ہے اور اگر آئندہ موقع ملا تو بھی یہی کروں گا۔“ ان سازشیوں میں جنرل اکرم خان کے دو بیٹے بھی شامل تھے۔ آدم خان خود قادیانیت سے انکار کرتا تھا

صفحہ 117

لیکن اس کی بیوی کٹر قادیانی تھی، جس کا باپ سکہ بند قادیانیوں میں شمار ہوتا تھا۔ کرنل عطا اللہ قادیانیوں کا معروف مبلغ تھا۔ جس کا بیٹا سازش میں ملوث تھا۔ جنرل عبد العلی کا داماد اس میں شامل تھا، جو قادیانی تھا۔ 1981ء میں جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں تیسری سازش سامنے آئی، جس کا سرغنہ جنرل تجمل حسین تھا۔ تجمل حسین کی بیوی بھی قادیانی تھی اور خود تجمل نے بھی نکاح کے وقت قادیانیت قبول کر لی تھی۔ 1973ء ہی کے لگ بھگ قادیانی ”خلیفہ“ نے اعلان کیا تھا کہ ”جب میرے ہاتھ میں عمر کا کوڑا آ گیا تو میں پورے ملک کو راہ راست پر لے آؤں گا۔“

1951ء، 1973ء اور 1981ء کی تینوں سازشیں قادیانی ذہن کی تراشی ہوئی تھیں جن کا اصل مقصد اپنے ”خلیفہ“ کے ہاتھ میں طاقت کا کوڑا تھمانا تھا۔

س: کہا جاتا ہے کہ آپ نے خود ایک فوجی انقلاب یا سازش کا پلان قائد اعظم محمد علی جناح کو پیش کیا تھا؟

ج: یہ معروف معنوں میں نہ فوجی انقلاب تھا، نہ بغاوت اور نہ سازش۔ سازشوں کے نقشے یوں باضابطہ انداز میں پیش نہیں کیے جاتے۔ یہ ان دنوں کا قصہ ہے، جب پاکستان ابھی قائم نہیں ہوا تھا لیکن ہمارے دلوں میں ایک آزاد اسلامی ملک کی تڑپ نے آگ سی بھر دی تھی۔ میں اس وقت لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز تھا اور اپنی پوسٹنگ کے سلسلے میں جی ایچ کیو (دہلی) آیا ہوا تھا۔ میں نے کئی روز پہلے ایک پلان بنایا تھا کہ کس طرح پاکستانی فوجی ایک ہی دن میں ہندوستان بھر کی چھاؤنیوں پر قبضہ کر سکتے ہیں اور یوں پورا ہندوستان ایک بار پھر مسلمانوں کے زیر حکومت آسکتا ہے۔ میں نے اپنا یہ پلان سردار عبدالرب نشتر تک پہنچایا۔ نشتر صاحب نے اپنے ریمارکس کے ساتھ یہ پلان نواب زادہ لیاقت علی خان تک پہنچایا۔ نواب زادہ صاحب اسے قائد اعظم تک لے گئے۔ ایک دن میں اور کچھ دوسرے ساتھی سردار عبدالرب نشتر کے ہاں کھانا کھا رہے تھے کہ پیغام ملا ”کرنل گلزار کو قائد اعظم بلا رہے ہیں۔“

میری تو ٹانگیں کانپنے لگیں، میں نے ایئر کموڈور جنجوعہ کو ساتھ لیا جو اس وقت غالباً ونگ کمانڈر تھے، ہم دونوں قائد اعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ قائد کے کہنے پر میں نے اپنی اسکیم کی وضاحت کی۔ اس پر انہوں نے سوال کیا:

صفحہ 118

What will be our job. ہمارا کام کیا ہو گا؟

میں نے کہا....... ”سر آپ مسلم لیگ کے سربراہ ہیں، آپ ہی ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں کہ کون کون سے مسلمان افسر ہماری مدد کر سکتے ہیں۔“ قائد اعظم بولے:

Will It be above board or under hand? (کیا یہ پلان واضح اور کھلا ہو گا یا خفیہ؟)

میں نے کہا: ”سر! یہ تو بہرحال خفیہ ہی ہوتا ہے۔“

اس پر قائد اعظم اپنی گونج دار آواز میں بولے...... ”نوجوان! کیا تم جانتے ہو کہ خفیہ اور پس پردہ کی کارروائیاں آبرومندانہ نہیں ہوتیں اور جو کام آبرومندانہ نہیں ہوتے، وہ اسلامی نہیں ہو سکتے، میں اپنی مسلم قوم کے لیے کسی ایسی بات کو پسند نہیں کر سکتا جو غیر آبرومندانہ اور غیر اسلامی ہو۔“ میں گھبرا گیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ قائد اعظم گرجے Sit down میں بیٹھ گیا۔ وہ کہنے لگے: تم جانتے ہو، اسلام کیا ہے؟ میں حیران اور پریشان، گم سم، ان کا منہ دیکھنے لگا۔ وہ بولے:

”دیکھو جوان! اسلام میں مقاصد اور انہیں حاصل کرنے کے ذرائع، دونوں اہم ہیں۔ عیسائیت میں صرف مقاصد پر نظر رکھی جاتی ہے۔“ قائد اعظم کے یہ الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونج رہے ہیں، یہ اتنا بڑا سبق تھا کہ زندگی کے ہر موڑ پر مجھے یاد رہا، میں نے ہمیشہ کے لیے یہ بات پلے باندھ لی کہ اسلام میں منافقت نہیں چل سکتی۔

س: فوج میں ہونے والی حالیہ سازش کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

ج: جب معاملہ کھلی عدالت میں آئے گا تو سب کچھ واضح ہو جائے گا لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جو کچھ ہوا، برا ہوا، مجبوری کیسی ہی کیوں نہ ہو، ڈسپلن کو توڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت نے جو کہانی بیان کی ہے، وہ عام آدمی کے لیے بھی ناقابل یقین ہے اور فوجی معاملات سے آگاہی رکھنے والا کوئی شخص تو اسے مان ہی نہیں سکتا۔ یہ کہانی تو محض ایک مذاق ہے۔ جب تک فوج کا مقامی کمانڈر ساتھ نہ ہو۔ اس طرح کی کوئی سازش تیار ہی نہیں کی جا سکتی۔ عملی جامہ پہنانا تو بہت دور کی بات ہے۔ ممکن ہے آپ کور کمانڈر کانفرنس کو بھی اڑا دیں، لیکن پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ کون آپ کو ”امیر المومنین“ تسلیم کرے گا؟ حکومت یا جی ایچ کیو کو پتہ تھا کہ اسلحہ لایا جا رہا ہے۔ اس اسلحہ کو چیک پوسٹ پر

صفحہ 119

پکڑنے اور ہمیشہ کے لیے فوجی گاڑیوں کو مشکوک بنا دینے کے بجائے بہتر ہوتا کہ ان فوجی افسروں کو سمجھا دیا جاتا کہ برخوردار یہ طریقہ ٹھیک نہیں۔ انہیں ایسا کرتے رہنے کی اجازت ہی کیوں دی گئی؟

س: لیکن حکومت کا کہنا یہ ہے کہ اس معاملے کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں‘ یہ لوگ تو صدر‘ وزیر اعظم اور آرمی کی قیادت کو قتل کر کے ”خود ساختہ شریعت“ لانا چاہتے تھے؟

ج: یہ تو انتہائی مضحکہ خیز بات ہے۔ فوجی افسروں کو حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں یا کسی اور کو اڑانے کے لیے اسلحہ کی کھیپ کہیں اور سے لانے کی کیا ضرورت تھی؟ اتنا اسلحہ تو ہر فوجی کی دسترس میں ہوتا ہے‘ کیا وہ اپنے ہتھیار استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ اگر یہ اسٹاف افسر تھے تو کس کے سر پر اتنا بڑا معرکہ مارنے چلے تھے۔ اسٹاف افسروں کی کمان کے نیچے بھی تو کوئی چار سپاہی ہونے چاہیں نا‘ آخر وہ کس بل بوتے پر انقلاب لانے چلے تھے۔ یہ بے ربط اور طفلانہ باتیں ہیں۔ میں بہت سے دلائل دے سکتا ہوں لیکن ”انکوائری“ پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتا۔

س: یہ ”بنیاد پرستی“ کا شاخسانہ تو نہیں؟

ج: میں باہر بیٹھا ہوں اور بڑی حد تک گوشہ نشین ہوں لیکن ”فنڈامنٹلسٹ“ کے طور پر مشہور ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ مجھے بھی اس سازش میں ملوث کر کے قید کر دیا جائے‘ تاہم حسن اتفاق سے میرا ان زیر حراست افسروں میں سے کسی ایک سے بھی رابطہ یا میل ملاقات نہ تھی‘ میں اپنی ”بنیاد پرستی“ کا کھلا اور واضح اعتراف کرتا ہوں‘ مجھے اپنے فنڈامنٹلسٹ ہونے پر فخر ہے۔ میں ایک سہ ماہی پرچہ نکال رہا ہوں‘ جس کا نام ہی ”فنڈامنٹلسٹ“ ہے۔ لیکن فنڈامنٹلزم کو غلط معنی پہنائے جا رہے ہیں۔ اسلام تو امن اور سلامتی کا دین ہے‘ محبت اور صلح و آشتی کا دین ہے۔ اگر لوگ اسلام کی بنیاد پرستی کو سمجھ لیں تو ساری دنیا اس طرف کھنچی چلی آئے۔

س: حالیہ واقعے کو جو رنگ دیا جا رہا ہے۔ اس سے فوج کے اندر نظریاتی کشمکش کا کس قدر اندیشہ ہے؟

ج: جی نہیں..... ایسی کوئی بات نہیں‘ پاکستان کی فوج بنیاد پرست ہے اور بنیاد پرست رہے گی۔ بنیاد پرستی ہی اس فوج کی اصل قوت ہے۔ جس روز آپ نے کسی کے پریشر میں آ

صفحہ 120

کہ فوج سے بنیاد پرستی کا اثاثہ چھیننے کی کوشش کی، اس دن آپ کی فوج لڑنے کے قابل نہیں رہے گی۔ پاکستانی فوج کے ہر سپاہی کا اصل ہتھیار جہاد کی روح ہے، جو اسلام دیتا ہے۔ یہ روح چھین لینا سپاہی کو غیر مسلح کر دینا ہے۔ آپ کا دشمن آپ سے کئی گنا بڑا ہے۔ ہندوستان آج تک ہمیں مٹا نہیں سکا تو اس کی کیا وجہ ہے؟ صرف یہ کہ اس کی فوج مختلف مذہبوں، صوبوں، قبیلوں، ذاتوں اور نسلوں کے اندر بکھری ہوئی فوج ہے۔ جس کے پاس کوئی نظریاتی کھونٹا نہیں۔ یہ فوج اسلام جیسے لازوال نظریے کی بنیاد پر متحد و منظم فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اسی لیے زمینی فوج کی چار گنا، فضائیہ کی چھ گنا اور بحریہ کی آٹھ گنا برتری کے باوجود بھارت پاکستان کو سر نہیں کر سکا۔ جس دن آپ بنیاد پرستی کی روح نکال لیں گے، آپ کا دفاع ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ جائے گا۔

س: بریگیڈیئر صاحب ۱۹۴۸ء میں آپ کشمیر میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ پاک فوج کے بڑھتے ہوئے قدموں میں زنجیریں کس نے ڈال دی تھیں؟

ج: یہ ایک افسوسناک کہانی ہے، کشمیر میں میرے بریگیڈ کے علاوہ اور دو بریگیڈ بھی تھے، ایک بریگیڈ آدم خان کی کمان اور دوسرا بریگیڈ اکبر خان کی کمان میں۔ بلاشبہ ہماری پوزیشن نہایت اچھی تھی۔ میں نے بھارت کی کم از کم بارہ پلٹنوں پر گھیرا ڈالنے کا پلان بنا رکھا تھا۔ ان کے پیچھے پہاڑ تھے اور ان کا سپلائی نظام بھی بہت ناقص تھا۔ وہ گھیرے میں آ جاتے تو سارا قصہ ہی پاک ہو جاتا۔ لیکن فیصلہ میں نے یا دوسرے کمانڈروں نے نہیں، سیاست دانوں نے کرنا تھا۔ سیاسی افراد کو فوج کے عزائم اور حکمت عملی کی شاید پروا نہ تھی۔ ادھر پورا جی ایچ کیو انگریزوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ کمانڈر انچیف بھی انگریز تھا۔ ہمارے ۷۰ فیصد سینئر افسروں نے کبھی جنگ دیکھی ہی نہ تھی۔ انہوں نے سارا عرصہ ہندوستان میں بیٹھ کر گزار دیا تھا۔ محاذ کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ لیکن وہ نوکری میں سینئر تھے اور پروموشن لیتے رہے۔ ہمارے ہاں فوج کے اندر بھی احتساب کی روایت نہ بن سکی۔ اعظم خان کو میجر بناتے وقت یہ لکھا گیا کہ ”ناٹ فار کمانڈ“ (Not For Command) لیکن وہ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچ گیا۔ اس شخص نے بریگیڈیئر کی حیثیت سے ایک گولی چلائے بغیر پوری میندھر ویلی ہندوستان کے حوالے کر دی۔ اس وقت کے ایک انگریز جرنیل نے کہا تھا ”اعظم اگر میں پاکستانی ہوتا تو تمہیں گولیوں سے بھون ڈالتا۔“ ۱۹۴۸ء میں

صفحہ 121

جن لوگوں کو فیصلے کرنے کا اختیار تھا۔ انہوں نے درست فیصلہ نہ کیا‘ ملکی مفاد کے خلاف فیصلے ہوئے۔ ان میں سیاستدان اور فوجی قیادت دونوں ہی ملوث تھے۔ ہمارا خیال ہے کہ جنگ بندی کا مشورہ جنرل گریسی نے دیا اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے یہ مشورہ قبول کر لیا۔

س: کشمیر میں لڑنے والے کمانڈروں سے تو بات ہوئی ہو گی؟

ج: جی نہیں کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی‘ جیسا کہ میں نے بتایا‘ تین بریگیڈیئر وہاں موجود تھے۔ دائیں طرف بریگیڈیئر آدم خان کا بریگیڈ تھا‘ وہ زبردست لڑاکا افسر تھا۔ جس کے پاس ملٹری کراس کا اعزاز بھی تھا۔ درمیان میں مرکزی سڑک چکوٹھی روڈ پر بریگیڈیئر اکبر خان کا بریگیڈ تھا۔ میں بائیں طرف تھا۔ میں دونوں سے جونیئر تھا۔ لیکن آدم خان اور اکبر خان کو بھی جنگ بندی کی کوئی بھنک نہ پڑنے دی گئی اور فیصلہ سنا دیا گیا۔ آپ آزاد کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان سے پوچھ لیجئے کہ ان تینوں بریگیڈوں کا جذبہ کیا تھا؟ وہ لڑنے کے لیے تیار تھے یا نہیں؟ ہمارے تو پلان تھے کہ سردیوں میں فیصلہ کن کارروائی کریں گے لیکن یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو اچانک پیغام ملا کہ جنگ بند کر دو۔ ہمارے کمانڈر جنرل نذیر کو حکم ملا کہ بڑی سڑک پر جاکر ہندوستانی کمانڈر سے ملاقات کرو۔ ہمیں کہا گیا کہ اپنے اپنے سامنے کے بھارتی بریگیڈ کمانڈر سے گلے ملو‘ آدھی صدی گزر جانے کو ہے اور پوری قوم ایک غلط فیصلے کی سزا بھگت رہی ہے۔

س: آپ نے ۱۹۶۵ء کی جنگ کی تاریخ بھی قلم بند کی ہے۔ کیا یہ جنگ بندی بھی اسی نوعیت کی تھی؟

ج: جی نہیں۔ اگر ۱۹۴۹ء میں جنگ بند کرنا ایک سازش تھی تو ۱۹۶۵ء کی جنگ بھڑکانا بھی ایک سازش ہی تھی۔ آپ ذرا تاریخ پر نظر ڈالئے۔ نہرو نے دسمبر ۱۹۶۲ء میں چین پر چڑھائی کر دی اور منہ کی کھائی۔ ایک ہفتے کے اندر اندر بارہ امریکی جرنیل دہلی آبیٹھے۔ فروری ۱۹۶۳ء میں ہمیں امریکہ سے ملنے والی امداد بند کر دی گئی‘ امریکیوں کے مشورے پر ہی بھارت نے رن آف کچھ میں ٹرائل میچ کیا۔ اس میچ کے بعد امریکیوں نے بھارت کو پاکستان پر چڑھ دوڑنے کے لیے گرین سگنل دے دیا۔ تب اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ ”ہم اپنی مرضی کا محاذ کھولیں گے“ جس شخص نے کشمیر کے اندر غیر

صفحہ 122

تربیت یافتہ افراد بھیج کر بھارتی وزیر اعظم کو اپنی مرضی کا محاذ کھولنے کا موقع دیا‘ وہ یقیناً بھارتی وزیر اعظم سے ملا ہوا تھا۔ معاملہ دو جمع دو چار کی طرح واضح اور صاف ہے۔ اس وقت ایک کشمیر کونسل بھی قائم تھی۔ اس اہم ترین کمیٹی کے ارکان میں سے چھ ارکان کٹر قادیانی تھے۔ اس کی تصدیق جنرل موسیٰ خان نے اپنی کتاب My Version میں بھی کی ہے۔ انہی کے مشورے پر ”آپریشن جبرالٹر“ تیار کیا گیا تاکہ پاکستان بھارت سے شکست کھا کر اپنا وجود کھو بیٹھے۔ تمام قادیانی ”قادیان“ جاسکیں اور یوں مرزا بشیر الدین محمود کی پیش گوئی پوری ہو جائے۔ جب میں ۱۹۶۵ء کی تاریخ لکھ رہا تھا تو کمانڈر انچیف موسیٰ خان نے مجھے ایک انتہائی اہم فائل دکھائی جس میں معروف قادیانی جنرل اختر ملک نے ”آپریشن جبرالٹر کا خاکہ پیش کیا تھا۔ اس پر جنرل موسیٰ خان نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے لکھا کہ ”اگر ہم پانچ ہزار آدمی کشمیر بھیجتے ہیں تو بھارت واہگہ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرے گا اور پاکستان کے دفاع کے لیے مجھے دو مزید انفنٹری ڈویژن کھڑے کرنے پڑیں گے“۔ یہ فائل وزیر خزانہ شعیب کے پاس گئی تو اس نے لکھا No Funds اس کے ساتھ ہی اس نے لکھ دیا ”مزید کارروائی نہ کی جائے (No Further Action) یہ فائل ان ریمارکس کے ساتھ کمانڈر انچیف کے پاس آگئی۔ ادھر سازشی اپنا کام کیے جارہے تھے۔

ایک رات امریکی سفیر‘ جنرل اختر ملک اور ذوالفقار علی بھٹو تینوں مری میں اکٹھے ہوئے۔ وہاں تینوں پیتے پلاتے رہے۔ اس وقت امریکی سفیر نے کہا ”دنیا آپ کی مدد کو صرف اسی وقت آسکتی ہے جب کشمیر کے اندر کوئی ہلچل ہوگی“ یہ جملہ سازش کا پہلا نکتہ تھا۔ بھٹو اور قادیانی عناصر اس کھیل کو آگے بڑھاتے رہے۔ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خان آپریشن کی مخالفت کر رہا ہے تو یہ براہ راست صدر ایوب خان کے پاس پہنچے اور اسے قائل کرنے لگے۔ قادیانی کشمیر سیل‘ قادیانی جنرل اختر ملک اور بھٹو نے ایوب خان کو قائل کر لیا۔ ایوب نے وہ فائل موسیٰ خان سے منگوائی اور آپریشن کی اجازت دیتے ہوئے لکھا Go Ahead

ان لوگوں نے وہ صورت حال پیدا کر دی جو بھارت اور امریکہ چاہتے تھے۔ پانچ ہزار غیر تربیت یافتہ افراد مقبوضہ کشمیر کے اندر دھکیل دیے گئے۔ وہ جس انجام سے دوچار ہوئے‘ وہ ایک الگ کہانی ہے لیکن بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کا جواز ضرور مل گیا۔

صفحہ 123

س: موسیٰ خان نے کوئی احتجاج نہیں کیا؟

ج: موسیٰ خان تو روکتا رہا۔ ایوب خان بھی اس پر آمادہ نہ تھا لیکن سازشی عناصر کامیاب ہو گئے۔ میرے خیال میں جنرل موسیٰ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ جب بھی کوئی شخص کسی ادارے کے بلند ترین منصب تک پہنچ جاتا ہے اور حکومت سے اسے پالیسی اختلاف ہو جاتا ہے تو اسے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ عزت دار طریقہ یہی ہے۔ یہ اصول بننا چاہیے کہ ایسے افراد کی پنشن نہ کاٹی جائے اور اسے تمام مراعات دی جائیں۔ اصول پرست آدمی کی تو زیادہ عزت افزائی ہونی چاہیے۔ ایسے نہ ہو جیسے آج کل بعض ججوں کی پنشن روک لی گئی ہے۔ ایسی کمینگی کی باتیں حکومت کی سطح پر نہیں ہونی چاہئیں۔ نہ موسیٰ خان نے اپنا استعفیٰ دیا نہ کسی اور نے، الٹا یہ روایت چل نکلی کہ اگر حکومت سے اختلاف ہو تو ٹیک اوور کر لیا یا حکومت کو گھر بھیج دیا اور اس کی جگہ کسی اور کو بٹھا دیا۔

آج کے حالات میں اگر ہمارے چیف آف دی آرمی سٹاف مطمئن ہیں کہ حکومت کی پالیسیاں ٹھیک ہیں اور وہ صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر وہ حکومتی پالیسیوں سے متفق نہیں تو انہیں باعزت طریقے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

س: موجودہ حالات میں کشمیر کی صورت حال کسی نئی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے؟

ج: نہیں، اس لیے کہ اس وقت کشمیر کے لیے جو منصوبے بنائے جا رہے ہیں اور جن پر بھارت اور پاکستان کو آمادہ کیا جا رہا ہے وہ کسی فیصلہ کن موڑ تک نہیں پہنچے۔ دونوں ملکوں کی حکومتیں اپنے عوام سے بار بار بات چیت کر رہی ہیں۔ یو این او یا یو ایس اے جو رول کشمیر کو دینا چاہتے ہیں، وہ نہ بھارت قبول کر رہا ہے اور نہ پاکستان کر سکتا ہے۔ کشمیریوں کے پاس لٹانے کے لیے صرف زندگیاں ہی رہ گئی ہیں جو وہ نچھاور کر رہے ہیں۔ کشمیری جوانوں کو صرف جہاد ہی میں اپنی بقا نظر آتی ہے۔ پانچ سالوں کی بے مثال قربانیوں کے بعد کشمیریوں کی آزادی نوشتہ دیوار بن چکی ہے۔ پاکستان جہاد کا واحد راستہ اپنانے پر آمادہ نہیں۔ یہاں تک کہ پہلے جو راستے بھارت نے بند کر رکھے تھے، اب خود پاکستان نے بند کر رکھے ہیں۔ آمد و رفت معطل ہے۔ اتنی سختی سے ناکہ بندی کی گئی ہے کہ ایک گولی تک کشمیری مجاہدین کو نہیں پہنچ رہی۔ لیکن جہاد پھر بھی جاری ہے۔ مجاہدین بھارتی فوجیوں سے اسلحہ خرید کر یا چھین کر لڑ رہے ہیں۔

صفحہ 124

س: بریگیڈیئر صاحب! آج کے پاکستان کا چہرہ وہی ہے جس کے خدوخال آپ نے قیام پاکستان سے قبل اپنی چشم تصور سے دیکھے تھے؟

ج: ہر گز نہیں۔ یہ چہرہ اس تصور سے بہت مختلف ہے۔ شاید ہم سے بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے بلا سوچے سمجھے مغرب کے جمہوری نظام کو اپنا لیا۔ اس نظام پر نظر رکھنے والا اور اسے اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھنے والا صرف ایک ہی شخص تھا اور وہ تھے قائد اعظم۔ ان کے بعد ہم اس نام نہاد جمہوری نظام کے عشق میں بہت کچھ گنوا بیٹھے اور مسلسل اپنی اصل سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ اسلام حق گوئی اور صداقت کا درس دیتا ہے۔ ہمارے ہاں چالیس، پچاس کے لگ بھگ سیاسی جماعتیں ایک جیسے منشور رکھتی ہیں۔ اختلاف صرف شخصیات کی بنیاد پر ہے۔ اس شخصیت پرستی نے ہمارے نظام کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اصول پرستی ختم ہو گئی، اسمبلیوں کے ارکان کھلے بندوں بکتے اور خریدے جاتے ہیں۔ عالم اسلام مجموعی طور پر زوال اور پستی کا شکار ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے سامراج تلے غلامی کی زندگی گزارنے والے ممالک آزاد تو ہو گئے لیکن آج تک ان ممالک کے حکمران وہی لوگ ہیں جنہیں سامراج کی معنوی اولاد کہا جاسکتا ہے۔ یہ آج بھی اپنی چھٹیاں یورپ میں گزارتے ہیں اور اپنی جمع پونجی وہاں کے بینکوں میں رکھتے ہیں۔

آپ مراکش سے انڈونیشیا تک نظر ڈال لیجئے۔ قریب قریب یہی صورت حال نظر آئے گی۔ پاکستان تو ابھی تک مکمل آزادی کو ترس رہا ہے۔ ہماری معیشت کی شہ رگ بھی مغرب کے پنجے میں ہے۔ ورلڈ بینک کچھ کہتا ہے، آئی ایم ایف کچھ کہتا ہے اور ایشیا بینک کچھ کہتا ہے۔ جب تک ہمارے اندر اتنی جرات و ہمت پیدا نہیں ہو جاتی کہ ہم ان زنجیروں کو کاٹ سکیں، اس وقت تک ہم اپنی مرضی کا نظام نہیں لا سکتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دل سے مسلمان ہو جائیں۔ ہمارے رہنما اسلام کو ایک متحرک اور قابل عمل نظام کے طور پر قبول کر لیں اور مغربی جمہوریت کے طلسم سے آزاد ہو جائیں۔

س: لیکن ہماری دینی جماعتوں نے بھی تو اسلامی نظام کا کوئی واضح اور جامع خاکہ پیش نہیں کیا؟

ج: ہمارے ہاں دینی نہیں، فقہی اور مسلکی جماعتیں ہیں۔ کوئی اہل حدیث ہے، کوئی

صفحہ 125

بریلوی ہے، کوئی دیوبندی ہے اور کوئی جعفری ہے۔ ان میں سے کسی ایک کے مدرسے میں چلے جائیں، آپ کو دین اسلام نہیں، مخصوص مسلک اور مخصوص فقہ کی تعلیم ملے گی۔ یہ لوگ رسول پاک ﷺ کے بعد آنے والی شخصیات سے چمٹے ہوئے ہیں اور اپنے پیشواؤں سے دائیں بائیں ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

س: ملک کے موجودہ ابتر حالات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ج: حکمرانوں کو میرا یہی مشورہ ہے کہ اگر وہ اس ڈگر پر چلتے رہے تو ان کی سیاست کا باب ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اگر اس وقت حکومت نئے انتخابات کرانے پر تیار ہو جاتی ہے تو شاید ۵ سال بعد اس کی پھر باری آئے لیکن اگر دو سال مزید حالات کو خراب کرتے رہے، اسی طرح نواز شریف کے کاموں میں کیڑے نکالتے اور پھر انہی کو جاری کرتے رہے، اسی طرح کرپشن کو فروغ دیتے رہے تو عوام ان کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے مسترد کر دیں گے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، میں اللہ تعالی کے فضل و کرم سے مایوس نہیں ہوں۔ پاکستان یقیناً ان مشکلات سے نکل آئے گا، ایسا کب ہوگا؟ کس طرح ہوگا؟ کون کرے گا؟ میں کچھ نہیں جانتا لیکن ایسا ہو کر رہے گا۔

(بشکریہ "تکبیر" ۳۰ نومبر ۱۹۹۵ء)

صفحہ 126

جماعت احمدیہ کے نئے خلیفہ کے

انتخاب کے موقع پر ربوہ میں ہنگامہ آرائی

خلافت کے ایک امیدوار مرزا رفیع احمد کو اغوا کرنے کی کوشش۔۔۔

جماعت سخت انتشار کا شکار

فیصل آباد ۱۰ جون (صفدر بخاری نمائندہ نوائے وقت) جماعت احمدیہ ربوہ نئے خلیفہ کے انتخاب کے موقع پر انتشار کا شکار ہو گئی، چنانچہ آج ربوہ میں نئے خلیفہ کے انتخاب کے بارے میں حتمی اعلان سے قبل مسجد مبارک کے باہر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی اور دو گروپوں میں نصف گھنٹہ تک ہاتھا پائی ہوتی رہی۔ خلافت کے ایک امیدوار مرزا رفیع احمد تو مجلس مشاورت کے اجلاس سے واک آؤٹ کر کے باہر آ گئے تھے۔ انہیں ایک کار میں ڈال کر اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے جماعت احمدیہ کی مشاورت کا اجلاس آج دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب ربوہ مسجد مبارک میں شروع ہوا۔ اجلاس شروع ہوتے ہی مسجد کی بیرونی دیوار کے تمام دروازے مقفل کر دیے گئے اور کسی کو ان دروازوں کے قریب نہیں جانے دیا گیا۔ اس عرصہ میں جماعت کے ہزاروں ارکان باہر کھڑے انتخاب کے اعلان کا انتظار کرتے رہے۔ ڈھائی بجے کے قریب مرزا رفیع احمد مشاورت کے اجلاس سے واک آؤٹ کر کے باہر آئے اور اپنے حامیوں کو لے کر چوک میں جمع ہو گئے۔ انہوں نے ایک بس کی پچھلی سیڑھی پر کھڑے ہو کر چوک میں مختصر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے خلافت کے اصولوں کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور انہیں انتخاب خلافت سے خارج کر دیا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔

صفحہ 127

مرزا رفیع احمد نے کہا کہ میں جان دے دوں گا۔ آپ میری جان لے لیں۔ اس پر مرزا طاہر احمد کے حامی بھی وہاں جمع ہو گئے اور انہوں نے مرزا رفیع کو بس سے اتار لیا۔ اس پر ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ چوک میں دونوں گروپوں میں تقریباً نصف گھنٹہ تک ہاتھا پائی ہوتی رہی۔ اس عرصہ میں مرزا رفیع احمد کو ایک کار نمبر اے جے کے ۳۰۰ میں زبردستی بٹھانے کی کوشش کی گئی مگر ان کے حامیوں نے یہ کوشش ناکام بنادی۔ جس کے بعد مخالف گروپ کے ارکان مرزا رفیع احمد اور ان کے حامیوں کو ان کے گھروں کی طرف جانے والی سڑک پر دھکیلنے میں کامیاب ہو گئے اور یہ سڑک بند کر دی گئی تاکہ کوئی بھی شخص مرزا رفیع احمد کے پاس نہ پہنچ سکے۔ اس واقعہ کے بعد مرزا رفیع احمد اپنے گھر چلے گئے۔

سوا تین بجے مسجد سے لاؤڈاسپیکر پر اعلان کیا گیا کہ مجلس مشاورت نے متفقہ طور پر مرزا طاہر احمد کو جماعت احمدیہ کا چوتھا خلیفہ منتخب کیا ہے۔ جس کے بعد مرزا طاہر احمد نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ بہت گنہگار ہیں تاہم جماعت نے ان کے کاندھوں پر جو ذمہ داریاں ڈالی ہیں‘ وہ انہیں نبھانے کی کوشش کریں گے۔ پانچ بجے کے بعد مرزا ناصر احمد کی تدفین کی رسومات ادا کی گئیں۔ جن میں سابق وزیر خارجہ چودھری ظفر اللہ خاں‘ ایم ایم احمد اور جماعت کے دیگر لیڈر بھی شریک ہوئے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ روز بھی ایک گروپ نے یہ نعرے لگائے تھے کہ خلیفہ ایک مخصوص کنبہ کی بجائے ان میں سے منتخب کیا جائے۔ اس طرح اب جماعت احمدیہ تین گروپوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ جن میں ایک مرزا طاہر احمد اور دوسرا مرزا رفیع احمد کا حامی ہے۔

جب کہ تیسرا گروپ خلیفہ کا انتخاب جماعت کے عام ارکان میں سے چاہتا ہے۔ دریں اثنا مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد نے وضاحت کی ہے کہ پروفیسر صوفی بشارت رحمٰن اور پروفیسر حبیب اللہ کو جو مجلس کارپردازان انجمن احمدیہ کے صدر اور سیکرٹری ہیں‘ قادیانیت سے خارج کر کے اور ملازمت سے برطرف کر کے سزا کے طور پر ان کا سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا ہے۔ البتہ قصر خلافت کے ایک انتہائی قریبی اور فعال قادیانی نے اسلام قبول کیا ہے جس کا نام مناسب وقت پر ظاہر کیا جائے گا۔

(نوائے وقت‘ ۱۱ جون ۱۹۸۲ء)

صفحہ 128

ہندو سرکار کی زیر سرپرستی

قادیانیت کے فروغ کی کوششیں

حمید اللہ عابد

ڈش انٹینا اور جدید برقی ذرائع ابلاغ کا استعمال

مجھے دنیا بھر کے تقریباً ۶۰ ٹیلی ویژن چینلز روزانہ مانیٹر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ سلسلہ اس سال کے اوائل سے جاری ہے۔ اگرچہ میرا موضوع کشمیر اور بھارت ہے مگر عالم اسلام، اس کے خلاف مغربی پروپیگنڈا اور خود عالم اسلام کی طرف سے اس کا توڑ بھی میری دلچسپی کا موضوع ہے۔ تحریک اسلامی کے اداروں میں میری اطلاعات کی حد تک اس سے زیادہ یونیک ٹیلی ویژن مانیٹرنگ سسٹم کسی اور ادارے کے پاس نہیں ہے۔

۷ جنوری ۱۹۹۴ء کے روز ”دور درشن“ سے خبریں مانیٹر کرنے کے بعد ایک چینل تبدیل کرتے ہوئے میری نگاہ یک لخت مسلم ٹی وی کے مونوگرام پر پڑی، حیرت، بے چینی، تجسس اور کسی حد تک مسرت کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی۔ پاکستان، سعودی عرب، دبئی، متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، عمان اور کویت سمیت کئی پرائیویٹ چینل اسلام کا دم بھرتے ہیں مگر ان کے ٹیلی ویژن چینلز کو اسلام سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اب مسلم ٹی وی کے مونوگرام میں خوبصورت مینار، کعبتہ اللہ اور خود مسلم ٹی وی کے الفاظ دیکھ کر میرا حیران ہونا ایک فطری سی بات تھی۔ مگر اگلے ہی لمحے اسی مونوگرام کے نیچے احمدیہ لکھا دیکھ کر میری ساری امیدوں پر پانی پھر گیا۔ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے فرقے کا

صفحہ 129

چینل تھا۔

۷ جنوری ۱۹۹۴ء کو لندن سے سیٹلائٹ اور دنیا بھر میں ڈش انٹینا کے ذریعے قادیانیوں کے پروگرام پیش کیے جارہے ہیں۔ یہ چینل روس کے تعاون سے شروع ہوا۔ ایشیاء کے لیے مسلم ٹیلی ویژن کی تعلیمات اور موجودہ خلیفہ مرزا طاہر احمد کی تقریروں اور جمعہ کے خطبوں کے علاوہ مختلف پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔ جن میں بحث و مباحثے‘ مذاکرے‘ قادیانی تنظیم کے زیر اہتمام مجالس‘ کھیلوں کے مقابلے‘ خاکے اور تلاوت کے علاوہ ایک خصوصی پروگرام ”ملاقات“ پیش کیا جاتا ہے۔ ”ملاقات“ میں مرزا طاہر خود خطوط کے جواب دیتے ہیں۔ احمدیہ مشن کے مطابق جو لوگ خلیفہ کو خط بھیجتے ہیں وہ ساتھ میں تحفے بھی بھیجتے ہیں۔ اس طرح مسلم ٹی وی نے اتنا فنڈ اکٹھا کر لیا ہے کہ ایک سال تک بغیر کسی رکاوٹ کے مسلم ٹی وی اپنے پروگرام پیش کر سکتا ہے۔ یہ ٹیلی ویژن بیک وقت سات زبانوں بشمول فرانسیسی‘ بنگالی‘ انگریزی‘ اردو‘ اسپینی اور بوسنیائی میں پروگرام پیش کرتا ہے۔ پروگرام کا عربی ترجمہ ساتھ ساتھ اسکرین پر لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ عالم اسلام کی بے بسی اور لاچاری بھی قابل دید ہے۔ سعودی عرب اور ایران ڈش انٹینا پر پابندی عائد کر چکے ہیں مگر دونوں ممالک سے آنے والے احباب بتاتے ہیں کہ اس طوفان کو روکنا ممکن نہیں۔ پابندی کے باوجود عرب شیوخ‘ عوام اور ایرانی حضرات نے گھروں کی چھتوں کے بجائے عقبی صحن میں ڈش انٹینا نصب کر رکھے ہیں۔ مسلم ٹیلی ویژن کی سات زبانوں کی نشریات کو روکنا بھی کسی کے بس کی بات نہیں۔ البتہ اس کا تدارک یوں ممکن ہے کہ مسلمان ممالک بھی اس میدان میں آگے بڑھیں وہ سیٹلائٹ کے زمانے میں تو داخل ہو ہی چکے ہیں۔ مگر تاحال اپنے پروگراموں کو معیاری اور اسلامی ثقافت و تہذیب سے ہم آہنگ نہیں کر سکے۔

احمدیوں کی بے باکی ملاحظہ کیجئے‘ ان کے چینل کے پروگرامات سے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ قادیانی پروپیگنڈا ہے۔ بلکہ ناظر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتا ہے کہ یہ پروگرام کسی اسلامی ایجنسی کے تحت نشر کیا جارہا ہے۔ دھیرے دھیرے یہ طبقہ اپنا مخصوص زہر سادہ لوح مسلمانوں کے ذہن میں سرایت کرتا ہے۔ ان نشریات نے احمدیوں کے عزائم اور حوصلوں کو مزید جلا بخشی ہے۔

صفحہ 130

قادیانیوں کے ہندوستان سے رشتے

برقی ابلاغیات میں ہماری دلچسپی سے بات دور نکل گئی۔ بہرحال ایک احساس چونکہ ہمیشہ تڑپاتا ہے۔ اس لیے بولنے کا موقع ملے تو تحریک اسلامی کی اس سب سے بڑی کمزوری پر بات پھیلتی ہی چلی جاتی ہے۔ گفتگو کے اس پہلو کو میں یہیں پر سمیٹوں گا کہ اس تحریک کا جلد از جلد توڑ پیش کرنا ہو گا۔

احمدیہ جماعت کے تانے بانے اسرائیل، جرمنی اور لندن سے جاملتے ہیں۔ مگر اس ضمن میں بھارت اور روس کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ روس کے تعاون سے پہلے ہی قادیانیوں نے ذرائع ابلاغ کے میدان میں مسلمانوں کو دنیا کا بڑا چیلنج دے دیا ہے۔ ہندوستان قادیانیوں کا مرکز نگاہ ہے۔

ممتاز جریدے ”افکار ملی“ کی اس بارے میں ایک تحقیقی رپورٹ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہندوستانی مسلمان قادیانیوں کا سب سے بڑا ہدف ہے۔ اخبار ”بندے ماترم“ کی ۲۲ اپریل ۱۹۴۲ء کی اشاعت میں ڈاکٹر شنکر داس مہرا نے سچ اگلا تھا۔ آج ۶۳ سال بعد بھی اس بیان کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ ان کے بقول ”ہندوستان کے مسلمان اپنے آپ کو ایک علیحدہ قوم تصور کرتے ہیں اور اب وہ بھی اسلامی وطن کا گن گاتے ہیں اور اس پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کو بے تاب ہیں۔ ان مسلمانوں کا اگر بس چلے تو وہ اس بھارت کو عرب میں تبدیل کر دیں۔ لیکن اس تاریکی و ناامیدی کی حالت میں قادیانیت امید کی کرن بن کر ابھری ہے۔ جس سے ہمارے دلوں کو سکون اور اطمینان نصیب ہوا ہے۔ جس شخص نے بھی قادیانی مذہب اختیار کیا۔ اس کا تعلق محمد ﷺ کی شریعت سے ختم ہو گیا۔ بلکہ دین اسلام سے متعلق اس کے نظریات ہی بدل گئے اور اسی وجہ سے انہیں معلوم ہے کہ یہی وہ تحریک ہے جو اسلامی عقائد کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔ جبکہ یہ تحریک ہمارے لیے عین مسرت اور خوشی کا باعث ہے۔“

ہندوستان کے عام مسلمان جو قادیانیت کے فتنے سے پوری طرح آگاہ نہیں، براہ راست متاثر ہوتے رہتے ہیں۔ انگریزوں کے دور اقتدار میں قادیانیت ہندوستان میں بڑی تیزی سے پھیلی۔ کیونکہ قادیانیوں کو انگریز سرکار کی سرپرستی حاصل تھی۔ یہ سلسلہ بعد

صفحہ 131

میں بھی پنپتا رہا اور اب سرپرستی میں کانگریس آئی‘ پیش پیش ہے۔ ۱۹۸۹ء میں ”صد سالہ احمدیہ مسلم جشن تشکر“ منایا گیا‘ جس میں اعلیٰ سطح کے حکومتی عہدیداران شریک ہوئے۔ ان میں سرفہرست سابق ملٹری کمانڈر جنرل ٹی این رائنا تھے‘ جن کی قادیانیوں کے ساتھ ہمدردی ڈھکی چھپی نہیں۔ اس وقت کے صدر وینکٹ رامن اور سابق صدر گیانی ذیل سنگھ نے تہنیتی پیغامات بھیجے اور کہا کہ احمدیہ جماعت امن پسند اور قانون کا احترام کرنے والی جماعت ہے۔ گیانی ذیل سنگھ تو اتنا دور نکل گئے اور یہاں تک کہہ دیا کہ ”احمدیہ جماعت دوسرے مسلمانوں کی بہ نسبت زیادہ وسیع القلب اور حقیقت پسند ہے۔“

قادیانیت کی مختصر تاریخ

قادیانیت کا آغاز بھی چونکہ ہندوستان سے ہوا اس لیے اصل ہدف بھی یہاں کے مسلمان ہیں۔ ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو گورداسپور کے قصبہ قادیان میں اس جماعت کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ ۱۹۰۰ء میں جماعت کا نام باقاعدہ طور پر ”جماعت احمدیہ“ رکھا گیا۔ مرزا غلام احمد کے انتقال پر جماعت میں خلافت کا نظام قائم ہوا۔ خلیفہ کا انتخاب شوریٰ کرتی ہے۔ مرزا غلام احمد کے بعد حکیم نور الدین بھیروی‘ مرزا بشیر الدین محمود‘ مرزا ناصر احمد اور موجودہ سربراہ مرزا طاہر احمد بالترتیب خلیفہ منتخب ہوئے۔ مرزا کے ساتھیوں کو صحابی کہا جاتا تھا۔ ۱۹۰۸ء میں نور الدین کے دور میں قرآن کا انگریزی ترجمہ کیا گیا اور انجمن مبلغین قائم کی گئی۔ ۱۹۱۴ء میں بشیر الدین دوسرے خلیفہ منتخب ہوئے اور اکاون سال آٹھ ماہ سربراہ رہے۔ انہوں نے وقف جدید تحریک شروع کی۔ ۱۹۴۷ء میں ہزاروں قادیانی پاکستان آگئے اور دریائے چناب کے کنارے نیا مرکز ربوہ تعمیر کیا۔ ۱۹۸۲ء میں مرزا طاہر احمد کو خلیفہ مقرر کیا۔

پروفیسر عبد الغفور نے رابطہ عالم اسلامی کی ایک کانفرنس میں بحیثیت رکن پارلیمنٹ اپنے مقالے میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کو اپنے عقائد و نظریات کے اعتبار سے ایک قرار دے کر اس غلط فہمی کا تدارک کر دیا کہ صرف ایک (گروہ) دراصل غیر مسلم نہیں ہے۔ ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا تاریخی فیصلہ کیا۔

صفحہ 132

ہندوستان میں سرگرمیاں

دہلی میں تغلق آباد قادیانیت کا مرکز ہے۔ یہ عمارت نئی نئی تعمیر ہوئی ہے۔ احمدیہ مشن کے اس سینٹر میں ڈش انٹینا نصب ہے اور آس پاس کے گھروں کو کیبل کے ذریعے مسلم ٹی وی کی نشریات دکھائی جاتی ہیں۔ اس وقت دہلی، سری نگر، پونچھ، بھدرواہ، راجوڑی، جموں شہر، مالیر کوٹلہ (پنجاب)، شاہ جہاں، کانپور، لکھنؤ، صالح نگر، بنارس، کالی کٹ، کوچین، حیدر آباد، یادگیر، ورنگل، شموگا، سکندر آباد، چتا گنٹا، بنگلور، مدراس اور کیرالہ میں احمد یہ جماعت کے بڑے بڑے مراکز سرگرم ہیں۔ ان مراکز کی تعداد ۱۶۰ ہے۔

اخبارات

سری نگر سے ماہنامہ فرقان، قادیان سے پندرہ روزہ بدر اور مشکوۃ، کلکتہ سے بنگلہ زبان میں البشریٰ، مدراس سے تامل زبان اور کالی کٹ سے ملیالم زبان میں رسائل و جرائد نکلتے ہیں اور تقریباً ۱۵ میگزین ملک کے مختلف علاقوں سے شائع ہوتے ہیں۔

تقسیم کار

کام کی تقسیم کو آسان بنانے کے لیے ملک کو کئی زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ زون کی سطح پر سالانہ اجتماع منعقد ہو رہا ہے جس میں شرکاء کی تعداد ۲۰ ہزار تک ہوتی ہے۔ اگر خلیفہ کی شرکت یقینی ہو تو شرکاء کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہندوستان بھر میں جماعت کے ایک لاکھ ممبر ہیں۔ تاہم خواتین ممبروں کی تعداد حیرت انگیز طور پر صرف ایک سو ہے۔

عزائم اور منصوبے

قادیانی حضرات اپنے عزائم اور منصوبوں کے حوالے سے مرزا غلام احمد قادیانی کی اس پیش گوئی کا حوالے دیتے ہوئے کہتے ہیں ”۳۰۰ سال کے اندر ترقی ہوگی ابھی تو ۱۰۵ سال ہوئے ہیں ۔“ یعنی قادیانیت کو برپا کرنے کے لیے اب مزید ۱۹۵ سال باقی رہ گئے ہیں۔ احمد یہ مرکز میں سری نگر اور دہلی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ سری نگر میں اہم مقامی افراد کے پتے حاصل کر کے انہیں خط و کتابت کے ذریعے قادیانیت کی تبلیغ کی جاتی

صفحہ 133

ہے ۔ قادیانی مشن کا دعویٰ ہے کہ کشمیریوں کی ایک قابل لحاظ تعداد لٹریچر اور عقائد سے متاثر ہو رہی ہے ۔ اس دعوے میں کتنی صداقت ہے ۔ یہ تو نہیں معلوم مگر دہلی کے مشنری انچارج عبد الرشید ضیاء خود ڈوگرہ کشمیری ہیں ۔

طریقہ کار

یہ بات قابل غور ہے کہ ہندوستان کے جس علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت ہے‘ وہیں قادیانیوں کے زیادہ مراکز قائم ہیں ۔ مثلاً کیرالہ‘ جہاں مسلمانوں میں دینی‘ تعلیمی اور اخلاقی قدریں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ قادیانی مسلمانوں جیسا لباس پہنتے ہیں اور انہی کا طرز معاشرت اختیار کرتے ہیں ۔ قرآن وحدیث کے ترجمے و تشریحات نیز کلمہ طیبہ اور آخری نبی پر ایمان لانے اور ان کے خاتم النبین ہونے کے دعویٰ سے سادہ لوح‘ قدرے کم علم اور جاہل مسلمانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے ۔ کبھی کبھی مالی دباؤ کے علاوہ دوسرے ناجائز ذرائع بھی استعمال کیے جاتے ہیں ۔ مثلاً جنک پوری کی ایک خاتون سلمہ ایک مکان میں کرائے پر رہائش پذیر تھیں ۔ اتفاق سے یہ مکان کسی قادیانی کا تھا ۔ خاتون سے کہا گیا کہ وہ قادیانیت قبول کر لیں تو نہ صرف کرائے میں چھوٹ دی جائے گی بلکہ ہر ممکن طریقے سے ان کی مدد کی جائے گی بصورت دیگر وہ مکان خالی کر دیں ۔ سلمہ خاتون ایک غریب عورت اور چار بچوں کی ماں تھی اور لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے گزر بسر کرتی تھی ۔ اس علاقے میں قادیانیوں کے اور بھی مکانات ہیں ۔ بعض مسلمان کرایہ داروں نے جبراً اور بعض نے لاعلمی میں قادیانیت قبول کر لی‘ جنہوں نے انکار کیا‘ انہیں مکان خالی کرنا پڑا ۔

سرکاری سرپرستی

تقسیم ہند کے بعد قادیانیوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ ایک بڑی وجہ ریاستی اور مرکزی سرکاروں کی سرپرستی ہے ۔ ملک کی بعض اہم اور مقتدر شخصیات قادیان کا دورہ کر چکی ہیں ۔ 1982ء میں دہلی میں ایشین کھیلوں کے موقع پر احمدیہ جماعت نے بڑی تعداد میں اپنا تبلیغی لٹریچر تقسیم کیا ۔ 18 تا 20 دسمبر 1989ء میں قادیان میں احمدیہ جماعت کا ”صد سالہ جشن تشکر“ منعقد ہوا ۔ اس وقت پورے ملک میں اور بالخصوص پنجاب میں شورش اور

صفحہ 134

طوفان برپا تھا، اس لیے پنجاب میں غیر ملکیوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ مگر جشن میں شرکت کے لیے آنے والے مندوبین اور عام لوگوں کو خصوصی تحفظ فراہم کیا گیا۔

سیاسی عزائم

قادیانی، مسلمانوں کے ملی و سیاسی مسائل میں دلچسپی نہیں لیتے، بابری مسجد، کشمیر اور تین طلاقوں کے اہم مسائل میں وہ خاموش رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالم اسلام شتر بے مہار ہے۔ مگر قادیانیوں کے پاس ایک قائد ہے۔ ابتداء میں پاکستان بنا تو قادیانیوں نے اس پر قبضے کی کوشش کی۔ اس تحریک میں ظفر اللہ خاں پیش پیش تھے۔ تقسیم کے بعد انہیں وزیر خارجہ بنا دیا گیا۔ مسلمانوں کے احتجاج کے باوجود وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین، ظفر اللہ خاں کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے انکار کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت میں پاکستان غیر ملکی امداد سے محروم ہو جائے گا۔ اسی کے نتیجے میں نوزائیدہ اسلامی مملکت کے اہم عہدوں پر قادیانی قابض ہو گئے حتیٰ کہ تینوں افواج کے سربراہ بھی قادیانی تھے۔ دیگر شعبوں میں بھی کلرک سے لے کر ۲۲ ویں گریڈ تک کے ملازم قادیانی تھے۔ اس طرح کا ماحول بنا دیا گیا کہ نچلے درجے کے مسلمان قادیانیت قبول کرتے تو انہیں ترقی دی جاتی تھی۔ ظفر اللہ خاں نے وزیر خارجہ ہونے سے پورا فائدہ اٹھایا اور سفارت خانوں کو قادیانیوں سے بھر دیا۔ ملٹری اتاشی سے لے کر قونصلر تک سبھی قادیانی بھرتی کیے گئے۔

کشمیر پر قبضے کا منصوبہ

اب احمدیہ جماعت کشمیر حاصل کرنے کے جتن کر رہی ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ فوت نہیں ہوئے تھے بلکہ بچ بچا کر ایران اور افغانستان سے ہوتے ہوئے کشمیر آگئے اور وہیں وفات پائی۔ ان کی قبر سری نگر میں موجود ہے۔ چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیح موعود ہیں، اسی مناسبت سے ان کے لیے کشمیر واجب الاحترام ہے بلکہ وہ اسے حاصل کر کے اپنے دعویٰ کے حق میں مزید ثبوت بہم پہنچانا چاہتے ہیں۔ بعض محققین کا دعویٰ ہے کہ مجلس احرار کے قیام کا مقصد دراصل آزاد کشمیر ریاست کا حصول تھا۔ اس کے علاوہ اس مقصد کے حصول کے لیے ۲۵ جولائی ۱۹۳۱ء کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی

صفحہ 135

بنائی گئی۔ جس کے ذمہ دار مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ دوم تھے۔ خود مختار کشمیر کے لیے پس پردہ کوششوں میں قادیانی پیش پیش ہیں، تاہم ابھر کے سامنے آنے سے کتراتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح خود مختار کشمیر کے نظریے کی مخالفت میں زور پیدا ہو جائے گا۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی)

صفحہ 136

قادیانی تخریب کاری

ملکی اخبارات کے آئینے میں

”قادیانی بڑے دھڑلے سے دعویٰ کرتے ہیں‘ وہ ملک کے وفادار اور قانون کی پابندی کرنے والے پر امن شہری ہیں اور یہ کہ کسی قسم کی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث نہیں۔ ان کا یہ دعویٰ لغو اور جھوٹ ہے۔ وہ ملک کو توڑنا چاہتے ہیں اور تخریب کاری میں سرگرم عمل ہیں‘ ان کے مفرور سربراہ مرزا طاہر دھمکی دے چکے ہیں کہ یہاں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ تخریب کار ہیں اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں‘ ہم قارئین کی معلومات کے لئے ملکی اخبارات و جرائد اور سرکاری رپورٹ کے آئینے میں جو گزشتہ چند برسوں پر محیط ہے‘ ذیل میں چند واقعات شائع کر رہے ہیں۔

راولپنڈی ۵ نومبر‘ نمائندہ جنگ‘ ملک میں تخریب کاری اور ببرک کارمل کی حمایت میں لٹریچر تقسیم کرنے والے ایک گروہ کا سراغ لگا کر اس کے دو مبینہ ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ملزم کو رنگے ہاتھوں اسلام آباد سے رات کے 12:30 بجے حراست میں لے لیا گیا۔ جبکہ اس کی نشاندہی پر اس کے دوسرے ساتھی کو گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے لٹریچر برآمد کر لیا گیا۔ علاوہ ازیں متعدد افراد کو شامل تفتیش کیا گیا۔ عنقریب سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔

صفحہ 137

گرفتار شدہ دونوں افراد قائد اعظم یونیورسٹی کے لیکچرر بتائے گئے ہیں، تخریب کاری کی روک تھام کے لیے اس کامیاب کارروائی کی اطلاع جب صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کو ملی تو انہوں نے متعلقہ حکام کو طلب کیا۔ ملزم گرفتار کرنے والے سرکاری ملازمین اور دوسرے افراد کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سیکرٹریٹ بلایا۔ صدر مملکت نے ملزم پر قابو پائے جانے کی تفصیلات ان متعلقہ افراد سے سنیں۔ ان تینوں افراد سے مصافحہ کیا، ان کو شاباش دی۔ ملک دشمن لٹریچر تقسیم کرنے والے عناصر کے خلاف ان کی کامیاب کارروائی کو سراہا اور تینوں کو نقد انعامات دیے۔

ان میں آب پارہ تھانے کا ایک پولیس کانسٹیبل امیر شاہ تھا، جسے صدر مملکت نے ہیڈ کانسٹیبل بنانے کا حکم دیا۔ چنانچہ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد ملک نواز نے امیر شاہ کو فی الفور ہیڈ کانسٹیبل بنا دیا جبکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے امیر شاہ کانسٹیبل کی مدد کرنے والے چوکیداروں علی محمد سکنہ گجر خاں اور محمد خطیب گل خاں سکنہ موضع شیخ بابا قبائلی علاقہ نزد پشاور کو نقد انعامات دیئے گئے۔ صدر مملکت نے ان دو سول افراد کے ملی جذبہ کو سراہا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محمود اے ہارون، انسپکٹر جنرل پولیس ملک نواز اور دوسرے حکام موجود تھے۔

پولیس کے مطابق دونوں ملزمان قائد اعظم یونیورسٹی کے لیکچرر ہیں۔ پہلے جو ملزم پولیس نے پکڑا ہے اس کا نام جمیل ہے جو غیر شادی شدہ ہے، اس کی عمر ۲۹ سال ہے۔ ۱۹۷۵ء میں اسے اسی یونیورسٹی میں بطور لیکچرر ملازمت دی گئی، لیکچرر جمیل احمدیوں کے پیشوا مرزا غلام احمد کے خلیفہ حکیم نور الدین کا پوتا ہے۔ اس کی نشاندہی پر اس کا جو ساتھی پکڑا گیا ہے اس کا نام سلیم ہے۔ وہ کیمسٹری کا لیکچرر ہے، اس کے کمرے سے کمیونسٹ لٹریچر نکلا ہے۔ وہ ایف ۷\۱ سیکٹر کے مکان نمبر ۲۱ گلی نمبر ۳۵ کا رہنے والا ہے۔ قبل ازیں وہ حسن آباد تھانہ غازی میں رہتا تھا۔ آج صدر مملکت کی طرف سے شاباش اور نقد انعامات پانے والے تینوں افراد سے جب باری باری تفصیلات معلوم کی گئیں تو آب پارہ تھانہ کے سابق کانسٹیبل اور موجودہ ہیڈ کانسٹیبل امیر شاہ جو باریش اور تہجد گزار ہیں نے بتایا کہ میں سفید کپڑوں میں رات کے وقت ڈیوٹی پر تھا۔ ۲ اور ۳ نومبر کی درمیانی شب رات ساڑھے بارہ بجے میں گول مارکیٹ کے پاس درختوں کے سائے میں کھڑا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک

صفحہ 138

نوجوان سوزوکی موٹر سائیکل پر آیا‘ مجھے اس کے مارکیٹ آنے پر شک گزرا کیونکہ آگے راستہ بند تھا۔ اس نوجوان نے موٹر سائیکل کھڑی کی‘ ادھر ادھر دیکھا پھر ایک بیگ میں سے تخریبی لٹریچر نکال کر اولڈ بک شاپ کے دروازے میں ڈالنے کی کوشش کی جو کچھ اندر اور کچھ باہر رہ گئے تھے۔ یہ دیکھتے ہی میں موٹر سائیکل کی طرف بڑھا تو نوجوان موٹر سائیکل کے پاس آیا اور اسے اسٹارٹ کر کے جانے کی کوشش کرنے لگا‘ اسی دوران میں نے پوچھا کہ وہ کون ہے؟ اس نوجوان نے مجھے دھکا دے کر گرانے کی کوشش کی۔ مگر میں نے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہوئے شور مچادیا۔ جس پر دو چوکیدار خطیب گل اور علی محمد آگئے۔

تینوں نے اسے قابو کر لیا اور تھانہ آبپارہ میں ایس ایچ او محمد نواز کے پاس لے گئے۔ چوکیدار علی محمد نے بتایا کہ وہ طارق چیمبرز کے اندر چوکیداری کرتا ہے اور سابق فوجی ہے۔ چوکیداری کرتے ہوئے اسے چھ سال ہو گئے۔ اس نے رات کو شور سنا اور کانسٹیبل کی مدد کی۔ گول مارکیٹ کے دوسرے چوکیدار محمد خطیب گل نے بتایا کہ وہ دو ماہ قبل یہاں چوکیدار کی حیثیت سے آیا تھا۔ اس نے شور سنا۔ امیر شاہ کی آواز سن کر میں ڈنڈا لے کر آیا۔ ملزم کو پکڑنے میں مدد دی۔ ملزم کے ہاتھ میں چار لفافے تھے‘ چوکیدار تقریباً ان پڑھ ہے‘ اس نے کہا کہ بیگ میں دو لفافے تھے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ دو تین ماہ قبل بھی یہاں تخریبی لٹریچر شیشہ توڑ کر پھینکا گیا تھا۔ کیا پہلے ایسے افراد دیکھے تھے تو اس نے کہا کہ میں اس وقت چوکیدار نہیں تھا۔ ہماری موجودگی میں ایسا آدمی نہیں آیا۔ آبپارہ تھانے کے انچارج نے بتایا کہ جب یہ لوگ ملزم کو پکڑ کر لائے تو اس کے پاس سے ۱۴۷ اشتہار برآمد ہوئے۔ ۱۴۳ اشتہاروں پر ۲۰ اکتوبر تاریخ اجراء اور ۴ پر ۲۱ ستمبر تاریخ اجراء درج تھیں۔ ان میں سے ۳ اشتہار جمہور پاکستان کے نام سے شائع شدہ ہیں اور باقی پر شائع کرنے والی تنظیم کا نام نہیں ہے۔ ان اشتہاروں میں حکومت کے خلاف مواد ہے۔

اس کے علاوہ روس کے موقف کے قریب تر زیادہ مواد ہے۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ کچھ عرصے سے شکایت مل رہی تھی کہ دیواروں پر ملک دشمن نعرے لکھے جارہے ہیں اور قابل اعتراض مواد تقسیم ہو رہا ہے۔ چنانچہ ہیڈ کانسٹیبل محبوب حسین کی نگرانی میں خصوصی دستہ بنایا گیا۔ جس میں امیر شاہ کے علاوہ ہدایت اللہ شبیر اور ذوالفقار کانسٹیبل شامل ہیں۔ اس دستے کے رکن نے یہ لوگ پکڑے ہیں۔ یہ اشتہار سائیکلو اسٹائل مشین کے تھے۔ ۲۰

صفحہ 139

اکتوبر کا اشتہار ۴ صفحات اور ۲۱ ستمبر کا اشتہار ۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ ملزم جمیل کے کہنے پر پروفیسر سلیم پکڑا گیا ہے۔ جس کے پاس کمیونسٹ لٹریچر اور اشتہارات نکلے ہیں۔ پولیس نے مارشل لاء کے آرڈر ۳۳\۳۱ کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزمان کے دوسرے ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔ انعام پانے والے تینوں افراد نے صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم وطن دشمن افراد کے ہتھکنڈے ناکام بنانے میں ایسے ہی جذبے سے کام کرے گی۔

(جنگ کراچی‘ ۶ نومبر ۱۹۸۱ء)

ملک بھر میں تخریب کاروں کی تلاش

اسلام آباد ۷ نومبر‘ تخریبی لٹریچر رکھنے والے ملزموں سے تفتیش کا سلسلہ کافی آگے بڑھا ہے اور ان ملزموں نے دوران تفتیش کئی اہم انکشافات کیے ہیں‘ جنہیں پولیس فی الحال صیغہ راز میں رکھے ہوئے ہے۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ قانون کے نفاذ کے ذمہ دار ادارے پورے ملک میں حرکت میں آ گئے ہیں اور وہ تخریب کار گروہ کا کھوج لگانے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ پولیس نے جس نوجوان جوڑے کو شالیمار ۸ کے فیشن ایبل علاقے سے گرفتار کیا تھا اور جو مبینہ طور پر شراب کے نشے میں دھت تھے‘ ان کے نام مس ثروت حسین اور عزیز کمال بتائے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ تخریب کار گروہ کی گرفتاری کے بعد پولیس نے نذیر کمال کی گرفتاری کے لیے شالیمار ۸ میں اس کے مکان پر چھاپہ مارا تھا مگر وہ اس وقت گھر پر موجود نہ تھا جبکہ اس کا بھائی عزیز کمال مبینہ طور پر خوبرو ثروت حسین کے ساتھ بیٹھا شراب پی رہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ مس ثروت حسین اسلام آباد میں ایک غیر ملکی سفارتخانہ میں ملازم ہے۔ عزیز کمال اور نذیر کمال کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک سابق سفیر کے بیٹے ہیں‘ جنہیں سابقہ دور حکومت میں سیمنٹ ایجنسیوں اور دیگر مراعات سے نوازا گیا تھا‘ ان کا تعلق بھی ایک اقلیتی فرقہ سے بتایا جاتا ہے۔

(جنگ کراچی‘ ۸ نومبر ۱۹۸۱ء)

صفحہ 140

قائداعظم یونیورسٹی‘ ۳ اساتذہ کو ملک دشمنی پر سزائیں

راولپنڈی‘ اسلام آباد کے مشہور پمفلٹ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قائداعظم یونیورسٹی کے تین اساتذہ کو مجموعی طور پر ۲۱ سال قید سخت اور ۸۵ ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ آج فوجی عدالت نے سنایا‘ جس کے مطابق جمیل عمر کو ۷ سال قید بامشقت اور ۵ ہزار روپیہ جرمانہ اور عدم ادائیگی کی صورت میں مزید ۲ سال قید سخت۔۔۔۔۔ (یہ جمیل نامی مرزا غلام احمد قادیانی کے پہلے خلیفہ حکیم نورالدین کا پوتا ہے۔ ناقل)

(بحوالہ روزنامہ نوائے وقت‘ ۸ نومبر ۱۹۸۳ء)

اسلام آباد میں تخریب کار گرفتار

جدہ‘ ۷ نومبر‘ ریڈیو جدہ نے اسلام آباد کے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کی پولیس نے متعدد تخریب کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں کل اسلام آباد میں دو تخریب کاروں کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئیں جو ملک دشمن پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے۔ ان دونوں افراد سے پوچھ گچھ کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا‘ جن میں کچھ نوجوان عورتیں بھی شامل ہیں۔ کل جن تخریب کاروں کو حراست میں لیا گیا تھا ان کا تعلق قادیانیوں سے بتایا گیا ہے۔

☆☆☆

اسلام آباد‘ ۶ اپریل۔ وہ جون کی ایک گرم رات تھی جب دو افراد ٹہلتے ہوئے

صفحہ 141

اسلام آباد کے سیکٹر F\7 میں واقع فاروقیہ مارکیٹ کی طرف جا رہے تھے۔ ان میں سے ایک پاکستانی اور دوسرا مشرقی یورپ کے کسی ملک کا باشندہ تھا۔ وہ شاپنگ کے لیے نکلے تھے لیکن یہ شاپنگ فاروقیہ مارکیٹ میں نہیں ہونی تھی۔ مشرقی یورپ کا یہ باشندہ معاہدہ وارسا میں شامل ایک ملک کا سفارت کار تھا جو پاکستان میں سرکاری راز خرید رہا تھا۔ دوسرا شخص جو پاکستان کا باشندہ اور محکمہ خارجہ کا ایک افسر تھا، نقد رقم اور عیش و آرام اور وہسکی (شراب) کے عوض یہ راز فروخت کر رہا تھا۔

اگرچہ یہ کسی تحیر خیز جاسوسی ناول کا کوئی حصہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ سب کچھ اسی طرح جون ۱۹۷۴ء میں اسلام آباد میں ہوا اور یہ سابق لیفٹیننٹ کمانڈر ۳۶ سالہ منیر احمد وڑائچ کا کمیونسٹ ملک کے اس سفارت کار سے پہلا رابطہ تھا۔ اس کے بعد ۷ سے ۳۰ دن کے وقفوں سے ان کے درمیان ۱۵ ملاقاتیں ہوئیں۔ جن کے دوران منیر وڑائچ مشرقی یورپ کے اس ملک کو پاکستان کی خفیہ اطلاعات، اہم دستاویزات کی نقلیں، دفتر خارجہ کی رپورٹیں اور دوسرے اہم خفیہ کاغذات برابر پہنچاتا رہا۔

جب مارچ ۱۹۸۱ء میں منیر وڑائچ کو گرفتار کیا گیا تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے حکام کو جاسوسی کے منظم جال سے آگاہ کر دیا۔ اس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ جاسوسی کے لیے اس کی خدمات اسلام آباد میں مشرقی یورپ کے ملک کے ایک سفارت کار نے حاصل کیں۔

(بحوالہ ’ہفت روزہ ختم نبوت‘ کراچی، جلد ۶، شمارہ ۳۵، فروری ۱۹۸۸ء)

صفحہ 142

نجم سیٹھی قادیانی ہے، فحش لٹریچر امپورٹ کرتا رہا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نجم سیٹھی کا تعلق قادیانی فرقے سے ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں غیر مسلم قرار پایا تھا۔ یہ انکشاف جنگ گروپ کے انگریزی روزنامہ ”دی نیوز“ نے ۱۶ مئی کی اشاعت میں کیا ہے۔ اخبار نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ نجم سیٹھی نے بھٹو دور میں پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت میں حصہ لیا۔ ضیاء دور میں فحش لٹریچر امپورٹ کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ قائم ہوا۔ لیکن ان کی اہلیہ جگنو کی خالہ زاد بہن سیدہ عابدہ حسین نے یہ مقدمہ ختم کروایا۔ گیارہ مئی کو لاہور میں نجم سیٹھی کی حمایت میں نکالے جانے والے جلوس میں امریکی قونصلیٹ اور امریکن سنٹر کے ڈائریکٹر نے بھی شرکت کی۔ پاکستان میں امریکہ کے سفیر ولیم بی مائیلم یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر نجم سیٹھی کو رہا نہ کیا گیا تو صدر کلنٹن اپنا دورہ پاکستان ملتوی کر سکتے ہیں۔ ”دی نیوز“ کی اس رپورٹ سے تاثر ملتا ہے کہ بھٹو دور میں بلوچستان میں مسلح بغاوت کو قادیانیوں کی خفیہ حمایت حاصل تھی۔ اس لیے امریکہ آج بھی نجم سیٹھی کی حمایت کر رہا ہے۔

فرائیڈے ٹائمز کا ایڈیٹر خالد احمد بھی قادیانی ہے

اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار) معلوم ہوا ہے کہ فرائیڈے ٹائمز کا ایڈیٹر خالد احمد بھی قادیانی ہے۔ خالد احمد بھٹو دور میں وزارت خارجہ میں تھے۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے حکم پر اسے فارغ کیا گیا تھا۔ وہ پاکستان انڈیا پیپلز فورم کا سرگرم رکن ہے۔ یادرہے کہ نجم سیٹھی فرائیڈے ٹائمز کا چیف ایڈیٹر ہے۔

(روزنامہ ”اوصاف“ اسلام آباد‘ ۷ مئی ۱۹۹۹ء)

صفحہ 143

پنڈورا باکس

جناب میجر میر افضل خان صاحب اسلام کے صاحب سیف و قلم سپوت ہیں۔ افواج پاکستان اور پاکستان کی سیاسی و سماجی زندگی میں انہوں نے قادیانیت کی سازشوں کو بڑے قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے۔ ملت اسلامیہ کو جگانے کے لیے ربع صدی کے عرصہ سے زائد ان کا قلم چیختا اور چنگھاڑتا رہا ہے۔ ان کی کتاب ”پنڈورا باکس“ سے کچھ اقتباسات آپ کے پیش خدمت ہیں۔ (مولف)

O

قادیان کے ارد گرد دو سو میل کے علاقے میں اللہ اور رسولؐ کے نام کی صدا آنا بند ہوگئی کہ وہاں ہم نے جھوٹے نبی کی نبوت کو پروان چڑھنے دیا تھا۔ لیکن سبق پھر بھی نہ سیکھا۔ تین سو ٹرکوں کے کانوائے میں اپنی فوج کی حفاظت میں جھوٹے نبی کے مرکز کو پہلے قادیان سے لاہور لے آئے اور ۱۹۴۸ء میں ربوہ میں پکے طور پر قائم کردیا۔ کسی قادیانی کا مشرقی پنجاب میں بال بیکا نہ ہوا اور ان سب کو ہم نے مغربی پنجاب کے زرخیز علاقوں میں آباد کر دیا اور ہمارے سب سرکاری اداروں کے کرتا دھرتا یہ لوگ بن گئے۔ اب ربوہ کے گرد کیا ہوتا ہے؟ فاعتبروا یا اولی الابصار (ص۶)

O

ان سب سازشوں کے باوجود جہاد کی برکت سے کشمیر کی جنگ میں تین ایسے مواقع آئے کہ ہم کشمیر میں بھارتی فوجی مشن کو ایسا تہس نہس کرنے کے قابل ہوگئے تھے کہ بھارتی حیدر آباد کی طرف میلی آنکھ سے بھی نہ دیکھ سکتے لیکن ہر موقع پر ہمارے اندر کے غداروں نے بھارت کو ”بچایا“ اور اس عاجز نے یہ ثبوت بھارت کی سرکاری تاریخ کے گہرے

صفحہ 144

مطالعہ کے بعد اس کتاب کے اندر سے اخذ کیے کہ ہمارے جہاد کے عملوں نے بڑے اہم نتائج ظاہر کیے۔

ہم نے اپنے غیرت مند اور بہادر لوگوں خاص کر اکبر خان طارق کی فوجی فراست سے پورا فائدہ نہ اٹھایا۔ اس نے ”حملہ آور“ نام پر صحیح طور سے فخر کیا جو نہرو نے الزاماً ہمیں دیا تھا۔ اپنی ”کشتیاں جلا کر“ اس نے مٹھی بھر مجاہدین کے ساتھ ایک بھارتی ڈویژن کو اوڑی کے نزدیک روک لیا، اور ان کے جس بریگیڈ نے وہاں سے پونچھ کی طرف پیش قدمی کی اس کے پرخچے اڑا دیے۔ پھر طارق ہیڈ کوارٹر بنا کر ایسی تجاویز ڈھالیں اور ان پر عمل کرایا کہ بھارتی افواج پورے کشمیر میں ”تتر بتر“ ہو گئیں۔ اب ان کو ہر مقام پر تہس نہس کرنا تھا اور اس کام پر عمل شروع ہی ہوا تھا کہ ان کو طارق ہیڈ کوارٹر سے تبدیل کر دیا گیا۔

اکبر خان طارق نے کرنل شیر محمد (خالد) سے مٹھی بھر مجاہدین کے ساتھ ہندواڑہ کی طرف پیش قدمی کروائی اور ایسی کامیابی ہوئی کہ سری نگر میں بھارتیوں کے لیے صف ماتم بچھ گئی۔ اسی دوران شمالی علاقوں سے کرنل حسن مرزا اور میجر محمد خان جرال سے پیش قدمی کروائی کہ وہ بانڈی پور پہنچ کر ایک طرف شیر محمد سے رابطہ باندھیں اور دوسری طرف سونا مرگ سے سری نگر کے لیے خطرہ پیدا کریں۔ لیکن افسوس کہ اکبر خان کے طارق ہیڈ کوارٹر سے چلے جانے کے بعد ان کامیابیوں کے آدھے ثمرات ملے اور بہت کچھ حاصل کرلینے کے بعد فائر بندی سے تھوڑا پہلے اپنوں کی غداریوں کے تحت ان علاقوں میں بہت کچھ کھو بھی دیا۔

اکبر خان طارق کے مطابق پونچھ ایک توپ کی مار تھی۔ لیکن سازش اتنی گہری تھی کہ کشمیر کے ہمارے عظیم فوجی اثاثوں یعنی سدھنوں اور عباسی قبائل کو اس شہر کے ارد گرد رشک اور حسد کے ”زنجیروں“ سے باندھ دیا گیا بعد میں بریگیڈیئر صدیق ستی نے یہ توپ حاصل کر کے بھارتی کمانڈر پریتم سنگھ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا کہ درمیان میں لیاقت، نہرو ”ملی بھگت“ اور جنرل گریسی کی سازش نے تین دن کے لیے عارضی فائر بندی کرا دی اور بھارتیوں نے اس دوران پونچھ میں ہتھیار پہنچانے شروع کیے تو صدیق ستی نے فائر کھول دیا تو اس کو وہاں سے ہٹا کر بریگیڈیئر (بعد میں میجر جنرل) حیاء الدین قادیانی کو وہاں کی کمانڈ دے دی گئی جس نے بھارتیوں کی ہر ”خواہش“ پوری کی اور بعد میں پاکستان میں

صفحہ 145

بڑے عہدوں پر فائز رہا۔ صدیق ستی کو جیل کی ہوا کھانا پڑی اور پونچھ ابھی بھی بھارت کے پاس ہے کہ انگریز جنرل راب لاکھرٹ کے مشورہ کے باوجود کہ پونچھ پر قبضہ رکھنا ناممکن تھا۔ نہرو نے اس کی بات نہ مانی کہ وہ ”باخبر“ تھا کہ پاکستان میں اس کے ”کارندے“ موجود ہیں۔

اکٹھے ہو گئے۔ وہاں انہوں نے دیر کے تلوار زن مجاہدین کی مدد سے ایک بھارتی بریگیڈ کو تہس نہس کر ڈالا۔ رہی سہی کسر کیپٹن خان محمد نے نکہ کے مقام پر پھندا لگا کر اور ڈھنڈ کے کے مقام پر کشمیرا خان نے جھپٹ مار کر نکال دی اور بھارت والے اس زبوں حالت پر پہنچے کہ کشمیر کے مقدمہ کو اقوام متحدہ میں لے گئے کہ لنگڑا لولا پاکستان تو انگریزوں اور بھارتیوں کی ”قدر مشترک“ تھی وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے لگ گیا۔ اب پھر ظفر اللہ قادیانی کی ”ضرورت“ پڑی کہ ایک طرف پاکستانیوں کو بے وقوف بنایا گیا کہ ظفر اللہ کو وزیر خارجہ بناؤ کہ وہ ان کو کشمیر لے دے گا اور دوسری طرف کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے کھٹائی میں ڈال دیا گیا۔ ہاں البتہ ظفر اللہ غیر ملکوں میں ہمارے سفارت خانوں اور وزارت خارجہ کو قادیانیوں سے بھر گیا اور ان لوگوں کی ”مدد“ سے اب بھی ہمیں سب ”ہدایات“ باہر سے ملتی ہیں۔

جھنگڑ کی عظیم فتح کے بعد اکبر خان طارق نے میجر (بعد میں کرنل) محمد اسلم عباسی کو راجوری بھیجا کہ ایک طرف پونی بارکھ میں کرنل علی بہادر سے رابطہ قائم کرے اور دوسری طرف رام بن تک یا شمال میں تھنہ منڈی تک بھارتیوں کو الجھائے رکھے۔ کرنل (بعد میں میجر جنرل) سید غواث کو ہیڈ مرالہ بھیجا کہ جموں نوشہرہ سڑک پر پہلے آمد و رفت میں خلل ڈالے اور پھر ان کے رابطہ کو کاٹ دے۔ کہ میجر سرفراز کو بریگیڈئیر بنا کر نوشہرہ کے بھارتی بریگیڈ کو تہس نہس کرنے کے لیے تمام تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ لیکن ظفر اللہ کی سفارش پر لیاقت علی نے جہاد میں عارضی جمود کا حکم دے دیا۔ اکبر خان کو طارق ہیڈ کوارٹر سے ہٹا لیا گیا۔ سید غواث کو مرالہ سے ہٹایا گیا اور کٹھوعہ جموں نوشہرہ تک کی بھارتی Exterior Line کی ”حفاظت“ ہمارے سیالکوٹ میں متعین ۱۰۳ نمبر بریگیڈ نے ”سنبھال“ لی اور اس عاجز کے پاس اس سلسلہ میں کاغذی ثبوت موجود ہیں کہ کشمیر کے

صفحہ 146

پاکیزہ جہاد کے عمل کی ”باگ ڈور“ غیر سرکاری طور پر ہم نے اپنے انگریز نوکر جنرل گریسی کے ”سپرد“ کر دی اور اس نے ہماری فوج کو غداری اور بھونڈے کاموں کے لیے استعمال کیا۔ (ص ۸-۹-۱۰)

ہماری فوج کے قادیانی افسروں سے ہمارے انگریز جنرلوں نے بڑی سازشیں کرائیں۔ مئی ۱۹۴۸ء میں نوشہرہ کے جنوب کی دو اہم ”ریچھ“ اور ”مینڈک“ پہاڑیوں کی دفاعی پوزیشن کرنل (بعد میں بریگیڈیئر) وحید حیدر قادیانی کے ماتحت تھی۔ اس نے وہاں خاص چناؤ کر کے یہ ذمہ داری میجر عبدالعلی ملک قادیانی کو دی۔ عین ان دنوں یعنی جون ۱۹۴۸ء کے آخر میں جب یہ علاقے وحید حیدر کے بجائے کرنل (بعد میں میجر جنرل) سرفراز کی ذمہ داری میں جا رہے تھے تو عبدالعلی نے یہ پوزیشنیں بغیر لڑے چھوڑ دیں اور دو دن بعد بھارتیوں نے وہاں قبضہ کر لیا۔

(اصولی طور پر عبدالعلی کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے تھا لیکن ستمبر ۶۵ اور دسمبر ۷۱ میں کئی اور غداریوں کے باوجود یہ عبدالعلی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدہ تک پہنچا اور ایک قومی ”ہیرو“ مانا جاتا ہے، یہ ہیں تاشقند کے اصلی راز اور ہماری بے خبریوں اور حماقتوں کی کہانیاں) بہر حال اس غداری سے بھارت کی نوشہرہ میں پوزیشن بہت مضبوط ہو گئی کہ فوج کے غلط استعمال سے ہم راجوری اور جھنگڑ کے آزاد شدہ علاقے پہلے ہی بھارتیوں کے ”حوالے“ کر چکے تھے بھارتیوں نے اول راجوری اور پونچھ کے درمیان رابطے باندھنے کی ”ریہرسل“ کی اور پکی فائر بندی سے ایک ماہ پہلے ایک اور سازش کے تحت یہ رابطہ پکے طور پر بحال کر لیا کہ وحید حیدر قادیانی اب ادھر آ گیا تھا اور اس نے بغیر لڑائی کے مینڈھر کا علاقہ خالی کرا دیا لیکن ناکامی کا سارا ”بوجھ“ بریگیڈیئر بعد میں لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان پر ڈال دیا گیا جس کو انگریز جنرل ٹائٹلہم پہلے ہی ”تگڑم“ ناچ نچا رہا تھا۔

شمالی علاقہ جات میں گلگت اور سکردو کے علاقوں کی فتوحات اور میجر محمد خان جرال

صفحہ 147

کے ہاتھوں بریگیڈیئر فقیر سنگھ کی کمک کی تباہی ہماری ”تاریخ کے سنہرے ابواب ہیں۔ بعد میں اسکیمو فورس اور مجاہدین کی ملی جلی کارروائیوں سے بھارتی زیڈ بریگیڈ کی تباہی اور مجاہدین کے کارگل تک کے علاقوں کی فتوحات کو بھارتی بھی عظیم عسکری ”امتیازات“ ماننے کو تیار ہیں اور میجر محمد خان جرال کی زوجیلہ کی فتوحات اور کامیاب دفاع ہمارے ان مجاہدین کے سروں پر عظیم سہرے ہیں لیکن افسوس یہاں بھی انگریز جنرلوں کی ملی بھگت سے کرنل (بعد میں میجر جنرل) غلام جیلانی کی غداری سے ہم نے فائر بندی سے ایک ماہ پہلے آدھے علاقے کھو دیے۔ یہ حیاء الدین قادیانی کا ہم زلف تھا اور چھپا قادیانی تھا۔

(ص ۱۱-۱۲۰)

آخری بڑی غداری ہمارے جنرل گریسی اور بھارتیوں کے انگریز نوکر جنرل بوچر کی نومبر ۲۸ میں کراچی کی ایک میٹنگ کے بعد کرائی گئی جس کے لیے ہمارے بریگیڈیئر شیر علی (بعد میں میجر جنرل) کو استعمال کیا گیا۔ سکیم وینس کا ڈرامہ رچایا گیا کہ عبد العلی قادیانی نے جو ریچھ اور مینڈک کے پہاڑ چھوڑ دیے تھے‘ وہاں دوبارہ قبضہ کریں گے۔ ہم ایک ایک توپ کے لیے ترستے تھے۔ وہاں ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ سمیت ستر توپیں اکٹھی کی گئی تھیں۔ آٹھ پلٹنوں کا ”اجتماع“ کیا ایک بکتر بند یونٹ بھی لایا گیا لیکن غداری سے چھوڑے گئے علاقوں پر حملہ کس نے کرنا تھا۔ یہ آتش بازی کا ڈرامہ تھا اور بقول جنرل اکبر خان رنگروٹ اس سے ایک چڑی بھی نہ مری اور ہمیں بے وقوف بنایا گیا کہ بھارت کا اتنا نقصان ہوا ہے کہ بھارت فائر بندی پر تیار ہو گیا ہے اور کشمیر ہمیں اقوام متحدہ دلائے گی۔ بقول اکبر خان طارق بھارت والے اب وہ سب کچھ حاصل کر چکے تھے جس کی ان کو ”ضرورت“ تھی۔ لڑائی کی صورت میں وہ یہ سب کچھ ”ہضم“ نہ کر سکتے تھے اور ان کو فائر بندی کی ضرورت تھی اور یہی ضرورت اینگلو امریکن بلاک کو تھی کہ ایک ہزار میل لمبی فائر بندی لائن پر بٹھا کر وہ اپنا کنڈم فوجی سامان ہم دونوں ملکوں کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔ قائد اعظم کی زندگی میں جب چودھری محمد علی فائر بندی کی تجویز لایا تو وہ ناراض ہوئے تھے۔

صفحہ 148

اس عاجز کے مطابق یکم جنوری ۱۹۴۹ء کا المیہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ اسی دن جہاد میں پکا جمود آیا اور اسی کے اثرات نے ہمیں یہ ذلت کی زندگی دی اور ہماری سوچوں کے دھارے تبدیل کر دیے اور ہم اپنی ”حکمت“ کے پیچ و خم میں ایسے الجھ چکے ہیں کہ آج تک فیصلہ نفع و ضرر نہ کر سکے اور یہی چیز اس عاجز کی تحقیق کی روح ہے اور اگر میں نے کہیں غلط بیانی سے کام لیا تو مجھے درست کیا جائے کہ جہاد کے شروع سے چودھری محمد علی ، زمان کیانی کو کہہ گیا کہ دریائے چناب کو پار نہ کرنا۔

کشمیر میں بہادری سے لڑنے والوں میں سے جنرل اکبر خان طارق اور بریگیڈیئر صدیق ستی وغیرہ کو سوشلسٹ بنا کر پنڈی سازش کے مقدمہ کے ذریعہ نہ صرف پولیس کے ہتھکنڈوں سے گزارا گیا بلکہ جیل کی کال کوٹھڑیوں میں ڈال دیا گیا۔ اوروں کے علاوہ ان کے ساتھ فضائی فوج کے ایئر کموڈور جنجوعہ کو بھی شامل کر دیا۔ یہ دراصل پاکستان کے خلاف سازش تھی کہ آئندہ کوئی سچی بات نہ کرے۔ لڑنے والوں میں جو مذہبی لوگ تھے ، مثلاً اکبر خان رنگروٹ ، کرنل نوشیرواں ، کرنل شیر محمد اور کرنل حفیظ آفریدی وغیرہ تو ان کی مزید ترقی روک دی گئی اور ایوب خان خود اپنی کتاب ”فرینڈز ناٹ ماسٹرز“ میں تسلیم کرتا ہے کہ ”ایسے لوگوں کو ان کے قد کے مطابق تراش دیا گیا“۔ ”یہ عاجز“ منہ پھٹ ضرور تھا لیکن بہت جونیئر تھا۔ مجھے خاطر میں نہ لایا گیا کہ میری بھی کچھ آنکھیں یا کان ہیں تو یہ عاجز سب کچھ Unobserved Observer کے طور پر دیکھتا سنتا رہا اور اب قوم کے سامنے پنڈورا بکس کھول رہا ہوں۔ (ص ۱۱ تا ۱۳)

۱۹۵۳ء شروع ہوا تو پنجاب میں قادیانیوں کے خلاف تحریک شروع ہو گئی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تحریک ممتاز دولتانہ نے ناظم الدین حکومت کو ڈانواں ڈول کرنے کے لیے چلائی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کام مذہبی یا دینی جماعتوں نے شروع کرایا کہ تحریک

صفحہ 149

پاکستان میں وہ لوگ پیچھے رہ گئے تھے، اب اوپر آنا چاہتے تھے کہ علمی کام مولانا مودودی نے کیا اور عملی مولانا عبد الستار نیازی نے۔ اس عاجز کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ قادیانیوں اور ان کے ”حواریوں“ کی سازش تھی کہ وہ اپنی طاقت اور ”کار کردگیوں“ کے نتائج دیکھنا چاہتے تھے اور ان کو اتنی زیادہ کامیابیاں حاصل ہوئیں کہ اگلے بیس سال رسول عربی کے اسلام کا کسی نے نام بھی نہ لیا۔ وہ لوگ معاشرے پر چھا گئے اور لادینیت ہمارا اوڑھنا بچھونا بن گئی۔ غلام کذاب قادیانی کے پوتے کرنل داؤد نے جس طرح ہزاروں مسلمانوں کو گولیوں سے بھون دیا، یا لاہور میں مارشل لا لگ گیا اور ایک کرنل خوشی محمد نے تحریک والے مسلمانوں پر گولی روک لی تو اس کی ترقی روک لی گئی یا پیچھے قادیانی جسٹس منیر نے جو انکوائری کر کے اسلام کی گت بنائی، افسوس کہ یہ ساری باتیں ہماری آنکھوں سے اوجھل ہیں کہ مولانا مودودی اور عبد الستار نیازی کو پھانسی کی سزائیں بھی سنائی گئیں اور وہ کال کوٹھڑیوں میں بھی رہے۔ ساتھ ہی ممتاز دولتانہ کی جھرلو والی جمہوریت کے پرخچے بھی اڑ گئے۔ بغیر انتخاب کے ملک فیروز خان کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا اور پاکستان دشمن خضر حیات ٹوانہ کے دست راست مظفر علی قزلباش کو اس کا سینئر وزیر۔ یعنی کالے انگریز آزادی کے چھ سال بعد کھلم کھلا ہمارے حکمران بن گئے۔ (ص۲۶)

ہمارا وزیر اعظم محمد علی بوگرہ بھی آخر سیاست دان تھا اور گورنر جنرل غلام محمد ایک ”مفلوج“ اور بیمار آدمی تھا۔ تو بوگرہ نے قانون ساز اسمبلی سے کوئی با مقصد قانون بنوانے کے بجائے گورنر جنرل کی طاقت کو ”ختم“ کرا دیا یعنی جس طرح پچھلے دنوں نواز شریف نے آٹھویں ترمیم ختم کرنے کی کوشش کی۔ ”مفلوج“ غلام محمد جو ایبٹ آباد میں کسی پیر کی قبر کا طواف کر رہا تھا، شیر کی طرح بھپرا۔ یہ وسط ۱۹۵۴ء کی بات ہے۔ نہ صرف قانون ساز اسمبلی کو ختم کر دیا بلکہ محمد علی بوگرہ کی وزارت کو ایک دفعہ ختم کر کے دوبارہ اس کو وزیر اعظم بنا کر اپنی مرضی کے وزیر دیئے، جن میں دو آدمی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ میر جعفر کا پوتا سکندر مرزا اور کالا انگریز ایوب خان، یہ ایک تجرباتی مشق تھی۔ اسمبلی کا سپیکر بے چارہ تمیز الدین بہت چیخا اور چلایا اور سندھ ہائیکورٹ نے تو اس کی اسمبلی کو بحال کر دیا لیکن سپریم

صفحہ 150

کورٹ میں آگے چھپا قادیانی اور Evil Genius جسٹس منیر بیٹھا تھا۔ اس نے اس قانون کو ہی غلط قرار دیا جس کے تحت پاکستان بنا تھا۔ (ص۳۰-۳۱)

O

محمد علی بوگرہ کی وفات اور ۱۹۶۲ء کے بعد نوجوان ذوالفقار علی بھٹو ایوب وزارت کا ایک اہم رکن بن گیا تھا۔ پنڈی کے سٹیشن کمانڈر کرنل مصطفیٰ کی مدد سے جو بھٹو کا بہنوئی تھا، بھٹو نے فوج کے سب ”شرابیوں“ سے گہرا یارانہ گانٹھ لیا تھا۔ جن میں ایک طرف اگر یحییٰ خان اور اختر ملک جیسے میجر جنرل شامل تھے تو دوسری طرف گل حسن جیسے بریگیڈیئر بھی تھے۔ خواہ وہ خود کسی ”رقابت“ کی وجہ سے ایک دوسرے کو پسند نہ کرتے ہوں۔ بھٹو ہر ایک کے ساتھ کسی الگ ”قدر مشترک“ کے طور پر یارانہ گانٹھ لیتا تھا اور اس کی ”لابی“ میں ہر قسم کے لوگ تھے۔ اخبار نویس اور بے دین لوگ مدت سے ایسے شخص کی تلاش میں تھے۔ بہرحال واقعات اس چیز کے ثبوت میں جاتے ہیں کہ CIA کے ساتھ مل کر بھٹو نے ایوب کو کرسی سے ہٹانے اور ملک کو دولخت کرنے کی سازش تیار کر لی کہ ۱۹۶۲ء کی امریکہ کی خواہش بھی پوری ہو کہ مشرقی پاکستان ایک بے یار و مددگار خطہ بن جائے اور ایوب نے جو امریکہ کو ناراض کیا، اس کو اس کی سزا بھی مل جائے۔ یحییٰ خان کو بھٹو نے کوئی ”اشارہ“ کر دیا کہ وہ الگ اور خاموش رہے کہ اس کے ”مفاد“ کی حفاظت کی جائے گی۔ چنانچہ بھٹو، غلام کذاب قادیانی کے پوتے ایم ایم احمد اور اختر ملک نے ایک مسٹر سبحان کے گھر باقاعدگی سے ملنا شروع کر دیا۔ وہاں کبھی کبھی گل حسن اور کرنل مصطفیٰ بھی ہوتے تھے۔ اس زمانے میں اختر ملک قادیانی کی گرفتاری کی ایک افواہ بھی پھیلی۔ لیکن یہ لوگ سب کچھ ایوب کی ”مرضی“ سے کر رہے تھے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ کو ”زندہ“ کر کے اس کو پاکستان کے لیے حاصل کر کے ایوب کو فاتح کشمیر بنانا چاہتے تھے۔ نہ کچھ سمجھنے والے جنرل موسیٰ کے مخبروں نے اس کو غلط خبر دی تو یہ گرفتاری والی افواہ پھیلی۔ سب ملنے والوں کے اپنے مقاصد بھی تھے اور مشترک ”قدریں“ بھی تھیں۔ قادیانی بھی مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے الگ کرنا چاہتے تھے اور اختر ملک کو ہیرو بنا کر بری فوج کا سربراہ بنانا چاہتے تھے تاکہ پاکستان میں قادیانی اسلام نافذ ہو جائے۔ چنانچہ ۱۹۷۲ء میں سب ”تیاریاں“ مکمل ہو گئیں اور اس عاجز

صفحہ 151

نے اپنی آنکھوں سے اختر ملک کو دیکھا کہ مری کے صدر ہاؤس میں اس نے ایوب کے ساتھ تین گھنٹے کی ملاقات کی اور اس کو خوب بے وقوف بنایا۔ (ص ۴۴-۴۵)

ستمبر ۶۵ء کی جنگ کی غداریوں، نا اہلیوں اور کوتاہیوں پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ یہاں صرف چند باتیں مختصر طور پر لکھی جارہی ہیں کہ رن آف کچھ کی گڑبڑ ایک ”ڈرامہ“ تھی کہ سرحدی جھڑپوں میں بھارت بری طرح مار کھانے کے بعد بھی پاکستان کے خلاف جنگ کی ”ہمت“ نہ کرسکا۔ اس لیے کشمیر میں ہم جو کچھ کریں گے، بھارتی ”خاموش“ رہیں گے۔ اس جھگڑے کے عارضی سمجھوتہ کے بعد جنرل محمد موسیٰ سے فوج کے چوتھائی حصہ کو چھٹی پر بھجوا دیا گیا اور سرحدوں سے تمام رکاوٹیں یا مائنز ہٹا دی گئیں کہ بھارتی حملہ آور ”آسانی“ سے لاہور یا سیالکوٹ پر قبضہ کر لیں اور اختر ملک کی ”سکیم جبرالٹر“ ایک سازش تھی کہ چند کمانڈوز کے علاوہ اپنی فائر بندی لائن سے پکی فوج کے جوانوں کو اٹھا کر اور گوریلا کا نام دے کر ”مقبوضہ کشمیر“ کو فتح کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ جس کے ردعمل کے طور پر بھارت نے حاجی پیر اور فائر بندی لائن پر دوسرے اہم مقامات پر جب قبضہ شروع کیا تو اپنے میدانی علاقوں سے پیدل فوج کو اٹھا کر ان مقامات کی ”حفاظت“ کے لیے بھیج دیا گیا۔ پوری کامیابی نہ ہونے سے باقی پیدل فوج کو ایک غلط جگہ چھمب جوڑیاں سے آگے ایک تنگ پل میں گھسیڑ دیا گیا۔ بلکہ جوابی حملہ کرنے والے بکتر بند دستوں کے ساتھ جو پیدل فوج تھی، اس کو بھی ادھر لایا گیا۔ لیکن حیران کن کارروائی سے جو غیر متوقع کامیابی ان علاقوں میں ہوئی، اس کے کوئی ثمرات یا عطیات بھی حاصل نہ ہو سکے اور نو دس پلٹنیں خواہ مخواہ ایک فضول جگہ پر ”باندھ“ دی گئیں جن کا جنگ میں کسی اہم جگہ بہتر استعمال ہو سکتا تھا۔ سیالکوٹ میں کم فوج کی وجہ سے اپنی ”ناکامی“ کا ہمیں کوئی خدشہ نہ تھا تو بھٹو کے ”دوست“ اور محمد موسیٰ کے ”ہم عقیدہ“ یحییٰ خان کو وہاں سے ہٹا کر پہلے قصور بھیجا کہ وہ سیالکوٹ میں ”بدنام“ نہ ہو اور وہاں غیر لڑاکا فوج کے بریگیڈیئر اسماعیل کو ڈویژن کمانڈر بنایا گیا اور چھمب جوڑیاں میں غیر متوقع کامیابی کے بعد یحییٰ خان کو پانچوں سواروں میں شامل کرنے اور سہرا باندھنے کے لیے وہاں لایا گیا کہ سرفراز فوج کا کمانڈر انچیف نہ بن سکے۔ اس کو لاہور

صفحہ 152

ہمیں ”بدنام“ کرانا تھا۔ اس لیے لاہور کی سرحد پر چھ ستمبر کی صبح سے پہلے فوج کو جانے کا حکم نہ تھا کہ شالامار باغ جہاں اب ۱۹۹۲ء میں آصف نواز بھارتیوں کو لانا چاہتا تھا، وہ وہاں اس زمانے میں پہنچ جاتے اور لاہور جم خانہ میں بھارتی جنرل چودھری چھوٹا پیگ پی سکتا۔ ہم نے حکم عدولی کی اور پانچ چھ ستمبر کی شام کو واہگہ روڈ کو چھوڑ کر باقی جگہوں پر کچھ نفری پہنچا دی تو لاہور بچ گیا۔ واہگہ روڈ کو خالی رکھنا ”ضروری“ تھا کہ سویلین کپڑوں میں بھارتی افسروں کو وہاں لانا تھا اور شاستری کو رپورٹ دینا تھی کہ پاکستانی فوج چھاؤنی میں ہے کہ وہ جنگ میں کودنے سے ”ہچکچا“ رہا تھا۔ ہمارے بڑے افسروں کو اس رات ایک بڑی دعوت میں مدعو کر کے نشہ میں ”دھت“ کرنا تھا اور جب بھارتیوں نے حملہ کیا بریگیڈیئر قیوم شیر کے بریگیڈ کی یونٹیں دن چڑھے تک پی ٹی کر رہی تھیں۔ لاہور کے جنگ سے نابلد لوگوں کا ایک لاکھ کا جلوس شالامار باغ تک پہنچنے کے بعد پیشاب کے جھاگ کی طرح ختم ہو گیا۔ ۸، ۹ ستمبر کا ہمارا جوابی حملہ بغیر کسی تجویز کے تھا کہ بھارتی بوکھلا گئے کہ ہم نے اپنی پہلی اور غلط تجویز کے مطابق ایسا حملہ بی آر بی کو بھارتیوں کے پار کرنے کے بعد کرنا تھا۔ اب جو بھارتی بھاگے اور ہم نے واہگہ تک ان کا پیچھا کیا تو ہمیں بی آر بی پر واپس لایا گیا اور ۱۱ / ۱۲ ستمبر کو تین ”خیالی بھارتی“ ٹینکوں کے سائفن کو پار کرنے کی افواہ نے نہ صرف لاہور کے بڑے افسروں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ انہوں نے پنڈی میں جی ایچ کیو اور ایوب خان کے صدر ہاؤس کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس عاجز نے چند اوروں کی مدد سے اوپر والوں کی اس غلط کارروائی پر کھری کھری سنائیں تو مجھے ہی بڑی قربانی دے کر غلط طریقے سے کھوئے ہوئے یہ علاقے حاصل کرنا پڑے اور اس کی ”سزا“ ہمیں یہ دی گئی کہ سارے لاہور محاذ پر اگلے گیارہ دن ہماری صرف دو کمپنیوں کو دشمن کے رحم و کرم پر اس طرح چھوڑ دیا گیا کہ میری کمپنی سے صرف پندرہ جوان زندہ بچے اور صغیر شہید کی کمپنی سے بائیس۔ صرف ہمارے ساتھی نو افسروں اور سینکڑوں جوانوں نے بہادری سے لڑتے بی آر بی کے آگے اپنی جان اللہ کی راہ پر قربان کر دی۔ (ص ۴۶ تا ۴۸)

سیالکوٹ محاذ پر وہی حرکت کی جو ۱۹۴۸ء میں کی تھی کہ لڑائی قادیان تک نہ پہنچ

صفحہ 153

جائے ورنہ چھمب جوڑیاں کی غلط کار روائی کی وجہ سے جو فوج وہاں جھونک دی اور بے اثر رہی یا سیالکوٹ کے دفاع والی کچھ فوج کو ادھر بھیج کر واپس بلانا پڑا۔ اگر ساری کارروائی سیالکوٹ محاذ پر کر کے جموں کٹھوعہ روڈ کو کاٹ دیا جاتا تو اس بھارتی بکتر بند دستے کے بھی پر خچے اڑ جاتے جو بعد میں چونڈہ پہنچ گیا اور کشمیر کی ساری بھارتی فوج کا رابطہ ہم بھارت اور کشمیر کے درمیان کی Exterioer Line کی ناکہ بندی کر کے ختم کر دیتے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے معجزہ سے سیالکوٹ کو بچایا کہ جسڑ پل پر بھارت کی صرف ایک بریگیڈ کے حملے سے ہمارے وہاں کے بریگیڈ کمانڈر مظفر الدین کی گھبراہٹ کی وجہ سے سیالکوٹ کے ریزرو بریگیڈ کو بھی ادھر بھیج دیا۔ غلطی معلوم ہونے کے بعد جب یہ بریگیڈ واپس مڑا تو اس کے ہر اول میں ہماری پیٹن ٹینکیں بے خبری میں ایک بازو سے بھارتی بکتر بند دستوں کے ساتھ ٹکرا گئیں۔

بھارتیوں کے خفیہ اداروں کے مطابق ایسی پیٹن ٹینکیں ہمارے ہلکے پھلکے بکتر بند ڈویژن کے پاس نہ تھیں۔ وہ سمجھے مقابلہ میں پاکستان کا پہلا بکتر بند ڈویژن آگیا ہے تو وہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ کرنل بعد میں میجر جنرل جمشید اور اس کی دوسری پنجاب رجمنٹ نے بھارتیوں کا خوب پیچھا کیا اور کرنل شنواری کی بلوچ پلٹن اور کرنل صدیق فقیر کی فرنٹیر فورس پلٹن چونڈہ کے پاس آکر بنیان مرصوص بن گئیں۔ سارا سہرا البتہ قادیانی بریگیڈیئر عبدالعلی ملک کے سر باندھا گیا اور بے شک ڈویژن کمانڈر اسماعیل غیر لڑاکا یونٹ کا ہونے کی وجہ سے گھبرایا ہوا تھا لیکن باقی لوگوں یعنی میجر جنرل (بعد میں جنرل) ٹکا خان اور میجر جنرل ابرار کے چھٹے بکتر بند ڈویژن کی چند یونٹوں نے پاکستان کی لاج رکھ لی اور صحیح طور پر پہلے بکتر بند ڈویژن کو بھی اس کے نئے کمانڈر میجر جنرل صاحبزادہ یعقوب خان کے تحت ادھر بھیجا گیا جن کو لاہور والوں نے گھبراہٹ کی وجہ سے وہاں روکا ضرور لیکن پھر بھی فائر بندی سے دو دن پہلے ہم اس محاذ پر اس حالت میں ہو گئے تھے کہ اپنے سامنے بھارتی فوجی مشین کو تباہ کر دیتے لیکن یعقوب کی کم دلی اور عبد العلی ملک کے غلط مشورہ اور امداد کا وعدہ نہ کرنے سے ہم کچھ نہ کر سکتے ورنہ تاریخ کا دھارا تبدیل ہو جاتا۔ یہ عبدالعلی وہی ہے جس کی کشمیر میں غداری کا ذکر پیراگراف ۱۷ میں ہو چکا ہے۔ ۱۹۷۱ء میں اس نے مزید غداریاں کیں۔ لیکن ہماری جاہل قوم کے لیے یہ اور اس کا غدار بھائی اختر ملک آج بھی ”ہیرو“ ہیں۔ یہ عاجز

صفحہ 154

ان کے باپ سمیت ان کے سارے خاندان کو بچپن سے جانتا ہے کہ ہمارے قبیلہ کے ہیں فوج میں ہم اکٹھے رہے ۔ اب کی شعبدہ بازی ”بے مثال“ ہے۔

(ص ۴۸-۴۹)

ایوب خان اب مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کو تیار تھا۔ ملک کی باگ ڈور آئین کے مطابق سپیکر فضل القادر چودھری کو دینے کے بجائے اس نے یحییٰ خان کے حوالے کر دی کہ وہ اپنی ”آئینی“ ذمہ داری پوری کرے۔ یعنی ملک کو بچائے؟ اس سے یہ غلطیاں چھپا قادیانی اور اس کا مشیر خاص الطاف گوہر کرا رہا تھا جو CIA کا ”گھوڑا“ ہے۔ اسی زمانے میں اس نے ایوب کی حکومت کے ۱۹۶۸ء میں دس سالہ جشن منانے کی طرح ڈالی یا ایوب سے لادینیت پھیلوانے کی کوشش کی اور فوج کو ایک اور CIA کے پروردہ غلام احمد پرویز کی مدد سے ماڈرن اسلام کی راہ پر لگانے کی تجویز پیش کرائی تو وہ ہم نے منظور نہ ہونے دی، لیکن ایوب کے زوال میں یہ سب پہلو کام کر رہے تھے۔

(ص ۵۶-۵۷)

کہا جاتا ہے کہ مجیب کے چھ نکات کا بانی بھی ایک بیورو کریٹ الطاف گوہر تھا اور ایم ایم احمد کی سربراہی میں ان لوگوں نے یحییٰ کو باور کرا لیا تھا کہ مشرقی پاکستان، مغربی پاکستان پر بوجھ ہے اور جو کچھ ہوا یہ ”ڈرامے“ تھے ہم میں سے کچھ کو بے وقوف بنایا گیا اور کچھ کو قربانی کا بکرا اور ہم سب کو ”استعمال“ کیا گیا۔

(ص ۶۰)

دراصل جب پہلی دفعہ بھٹو آیا تھا تو میجر منہاس وغیرہ اسلامی خیال کے لوگوں نے کافی سوال پوچھے تھے اور کچھ تقریر بھی کر ڈالی تھی اور اس عاجز نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ اور رسول پاکؐ سے غداری کی یہ سزائیں مل رہی ہیں۔ بھٹو کچھ غلط فہمیوں کا شکار تھا کہ فوج میں یحییٰ، اختر ملک اور گل حسن جیسے شرابیوں کی بھرمار ہے۔ دو ماہ کے اندر اس کو محسوس ہو گیا کہ فوج کی ریڑھ کی ہڈی مذہبی اور بااصول لوگ ہیں جو ہر حاکم کے احکام کو بسرو

صفحہ 155

چشم مانتے ہیں۔ وہ اپنے ”بادشاہ گروں“ گل حسن اور رحیم سے ویسے بھی چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے وہ گل حسن کی جگہ ٹکا خان کو لے آیا اور چھپے قادیانی رحیم کی جگہ ظاہر قادیانی ایئر مارشل ظفر چودھری کو لے آیا کہ وہ معاملات کو متوازن رکھنا چاہتا تھا کہ اس کا سب سے بڑا مشیر قریبی عزیز احمد لاہوری قادیانی تھا جو ایوب کا ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی رہ چکا تھا اور بھٹو کا خارجہ سیکریٹری۔ جب ستمبر ۶۵ میں ان دونوں نے مل کر ہماری سرحدوں کو خالی رکھا۔ بھٹو نے اب اس کو وزیر خارجہ اور وزیر دفاع بھی بنا دیا اور یہ آدمی اتنا اہم تھا کہ جب بھٹو کو پھانسی چڑھایا گیا تو تب بھی ضیاء الحق کو ”ہمت“ نہ ہوئی کہ اس آدمی کا ”بال بیکا“ کر سکے۔ (ص ۶۸)

O

بہر حال قادیانی بہت کچھ چاہتے تھے اور فضائی فوج کے سربراہ ایئر مارشل ظفر چودھری نے اس سلسلہ میں بھٹو کے خلاف جو سازش تیار کی تو ایک ونگ کمانڈر نذر محمد نے بھٹو کو اس سے آگاہ کر دیا۔ بھٹو نے ظفر چودھری کو تو نکال دیا لیکن جاتے وقت اس نے نذر محمد کا جو نقصان کیا، بھٹو نے اس کا ازالہ نہ کیا۔ (ص ۷۰)

O

یہ عاجز کبھی خاموش نہ رہے گا۔ قادیانی مرتد اور زندیق ہیں۔ ان کا ربوہ کا مرکز اور تمام عبادت گاہیں مسجد ضرار کی طرح ہیں۔ ان کا وہی حشر ہونا چاہیے جو مسجد ضرار کا حضور پاکؐ نے کیا۔ قادیانی اقلیتوں کے زمرہ میں نہیں آتے۔ ان کے کوئی بنیادی حقوق نہیں۔ وہ چور اور ڈاکو ہیں۔ وہ اسلام پر حملہ آور ہوتے رہتے ہیں۔ ان کے سامنے مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے قلب سے روح محمدیؐ نکال دیں اور نظریہ جہاد سے مسلمانوں کو نفرت ہو جائے اور وہ دنیا کی ذلیل ترین اور بے غیرت قوم بن جائیں۔ چنانچہ رسول عربیؐ کے اسلام کے بجائے قادیانی اسلام‘ سرسید کا اسلام‘ بے دین اسلام‘ کا نفاذ ہمارے ملک میں جاری رہے۔ (ص ۸۶)

صفحہ 156

جب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا

وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر

جناب ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم پاکستان کی اس تقریر کا متن جو انہوں نے قومی اسمبلی میں ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو کی تھی۔

"جناب اسپیکر! میں جب یہ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ ہم نے اس مسئلے پر ایوان کے تمام ممبروں سے تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا ہے‘ جن میں تمام پارٹیوں اور ہر طبقہ خیال کے نمائندے موجود تھے۔ آج کے روز جو فیصلہ ہوتا ہے‘ یہ ایک قومی فیصلہ ہے‘ یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے‘ خواہشات‘ اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ فقط حکومت ہی اس فیصلے کی تحسین کی مستحق قرار پائے اور نہ ہی میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایک فرد اس فیصلے کی تحسین کا حقدار بنے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ یہ مشکل فیصلہ‘ بلکہ میری ناچیز رائے میں کئی پہلوؤں سے بہت ہی مشکل فیصلہ۔ جمہوری اداروں اور جمہوری حکومت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔

یہ ایک پرانا مسئلہ ہے۔ نوے سال پرانا مسئلہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔ اس سے ہمارے معاشرے میں تلخیاں اور تفرقے پیدا ہوئے لیکن آج کے دن تک اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ ماضی میں بھی پیدا ہوا تھا‘ ایک بار نہیں‘ بلکہ کئی بار‘ ہمیں بتایا گیا کہ ماضی میں اس مسئلے پر جس طرح قابو پایا گیا تھا‘ اسی طرح اب کی بار بھی ویسے ہی اقدامات سے اس پر قابو پایا جا

صفحہ 157

سکتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس سے پہلے کیا کیا گیا، لیکن مجھے معلوم ہے کہ ۱۹۵۳ء میں اس مسئلے کے حل کے لیے وحشیانہ طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا تھا جو اس مسئلے کے حل کے لیے نہیں، بلکہ اس مسئلے کو دبا دینے کے لیے تھا۔ کسی مسئلے کو دبا دینے سے اس کا حل نہیں نکلتا۔ اگر کچھ صاحبان عقل و فہم حکومت کو یہ مشورہ دیں کہ عوام پر تشدد کر کے اس مسئلہ کو حل کیا جائے، اور عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات کو کچل دیا جائے، تو شاید اس صورت میں ایک عارضی حل نکل آتا، لیکن یہ مسئلے کا حل نہ ہوتا۔ مسئلہ دب تو جاتا، اور پس منظر میں چلا جاتا، لیکن یہ مسئلہ ختم نہ ہوتا۔

ہماری موجودہ مساعی کا مقصد یہ رہا ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے اور میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ ہم نے صحیح اور درست حل تلاش کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ درست ہے کہ لوگوں کے جذبات مشتعل ہوئے، غیر معمولی احساسات ابھرے، قانون اور امن کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ جائیداد اور جانوں کا اتلاف ہوا۔ پریشانی کے لمحات بھی آئے۔ تمام قوم گزشتہ تین ماہ سے تشویش کے عالم میں رہی اور اس پر کشمکش اور بیم و رجا کے عالم میں رہی۔ طرح طرح کی افواہیں کثرت سے پھیلائی گئیں، اور تقریریں کی گئیں، مسجدوں اور گلیوں میں بھی تقریروں کا سلسلہ جاری رہا۔ میں یہاں اور اس وقت یہ دہرانا نہیں چاہتا کہ ۲۲ اور ۲۹ مئی کو کیا ہوا تھا۔ میں موجودہ مسئلے کی وجوہات کے بارے میں بھی کچھ کہنا نہیں چاہتا کہ یہ مسئلہ کس طرح رونما ہوا اور کس طرح اس نے جنگل کی آگ کی طرح تمام ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میرے لیے اس وقت یہ مناسب نہیں کہ میں موجودہ معاملات کی تہہ تک جاؤں، لیکن میں اجازت چاہتا ہوں کہ اس معزز ایوان کی توجہ اس تقریر کی طرف دلاؤں جو میں نے قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے ۱۳ جون کو کی تھی۔

اس تقریر میں، میں نے پاکستان کے عوام سے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ یہ مسئلہ بنیادی اور اصولی طور پر مذہبی مسئلہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد اسلام پر ہے۔ پاکستان مسلمانوں کے لیے وجود میں آیا تھا۔ اگر کوئی ایسا فیصلہ کر لیا جاتا، جسے اس ملک کے مسلمانوں کی اکثریت اسلام کی تعلیمات اور اعتقادات کے خلاف سمجھتی تو اس سے پاکستان کی علت غائی اور اس کے تصور کو بھی ٹھیس لگنے کا اندیشہ تھا۔ چونکہ یہ مسئلہ خالص مذہبی مسئلہ تھا۔ اس لیے میری حکومت کے لیے یا ایک فرد کی حیثیت سے میرے لیے مناسب نہ تھا کہ اس پر ۱۳ جون کو کوئی

صفحہ 158

فیصلہ دیا جاتا۔

لاہور میں مجھے کئی ایک ایسے لوگ ملے جو اس مسئلے کے باعث مشتعل تھے۔ وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ آپ آج ہی‘ ابھی ابھی اور یہیں وہ اعلان کیوں نہیں کر دیتے جو کہ پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت چاہتی ہے۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ یہ اعلان کر دیں تو اس سے آپ کی حکومت کو بڑی داد و تحسین ملے گی اور آپ کو ایک فرد کے طور پر نہایت شاندار شہرت اور ناموری حاصل ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کا یہ موقع گنوا دیا تو آپ اپنی زندگی کے ایک سنہری موقع سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ میں نے اپنے ان احباب سے کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور بسیط مسئلہ ہے۔ جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو نوے سال سے پریشان کر رکھا ہے اور پاکستان بننے کے ساتھ ہی پاکستان کے مسلمانوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنا ہے۔ میرے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ میں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا‘ اور کوئی فیصلہ کر دیتا۔ میں نے ان احباب سے کہا کہ ہم نے پاکستان میں جمہوریت کو بحال اور قائم کیا ہے۔ پاکستان کی ایک قومی اسمبلی موجود ہے جو ملکی مسائل پر بحث کرنے کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ میری ناچیز رائے میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے قومی اسمبلی ہی مناسب جگہ ہے اور اکثریتی پارٹی کے رہنما ہونے کی حیثیت میں‘ میں قومی اسمبلی کے ممبروں پر کسی طرح کا دباؤ نہیں ڈالوں گا۔ میں اس مسئلے کے حل کو قومی اسمبلی کے ممبروں کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں‘ اور ان میں میری پارٹی کے ممبر بھی شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر میری اس بات کی تصدیق کریں گے کہ جہاں میں نے کئی ایک موقع پر انہیں بلا کر اپنی پارٹی کے موقف سے آگاہ کیا‘ وہاں اس مسئلے پر میں نے اپنی پارٹی کے ایک ممبر پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔ سوائے ایک موقع کے جبکہ اس مسئلے پر کھلی بحث ہوئی تھی۔

جناب اسپیکر!

میں آپ کو یہ بتانا مناسب نہیں سمجھتا کہ اس مسئلے کے باعث اکثر میں پریشان رہا اور راتوں کو مجھے نیند نہیں آئی۔ اس مسئلے پر جو فیصلہ ہوا ہے‘ میں اس کے نتائج سے بخوبی واقف ہوں۔ مجھے اس فیصلے کے سیاسی اور معاشی ردعمل اور اس کی پیچیدگیوں کا علم ہے‘ جس کا اثر‘ مملکت کے تحفظ پر ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے‘ لیکن جیسا کہ میں

صفحہ 159

نے پہلے کہا۔ پاکستان وہ ملک ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کی اس خواہش پر وجود میں آیا کہ وہ اپنے لیے ایک علیحدہ مملکت چاہتے تھے۔ اس ملک کے باشندوں کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ میں اس فیصلے کو جمہوری طریقے سے نافذ کرنے میں اپنے کسی بھی اصول کی خلاف ورزی نہیں کر رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلا اصول یہ ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے۔ اسلام کی خدمت ہماری پارٹی کے لیے اولین اہمیت رکھتی ہے۔ ہمارا دوسرا اصول یہ ہے کہ جمہوریت ہماری پالیسی ہے۔ چنانچہ ہمارے لیے فقط یہی درست راستہ تھا کہ ہم اس مسئلے کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کرتے۔ اس کے ساتھ ہی میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنی پارٹی کے اس اصول کی بھی پوری طرح سے پابندی کریں گے کہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد سوشلزم پر ہو۔ ہم سوشلسٹ اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ جو کیا گیا ہے، اس فیصلے میں ہم نے اپنے کسی بھی اصول سے انحراف نہیں کیا۔ ہم اپنی پارٹی کے تین اصولوں پر مکمل طور پر پابند رہے ہیں۔ میں نے کئی بار کہا ہے کہ اسلام کے بنیادی اور اعلیٰ ترین اصول سماجی انصاف کے خلاف نہیں اور سوشلزم کے ذریعے معاشی استحصال کو ختم کرنے کے بھی خلاف نہیں ہیں۔

یہ فیصلہ مذہبی بھی ہے اور غیر مذہبی بھی۔ مذہبی لحاظ سے یہ فیصلہ ان مسلمانوں کو متاثر کرتا ہے جو پاکستان میں اکثریت میں ہیں اور غیر مذہبی اس لحاظ سے ہے کہ ہم دور جدید میں رہتے بستے ہیں۔ ہمارا آئین کسی مذہب و ملت کے خلاف نہیں۔ بلکہ ہم نے پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق دیے ہیں۔ ہر پاکستانی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ فخر و اعتماد سے، بغیر کسی خوف کے اپنے مذہبی عقائد کا اظہار کر سکے۔ پاکستان کے آئین میں پاکستانی شہریوں کو اس امر کی ضمانت دی گئی ہے۔ میری حکومت کے لیے اب یہ بات بہت اہم ہو گئی ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ یہ نہایت ضروری ہے اور میں اس بات میں کوئی ابہام کی گنجائش نہیں رکھنا چاہتا۔ پاکستان کے شہریوں کے حقوق کی حفاظت ہمارا اخلاقی، اور مقدس اسلامی فرض ہے۔

جناب اسپیکر!

میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں اور اس ایوان سے باہر کے ہر شخص کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ فرض پوری طرح اور مکمل طور پر ادا کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی شخص کے

صفحہ 160

ذہن میں شبہ نہیں رہنا چاہیے۔ ہم کسی قسم کی غارت گری اور تہذیب سوزی یا کسی پاکستانی طبقے یا شہری کی توہین اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے۔

جناب اسپیکر!

گزشتہ تین مہینوں کے دوران اور اس بڑے بحران کے عرصے میں کچھ گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ کئی لوگوں کو جیل میں بھیجا گیا اور چند اقدامات کیے گئے۔ یہ بھی ہمارا فرض تھا۔ ہم اس ملک پر بد نظمی اور نزاعی عناصر کا غلبہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ جو ہمارے فرائض تھے، ان کے تحت ہمیں یہ سب کچھ کرنا پڑا۔ لیکن میں اس موقع پر جبکہ تمام ایوان نے متفقہ طور سے ایک اہم فیصلہ کر لیا ہے، آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ہر معاملے پر فوری اور جلد از جلد غور کریں گے، اور جب کہ اس مسئلے کا باب بند ہو چکا ہے، ہمارے لیے یہ ممکن ہو گا کہ ان سے نرمی کا برتاؤ کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ مناسب وقت کے اندر اندر کچھ ایسے افراد سے نرمی برتی جائے گی اور انہیں رہا کر دیا جائے گا جنہوں نے اس عرصہ میں اشتعال انگیزی سے کام لیا یا کوئی اور مسئلہ پیدا کیا۔

جناب اسپیکر!

جیسا کہ میں نے کہا، ہمیں امید کرنا چاہیے کہ ہم نے اس مسئلے کا باب بند کر دیا ہے۔ یہ میری کامیابی نہیں، یہ حکومت کی بھی کامیابی نہیں، یہ کامیابی پاکستان کے عوام کی کامیابی ہے۔ جس میں ہم بھی شریک ہیں۔ میں سارے ایوان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، مجھے احساس ہے کہ یہ فیصلہ متفقہ طور پر نہ کیا جا سکتا اگر تمام ایوان کی جانب سے اور اس میں تمام پارٹیوں کی جانب سے تعاون اور مفاہمت کا جذبہ نہ ہوتا۔ آئین سازی کے موقع کے وقت بھی ہم میں تعاون اور سمجھوتے کا یہ جذبہ موجود تھا۔ آئین ہمارے ملک کا بنیادی قانون ہے۔ اس آئین کے بنانے میں ستائیس برس صرف ہوئے اور وہ وقت پاکستان کی تاریخ میں تاریخی اور یادگار وقت تھا، جب اس آئین کو تمام پارٹیوں نے قبول کر لیا اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اسی جذبہ کے تحت، ہم نے یہ مشکل فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

صفحہ 161

جناب اسپیکر!

کیا معلوم کہ مستقبل میں ہمیں زیادہ مشکل مسائل کا سامنا کرنا پڑے، لیکن میری ناچیز رائے میں جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے، یہ مسئلہ سب سے زیادہ مشکل مسئلہ تھا۔ کل اس سے زیادہ پیچیدہ اور مشکل مسائل ہمارے سامنے آسکتے ہیں۔ جن کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن ماضی کو دیکھتے ہوئے اس مسئلے کے تاریخی پہلوؤں پر اچھی طرح غور کرتے ہوئے میں پھر کہوں گا کہ یہ سب سے زیادہ مشکل مسئلہ تھا۔ گھر گھر میں اس کا اثر تھا، ہر دیہات میں اس کا اثر تھا، اور ہر فرد پر اس کا اثر تھا۔ یہ مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا چلا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک خوفناک شکل اختیار کر گیا، ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا ہی تھا۔ ہمیں تلخ حقائق کا سامنا کرنا ہی تھا۔ ہم اس مسئلے کو ہائی کورٹ یا اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد کر سکتے تھے۔ یا اسلامی سیکریٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاسکتا تھا۔ ظاہر ہے کہ حکومت اور حتیٰ کہ افراد بھی مسائل کو ٹالنا جانتے ہیں اور انہیں جوں کا توں رکھ سکتے ہیں اور حاضرہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے معمولی اقدامات کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم نے اس مسئلے کو اس انداز میں نپٹانے کی کوشش نہیں کی۔ ہم اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ اسی جذبے کے تحت قومی اسمبلی ایک کمیٹی کی صورت میں خفیہ اجلاس کرتی رہی۔ خفیہ اجلاس کرنے کے لیے قومی اسمبلی کے سامنے کئی ایک وجوہات تھیں۔ اگر قومی اسمبلی خفیہ اجلاس نہ کرتی تو جناب! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ تمام سچی باتیں اور حقائق ہمارے سامنے آسکتے؟ اور لوگ اس طرح آزادی اور بغیر کسی جھجک کے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے؟ اگر ان کو معلوم ہوتا کہ یہاں اخبارات کے نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں، اور لوگوں تک ان کی باتیں پہنچ رہی ہیں اور ان کی تقاریر اور بیانات کو اخبارات کے ذریعے شائع کرکے ان کا ریکارڈ رکھا جارہا ہے تو اسمبلی کے ممبر اس اعتماد اور کھلے دل سے اپنے خیالات کا اظہار نہ کر سکتے، جیسا کہ انہوں نے خفیہ اجلاسوں میں کیا۔ ہمیں ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کا کافی عرصہ تک احترام کرنا چاہیے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ کوئی بات بھی خفیہ نہیں رہتی۔ لیکن ان باتوں کے اظہار کا ایک موزوں وقت ہے۔ چونکہ اسمبلی کی کارروائی خفیہ رہی ہے، اور ہم نے اسمبلی کے ہر ممبر کو، اور ان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی جو ہمارے سامنے پیش ہوئے، یہ یقین دلایا تھا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کو

صفحہ 162

سیاسی یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے گا۔ میرے خیال میں یہ ایوان کے لیے ضروری اور مناسب ہے کہ وہ ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کو ایک خاص وقت تک ظاہر نہ کریں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے لیے یہ ممکن ہو گا کہ ہم ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کو آشکار کردیں کیونکہ اس کے ریکارڈ کا ظاہر ہونا بھی ضروری ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان خفیہ اجلاسوں کے ریکارڈ کو دفن ہی کر دیا جائے، ہرگز نہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ بات ہوگی۔ میں فقط یہ کہتا ہوں کہ اس مسئلے کے باب کو ختم کرنے کے لیے اور ایک نیا باب کھولنے کے لیے نئی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے، آگے بڑھنے کے لیے اور قومی مفاد کو معمول پر رکھنے کے لیے اور پاکستان کے حالات کو معمول پر رکھنے کے لیے اس مسئلے کی بابت ہی نہیں بلکہ دوسرے مسائل کی بابت بھی، ہمیں ان امور کو خفیہ رکھنا ہوگا۔ میں ایوان پر یہ بات عیاں کر دینا چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کے حل کو، دوسرے کئی مسائل پر تبادلہ خیال اور بات چیت اور مفاہمت کے لیے نیک شگون سمجھنا چاہیے۔ ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ یہ حل ہمارے لیے خوشی کا باعث ہے اور اب ہم آگے بڑھیں گے اور تمام نئے قومی مسائل کو مفاہمت اور سمجھوتے کے جذبے کے تحت طے کریں گے۔

جناب اسپیکر!

میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ اس معاملے کے بارے میں جو میرے احساسات تھے، میں انہیں بیان کر چکا ہوں۔ میں ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے، یہ فیصلہ ہے جو ہمارے عقائد سے متعلق ہے اور یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے اور پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہے۔ میرے خیال میں یہ انسانی طاقت سے باہر تھا کہ یہ ایوان اس سے بہتر کچھ فیصلہ کر سکتا، اور میرے خیال میں یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ اس مسئلے کو دوامی طور پر حل کرنے کے لیے موجودہ فیصلے سے کم کوئی اور فیصلہ ہو سکتا تھا۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہو سکتے ہیں، جو اس فیصلے سے خوش نہ ہوں۔ ہم یہ توقع بھی نہیں کر سکتے کہ اس مسئلے کے فیصلے سے تمام لوگ خوش ہو سکیں گے۔ جو گزشتہ نوے سال سے حل نہیں ہو سکا۔ اگر یہ مسئلہ آسان ہوتا اور ہر ایک کو خوش رکھنا ممکن ہوتا، تو یہ مسئلہ بہت

صفحہ 163

پہلے حل ہو گیا ہوتا۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا۔ ۱۹۵۳ء میں بھی یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ۱۹۵۳ء میں حل ہو چکا تھا‘ اصل صورت حال کا صحیح تجزیہ نہیں کر سکے۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس فیصلے پر نہایت ناخوش ہوں گے۔ اب میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں ان لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کروں۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ یہ ان لوگوں کے طویل المیعاد مفاد کے حق میں ہے کہ یہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔ آج یہ لوگ ناخوش ہوں گے اور ان کو یہ فیصلہ پسند نہ ہو گا‘ ان کو یہ فیصلہ ناگوار ہو گا‘ لیکن حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اور مفروضے کے طور پر اپنے آپ کو ان لوگوں میں شمار کرتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ ان کو بھی اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ اس فیصلے سے یہ مسئلہ حل ہوا اور ان کو آئینی حقوق کی ضمانت حاصل ہو گئی۔ مجھے یاد ہے کہ حزب مخالف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے یہ تحریک پیش کی تو انہوں نے ان لوگوں کو مکمل تحفظ دینے کا ذکر کیا تھا جو اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔ ایوان اس یقین دہانی پر قائم ہے۔ یہ ہر پارٹی کا فرض ہے‘ یہ حکومت کا فرض ہے‘ حزب مخالف کا فرض ہے‘ اور ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کی یکساں طور پر حفاظت کریں۔

اسلام کی تعلیم رواداری ہے۔ مسلمان رواداری پر عمل کرتے رہے ہیں۔ اسلام نے فقط رواداری کی تبلیغ ہی نہیں کی بلکہ تمام تاریخ میں اسلامی معاشرے نے رواداری سے کام لیا ہے۔ اسلامی معاشرے نے اس تیرہ و تاریک زمانے میں یہودیوں کے ساتھ بہترین سلوک کیا‘ جبکہ عیسائیت ان پر یورپ میں ظلم کر رہی تھی اور یہودیوں نے سلطنت عثمانیہ میں آکر پناہ لی تھی۔ اگر یہودی دوسرے حکمران معاشرے سے بچ کر عربوں اور ترکوں کے اسلامی معاشرے میں پناہ لے سکتے تھے‘ تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری مملکت اسلامی مملکت ہے۔ ہم مسلمان ہیں‘ ہم پاکستانی ہیں اور یہ ہمارا مقدس فرض ہے کہ ہم تمام فرقوں‘ تمام لوگوں‘ اور پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں طور پر تحفظ دیں۔

جناب اسپیکر! ان الفاظ کے ساتھ میں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں۔ آپ کا شکریہ!

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۱۱‘ شمارہ ۲۰)

صفحہ 164

مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اسلم قریشی

پراسرار اغوا...... ڈرامائی برآمدگی

قادیانیوں اور پنجاب پولیس کی اہل اسلام کے خلاف ایک شرمناک سازش

پراسرار برآمدگی سے پہلے

مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اسلم قریشی سکنہ ۲۹/۲۸۵ محلہ امام صاحب ۱۹۳۴ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام روشن دین قریشی، والدہ کا نام چراغ بی بی۔ آج کل بھی اپنے آبائی مکان میں رہائش پذیر تھے۔

اسلم قریشی صاحب نے ایف۔اے تک تعلیم مرے کالج سیالکوٹ میں حاصل کی۔ زمانہ تعلیم میں اور اس کے بعد ان کے ذاتی احوال کالج کے لڑکوں جیسے تھے۔ مذہب سے کوئی خاص لگاؤ نہ تھا۔ بقول خود ”کبھی کبھار کسی مذہبی جلسے میں شریک ہو جاتا تھا اور بس“۔

تعلیم کے بعد سی۔ڈی اے اسلام آباد میں بطور الیکٹریشن ملازم ہو گئے۔ غالباً اسی دوران اپنے اعزہ میں ان کی شادی ہوئی۔ اہل و عیال ان کے ہمراہ اسلام آباد ہی میں رہائش پذیر تھے۔

صفحہ 165

ان کی زندگی کا پہلا اہم ترین واقعہ، جس نے ان کی زندگی کا رخ مکمل طور پر پلٹ دیا، وہ ۷۰ء میں ایم۔ ایم احمد قادیانی پر قاتلانہ حملہ ہے۔ انہوں نے کس پس منظر میں یہ حملہ کیا، خود ان کی زبانی سنئے۔

”ایک روز میں بیکری سے کوئی سودا لینے گیا۔ دکاندار نے جس کاغذ میں لپیٹ کر دیا وہ قادیانیوں کے کسی اخبار یا رسالے کا ورق تھا۔ میں نے سنا ہوا تھا کہ قادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور اصحاب و ازواج رسولؐ کے بارے میں گستاخانہ زبان استعمال کرتے ہیں مگر پہلی دفعہ ان کی اس قسم کی تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا جس پر مجھے غصہ آ گیا۔ میرے لیے اس کیفیت کا اظہار ممکن نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور گھر سے ایک تیز دھار آلہ لے کر سیکرٹریٹ پہنچ گیا۔ ایم۔ ایم احمد کا دفتر میرا دیکھا ہوا تھا اور مجھے معلوم تھا، یہ مرزا غلام احمد قادیانی کا پوتا یا دوہتا ہے۔ میں نے دفتر کے سامنے ہی ایم۔ ایم احمد کو جا لیا۔ دو وار کیے، وہ زمین پر گر گیا اور اس کا خون بہہ نکلا۔ مجھے پکڑ لیا گیا۔ بعد میں کیس ہوا اور مجھے پندرہ سال قید بامشقت کی سزا ہو گئی“۔

میرا کیس راجہ ظفر الحق (موجودہ وزیر اطلاعات) نے بلا معاوضہ لڑا۔ جیل میں میں نے با ترجمہ قرآن پڑھا، دینی لٹریچر پڑھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے ”قول فیصل“ اور ”علامہ اقبال“ کے مجموعے ”بانگ درا“ ”بال جبریل اور ”ضرب کلیم“ نے مجھ پر بہت اثر ڈالا۔ میں بنیادی طور پر مذہب پرست انسان بن گیا۔ نماز اور تلاوت کا پابند بنا، بلکہ جیل میں اخلاقی قیدیوں کی اصلاح کی بھی اپنی سی کوشش کرتا رہا“۔

عوام کے مطالبات اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ (جن کے اس وقت کے وزیر اعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ نہایت اچھے روابط تھے) کی مساعی سے اسلم قریشی صاحب کی سزا میں تخفیف ہوئی اور وہ دو سال آٹھ ماہ پندرہ یوم سزا کاٹ کر رہا ہو گئے۔ جیل سے نکلنے والا اسلم قریشی پوری شرعی داڑھی والا اسلم قریشی تھا، جس کے لیے ”مولانا“ کا سابقہ بے جواز نہیں۔ رہائی کے بعد اسلم قریشی عمرہ اور تلاش روزگار کی غرض سے سعودی عرب چلے گئے۔ ایک مقصد اپنی جان کا تحفظ بھی تھا۔ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی مگر روزگار میں دل نہ لگا اور وطن واپس آ گئے۔ وہ کہا کرتے تھے: ”زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے اور جب وقت آ جاتا ہے تو ٹل نہیں سکتا“۔

صفحہ 166

وہ اکثر بڑے گداز کے ساتھ یہ مصرعے پڑھا کرتے‘ شاید اپنی زندگی کو بے مصرف خیال کرتے تھے۔

لمحہ لمحہ گھٹ رہی ہے رونق ہستی کلیم
کارواں سے دم بدم کٹتے چلے جاتے ہیں ہم

سعودی عرب سے واپسی کے بعد سیالکوٹ میں انہوں نے برتنوں کے کاروبار کا ڈول ڈالا۔ مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ دو وقت کی روٹی چلانے کے لیے دو ایک جگہ ملازمت بھی کی۔ وہ جہاں بھی رہے اور جو کام بھی کیا‘ اس میں ایک چیز ہر جگہ اور ہر وقت پیش نظر رکھی اور وہ تھا عقیدہ ختم نبوت اور اس کی تبلیغ۔ وہ قادیانیوں کے خلاف نہایت جارحانہ ذہن کے مالک تھے۔ وہ کہا کرتے تھے ”قادیانی محض مذہبی اعتبار سے کینسر ہی نہیں‘ یہ سیاسی اعتبار سے بھی بڑا فتنہ ہیں۔ علامہ اقبال کے بقول یہ اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔ قادیانی جماعت کا پاکستان میں وجود برقرار رہنا‘ خود پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ یہ اسرائیلی اور امریکی استعمار کے ایجنٹ ہیں۔ ہمیں اپنی قوم اور ملک کو ان کے اثرات سے بچانا چاہیے“۔

اسلم قریشی صاحب کی عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ یہی والہانہ لگن انہیں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ میں لے گئی۔ بعد میں وہ ”دار العلوم الشہابیہ“ میں ناظم دفتر کی حیثیت سے ملازم ہو گئے۔ ۸۲ء کے دسمبر میں دارالعلوم کو چھوڑ کر وہ پھر ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ میں آگئے اور رد قادیانیت کے ضمن میں نہایت سرگرمی کے ساتھ کام کرنے لگے۔

فروری ۷۸ء میں انہوں نے ”قادیانی مسئلہ‘ آئینی ترمیم کے مطابق قانون سازی کا تقاضا کرتا ہے“ کے عنوان سے ایک نہایت خوبصورت کتابچہ چھاپا۔ یہ کتابچہ نعیم آسی کے ایک مضمون پر مشتمل تھا جو ۱۹ دسمبر ۷۷ء کے ہفت روزہ ”چٹان“ میں شائع ہوا اور جس میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ پر تبصرہ کیا گیا تھا جس میں عدالت نے قادیانیوں کو مسجد کی تعمیر اور استعمال کی ممانعت کرنے سے انکار کیا تھا۔ اسلم قریشی نے اس کتابچے کو ملک بھر میں عام کرنے کے لیے روزنامہ ”نوائے وقت“ میں صفحہ اول پر اشتہار چھپوانے کا اہتمام کیا۔ یہ اشتہار ملک منظور الہی صاحب کی طرف سے شائع ہوا جس کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں خطوط آئے اور اسلم قریشی صاحب نے بنڈلوں کی صورت میں متذکرہ کتابچے ”ڈسپیچ“

صفحہ 167

کیے۔ اس کتابچے کے ساتھ اسلم قریشی صاحب نے پندرہ بیس ہزار پوسٹ کارڈ چھپوائے۔ ان پوسٹ کارڈز کو ملک بھر میں تقسیم کیا گیا جن میں صدر مملکت، چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق سے قادیانی مسئلہ کے آئینی حل کے ضمن میں متعدد مطالبات کیے گئے تھے۔

ستمبر ۱۹۸۲ء کے شروع میں ”قادیانی مسئلہ اور موجودہ حکومت“ کے عنوان سے اسلم قریشی صاحب نے ایک تحریر شائع کی۔ فل اسکیپ سائز کے چھ صفحات پر مشتمل یہ تحریر بھی نعیم آسی کی لکھی ہوئی ہے۔ یہ تحریر دراصل نعیم آسی کا ایک مضمون ہے جو انہوں نے ہفت روزہ ”چٹان“ کے لیے لکھا۔ مگر سنسر کے باعث اسے حکام نے چھاپنے کی اجازت نہ دی۔ اس مضمون میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو پاکستان کا دورہ کرانے، ان کا مکان بطور یادگار محفوظ کرنے اور راجہ منور احمد قادیانی کو صدر مملکت کا ”پولیٹیکل ایڈوائزر“ مقرر ہونے کے حوالے سے موجودہ حکومت پر تنقید کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں ۷۳ء کے آئین کی دفعہ ”۱۰۶“ کی تنسیخ اور مرزا ناصر احمد کی طرف سے اس دفعہ کی تنسیخ کی پیش گوئی سے حکومت کے اندر قادیانی اثر و نفوذ کا تجزیہ بھی کیا گیا ہے۔ اسلم قریشی صاحب کی سرگرمیوں کے ضمن میں یہ ایک اہم تحریر ہے۔ یہ تحریر ”فوٹو سٹیٹ مشین“ کے ذریعہ چھاپی گئی اور اس مقصد کے لیے جامع الکوثر (مجاہد روڈ) میں باقاعدہ چندہ اکٹھا کیا گیا۔ نعیم آسی بذات خود اس مسجد کے خطیب ہیں۔

اب کچھ تفصیل ان کے گھریلو حالات کی لکھی جاتی ہے۔ اسلم قریشی صاحب اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ قریشی صاحب کے دو بھائی (اقبال قریشی اور اسلام قریشی) جی۔ ایچ کیو اور اسٹیٹ لائف میں بطور کلرک ملازم ہیں۔ ان کی چار بہنیں اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں۔

اسلم قریشی صاحب کی بیوی کا اواخر دسمبر ۸۲ء میں انتقال ہو گیا۔ (یہ واقعہ ان کی پراسرار گمشدگی سے کوئی دو ماہ پیشتر رونما ہوا) بیوی کی موت کے بعد سے قریشی صاحب نے یہ معمول بنا لیا تھا کہ وہ ہر شام بڑی پابندی کے ساتھ گھر پہنچ جاتے۔ قریشی صاحب کے پانچ بچے ہیں۔ ایک لڑکا حسیب اسلم اور چار لڑکیاں۔ لڑکے کی عمر سولہ سال ہے اور لڑکیوں کی

صفحہ 168

عمر بالترتیب اس طرح ہے۔ نویدہ اسلم ۱۵ سال‘ فریدہ اسلم ۱۳ سال‘ سعیدہ اسلم ۱۲ سال‘ طیبہ اسلم ۷ سال۔

اسلم قریشی صاحب نہایت دیانت دار اور ملنسار انسان تھے۔ موصوف کی روح مبلغانہ تھی۔ وہ نہایت مضبوط کردار اور سیرت کے مالک تھے۔ ان کا مکان کی تقسیم کے سوا اور کبھی کوئی تنازعہ نہ رہا۔ اپنے آبائی مکان کی تقسیم کا یہ جھگڑا ان کے اپنے ہم زلف رفیق قریشی کے ساتھ ہوا۔ معاملہ پولیس اور عدالت تک پہنچا۔ ان کے ہم زلف نے پولیس سے مل ملا کر انہیں جیل تک بھجوا دیا۔ بعض خدا ترس لوگوں نے بیچ میں پڑ کر یہ اختلاف طے کرا دیا۔ عدالتوں کے فیصلے اسلم قریشی صاحب کے حق میں تھے۔ آج کل ان کے تعلقات اپنے ہم زلف کے ساتھ معمول پر تھے۔

پر اسرار برآمدگی کے بعد

مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد اسلم قریشی کی عرصہ سوا پانچ سال کی گمشدگی کے بعد پر اسرار طور پر بازیابی کے ڈرامہ سے اہل اسلام کو شدید ذہنی پریشانی پہنچانے اور قادیانیوں کو مظلوم و بے گناہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ پولیس‘ حکومت اور قادیانیوں نے باہمی سازش کے ذریعے مولانا محمد اسلم قریشی کی بازیابی کا شرمناک ڈرامہ رچا کر علماء کرام کے وقار کو مجروح کیا ہے۔ مولانا محمد اسلم قریشی پر مسلسل پانچ سال تک ظلم و تشدد‘ الیکٹرک شاک اور برین واشنگ کر کے ذہنی طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے۔ ان کے عقائد و نظریات کے خلاف فرضی اور پہلے سے حکومت اور قادیانیوں کا تیار شدہ بیان جاری کیا گیا۔ مولانا اسلم قریشی کی طویل گمشدگی کے بعد ان کی بازیابی پر پنجاب پولیس نے ریڈیو‘ ٹیلی ویژن اور قومی اخبارات میں من گھڑت اور فرضی کہانی بنا کر جس انداز سے مولانا اسلم قریشی کو پیش کیا ہے۔ اس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ مولانا اسلم قریشی کے متعلق یہ کہانی فرضی ہے جو پنجاب پولیس نے اصل مجرموں کے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے پہلے سے تیار کر رکھی تھی۔ مولانا اسلم قریشی کی برین واشنگ کے ذریعے یہ فرضی اور دیو مالائی کہانی منظر عام پر لائی گئی ہے۔ تاکہ اصل مجرم بچ جائیں۔ اس کہانی کے جھوٹا ہونے کا ایک واضح ثبوت خبروں کا کھلا تضاد ہے کہ کوئی ذی شعور انسان اسے

صفحہ 169

قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس وقت हमारा یہ فرض بنتا ہے کہ ہم اہل اسلام کو صحیح صورت حال سے مطلع کریں کہ یہ ایک بین الاقوامی سازش ہے جس کے پیچھے اسلام دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے۔

مولانا محمد اسلم قریشی سیالکوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ تھے۔ مولانا کی زندگی کا ایک اہم ترین واقعہ جس نے ان کی زندگی کا رخ کلیتاً پلٹ دیا۔ وہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے ایم ایم احمد پر ۱۹۷۰ء میں قاتلانہ حملہ ہے۔ اس مقدمہ میں رہا ہونے کے بعد مولانا اسلم قریشی نے اپنے تمام مشاغل ترک کر کے تحفظ ختم نبوت کی تبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن بنالیا تھا جس سے متعدد قادیانی مسلمان ہوئے۔ قادیانیوں نے انتقامی کارروائی کے طور پر مولانا محمد اسلم قریشی کو ۱۷ فروری ۱۹۸۳ء کو موضع معراج کے ضلع سیالکوٹ میں جمعہ المبارک کا خطبہ دینے کے لیے جاتے ہوئے راستے ہی میں اغوا کرلیا۔ مولانا کے اغواء پر اول تو پولیس رپورٹ درج کرنے کو تیار نہ تھی۔ پولیس نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا اور پولیس چوکی اے ڈویژن کے تھانیدار عبدالغنی نے نہ صرف رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا بلکہ روایتی بداخلاقی کا بھی مظاہرہ کیا۔ اس پاسبان رسالت ﷺ کے اغواء پر پوری ملت اسلامیہ سراپا احتجاج بن گئی۔ سیالکوٹ میں مقامی طور پر مولانا اسلم قریشی کی بازیابی کے لیے مجلس عمل قائم ہوئی۔ ۲۳ فروری کو بمشکل ایف۔آئی۔آر درج کروائی جاسکی اور مجلس عمل نے مولانا کی بازیابی کے لیے تحریک چلائی۔ کبھی پولیس کی طرف سے یہ کہا گیا کہ دو چار روز میں مولانا کا سراغ مل جائے گا اور کبھی صاف جواب دیا جاتا کہ مولانا کا کوئی پتہ نہیں۔ انتظامیہ کے ذمہ دار افراد ڈپٹی کمشنر اور ڈی آئی جی صاحبان نے ۱۳ مارچ ۱۹۸۳ء کو مجلس عمل کے ایک وفد کو یقین دلایا کہ وہ چار دن کے اندر مولانا اسلم قریشی کو زندہ ان کے سپرد کردیں گے۔ اسی طرح ۲۹ مئی ۱۹۸۳ء کو جناب کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن نے علماء اور مجلس عمل کے ساتھ ایک ملاقات میں اپنے تجربے کی بناء پر اظہار کیا کہ وہ زندہ ہیں اور جلد آپ کو مل جائیں گے۔ اسی طرح تحریک تحفظ ختم نبوت طلبہ کا ایک وفد اے۔ایس۔پی صاحب کو ۲۲ فروری ۱۹۸۳ء کو ایف آئی آر درج کروانے سے پہلے ملا تو اے ایس پی صاحب نے کہا کہ اسلم قریشی آپ کو کل مل جائیں گے۔ اگلے دن اے ایس پی صاحب اپنے دفتر میں موجود نہ تھے۔ مجلس عمل نے عرصہ پانچ

صفحہ 170

سال تک تحریک چلائی۔ پورے ملک میں جلسے جلوس، کانفرنسیں، احتجاج اور لٹریچر کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مولانا اسلم قریشی کو بازیاب کیا جائے اور اغوا کرنے والے قادیانی مجرموں کو سخت سزا دی جائے۔

صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق نے ۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء کو حضرت الامیر مولانا خان محمد کی زیر قیادت ملنے والے وفد کو یقین دلایا کہ ایک ماہ میں مولانا اسلم قریشی کیس حل ہو جائے گا۔ محمد خان جونیجو وزیر اعظم پاکستان نے ۱۶ فروری ۱۹۸۶ء کو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں کے وفد سے وعدہ کیا کہ چار ماہ میں مولانا اسلم قریشی کیس حل کیا جائے گا اور مجرموں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ میاں محمد نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب نے ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۵ء ریسٹ ہاؤس فیصل آباد میں علماء کے وفد کو یقین دلایا کہ مبلغ ختم نبوت مولانا اسلم قریشی کے اغواء کا معمہ بہت جلد حل کیا جائے گا۔ چودھری محمد امین ڈی آئی جی گوجرانوالہ نے مولانا اسلم قریشی کیس کے ایک ملزم اعظم گھمن کے متعلق کہا کہ اگر وہ بیرون ملک چلا جائے تو سمجھ لینا کہ میں نے یا حکومت نے بھجوایا ہے۔ چودھری امین کے اس وعدہ کے باوجود ملزم بیرون ملک فرار ہو گیا۔

میجر مشتاق ڈی آئی جی کے حوالے سے مبینہ طور پر سنا گیا کہ مولانا اسلم قریشی کیس کا ایک ملزم فوج میں ہے۔ اس کی گرفتاری کے لیے فوج سے منظوری لینا ضروری ہے جو نہیں مل رہی اور وہ ملک امان اللہ قادیانی کا بھائی ہے جو مولانا اسلم قریشی کے اغواء کے دنوں سیالکوٹ چھاؤنی میں متعین تھا۔ ایس ایس پی طلعت محمود کے متعلق مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ وہ کہتے ہیں کہ علماء مجھ پر غصے ہو رہے ہیں‘ وہ جنرل محمد ضیاء الحق سے نہیں پوچھتے۔ کیا جنرل صاحب کو علم نہیں کہ ملزم کون ہیں اور کہاں ہیں؟ ایس پی راجہ سرفراز کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ ایک قادیانی بریگیڈیئر وسیم الزمان کو شامل تفتیش کرنا چاہتے تھے کہ ان سے تفتیش واپس لے لی گئی۔ ملک امان اللہ قادیانی ملزم کی کار مولانا اسلم قریشی کے اغواء میں استعمال ہوئی۔ اس نے کہا وہ گم ہو گئی ہے اور ایک ایف آئی آر پیش کی جو لاہور کے کسی تھانہ کی تھی۔ اس پر تاریخ مولانا اسلم قریشی کے اغواء سے قبل کی تھی۔ بعد میں وہ کار ایک کباڑیے سے برآمد ہو گئی۔ اس نے کہا کہ مجھے خود امان اللہ نے فروخت کی ہے۔ فروختگی کی تاریخ مولانا اسلم قریشی کے اغواء کے بعد کی تھی۔ جب ایف آئی آر کی فوٹو

صفحہ 171

سٹیٹ کو متعلقہ تھانے کے اصل رجسٹر سے ملایا گیا تو اصل رجسٹر پر کار کے نمبر اور تھے اور فوٹو سٹیٹ پر نمبر اور تھے۔ اس کے باوجود اس پر صرف فراڈ کا مقدمہ قائم کر کے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ مولانا اسلم قریشی کیس میں اس کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

اس مسئلہ پر قومی اخبارات نے اداریے لکھے۔ صوبائی و قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی اس سلسلہ میں آوازیں اٹھائی گئیں۔ سیالکوٹ میں مولانا کی گمشدگی پر تاریخی ہڑتال ہوئی۔ اس دوران اے ایس پی سے لے کر سابق وزیر اعظم جونیجو اور جنرل ضیاء تک نے کئی تفتیشی ٹیمیں مقرر کر کے مولانا اسلم قریشی کی بازیابی کا یقین دلایا۔ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں ملک میں ہونے والی بے شمار کانفرنسوں کے علاوہ ویمبلے ہال لندن میں ہونے والی بین الاقوامی تحفظ ختم نبوت کانفرنسوں کے پلیٹ فارم سے بھی عالمی سطح پر اس مسئلہ کو اٹھایا گیا۔ مگر ساری کوششیں بے سود رہیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ مولانا کو یا تو زمین کھا گئی ہے یا آسمان نے اٹھا لیا ہے۔

اب سوا پانچ سال کی طویل گمشدگی کے بعد آئی جی پنجاب نے جھرل کر کے مولانا اسلم قریشی کو اپنے دفتر سے پیش کر دیا۔ آئی جی صاحب کے طلسماتی عمل سے پوری قوم حیران و ششدر رہ گئی، قوم نے یوں محسوس کیا جیسے کوئی سٹیج آرٹسٹ یکا یک پردے سے عوام کے سامنے آجائے۔ یہ ڈرامہ کیوں تیار کیا گیا؟ یہ ڈرامہ کہاں اور کس کس نے تیار کیا؟ اور قوم کے سامنے اس ڈرامہ کو پیش کرنے کے لیے کس دن کا انتخاب کیا گیا؟ اور اس ڈرامہ کے کرداروں میں کتنا تضاد ہے؟ یہ سب چیزیں تفصیل طلب ہیں لہٰذا مختصر بیان کی جاتی ہیں۔ یہ ڈرامہ اسلام آباد میں قادیانی لابی کی ہائی کمان اور پولیس کے دو اعلیٰ افسروں نے ”ربوہ“ اور ”لندن“ کے مشوروں اور ہدایات کی روشنی میں تیار کیا جس کو انتہائی صیغہ راز میں رکھا گیا اور اس ڈرامہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ان دو بڑے پولیس افسروں کا ان کی موجودہ کلیدی آسامیوں پر آنے تک انتظار کیا گیا۔ اس ڈرامہ کی تیاری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مولانا اسلم قریشی صاحب کے اغواء کے کیس میں قادیانی جماعت کا بھگوڑا سربراہ مرزا طاہر احمد پولیس کو مطلوب تھا۔ عوام کے زبردست احتجاج کے بعد جب پولیس نے اسے گرفتار کرنے کا پروگرام بنایا تو قادیانی جماعت کا سربراہ مرزا طاہر احمد رات کی تاریکی میں برقعہ پہن کر بزدلانہ طور پر ہوائی جہاز کے ذریعے ملک سے فرار

صفحہ 172

ہو گیا اور لندن میں قادیانی نبوت کے موجد انگریز کی گود میں جا بیٹھا۔

اس کی قامت سے اسے مان گئے لوگ فراز
جو لبادہ بھی وہ چالاک پہن کر نکلا

اس بزدلانہ فرار کے بعد مرزا طاہر نے لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی شروع کر دی اور لندن میں قادیانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان میں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے“ اس بیان پر پاکستانی سینٹ میں بھی احتجاج بلند ہوا۔ قادیانیوں کے بھگوڑے خلیفہ کے اس طرح بھاگنے کی وجہ سے پاکستان میں موجود قادیانیوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ امتناع قادیانیت صدارتی آرڈیننس مجریہ اپریل ۱۹۸۴ء نے قادیانیوں کی مزید کمر توڑ دی۔ اس کے بعد بھی قادیانیت کو قانونی شکنجے میں جکڑنے کے لیے قانون سازی ہوتی رہی۔ مرزا طاہر کے بزدلانہ فرار اور مجاہدین ختم نبوت کی طرف سے قادیانیت کے بت پر پے در پے ضربیں لگانے سے قادیانی بوکھلا گئے اور انہوں نے اپنی ساری تنزلی و ذلت کا سبب مرزا طاہر کو جانا اور قادیانیوں کی ایک کثیر تعداد مرزا طاہر سے باغی ہو گئی اور اس کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا۔ اس باغی گروہ کا کہنا ہے کہ مئی ۱۹۷۴ء میں نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر جس قادیانی گروہ نے حملہ کر کے انہیں شدید زخمی کیا تھا اس گروہ کی قیادت بھی مرزا طاہر کر رہا تھا۔ طلبہ پر حملہ کے باعث پوری قوم سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئی اور عظیم الشان تحریک ختم نبوت چلی، جس کے نتیجہ میں ستمبر ۱۹۷۴ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ جس کے اثرات پوری دنیا میں بالخصوص مسلم ممالک میں محسوس کیے گئے۔ قادیانی جماعت کے باغی گروہ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ ذلت و رسوائی مرزا طاہر بھگوڑے کی وجہ سے اٹھانی پڑی۔

اس باغی گروہ کا مزید کہنا ہے کہ مولانا محمد اسلم قریشی کا اغواء بھی مرزا طاہر کے حکم سے ہوا جس سے دوبارہ ایک زبردست اور منظم تحریک چلی۔ جن کے نتیجہ میں قادیانیوں کو اسلام دشمن سرگرمیوں سے روکنے کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری ہوا۔ اس گروہ کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ دونوں تحفے مرزا طاہر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملے اور اس پہ طرہ یہ کہ ہمیں بے یار و مددگار چھوڑ کر خود لندن میں جا بیٹھا۔ مرزا طاہر لندن میں بیٹھا ان تمام حالات کا بغور جائزہ لیتا رہا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ فتنہ قادیانیت کے بانی آنجہانی مرزا

صفحہ 173

غلام احمد قادیانی نے ۱۸۸۹ء میں مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا جو بالآخر مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی بنیاد بنا۔ اب قادیانی ۱۹۸۹ء میں مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کا صد سالہ جشن منا رہے ہیں جس میں مرزا طاہر کی ربوہ پاکستان میں شرکت اشد ضروری ہے۔ اس نے سوچا کہ پاکستان سے مزید فرار کہیں مجھے میری نام نہاد خلافت سے محروم نہ کر دے۔ اس لیے اس نے پاکستان آنے کا پروگرام تشکیل دیا۔ لیکن چونکہ مرزا طاہر مولانا اسلم قریشی کے اغواء کے کیس میں پولیس کو مطلوب تھا۔ لہٰذا مرزا طاہر کی ربوہ واپسی کا راستہ صاف کرنے کے لیے مولانا اسلم قریشی کی رہائی کا ڈرامہ اسلام آباد میں تیار کیا گیا جو کہ گزشتہ سوا پانچ سال سے قادیانیوں کی قید میں ذہنی و جسمانی اذیتیں اٹھا رہے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ ڈرامہ کس دن قوم کے سامنے پیش کیا جائے؟ ملت اسلامیہ کے ساتھ سنگین مذاق کرنے کے لیے جولائی کا انتخاب کیا گیا کیونکہ یہ دن ہر پہلو سے ڈرامہ سازوں کے لیے بہت مفید تھا۔

جماعت کے کارکنان اپنے رہنماؤں کے استقبال کے لیے پورے شہر میں ٹولیوں کی صورت میں گشت کر رہے تھے اور عوام الناس کو اپنی جانب متوجہ کر رہے تھے۔

و مشائخ کی ایک کثیر تعداد فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودیہ روانہ ہو چکی تھی یا ہو رہی تھی۔

میں چوتھی بین الاقوامی تحفظ ختم نبوت کانفرنس بڑے جوش و جذبے سے منعقد ہو رہی ہے جس میں دنیا بھر سے مجاہدین ختم نبوت جوق در جوق شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی ایک ٹیم کانفرنس کی تیاری اور اس کے انتظام کے لیے بیرون ملک روانہ ہو چکی ہے۔

ملت اسلامیہ پاکستان کو دینی اور سیاسی محاذوں پر مصروف و مشغول دیکھ کر اور میدان کو قدرے خالی پا کر قادیانی مداری اپنے سرپرستوں سمیت مولانا اسلم قریشی کی بازیابی کا ڈرامہ رچانے کے لیے اپنے دجل و تلبیس کے دلائل کے ہتھیار سے مسلح ہو کر ۱۲ جولائی ۱۹۸۸ء کو آئی جی پنجاب کے آفس میں اکٹھے ہوئے۔ صبح دس بجے ایک فرضی پریس

صفحہ 174

کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں سادہ کپڑوں میں ملبوس درجنوں اہلکار شامل تھے۔ اس ریہرسل کے بعد دوپہر کو پریس کانفرنس کی گئی اور مولانا اسلم قریشی کو پولیس کے نرغے میں آئی جی کے ساتھ بٹھا دیا گیا اور آئی جی پنجاب نے پریس کانفرنس میں پہلے سے تیار شدہ بیان پڑھ کر سنایا جبکہ مولانا اسلم قریشی تصویر بنے بیٹھے تھے۔ ان کی بازیابی کے سلسلہ میں بیانات میں اتنا تضاد ہے کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ پولیس اصل مجرموں کو چھپا کر حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے۔

روزنامہ نوائے وقت نے اس پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے مورخہ ۱۶ جولائی ۱۹۸۸ء کو اپنے اداریہ میں جو تجزیہ کیا ہے‘ وہ پولیس اور قادیانی گٹھ جوڑ کی قلعی کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ”اگرچہ وہ دیو مالائی داستان معلوم ہوتی ہے اور اس کی متعدد کڑیاں آپس میں ملتی نظر نہیں آتیں“ روزنامہ جنگ کے جاوید جمال ڈسکوی صاحب نے اپنی ہفتہ وار سیاسی ڈائری کے آخر میں لکھا کہ ”آئی جی پولیس کی موجودگی میں جو بیان مولانا اسلم قریشی نے دیا ہے‘ بعض حلقے اس بیان پر یقین نہیں کر رہے۔ بہر حال اس حقیقت کے افشاء ہونے میں ابھی کچھ وقت انتظار کرنا پڑے گا“۔

آئی جی پنجاب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مولانا اسلم قریشی پولیس کے پاس خود بخود پیش ہو گئے تھے۔ ۱۰ جولائی کو پنجاب پولیس کی ایک خصوصی ٹیم انہیں کوئٹہ سے لاہور لائی ہے۔ لیکن حکومت بلوچستان نے ۱۳ جولائی کو ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ جاری کر کے اس فرضی داستان کے تار و پود بکھیر دیے کہ ”پنجاب پولیس کا کوئی افسر یا پارٹی مولانا اسلم قریشی کی بازیابی کے لیے بلوچستان نہیں آئی“۔

کہتے ہیں جو کسی کے لیے جال بنتا ہے‘ وہ خود ہی اس جال میں پھنس جاتا ہے۔ ہوا یوں کہ آئی جی پنجاب نے حکومت کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے یہ بڑ لگائی کہ ”انہیں پہلے سے ہی علم تھا کہ مولانا اسلم قریشی ایران میں موجود ہیں“ لیجئے ایک ہی جملہ میں ساری سازش بے نقاب ہو گئی اور مجرم سامنے آ گئے۔ قادیانیوں اور پولیس کے گٹھ جوڑ کے راز کھل گئے۔ روزنامہ جنگ کوئٹہ میں مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۸۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس شائع ہوئی۔ جس میں اس سازش کے چہرہ سے پردہ سرکایا گیا کہ مولانا اسلم قریشی کو اسلام آباد کی خفیہ ایجنسی کے عملہ نے ۵ جولائی ۱۹۸۸ء کو بی

صفحہ 175

اینڈ آر ریسٹ ہاؤس تفتان سے پر اسرار طور پر پاکستانی قونصلیٹ متعینہ ایران مسٹر امیر الملک اور ایک پاکستانی قادیانی افسر ملک اقبال کے قبضہ سے نیم بے ہوشی کی حالت میں تحویل میں لیا۔ پاکستان کی امیگریشن ایف آئی اے چیک پوسٹ پر مولانا کی آمد کا کوئی اندراج نہیں اور نہ ہی ان کے غیر قانونی طور پر ایران جانے پر ایف۔ آئی اے امیگریشن چیک پوسٹ نے پاسپورٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ اس کے علاوہ تفتان سرحدی شہر ہے۔ وہاں پر نصف درجن سے زائد خفیہ ایجنسیاں ہیں۔ ان سب خفیہ ایجنسیوں کے پاس مولانا کی ایران آمد و اخراج کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ مولانا اسلم قریشی صاحب کو ایک پجیرو گاڑی میں ۶ جولائی ۱۹۸۸ء کو کوئٹہ پہنچایا گیا۔ چار روز کوئٹہ میں خصوصی انویسٹیگیشن سیل میں رکھا گیا۔ ۱۰ جولائی کو کوئٹہ سے راولپنڈی بذریعہ طیارہ پہنچایا گیا اور راولپنڈی سے دس اور گیارہ جولائی کی درمیانی رات کو لاہور پہنچایا گیا۔

اب آپ آسانی کے ساتھ سمجھ چکے ہوں گے کہ ایک قادیانی افسر ملک اقبال کے قبضہ سے مولانا اسلم قریشی آئی جی پنجاب کے دفتر تک کیسے پہنچے؟ اور آئی جی پنجاب نے پورے اعتماد کے ساتھ یہ بات کیوں کہی کہ انہیں معلوم تھا کہ ”مولانا اسلم قریشی ایران میں ہے“ ذرا سازش کی کڑیاں تو ملائیے فوراً دل و زبان پکار اٹھیں گے:

؎ ”لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا“

آئی جی پنجاب فرماتے ہیں کہ مولانا اسلم قریشی کو ۱۰ جولائی ۱۹۸۸ء کو بذریعہ ہوائی جہاز کوئٹہ سے لاہور لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی شان ہے‘ ۱۰ جولائی کو کوئٹہ سے کوئی پرواز لاہور نہیں آئی۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ مولانا ۱۷ فروری ۱۹۸۳ء کو بذریعہ بس سیالکوٹ سے گوادر گئے ہیں۔ جھوٹ کی حد دیکھئے کہ ۱۷ فروری ۱۹۸۳ء کو پورے پنجاب میں بسوں کی ہڑتال تھی۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ مولانا اسلم قریشی ۴ ماہ تک گوادر میں ایک ڈینٹل سرجن کے پاس رہے۔ واقعہ یہ ہے کہ گوادر میں کوئی ڈینٹل سرجن نہیں ہے۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ مولانا اسلم قریشی گھریلو حالات کی تنگ دستی کی وجہ سے گھر سے گئے ہیں۔ لیکن ۱۲ مارچ ۱۹۸۳ء کو کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن نے پریس کانفرنس میں فرمایا

صفحہ 176

کہ مولانا اپنے ہمراہ ۲ ہزار روپے لے کر گئے ہیں۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ مولانا اسلم قریشی سیالکوٹ سے گوادر اور یہاں سے ایران چلے گئے۔ وہاں ایران کی فوج میں باقاعدہ طور پر شامل رہے جبکہ حکومت ایران کا قانون ہے کہ کوئی غیر ملکی ایرانی فوج میں شامل نہیں ہو سکتا۔

آئی جی پنجاب اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں مولانا اسلم قریشی کی ایران میں موجودگی کا علم تھا اور دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ مولانا اسلم قریشی رضا کارانہ طور پر ہمارے سامنے پیش ہوئے۔ حالانکہ سیالکوٹ کی پولیس نے اپنی ابتدائی تفتیش کے دوران اس بات کا سراغ لگا لیا تھا کہ مولانا اسلم قریشی کو قادیانیوں نے اغواء کیا۔ پولیس نے وہ کار بھی برآمد کر لی تھی جو اغواء میں استعمال ہوئی تھی۔ کار کے مالک ملک امان اللہ قادیانی نے مولانا کے اغواء کا اعتراف بھی کر لیا تھا جو بعد میں ملک سے فرار ہو گیا۔

آئی جی پنجاب نے اپنی پریس کانفرنس میں ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے مولانا اسلم قریشی کی گمشدگی کے بارے میں مقدمہ درج کرایا تھا ان کے خلاف اس لیے مقدمہ درج کیے جانے کا امکان ہے۔ کیونکہ ان کو مولانا اسلم قریشی کا مکتوب بھی ملا۔ جو کہ ایک بلوچی نے ایران سے پاکستان آنے پر کراچی سے پوسٹ کیا تھا اور وہ خط ان کے گھر والوں اور محلے والوں کے علاوہ مقدمہ درج کروانے والے لوگوں نے بھی پڑھا اور دیکھا تھا۔ اس کے باوجود وہ لوگ اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ مولانا اسلم قریشی کو قتل کی نیت سے اغواء کر کے کسی جگہ چھپا رکھا ہے۔ اب ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ اس مذکورہ خط میں مولانا اسلم قریشی نے لکھا ہے ”میں اس وقت قادیانیوں کے نرغے میں ہوں اور وہ مجھ پر بے پناہ تشدد کر رہے ہیں میری رہائی کے لیے کچھ کرو“

؎ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

پولیس کی فرضی اور من گھڑت پریس کانفرنس کا آخر مقصد کیا ہے؟ اس کا ایک بڑا مقصد مذہبی قوتوں کو بدنام کرنا ہے اور یہ سب کچھ امریکہ کے دباؤ پر اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانیوں اور قادیانی نواز افسروں کی مکمل ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ امریکہ اس سے پہلے بھی اربوں روپے کی سالانہ امداد کے سلسلہ میں حکومت پاکستان پر شدید دباؤ ڈال کر مرزائیوں

صفحہ 177

کی اعلانیہ حمایت کر چکا ہے ۔ امریکہ کے سینٹ کی ۱۷ رکنی خارجہ تعلقات کی کمیٹی نے پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد کے لیے اپنی قرارداد میں جو شرائط شامل کی ہیں، ان میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ ”امریکی صدر“ ہر سال اس مفہوم کا ایک سرٹیفکیٹ جاری کریں گے کہ حکومت پاکستان اقلیتوں مثلاً احمدیوں کو مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز آ رہی ہے اور ایسی تمام سرگرمیاں ختم کر رہی ہے جو مذہبی آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہیں“ ۔

(بحوالہ مضمون ارشاد احمد حقانی، ادارتی صفحہ نمبر ۳، روزنامہ ”جنگ“ ۵ مئی ۱۹۸۷ء)

قادیانیوں کو مکمل مذہبی اور شہری آزادیوں کا مطلب کیا ہے؟ یہ کہ وہ ملت اسلامیہ سے قطعی طور پر الگ ایک نئی امت ہوتے ہوئے بھی اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مخصوص مذہبی شعائر استعمال کر کے دھوکہ اور اشتباہ کی جو فضاء قائم رکھنا چاہتے ہیں، وہ بدستور قائم رہے ۔

پاکستان کی پارلیمنٹ نے ملت اسلامیہ کے دینی تشخص کے تحفظ کے لیے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ ختم ہو جائے ۔

۱۹۸۴ء کے صدارتی آرڈینینس کے ذریعہ قادیانیوں کو مسجد، کلمہ طیبہ اور اسلام کا نام اور اصطلاحات استعمال کرنے سے جو روکا گیا ہے، اسے غیر موثر بنایا جائے ۔

امریکی سینٹ کی یہ قرارداد قادیانیوں کے خود ساختہ حقوق کی حمایت سے زیادہ ملت اسلامیہ کے دینی تشخص اور مذہبی معتقدات پر براہ راست اور ناقابل برداشت حملہ ہے ۔

پولیس اپنی روایت کے مطابق مرضی کی باتیں کہلوا کر قادیانیوں کو بری الذمہ کرنا چاہتی ہے ۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں کسی بھی ملزم کا بیان کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قادیانی جماعت اسلم قریشی کے اغواء میں ملوث نہیں تو

صفحہ 178

قادیانی جماعت اور پولیس کی ملی بھگت سے اسلم قریشی کا جو ڈرامہ رچایا گیا ہے‘ اس کے پس منظر میں ایک بہت بڑی بھیانک سازش ہے۔

مرزا قادیانی نے ۱۸۸۹ء میں مسیحیت کا دعویٰ کیا تھا۔ اب قادیانیوں نے ۱۹۸۹ء میں مرزا قادیانی کی نبوت و مسیحیت کے صد سالہ جشن کا اعلان کیا ہے جس کے لیے مرزا طاہر کو ملک واپس لانے اور قادیانیوں کا امیج بحال کرنے اور انہیں مظلوم ثابت کرنے کے لیے نہایت مکروہ ڈرامہ رچایا ہے۔ حال ہی میں ایک کیسٹ پاکستان پہنچا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ جلد ہی پاکستان کے در و دیوار جماعت احمدیہ کے سربراہ کی آوازیں سنیں گے اور ۱۹۹۰ء میں پاکستان میں انقلاب آئے گا جو احمدی انقلاب کہلائے گا۔ اس پس منظر میں یہ بھی ممکن ہے کہ پولیس مولانا اسلم قریشی کو اپنی تحویل میں قتل کر دے اور اس قتل کو خودکشی کا نام دے کر کیس داخل دفتر کر دیا جائے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری کا عملی مظاہرہ ہو۔

ایک بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ مولانا اسلم قریشی نے ایران میں ایک عورت سے شادی کر لی تھی۔ دوسری شادی کی کوشش میں کاغذات کے لیے ایران سے کوئٹہ آئے تو گرفتار ہو گئے۔ یہ بیان سب سے زیادہ مضحکہ خیز ہے۔ ایک طرف آئی جی پولیس کہتے ہیں کہ مولانا اسلم قریشی گھریلو حالات کی تنگدستی کی بنا پر گئے تھے۔ دوسری طرف بیک وقت آدمی کے ساتھ شادیاں منسوب کی جا رہی ہیں۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

آئی جی پنجاب یہ بھی کہتے ہیں کہ مولانا اسلم قریشی ایرانی فوج میں باقاعدہ طور پر شامل رہے اور ان کے پاؤں میں زخم بھی جنگ کے دوران ہی آیا۔ گویا جنگ کے دوران ایک فوجی اگلے مورچوں پر زخمی حالت میں جنگ بھی لڑ رہا ہے اور تیسری شادی کی گھریلو جنگ بھی لڑ رہا ہے۔ یہ محض اس لیے ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے لوگوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر کے ان کا امیج‘ وقار اور عوام الناس کا ان پر اعتماد ختم کر کے قادیانیت کے پھیلنے کے مواقع مہیا کیے جاسکیں۔ اس مقصد کے لیے قادیانی اور قادیانی نواز افسران پوری طرح یکسو ہو کر کام کر رہے ہیں اور اس طرح تو آئندہ اخبارات میں یہ خبر بھی آسکتی ہے کہ مولانا اسلم قریشی جیل میں ہیروئن پیتے ہیں۔ تاکہ کل جب مرزا طاہر پوری شاطرانہ وجاہت کے ساتھ قادیانیت کے مردہ جسم میں جان ڈالنے کے

صفحہ 179

لیے پاکستان آئے اور اس کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان ہو تو عوام کو بتایا جائے کہ وہ یہی لوگ ہیں جو تین تین شادیاں کرتے ہیں، خود روپوش ہو جاتے ہیں، ہیروئن پیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ تاکہ عوام اس تحریک میں شامل نہ ہوں اور قادیانی مظلوم بن کر یہاں کے سادہ لوح مسلمانوں کو نوکری اور چھوکری کا لالچ دے کر ان کا رشتہ حضور سرور کائنات (ﷺ) سے توڑ کر آنجہانی مرزا قادیانی سے جوڑ دیں۔ ایسے تمام بیانات صرف اور صرف علماء کرام کی کردار کشی کے لیے شائع کروائے جا رہے ہیں ورنہ ان کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، اس سلسلہ میں ۱۹ جولائی ۱۹۸۸ء روزنامہ نوائے وقت لاہور کا اداریہ ملاحظہ فرمائیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ:

"چند روز قبل پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران سیالکوٹ کے مولانا اسلم قریشی کو صحافیوں کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس کے بعد ایک ہی انداز کی خبریں اخبارات میں شائع ہو رہی ہیں جو اپنے متن اور اسلوب کے اعتبار سے قطعی سرکاری معلوم ہوتی ہیں۔ ان خبروں سے شکوک و شبہات ختم ہونے کی بجائے نیا رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں اور ہر حلقہ اپنے اپنے خیال کے مطابق ان پر حاشیہ آرائی کر رہا ہے۔ اسلم قریشی کی بازیابی بلاشبہ ایک اہم واقعہ ہے لیکن اب پولیس حکام اس واقعہ کے مثبت اثرات کی بجائے منفی رد عمل کا خود ہی شکار ہو رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مولانا اسلم قریشی کو آزاد کیا جائے۔ انہیں آزادانہ ماحول میں رہنے دیا جائے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی موجودگی میں انہیں اخبار نویسوں سے براہ راست بات چیت کا موقع دیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔ خبروں کا موجودہ سلسلہ خواہ کتنا ہی مبنی بر حقیقت کیوں نہ ہو ، کردار کشی کے ضمن میں آتا ہے"۔

آئی جی پنجاب نثار چیمہ صاحب کی اس کلیدی پوسٹ پر تقرری بھی قادیانی سازش ہے۔ مولانا اسلم قریشی اس سے پہلے کسی اور آئی جی کے دور میں واپس کیوں نہیں آئے؟ اس لیے کہ دیگر آئی جی صاحبان پر قادیانیوں کو اعتماد نہ تھا۔ موجودہ آئی جی ان کے گھر اور گھاٹ کے آدمی ہیں۔ اس لیے قادیانیوں کو زیادہ مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑا۔

صفحہ 180

بقول آئی جی صاحب، مولانا اسلم قریشی خود اپنی مرضی سے گئے تھے اور خود اپنی مرضی سے واپس آئے ہیں تو پھر ان پر مقدمہ کیسا؟ زیر حراست رکھ کر چودہ دن کا جسمانی ریمانڈ کس جرم کی سزا ہے؟ ایک بے گناہ مجاہد ختم نبوت کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنا کس اصول کے ضمن میں آتا ہے؟

خطرناک اور پیشہ ور مجرموں کی طرح پاسبان ختم نبوت مولانا اسلم قریشی کے چہرے پر پردہ ڈال کر عدالت کے روبرو پیش کرنا کیا اسلامی مملکت میں دین اسلام کے محافظوں کی تذلیل نہیں ہے؟

آئی جی پنجاب نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بیان بھی دیا کہ مولانا اسلم قریشی آزاد ہیں۔ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔ ناانصافی کی حد دیکھئے کہ ابھی تک مولانا اسلم قریشی سے ان کے بیٹے کے علاوہ کسی اور کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اور جب بیٹا اپنے باپ سے ملاقات کے لیے جاتا ہے تو پانچ پولیس اہلکار اس باپ بیٹے کی گفتگو میں شامل ہو کر اپنے مخبرالی ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ مولانا اسلم قریشی کے چھوٹے بھائی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ ”آئی جی پولیس نے مولانا کے ساتھ ان کے بڑے بھائی اقبال قریشی کی ملاقات کا جو ذکر کیا ہے‘ وہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا دامن صاف ہے تو پھر محمد اسلم قریشی کو ان کے اہل خانہ کے سامنے پیش کیا جائے۔ ہمیں یہ قطعاً علم نہیں کہ کیا ڈرامہ کھیلا جارہا ہے“۔

ہمارا مطالبہ ہے: کہ مولانا اسلم قریشی کو فوری طور پر رہا کر کے اعلیٰ ڈاکٹروں پر مشتمل ایک بورڈ ان کا طبی علاج کر کے مکمل تحقیقاتی رپورٹ دے اور ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک فل بینچ ان کے سارے معاملات کی تحقیق کرے اور خود مولانا اسلم قریشی کا بیان قلم بند کرے۔ قادیانی جماعت کے بھگوڑے سربراہ مرزا طاہر احمد اور اس کے مذکورہ ساتھیوں کو مولانا کے اغواء میں گرفتار کیا جائے اور مولانا اسلم قریشی کے پراسرار اغواء اور ڈرامائی برآمدگی کے سلسلہ میں اہل اسلام کے ساتھ کیے جانے والے شرمناک ڈرامہ کے پروڈیوسروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

صفحہ 181

مولانا اسلم قریشی کا عدالت میں بیان

مولانا اسلم قریشی نے اپنی بازیابی کے بعد ۱۲ جولائی ۱۹۸۸ء کو لاہور میں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نثار احمد چیمہ اور صحافیوں کے روبرو دیے گئے اپنے بیان سے انحراف کرتے ہوئے عدالت میں کہا کہ مجھے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد اور دوسرے قادیانیوں نے اغواء کرایا تھا۔ بعد ازاں ان کی عورتوں اور مردوں نے تشدد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ربوہ میں وافر مقدار میں اسلحہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس وقت تک کوئی بیان نہیں دوں گا جب تک ربوہ میں چھاپہ مار کر وہاں سے اسلحہ برآمد نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایک دشمن بھی یہاں نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس وقت تک کسی قسم کا بیان قلم بند نہیں کرانا چاہتا جب تک مجھے اغواء کرنے والے قادیانی مردوں اور عورتوں اور مرزا طاہر قادیانی امریکی ایجنٹ کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا۔ میں احتجاجاً اس وقت تک نہ وکیل کروں گا اور نہ ضمانت پر رہا ہوں گا۔

(روزنامہ ”جنگ“ اتوار ۳۱ جولائی ۱۹۸۸ء)

ترتیب و تحریر خادم تحریک ختم نبوت حاجی عبدالحمید رحمانی

صفحہ 182

سندھ کی سرحد پر بھارتی فوج کی

پراسرار نقل و حرکت

سندھ کی سرحدوں پر بھارت کی فوجی تیاریوں سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ جلد ہی سندھ میں کسی بڑی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ داخلی محاذ پر پہلے ہی بھارت کی مختلف ایجنسیاں جن میں بدنام زمانہ ”را“ کے علاوہ نئی خفیہ تنظیم ایس او ایس شامل ہے۔ سندھ میں سرگرم عمل ہیں اور پاکستان دشمن ایجنٹوں کے تعاون سے تخریبی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر ملک دشمن لٹریچر کے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے اور علیحدگی کی فضا ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے خلاف داخلی اور خارجی محاذ پر اپنی مذموم سرگرمیوں میں بھارت کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا تعاون اب کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ کشمیر کے بعد اب سندھ کے محاذ پر بھی اسرائیل بھارت کو تمام تر فوجی اور جاسوسی امداد بہم پہنچا رہا ہے۔ سندھ کی سرحدوں پر بھارتی علاقے میں اسرائیلی انٹیلی جنس اور کمانڈوز کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کی اطلاع ملی ہیں۔

سندھ کی زمینی اور سمندری سرحدوں کے قریب جیسلمیر، بیکانیر، گنگا نگر، ناگور، پالی، مونڈا، گجوانا، تارا پور، جودھپور، پوکرن، بھلودی، اودھ پور اور کچھ مانڈوی والا کے علاقے میں بھارتی فوجی کمپنیاں بڑی تعداد میں جمع ہو رہی ہیں۔ صوبہ سندھ سے ملحق بحری اور زمینی راستوں کی صفائی اور ناکہ بندی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ کچھ مانڈوی والا سیکٹر میں سمندری نباتات اور دلدلی علاقوں کی صفائی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ دلدلی علاقوں کا دورہ

صفحہ 183

کیا گیا جن میں بعض اسرائیل جنرل بھی شامل تھے۔ ان ماہرین نے سمندری اور زمینی راستوں کے سروے کر کے اپنی رپورٹ بھارتی فوجی حکام کے سامنے پیش کر دی ہے۔ دلدلی ساحلوں کے نزدیک اسلحے کے بڑے بڑے ڈپو بنانے کے خفیہ جگہیں بنائی جارہی ہیں۔ سمندری علاقوں کے ساتھ ساتھ سمندر سے ملحق زمینی علاقوں میں بھی بھارت نے کئی طرح کے میزائیل اور جدید آلات نصب کر دیے ہیں۔ راجستھان اور گجرات کے تمام سرحدی علاقوں میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا گیا ہے اور کسی بھی وقت سرحدی دیہاتوں کو خالی کرا لینے کا نوٹس دے دیا گیا ہے۔ گجرات کے اہم علاقے پوکرن بھلودی میں بھی اسرائیلی کمانڈوز موجود ہیں۔ یہاں کے ایٹمی پلانٹ پر فوجی پہرہ انتہائی سخت کر دیا گیا ہے اور پلانٹ کے سربراہ جے آنند چوہدری نے اس علاقے کو حساس علاقہ قرار دے دیا ہے۔ دوارکا کے سمندری علاقے میں بھی اسرائیلی ماہرین موجود ہیں جبکہ تارا پور کے ایٹمی ری ایکٹر پر بھی اسرائیلی کمانڈوز کے نام پر ایٹمی اسلحے کی تیاری میں معاونت کرنے والے بعض اسرائیلی ماہرین بھی بھارتی ماہرین کو تربیت اور معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ تارا پور کے ایک گاؤں دلیپ نگر میں بھارتی فوج کو جدید طرز جنگ کے مختلف طریقوں کی تربیت دینے کے لیے اسرائیلی ماہرین نے باقاعدہ ایک کیمپ قائم کیا ہوا ہے جو ”را“ کی نگرانی میں چلایا جا رہا ہے۔ دلیپ نگر تارا پور کے اس کیمپ میں بھارت کی مختلف فورسز کے پانچ ہزار سے زیادہ اعلیٰ فوجی ماہرین موجود ہیں۔ کچھ مانڈوی والا کے علاقے میں چند ہفتے قبل ایک اسرائیلی ماہر امور جنگ آر اے برمن نے گجرات میں وزیر اعلیٰ کے ہمراہ دورہ کیا ہے۔

دوسری جانب سندھ میں بڑے پیمانے پر تخریبی کارروائیوں کا پروگرام بنایا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے ”را“ ایس او ایس کے کارندے بڑے پیمانے پر متحرک ہو چکے ہیں۔ اندرون سندھ کے ایک معروف وکیل اوم پرکاش کی خفیہ سرگرمیاں اچانک بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ اوم پرکاش کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ یہ اکثر و بیشتر سرحد عبور کر کے بھارت جاتا رہتا ہے اور ہندو رہنما مہرول سے اس کے قریبی تعلقات ہیں۔ بدین کے علاقے میں کئی قادیانی ”را“ کے لیے خفیہ معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈوبلی کے معروف ہندو پرول، تھر پارکر کے اوم پرکاش ایڈووکیٹ، ہندو پنچایت کے لیڈر کے ایس بھاٹیہ، مہرول، انیل، بھگوانی اور سدھیر نامی اشخاص را کے اہم کارندوں کے ربط میں ہیں۔ مٹھی

صفحہ 184

چھاچھرو کا علاقہ خاص طور پر را کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ را نے یہاں کے شرنارتھیوں سے سندھی ہندوؤں کی ایک تنظیم آزاد سندھ کے نام سے قائم کرائی ہے۔ جس میں مٹھی چھاچھرو کا ایک گلاب نامی ہندو شخص اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گلاب کا نئی دہلی میں تاج محل کے نام سے ایک ہوٹل ہے۔ آزاد سندھ نامی اس تنظیم کے ایک اجتماع میں اندرون سندھ کے تمام قادیانی، عیسائی، ذکری اور ہندو افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے آزاد سندھ کے لیے کام کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اطلاع کے مطابق مٹھی چھاچھرو میں ہندوؤں کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے را کی جانب سے اوم پرکاش اور مہردل کو پانچ کروڑ روپے کی رقم ادا کی گئی ہے۔

بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں میں کراچی کا بھارتی سفارت خانہ بھی معاونت کر رہا ہے۔ بدین، حیدر آباد اور کراچی کے بعض سرکردہ قادیانیوں نے کراچی میں بھارتی قونصل خانے کے افسر مسٹر کوشک سے ایک ملاقات میں بعض خفیہ دستاویزات کا تبادلہ کیا۔ اطلاع کے مطابق ۲۹ دسمبر ۱۹۹۳ء کو صبح تقریباً سوانو بجے مسٹر کوشک بھارتی قونصل خانے آئے اور پاسپورٹ چیک کر کے بھارت جانے کے خواہش مند افراد کو قونصل خانے کے اندر بلانا شروع کیا۔ کل دو سو ساٹھ افراد میں پچاس افراد کو اندر بلایا گیا۔ جن میں سے پچیس افراد کے نام قرعہ اندازی میں نکالے گئے۔ قرعہ اندازی میں شامل پچاس افراد میں مرزا اللہ دتہ (بدین)، مرزا طاہر احمد (کراچی)، مظفر برلاس (کراچی) مرزا عظمت اور احمد دین (حیدر آباد) کو بھی اندر بلایا گیا لیکن ان کے نام قرعہ اندازی میں شامل نہیں کیے گئے۔ ان میں مرزا اللہ دتہ احمدیہ تحریک بدین سندھ کے قائم مقام امیر، مظفر برلاس عرف مظفر قادیانیوں کی گوریلا تنظیم ”الناصر“ کے بانی اور انصار اللہ کے سابق سالار، مرزا عظمت احمدیہ کمیٹی حیدر آباد کے ممبر اور مرزا احمد دین چوڑی والا حیدر آباد نے بھارتی ویزا کے بہانے مسٹر کوشک سے باقاعدہ لائن میں لگ کر ملاقات کی، پاسپورٹ چیک کرانے کے لیے حیدر آباد کے مرزا عظمت نے کوشک کو پاسپورٹ دکھایا۔ جس میں سے چار کاغذ کوشک نے نکال لیے اور ان کی جگہ چند دوسرے کاغذات پاسپورٹ میں رکھ دیے۔ پاسپورٹ ان کے حوالے کر کے انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر اس طرح باہر کر دیا۔ جیسے بھارتی ویزے کے لیے ان کا پاسپورٹ مسترد کر دیا گیا ہو۔ کینٹ اسٹیشن سے ٹیکسی لے کر یہ افراد سیدھے احمدیہ ہال

صفحہ 185

پلازہ کوارٹر گئے۔ جہاں مذکورہ کاغذات منشی قدیر احمد لاہوری، آفس انچارج کے حوالے کر دیے گئے۔ کراچی کے بھارتی قونصل خانے کا افسر مسٹر کوشک ”را“ کے سینٹرل آفس سی جی او کا اہم کارندہ ہے۔ مسٹر کوشک کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ نہایت ہی محتاط رہ کر کئی قادیانیوں سے رابطہ رکھے ہوئے ہے۔ مرزا اللہ دتہ نے اندرون سندھ کے کئی افراد کو اپنے رقعے پر کوشک کے ذریعے بھارتی ویزے دلوائے ہیں۔ اندرون سندھ کی بعض خواتین سے بھی جو اکثر و بیشتر بھارتی ویزے کے لیے قونصل خانے آتی رہتی ہیں، کوشک کے قریبی تعلقات ہیں۔ کوشک نے ایسی ہی بعض خواتین کو بھارتی سرحد اٹاری تک اپنا سامان بحفاظت لے جانے کی سہولیات بھی مہیا کر رکھی ہیں اور اس کے لیے کوشک اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے۔ اطلاع کے مطابق قادیانی حضرات ان خواتین کے ذریعے بھی بھارت پیغام رسانی کا کام سر انجام دیتے ہیں۔

(ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی)

صفحہ 186

کشمیر اور قادیانی

صدر آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ خود مختار کشمیر کسی بھی طرح کشمیریوں کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔ ۱۹۴۷ء میں مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ میں قائد اعظم محمد علی جناح کے لیٹر پیڈ پر ایک جعلی خط پیش کیا گیا کہ آپ ریاست جموں و کشمیر کو خود مختار بنانے کی قرارداد پاس کریں۔ دوسرے دن مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل نے مجلس عاملہ کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کی۔ مہاراجہ کشمیر پر زور دیا کہ وہ ریاست کا الحاق پاکستان سے کرے۔ کیونکہ ریاست جموں و کشمیر‘ سیاسی‘ معاشی‘ مذہبی اور جغرافیائی طور پر پاکستان کے زیادہ قریب ہے۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ قادیانی حضرات کی کوشش تھی کہ کشمیر کو خود مختار حیثیت دلوا کر اسے قادیان اسٹیٹ بنایا جائے۔ پہلے ان کی دلچسپی بلوچستان میں بھی رہی۔ میرا ان لوگوں نے کافی پیچھا کیا اور مجھے کہا کہ میں قائد کشمیر چودھری غلام عباس سے بات کروں اور انہیں منواؤں کہ وہ خود مختار کشمیر کے لیے راضی ہوں۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کا نام دارالاسلام رکھیں گے۔ انہوں نے الیکشن میں میری مخالفت کی۔ خورشید صاحب جیت گئے۔ ان کے لوگ آئے اور کہا کہ اب تو تمہیں ہوش کرنا چاہیے مگر میں نے ان کی بات کو نہ مانا۔ ایک بار بریگیڈیئر آدم خان جو پٹھان تھا‘ نے کہا کہ تمہارے وارنٹ گرفتاری ہیں۔ میں نے کہا کہ کس نے جاری کیے ہیں۔ اس نے کہا کہ آپ نے مرزا صاحب کے بارے میں کہا ہے کہ وہ کافر ہیں۔ مرزا صاحب اور جنرل عزیز کی

صفحہ 187

بات ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ یہاں فساد ہو جائے گا۔ اور ان کے دباؤ کو میں نے قبول نہ کیا اور مجھے وہ گرفتار نہ کر سکے۔ پھر ۱۹۶۰ء میں وارننگ دی۔ قادیانیوں نے ۱۹۴۸ء سے لے کر ۱۹۶۱ء تک میرا پیچھا کیا۔ خورشید صاحب سے جب میں الیکشن میں ہار گیا تو ربوہ سے وفد آیا کہ اگر میں خود مختار کشمیر پر راضی ہو جاؤں تو وہ ہر قسم کی مدد کریں گے۔ پیسہ اور اسلحہ دیں گے تاکہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت سے چھڑایا جاسکے۔ مگر اس کی شرط یہ ہے کہ ریاست کو خود مختار رکھنے کے لیے اعلان کیا جائے۔ میں نے ان کی ہر قسم کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔

(ملت لندن‘ ۱۰ اپریل ۱۹۸۸ء)

صفحہ 188

یہ فتنے کون برپا کرتا ہے‘ ایک خفیہ ہاتھ کی نشاندہی

اگست ۱۹۶۶ء کا مہینہ تھا۔ مرزائیوں نے چک نمبر D.B-15 ضلع میانوالی کے محاذ کو بالکل خالی دیکھ کر سادہ لوح مسلمانوں سے مناظرہ تحریر کر لیا۔ بندہ کے علم میں جب آیا تو مناظرے کا سارا انتظام مسلمانوں کی طرف سے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے میدان میں آنے پر مرزائی بھاگ اٹھے۔ مرزائیوں کی ہٹ لسٹ پر میرا نام آگیا۔ ایک دن ان کے مربی ضلع بشیر احمد سے میانوالی میں آمنا سامنا ہوا۔ جب اس سے بندہ کی کسی بات کا جواب نہ بن سکا تو ایک پتہ کی بات اس کے منہ سے نکل گئی کہ ”ہم نہ تمہاری تقریروں سے ڈرتے ہیں نہ جلسے جلوسوں سے۔ ہمیں اس وقت ڈر محسوس ہوتا ہے جب تم میں ہر فرقہ کا اتحاد ہو جائے۔ اگر تم میں اتحاد نہ ہو تو ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اور ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ اتحاد ختم ہو“۔

بندہ نے یہ بات گرہ سے باندھ لی۔ حق بات احسن طریق سے کہہ دی۔ مگر اپنے زیر اثر فرقہ وارانہ جھگڑا نہ ہونے دیا۔ خود بھی دور رہا اور اپنے جاننے والے ساتھیوں کو بھی منع کیا۔ صرف کام ختم نبوت کے لیے کیا۔ آج جب ملک میں چاروں طرف فرقہ وارانہ فساد دیکھتا ہوں تو دل بہت پریشان ہوتا ہے۔ بندہ پورے شرح صدر سے اسے مرزائیوں کی سازش سمجھتا ہے۔ اس سلسلہ میں پرانے ریکارڈ پر نظر ڈال رہا تھا کہ ایک مضمون ہفت روزہ چٹان سے مل گیا۔ اسے افادہ عامہ کے لیے برائے اشاعت نقل کر کے بھیج رہا ہوں۔ امید ہے کہ اپنے پرچے کی قریبی اشاعت میں شائع فرما کر مشکور فرمائیں گے۔ ڈاکٹر دین محمد فریدی معرفت نظامیہ میڈیکل سٹور‘ ڈلے والا‘ ضلع بھکر

صفحہ 189

پروفیسر محمد منور کا انکشاف

۲۱ اپریل کے ”نوائے وقت“ میں پروفیسر محمد منور صاحب کا کراچی کے ”شیعہ سنی فسادات“ پر ایک مضمون چھپا ہے۔ جس کی تمہید میں وہ لکھتے ہیں:

”آج سے قریباً دس سال قبل آغا شورش کاشمیری مرحوم کسی تقریب میں شرکت کی غرض سے گورنمنٹ کالج لاہور میں تشریف لائے۔ مجھ سے علیحدگی میں ملے اور کہا محرم قریب ہے۔ فساد عظیم کا اندیشہ ہے۔ میں اور مظفر علی شمسی بعض دیگر احباب کے تعاون سے سد فساد کے لیے کوشاں ہیں لیکن حکومت چاہتی ہے کہ فساد ہو اور پھر کسی طرح آئین کو سیکولر بنا کر قادیانیوں کا اخلاص خریدے۔ آپ دعا کریں مصیبت ٹل جائے۔ آغا صاحب تشریف لے گئے۔ میں کچہری روڈ پر مکتبہ کارواں کی سمت جا رہا تھا کہ چودھری عبدالحمید صاحب سے مشورہ کروں۔ اگر اپنے بس میں کچھ ہو تو کیا جائے۔ راستے میں ہیلے کالج لاہور کے ریٹائرڈ پرنسپل سید ذوالفقار علی شاہ مرحوم پرانے لاء کالج سے نکلتے ہوئے دکھائی دیے۔ ان کے گھٹنوں میں درد تھا۔ مشکل سے چل رہے تھے۔ مجھ سے فرمایا میں تمہاری طرف آ رہا تھا۔ ایک نہایت ضروری بات کرنا ہے۔ وہ یہ کہ جس مذہبی فرقے کو چند ماہ قبل غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا‘ اس کے چند مقدسین نے حکومت کی حماقت اور اشتراکیوں کی مدد سے چند علماء اور ذاکر خریدے ہیں۔ میں انتہائی شرمندگی کے ساتھ اس امر کا اعتراف کرتا ہوں کہ ان میں بعض اکابرین شیعہ بھی شامل ہیں اور سنی بھی۔ تم آغا شورش صاحب اور مجید نظامی صاحب کے پاس میری طرف سے جاکر گزارش کرو کہ میں اپنے بعض دوستوں کی مدد سے انسداد فتنہ کی کوشش کر رہا ہوں۔ وہ اپنی طرف سے علماء کی خدمت میں مناسب طریق کار سے رسائی حاصل کریں۔ اگر اب کے لاہور میں شیعہ سنی فساد ہوا تو بڑی بد قسمتی ہو گی۔ سنی علماء سے کہیں کہ وہ اشتعال میں نہ آئیں۔

تمام مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ آمد بر سر مطلب ہم نے اپنے کسی گزشتہ کالم میں اس طرف اشارہ کیا تھا مگر صدر مملکت نے کراچی پہنچ کر یہ اعلان کیا کہ یہ فسادات تیسرے درجہ کی ملائیت کا نتیجہ ہیں۔ اب جبکہ پروفیسر منور صاحب نے بات کھول دی ہے تو صدر مملکت کو اس کے صد ہزار مضمرات پر غور کرنا چاہیے۔ قادیانی تب بھی یہی چاہتے تھے

صفحہ 190

اور اب بھی یہی چاہتے ہیں اور یہ بات قطعی ہے ۔ تیسرے درجے کی ملائیت آلہ کار تو بن سکتی ہے مگر ایسے فسادات کو منظم کرنے کی صلاحیت سے یکسر عاری ہے ۔ ایسے فسادات کا بلیو پرنٹ بیرون ملک تیار ہوتا ہے اور اندرون ملک قادیانی اس کو پروان چڑھاتے ہیں اور اس ضمن میں بیورو کریسی سمیت بعض دیگر شعبوں میں بڑی طاقتوں کے نمائندوں کا مکمل تعاون انہیں حاصل ہوتا ہے ۔

("چٹان" لاہور ، شمار نمبر ۱۲-۱۳-۱۴ ، مئی ۱۹۸۳ء)

صفحہ 191

حکومت بتائے---- قادیانی زندیقوں کو

آزادی کیوں؟

جب سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو ہائی کورٹ نے موت کی سزا دی تو قادیانیوں نے جشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ قبل ازیں حضرت مولانا تاج محمود صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی روایت کے مطابق جو ہفت روزہ لولاک فیصل آباد میں شائع بھی ہو چکی ہے‘ قادیانی پیشوا آنجہانی مرزا ناصر نے چودھری ظفر اللہ کی معیت میں اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج سے خفیہ ملاقات کی۔ یہ ملاقات رات کو ۱۲ بجے یا اس کے بعد ہوئی۔ ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں‘ اس پر وہ جج صاحب ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔ جن سے ملاقات ہوئی تھی۔ کیونکہ ملاقات کرنے والے دونوں سرکردہ قادیانی لیڈر آنجہانی ہو چکے ہیں۔ تاہم یہ خبر شائع ہو جانے کے بعد نہ تو جج صاحب نے ملاقات کی تردید کی اور نہ ہی قادیانیوں نے۔ بہرحال یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ قادیانیوں نے اس مقدمے میں خصوصی دلچسپی لی تھی۔ بلکہ جس شخص کی گواہی سے بھٹو کے خلاف فیصلہ ہوا‘ وہ (وعدہ معاف گواہ) مسعود محمود قادیانی تھا۔ جب بھٹو صاحب کے خلاف فیصلہ ہوا تو قادیانیوں نے جھوٹے مدعی نبوت اور انگریز کے خودکاشتہ پودے مرزا قادیانی کی کتابوں کو کھنگالنا شروع کر دیا۔ شاید کوئی ایسا لفظ مل جائے جسے وہ الہام بنا کر جناب بھٹو صاحب پر چسپاں کر سکیں۔ بسیار تلاش کے بعد یہ جملہ ملا ”کلب یموت علی الکلب“ اور پھر اسے مرزا قادیانی کا الہام قرار دیا

صفحہ 192

گیا۔ اس خود ساختہ اور من گھڑت الہام کو سچا ثابت کرنے کے لیے کتے کے عدد نکالے جو ۵۲ بنتے ہیں اور پھر اسے بھٹو مرحوم پر چسپاں کر دیا۔ حالانکہ یہ الہام نہیں بلکہ مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے مرزا محمود کو کسی شرارت پر جھڑکا ہو گا اور کہہ دیا ہو گا کہ ”یہ کتا ہے کتے کی موت مرے گا“ ماں باپ خواہ مسلمان ہوں یا مرزا قادیانی کی طرح کافرو زندیق ہوں، ان کی بددعا اکثرو بیشتر اولاد کے بارے میں اپنا اثر دکھاتی ہے۔

چنانچہ مرزا قادیانی کی اس بددعا نے (جسے الہام بنا دیا گیا) اپنا اثر دکھایا۔ اور مرزا محمود گیارہ سال تک خارش زدہ باؤلے کتے کی طرح ایک علیحدہ کمرے میں قید رہا جس کے ساتھ کسی کو ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ آخری دنوں میں تو اس کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ کتے کی طرح بھونکتا تھا۔ چونکہ مرزا محمود کی عمر باون سال تھی، اور کلب کے عدد بھی ۵۲ ہوتے ہیں لہٰذا یہ بددعا مرزا محمود کو لگی اور وہ کتے کے عدد پر مرگیا۔ قادیانیوں کا بھٹو کے خلاف فیصلہ کے بارے میں جو نقطہ نظر تھا، وہ مشہور قادیانی چودھری ظفراللہ کے ایک انٹرویو کی صورت میں آتش فشاں لاہور میں شائع ہوچکا ہے۔ آج جبکہ پیپلز پارٹی دوبارہ برسراقتدار آ گئی ہے تو قادیانی پھر آزاد ہوگئے ہیں اور من مانی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ تحریر و تقریر کی آزادی کے ساتھ ان مسلمانوں کے قاتلوں اور منزل گاہ سکھر کی جامع مسجد میں بم پھینک کر اس کی بے حرمتی کرنے والے مجرموں کی سزائے موت ختم کردی گئی ہے۔ اور ضلع نواب شاہ میں تو اتنی جرات کا مظاہرہ کیا گیا کہ قادیانی مبلغ کے لڑکے نے ایک مسلمان نوجوان کو قتل کردیا۔

بہر حال وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اگر اپنے باپ کے اصل قاتلوں کو کسی سیاسی مصلحت کے تحت نظر انداز کرتی ہیں تو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں لیکن قادیانی بھٹو کے اصل قاتل ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی وحدت و سالمیت کے بھی دشمن ہیں۔ کیونکہ وہ اکھنڈ بھارت کا الہامی عقیدہ رکھتے ہیں۔ نیز ان کے مرزا قادیانی کی تحریرات کی روشنی میں گندے عقائد مثلاً مرزا قادیانی ملعون کو آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر سمجھنا، عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کو کنجریوں کی اولاد، خنزیر اور مسلمان خواتین کو کتیوں سے بدتر قرار دینا۔ انبیاء علیہم السلام خصوصا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرنا، مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث ہیں۔ حکومت ایک طرف ۱۹۷۳ء کے آئین کی بحالی کا دعویٰ کر رہی ہے اور دوسری

صفحہ 193

طرف جناب بھٹو کے دور میں متفقہ طور پر بنائے گئے آئین کے باغیوں کو آزادی بھی دے رہی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے اور پیپلز پارٹی کا قادیانیوں سے کیا رشتہ ہے؟

ہم یہ بات حکومت کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے کوئی سیاسی عزائم نہیں۔ قادیانیوں کی شرانگیزیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرنا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ خالصتاً اسلامی مطالبہ ہے جس پر حکومت کو فوری توجہ دینی چاہیے ورنہ اگر حالات خراب ہو گئے تو اس کی ذمہ داری پیپلز پارٹی اور حکومت پر عائد ہو گی۔

اب ہم مشہور قادیانی چودھری ظفر اللہ کے انٹرویو کا اقتباس وزیر اعظم کی توجہ کے لیے پیش کر رہے ہیں جس میں جناب بھٹو کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی ہے۔

بھٹو صاحب کی سزائے موت پر قادیانی تبصرہ

وزیر اعظم کی توجہ کے لیے ظفر اللہ چودھری کے انٹرویو سے اقتباس

س: آپ کے ہم عقیدہ اس بات کا بہت ذکر کرتے ہیں کہ آپ کے بانی سلسلہ کی اس سلسلے میں کوئی پیش گوئی ہے کہ ایک شخص آئے گا وہ تمہیں نقصان پہنچائے گا اور اس کا یہ حال ہو گا۔

ج: میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ بھٹو صاحب کی سپریم کورٹ سے اپیل خارج ہوئی تھی۔ ۶ فروری ۱۹۷۹ء کو شیخ اعجاز کے چچا زاد بھائی اور علامہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال نے شیخ اعجاز احمد ، چودھری بشیر احمد اور مجھے ۸ فروری ۷۹ء کو دوپہر کے کھانے پر بلوایا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین صاحب بھی وہاں موجود تھے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کے خسر بھی وہاں تھے۔ بس اتنے ہی تھے۔ کھانے سے پہلے ہم برآمدے میں تھے۔ کھانے کے لیے اندر چلے گئے۔ کھانا ختم ہوا ، یہ سب لوگ باہر چلے گئے تو مولوی مشتاق حسین وہیں ہاتھ دھونے لگے۔ مولوی صاحب کو بڑی فکر تھی کہ اگر یہ اپیل منظور ہو گئی میرے فیصلے کے خلاف تو پھر میری کوئی جگہ نہیں۔ مولوی صاحب نے جب ہاتھ دھو لیے تو میں نے ان سے کہا مولوی صاحب مجھے سپریم کورٹ کے ساتھ ایک شکوہ ہے۔

صفحہ 194

انہوں نے کہا کیا ؟ میں نے کہا پر سوں اپیل خارج ہوئی ہے اور پرسوں میرا یوم پیدائش تھا۔ ایسی منحوس بات میرے یوم پیدائش پر ہوئی ۔ خیر یہ مذاق کی بات تھی۔ اب میں اصل بات کی طرف آتا ہوں ۔ میں نے کہا مولوی صاحب میں ایک بات آپ سے کہتا ہوں ۔ آپ اچھی طرح ذہن نشین کرلیں۔ اگر آپ کا خیال ہو کہ شاید بھول جائیں تو جاکر نوٹ کرلیں ۔ اگر خدا تعالیٰ نے مجھے مہلت دی تو میں آئندہ سال چھ فروری کو بھی یہیں ہوں گا۔ اگر اس وقت بھٹو زندہ ہوا تو آپ مجھے ٹیلی فون کردیں کہ ظفر اللہ خان جو بات تو نے مجھ سے کہی تھی‘ وہ ٹھیک نہیں نکلی۔ اور اگر یہ مرگیا تو آپ ٹیلی فون کردیں کہ بات پوری ہوگئی۔ اس شام میں آپ کے ساتھ کھانا کھاؤں گا اور بتاؤں گا کہ کس بنا پر تم سے یہ بات کہی تھی ۔ مولوی صاحب نے کہا اچھی بات‘ مجھے یاد رہے گا۔ میں نے کہا میں یہ نہیں کہتا کہ یہ پھانسی لگے گا یا خود کشی کرے گا یا اس پر بجلی گرے گی یا بیماری سے مرجائے گا۔ لیکن اپنی عمر کے ۵۲ ویں سال کے دوران زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہے گا۔ چنانچہ جب اس کی ۵۱ ویں سالگرہ (۵ جنوری ۱۹۷۹ء) ہوئی تو بیگم بھٹو نے بڑے سے برتھ ڈے کیک پر مٹھائی سے جیل کی شکل بنائی تھی اور ایک پیچ کس کے ساتھ اسے توڑا کہ اس طرح گویا ہم ان کو جیل سے نکال لیں گے۔ خیر‘ تو جب میں دوسرے سال (۱۹۸۰ء) یہاں آیا تو مولوی مشتاق حسین صاحب ۶ فروری سے پہلے ہی تشریف لے آئے۔ بیٹھتے ہی بولے‘ بتاؤ وہ بات۔ میں نے کہا کھانے کے کمرے میں چلیں گے آرام سے بیٹھیں گے ۔ بات شروع ہوئی تو میں نے ان سے کہا کہ میں اول تو قرآن کریم کی دو آیات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہاں اس قسم کے لوگوں کا انجام ایسے طور پر درج ہے ۔ بالکل اس واقعہ پر بھی چسپاں ہوتا ہے۔ سورۃ ابراہیم کی آیات ہیں ۔ تیرہ اور چودہ ۔ میں نے وہ آیات سنا کر کہا یہ تو ہے اللہ تعالیٰ کا اصول۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ اس کے بعض فیچر بالکل لفظاً اس پر چسپاں ہوتے ہیں پھر میں نے انہیں وہ الہام بتایا جو ہمارے بانی سلسلہ کو ہوا تھا۔ جو ۱۸۹۱ء میں چھپا بھی تھا۔ اس کے الفاظ تھے کلب یموت علیٰ کلب کتا ہے‘ کتے کے لفظ کے اعداد پر مرجائے گا۔ تو ک کے اعداد ہیں بیس‘ ل کے تیس‘ اور ب کے دو ۔ مولوی صاحب نے کہا یہ دونوں حوالے مجھے نکال دو۔

س: بس اتنا ہی‘ مزید کچھ نہیں؟

صفحہ 195

ج: آگے اس کی وضاحت بھی آپ نے کی۔ اس کے باون لفظ بنتے ہیں۔ باون برس میں قدم رکھے گا اور مرجائے گا۔

س: کسی فرد کا نام لے کر نشاندہی نہیں کی اور نہ کسی قسم کی کوئی تفصیل ہے۔ کہ وہ آپ لوگوں کو اقلیت قرار دے گا یا نقصان پہنچائے گاا

ج: نہیں بس اتنا ہی جتنا میں کہہ چکا ہوں۔

س: پھر تو آپ لوگوں کا محض یہ اندازہ ہے کہ یہ پیش گوئی بھٹو کے متعلق ہے۔

ج: کراچی کے کسی اخبار میں چھپا بھی تھا کہ کم سے کم اس کو ایک سال کی مہلت دے دینی چاہیے ورنہ مرزائی کہیں گے ہماری پیش گوئی پوری ہو گئی۔

س: بھٹو صاحب کے ساتھ آپ لوگوں نے ۷۰ء کے الیکشن میں تعاون بھی بہت کیا تھا؟

ج: بھٹو صاحب کے پہلے الیکشن (۷۰ء) میں پنجاب میں اس کی کامیابی تو خالصتاً ہماری جماعت کی سپورٹ سے ہوئی بلکہ اس نے کہلا بھیجا تھا حضرت صاحب کو کہ اگر پنجاب میں چھ نشستیں بھی مجھے مل جائیں تو میں سمجھوں گا کہ بڑی کامیابی ہوئی۔ حضرت صاحب نے کہا نہیں تم ہر جگہ پہ امیدوار کھڑے کرو۔ ہم جو کر سکتے ہیں، کریں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہماری تنظیم خدا کے فضل سے ایسی ہے کہ ہم جس بات کے پیچھے پڑ جائیں، وہ نہایت تندہی سے کرتے ہیں۔

(بحوالہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۷، شمارہ ۴۰، از قلم: محمد حنیف ندیم)

صفحہ 196

قادیانیوں کے عالمی اجتماع لندن میں

تین مسلمان صحافی کیسے داخل ہوئے!

کیا سنا-----کیا دیکھا؟

گزشتہ دنوں قادیانیوں کا سالانہ اجتماع لندن کے مضافات میں ہوا۔ اس جگہ کا نام انہوں نے اسلام آباد رکھا ہے۔ اس اجتماع میں قادیانی امت کے پیشوا مرزا طاہر کی شرکت کے پیش نظر حفاظتی انتظامات بہت سخت تھے اور اس بات کا پورا اہتمام کیا گیا تھا کہ کوئی مسلمان اس اجتماع میں شریک نہ ہو سکے۔ اور نہ ہی کسی کو اس کی کارروائی معلوم ہو سکے۔ مگر لندن کے مشہور عربی ہفت روزے "المسلمون" کے تین صحافی اس اجتماع میں شرکت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ دلچسپ طریقے سے اس اجتماع میں شریک ہوئے اور پھر دلچسپ معلومات بھی لائے۔

یہ تینوں صحافی شریف قندیل، محمد الدسوقی اور اسعد عاشور تھے۔ وہ اپنی مشترکہ تحقیق اور رپورٹ کے مطابق لکھتے ہیں:

ہم اس کانفرنس سے دو دن پہلے قادیانی حضرات کے مرکز میں گئے جس کا نام انہوں نے "مسجد لندن" رکھا ہوا ہے۔ ہم جوں ہی مسجد میں داخل ہوئے تو حفاظتی گارڈ کے کچھ آدمی دوڑتے ہوئے ہمارے پاس آئے اور ہم سے سوالات کی بوچھاڑ کر دی کہ:

صفحہ 197

تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ یہاں کیوں آئے ہو؟ یہاں تم کسے جانتے ہو؟ کیا تم لندن پہلی مرتبہ آئے ہو؟ تم کہاں رہتے ہو؟ اپنے ملک سے یہاں کیوں آئے ہو؟ کیا تم واپس اپنے ملک جاؤ گے؟ وغیرہ وغیرہ

ہم نے سوال نمبر ۴ کا جواب دینا مناسب سمجھا اور وہ یہ کہ ”یہاں تم کسے جانتے ہو؟“ چونکہ ہم مصری مدرس کو (جو قادیانی تھا) جانتے تھے اس لیے ہم نے اس کا نام لیا۔ چنانچہ وہ ہمیں فوراً اس مصری مصطفیٰ ثابت کے پاس لے جانے کے لیے ہمارے آگے چل پڑے۔ راستے میں دیواروں پر قادیانی رہنماؤں کی بڑی بڑی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ مصطفیٰ ثابت نے ہم سے عربی میں بڑی احتیاط اور ہوشیاری سے گفتگو کی۔ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد ثابت نے ہم سے پوچھا کہ ”کیا تم ”احمدیت“ کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟“ (یہ حضرات اپنے لیے ”احمدی“ کا لفظ پسند کرتے ہیں)

ہم نے جواب دیا ”کوئی خاص معلومات نہیں“۔

اس نے جب دیکھا یہ بے خبر اور مجہول سے لوگ ہیں اور ہمارے جال میں آسانی سے پھنس سکتے ہیں تو بڑے پیار و اخلاص سے بات چیت شروع کر دی اور کہا کہ میں تمہارے لیے ”کانفرنس“ میں شرکت کے لیے کارڈ حاصل کرنے کی کوشش کروں گا“۔

ہم نے لندن کے ایک ساتھی کا فون دیا کہ اس پر ہمیں اطلاع کر دیں کہ کارڈ تیار ہیں۔

اس نے ہم سے وعدہ کیا کہ صبح تک آپ کو اطلاع مل جائے گی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہم تینوں نے عارضی طور پر اپنے نام تبدیل کر لیے تھے تاکہ انہیں یہ پتہ نہ چل جائے کہ ہمارا ”المسلمون“ رسالے سے کوئی تعلق ہے۔ اپنے عارضی نام یاد رکھنے کے لیے ہمیں قدم قدم پر بڑی احتیاط سے کام لینا پڑا۔

صفحہ 198

بہر حال مصطفیٰ ثابت نے جمعہ کی صبح کو فون پر ہمیں اطلاع کی کہ تمہارے کارڈ تیار ہیں اور تم ساؤتھ فیلڈ میں فلاں جگہ سے حاصل کر سکتے ہو اور اس کے بعد ہماری جماعت کے لوگ تمہیں ٹلفورڈ اس جگہ لے جائیں گے جہاں کانفرنس منعقد ہو گی۔

حسب وعدہ ہم مقررہ جگہ پر پہنچ گئے، جہاں کانفرنس میں جانے کے لیے قادیانی مرکز کے سامنے کاریں اور بسیں بڑی تعداد میں تیار کھڑی تھیں۔ ہم بھی ایک بس میں سوار ہو گئے۔

اب ہم ٹلفورڈ میں اس قادیانی مرکز کے سامنے کھڑے تھے جسے وہ اسلام آباد کہتے ہیں اور برطانوی حکومت نے بڑی فراخ دلی سے ۵۰ کلو میٹر مربع کا یہ علاقہ مہیا کیا ہے۔ جس میں کانفرنس کی مناسبت سے اور مستقل قادیانی ہیڈ کوارٹر کی حیثیت سے مختلف شعبے قائم ہیں۔

”کانفرنس ہال“ کے ارد گرد حفاظتی انتظامات بہت سخت تھے۔ قادیانی سیکورٹی گارڈ کارڈ کے بغیر کسی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ اچانک مصری قادیانی مصطفیٰ ثابت وہاں پہنچ گئے۔

چونکہ ہمارے پاس ابھی تک کارڈ نہیں تھے، بس پر سوار ہوتے وقت تو کسی نے نہ پوچھا۔ لیکن اب کارڈ کے بغیر داخلہ ممکن نہ تھا۔

ثابت نے ہم سے پوچھا کہ تمہارے پاس شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا کوئی اور پہچان ہے؟

ہم نے نفی میں جواب دیا۔

اس نے کہا اس کے بغیر کارڈ کا حصول تو کچھ مشکل ہے۔

ہم نے کہا پھر ہم واپس لوٹ جاتے ہیں۔ ویسے ہماری خواہش تھی کہ نماز جمعہ یہاں پڑھیں۔

اس کے بعد دوڑ دھوپ کر کے کارڈ حاصل کر لیے۔ ایک گارڈ نے وائرلیس کے ذریعے کچھ معلوم کرنے کے بعد ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دی اور اب ہم ہال کے اندر تھے۔ وہاں جو کچھ دیکھا، اور سنا، اس کی چند جھلکیاں آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

ہال میں افریقہ، امریکہ، ایشیا اور آسٹریلیا کے لوگوں کے لیے الگ الگ جگہیں

صفحہ 199

مخصوص تھیں۔ ہمیں ان سے الگ اس جگہ بٹھایا گیا جہاں لارڈ میئر اور اس کی بیوی بیٹھی ہوئی تھی۔ ہم وہاں بیٹھ گئے۔

تھوڑی دیر کے بعد فضا میں کچھ جنبش پیدا ہوئی۔ قادیانی رضا کار ادھر ادھر بھاگنے لگے اور پھر مائیکروفون پر یہ اعلان ہونے لگا:

”مسیح“ آ رہے ہیں“

”مسیح“ آ رہے ہیں!!

اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ان کے مسیح صاحب پہنچے (یعنی مرزا طاہر جسے وہ چوتھا مسیح یا خلیفہ کہتے ہیں) اس نے پیروکاروں کے آگے اپنے پاؤں رکھے اور انہوں نے مسیح کے جوتے اتارے۔

اس موقع پر جو نعرے لگائے‘ وہ یہ تھے مسیح زندہ باد‘ احمدیت زندہ باد‘ خلیفہ زندہ باد‘ وہ موجودہ امیر کو مسیح کا چوتھا خلیفہ کہتے تھے۔

یہ صاحب جمعہ کا خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور اس وقت تک نعروں کی چیخ و پکار جاری رہی جب تک اس نے بولنا شروع نہیں کیا۔

اس نے ایک گھنٹہ تقریر کی اور اس دوران اس نے تقریباً ۱۵ پیالی چائے پی۔ پھر اس نے سرالیون کے صدر‘ ایک نائجیری وزیر ابو بکر حسن‘ لائبریا کے صدر اور جزائر فجی کی حکومت کا شکریہ ادا کیا مگر اس موقع پر اپنے اصل آقا و حامی برطانیہ کو اس نے فراموش نہ کیا اور اس کا نہ صرف شکریہ ادا کیا‘ بلکہ اس کی اطاعت اور وفاداری کا عہد کیا اور اس کے لیے دعا بھی کی۔

اس نے جب دنیا میں ظلم و زیادتی کے بارے میں گفتگو کی‘ فلسطین و افغانستان کا ذکر تک نہ کیا۔ حج کے بارے میں کہا کہ یہ قادیانیوں پر فرض نہیں رہا۔ اس کی تقریر اردو میں تھی اور ساتھ انگریزی‘ فرانسیسی‘ عربی اور انڈونیشی میں ترجمے کا انتظام تھا۔

نماز سے فراغت کے بعد ہم اس ایریے میں گئے‘ جو عربوں کے لیے مخصوص تھا۔ وہاں کچھ اور قادیانیوں سے ملاقاتیں ہوئیں لیکن وہ مصافحہ کرنے کے بعد ہم سے اس طرح دور ہوتے جیسے مصافحے میں انگلیوں کو خاص طریقے سے ہلاتے وقت وہ قادیانی و غیر قادیانی کو پہچان لیتے ہوں اور اس بارے میں ان کے ہاں شاید کوئی مخصوص کوڈ ہے۔

صفحہ 200

اس کے بعد ایک ملک رفیق سے ہماری ملاقات ہوئی جس سے یہ دلچسپ سوال و جواب ہوئے؟

س: تم اپنے آقا کو مسیح کیوں کہتے ہو؟"

ج: اس لیے کہ وہ عیسائیوں کی صلیب توڑنے اور گناہوں کی بخشش کے لیے آیا۔

س: تم امیر المومنین بھی کہتے ہو؟

ج: امیر المومنین ہی نہیں، ہم خاتم النبیین بھی کہتے ہیں۔

س: لیکن خاتم النبیین تو محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔

ج: (ہنستے ہوئے) خاتم کا معنی یہ ہے کہ وہ حضور کی انگوٹھی یا مہر کی حفاظت کرنے والا ہے۔

س: جو خلیفہ کے پیچھے تین آدمی کھڑے رہتے ہیں یہ کون ہیں؟

ج: ان میں سے ہر ایک اس مسیح کی روح کی تمثیل ہے جو مخفی ہو گیا ہے۔

س: یہ کون شخص ہے جو کھڑا ہے مگر بالکل حرکت نہیں کرتا۔

ج: یہ بہت بڑا پہلوان ہے جو کسی عیسائی حکومت نے خلیفہ المسیح کو تحفہ دیا ہے۔

س: قادیانیوں کی تعداد کیا ہے؟

ج: بہت ہیں اور پانچ سال پہلے ہمارے خلیفہ نے خواب میں دیکھا تھا کہ ۱۳۸۰ھ میں قادیانی زیادہ اور مسلمان کم ہوں گے۔

س: (میں نے کہا) ۱۳۸۰ سے کیا مراد ہے؟

ج: قادیانی کیلنڈر کے حساب سے ابھی ۱۳۶۵ھ ہے۔

(صراط مستقیم، برمنگھم)

صفحہ 201

اسپین اور قادیانی

اسپین کبھی اسلام کا گہوارہ تھا لیکن عیسائیوں نے بالکل اسی انداز میں جو لبنان میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے، اسپین کے مسلمانوں کے ساتھ سلوک کیا، مساجد گرا دی گئیں، مدارس کا نام و نشان مٹا دیا گیا مکتب خانے جلا دیے گئے، قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی، مسلمانوں کو دین چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، جس نے انکار کیا، اسے قتل کر دیا گیا، مسلمانوں کا مال و متاع لوٹ لیا گیا، بالآخر جب وہاں سے مسلمان رخصت ہوئے تو ان کے ساتھ ہی اسلام بھی رخصت ہو گیا۔ صدیاں بیت گئیں، آج تک وہاں اسلام داخل نہ ہو سکا۔ اسلام کی تبلیغ قانوناً ممنوع اور جرم ہے۔ عیسائی قوم خاصی سیانی قوم ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ اسپین میں ہم نے مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا تھا، مورخین نے اس کردار کو صفحہ قرطاس پر منتقل کر کے ہزاروں صفحات کی سیاہی ہمارے چہروں پر مل دی ہے اور برابر ملی جا رہی ہے۔ ہمارے متعلق دنیا بھر میں یہ تاثر عام ہے کہ ہم مسلمانوں کے دشمن ہیں اور انہیں یہاں برداشت نہیں کرتے۔ اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے انہوں نے قادیانیوں کو ایک قطعہ زمین دیا اور انہیں اپنا جماعت خانہ جسے وہ مسجد کا نام دیتے ہیں، بنانے کی اجازت دے دی۔ ممکن ہے اسپین والے یہ سمجھتے ہوں کہ ان کے چہروں پر تاریخ نے جو سیاہی مل دی ہے، وہ قادیانیوں کو ایک قطعہ زمین اور اس پر انہیں اپنا جماعت خانہ تعمیر کرنے کی اجازت دے کر دھل جائے گی تو یہ ناممکن ہے۔

قادیانی اس نام نہاد مسجد کا پوری دنیا میں پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اسپین کی حکومت نے ایک عمدہ کارڈ پر انہیں اس کا خوبصورت کئی رنگوں پر مشتمل فوٹو بھی شائع کر کے لاکھوں

صفحہ 202

کی تعداد میں مہیا کیا ہے جسے قادیانیوں کی متعدد فرمیں اور ذیلی ادارے تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ دراصل اسلام اور مسلمانوں کی نہیں بلکہ اسپین کی خدمت ہو رہی ہے۔ اگر اسپین حکومت اسلام اور مسلمانوں کی اتنی ہی خیر خواہ ہے جتنا کہ قادیانی تاثر دے رہے ہیں تو پھر اسپین حکومت کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو وہاں تبلیغ اور مسجد و دفتر بنانے کی اجازت دے۔ اگر اسپین کی حکومت ایسا نہیں کرتی تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ اگر عیسائی عالم اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے کٹر مذہبی دشمن یہود کی سرپرستی کر سکتے ہیں تو وہ جعلی مسیح کے نئے مسیحیوں کی پشت پناہی بھی کر سکتے ہیں۔

(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد، جلد ۱۹، شمارہ ۲۶، نومبر ۱۹۸۲ء)

(از قلم: مولانا تاج محمودؒ)