پارلیمنٹ میں قادیانی شکست · مولانا اللہ وسایا
Parliment main Qadyani Shikest
PDF 1

پارلیمنٹ میں

قادیانی شکست

قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت

قرار دیے جانے کی مکمل رُوداد

ترتیب و تحقیق:

مولانا اللہ وسایا

آئین پاکستان

PDF 2

قادیانیوں کو مسلمانوں کے ساتھ مناظروں اور کج بحثی کا بہت شوق ہے۔ ہر قادیانی چونکہ مذموم عزائم کے پیش نظر مخصوص موضوعات پر اپنے تئیں بھر پور تیاری کے ساتھ ”مسلح“ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عام مسلمان ان موضوعات سے تقریباً نابلد ہوتا ہے۔ یوں بظاہر قادیانی کو ایک مسلمان پر عارضی برتری حاصل ہو جاتی ہے پھر پراپیگنڈہ کے زور پر قادیانی فاتح اور مسلمان مفتوح کہلاتا ہے۔ میرے خیال میں اگر کوئی مسلمان اس روداد کا بنظر عمیق مطالعہ کر لے تو دنیا کا کوئی قادیانی اس سے مناظرے اور مجادلے کی جرأت نہیں کرے گا۔

PDF 3

پارلیمنٹ میں

قادیانی شکست

قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت

قرار دیے جانے کی مکمل رُوداد

ترتیب و تحقیق:

مولانا اللہ وسایا

علم و عرفان پبلشرز

C-7 ماتھر سٹریٹ لوئر مال روڈ لاہور فون: 7352332

PDF 4

جملہ حقوق محفوظ ہیں

نام کتاب ................ پارلیمنٹ میں قادیانی شکست ترتیب و تدوین ................ مولانا اللہ وسایا ناشر ................ علم و عرفان پبلشرز، لاہور پرنٹرز ................ رحمانیہ پرنٹرز، لاہور تعداد ................ 1000 اشاعت اول ................ جولائی 2000ء قیمت ................ 200/= روپے

ملنے کا پتہ

علم و عرفان پبلشرز

7C- ماتھر سٹریٹ لوئر مال روڈ، لاہور فون : 7352332

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

ملتان فون : 514122 (061)

صفحہ 5

آئینہ

صفحہ 6

جناب یحییٰ بختیار کا عمومی بیان

جناب یحییٰ بختیار کا عمومی بیان

PDF 7

انتساب

قائد جمعیت علماء اسلام، مفکر پاکستان، شیخ الحدیث

حضرت مولانا مفتی محمودؒ

کے نام

قادیانیت کو شکست سے دوچار کیا۔

مرتب کردہ متفقہ ”محضر نامہ“ کو پڑھا۔

قائد اہل سنت مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری، مولانا ظفر احمد انصاری، پروفیسر غفور احمد، چوہدری ظہور الٰہی، مولانا عبدالحکیم اور ان کے دیگر گرامی قدر رفقاء نے حقانیت اسلام کی جنگ لڑی اور قادیانیت جیسے کفر کو چاروں شانوں چت کیا۔

اے قائد تیری عظمت کو سلام

PDF 8

۱۹۵۳ء کے چند مناظر

صفحہ 9

پارلیمنٹ میں قادیانی شکست

الحمد لله وحده و الصلوة و السلام علی من لا نبی بعدہ ۔ اما بعد

اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ سے محبت کے بارے میں مسلمانوں کی ایک انتہائی روشن تاریخ ہے اور بلا تردد یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ دوسری کوئی بھی قوم مسلمانوں کے بالمقابل ایسی زریں روایات کی حامل تاریخ پیش کرنے سے پہلے بھی قاصر تھی اور آج بھی ہے۔ چونکہ دیگر اقوام کے پاس ایسی تاریخ موجود ہی نہیں اس لیے وہ اس قوم کے پس منظر کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسلمانوں کی اپنے نبی سے عدیم المثال اور دیوانہ وار محبت کو سمجھنے سے محروم رہتی ہیں۔ اپنے نبی کی عزت و ناموس کے لیے کٹ مرنا ایک مسلمان کے لیے کبھی مشکل نہ تھا بلکہ یہ عمل مسلمانوں کے لیے جتنا باعث فخر ہے اغیار کے لیے اتنا ہی ناقابل فہم ہے۔

چونکہ اعلان ربانی کی وجہ سے ہر مسلمان کا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ ان کے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہیں اب ان کے بعد کسی اور نبی کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی اس کا آنا پابندی الٰہی کی وجہ سے ممکن ہے۔ اس لیے اس عقیدے اور ایمان کی موجودگی میں ہر جھوٹے نبی کے اعلان نبوت سے مسلمانوں پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے خلاف برسر پیکار ہو جائیں اور اس کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں۔ اس سمت پوری امت کی بالعموم اور اسلامیان برصغیر کی بالخصوص ایک نہایت ہی سنہری تاریخ ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں جب قادیان کے ایک فاتر العقل اور مجہول النسب شخص نے دعویٰ نبوت کیا تو مسلمانان برصغیر تمام مصلحتوں اور انگریزی جبر و استبداد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میدان عمل میں نکل آئے۔ اور تقریباً 90 برس تک وہ اس فسادی شخص کے پیدا کردہ فتنہ جسے قادیانیت کہا جاتا ہے کے خلاف دل و جان سے سرگرم عمل رہے تا آنکہ 1953ء کا سال آن پہنچا۔ اس سال نے مسلمانوں کو باور کرایا کہ اب محبت رسول کا دعویٰ جوان جسموں اور گرم خون کا ثبوت چاہتا ہے تو مسلمانوں نے بخوشی دس ہزار جوانوں کے کڑیل لاشے پیش کر دیئے۔ اور یہ بھی تاریخ کی عجیب ستم ظریفی ہے کہ پہلے قربانی طلب کرنے والے غیر مسلم ہوا کرتے تھے لیکن اسلام کے مقدس نام پر بننے والے ملک میں قربانی پیش کرنے والے مسلمان اور طلب کرنے والے بھی

صفحہ 10

خود کو مسلمان ہی کہتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ کل کا مؤرخ اس بات پر حیران و ششدر رہ جائے لیکن یہ امر بہر حال اسے اور بھی پریشان کرے گا کہ مسلمان اس ضمن میں مد مقابل سے کسی رشتے کا لحاظ نہیں کرتے۔ اگر مد مقابل خود کو مسلمان کہتا ہوا محبت رسولؐ میں آڑ بن جائے تو مسلمان کی نظر میں وہ بھی ابو جہل کا ساتھی قرار پائے گا اور مسلمان اس کے آگے بھی اسی طرح صف آراء ہو جائے گا جس طرح وہ کسی بھی غیر مسلم کے آگے سینہ تان لیا کرتا ہے۔ فتنہ قادیانیت بھی اپنے سر پرستوں اور نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے دوش پر بزعم خود آگے بڑھتا رہا اور ادھر مسلمان بھی قربانیوں کی تاریخ رقم کرتے ہوئے چلتے رہے تا آنکہ 1974ء آن پہنچا۔ یہ وہ لمحہ تھا کہ جب اللہ کے حضور 90 برس کی قربانیاں اور محنت شرفِ قبولیت پا چکی تھیں اور اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے مسلمانوں کو قانونی ہتھیار فراہم کرنا مقدر ہو چکا تھا۔

29 مئی 1974ء کو ربوہ کا سانحہ پیش آیا۔ قادیانی جماعت نے اپنے موجودہ گرو مرزا طاہر کی قیادت میں نشتر میڈیکل کالج کے مسلمان طلباء پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے۔ اس پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ قائد اہل سنت مولانا شاہ احمد نورانی نے پرائیویٹ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا، جس پر قومی اسمبلی کے 28 معزز اراکین کے دستخط تھے۔ یہ بل حزب اختلاف کی طرف سے تھا اور حزب اختلاف کے قائد مفکر اسلام مولانا مفتی محمود تھے۔ ان دنوں قائد ایوان جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ انہوں نے سانحہ ربوہ پر غور اور قادیانی مسئلہ پر سفارشات مرتب کرنے کے لیے پوری قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی قرار دیا اور سرکاری طور پر بل وزیر قانون جناب عبد الحفیظ پیرزادہ نے پیش کیا۔ جناب سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خاں کی صدارت میں معزز ایوان اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث شروع ہو گئی۔ قادیانی اور لاہوری گروپ نے اپنے اپنے محضر نامے پیش کیے۔ قادیانی گروپ کے محضر نامے کے جواب میں ”ملت اسلامیہ کا موقف“ نامی محضر نامہ تیار کیا گیا۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں مولانا محمد شریف جالندھریؒ مولانا محمد حیاتؒ مولانا تاج محمودؒ اور مولانا عبد الرحیم اشعر نے حوالہ جات کی تدوین کا کام کیا۔ مولانا محمد تقی عثمانی صاحب اور مولانا سمیع الحق صاحب نے ان حوالہ جات کو ترتیب دے کر ایک خوبصورت کتاب مرتب کر دی۔ سیدی حضرت قبلہ سید انور حسین نفیس رقم دامت برکاتہم کی قیادت میں کاتب حضرات نے شب و روز اسے لکھنا شروع کیا۔ جتنا حصہ لکھ لیا جاتا، اسے حضرت مولانا مفتی محمودؒ صاحب، چوہدری ظہور الٰہیؒ اور مولانا شاہ احمد نورانی سن لیتے۔ بعد ازاں مناسب ترمیم و اضافہ کے بعد اسے پریس بھیج دیا جاتا۔ چند دنوں میں یہ محضر نامہ تیار ہو گیا، جسے مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ صاحب نے قومی اسمبلی میں پڑھا۔ لاہوری گروپ کے محضر نامہ کے

صفحہ 11

جوابات بھی اجمالی طور پر اس میں آ گئے تھے تاہم اسے محضر نامہ میں اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ قدرت نے یہ کام حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی مرحوم کے حصہ میں لکھا تھا۔ آپ نے لاہوری گروپ کے محضر نامہ کا مستقل جواب لکھا اور اپنی طرف سے محضر نامہ پیش فرمایا۔ قادیانی گروپ کے سربراہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی میں زبانی طور پر بھی کمیٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے یا سوالات کے جوابات و جرح کے لیے بلایا گیا تھا۔ 5 سے 11 اور 20 سے 21 اگست 1974ء تک کل گیارہ روز مرزا ناصر احمد قادیانی پر جرح ہوئی۔

28-27 اگست کو لاہوری گروپ کے صدر الدین‘ عبدالمنان عمر اور مسعود بیگ پر دو روز جرح ہوئی۔ 5-6 ستمبر 1974ء کو اٹارنی جنرل آف پاکستان‘ جناب یحییٰ بختیار نے بحث کو سمیٹا۔ ان کا اسمبلی کے اراکین کے سامنے دو روز مفصل بیان ہوا۔

لاہوری و قادیانی گروپ پر کیا جرح ہوئی؟ ان کی کیا درگت بنی؟ ان سوالات کا جواب یہ کتاب ہے جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ بھٹو حکومت نے اپنے وعدہ کے باوجود قومی اسمبلی کی اس کارروائی کو شائع نہ فرمایا۔ ان کے بعد ضیاء الحق‘ تشریف لائے‘ بے نظیر بھٹو‘ جونیجو صاحب‘ جتوئی صاحب اور میاں نواز شریف‘ نہ معلوم کون کون آئے‘ مگر اسمبلی کی یہ کارروائی شائع نہ ہوسکی۔

اس وقت قومی اسمبلی کے اراکین مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ‘ شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ‘ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحقؒ اور دوسرے اکابر سے اسمبلی کی کارروائی کے متعلق زبانی اور تحریری جو معلومات حاصل ہوتی رہیں‘ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان و صدر مرکزیہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے حکم پر فقیر مرتب کرتا رہا۔

آج سے سالہا سال پہلے جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کے بارے میں ایک کیس تھا۔ اس کیس کی پیروی کے لیے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے صدر پاکستان جناب محمد ضیاء الحق صاحب مرحوم سے وفد بھجوانے کی درخواست کی۔ پاکستانی حکومت نے مولانا تقی عثمانی‘ جناب محمد افضل چیمہ‘ سید ریاض الحسن گیلانی‘ مولانا مفتی زین العابدین‘ جناب پروفیسر غازی محمود احمد کو افریقہ بھجوا دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ختم نبوت‘ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر اور عبدالرحمٰن یعقوب باوا کیس کی پیروی کے لیے افریقہ گئے۔ قومی اسمبلی میں قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں پر جو جرح ہوئی تھی‘ جناب جنرل ضیاء الحق صاحب نے اپنے خصوصی آرڈر سے پاکستانی وفد کو اس کی مکمل کاپی فراہم کردی۔

حضرت مولانا مفتی محمود مرحوم‘ مولانا غلام غوث ہزاروی مرحوم‘ مولانا عبدالحق صاحب مرحوم

صفحہ 12

کی یادداشتوں اور ان کو بحیثیت ممبر قومی اسمبلی جو کارروائی کی کاپیاں ملتی تھیں، اس مواد سے زیر نظر کتاب کو جنوبی افریقہ بھیجی جانے والی اصل کارروائی سے ملا کر کتاب کو فائنل کر دیا گیا ہے۔

1974ء کی قومی اسمبلی نے ایک تاریخی بحث اور ملزموں کو مکمل صفائی کا موقع فراہم کرنے اور ان کے دلائل کماحقہ سننے کے بعد یہ فیصلہ صادر کر دیا کہ اب سے قادیانی آئین اور ملکی قانون کی رو سے بھی غیر مسلم ہیں۔ ہماری یہ کتاب قومی اسمبلی کے انہی 13 دنوں کی کارروائی پر مشتمل ہے۔ بہر حال یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس کارروائی کا شائع کرنا ایک طرف تو ہمارے لیے ایک تاریخی فریضہ اور امانت تھا، جو ہم مسلمانوں کی خدمت میں پیش کر کے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف اس لیے بھی اہم تھا کہ قادیانیوں کا دعویٰ تھا کہ ”ہمارے حضرت صاحب“ نے اسمبلی کے اندر جو ”گل فشانی“ کی ہے، وہ اگر منظر عام پر آ جاتی تو آدھے مسلمان قادیانی ہو جاتے جبکہ ہمارا یہ دعویٰ تھا کہ اگر یہ کارروائی انہی دنوں جب کہ مسلم جذبات بہت گرم تھے منظر عام پر آ جاتی تو سب قادیانی قتل ہو جاتے۔ اس لیے شاید اس وقت کی حکومت نے اس کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ بعد کی آنے والی حکومتیں بھی لکیر کی فقیر رہیں اور پابندی جاری رہی۔ چنانچہ ضروری ہو گیا تھا کہ یہ تاریخی قومی امانت امت کے سپرد کر دی جائے تا کہ سچ اور جھوٹ ایک دفعہ بالکل واضح ہو کر سامنے آ جائے۔ ان 13 دنوں میں اسمبلی کے اندر قادیانی عقائد اور ان کے خلیفہ کی جس طرح دُرگت بنی اور وہ کس طرح بے بس اور لاجواب ہوا، اور اس کا جھوٹ اور فراڈ کس طرح طشت از بام ہو کے رہا؟ یہ ساری دلچسپ تفصیل تو آپ کو اندرونی صفحات میں بکھری ملے گی۔ پڑھیں اور خود اندازہ فرمائیں کہ قومی اسمبلی میں قادیانی کس طرح ذلیل وخوار ہوئے۔ انشاء اللہ العزیز آپ پڑھ کر خوشی محسوس کریں گے۔

ہمارا یہ دعویٰ پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے کہ اب بھی اگر کوئی حق کو پانا چاہے اور غیر جانبداری سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز کرنا چاہے تو یہ کتاب اس کو یقیناً مایوس نہ کرے گی۔ کتاب کے اس جدید اور خوبصورت ایڈیشن کے لیے برادر مکرم متین خالد صاحب کی سعی و کاوش یقیناً قابلِ ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما کے ان کے لیے ذریعہ نجات اور میرے لیے سرمایہ ہدایت بنائے۔ (آمین)

طالب الخیر اللہ وسایا دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان فون : 514122

صفحہ 13

قادیانی کس طرح غیر مسلم قرار پائے؟

یہ 22 مئی 1974ء کا ایک روشن دن تھا۔ نشتر میڈیکل کالج کے تقریباً سو طلباء شمالی علاقوں کی سیروسیاحت کے لیے بذریعہ چناب ایکسپریس ملتان سے پشاور روانہ ہوئے۔ طلباء نے اپنی الگ بوگی بک کرا رکھی تھی۔ ہنستے کھیلتے طلباء کی گاڑی جب ربوہ (حال چناب نگر) ریلوے سٹیشن پر رکی‘ تو حسب معمول چند قادیانی نوجوان گاڑی کی مختلف بوگیوں میں داخل ہوئے اور قادیانیت کا لٹریچر تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ جب طلباء کی بوگی میں کفر و ارتداد کا یہ لٹریچر تقسیم کیا گیا تو طلباء میں اشتعال پھیل گیا۔ جواباً انہوں نے ربوہ ریلوے سٹیشن پر ختم نبوت زندہ باد‘ قادیانیت مردہ باد کے زور دار نعرے لگائے۔ سیٹی بجی اور گاڑی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئی۔ لیکن طلباء کی اس جرأت سے ربوہ کے قصر خلافت میں ایک زلزلہ آ گیا کیونکہ ربوہ شہر میں قادیانی خلیفہ کی اجازت کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مارسکتی تھی۔ ربوہ ایک بند شہر تھا جس میں بغیر حکم کوئی مسلمان داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ خلیفہ ربوہ وہاں کا مطلق العنان بادشاہ تھا‘ جس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوتا تھا۔ ربوہ کی اپنی وزارتیں اور نظارتیں تھیں۔ غرضیکہ یہ پاکستان میں ریاست در ریاست تھی۔ طلباء کے واقعہ کے بعد بڑے قادیانی دماغ مل کر بیٹھے اور ان طلباء کو یادگار سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ 29 مئی کو چناب ایکسپریس میں طلباء پشاور سے واپس ملتان روانہ ہوئے۔ ربوہ سے پہلے سٹیشن نشتر آباد کے قادیانی سٹیشن ماسٹر نے طلباء کی بوگی پر چپکے سے نشان لگایا اور ربوہ کے قادیانی سٹیشن ماسٹر کو اس نشان زدہ بوگی کا نمبر بتایا۔ جب گاڑی ربوہ سٹیشن پر پہنچی تو سٹیشن پر ایک محشر بپا تھا۔ تقریباً پانچ ہزار قادیانی غنڈے پستولوں‘ بندوقوں‘ خنجروں‘ تلواروں‘ لاٹھیوں‘ آہنی مکوں اور اینٹوں سے مسلح کھڑے تھے اور غصے سے چلا رہے تھے۔ یہ ہجوم سانپ کی طرح پھنکارتا ہوا طلباء کی بوگی کی طرف لپکا۔ طلباء نے فوراً کھڑکیاں اور دروازے بند کر لیے لیکن ہجوم دروازے اور کھڑکیاں توڑ کر بوگی میں داخل ہو گیا اور قادیانی غنڈے نہتے طلباء پر پل پڑے۔ طلباء کو گھسیٹ گھسیٹ کر بوگی سے باہر نکالا اور پلیٹ فارم پر ان پر وحشیانہ تشدد کیا۔ طلباء خون میں نہا گئے۔ جسم زخموں سے بھر گئے۔ طلبہ یونین کے صدر ارباب عالم کو اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہو گئے۔

ختم نبوت کے باغی تشدد کرتے ہوئے یہ نعرے بھی لگا رہے تھے۔ مرزا قادیانی کی جے‘ احمدیت زندہ باد‘ محمدیت مردہ باد (نعوذ باللہ) مرزا ناصر کی جے‘ نشتر کے مُسلے‘ ہائے ہائے ...... اس

صفحہ 14

سارے قادیانی لشکر کی قیادت موجودہ قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کر رہا تھا۔ قادیانی بدمعاشوں نے طلباء کے کپڑے پھاڑ دیئے گھڑیاں چھین لیں، قیمتی سامان اچک لیا۔ سگنل ہونے کے باوجود ربوہ کے قادیانی سٹیشن ماسٹر نے گاڑی نہ چلنے دی تا کہ قادیانی اپنی آتش انتقام کو خوب ٹھنڈا کر سکیں۔ خدا خدا کر کے زخموں سے نڈھال طلباء کو لے کر گاڑی چلی۔ کسی طرح اس ظلم و بربریت کی خبر فیصل آباد پہنچ چکی تھی، غصے سے بھرا ہوا سارا شہر سٹیشن پر پہنچ چکا تھا۔ مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمود ان طلباء کے لیے چشم براہ تھے۔ ڈی۔سی، اے ۔ سی، ایس۔ایس۔پی سمیت ساری انتظامیہ سٹیشن پر موجود تھی۔ جونہی ٹرین فیصل آباد پہنچی سٹیشن پر کہرام مچ گیا۔ لوگ جذبات میں آکر رو رہے تھے۔ ان کے جذباتی نعروں سے سارا سٹیشن گونج رہا تھا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مولانا تاج محمود پلیٹ فارم کی دیوار پر چڑھ گئے اور طلباء سے مخاطب ہو کر کہا:

”میرے بیٹو! تمہارے جسم سے بہنے والے مقدس خون کی قسم میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے خون کے ایک ایک قطرہ کا قادیانیوں سے انتقام لیا جائے گا اور قادیانی ملزمان اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ آپ حضرات کو ائیر کنڈیشنڈ بوگی میں منتقل کر کے ملتان بھجوایا جا رہا ہے۔ آپ حضرات اطمینان رکھیں کہ ہم اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں گے جب تک اس ظلم کا حساب نہ چکالیں ۔ آپ کے بہنے والے خون کے ہر قطرہ سے قادیانیوں کی موت کے پروانے پر دستخط ہوں گے۔ اگر آپ کے خون کو رائیگاں کر دیا گیا تو میں آپ کے خون کا جواب دہ ہوں گا ۔“

مولانا کی تقریر نے زخمی طلباء کے دل جیت لیے۔ شدید زخمی طلباء کو فیصل آباد کے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ۔ باقی طلباء کو لے کر گاڑی ملتان روانہ ہو گئی۔ گوجرہ ٹوبہ ٹیک سنگھ شورکوٹ خانیوال ملتان جہاں جہاں گاڑی کے سٹاپ تھے مولانا نے وہاں کے احباب کو اس صورت حال سے مطلع کر دیا۔ جس سٹاپ پر گاڑی رکتی پورا شہر یا قصبہ زخمی طلباء کی محبت میں سٹیشن پر پہنچ جاتا۔ ہر سٹیشن پر زبردست مظاہرہ ہوا اور طلباء کو باور کرایا گیا کہ قادیانیوں نے صرف تمہیں ہی زخمی نہیں کیا بلکہ انہوں نے پوری ملت اسلامیہ کے قلب پر وار کیا ہے۔

ریلوے سٹیشن پر اخباری نمائندوں نے مولانا تاج محمود سے آئندہ لائحہ عمل پوچھا تو آپ نے شام پانچ بجے ”الخیام“ ہوٹل میں پریس کانفرنس کا وقت دے دیا۔ بھر پور پریس کانفرنس ہوئی اور آپ نے مولانا سید یوسف بنوری کے حکم کے تحت تحریک کا اعلان کر دیا۔ قادیانیوں کی غنڈہ گردی پر پوری قوم سراپا احتجاج بن گئی۔ جلوس نکلنے لگے مظاہرے ہونے لگے احتجاجی جلسے شروع ہو گئے اور تحریک پورے

صفحہ 15

ملک کی گلی گلی میں پھیل گئی۔ ہڑتالیں ہونے لگیں اور قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ شروع ہو گیا۔ تحریک میں اتنا جوش وخروش تھا کہ طالبات اور اساتذہ نے بھی احتجاجی جلوس نکالے اور مظاہرے کیے۔ قادیانی پورے ملک سے دم دبا کر ربوہ کی طرف بھاگنے لگے۔ بہت سے مقامات پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں جن میں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ بطل حریت آغا شورش کاشمیریؒ کی تحریک پر مولانا سید یوسف بنوریؒ کو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کا کنوینر مقرر کیا گیا اور مستقل انتخابات کے لیے 16 جون 1974ء کو فیصل آباد میں ملک بھر کے علماء و مشائخ و سیاست دان جمع ہوئے۔ اس وقت مجلس عاملہ میں مندرجہ ذیل حضرات کو نمائندگی ملی، جس کی تفصیل یوں ہے:

مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا خان محمدؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، سردار میر عالم لغاری۔ جمعیت علماء اسلام مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبدالحقؒ اکوڑہ خٹک، مولانا عبیداللہ انورؒ، مولانا محمد زمان اچکزئیؒ، مولانا محمد اجمل خاںؒ، مولانا محمد ابراہیم۔ جمعیت علماء پاکستان مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، مولانا صاحبزادہ فضل رسولؒ، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہریؒ، مولانا محمود علی قصوریؒ، مولانا غلام علی اوکاڑوی۔ جمعیت اہل حدیث میاں فضل حقؒ، مولانا عبدالقادر روپڑیؒ، مولانا اسحاق چیمہؒ، شیخ محمد اشرفؒ، مولانا محمد صدیقؒ، مولانا شریف اشرف۔ تبلیغی جماعت مولانا مفتی زین العابدین۔ شیعہ سید مظفر علی شمسی۔ مسلم لیگ میجر اعجاز احمدؒ، چوہدری صفدر علی رضویؒ، چوہدری ظہور الٰہیؒ، سید اصغر علی شاہ پاکستان جمہوری پارٹی نوابزادہ نصراللہ خانؒ، رانا ظفراللہ خان۔ مجلس احرار مولانا عبیداللہ احرارؒ، مولانا سید عطاء المنعم شاہ بخاریؒ، چوہدری ثناء اللہ بھٹہؒ، ملک عبدالغفور انوریؒ، سید عطاء الحسن بخاری۔ اشاعت التوحید مولانا غلام اللہ خانؒ، مولانا عنایت اللہ شاہ۔ جماعت اہل سنت مولانا غلام علی اوکاڑویؒ، سید محمود شاہ گجراتی۔ اتحاد العلماء مولانا مفتی سیاح الدینؒ کاکا خیلؒ، مولانا محمد چراغؒ، مولانا گلزار احمد مظاہری۔

صفحہ 16

تنظیم اہل سنت مولانا سید نور الحسن بخاری، مولانا عبدالستار تونسوی۔ حزب الاحناف مولانا سید محمود رضوی، مولانا خلیل احمد قادری۔ قادیانی محاسبہ کمیٹی آغا شورش کاشمیریؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ۔ نیشنل عوامی پارٹی ارباب سکندر خان امیر زادہ۔ جماعت اسلامی پروفیسر غفور احمد، چوہدری غلام جیلانیؒ، میاں طفیل محمد۔ قومی اسمبلی میں آزاد مولانا ظفر احمد انصاری گروپ کے لیڈر اہم شخصیات مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف۔

مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا انتخاب

صدر : مولانا محمد یوسف بنوریؒ ناظم اعلیٰ : مولانا محمود احمد رضوی نائب صدر : مولانا عبدالستار خان نیازی، سید مظفر علی شمسی، مولانا عبدالواحد، نوابزادہ نصر اللہ خان نائب ناظم : مولانا محمد شریف جالندھریؒ خازن : میاں فضل حق

عوام کے ملک گیر احتجاج کو دیکھتے ہوئے پنجاب گورنمنٹ نے سانحہ ربوہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس سردار محمد اقبال نے جسٹس کے۔ ایم۔ صمدانی کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا۔ جناب جسٹس صمدانی نے ربوہ کا تفصیلی دورہ کیا۔ مرزا ناصر نے انہیں قصر خلافت میں کھانے پر مدعو کیا، لیکن جسٹس صمدانی نے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بعد مرزا ناصر نے خود ملاقات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور وقت مانگا، لیکن جسٹس صمدانی نے پھر جواب دے دیا۔ تحقیقات کے دوران جسٹس صمدانی نے ربوہ سے کچھ نہ کھایا پیا۔ وہ اپنا سامان خوردونوش اپنے پاس رکھتے تھے۔ شاید عدالتی تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یا حفاظت جاں کے لیے! جناب جسٹس صمدانی کی عدالت میں مرزا ناصر کو بھی طلب کیا گیا اور اس کا سات گھنٹے کا خفیہ بیان ریکارڈ کیا گیا۔ مشہور مرزائی نواز حنیف رامے اس وقت پنجاب کا وزیر اعلیٰ تھا۔ اس نے جگہ جگہ مرزائیوں کی وکالت کی۔ اس نے خانیوال میں تقریر کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ میں مولویوں کو مار مار کر ان کے پیٹوں سے حلوہ نکال دوں گا۔ مرزائیوں کے اس مہرے نے جگہ جگہ تحریک کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی، لیکن عوامی غیظ وغضب کے طوفان کے سامنے مرزائیوں کے

صفحہ 17

ساتھ خود بھی ٹھنڈا ہو گیا۔ حکومت نے تحریک کے ترجمان ہفت روزہ ”چٹان“ کا ڈیکلریشن منسوخ کر دیا اور پریس ضبط کرلیا اور اس کے ساتھ ہی آغا شورش کاشمیری کے بچوں کا پریس مسعود پرنٹرز بھی ضبط کر لیا گیا۔ حکومت پنجاب نے آغا شورش کاشمیری کو ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کر لیا۔ آغا صاحب شدید بیمار تھے۔ ظالموں نے انہیں میو ہسپتال لاہور میں داخل کروا کر ان پر پولیس کا کڑا پہرہ لگوا دیا۔ یہ امتحان ان کے قدموں میں ڈگمگاہٹ پیدا نہ کر سکا اور فدائی ختم نبوت نے شدید علالت میں جسٹس صمدانی کی عدالت میں قادیانی امت کے بارے میں پانچ گھنٹے شہادت دی جس میں قادیانیت کے غلیظ چہرہ سے نقاب اٹھا کر ان کی اسلام اور پاکستان دشمنی کو ثابت کیا گیا۔ بہت سے سربستہ رازوں کا انکشاف کیا قادیانیوں کی اندرون خانہ کربناک کہانی سنائی اور مرزا ناصر کی شخصیت کے تار و پود بکھیرے۔

مجلس عمل کے صدر مولانا سید یوسف بنوری نے بڑھاپے کے باوجود پورے ملک کا طوفانی دورہ کیا اور عوام کی رگوں میں جہادی خون دوڑا دیا۔ پوری قوم کو مجاہد بنا کر قادیانیت کے خلاف صف آرا کر دیا۔ آپ جب تحریک کی قیادت کے لیے گھر سے نکلے تو اپنے مدرسہ کے مفتی صاحب سے کہا کہ حضرت مفتی صاحب! میں تحریک کی رہنمائی کے لیے جا رہا ہوں اور اپنا کفن بھی ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔ پھر کفن نکال کر مفتی صاحب کو دکھایا۔ مزید فرمایا کہ مرزائیوں کو اس ملک میں آئین کی رو سے کافر ٹھہراؤں گا یا اپنی جان کا نذرانہ پیش کروں گا واپس گھر آنے کا ارادہ نہیں۔

تحریک کے بڑھتے ہوئے زور کو توڑنے کے لیے حکومت نے ختم نبوت کے ہزاروں رضاکاروں کو مختلف دفعات کے تحت پابند سلاسل کر دیا۔ جلوسوں پر شدید لاٹھی چارج کیا جس سے ہزاروں کارکن زخمی ہو گئے۔ بہت سے مقامات پر قادیانیوں نے مسلمانوں پر فائرنگ کی جس سے کئی مسلمان شہید ہو گئے۔ چنانچہ مسلمانوں نے مشتعل ہو کر قادیانیوں کے کئی مکانات اور دکانیں جلا دیں۔ تحریک دن بدن زور پکڑتی گئی۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان نے پورے ملک میں جلوسوں اور کانفرنسوں کا جال بچھا دیا۔ ہر خطیب آتش فشاں تھا ہر مقرر شعلہ بار تھا۔ انہوں نے پورے ملک میں قادیانیت کے خلاف آگ لگا دی اور ملت اسلامیہ پاکستان کے ہر فرد کو ختم نبوت کا رضا کار بنا دیا۔ اخبارات اور رسائل نے اپنی دینی غیرت اور عشق رسولؐ کا حق ادا کر دیا۔ روزنامہ ”نوائے وقت“ اور ”جسارت“ نے خود کو تحفظ ختم نبوت پر نثار کر دیا اور تحریک کے شباب کو برقرار رکھا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے مسلمانوں کو قادیانیوں کے عقائد سے آگاہ کرنے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں ہینڈ بل اور پمفلٹ تقسیم کیے اور انہیں کلیدی اسامیوں پر بیٹھے لوگوں تک پہنچانے کا خصوصی اہتمام کیا۔ مجلس عمل کی اپیل پر قادیانیوں کے خلاف سوشل بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی جس نے قادیانیت کی کمر توڑ کے رکھ دی۔

صفحہ 18

مسلمانوں نے قادیانی دکانداروں سے سودا لینا بند کر دیا اور مسلمان دکانداروں نے قادیانیوں کو سودا سلف دینے سے انکار کر دیا۔ گلی محلوں میں قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کر دیا گیا۔ مسلمانوں نے قادیانی ہمسایوں سے بول چال اور لین دین بالکل بند کر دیا، جس سے قادیانیت بلبلا اٹھی اور بہت سے قادیانی قادیانیت سے توبہ کر کے دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔

مجلس عمل نے 14 جون کو پورے ملک میں ہڑتال کی اپیل کی۔ شمع ختم نبوت کے پروانوں نے مجلس عمل کی آواز پر لبیک کہا اور 14 جون کو ملک میں خیبر سے کراچی اور لاہور سے کوئٹہ تک ایسی زبردست ہڑتال ہوئی کہ تاریخ پاکستان میں جس کی نظیر ملنا محال ہے۔ ہڑتال نے حکومت کی چولیں ہلا دیں اور حکومت کو بتا دیا کہ ملت اسلامیہ قادیانی ناسور کو کسی صورت برداشت نہیں کر سکتی اور وہ کسی ایسی حکومت کو بھی برداشت نہیں کر سکتی جو قادیانیت کی حامی ہو۔

مسلمان لاکھ برے ہوں مگر نام محمد پر
وہ تیار ہیں ہر حالت میں اپنا سر کٹانے کے لیے

قادیانیت کو بپھرے ہوئے مسلمانوں کے حصار میں دیکھ کر برطانوی گماشتہ سر ظفر اللہ خان نے بیرونی ممالک کے دورے کرنے شروع کر دیئے اور بیرونی حکمرانوں سے بھٹو حکومت پر پریشر ڈلوانا شروع کیا۔ ظفر اللہ خان نے لندن میں ایک بڑی پریس کانفرنس کا اہتمام کیا اور الزام لگایا کہ پاکستان میں حکومت قادیانیوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ اس نے عالمی اداروں سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے واویلا مچایا کہ وہ فوراً قادیانیت کی مدد کے لیے پاکستان پہنچیں۔ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر نے ایسوسی ایٹڈ پریس امریکہ کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کے خلاف فسادات بھٹو کی پارٹی نے کرائے ہیں اور اس طرح حکمران جماعت اپنی بگڑی ہوئی ساکھ کو بحال کرنا چاہتی ہے۔ اس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خواہ وہ قتل ہو جائے لیکن اپنے مذہب سے باز نہیں آئے گا۔ قادیانیوں کو اسلام کی جانب پلٹتے اور تحریک سے خوفزدہ ہوتے دیکھ کر مرزا ناصر کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ اس نے ان کے مسمار حوصلوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے مرزا قادیانی کا یہ الہام ربوہ کے در و دیوار پر لکھوا دیا:

”خدا اپنی فوجوں کے ساتھ آ رہا ہے۔“

لیکن نہ قادیانی خدا آیا اور نہ قادیانی خدا کی فوجیں آئیں اور مرزا قادیانی کا یہ الہام ملت اسلامیہ کے بپھرے ہوئے سیلاب کے سامنے خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا۔

تحریک ختم نبوت کا مسئلہ قومی اسمبلی میں پہنچ گیا۔ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ پر غور و فکر کرنے کے لیے دو مہینے میں 28 اجلاس اور 96 نشستیں کیں۔ مسلمانوں کی طرف سے اراکین قومی اسمبلی کو ”ملت اسلامیہ کا موقف“ نامی کتاب پیش کی گئی جبکہ قادیانیوں اور لاہوریوں نے اپنے

صفحہ 19

اپنے موقف میں لٹریچر تقسیم کیا۔ قومی اسمبلی میں مرزا ناصر پر گیارہ روز میں 42 گھنٹے جرح کی گئی اور لاہوری شاخ کے امیر صدر الدین پر 7 گھنٹے جرح کی گئی۔ دوران جرح مرزا ناصر کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے‘ وہ اوٹ پٹانگ باتیں کرتا‘ گھبراہٹ میں بار بار پانی مانگتا اور کبھی لاجواب ہو کر بالکل ساکت ہو جاتا۔

مجلس عمل کے ارکان سے بھٹو صاحب کی کئی ملاقاتیں ہوئیں‘ لیکن بات کسی نتیجہ پر نہ پہنچتی۔ کئی دفعہ تو کشیدگی یہاں تک آ پہنچی کہ آنے والے حالات انتہائی خوفناک نظر آنے لگے۔ آخری دن بڑا نازک تھا۔ وزیر اعظم مانتے نہیں تھے ادھر مجاہدین ختم نبوت سروں پر کفن باندھ کر جانیں قربان کرنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ شام کو حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ حکومت نے پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کو چوکنا کر دیا۔ بڑے بڑے شہروں میں فوج تعینات کر دی گئی۔ بھاری اسلحہ کے انبار لگا دیئے گئے۔ ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ تحریک کے لیڈروں کی فہرستیں تیار کر لی گئیں۔ گویا آنکھوں کے سامنے جنگ کی بہت خوفناک تصویر نظر آ رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور مسلمانوں پر خصوصی کرم فرمایا اور حالات نے ایک خوشگوار کروٹ لی۔

بھٹو صاحب رضامند ہو گئے اور انہوں نے مجلس عمل کی مجوزہ قرارداد پر دستخط کر دیئے۔ اس طرح 7۔ ستمبر 1974ء کو 4 بج کر 35 منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم قرار دے کر دائرۂ اسلام سے خارج کر دیا گیا۔ مسٹر بھٹو نے قائد ایوان کی حیثیت سے 27 منٹ تک وضاحتی تقریر کی۔ اعلان ہوتے ہی پوری اسمبلی خوشی کے نعروں سے گونج اٹھی۔ ممبران جذباتی ہو کر ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے‘ حتیٰ کہ مسٹر بھٹو اور ولی خان بھی آپس میں گرم جوشی سے ملے۔ پورے ملک میں ایک عظیم الشان جشن کا سماں بندھ گیا۔ مسلمان خوشی سے دیوانے ہو گئے۔ ہر دل جھوم اٹھا‘ ہر دماغ مہک اٹھا۔ گلیاں اور بازار نعرہ ہائے تکبیر‘ اللہ اکبر‘ تاجدار ختم نبوت زندہ باد‘ تاج و تخت نبوت زندہ باد سے گونج اٹھے۔ فرط جذبات سے آنکھوں کے چشموں سے آنسو بہہ رہے تھے‘ مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں‘ حلوے کی دیگیں پک رہی تھیں‘ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر مبارک بادیں دی جا رہی تھیں‘ مساجد شکرانے کے نوافل ادا کرنے والوں سے بھر گئی تھیں‘ مجاہدین ختم نبوت اور شہدائے ختم نبوت کی قبروں پر پھول چڑھائے جا رہے تھے۔

اسلام جیت گیا‘ کفر پٹ گیا۔ حق کا بول بالا ہوا‘ باطل کا منہ کالا ہوا۔ پرچم ختم نبوت سرفراز ہوا‘ جھوٹی نبوت کا بت اوندھے منہ گر گیا۔ ختم نبوت کے پاسبان کامیاب و کامران ہو گئے اور انگریزی نبوت کے مجاور خائب و خاسر ہوئے۔

مسلمانو! اس عظیم الشان اور تاریخی فتح کا تاج ان شہیدوں کے سر ہے‘ جنہوں نے سنگینوں

صفحہ 20

کے سائے میں عشق رسول کی داستانیں رقم کیں، جنہوں نے عقوبت خانوں کے اندھیروں میں درود شریف کا چراغاں کیا، جنہوں نے گولیوں کی خوفناک تڑتڑ کا جواب ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے دیا، جنہوں نے اپنی جوانی کا گرم خون دے کر چراغ ختم نبوت کو فروزاں رکھا، جو چہرے پر مسکراہٹیں سجائے موت سے ہم آغوش ہو گئے، جنہوں نے اپنی لاشوں کا بند باندھ کر جھوٹی نبوت کے منہ زور سیلاب کو روکا، جنہوں نے اپنے خون ناب سے سڑکوں پر ختم نبوت زندہ باد تحریر کیا۔ ظالموں نے جن کی لاشوں کو جانوروں کی طرح گلیوں اور بازاروں میں گھسیٹا۔ جن کی لاشیں غائب کر کے ویرانوں میں دبا دی گئیں، جن کی لاشیں ٹرکوں میں بھر کر دریائے راوی میں بہا دی گئیں، جو عشق رسولؐ میں اپنے بچوں کو داغ یتیمی دے گئے۔ تحفظ ختم نبوت کے مشن میں جن کی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے، ناموس مصطفیٰؐ کے تحفظ میں جن کے بوڑھے والدین کے سہارے ٹوٹ گئے۔

آئیے ...... انتہائی مؤدب ہو کر ...... زبان دل سے ...... اسلام کے ان عظیم سپوتوں اور شمع ختم نبوت کے پروانوں کے حضور سلام محبت و عقیدت پیش کرتے ہیں:

سلام ان پر جنہوں نے سنت سجاد زندہ کی
سلام ان پر جنہوں نے کربلا کی یاد زندہ کی
سلام ان پر کہ جو ختم نبوت کے تھے شیدائی
سلام ان پر کہ جن کی جرأت رندانہ کام آئی
سلام ان پر جنہوں نے مشعلیں حق کی جلائی ہیں
سلام ان پر جنہوں نے گولیاں سینوں پہ کھائی ہیں
سلام ان پر جو جیتے تھے فقط اسلام کی خاطر
جناب خواجہ دو سرا کے نام کی خاطر
سلام ان پر کہ جو ختم رسالت کے تھے پروانے
جو عاقل باخدا تھے اور حضور خواجہ دیوانے
سلام ان پر کہ جن کی غیرت ایمان تھی زندہ
سلام ان پر قیامت تک ہے جن کا نام پائندہ

خاک پائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق لاہور

صفحہ 21

قومی تاریخی دستاویز

امیر المومنین حضرت علیؓ نے فرمایا تھا: ”ہر شخص کی قیمت اس ہنر کے مطابق ہوتی ہے جو اس میں موجود ہو“۔ جبیں پہ سجدے کا نشان چہرے پہ تمکنت، علم وعمل میں سرفراز، دین محمدی ﷺ کے سپاہی، شاہین ختم نبوت، خود دار و باحیا حضرت مولانا اللہ وسایا مجاہدین تحفظ ختم نبوت کے سرگرم اور پر جوش سالار ہیں۔ پوری دنیا میں قادیانیت کے خلاف برسر پیکار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں انکا وجود وہی حیثیت رکھتا ہے جو سمندر کی آغوش میں گوہر شب چراغ کو حاصل ہے۔ تحفظ ختم نبوت کے لئے جدوجہد ان کی زندگی کا مقصد ومحور ہے۔ وہ نہ صرف بطل حریت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی جرأت کے وارث ہیں بلکہ اکابرین تحفظ ختم نبوت کی عظمتوں کے امین بھی ۔ انہوں نے اپنی تقریر اور تحریر کے ذریعے ہر خاص وعام میں تحفظ ختم نبوت کا وہ شعور پیدا کیا جس کی ضیاء پاشیوں سے ان کے قلب ونظر علمی اور عملی طور پر آج بھی پوری طرح منور ہیں۔ تاریخ کے سینے میں وہ روشن لمحات محفوظ رہیں گے جب مولانا اللہ وسایا کی للکار اور یلغار سے قصر قادیانیت پر لرزہ طاری ہوا اور قادیانی مافیا کا گاڈ فادر مرزا ناصر اس کی تاب نہ لاتے ہوئے جہنم واصل ہو گیا۔

مولانا اللہ وسایا کا قلم اور اس سے نکلا ہوا ہر لفظ قادیانیت کے لئے منجنیق کا وہ پتھر ہے جو پورے عزم وایمان سے قادیانیت کے ایوانوں پر گر کر ان کا نام ونشان مٹا ڈالتا ہے، اور بڑے بڑے قادیانی اور ان کے ہمنواؤں کا زعم برتری، طلسم آزری، ناز آگہی اور دعویٰ دانشوری اس

صفحہ 22

کے ملبے میں دب کر رہ جاتا ہے۔

مولانا اللہ وسایا قادیانیت کے مکر و فن کے حیلوں سے بخوبی آشنا ہیں‘ اس لئے ان کی کتب اس فتنہ کے خلاف ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب ”تحریک ختم نبوت 1953ء“ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ جس شخص کو بھی اس کتاب کے مطالعے کا شرف حاصل ہوا ہے‘ وہ یہ حقیقت تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس زندہ و بیدار کتاب کے آئینے میں اس نے براہ راست اپنی آنکھوں سے تحریک کا مشاہدہ کر لیا ہے۔ عشق کے سوز اور محبت کے گداز میں ڈوب کر لکھی جانے والی یہ ایمان پرور کتاب جب شائع ہو کر تقسیم ہوئی تو مجھے بے شمار لوگوں نے بتایا کہ اس کتاب کے مطالعہ کے دوران ان پر ایسی ایمانی اور وجدانی کیفیات طاری ہوئیں کہ وہ بار ہا دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ اس کتاب کے علاوہ ”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ”قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت“ ”تحریک ختم نبوت 1974ء“ (تین جلدیں) اور ”قادیانی شبہات کے جوابات“ مولانا کی قابل ذکر تصانیف ہیں۔

قادیانیت الجھے مکاشفات‘ بکھرے تخیلات‘ لات و منات‘ مہمل نظریات‘ اندھے مشاہدات اور جنسی تجربات کا فطرت مخالف اور شعور سوز مذہب ہے جس کا ہر پیرو کار کفریہ عقل و عقائد کے فالج کا شکار ہے۔ 29 مئی 1974ء کو دیار جہل ربوہ (حال چناب نگر) میں جو سانحہ پیش آیا‘ اس پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ ملک کے طول و عرض میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا عوامی مطالبہ گونجنے لگا۔ یاد رہے کہ لاکھوں جگر خراش حوادث کے باوجود امت مسلمہ نے ہر دور میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہمیشہ اپنے خون جگر کا نذرانہ پیش کیا ہے‘ چاہے سر پر موت ہی کیوں نہ کھڑی ہو۔ اس راستہ میں آنے والی ہر مشکل کو انہوں نے ہمیشہ سعادت سمجھ کر بڑی خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ حکومت وقت نے اس تحریک کو ہر ممکن طریقے اور حربے سے دبانے کی بھر پور کوشش کی مگر اس کی ہر ترکیب و تدبیر ناکام و نامراد ٹھہری۔ بالآخر ارباب حکومت کو اس امر کا ادراک ہو گیا کہ اس دینی و عوامی تحریک کے پرجوش سیلاب کے

صفحہ 23

سامنے ان کا وجود خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔ حفظ ماتقدم کے طور پر انہوں نے پوری اسمبلی کو ایک کمیٹی کا درجہ دے کر قادیانیت کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر اور لاہوری جماعت کے سربراہ صدرالدین کو قومی اسمبلی میں طلب کر کے ان پر قادیانی کفریہ عقائد کے حوالے سے تفصیلی جرح کی گئی۔ انہیں صفائی کے تمام مواقع فراہم کیے گئے۔ 13 روز کی جرح کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 7 ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے متفقہ طور پر قادیانی جماعت کے دونوں گروہوں (ربوہ گروپ اور لاہوری گروپ) کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا اور یوں مسلمانوں کا 90 سالہ مسئلہ آئینی طور پر حل ہوا۔

پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کی یہ روداد اتنی دلچسپ‘ دلنشیں‘ عوامی‘ سادہ اور آسان ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے ہر قاری پر ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے گویا کہ وہ قومی اسمبلی میں بیٹھا براہ راست خود یہ کارروائی دیکھ رہا ہے۔ مولانا اللہ وسایا مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے یہ قومی و تاریخی دستاویز بڑی جانگسل محنت اور عرق ریزی سے مرتب کر کے ایک ملی و دینی فریضے کی تکمیل کی ہے۔ یوں رب العزت نے ہر مسلمان کے دل میں ان کے لئے محبت وعقیدت کے لازوال جذبات پیدا کر دیئے ہیں۔

قادیانیوں کو مسلمانوں کے ساتھ مناظروں اور کج بحثی کا بہت شوق ہے۔ ہر قادیانی چونکہ مذموم عزائم کے پیش نظر مخصوص موضوعات پر اپنے تئیں بھر پور تیاری کے ساتھ ”مسلح“ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عام مسلمان ان موضوعات سے تقریباً نابلد ہوتا ہے۔ یوں بظاہر قادیانی کو ایک مسلمان پر عارضی برتری حاصل ہو جاتی ہے پھر پراپیگنڈہ کے زور پر قادیانی فاتح اور مسلمان مفتوح کہلاتا ہے۔ میرے خیال میں اگر کوئی مسلمان اس روداد کا بنظر عمیق مطالعہ کر لے تو دنیا کا کوئی قادیانی اس سے مناظرے اور مجادلے کی جرأت نہیں کرے گا۔

قادیانیوں کو اگر قومی اسمبلی کی اس تاریخ ساز کارروائی کے اصل نہ ہونے پر کوئی

صفحہ 24

اعتراض ہو تو انہیں چاہئے کہ وہ آگے بڑھیں اور مذکورہ روداد خود شائع کرلیں تاکہ اعتراض کی گنجائش باقی نہ رہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ کبھی یہ خطرہ مول نہ لیں گے۔ کیونکہ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر نے قومی اسمبلی میں جرح کے دوران قادیانی مذہب کے تمام کفریہ عقائد کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ دفاع بھی کیا۔ اب بھلا وہ کیسے چاہیں گے کہ تمام مسلمان ان کے مخفی عقائد سے آگاہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سابق اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے ایک سوال پر کہ ”قادیانیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ روداد شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا“ جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ کارروائی ان کے خلاف جاتی ہے۔ ویسے وہ اپنا شوق پورا کر لیں، ہمیں کیا اعتراض ہے۔ ان دنوں ساری اسمبلی کی کمیٹی بنا دی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ ساری کارروائی سیکرٹ ہوگی تاکہ لوگ اشتعال میں نہ آئیں۔ میرے خیال میں اگر یہ کارروائی شائع ہو گئی تو لوگ قادیانیوں کو مار مار کر ان کا بھڑکس نکال دیں گے“۔

(انٹرویو نگار منیر احمد منیر ایڈیٹر ماہنامہ ”آتش فشاں“ لاہور، مئی 1994ء)

ایک نہایت اہم اور توجہ طلب بات جسے میں ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتا ہوں کہ قادیانیوں کا مذکورہ کارروائی کو شائع کرنا تو بڑی دور کی بات ہے، یہاں تو عالم یہ ہے کہ خود ان کی اپنی بنیادی کتابیں ایک عرصہ دراز سے ناپید ہیں اور ایک خاص مصلحت کے تحت انہیں شائع نہیں کیا جارہا۔ یہ وہ کتابیں ہیں جن میں اسلام، بانی اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، صحابہ کرامؓ، اہل بیتؓ، قرآن وحدیث، مقدس شخصیات اور اکابرین امت کا نہ صرف مذاق اور تمسخر اڑایا گیا ہے بلکہ طعن و تشنیع اور تضحیک و تحقیر کا کوئی پہلو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ ان کتابوں میں ایسی دل آزار تحریریں ہیں جن کو پڑھنا اور سننا تو درکنار، صرف ان کے تصور سے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ان کتابوں میں خصوصی طور پر ”ایک غلطی کا ازالہ“ مصنفہ مرزا قادیانی، ”تذکرہ یعنی وحی مقدس و مجموعہ الہامات (قادیانیوں کا اصل قرآن)“ از مرزا قادیانی، ”کلمۃ الفصل“ از مرزا بشیر احمد ایم۔اے (مرزا غلام احمد کا بیٹا)، ”سیرت المہدی“ (مرزا غلام احمد قادیانی کی سوانح اور حالات

صفحہ 25

زندگی) از مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے۔ ”انوار خلافت“ از مرزا بشیر الدین (مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا خلیفہ ) ”حقیقۃ النبوۃ“ از مرزا بشیر الدین ”حقیقۃ الرؤیاء“ از مرزا بشیر الدین‘ ”آئینہ صداقت“ از مرزا بشیر الدین ”اسلامی قربانی“ از قاضی یار محمد قادیانی ”خطوط امام بنام غلام“ از حکیم محمد حسین قریشی قادیانی ”ذکر حبیب“ از مفتی محمد صادق قادیانی اور ”تذکرۃ المہدی“ از پیر سراج الحق قادیانی شامل ہیں۔

قادیانیوں میں اگر ہمت ہے تو ذرا ان کتابوں کو شائع کر کے پبلک میں تقسیم کریں اور پھر دیکھیں کہ غیرت و حمیت سے سرشار مسلمان کس طرح ان کی تکہ بوٹی ایک کرتے ہیں۔ انصاف اور اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ قادیانی ان اشتعال انگیز اور جذبات میں آگ لگا دینے والی کتابوں کا دفاع کرنے کی بجائے ان سے اپنی برأت کا اعلان کریں اور ان کتابوں کے مردود مصنفین پر لعنت بھیجیں جنہوں نے یہود و ہنود کے اشارے پر ختم نبوت پر حملہ آور ہو کر اسلام کو زمین بوس کرنے کی ناپاک اور ناکام جسارت کی۔ میرا دعویٰ ہے کہ اگر یہ کتب دوبارہ شائع ہو کر کم از کم قادیانیوں میں ہی تقسیم ہو جائیں تو آدھے سے زیادہ قادیانی اپنے مذہب سے تائب ہو کر اسلام قبول کرلیں۔ اور میرا دوسرا چیلنج یہ ہے کہ قادیانی کسی بھی قیمت پر قومی اسمبلی کی کارروائی شائع کریں گے اور نہ ہی اپنی مذکورہ توہین آمیز کتب ...... چور خواہ کتنا ہی چالاک کیوں نہ ہو واردات کے بعد اپنے جرم کا کوئی نہ کوئی نشان ضرور چھوڑ جاتا ہے۔

سابق اٹارنی جنرل اور معروف قانون دان جناب یحییٰ بختیار نے جس لگن‘ جانفشانی اور قانونی مہارت سے امت مسلمہ کے اس نازک اور حساس کیس کو لڑا‘ قادیانی شاطر سربراہوں پر طویل اور اعصاب شکن جرح کے بعد جس طرح ان سے ان کے عقائد و عزائم کے بارے میں سب کچھ اگلوایا‘ بلکہ اعتراف جرم کروایا‘ وہ انہی کا حصہ ہے جس پر وہ صد ستائش کے مستحق ہیں۔ بلاشبہ ان کی یہ خدمت سنہرے حروف سے لکھی جانے کے قابل ہے۔

علاوہ ازیں حضرت مولانا مفتی محمود‘ مولانا غلام غوث ہزاروی‘ مولانا شاہ احمد نورانی اور

صفحہ 26

مولانا ظفر احمد انصاریؒ کی عالمانہ جرح نے بھی نہ صرف قادیانی سربراہ مرزا ناصر کی ”علمیت“ کا پول کھول دیا بلکہ قادیانیت کے بھیانک چہروں اور سربستہ رازوں کی ایسی نقاب کشائی کی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ امت مسلمہ ان کی شاندار اور روشن خدمات پر ہمیشہ احسان مند رہے گی۔

؎ صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف ”ان“ کا

بہت کم ایسی کتابیں ہوتی ہیں جن کا مطالعہ ناگزیر ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب بھی انہی کتابوں میں سے ایک ہے۔ ہر مسلمان کو اس کے مطالعہ سے استفادہ کرنا چاہئے۔ ارباب دانش کی رائے ہے کہ نسل نو کی فکری راہنمائی کے لئے یہ کتاب تعلیمی اداروں اور دینی مدرسوں کے نصاب کے لئے بے حد موزوں اور مفید ہے۔ انشاء اللہ مولانا اللہ وسایا کی اس کاوش کو علمی و مذہبی حلقوں میں بے حد پذیرائی حاصل ہوگی۔

یہ قومی و تاریخی دستاویز جس کا مدتوں سے انتظار تھا، وقت کی اہم ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ تاریخ کے نازک لمحات محفوظ کرنے پر مولانا اللہ وسایا پوری امت مسلمہ کی طرف سے بے حد مبارک باد کے مستحق ہیں۔

؎ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

حضرت علیؓ نے بالکل بجا فرمایا تھا: ”ہر شخص کی قیمت اس ہنر کے مطابق ہوتی ہے جو اس میں موجود ہو“۔

خاکپائے مجاہدین تحفظ ختم نبوت

محمد متین خالد

لاہور

PDF 27

پارلیمنٹ میں

قادیانی شکست

PDF 28

۱۹۷۴ء کے چند مناظر

صفحہ 29

حزب اختلاف کی تاریخی قرارداد

30 جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے جو قرارداد پیش کی تھی‘ اس کا متن درج ذیل ہے:

جناب سپیکر‘ قومی اسمبلی پاکستان محترمی!

ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں!

ہر گاہ کہ یہ ایک مکمل مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا‘ نیز ہر گاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان‘ بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں‘ اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھی۔

نیز ہر گاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔

نیز ہر گاہ کہ پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار چاہے وہ مرزا غلام مذکور کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں‘ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

نیز ہر گاہ کہ ان کے پیروکار‘ چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے‘ مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

نیز ہر گاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں‘ جو مکہ المکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام 6 اور 10 اپریل 1974ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے 140 مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی‘ متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت‘ اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے‘ جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔

اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار‘ انہیں

صفحہ 30

چاہے کوئی بھی نام دیا جائے‘ مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو موثر بنانے کے لیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔

محرکین قرارداد

بعد میں حسب ذیل ارکان نے بھی قرارداد پر دستخط کیے:۔

صفحہ 31

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

File No.

Permanent Destroy in 1974 . Collection No. Pros Serial Nos.

Special Committee Cell, ISLAMABAD.

Correspondence/Notes/Routine

Subject :—

Report of Proceeding of the Special Committee — 5-8-1974 .

PREVIOUS REFERENCES LATER REFERENCES

FILE No. N.A.-97

PCPPI—J/4053 N.A.—4-6-73—5,000.

صفحہ 32

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

REPORT OF PROCEEDINGS

OF THE

SPECIAL COMMITTEE

OF THE

WHOLE HOUSE

Monday, August 5, 1974.

The Special Committee of the whole House of the National Assembly of Pakistan met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock in the morning, Mr. Speaker (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair as Chairman.

(Recitation from the Holy Quran).

Certified to be true copy

These proceedings contain 1 - 144 pages

INAYAT ALI Deputy Secretary National Assembly Secretariat Islamabad.

صفحہ 33

5-اگست 1974ء کی کارروائی

نیشنل اسمبلی آف پاکستان کے پورے ایوان کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی بروز پیر 5۔ اگست 1974ء اسمبلی کے چیمبر، سٹیٹ بینک بلڈنگ اسلام آباد میں صبح دس بجے وقوع پذیر ہوئی۔ سپیکر نیشنل اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خاں بحیثیت چیئرمین تھے۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد...........

(وفد کو بلایا گیا)

(مرزا ناصر پر جرح شروع ہوئی)

مرزا ناصر: میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر جو کہوں گا، ایمان سے سچ کہوں گا۔

اٹارنی جنرل: آپ اپنے خاندان کی بیک گراؤنڈ کی تفصیلات ارشاد فرمائیں۔

مرزا ناصر: اس کے متعلق میں درخواست گزار ہوں کہ مجھے وقت دیا جائے۔ میں کل لکھا ہوا آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا۔

اٹارنی جنرل: ٹھیک ہے لیکن کیا آپ مرزا قادیانی کے پوتے ہیں؟

مرزا ناصر: جی ہاں بیٹے کا بیٹا ہوں۔

اٹارنی جنرل: اپنا تعارف کرا دیں۔

مرزا ناصر: میں نے سنا ہے کہ میں 16 نومبر 1909ء کو پیدا ہوا تھا۔

میاں گل اورنگ زیب: آواز نہیں آرہی۔

چیئرمین: ذرا مائیک اور والیم کو سیٹ کردیں۔

مرزا ناصر: 16 نومبر 1909ء کی میری پیدائش ہے۔ میرا خیال ہے کہ میٹرک کے ریکارڈ میں تھوڑے دنوں کا کچھ فرق ہے۔ 1931ء میں میٹرک کیا تھا۔ 1934ء میں بی اے کیا، پھر باہر چلا گیا۔ 1938ء میں پی ایچ ڈی کیا۔ 1944ء سے 1965ء تک تعلیم الاسلام کالج قادیان و ربوہ کا پرنسپل رہا۔ نومبر 1965ء میں جماعت احمدیہ نے انتخاب کے ذریعے مجھے اپنا امام منتخب کیا۔

اٹارنی جنرل: اب آپ مرزا قادیانی کے جانشین ہیں؟

مرزا ناصر: جی ہاں۔

اٹارنی جنرل: آپ امیر المومنین بھی؟

مرزا ناصر: ہاں ہاں، وہ بھی مجھے کہتے ہیں۔

اٹارنی جنرل: بلکہ امام، خلیفۃ المسلمین، خلیفۃ المسیح، امیر المومنین، یہ سب آنجناب کے

صفحہ 34

مراتب ہیں؟

مرزا ناصر: مختلف لوگ آتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں۔ اصل میں خلیفۃ المسیح الثالث یعنی مسیح موعود کا تیسرا خلیفہ۔

اٹارنی جنرل: کیا مختلف لوگ تینوں عہدے علیحدہ علیحدہ سنبھال سکتے ہیں؟

مرزا ناصر: جی نہیں، ایک شخص تینوں عہدے سنبھالتا ہے۔

اٹارنی جنرل: جماعت احمدیہ سے آپ کی کیا مراد ہے؟

مرزا ناصر: احمدیہ جماعت کے افراد جنہوں نے خلافت ثلاثہ کی بیعت کی ہے۔ ایسے بھی احمدی ہوں گے جو بیعت نہیں کرتے لیکن ہم ان کو شامل نہیں سمجھتے، نہ وہ جماعت احمدیہ ہے۔

اٹارنی جنرل: بیعت نہ کرنے والوں سے مراد آپ کی لاہوری گروپ ہے؟

مرزا ناصر: جی ہاں لیکن وہ ہم میں شامل نہیں ہیں۔

اٹارنی جنرل: گویا وہ احمدیہ جماعت کے ممبران نہیں ہیں؟

مرزا ناصر: ہاں جماعت احمدیہ جسے بعض لوگ مبائعین کہہ دیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل: آپ کی جماعت کی باڈی کے وہ افراد جو امام یا خلیفہ کو منتخب کرتے ہیں، ان کی کل تعداد؟

مرزا ناصر: صحیح تعداد کا تو علم نہیں ہے۔ اس میں مختلف گروپس ہوتے ہیں۔ جماعت کی تنظیم کے عہدیداران۔ ایک وہ جو واقفین زندگی ہیں۔ ضلعی عہدیدار یا مرزا صاحب کے عہد میں جو جماعت احمدیہ یا سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے اور اس وقت زندہ ہیں۔ وہ سب اس کے مستقل ممبران ہیں۔ اخبار الفضل میں اس پر ایک مضمون ہے، وہ میں آپ کو بھیج دوں گا۔

اٹارنی جنرل: شکریہ، لیکن پوری جماعت کے صرف یہ افراد الیکشن میں ووٹ دے سکتے ہیں؟

مرزا ناصر: نہیں، لائل پور میں ہماری سو سے اوپر جماعتیں ہیں۔ ان کا ایک امیر ہے، وہ تو ضلع کا نمائندہ ہوا ناں۔

اٹارنی جنرل: لیکن مرزا کے زمانہ کے لوگ؟

مرزا ناصر: بانی سلسلہ کے وقت میں بیعت کرنے والوں کی قربانیوں اور احترام کہ وہ بزرگ ہیں وہ الیکٹڈ نہیں لیکن پرانے آرہے ہیں۔

اٹارنی جنرل: کیا اس مجلس انتخاب میں مرزا قادیانی کی فیملی کے تمام لوگ بھی بغیر کسی استحقاق کے ممبر ہیں یا ان کا یہ استحقاق ہے کہ وہ مرزا کی فیملی کے ہیں؟

مرزا ناصر: فیملی کے معنی لوگ نہیں سمجھتے۔ میں کمزور انسان ہوں، امید کرتا ہوں کہ اس قابل ہو

صفحہ 35

جاؤں کہ آپ کو سمجھا سکوں۔ فیملی سے مراد تین بیٹے تھے۔ وہ تینوں وفات پا گئے۔

اٹارنی جنرل: اب ان کے بیٹوں کے بیٹے تو یہ اچھا اصول ہوا‘ اگر بیٹے نہیں تو پھر ان کے بیٹے تو آسکتے ہیں؟

مرزا ناصر: نہ نہ کوئی نہیں۔ ویسے وہ شامل ہوں تو استحقاق۔ دیکھئے نا آخر فیملی سے مراد صرف تین بیٹے‘ چوتھا کوئی نہیں۔

اٹارنی جنرل: آپ کے انتخاب کے وقت کوئی نام بھی پیش ہوا؟

مرزا ناصر: ہمارے ہاں کوئی ایسا طریقہ نہیں‘ اس لیے کوئی اپنا نام پیش نہیں کر سکتا۔

اٹارنی جنرل: کسی نے اور نام پیش کیا؟

مرزا ناصر: ہاں دو اور نام پیش ہوئے اور وہ دونوں میرے خاندان کے تھے اور مجھے منتخب کر لیا گیا تو دوسرے نے میری بیعت کر لی۔

اٹارنی جنرل: آپ کے ہاں خلیفہ کا تصور کیا ہے؟

مرزا ناصر: ہمارا ایمان ہے کہ خلیفہ خدا منتخب کرتا ہے‘ ووٹ یہ دیتے ہیں لیکن مرضی خدا کی کام کر رہی ہوتی ہے۔ ان کے دماغوں پر اللہ تعالیٰ کا تصرف ہوتا ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے وہی ہو سکتا ہے۔ اس انتخاب میں اللہ تعالیٰ کا مخفی ارادہ کام کر رہا ہوتا ہے۔ منتخب ہونے کے بعد اس پر ووٹوں سے عدم اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ خدا جب چاہے اسے موت دے دے۔

اٹارنی جنرل: خلیفہ کے فیصلہ کی کیا پوزیشن ہے؟

مرزا ناصر: خلیفہ کا حکم قابل اطاعت ہے لیکن مشاورت کرتا ہوں۔ کثرت رائے سے جو فیصلہ ہو‘ میں اتفاق کرتا ہوں۔

اٹارنی جنرل: خلیفہ وقت مشاورت کی رائے کو رد بھی کر سکتا ہے؟

مرزا ناصر: جی بالکل۔

اٹارنی جنرل: آپ کو معزول کیا جا سکتا ہے؟

مرزا ناصر: سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

اٹارنی جنرل: آپ جب خلیفۃ المسیح الثالث ہیں تو آپ کو امیر المومنین کیوں کہتے ہیں؟

مرزا ناصر: باہر کی جماعتوں کی زبان پر یہ لفظ نہیں چڑھتا اس لیے وہ کچھ کہہ دیتے ہیں۔ لیکن آفیشل خلیفہ ہے۔

اٹارنی جنرل: اور امام جماعت؟

مرزا ناصر: خلیفۃ المسیح کا معنی امام جماعت ہے۔

صفحہ 36

اٹارنی جنرل: جماعت سے مراد احمدیہ ہے تو کیا دوسرے لوگ مومن نہیں؟

مرزا ناصر: میں سمجھ گیا۔ امیر المومنین، ان لوگوں کا امیر جو اس شخص کے دعویٰ کو قبول کرتے ہیں جس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا وہ مومن ہیں۔

اٹارنی جنرل: یعنی امیر جماعت احمدیہ؟

مرزا ناصر: جی یہ قریب ہے، اور کوئی مطلب نہیں۔

اٹارنی جنرل: جو جماعت میں نہیں وہ مومن؟

مرزا ناصر: یہ لمبی بحث ہے۔

اٹارنی جنرل: آپ کی تعداد کتنی ہے؟

مرزا ناصر: ہم ریکارڈ نہیں رکھتے۔

اٹارنی جنرل: آپ کی تبلیغ کا کام پاکستان یا انڈیا میں ہے یا باہر بھی؟

مرزا ناصر: ہم ہر جگہ پیار و محبت کا پیغام دیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل: باہر آپ کے پیار و محبت کو جس نے قبول کیا وہ کتنے ہیں؟

مرزا ناصر: تعداد کا ریکارڈ نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل: جو شامل ہو اسے کوئی فارم دیتے ہیں؟

مرزا ناصر: جی بیعت کا فارم۔

اٹارنی جنرل: ان کی تعداد؟

مرزا ناصر: ریکارڈ نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل: پچھلے بیس سالوں میں کتنے احمدی ہوئے؟

مرزا ناصر: ریکارڈ نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل: جو آپ کا ممبر بنے اس کا ریکارڈ نہیں؟

مرزا ناصر: نہیں رکھتے ریکارڈ۔

اٹارنی جنرل: کوئی رجسٹر بھی؟

مرزا ناصر: میرے علم میں نہیں ہے۔ بیعت فارم کو شمار کرتے ہیں، یہ بھی میرے علم میں نہیں۔

اٹارنی جنرل: آپ نے کبھی سیاست؟

مرزا ناصر: قطعاً نہیں۔ ہم نے یہ سوچا بھی نہیں۔

اٹارنی جنرل: کبھی آپ کا ممبر الیکشن میں؟

مرزا ناصر: بالکل نہیں، یہ سوچا بھی نہیں۔ جماعتی حیثیت سے نہ اس ملک میں، نہ دنیا کے کسی ملک

صفحہ 37

میں کسی کو کھڑا نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل : کیا خلیفہ اسلام میں ہیڈ آف دی سٹیٹ نہیں ہوتا؟

مرزا ناصر : حضور علیہ السلام اور آپ کے خلفاء تو دینی و دنیوی دونوں اعتبار سے تھے، یہ ٹھیک ہے۔ دنیوی و دینی اور روحانی دونوں امامت ان میں جمع تھی مگر مرزا صاحب کے آنے کے بعد اب ان کے خلفاء میں روحانی امامت ہے اور یہ ہمارا بنیادی عقیدہ ہے۔

اٹارنی جنرل : خلیفہ یعنی پریذیڈنٹ یا پرائم منسٹر بھی نہیں ہو سکتا؟

مرزا ناصر : نہیں، کچھ بھی نہیں، ہمیں سیاست سے دلچسپی ہی نہیں۔

اٹارنی جنرل : اچھا اگر خلیفہ اور صدر مملکت کا کسی بات میں اختلاف ہو جائے تو آپ کے ممبران جماعت ......؟

مرزا ناصر : یہ ایک نیا سوال آگیا ہے کہ قانون وقت اور عقیدہ متصادم ہو جائے تو پھر کیا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ دیکھئے دنیا میں ہم ایک کروڑ ہیں اور پاکستان میں پینتیس سے چالیس لاکھ۔

اٹارنی جنرل : مرزا قادیانی کے انتقال کے وقت آپ لوگوں کی تعداد کیا تھی؟

مرزا ناصر : چند ہزار ہوں گے۔ (اپنے ساتھیوں سے پوچھنے کے بعد ) چار لاکھ کے قریب تھے اس وقت' اندازہ ہے۔

اٹارنی جنرل : 1901ء کی مردم شماری میں تعداد کتنی تھی؟

مرزا ناصر : معلوم نہیں۔

اٹارنی جنرل : گڑ بڑ ہو رہی ہے۔ 1908ء میں مرزا غلام احمد کے انتقال کے وقت آپ کی تعداد انیس ہزار تھی؟

مرزا ناصر : مردم شماری میں۔

اٹارنی جنرل : یہ ایک دستاویز ہے جو برطانیہ کے فارن آفس نے 1920ء میں شائع کی تھی اپنے دفاتر کی پختہ معلومات کے لیے ......؟

مرزا ناصر : یہ ان کی اپنی روایت ہے۔

اٹارنی جنرل : برٹش گورنمنٹ کی رپورٹ ہے، بہر حال ان کا سرٹیفکیٹ ہے کہ اس وقت اس مذہبی فرقہ کی تعداد انیس ہزار سے زیادہ نہ تھی اور پھر وہ دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اور نفری تنزل پذیر تھی۔ (مرزا ناصر کے مطابق تعداد چار لاکھ' گورنمنٹ برطانیہ کے نزدیک انیس ہزار یہیں تفاوت ...... مرتب)

مرزا ناصر : گورنمنٹ برطانیہ کی اطلاع غلط ہوگی۔

اٹارنی جنرل : مرزا محمود نے احمدیت اور اسلام جو 1959ء میں شائع ہوئی، اس میں لکھا ہے کہ

صفحہ 38

1908ء میں غلام احمد کے پیرو لاکھوں کی تعداد میں گنے جاسکتے تھے۔

مرزا ناصر: میں نے کہا ناں چار لاکھ۔

اٹارنی جنرل: لیکن 1908ء میں مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق آپ کی تعداد اٹھارہ ہزار ہے۔

مرزا ناصر: اچھا‘ ہاں ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل: پھر 1921ء کی مردم شماری میں تعداد تیس ہزار ہے اور 1930-31ء میں کل تعداد چھپن ہزار۔ یہ تعداد آپ کے والد مرزا بشیر نے بھی ”الفضل“ 5۔ اگست 1934ء میں تسلیم کی ہے۔

مرزا ناصر: وہ اخبار کے خریداروں کی تحریک پر زور دے رہے تھے۔

اٹارنی جنرل: اور کہا کہ ہماری تعداد چھپن ہزار ہے......

مرزا ناصر: ہاں میں سمجھ رہا ہوں۔

اٹارنی جنرل: اب منیر رپورٹ کو دیکھتے ہیں۔ 1954ء میں وہ آپ کی تعداد دو لاکھ بتاتے ہیں۔

مرزا ناصر: کیا پورے پاکستان میں؟

اٹارنی جنرل: جی وہ یہی کہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے مردم شماری کی سکیم کو یکلخت نظرانداز کر دیا۔ یکا یک اچھل کر 35/40 لاکھ تک پہنچ گئے؟

مرزا ناصر: مردم شماری کرنے والے غیر مسلم ہوتے ہیں اور وہ مسلمانوں کی تعداد کم ظاہر کرتے ہیں۔

اٹارنی جنرل: مردم شماری نہیں‘ میں تو جسٹس منیر والی رپورٹ کا ذکر کر رہا ہوں کہ 1954ء میں آپ کی تعداد دو لاکھ تھی۔ اسی طرح انسائیکلوپیڈیا آف اسلام 1960ء کے ایڈیشن میں بھی؟

مرزا ناصر: یہ لاہور والی؟

اٹارنی جنرل: نہیں ہالینڈ والی ہے۔

مرزا ناصر: اعداد و شمار کس صفحہ پر ہیں؟

اٹارنی جنرل: ص 10 دیکھیں۔ اس میں درج ہے کہ احمدیوں نے جو اعداد و شمار فراہم کیے ہیں 1960ء کے ایڈیشن میں تو اس وقت ان کی تعداد پوری دنیا میں بقول ان کے (احمدیوں کی تعداد) پانچ لاکھ تھی۔ تو اس طرح پاکستان میں دو لاکھ ہوں گے اور یہی جسٹس منیر نے لکھا۔

مرزا ناصر: نہ معلوم کس نے اعدادوشمار دیے۔

اٹارنی جنرل: منیر نے لکھا ہے کہ مجھے ”بتایا گیا“۔

مرزا ناصر: نہ معلوم کس نے بتایا۔

صفحہ 39

اٹارنی جنرل: متعلقہ پارٹی نے بتایا ہوگا۔ ہم یہ اخذ کرتے ہیں۔ بہر قصہ مختصر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں دو لاکھ سے آپ زائد نہیں ہیں۔ آپ کسی دستاویز سے میری تردید نہیں کر سکتے۔

مرزا ناصر: مگر میرا اندازہ......

اٹارنی جنرل: مگر آپ دستاویزی طریقہ سے میری تردید نہیں کر سکتے یا رجسٹر لائیں مگر راز افشا ہو جائے گا‘ یہ اندیشہ ہے۔

مرزا ناصر: نہیں‘ مگر یہ تو تب ہو ناں کہ صحیح مردم شماری ہو جائے۔

اٹارنی جنرل: گویا آپ بھی اس بحث کے بعد تذبذب میں مبتلا ہو گئے ہیں؟

مرزا ناصر: مردم شماری میں صحیح تعداد معلوم ہو جائے گی۔

اٹارنی جنرل: گویا صحیح تعداد آپ کو بھی اس وقت معلوم نہیں۔ آپ اپنی لاعلمی کو تسلیم کرتے ہیں۔

اچھا آپ نے 21 جون کے خطبہ جمعہ میں کہا کہ ہر شخص اپنے مذہب کی صراحت کرنے میں آزاد ہے۔ کوئی طاقت کوئی حکومت اس حق کے استعمال میں دخل نہیں دے سکتی۔ یہی آئین کی دفعہ بیس کا تقاضا ہے۔ یہ آپ نے کہا ہے؟

مرزا ناصر: جی میری تقریر ہے‘ مذہبی آزادی ہے‘ دفعہ 20 کے تحت کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔

اٹارنی جنرل: اسمبلی یا حکومت بھی؟

مرزا ناصر: کوئی بھی۔

اٹارنی جنرل: ایک آدمی جھوٹ بولتا ہے جان بچانے کے لیے‘ کیا اسے بھی دفعہ 20 اجازت دیتی ہے کہ وہ جھوٹ بولتا رہے۔ کیا جان بچانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز نہیں؟

مرزا ناصر: میرے نزدیک جائز نہیں۔

اٹارنی جنرل: بہت اچھا‘ اب جھوٹ بولنا جائز نہیں مگر کیا ایک آدمی جھوٹ کے طور پر اپنا مذہب غلط بتاتا ہے تو کیا دفعہ 20 کا معنی یہ ہے کہ وہ جھوٹ بولتا رہے‘ اس لیے کہ مذہبی آزادی ہے؟

مرزا ناصر: آپ کو کیسے معلوم ہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے؟

اٹارنی جنرل: مثلاً میں کالج کا پرنسپل ہوں۔ اقلیت کے کوٹہ سے سیٹ لینے کے لیے ایک مسلمان خود کو غیر مسلم ظاہر کرتا ہے۔ اب آپ کے نزدیک دفعہ 20 کے تحت ہر شخص کو اپنے مذہب کے اظہار کی اجازت ہے لہٰذا وہ جھوٹ بولے تو میں کوئی کارروائی نہ کروں۔ اچھا آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے مذہبی آزادی کے حوالہ سے دستور کے کچھ حصے اپنی تقریر میں پڑھے ہیں۔ میں یہاں مودبانہ طریقہ سے آپ سے پوچھتا ہوں جناب کہ کیا آپ نے پوری دفعہ کو بیان کیا ہے یا اس دفعہ کا کچھ حصہ آپ بھول

صفحہ 40

گئے ہیں؟

مرزا ناصر: میں نے اس کا وہ ابتدائی حصہ چھوڑ دیا ہے جو ہر ذہن میں موجود ہے۔

اٹارنی جنرل: شکریہ وہ حصہ؟

مرزا ناصر: قانون اور اصول اخلاق کی شرط پر۔

اٹارنی جنرل: جی ہاں، مطلب یہ ہے کہ مذہب کی آزادی مشروط ہے قانون، اخلاقیات اور امن عامہ پر۔ یہ بات تسلیم ہے ناں؟

مرزا ناصر: ظاہر ہے، یہ ہے۔

اٹارنی جنرل: اب ایک آدمی غلط بیانی سے اپنا مذہب غلط ظاہر کرتا ہے، غلط مقاصد کی برآری کے لیئے تو اب اس پر پابندی لگائی جاسکتی ہے یا نہ؟

مرزا ناصر: کسی کو حق نہیں کہ مذہب کی آزادی پر پابندی لگائے۔

چیئرمین: دیکھیں سوال کے مطابق جواب آنا چاہیے۔ چاہے گواہ اس سے متفق ہو یا نہ۔ مگر جواب اور سوال مطابق ہونا چاہیے۔ وکیل صاحب کے سوال کا جواب دیں۔

اٹارنی جنرل: سر متفق نہ ہونے کا سوال نہیں، دنیا میں ہزاروں دھوکے باز پھرتے ہیں۔ اب وہ غلط بیانی کریں مذہب کے بارے میں تو پابندی لگائیں گے یا نہ؟

مرزا ناصر: دغاباز کی ملامت کرنی چاہیے۔

چیئرمین: سوال کا جواب آنا چاہیے۔ جواب سوال کے مطابق نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل: بات اظہار کی ہے، ایک شخص عمداً جھوٹا بیان دیتا ہے اپنے مادی نفع کے لیے، اب جناب گواہ کی اس بارے میں رائے کیا ہے۔ جناب اگر آپ جواب نہ دینا چاہیں تو آپ کی مرضی۔

مرزا ناصر: میں ایسے آدمی کو پسندیدہ نہیں سمجھتا۔

اٹارنی جنرل: مگر آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت پابندی......؟

مرزا ناصر: میں مذمت کرتا ہوں اس نوجوان کی جو دستاویزات میں جعل سازی کرتا ہے۔

چیئرمین: چھوڑیے (اصل سوال کا جواب گول کر رہے ہیں۔)

وفد کو پندرہ منٹ کی اجازت ہے۔ وقفہ ہے، سوا بارہ بجے دوبارہ آجائیں۔ (وفد چلا گیا)

چیئرمین: معزز ممبران آپ نے دیکھ لیا، میں تو اٹارنی جنرل کے طریقہ کار سے مطمئن ہوں۔

ممبران: جی ہاں ہم سب۔

چیئرمین: ہم ممنون ہیں، یہ بات ریکارڈ پر آنی چاہیے۔ امید ہے کہ ہماری بیشتر باتیں اور مسائل اہم ہیں، دیگر ضمنی باتیں ہیں، وہ بھی طے ہو جائیں گی۔ میں خود وکیل ہوں اور بے انتہا مطمئن ہوں اور

صفحہ 41

سمجھتا ہوں کہ آپ کی رائے یہی ہو گی۔

ممبران : جی ہاں۔

چیئرمین : چلو اب سوا بارہ بجے ملاقات ہوگی۔

وقفہ کے بعد

ملک محمد جعفر : جناب اس جرح یا بیان کے اختتام پر ایک بحث ہو گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس بیان کی نقول تیار ہونی چاہئیں تاکہ ہم ان کا مطالعہ کر سکیں۔

چیئرمین : میں اس کا انتظام کر رہا ہوں۔

سردار مولا بخش سومرو : یہ تیار ہو جائے تو ہمیں ایک کاپی دی جائے۔

چیئرمین : تمام ضمنی اور اضافی سوالات عزیز بھٹی اور ظفر احمد انصاری کو دیے جائیں تاکہ دوران سوالات اٹارنی صاحب کی توجہ ادھر ادھر نہ ہو۔ پھر وہ اٹارنی صاحب بعد میں پوچھ لیں گے۔

صاحبزادہ صفی اللہ : جناب والا اس تمام کارروائی کی کاپیاں ہمیں ملنی چاہئیں تاکہ ممبران ان کی تنقیح کر سکیں۔

چیئرمین : آپ کو دی جائیں گی۔ یہ ممبران کا امتیازی حق ہے۔

وفد کو بلالیں

پروفیسر غفور احمد : اجلاس کے اوقات کیا ہوں گے؟

چیئرمین : ہم دوپہر ڈیڑھ بجے تک بیٹھیں گے۔ صبح ساڑھے دس بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک، پھر ساڑھے بارہ سے ڈیڑھ بجے تک، پھر شام کو چھ سے سوا سات بجے تک اور پھر آٹھ بجے رات سے نو یا ساڑھے نو بجے تک۔

ہال میں وفد داخل ہوا

اٹارنی جنرل : ایک لڑکے نے اپنے مذہب کا غلط ڈیکلریشن جھوٹا داخل کرایا، اب کالج کا پرنسپل اس میں مداخلت کر سکتا ہے یا نہ؟

مرزا ناصر : دیکھیں ناں پرنسپل مداخلت نہ کرے۔

اٹارنی جنرل : تو غلط ڈیکلریشن دے کر عیسائی اقلیت کی سیٹ کا حق ایک مسلمان شخص غلط بیانی اور جھوٹ سے حاصل کر لے گا تو کوئی حرج نہیں؟

مرزا ناصر : جی کوئی حرج کی بات نہیں۔ کالج کا مسئلہ ہے، آپ اسے دوسرے پر قیاس نہ کریں۔

اٹارنی جنرل : صرف کالج کی نہیں، یہ بات تو عدالت میں بھی جائے گی کہ پرنسپل نے نہیں روکا،

صفحہ 42

تو جس کا حق مارا گیا‘ وہ عدالت میں رٹ دائر کرے گا کہ اس نے غلط بیانی سے جھوٹ سے میرا حق مارا ہے تو کیا عدالت مداخلت کر سکتی ہے یا نہ؟

مرزا ناصر: ایک شخص مذہب کے متعلق غلط بیانی کرتا ہے تو عدالت کیوں مداخلت کرے۔

اٹارنی جنرل: تو جھوٹ بول کر لوگوں کے حقوق کھاتے جائیں‘ اسمبلی یا عدالت قانون کی پاسداری نہ کرے؟

مرزا ناصر: ایک شخص خود کو مسلمان کہتا ہے۔

اٹارنی جنرل: مگر زکوٰۃ کا منکر ہے اور خود کو مسلمان کہتا ہے؟

مرزا ناصر: یہ کیسے ہو سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل: جیسے صدیق اکبرؓ کے دور میں مانعین زکوٰۃ نے کیا؟

مرزا ناصر: وہ مسلمان نہیں ہے۔ پانچ ارکان میں سے کسی ایک کا منکر بھی مسلمان نہیں رہ سکتا۔

اٹارنی جنرل: اس کو اسلام سے کس نے نکالا؟

مرزا ناصر: وہ خود نکلا۔

اٹارنی جنرل: ایک شخص خود کو مسلمان بھی کہتا ہے اور اسلام کے بنیادی ارکان کا منکر بھی ہے تو وہ؟

مرزا ناصر: تو وہ خود کو کیسے مسلمان کہہ سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل: مگر اس کے باوجود وہ کہتا ہے؟

مرزا ناصر: وہ کہہ نہیں سکتا۔

اٹارنی جنرل: ایک شخص قرآن کریم کی بعض آیات کا انکار کرتا ہے مگر کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں؟

مرزا ناصر: آپ اس کو کیسے مسلمان کہہ سکتے ہیں۔ وہ تو قرآن کا انکار کر رہا ہے اور قرآن کو نہیں مانتا۔ دیکھئے میرے دل میں اس ہاؤس کا اتنا احترام ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا لیکن میں کہنے کی جرات کروں گا کہ آپ اتنی مثالیں نہ دیں‘ ہم کسی نتیجہ پر نہ پہنچیں گے۔

اٹارنی جنرل: میں بھی ایوان کے احترام اور فرض بجا آوری میں کہتا ہوں کہ دیکھئے ارکان اسلام میں سے کسی ایک کا انکار کرتا ہے‘ انکار عملی یا کلامی لیکن خود کو مسلمان کہتا ہے تو؟

مرزا ناصر: جو ارکان اسلام کو مانے‘ جس طرح ہم اس کو مسلمان کہتے ہیں‘ اسی طرح کسی ایک کے منکر کو غیر مسلم کہنا پڑے گا۔

اٹارنی جنرل: گویا آپ کو حق ہے کہ آپ کسی کو غیر مسلم کہیں باوجود اس کے کہ وہ اپنے آپ کو مسلم کہے؟

صفحہ 43

مرزا ناصر: میرا پوائنٹ یہ ہے کہ خود اعلان کرتا ہے کہ میں مسلمان نہیں۔ اٹارنی جنرل: اگر وہ اعلان نہ کرے؟ مرزا ناصر: وہ اپنے عمل سے اعلان کر رہا ہے۔ اٹارنی جنرل: گویا وہ خود کافر ہو گیا؟ مرزا ناصر: جی بالکل۔ اٹارنی جنرل: میں صرف یہ کہتا ہوں کہ اگر ایک شخص ضروریات اسلام میں سے ایک کا منکر ہو گیا‘ اس کو مسلمان آپ کہہ سکتے ہیں؟ مرزا ناصر: وہ تو کافر ہو گا مگر ہمیں دخل کی ضرورت نہیں۔ اٹارنی جنرل: ایک اسرائیل کا یہودی جاسوسی کے لیے جھوٹا مسلمان ہونے کا ڈیکلریشن دے کر بلجیم سے سعودیہ آ کر مقامات مقدسہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ اسے سعودی حکومت کو گرفتار کرنے کا حق حاصل ہے یا نہ؟ مرزا ناصر: وہ تو جاسوس ہے‘ اس لیے گرفتار ہو گا‘ نہ کہ غیر مسلم کی بنیاد پر۔ اٹارنی جنرل: گویا غلط ڈیکلریشن کی بنیاد پر گرفتار نہ ہو گا؟ مرزا ناصر: گرفتار ہو گا کہ غلط ڈیکلریشن کیوں دیا۔ اٹارنی جنرل: بہت شکریہ مگر غلط ڈیکلریشن ہے یا صحیح‘ اس کی تمیز اور فرق کون اتھارٹی کرے گی؟ مرزا ناصر: ڈیکلریشن کا یا مذہب کا؟ اٹارنی جنرل: ڈیکلریشن‘ جس میں مذہب کا استعمال غلط کیا گیا۔ غیر مسلم ہو کر خود کو مسلمان کہلوایا۔ ڈیکلریشن میں جھوٹ ہے۔ اس جھوٹ پر پکڑ دھکڑ کا کسی اتھارٹی کو حق ہے یا نہ؟ مرزا ناصر: جی۔ اٹارنی جنرل: ایک شخص سعودی عرب جاتا ہے اور وہ دراصل یہودی یا عیسائی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ مکہ مدینہ سوائے مسلمان کے کوئی نہیں جا سکتا۔ وہ ان کو دیکھنے کا شوقین ہے۔ غلط ڈیکلریشن دے کر جاتا ہے۔ معلوم ہونے پر گرفتار کر لیں تو وہ کہے کہ جناب مذہبی آزادی ہے‘ جو میں نے کہا کہ اس میں دخل نہ دیں‘ تو اس کا یہ بہانہ وعذر درست ہو گا؟ مرزا ناصر: اس کی نیت دیکھیں گے۔ اٹارنی جنرل: ویسے ظاہری طور پر؟ مرزا ناصر: مجرم ہے۔ اٹارنی جنرل: شکریہ۔ ایک شخص یہودی ہو کر مسلمان کہلائے تو مجرم‘ اس لیے کہ غلط ڈیکلریش

صفحہ 44

دیا۔ اب وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری آزادی سلب کر لی گئی؟

مرزا ناصر: جی نہیں کہہ سکتا۔

اٹارنی جنرل: اتھارٹی یا کورٹ مداخلت کرسکتی ہے؟

مرزا ناصر: جی‘ کرسکتی ہے۔

اٹارنی جنرل: دیکھئے مذہبی آزادی کی طرح آئین میں ہر شخص کو بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ دفعہ نمبر 18 کے تحت تجارت کرسکتا ہے۔ تجارت‘ کاروبار‘ بزنس کی ہر شخص کو اجازت ہے؟

مرزا ناصر: اجازت ہے۔

اٹارنی جنرل: مگر کیا مطلق اجازت ہے یا قیود و شرائط ہیں؟

مرزا ناصر: مطلق اجازت ہے۔

اٹارنی جنرل: چرس‘ سمگلنگ‘ ہر چیز کی اجازت ہے‘ اس لیے کہ جو یہ کام کرے گا وہ کہے گا‘ یہ تجارت ہے اور تجارت کی آزادی بنیادی حق ہے؟

مرزا ناصر: نہیں‘ ان کی اجازت نہیں۔

اٹارنی جنرل: تو کاروبار کی ان قیود کے ساتھ اگر کوئی قانون مقرر کرے‘ ہر شہری کو حق حاصل ہوگا کہ وہ کوئی جائز پیشہ یا کام اختیار کرے یا کوئی مجاز تجارت یا بزنس کرے۔ یہ دفعہ نمبر 18 ہوا؟

مرزا ناصر: شرائط و قیود ہوں گی۔

اٹارنی جنرل: تو بنیادی حقوق پابندیوں سے مشروط ہیں۔ کچھ حدود ہیں‘ وہ مطلق العنان نہیں؟

مرزا ناصر: جی نہیں۔

اٹارنی جنرل: ہر آدمی ڈاکٹری پریکٹس‘ وکالت نہیں کرسکتا‘ حالانکہ یہ بھی کاروبار ہے مگر شرائط ہیں؟

مرزا ناصر: ان چھوٹی باتوں میں نہ الجھیں‘ چلئے۔

اٹارنی جنرل: کاروبار کی اجازت ہے‘ صابن بنانا‘ لیور برادرز والے بناتے ہیں۔ میں اپنی کمپنی کا نام لیور برادر رکھوں‘ وہی لیبل چھاپ لوں‘ ان جیسا صابن کا رنگ اختیار کروں تو کیا لیور برادرز کو اعتراض نہ ہوگا۔ اگر ہوگا تو وہ مجاز اتھارٹی یا کورٹ میں جاسکتی ہے یا نہ؟

مرزا ناصر: جاسکتی ہے‘ ان کو جانا چاہیے۔

اٹارنی جنرل: کورٹ شہادت لے کر مجھے روک سکتا ہے۔ میرے پر پابندی لگا سکتا ہے۔ فرم کا نام تبدیل کرنا ہوگا‘ لیبل تبدیل کرنا ہوگا تو تجارت کی آزادی ہے مگر قیود کے ساتھ؟

مرزا ناصر: آپ غلط‘ تنگ اور کیچڑ والے راستے پر چل پڑے ہیں۔

صفحہ 45

اٹارنی جنرل: میں صحیح راستہ پر آ رہا ہوں۔

مرزا ناصر: مگر میں سیدھا آدمی ہوں، یہ مثالیں غیر متعلق ہیں۔

چیئرمین: یہ کام کمیشن کا ہے یا چیئرمین کا کہ وہ مثالوں کو غیر متعلق کہے یا متعلق، آپ سوالات کے جوابات دیں۔

مرزا ناصر: مگر غیر متعلق ہوں تو۔

چیئرمین: یہ ہم پر چھوڑیں، غیر متعلق ہوئے تو ہم اٹارنی کو روک دیں گے۔

اٹارنی جنرل: تو کاروبار پر حکومت کی شرائط و پابندیاں جائز اور قابل تسلیم ہیں یا نہ؟

مرزا ناصر: حکومت کی پابندی قابل تسلیم ہوگی۔ حکومت کی اطاعت ضروری ہے۔

اٹارنی جنرل: آپ کے نزدیک ہر حکومت کی اطاعت ضروری ہے۔ ایک حکومت اگر اسلام کے خلاف حکم دے تو؟

مرزا ناصر: کیسے دے؟

اٹارنی جنرل: وہ کہے کہ گائے ذبح نہ کرو۔

مرزا ناصر: تو گائے کی بجائے دنبہ ذبح کرو۔

اٹارنی جنرل: مگر ایک قصائی جس کا یہ پیشہ ہے، وہ کہے میرے آزادی پیشہ پر اثر پڑتا ہے تو؟

مرزا ناصر: وہ بھی بکری کا گوشت کرے۔

اٹارنی جنرل: تو گویا حکومت کا یہ حکم بھی مان لے؟

مرزا ناصر: میں جاہل آدمی ہوں، مجھے آپ کی دلیل سمجھ نہیں آئی۔

اٹارنی جنرل: جہاں جو ہے ٹھیک ہے؟

مرزا ناصر: کلیش نہ کریں، ہمارا کسی سے کلیش نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل: کسی بھی حکومت سے یا کسی بھی مسلمان سے؟

مرزا ناصر: یہ پھر دوسرا مسئلہ آ جاتا ہے۔

اٹارنی جنرل: آدمی کتنی شادیاں کر سکتا ہے۔ چار، مگر امریکہ میں اس کی اجازت نہیں۔ تو گویا مذہبی آزادی وہاں کے قانون کے تابع ہوگی؟

مرزا ناصر: اگر کرلے تو پھر۔

اٹارنی جنرل: کیس چلے گا، وہ کورٹ میں کہے گا کہ مذہبی آزادی کے باعث کیا۔ کورٹ پانچ یا سات سال کے لیے جیل بھیج دے گی کہ تم نے بوجہ جرم کثیر الازواجی سوسائٹی کو خراب کیا؟

مرزا ناصر: تو پھر۔

صفحہ 46

اٹارنی جنرل: جیل میں۔ (قہقہہ) ہم اس قدر مذہبی آزادی کو تسلیم نہیں کرتے‘ پھر حکومت کو مداخلت کرنی چاہیے؟

مرزا ناصر: آپ مثال کیسے دے رہے ہیں؟

اٹارنی جنرل: یہ ہوتا رہا ہے۔

مرزا ناصر: یہ مذہب کی روایات کے مطابق ہے۔

اٹارنی جنرل: ہندوؤں میں تو ساری روایات ہی کا نام مذہب ہے۔ مثلاً تھرپارکر کی ایک ہندو عورت کہتی ہے کہ میں خاوند کے ساتھ ”ستی“ کرنا چاہتی ہوں‘ اس کے ساتھ جل مرنا چاہتی ہوں‘ تو کیا اس روایت پر عمل کی اجازت دے دی جائے؟

مرزا ناصر: میں ”ستی“ کے قانون کو نہیں جانتا۔

اٹارنی جنرل: وہ اس پر عمل پیرا تھے‘ روایات تھیں ان کے مذہب کی۔

مرزا ناصر: آپ اسلام کی مثال دیں۔

اٹارنی جنرل: میں نے فرض کیا‘ کے تحت عرض کیا تھا۔

مرزا ناصر: آپ فرض کر کے بہت دور چلے جاتے ہیں۔

اٹارنی جنرل: میں اور سوال کرنا چاہوں گا۔ آپ نے کہا کہ جونسا چاہیں مذہب اختیار کر سکتے ہیں۔ اختیار کر سکتے ہیں یا نیا مذہب شروع بھی کر سکتے ہیں کیونکہ مذہب بنانے کی آزادی ہے؟

مرزا ناصر: جی بالکل‘ یہ انسانی حقوق کا ہمہ گیر منشور ہے لیکن ہمہ گیر الحاد کو بطور مذہب انہوں نے لے لیا ہے۔

اٹارنی جنرل: تو گویا ہر ایک نیا فرقہ‘ نیا مذہب بنانے کی اجازت ہونی چاہیے؟

مرزا ناصر: ہونی چاہیے۔

اٹارنی جنرل: مثلاً ہپی ہیں‘ یہ کہیں کہ ہمارا یہ حلیہ ہوگا‘ جو ان کا آپ دیکھتے ہیں۔ کہیں کہ ہر آدمی ننگا رہے گا‘ اس لیے کہ ننگا پیدا ہوتا ہے۔ ماں سے پیدا ہوتا ہے تو ماں سے شادی بھی کر سکتا ہے۔ ماں سے کئی بچے پیدا ہوتے ہیں تو کئی ایک سے نکاح بھی کر سکتے ہیں۔ پھر کہے انسانیت کی خاطر انسان کی قربانی جائز ہے۔ انسان کو مارنا انسانیت کے لیے ٹھیک ہے؟

مرزا ناصر: کیا پاکستان میں ایسا پرابلم ہے؟

اٹارنی جنرل: فرض کریں‘ وہ کہیں کہ ہم عیسائی ہیں تو کیا عیسائی حکومت ان میں دخل اندازی کر سکتی ہے؟

مرزا ناصر: اخلاقیات کے تحت۔

صفحہ 47

اٹارنی جنرل: تو آپ نے تسلیم کرلیا کہ اخلاقیات کے تحت پابندی لگائی جاسکتی ہے؟

مرزا ناصر: جی ہاں، اخلاقیات کے تحت میں تسلیم کرتا ہوں۔

اٹارنی جنرل: تو بشرط اخلاقیات اور بشرط امن عامہ؟

مرزا ناصر: جی ہاں۔

اٹارنی جنرل: تو آزادی مذہب پر بھی پابندی عائد ہو سکتی ہے؟

مرزا ناصر: ہاں، ہوسکتی ہے مگر ان پر مدبرانہ طور پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

اٹارنی جنرل: اور ان پابندیوں کے جانچنے کا معیار؟

مرزا ناصر: مجاز اتھارٹی کے پاس۔

اٹارنی جنرل: ہر شخص مذہبی آزادی کو استعمال کرسکتا ہے تاوقتیکہ دوسروں پر اثر انداز نہ ہو یا دوسروں کو ان کے حق سے محروم نہ کرے؟

مرزا ناصر: جی ہاں۔

اٹارنی جنرل: شکریہ۔ اچھا اب دیکھئے آئین پاکستان میں اسلامیہ جمہوریہ پاکستان لکھا ہے۔ اس کی تمہید میں یہ بات بھی ہے تاکہ مسلمان انفرادی و اجتماعی دائرہ کار میں اپنی زندگیوں کو تعلیمات و ضروریات اسلام کے بموجب گزارسکیں جو کہ قرآن وسنت نبوی......

مرزا ناصر: مسلمان کے تمام فرقے۔

اٹارنی جنرل: تمام فرقے، آپ جلدی سے میری بات میں نہ کودیں۔

مرزا ناصر: تمام مسلمان، کسی کو خارج نہ کریں۔

اٹارنی جنرل: میں ابھی نہیں کر رہا، آپ فکر نہ کریں۔ قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارسکیں۔ قانون ساز ادارہ پر فرض ہے کہ مذہبی امور میں قانون سازی کرے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟

مرزا ناصر: قاعدہ کلیہ نہ بنائیں، پھر آپ کہیں اور لے جائیں گے۔

اٹارنی جنرل: میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ چونکہ مقننہ کو قانون سازی کرنی ہے، اس مقصد سے کہ مسلمان اپنی زندگیوں کو احکام اسلامی کے مطابق بنا کر رہ سکیں۔ یہ حق ہے یا نہ، قانون سازی کا؟

مرزا ناصر: حق ہے۔ قانون بنانے کا حق رکھتے ہیں۔ میں بالکل مانتا ہوں۔

اٹارنی جنرل: اب آپ سے درخواست بصد ادب ہے کہ دفعہ نمبر 2 میں ہے اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا۔ کیا مطلب ہے اس کا؟

مرزا ناصر: حکومت کا مذہب اسلام ہوگا۔

اٹارنی جنرل: بالکل صحیح۔ یہ کہ حکومت کی سیاست مذہب کے مفاد کی ذمہ دار ہے؟

صفحہ 48

مرزا ناصر: تو کیا باقی لوگ.......

اٹارنی جنرل: سب کے حقوق کا خیال، جیسے امریکہ میں تمام کے حقوق کا خیال کیا جاتا ہے مگر امریکہ کا اپنا سرکاری مذہب کوئی نہیں، جبکہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے؟

مرزا ناصر: سرکاری مذہب مگر دیگر کے ساتھ انصاف۔

اٹارنی جنرل: بالکل انصاف رعایت۔ دفعہ نمبر 41 اور نمبر 91 بھی ہے کہ صدر اور وزیراعظم مسلمان ہوں گے؟

مرزا ناصر: یہ بنیادی نہیں۔

اٹارنی جنرل: یہ دستور کا حصہ ہے، لازمی ہے۔ ہدایت نہیں، لاگو ہے؟

مرزا ناصر: ہاں حصہ ہے، لاگو ہے۔ اصولی پالیسی کے تحت ہے، جی ہاں۔

اٹارنی جنرل: اب ایک شخص جو ہر دلعزیز ہے، مسلمان نہیں ہے، مسلمان کا ڈیکلریشن دے کر وہ اس عہدے کے لیے الیکشن لڑنا چاہتا ہے، کیا کوئی شخص اس پر اعتراض کرسکتا ہے؟

مرزا ناصر: ایسا آدمی نہ اہم ہوسکتا ہے، نہ بڑا نہ خدا ترس پارسا، جھوٹا ڈیکلریشن دے کر ذلیل ڈیکلریشن دے کر۔

اٹارنی جنرل: فرض کریں کہ وہ غیر مسلم ہو کر مسلمان کا ڈیکلریشن دے تو پھر؟

مرزا ناصر: اس صورت میں حکومت کو کورٹ میں جانا چاہیے۔

اٹارنی جنرل: یا الیکشن کمشنر کے ہاں؟

مرزا ناصر: جو بھی اتھارٹی ہو، آپ بتائیں کہ کاغذات کے لیے کس کے پاس جانا پڑتا ہے۔

اٹارنی جنرل: آپ نے حلف دیا ہے کہ آپ صحیح جواب دیں گے۔

چیئرمین: اس وقت وفد کو جانے کی اجازت۔ چھ بجے شام دوبارہ تشریف لائیں۔ (وفد چلا جاتا ہے)

مولانا شاہ احمد نورانی : جناب اٹارنی جنرل صاحب جو سوالات کرتے ہیں، وہ ان کا قطعی صاف صاف جواب نہیں دیتے۔ آپ میرے خیال میں ان کو پابند کریں کہ وہ پورا جواب دیں۔

چیئرمین: یہ آپ اٹارنی جنرل سے پوچھیں۔

مولانا شاہ احمد نورانی : یہ آپ کا امتیازی حق ہے۔ وہ ادھر ادھر ٹال جاتے ہیں۔

چیئرمین: یہ ان کا اپنا حربہ ہے۔

مولانا شاہ احمد نورانی : بہت اچھا۔

اٹارنی جنرل: اب سوالات کے جوابات پر ہی ان کو لاؤں گا۔

صفحہ 49

چیئرمین: آپ مطمئن رہیں۔

مولانا غلام غوث ہزاروی : یہ حقیقت ہے کہ سوال تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ان کا جواب گول مول کرتے ہیں۔

چیئرمین : ہاؤس ملتوی۔ شام چھ بجے تک۔

(شام چھ بجے اجلاس صاحبزادہ فاروق علی صاحب سپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا)

چیئرمین : ممبران کچھ کا خیال ہے کہ گواہ سوالات کے جوابات ٹال جاتا ہے۔ تجویز ہے کہ اگلا سوال اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ گواہ پہلے سوال کا صحیح جواب دے یا انکار کرے۔

اٹارنی جنرل : ہم گواہ کو مجبور نہیں کر سکتے۔ گواہ کے جواب سے' جو بھی وہ دئے' آپ مطلب اخذ کر سکتے ہیں کہ صحیح جواب ہے یا ٹال دیا یا انکار۔ یہ آپ اس کے جواب سے نتیجہ تو اخذ کر سکتے ہیں مگر اسے صحیح جواب دینے کے لیے پابند نہیں کر سکتے۔ کورٹ گواہ کا بیان دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔ اگر وہ بیان میں گڑ بڑ کر رہا ہے تو اس کے خلاف جاتا ہے۔

چیئرمین: وفد کو بلایا جائے۔ (وفد داخل ہوا)

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب چند ایک وضاحت طلب امور کی طرف ممبران نے توجہ دلائی ہے۔

ایک تو یہ کہ پاکستان میں احمدیوں کی تعداد اس لیے 1947ء میں باؤنڈری کمیشن کے سامنے جو احمدیوں کی طرف سے دستخط شدہ یادداشت پیش کی گئی' اس میں احمدی فرقہ کی تعداد 1947ء میں دو لاکھ بتائی گئی اور آپ نے صبح کہا کہ 1908ء میں احمدیوں کی تعداد چار لاکھ تھی۔ پہلے والی تعداد غلط تھی یا بعد والی آپ نے غلط بتائی؟

مرزا ناصر: آپ کے پاس دستاویز ہے۔

اٹارنی جنرل : یہ لیجئے۔

مرزا ناصر: دیکھ کر (خاموش) اعداد و شمار کے بغیر دوسرے اس سے حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ پانچ آدمیوں پر بھی ناجائز ظلم کیا جائے تو اتنا ہی برا ہے۔

اٹارنی جنرل : میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کم پر ظلم جائز ہے۔ میں چاہتا تھا کہ چونکہ ہم ایک ریکارڈ تیار کر رہے ہیں تو ہمارے پاس احمدیوں کی پاکستان میں نفری کی بالکل صحیح یا تقریباً صحیح تعداد ہو۔ خیر چلئے۔ میں دوسری بات کہہ رہا ہوں کہ 1901ء میں مرزا غلام احمد نے حکومت سے استدعا کی تھی کہ مردم شماری میں احمدیوں کو علیحدہ بتایا جائے' پھر 1911ء میں اور پھر 1913ء میں یہی ہوا؟

مرزا ناصر : مردم شماری کی کوئی تعداد صحیح نہیں۔

اٹارنی جنرل : صحیح نہ ہو' میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ 1913ء کے بعد مردم شماری کیوں منقطع

صفحہ 50

کر دی گئی۔ کیا آپ نے حکومت سے استدعا کی کہ علیحدہ نہ بتایا جائے یا حکومت نے ایسے کر دیا؟

مرزا ناصر: نہ معلوم کیوں ہوا؟

اٹارنی جنرل: ایک اور وضاحت درکار ہے۔ آپ نے صبح کہا کہ آپ کے پیرو آپ کو امام جماعت کہتے ہیں، لیکن آپ کا لقب خلیفۃ المسیح الثالث ہے۔ لفظ امام کی اہمیت واضح کریں کہ کس معنی میں وہ آپ کو امام کہتے ہیں؟

مرزا ناصر: میں نے آج تک نہیں کہا کہ مجھے امام کہو نہ امیر المومنین۔ ہماری جماعت میں عام طور پر استعمال نہیں ہوتا لیکن پاکستان میں جو استعمال ہوتا ہے وہ امیر المومنین مراد مبائعین ہیں۔

اٹارنی جنرل: میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ آپ اس ہاؤس میں تقریر کرنے آئے تھے تو آپ نے چیئرمین صاحب کو ٹوکا تھا اور درست کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آپ جماعت کے امام ہیں؟

مرزا ناصر: میں نے کہا کہ مجھے صدر انجمن احمدیہ نہ کہا جائے امام جماعت کہا جائے۔ میرے ذہن میں ہیڈ آف دی کمیونٹی تھا۔

اٹارنی جنرل: اس لیے میں وضاحت چاہتا تھا۔

مرزا ناصر: ہاں ہاں بالکل میں نے کہا تھا۔ مجھے یاد ہے اچھی طرح یاد ہے۔

اٹارنی جنرل: اب اگلا نکتہ یہ ہے جو میں صبح معلوم کرنا چاہتا تھا کہ بحیثیت ہیڈ خلیفہ یا امام کے اپنے عہدہ سے مستعفی ہو سکتے ہیں یا آپ کو مستعفی ہونے کی اجازت ہے؟

مرزا ناصر: یہ عہدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے تو اجازت نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل: آپ کو اگر غیر مسلم ڈکلیئر کر دیا جائے تو کیا اس کا قانون ساز ادارہ کو حق ہے؟

مرزا ناصر: اس سے ہمارے حقوق متاثر ہوں گے۔

اٹارنی جنرل: آپ کو اقلیت قرار دینے سے آپ کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے۔

مرزا ناصر: یہ بات ہے تو ہم اپنے حقوق کی حفاظت نہیں چاہتے۔

اٹارنی جنرل: آخر دوسری اقلیتیں بھی تو ہیں ان کے حقوق کا تحفظ بھی ہے؟

مرزا ناصر: پاکستان پر دھبہ لگے گا کہ ایسے ریزولیوشن پاس ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے ملک سے پیار ہے۔

اٹارنی جنرل: آپ کے حقوق محفوظ کرنے سے دھبہ لگے گا؟

مرزا ناصر: آخر اس سے فائدہ کیا ہوگا؟

اٹارنی جنرل: آپ کو اعتراض کیا ہے؟

مرزا ناصر: ہمیں کافر قرار دے کر کیا مقصد برآری ہوگی؟

صفحہ 51

اٹارنی جنرل: میں یہ پوچھتا ہوں کہ آپ پر کیسے اثر انداز ہوگا؟

مرزا ناصر: ہمارے ساتھ مناسب برتاؤ نہ ہوگا۔

اٹارنی جنرل: میں یہ پوچھتا ہوں کہ انسانی حقوق کے ڈکلیریشن کے بارے میں جو رائے ہے اس کا سوال اٹھتا ہی نہیں؟

مرزا ناصر: اب ٹھوس حقیقی سوچ تو یہ ہے کہ کسی کو حق نہیں کہ مجھے غیر مسلم کہے۔

اٹارنی جنرل: صبح تو آپ نے کہا کہ اتھارٹی ڈکلیئر کرسکتی ہے؟

مرزا ناصر: مگر وہ اور بات تھی۔

اٹارنی جنرل: آپ نے 21 جون کی تقریر میں کہا کہ اللہ تعالیٰ دکھا دے گا اپنی تجویز سے کہ کون مومن ہے اور کون کافر ہے۔ اب آپ اعلان کرتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں، دوسرا کہتا ہے کہ آپ مسلمان نہیں ہیں۔ ایک اعلان آپ کا ہے، ایک دوسرے کا۔ تو اس طرح کہنے سے آپ کے بنیادی حقوق میں رخنہ اندازی کیسے ہوئی؟ آپ جو کہیں وہ مان لیں تو ٹھیک ورنہ آپ کے حقوق میں رخنہ اندازی۔ اس کی میں وضاحت چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر: اگر کہیں تو ہمیں بالکل غصہ نہیں آئے گا۔

اٹارنی جنرل: اگر قانون ساز ادارہ کہے تو پھر؟

مرزا ناصر: حکومت کیوں دخل دے؟

اٹارنی جنرل: آپ نے صبح کہا کہ اتھارٹی، عدالت مسلم و غیر مسلم کا فرق کرنے پر؟

مرزا ناصر: صبح اور نکتہ نظر سے کہا ہوگا۔ (قہقہہ) لوگ ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں لیکن شائستگی۔

اٹارنی جنرل: اپنے لیے جس شائستگی کی توقع رکھتے ہیں، آپ بھی تو اس کا خیال رکھیں۔ آپ نے کہا کہ مسٹر بھٹو یا مفتی محمود یا مولانا مودودی؟

مرزا ناصر: مسٹر بھٹو سے مراد پیپلز پارٹی کے فرد کی تھی، پرائم منسٹر کی نہیں۔

اٹارنی جنرل: بات تو ایک ہے کہ وہ کافر کہے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ پیپلز پارٹی کا بھٹو یا پرائم منسٹر؟

مرزا ناصر: فرق پڑتا ہے۔

اٹارنی جنرل: چلو بھٹو صاحب کو چھوڑیں، مفتی محمود کو حق نہیں کہ آپ کو کہے مگر آپ کو حق ہے؟

مرزا ناصر: ان معنوں میں مجھے بھی حق نہیں۔

اٹارنی جنرل: کن معنوں میں حق ہے؟

مرزا ناصر: آپ اس کو چھوڑیں۔

صفحہ 52

اٹارنی جنرل: احمدیہ فرقہ اعتقاد رکھتا ہے کہ مرزا غلام احمد خدا کا رسول تھا؟ مرزا ناصر: نہیں۔ اٹارنی جنرل: کیا وہ نبی تھا؟ مرزا ناصر: یہ بھی ہمارا اعتقاد نہیں، بلکہ امتی نبی۔ اٹارنی جنرل: امتی کا کیا تصور ہے؟ مرزا ناصر: یعنی حضور علیہ السلام کا امتی جس پر آپؐ کا رنگ چڑھا ہوا ہو۔ اٹارنی جنرل: امتی بھی اپنی امت رکھ سکتا ہے؟ مرزا ناصر: حضور علیہ السلام کے بعد ایک امت ہے، وہ ہے امت محمدیہ۔ اٹارنی جنرل: کوئی علیحدہ امت نہیں بن سکتی؟ مرزا ناصر: یہ میں نے نہیں کہا۔ اٹارنی جنرل: شرعی اور غیر شرعی نبی میں کیا فرق ہے؟ مرزا ناصر: شرعی نبی وہ ہے جس پر شریعت نازل ہو، غیر شرعی جو پہلے کی شریعت پر عمل کرائے۔ اٹارنی جنرل: غیر شرعی کا منکر کافر ہو گا یا نہیں؟ مرزا ناصر: کافر کا معنی انکار کرنے والا، تو وہ ہوگا۔ اٹارنی جنرل: مرزا صاحب غیر شرعی تھے تو ان کا منکر کافر ہو گا؟ مرزا ناصر: منکر ہو گا یعنی کافر، لغوی۔ اٹارنی جنرل: اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسولوں میں سے کسی کا منکر مسلمان نہیں رہتا؟ مرزا ناصر: وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ ہے اور دنیاوی لحاظ سے مسلمان کی جو سیاسی تعریف ہے، اس لحاظ سے وہ کافر ہے۔ اٹارنی جنرل: میں آپ کی جماعت کی بات کر رہا ہوں؟ مرزا ناصر: ہمارے نزدیک بھی۔ اٹارنی جنرل: گویا کافر؟ مرزا ناصر: جی، گویا کافر۔ اٹارنی جنرل: تو گویا آپ کی جماعت کے علاوہ باقی سارے انسان کافر ہیں؟ مرزا ناصر: انسانیت کے مقام کا تو ہم احترام کرتے ہیں۔ اٹارنی جنرل: لیکن اسلام کے دائرہ میں نہیں، انسانیت کے دائرہ میں؟ مرزا ناصر: میں نہیں سمجھ سکا، میرا قصور ہے۔

صفحہ 53

اٹارنی جنرل: یہ جو ہے کہ جو مرزا کو نہیں مانتا‘ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے؟

مرزا ناصر: اسلام کے دائرہ سے خارج بھی کافر‘ اس کے دو معنی ہیں : ایک اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں‘ جس کا اس نے فیصلہ کرنا ہے اور کوئی دوسرا نہیں کر سکتا‘ دوسرا سیاسی ۔

اٹارنی جنرل: گویا دائرہ اسلام کی دو قسمیں ہیں : ایک سیاسی‘ ایک غیر سیاسی؟

مرزا ناصر: جی ہاں۔

اٹارنی جنرل: سیاسی مسلمان کی تعریف؟

مرزا ناصر: وہ تو میں نے اپنے محضر نامے میں لکھ دی ہے۔

چیئرمین: اس کو چھوڑیں‘ اگلا سوال کریں۔

اٹارنی جنرل: حال میں انگلینڈ میں آپ کی جماعت نے واقعہ ربوہ پر ریزولیوشن پاس کیا۔ میرے پاس اس کی نقل ہے کہ ”چونکہ پاکستان کے طول و عرض میں احمدی مسلمانوں پر غیر احمدی پاکستانیوں نے ظلم وتعدی توڑ دی ہے......“

مرزا ناصر: پاکستان میں غیر احمدی پاکستانی۔

اٹارنی جنرل: غیر احمدی پاکستانی کون ہیں؟ اپنے کو تو وہ احمدیہ مسلم کہتے ہیں‘ اور وہ کون لوگ ہیں جو یہ زیادتیاں کر رہے ہیں؟ یہ غیر احمدی پاکستانی کون ہیں؟

مرزا ناصر: مجھے علم نہیں‘ میں نے نہیں دیکھا‘ پہلی دفعہ سن رہا ہوں۔ یہاں لفظ غیر احمدی پاکستانی مسلم ہونا چاہیے تھا۔

اٹارنی جنرل: تو آپ کے لوگ مسلمانوں کو عام طور پر غیر مسلم ...... آپ مہربانی سے وضاحت کریں؟

مرزا ناصر: اس کی مجھے نقل دے دیں۔

اٹارنی جنرل: اخباروں میں بھی آیا ہے۔

مرزا ناصر: اخباروں میں تو غلط آتا ہے‘ میں تصدیق کروں گا۔

چیئرمین: وفد کے باہر جانے سے قبل ایک نکتہ کی وضاحت چاہتے ہیں۔ ایک سوال کیا گیا مگر جواب صاف نہیں ہوا کہ لفظ کافر جن معنوں میں ایک مسلمان سمجھتا ہے‘ کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ کافر وہ ہے جو مسلمان نہیں۔

مرزا ناصر: وہ احمدیہ مسلم نہیں ہے۔

چیئرمین: وہ مسلمان نہیں‘ یہ نکتہ وضاحت چاہتا ہے۔ وفد چلا جائے۔

8 بجے تک کے لیے وفد چلا گیا۔

صفحہ 54

بعد از مغرب کی کارروائی

مغرب کے بعد پھر آئے۔

اٹارنی جنرل: کافر کی وضاحت کر رہے ہیں۔ آپ نے مسلمان اور کافر کے حوالہ سے کہا کہ سیاسی معنی میں؟

مرزا ناصر: سیاسی اور دوسرا بھی۔ اس کا اپنا ایک دائرہ اسلام ہے، وہ اس کے اندر رہتا ہے سیاسی تعریف میں۔

اٹارنی جنرل: دوسری تعریف میں نہیں رہتا؟

مرزا ناصر: اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے، دنیا سے تعلق نہیں۔

اٹارنی جنرل: ہماری سوسائٹی میں جب کسی کو آپ کافر کہیں گے تو پبلک اس کا کیا اثر لے گی۔ آپ کی جماعت کا کوئی فرد کہتا ہے کہ فلاں کافر، فلاں کافر، تو ایک مسلمان پر کیا تاثر پیدا ہوگا کہ وہ شخص دائرہ اسلام سے باہر ہے یا اب بھی اسلام کی حد بندی میں ہے؟

مرزا ناصر: میں نے کبھی اپنی خلافت میں یہ لفظ استعمال نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل: احمدیہ کمیونٹی اپنے مخالفین کو کافر کہتی ہے مثلاً آپ کے والد، وہ بھی احمدیہ فرقہ کے سربراہ تھے؟

مرزا ناصر: 1958ء سے پہلے کہا ہوگا۔

اٹارنی جنرل: تو کیا وہ مخالفین کو کافر سمجھتے تھے؟

مرزا ناصر: یہ کام اللہ تعالیٰ کو پیارا نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل: مسلمان ہیں یا نہیں۔ ”آخر گناہگار ہوں کافر نہیں ہوں میں۔“ اگر میں مرزا غلام احمد کو نہ مانوں تو آپ کی نظر میں گناہگار ہوں یا کافر ہوں؟

مرزا ناصر: آپ مرزا کے منکر ہیں۔ کفر کا معنی لغوی ہے منکر، تو کیا آپ نہ مان کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ مانتا ہے۔

اٹارنی جنرل: مرزا غلام احمد گزرے ہیں، لوگوں نے ان کو دیکھا ہے، ان کے وجود سے تو کوئی انکار نہیں کرتا۔ اگر میں کہوں کہ اس وقت شام نہیں تو میں منکر ہوں گا کافر نہیں ہوں گا؟

مرزا ناصر: نہیں، مرزا صاحب کی نبوت کے منکر۔

اٹارنی جنرل: جو ان کی نبوت کا منکر وہ کافر؟

مرزا ناصر: منکر کو ہم کیسے کہیں کہ وہ مانتا ہے۔

اٹارنی جنرل: آپ کیا کہتے ہیں۔ مرزا کی نبوت کا منکر کافر ہے یا نہ؟

صفحہ 55

مرزا ناصر: ایک معنی میں ہے‘ ایک میں نہیں یعنی سیاسی اور لغوی۔

اٹارنی جنرل: ایک آدمی مرزا غلام احمد کا منکر ہے تو وہ کافر ہے سیاسی‘ تو سیاسی کافر کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے یا نہ؟ اس لیے کہ اسلامی کافر کے پیچھے تو نماز جائز نہیں مگر سیاسی کافر کے پیچھے؟

مرزا ناصر: یہ علیحدہ مسئلہ ہے۔

اٹارنی جنرل: مگر اسے حل تو کرنا ہوگا۔ میں مثال دے رہا ہوں۔

مرزا ناصر: وہ یہ ہے کہ فرقہ اعلان کرتا ہے کہ میرے پیچھے نماز پڑھو۔

اٹارنی جنرل: اور وہ سیاسی کافر ہیں؟

مرزا ناصر: نہیں نہیں‘ دیکھیں کہ دیوبندی کہتے ہیں کہ احمدیہ فرقہ کے لوگ ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھیں تو ہم فتنہ سے بچنے کے لیے نہیں پڑھیں گے ان کے پیچھے۔

اٹارنی جنرل: آپ کے عقیدہ کے مطابق ایک شخص‘ جسے آپ کافر کہیں کیونکہ وہ مرزا کو نہیں مانتا‘ اسلام کے دائرہ سے خارج ہو تو پھر اس کے......

مرزا ناصر: اسلام کے دائرہ سے خارج تو میں نے قرآن میں کہیں نہیں پڑھا۔

اٹارنی جنرل: جب آپ اس محاورہ کو استعمال کرتے ہیں تو کس معنی میں استعمال کرتے ہیں؟

مرزا ناصر: میں استعمال نہیں کرتا۔

اٹارنی جنرل: آپ کے باپ‘ دادا‘ بھائیوں‘ جماعت نے کہا کہ مرزا کو نہ ماننے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے؟

مرزا ناصر: میرے نزدیک پتہ نہیں۔ آپ مجھ سے پوچھیں گے تو میں قیامت کے دن تک قابل مواخذہ کہوں گا۔

اٹارنی جنرل: قابل مواخذہ ہوں گے تو کافر بھی ہوں گے‘ گنہگار بھی۔ آپ کس کیٹیگری میں رکھتے ہیں؟

مرزا ناصر: قابل مواخذہ کی کیٹیگری میں۔

اٹارنی جنرل: قابل مواخذہ کی کیٹیگری میں‘ کافر اور گنہگار آپ کے نزدیک کیا سب برابر؟

مرزا ناصر: کافر ہی گنہگار اور جو خدا کا حکم نہیں مانتا‘ نبی کا حکم نہیں مانتا‘ وہ تو کافر گنہگار ہے‘ باقی گنہگار یونہی کافر ہے۔

اٹارنی جنرل: مرزا صاحب ہر گنہگار کافر نہیں ہے لیکن ہر کافر گنہگار ہے؟

مرزا ناصر: ہر کافر گنہگار ہے۔

اٹارنی جنرل: تو مرزا کا منکر کافر / گنہگار ہے؟

صفحہ 56

مرزا ناصر: جی‘ کافر اور گنہگار اور قابل مواخذہ۔

اٹارنی جنرل: چلو اب قابل مواخذہ تو کوئی زیادہ کوئی کم۔ کسی کو سزا زیادہ‘ کسی کو کم؟

مرزا ناصر: سزا دینا میرا کام نہیں اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔

اٹارنی جنرل: گنہگار جنت میں جاسکتا ہے لیکن کافر نہیں جاسکتا؟

مرزا ناصر: پھر اختلافی مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ہمارے نزدیک ہمیشہ کی جہنم ہے نہیں‘ کافر بھی جنت میں جاسکتا ہے۔

اٹارنی جنرل: قرآن وحدیث کی رو سے کافر دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے؟

مرزا ناصر: قرآن وحدیث میں دائرۂ اسلام کا محاورہ نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل: مسلمان رہتا ہے یا نہیں؟ اگر مسلمان نہیں رہتا تو وہ اسلام کے دائرہ میں نہ رہا۔ ایک حدیث میں ہے اور اگر حدیث کو نہیں مانتے تو آپ کے والد نے کہا ہے اسے تو مان لیں۔ یہ میرے ہاتھ میں ان کی کتاب ہے‘ آپ کے والد کی‘ وہ کہتے ہیں کہ جو مرزا کو نہیں مانتے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں؟

مرزا ناصر: کفر کفر میں فرق ہے۔ ایک کفر وہ ہے جو ملت سے خارج کر دیتا ہے‘ ایک وہ کفر ہے جو ملت سے خارج نہیں کرتا۔ جو کلمہ کا انکار کرے‘ وہ ملت سے خارج ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل: اور جو مرزا کی نبوت کا انکار کرتا ہے‘ وہ ملت سے خارج نہیں ہوتا؟

مرزا ناصر: نہیں ہوتا۔

اٹارنی جنرل: ایک آپ کی یہ شہادت ہے‘ ایک آپ کے والد کی منیر کمیشن میں شہادت تھی‘ دونوں میں فرق ہے تو کون صحیح ہوگا؟

مرزا ناصر: منیر کمیشن میں میرے والد نے کہا مگر اور جگہ بھی تو کہا‘ سب کو دیکھنا ہے۔

اٹارنی جنرل: ایک عدالت کے سامنے جو ریکارڈ‘ شہادتیں اور دلائل ہوتے ہیں؟

مرزا ناصر: مجھے نہیں معلوم کہ میرے باپ نے کیا کہا‘ مگر میں ملت سے خارج نہیں مانتا۔

اٹارنی جنرل: ایک شخص عیسیٰ علیہ السلام کا منکر ہے‘ وہ سیاسی کافر ہے یا اسلامی کافر؟

مرزا ناصر: جو شخص قرآن کے فیصلوں کو نہیں مانتا‘ وہ سیاسی مسلمان تو ہے۔

اٹارنی جنرل: ایک شخص اللہ تعالیٰ کے تمام حکم مانتا ہے مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا؟

مرزا ناصر: وہ قرآن کا باغی ہے۔

اٹارنی جنرل: وہ کافر ہوا؟

مرزا ناصر: کافر کون ہوتا ہے؟

صفحہ 57

اٹارنی جنرل: جسے مسلمان تصور نہ کیا جائے جو ملت اسلامیہ سے نکل جائے، اس لحاظ سے عیسیٰ علیہ السلام کا منکر کیا ہوگا؟

مرزا ناصر: ملت اسلامیہ سے نکل جائے گا۔

اٹارنی جنرل: اور جو مرزا کو نہیں مانتا؟

مرزا ناصر: وہ قابل مواخذہ۔

اٹارنی جنرل: ملت اسلامیہ سے نکل گیا؟

مرزا ناصر: سیاسی معنوں میں نہیں نکلا۔

اٹارنی جنرل: حقیقی معنوں میں نکل گیا؟

مرزا ناصر: جی۔

اٹارنی جنرل: صرف جی نہیں، بلکہ صاف فرمائیں کہ نکل گیا؟

مرزا ناصر: کہہ تو دیا ہے کہ ایک معنی میں کافر ہے، دوسرے میں مسلمان۔

اٹارنی جنرل: ایک شخص نبی علیہ السلام کو نہیں مانتا تو وہ؟

مرزا ناصر: جاہل آدمی ہے۔

اٹارنی جنرل: وہ کافر ہو گیا کہ نہیں؟

مرزا ناصر: وہ سیاسی معنوں میں ملت اسلامیہ سے نکلے گا، دوسرے معنوں میں نہیں۔

اٹارنی جنرل: پھر نبی کریم کا منکر بھی مسلمان ہے؟

مرزا ناصر: ہاں، جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان رہتا ہے۔

اٹارنی جنرل: آپ کے نزدیک؟

مرزا ناصر: چھوڑیئے، کس جھگڑے میں پڑ گئے۔ لوگوں کو تو کلمہ طیبہ نہیں آتا۔

اٹارنی جنرل: یہی تو میں کہہ رہا تھا کہ جسے کلمہ نہیں آتا ہے، عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا، اللہ کے احکام کو نہیں مانتا، وہ ملت اسلامیہ سے نکلے گا؟

مرزا ناصر: سیاسی طور پر نکلے گا نہیں نہیں، یہ کہیں آپ وہ بالکل نکلے گا۔

اٹارنی جنرل: جو مرزا غلام احمد کی نبوت سے انکار کرتا ہے، وہ بھی بالکل نکلے گا؟

مرزا ناصر: جو اللہ کے حکم نہ مانے وہ نکلے گا۔

اٹارنی جنرل: اللہ تعالیٰ کا حکم ہے مرزا کو مانو، ایک شخص نہیں مانتا؟

مرزا ناصر: تو وہ ایسے نکلے گا جیسے پہلا نکلا تھا۔

اٹارنی جنرل: ایک شخص نے اگرچہ عیسیٰ علیہ السلام کا نام بھی نہ سنا، وہ انکار کرے تو؟

صفحہ 58

مرزا ناصر: سیاسی طور پر بالکل نہیں نکلے گا بلکہ مسلمان ہوگا۔

اٹارنی جنرل: آپ کے والد نے کہا کہ وہ بھی کافر ہے جس نے مرزا کا نام بھی نہ سنا ہو تو اس کا کیا معنی؟

مرزا ناصر: واضح ہے۔

اٹارنی جنرل: کہ مرزا کا منکر کافر ہے؟

مرزا ناصر: جس معنی میں‘ میں نے کہا۔

اٹارنی جنرل: اور جس معنی میں آپ کے باپ نے کہا؟

مرزا ناصر: جی وہ بھی۔

اٹارنی جنرل: آپ کے باپ نے کہا کہ ”کل مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے‘ خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام نہ سنا ہو‘ وہ بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

مرزا ناصر: کتاب دیکھ کر بتاؤں گا۔

اٹارنی جنرل: آپ کے باپ کی کتاب ہے ”آئینہ صداقت“ صفحہ 35 ہے۔

چیئرمین: کیا کہا اس کتاب میں؟

اٹارنی جنرل: کہ ”کل مسلمان‘ جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے‘ خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام نہ سنا ہو‘ وہ بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

مرزا ناصر: کفر کے دو قسم بتائے ہیں‘ ایک یہ بھی ہے۔ یہی بات انہوں نے منیر کمیشن میں کہی تھی کہ وہ سیاسی کافر ہوں گے۔

اٹارنی جنرل: اور یہ ممبران اسمبلی جو مرزا کو نہیں مانتے تو یہ؟

مرزا ناصر: میں نے کہہ دیا ہے۔

اٹارنی جنرل: منیر کمیشن کی کتاب صفحہ 218 اور صفحہ 219 پڑھ دیتا ہوں۔

مرزا ناصر: پڑھیں نہ‘ صرف صفحہ بتا دیا ہے‘ کافی ہے۔

اٹارنی جنرل: آپ گھبرائیں نہ‘ چلو نہیں پڑھتا۔ مگر جب آپ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی کافر ہے تو اس کا عوام پر کیا امپریشن (Impression) پڑتا ہے؟

مرزا ناصر: کب کہا جاتا ہے؟

اٹارنی جنرل: جیسے انگلینڈ میں کہ فلاں کافر ہے‘ تو کافر سے مراد کیا ہوتی ہے؟

مرزا ناصر: میں اپنے عقیدہ کی بات کرتا ہوں۔ جسٹس منیر یا کوئی اور شخص اسے قبول نہیں کرتا‘ تو اس کی اپنی رائے ہے‘ میں اپنی بات کرتا ہوں۔

صفحہ 59

اٹارنی جنرل: مگر آپ کے مرزا بشیر صاحب نے کہا کہ ”جو شخص موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا‘ یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا‘ یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا‘ تو وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ (کلمتہ الفصل صفحہ 110 مرزا بشیر ابن مرزا غلام احمد قادیانی)

مرزا ناصر: دائرہ اسلام کی بھی آگئی ہے۔

اٹارنی جنرل: صرف سیاسی لحاظ سے کافر ہے اور خارج ہے؟

مرزا ناصر: یہی جواب ہے۔

اٹارنی جنرل: تو وہ سیاسی لحاظ سے پکا کافر اور خارج ہے؟

مرزا ناصر: یہی ہے۔

اٹارنی جنرل: ایک شخص عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے‘ ابراہیم علیہ السلام کو مانتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا‘ وہ مسلمان ہو گیا؟

مرزا ناصر: نہیں نہیں‘ وہ کیسے ہو گیا‘ نبی علیہ السلام کا منکر کیسے مسلمان ہے۔

اٹارنی جنرل: ایک نبی کو نہیں مانتا؟

مرزا ناصر: نہیں‘ وہ کیسے مسلمان ہو گیا۔

اٹارنی جنرل: وہ بالکل کافر؟

مرزا ناصر: جو مرضی کہیں‘ وہ تو انسان بھی کہلانے کا مستحق نہیں۔

اٹارنی جنرل: یعنی دائرہ اسلام میں مسلمان کی طرح نہیں کہلائے گا؟

مرزا ناصر: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا تو وہ کیسے دائرہ اسلام میں آگیا۔

اٹارنی جنرل: اگر مرزا غلام احمد کو نہیں مانتا تو وہ آجائے گا؟

مرزا ناصر: جو نہیں مانتا تو دو دائرے آگئے‘ ایک دائرے میں آجائے گا‘ دوسرے دائرے کے اندر نہیں آتا۔

اٹارنی جنرل: چلو دو دائرے ہوئے‘ تو غیر احمدی‘ جو مرزا کو نبی نہیں مانتے‘ وہ اسلام کے ایک دائرے سے خارج ہوگئے یعنی کافر ہیں۔ ”الفضل“ 26-29 جون 1922ء میں ہے کہ چونکہ ہم مرزا کو نبی مانتے ہیں‘ غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے‘ تو وہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کسی بھی نبی کا انکار کفر ہے اور غیر احمدی بھی کافر ہیں؟

مرزا ناصر: یہ پہلے ہو چکا ہے‘ میں نے کہہ دیا ہے۔

چیئرمین: ایک بات کی وضاحت ہونی چاہیے کہ کیا یہ تسلیم ہیں......؟

اٹارنی جنرل: انکار نہیں کیا گیا؟

صفحہ 60

مرزا ناصر: دے دیں‘ میں چیک کرلوں گا۔

اٹارنی جنرل: آپ کے پاس مکمل فائل ہے۔

مرزا ناصر: یہ حوالہ کونسا ہے؟

اٹارنی جنرل: 26-29 جون 1922ء ہے۔ آگے آتا ہے ”انوار خلافت“ مصنفہ مرزا محمود کے صفحہ 89 پر ہے کہ ”حضرت مسیح موعود نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ تم جتنی دفعہ پوچھو‘ یہی جواب دوں گا۔ غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ جائز نہیں‘ نہیں‘ نہیں۔“

مرزا ناصر: یہ میں نے محضر نامے میں کہی ہے۔ آپ بتائیں کہ غیر احمدی‘ احمدیوں کے پیچھے کیوں نہیں پڑھتے؟

اٹارنی جنرل: وہ آپ کو کافر سمجھتے ہیں تو آپ ان کو بھی کافر سمجھ کر نہیں پڑھتے؟

مرزا ناصر: کئی وجوہات ہیں‘ ایک یہ بھی۔

اٹارنی جنرل: یہ نہیں‘ میں بتا دیتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ ”انوار خلافت“ کے صفحہ 90 پر ہے کہ ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ وہ ہمارے نزدیک خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“

مرزا ناصر: اب آپ نے نماز کا مسئلہ شروع کر دیا۔

اٹارنی جنرل: نبی کے منکر ہونے کے باعث نماز غیر احمدیوں کے پیچھے جائز نہیں؟

مرزا ناصر: تو ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل: ایک شخص اعلان کرتا ہے کہ مرزا غلام احمد کافر ہے‘ اس شخص کو آپ کافر نہیں کہیں گے۔ دو سو نے کہا یا دو کروڑ یا بیس کروڑ مسلمان ہیں‘ ان سب کو کافر سمجھیں گے۔ اگر وہ یہ اعلان نہ کریں کہ مرزا غلام احمد نبی ہے؟

مرزا ناصر: چونکہ ایمان کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ اور ملت اسلامیہ سے خارج ہیں۔

اٹارنی جنرل: اور جو کافر نہ کہے؟

مرزا ناصر: ان کو نہیں۔

اٹارنی جنرل: دیکھئے آپ کہتے ہیں کہ وہ نہیں۔ آپ کے باپ نے کہا کہ جس نے مرزا کو نہیں مانا ’چاہے نام بھی نہ سنا‘ وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے؟

مرزا ناصر: ایک معنوں میں وہ بھی۔

صفحہ 61

اٹارنی جنرل: کل مسلمان وہ کافر؟

مرزا ناصر: جو مسیح موعود کی بیعت میں نہیں۔

اٹارنی جنرل: یعنی احمدیوں کے علاوہ باقی سب کافر دائرۂ اسلام سے خارج ہیں؟

مرزا ناصر: جی‘ ملت اسلامیہ میں شامل اور دائرۂ اسلام سے خارج۔

اٹارنی جنرل: یعنی لیبل کے مسلمان حقیقت میں کافر اور خارج از اسلام؟

مرزا ناصر: جی‘ خارج عن دائرۃ الاسلام ہوں گے۔

اٹارنی جنرل: آپ کی کتابوں میں؟

مرزا ناصر: آپ صرف ریفرنس دیں‘ عبارت نہ پڑھیں‘ میں چیک کرلوں گا۔

اٹارنی جنرل: ”انوار خلافت“ ”آئینہ صداقت“ اپنے والد کی فی الحال چیک کرلیں۔ اس کے علاوہ تو میں نے کوئی ریفر ہی نہیں کی۔

چیئرمین: (وفد سے) آپ جائیں۔ کل صبح۔

(وفد چلا گیا)

مولانا شاہ احمد نورانی: مرزائی بعض دفعہ سر ہلا دیتے ہیں جو ریکارڈ پر نہیں آتا۔ آپ اس کو چیک کریں کہ وہ جواب دیں جو ریکارڈ پر آئے۔ وہ بیٹھ کر جواب دیتے ہیں۔

ایک رکن: اٹارنی جنرل بھی بیٹھ کر سوال کریں۔

مولانا شاہ احمد نورانی: اٹارنی جنرل تھک گئے ہوں گے‘ یہ بھی بیٹھ کر سوال کریں یا وہ بھی کھڑے ہوکر جواب دیں۔

اٹارنی جنرل: مجھے بیٹھ کر سوال کرنے کی اجازت ہے لیکن میں خود کھڑا ہو کر سوال کرتا ہوں۔

مولانا شاہ احمد نورانی: تو وہ بھی کھڑے ہوکر جواب دیں۔ اگر اراکین کھڑے ہوکر سوال کریں تو جواب بھی کھڑے ہوکر دینا چاہیے۔

چیئرمین: مگر یہ نیشنل اسمبلی کی سپیشل کمیٹی ہے۔

مولانا شاہ احمد نورانی: مگر گواہ کو عدالت میں بیٹھنے کا حق نہیں۔

چیئرمین: ان کو چلنے دیں‘ ان سے پوچھیں کہ ان پر کیا گزر رہی ہے۔

چیئرمین: مسٹر عبدالعزیز بھٹی۔

جناب عبدالعزیز بھٹی: سر میں گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ جو سوال کیے جاتے ہیں‘ ان کا ڈائریکٹ جواب دینے سے ایوائڈ (Avoid) کرتے ہیں‘ تکرار کرتے ہیں اور اس میں وہ دھوکہ کی راہ نکالتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ چیئرمین کا فرض ہے کہ ان کو پابند کریں کہ وہ ڈائریکٹ جواب دیں تاکہ بحث

صفحہ 62

مباحثے میں نہ پڑیں۔

جناب شاہ صاحب : میں بڑے ادب سے گزارش کرتا ہوں کہ جب تک وہ واضح جواب نہ دیں‘ آگے نہ چلنے دیں تاکہ ہیرا پھیری نہ کرسکیں۔

چیئرمین: آج پہلا دن ہے‘ آگے شارٹ کٹ ہوگی۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: آج انہوں نے مرزا کے منکرین کو کافر کہا کہ وہ اسلام سے خارج ہیں۔ ہم سب کو سوچنا چاہیے کہ وہ تو ہمیں کافر کہیں اور ہم ان کے بارے میں بحث میں وقت لگاتے رہیں‘ آخر اس کا کوئی جواز ہے؟

چیئرمین: یہ سپیشل کمیٹی ہے۔ آپ حضرات نے ایک پروسیجر بنایا ہے‘ اسے آگے چلنے دیں۔ آخر جلدی کیا ہے۔

مولانا غلام غوث : چلنے دیں اور اپنے اوپر بلکہ پوری ملت اسلامیہ پر کفر کے فتوے لگانے دیں۔ وہ ان سوالات کے جوابات دینے کے پابند ہیں جو اٹارنی جنرل کریں۔

چیئرمین: اٹارنی جنرل مناسب سمجھیں تو صدر کی توجہ مبذول کراسکتے ہیں۔

اٹارنی جنرل: ان کو کسی سوال کے جواب کی ضرورت ہی نہیں۔ آپ حضرات بطور جج گواہ کے رویہ اور انداز کو نوٹ کریں۔ اس کی ہچکچاہٹ‘ اس کا جواب دینے سے کترانا‘ ان سب باتوں سے آپ لوگ اپنے نتائج مرتب کر سکتے ہیں۔ استنباط مناسب حال یا نا موافق کرتے رہیں۔ ہر ایک چیز کو نوٹ کریں پھر خود اپنے آپ صحیح فیصلہ کریں۔

چیئرمین: ایک بات کی میں ممبران کو یاد دہانی کرا دوں کہ ہم گواہ کی رائے تو حاصل کر رہے ہیں۔ گواہ کی رائے ہی قانون شہادت کی رو سے اہم ہوتی ہے۔

عزیز بھٹی : گواہ کا طور طریقہ کہ وہ کیسا طرز عمل اختیار کرتا ہے‘ یہ کیسے ریکارڈ ہو‘ صرف الفاظ ریکارڈ ہو رہے ہیں۔

چیئرمین: آپ دیکھ رہے ہیں‘ یہ نوٹ ہو رہا ہے۔

حاجی مولا بخش سومرو: میری حقیر گزارش ہے کہ جناب بڑے آدمی ہیں‘ آپ کے صبر کی تعریف کرتا ہوں لیکن میں یہ کہوں گا کہ ان کو کھلی چھٹی نہ دیں۔ وہ بہت ٹال مٹول والے جواب دے رہا ہے۔ ایک ہی سوال ایک سانس میں بار بار دہرانا پڑتا ہے۔ تنگ آجانے والی بات ہورہی ہے ہمارے لیے۔ میں آپ کے صبر کی تعریف کرتا ہوں مگر ان کو صدر کی طرف سے ٹوک ہونی چاہیے کہ وہ اس سے باز رہے۔

جناب اتالیق علی شاہ: جناب جواب واضح حاصل کریں غیر مبہم‘ ہاں یا نہ لمبا نہ کریں۔

صفحہ 63

چیئرمین: پہلا دن ہے' شارٹ کٹ کریں گے۔

مولانا غلام غوث : منکرین مرزا دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ نہ بھولنے دیجئے۔ بار بار نوٹ کرائیں' ضروری نکتہ ہے۔

چیئرمین: کل صبح دس بجے۔

6۔ اگست 1974ء کی کارروائی

بروز منگل دس بجے صبح

زیر صدارت: صاحبزادہ فاروق علی خاں

چیئرمین : کیا شروع کیا جائے؟

اٹارنی جنرل: جی ہاں۔

چیئرمین : میں سوچتا ہوں کہ ان کو قائل کرنے کے لیے کتابیں آپ (اٹارنی جنرل) کے پاس رکھ دی جائیں۔

اٹارنی جنرل : وہ موجود ہیں۔

چیئرمین : اٹارنی جنرل صاحب کے پاس آپ حضرات چٹیں بھیجتے ہیں' وہ ان کے مطابق سوال کرتے ہیں۔ وہ دوچتی میں مبتلا نہ ہوں۔ تمام سوالات جناب مولانا ظفر احمد انصاری اور عبدالعزیز بھٹی جمع کریں اور پھر جناب اٹارنی جنرل کو وقفہ میں دے دیں' اس کے بعد وہ زیر بحث لائیں۔ درمیان میں کھسر پھسر کو میں اچھا نہیں سمجھتا۔

چوہدری جہانگیر علی: اہم کاغذات کا ترجمہ لکھا ہوا یا گواہیوں کے ترجمہ کی ضرورت ہے؟ یہ جج کا کام ہے۔

چیئرمین : جی ہاں' آپ لوگ جج ہیں۔

چوہدری جہانگیر علی : مگر وفد کے لوگ تو خصوصی کمیٹی کے وقت کو ضائع کر رہے ہیں۔

بیگم نسیم جہاں : یہ جو سوالاتی کمیٹی ہے' اس میں کسی عورت کو پیش ہونے کی اجازت ہے؟

چیئرمین : اس کا محدود فائدہ ہوگا۔

بیگم نسیم جہاں : نبی علیہ السلام کی عزت و ناموس کے لیے ہمیں بھی تو......

صفحہ 64

چیئرمین : ایک رکن بیگم شیریں وہاب ہیں، آپ نہ تھیں۔ اس معاملہ کو سٹیئرنگ کمیٹی کے ساتھ طے کروں گا تا کہ آپ کی رائے ان تک پہنچ جائے۔ (وفد کو بلا لیا جائے)

(وفد داخل ہوا)

اٹارنی جنرل : کل آپ نے کہا کہ کافر دو قسم کے ہیں۔ فرمائیں کہ مرزا کا منکر کونسا کافر ہے؟

مرزا ناصر : اگر وہ انکار پر اصرار کر رہے ہیں، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوں گے۔ میں نے کہا کفر کی دو قسم ہیں۔ ایک کافر جو ملت سے خارج، ایک کافر وہ جو دائرہ اسلام سے خارج۔

اٹارنی جنرل : میں آپ کی توجہ مرزا بشیر کی تحریر کی طرف مبذول کراؤں گا جو کہتے ہیں کہ ”حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ وہ سلوک جائز رکھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کا جنازہ پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک دینی اور دوسرے دنیوی۔ دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے۔ دنیوی تعلق رشتہ ناتہ ہے، سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیے گئے۔ اگر کہو کہ ہمیں ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔ اگر کہو کہ غیر احمدی کو سلام کیوں کیا جاتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ حضور نے یہودیوں کو سلام کا جواب دیا ہے۔

(”کلمۃ الفصل“ ص 169-170)

مرزا ناصر :: دیکھیں کہ احمدی اور غیر احمدی کے رشتہ سے تعلقات ناخوشگوار ہوں گے۔

اٹارنی جنرل : مگر احمدی ایک غیر احمدی لڑکی سے شادی کرلے تو پھر خوشگوار ہوں گے؟ آپ معاملہ کو خلط نہ کریں۔ یہ عبارت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ آپ لوگ غیر احمدیوں کو عیسائیوں اور یہودیوں جیسا کافر سمجھتے ہیں؟

مرزا ناصر : یہ شرعی فتویٰ نہیں۔

اٹارنی جنرل : جماعت کا انتظامی مسئلہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو عیسائیوں اور یہودیوں کا درجہ دے؟

مرزا ناصر : جو شخص ملت سے خارج ہو، ان سے رابطے کا آپ کیا تقاضا کرتے ہیں؟

اٹارنی جنرل : واضح طور پر فرمائیں کہ

مرزا ناصر : مجھے حوالہ دے دیں، چیک کر کے پھر وضاحت کر سکوں گا۔

اٹارنی جنرل : فرض کریں؟

مرزا ناصر : فرض نہ کریں، میرا دماغ کمزور ہے۔ ”فرض کریں“ کو میں تصور میں نہیں لاسکتا۔

صفحہ 65

پہلے مولویوں نے ہمیں کافر کہا اور فتویٰ دیا۔

اٹارنی جنرل : ایک آدمی نے فتویٰ نہیں دیا‘ اس کے ساتھ کیا سلوک روا رکھیں گے‘ یہودیوں کا یا عیسائیوں کا؟

مرزا ناصر : مگر وہ فتویٰ بازوں کے ساتھ مل گیا ہو تو پھر ان کو علیحدہ کیسے کریں گے؟

اٹارنی جنرل : گویا تمام‘ کچھ فتویٰ باز اور کچھ ان کے ساتھی‘ لہٰذا سب برابر؟

مرزا ناصر : کیا کریں‘ پوزیشن یہ ہو گئی‘ اس لیے ہم نے کہا کہ نماز وغیرہ جائز نہیں۔

اٹارنی جنرل : مگر قائداعظم نے تو آپ کے خلاف کوئی فتویٰ نہ دیا تھا؟

مرزا ناصر : مگر اس کی موجودگی میں حامد بدایونی نے لاہور کے اجلاس میں ہمارے خلاف فتویٰ دیا اور قرارداد پیش کی‘ اس لیے قائداعظم کو ہمارے خلاف فتویٰ کا علم تھا۔

اٹارنی جنرل : مگر انہوں نے فتویٰ تو نہیں دیا؟

مرزا ناصر : مگر فتویٰ سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے ہمارے کفر پر فتویٰ کے خلاف کچھ صادر نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل : ایک آدمی سن نہیں سکتا‘ دیکھ نہیں سکتا؟

مرزا ناصر : وہ مرفوع القلم ہے‘ پاگل ہے‘ قابل مواخذہ نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : اور چھ سال کا بچہ بھی تو؟

مرزا ناصر : وہ باپ کے مذہب کے تابع ہوگا‘ ان کا وہی حکم ہوگا۔

اٹارنی جنرل : اس لیے ان کا نماز جنازہ وغیرہ بھی‘ عیسائی یہودی بچوں کی طرح ناجائز ہوگا؟

مرزا ناصر : جی جی‘ مگر ایسے فتوے تو ایک فرقہ دوسرے کے خلاف دیتا ہے مثلا مولانا احمد رضا خان نے وہابیوں‘ دیوبندیوں کے متعلق کہا کہ ......

چیئرمین : آپ نے محضر نامے میں ان فتویٰ جات کی تفصیل ذکر کر دی ہے‘ اس لیے اب ان کو دوبارہ زیر بحث لا کر وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔

اٹارنی جنرل : جی چھ سال کے بچہ کا جنازہ کیوں جائز نہیں‘ وہ نہ فتویٰ باز ہے‘ نہ ان کا ساتھی؟

مرزا ناصر : بچہ کا جنازہ فرض نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : اچھا آپ احمدی بچوں کے جنازے نہیں پڑھتے؟

مرزا ناصر : نہیں‘ وہ تو پڑھتے ہیں۔ (قہقہہ) میں نے کہہ دیا ہے کہ پہلے حوالہ چیک کروں گا پھر ......

اٹارنی جنرل : آپ کے نزدیک یہ حوالہ نہیں ہے؟

صفحہ 66

مرزا ناصر : میں نہ تردید کرتا ہوں نہ تصدیق کرتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : اچھا ”انوار خلافت“ آپ کے والد کی ہے اس کے صفحہ 93 پر لکھا ہے ”لیکن اگر کسی غیر احمدی کا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔۔۔۔۔ اس لیے غیر احمدی بچوں کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔“

مرزا ناصر : میرے والد نے انکوائری کمیشن منیر کے سامنے کہا تھا کہ ایک فتویٰ مرزا صاحب کا اب دریافت ہوا ہے کہ پڑھ لیں۔ مگر کیا کریں مسلمان تو ہماری لاشوں کو دفن نہیں ہونے دیتے۔

اٹارنی جنرل : مسلمان آپ کو کافر سمجھتے ہیں اس لیے آپ کی لاشوں کو اپنے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیتے۔ کیا آپ بھی ان کو کافر سمجھ کر ان کے بچوں کا جنازہ نہیں پڑھتے؟

مرزا ناصر : کونسی کتاب کا حوالہ تھا؟

اٹارنی جنرل : صفحہ 93 ”انوار خلافت“ آپ کے والد کی۔

مرزا ناصر : میرے والد کی پھر ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : ایک آپ کی لاش دفن نہ ہونے دے۔ اس نے غلطی کی تو آپ بھی پھر غلطی کریں گے؟

مرزا ناصر : اور کیا کریں گے۔ (قہقہہ) دیکھئے میرا جماعت احمدیہ کے تیسرے خلیفہ کی حیثیت سے یہ فتویٰ ہے کہ نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔ دیوبندی بریلوی اہل حدیث کی موجودگی میں امامت نہ کرائیں وغیرہ فتنہ ہے اس لیے فتنہ سے بچو۔ لیکن ایک مسلمان ہوائی جہاز پر سفر کر رہا تھا ہوائی جہاز نے جب ڈنمارک میں لینڈ کیا تو ایئر پورٹ پر سوائے احمدیوں کے اور کوئی نہ تھا۔ انہوں نے یہ غلطی کی کہ جنازہ نہ پڑھا میں اس پر سخت ناراض ہوا۔

اٹارنی جنرل : مسئلہ تو آپ نے اور پیچیدہ کر دیا۔ ایک تو یہ کہ امامت آپ کی ہو تو پھر دوسرا یہ کہ آپ نے اب ترمیم کی ہے باپ دادا کے فتویٰ میں۔ تیسرے یہ کہ مرزائی غیر احمدی کو بغیر جنازہ کے دفن کر دیتے ہیں مگر جنازہ نہیں پڑھتے جیسا کہ آپ نے خود بتایا؟

مرزا ناصر : مگر میں تو ناراض ہوا۔

اٹارنی جنرل : مسلمان دفن تو بغیر جنازہ کے ہوا؟

مرزا ناصر : جی۔

اٹارنی جنرل : جس نے مرزا کے خلاف فتویٰ دیا ہو؟

صفحہ 67

مرزا ناصر : وہ ملت سے خارج نہیں مگر دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : لاہوری مرزائیوں نے تو فتویٰ نہیں دیا ان کے متعلق کہ وہ احمدی ہیں یا نہیں؟

مرزا ناصر : بیعت نہیں کی اُس لیے وہ احمدیت سے نکل گئے۔ میں ان کی مدد کرتا ہوں سمجھانے کی۔

اٹارنی جنرل : وہ ملت سے نکلے یا دائرہ اسلام سے؟

مرزا ناصر : یہ ہمارے گھر کی بات ہے۔ (قہقہہ)

اٹارنی جنرل : قائد اعظم کی نماز اس لیے نہیں پڑھی گئی کہ انہوں نے آپ کے خلاف فتویٰ دینے والوں کو منع نہیں کیا بلکہ اتفاق کیا تھا؟

مرزا ناصر : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : ہم ان کو مسلمان سمجھتے ہیں۔

مرزا ناصر : آپ سمجھتے ہوں گے ویسے بھی قائد اعظم شیعہ تھے۔

اٹارنی جنرل : اور لیاقت علی خان؟

مرزا ناصر : کسی بھی فرقہ سے متعلق ہوں نماز نہیں پڑھی ہم نے۔

چیئرمین : جی ہاں۔ (اٹارنی جنرل)

اٹارنی جنرل : ممبران اسمبلی سوال کرتے ہیں یہ جواب لمبا تڑنگا ہے بے مقصد کہہ دیتے ہیں یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ کم وقت میں حل ہو جائے گا بشرطیکہ صحیح جواب آئے۔

پروفیسر غفور احمد : میری التماس ہے کہ یہ کسی واقعہ کا ذکر کریں شہادت لیں تو اس کا ریکارڈ بھی پیش کریں۔

اٹارنی جنرل : مجھے معلوم ہے جناب مگر وہ اس سے احتراز کر رہے ہیں کہ ریکارڈ دیکھا جائے مگر آپ لوگ فیصلہ کرنے والے ہیں۔ میں نے بار بار سوالات کیے انہوں نے اس کے جواب سے بچنے کی کوشش کی کیونکہ ان کے پاس کوئی جواب نہ ہے۔ آپ بھی اس سے آگاہ ہیں۔ ان کی کتابوں کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ غلط کہہ رہے ہیں مگر آپ یا چیئرمین صاحب ان کو روکیں گے ان کے پاس قانونی جواز آ جائے گا کہ قومی اسمبلی کا مناسب رویہ نہیں رہا۔ یہ بہت اہم مسئلہ ہے اس لیے آپ ان کو جو کہتے ہیں سنیں بولنے دیں جو وہ کہتا ہے۔

چیئرمین : چوہدری جہانگیر علی صاحب نے کہا تھا ان کے مشورے کو سامنے رکھیں۔

اٹارنی جنرل : میں نے قائد اعظم کے بارے میں پوچھا یہ کہتے ہیں کہ وہ شیعہ تھے۔ میں نے لیاقت علی خان کا پوچھا مگر جواب ان کا وہی تھا جو پہلے تھا کہ دونوں کی نماز نہ پڑھی تو اس طرح معاملہ

صفحہ 68

صاف ہوتا جا رہا ہے۔

مولوی نعمت اللہ: گزارش ہے کہ اٹارنی جنرل نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کا پوچھا، وہ کہہ گئے کہ شیعہ تھے۔ بات شیعہ سنی کی نہیں، کچھ ہوں، غیر احمدی تھے اور انہوں نے جنازہ نہیں پڑھا۔ ادھر ادھر کی باتوں میں نہ جانے دیں، ڈائریکٹ جواب ملنا چاہیے۔

چیئرمین : مگر وہ اس سے ایوائیڈ کرتے ہیں، ان کی مصلحت ہوگی۔

مولانا مفتی محمود: تکفیر کے مسئلہ میں انہوں نے مختلف کیٹیگری بنادی مگر نتیجہ یہی کہ غیر احمدی کوئی چھوٹے، کوئی بڑے مگر ہیں سب کافر۔ اب جنازہ کا مسئلہ آیا تو قائد اعظم شیعہ تھے یا لیاقت علی سنی، مگر جنازہ دونوں کا نہیں پڑھا، بات تو واضح ہوگئی۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: اس میں شک نہیں کہ ان کو موقع ملنا چاہیے، یہ نہ ہو کہ کہیں کہ ہمیں صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔ مگر مسلمانوں کے بچہ کا جنازہ عیسائیوں کے بچہ کی طرح جائز نہیں۔ گویا جس طرح عیسائی دونوں کیٹیگری ملت اسلامیہ اور اسلام سے خارج اسی طرح غیر احمدی بھی دونوں کیٹیگریوں ملت اسلامیہ اور اسلام سے، ان کے نزدیک خارج ہوئے۔

سردار عنایت الرحمن عباسی: انہوں نے ڈنمارک کا واقعہ بیان کرکے بتا دیا کہ کسی بھی غیر احمدی کو بغیر جنازہ کے دفن ہونا تو قبول کرلیتے ہیں مگر جنازہ نہیں پڑھتے۔

چوہدری عبدالحمید جتوئی: انہوں نے لکھا ہوا محضر نامہ پیش کیا، اس کا جواب علماء......

مولانا مفتی محمود: مرزائیوں کے موقف کے جواب میں ملت اسلامیہ کا موقف بھی پیش کریں گے لکھا ہوا، اور پڑھ کر سنا بھی دیں گے۔

غلام رسول تارڑ: یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔

جناب عبدالعزیز بھٹی: مجھے مفتی صاحب نے یہ ایک پمفلٹ دیا ہے۔

اٹارنی جنرل : لائیے۔

مرزا ناصر : یہ آفیشل ہے یا کسی نے دیا ہے۔

اٹارنی جنرل : میں بتاتا ہوں کہ ٹریکٹ نمبر 22 بعنوان ”احراری علماء کی راست گوئی کا ایک نمونہ“ الناشر: مہتمم نشر واشاعت، نظامت دعوت وتبلیغ، صدر انجمن احمدیہ ربوہ، ضلع جھنگ۔

مرزا ناصر : ہاں ہاں، ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : تو چودھری ظفر اللہ خاں نے موجود ہوتے ہوئے قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھا؟

مرزا ناصر : تو اس کا چودھری صاحب نے خود جواب دیا۔

اٹارنی جنرل : کیا دیا؟

صفحہ 69

مرزا ناصر : جواب۔

مولانا غلام غوث ہزاروی : یہ عمداً گریز کر رہے ہیں۔ چودھری ظفر اللہ خان نے جو جواب دیا‘ وہ میں عرض کرتا ہوں۔ مولانا محمد اسحاق ایبٹ آبادی نے ظفر اللہ سے پوچھا کہ تم نے قائد اعظم کا جنازہ‘ کیوں نہ پڑھا‘ تو ظفر اللہ خاں نے جواب دیا کہ مجھے مسلمان حکومت کا کافر وزیر یا کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لو۔ ظاہر ہے کہ وہ اپنے کو تو کافر نہیں کہہ رہے تھے‘ اس نے قائد اعظم سمیت پوری حکومت کو کافر کہا۔

مرزا ناصر : یہ جواب مگر ظفر اللہ خان نے 53ء میں کہا کہ شبیر احمد عثمانی امام تھے‘ وہ ظفر اللہ خان کو مرتد سمجھتے تھے‘ اس لیے ظفر اللہ خان نے جنازہ نہ پڑھا۔

اٹارنی جنرل : پاکستان میں‘ دنیا میں اپنے کسی امام کے پیچھے تم نے کسی مسلمان کا جنازہ پڑھا ہے‘ کوئی مثال؟

مرزا ناصر : میرے علم میں نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : ”الفضل“ 2 اکتوبر 1952ء (ص 4‘ کالم 2)

مرزا ناصر : یہ آپ چھوڑ دیں۔

اٹارنی جنرل : چلو کہ یہ ابوطالب کی طرح قائد اعظم؟

مرزا ناصر : ٹھیک ہے‘ ہمارے آدمی نے کہا مگر مجھے اس کی تکلیف ہوئی۔

اٹارنی جنرل : ایک شخص شرعی نبی کو نہیں مانتا‘ ایک غیر شرعی کو نہیں مانتا‘ ان دونوں میں کوئی فرق ہے؟

مرزا ناصر : لا نفرق ..... کوئی فرق نہیں۔

اٹارنی جنرل : دونوں کی کٹیگری ایک؟

مرزا ناصر : جی۔

اٹارنی جنرل : جو شخص ملت اسلامیہ میں ہے‘ آپ کے اعتقاد کے مطابق وہ دائرہ اسلام میں بھی ہے لیکن جو دائرۂ اسلام میں ہے‘ وہ ہر شخص ملت اسلامیہ میں نہیں‘ گویا ایک شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہے مگر اس کے باوجود وہ مسلمان ہے؟

مرزا ناصر : اس کے باوجود مسلمان ہے۔

اٹارنی جنرل : گویا کافر بھی ہے اور مسلمان بھی؟

مرزا ناصر : بعض جہت سے کافر اور بعض سے مسلمان۔

اٹارنی جنرل : مرزا محمود نے کہا کہ اب جبکہ یہ مسلمہ بات ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر

صفحہ 70

نجات نہیں ہو سکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدی کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تو مرزا صاحب آپ کے والد فرماتے ہیں کہ غیر احمدیوں کو کیوں مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟

مرزا ناصر : نوٹ کرلیا ہے‘ چیک کروں گا۔

اٹارنی جنرل : تو جو دائرہ اسلام سے خارج ہے‘ وہ مسلمان نہیں ہے؟

مرزا ناصر : ملت اور مسلمان دونوں طرح چلے گا۔

اٹارنی جنرل : یعنی کافر ہونے کے باوجود مسلمان ہو سکتا ہے؟

مرزا ناصر : جی ہو سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل : یہی تو آپ کے والد نے کہا کہ کافر کو کیوں مسلمان ثابت کرتے ہو؟

مرزا ناصر : ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : اچھی بات ہے مگر اسی حوالہ میں آپ کے والد نے کہا کہ مسیح موعود کو ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی؟

مرزا ناصر : ہم تو ظاہر پر حکم لگاتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : ظاہر میں مرزا کے ماننے کے بغیر کسی بھی شخص کی نجات نہیں ہو سکتی؟

مرزا ناصر : جی ہاں مگر ایک کیٹگری کی خدا چاہے تو نجات ہو سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل : ایسی بات نہ کہیں ورنہ اچھا تو ’’انوار خلافت‘‘ صفحہ 90 میں ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں؟

مرزا ناصر : یعنی دائرہ اسلام سے خارج سمجھیں۔

اٹارنی جنرل : ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں؟

مرزا ناصر : دائرہ اسلام سے خارج سمجھیں۔

اٹارنی جنرل : اسلامی نقطہ نظر سے مرتد کیا دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے؟

مرزا ناصر : مرتد وہ ہے جو کہے کہ میرا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

اٹارنی جنرل : دائرہ اسلام سے خارج؟

مرزا ناصر : اور ملت اسلامیہ سے بھی۔

اٹارنی جنرل : فرض کریں ایک شخص مرزا غلام احمد کو نبی مانتا تھا‘ پھر انکار کر دیا تو؟

مرزا ناصر : ایک لحاظ سے مرتد ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : مرتد کی سزا کیا ہے؟

مرزا ناصر : جہنم......اس دنیا میں کوئی سزا نہیں ہے۔

صفحہ 71

اٹارنی جنرل : مرزا نے اپنے ایک مرید عبدالحکیم کو مرتد قرار دیا تھا کہ وہ مرزا سے پھر گیا تھا۔

(”حقیقت الوحی“ ص 72-131)

مرزا ناصر : جی...... مرتد کہا۔

اٹارنی جنرل : تو کیا وہ جہنمی ہوا، البتہ دنیا میں سزا نہیں؟

مرزا ناصر : جی۔

اٹارنی جنرل : مرزا بشیر نے کہا کہ مسلمانوں سے رشتہ ناتہ حرام ہے۔ (”الفضل“ 25 اکتوبر 1920ء)

مرزا ناصر : جو چیز فساد پیدا کرتی ہے، وہ ناجائز اور حرام ہے۔

اٹارنی جنرل : مسلمانوں سے رشتہ ناتہ باعث فساد ناجائز اور حرام ہے؟

مرزا ناصر : جی بالکل۔

اٹارنی جنرل : مرزا کے زمانہ میں علماء نے اس کے کفر کا فتویٰ دیا؟

مرزا ناصر : فتویٰ تو دیتے رہتے ہیں آپ بھی دیتے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بھی۔

اٹارنی جنرل : مگر سب نے مل کر آپ کے خلاف؟

مرزا ناصر : جی، سب نے مل کر دیا ہمارے خلاف مگر آپس میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ بھی تو ایک دوسرے کو۔ ہمارے پاس اصل فتویٰ جات ہیں 53ء میں پیش کیے تھے اب بھی محضر نامے میں پیش کر دیے ہیں۔ پڑھ کر سنا دوں، ان فتویٰ بازوں کا حال؟

اٹارنی جنرل : ایک نے دوسرے کے خلاف فتویٰ دیا مگر مجموعی طور پر اس طرز عمل کی حوصلہ شکنی کی گئی لیکن آپ کے خلاف تو تمام امت نے مل کر فتویٰ دیا۔ کیا آپ ایک عالم دین، کسی طبقے کا، غیر احمدی بتا سکتے ہیں جو آپ کو کافر نہ کہتا ہو؟

مرزا ناصر : یہ صورت حال تو بہت ہی ......

اٹارنی جنرل : تو متفقہ فتویٰ کی رو سے آپ؟

مرزا ناصر : کہہ دیا کہ 53ء میں دیا مگر اس سے پہلے تو اکٹھے نہ تھے 50ء میں نہ تھے۔

اٹارنی جنرل : چلو آپ کی بات مان لیتا ہوں 53ء یا اس کے بعد سب اکٹھے ہو گئے اور فتویٰ دیا کہ؟

مرزا ناصر : 53ء کے بعد کی بات ہے 53ء تک نہیں تھے اس کے بعد یہ سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

صفحہ 72

اٹارنی جنرل : تو کیا سب اکٹھے ہو گئے؟

مرزا ناصر : مگر شیعہ کے متعلق۔

اٹارنی جنرل : کیا 51ء میں شیعہ مجتہد مفتی جعفر حسین بھی ان میں شامل نہ تھے؟

مرزا ناصر : جی وہ بھی شامل تھے مگر ”ترجمان اسلام“ لاہور 21 مارچ 1971ء صفحہ نمبر 5‘ کالم نمبر 5 میں آگیا ہے۔

اٹارنی جنرل : یہ آپ نے محضر نامہ میں لکھ دیا ہے مگر میں عرض کرتا ہوں کہ 51ء میں شیعہ بھی ’دیوبندی‘ بریلوی‘ اہل حدیث کے ساتھ علامہ سلیمان ندوی کی صدارت میں جمع تھے؟

مرزا ناصر : جمع تھے۔

اٹارنی جنرل : ”آئینہ صداقت“ میں تمام مسلمانوں کی تکفیر کی‘ کفر کا فتویٰ لگایا کہ تمام اہل اسلام دائرہ اسلام سے خارج ہیں؟

مرزا ناصر : یہ مسئلہ تو ہو گیا ہے۔

اٹارنی جنرل : تمام اہل اسلام دائرہ اسلام سے خارج ہیں‘ اس میں احمدی شامل ہیں یا نہیں؟

مرزا ناصر : جو فرقہ بول رہا ہو‘ وہ کیسے شامل ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : تو احمدیوں کے علاوہ باقی سب دائرہ اسلام سے خارج؟

مرزا ناصر : دیکھیں‘ میں ایسے حوالوں کی نہ تردید کرتا ہوں نہ تائید۔

اٹارنی جنرل : آپ نے ”انوار خلافت“ و ”آئینہ صداقت“ کی تصدیق کی ہے؟

مرزا ناصر : میں نے کسی کی نہیں کی۔

اٹارنی جنرل : یہ کتابیں آپ کے باپ کی ہیں اور پھر آپ حلف پر گواہی دے رہے ہیں؟

مرزا ناصر : ہاں صفحہ 92 کو تسلیم کرلیا ہے۔

اٹارنی جنرل : تو تمام اہل اسلام دائرہ اسلام سے خارج مگر احمدی نہیں خارج؟

مرزا ناصر : نہیں۔

اٹارنی جنرل : آپ اپنے آپ کو اہل اسلام والوں سے سمجھتے ہیں‘ خارج والوں میں نہیں آتے‘ مطلب یہ ہوا؟

مرزا ناصر : جی۔

اٹارنی جنرل : یہ نہج المصلیٰ ہے؟

مرزا ناصر : یہ ہمارے لیے اتھارٹی نہیں۔

اٹارنی جنرل : یہ آپ کی جماعت کی کتاب ہے۔ اس کے پہلے صفحہ پر لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد

صفحہ 73

صاحب نے اس کا نام نہج المصلی الہامی طور پر رکھا۔ نور الدین یا بشیر الدین یا مرزا صاحب کے زمانے کی کتب اور اس سے انکار؟

مرزا ناصر : کسی احمدی کی‘ کسی زمانہ کی ہو مگر اتھارٹی نہیں۔

مولوی مفتی محمود : یہ والد کی کتابوں سے انکار کر رہے ہیں۔ نہج المصلی تو......

اٹارنی جنرل : دیکھیں اس نہج المصلی کے حاشیہ پر چلو۔ ایک اور طرح مرزا غلام احمد کا حوالہ ہے کہ دوسرے فرقے‘ جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں‘ بکلی ترک کرنا پڑے گا۔ (”اربعین“ نمبر 3‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ج 17‘ ص 417)

مرزا ناصر : یہ چیک کرنا پڑے گا۔

اٹارنی جنرل : یہ بھی آپ کی جماعت کی نہیں؟

مرزا ناصر : مگر حوالہ چیک کرنا پڑے گا۔

چیئرمین : ہمارے پاس کتاب ہے۔

مرزا ناصر : مگر چیک کرنا پڑے گا۔

اٹارنی جنرل : یہ لیجئے۔

مرزا ناصر : دیکھ کر‘ بکلی ترک کرنا پڑے گا۔

اٹارنی جنرل : دعویٰ اسلام کرنے والے فرقے توحید و رسالت قیامت کو مانتے ہیں تو آپ ان کے یہ عقیدے بکلی ترک کر دیں گے؟

مرزا ناصر : نہیں‘ یہ کیسے؟

اٹارنی جنرل : پھر بکلی ترک کرنا پڑے گا‘ کا صحیح مفہوم بیان کریں۔

مرزا ناصر : دعویٰ اسلام کرنے والے فرقوں کو چھوڑنا پڑے گا۔

اٹارنی جنرل : مرزا غلام احمد قادیانی نے ”حقیقت الوحی“ (مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 185‘ ج 22) میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کا منکر کافر ہے؟

مرزا ناصر : اتمام حجت کے بعد انکار کرے۔

اٹارنی جنرل : اتمام حجت کا معنی؟

مرزا ناصر : سمجھے کہ مرزا غلام احمد اپنے دعویٰ میں سچا ہے‘ پھر بھی انکار کرے۔

اٹارنی جنرل : ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کہے کہ مرزا سچا ہے‘ پھر کہے میں نہیں مانتا؟

مرزا ناصر : بعض لوگوں سے میں نے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ خدا بھی کہے تو ہم مرزا کو نہ مانیں گے۔

صفحہ 74

اٹارنی جنرل : وہ تو یہ کہتے ہیں ختم نبوت کی وجہ سے کہ یہ ایسا پکا عقیدہ کہ خدا بھی کہے یعنی خدا نے تو آ کر کہنا نہیں، اس لیے وہ ایسے کہہ دیتے ہیں؟

چیئرمین : اب وفد چلا جائے، شام چھ بجے پھر حاضر ہونا ہوگا۔

چیئرمین : دیکھیں تمام کتابیں، جن کے سوالات کرنے ہوں، ان کو فلیگ کر دیں اور مفتی صاحب اور دوسرے حضرات، جنہوں نے حوالہ جات دکھانے ہیں، ان کے سامنے کرسیوں کی لائنیں لگا کر کتابیں سیٹ کر دیں تاکہ ان کو حوالہ تلاش کرنے میں وقت نہ ہو۔

مولانا مفتی صاحب: کتابوں کے کئی ایڈیشن ہیں اور پھر صفحات وسائز انہوں نے تبدیل کر دیا ہے، اس لیے تھوڑا وقت تلاش کرنے میں لگ جاتا ہے۔

مولانا غلام غوث ہزاروی : اٹارنی جنرل کیا سوال کریں گے، پہلے تو علم ہوتا نہیں، ان کے سوال کے بعد متعلقہ کتب کی تلاش اور پھر حوالہ۔

مولانا شاہ احمد نورانی : ان باتوں کے علاوہ بھی ان کی ویسے عادت ہے انکار کی مثلاً یہ ”حقیقت الوحی“ میں حوالہ ہے مگر وہ مڑ مار رہے تھے۔ یہ کتاب میرے پاس ہے۔

مولانا غلام غوث ہزاروی : اتمام حجت کے بعد کافر ہوگا۔ ہم مرزا کو مسیح موعود مانتے ہی نہیں، یہ متفق علیہ مسئلہ ہے۔ مرزائی اور ہم متفق ہیں اس امر پر کہ ہم مرزا کے منکر ہیں۔ اب مسلمہ بات سے استدلال ہوسکتا ہے۔ جس چیز کو فریقین مانتے ہوں وہ دلیل ہو سکتی ہے، تو دلیل آنے کے بعد اگر کوئی انکار کرے تو اتمام حجت ہو گیا۔ جیسا کہ آپ تمام ممبران کے سامنے مرزائیوں کے دلائل آگئے ہیں، اتمام حجت ہو چکا، اب ان کے فتویٰ کے مصداق بننے کے لیے تیار ہو جائیں۔ (قہقہہ)

چیئرمین : ٹھیک ہے، چھ بجے۔

اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔ (وفد داخل ہوا)

اٹارنی جنرل : ہاں جی مرزا نے لکھا ہے کہ مسیح موعود کا منکر کافر ہے کتاب پیش کروں؟

مرزا ناصر : جی لکھا ہے۔ کتاب کی ضرورت نہیں، میں نے چیک کر لیا ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ کے اور مسلمانوں کے کلمہ میں کیا فرق ہے؟

مرزا ناصر : کوئی فرق نہیں۔

اٹارنی جنرل : نماز میں کیا فرق ہے؟

مرزا ناصر : کوئی نہیں۔

اٹارنی جنرل : روزہ میں کیا فرق ہے اور حج میں؟

مرزا ناصر : ایک جیسے ہیں۔

صفحہ 75

اٹارنی جنرل : اچھا تو مرزا محمود احمد کا خطبہ ہے کہ مسیح موعود کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ”یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف وفات مسیح کے چند مسائل میں ہے“ آپ نے فرمایا کہ خدا، رسول، قرآن، روزہ، نماز اور زکوٰۃ غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ہر چیز میں اختلاف ہے۔ (”الفضل“ 30 جولائی 1931ء)

مرزا ناصر : اللہ رب العزت، نبی کریم، نماز، روزہ وغیرہ کے تصور میں واقعتاً مسلمانوں سے ہمیں اختلاف ہے۔

اٹارنی جنرل : نائیجیریا میں آپ کی عبادت گاہ پر کلمہ طیبہ میں احمد رسول اللہ ہے؟

مرزا ناصر : نہیں وہ رسم الخط سے غلط فہمی ہوئی۔

اٹارنی جنرل : کتاب موجود ہے اس میں تو صاف فوٹو نظر آ رہا ہے کہ آپ نے احمد رسول اللہ لکھوایا ہے؟

مرزا ناصر : نہیں رسم الخط سے غلط فہمی ہوئی، یہ محمد رسول اللہ ہے۔

اٹارنی جنرل : مگر مجھے تو احمد رسول اللہ نظر آ رہا ہے؟

مرزا ناصر : یہ رسم الخط کی بات ہے اور محمد رسول اللہ ہے۔

اٹارنی جنرل : اچھا آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم علیحدہ قوم ہیں؟

مرزا ناصر : علیحدہ قوم کہ ہمارا فرقہ علیحدہ ہے اور بھی تو فرقے ہیں۔

اٹارنی جنرل : اور فرقے سلسلہ نبوت پر یعنی حضور علیہ السلام کی نبوت پر تو متفق ہیں اور آپ اختلاف کر کے ایک اور کو نبی بناتے ہیں۔ آپ نے کہا کہ ایک کافر ہو کر ملت اسلامیہ کا فرد ہو سکتا ہے تو آپ نے کس لحاظ سے ایک شخص کو کافر کہا اور کسی اور نے آپ کو کس لحاظ سے کافر کہا۔ آپ نے کہا کافر، تو کیا اس پر اسمبلی غور کر سکتی ہے کہ یہ بات آپ کی درست ہے یا نہ آپ کو اعتراض تو نہ ہوگا؟

مرزا ناصر : بالکل کوئی اعتراض نہ ہے۔

اٹارنی جنرل : تو اسمبلی کسی کے کفر کو زیر بحث لا سکتی ہے؟

مرزا ناصر : یہ علیحدہ مسئلہ ہے۔

اٹارنی جنرل : ایک سیکنڈ پہلے آپ نے تسلیم کیا، اب انکار، اب اس کا کیا کیا جائے؟

مرزا ناصر : نہیں، یہ علیحدہ مسئلہ ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ نے کہا کہ دائرہ اسلام سے خارج بھی ملت اسلامیہ کا فرد ہو سکتا ہے۔ اگر اسمبلی یہ کہہ دے کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو آپ کو اعتراض نہ ہوگا؟

مرزا ناصر : نہ ہوگا، مگر یہ ہم دائرہ اسلام سے خارج ہو کر بھی ملت اسلامیہ کے فرد ہوں گے، اس

صفحہ 76

وضاحت کے ساتھ۔

اٹارنی جنرل : آپ کے اس وضاحتی فلسفہ کو شاید دنیا کا کوئی بھی شخص تسلیم نہ کرے کہ خارج بھی‘ داخل بھی‘ نیگیٹو بھی اور پازیٹو بھی‘ ایک ہی چیز؟

مرزا ناصر : مگر یہ فتویٰ تو ایک دوسرے کے خلاف......

اٹارنی جنرل : آپ کے خلاف متفقہ ہے فتویٰ‘ اس پر تو آپ بھی میرے ساتھ ایگری (Agree) کریں گے؟

مرزا ناصر : کیا معنی‘ دو گاؤں اکٹھے ہو جائیں تو پوری دنیا کا متفقہ فتویٰ ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : اگر قومی اسمبلی متفق ہو جائے تو پھر پورا ملک متفق ہو گیا؟

مرزا ناصر : ہماری پوزیشن ملکی نہیں‘ بین الاقوامی ہے۔ آپ کے ملک کی بات ہوتی تو ٹھیک تھی۔

اٹارنی جنرل : رابطہ عالم اسلامی میں دنیا بھر کے نمائندے ہیں۔ انہوں نے آپ کو کافر کہا؟

مرزا ناصر : وہ تو نامزد لوگ ہوں گے۔ میں کہتا ہوں کہ اقوام متحدہ یا کوئی دنیا کا منتخب ادارہ بھی ہمارے کفر پر متفق ہو جائے تو پھر بھی میں سمجھوں گا کہ اس معاملہ کو خدا پر چھوڑتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : دیکھئے اقوام متحدہ یا کسی اور کے فیصلہ پر تو صاد کر کے صرف خدا کی عدالت میں اپیل کا کہتے ہیں لیکن مسلمانوں کا ادارہ پاکستان کی نیشنل اسمبلی یا رابطہ‘ فیصلہ کریں تو آپ اسے صاد نہیں کرتے؟

مرزا ناصر : میں نے کہا کہ میں اقوام عالم کے فیصلہ پر بھی معاملہ خدا پر چھوڑوں گا‘ یہ کہ اسے بھی صحیح نہیں سمجھتا۔

اٹارنی جنرل : پھر اگر آپ پوری دنیا کے فیصلہ کو بھی نہیں مانتے تو ان کے فیصلہ کرنے کا کیا فائدہ۔ نیز یہ کہ آپ پوری دنیا کے کسی بھی متفقہ فیصلہ کو جو آپ کے خلاف ہو نہیں مانتے‘ پھر تو بات ہی ختم ہو گئی۔ آپ صرف مسلمانوں سے نہیں بلکہ پوری دنیا سے الگ ہیں ان معنوں میں؟

مرزا ناصر : میرا دل نہیں مانتا تو وہ میں کیسے کروں گا۔

اٹارنی جنرل : آپ پوری دنیا کے لوگوں کو جو مرزا کو نہ مانیں‘ کافر کہیں‘ اس پر تو آپ کا دل مانتا ہے؟

مرزا ناصر : میں تو ایک عاجز انسان ہوں۔

اٹارنی جنرل : ایسا عاجز جو پوری دنیا کے فیصلہ کو نہیں مانتا (قہقہہ) اور خود ان کے خلاف فیصلہ صادر کرتا ہے۔ دیکھئے ہماری خواہش ہے کہ ملک کو نقصان نہ پہنچے اور کسی مضبوط موقف پر اسمبلی فیصلہ کرنے کی پوزیشن حاصل کرے‘ آپ تعاون کریں۔

صفحہ 77

مرزا ناصر : آپ دوسرے فرقوں کے متعلق بھی فیصلہ کریں ان کے بھی یہی حالات ہیں۔

اٹارنی جنرل : آپ کے متعلق اس لیے کہ مرزا محمود نے کہا کہ ”کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا۔ کیا وہ انبیاء جن کے زمانہ کا علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں نظر آتی ہیں انہوں نے اپنی جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کیا۔“ پس اگر حضرت مرزا صاحب نے جو ایک نبی و رسول ہیں اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق کیوں غیروں سے علیحدہ کر دیا ہے۔ یہ کونسی انوکھی بات ہے یہاں جو علیحدہ کر دیا ہے۔ (”الفضل“ 26 فروری 1918ء) ان کے اس حوالہ کے مطابق آپ تو خود علیحدہ ہیں۔ اب تو صرف عمل درآمد کے لیے قانون کی ضرورت ہے یا کہیں کہ آپ کے والد نے یہ نہیں کہا؟

مرزا ناصر : وہ علیحدہ کر دیا دوسروں کے اثر سے بچنے کے لیے۔

اٹارنی جنرل : ضرورت کے مطابق انہوں نے مسلمانوں سے آپ کو علیحدہ کر دیا۔ اب ضرورت کے مطابق اسمبلی بھی آپ کو علیحدہ کر دے تو؟ اچھا وہ تو آپ کے باپ کی تھی اب آپ کے دادا مرزا غلام احمد کی کتاب کو لیتے ہیں۔ ”آئینہ کمالات“ صفحہ 344 میں ہے کہ ”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا سو ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی میرے پر وحی نازل ہوتی ہے ...... نیز ایک امت بناوے جو اس کو نبی سمجھتی اور اس کی کتاب کو کتاب الٰہی جانتی ہے“۔

مرزا ناصر : یہ میں چیک کروں گا۔

اٹارنی جنرل : اچھا وہ جو مرزا نے کہا کہ میری وحی میں امر بھی ہے نہی بھی اس لیے میں شریعت والا نبی ہوں۔ (”اربعین“ نمبر 4 مندرجہ ”روحانی خزائن“ صفحہ 435 ج 17)

مرزا ناصر : وہ تو میں نے دیکھا ہے مگر وہ الزاماً کہہ رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل : الزام یا ملزم۔ (قہقہہ) اچھا بتائیں کہ مرزا نے تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا یا امتی نبی کا؟

مرزا ناصر : تشریعی کا بالکل نہیں وہ تو امتی ......

اٹارنی جنرل : وحی آتی تھی جس میں امر و نہی بھی تھے؟

مرزا ناصر : یہ ہاں ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : چلو یہ ظلی بروزی کیا ہے؟

مرزا ناصر : یہ بیس صفحات کی بحث ہے میں لکھ کر لایا ہوں۔

اٹارنی جنرل : داخل کرا دیں۔

صفحہ 78

چیئرمین : چلو آپ جائیں۔ کل صبح دس بجے دوبارہ پیش ہوں۔ (وفد چلا گیا)...... کسی ممبر نے کچھ کہنا ہے؟ مولانا ظفر احمد انصاری : سر آپ کو بڑی گہری نظر سے ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ بڑے سازشی لوگ ہیں۔ ہر جگہ مسلمانوں اور پاکستان اور اسلامیان پاکستان کے خلاف سازشوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ ان کو اس طرح نظر انداز نہ کریں کہ یہ ایک فرقہ ہے‘ یہ تو سامراج کی ایک استحصالی سازش ہے۔ میں رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں‘ جس کا آج ذکر آیا ہے‘ موجود تھا۔ پورے عالم اسلام کے نمائندے‘ علماء مکہ مکرمہ مرکز اسلام میں اس بات پر متفق تھے کہ قادیانیوں سے بچنا چاہیے۔ یہ پوری امت کے دشمن اور اسلام کے غدار ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی ہیں۔ عبدالعزیز بھٹی : جناب ہمیں کارروائی کی کاپیاں۔ چیئرمین : یہ ریکارڈ ہو رہی ہے میں اسمبلی کے سیکرٹری سے کہوں گا کہ وہ اس کی ایک کاپی تیار کر کے اٹارنی جنرل کو دے دیں اور آپ کو بھی مل جائے گی۔ مولانا ظفر احمد انصاری : ان کے جو جوابات ہیں‘ ان کی کاپیاں دے دیں تا کہ ہم ان کا جواب الجواب تیار کریں۔ چیئرمین : کیا 250 کاپیاں بنواؤں‘ اتنی جلدی یہ تو ممکن نہیں۔ چوہدری ظہور الہی : 250 نہ سہی‘ پانچ سات تو فوری دیں۔ چیئرمین : اٹارنی جنرل کو تو بہت ہی جلدی‘ ابھی انشاء اللہ‘ مگر صاف نہ ہوگا لکھائی وغیرہ۔ چوہدری ظہور الہی : اٹارنی جنرل کے لیے تو فوری چاہیے۔ مولانا ظفر احمد انصاری : جیسے لکھا ہے دے دیں‘ ہم دیکھ لیں گے‘ سمجھ جائیں گے۔ چیئرمین : بہت اچھا کل صبح دس بجے پورے ایوان کی خصوصی کمیٹی۔

7۔ اگست 1974ء بروز بدھ کی کارروائی

صبح دس بجے قومی اسمبلی آف پاکستان کی خصوصی کمیٹی‘ جو پورے ہاؤس پر مشتمل تھی‘ کا اجلاس سپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان کی زیر صدارت شروع ہوا۔ چیئرمین : کیا اٹارنی جنرل صاحب تیار ہیں؟ کیا ان لوگوں کو بلا لیا جائے؟

صفحہ 79

اٹارنی جنرل : جی جناب۔

چیئرمین : وفد کو بلایا جائے۔

(وفد داخل ہوتا ہے)

چیئرمین : جی اٹارنی جنرل۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب‘ کل میں نے ایک حوالہ پڑھ کر سنایا تھا‘ آپ نے اس کی تصدیق کر لی ہے؟

مرزا ناصر : ایک ایک حوالہ لے لیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : میں نے آخری سوال کو نشان زد کیا تھا‘ وہ یہ ہے کہ پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے‘ اس معنی سے حضرت صاحب (مرزا غلام احمد ) ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ ”حقیقۃ النبوۃ“ صفحہ 174۔

مرزا ناصر : حقیقی کا معنی نئی شریعت لانے والا ہے تو اس اعتبار سے حقیقی نہیں اور اگر حقیقی بناوٹی کے مقابلہ میں لیا جائے تو بناوٹی نہیں بلکہ حقیقی ہیں اور اصلی ہیں۔ یہ میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں‘ جو لکھا ہوا ہے‘ اس کے اعتبار سے میں حقیقی نبی مانتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : آگے دیکھیں‘ خود مرزا غلام احمد کہتے ہیں کہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ اس اعتبار سے بھی میرے مخالف ملزم ہیں کہ اگر یہ حقیقی اور صاحب شریعت نبی کی تعریف ہے تو یہ بھی مجھ میں پائی جاتی ہے۔

مرزا ناصر : یہ کونسا حوالہ ہے؟

اٹارنی جنرل : ویسے کل ہو گیا تھا۔ ”اربعین“ نمبر 4 کی اخیر کی چند سطریں۔ مرزا غلام احمد نے نئی اصطلاح کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔

مرزا ناصر : شریعت کیا چیز ہے‘ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ امر اور نہی بیان کئے‘ اپنی امت کے لیے ایک قانون بنایا‘ وہ صاحب شریعت ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : آگے بڑھنے سے پہلے اس کی وضاحت کریں کہ یہ اس نے اپنے متعلق کہا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے؟

مرزا ناصر : اپنے متعلق کہ اس اعتبار سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کہ ہم میں شریعت والے نبی کی تعریف پائی جاتی ہے‘ تو امر اور نہی قرآن مجید کی آیات ہیں۔

اٹارنی جنرل : اور جب کہتے ہیں کہ ہماری وحی میں امر بھی ہیں‘ نہی بھی؟

مرزا ناصر : یہ قرآن کی آیات ہیں۔

صفحہ 80

اٹارنی جنرل : آیت کی وحی جو مرزا صاحب پر اتری قرآن مجید میں موجود ہے۔ کیا قرآنی آیات کو دوبارہ اپنے اوپر نازل شدہ بتا رہے ہیں؟

مرزا ناصر : وضاحت کے لیے اتریں مرزا صاحب پر تاکہ وہ ان کو قائم کریں۔

اٹارنی جنرل : قرآنی تعلیم تو تورات میں بھی موجود ہے اس اعتبار سے کیا شریعت وہ ہے جس میں نئے احکام ہوں؟

مرزا ناصر : شریعت وہ ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔

اٹارنی جنرل : قرآنی تعلیم موجود ہے۔ شریعت یہ ہے کہ جس میں امر و نہی ہوں کیونکہ اگر تورات یا قرآن شریف میں بعض دفعہ احکام شریعت کا ذکر ہوتا ہے ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرتؐ پر نبوت ختم ہے۔ قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے۔ خدا تعالیٰ نے تمام کتابوں میں فرمایا کہ جھوٹ نہ بولو جھوٹی گواہی نہ دو۔ حضور علیہ السلام پر بھی یہ وحی ہوئی۔ اگر پہلی وحی کسی پر دوبارہ نازل ہو جیسا کہ آپ کہتے ہیں تو وہ آپ کے نزدیک صاحب شریعت نہیں اس اعتبار سے تو حضور علیہ السلام بھی صاحب شریعت نہ ہوئے۔ اگر آپ کہیں کہ پہلی تعلیم نازل ہو دوبارہ تو وہ صاحب شریعت اس اعتبار سے قرآن کی وحی مرزا پر نازل ہو تو پھر وہ بھی صاحب شریعت ہو گیا؟

مرزا ناصر : یہ تو بڑی واضح ہو گئی کہ قرآن کے احکام ہی وحی کے ذریعہ نازل ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے نئی شریعت۔

اٹارنی جنرل : یہ حوالہ کہ ہم چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے اس لیے قرآن کریم کی تعریف کے مطابق ایک نبی کا انکار بھی کفر ہے غیر احمدی کافر ہیں؟

مرزا ناصر : کافر کا معنی محدود مضمون میں مثلاً نماز کا منکر کافر ہے۔

اٹارنی جنرل : تو مرزا صاحب کے منکرین محدود معنوں میں سہی مگر کافر ہیں؟

مرزا ناصر : ہاں محدود۔

اٹارنی جنرل : دائرہ اسلام سے خارج؟

مرزا ناصر : اصل میں وضاحت کرنی پڑے گی۔ کل مجھے احساس ہوا اور میں ساری رات بے چین رہا یہ تو عظیم مذہب ہے اس میں غلط فہمی نہ رہے۔

اٹارنی جنرل : جی ٹھیک ہے کہ آپ کے خیال میں ملت میں رہتے ہیں اسلام میں نہیں رہتے؟

مرزا ناصر : آپ کے لیے یہ نئے حوالے ہوں گے مگر میں نے تو پرانی کتابوں میں پڑھے ہیں۔

اٹارنی جنرل : کافی ہو گیا چھوڑ دیں۔ آگے چلیں۔ مرزا صاحب نے خطبہ الہامیہ مندرجہ

صفحہ 81

”روحانی خزائن‘ ص 259‘ ج 16 میں کہا کہ من فرق بینی و بین المصطفے فما عرفنی وما رائی۔ یعنی جو شخص مجھ میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں فرق کرتا ہے‘ اس نے مجھے نہیں پہچانا اور نہیں دیکھا؟

مرزا ناصر : مرزا صاحب فنائیت کے درجہ میں کہتے ہیں کہ جو شخص میرا وجود علیحدہ سمجھتا ہے‘ وہ غلطی پر ہے۔

اٹارنی جنرل : یہ تاثر تو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مرزا صاحب امتی نبی سے برتر ہو گئے۔ اچھا اب میں احمدیوں کے اندر علیحدگی پسند رجحانات کے بارے میں سوال کرتا ہوں۔ اس سلسلہ میں مرزا محمود کا ایک بیان ہے‘ قبل اس کے کہ میں اس بیان پر آپ سے پوچھوں‘ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آزادی سے قبل آپ کی جماعت کا یہ تاثر تھا کہ آپ لوگ ایک علیحدہ وجود کے حامل ہیں اور مسلمانوں سے آپ کو کوئی سروکار نہیں۔ یعنی آپ ایسے ہیں جیسے عیسائی یا پارسی ہوں۔ آزادی کے بعد آپ نے موقف اختیار کیا کہ آپ مسلمانوں کا حصہ ہیں یا مسلم ملت یا مسلم قوم کا۔ میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آپ کو پتہ چل جائے کہ میں کیا سوال کرنے والا ہوں۔ اس کو سامنے رکھ کر جواب دیں کہ میں کیا سوال کرنے والا ہوں۔ آپ کو میرے پورے مفہوم کا پس منظر معلوم ہو گیا؟

مرزا ناصر : مجھے کوئی علم نہیں کہ آپ کس بات کا اشارہ فرما رہے ہیں۔ میں نے یہ بات کبھی نہیں سنی جو آپ کہہ رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل : یہ بیان ہے ”الفضل“ 13۔نومبر 1946ء کا‘ جس میں مرزا محمود کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ایک نمائندہ کی معرفت ایک انگریز کو کہلوا بھیجا کہ پارسی‘ عیسائیوں‘ کی طرح ہمارے بھی حقوق تسلیم کیے جائیں‘ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیتی مذہبی فرقے ہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی‘ عیسائی‘ مذہبی فرقے ہیں‘ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کیے گئے ہیں‘ اسی طرح ہمارے بھی تسلیم کیے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کرتے جاؤ‘ میں اس کے مقابلہ میں دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔

مرزا ناصر : بات یہ ہے کہ اس کی ایک تاریخ ہے۔

اٹارنی جنرل : اس قول کے نقل کرنے سے قبل میں چاہتا ہوں کہ آپ کے سامنے پوری تصویر ہو۔ یہ ایک اخبار ہے IMPACT‘ انگلستان کا چھپا ہوا۔

مرزا ناصر : کب چھپا؟

اٹارنی جنرل : 27جون 1974ء۔

مرزا ناصر : میرے علم میں نہیں۔

صفحہ 82

اٹارنی جنرل : آپ دیکھ لیں‘ یہ ربوہ کے واقعہ کے بعد کا ہے۔ دونوں کو ایک کے اندر داخل ہوتے................

مرزا ناصر : دونوں ایک کے اندر نہیں داخل ہوتے۔

اٹارنی جنرل : جناب سپیکر‘ میں اس کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک بین الاقوامی اخبار ہے۔ 14تا27جون 1974ء۔

مرزا ناصر : آپ یہ جاننا چاہیں گے کہ میں اس کے خیالات سے متفق ہوں یا نہیں۔

اٹارنی جنرل : میں نے پہلے کہا کہ یہ ایک تاثر عام ہے کہ آزادی سے قبل احمدیوں کا یہ موقف تھا کہ وہ مسلمانوں سے علیحدہ ہیں‘ اب میں اس کو پڑھتا ہوں۔

مرزا ناصر : لکھنے والا کون ہے‘ اخبار کی کیا حیثیت ہے؟

اٹارنی جنرل : آپ کو اس سے کیا لینا ہے‘ یہ نہ کوئی آپ کی اشاعت ہے اور نہ یہ احمدیوں کا باضابطہ‘ بااختیار اعلان ہے۔ یہ تو رسالہ ہے انگلستان میں چھپا ہوا۔ اس نے چودھری ظفر اللہ خان کی ایک پریس کانفرنس پر رپورٹ دی ہے اور یہ بتایا ہے کہ پاکستان میں کیا کچھ ہوا۔ اب میں پڑھتا ہوں۔

”پاکستان کی قادیانی اور احمدی پرابلم اور حالیہ اس سے متعلقہ گڑبڑ‘ دراصل اس دلچسپ سوال کے محور پر گھومتی ہے کہ کیا قادیانیوں کو مسلم سوسائٹی میں ایک غیر مسلم اقلیت تصور کیا جائے یا ایک مسلم اقلیت کسی غیر مسلم سوسائٹی میں‘ کیونکہ اس نوعیت کے زبردست بنیادی اختلافات اور ایک دوسرے کے درمیان اس طرح کی مخصوص عدم مشابہت ہے کہ بحث و تمحیص کو چاہے جس قدر طول دیں‘ پھر بھی ایک مسلم شناخت‘ شناختی نشان کے اندر دونوں کو جبراً داخل نہیں کیا جاسکتا۔ نفس معاملہ کوئی دینیاتی الجھاؤ کے باعث نہیں ہے‘ جیسا کہ سر ظفر اللہ خاں‘ جو احمدی تحریک کے سرکردہ لیڈر ہیں......“

مرزا ناصر : یہ لکھنے والے کی اپنی رائے ہے‘ ظفر اللہ خان نے نہیں کہا۔

چیئرمین : آپ حوالہ پورا پڑھنے دیں۔ (ہاں مسٹر اٹارنی)

اٹارنی جنرل : لکھا ہے کہ نفس معاملہ کوئی دینیاتی الجھاؤ کے باعث نہیں ہے‘ جیسا کہ سر ظفر اللہ خاں نے‘ جو احمدی تحریک کے سرکردہ لیڈر ہیں‘ گزشتہ ہفتہ لندن میں پریس کو واضح کیا۔ وہ (احمدی) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو آخری شریعت لانے والا نبی تصور کرتے ہیں مگر مرزا غلام احمد کو سمجھتے ہیں کہ وہ ایک نبی ہے جو مامور من اللہ ہے اور نزول مسیح کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی تعمیل ہے۔

یہ چودھری صاحب کا قول ہے لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ مسلمان یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کسی بھی قسم کا نبی نہیں ہے‘ تو تمام قضیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد دو شخصیتوں میں سے ایک تھا۔ یا تو ایک سچا نبی یا ایک جھوٹا نبی‘ تو مرزا غلام احمد کی نبوت بنیاد ہے‘ جو قادیانی عقیدہ

صفحہ 83

رکھتے ہیں۔ مسلمان اس کو تسلیم نہیں کرتے تو قادیانی نقطۂ نظر سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جو شخص مرزا غلام احمد اور اس کے پیغام پر یقین نہ رکھتا ہو وہ ان کے نظریہ کے مطابق کافر ہے۔ اس لیے غیر احمدیوں کو غیر مسلم سمجھنا فرض ہے اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا‘ کیونکہ ہم (احمدی) ان کو (مسلمانوں کو) اللہ کے نبیوں میں سے ایک نبی کے منکر سمجھتے ہیں۔ یہ ایک قول ہوا......

دوسرا قول یہ ہے: غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہے۔ اس کا بھی نماز جنازہ نہ پڑھیں۔ حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد نے سخت برا منانے کا اظہار کیا ہے‘ اس احمدی کے لیے جو اپنی بیٹی غیر احمدی کو شادی میں دے دے۔ (”انوار خلافت“ از مرزا محمود احمد ص 89-84) جب بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے انتقال کیا تو سر ظفر اللہ خان‘ جو ان دنوں وزیر خارجہ تھے‘ علیحدہ کھڑے رہے اور نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی۔

آزادی کے ایک سال قبل کا اب مرزا محمود کا اقتباس لیتا ہوں۔

”ایک سال قبل (پاکستان کی آزادی سے ایک سال قبل) میں نے اپنے ایک نمائندے کے ذریعہ ایک انتہائی ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسی اور عیسائیوں کی طرح ہمارے بھی حقوق تسلیم کیے جائیں‘ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیتی مذہبی فرقے ہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی‘ عیسائی مذہبی فرقے ہیں‘ جس طرح ان کے حقوق کو علیحدہ تسلیم کیا گیا ہے‘ اسی طرح ہمارے بھی کیے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کرتے جاؤ‘ میں اس کے مقابلہ میں دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا“...... اس میں تاریخ بھی دی ہوئی ہے۔ (13نومبر 1946ء)

یہ تھے مرزا محمود احمد‘ قادیانی فرقہ کے سربراہ اور سر ظفر اللہ خان غالباً نمائندے۔ اسی طرح بوقت آزادی اور سرحدوں کی حد بندی کے وقت قادیانیوں نے ایک عرضداشت پیش کی کہ وہ مسلمانوں سے الگ ایک جماعت ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ پنجاب کے کنارے کے علاقوں میں مسلمان آبادی کا تناسب گھٹ گیا اور بالآخر (ایوارڈ) فیصلے میں گورداسپور ہندوستان کو دے دیا گیا‘ تاکہ وہ کشمیر سے تعلق رکھ سکے۔ تو قادیانیوں کا اصرار کہ ان کو اسلام کی بڑی جمعیت کا حصہ تصور کیا جائے‘ پاکستان کی پوزیشن سے متخالف ہے۔ بہت شروع میں قادیانی قیادت نے اپنے پیروؤں کو تاکیداً نصیحت کی تھی کہ صوبہ بلوچستان کی چھوٹی سی آبادی کو احمدی بنالیں تا کہ تبدیلی مذہب کے ذریعہ کم از کم ایک صوبہ کو اپنا کہہ سکیں اور مسلح افواج میں داخل ہو جائیں...... بعد ازیں قادیانیوں کا بزنس اور انڈسٹری میں زبردستی طاقتور پوزیشن حاصل کرنا‘ سول انتظامیہ اور فوج میں قوت کے حصول نے خطرات پیدا کر دیے کہ کہیں بالآخر پاکستان پر قبضہ نہ کر لیں۔ بہت سے لوگ پاکستان کے ٹوٹنے میں قادیانی کردار کا ذکر کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے اشارات اخبار ”بنگلہ دیش آبزرور“ میں مراسلات کے کالم میں ملے ہیں۔ اس پس منظر میں

صفحہ 84

دور دور حالیہ گڑبڑ کا پھوٹ پڑنا، کوئی تعجب کی بات نہیں اگرچہ بہت قابل مذمت ہے۔ مسلمان الزام دیتے ہیں کہ قادیانی لوگ بہت مغرور متشدد اور اشتعال انگیز رویہ اختیار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا اپنا یہ احساس ذمہ داری کہ وہ اپنی طرف سے منصفانہ طریقہ اختیار کریں ایک طرف ہے لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ اشتعال میں آکر ان کے مغلوب الغضب ہو جانے سے بددیانت اشخاص کو موقع فراہم ہو جاتا ہے کہ وہ صورت حال کو اپنے مفاد میں لا کر ناجائز کام کریں۔ کیا سر دست یہ کچھ ہو رہا ہے۔ ہاں میں جواب نہیں دیا جا سکتا بہر حال بنیادی مسئلہ جو لایخل ہے وہ قادیانیوں کا ہے۔ اقلیتیں کہتی ہیں کہ پاکستان میں ان کے ساتھ سلوک اگرچہ اس قدر اسلامی نہیں لیکن یقیناً پاکستان کا ریکارڈ اقلیتوں کے ساتھ عمدہ سلوک کا مثالی ہے یعنی پارسیوں عیسائیوں ہندوؤں اور یہودیوں کے ساتھ اور اگر قادیانیوں کو بحیثیت اقلیت کے دستوری تحفظ حاصل ہو گیا تو ان کو سکون اور باہمی ارتباط کی آسائش حاصل ہو جائے گی۔ یہ امر واقعہ ہے کہ ان کو ملک کی اقتصادی سیاسی اور عسکری شعبہ جات زندگی میں ایک مقام حاصل ہو گیا ہے اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ قادیانیوں کے خلاف کوئی ناروا امتیاز یا معاندانہ جارحیت فی نفسہ نہیں ہے۔ پیچیدگی پیدا ہونے کی وجہ ان کی سیاسی اور اقتصادی امور میں حد سے زیادہ دخل پانے والی خواہش ہے۔ ہائیکورٹ کے ایک جج اسی گڑبڑ کی تفتیش کر رہے ہیں مگر سر ظفر اللہ خان کی اس کوشش سے مزید بے اعتمادی پیدا ہو جائے گی کہ وہ انسانی حقوق کمیشن اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی وساطت سے امریکہ اور برطانیہ کی وزارت خارجہ تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔“ اقتباس ختم ہوا۔ میں اسی حصہ کو سنانا چاہتا تھا۔

مرزا ناصر : اس مضمون کا ماخذ؟

اٹارنی جنرل : یہ تاثرات ہیں۔

مرزا ناصر : جماعت احمدیہ کے خلاف تاثر قائم کر رہا ہے۔

اٹارنی جنرل : جو بھی ہو یہ شخص ظفر اللہ خان کی پریس کانفرنس میں موجود تھا۔ اس نے رپورٹر کی حیثیت سے شرکت کی اور پھر رپورٹ لکھ دی اور اس نے بتایا کہ احمدیوں کا موقف یہ ہے۔

مرزا ناصر : چودھری ظفر اللہ خان نے یہ نہیں کہا۔

اٹارنی جنرل : ہرگز نہیں یہ خیالات و تبصرے چودھری صاحب کی پریس کانفرنس کے ہیں یا جو کچھ بھی چودھری ظفر اللہ خاں نے کہا تھا۔ اچھا تو یہاں یہ تاثر ہے کہ بوقت آزادی یا آزادی سے کچھ عرصہ قبل جماعت احمدیہ کا موقف تھا کہ وہ علیحدہ ہیں جیسے پارسی وغیرہ۔

مرزا ناصر : یہ کیسے۔

اٹارنی جنرل : اچھا آپ مرزا محمود کے بیان کی وضاحت کریں؟

صفحہ 85

مرزا ناصر : میں اس وقت اس پوزیشن میں نہیں، چیک کروں گا۔

اٹارنی جنرل : اچھا اب میں ایک دوسرے مضمون پر آتا ہوں۔ آپ کی نظر میں مسیح موعود کا کیا معنی اور تصور ہے۔ کیا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوسرا جنم ہے یا اس قسم کی دوسری چیز ...... ہم واضح معلوم کرنا چاہتے ہیں۔

مرزا ناصر : یہ تاثر غلط ہے کہ دوبارہ روح آگئی ہے، جیسے ہندوؤں کا عقیدہ ہے بلکہ مسیح نے اس امت میں نازل ہونا تھا، تو ان کی جگہ اس کی طبیعت سے ملتے جلتے خواص لے کر کسی اور کو آنا ہی ہے۔ ملتے جلتے ہیں، خدوخال۔ مسیح ناصری نے دوبارہ نہیں آنا بلکہ اس کی خو بو رکھنے والا ایک شخص پیدا ہوگا۔ اسلام کی مظلومیت کے زمانہ میں نوع آدم کے دل جیتنے والا ۔ سو وہ ہمارے عقیدہ کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد صاحب ہیں۔ یہ ہے مسیح موعود کا تصور ۔ پچھلے سال باہر کے دورہ میں مجھ سے سوال کیا گیا تو میں نے جواب دیا کہ ہم پوری دنیا کو ایک امت بنادیں گے یعنی سارے عیسائی وغیرہ ملحد سب ایک ہو جائیں گے۔

اٹارنی جنرل : میرا سوال جو تھا مرزا صاحب وہ یہ تھا، تجسیم بار دگر، دوسرا جنم؟

مرزا ناصر : ہرگز نہیں، کوئی تصور ہی نہیں بلکہ خو بو رکھنے والا ۔

اٹارنی جنرل : اس کی صفات رکھنے والا ۔

مرزا ناصر : بلکہ صفات رکھنے والا ............

اٹارنی جنرل : مگر مرزا غلام احمد کہتے ہیں کہ مسیح کیا تھا۔ کیا چال چلن تھا، ایک کھاؤ پیؤ نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین خدائی کا دعویٰ کرنے والا ۔ (”مکتوبات احمدیہ“ ج 3، ص 23-24) کیا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفات تھیں جو مرزا صاحب نے بیان کیں اور یہی خو بو مرزا صاحب لے کر آئے ہیں؟

مرزا ناصر : یہ تو انجیل کی باتیں ہیں۔

اٹارنی جنرل : مگر مرزا صاحب نے تو اپنی کتابوں میں ان کو صحیح تسلیم کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر از راہ تنقیص لکھا ہے۔

مرزا ناصر : مگر آپ آگے پیچھے پڑھیں۔

اٹارنی جنرل : یہ کتاب میرے پاس ہے، اس میں لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام کا چال چلن کیا تھا۔ کھاؤ پیؤ نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار، متکبر، خدائی کا دعویٰ کرنے والا ۔ (”مکتوبات احمدیہ“ ج 3، ص 23-24)

مرزا ناصر : جی یہ ٹھیک ہے۔

صفحہ 86

اٹارنی جنرل : یہ کتاب بھی دیکھ لیں‘ اس میں لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام کا خاندان نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں‘ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ (”ضمیمہ انجام آتھم“ ص 7‘ حاشیہ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 291‘ ج 11)

مرزا ناصر : کونسا حوالہ ہے‘ چیک کرنا پڑے گا۔

اٹارنی جنرل : ”انجام آتھم کا ضمیمہ“ ہے۔ یہ کتاب لے لیں۔

مرزا ناصر : چیک کر کے‘ صحیح ہے انجیل۔

اٹارنی جنرل : ”ضمیمہ انجام آتھم“ صفحہ 7 کے حاشیہ کی عبارت پڑھیں۔ یہ کتاب مرزا غلام احمد قادیانی کی ہے‘ انجیل نہیں۔ آپ کے ہاتھ میں مرزا کی کتاب ہے۔......

مرزا ناصر : جی ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : جو انجیل کے حوالے آپ کہتے ہیں‘ وہ بتائیں؟

مرزا ناصر : ہاں جو انجیل کے حوالے ہیں‘ وہ بتائیں گے اور اپنی طرف سے کہا‘ وہ بھی بتائیں گے۔

اٹارنی جنرل : صورت حال کو واضح کرنے کے لیے کہ جو صفات‘ خو بو وہ کہتے ہیں۔ اگلا حوالہ مرزا صاحب نے کہا کہ مسیح اپنے تئیں پاک نہیں کہہ سکتے۔ یہ بہت مستند حوالہ ہے۔ کیا یہ اسی شخصیت کے متعلق ہے‘ یہ آپ کو بتانا ہے۔

مرزا ناصر : مگر وہ تو یسوع کے متعلق۔

اٹارنی جنرل : مگر مرزا صاحب تو کہتے ہیں کہ مسیح‘ یسوع‘ ابن مریم ایک ہی شخصیت ہے۔

مرزا ناصر : مگر انجیل کے حوالے سے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق لکھا۔

”یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی‘ کبابی ہے اور خراب چال چلن‘ نہ خدائی کے دعویٰ کے بعد بلکہ ابتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے‘ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا نتیجہ ہے۔ (”ست بچن“ ص 172‘ حاشیہ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 296‘ ج 10 ) یہ عبارت مرزا قادیانی غلام احمد صاحب کی ہے۔ آپ تسلیم کرتے ہیں۔ مجھے بتائیں کہ اس کا انجیل سے دور کا بھی واسطہ ہے۔ اس جملہ کا بائبل سے کیا تعلق ہے کہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا نتیجہ ہے؟

مرزا ناصر : ہاں۔

اٹارنی جنرل : دیکھئے مرزا غلام احمد صاحب نتیجہ پر پہنچ رہے ہیں‘ آخری فیصلہ دے رہے ہیں‘ یہ اس کے اپنے ریمارکس ہیں۔ انجیل سے ان کا کیا تعلق ہے؟

صفحہ 87

مرزا ناصر : ہاں چیک کریں گے بتائیں گے ہر ایک کی خدمت میں عرض کریں گے۔

اٹارنی جنرل : آگے مرزا صاحب فرماتے ہیں۔

مرزا ناصر : یہ وہی حوالہ ہے؟

اٹارنی جنرل : نہیں یہ دوسرا ہے۔

مرزا ناصر : یہ کونسا ہے؟

اٹارنی جنرل : ”انجام آتھم“ ص 6‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 290‘ ج 11 ۔ مرزا صاحب کی تصنیف ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھا۔ آپ کو یعنی حضرت عیسیٰ کو بریکٹ میں‘ یہ ہے‘ یسوع نہیں لکھا۔ گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی...... اور آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی...... اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی وعظ کو‘ جو انجیل کا مغز کہلاتا ہے‘ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے‘ کیا یہ کہیں بائبل میں ہے؟ ہے تو لائیے۔

مرزا ناصر : انجیل میں تو نہیں‘ مگر عیسائیوں کے لٹریچر میں۔

اٹارنی جنرل : آپ نے موقف تبدیل کر لیا مگر کیا کسی کے لٹریچر کو سامنے رکھ کر ایک سچے نبی پر اعتراض کرنا اور وہ بھی اخلاقی اور معاملاتی‘ کیا یہ درست ہے؟ میں یہ ہر بات آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں تاکہ آئندہ کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

مرزا ناصر : ہاں یہ ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : ”انجام آتھم“ ص 7‘ حاشیہ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 291‘ ج 11 میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں سوائے مکر وفریب کے اور کچھ نہ تھا۔

مرزا ناصر : اس کا حوالہ؟

اٹارنی جنرل : ”انجام آتھم“ پھر آگے اسی صفحہ پر ہے کہ آپ کا (عیسیٰ کا) کنجریوں سے میلان‘ ان کی صحبت بھی شاید اس وجہ سے ہے کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے۔

مرزا ناصر : چیک کر کے سب کی تفصیل آ جائے گی۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب (”ضمیمہ انجام آتھم“ ص 5‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 289‘ ج 11) میں لکھتے ہیں کہ ”متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ ”آپ کی (حضرت عیسیٰ کی) عقل بہت موٹی تھی۔ آپ جاہل عورتوں اور عوام الناس کی طرح مرگی کو بیماری نہیں سمجھتے تھے‘ بلکہ جن کا آسیب خیال کرتے تھے۔ ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے

صفحہ 88

کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ اب دیکھیں مرزا ناصر صاحب! انجیل متی سے معلوم ہوتا ہے کا معنی یہ ہے کہ نتیجہ خود نکال رہے ہیں، اصل اس میں یہ عبارت نہیں اور آخر میں ہمارے نزدیک کا لفظ بتاتا ہے کہ وہ اپنی طرف سے لکھ رہے ہیں نہ کہ انجیل سے۔

مرزا ناصر : یہ حوالہ تو پہلے آگیا ہے۔

اٹارنی جنرل : کیا آپ یہ تسلیم کریں گے کہ ایک نبی ان خوبیوں کا نہیں ہو سکتا۔

مرزا ناصر : میں تسلیم کرتا ہوں کہ انجیل میں یہ حضرت مسیح علیہ السلام پر الزامات ہیں، حقائق نہیں۔

اٹارنی جنرل : تعجب یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ ہم پیار سے بات کرتے، کسی کے جذبات کو تکلیف نہیں دیتے، مگر ان جھوٹے الزامات کو لے کر ایک نبی کی ذات، اس کے ماننے والے مسیحی عوام اور پھر مسلمانوں کے لیے یہ اشتعال انگیزی، آخر اس کا کیا جواز ہے؟

مرزا ناصر : ہم پیار سے بات کرتے ہیں مگر وہ کس ضمن میں، وہ میں بتاؤں گا۔

اٹارنی جنرل : مگر دیکھیں یہ لوگ دیکھ رہے ہیں۔

مرزا ناصر : ہر بات ہونی چاہیے۔

اٹارنی جنرل : مرزا غلام احمد نے کہا کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ (”دافع البلاء“ ص 24‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 240‘ ج 18) اس کے کیا معنی ہیں؟

مرزا ناصر : دیکھیں ناں معاملہ صاف ہو گیا، غلام احمد نہیں اضافت کے ساتھ پڑھیں : غلامِ احمد یعنی احمد کا غلام۔

اٹارنی جنرل : یعنی احمد کا غلام ایک نبی ہے، جو ایک نبی سے بہتر ہے۔

مرزا ناصر : نہ نہ احمد سے فیض حاصل کرنے والا، موسیٰ علیہ السلام سے فیض حاصل کرنے والے سے افضل ہے۔

اٹارنی جنرل : آنحضرتؐ سے فیض حاصل کرنے والا حضور علیہ السلام کا امتی ہوا۔

مرزا ناصر : مگر وہ تو انبیاء بنی اسرائیل سے بھی آگے نکل گئے۔ (توبہ توبہ کی آوازیں)

اٹارنی جنرل : اس سے بہتر غلام احمد ہے، کیا ان کی اپنے سے مراد ہے؟

مرزا ناصر : ہاں اپنے سے مراد ہے۔

اٹارنی جنرل : یعنی مرزا غلام احمد عیسیٰ علیہ السلام سے عظیم تر۔

مرزا ناصر : ہاں عظیم تر عیسیٰ علیہ السلام سے مگر حضور علیہ السلام کی وجہ سے، آپ کے طفیل۔

اٹارنی جنرل : ایک حقیقی پیغمبر سے بڑھ گیا۔

صفحہ 89

مرزا ناصر : یہ ایک دوسرا مسئلہ آگیا۔

اٹارنی جنرل : دوسرا مسئلہ کہاں آ گیا۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے اس کی آپ نے جو وضاحت کی کہ مرزا صاحب عیسیٰ علیہ السلام سے عظیم تر ہیں، اس کا باعث آپ کے بقول کچھ بھی مگر یہ آپ کا عقیدہ ہے، مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام سے افضل تھا۔ آگے جو آپ تاویل کرتے ہیں، اسے مسلمان نہیں مانتے، وہ آپ کی غلط تاویل ہے۔ اتنی بات...... اچھا ایک اور سوال ہے۔

مرزا ناصر : ہاں اسے جانے دیں، کوئی سوال کریں۔

اٹارنی جنرل : مرزا غلام احمد نے کہا کہ حضور علیہ السلام یہودیوں کے ہاتھوں کا پنیر کھاتے تھے اور مشہور تھا کہ اس میں سور کی چربی پڑتی ہے۔ (”الفضل“ 23 فروری 1924ء، ص6، کالم 3) کیا یہ اتہام ہے یا خود کے لیے پنیر کھانے کا جواز پیدا کیا ہے؟

مرزا ناصر : دیکھئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے فرمایا کہ شک سے کوئی چیز پلید نہیں ہوتی، پھر ایک مثال دی۔ شیطان کا کام ہے جو وسوسے ڈالتا ہے، شک سے آپ کو معلوم ہے کہ غسل واجب نہیں ہوتا۔

اٹارنی جنرل : میں تو اس کی وضاحت چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر : خدا کے لیے اس پر بحث نہ کریں۔ دفع کریں، جانے دیں۔ اف اللہ یہ کیا، توبہ توبہ۔

چیئرمین : اس نشست کو ختم کرتے ہیں۔ آپ چلے جائیں، دوبارہ سوا بارہ بجے تشریف لائیں۔

وقفہ کے بعد کمیٹی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔ چیئرمین نے صدارت سنبھالی۔

چیئرمین : دروازے بند کر دیں۔ (وفد داخل ہوا)۔

اٹارنی جنرل : کیا مرزا غلام احمد نے یہ کہا ہے کہ ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو اب ایک نئی خلافت لو ایک زندہ علی (مرزا غلام احمد) تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور ایک مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“

(”ملفوظات احمدیہ“ جلد 2، ص 142)

مرزا ناصر : مردہ علی کے معنی وفات یافتہ کے ہیں۔

اٹارنی جنرل : وہ تو جو آپ کہیں، کیا یہ عبارت ہے؟ آپ اسے تسلیم کرتے ہیں؟

مرزا ناصر : ہاں، عبارت ہے مگر یہ ایک غالی شیعہ کو کہی۔

اٹارنی جنرل : کسی کو کہی، مگر کہی ہے اور اپنے آپ کو حضرت علیؓ سے افضل قرار دیا کہ میں زندہ ہوں، وہ مردہ ہیں۔ یہ اس کا سیاق و سباق ہے کہ وہ اپنے کو حضرت علیؓ سے افضل کہتا ہے۔

مرزا ناصر : مگر وہ وفات شدہ۔

صفحہ 90

اٹارنی جنرل : تو وفات شدہ علیؓ کو چھوڑو زندہ علی مرزا غلام احمد کولو‘ جو اس سے افضل ہے۔

مرزا ناصر : جی وفات شدہ کی بجائے زندہ۔

اٹارنی جنرل : تو حضور علیہ السلام بھی وفات شدہ ہیں‘ ان کو بھی چھوڑ دیں؟

مرزا ناصر : نہیں۔ اوں۔

اٹارنی جنرل : میرا یہ تاثر ہے کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ یہاں بھی یہ کہ حضرت علیؓ کو چھوڑو‘ میرے پاس آؤ۔

مرزا ناصر : میں عرض کروں کہ یہ تاثر......

اٹارنی جنرل : اردو کی عبارتیں ہیں۔ جو سامعین و حاضرین ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں‘ آپ تاویل کی قینچی نہ چلائیں‘ وہ بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کس شخصیت کے متعلق کیا کہتا تھا۔

گردیزی صاحب : جناب خدا کے لیے۔

چیئرمین : گردیزی صاحب‘ خاموش۔ اٹارنی جنرل صاحب آگے چلیں۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے یہ لکھا کہ ”حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا۔“ (”ایک غلطی کا ازالہ“ حاشیہ ص 9‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 213‘ ج 18)

مرزا ناصر : اصل حوالہ دیکھتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : اردو کی عبارت ہے۔ آپ دیکھتے رہیں‘ میں اگلا سوال پڑھتا ہوں۔ مرزا نے کہا کہ

کربلا است سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم

(”نزول المسیح“ ص 99‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 477‘ ج 18)

کربلا ہر وقت میری سیر گاہ ہے اور سو حسین میرے گریبان میں ہیں۔

مرزا ناصر : یہ ایک شیعہ عالم کے جواب میں......

اٹارنی جنرل : شیعہ عالم کے جواب میں حضرت حسینؓ کی اور عیسائیوں کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین۔ ٹھیک ہے‘ میں سمجھ گیا۔

مرزا ناصر : مگر حضرت حسین کی بانی سلسلہ نے بہت تعریف کی ہے۔

اٹارنی جنرل : اسی طرح کہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی کی ہوگی۔

مرزا ناصر : جی ہاں‘ بہت۔

اٹارنی جنرل : ہمارا موقف واضح ہے کہ یہ ڈبل گیم کھیلنے والا عیار۔

مرزا ناصر : آپ کی مرضی۔

صفحہ 91

اٹارنی جنرل : میں اس کی عبارتیں پڑھ رہا ہوں۔

مرزا ناصر : جی‘ مگر جو حضرت حسین کی تعریف کی‘ وہ میں پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : دیکھیں۔

چیئرمین : مسٹر اٹارنی پڑھنے دیں‘ وضاحت کریں‘ مگر اسی شعر کی ہو۔

مرزا ناصر : حضرت حسین کی تعریف۔

چیئرمین : شعر کی وضاحت سے متعلق اس کی یا آپ کی کوئی کوٹیشن ہے تو دیں‘ ورنہ آگے چلیں۔ ہاں مسٹر اٹارنی جنرل۔

عبدالعزیز بھٹی : دیکھیں جناب‘ گواہ وضاحت کر سکتا ہے مگر تیار کردہ جواب کسی میگزین کا چھپا ہوا نہیں پڑھ سکتا‘ یہ میرا پوائنٹ آف آرڈر ہے۔

چیئرمین : اٹارنی سے بات کر لیں۔

مرزا ناصر : میں اقتباس کا قول پیش کر سکتا ہوں۔

چیئرمین : ان کا اعتراض معقول ہے‘ قانونی طور پر یہ جائز نہیں ہے کہ لکھی لکھائی بات پڑھیں۔

مرزا ناصر : میں اقتباس پڑھ سکتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : اپنی یادداشت بھی لکھی ہوئی تازہ کرنے کے لیے پڑھ سکتے ہیں‘ حافظہ کو تازہ کرنے کے لیے۔

مرزا ناصر : حضرت حسین طاہر تھے‘ مطہر تھے اور بلاشبہ ان برگزیدوں میں سے تھے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنی محبت سے معمور کرتا ہے اور بلاشبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہیں اور ایک ذرہ کینہ رکھنا‘ اس سے بموجب سلب ایمان ہے اور اس امام کا تقویٰ اور محبت ایسی اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت سے ابتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔ تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے۔ کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت ایسی کہ تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروؤں کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے‘ جیسا کہ ایک صاف آئینے میں ایک خوبصورت انسان کا عکس۔

اٹارنی جنرل : مگر حسین کی ان تمام خوبیوں کے باوجود صد حسین است در گریبانم کہ سینکڑوں حسین مرزا کے دامن میں پڑے ہیں؟

مرزا ناصر : میں ایک اور اقتباس پڑھتا ہوں۔

صفحہ 92

چیئرمین : شعر کی وضاحت کے متعلق یا تعریف کا؟

مرزا ناصر : تعریف و مقام کا۔

چیئرمین : رہنے دیں‘ اصل معاملہ پر بحث کریں۔ وقت۔

اٹارنی جنرل : کبھی مبلغ‘ کبھی مجدد‘ کبھی مسیح‘ تو وہ موقف تبدیل کرتے رہتے تھے۔ حضرت حسین کے بارے میں رائے تبدیل کر لی ہوگی۔ اس شعر کے بعد کا کوئی حوالہ دیں۔ چلو آگے‘ مرزا نے کہا کہ مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے کہ میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ (”اعجاز احمدی“ ص 81‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 193‘ ج 19)

مرزا ناصر : میں چیک کروں گا۔

اٹارنی جنرل : آپ چیک کریں مگر میرا سوال یہ بھی ہوگا کہ اس کا کہنا کہ تمہارا حسین‘ اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت حسین مرزا کے کچھ نہیں لگتے۔ مجھ میں اور تمہارے حسین میں فرق ہے۔

مرزا ناصر : میں چیک کروں گا۔

اٹارنی جنرل : اچھا‘ آپ نے کہا دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور کافر ہیں۔

مرزا ناصر : ہاں‘ جو حضور علیہ السلام کو نہ مانیں‘ وہ غیر مخلص۔ کسی حد تک وہ بھی کافر تو ہر ایک میں دو طبقے ہوئے نا‘ مخلص و غیر مخلص۔

اٹارنی جنرل : احمدیوں میں بھی؟

مرزا ناصر : جی ہم میں بھی۔

اٹارنی جنرل : تو آپ میں بھی جو غیر مخلص ہوں گے‘ کسی حد تک وہ بھی کافر؟

مرزا ناصر : اس حد تک وہ بھی کافر ہوئے۔

اٹارنی جنرل : ایک شخص دیانت داری سے مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا‘ وہ کس قسم میں آپ رکھیں گے؟

مرزا ناصر : گنہگار‘ غیر مخلص۔

اٹارنی جنرل : غیر مخلص کسی حد تک کافر؟

مرزا ناصر : جی۔

اٹارنی جنرل : چلو۔

مرزا ناصر : دیکھو‘ ہم نے چیک کیا ”دافع البلا“ میں ہاں وہ‘ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو‘ یہ تو شاعرانه باتیں ہیں۔ کتاب میرے ہاتھ میں ہے۔

اٹارنی جنرل : کیا نبی شاعری میں خلاف حقیقت بات کرتا ہے؟ خلاف حقیقت کسی وقت نبی

صفحہ 93

بات کرتا ہے؟

مرزا ناصر : ہاں! یہ آپ نے صحیح پوائنٹ لیا۔ اچھا چلو، کتاب واپس لے لو (اپنے ارکان سے)۔

اٹارنی جنرل : کیا مرزا نے کہا کہ حضور علیہ السلام کے لیے چاند کا گرہن ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا؟ (”اعجاز احمدی“ ص 71‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 183‘ ج 19)

مرزا ناصر : چیک کریں گے۔

عبدالعزیز بھٹی : جناب ہر بات میں چیک کریں گے کہہ کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ پہلے یہ بتائیں کہ کیا ان کو یہ حوالہ جات تسلیم ہیں یا نہ۔ تمام کتابیں اصل ہمارے پاس موجود ہیں۔ ہم ساتھ ہی ساتھ دیتے جائیں گے۔ ان کے دوسرے ارکان، جو معاون ہیں، وہ چیک کرتے جائیں۔ یہ چیک کا مسئلہ ایسا ہے کہ جسے گول کرنا ہو، چیک کریں گے۔ کتابیں لیں اور چیک کریں۔ ہاں یا نہ میں مسئلہ ختم کریں۔

چیئرمین : ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : وہ کہتے ہیں، میں اصل کو پڑھوں گا۔

بھٹی صاحب : تو کتاب لے لیں۔

اٹارنی جنرل : مگر وہ گھر میں پڑھیں گے۔ (قہقہہ)

مرزا ناصر : ظلی بروزی کی بحث پر مشتمل یہ بیان ہے، آپ لے لیں۔

اٹارنی جنرل : دے دیں۔

چیئرمین : مسل میں لگا دیں۔

اٹارنی جنرل : وہ ”تمہارے“ حسین والی بات؟

مرزا ناصر : اجازت دیں تو میں شام کو بحث تیار کرا کر داخل کرا دوں گا۔

اٹارنی جنرل : وہ نائجیریا میں کلمہ طیبہ میں احمد رسول اللہ؟

مرزا ناصر : میگزین ہمارے سعودیہ سے ایک دوست نے بھیجا ہے۔ میں نے آپ کو دکھا دیا۔ کوفی رسم الخط اور عراقی میں فرق ہے۔

اٹارنی جنرل : مگر ممبران کا خیال ہے کہ یہ احمد ہے، محمد نہیں۔ یہ خود بول رہا ہے۔

مرزا ناصر : دنیا کو ایک دوسری کہانی سنا رہا ہے۔

اٹارنی جنرل : بالکل دوسری تمام مسلم دنیا سے ہٹ کر بغیر تبصرے کے خود بول رہا ہے۔ ممبران

صفحہ 94

کے دیکھنے کی بات ہے۔

مرزا ناصر : ہماری باقی عبادت گاہوں کی تصاویر بھی تو سامنے رکھیں۔

اٹارنی جنرل : اور پھر دونوں کا فرق دیکھیں۔ (قہقہہ)

سردار مولا بخش سومرو : جب ان کے سامنے ایک سوال رکھیں تو وہ اس کا انکار کریں اور پھر وضاحت۔ جب تسلیم کرلیا تو وضاحت کیا معنی!

چیئرمین : اٹارنی صاحب توجہ فرمائیں۔ گواہی میں ایک بات کے تسلیم کرنے پر مزید وضاحت کی بغیر عدالت کی ضرورت وتقاضا کے گواہ ازخود کرسکتا ہے یا نہیں؟

اٹارنی جنرل : مگر مرزا صاحب تو ہر بات چیک پوسٹ پر لے جاتے ہیں۔ ہاں یا نہ پوزیشن ہو تو بات جلدی سمٹ سکتی ہے۔

مرزا ناصر : آپ کیا چاہتے ہیں کہ میں آپ کی مرضی کے مطابق جواب دوں؟

اٹارنی جنرل : نہیں‘ آپ پر پابندی نہیں مگر تسلیم و انکار کو تو ابتداء میں آپ واضح کر دیں کہ یہ ہے مگر اس کا مقصد یہ۔ آپ وضاحت کی طرف تو آتے ہیں مگر تسلیم و انکار کو چھوڑ جاتے ہیں۔

مرزا ناصر : میں سمجھ گیا‘ مگر اس کے بعد مجھے وقت تو ملنا چاہیے۔

اٹارنی جنرل : وہ تو قدرتی بات ہے۔ آپ وقت مانگ سکتے ہیں مگر دو چیزیں ہیں کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جن کے لیے بالکل وقت کی ضرورت نہیں۔ ایسے سوالات کو آپ نمٹا دیا کریں۔ علمی تحقیق یا مزید مطالعہ کی جہاں ضرورت ہو‘ آپ وقت لے لیا کریں۔ وقت فراہم کیا جائے گا۔

چیئرمین : وقت گواہ کو ملنا چاہیے‘ تیاری کے لیے۔

اٹارنی جنرل : مگر یہ سب مرزا صاحب کی کتابیں ہیں‘ تصنیفات۔

مرزا ناصر : لیکن وہ اس وقت اور اس جگہ تو میرے قبضہ میں نہیں ہیں۔

چیئرمین : اٹارنی صاحب‘ آپ جو حوالہ دیں‘ کتاب موجود ہو۔

اٹارنی جنرل : جناب ایسے ہو رہا ہے۔

چیئرمین : اس وقت تک اتنا کافی ہے۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے‘ شام چھ بجے تشریف لائیں۔

شام چھ بجے صاحبزادہ فاروق علی صاحب کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا۔

مرزا ناصر : دیکھیں مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت بڑا فرق ہے۔ یہاں حسینکم‘ کم کی ضمیر ہے‘ وہ اس مطلب کو ظاہر کر رہی ہے کہ جو لوگ حضرت حسین کی پرستش کرتے ہیں‘ ان کی قبر پر سجدہ کرتے ہیں‘ ان کو خطاب کیا۔

صفحہ 95

اٹارنی جنرل : ریفرنس یہ تھا کہ مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ ”تمہارا“ کون ہو سکتا ہے؟

مرزا ناصر : وہ لوگ۔

اٹارنی جنرل : ہم وکیل لوگ ہیں۔ ہم الفاظ کو ان کے ظاہری معنی پہناتے ہیں‘ سیدھے سادے معنی۔ یہ کہنا کہ تمہارا حسین‘ اس کا مقصد ہے کہ مرزا صاحب کے کچھ نہیں لگتے اور پھر کہ وہ‘ مجھے امداد و تائید خدا ہر وقت مل رہی ہے اور حضرت حسین کو نہیں ملی۔ کیا لکھنا و کہنا مناسب تھا مرزا صاحب کے لیے؟

مرزا ناصر : تمام اشعار پڑھ لیں۔

اٹارنی جنرل : اگر یہ معنی غلط ہوں یا مصنف نے نہ کہے ہوں پھر تو ٹھیک ہے‘ لیکن یہاں تو بالکل صاف لکھا ہوا ہے اور پھر مرزا صاحب نے آگے لکھا ہے کہ میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین دشمن کا کشتہ ہے۔ اور فرق کھلا اور صاف ظاہر ہے۔

مرزا ناصر : پھر پڑھیں۔

اٹارنی جنرل : مجھ میں تو ہمت نہیں کہ حضرت حسینؓ کی توہین کو بار بار دہراتا رہوں۔ یہ مرزا اپنے سے حضرت حسینؓ کا موازنہ کر کے خود کو افضل قرار دے رہا ہے۔

مرزا ناصر : موازنہ مگر نیت کو دیکھیں۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب یہ بھی تو کہتے ہیں کہ اے شیعہ قوم‘ اس پر مت اصرار کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا صاحب) حسین سے بڑھ کر ہے۔ (”دافع البلا“ ص 26 مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 233‘ ج 18) اب اس میں نیت صاف پکار کر اظہار کر رہی ہے کہ مرزا صاحب کا کیا موقف ہے؟

مرزا ناصر : مرزا صاحب حضور علیہ السلام کے ظل کامل ہیں اور وہ تمام امت سے افضل ہیں۔ یہ عقیدہ کی بات ہے‘ اس میں کوئی شبہ نہیں۔

اٹارنی جنرل : دیکھو نبی آپ کے سامنے موجود ہے‘ وہ سب سے افضل ہے‘ ان کی ہدایت ہے کہ مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے۔

مولانا غلام غوث : جناب اٹارنی صاحب مرزا ناصر نے تو کہہ دیا ہے کہ صرف حضرت حسین نہیں بلکہ تمام امت سے مرزا قادیانی افضل ہے۔

مرزا ناصر : مگر مرزا صاحب نے تو حضرت حسین کی تعریف کی ہے۔

اٹارنی جنرل : تعریف کر کے کہا کہ اس سے بھی میں افضل ہوں‘ تو ان کی تعریف کی ہے یا اپنی

صفحہ 96

برتری ثابت کر رہے ہیں؟ اب آپ کا دعویٰ ہے کہ مرزا غلام احمد ظل کامل ہے‘ اس لیے وہ تمام اولیاء و حضرت حسین سے افضل ہے‘ یہ آپ کا دعویٰ ہے۔

مرزا ناصر : یہ دعویٰ نہیں بلکہ یہ میرا عقیدہ ہے اس لیے کہ یہ مہدی اور مسیح ہیں‘ اس لیے تمام سے افضل ہیں۔

اٹارنی جنرل : یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد بوجہ مسیح موعود ہونے کے تمام انبیاء واولیاء سے افضل ہے‘ سب سے برتر ہے؟

مرزا ناصر : آپ نتیجہ پکڑ لیتے ہیں۔ (قہقہہ)

اٹارنی جنرل : آپ نے کہا کہ حضور علیہ السلام کے سوا تمام سے افضل‘ مگر آپ لوگوں کا تو یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد حضور علیہ السلام سے بھی افضل ہے۔ آپ کے اشعار ہیں :

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد جس نے دیکھنے ہوں اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار ”البدر“ قادیان‘ 25 اکتوبر 1906ء)

مرزا ناصر : مگر ان کی تو تردید کر دی گئی تھی۔

اٹارنی جنرل : کس نے تردید کی؟

مرزا ناصر : ہمارے خلیفہ مرزا محمود نے۔

اٹارنی جنرل : آپ کے خلیفہ کہتے ہیں کہ یہ غلط ہیں اور خود مرزا ان کو سن کر کہتا ہے جزاک اللہ اور خوشخط لکھوا کر گھر جا کر لگا دیتا ہے۔ (”الفضل“ قادیان 22 اگست 1944ء) آپ کے مسیح کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہیں‘ خلیفہ کہتے ہیں کہ غلط‘ آپ بتائیں کہ ان دونوں میں سے صحیح کونسا ہے؟

مرزا ناصر : میں چیک کروں گا۔

اٹارنی جنرل : لیجئے‘ مرزا نے کہا کہ تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا۔ تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے‘ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔ (”اعجاز احمدی“ ص 82‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 194‘ ج 19)

مرزا ناصر : ہاں لکھا ہے مگر شرک کی تردید میں۔

اٹارنی جنرل : شرک کی تردید میں توحید کو کستوری اور حسینؓ کے ذکر کو گوہ‘ گندگی سے تشبیہ دینا ٹھیک ہے؟

مرزا ناصر : نہیں‘ نہیں۔

اٹارنی جنرل : آپ نے کہا کہ جو مرزا کو اتمام حجت کے باوجود نہیں مانتا‘ وہ؟

صفحہ 97

مرزا ناصر : دعویٰ کو نہیں مانتا۔

اٹارنی جنرل : آپ نے کہا کہ وہ کافر ہیں محدود معنوں میں؟

وقفہ برائے مغرب

اٹارنی جنرل : محدود معنی یا کیٹیگری میں خلط ملط ہے، اس کی وضاحت کریں۔ مثلاً جن انبیاء کا قرآن مجید میں ذکر ہے، ان کا منکر کون ہے؟

مرزا ناصر : کافر، اتمام حجت کے بعد۔

اٹارنی جنرل : اتمام حجت کے بعد مرزا کا منکر، آپ کے عقیدہ میں اس کو ماننا بھی قرآن کا حکم ہے تو؟

مرزا ناصر : کافر ہوگا ان کا منکر بھی یعنی مرزا صاحب کا منکر بھی کافر ہوگا، مگر اتمام حجت کے بعد۔

اٹارنی جنرل : اتمام حجت کیا معنی؟

مرزا ناصر : اتمام حجت ہوگا ہماری دلیل قبول کرنے کے بعد۔

اٹارنی جنرل : اتمام حجت کا یہ معنی دنیا کی کسی ڈکشنری میں آپ دکھا سکتے ہیں کہ ہماری دلیل قبول کرنے کے بعد؟

مرزا ناصر : وہ انکار کرتے ہیں اور دل یقین سے پُر ہیں۔

اٹارنی جنرل : یہ اتمام حجت نہیں کہلاتا؟

مرزا ناصر : میرے نزدیک یہی اتمام حجت ہے۔

اٹارنی جنرل : لغت میں ہے کہ بحث وتمحیص، عقلی استدلال اور سمجھانے کا نام اتمام حجت ہے۔ اچھا یہ بتائیں کہ ابو جہل پر اتمام حجت ہو گیا تھا؟

مرزا ناصر : میں اس وقت نہیں تھا، بتا نہیں سکتا۔

اٹارنی جنرل : آپ مرزا کے زمانہ میں بھی تو نہ تھے، پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔ (قہقہہ)

مرزا ناصر : خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے مرزا صاحب کو پڑھا ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ کی نیت یا تعلیم کا سوال نہیں ہے، اتمام حجت کا سوال ہے؟

مرزا ناصر : ایک آدمی کو معلوم ہے اور مرزا غلام احمد کو نہیں مانتا، وہ محدود معنوں میں کافر ہے۔

اٹارنی جنرل : ایک آدمی نے مرزا صاحب کا نام نہیں سنا، وہ کس زمرہ میں آئے گا؟

مرزا ناصر : نام نہیں سنا۔

اٹارنی جنرل : ہاں میں پوچھ رہا ہوں۔ (قہقہہ)

صفحہ 98

مرزا ناصر : جس قسم میں آئے گا۔

اٹارنی جنرل : آپ گول کر رہے ہیں مگر آپ کے والد نے تو کہا کہ جس نے مرزا غلام احمد کو نہیں مانا، چاہے اس نے مرزا کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر ہے۔ (”آئینہ صداقت“ ص 35)

مرزا ناصر : ہاں ہاں کہا ہے مگر خارج از اسلام۔

اٹارنی جنرل : آپ کے لٹریچر میں مرزا کے منکرین کے لیے دونوں لفظ ہیں کہ مرزا کے منکرین نہ صرف کافر بلکہ پکے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ (”کلمۃ الفصل“ ص 110) یہ آپ کے مرزا بشیر ایم۔ اے کا قول ہے۔ کیا یہ فالتو بات کہی؟

مرزا ناصر : نہیں، کیا یہ دونوں ایک معنی میں کہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج؟

اٹارنی جنرل : مجھ سے کیا پوچھتے ہیں۔ ”آئینہ صداقت“ آپ کے باپ کی اور ”کلمۃ الفصل“ آپ کے چچا کی، دونوں موجود ہیں، آپ ان کو دیکھ سکتے ہیں۔

مرزا ناصر : اچھا چلئے، سمجھئے کہ یہ لفظ زائد ہے۔

اٹارنی جنرل : سمجھنے چلئے نہیں، بلکہ وہ سوچ سمجھ کر الفاظ استعمال کر رہے ہیں، زائد یا فالتو نہیں؟

مرزا ناصر : میرا مقصد ہے کہ آپ کے اظہار اعتقاد کے خلاف وہ بات ہے۔

اٹارنی جنرل : غیر احمدیوں کے بارے میں کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج کیا میری دانست میں، وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ کافر ہیں، مسلمان نہیں؟

مولانا غلام غوث : تمام ممبران سے درخواست ہے کہ آپ لوگوں پر اتمام حجت ہو چکا ہے اور فتویٰ بھی یہ دے چکے ہیں کہ جو مرزا صاحب کو نہ مانیں وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج۔ میں بار بار درخواست کروں گا کہ ممبران حضرات سمیت پوری امت کو قادیانی کافر سمجھتے ہیں۔

مرزا ناصر : مجھے آپ فارغ کر دیں، ابھی میں تو تھکا ہوا محسوس کرتا ہوں اپنے آپ کو۔

اٹارنی جنرل : آپ تھکے ہوئے ہیں؟

مرزا ناصر : جی تھکا ہوا، درخواست ہی کر سکتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : تو پھر ٹھیک ہے۔

چیئرمین : وفد کو جانے کی اجازت ہے۔

جناب محمود اعظم فاروقی : جناب ان کو کہیں کشتہ وغیرہ کھا کر آئیں، تاکہ کچھ وقت بیٹھ سکیں۔

میاں عطاء اللہ : آج اٹارنی جنرل صاحب نے تین چار پوائنٹ پر ان کو زچ کیا ہے، اس لیے تھک گئے ہیں، زیادہ نہ بولا کریں۔

اٹارنی جنرل : خوب بولیں، جتنا زیادہ بولیں گے، اتنا زیادہ تضاد ہوگا، جو آپ کے سامنے ہے۔

صفحہ 99

بے جوڑ و متضاد۔ آپ بولنے دیں، میں نہیں روکتا۔ چیئرمین : کل دس بجے۔..... انشاء اللہ۔

8۔ اگست 1974ء بروز جمعرات کی کارروائی

دس بجے صبح قومی اسمبلی سٹیٹ بنک بلڈنگ اسلام آباد زیرصدارت صاحبزادہ فاروق علی سپیکر منعقد ہوا۔

تلاوت کلام پاک کے بعد

چیئرمین صاحب : 14 اگست کو قومی اسمبلی کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ اجلاس کو اگر ملتوی کریں اور آپ حضرات کو 14 اگست کے لیے بلائیں تو اس کی بجائے مناسب خیال کیا کہ اجلاس 14 اگست تک جاری رکھا جائے۔ اس وقت تک دونوں پارٹیوں ربوہ ولاہوری گروہ پر جرح مکمل ہو جائے گی۔ کارروائی مرتب ہو جائے تو ہم پھر اس پر بحث کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

اٹارنی جنرل : دیکھیں میں کوشش کر رہا ہوں۔ نمبر 1 جہاد شرعی امر کا انکار کر کے مرزا نے کیا پوزیشن اختیار کی۔ نمبر 2 مرزا کے منکرین کو خود مرزائیوں نے کافر کہا۔ اپنے متعلق کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی شخص کافر نہ کہے اور خود دنیا بھر کے اہل اسلام کو کافر قرار دیتے ہیں۔ جو اپنے لیے حق مانگتے ہیں وہ خود دوسروں کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جو ان کے کفریہ عقائد ہیں وہ ان کی تاویلیں کر رہے ہیں مگر جرح میں صحیح صورت حال آپ کے سامنے آ رہی ہے۔ نہیں کہا جا سکتا کہ کتنا مزید وقت لگ جائے گا۔

چودھری ظہور الہی : کیا آپ سٹینڈنگ کمیٹی کی کوئی مدت مقرر کرنے والے ہیں؟

چیئرمین : چیمبر میں اس پر بات کر لیں گے۔ کسی وقت بھی کمیٹی کا اجلاس منعقد کر سکتے ہیں۔

وفد کو بلا لیا جائے ۔ (وفد داخل ہوا)

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب۔

مرزا ناصر احمد : جناب آپ نے پوچھا کہ مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے؟ میں نے اس پر سٹڈی کر لی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ایک ہیں انجیل کے یسوع مسیح، ایک ہیں قرآن مجید کے مسیح علیہ السلام۔ انہوں نے یسوع مسیح کے متعلق لکھا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے تو وہ مثیل ہیں۔ ان کے متعلق قطعاً کچھ نہیں لکھا، بلکہ ان کی تو تعریف کی ہے۔

صفحہ 100

اٹارنی جنرل : انجیل میں یسوع مسیح اور قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ دو وجود ہیں یا ایک ہے؟ ایک وہ یسوع مسیح جن کو عیسائی خداوند یسوع مانتے ہیں۔ ایک وہ شخصیت حضرت مسیح علیہ السلام کی جن کو قرآن مجید نے کلمۃ اللہ روح اللہ کہا ہے۔ یہ دو آدمی ہیں یا ایک ہے؟ اگر ایک ہے تو پھر آپ کا عذر لنگ ہے۔ اگر دو ہیں تو یہ واقعات کے خلاف ہے۔ خارج میں وجود ایک ہے‘ جسے مسیحی کچھ مانتے ہیں اور آپ کچھ اور مسلمان ان دونوں کے علاوہ جو قرآن مجید نے کہا اس کے مطابق ان کی حیثیت؟ خارج میں ایک وجود کو دو قرار دے کر ایک فرضی یسوع کو گالیاں دینا کون سی دیانت داری ہے؟ کیا آپ فرما سکتے ہیں کہ وجود ایک ہے یا دو؟

مرزا ناصر : میں اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا‘ یہ تو آپ عیسائیوں سے پوچھیں۔

مولا بخش سومرو : آپ حضرات فرمائیں کہ یہ کیا جواب ہے؟

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب آپ خود اس قسم کا موقف اختیار کر کے اپنی پوزیشن کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ اچھا فاطمہ کی توہین کی‘ وہ بھی دو شخصیتیں تھیں؟

مرزا ناصر : دیکھیں خواب کا معاملہ عجیب ہے۔ یہ قلائد الجواہر ہے۔ اس کا حوالہ فوٹو سٹیٹ میں تمام ممبران کو تقسیم کرتا ہوں۔ اس میں شیخ عبدالقادر جیلانی کا خواب ہے۔ یہ تذکرۃ الاولیاء ہے‘ اس میں حضرت امام ابوحنیفہ کا خواب ہے۔ ایک خواب ”دیوبندی مذہب“ نامی ایک کتاب کے صفحہ 52 پر بھی درج ہے اشرف علی تھانوی کا‘ اگر مرزا صاحب نے توہین کی ہے تو پھر تمام پر فتویٰ لگائیے۔ یہ حوالہ جات ملاحظہ کریں اور پھر جرات سے فیصلہ کریں۔

مولانا مفتی محمود : جناب مرزا صاحب کی گفتگو کے دوران میں ہی میں نے حوالہ جات دیکھ لیے ہیں۔ قلائد الجواہر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی کتاب نہیں ہے۔ تذکرۃ الاولیاء حضرت امام ابوحنیفہ کی کتاب نہیں ہے۔ ”دیوبندی مذہب“ یہ مولانا اشرف علی تھانوی کی اپنی کتاب نہیں ہے۔ ان حضرات سے یہ منسوب باتیں ہیں‘ انہوں نے کہی ہیں یا نہیں‘ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور یہ تینوں کتابیں ایسی ہیں جو ہم پر حجت نہیں ہیں۔ ان رطب و یابس کتب کو بہانہ بنا کر معاملہ الجھانا دجل ہے۔

نمبر 2۔ اگر یہ کتابیں ان کی اپنی ہوتیں‘ وہ اپنے خوابوں کو خود بیان کرتے‘ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اگر ایسے ہوتا تو بھی مرزائیوں کے لیے مفید مطلب نہیں‘ اس لیے کہ امتی کا خواب شریعت میں حجت نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ یا شیخ عبدالقادر اپنی تمام تر عظمت کے باوجود حضور علیہ الصلوۃ کے امتی ہیں اور امتی کا خواب شریعت میں حجت نہیں ہے۔ عقیدہ کے لیے تو قطعاً بنیاد نہیں بن سکتا۔ خود خواب دیکھنے والے بھی اس کو ماننے کے پابند نہیں شرعی اعتبار سے۔

نمبر 3۔ مرزا صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ”نیند میں خواب دیکھا‘ بیداری میں کتاب لکھی۔“

صفحہ 101

نمبر 4۔ وہ نبی ہونے کا مدعی ہے اور نبی کا خواب شریعت میں حجت ہے۔

نمبر 5۔ مرزا صاحب نے حضرت فاطمہ کے متعلق خواب نہیں بلکہ کشف کا لکھا ہے۔ نبی کا خواب یا کشف وحی ہوتا ہے۔

نمبر 6۔ خواب کی تعبیر کی جاتی ہے۔ وحی کی تو تعبیر نہیں کی جاتی۔

نمبر 7۔ اصولی بات یاد رکھیں کہ ہم خوابوں کے پابند نہیں‘ یہ وہ حقائق ہیں۔ ان حضرات کی طرف منسوب غلط باتوں سے غلط استدلال کر کے ہاؤس کو گمراہ کرنا اور مرزا کی صفائی کے لیے معاملہ کو غلط کرنا دجل ہے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ میں نے سات باتیں کیں۔ مرزا ناصر ان میں سے کسی ایک بات کی جرأت ہے تو تردید کرے تا کہ معاملہ صاف ہو جائے۔ ہے جرأت؟ تو کرے انکار ورنہ ممبران سے میں درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس دجل کو بھانپنے کی کوشش کریں‘ جسے سو سال سے اسلام کے نام پر اسمگل کیا جا رہا ہے اور جس طرح آج آپ پریشان ہیں کہ یہ صحیح جواب نہیں دے رہے‘ معاملات کو مکس کر رہے ہیں‘ اسی طرح سو سال سے امت بھی پریشان ہے۔ میں پھر چیلنج کرتا ہوں کہ میرے سات نکات میں سے کسی ایک کا مرزا ناصر کے پاس ہمت ہے‘ جواب ہے‘ تو لائے۔ مجھے خوشی ہوگی۔

مرزا ناصر : مفتی صاحب نے صحیح کہا کہ یہ ان کی کتابیں نہیں ہیں۔

اٹارنی جنرل : مگر مرزا صاحب کی اپنی کتاب ہے۔ وہ اس میں اپنا کشف بحیثیت اس کے کہ وہ نبی ہونے کا مدعی تھا‘ لکھتا ہے کہ میں نے کشف میں حضرت فاطمہ کی ران پر اپنا سر رکھا۔ یہ کتنی بے ہودہ بات ہے۔ اس کا جواب یا وضاحت کے لیے آپ نے جن کتابوں کے اقتباسات دیئے‘ وہ تو غیر متعلق ہیں اور مفتی محمود صاحب نے ان کی تنقیح کر دی ہے‘ اسے بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ آپ کی پوزیشن اسی طرح مخدوش ہے۔ آپ کی سٹڈی کا ہمیں تو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اچھا تو بتائیں کہ مرزا صاحب نے جو نبوت کا دعویٰ کیا؟

مرزا ناصر : دیکھیں انہوں نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے تو لکھا ہے ’ازالہ اوہام‘ میں کہ دوسرے نبی کا مطیع ہونا محدث کہلاتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی‘ تو مرزا صاحب کیا ناقص نبی تھے؟

مرزا ناصر : میں مرزا بانی سلسلہ کے حوالہ سے انکار نہیں کرتا۔ محدث تو ہر نبی ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل : کیا حضور علیہ السلام بھی؟

مرزا ناصر : جی ہاں بالکل۔

اٹارنی جنرل : کیا نعوذ باللہ حضور علیہ السلام بھی ناقص نبی تھے؟

مرزا ناصر : آپ نتیجہ کیوں پکڑ لیتے ہیں؟

صفحہ 102

ایک ممبر : خدا کے لیے کوئی اور سوال کریں۔ اس قسم کی گستاخی کی جرأت قادیانی کرتے ہیں، ہم تو اس کے سننے کے روادار نہیں۔ دھوکہ کے لیے مرزا صاحب کا منصب ایسا قرار دیتے ہیں کہ لوگ محسوس نہ کریں کہ وہ تو ناقص نبی تھے اور پھر جرح میں تسلیم کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام بھی ایسے تھے۔ گویا مرزا اور حضور علیہ السلام کا ان کے نزدیک مقام ایک تھا۔

اٹارنی جنرل : حضرت مریم کا جو مرزا صاحب نے ذکر کیا ہے، کیا حضرت مریم بھی دو شخصیتیں تھیں؟

مرزا ناصر : دو شخصیتوں کا مسئلہ کلیئر ہو گیا لیکن وہ میری غلط فہمی تھی۔

اٹارنی جنرل : یہ مرزا صاحب کی کتاب ہے۔ اس میں مرزا جی کہتے ہیں کہ میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں۔ ("کتاب البریہ" مندرجہ "روحانی خزائن" ص 103، ج 13)

مرزا ناصر : کبھی انہوں نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ یہ تو کشف کی بات ہے۔

اٹارنی جنرل : کشف میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔ یہ مرزا کی عبارت ہے۔

مرزا ناصر : یہ کشف ہے۔

اٹارنی جنرل : نبی کا کشف وحی ہوتا ہے۔

مرزا ناصر : لوگوں نے خدا کے متعلق کیا کچھ کہا۔ بزرگوں کے حوالہ جات بتاؤں کہ کیا کہا؟

مولانا مفتی محمود : یہاں پھر آپ اجازت دیں کہ بزرگوں کی باتوں کو نبیوں کی باتوں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ بڑے سے بڑے بزرگ کی بات بھی خدا نہ کرے اس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے، مگر انبیاء علیہم السلام تو غلطی سے پاک ہوتے ہیں۔ ان میں غلطی تسلیم کرنا منصب نبوت کی توہین کے برابر ہے۔

شریعت کے خلاف ہو تو بحیثیت مفتی کے میں فتویٰ دیتا ہوں، تمام مکاتب فکر اس مسئلہ میں میرے ساتھ ہیں کہ اگر کسی بزرگ کا قول شریعت کے خلاف ہو تو اس کی دو صورتیں ہوں گی۔ اگر تو وہ مغلوب الحال یا کیفیت جذب میں بے اختیار خلاف شرع کوئی بات کہہ دیں تو وہ معذور ہیں یا جان کر کہا، اگر جان کر خلاف شریعت کہا تو ہم اس پر کفر کا فتویٰ لگائیں گے۔ اب مرزا ناصر صاحب بتائیں کہ مرزا صاحب معذور تھے یا کافر تھے۔ معذور تھے تو بھی نبی نہیں ہو سکتے اور اگر کافر تھے تو پھر مسئلہ ہی حل ہو گیا۔ (ماشاء اللہ ماشاء اللہ)

مولانا شاہ احمد نورانی : حضرت مفتی صاحب کی بات کی میں تائید کرتا ہوں کہ شرعی مسئلہ یہی ہے

صفحہ 103

کہ جو خلاف شرع بات کرے وہ معذور نہ ہوگا تو کافر ہوگا۔

اٹارنی جنرل : یہ ایک حوالہ ہے کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ مجھے خدا نے کہا کہ ایک خوبصورت عورت ہے۔ یہ کیا مسئلہ ہے؟

مرزا ناصر : میں اس وقت تردید یا تائید کی پوزیشن میں نہیں، چیک کروں گا۔

اٹارنی جنرل : میں نے بھی ابھی پڑھا نہیں۔

مرزا ناصر : عورت کا کہا، اتنا اشارہ کافی ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ کے علم میں یہ خبر نہیں؟

مرزا ناصر : ہمارے علم میں کوئی چیز ہے۔ ہمارے (وقفہ تھوڑا سا) اس عرصہ میں خیر چیک کروں گا۔

چیئرمین : اجلاس ملتوی وقفہ کے لیے۔ اب سوا بارہ بجے دوبارہ تشریف لائیں۔

سوابارہ بجے وقفہ کے بعد دوبارہ اجلاس شروع ہوا۔

مولانا شاہ احمد نورانی : کل آپ نے طے کیا کہ ان سے ہاں یا نہ میں جواب لے کر پھر وضاحت کی ضرورت ہوگی تو اجازت دیں گے۔

چیئرمین : اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اس کی طرف خیال رکھیں، بالکل اسی طرح جیسا کہ رات فیصلہ ہوا تھا۔

مولانا مفتی محمود : جناب وہ تحریری بیانات و اقتباسات پر وقت ضائع کر رہے ہیں۔ غیر متعلق باتوں میں خواب، کشف بلاوجہ پیش کر کے وہ معاملہ کو طول دے رہے ہیں۔ آپ ان کو پابند کریں کہ وہ مرزا کی پوزیشن واضح کریں۔

چیئرمین : یہ ٹھیک ہے۔ میں نے کل نوٹ کیا کہ وہ غیر متعلقہ چیزیں لا رہے ہیں۔ یہی بات کہی تھی کہ بہت سی غیر متعلقہ چیزیں آ رہی ہیں۔

مولانا شاہ احمد نورانی : قرآن و حدیث کسوٹی ہے۔ مرزا کے اقوال و تحریرات کو اس پر پیش کریں۔ تذکرۃ الاولیاء، جواہر القلائد، یہ کوئی ہمارے لیے اتھارٹی نہیں ہیں۔

چیئرمین : بالکل ٹھیک ہے۔

مولانا مفتی محمود : آپ کہتے ہیں کہ وہ چور تھا۔ جواب میں وہ کہہ دیتا ہے کہ بناوٹی چور تھا۔ اب اس کے ایک لفظ کہنے سے بحث کا رخ بدل جاتا تھا کہ چور تو تھا مگر اصلی یا بناوٹی۔ اس سے کیا بحث کہ وہ اصلی چور ہے یا اس نے دیکھا دیکھی نقلی طور پر ہی چوری کی۔ کی تو ہے، جرم تو ثابت ہوا۔ آپ اس نکتہ نظر سے بحث کو مرکوز رکھیں تاکہ ہمارا وقت ضائع نہ ہو۔

صفحہ 104

چیئرمین : سوال جب تک مکمل نہ ہو اسے درمیان میں نہیں بولنا چاہیے۔ گواہ کو روکا جائے گا۔

سردار مولا بخش سومرو : گواہ کی نیت درست ہو تو لمبی چوڑی وضاحتوں کی کیا ضرورت ہے پانچ یا دس منٹ میں مسئلہ طے ہو سکتا ہے۔ دراصل یہ کہ وہ مسلمانوں سے علیحدہ مذہب ہے مگر ان کی خواہش ہے کہ وہ دھوکہ سے مسلمانوں میں رہیں۔ اپنے اس دھوکہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ان کو دو عملی، دو ذہنی کا روپ دھارنا پڑتا ہے جس کو آپ دیکھ رہے ہیں۔

چیئرمین : بعض سوالات کے جوابات فوری نوعیت کے ہوتے ہیں مگر وہ تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں۔

سردار مولا بخش : وہ آکر جو خطبہ کے انداز میں شروع ہو جاتے ہیں اسے نوٹ کریں کہ وہ گواہ ہے نہ کہ ہمارا خطیب۔

چیئرمین : اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جناب عبدالعزیز بھٹی : سر ان کے غیر متعلقہ جواب پر آپ پاور استعمال کریں اور ان کو بند کریں۔

مولانا ظفر احمد انصاری : ”الفضل“ وغیرہ کے حوالہ جات جو آپ پیش کرتے ہیں اگر وہ انکار کر دے تو آپ پھر اصل دکھائیں۔ آپ پوچھیں کہ آپ بتائیں کہ یہ ”الفضل“ میں ہے یا نہیں، اگر وہ جھٹلا نہ سکے تو ریکارڈ پر آجائے گا۔ پھر پرچہ بھی فراہم کر دیں گے۔

مولانا غلام غوث : دیکھیں آپ سوال کریں کہ یہ مرزا صاحب یا مرزا محمود نے کہا یا نہیں؟ ان کی تقریر سننے کے لیے ہم یہاں نہیں بیٹھے۔

چیئرمین : ٹھیک ہے۔

مولانا غلام غوث : جب تک حوالہ پاس نہ ہو کوئی سوال نہ پوچھیں۔

محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں

یہ اصل ”البدر“ میرے پاس تھا۔ جب تک رسالہ ہاتھ نہیں آیا سوال نہیں کیا اور پھر یہ ثبوت بھی موجود ہے کہ یہ شعر سن کر مرزا نے جزاک اللہ کہا۔ اگر آپ حضرات توجہ کریں تو اس پر بات کو کاٹا لگایا جا سکتا تھا۔

صاحبزادہ احمد رضا قصوری : جناب گواہ بار بار اپنے بیان کو دہراتا ہے۔ کتابوں کے اقتباسات ایک ہی کو لے کر دکھاتا ہے تکرار کرتا ہے۔ ہم یہاں کوئی سبق پڑھنے کے لیے نہیں بیٹھے۔ مہربانی کر کے ہاں یا نہ میں جواب دلوائیں۔ باقی عبارت میں لکھنے کی نیت کیا ہے وہ ممبران خود پڑھ کر اندازہ کر سکتے

صفحہ 105

ہیں ۔ اتنی ہمیں استعداد ہے ...... وہ صرف رد یا قبول کرے۔

عبدالحفیظ پیرزادہ : تکرار کے کچھ نقصانات ہیں کہ آپ کا وقت ضائع ہو رہا ہے مگر اس کا فائدہ بھی ہے کہ جتنی دفعہ بات کو دہرائے گا، اتنا تضاد سامنے آئے گا۔ جہاں ہم نے اتنی بردباری سے کام لیا ہے، ایک آدھ دن اور سہی ۔ آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ سائل جلد بازی سے کام لیتا ہے یا جواب کو گول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے اٹارنی جنرل کو سوال دہرانا پڑتا ہے۔ چنانچہ اب جب کہ کارروائی اختتام کے قریب ہے، ہمیں ایک آدھ دن اور صبر سے کام لینا چاہیے۔

چیئرمین : مسٹر قصوری صاحب شام کو جائزہ لیں گے۔ (اب وفد کو بلا لیا جائے۔ وفد داخل ہوا)

اٹارنی جنرل : حضرت مریم ایک ہیں یا دو علیحدہ علیحدہ ۔ ایک انجیل والی، ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ؟

مرزا ناصر : یہ تو میں نے عرض کر دیا شخصیات کا مسئلہ کہ وہ میری غلط فہمی تھی۔ شخصیت تو ایک ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب لکھتے ہیں ”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔“ (”کشتی نوح“ ص 20) کی تین لائنیں چھوڑ کر پڑھیں۔ (مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 18، ج 19)

مرزا ناصر : ”آگے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا مگر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم تورات کے عین حمل میں کیوں نکاح کیا گیا اور قبول ہونے کے عہد کو کیوں توڑا گیا اور متعدد ازدواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی ۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں ۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“

اٹارنی جنرل : اس صفحے کی پہلی تین سطر پڑھیں۔

مرزا ناصر : میں عیسیٰ بن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح ہیں، اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ (”کشتی نوح“ ص 16، مندرجہ ”روحانی خزائن“ ج 19)

اٹارنی جنرل : بس ! اب بات واضح ہو گئی کہ وہ یسوع کے متعلق نہیں بلکہ عیسیٰ ابن مریم کے متعلق کہہ رہا ہے اور خود نتیجہ نکالتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں، اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض ۔

تو گویا مرزا صاحب نے ان واقعات کو تسلیم کر کے نتیجہ نکالا ہے۔ کیا یہ واقعات صحیح ہیں تو قرآن و حدیث کے موافق ہیں ۔ نہیں تو مرزا صاحب نے محض عیسیٰ علیہ السلام کا مقام گرانے اور ان کی والدہ پر

صفحہ 106

غلط تہمت لگانے کے لیے یہودیوں کی ہمنوائی کی ہے............

مرزا ناصر : اس کا حوالہ کیا ہے؟

اٹارنی جنرل : کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ صفحہ آپ نے خود پڑھا‘ عبارت بھی۔

مرزا ناصر : ہاں! ٹھیک ہے۔

مولانا مفتی محمود : یہ ایک کتاب ہے۔ اس میں عربی کا شعر ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت‘ تو ملعون کے سبب سے ملعون ہو گئی‘ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔ مجھے ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے‘ وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن۔

(”ضمیمہ نزول المسیح“ ”اعجاز احمدی“ ص 75‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 188‘ ج 19)

چیئرمین : لائبریرین‘ کتاب گواہ کو دے دیں۔

اٹارنی جنرل : میں دو چار اور بھی پڑھ دیتا ہوں تاکہ اکٹھے دیکھ لیں۔

مرزا ناصر : ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : کیا مرزا صاحب نے مولانا رشید احمد گنگوہی کو ”اندھا شیطان‘ دیو‘ گمراہ‘ شقی اور ملعون“ لکھا ہے؟ (”انجام آتھم“ ص 252‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 252‘ ج 11)

مرزا ناصر : چیک کریں گے۔

چیئرمین : میرے خیال میں گواہ سے ایک ایک بات پوچھیں۔

مولانا غلام غوث : جناب والا......

چیئرمین : مولانا آپ تشریف رکھیں۔

اٹارنی جنرل : تینوں سوال ایک جیسے ہیں۔ کیا مرزا صاحب نے مولوی سعد اللہ کا نام لے کر بدکار عورت کا بیٹا‘ بدگو‘ خبیث‘ لئیم‘ ملعون‘ شیطان لکھا ہے؟ یہ ”انجام آتھم“ ص 281-282‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 281-282 ج 11۔ آپ تینوں چیک کریں۔

چیئرمین : آپ تمام کتابیں جو مفتی صاحب پڑھ رہے تھے‘ وہ سب لائبریرین صاحب‘ گواہ کو پکڑا دیں۔

مرزا ناصر : ”ضمیمہ نزول المسیح“ ”انجام آتھم“ یہ دوسرا بھی اور تیسرا بھی درست ہیں۔

چیئرمین : تھرڈ کا پیج بتا دیں۔

مرزا ناصر : ٹھیک ہے‘ دیکھ لیا ہے لیکن کتابیں دیکھ کر اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔

چیئرمین : کتابیں تو آپ کے ہاتھ میں ہیں۔

مرزا ناصر : میں کتابیں دیکھ کر وضاحت کروں گا لیکن اس وقت نہیں۔

صفحہ 107

اٹارنی جنرل : آپ کچھ مختصر بتا دیں کہ یہ مرزا صاحب نے علماء کو گالیاں دیں، کچھ بول دیں۔

مرزا ناصر : آپ کا وقت ضائع نہ ہو میں اکٹھا بول دوں گا۔

اٹارنی جنرل : کچھ تو فرما دیں۔

مرزا ناصر : میں کوئی نتیجہ نہیں نکال سکتا۔ بغیر اس کے جواب دوں۔ کتابیں چیک نہ کریں، انسان کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا۔

اٹارنی جنرل : ریفرنس بک آپ کے سامنے وضاحت کے لیے ہے۔ کہیں تو آپ اسے دیکھیں گے۔

مرزا ناصر : اسے پڑھنے سے پتہ چل جائے گا۔

اٹارنی جنرل : یہ تو آپ کے سامنے موجود ہے۔

مرزا ناصر : ”انجام آتھم“ 200 صفحات ہیں۔ اس کو پڑھنے میں دو دن لگ جائیں گے۔

اٹارنی جنرل : کوئی پیراگراف آگے پیچھے ہوگا۔

مرزا ناصر : جب تک تسلی نہ ہو جائے جواب نہیں دے سکتا۔

اٹارنی جنرل : آپ اتنا مختصر بتا دیں کہ آپ کی گراؤنڈ کیا ہوگی؟

مرزا ناصر : جب تک میں سٹڈی نہ کر لوں اس وقت کیسے بتا سکتا ہوں کہ گراؤنڈ کیا ہوگی۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے جواب میں کہا یا وہ خاموش تھے اور انہوں نے اپنی طرف سے کہا۔ دو چیزیں ہوسکتی ہیں۔

مرزا ناصر : کتابیں دیکھ کر پتہ چلے گا کہ کون سی چیز ہے۔

اٹارنی جنرل : کیا آپ کو پہلے علم نہیں تھا۔ پہلے یہ کتابی حوالے کبھی نہیں پڑھے؟

مرزا ناصر : علم تو تھا مگر اس نقطہ نگاہ سے نہیں تھا۔

اٹارنی جنرل : میں نے تو کوئی نقطہ نگاہ نہیں کہا۔

مرزا ناصر : نہیں نہیں! یہ جو اعتراض کے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے، وہ جو ہماری جماعت کا مناظر ہے جو مناظرہ کرنے والے ہیں ان کو تو سارے یاد ہیں لیکن میں اپنی جماعت کا مناظرہ کرنے والا نہیں۔

اٹارنی جنرل : دیکھیں گالیوں پر بھی کوئی اعتراض یا جواب ہوسکتا ہے؟

مرزا ناصر : آپ اعتراض کے رنگ میں لے رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل : مگر آپ پیار سے باتیں کرتے ہیں۔ بہت پیار سے لوگوں کو قائل کرتے ہیں یہ آپ کا دعویٰ اور حوالے یہ۔ یہ دونوں باتیں آپس میں میل نہیں کھاتیں۔

صفحہ 108

مرزا ناصر : مگر پتہ نہیں یہ گالیاں بھی ہیں یا نہیں۔ اس لیے کہ ہر لفظ کے عربی میں پانچ دس ترجمے ہوتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : ”بدکار‘ زانیہ‘ شیطان“ کے بھی کئی ترجمے۔ ویسے اس وضاحت پر آپ کا نفس مطمئن ہے؟ خبیث کے دو معنی‘ منحوس کے دو معنی۔ ایک اچھائی میں‘ ایک برائی میں۔ کیا خوب!

مرزا ناصر : میں نے یہ کب کہا؟

اٹارنی جنرل : اچھا مرزا صاحب نے کہا کہ جو میرا مخالف ہے‘ عیسائی ہے‘ یہودی ہے‘ مشرک ہے اور جہنمی ہے۔ آپ کے علم میں کوئی ایسی بات ہے؟

مرزا ناصر : میں دیکھ کر بتاؤں گا۔

اٹارنی جنرل : ”تذکرہ“ ، ”حقیقت الوحی“ ، ”نزول مسیح“ وغیرہ۔

چیئرمین : گواہ کہتا ہے کہ یہ کتابیں یا حوالہ نہیں۔

اٹارنی جنرل : یہ کتاب ہے‘ میرے مخالف تھے۔ ان کا نام عیسائی‘ یہودی اور مشرک رکھا گیا۔

(نزول المسیح“ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 382‘ ج 18)

مرزا ناصر : میں دیکھ کر بتاؤں گا‘ کتاب مل گئی ہے۔ ٹھیک ہے مگر مخالف کا نام نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : جو بھی مخالف ہو۔

مولانا غلام غوث : چیئرمین اور ممبران سمیت سبھی۔

مرزا ناصر : دیکھیں آپ مجھے ڈس ہارٹ نہ کریں۔

چیئرمین : بالکل نہیں۔ آپ کتاب پڑھیں۔

مرزا ناصر : مخالف سے مراد غیر مسلم بھی ہیں یا مسلمان بھی ہیں۔

اٹارنی جنرل : غیر احمدی؟

مرزا ناصر : غیر مسلم میں یہ مسلمان بھی شامل ہیں۔

اٹارنی جنرل : آپ اپنے لٹریچر کو دیکھیں جو مرزا کو نہ مانے وہ سب۔

مرزا ناصر : یہ فقرہ ریکارڈ پر آنا چاہیے کہ آیا اس میں غیر مسلمان ہیں یا مسلمان بھی۔

اٹارنی جنرل : یعنی جو مرزا صاحب کا مخالف ہے وہ ویسے ہی ہو جاتا ہے جیسے عیسائی‘ یہودی اور مشرک۔

مرزا ناصر : آپ اس کا جواب چاہتے ہیں؟

اٹارنی جنرل : مخالفین کو؟

مرزا ناصر : عیسائی یا جو بھی۔

صفحہ 109

مولانا مفتی محمود : جناب میں عربی کا یہ حوالہ پڑھ دیتا ہوں۔ مرزا کی کتاب ہے‘ عربی ہے:

تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المحبت والمودہ و ینتفع من معارفہا و یقبلنی و یصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا الذین ختم اللہ علی قلوبہم فہم لا یقبلون۔

”یہ وہ کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان‘ محبت ومودت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور اس کے علوم سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے مگر وہ لوگ جو کنجریوں کی اولاد ہیں‘ وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“

چیئرمین : حوالہ بھی دے دیں اور کتاب بھی گواہ کو دے دیں۔

مولانا مفتی محمود : ”آئینہ کمالات“ ص 547-548 ‘ ”روحانی خزائن“ ج 5 اور یہ لیجئے۔

مرزا ناصر صاحب دیکھ لیں۔

اٹارنی جنرل : سوال یہ ہے کہ مرزا ناصر نے کہا کہ پچھلے سوال کا تعلق عیسائیوں سے تھا اور حوالہ بھی عیسائیوں کے بارہ میں تھا۔ گواہ نے کہا کہ میں بعد میں بتاؤں گا۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ یہ تو مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو گالی دی ہے کہ کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کی مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔

مرزا ناصر : یہ کہاں کا حوالہ ہے ص 547-548 کا ہے‘ یہ جو کہتے ہیں کہ یہاں گالیاں دینے کا الزام ہے‘ یہ سارے اکٹھے پڑھ دیں، سارے کا جواب دے دوں گا۔ جتنے اعتراض ہیں‘ فرسودہ ہیں‘ سالہا سال پرانے ہیں۔

اٹارنی جنرل : اس کا جواب بھی پرانا ہوگا۔ وہ بتا دیں کہ جو مجھے نہیں مانتے وہ کنجریوں کی اولاد ہیں؟

مرزا ناصر : اس میں ذریت البغایا کا لفظ ہے۔ اس کا معنی کنجریوں کی اولاد نہیں۔

اٹارنی جنرل : بدکار عورتوں کی اولاد؟

مرزا ناصر : خیر آگے چلیں۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے کہا کہ جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا‘ صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ہے۔ (ص 34 یا ص 30 ایڈیشن کا فرق ہے) (”انوار الاسلام“ ص 31 ‘ ”روحانی خزائن“ ج 9)

چیئرمین : کتاب گواہ کو دے دیں۔

اٹارنی جنرل : یہ کتاب ہے۔ یہ بتائیں کہ ہماری فتح سے کیا مراد ہے؟

مرزا ناصر : غلبہ اسلام۔

صفحہ 110

اٹارنی جنرل : یہ بات ثابت ہوگئی؟

مرزا ناصر : ہوگئی ہے۔

اٹارنی جنرل : قائل تو مستقبل میں ہوگا۔ پہلے سے ولد الحرام بننے کا شوق کہہ رہے ہیں؟

مرزا ناصر : یہ سارے جواب اکٹھے آجائیں گے۔

اٹارنی جنرل : جو شخص پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا‘ وہ خدا اور خدا کے رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔ (”تبلیغ رسالت“ ج9‘ ص27) (”تذکرہ“ ص607‘ طبع 3)

مرزا ناصر : کہاں کا حوالہ؟

اٹارنی جنرل : تبلیغ رسالت کا‘ عرض تو کر دیا ہے۔

مرزا ناصر : یہ دیکھ کر بتاؤں گا۔

چیئرمین : کتاب گواہ کو دے دیں‘ یہ مانتے ہیں یا پہلے سے تسلیم شدہ ہے؟

مرزا ناصر : درست ہے۔

اٹارنی جنرل : جو مرزا غلام احمد کو نہیں مانتا؟

مرزا ناصر : وہ اللہ رسول کو نہیں مانتا۔

اٹارنی جنرل : جو اللہ رسول کو نہیں مانتا‘ وہ؟

مرزا ناصر : وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہے‘ دائرہ اسلام سے خارج ہے‘ مسلمان نہیں۔

اٹارنی جنرل : اب جو مرزا کو نہیں مانتا؟

مرزا ناصر : وہ بھی ایسا ہے۔

مولانا غلام غوث : شرمائیں نہیں صاف بتائیں کہ مرزا کا منکر اگر خدا اور رسول کا منکر ہے اور خدا رسول کا منکر کافر ہے تو ظاہر ہے مرزا کا منکر بھی کافر ہے؟

مرزا ناصر : بالکل مرزا کا منکر ایسے ہے۔ (قہقہہ)

مرزا ناصر : آپ کیوں قہقہے لگاتے ہیں۔ میں نے بتا دیا کہ ایسے ہے۔

اٹارنی جنرل : کیسے؟

مرزا ناصر : جیسے خدا رسول کا منکر۔

چیئرمین : مرزا صاحب آپ صاف بتائیں کہ مرزا کا منکر مسلمان ہے یا نہیں؟ جب مرزا کو مانے بغیر بھی آدمی مسلمان ہے تو مرزا کو ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر اس کے مانے بغیر آدمی مسلمان نہیں تو آپ صاف بتائیں۔

صفحہ 111

مرزا ناصر : مرزا کے نہ ماننے والے مسلمان نہیں ہیں۔

اٹارنی جنرل : سارے غیر احمدی مسلمان نہیں؟

مرزا ناصر : سارے کیسے؟

اٹارنی جنرل : ہر وہ شخص جو موسیٰ کو مانتا پر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے پر محمدؐ کو نہیں مانتا، یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ (”کلمۃ الفصل“ ص 110) یہ آپ حضرات کی کتاب ہے۔ مطلب ہے کہ غیر احمدی سارے کے سارے؟

مرزا ناصر : جی ہاں! جن پر اتمام حجت ہو چکا اور نہیں مانا، وہ سارے۔

اٹارنی جنرل : سارے غیر احمدی جن پر اتمام حجت ہو چکا کافر ہیں؟

مرزا ناصر : کہہ دیا ہے۔ کتنی دفعہ کہلوائیں گے؟

چیئرمین : ٹھیک ہے آگے چلیں۔

اٹارنی جنرل : مسیح موعود نے غیر احمدی کے متعلق صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریمؐ نے عیسائیوں کے ساتھ۔ (”ریویو آف ریلیجنز“ ص 129) کا حوالہ ہے۔ اسے آپ نے چیک کر لیا ہے؟ یہ پہلے بھی آپ کو نوٹ کروا دیا تھا کہ اس پر توجہ کریں گے۔

مرزا ناصر : میں بڑا شرمندہ ہوں کہ یہ لکھا ہوا تھا اور جا کر چیک نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل : میں کچھ سنا دیتا ہوں کہ غیر احمدیوں سے صرف وہی سلوک جائز رکھا جو نبی کریمؐ نے عیسائیوں کے ساتھ۔ ان سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔

مرزا ناصر : آپ بس کریں میں سمجھ گیا۔ مجھے یاد آ گیا۔ میں تو اس بات پر معذرت کر رہا ہوں کہ میں نے نوٹ کیا لیکن چیک نہیں کیا۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔ میں ابھی جا کر یہی کام کروں گا۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب صاف کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کے مانے بغیر نجات نہیں (”اربعین“ نمبر 4، ص 6، مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 35، ج 17) اور پھر مرزا محمود نے کہا کہ غیر احمدیوں کو خواہ مخواہ مسلمان ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔

مرزا ناصر : میں سمجھ گیا کہ جو میں کہہ رہا تھا اور جو خلیفہ ثانی نے کہا، اس میں آپ کو جوڑ نظر نہیں آتا۔

اٹارنی جنرل : ایک دوسرے کے موقف کے خلاف تھے۔

چیئرمین : بس کافی ہے۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے۔ چھ بجے شام وفد واپس آئے۔

مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری: مولانا غلام غوث کے پاس حوالہ ہے، وہ چیئرمین ملاحظہ فرمائیں۔

صفحہ 112

مولانا غلام غوث : وہ گندی جگہ کا نام موٹا کر کے مرزائیوں نے لکھا ہے۔

چیئرمین : میں نے دیکھا‘ میں نے رد کر دیا ہے۔ دفع کرو‘ ان کی ذہنیت ایسی ہے۔

مولانا غلام غوث : آج ناصر خوب پھنسا ہے۔ آج چیک ویک کی بجائے خود چیک ہو گیا ہے کہ ان کے اندر کیا ہے۔ (قہقہہ)

چیئرمین : چھ بجے شام۔

شام چھ بجے صاحبزادہ فاروق علی نے صدارت سنبھالی۔

چیئرمین : وفد کو بلا لیا جائے۔ (وفد آ گیا)

اٹارنی جنرل : جی مرزا صاحب!

مرزا ناصر : ایک تو میں نے اتمام حجت کی وضاحت کرنی ہے۔ اتمام حجت کے بعد ایک شخص باغیانہ طریقہ استعمال کر کے یہ اعلان کرے کہ خدا اور رسول کا تو حکم ہے کہ مانو‘ میں قائل ہو گیا لیکن میں نہیں مانتا وہ تو دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ جو یہ کہتا ہے کہ میں سمجھتا ہی نہیں کہ خدا اور رسول کا کیا حکم ہے‘ وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوا۔ وہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوا۔

اٹارنی جنرل : جن حوالہ جات کی وضاحت کرنی تھی‘ اس طرف تو آپ آئے نہیں۔ صبح آپ نے کہا کہ مرزا کا منکر کافر ہے۔ آپ کو جا کر وفد کے ارکان نے سمجھایا ہو گا کہ آپ نے کیا کہہ دیا یہ تو سارا معاملہ غلط ہو گیا۔ تو اب آپ نے اتمام حجت کی بحث چھیڑ دی تو میں عرض کرتا ہوں کہ آپ ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔ نمبر 2 آپ نے یہ جو تعریف اتمام حجت کی کی ہے‘ دنیا کی کس ڈکشنری میں ہے۔ اتمام حجت کا یہ معنی کہ وہ قائل بھی ہو جائے‘ یہ کہیں نہیں لکھا ہوا۔ یہ میرے پاس ڈکشنری ہے۔

مرزا ناصر : کون سی؟

اٹارنی جنرل : ”فیروز اللغات“۔

مرزا ناصر : یہ تو کوئی سٹینڈرڈ ڈکشنری نہیں۔

اٹارنی جنرل : آپ سٹینڈرڈ ڈکشنری لے آئیں‘ اسے دیکھ لیتے ہیں۔ اتمام حجت کا معنی‘ حجت کا پورا کرنا‘ کسی امر میں آخری مرتبہ سمجھانا اور معاملہ طے کرنے کی کوشش؟

مرزا ناصر : اس کی تو اردو بھی صحیح نہیں‘ ڈکشنری کہاں سے ٹھیک ہو گی۔

اٹارنی جنرل : حجت کا پورا کرنا‘ اس میں کیا غلطی ہے؟

مرزا ناصر : یہ ساری ٹھیک نہیں۔ حجت کا پورا کرنا کیا مطلب۔

اٹارنی جنرل : دلیل کا مکمل کرنا۔ آپ کوئی ڈکشنری لے آئیں۔

مرزا ناصر : سمجھا دینے کی میں وضاحت کر دوں کہ سمجھانے والا مطمئن ہو گیا کہ میں نے سمجھا دیا

صفحہ 113

تھا‘ حجت کر دیا۔ جسے سمجھایا گیا وہ مطمئن نہ ہو تو یہ اتمام حجت کا معنی نہیں بلکہ مسخرا پن ہے۔

مولانا غلام غوث : اٹارنی جنرل صاحب ساون کے اندھے کو ساری دنیا ہریالی نظر آتی ہے۔ مسخروں کو ساری دنیا مسخری نظر آتی ہے۔ سمجھانے والے نے اتمام حجت کر دی‘ دلائل مکمل کر دیئے۔ اگر سمجھنے والا مطمئن ہو گیا تو تسلیم کیوں نہ کرے گا۔ سمجھنے والے کے اطمینان کا نام اتمام حجت نہیں بلکہ سمجھانے والے نے کوشش کر کے دلائل پورے کر دیئے۔ حجت پوری کر دی‘ یہ اتمام حجت ہے۔

اٹارنی جنرل : اطمینان ہو گیا تو یہ کوشش سمجھنے والے کی ہوئی یا سمجھانے والے کی ؟

مرزا ناصر : سمجھنے والے کی ۔

اٹارنی جنرل : اتمام حجت تو پھر سمجھانے والے نے نہ کیا بلکہ سمجھنے والے نے کیا ؟ (قہقہہ)

چیئرمین : اسے چھوڑ دیں۔

مولانا عبدالحق : اتمام حجت ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : اور کچھ تیار ہے تو فرمائیے۔

مرزا ناصر : وہ ظل اور بروز کی۔

اٹارنی جنرل : لکھا ہوا جو آپ نے پڑھنا ہے تو جمع کرا دیں اور اگر اقتباسات پڑھنے ہیں تو وہ پڑھ سکتے ہیں۔

مرزا ناصر : اقتباسات بھی تحریری بحث میں ہیں ۔ آپ جمع کر لیں اور یہ مجلس خلافت کا بھی‘ اس کو بھی فائل کر دیں۔

چیئرمین : بطور دستاویز اس کو فائل کر دیں۔

مرزا ناصر : دائرہ اسلام سے خارج کے معنی زبانی عرض کرتا ہوں کہ اسلام کے کئی دائرے ہیں۔ کچھ بڑے‘ کچھ چھوٹے‘ تو انسان کسی کام سے چھوٹے دائرہ سے تو خارج ہو جاتا ہے مگر بڑے دائرے سے خارج نہیں ہوتا۔ اس کے اندر رہتا ہے۔

اٹارنی جنرل : تو اسلام کا ایک بڑا سرکل یہ ہے کہ اس میں گناہ گار‘ غیر مخلص‘ کافر سب اسلام کے بڑے سرکل میں ہیں ؟

مرزا ناصر : جی بالکل۔

اٹارنی جنرل : یہ فلسفہ سمجھ گئے کوئی اور بات ؟

مرزا ناصر : اتمام حجت کی بات کرنی تھی۔

اٹارنی جنرل : رہ گئی ہے کچھ تو کریں ۔

مرزا ناصر : جس نے خود کہا کہ مجھ پر اتمام حجت ہو گیا‘ میں نہیں مانتا۔

صفحہ 114

اٹارنی جنرل : اس کیٹیگری میں وہ سوفیصد کافر ہے؟

مرزا ناصر : وہ کافر ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ وہ مسلمان ہی نہیں، غیرمسلم ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ بھی تو ایسے آدمی کو غیرمسلم کہہ رہے ہیں، کیا یہ حق ہمیں بھی دیتے ہیں کہ ہم بھی کسی کو غیرمسلم قرار دے دیں؟

مرزا ناصر : میں تو اپنے علم کی بات کررہا ہوں، میں کسی کو غیرمسلم نہیں کہتا۔

اٹارنی جنرل : آپ کے علم میں پوری دنیا میں کوئی غیرمسلم نہیں؟

مرزا ناصر : جی میرے نزدیک ۔

اٹارنی جنرل : کل دنیا مسلمان ہے؟

مرزا ناصر : غیرمسلم کوئی نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : دیکھیں مرزاصاحب آپ کیا کہہ رہے ہیں؟

مرزا ناصر : میں آرہا ہوں، جو ہماری بحث ہوئی ہے، اس سے جو میں سمجھا ہوں، جس نتیجہ پر پہنچا ہوں، جہاں آپ درست سمجھے ہیں، میں نے غلطی کی۔ آپ پوائنٹ آؤٹ کریں گے۔

اٹارنی جنرل : آپ کے نزدیک جس پر اتمام حجت ہوجائے اور وہ پھر بھی مرزا کو نہ مانے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، بڑے سرکل سے؟

مرزا ناصر : دائرہ اسلام کو چھوڑ دیں، اس سے ابہام پیدا ہوتا ہے۔ اتمام حجت کے باوجود مرزا صاحب کو نہ مانیں وہ کافر ہیں۔

اٹارنی جنرل : اب دیکھیں کہ ایک شخص پر اتمام حجت ہوا، وہ خدا و رسول کو مانتے ہیں اور مرزا صاحب کو بھی مانتے ہیں، وہ سوفیصدی مسلمان ہے اور سوفیصدی غیر کافر ہے آپ کے نزدیک، اور جوشخص اتمام حجت کے باوجود مرزاصاحب کو نہیں مانتے وہ کافر ہیں۔ ایک شخص غیراحمدی جس پر اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مرزا کو نہیں مانتا۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ غیراحمدی مسلمانوں کے دائرہ میں شامل ہوگا مگر مرزابشیر کہتے ہیں کہ تم خوامخواہ غیراحمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کیوں کوشش کرتے ہو۔ (”کلمۃ الفصل“ ص129)

مرزا ناصر : وہ آپ چھوڑ دیں۔ میں اپنی رائے دے رہا ہوں۔ میرے نزدیک تو اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ قسم جس کے متعلق میں نے کہا وہ ملت اسلامیہ سے باہر نہیں ہے۔ ان کو غیرمسلم نہیں کہا جاسکتا۔

مولانا شاہ احمد نورانی : اب مشکل ہوگئی۔ باپ کچھ کہتا ہے، بیٹا کچھ کہتا ہے۔ ان میں سے کون سچا ہے، باپ یا بیٹا؟ یہ کیسے تمیز کریں گے۔ چچا کچھ کہتا ہے، بھتیجا کچھ کہتا ہے۔

مولانا غلام غوث : یہ سب جھوٹے ہیں۔ (قہقہہ)

صفحہ 115

مرزا ناصر : وہ حوالہ کون سا ہے۔ پہلے ”کلمۃ الفصل“ نکالیں۔ اس میں ہے مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ (”کلمۃ فصل“ ص 129) یہ مسئلہ تو واضح ہے، نجات کا ہے۔ آخر گناہ گار یا مجرم کو کیسے بے قصور ثابت کریں گے۔

اٹارنی جنرل : معاف کیجئے۔ گناہ گار تو سب میں ہیں مگر یہاں بحث کفر و اسلام نجات و عدم نجات کی ہے کہ غیر احمدیوں کو غیر مسلم ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اردو کی عبارت ہے۔ آپ ایسے نہ کریں۔ اس سے آپ کے خلاف تاثر جا رہا ہے۔ آپ کیا کرتے ہیں؟

مرزا ناصر : جی مگر ”کلمۃ الفصل“ کے مصنف تو خلیفہ نہیں۔

اٹارنی جنرل : آپ اس سے انکار کر دیں کہ اس کا قول ہم پر حجت نہیں۔

مرزا ناصر : مگر وہ ہماری جماعت کے بزرگ ہیں۔ ہمارے حضرت بانی سلسلہ کے صاحبزادے ہیں مگر خلیفہ نہیں۔

اٹارنی جنرل : میں تو اس کی خلافت کے لیے آپ سے بحث ہی نہیں کر رہا ہوں۔ یہ آپ کے لٹریچر کا آپ کے بزرگ کا قول ہے۔ اس کے خلاف خلیفہ صاحب کا قول دکھا دیں تو میں مان لوں گا مگر خلیفہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے کہ کل مسلمان چاہے انہوں نے مرزا صاحب کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر ہیں۔ یہ بشیر صاحب اور محمود دونوں اکٹھے ہیں، ایک آپ اختلاف کر رہے ہیں۔

مرزا ناصر : مگر میری کیا مجال ہے کہ میں اختلاف کروں۔

اٹارنی جنرل : تو آپ سب کے نزدیک تمام مسلمان کافر ہیں۔ پھر آپ ہمیں چکر کیوں دیتے ہیں؟

چودھری ظہور الٰہی: نماز کا وقت ہورہا ہے بلکہ دیر ہورہی ہے۔

چیئرمین : بہت اچھا۔ وفد چلا جائے۔ آٹھ بجے رات پھر واپس آجائے۔ مغرب کی نماز کے لیے اجلاس ملتوی۔

(وفد داخل ہوا)۔

اٹارنی جنرل : وہ سوال کہ میں ایک پارسی کے مقابلہ میں دو احمدی پیش کروں گا اس سے وہ اپنے حقوق کے لیے مسلمانوں سے علیحدگی کا اظہار کر رہے ہیں، مرزا محمود۔

مرزا ناصر : میں اس کے متعلق بعد میں عرض کروں گا کہ پاکستان کے بارے میں ہماری کیا خدمات ہیں۔

اٹارنی جنرل : میرا سوال یہ تھا کہ جب تک 3 جون 1947ء کا اعلان نہیں ہوا جماعت احمدیہ

صفحہ 116

اکھنڈ بھارت کے حق میں تھی اور یہی منیر انکوائری رپورٹ میں ہے۔

مرزا ناصر : پاکستان بننے کے بعد سب سے پہلے مبارک باد ہم نے دی۔

اٹارنی جنرل : میرا تو اس سے قبل کا سوال ہے مرزا صاحب! کیا میں آگے چلوں؟

مرزا ناصر : ہاں ہاں!

اٹارنی جنرل : خاتم النبیین کے بارے میں ابوالعطاء قادیانی کی کتاب ہے۔ مولانا مودودی کی کتاب کے جواب میں، اس میں ہے کہ آنحضرت کی خاتمیت نے دیگر انبیاء کے فیوضات بند کر کے فیضان محمدی کا وسیع دروازہ کھول دیا۔

چیئرمین : صفحہ نمبر؟

اٹارنی جنرل : صفحہ نمبر 8 ہے۔ فیضان محمد کا وسیع دروازہ کھول دیا۔

مرزا ناصر : آپ کی امت تمام اعلیٰ انعامات سے محروم ہو گئی جو بنی اسرائیل یا پہلی امتوں کو مل رہے تھے۔ اب اس سے جو میں سمجھا ہوں، وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جسے کہتے ہیں کہ امتی نبی آئیں گے اور یہ ایک فیض کا دروازہ ہے جو بند نہیں ہوا اور دوسرے کہتے ہیں کہ یہ فیض کا دروازہ بند ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : میں پھر ایک سوال لیتا ہوں کہ 14 سو سال میں آنحضرت ﷺ کے بعد اور مرزا غلام احمد کی پیدائش سے پہلے کوئی نبی آیا؟ اس دوران میں یہ دروازہ فیض کا ایک منٹ کے لیے کھلا؟

مرزا ناصر : یہ ایک فلسفیانہ سوال ہے۔ ملا علی قاری نے ”موضوعات کبیر“ میں ص 61 پر لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم، حضور علیہ السلام کے صاحبزادے امتی نبی بن جاتے یا حضرت عمر امتی نبی بن جاتے۔

اٹارنی جنرل : کیا وہ بنے؟

مولانا عبدالحق : میں درخواست کرتا ہوں کہ ”موضوعات کبیر“ میں وہ حدیثیں ہیں جو موضوع ہیں۔ اس موضوع حدیث سے استدلال کتنی بڑی جسارت ہے۔ لو عاش ابراہیم کی جہاں حدیث ہے اس میں راوی ضعیف اور نا قابل استناد ہے۔ اس سے استدلال کرنا نصوص قطعیہ کے مقابلہ میں عقائد ثابت کرنے کے لیے بہت بڑی نا انصافی ہے۔

حضور علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت ابراہیم اگر زندہ رہتے تو دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ نبوت ان کو ملتی۔ دوسری یہ کہ ان کو نبوت نہ ملتی۔ اگر نبوت ملتی تو آپ ﷺ خاتم النبیین نہ رہتے۔ اگر نبوت نہ ملتی تو حضور علیہ السلام پر اعتراض ہوتا کہ حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسماعیل نبی، حضرت یعقوب کے بیٹے حضرت یوسف نبی اور حضور علیہ السلام کا بیٹا نبی نہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے تمام

صفحہ 117

صاحبزادوں کو بچپن میں وفات دے دی تاکہ حضور علیہ السلام پر اعتراض بھی نہ ہو اور آپﷺ کی ختم نبوت پر بھی حرف نہ آئے۔ حضرت امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری شریف (ص914) میں فرمایا لو قضی ان یکون بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی عاش انہ و لکن لا نبی بعدہ اگر آپ کے بعد کسی کو نبوت ملنا ہوتی تو ابراہیم آپ کے صاحبزادے زندہ رہتے۔ تو حضرت ابراہیم کی وفات تو آنحضرتﷺ کی ختم نبوت کی دلیل ہے اور مرزا صاحب اس سے غلط مطلب براری کر کے اس سے نبوت کا دروازہ کھول رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل : حضور علیہ السلام رحمت للعالمین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ آپ کے عقیدہ کے مطابق یہ تیرہ سو سال سے کھلا ہے یا نہیں، رحمت آئی یا نہیں، دروازہ بند نہیں ہوا نبی آئیں گے۔ تو میں نے عرض کیا کہ کیا مرزا صاحب کی پیدائش سے چودہ سو سال میں کوئی نبی آیا؟

مرزا ناصر : ان تیرہ چودہ سو سال میں امتی نبی کوئی نہیں آیا۔ ویسے انبیاء تو سینکڑوں آئے۔

اٹارنی جنرل : وہ کون کون سے؟

مرزا ناصر : مجھے کیا پتہ۔ (قہقہہ)

اٹارنی جنرل : کسی ایک کا نام بتادیں، کرم ہوگا۔

مرزا ناصر : میں اس پوزیشن میں نہیں مگر امتی نبی کوئی نہیں آیا......

مولانا عبدالمصطفیٰ : جناب چیئرمین گواہ گڑ بڑ کر رہا ہے۔

چیئرمین : سب کے سامنے ہے کہ یہ تضاد بیانی سے کام لے رہے ہیں مگر......

اٹارنی جنرل : میرا سوال یہ ہے کہ آپ کے عقیدہ کے مطابق نبی آسکتا ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد کو امتی نبی سمجھتے ہیں۔

مرزا ناصر : آپ کا سوال ختم ہو گیا۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ امت محمدی میں صرف وہی نبی آسکتا ہے جن کی بشارت آنحضرتﷺ نے دی ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ کے عقیدہ کے مطابق وہ بشارت صرف مرزا غلام احمد مسیح موعود کے بارے میں ہے اور کسی کے بارے میں نہیں؟

مرزا ناصر : ہاں ہمارے عقیدہ کے مطابق صرف حضرت مسیح کے بارے میں ہے۔

اٹارنی جنرل : کس حدیث کے حوالہ سے؟

مرزا ناصر : بہت سی احادیث کے حوالہ سے کہتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : صرف ایک نبی آئیں گے۔ اس کے علاوہ اور نہیں آئیں گے؟ مرزا غلام احمد سے پہلے کوئی امتی نبی نہیں آئے صرف ایک۔ اس کے بعد بھی کوئی نہیں آئیں گے۔ یعنی فیض کا دروازہ

صفحہ 118

بند ہے۔ صرف تھوڑی دیر کے لیے کھلا۔ ایک نبی کے لیے کھلا اور پھر بند ہو گیا۔ پہلے بھی اس سے بند تھا؟

مرزا ناصر : فیض کا دروازہ کھلا ہے۔ شہید، صالح، صدیق آئے اور آئیں گے۔

اٹارنی جنرل : کتنے؟

مرزا ناصر : ہزاروں۔

اٹارنی جنرل : اور نبی امتی صرف ایک...... یہی ناں؟

مرزا ناصر : حضور علیہ السلام کے فیض کا دروازہ کھلا ہے۔ اپنے جلوے دکھا رہا ہے۔

چیئرمین : اٹارنی جنرل کے سوال کا جواب نہیں ملا۔

اٹارنی جنرل : اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنا سوال دوسرے طریقے سے دہراتا ہوں۔

چیئرمین : اجازت ہے۔ سوال کا جواب نہیں آیا۔ اٹارنی جنرل سوال دوبارہ کریں۔

اٹارنی جنرل : آپ کے نظریہ کے مطابق کوئی اور نبی مرزا غلام احمد کے علاوہ آسکتا ہے یا نہیں آسکتا؟

مرزا ناصر : آسکتا ہے کا جواب ہے، آسکتا ہے۔

اٹارنی جنرل : آسکتا ہے؟

مرزا ناصر : آسکتا ہے۔

اٹارنی جنرل : مگر حقیقت میں صرف ایک ہی آیا ہے۔

مرزا ناصر : لیکن عملاً وہی آسکتا ہے جس کی بشارت حضرت محمدﷺ نے دی ہو۔

اٹارنی جنرل : عقیدۃً آسکتا ہے مگر عملاً نہیں آیا؟

مرزا ناصر : جی۔

اٹارنی جنرل : یہ تو عقیدہ اور عمل میں تضاد ہوا۔ کیا حضور علیہ السلام نے مرزا غلام احمد کے سوائے کوئی بشارت نہیں دی، یعنی آپ کو اس کا علم ہے؟

مرزا ناصر : میرے علم کے مطابق نہیں جی۔

اٹارنی جنرل : اللہ تعالیٰ کی رحمت کا خزانہ بند نہیں ہوا۔ تیرہ سو سال کوئی بات ہی نہیں۔ تیرہ ہزار سال گزار دیں گے۔ ہزاروں نبی آسکتے ہیں، مگر آپ کہتے ہیں کہ نہیں صرف ایک ہی نبی آئیں گے۔ امتی ایک ہی آیا ہے اور نہیں آئیں گے۔ کیا میں آپ کا مطلب سمجھ گیا ہوں؟

مرزا ناصر : یہ صاف نہیں ہے۔ صرف ایک ہی بشارت ہے۔

اٹارنی جنرل : میں پھر عرض کر دیتا ہوں۔

مرزا ناصر : میں نے کہا صرف ایک ہی بشارت ہے۔ سوائے امتی نبی کے جس کی بشارت خود

صفحہ 119

حضور علیہ السلام نے دی ہے اور کوئی نہیں آسکتا۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اٹارنی جنرل : اس کے علاوہ نہ آیا ہے نہ آئیں گے؟ مرزا ناصر : نہیں صرف وہی آسکتا ہے جس کی بشارت دی ہے۔ اٹارنی جنرل : تو ہاں انہوں نے صرف ایک کی بشارت دی ہے؟ مرزا ناصر : ہمارے نزدیک ہمارے عقیدہ کے مطابق امتی نبی کی صرف ایک ہی بشارت دی گئی ہے۔ اٹارنی جنرل : اس کے علاوہ نہیں آسکتا؟ مرزا ناصر : اس کے علاوہ نہیں آسکتا۔ لیکن کانبیاء بنی اسرائیل ہزاروں آسکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل : وہ تو علماء ہوئے۔ نبی نہیں، نبی صرف ایک؟ مرزا ناصر : جی صرف ایک۔ اٹارنی جنرل : آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک نبی جو مسیح موعود ہے وہی آئے ہیں، بعد میں کوئی نہیں آسکتا؟ مرزا ناصر : ہمارے عقیدہ کے مطابق۔ اٹارنی جنرل : لیکن میں ”انوار خلافت“ سے ایک حوالہ پڑھ کر سناتا ہوں۔ ”اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی قدر کو نہیں سمجھا اور یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے اس لیے کسی کو کچھ نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کہتے ہیں کہ کتنا ہی زہد اور اتقاء بڑھ جائے، پرہیزگاری اور تقویٰ میں کئی نبیوں سے آگے گزر جائے، معرفت ایسی کتنی ہی حاصل کر لے لیکن خدا اس کو کبھی نبی نہیں بنائے گا اور ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا، میں تو کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی ہوں گے۔“ مرزا ناصر : یہ کون ہے؟ اٹارنی جنرل : مرزا محمود (”انوار خلافت“ ص 62 اس کے ساتھ ہی ص 65) پڑھ لیتا ہوں۔ ”وہ تو مخالفت سے ڈرتے ہیں لیکن اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔“ چیئرمین : گواہ کو دکھا دیں تاکہ وہ اس کی تصدیق کر سکیں۔ مرزا ناصر : حوالے درست ہیں۔ یہاں امکان کی بات ہے۔ اٹارنی جنرل : میں آپ سے عرض کروں گا کہ مرزا محمود کو حضور علیہ السلام کی بشارت کا علم تھا یا

صفحہ 120

نہیں تھا؟

مرزا ناصر : امکان کی بات ہے۔

اٹارنی جنرل : وہ یہ نہیں کہتے کہ آسکتا ہے وہ کہتے ہیں کہ آئیں گے۔ آپ ذرا اسے غور سے پڑھیں ۔

مرزا ناصر : ”منیر انکوائری“ میں بھی یہ سوال کیا گیا تھا۔ یہاں امکان کی بحث ہے۔

اٹارنی جنرل : امکان تو اس کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب شریعت نبی بھیج دے اس پر قادر ہیں۔

مرزا ناصر : نہیں وہ تو بالکل امکان نہیں ۔

اٹارنی جنرل : آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک مسیح موعود آئیں گے وہ آگئے۔ مرزا محمود کہتے ہیں اور آئیں گے۔ کیا آپ کو علم ہے مرزا محمود کو حضور علیہ السلام کی پیش گوئی کا علم نہیں تھا؟ میں پھر حوالہ پڑھ دیتا ہوں۔

مرزا ناصر : نہیں ضرورت نہیں وہ تو واضح ہیں۔

چیئرمین : وہ پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ کہہ رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل : تو پھر غور کریں۔

مرزا ناصر : آپ سوال کریں۔

اٹارنی جنرل : صرف امکان کی بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ کوئی اور احکام نازل کرے کوئی اور وحی کرے کسی نبی پر ہم تو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا آخری حکم آچکا آخری کتاب آچکی ہے۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے اور آپ کا بھی۔ لیکن آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک آئے گا اور وہ آچکا۔ مگر مرزا محمود کہتے ہیں کہ ہزاروں آئیں گے تو اس پر آپ کہیں؟

مرزا ناصر : میں کہہ چکا۔

اٹارنی جنرل : اب دوسرا سوال یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے بعد اور کوئی نبی نہیں آسکتے۔ پھر تو خاتم النبیین مرزا صاحب ہو گئے۔ آخری نبی وہی ہو گئے میں یہ سمجھا ہوں۔

مرزا ناصر : وہ آپؐ کے غلام ہیں۔

اٹارنی جنرل : قدرت کی بات نہیں واقعات کی بات ہے۔

چیئرمین : آپ سوال کا جواب دیں۔ بات واضح ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد صرف ایک آنا ہے اور وہ مرزا ہے۔ تو مرزا صاحب آخری نبی ہوئے خاتم النبیین ۔ امکان کی بات نہیں ۔

اٹارنی جنرل : آپ کا عقیدہ ہے کہ بشارت صرف ایک ہے؟

صفحہ 121

مرزا ناصر : بشارت ایک ہے۔

اٹارنی جنرل : اور وہ صرف مرزا صاحب تو خاتم النبیین ہو گئے مسیح موعود؟

مرزا ناصر : چھوڑیں مسیح موعود کو ہر ایک کا عقیدہ ہے کہ مسیح نازل ہوں گے۔

مولانا شاہ احمد نورانی : جناب خاتم النبیین کا معنی ای لا ینباء احد بعدہ و اما عیسی

علیہ السلام ممن نبی قبلہ حضور علیہ السلام کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا اور مگر عیسی علیہ

السلام وہ نبی ہیں جو حضور علیہ السلام سے پہلے نبی بنائے جاچکے۔

اٹارنی جنرل : لیجئے مرزا ناصر صاحب بات واضح ہو گئی کہ عیسی علیہ السلام حضور علیہ السلام سے

پہلے کے نبی ہیں۔ وہ آپ کی ختم نبوت کے بعد نبی نہیں بنائے گئے۔ مرزا صاحب تو بعد میں نبی بنے تو یہ

پھر حضور کے بعد تو گویا خاتم النبیین مرزا صاحب ہوئے؟

مرزا ناصر : اسلام میں چار ارکان ہیں۔

چیئرمین : سوال کا جواب نہیں آیا۔

اٹارنی جنرل : میں پوچھتا ہوں کہ کوئی اور نبی آئیں گے اور جب کہ آخری نبی یہی ہیں آپ

کے نقطہ نظر سے؟

مرزا ناصر : آپ بتانے والے سے پوچھیں میں کیا بتا سکتا ہوں۔

چیئرمین : اٹارنی جنرل کے سوال کا جواب نہیں ملا۔

اٹارنی جنرل : میں آپ کا عقیدہ پوچھ رہا ہوں کہ امتی نبی مرزا صاحب پہلا اور آخری؟

مرزا ناصر : آخری نبی حضور علیہ السلام ہیں۔

اٹارنی جنرل : شرعی نبی آخری حضور علیہ السلام اور امتی آخری نبی مرزا صاحب؟

مرزا ناصر : وہ محمد ﷺ کے بعد نہیں تھے۔

اٹارنی جنرل : پہلے تھے؟

چیئرمین : مرزا صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟

جناب عبدالعزیز بھٹی : سوال کا جواب نہیں آیا۔

چیئرمین : آپ تشریف رکھیں۔

مرزا ناصر : تھک گئے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے کل بھی کہا تھا کہ تھک گئے ہیں۔

مرزا ناصر : میں تھک گیا ہوں کل جمعہ ہے۔

اٹارنی جنرل : میں نے کل ڈیفنس کالج میں لیکچر دینا ہے۔

صفحہ 122

مرزا ناصر : کل جمعہ بھی ہے۔

چیئرمین : وفد کو جانے کی اجازت ہے۔ پروگرام ابھی طے کرتے ہیں۔

میاں عطاء اللہ : میں اٹارنی جنرل کو سلام کرتا ہوں۔ جناب والا میری ناقص رائے ہے کہ کل سوال یہاں سے شروع کریں جہاں پر آج کا سوال ختم ہوا۔

چیئرمین : یہ اٹارنی جنرل پر چھوڑ دیں۔ کل اگر اٹارنی صاحب نہ آسکیں تو مولانا ظفر احمد انصاری اور وزیر قانون پیرزادہ۔

مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ : مجھے کئی امور کی دیکھ بھال کرنا ہے۔

سردار مولا بخش سومرو : جناب والا! اٹارنی جنرل صاحب آج کی کارروائی کے لیے ہم سب کے شکریہ اور تعریف کے مستحق ہیں۔

چیئرمین : حکمت عملی اٹارنی جنرل پر چھوڑیں۔ ایک نقطہ کے لیے چار گھنٹہ محنت کرنی پڑی۔

چودھری برکت اللہ : مولانا ظفر احمد انصاری یا پیرزادہ صاحب ٹھیک ہے مگر اٹارنی جنرل کا ہونا میرے خیال میں ضروری ہے۔

مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ : معزز رکن نے ٹھیک کہا۔ ان کی بات میں وزن ہے۔ کل دس بجے شروع کریں تو اٹارنی صاحب تشریف لاسکتے ہیں۔

چیئرمین : ٹھیک ہے وفد کو مطلع کریں کہ کل صبح دس بجے۔

(اجلاس ملتوی۔ دوبارہ 9۔ اگست دس بجے صبح)

9۔ اگست 1974ء کی کارروائی

صبح دس بجے زیر صدارت سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی صاحب خصوصی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن مجید۔

چیئرمین : ہم بحیثیت خصوصی کمیٹی اجلاس کر رہے ہیں، اس لیے ہر روز ضابطہ کی کارروائی کو جانچتے ہیں۔

صاحبزادہ احمد رضا قصوری : جناب کمیٹی کا اجلاس کچھ روز کے لیے ملتوی ہو تو تمام کارروائی ارکان اسمبلی کو مہیا ہوجائے تا کہ ہم چھٹیوں میں اس پر تیاری کرسکیں۔ ہم گھر جائیں تو کارروائی ہمارے

صفحہ 123

پاس ہو۔

چیئرمین : اسی کے مطابق کام کر رہا ہوں، انہی خطوط پر۔ دو سو نقول تیار کرا رہے ہیں انشاء اللہ مل جائے گی۔

احمد رضا قصوری : شکریہ سر۔

مسٹر محمد حنیف خان : میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ کمیٹی اب تک بغیر کسی تعصب کے کارروائی کر رہی ہے۔ ہمارے ذہن بالکل کھلے ہیں۔ گواہ جس کا بیان جاری ہے، ہمیں اپنے دلائل سے قائل کر سکے یا نہ کر سکے، ہم نے ابھی کوئی رائے قائم نہیں کی۔ میں سمجھتا ہوں یہ بات کرتے ہوئے میں تمام ایوان کی ترجمانی کر رہا ہوں اور سب کے سب مجھ سے متفق ہوں گے کہ اس گواہ کے بیان سے یا دوسرے گواہان جو بعد میں آئیں گے ان (کے بیانات) سے قائل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ہمارے ذہن بالکل صاف ہیں۔

چیئرمین : جی ہاں، آپ کا بہت بہت شکریہ۔

چودھری جہانگیر علی : سر میں نے ”انوار خلافت“ کے چند سوالات دیے تھے۔ کتاب میرے پاس ہے، اٹارنی صاحب چاہیں تو وہ لے سکتے ہیں۔

چیئرمین : اٹارنی صاحب جیسے مناسب سمجھیں۔

اٹارنی جنرل : سر میں تیار ہوں، وفد کو بلالیں۔ (وفد داخل ہوا)

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب آج تک سوالات اور ان کے جواب میں جو فرماتے رہے ہیں وہ میں مختصراً عرض کر دیتا ہوں۔ ایک موقع پر میں نے پوچھا کہ کیا مرزا غلام احمد نبی ہیں تو آپ نے کہا کہ امتی نبی ہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ ختم نبوت کے متعلق ہمارا نظریہ یہ ہے کہ شرعی و غیر شرعی، امتی یا غیر امتی نبی نہیں آئے گا اور آپ کا نظریہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فیض ہے اور فیض کا دروازہ بند نہیں ہوتا، یہ جاری رہے گا۔ ایک نہیں ہزاروں نبی آئیں گے اور کچھ حوالے آپ کو پڑھ کر سنائے اور آپ سے پوچھا کہ کیا مرزا غلام احمد سے پہلے کوئی امتی نبی آیا اور پھر سوال کیا کہ کیا مرزا غلام احمد کے بعد کوئی امتی نبی آئے گا؟ آپ نے کہا کہ نہیں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ جو عقیدہ ہے قرآن وحدیث کے مطابق، کیا نبی آیا ہے یا آسکتا ہے آپ کے نزدیک مرزا صاحب سے پہلے یا ان کے بعد؟

مرزا ناصر : آنے والے مسیح کے متعلق ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا۔ پوری امت انتظار کر رہی ہے۔ ہمارے نزدیک وہ آگیا، اس امت کا عقیدہ ہے کہ امت میں ایک نبی پیدا ہوگا۔

اٹارنی جنرل : آپ کے نزدیک غلام احمد وہ مسیح تھے وہ آچکے؟

مرزا ناصر : ہمارا عقیدہ ہے کہ مہدی اور مسیح جن کا تیرہ سو سال سے انتظار تھا وہ آچکا ہے، مرزا

صفحہ 124

غلام احمد کے وجود میں۔

اٹارنی جنرل: امت محمدیہ کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو حضور علیہ السلام سے پہلے کے نبی تھے وہ اب بحیثیت امتی نبی آئیں گے۔ وہ حضور علیہ السلام سے قبل نبی بنائے جا چکے۔ آپ کے نزدیک مرزا غلام احمد وہی مسیح ہے' ایسا جو آپ کے نزدیک حضور علیہ السلام کے بعد نبی بنا؟

مرزا ناصر: میں اس کا اعلان کر دیتا ہوں کہ ہمارے نزدیک اب خدا تعالیٰ کے تمام انعامات کے سب دروازے اتباع محمدؐ کے بغیر بند ہیں۔

اٹارنی جنرل: اتباع کے سوائے سب دروازے بند ہیں۔ اس بنیاد پر کیا اور نبی آسکتے ہیں یا اس بنیاد پر مرزا غلام احمد نبی تھے؟

مرزا ناصر: صرف مرزا غلام احمد ہی۔

اٹارنی جنرل: لاہور ہائیکورٹ میں انکوائری کمیشن قائم ہے۔ آپ وہاں پیش ہوئے۔ آپ سے وہاں سوالات ہوئے' وہ میں دوبارہ سوال عرض کرتا ہوں تاکہ آپ تصدیق کر دیں۔ کیا مرزا غلام احمد کو آپ نبی مانتے ہیں؟

مرزا ناصر: نہیں مگر امتی نبی۔

اٹارنی جنرل: آپ کا اس (مرزا غلام احمد) سے کیا رشتہ ہے؟

مرزا ناصر: میں اس کا پوتا ہوں۔ (بیٹے کا بیٹا)

اٹارنی جنرل: کیا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت محمدیہ میں پہلا امتی نبی تھا؟

مرزا ناصر: میرے اعتقاد کے مطابق وہ امت محمدیہ میں پہلا امتی نبی تھا۔

اٹارنی جنرل: کیا اس طرح کے اور نبی بھی آسکتے ہیں؟

مرزا ناصر: آسکتے ہیں مگر شاید نہ آئیں۔ یہ بالکل صحیح لکھا گیا ہے' میں تصدیق کرتا ہوں۔

اٹارنی جنرل: سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں اور آپ کا جواب یہ ہے کہ چونکہ میرے اعتقاد کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سے زائد امتی نبی کی پیشگوئی نہیں فرمائی یا کسی دوسرے امتی نبی کی پیشگوئی نہیں فرمائی' اس لیے میرا ایمان ہے کہ کوئی اور (امتی نبی) نہیں آئے گا۔

مرزا ناصر: جی ہاں یہ درست ریکارڈ ہوا ہے۔

اٹارنی جنرل: تو جناب' آپ کہتے ہیں کہ وہ امتی نبی تھا اور آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف وہی امتی نبی تھا اور آپ کے عقیدہ کے مطابق کوئی اور نبی امتی نہیں آسکتا۔ کل بھی میں نے اپنے سوال کو محدود رکھا تھا اور نہایت احترام کے ساتھ آج بھی اپنے سوال کو دہراتا ہوں کہ اگر کوئی اور امتی نبی نہیں ہو سکتا تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ (یعنی مرزا غلام احمد) آخری نبی ہے؟

صفحہ 125

مرزا ناصر : جی پیشگوئی کے مطابق مرزا غلام احمد ہی ہے۔

اٹارنی جنرل: کتاب ”دافع البلاء“ جو مرزا غلام احمد کی ہے اس کے ص 11 پر ہے کہ سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ ( ”روحانی خزائن“ ص 231‘ ج 18) یہاں مطلب اللہ تعالیٰ کے اپنے نبی بھیجنے کا ہے یا امتی نبی کا؟

مرزا ناصر : صفحہ کونسا ہے؟

اٹارنی جنرل: صفحہ 11 ہے اور اسی پر پیرا ختم ہورہا ہے۔

مرزا ناصر : یہاں رسول کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

اٹارنی جنرل: اب ایک دوسرا سوال عرض کروں گا کہ مرزا صاحب کی کتاب ”حقیقت الوحی“ ص 391 ہے۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ نبی کا نام پانے کے لیے میں مخصوص کیا گیا‘ دوسرے لوگ اس کے مستحق نہیں۔ (مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 407‘ ج 22) یہ بھی آپ تصدیق کریں گے؟

مرزا ناصر : امت محمدیہ تیرہ سو سال سے یہی سمجھتی رہی۔

اٹارنی جنرل: نہیں امت محمدیہ یہ نہیں سمجھتی رہی کہ قادیان میں مرزا غلام احمد آئے گا؟

مرزا ناصر : امت جو سمجھتی ہے‘ یہ ایک بشارت دی گئی۔

اٹارنی جنرل: نبی کا نام پانے کے لیے مجھے مخصوص کیا گیا‘ دوسرے لوگ اس کے مستحق نہیں‘ یہ اپنے بارے میں کہا ہے؟

مرزا ناصر : ہاں اپنے بارے میں۔

اٹارنی جنرل: اب ایک اور حوالہ۔

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بہ عرفان نہ کمترم ز کسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام

(”نزول المسیح“ ص 99‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 477‘ ج 18)

اگرچہ اس دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں‘ میں ان میں سے کسی سے بھی عرفان میں کم نہیں ہوں۔ جس نے ہر نبی کو جام دیا اس نے مجھے بھی بھر کر جام دیا۔ اپنے متعلق کہہ رہے ہیں کہ میں کسی سے کم نہیں ہوں؟

مرزا ناصر : ٹھیک ہے اپنے متعلق کہا ہے۔

اٹارنی جنرل: آپ لوگوں کا رسالہ ”تشحیذ الاذہان“ اگست 1917ء کا‘ ایک اور حوالہ مارچ 1914ء کا‘ اس میں ہے کہ آنحضرت کے بعد صرف ایک نبی ہونا لازم ہے۔ بہت انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی مصلحتوں اور حکمت میں رخنہ اندازی پیدا کرتا ہے۔ مرزا صاحب اب یہاں آپ کے اور باقی

صفحہ 126

مسلمانوں کے نقطہ نظر میں کیا یہ فرق نہیں؟ مسلمان سمجھتے ہیں کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیت یہی تھی کہ نہ آئے۔ اگر آئے تو حکمت خداوندی میں رخنہ پیدا کرتا ہے۔ آپ کے نزدیک ایک نبی آسکتا ہے، ایک تک تو رخنہ پیدا نہیں ہوگا، اس سے زیادہ آئیں گے تو رخنہ پیدا ہوگا، یہ کیوں؟

مرزا ناصر : یہ کیوں کا سوال فلسفیانہ ہے۔

اٹارنی جنرل: آپ کہتے ہیں کہ ایک اور صرف ایک؟

مرزا ناصر : وہ آنے والا ہے آپ کے نزدیک، ہم کہتے ہیں کہ آ گیا۔

اٹارنی جنرل : دو باتیں ہیں، ایک تو یہ کہ سب کا عقیدہ ہے کہ مسیح آئیں گے اس پر تو اختلاف نہیں ۔ وہ تو پہلے کے نبی مقرر ہوئے ۔ یہ حقیقت ہے کہ نہیں صرف اسی کو لیں؟

مرزا ناصر : جی وہ پہلے کے نبی تھے۔

اٹارنی جنرل: میں تو یہ عرض کرتا ہوں کہ یہاں مسیح کا سوال نہیں، یہاں تو صاف کہہ رہے ہیں کہ آنحضرت کے بعد صرف ایک نبی ہونا لازم ہے۔ اب ”تشحیذ الاذہان“ کی عبارت پڑھیں، اس مرحلہ پر ہے، یہ لیں رسالہ۔

مرزا ناصر : عبارت تو یہی ہے جو آپ نے کہی ۔

اٹارنی جنرل: یہاں مسیح کا سوال نہیں، وہ ابن مریم ہوگا۔ میں اس کی تفصیل میں نہیں جاتا۔ آپ کہتے ہیں کہ ایک امتی نبی آئے گا؟

مرزا ناصر : ہمارے نزدیک یہی مسیح اور یہی امتی نبی ۔

اٹارنی جنرل: سب سے ہٹ کر۔ چلو یہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ مرزا صاحب کا کتابچہ ہے اس میں ہے ”میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے، وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ پر اپنا کلام نازل کیا تھا ۔“ (”ایک غلطی کا ازالہ“ ص6، مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص210، ج18) یہ صحیح ہے؟

مرزا ناصر : عبارت کی تصدیق کرتا ہوں، صحیح ہے۔

اٹارنی جنرل : تو یہ تینوں کا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ میں چوتھا تھا۔ وہ تینوں امتی نبی تھے؟ ظاہر ہے کہ نہیں، بلکہ صاحب شریعت تھے۔ اب تو مرزا صاحب امتی نبی نہ ہوئے بلکہ ان تینوں جیسے، ان کے بعد چوتھے؟

مرزا ناصر : میری وحی شیطانی نہیں بلکہ وحی الٰہی ہے۔ ان جیسی ہے نہ کہ ان کے برابر۔ برابر کہیں تو ہم کافروں سے بھی بڑھ کر کافر بن جاتے ہیں۔

صفحہ 127

اٹارنی جنرل: یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی ہے وہ یہ کہہ رہے ہیں؟

مرزا ناصر : ویسی ہی سچی ہے۔

اٹارنی جنرل: میرا پوائنٹ یہ تھا کہ یہ ایک مختلف وحی ہے جو ایک مختلف نبی پر آئی ہے۔ یہ مضمون ظاہر کر رہا ہے یا نہیں؟

مرزا ناصر : چشمہ وحی کا ایک ہے۔ اگر وہ اللہ کا کلام ہے تو خدا کے کلاموں میں فرق کرنا پڑے گا کہ بعض زیادہ پاک ہیں اور بعض کم پاک ہیں۔ ہماری عقل میں تو یہ بات آتی نہیں ہے۔ اپنے پاک چشمہ کی وجہ سے ایک جیسی ہے لیکن کیفیت میں اختلاف ہے۔

اٹارنی جنرل: معاف کیجئے یہ مضمون ظاہر کر رہا ہے کہ ان پر ایک مختلف وحی آئی‘ ایک مختلف نبی کی حیثیت سے؟

مرزا ناصر : حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جو وحی آئی‘ وہ شریعت موسوی کو مستحکم کرنے کے لیئے کوئی نئی شریعت نہ تھی۔

اٹارنی جنرل: میں نہیں کہتا کہ نئی شریعت تھی‘ لیکن میں کہتا ہوں کہ عیسیٰ علیہ السلام ایک مختلف نبی تھے اور اپنی وحی ان پر مختلف آتی‘ جو موسیٰ علیہ السلام پر آتی تھی اور یہی سوال یہاں پیدا ہوتا ہے۔ مرزا صاحب کا مقصد یہ ہے کہ وہ خود (مرزا) اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں فرق ہے۔ مجھ پر (مرزا صاحب) جو وحی آئی ہے‘ وہ نہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر آئی ہے مگر ہے اسی طرح پاک‘ ہے علیحدہ؟

مرزا ناصر : اختلاف لفظی‘ ہاں ٹھیک ہے۔ یُقیم الدین وہ دین کو قائم کرنے والے تھے۔ شریعت محمدیہ کا احیاء کرنے والے۔ ان کے ذمہ یہ کام تھا‘ سپرد تھا‘ اس منصب کے تحت اللہ تعالیٰ کی وحی ہوئی۔ لوگوں پر شریعت محمدیہ کی جو روشن تعلیمات تھیں‘ ان کو کھول کر بیان کرے اور نئے زمانہ کے نئے مسائل کو شریعت محمدیہ قرآن کریم کی روشنی میں وحی پا کر ساری دنیا میں ثابت کرے کہ دین اسلام سچا ہے۔ وحی پر آپ کیوں زور دیتے ہیں‘ وحی تو بزرگوں کو بھی ہوتی ہے۔

اٹارنی جنرل: دین کو قائم کرنا نبی کا دعویٰ کیے بغیر کوئی آدمی کر سکتا ہے؟

مرزا ناصر : کر سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل: کر سکتا ہے؟

مرزا ناصر : بالکل کر سکتا ہے‘ یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔

اٹارنی جنرل: اگر شریعت محمدیہ وہی ہے‘ وہی کام کرنے کے لیے صرف آئے ہیں‘ جو ایک ولی کی حیثیت سے‘ محدث کی حیثیت سے‘ بزرگ کی حیثیت سے اور آپ کے خیال کے مطابق وحی حاصل کرنے کے بعد کر سکتے تھے‘ تو پھر اس نبوت کا کیا فائدہ تھا؟ اس کا کیا مطلب تھا؟

صفحہ 128

(اس مرحلہ پر پریذائیڈنگ آفیسر پروفیسر غفور احمد کرسی صدارت پر متمکن ہوئے)

مرزا ناصر : اللہ نے آپ کو نبی کہا‘ ہمارا یہ عقیدہ ہے۔ دیکھئے ناں‘ اس لیے اس عقیدہ کے بعد ہم کیسے جرات کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیوں ایسا کیا۔ یہ تو اللہ ہی بتا سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل : بہت اچھا آپ نے کہا کہ بزرگوں کو وحی ہوتی ہے تو کیا بزرگوں کی وحی میں خطا ہو سکتی ہے؟

مرزا ناصر : ہو سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل : نبی کی وحی اور بزرگوں کی ایک جیسی نہ ہوئی۔ مرزا صاحب کی وحی نبیوں جیسی خطاؤں سے پاک اور اللہ تعالیٰ کا کلام قرآن‘ تورات‘ انجیل کی طرح۔ (”نزول المسیح“ ص99‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص477‘ ج18) یہی ہے نا عبارت‘ ہاں یا نہ میں جواب دیں۔

مرزا ناصر : عبارت میں کہاں ہے؟

اٹارنی جنرل : جس کی طرف میرا اشارہ ہے‘ وہ آپ سمجھ نہیں رہے‘ پڑھ دوں۔

مرزا ناصر : ہاں عبارت یہی ہے۔ بالکل میں سمجھ گیا۔ آپ وہ دوسری کتاب‘ جی بالکل‘ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

اٹارنی جنرل : میں اس مرحلہ پر پھر ایک اور پہلے والے سوال کی طرف آؤں گا کہ آپ اپنے کو مسلمانوں سے علیحدہ سمجھتے تھے‘ علیحدگی کا رجحان تھا۔ مرزا محمود کہتے ہیں ”لوگ گھبراتے ہیں کہ ان کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے۔ لوگ چڑتے ہیں‘ ان کی عداوت کیوں کی جاتی ہے۔ انہیں دکھ کیوں دیا جاتا ہے‘ اگر دکھ دینے کی یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارا شکار ہیں‘ تو پھر ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے اور نہ کسی قسم کا فکر کرنا چاہیے بلکہ ہمیں خوش ہونا چاہیے کہ دشمن (غیر احمدی مسلمان) یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں کوئی نئی حرکت پیدا ہوئی‘ تو ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے ۔“ دشمن سے ان کی مراد کیا تھی؟ کیا وہ اس سے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ نہیں قرار دے رہے؟

مرزا ناصر : ہاں ہاں‘ یہ چیک کر کے۔ جب شام چھ بجے ملیں گے تو پھر اس پر میں روشنی ڈالوں گا۔

اٹارنی جنرل : اس کے ساتھ 3 جولائی 1952ء کا ”الفضل“ پرچہ آپ سے منگوایا تھا۔ مگر شاید آپ ہمیں پہنچا نہیں سکے۔ اس میں خاص حوالہ ہے ”ہم فتح یاب ہوں گے۔ ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہو گے اور اس وقت تمہارا حشر وہی ہوگا جو فتح مکہ پر ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔“ مرزا صاحب میں گزارش کرتا ہوں کہ فتح مکہ کا کیا مطلب ہے۔ مجرموں سے کیا مراد ہے۔ اشارہ کن لوگوں کی طرف ہے کہ تمہارا حشر وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا؟

مرزا ناصر : ہاں‘ دیکھ لیں گے۔

صفحہ 129

اٹارنی جنرل: پھر ایک ”الفضل“ 16 جنوری 1952ء کا ہے۔ اس میں ایک اور اقتباس پڑھتا ہوں۔ فرمایا ہے کہ ”1952ء نہ گزرنے دیجئے جب تک کہ احمدیت کا رعب دشمن اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آ گرے“ احمدیت کا رعب‘ دشمن کون ہے اور یہ رعب ڈالنا کیسا ہے؟

مرزا ناصر: ہاں چیک کریں گے‘ متن میں دیکھ لیں گے۔

اٹارنی جنرل: 15 جولائی 1952ء خونی ملا کے آخری دن۔ ان کے خون کا بدلہ لیں گے جن کو شروع سے لے کر آج تک خونی ملا قتل کراتے آئے ہیں۔ بدلہ لیا جائے گا مولانا ابوالحسنات‘ سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مولانا مفتی محمد شفیع‘ مولانا احتشام الحق اور پانچویں شاہ سوار مولانا مودودی سے۔

مرزا ناصر: میں دیکھ لوں گا۔ خونی ملا‘ بدلہ‘ یہ کیا ہے۔

اٹارنی جنرل: 13 نومبر 1946ء کا ”الفضل“ کہ ایک پارسی کے مقابلہ میں دو احمدی پیش کرنا چاہوں گا۔ عیسائیوں اور پارسیوں کے مذہبی فرقوں کی طرح احمدیوں کے علیحدہ حقوق والی بات۔

مرزا ناصر: ”الفضل“ کا حوالہ ہے‘ شام کو ہو جائے گا۔

اٹارنی جنرل: مرزا صاحب‘ آپ کے عقیدہ کے مطابق انگریز کی اطاعت بھی اسلام کا حصہ ہے۔ انگریز سے میری مراد برٹش گورنمنٹ ہے؟

مرزا ناصر: اگر غیر مسلم حکومت مذہب میں دخل نہ دے تو بغاوت اس کے خلاف درست نہیں۔

اٹارنی جنرل: مذہب میں دخل نہ دے یعنی نماز‘ روزہ کی اجازت ہو؟

مرزا ناصر: جی‘ بالکل۔

اٹارنی جنرل: آپ کے عقیدہ میں مسلمانوں کو وہ غلام بنالے اور نماز کی‘ روزہ کی اجازت دے دے‘ تب بھی ان کی اطاعت اسلام کا حصہ ہے؟

مرزا ناصر: غلام کا معنی شہریت اختیار کرنا۔

اٹارنی جنرل: شہریت اختیار کرنا نہیں بلکہ آپ جس ملک میں رہ رہے ہیں‘ پیدا ہوئے‘ وہاں پر باہر سے کوئی فاتح آئے‘ ملک پر قبضہ کرے اور وہ لوگ غیر اسلامی ہوں‘ حکومت کریں تو ان کے خلاف آزادی حاصل کرنے کے لیے اگر کوئی جدوجہد کرے تو وہ بغاوت ہو گی؟

مرزا ناصر: قانون کے اندر رہ کر جدوجہد کریں تو بغاوت نہیں ہو گی۔ اگر وہ فتنہ پیدا کریں‘ خون خرابہ ہو تو وہ کام نہیں کرنا چاہیے۔

اٹارنی جنرل: قانون میں رہ کر وہ جدوجہد کرتے ہیں مگر ایک مرحلہ پر حکومت خود ایسے اقدام کرتی ہے کہ وہ مجبوراً اس سٹیج پر پہنچ جاتے ہیں‘ جیسا کہ خود قائد اعظم نے راست اقدام کی کال دی‘ تو کیا

صفحہ 130

یہ جائز ہے؟

مرزا ناصر : راست اقدام قائد اعظم کا۔

اٹارنی جنرل: اور اسی طرح جیسے مہاتما گاندھی کی ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘ عدم تشدد کے وہ قائل تھے‘ اسی کا پرچار کرتے تھے مگر جو جلیانوالہ میں ہوا‘ تو کیا اس کی وضاحت فرمائیں گے ورنہ آپ کی آزادی کی بات تو اس پر علامہ اقبال نے کہا کہ

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
نادان یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

مرزا ناصر : میں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

اٹارنی جنرل: کانگریس والوں نے ایک حکم دیا‘ ہندوستان چھوڑ دو۔

مرزا ناصر : ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔

اٹارنی جنرل: حب الوطنی کے جذبہ سے قانون کے دائرے میں رہ کر جدوجہد‘ مگر کہیں ایسی سٹیج آجائے جسے کہتے ہیں تنگ آمد بجنگ آمد‘ جیسے قائد اعظم نے راست اقدام کا حکم دیا۔

مرزا ناصر : ہم نے پاکستان بنانے کے لیے جدوجہد کی‘ لیگ کے ساتھ۔

اٹارنی جنرل: پھر وہ گورداسپور باؤنڈری کمیشن‘ کشمیر کا قضیہ‘ دوپاری ایک احمدی‘ کئی قضئے آ جائیں گے۔ آپ اپنی بات کو میرے سوال تک محدود رکھیں ورنہ تو آپ کا اکھنڈ بھارت کا عقیدہ‘ کئی تنازعات ہیں۔

چیئرمین : اٹارنی جنرل کے سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔

اٹارنی جنرل: میں سوال دہراتا ہوں کہ اگر آئینی کوشش ناممکن ہو‘ مسلمان یہ سمجھیں کہ وہ آئینی ذرائع کے علاوہ دوسرے ذرائع اختیار کیے بغیر اپنے ملک میں آزادی حاصل نہیں کر سکتے۔

مرزا ناصر : قانون شکنی کرتے ہیں‘ جانیں لیتے ہیں‘ لوٹتے ہیں۔

اٹارنی جنرل: جانیں لینے کا میں نے نہیں کہا۔ مثلاً دفعہ 144 لگ گیا‘ انہوں نے خلاف ورزی کی‘ لوگوں نے جلوس نکالا‘ لاٹھی چارج ہوا‘ اس پوزیشن پر مقصود حکومت کی مشینری کو مفلوج کرنا ہوتا ہے۔

مرزا ناصر : حکومت مفلوج‘ آئینی طور پر میں ان کو قصور وار نہیں ٹھہراؤں گا۔

اٹارنی جنرل: ان بدیشی حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کی اجازت ہے شرعاً یا ان کی اطاعت فرض ہے۔

مرزا ناصر : میرا دماغ کہتا ہے کہ ان کو آئین کے ذریعہ......

صفحہ 131

اٹارنی جنرل : کیا میں یہ سمجھوں کہ آپ اس کا جواب نہیں دے رہے؟

چیئرمین : آگے چلیں۔

مرزا ناصر : پانچ منٹ رہ گئے ہیں۔

اٹارنی جنرل : 1857ء کی جنگ آزادی۔

مرزا ناصر : سر اجلاس ملتوی کردیں۔

چیئرمین : (شام چھ بجے تک اجلاس ملتوی)

خصوصی کمیٹی کا اجلاس چھ بجے شام چیئرمین صاحب کی صدارت میں شروع ہوا۔

اٹارنی جنرل : کل میں نے چند حوالوں کی طرف توجہ دلائی، جن میں مرزا صاحب نے اپنے مخالفین کے خلاف توہین آمیز جملے استعمال کیے ۔

مرزا ناصر : دیکھئے ستر سال گزر گئے، اب ہمیں واپس اس ماحول میں جانا ہوگا کہ اس زمانہ میں مخالفین کس طرح ایک دوسرے کو علماء بھی گالیاں دے رہے تھے۔ وہ تاریخ کا ماحول سامنے رکھنا ضروری ہے۔ میں نے کہا سخت کلامی کا ایک طوفان تھا اور باہمی سختی جو ہے، ان میں کوئی 100 سال، 200 سال پہلے سے شروع تھی۔ اس میں سے میں نے تین مثالوں کا انتخاب کیا ہے۔ یہ کتاب رد الروافض ہے، 1902ء میں چھپی، حاجی مشتاق اینڈ سنز اندرون بوہڑ گیٹ ملتان والوں نے شائع کی۔

اٹارنی جنرل : یہ مضمون کس کا ہے؟

مرزا ناصر : بریلوی علماء نے شیعہ علماء پر فتویٰ لگایا ہے۔

اٹارنی جنرل : میں نے کہا کہ مرزا صاحب نے ان تین علماء کو گالیاں دیں۔ آپ جواب میں علماء کے مختلف فتووں کا ذکر کرتے ہیں۔ میرا مختصر سوال ہے کہ مرزا صاحب نے ان علماء کو گالیاں دیں؟

مرزا ناصر : اگر میں کہوں کہ اس ماحول و پس منظر کو سامنے لائے بغیر آپ کے سوال کا مختصر جواب نہیں دے سکتا تو پھر؟

اٹارنی جنرل : پھر جیسے آپ کی مرضی، میں نے تو درخواست کی تھی۔

مرزا ناصر : میں نے سینکڑوں فتاویٰ جات سے تین فتووں کا انتخاب کیا ہے دوسرا فتویٰ نصرۃ المعین ہے۔

مولانا غلام غوث : علماء مولوی امتی ہیں۔ انہوں نے فتوے دیے تو ان پر مرزا صاحب جو نبی ہونے کے مدعی ہیں، ان کو قیاس کیسے کیا جا سکتا ہے؟ مولوی کا فعل سخت زبانی شریعت میں حجت نہیں، نبی کا فعل و عمل تو حجت ہوتا ہے۔

چیئرمین : مولانا، اٹارنی جنرل کے توسط سے، لیکن گواہ چاہے تو جواب دے دے۔

صفحہ 132

مرزا ناصر : میں نے یہ اقتباسات پڑھنے ہیں۔ پڑھنے شروع کیے۔ رفض الروافض، نظرۃ المعین، کلام سلیم بہ دفع بہتان عظیم، مطبع انصاری یہ تین نمونے پڑھنے ہیں۔ (اس پر خاصا وقت لگا)

اٹارنی جنرل : آپ نے خاصا وقت لیا، یہ تمام باتیں غیر متعلق ہیں۔ میں نے آپ کو روکا نہیں تاکہ آپ بلاوجہ عذر نہ بنائیں۔ مرزا صاحب نے ان علماء کو گالیاں دیں اور بھی گالیاں دیتے تھے اور گالیاں دیں تو کیا میرے لیے بھی یہ وجہ جواز ہے گالیاں دینے کی۔ اس پر آپ نے کچھ نہیں کہا حالانکہ میرا سوال اتنا تھا۔

مرزا ناصر : آپ کچھ کہیں مگر ماحول کو سامنے رکھیں۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب کا ماحول گالیوں کا تھا، ماحول سے متاثر ہو کر گالیاں دیں۔

چیئرمین : نماز کا وقفہ۔ مغرب کی نماز کے لیے آٹھ بجے شب تک اجلاس ملتوی ہوا۔

مغرب کی نماز کے بعد اجلاس شروع ہوا۔

چیئرمین : وفد کو کیا بلا لیں؟

اٹارنی جنرل : جی ہاں، جناب والا۔

چیئرمین : بلا لیں۔ (وفد داخل ہوا)

اٹارنی جنرل : اندھا شیطان، دیو، گمراہ، ملعون، من المفسدین، مولوی سعد اللہ کو بدکار عورت کا بیٹا، یہ کیا ہے؟ مرزا صاحب کی، جو نبوت کے مدعی ہیں یہ زبان؟

مرزا ناصر : ابن بغائی، سرکش عورت کا بیٹا۔

اٹارنی جنرل : یا ابن بغایا، اے نسل بدکاران۔ یہ ترجمہ آپ کی کتاب میں ہے۔

مرزا ناصر : لیکن بانی سلسلہ کا ترجمہ نہیں۔

اٹارنی جنرل : آپ لوگوں کی شائع کردہ ہے۔

مرزا ناصر : ترجمہ ہم نے ہی شائع کیا ہے، ہماری کتاب ہے، ترجمہ بھی ہمارا ہوا ہے لیکن ابن بغایا کا غلط ترجمہ ہے۔

اٹارنی جنرل : ما کان ابوک امرا سوء وما کانت امک بغیہ تفسیر کبیر اس میں ہے لم اک بغیہ کبھی بدکاری میں مبتلا نہیں ہوئی۔ پھر آگے صفحہ 188 پر ایک جگہ آیا ہے وھی بغیہ تمہاری ماں بھی بدکار نہ تھی۔ یہ بھی آپ دیکھ لیں۔

مرزا ناصر : یہ عربی کے لفظ ہیں، کئی معنی ہوتے ہیں۔ بغا کا معنی بدکار نہیں بغیہ اور چیز ہے، بن بغا اور چیز ہے۔

اٹارنی جنرل : مولانا مفتی محمود آپ توجہ دلائیں۔

صفحہ 133

مولانا مفتی محمود : قرآن مجید میں ہے ولا تکرھوا فتیتکم علی البغاء ان اردن تحصنا (سورہ نور آیت 32‘ پارہ 18) یہاں بغا کا معنی کیا ہے؟

مرزا ناصر : عربی لفظ کے کئی ترجمے ہوتے ہیں۔

چیئرمین : اس کے معنی کیا ہیں جو مفتی صاحب نے سوال کیا ہے۔

مرزا ناصر : ابن بغا جب اس ضمن میں استعمال ہو تو اس کے معنی حرام زادہ نہیں بلکہ ہدایت سے دور اور سرکش۔

مولانا مفتی محمود : میں نے تو صرف قرآن مجید کی آیت کے بارے میں پوچھا ہے کہ قرآن کریم میں بغاء کا جو لفظ ہے اس سے مراد کیا ہے؟

مرزا ناصر : قرآن مجید نے ابن بغا کا لفظ ہی استعمال نہیں کیا۔

چیئرمین : جو آیت مفتی صاحب نے پڑھی ہے اس کا ترجمہ کر دیں۔ مفتی صاحب ایک دفعہ پھر پڑھیں۔

مولانا مفتی محمود : ولا تکرھوا فتیتکم علی البغاء ان اردن تحصنا۔

چیئرمین : لفظی ترجمہ کریں۔ ذرا ایک منٹ رکئے‘ گواہ کو آیت کا ترجمہ کرنے دیں۔

مرزا ناصر : لغت میں جب یہ فتیات کے تعلق میں استعمال ہو تو اس کے معنی بدکاری کے ہیں۔

چیئرمین : تفسیر نہیں ترجمہ پوچھا ہے۔

مرزا ناصر : اپنی جو لونڈیاں ہیں تمہارے گھروں میں‘ ان کو بدکاری پر مجبور نہ کرو۔

اٹارنی جنرل : اس کو چھوڑ دیں ”ازالہ اوہام“ میں مرزا صاحب نے لکھا ہے ”ان لوگوں نے چوروں‘ قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔“ (”ازالہ اوہام“ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 490‘ ج 3) یہاں چور‘ حرامی یہ گالیاں ہیں یا کوئی ایسے ہے۔

مرزا ناصر : میں چیک کروں گا۔

اٹارنی جنرل : گالیاں دینا آپ نے کہا کہ اس زمانہ میں یہ ایک قسم کا فیشن بھی تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف اس قسم کی زبان استعمال کر رہے تھے۔

مرزا ناصر : میں نے کہا‘ ان کو عادت پڑی ہوئی تھی ایسے الفاظ استعمال کرنے کی۔

اٹارنی جنرل : تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک معمولی گناہگار انسان، اور دوسری طرف نبی‘ ایسا نبی جس کا آپ کے ہاں کیا کیا تاثر ہے‘ وہ وہی زبان استعمال کرے‘ اس سے بھی سخت بعض جگہ زبان استعمال کرے۔ سر مرزا صاحب میں بڑی ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں۔ آپ جواب دیں۔

مرزا ناصر : پہلے انبیاء......

صفحہ 134

اٹارنی جنرل : آپ کہنا چاہتے ہیں کہ نبیوں کے لیے ایسی زبان کے استعمال کی اجازت ہے؟

مرزا ناصر : گالیاں نہیں مگر بطور سرجن کے نشتر کے استعمال کی نہ صرف اجازت بلکہ بعض جگہ ضروری ہو جاتا ہے۔ چور چاقو استعمال کرے تو مجرم مگر سرجن پورا پھیپھڑا باہر نکال دے تو اجازت ہے۔ اسی طرح کسی کو چور کہیں تو گالی لیکن اگر کسی کو مجسٹریٹ کہہ دے تو نہ صرف جائز بلکہ جس کو کہا وہ سزا کا مستحق ۔

اٹارنی جنرل : یعنی مرزا صاحب نے جو گالیاں دیں وہ صحیح اور وہ حقیقت پر تھیں۔ منحوس، لعین‘ شیطان‘ دیو‘ گمراہ‘ بدکار عورت کا بیٹا‘ کنجریوں کی اولاد یہ گالیاں نہیں تھیں؟

مرزا ناصر : صحیح معنوں میں گالیاں نہیں تھیں۔

اٹارنی جنرل : بس ٹھیک ہے جی مسئلہ حل کر دیا آپ نے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ میرے دشمن جنگلوں کے خنزیر اور ان کی عورتیں کتیا ہیں۔ (”نجم الہدیٰ“ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 53‘ ج 14)

مرزا ناصر : یہ عیسائیوں کو کہا‘ اعداء سے مراد عیسائی ہیں۔

اٹارنی جنرل : ان کو گالیاں دینا جائز ہے؟

مرزا ناصر : وہ حضور علیہ السلام کو گالیاں دیتے تھے۔

اٹارنی جنرل : گالی کا جواب گالی سے۔ اور پھر یہ کہ وہ حضور علیہ السلام کے دشمنوں کو نہیں اپنے دشمنوں کو کہتے ہیں کہ پس میرے دشمن جنگلوں کے خنزیر اور ان کی عورتیں کتیا ہیں۔

مرزا ناصر : عیسائیوں کو کہا۔

اٹارنی جنرل : اسی ”نجم الہدیٰ“ کے ص 18 اور ص 20 (مندرجہ ”روحانی خزائن“ ج 14) پر ہے ”اور میں نے اس رسالے کو حجت کے پوری کرنے کے لیے تالیف کیا ہے اور اس امت کے غافلوں کی ہمدردی کے لیے میں نے جلدی سے یہ کام کیا“ پھر آگے فرماتے ہیں ”یہ میرا رسالہ میری قوم سے خاص ہے ۔“ آپ کہتے ہیں کہ عیسائیوں کو کہا۔ (اس موقع پر بیگم اشرف خاتون نے کرسی صدارت سنبھالی)

مرزا ناصر : لیکن عیسائیوں کے خلاف ہے۔

چیئرمین : آگے چلیں۔ سمجھ گئے کیا کہتے ہیں یا کیا‘ بہرحال آگے چلیں۔

اٹارنی جنرل : کل مسلمانوں نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت تسلیم کر لی۔ کنجریوں کی اولاد نے نہیں مانا۔ (”آئینہ کمالات“ ص 547)

مرزا ناصر : مگر یہاں ذریت البغایا ہے۔

اٹارنی جنرل : بغایا کا کیا معنی ہے؟

مولانا مفتی محمود : بغایا جمع ہے بغیتہ کی۔ بغیتہ مفرد ہے۔

صفحہ 135

مرزا ناصر : مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ صرف آپ کے سوالات کا جواب دوں۔

اٹارنی جنرل : بعض چیزوں سے میں واقف نہیں ہوں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مولانا انصاری یا کوئی اور مجھے مدد دیں گے اور بعض چیزوں پر کمیٹی میں سے مولانا ہی آپ سے سوال پوچھیں گے۔ یہ کمیٹی کی اتھارٹی کے مطابق ہیں۔

مرزا ناصر : اس کی اطلاع ہمیں کوئی نہیں ملی۔

اٹارنی جنرل : آپ کو اطلاع کرنا ضروری بھی نہیں، لیکن اٹارنی جنرل جس سے چاہیں مدد لے سکتے ہیں اس لیے جو کچھ مفتی صاحب نے فرمایا، اس کے متعلق آپ فرمائیں۔

مرزا ناصر : میں بڑے ادب سے مفتی صاحب سے یہ کہوں گا کہ ذریت البغایا کی بحث چونکہ عربی لغت سے تعلق رکھتی ہے۔ مولانا مفتی محمود بغایا بغیتہ کی جمع ہے۔ بغیتہ کا ترجمہ لغت میں، قرآن مجید میں ہر جگہ بدکار ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب کہتے ہیں کہ کُل مسلمانوں نے مجھے قبول کیا تو ان کے زمانہ میں 1908ء میں مردم شماری کے مطابق قادیانیوں کی تعداد انیس ہزار تھی۔ تو کیا کل مسلمان اتنے تھے یا جو نہیں مانتے وہ مسلمان نہیں۔

مرزا ناصر : یہ دوسری طرف جارہے ہیں۔

اٹارنی جنرل : دوسری طرف نہیں، مرزا محمود نے بھی یہی لکھا کہ جہاں کہیں مرزا صاحب نے مسلمان کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس سے مراد ظاہری مسلمان ہیں اور مرزا نے بھی لکھا کہ جو اسلام کے دعویدار ہیں، حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہیں۔

مرزا ناصر : یہ دوسری طرف جارہے ہیں۔

چیئرمین : چلیں آگے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے کہا کہ جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا، اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔

مرزا ناصر : فتح سے مراد اسلام کی۔

اٹارنی جنرل : ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا۔ دوسرے جملے میں جو اسلام کی فتح کا قائل نہ ہو، وہ ولد الحرام ہے۔

مرزا ناصر : عیسائیوں کے خلاف ہے۔

اٹارنی جنرل : محمد پھر اتر آئے ہیں...... ہم نے کہا کہ یہ شعر مرزا صاحب کی موجودگی میں پڑھے گئے اور اس نے جزاک اللہ کہا۔ آپ نے کہا نہیں، تو اخبار میرے پاس ہے۔ مرزا صاحب خوشخط قطعہ

صفحہ 136

لکھوا کر گھر لے گئے تھے؟

مرزا ناصر : اس کی تردید ہو چکی ہے۔

اٹارنی جنرل: کس نے تردید کی؟

مرزا ناصر : خلیفہ ثانی نے جو اتھارٹی ہے۔

اٹارنی جنرل : نبی صاحب تائید کریں اور خلیفہ صاحب تردید کریں تو سچا کون ہے؟

مرزا ناصر : خلیفہ ثانی نے کہا کہ یہ کفر ہے۔

اٹارنی جنرل : میرا سوال ہے کہ مرزا کی موجودگی میں یہ شعر پڑھے گئے، انہوں نے تائید کی اور یہ بات مرزا صاحب کے زمانہ میں چھپ گئی تھی۔

مرزا ناصر : پرچہ نمبر کونسا ہے۔

اٹارنی جنرل : ”الفضل“ 22 اگست 1944ء عنوان ہے مولوی محمد علی سراسر غلط اور بے بنیاد الزام واپس لیں گے۔ ...... ”البدر“ 25 اکتوبر 1906ء میں نظم چھپی تھی۔ ہمارے پاس دونوں رسائل موجود ہیں دیکھ لیں۔

چیئرمین : گواہ کو دکھا دیں۔

اٹارنی جنرل : سر پہلے دیکھ چکے ہیں۔

مرزا ناصر : ”البدر“ جس میں نظم ہے، اس میں نوٹ نہیں ہے۔

چیئرمین : اٹارنی صاحب نے بھی کہا کہ البدر میں نظم ہے، اس پر اعتراض ہوا کہ اس میں توہین ہے اور اعتراض کیا مولوی محمد علی نے تو جواب دیا شاعر اکمل نے، محمد علی کون ہے اعتراض کرنے والا، اس نظم کو مرزا غلام احمد نے سنا تھا، جزاک اللہ کہا تھا، خوشخط قطعہ لکھوا کر گھر لے گئے تھے، تو یہ نظم صحیح ہے۔ محمد علی سراسر غلط اور بے بنیاد الزام واپس لیں گے۔ یہ ”الفضل“ میں شائع ہوا نوٹ۔

مرزا ناصر : اس کا میں کل جواب دوں گا۔

چیئرمین : کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، ایک نظم کا شائع ہونا، وہ تسلیم کرتے ہیں، نوٹ کا جواب کل دیں گے۔ وفد کو اجازت ہے۔

10۔ اگست 1974ء کی کارروائی

بروز ہفتہ پاکستان نیشنل اسمبلی کے مکمل ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس دس بجے صبح اسمبلی ہال

صفحہ 137

(سٹیٹ بینک بلڈنگ) میں زیر صدارت صاحبزادہ فاروق علی سپیکر منعقد ہوا۔ تلاوت کلام پاک۔ وفد کو بلالیں۔ (وفد داخل ہوا)

اٹارنی جنرل : مزید کارروائی سے قبل میں گزارش کروں گا کہ تقریباً چار پانچ روز ہوئے‘ میں نے مرزا صاحب کو توجہ دلائی تھی کہ بلیک برن کی اُن کی جماعت نے ایک ریزولیوشن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چھوٹی سی جماعت ہے‘ مگر حقیقت یہ ہے احمدیہ عبادت گاہ لندن کی ہدایات کے مطابق یہ ریزولیوشن یکساں الفاظ و یکساں زبان میں پورے انگلستان میں پاس کیے گئے۔ یہ ریزولیوشن کسی چھوٹی برانچ نے نہیں بلکہ پوری جماعت نے باضابطہ طور پر۔

اٹارنی جنرل : ہاں کسی حوالہ پر کام ہوا ہے اور تیار ہے تو فرمائیں۔

مرزا ناصر : وہ ذریت البغایا کے متعلق لغت کے حوالہ جات تیار نہیں ہوسکے‘ شام کو پیش کروں گا۔

اٹارنی جنرل : اس کے لیے وضاحت کی ضرورت نہیں‘ جب تسلی سے ہو جائیں‘ فرمادیں۔

مرزا ناصر : بانی سلسلہ کی مختصر سوانح دو صفحات کی تیار ہے‘ فائل کرانے کے لیے‘ اس کو ریکارڈ کرانا ہے۔

اٹارنی جنرل : ٹھیک ہے‘ نوٹ کرلیا ہے‘ جمع کرادیں۔ ریکارڈ پر آجائے گا۔

مرزا ناصر : میں نے کہا کہ انبیاء علیہم السلام بعض اوقات سخت لفظ بظاہر استعمال کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں بھی بظاہر سخت کلامی ہے۔

اٹارنی جنرل : اس میں نہ جائیں تو بہتر ہے۔

مرزا ناصر : 16 جنوری 1952ء کو دشمن مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آگرے۔ آپ کا سوال تھا کہ دشمن اور آغوش کا کیا مطلب ہے؟ یہ 1952-53ء کی بات ہے‘ اس کے مخاطب سارے مسلمان نہیں بلکہ وہ جو فساد کی خاطر نمایاں ہو کر سامنے آگئے تھے۔ آغوش میں یعنی دوست بن جائیں۔ یہ ہماری ایک نوجوانوں کی تنظیم کے شعبہ تبلیغ کے مہتمم نے کہا۔

اٹارنی جنرل : اتھارٹی ہے یا نہیں؟

مرزا ناصر : وہ ایک شعبہ ہے۔

اٹارنی جنرل : جو شعبہ کا سربراہ ہے‘ اس کا بیان ہے۔ باقی وہ اردو میں ہے‘ آپ کی وضاحت وہ عبارت بھی قبول کرتی یا نہ‘ یہ ارکان پر چھوڑیں۔

مرزا ناصر : ایک تھا اخبار ”الفضل“ 15 جولائی 1952ء ”خونی ملا“۔ یہ ایڈیٹر کا اداریہ ہے جماعت کی طرف سے مضمون نہیں۔ اس میں خونی کا لفظ نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس سے غلط فہمی پیدا

صفحہ 138

ہوگئی ہے۔ اس کو میں کنڈم کرتا ہوں۔

اٹارنی جنرل: ”الفضل“ آپ کی پارٹی کا آفیشل آرگن ہے۔

مرزا ناصر : یہ صدر احمدیہ کا خط و خال ہے۔

اٹارنی جنرل: ہاں اس ”خونی ملا“ کے متعلق منیر انکوائری میں بھی سوال کیا گیا‘ اصل آپ پڑھ دیں ۔

مرزا ناصر : وکیل نے سوال کیا حضرت خلیفہ ثانی سے‘ کیا آپ نے ”الفضل“ کے شمارے میں ایک مقالہ ”خونی ملا“ کے نام سے شائع کیا‘ دیکھا ہے جس میں کئی دوسرے الفاظ آتے ہیں‘ وہ الفاظ آپ سن رہے ہیں۔ ”ہاں آخری وقت آن پہنچا ہے ان تمام علمائے حق کے خون کا بدلہ لینے کا‘ 1300 سال میں جو گزرا ہے‘ جن کا شروع سے خونی ملا قتل کراتے آئے ہیں‘ انہیں کے خون کا بدلہ لیا جائے عطاء اللہ شاہ بخاری سے‘ ملا بدایونی سے‘ ملا احتشام الحق سے‘ ملا محمد شفیع سے اور ملا مودودی سے۔ جواب : ہاں۔ اس تحریر کے متعلق منٹگمری کے ایک آدمی کی طرف سے شکایت میرے پاس پہنچی تھی اور میں نے اس کے متعلق متعلقہ ناظر سے جواب طلبی کی تھی۔ اس نے مجھے بتلایا تھا کہ اس نے ایڈیٹر کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ اس کی تردید کرے۔ سوال : کیا وہ تردید آپ کے علم میں آئی؟ جواب: نہیں کہنے کے بعد‘ لیکن ابھی ابھی مجھے 7۔اگست 1952ء کا ”الفضل“ جس کا عنوان ”ایک غلطی کا ازالہ“ ہے دیا گیا ہے جس میں مذکورہ بالا تحریر کی تشریح کر دی گئی ہے۔ ادارتی مقالہ میں جن مولویوں کو ملا کہا گیا ہے‘ سب کو ملا نہیں کہا گیا۔ سوال : جن لوگوں کو کہا گیا ہے‘ کیا انہوں نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ احمدی مرتد واجب القتل ہیں۔ جواب : میں صرف یہ جانتا ہوں کہ مولانا مودودی نے یہ رائے ظاہر کی تھی‘ اس کے متعلق یہ سارا بیان ہے اور جو لکھا ہوا ہے‘ میں بڑا شرمندہ ہوں‘ نوٹ تو کیے ہوئے ہیں۔

اٹارنی جنرل: یہ کہ تم مجرموں کی طرح پیش ہوؤ گے‘ وہ ابو جہل والا ہے۔ آپ تصدیق کرلیں۔

مرزا ناصر : میں مزید تسلی کروں گا‘ ٹیپ آگئی ہے۔ ہم خطبہ لکھ کر پھر اس پر مزید خطبہ آجائے‘ ہم غریب لوگ ہیں۔

اٹارنی جنرل: یہ حکومتی نظام‘ اربوں روپے ہتھیانے کا اور آپ کہتے ہیں کہ ہم غریب لوگ ہیں۔ خیر‘ میں آگے نہیں جانا چاہتا۔

مرزا ناصر : میں بھی جواب میں نہیں جانا چاہتا مگر ہے غریب جماعت۔

اٹارنی جنرل: یہ کہ میرا مخالف عیسائی‘ مشرک اور جہنمی ہے۔

مرزا ناصر : کونسا حوالہ؟

اٹارنی جنرل: ”نزول المسیح“ اور ”تذکرہ“ کا دو دفعہ نوٹ کرایا ہے۔

صفحہ 139

مرزا ناصر : یہ چیک کرنا رہ گیا ہے۔

اٹارنی جنرل : وہ اکھنڈ ہندوستان والا حوالہ؟

مرزا ناصر : میرے خیال میں تیار ہے‘ جواب‘ اکھنڈ ہندوستان کا‘ شام کو دیکھ لیں گے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب یہ ”کلمتہ الفصل“ کا ص 126 کا حوالہ کہ ”مثلاً ایک شخص سراج الدین نامی مسلمان سے عیسائی ہو جائے تو اسے پھر بھی سراج الدین ہی کہیں گے۔ حالانکہ عیسائی ہونے سے وہ سراج الدین نہیں رہا بلکہ کچھ اور بن گیا۔ لیکن عرف عام کی وجہ سے کچھ اور ہی پکارا جائے گا۔“ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو بھی اس بات کا خیال آیا کہ کہیں میری تحریروں سے غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکہ نہ کھا جائیں۔ اس لیے کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے لفظ لکھ دیے گئے ہیں کہ ”وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں‘ تا جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو‘ اس سے مدعی اسلام سمجھا جائے نہ کہ حقیقی مسلمان۔ اس کی پوری وضاحت ہو جائے....... جو غیر احمدی ہیں وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں‘ لیکن اصل میں مسلمان نہیں ۔ اب سارا واضح کر دیجئے۔“

مرزا ناصر : محضر نامے میں اس کا جواب ص 23 کا ہے۔

اٹارنی جنرل : ایک پٹھان مولوی کے پاس گیا۔ میں بھی پٹھان ہوں۔ اس نے مولوی سے پوچھا کہ جنت میں جانے کا کیا طریقہ ہے۔ اس نے پہلے تو اسے کہا کہ جنت میں جانے کے لیے نمازیں پڑھیں‘ روزے رکھیں‘ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں۔ تو اس نے کہا کہ اگر یہ سب کچھ ہو گیا تو جنت میں جاسکوں گا؟ تو مولوی نے کہا کہ پل صراط ہوگا‘ جو تلوار سے تیز‘ بال سے باریک ہے۔ پٹھان نے کہا کہ آپ صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کہ جنت میں جانے کا کوئی راستہ نہیں۔ میں نے مولوی اور پٹھان کی بات کی ہے‘ آپ نے حقیقی مسلمان کی Definition دی ہے‘ اس کے مطابق آپ کو دنیا میں کتنے مسلمان نظر آتے ہیں؟

مرزا ناصر : حقیقی مسلمان۔

اٹارنی جنرل : مسلمان ہیں یا بالکل نہیں‘ اس Definition کے مطابق؟

مرزا ناصر : ہزاروں لاکھوں آتے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق مجھے سمجھا جائے‘ میں متعصب ہوں۔

اٹارنی جنرل : دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے خیال کے مطابق سب احمدی اس میں آ سکتے ہیں؟

مرزا ناصر : نہیں آسکتے‘ میں نے کہا ہے۔

اٹارنی جنرل : وہاں یہ سوال نہیں کہ مدعی اسلام کون ہیں اور حقیقی مسلمان کون‘ بلکہ یہ ہے کہ غیر

صفحہ 140

احمدیوں کے متعلق لوگ لفظ ”مسلمان“ دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں؟

مرزا ناصر : ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل: یہ صرف غیر احمدیوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے؟

مرزا ناصر : کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے یہاں یہ کہا گیا ہے کہ میرے نزدیک تمام وہ جو احمدی نہیں ہیں، مدعیان اسلام ہیں۔

اٹارنی جنرل: مدعی اسلام سمجھا جائے نہ کہ حقیقی مسلمان۔ یہاں صریحاً دائرۂ اسلام سے خارج کہا گیا ہے۔ آپ کے علم میں کوئی غیر احمدی بھی حقیقی مسلمان ہے؟

مرزا ناصر : میرے عقیدے کے مطابق بڑا واضح سوال ہے۔ میرے عقیدے کے مطابق اس لحاظ سے کوئی غیر احمدی ملت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والا اس معیار کا نہیں۔

اٹارنی جنرل: کوئی حقیقی مسلمان نہیں۔ جواب اخذ کرنے کے لیے مجھے ایک گھنٹہ صرف کرنا پڑا۔ اب چائے کا وقفہ ہو جائے۔

چیئرمین : وفد کو سوا بارہ تک جانے کی اجازت ہے۔ اراکین تشریف رکھیں۔

مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری : جناب چیئرمین صاحب! میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ حقیقی مسلمان نہیں ہیں۔

چیئرمین : کوئی تبصرہ نہ کیا جائے۔ اجلاس سوا بارہ بجے تک کے لیے ملتوی۔

(وقفہ کے بعد کمیٹی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا)

چیئرمین : معزز اراکین کو پروگرام کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ چھ دن کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اب مزید کارروائی کی تیاری کے لیے اٹارنی جنرل صاحب کو ایک ہفتہ کی مہلت درکار ہے۔ ہمیں بھی ریکارڈ کی تیاری کے لیے ہفتہ چاہیے تاکہ نقول معزز اراکین کو مہیا کی جاسکیں۔ چنانچہ آج جرح کا آخری دن ہوگا۔ آئندہ کارروائی کے لیے پروگرام کے لیے معزز اراکین کو باخبر کر دیا جائے گا۔ گواہ پر مزید جرح جاری رہے گی وقفہ کے بعد۔ کل اتوار ہے۔ 12، 13 کو ہم بطور قومی اسمبلی کارروائی جاری رکھیں گے۔ روزانہ ایک اجلاس شام کو ہوگا۔

اٹارنی جنرل: چونکہ اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا کہ کچھ دنوں کے لیے اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا لہٰذا میں کوئی نیا موضوع شروع نہیں کروں گا۔ میں پندرہ بیس منٹ میں سوالات مکمل کرلوں گا۔ نیا موضوع شروع نہ کریں گے۔

چیئرمین : یہ ٹھیک ہے۔ وفد کو بلالیں۔ (وفد کو بلایا گیا)

اٹارنی جنرل: مرزا صاحب! میں نے سوال کیا تھا کہ آپ کی جماعت کا مسلمانوں سے علیحدگی کا

صفحہ 141

رجحان تھا۔ مردم شماری میں ہمیں علیحدہ ریکارڈ کیا جائے۔ مرزا محمود نے ایک نمائندہ بھیجا تھا کہ جہاں پارسی، عیسائی علیحدہ شمار ہوتے ہیں، ہمیں بھی علیحدہ شمار کیا جائے۔ مرزا صاحب آپ کو علم ہے کہ عیسائیوں، مسلمانوں، ہندوؤں کے علیحدہ کیلنڈر ہیں۔ عیسائیوں کا عیسوی کیلنڈر جس کا اب سال 1974ء ہے اور مسلمانوں کا کیلنڈر ہجری ہے، اب ہمارا 1394 ہجری ہے تو کیا احمدیوں کا بھی کوئی کیلنڈر ہے؟

مرزا ناصر : نہیں۔

اٹارنی جنرل : آپ کے اخبارات میں ہجری سن کے ساتھ آپ کے کسی سال کا ذکر آتا ہے۔ (مرزائیوں کے بارہ مہینوں کے نام صلح، تبلیغ، امان، شہادت، ہجرت، احسان، وفا، ظہور، تبوک، اخاء، نبوت ، فتح) یہ کیا ہے؟

مرزا ناصر : ہجری کیلنڈر ہے۔ افغانستان میں ایک کیلنڈر رائج ہے۔ احمدیوں کا بھی دل چاہا کہ ایک کیلنڈر شروع کریں تو ان مہینوں کے نام رکھ دیے۔ وہ ہمارے اخبارات میں چلتا رہتا ہے، لیکن یہ ایک کوشش ہے ورنہ ہمارا علیحدہ کیلنڈر کوئی نہیں۔

اٹارنی جنرل : دل چاہا بارہ مہینے اور سن علیحدہ کیے، اچھا اب یہ فرمائیں کہ قادیان میں ضیاء الاسلام کوئی پریس تھا؟

مرزا ناصر : جی پریس ضیاء الاسلام قادیان میں تھا۔

اٹارنی جنرل : اس میں ایک کتابچہ رسالہ درود شریف کے بارے میں، وہ آپ نے دیکھا ہے؟

مرزا ناصر : میں نے پڑھا نہیں، دیکھا ہے۔

اٹارنی جنرل : ہم جو درود شریف نماز میں پڑھتے ہیں اللهم صل علی محمد تو اس میں تبدیلی کی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد احمد آ جاتا ہے اور آل محمد کے بعد آل احمد آ جاتا ہے، کیا یہ درست ہے؟

مرزا ناصر : میری جماعت کا کوئی ایسا درود نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : میں پوچھ رہا ہوں کہ......

مرزا ناصر : نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : ایک فوٹوسٹیٹ میں آپ کو دیتا ہوں، نظر فرما لیجئے۔

مرزا ناصر : مجھے علم ہے کہ یہ کتاب میں ہے۔

اٹارنی جنرل : وہ کتاب میں ہے؟

مرزا ناصر : لیکن جماعت کا نہیں۔

صفحہ 142

اٹارنی جنرل: اس پریس ضیاءالاسلام قادیان کا آپ سے کوئی تعلق نہیں؟ مرزا ناصر : ہر شخص کتابیں شائع کراسکتا ہے۔ اٹارنی جنرل: یہ پریس آپ کی مطبوعات شائع کرتا ہے۔ مرزا ناصر : پبلی کیشن کرتا ہے لیکن ہماری پبلی کیشن م۔ش کا اخبار بھی لاہور میں کرتا ہے اور بہت سے اخبار اور پریس کرتے ہیں۔ اٹارنی جنرل: وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس پریس کا آپ سے کیا تعلق رہا ہے؟ مرزا ناصر : فرد واحد احمدی کی ملکیت ہے۔ اٹارنی جنرل: اور دوسرا یہ کہ آپ کی مطبوعات شائع کرتا رہا ہے؟ مرزا ناصر : ہماری مطبوعات شائع کرتا رہا ہے۔ اٹارنی جنرل: یہ رسالہ درود شریف آپ کی پبلی کیشن نہیں؟ مرزا ناصر : ہاں احمدی کی ہے۔ اٹارنی جنرل: انصاری صاحب آپ پڑھ دیں۔

مولانا ظفر احمد انصاری : یہ ضمیمہ رسالہ درود شریف کا ص 144 ہے اور وہ صبح کی نماز میں التزام کے ساتھ دوسری رکعت کے رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔ اس میں روزانہ درود شریف ان الفاظ میں پڑھا کرتے تھے۔

اللهم صل علی محمد و احمد و علی ال احمد
اللهم بارک علی محمد و احمد و علی ال محمد و ال احمد

یہ واقعہ تقریباً 1316ھ یعنی 1898ء کا ہے یا اس کے قریب کا ہے۔ انہوں نے تین چار ماہ تک متواتر نماز پڑھائی تھی۔ حضرت مسیح موعود بھی نماز میں شریک ہوتے تھے اور آپ حضور (مرزا قادیان) نے حافظ محمد صاحب کو اس طرح درود شریف پڑھنے کے متعلق کچھ نہیں فرمایا۔ ایک دفعہ قاضی احمد حسین حافظ رحمت اللہ خان اور چوہدری المعروف بھائی عبدالرحیم صاحب سابق جگت سنگھ صاحب نے ان سے کہا کہ یہ درود شریف اس طرح نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ جس طرح احادیث میں آتا ہے اور نماز میں تشہد کے بعد پڑھا جاتا ہے اسی طرح پڑھنا چاہیے۔ حافظ محمد صاحب کچھ تیز طبیعت تھے انہوں نے اس بات کا یہ جواب دیا کہ آپ لوگوں کو مجھے اس سے روکنے کا حق نہیں ہے۔ اگر منع کرنا ہو تو حضرت صاحب مجھے خود منع فرمادیں گے۔ مگر حضور نے کبھی اس سے منع نہیں فرمایا نہ ہی ان بزرگوں نے اس معاملہ کو حضور کی خدمت میں پیش کیا۔ اس نماز صبح کو دعائے قنوت میں درود شریف بالفاظ مذکورہ بالا پڑھتے۔ اس زمانہ میں حضرت مولوی عبدالکریم سیالکوٹی ہجرت کر کے قادیان نہیں آئے تھے۔ (اور آگے پھر وہی الفاظ ہیں

صفحہ 143

درود کے جو اوپر مذکور ہیں ) اس میں یہ ہے کہ بالجہر پڑھا کرتے تھے یعنی زور سے ۔ مرزا صاحب شریک ہوتے تھے اور درود شریف میں تبدیلی پر بھی اس کو روکا نہیں ۔

مرزا ناصر : کتاب میں ہو گا مگر یہ ہمارا درود نہیں ہے‘ ہم نہیں پڑھتے ۔

اٹارنی جنرل : مگر بڑے مرزا صاحب نے تو نہیں روکا ؟

مرزا ناصر : بات سنیں جی...... ہم نہیں پڑھتے‘ نہیں نہیں ۔

اٹارنی جنرل : ایک حوالہ اخبار ”الفضل“ کا ۔

مرزا ناصر : کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہودیوں سے علیحدہ نہیں کیا ؟ کیا وہ انبیاء جن کی سوانح کا علم ہم تک پہنچا‘ ہمیں اس کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں ۔ انہوں نے اپنی جماعتوں کو غیروں سے علیحدہ نہیں کیا ؟ ہر شخص کو ماننا پڑے گا‘ بے شک کیا ۔ اگر حضرت مرزا صاحب نے جو نبی و رسول ہیں‘ اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے علیحدہ کیا تو اس میں نئی انوکھی بات کونسی ہے!

اٹارنی جنرل : جی ۔ اچھا ”ملائکتہ اللہ“ کے ص 47‘ 48 پر جو مرزا محمود کی کتاب ہے‘ اس میں ہے کہ ”مگر جس دن سے تم احمدی ہوئے تمہاری قوم تو احمدیت ہو گئی ۔ شناخت اور امتیاز کے لیے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو ورنہ اب تمہاری گوت اور تمہاری ذات احمدی ہی ہے‘ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو ۔“

مرزا ناصر : رشتے کے لیے اب سید وغیرہ کی قید نہیں‘ احمدی سید‘ سید کو ہی دے گا بلکہ احمدی‘ احمدی کو چاہے کوئی ہو ۔

اٹارنی جنرل : اپنی قوم و گوت امتیاز و شناخت کے لیے وہی ٹرائبل سسٹم جو چل رہا ہے ۔ اب احمدی تو علیحدگی کا رجحان ؟

مرزا ناصر : لیکن معاشرے میں نہیں ۔

اٹارنی جنرل : نہ ہو‘ لیکن قوم‘ گوت‘ ذات اب احمدی ہی ہے ۔ اس طرح نماز اور شادی کا میں حوالہ دے چکا ہوں کہ وہ بھی مسلمانوں سے علیحدہ ؟

مرزا ناصر : ہاں آپ نے فرمایا تھا‘ چیک کر لیں گے ۔

اٹارنی جنرل : میرے پاس جو سوال یا آپ کا جو لٹریچر آیا ہے‘ اس کے مطابق احمدی اپنے آپ کو علیحدہ امت اور علیحدہ قوم سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جیسے باقی نبیوں نے کیا‘ آپ سمجھتے ہیں کہ غلام احمد کی جو امت ہے‘ وہ ان سے علیحدہ ہے‘ ان کو ایسا کرنے کا حق ہے‘ لٹریچر میں یہ تاثر ہے؟

مرزا ناصر : ٹھیک ہے ۔

صفحہ 144

اٹارنی جنرل: اسی ضمن میں سارے سوال آتے ہیں، ان سے شادیاں نہ کرو ان کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ یہ چیزیں اس علیحدگی کے رجحان کی تائید میں ہیں، ان کی وضاحت کی ضرورت ہے؟ مرزا ناصر: ٹھیک ہے۔ اٹارنی جنرل: مرزا بشیر الدین کی ایک انگریزی کتاب شکاگو سے...... مرزا ناصر: وہ ایک ایڈریس ہے، انگریزی میں شائع ہوئی۔ اٹارنی جنرل: اس میں ہے کہ احمدیوں کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ قوم — جماعت بنانا ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج، مسلمان ہیں؟ مرزا ناصر: پتہ نہیں، اس میں کیا لکھا ہوگا۔ اٹارنی جنرل: یہ فوٹوسٹیٹ لے لیں، اس میں یہ بھی ہے کہ 1901ء کا سال کامیابی کا سال تھا۔ احمدیوں کو چاہیے کہ اپنے پیروکاروں سے کہیں کہ وہ اپنے آپ کو بطور احمدی مسلمان درج کرائیں، چنانچہ یہ وہ سال تھا جس میں اس (مرزا صاحب) نے پہلی مرتبہ اپنے ماننے والوں کو ”احمدی“ کا نام دے کر دوسرے مسلمانوں سے مختلف گردانا؟ مرزا ناصر: آپ نے عنوان پڑھا ہے، یہ تردید کر رہا ہے۔ اٹارنی جنرل: مرزا صاحب، تردید کر رہا ہے یا تائید کر رہا ہے۔ میرے خیال میں تو یہ پورا اس کو سپورٹ کر رہا ہے، اس لیے میں تحمل کی درخواست کرتا ہوں۔ ذرا آپ دیکھ لیں؟ مرزا ناصر: یہ تو میرے لیے دلچسپ ہے۔ اٹارنی جنرل: واقعی؟ مرزا ناصر: 1926ء میں ایک لیکچر تھا غالباً گرمیوں میں، خیر ٹھیک ہے۔ اٹارنی جنرل: میرے ایک احمدی دوست نے مجھے یہ کتاب دی تھی، آپ کے پاس بھی ہوگی؟ مرزا ناصر: کوئی ایسی کتاب نہیں جو چھپی ہو اور میری لائبریری میں نہ ہو۔ اٹارنی جنرل: مگر آپ بعض حوالوں کا تو کہہ دیتے ہیں؟ خیر۔ مرزا ناصر: آپ کے پاس فوٹوسٹیٹ ہے؟ اٹارنی جنرل: اصل ہے آپ کو فوٹو دیا ہے۔ مرزا ناصر: اچھا چیک کرلیں گے۔ اٹارنی جنرل: آپ نے محضر نامے میں علیحدگی کے رجحان کے ضمن میں کہا کہ ہم ان کا جنازہ نہیں پڑھتے جنہوں نے فتویٰ دیا؟ مرزا ناصر: مجھے تو اپنا محضر نامہ یاد نہیں کہ کس صفحہ پر ہے۔

صفحہ 145

اٹارنی جنرل: میں پڑھ دوں؟

مرزا ناصر: نہیں اتنا تو یاد ہے کہ یہ لکھا ہے۔

اٹارنی جنرل: تو جنازہ نہ پڑھنے کا باعث فتویٰ ہے‘ کوئی اور وجہ ہو تو بتا دیں تاکہ پوزیشن کلیئر ہو جائے؟

مرزا ناصر: نہیں جو میں نے کہہ دیا‘ وہ کافی ہے‘ وہی جو فتویٰ دے۔

اٹارنی جنرل: مرزا صاحب کے ایک صاحبزادے تھے جو احمدی نہیں ہوئے؟

مرزا ناصر: ہاں بیعت بھی نہیں کی تھی۔

اٹارنی جنرل: تو ان کی وفات پر ان کا جنازہ نہیں پڑھا؟

مرزا ناصر: مجھے یاد نہیں ۔ (مرزا صاحب نے اپنے ایک ساتھی سے سوال کیا کہ کیوں جی نہیں پڑھا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں پڑھا۔ اس کے بعد ناصر صاحب نے بھی کہا‘ نہیں پڑھا)

اٹارنی جنرل: مرزا غلام احمد نے کہا کہ میرے یہ بیٹے بڑے فرمانبردار تھے اور احمدی نہیں ہوئے‘ اس لیے میں نے جنازہ نہیں پڑھا۔ تو کیا اس نے بھی کوئی مرزا صاحب کے خلاف فتویٰ دیا تھا؟

مرزا ناصر: نہیں۔

اٹارنی جنرل: جناب والا شکریہ ۔ جناب والا‘ اگلا موضوع نہایت اہم ہے‘ اسے بعد میں لیں تو بہتر ہے۔

چیئرمین: اجلاس ملتوی ۔ جب دوبارہ اجلاس طلب کریں گے‘ وفد کو دو روز پہلے مطلع کر دیں گے۔

مرزا ناصر: شکریہ۔

چیئرمین: تقریباً 18‘ 19 یا 20 کو لیکن بہر حال جو بھی فیصلہ ہوا‘ آپ کو اطلاع کریں گے۔)

(وفد چلا گیا ۔ اجلاس ملتوی)

20۔ اگست 1974ء کی کارروائی

بروز منگل پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس صبح دس بجے سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی کی صدارت میں شروع ہوا۔ تلاوت کے بعد وفد کو بلایا گیا۔

صفحہ 146

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب جن سوالات کے جوابات تیار ہیں، وہ فرما دیں۔

مرزا ناصر : ہم فتح یاب ہوں گے، دشمن ابو جہل کی طرح پیش ہوگا، یہ حوالہ مجھے نہیں مل سکا۔

اٹارنی جنرل : جو حوالے مل گئے ان کی وضاحت کردیں۔

مرزا ناصر : ”ضمیمہ تحفہ گولڑویہ“ ص 27، وہاں یہ ہے کہ ”خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے اوپر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر، مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔“ آپ نے اس سے نتیجہ نکالا کہ احمدیت، ملت اسلامیہ سے ممتاز چیز بنانے کی کوشش کی حالانکہ یہ تو خدائی امر تھا۔ اور نیز یہ کہ حدیث میں بھی ہے کہ ”امامکم منکم“ کہ تمہارا امام تم میں سے ہوکہ ”جب مسیح نازل ہوگا تو دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں، کلی طور پر ترک کرنا پڑے گا۔“

”انوار الاسلام“ کے صفحہ 30 پر ”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو سمجھا جائے گا کہ اسے ولدالحرام بننے کا شوق ہے۔“ یہ عیسائیوں کو کہا۔

اٹارنی جنرل : آپ نے اس وقت دو حوالوں کی وضاحت کی۔ خدائی حکم کے تحت آپ مسلمانوں سے علیحدہ ہیں نماز وغیرہ میں، اور دوسرا یہ ولدالحرام عیسائیوں کو کہا، حالانکہ عبارت ہے کہ جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا...... خیر آگے چلیں۔

مرزا ناصر : ”تشحیذ الاذہان“ مارچ 1914ء میں مرزا صاحب کی بیعت نہ کرنے والا جہنمی ہے، اس میں اصل یہ ہے کہ الہامات میں تناقض نہیں ہوتا، یہ بحث ہے۔ دیکھیں خدا تعالیٰ ایک شخص (مرزا) کو یہ الہام کرے کہ تو خدا تعالیٰ کا برگزیدہ اور اس زمانے کے تمام مومنوں سے بہتر اور افضل اور مسیح الانبیاء اور مسیح موعود اور مجدد چودھویں صدی اور خدا کا پیارا اور اپنے مرتبہ میں نبیوں کے مانند اور خدا کا مرسل اور اس کی درگاہ میں وجیہہ اور مقرب اور مسیح ابن مریم کی مانند ہے۔ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔ اس الہام کے بعد اس کے خلاف الہام نہیں ہوگا۔ یہ بحث ہے۔

اٹارنی جنرل : بحث کچھ ہو، مرزا صاحب کو الہام ہوا جس میں انہوں نے مخالفین کو بیعت نہ کرنے والوں کو جہنمی کہا۔ آپ نے اس وضاحت میں کئی مسئلے حل کر دیئے۔ آگے چلیں۔

مرزا ناصر : ”تشحیذ الاذہان“ اگست 1917ء ص 57، 58۔ ”وہ لوگ بار بار کہتے ہیں کہ اسلام میں ایک ہی نبی کیوں ہو، بہت سے نبی ہونے چاہئیں۔ ان کو چاہیے کہ ختم نبوت کے اس امتیازی نشان کو ذہن میں لاویں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی مہر ہیں۔ خدا نے اپنی مہر کے ذریعہ جس کسی کے نبی ہونے کی تصدیق کی، وہی نبی ہو سکتا ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ کیوں خدا کی مہر نے صرف ایک ہی کو نبی قرار دیا، سو یہ اعتراض ہم پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت پر ہے...... اب جبکہ خدائی مہر ایک ہی

صفحہ 147

کو نبی قرار دیتی ہے تو ہم کون ہیں جو کہیں کہ صرف ایک ہی نبی کیوں ہوا۔ آگے حضرت مسیح موعود کا اقتباس ہے۔ سائل نے سوال کیا کہ اگر اسلام میں اس قسم کے نبی ہو سکتے ہیں تو آپ سے پہلے کون نبی ہوا ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ یہ سوال مجھ پر نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے۔ انہوں نے صرف ایک شخص کو اپنے بعد نبی قرار دیا ہے اس کا نام نبی رکھا ہے۔ وہاں یہ بحث ہے ساری۔

”الفضل“ 13 نومبر 1946ء کا کہ ”تم ایک پارسی پیش کرو میں دو احمدی پیش کروں گا ۔“ اس میں آپ نے کہا کہ مسلمانوں سے علیحدگی کا تاثر ہے۔ تو جناب یہ ”الفضل“ کا پورا خطبہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے فائل کرا دیتا ہوں۔ مختصر یہ کہ اس خطبے میں یہ ہے کہ جس وقت یہ بحث چلی کہ کون کون سے علاقے جو ہیں وہ پاکستان میں آئیں گے‘ کون کون سے دوسری طرف جائیں گے‘ تو اس وقت یہ فتنہ کھڑا ہوا کہ احمدی اپنے آپ کو علیحدہ سمجھتے ہیں‘ اس لیے ملت اسلامیہ کے دائرے میں ان کو نہ سمجھا جائے اور تعداد کے لحاظ سے مسلمان کم ہو جاتے ہیں۔ پھر خصوصاً گورداسپور کا علاقہ جو ہے‘ اس میں 51 اور 49 کی نسبت سے مسلم اور غیر مسلم تھے۔ اس میں ہندوؤں نے چال چلی تھی‘ اس وقت مسلم لیگ کے ہاتھ کو مضبوط کرنے کے لیے خلیفہ ثانی نے مسلم لیگ کے موقف کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلان تیار کیا کہ اگر پارسیوں کے حقوق ہیں تو احمدیوں کو بھی حقوق دو....... یہ سارا اسی خطبہ میں ہے‘ میں فائل کرا دیتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : ہندوؤں نے کہا کہ احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہیں۔ آپ نے 47ء میں مسلم لیگ سے علیحدہ میمورنڈم پیش کر دیا اور یوں مسلمانوں کی تعداد 51 سے 49 رہ گئی۔ آپ کا خیال ہے کہ اس سے آپ مسلم لیگ کو مضبوط کر رہے تھے؟ ٹھیک ہے‘ فائل کرا دیں اور آگے چلیں۔

مرزا ناصر : ”ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے ۔“ یہ ”الفضل“ 25 جولائی 1949ء میں ہے۔ ”ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ خوش ہونا چاہیے کہ دشمن اسلام محسوس کرتا ہے کہ ہم میں کوئی نئی حرکت پیدا ہوئی ہے۔“ یہ عیسائیوں کے متعلق ہے۔

اٹارنی جنرل : 1949ء میں عیسائی مشنریوں نے اسلام کے خلاف کوئی تحریک شروع کی تھی‘ جس کے جواب میں یہ کہا گیا کہ ہم ان کو کھا جائیں گے؟

مرزا ناصر : عیسائی تو چودہ سو سال سے اسلام کے خلاف تحریک چلائے ہوئے ہیں۔

اٹارنی جنرل : 1949ء میں کوئی حادثہ ہوا‘ وہ دشمن کون ہے؟

مرزا ناصر : یہ دشمن واضح ہے‘ اس میں کوئی ابہام نہیں۔

اٹارنی جنرل : ابہام ہے کہ ایک ہے چودہ سو سال کی تحریک‘ اس کو 1949ء میں کہتے ہیں کہ دشمن کو کھا جائیں گے۔ یہ پرانا دشمن ہے یا کوئی نیا دشمن‘ جسے آپ یہ کہہ رہے ہیں؟

صفحہ 148

مرزا ناصر : نہیں نہیں، وہ تو کہتے ہیں کہ میں فنا فی الرسول۔

اٹارنی جنرل : وہ مرزا صاحب، یہ کہتا ہے کہ محمد ثانی ہوں۔ دشمنوں کو کہا کہ ہم تم کو کھا جائیں گے؟

مرزا ناصر : عیسائیوں کو۔

اٹارنی جنرل : کیا کسی عیسائی کا مضمون، کوئی تقریر بتا سکتے ہیں جس کے جواب میں یہ کہا، 1949ء میں کوئی نیا واقعہ؟

مرزا ناصر : عیسائیوں نے جو گالیاں دی ہیں، وہ سنا دوں۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب، میرا سوال ہے کہ 1949ء میں مرزا محمود صاحب نے یہ خطبہ دیا اور کہا کہ دشمن ہمارا شکار ہیں۔ دشمن کون ہیں، کیا ضرورت تھی کہ انہوں نے اب خطبہ میں اس کا ذکر کیا۔ وہ کیا ضرورت تھی؟

مرزا ناصر : مرزا صاحب نے عیسائیوں کے خلاف ایک مہم شروع کر رکھی تھی۔

اٹارنی جنرل : میرا سوال ہے کہ کوئی خاص واقعہ بتا سکتے ہیں، عیسائیوں کی خاص بات، بیان، تقریر، تحریر، اس زمانہ میں، جس کے جواب میں یہ کہہ رہے ہیں؟

مرزا ناصر : وہ تو ہر وقت کہتے تھے، ساری صدی میں وہ اسلام کے خلاف کہتے رہے۔

اٹارنی جنرل : پہلی صدی میں جو بات کہی، آج اس کا جواب 1949ء میں دے رہے ہیں۔

چیئرمین : اٹارنی جنرل کا سوال ہے کہ خطبہ دینے کی فوری وجہ یا سبب کیا تھا؟ گواہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے جواب کو اس سوال تک محدود رکھے۔

اٹارنی جنرل : آپ کوئی خاص واقعہ بتا سکتے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے یہ کہا؟

چیئرمین : جواب عام قسم کا نہ ہو، بلکہ خاص طور پر اس سوال کا جواب ہو۔

مرزا ناصر : جواب موجود ہے لیکن پونے چودہ سو سال کا عرصہ ہے، اس میں دشمن نے مخالفت کی ہے۔

اٹارنی جنرل : اور کوئی خاص واقعہ نہیں؟

مرزا ناصر : اس وقت نہیں بتا سکتا۔

اٹارنی جنرل : مضمون بالکل صاف ہے۔ آپ کو معلوم ہو رہا ہے کہ یہ میری ڈیوٹی ہے، مجھے صاف معلوم نہیں ہو رہا ہے کیونکہ ابھی تک جو آپ کے دلائل ہیں اور جو سوالات میں پوچھ رہا ہوں، اس کے مطابق آپ کا اسلام کے متعلق تصور جدا ہو گیا، اسی طرح نبی کے متعلق تصور مختلف ہو گیا، تو اس لیے میں پوچھتا ہوں کہ دشمن کون تھا؟

صفحہ 149

مرزا ناصر : ہندو‘ آریہ‘ عیسائی اور اس وقت دہریہ بھی بیچ میں شامل ہو گئے۔

اٹارنی جنرل : 1947ء میں پاکستان بن گیا۔ اب کسی ہندو یا عیسائی میں ہمت نہ تھی کہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی جرات کرتا؟

مرزا ناصر : یہ مشکل ہے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی غیر مسلموں سے ہمارا جہاد تھا۔ وہ اسی طرح جاری تھا‘ جس طرح پاکستان بننے سے پہلے تھا۔

اٹارنی جنرل : ہم دشمنوں کو کھا جائیں گے؟

مرزا ناصر : ہم فقیروں کا ایک گروہ ہیں‘ کیسے کھا جائیں گے!

اٹارنی جنرل : چلو یہ فائل کرا دیں‘ کوئی اور جواب تیار ہے؟

مرزا ناصر : 1857ء کے مجاہدین کو چوروں‘ قزاقوں اور حرامیوں کی طرح کہا اور اس کا نام غدر رکھا لیکن دیکھیں کہ 1857ء کی جنگ کے متعلق اوروں نے کیا لکھا۔ نذیر حسین دہلوی بھی اسے شرعی جہاد نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس کو بے ایمانی‘ عہد شکنی‘ فساد و عناد خیال کرتے تھے۔ خواجہ حسن نظامی‘ سرسید احمد خاں‘ مولوی محمد حسین بٹالوی‘ شمس العلماء محمد ذکاء اللہ‘ شیخ عبدالقادر ۔

اٹارنی جنرل : جتنے انگریز پرست تھے انہوں نے 1857ء کو غدر کہا آپ نے بھی۔ چلو‘ آگے چلو۔

مرزا ناصر :

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

یہ شعر تھے۔ آپ نے کہا کہ مرزا صاحب کی موجودگی میں پڑھا گیا؟ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے کہا کہ مرزا صاحب کی موجودگی میں چھپا؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ اس کو جماعت سے نکالا؟ میں نے کہا نہیں۔

اٹارنی جنرل : ایک سیکنڈ‘ میں نے کہا کہ ان اشعار کو سن کر مرزا غلام احمد نے جزاک اللہ کہا‘ بڑے خوش ہو گئے اس قصیدہ کو سن کر‘ جس میں شاعر نے کہا کہ مرزا غلام احمد شان میں محمدؐ سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ ہم بتانا چاہتے ہیں۔ یہ ”البدر“ میں چھپا۔ مرزا صاحب زندہ تھے‘ حیات تھے‘ انہوں نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ ہمارے پاس کوئی ریکارڈ نہیں کہ انہوں نے اس کو ناپسند کیا ہو۔ دوسری طرف جو ریکارڈ پر ہے‘ وہ یہ ہے کہ شاعر کہتا ہے کہ مرزا صاحب نے اس کو سراہا‘ جزاک اللہ کہا اور خوش ہوئے؟

مرزا ناصر : اور نتیجتاً 1911ء میں خود شاعر نے اپنی نظم سے ان شعروں کو نکال دیا۔

اٹارنی جنرل : کون سے شعر؟

مرزا ناصر : وہی۔

صفحہ 150

اٹارنی جنرل : کون سے؟ پڑھ دیں۔

مرزا ناصر :

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

اٹارنی جنرل : 1911ء میں اپنی نظم سے نکالے مگر غلام احمد کے مرنے کے بعد جبکہ خود مرزا غلام احمد نے ان کو پسند کیا اور خوش ہوئے؟

مرزا ناصر : ہمارے ریکارڈ میں نہیں کہ بانی سلسلہ نے اس نظم کو پڑھا ہو۔

اٹارنی جنرل : آپ کا اخبار ”الفضل“ ہے۔ شاعر اکمل کہتا ہے کہ میں نے پڑھا، مرزا صاحب کی موجودگی میں پڑھا اور وہ (مرزا صاحب) خوش ہوئے، جزاک اللہ کہا؟

مرزا ناصر : ”الفضل“ ہمارا اخبار نہیں جماعت احمدیہ کے کسی خلیفہ کا نہیں۔

اٹارنی جنرل : جماعت احمدیہ کا اخبار؟

مرزا ناصر : جماعت کا بھی نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کی ایک تنظیم کا ہے۔

اٹارنی جنرل : ان کی آواز ہے، ان کی رائے دیتا ہے، ان کی ترجمان نہیں؟

مرزا ناصر : یہ خلیفہ کی آواز نہیں۔ ”الفضل“ جماعت کی آواز نہیں۔

اٹارنی جنرل : یہ تو بڑا اچھا ہے، آپ ایسا کہہ دیں۔ ہم تو سارا جھگڑا ہی ”الفضل“ سے کر رہے ہیں۔

مرزا ناصر : بالکل نہیں جماعت کا، پھر تو سارا جھگڑا ہی ختم ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : کس جماعت کا ہے؟

مرزا ناصر : کسی جماعت کا نہیں۔

اٹارنی جنرل : ”ڈان“ 1941ء میں شروع ہوا، ساری دنیا کہتی تھی کہ یہ مسلم لیگ کا ہے۔ ”جسارت“ ساری دنیا کہتی ہے کہ جماعت اسلامی کا ہے۔ ”مساوات“ ساری دنیا کہتی ہے کہ پیپلز پارٹی کا ہے۔ ”الفضل“ کس جماعت کا ہے؟

مرزا ناصر : کسی کا ہو، میرا نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ کی جماعت کی آواز؟

مرزا ناصر : وہ نہ جماعت، نہ میری آواز ہے۔ کچھ حصہ آواز کا نقل کرتا ہے، میری آواز کیسے

صفحہ 151

بن گیا۔

اٹارنی جنرل : آپ سوچ لیں کہ کل آپ کی جماعت کو یہ معلوم ہوا کہ آپ نے یہ جواب دیا ہے تو پھر؟ کیا وہ آپ کی آواز کو توڑ مروڑ کر نقل کرتا ہے؟

مرزا ناصر : کاتب غلطیاں کرتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : کاتب کی غلطی‘ توڑ مروڑ کرنا‘ دونوں باتیں جدا ہیں؟

مرزا ناصر : توڑ مروڑ بن جاتا ہے۔

اٹارنی جنرل : اخبار ”الفضل“ میں ہے کہ مرزا غلام احمد یہ شعر سن کر خوش ہوئے‘ جزاک اللہ کہا۔ اچھا آگے چلیں‘ کوئی اور حوالہ؟

مرزا ناصر : قاضی اکمل نے یہ کہا لیکن ہمارے ریکارڈ میں نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : ”الفضل“ قادیان میں اکمل نے جھوٹ کہا؟

مرزا ناصر : جھوٹ کہا‘ جو مرضی آپ کہہ لیں‘ ہماری تاریخ نے اس واقعہ کو کہیں ریکارڈ نہیں کیا۔ اکمل بوڑھا ہو گیا‘ پتہ نہیں کیا کہہ دیا۔

اٹارنی جنرل : ”الفضل“ قادیان نے ریکارڈ کیا۔ وہ اکمل مرزا صاحب کے متعلق‘ اپنے نبی کے متعلق کہتا ہے کہ وہ موجود تھے۔ مرزا صاحب نے تعریف کی۔ کیا کوئی احمدی اسے بھول سکتا ہے؟

مرزا ناصر : مرزا صاحب خود کہتے ہیں کہ کوئی شعر کہتا رہتا‘ مجھے معلوم نہیں ہوتا تھا۔ وہ اپنے کام میں مشغول ہوتے‘ میں سوچ میں لگا ہوا تھا‘ میں نے کوئی سنا ہی نہیں۔

اٹارنی جنرل : سنا اور جزاک اللہ‘ خوشی کا اظہار کیا اور خوش خط قطعہ لکھوا کر گھر لے گئے۔ اچھا یہ بتائیں کہ ”البدر“ آپ کی جماعت کا اخبار تھا یا نہیں؟

مرزا ناصر : وہ بھی نہیں تھا۔

اٹارنی جنرل : ”الفضل“ آپ کی جماعت کے کس شعبہ کا ہے تاکہ ریکارڈ پر آ جائے؟

مرزا ناصر : صدر انجمن احمدیہ اس کی نگرانی کرتی ہے۔

اٹارنی جنرل : اس کو کون سپورٹ کرتے ہیں؟

مرزا ناصر : وہ خود کرتا ہے‘ اپنے پاؤں پر کھڑا ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ میرے سوال کا جواب نہیں دے رہے؟

مرزا ناصر : میں سمجھا نہیں۔

اٹارنی جنرل : کیا کوئی کمپنی ہے جو اسے چلاتی ہے؟

مرزا ناصر : کوئی کمپنی نہیں ہے۔

صفحہ 152

اٹارنی جنرل : پیسہ کس نے لگایا' ڈیکلیریشن کس نے فائل کیا؟

مرزا ناصر : یہ پرانی ہسٹری ہے۔ خلیفہ ثانی نے اسے شروع کیا' خلیفہ اول کے زمانہ میں' اپنے ذاتی اخراجات لگائے' پھر صدر انجمن احمدیہ کو دے دیا۔ صدر انجمن احمدیہ نگرانی کرتی ہے۔

اٹارنی جنرل : اگر اس میں کوئی غلط بات چھپ جائے تو آپ پوچھتے ہیں؟

مرزا ناصر : یہ ایک ٹیکنیکی بات ہے' اس لیے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

اٹارنی جنرل : آپ اسے ہدایات دے سکتے ہیں کہ یہ چیز جماعت کے خلاف ہے' اسے درست کریں؟

مرزا ناصر : وہ تو اور بات ہے۔

اٹارنی جنرل : فرم ہے' کمپنی ہے' ٹرسٹ ہے؟

مرزا ناصر : کچھ بھی نہیں۔

اٹارنی جنرل : مرزا محمود خلیفہ ثانی نے اخبار جاری کیا' سرمایہ کاری کی' پھر جماعت کو تحفہ دے دیا کہ اب ہم صرف نگرانی کریں گے؟

مرزا ناصر : ہمارا احمدیوں کا تعلق کچھ نرالا ہے۔

اٹارنی جنرل : یہی تو رولا ( چکر ) ہے!

مرزا ناصر : ہمارا تعلق نرالا ہے' اس میں قانونی کیفیت مشکل ہے۔

اٹارنی جنرل : یہی تو رونا ہے!

مرزا ناصر : ایک سوال کیا گیا تھا چاند اور سورج گرہن کا' لیکن یہ تو شعر ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب اس سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایک چیز یا حوالہ بذات خود غلط فہمی پیدا کر دیتی ہے مگر کئی حوالے جب اکٹھے پڑھیں' جیسے کسی آدمی کو آپ ایک زخم پہنچا دیں تو وہ معمولی چوٹ ہوگی' اسی طرح سو زخم لگا دیں تو آدمی مر جاتا ہے۔ اب بذات خود چھوٹی چھوٹی چوٹیں ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا صاحب آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں' اور پھر کہتے ہیں کہ میرے لیے چودھویں کا چاند اور پھر ایک اور ہے' حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے معجزات تین ہزار اور میرے لیے تین لاکھ۔ ایسی باتیں جب سب پڑھتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے' آپ کو یہ بات صاف صاف بتا دوں تا کہ آپ پر عیاں ہو جائے کہ میں پوچھنا کیا چاہتا ہوں۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ حضور علیہ السلام سے بھی اپنے آپ کو بہتر سمجھتا ہے تو یہ آخر ایسی چیزیں ہیں جو عام مسلمانوں کو یہ تاثر دے رہی ہیں کہ مرزا صاحب نے صرف نبوت کا دعویٰ نہیں کیا' امتی نبی اور کمتر قسم کا نبی نہیں' بلکہ پہلو بہ پہلو کھڑے ہو گئے' مقابلہ کیا اور پھر کہتے ہیں کہ میں بہتر ہوں' یہ ایک تاثر ہے جس کی میں وضاحت چاہتا

صفحہ 153

ہوں۔

مرزا ناصر : آپ کا استدلال وزنی ہے کہ پچاس حوالہ جات سے یہ تاثر ہوا مگر پچاس کے مقابلہ میں پچاس ہزار ایسی عبارتیں ہوں کہ وہ اپنے آپ کو حضور کا خادم کہیں تو؟

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب گستاخی معاف آپ برا نہیں منائیں گے پچاس ہزار اور ایک کا سوال نہیں ہوتا، شیطان نے پچاس ہزار سجدے کیے مگر ایک سجدہ نہ کرنے سے مارا گیا۔ اس نے اگر ہزاروں سال سجدے میں سر مارا تو کیا مارا۔ آدمی سو سال عبادت کرتا رہے اللہ کو مانتا رہے رسول کو مانتا رہے ایک دفعہ انکار کر دے تو کافر ہو جاتا ہے۔

مرزا ناصر : مگر ایک سجدے کے بعد پچاس ہزار نیکی کے سجدے ہوں۔

اٹارنی جنرل : ایک سجدے کے انکار کے بعد شیطان پچاس ہزار دفعہ سجدہ کرے تو بھی شیطان ہے جب تک توبہ نہ کرے۔ اسمبلی خود بھی ان حوالوں کو پڑھ کر کسی نتیجہ پر پہنچ سکتی ہے مگر آپ کو تکلیف دے رہے ہیں تو اس کا مطلب؟

مرزا ناصر : میں بڑا ممنون ہوں۔

اٹارنی جنرل : آپ نے چاند کا ذکر کیا۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے لیے صرف سورج گرہن اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا یا پھر کہ آپ کا زمانہ ہلال کا تھا یعنی پہلی رات کا چاند اور میرا زمانہ چودھویں رات کے چاند کا۔

مرزا ناصر : یہ تو ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام کی پہلی صدی پہلی کے چاند کی طرح اور چودھویں صدی چودھویں کے چاند کی طرح۔ اپنے عروج پر چودھویں کے چاند تک پہنچے گا یا نہیں؟

اٹارنی جنرل : میرا سوال یہ تھا کہ آنحضرت کے وقت چاند کی حالت پہلی شب کے چاند کی طرح تھی مگر مرزا صاحب کے وقت چودھویں رات کا چاند بدر کامل ہو گیا۔

مرزا ناصر : حضور علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام عرب میں تھا اب افریقہ آسٹریلیا تک پہنچ گیا۔

اٹارنی جنرل : یہی میں پوچھ رہا ہوں کہ چاند بدر کامل ہو گیا؟

مرزا ناصر : اسلام۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب کی موجودگی میں اسلام مکمل بن گیا؟

مرزا ناصر : بن جائے گا۔

اٹارنی جنرل : مگر اب تو مرزا صاحب نہیں رہے۔

مرزا ناصر : میرے زمانہ میں۔ مرزا صاحب تو حضور علیہ السلام کے کمانڈر تھے۔

صفحہ 154

اٹارنی جنرل : دین کا تعلق حضور علیہ السلام کے زمانہ تک تھا کہ وہ رات کے چاند کی طرح؟

مرزا ناصر : نہ قیامت تک۔

اٹارنی جنرل : قیامت تک دین کی ترقی حضور علیہ السلام کی ترقی شمار ہو گی۔ مگر آپ تو کہتے ہیں کہ آپؐ کے زمانہ میں جزیرہ عرب سے نہیں نکلا تھا۔

مرزا ناصر : میں گناہگار ہوں، ایک بات پیدا کر دی۔ جو میں نے بات کہی، اللہ معاف کرے۔

اٹارنی جنرل : میں وضاحت چاہتا ہوں کہ حضور علیہ السلام کی زندگی میں؟

مرزا ناصر : قیامت تک۔

اٹارنی جنرل : وضاحت چاہتا ہوں کہ آپؐ کی زندگی میں اسلام ہلال کی طرح یعنی پہلی رات کے چاند کی طرح، اور مرزا صاحب کے زمانہ میں بدر کامل یعنی چودھویں رات کی طرح مکمل ہو گیا۔ بدر کامل ہو گیا؟

مرزا ناصر : آپ کتاب دیں۔

اٹارنی جنرل : مولانا ظفر احمد ”خطبہ الہامیہ“ کی عبارت سنا دیں اور کتاب دے دیں۔

مرزا ناصر : کتاب دے دیں، تو دوسرے اجلاس میں آپ کو بتا دیں گے۔

چیئرمین : ساڑھے سات بجے شام اجلاس دوبارہ ہو گا۔

شام کو اجلاس شروع ہوا

مرزا ناصر : ”خطبہ الہامیہ“ میں بدر کی بات اور پہلی رات کے چاند کی، مگر اس میں حضور علیہ السلام کو نہیں کہا کہ وہ پہلی رات کا چاند بلکہ اسلام کو کہا۔

اٹارنی جنرل : حضور علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام کی مثال پہلی رات کے چاند کی طرح، اور مرزا صاحب کے زمانہ میں چودھویں رات کے چاند کی طرح بدر کامل، مگر ”الفضل“ یکم جنوری 1916ء میں مرزا محمود خلیفہ ثانی کہتے ہیں کہ ”آپ نے (مرزا نے) ہلال و بدر کی مثال سے یہ دقیق مسئلہ کمال خوبی کے ساتھ ہر کس و ناکس کے اچھی طرح ذہن نشین کرا دیا ہے کہ چودھویں کا چاند مسیح موعود ہی تو ہے، جو چاند ہلال کے وقت تھا یعنی رسول کریم، پس اس کا پہلی حالت سے بڑھ چڑھ کر شاندار ہونا محل اعتراض کیونکر ہو سکتا ہے۔“

مرزا ناصر : آپ ”خطبہ الہامیہ“ کی بات کریں۔ دو بدر ہیں۔ حضور علیہ السلام بھی بدر تھے۔ زمانہ اسلام کا پہلی رات سے بدر کامل بن جائے۔

اٹارنی جنرل : اس میں مرزا غلام احمد کا ذکر نہیں ہے؟

صفحہ 155

مرزا ناصر : یہ میں نے نہیں کہا نہیں نہیں۔

اٹارنی جنرل : اب مرزا محمود کہتے ہیں کہ چودھویں کا چاند مسیح موعود ہی تو ہے۔

مرزا ناصر : یکم جنوری 1916ء میں چیک کروں گا۔ لیکن حضور علیہ السلام کا دین مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ میں بدر کامل ہو گیا تو حضور علیہ السلام ہی چمکیں گے دوسری بار۔

اٹارنی جنرل : اب آپ کے نزدیک مرزا صاحب مہدی اور مسیح موعود ہیں تو ان کا چمکنا اور آنا حضور علیہ السلام کا چمکنا اور آنا ہے۔ گویا مرزا صاحب کیا آئے، حضور علیہ السلام آگئے۔

مرزا ناصر : آخری زمانہ۔

اٹارنی جنرل : چلو مرزا صاحب کا زمانہ آخری زمانہ ہے۔ چودھویں رات کا چاند بنا ان کے زمانہ میں، ہندوستان سے مسلمانوں کی حکومت ختم ہو گئی، انگریز آ کر بیٹھ گیا، مڈل ایسٹ میں مسلمانوں کی حکومتیں ختم ہو گئیں اور آپ کہتے ہیں کہ پورا چاند بن گیا۔ مرزا صاحب کے زمانہ میں اسلام کتنا پھیلا؟

مرزا ناصر : یہ مرزا صاحب کی زندگی کی بات نہیں بلکہ قیامت تک، مسیح کا زمانہ محدود نہیں۔

اٹارنی جنرل : حضور علیہ السلام کا زمانہ مہدی و مسیح موعود تک یعنی مسیح موعود آئیں گے تو اسلام پھیلے گا۔ اب مسیح موعود آگئے اسلام کیا پھیلا کہ ہندوستان سے بھی اسلام کی حکومت ختم۔ اب مسیح موعود کا زمانہ قیامت تک۔ یہ فلسفہ کیا فرما رہے ہیں؟

مرزا ناصر : آپ ان کے زمانہ کو محدود نہ کریں بلکہ جیسے حضور علیہ السلام کے خلفاء کا زمانہ اب مسیح موعود کے خلفاء کا زمانہ۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ اب تین صدیوں میں اسلام پھیل جائے گا، امریکہ سمیت ساری دنیا میں، یہ میرا ایمان ہے۔

اٹارنی جنرل : پہلے آپ قیامت تک کہتے تھے، اب تین صدیاں، اچھا۔

مرزا ناصر : عمادالدین پادری تھا جو اسلام کے خلاف انیسویں صدی کے نصف آخر میں۔

اٹارنی جنرل : 1949ء کا کوئی خاص واقعہ، جس کے جواب میں کہا کہ ہم دشمن کو کھا جائیں گے۔ کیا پاکستان میں کوئی خاص واقعہ ہوا؟

مرزا ناصر : ہم ساری دنیا میں عیسائیوں کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ ساری دنیا کے لیے یہ خطبہ ہے۔

اٹارنی جنرل : کیا میں سمجھوں کہ آپ 1949ء کا خاص واقعہ عیسائیوں کے متعلق پیش نہیں کر سکے جس کا یہ معنی ہے کہ مرزا محمود نے عیسائیوں کے متعلق نہیں بلکہ مسلمانوں کے متعلق کہا کہ یہ ہمارے دشمن ہیں، ہم ان کو کھا جائیں گے۔ اس لیے کہ 1949ء میں آپ لوگ طاقتور ہو رہے تھے، آپ کو نشہ تھا مسلمانوں کو ختم کرنے کا۔ آپ مختصر کریں اور صاف جواب دیں تاکہ آخر لاہوری پارٹی کو بھی بلانا

صفحہ 156

ہے۔

مرزا ناصر : اگر آپ آج ختم کرنا چاہتے ہیں تو میری طرف سے ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : لیکن میرے سوالات کا جواب تو دیں۔

مرزا ناصر : وہ نہج المصلی قابل اعتراض نہیں ہے۔ مسلمان بھی تو ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ باقی وہ مسلمان عیسائیوں کی طرح مجھے حوالہ نہیں ملا۔

اٹارنی جنرل : مجھے یقین ہے ایک دو دفعہ ایسی باتیں ہوئی ہیں جس سے اسمبلی ممبران کو یہ شک ہوتا ہے کہ جس حوالہ کی آپ تاویل کر سکتے ہوں‘ وہ ضرور لیتے آتے ہیں‘ پورا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور جو آپ کے حق میں نہیں ہوتا‘ آپ ٹالتے ہیں۔ معاف کیجئے‘ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ میں نے آپ سے ایک سوال پوچھا کہ کیا محمود نے یہ بات کہی یا مرزا غلام احمد نے یہ بات کہی؟ آپ نے کہا کہ میں نہ تردید کرتا ہوں اور نہ تائید کرتا ہوں۔

مرزا ناصر : میں نے یہ بھی کہا کہ میں جب تک دیکھ نہ لوں۔

اٹارنی جنرل : پھر اس کے بعد میں نے کہا کہ مرزا صاحب‘ یہ ہے حوالہ۔ آپ نے کہا کہ ہاں ہاں یہ جواب ہم سے منیر کمیٹی میں بھی پوچھا گیا تھا۔ ہم نے یہی جواب دیا۔ جواب تیار ہے۔ اس کا معنی ہے کہ جواب تیار تھا۔ پھر بھی آپ کہتے ہیں کہ میں نہ تائید کرتا ہوں نہ تردید کرتا ہوں۔

مرزا ناصر : نہیں نہیں۔

اٹارنی جنرل : یہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ سپیشل کمیٹی کے لیے کوئی پابندی نہیں کہ کسی کو بلائے‘ کسی سے بات کریں۔ نیشنل اسمبلی قانون ساز ادارہ ہے۔ عدالتوں میں ملزم بلائے جاتے ہیں۔ نہ آپ ملزم ہیں‘ نہ کوئی ملزم ہے۔

مرزا ناصر : یہ تو آپ کی بڑی مہربانی ہے۔ وہ نظم جو ”البدر“ 1906ء میں شائع ہوئی‘ جس میں ہے کہ مرزا غلام احمد حضور علیہ السلام سے شان میں بڑھ کر ہیں۔ اس میں جزاک اللہ والی بات نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : جزاک اللہ والی بات تو ”الفضل“ میں ہے۔ ”البدر“ میں جب نظم شائع ہوئی تو میرا یہ گمان بالکل صحیح ہو گا کہ مرزا صاحب نے اخبار ”البدر“ ضرور پڑھا ہو گا۔ تو کیا مرزا صاحب نے ”البدر“ میں اس نظم کے شائع ہونے کے بعد تردید کی۔

مرزا ناصر : میری نظر سے نہیں گزری۔

اٹارنی جنرل : ٹھیک ہے‘ 1906ء میں یہ نظم چھپی 1944ء تک کے کسی ”الفضل“ میں اس کی مذمت کی‘ نہیں کی۔ 1944ء میں لاہوری پارٹی کے محمد علی نے اعتراض کیا تو اس کے جواب میں کہا کہ

صفحہ 157

وہ کون ہے اعتراض کرنے والا؟ اسے تو خود مرزا غلام احمد نے سنا تھا‘ شرف سماعت حاصل کر چکی ہے یہ نظم ۔ مرزا غلام احمد نے جزاک اللہ کہا۔ بعد میں اس کی تردید کر رہے ہیں۔ ان کی موجودگی میں پڑھا گیا‘ یہ ریکارڈ پر ہے۔ اس کی تردید کہ نہیں پڑھا گیا‘ آپ اپنے ذوق سے کر رہے ہیں‘ ریکارڈ پر نہیں ہے۔ اچھا کیا جو یہ کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد حضور علیہ السلام سے شان میں بڑھ کر ہیں‘ اس کو آپ نے جماعت سے خارج کیا؟

مرزا ناصر : نہیں کیا‘ وہ قسمیں اٹھا کر کہتا ہے کہ میرا یہ مطلب نہیں۔

اٹارنی جنرل : وہ تو کہتا ہے کہ میں نے مرزا صاحب کی موجودگی میں پڑھا‘ یہ محمد علی لاہوری اعتراض کرنے والا کون ہے؟

مرزا ناصر : اگر اس نے مجددین سے تقابل کیا تو اور بات ہے‘ اگر حضور علیہ السلام سے تقابل کیا ہے تو جھوٹا ہے‘ کافر ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے کہا کہ جزاک اللہ آپ کہتے ہیں کافر۔ خیر آگے چلیں۔ مرزا صاحب نے یہ کہا کہ ”میں نے انگریز کی تعریف میں پچاس الماریاں لکھی ہیں۔“ (”تریاق القلوب“ ص 15 مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 155‘ ج 15) تو وہ آپ کے پاس ضرور ہوں گی۔

مرزا ناصر : مرزا صاحب کی تمام کتابیں موجود ہیں۔

اٹارنی جنرل : ان کی تعداد کیا ہے؟

مرزا ناصر : اسی (80) کے قریب۔ ملفوظات اور اشتہارات بھی ہیں۔

اٹارنی جنرل : اسی (80) کتابوں کو آپ نے 23 جلدوں میں شائع کیا۔ ملفوظات دس جلدوں میں اور اشتہارات تین جلدوں میں‘ تو یہ سارے ایک الماری کی دو شیلفوں میں آ سکتے ہیں۔ وہ پچاس الماریوں والی بات کیسے صحیح ہے؟

مرزا ناصر : اتنی زیادہ تعداد میں کہ پچاس الماریاں بھر جائیں۔

اٹارنی جنرل : ایک کتاب کو آپ ایک لاکھ شائع کر دیں تو ہزار الماریاں بھر جائیں گی مگر وہ تو کہتے ہیں کہ انگریزوں کی تعریف میں اتنی کتابیں لکھیں کہ پچاس الماریاں بھر جائیں۔ اس سے وہ اپنی کتابوں کی تصنیفات کی کثرت پر استدلال کر رہے ہیں یا الماریوں کا سائز چھوٹا کریں کہ آدھی الماری کی کتابیں پچاس الماریوں میں آ جائیں۔ اس صورت میں وہ الماری نہیں کہلائے گی۔ اگر پچاس الماریوں والی بات صحیح ہے تو کتابیں کہاں ہیں۔ اس کا مجھے فرمائیں کہ کیا چکر ہے؟

مرزا ناصر : اب اور کوئی رہ گیا ہے۔

اٹارنی جنرل : لاہوری پارٹی کا محضر نامہ آیا ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے کبھی بھی نبوت

صفحہ 158

کا دعویٰ نہیں کیا۔ بعض چیزیں ایسی ہیں جن کی آپ سے میں وضاحت چاہوں گا۔

مرزا ناصر : ان کا جو محضر نامہ ہے اس کی وہ وضاحت کریں۔

اٹارنی جنرل : بعض مرزا صاحب کے حوالہ جات۔

مرزا ناصر : ان کا محضر نامہ ہمیں دے دیا جائے۔ ہم جواب لکھ کر دے دیں گے۔

اٹارنی جنرل : نہیں کچھ حوالے ایسے ہیں جن کی وضاحت کمیٹی کے لیے ضروری ہے۔

مرزا ناصر : کمیٹی کو ہمارے اور لاہوریوں کے اختلاف سے کیا فائدہ ہوگا۔

اٹارنی جنرل : دیکھیں مثلاً وہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے کبھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ ربوہ والے جو کہتے ہیں غلط کہتے ہیں۔ انہوں نے ایک موقف اختیار کیا ہے اس کی تائید میں وہ مرزا صاحب کے حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے ستر آدمیوں کا حلفی بیان فائل کیا ہے کہ مرزا صاحب نے 1901ء میں دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ مرزا محمود کہتے ہیں کہ 1901ء میں دعویٰ نبوت کیا۔

مرزا ناصر : ہاں کیا۔

اٹارنی جنرل : مگر لاہوریوں نے 1907ء، 1908ء کے حوالہ جات مرزا صاحب کے دیے کہ آپ دیکھ لیں اس میں انہوں نے دعویٰ نبوت سے انکار کیا۔

مرزا ناصر : محضر نامہ دے دیں۔ مگر میں جواب صرف حوالوں تک محدود رکھوں گا۔

اٹارنی جنرل : اچھا ”الفضل“ جلد نمبر 5 شمارہ نمبر 49۔ کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا اور دوسرا وہ حوالہ کہ مسیح کا چال چلن کیا تھا ایک کھاؤ پیو نہ عابد نہ زاہد نہ حق کا پرستار متکبر خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔

مرزا ناصر : اس پر مزید میں کچھ نہیں کہتا یہ ہوچکے۔

اٹارنی جنرل : مثلاً عدالت میں مجھ پر ایک جرم لگتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ ایسا جرم تو سرسید نے بھی کیا۔ یہ مرزا صاحب کے نقطہ نظر سے تو صحیح ہوسکتا ہے مگر میرے نقطہ نظر سے نہیں کیونکہ مرزا غلام احمد کی حیثیت مختلف ہے۔

مرزا ناصر : یہ فوجداری جرم کی بات کر رہے ہیں۔ کیا ہم نے فوجداری جرم کیا ہے۔

اٹارنی جنرل : میں نے مدعا سمجھانے کے لیے ایک مثال دی ہے کہ آپ محض اس لیے کوئی کام نہیں کر سکتے کہ وہی کام اوروں نے کیا ہے۔ یہ کوئی جواز نہیں اور نہ ہی اس سے بات واضح ہوگی۔

مرزا ناصر : میں نے ماحول کی بات کی کہ سب نے 1857ء کی جنگ کو غدر کہا۔

اٹارنی جنرل : اسی رو میں مرزا صاحب بھی بہہ گئے۔ یہ نبوت کی شان کے لائق ہے؟

مرزا ناصر : جناب صدر میں تھک چکا ہوں۔

صفحہ 159

چیئرمین : گواہ کا خیال کرنا ہے‘ اگر وہ تھک گئے ہیں تو پھر کارروائی جاری رکھنے کا سوال ہی نہیں۔ کل شام ساڑھے پانچ بجے۔

21۔ اگست 1974ء کی کارروائی

خصوصی کمیٹی کا اجلاس زیر صدارت سپیکر صاحب۔ 5 بجے شام۔ تلاوت کلام پاک۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب‘ پاکستان بن بھی گیا تو ہم یہ کوشش کریں گے کہ تقسیم ختم ہو اور اکھنڈ بھارت بن جائے۔ اور پھر آگے چل کر ”الفضل“ 15 اپریل 1947ء‘ 17 مئی 1947ء‘ 12 اپریل 1947ء اور پھر آگے 17 جون 1947ء میں مرزا محمود صاحب کا خطبہ ہے ”آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اے میرے رب! میرے ملک کو تو سمجھ دے۔ اول تو یہ ہے کہ ملک بٹے نہیں اگر بٹے تو پھر مل جانے کے راستے کھلے رہیں۔“ یہ تین دن کے بعد کا خطاب ہے جبکہ پاکستان کا مطالبہ تسلیم کیا جا چکا تھا۔ مسلم لیگ فتح سے ہمکنار ہو چکی تھی مگر آپ اس فتح میں شریک نہ تھے‘ اس لیے آپ کو واضح کرنا ہو گا کہ آپ قصور وار نہیں تھے یا کہ آپ مسلم لیگ کے ہمنوا تھے۔

مرزا ناصر : اس کو دیکھیں گے۔

اٹارنی جنرل : آپ کا اسرائیل میں مشن موجود ہے؟

مرزا ناصر : وہاں ہماری جماعت ہے۔

اٹارنی جنرل : مشن ہے‘ مشن کا معنی جماعت کی کارگزاریوں کی جگہ اور آپ کی کتاب ”دی آور مشن“ میں بھی اسرائیل کے مشن کا تذکرہ موجود ہے۔ میں پڑھتا ہوں۔ آپ نے خود کہا ہے کہ آپ کا اسرائیل میں مشن ہے جو کہ مونٹ کارمل حیفا میں واقع ہے‘ وہاں آپ کی ایک عبادت گاہ ہے۔ ایک مشن خانہ‘ ایک لائبریری اور ایک سکول ہے۔ مشن ایک ماہنامہ بنام ”البشریٰ“ شائع کرتا ہے جو کہ عربی رسم الخط میں تیرہ عرب ملکوں میں بھجوایا جاتا ہے۔ اس مشن نے جماعت کی بہت سی کتب کے عربی میں تراجم کیے۔ کچھ عرصہ ہوا مشن کے سربراہ کی حیفا کے میئر سے ملاقات ہوئی تھی‘ جس کے دوران میئر نے ہمارے لیے کبائیل میں ایک سکول تعمیر کرنے کی پیشکش کی۔ کبائیل میں ہماری جماعت موجود ہے۔ میئر نے وعدہ کیا کہ وہ کبائیل میں ہمارا مشن دیکھنے کے لیے آئیں گے اور اس نے یہ وعدہ پورا بھی کیا۔ احمدیہ جماعت کے افراد اور سکول کے طلباء نے میئر کا استقبال کیا۔ اسے استقبالیہ بھی دیا گیا۔

صفحہ 160

واپس جاتے ہوئے میئر نے وزیٹر بک میں اپنے تاثرات تحریر کیے۔ ایک اور چھوٹی سی مثال جس کے پڑھنے والوں کو اسرائیلی مشن کی اہمیت کا اندازہ ہوگا‘ 1956ء میں جب ہمارے مشن کے سربراہ چوہدری محمد اشرف واپس آئے۔ اب مرزا صاحب واپس آئے کا معنی یہ ہے کہ یہ شخص پاکستانی ہے اور اسے آپ نے بھیجا تھا اور یہ وہاں اسرائیل مشن کا سربراہ تھا۔ واپس آتے ہوئے یہ اسرائیل کے وزیر اعظم سے ملا۔ اب پاکستانی قوم اس سے کیا سمجھے کہ جس ملک سے کسی بھی اسلامی ملک کے تعلقات نہیں اور پاکستانی وہاں جا بھی نہیں سکتے‘ آپ کس طرح پاکستانیوں کو برطانیہ اور پھر برطانوی پاسپورٹ پر اسرائیل بھجواتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر آپ کے بارے میں پایا جاتا ہے کہ آپ کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں اور پھر اشرف اسرائیلی مشن کے سربراہ کی ملاقات کو اسرائیلی ٹی وی‘ ریڈیو پر بیان کیا جاتا ہے دکھایا جاتا ہے‘ اسے لوگ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔

مرزا ناصر : اسرائیل میں ہماری جماعت موجود ہے اور یہ کافی عرصہ سے ہے۔ اور لوگ بھی تو وہاں رہتے ہیں مسلمان۔

اٹارنی جنرل : اور مسلمانوں سے مراد فلسطینی عرب مسلمان‘ مگر ان کے اسرائیل سے تعلقات خوشگوار نہیں۔ وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور آپ کے نمائندے اسرائیلی وزیر اعظم‘ صدر‘ میئر سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اسرائیل کا دیگر مسلمانوں پر ظلم و ستم اور آپ سے یہ عنایات‘ آخر کیوں؟

مرزا ناصر : یہ دوسرا سوال آجاتا ہے‘ ہمارے تعلقات اچھے ہیں۔

اٹارنی جنرل : اچھا وہ رشتوں والی بات کیا تھی؟

مرزا ناصر : حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت کے شیرازہ کو مضبوط کرنے اور خصوصیت سے سلسلے کو قائم رکھنے کے لیے جماعت کے تعلقات ازدواج اور نظام معاشرت کی تحریک اور جماعت کو ہدایت فرمائی کہ احمدی اپنی لڑکیاں غیر احمدی لوگوں کو نہ دیا کریں‘ یہ حوالہ ہے۔

اٹارنی جنرل : انہوں نے ہدایت دی‘ ڈائریکشن دی کہ غیر احمدیوں کو رشتے نہ دیں۔ اچھا وہ ’’ملائکۃ اللہ‘‘ کتاب کا حوالہ کیا تھا؟

مرزا ناصر : وہ ایک سوال اور تھا کہ جب اس زمانے میں ہماری جماعت کے لیے انتہائی ضروری ہے غیر احمدی کو رشتہ نہ دینا۔ جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے‘ وہ یقیناً مسیح موعود کو نہیں سمجھتا‘ نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے‘ کیا ہے‘ کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین‘ جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دئے‘ ان کو تم کافر کہتے ہو لیکن اس معاملے میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو۔ کیا اس لیے دے دیتے ہو کہ وہ تمہاری قوم کا ہوتا ہے مگر جس دن سے تم احمدی ہوئے‘ تمہاری قوم احمدیت ہو گئی۔

صفحہ 161

اٹارنی جنرل : یہ بیان ہو گیا تھا۔ یہ حوالہ کہ مرزا غلام احمد کہتے ہیں کہ میرے مخالف جہنمی‘ کافر وغیرہ اور بعض جگہ ولد الحرام بھی مرزا نے کہا‘ خیر تو آپ نے اس کا جواب دیا کہ اس سے عیسائی مراد ہیں‘ مگر میں پوچھتا ہوں کہ مرزا غلام احمد کا ایک سفر دہلی کا ہوا‘ جس کی آپ کی جماعت نے تفصیل لکھی ہے‘ خود مرزا صاحب نے بھی۔ ”دہلی میں جامعہ مسجد اندر باہر سے بھری ہوئی تھی حتیٰ کہ سیڑھیوں پر بھی انسانوں کا سمندر تھا جو کہ نفرت‘ غصہ میں پاگل ہورہے تھے اور ان کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ مسیح موعود اور ان کی مختصر جماعت مشکل سے محراب تک پہنچے ۔“ ظاہر ہے کہ یہ مسجد کے اندر انسانوں کا سمندر‘ مسلمان لوگ تھے جو مرزا کے مخالف تھے‘ عیسائی نہ تھے؟

مرزا ناصر : اعلان کے بعد مخالفت کا طوفان ہو گیا۔ وہی علماء جو پہلے تعریف کیا کرتے تھے‘ اس کی مذمت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ مولوی محمد حسین بٹالوی وغیرہ۔

اٹارنی جنرل : تو جب مرزا صاحب اپنے مخالف کو جہنمی کہتے ہیں تو کیا اس میں مسلمان مخالفین سمیت سب کو‘ جو مرزا کو نہیں مانتے‘ شامل کرتے ہیں اور مسلمان قوم کو اپنی مخالفت کی بنیاد پر جہنمی قرار دیتے ہیں۔ مرزا صاحب ہر جگہ جاتے تھے دہلی میں‘ امرتسر میں‘ لاہور میں اور سیالکوٹ میں‘ جہلم میں تو مسلمان عوام اور علماء ان کی مخالفت کرتے‘ تو مخالفین کا لفظ ان سب کو شامل ہے کہ میرے مخالف جہنمی‘ جنگل کے سور اور ان کی عورتیں کتیا‘ اور ایک جگہ آپ کے لٹریچر میں ہے‘ مرزا صاحب کے چچازاد بھائیوں اور چند دیگر رشتہ داروں نے‘ جو کہ مرزا صاحب کے مخالف تھے‘ سامنے دیوار کھڑی کر دی۔ مخالفت میں سارے یہ لوگ آگئے‘ اکیلے عیسائی ہی نہ تھے۔

مرزا ناصر : یہ بات تو میں نے مان لی ہے کہ ہر فرقہ کے کچھ لوگ مخالف‘ کچھ موافق۔

اٹارنی جنرل : اچھا‘ وہ کہ کلام اللہ کی طرح مرزا صاحب کے الہامات اور کلام بھی خطاؤں سے پاک ہے اور مرزا صاحب کا کلام قرآن مجید کی طرح اللہ تعالیٰ کا کلام ہے؟

مرزا ناصر : دونوں کا سرچشمہ ایک ہے۔

اٹارنی جنرل : اور دونوں کا لیول (سطح) بھی ایک ہے؟

مرزا ناصر : ہاں۔

اٹارنی جنرل : کیونکہ دونوں اللہ تعالیٰ کے کلام ہیں۔ آپ کی نظر میں دونوں صحیح کلام ہیں؟

مرزا ناصر : دونوں اللہ تعالیٰ کے کلام ہیں۔

اٹارنی جنرل : اور جتنی احادیث ہیں‘ وہ قدرتاً قرآن کے لیول پر ہو نہیں سکتیں‘ اس لیے مرزا صاحب کی وحی وہ تو اسے حدیثوں سے آپ اس کو بلند سمجھتے ہیں۔ یہ ایک حوالہ مرزا محمود کا ”الفضل“ 25؍اپریل 1915ء کا ہے۔ حدیث تو 20 راویوں کے پھیر سے ہمیں ملی‘ الہام براہ راست ملا‘ اس لیے

صفحہ 162

الہام مقدم ہے۔ یہاں تو واضح ہے آگے فرماتے ہیں کہ مسیح موعود نے جو باتیں ہم سے کہیں وہ احادیث و روایات سے معتبر ہیں۔ حدیث ہم نے آنحضرت کے منہ سے نہیں سنی نہ صرف الہام بلکہ باتیں جو مرزا صاحب کی ہیں وہ بھی حدیث سے آپ کے نزدیک افضل ہو گئیں لیول اونچا ہو گیا؟

مرزا ناصر : یہاں جو دراصل گھنڈی ہے وہ دیکھیں۔ امام بخاری کے پاس چھ لاکھ احادیث تھیں۔ انہوں نے صرف چھ ہزار روایات اپنی کتاب میں درج کیں تو احادیث صحیحہ کو رد نہیں کیا بلکہ راویوں کی بات آجاتی ہے۔

اٹارنی جنرل : میں آپ کی بات سمجھ گیا۔ آپ وجہ بتا رہے ہیں کمزوری کی کہ احادیث کیوں کمزور ہیں اور مرزا صاحب کی باتیں احادیث سے کیوں قوی ہیں۔ احادیث تو بیسیوں راویوں کے پھیر سے ملیں اور الہام مرزا صاحب کے براہ راست ملے اس لیے مرزا صاحب کے الہام احادیث سے مقدم ہیں؟

مرزا ناصر : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : لیکن اس کے بعد مرزا محمود فرماتے ہیں کہ مسیح موعود سے جو باتیں ہم نے سنی ہیں وہ حدیث کی روایت سے معتبر ہیں۔

مرزا ناصر : کتاب میں ہے حدیث کی روایت سے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب میرا اب پوائنٹ یہ ہے کہ حدیث خواہ وہ سو گنا بھی صحیح ہو امام بخاری کی ہو یا کسی کی وہ مرزا صاحب کے کلام سے اوپر نہیں اس کا لیول اور سطح مرزا صاحب کے کلام سے کم ہے اس لیے کہ وہ راویوں سے آئی اور یہ آپ نے مرزا غلام احمد کے منہ سے سنی اس لیے مرزا صاحب کا کلام احادیث پر مقدم ہے۔

مرزا ناصر : یہ مطلب تو آٹھویں جماعت کا بچہ بھی نہیں لے سکتا۔

اٹارنی جنرل : میں بے وقوف ہوں، موٹے دماغ کا ہوں مگر آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ آپ کے عقائد سے نتیجہ یہ نکلتا ہے۔

مرزا ناصر : میرے مذہب کا سوال ہے تو میں ہی بتاؤں گا آپ کو۔

اٹارنی جنرل : اس لیے تو آپ سے پوچھ رہا ہوں۔

مرزا ناصر : وہ میں سب بتا رہا ہوں وہ تو آپ قبول نہیں کرتے تو بس ختم ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : قبول نہیں کی بات نہیں، میں تو وضاحت چاہتا ہوں ورنہ تو کمیٹی حوالہ جات پڑھ کر بھی اپنے نتیجہ پر پہنچ سکتی تھی۔

مرزا ناصر : ٹھیک ہے۔

صفحہ 163

اٹارنی جنرل : میں مشکل ڈیوٹی دے رہا ہوں‘ وضاحت ہونی چاہیے۔

مرزا ناصر : میں بالکل اچھی طرح سمجھتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : ایک حدیث یا روایت راویوں کے ذریعہ سے پہنچی‘ ایک بات خود نبی (مرزا صاحب) کے منہ سے سنی‘ تو یہ افضل اور مقدم ہوئی؟

مرزا ناصر : حضور علیہ السلام کے کلام اور مرزا صاحب کے کلام کا توازن نہ کریں۔

اٹارنی جنرل : مگر آپ کے لٹریچر اور بیانات سے جو نتیجہ نکلتا ہے‘ اس کی وضاحت تو ضروری ہے مگر آپ ناراض ہو جاتے ہیں۔

مرزا ناصر : نہیں‘ ناراض نہیں‘ میں تو آپ کا خادم ہوں۔

اٹارنی جنرل : خادم تو میں ہوں اسمبلی کا‘ جو وہ حکم کرتے ہیں اس کی تعمیل کرتا ہوں۔ اچھا آپ کے محضر نامے ص 12 میں کیا ہے؟

مرزا ناصر : ہاں‘ آئین کے اندر ایک شق ہے کہ ہر شخص کو مذہبی آزادی ہے ادارے قائم کرنے کی‘ کوئی کسی کو کافر کیوں کہے‘ ہر آدمی جو چاہے اپنے مذہب کا نام رکھے‘ اعلان کرے۔ یہ ہے مذہبی آزادی جو آئین نے دی ہے۔

اٹارنی جنرل : ہر شہری کا مذہب نہ کہ مسٹر بھٹو کا یا مولانا مفتی محمود کا یا مولانا مودودی کا مذہب‘ جو کہ وہ اپنے لیے منتخب کرے‘ جو مذہب بھی کوئی شہری اپنے لیے منتخب کرئے‘ وہ اس کا اعلان کر سکتا ہے۔ آئین ہر شہری کو حق دیتا ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کرے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں اور اگر وہ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہے تو پھر یہ آئین‘ جس پر پیپلز پارٹی فخر کرتی ہے اور جس پر ہم سب بھی فخر کرتے ہیں کیونکہ یہ ایسی شق ہے جو کہ ہر شہری کو اپنے مسلمان کہلانے کا حق دیتی ہے‘ خواہ وہ وہابی ہو‘ اہل حدیث ہو‘ اہل قرآن ہو‘ بریلوی ہو یا احمدی‘ جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھتے ہیں۔ کیا پہلے سے آپ کا یہ رویہ تھا کہ آپ ایک فرقہ ہیں یا آپ کا خیال تھا کہ آپ ہی مسلمان ہیں اور آپ ہی اصلی اسلام ہیں اور باقی کوئی فرقہ ورقہ نہیں ہے۔

مرزا ناصر : آپ نے درست فرمایا کہ اسلام کے اور بھی فرقے ہیں۔ ہم بھی اسلام کا ہی ایک فرقہ ہیں۔ ایک فرقہ اپنے آپ کو ہمیشہ سے سمجھ رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل : ’’احمدیت اور سچا اسلام‘‘ یہ مرزا محمود کا لیکچر ہے جو کتابی شکل میں آپ لوگوں نے شائع کیا ہے۔ اس میں ہے کہ اس نے ناپاک پانی کو مصفا کیا اور پوشیدہ نہروں کو دریافت کیا اور ہماری آنکھوں پر پڑے ہوئے پردوں کو اتارا اور تحقیق اور علوم کے وسیع میدان کے دروازے کھول دیے۔ اسی طرح انسانیت کی روز بروز بڑھنے والی ضروریات کو قرآنی تعلیمات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ

صفحہ 164

وسلم کے قائم کردہ اسلامی خدوخال کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے مہیا کیا۔ اگر اس بات کو ذہن نشین کر لیا جائے تو پھر یہ سمجھنا آسان ہو جائے گا کہ اگرچہ احمدیہ جماعت قرآن کریم پر محکم ایمان رکھتی ہے اور یہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہے مگر اس کو اسلام کا فرقہ نہیں کہا جاسکتا‘ بلکہ اس کے برعکس احمدیہ جماعت کا موقف ہے کہ صرف یہی دنیا میں حقیقی سچا اسلام پیش کرتی ہے۔

مرزا ناصر : آپ کا سوال کیا ہے؟

اٹارنی جنرل : آپ نے کہا کہ ہم اسلام کا فرقہ ہیں‘ مگر مرزا محمود کہتے ہیں کہ ہمیں اسلام کا فرقہ نہ سمجھا جائے بلکہ ہم حقیقی اسلام ہیں۔

مرزا ناصر : ہر فرقہ یہی کہتا ہے۔

اٹارنی جنرل : مگر آپ کے مرزا محمود تو خلیفہ ہیں اپنی جماعت کے‘ خیر۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی امتی نبی آیا؟

مرزا ناصر : یعنی موسیٰ علیہ السلام یا کسی اور نبی کی امت سے تو بالکل نہیں آیا۔

اٹارنی جنرل : ہاں۔

مرزا ناصر : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نہ کوئی امتی نبی ہوا ہے اور نہ آسکتا ہے‘ اس لیے ہمارا ایمان ہے کہ امتی نبی صرف نبی اکرمؐ کا ہوسکتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریعی نبی تھے‘ ان کے بعد جو نبی آئے‘ ان کے تابع تھے مگر وہ تھوڑا تھوڑا فرق کرتے تھے۔

اٹارنی جنرل : حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی شرعی نبی نہیں تھے؟

مرزا ناصر : نہیں۔

اٹارنی جنرل : میں پوچھ رہا تھا۔

مرزا ناصر : ہاں ہاں‘ شرعی نبی نہیں تھے ہمارے نزدیک‘ وہ غیر شرعی نبی تھے۔

اٹارنی جنرل : ہاں تو اس کے بعد پوزیشن یہ ہو جاتی ہے کہ مرزا غلام احمد کی پوزیشن مسلمانوں کے فرقوں میں ایسے ہو گئی جیسے عیسیٰ علیہ السلام کی یہودیوں کے فرقوں میں سے تھی۔

مرزا ناصر : مگر عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا غلام احمد کے مقام میں فرق ہے۔

اٹارنی جنرل : عیسیٰ علیہ السلام بھی غیر شرعی‘ مرزا صاحب بھی غیر شرعی۔

مرزا ناصر : غیر شرعی ہونے کے لحاظ سے وہ ہزاروں انبیاء جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے بشمول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے‘ وہ غیر شرعی تھے اور حضرت مسیح موعود بھی غیر شرعی ہیں۔

اٹارنی جنرل : اب اسی کتاب سے یہ حوالہ مجھے پڑھنے دیں کہ ”جس طرح وہ (عیسیٰ علیہ السلام) موسوی شریعت کے آخری خلیفہ تھے اسی طرح وہ (مرزا غلام احمد) اسلامی شریعت کا آخری

صفحہ 165

خلیفہ تھا۔ اسی لیے تمام اسلامی فرقوں کے مقابلہ میں ”احمدیہ تحریک“ کا وہی مقام ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے دوسرے فرقوں کے مقابلہ میں ہے۔” (”احمدیت یعنی حقیقی اسلام“ ص 18) کیا اس سے یہ بات حتمی طور پر ظاہر نہیں ہوتی کہ عیسائی مذہب یہودی مذہب سے بالکل مختلف ہے اور احمدیت اسلام کے دوسرے فرقوں کے مقابلے میں مختلف مذہب ہے؟ یہ ہے مرزا محمود کا قول ۔ میں آپ سے اس کی وضاحت کرانا چاہتا ہوں ۔

مرزا ناصر : میں آپ کی بات نہیں سمجھا ۔

اٹارنی جنرل : میں اس کتاب سے اقتباس ص 19 (انگلش سے ترجمہ ) پڑھ دیتا ہوں ۔ ”حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کریم کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔ یہ لازمی تھا کہ اسلامی شریعت کا مسیح ان (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ماننے والوں میں سے ہو اور وہ قرآن کے قانون کو مستحکم کرے اور اس کی تبلیغ کرے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نئی شریعت (انجیل) کے ساتھ آئے جو کہ تو رات کی تصدیق کرتی ہے ۔ میں پہلے ہی اس بات کی نشاندہی کر چکا ہوں کہ جو نئی شریعت لے کر نہ آئے اس کا ایک فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان غلطیوں کی اصلاح کرے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دینی امور میں پیدا ہو جاتی ہیں اور یہ ایک بہت بڑا کام ہے۔ گمشدہ صراط مستقیم کو تلاش کر کے بحال کرنا اتنا ہی بڑا کارنامہ ہے جتنا کہ نئی شریعت کو قائم کرنا ۔ ہمارا ایمان ہے کہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے اس سے بھی بڑا کام اپنے ذمہ لیا تھا۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ اس کام کی کیوں ضرورت تھی، مسیح موعود (مرزا) نے قرآن کریم سے استدلال کیا ۔“ جناب والا میں آپ پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا محمود نے مسیح موعود (مرزا) کا موازنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیا ہے اور پھر یہ کہا گیا ہے آپ نے بھی پڑھا ہوگا اور اس بات کو آپ مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کچھ تبدیلیاں بھی کی تھیں ۔ ایک غیر تشریعی نبی کی حیثیت سے اس نے ایک نئی امت کی بنیاد رکھی ۔ کیا یہ ایک حقیقت ہے یا نہیں، اگر آپ موازنہ کریں تو یہ ایک حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ احمدیت ایک نیا مذہب ہے ۔

مرزا ناصر : انہوں نے نیا کوئی موازنہ نہیں کیا۔ اس نے قرآنی آیات کا حوالہ دیا ہے اس واسطے میں خاموش ہوں ۔ کل آپ کو قرآن کریم کی آیات لکھ کر ترجمے کے ساتھ بتادوں گا ۔

اٹارنی جنرل : میں اسمبلی کو پڑھ کر سنا رہا ہوں اور آپ کی توجہ مبذول کرا رہا ہوں اور آپ ناراض ہو جاتے ہیں ۔

مرزا ناصر : میں ناراض نہیں ہوا ۔

اٹارنی جنرل : یہ چیزیں مجھے نظر آتی ہیں، اس سے یہ مطلب اخذ ہوتا ہے ۔

صفحہ 166

مرزا ناصر : مگر قرآن کریم کی رو سے۔

اٹارنی جنرل : وہ بھی غیر شرعی نبی یہ بھی غیر شرعی۔ انہوں نے پرانا قانون قائم کیا یہ بھی قائم کر رہے ہیں مگر نتیجہ یہ اخذ کیا‘ ان کی پوزیشن یہی ہے جو یہودیوں کے مقابلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اور ہماری (احمدیوں کی) پوزیشن مسلمانوں کے مقابلے میں یہ ہے۔ پھر یہ علیحدگی پسندی میں سب چیزیں آپ (مرزا محمود) بتا رہے ہیں جو انہیں بتانے کی ہدایات دیں ڈائریکشن دی۔

مرزا ناصر : علیحدگی پسندی کا بڑا مسئلہ ہے میرے پاس ہے۔

اٹارنی جنرل : ص 32 پر کہتے ہیں ”قرآن مجید بدلتے ہوئے حالات کے تحت مستقبل کے تمام ادوار کے شکوک وشبہات کی پوری اور مکمل تردید کر رہا ہے کیونکہ نئے نئے علوم اور نئی نئی معلومات و ایجادات کی بنیاد پر تنقید ہو سکتی تھی۔ قرآن مقدس کا یہ عظیم معجزہ بتاتے ہوئے مسیح موعود (مرزا صاحب) نے روحانی انقلاب برپا کر دیا۔ یقیناً مسلمانوں کا ایمان ہے کہ قرآن مکمل ضابطہ حیات ہے مگر گزشتہ تیرہ سو سال میں کسی نے یہ نہیں سوچا کہ قرآن نہ صرف مکمل ضابطہ حیات ہے بلکہ یہ تمام آنے والے ادوار کے لیے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا خزینہ ہے اور محنت اور تحقیق سے روحانی علم وفضل کے انمول خزینے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔“

جناب والا! سب سے پہلی بات جو میرے ذہن میں آتی ہے‘ وہ یہ ہے کہ قرآن کے اندر مرزا صاحب نے کوئی ایسی چیز تلاش کر لی تھی‘ جسے تیرہ سو سال میں مسلمان تلاش کرنے سے قاصر رہے۔ یہ چھپا ہوا خزانہ‘ جسے مرزا صاحب نے تلاش کیا‘ ایک انقلاب تھا۔ اب میں مودبانہ گزارش کروں گا کہ مرزا صاحب کی قرآنی بصیرت کو میں اتنا نہیں سمجھا جتنا آپ سمجھتے ہیں۔ قرآن کی ان آیات کے علاوہ‘ جن کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ مہدی یا حضرت عیسیٰ کی واپسی سے ہے‘ اور کون سی آیات ایسی ہیں جن کی تفسیر مرزا صاحب نے کی اور جن کی تفسیر پہلے اور کوئی نہیں کر سکا‘ پھر مرزا صاحب کی جہاد کی تفسیر‘ ختم نبوت کی تفسیر‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال‘ اپنی نبوت کا استدلال یا قرآن سے بزعم اپنے مسیح ہونے کا استدلال یا جہاد کی منسوخی کے علاوہ وہ کونسا خزانہ تھا جو 1300 سال سے مسلمانوں کو نہیں مل سکا اور مرزا صاحب نے سامنے لا کر رکھ دیا ہے۔

مرزا ناصر : قرآن کریم درمکنون ہے۔ اس میں بعض اسرار روحانی اور معارف دقیقہ ایسے ہیں جو زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق خدا تعالیٰ کے محبوب بندے خدا تعالیٰ سے علم پا کر اور تفسیر لکھ کر اس وقت کے لوگوں کو سناتے ہیں۔ ہمارے محضر نامہ میں ایک رسالہ ہے‘ میں نے دور کی عینک لگا رکھی ہے اور نزدیک کا پڑھنا شروع کر دیا ہے۔ انسان بڑا کمزور ہے‘ رسالہ اس کا نام مقربان الٰہی کے سرخروئی روح کافر گری کے ابتدا میں‘ وہ اور اس کے علاوہ میں پچھلے سال 1973ء میں یورپ گیا‘ میں نے کمیونزم کا

صفحہ 167

بتایا کہ اس سے زیادہ اسلام کے پاس ان مسائل کا حل ہے۔ تو یہ نئے علوم نہیں تو اور کیا ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب! میں نے تو کہا کہ مرزا صاحب وہ آیات جن کی مرزا صاحب نے تفسیر کی ہو اور پہلے کسی نے نہ کی ہو، وہ بتا دیجئے، آپ نہیں بتا رہے۔ کمیونزم کی بات تو آنجناب کے علاوہ، بلکہ آپ سے پہلے اسلام کے نظام معیشت پر بہت کام ہوچکا ہے قرآن وسنت کی روشنی میں۔ آپ قرآن کریم کی وہ آیات بتائیں جن کی مرزا صاحب کے علاوہ کسی نے تفسیر نہ کی ہو۔

مرزا ناصر : ابھی ایک کمیونزم والی بات۔

اٹارنی جنرل : میں تو مرزا صاحب کا پوچھ رہا تھا؟

مرزا ناصر : اوہو! میں بھی، یہ بھی تو مرزا صاحب کا ہے۔

اٹارنی جنرل : اور بھی ہے؟

مرزا ناصر : کل بتادوں گا۔

اٹارنی جنرل : اور آج؟

مرزا ناصر : سورۃ فاتحہ کی مرزا صاحب نے تفسیر لکھی۔

اٹارنی جنرل : اور کسی نے آج تک اس کی تفسیر نہیں لکھی تھی؟

مرزا ناصر : مگر یہ نرالی ہے۔

اٹارنی جنرل : نرالی سہی مگر یہ تفسیر نبی کے علاوہ ایک اور مسلمان بھی لکھ سکتا تھا یا نہیں؟

مرزا ناصر : اللہ تعالیٰ کے بندے لکھ سکتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : باقی بھی لکھتے رہے؟

مرزا ناصر : لکھتے رہے۔

اٹارنی جنرل : یہ ضروری نہیں نبی ہی تفسیر کر سکتا ہے، باقی مسلمان نیک اولیاء اللہ؟

مرزا ناصر : اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ سے سیکھ کر سینکڑوں ہزاروں شاید لاکھوں کی تعداد میں اس وقت تک اس قابل رہ چکے ہیں، جنہوں نے نئی تفسیر لکھی۔

اٹارنی جنرل : آئندہ بھی کر سکتے ہیں؟

مرزا ناصر : آئندہ بھی کر سکتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : اس کے لیے نبی آنے کی ضرورت تو نہ رہی؟

مرزا ناصر : اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : ان سے پہلے کوئی نہیں آیا، مرزا صاحب کے بعد اور کوئی نہیں آسکے گا؟

مرزا ناصر : صرف ایک کی بشارت ہے۔

صفحہ 168

اٹارنی جنرل : بشارت کہ اور نبی نہیں آئے گا؟

مرزا ناصر : ہاں کسی اور کی بشارت نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : مہر صرف ایک دفعہ استعمال ہوئی؟

مرزا ناصر : کروڑوں آدمی ایسے پیدا ہوئے جو فیض محمدی سے فیض یاب ہو کر دنیا کی اصلاح اور بہبودی کا کام کرتے رہے‘ فلاح کا۔

اٹارنی جنرل : ختم نبوت کی تشریح کے مطابق کہہ رہا ہوں؟

مرزا ناصر : ختم نبوت کی تشریح کے مطابق وہ لاکھوں پیدا ہوئے۔

اٹارنی جنرل : لاکھوں نبی؟

مرزا ناصر : نبی نہیں۔

اٹارنی جنرل : میں نبی کی بات کر رہا ہوں۔ مرزا صاحب کے علاوہ اور کوئی نہیں؟

مرزا ناصر : اور کسی کی خبر نہیں‘ بس میرا جواب ختم ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : ”احمدیت اور سچا اسلام“ کے ص 10 کو ملاحظہ کریں۔ ”ہمارا ایمان ہے کہ جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے‘ مستقبل میں بھی نبیوں کی جانشینی جاری رہے گی کیونکہ سلسلہ نبوت کے مستقل اختتام کو عقل رد کرتی ہے یعنی تسلیم نہیں کرتی۔“

مرزا ناصر : یہ دیکھ کر کل بتاؤں گا۔

اٹارنی جنرل : جہاد کے متعلق آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

مرزا ناصر : جہاد کی کچھ شرائط ہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”یضع الحرب“ جہاد مسیح کے زمانے میں نہیں ہوگا۔

اٹارنی جنرل : مسیح علیہ السلام دجال سے جہاد نہیں کریں گے یعنی تلوار کی لڑائی؟

مرزا ناصر : ہمارے محضر نامے کو دیکھ لیں اس میں یہ بحث موجود ہے۔ ص 115 سے 117 تک۔

اٹارنی جنرل : انگریز کے زمانے میں جہاد ملتوی ہے؟

مرزا ناصر : جی ہاں‘ انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

اٹارنی جنرل : عام لوگوں کی اور بات ہے‘ جو نبوت کا مدعی ہے‘ وہ کہتا ہے کہ انگریز کے دور میں جہاد ملتوی ہے‘ ماضی‘ حال اور مستقبل میں۔ اچھا اگر شرائط موجود ہوں تو جہاد قلم کا ہو گا یا تلوار کا؟

مرزا ناصر : تلوار کا جہاد منسوخ ہے‘ تلوار کا جہاد تو جہاد صغیر ہے‘ قلم کا جہاد کبیر ہے۔

اٹارنی جنرل : تلوار کا جہاد یعنی جہاد صغیر انگریز کے زمانہ میں اس کی شرائط نہیں بلکہ جہاد کبیر یعنی

صفحہ 169

قلم کا جہاد ہے؟

مرزا ناصر : جہاد کبیر یعنی قلم کا جہاد تو ہر زمانے میں رہا۔

اٹارنی جنرل : مسلمانوں کی اسلامی حکومت ہو تو بھی جہاد کبیر جاری رہے گا؟

مرزا ناصر : غیر مذاہب حملہ آور ہوں تو جہاد کبیر جاری رہتا ہے۔

اٹارنی جنرل : یہ مرزا صاحب کی ”تبلیغ رسالت“ ہے جلد ہفتم ص 17 میں ہے کہ ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھتے جائیں گے‘ ویسے ہی جہاد کے معتقد کم ہوتے چلے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“ (”روحانی خزائن“ ص 347 ج 13) اس کی وضاحت کریں۔ آپ کہتے ہیں کہ حالات و شرائط نہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ مجھے ماننا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے؟

مرزا ناصر : ایک حوالہ سے مسئلہ حل نہیں ہوتا‘ اور حوالے بھی دیکھنے پڑیں گے۔

اٹارنی جنرل : مرزا غلام احمد کہتے ہیں ”سو آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا۔“ تو یہ حرام ہوا‘ ملتوی نہیں ہوا؟

مرزا ناصر : نہیں‘ دین کے لیے التوا کیا گیا۔

اٹارنی جنرل : جہاد ہوتا ہی دین کے لیے ہے۔ آپ کہتے ہیں ملتوی‘ وہ کہتے ہیں حرام؟

مرزا ناصر : یہاں حرام ہے مگر اس کا معنی ملتوی۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب کہتے ہیں ”تیسرے وہ گھنٹہ جو اس مینار کے کسی حصہ دیوار پر نصب کیا جائے‘ اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے کہ تمام لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے کا وقت آگیا ہے۔ اب سے زمینی جہاد بند کیا گیا‘ لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا‘ سو آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا۔ (ضمیمہ ”خطبہ الہامیہ“ ص 17‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 17‘ ج 16) انگریز سے لڑنا جہاد تھا؟

مرزا ناصر : ہمارے نزدیک جہاد نہیں تھا۔

اٹارنی جنرل : پھر تو سوال ہی نہ رہا؟

مرزا ناصر : میں معافی مانگتا ہوں‘ میں نے ہاؤس کا وقت ضائع کیا۔

اٹارنی جنرل : جہاد حرام‘ اس لیے کہ مسیح آگئے‘ مہدی آگئے‘ مگر مہدی سوڈانی نے آکر جہاد کیا؟

مرزا ناصر : زمانہ مختلف ہے۔

اٹارنی جنرل : مگر ان کے بعد جہاد ہوا‘ وہ تو مرزا صاحب کے زمانہ میں ہم عصر ہے؟

صفحہ 170

مرزا ناصر : کچھ حصہ۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب آگئے‘ مسیح آگئے‘ اب جہاد ختم۔ وہ فوت ہوگئے‘ اب جہاد جاری؟

مرزا ناصر : ہمیشہ کے لیے منسوخ‘ حدیث شریف میں تاقیامت ہے مگر میں حتمی زمانہ تو نہیں بتا سکتا۔

اٹارنی جنرل : ایک اور حوالہ ہے مرزا صاحب کا ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے‘ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے نہیں بچا سکتا تھا اور شیرخوار بچے بھی قتل کیے جاتے تھے‘ پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا حرام کیا گیا پھر مسیح موعود کے وقت میں قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

(”اربعین نمبر 4“ حاشیہ ص 15‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 443‘ ج 17)

مرزا ناصر : موقوف ہوگیا۔

اٹارنی جنرل : ملتوی ہوگیا‘ موقوف ہوگیا‘ بند ہوگیا‘ حرام ہوگیا‘ کیا ان سب کا معنی ملتوی ہوگیا ہے؟

مرزا ناصر : مسیح کی آمد سے ملتوی و موقوف ہے۔

اٹارنی جنرل : ان کی وفات کے بعد؟

مرزا ناصر : فوراً نہیں شروع ہوگا۔

اٹارنی جنرل : کب‘ ان کی وفات کے بعد تو قیامت نے آنا ہے؟

مرزا ناصر : یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ کب‘ اس لیے کہ ان کی وفات کو 62 سال گزر چکے مگر قیامت نہیں آئی۔

اٹارنی جنرل : آپ تو ان کو مسیح آخرالزمان کہتے ہیں؟

مرزا ناصر : ہاں آخری زمانہ۔

اٹارنی جنرل : وہ آخری زمانے سے گزر رہے ہیں ہم؟

مرزا ناصر : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : اس کے بعد تو جہاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ امن آئے گا‘ نہ ہوگا جہاد؟

مرزا ناصر : نہیں‘ نہیں ہو سکتا ہے کہ شرائط پوری ہوجائیں۔

اٹارنی جنرل : ان کی وفات کے بعد شرائط پوری ہو جائیں تو پھر جہاد شروع۔ آپ تو کہتے ہیں کہ حدیث میں ہے کہ ختم ہوجائے گا ان کی آمد پر جہاد؟

صفحہ 171

چیئرمین : کل دس بجے۔

22۔ اگست 1974ء کی کارروائی

نیشنل اسمبلی آف پاکستان کی خصوصی کمیٹی، زیر صدارت صاحبزادہ فاروق علی، صبح دس بجے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب آپ کہہ رہے تھے کہ مرزا صاحب کی زندگی میں شرائط پوری نہیں ہوں گی، اس کو آپ ملتوی یا منسوخ سمجھیں، ان کی زندگی میں حرام کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ ان کی زندگی میں یہ حرام ہے؟

مرزا ناصر : ان کی پیدائش کے وقت نہیں، دعویٰ مسیحیت اور وصال کے وقت میں۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے دعویٰ مسیحیت کب کیا؟

مرزا ناصر : 1891ء میں۔

اٹارنی جنرل : اس سے پہلے مجدد کا یا محدث کا۔

مرزا ناصر : اس سے دو سال پہلے 1889ء میں بیعت کا سال ہے۔

اٹارنی جنرل : امتی نبی کا دعویٰ کب کیا؟

مرزا ناصر : وہی کہ مسیح امتی نبی ہوگا۔ 1891ء میں مسیحیت کا دعویٰ، یعنی امتی نبی کا بھی۔

اٹارنی جنرل : ان کے دعویٰ کے وقت 1891ء سے وفات 1908ء تک، اس پیریڈ میں آپ کے نقطہ نظر سے جہاد کی شرائط نہ تھیں؟

مرزا ناصر : نہ ہوسکتی تھیں، نہ ہندوستان میں ہوئیں۔

اٹارنی جنرل : پوری دنیا یا صرف ہندوستان؟

مرزا ناصر : صرف ہندوستان۔

اٹارنی جنرل : کیا وہ صرف ہندوستان کے مسیح تھے؟

مرزا ناصر : یہ تو دنیا کی تاریخ دیکھیں گے کہ باقی دنیا میں جہاد کی شرائط تھیں یا نہ تھیں۔

اٹارنی جنرل : اگر باقی دنیا میں جہاد کی شرائط تھیں، وہ صرف ہندوستان کے مسیح ورنہ پوری دنیا کے۔

مرزا ناصر : آپ کے ان نتائج کو میں تسلیم نہیں کرسکتا۔

صفحہ 172

اٹارنی جنرل : ایک اور مہدی اس وقت جہاد کا اعلان کر رہا تھا، اور یہ مہدی منسوخی وحرمت کا فتویٰ دے رہا ہے۔ مرزا صاحب کہتے ہیں جہاد حرام ہے۔ مرزا صاحب فوت ہو گئے، اب ان کی جماعت پر یہ حکم لاگو نہیں؟

مرزا ناصر : ممکن ہے ہماری زندگیوں میں یا اولاد میں یا آنے والی نسل میں جہاد کی شرائط پوری ہو جائیں تو مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں گے۔

اٹارنی جنرل : پھر یہ حکم حرمت جہاد کا لاگو نہیں ہوگا، تو یہ جو ہے 1908ء تک تھا، اس کے بعد دوبارہ حرام نہیں۔ اگر حالات آگئے تو۔

مرزا ناصر : جب امن نہیں ہوگا تو۔

اٹارنی جنرل : یعنی صلح وامن، وہ بھی اس زمانہ کے لیے ہے۔

مرزا ناصر : زمین میں صلح پھیل جائے گی یعنی جبر واکراہ سے کسی کو مسلمان نہیں بنایا جائے گا، نوع انسانی کا دماغ اصولاً اس نتیجہ پر پہنچ جائے گا۔

اٹارنی جنرل : پھر اس کے بعد امن نہیں ہوگا یعنی انسان اس اصول کو چھوڑ کر اکراہ یعنی جبر شروع کردے گا۔ جہاد شروع ہوجائے گا۔

مرزا ناصر : جبر کے ساتھ دل کے عقائد بدلنے کا تصور احمقانہ ہے۔

اٹارنی جنرل : یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔ 1908ء کے بعد یہ حالات۔

مرزا ناصر : حالات موجود ہیں لیکن بدلنے کا امکان بھی موجود ہے۔

اٹارنی جنرل : جہاد حرام ہے، یہ حکم صرف سترہ اٹھارہ سال کے لیے محدود ہے، بعد میں حالات بدل سکتے ہیں اور جہاد جائز ہو سکتا ہے؟

مرزا ناصر : جی۔

اٹارنی جنرل : اور یہ جو کہا کہ جہاد حرام ہے اور آئندہ کے لیے انتظار نہ کرو۔ اشتہار واجب الاظہار۔ اپنی جماعت اور گورنمنٹ عالیہ کی توجہ کے لیے ”یادرہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام، پیشوا اور رہبر مقرر کیا ہے، ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کا انتظار ہے، بلکہ یہ مبارک فرقہ ظاہر طور پر نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔“ (اشتہار مندرجہ ”تریاق القلوب“ ص 398، مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 519، ج 15)

مرزا ناصر : اپنے زمانہ کے لیے۔

اٹارنی جنرل : یعنی 1908ء تک کے لیے ہے۔ اچھا یہ جو ہے کہ جب مسیح اور مہدی آئیں گے تو

صفحہ 173

اسلام تمام دنیا میں پھیل جائے گا؟

مرزا ناصر : تین صدیوں کے اندر۔

اٹارنی جنرل : یہ مرزا صاحب کا جو زمانہ ہے جہاں تک جہاد کا تعلق ہے یہ صرف اٹھارہ سال کے لیے ہے یا سترہ سال کے لیے ویسے تین سو سال کے لیے۔ مرزا صاحب دیکھئے، ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ جب کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد کا زمانہ ایک اس کا مطلب یہ ہوتا ہے جب اسلام ساری دنیا پر حاوی ہوگا، سب مسلمان ہوں گے زمانہ سے مطلب تین سو سال۔ ان کے دعویٰ سے لے کر تین سو سال تک یہ زمانہ ہے۔ ان کا دوسرا زمانہ سے مطلب جو جہاد سے متعلق ہے یہ 1891ء سے لے کر 1908ء تک یہ زمانہ ہے۔

مرزا ناصر : یہ آپ کا نیا استدلال ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب ایک چیز حرام ہے، انتظار ہی مت کرو۔

مرزا ناصر : نہ انتظار ہے، یہ کہاں کہ انتظار نہ کرو۔

اٹارنی جنرل : انتظار تو مستقبل کا ہوتا ہے۔

مرزا ناصر : اوہو، مستقبل کا ہوتا ہے لیکن معنی مختلف ہے نا۔

اٹارنی جنرل : ایک فرقے پر تلوار کا جہاد نہیں، نہ اس کا انتظار ہے۔

مرزا ناصر : شرائط کی بات ہے۔

اٹارنی جنرل : اچھا جب مہدی تشریف لائیں گے تو سارے مسلمان ہو جائیں گے۔ صلیب توڑ دے گا، خنزیر قتل کر دیے جائیں گے، مطلب یہ کہ سب مسلمان ہو جائیں گے۔

مرزا ناصر : کتنے عرصے میں؟

اٹارنی جنرل : ان کی زندگی میں۔ آپ کہتے ہیں کہ نہیں، تین سو سال میں۔

مرزا ناصر : یہ تو اپنا اپنا نقطہ نظر ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا غلام احمد نے کہا کہ ”اب دوستو چھوڑ دو جہاد کا خیال....... دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال“ (ضمیمہ ”تحفہ گولڑویہ“ ص 41، مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 77، ج 17)

مرزا ناصر : اس میں آگے ہے کہ عیسیٰ مسیح جنگوں کا کر دے گا التواء۔ تو یہ التواء ہے۔

اٹارنی جنرل : مطلب یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی فیل ہو جاتے ہیں۔

مرزا ناصر : ہیں؟

اٹارنی جنرل : فیل تو ہو گئے۔ یہ کام پھر پورا نہیں کر سکے یعنی جنگوں کو ختم کرنا تھا، وہ بھی ملتوی کیں، ختم نہ کیں۔ جنگوں کے اختتام کے لیے اور کا انتظار کرنا پڑا۔ اسلام بھی غالب نہ آیا، اس کے لیے

صفحہ 174

بھی تین سو سال کا مزید انتظار۔ جب عیسیٰ آئے گا دنیا میں امن ہو جائے گا' جنگیں ختم ہو جائیں گی' اسلام پھیل جائے گا تو یہ تو پھر کام نہیں ہوا' وہ تو صرف ملتوی کر کے چلے گئے۔

مرزا ناصر : ان کی زندگی میں کسی قسم کی دینی جنگ نہیں ہو گی۔

اٹارنی جنرل : اور وہ بھی صرف ہندوستان میں۔ آپ برا نہ مانیں' جب وہ آئیں گے تو اسلام پھیل جائے گا۔ اس کے بعد جنگ و جدال' جہاد وغیرہ جیسا کہ یضع الحرب آپ کہہ رہے تھے' حدیث ہے' ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہو گی۔ آپ کہتے ہیں کہ نہیں' انہوں نے صرف اٹھارہ سال کے لیے ملتوی کر دیا' اس کے بعد پھر سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

مرزا ناصر : دیکھیں ناں' اسلام غالب ہوگا۔ 10 سال' 20 سال' حدیثوں کو دیکھیں۔

اٹارنی جنرل : کیا 200 سال یا 300 سال کی بھی کوئی حدیث ہے کہ مسیح کی آمد کے اتنا عرصہ بعد۔ ان کے بعد تو قیامت نے آنا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ نہیں' تو اس کے لیے کوئی حدیث؟

مرزا ناصر : حوالے' یہ تو دیکھنا پڑے گا۔

اٹارنی جنرل : کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔ اب 200 سال کا معاملہ آ گیا۔

اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کی تمام جنگوں کا اختتام ہے

(ضمیمہ ”تحفہ گولڑویہ“ ص 41' مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 77' ج 17)

اس میں جو ہے' اس کا معنی تو یہ ہے کہ جب تک مسیح دین کا امام ہے' اس وقت تک دین کی تمام جنگوں کا اختتام ہے۔ کیا اٹھارہ سال کے بعد وہ امام نہیں رہے۔

مرزا ناصر : اگر یہ معنی ہوتے تو التواء کا لفظ نہ آتا' بہرحال میں نے اپنا عقیدہ بتا دیا ہے۔

اٹارنی جنرل : اسی طرح مرزا صاحب کہتے ہیں

اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب دین اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

(حوالہ ایضاً)

یعنی فتویٰ تو اس پیریڈ کے لیے نہیں ہوگا بلکہ مستقبل کے لیے۔

مرزا ناصر : پہلا شعر واضح کر رہا ہے کہ اب نور خدا کا نزول ہے۔

اٹارنی جنرل : نور خدا کا نزول تو ہو گیا۔

مرزا ناصر : نہیں' نہیں' وہ نزول مہدی کی زندگی تک ہے۔

اٹارنی جنرل : میں مثلاً احمدی ہوں تو کیا میرا عقیدہ یہ ہوگا کہ وہ نزول ہو گیا۔ یہ نہیں ہے کہ 18

صفحہ 175

سال تک نزول تھا‘ وہ اب نہیں ہوگا۔

مرزا ناصر : مگر میں احمدی ہوں‘ میں بانی سلسلہ کی تعلیمات سے سمجھا ہوں کہ آئندہ جہاد ہوگا۔

اٹارنی جنرل : اچھا اسے چھوڑتا ہوں۔ یہ ”تبلیغ رسالت“ ہے‘ اس میں مرزا صاحب لکھتے ہیں ”جب میں 16 برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانانِ ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض ہے اور جہاد حرام ہے۔“ یہ اشتہار مورخہ 10 دسمبر 1899ء کا ہے۔ ”تبلیغ رسالت“ جلد سوم ص 200 ہے۔ جب گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت فرض ہوگئی تو اس کے خلاف جہاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ اس کے خلاف جہاد حرام ہے۔

مرزا ناصر : حرام کا مطلب یہاں محدود ہے۔

اٹارنی جنرل : اطاعت انگریز فرض‘ جہاد حرام ۔

مرزا ناصر : جہاد کی کچھ شرائط ہوتی ہیں۔

اٹارنی جنرل : میں سمجھ گیا‘ برطانیہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنا آپ کے نزدیک اسلام کا حصہ ہوگیا۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے صدہا کتابیں جہاد کی مخالفت میں تحریر کر کے بلادِ عرب‘ مصر‘ شام‘ افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کیں۔

مرزا ناصر : انگریز مذہب میں دخل نہیں دیتا۔ جہاد کی شرائط پوری نہیں۔

اٹارنی جنرل : مگر انگریز کا پراپیگنڈہ عرب‘ مصر‘ شام‘ افغانستان میں کیوں کیا جا رہا ہے؟ اس کا کیا جواب ہے؟

چائے کے وقفہ کے لیے پندرہ منٹ کا التواء۔

اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔

مولانا عبدالحق : چیئرمین صاحب‘ میری درخواست ہے کہ مرزا ناصر نے حدیث پڑھی تھی کہ یضع الحرب۔ یہ بخاری شریف کی حدیث ہے‘ اس میں یہ بھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام امام عادل ہوں گے‘ حکمران ہوں گے۔ مرزا انگریز کا غلام تھا‘ عیسیٰ علیہ السلام کی آمد پر عیسائیت ختم ہوگی‘ مرزا کے آنے پر عیسائیت پھیلی۔ اب درخواست ہے کہ اگر کوئی موقع ملے تو ہمارے حضرت مفتی صاحب یا انصاری صاحب یا مجھے حکم ہو تو وہ تمام حدیثیں جن کا گواہ مفہوم بگاڑ رہا ہے‘ واضح کردیں۔

چیئرمین : مولانا ہمیں علم ہے کہ وہ گڑبڑ کر رہا ہے۔ اس کے رویہ سے اظہار ہوتا ہے۔ آپ کی میں تائید کرتا ہوں مگر اس کے بیان کو مکمل ہونے دیں۔ (وفد کو اجازت ہے‘ آجائے)

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب‘ میں سوال کر رہا تھا کہ انگریز کی حمایت میں عرب ممالک میں کتابیں کیوں بھجوائیں؟ آگے خود مرزا نے یہ بھی لکھا ہے کہ 22 برس سے میں نے اپنے ذمہ یہ فرض کر

صفحہ 176

رکھا ہے کہ ایسی کتابیں، جن میں جہاد کی مخالفت ہو، اسلامی ممالک میں ضرور بھجوایا کروں۔ اس وجہ سے عربی میں میری کتابیں بہت شہرت پا گئیں۔ یہاں تو کہتے ہیں کہ بائیس سال سے یہ ڈیوٹی میں نے اپنے سر لے رکھی ہے یعنی جذبہ جہاد مسلمانوں سے ختم کرنا اور انگریز کی حمایت کے لیے عرب وعجم کے مسلمانوں کو آمادہ کرنا۔

مرزا ناصر : دیکھیں، یہ وہ زمانہ تھا کہ مسلمان مولوی صاحبان، انگریز کو مرزا صاحب کے خلاف بھڑکا رہے تھے۔ مرزا صاحب نے اپنا اعتماد بحال کرنے کے لیے ایسے کیا، مرزا صاحب نے یہ بھی لکھا کہ حضور علیہ السلام نے بھی نوشیروان کے عدل کی تعریف کی تھی اور آگے لکھتے ہیں ”مسلمان اس مبارک، مہربان، منصف اور عدل گستر برطانیہ عظمیٰ کی دعا گوئی اور ثنا جوئی کریں اور اس کے احسانوں کے شکر گزار رہیں۔“

اٹارنی جنرل : نوشیروان فوت ہو گیا تھا۔ اس کے عدل کی تعریف کرنا اور بات ہے۔ انگریز کی ایسی خوشامد جو کرتے ہیں، میں اس کی بات نہیں کر رہا۔ میرا سوال اور ہے۔

مرزا ناصر : اور لوگوں نے خوشامد نہیں کی؟

اٹارنی جنرل : خوشامدیوں میں ایک مرزا صاحب بھی۔ چلو یہ سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ برطانیہ کا بادشاہ وہ صلیب کا محافظ، اس کے تاج پر صلیب کا نشان، مرزا صاحب مسیح، مہدی۔ جس کو مسیح ہم کہتے ہیں، اس نے آ کر صلیب کو توڑنا ہے اور یہ مسیح مرزا صاحب افغانستان و مصر تک اس کو پھیلا رہے ہیں اور گورنمنٹ برطانیہ محافظ صلیب کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ تاج میں اس کے صلیب ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ان کی اطاعت کرو۔ یہ مہدی کس قسم کا ہے؟ ہمیں یہ بتائیں۔

مرزا ناصر : صلیب تو توڑ دی۔ ایسی ٹوٹی کہ یورپ میں جا کر آپ بات کریں، وہ ٹوٹ چکی ہے یا نہیں۔ سکاٹ لینڈ میں، میں نے پریس کانفرنس کی۔ افریقہ گیا۔ جس مسیح کی آمد کے دعوے پر عیسائی خوش تھے، ہم نے بتایا کہ وہ تو فوت ہو گئے، صلیب ٹوٹی کہ نہیں۔

اٹارنی جنرل : جس مسیح نے صلیب کو توڑنا تھا، اس کو آپ نے مار دیا۔ آپ نے تو صلیب کو ٹوٹنے سے بچا دیا۔ خود اس کی جگہ آ گئے مگر صلیب پرستوں کی حمایت میں عرب وعجم تک پروپیگنڈا، ان کے تاج پر صلیب؟

مرزا ناصر : تاج پر وہ عزت کا نشان نہیں، ذلت کا ہے۔

اٹارنی جنرل : اس ذلت کے نشان والے کی اطاعت فرض؟

مرزا ناصر : اطاعت، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اٹارنی جنرل : صلیب ذلت کا نشان اور یہ مسیح کہتا ہے کہ جہاد، بجائے اس کی آپ اطاعت

صفحہ 177

کریں۔

مرزا ناصر : اور روس نے انگریز کی حمایت نہیں کی؟

اٹارنی جنرل : جس مسیح نے صلیب توڑنا تھی، وہ صلیب پرستوں کی اطاعت فرض قرار دے رہا ہے؟

مرزا ناصر : نہیں، ایسی حکومت کی جو مسلمانوں کے مذہب میں دخل نہیں دیتی۔

اٹارنی جنرل : اور جس کے تاج پر صلیب ہے؟

مرزا ناصر : مسئلہ صاف ہو گیا، وہ علیحدہ بات ہے یہ علیحدہ بات ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے عیسائیوں کو سخت جواب دیے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ طریقہ صحیح تھا یا غلط کیونکہ مسیح علیہ السلام کے بارے میں بھی اس نے نازیبا باتیں کہیں جو جائز نہ تھیں مگر میرا سوال ہے کہ صلیب پرست حکومت کی وہ کیسے تائید کرے، جس نے صلیب کو توڑنا تھا؟

مرزا ناصر : تحریف کو چھوڑ دیں اس کی وجہ اور تھی۔ اس کو بریکٹ میں کر دیں۔ مذہبی آزادی کے حوالے سے تحریف ہے۔

اٹارنی جنرل : مگر یہ مذہبی آزادی کا افغانستان و مصر تک پروپیگنڈہ اور وہ بھی فرض اپنے ذمہ اور اس میں دو باتیں کہ انگریز کی اطاعت فرض اور جہاد حرام۔ کیا ان کے اس رویہ سے جو لوگ آزادی وطن کے لیے کاوش کر رہے تھے، ان کو نقصان پہنچانا تو مقصود نہ تھا؟

مرزا ناصر : جہاد اس لیے جائز نہیں کہ یہ مذہبی آزادی دیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : دیکھیں افغانستان سمیت جو لوگ جہاد کے علمبردار تھے، ان میں جہاد کی تعلیمات کے خلاف کتابیں بھجوانا۔ مقصد تو صاف ظاہر ہے مگر آپ اس طرف نہیں آ رہے، آپ کی مرضی۔ لیکن ایک وقتی جوش ہوتا ہے جذبہ ہوتا ہے مثلاً کوئی شخص ہمارے نبی علیہ السلام کے خلاف کوئی بات کہے تو اس کو جواب دینا اس کا منہ بند کرنا ایمان کی بات ہے جوش و جذبہ کی۔ مرزا صاحب مسلمانوں کے اس جوش ایمانی کو بھی ختم کرنے کے در پے تھے؟

مرزا ناصر : آپ کا سوال واضح نہیں۔

اٹارنی جنرل : یہ مرزا صاحب کی کتاب ”تریاق القلوب“ ہے۔ اس میں لیفٹیننٹ گورنر کو مرزا صاحب نے ایک عاجزانہ درخواست لکھی ہے۔ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ اس کا عنوان یہ ہے، اس میں لکھا ہے کہ ”میں اس بات کا اقراری ہوں کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہے اور حد اعتدال سے بڑھ گئی ہے اور بالخصوص پرچہ ”نور افشاں“ میں جو ایک عیسائی اخبار نکلتا ہے نہایت گندی تحریریں شائع ہوئی ہیں۔ (وہ تحریریں میں چھوڑ دیتا ہوں کیونکہ آپ نے بھی چھوڑ دی تھیں

صفحہ 178

......’’اٹارنی جنرل) جو آنحضرتؐ کی شان میں گستاخی ہے تو مجھے ان اخباروں کے پڑھنے پر اندیشہ ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے‘ ان کلمات کا سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا۔ مصلحت و حکمت عملی یہی تھی تاکہ سریع الغضب انسانوں کا جوش فرو ہو جائے اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابلہ ایسی کتابوں کے‘ جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی‘ کچھ ایسی کتابیں لکھیں جن کے بالمقابل سختی تھی کیونکہ میرے ضمیر (Conscience) نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو وحشیانہ آدمی موجود ہیں‘ ان کے غیظ و غضب کی آگ کو بجھانے کے لیے یہ طریقہ کافی ہوگا۔ سوئم مجھ سے پادریوں کے بالمقابل جو کچھ وقوع میں آیا‘ یہی ہے حکمت عملی سے۔ بعض وحشی مسلمانوں کے جوش کو خشک کیا گیا۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اول درجہ کا خیر خواہ انگریز کا ہوں۔ تو یہاں مرزا صاحب میں نے یہ سوال پوچھا تھا کہ مرزا صاحب یہ نہیں کہتے کہ مجھے جوش آگیا یا جذبہ تھا اسلام کا‘ یہ بھی نہیں کہتے کہ جہاد کبیر بلکہ انگریز حکومت کی مضبوطی کے لیے‘ امن قائم کرنے کے لیے۔ وحشی مسلمانوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی وجہ ان سے جوش آ جاتا تھا‘ ان کو ٹھنڈا کرنے کے لیے۔ (’’تریاق القلوب‘‘ ص 362‘ مندرجہ ’’روحانی خزائن‘‘ ص 490-491‘ ج 15) تاکہ یہ مسئلہ برٹش گورنمنٹ کے لاء اینڈ آرڈر کا پیدا نہ ہوجائے۔ اس خدمت کو سرانجام دینے کے لیے مرزا صاحب یہ ساری کتابیں عیسائیوں کے خلاف لکھتے رہے ہیں۔ اس سے یہی تاثر پڑتا ہے۔ یہ کتاب میں آگے ہے۔ ان کو کہتے ہیں کہ ملک میں بدامنی پیدا نہ ہو‘ تب میں نے بالمقابل کتابوں کے‘ جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی‘ ایسی چند کتابیں ہیں‘ میرا مطلب وہ نہیں ہے کہ ساری مرزا صاحب کی تصنیف ہیں‘ جو ان کے مقابلے میں‘ جتنا بھی وہ مشنریوں کے خلاف‘ وہ کتابیں لکھتے رہے ہیں‘ وہ اس جذبہ کے تحت لکھتے رہے ہیں۔

مرزا ناصر : جتنی مشنریاں یہاں ہیں‘ جو چند کتابیں لکھیں‘ ان میں چند فقرے لکھے۔

اٹارنی جنرل : وہ تو خیر جو کچھ ہوا ہے‘ مرزا صاحب یہ جو ہے......

مرزا ناصر : نہیں چند کتابیں‘ ساری نہیں۔

اٹارنی جنرل : وہ بھی دوسرا سوال آجاتا ہے‘ کہتا ہے کہ میں نے جتنی کتابیں لکھیں‘ وہ پچاس الماریوں میں آجاتی ہیں‘ انگریزوں کی تائید میں‘ وہ آپ نے کہا کہ الماری کا سائز نہیں لکھا۔

مرزا ناصر : میں نے پوچھا تھا کہ سائز کا بھی تعین ہوجائے۔

اٹارنی جنرل : میں نے کہا کہ اب وہ مرزا صاحب کے گھر میں رہ گئی ہوں گی اور آپ کو ان کا معلوم ہوگا کہ کتنی آئی ہیں‘ دس آئی ہیں؟

صفحہ 179

مرزا ناصر : وہ نسخے نہیں جن کے چند نسخے آٹھ دس الماریوں میں آگئے تھے‘ اس کا مطلب ہے کہ پچاس ہزار ہوں گے۔

اٹارنی جنرل : نہیں‘ وہ میں نہیں کہتا۔ سوال تو تھا کہ انہوں نے الماریاں پچاس بھردیں یعنی پمفلٹ ہوں گے‘ بعض بڑی کتابیں ہوں گی‘ اب یہ الماری دوفٹ کی تھی یا دس فٹ کی تھی یہ تو مجھے علم نہیں ہے‘ شاید آپ کو ہو؟

مرزا ناصر : نہیں‘ میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ جو کتابیں آپ نے لکھیں‘ وہ ہمارے پاس موجود ہیں۔

اٹارنی جنرل : وہ کہتے ہیں کہ پچاس الماریاں بھردیں‘ مرزا صاحب یہ غلط نہیں کہیں گے۔

مرزا ناصر : نہیں نہیں‘ میں کب کہتا ہوں کہ غلط کہتے ہیں‘ میرا جواب تو سن لیجئے مہربانی کر کے۔ کہتے ہیں کہ پچاس الماریاں جو ہیں وہ بھر گئیں۔ اس کا مطلب ہے میرے نزدیک‘ میں نے ابھی تک Rough اندازہ اپنے ذہن میں لیا ہے کہ عام سائز کی الماری ہو تو یہ کوئی دو اڑھائی ہزار Volumes نسخے بھر دیتے ہیں ان کو۔

اٹارنی جنرل : ایک ہی کتاب کی دو ہزار کاپیاں رکھیں؟

مرزا ناصر : ہاں ہاں‘ یہی مراد ہے یہ تو نہیں ہے کہ دوسو.......

اٹارنی جنرل : نہیں نہیں‘ مرزا صاحب یہ دیکھیں کہ......

مرزا ناصر : اتنی لکھی ہی نہیں۔

اٹارنی جنرل : ان کتابوں کی فہرست بھی موجود ہے‘ ایک کتاب نہیں ہے‘ یہاں لکھتے ہیں وہ......

مرزا ناصر : ہاں وہ کتابوں کی فہرست کونسی ہے؟

اٹارنی جنرل : میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے‘ اکثر گزرا ہے۔ میں نے مانع جہاد اور انگریزی جہاد کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں اس سے بھر سکتی ہیں۔

مرزا ناصر : جلدیں؟ آپ نے کل 88 کتب لکھی ہیں اور ان میں سے ہر ایک میں یہ سخت الفاظ بھی نہیں ہیں۔

اٹارنی جنرل : نہیں‘ میں تو یہ مرزا صاحب......

مرزا ناصر : جو ہے کتاب واقعہ کے ساتھ‘ اس کو سامنے رکھ کر......

اٹارنی جنرل : نہیں دیکھئے مرزا صاحب میں وضاحت کے لیے ضروری سمجھتا ہوں‘ میری ڈیوٹی تھی کیونکہ تاثر یہ پڑتا ہے کہ مرزا صاحب نے عمر کا بڑا حصہ‘ بیشتر حصہ میں انگریز کی تائید و تعریف میں

صفحہ 180

کتابیں لکھیں ۔ پچاس الماریاں اس سے بھر گئیں اور سوال یہ آتا ہے کہ کیا اللہ میاں کی تعریف میں بھی اتنی کتابیں لکھیں کہ پچاس الماریاں بھر جائیں ۔ کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں بھی اتنی کتابیں لکھیں کہ پچاس الماریاں بھر جائیں یا کہ صرف انگریز کی تعریف لکھتے رہے؟ یہ سوال آتا ہے مسلمانوں پر اور اس کا جواب دینا ہے آپ نے۔

مرزا ناصر : اللہ تعالیٰ کی صفات کی تفسیر بیان کہ یہ خدا ہے جو اسلام نے پیش کیا۔ قرآن کریم کی جو ہے تفسیر قرآن کریم کی عظمت کا بیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم، بلند ارفع شان اور عظمت اور آپ کی جلالت کے اظہار کے لیے جو کتابیں لکھیں، اس کے لیے پچاس الماریاں نہیں چاہئیں، اس کے لیے پچاس ہزار الماریاں بھی کافی نہیں ہیں۔

اٹارنی جنرل : جو مرزا صاحب نے لکھی ہیں؟

مرزا ناصر : ہاں، جو مرزا صاحب نے لکھی ہیں جلدیں۔

اٹارنی جنرل : آپ تو کہتے ہیں کہ اٹھاسی کتابیں لکھی ہیں؟

مرزا ناصر : اوہو، یہی تو میں سمجھا رہا تھا۔ یہاں پچاس الماریوں سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہر نئی کتاب کی ایک ایک جلد کر کے اور وہ پچاس الماریاں بنائیں بلکہ آپ کی بھی اگر اتنی تعداد ہو جائے تو یہ ہے غصہ اٹھانے کے لیے۔

اٹارنی جنرل : نسبت تو بڑی جوڑی ہے اس پر ......

مرزا ناصر : اگر اٹھاسی سے زیادہ ہیں تو مجھے بھی بتائیں کہ میری فہرست میں جو کمی ہے، میں پوری کرلوں گا۔

اٹارنی جنرل : نہیں وہ چوبیس کتابیں یہاں ہیں اور رسالے اشتہارات وغیرہ۔

مرزا ناصر : چوبیس کتابوں میں سے یہ بھی کسی نے تکلیف گوارا کی کہ دیکھے کہ ان سو نسخے کی کتاب ہے جس قسم کا حوالہ ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب آپ دیکھیں، آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں الزام تراشی کر رہا ہوں۔ مہربانی کر کے مجھے سمجھنے کی کوشش کریں۔

مرزا ناصر : نہیں نہیں، میں ایک بات بتا رہا ہوں۔

اٹارنی جنرل : یہ ایک ایسے الفاظ آ گئے ہیں، ان میں سے ایک ایک کو دیکھا جائے۔ پچاس الماریاں بھر جائیں، یہ اشتہارات، رسالے، کتابیں، وہ اس قسم کا ذکر کرتے ہیں۔ صاف الفاظ میں جس سے پچاس کتابیں الماریاں بھر جاتی ہیں۔

مرزا ناصر : ٹھیک تو ہم سے پوچھیں کہ مطلب کیا ہے۔

صفحہ 181

اٹارنی جنرل : ہاں تو اسی لیے میں کہہ رہا ہوں کہ مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ عمر کا زیادہ حصہ انگریز کی تائید میں گزارا۔ پچاس الماریاں بھر گئیں اور باقی حصہ جو اللہ تعالیٰ کی تعریف میں گزارا، کتنی الماریاں بھریں؟ یہ سوال ہے جو آپ سے کوئی پوچھے گا۔

مرزا ناصر : ہر آدمی حق رکھتا ہے کہ یہ پوچھے اور میرا بھی حق ہے اور میرا یہ خیال ہے کہ مجھے بھی حق ہے کہ میں یہ بتاؤں۔

اٹارنی جنرل : ہاں جب مجھے یہ پوچھا گیا ہے تبھی میں آپ سے پوچھ رہا ہوں۔

مرزا ناصر : یہ جو ہے پچاس الماریاں بھر گئیں، اس کے لیے ضرور ہے کہ وہ تمام حوالے اکٹھے کر لیے جائیں جو بعض ایسے مسلمان جن کو غصہ آجاتا ہے، ان کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے، خلاف اسلام حرکات سے انہیں محفوظ کرنے کے لیے، جس کے نتیجے میں ملک میں امن پیدا ہو اور حکومت وقت کو پریشان نہ ہونا پڑے اور ان کے لیے امن و امان کا مسئلہ نہ ہو۔ حوالہ اس کے مقابلے میں۔ میں باقی سارے حوالے نہیں کہتا، صرف ایک عنوان لے کر حوالے اکٹھے کر کے آپ کو یہاں میں پیش کروا دوں گا۔ ان کی سطریں گن لیں، ان کے صفحات گن لیں، جس طرح ہو اپنی تسلی کرلیں۔ جو ایک دنیا نے تسلیم کیا ہے، جو تحریر ہے اس کے معنی کا حق، صرف اس کو حق ہے جو تحریر لکھتا ہے یا اس کو ماننے والے ہیں، اگر وہ مامور ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایک فقرہ لے کر مہدی موعود کی کتاب میں سے، اس کے اوپر سوال بنانا ہر طرح جائز ہے، ہر ایک کو حق ہے، جس کو سمجھ نہیں آتی، وہ سوال کرے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں ممکن ہے میں غلطی پر ہوں۔ میرا یہ حق ہے کہ میں پوری طرح جواب دوں۔

اٹارنی جنرل : نہیں جی، وہ میں نہیں کہتا۔

مرزا ناصر : تو یہ جواب جو ہے یہ جواب۔ آپ نے ابھی سوال کیا کہ جو کچھ ساری عمر کے بڑے حصے میں لکھ کر انگریز کی تائید میں پچاس الماریاں بھریں، اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول، اسلام اور اسلام کی، جو اس وقت بہت ضروریات تھیں اور اسلام کے جو مسائل تھے، اسلام کے لیے جدوجہد کرنا تھی اسلام کو غالب کرنے کے لیے جو منصوبے بنانے تھے ان کے لیے تو کوئی وقت ہی نہیں۔ پھر میں نے یہ بتایا ہے کہ ان کی آپس میں کیا نسبت ہے۔ اس نسبت کے لیے آپ مجھے وقت دیں، یہاں ہمارے اتنے بزرگ بیٹھے ہوئے ہیں، کسی کے سپرد کر دیں۔ لیکن یہ وعدہ کرتا ہوں کہ غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے آپ کو، میں ایک ایک لفظ Produce کردوں گا، جس کی طرف اشارہ ہے۔

اٹارنی جنرل : میں ایسا مسلمان نہیں ہوں، غصے کی بات نہیں ہے۔

مرزا ناصر : نہیں نہیں، اوہو، میں معافی چاہتا ہوں۔ نہیں نہیں، میرا یہ مطلب بالکل نہیں تھا، میرا یہ بالکل مطلب نہیں تھا، میرا مطلب یہ ہے اس وقت جن کے متعلق یہ خیال کیا گیا کہ کہیں غصے میں

صفحہ 182

آ کر خلاف ہدایت شریعت اسلام کی کوئی بات نہ کر بیٹھیں اور انگریز حکومت کے لیے بھی امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو جائے۔ وہ جو ان کے لیے لکھا گیا ہے، آپ کی تو بات ہی نہیں ہو رہی۔ آپ تو بڑے حلیم ہیں، میں بڑا ہوں ممنون آپ کا۔

اٹارنی جنرل : نہیں نہیں، انسان کمزور ہوتا ہے، آدمی سے کوئی غلط بات ہو جاتی ہے۔ میں اس کے لیے معافی چاہتا ہوں۔ اگر بات ہوئی ہو اور میرا یہ Insinuation نہیں ہے، صرف میرے سامنے جو سوال آئے ہیں..........ہاں ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر : میرا مطلب یہ ہے کہ جب موازنہ کریں گے تو پھر حقیقت واضح ہو گی۔ تو اس کی مجھے اجازت دیں، میں موازنہ کر دوں۔

اٹارنی جنرل : میں تو یہ کہتا ہوں مرزا صاحب کہ آپ نے کہا، انہوں نے اٹھاسی کتابیں لکھی ہیں۔ اب اٹھاسی کتابیں تو پچاس الماریاں نہیں بھرتیں۔

مرزا ناصر : نہیں آتیں۔

اٹارنی جنرل : یہ ایک الماری کی چیز ہے۔

مرزا ناصر : اگر ایک ایک رکھی جائے تو نہیں آتیں۔

اٹارنی جنرل : یعنی عام نارمل ہے۔ اور اس کا مطلب ہے کچھ اور ہے، کچھ اور کتابیں ہیں جو پچاس الماریوں میں آتی تھیں۔

مرزا ناصر : مطلب کچھ اور ہے۔

اٹارنی جنرل : نہیں میں یہ کہتا ہوں کہ عام آدمی یہ اندازہ کرتا ہے کہ مرزا صاحب نے پچاس الماریاں وہاں بھر دیں، انگریز کی تائید و تعریف میں۔ زندگی کا زیادہ حصہ اسی میں گزارا اور کچھ یہ کتابیں بھی لکھ دیں باقی جو حصہ زندگی کا رہ گیا تھا، وہ پچاس الماریوں کا نہیں تھا جو اللہ تعالیٰ کی تعریف میں، تو اس کے بعد کوئی زیادہ Evidence کی ضرورت نہیں ہے تو آپ بتائیں گے؟

مرزا ناصر : نہیں نہیں زیادہ کی ضرورت وہ ہے کہ وہ لکھا ایک سمندر خدا تعالیٰ کے کلام کا تفسیر جس کا ایک انسان کی زندگی میں میرے جیسے کی، پوری طرح اس کو احاطہ کرنا، اس کے مطالب کو سمیٹنا اور اپنا لینا، ادراک کے ذریعے، وہ بھی ممکن نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب کل بھی میں نے ایک سوال پوچھا تھا۔

مرزا ناصر : وہ اس کے جواب میں کل والے کے۔

اٹارنی جنرل : نہیں نہیں، وہ شاید آپ کے پاس ہو۔ ایک اور جواب ہے، ایک اور سوال تھا۔ میں نے آپ سے عرض کی تھی کہ مرزا محمود کی جو کتاب ہے "True Islam" جو لیکچر ہے، اس میں وہ

صفحہ 183

فرماتے ہیں ”قرآن شریف میں جو خزانے تھے چھپے ہوئے وہ مرزا صاحب باہر لے آئے۔ ان کو ظاہر کیا دنیا پر' جو 1300 سال تک ظاہر نہیں تھے۔“ میں نے عرض کیا تیرہ سو سال میں قرآن شریف کی کونسی آیات تھیں جن کی کوئی ایسی توجیہ نہیں تھی جو مرزا صاحب نے ظاہر کی۔ مگر دو تین عنوانات کو چھوڑ کر وہ آیات' عنوانات' ان کی نبوت کو کسی طریقے سے ثابت کرنے کا تعلق ہو' وہ عنوانات کسی مسیح موعود آنے کا......

مرزا ناصر : ہاں ہاں' مجھے یاد ہے وہ سوال۔

اٹارنی جنرل : یا جہاد' ان کو چھوڑ کر باقی کونسی جگہ انہوں نے تفسیر کی جو کہ کسی نے پہلے نہیں کی تھی؟ آپ نے فرمایا ہے کہ ایک سورۃ فاتحہ پر' انہوں نے اس کی تفسیر کی ہے ستر فیصد' اس کی پہلے نہیں تھی۔

مرزا ناصر : بالکل نیا۔

اٹارنی جنرل : پہلی دفعہ مرزا صاحب نے کیا۔ ان میں سے صرف ایک آیت آپ بتا دیں کہ کیا کیا ہے' جو پہلے نہیں تھا کیونکہ بہت بڑی چیز ہو جاتی ہے۔ صرف ایک کو Select کر لیں کہ انہوں نے یہ چیز کہی جو تیرہ سو سال میں پہلے کسی نے نہیں کہی۔

مرزا ناصر : یہ میں بتا دوں گا' پڑھ دوں گا۔ اگلے سیشن میں لے آ کے پڑھ دوں گا۔

اٹارنی جنرل : پھر اسی خط میں فرماتے ہیں ”دوسرا قابل گزارش یہ کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک' جو تقریباً ساٹھ سال کی عمر تک پہنچا ہوں' اپنی زبان سے' قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیا کی محبت' خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں عمر بھر اور پھر ان سے آخر میں ایک اور بھی گزارش کرتا ہوں۔“

مرزا ناصر : اس کا حوالہ کیا ہے؟

اٹارنی جنرل : اسی لیٹر سے اس کے خلاصہ میں پڑھ رہا ہوں' کیونکہ وہ بہت لمبا ہے۔

مرزا ناصر : ہاں ہاں ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : پھر آخر میں التماس کرتے ہیں۔ ”صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو 50 برس کے متواتر تجربے سے ایک وفادار اور جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ محکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریز کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت عظیم' احتیاط اور تحقیق وتوجہ سے کام لے۔ اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو خاص عنایت اور مہربانی کی نظر

صفحہ 184

سے دیکھے کیونکہ میرے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا۔ اب یہ فرق ہے لہذا ہمارا حق ہے کہ خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصیت کی توجہ کی درخواست کریں تاکہ ہر شخص بے وجہ ہماری آبروریزی کے لیے دلیری نہ کر سکے اور کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتا ہوں.........‘‘ (”کتاب البریہ“ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 350‘ ج 13) تو مرزا صاحب یہاں ایک خودکاشتہ پودا انگریز سے کہہ رہے ہیں‘ یہ کن کی طرف اشارہ ہے؟

مرزا ناصر : اپنے اس خاندان کی طرف جو پہلے گزر چکا ہے۔

اٹارنی جنرل : یا جماعت کی طرف؟

مرزا ناصر : نہیں نہیں‘ جماعت نے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک دھیلہ کبھی انگریز سے نہیں لیا‘ نہ کبھی جماعت نے چار مربع زمین لی‘ جو بعض دوسرے علماء نے اس وقت لی......

اٹارنی جنرل : مربعوں سے تو کسی کو......

مرزا ناصر : دیکھیں نا یہ جو اس کے آخری فقرے ہیں‘ وہ خود اپنا جواب ہیں۔

اٹارنی جنرل : دونوں چیزیں ہیں مرزا صاحب‘ میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔ میں نہیں کہتا کہ میں ٹھیک سمجھ رہا ہوں‘ اسی وجہ سے میں وضاحت چاہتا تھا کہ وہ خاندان کا ذکر کرتے ہیں اور بہت زیادہ ذکر کرتے ہیں۔

مرزا ناصر : مطالبہ کیا کرتے ہیں؟

اٹارنی جنرل : ساتھ ہی کہہ رہے ہیں۔

مرزا ناصر : نہیں‘ مطالبہ کیا کرتے ہیں‘ لوگ ہماری بے عزتی نہ کیا کریں۔

اٹارنی جنرل : التماس ہے‘ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت۔

مرزا ناصر : ہاں آگے پڑھیں۔

اٹارنی جنرل : جس کو پچاس برس کے متواتر تجربے سے ایک وفادار اور جان نثار خاندان ثابت کرچکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ محکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریز کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ یہ تو......

مرزا ناصر : کیا مطالبہ ہے؟

اٹارنی جنرل : اور پھر کہتے ہیں کہ اس خودکاشتہ پودے کی نسبت نہایت عظیم احتیاط‘ تحقیق وتوجہ سے کام لے‘ اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت.......

صفحہ 185

مرزا ناصر : مجھے اور میری جماعت کو کیا کریں؟ آگے تو پڑھیں۔

اٹارنی جنرل : میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔

مرزا ناصر : آگے پڑھیں۔

اٹارنی جنرل : تو مرزا صاحب کا خود کاشتہ پودا......

مرزا ناصر : نہیں نہیں، آگے اس کا جواب ہے۔

اٹارنی جنرل : میرے خاندان نے سرکار انگریز کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور اب نہ فرق ہے، لہٰذا ہمارا حق ہے کہ خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصیت کی توجہ کی درخواست کریں تا کہ ہر شخص بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لیے دلیری نہ کر سکے۔

مرزا ناصر : بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لیے دلیری نہ کر سکے، یہ مطالبہ ہے۔

اٹارنی جنرل : نہیں، نہ کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتے ہیں۔

مرزا ناصر : ہاں ہاں، وہ تو بعد کی بات ہے، صرف ساری تمہید کا مطلب یہ ہے کہ بلاوجہ کوئی ہماری آبرو ریزی نہ کر سکے۔

اٹارنی جنرل : اپنے خاندان کے لیے تحفظ چاہتے ہیں، گورنمنٹ سے؟

مرزا ناصر : بے عزتی نہ کرے کوئی۔

اٹارنی جنرل : وہی میں کہتا ہوں کہ تحفظ چاہ رہے ہیں؟

مرزا ناصر : اٹارنی جنرل No, No نہیں، تحفظ بہت وسیع ہے۔

اٹارنی جنرل : مہربانی اور عنایت چاہتے ہیں؟

مرزا ناصر : مہربانی؟ وہ تو شکر گزار دماغ ہے، اس چیز کا کہ کوئی بلاوجہ ہماری آبرو ریزی نہ کر سکے۔ اسے اتنی مہربانی سمجھتے ہیں کہ اس نے کر دی۔ یہ تو شان کا ہے۔ یہاں اعتراض کا کوئی موقع نہیں......

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نہیں......

مرزا ناصر : مربے مانگے، کوئی پیسے لیے، رعایتیں لیں، کوئی نوکریاں مانگیں......

اٹارنی جنرل : نہیں نہیں، میں سمجھتا ہوں آپ کا یہ خیال ہے کہ انگریز گورنمنٹ انصاف کی حکومت تھی، ظلم نہیں ہوتا تھا، انصاف ہوتا تھا، عدالتیں تھیں، انصاف تھا، قانون کی حکمرانی تھی، دین کے معاملے میں دخل نہیں دیتے تھے۔

مرزا ناصر : پھر بھی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

صفحہ 186

اٹارنی جنرل : پھر اتنے زیادہ خاندانی خدمات اور خوشامد کی کیا ضرورت تھی؟ چونکہ اتنی خدمت کی ہے اتنی ہم نے آپ کی تعریف کی ہے‘ ہمارے خاندان نے اتنا کام کیا ہے۔

چیئرمین : چھ بجے شام تک ملتوی۔

چھ بجے اجلاس دوبارہ سپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب‘ میں وہ مرزا غلام احمد کا خط پڑھ رہا تھا‘ جو انہوں نے گورنمنٹ کو لکھا۔ یہاں سوال یہ تھا کہ اس کو خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت احتیاط اور تحقیق سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے۔ وہ اس خاندان کی ایک ثابت شدہ وفاداریوں‘ اخلاق کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت کی نظر سے دیکھیں۔

مرزا ناصر : یہ خاندان کی طرف اشارہ ہے۔

اٹارنی جنرل : مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت کی نظر سے دیکھیں۔ کچھ اس کے بارہ میں فرمایا ہوتا۔ اس کے بارے میں وضاحت دیں۔ خود کاشتہ پودا سے مراد وہ جماعت ہے یا خاندان یا مرزا صاحب خود؟ آپ نے فرمایا کہ خاندان کی طرف اشارہ ہے مگر یہ سوال آ جاتا ہے کہ آپ کا خاندان پرانا خاندان ہے۔ سمرقند سے مرزا صاحب کے بزرگ آئے تھے۔ انگریز کا یہ خود کاشتہ پودا نہیں ہوسکتا۔ دوسرا یہ کہ مرزا صاحب کے بارے میں علماء یہ نہیں کہہ سکتے کہ انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا۔ اب صرف جماعت رہ جاتی ہے کہ وہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہو۔

مرزا ناصر : آپ نے الجھا دیا۔

اٹارنی جنرل : میں صرف اپنا سوال واضح کرتا ہوں‘ یہ جو ہے خود کاشتہ پودا‘ یہ خاندان پر لاگو نہیں ہوتا۔ مغل فیملی مشہور فیملی خوشحال خاندان انگریز سے قبل کا۔ دوسرے یہ مرزا صاحب پر بھی لاگو نہیں ہوسکتا ماسوائے جماعت کے یہ انگریز کے زمانہ میں وجود میں آئی۔ اس پر خود کاشتہ پودا لاگو ہوتا ہے کہ یہ انگریز نے بنائی یا بنوائی۔ اس کو دور کرنے کے لیے آپ وضاحت کریں۔ گورنمنٹ محسنہ‘ اسے مرزا صاحب لکھتے ہیں‘ یہ کیسے محسن تھی؟

مرزا ناصر : من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ ، جو شخص لوگوں کا شکر گزار نہیں‘ وہ خدا کا بھی شکر گزار نہیں۔

اٹارنی جنرل : صلیب پرست‘ تاج پر صلیب کا نشان لگانے والا‘ مسلمانوں کا دشمن انگریز‘ جس نے ہزارہا نہیں لاکھوں مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپایا اس کا شکریہ..... مرزا صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اور میری جماعت کو خاص عنایت کی نظر سے دیکھیں۔ مسیح اور جماعت کے لیے انگریز کی نظر عنایت کے طالب ہیں۔

صفحہ 187

مرزا ناصر : خاندان نے یہ خدمات سرانجام دیں‘ ان کی خاطر خون بہایا‘ امداد دی‘ اب اس کا تقاضا ہے کہ مجھے اور میری جماعت کو خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔

اٹارنی جنرل : آگے لسٹ دی ہے‘ وہ لسٹ خاندان کی ہے یا جماعت کے افراد کی‘ جن پر نظر عنایت کی درخواست کر رہے ہیں‘ محسن گورنمنٹ سے منتوں خوشامدوں کے ساتھ؟

مرزا ناصر : حکومتیں کبھی اپنے فرائض بھول جاتی ہیں۔ مطالبہ یہ کیا ہے انگریز حکومت سے کہ ہماری آبروریزی نہ ہو۔

اٹارنی جنرل : ایک تو یہ دیکھیں کہ عیسائیوں کے خلاف جو لکھا وہ وحشی مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اور انگریز حکومت کے استحکام وبقا کے لیے۔ دوسرا یہ کہ مہدی اور مسیح نے سور کو ختم کرنا تھا‘ صلیب کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا تھا۔ یہ انگریز جو صلیب لے کر آیا یا سور کو پالنے والا اور کھانے والا ہے‘ وہ کہتے ہیں اس کی اطاعت کرو۔ ایران‘ مصر‘ افغانستان تک اس کی تائید وحمایت کرتے ہیں‘ تو اصل مہدی اور مسیح اور مرزا صاحب میں کتنا فرق ہے!

مرزا ناصر : نواب صدیق حسن خان اور دوسروں نے انگریز کی حمایت نہیں کی؟

اٹارنی جنرل : لوگوں نے انگریز کی حمایت کی‘ اس لیے مرزا نے بھی کی۔ چلو مگر آگے ایک اور سوال آجاتا ہے۔ لکھتے ہیں ”چوتھی گزارش یہ ہے کہ جس قدر لوگ میری جماعت میں داخل ہیں‘ اکثر ان میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدوں پر فائز اور ملک کے نیک نام رئیس ان کے خدام احباب یا تاجر یا وکلاء یا نو تعلیم یافتہ انگریزی خواں اور ایسے نیک نام علماء اور فضلاء ہیں۔“ (”کتاب البریہ“ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 348-349‘ ج 13) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ عجیب نبی ہے جو بڑے بڑے آدمیوں کو پسند کرتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ میں بڑے بڑے آدمیوں کا نبی ہوں۔

مرزا ناصر : مگر وہ کتنے تھے؟

اٹارنی جنرل : یہ تو آپ بتائیں گے مگر یہاں ایک اور بھی سوال آجاتا ہے کہ مرزا صاحب کے ماننے والے اکثر انگریز حکومت کے ملازم تھے۔ یہ حکومتی سرپرستی میں قادیانی جماعت میں شمولیت زیر نظر رہے۔

مرزا ناصر : مگر عیسائیوں کی مخالفت بھی تو کی۔

اٹارنی جنرل : عیسائی مبلغین کی مخالفت اور عیسائی حکومت کی تائید۔

مرزا ناصر : مگر عیسائیوں کو جس طرح ہم نے زچ کیا‘ اس کی تفصیل آپ کو معلوم ہو تو آپ حیران ہوں گے۔

اٹارنی جنرل : آپ تحریری بیان داخل کرادیں‘ ویسے یہ موضوع سے غیر متعلق ہے۔

صفحہ 188

چیئرمین : کل شام ساڑھے پانچ بجے تک کے لیے اجلاس ملتوی۔

23-اگست 1974ء کی کارروائی

نیشنل اسمبلی آف پاکستان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس شام ساڑھے پانچ بجے زیر صدارت صاحبزادہ فاروق علی خاں منعقد ہوا۔

صاحبزادہ صفی اللہ : جناب چیئرمین، آپ توجہ فرمائیں کہ گواہ ہیرا پھیری سے کام لے رہا ہے۔ ادھر ادھر کی، غیر متعلقہ باتوں میں وقت ضائع کرتا ہے۔ اسے شارٹ کٹ راستے سے جواب دینے کا پابند کیا جائے۔

چیئرمین : اٹارنی جنرل صاحب نوٹ کریں۔ دس دن سے جو پروسیجر چل رہا ہے، دیکھیں کہ آخری مرحلہ پر کیا کرنا ہے۔

ملک سلیمان : جناب چیئرمین، ہمیں اس کمیٹی کی کارروائی کی 3 کاپیاں ملی ہیں 5، 6 اور 10 اگست کی۔ اس میں لکھا ہے پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیشن کی کارروائی کی رپورٹ، جس کا اجلاس ”احمدیہ مسئلہ“ پر غور کرنے کے لیے بند کمرہ میں ہوا۔ یہ احمدی مسئلہ نہیں ہے، یہ قادیانی مسئلہ ہے۔ اس کی تصحیح کی جائے۔ اس سے بہت سی خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔ یہ قادیانی مسئلہ ہے۔ اسے قادیانی سے ٹریٹ کی جائے۔ یہ ہم نے کبھی فیصلہ نہیں کیا کہ یہ احمدی مسئلہ ہے۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی : کیونکہ ریزولیوشن دو پیش ہوئے ایک ہماری طرف سے تھا، اس میں قادیانی لکھا ہوا ہے، اس لیے ملک صاحب صحیح فرما رہے ہیں۔

چیئرمین : وفد کو بلا لیں۔ (بلا لیا گیا)

اٹارنی جنرل : جی مرزا صاحب۔

مرزا ناصر : یہ ہماری تاریخ کا اہم زمانہ ہے۔ سائمن کمیشن، سر فرانس ینگ ہینڈ کی صدارت میں ہمارے خلیفہ ثانی نے جلسہ کیا لندن میں، عربوں کے حق میں۔ چودھری ظفر اللہ خان مسلم لیگ کے باؤنڈری کمیشن میں وکیل تھے۔ کشمیر کمیٹی، وہ کونسا کام ہے، جس میں ہم شریک نہیں تھے؟ آج ہمیں مطعون کیا جا رہا ہے لیکن ہماری تاریخ پر تو نظر ڈالیں، آپ کو قدم قدم پر ہماری خدمات کا سنہرا دور نظر آئے گا۔

صفحہ 189

اٹارنی جنرل : وہ فرقان فورس کیا ہے؟

مرزا ناصر : ہمارے رضا کاروں کی تنظیم جس نے کشمیر میں رضا کارانہ خدمات سرانجام دینا تھیں۔ کشمیر کمیٹی کے سربراہ ہمارے دوسرے خلیفہ تھے۔

اٹارنی جنرل : آزادی کی جدوجہد میں باؤنڈری کمیشن کا مرحلہ آتا ہے۔ جسٹس منیر صاحب کے حوالہ سے ظفر اللہ خان کی بڑی خدمات ہیں۔ وہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ مسلم لیگ کے وکیل تھے لیکن جسٹس منیر صاحب جو باؤنڈری کمیشن کے رکن تھے، انہوں نے ”پاکستان ٹائمز“ میں 24 جون 1964ء کو آرٹیکل لکھے۔ ان میں یہ بھی تھا۔ ”پاکستان ٹائمز“ 21 جون 1964ء ”میرے یادگار دن“ معاملہ کے اس حصہ کے متعلق میں ایک نہایت ہی ناخوشگوار واقعہ کا ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مجھے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئی کہ احمدیوں نے الگ عرضداشت کیوں دی تھی؟ اس قسم کی عرضداشت کی ضرورت تبھی ہو سکتی تھی، جب احمدی مسلم لیگ کے نقطۂ نظر سے متفق نہ ہوتے، جو کہ ایک بذات خود افسوسناک صورت حال ہوتی۔ ہو سکتا ہے کہ اس طرح احمدی مسلم لیگ کے نقطۂ نظر کی تائید کرنا چاہتے ہوں مگر ایسا کرتے ہوئے انہوں نے گڑھ شنکر کے مختلف حصوں کے بارے میں اعدادوشمار دیئے، جن سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ بین دریا اور بستر دریا کے مابین کا علاقہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے اور یہ بات اس تنازعہ کی دلیل بنتی تھی کہ اگر اچ دریا اور بین دریا کا درمیانی علاقہ ہندوستان کو مل جائے تو بین دریا اور بستر دریا کا درمیانی علاقہ خود بخود ہندوستان کو چلا جاتا ہے جیسا کہ ہوا۔ احمدیوں نے جو رویہ اختیار کیا تھا، وہ ہمارے لیے گورداسپور کے بارے میں خاصا پریشان کن ثابت ہوا۔“

مسلمان 51 فیصد تھے، ہندو 49 فیصد، احمدی دو فیصد۔ جب یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے تو مسلمان 51 فیصد کی بجائے 49 فیصد ہو گئے۔ اس سے گورداسپور جاتا رہا اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ آپ کہتے ہیں کہ ہم نے لیگ سے تعاون کیا مگر یہ قضیہ تو عجیب سا لگتا ہے۔

مرزا ناصر : جسٹس منیر صاحب نے اپنی رپورٹ میں ظفر اللہ خان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ اب اس کے 17 سال بعد جب وہ بوڑھے ہو گئے تو یہ بیان دے دیا۔ وہ بوڑھے ہو چکے تھے، باؤنڈری کمیشن کے یہ جج تھے۔ پہلے خراج تحسین اور اب یہ شکوک۔ 17 سال کی خاموشی کے بعد جب وہ کافی بوڑھے ہو چکے تھے، شاید ممکن ہے بڑھاپے کی وجہ سے جو بات جوانی سے سمجھ آئی ہو، وہ بڑھاپے میں نہ سمجھ آئی ہو۔

اٹارنی جنرل : یہ اچھا جواب ہے۔ خیر میں صرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا تھا مگر علیحدہ یادداشت کیوں دی۔

مرزا ناصر : مسلم لیگ کی اجازت سے۔ ان کا جو وقت تھا، اس سے وقت ملا، ہمیں اپنے موقف

صفحہ 190

کے لیے۔

اٹارنی جنرل : یہ بات اور معاملہ کو پیچیدہ کر رہی ہے۔ مسلم لیگ کی وکالت ظفر اللہ کر رہے تھے۔ وہی وقت دینے کے مجاز تھے۔ انہوں نے آپ کو مسلم لیگ کے وقت میں سے وقت دے دیا۔ یہ تو اور خطرناک بات ہے کہ مسلم لیگ کے وقت سے آپ کے آدمی نے وقت دیا۔ آپ نے علیحدہ عرضداشت پیش کر کے مسلم لیگ کے کیس کو کمزور کر دیا۔ اگر آپ نے کیس کمزور کیا، ظفر اللہ خان چودھری کی اجازت سے تو چودھری صاحب نے لیگ کے کیس کے ساتھ کیا کیا ہوگا؟

مرزا ناصر : اپنے ایک محسن کے متعلق یہ رائے، آپ کی مرضی ہے، جس نے آپ کو پاکستان لے کر دیا۔

اٹارنی جنرل : ابھی چودھری ظفر اللہ خان نے لندن میں ایک بیان دیا، جو اخبارات میں بھی شائع ہوا۔ اس نے انٹرنیشنل ریڈ کراس، حقوق انسانی کے بین الاقوامی کمیشن سے اپیل کی کہ پاکستان میں احمدیوں پر ظلم ہو رہا ہے، وہ وہاں جائیں۔ ایسا کوئی بیان آپ کے علم میں ہے؟

مرزا ناصر : بعض افسروں کی زبانی تو میں نے سنا، لیکن اگر نقل ہو تو مجھے دے دیں۔

اٹارنی جنرل : یہ نقل تو آپ لیں مگر میں اور سوال کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے انٹرنیشنل باڈیز سے اپیل کی، آپ کے علم میں ہے؟

مرزا ناصر : سنا ہے مگر کب اپیل کی؟

اٹارنی جنرل : واقعہ ربوہ کے بعد۔ میں خود کہتا ہوں کہ احمدیوں پر اگر ظلم ہو تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اگر یہ ربوہ میں مسلمانوں پر ظلم کریں تو ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ تمام کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مگر میرا سوال یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم ہوتا رہتا ہے، آپ بھی تسلیم کرتے ہیں؟

مرزا ناصر : بالکل ہوا ظلم۔

اٹارنی جنرل : تو کیا چودھری صاحب نے ان ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں کبھی انٹرنیشنل باڈیز سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان جا کر ہندوؤں کے ظلم کو اور انڈیا کے مسلمانوں کی مظلومیت کو دیکھیں۔ کوئی پریس کانفرنس کی؟ انٹرنیشنل ایمنسٹی، انٹرنیشنل ریڈ کراس، انٹرنیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق سے کوئی اپیل کی کہ وہاں ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، یا وہ صرف احمدیوں کا ہی سوچتے ہیں؟

مرزا ناصر : اس سوال کا جواب صرف چودھری ظفر اللہ خان صاحب دے سکتے ہیں، میں نہیں دوں گا۔

صفحہ 191

اٹارنی جنرل : آپ فرما رہے تھے کہ وہ مسلمانوں کے محسن ہیں۔ مرزا بشیر احمد نے ”کلمۃ الفصل“ میں لکھا ہے کہ مرزا صاحب کو نبوت تب ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کا قدم پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔ (”کلمۃ الفصل“ ص 113)

مرزا ناصر : من تو شدم تو من شدی والی بات ہے۔ سورج کا عکس آئینہ میں پڑتا ہے، تو وہی بات ہے۔ مرزا صاحب کوئی علیحدہ چیز نہیں تھے، یہ حضور علیہ السلام کے کمالات کا عکس کامل اور ظل کامل تھے۔ وہ اس حقیقت کو ان الفاظ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ حضور علیہ السلام تمام نبیوں کا تاج تھے۔ جب ان کا عکس مسیح موعود میں آیا تو وہ بھی عکس کامل ہو گئے۔ عکس اس طرح کامل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا، یہ ساری دلیلیں دے کر نتیجہ نکالا، بس میں اتنا جواب دوں گا۔

اٹارنی جنرل : خاتم النبیین کا معنی آپ کرتے ہیں مہر کا یعنی اب آپؐ کی مہر سے نبی بنیں گے تو اس لحاظ سے حضور علیہ السلام گزشتہ انبیاء کے خاتم نہ ہوئے بلکہ اپنے بعد آنے والوں کے خاتم النبیین ہوئے۔ حالانکہ یہ بات قرآنی منشاء کے خلاف ہے۔ قرآن کی منشاء تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گزشتہ انبیاء کے لیے خاتم النبیین ہیں، آئندہ کی بات نہیں ہے اس میں۔

مرزا ناصر : یہ تو آپ کا ویو پوائنٹ ہے، ہمارا اس کے خلاف ہے۔

اٹارنی جنرل : پھر آپ کہتے ہیں کہ آئندہ صرف ایک مرزا غلام احمد پر آپؐ کی مہر لگی یعنی وہی نبی بنے اور کوئی نہیں۔ اس اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبی ہوئے خاتم النبیین نہ ہوئے۔

مرزا ناصر : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگلے پچھلے سب کے لیے خاتم ہیں۔

اٹارنی جنرل : مرزا غلام احمد کے بعد آپ کی جماعت میں بھی کچھ لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا؟

مرزا ناصر : ہماری جماعت میں بھی شامل کچھ پاگل لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

اٹارنی جنرل : جب مرزا غلام احمد کہتے ہیں ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں نبوت کی ایک کھڑکی کھلی ہے، تو پھر وہ بھی اس راستے سے نبوت کا دعویٰ کرنے لگے۔ مجھے آٹھ نو آدمیوں کی لسٹ دی گئی ہے جو آپ کی جماعت کے ہیں اور جنہوں نے مرزا غلام احمد کی دیکھا دیکھی، صحبت سے فیض یاب ہو کر نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ ان میں ایک چراغ دین جمونی بھی ہے۔ مرزا صاحب اس کے بارے میں لکھتے ہیں ”نفس امارہ کی غلطی نے اس کو خود ستائی پر آمادہ کیا ہے۔ پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے، جب تک مفصل طور پر اپنا توبہ نامہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعویٰ سے ہمیشہ

صفحہ 192

کے لیے مستعفی نہ ہو جائے۔“ (”دافع البلاء“ ص 22‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 242‘ ج 18)

مرزا ناصر : یہ ایسا کام تھا۔ یہ شخص جس نے ایسے کہا، اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت نازل ہوئی اور وہ بھی ظالموں میں سے ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : اس کو مستعفی ہونے کا موقع نہ دیا؟

مرزا ناصر : جی؟

اٹارنی جنرل : نبوت سے استعفیٰ دینے کا موقع نہیں دیا؟

مرزا ناصر : اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آ گیا۔ ویسے یہ بڑا سنجیدہ مسئلہ ہے، اس میں تمسخر اور ہنسی کی بات نہیں آنی چاہیے۔

اٹارنی جنرل : کھڑکی تو ایک تھی، جس سے چراغ دین اور مرزا صاحب آئے مگر آپ فرق کر رہے ہیں۔ چلو، یہ ”چشمہ معرفت“ ہے۔ اس میں مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ ”یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو کامل سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس کو ہر قسم کے دین پر غالب کرے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے، چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا، ممکن نہیں، خدا کی پیشگوئی میں کوئی تخلف ہو، اس لیے اس آیت میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں آئے گا۔“ (”چشمہ معرفت“ ص 83‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 91‘ ج 23)

مرزا ناصر : یہ تمام اہل سنت، شیعہ، سب میں یہ بات مسلم ہے۔ آپ کیا نئی بات کر رہے ہیں؟ یہ تو سب کا عقیدہ ہے۔

اٹارنی جنرل : اگر مرزا صاحب مسیح موعود تھے تو وہ غلبہ مرزا صاحب کی صورت میں دنیا میں سارا کامل غلبہ ہو گیا؟

مرزا ناصر : تین سو سال میں مسیح موعود کی آمد کے بعد ہو جائے گا۔

اٹارنی جنرل : حضور علیہ السلام کے 23 سال میں نہیں ہوا، مرزا صاحب کے تین سو سال میں ہو جائے گا؟

مرزا ناصر : ہو جائے گا۔ یہ تمام امت کا عقیدہ ہے۔

اٹارنی جنرل : امت کا تو عقیدہ ہے کہ مرزا صاحب مسیح موعود نہیں تھے، اس لیے غلبہ نہیں ہوا، یا غلبہ نہیں ہوا۔ اس لیے مسیح موعود نہیں تھے۔ یہ بات تو اس طرح صاف نظر آ رہی ہے۔

مرزا ناصر : یہ جو تمام دین کا کام امریکہ، افریقہ میں ہم کر رہے ہیں، غلبہ کی طرف ہی رواں دواں ہیں۔ آپ انتظار کریں۔

صفحہ 193

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب مہدی سوڈانی کا زمانہ کیا تھا؟

مرزا ناصر : وہ میں نے دیکھ لیا، 1885ء میں ان کا انتقال ہوا۔

اٹارنی جنرل : مرزا غلام احمد کی پیدائش 1840ء میں تھی، آپ کے بقول تو ان کا زمانہ ایک ہوا۔ اچھا مرزا صاحب کو نبوت یکلخت ملی یا بتدریج ملی۔ کیا کسی اور کو تدریجاً نبوت ملی؟ یہ سوال ہزاروی صاحب کا ہے۔

مرزا ناصر : ساری کائنات کا نظام تدریج پر ہے، بچہ بننے سے فوت ہونے تک تدریجی مدارج ہیں۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب کو کہا گیا کہ تم نبی ہو مگر وہ اپنے آپ کو نبی نہ کہتے تھے؟

مرزا ناصر : یہ الگ بات ہے۔ وہ اپنے آپ کو علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل پہلے قرار دیتے تھے۔

اٹارنی جنرل : اللہ میاں نے آپ کو واضح نہیں کیا کہ آپ نبی ہیں؟

مرزا ناصر : نہیں، اس میں کچھ تمسخر آ جاتا ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب میں تمسخر نہیں کر رہا۔ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ ”پہلے میں سمجھتا تھا کہ میں نبی نہیں ہوں، لیکن خدا تعالیٰ کی متواتر وحی نے مجھے اس خیال پر نہ رہنے دیا۔“ (”حقیقت الوحی“ ص 149-150، مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 153-154، ج 22) نبی تو سب سے پہلے اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے، یہ اپنی نبوت کا انکار کرتے ہیں، پھر اقرار؟

مرزا ناصر : میں اس حوالہ کے ان معانی سے انکار کرتا ہوں۔ تدریجاً گندم کے دانے سے ہیرے کی بناوٹ تک کیا یہ تدریج نہیں؟ آپ اسے کیا نام دیں گے؟

اٹارنی جنرل : یہ اربعین نمبر 2، ص 27 مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 369، ج 17 میں ہے کہ ”یہ الہامات اگر میری طرف سے اس موقع پر ظاہر ہوتے جبکہ علماء مخالف ہو گئے تھے، وہ لوگ ہزارہا اعتراض کرتے لیکن ایسے موقع پر شائع کیے گئے جبکہ یہ علماء ہمارے موافق تھے۔ یہی سبب ہے باوجود اس قدر جوشوں کے ان الہامات پر انہوں نے اعتراض نہیں کیا۔ چونکہ وہ ایک دفعہ ان کو قبول کر چکے تھے اور سوچنے سے ظاہر ہوگا کہ میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی بنیاد انہی الہامات سے پڑی ہے اور انہی میں میرا نام خدا نے عیسیٰ رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آیات تھیں...... وہ میرے حق میں بیان کر دیں۔ اگر علماء کو خبر ہوتی کہ ان الہامات میں اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ انہوں نے قبول کر لیا اور اس پیچ میں پھنس گئے۔“ اس عبارت سے جو مجھے تاثر ملتا ہے، آپ سمجھیں گے کہ گستاخی کر رہا ہوں کہ وہ ان پر آیات آئی ہوں گی۔ ان کو علم ہو گیا ہو گا لیکن جن علماء کا

صفحہ 194

ان کو پہلے خطرہ تھا کہ مخالفت کریں۔’ کچھ مدت یہ خاموش رہے‘ ان کو جب قائل کر لیا‘ بیچ میں پھنسا لیا‘ اس کا کیا مطلب ہے؟

مرزا ناصر : آپ نتیجہ نہ نکالیں۔

اٹارنی جنرل : میری تو ڈیوٹی ہے نا۔

مرزا ناصر : نہیں‘ نتیجہ نہ نکالیں۔

اٹارنی جنرل : یہ تاثر ہے کہ ان پر آیات آچکیں‘ الہامات آچکے تھے۔

مرزا ناصر : ٹھیک ہے‘ چیک کرلیں گے۔

اٹارنی جنرل : مصلحتاً انہوں نے مناسب نہیں سمجھا۔

مرزا ناصر : کل کے لیے بنیاد پڑ گئی۔

اٹارنی جنرل : لاہوری پارٹی نے کچھ حوالہ جات دیے ہیں مرزا صاحب کے‘ آپ کو ان کا محضر نامہ دیا تھا‘ ان کے متعلق فرمائیں۔

مرزا ناصر : ان پر میں تبصرہ نہیں کرنا چاہتا‘ ان کا محضر نامہ رکھ سکتے ہیں یا واپس کردیں؟

اٹارنی جنرل : واپس کردیں۔

مرزا ناصر : نکالو جی۔

اٹارنی جنرل : سرکاری ریکارڈ ہے۔

مرزا ناصر : یہ وہاں رہ گیا ہے‘ کل صبح انشاء اللہ پیش کردیں گے۔

اٹارنی جنرل : ہاں ٹھیک ہے۔ ایک سوال ہے کہ مرزا غلام احمد نے گورداسپور کی عدالت میں یہ لکھ کر دیا تھا کہ وہ آئندہ اپنے مخالفین کے خلاف ایسے الہامات شائع نہیں کریں گے جس سے ان کے مخالفین کی موت و تباہی کا ذکر ہو یا ان کی بدکلامی سمجھی جائے۔

مرزا ناصر : کوئی اور سوال۔

اٹارنی جنرل : جنگ آزادی کے متعلق۔

مرزا ناصر : ناحق لوگوں کی جانیں ضائع کیں‘ چوریاں ڈاکے ہوئے۔

اٹارنی جنرل : تحریک آزادی ہو یا تحریک پاکستان‘ ہر تحریک میں یہ ہوا۔ مگر یہ تحریک کے قائدین نے نہیں کیا۔ جو لوگ تحریک کی آڑ میں ایسے کرتے ہیں‘ ان کو بنیاد بنا کر تحریکوں کے قائدین کو چور‘ حرامی‘ قزاق کہنا کیسے درست ہے؟

مرزا ناصر : تحریکوں میں جو یہ ہوا تو پھر؟

اٹارنی جنرل : ہوا مگر قائدین کی غلطی نہ تھی۔

صفحہ 195

مرزا ناصر : میں سوال نہیں سمجھا۔

اٹارنی جنرل : اسلام لڑائی کی اجازت دیتا ہے؟

مرزا ناصر : دین کی لڑائی؟

اٹارنی جنرل : ہاں دین کی لڑائی۔ ملک میں آزادی حاصل کرنے کے لیے تلوار اٹھانے کی؟

مرزا ناصر : اس وقت اس بحث کی میرے نزدیک ضرورت نہیں۔

چیئرمین : اٹارنی جنرل اگلا سوال کریں۔ گواہ اس سوال کا جواب دینے پر آمادہ نہیں۔

اٹارنی جنرل : جناب والا! میں ایک دفعہ اس سوال کو دہراؤں گا۔

چیئرمین : نہیں نہیں، گواہ اس سوال کا جواب دینے پر آمادہ ہی نہیں۔ ریکارڈ پر بات آچکی ہے، دوسرا سوال کریں۔

اٹارنی جنرل : گواہ اجتناب کر رہا ہے جواب دینے سے ایک مرتبہ...... (مداخلت) سوال بیس مرتبہ پوچھا گیا مگر گواہ نے جواب نہیں دیا۔

چیئرمین : اگلا سوال کریں، یہ بات ریکارڈ پر آچکی ہے۔

اٹارنی جنرل : کیا مذہبی آزادی حاصل کرنے کے لیے لڑ سکتے ہیں؟

مرزا ناصر : ہاں۔

اٹارنی جنرل : کیا دوسری آزادی کے لیے؟

مرزا ناصر : دوسری آزادی کے کیا اصول ہیں؟

اٹارنی جنرل : میں آپ سے پوچھ رہا ہوں۔

مرزا ناصر : مذہبی آزادی کے لیے۔

اٹارنی جنرل : میں متعجب ہوں کہ ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ حکمران کی اطاعت کرو دوسری طرف آزادی کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟

مرزا ناصر : مذہبی آزادی، ہاں یہ ہے۔

چیئرمین : آگے چلیں۔

اٹارنی جنرل : عبداللہ آتھم اور مولانا ثناء اللہ کی پیشگوئیوں کے بارے میں جو کچھ مرزا نے کہا، اس کا الٹ ہوا۔ عبداللہ آتھم پندرہ ماہ میں مر جائے گا مگر وہ نہ مرا۔ مولانا ثناء اللہ کے متعلق کہا کہ وہ میری زندگی میں ہلاک ہوگا مگر مرزا صاحب کے انتقال کے بعد وہ زندہ رہا۔

مرزا ناصر : یہ پھر بتا دوں گا۔

اٹارنی جنرل : مرزا غلام احمد کو کس کس زبان میں وحی آتی رہی؟ ایک زبان میں یا مختلف زبانوں

صفحہ 196

میں؟

مرزا ناصر : عربی، اردو، بعض دفعہ انگلش، پنجابی، فارسی۔

اٹارنی جنرل : کیا ان کو بھی آپ وحی سمجھتے ہیں؟

مرزا ناصر : ہاں میرے نزدیک۔

اٹارنی جنرل : ان کا ”قرآن مجید کا منبع“ سرچشمہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے، اس لیے وہ بھی آپ کے نزدیک قرآن شریف کی طرح پاک؟

مرزا ناصر : پاک ہونے کے لحاظ سے ویسے ہی پاک جیسے سچیاں وحیاں ہوتی ہیں۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب ”چشمہ معرفت“ ص 209، مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 218، ج 23 میں لکھتے ہیں کہ ”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اول زبان تو کوئی ہو اور الہام کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا“۔ اردو، عربی، فارسی، پنجابی تو آتی ہوگی، انگریزی مگر وہ تو ہندو لڑکے سے اس کے ترجمے پوچھتے تھے کہ اس کا ترجمہ و مطلب کیا ہے۔

مرزا ناصر : یہ تحقیق کرنے والی بات ہے۔

اٹارنی جنرل : ”حقیقت الوحی“ ص 303، مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 316، ج 22 پر انگریزی میں ان کو یہ وحی ہوئی۔

I love you. I am with you. Yes, I am happy ...... life of pain. I shall help you. I can, but what I will do. We can, but what we will do. God is coming by His army. He is with you to kill enemy. The day shall come when God shall help you. Glory be you; the Lord God Maker of the earth and heaven.

مرزا ناصر : آگے نیا موضوع ہے۔

چیئرمین : سوالات کا خاکہ ان کو دے دیں اور کل پر رکھیں۔ (کل صبح دس بجے تک اجلاس ملتوی)

24۔اگست 1974ء کی کارروائی

ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی خان کی زیر صدارت ساڑھے دس بجے صبح شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد وفد کو اندر بلوایا گیا۔

صفحہ 197

مرزا ناصر لاہوری گروپ کا محضر نامہ واپس کر رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل : فارسی کے چند شعروں کی بات کرلیں۔ مرزا صاحب نے نزول المسیح میں کہا‘ فارسی اشعار کا ترجمہ ہے‘ جو جام اللہ نے ہر نبی کو عطا کیا تھا‘ وہی جام اس نے کامل طور پر مجھے بھی دیا۔ اگرچہ انبیاء بہت ہوئے ہیں مگر میں معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں۔ آگے چل کر کہتے ہیں کہ میں رب غنی کی طرف سے بطور آئینہ ہوں۔ اس مدینہ کے چاند (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی صورت دنیا کو دکھانے کے لیے۔ (”نزول المسیح“ ص 99-100‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 477-478‘ ج 18) اور پھر میں نے سوال یہ بھی کیا تھا‘ مرزا صاحب نے عدالت کو لکھ کر دیا کہ کسی موت سے متعلق وحی الہی کو شائع نہیں کروں گا۔

مرزا ناصر : دیکھیں عدالت کے سامنے لکھ کر دیا مگر خود بھی مرزا صاحب انذاری کی پیشگوئیوں کو شائع نہ کرنے کا عہد کر چکے تھے‘ پہلے لکھ چکے تھے۔

اٹارنی جنرل : پہلے بھی لکھ چکے تھے‘ اب عدالت میں بھی اقرار کیا کہ پیشگوئی جو وحی الٰہی ہوتی ہے نبی کے لیے‘ اگر وہ کسی کی موت سے متعلق ہے تو اسے شائع نہیں کریں گے۔ وحی الٰہی شائع نہیں کریں گے‘ تسلیم کرلیا؟

مرزا ناصر : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : مولانا ثناء اللہ صاحب سے اشتہار مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو‘ وہ سچے کی زندگی میں مرجائے گا۔ (”ملفوظات“ ج 9‘ ص 440) اور پھر خود مرزا صاحب مولانا صاحب کی زندگی میں مرگئے۔

مرزا ناصر : مولانا ثناء اللہ نے اشتہار پر دستخط نہیں کیے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے کہا کہ سچا جھوٹے کی زندگی میں مرجائے گا۔ مولانا نے دستخط نہ کیے۔ وہ اس اصول کو صحیح نہ سمجھتے ہوں گے یا جو بھی‘ لیکن مرزا صاحب آپ کے نزدیک نبی تھے۔ ایک نبی نے خود اصول مقرر کیا اور اس کے مطابق جھوٹے تھے‘ مرگئے۔ نبی کے اصول کی ایک منکر سے تصدیق یا دستخط تو لازمی نہ تھے۔

مرزا ناصر : اس لحاظ سے چیک کرنے والی بات ہے‘ مگر ہے اہم۔ اہل حدیث پرچہ کا فوٹو دیکھ لیں۔ مولانا نے قبول نہ کیا۔

اٹارنی جنرل : اہل حدیث پرچہ‘ مرزا صاحب کی دعا کا اشتہار‘ سب دے دیں۔ تسلیم کرنے یا نہ کرنے کی بات نہیں۔ مرزا صاحب اپنے قبول کردہ اصول یا دعا کے مطابق مولانا کی زندگی میں مر گئے۔ مولانا ان کے بعد سالہا سال زندہ رہے۔ اچھا کیا مرزا صاحب ہیضہ سے مرے تھے؟

صفحہ 198

مرزا ناصر: نہیں۔ ڈاکٹروں نے سرٹیفکیٹ دیا۔ انتڑیوں کی بیماری تھی۔ اسہال اور الٹیاں آئیں مگر وہ ہیضہ نہیں تھا۔

اٹارنی جنرل: مگر ”حیات ناصر“ نامی آپ لوگوں کی کتاب ہے۔ اس میں مرزا صاحب نے اپنے خسر میر ناصر کو کہا کہ مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ میر ناصر آپ کے پڑنانا ہیں جو موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے مرزا صاحب کا آخری قول نقل کیا ہے۔

مرزا ناصر: ڈاکٹروں نے سرٹیفکیٹ دیا‘ کیا ڈاکٹروں کی بات غلط ہے؟

اٹارنی جنرل: مگر کیا آپ کے نزدیک ڈاکٹروں کی بات صحیح اور مرزا صاحب کی غلط ہے؟

مرزا ناصر: میں نے جواب دے دیا۔

اٹارنی جنرل: آتھم کے متعلق مرزا صاحب نے کہا کہ وہ پندرہ مہینے کے اندر مر جائے گا (”جنگ مقدس آخری“ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 293‘ ج 6) مگر وہ نہ مرا؟

مرزا ناصر: اس نے رجوع کر لیا۔

اٹارنی جنرل: توبہ کر لی؟

مرزا ناصر: جی۔

اٹارنی جنرل: کیا آتھم توبہ کر کے مسلمان ہو گیا تھا؟

مرزا ناصر: رجوع کر لیا۔

اٹارنی جنرل: رجوع پندرہ ماہ کے اندر ہو گیا یا بعد میں۔ اگر پندرہ مہینے یعنی میعاد کے اندر کر لیا تھا تو آخری دن تک مرزا صاحب اس کی موت کے کیوں منتظر رہے۔ پہلے اعلان کر دیتے کہ رجوع کر لیا ہے۔ اب پیشگوئی کی موت ٹل گئی لیکن جب وہ نہ مرا تو کہہ دیا کہ رجوع کر لیا۔ میعاد گزرنے کے بعد تو موت واقع ہونی چاہیے تھی مگر ایسے نہیں ہوا تو کہہ دیا کہ رجوع کر لیا۔ کیا یہ بات کسی عدالت کے سامنے پیش کی جا سکتی ہے کہ سزا کی مدت گزر گئی۔ بات پوری نہ ہو سکی۔ اب عذر قابل قبول کیسے ہوگا...... انصاف کریں کہ اس بات کو عقل قبول کرتی ہے؟

مرزا ناصر: وہ اسلام کے خلاف‘ پیغمبر اسلام کے خلاف گستاخیاں کرتا تھا۔ تائب ہو گیا۔

اٹارنی جنرل: اللہ تعالیٰ سے توبہ کی‘ موت ٹل گئی۔ میعاد کے اندر اندر مرزا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے نہیں بتایا کہ وہ تائب ہو گیا‘ اب نہیں مرے گا۔ مرزا صاحب آخری دن تک اس کی موت کے منتظر رہے‘ جب نہ مرا تو بھید کھلا کہ وہ تو تائب ہو گیا۔ پھر اس نے امرتسر میں جلوس نکالا...... توبہ پھر ٹوٹ گئی۔

مرزا ناصر: رجوع کو چھپا لیا۔

صفحہ 199

اٹارنی جنرل: آپ کی مرضی' مگر اس کے رجوع اور توبہ کی بات پیشگوئی کے غلط نکلنے کے بعد آپ کر رہے ہیں جو آپ کو فائدہ نہیں دیتی۔ پہلے کہا ہوتا تو بات رہ جاتی مگر اب کیا ہو؟

مرزا ناصر: بشرطیکہ رجوع الی الحق نہ کرے۔ یہ بات تو پہلے سے لکھی ہوئی موجود تھی..... شرط تھی وہ پوری کر لی۔ پیشگوئی ٹل گئی۔ پھر جلوس نکال کر رجوع کو چھپا لیا۔

اٹارنی جنرل: اللہ تعالیٰ تو عالم الغیب ہیں' ان کو پتہ تھا کہ یہ رجوع الی الحق کو چھپائے گا تو توبہ قبول کیوں کی؟

مرزا ناصر: یہ اللہ تعالیٰ سے پوچھیں۔

اٹارنی جنرل: مرزا صاحب' اللہ تعالیٰ سے تو تب پوچھیں جب بات سمجھ نہ آئے۔ سمجھ تو آ رہی ہے کہ مرزا صاحب نے کہا کہ مرے گا مگر وہ میعاد کے اندر نہیں مرا۔

مرزا ناصر: مگر مرزا صاحب نے پھر اسے چیلنج دیا۔

اٹارنی جنرل: پندرہ ماہ میں نہ مرا تو پھر ایک چیلنج سال کا دے دیا۔ اب چیلنج کا کیا فائدہ؟ یہ تو پھر بعد کی باتیں۔

مرزا ناصر: مگر اس نے ایک سال کا چیلنج قبول نہ کیا۔

اٹارنی جنرل: ایک سال کا ٹائم دیا۔ اگر سال میں نہ مرا تو ایک ہزار دوں گا۔ خیر تو مرزا صاحب کے زمانہ کے لوگ حتیٰ کہ اس کے اپنے مرید محمد علی خان وغیرہ خود صاحب واقعہ تھے۔ وہ بدظن ہو گئے کہ پیشگوئی آتھم والی پوری نہیں ہوئی۔

مرزا ناصر: وہ نہیں سمجھ سکے۔

اٹارنی جنرل: ایک شخص غلام حسین تھا۔ وہ پچیس سال سے غائب تھا۔ جائیداد اس کی بیوی جو مرزا احمد بیگ کی ہمشیرہ تھی' اس کے نام منتقل ہو گئی۔ اب وہ جائیداد اپنے لڑکے کے نام ٹرانسفر کرانا چاہتی تھی۔ احمد بیگ نے مرزا صاحب کو کہا کہ قانونی حق ملکیت کے اعتبار سے آپ بیان دے دیں۔ مرزا صاحب نے کہا استخارہ کروں گا۔ استخارہ اس لیے کہ وہ زندہ ہو تو اس کا حق نہ مارا جائے۔ اگر وہ غلام حسین زندہ نہیں تو آپ کا حق نہ مارا جائے ۔ استخارہ کے بعد کہہ دیا کہ محمدی بیگم اپنی لڑکی میرے نکاح میں دے دو تو بیان دے دوں گا' ورنہ نہیں۔ اگر محمدی بیگم مل جائے تو غلام حسین مر گیا' بیان دے دوں گا۔ اگر محمدی بیگم کا نکاح نہ ملے تو وہ زندہ' بیان نہیں دوں گا۔ استخارہ تو غلام حسین کے متعلق' جواب محمدی بیگم کے متعلق' یہ کیا بات ہے۔

مرزا ناصر: یہ کس سن کی بات ہے؟

اٹارنی جنرل: 1886ء کی ۔ پھر مرزا صاحب نے کہا کہ محمدی بیگم کا میرے ساتھ نکاح نہ ہوا تو

صفحہ 200

اس کا خاوند اڑھائی سال میں مر جائے گا اور باپ احمد بیگ تین سال میں مر جائے گا۔ مرزا صاحب کو محمدی بیگم نہ ملی۔ مرزا صاحب نے کئی لوگوں کو شادی کرانے میں مدد کے لیے خط لکھے۔ اپنے بیٹے کو کہا کہ کوشش کرو میرا نکاح ہو جائے ورنہ تمہیں عاق کردوں گا۔

مرزا ناصر: میں سن رہا ہوں۔

اٹارنی جنرل: اپنے بیٹے فضل کو کہا کہ اگر احمد بیگ اپنی لڑکی مجھے نہ دے تو تم اپنی بیوی کو جو احمد بیگ کی عزیزہ ہے طلاق دے دو۔ بہر حال شادی محمدی بیگم کی آسمانوں پر مرزا صاحب سے طے تھی لیکن مرزا سلطان سے ہو گئی۔ اب احمد بیگ کو بعد میں مرنا چاہیے تھے خاوند کو پہلے۔ اس لیے کہ شادی کے بعد موت کی تاریخ مرزا صاحب نے خاوند کے لیے اڑھائی سال اور باپ احمد بیگ کے لیے تین سال مقرر کی تھی۔ مگر احمد بیگ پہلے مر گیا۔

مرزا ناصر: مر گیا نا!

اٹارنی جنرل: دیکھیں اڑھائی سال والا پہلے مرتا مگر وہ سخت جان نکلا سلطان احمد یہ تو نہیں مرا۔ اڑھائی سال گزر گئے۔ فرانس گیا، سولجر بنا، اس کو گولیاں بھی لگیں لڑائی میں شریک بھی ہوا لیکن نہ مرا...... اور مرزا صاحب سے محمدی بیگم کا نکاح نہ ہوا......

مرزا ناصر: بڑی اچھی کہانی بیان کی آپ نے۔

اٹارنی جنرل: کہانی بیان کی...... مرزا صاحب کی پیشگوئی کے غلط ہونے کی۔ کیا مرزا نے خطوط نہیں لکھے؟

مرزا ناصر: لکھے۔

اٹارنی جنرل: اولاد کو عاق کرنے کی بات؟

مرزا ناصر: جی

اٹارنی جنرل: کہا محمدی بیگم بالآخر میرے نکاح میں آئے گی مگر نہیں آئی؟

مرزا ناصر: جواب آئے گا۔ پتہ لگ جائے گا، محمدی بیگم کا خاندان احمدی ہو گیا۔

اٹارنی جنرل: احمدی ہو جانا اور بات ہے۔ خود مرزا صاحب کے اپنے بیٹے احمدی نہیں ہوئے۔ احمدی ہونے کا پیشگوئی سے کیا تعلق ہے؟

مرزا ناصر: مگر اس کا خاندان احمدی ہو گیا۔

اٹارنی جنرل: بعد میں؟

مرزا ناصر: پیشگوئی سمجھ کر۔

اٹارنی جنرل: ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔

صفحہ 201

مرزا ناصر: ہاں

اٹارنی جنرل: شادی ہو گئی اور اسے سلطان محمد لے گیا۔ محمدی بیگم مرزا صاحب کو نہ ملی‘ چلی گئی۔ پھر کیا فائدہ احمدی ہونے کا؟

مرزا ناصر: اس میں مزاح کا کوئی پہلو نہیں۔

چیئرمین: دس منٹ وقفہ (وقفہ کے بعد)

اٹارنی جنرل: پچھلے دنوں اکھنڈ بھارت کے متعلق حوالے دیے تھے۔ الفضل کے وہ پرچے آ گئے ہیں۔

5 اپریل 47ء‘ 12 اپریل 47ء‘ جون 47ء‘ 18 اگست 47ء‘ 28 دسمبر 47ء۔ یہ سب 1947ء کے اخبار ہیں۔

اس میں یہ حوالہ بطور خاص آپ سے وضاحت چاہتا ہے۔ ”اے میرے رب اہل ملک کو سمجھ دے۔ اول تو ملک بنے نہیں‘ اگر بنے تو اس طرح بنے کہ پھر مل جانے کے راستے کھلے رہیں“ یہ حوالہ جات چیک کر کے فائل کرا دیں۔

مرزا ناصر: ”الفضل“ یا اس کے فوٹوسٹیٹ جو ممکن ہوں گے۔

اٹارنی جنرل: مرزا صاحب کی نبوت کے بارے میں ایک سوال ہے۔

مرزا ناصر: اس سلسلہ میں ”حقیقت النبوۃ“ ہمارے خلیفہ ثانی کی کتاب اور دوسری ”مباحثہ راولپنڈی“ آپ دیکھ لیں۔ سوال کرنے کی ضرورت نہیں۔

اٹارنی جنرل: کل ”چشمہ معرفت“ ص 219 کا حوالہ تھا کہ یہ بات بالکل نامعقول ہے کہ نبی کی زبان کچھ ہو اور الہام کسی اور زبان میں ہو۔

مرزا ناصر: مرزا صاحب دراصل ہندوؤں کو سمجھا رہے ہیں۔ تکلیف والی بات ہے‘ انسان یہ بوجھ اٹھا نہیں سکتا جو اس پر ڈال دیا گیا اور اس الہام سے کیا فائدہ جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس لیے آریوں کی زبان بیدک تھی‘ سنسکرت نہیں تھی۔

اٹارنی جنرل: یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ مرزا صاحب جو زبان نہیں سمجھ سکتے تھے‘ اس میں الہام ہوئے۔ جیسے انگریزی کے ایک الہام کا معنی سمجھنے کے لیے مرزا صاحب نے ایک ہندو لڑکے سے اس کا ترجمہ پوچھا۔ وہ بھی ٹھیک طرح سمجھا نہ سکا۔

مرزا ناصر: وہ تو ہندو لڑکے کو قائل کرنا چاہتے ہوں گے کہ اسلام کتنا بابرکت ہے‘ جس میں اب بھی وحی ہوتی ہے۔

اٹارنی جنرل: وحی ہوتی ہے مگر جسے ہوتی ہے وہ سمجھ نہیں سکتا۔ اللہ میاں ایسی وحی بھیجتا ہے جسے

صفحہ 202

مرزا صاحب سمجھ نہیں سکتے۔

مرزا ناصر: ہم تو اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو جا کر سمجھا تو نہیں سکتے نا۔

اٹارنی جنرل: مرزا صاحب نے کہا کہ حضور کے معجزات تین ہزار (”تحفہ گولڑویہ“ ص 67‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 153‘ ج 21) ہیں اور میرے کئی لاکھ ہیں۔ (”براہین احمدیہ“ ص 56‘ ج پنجم مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 72‘ ج 21)

مرزا ناصر: مرزا صاحب کے معجزات بھی تو حضور کے ہی ہوتے۔

اٹارنی جنرل: یہی سننا چاہتے تھے کہ آپ لوگوں کے نزدیک مرزا قادیانی اور حضور علیہ السلام میں کوئی فرق نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر پوری امت محمدیہ آپ لوگوں سے نالاں ہے کہ آپ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم پلہ مرزا کو بنا دیا ہے۔ کیا سقوط بغداد پر آپ نے چراغاں کیا؟

مرزا ناصر: کہاں لکھا ہے؟

اٹارنی جنرل: (”منیر انکوائری رپورٹ“ ص 196)۔ اچھا مرزا صاحب نے امریکہ کے مسٹر ڈوئی کو بھی کچھ کہا تھا؟

مرزا ناصر: خط لکھا تھا۔

اٹارنی جنرل: اس نے جواب نہ دیا تو چند امریکی اخباروں نے دریافت کرنا شروع کر دیا کہ اس نے کیوں جواب نہیں دیا۔ وہ خود اپنے اخبار دسمبر 1903ء میں لکھتا ہے ”ہندوستان میں ایک محمدی مسیحا ہے۔ جس نے کئی بار مجھے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر میں دفن ہیں اور لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اس کو جواب کیوں نہیں دیتا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مجھے ایسے مکروہ جھوٹے کا جواب دینا چاہیے۔ اگر میں نے اپنا قدم ان پر رکھا تو میں انہیں ملیا میٹ کر دوں گا۔ میں انہیں ایک موقع دیتا ہوں کہ بھاگ جائیں اور اپنی جان بچائیں۔“

مرزا ناصر: اس کو حقارت کی سزا مل گئی۔ مرزا نے بددعا کی اور وہ بیمار ولاغر ہوا۔

اٹارنی جنرل: تو یہاں بھی مرزا صاحب نے بددعا کی کہ ثناء اللہ جھوٹا ہے تو جو جھوٹا ہے‘ وہ سچے کی زندگی میں مرجائے گا مگر خود مرزا صاحب مر گئے۔ مرزا صاحب کی دعا امریکہ تو قبول ہو گئی گورداسپور اور امرتسر میں قبول نہ ہوئی۔

چیئرمین: اب مولانا ظفر احمد انصاری کچھ سوالات پوچھنا چاہیں گے۔ اس لیے کہ اٹارنی جنرل اچھی طرح نہیں جانتے یہ خالصتاً تکنیکی سوالات ہیں۔

مولانا ظفر احمد انصاری: قرآن مجید میں و ما ارسلناک ............ من قبلک کا لفظ ہے۔ سورہ حج میں مگر مرزا صاحب نے ”ازالہ اوہام“ میں قبلک کا لفظ حذف کر دیا۔ بعد میں جتنے ایڈیشن

صفحہ 203

شائع ہوئے‘ یہ غلطی درست نہیں کی۔ کیونکہ آنحضرتؐ سے پہلے رسولوں کا ذکر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا ذکر نہیں ہے۔ مرزا صاحب نے عقیدۃً قرآن مجید میں تحریف کی‘ کیونکہ مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی بننے کے دعویدار ہیں۔

مرزا ناصر: ہمارے مطبوعہ لاکھوں قرآن مجید میں قبلک موجود ہے۔ تو یہ تحریف نہ ہوئی۔

مولانا مفتی محمود: جناب چیئرمین صاحب‘ ہمارا سوال یہ ہے کہ قرآن کی آیت صحیح نقل نہ کی اس لیے کہ ان کے عقیدہ کو بیخ و بن سے اکھاڑ رہی ہے۔ مرزا صاحب نے عمداً تحریف کی۔ اس کا جواب تو یہ ہے کہ یہ کہہ دیں کہ بعد کے ”ازالہ اوہام“ جہاں سے ہم نے حوالہ پیش کیا‘ اسے درست کر دیا گیا ہے مگر آج تک نہیں ہوا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی جو قرآنی آیت ان کے مطلب کے خلاف جاتی ہو مرزا صاحب اس میں ردو بدل کر دیتے تھے۔

چیئرمین: ٹھیک ہے‘ اگلا سوال کریں۔

مولانا ظفر احمد انصاری: قرآن مجید میں سورۃ بقرۃ کے پہلے رکوع میں بالاٰخرۃ ھم یوقنون آخرت سے مراد قیامت ہے۔ مگر مرزا محمود نے آخرت سے مرزا کی نبوت مراد لی ہے۔ یہ تحریف معنوی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس آیت میں آج تک کسی مفسر نے آخرت کا وہ معنی کیا ہے جو مرزا محمود نے کیا ہے؟

مرزا ناصر: ایک لفظ کے کئی ترجمے ہو سکتے ہیں۔

مولانا انصاری: آخرت سے مراد قیامت یا مرزا کی نبوت۔ آپ مراد مرزا کی نبوت لیتے ہیں۔ نبی کے آنے سے امت بدل جاتی ہے۔ یہ اتنا اہم معاملہ ہے۔ کیا آج تک کسی مفسر نے یہ ترجمہ کیا جو آپ لوگ کرتے ہیں؟

چیئرمین: مرزا صاحب‘ لفظ کے ترجمہ کی بات نہیں۔ آپ لوگ جو آیت سے مرزا صاحب کی نبوت لیتے ہیں یہ کسی اور نے بھی ایسے مراد لیا ہے یا ......؟

مرزا ناصر: چیک کرنے والی ہوگی۔

چیئرمین: آگے چلیں اور سوال۔ یہ معنی گزشتہ تیرہ سو سال میں پہلے کبھی نہیں کیے گئے۔

مولانا انصاری: قرآن مجید کی سورۃ آل عمران آیت نمبر 81-82 کا ترجمہ ہے ”اور جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور حکمت اور پھر آوے تمہارے پاس رسول جو تصدیق کرے تمہارے پاس والی کتاب کو ...... تو اس رسول پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ کیا تم نے اقرار کیا اور اس شرط پر بڑا عہد قبول کیا۔ بولے (تمام انبیاء علیہم السلام) ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے‘ تو اب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ پھر جو کوئی پھر جاوے

صفحہ 204

اس کے بعد تو وہی لوگ ہیں نافرمان۔“

اس ترجمہ کو ”الفضل“ میں منظوم کیا گیا۔

خدا نے لیا عہد جب انبیاء سے کہ جب تم کو دوں میں کتاب اور حکمت
پھر آئے تمہارا مصداق پیغمبر سب ایمان لاؤ کرو اس کی نصرت
کہا کیا یہ اقرار کرتے ہو محکم وہ بولے مقر ہے ہماری جماعت
کہا حق تعالیٰ نے شاہد رہو تم یہی میں بھی دیتا رہوں گا شہادت
جو اس عہد کے بعد کوئی پھرے گا بنے گا وہ فاسق اٹھائے گا ذلت
لیا تھا جو میثاق سب انبیاء سے وہ عہد حق نے لیا مصطفیٰ سے
وہ نوح و خلیل و کلیم و مسیحا سب ہی سے پیمان محکم لیا تھا
مبارک ہو وہ امت کا موعود آیا وہ میثاق ملت کا مقصود آیا
کریں اہل اسلام اب عہد پورا بنے آج ہر ایک عبداً شکورا

(”الفضل“ جلد نمبر 11‘ نمبر 67‘ مورخہ 26 فروری 1924ء)

اب سوال یہ ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عہد لیا گیا تھا کہ جب آپ کے بعد کوئی نبی آئے تو آپ اس کی مدد کریں‘ نصرت کریں۔ اس کا اتباع کریں اور اگر ایسا نہ کریں تو آپ فاسق ہو جائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اتنی بڑی اہانت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا کوئی مسلمان برداشت کر سکتا ہے۔ ان آیات کو اس طرح پیش کرنا کہ یہ سارے انبیاء سے عہد لیا گیا اور ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھے۔ اور اس کا مصداق آنے والے نبی مرزا غلام احمد ہیں۔

چیئرمین: یہ سوال ہے کہ یہ نظم ہے یا نہ؟

مرزا ناصر: ہے۔

چیئرمین: تو اس کا کوئی اور بھی ترجمہ ہے؟

مرزا ناصر: رسول کی مدد کرنا سے مراد حضور علیہ السلام ہیں۔

مولانا انصاری :

لیا تھا جو میثاق سب انبیاء سے وہی عہد حق نے لیا مصطفیٰ سے
جو اس عہد کے بعد کوئی پھرے گا بنے گا وہ فاسق اٹھائے گا ذلت

اس سے ثابت ہوا کہ حضور علیہ السلام سے عہد لیا گیا کہ آپ کے بعد رسول آئے گا۔ پھر آگے شعر میں:

مبارک ہو وہ امت کا موعود آیا وہ میثاق ملت کا مقصود آیا
صفحہ 205

اس سے مراد مرزا غلام احمد ہے۔ کیا یہ توہین نہیں؟

مرزا ناصر: بانی سلسلہ نے اس آیت سے مراد حضور علیہ السلام لیا ہے۔

چیئرمین: اب نظم کے متعلق جواب ہے تو دیں۔

مرزا ناصر: اس کے جواب کے متعلق تو پندرہ بیس کتابیں لانی ہوں گی مجھے !

چیئرمین: اگلا سوال کریں۔

مولانا انصاری : مرزا صاحب کی کتاب ”حقیقت الوحی“ میرے پاس یہ موجود ہے کہ اس کے ص 70 سے 108 (مندرجہ ”روحانی خزائن“ ج 22، ص 73 تا 111) مرزا صاحب نے اپنے الہامات لکھے ہیں۔ چند ایک یہ ہیں:

ما رمیت اذ رمیت و لکن اللہ رمی ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ...... انا فتحنا لک فتحاً مبینا ......اذا جاء نصر اللہ الفتح و داعیا الی اللہ باذنہ سراجاً منیرا ......دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی سبحان اللہ الذی اسری بعبدہ لیلا ...... قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم- قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی - انا اعطیناک الکوثر- عسی ان یبعثک ربک مقاماً محمودا- الم تر کیف فعل ربک باصحاب الفیل- لقد نصر کم اللہ ببدر یسین و القرآن الحکیم-

اور بھی بہت ساری آیات ہیں مگر میں نے اختصار سے یہ چند پیش کیں۔ یہ آیات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے متعلق ہیں۔ قرآن مجید میں نازل ہوئیں مگر مرزا صاحب نے ان کو اپنے اوپر نہ صرف نازل شدہ بتایا بلکہ ان کا مصداق بھی اپنے آپ کو قرار دیا۔

اسی طرح آدم علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے متعلق آیات کو بھی اپنے اوپر نازل شدہ بتا کر خود کو ان کا مصداق قرار دیا......

مرزا ناصر: میں سمجھا ہوں کہ یہ آیات امت محمدیہ میں کسی پر نازل نہیں ہوئیں۔ میں صحیح سمجھا ہوں نا؟

چیئرمین: نہیں ان کا سوال یہ ہے کہ رسول اللہ کے متعلق قرآن کریم میں جو خصوصی خطاب کیا

صفحہ 206

گیا ہے یا بتایا گیا ہے مرزا صاحب ان کو اپنے اوپر یعنی مجھ سے خطاب کیا ہے‘ قرار دیتے ہیں۔

مرزا ناصر: یہ سوال ہے جو آیات قرآن کریم میں نبی اکرم کے لیے آئی ہیں، ان کے متعلق بانی سلسلہ احمدیہ نے کہا کہ یہ میرے لیے آئی ہیں۔

چیئرمین: میرے لیے ہیں۔

مرزا ناصر: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہیں آئی ہیں۔

چیئرمین: نہ! نہیں بلکہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ ان کا میں بھی مصداق ہوں۔ مرزا صاحب نے کہا کہ یہ میرے لیے بھی ریپیٹ کی گئیں کہ میں بھی ان کا مصداق ہوں۔ مثلاً فتح مبین، صلح حدیبیہ کے وقت آنحضرت کے لیے ہے لیکن مرزا صاحب کہتے ہیں کہ اس موقع پر میرے لیے یہاں آگئی ہے۔

مرزا ناصر: میں نہیں سمجھا، کیا بزرگوں کو الہام نہیں ہوتے؟

مولانا انصاری: ایک مدعی ہے مسیح موعود کا خواجہ محمد اسماعیل، اس کی منڈی بہاؤ الدین میں جماعت ہے۔ وہ بھی الہام بتاتا ہے۔ تو کیا وہ بھی آپ کہیں گے کہ مرزا صاحب کی طرح سچے ہیں۔ ضابطہ یہ ہے کہ کسی کا الہام حجت نہیں سوائے نبی کے۔ نبی کی شان ہے وہ واجب الاطاعت ہے۔ بزرگ تو واجب الاطاعت نہیں۔

چیئرمین: بزرگوں کی بات حالت جذب کی ناقابل قبول ہے، شریعت میں حجت نہیں۔ مرزا صاحب تو آپ کے نزدیک نبی تھے۔ اس لیے اس پر قیاس کر کے جان نہیں چھڑائی جاسکتی۔ آگے چلیں۔ اگلا سوال کریں۔

مولانا انصاری: صحابی کی تعریف کیا ہے؟

چیئرمین: مرزا صاحب، آپ کے نزدیک صحابہ کی تعریف کیا ہے؟

مرزا ناصر: صحابہ کی تعریف ہمارے نزدیک وہ خوش نصیب انسان جنہوں نے اپنی زندگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کو حاصل کیا اور آپ کا فیض پایا۔

مولانا انصاری: جنہوں نے مرزا صاحب کو دیکھا، آپ ان کو بھی صحابی سمجھتے ہیں؟

مرزا ناصر: ایک رنگ میں وہ بھی۔

مولانا انصاری: مرزا صاحب نے اپنی کتاب (”خطبہ الہامیہ“ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 258-259، ج 16) میں لکھا ہے من دخل فی جماعتی دخل فی اصحاب سید المرسلین۔ میری جماعت میں داخل ہونے والے بھی صحابی ہیں۔

مرزا ناصر: جو کچھ ملا، وہ حضور کا فیض تھا۔

مولانا انصاری: جو میری جماعت میں داخل ہوگیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی

صفحہ 207

جماعت میں داخل ہو گیا۔

مرزا ناصر: ٹھیک ہے ہم انہیں بھی صحابی کہتے ہیں جنہوں نے مرزا صاحب کا فیض صحبت پایا۔

مولانا انصاری : آپ کے ہاں ام المومنین کسے کہتے ہیں؟

مرزا ناصر: ہمارے ہاں جو ازواج مطہرات کی خادمہ ہیں اور مسیح موعود کے ماننے والوں کی ماں ہیں۔

مولانا انصاری : کیا مسجد اقصیٰ جہاں سے حضور علیہ السلام کو معراج پر لے جایا گیا‘ یہ قادیان کی کسی مسجد کا نام ہے۔

مرزا ناصر: مسجد اقصیٰ قادیان میں بھی ہے۔

مولانا انصاری : پنجتن سے مراد آپ لوگوں نے کہا

یہ پانچوں جو کہ نسل سیدہ ہیں یہی ہیں پنجتن جس پر بنا ہے

(”درثمین“ اردو ص 45)

مرزا ناصر: مرزا صاحب کو الہام ہوا تھا کہ میری نسل میرے خاندان کی نسل آئندہ ان پانچ افراد سے چلے گی۔

مولانا انصاری : بہشتی مقبرہ کے متعلق مکاشفات مرزا میں لکھا ہے کہ روئے زمین کے تمام مقابر اس زمین کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

مرزا ناصر: ہمارا بہشتی مقبرہ کے متعلق تصور ہے کہ اس میں جنتی لوگ داخل ہوں گے۔

چیئرمین: اگلا سوال کریں۔

مولانا انصاری :

زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
عرب نازاں ہے گر ارض حرم ہے تو ارض قادیان فخر عجم ہے

”الفضل“ 25 دسمبر 1933ء میں شعر ہیں۔

مرزا ناصر: دیکھیں گے تو پتہ چلے گا۔

مولانا انصاری : ”آئینہ کمالات“ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ج 5‘ ص 352‘ میں مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ قادیان میں حاضری نفلی حج سے زیادہ ثواب ہے۔

مرزا ناصر: فرض حج کے بعد نفلی حج ہوتا ہے۔ بڑی اچھی بات ہے‘ خدا رسول کی باتیں سنے گا اور احمدیوں کو ایسا کرنا چاہیے۔ قادیان آنا چاہیے۔

چیئرمین: اگلا سوال کریں۔

صفحہ 208

مولانا انصاری : مرزا محمود نے ”برکات خلافت“ میں کہا ہے ”آج جلسے کا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔“ ”برکات خلافت“ ص 6۔

مرزا ناصر : اسے چیک کرنا پڑے گا۔ ویسے مودودی صاحب نے بھی کہا کہ حج کے فوائد حاصل نہیں ہورہے ۔

مولانا انصاری : کیا انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب حج کے فوائد حاصل نہیں لہٰذا منصورہ آ جاؤ‘ وہاں حج ہوگا۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں‘ مرزا محمود تو کہتے ہیں کہ یہاں قادیان میں سالانہ جلسہ حج کی طرح ہے۔

چیئرمین : گواہ نے بتایا کہ حج تو مکہ مکرمہ میں ہی ہوتا ہے۔ حج والی برکات قادیان میں بھی ملتی ہیں۔ آگے چلیں ۔

مولانا انصاری : مرزا غلام احمد نے اپنی عبادت گاہ قادیان کے متعلق کہا کہ من دخلہ کان امنا حالانکہ یہ بیت اللہ شریف کی مسجد حرام کے متعلق آیت ہے۔

مرزا ناصر : حضور علیہ السلام صرف مکہ مکرمہ کے لیے نہیں تھے۔

چیئرمین : چھوڑیے ۔

مولانا انصاری : دمشق میں ایک مینار پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ مرزا صاحب نے قادیان میں مینارۃ المسیح بنوایا۔

مرزا ناصر : دمشق ایک اینٹ گارے کا شہر ہے۔

مولانا انصاری : اور قادیان؟

مرزا ناصر : ایک نسبت کی بات ہے۔

چیئرمین : گزشتہ دو ہفتوں کے دوران متعدد سوالات کیے گئے ۔ آپ نے جو جوابات دیے اگر ان میں کوئی اضافہ کرنا چاہتے ہوں تو از راہ کرم کر لیں۔ ہمیں آپ سے مزید سوال نہیں کرنے ۔

مرزا ناصر : گیارہ دن مجھ پر جرح ہوئی۔ تھک گیا ہوں اور کام بھی کرنے ہوتے ہیں۔ عبادت‘ دعائیں۔ انسان کا دماغ ہے تھک جاتا ہے۔ ہمارا دل چیر کے دیکھ لیں ہم تو اسلام کے خادم ہیں۔ شکریہ ۔

اٹارنی جنرل : اسلام سے مراد ان کی احمدیت ہی ہے۔ اس پر پھر سوالات کا سلسلہ چل نکلے گا۔ جیسا کہ مرزا صاحب تھک گئے ہیں‘ میں بھی کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا۔

چیئرمین : کیا کوئی معزز رکن کوئی سوال کرنا چاہتا ہے؟

چیئرمین : میں تمام فریقوں کے حوصلہ کا معترف ہوں ۔ خاص طور پر معزز اراکین جو کہ بطور

صفحہ 209

ہم اس مسئلہ کا تمام جہتوں سے جائزہ لیتے رہے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے۔

مرزا ناصر: میں بھی آپ سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ہم پر بہت مہربان رہے۔

چیئرمین: تھینک یو ویری مچ۔

27۔ اگست 1974ء کی کارروائی

لاہوری گروپ پر جرح

نیشنل اسمبلی آف پاکستان میں لاہوری گروپ کے صدر مسٹر صدر الدین اور جنرل سیکرٹری مرزا مسعود بیگ پیش ہوئے۔

27۔ اگست کو صدر الدین پر جرح ہوئی۔

صدر الدین نے پہلے اپنا تعارف کرایا اور اٹارنی جنرل کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 1905ء میں مرزا قادیانی سے قادیان میں وہ بیعت ہوئے۔

اٹارنی جنرل : آپ کے قادیانی جماعت سے اختلافات کب ہوئے اور کس بات پر ہوئے؟

گواہ : (صدر الدین) یہ اختلاف 1914ء میں ہوئے۔ مرزا صاحب کے بعد حکیم نور الدین ہمارے سربراہ مقرر ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد اختلافات پیدا ہوئے۔ اختلاف کا باعث ایک بات تو یہ ہے کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے، قادیانی اسے نبی مانتے ہیں۔ نمبر (2) ہم نے مرزا کے دعویٰ کو نہ ماننے والوں کو کافر نہیں کہا۔ قادیانی جماعت مرزا کے منکرین کو کافر کہتی ہے۔ (3) قادیانی جماعت مرزا غلام احمد کو مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد آیت قرآنی کا مصداق تسلیم کرتی ہے۔ ہم اس آیت کا مصداق آنحضرت ﷺ کو سمجھتے ہیں۔ (4) مرزا کے بعد خلافت کا مسئلہ تو ٹھیک رہا مگر حکیم نور الدین کے بعد قادیانی جماعت سے خلافت کے مسئلہ پر بھی اختلاف ہوا۔ ہم خلافت کو ان معنوں میں نہیں لیتے کہ خلیفہ غیر معصوم ہو کر، خطاؤں کا پتلا ہو کر اس کی ایسی پوزیشن بنا دی جائے کہ وہ سب پر حاکم ہے اور جمہوریت کا قلع قمع کر دے۔ یہ ہمارا چوتھا پوائنٹ تھا، جس پر ہمارا ربوہ والوں سے اختلاف ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ گویا ڈکٹیٹر قسم کی خلافت کے خلاف ہیں اور جو ایک ادنیٰ آدمی کو اتنا طاقتور بنا دے

صفحہ 210

جو ربوہ میں ہے۔ یہ آپ نے کس تجربے کی بنیاد پر کہا یا کس وقت آپ کو اس بات کا احساس ہوا‘ کس وقت وہ شخص بیٹھا‘ اس نے ڈکٹیٹر شپ کی جس کو آپ نے محسوس کیا اور آپ ان سے مخالف ہوئے؟

گواہ : 1914ء میں۔

اٹارنی جنرل : 1914ء میں کون ڈکٹیٹر بن بیٹھا جس نے آپ کو اس بات کا احساس دلایا کہ یہ غلط قسم کی ڈکٹیٹر شپ کر رہا ہے اور آپ کو اس پارٹی سے جدا ہو جانا چاہیے۔

گواہ : مرزا محمود‘ حکیم نور الدین کے بعد خلیفہ بنا تو اس نے کہا کہ خلیفہ کو جماعت کا خود مختار ہونا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے 1914ء میں کہی۔ ہم نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل : مرزا محمود نے خلیفہ بنتے ہی یہ کہا۔ وہ یہ نہ کہتا تو آپ اس کے ساتھ ہوتے؟

گواہ : نہیں کچھ اور بھی واقعات تھے۔

اٹارنی جنرل : وہ کیا تھے؟

گواہ : جی ......

اٹارنی جنرل : نور الدین صحیح خلیفہ تھے۔

گواہ : جی ہاں وہ بالکل صحیح تھے۔ انہوں نے کبھی انجمن کو ڈکٹیٹرانہ نظام کے ماتحت نہیں چلایا۔

اٹارنی جنرل : میں عرض کرتا ہوں کہ مولانا صاحب‘ ذرا آپ غور سے سنیں۔ آپ نے جواب پہلے سے تیار کیے ہوئے ہیں‘ آپ سوال سنتے ہی نہیں۔ آپ مہربانی کر کے میرا سوال سنیں اور اس کا جواب دیں۔ جو آپ نے لکھا ہوا ہے‘ وہ بھی سنا دیں۔ میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ آپ کے خلیفہ اول نور الدین کی وفات کے بعد مرزا محمود کے انتخاب سے پہلے آپ پارٹی سے ہٹ گئے‘ یہ درست ہے؟

گواہ : جی نہیں! انتخاب سے پہلے نہیں ہٹے‘ جب نور الدین کی وفات ہوئی ہے‘ اس وقت یہ واقعہ پیش آیا ہے۔

اٹارنی جنرل : وفات ہوئی اور الیکشن آ گیا۔ دونوں اکٹھے تھے۔ یہی میں کہہ رہا ہوں۔

گواہ : جی ہاں بالکل۔

اٹارنی جنرل : تو ان کی وفات کے فوراً بعد آپ الگ ہو گئے تو آپ نے مرزا محمود کی ڈکٹیٹر شپ دیکھی نہیں‘ نہ ان کے تابع رہے؟

گواہ : جی نہیں! ان کے تابع یہ جماعت کبھی نہیں رہی۔

اٹارنی جنرل : نہ آپ نے ان کی کبھی ڈکٹیٹر شپ دیکھی ہے؟

گواہ : میں نے تو دیکھی۔

اٹارنی جنرل : آپ نہ ان کے ماتحت رہے کبھی‘ نہ ان کی کبھی بیعت کی‘ تو آپ پر ان کی ڈکٹیٹر

صفحہ 211

شپ کا اثر ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ نے ویسے ہی دیکھا جیسے میں دیکھتا ہوں یا کوئی اور دیکھتا ہے۔ گواہ : مرزا صاحب کی ایک وصیت تھی۔ انہوں نے وصیت کی دفعہ نمبر 18 کی خلاف ورزی کی۔ اٹارنی جنرل : کب؟ گواہ : اس وقت جب انہوں نے کہا کہ میں خلیفہ بنتا ہوں۔ اٹارنی جنرل : اس وقت تو الیکشن نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے الیکشن سے پہلے کہا؟ گواہ : الیکشن کا جو وقت تھا، اس میں یہ ساری باتیں پیش ہوئیں۔ اٹارنی جنرل : انہوں نے یہ بات منتخب ہونے سے پہلے کی یا منتخب ہونے کے بعد؟ گواہ : پہلے۔ اٹارنی جنرل : یہ بات پہلے کہی؟ گواہ : پہلے بھی کہی مگر یہ رولز وغیرہ کی تبدیلی بعد میں ہوئی۔ اٹارنی جنرل : الیکشن کے بعد؟ گواہ : جی۔ اٹارنی جنرل : میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ آپ الیکشن سے پہلے چلے گئے تھے؟ گواہ : جی ہاں، پہلے ہی انہوں نے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اٹارنی جنرل : انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا تو ان کو الیکٹ کس نے کیا اور کیوں کیا؟ گواہ : نہیں، میں نے کہا کہ جب جماعت کے اندر ان خیالات کا اظہار کیا۔ اٹارنی جنرل : نہیں میں نے کہا کہ جب جماعت کے اندر ان خیالات کا اظہار کیا اور جماعت کی ایک باڈی تھی جس نے ان کو الیکٹ کرنا تھا؟ گواہ : جی نہیں! جماعت نے ویسے ہی مجموعی طور پر ان کو الیکٹ کرنا تھا۔ اٹارنی جنرل : پھر ان کو الیکٹ کیوں کیا؟ گواہ کا ساتھی : میں اللہ تعالیٰ کو حاضر جان کر جو کہوں گا صحیح کہوں گا۔ اٹارنی جنرل : آپ اپنا نام بتا دیں تا کہ ریکارڈ پر آ جائے۔

مسعود بیگ لاہوری گروپ پر جرح

گواہ کا ساتھی : مسعود بیگ مرزا میرا نام ہے۔ آپ کا سوال صحیح تھا۔ میں اس واسطے اس سوال کا جواب نہیں دے رہا کہ میرے بھائی میں جواب کی استعداد نہیں بلکہ اس لیے کہ میں اس کا مختصر جواب

صفحہ 212

دے دوں۔ جناب نے پوچھا ہے کہ مرزا محمود کو ڈکٹیٹر شپ کا رنگ دیکھ کر کیوں الیکٹ کیا؟ تو حضور والا مرزا صاحب کی وفات 1908ء میں ہوئی اور 1908ء سے 1914ء تک جس عرصہ میں نورالدین کی وفات ہوئی، ان چھ سالوں میں اختلافات کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔ یہ نبوت کا عقیدہ بھی اسی عرصے میں گھڑا گیا اور تکفیر المسلمین کی طرف بھی مرزا محمود اس وقت خلیفہ نہ ہونے کے باوجود مضامین لکھا کرتے تھے اور حضرت مولانا نورالدین نے ایک دو دفعہ فرمایا کہ یہ کفر کا فتویٰ بڑا نازک مسئلہ ہے۔ مگر ہمارا میاں نہیں سمجھا۔ اس کا جس وقت انتخاب ہوا تو یہ صحیح ہے کہ انتخاب میں وہ زور سے خلیفہ منتخب ہو گئے۔ دھاندلی بھی ہوئی تھی۔ یہ صحیح بات ہے اور لوگوں نے حکیم نورالدین کے زمانہ میں، ان کے اعزہ نے چکر لگا کر سفر کر کے لوگوں کو تیار کیا تھا اور حضرت صاحب کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ان کا انتخاب بڑا آسان تھا۔ لیکن لاہوری جماعت کے عمائدین مولانا محمد علی اور دوسرے لوگ رہ گئے اور مرزا محمود ڈکٹیٹر بن گیا۔

اٹارنی جنرل : پہلے سے وہ خود فرما رہے تھے کہ آپ پہلے ہی سے آپ علیحدہ ہو گئے؟

گواہ : جی نہیں۔

اٹارنی جنرل : الیکشن کے بعد الگ ہو گئے؟

گواہ : الیکشن کے بعد۔

اٹارنی جنرل : الیکشن میں کوئی اور امیدوار تھا؟

گواہ : امیدوار اور کوئی نہیں تھا۔ کوئی پروپوزل نہ تھی لیکن ہمارے خیال میں جسے لوگ چاہتے تھے، وہ مولانا محمد علی ایم۔ اے تھے لیکن سوچی سمجھی سکیم کے تحت ایک نام مرزا محمود کا پرپوز ہوا اور سب نے کہا مبارک مبارک مبارک۔ حالانکہ مرزا محمود کی عمر اس وقت 19 سال تھی۔

ایک گواہ : نہیں 25 سال تھی۔

گواہ : ہاں 25 سال تھی۔ آئی ایم سوری۔ مولوی محمد علی کا تجربہ تھا، علم تھا، فضل تھا، لیکن وہ الیکٹ نہ ہوئے۔

اٹارنی جنرل : اس لیے آپ علیحدہ ہو گئے۔ تو یہ عقیدہ کا اختلاف نہ ہوا بلکہ ......؟

گواہ : (آئیں بائیں شائیں).......... (مرتب)

کچھ دیر بعد وہ اختلاف تکفیر المسلمین اور عقیدہ نبوت کا تھا۔ اس لیے مولانا محمد علی نے بیعت نہ کی تھی۔

اٹارنی جنرل : جب وہ خلیفہ ہو گئے تو بیعت کیوں نہ کی۔ کرنی چاہیے تھی؟

گواہ : وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے۔

اٹارنی جنرل : کیا انہوں نے مرزا کے بعد حکیم نورالدین کے ہاتھ پر بیعت کی تھی؟

صفحہ 213

گواہ : کی تھی۔

اٹارنی جنرل : تو پھر یہ اعتراض نہ رہا کہ مرزا کے ہاتھ پر بیعت کر چکا ہوں' اس لیے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کی ضرورت نہ ہے؟

گواہ : (کاٹو تو بدن میں لہو نہیں)...... (مرتب)

اٹارنی جنرل : کافر سے کیا مراد ہے؟

گواہ : انکار کرنے والا۔

اٹارنی جنرل : جو مرزا کا انکار کرے؟

گواہ : وہ بھی کافر ہو گا لیکن......

اٹارنی جنرل : لیکن نہیں۔ یہ فرمائیں کہ یہ ارکان اسمبلی جو مرزا کو نہیں مانتے تو یہ کون ہوئے؟

گواہ : کفر دو قسم کا ہے۔ ایک لغوی' ایک حقیقی۔ لغوی کا معنی محض انکار اور حقیقی کا معنی نبی کریم ﷺ کا انکار کرنے والا۔

اٹارنی جنرل : مرزا کے منکر لغوی کافر ہوئے۔ چلو ارکان اسمبلی ہی سہی مگر یہ تو فرمائیں کہ اگر یہ آپ کو ایک جھوٹے کے ماننے کے باعث لغوی قرار دے دیں تو............

گواہ : دیکھئے نا' میرے عقیدہ کا آپ کیوں فیصلہ کریں؟

اٹارنی جنرل : آپ ہمارے کام کریں اور ہم نہ کریں۔ چلو فرمائیں کہ حقیقی کافر وہ ہے جو نبی کریم کا انکار کرے۔ باقی انبیاء جن کا قرآن مجید میں ذکر ہے' ان کا منکر کون سا کافر ہوگا؟

گواہ : وہ بھی حقیقی۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اس طرح وحی آتی ہے جیسے پہلے انبیاء کو تو اب ان کا منکر کون سا کافر ہوگا؟

گواہ : پھر ...... تو مجھے موقع دیں۔ ہاں' ہم تو مرزا کو نبی نہیں مانتے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب مسیح موعود تھے اور مسیح ثانی تھے۔ کیا مسیح اول حضرت عیسیٰ نبی تھے' تو مرزا صاحب بھی نبی ہوئے یا نہ؟

گواہ : مسیح موعود کو تو حدیث میں نبی اللہ کہا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل : تو وہ نبی ہوئے؟

گواہ : ہوئے۔

اٹارنی جنرل : مسیح موعود نبی ہوئے اور ان کے منکر؟

گواہ : منکر ہوئے لیکن وہ تو مجازی نبی تھے۔

صفحہ 214

اٹارنی جنرل : حقیقی طور پر مسیح آ جائیں تو حقیقی نبی اور مجازی طور پر آ جائیں تو مجازی۔ ان کے منکر کا کیا حکم ہے؟

گواہ : حکم منکرین کا ہوگا۔ جیسے نبی ویسے ان کے منکرین۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے کہا کہ میں پہلے نبیوں کی طرح نبی ہوں۔ تو اب ان کا منکر؟

گواہ : ٹھیک' آپ کہتے ہوں گے۔

اٹارنی جنرل : وحی اور الہام میں فرق؟

گواہ : نبوت بند ہے لیکن مبشرات کا دروازہ کھلا ہے' یعنی الہام' کشف وغیرہ۔ اور یہ کشف جس کو ہم الہام اور وحی کہتے تھے' اس میں ہمارا تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرح میں آپ سے بات کر رہا ہوں اور میری آواز آپ کے کانوں میں پہنچ رہی ہے اور خارج سے پہنچ رہی ہے' اندر کے خیالات نہیں ہیں' اسی طرح جو موردِ وحی والہام ہوتا ہے' وہ باہر سے آواز سنتا ہے خدا تعالیٰ کی' کبھی اس کے لیے کہا گیا ہے کہ فرشتہ آ کر بولتا ہے۔

اٹارنی جنرل : وحی اور الہام میں فرق کیا ہوا؟

گواہ : ہمارے نزدیک مترادف الفاظ ہیں۔

اٹارنی جنرل : کیا اس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے؟

گواہ : الہام خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ الہام میں قطعاً غلطی نہیں ہوتی لیکن الفاظ کو سننے والا انسان ہوتا ہے۔ انسان میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اجتہادی غلطی۔

اٹارنی جنرل : تو کیا یہ وحی میں بھی ہو سکتی ہے؟

گواہ : جی ہاں!

اٹارنی جنرل : دونوں میں؟

گواہ : دونوں میں۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب کی وحی میں غلطی ہو سکتی ہے؟

گواہ : میں نے گزارش کی کہ وحی میں غلطی نہیں ہو سکتی۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب کی......؟

گواہ : ہاں ! ہو سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ نے پہلے کہا کہ حقیقی کافر وہ ہے جو نبی کریم ﷺ کا انکار کرے۔ ایک شخص نبی کریم ﷺ کو تو مانتا ہے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا تو وہ حضور علیہ السلام کا امتی ہوگا؟

گواہ : ہوگا۔

صفحہ 215

اٹارنی جنرل : حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے انکار کے باوجود؟

گواہ : جی ہاں۔

مفتی محمود : مرزا قادیانی سے انکار کے باوجود؟

گواہ : مرزا صاحب کو تو نبی کریم ﷺ نے نبی اللہ کہا ہے۔

مفتی محمود : تو مرزا کا منکر نبی کریم کا منکر ہوا؟

گواہ : جی ہاں! بالکل۔

مفتی محمود : تو وہ بھی حقیقی کافر ہوا؟

گواہ : آپ نے مجھے پھنسا دیا۔

مفتی محمود : آپ نہ پھنسیں۔

گواہ : کیسے نکل جاؤں؟

مفتی محمود : ہم آپ کو نکال دیں (یعنی کافر قرار دے دیں)؟

گواہ : آپ نہ نکالیں۔

مفتی محمود : آپ خود نکل جائیں۔

گواہ : کیسے نکل جائیں؟

اٹارنی جنرل : عیسیٰ علیہ السلام کا منکر دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا؟

گواہ : وہ کوئی تاویل کر سکتا ہے کیونکہ وہ نبی کریم کو مانتا ہے۔

اٹارنی جنرل : اس کے باوجود کہ وہ ایک سچے نبی کو نہیں مانتا‘ اس کا انکار کرتا ہے‘ اس کے باوجود وہ دائرۂ اسلام میں رہتا ہے‘ آپ کے نقطہ نظر سے؟

گواہ : جی ہاں‘ اگر وہ محمد مصطفیٰ ﷺ کو مانتا ہے۔

اٹارنی جنرل : تو وہ دائرہ اسلام میں ہے؟

گواہ : جی۔

اٹارنی جنرل : یا ایک شخص کو جو نبی نہ ہو اور اپنی نبوت کا دعویٰ کرے‘ اس کو سچا نبی سمجھے تو وہ بھی آپ کے نقطہ نظر سے دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا اگر وہ محمد مصطفیٰ ﷺ کو مانتا ہے؟

گواہ : مجھے اجازت دیں کہ ہمارے نزدیک کوئی مسلمان دائرہ اسلام میں رہتے ہوئے مسلمان کا اقرار کرتے ہوئے‘ لا الہ کا اقرار کرتے ہوئے‘ مدعی نبوت نہیں ہو سکتا۔

اٹارنی جنرل : میں مرزا کی نبوت کی بات نہیں کرتا۔ جنرل سوال کرتا ہوں کہ ایک شخص جیسے منڈی بہاؤالدین میں کوئی دعویٰ نبوت کرے یا کسی اور جگہ اس کے دو چار آدمی ہوں‘ وہ یہ کہیں کہ یہ سچا نبی

صفحہ 216

ہے۔ ہم اس کو امتی نبی مانتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ نبی نہیں ہے اور جھوٹا دعویٰ کرنے والا ہے۔ یہ لوگ اس کو سچا نبی کہیں تو کیا وہ مسلمان رہ سکتے ہیں؟ کافر ہوں گے یا نہیں؟

گواہ : بڑا مشکل ہو جائے گا۔ مرزا صاحب کا اس مسئلہ میں بڑا بالکل صاف دعویٰ ہے کہ ہم مدعی نبوت کو کافر اور کاذب مانتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : یہی میں نے آپ سے پوچھا کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے‘ وہ کافر ہو گا؟ پھر مسلمان نہیں رہتا کیا؟

گواہ : میں نے مرزا صاحب کا حوالہ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔

اٹارنی جنرل : اگر یہ مدعی نبوت کافر ہوا تو حضور علیہ السلام کو ماننے کے باوجود بھی مسلمان نہ ہوا؟

گواہ : ٹھیک کہتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : حضور علیہ السلام کے بعد مدعی نبوت کافر ہوا۔

گواہ : دیکھئے نا! میں نے کہہ دیا ہے۔

اٹارنی جنرل : اس کے ماننے والے؟

گواہ : وہ بھی اس کی طرح ہوئے۔

اٹارنی جنرل : مدعی نبوت اور اس کے ماننے والے؟

گواہ : چھوٹی کیٹگری میں کافر ہوں گے۔ مگر اسلام میں رہیں گے۔ کفر دون کفر کی زد میں آ جائے گا۔

اٹارنی جنرل : گناہ گار ہوگا؟

گواہ : بالکل‘ چھوٹی کیٹگری میں آئے گا۔

اٹارنی جنرل : اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے‘ آپ کے خیال میں کہے میں امتی ہوں تو وہ گناہگار ہوگا‘ کافر نہیں ہوگا؟

گواہ : کیسے دعویٰ کرے گا؟

اٹارنی جنرل : اگر دعویٰ کرے تو پھر کافر ہو گا یا نہیں؟

گواہ : دعویٰ کرے تو پھر۔

اٹارنی جنرل : بولیں!

گواہ : کیا بولوں۔ (قہقہہ)

اٹارنی جنرل : ایک شخص کلمہ پڑھتا ہے مگر دعویٰ نبوت کرتا ہے؟

صفحہ 217

گواہ : یہ نہیں ہو سکتا۔

اٹارنی جنرل : مسیلمہ کذاب کلمہ پڑھتا تھا اور مدعی نبوت تھا۔ اس کی کیا پوزیشن ہوگی؟

گواہ : وہ تو ایک سیاسی بات تھی۔ وہ ملک پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ صدیق اکبر نے فوج بھیجی۔

اٹارنی جنرل : اس کو کافر قرار دیا گیا۔ کلمہ گو کو؟

گواہ : یہ حملہ اس کی سیاسی وجہ سے ہوا۔

اٹارنی جنرل : یہ حملہ اس کو کافر قرار دینے کی وجہ سے نہیں ہوا......؟

گواہ : وہ تو کذاب تھا۔

اٹارنی جنرل : کلمہ پڑھنے کے باوجود جھوٹا ہوا۔ ایسے لوگوں کے لیے اسلام میں جگہ ہے جو دل سے مسلمان نہ ہوں؟

گواہ : بالکل۔

اٹارنی جنرل : تو مسیلمہ کذاب ہونے کے باوجود مسلمان رہا۔ آپ اس کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔

گواہ : جھوٹا ہونا اور بات ہے‘ کافر ہونا اور بات ہے۔

اٹارنی جنرل : مسیلمہ کذاب جھوٹا ہونے کے باوجود کافر نہیں۔ آپ کے نزدیک کافر نہیں ہوا تھا وہ؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : کافر نہیں سمجھا گیا؟

گواہ : لیکن جھوٹا تو ہے۔

اٹارنی جنرل : جھوٹا ہونے کے باوجود کافر نہیں سمجھا گیا وہ؟

گواہ : جی۔

اٹارنی جنرل : مسیلمہ کذاب مسلمانوں کی نظر میں کافر ہے یا نہیں؟

گواہ : پتہ نہیں لیکن ہم مدعی نبوت کو کافر سمجھتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : کیونکہ وہ مدعی نبوت ہے۔ اس واسطے آپ کاذب کو کافر سمجھتے ہیں؟

گواہ : بالکل کیونکہ وہ مدعی نبوت تھا۔

اٹارنی جنرل : اگر آج کوئی نبوت کا دعویٰ کرے جھوٹا ہو گا ہمارے نقطہ نظر سے؟

گواہ : جی۔

اٹارنی جنرل : تو پھر وہ کافر ہوا یا نہیں؟

صفحہ 218

گواہ : ہمارا تو دعویٰ ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد کوئی مدعی نبوت نہیں آ سکتا۔

اٹارنی جنرل : جو دعویٰ کرے گا جھوٹا ہوگا؟

گواہ : وہ مدعی نبوت کافر و کاذب ہوگا۔

اٹارنی جنرل : بالکل ہنڈرڈ پرسنٹ؟

گواہ : بالکل میں نے کہا ہے۔

اٹارنی جنرل : جو اس کو نبی مانتا ہو وہ بھی کافر ہوگا؟

گواہ : جی جو اس کو نبی مانتے ہیں وہ بھی۔

اٹارنی جنرل : جو کہتا ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آرہی ہے اور وہ وحی ایسی ہی پاک ہے جیسے آنحضرتؐ پر آئی تھی؟

گواہ : جی۔

اٹارنی جنرل : اور میں نبی ہوں اور میں مسلمان ہوں۔ ایک شخص یہ کہتا ہے‘ آپ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟

گواہ : آپ مجھ سے کہلوانا چاہتے ہیں کہ وہ کافر ہوگیا؟

اٹارنی جنرل : آپ نے کہا کہ مدعی نبوت کو نبی ماننے والے کافر ہیں تو ربوہ والوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟

گواہ : یہ آپ ان سے پوچھیں۔

اٹارنی جنرل : آپ کا کیا خیال ہے؟

گواہ : میں نے کہہ دیا ہے‘ آپ ان سے پوچھیں۔

مفتی محمود : وہ کہتے ہیں کہ ہم کافر نہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ مدعی نبوت کو ماننے والے کافر ہیں تو آپ کو ہم صحیح سمجھیں یا ربوہ والوں کو؟

گواہ : ہمیں۔

مفتی محمود : یعنی وہ کافر ہوئے؟

گواہ : آپ ان سے پوچھیں۔

مفتی محمود : آپ کے نزدیک؟

گواہ : میرے نزدیک تو ہو گئے۔ میں نے کہہ دیا تھا۔ (ایوان سے کسی نے کہا کہ مرزا کو ماننے والے ان کے نزدیک بھی کافر ہیں)۔

گواہ : دیکھئے! یہ کیا ہو رہا ہے؟

صفحہ 219

چیئرمین : (خاموش)

گواہ : آپ نے اس سے دس دن بحث کی ہے۔ ان سے کیوں نہیں پوچھا؟

اٹارنی جنرل : دیکھئے نا' آپ کو ہم سے زیادہ علم ہوگا۔

گواہ : آپ نے دس دن بحث کی ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ تو ان سے ستر سال سے کر رہے ہیں۔

گواہ : پھر کیا ہوا؟

اٹارنی جنرل : وہ تو کہتے ہیں کہ جو مرزا کو نہ مانے وہ کافر۔ آپ نہیں مانتے اس لیے آپ ان کے نزدیک کافر۔ وہ مانتے ہیں اس لیے وہ آپ کے نزدیک کافر۔

(دونوں کافر ...... ایوان سے صدا بلند ہوئی)

اٹارنی جنرل : میں آپ سے پوچھوں گا کہ ایسی کوئی حدیث ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہو کہ میرے بعد تیس کذاب آئیں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے؟

گواہ : جی ہاں! ہے۔

اٹارنی جنرل : امت محمدیہ میں سے ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود کذاب ہوں گے؟

گواہ : ضرور آئیں گے۔

اٹارنی جنرل : وہ جھوٹے ہوں گے؟

گواہ : نہیں کذاب ہوں گے۔

اٹارنی جنرل : جو ان کو مانیں' وہ کون ہوں گے؟

گواہ : وہ جانیں۔

اٹارنی جنرل : تیس کذاب ہوں گے؟

گواہ : جی ہاں! ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : تو اگر کوئی ایسا کذاب پیدا ہو' جو یہ کہتا ہو کہ میں شرعی نہیں امتی نبی ہوں اور نبوت کا دعویٰ کرے؟

گواہ : یہ عربی کا لفظ ہے کذاب۔ میں نبی ہوں' وہ کن معنوں میں اپنے کو نبی کہتا ہے' دیکھنا ہو گا۔

اٹارنی جنرل : خاص معنوں میں دعویٰ نبوت کرے تو اس کی اجازت ہے؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب کو خاص معنوں میں ربوہ والے نبی کہیں تو اجازت ہے؟

صفحہ 220

گواہ : میں نے کب کہا؟

اٹارنی جنرل : ابھی!

گواہ : وہ کیسے۔ ربوہ کا نام کہاں تھا؟ یہ کیسے آگئے۔

اٹارنی جنرل : خاص معنوں میں نبی کا لفظ مدعی نبوت استعمال کرے تو اجازت ہے؟

گواہ : جی۔

اٹارنی جنرل : تو پھر آپ اور ربوہ والوں میں مرزا کی نبوت کا اختلاف نہ رہا؟

گواہ : یہ ربوہ کہاں سے آجاتا ہے؟ (قہقہہ)

اٹارنی جنرل : مرزا نے ”حقیقت الوحی“ میں کہا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں کئی نبی آئے مگر وہ براہ راست تھے۔ اس میں موسیٰ علیہ السلام کا دخل نہ تھا مگر حضور علیہ السلام کی امت میں میں امتی بھی ہوں نبی بھی ہوں؟

گواہ : نبی محدث کے معنوں میں ہے۔

اٹارنی جنرل : محدث کے معنوں میں نبی کا لفظ بولنے کی اس کو اجازت ہے؟

گواہ : جی ان معنوں میں اجازت ہے۔

اٹارنی جنرل : تو ربوہ والے کس معانی میں کہتے ہیں؟

گواہ : میں بھی تو مرزا صاحب کی بات کرتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : اور وہ؟

گواہ : اور وہ ......

اٹارنی جنرل : فرمائیں۔

گواہ : فرماتا ہوں کہ مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل : ربوہ والے کہتے ہیں کیا ہے۔

گواہ : میرے پاس مرزا کی کتاب ہے۔

اٹارنی جنرل : ان کے پاس مرزا کی کتابیں ہیں۔ تو کیا مرزا کی تحریروں میں تضاد تھا؟

گواہ : تضاد تو نہیں تھا لیکن ہم نہیں مانتے کہ تبدیلی ہوئی۔ مگر ربوہ والے کہتے ہیں کہ تبدیلی ہوئی اور تضاد ہوا۔

اٹارنی جنرل : یعنی نبی بن گئے؟

گواہ : یہ زیادہ مناسب تو یہ ہے کہ کسی کے معتقدات کے بارے میں براہ راست سوال ان سے ہونا چاہیے۔

صفحہ 221

اٹارنی جنرل : یہ کسی کی ذات کے معاملہ میں دخل نہیں، ساری ملت کا سوال ہے؟

گواہ : کسی کے معتقدات میں ہاتھ ڈالنا بالکل غلط موقف ہے۔

اٹارنی جنرل : پھر آپ کسی مسلمان کو مرزائی بننے کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟

گواہ : وہ تو دعوت ہے۔

اٹارنی جنرل : ہم بھی آپ کو دعوت دیتے ہیں۔

گواہ : یہ اچھی دعوت ہے۔

اٹارنی جنرل : میں آپ کو یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ ان کو کافر قرار دیں یا کافر قرار نہ دیں۔ میں صرف یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ میں اور ان میں اختلاف ہیں اور آپ نے خود فرمایا ہے کہ نبی کے سوال پر...... نبی کی تاویل وہ جو کر رہے ہیں آپ اس کے خلاف ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ جو معانی وہ دیتے ہیں مرزا صاحب کی نبوت کو اس کے مطابق کیا وہ مسلمان رہتے ہیں یا نہیں رہتے آپ کی نظر میں؟

گواہ : ہماری بدنصیبی ہوگی کہ ہم ان سے پوچھے بغیر ان کے معتقدات کا فیصلہ کریں۔

اٹارنی جنرل : پوچھ لیا ان سے آپ بھی فرما دیں تو اچھا ہوگا۔

گواہ : جو انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : وہ تو کہتے ہیں کہ جو نبی نہ مانے کافر ہے۔

گواہ : وہ کہتے ہیں تو ان کی مرضی۔

اٹارنی جنرل : میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ پارسی کافر ہیں یا نہ؟ تو آپ کیا کہیں گے کہ نہیں سب پاکستانی ہیں، اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

گواہ : نہیں میں ان کے معتقدات دیکھوں گا۔

اٹارنی جنرل : آپ ان کے معتقدات میں دخل دیں گے؟

گواہ : ان کے معتقدات ان سے پوچھیں۔ (قہقہہ۔ ایوان گونج اٹھا)

اٹارنی جنرل : معتقدات پوچھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں؟

گواہ : پھر آپ فیصلہ کیجئے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا، اس کی کتابوں میں موجود ہے۔

گواہ : حقیقی معنوں میں نہیں۔ ایک اصلی شیر ہوتا ہے ایک بہادر کو بھی شیر کہتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : ایک نقلی شیر ہے مگر اس کے پیروکار کہتے ہیں کہ یہ اصل تھا۔ اس میں سارے اصل کی خوبیاں موجود تھیں۔

صفحہ 222

گواہ : دیکھنا ہو گا کہ موجود تھیں ۔

اٹارنی جنرل : تو اصل اور نقل کو پرکھنے کی اجازت ہو گئی؟

گواہ : آپ کی مرضی ۔ جو شریعت لائے وہ حقیقی نبی، جو شرع نہ لائے وہ نبی نہیں۔

اٹارنی جنرل : عیسیٰ علیہ السلام شریعت نہیں لائے ۔ وہ دین موسوی کے پابند تھے۔ خود مرزا نے لکھا ہے۔ پھر تو وہ شرعی نبی نہ ہوئے؟

گواہ : جی ایسے ہوگا۔

اٹارنی جنرل : تو پھر مرزا بھی عیسیٰ علیہ السلام کی طرح غیر شرعی نبی ہوئے؟

گواہ : میں نے کب کہا کہ مرزا صاحب نبی تھے۔

اٹارنی جنرل : وحی نبوت آ سکتی ہے؟

گواہ : وحی نبوت بالکل نہیں آ سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل : ایک شخص یہ کہے کہ مجھے وحی نبوت آتی ہے تو وہ؟

گواہ : وہ تو بالکل مدعی نبوت بن جائے گا۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے کہا کہ مجھے سابق دیگر انبیاء علیہم السلام کی طرح وحی ہوتی ہے؟

گواہ : ...... مجھے سوچنا پڑے گا کہ ایسے کیوں اور کب ہوا؟

اٹارنی جنرل : اگر مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت نہیں کیا تو مسلمان اس کی مخالفت کیوں کرتے تھے؟

گواہ : مخالفت نہیں ہوئی۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب انگریز کے زمانہ میں دہلی، امرتسر، لاہور، سیالکوٹ، جہاں گئے وہاں پولیس موجود ہوتی تھی۔ مرزا محمود نے کہا کہ جہاں یورپین پولیس نہ ہوتی تھی، وہاں ہمیں بڑی دقت ہوتی تھی۔ تو مرزا کی مخالفت تو ہوئی۔ مرزا نے اپنے مخالفین کے خلاف کتابیں لکھیں، دل کی خوب بھڑاس نکالی۔ دنیا بھر کے علماء نے ان کے خلاف فتوے دیئے کتابیں لکھیں۔ اگر صرف محدث کی بات ہوتی تو اتنی مخالفت نہ ہوتی ۔ یہ سارا اختلاف تو دعویٰ نبوت کی وجہ سے ہوا مگر آپ نے بڑی سادگی سے کہہ دیا کہ مسلمانوں نے مرزا کی مخالفت نہیں کی۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ آپ مرزا کے مخالفین کو مسلمان نہیں سمجھتے؟

گواہ : نہیں جناب ایسے نہیں ہے۔ مجھے کچھ یاد نہ ہے کہ مجھے کیا کہنا چاہیے۔ نہیں میں کہنا چاہتا تھا کہ مرزا بشیر محمود کی بات ہم پر حجت نہیں۔ اس نے مخالفت کا لکھا ہے جو ممکن ہے کہ صحیح نہ ہو۔

اٹارنی جنرل : ممکن ہے کہ صحیح ہو؟

گواہ : وہ کیسے؟

صفحہ 223

اٹارنی جنرل : وہ ایسے کہ باپ کا بیٹا مرزا قادیانی کا لڑکا محمود ہر جگہ ساتھ جاتا تھا۔ اس کا بیان ہے کہ میرا والد جہاں جاتا تھا‘ لوگ اس کو گالیاں دیتے تھے۔

گواہ : اس کی عمر اس وقت کیا تھی؟

اٹارنی جنرل : یہی انیس سال۔

گواہ : گویا وہ انیس سالہ نابالغ بچے تھے۔ (قہقہہ)

اٹارنی جنرل : آپ کو تسلیم ہے کہ مرزا نے عیسائیوں‘ آریوں‘ دیگر لوگوں کی مخالفت کی اور اپنے آپ کو اسلام کے خادم کے طور پر پیش کیا۔ تو پھر یک دم کون سی بات ہو گئی کہ ان کی یک دم مخالفت شروع ہو گئی اور بڑے زور و شور سے ہو گئی۔ ایک زمانے میں وہ ہیرو‘ ایک زمانہ ان کا مخالف تو اس کا سبب کیا ہے؟

گواہ : مرزا نے بعض جگہ اپنے آپ کو ظاہری نبی کہہ دیا تو اس پر۔

اٹارنی جنرل : تو دعویٰ نبوت کیا گو ظاہری طور پر؟

گواہ : ظاہری طور پر ہاں۔

اٹارنی جنرل : حقیقت میں وہ نبی نہ تھے‘ ظاہر میں تھے۔ یعنی نقلی نہ کہ اصلی۔

گواہ : آپ پرانی بات کیوں دہراتے ہیں؟

اٹارنی جنرل : مسلمانوں سے مرزا کے تعلقات کیسے تھے؟

گواہ : سوشل تعلقات اچھے تھے۔

اٹارنی جنرل : مسلمانوں میں شادی بیاہ کو احمدیوں کے لیے وہ جائز قرار دیتے تھے؟

گواہ : یہ تفصیل طلب ہے۔ شادی وغیرہ میں کئی چیزوں کو دیکھنا ہوتا ہے۔ آپ یہ نہ پوچھیں‘ سوشل تعلقات کی بات کریں۔ دیکھیں علامہ اقبال نے مرزا صاحب کی تعریف کی۔ وہ بڑے چوٹی کے راہنما تھے۔ مولوی غلام محی الدین قصوری نے بیان دیا ہے کہ مرزا صاحب کے 5 سال کے دعویٰ کے بعد مرزا کی بیعت کر لی تھی۔

اٹارنی جنرل : کس نے بیعت کر لی تھی؟

گواہ : سر محمد اقبال نے۔

اٹارنی جنرل : ڈاکٹر محمد اقبال نے؟

گواہ : پھر۔

اٹارنی جنرل : ایک بات آپ سے پوچھ سکتا ہوں؟

گواہ : جناب والا............

صفحہ 224

اٹارنی جنرل : مجھے آپ بات کیوں نہیں کرنے دیتے؟

گواہ : معاف کیجئے۔

اٹارنی جنرل : آپ میری عرض سن لیں۔ آپ نے جو حوالے دیئے ہیں مرزا صاحب کی نبوت کے انکار کے 1901ء سے پہلے یا وہاں سے کوئی حوالہ پڑھتے ہیں، جو آپ کے حق میں ہوں یا آپ کے سٹینڈ کو سپورٹ کرتے ہوں۔ جو مخالف ہوں وہ آپ نہیں دیتے۔

گواہ : نہیں جناب والا میں اپنا موقف پیش کرتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : علامہ اقبال نے مرزا کے متعلق بعد میں کیا کہا؟

گواہ : وہ ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ کے پہلے بیان میں کچھ اور ہے اور اب کچھ اور۔ آخر کیوں؟

گواہ : وہ میں عرض کروں گا۔

اٹارنی جنرل : مولانا مودودی نے مرزائیوں کے خلاف ایک کتاب لکھی۔ علامہ اقبال نے مرزائیت کو وہ چرکے لگائے کہ دنیائے علم و دانش میں مرزائیت عریاں ہو گئی۔ آپ ان کا ذکر کیوں نہیں کرتے؟

گواہ : ٹھیک ہے وہ بھی کرنا چاہیے۔

اٹارنی جنرل : مگر کیسے؟

گواہ : آپ نے کیا فرمایا؟

اٹارنی جنرل : آپ نے کہا کہ علامہ اقبال نے یہ کہا ‘ان کا ایک فقرہ لے لیا۔ مولانا مودودی نے یہ کہا ‘ان کا فقرہ لے لیا۔ علامہ اقبال نے 1930ء میں یہ نہیں کہا کہ یہ کیا ظلم ہوا ہے۔ اس آدمی نے کیا کیا ہے۔ بلکہ میں وکیل ہوں، عدالت میں جاتا ہوں، تین نظیریں میرے خلاف ہیں، چار نظیریں میرے حق میں جاتی ہیں۔ اگر میں اپنے پیشے کو تھوڑا سا بھی جانتا ہوں اور جو بھی وکیل اپنے تھوڑے سے پیشے کو جانتا ہو تو وہ پہلے جو نظیر خلاف ہے، وہ بھی لا کر سامنے رکھ دیتا ہے۔ بعد میں جو حق میں ہے، وہ بھی سامنے رکھ دیتا ہے۔ مگر آپ پہلے کی بات کرتے ہیں، بعد کی نہیں کرتے۔ جب علامہ اقبال نے جواہر لعل نہرو کی حکومت اقتدار میں آنے لگی تو 36-1935 میں کتنے بڑے قادیان والوں نے جلسے جلوس نکالے۔ انہوں نے کہا کہ بھئی یہ دیسی پیغمبر بن رہا ہے۔ پھر علامہ اقبال کود پڑے اور ان کی مخالفت کی۔ اس کا آپ ذکر بھی نہیں کرتے تو ایسے آدمی کا آپ ذکر نہ کریں کہ جنہوں نے آپ کی بہت زیادہ مخالفت کی ہے۔ آپ کہیں گے کہ ایک فقرہ حق میں جاتا ہے، وہ لے لوں تو اس سے آپ کا کیس بگڑ جائے گا۔ جب بات ظاہر ہوگی آپ نقصان اٹھائیں گے، کیس خراب ہوگا۔ آپ نے ہماری مدد کرنی ہے۔ اسمبلی

صفحہ 225

نے صحیح فیصلہ پر پہنچنا ہے۔ آپ اسمبلی کے ارکان کے ساتھ یہ اس طرح کر رہے ہیں تو باقی عوام سے کیا کرتے ہوں گے۔ آپ ایک سوال کے جواب میں معاملہ کو مکس اپ کر دیتے ہیں۔ سوال وہاں کا وہاں آ جاتا ہے۔ آخر آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں؟ گویا آپ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ صحیح صورت حال ممبران اسمبلی یا قوم کے سامنے نہ آئے تاکہ وہ کسی صحیح فیصلہ پر نہ پہنچ پائیں۔

اب صرف اتنا بتا دیں کہ غیر احمدیوں سے آپ رشتہ ناتا جائز سمجھتے ہیں؟ گواہ : جائز سمجھتے ہیں۔ اٹارنی جنرل : پہلے کیا کہا، کچھ یاد ہے؟ گواہ : آئی ایم سوری۔ اٹارنی جنرل : آپ کے خلیفہ اول نور الدین کے زمانہ میں ایک احمدی نے غیر احمدیوں کو لڑکی دی تو خلیفہ اول نے اسے امامت سے ہٹا دیا اور اسے جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے زمانہ چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی، باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا۔ ”انوار خلافت“ میں یہ حوالہ آیا ہوا ہے۔ گواہ : ”انوار خلافت“ مرزا بشیر محمود کی ہے۔ اٹارنی جنرل : کسی کی ہو واقعہ صحیح ہے یا غلط؟ گواہ : مجھے یاد نہیں۔ آخر وہ کون شخص ہے، پھر چھ سال کے بعد کیا ہوا؟ اٹارنی جنرل : چھ سال ہی تو وہ خلیفہ رہے۔ پھر کیا ہوا۔ نورالدین مر گئے اور توبہ قبول نہ کی۔ گواہ : مجھے معلوم نہیں کہ کیا چکر ہے۔ ایک ممبر : مرزائیت نام ہی چکر کا ہے............. اٹارنی جنرل : تو دیکھئے کہ علامہ اقبال نے مخالفت کی کتابیں لکھیں، بیانات دیئے۔ مرزائیت کے شدید مخالفین میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ یہ صحیح ہے یا نہ؟ گواہ : یہ صحیح ہے۔ اٹارنی جنرل : تو مرزا کی مخالفت ہوئی؟ گواہ : جی۔ (قہقہہ) لیکن علامہ اقبال کا بھائی احمدی ہو گیا تھا۔ اٹارنی جنرل : علامہ کے بھائی سے آپ علامہ کو اپنا ہم نوا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ گواہ : جی نہیں۔ اٹارنی جنرل : لوگوں سے آپ کے تعلقات کیسے تھے؟ گواہ : دیکھئے بعض جگہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ مخالفت ہوئی۔ جنازے خراب ہوئے، میتیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہوئیں اور اس کی وجہ سے دقتیں پیدا ہوئیں۔

صفحہ 226

اٹارنی جنرل : چلو بس ! اب فرمائیں کہ مرزا بشیر نے کہا ہے کہ 1898ء میں مرزا صاحب نے اپنے فرقہ کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے شرط عائد کر دی کہ احمدی لڑکی کسی غیر احمدی کو نہ دی جائے۔ کیا آپ نے اپنے لٹریچر میں اس کی کہیں تردید کی ہے؟

گواہ : مجھے یاد نہیں۔

اٹارنی جنرل : جہاں مسلمان امام ہو‘ آپ کی جماعت سے تعلق نہ رکھتا ہو‘ آپ اس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں؟

گواہ : جو مرزا کے مخالف نہ ہوں اُن کے پیچھے پڑھ لیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : مخالف کا کیا معنی؟

گواہ : یعنی جو مرزا کو کافر نہ کہے۔

اٹارنی جنرل : جو کافر کہے؟

گواہ : وہ کافر کہنے کی وجہ سے خود کافر ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس کے پیچھے نہیں پڑھتے۔

اٹارنی جنرل : جو مرزا کو کافر کہے وہ کافر ہے؟

گواہ : جی۔

اٹارنی جنرل : سارے مسلمان جو مرزا کو کافر کہتے ہیں تو یہ کافر ہوئے؟

گواہ : دیکھئے نا!

اٹارنی جنرل : جواب ہاں یا نہ میں دیں۔

گواہ : ہاں۔

اٹارنی جنرل : کافر ہوئے کل مسلمان؟

گواہ : ٹھیک ہے لیکن.............

اٹارنی جنرل : پھر لیکن کیا ہوا؟

گواہ : ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : اچھا جس نے فتویٰ دیا ہو مرزا کے کفر کا‘ اس کے پیچھے نہیں پڑھتے؟

گواہ : بالکل بالکل ! صحیح ہے۔ آپ نے ٹھیک فرمایا۔

اٹارنی جنرل : مرزا قادیانی کے لڑکے جو احمدی نہیں ہوئے‘ اُن کا مرزا نے جنازہ پڑھا؟

گواہ : وہ مخالف تھے۔

اٹارنی جنرل : مرزا پر کفر کا فتویٰ دیا تھا؟ لائیے حوالہ۔

گواہ : اور وجہ ہوگی۔

صفحہ 227

اٹارنی جنرل : کیا؟

گواہ : وہ مرزا کے ان سے سوشل تعلقات نہیں تھے۔

اٹارنی جنرل : وہ تو مرزا کے فرمانبردار تھے۔ مرزا کی اتنی خدمت کی کہ اتنے احمدی بھی نہیں کرتے۔ ان کی مرزا خود تعریف کرتا ہے۔ حوالہ موجود ہے تو پھر فتویٰ نہ ہونے کے باوجود مرزا نے کیوں نہ نماز پڑھی؟

گواہ : نہ پڑھی۔

اٹارنی جنرل : کیوں؟

گواہ : تعلقات خراب تھے۔

اٹارنی جنرل : کیا خرابی تھی؟

گواہ : پتہ نہیں۔

اٹارنی جنرل : میں بتادوں؟

گواہ : مہربانی ہوگی۔

اٹارنی جنرل : مرزا قادیانی نے کہا کہ احمد بیگ اپنی لڑکی محمدی بیگم میرے نکاح میں نہیں دیتا۔ تم اس کی رشتہ دار لڑکی یعنی اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ ورنہ میں تمہاری ماں کو طلاق دے دوں گا۔ یہ وجہ ہو گی۔

گواہ : نہیں یہ وجہ نہیں۔ آپ بلاوجہ محمدی بیگم کے واقعہ کو اس میں لے آئے ہیں۔ اس قصہ کا کوئی فائدہ‘ اس سے بحث کا کیا تعلق ہے؟ آپ مجھے خوامخواہ پریشان نہ کریں۔ اس سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟

اٹارنی جنرل : تو پھر بتائیں نا کہ فرمانبردار بیٹا ہے‘ فتویٰ بھی اس نے نہیں دیا‘ پھر کیوں نماز جنازہ نہ پڑھی؟

مولانا شاہ احمد نورانی : نماز کا ٹائم ہو گیا ہے۔

چیئرمین : ٹھیک ہے۔ ایک منٹ۔

اٹارنی جنرل : کوئی وجہ آپ کو معلوم نہیں ہے؟

گواہ : جناب نہیں کوئی وجہ معلوم نہیں۔

اٹارنی جنرل : کیا وجہ تھی انہوں نے نہیں پڑھائی۔ آپ نے کیا وجہ بتائی؟

گواہ : میں نے کہا کہ گھریلو تعلقات خراب تھے۔

اٹارنی جنرل : کس بات سے؟

صفحہ 228

گواہ : بہت سی باتیں ہیں۔

اٹارنی جنرل : دیکھئے نا‘ بیٹا باپ کی بات نہیں مانتا تو باپ ناراض ہو جاتا ہے‘ یہ تو ٹھیک ہے؟

گواہ : دیکھئے نا‘ آپ دو چار مثالیں دے دیں گے۔ ایک نوے ستر سال کا پرانا واقعہ ہے۔ اس کی ڈیٹیل آپ مجھ سے یوں دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ گھر میں کیا واقعہ ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ تعلقات خراب تھے۔

اٹارنی جنرل : آپ کو علم نہیں؟

گواہ : نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ تعلقات خراب تھے۔ میرے علم میں ہے مگر یہ موجب نہیں تھا۔ تعلقات خراب تھے۔

اٹارنی جنرل : دیکھئے نا‘ نماز کا وقت ہو رہا ہے۔ ایک عرض کروں گا۔ آپ دماغ میں ایک چیز رکھیں۔ جب جواب دیں کہ تعلقات خراب تھے‘ باپ ناراض ہو گیا‘ جنازہ نہیں پڑھا۔ باپ کہتا ہے کہ فرمانبردار تھا‘ بڑی خدمت کی۔ ایسی جو احمدی بھی نہیں کر سکتے۔ آپ اس کو کیسے ریجیکٹ کرتے ہیں۔ اس پر سوچئے‘ پھر نماز کے بعد بات کریں گے۔

(نماز کے بعد اجلاس شروع ہوا)۔

اٹارنی جنرل : مرزا محمود کی کتاب ”انوار خلافت“ کے ص 91 پر ہے کہ غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا ……”مرزا صاحب کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو زبانی طور پر آپ کی تصدیق بھی کرتا تھا۔ جب وہ مرا‘ مجھے یاد ہے کہ آپ ٹہلتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس نیک نے کبھی شرارت نہ کی تھی‘ بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا۔ ایک دفعہ میں سخت بیمار ہو گیا اور شدت مرض سے مجھے غش آ گیا‘ تو جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رو رہا تھا۔ تو یہ آپ فرماتے تھے کہ میری بڑی عزت کرتا تھا لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ ورنہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔ محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اس کی بیوی کے رشتہ دار بھی اس کے ساتھ شامل ہو گئے۔ حضرت صاحب نے اس کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی کہ آپ کی جس طرح مرضی ہو کریں۔ لیکن باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔“ میں یہ پوچھتا ہوں کہ ایک طرف وہ فرمانبردار ہے اور پھر کہتے ہیں سوشل تعلقات ایسے تھے جس کی بنا پر اتنے درجہ کا آدمی جو کہ اپنے کو محدث سمجھتے ہیں‘ وہ اپنے بیٹے کا جنازہ نہ پڑھے۔

گواہ : جناب یہ کتاب مرزا بشیر کی ہے۔ وہ ہمارے لیے حجت نہیں۔

اٹارنی جنرل : یہ واقعہ حجت ہے یا نہیں؟

گواہ : کتاب حجت نہیں۔

صفحہ 229

اٹارنی جنرل : کیا نبی کریم ﷺ کا دشمن‘ آپؐ کے کسی فرمان کو نقل کرے تو ہم صحیح فرمان کو بھی تسلیم نہ کریں۔ جب مرزا بشیر مرزا قادیانی کا دشمن نہیں ہے؟

گواہ : لیکن واقعہ تو دیکھیں۔

اٹارنی جنرل : یہی تو میں کہتا ہوں۔

گواہ : ہمیں دیکھنا ہوگا۔

اٹارنی جنرل : دیکھیں۔

گواہ : کیا؟

اٹارنی جنرل : ”ریویو آف ریلیجنز“ میں مرزا بشیر احمد ایم۔ اے جو مرزا کا لڑکا ہے‘ اس نے لکھا ہے کہ صفحہ 129 پر وہ کہتے ہیں کہ غیر احمدیوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود نے وہ سلوک جائز رکھا جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عیسائیوں کے ساتھ رکھا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں‘ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کا جنازہ پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی؟

گواہ : کیا رہا؟

اٹارنی جنرل : کیا رہ گیا ہے کہ جو ہم ان کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی‘ دوسرا دنیاوی۔ دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیاوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ اور ناتا ہے۔ سو یہ دونوں حرام قرار دے دیے گئے ہیں۔ اگر کہو کہ یہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے اور یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کیا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہودیوں تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔ یہ بات ثابت ہو گئی کہ احمدی لڑکی کی شادی غیر احمدی سے برا سمجھتے ہیں۔ بعض دفعہ ہو جاتی ہے‘ وہ اور بات ہے مگر مرزا صاحب کا یہی آرڈر ہے جو میں نے آپ کو پڑھ کر سنایا۔ 1898ء میں کہ آپ ایسا نہ کریں۔

گواہ : یہ بھی بشیر صاحب ایم۔ اے ہمارے لیے حجت نہیں۔

اٹارنی جنرل : رسالہ کے ایڈیٹر مولوی محمد علی تھے۔

گواہ : مگر ان کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

اٹارنی جنرل : مگر مخالف ہونا ثابت ہے کیا؟

گواہ : چیک کر کے بتاؤں گا؟

اٹارنی جنرل : یہ ایک اور حوالہ 1906ء کے ”ریویو آف ریلیجنز“ کا ہے۔

گواہ : یہ بھی نوٹ کر لیتا ہوں۔

صفحہ 230

اٹارنی جنرل : یہ آپ مولوی محمد علی کا حوالہ بھی نہیں مانتے؟

گواہ : چیک کر لوں گا۔

اٹارنی جنرل : اچھا تو مرزا کا منکر حقیقی کافر نہیں ہوتا؟

گواہ : جی نہیں ہوتا۔

اٹارنی جنرل : اور مسلمان رہتا ہے؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : اور اس کے باوجود آپ اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے؟

گواہ : چیک کر لوں گا۔ (ایوان میں صدا بلند ہوئی’ چیک بک )

ایک ممبر : چیکنگ کلرک۔

اٹارنی جنرل : محدث‘ نبی کے لیول کا نہیں ہوتا؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : بس یہی معلوم کرنا چاہتا تھا کہ ............

گواہ : ہاں‘ بالکل واضح ہے کہ محدث نبی کے لیول کا نہیں ہوتا۔

اٹارنی جنرل : اب اگر محدث یہ کہے کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو‘ اس سے بہتر غلام احمد ہے؟

گواہ : شعر کی بندش کو دیکھیں‘ یہ نبی علیہ السلام کے عشق میں کھویا ہوا ہے۔ یہ خیال چھوڑو کہ ایک شخص باہر سے آ کر امت محمدیہ کی اصلاح کرے گا۔ محمد رسول اللہ کا غلام چونکہ لفظ ذرا ملتے ہیں کہ غلام احمد یعنی محمد رسول اللہ کا غلام۔

اٹارنی جنرل : میں سمجھ گیا ہوں مگر غلام احمد‘ احمد کا غلام‘ اللہ کا بندہ‘ وہ کیوں دعویٰ کرے کہ وہ نبی سے بہتر ہے؟

گواہ : دیکھیں محمد رسول اللہ کا دائرہ عمل عالمگیر ہے‘ عیسیٰ علیہ السلام کا محدود۔

اٹارنی جنرل : حضور علیہ السلام کی ذات اقدس کی بحث نہیں کر رہے۔ کیا کوئی امتی غلام کہہ سکتا ہے کہ میں ان انبیاء میں‘ جس کا قرآن شریف میں ذکر ہو اس سے بہتر ہوں۔ کسی لحاظ سے بھی آپ اس کو جائز سمجھتے ہیں؟

گواہ : میں نے عرض کیا کہ یہاں غلام احمد سے کسی شخص کی طرف اشارہ نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل : احمد تو نہیں ہو سکتا ہے۔ غلام احمد کہا ہے اس نے۔

گواہ : جی نہیں اپنا نہیں ذکر کیا۔

اٹارنی جنرل : غلام احمد سے مطلب احمد ہے؟

صفحہ 231

گواہ : ہاں۔

اٹارنی جنرل : یہ تو اور بھی بری بات آپ نے کہہ دی کہ غلام احمد سے مراد احمد ہے۔

گواہ : میں نے نہیں کہا آپ نے کہلوایا ہے۔ (قہقہہ)

اٹارنی جنرل : اچھا آپ فرمائیے مرزا صاحب کہتے ہیں کہ :

حسب بشارت آمدنم عیسیٰ کجا ہست کہ پابنہ بمنبرم

(”نزول المسیح“ ص 99)

یہاں تو احمد نہیں آیا بیچ میں۔ وہ تو صرف خود کا ذکر کر رہا ہے اور عیسیٰ کا مقابلہ ہو گیا۔

گواہ : عیسیٰ کجا ہست۔ کہاں ہے وہ تو فوت ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : پابنہ بمنبرم کہ عیسیٰ اپنا پاؤں بھی میرے منبر پر نہیں رکھ سکتا۔

گواہ : نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے کہ یہ محمد عربی کا منبر ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا غلام احمد کا منبر حضور علیہ السلام کا منبر ہے؟

گواہ : کیا کہا۔ (ایوان سے صدا بلند ہوئی کہ اس کی بکواس بند کراؤ) نہیں جناب سمجھے نہیں میں نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کہاں ہیں وہ تو فوت ہو گیا۔

اٹارنی جنرل : حضور علیہ السلام بھی فوت ہو گئے تو مرزا کے لیے یہ کہنا بھی جائز ہو گیا کہ حضور علیہ السلام کہاں ہیں جو میرے منبر پر پاؤں رکھیں؟

گواہ : ایسے نہیں کہا۔

اٹارنی جنرل : جو کہا؟

گواہ : وہ تو میں کہہ نہیں سکتا۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے کہا کہ :

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بعرفان نہ کمتر ز کسے

(”نزول المسیح“)

جتنے انبیاء بھی ہیں وہ کہتے ہیں کہ بہت گزر چکے ہیں مگر میں عرفان میں کسی سے کم نہیں۔ کیا یہ محدث کہہ رہا ہے یا کوئی نبی کہہ رہا ہے اور مقابلہ بھی نبیوں سے کر رہا ہے؟ اس وقت میں آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ ایک شخص محدث ایک شخص آنحضرت کے جوتوں میں بیٹھنے والا ہے۔ خود ہی کہتا ہے کہ میں ان کا غلام ہوں۔ سب انبیاء کو ماننے کا دعویٰ مگر جب بھی اپنا مقابلہ کرتا ہے تو کسی ایک نبی کو گھسیٹ لے گا یا کسی اور کو یا سب کو اکٹھا کر کے کہ یہ سب میرا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ جب تک کہ خود اس کا دعویٰ نبوت نہ ہو وہ کیوں کر کہتا ہے؟

صفحہ 232

گواہ : کچھ محکمات ہوتے ہیں، کچھ متشابہات۔ یہ متشابہات میں سے ہے۔

اٹارنی جنرل : متشابہات پر تفصیلی ایمان کی ضرورت نہیں۔ اجمالی طور پر تفصیل کے بغیر ایمان کافی ہے؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : تو اجمالی طور پر مرزا تمام انبیاء سے بڑھ کر ہے؟

گواہ : میں نے عرض کر دیا ہے۔ (نعوذ باللہ )

اٹارنی جنرل : ایک سو دفعہ کہا کہ میں نبی نہیں ہوں۔ ہزار دفعہ کہا کہ نبی ہوں۔ تو اس تضاد کو کیونکر دور کیا جائے ۔ یا اس کی شاطرانہ چال سمجھی جائے؟

گواہ : آپ کی مرضی۔ (قہقہہ)

اٹارنی جنرل : مرزا نے آگے کہا کہ :

آنچہ دادست ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام

یعنی سارے نبیوں کو جو جام (نبوت) ملا مجھے ان سے بھر کر جام دیا گیا۔ اگر یہ دعویٰ دیکھیں تو پھر آپ کہتے ہیں کہ محدث ہے؟

گواہ : ...... محدث ہی ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ اس کو ظلی یا مجازی نبی کہتے ہیں؟

گواہ : غیر حقیقی۔

اٹارنی جنرل : جعلی، نقلی؟

گواہ : نہیں ظلی یا مجازی۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے یہ کہا کہ مسلمان ناراض ہوں تو نبی کا لفظ کاٹا ہوا سمجھیں؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : عبدالحکیم کلانوروی کی اس سے بحث ہوئی؟

گواہ : تو فرمایا کہ اس کو بے شک کاٹا ہوا سمجھیں۔

اٹارنی جنرل : کاٹا ہوا سمجھیں؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : تردید شدہ؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : اس کے بعد پھر مرزا نے نبوت کا لفظ اپنے لیے استعمال کیا۔ ایک پارسا آدمی، بڑا

صفحہ 233

آدمی اور آپ کے نزدیک محدث اس کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ بات صاف کرتا ہے اور پھر اس پر قائم رہتا ہے۔ مگر وہ چالیں چلتا تھا تو چال باز اور شاطر آدمی کو اب کیا کہیں۔ یہ کیوں ہے؟

گواہ : مرزا نے بوجہ مامور ہونے کے اس کا استعمال کیا۔

اٹارنی جنرل : پھر مامور خدا کے حکم اور خطاب نبوت پانے کے بعد بھی کہتا ہے کہ اس لفظ کو کاٹا ہوا سمجھیں؟

گواہ : بس یہ ایک مشکل مسئلہ ہے۔

اٹارنی جنرل : یہ بھی متشابہات سے ہوگا؟ (قہقہہ سے ایوان گونج اٹھا)

اٹارنی جنرل : اچھا مرزا نے کہا کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کے منکر کی طرح کافر ہے۔ یہ حوالہ صحیح ہے؟

گواہ : حوالہ صحیح ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ خدا اور رسول کا منکر ہے اس لیے کافر ہے۔

اٹارنی جنرل : تو مرزا کا منکر خدا اور رسول کا منکر ہے۔ کیونکہ یہ ان کا فرستادہ ہے؟

گواہ : جی ایسے ہی ہوگا۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے کہا کہ سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ کیا مطلب تھا اس کا؟

گواہ : خدا کا فرستادہ۔

اٹارنی جنرل : رسول اور فرستادہ ایک چیز ہے؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : تو پھر آپ رسول کا لفظ استعمال کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں؟

گواہ : نہیں گھبراتا کرتا ہوں کہ فرستادہ یعنی رسول۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو وحی میرے پر نازل ہوئی وہ ایسی پاک وحی ہے جیسا کہ آنحضرتؐ پر نازل ہوئی؟

گواہ : آپ نے سوال کیا ہے کہ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ مجھ پر ویسے ہی وحی نازل ہوتی ہے۔

اٹارنی جنرل : میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور ایسا ہی پاک سمجھتا ہوں۔

گواہ : یعنی وحی ہونے میں شک نہیں ہے۔ ویسے ہی ہے مگر قرآن کے برابر تو نہیں کہا۔

اٹارنی جنرل : ”روحانی خزائن“ دیکھ لیں جلد 22، ص 254 اس پاک وحی پر ایسے ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔

صفحہ 234

گواہ : یعنی وحی یقینی ہے۔

اٹارنی جنرل : اور اس میں فرستادہ یا رسول کے لفظ ہیں؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : تو پھر؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : نبی کریمؐ کسی بڑے آدمی سے بات کریں تو بات اور ہوگی اور اس کا سٹیٹس اور ہوگا اور کسی چھوٹے آدمی سے بات کریں تو سٹیٹس اور ہوگا یا خدا تعالیٰ کسی نبی سے بات کریں تو سٹیٹس اور ہوگا اور عام آدمی سے بات کریں تو سٹیٹس اور ہو جائے گا۔

گواہ : معتقدات کی بات ہے۔ ممکن ہے کہ میں اپنا عقیدہ آپ سے نہ منوا سکوں۔

اٹارنی جنرل : ارادۃً نہیں بیان کر رہے ۔ منوانا اور ہے بیان کرنا اور ہے۔ آپ بیان تو کریں۔

گواہ : نہیں نہیں۔

اٹارنی جنرل : یہ تو کلیری فیکیشن چاہ رہے ہیں۔

گواہ : میں کیا عرض کروں۔

اٹارنی جنرل : مگر اس میں غیر نبی کی مرزا نے بحث نہیں کی ۔ وہ تو نبیوں کی وحیوں کی طرح اپنی وحی کو پاک کہہ رہا ہے۔ قرآن وانجیل کی طرح ایمان لاتا ہوں دونوں پر۔

گواہ : یہ نہیں، دونوں پر ایک جیسا کیسے؟

اٹارنی جنرل : اسلام بڑا سیدھا سادا غریب عوام کا مذہب تھا۔ آپ اسے پیچیدہ کیوں بنا رہے ہیں؟

گواہ : یہ جناب ہمارے جیسے سادے لوگوں کے لیے ہے۔

اٹارنی جنرل : بالکل سادہ لوگوں کے لیے یہ جو مرزا صاحب باتیں کرتے ہیں، میں نبی ہوں، میں بروزی ہوں، مجازی ہوں، نہیں ہوں، ہوں۔ اس سے اسلام کو پھیلانا مطلب تھا یا کنفیوز کرنے کا مطلب تھا؟ آپ بتائیں۔ دیکھنے میں ایک وکیل ہوں۔ ایک مہینہ سے لگا ہوا ہوں۔ یہ پتہ نہیں چلتا کہ مرزا صاحب کیا کہتے تھے۔

گواہ : جناب میں عرض کرتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : ایک تو 15 دن انہوں نے تقریریں کیں۔ وہ کلیئر نہیں کر سکے۔ ابھی آپ کہتے ہیں اور آپ کلیئر نہیں کر سکے۔ آپ اندازہ لگائیں خدارا، مسلمانوں کی کیا حالت ہوگی؟ اس سے زیادہ فتنہ کوئی ہو سکتا ہے جو بار بار آپ نے اس کے معنی نکالے ہیں۔ بروزی، مجازی، اصلی نبی، نقلی نبی، وہ وحی

صفحہ ۷۳۵

ایسے ہی پاک ہے وہ پاک نہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ سمپل دین ہے۔ سٹیٹ فارورڈ جس میں کسی مغالطہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تو پھر آپ بتلائیں کہ وہ کہتا ہے کہ ایسی ہی میری وحی پاک ہے جیسے باقی انبیاء پر آئی ہے۔ میں اس پر ایسے ہی ایمان رکھتا ہوں۔ آپ کہتے ہیں یہ نہیں ہے۔ ویسے ...... یہ تو صاحبزادہ صاحب بڑی کنفیوز کر دیتی ہے بات۔

گواہ : کنفیوز تو سمجھنے والا ہو جاتا ہے۔ اس کی اپنی کلام میں تو کنفیوزن نہیں ہے۔ قرآن مجید کو پڑھنے والا بھی تو کنفیوز ہو جاتا ہے۔

اٹارنی جنرل : انا للہ قرآن مجید تو سیدھا سمپل دین ہے۔ اس نے کہا خاتم النبیین مہر لگی ہوئی ہے سیل ہے۔ آپ کہتے ہیں کھڑکی کھلی ہے۔ کوئی کہتا ہے بند ہے۔

گواہ : ہم نہیں کہتے۔

اٹارنی جنرل : مگر جو کہتے ہیں وہ بھی اس کے پیروکار ہیں۔

گواہ : ہوں گے۔

اٹارنی جنرل : ہوں گے نہیں، بلکہ ہیں۔

گواہ : جی مگر ہم نہیں کہتے۔

اٹارنی جنرل : پھر لا نبی بعدی کو دیکھئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ مگر آپ لوگ کہتے ہیں کہ بروزی ہو گا مجازی ہوگا۔ اس میں خوبیاں ہوں گی تو گویا آپ حضرات آنحضرت ﷺ کے فرامین کی تصحیح کر رہے ہیں کہ یوں نہیں بلکہ یوں؟

گواہ : نہیں جی کوئی نہیں آسکتا۔

اٹارنی جنرل : آپ صبح سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس معنی میں نہیں آسکتا لیکن اس معنی میں آسکتا ہے؟

گواہ : نہیں جناب! کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔ نہ اس قسم کا نہ اس قسم کا۔ کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔

اٹارنی جنرل : اب دیکھئے میں آپ کے کہنے پر اعتبار کروں یا مرزا قادیانی کی تحریرات پر اعتبار کروں۔ مرزا قادیانی نے خود کہا ہے کہ میں نبی اور رسول ہوں۔

گواہ : وہ تو محدث کے معنوں میں نبی کہا ہے۔

اٹارنی جنرل : پھر وہی حرکت۔ آپ نے ابھی تسلیم کیا کہ کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔ اب ایک منٹ بعد کہتے ہیں کہ اس قسم کا آسکتا ہے۔ یہی وہ آپ لوگوں کی باتیں ہیں جس نے امت میں تفرقہ اور افتراق کی راہ پیدا کر کے ہیجان پیدا کر دیا ہے۔

گواہ : نہیں جناب حرکت نہیں۔

صفحہ 236

اٹارنی جنرل : دیکھئے پہلے کہا کہ میں نبی ہوں۔ لوگوں نے کہا یہ کیا؟ فوراً کہا کہ نبی کا لفظ کاٹ دو۔ میں نبی نہیں۔ پھر کہا کہ نبی ہوں۔ اس ترمیم کے اعلان سے لوگ خوش ہو گئے۔ دوسرے دن پھر لکھ دیا تو اس پر کنفیوژن پیدا ہو گئی کہ آخری کلیئر پوزیشن کیا ہے؟ ایک سٹینڈرڈ اور سٹیٹس ہوتا ہے محدث کا۔ مرزا کیا کر رہا ہے؟

گواہ : دیکھئے جناب شیخ عبد القادر جیلانی نے کہا کہ محدث نبی ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل : ان کو نبی کا نام دیا گیا ؟ کیا انہوں نے اپنے لیے نبی کا لفظ استعمال کیا ۔ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو یہ حوالہ پیش کر کے بلاوجہ اپنا اور ہم سب کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ فرمائیے صرف شیخ عبدالقادر جیلانیؒ یا آج تک امت کے کسی فرد نے کہا ہے کہ میں نبی ہوں اور جو مجھے نہ مانے وہ کافر ہے۔ لائیے اس قسم کی ایک مثال۔

گواہ : یہ ٹھیک ہے مگر دیکھئے مرزا قادیانی نے خود فرمایا کہ تمام غوث، قطب، ابدال، اولیاء میں سے صرف نبوت کا نام پانے کے لیے میں مخصوص کیا گیا ہوں۔ (”حقیقت الوحی“ ص 391) تو شیخ عبدالقادر نبوت کا دعویٰ کیسے کرتے؟

اٹارنی جنرل : الحمد للہ کہ جو بات مجھے کہنی چاہیے تھی وہ خود آپ نے کہہ دی۔ میرا بھی یہی کہنا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی کا سٹیٹس اور مرزا کا اور ہے۔

گواہ : بالکل لیکن مرزا صاحب کے نبی اللہ کا لفظ حدیث شریف میں ہے۔

اٹارنی جنرل : فرمائیے ایک حدیث شریف جس میں ہو کہ میرے بعد مرزا قادیانی نبی اللہ ہوگا۔

گواہ : ہاں جی ”مسلم شریف“ کی حدیث ہے کہ مسیح موعود نبی اللہ ۔

اٹارنی جنرل : دیکھئے مسیح علیہ السلام نبی اللہ تھے۔ ان کے سٹیٹس پر مرزا کو لانے کی کوشش نہ کریں۔ یہ علیحدہ بحث ہے۔

گواہ : شیخ عبدالقادر جیلانی نے فرمایا کہ نبی کا لقب.......

اٹارنی جنرل : لقب یا منصب؟

گواہ : لقب کا کہا ہے۔

مولانا مفتی محمود : یہ صاحب شیخ عبدالقادر جیلانی کے حوالہ میں دھوکہ سے کام لے رہے ہیں۔ اسی کتاب میں اس سے آگے خود شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ حجرت علینا اسم النبی ہم سے نبی کا نام منع کر دیا گیا، بند کر دیا گیا کہ اب آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی شخص نبوت کا نام نہیں پا سکتا۔

گواہ : ہاں مفتی صاحب صحیح فرماتے ہیں۔ یہ ہے، آگے یہ درج ہے۔

اٹارنی جنرل : پھر تو بات واضح ہو گئی کہ شیخ عبدالقادر کہتے ہیں کہ کوئی نبوت کا نام نہیں پا سکتا اور

صفحہ 237

مرزا کہتا ہے کہ نبی کا نام پانے کے لیے میں مخصوص کیا گیا ہوں میں نبی اور رسول ہوں۔ تو یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔

گواہ : نہ جی، شیخ عبدالقادر کہتے ہیں کہ ہمیں یہ لقب دیا گیا۔

مفتی محمود : لقب دیا گیا، نبی کا تو نہیں کہا؟

گواہ : تو پھر کیا لقب دیا گیا؟

مولانا مفتی محمود : لقب دیا گیا غوث کا، قطب کا، اولیاء کا وغیرہ۔

گواہ : یہ کہاں ہے؟

مفتی محمود : حجرت علینا اسم النبی کہ یہ پہلے کلام کی توضیح ہے۔ ہمیں لقب دیا گیا دیگر یعنی غوث، قطب، ابدال وغیرہ کا۔ اس لیے کہ نبی کا نام پانے سے روک دیے گئے ہیں بوجہ فرمان خاتم النبیین کے۔

اٹارنی جنرل : مرزا کہتا ہے کہ خدا کے حکم کے موافق میں نبی ہوں، اگر میں اس سے انکار کروں تو بڑا گناہ ہوگا۔ جس حالت میں خدا میرا نبی نام رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کرسکتا ہوں۔ میرا نام رکھ دیا گیا ہے۔

گواہ : بعض بزرگوں کے کلام میں نبی کا لفظ بھی اشارۃً مل جاتا ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ اشارے کنائے چھوڑیں۔ یہ نبوت کی بحث ہے، شاعری کی نہیں۔ مرزا کہتا ہے کہ خدا نے مجھے نبی کہا اور آپ کہتے ہیں کہ وہ نبی نہیں تھا۔ تو فرمائیے آپ میں سے کس کا موقف صحیح تسلیم کیا جائے۔ یہ لیجئے ”ایک غلطی کا ازالہ“ ہے اس میں مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میرے نبی ہونے کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی کا لفظ میرے لیے استعمال کرو۔

گواہ : دیکھئے مرزا صاحب کی 80 کتابیں ہیں۔ ایک کتاب پر اکتفا نہ کریں، سب کو ملا کر پڑھیں۔ کیا نبوت کے اوصاف مرزا نے اپنے اندر تسلیم کیے یا ان کا دعویٰ کیا؟ ہرگز نہیں۔ مثلاً یہ کہ اس کی وحی وحی نبوت ہوتی ہے کیا مرزا نے ایسا کہا؟

اٹارنی جنرل : میں یہی کہتا ہوں کہ مرزا کسی کتاب میں کچھ کہتا ہے، کسی میں کچھ، تو کس کا اعتبار کیا جائے۔ نیز یہ کہ مرزا نے خود کہا ہے کہ میری وحی نبی علیہ السلام کی وحی کی طرح ہے۔ یعنی اپنی وحی کو وحی نبوت تسلیم کیا۔

گواہ : مرزا صاحب نے خود کہا ہے کہ میری وحی اگر قرآن کے موافق نہ ہو تو میں اس کو ردی کی طرح پھینک دیتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : چلو اس بات کو مان لیتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی سچا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسی وحی

صفحہ 238

کیوں کرتے جو ردی کی طرح پھینک دی جاتی۔ اس طرح تو اس کی وحی رحمانی نہ ہوئی بلکہ...... بہر حال لفظ خاتم النبیین کے قرآن مجید میں آجانے کے بعد مرزا کا دعویٰ نبوت‘ یہی وہ مسئلہ ہے جو ہم سب کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

گواہ : دیکھئے نا ایک لفظ پر نہ جائیں اس کے ترجمہ کو دیکھیں۔

اٹارنی جنرل : اس کا ترجمہ کون سا ۔ خدا اور اس کے رسول کا یا مرزا کا؟

گواہ : جناب علماء ربانی‘ مجددین‘ محدثین‘ اولیاء نے جو ترجمہ کیا ہے‘ وہ دیکھیں۔

اٹارنی جنرل : ان کے ترجمے آپ کو منظور ہوں گے؟ اس کے بعد تو پھر آپ اعتراض نہ کریں گے؟

گواہ : جی ان کے ترجمے کی حیثیت تو ایک وکیل کی ہے۔ ایک اعلیٰ درجہ کے وکیل کی بات کو زیادہ وقعت دیں گے۔

اٹارنی جنرل : میرا سوال جو میں نے پوچھا ہے‘ وہ یہ کہ یہ ایک وکیل ہے یا یہ اسمبلی ہے۔ یہ قانون بناتی ہے‘ قانون پاس کر دیا انہوں نے۔ اس کے بعد کوئی میرے پاس آتا ہے کہ اس قانون کا مطلب کیا ہے۔ میں اس کی تفسیر کر دوں گا۔ وہ کوئی معنی نہیں رکھتی۔

گواہ : وہ قانون نہیں بنے گا۔

اٹارنی جنرل : مگر جب یہی بات عدالت میں جاتی ہے اور عدالت قانون کی تعبیر کر دیتی ہے تو وہ تعبیر اسمبلی کو بھی ماننی پڑتی ہے۔ اگر وہ اسمبلی کو پسند نہیں تو وہ اور قانون بنائیں گے لیکن عدالت کی تعبیر کو رد نہیں کر سکتے۔ تو اولیاء کی تفسیرات سر آنکھوں پر مگر ان کی حیثیت ایک وکیل کی ہے۔ نبی علیہ السلام کی تعبیر منشائے حق کے ترجمان کی ہے۔ آپ نے خاتم النبیین کی تعبیر لا نبی بعدی سے کردی ہے۔ اب اس کے بعد کوئی تعبیر کیا معنی رکھتی ہے؟

گواہ : مرزا صاحب بھی اس تفسیر کو مانتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب نے رحمت عالم ﷺ کی تفسیر کو کیا ماننا ہے یا آپ لوگ کیا مانیں گے۔ آپ لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ مرزا نے کہا مسیح علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے مگر مرزا کا مرید محمد علی کہتا ہے کہ مسیح کا باپ تھا۔ جب بے راہ روی کا اپنے مریدوں کو سبق پڑھا دیا جائے تو پھر اس کے یہی نتائج نکلتے ہیں۔

گواہ : ہم مرزا کی تفسیر سے اختلاف کرتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : مگر ربوہ والے تو اس کو کفر سمجھتے ہوں گے؟

گواہ : دیکھئے نا جی‘ ہمارے تو ان سے اختلافات ہیں۔

صفحہ 239

اٹارنی جنرل : کیا؟

گواہ : وہ نبی مانتے ہیں ہم نہیں‘ وہ اس کے منکر کو کافر کہتے ہیں مگر ہم نہیں۔

اٹارنی جنرل : آپ بھی تو کافر کہتے ہیں۔ وہ سیکنڈ کیٹگری۔

گواہ : آپ ہمیں 15-1914ء کی تحریرات دکھائیں۔

اٹارنی جنرل : ربوہ والے تو مرزا کے منکر کو نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر سمجھتے ہیں۔

گواہ : نہیں جناب! انہوں نے تو لکھا ہے کہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

اٹارنی جنرل : انہوں نے اس کی تفسیر یہ کی ہے دائرہ اسلام کے علاوہ امت کا ایک اور بھی دائرہ ہے‘ وہ اسلام سے خارج ہیں مگر امت سے نہیں۔

گواہ : وہ کون سا دائرہ ہے؟ یہ مرزا ناصر کی تفسیر ہماری فہم سے بالا ہے۔

اٹارنی جنرل : ہم نے بھی پہلی دفعہ سنا ہے۔

گواہ : اسلام کا بھی ایک دائرہ ہے۔ پھر امت کا بھی ایک دائرہ ہے۔ کم سے کم میرا دماغ جو ہے‘ اس میں تو یہ نہیں آتا‘ ہماری عقل میں نہیں۔ ان کی تعبیرات سے ہم بری الذمہ ہیں۔ ان کی تشریحات کا ہم پر کوئی اطلاق نہ فرمایا جائے۔

اٹارنی جنرل : اس لیے تو میں کہتا ہوں کہ آپ لوگوں نے ہمیں کنفیوز کر دیا ہے۔ کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ۔

گواہ : لیکن جناب ہم نے تو کنفیوز نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل : مگر انہوں نے تو بیان دیا۔

گواہ : ہمارا تو ان سے اختلاف تھا۔

اٹارنی جنرل : اختلاف تھا‘ اب تو نہیں؟

گواہ : جی‘ وہ دو چار تبدیلیاں کرلیں تو ہمارے بھائی ہیں۔

اٹارنی جنرل : تھوڑی سی تبدیلی آپ کرلیں‘ تھوڑی سی وہ کرلیں....... (قہقہے).......

اچھا تو آپ نے کہا کہ مرزا کا منکر حقیقی کافر نہیں تو اس کا معنی یہ ہوا کہ کوئی حقیقی مسلمان بھی ہوگا؟

گواہ : جو قرآن مجید کے سارے احکامات کو مانے‘ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر چلے‘ وہ حقیقی مسلمان ہے۔

اٹارنی جنرل : مسلمان؟

گواہ : جی۔

اٹارنی جنرل : کون سا مسلمان‘ حقیقی یا نہیں؟

صفحہ 240

گواہ : حقیقی۔

اٹارنی جنرل : چاہے وہ مرزا کا منکر ہو پھر بھی حقیقی مسلمان ہوگا؟

گواہ : دیکھئے جو مرزا کا منکر ہوگا وہ تو نبی علیہ السلام کی پیشین گوئی کا منکر ہوگا۔

اٹارنی جنرل : لہٰذا حقیقی مسلمان نہ ہوگا؟

گواہ : جی۔

اٹارنی جنرل : کوئی غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہوسکتا؟

گواہ : نہیں وہ کیونکہ ایک حکم کا انکار کرتے ہیں۔ نبی کریم کے ایک حکم کے منکر ہیں۔

اٹارنی جنرل : اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کے نقطہ نظر سے اللہ اور رسول کا فرمان ہے کہ مرزا کو مانو۔

گواہ : بالکل جی جو خدا کے حکم کے فرمان کا منکر ہوگا، میں اس کو حقیقی طور پر مسلمان کیسے قرار دے دوں؟

اٹارنی جنرل : دیکھئے میں پوزیشن کلیئر کرنا چاہتا ہوں۔ دیکھئے مرزا مسیح موعود ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہیں مانتا تو میں حقیقی مسلمان نہیں ہوسکتا؟

گواہ : چونکہ۔

اٹارنی جنرل : چونکہ کو چھوڑیئے۔

گواہ : نہ جی۔

اٹارنی جنرل : یہ چونکہ بعد میں بتائیے۔

گواہ : نہیں اس میں ایک ڈر ہے۔

اٹارنی جنرل : دیکھیں پلیز میں ایک ریکویسٹ (Request) کرتا ہوں کہ میں جو سوال پوچھتا ہوں، اس کا آپ پہلے جواب دے دیں، پھر بے شک ایک گھنٹہ تک اس کی تفسیر بیان کریں۔ ایک شخص نیک آدمی ہے، مومن ہے، نیک اعمال کرتا ہے، ولی اللہ ہے، اللہ تعالیٰ کے تمام احکام بجالاتا ہے مگر وہ آپ کے فرمان کے مطابق ایک حکم کو نہیں مانتا، آپ کے مطابق کہ مرزا صاحب جو مسیح موعود ہیں یا محدث، اس کو نبی مانو۔ آپ کے نزدیک وہ مسلمان نہیں ہوتا۔ آپ پہلے کہیں کہ وہ مسلمان ہوتا ہے یا نہیں؟

گواہ : میں عرض کرتا ہوں۔

اٹارنی جنرل : دیکھیں نا آپ کبھی بھی صحیح جواب نہیں دیتے۔ مجھے سپیکر صاحب سے ریکویسٹ کرنی پڑے گی کہ پہلے آپ جواب دیں پھر تفصیل کریں۔ آپ کہیں کہ حقیقی مسلمان ہو سکتا ہے یا نہیں؟

صفحہ 241

گواہ : میں گزارش کر رہا تھا کہ مرزا صاحب کو آپ لانے کی بجائے پہلے جو میرا سٹینڈ ہے وہ سنیں۔

اٹارنی جنرل : میں سمجھ گیا، میں نے پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ اگر ایک شخص، فرض کرو میں اپنے لیے کہتا ہوں کہ ایک شخص سارے حکم مانتا ہے؟

گواہ : اور ایک حکم نہیں مانتا۔

اٹارنی جنرل : اور ایک حکم نہیں مانتا۔

گواہ : وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔

اٹارنی جنرل : وہ حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتا؟

گواہ : نہیں ہو سکتا۔

اٹارنی جنرل : دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ کہتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مرزا صاحب مسیح موعود ہیں، ان کو مانو۔ جو نہیں مانتا وہ حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتا؟

گواہ : اگر اس پر اتمام حجت نہیں ہوا تو وہ ہو جائے گا۔

اٹارنی جنرل : نہیں اتمام حجت کو چھوڑ دیجئے فی الحال۔

گواہ : نہیں جی نہیں۔

اٹارنی جنرل : فرض کیجئے ہو چکا ہے؟

گواہ : اتمام حجت ہو چکا ہے۔

اٹارنی جنرل : ہو چکا ہے۔

گواہ : پھر بالکل (مسلمان) نہیں۔

اٹارنی جنرل : اس وقت جو مسلمان ہیں یعنی غیر احمدی وہ مرزا صاحب کو نہیں مانتے۔ آپ کے نقطہ نظر سے ان میں کوئی حقیقی مسلمان ہے۔

گواہ : بہت، بہت۔

اٹارنی جنرل : حقیقی ؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : اللہ کا ایک حکم نہیں مان رہے یہ آپ نہیں دیکھ رہے؟

گواہ : جناب ہم مانتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : اللہ کا ایک حکم ہے۔

گواہ : دیکھئے اس کو چھوڑ دیا ہے۔ آپ نے کہا ہے کہ وہ اس کو نہیں مانتے۔

صفحہ 242

اٹارنی جنرل : نہیں نہیں، میں کہتا ہوں کہ وہ اللہ کا ایک حکم نہیں مانتے ہیں۔

گواہ : وہ تو آپ نے چھوڑ دیا۔ اس کا میرا جواب ہے، نہیں ہیں وہ حقیقی مسلمان۔

اٹارنی جنرل : ہاں! اچھا تو یہ ممبران اسمبلی جو یہاں بیٹھے ہیں، اگر ان پر اتمام حجت نہیں ہوا تو دنیا میں کسی پر نہیں ہوا۔ کیونکہ ہم ایک ماہ سے سن رہے ہیں۔

گواہ : بالکل ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب کے جتنے دلائل ہیں وہ آگئے۔

گواہ : بالکل نہیں ہوگا۔ قطعا میں یہ نہیں کہتا کہ یہ غیر مسلم یا کافر ہوگئے۔

اٹارنی جنرل : مگر یہاں تو اتمام حجت ہوگیا ہے۔

گواہ : بالکل نہیں جی۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب غیر احمدیوں کے لیے بسا اوقات لفظ مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ اس سے حقیقی مسلمان مراد ہوتے ہیں یا غیر حقیقی؟

گواہ : یہ خدا جانتا ہے۔

اٹارنی جنرل : خدا تو جانتا ہے مگر یہ جو مرزا صاحب فرماتے ہیں؟

گواہ : خدا نے ہم کو نہ مکلف کیا ہے کہ ہم یہ پیمانہ لے کر کھڑے ہوں۔

اٹارنی جنرل : یہ جو مرزا صاحب کے صاحبزادے کا بیان ہے؟

گواہ : وہ لوگوں کو توڑتے ہیں، یہ خدا نے ہمارے سپرد نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل : مرزا قادیانی ”تحفہ گولڑویہ“ میں فرماتے ہیں تو پھر دوسرے فرقوں کے جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں، بکلی ترک کرنا پڑے گا۔

چیئرمین : ہدایات۔

اٹارنی جنرل : فرمائیے! مرتد کون ہوتا ہے؟

گواہ : جو شخص اسلام کو ایک دفعہ قبول کرلے پھر اسلام کو چھوڑ دے۔

اٹارنی جنرل : کوئی یہ خاص قسم کا اسلام ہے یا عام؟

گواہ : حضور علیہ السلام کا لایا ہوا۔

اٹارنی جنرل : پھر مرزا نے اپنے منکر عبدالحکیم کو مرتد کیوں کہا ہے؟ اس سے تو ثابت ہوا کہ مرزا ہی اصل دین ہے۔

گواہ : یہاں مرتد کے معنی لغوی مراد ہیں۔

اٹارنی جنرل : آپ خود سوچیں کہ آپ کا یہ جواب مرزائی تحریروں کی رو سے صحیح ہے؟ چلو

صفحہ 243

چھوڑیے وہ مرتد جس کی سزا قرآن شریف میں مقرر ہے واجب القتل ہے۔ گواہ : مجھے تو قرآن میں کہیں نہیں ملی۔ اٹارنی جنرل : اسلام میں مرتد کی سزا قتل نہیں ہے؟ گواہ : جی نہیں۔ اٹارنی جنرل : یہ مرزا محمد علی کی کتاب ہے؟ گواہ : براہ کرم مجھے دے دیں‘ اس پر کل بات ہو گی۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان کا اور میرا نقطہ نظر کہیں مختلف تو نہیں ہو رہا۔ جب تک تحریر سامنے نہ ہو تو کچھ عرض کرنا مشکل ہوگا۔ اس موقعہ پر تیسرے گواہ پیش ہوئے۔

عبدالمنان عمر لاہوری پر جرح

گواہ : خاکسار کا نام عبدالمنان عمر ہے اور حکیم نورالدین کا لڑکا ہوں۔ پنجاب یونیورسٹی سے میں نے مولوی فاضل کیا۔ پھر علی گڑھ چلا گیا۔ 1957ء میں ہارورڈ یونیورسٹی کے سیمینار میں پاکستان سے تین آدمیوں کا وفد گیا تھا۔ اس میں، میں بھی شامل تھا۔ چودھری جہانگیر علی : حکیم نورالدین سے مراد خلیفہ قادیان ہے۔ گواہ : جی ہاں! چودھری جہانگیر : اچھا تو آپ بھی لاہوری ہیں۔ چیئرمین : ان کو کل دس بجے شروع کریں۔ مولانا عبدالحق : انہوں نے جو کہا کہ قرآن مجید میں قتل مرتد کا حکم نہیں ہے‘ یہ غلط ہے۔ امام بخاری نے قرآن مجید کی آیت کریمہ سے ”بخاری شریف“ میں استدلال کیا ہے کہ یہ آیت قتل مرتد کے لیے ہے۔ فرمائیے امام بخاری کی تحقیق معتبر ہے یا ان کی؟ چیئرمین : ان کا بھی یہ کل جواب دیں گے۔ مولانا مفتی محمود : اور احادیث کا بھی جواب دینا ہے۔ مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری : انہوں نے کہا کہ سیمینار کے سہ رکنی وفد میں یہ بھی شامل تھے۔ تو ان کو وفد کے ساتھ بھیجنے میں سر ظفر اللہ خان کا کتنا حصہ تھا؟ چیئرمین : آپ جائیں‘ آپ فارغ ہیں۔ صبح دس بجے۔

صفحہ 244

28۔ اگست 1974ء کی کارروائی

لاہوری گروپ پر جرح

صبح دس بجے زیر صدارت سپیکر اسمبلی (تلاوت کلام پاک کے بعد وفد کو بلا لیا گیا)

اٹارنی جنرل : صاحبزادہ صاحب کئی دنوں سے بحث ہو رہی ہے۔ پہلے گواہوں کی متضاد گواہیوں سے معاملہ الجھ گیا ہے۔ آپ اپنی گواہی میں ان امور کی اگر کچھ پوزیشن کلیئر کر دیں تو بہت ہی اچھا ہوگا۔ مثلاً عیسیٰ علیہ السلام کی کیا پوزیشن تھی؟ وہ شرعی نبی ہیں یا غیر شرعی نبی ہیں؟

گواہ : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کتاب بھی دی گئی اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کے بغیر یعنی براہ راست نبی تھے۔ لیکن اصطلاحی طور پر ان کو ایک کامل جدید شریعت دی ہو‘ ہم ان کو ایسا نبی نہیں سمجھتے۔

اٹارنی جنرل : گویا وہ غیر شرعی نبی تھے مگر اس کے علاوہ ان کو یہ بھی اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کچھ تبدیلیاں کریں اس شرع میں؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : غیر شرعی ہونے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرع میں ترمیم یا منسوخ یا ایڈیشن کرنے کا ان کو حق حاصل تھا؟

گواہ : جی۔

اٹارنی جنرل : میں اب بجائے نبی کے محدث کا لفظ استعمال کرتا ہوں۔ ایک شخص جسے نبیوں جیسی وحی ہوتی ہو اور وہ وحی پاک ہو قرآن کی طرح‘ وہ ایسے احکام جاری کریں‘ آپ ان احکام کو منظور کریں گے یا نہ؟

گواہ : یہ ایک علیحدہ نئی بحث ہے۔ توضیح و تشریح کا اس کو حق حاصل ہے اور یہ ایسا حق ہے جسے تمام بزرگوں نے تسلیم کیا ہے۔

اٹارنی جنرل : گویا ایک طرف امت کے تمام بزرگ اور ایک طرف مرزا۔ تو آپ مرزا صاحب کی اس کو بائنڈنگ سمجھیں گے کہ یہ تشریح جو ہے صحیح ہے؟

گواہ : یعنی چودہ سو سال کے بزرگ ایک طرف‘ مرزا ایک طرف‘ تو ایسا واقعہ سرے سے نہیں ہوا۔

اٹارنی جنرل : یہ تھیوریکل کوئسچن ہے‘ یعنی میرے نزدیک ایک مفروضہ ہے‘ اگر ہو تو آپ کی

صفحہ 245

پوزیشن کیا ہوگی؟

گواہ : بہر حال مرزا کی رائے کو ترجیح دیں گے۔

اٹارنی جنرل : اب تمام امت نے لا نبی بعدی کا ترجمہ کیا کہ ”آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“ مگر مرزا کہتے ہیں کہ میں ہوں۔

گواہ : وہ تو استعارہ کے رنگ میں کہا۔

اٹارنی جنرل : میں شاعروں کی بات نہیں کر رہا، آپ بتائیں لا نبی بعدی کا کیا معنی ہے؟

گواہ : نبی دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

اٹارنی جنرل : حضور علیہ السلام کی مراد کونسا معنی تھا؟

گواہ : یہ حدیث میں واضح نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : گویا حدیث میں کمی ہے؟

چیئرمین : صاحبزادہ سے درخواست ہے کہ وہ شارٹ راستہ سے صحیح جواب دیں۔ یہ آخری دن ہے، ہم نے بحث کو ختم کر کے فیصلہ پر پہنچنا ہے۔ یہ بھول بھلیوں میں ہمیں نہ ڈالا جائے۔

اٹارنی جنرل : اس کا معنی یہ ہوا کہ مرزا غلام احمد غیر حقیقی امتی نبی تھے؟

گواہ : جی نہیں، میں نے عرض کیا کہ مرزا صاحب نے امتی نبی کا لفظ کبھی استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے امتی اور نبی کا لفظ ضرور استعمال کیا ہے۔

چیئرمین : گویا ایک لغت کی کاپی جیب میں رکھنی چاہیے۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے نہیں کہا کہ میں ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہوں؟ کیا آپ اسے تسلیم کرتے ہیں؟

گواہ : جی ہاں، ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن تشریح کرنا ہوگی۔

چوہدری جہانگیر علی : مرزائیوں کے اس گورکھ دھندے کو بند کریں، کافی ہو گیا۔

چیئرمین : آپ ایسے نہ کریں۔

چوہدری جہانگیر علی : ان کو ایسی زبان میں جواب دیا جائے جس میں یہ تبلیغ کرتے ہیں۔ اگر یہ ایسے تبلیغ کرتے ہیں تو ان کے مذہب کو میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی نہ سمجھے گا۔

چیئرمین : چوہدری صاحب، آپ ٹھیک کہتے ہیں لیکن ان کو موقع دیں۔

اٹارنی جنرل : دیکھئے مثال کے طور پر آپ اسمبلی میں ہیں، یہ ایک سپیکر ہیں اور وہ سپیکر تسلیم کرتے ہیں کہ میں سپیکر ہوں۔ ممبران اسمبلی اسے تسلیم کرتے ہیں۔ اب ایک آدمی کہے کہ سپیکر سے لاؤڈ سپیکر مراد ہے تو کیا اس کا یہ کہنا جائز ہوگا۔ حالانکہ لاؤڈ سپیکر کو بھی سپیکر کہتے ہیں۔

صفحہ 246

گواہ : یہ تو آپ بات ماحول کی کرتے ہیں مولانا روم یا تفسیر مظہری میں ہے۔

ممبر : میرا پوائنٹ آف آرڈر ہے۔

چیئرمین : یہ کوئی پوائنٹ آف آرڈر نہیں ہے۔ آپ نے ایک پروسیجر طے کیا ہے۔ ایک مہینہ سے اسے ڈیل کر رہے ہیں۔ چلنے دیں، صبر کریں، آج آخری دن ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ ادھر ادھر نہ جائیں، مرزا کی بات کریں کہ وہ کیا بلا ہے تاکہ بات دو ٹوک ہو۔ فلاں نے کہا، فلاں نے کہا، یہ کیا چکر ہے؟ مرزا کی بات کریں کہ وہ مدعی نبوت ہے اور حضور علیہ السلام کے بعد دعویٰ کرنے والا کافر ہے اور اسی طرح ان کے متبعین کا حکم ہے۔ کیا مرزا کا دعویٰ ایسے غلطی سے ہوا؟

گواہ : یہ ٹھیک ہے کہ ایسے کیوں ہوا؟

اٹارنی جنرل : تو آپ ربوہ والوں کی طرح کہہ دیں کہ جی دعویٰ نبوت کیا تاکہ بات ختم ہو۔

گواہ : مگر وہ معنی غلط کرتے ہیں۔ لغوی معنی کو حقیقت پر محمول کرتے ہیں۔

اٹارنی جنرل : دیکھئے مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور میرا نام نبی رکھا ہے۔“ یہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام نبی رکھا ہے اور ان کو بھیجا ہے، یہ بھی لغوی معنی ہے؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : اب اس کا معنی یہ کہ اللہ تعالیٰ حقیقت میں ان کو نبی نہیں بنا رہے؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : اور اسی حوالہ میں آگے ہے کہ ”مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا۔“ وہ بھی لغوی ہوا؟

گواہ : جی ہاں، بالکل۔

اٹارنی جنرل : قبلہ مفتی محمود صاحب، آپ مرزا کا عربی حوالہ پڑھ دیں۔

مفتی محمود : عربی عبارت از حمامۃ البشریٰ، ص 21، والقسم يدل على ان الخبر محمول على الظاهر لا تاويل فيه ولا استثناء ...... (ترجمہ) کہ جب کلام قسم کے ساتھ تاکید کیا جاتا ہے تو وہ حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس میں تاویل یا تخصیص نہیں ہوتی۔

اٹارنی جنرل : اب مرزا کہتا ہے کہ قسمیہ کلام حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ لغوی ہوتا ہے، اب کسے صحیح مانیں؟

گواہ : مرزا نے قسم کھا کر کہا کہ میں نبی نہیں ہوں۔

صفحہ 247

اٹارنی جنرل : ایک دفعہ قسمیہ کہا کہ نبی ہوں، دوسری دفعہ قسمیہ کہا کہ نبی نہیں ہوں، تو یہ کردار اور پریشان کن ہو گیا کہ کونسی صحیح ہے؟

گواہ : دونوں صحیح۔ (قہقہہ)

اٹارنی جنرل : ایک بات نیگیٹو ہے ایک پازیٹو، آپ کہتے ہیں کہ دونوں صحیح ہیں۔ ’’میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھ کو بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تیس لاکھ تک پہنچتے ہیں اور پھر کہا قسم میں تاویل نہیں اور آپ تاویل کرتے ہیں۔

گواہ : وہ نبی کا لفظ دوسرے معنوں میں ہے۔

اٹارنی جنرل : معانی کا تو جھگڑا ہے کہ نبی پہلے کہا کاٹ دو، پھر کہہ دیا کہ نبی ہوں۔ آپ غلط فہمی نہ پیدا کیجئے۔ خدارا آپ اس کو ختم کر دیجئے۔

گواہ : نبی دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

عبدالعزیز بھٹی : جناب سوال کچھ ہے اور جواب کسی اور سلسلہ میں دیتے ہیں۔

چیئرمین : دیکھئے مرزا نے بار بار اپنے آپ کو نبی کہا۔ یہ صاحب اس سے انکار کیوں کرتے ہیں؟

اٹارنی جنرل : یہ اس کے نتائج سے گھبراتے ہیں۔

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : اور پھر استعمال بھی شروع کر دیتا ہے کہ نبی ہوں۔

گواہ : عام استعمال نہ کیا کرو۔

اٹارنی جنرل : کبھی کبھی میں کوئی حرج نہیں؟

گواہ : جی۔

اٹارنی جنرل : کبھی جائز ہوگا، ہمیشہ ناجائز، یہ خوب فلسفہ ہے۔ دیکھئے مرزا کا آخری خط جو ان کی زندگی کے آخری دن لکھا گیا اور موت کے دن شائع ہوا، اس میں بھی وہ نبوت کا اعلان کرتے ہیں۔

گواہ : جی کیا مگر عزت کے لیے۔

اٹارنی جنرل : تو آپ ان کو عزت کیوں نہیں دیتے کہ نبی کہہ دیں عزت کے لیے۔ اچھا تو دیکھئے مرزا نے کہا کہ ’’یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے ماسوائے اس کے کہ جس نے اپنی وحی کے ذریعے چند امر و نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے قانون مقرر کیا، وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی

صفحہ 248

بھی۔‘‘ (’’اربعین‘‘ نمبر4) اب تو یہ صاحب شریعت کا دعویٰ ہے؟

گواہ : شریعت جدیدہ تو نہیں۔

اٹارنی جنرل : جدیدہ یا قدیمہ دعویٰ تو ہے؟

گواہ : ہاں۔

اٹارنی جنرل : یہ دیکھیں حکیم نورالدین نے کہا کہ ’’جن لوگوں نے مسیح موعود کو دیکھا ہے اور اس کی مجلس میں بیٹھے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ نبی میں ایک خاص کشش ہوتی ہے اور اس وقت کھل کر بیٹھنا مشکل ہوتا ہے۔‘‘

گواہ : مگر یہاں بھی مجاز ہی ہے۔

اٹارنی جنرل : اگر میں کہوں کہ شیر کے ساتھ بیٹھنے سے ڈر لگتا ہے تو کیا اس سے نقلی شیر مراد ہوگا۔ کم از کم اپنے والد کی بات کو تو نہ بگاڑیں۔

گواہ : بہادر آدمی سے بھی ڈر لگتا ہے۔

اٹارنی جنرل : بہادری سے یا اس کی مجلس سے؟

گواہ : جی ہاں، بہادری سے۔

اٹارنی جنرل : تو صاحبزادہ! بات صاف ہوگئی کہ آپ اور ربوہ والوں میں کوئی فرق نہیں۔ وہ بھی نبی مانتے ہیں اور آپ بھی۔

گواہ : مجھے علم نہیں۔

اٹارنی جنرل : اچھا تو آپ کے والد حکیم نورالدین نے کہا کہ ’’یہ تو صرف نبوت کی بات ہے، میرا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود غلام احمد قادیانی صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کردیں اور قرآنی شریعت کو منسوخ کردیں تو بھی مجھے انکار نہ ہو کیونکہ جب ہم نے ان کو واقعی صادق اور منجانب اللہ پایا ہے تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے، وہی حق ہوگا۔‘‘

گواہ : یہ میرے علم میں نہیں۔

اٹارنی جنرل : ہونا بھی نہیں چاہیے، اس لیے کہ آپ کے خلاف جاتا ہے۔

گواہ : یہ ’’الفرقان‘‘ سے لیا ہے اور ’’الفرقان‘‘ اتھارٹی نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : لیکن ’’الحکم‘‘ 18 جولائی 1908ء، 10 مئی 1906ء کا میرے سامنے ہے۔ اسی طرح ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ مارچ 1904ء اسی طرح ’’ریویو‘‘ نومبر 1904ء ص 41، اسی طرح 14 مئی 1911ء وغیرہ، ان میں وقت ضائع نہیں کرتا۔ اس میں محمد علی وغیرہ لاہوری نے مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کیا ہے۔

صفحہ 249

گواہ : مجھے موقع دیا جائے کہ ان کے متعلق کوئی تیاری کر سکوں۔ میں ان کو جب تک چیک نہ کر لوں، جواب دینا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : اسی طرح 24۔ اگست 1935ء کو لاہوری جماعت کے عبدالرحمن مصری نے مرزا کی نبوت کے مطابق حلفیہ شہادت دی۔

گواہ : میں یہ چیک کرلوں پھر بات چل سکتی ہے۔ اس وقت کچھ کہنا میرے لیے ناممکن ہے۔ ”الفرقان“ ربوہ ایک غیر ذمہ دار پرچہ ہے، اس کی تحریرات اتنے اہم مسئلہ کے لیے پیش نہیں کرنی چاہئیں۔

اٹارنی جنرل : میں نے کہا کہ ”الفرقان“ کو بھول جائیں میں نے تو ”الحکم“ اور ”ریویو“ کے حوالے دیئے، یہ آپ دیکھ لیں، جو حوالے دیے گئے ہیں، درست ہیں یا نہیں؟ آپ ان کو چیک کرلیں، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اب جواب نہیں دے سکتے تو چار دن کے بعد سیکرٹری اسمبلی کے پاس جواب بھجوا دیں۔

گواہ : ٹھیک ہے۔

مولانا عبدالحق : میں نے امام بخاری کی کتاب بخاری ج 2‘ ص 1022 باب حکم المرتد والمرتدہ کے حوالہ سے ایک آیت کریمہ تلاوت کی تھی کہ وہ اس آیت کو قتل مرتد کے لیے قرار دیتے ہیں تو ان کا یہ کہنا صحیح نہ ہوا کہ قتل مرتد کا حکم قرآن میں نہیں ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ ہے۔

گواہ : امام بخاری کی روایت ہے۔

مولانا مفتی محمود : بخاری شریف کی حدیث شریف ہے کہ من بدل دینہ فاقتلوہ ، یہ بھی قتل مرتد کے لیے صریح اور صحیح حدیث ہے۔ اس حدیث سے قبل امام صاحب نے کئی آیات باب کے ابتداء میں لکھ کر قرآن سے مرتد کے حکم کو ثابت کیا ہے۔

گواہ : من بدل دینہ کا کیا معنی کہ جو اپنے دین کو بدل دے یعنی عیسائی سے مسلمان ہو تو عیسائیت چھوڑنے کے باعث قتل کر دیا جائے گا؟

مفتی محمود : خدا کے بندے کیا کرتے ہو۔ قرآن مجید میں ہے کہ ان الدین عند الله الاسلام ۔ اللہ کے ہاں دین اسلام ہے۔ من بدل دینہ فاقتلوہ اس کا معنی ہوگا کہ جو دین اسلام کو چھوڑ دے، وہ مرتد ہے اور اس تعزیر قتل کا مستحق۔ ایک عام بدیہی بات کو اگر نہیں سمجھ پاتے تو بڑے افسوس کی بات ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب صادق تھے، امتی تھے، محدث تھے۔ وہ قرآن شریف کے پابند تھے، تو کیا شریعت اسلام اور قرآن کریم انبیاء سابقین کی توہین کو جائز سمجھتے ہیں؟

صفحہ 250

گواہ : نہ قرآن‘ نہ حدیث‘ نہ انسان کا اخلاق‘ کوئی بھی اجازت نہیں دیتا۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہا کہ ”ان کی نانیاں و دادیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کھاؤ پیو اور شرابی کبابی تھا۔“ یا ”وہ موٹے دماغ کا تھا۔“ آپ کے علم میں یہ چیزیں ہیں یا میں مرزا کی کتابوں سے حوالے پڑھ کر سنا دوں؟

گواہ : میرے علم میں ہیں۔

اٹارنی جنرل : پھر آپ ان کا کیا مطلب لیں گے؟

گواہ : یہ تو مرزا نے عیسائیوں کی کتابوں سے لیے ہیں۔

اٹارنی جنرل : عیسائیوں کی کتابوں میں یہ باتیں نہیں ہیں۔ مرزا اپنی طرف سے کہتا ہے۔ مثلاً اس نے کہا کہ ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو‘ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“ یہ کونسی عیسائی کتاب سے لیا ہے؟

گواہ : اس کا جواب ہو چکا ہے۔

اٹارنی جنرل : جس تناظر میں، میں نے اب پیش کیا ہے، اس کا جواب دیں۔

گواہ : عرض کر چکا ہوں۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے کہا کہ ”عیسیٰ علیہ السلام کا دعویٰ خدائی شراب خوری کا نتیجہ تھا۔“ فرمائیے یہ کونسی عیسائی کتاب میں ہے؟

گواہ : میں چیک کروں گا۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے کہا کہ ”حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“ حق بات یہ اپنی طرف سے کہہ رہا ہے یا عیسائیوں کی کتاب سے؟

گواہ : جی ٹھیک ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے حضرت علی کے متعلق فرمایا کہ ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو‘ اب نئی خلافت لو‘ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے‘ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“

گواہ : ایک خیالی علی مراد ہے۔

اٹارنی جنرل : اگر ایک شخص مرزا کی توہین کرے‘ آپ احتجاج کریں تو وہ کہہ دے کہ خیالی مرزا تھا‘ تو آپ کی کیا کیفیت ہوگی؟

گواہ : یہ مناسب نہ ہوگا۔

چودھری جہانگیر علی : جناب یہ بعض سوالات کے متعلق سر ہلا دیتے ہیں‘ پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہاں میں ہلایا یا نہ میں۔ براہ کرم ان کو پابند کریں کہ یہ جواب دیں۔ کتنے ستم کی بات ہے کہ خیالی علی کا بہانہ بنا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے اہل بیت و صحابی رسول کی توہین کو یہ ہضم کر رہے ہیں‘ کیا اس کی ان کو کوئی

صفحہ 251

مسلمان اجازت دے سکتا ہے؟

چیئرمین : ٹھیک ہے آپ تشریف رکھیں۔

اٹارنی جنرل : دیکھیں مرزا نے کہا ”اے قوم شیعہ تم اصرار مت کرو“ کہہ کر شیعہ قوم کو خطاب کیا ہے اور آگے پھر حضرت حسین کی توہین پر مشتمل عبارت ہے۔ ایسے کرنا آپ کے خیال میں ٹھیک ہے؟

گواہ : مرزا صاحب نے تو حضرت حسین کی تعریف کی ہے۔

اٹارنی جنرل : یہی تو بنیادی پرابلم ہے کہ مرزا نے ایک جگہ توہین کی‘ دوسری جگہ تعریف کی۔ یہی رویہ حضرت علیؓ سے‘ یہی حضرت حسینؓ سے‘ یہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہ ان حضرات کی توہین بھی کی اور تعریف بھی۔ کہیں نبوت کا اقرار‘ کہیں انکار۔ تو اس دورخے آدمی کی کس بات کو لیں؟

اچھا چھوڑیئے اس حوالہ کے متعلق فرمائیں کہ مرزا کہتا ہے کہ ”میرا مخالف جہنمی ہے“ مخالف سے کیا مراد ہے؟

گواہ : بدزبان ہے۔

اٹارنی جنرل : مگر مرزا تو کہتا ہے کہ ”جو تیری بیعت نہیں کرتا وہ جہنمی ہے“۔

گواہ : جی یہ ہے حوالہ۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے کہا کہ ”میرے مخالف کنجریوں کی اولاد ہیں“۔

گواہ : نہیں کہا۔

اٹارنی جنرل : یہ عربی میں ہے‘ حضرت مفتی صاحب عربی عبارت پڑھیں گے اور ترجمہ بھی کریں گے۔

مفتی صاحب : ”آئینہ کمالات اسلام“ مرزا کہتا ہے ”تلک کتب ینظر الیھا کل مسلم بعین المحبتہ والمود و ینتفع من معارفھا و یقبلنی و یصدق د عوتی الا ذ ریتہ البغایا فھم لا یقبلون ہر مسلمان میری کتابوں کو محبت ومودت سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتا مگر کنجریوں کی اولاد‘ وہ قبول نہیں کرتے“

گواہ : ذریتہ البغایا یعنی جو نیکوکار نہیں۔

اٹارنی جنرل : بازاری عورت کا بیٹا‘ غیر نیکوکار کا‘ کنجری کا یا ذریتہ البغایا‘ بغیہ بدکار فاحشہ۔

خود مرزا نے یہ ترجمہ نہیں کیا؟

گواہ : کیا ہے۔

صفحہ 252

اٹارنی جنرل : پھر آپ ادھر ادھر سر کیوں مارتے ہیں؟

گواہ : ذریۃ البغایا کنجری کی اولاد کیسے ہوا؟

مولانا ظفر احمد انصاری : دیکھئے ”لجۃ نور“ مرزا کی کتاب ہے اس میں بغیہ کا سات مقامات پر مرزا نے بدکار عورت ترجمہ کیا ہے۔

اٹارنی جنرل : ایک شخص آپ کے نزدیک محدث ہے نبی نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”مجھے مانو ورنہ ولد الحرام ہو جاؤ گے ۔“ یہ کیا زبان ہے؟

گواہ : اسلام کے مخالفین کو کہا۔

اٹارنی جنرل : کہ وہ سب ولد الحرام ہیں؟

گواہ : جی ۔

اٹارنی جنرل : انتہائی بے شرمی کی بات ہے دفع کرو۔

گواہ : دیکھیں جی! یہ تو مرزا نے اگلے زمانہ کے متعلق بات کی ہے کہ مجھے سب تسلیم کرلیں گے بالآخر مگر بدکار عورتوں کی جو اولاد ہوگی وہ رہ جائیں گے۔

اٹارنی جنرل : گویا مجھے تسلیم کرو ورنہ ولد الحرام ہو جاؤ گے۔

گواہ : دیکھیں۔

اٹارنی جنرل : چھوڑیے کیا دیکھوں۔ دیکھئے مرزا نے کہا کہ گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت میرے اوپر فرض ہے۔

گواہ : ان حالات کو دیکھیں جس میں یہ بات کہی۔

اٹارنی جنرل : آپ نے فرض کرلیا ہے کہ ارادتاً میری بات کا جواب نہیں دینا۔ مرزا نے یہ کہا ہے یا نہیں؟

گواہ : کہا ہے۔

اٹارنی جنرل : سکھوں کی حکومت نے مسلمانوں کی اذانوں پر پابندی عائد کی اور مرزا صاحب کے باپ سکھوں کی فوج میں جرنیل تھے۔ یہ درست ہے؟

گواہ : (سر ہلایا)

اٹارنی جنرل : سر ہلایا ہے ریکارڈ میں نہیں آیا، ہاں یا ناں میں جواب دیں۔

گواہ : جی سکھوں کی فوج میں جرنیل تھے۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے جہاد کا انکار کیا ہے؟

گواہ : فساد کا انکار کیا ہے۔

صفحہ 253

اٹارنی جنرل : ”دین کے لیے حرام ہے جہاد“ یہ کہا ہے؟

گواہ : جی کہا ہے۔

اٹارنی جنرل : انگریز کی اطاعت فرض اور جہاد حرام۔ اچھا تو چلئے مرزا نے یہ کہا کہ ”میں گورنمنٹ برطانیہ کا خودکاشتہ پودا ہوں۔“ یہ اس کی اپنی عبارت ہے؟

گواہ : جی ہے۔..... دیکھئے خود کاشتہ جماعت کو نہیں کہا بلکہ اپنے خاندان کو کہا ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا صاحب مغل خاندان کے تھے۔ مغل خاندان سمرقند سے آئے تھے بابر کے زمانے میں۔ یہ انگریز نے کیسے کاشت کیا۔ ان کا خاندان تو خود کاشتہ پودا نہ ہوا‘ یہ تو کوئی عقل نہیں مانتی۔ اب سوال رہ گیا مرزا صاحب کا نمبر 2 وہ آ جاتے ہیں۔ وہ بھی انگریز سے پہلے کے تھے۔ اسے انگریز نے کاشت کیا کرنا تھا‘ وہ تو اللہ کے بندے تھے۔ اب باقی مرزا کی جماعت رہ جاتی ہے جس کے متعلق مرزا کہتا ہے کہ ”یہ آپ کا خود کاشتہ پودا ہے۔“

گواہ : خاندان کے متعلق کہا۔

اٹارنی جنرل : اچھا تو نبی صاحب کا خاندان انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا۔

گواہ : جی کہا ہے۔

اٹارنی جنرل : مرزا نے انگریز کو خط لکھا کہ اس خود کاشتہ پودے کی آبیاری کرو‘ فکر کرو۔

گواہ : سرسید نے کہا......

اٹارنی جنرل : ایسے نہیں کہا‘ آپ اس وقت مرزا کی بات کریں‘ یہ کہا۔ آپ کہتے ہیں کہ خود کاشتہ سے مراد خاندان ہے۔ مرزا کہتا ہے کہ خود کاشتہ پودا کی فکر کرو یعنی مرزا کو اپنے خاندان کی فکر تھی‘ باقی جماعت بھاڑ میں جائے‘ مسلمان کھڈے میں جائیں مگر مرزا کا خاندان بچ جائے۔ یہ تو خود غرضی ہوئی۔ فرمائیے کیا نبی خود غرض ہوتا ہے؟

گواہ : وہ تو ایک خط تھا۔

اٹارنی جنرل : اسی خط میں ملکہ وکٹوریہ سے اپنے خاندان کی خیرات مانگی تھی؟

گواہ : نہیں‘ مسلمانوں کے لیے۔

اٹارنی جنرل : اپنی جماعت کے لیے؟

گواہ : جی۔

اٹارنی جنرل : ابھی تو آپ نے جماعت کا انکار کیا تھا۔ (قہقہہ)

چیئرمین : آپ نے مرزا ناصر کی بیعت کی ہے؟

گواہ : نہیں۔

صفحہ 254

چیئرمین : کیوں؟

گواہ : میں پیدائشی احمدی تھا۔

اٹارنی جنرل : آپ کے خیالات 1965ء تک ربوہ کی جماعت کے ساتھ تھے؟

گواہ : نہیں، میرے ان سے اختلافات تھے۔

اٹارنی جنرل : آپ نے ان کو کب چھوڑا؟

گواہ : 68ء میں۔

اٹارنی جنرل : 68ء میں؟

گواہ : نہیں 56ء میں۔

اٹارنی جنرل : جب مرزا بشیر محمود زندہ تھا؟

گواہ : جی ہاں۔

اٹارنی جنرل : ابھی لوگوں کا یہ خیال تھا......

گواہ : وہ غلط تھا۔

چیئرمین : بات تو سن لیں۔

اٹارنی جنرل : مرزا ناصر کے جب الیکشن ہو رہے تھے تو کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ آپ کو امیر یا امام بنائیں اور بعض کا خیال تھا کہ اس کو بنائیں۔ اس پر کوئی اختلاف ہو گیا تھا؟

گواہ : آپ کے سامنے واقعات ہیں۔

اٹارنی جنرل : تو آپ نے چھوڑ دیا؟

گواہ : چھوڑ دیا۔

اٹارنی جنرل : تو اس کا معنی یہ ہے کہ جب تک ربوہ والوں کے ساتھ آپ تھے، آپ نے مرزا کو نبی مانا، جب لاہوری ہوئے نبی نہ مانا۔ اختلاف ہوا ربوہ والوں سے اور سٹیٹس لو کر دیا مرزا کا۔ (قہقہہ) دیکھیں مرزا نے ”تحفہ گولڑویہ“ میں کہا ہے کہ ”جب مسیح نازل ہوگا تو دوسرے فرقوں کو، جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں، بکلی ترک کرنا پڑے گا۔“

گواہ : جی۔

اٹارنی جنرل : گویا دوسرے فرقے صرف دعویٰ اسلام کرتے ہیں، حقیقت میں ایسے نہیں؟

گواہ : جی یہ حوالہ ہے۔

اٹارنی جنرل : تو دعویٰ کرنے والے کون لوگ مراد ہیں؟

گواہ : اس سے مراد وہ ہیں جو اپنے کو مسلمان کہتے ہیں۔

صفحہ 255

اٹارنی جنرل : وہ صرف مدعی اسلام ہیں‘ حقیقت میں مسلمان نہیں ہیں؟

گواہ : جی بالکل۔

اٹارنی جنرل : خدا کا حکم ہے کہ مرزا کو مانو۔ ایک آدمی اس کا انکار کرتا ہے‘ وہ گنہگار ہو گیا‘ کافر ہو گیا‘ چھوٹی ڈگری کا کافر ہو گیا‘ چھوٹی ڈگری کا جو کافر ہوتا ہے‘ وہ تو کوئی اچھا مسلمان نہیں؟

گواہ : بالکل صحیح ہے۔

اٹارنی جنرل : دیکھیں ایک حقیقی مسلمان تو وہی ہو سکتا ہے کہ کسی قسم کا گنہگار نہ ہو اور کافر نہ ہو۔

گواہ : بالکل۔

اٹارنی جنرل : فرمائیے احمدیوں کی تعداد کتنی ہوگی؟

گواہ : ہمیں معلوم نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل : آپ کی پارٹی کی تعداد کیا ہے؟

گواہ : نہیں معلوم۔

گواہ مرزا مسعود بیگ : مجھے اجازت ہو تو میں ممبران کا شکریہ ادا کر لوں؟

چیئرمین : شکریہ تو اتنی بات سے بھی ہو گیا۔

گواہ : نہیں مجھے ایک منٹ۔

چیئرمین : اچھا بول لیں۔

گواہ : میں آپ حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے بڑی فراخدلی اور تحمل سے ہماری باتوں کو سنا۔ ہم اسلام کے خادم ہیں‘ مرزا قادیانی قطعاً مدعی نبوت نہ تھا۔

مفتی محمود : یہ شکریہ ہے یا ممبران کو کنوینگ ہو رہی ہے؟

چیئرمین : میں نے یہی کہا تھا۔

مرزا مسعود بیگ گواہ : کنوینگ نہیں بلکہ عرضداشت کر رہا ہوں۔

پروفیسر غفور احمد : لکھ کر دے دیں۔

چیئرمین : ان سے قسم لے لیں کہ جو کچھ میری طرف سے کہا گیا......

گواہ نمبر 2 : حضور والا میرے دوستوں نے جو بیان دیے ہیں‘ ان کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے اور میں ذمہ داری لیتا ہوں اور جو انہوں نے کہا صحیح کہا ہے۔

چیئرمین : اب آپ جائیں۔ (اس موقع پر ڈیلی گیشن ہاؤس سے چلا گیا)

نوٹ : 28 اگست کو لاہوری گروپ پر جرح ختم ہو گئی۔ اس کے بعد 5 ستمبر کو اٹارنی جنرل کا بیان ہوا۔

☆ ☆ ☆

صفحہ 256

اٹارنی جنرل کا بیان

چیئرمین : مسٹر اٹارنی جنرل۔

اٹارنی جنرل : کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسی وقت اپنے دلائل پیش کروں یا کچھ وقت کے بعد؟

چیئرمین : ہم دس منٹ کے لیے وقفہ کریں گے۔ جو معزز ممبران کل تقریر کرنا چاہتے ہوں انہیں اٹارنی جنرل کے خطاب سے بہت سے نقاط حاصل ہو سکیں گے۔ اسی طرح جو نقاط اٹارنی جنرل کے خطاب میں حل ہو جائیں انہیں دہرانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ چنانچہ ہم 12:15 بجے اجلاس کریں گے۔

(کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے لیے ملتوی ہوا اور پندرہ منٹ کے بعد دوبارہ شروع ہوا)

چیئرمین : جی، اٹارنی جنرل صاحب۔

اٹارنی جنرل : چیئرمین صاحب! سب سے پہلے میں ایوان سے اپنی ایک ہفتے کی غیر حاضری کے لیے معذرت خواہ ہوں جس کے باعث میں چند ایک معزز اراکین کی تقاریر نہ سن سکا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تقاریر کے دوران بہت قوی اور معقول دلائل دیے گئے اور بہت سارے دلچسپ نقاط سامنے لائے گئے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ میں انہی دلائل یا نقاط کا اعادہ کروں گا یا نہیں لیکن مجھے ادائیگی فرض کے سلسلے میں کراچی جانا پڑا۔

دوسری بات جو جناب والا! میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں اور جس کا پورا احساس معزز اراکین کریں گے، وہ میری سرکاری حیثیت بطور اٹارنی جنرل کے ہے۔ میری کچھ قیود اور مجبوریاں ہیں۔ مجھے امید ہے کہ معزز اراکین ان کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ سب سے پہلے تو موضوع کے حوالے سے میری زبان دانی کی مجبوری تھی تاہم میں نے ہاؤس کی ہدایات کے مطابق حتی المقدور بہترین طریقے سے فرض کو نبھانے کی کوشش کی اور اس کے لیے معزز اراکین نے مجھ پر جو اعتماد کیا، اس کے لیے میں بہت شکر گزار ہوں اور اس تعاون کے لیے بھی جو مجھے معزز اراکین کی طرف سے دیا گیا۔

جناب والا! میں نے اپنی اہلیت کے مطابق اپنا فرض نبھانے کی پوری کوشش کی اور ادائیگی فرض کو معزز اراکین کی خواہشات کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو سوالات مجھے دیے گئے تھے، ان کو میں نے مناسب انداز میں پیش کیا۔

صفحہ 257

دوسری بات جناب والا! جہاں تک شہادت کا تعلق ہے میری کوشش ہو گی کہ جو کچھ ریکارڈ پر شہادت موجود ہے اسے مختصر طور پر پیش کروں لیکن بحیثیت اٹارنی جنرل میں ایوان کا رکن نہیں ہوں اس لیے نہ تو میں کوئی فیصلہ جج کی طرح دے سکتا ہوں اور نہ ہی اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ میں غیر جانبدارانہ طور پر اس ایوان کی امداد کروں۔ ہم سب کو احساس ہوگا کہ میں یہاں پر صرف ایک فریق کی نمائندگی یا دوسرے فریق کی مخالفت نہیں کرتا۔ آپ اس معاملہ میں بحیثیت منصف کے ہیں۔ اس لیے میرا فرض منصبی ہے کہ میں معاملہ کے دونوں پہلو آپ کے سامنے پیش کروں تاکہ نہ تو کوئی یہ محسوس کرے اور نہ ہی کہہ سکے کہ یہ یکطرفہ کارروائی تھی اور اٹارنی جنرل نے اپنی حیثیت کا جائز یا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فیصلہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ چنانچہ مجھے امید ہے کہ میری ان مجبوریوں کے مدنظر اگر میں دونوں فریقوں کے نقطہ نظر یا دوسرے فریق کے نقطہ نظر کو بھی پیش کروں تو اسے صحیح انداز میں ہی سمجھا جائے گا۔

جناب والا! جہاں تک فیصلہ کا تعلق ہے وہ تو معزز اراکین نے ہی کرنا ہے اور مجھے یقین واثق ہے کہ یہ ایک بہت ہی منصفانہ فیصلہ ہوگا صحیح فیصلہ ہوگا جو کہ ملک کے عوام کی خواہشات اور احساسات کے مطابق ہوگا۔ ہمیں اسلام اور ملک کے مفادات کو ذہن نشین رکھنا چاہیے اور مجھے ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ حب الوطنی اور اسلام کے ساتھ محبت کے احساسات ہر لمحہ موجود ہیں اور اس لیے مجھے اس بارے میں بھی قطعاً کوئی شبہ نہیں کہ معزز اراکین بالکل درست فیصلہ کریں گے۔

مجھے اس موضوع پر وزیر اعظم کے ساتھ بحث مباحثہ کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وزیر اعظم صاحب اس معاملے کے متعلق بہت بیتاب ہیں کیونکہ اس کا فیصلہ بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر اعظم کی سوچ ایک عام مسلمان کی سوچ کی مانند ہے اور ان کے جذبات ایک عام مسلمان کے جذبات ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ وزیر اعظم بھی ہیں اس لیے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ کوئی شخص اپنے حقوق سے محروم نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی کو بلا قانونی جواز اپنی زندگی آزادی عزت اور شہرت سے محروم کیا جائے۔ جناب والا! میں امید کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اس ایوان کے اندر جو رہنما موجود ہیں انہوں نے کافی سوچ بچار کیا ہے اور ان کی انتہائی کوشش ہے کہ اس معاملہ کا ایک نہایت ہی مناسب اور منصفانہ فیصلہ ہو۔ جناب والا! آپ کو یاد ہوگا کہ جرح کے دوران میں نے امیر جماعت احمدیہ ربوہ پر واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ ایوان نہ تو کسی کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور نہ ہی کسی کی دل آزاری کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایوان ایک منصفانہ فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔ ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اپنی گزارشات کروں گا اور تمام حقائق اور واقعات کو اختصار کے ساتھ پیش کروں گا۔

جناب والا! ایوان کے سامنے ایک ریزولیوشن اور ایک تحریک ہے۔ تحریک جو کہ معزز وزیر قانون

صفحہ 258

نے پیش کی تھی‘ کا متن حسب ذیل ہے:

رولز آف بزنس کے قاعدہ نمبر 205 کے تحت میں مندرجہ ذیل تحریک پیش کرنے کا نوٹس دیتا ہوں۔

یہ کہ یہ ایوان ایک ایسی خصوصی کمیٹی کی تشکیل کرے جو کہ پورے ایوان پر مشتمل ہو۔ اس کمیٹی میں وہ تمام اشخاص شامل ہوں جو ایوان کو خطاب کرنے کا حق رکھتے ہوں۔ نیز ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کا استحقاق رکھتے ہوں۔ سپیکر صاحب اس خصوصی کمیٹی کے چیئرمین ہوں اور یہ کمیٹی مندرجہ ذیل امور سرانجام دے:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو۔

مشورے‘ ریزولیوشن وصول کرنا اور ان پر غور کرنا۔

ضروری دستاویزات پر غور کرنے کے بعد سفارشات پیش کرنا۔

کمیٹی کی کارروائی کے لیے ”کورم“ چالیس اشخاص کا ہوگا‘ جن میں سے دس کا تعلق ان پارٹیوں سے ہوگا جو کہ قومی اسمبلی کے اندر حکومت کی مخالف ہیں یعنی حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہوں۔“

جناب والا! ایک دوسرا ریزولیوشن ہے جو کہ اس ایوان کے سینتیس (37) معزز اراکین نے پیش کیا تھا۔

(اس مرحلہ پر ڈپٹی سپیکر نے کرسی صدارت سنبھالی اور چیئرمین صاحب نے کرسی صدارت چھوڑ دی)

جناب والا! اس ریزولیوشن کا متن یہ ہے:

”ہم مندرجہ ذیل قرارداد پیش کرنے کی التماس کرتے ہیں۔

ہر گاہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔

اور ہر گاہ مرزا غلام احمد کا جھوٹا دعویٰ نبوت‘ کئی ایک قرآنی آیات کی

صفحہ 259

غلط تاویل کرنے کی کوشش اور جہاد کو منسوخ کرنے کی کوشش‘ یہ سب باتیں اسلام کے بنیادی اصولوں کے ساتھ دغا اور فریب ہیں۔ اور ہر گاہ وہ (مرزا غلام احمد قادیانی ) سراسر سامراج کا پیدا کردہ تھا جس کا واحد مقصد اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور اسلام کو بدنام کرنا تھا۔ اور ہر گاہ تمام ملت اسلامیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار‘ خواہ وہ اسے نبی مانتے ہوں یا اسے کسی شکل میں بھی مذہبی رہنما یا مصلح تصور کرتے ہوں‘ تمام کے تمام دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ اور ہر گاہ اس کے پیروکار‘ خواہ وہ کسی بھی نام سے جانے جاتے ہوں‘ سب کے سب اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ ظاہر کرتے ہوئے ملک کے اندر اور ملک سے باہر تخریب کاری میں ملوث ہو رہے ہیں۔ اور ہر گاہ 6 اپریل تا 10 اپریل 1974ء کو مکہ المکرمہ میں ورلڈ مسلم آرگنائزیشن کی کانفرنس جو کہ رابطہ عالم اسلامی کے تحت منعقد ہوئی اور جس میں تمام دنیا کی 140 تنظیموں نے حصہ لیا‘ اس کانفرنس نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ قادیانیت اسلام اور تمام عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو کہ محض جھوٹ اور فریب سے اپنے کو اسلام کا ایک فرقہ ظاہر کرتی ہے۔ چنانچہ یہ اسمبلی یہ اعلان کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار‘ خواہ وہ کسی نام سے بھی پکارے جاتے ہوں‘ مسلمان نہیں ہیں اور یہ کہ اسمبلی میں ایک مسودۂ قانون پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو قانونی طور پر نافذ کرنے کے لیے آئین میں ضروری ترامیم کی جاسکیں اور ان کے جائز قانونی حقوق کو بطور غیر مسلم اقلیت کے تحفظ دیا جاسکے۔‘‘

جناب والا! یہ دو تحاریک ہیں۔ ایک ریزولیوشن ہے اور ایک تحریک۔ ان کے علاوہ کچھ اور ریزولیوشن بھی ہیں جو کہ اس ایوان کے زیر غور ہیں۔ لیکن ان کا زیادہ تر تعلق آئینی ترامیم کی تجاویز کے بارے میں ہے۔ دو وجوہات کے باعث میں ان کے متعلق کچھ گزارش پیش کروں گا۔ نمبر ایک‘ صرف یہی دو دستاویزات اخباروں میں شائع ہوئی تھیں اور ان دستاویزات کی بنیاد پر متعلقہ جماعت (احمدیہ) نے اپنے اپنے جوابات اور عرض داشتیں پیش کی تھیں۔ ان کے بیانات بھی ان ہی دستاویزات کی بنیاد پر لیے گئے تھے۔ اس لیے دوسرے ریزولیوشن کے بارے میں کچھ کہنا قرین انصاف نہ ہوگا۔ کمیٹی کو ان کے بارے میں کارروائی کرنے کا پورا اختیار ہے‘ جسے کسی مرحلہ پر استعمال کرنے کی مجاز ہے‘ تاہم میں اپنی

صفحہ 260

گزارشات کو ان دو دستاویزات تک محدود رکھوں گا اور مختصراً تبصرہ کروں گا۔ پیشتر ازیں کہ اس ضابطہ پر بات کروں، جو کہ ان دستاویزات پر غور کرنے کے لیے اختیار کیا گیا تھا، مجھے امید ہے کہ اگر میں بیباکی سے اپنی گزارشات پیش کروں تو اس کا غلط مطلب نہیں لیا جائے گا۔

آغاز میں پہلے وہ تحریک جو کہ عزت مآب وزیر قانون نے پیش کی تھی جناب والا! تحریک کے الفاظ ہیں:

”دین اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو۔“

آئیے پہلے اس جملہ یا ترکیب کو لیں۔ ”اسلام کے اندر حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا“ اگر ایوان کی یہ رائے ہو کہ جو لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ مسلمان نہیں ہیں تو پھر ایسے لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ تحریک بذات خود اپنے اندر تضاد رکھتی ہے۔ اگر یہ کہا جاتا کہ ”اسلام میں یا اسلام کے حوالہ سے بحث کرنا“ تو پھر بات سمجھ میں آ سکتی تھی۔ لیکن یہ کہنا کہ ”اسلام میں حیثیت یا مقام“ اس سے قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک تضاد ہے جو زیادہ اہم نہ بھی ہو، لیکن یہ تضاد ایوان کے نوٹس میں لانا میرا فرض تھا۔ یہ آپ نہیں کہہ سکتے کہ اسلام میں ان کی حیثیت کیا ہے، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے حوالے سے ان کی حیثیت کیا ہے۔

جناب والا! جو ریزولیوشن سینتیس (37) اراکین نے پیش کی ہے، میں نہایت ادب سے گزارش کروں گا کہ اس میں بھی کچھ تضاد ہے۔ میں زیادہ تفصیل میں تو نہیں جاؤں گا تاہم معزز اراکین اس بات کو نوٹ کریں کہ ایک جگہ کہا گیا ہے کہ

”ہرگاہ مرزا غلام احمد سامراج کا پیدا کردہ تھا، جس کا واحد مقصد اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور اسلام کو بدنام کرنا تھا۔“

پھر آگے چل کر کہا گیا

”ہرگاہ ملت اسلامیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے ماننے والے خواہ وہ اسے نبی مانتے ہوں یا مذہبی رہنما یا مصلح تصور کرتے ہوں، اسلام کے دائرے سے خارج ہیں۔“

پھر آگے چل کر

”(مرزا غلام احمد کے) پیروکار، خواہ وہ کسی نام سے پکارے جاتے ہوں سب کے سب اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ ظاہر کرتے ہوئے ملک کے اندر اور ملک کے باہر تخریب کاری میں ملوث ہو رہے ہیں۔“

صفحہ 261

یہ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن اس کے بعد مطالبہ ہے کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دو۔ یعنی غیر مسلم مذہبی اقلیت اور آئین میں ترمیم کرو اور ان کے جائز قانونی حقوق کا تحفظ کرو۔ کیا آپ تخریب کاری کو دوام دینا چاہتے ہیں؟ ..... کیا آپ ان چیزوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں جس کا ذکر دیباچہ میں کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے، جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا تھا۔ ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ انہیں ایک اقلیت قرار دو‘ ایک الگ اکائی بناؤ اور جب آپ ایسے کرتے ہیں تو آپ کو ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر چارہ کار نہیں اور یہ ریزولیوشن کا ایک بہت ہی عمدہ جزو ہے۔ میں اس کی قدر کرتا ہوں۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے جائز حقوق کا قانونی تحفظ کیا جائے تو اس کی تعریف کرتا ہوں۔ ایک طرف کہتے ہیں کہ (جماعت احمدیہ) ایک تخریبی تحریک ہے وہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر تخریب کاری میں ملوث ہیں۔ وہ تخریب کاری کیا ہے؟ ان کے اپنے مذہب (یا عقیدے) کا پرچار‘ ان کے (اپنے عقیدے کے مطابق) مذہب پر عمل در آمد۔ آپ ان کے حقوق کا تحفظ بھی چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی مذمت بھی کرتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ یہ تو بالکل صاف بات ہے، میں کوئی تنقید نہیں کر رہا، مجھے تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں، لیکن میرا فرض ہے کہ میں معزز اراکین کی توجہ اس امر کی طرف دلاؤں کہ اگر آپ شہری آبادی کے کسی حصے کو ایک الگ مذہبی جماعت قرار دیتے ہیں، تو پھر نہ صرف ملک کا آئین بلکہ آپ کا مذہب تقاضا کرتا ہے کہ آپ ان کے حقوق کی حفاظت کریں۔ ان کو اپنے مذہب کے پرچار اور عمل کا حق دیں۔ اس سے زیادہ میں کچھ اور نہیں کہنا چاہتا کیونکہ مجھے پورا احساس ہے کہ میرے پاس وقت بہت ہی محدود ہے۔

چنانچہ ان دو دستاویزات کی روشنی میں (تحریک اور ریزولیوشن) اس معزز ایوان نے کچھ متنازعہ امور کا فیصلہ کرنا ہے، جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

ہیں۔ میں نے اسلام میں اور اسلام کے حوالے سے دونوں کا ذکر کیا ہے؟

تو ہمارا کیا مطلب ہوتا ہے؟

پیروکار جو اسے نبی یا مسیح موعود مانتے ہیں یا دونوں حیثیتوں سے مانتے ہیں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں؟

صفحہ 262

احمد کو نبی یا مسیح موعود نہیں مانتے، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج تصور کرتے ہیں؟

دائرہ اسلام سے باہر ہے یا کہ اس نے اسلام کے اندر ہی نئے فرقے کا آغاز کیا؟

کے حوالے سے کیا مقام یا حیثیت ہو گی اور آئین کے مطابق اس جماعت کے حقوق کیا ہوں گے؟"

اب میں مختصر طور پر ان واقعات کا ذکر کروں گا جو ریزولیوشن اور تحریک کے پیش ہونے کے دن سے رونما ہوئے۔ یہ (ریزولیوشن اور تحریک) 30 جون 1974ء کو پیش کیے گئے تھے۔ ان کے شائع ہونے کے بعد مرزا غلام احمد کے ماننے والے دو گروپوں کی طرف سے دو یادداشتیں داخل کی گئی تھیں۔ اس کے بعد دونوں گروپوں کے نمائندوں کو بلایا گیا تھا کہ وہ حلف لینے کے بعد اپنے بیانات اور یادداشتوں کو پڑھ کر سنائیں۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے اپنی طرف سے زبانی بیان دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تا کہ وہ اپنا نقطہ نظر زیادہ طور پر واضح کر سکیں۔ جو دستاویزات انہوں نے داخل کیں، ان میں ریزولیوشن میں عائد کردہ تمام الزامات سے انکار کیا گیا۔ ایوان کی کمیٹی نے ایک سٹیئرنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ سوالات کو وصول کرے اور ان کا تجزیہ کرے۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی نے مجھے ہدایت کی کہ میں 21 جولائی 74ء سے اسلام آباد میں موجود رہوں۔ اسی ہدایت کے مطابق میں 21 جولائی کو اسلام آباد آ گیا تھا۔ سٹیئرنگ کمیٹی نے سوالات کی جانچ پڑتال ایک ہفتہ میں کر لی حالانکہ سوالات سینکڑوں کی تعداد میں تھے۔ مرزا ناصر احمد کی سربراہی میں احمدیہ جماعت ربوہ کا بیان 5۔اگست سے 10 ۔اگست تک ہوا۔ اس کے بعد دس یوم کا وقفہ رہا۔ مرزا ناصر احمد کا مزید بیان 20۔اگست تا 24۔اگست ہوا۔ کل گیارہ روز تک بیان ہوتا رہا۔ اس کے بعد احمدیہ جماعت کے دوسرے گروہ کا بیان ہوا، جس کے سربراہ مولانا صدرالدین تھے۔ چونکہ مولانا صدرالدین کافی بوڑھے ہیں اور اچھی طرح بات سننے کی قوت نہیں رکھتے، اس لیے ان کا بیان میاں عبدالمنان عمر کے وسیلہ سے ہوا۔ ان کا بیان دو دن میں ہوا۔ یہ اس وجہ سے نہیں ہوا کہ ایوان کسی قسم کا امتیاز برت رہا تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ بہت سے حقائق دستاویزات اور مرزا غلام احمد کی تحریریں پہلے گروپ کے بیانات میں ریکارڈ پر آ چکے تھے۔ اور جہاں تک دوسرے گروہ کا تعلق ہے، مزید تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہ تھی۔

صفحہ 263

جہاں تک پہلے متنازعہ امر کا تعلق ہے، یعنی کیا مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا یا نہیں؟ اس سلسلے میں مرزا غلام احمد کی زندگی، تصانیف اور احمدیہ تحریک کے بارے میں اختصار کے ساتھ ذکر کرنا سودمند ہوگا۔ اس طرح حقیقت میں، میں دراصل پہلے متنازعہ امر کا احاطہ ہی کروں گا۔ مرزا ناصر احمد نے مرزا غلام احمد کے زندگی کے مختصراً حالات اس طرح بیان کیے:

”آپ 13 فروری 1835ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ صاحب تھا۔

آپ کی ابتدائی تعلیم چند استادوں کے ذریعے سے گھر پر ہی ہوئی۔ آپ کے اساتذہ کے نام فضل الٰہی فضل احمد اور گل محمد تھے، جن سے آپ نے فارسی، عربی اور دینیات کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور علم طب اپنے والد صاحب سے پڑھا۔

آپ شروع سے ہی اسلام کا درد رکھتے تھے اور دنیا سے کنارہ کش تھے۔ آپ کا ایک شعر ہے:

دگر استاد را نامے ندانم
کہ خواندم در دبستان محمدؐ

آپ نے عیسائیوں اور آریوں کے ساتھ 1876ء کے قریب اسلام کی طرف سے مناظرے اور مباحثے بھی کیے اور 1884ء میں اپنی شہرہ آفاق کتاب ”براہین احمدیہ“ کی اشاعت کی جو قرآن کریم، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی تائید میں ایک بے نظیر کتاب مانی گئی ہے۔ 1889ء میں آپ نے باذن الٰہی سلسلہ بیعت کا آغاز کیا اور 1891ء میں خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ”مسیح موعود“ ہونے کا دعویٰ کیا۔

آپ کی تمام عمر اسلام کی خدمت میں گزری اور آپ نے 80 کے قریب کتابیں تصنیف فرمائیں جو عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں ہیں اور ان تینوں زبانوں میں آپ کا منظوم کلام بھی ملتا ہے۔ آپ کا اور آپ کی جماعت کا واحد مقصد دنیا میں اسلام کی اشاعت و تبلیغ تھا اور ہے۔ 26 مئی 1908ء کو آپ کی وفات ہوئی اور ملک کے اخباروں، رسالوں نے آپ کی اسلامی خدمات کا پرزور الفاظ میں اعتراف کیا۔

آپ کی وفات کے وقت آپ کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں اور اس

صفحہ 264

وقت آپ کے خاندان کے افراد کی تعداد دوسو کے قریب ہے۔“

محترم مرزا غلام احمد کی زندگی کے بارے میں کچھ مزید تفصیلات بیان کروں گا‘ جو کہ مجھے ان دستاویزات سے حاصل ہوئی ہیں‘ جو مجھے دیکھنے کا موقع ملا۔

مرزا غلام احمد کا تعلق پنجاب کے معروف اور معزز ”مغل خاندان“ سے تھا جو کہ مغل بادشاہ بابر کے زمانے میں سمرقند سے ہندوستان نقل مکانی کر کے آیا تھا۔ مرزا غلام احمد کے اجداد میں سے ہندوستان آنے والے پہلے شخص کا نام مرزا ہادی بیگ تھا۔ Laqual Griffen ”لیکل گرفن“ نے اپنی کتاب ”پنجاب چیف“ میں لکھا ہے کہ:

”مرزا ہادی بیگ کو قادیان کے گردوپیش ستر (70) دیہاتوں پر قاضی یا مجسٹریٹ تعینات کیا گیا تھا۔ قادیان جسے مرزا ہادی بیگ نے آباد کیا کا پہلا نام ”اسلام پور قاضی“ تھا جو بعد میں بدلتے بدلتے قادیان بن گیا۔ کئی نسلوں تک یہ خاندان سرکاری عہدوں پر فائز رہا۔ جب سکھ اقتدار میں آئے تو یہ خاندان کسمپرسی اور غربت کا شکار ہو گیا۔“

اس کے بعد میں جسٹس منیر احمد (مرحوم) کی انکوائری کمیٹی 54-1953ء کی رپورٹ سے اقتباس عرض کروں گا۔ مرزا غلام احمد کے متعلق کورٹ آف انکوائری رپورٹ میں درج ذیل ہے:

”مرزا غلام مرتضیٰ جو کہ سکھ دربار کا جرنیل تھا کا پوتا۔ اس نے فارسی اور عربی زبان کی تعلیم گھر پر حاصل کی مگر کوئی مغربی تعلیم حاصل نہ کی۔ 1864ء میں اس نے ضلع کچہری سیالکوٹ میں کوئی ملازمت حاصل کی اور چار سال ملازمت میں گزارے۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ دل و جان سے مذہبی ادب کی طرف متوجہ ہوا اور 84-1880ء کے درمیان مشہور زمانہ کتاب ”براہین احمدیہ“ چار جلدوں میں تصنیف کی۔ اس کے بعد اور کتابیں تصنیف کیں۔ اس زمانے میں شدید مذہبی تکرار اور مناظرے ہو رہے تھے۔ اسلام پر نہ صرف عیسائیوں بلکہ آریہ سماج کی طرف سے بار بار حملے ہو رہے تھے۔ آریہ سماج ایک ہندو تحریک تھی‘ جو کہ ان دنوں ہر دلعزیز بنتی جارہی تھی۔“

میرے خیال میں جسٹس منیر کا یہ کہنا درست نہیں کہ مرزا غلام احمد مرزا غلام مرتضیٰ کا پوتا تھا ...... اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزا ناصر احمد نے کہا ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ مرزا غلام احمد کے والد کا نام ہے۔ (نہ کہ دادا کا)

ایوان میں مرزا ناصر احمد کے بیان کے مطابق 80-1860ء کے درمیان انگریز اپنے ساتھ

صفحہ 265

پادریوں کی ایک فوج ظفر موج لائے تھے جن کی تعداد کوئی ستر کے لگ بھگ تھی، جس کے باعث شدید قسم کے مذہبی مناظرے شروع ہو گئے۔ ان پادریوں نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنا دیں گے۔ ان پادریوں کے اسلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر حملوں کے بارے میں مرزا ناصر احمد نے کہا :

”حکومت کے بل بوتے پر انہوں نے یہ کیا اور کر رہے تھے۔“

مرزا ناصر احمد کے مطابق چند علماء اور اسلام کا درد رکھنے والے رہنما عیسائیوں کے حملوں کو روکنے کے لیے آگے بڑھے۔ ایسے لوگوں میں نواب صادق حسن خان، مولوی آل حسن، مولوی رحمت اللہ مہاجر دہلوی، احمد رضا صاحب اور مرزا غلام احمد شامل تھے۔ مرزا ناصر احمد نے کہا کہ میں ان سب کو تو نہیں جانتا تاہم میرا ایمان صرف مرزا غلام احمد پر ہی نہیں ان سب پر ہے۔

”اللہ نے فراست دی تھی، اسلام کا پیار دیا تھا“

اور یہ وجہ تھی جس کی وجہ سے وہ عیسائیوں کے اسلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر حملوں کو پسپا کرنے کے لیے میدان میں آئے۔ یہی مباحثے اور مناظرے مرزا غلام احمد سمیت ان تمام مسلمانوں کی ہر دلعزیزی کا باعث بنے۔ وہ مسلمانوں کے ہیرو بن گئے اور ایسا معلوم ہوتا ہے اسلام کے خلاف حملوں کی پسپائی میں مرزا غلام احمد ہر دلعزیزی میں سرفہرست تھا۔ گو یہ بات شہادت سے بالکل عیاں ہوتی ہے کہ ان حملوں کی پسپائی کے لیے جو طریقے اختیار کیے گئے ان میں سے چند ایک نامناسب بلکہ قابل اعتراض تھے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جس طرح توہین کی گئی، یہ نہ صرف آج بھی قابل اعتراض ہے بلکہ اس دور میں مسلمانوں نے اس پر اعتراضات کیے تھے۔ اس دور میں بھی مرزا غلام احمد کو بار بار وضاحتیں کرنا پڑتی تھیں۔ میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، غالباً اس ہر دلعزیزی کا ہی نتیجہ تھا کہ 1889ء میں مرزا غلام احمد نے 54 سال کی عمر میں اپنے پیروکاروں اور معتقدین سے بیعت لینے کا فیصلہ کیا۔ پتہ چلتا ہے کہ مرزا غلام احمد نے ”براہین احمدیہ“ میں پہلے ہی ذکر کر دیا ہوا تھا کہ اس کا اللہ تعالیٰ سے رابطہ قائم ہے اور اسے الہامی پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ یہ سب کو معلوم تھا۔ دسمبر 1889ء میں مرزا غلام احمد کے بیٹے یعنی خلیفہ دوم جماعت احمدیہ ربوہ یا قادیان کے مطابق مرزا غلام احمد نے اس تحریک کی بنیاد رکھی۔ مارچ 1889ء میں حقیقتاً اس تحریک کی بنیاد رکھی گئی۔ تحریک کی ابتداء میں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے نبی یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ تاہم یہ ذکر ملتا ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنے پیروکاروں سے بیعت لینا شروع کر دیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کو پیروکار ملتے رہے۔ وہ روانی کے ساتھ عربی، فارسی اور اردو میں لکھتا تھا۔ ہاں ایک حقیقت کو ذہن میں رکھیں کہ 1889ء میں اس بارے میں کچھ شبہ ہے۔ ایک جگہ دسمبر 1889ء کا ذکر ہے۔ مرزا غلام احمد کو الہام ہوا کہ وہ مسیح موعود ہے

صفحہ 266

لیکن اس نے اس کا اظہار یا اعلان نہیں کیا‘ بلکہ وہ قادیان سے لدھیانہ گیا اور اپنے پیروکاروں سے بیعت لی۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس نے اس کا اعلان قادیان میں کیوں نہ کر دیا۔ اس کا فیصلہ آپ پر منحصر ہے۔ مرزا محمود احمد کی کتاب (Ahmadiat and True Islam) ”احمدیت اور سچا اسلام“ ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ وہاں بیعت لینے گیا تھا۔ کسی دوسری جگہ کسی اور اسلامی ادب میں‘ میں نے پڑھا ہے کہ مسیح موعود اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان ادنیٰ سی جگہ پر کرے گا۔ غالباً اس کے پیش نظر مرزا غلام احمد نے ”لدھیانہ“ جانا مناسب خیال کیا کہ وہاں جاکر ہی بیعت لینا چاہیے۔ اس نے اس کا آغاز قادیان سے نہیں کیا۔ یہ بات میں آپ کو خصوصی طور پر گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ عیسائیوں کے ساتھ مناظروں کے بارے میں‘ میں مزید تفصیلات بعد میں عرض کروں گا۔

ایوان کے نوٹس میں یہ بات لانا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ ایک سنگین اعتراض یہ عائد کیا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد کی نبوت اور احمدیہ تحریک انگریز کے ایما اور مشورے کی مرہون منت ہے۔ اس بات کا ذکر صرف ریزولیوشن میں ہی نہیں کیا گیا بلکہ بہت سے علمی ادب پاروں میں بھی ذکر ملتا ہے کہ (مرزا غلام احمد کی نبوت اور احمدیہ تحریک کا) شوشہ اس وقت پیدا کیا گیا جب سوڈان سے لے کر سمارا تک بیرونی سامراجیت کے خلاف اعلان جہاد ہوا۔ یہ سب انگریزوں نے جہاد کو روکنے کے لیے کیا اور مرزا غلام احمد کی خدمات سے فائدہ اٹھایا۔ یہ بھی ایک پہلو ہے جس کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکاروں کے لیے انگریزوں سے مکمل وفاداری جزو ایمان ہے۔ اس کا عہد‘ وہ بیعت کے وقت کرتے ہیں۔ یہ ایک نہایت ہی اہم بات ہے‘ کیونکہ انگریزوں سے وفاداری کی شرط کی مسلمان بہت مخالفت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ بیرونی سامراجیت‘ جس نے ان کی حکومت اور اختیارات کو غصب کر رکھا تھا‘ سے نجات حاصل کی جائے۔ انگریزوں سے وفاداری کی شرط ایمان ہونے کی وجہ سے ”احمدی“ یا مرزا غلام احمد کے پیروکاروں کی شکل میں انگریزوں کو بہت ہی اعلیٰ قسم کے جاسوس مل گئے تھے۔ ہمیں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ 1925ء میں افغانستان میں دو مرزائیوں/ احمدیوں کو قتل کر دیا گیا۔ نہ محض اس وجہ سے کہ وہ مرتد ہو گئے تھے بلکہ ان کے قبضہ سے ایسی دستاویزات برآمد ہوئی تھیں‘ جن سے پتہ چلا کہ وہ انگریز حکومت کے جاسوس تھے اور وہ افغان حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ ایوان کے نوٹس میں یہ حقائق لانا چاہتا ہوں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ درست یا سچ ہیں۔

جہاں تک مرزا صاحب کی قرآن کے فہم یا سوچ کا تعلق ہے‘ میں سمجھتا ہوں وہ کم وبیش سرسید احمد خان جیسی ہی ہے ماسوائے چند آیات کے‘ جن کا تعلق حضرت مسیح علیہ السلام سے ہے یا جن کا تعلق مرزا صاحب کی اپنی نبوت کے بارے میں ہے۔ وہ قرآن کے فہم کا ادراک رکھتا تھا۔ اپنے مخالفین کو ڈرانے

صفحہ 267

دھمکانے کے لیے اس کا نمایاں ہتھیار اس کی دو پیشگوئیاں تھیں، جن کے ذریعہ وہ محدود مدت کے اندر اندر مخالفین کی موت یا تذلیل کا دعویٰ کیا کرتا تھا۔ 1891ء میں مرزا صاحب نے پہلے مسیح موعود ہونے کا اعلان اور بعد میں نبی ہونے کا اعلان کیا۔ اس نے کس قسم کی نبوت کا اعلان کیا، اس کا ذکر میں بعد میں کروں گا۔ مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا محمود احمد اپنی کتاب ”احمدیت یا سچا اسلام Ahmadiat " " or True Islam میں لکھتے ہیں :

” اس کا کام ان غلطیوں اور غلط توجیہات کا ازالہ کرنا تھا جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دین کے اندر سرایت کر گئی تھیں، بلکہ اس کو اس سے بھی اعلیٰ مقصد کی تکمیل کرنا تھی۔ اس ضمن میں اس کو لامحدود خزانے، اٹل سچائیاں اور پوشیدہ قوتیں تلاش کرنا تھیں ۔“

” قرآن کے اس معجزے کا اعلان کرتے ہوئے مسیح موعود نے ایک روحانی انقلاب برپا کر دیا۔ مسلمانوں کا یہ تو پختہ ایمان تھا کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب ہے۔ لیکن گزشتہ تیرہ سو سالوں میں کسی نے یہ خیال نہیں کیا تھا کہ قرآن کریم نہ صرف مکمل کتاب ہے بلکہ اس میں مستقبل کی ضروریات کے لیے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا ذخیرہ موجود ہے، جس کی تفتیش اور تحقیق سے روحانیت کے انمول خزانے رونما ہوں گے۔ دنیا کے سامنے قرآن کے اس اعجاز کو نمایاں کر کے بانی سلسلہ احمدیہ نے روحانیت کی تفتیش اور تحقیق کے راستے کھول دیے۔ یہ دنیاوی سائنس کے مقابلہ میں بہت ہی اعلیٰ اقدام ہے۔ مرزا غلام احمد نے نہ صرف اسلام کو تمام غلطیوں سے پاک کر دیا بلکہ قرآن کریم پر ایسی روشنی ڈالی جس سے دنیا اور انسانیت کے سامنے عقل و دانش کی تسکین کا سامان بہم پہنچایا۔ گویا مستقبل کی تمام مشکلات کو حل کرنے کی کلید پیش کر دی ۔“

محترم! اس بارے میں صرف ایک یا دو باتیں کروں گا۔ یعنی یہ کہ مرزا غلام احمد نے ان پوشیدہ خزانوں کا پتہ لگا لیا جن تک گزشتہ تیرہ سو سالوں میں کوئی مسلمان نہیں پہنچ سکا تھا۔ اس میں کسی شک و شبہ یا تردید کی گنجائش نہیں کہ قرآن کریم خزائن کا مجموعہ ہے۔ یہ عقل و حکمت کا منبع ہے۔ جوں جوں انسان ترقی کرے گا اور قرآن کے اندر گہرا تدبر کرے گا، عقل و دانش کے اسرار و رموز اس پر عیاں ہوتے چلے جائیں گے۔

میں نے مرزا ناصر احمد سے خصوصی طور پر سوال کیا کہ وہ کون سے انکشافات تھے جو مرزا غلام احمد سے قبل کسی اور مسلمان پر ظاہر نہ ہوئے ماسوائے ختم نبوت کے مطلب کے بارے یا حضرت عیسیٰ علیہ

صفحہ 268

السلام کی زندگی کے بارے میں کہ آیا وہ زندہ ہے یا نہیں۔ میرے اس سوال کے جواب میں مرزا ناصر احمد نے کہا کہ مرزا غلام احمد کی سورہ فاتحہ کی تفسیر۔

اس تفسیر کا ستر فیصد حصہ نیا ہے‘ اس بارے میں فیصلہ کرنا یا کوئی رائے دینا اس ایوان کے فاضل علماء کا کام ہے۔ مجھے اور کچھ نہیں کہنا۔ مجھے تو صرف علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا وہ قول یاد ہے‘ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ

عصر من پیغمبرے ہم آفرید
ان گرود قرآن بجز از خود ندید

یعنی ہمارے دور میں ایک ایسا نبی پیدا ہوا جس کو قرآن میں اپنے سوا کچھ اور نظر ہی نہیں آتا۔ میرا خیال ہے یہ ایک نہایت ہی مناسب تبصرہ ہے۔ جہاں تک ہم سمجھ سکے ہیں‘ مرزا صاحب نے قرآن مجید کے صرف انہی حصوں کی تفسیر کی‘ جس میں ان کو ذاتی دلچسپی تھی۔

محترم! اب میں مرزا غلام احمد کی زندگی اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے تین مراحل کا ذکر کروں گا۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے‘ شروع میں مرزا غلام احمد بھی عام مسلمانوں کی طرح ایک دینی رہنما تھا اور انہی جیسے عقائد رکھتا تھا۔ اس نے عیسائیوں اور آریہ سماجیوں کا مقابلہ کیا۔ یہ 76-1875ء تا 89-1888ء کا دور تھا۔ مرزا غلام احمد کے اس دور کے عقائد کا ذکر کرتے ہوئے میں اس کی اپنی کتاب ’’روحانی خزائن‘‘ جلد ہفتم صفحہ 200 کا ترجمہ پیش کروں گا۔

’’کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم مصاحب فضل نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین نام رکھا اور ہمارے نبیؐ نے اہل طلب کے لیے اس کی تفسیر اپنے قول ’’لا نبی بعدی‘‘ میں واضح طور پر فرما دی۔ اور اگر ہم اپنے نبی کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی نبوت بند ہو جانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے۔ اور یہ صحیح نہیں جبکہ مسلمانوں پر ظاہر ہے کہ ہمارے رسول کے بعد نبی کیونکر آ سکتا ہے در آنحالیکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ فرما دیا۔ (حمامۃ البشریٰ‘ ص 34)

یہ بالکل واضح بات تھی۔ اس (مرزا غلام احمد) نے خاتم النبیین کے بارے میں اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا۔ اس کے بعد اس نے مزید کہا :

’’آنحضرت نے بار بار فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت پر کلام نہ تھا اور قرآن

صفحہ 269

شریف کا ہر لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین سے اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“

یہ اقتباس ”کتاب البریہ“ جلد نمبر 13‘ ”روحانی خزائن“ حاشیہ صفحہ 218-217 سے تھا۔ پھر وہ اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ جو کہ ”روحانی خزائن“ جلد سوم صفحہ 412 میں شائع ہوئی‘ کہتا ہے: ”ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیات خاتم النبیین میں وعدہ کیا گیا‘ جو جو حدیثوں میں تصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیلؑ بعد وفات رسول اللہ ہمیشہ کے لیے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“

اس کے بعد یہ مرزا صاحب کے ایک اشتہار کی عبارت کا حوالہ ہے جو 20 شعبان کو رسالہ ”تبلیغ“ میں شائع ہوا۔

ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل‘ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ (”تبلیغ رسالت“ ج 6‘ ص 2 ‘ ”مجموعہ اشتہارات“ ج 2‘ ص 297)

یہ اس کی (مرزا غلام احمد کی) ذہنی زندگی کا پہلا دور تھا۔ دوسرے دور کا آغاز 1888ء کے لگ بھگ ہوتا ہے‘ جب اس نے اپنے پیروکاروں سے بیعت لینا شروع کی۔ میں حلف بیعت کے متعلق مرزا محمود کی کتاب کے صفحہ 30 کو پڑھتا ہوں:

اس کتاب کا اثر (”براہین احمدیہ“ کا ذکر کرتے ہوئے) آہستہ آہستہ پھیلنا شروع ہوا اور مسیح موعود کو کئی لوگوں نے تحریری خطوط لکھے کہ وہ ان سے بیعت لیں لیکن مرزا غلام نے نہ مانا اور جواب دیا کہ اس کے تمام اعمال الہامی ہدایت کے تابع ہیں۔ دسمبر 1888ء میں مرزا غلام احمد کو الہام ہوا کہ وہ اپنے پیروکاروں سے بیعت لیں۔ سب سے پہلی بیعت لدھیانہ میں 1889ء میں لی گئی۔ (جس کا ذکر میں نے پہلے کیا) یہ بیعت میاں احمد جان کے گھر میں لی گئی اور سب سے اول بیعت کرنے والا مولوی نور دین تھا۔ اس روز کل چالیس آدمیوں نے بیعت کی۔ اس وقت تک اس نے مسیح موعود یا نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اس وقت تک وہ یہی کہتا تھا کہ اس کا خدا سے رابطہ ہے اور اسے الہامی پیغامات وصول ہوتے ہیں۔

محترم! اب ہم اس کی زندگی کے دوسرے دور کی طرف جاتے ہیں کہ اس کا آغاز اس نے کیسے

صفحہ 270

کیا۔ میں غلطی کر سکتا ہوں مگر جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ مرزا غلام نے پہلے جو پوزیشن اختیار کی تھی‘ اس کو تبدیل کرتے ہوئے اس نے بڑی احتیاط سے کام لیا۔ سیالکوٹ کے لیکچر اور راولپنڈی کے مباحثے میں مرزا غلام احمد نے چند ایک دلچسپ انکشافات کیے۔ اس نے نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ اس نے کہا:

”تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ وہ نعمتیں کیونکر پا سکتے ہو‘ لہذا ضروری ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہنچانے کے لیے خدا کے انبیاء وقتاً فوقتاً آتے رہیں‘ جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔ اب کیا تم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرو گے اور اس کے قدیم قانون کو توڑ دو گے۔“

یہ اگلا قدم ہے جو کہ میں نے ”روحانی خزائن“ جلد نمبر 20‘ صفحہ 227 سے پڑھا ہے۔ پھر ”تجلیات الہٰیہ“ ”روحانی خزائن“ جلد نمبر 20‘ صفحہ 412 پر مرزا غلام احمد کہتا ہے:

”اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔ مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ پس اس بنا پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

چنانچہ اب اس نے نبی یا ایک ذیلی نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ وہ مکمل نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہے اور ان (صلی اللہ علیہ وسلم) کے وسیلہ سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے ”تجلیات الہٰیہ“ ص 20‘ ”مباحثہ راولپنڈی“ اور ”روحانی خزائن“ جلد نمبر 20‘ صفحہ 412 پر رقمطراز ہے:

”میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی و قطعی بکثرت نازل ہو۔ جو غائب پر مشتمل ہو‘ اس لیے خدا نے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔“

اگلا قدم یا دلیل مرزا غلام احمد نے ”حقیقت الوحی“ جو کہ ”روحانی خزائن“ کی جلد نمبر 22 کے صفحات نمبر 100-99 پر شائع ہوئی ہے‘ جس میں وہ کہتا ہے:

”خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت کی پیروی کرنے والا اس درجہ پر پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی ہے اور ایک پہلو سے نبی ہے۔“

پھر وہ ”نزول مسیح“ حاشیہ از ”مباحثہ راولپنڈی“ ”روحانی خزائن“ جلد نمبر 18‘ صفحہ نمبر 381 پر کہتا ہے:

”میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں

صفحہ 271

جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل عکس ہے۔“

میں معزز ایوان کا زیادہ وقت نہیں لوں گا صرف ایک یا دو اقتباسات پڑھوں گا۔ ”حقیقت الوحی“ ”روحانی خزائن“ جلد نمبر 22‘ صفحہ نمبر 100 پر کہتا ہے:

”اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لیے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرایا یعنی آپ کی پیروی کمالاتِ نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی ہے۔“

(اس مرحلہ پر چیئرمین کرسی صدارت پر تشریف لائے)

اس کے بعد ہم اس (مرزا غلام احمد) کی زندگی کے تیسرے دور کی طرف آتے ہیں‘ لیکن اس کا ذکر کرنے سے پیشتر میں ایوان کی توجہ ایک دو حوالہ جات کی طرف مبذول کراؤں گا۔ یہ ان کے مطابق لفظ ”خاتم النبیین“ کے معنی کے بارے میں ہیں‘ تاکہ معلوم ہوسکے کہ قادیانیوں یا مرزا غلام احمد یا اس کے پیروکاروں کے عقیدے کی رو سے نبی کی ضرورت کیوں تھی؟ اس دلیل کا ذکر ”کلمتہ الفصل“ جو ”ریویو آف ریلیجن“ (Review of Religion) کی جلد نمبر 14 کے شمارے نمبر 4-3 مارچ‘ اپریل 1915ء میں ملتا ہے۔ یہ دلچسپ ہونے کے ساتھ جگرسوز بھی ہے۔ ایسا کیوں ہے‘ میں نہیں جانتا مگر مرزا غلام احمد کے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرنے کا پس منظر صفحہ نمبر 101 پر اس طرح درج ہے:

”دجال نے پورے زور کے ساتھ خروج کیا تھا۔ یاجوج ماجوج کی فوجیں ہر ایک اونچی جگہ سے امڈی چلی آتی تھیں۔ اسلام عیسائیت کے پاؤں پر جان کنی کی حالت میں پڑا تھا اور دہریت اپنے آپ کو ایک خوبصورت شکل میں پیش کر رہی تھی۔ مگر اس پر بھی مسلمانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور وہ خوابِ غفلت میں سو گئے‘ حتیٰ کہ وقت آیا جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اپنی امت کی حالتِ زار کو دیکھ کر تڑپتی ہوئی آستانہ الٰہی پر گری اور عرض کیا کہ اے بادشاہوں کے بادشاہ! اے غریبوں کی مدد کرنے والے! میری کشتی ایک خطرناک طوفان میں گھر گئی ہے‘ میری بھیڑوں پر بھیڑیے ٹوٹ پڑے ہیں‘ میری امت شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے تو خود میری مدد فرما اور میری بھیڑوں کے لیے کسی چرواہے کو بھیج۔ تب یکا یک آسمان پر سے ظلمت کا پردہ پھٹا اور خدا کا ایک نبی فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے زمین پر اترا‘ تاکہ دنیا کو اس طوفانِ عظیم سے بچاوے اور امت محمدیہ کی گرتی ہوئی عمارت کو سنبھال لے۔“

صفحہ 272

مزید وہ کہتا ہے : ” وہ جو دنیا کا آخری نجات دینے والا بن کر آسمان پر سے دنیا کی مصیبت کے وقت زمین پر اترا‘ وہ جو امت محمدیہ کی بھیڑوں پر حملہ کرنے والے بھیڑیوں کو ہلاک کرنے کے لیے آیا‘ وہ جو اسلام کی کشتی کو طوفان میں گھرے ہوئے دیکھ کر اٹھا‘ تا کہ اسے کنارہ پر لگائے‘ وہ جو خیر الامم کو شیطان کے پنجہ میں گرفتار پا کر شیطان پر حملہ آور ہوا‘ وہ جو دجال کو زوروں پر دیکھ کر اس کے ظلم کو پاش پاش کرنے کے لیے آگے بڑھا‘ وہ جو یاجوج ماجوج کی فوجوں کے سامنے اکیلا سینہ سپر ہوا‘ وہ جو مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں کو دور کرنے کے لیے امن کا شہزادہ بن کر زمین پر آیا‘ وہ جو دنیا پر اندھیرا چھایا ہوا پا کر آسمان پر سے نور کو لایا‘ ہاں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اکلوتا بیٹا جس کے زمانہ پر رسولوں نے ناز کیا تھا‘ جب وہ زمین پر اترا تو امت محمدیہ کی بھیڑیں اس کے لیے بھیڑیے بن گئیں۔ اس پر پتھر برسائے گئے‘ اس کو مقدمات میں گھسیٹا گیا‘ اس کے قتل کے منصوبے کیے گئے‘ اس پر کفر کے فتوے لگائے گئے‘ اس کو اسلام کا دشمن قرار دیا‘ اس کے پاس جانے سے لوگوں کو روکا گیا‘ اس کے متبعین کو طرح طرح سے تکلیفیں دی گئیں۔“

جناب والا ! مجھے اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک طرف تو احمدیوں یا قادیانیوں کی طرف سے بڑے طمطراق سے کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول آسمان سے نہیں ہوگا (جبکہ دوسرے مسلمانوں کا ایمان ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے ۔) لیکن اس اقتباس میں پر زور طریقے سے ایسی تصویر پیش کی گئی ہے گویا وہ جسمانی طور پر آسمان سے اتر رہے ہیں۔ اس سارے قصہ کا جگر سوز پہلو یہ ہے کہ ایک طرف بتایا جا رہا ہے کہ اس (مرزا غلام احمد) کی کس قدر شدید ضرورت تھی۔ اس نے کیا کیا کارنامے انجام دینا تھے اور مسلمانوں کی مدد کے لیے اس کے کیا کیا مقاصد تھے‘ لیکن پھر وہ کہتا ہے کہ ”بھیڑیں بھیڑیے بن گئیں ۔“ یہ ردعمل کیوں ہوا؟ ایک اپنے آدمی کے خلاف جو ایک دوست تھا‘ ہیرو تھا‘ امداد کر رہا تھا‘ اس قدر شدید مخالفت کیوں ہوئی؟ اس پر ہمیں غور کرنا ہے اور اس کا جواب بالکل سادہ ہے‘ وہ یہ کہ اس نے مسلمانوں کے بنیادی عقیدۂ ایمان پر حملہ کیا تھا۔ میرا مطلب مسلمانوں کے ”خاتم النبیین“ کے ایمانی تصور سے ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان اس کی اس قدر شدید مخالفت کرتے۔

جناب والا ! مرزا غلام احمد نبی اور مسیح موعود کیوں بنا؟ اس کی ضرورت کیا تھی؟ مرزا غلام احمد کے

صفحہ 273

اور اس کے پیروکاروں کے ختم نبوت کے متعلق کیا تصورات ہیں؟ ان سب سوالوں کا جواب مرزا محمود احمد کی کتاب ”احمدیت یا سچا اسلام“ "Ahmadiyat or True Islam" 1937ء ایڈیشن، صفحات نمبر 11-10 پر ملتا ہے، جسے میں پیش کرتا ہوں:

”ہمارا ایمان ہے کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی انبیاء کی جانشینی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ کیونکہ عقل اس سلسلہ کے دائمی طور پر موقوف ہونے کو تسلیم نہیں کرتی۔ جب تک دنیا میں نفسانی تاریکیوں کے دور آتے رہیں گے جب تک انسان اپنے خالق سے دور ہوتا رہے گا، جب تک لوگ صراط مستقیم سے بھٹکتے رہیں گے اور یاس و ناامیدی کے اندھیروں میں گم ہوتے رہیں گے .............. اور جب تک حسن کے متلاشی سچائی کی تلاش کے لیے کوشاں رہیں گے، تو پھر یہ ناممکن ہے کہ حق کا راستہ دکھانے والے نورانی رہبروں کا ظہور موقوف ہو جائے۔ کیونکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی صفت ”رحمانیت“ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ علاج کی اجازت تو دے مگر اس کا علاج پیدا نہ کرے۔ وہ دلوں میں حق کی جستجو کی خواہش تو پیدا کرے مگر اس خواہش کی تکمیل کرنے والوں کی آمد کا سلسلہ بند کر دے۔ ایسا خیال کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ”رحمانیت“ کی توہین ہے اور ایسا خیال روحانی اندھا پن ہے۔ اگر دنیا میں کبھی بھی کسی نبی کی ضرورت تھی تو آج یہ ضرورت سب سے زیادہ ہے کیونکہ مذہب اور سچائی کھوکھلے ہو چکے ہیں۔“

جناب والا! یہ ایک مدلل بات معلوم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ دنیا کا سلسلہ ہے کہ اس میں ہر قسم کے لوگ پیدا ہوں گے اور جس طرح اللہ تعالیٰ پہلے انبیاء بھیجتا رہا ہے، آئندہ بھی نبی آتے رہیں گے۔ بظاہر یہ بات مناسب معلوم ہوتی ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ سلسلہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ انسانیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی ضرورت رہے گی اور اسی طرح کسی ایسی ہستی کی بھی جو ”وحی“ کی ترجمانی کر سکے۔ یہ ان کی طرف سے ایک عقلی سی بات ہے۔ انہوں نے یہ کتاب انگلینڈ میں انگریزوں کے لیے شائع کی ہے۔ جب میں نے مرزا ناصر احمد سے سوال کیا کہ کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور مرزا غلام احمد سے پہلے کوئی نبی آیا تو مرزا ناصر احمد نے نفی میں جواب دیا۔ پھر میں نے پوچھا کیا مرزا غلام احمد کے بعد کوئی نبی آیا یا کسی اور نبی کے آنے کا امکان ہے تو پھر بھی مرزا ناصر احمد نے نفی میں جواب دیا۔ چنانچہ یہ تمام دلائل دھند اور دھوئیں کی طرح مٹ گئے، تو اس کا پھر آخر مطلب کیا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کو نعوذ باللہ خاتم النبیین مانتے ہیں، یہی ان کا مقصد ہے۔

صفحہ 274

چیئرمین : میرا خیال ہے کہ باقی کل کرلیں گے۔ کل 9-30 بجے صبح اجلاس ہو گا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ (پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس 6 ستمبر 1974ء صبح 9-30 بجے تک ملتوی ہوا)

6۔ ستمبر 1974ء کی کارروائی

صبح ساڑھے نو بجے زیر صدارت سپیکر اسمبلی اجلاس شروع ہوا۔

چیئرمین : میں التماس کروں گا کہ تمام معزز اراکین متوجہ ہوں۔ جو اراکین آپس میں بات چیت کرنا چاہتے ہیں، وہ لابی میں تشریف لے جائیں۔

اٹارنی جنرل : جناب والا! مرزا غلام احمد کی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کل میں نے ایوان میں گزارش کیا تھا کہ اس کی مذہبی زندگی تین ادوار پر مشتمل تھی۔ اس کا پہلا دور عام مسلمانوں کی طرح ایک مبلغ جیسا تھا، ختم نبوت کے متعلق اس کا عقیدہ بھی عام مسلمانوں جیسا تھا۔ اس کے بعد دوسرا دور شروع ہوا، جب مرزا غلام احمد نے اپنے نظریات تبدیل کر لیے، اپنی تنظیم کی بنیاد رکھی اور بیعت لینا شروع کیا۔ دوسرے دور کا آغاز 1889ء سے ہوا۔ اس دور میں مرزا غلام احمد نے ”ختم نبوت“ کو نیا تصور دیا اور نئے معنی پہنائے، جس کے مطابق اللہ نے جو پیغام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا اس کی وضاحت کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً نئے نبی آتے رہیں گے۔

(چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی اور محترمہ ڈپٹی سپیکر نے کرسی صدارت سنبھال لی)

محترمہ ! میں نے گزارش کیا تھا کہ احمدیوں اور قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ نے انبیاء کا سلسلہ منقطع نہ ہونے کے بظاہر معقول دلائل دیے تھے لیکن جب ہم نے سوال کیا کہ کیا مرزا غلام احمد سے پہلے یا مرزا غلام احمد کے بعد کوئی نبی ہوا یا ہوگا تو انہوں نے جواب نفی میں دیا، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔

اب میں مزید آگے چلتا ہوں اور کمیٹی کی خدمت میں احمدیوں کے وہ ثبوت پیش کروں گا، جس کے مطابق وہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ (مسیح موعود) تاریخ کے اس دور میں ظاہر ہوگا جب رسل و رسائل کے ذرائع تبدیل ہو جائیں گے، زلزلے آئیں گے، جنگیں ہوں گی وغیرہ وغیرہ۔ گدھے اور اونٹ کی جگہ زیادہ مفید اور کارآمد ذرائع پیدا ہو جائیں

صفحہ 275

گے۔ یہ تمام نشانیاں جن کا قدیم کتابوں میں ذکر ہے، مرزا غلام احمد کے زمانے پر صادق آتی ہیں اور مزید کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد ہی مسیح موعود تھا۔ اس سلسلہ میں میں ”احمدیت اور سچا اسلام“ (Ahmadiat and True Islam) کا اقتباس پیش کرتا ہوں :

”اسی طرح یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ مسیح موعود دو عارضوں میں مبتلا ہوگا۔ جن میں سے ایک جسم کے اوپر والے حصہ میں اور دوسرا نیچے والے حصہ میں ہوگا۔ اس کے سر کے بال کھڑے ہوں گے رنگ گندمی ہوگا اور زبان میں قدرے لکنت ہوگی۔ اس کا تعلق زمیندار گھرانے سے ہوگا اور بات کرتے ہوئے وہ کبھی کبھی اپنا ہاتھ ران پر مارا کرے گا۔ اس کا ظہور ”قادر“ نامی گاؤں میں ہوگا اور اس کی ذات مسیح موعود اور مہدی دونوں پر مشتمل ہوگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ احمد مسیح موعود کو ایک تو چکروں کا عارضہ تھا اور دوسرا ذیابیطس کا۔ اس کے بال کھڑے تھے گندمی رنگ تھا اور گفتگو میں لکنت تھی۔ بات چیت کرتے ہوئے اپنا ہاتھ ران پر مارنے کی عادت تھی۔ زمیندار خاندان سے تعلق تھا، قادیاں یا کدعہ (جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے) کا رہنے والا تھا۔ قصہ مختصر جب ہم ان سب پیشگوئیوں کو اجتماعی شکل میں دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان تمام کا تعلق اسی زمانے سے ہے اور مرزا غلام احمد کی ذات ہے۔ یہی زمانہ مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے جس کا ذکر گزشتہ انبیاء نے کیا تھا اور مرزا غلام احمد ہی وہ مسیح موعود ہے جس کا صدیوں سے انتظار تھا۔“

مرزا غلام احمد کے مسیح موعود ہونے کا یہی ثبوت اور دلیل ہے۔ میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا، کمیٹی فیصلہ کر سکتی ہے۔ آیا یہ ثبوت اور دلیل صرف مرزا غلام احمد پر ہی صادق آتی ہے یا اس زمانے کے سینکڑوں ہزاروں لوگوں پر۔

اب میں اس کے تیسرے مذہبی دور پر آتا ہوں۔ یہاں وہ مکمل نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، کسی ذیلی نبی یا عارضی نبی کا نہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو امتی نبی کہتے ہوئے پورے طور پر نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر برتری کا دعویٰ کیا، پھر تمام انبیاء پر برتری کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برابری کا دعویٰ کیا اور آخر کار نبی آخر زمان صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی (معاذ اللہ) برتری کا دعویٰ کیا۔ مجمل طور پر یہ اس کی مذہبی زندگی کا خاکہ ہے۔ اب میں مختصر طور پر آپ کی توجہ ان حوالہ جات کی طرف دلاؤں گا، جن سے میری گزارشات کی تائید ہوتی ہے۔

صفحہ 276

کل میں نے حوالہ دیا تھا جس میں وہ (مرزا غلام احمد ) کہتا ہے: ”بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ تم نعمتیں کیوں کر پاسکتے ہو۔“

(”تجلیات الٰہیہ“ ص 25' ”روحانی خزائن“ ص 227' ج 20)

پھر کہتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس کے دعویٰ کی بنیاد ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف وہی (مرزا غلام احمد ) نبی ہے: ”جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء' ابدال' اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں ان کو حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“

یہ ماضی اور مستقبل پر یکساں لاگو ہے۔ یہ اقتباس ”روحانی خزائن“ میں شائع شدہ ”حقیقت الوحی“ جلد نمبر 22' صفحات نمبر 407-406 سے ہے۔ اس زمانے میں وہ مزید کہتا ہے: ”میں رسول اور نبی ہوں۔ یعنی بہ اعتبار ظلیت کاملہ کے' میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“

(”نزول المسیح“ ص 3' ”روحانی خزائن“ ج 18' ص 381)

اور پھر کہتا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لیے مہر دی' جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین ٹھہرایا گیا۔ یعنی اپنی پیروی کے کمالات کی نبوت بخشی اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“

(”حقیقت الوحی“ حاشیہ 97' ”روحانی خزائن“ ص 100' ج 22)

یہی وہ زمانہ ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے گزارش کی۔ وہ کہتا ہے: ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا۔“

(”دافع البلاء“ ص 11' ”روحانی خزائن“ ج 18' ص 231)

پھر دلچسپ دور آتا ہے جس میں وہ (مرزا غلام احمد ) اپنے اندر تمام انبیاء کی صفات کا دعویٰ کرتا ہے جس کے لیے میں ”روحانی خزائن“ براہین پنجم جلد 21' ص 118-117 کا حوالہ پیش کرتا ہوں:

صفحہ 277

”اس زمانے میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز اور مقدس نبی گزر چکے ہیں‘ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کیے جائیں تو وہ میں ہوں۔ اس طرح اس زمانے میں بدوں کے نمونے بھی ظاہر ہوئے۔ فرعون ہو یا وہ یہود ہوں جنہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا‘ یا ابو جہل ہو‘ سب کی مثالیں اس وقت موجود ہیں۔“

چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اللہ اپنے تمام نبیوں کی عمدہ اور بہترین صفات کو ایک شخص میں یکجا کرنا چاہتا تھا اور وہ واحد شخص میں ہوں۔ یہ وہی دور ہے جب وہ کہتا ہے:

”میں خدا کی تیس برس کی وحی کو کیسے رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“

جناب والا! یہ اقتباس بھی ”روحانی خزائن“ ”حقیقت الوحی“ جلد 22‘ صفحہ 220 سے ہے۔

وہ کہتا ہے :

”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا تعالیٰ جل شانہ کا کلام جانتا ہوں‘ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔“

جناب والا! یہ ایک بہت ہی بڑا دعویٰ ہے جو کہ اس (مرزا غلام احمد) نے اس دور میں کیا۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو وحی اس کو آتی ہے‘ وہ مرتبے اور تقدس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کے برابر ہے۔ جیسی وحی اس پر آئی‘ وہ پیغمبر اسلام کی وحی کے برابر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کچھ مرزا غلام احمد نے کیا وہ (نعوذ باللہ) قرآن کریم کے برابر ہے۔ یہ اس کا دعویٰ ہے۔ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برابری کا دعویٰ کرتا ہے اور اس زمانے میں اس نے مشہور زمانہ فارسی کے شعر کہے‘ جن میں کہتا ہے

”انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بہ عرفان نہ کمترم از کسے“

”اگرچہ بے شمار نبی آئے ہیں مگر میں کسی سے کم تر نہیں ہوں۔“

”آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام“
صفحہ 278

”اس (خدا) نے ہر نبی کو جام دیا ہے مگر وہی جام مجھے لبالب بھر کر دیا ہے۔“

(”نزول المسیح“ ص 99’ ”روحانی خزائن“ ص 477‘ ج 18)

یہاں وہ (مرزاغلام احمد) کہتا ہے کہ وہ تمام نبیوں سے اعلیٰ اور افضل ہے لیکن اس زمانے تک اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برتری کا دعویٰ نہیں کیا تھا اور صرف یہ دعویٰ تھا کہ اس کی (مرزاغلام احمد کی) وحی اور جو وحی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر آتی تھی‘ دونوں برابر ہیں۔ کیونکہ دونوں ہی مقدس ہیں۔ میں نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے‘ مرزا ناصر احمد کو (وحی کی برابری کے دعویٰ کی) نشاندہی کی اور اس نے انکار نہیں کیا۔ کمیٹی کو یاد ہوگا جب مرزا ناصر احمد نے جواب دیا تھا کہ چونکہ دونوں وحیوں کا ماخذ ایک ہے اس لیے دونوں کا مرتبہ برابر ہے۔ ماخذ اللہ ہے‘ وہ دونوں کو برابر مانتے ہیں۔ جناب والا! اس تمام عرصے میں جس کا ذکر میں کر چکا ہوں‘ مرزاغلام احمد کہتا ہے کہ ”میں ایک امتی نبی ہوں‘ غیر شرعی نبی“ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ سمجھتا تھا کہ اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برابری حاصل کر لی ہے ماسوائے اس بات کہ وہ امتی ہے۔

اس طرح اس نے ایک ذیلی حیثیت حاصل کر لی۔ کیونکہ اس کے پاس نئی شریعت نہیں تھی‘ اس نے کہا کہ اس کی اپنی کوئی شریعت نہیں لیکن اپنا مرتبہ مزید بلند بھی کرتا ہے اور کہتا ہے‘ میں ایک بار پھر ”روحانی خزائن“ جلد 17‘ صفحہ 435 کا حوالہ دیتا ہوں :

”ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر اور نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا‘ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

یہاں وہ یہ کہتا ہے کہ اس کی وحی میں بھی احکام موجود ہے۔ ”یہ کرو‘ یہ نہ کرو“ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قانون میں تھا۔ جناب والا! یہ تین دور ہیں‘ جن کا میں نے مختصر ذکر کیا ہے۔ چونکہ میں نے ابھی اور بہت سی باتوں کا ذکر کرنا ہے‘ اس لیے مزید تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ تاہم اتنا ضرور عرض کروں گا کہ اب یہ کمیٹی فیصلہ کرے کہ کیا مرزاغلام احمد نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور کس قسم کے نبی ہونے کا؟

جناب والا! جب اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس دعویٰ کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ یہ بے چینی اور اضطراب کیوں پیدا ہوا؟ اس دعوے کے خلاف اتنا شدید ردعمل کیوں ہوا؟ یہ سب حالات ہمیں ”خاتم النبیین“ کے تصور کی طرف لے جاتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے؟

صفحہ 279

تمام عالم اسلام میں پھر شدید ردعمل کیوں؟ مسلمان احسان فراموش نہیں ہوتے‘ وہ اپنے لیڈروں اور علماء کی عزت کرتے ہیں۔ آخر وہ ایک شخص کے خلاف کیوں ہو گئے‘ جسے وہ اپنا ہیرو مانتے تھے؟ مرزا غلام احمد کا اپنا بیٹا کہتا ہے : ”اس کی بھیڑیں‘ بھیڑیے بن گئے۔“

ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب دینے کے لیے اپنے محدود علم کے مطابق ایوان کی اجازت سے میں ”ختم نبوت“ کے تصور کا مطلب پیش کروں گا۔ مجھے امید ہے کہ اگر میں کہیں غلطی کروں تو ایوان کے اندر موجود میرے فاضل دوست اور علماء میری تصحیح فرمائیں گے۔

جناب والا! ”خاتم النبیین“ کا لفظی معنی ”مہر نبوت“ ہے۔ گزشتہ چودہ سو سال میں عام طور پر مسلمانوں کے نزدیک مہر نبوت کا مطلب آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن پر اللہ کا پیغام (وحی) نازل ہوا۔ بدرجہ اتم مکمل ہوا‘ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے‘ وہی آخری نبی ہیں اور جیسے جیسے انسانیت نے ارتقا کی منزلیں طے کیں‘ یا ذہنی اور جسمانی طور پر طے کر رہی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے اپنا آخری پیغام انسانیت کے لیے اتارا جو تا قیامت نافذ العمل ہے۔ کیونکہ ہر دور میں بنیادی انسانی ضروریات‘ مسائل‘ دشواریاں اور تکالیف ایک جیسی ہوتی ہیں۔ البتہ حالات کے تحت ان کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔ اللہ کریم نے اپنا آخری پیغام اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے نازل فرمایا اور حکم فرمایا کہ قیامت تک اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی اس میں کسی قسم کا رد و بدل کر سکتا ہے۔ یہی ”خاتم النبیین“ یا ”ختم نبوت“ کا تصور ہے۔ عام الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وحی کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا۔

جناب والا! اب دیکھنا یہ ہے کہ اس تصور کی حکمت کیا ہے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ جب مسلمان ”خاتم النبیین“ کہتے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے لیکن اس کی سب سے زیادہ محکم اور مستند تعبیر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی ہے۔ انہوں نے فرمایا ‘ لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا) اس کا ماننا تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اس حدیث کی سند کو مسلمانوں کے کسی فرقہ نے کبھی بھی متنازعہ نہیں سمجھا۔ جناب والا! جب آپ اس حدیث میں پوشیدہ حکمت پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری علالت کے دوران اپنے صحابہؓ سے فرمایا کہ جب تک وہ ان کے درمیان موجود ہیں‘ وہ ان کی باتیں سنیں اور ان پر عمل کریں۔ جب وہ اس دنیا سے پردہ پوشی فرما لیں تو پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کے مطابق ”قرآن کو مضبوطی سے پکڑیں اور جس چیز سے قرآن نے منع کیا ہے‘ اس سے باز رہیں اور جس چیز کی قرآن نے اجازت دی ہے اس کو جائز سمجھیں۔“

جناب والا! ہم نے اس عالیشان سبق کی حکمت اور رعنائی کی قدر نہیں کی جیسا کہ میں عرض کر چکا

صفحہ 280

ہوں۔ انسانیت کی تکمیل ہوچکی تھی۔ اللہ کا پیغام مکمل ہوچکا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان فرمائی‘ اس وقت دنیا کے کیا حالات تھے؟

آج سے چودہ سو سال پہلے کے معاشرہ کا خیال کریں۔ جب راجے‘ مہاراجے‘ بادشاہوں اور قبائلی سرداروں کا زمانہ تھا۔ ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون کا درجہ رکھتا تھا۔ اس کے علاوہ معاشرہ کسی اور قانون سے واقف ہی نہ تھا۔ دنیا میں پہلی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ بالا سادہ سی حدیث مقدس میں قانون کی بالادستی کا تصور پیش کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ”ان کے بعد تم پر کسی کی اطاعت واجب نہیں‘ صرف اللہ اور اس کے پیغام (قرآن کریم) اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو‘ قرآن پر سختی سے عمل پیرا رہو‘ جو وہ حکم دے‘ کرو‘ جس سے منع کرے‘ رک جاؤ۔“ یہی اس حدیث مقدس کا حسن ہے کہ پہلی بار دنیا کو قانون کی بالادستی کا تصور دیا گیا۔ میری ناقص رائے میں پوری انسانیت کے لیے یہ اعلان آزادی تھا کہ آج کے بعد کوئی کسی بادشاہ‘ حاکم یا ڈکٹیٹر کا غلام نہیں۔ صرف قانون کی حکمرانی ہوگی ...... اور وہ قانون (قرآن کریم) موجود ہے۔ تاریخ کے مطالعہ سے ہمیں کیا معلوم ہوتا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوتا ہے‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ منتخب ہوتے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلا خطبہ کیا دیا۔ وہ کیا فرماتے ہیں‘ ان کا پیغام ہے :

”جب تک میں اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کروں‘
تم میری اطاعت کرو۔ اگر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی
کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں۔“

یہ ہے قانون کی بالادستی اور اس کا صحیح تصور۔ میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ ”مجھے الہام ہوتا ہے‘ وحی آتی ہے۔ میں حکم دوں گا‘ جس کا ماننا تم پر فرض ہوگا“ تو عالم اسلام میں ہیجان پیدا ہو گیا ...... عالم اسلام میں بے چینی کی سب سے بڑی یہی وجہ تھی ......

ایک اور پہلو جس کی میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں‘ یہ آزادی فکر کا پہلو ہے۔ تمام مسلمان قرآن میں تدبر کرنے اور معنی سمجھنے میں مکمل آزاد ہیں۔ کوئی کسی دوسرے پر اپنی تفسیر مسلط نہیں کر سکتا۔ علامہ اقبالؒ نے کہا ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوائے کسی دوسرے کی بات حرف آخر نہیں ہو سکتی“ چنانچہ یہ ایک طرح کا اعلان آزادی ہے کہ آپ کی سوچ پر کوئی قدغن نہیں۔ جناب والا ! اس میں شک نہیں کہ یہ آزادی فکر اسلام کے بنیادی اصولوں کے دائرہ تک محدود ہے۔ مثال کے طور پر توحید اور اللہ کی وحدانیت کا اصول‘ کوئی کسی قسم کی آزادی فکر اس اصول کو چیلنج نہیں کر سکتی۔

دوسرا بنیادی اصول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین یا ختم نبوت کا ہے۔ اس اصول کو بھی

صفحہ 281

چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ دیگر امور میں ان بنیادی اصولوں کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے آپ اپنی تعبیر کر سکتے ہیں اور جو راستہ آپ صحیح سمجھتے ہیں، اختیار کر سکتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس آزادی فکر کی وجہ سے ہم بہت سے فرقوں میں بٹ چکے ہیں۔ گو یہ فرقہ بندی اسلام کا ایک طرۂ امتیاز ہے اور جمہوریت نوازی کا مظہر ہے۔

اب میں بڑے ادب کے ساتھ آپ کی توجہ اس بات کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ مختلف فرقوں اور ان کے آپس میں کفر کے فتووں کے متعلق علامہ اقبال کیا کہتے ہیں۔ یہ اقتباس اس مباحثہ سے ماخوذ ہے جب پنڈت جواہر لعل نہرو نے احمدیوں کے بارے میں کچھ کہا تو علامہ اقبال بھی اس مباحثہ میں شامل ہوگئے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں :

”ختمیت کے نظریہ سے یہ مطلب نہ اخذ کیا جائے کہ زندگی کے نوشتہ تقدیر کا انجام استدلال کے ہاتھوں جذباتیت کا مکمل انخلا ہے۔ ایسا وقوع پذیر ہونا نہ تو ممکن ہی ہے اور نہ پسندیدہ ہے۔ کسی بھی نظریہ کی دینی قدر و منزلت اس میں ہے کہ کہاں تک وہ نظریہ عارفانہ واردات کے لیے ایک خود مختارانہ اور نافذانہ نوعیت کے تحقیقی نقطہ نگاہ کو جنم دینے میں معاون ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اندر اس اعتقاد کی تخلیق بھی کرے کہ اگر کوئی مقتدر شخص ان واردات کی وجوہ پر اپنے اندر کوئی مافوق الفطرت بنیاد کا داعیہ پاتا ہے تو وہ سمجھ لے کہ اس نوعیت کا داعیہ تاریخ انسانی کے لیے اب ختم ہو چکا ہے۔ اس طرح ہر وہ اعتقاد ایک نفسیاتی طاقت بن جاتا ہے جو مقتدر شخص کے اختیاری دعویٰ کو نشوونما پانے سے روکتا ہے۔ ساتھ ہی اس تصور کا فعل یہ ہے کہ انسان کے لیے اس کے واردات قلبیہ کے میدان میں اس کے لیے علم کے نئے مناظر کھول دے۔“

پھر مرزا غلام احمد کے حوالے سے علامہ اقبال فرماتے ہیں:

”اختتامیہ جملے سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ولی اور اولیاء حضرات نفسیاتی طریق پر دنیا میں ہمیشہ ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔ اب اس زمرہ میں مرزا صاحب شامل ہیں یا نہیں، یہ علیحدہ سوال ہے۔ مگر بات اصل یہی ہے کہ بنی نوع انسان میں جب تک روحانیت کی صلاحیت قائم ہے، ایسے حضرات مثالی زندگی پیش کر کے لوگوں کی رہنمائی کے لیے تمام اقوام اور تمام ممالک میں پیدا ہوتے رہیں گے۔ اگر کوئی شخص اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ اس نے بشری وقوعات سے روگردانی کی۔ فرق صرف یہ ہے کہ آدمی کو

صفحہ 282

فی زمانہ یہ حق ہے کہ ان حضرات کے واردات قلبیہ کا ناقدانہ طور پر تجزیہ کرے۔

ختمیت انبیاء کا مطلب یہ ہے جہاں اور بھی کئی باتیں ہیں کہ دینی زندگی میں جس کا انکار عذاب اخروی کا ابتلا ہے اس زندگی میں ذاتی نوعیت کا محکم واقتدار اب معدوم ہو چکا ہے۔“

اس لیے جناب والا! آئندہ کوئی فرد یہ کہنے نہیں آئے گا کہ مجھے وحی الٰہی ہوتی ہے اور یہ اللہ کا پیغام ہے جس کو ماننا تم پر لازم ہے۔ لازم صرف وہی ہے جو قرآن پاک میں پہلے سے آچکا ہے۔ آگے علامہ اقبال کہتے ہیں:

”محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدھا سادا ایمان دو اصولوں پر مبنی ہے کہ خدا ایک ہے اور دوم کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان مقدس حضرات کے سلسلہ کی آخری ہستی ہیں جو تمام ممالک اور قرون میں وقتاً فوقتاً بنی نوع انسان کو معاشرتی زندگی کا صحیح طریقہ گزارنے کی راہ بتلانے آتے رہے ہیں۔ کسی عیسائی مصنف نے عقیدے کی یہ تعریف کی ہے کہ عقیدہ ایک مسئلہ ہے جو عقلیت سے ماورا ہے اور جس کے مابعد الطبیعاتی مفہوم کو سمجھے بوجھے بغیر ماننا مذہبی یک جہتی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر یہ بات ہے تو اسلام کی ان دو سادہ سی تجاویز کو عقیدے کے نام نامی سے موسوم ہی نہیں کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ ان دونوں کی واقعیت کی دلیل واردات باطنہ بشریہ پر موید ہے اور بوقت بحث معقولیت کی صلاحیت کافی حد تک رکھتی ہے۔“

جناب والا! جیسے میں نے کفر کے بارے میں گزارشات کیں اور مختلف فرقوں کے ایک دوسرے پر کفر کی الزام تراشی کا ذکر کیا تو اس سلسلے میں محترم علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:

”کفر کے مسئلہ پر فیصلہ صادر کرنا کہ فلاں مخترع شخص دائرہ کے اندر ہے یا باہر اور وہ بھی ایسے مذہبی معاشرے کے اندر...... جو اتنے سادہ مسائل پر مبنی ہو جب ہی ممکن ہے جب کہ منکر ان دونوں سے یا ان میں سے ایک سے انکار کر دے۔“

محترم جناب علامہ اقبال کے نقطہ نظر سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ اگر وہ ان دو اہم اصولوں میں سے کسی ایک کو بھی مسترد کرتا ہے‘ یعنی توحید اور ختم نبوت‘ اور کفر کی قسم کا یہ مظہر چونکہ اسلام کی حدود پر خصوصیت سے اثر انداز ہوتا ہے اس لیے اسلام کی تاریخ میں ایسا وقوعہ شاذ و نادر ہی ہوا ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ ہر مسلمان کے جذبات قدرتی طور پر بھڑک اٹھتے ہیں‘ اگر اس نوعیت کی بغاوت رونما ہو جائے۔

صفحہ 283

یہی وجہ تھی کہ ایران کے اندر ”بہائیوں“ کے خلاف مسلمانوں کے احساسات شدید ہو گئے اور یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے خلاف مسلمانوں کے جذبات اتنے زیادہ شدید ہوئے۔

ہاں تو میں اس بات کی وضاحت کر رہا تھا کہ کسی وجہ سے مرزا صاحب کے دعویٰ کے خلاف شدید ردعمل ہوا۔ اب میں اس نکتہ پر محترم علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے ایک اور قول کے اقتباس کا حوالہ دوں گا اور اس کے بعد اپنی معروضات کو جاری رکھوں گا۔ کفر کے سوال پر ایک دوسرے کو کافر......

ایک ممبر صاحب: مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا ہے۔

اٹارنی جنرل : بس میں صرف یہی پڑھوں گا۔ محترم علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں :

”یہ بات درست ہے کہ مسلمان فرقوں کے مابین معمولی اختلافی نکات کی وجہ سے ایک دوسرے پر کفر کی الزام تراشی خاصی کچھ عام سی رہی ہے۔ لفظ کفر کے اس قدر بے شعوری استعمال پر خواہ وہ کوئی چھوٹا موٹا دینیاتی اختلافی مسئلہ ہو یا کوئی حد درجہ کا کفریہ معاملہ جو اس شخص کو حدود اسلام سے خارج کر دے۔ بہر حال اس صورت حال پر ہمارے کچھ تعلیم یافتہ مسلمان جنہیں اسلامی فقہی اختلاف کی سرگزشت سے قطعاً کوئی واقفیت نہیں‘ وہ اس مابین اختلاف میں امت مسلمہ کی سماجی اور سیاسی تار و پود کی ریخت کے آثار دیکھتے ہیں‘ ان لوگوں کا یہ خیال سراسر غلط ہے۔ مسلم فقہ کی تاریخ شاہد ہے کہ چھوٹے اختلافی نکات کی بنا پر کفر کا الزام دینا کسی انتشار ہی نہیں‘ بلکہ اتحادی قوت کا سبب بنی ہے۔ دینی ادراک کو واقعتاً محرک بنا کر زود رفتاری فراہم کر رہی ہے۔“

پھر علامہ اقبال اسی یورپین پروفیسر ”مرگراونچی“ کا قول ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں:

”محمدی قانون کی ترقی ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہر دور کے فقہا انتہائی معمولی سی تحریک پر پرجوش ہو کر ایک دوسرے کو اتنا برا بھلا کہتے ہیں کہ کفر کے فتوے تک لگاتے ہیں مگر دوسری طرف یہی لوگ اپنے مقاصد کے زیادہ سے زیادہ اتحاد کے لیے اپنے پیشروؤں کے باہمی تنازعات میں ہم آہنگی کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔“

اس سے آگے علامہ اقبال فرماتے ہیں:

”فقہ کا طالب علم جانتا ہے کہ ائمہ فقہ اس قسم کے کفر کو فنی اصطلاح میں کفر کمتراز کفر سے موسوم کرتے ہیں۔ یعنی اس طرح کا کفر مجرم کو دائرہ (اسلام) سے خارج نہیں کرتا۔“

صفحہ 284

جناب والا! اگر میں کمیٹی کو زیادہ زیر بار نہیں کر رہا تو اس مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے میں علامہ اقبال کا ایک اور حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ مرزا ناصر احمد نے کہا تھا کہ اگر آپ احمدیوں یا قادیانیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو پھر اس کے بعد بیشتر حضرات آغا خانیوں اور دیگر فرقے کے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کرنا پڑے گی۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی ایسا ہی سوال اٹھایا تھا۔ اس نے کہا تھا:

”اگر آپ قادیانیوں کی مذمت کرتے ہیں اس لیے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں تو پھر آپ کو ایسی ہی مذمت آغا خانیوں کی کرنا ہوگی۔“

محترم ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا حوالہ دینے کے علاوہ اس سوال کا میرے پاس بہتر جواب نہیں ہے۔

اگر آپ اجازت دیں تو میں جو کچھ ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا وہ پڑھتا ہوں:

”ہز ہائی نس آغا خان کے متعلق ایک آدھ لفظ پنڈت جواہر لعل نہرو نے آغا خان پر جو حملہ کیا ہے، اس کو سمجھنا میرے لیے مشکل ہے۔ شاید ان کا خیال ہے کہ قادیانی اور اسماعیلی دونوں ایک ہی زمرہ میں آتے ہیں۔ شاید وہ نہیں جانتے کہ اسماعیلی دینی مسائل کی خواہ کچھ بھی تعبیر کریں اسلام کے بنیادی اصولوں پر ان کا ایمان ہے۔ یہ درست ہے کہ وہ عقیدہ ”حاضر امام“ کے ماننے والے ہیں لیکن ان کے امام پر وحی کا نزول نہیں ہوتا۔ وہ صرف اسلامی قانون کی شرح کہنے والا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ صرف چند دنوں کی بات ہے (حوالہ الہ آباد سے شائع ہونے والا ”سٹارز“ مورخہ 12 مارچ 1939ء) کہ ہز ہائی نس آغا خان نے اپنے پیروکاروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا:

”گواہ رہو کہ اللہ ایک ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے، کعبہ تمام مسلمانوں کا قبلہ ہے، آپ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہیں۔ مسلمانوں کو السلام علیکم کہہ کر خوش آمدید کہیں۔ اپنے بچوں کے اسلامی نام رکھیں، مسلمانوں کے ساتھ مسجدوں میں باجماعت نماز ادا کریں، روزے باقاعدگی سے رکھیں، اپنی شادی نکاح اسلامی قانون کے مطابق کریں، تمام مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھیں۔“

پھر علامہ اقبال فرماتے ہیں:

”اب یہ پنڈت نہرو فیصلہ کریں کہ آغا خان اسلامی یک جہتی کی نمائندگی کرتے ہیں یا نہیں۔“

صفحہ 285

جناب والا ! اب اس حصہ بحث کو ختم کرتا ہوں۔ کیونکہ وہ (مغرب کی نماز) پڑھنا چاہتے ہیں......

چیئرمین : جی ہاں اب مغرب کی نماز کا وقت ہے۔

اٹارنی جنرل : میں مغرب کی نماز کے بعد دوبارہ شروع کروں گا۔

چیئرمین : اجلاس 7:15 بجے شام ہوگا۔ ہاؤس کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے۔

(کمیٹی کا اجلاس 7:15 بجے شام تک ملتوی ہوا اور مغرب کی نماز کے بعد شروع ہوا)

چیئرمین : صرف دو منٹ اراکین کو آ لینے دیں۔

اگر اٹارنی جنرل صاحب کی بحث اور دیگر کوئی ممبر جو خطاب کرنا چاہے آج ختم ہو جائے تو پھر آج رات کو ہم کارروائی مکمل کر لیں گے۔ ورنہ کل صبح اجلاس ہوگا۔ اگر آج رات کوئی کام باقی رہ گیا تب ہم بطور خصوصی کمیٹی 2:30 بجے دن اجلاس کریں گے اور 4:30 بجے بعد دوپہر بطور نیشنل اسمبلی اجلاس کریں گے۔ اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ کل فیصلہ کریں گے۔ بس صرف 24 گھنٹے انتظار کر لیں۔ کل 4:30 بجے دوپہر ہم بطور نیشنل اسمبلی اجلاس کریں گے۔

حالات کے مدنظر ایم۔ این۔ اے حضرات کے خاندان کے افراد ہی کو صرف پاس جاری کیے جائیں گے۔ مجھے امید ہے کہ ممبران کو ناگوار نہ ہوگا کہ اسمبلی کے اندر داخلہ کے بارے میں قواعد پر سختی سے عمل ہوگا۔ نہ صرف اسمبلی کے اندر بلکہ کیفے ٹیریا میں اور دوسری جگہوں پر بھی (ایسا ہی ہوگا) کل 4:30 بجے بعد دوپہر گیٹ 3 اور 4 سے کسی شخص کو جب تک کہ اس کے ساتھ پاس نہ ہو داخلہ کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی۔

(وقفہ)

چیئرمین : مجھے افسوس ہے کسی شخص کو بھی ممبران کے داخلے کے بارے میں قدغن لگانے کا اختیار نہیں۔ ممبران کو اجازت ہوگی۔ یہ بات میرے نوٹس میں لائی گئی ہے۔ مجھے افسوس ہے (کہ میں نے پہلے کچھ اور کہا) ممبران کو اجازت ہوگی۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر ہمیں کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اٹارنی جنرل صاحب ہمیں اب کارروائی شروع کرنا چاہیے۔

اٹارنی جنرل : جناب والا

چیئرمین : مجھے افسوس ہے مجھے وہاں جانا پڑا۔ میں تو آپ کے دلائل سننا چاہتا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے اپنا چیمبر بھی بند کرنا پڑا۔

صفحہ 286

اٹارنی جنرل : جناب والا!

میں مسلمانوں کے ”ختم نبوت“ اور ”خاتم النبیین“ کے تصور کے بارے میں معروضات پیش کر رہا تھا۔ مرزا غلام احمد نے پہلے امتی نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر اس نے دعویٰ کیا کہ وہ ایسا نبی ہے جس کا اپنا قانون (شریعت) ہے۔ ایک وحی کا ذکر کرتے ہوئے اس نے کہا اس کے پاس خدائی احکامات ہیں جن میں ”امر ونہی“ شامل ہیں۔ یہ بات صرف مرزا غلام احمد نے ہی نہیں کہی بلکہ اس کا بیٹا محمود احمد اپنی کتاب ”احمدیت یا سچا اسلام“ (Ahmadiat or True Islam) میں لکھتا ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنے ماننے والوں کے لیے ضابطہ حیات کا مکمل ذخیرہ چھوڑا ہے۔ کتاب کے صفحہ 56 سے اقتباس میں پڑھتا ہوں :

”میں ابھی ابھی بتاؤں گا کہ اس (مرزا غلام احمد) نے ہمارے لیے اخلاقیات اور ضابطہ حیات کا مکمل ذخیرہ چھوڑا ہے۔ تمام ذی عقل انسانوں کو یہ ماننا پڑے گا کہ ان پر عمل کرنے سے ہی مسیح موعود کی آمد کے مقاصد کی تکمیل ہوسکتی ہے۔“

تو جناب والا! بات یہ تھی، ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ صرف قرآن ہی مکمل ضابطہ حیات ہے مگر ایک اور نبی آجاتا ہے جو کہ بغیر شریعت امتی نبی ہونے کا دعویدار ہے اور اپنے پیروکاروں کے لیے مکمل ضابطہ حیات چھوڑ جاتا ہے۔

جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں پھر وہ (مرزا غلام احمد) مزید بلندی اور بہتر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ معزز اراکین شہادت سماعت فرما چکے ہیں۔ بس میں ریکارڈ سے صرف ایک یا دو باتوں کا ذکر کروں گا۔ اس (مرزا غلام احمد) نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اسلام کی مثال پہلی رات کے چاند کی مانند تھی مگر مسیح موعود کے دور میں اس کی مثال بدر کامل جیسی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایوان کی جانب سے میں نے مرزا ناصر احمد کو اس بات کی وضاحت کرنے کا پورا پورا موقع دیا لیکن میری ناقص رائے میں وہ بالکل ناکام رہا۔ شروع میں اس نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اسلام صرف عرب تک محدود تھا۔ پھر اس نے پینترا بدلا اور کہا کہ ہر دور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی دور ہے اور ابدالاباد تک رہے گا۔ اس کے بعد کہا کہ مرزا غلام احمد کے دور میں اسلام یورپ کے کئی ممالک تک پھیل گیا تھا۔ جب میں نے کہا کہ مسیح موعود کے زمانے میں تو اسلام کو تمام دنیا میں پھیلنا چاہیے تھا اور اس زمانے میں کوئی غیر مسلم نہیں ہونا چاہیے تھا، مسیح موعود کے زمانے کا تو یہ مطلب ہے۔ اس پر مرزا ناصر احمد نے کہا کہ نہیں۔ یہ زمانہ دو تین سو سال تک حاوی ہے۔ جہاں تک حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا تعلق ہے وہ ان کی حیات طیبہ تک اور عرب تک محدود ہے۔

صفحہ 287

یہ واضح تضادات ہیں لیکن اس قسم کے دعوے کیے گئے۔ اور بھی حوالے ہیں، جن کو ممبران سماعت فرما چکے ہیں۔ مگر وہ قصیدہ یا نظم جو مرزا غلام احمد کی مدح یا تعریف میں پڑھی گئی، ضرور قابل ذکر ہے۔ اس قصیدہ یا نظم کا ایک شعر ہے:

محمدؐ پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بھی بڑھ کر ہیں اپنی شان میں

یہ قصیدہ مصنف کے مطابق مرزا غلام احمد کی موجودگی میں پڑھا گیا۔ مرزا ناصر احمد نے پہلے کہا کہ یہ (مرزا غلام احمد کی موجودگی میں) نہیں پڑھا گیا۔ اگر وہ (مرزا غلام احمد) یہ سن لیتا تو وہ اس قصیدے کو ناپسند کرتا اور اس کے مصنف کو جماعت سے خارج کر دیتا۔ پھر مرزا ناصر احمد کو میں نے بتایا کہ 1906ء کے ”بدر“ نامی قادیانی اخبار میں یہ نظم شائع ہوئی تھی اور یہ بات ناقابل یقین ہے کہ مرزا غلام احمد نے اسے نہ پڑھا ہو۔ یہ اس کا اپنا اخبار تھا اور یہ ہو نہیں سکتا کہ مرزا غلام احمد کے پیروکاروں نے اسے اس نظم کے بارے میں نہ بتایا ہو۔ اس پر مرزا ناصر احمد نے کہا کہ اکمل نے یہ نظم لکھی۔ اس کی نظموں کا مجموعہ کتاب کی شکل میں 1910ء میں شائع ہوا تو مندرجہ بالا شعر اس سے حذف کر دیا گیا تھا۔ کمیٹی اس بات پر غور کر سکتی ہے لیکن ہمارا تعلق مرزا غلام احمد کے وقت سے ہے۔ ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مرزا غلام نے اس وقت اس شعر کو ناپسند یا نامنظور کیا ہو بلکہ اس کے برعکس 1944ء میں مصنف نے بذات خود کہا تھا کہ اس نے یہ نظم اور شعر مرزا غلام احمد کی موجودگی میں پڑھی تھی اور مرزا غلام احمد نے اسے پسند کیا تھا اور وہ (مرزا غلام احمد) اس نظم کو اپنے ساتھ گھر لے گیا تھا۔ تاہم مرزا ناصر احمد نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ اس کی تردید 1954ء کے اخبار ”الفضل“ میں کر دی گئی تھی۔

اس موضوع پر میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ گو مرزا ناصر احمد نے اس بات کو ایک دوسرے طریقے سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ اسی نظم میں ایک اور شعر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد برتری کا دعویٰ نہیں کرتا لیکن میں کچھ اور گزارش نہیں کرنا چاہتا۔ جناب والا! یہ حالات تھے جن کے تحت مرزا غلام احمد نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور پھر مرحلہ وار اپنے مرتبے خود ہی بلند کرتا چلا گیا۔

جناب والا! اب میں اختصار کے ساتھ مرزا غلام احمد یا قادیانیوں کے ”ختم نبوت“ اور ”خاتم النبیین“ کے تصور کے بارے میں معروضات کروں گا۔ تمام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا مگر قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ ”خاتم النبیین“ کا مطلب یہ ہے کہ سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں نبی نہیں آئے گا اور جو نبی ہوگا، وہ امتی نبی ہوگا اور اس کی نبوت پر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ہوگی۔ مہر نبوت سے قادیانی یہی مطلب لیتے ہیں۔ نیا نبی اپنی شریعت لے کر نہیں آئے گا۔ اس وقت تک ان کا عقیدہ تھا کہ نہ صرف ایک بلکہ کئی نبی آئیں گے اور

صفحہ 288

اس طرح بات کو خلط ملط کرتے رہے۔ اس موضوع پر مرزا محمود اپنی کتاب میں لکھتا ہے : ( یہ میں نے مرزا ناصر احمد کو بھی پڑھ کر سنایا تھا )

”اگر میری گردن کے دونوں اطراف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘ تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے‘ کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں ۔“

(”انوار خلافت“ ص 65)

پھر لکھتا ہے :

”یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔“

(”حقیقت النبوت“ ص 228)

پھر انوار خلافت ص 62 پر لکھتا ہے :

”اور یہ سمجھ لیا کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے .......... ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا‘ میں تو کہتا ہوں‘ ہزاروں نبی ہوں گے۔“

یہ تحریر جب مرزا ناصر احمد کو بتائی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ امکانی صورت کے طور پر ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے۔ ان کا یہ مطلب نہیں کہ کئی نبی آئیں گے۔ ماسوائے مرزا غلام احمد کے ...... ایک اور پہلو جو غالباً براہ راست متعلق نہیں ہے‘ یہ ہے کہ مرزا غلام کا بیٹا دیدہ دلیری سے کہتا ہے:

”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم کہو کہ آنحضرتؐ کے بعد نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تم جھوٹے ہو کذاب ہو۔ اس کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں ۔“

(”انوار خلافت“ ص 65)

(اس موقعہ پر جناب محمد حنیف خان صاحب نے کرسی صدارت سنبھالی )

جناب والا! یہ ایک بہت ہی بے باکی کی بات ہے۔ ایک ایسے شخص کے بیٹے کی طرف سے جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن جب آپ اس کا موازنہ اس ”نبی“ کے اپنے ذاتی کردار کے ساتھ کریں تو انسان حیرت میں گم ہو جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد کے خلاف گورداسپور کی ضلع کچہری میں ایک استغاثہ دائر ہوا تھا۔ مرزا غلام احمد نے مستغیث کے خلاف کوئی پیشین گوئی کی تھی‘ جس پر مستغیث نے دعویٰ دائر کر

صفحہ 289

نے عدالت سے درخواست کی کہ مرزا غلام احمد کو اس قسم کی پیش گوئیاں کرنے سے باز رکھا جائے۔ اس پر مرزا غلام احمد نے تحریری طور پر عدالت میں اقرار کیا کہ وہ آئندہ کسی کے خلاف اس کی موت یا تباہی کی پیش گوئی نہیں کیا کرے گا اور نہ ہی اس بارے میں موصول ہونے والی ”وحیوں“ کا اظہار کرے گا۔ اب آپ ہی اندازہ لگائیں یہ ہے خدا کا نبی جو ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم کے تحت خدا تعالیٰ سے موصول ہونے والی ”وحی“ کے ظاہر کرنے سے رک جاتا ہے اور اس کا بیٹا کیا کہتا ہے؟

جناب والا! یہی بات کہ کئی نبی آئیں گے اس جدول میں بھی ملتی ہے جو جماعت احمدیہ ربوہ کی طرف سے داخل کیا گیا ہے۔ مولوی ابوعطا جالندھری کی کتاب کے صفحہ 8 میں (جس کا حوالہ مرزا ناصر احمد کو بھی دیا گیا تھا) یہ لکھا ہے :

”خاتمیت محمدیہ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کو ماننے والوں کے دو نظریے ہیں۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرتؐ کی خاتمیت میں دیگر انبیاء کے فیوض کو بند کر کے فیضان محمدی کا دروازہ کھول دیا ہے۔ آپ کی امت کو آپ کی پیروی کے طفیل وہ تمام انعامات ممکن الحصول ہیں جو پہلے منعم علیہ کو ملتے رہے ہیں۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد خاتمیت فیضان محمدی کے بند ہونے کے مترادف ہے۔ آپ کی امت ان تمام اعلیٰ انعامات سے محروم ہوگئی جو بنی اسرائیل اور پہلی امتوں کو ملتے رہے ہیں۔“

یہ تحریر میں نے مرزا ناصر احمد کو بتائی تو اس نے جواب دیا کہ اس کا تعلق نبیوں یا ان کی آمد سے نہیں ہے۔ گو کہ کتاب کا موضوع یہی ہے تاہم کچھ بھی ہو ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ اور نبی آئیں گے اور اسی نظریہ یا عقیدہ کو عقلمندی سمجھتے ہیں، مگر دوسری طرف کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد ہی وہ نبی ہے جس نے آنا تھا۔

جناب والا! جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کا اسلام پر یا مسلمانوں کے حوالے سے کیا اثرات ہوئے۔ جب اس نے یہ دعویٰ کیا تو قدرتی طور پر مسلمانوں میں احساس اور خیال پیدا ہوا کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر اسلام کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ یہ ایک قدرتی ردعمل تھا کہ ایسا شخص مسلمانوں کے مذہبی اور معاشرتی نظام کو تہہ و بالا کرنا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق اس شخص نے اسلام کے بنیادی تصور کے خلاف بغاوت کی تھی اور اسلام کی جڑ کاٹنے کی کوشش کی تھی۔ اس لیے فطری طور پر اس کا شدید ردعمل ہوا۔

جناب والا! پیشتر ازیں کہ میں اس دعوے کے اثرات کی تفصیل میں جاؤں، میں مختصراً یہ عرض کروں گا کہ مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد کن حالات میں جلسوں وغیرہ کو خطاب کیا۔

صفحہ 290

جناب والا اس سے مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کا ایک اور پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ اس کی زندگی تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا دوسرا اور تیسرا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد کی زندگی کے تیسرے مرحلے میں بھی ایک ایسا بیان ملتا ہے جس کی مثل پہلے مرحلہ میں بھی موجود ہے۔ جس میں وہ نبوت کے دعویٰ کا انکاری ہے اور کہتا ہے کہ اس کا مطلب یہ تھا اور یہ نہیں تھا وغیرہ وغیرہ۔ میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی مرزا غلام احمد کی مخالفت شدت اختیار کر جاتی تھی یا جب بھی وہ اپنے آپ کو لاجواب پاتا تھا تو وہ اپنی بات تبدیل کر لیتا تھا۔ لیکن بعد میں پھر نہایت ہوشیاری اور مکاری سے (بات کو بدل کر) اپنی نبوت کا اعلان کر دیتا تھا۔

جناب والا! نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد 1891ء میں وہ دہلی جاتا ہے۔ یہاں میں مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب ”احمد یا آخری دنوں کا پیغمبر“ (Ahmad or Messenger of the Later Days) کے صفحات نمبر 34' 33' 32 کا حوالہ دوں گا۔ ممکن حد تک میں اختصار سے کام لوں گا۔ تاہم عرض کرنا ضروری ہے کہ ایسے جلسوں میں کیا ہوتا رہا جس کی وضاحت میں بعد میں کروں گا۔

”بحث مباحثہ کے لیے جامع مسجد بطور جائے مناظرہ مقرر کی گئی تھی۔ یہ تمام امور مخالفین نے خود طے کیے تھے اور احمد کو اس کی اطلاع نہیں دی گئی۔ جب بحث مباحثہ کا وقت آیا، دہلی کا حکیم عبدالمجید خان گاڑی لے کر آیا اور مسیح موعود کو جامع مسجد جانے کی درخواست کی مگر مسیح موعود نے جواب دیا کہ لوگوں کے جوش اور ولولہ کے مدنظر نقص امن کا خطرہ ہے۔ اس لیے جب تک پولیس انتظامات نہ کر لے، وہ (مسیح موعود) وہاں نہیں جائے گا۔ مزید کہا کہ بحث مباحثہ کے متعلق اس سے پہلے مشورہ کیا جانا چاہیے تھا اور بحث مباحثہ کی شرائط پہلے طے ہونا فریقین کے مابین ضروری تھیں۔ مرزا غلام احمد کی جامع مسجد سے غیر حاضری کے باعث عوام کا جوش و خروش اور زیادہ ہو گیا۔ اس لیے مرزا غلام احمد نے اعلان کیا کہ اگر دہلی کے مولوی نذیر حسین جامع مسجد کے اندر قرآن پر حلف لے کر کہیں کہ قرآن مجید کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وفات نہیں ہوئی، اور ایسی قسم لینے کے ایک سال کے اندر اندر مولوی نذیر حسین پر عذاب الٰہی نازل نہ ہوا تب مرزا غلام احمد جھوٹا قرار پائے گا اور وہ اپنی تمام کتابیں جلا دے گا۔ اس نے حلف لینے کی تاریخ بھی مقرر کر دی۔ مولوی نذیر احمد کے حمایتی اس تجویز سے بہت پریشان ہو گئے اور راستے میں رکاوٹیں کھڑی .

صفحہ 291

کر دیں لیکن عوام بضد تھے۔ عوام کا کہنا تھا کہ مولوی نذیر حسین مرزا غلام احمد کی تجویز سن لیں اور قسم لے لیں کہ وہ جھوٹا ہے‘ جامع مسجد میں ایک جم غفیر جمع تھا۔ لوگوں نے مسیح موعود کو مشورہ دیا کہ وہ مسجد میں نہ جائیں کیونکہ شدید ہنگاموں کا خطرہ موجود تھا۔ تاہم وہ اپنے بارہ حواریوں کے ہمراہ وہاں گیا۔ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بھی بارہ حواری تھے۔ یہ بارہ کی تعداد بذات خود ایک اشارہ تھا۔ جناب والا اس کا نوٹس لیا جائے) جامع مسجد کی بہت بڑی عمارت اندر اور باہر سے آدمیوں سے بھری پڑی تھی‘ حتیٰ کہ سیڑھیوں پر بھی عوام کا ہجوم تھا۔ انسانوں کے اس سمندر سے جن کی آنکھوں میں غم وغصہ کے سبب خون اترا ہوا تھا۔ مسیح موعود اور اس کی مختصر سی جماعت گزر کر محراب تک پہنچے اور اپنی جگہ سنبھال لی۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور دیگر افسران بمعہ تقریباً ایک سو سپاہیوں کے امن قائم کرنے کی خاطر وہاں آئے ہوئے تھے۔ ہجوم کے اندر بہت سے لوگوں نے اپنی قمیصوں کے اندر پتھر چھپا رکھے تھے اور ذرا سے اشارہ پر یہ پتھر وہ احمد اور اس کے ساتھیوں کو مارنے کے لیے بالکل تیار بیٹھے تھے۔ اس طرح مسیحا ثانی کو مکاری سے شکار کرنا مقصود تھا۔ وہ مسیحا ثانی کو سولی پر لٹکانے کی بجائے سنگسار کرنا چاہتے تھے۔ زبانی بحث مباحثہ میں جو اس کے بعد ہوا‘ وہ ناکام رہے۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے مسئلے پر بحث کرنے پر رضامند نہ ہوئے۔ ان میں سے کوئی بھی مجوزہ حلف لینے کو تیار نہ تھا اور نہ ہی مولوی نذیر حسین کو حلف لینے کی اجازت دے رہے تھے۔ اس مرحلہ پر خواجہ محمد یوسف پلیڈر علی گڑھ نے مسیح موعود سے اس کے ایمانی عقائد کے بارے میں ایک تحریری بیان لیا اور (عوام کے سامنے) پڑھنے کے لیے تیار ہوا۔ لیکن چونکہ مولویوں نے عوام سے کہہ رکھا تھا کہ مسیح موعود نہ قرآن‘ نہ فرشتوں اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے‘ اس لیے ان کو خطرہ تھا کہ مذکورہ بالا تحریری بیان پڑھنے سے ان کا فریب ظاہر ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے عوام کو اکسایا۔ فوراً ہی ایک قطار بنا دی گئی اور اس طرح خواجہ یوسف کو بیان پڑھنے سے روک دیا گیا۔ افسران پولیس نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سپاہیوں کو ہجوم منتشر کرنے کا حکم دے دیا اور اعلان کر دیا کہ کوئی بحث مباحثہ نہیں ہوگا۔ اس پر ہجوم منتشر ہو گیا۔ پولیس نے مسیح موعود کے گرد گھیرا ڈال لیا اور (حفاظت میں) اسے مسجد سے باہر

صفحہ 292

نکالا۔“

جناب والا! یہ اقتباس تفصیل کے ساتھ پڑھنے کے میرے دو مقاصد ہیں۔ ابھی میں کچھ اور حوالہ جات پڑھوں گا۔ سب سے پہلے یہ کہ اس (مسیح موعود) نے کیا کہا اور کیا لکھ کر دیا۔ جب کہ اسے مخالف عوام کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ 23 اکتوبر 1891ء کا ذکر ہے۔ الفاظ یہ ہیں :

ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت و الجماعت کا ہے۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا جامع مسجد دہلی میں کرتا ہوں اور میں خاتم الانبیاء کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(”مجموعہ اشتہارات“ ص 255، ج 1)

جناب والا ! دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ (مرزا غلام احمد ) اپنی نبوت کا پرچار اور وضاحت پولیس کی بھاری جمعیت کے نیچے ہی کر سکتا تھا۔ جناب والا میں یہ سوالات پوچھتا رہا ہوں۔ ایک مرتبہ جب وہ عبد الحکیم کلانور والے کے ساتھ مناظرہ کر رہا تھا اور جب دیکھا کہ مسلمان اس کی نبوت کے دعویٰ کے خلاف سخت غصہ میں ہیں، تو اس (مرزا غلام احمد) نے اعلان کر دیا کہ اس نے ”سادگی“ میں اپنے بارے میں ”نبی“ کا لفظ لکھ دیا ہے۔ جب کہ اس کا مدعا ”محدث“ سے ہے۔ اس لیے اس کی تحریروں میں مسلمانوں کو جہاں جہاں ”نبی“ کا لفظ ملے، وہ اس کو ”محدث“ سے تبدیل کر لیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد بھی مرزا غلام احمد نے اپنے بارے میں نبی کا لفظ لکھنا شروع کر دیا اور اس کی کوئی معقول وضاحت بھی نہ کی۔ اس کے متعلق میں نے لاہوری گروپ والوں سے متعدد سوالات کیے کیونکہ اس نقطہ سے ان کا زیادہ تعلق تھا۔

اس ضمن میں سب سے پہلے یہ جواب دیا گیا کہ چونکہ عوام کو غلط فہمی ہو جاتی تھی، اس لیے وہ (مرزا غلام احمد ) نبی کہلوانا اس کا عندیہ نہیں تھا۔ وہ یہ نہیں کہتا تھا کہ حقیقی معنی میں وہ نبی ہے۔ وہ ایک محدث تھا، جیسا کہ لاہوری گروپ والے لکھتے ہیں۔ اس لیے مرزا غلام احمد نے حکم دیا کہ اس کے بارے میں ”نبی“ کا لفظ منسوخ تصور کیا جائے۔ جب میں نے سوال کیا کہ مرزا غلام احمد نے پھر نبی کا لفظ استعمال کرنا کیوں شروع کر دیا تو لاہوری گروپ نے جواب دیا کہ کچھ لوگوں کو غلط فہمی تھی۔ اس لیے ان کے لیے اس نے ترمیم کر دی۔ اوروں کو کوئی شک وشبہ نہیں تھا۔ اس لیے اس نے (نبی) کے لفظ کا استعمال جاری رکھا۔ پھر میں نے اس (لاہوری گروپ) سے پوچھا کہ جب مرزا غلام احمد خود اپنے کو نبی کہتا تھا خواہ کسی معنی میں سہی تو آپ اسے اسی مخصوص معنی میں نبی کیوں نہیں مانتے۔ جس کے تحت آپ کہتے ہیں کہ نبی کا مطلب ”غیر نبی“ ہوتا ہے۔ کیونکہ ربوہ والے مرزا غلام احمد کو کسی نہ کسی معنی میں نبی کہتے ہیں۔ مجھے یہ سن

صفحہ 293

کر افسوس ہوا کہ لاہوری گروپ والے مرزا غلام احمد کو نبی محض اس وجہ سے نہیں کہتے کہ یہ کہنے سے لوگ طیش میں آ جاتے ہیں۔ تو یہ کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ مصلحت کے تحت تھا۔ لاہوری گروپ والے نبی کا لفظ کیوں استعمال نہیں کرتے؟ وجہ ظاہر ہے جناب والا! ان تین ادوار میں مرزا غلام احمد حالات کے تحت بیان تبدیل کر دیا کرتا تھا۔ اب میں ایک یا دو دیگر جلسوں کا ذکر کروں گا جن کو مرزا غلام احمد نے خطاب کیا۔ ان میں سے ایک جلسہ لاہور میں ہوا۔ ایک مرتبہ پھر میں اس کے بیٹے کی کتاب کا حوالہ دوں گا۔ وہ کہتا ہے:

”اس کے قیام کے دوران سارے شہر میں شور و غوغا تھا۔ صبح سے شام تک لوگوں کا ہجوم اس مکان کے باہر جس میں مسیح موعود قیام پذیر تھا، منتظر رہتا تھا۔ وقفہ وقفہ سے مخالفین آتے اور اسے گالیاں دیتے۔ ان میں جو زیادہ سرکش ہوتے، وہ مرزا غلام احمد کے ذاتی کمرے کی طرف زبردستی جانے کی کوشش کرتے، جنہیں طاقت کے استعمال سے باہر نکالنا پڑتا۔ دوستوں کے مشورہ پر لاہور میں ایک عوامی لیکچر کا انتظام کیا گیا۔ یہ ایک لکھی ہوئی تقریر تھی جسے ایک بڑے ہال میں مولوی عبدالکریم نے پڑھا۔ مسیح موعود اس وقت پاس ہی موجود تھا۔ کوئی نو دس ہزار کے قریب سامعین تھے۔ جب یہ پڑھی جا چکی تو سامعین نے درخواست کی کہ اب مسیح موعود خود الفاظ زبانی بھی کہے۔ اس پر وہ ایک دم کھڑا ہو گیا اور تقریباً آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ چونکہ یہ بات تجربہ میں آچکی تھی کہ مسیح موعود جہاں بھی جاتا تھا، تمام مذاہب اور فرقوں کے لوگ اس کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے تھے، خاص طور پر نام نہاد مسلمان۔ اس لیے پولیس نے مسیح موعود کی حفاظت کے لیے بہت عمدہ انتظامات کر رکھے تھے۔ ہندوستانی پولیس کے علاوہ یورپین سپاہی بھی تلواریں لیے موجود تھے جو تھوڑے ہی فاصلے پر تھے۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ جاہل لوگ لیکچر ہال کے باہر گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے مسیح موعود کی لیکچر ہال سے واپسی کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہوئے تھے۔ سب سے آگے گھڑ سوار پولیس کا دستہ تھا۔ اس کے پیچھے مسیح موعود کی بگھی تھی۔ بگھی کے پیچھے بہت سے پیادہ پولیس والے تھے۔ ان کے پیچھے پھر گھڑ سوار پولیس کا دستہ تھا اور اس کے پیچھے پیادہ پولیس والوں کا ایک اور دستہ تھا۔ اس طرح مسیح موعود کو پوری حفاظت کے ساتھ گھر واپس پہنچایا گیا اور شرپسندوں کے عزائم خاک میں ملا دیے گئے۔ لاہور سے مسیح موعود قادیاں

صفحہ 294

واپس چلا گیا۔‘‘ اسی کتاب کے صفحہ 70-71 کے حوالہ سے امرتسر کے جلسے کا حال اس طرح لکھا ہے : ’’لیکن جب ایک دفعہ عوام کو اکسا دیا گیا تو پھر ان کو روکا نہیں جاسکتا تھا۔ ہیجان بڑھتا ہی چلا گیا اور پولیس کی کوشش کے باوجود اسے دبایا نہ جاسکا۔ آخر کار یہی مناسب سمجھا گیا کہ مسیح موعود اپنی جگہ پر بیٹھ جائے۔ ایک دوسرے شخص کو نظم پڑھنے کے لیے بلایا گیا۔ اس پر سامعین خاموش ہوگئے۔ پھر مسیح موعود اپنی تقریر جاری رکھنے کے لیے دوبارہ کھڑا ہوا لیکن مولویوں نے شور مچانا شروع کردیا۔

جب مسیح موعود نے تقریر شروع کرنے کی کوشش کی تو مولویوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا اور ڈائس کی جانب حملہ آور ہوئے۔ پولیس نے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی مگر ہزاروں کو روکنا چند پولیس والوں کے بس کی بات نہ تھی۔ عوام کے ہجوم نے جلسہ گاہ پر قبضہ کرلیا۔ جب پولیس کو اپنی بے بسی کا اندازہ ہوگیا تو انہوں نے مسیح موعود کو مطلع کر دیا کہ وہ اب اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتی۔ یہ میری رائے ہے کہ پولیس والے اپنا فرض منصبی ادا کرنے سے قاصر رہے۔ ان میں کوئی یورپین پولیس والا نہیں تھا۔ تمام پولیس والے انڈین (ہندوستانی) تھے۔ یہ سب کے سب بلوائیوں کے ساتھی تھے۔ مسیح موعود کے خلاف مذہبی نفرت رکھتے تھے اور اس کی تقریر کے خاتمہ کے خواہشمند تھے۔ اس پر مسیح موعود نے تقریر کو ادھورا چھوڑ دیا۔ لیکن اس سے بھی لوگوں کا شور وغوغا کم نہ ہوا۔ لوگ بدستور جلسہ گاہ کے ڈائس کی طرف مسلسل بڑھتے رہے اور نقصان پہنچانے کی کوشش میں تھے۔ اس پر انسپکٹر پولیس نے مسیح موعود سے درخواست کی کہ وہ پچھلے کمرے میں چلا جائے اور ایک سپاہی کو بگھی لانے کے لیے بھیجا۔ اس دوران پولیس والے لوگوں کو ان کمروں کی طرف جانے سے روکتے رہے۔ بگھی کو کمرہ کے دروازے کے قریب لایا گیا اور مسیح موعود اس میں بیٹھا۔ خدا کی مہربانی سے ہم میں سے کوئی بھی زخمی نہ ہوا۔ صرف ایک پتھر کھڑکی سے ہوتا ہوا میرے چھوٹے بھائی مرزا بشیر احمد کے ہاتھ پر لگا۔ بہت سے پتھر ان پولیس والوں کو لگے جو بگھی کے گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے۔ پھر پولیس والوں نے ہجوم کی پٹائی کی اور انہیں منتشر کردیا۔ پولیس والے بگھی کے آگے اور پیچھے ہوگئے۔

صفحہ 295

کچھ چھت پر چڑھ گئے اور اس طرح تیزی میں بگھی کو مسیح موعود کی قیام گاہ تک پہنچایا۔ لوگ اس قدر بپھرے ہوئے تھے کہ پولیس کی مارکٹائی کے باوجود وہ کافی دور تک بگھی کے تعاقب میں گئے۔ دوسرے روز مسیح موعود قادیان روانہ ہو گیا۔"

اب جناب والا! آخر میں‘ میں اسی کتاب کے صفحہ 61 سے ایک پیراگراف پڑھوں گا کہ مرزا غلام احمد کی موت کے دن کیا واقعہ پیش آیا :

"انتقال کے نصف گھنٹہ کے اندر لاہوری عوام کا ہجوم اس مکان کے سامنے جمع ہو گیا جس میں اس کی میت رکھی ہوئی تھی اور خوشی کے ترانے گانے شروع کر دیے۔ اس طرح اپنے دلوں کی تاریکی کا مظاہرہ کیا۔ کچھ لوگوں نے بھونڈے طور پر ناچنا شروع کر دیا جس سے ان کی فطری کمینگی ظاہر ہوتی ہے۔"

جناب والا ! مجھے افسوس ہے کہ میں نے ان جلسوں کا‘ جسے مرزا غلام احمد نے خطاب کیا‘ ذکر کرنے میں کافی وقت لیا ہے۔ سوائے ایک جلسہ کے‘ جس میں اس نے اسلام کے تحفظ کے لیے عیسائیوں سے مناظرہ کیا‘ مرزا غلام احمد نے جب کبھی بھی اپنے دعویٰ نبوت کا پرچار کرنا چاہا یا کوشش کی تو اسے شدید مخالف قسم کے عوام کا سامنا کرنا پڑا اور وہ پولیس حفاظت کے بغیر ایک جلسہ کو بھی خطاب نہ کر سکا اور پولیس بھی وہ جو کہ یورپین افسروں اور جوانوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ جب میں نے مرزا غلام احمد کی موت کے موقع پر خوشی کے ترانوں کا ذکر کیا تو میرا مقصد معزز اراکین کی توجہ اس پیشین گوئی کی طرف دلانا تھا جو مرزا غلام احمد نے مولوی ثناء اللہ کے متعلق کی تھی۔ لوگوں نے جان لیا کہ مرزا غلام کی بددعا کا اثر اس کی اپنی ذات پر ہی ہوا۔

جناب والا ! ردّعمل کیا ہوا؟ یہ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں۔ ایسا کیوں ہوتا تھا کہ جہاں کہیں بھی وہ ( مرزا غلام احمد ) جاتا تھا مخالف لوگوں کا ہجوم اس کا تعاقب کرتا تھا۔ وجوہات بالکل عیاں ہیں۔ اس شخص نے مسلمانوں کے بنیادی عقیدے کے خلاف بغاوت کی تھی۔ پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد مرزا غلام احمد خود بھی فسادی بن گیا۔ وہ گالی گلوچ اور لعن طعن سے بھر پور زبان استعمال کرتا رہا لیکن میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ جب اس نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو قدرتی طور پر اعتقاد اور ایمان کا سوال پیدا ہوا۔ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق اگر کوئی شخص خدا کے سچے نبی کو نہ مانے تو وہ کافر قرار پاتا ہے۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ان تمام نبیوں پر ایمان لائے جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ مرزا غلام کا دعویٰ ہے کہ چونکہ اس کا ذکر بھی قرآن میں موجود ہے کہ وہ نبی ہے اس لیے اس کا کہنا تھا کہ جو اس کو نبی نہیں مانتے‘ وہ کافر ہیں۔ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ چونکہ مرزا غلام احمد خود ساختہ جھوٹا نبی ہے‘ اس نے جھوٹا دعویٰ کیا ہے‘ وہ کذاب اور دجال ہے‘ یہ ہے وہ بات جس سے شدید

صفحہ 296

قسم کی تکرار‘ حملے اور عیسائیوں کے جوابی حملے شروع ہوئے۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسیح موعود کہتا تھا اور مسلمانوں کی طرف سے اس لیے کہ وہ نبی ہونے اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ تو جناب والا اس نے کہنا شروع کردیا:

”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا وہ تمہارا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی مخالفت کرنے والا جہنمی ہے۔“

(”مجموعہ اشتہارات“ ص 275‘ ج 3)

اور مزید کہا :

”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کرلی مگر کنجریوں اور بدکار لوگوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“

یہ اقتباس ”روحانی خزائن“ جلد 5‘ صفحہ 547-548 سے ہے۔ یہاں پر میں مرزا ناصر احمد کے ساتھ پورا پورا انصاف کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے لفظ بغیہ کی وضاحت کرتے ہوئے بتلایا کہ اس کا مطلب باغی ہے نہ کہ بدکار عورت۔ اس طرح اس کا ترجمہ باغی کی اولاد ہوگا نہ کہ بدکارہ کی اولاد اور مرزا ناصر احمد کے مطابق مرزا غلام احمد کا یہی مدعا تھا۔

لیکن ہمارے علماء اس وضاحت کو نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس لفظ کو مرزا غلام احمد نے فاحشہ اور بدکار عورتوں کے حوالے سے بار بار خود استعمال کیا ہے۔ میں اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہوں گا۔

دوسری بات جس سے اس نے انکار نہیں کیا‘ وہ یہ ہے جب اس نے کہا :

جو شخص میرا مخالف ہے......

جناب والا! اب میں ”روحانی خزائن“ صفحہ 53‘ جلد 14 سے ایک اور حوالہ پڑھ رہا ہوں:

”بلا شبہ تمہارے دشمن بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بھی بڑھ گئی ہیں۔“

یہاں اس (مرزا ناصر احمد) نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ یہ مسلمانوں کے بارے میں نہیں کہا گیا بلکہ عیسائیوں کے متعلق ہے۔ میں پورے احترام کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ ایک نبی کی زبان ہوسکتی ہے؟ خواہ وہ عیسائیوں یا ہندوؤں یا کسی اور کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ میں مزید کچھ اور عرض نہیں کرنا چاہتا۔ ایسی زبان استعمال کرنے کا کوئی جواز نہیں‘ بالکل نہیں۔

اسی طرح وہ (مرزا غلام احمد) کہتا ہے :

”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔“

صفحہ 297

یہ حوالہ بھی ’روحانی خزائن‘ جلد نمبر 9‘ صفحہ 31 سے ہے۔ درحقیقت یہ ہی زیادہ نازیبا‘ اشتعال انگیز اور فتنہ اٹھانے والی بات تھی کہ ایک ایسا شخص جو اپنے آپ کو ”عین محمد“ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ”بہتر“ ہونے کا دعویدار ہو‘ وہ اپنے مخالفین کو خواہ وہ مسلمان ہوں یا عیسائی کے لیے ایسی زبان استعمال کرے (مرزا غلام احمد کے دعوے کے مطابق) اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے تمام کمالات کا مظہر اس کی ذات کو بنایا تھا اور یہ ہیں وہ ”کمالات“ جن کا مظاہرہ مرزا غلام احمد نے کیا۔ مجھے اس موضوع پر مزید کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں۔

جناب والا ! یہی دور تھا کہ مرزا غلام احمد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کھلم کھلا توہین شروع کر دی۔ پہلے اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(”روحانی خزائن“ ج18‘ ص240)

مرزا ناصر احمد نے اس کے جواز میں یہ وضاحت کی کہ یہ بات مرزا غلام احمد نے اپنے بارے میں نہیں کی بلکہ غلام احمد (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام) کے بارے میں کی تھی۔ ہمیں تو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تمام انبیاء واجب الاحترام ہیں۔ اسی ضمن میں تمام انبیاء برابر ہیں۔ کیونکہ وہ سب ہی اللہ کے رسول ہیں لیکن ایک یہ شخص مرزا غلام احمد ہے جو کہتا ہے کہ وہ (نعوذ باللہ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہتر ہے اور جواز یہ دیتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر غلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہتر ہے۔ یہ مسلمانوں کا عقیدہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسے عقیدے کا کوئی جواز ہو سکتا ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے:

”خدا نے اس امت میں مسیح بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“

یہ حوالہ ”ریلیجس ریویو“ (Religious Review) صفحہ 478 نیز ”حقیقت الوحی“ صفحہ 152 اور اب ”روحانی خزائن“ جلد 22‘ صفحہ 152 سے ہے۔ جہاں پر اور کہتا ہے :

”مجھے قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں‘ وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ میں ظاہر ہو رہے ہیں‘ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“

چلئے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر برتری کا دعویدار ہے۔ یہ بھی بہت بری بات ہے لیکن اس نے (ادبی لحاظ سے) ایک عمدہ شعر بھی کہا ہے۔ مجھے امید ہے میں غلط نہیں کہہ رہا۔

صفحہ 298
اینک منم کہ حسب بشارت آمدم
عیسیٰ کجا است پایہ بنہ بمنبرم

(”ازالۃ اوہام“ صفحہ 158‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ صفحہ 180‘ ج 3)

اب یہ شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر برتری کی ان بلندیوں کو پہنچتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ) اس کے منبر کے پائے تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔ حالت یہ ہے کہ اس کے بعد وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دادیوں پر تنقید کرتا ہے۔ مجھے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی۔ اس کا جواز یہ دیا گیا کہ اس زمانے میں چونکہ عیسائی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کرتے تھے تو اس کے مقابلے یہ جواب مرزا غلام احمد اور اس وقت کے دیگر مسلم علماء نے دیا لیکن یہ کوئی جواز نہیں ہے۔ اس زمانے میں بھی ایسی باتیں کرنے پر مرزا غلام احمد پر تنقید کی گئی تھی۔ مرزا غلام احمد کہتا ہے:

”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں‘ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ ”انجام آتھم“ حاشیہ ص 4 مندرجہ ”روحانی خزائن“ حاشیہ ص 291‘ ج 11)

وہ مزید کہتا ہے کہ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نانیاں اور دادیاں کنجریاں تھیں‘ اس لیے جدی مناسبت ہے۔ وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) فاحشہ عورتوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے تھے۔ (نعوذ باللہ من ذالک) جناب والا! یہ ہے وہ کچھ جو کہ مرزا غلام احمد کہتا ہے۔ جب میں نے مرزا ناصر احمد سے سوال کیا کہ وہ اس تحریر کو کس طرح درگزر کر سکتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تحریر اس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نہیں‘ جس کا قرآن میں ذکر ہے بلکہ یہ تحریر اس یسوع مسیح کے بارے میں ہے جو اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہتا ہے۔ جب سب نے مرزا ناصر احمد سے کہا کہ یہ دو الگ الگ ہستیاں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی ہستی ہے جو نبی ہے اور اس سے پوچھا کہ کیا یسوع مسیح کی دادیاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دادیوں سے مختلف تھیں تو اس نے جواب دیا کہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دادیوں‘ نانیوں کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مرزا ناصر احمد نے اس سوال کا کوئی اور جواب نہیں دیا۔ پھر مرزا غلام احمد کہتا ہے:

”آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے کچھ نہیں تھا۔“

(ضمیمہ ”انجام آتھم“ حاشیہ 7‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 291‘ ج 11)

” ہاں گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی ...... اور یہ بھی یاد رہے کہ کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

صفحہ 299

(ضمیمہ ”انجام آتھم“ حاشیہ 5‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ج11‘ ص284)

قدرتی طور پر یہ بیانات نہ صرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں کے لیے بھی تکلیف کا باعث تھے۔ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے سچے پیغمبر تھے۔ انہیں مرزا غلام احمد کی تنقید بالکل ناپسند تھی۔ میں نے مرزا ناصر احمد سے سوال کیا کہ یہ کہنا شاید آسان ہے کہ یسوع مسیح اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو مختلف ہستیاں تھیں۔ ایک کا ذکر بائبل میں ہے اور دوسری کا قرآن میں لیکن آپ کے پاس شیعوں پر تنقید کا کیا جواز ہے؟ مرزا غلام احمد کہتا ہے:

”مردہ حضرت علی کو بھول جاؤ۔ یہاں تمہارے درمیان زندہ علی موجود ہے۔“

(”ملفوظات“ ج2‘ ص142)

پھر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق وہ (مرزا غلام احمد) کیا کہتا ہے۔ مرزا غلام احمد کے پاس یہ کہنے کا کیا جواز تھا کہ توحید معطر ہے اور (نعوذ باللہ) ذکر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ گندگی کا ڈھیر (”اعجاز احمدی“ ص82‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص194‘ ج19) اس مرزا ناصر احمد نے جوابا کہا کہ مرزا غلام احمد کا مطلب شیعہ تصور کے علی اور شیعہ تصور کے حسین سے تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ مسلمانوں میں حضرت علیؓ اور امام حسینؓ کے تصور کے متعلق کوئی اختلاف ہے۔ سب مسلمان ان کے لیے محبت اور احترام کے جذبات رکھتے ہیں۔ مرزا غلام احمد کے یہی خیالات تھے جن کی وجہ سے تمام مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو چکا تھا۔ یہی جذبات تھے جن کے باعث مرزا غلام احمد پولیس حفاظت کے بغیر کسی جلسہ کو بھی خطاب نہیں کر سکتا تھا۔

کسی دوسری بات کا ذکر کرنے سے پیشتر مجھے ایک اور پہلو کو اجاگر کرنا ہے۔ ایوان کے سامنے میری معروضات سے یہ بتانا مقصود تھا کہ اپنے عقائد کا پرچار کرنے کے لیے مرزا غلام احمد کو انگریزوں کی امداد کی ضرورت تھی اور یہ امداد انگریزوں نے بھرپور طریقہ سے مہیا کی۔ یہ تھے وہ حالات جن کے تحت بقول مرزا غلام احمد ”ملاؤں“ نے اور ہمارے (مسلمانوں) کے مطابق علماء حق نے اس کی زندگی حرام کر دی تھی۔ چنانچہ مرزا غلام احمد لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو لکھتا ہے (میں اس کے خط سے مختصر طور پر پڑھتا ہوں ) وہ (مرزا غلام احمد) لکھتا ہے:

”میں اس بات کا اقراری ہوں کہ جب بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریریں نہایت سخت ہو گئیں اور حد اعتدال سے بڑھ گئیں اور بالخصوص پرچہ ”نور افشاں“ میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے‘ نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں...... تو مجھے ایسی اخباروں اور کتابوں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں پر جو کہ جوش رکھنے والی

صفحہ 300

قوم ہے‘ ان کلمات سے کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے یہی مناسب سمجھا کہ عام جوش کو دبانے کے لیے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریروں کا اپنی صحیح اور نیک نیتی سے کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے‘ تا کہ سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بالمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی‘ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی کیونکہ میرے Conscience نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں‘ ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لیے یہ طریق کافی ہوگا...... سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا‘ یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اول درجے کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔“

(”انجام آتھم“ ص 362-363 ’ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ج 15 ’ ص 491-490)

میں نے مرزا ناصر احمد سے سوال کیا کہ وہ (مرزا غلام احمد) عیسائیوں پر کیوں حملے کرتا تھا اور کیوں اسلام کے خلاف ان کے حملوں کا جواب دیا کرتا تھا؟ کیا اسلام سے محبت اور اسلام کے لیے جوش و خروش کی وجہ سے تھا یا اس کی کوئی وجوہات تھیں؟ میرا یہ سوال مرزا ناصر احمد کو ناگوار گزرا اور جواب دیا کہ نہیں۔ یہ (مرزا غلام احمد) کا جہاد تھا۔ یہ اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے باعث تھا کہ مرزا غلام احمد نے عیسائیوں پر حملے کیے لیکن مرزا غلام احمد خود اپنا مافی الضمیر بیان کرتا ہے کہ وہ ایسا اسلام کے لیے نہیں بلکہ انگریزوں کے مفاد میں کر رہا تھا اور اسی مقصد کے تحت عیسائی پادریوں پر تنقید کر رہا تھا۔ اب ہم مرزا غلام احمد کے خط کے ایک دوسرے حصہ کو لیتے ہیں۔ وہ لکھتا ہے:

”ان تمام تحریروں سے جن کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تحریروں سے ثبوت پیش کیے ہیں‘ صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل و جان خیر خواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ کی اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہی وہ اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرف بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ شرائط بیعت میں ہمیشہ تعلیم کیا جاتا ہے۔ دفعہ چہارم میں ان باتوں کی تشریح ہے۔“

(”مجموعہ اشتہارات“ ج 2 ’ ص 465)

صفحہ 301

جب کہ میں اس کا مطلب سمجھتا ہوں۔ وہ (مرزا غلام احمد) کہتا ہے کہ میری یہ تقریر پچھلے سترہ سالوں کی تقریروں کی تائید کرتی ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں دل و جان سے برٹش گورنمنٹ کا وفادار ہوں۔ گورنمنٹ سے وفاداری اور لوگوں سے ہمدردی میری زندگی کا اصول ہے اور یہی اصول میرے مذہب کے مجوزہ فارم (بیعت نامہ) سے بھی پوری طرح مترشح ہوتا ہے۔

پھر جناب والا ! ایک دوسری جگہ وہ (مرزا غلام احمد) کہتا ہے:

”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے‘ ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح موعود مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(اشتہار ملحقہ ”کتاب البریہ“ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ج 13‘ ص 347)

میں سمجھتا ہوں‘ اس نے یہ کہا ہے کہ میرے پیروکاروں کی تعداد کے بڑھنے سے جہاد پر ایمان رکھنے والوں کی تعداد کم ہوتی چلی جائے گی اور مجھ پر ایمان لانا گویا جہاد سے انکار کرنا ہے۔ جناب والا ! وہ مزید کہتا ہے:

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں‘ اشتہارات شائع کیے ہیں اور اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام عرب ممالک‘ مصر و شام‘ کابل اور روم تک پہنچایا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں میں سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں۔ مہدی خونی‘ مسیح خونی کی بھی اصل روایتیں اور جوش دلانے والے مسائل احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(”تریاق القلوب“ ص 15‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ج 15‘ ص 155-156)

(اس مرحلہ پر چیئرمین نے کرسی صدارت سنبھالی)

انگریزی میں ترجمہ کیا جائے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ میری زندگی کا اکثر و بیشتر حصہ برٹش گورنمنٹ کی وفاداری کا پرچار کرتے ہوئے گزرا ہے۔ جہاد کی مذمت میں اور گورنمنٹ کی وفاداری کے لیے میں نے اتنی کتابیں لکھی ہیں اور اس قدر اشتہارات چھپوائے ہیں کہ اگر ان سب کو یکجا کیا جائے تو ان سے پچاس الماریاں بھر جائیں گی۔

جناب والا ! پیشتر ازیں کہ میں دوسرا پیراگراف پڑھوں آپ اس شخص کو ذہن میں رکھیں جس

صفحہ 302

نے یہ خوبصورت شعر کہا ہے

”ایک منم کہ حسب بشارت آمدم
عیسیٰ کجا ہست پابہ نہد بمنبرم“

(”ازالہ اوہام“ ص 158، مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 180، ج 3)

اتنی بلندی سے وہ (مرزا غلام احمد ) اس قدر ذلت کی گہرائی میں چلا جاتا ہے۔ کیا آپ کو کہیں بھی اس قسم کی (گھٹیا) خوشامد مل سکتی ہے؟ ایک نام نہاد نبی کا یہ کمینہ پن! کیا کوئی نبی ایسی فطرت کا مالک ہو سکتا ہے؟ میں کہوں گا کہ اس قسم کے خط لکھنے والے نبی کی نبوت کا انکار اگر کفر ہے تو پھر میں خود سب سے بڑا کافر ہوں۔

گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

اب اس خط کو دیکھیں اور اس خط کے لکھنے والے کو دیکھیں۔ کوئی انسان، ایک عام آدمی جسے اپنی عزت نفس کا ذرہ بھر بھی احساس ہے، جس کا اللہ پر تھوڑا سا بھی یقین ہے، جس کو اپنے آپ پر تھوڑا سا بھی اعتماد ہے، کبھی اس قسم کی بات نہیں کرے گا۔ وہ نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یہاں قائد اعظم کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ (اسمبلی ہال کے اندر لگی ہوئی قائد اعظم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) دو جون 1947ء کو کیا ہوا؟ آپ سب کو معلوم ہے، اس کا ذکر کیمبل جانسن (Campbell Johnson) کی کتاب میں موجود ہے۔ مسلم لیگ کی طرف سے قائد اعظم نے اس بات کی رپورٹ کرنا تھی کہ انہیں 3 جون والا پلان قابل قبول ہے یا نہیں۔ کیا مسلم لیگ کو وہ پاکستان منظور تھا جسے وہ (برٹش گورنمنٹ) مسلمانوں کو دے رہے تھے۔ کیمبل جانسن لکھتا ہے کہ وائسرائے مسٹر جناح کے لیے سارا دن انتظار کرتا رہا۔ مسٹر جناح آدھی رات سے صرف ایک منٹ پہلے وہاں پہنچے۔ وائسرائے نے پوچھا ”مسٹر جناح آپ کا کیا جواب ہے؟ مسٹر جناح کا جواب تھا ”میں اس کو مانتا تو نہیں مگر قبول کرتا ہوں۔“ (ان دونوں میں) فرق کیا ہے؟“ وائسرائے نے کہا۔ مسٹر جناح کا جواب بالکل سیدھا سادہ تھا۔ ”میں اس پلان کو پسند نہیں کرتا اس لیے میں اس کو نہیں مانتا مگر اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ آپ نے میرا پنجاب تقسیم کر دیا ہے، آپ نے میرا بنگال تقسیم کر دیا ہے، تو پھر میں خوش کیسے ہو سکتا ہوں؟ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ میں اسے قبول کر رہا ہوں۔ میں پارٹی کا صرف سربراہ ہوں، اس بات کا فیصلہ مسلم لیگ کونسل نے کرنا ہے، جس میں دو ہفتے لگیں گے۔ اس لیے میں مسلم لیگ کونسل کی طرف سے کوئی ضمانت نہیں دے سکتا۔ معلوم نہیں کونسل منظور کرے گی یا نہیں، تاہم میں انہیں منظور کرنے کا مشورہ دوں گا کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں۔“ لارڈ ماؤنٹ بیٹن بڑے غصہ میں تھا۔ اس نے کہا ”میں یہ بات نہیں مان سکتا، کل اس کا اعلان ہونا ہے، کانگریس اپنی

صفحہ 303

کونسل یا کمیٹی کی طرف سے پلان منظور کر چکی ہے تو پھر آپ کیسے منظور نہیں کر سکتے؟“ مسٹر جناح نے جواب دیا ”میری جماعت ایک سیاسی جماعت ہے جس کی بنیاد سیاسی اصولوں پر قائم ہے۔ اپنے عوام کی منظوری حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس جانا ہوگا۔“ اس پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا ”تو پھر مسٹر جناح اگر آپ مسلم لیگ کی طرف سے مجھے یقین دہانی نہیں کراسکتے تو آپ کو پاکستان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھونا ہوں گے۔“

مسٹر جناح کا کیا جواب تھا؟ یہ ستر سال کی عمر کا وہ بوڑھا شخص تھا جس نے اپنی زندگی دشت سیاست میں گزاری تھی۔ وہ مجوزہ ملک (پاکستان) کا سر براہ بننے والا تھا۔ وہ اس ملک کا مالک یا حاکم بننے والا تھا۔ اس کا اللہ پر بھروسہ اور ایمان تھا۔ اس نے کوئی کمزوری نہ دکھائی اور (باوقار طریقہ سے) جواباً کہا ”جو ہو سو ہو کچھ بھی ہو“ اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ یہ ایک ایسے شخص کا جواب تھا جس میں ایمان موجود تھا جو اللہ پر یقین رکھتا تھا۔ وائسرائے کو اس کے پیچھے بھاگنا پڑا تا کہ اس سے واپس آ جانے کی درخواست کرے۔ وائسرائے نے کہا ”مسٹر جناح، مسلم لیگ کی طرف سے میں کل صبح یقین دہانی کرادوں گا کہ وہ (پلان) کو منظور کر لے گی۔ میں جانتا ہوں کہ وہ آپ کا مشورہ ضرور مان لے گی۔ آپ صرف اتنا کہہ دیں کہ آپ نے اس کو منظور کر لیا ہے۔“ مسٹر جناح نے کہا ”ہاں ٹھیک ہے میں یہ کہہ دوں گا۔“ اور اس طرح پاکستان معرض وجود میں آیا۔ قائد اعظم پاکستان گنوا سکتے تھے انہیں یہ سوچ آسکتی تھی کہ ملک جا رہا ہے۔ میں قوم کی طرف سے منظوری کا اظہار کروں لیکن ایسا نہیں تھا۔ وہ شخص یقین کامل کا مالک تھا۔ ہمیں اس شخص (قائد اعظم) کا موازنہ اس شخص (مرزا غلام احمد) سے نہیں کرنا چاہیے جو نبی ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر اس قسم کے خط لکھ کر دنیاوی قوت کے آگے گھٹنے بھی ٹیک دیتا ہے۔ مرزا غلام احمد کے رویہ کی وجہ سے مجھے مایوسی ہوئی۔ مجھے جذبات کی رو میں نہیں بہہ جانا چاہیے تھا۔ علامہ اقبال نے کہا ہے۔

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے ناامیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟

اس کا بالکل یہی مطلب ہے۔

جناب والا! اب میں دوسرے پیراگراف کی طرف آتا ہوں۔ وہ (مرزا غلام احمد) کہتا ہے: ”سرکار دولت مدار کو ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے وفادار اور جاں نثار ثابت کر چکی ہے....... اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت افسران کو ارشاد فرمائیں کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور خدمت

صفحہ 304

کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“

(درخواست بحضور برٹش گورنمنٹ ملحقہ ”کتاب البریہ“ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 350‘ ج 13)

وہ (مرزا غلام احمد) بڑے ادب کے ساتھ لیفٹیننٹ گورنر بہادر کو التجا کرتا ہے کہ اس کا خاندان پچاس سالوں سے آزمایا جاتا رہا ہے اور بلاکم وکاست گورنمنٹ کا پورا پورا وفادار ثابت ہو چکا ہے۔ اس لیے گورنمنٹ اپنے ہاتھ سے لگائے ہوئے پودے کی آبیاری کرے۔ لیفٹیننٹ گورنر بہادر اس پر اور اس کے پیروکاروں (جماعت) پر مزید کرم نوازی کرے‘ انہیں پورا تحفظ دے اور اس کے خاندان کی وفاداری کے پیش نظر جو کہ گورنمنٹ کے مفاد کی خاطر کی جاتی رہی ہے‘ اس کے ساتھ اور اس کی جماعت کے ساتھ ترجیحانہ سلوک کرے۔

جناب والا! میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا‘ صرف یہ عرض کروں گا کہ یہ ایک نبی کی درخواست ہے‘ لیفٹیننٹ گورنر بہادر کے نام۔ نبی کیا درخواست کرتا ہے؟ حضور والا! اپنے ماتحت افسروں کو میرے ساتھ ترجیحانہ سلوک کرنے کا حکم دیں۔ یہ نبی تو لیفٹیننٹ گورنر کی سطح کے برابر بھی نہیں‘ جو اس کی منتیں سماجتیں کر رہا ہے کہ وہ اپنے ماتحت افسروں کو ایسا ایسا سلوک کرنے کی ہدایات دے۔ شاید مجھے کہنا نہیں چاہیئے‘ یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ وہ تمام نبیوں سے (نعوذ باللہ) بہتر ہے۔

آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام

(”نزول المسیح“ ص 99‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ج 18‘ ص 477)

عیسیٰ کجا است پا بہ بنہ بمنبرم

(”ازالہ اوہام“ ص 158‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ ص 180‘ ج 3)

ایسے شعروں کو تخلیق کرنے والا لیفٹیننٹ گورنر سے التجائیں کر رہا ہے ”وہ مجھ سے اچھا برتاؤ کریں۔ اس خودکاشتہ پودے کی حفاظت کے لیے اپنے ماتحت افسران کو ہدایات دیں۔“

یہ کہا تھا؟ آپ کا خودکاشتہ پودا۔

اس کی وضاحت کے لیے میں نے مرزا ناصر احمد سے بہت سوالات کیے۔ میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ مرزا ناصر احمد نے جواب دیا ”اس سے صرف مرزا غلام احمد کا خاندان مقصود تھا۔“ ملاحظہ فرمائیں‘ ایک نبی گورنمنٹ سے اپنے خاندان کے لیے منتیں کر رہا ہے‘ جبکہ ایک عام انسان زمین و آسمان ہلا کر رکھ سکتا ہے اور یہ ایک نبی ہے کہ اپنے تحفظ اور امداد کے لیے دنیاوی قوت کے آگے گھٹنے ٹیک رہا ہے‘ منتیں کر رہا ہے۔ ”میرے خاندان کو تحفظ دیں‘ میری جماعت کو تحفظ دیں۔“ دوسری طرف ہمیں

صفحہ 305

کہا جاتا ہے ”اگر آپ اس (مرزا غلام احمد ) کی نبوت پر ایمان نہیں لاتے تو آپ کافر ہیں‘ پکے کافر۔“ اگر مسلمانوں نے اس کے اس دعوے کے خلاف بغاوت کی تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں اور کوئی وجہ نہ بھی ہو تو صرف یہی ایک بات کہ وہ (مرزا غلام احمد ) خود کو (نعوذ باللہ) ”عین محمد“ کہنے کا مدعی تھا‘ ہر ذی وقار آدمی کے لیے اس کے خلاف بغاوت کے لیے کافی تھی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے کیا فضیلت رکھتے ہیں۔ وہ انسان کامل‘ رحیم و کریم‘ معظم ومکرم‘ جو کہ ہر لحاظ سے اعلیٰ ترین ہستی ہیں کہ جس نے اس دنیا فانی پر کبھی بھی قدم رکھا۔ آپ ان کی مبارک زندگی پر ایک نظر ڈالیں۔ جب وہ (صلی اللہ علیہ وسلم) فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوتے ہیں‘ تو سراپا رحیم ہیں‘ اپنے بدترین دشمنوں پر بھی حد درجہ مہربان ہیں اور بڑے سے بڑے ظالم کے سامنے لا الہ الا اللہ کہنے سے نہیں رکتے۔ انہوں نے کبھی یہ درخواست نہیں دی کہ ”آئندہ میں کبھی وحی کا اظہار نہیں کروں گا ۔“ مجھے افسوس ہے‘ مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے کیونکہ میں نے وعدہ کر رکھا ہے کہ میں ان کا نقطہ نظر بھی بیان کروں گا۔ میں اس کی پوری کوشش کروں گا لیکن آپ جانتے ہیں کہ تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کے لیے یہ کہنا پڑتا ہے۔ اس وقت سے اس ملک میں ناچاقی چلی آرہی ہے۔ چونکہ میرے پاس وقت زیادہ نہیں اور ابھی میں نے بہت سی باتوں کا ذکر کرنا ہے‘ اس لیے میں اور اس بارے میں تبصرہ نہیں کروں گا۔

جناب والا! اب میں دوسرے موضوع کی طرف آتا ہوں‘ جو زیادہ اہم ہے۔ میں نکات نمبر 4 اور نمبر 5 کو اکٹھا لوں گا۔ یہ نکات یہ ہیں :

”مرزا صاحب کے نبوت کے دعوے کو نہ ماننے کے اثرات اور اس دعویٰ کے مسلمانوں پر اثرات اور ان کا ردعمل۔“

اس موضوع پر معروضات پیش کرنے سے قبل‘ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ مرزا ناصر احمد کے ساتھ مجھے خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں پر ایک دو واقعات کا‘ میں سرسری طور پر ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتا ہوں۔ جناب والا! مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد حکیم نورالدین پہلا خلیفہ مقرر ہوا۔ سوائے اس بات کے کہ وہ خلیفہ اول تھا اور کوئی چیز اس کے بارے میں ریکارڈ پر نہیں آئی۔ وہ ایک خاموش طبع آدمی معلوم ہوتا ہے۔ اس کے متعلق کچھ بھی نہیں کہا گیا مگر حکیم نورالدین کی موت کے بعد جماعت کے اندر اختلاف پیدا ہو گیا اور دو گروپ‘ لاہوری اور قادیانی یا ربوہ گروپ وجود میں آگئے۔ جب بشیر الدین محمود احمد کا انتقال ہوا تو اس کے بعد مرزا ناصر احمد نے بطور خلیفہ عہدہ سنبھال لیا۔ وہ کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ میں نے ان کی اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں ایک سوال کیا۔ جواب میں انہوں نے جو کچھ کہا‘ وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ مجھے جو کچھ قادیانی لٹریچر سے مل سکا ہے‘ وہ بھی میں پورے احترام کے ساتھ بیان کرتا ہوں۔ مرزا ناصر احمد نے اپنے والد بشیر الدین محمود احمد کی جگہ بطور خلیفہ

صفحہ 306

سوئم جماعت احمدیہ 1965ء میں عہدہ سنبھالا اور وہ قادیانی (ربوہ) گروپ کے سربراہ ہیں۔ وہ 1909ء میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے انسان ہیں‘ موثر شخصیت کے مالک ہیں‘ ایم اے (آکسفورڈ) عربی فارسی اور اردو کے بہت بڑے عالم ہیں۔ دینی معاملات پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔

وہ احمدیوں کے نوجوانوں کی تنظیم ”خدام احمدیہ“ کے سربراہ رہے ہیں۔ وہ ”مسیح موعود“ کے ”موعود پوتا“ ہیں۔ ان کے خلیفہ سوئم کے تقرر سے اس پیشین گوئی کی تکمیل ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ ”مسیح موعود کے تخت کا وارث اس کا پوتا ہوگا۔“

ان کا کہنا ہے کہ بائبل میں یہ لکھا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ ظہور ہوگا تو اس کا پوتا اس کے تخت (حکومت) کا وارث بنے گا۔ مرزا ناصر احمد تاحیات خلیفہ منتخب ہوئے ہیں۔ ان کی دعوت تمام دنیا کے لیے ہے۔ وہ براہ راست خدا تعالیٰ سے رابطہ رکھتے ہیں۔ خلیفہ منتخب ہونے سے پہلے مرزا ناصر احمد 1944ء تا 1965ء ”تعلیم الاسلام“ کالج کے پرنسپل رہے ہیں۔ یہ کالج جماعت احمدیہ چلاتی ہے۔ ان کے پیروکار انہیں امیر المومنین کہہ کر پکارتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد کے بیان کے مطابق مرزا غلام احمد کے خلیفہ کا انتخاب ایک انتخابی ادارہ کرتا ہے‘ جو کہ مختلف گروپوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مرزا ناصر احمد کے بطور خلیفہ انتخاب کے وقت یہ انتخابی ادارہ پانچ سو نفوس پر مشتمل تھا۔ انہوں نے کوئی الیکشن نہیں لڑا اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کوئی کاغذات نامزدگی داخل کیے گئے تھے۔ (خلیفہ سوئم کے انتخاب کے وقت) دو نام ایک مرزا ناصر احمد کا اور ایک اور مرزا غلام احمد کے خاندان میں سے تجویز ہوئے تھے۔ تاہم مرزا ناصر احمد کا انتخاب متفقہ طور پر ہوا تھا۔ ان کا عقیدہ ہے کہ خلیفہ کا انتخاب خدا کی قدرت اور مہربانی سے ہوتا ہے۔ اس لیے اس (خلیفہ) کو کسی ذہنی یا جسمانی معذوری کے سبب ہٹائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسے (خلیفہ کو) اللہ کی طرف سے رہنمائی ملتی ہے۔ وہ جسمانی طور پر مفلوج یا بیمار ہوسکتا ہے مگر کبھی بھی ذہنی طور پر مفلوج نہیں ہوسکتا۔ تمام دنیا میں جہاں جہاں احمدی آباد ہیں‘ وہاں جماعت احمدیہ کی شاخیں موجود ہیں۔ مرزا ناصر احمد نے کہا ہے کہ ان کی جماعت خالصتاً مذہبی تنظیم ہے۔ وہ (عیسائیوں کے) پوپ کی طرح اپنی مذہبی سلطنت کے سربراہ ہیں۔ ان کی ایک مشاورتی کونسل ہے‘ جس سے وہ مشورہ کرتا ہے۔ تمام فیصلے مشاورتی کونسل سے مشورہ کے بعد کیے جاتے ہیں اور عام طور پر متفقہ ہوتے ہیں‘ تاہم وہ (خلیفہ) حرف آخر ہوتا ہے اور اسے اپنا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ وہ مشاورتی کونسل کے فیصلہ کو رد کر کے اپنا فیصلہ دے سکتا ہے۔ مختصراً اس کے پیروکاروں کا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوسکتی کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی اور مہربانی حاصل ہوتی ہے۔

جناب والا! جب یہ مقدس ہستی کمیٹی کے روبرو پیش ہوئی تو سوال پیدا ہوا‘ بہرحال میں اس

صفحہ 307

تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ جو مرزا صاحب کی نبوت کو نہیں مانتے، ان کے بارے میں انہوں نے کیا کہا ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ ایسے لوگ ”کافر“ ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس (مرزا ناصر احمد) نے جواب دیا ”کافر“ سے مراد ایسا شخص نہیں جسے منحرف یا مرتد قرار دیا جائے یا ایسا تارک الدین شخص جسے اسلام کے دائرے سے خارج کرنا پڑے، بلکہ ایسے کافر سے مراد ایک قسم کا گنہگار ہے یا ثانوی درجے کا کافر کیونکہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر تو ایمان رکھتا ہے، اس لیے مرزا ناصر احمد کے بقول ایسا شخص (جو مرزا غلام احمد کی نبوت کا انکار کرتا ہے) ملت محمدیہ کے اندر تو رہے گا مگر وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں بالکل نہیں سمجھ سکا۔ میں نے یہ بات سمجھنے کی انتہائی کوشش کی، جب ایک شخص کافر ہو جاتا ہے تو وہ کیسے

”دائرہ اسلام سے خارج ہے مگر ملت محمدیہ سے باہر نہیں۔“

آخر اس کا مطلب کیا ہے؟ کئی روز تک ہم اس مشکل میں مبتلا رہے۔ جناب والا! آخر کار جب میں نے مرزا ناصر احمد کو ”کلمۃ الفصل“ سے صفحہ نمبر 126 کا حوالہ پڑھ کر سنایا اور مندرجہ ذیل اقتباس کا مطلب دریافت کیا:

”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو بھی بعض اوقات اس بات کا خیال آیا ہے کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکا نہ کھا جائیں اس لیے کہیں کہیں بطور ازالہ غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیے ہیں کہ ”وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں“ تا جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو، اس سے مدعی اسلام سمجھا جاوے نہ کہ حقیقی مسلمان۔“

اس موقع پر میں نے مرزا ناصر احمد سے پوچھا کہ ”حقیقی مسلمان“ سے کیا مراد ہے؟ اس نے اپنے محضر نامے سے بھی سچے مسلمان کی تعریف میں کافی زیادہ تفصیلات بیان کی ہیں۔ مرزا ناصر احمد نے کہا کہ ”حقیقی مسلمان“ کئی ایک ہیں۔ میں نے پوچھا کیا آج بھی ایسے (حقیقی مسلمان) موجود ہیں کیونکہ یہ ایک بہت ہی مشکل تعریف ہے۔ مسلمان کی تعریف میں مرزا غلام احمد کو نبی ماننے یا نہ ماننے کا کوئی ذکر نہیں۔ اس لیے یہ خاصی مشکل تعریف ہے۔ تو اس تعریف کے پیش نظر ”سچے مسلمانوں“ کا وجود اس زمانے میں ہے؟ مرزا ناصر احمد نے جواب دیا ”ہاں سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔“ میں خود حیران تھا کہ ایسے ”سچے مسلمان“ کہاں پر ہیں۔ جب میں نے سوال کیا تو وہ (مرزا ناصر احمد) سیدھا اور براہ راست جواب دینے سے ٹال مٹول کرنے لگا تو پھر میں نے پوچھا کہ

”کیا غیر احمدیوں میں کوئی ایک بھی ”حقیقی مسلمان“ یا ”سچا مسلمان“ ہے؟“

صفحہ 308

تو اس نے جواب دیا کہ ”نہیں۔“ تو اس جواب پر بات ختم ہوگئی اور بحث اپنے انجام کو پہنچ گئی‘ کیونکہ ان (احمدیوں) کے مطابق صرف وہی ”سچے مسلمان“ ہیں باقی سب سیاسی مسلمان ہیں‘ بلکہ نام کے مسلمان‘ جعلی مسلمان‘ جھوٹے مسلمان‘ جبکہ سچا مسلمان‘ ایک اچھا مسلمان صرف ایک احمدی ہی ہوسکتا ہے یا احمدیوں میں سے ہی ہوسکتا ہے‘ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں‘ تو جناب والا! یہ ہے معاملہ جس پر غور ہونا ہے۔ پھر اسی کتاب میں مرزا غلام احمد کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

”ہر ایک شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا‘ عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہیں مانتا‘ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا‘ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر ہے اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔“ (”کلمۃ الفصل“ ص110)

ان غیر مبہم الفاظ کے باوجود جن میں کہا گیا ہے کہ جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا‘ وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے‘ مرزا ناصر احمد کہتے ہیں ”نہیں نہیں ۔“ جب وہ (مرزا بشیر احمد) کہتا ہے کہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ (مرزا غلام احمد کو نبی نہ ماننے والا) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں رہتا ہے۔“ یہ ایسا نقطہ ہے جو ہم کافی وقت تک مرزا ناصر احمد سے سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں تاکہ کوئی ایسی صورت نکل سکے کہ وہ تمام مسلمانوں کو ”مسلمان“ کے زمرہ میں شمار کریں۔ بالآخر کیا ہونا چاہیے۔ اس بات کا فیصلہ تو کمیٹی کو کرنا ہے‘ میں سمجھتا تھا کہ اگر وہ یہ کہہ دیں کہ ہم (غیر احمدی) مسلمان ہیں اور ہم کہیں کہ وہ (احمدی) مسلمان ہیں تو ایک دوسرے کو کافر کہنے کی فتوٰی بازی سے صرف نظر ہوسکے گا لیکن مرزا ناصر احمد نے بڑے اکھڑ پن سے کہا کہ غیر احمدیوں میں کوئی حقیقی مسلمان موجود نہیں۔ کوئی غیر احمدی شخص ”حقیقی مسلمان“ ہو ہی نہیں سکتا۔

جناب والا ! مرزا ناصر احمد نے نماز اور شادی بیاہ کے متعلق بھی بہت سی باتیں کیں۔ مگر اس وقت میں ایک دوسرے موضوع پر معروضات پیش کروں گا اور اس نقطہ (نماز‘ شادی بیاہ وغیرہ) پر اس وقت گزارشات پیش کروں گا جب میں اس موضوع پر آؤں گا کہ کیا مرزا غلام احمد نے اپنی الگ امت بنائی تھی یا اسلام کے اندر ہی ایک نئے فرقہ کا اضافہ کیا تھا۔ میرا مطلب‘ ان کی علیحدگی پسند ذہنیت سے ہے جس کے متعلق بہت کچھ کہا گیا ہے۔ جناب والا ! مجھے وقت کی کمی کا احساس ہے۔ میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کیونکہ آخر کار اسی مسئلہ پر اراکین نے غور کرنے کے بعد فیصلہ دینا ہے اور سفارشات پیش کرنا ہیں۔ جناب والا! میں اراکین کو اسی بات کی طرف لے جانا چاہتا ہوں‘ جس کا میں پہلے ذکر کر رہا تھا یعنی مرزا غلام کا دعویٰ نبوت۔

محمود اعظم فاروقی : اگر اتنی دیر تک بیٹھنا ہے تو میں برف ہو جاؤں گا۔ مجھے ٹمپریچر بھی ہے۔

صفحہ 309

(قطع کلامیاں)

چیئرمین : اس کا بندوبست کرنا ہے۔

میاں عطاء اللہ : فاروقی صاحب ٹھہرے ہوئے ہیں۔ (قطع کلامیاں)

اٹارنی جنرل : جناب والا جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں، یہ ایک بہت ہی اہم پہلو ہے جو خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ اگر فیصلہ خلاف ہوتا ہے تو یہ اس جماعت پر اثر انداز ہوگا۔ مرزا غلام احمد نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر کہا کہ نبی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ میں مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب ”احمدیت اور سچا اسلام“ "Ahmadiat or the True Islam" صفحہ نمبر 28 کا حوالہ پیش کرتا ہوں :

”مختصراً نبی دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو صاحب شریعت ہوتے ہیں، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے وہ جو بنی نوع انسان کے گمراہ ہو جانے کے بعد اللہ کا قانون دوبارہ زندہ کرتے ہیں جیسا کہ ایلیا، عیسیٰ، عزاقیل، دانیال اور یسوع علیہم السلام۔ ”مسیح موعود“ نے بھی آخرالذکر نبیوں جیسا نبوت کا دعویٰ کیا اور وثوق کے ساتھ کہا کہ جس طرح یسوع علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے آخری خلیفہ تھے اسی طرح مسیح موعود اسلامی شریعت کے آخری خلیفہ ہیں۔ تحریک احمدیہ کی اسلام کے دیگر فرقوں کے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو عیسائیت کی یہودیت کے مقابلہ میں ہے۔“

جناب والا! یہاں پر ایک موازنہ کیا گیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر شریعت کے نبی تھا، اس کا تعلق یہودی نسل سے تھا جو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر کار بند تھا۔ آگے کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد کی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں تھی۔ جناب والا! ہر مذہبی معاشرہ اور مذہبی نظام کے مطابق کسی بھی نبی کے پیروکار اپنے نبی کی ذات کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ معاشرہ اسی طرح چلتا ہے۔ یہودی مذہب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ذات ہے، عیسائی مذہب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور اسلام میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہودی معاشرہ میں تشریف لائے تو فرمایا:

”یہ خیال مت کرو کہ میں (سابقہ) قانون شریعت یا نبیوں کو رد کرنے کے لیے آیا ہوں۔ میں ان کی تردید نہیں، بلکہ تکمیل کرنے آیا ہوں۔“

اس فرمان کی اہمیت پر غور کریں۔ ”میں (سابقہ) قانون شریعت یا نبیوں کو رد کرنے نہیں آیا،

صفحہ 310

میں ان کی تردید نہیں بلکہ تکمیل کرنے آیا ہوں۔“ مرزا غلام احمد کہتا ہے:

”میں کسی تبدیلی کے لیے نہیں آیا‘ قرآن کا ایک نقطہ تک بھی تبدیل کرنے نہیں آیا‘ میں تو اس کا احیا کرنا چاہتا ہوں۔“

یہ بالکل اسی طرح ہے جیسا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے موسوی شریعت کی تعبیر کی اور ”آنکھ کے بدلے آنکھ“ اور ”دانت کے بدلے دانت“ کو ”اپنا دوسرا رخسار پیش کرنے“ کا بدل بنا دیا گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے کہا کہ یہ سب کچھ تو تورات میں پہلے سے موجود ہے۔ یہی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم ہے۔ بالکل یہی کچھ مرزا غلام احمد نے شروع کیا۔ قرآن کریم کی تعبیر کرتے ہوئے الفاظ کو نئے معانی پہنائے‘ جیسا کہ ”خاتم النبیین“ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور وفات سے متعلقہ آیات کے معانی اور مطالب۔

جناب والا ! یہ ہے موازنہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا غلام احمد کی تعلیمات کا)۔ آپ غور فرمائیں کہ جس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوا تو یہودی معاشرے کا کیا بنا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے سابقہ شریعت کو بدل دیا۔ ان کے معاشرہ میں سے کچھ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گرد جمع ہو گئے۔

کسی بھی مذہبی معاشرے یا مذہبی نظام میں ایک محور ہوتا ہے۔ اس میں جب ایک اور محور کا اضافہ ہو گا‘ کوئی اور ہستی آئے گی تو لازماً جھگڑے اور ناچاقیاں پیدا ہوں گی۔ یا تو سارا نظام ہی تہ و بالا اور برباد ہو جائے گا یا اس کا کچھ حصہ الگ ہو کر نیا الگ مذہب بنالیں گے‘ جیسا کہ عیسائیت اور یہودیت کے مابین ہوا۔

میرا ذاتی تاثر یہ ہے کہ مرزا غلام احمد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روش اختیار کرنا چاہتا تھا تاکہ جب وہ کافی طاقت اور حمایت حاصل کرلے تو اعلان کرے

”میری اپنی الگ امت ہے۔“

یہ روش اس نے اختیار کی اور میں سمجھتا ہوں یہی اس کا مقصد تھا۔ کمیٹی کے اراکین کو اچھی طرح علم ہے‘ اس بارے میں کافی شہادت ریکارڈ پر موجود ہے اور میں نے کتاب میں سے حوالہ دیا ہے (جس میں لکھا ہے) کہ مرزا غلام احمد نے اپنے پیروکاروں کے لیے مکمل ضابطہ حیات چھوڑا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے پیروکاروں کو شادی بیاہ کے متعلق احکام جاری کیے۔ میں نے ”احمد“ نامی کتاب سے حوالہ دیا ہے جس کے صفحہ 54 پر مندرج شادی بیاہ سے متعلقہ احکامات کا میں اعادہ کرتا ہوں۔

”اسی سال جماعت کے سماجی رشتوں کی استواری اور جماعت کے مخصوص خدوخال کی نگہداشت کی خاطر اس نے شادی بیاہ اور سماجی تعلقات کے

صفحہ 511

لیے احکامات جاری کیے اور احمدیوں کو اپنی بیٹیوں کی شادیاں غیر احمدیوں کے ساتھ کرنے کی ممانعت کر دی۔“ اگر آپ ایک ہی امت سے ہیں‘ بھائی بھائی ہیں‘ تو پھر ایسے احکام دیے جاسکتے تھے؟ اور یہ بھی کہتے ہیں ”میں امتی ہوں“ اور وہی عقیدہ رکھتا ہوں۔ جناب والا! اس (مرزا غلام احمد ) نے نماز اور نماز جنازہ کے متعلق بھی احکام جاری کیے۔ میرے پاس کئی ایک حوالہ جات ہیں مگر میں آپ کا وقت ضائع نہیں کروں گا۔ کمیٹی یہ حوالہ جات سماعت کر چکی ہے۔ مرزا ناصر احمد نے بڑی شدت سے یہ اصرار کیا کہ:

”ہم غیر احمدیوں کی نماز جنازہ اس لیے نہیں پڑھتے کہ مسلمانوں کے تمام فرقوں نے ہمارے خلاف فتوے دیے تھے۔ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں۔ کفر کے ان فتووں کی گھن گرج میں ہم ان (مسلمانوں) کے جنازے میں شریک نہیں ہوسکتے۔“

وہ کئی روز تک اسی بات پر مصر رہے اور اس طرح کئی دن ضائع ہوگئے۔ درحقیقت میں چاہتا تھا کہ مرزا ناصر احمد صاف گوئی سے کام لیں۔ اگر آپ کا کوئی عقیدہ ہے تو صاف گوئی سے کہیں‘ ٹال مٹول کیوں ہو‘ لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا اور بار بار یہی اصرار کیا کہ وہ ان فتووں کی وجہ سے ہمارے (مسلمانوں کے) ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔

قائد اعظم کی نماز جنازہ کے متعلق مرزا ناصر احمد نے کہا کہ چونکہ مولانا علامہ شبیر احمد عثمانی نے ہمارے خلاف فتویٰ دے رکھا تھا‘ اس لیے سر ظفر اللہ نماز جنازہ میں شریک نہ ہوا۔ میں نے سوال کیا کہ چلیں ایسا ہی سہی‘ یہ بتائیں کہ آپ نے اپنے امام کے پیچھے کسی اور جگہ پر غائبانہ نماز جنازہ کیوں ادا نہ کی؟ تو مرزا ناصر احمد نے جواب دیا‘ اسے معلوم نہیں کہ (احمدیوں میں سے) کسی نے (نماز جنازہ) پڑھی تھی یا نہیں۔ اس نے جواب کو ٹال دیا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہا۔ اور کمیٹی کو معلوم ہے کہ آخر کار کیا نتیجہ نکلا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ فتووں کے بہانے میدان مار لیں گے کیونکہ ایسے بے شمار فتووں سے مفر نہیں۔ لیکن آخر کار میرے ایک سوال پر حقائق سامنے آ ہی گئے۔ میں نے سوال کیا کہ کیا مرزا غلام احمد کا ایک بیٹا فضل احمد نام کا تھا‘ جو احمدی نہیں ہوا تھا۔ مرزا ناصر احمد نے کہا کہ یہ بات درست ہے‘ پھر میں نے پوچھا کہ فضل احمد مرزا صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا؟ جواب دیا کہ یہ بھی درست ہے۔ میں نے سوال کیا کہ کیا مرزا صاحب نے اپنے بیٹے فضل احمد کی نماز جنازہ پڑھی؟ مرزا ناصر احمد نے جواب دیا ”نہیں“۔ میں نے سوال کیا ”کیا فضل احمد نے مرزا صاحب کے خلاف کوئی فتویٰ دیا تھا؟ مرزا ناصر احمد نے جواب دیا ”نہیں“۔ پھر میں نے پوچھا ”کیا فضل احمد

صفحہ 312

سے مرزا صاحب ناراض تو نہیں تھے کیونکہ مرزا صاحب نے خود کہا تھا: ”کہ بڑا فرمان بردار بیٹا تھا‘ اس نے کبھی شرارت نہیں کی۔“

اور کہ

”ایک دفعہ میں بیمار پڑ گیا۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں تو یہ بچہ (فضل احمد) کھڑا تھا اور رو رہا تھا۔“

ان سب باتوں کے باوجود مرزا غلام احمد نے فضل احمد کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا کہ وہ اس کو مسلمان نہیں سمجھتا تھا۔ مرزا غلام احمد اس کو کافر سمجھتا تھا‘ چنانچہ فتووں کی تمام کہانیاں بے معنی ہو کر رہ گئیں۔

جناب والا! شادی بیاہ کا بھی یہی حال ہے۔ اس (مرزا ناصر احمد) نے کہا‘ وہ ایسا اس لیے نہیں کرتے کہ ”مسلمان (مسلمان سے مراد غیر احمدی ہیں) قادیانی لڑکیوں سے اچھا سلوک روا نہیں رکھتے اور وہ یعنی احمدی لڑکیاں دینی فرائض اسلام کے احکامات کے مطابق ادا نہیں کر سکتیں۔“ یہ کس قدر گستاخانہ اور توہین آمیز جواب ہے۔ اپنے اعتقادات کو سب سے بہتر طور پر سمجھنے والے انسان صرف احمدی ہی ہیں۔ دوسری جانب مرزا ناصر احمد کہتے ہیں ”ہاں مسلمان لڑکی کی شادی ایک احمدی سے ہو سکتی ہے‘ مگر احمدی لڑکی کی شادی کسی غیر احمدی سے نہیں ہو سکتی۔ احمدی لڑکی مسلمان خاوند کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی‘ جبکہ مسلمان لڑکی احمدی خاوند کے ساتھ خوش رہ سکتی ہے۔“

جناب والا! ان کی طرف سے یہ خوشی اور ناخوشی کا دعویٰ بھی غلط ہے کیونکہ ان کی اپنی چھوٹی سی کتاب ”کلمۃ الفصل“ جسے نامعلوم میں کئی مرتبہ پڑھ چکا ہوں کے صفحہ نمبر 169 پر کتاب کے مصنف مرزا بشیر احمد نے ان الفاظ میں وضاحت کی ہے:

”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں‘ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا‘ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا‘ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں: ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے...... اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناتہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔“

جناب والا! یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیں (مسلمانوں) کو اسی طرح سمجھتے ہیں جیسا کہ عیسائی یہودیوں کو سمجھتے ہیں۔ وہ ہمیں وہی حیثیت دیتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے بارے میں

صفحہ 313

یہودیوں اور نصاری کو دیتے تھے۔ احمدی مسلمانوں کو اسی طرح سمجھتے ہیں جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں اور عیسائیوں کو الگ امت اور الگ قوم سمجھتے تھے لیکن ان کی لڑکیوں کو مسلمان مردوں سے شادی کرنے کی اجازت ہے۔ مسلمان لڑکیوں کو ان (یہودی اور عیسائی مردوں) سے شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے، بالکل یہی پالیسی احمدیوں نے مسلمانوں کے لیے اختیار کی ہوئی ہے۔

مزید یہ کہ میں نے مرزا ناصر احمد سے علیحدگی پسندی کا رجحان رکھنے کے متعلق بار بار سوال کیا۔ وجہ یہ تھی کہ میں اسے پورا پورا موقع دینا چاہتا تھا کہ وہ واضح کر سکے کہ احمدیوں یا قادیانیوں میں اس قسم کا کوئی رجحان نہیں ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ احمدیوں کے ہاں ایک متوازی نظام موجود ہے۔ بعینہ اسی طرح جیسا کہ عیسائیت اور اسلام میں ہے۔ احمدیت کا اسلام کے مقابلے میں متوازی نظام موجود ہے اور یہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ مرزا صاحب اپنی ایک الگ امت بنا رہے تھے، اس کی ایک اور مثال ہے۔ 1901ء میں مرزا صاحب نے اپنے پیروکاروں کو مردم شماری میں ایک الگ فرقہ کے طور پر رجسٹر کروانے کا حکم دیا، جو کہ اپنے آپ کو ”احمدی مسلم“ کہتے تھے۔ جناب والا! مرزا بش

صفحہ 314

جس طرح عیسائیوں اور پارسیوں کو نمائندگی دی گئی ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے‘ اسی طرح

”ہمارے حقوق کا بھی تحفظ کیا جائے۔“

اور برطانوی وائسرائے یا کوئی دوسرا اعلیٰ عہدیدار اس کو یا اس کے نمائندہ کو جواب دیتا ہے:

”آپ ایک مسلم فرقہ ہیں جو کہ اقلیت میں ہے‘ مذہبی اقلیت۔“

مرزا بشیر الدین محمود احمد نے جواب دیا کہ احمدیوں کے مفادات کا بھی اسی طرح تحفظ کیا جائے۔

”اگر وہ ایک پارسی پیش کریں گے تو میں ہر ایک پارسی کے مقابلے میں دو احمدی پیش کرسکتا ہوں۔“

یہ استدلال انہوں نے خود اختیار کیا ہے۔ جناب والا! اس نقطہ پر میں پھر ڈاکٹر محمد اقبالؒ کا حوالہ دوں گا۔ وہ فرماتے ہیں:

”قادیانیوں کی علیحدگی پسندی کے اس رجحان کے مدنظر‘ جو کہ انہوں نے مذہبی اور سماجی معاملات میں تواتر کے ساتھ اس وقت سے اختیار کر رکھا ہے‘ جب سے (مرزا غلام احمد کی) نبوت کو ایک نئی جماعت کے جنم کی بنیاد بنایا ہے اور اس رجحان کے خلاف مسلمانوں کے شدید ردِعمل کے پیش نظر یہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ از خود قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین اس بنیادی اختلاف کا نوٹس لے اور مسلمان قوم کی جانب سے کسی رسمی احتجاج کا انتظار نہ کرے۔ مجھے اس بارے میں حکومت کے سکھ قوم کے بارے میں کی گئی کارروائی سے حوصلہ ملا ہے۔ 1919ء تک سکھ قوم کو ایک الگ سیاسی اکائی نہیں مانا جاتا تھا۔ لیکن بعد میں سکھ قوم کی طرف سے کسی رسمی احتجاج کے بغیر ہی انہیں یہ درجہ دے دیا گیا تھا۔ باوجود اس امر کے کہ لاہور ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ”سکھ“ ہندو ہیں۔“

جناب والا! علامہ محمد اقبال کی رائے میں قادیانی خود ہی اپنے کو ایک علیحدہ مذہبی جماعت قرار دیے جانے پر اصرار کرتے رہے ہیں اور اس میں اس اعتراض کا بھی جواب ہے کہ ایوان کو انہیں علیحدہ مذہبی جماعت قرار دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ یہ اس لیے کہ لاہور ہائی کورٹ اور پریوی کونسل نے فیصلہ دیا تھا کہ سکھ قوم‘ ہندو قوم کا حصہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے سکھوں کو الگ قوم قرار دے دیا تھا۔ پارلیمنٹ ایسا کرنے کی مجاز ہے۔ یہ بات بھی کمیٹی کے ذہن نشین رہنی چاہیے۔ جناب والا قادیانیوں کے بارے میں علامہ محمد اقبال مزید فرماتے ہیں:

”ہمارے عقیدے کے مطابق اسلام اللہ کا بھیجا ہوا دین ہے۔ لیکن

صفحہ 315

اسلام کا وجود بطور ایک قوم اور معاشرہ تمامتر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کا مرہون منت ہے۔ میرے خیال میں قادیانیوں کے لیے دو ہی راستے ہیں...... یا تو وہ صاف صاف بہائیوں کا طریقہ اختیار کریں یا اسلام کے نبوت کے ختمیت کے نظریے کو ترک کر دیں اور اس سے پیدا ہونے والی الجھنوں کا مقابلہ کریں۔ ان (قادیانیوں) کی طرف سے شاطرانہ تعبیریں محض اس خواہش کے باعث کی جا رہی ہیں کہ وہ اسلام کی گود میں بیٹھ کر سیاسی فوائد حاصل کریں۔“

جناب والا! علامہ اقبال آگے فرماتے ہیں:

”دوسری بات جسے ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہیے، قادیانیوں کی اپنی پالیسی اور عالم اسلام کے بارے میں ان کا رویہ ہے۔ تحریک احمدیہ کے بانی نے مسلمان قوم کو ”سڑا ہوا دودھ“ اور اپنے پیروکاروں کو ”تازہ دودھ“ کے نام سے پکارا اور موخر الذکر کو اول الذکر کے ساتھ میل جول رکھنے سے منع کیا۔ اس کے علاوہ ان کا بنیادی عقائد سے انکار ان کا اپنے آپ کو نیا نام (احمدی) بطور جماعت دینا، ان کا عام مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شرکت نہ کرنا، مسلمانوں سے شادی بیاہ کے معاملات میں بائیکاٹ وغیرہ وغیرہ اور سب سے بڑھ کر ان کا اعلان کہ تمام عالم اسلام کافر ہے۔ یہ تمام باتیں بلاشبہ قادیانیوں کی (بطور قوم) اپنی علیحدگی کا اعلان ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مندرجہ بالا حقائق سے صاف ظاہر ہے کہ وہ (قادیانی) اسلام سے کہیں زیادہ دور ہیں بہ نسبت سکھوں کے ہندوؤں سے دوری کے۔ سکھ کم از کم ہندوؤں سے شادی بیاہ تو کرتے ہیں، گو وہ ہندوؤں کے مندروں میں عبادت نہیں کرتے۔“

جناب والا! تو علامہ اقبال کے یہ نظریات ہیں۔ میں یہ معروضات کر رہا ہوں کہ وہ ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے۔ میں نے پورے احترام کے ساتھ مرزا ناصر احمد کو اس ریزولیوشن کی طرف نشاندہی کی تھی جو انگلینڈ میں ربوہ کے واقعہ کے بعد احمدیوں نے پاس کیا تھا، جس میں انہوں نے اپنے آپ کو ”احمدی مسلمان“ کہا اور پاکستان کے غیر احمدی مسلمانوں کی مذمت کی۔ انہوں نے ان کا ذکر بطور پاکستانی کے کیا۔ تو یہ ہیں وہ حالات جس میں انہوں نے خود کو مقید کر رکھا ہے۔

جناب والا! علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام میں مقدس ہستیوں کے مقابلے میں انہوں نے ایک متوازی نظام قائم کر رکھا ہے۔ صحابہ اور اہل بیت انتہائی واجب الاحترام ہستیاں ہیں۔ مثلاً امیر

صفحہ 316

المؤمنین‘ ام المومنین۔ اس متوازی نظام سے انتشار پیدا ہوا۔ پھر جب ہم (مسلمان) خوش ہوتے ہیں‘ وہ (قادیانی) خوش نہیں ہوتے۔ جب ہم ناخوش ہوتے ہیں‘ وہ خوش ہوتے ہیں....... پہلی جنگ عظیم میں جب انگریزوں نے عراق کو فتح کر لیا تو مسلمان ناخوش ہوئے‘ لیکن انہوں نے قادیان میں چراغاں کیا۔ ہم نے اللہ کے فضل سے ایک الگ ملک حاصل کیا کیونکہ ہماری سوچ ایک فرد واحد کی سوچ کی مانند تھی۔ ہم خواہ سندھی ہوں‘ بلوچ ہوں‘ پٹھان ہوں‘ پنجابی ہوں‘ نفسیاتی طور پر ہم ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا فہم اور ادراک ان سے بہت مختلف ہے۔ یہ مختصر کمیٹی کے ذہن نشین رہنا چاہیے گو کہ جیسا میں کہہ چکا ہوں‘ ان کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے‘ اس پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ مسلمانوں کی حمایت کریں گے۔

جناب والا! اب میں اختتام کی طرف آتا ہوں۔ میں نے کافی وقت لیا ہے‘ اب میں دستور کے مطابق احمدیوں کی حیثیت کے بارے میں گزارشات کروں گا‘ فیصلہ خواہ کچھ بھی ہو۔ اراکین جو بھی راستہ اختیار کریں‘ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ وہ پاکستانی ہیں اور وہ شہریت کا پورا پورا حق رکھتے ہیں۔ ”ذمی“ یا دوسرے درجے کے شہری ہونے کا پاکستان میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یاد رکھئے کہ پاکستان لڑ کر حاصل نہیں کیا گیا بلکہ یہ مصالحت اور رضامندی سے حاصل کیا گیا تھا۔ یہ ایک معاہدہ تھا جس کی بنیاد دو قومی نظریہ پر تھی۔ ہندوستان میں ایک مسلمان قوم تھی اور دوسری ہندو قوم‘ اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے ذیلی قومی گروہ تھے۔ پاکستان کی تخلیق کے ساتھ مسلمان قوم بھی تقسیم ہو گئی اور اس کا ایک حصہ ہندوستان میں رہ گیا۔ ہم ان کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتے تھے کیونکہ پاکستان کو معرض وجود میں لانے کے لیے قربانیاں دی تھیں۔ چنانچہ یہ قرار پایا ان کے شہری اور سیاسی حقوق ہندوؤں کے حقوق کے برابر ہوں گے۔ اسی طرح ہم پاکستان میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کو مساوی شہری اور سیاسی حقوق دیں گے۔ اس بات کا ذکر آپ کو چوہدری محمد علی کی لکھی ہوئی کتاب "Emergency of Pakistan" (ایمرجنسی آف پاکستان) میں ملے گا۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 11 اگست 1947ء کو ہوا تھا جسے قائد اعظم نے خطاب کیا تھا۔ وہ ایک نہایت مشکل دور تھا۔ بے شمار مسلمان شہید ہو گئے تھے‘ قربانیاں دی گئی تھیں۔ اس معاہدہ کے باوجود ہندو مسلمانوں کو ذبح کر رہے تھے‘ جس کا قدرتی طور پر پاکستان میں ردعمل ہوا۔ قائد اعظم نے مسلمانوں سے پُرامن رہنے کی پُرسوز اپیل کی۔ وہ ہمیں اپنے وعدے کا احساس دلا رہے تھے۔ وہ حکومت پاکستان کو اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کی یاد دہانی کرا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا::

”آپ اپنے مندروں کو جانے میں آزاد ہیں‘ اپنی مسجدوں میں جانے کو آزاد ہیں۔“

صفحہ 317

اور مزید فرمایا:

”وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو، ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان، مسلمان نہیں رہے گا۔ مذہبی طور پر نہیں، بلکہ سیاسی طور پر یعنی یہ کہ سب کے لیے سیاسی آزادی برابر ہوگی۔“

گو اس تقریر کو غلط معنی پہنائے گئے اور کہا گیا کہ قائد اعظم نے دو قومی نظریہ کو خیر باد کہہ دیا تھا، لیکن ایسا نہیں تھا۔ وہ ایک وعدے اور معاہدے کی بات کہہ رہے تھے۔ اس کے بعد بھی قائد اعظم نے دو قومی نظریہ کی وکالت کی، جس کی وضاحت چوہدری محمد علی نے اپنی کتاب میں کی ہے۔

آخر میں جناب والا! میں اپنی طرف سے تشکر کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے آپ (چیئرمین صاحب) کا اور پھر تمام اراکین کا، جنہوں نے میرا نقطہ نظر سمجھنے میں میری امداد فرمائی۔ مجھے بالخصوص تو کسی کا ذکر نہیں کرنا چاہیے، تاہم پھر بھی میں مولانا ظفر احمد انصاری صاحب کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے میری بہت امداد فرمائی اور جناب عزیز احمد بھٹی صاحب کا بھی دونوں احباب نے میری بہت اعانت فرمائی۔ درحقیقت میں ہر رکن کا ہی شکر گزار ہوں سب نے ہی میری معروضات سمجھنے میں میری امداد فرمائی۔ مجھے امید ہے کہ جو گزارشات میں نے پیش کی ہیں، وہ کسی قدر کارآمد ہوں گی۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔

چیئرمین : جناب اٹارنی جنرل، میں اپنی طرف سے اور ایوان کمیٹی کے اراکین کی طرف سے آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ بات ریکارڈ پر رہے کہ آپ نے کس قدر محنت اور کاوش ان مہینوں میں کی ہے، جو کہ نہ صرف کمیٹی کے لیے، بلکہ پورے ملک کی خاطر تھی۔ ہم سب اس کے لیے شکر گزار ہیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔

اب میں معزز اراکین سے گزارش کرتا ہوں، اگر ان میں سے کوئی صاحب کچھ کہنا چاہیں ...... اجلاس ملتوی ہوا۔ 7 ستمبر، چار بجے اسمبلی کا فیصلہ کن اجلاس ہوا۔ جس میں قادیانیوں کے بارے میں آئین پاکستان میں ترمیم کی گئی۔

صفحہ 318

آئین پاکستان میں ترمیم کے لئے ایک بل

ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعدازیں درج اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔

لہٰذا بذریعہ ہٰذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔

1......مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

2...... آئین کی دفعہ 106 میں ترمیم

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں جسے بعدازیں آئین کہا جائے گا دفعہ 106 کی شق (3) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) درج کئے جائیں گے۔

3...... آئین کی دفعہ 260 میں ترمیم

آئین کی دفعہ 260 میں شق (2) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی یعنی (3) جو شخص حضرت محمد ﷺ جو آخری نبی ہیں، کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے، وہ آئین یا قانون کے اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔

بیان اغراض و وجوہ

جیسا کہ تمام ایوان کی خصوصی کمیٹی کی سفارش کے مطابق قومی اسمبلی میں طے پایا ہے کہ اس بل کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طرح ترمیم کرنا ہے تاکہ ہر وہ شخص جو حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو حضرت محمدﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے اسے غیر مسلم قرار دیا جائے۔

عبدالحفیظ پیرزادہ وزیر انچارج

صفحہ 319

قادیانیوں کے بارے میں قومی اسمبلی کی کارروائی خفیہ کیوں؟

”سوال...... جب مسئلہ ختم نبوت اسمبلی میں گیا تو اس بحث کی کارروائی خفیہ کیوں رکھی گئی‘ اجلاس خفیہ کیوں ہوتے رہے؟

جواب...... بحث اور کارروائی کے دوران ایسی باتوں کے پیش آنے کا بھی امکان تھا کہ اگر منظر عام پر آتیں تو مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی تھی۔ قادیانی فرقوں کے رہنماؤں کو بھی بلانا تھا۔ ان کا نقطہء نظر بھی سننا تھا۔ ظاہر ہے وہ جو کچھ کہتے مسلمانوں کو ہرگز اتفاق نہ ہوتا۔ لہٰذا کارروائی خفیہ ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ناموس رسالت کا مسئلہ نازک اور حساس ہے۔ مسلمان جان بھی قربان کر دینا ایک انتہائی معمولی بات سمجھتا ہے لہٰذا کسی بھی خطرناک جذباتی صورت حال سے بچنے کے لئے اس کارروائی کا خفیہ رکھنا ہی مناسب تھا۔ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ امت کو جو والہانہ عشق ہے‘ اس کو زبان و قلم سے بیان کرنا ناممکن ہے۔ اس خفیہ بحث کا فیصلہ کھلا تھا اور اس فیصلے سے ملت اسلامیہ آج تک مطمئن ہے۔“

(قومی اسمبلی کے سابق سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان سے اختر کاشمیری صاحب کا انٹرویو‘ روزنامہ ”جنگ“ جمعہ میگزین

3-9 ستمبر 1982ء)

PDF 320

پارلیمنٹ میں

قادیانی شکست

قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کی مکمل روداد

تحقیق و تعلیق مولانا اللہ وسایا

آئین پاکستان

پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کی یہ روداد اتنی دلچسپ، دلنشیں، عوامی، سادہ اور آسان ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے ہر قاری پر ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے گویا کہ وہ قومی اسمبلی میں بیٹھا براہ راست خود یہ کارروائی دیکھ رہا ہے۔ سابق اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے ایک سوال پر کہ ”قادیانیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ روداد شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا“ جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ کارروائی ان کے خلاف جاتی ہے۔ ویسے وہ اپنا شوق پورا کر لیں، ہمیں کیا اعتراض ہے۔ ان دنوں ساری اسمبلی کی کمیٹی بنا دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ ساری کارروائی سیکرٹ ہو گی تاکہ لوگ اشتعال میں نہ آئیں۔ میرے خیال میں اگر یہ کارروائی شائع ہو گئی تو لوگ قادیانیوں کو مار مار کر ان کا بھرکس نکال دیں گے“۔

یہ قومی و تاریخی دستاویز جس کا مدتوں سے انتظار تھا، وقت کی اہم ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ تاریخ کے نازک لمحات محفوظ کرنے پر مولانا اللہ وسایا پوری امت مسلمہ کی طرف سے بے حد مبارک باد کے مستحق ہیں۔

؎ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ